یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
قصص القرآن
منتخب از تفسير نمونه
ناصر مكارم شيرازي
حرف اوّل
بسم اللہ الرحمن الرحيم
عصر حاضر ميں جوانوں اور نوجوانوں كو راہ ہدايت سےگمراہ كرنے كے لئے جس قدر پروپيگنڈے كئے جارہے ہيں ،تاريخ ميں اس كى مثال نہيں ملتي،اخبار اور جرائد ايك طرف،توريڈيو، ٹى وى دوسرى طرف اور آج كل انٹرنيٹ جس نے پورى دنيا كى اچھائياں كم اور برائياں زيادہ ايك ميز پر لاكر ركھ دى ہيں ،ہر طرف سے اسلام كے خلاف پروپيگنڈے كئے جارہے ہيں ،اسلام كى ترقى ديكھ كر اسلام دشمن طاقتيں ايڑى چوٹى كے زور لگارہى ہيں ، خصوصاً جبكہ دشمن سمجھ چكاہے كہ دين حقيقى كے ماننے والے يہى شيعہ اثنا عشرى ہيں ، كہيں يورپ اور امريكہ سے اسلام كے خلاف اعتراضات بيان ہوتے ہيں تو كبھى فرقہ وہابيت كى طرف سے شيعيت پر بے جاشبہات وارد كئے جاتے ہيں _
لہذا ايسے ماحول ميں اپنے جوانوں كو دينى راستے پر قائم ركھنا واقعاً ہم سب كى ذمہ دارى ہے، علمائے كرام، دينى رہبروں اورقوم وملت كے صاحبان حيثيت افرادكافريضہ ہے كہ اس سلسلے ميں ہر ممكن كوشش كريں ،ورنہ كل روز قيامت خدا كى بارگاہ ميں جواب دہ ہوں گے
اسى چيز كے پيش نظر الحاج جناب آقائے انصاريان صاحب كى فرمائش پر تفسير نمونہ(تاليف استاد
محترم آيت اللہ العظمى مكارم شيرازى دام ظلہ) سے منتخب شدہ قرآنى واقعات كو قارئين كرام كى خدمت ميں پيش كيا جارہا ،كيونكہ قرآنى واقعات ہمارى زندگى كے لئے بہترين نمونہ عمل بن سكتے ہيں _
كتاب ''قصص قرآن'' ،تفسيرنمونہ(مترجم حجة الاسلام و المسلمين سيد صفدر حسين اعلى اللہ مقامہ) سے تلاش كرنا، نشانات لگانا، كمپوز كرنا پھر تصحيح اور مطابقت كرناواقعاً مشكل كام تھا، بسا اوقات ہم كو يہ فكر لاحق ہوتى تھى كہ شايد اس سےآسان تو ترجمہ ہى ہوجاتا ، الحمدللہ توفيق الہى اوربعض برادران كے تعاون سے ايك سال كى مدت ميں يہ كام پايہ تكميل تك پہونچ گياہے، ہم تہہ دل سے ان كے شكر گزار ہيں _
خداوند عالم ہمارى توفيقات ميں مزيد اضافہ فرمائے_
''ربّنا تقبل منا انك انت السميع العليم _''
والسلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ_
اقبال حيدر حيدري
۱۵ /صفر المظفر ۱۴۲۵ھ
حوزہ علميہ ، قم المقدسہ_ايران
Emial: ihh@yahoo.com
تقريظ
حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازى مدظلہ العالي
بسم اللہ الرحمن الرحيم
قرآن مجيد ايك تاريخى كتاب ہے، نہ گزشتہ لوگوں كى سوانح حيات كا مجموعہ،يہ نہ علوم طبيعى نصاب ہے اور نہ زمين و آسمان كے اسرار و رموز كو بيان كرنے كى كتاب ہے بلكہ وہ ''كتاب ہدايت'' ہے_
ہاں قرآن كريم ميں چونكہ گزشتہ لوگوں خصوصاً انبيائے كرام اور اقوام و ملل كے عبرت ناك واقعات بيان ہوئے ہيں جن ميں سے بہت سے لوگ زمين كے ايك عظيم حصہ پر حكومت كرتے تھے،اور اب ان كا نام و نشان تك نہيں رہا، اور كائنات كے پُر اسرار مخلوقات ميں ''توحيد خدا'' اور'' معرفت اللہ''كے بہترين درس چھپے ہوئے ہيں لہذا قرآن كريم نے اپنے مخصوص انداز ميں انھيں بيان كيا ہے اور انسانى ہدايت كے لئے موثر اور كامياب نمونے بيان كئے ہيں _
قابل توجہ بات يہ ہے كہ ان نكات كو بيان كرتے ہوئے قرآنى آيات كا لب و لہجہ اس انداز كا ہے جس سے نہ صرف يہ كہ ان واقعات كى تازگى ختم نہيں ہوتى بلكہ مرور زمان كے باوجود اس كے معنى و مفاہيم ميں
ترو تازگى اور سبق آموزى پيدا ہوجاتى ہے، اس طرح ہر پيرو جوان اور عوام الناس و دانشور اپنے لحاظ سے اس نورہدايت سے فيضياب ہوتے ہيں _
يہ صرف ايك دعوى ہى نہيں ہے بلكہ آپ حضرات بھى قرآن سے نزديك ہوسكتے ہيں ، اور اس حقيقت كا تجربہ كرسكتے ہيں ، اس كا ايك واضح نمونہ ''كتاب ہذا قصص قرآن'' ہے، جس ميں انبياء عليہم السلام كے واقعات، گزشتہ اقوام ملل كى داستانيں جو حجة الاسلام عالى جناب سيد حسين حسينى نے ''تفسير نمونہ'' سے انتخاب كى ہيں ، اور كافى زحمت كركے اپنے بہترين سليقہ كو بروئے كار لائے ہيں ،جس سے ہر پڑھنے والے كو ہدايت و روشنى ملتى ہے اور اس كى زندگى كو ''سعادت و فلاح و بہبودي'' كا راستہ دكھاتى ہے_
آخر ميں ہم مولاناموصوف كى زحمتوں كى قدر دانى كرتے ہوئے ان كے شكر گزار ہيں اورسبھى كو كتاب ہذا كے مطالعہ كى سفارش كرتے ہيں خداوندعالم موصوف كى اس كاوش اور ہم سب كى جد و جہد كو قبول فرمائے_
ناصر مكارم شيرازي
حوزہ علميہ قم
ذى الحجہ ۱۴۲۱ھ
پيش گفتار
حالانكہ ہميشہ سے شيعہ علمائے كرام نے قرآن مجيد كى بہت سے تفاسير لكھى ہيں ، جن سے بہت سے علمائے كرام اور حوزات علميہ فيض حاصل كرتے رہے ہيں ، ليكن جن صفات كى حامل ''تفسير نمونہ'' ہے وہ بھى فارسى زبان ميں جس كى ضرورت محسوس كى جارہى تھي، خصوصاً دور حاضر ميں كہ جب قرآن فہمى كا جذبہ ہر طبقہ ميں پيدا ہوگيا ہے_
حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازى نے چند علماء كے ساتھ مل كر اس ضرورت كو پورا كيا اور اس تفسير كے ذريعہ قرآن مجيد كى شايان شان خدمت انجام دي_
اس تفسير كى خاص صفات جن كى وجہ سے يہ مقبول عام ہوئي ہے حسب ذيل ہيں :
۱_ اگرچہ يہ تفسير فارسى زبان ميں ہے ليكن اس كے علمى اور تحقيقاتى نكات ميں كافى رعايت كى گئي ہے، تاكہ علمائے كرام اور طلاب بھى اس سے فيضاب ہوسكيں اور قرآن فہمى كا شوق ركھنے والے عوام الناس بھي_
۲_ تفسير آيات ميں بعض غير ضرورى مسائل ميں الجھنے كے بجائے ان مسائل سے خصوصى بحث كى گئي ہيں جو انسان كے لئے واقعاً زندگى ساز ہيں جن كے ذريعہ انسان كى فردى اور معاشرتى زندگى ميں كافى موثر
ہوتى ہے_
۳_آيات ميں بيان شدہ عناوين كے تحت ايك مختصر و مفيد عنوان سے الگ بحث كى گئي ہے جس كے مطالعہ كے بعد قارئين كرام كو دوسرى كتابوں كے مطالعہ كى ضرورت نہيں رہے گي_
۴_ تفسير ميں مشكل اور پيچيدہ اصطلاحات سے پرہيز كيا گيا ہے ليكن ضرورت كے وقت حاشيہ ميں ضرورى وضاحت بھى كى گئي ہے، تاكہ علمائے اور صاحبان نقدحضرات كے علاوہ عام قارئين كرام كے لئے بھى مفيد واقع ہوسكے_
۵_ اس تفسير كا ايك اہم امتياز يہ ہے كہ اس ميں قرآنى واقعات سليس زبان اورپُر كشش انداز ميں بيان كيا گيا ہے اور ہر طرح كے پيچيدہ مسائل سے اجتناب كيا گيا ہے_
اسى لئے حقير نے استاد معظم سے اجازت طلب كى تاكہ قرآنى واقعات كو جمع كركے ايك الگ كتاب كى شكل ديدى جائے جو عام قارئين كرام كے لئے مفيد واقع ہوسكے، ہمارى خوش قسمتى ہے كہ استادبزرگوار نے اجازت مرحمت فرمادي، اور ہم نے تفسير نمونہ كا ايك دقيق دورہ كيا اور اس سے قرآنى واقعات كو جمع كيا، جن كو آپ حضرات كتاب ہذا كى شكل ميں ديكھ رہے ہيں _
چند ضرورى نكات:
۱_ كہيں كہيں ايسا ہوا ہے كہ ايك واقعہ تفسير كى مختلف جلدوں ميں بيان ہوا ہے مثال كے طور پر جناب موسى عليہ السلام كا واقعہ تيس سے زيادہ سوروں ميں ۱۳۰/ بار سے زيادہ بيان ہوا ہے، ہم نے ان كو ايك جگہ جمع كيا اور ان كو مقدم و موخر كيا تاكہ واقعہ كى كيفيت ختم نہ ہونے پائے، اسى وجہ سے اگرچہ ظاہراً اس كتاب كا مواد جمع كرنا آسان كام ہے ليكن اس كے مختلف مراحل طے كرنے پڑے ہےں ، منجملہ تفسيرى دورہ، واقعات كى جمع آورى اور ان كو منظم و مرتب كرنا واقعاً ايك فرصت طلب كام تھا(جو الحمد للہ مكمل ہوگيا)
۲_ چونكہ واقعات قران سے ہم آہنگ ہيں حاشہ ميں سورہ اور آيت كا حوالہ لكھ ديا گيا ہے جس سے اگر كوئي تفسير نمونہ پر رجوع كرنا چاہے تو اس كے لئے آسان ہوجائے، اسى وجہ سے ان واقعيات كے حوالے
نہيں لكھے گئے ہيں _
۳_ قرآن كريم ميں مختلف واقعات كے علاوہ ۲۶/ انبياء عليہم السلام كا نام مبارك وضاحت كے ساتھ لياگيا ہے، جو درج ذيل ہيں :
حضرت آدم، ادريس، نوح، ہود، صالح، ابراہيم،اسماعيل، اسحاق، لوط، يوسف، يعقوب، شعيب، موسي، ہارون، داو د، سليمان، ايوب، يونس، الياس، اليَسع، ذاالكفل، عزير، زكريا، يحيى ، عيسى عليہم السلام اور حضرت محمد (ص) _
ضمناً عرض ہے كہ حضرت اشموئيل (ع) نبى جن كا نام صراحت كے ساتھ قرآن كريم ميں نہيں ہے، ان كا واقعہ بھى بيان كيا گيا ہے_
اس كتاب كو تين حصوں ميں تقسيم كيا گيا ہے:
پہلا حصہ: قرآن ميں بيان شدہ انبياء عليہ السلام كے واقعات_
دوسرا حصہ: قرآن ميں بيان شدہ دوسرے واقعات_
تيسرا حصہ: قرآن ميں بيان شدہ پيغمبر اكرم (ص) كے واقعات_
اميد ہے كہ يہ ناچيز كوشش حضرت بقية اللہ امام زمانہ عجل اللہ تعالى فرجہ الشريف كى بارگاہ ميں مقبول و منظور قرار پائے گي_
سيد حسين حسينى
قم المقدسہ
انسانى زندگى پر داستان كااثر
قران كريم كا بہت ساحصہ گزشتہ قوموں كى سرگذشت اور گزرنے ہوئے لوگوں كے واقعات زندگى كى صورت ميں ہے،اس پہلو پر نظر كرنے سے يہ سوال سامنے اتا ہے كہ ايك تربيت كنندہ اور انسان ساز كتاب ميں يہ سب تاريخ اور داستانيں كيوں ہيں _
ليكن ذيل كے چند نكات كى طرف توجہ كرنے سے يہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے -:
۱_تاريخ انسانى زندگى كے مختلف مسائل كى تجربہ گاہ ہے اور جو چيزيں انسان عقلى دلائل سے اپنى ذہن ميں منعكس كرتا ہے انھيں تاريخ كے صفحات ميں عينى صورت ميں كھلا ہوا پاتا ہے اور اس طرف توجہ كرتے ہوئے كہ معلومات ميں سے زيادہ قابل اعتماد وہ ہيں جو حسى پہلو ركھتى ہيں ،واقعات زندگى ميں تاريخ كا اثر واضح طور پر ديكھا جا سكتا ہے ،انسان اپنى انكھوں سے صفحات تاريخ ميں اختلاف و انتشار كى وجہ سے كسى قوم كى مرگ بار شكست ديكھتا ہے اور اسى طرح اتحاد و ہم بستگى كے باعث كسى دوسرى قوم كى درخشاں كاميابى كا مشاہدہ كرتا ہے _
گزشتہ لوگوں كے حالات ان كے نہايت قيمتى تجربات كا مجموعہ ہيں اور ہم جانتے ہيں كہ زندگى كا ماحصل تجربے كے علاوہ كچھ بھى نہيں _
تاريخ ايك ائينہ ہے جو اپنے اندر تمام انسانى معاشروں كا ڈھانچہ منعكس كرتا ہے ،يہ ائينہ ان كى
برائياں اچھائياں ،كاميابياں ،ناكامياں ،فتوحات ،شكستيں اور ان سب امور كے عوامل و اسباب دكھاديتا ہے ،اسى بنا پر ان كى پورى عمر كے تجربات سميٹ ليتا ہے ،اسى بنا پر حضرت على (ع) اپنے ابرو مند فرزند كے نام اپنے تاريخى وصيت نامہ ميں فرماتے ہيں :
''اے ميرے بيٹےاگر گزشتہ لوگوں كى عمر يكجا مجھے حاصل نہيں تاہم ميں نے ان كے اعمال ديكھے ہيں ،ان كے واقعات ميں غور و فكر كيا ہے اور ان كے اثار كى سير و سياحت كى ہے اس طرح سے گويا ميں ان ميں سے ايك ہوگيا ہوں ،بلكہ اس بناپر كہ ميں نے ان كى تاريخ كے تجربات معلوم كئے ہيں تو گويا ميں نے ان كے اولين واخرين كے ساتھ زندگى گذارى ہے''_(۱)
البتہ_يہاں تاريخ سے مراد وہ تاريخ ہے جو خرافات ،اتہامات ،دروغ گوئيوں ،چاپلوسيوں ،ثناخوانيوں ،تحريفوں اور مسخ شدہ واقعات سے خالى ہو ليكن افسوس سے كہنا پڑتا ہے_
كہ ايسى تاريخيں بہت كم ہيں ،اس سلسلے ميں قران نے حقيقى تاريخ كے جو نمونے پيش كئے ہيں اس كے اثر كو نظر سے اوجھل نہيں رہنا چاہئے_
ايسى تاريخ كى ضرورت ہے كہ جو ائينے كى طرح صاف ہو نہ كہ كثرنما ہو ،ايسى تاريخ كہ جو صرف واقعات ذكر نہ كرے بلكہ اس كى بنياد اور تنائج بھى تلاش كرے_
ان حالات ميں قران كى جو تربيت كى ايك اعلى كتاب ہے تاريخ سے استفادہ كيوں نہ كرے اور گزشتہ لوگوں كے واقعات سے مثاليں اور شواہد كيوں پيش نہ كرے _
۲_علاوہ ازيں تاريخ ايك خاص قوت جاذبہ ركھتى ہے اور انسان بچپن سے لے كر بڑھاپے تك اپنى عمر كے تمام ادوار ميں اس زبر دست قوت جاذبہ كے زير اثر رہتا ہے ،اسى بنا پر دنيا كى ادبيات كا ايك اہم حصہ اور انشا پر دازوں كے عظيم اثار تاريخ اور واقعات پر مشتمل ہيں _
____________________
(۱) نہج البلاغہ ،مكتوب ۳۱،بنام امام حسن مجتبى عليہ السلام
شعرا اور عظيم مصنفين كے بہترين اثار چاہے وہ فارسى ميں ہوں يا دوسرى زبانوں ميں يہى داستانيں اور واقعات ہيں گلستان سعدى ،شاہنامہ فردوسى ،خمسہ نظامى اور معاصر مصنفين كے دلكش اثار ،اسى طرح ہيجان افرين فرانسيسى مصنف ،ويكٹر ہوگو ،برطانيہ كے ،شكس پئير، اورجرمنى كے، گوئٹے، سب كى تصانيف داستان كى صورت ميں ہيں _
داستان اور واقعہ چاہے نظم كى صورت ميں ہويا نثر كى ،نمائش كے انداز ميں ہو يا فلم كى شكل ميں پڑھنے والے اور ديكھنے والے پر اثر انداز ہوتا ہے اور ايسى تاثير عقلى استدلالات كے بس كى بات نہيں ہے _
اس كى وجہ شايد يہ ہے كہ انسان عقلى سے پہلے حسى ہے اور وہ جس قدر فكر ى مسائل ميں غور وفكر كرتا ہے اس سے زيادہ حتى مسائل ميں غوطہ زن ہوتا ہے ،زندگى كے مختلف مسائل ميں جس قدر ميدان حس سے دور ہوتے ہيں اور خالص عقلى حوالے سے ہوتے ہيں اسى قدر ثقيل اور سنگين ہوتے ہيں اور اتنى ہى دير سے ہمضم ہوتے ہيں _
اسى طرح ہم ديكھتے ہيں كہ ہميشہ عقلى استدلالات كے مضبوط بنانے كے لئے حسى مثالوں سے مدد لى جاتى ہے ،بعض اوقات ايك مناسب اور برمحل مثال استدلال كا اثر كئي گنا زيادہ كر ديتى ہے ،اسى لئے كامياب علماء وہ ہيں جو بہترين مثاليں انتخاب كرنے پر زيادہ دسترس ركھتے ہيں اورا يساكيوں نہ ہو جب كہ عقلى استدلال حسى ،عينى اور تجرباتى مسائل كا ماحصل ہيں _
۳_داستان اور تاريخ ہر شخص كے لئے قابل فہم ہے جب كہ اس كے بر عكس عقلى استدلالات كى رسائي ميں سب لوگ برابر كے شريك نہيں ہيں _
اسى لئے وہ كتاب كہ جو عموميت ركھتى ہے اور سب كے لئے ہے ،نيم وحشى ،ان پڑھ عرب كے بيابانى بدّو سے لے كر عظيم مفكر اور فلسفى تك كے استفادہ كے لئے ہے اسے حتمى طورپر تاريخ ،داستانوں اور مثالوں كا سہارا لينا چاہئے_
ان تمام پہلوو ں كو مجموعى طورپر ديكھا جائے تو يہ بات واضح ہوتى ہے كہ يہ تمام تاريخيں اور داستانيں
بيان كر كے قران نے تعليم و تربيت كے لحاظ سے بہترين راستہ اہنايا ہے_
خصوصاًاس نكتے كى طرف توجہ كرتے ہوئے كہ قران نے كسى موقع پر بھى خالى تاريخى واقعات ہى بيان نہيں كرديئے بلكہ ہر قدم پر اس سے نتائج اخذ كئے ہيں اور اس سے تربيتى حوالے سے استفادہ كيا ہے چنانچہ اپ اسى سورت ميں اس كے كئي نمونے ديكھيں گے_
* * * * *
۱ انبياء عليهم السلام کے واقعات
حضرت آدم عليہ السلام
خدا كى خواہش يہ تھى كہ روئے زمين پر ايك ايسا موجود خلق فرمائے جواس كا نمائندہ ہو ،اس كے صفات، صفات خداوندى كا پرتوہوں اور اس كا مرتبہ ومقام فرشتوں سے بالا ترہو، خدا كى خواہش اور ارادہ يہ تھا كہ سارى زمين اور اس كى نعمتيں ،تمام قوتيں ،سب خزانے ،تمام كانيں اور سارے وسائل بھى اس كے سپرد كردئےے جا ئيں ، ضرورى ہے كہ سارى زمين اور اس كى نعمتيں عقل وشعور ،ادر اك كے و افرحصے اور خصوصى استعداد كاحامل ہو جس كى بناء پر موجودات ارضى كى رہبرى اور پيشوائي كا منصب سنبھال سكے _
يہى وجہ ہے كہ قرآن كہتا ہے :''ياد كريں اس وقت كو جب آپ كے پروردگار نے فرشتوں سے كہا كہ ميں روئے زمين پر جانشين مقرركرنے والا ہوں ''_(۱)
بہر حال خدا چاہتا تھا كہ ايسے وجود كو پيدا كرے جو عالم وجود كا گلدستہ ہواور خلافت الہى كے مقام كى اہليت ركھتا ہو اور زمين پراللہ كا نمائندہ ہو مربوط آيات كى تفسير ميں ايك حديث جوامام صادق عليہ السلام سے مروى ہے وہ بھى اسى معنى كى طرف اشارہ كرتى ہے كہ فرشتے مقام آدم پہچاننے كے بعد سمجھ گئے كہ ادم اور ان كى اولا دزيادہ حقدار ہيں كہ وہ زمين ميں خلفاء الہى ہوں اور مخلوق پر اس كى حجت ہوں _
____________________
(۱) سورہ بقرہ آيت۳۰
فرشتوں كا سوال
فرشتوں نے حقيقت كا ادراك كرنے كے لئے نہ كہ اعتراض كى غرض سے عرض كيا :''كيا زمين ميں اسے جانشين قرار دے گا جو فساد كرے گا اور خون بہا ئے گا_ جب كہ ہم تيرى عبادت كرتے ہيں ،تيرى تسبيح وحمد كرتے ہيں اور جس چيز كى تيرى ذات لائق نہيں اس سے تجھے پاك سمجھے ہيں ''_(۱)
مگر يہاں پرخدانے انہيں سربستہ ومجمل جواب ديا جس كى وضاحت بعد كے مراحل ميں آشكار ہو فرمايا :''ميں ايسى چيزوں كو جانتا ہوں جنہيں تم نہيں جانتے''_(۲)
فرشتوں كى گفتگو سے معلوم ہو تا ہے كہ وہ سمجھ گئے تھے كہ يہ انسان سر براہى نہيں بلكہ فساد كرے گا، خون بہائے گا اور خرابياں كرے گا ليكن ديكھنا يہ ہے كہ آخروہ كس طرح سمجھے تھے _
بعض كہتے ہيں خدا نے انسان كے آئندہ حالات بطور اجمال انہيں بتا ئے تھے جب كہ بعض كا احتمال ہے كہ ملائكہ خود اس مطلب كو لفظ ''فى الارض''(زمين ميں ) سے سمجھ گئے تھے كيونكہ وہ جانتے تھے انسان مٹى سے پيدا ہوگا اور مادہ اپنى محدوديت كى وجہ سے طبعاً مركز نزاع وتزاحم ہے كيونكہ محدود مادى زمانہ انسانوں كى اس طبيعت كو سيروسيراب نہيں كرسكتا جوزيادہ كى طلب ركھتى ہے يہاں تك كہ اگر سارى دنيا بھى ايك فرد كو دے دى جائے تو ممكن ہے وہ پھر بھى سير نہ ہو اگر كافى احساس ذمہ دارى نہ ہو تو يہ كيفيت فساد اور خونريزى كا سبب بنتى ہے _
بعض دوسرے مفسرين معتقد ہيں كہ فرشتوں كى پيشين گوئي اس وجہ سے تھى كہ آدم روئے زمين كى پہلى مخلوق نہيں تھے بلكہ اس سے قبل بھى ديگر مخلوقات تھيں ;جنہوں نے نزاع،جھگڑااور خونريزى كى تھي،ان سے پہلے مخلوقات كى برى فائل نسل آدم كے بارے ميں فرشتوں كى بد گمانى كا باعث بنى _
يہ تين تفاسير ايك دوسرے سے كچھ زيادہ اختلاف نہيں ركھتيں يعنى ممكن ہے يہ تمام امور فرشتوں كي
____________________
(۱)سورہ بقرہ آيت۳۰
(۲)سورہ بقرہ آيت۳۰
اس توجہ كا سبب بنا ہو اور دراصل يہ ايك حقيقت بھى تھى جسے انہوں نے بيان كيا تھا يہى وجہ ہے كہ خدا نے جواب ميں كہيں بھى اس كا انكار نہيں كيا بلكہ اس حقيقت كے ساتھ ساتھ ايسى مزيد حقيقتيں انسان اور اس كے مقام كے بارے ميں موجود ہيں جن سے فرشتے آگاہ نہيں تھے _
فرشتے سمجھتے تھے اگر مقصد عبوديت اور بند گى ہے تو ہم اس كے مصداق كامل ہيں ،ہميشہ عبادت ميں ڈوبے رہتے ہيں لہذا سب سے زيادہ ہم خلافت كے لائق ہيں ليكن وہ اس سے بے خبرتھے كہ ان كے وجود ميں شہوت وغضب اور قسم قسم كى خواہشات موجود نہيں جب كہ انسان كو ميلانات وشہوات نے گھير ركھا ہے اور شيطان ہر طرف سے اسے وسوسہ ميں ڈالتا رہتا ہے لہذا ان كى عبادت انسان كى عبادت سے بہت زيادہ فرق ركھتى ہے كہاں اطاعت اور فرمانبردارى ايك طوفان زدہ كى اور كہاں عبادت ان ساحل نشينوں كى جو مطمئن، خالى ہاتھ اور سبك بارہيں _
انہيں كب معلوم تھا كہ اس آدم كى نسل سے محمد ،ابراہيم،نوح،موسي، عيسى عليہم السلام جيسے انبياء اور ائمہ اہل بيت (ع) جيسے معصوم اور ايسے صالح بندے اور جانباز شہيد مرد اور عورتيں عرصئہ وجود ميں قدم ركھيں گے جو پروانہ وار اپنے آپ كو راہ خدا ميں پيش كريں گے ايسے افراد جن كے غور وفكر كى ايك گھڑى فرشتوں كى سالہا سال كى عبادت كے بہتر ہے _
يہ بات قابل توجہ ہے كہ فرشتوں نے اپنے صفات كے بارے ميں تين چيزوں كا سہارا ليا تسبيح، حمد اور تقديس ،در حقيقت وہ يہ كہنا چاہتے تھے كہ اگر ہدف اور غرض ،اطاعت اور بندگى ہے تو ہم فرمانبردار ہيں اور اگر عبادت ہے تو ہم ہر وقت اس ميں مشغول رہتے ہيں اور اگر اپنے آپ كو پاك ركھنا يا صفحہ ارضى كو پاك ركھنا ہے تو ہم ايسا كريں گے جب كہ يہ مادى انسان خود بھى فاسد ہے اور روئے زمين كو بھى فاسد كردے گا _
حقائق كو تفصيل سے ان كے سامنے واضح كرنے كے لئے خداوندعالم نے ان كى آزمائش كے لئے اقدام كيا تاكہ وہ خود اعتراف كريں كہ:
'' ان كے اور اولاد آدم كے درميان زمين وآسمان كا فرق ہے ''_
فرشتے امتحان كے سانچے ميں
پروردگار كے لطف وكرم سے آدم حقائق عالم كے ادراك كى كافى استعدادركھتے تھے خدا نے ان كى اس استعداد كو فعليت كے درجے تك پہنچا يا اور قرآن كے ارشاد كے مطابق آدم كو تمام اسما ء (عالم وجود كے حقائق واسرار )كى تعليم دى گئي_(۱)(۲)
____________________
(۱)سورہ بقرہ آيت۳۱
(۲) مفسرين نے اگر چہ ''علم اسماء كى تفسير ميں قسم قسم كے بيانات ديئے ہيں ليكن مسلم ہے كہ آدم كو كلمات واسماء كى تعليم بغير معنى كے نہيں دى تھى كيونكہ يہ كو ئي قابل فخربات نہيں بلكہ مقصد يہ تھا كہ ان اسماء كے معانى ومفاہيم اورجن چيزوں كے وہ نام تھے ان سب كى تعليم ہے البتہ جہان خلقت اور عالم ہستى كے مختلف موجودات كے اسماء خواص سے مربوط علوم سے باخبر وآگاہ كيا جانا حضرت ادم كے لئے بہت بڑا اعزاز تھا _
ايك حديث ميں ہے كہ حضرت امام صادق عليہ السلام سے اس آيت (وعلم آدم الاسماء كلہا)كے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمايا : (الارضين والجبال والشعاب والا وديہ ثمہ نظر الى بساط تحتہ فقال وہزا ابساط مما علمہ)_
اسماء سے مرادزمينيں ،پہاڑ،دريا،اوروادياں (غرض يہ كہ تمام موجودات ) تھے، اس كے بعد امام (ع) نے اس فرش كى طرف نگاہ كى جو آپ كے نيچے بچھا ہوا تھا اور فرمايا يہاں تك كہ يہ فرش بھى ان امور ميں سے ہے كہ خدا نے جن كى آدم كو تعليم دى _
لہذا معلوم يہ ہوا كہ علم لغت كے مشابہ نہ تھا بلكہ اس كا تعلق فلسفہ ،اور اسرار اور كيفيات وخواص كے ساتھ تھا، خداوندعالم نے آدم كو اس علم كى تعليم دى تاكہ وہ اپنى سيرتكامل ميں اس جہان كى مادى اور روحانى نعمتوں سے بہرہ ورہوسكيں اسى طرح مختلف چيزوں كے نام ركھنے كى استعداد بھى انہيں دى تاكہ وہ چيزوں كے نام ركھ سيكيں اور ضرورت كے وقت ان كا نام لے كر انہيں بلا سكيں يا منگواسكيں اور يہ ضرورى نہ ہو كہ اس كے لئے ويسى چيز دكھانى پڑے، يہ خود ايك بہت بڑى نعمت ہے اس موضوع كى اہميت ہم اس وقت سمجھتے ہيں جب ديكھتے ہيں كہ انسان كے پاس اس وقت جو كچھ ہے كتاب اور لكھنے كى وجہ سے ہے اور گزرے ہوئے لوگوں كے سب علمى ذخائران كى تحريروں ميں جمع ہيں اور يہ سب كچھ چيزوں كے نام ركھنے اور ان كے خواص كى وجہ سے ہے ورنہ كبھى بھى ممكن نہ تھا كہ ہم گذشتہ لوگوں كے علوم آنے والوں تك منتقل كرسكتے _
پھر خداوند عالم نے فرشتوں سے فرمايا :''اگر سچ كہتے ہوتو ان اشياء اور موجودات كے نام بتاو جنہيں ديكھ رہے ہو اور ان كے اسرارو كيفيات كو بيان كرو،ليكن فرشتے جو اتنا علم نہ ركھتے تھے اس امتحان ميں پيچھے رہ گئے لہذا جواب ميں كہنے لگے خدا وندا :''تومنزہ ہے ،تونے ہميں جوتعليم دى ہے ہم اس كے علاوہ كچھ نہيں جانتے ہميں نہيں معلوم تو خود ہى عليم وحكيم ہے_(۱)
اگر ہم نے اس سلسلے ميں سوال كيا ہے تو يہ ہمارى ناآگا ہى كى بناء پرتھا اور آدم كى اس عجيب استعداد اور قدرت سے بے خبر تھے جو ہمارے مقابلے ميں اس كا بہت بڑا امتياز ہے ،بے شك وہ تيرى خلافت وجانشينى كى اہليت ركھتا ہے جہان ہستى كى سرزمين اس كے وجود كے بغير نا قص تھي_
اب آدم عليہ السلام كى بارى آئي كہ وہ ملائكہ كے سامنے موجود ات كا نام ليں اور ان كے اسرار بيان كريں خداوند عالم نے فرمايا :''اے آدم :فرشتوں كو ان موجود ات كے ناموں اور كاموں سے آگاہ كرو،جب آدم نے انہيں ان اسماء سے آگاہ كيا تو خداوند عالم نے فرمايا : كياميں نے تمہيں بتايا نہيں تھا كہ ميں آسمان وزمين كے غيب سے واقف ہوں اور تم جو كچھ ظاہر كرتے اور چھپا تے ہوسب سے باخبر ہوں ''_(۲)
اس مقام پر ملائكہ نے اس انسان كى وسيع معلومات اور فراواں حكمت ودانائي كے سامنے سرتسليم خم كرديا اور ان پر واضح ہوگيا كہ صرف يہى زمين پر خلافت كى اہليت ركھتا ہے _
آدم عليہ السلام جنت ميں
گذشتہ بحثيں جوانسان كے مقام وعظمت كے بارے ميں تھيں ان كے ساتھ قرآن نے ايك اور فصل بيان كى ہے، پہلے كہتا ہے : ''يادكرووہ وقت جب ہم نے فرشتوں سے كہا آدم كے لئے سجدہ وخضوع كرو، ان سب نے سجدہ كيا سوائے ابليس كے، جس نے انكار كيا اور تكبر كيا اور اسى تكبر ونا فرمانى كى وجہ سے كافروں ميں داخل ہوگيا ''_(۳)
____________________
(۱) سورہ بقرہ آيت۳۱
(۲) سورہ بقرہ آيت۳۳
(۳) سورہ بقرہ آيت۳۴
بہر حال مربوط آيت انسانى شرافت اور اس كى عظمت ومقام كى زندہ اور واضح دليل ہے كہ اس كى تكميل خلقت كے بعد تمام ملائكہ كو حكم ملتا ہے كہ اس عظيم مخلوق كے سامنے سر تسليم خم كردو، واقعاوہ شخص جو مقام خلافت الہى اور زمين پر خدا كى نمائندگى كا منصب حاصل كرے ،تمام ترتكا مل وكمال پر فائز ہو اور بلند مرتبہ فرزندوں كى پرورش كا ذمہ دار ہو جن ميں انبيا ء اورخصوصا ًپيامبر اسلام (ص) اور ان كے جانشين شامل ہوں ، ايسا انسان ہر قسم كے احترام كے لائق ہے _
ابليس نے مخالفت كيوں كي
ہم جانتے ہيں كہ لفظ ''شيطان ''اسم جنس ہے جس ميں پہلا شيطان اور ديگر تمام شيطان شامل ہيں ليكن ابليس مخصوص نام ہے، اور يہ اسى شيطان كى طرف اشارہ ہے جس نے حضرت آدم كو ورغلايا تھا وہ صريح آيات قرآن كے مطابق ملائكہ كى نوع سے نہيں تھا صرف ان كى صفوں ميں رہتا تھا وہ گروہ جن ميں سے تھا جو ايك مادى مخلوق ہے _(۱)
اس مخالفت كاسبب كبر و غرور اور خاص تعصب تھا جو اس كى فكر پر مسلط تھا_وہ سوچتا تھا كہ ميں آدم سے بہتر ہوں لہذا آدم كو سجدہ كرنے كا حكم نہيں ديا جانا چاہئے بلكہ آدم كو سجدہ كرنا چاہئے اور اسے مسجود ہونا چاہئے_
خدانے ''ابليس''كى سركشى اور طغيانى كى وجہ اس كا مواخذہ كيا اور كہا:اس بات كا كيا سبب ہے كہ تو نے آدم كو سجدہ نہيں كيا اور ميرے فرمان كو نظر انداز كرديا ہے؟(۲)
اس نے جواب ميں ايك نادرست بہانے كا سہارا ليا اور كہا:''ميں اس سے بہتر ہوں كيونكہ تو نے مجھے آگ سے پيدا كيا ہے اور آدم كو آب و گل سے_(۳)
____________________
(۱)سورہ كہف آيت ۵۰ ميں ہے :''سب نے سجدہ كيا سوائے ابليس كے جو جنوں ميں سے تھا''
(۲)سورہ اعراف آيت۱۲
(۳)سورہ اعراف آيت۱۲
گويا اسے خيال تھا كہ آگ،خاك سے بہتر و افضل ہے،يہ ابليس كى ايك بڑى غلط فہمى تھي،شايد اسے غلط فہمى بھى نہ تھى بلكہ جان بوجھ كر جھوٹ بول رہا تھا_
ليكن شيطان كى داستان اسى جگہ ختم نہيں ہوتي،بلكہ اس نے جب يہ ديكھا كہ وہ درگاہ خداوندى سے نكال ديا گيا ہے او اس كى سركشى اور ہٹ دھرمى ميں اور اضافہ ہوگيا_ چنانچہ اس نے بجائے شرمندگى اور توبہ كے اور بجائے اس كے كہ وہ خدا كى طرف پلٹے اور اپنى غلطى كا اعتراف كرے،اس نے خدا سے صرف اس بات كى درخواست كى كہ : ''خدايا مجھے رہتى دنيا تك كے لئے مہلت عطا فرمادے اور زندگى عطا كر''_(۱)
اس كى يہ درخواست قبول ہوگئي اور اللہ تعالى نے فرمايا:''تجھے مہلت دى جاتى ہے''_(۲)
اگر چہ قران ميں اس بات كى صراحت نہيں كى گئي كہ ابليس كى درخواست كس حدتك منظور ہوئي_ارشادہوا: ''تجھ كو اس روز معين تك كے لئے مہلت دى گئي''_(۳)
يعنى اس كى پورى درخواست منظور نہيں ہوئي بلكہ جس مقدار ميں خدانے چاہا اتنى مہلت عطا كي_
ليكن اس نے جو يہ مہلت حاصل كى وہ اس لئے نہيں تھى كہ اپنى غلطى كا تدارك كرے بلكہ اس نے اس طولانى عمر كے حاصل كرنے كا مقصد اس طرح بيان كيا:
''اب جبكہ تو نے مجھے گمراہ كرديا ہے،تو ميں بھى تيرے سيدھے راستے پر تاك لگا كر بيٹھوں گا(مورچہ بنائوں گا)اور ان(اولاد آدم)كو راستے سے ہٹادوں گا،تاكہ جس طرح ميں گمراہ ہوا ہوں اسى طرح وہ بھى گمراہ ہوجائيں _''(۴)
اس كے بعد شيطا ن نے اپنى بات كى مزيد تائيد و تاكيد كے لئے يوں كہا:''ميں نہ صرف يہ كہ ان كے راستہ پر اپنا مورچہ قائم كروں گا بلكہ ان كے سامنے سے،پيچھے سے،دا ھنى جانب سے،بائيں جانب سے گويا
____________________
(۱) سورہ اعراف آيت۱۴
(۲) سورہ اعراف ايت ۱۵
(۳) سورہ حجر آيت۳۸
(۴) سورہ اعراف آيت۱۶
چاروں طرف سے ان كے پاس آئوں گا جس كے نتيجہ ميں تو ان كى اكثريت كو شكر گزار نہ پائے گا_''(۱)(۲)
شروع ميں اس كا گناہ صرف يہ تھا كہ اس نے خدا كا حكم ماننے سے انكار كرديا تھا،اسى لئے اس كے خروج كا حكم صادر ہوا، اس كے بعد اس نے ايك اور بڑا گناہ يہ كيا كہ خدا كے سامنے بنى آدم كو بہكانے كا عہد كيا اور ايسى بات كہى گويا وہ خدا كو دھمكى دے رہا تھا،ظاہر ہے كہ اس سے بڑھ كر اور كونسا گناہ ہوسكتا ہے_ لہذا خدا نے اس سے فرمايا:اس مقام سے بد ترين ننگ و عار كے ساتھ نكل جا اور ذلت و خوارى كے ساتھ نيچے اتر جا_
اور فرمايا:''ميں بھى قسم كھاتاہوں كہ جو بھى تيرى پيروى كرے گا ميں جہنم كو تجھ سے اور اس سے بھردوں گا_''(۳)(۴)
____________________
(۱)سوہ اعراف آيت۱۶
(۲)مذكورہ بالا تعبير سے مراد يہ ہو سكتى كہ شيطان ہر طرف سے انسان كا محاصرہ كرے گا اور اسے گمراہ كرنے كے لئے ہر وسيلہ اختيار كرے گا اور يہ تعبير ہمارى روز مرہ كى گفتگو ميں بھى ملتى ہے جيسا كہ ہم كہتے ہيں كہ''فلاں شخص چاروں طرف سے قرض ميں يا مرض ميں گھر گيا ہے_''
اوپر اور نيچے كا ذكر نہيں ہوا اس كى وجہ يہ ہے كہ انسان كى زيادہ تر اور عموماًفعاليت ان چار طرف ہوتى ہے_
ليكن ايك روايت جو امام محمد باقر عليہ السلام سے وارد ہوئي ہے،اس ميں ان''چاروں جہت''كى ايك گہرى تفسير ملتى ہے اسميں ايك جگہ پر حضرت(ع) فرماتے ہيں : ''شيطان جو آگے سے آتا ہے اس سے مراد يہ ہے كہ وہ آخرت كو جو انسان كے آگے ہے اس كى نظر ميں سبك كرديتا ہے،اور پيچھے سے آنے كے معنى يہ ہيں كہ;شيطان انسان كو مال جمع كرنے اور اولاد كى خاطر بخل كرنے كے لئے ورغلاتا ہے،اور''داہنى طرف''سے آنے كا يہ مطلب ہے كہ وہ انسان كے دل ميں شك و شبہ ڈال كر اس كے امور معنوى كو ضائع كرديتا ہے اور بائيں طر ف سے آنے سے مراد يہ ہے ك شيطا ن انسان كى نگاہ ميں لذات مادى و شہوات دنيوى كو حسين بنا كر پيش كرتا ہے_
(۳)سورہ اعراف ايت ۱۸
(۴)سجدہ خدا كے لئے تھا ياآدم كے لئے ؟ اس ميں كوئي شك نہيں كہ ''سجدہ ''جس كا معنى عبادت وپرستش ہے صرف خدا كے لئے ہے كيونكہ عالم ميں خدا كے علاوہ كو ئي معبود نہيں اور توحيد عبادت كے معين يہى ہيں كہ خدا كے علاوہ كسى كى عبادت نہ
بہشت ميں قيام
بہرحال اس واقعہ اور فرشتوں كے امتحان كے بعد آدم اور حوا كو حكم ديا گيا كہ وہ بہشت ميں سكونت اختيار كريں چنانچہ قرآن كہتا ہے :''ہم نے آدم سے كہا كہ تم اور تمہارى بيوى بہشت ميں رہو اوراس كى فراوان نعمتوں ميں سے جو چاہو كھا ئو ليكن اس مخصوص درخت كے نزديك نہ جانا ورنہ ظالموں ميں سے ہوجائوگے_''(۱)
آيات قرآنى سے ظاہر ہو تا ہے كہ آدم زندگى گزار نے كے لئے اسى عام زمين پر پيدا ہوئے تھے ليكن ابتداء ميں خدا وند عالم نے انہيں بہشت ميں سكونت دى جو اسى جہان كا ايك سرسبز وشاداب اور نعمتوں سے مالامال باغ تھا وہ ايسى جگہ تھى جہاں آدم نے كسى قسم كى تكليف نہيں ديكھى شايد اس كا سبب يہ ہوكہ آدم زمين ميں پر زندگى گزارنے سے آشنائي نہ ركھتے تھے اوربغير كسى تمہيد كے زحمات وتكليف اٹھا نا ان كے لئے مشكل تھا اور زمين ميں زندگى گزارنے كے لئے يہاں كے كر دارورفتار كى كيفيت سے آگاہيت ضرورى تھى لہذا مختصر مدت كے لئے بہشت كے اندر ضرورى تعليمات حاصل كرليں كيونكہ زمين كى زندگى پروگراموں ، تكليفوں اور ذمہ داريوں سے معمور ہے جس كا انجام صحيح سعادت ،تكامل اور بقائے نعمت كا سبب ہے اور ان سے روگردانى كرنا رنج ومصيبت كا باعث ہے _
اور يہ بھى جان ليں كہ اگر چہ انہيں چاہئے كہ زمين كى كچھ چيزوں سے چشم پو شى كريں نيز يہ جان لينا
كريں ،لہذا اس ميں شك و شبہ نہيں كہ ملائكہ نے آدم كے لئے سجدہ عبادت نہيں كيا بلكہ يہ سجدہ خدا كے لئے تھا،ليكن اس عجيب و غريب مخلوق كى وجہ سے يايہ كہ سجدہ آدم كے لئے تھا ليكن وہ خضوع وتعظيم كا سجدہ تھا نہ كہ عبادت وپرستش كا_
كتاب عيون الاخبارميں امام على بن موسى رضا عليہ السلام سے اسى طرح كى روايت ہے جس ميں اپ نے فرمايا: ''فرشتوں كا سجدہ ايك طرف سے خدا كى عبادت تھى اور دوسرى طرف آدم كا اكرام واحترام كيونكہ ہم صلب آدم ميں موجود تھے ''
____________________
(۱) سورہ بقرہ آيت۳۵
بھى ضرورى تھاكہ اگر خطاولغزش دامن گير ہو توايسا نہيں كہ سعادت وخوش بختى كے دروازے ہميشہ كےلئے بند ہوجائيں گے بلكہ انہيں پلٹ كردوبارہ عہد وپيمان كرنا چاہيئے كہ وہ حكم خدا كے خلاف كوئي كام انجام نہيں ديں گے تاكہ دوبارہ نعمات الہى سے مستفيد ہوسكيں ، يہ بھى تھا كہ وہ اس ماحول ميں رہ كر كچھ پختہ ہوجائيں اور اپنے دوست اور دشمن كو پہچان ليں اور زمين ميں زندگى گزارنے كى كيفيت سے آشنا ہوجائيں يقينا يہ سلسلہ تعليمات ضرورى تھا تاكہ وہ اسے يادركھيں اور اس تيارى كے ساتھ روئے زمين پر قدم ركھيں _
يہ ايسے مطالب تھے كہ حضرت آدم اور ان كى اولاد آئندہ زندگى ميں ان كى محتاج تھى لہذا اس كے باوجود كہ آدم كو زمين كى خلافت كے لئے پيدا كيا گيا تھا ايك مدت تك بہشت ميں قيام كرتے ہيں اورانہيں كئي ايك حكم دئے جاتے ہيں جوشايد سب تمرين وتعليم كے پہلوسے تھا _
شيطان كا وسوسہ
اس مقام پر آدم نے اس فرمان الہى كو ديكھا جس ميں آپ كو ايك درخت كے بارے ميں منع كيا گيا تھا ادھر شيطان نے بھى قسم كھا ركھى تھى كہ آدم اور اولاد آدم كو گمراہ كرنے سے باز نہ آئے گا وہ وسوسے پيدا كرنے ميں مشغول ہوگيا جيسا كہ باقى آيات قرآنى سے ظاہر ہوتا ہے اس نے آدم كو اطمينا ن دلايا كہ اگراس درخت سے كچھ ليں تو وہ اوران كى بيوى فرشتے بن جائيں گے اور ہميشہ ہميشہ كے لئے جنت ميں رہيں گے يہاں تك كہ اس نے قسم كھائي كہ ميں تمہارا خير خواہ ہوں _''(۱)
اس طرح اس نے فرمان خدا كو ان كى نظر ميں ايك دوسرے رنگ ميں پيش كيا اور انہيں يہ تصور دلانے كى كوشش كى كہ اس '' شجرہ ممنوعہ'' سے كھالينا نہ صرف يہ كہ ضرر رساں نہيں بلكہ عمر جاوداں يا ملائكہ كا مقام ومرتبہ پالينے كا موجب ہے_ اس بات كى تائيد اس جملے سے بھى ہوتى ہے شيطان كى زبانى وارد ہوا ہے: اے آدم: ''كيا تم چاہتے ہوكہ ميں تمہيں زندگانى جاودانى اور ايسى سلطنت كى رہنمائي كروں جو كہنہ نہ ہوگي؟ ''(۲)
____________________
(۱) سورہ اعراف آيت۲۰
(۲)سورہ طہ آيت ۱۲۰
ايك روايت جو '' تفسير قمي'' ميں امام جعفرصادق عليہ السلام سے اور''عيون اخبار الرضا'' ميں امام على بن موسى رضا عليہ السلام سے مروى ہے;ميں وارد ہوا ہے : ''شيطان نے آدم سے كہا كہ اگر تم نے اس شجرہ ممنوعہ سے كھاليا تو تم دونوں فرشتے بن جائوگے ،اور پھر ہميشہ كے لئے بہشت ميں رہوگے، ورنہ تمہيں بہشت سے باہر نكال ديا جائے گا ''_
آدم نے جب يہ سنا تو فكر ميں ڈوب گئے ليكن شيطان نے اپنا حربہ مزيد كار گر كرنے كے لئے سخت قسم كھائي كہ ميں تم دونوں كا خيرخواہ ہوں _(۱)
حضرت آدم عليہ السلام كو آب حيات كى تمنا
آدم ، جنہيں زندگى كا ابھى كافى تجربہ نہ تھا ، نہ ہى وہ ابھى تك شيطان كے دھوكے، جھوٹ اور نيرنگ ميں گرفتار ہوئے تھے ،انہيں يہ يقين نہيں ہوسكتا تھا كہ كوئي اتنى بڑى جھوٹى قسم بھى كھا سكتا ہے اور اس طرح كے جال، دوسرے كو گرفتار كرنے كےلئے پھيلا سكتا ہے، آخركار وہ شيطان كے فريب ميں آگئے اور آب حيات وسلطنت جاودانى حاصل كرنے كے شوق ميں مكر ابليسى كى بوسيدہ رسى كو پكڑكے اس كے وسوسہ كے كنويں ميں اتر گئے رسى ٹوٹ گئي اور انہيں نہ صرف آب حيات ہاتھ نہ آيا بلكہ خدا كى نافرمانى كے گرداب ميں گرفتار ہوگئے ان تمام مطالب كو قرآن كريم نے اپنے ايك جملے ميں خلاصہ كرديا ہے ارشاد ہوتا ہے:''اس طرح سے شيطان نے انہيں دھوكا ديا اور اس نے اپنى رسى سے انہيں كنويں ميں اتار ديا ''_(۲)
ادم كو چاہئے تھا كہ شيطان كے سابقہ دشمنى اور خدا كى وسيع حكمت ورحمت كے علم كى بناپر اس كے جال كو پارہ پارہ كرديتے اور اس كے كہنے ميں نہ آتے ليكن جو كچھ نہ ہونا چاہئے تھا وہ ہوگيا _
''بس جيسے ہى آدم وحوانے اس ممنوعہ درخت سے چكھا، فوراً ہى ان كے كپڑے ان كے بدن سے نيچے گرگئے اور ان كے اندام ظاہرہوگئے''_(۳)
____________________
(۱)سورہ اعراف ايت ۲۱
(۲)سورہ اعراف آيت ۲۲
(۳)سورہ اعراف آيت ۲۲
مذكورہ بالا جملے سے يہ بخوبى ظاہر ہوتا ہے كہ درخت ممنوع سے چكھنے كے ساتھ ہى فوراً اس كابرا اثر ظاہر ہوگيا اور وہ اپنے بہشتى لباس سے جوفى الحقيقت خدا كى كرامت واحترام كا لباس تھا، محروم ہو كر برہنہ ہوگئے _
اس جملہ سے اچھى طرح ظاہر ہوتا ہے كہ آدم وحوايہ مخالفت كرنے سے پہلے برہنہ نہ تھے بلكہ كپڑے پہنے ہوئے تھے ، اگر چہ قرآن ميں ان كپڑوں كى كوئي تفصيل بيان نہيں كى گئي ليكن جو كچھ بھى تھا وہ آدم وحوا كے وقار كے مطابق اور ان كے احترام كے لئے تھا ،جو ان كى نافرانى كے باعث ان سے واپس لے ليا گيا _
ليكن خود ساختہ توريت ميں اس طرح سے ہے :
آدم وحوا اس موقع پربالكل برہنہ تھے ليكن اس برہنگى كى زشتى كو نہيں سمجھتے تھے، ليكن جس وقت انہوں نے اس درخت سے كھايا جو درحقيقت '' علم ودانش'' كا درخت تھا تو ان كى عقل كى آنكھيں كھل گئيں اور اب وہ اپنے كو برہنہ محسوس كرنے لگے اور اس حالت كى زشتى سے آگاہ ہوگئے_
جس '' آدم '' كا حال اس خود ساختہ توريت ميں بيان كيا گيا ہے، وہ فى الحقيقت آدم واقعى نہ تھا بلكہ وہ تو كوئي ايسا نادان شخص تھا جو علم ودانش سے اس قدر دور تھا كہ اسے اپنے ننگا ہونے كا بھى احساس نہ تھا ليكن جس '' آدم ''كا تعارف قرآن كراتا ہے وہ نہ صرف يہ كہ اپنى حالت سے باخبر تا بلكہ اسرار آفرينش (علم اسما) سے بھى آگاہ تھا اور اس كا شمار معلم ملكوت ميں ہوتا تھا، اگر شيطان اس پر اثرانداز بھى ہوا تويہ اس كى نادانى كى وجہ سے نہ تھا، بلكہ اس نے ان كى پاكى اور صفائے نيت سے سوئے استفادہ كيا _
اس بات كى تائيد كلام الہى كے اس قول سے بھى ہوتى ہے:
''اے اولاد آدم : كہيں شيطان تمہيں اس طرح فريب نہ دے جس طرح تمہارے والدين (آدم وحوا) كو دھوكا دے كر بہشت سے باہر نكال ديا اور ان كا لباس ان سے جدا كرديا ''_(۱)
____________________
(۱)سورہ اعراف آيت ۲۷
اگرچہ بعض مفسرين اسلام نے يہ لكھا ہے كہ آغاز ميں حضرت آدم برہنہ تھے تو واقعاً يہ ايك واضح اشتباہ ہے جو توريت كى تحريركى وجہ سے پيدا ہوا ہے_
بہرحال اس كے بعد قرآن كہتا ہے : '' جس وقت آدم وحوا نے يہ ديكھاتو فوراًبہشت كے درختوں كے پتوں سے اپنى شرم گاہ چھپانے لگے _
اس موقع پر خدا كى طرف سے يہ ندا آئي:'' كيا ميں نے تم دونوں كو اس درخت سے منع نہيں كيا تھا كيا ميں نے تم سے يہ نہيں كہا تھا كہ شيطان تمہارا كھلا دشمن ہے، تم نے كس لئے ميرے حكم كو بھلاديا اور اس پست گرداب ميں گھر گئے ؟(۱)
شجرہ ممنوعہ كونسادرخت تھا؟
قرآن كريم ميں بلا تفصيل اور بغير نام كے چھ مقام پر'' شجرہ ممنوعہ'' كا ذكر ہوا ہے ليكن كتب اسلامى ميں اس كى تفسير دوقسم كى ملتى ہے ايك تو اس كى تفسير مادى ہے جو حسب روايات '' گندم '' ہے _
اس بات كى طرف توجہ رہنا چاہئے كہ عرب لفظ '' شجرہ ''كا اطلاق صرف درخت پر نہيں كرتے بلكہ مختلف نباتات كو بھى '' شجرہ '' كہتے ہيں چاہے وہ جھاڑى كى شكل ميں ہوں يابيل كى صورت ميں _
دوسرى تفسير معنوى ہے جس كى تعبير روايات اہل بيت عليہم السلام ميں '' شجرہ حسد'' سے كى گئي ہے ان روايات كا مفہوم يہ ہے كہ آدم نے جب اپنا بلند ودرجہ رفيع ديكھا تو يہ تصور كيا كہ ان كا مقام بہت بلند ہے ان سے بلند كوئي مخلوق اللہ نے نہيں پيدا كى اس پر اللہ نے انہيں بتلا يا كہ ان كى اولاد ميں كچھ ايسے اولياء الہى (پيغمبر اسلام اور ان كے اہل بيت عليہم السلام ) بھى ہيں جن كا درجہ ان سے بھى بلند وبالا ہے اس وقت آدم ميں ايك حالت حسد سے مشابہ پيدا ہوئي اور يہى وہ '' شجرہ ممنوعہ'' تھا جس كے نزديك جانے سے آدم كو روكا گيا تھا_
حقيقت امر يہ ہے كہ آدم نے (ان روايات كى بناپر)دو درختوں سے تناول كيا ايك درخت تو وہ تھا
____________________
(۱)سورہ اعراف آيت ۲۲
جو ان كے مقام سے نيچے تھا، اور انہيں مادى دنيا ميں لے جاتا تھا اور وہ '' گندم'' كا پودا تھا دوسرا درخت معنوى تھا ،جو مخصوص اوليائے الہى كا درجہ تھا اور يہ آدم كے مقام ومرتبہ سے بالاتر تھا آدم نے دونوں پہلوئوں سے اپنى حد سے تجاوز كيا اس لئے انجام ميں گرفتار ہوئے_
ليكن اس بات كى طرف توجہ رہے كہ يہ ''حسد'' حسد حرام كى قسم سے نہ تھا يہ صرف ايك نفسانى احساس تھا جبكہ انہوں نے اس طرف قطعاً كوئي اقدام نہيں كيا تھا جيسا كہ ہم نے بارہاكہا ہے كہ آيات قرانى چونكہ متعدد معانى ركھتى ہيں لہذا اس امر ميں كوئي مانع نہيں كہ '' شجرہ '' سے دونوں معنى مراد لے لئے جائيں _
اتفاقاًكلمہ '' شجرہ '' قرآن ميں دونوں معنى ميں آياہے ، كبھى تو انہى عام درختوں(۱) كے معنى ميں استعمال ہوتا ہے، اور كبھى شجرہ معنوى كے معنى ميں استعمال ہوا ہے_(۲)
ليكن يہاں پر ايك نكتہ ہے جس كى طرف توجہ دلانا مناسب ہے اور وہ يہ ہے كہ موجودہ خود ساختہ توريت ميں ، جو اس وقت كے تمام يہود ونصارى كى قبول شدہ ہے اس شجرہ ممنوعہ كى تفسير '' شجرہ علم ودانش اور شجرہ حيات وزندگى '' كى گئي ہے توريت كہتى ہے:
''قبل اس كے آدم شجرہ علم ودانش سے تناول كريں ،وہ علم ودانش سے بے بہرہ تھے حتى كہ انہيں اپنى برہنگى كا بھى احساس نہ تھا جب انہوں نے اس درخت سے كھايا اس وقت وہ واقعى آدم بنے اور بہشت سے نكال ديئے گئے كہ مبادا درخت حيات وزندگى سے بھى كھاليں اور خدائوں كى طرح حيات جاويدانى حاصل كرليں _''(۳)
يہ عبارت اس بات كى كھلى ہوئي دليل ہے كہ موجودہ توريت آسمانى كتاب نہيں ہے بلكہ كسى ايسے كم
____________________
(۱) جيسے (وَشَجَرَةً تَخرُجُ من طُور سَينَائَ تَنبُتُ بالدُّهن )جس سے مراد زيتون كادرخت ہے_
(۲)جيسے :(وَالشَّجَرَةَ المَلعُونَةَ فى القُرآن ) جس سے مراد مشركين يا يہودى يا دوسرى باغى قوميں (جيسے بنى اميہ ) ہيں
(۳) سفر تكوين فصل دوم نمبر ۱۷
اطلاع انسان كى ساختہ ہے جو علم و دانش كو آدم كے لئے معيوب سمجھتا ہے، اور آدم كو علم ودانش حاصل كرنے كے جرم ميں خدا كى بہشت سے نكالے جانے كا مستحق سمجھتا تھا، گويا بہشت فہميدہ انسان كے لئے نہيں ہے_(۱)
جنت سے اخراج
قران داستان حضرت ادم عليہ السلام كو اگے بڑھاتے ہوئے كہا ہے، بالآخر شيطان نے ان دونوں كو پھسلاديا اور جس بہشت ميں وہ رہتے تھے اس سے باہر نكال ديا_(۲)
اس بہشت سے جو اطمينان و آسائش كا مركز تھي، اور رنج و غم سے دور تھى شيطان كے دھوكے ميں آكر نكالے گئے، جيسا كہ قرآن كہتا ہے:
____________________
(۱) قابل توجہ بات يہ ہے كہ ڈاكٹر وليم ميلر (جسے عہدين خصوصاً انجيل كا ايك مقتدر مفسر مانا گيا ہے) اپنى كتاب ''مسيحيت چيست'' (مسيحيت كيا ہے) ميں رقمطراز ہے:
''شيطان ايك سانپ كى شكل ميں باغ كے اندر داخل ہوا اور اس نے حوا كو اس بات پر آمادہ كرليا كہ اس درخت كے ميوہ ميں سے كھاليں چنانچہ حوّانے خود بھى كھايا اور آدم كو كھانے كو ديا اور انہوں نے بھى كھايا، ہمارے اولين والدين كا يہ عمل ايك معمولى اشتباہ پر مبنى نہ تھا يا ايك بے سوچى سمجھى خطا بھى نہ تھى بلكہ اپنے خالق كے بر خلاف ايك جانا بوجھا عصيان تھا دوسرے لفظوں ميں وہ يہ چاہتے تھے كہ وہ خود'' خدا'' بن جائيں وہ اس بات كےلئے آمادہ نہ تھے كہ خدا كے ارادہ كے مطيع بنيں بلكہ يہ چاہتے تھے كہ اپنى خواہش كو پاي ہ تكميل تك پہنچائيں نتيجہ كيا ہوا؟ خدا نے ان كى شدت سے سرزنش كى اور باغ (فردوس ) سے باہر نكال دياتاكہ دردورنج سے بھرى دنيا ميں زندگى بسر كريں _
توريت وانجيل كے اس مفسرنے درحقيقت يہ چاہاہے كہ '' شجرہ ممنوعہ '' كى توجيہ كرے، ليكن اس كى بجائے عظيم ترين گناہ يعنى خدا سے جنگ كى نسبت آدم كى طرف دے دى كيا اچھا ہوتا كہ بجائے اس طرح كى كھوكھلى تفسيروں كے كم از كم اپنى '' كتب مقدسہ'' ميں تحريف كے قائل ہوجاتے
(۲) سورہ اعراف آيت ۲۰،۲۱
''اور ہم نے انھيں حكم ديا كہ زمين پر اُترو ، جہاں تم ايك دوسرے كے دشمن ہوجائو گے ( آدم و حوا ايك طرف اور شيطان دوسرى طرف)
مزيد فرمايا گيا:'' تمہارے لئے ايك مدت معين تك زمين ميں قرار گاہ ہے، جہاں سے تم نفع اندوز ہوسكتے ہو''(۱)
يہ وہ مقام تھا كہ آدم متوجہ ہوئے كہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم كيا ہے اور بہشت كے آرام دہ اور نعمتوں سے مالا مال ماحول سے شيطانى وسوسے كے سامنے سر جھكانے كے نتيجے ميں باہر نكا لے جارہے ہيں اور اب زحمت ومشقت كے ماحول ميں جاكر رہيں گے يہ صحيح ہے ،كہ آدم نبى تھے اور گناہ سے معصوم تھے ليكن جيسا كہ ہم آئندہ چل كربيان كريں گے كہ كسى پيغمبر سے جب ترك اولى سرزد ہوجاتا ہے تو خدا وند عالم اس سے اس طرح سخت گيرى كرتا ہے جيسے كسى عام انسان سے گناہ سرزد ہونے پر سختى كرتا ہے _
آدم عليہ السلام كونسى جنت ميں تھے
اس سوال كے جواب ميں اس نكتے كى طرف متوجہ رہنا چاہئے كہ اگر چہ بعض نے كہا ہے كہ يہ وہى جنت تھى جو نيك اور پاك لوگوں كى وعدہ گاہ ہے ليكن ظاہر يہ ہے كہ يہ وہ بہشت نہ تھى بلكہ زمين كے سرسبز علاقوں ميں نعمات سے مالا مال ايك روح پر ورمقام تھا كيونكہ_
اوّل تو وہ بہشت جس كا وعدہ قيامت كے ساتھ ہے وہ ہميشگى اور جاودانى نعمت ہے جس كى نشاند ہى بہت سى آيات ميں كى گئي ہے اور اس سے باہر نكلنا ممكن نہيں _
دوّم يہ كہ غليظ اور بے ايمان ابليس كے لئے اس بہشت ميں جانے كى كوئي راہ نہ تھى وہاں نہ وسوسہ شيطانى ہے اور نہ خدا كى نافرمانى _
سوم يہ كہ اہل بيت سے منقول روايات ميں يہ موضوع صراحت سے نقل ہوا ہے _
____________________
(۱) سورہ بقرہ آيت ۳۶
ايك راوى كہتا ہے : ميں نے امام صادق عليہ السلام سے آدم كى بہشت كے متعلق سوال كيا امام نے جواب ميں فرمايا :
''دنيا كے باغوں ميں سے ايك باغ تھاجس پر آفتاب وماہتاب كى روشنى پڑتى تھى اگر آخرت كى جنتوں ميں سے ہو تى تو كبھى بھى اس سے باہر نہ نكالے جاتے''_
يہاں سے يہ واضح ہو جاتا ہے كہ آدم كے ہبوط ونزول سے مراد نزول مقام ہے،نہ كہ نزول مكان يعنى اپنے اس بلند مقام اور سرسبز جنت سے نيچے آئے _
بعض لوگوں كے نزديك يہ احتمال بھى ہے كہ يہ جنت كسى آسمانى كرہ ميں تھى اگر چہ وہ ابدى جنت نہ تھى ،بعض اسلامى روايات ميں بھى اس طرف اشارہ ہے كہ يہ جنت آسمان ميں تھى ليكن ممكن ہے لفظ ''سماء ً(آسمان ) ان روايات ميں مقام بلند كى طرف اشارہ ہو _
تاہم بے شمار شواہد نشاندہى ہيں كرتے ہيں كہ يہ جنت آخرت والى جنت نہ تھى كيونكہ وہ تو انسان كى سير تكامل كى آخرى منزل ہے اور يہ اس كے سفر كى ابتداء تھى اور اس كے اعمال اور پروگرام كى ابتداء تھى اور وہ جنت اس كے اعمال و پروگرام كا نتيجہ ہے_(۱)
____________________
(۱)آدم كا گناہ كيا تھا :واضح ہے كہ آدم اس مقام كے علاوہ جو خدا نے قران مجيد ميں ان كے لئے بيان كيا ہے معرفت وتقوى كے لحاظ سے بھى بلند مقام پر فائز تھے وہ زمين ميں خدا كے نمائند ے تھے وہ فرشتوں كے معلم تھے وہ عظيم ملائكہ الہى كے مسجود تھے اوريہ مسلم ہے كہ آدم امتيازات وخصوصيات كے ہو تے ہوئے گناہ نہيں كر سكتے تھے علاوہ ازيں ہميں معلوم ہے كہ وہ پيغمبر تھے اور ہرپيغمبر معصوم ہو تا ہے لہذا يہ سوال پيدا ہوتا ہے كہ آدم سے جو كچھ سرزد ہوا وہ كيا تھا؟ اس سوا ل كے جواب ميں تين تفاسير موجود ہيں :
۱_ آدم سے جو كچھ سرزد ہوا وہ ترك اولى تھا دوسرے لفظوں ميں ان كى حيثيت اور نسبت سے وہ گناہ تھا ليكن گناہ مطلق نہ تھا، گناہ مطلق وہ گناہ ہوتا ہے جو كسى سے سرزد ہو اور اس كے لئے سزا معين ہو (مثلا شرك،كفر ،ظلم اور تجاوز وغير ہ)اور نسبت كے اعتبار سے گناہ كا مفہوم يہ ہے كہ بعض اوقات بعض مباح اعمال بلكہ مستحب بھى بڑے لوگوں كے مقام كے لحاظ سے مناسب نہيں
خدا كى طرف آدم عليہ السلام كى باز گشت
وسوسئہ ابليس اور آدم كے جنت سے نكلنے كے حكم جيسے واقعات كے بعد آدم متوجہ ہوئے كہ واقعاً انہوں نے اپنے اوپر ظلم كيا ہے اور اس اطمينان بخش اور نعمتوں سے مالا مال جنت سے شيطانى فريب كى وجہ سے نكلنا پڑا اور اب زحمت مشقت سے بھرى ہوئي زمين ميں رہيں گے اس وقت آدم اپنى غلطى كى تلافى كى فكر ميں پڑے اور مكمل جان ودل سے پروردگار كى طرف متوجہ ہوئے ايسى توجہ جو ندامت وحسرت كا ايك پہاڑساتھ لئے ہوئے تھى اس وقت خداكا لطف وكرم بھى ان كى مدد كے لئے آگے بڑھا اورجيسا كہ قرآن ميں خدا وندعالم كہتا ہے:
'' آدم نے اپنے پروردگار سے كچھ كلمات حاصل كئے جو بہت مو ثر اور انقلاب خيز تھے ،ان كے ساتھ توبہ كى خدا نے بھى ان كى توبہ قبول كرلى كيونكہ وہ تواب والرّحيم ہے ''_(۱)
يہ صحيح ہے كہ حضرت آدم نے حقيقت ميں كوئي فعل حرا م انجام نہيں ديا تھا ليكن يہى ترك اولى ان كے
انہيں چا ہئے كہ ان اعمال سے گريز كريں اور اہم كام بجالائيں ورنہ كہا جائے گا كہ انہوں نے ترك اولى كيا ہے ہم جو نماز پڑھتے ہيں اس كا كچھ حصہ حضور قلب سے ہوتا ہے كچھ بغير اس كے، يہ امر ہمارے مقام كے لئے تو مناسب ہے ليكن حضرت رسول اسلام(ص) اور حضرت على (ع) كے شايان شان نہيں ان كى سارى نماز خداكے حضور ميں ہو نى چاہئے اور اگر ايسا نہ ہو توكسى فعل حرام كا ارتكاب تو نہيں تاہم ترك اولى ہے _
۲_ خدا كى نہى يہاں ''نہى ارشادي'' ہے جيسے ڈاكڑكہتا ہے فلاں غذا نہ كھائو ورنہ بيمار پڑجائو گے خدا نے بھى آدم سے فرمايا كہ اگر درخت ممنوعہ سے كچھ كھا ليا تو بہشت سے باہر جانا پڑے گااور رنج وتكليف ميں مبتلا ہونا پڑے گا ،لہذا ادم عليہ السلام نے حكم خدا كى مخالفت نہيں كى بلكہ ''نہى ارشادي''كى مخالفت كى ہے _
۳_جنت بنيادى طور پر جائے تكليف نہ تھى بلكہ وہ ادم عليہ السلام كے زمين پر انے كے لئے ايك ازمائش اور تيارى كا زمانہ تھا،اور يہ نہيں صرف ازمائش كا پہلو ركھتى تھي_
____________________
(۱)سورہ بقرہ ايت ۳۷
لئے نافرمانى شمار ہوتا ہے، حضرت ادم فوراً اپنى كيفيت وحالت كى طرف متوجہ ہوئے اوراپنے پروردگار كى طرف پلٹے _
بہرحال جو كچھ نہيں ہونا چاہئے تھايا ہونا چاہئے تھا وہ ہو اور باوجود يكہ آدم كى توبہ قبول ہوگئي ليكن اس كا اثروضعى يعنى زمين كى طرف اترنايہ متغير نہ ہوا _
خدا نے جو كلمات آدم عليہ السلام پر القاكئے وہ كيا تھے ؟
توبہ كے لئے جو كلمات خدا نے آدم عليہ السلام كو تعليم فرمائے تھے اس سلسلے ميں مفسرين كے درميان اختلاف ہے _
مشہور ہے كہ وہ جملے يہ تھے:
( قالا ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا و ترحمنا لنكونن من الخاسرين )
''ان دونوں نے كہا خدا يا ہم نے اپنے اوپر ظلم كيا ہے اگر تونے ہميں نہ بخشا اور ہم پررحم نہ كيا تو ہم زياں كاروں اور خسارے ميں رہنے والوں ميں سے ہوجائيں گے _''(۱)
كئي ايك روايات جو طرق اہل بيت عليہم السلام سے منقول ہيں ،ان ميں ہے كہ كلمات سے مراد خدا كى بہترين مخلوق كے ناموں كى تعليم تھى يعنى محمد ،على ،فاطمہ ، حسن اور حسين عليہم السلام اور آدم نے ان كلمات كے وسيلے سے درگاہ الہى سے بخشش چاہى اور خدا نے انہيں بخش ديا _(۲)
____________________
(۱) سورہ ا عراف آيت ۲۳
(۲)يہ تين قسم كى تفاسير ايك دوسرے سے اختلاف نہيں ركھتيں كيونكہ ممكن ہے كہ حضرت آدم كو ان سب كلمات كى تعليم دى گئي ہو كہ ان كلمات كى حقيقت اور باطنى گہرائي پر غور كرنے سے آدم ميں مكمل طور پر انقلاب روحانى پيدا ہو اور خدا انہيں اپنے لطف وہدايت سے نوازے _
ادم عليہ السلام كا ماجرا اور اس جہان پر ايك طائرانہ نظر
اگر چہ بعض ايسے مفسرين نے جو افكار غرب سے بہت زيادہ متاثر ہيں ،اس بات كى كوشش كى ہے كہ حضرت ادم عليہ السلام اور ان كى زوجہ كى داستان كو اول سے لے كر اخر تك تشبيہ ،مجاز اور كنايہ كا رنگ ديں اور اج كى اصطلاح ميں يوں كہيں كہ يہ ايك سمبولك ( SIMBOLIC ) تھا لہذاانھوں نے اس پورى بحث كو ظاہرى مفہوم كے خلاف ليتے ہوئے معنوى كنايہ مراد ليا ہے_
ليكن اس بات ميں كوئي شك و شبہ نہيں كہ ان ايات كا ظاہر ايك ايسے واقعى اور حقيقى ''قصہ''پر مشتمل ہے جو ہمارے اولين ماں باپ كے لئے پيش ايا تھا چونكہ اس پورى داستان ميں ايك مقام بھى ايسانہيں ہے جو ظاہرى عبارت سے ميل نہ كھاتا ہو يا عقل كے خلاف ہو ،اس لئے اس بات كى كوئي ضروت نہيں كہ اس كے ظاہرى مفہوم پر يقين نہ كيا جائے يا جو اس كے حقيقى معنى ہيں ان سے پہلو تہى كيا جائے_
ليكن دراين حال اس حسى و عينى واقعہ ميں انسان كى ائندہ زندگى كے متعلق بھى اشارے ہوسكتے ہيں _(۱)
____________________
(۱)يعني:انسان كى اس پر جنجال زندگى ميں بہت سے ايسے واقعات پيش اسكتے ہيں جو قصہ ادم عليہ السلام و حوا سلام اللہ عليہا سے مشابہت ركھتے ہيں ،اس كى مثال يوں سمجھنا چاہئے كہ ايك طرف تو وہ انسان ہے جو قوت ،عقل اور ہوا و ہوس سے مركب ہے ، يہ دونوں طاقتيں اسے مختلف جتھوں ميں كھينچ رہى ہيں ،دوسرى طرف كچھ ايسے جھوٹے رہبر ہيں جن كا ماضى شيطان كى طرح جانا پہچانا ہے اور وہ انسان كو اس بات پر اكسا رہے ہيں كہ عقل پر پردہ ڈال كر ہوا وہوس كو اختيار كر لو تاكہ يہ بے چارہ انسان پانى كى اميد ميں ''سراب''كو اب سمجھ كر ريگستانوں ميں بھٹك كر اپنى جان گنوا بيٹھے_
ايسے شيطانوں كے بہكانے ميں اجانے كا پہلا نتيجہ يہ نكلتا ہے كہ انسان كے جسم سے''لباس تقوى ''گر جاتا ہے اور اس كے اندرونى عيوب ظاہر و اشكار اہوجاتے ہيں ،دوسرا نتيجہ يہ نكلتا ہے كہ مقام قرب الہى سے دور ہو جاتا ہے اور انسان اپنے بلندمقام سے گر جاتا ہے اور سكون و اطمينان كى بہشت سے نكل كر حيات مادى كى مشكلات و افات كے جنگلوں ميں گھر جاتا ہے اس موقع پر بھى عقل كى طاقت اس كى مدد كر سكتى ہے اور اسے اس نقصان كى تلافى كا موقع فراہم كر سكتى ہے اور اسے خدا كى بارگاہ ميں
زمين پرسب سے پہلا قتل
قرآن مجيد ميں حضرت آدم عليہ السلام كے بيٹوں كا نام نہيں ليا گيا ہے ،نہ اس جگہ اور نہ كسى اور مقام پر ،ليكن اسلامى روايات كے مطابق ايك كا نام ہابيل ہے اور دوسرے كا قابيل تھا،موجود ہ تو ريت كے سفر تكوين كے چوتھے باب ميں ايك كانام ''قائن'' اور دوسرے كا نام '' ہابيل''تھا جيسا كہ مفسر معروف ''ابولفتوح رازي'' كہتے ہيں كہ ان دونوں ناموں كى مختلف لغت ہيں پہلے كا نام ''ہابيل ''يا''ہابن''تھا_دوسرے كا نام ''قابيل ''يا ''قابين'' يا ''قابل'' يا''قابن''يا ''قبن'' تھا_
بہرحال اسلامى روايات كے متن اور توريت ميں قابيل كے نام كے بارے ميں اختلاف لغت كى طرف بازگشت ہے اور يہ كوئي اہم بات نہيں ہے _(۱)
يہاں پرحضرت آدم عليہ السلام كے بيٹوں كا ذكر ہے ان ميں سے ايك كے ہاتھوں دوسرے كے قتل كے بارے ميں داستان بيان كى گئي ہے پہلے فرمايا: ''اے پيغمبر :انھيں آدم كے دوبيٹوں كا حقيقى قصہ سنا ديجئے''_(۲)
دوبارہ بھيج سكتى ہے تاكہ جرا ت و صراحت كے ساتھ اپنے گناہ كا اعتراف كرے ،ايسا اعتراف جو اس كى زندگى كى تعمير نو كا ضامن ہو اور اس كى زندگى كا ايك نيا موڑ بن جائے، يہى وہ موقع ہوتا ہے جب كہ دست رحمت الہى بار ديگر اس كى طرف دراز ہوتا ہے تاكہ اسے ہميشہ كے انحطاط اور تنزل سے نجات دے ،اگر چہ اپنے گذشتہ گناہ كا تلخ مزہ اس كے كام و دہن ميں باقى رہ جاتا ہے جو اس كا ثر وضعى ہے ،ليكن يہ ماجرا ،اس كے لئے درس عبرت بن جاتا ہے كيونكہ وہ اس كے شكست كے تجربہ سے اپنى حيات ثانيہ كى بنياد مستحكم كر سكتا ہے اور اس كے نقصان و زيان كے ذريعے سرورائندہ فراہم كر سكتا ہے _
____________________
(۱)تعجب كى بات ہے كہ ايك عيسائي عالم نے اس لفظ كو قرآن پراعترض كى بنيادبناليا ہے كہ قرآن نے''قائن ''كو ''قابيل ''كيوں كہا ہے حا لانكہ اول تويہ اختلاف لغت ہے اور لغت ميں ناموں كے بارے ميں بہت زيادہ اختلاف ہے مثلا توريت ''ابراہيم ''كو ''ابراہام ''لكھتى ہے قرآن اسے ''ابراہيم ''لكھا ہے ثانياً بنيادى طور پر ''ہابيل ''كے نام قرآن ميں مذكور ہى نہيں يہ اسماء تو اسلامى روايات ميں آئے ہيں _
(۲)سورہ مائدہ ايت ۲۷
اس كے بعد واقعہ بيان كرتے ہوئے فرمايا گيا ہے :''جب ہر ايك نے تقرب پروردگار كے لئے ايك كام انجام ديا تو ايك كا عمل توقبول كرليا ليكن دوسرے كا قبول نہ ہوا ''_(۱)
مگرجو كام ان دونوں بھائيوں نے انجام ديا اس تذكرہ كا قرآن ميں وجود نہيں ہے بعض اسلامى روايات اور توريت كے سفر تكوين باب چہارم ميں جو كچھ مذكورہے ا س سے ظاہر ہوتا ہے كہ ہابيل كے پاس چونكہ پالتو جانور تھے اس نے ان ميں سے ايك بہترين پلاہوا مينڈھامنتخب كيا، قابيل كسان تھا اس نے گندم كا گھٹيا حصہ ياگھٹياآٹا اس كے لئے منتخب كيا _
سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ فرزندان آدم كو كيسے پتہ چلاكہ ايك كا عمل بارگا ہ ايزدى ميں قبول ہوگيا ہے اور دوسرے كا عمل ردّكرديا گيا ہے قرآن ميں اسكى بھى وضاحت نہيں ہے البتہ بعض اسلامى روايات سے پتہ چلتاہے كہ وہ دونوں اپنى مہيا شدہ چيزيں پہاڑ كى چوٹى پر لے گئے قبوليت كے اظہار كے طور پر بجلى نے ہابيل كى قربانى كھاليا اور اسے جلا ديا ليكن دوسرى اپنى جگہ پر باقى ر ہى اور يہ نشانى پہلے سے رائج تھى _
بعض مفسرين كا خيال ہے كہ ايك عمل كى قبوليت اوردوسرے كى ردّ حضرت آدم عليہ السلام كو وحى كے ذريعے بتايا گيا اور اس كى وجہ سوائے اس كے كچھ نہ تھى كہ ہابيل ايك باصفا ،باكرداراور راہ خدا ميں سب كچھ كرگذرنے والاشخص تھا جبكہ قابيل تا ريك دل ،حاسد اور ہٹ دھرم تھا، قرآن نے دونوں بھائيوں كى جوگفتگو بيان كى ہے اس سے ان كى روحانى كيفت اچھى طرح سے واضح ہوجاتى ہے اسى وجہ سے جس كا عمل قبول نہ ہوا تھا ''اس نے دوسرے بھائي كو قتل كى دہمكى دى اور قسم كھا كر كہا كہ ميں تجھے قتل كردوں گا _''(۲)
ليكن دوسرے بھائي نے اسے نصيحت كى اور كہا كہ اگر يہ واقعہ پيش آيا ہے تو اس ميں ميراكوئي گناہ نہيں ہے، بلكہ اعتراض توتجھ پرہونا چاہيے كيونكہ تيرے عمل ميں تقو ى شامل نہيں تھا اور خدا تو صرف پرہيزگاروں كا عمل قبول كرتا ہے''_(۳)
____________________
(۱)سورہ مائدہ ايت ۲۷
(۲)سورہ مائدہ ايت۲۷
(۳)سورہ مائدہ ايت ۲۷
مزيد كہا كہ'' حتى اگر تم اپنى دھمكى كو عملى جامہ پہنائواور ميرے قتل كے لئے ہاتھ بڑھا ئو تو ميں ہرگز ايسا نہيں كروں گا اور تمہارے قتل كے لئے ہاتھ نہيں بڑھائوں گا،كيونكہ ميں توخدا سے ڈرتا ہوں اور ايسے گناہ سے ہرگزاپنے ہاتھ آلودہ نہيں كروں گا_''(۱)
قر ان ميں حضرت آدم كے بٹيوں كا واقعہ ،ايك بھائي كا دوسرے كے ہاتھوں قتل اور قتل كے بعد كے حالات بيان كيے گئے ہيں ،پہلے فرمايا : ''سركش نفس نے بھائي كے قتل كے لئے اسے پختہ كرديا اور اس نے اسے قتل كرديا''_(۲)
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے كہ ہابيل كا عمل قبول ہوجانے كے بعد قابيل كے دل ميں ايك طوفان پيدا ہوگيا ايك طرف دل ميں ہر وقت حسد كى آگ بھڑكتى رہتى اوراسے انتقام پر ابھارتى اور دوسرى طرف بھا ئي كا رشتہ، انسانى جذبہ گناہ ،ظلم ،بے انصافى اور قتل نفس سے ذاتى تنفراسے اس جرم سے بازركھنے كى كوشش كرتا ،ليكن آخركار سركش نفس آہستہ آہستہ روكنے والے عوامل پر غالب آگيا اور اس نے اس كے بيداروجدان كو مطمئن كرديا اور اسے جكڑديا اور بھائي كو قتل كرنے پر آمادہ كرديا ''_(۳)
ظلم كى پردہ پوشي
قابيل نے جب اپنے بھائي كو قتل كرديا تو اس كى لاش اس نے صحرا ميں ڈال ركھى تھى اور اسے نہيں معلوم تھا كہ اسے كيا كرنا چاہئے زيادہ دير نہ گذرى كہ درندے ہابيل كے جسم كى طرف آنے لگے قابيل ضمير كے شديد دبائو كاشكار تھا بھائي كے جسم كو بچانے كے لئے وہ لاش كو ايك مدت تك كندھے پرلئے پھرتا رہا كچھ پرندوں نے پھر بھى اسے گھيرركھا تھا اور وہ اس انتظار ميں تھے كہ وہ كب اسے زمين پر پھينكتا ہے تاكہ وہ لاش پر جھپٹ پڑيں _
جيساكہ قرآن كہتا ہے اس موقع پر خدا تعالى نے ايك كواّبھيجا، مقصديہ تھا كہ وہ زمين كھودے اوراس
____________________
(۱)سورہ مائدہ ايت۲۸
(۲)سورہ مائدہ ايت ۳۰
(۳)سورہ مائدہ ايت۳۰
ميں دوسرے مردہ كوّے كا جسم چھپادے يا اپنے كھانے كى چيزوں كو زمين ميں چھپادے جيسا كہ كوے كى عادت ہے تاكہ قابيل سمجھ سكے كہ وہ اپنے بھائي كى لاش كس طرح سپر د خاك كرے _
البتہ اس بات ميں كوئي تعجب نہيں كہ انسان كوئي چيز كسى پرندے سے سيكھے كيونكہ تاريخ اور تجربہ شاہد ہيں كہ بہت سے جانور طبعى طور پر بعض معلومات ركھتے ہيں اور انسان نے اپنى پورى تاريخ ميں جانوروں سے بہت كچھ سيكھا ہے يہاں تك كہ ميڈيكل كى بعض كتب ميں ہے كہ انسان اپنى بعض طبيّ معلومات ميں حيوانات كا مرہون منت ہے ،
افسوس اپنے اوپر
اس كے بعد قرآن مزيد كہتا ہے:'' اس وقت قابيل اپنى غفلت اور جہالت سے پريشان ہوگيا اور چيخ اٹھا كہ وائے ہومجھ پر ،كيا ميں اس كوے سے بھى زيادہ ناتواں اور عاجز ہوں ،مجھ سے اتنا بھى نہ ہوسكا كہ ميں اس كى طرح اپنے بھائي كا جسم دفن كردوں ، بہرحال وہ اپنے كيے پرنادم وپشيمان ہوا''_(۱)
كيا اس كى پشيمانى اس بناپر تھى كہ اس كاگھٹيا اور براعمل آخركار اس كے ماں باپ پر اور احتمالى طورپر دوسرے بھائيوں پر آشكار ہوجائےگا اوروہ اسے بہت سرزنش كريں گے يا كيا يہ پشيمانى اس بناپر تھى كہ كيوں ميں ايك مدت تك بھائي كى لاش كندھے پر لئے پھرتا رہا اور اسے دفن نہ كيااور يا پھركيايہ ندامت اس وجہ سے تھى كہ اصولى طور پر انسان ہربراكام انجام دے لينے كے بعد اپنے دل ميں ہرطرح كى پريشانى اور ندامت محسوس كرتا ہے ليكن واضح ہے كہ اس كى ندامت كى جوبھى وجہ ہووہ اس كے گناہ سے توبہ كى دليل نہيں ہے كيونكہ توبہ يہ ہے كہ ندامت خوف خدا كے باعث اورعمل كے براہونے كے احساس كى بنا پر ہوا، اور يہ احساس اسے اس بات پر آمادہ كرے كہ وہ آيندہ ہرگز ايسا كام نہيں كرے گا ،قرآن ميں قابيل كى ايسى كسى توبہ كى نشاندہى نہيں كى گئي بلكہ شايد قران ميں ايسى توبہ كے نہ ہو نے كى طرف ہى اشارہ ہے _
____________________
(۱)سورہ مائدہ ايت ۳۱
پيغمبر اسلام (ص) سے ايك حديث منقول ہے ،آپ نے فرمايا :
''جس كسى انسان كا بھى خون بہايا جاتا ہے اس كى جوابدہى كا ايك حصہ قابيل كے ذمہ ہوتا ہے جس نے انسان كُشى كى اس برى سنت كى دنياميں بنيادركھى تھي''_
اس ميں شك نہيں كہ حضرت آدم عليہ السلام كے بيٹوں كا يہ واقعہ ايك حقيقى واقعہ ہے اس كے علاوہ كہ آيات قرآن اور اسلامى روايت كا ظاہر ى مفہوم اس كى واقعيت كو ثابت كرتا ہے اس كے ''بالحق '' كى تعبير بھى جوقر آن ميں آئي ہے اس بات پر شاہدہے، لہذا جولوگ قران ميں بيان كئے گئے واقعہ كو تشبيہ ،كنايہ يا علامتى ( SIMBOLIC )داستان سمجھتے ہيں ،بغيردليل كے ايسا كرتے ہيں _(۱)
____________________
(۱)اس كے باوجود اس بات ميں كوئي مضائقہ نہيں كہ يہ حقيقى واقعہ اس جنگ كے لئے نمونہ كے طورپر بيان كيا گيا ہو جو ہميشہ سے مردان پاكباز ،صالح ومقبول بارگا ہ خدا انسانوں اور آلودہ ،منحرف ،كينہ پرور، حاسد اور ناجائزہٹ دھرمى كرنے والوں كے درميان جارى رہى ہے وہ لوگ كتنے پاكيزہ اور عظيم ہيں جنھوں نے ايسے برے لوگوں كے ہاتھوں جام شہادت نوش كيا _
آخركار يہ برے لوگ اپنے شرمناك اور برے اعمال كے انجام سے آگاہ ہو جاتے ہيں اور ان پر پردہ ڈالنے اور انھيں دفن كرنے كے درپے ہوجاتے ہيں اس مو قع پر ان كى آرزوئيں ان كى مدد كو لپكتى ہيں ،كوّا ان آرزوئوں كا مظہر ہے جو جلدى سے پہنچتا ہے اور انھيں ان كے جرائم پرپر دہ پوشى كى دعوت ديتا ہے ليكن آخر كار انھيں خسارے ،نقصان اور حسرت كے سوا كچھ نصيب نہيں ہوتا _
حضرت ادريس عليہ السلام
بہت سے مفسرين كے قول كے مطابق ادريس عليہ السلام،نوح عليہ السلام كے دادا تھے ان كا نام توريت ميں ''اخنوخ''اور عربى ميں ادريس(ع) ہے جسے بعض''درس''كے مادہ سے سمجھتے ہيں ،كيونكہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قلم كے ساتھ خط لكھا،مقام نبوت كے علاوہ وہ علم نجوم علم ہئيت ميں بھى ماہر تھے وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے انسان كو لباس سينے كاطريقہ سكھايا_
اس عظيم پيغمبر كے بارے ميں قرآن ميں صرف دو مرتبہ،وہ بھى مختصر سے اشاروں كے ساتھ بيان آيا ہے،ايك تو يہى سورہ مريم ايت ۵۶ ميں اور دوسرا سورہ انبياء كى آيات ۸۵سے۸۶/ميں ، مختلف روايات ميں ان كى زندگى كے بارے ميں تفصيلى طور پر بيان كيا گيا ہے كہ جسے ہم پورے كا پورا معتبر نہيں سمجھ سكتے_اسى وجہ سے ہم مذكورہ اشارے پر قناعت كرتے ہوئے اس بحث كو ختم كرتے ہيں _
حضرت نوح عليہ السلام
قرآن مجيد،بہت سى آيات ميں نوح كے بارے ميں گفتگو كرتا ہے اور مجمو عى طور پر قرآن كى انتيس سورتوں ميں اس عظيم پيغمبر كے بارے ميں گفتگو ہوئي ہے ،ان كانا م۴۳/ مرتبہ قرآن ميں آيا ہے _
قرآن مجيد نے ان كى زندگى كے مختلف حصوں كى باريك بينى كے ساتھ تفصيل بيان كى ہے ايسے جوزيادہ تر تعليم وتربيت اور پندو نصيحت كے پہلوئوں سے متعلق ہيں _
مورخين ومفسرين نے لكھا ہے كہ نوح كا نام '' عبد الغفار ''يا عبد الملك''يا''عبدالاعلى '' تھااور ''نوح'' كا لقب انھيں اس لئے ديا گيا ہے ، كيونكہ وہ سالہا سال اپنے اوپر يا اپنى قوم پر نوحہ گريہ كرتے رہے _آپ كے والد كا نام ''لمك ''يا'' لامك ''تھا اور آپ كى عمر كى مدت ميں اختلاف ہے ،بعض روايات ميں ۱۴۹۰ /اور بعض ميں ۲۵۰۰ /سال بيان كى گئي ہے ، اور ان كى قوم كے بارے ميں بھى طولانى عمريں تقريبََا۳۰۰/ سال تك لكھى گئي ہيں ،جوبات مسلم ہے وہ يہ ہے كہ آپ نے بہت طولانى عمر پائي ہے، اورقرآن كى صراحت كے مطابق آپ۵۰ ۹/ سال اپنى قوم كے درميان رہے ( اور تبليغ ميں مشغول رہے)_
نوح كے تين بيٹے تھے ''حام''''سام'' يافث ''اور مو رخين كا نظريہ يہ ہے كہ كرئہ زمين كى اس وقت كى تمام نسل انسانى كى بازگشت انھيں تينوں فرزندوں كى طرف ہے ايك گروہ ''حامي'' نسل ہے جو افريقہ كے علاقہ ميں رہتے ہيں دوسرا گروہ ''سامى ''نسل ہے جوشرق اوسط اور مشرق قريب كے علاقوں ميں رہتے ہيں اور ''يافث '' كى نسل كو چين كے ساكنين سمجھتے ہيں _
۹۵۰/سال تبليغ ۷/مومن
اس بارے ميں بھى ،كہ نوح (ع) طوفان كے بعد كتنے سال زندہ رہے ،اختلاف ہے بعض نے ۵۰ /سال لكھے ہيں اور بعض نے ۶۰ /سال _(۱) نوح عليہ السلام كا ايك اور بيٹا بھى تھا جس كا نام ''كنعان ''تھا جس نے باپ سے اختلاف كيا، يہاں تك كہ كشتى نجات ميں ان كے ساتھ بيٹھنے كے لئے بھى تيار نہ ہوا اس نے برے لوگوں كے ساتھ صحبت ركھى اور خاندان نبوت كے ا قدار كو ضائع كرديا اور قرآن كى صراحت كے مطابق آخر كاروہ بھى باقى كفار كے مانند طوفان ميں غرق ہوگيا _اس بارے ميں كہ اس طويل مدت ميں كتنے افراد نوح(ع) پر ايمان لائے ،اور ان كے ساتھ كشتى ميں سوار ہوئے ،اس ميں بھى اختلاف ہے بعض نے ۸۰/اور بعض نے ۷/ افراد لكھے ہيں _
نوح عليہ السلام كى داستان عربى اور فارسى ادبيات ميں بہت زيادہ بيان ہوئي ہے ، اور زيادہ تر طوفان اور آپ كى كشتى نجات پر تكيہ ہوا ہے _ نوح عليہ السلام صبر وشكر اور استقامت كى ايك داستان تھے ، اور محققين كا كہنا ہے كہ وہ پہلے شخص ہيں جنھوں نے انسانوں كى ہدايت كےلئے وحى كى منطق كے علاوہ عقل واستدلال كى منطق سے بھى مددلى (جيسا كہ سورہ نوح كى آيات سے اچھى طرح ظاہر ہے ) اور اسى بناء پر آپ اس جہان كے تمام خدا پرستوں پر ايك عظيم حق ركھتے تھے _
قوم نوح عليہ السلام كى ہلا دينے والى سرگزشت
اس ميں شك نہيں كہ حضرت نوح عليہ السلام كا قيام اور ان كے اپنے زمانے كے متكبروں كے ساتھ شديد اور مسلسل جہاد اور ان كے برے انجام كى داستان تاريخ بشر كے فراز ميں ايك نہايت اہم اور بہت عبرت انگيز درس كى حامل ہے_
____________________
(۱)يہود كے منابع (موجودہ توريت ميں بھى نوح كى زندگى كے بارے ميں تفصيلى بحث آئي ہے ،جو كئي لحاظ سے قرآن سے مختلف ہے اور توريت كى تحريف كى نشانيوں ميں سے ہے ، يہ مباحث توريت كے سفر''تكوين ''ميں فصل ۶،۷،۸ ،۹ اور ۱۰ ميں بيان ہوئے ہيں _
قرآن مجيد پہلے مرحلے ميں اس عظيم دعوت كو بيان كرتے ہوئے كہتا ہے ''ہم نے نوح كو ان كى قوم كى طرف بھيجا اور اس نے انھيں بتايا كہ ميں واضح ڈرانے والا ہوں ''_(۱)
اس كے بعد اپنى رسالت كے مضمون كو صرف ايك جملہ ميں بطور خلاصہ بيان كرتے ہوئے كہتا ہے ميرا پيغام يہ ہے كہ '' اللہ ''كے علاوہ كسى دوسرے كى پرستش نہ كرو(۲) پھر بلا فاصلہ اس كے پيچھے اسى مسئلہ انذاراور اعلام خطر كوتكرار كرتے ہوئے كہا :''ميں تم پر درد ناك دن سے ڈرتا ہوں ''_(۳)
اصل ميں اللہ (خدا ئے يكتا ويگانہ ) كى توحيد اور عبادت ہى تمام انبياء كى دعوت كى بنياد ہے _
اب ہم ديكھيں گے كہ پہلا ردّ عمل اس زمانے كے طاغوتوں ،خود سروں اور صاحبان زرو زوركا اس عظيم دعوت اور واضح اعلام خطركے مقابلے ميں كيا تھامسلماََسوائے كچھ بيہودہ اور جھوٹے عذر بہانوں اور بے بنياد استدلالوں كے علاوہ كہ ان كے پاس كچھ بھى نہيں تھا جيساكہ ہر زمانے كے جابروں كے طريقہ ہے _
انہوں نے حضرت نوح كى دعوت كے تين جواب دئے : ''قوم نوح(ع) كے سردار اور سرمايہ داركا فرتھے انہوں نے كہا: ہم تو تجھے صرف اپنے جيسا انسان ديكھتے ہيں ''_(۴)
حالانكہ اللہ كى رسالت اور پيغام تو فرشتوں كو اپنے كندھوں پر لينا چاہيئے نہ كہ ہم جيسے انسانوں كو ،اس گمان كے ساتھ كہ انسان كا مقام فرشتوں سے نيچے ہے يا انسان كى ضرورت كو فرشتہ انسان سے بہتر جانتا ہے_
امام زادوں كو زائرين كى تعداد سے پہچاناجاتا ہے
ان كى دوسرى دليل يہ تھى كہ : انہوں نے كہا : اے نوح(ع) :'' ہم تيرے گردوپيش اور ان كے درميان كہ جنہوں نے تيرى پيروى كى ہے سوائے چند پست ، ناآگاہ اور بے خبرتھوڑے سن وسال كے نوجوانوں كے كہ جنہوں نے مسائل كى ديكھ بھال نہيں كى كسى كو نہيں ديكھتے ''_
____________________
(۱)سورہ ہود آيت ۲۵
(۲)(۳)سورہ ہود آيت ۲۶
(۴)سورہ ہود آيت۲۷
كسى رہبر اور پيشوا كى حيثيت اور اس كى قدر ورقيمت اس كے پيروكاروں سے پہچانى جاتى ہے اور اصطلاح كے مطابق صاحب مزار كو اس كے زائرين سے پہچانا جاتا ہے جب ہم تمہارے پيروكاروں كو ديكھتے ہيں تو ہميں چند ايك بے بضاعت،گمنام،فقير اور غريب لوگ ہى نظر آتے ہيں جن كا سلسلہ روز گار بھى نہايت ہى معمولى ہے تو پھر ايسى صورت ميں تم كس طرح اميد كر سكتے ہو كہ مشہور و معروف دولت مند اور نامى گرامى لوگ تمہارے سامنے سر تسليم خم كرليں گے_؟
ہم اور يہ لوگ كبھى بھى ايك ساتھ نہيں چل سكتے ہم نہ تو كبھى ايك دستر خوان پر بيٹھے ہيں اور نہ ہى ايك چھت كے نيچے اكھٹے ہوئے ہيں تمہيں ہم سے كيسى غير معقول توقع ہے_
يہ ٹھيك ہے كہ وہ اپنى اس بات ميں سچے تھے كہ كسى پيشوا كو اس كے پيروكاروں سے پہچانا جاتا ہے ليكن ان كى سب سے بڑى غلطى يہ تھى كہ انھوں نے شخصيت كے مفہوم اور معيار كو اچھى طرح نہيں پہچانا تھا_ان كے نزديك شخصيت كا معيارمال و دولت لباس اور گھر اور خوبصورت اور قيمتى سوارى تھا ليكن طہارت،تقوى ،حق جوئي جيسے اعلى انسانى صفات سے غافل تھے جو غريبوں ميں زيادہ اور اميروں ميں كم پائي جاتى ہيں _
طبقاتى اونچ نيچ بدترين صورت ميں ان كى افكار پر حكم فرما تھي_ اسى لئے وہ غريب لوگوں كو''اراذل''، ذليلسمجھتے تھے_
اور اگر وہ طبقاتى معاشرے كے قيد خانے سے باہر نكل كر سوچتے اور باہر كى دنيا كو اپنى آنكھوں سے ديكھتے تو انھيں معلوم ہوجاتا كہ ايسے لوگوں كا ايمان اس پيغمبر كى حقانيت اور اس كى دعوت كى سچائي پر بذات خود ايك دليل ہے_
اور يہ جو انہيں ''بادى الرا ى ''(ظاہر بين بے مطالعہ اور وہ شخص جو پہلى نظر ميں كسى چيز كا عاشق اور خواہاں ہوتا ہے ) ;كا نام ديا ہے حقيقت ميں اس بناء پر ہے كہ وہ ہٹ دھرمى اور غير مناسب تعصبات جو دوسروں ميں تھے وہ نہيں ركھتے تھے بلكہ زيادہ تر پاك دل نوجوان تھے جوحقيقت كى پہلى كرن كو جوان كے دل پر پڑتى تھى جلدى محسوس كرليتے تھے وہ اس بيدارى كے ساتھ جو كہ حق كى تلاش سے حاصل ہوتى ہے ،صداقت كى
نشانياں ،انبياء كے اقوال وافعال كا ادراك كرليتے تھے _(۱)
ان كاتيسرا اعتراض يہ تھا كہ قطع نظر اس سے كہ تو انسان ہے نہ كہ فرشتہ ، علاوہ ازيں تجھ پر ايمان لانے والے نشاندہى كرتے ہيں كہ تيرى دعوت كے مشتملات صحيح نہيں ہيں ''اصولى طور پر تم ہم پر كسى قسم كى برترى نہيں ركھتے كہ جس كى بناء پر ہم تمہارى پيروى كريں ''_(۲) ''لہذا ہم گمان كرتے ہيں كہ تم جھوٹے ہو''_(۳)
حضرت نوح عليہ السلام كے جوابات
قرآن ميں ان بہانہ جو اورا فسانہ ساز افراد كو حضرت نوح(ع) كى طرف سے ديئے گئے جوابات ذكركيے گئے ہيں پہلے ارشاد ہوتا ہے:
اے قوم :'' ميں اپنے پرورد گار كى طرف سے واضح دليل اور معجزہ كا حامل ہوں اور اس نے اس رسالت وپيغام كى انجام دہى كى وجہ سے اپنى رحمت ميرے شامل حال كى ہے اور يہ امر اگر عدم توجہ كى وجہ سے تم سے مخفى ہوتو كيا پھر بھى تم ميرى رسالت كا انكار كرسكتے ہو اور ميرى پيروى سے دست بردار ہوسكتے ہو''_(۴)
يہ جواب قوم نوح(ع) كے مستكبرين كے تين سوالوں ميں سے كس كے ساتھ مربوط ہے؟ مفسرين كے درميان بہت اختلاف ہے ليكن غور وخوض سے واضح ہو جاتا ہے كہ يہ جامع جواب تينوں اعتراضات كا جواب بن سكتا ہے كيونكہ ان كا پہلا اعتراض يہ تھا كہ تم انسان ہو آپ نے فرمايا يہ بجاہے كہ ميں تمہارى طرح كا ہى انسان ہوں ليكن اللہ تعالى كى رحمت ميرے شامل حال ہوئي ہے اور اس نے مجھے كھلى اورواضح نشانياں دى ہيں اس بناء پر ميرى انسانيت اس عظيم رسالت سے مانع نہيں ہوسكتى اور يہ ضرورى نہيں كہ ميں فرشتہ ہوتا _
ان كا دوسرا اعتراض يہ تھا كہ تہارے پيروكار بے فكر اور ظاہر بين افراد ہيں _آپ نے فرمايا تم بے فكر
____________________
(۱) سورہ ہود آيت ۲۷
(۲) سورہ ہود آيت ۲۷
(۳) سورہ ہود۲۷
(۴) سورہ ہو دآيت۲۸
اور بے سمجھ ہو جو اس واضح حقيقت كا انكار كرتے ہوحالانكہ ميرے پاس ايسے دلائل موجود ہيں جو ہر حقيقت كے متلاشى انسان كے لئے كافى ہيں اور اسے قائل كرسكتے ہيں مگر تم جيسے افراد جو غرور ،خود خواہى ،تكبر اور جاہ طلبى كا پردہ اوڑھے ہوئے ہيں ان كى حقيقت بين آنكھ بيكار ہوچكى ہے _
ان كا تيسرا اعتراض يہ تھا كہ وہ كہتے تھے : ہم كوئي برترى اور فضيلت تمہارے لئے اپنى نسبت نہيں پاتے، آپ نے فرمايا: اس سے بالاتركون سى برترى ہوگى كہ خدانے اپنى رحمت ميرے شامل حال كى ہے اور واضح مدارك ودلائل ميرے اختيار ميں ديئے ہيں اس بناء پر ايسى كوئي وجہ نہيں كہ تم مجھے جھوٹا خيال كرو كيونكہ ميرى گفتگو كى نشانياں ظاہر ہيں _
''كيا ميں تمہيں اس ظاہر بظاہر بينہ كے قبول كرنے پر مجبور كرسكتا ہوں جبكہ تم خود اس پر آمادہ نہيں ہو اور اسے قبول كرنا بلكہ اس كے بارے ميں غوروفكر كرنا بھى پسند نہيں كرتے ہو'' _(۱)
ميں كسى صاحب ايمان كو نہيں دھتكارتا
''اے قوم :ميں اس دعوت كے بدلے تم سے مال وثروت اور اجرو جزا كا مطالبہ نہيں كرتا''_(۲)
يہ امراچھى طرح سے نشاندہى كرتاہے كہ اس پروگرام سے ميرا كوئي مادى ہدف نہيں ،ميں سوائے خدا كے معنوى وروحانى اجر كے سواكچھ بھى نہيں سوچتا اور كوئي جھوٹا مدعى ايسا نہيں ہوسكتا جو اس قسم كے سردرد ،ناراحتى اور بے آرامى كو يوں ہى اپنے لئے خريد لے اور يہ سچے رہبروں كى پہچان كے لئے ايك ميزان ہے،ان جھوٹے موقع پرستوں كے مقابلے ميں ، كہ وہ جب بھى كوئي قدم اٹھاتے ہيں بالواسطہ يابلا واسطہ طور پر اس سے ان كا كوئي نہ كوئي مادى ہدف اور مقصد ہوتا ہے _
اس كے بعد ان كے جواب ميں جنہيں اصرار تھا كہ حضرت نوح عليہ السلام، اپنے اوپر ايمان لانے والے غريب حقير اور كم عمر افراد كو خود سے دور كرديں حضرت نوح(ع) ( حتمى طور پر فيصلہ سناتے ہوئے )كہتے ہيں :
____________________
(۱) سورہ ہو دآيت۲۸
(۲)سورہ ہودميں ۲۹
''كيونكہ وہ اپنے پروردگار سے ملاقات كريں گے اوردوسرے جہان ميں اس كے سامنے ميرے ساتھ ہوں گے''_(۱)
آخر ميں انہيں بتايا گيا ہے :'' ميں سمجھتا ہو ں كہ تم جاہل لوگ ہو''_(۲)
''اے قوم اگر ميں ان باايمان لوگوں كو دھتكاردوں تو خدا كے سامنے (اس عظيم عدالت ميں بلكہ اس جہان ميں ) كون ميرى مدد كرے گا ''_( ۳) ''كيا تم كچھ سوچتے سمجھتے نہيں ہو'' _(۴) جان لو كہ جو كچھ ميں كہتا ہوں عين حقيقت ہے_
خدائي خزانے ميرے قبضہ ميں نہيں ہيں
اپنى قوم كے مہمل اعتراضات كے جواب ميں حضرت نوح(ع) آخرى بات كہتے ہيں كہ اگر تم خيال كرتے ہو اور توقع ركھتے ہوكہ وحى اور اعجاز كے سواء ميں تم پر كوئي امتياز يا برترى ركھوں ،تو يہ غلط ہے ميں صراحت سے كہنا چاہتا ہوں ''ميں نہ تم سے كہتا ہوں كہ خدا ئي خزانے ميرے قبضے ميں ہيں اور نہ ہر كام جب چاہوں انجام دے سكتاہوں '' نہ ميں غيب سے آگاہى كا دعوى كرتا ہوں ''اور نہ ميں كہتا ہوں كہ ميں فرشتہ ہوں ''_(۵)
ايسے بڑے اور جھوٹے دعوے جھوٹے مدعيوں كے ساتھ مخصوص ہيں اور ايك سچا پيغمبر كبھى ايسے دعوے نہيں كرے گا كيونكہ خدائي خزانے اورعلم غيب صرف خدا كى پاك ذات كے اختيار ميں ہيں اور فرشتہ ہونا بھى ان بشرى احساسات سے مناسبت نہيں ركھتا لہذا جو شخص ان تين ميں سے كوئي ايك دعوى كرے يا يہ سب دعوے كرے تو يہ اس كے جھوٹے ہونے كى دليل ہے _
آخر ميں دوبارہ مستضعفين كا ذكر كرتے ہوئے تاكيد اََكہا گيا ہے ''ميں ہرگز ان افراد كے بارے
____________________
(۱)سورہ ہو دآيت۲۹
(۲) سورہ ہود ۲۹
(۳) سورہ ہو دآيت۳۰
(۴)سورہ ہود۳۰
(۵)سورہ ہو دآيت۳۱
ميں جو تمہارى نگاہ ميں حقير ہيں ،نہيں كہہ سكتا كہ خدا انہيں كو ئي جزائے خير نہيں دے گا''(۱) بلكہ اس كے برعكس اس جہان اور اس جہان كى خير، انھيں كے لئے ہے اگر چہ ان كاہاتھ مال ودولت سے خالى ہے يہ تو تم ہو جنہوں نے خام خيالى كى وجہ سے خير كو مال ومقام يا سن وسال ميں منحصر سمجھ ليا ہے اور تم حقيقت سے بالكل بے خبر ہو _
اور بالفرض اگر تمہارى بات سچى ہو اور وہ پست اور اوباش ہوں تو خدا ان كے باطن سے آگا ہ ہے _
ميں تو ان ميں ايمان اور صداقت كے سوا كچھ نہيں پاتا ،لہذاميرى ذمہ دارى ہے كہ ميں انہيں قبول كرلوں ، ميں توظاہر پر مامور ہوں اور بندہ شناس خدا ہے _''اور اگر ميں اس كے علاوہ كچھ كروں تو يقينا ظالموں ميں سے ہو جائوں گا ''_(۲)
كہاں ہے عذاب ؟
قرآن ميں حضرت نوح عليہ السلام اور ان كى قوم كے درميا ن ہونے والى باقى گفتگو كى طرف اشارہ ہوا ہے قرآن ميں پہلے قوم نوح(ع) كى زبانى نقل ہے كہ انہوں نے كہا :
''اے نوح :تم نے يہ سب بحث وتكراراور مجادلہ كيا ہے اب بس كرو ،تم نے ہم سے بہت باتيں كى ہيں اب بحث مباحثے كى گنجائش نہيں رہي،''اگرسچے ہو تو خدائي عذابوں كے بارے ميں جو سخت وعدے تم نے ہم سے كئے ہيں انہيں پورا كردكھائو اور وہ عذاب لے آئو'_(۳)
يہ بعينہ اس طرح سے ہے كہ ايك شخص ياكچھ اشخاص كسى مسئلے كہ بارے ميں ہم سے بات كريں اور ضمناََہميں دھمكياں بھى ديں اور كہيں كہ اب زيادہ باتيں بند كرو اور جو كچھ تم كرسكتے ہو كرلو اور دير نہ كرو ،اس طرف اشارہ كرتے ہوئے كہ ہم نہ تو تمہارے دلائل كو كچھ سمجھتے ہيں نہ تمہارى دھميكوں سے ڈرتے ہيں اور نہ اس سے زيادہ ہم تمہارى بات سن سكتے ہيں _ انبيا ء الہى كے لطف ومحبت اور ان كى وہ گفتگو جو صاف وشفاف اور خوشگوار پانى كى طرح ہو تى ہے اس طرزعمل كا انتخاب انتہائي ہٹ دھرمى تعصب اور جہالت كى ترجمانى كرتا ہے_
____________________
(۱) سورہ ہو دآيت۳۱
(۲)سورہ ہو دآيت۳۱
(۳)سورہ ہو دآيت۳۲
قوم نوح عليہ السلام كى اس گفتگو سے ضمناً يہ بھى اچھى طرح سے واضح ہوتاہے كہ آپ نے ان كى ہدايت كے لئے بہت طويل مدت تك كوشش كى اور انہيں ارشاد وہدايت كے لئے آپ نے ہرموقع سے استفادہ كيا، آپ نے اس قدر كوشش كى كہ اس گمراہ قوم نے آپ كى گفتار اور ارشادات پر اكتاہٹ كا اظہار كيا_
حضرت نوح عليہ السلام كے بارے ميں قرآن حكيم ميں جوديگر تفصيل آئي ہے اس سے بھى يہ حقيقت اچھى طرح سے واضح ہوتى ہے ، يہ مفہوم تفصيلى طور پر بيان ہوا ہے:'' پروردگارا : ميں نے اپنى قوم كو دن رات تيرى طرف بلايا ليكن ميرى اس دعوت پر ان ميں فرار كے علاوہ كسى چيزكا اضافہ نہيں ہوا ميں نے جب انہيں پكارا تاكہ تو انہيں بخش دے، توانہوں نے اپنى انگلياں اپنے كانوں ميں ٹھونس ليں اور اپنے لباس اپنے اوپر لپيٹ لئے انہوں نے مخالفت پر اصراركيا اورغرور تكبركا مظاہرہ كيا ميں نے پھر بھى انہيں دعوت دى ،ميں نے پيہم اصرار كيا مگر انہوں نے كسى طرح بھى ميرى باتوں كى طرف كان نہ دھرے ''_(۱)
حضرت نوح عليہ السلام نے اس بے اعتنائي، ہٹ دھرمى اوربے ہودگى كا يہ مختصر جواب ديا : خدا ہى چاہے تو ان دھمكيوں اور عذاب كے وعدوں كو پورا كرسكتا ہے ''_(۲)
ليكن بہرحال يہ چيز ميرے اختيار سے باہر ہے اور ميرے قبضہ قدرت ميں نہيں ہے ميں تو اس كا رسول ہوں اور اس كے حكم كے سامنے تسليم ہوں ، لہذا سزا اور عذاب كى خواہش مجھ سے نہ كر و، ليكن يہ جان لو كہ جب عذاب كا حكم آپہنچے گاتو پھر تم اس كے احاطہ قدرت سے نكل نہيں سكتے اور كسى پناہ گا ہ كى طرف فرار نہيں كر سكتے '' _(۳)
معاشرے كو پاك كرنے كا مرحلہ
قرآن مجيد ميں حضرت نوح(ع) كى سرگذشت بيان ہوئي ہے اس كے در حقيقت مختلف مراحل ہيں ان
____________________
(۱) نوح آيات ۵ تا۱۳
(۲)سورہ ہو دآيت۳۳
(۳) سورہ ہو دآيت۳۳
ميں سے ہرمرحلہ متكبرين كے خلاف حضرت نوح كے قيام كے ايك دور سے مربوط ہے پہلے حضرت نوح(ع) كى مسلسل اور پر عزم دعوت كے مرحلے كا تذكرہ تھا جس كے لئے انہوں نے تمام تروسائل سے استفادہ كيا يہ مرحلہ ايك طويل مدت پر مشتمل تھا اس ميں ايك چھوٹا ساگروہ آپ پر ايمان لايا، يہ گروہ ويسے تو مختصر ساتھا ليكن كيفيت اور استقامت كے لحاظ سے بہت عظيم تھا _
قرآن ميں اس قيام كے دوسرے مرحلے كى طرف اشارہ كيا گيا ہے يہ مرحلہ دور تبليغ كے اختتام كا تھا جس ميں خدا كى طرف سے معاشرے كوبرے لوگوں سے پاك كرنے كى تيارى كى جانا تھى پہلے قرآن ميں ارشاد ہوتاہے_ ''نوح(ع) كو وحى ہوئي كہ جو افراد ايمان لاچكے ہيں ان كے علاوہ تيرى قوم ميں سے كوئي ايمان نہيں لائے گا ''_(۱)
يہ اس طرف اشارہ ہے كہ صفيں بالكل جدا ہو چكى ہيں ، اب ايمان اوراصلاح كى دعوت كا كوئي فائدئہ نہيں اور اب معاشرے كى پاكيز گى اور آخرى انقلاب كے لئے تيار ہو جانا چاہئے اس گفتگو كے آخر ميں حضرت نوح كى تسلى اور دلجوئي كے لئے فرمايا گياہے :''اب جب معاملہ يوں ہے تو جو كام تم انجام دے رہے ہو اس پر كوئي حزن وملال نہ كرو''_(۲)
مربوطآيت سے ضمنى طور پر معلوم ہوتا ہے كہ اللہ اسرار غيب كا كچھ حصہ جہاں ضرورى ہوتا ہے اپنے پيغمبر كے اختيار ميں دے ديتا ہے جيسا كہ حضرت نوح عليہ السلام كو خبر دى گئي ہے كہ آئندہ ان ميں سے كوئي اور شخص ايمان نہيں لائے گا ،بہر حال ان گناہگار اور ہٹ دھرم لوگوں كو سزا ملنى چاہئے ، ايسى سزا جو عالم ہستى كو ان كے وجود كى گندگى سے پاك كردے اور مومنين كو ہميشہ كے لئے ان كے چنگل سے نجات دےدے، ان كے غرق ہونے كا حكم ہوچكا ہے ليكن ہر چيز كے لئے كچھ وسائل واسباب ہوتے ہيں لہذا نوح كو چاہئے كہ وہ سچے مومنين كے بچنے كے لئے ايك مناسب كشتى بنائيں تاكہ ايك تو مومنين كشتى بننے كى اس مدت ميں اپنے طريق كار ميں پختہ تر ہوجائيں اور دوسروں كے لئے بھى كا فى اتمام حجت ہوجائے _
____________________
(۱)سورہ ہو دآيت۲۱
(۲)سورہ ہو دآيت۳
كشتى نوح عليہ السلام
''ہم نے نوح عليہ السلام كو حكم ديا كہ وہ ہمارے حضور ميں اور ہمارے فرمان كے مطابق كشتى بنائيں ''_(۱)
لفظ (وحينا) سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ حضرت نوح كشتى بنانے كى كيفيت اور اس كى شكل وصورت كى تشكيل بھى حكم خدا سے سيكھ رہے تھے اور ايساہى ہونا چاہئے تھا كيونكہ حضرت نوح آنے والے طوفان اور اس كى كيفيت ووسعت سے آگا ہ نہ تھے كہ وہ كشتى اس مناسبت سے بنا تے اور يہ وحى الہى ہى تھى جو بہترين كيفيتوں كے انتخاب ميں ان كى مدد گار تھى _
آخر ميں حضرت نوح عليہ السلام كو خبردار كيا گيا ہے :'' آج كے بعد ظالم افراد كے لئے شفاعت اور معافى كا تقاضانہ كرنا كيونكہ انہيں عذاب دينے كا فيصلہ ہوچكا ہے اور وہ حتماَ غرق ہوجائيں گے''_(۲)
كشتى بنارہے ہو دريابھى بنائو
اب چندجملے قوم نوح عليہ السلام كے بارے ميں بھى سن ليں :وہ بجائے اس كے كہ ايك لمحہ كے لئے حضرت نوح(ع) كى دعوت كو غور سے سنتے ، اسے سنجيدگى سے ليتے اور كم ازكم انہيں يہ احتمال ہى ہوتا كہ ہو سكتا ہے كہ حضرت نوح كے بار باركے اصرار اور تكرار دعوت كا سر چشمہ وحى الہى ہى ہو اور ہو سكتا ہے طوفان اور عذاب كا معاملہ حتمى اور يقينى ہى ہو، الٹا انہوں نے تمام مستكبر اور مغرور افراد كى عادت كا مظاہرہ كيا اور تمسخرواستہزاء كا سلسلہ جارى ركھا _ ان كى قوم كا كوئي گروہ جب كبھى ان كے نزديك سے گزرتا اور حضر ت نوح اور ان كے اصحاب كو لكڑياں اور ميخيں وغيرہ مہيا كرتے ديكھتا اور كشتى بنانے ميں سرگرم عمل پاتا تو مذاق اڑاتا اور پھبتياں كستے ہوئے گزر جاتا ''_(۳)
____________________
(۱) سورہ ہو دآيت۳۷
(۲) سورہ ہو دآيت۳۷
(۳)سورہ ہو دآيت۳۸
كہتے ہيں كہ قوم نوح عليہ السلام كے اشراف كے مختلف گروہوں كے ہردستے نے تمسخر اور تفريح وطبع كے لئے اپناہى ايك انداز اختيار كرركھا تھا _
ايك كہتاتھا:''اے نوح(ع) دعوائے پيغمبرى كا كاروبار نہيں چل سكا تو بڑھئي بن گئے، دوسرا كہتا تھا :كشتى بنا رہے ہو؟ بڑا اچھا ہے البتہ كشتى كے لئے دريا بھى بنائو، كبھى كوئي عقلمندديكھا ہے جو خشكى كے بيچ ميں كشتى بنائے؟
ان ميں سے كچھ كہتے تھے : اتنى بڑى كشتى كس لئے بنارہے ہو اگر كشتى بنانا ہى ہے تو ذرا چھوٹى بنالو جسے ضرورت پڑے تو دريا كى طرف لے جانا تو ممكن ہو _
ايسى باتيں كرتے تھے اور قہقہے لگا كرہنستے ہوئے گزر جاتے تھے يہ باتيں گھروں ميں ہوتيں _كام كاج كے مراكز ميں يہ گفتگو ہوتيں گويا اب بحثوں كا عنوان بن گئي وہ ايك دوسرے سے حضرت نوح اور ان كے پيروكاروں كى كوتاہ فكرى كے بارے ميں باتيں كرتے اور كہتے : اس بوڑھے كو ديكھو آخر عمر ميں كس حالت كو جاپہنچا ہے اب ہم سمجھے كہ اگر ہم اس كى باتوں پر ايمان نہيں لائے تو ہم نے ٹھيك ہى كيا اس كى عقل تو بالكل ٹھكانے نہيں ہے _
دوسرى طرف حضرت نوح عليہ السلام بڑى ا ستقامت اور پامردى سے اپناكام بے پناہ عزم كے ساتھ جارى ركھے ہوئے تھے اور يہ ان كے ايمان كانتيجہ تھا وہ ان كو رباطن دل كے اندھوں كى بے بنياد باتوں سے بے نيازاپنى پسند كے مطابق تيزى سے پيشرفت كررہے تھے اور دن بدن كشتى كا ڈھانچہ مكمل ہو رہا تھا كبھى كبھى سراٹھا كران سے يہ پرمعنى بات كہتے: ''اگر آج تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو توہم بھى جلدى ہى اسى طرح تمہارا مذاق اڑائيں گے''_(۱)
وہ دن كہ جب تم طوفان كے درميان سرگرداں ہوكر ،سراسيمہ ہوكر ادھر ادھر بھاگو گے اور تمہيں كوئي پناہ گاہ نہيں ملے گى موجوں ميں گھرے فرياد كرو گے كہ ہميں بچالو جى ہاں اس روز مومنين تمہارى غفلت اور
____________________
(۱)سورہ ہود ايت۳۸
جہالت پر مذاق اڑائيں گے''اس روز ديكھنا كہ كس كے لئے ذليل اور رسوا كرنے والا عذاب آتا ہے اور كسے دائمى سزا دامن گير ہوتى ہے ''_(۱)
اس ميں شك نہيں كہ كشتى نوح كوئي عام كشتى نہ تھى كيونكہ اس ميں سچے مو منين كے علاوہ ہر نسل كے جانور كو بھى جگہ ملى تھى اور ايك مدت كے لئے ان انسانوں اور جانوروں كو جو خوراك دركار تھى وہ بھى اس ميں موجود تھى ايسى لمبى چوڑى كشتى يقينا اس زمانے ميں بے نظير تھى يہ ايسى كشتى تھى جو ايسے دريا كى كوہ پيكر موجود ميں صحيح وسالم رہ سكے اور نابود نہ ہو جس كى وسعت اس دنيا جتنى ہو، اسى لئے مفسرين كى بعض روايات ميں ہے كہ اس كشتى كا طول ايك ہزار دو سو ذراع تھااور عرض چھ سو ذراع تھا (ايك ذراع كى لمبائي تقريباََآدھے ميڑكے برابر ہے ) _
بعض اسلامى روايات ميں ہے كہ ظہور طوفان سے چاليس سال پہلے قوم نوح(ع) كى عورتوں ميں ايك ايسى بيمارى پيدا ہو گئي تھى كہ ان كے يہاں كوئي بچہ پيدا نہيں ہوتا تھا يہ دراصل ان كے لئے سزا كى تمہيد تھى _
آغاز طوفان
گزشتہ صفحات ميں ہم نے ديكھا ہے كہ كس طرح حضرت نوح عليہ السلام اور سچے مومنين نے كشتى نجات بنانا شروع كى اور انہيں كيسى كيسى مشكلات آئيں اور بے ايمان مغرور اكثريت نے كس طرح ان كا تمسخراڑايا اس طرح تمسخر اڑانے والوں نے كس طرح اپنے آپ كو اس طوفان كے لئے تياركيا جو سطح زمين كو بے ايمان مستكبرين كے منحوس وجود سے پاك كرنے والا تھا _
يہاں پر اس سرگزشت كے تيسرے مرحلے كے بارے ميں قرآن گويا اس ظالم قوم پر نزول عذاب كى بولتى ہوئي تصوير كو لوگوں كے سامنے پيش كررہا ہے _
پہلے ارشاد ہوتا ہے :''يہ صورت حال يونہى تھى يہاں تك كہ ہماراحكم صا در ہوا اور عذاب كے آثار
____________________
(۱) سورہ ہو دآيت۳۹
ظاہر ہونا شروع ہوگئے پانى تنور كے اندر سے جو ش ما رنے لگا''_(۱)
اس بار ے ميں كہ طوفان كے نزديك ہونے سے تنور سے پانى كا جوش مارنا كيامناسبت ركھتا ہے مفسرين كے درميان بہت اختلاف ہے_(۲)
موجودہ احتمالات ميں سے يہ احتمال زيادہ قوى معلوم ہوتا ہے كہ يہاں '' تنور'' اپنے حقيقى اور مشہور معنى ميں آيا ہے اور ہوسكتا ہے اس سے مراد كوئي خاص تنور بھى نہ ہو بلكہ ممكن ہے كہ اس سے يہ نكتہ بيان كرنا مقصود ہوكہ تنور جو عام طوپر آگ كا مركزہے جب اس ميں سے پانى جوش مارنے لگا تو حضرت نوح اور ان كے اصحاب متوجہ ہوئے كہ حالات تيزى سے بدل رہے ہيں اور انقلاب قريب تر ہے يعنى كہاں آگ اور كہاں پانى بالفاظ ديگر جب انہوں نے يہ ديكھا كہ زيرزمين پانى كى سطح اس قدراوپر آگئي ہے كہ وہ تنور كے اندر سے جو عام طور پر خشك ،محفوظ اور اونچى جگہ بنايا جاتا ہے ، جوش ماررہا ہے تو وہ سمجھ گئے كہ كوئي اہم امر درپيش ہے اور قدرت كى طرف سے كسى نئے حادثے كاظہور ہے _ اور يہى امر حضرت نوح اور ان كے اصحاب كے لئے خطرے كا الارم تھا كہ وہ اٹھ كر كھڑے ہوں اور تيار رہيں _
شايد غافل اور جاہل قوم نے بھى اپنے گھر وں كے تنور ميں پانى كو جوش مارتے ديكھا ہو بہرحال وہ ہميشہ كى طرح خطرے كے ان پر معنى خدائي نشانات سے آنكھ كان بند كيے گزرگئے يہاں تك كہ انہوں نے اپنے آپ كو ايك لمحہ كے لئے بھى غور وفكر كى زحمت نہ دى كہ شايد شرف تكوين ميں كوئي حادثہ پوشيدہ ہواور شايد حضرت نوح(ع) جن واقعات كى خبر ديتے تھے ان ميں سچائي ہو _
____________________
(۱)سورہ ہو دآيت۳۰
(۲) بعض نے كہا ہے كہ تنور سے پانى كا جوش مارنا خدا كى طرف سے حضرت نوح كے لئے ايك نشانى تھى تاكہ وہ اصل واقعہ كى طرف متوجہ ہوں اور اس موقع پروہ اور ان كے اصحاب ضرورى اسباب ووسائل لے كر كشتى ميں سوار ہوجائيں بعض نے كہا ہے كہ يہاں ''تنور'' مجازى اور كنائي معنى ميں ہے جو اس طرف اشارہ ہے كہ غضب الہى كے تنورميں جوش پيدا ہوا اوروہ شعلہ ورہوا اوريہ تباہ كن خدائي عذاب كے نزيك ہونے كے معنى ميں ہے ايسى تعبير فارسى اور عربى زبان ميں استعمال ہوتى ہيں كہ شدت غضب كو آگ كے جوش مارنے اور شعلہ ور ہونے سے تشبيہ دى جاتى ہے _
اس وقت نوح(ع) كو ''ہم نے حكم ديا كہ جانوروں كى ہرنوع ميں سے ايك جفت (نراور مادہ كا جوڑا) كشتى ميں سوار كرلو '' _تاكہ غرقاب ہو كر ان كى نسل منقطع نہ ہوجائے _
اور اسى طرح اپنے خاندان ميں سے جن كى ہلاكت كا پہلے سے وعدہ كيا جاچكا ہے ان كے سواباقى افرادكو سوار كرلو نيز مومنين كو كشتى ميں سوار كرلو ''_(۱)
نوح عليہ السلام كا بيٹابدكاروں كے ساتھ
رہا يہ قرآن ايك طرف حضرت نوح(ع) كى بے ايمان بيوى اور ان كے بيٹے كنعان كى طرف اشارہ كرتا ہے جن كى داستان آئندہ صفحات ميں آئے گى جنہوں نے راہ ايمان سے انحراف كيا اور گنہگاروں كا ساتھ دينے كى وجہ سے حضرت نوح سے اپنا رشتہ توڑليا وہ اس كشتى نجات ميں سوار ہونے كا حق نہيں ركھتے تھے كيونكہ اس ميں سوار ہونے كى پہلى شرط ايمان تھى _
دوسرى طرف يہ قرآن اس جانب اشارہ كرتاہے كہ حضرت نوح نے جو اپنے دين وآئين كى تبليغ كے لئے سالہاسال بہت طويل اور مسلسل كوشش كى اس كا نتيجہ بہت تھوڑے سے افراد مومنين كے سوا كچھ نہ تھا بعض روايات كے مطابق ان كى تعداد صرف اسي(۸۰) افرادتھى يہاں تك كہ بعض نے تو اس سے بھى كم تعداد لكھى ہے اس سے پتہ چلتا ہے كہ اس عظيم پيغمبر نے كس حد تك استقامت اور پامردى كا مظاہرہ كيا ہے كہ ان ميں سے ايك ايك فرد كے لئے اوسطاََ كم از كم د س سال زحمت اٹھائي اتنى زحمت تو عام لوگ اپنى اولاد تك كى ہدايت اورنجات كے لئے نہيں اٹھاتے _
اللہ كا نام لے كركشتى پرسوارہوجائو
بہرحال حضرت نوح(ع) نے جلدى سے اپنے وابستہ صاحب ا يمان افراد اور اصحاب كوجمع كيا اورچونكہ طوفان اور تباہ كن خدائي عذابوں كا مرحلہ نزديك آرہا تھا ،''انہيں حكم دياكہ خدا كے نام سے كشتى پرسوار ہوجائو
____________________
(۱) سورہ ہو دآيت۴۰
اور كشتى كے چلتے اور ٹھہرتے وقت خدا كا نام زبان پر جارى كرو اور اس كى ياد ميں رہو''_(۱)
بالآخرآخرى مرحلہ آپہنچا اور اس سر كش قوم كے لئے عذاب اورسزا كافرمان صادرہوا تيرہ وتار بادل جو سياہ رات كے ٹكڑوں كى طرح تھے سارے آسمان پرچھا گئے اور اس طرح ايك دوسرے پرتہ بہ تہ ہوئے كہ جس كى نظيراس سے پہلے نہيں ديكھى گئي تھى پے درپے سخت بادل گرجتے خيرہ كن بجلياں پورے آسمان پر كوندتيں آسمانى فضاگويا ايك بہت بڑے وحشتناك حادثے كى خبردے رہى تھى _
بارش شروع ہوگئي اور پھر تيزسے تيزترہوتى چلى گئي بارش كے قطرے موٹے سے موٹے ہوتے چلے گئے جيسا كہ قرآ ن كہتاہے :
''گويا آسمان كے تمام دروازے كھل گئے اورپانى كا ايك سمندر ان كے اندرسے نيچے گرنے لگا''_(۲)
دوسرى طرف زير زمين پانى كى سطح اس قدر بلند ہوگئي كہ ہر طرف سے پرجوش چشمے ابل پڑے، يوں زمين وآسمان كا پانى آپس ميں مل گيا اور زمين ،پہاڑ،دشت ،بيابان اور درہ غرض ہر جگہ پانى جارى ہوگيا بہت جلد زمين كى سطح ايك سمندر كى صورت اختيار كرگئي تيز ہوا ئيں چلنے لگيں جن كى وجہ سے پانى كى كوہ پيكر موجيں امنڈنے لگيں اس عالم ميں ''كشتى نوح كوہ پيكر موجوں كا سينہ چيرتے ہوئے آگے بڑھ رہى تھى ''_(۳)
پسر نوح كا درد ناك انجام
پسر نوح(ع) ايك طرف اپنے باپ سے الگ كھڑا تھا نوح(ع) نے پكارا: ''ميرے بيٹے،ہمارے ساتھ سوارہوجائو اور كافروں كے ساتھ نہ ہوورنہ فناہوجائوگے ''_(۴)
پيغمبر بزر گوارحضرت نوح(ع) نے نہ صرف باپ كى حيثيت سے بلكہ ايك انتھك پر اميد مربى كے طور پر
____________________
(۱) سورہ ہو دآيت ۴۱
(۲) سورہ قمر آيت۱۱
(۳) سورہ ہودآيت ۴۲
(۴) سورہ ہو دآيت۴۳
آخرى لمحے تك اپنى ذمہ دارى سے دست بردارى نہ كى ،اس اميدپر كہ شايد ان كى بات سنگدل بيٹے پر اثر كرجائے ليكن افسوس كہ برے ساتھى كى بات اس كے لئے زيادہ پرتاثير تھى لہذا دلسوز باپ كى گفتگو اپنا مطلوبہ اثر نہ كرسكي، وہ ہٹ دھرم اور كوتاہ فكر تھا اسے گمان تھا كہ غضب خداكا مقابلہ بھى كيا جاسكتا تھا اس لئے اس نے پكار كركہا :'' اباميرے لئے جوش ميں نہ آئو ميں عنقريب پہاڑپر پناہ لے لوں گا جس تك يہ سيلاب نہيں پہنچ سكتا''_(۱)
نوح(ع) پھربھى مايوس نہ ہوئے دوبارہ نصيحت كرنے لگے كہ شايد كوتاہ فكر بيٹا غرور اور خود سرى كے مركب سے اترآئے اور راہ حق پرچلنے لگے_انہوں نے كہا :''ميرے بيٹے آج حكم خدا كے مقابلے ميں كوئي طاقت پناہ نہيں دے سكتى ،نجات صرف اس شخص كے لئے ہے رحمت خدا جس كے شامل حال ہو ''_(۲) پہاڑتو معمولى سى چيزہے خود كرہ ارض بھى معمولى سى چيز ہے سورج اور تمام نظام شمسى اپنے خيرہ كن عظمت كے باوجود خدا كى قدرت لايزال كے سامنے ذرئہ بے مقدار سے زيادہ حيثيت نہيں ركھتا _
اسى دوران ايك موج اٹھى اور آگے آئي،مزيد آگے بڑھى اور پسر نوح كو ايك تنكے كى طرح اس كى جگہ سے اٹھايا اوراپنے اندر درہم برہم كرديا،''اور باپ بيٹے كے درميان جدائي ڈال دى اور اسے غرق ہونے والوں ميں شامل كرديا ''_(۳)
اے نوح عليہ السلام تمہارا بيٹا تمہارے اہل سے نہيں ہے
جب حضرت نوح(ع) نے اپنے بيٹے كو موجوں كے درميان ديكھا تو شفقت پدرى نے جوش مارا انہيں اپنے بيٹے كى نجات كے بارے ميں وعدہ الہى ياد آيا انہوں نے درگاہ الہى كا رخ كيا اور كہا :''پروردگار ا ميرا بيٹا ميرے اہل اور ميرے خاندان ميں سے ہے اور تو نے وعدہ فرماياتھا كہ ميرے خاندان كو طوفان اور ہلاكت سے نجات دے گا اور تو تمام حكم كرنے والوں سے برترہے اور تو ايفائے عہد كرنے ميں محكم ترہے ''_(۴)
____________________
(۱)سورہ ہو دآيت۴۳
(۲) سورہ ہو دآيت۴۳
(۳) سورہ ہو دآيت۴۳
(۴) سورہ ہو دآيت۴۵
يہ وعدہ اسى چيز كى طرف اشارہ ہے جو سورہ ہود ميں موجود ہے جہاں فرمايا گيا ہے :
''ہم نے نوح(ع) كو حكم ديا كہ جانوروں كى ہر نوع ميں سے ايك جوڑا كشتى ميں سوار كرلو اور اسى طرح اپنے خاندان كو سوائے اس شخص كے جس كى نابودى كے لئے فرمان خدا جارى ہوچكا ہے ''_(۱)
حضرت نوح(ع) نے خيال كيا كہ ''سوائے اس كے كہ جس كى نابود ى كے لئے فرمان خدا جارى ہوچكا ہے ،اس سے مرادصرف ان كى بے ايمان اور مشرك بيوى ہے اور ان كا بيٹا كنعان اس ميں شامل نہيں ہے لہذاانہوں نے بارگاہ خداوندى ميں ايسا تقاضاكيا ليكن فورا ًجواب ملا (ہلادينے والا جواب اور ايك عظيم حقيقت واضح كرنے والا جواب )''اے نوح وہ تيرے اہل اور خاندان ميں سے نہيں ہے ،بلكہ وہ غيرصالح عمل ہے''_(۲)
وہ نالائق شخص ہے اور تجھ سے مكتبى اور مذہبى رشتہ ٹوٹنے كى وجہ سے خاندانى رشتے كى كوئي حيثيت نہيں رہي_
''اب جبكہ ايسا ہے تو مجھ سے ايسى چيزكا تقاضانہ كر جس كے بارے ميں تجھے علم نہيں ،ميں تجھے نصيحت كرتا ہوں كہ جاہلوں ميں سے نہ ہوجا ''_(۳)
حضرت نوح(ع) سمجھ گئے كہ يہ تقاضا بارگاہ الہى ميں صحيح نہ تھا اور ايسے بيٹے كى نجات كو خاندان كى نجات كے بارے ميں خدا كے وعدے ميں شامل نہيں سمجھنا چاہئے تھا لہذا آپ نے پروردگار كا رخ كيا اور كہا :
''پروردگار ا : ميں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس امر سے تجھ سے كسى ايسى چيز كى خواہش كروں جس كا علم مجھے نہيں ،اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور اپنى رحمت ميرے شامل حال نہ كى تو ميں زياں كاروں ميں سے ہوجائوں گا ''_(۴)
____________________
(۱) سورہ ہو دآيت۴۰
(۲) سورہ ہو دآيت۴۶
(۳)سورہ ہو دآيت۴۶
(۴)سورہ ہو دآيت۴۷
اس داستان كا اختتام
آخركار پانى كى ٹھاٹھيں مارتى ہوئي لہروں نے تمام جگہوں كو گھيرليا پانى كى سطح بلند سے بلند تر ہوتى چلى گئي جاہل گنہگاروں نے يہ گمان كيا كہ يہ ايك معمولى سا طوفان ہے وہ اونچى جگہوں اور پہاڑوں پر پناہ گزين ہو جائيں گے، ليكن پانى ان كے اوپر سے بھى گزر گيا اور تمام جگہيں پانى كے نيچے چھپ گئيں ان طغيان گروں كے جسم ،ان كے بچے كچے، گھراور زندگى كا سازوسامان پانى كى جھاگ ميں نظر آرہا تھا _
حضرت نوح(ع) نے زمام كشتى خدا كے ہاتھ ميں دى موجيں كشتى كوادھر سے ادھرلےجاتى تھيں روايات ميں آيا ہے كہ كشتى پورے چھ ماہ سرگرداں رہى يہ مدت ابتدائے ماہ رجب سے لے كر ذى الحجہ كے اختتام تك تھى ايك اورروايت كے مطابق دس رجب سے لے كر روزعاشورہ تك كشتى پانى كى موجوں ميں سرگرداں رہي_
اس دوران كشتى نے مختلف علاقوں كى سيركى يہاں تك كہ بعض روايات كے مطابق سرزمين مكہ اور خانہ كعبہ كے اطراف كى بھى سيركي، آخر كارعذاب كے خاتمے كا اور زمين كے معمول كى حالت ميں لوٹ آنے كا حكم صادر ہوا ،قران ميں اس فرمان كى كيفيت ،جزئيات اور نتيجہ بہت مختصر مگرانتہائي عمدہ اور جاذب وخوبصورت عبارت ميں چھ جملوں ميں بيان كيا گيا ہے : پہلے ارشاد ہوتا ہے :''حكم دياگيا كہ اے زمين:اپنا: پانى نگل جا،اورآسمان كو حكم ہوا'اے آسمان ہاتھ روك لے،،_
''پانى نيچے بيٹھ گيا ''
''اوركام ختم ہوگيا''
''اوركشتى كو ہ جو دى كے دامن سے آلگي'' _
''اس وقت كہا گيا : دور ہوظالم قوم ''_(۱)
____________________
(۱)سورہ ہودايت ۴۴
مندر جہ بالا قرآنى تعبيرات مختصر ہوتے ہوئے بھى نہايت مو ثراوردلنشين ہيں ،يہ بولتى ہوئي زندہ تعبيرات ہيں اورتمام ترزيبائي كے باوجود ہلا دينے والى ہيں بعض علماء عرب كے بقول مذكورہ آيت قرآن ميں سے فصيح ترين اوربليغ ترين آيت ہے _(۱)
كوہ جودى كہاں ہے ؟
بہت سے مفسرين نے كہا ہے كہ كو ہ جو دى جس كے كنارے كشتى نوح(ع) آكر لگى تھى اور جس كا ذكر قرآن ميں آيا ہے وہى مشہور پہاڑہے جو موصل كے قريب ہے ،بعض دوسرے مفسرين نے اسے حدود شام ميں يا '' آمد '' كے نزيك يا عراق كے شمالى پہاڑسمجھا ہے_
كتاب مفردات راغب نے كہا ہے كہ يہ وہ پہاڑ ہے جو موصل اور الجزيرہ كے درميان ہے ''الجزيرہ'' شمالى عراق ميں ايك جگہ ہے اور يہ ''الجزائر''يا ''الجزيرہ ''نہيں جو آج كل مشہور ہے ،بعيد نہيں كہ ان سب كى بازگشت ايك ہى طرف ہو كيونكہ موصل ،آمد اور الجزيرہ سب عراق كے شمالى علاقوں ميں ہيں اور شام كے نزديك ہيں _بعض مفسرين نے يہ احتمال ظاہر كيا ہے كہ جودى سے مراد ہر مضبوط پہاڑ اور محكم زمين ہے، يعنى كشتى نوح ايك محكم زمين پر لنگر انداز ہوئي جو اس كى سواريوں كے اترنے كے لئے مناسب تھى ليكن مشہور معروف وہى پہلا معنى ہے(۲)
____________________
(۱)روايات اور تو اريخ ميں اس كى شہادت موجود ہے، لكھا ہے : كچھ كفارقريش قرآن سے مقابلے كے لئے اٹھ كھڑے ہوئے انہوں نے مصمم ارادہ كرليا كہ قرآنى آيات جيسى كچھ آيات گھڑيں ان سے تعلق ركھنے والوں نے انہيں چاليس دن تك بہترين غذائيں مہيا كيں ،مشروبات فراہم كيے اور ان كى ہر فرمائش پورى كى خالص گندم كا ميدہ ،بكرے كا گوشت ،پرانى شراب غرض سب كچھ انہيں لاكر ديا تا كہ وہ آرام وراحت كے ساتھ قرآنى آيات جيسے جملوں كى تركيب بندى كريں ليكن جب وہ مذكورہ آيت تك پہنچے تو اس نے انہيں اس طرح سے ہلاكر ركھ ديا كہ انہوں نے ايك دوسرے كى طرف ديكھ كركہا كہ يہ ايسى گفتگو ہے كوئي كلام اس سے مشا بہت نہيں ركھتا ،يہ كہہ كر انہوں نے اپناہ ارادہ ترك كرديا اور مايوس ہوكر ادھر ادھرچلے گئے _
(۲)مزيد نفصيلات كے لئے رجوع كريں تفسير نمونہ جلد۵ ۲۶۹
حضرت نوح(ع) باسلامت اترآئے
حضرت نوح(ع) اور ان كى سبق آموزسرگزشت كے بارے ميں يہ آخرى حصہ ہے ہيں ان ميں حضرت نوح(ع) كے كشتى سے اترنے اور نئے سرے سے روئے زمين پر معمول كى زندگى گزارنے كى طرف اشارہ كيا گيا ہے _
قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے :'' نوح(ع) سے كہا گيا كہ سلامتى اور بركت كے ساتھ جو ہمارى طرف سے تم پر اور تمہارے ساتھيوں پر ہے، اترآئو''_(۱)
اس ميں شك نہيں كہ ''طوفان ''نے زندگى كے تمام آثار كو درہم برہم كردےا تھا فطرى طور پر آباد زمينيں ،لہلہاتى چراگا ہيں اور سرسبز باغ سب كے سب ويران ہوچكے تھے اس موقع پر شديد خطرہ تھا كہ حضرت نوح اور ان كے اصحاب اور ساتھى زندگى گزارنے اور غذا كے سلسلے ميں بہت تنگى كا شكار ہوں گے _ليكن خدا نے ان مومنين كو اطمينان دلايا كہ بركات الہى كے دروازے تم پر كھل جائيں گے اور زندگى اور معاش كے حوالے سے تمہيں كوئي پريشانى لاحق نہيں ہوگي_
علاوہ ازيں ممكن تھا كہ حضرت نوح اور ان كے پيروكاروں كو اپنى سلامتى كے حوالے سے يہ پريشانى ہوتى كہ طوفان كے بعد باقى ماندہ ان گندے پانيوں ،جو ہڑوں اور دلدلوں كے ہوتے ہوئے زندگى خطرے سے دوچار ہوگى لہذا خدا تعالى اس سلسلے ميں بھى انہيں اطمنان دلاتا ہے كہ تمہيں كسى قسم كا كوئي خطرہ لاحق نہيں ہوگا اور وہ ذات جس نے ظالموں كى نابودى كے لئے طوفان بھيجا ہے اہل ايمان كى سلامتى اور بركت كے لئے بھى ماحول فراہم كرسكتى ہے _
اس بناء پر جس طرح حضرت نوح اور ان كے ساتھى پروردگار كے لامتناہى لطف وكرم كے سائے ميں طوفان كے بعد ان تمام مشكلات كے باوجود سلامتى وبركت كے ساتھ جيتے رہے ،اسى طرح مختلف
____________________
(۱) سورہ ہو دآيت۴۸
قسم كے جانور جو حضرت نوح كے ساتھ كشتى سے اترے تھے خدا كى طرف سے سلامتى وحفا ظت كے ساتھ اور اس كے لطف وكرم كے سائے ميں زندگى بسر كرتے رہے _
كيا طوفان نوح(ع) عالمگير تھا ؟
قرآنى بہت سى آيات كے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے كہ طوفان نوح كسى خاص علاقے كے لئے نہ تھابلكہ پورى زمين پر رونما ہوا تھا كيونكہ لفظ ''ارض ''(زمين)مطلق طور پر آيا ہے :
''خداوندا روئے زمين پر ان كافروں ميں سے كسى كو زندہ نہ رہنے دے كہ جن كے بارے ميں اصلاح كى كوئي اميد نہيں ہے ''_(۱)
اسى طرح سورہ ہود ميں ارشاد ہوتا ہے: ''اے زمين اپنا پانى نگل لے ''_(۲)
بہت سى تواريخ سے بھى طوفان نوح(ع) كے عالمگير ہونے كى خبر ملتى ہے اسى لئے كہا جاتاہے كہ موجودہ تمام نسليں حضرت نوح(ع) كے تين بيٹوں حام،سام اور يافث كى اولاد ميں سے ہيں جو كہ زندہ بچ گئے تھے _
طبيعى تاريخ بھى سيلابى بارشوں كے نام سے ايك دور كا پتہ چلتاہے اس دور كو اگر لازمى طور پرجانداروں كى پيدائش سے قبل سے مربوط نہ سمجھيں تو وہ بھى طوفان نوح پر منطبق ہوسكتا ہے _(۳)(۴)
____________________
(۱) سورہ نوح ايت ۲۶
(۲)سورہ ہود آيت۴۴
(۳)زمين كى طبيعى تاريخ ميں يہ نظر يہ بھى ہے كہ كرہ زمين كا محور تدريجى طور پر تغير پيدا كرتا ہے يعنى قطب شمالى اور قطب جنوبى خطّ استوا ميں تبديل ہوجاتے ہيں اور خط استوا قطب جنوبى كى جگہ لے ليتا ہے، واضح ہے كہ جب قطب شمالى وجنوبى ميں موجود بہت زيادہ برف پگھل پڑے تو دريائوں اور سمندروں كے پانى كى سطح اس قدر اوپر آجائے گى كہ بہت سى خشكيوں كو اپنى لپيٹ ميں لے لے گى اور پانى زمين ميں جہاں جہاں اسے گنجائش ملے گى ابلتے ہوئے چشموں كى صورت ميں نكلے گا، پانى كى يہى وسعت بادلوں كى تخليق كا سبب بنتى ہے اور پھر زيادہ سے زيادہ بارشيں انہى بادلوں سے ہوتى ہيں
يہ امر كہ حضرت نوح نے زمين كے جانوروں كے چند نمونے بھى اپنے ساتھ لئے تھے طوفان كے عالمگير ہونے كا مو يد ہے _
(۴) اس روئے زمين پرسبھى حضرت نوح كى اولاد سے ہيں ؟ رجوع كريں تفسير نمونہ ج۱۰ ص۵۰۳ سورہ صافات آيت ۸۲ كى تفسير ميں
طوفان كے ذريعے سزا كيوں دى گئي ؟
يہ صحيح ہے كہ ايك فاسداور برى قوم كو نابود ہونا چاہئے ،چاہے وہ كسى ذريعے سے نابودہو، اس سے فرق نہيں پڑتا ليكن آيات قرآنى ميں غور كرنے سے پتہ چلتا ہے كہ عذاب و سزا اور قوموں كے گناہوں ميں ايك قسم كى مناسبت تھى اور ہے ،فرعون نے عظيم دريائے نيل اور اس كے پر بركت پانى كو اپنى قوت وطاقت كا ذريعہ بناركھا تھا يہ با ت جا ذب نظر ہے كہ وہى اس كى نابودى كا سبب بنا نمرود كو اپنے عظيم ظلم پر بھروسہ تھا اور ہم جانتے ہيں كہ حشرات الارض كے چھوٹے سے لشكر نے اسے اور اس كے ساتھيوں كو شكست دےدي_ قوم نوح زراعت پيشہ تھى ان كى كثير دولت كا دارومدار زراعت پر ہى تھا جيسا كہ بہت سى روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت نوح كوفہ ميں رہتے تھے دوسرى طرف بعض روايات كے مطابق طوفان مكہ اور خانہ كعبہ تك پھيلا ہوا تھا تو يہ صورت بھى اس بات كى مو يد ہے كہ طوفان عالمگير تھا _
ليكن ان تمام چيزوں كے باوجود اس امر كى بھى بالكل نفى نہيں كى جاسكتى كہ طوفان نوح ايك منطقہ كے ساتھ مخصوص تھا كيونكہ لفظ ''ارض ''(زمين ) كا اطلاق قرآن ميں كئي مرتبہ زمين كے ايك وسيع قطعے پر بھى ہوا ہے جيسا كہ بنى اسرائيل كى سرگزشت ميں ہے : ''ہم نے زمين كے مشارق اور مغارب بنى اسرائيل كے مستضعفين كے قبضے ميں ديئے''(سورہ اعراف آيت۱۳۷)
كشتى ميں جانوروں كوشايد اس بناء پر ركھا گيا ہو كہ زمين كے اس حصے ميں جانوروں كى نسل منقطع نہ ہو خصوصاً اس زمانے ميں جانوروں كا دور دراز علاقوں سے منتقل ہونا كوئي آسان كام نہيں تھا_ اسى طرح ديگر مذكورہ قرائن اس بات پر منطبق ہوسكتے ہيں كہ طوفان نوح ايك خاص علاقہ ميں آيا تھا_ يہ نكتہ بھى قابل توجہ ہے كہ طوفان نوح تو اس سركش قوم كى سزا اور عذاب كے طورپر تھا اورہمارے پاس كوئي ايسى دليل نہيں ہے كہ جس كى بنا پر يہ كہا جاسكے كہ حضرت نوح كى دعوت تمام روئے زمين پر پہنچى تھى
اصولى طور پر اس زمانے كے وسائل وذرائع كے ساتھ ايك پيغمبر كى دعوت كا (اس كے اپنے زمانے ميں ) زمين كے تمام خطوں اور علاقوں تك پہنچنا بعيد نظر آتا ہے بہرحال اس عبرت خيز واقعے كو بيان كرنے سے قرآ ن كا مقصد يہ ہے كہ اس ميں چھپے اہم تربيتى نكات بيان كيے جائيں ، اس سے كوئي فرق نہيں پڑنا چاہيے كہ يہ واقعہ عالمى ہو يا كسى ايك علاقے سے تعلق ركھتا ہو _
ہم جانتے ہيں كہ ايسے لوگ اپنا سب كچھ بارش كے حيات بخش قطروں كو سمجھتے ہيں ليكن آخر كار بارش ہى نے انہيں تباہ وبر باد كرڈالا _
جناب نوح(ع) كى بيوي
قرآن مجيد دوبے تقوى عورتوں كى سرنوشت جو دو بزرگ پيغمبر وں كے گھر ميں تھيں ،اور دومومن وايثارگر خواتين كى سرنوشت بيان كرتاہے جن ميں سے ايك تاريخ كے جابرترين شخص كے گھر ميں تھى _
پہلے فرماتا ہے ''خدا نے كافروں كے لئے ايك مثال بيان كى ہے نوح كى بيوى كى مثال اور لوط كى بيوى كى مثال '' وہ دونوں ہمارے دوصالح بندوں كے ما تحت تھيں ليكن انہوں نے ان سے خيانت كى ليكن ان دو عظيم پيغمبر وں سے ان كے ارتباط نے عذاب الہى كے مقابلہ ميں انھيں كوئي نفع نہيں ديا ''_(۱)
حضرت نوح كى بيوى كا نام ''والھہ'' اور حضرت لوط كى بيوى كا نام ''والعة''تھا ۱ اور بعض نے اس كے برعكس لكھا ہے يعنى نوح كى بيوى كانام''والعة'' اورلوط كى بيوى كا نام ''والھہ'' يا ''واہلہ'' كہا ہے_
بہرحال ان دونوں عورتوں نے ان دونوں عظيم پيغمبروں كے ساتھ خيانت كى ،البتہ ان كى خيانت جائدہ عفت سے انحراف ہرگزنہيں تھا كيونكہ كسى پيغمبر كى بيوى ہرگز بے عفتى سے آلودہ نہيں ہوتى جيسا كہ پيغمبر اسلام سے ايك حديث ميں صراحت كے ساتھ بيان ہواہے : ''كسى بھى پيغمبر كى بيوى ہرگز منافى عفت عمل سے آلودہ نہيں ہوئي''_ حضرت لوط كى بيوى كى خيانت يہ تھى كہ وہ اس پيغمبر كے دشمنوں كے ساتھ تعاون كرتى تھى اور ان كے گھر كے راز انھيں بتاتى تھى اور حضرت نوح كى بيوى بھى ايسى ہى تھى _
قرآن آخر ميں كہتا ہے: ''اور ان سے كہا گيا كہ تم بھى آگ ميں داخل ہونے والے لوگوں كے ساتھ آگ ميں داخل ہوجائو ''(۲)
____________________
(۱)سورہ تحريم آيت ۱۰
(۲)سورہ تحريم آيت ۱۰
۲ انبياء عليهم السلام کے واقعات
حضرت ہود عليہ السلام
قرآن مجيد ميں ذكر شدہ انبياء كے ناموں و ميں حضرت ہود بھى ہيں ، جو قوم عاد كى طرف مبعوث ہوئے ،بعض مورخين كا نظريہ ہے كہ عاد كا اطلاق دو قبيلوں پر ہوتا ہے ايك وہ جو بہت پہلے تھا اور قرآن نے اسے عاد الاولى سے تعبير كيا،()وہ غالباً تاريخ سے پہلے موجود تھا، دوسرا قبيلہ جو تاريخ بشر كے دَور ميں اور تقريباً ولادت مسيح سے سات سو سال پہلے تھا اور وہ عاد كے نام سے مشہور تھا_ يہ احقاف يايمن ميں رہائش پزير تھا_
اس قبيلہ كے افراد بلند قامت اور قوى الجثہ تھے اور اسى بنا پر بہت نماياں جنگجو شمار ہوتے تھے_
اس كے علاوہ و ہ متمدن بھى تھے_ان كے شہر آباد اور زمينيں سر سبز و شاداب تھيں _ان كے باغات پر بہار تھے اور انہوں نے بڑے بڑے محل تعمير كيے تھے_
بعض مو رخين كا خيال ہے كہ عاد اس قبيلے كے جد اعلى كا نام تھا اور وہ قبيلے كو اپنے جدّ(دادا) كے نام سے موسوم كر كے پكارتے تھے_
شہر ارم اور شداد كى بہشت
بعض مفسرين نے جزيرة العرب كے بيابانوں اور عدن كے صحرائوں ميں شہر ارم كے بر آمد ہونے كى ايك دلچسپ داستان بيان كى ہے جس ميں وہ اس شہر كى بلند و بالا عمارات اور سامان زينت وغيرہ كى بات كرتے ہيں _ليكن مذكورہ داستان واقعيت كى نسبت خواب يا افسانے سے زيادہ تعلق ركھتى ہے_
ليكن اس ميں كوئي شك و شبہ نہيں كہ قوم عاد طاقتور قبائل پر مشتمل تھي،ان كے شہر ترقى يافتہ تھے اور جيسا كہ قرآن اشارہ كرتاہے،ان جيسے شہرپھر آباد نہيں ہوسكے_
بہت سى داستانيں شداد كى جو عاد كا بيٹا تھا،زبان زد عام ہيں اور تاريخ ميں مرقوم ہيں _ يہاں تك كہ شداد كى بہشت اور اس كے باغات ضرب المثل كى شكل اختيار كر گئے ہيں _ليكن ان داستانوں كى حقيقت كچھ نہيں ہے،يہ محض افسانے ہيں _يہ ايسے افسانے ہيں كہ ان كى حقيقت پر بعد ميں حاشيہ آرائي كر لى گئي_
حضرت ہود(ع) برادر قوم عاد
قرآن نبى اللہ كے سلسلہ ميں فرماتاہے :''ہم نے قوم عاد كى طرف ان كے بھائي ہود كو بھيجا''_(۱)
يہاں حضرت ہود كو بھائي كہا گيا تھا يہ تعبير ياتو اس بناء پر ہے كہ عرب اپنے تمام اہل قبيلہ كو بھائي كہتے ہيں كيونكہ نسب كى اصل ميں سب شريك ہوتے ہيں مثلا بنى اسد كے شخص كو ''اخواسدى '' كہتے ہيں اور مذحج قبيلہ كے شخص كو ''اخومذ حج ''كہتے ہيں ،يا ہوسكتا ہے كہ يہ اس طرف اشارہ ہوكہ حضرت ہود كا سلوك اپنى قوم سے ديگر انبياء كى طرح بالكل برادرا نہ تھا نہ كہ ايك حاكم كا سابلكہ ايسا بھى نہيں جو باپ اپنى اولاد سے كرتا ہے بلكہ آپ كا سلوك ايسا تھا جو ايك بھائي دوسرے بھائيوں سے كرتا ہے كہ جس ميں كوئي امتياز اوربر ترى كا اظہار نہ ہو_
حضرت ہود كى بہترين دليل
حضرت ہود نے بھى اپنى دعوت كا آغاز ديگر انبياء كى طرح كيا آپ كى پہلى دعوت توحيد اور ہر قسم كے شرك كى نفى كى دعوت تھي،''ہود نے ان سے كہا :''اے ميرى قوم خدا كى عبادت كرو ،كيونكہ اس كے علاوہ كوئي اللہ اور معبود لائق پرستش نہيں ،بتوں كے بارے ميں تمہارا اعتقاد غلطى اور اشتباہ پرمبنى ہے اور اس ميں تم خدا پر افتراء باندھتے ہو''_(۲)
____________________
(۱) سورہ ہود آيت۵۰
(۲) سورہ ہود آيت ۵۰
يہ بت خدا كے شريك نہيں ہيں ، نہ خير وشر كے منشاء ومبدا ء ،ان سے كوئي كام بھى نہيں ہوسكتا اس سے بڑھ كر كيا افتراء اور تہمت ہوگى كہ اس قدر بے وقعت موجودا ت كے لئے تم اتنے بڑے مقام ومنزلت كا اعتقاد ركھتے ہو؟_
اس كے بعد حضرت ہود نے مزيد كہا :''اے ميرى قوم ميں اپنى دعوت كے سلسلے ميں تم سے كوئي توقع نہيں ركھتا تم سے كسى قسم كى اجرت نہيں چاہتا''_(۱)
كہ تم يہ گمان كروكہ ميرى يہ داد وفرياد اور جوش وخروش مال ومقام كے حصول كے ليئے ہے يا تم خيال كرو كہ تمہيں مجھے كو ئي بھارى معاوضہ دينا پڑے گا جس كى وجہ سے تم تسليم كرنے كو تيار نہيں ہو، ميرى اجرت صرف اس ذات پر ہے جس نے مجھے پيدا كيا ہے ،جس نے مجھے روح وجسم بخشے ہيں اور تمام چيزيں جس نے مجھے عطا كى ہيں وہى جو ميرا خالق ورازق ہے ميں اگر تمہارى ہدايت وسعادت كے لئے كوئي قدم اٹھاتا ہوں تو وہ اصولاً اس كے حكم اطاعت ميں ہوتا ہے لہذا اجرو جزا بھى ميں اسى سے چاہتاہوں نہ كہ تم سے، علاوہ ازيں كيا تمہارے پاس اپنى طرف سے كچھ ہے جو تم مجھے دو، جو كچھ تمہارے پاس ہے اسى خدا كى طرف سے ہے، كيا تم سمجھتے نہيں ہو ؟''_(۲)
آخر ميں انہيں شوق دلانے كے لئے اور اس گمراہ قوم ميں حق و حق طلبى كا جذبہ بيدار كرنے كے لئے تمام ممكن وسائل سے استفادہ كرتے ہوئے مشروط طور پر مادى جزائوں كا ذكر كيا گيا ہے كہ جو اس جہان ميں خدا مومنين كو عطافرماتا ہے ارشاد ہوتا ہے :
''اے ميرى قوم اپنے گناہوں پر خدا سے بخشش طلب كرو ،پھر توبہ كرو اور اس كى طرف لوٹ آئو اگر تم ايسا كرلو تو وہ اسمان كو حكم دے گا كہ وہ بارش كے حيات بخش قطرے پيہم تمہارى طرف بھيجے_''(۳)
تاكہ تمہارے كھيت اور باغات كم آبى يا بے آبى كا شكار نہ ہوں اور ہميشہ سرسبز وشاداب رہيں علاوہ
____________________
(۱) سورہ ہود آيت ۵۱
(۲) سورہ ہود آيت ۵۱
(۳)سورہ ہود آيت۵۲
ازيں تمہارے ايمان و تقوى ، گناہ سے پرہيز اور خدا كى طرف رجوع اور توبہ كى وجہ سے'' تمہارى قوت ميں مزيد قوت كا اضافہ كرے گا_''(۱)
يہ كبھى گمان نہ كرو كہ ايمان و تقوى سے تمہارى قوتميں كمى واقع ہوگى ايسا ہر گز نہيں بلكہ تمہارى جسمانى وروحانى قوت ميں اضافہ ہوگا _
اس كمك سے تمہارا معاشرہ آباد تر ہوگا ،جمعيت كثير ہوگى ،اقتصادى حالات بہتر ہونگے اور تم طاقتور، آزاداور خود مختار ملت بن جائو گے لہذا راہ حق سے روگردانى نہ كرو اور شاہراہ گناہ پر قدم نہ ركھو _
اے ہود تم ہمارے خدائوں كے غضب سے ديوانہ ہوگئے ہو
اب ديكھتے ہيں كہ اس سركش اور مغرور قوم يعنى قوم عادنے اپنے بھائي ہود ،ان كے پندو نصائح اور ہدايت ورہنمائي كے مقابلے ميں كيا ردّعمل ظاہر كيا _
انہوں نے كہا : ''اے ہود :تو ہمارے لئے كوئي واضح دليل نہيں لايا ، ہم ہرگز تيرى باتوں پر ايمان نہيں لائيں گے ''_(۲) ان تين غير منطقى جملوں كے بعد انہوں نے مزيد كہا :''ہمارا خيال ہے كہ تو ديوانہ ہوگيا ہے اور اس كا سبب يہ ہے كہ تو ہمارے خدائوں كے غضب كا شكار ہوا ہے اور انہوں نے تيرى عقل كو آسيب پہنچا ياہے ''(۳)
اس ميں شك نہيں كہ (جيسے تمام انبياء كا طريقہ كارہوتا ہے اور ان كى ذمہ دارى ہے) حضرت ہود عليہ السلام نے انہيں اپنى حقانيت ثابت كرنے كے لئے كئي ايك معجزے دكھائے ہوں گے ليكن انہوں نے اپنے كبروغرور كى وجہ سے ديگر ہٹ دھرم قوموں كى طرح معجزات كا انكار كيا اور انہيں جادو قرار ديا اور انہيں اتفاقى حوادث گردانا كہ جنہيں كسى معاملے ميں دليل قرار نہيں ديا جاسكتا _
انہوں نے حضرت ہود پر ''جنون ''كى تہمت لگائي اور ''جنون ''بھى وہ جو ان كے زعم ناقص ميں ان
____________________
(۱)سورہ ہود آيت ۵۲
(۲)سورہ ہود آيت ۵۳
(۳)سورہ ہود آيت۵۴
كے خدائوں كے غضب كا نتيجہ تھا ،ان كے بےہودہ پن اور خرافات پرستى كى خود ايك بہترين دليل ہے_
بے جان اور بے شعورپتھر اور لكڑياں جو خود اپنے ''بندوں '' كى مدد كى محتاج ہيں وہ ايك عقلمند انسان سے كس طرح اس كا عقل وشعور چھين سكتى ہيں علاوہ ازيں ان كے پاس ہود كے ديوانہ ہونے كو نسى دليل تھى ،اگر يہ ديوانگى كى دليل ہے توپھر تمام مصلحين جہان اور انقلابى لوگ جو غلط روش اور طريقوں كے خلاف قيام كرتے ہيں سب ديوانے ہونے چاہئيں _
كيوں بت مجھے نابود نہيں كرتے
بہرحال حضرت ہود كى ذمہ دارى تھى كہ اس گمراہ اور ہٹ دھرم قوم كو دندان شكن جواب ديتے، ايسا جواب جو منطق كى بنياد پر بھى ہوتا اور طاقت سے بھى ادا ہوتا، قرآن كہتا ہے كہ انہوں نے ان كے جواب ميں چند جملے كہےں :''ميں خدا كو گواہى كے لئے بلاتا ہوں ،اور تم سب بھى گواہ رہو كہ ميں ان بتوں اور تمہارے خدائوں سے بيزار ہوں ''_(۱)
يہ اس طرف اشارہ تھا كہ اگر يہ بت طاقت ركھتے ہيں تو ان سے كہو كہ مجھے ختم كرديں ،ميں جو على الاعلان ان كے خلاف جنگ كے لئے اٹھ كھڑہوا ہوں اور اعلانيہ ان سے بيزارى اورنفرت كا اعلان كررہا ہوں وہ كيوں خاموش اور معطل ہيں ،كس چيز كے منتظر ہيں اور كيوں مجھے نابود اور ختم نہيں كرديتے _
اس كے بعد مزيد فرمايا كہ نہ فقط يہ كہ ان سے كچھ نہيں ہو سكتا بلكہ تم بھى اتنى كثرت كے باوجود كسى چيز پر قدرت نہيں ركھتے ''اگر سچ كہتے ہو تو تم سب مل كر ميرے خلاف جوسازش كرسكتے ہو كرگز رو اور مجھے لمحہ بھر كى بھى مہلت نہ دو'' _(۲)
ميں تمہارى اتنى كثير تعداد كو كيوں كچھ نہيں سمجھتا اور كيوں تمہارى طاقت كى كوئي پرواہ نہيں كرتا ،تم جو كہ ميرے خون كے پياسے ہو اور ہر قسم كى طاقت ركھتے ہو، اس لئے كہ ميرا ركھ و الا اللہ ہے، وہ جس كى قدرت
____________________
(۱) سورہ ہود آيت۵۴
(۲)سورہ ہود آيت۵۰
سب طاقتوں سے بالاتر ہے ''ميں نے خدا پر توكل كيا ہے جو ميرا اور تمہارا پروردگار ہے''_(۱)
يہ خود اس بات كى دليل ہے كہ ميں جھوٹ نہيں بول رہا ہوں ،يہ اس امر كى نشانى ہے كہ ميں نے دل كسى اور جگہ نہيں باندھ ركھا اگر صحيح طور پر سوچو تو يہ خود ايك قسم كا معجزہ ہے كہ ايك انسان تن تنہابہت سے لوگوں كے بے ہو دہ عقائد كے خلاف اٹھ كھڑا ہو_
جبكہ وہ طاقت ور اور متعصب بھى ہوں يہاں تك كہ انہيں اپنے خلاف قيام كى تحريك كرے اس كے باوجود اس ميں خوف وخطر كے كوئي آثار نظر نہ آئيں اور پھر نہ اس كے دشمن اس كے خلاف كچھ كرسكتے ہوں _
آخر كار حضرت ہودعليہ السلام ان سے كہتے ہيں :
''اگر تم راہ حق سے روگرانى كروگے تو اس ميں ميرا كوئي نقصان نہيں ہوگا كيونكہ ميں نے اپنا پيغام تم تك پہنچا ديا ہے ''_(۲)
يہ اس طرف اشارہ ہے كہ يہ گمان نہ كرو كہ اگر ميرى دعوت قبول نہ كى جائے تو ميرے لئے كوئي شكست ہے ميں نے اپنا فريضہ انجام دے ديا ہے اور فريضہ كى انجام دہى كاميابى ہے اگر چہ ميرى دعوت قبول نہ كى جائے _
دراصل يہ سچے رہبروں اور راہ حق كے پيشوائوں كے لئے ايك درس ہے كہ انہيں اپنے كام پر كبھى بھى خستگى وپريشانى كا احساس نہيں ہونا چاہئے چاہے لوگ ان كى دعوت كو قبول نہ بھى كريں _
جيسا كہ بت پرستوں نے آپ كودھمكى دى تھى ،اس كے بعد آپ انہيں شديد طريقے پر عذاب الہى كى دھمكى ديتے ہوئے كہتے ہيں :
''اگر تم نے دعوت حق قبول نہ كى تو خدا عنقريب تمہيں نابود كردے گا اور كسى دوسرے گروہ كو تمہارا جانشين بنا دے گا اور تم اسے كسى قسم كا نقصان نہيں پہنچا سكتے_''(۳)
____________________
(۱)سورہ ہود آيت۵۶
(۲)سورہ ہود ايت ۵۷
(۳)سورہ ہود آيت۵۷
''اور يہ بھى جان لو كہ ميرا پروردگار ہر چيز كا محافظ ہے اور ہر حساب وكتاب كى نگہدارى كرتا ہے''_(۱)
نہ موقع اس كے ہاتھ سے جاتا ہے اورنہ وہ موقع كى مناسبت كو فراموش كرتا ہے نہ وہ اپنے انبياء اور دوستوں كو طاق نسياں كرتا ہے اور نہ كسى شخص كا حساب وكتاب اس كے علم سے پوشيدہ ہوتا ہے بلكہ وہ ہر چيز كو جانتا ہے اور ہر چيز پر مسلط ہے_
اس ظالم قوم پر ابدى لعنت
قوم عاد اور ان كے پيغمبر حضرت ہود كى سرگذشت سے مربوط آيات كے آخرى حصے ميں ان سركشوں كى درد ناك سزا اور عذاب كى طرف اشارہ كرتے ہوئے قرآن پہلے كہتا ہے :
'' جب ان كے عذاب كے بارے ميں ہمارا حكم آپہنچا تو ہود اور جو لوگ اس كے ساتھ ايمان لاچكے تھے ہمارى ان پر رحمت اور لطف خاص نے انہيں نجات بخشي''_(۲)
پھر مزيد تاكيد كے لئے فرمايا:''ہم نے اس صاحب ايمان قوم كو شديد عذاب سے رہائي بخشي''_(۳)
يہ امر جاذب نظر ہے كہ بے ايمان ،سركش اور ظالم افراد كے لئے عذاب وسزا معين كرنے سے پہلے صاحب ايمان قوم كى نجات كا ذكر كيا گيا ہے تاكہ يہ خيال پيدا نہ ہو جيسا كہ مشہور ضرب المثل ہے كہ عذاب الہى كے موقع پر خشك وترسب جل جاتے ہيں كيونكہ وہ حكيم اور عادل ہے اور محال ہے كہ وہ ايك بھى صاحب ايمان شخص كو بے ايمان اور گنہگار لوگوں كے درميان عذاب كرے، بلكہ رحمت الہى ايسے افراد كو عذاب وسزاكے نفاذ سے پہلے ہى امن وامان كى جگہ پر منتقل كرديتى ہے جيسا كہ ہم نے ديكھا ہے كہ اس سے پہلے كہ طوفان آئے،
____________________
(۱) سورہ ہود ايت ۵۷
( ۲،۳)سورہ ہود آيت ۵۸
حضرت نوح كى كشتى نجات تيار تھي، اور اس سے پہلے كہ حضرت لوط كے شہر تباہ وبرباد ہوں حضرت لوط اور آپ كے انصار راتوں رات حكم الہى سے وہاں سے نكل آئے_
يہ مناسبت بھى قابل ملا حظہ ہے كہ قوم عاد كے لوگ سخت اور بلند قامت تھے ان كے قدكو كھجور كے درختوں سے تشبيہ دى گئي ہے اسى مناسبت سے ان كى عمارتيں مضبوط ،بڑى اور اونچى تھيں يہاں تك كہ قبل اسلام كى تاريخ ميں ہے كہ عرب بلند اور مضبوط عمارتوں كى نسبت قوم عاد ہى كى طرف ديتے ہوئے انہيں ''عدي'' كہتے تھے، اسى لئے ان پر آنے والا عذاب بھى انہى كى طرح غليظ اور سخت تھا ،نہ صرف اخرت كا عذاب،بلكہ اس دنيا ميں سخت سے سخت عذاب ديا گيا _
عذاب الہى ايك نحس دن ميں
قرآن مجيد قوم عا د پر عذاب الہى كے بارے ميں فرماتا ہے :
''ہم نے ان پروحشت ناك ،سرداور تيز آندھى ، ايك ايسے منحوس دن ميں جو بہت طويل تھا،ان كى طرف بھيجى ''_
اس كے بعد اس تيز آندھى كى كيفيت كے بارے ميں پروردگار عالم فرماتا ہے كہ ''لوگوں كو گھن كھائے ہوئے كھجوركے تنوں كى طرح اكھاڑديا اور وہ ان كو ہرطرف پھينكتى تھي_(۱)
قوم عاد كے لوگ قوى الجثہ تھے، انہوں نے تيز آندھى سے بچنے كے لئے زمين ميں گڑھے كھود ركھے تھے اور زير زمين پناہ گا ہيں بنا ركھى تھيں ليكن اس روز آنے والى آندھى اتنى زور دار اور طاقتور تھى كہ ان كو ان كى پناہ گا ہوں سے باہر نكالتى تھى اور ادھر اُدھر پھينكتى تھى وہ ان كو اس زور سے زمين پر پٹختى تھى كہ ان كے سرتن سے جدا ہوجا تے تھے _اندھى اس قدر تيز تھى كہ پہلے ان كے ہاتھ پيروں اور سروں كو جدا كرتى تھى ،اس كے بعد ان كے اجسام كو بے شاخ و برگ كھجور كى طرح زمين سے اكھاڑتى تھى اور ادھر ادھر لئے پھرتى تھي_
____________________
(۱)سورہ قمر آيت۲۰
قرآن كريم اس قوم كے عذاب كے بارے ميں دوسرى جگہ كہتا ہے:
''قوم عاد كى سرگذشت ميں بھى ايك آيت وعبرت ہے ،جبكہ ہم نے ان پر ايك عقيم اور بغير بارش كا طوفان بھيجا ''_(۱)
ہوائوں كا عقيم اور بانجھ ہونااسوقت ہوتا ہے ،جب كہ وہ بارش برسانے والے بادل اپنے ساتھ لے كر نہ چليں ، گياہ ونباتات ميں اپنے عمدہ اثرات نہ چھوڑيں ،ان ميں كوئي فائدہ اور بركت نہ ہو ،ااور ہلاكت ونابودى كے سوا كوئي چيز ہمراہ نہ لائيں _
اس كے بعد اس سخت آندھى كى خصوصيت جو قوم عادپر مسلط ہوئي تھي، بيان كرتے ہوئے مزيد كہتا ہے: '' وہ جس چيز كے پاس سے گزرتى تھى اس كو نابود كئے بغير نہ چھوڑتى تھى ،اور خشك كٹى پھٹى گھاس يا بوسيدہ ہڈيوں كى صورت ميں بدل ديتى تھى ''_(۲)
يہ تعبير اس بات كى نشاندہى كرتى ہے كہ قوم عاد كى تيز آندھى ايك عام تيز آندھى نہيں تھى ،بلكہ انہيں تباہ كرنے اور كوٹنے چھٹنے يا پھر پيٹنے كے علاوہ اور اصطلاح كے مطابق فزيكل دبائو سے ،جلانے اور زہريلابنا نے كى خاصيت ركھتى تھى ،جو طرح طرح كى اشيائوں كو بوسيدہ اور كہنہ بناديتى تھى ،جى ہاں ، اس طرح خدا كى قدرت ''نسيم سحر''كو ايك تيز اندھى ميں بدل كر بڑى بڑى طاقتور قوموں كو اس طرح درہم و برہم كر ديتى ہے كہ صرف ان كے بوسيدہ جسم باقى رہ جاتے ہيں _
كيا ان ميں سے كسى كو ديكھتے ہو
قران اس كے بعد اس تيز اور سر كوب كرنے والى آندھى كى ايك دوسرى توصيف كو بيان كرتے ہوئے مزيد كہتا ہے :''خدا نے اس كو اس قوم پر مسلسل سات راتيں اور آٹھ دن ان كى بنياديں اكھاڑنے كے لئے مسلط كئے ركھا ''(۳)
____________________
(۱)سورہ ذاريات ايت ۴۱
(۲)سورہ ذاريات ايت ۳۲
(۳)سورہ حاقہ آيت ۷
سات راتوں اور آٹھ دنوں ميں اس عظيم قوم كى وسيع اور بارونق زندگى كوبالكل تباہ وبرباد كيا اور ان كو جڑسے اكھاڑ كر پر اگندہ كرديا _
نتيجہ يہ ہو ا كہ جيسا كہ قرآن كہتا ہے ''اگر تو وہاں ہوتا تو مشاہدہ كرتا كہ وہ سارى قوم منہ كے بل گرى پڑى ہے اور سوكھے اور كھوكھلے درختوں كى طرح ڈھير ہوگئے ہيں ''_(۱)
كتنى عمدہ تشبيہہ ہے،جو ان كے طويل قدوقامت كو بھى مشخص كرتى ہے ،ان كے جڑسے اكھڑجانے كو بھى ظاہر كرتى ہے اور خدا كے عذاب كے مقابلہ ميں ان كے اندر سے خالى ہونے كو بھى بيان كرتى ہے اس طرح كہ وہ تيز آندھى جدھر چاہتى ہے انھيں آسانى كے ساتھ لے جاتى ہے _
قرآن اس واقعہ كے آخر ميں مزيد كہتا ہے '' كيا تم ان سے كسى كو باقى ديكھتے ہو''؟_(۲)
ہاں :آج نہ صرف قوم عاد كا كوئي نام ونشان باقى نہيں بلكہ ان كے آباد شہروں اور پر شكوہ عمارتوں كے كھنڈرات اور ان كے سبز كھيتوں ميں سے كوئي چيز باقى نہيں ہے _
____________________
(۱)سورہ حاقہ آيت ۷
(۲)سورہ حاقہ آيت ۸
حضرت صالح عليہ السلام
قوم ثمود اور اس كے پيغمبر جناب صالح(ع) كى جو''وادى القرى '' ميں رہتے تھے جو''مدينہ '' اور'' شام'' كے درميان واقع ہے يہ قوم اس سرزمين ميں خوشحال زندگى بسر كررہى تھى ليكن اپنى سركشى كى بناء پرصفحہ ہستى سے يوں مٹ گئي كہ آج اس كا نام ونشان تك باقى نہيں رہا_
قرآن اس سلسلے ميں فرماتا ہے : ''قوم ثمودنے (خدا كے )رسولوں كو جھٹلايا ''_(۱)
كيونكہ تمام انبياء كى دعوت حق ايك جيسى تھى اور اس قوم كا اپنے پيغمبر جناب صالح كى تكذيب كرنا در حقيقت تمام رسولوں كى تكذيب كے مترادف تھا_
''جبكہ ان كے ہمدرد پيغمبر صالح نے ان لوگوں سے كہاآيا تقوى اختيار نہيں كرتے ہو ؟''(۲)
وہ جو كہ تمہارے بھائي كى طرح تمہاراہادى اورراہبر تھا اس كى نظر ميں نہ برترى جتانا تھا اور نہ ہى مادى مفادات ، اسى لئے قرآن نے جناب صالح(ع) عليہ السلام كو '' اخوہم '' سے تعبير كيا ہے جناب صالح نے بھى دوسرے انبياء كى مانند اپنى دعوت كا آغاز تقوى اور فرض كے احساس سے كيا _
پھر اپنا تعارف كرواتے ہوئے فرماتے ہيں :''ميں تمہارے لئے امين پيغمبر ہوں ''(۳)
ميرا ماضى ميرے اس دعوى كى بين دليل ہے _
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۱۴۱
(۲)سورہ شعراء ايت ۱۴۲
(۳) سورہ شعراء ايت۱۴۳
'' اسى لئے تم تقوى اختيار كرو ،خداسے ڈرو اور ميرى اطاعت كرو ''(۱)
كيونكہ ميرے مد نظر رضائے الہي، تمہارى خيرو خوبى اور سعادت كے سوا اور كچھ نہيں _
بنابريں '' اس دعوت كے بدلے ميں تم سے كوئي اجرت نہيں مانگتا_''(۲)
ميں تو كسى اور كے لئے كام كرتاہوں اور ميرا اجر بھى اسى كے پاس ہے '' ہاں تو ميرا اجر صرف عالمين كے پروردگار كے پاس ہے ''(۳)
يہ جناب صالح عليہ السلام كى داستان كا ابتدائي حصہ تھا جو دو جملوں ميں بيان كيا گيا ہے ايك دعوت كا پيش كرنا اوردوسرے رسالت كو بيان كرنا _
پھر دوسرے حصے ميں افراد قوم كى زندگى كے قابل تنقيد اور حساس پہلوئوں كى نشاندہى كرتے ہوئے انھيں ضمير كى عدالت كے كٹہرے ميں لاكھڑاكيا جاتا ہے ارشاد ہوتا ہے: ''آيا تم يہ سمجھتے ہو كہ ہميشہ امن وسكون اور نازونعمت كى زندگى بسركرتے رہوگے ''_(۴)
كيا تم يہ سمجھتے ہو كہ تمہارى يہ مادى اور غفلت كى زندگى ہميشہ كے لئے ہے اور موت ، انتقام اور سزا كا ہاتھ تمہارے گريبانوں تك نہيں پہنچے گا ؟
''كياتم گمان كرتے ہو كہ يہ باغات اور چشمے ميں اور يہ كھيت اور كھجور كے درخت جن كے پھل شيريں وشاداب اور پكے ہوئے ہيں ، ہميشہ ہميشہ كے لئے باقى ر ہيں گے _''(۵)
پھر ان پختہ اور خوشحال گھروں كو پيش نظر ركھتے ہوئے كہتے ہيں : ''تم پہاڑوں كو تراش كر گھر بناتے ہو اور اس ميں عياشى كرتے ہو _''(۶)
جبكہ قوم ثمودشكم كى اسيراور نازو نعمت بھرى خوشحال زندگى سے بہرہ مند تھى _
____________________
(۱)سورہ شعراء ايت۱۴۵ (۲)سورہ شعراء آيت۱۴۵ (۳) سورہ شعراء آيت۵ ۴ ۱
(۴)سورہ شعراء آيت ۱۴۵ (۵)سورہ شعراء آيت۴۷اتا ۱۴۸
(۶)سورہ شعراء آيت ۱۴۹
فاسداوراسراف كرنے والوں كى اطاعت نہ كرو
حضرت صالح عليہ السلام اس تنقيد كے بعد انھيں متبنہ كرتے ہو ئے كہتے ہيں : '' حكم خدا كى مخالفت سے ڈرو اور ميرى اطاعت كرو ،اور مسرفين كا حكم نہ مانو، وہى جو زمين ميں فساد كرتے ہيں اور اصلاح نہيں كرتے_''(۱) ''يہ دھيان ميں رہے كہ خدانے قوم ''عاد'' كے بعد تمہيں ان كا جانشين اور خليفہ قرار ديا ہے اور زمين ميں تمہيں جگہ دى ہے ''(۲)
يعنى ايك طرف تو تم كواللہ كى نعمتوں كا خيال رہناچاہيئے، دوسرے يہ بھى ياد رہے كہ تم سے پہلے جو قوم تھى وہ اپنى سركشى اور طغيانى كے باعث عذاب الہى سے تباہ وبرباد ہوچكى ہے_
پھر اس كے بعد انہيں عطا كى گئي كچھ نعمتوں كا ذكر كياگيا ہے ،ارشاد ہوتا ہے: '' تم ايك ايسى سرزمين ميں زندگى بسر كرتے ہو جس ميں ہموار ميدان بھى ہيں جن كے اوپر تم عاليشان قصر اور آرام دہ مكانات بناسكتے ہو ، نيز اس ميں پہاڑى علاقے بھى ہيں جن كے دامن ميں تم مضبوط مكانات تراش سكتے ہو (جو سخت موسم ، اورسرديوں كے زمانے ميں ) تمہارے كام آسكتے ہيں ''_(۳)
اس تعبير سے يہ پتہ چلتاہے كہ وہ لوگ (قوم عاد )سردى اور گرمى ميں اپنى سكونت كى جگہ بدل ديتے تھے فصل بہار اور گرميوں ميں وسيع اور پربركت ميدانوں ميں زراعت كرتے تھے اور پرندے اور چوپائے پالنے ميں مشغول رہا كرتے تھے اس وجہ سے وہ وہاں خوبصورت اور آرام دہ مكانات بناتے تھے جو انہوں نے پہاڑوں پر تراش كربنائے تھے اور يہ مكانات انہيں سيلابوں اور طوفانوں سے محفوظ ركھتے تھے يہاں وہ اطمينان سے سردى كے دن گزار ديتے تھے_ آخر ميں فرمايا گيا ہے :
'' خداوندكريم كى ان سب نعمتوں كو ياد كرو اور زمين ميں فسادنہ كرو اور كفران نعمت نہ كرو''_(۴)
____________________
(۱) سورہ شعراء آيات ۱۵۰ تا ۱۵۲
(۲) سورہ اعراف آيت ۷۴ (۳)سورہ اعراف آيت ۷۴
(۴)سورہ اعراف آيت۷۴
قوم صالح كى ہٹ دھرمي
آپ حضرات، گمراہ قوم كے سامنے حضرت صالح عليہ السلام كى منطقى اور خيرخواہى پر مبنى گفتگو ملاحظہ فرماچكے ہيں جناب صالح(ع) كے جواب ميں اس قوم كى گفتگو بھى سينے_
انھوں نے كہا:''اے صالح : تم سحرزدہ ہوكر اپنى عقل كھوچكے ہو، لہذا غير معقول باتيں كرتے ہو ''(۱)
ان كا يہ عقيدہ تھا كہ بسا اوقات جادو گر لوگ جادو كے ذريعے انسان كى عقل و ہوش كو بيكار بناديتے ہيں صرف انھوں نے جناب صالح پر ہى يہ تہمت نہيں لگائي بلكہ اور لوگوں نے بھى دوسرے انبياء پر ايسى تہمتيں لگائي ہيں ،حتى كہ خود پيغمبر اسلام (ص) كى ذات تك كو متہم كيا_
جى ہاں ان كے نزديك عقل مند انسان وہ ہوتا ہے جو ماحول ميں ڈھل جائے ابن الوقت بن جائے اور خود تمام برائيوں پر منطبق ہو جائے اگر كوئي انقلابى مرد خدا فاسد عقائد اور غلط نظام كے بطلان كے لئے قيام كرتا تو وہ اپنى اس منطق كى رو سے اسے ديوانہ ،مجنون اور سحر زدہ كہتے_
اسى طرح قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتاہے'' اس خود پسند طبقے نے اللہ كى وحدانيت كا انكار كيا كہ آخرت كى ملاقات كو جھٹلايا،حالانكہ ہم نے انہيں دنيا كى بہت سى نعمتوں سے مالا مال كرركھا تھا وہ كہنے لگے كہ يہ تمہارى ہى طرح كا انسان ہے جو تم كھاتے ہو يہ بھى كھاتاہے_ اور جو تم پيتے ہو يہ بھى پيتا ہے''_( ۲)
بے شك وہ اشراف كا خوشحال طبقہ جو قرآن مجيد كى اصطلاح ميں صرف ظاہربين تھا اور كور باطن تھا وہ اس عظيم پيغمبر كے مشن كو اپنے مفاد كا مخالف ،ناجائز منافع خوارى ، استحصال اور بے جابالادستى سے متصادم ديكھ رہاتھا ،يہ طبقہ اپنى پر عيش زندگى كى وجہ سے اللہ سے كوسوں دور چلاگيا تھا اور آخرت كا منكرتھا _
انہوں نے اللہ كے نمائندوں كے انسان ہونے اور ديگرانسانوں كى طرح كھانے پينے كو ان كى رسالت كى نفى كى دليل قرارديا حالانكہ يہ بات ان مايہ ناز شخصيتوں كى نبوت ورسالت كى پرزور تائيد تھى كہ وہ
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت۵۳
(۲)سورہ مومنون آيت۳۳
عام لوگوں ميں سے ہوں تاكہ انسان كى ضروريات اور مسائل سے اچھى طرح آگاہ ہوں ،مزيد برآں وہ ايك دوسرے سے كہتے تھے:''اگر تم اپنے ہى جيسے آدمى كے مطيع بنوگے تويہ بڑى نقصان دہ بات ہوگى ''_(۱)
يہ كور باطن اتنا نہيں سمجھتے تھے كہ خود تويہ توقع كررہے ہيں كہ لوگ ان كے شيطانى عزائم كى تكميل اور پيغمبر سے مقابلے كے لئے ان كى پيروى كريں ،مگر اس شخصيت كى اطاعت وپيروى كو جومركز وحى سے وابستہ ہے اور جس كا دل نور علم پروردگارعالمين سے منور ہے انسان كے لئے ذلت ،ننگ وعار اور حريت كے منافى بتارہے تھے _
كيا ہم دوبارہ زندہ كئے جائيں گے
اس كے بعد انھوں نے معاد اور قيامت كا انكار كيا ، جس كو ماننا ہميشہ سے خود سراور ہواو ہوس كے رہبر وں كے لئے مشكل رہا ہے اور كہا :
''كيا يہ شخص تم سے يہ وعدہ كرتا ہے كہ مرنے كے بعد مٹى اور بوسيدہ ہڈى ہوجانے كے بعد تم ايك بار پھر قبروں سے نكلوگے اور ايك نئي زندگى پائو گے _''(يہ بہت دور اور بہت دور كى بات ہے وہ و عدے جو تم سے كئے گئے ہيں وہ، بالكل بے بنياد اور كھوكھلے ہيں )(۲)
مجموعى طورپر كيا يہ ممكن ہے كہ ايك آدمى جو مرگيا ہو ،مٹى كے ساتھ مٹى ہوگيا ہو ، اس كے اجزاء ادھر ادھر بكھرگئے ہوں ، وہ دوبارہ زندہ ہوسكتا ہے ؟ نہيں يہ محال ہے ،يہ محال بات ہے _
آخرميں اپنے نبى پر ايك مجموعى الزام لگاتے ہوئے انہوں نے كہا يہ ايك جھوٹا شخص ہے ، جس نے اللہ پر بہتان باندھا ہے اور ہم اس پر ہرگز ايمان نہيں لائيں گے ''(۳)
نہ اس كى رسالت اللہ كى طرف سے ہے نہ قيامت سے متعلق اس كے وعدے سچے ہيں اور نہ ہى دوسرے احكام ايسے ہيں ،كوئي عقلمند آدمى اس پر كيسے ايمان لاسكتا ہے _
____________________
(۱) سورہ مومنون آيت۳۴
(۲) سورہ مومنون ۳۵ تا۳۶
(۳) سورہ مومنون آيت۳۷
اے صالح(ع) ہم تم پراميد ركھتے تھے
انہوں نے حضرت صالح كو غير موثر بنانے كے لئے يا كم از كم ان كى باتوں كو بے تاثير كرنے كے لئے ايك نفسياتى حربہ استعمال كيا وہ آپ كو دھوكا دينا چاہتے تھے ، كہنے لگے :''اے صالح اس سے پہلے تو ہمارى اميدوں كا سرمايہ تھا _''(۱)
مشكلات ميں ہم تيرى پناہ ليتے تھے، تجھ سے مشورہ كرتے تھے، تيرے عقل وشعور پر ايمان ركھتے تھے، اور تيرى خير خواہى اور ہمدردى ميں ہميں ہرگز كوئي شك نہ تھا _
ليكن افسوس كہ تم نے ہمارى اميدوں پر پانى پھيرديا ،دين بت پرستى كى اور ہمارے خدائوں كى مخالفت كركے كہ جو ہمارے بزرگوں كا رسم ورواج تھا اور ہمارى قوم كے افتخارات ميں سے تھا تونے ظاہر كرديا كہ تو بزرگوں كے احترام كا قائل نہيں ہے نہ ہمارى عقل پر تمہيں كوئي اعتماد ہے اور نہ ہى تو ہمارے طور طريقوں كا حامى ہے _''كيا سچ مچ تو ہميں ان كى پرستش سے روك ديناچاہتا ہے جن كى عبادت ہمارے آبائو اجداكيا كرتے تھے_''(۲)
تم كتنے نحس قدم ہو
بہرحال اس سركش قوم نے اس عظيم پيغمبر كى ہمدردانہ نصيحتوں كو دل كے كانوں سے سننے اور ان پر عمل درآمد كرنے كى بجائے واہيات اور بے كار باتوں كے ذريعے ان كا مقابلہ كرنے كى ٹھان لي، منجملہ اور باتوں كے انھوں نے كہا:'' ہم تمھيں اور جو لوگ تمہارے ساتھ ہيں سب كو ايك برى فال سمجھتے ہيں ''_(۳)
معلوم ايسا ہوتا ہے كہ وہ سال خشك سالى اور قحط سالى كا تھا اسى لئے وہ صالح عليہ السلام سے كہنے لگے: ''كہ يہ سب كچھ تمہارے اور تمہارے ساتھيوں كے نامبارك قدموں كى بدولت ہوا ہے ''_تم منحوس لوگ
____________________
(۱)سورہ ہودآيت۶۲
(۲) سورہ ہودآيت ۶۲
(۳) سورہ نمل آيت ۴۷
ہو، ہمارے معاشرے ميں تم ہى بد بختى اور نحوست لائے ہو ،وہ برى فال كو اس بہانے سے جو درحقيقت بے كار اور شرير لوگوں كا بہانہ ہوتا ہے ،جناب صالح عليہ السلام كے بہترين دلائل كو كمزور كرنا چاہتے تھے _
ليكن جناب صال(ع) ح نے جواب ميں كہا : ''برى فال ( اور تمہارا نصيب )تو خدا كے پاس ہى ہے''_(۱)
اسى نے تمہارے اعمال كى وجہ سے تمہيں ان مصائب ميں ڈال ديا ہے اور تمہارے اعمال ہى تمہارى اس سزا كا سبب بنے ہيں _
در حقيقت تمہارے لئے يہ خدا كى ايك عظيم آزمائش ہے جى ہاں :'' تم ہى ايسے لوگ ہو جن كى آزمائش كى جائے گى ''_(۲)
يہ خدا كى آزمائش ہوتى ہے اور خبردار كرنے والى چيزيں ہوتى ہيں تاكہ جو لوگ سنبھل جانے كى صلاحيت ركھتے ہيں وہ سنبھل جائيں ، خواب غفلت سے بيدار ہوجائيں ، غلط راستے كو چھوڑكر خدائي راستے كو اختيار كرليں _
ناقہ صالح(ع)
اس كے بعد آپ نے اپنى دعوت كى حقانيت كے لئے معجزے اور نشانى كى نشاندہى كى ،ايسى نشانى جو انسانى قدرت سے ماورا ہے اور صرف قدرت الہى كے سہارے پيش كى گئي ہے ان سے كہا :''اے ميرى قوم : يہ ناقہ الہى تمہارے لئے آيت اور نشانى ہے ''اسے چھوڑدو كہ يہ بيابانوں چراگاہوں ميں گھاس پھوس كھائے''، ''اوراسے ہر گز كوئي تكليف نہ پہنچانا اگر ايسا كروگے تو فورا تمہيں درناك عذاب الہى گھيرلے گا ''_(۳)
لغت ميں '' ناقة'' اونٹنى كے معنى ميں ہے _ يہاں قرآن اور ميں يہاں اور قران كى بعض ديگر آيات ميں اس كى اضافت خدا كى طرف سے كى گئي ہے يہ امر نشاندہى كرتاہے كہ يہ اونٹنى كچھ خصوصيات ركھتى تھي
____________________
(۱) سورہ نمل آيت ۴۷
(۲) سورہ نمل آيت۴۷
(۳)سورہ ہود ايت ۶۴
اس طرف توجہ كرتے ہوئے كہ يہاں پر اس كا ذكر آيت الہى اور دليل حقانيت كے طور پر آيا ہے، واضح ہوجاتاہے كہ يہ اونٹنى ايك عام اونٹنى نہ تھى اور ايك حوالے سے يا كئي حوالوں سے معجزہ كے طور پر تھى ليكن قرآن ميں يہ مسئلہ تفصيل كے ساتھ نہيں آيا كہ اس ناقہ كى خصوصيات كيا تھيں اس قدر معلوم ہوتا ہے كہ يہ كوئي عام اونٹنى نہ تھى _ بس يہى ايك چيز قرآن ميں دو مواقع پر موجود ہے كہ حضرت صالح(ع) نے اس ناقہ كے بارے ميں اپنى قوم كو بتايا كہ اس علاقے ميں پانى كى تقسيم ہونا چاہئے ايك دن پانى ناقہ كا حصہ ہے اور ايك دن لوگوں كا''_(۱)
ليكن يہ بات پورى طرح مشخص نہيں ہوسكى كہ پانى كى يہ تقسيم كس طرح خارق العادت تھى ايك احتمال يہ ہے كہ وہ اوٹنى بہت زيادہ پانى پيتى تھى اس طرح چشمہ كا تمام پانى اس كے لئے مخصوص ہوجاتا دوسرا احتمال يہ ہے كہ جس وقت وہ پانى پينے كے لئے آتى تو دوسر ے جانورپانى پينے كى جگہ پر آنے كى جرا ت نہ كرتے _
ايك سوال يہ ہے كہ يہ جانور تمام پانى سے كس طرح استفادہ كرتا تھا اس سلسلے ميں يہ احتمال ہے كہ اس بستى كا پانى كم مقدار ميں ہو جيسے بعض بستيوں ميں ايك ہى چھوٹا سا چشمہ ہوتا ہے اور بستى والے مجبور ہوتے ہيں كہ دن بھر كا پانى ايك گڑھے ميں ا كٹھاكريں تاكہ كچھ مقدار جمع ہوجائے اور اسے استعمال كيا جاسكے _
ليكن دوسرى طرف قران كى بعض آيات سے معلوم ہوتا ہے كہ'' قوم ثمود تھوڑے پانى والے علاقے ميں زندگى بسر نہيں كرتى تھى بلكہ وہ لوگ تو باغوں ، چشموں ،كھيتوں اور نخلستان كے مالك تھے''_(۲)
بہرحال جيسا كہ ہم نے كہا ہے كہ ناقہ صالح كے بارے ميں اس مسئلہ پر قرآن نے اجمالا ذكر كيا
____________________
(۱) (هذه ناقة لها شرب ولكم شرب يوم معلوم ) (سورہء شعراء آيت۱۵۵) نيز سورہ قمر كى آيت ۲۸ ميں ہے: (ونبئهم ان الماء قسمة بينهم كل شرب محتضر _) سورہ شمس ميں بھى اس امر كى طرف اشارہ موجود ہے : (فقال لهم رسول الله ناقة الله وسقياها _) (سورہ شمس آيت ۱۳)
(۲) سورہ شعراء آيت ۱۴۶ تا ۱۴۸
ہے ليكن بعض روايات جو شيعہ اور سنى دونوں فريقوں كے يہاں نقل ہوئي ہيں ان ميں بيان ہوا ہے كہ اس ناقہ كے عجائب خلقت ميں سے يہ تھا كہ وہ پہاڑكے اندر سے با ہر نكلي اس كے بارے ميں كچھ اور خصوصيات بھى منقول ہيں _
بہر كيف حضرت صالح جيسے عظيم نبى نے اس ناقہ كے بارے ميں بہت سمجھايا بجھايا مگر انہوں نے آخركار ناقہ كو ختم كردينے كا مصمم ارادہ كرليا كيونكہ اس كى خارق عادت اور غير معمولى خصوصيات كى وجہ سے لوگوں ميں بيدارى پيدا ہورہى تھى اور وہ حضرت صالح كى طرف مائل ہورہے تھے لہذا قوم ثمود كے كچھ سركشوں نے جو حضرت صالح كى دعوت كے اثرات كو اپنے مفادات كے خلاف سمجھتے تھے اور وہ ہرگز لوگوں كى بيدارى نہيں چاہتے تھے كيونكہ خلق خدا كى بيدارى سے ان كے استعمارى مفادات كو نقصان پہنچتا،لہذا انھوں نے ناقہ كو ختم كرنے كى سازش تيار كى كچھ افراد كو اس كام پر مامور كيا گيا آخر كار ان ميں سے ايك نے ناقہ پر حملہ كيا اور اس پر ايك يا كئي وار كئے '' اور اسے مار ڈالا''_(۱)
اگر تم سچے ہو تو عذاب ميں جلدى كرو
انہوں نے صرف اسى پر اكتفانہ كى بلكہ اس كے بعد وہ حضرت '' صالح ''كے پاس آئے اور اعلانيہ ان سے كہنے لگے : ''اگر تم واقعاً خدا كے رسول ہوتو جتنى جلد ہوسكے عذاب الہى لے آئو ''_(۲)
ليكن صالح عليہ السلام نے كہا : اے ميرى قوم : تم نيكيوں كى كوشش اور ان كى تلاش سے پہلے ہى عذاب اور برائيوں كے لئے جلدى كيوں كرتے ہو ؟ ''(۳)
تم اپنى تمام ترفكر عذاب الہى كے نازل ہونے پر ہى كيوں مركوز كرتے ہو ؟ اگر تم پر عذاب نازل ہوگيا توپھر تمہارا خاتمہ ہوجائے گا اور ايمان لانے كا موقع بھى ہاتھ سے چلاجائے گا _ آئو اور خدا كى بركت اور اس كى رحمت كے ساتھ ايمان كے زيرسايہ ميرى سچائي كو آزمائو تم خدا كى بارگاہ سے اپنے گناہوں كى بخشش كا
____________________
(۱) سورہ اعراف آيت ۷۷
(۲)سورہ اعراف آيت ۷۷
(۳)سورہ نمل آيت۴۶
سوال كيوں نہيں كرتے ہو؟ تاكہ اس كى رحمت ميں شامل ہوجائو صرف برائيوں اور عذاب نازل ہونے كا تقاضاكيوں كرتے ہو؟يہ ہٹ دھرمى اور پاگل پن كى باتيں آخر كس لئے ؟ يہ بات واقعاً عجيب ہے كہ انسان دعوائے محبت كى صداقت كو تباہ كن عذاب كے ذريعہ جانچ رہا ہے نہ كہ رحمت كا سوال كركے اور حقيقت يہ ہے كہ وہ قلبى طور پر انبياء كرام عليہم السلام كى صداقت كے معترف تھے ليكن زبان سے اس كا انكار كيا كرتے تھے _
اس كى مثال يوں ہے كہ جيسے كوئي شخص علم طب كا مدعى ہو اور اسے معلوم ہو كہ فلاں دوا سے صحت اور شفا حاصل ہوتى ہے اور فلاں چيزسے انسان كى موت واقع ہوجاتى ہے ليكن وہ ايسى دوا حاصل كرنے كى كوشش كرے جو مہلك ہے نہ كہ جو مفيد اور شفاء بخش _ يہ تو واقعاً جہالت و نادانى كى حد ہے ،كيونكہ يہ سب جہالت ہى كا نتيجہ ہے_
حضرت صالح(ع) نے قوم كى سركشي، نافرمانى اور اس كے ہاتھوں قتل ناقہ كے بعد اسے خطرے سے آگاہ كيا اور كہا:
'' پورے تين دن تك اپنے گھروں ميں جس نعمت سے چاہواستفادہ كرو اور جان لوكہ ان تين دنوں كے بعد عذاب الہى آكے رہے گا '' _(۱)
قوم ثمود كا انجام
قرآن كريم ميں اس سركش قوم (قوم ثمود ) پر تين دن كى مدت ختم ہونے پر نزول عذاب كى كيفيت بيان كى گئي ہے :''اس گروہ پر عذاب كے بارے ميں جب ہمارا حكم آپہنچا تو صالح اور اس پر ايمان لانے والوں كو ہم نے اپنى رحمت كے زير سايہ نجات بخشى ''_(۲)
انہيں نہ صرف جسمانى ومادى عذاب سے نجات بخشى بلكہ ''رسوائي ،خوارى اور بے آبروئي سے بھى انہيں نجات عطا كى كہ جو اس روز اس سركش قوم كو دامنگير تھى '' _(۳)
____________________
(۱) سورہ ہود آيت ۶۵
(۲) سورہ ہود آيت ۶۶
(۳)سورہ ہود آيت ۶۶
كيونكہ تمہارا پروردگار ہر چيز پر قادر اور ہر كام پر تسلط ركھتا ہے اس كے لئے كچھ محال نہيں ہے اور اس كے ارادے كے سامنے كوئي طاقت كچھ بھى حيثيت نہيں ركھتي،''لہذا اكثرجمعيت كے عذاب الہى ميں مبتلا ہونے سے صاحب ايمان گروہ كو كسى قسم كى كوئي مشكل اور زحمت پيش نہيں ہوگى يہ رحمت الہى ہے جس كا تقاضا ہے كہ بے گناہ، گنہگاروں كى آگ ميں نہ جليں اور بے ايمان افراد كى وجہ سے مومنين گرفتار بلانہ ہوں _ ''ليكن ظالموں كو صيحہ آسمانى نے گھيرليا اس طرح سے كہ يہ چيخ نہايت سخت اور وحشت ناك تھى اس كے اثر سے وہ سب كے سب گھروں ہى ميں زمين پر گركر مرگئے ،وہ اس طرح مرے اور نابود ہوئے اور ان كے آثار مٹ گئے كہ گويا وہ اس سرزمين ميں كبھى رہتے ہى نہ تھے ''_(۱) جان لوكہ قوم ثمود نے اپنے پروردگار سے كفر كيا تھا اور انہوں نے احكام الہى كو پس پشت ڈال ديا تھا_ ''دور ہو قوم ثمود، اللہ كے لطف ورحمت سے اور ان پر لعنت ہو''_(۲)
''صيحة'' سے كيا مرادہے ؟
''صيحة''لغت ميں ''بہت بلند آواز '' كو كہتے ہيں جو عام طور پر كسى انسان يا جانور كے منہ سے نكلتى ہے ليكن اس كا مفہوم اسى سے مخصوص نہيں ہے بلكہ ہر قسم كى '' نہايت بلند آواز ''اس كے مفہوم ميں شامل ہے _
آيات قرآنى كے مطابق صيحہ آسمانى كے ذريعہ چند ايك گنہگارقوموں كوسزا دى گئي ہے ان ميں سے ايك يہى قوم ثمود تھي، دوسرى قوم لوط ،(۳) اور تيسرى قوم شعيب _(۴)
قرآن كى دوسرى آيات سے قوم ثمود كے بارے ميں معلوم ہوتا ہے كہ اسے صاعقہ كے ذريعہ سزا ہوئي ارشاد الہى ہے : ''اگر وہ منھ پھير ليں تو پھر كہہ دو كہ ميں ايسى بجلى سے ڈراتا ہوں جيسى عاد و ثمود پر گري''_(۵)
____________________
(۱) سورہ ہود ايت ۶۷_۶۸
(۲)سورہ ہود آيت ۸۶
(۳)سورہ حجرآيت ۷۳
(۴)سورہ ہودآيت ۹۴
(۵)سورہ فصلت آيت۱۳
يہ چيز نشاندہى كرتى ہے كہ ''صيحہ'' سے مراد '' صاعقہ '' كى وحشتناك آوازہے _(۱)
آيات قرآنى كے مطابق اس دنيا كا اختتام بھى ايك عمومى صيحہ كے ذريعے ہوگا _
حضرت صالح(ع) كے ساتھ نجات پانے والے افراد
بعض مفسرين كہتے ہيں كہ حضرت صالح عليہ السلام كے دوستوں كى تعداد چار ہزار تھي_جوآپ كے ساتھ عذاب سے بچ گئے تھے اور حكم پرردگار كے مطابق فساد و گناہ سے لبريز اس علاقہ سے كوچ كركے ''حضر موت'' جاپہنچے تھے_
وادى القرى ميں نو ۹ مفسدٹولوں كى سازش
يہاں پر حضرت صالح اور ان كى قوم كى داستان كا ايك اور حصہ بيان كيا گيا ہے جو درحقيقت گزشتہ حصے كا تتمہّ ہے اور اسى پر اس داستان كا اختتام ہوتا ہے _اس ميں حضرت صالح عليہ السلام كے قتل كے منصوبے كا ذكر ہے جو نوكا فراورمنافق لوگوں نے تيار كيا تھا اور خدا نے ان كے اس منصوبے كو ناكام بناديا_
____________________
(۱)سوال پيدا ہوتا ہے كہ كيا صاعقہ كى وحشت ناك آواز كسى جمعيت كو نابود كرسكتى ہے ؟ اس كا جواب مسلما ًمثبت ہے_ كيونكہ ہم جانتے ہيں كہ آوازكى لہريں جب ايك معين حدسے گزرجائيں تو وہ شيشے كو توڑديتى ہيں يہاں تك كہ بعض عمارتوں كو تباہ كرديتى ہيں اورا نسانى بدن كے لئے اندر كے آرگا نزم كو بيكار كرديتى ہيں _
ہم نے سنا ہے كہ جب ہوائي جہازصوتى ديوارتوڑديتے ہيں (اور آواز كى لہروں سے تيز رفتار سے چلتے ہيں )توكچھ لوگ بے ہوش ہوكر گرجاتے ہيں يا عورتوں كے حمل ساقط ہوجاتے ہيں يا ان علاقوں ميں موجود عمارتوں كے تمام شيشے ٹوٹ جاتے ہيں _
فطرى اور طبيعى ہے كہ اگر آواز كى لہروں كى شدت اس سے بھى زيادہ ہوجائے تو آسانى سے ممكن ہے كہ اعصاب ميں ،دماغ كى رگوں ميں اور دل كى دھڑكن ميں تباہ كن اختلال پيدا ہوجائے جو انسانوں كى موت كا سبب بن جائے _آيات قرآنى كے مطابق اس دنيا كا اختتام ميں تباہ كن اختلال پيدا ہوجائے جو انسانوں كى موت كا سبب بن جائے گا_
فرمايا گيا ہے :''اس شہر ( وادى القرى ) ميں نوٹولے تھے جو زمين ميں فساد برپا كرتے تھے اور اصلاح نہيں كرتے تھے _''(۱)
ان نوميں سے ہرگروہ كا ايك ايك سربراہ بھى تھا اور شايدان ميں سے ہر ايك كسى نہ كسى قبيلے كى طرف منسوب بھى تھا _ ظاہر ہے كہ جب صالح عليہ السلام نے ظہور فرمايا اور اپنا مقدس اور اصلاحى آئين لوگوں كے سامنے پيش كيا تو ان ٹولوں پر عرصہ حيات تنگ ہونے لگا يہى وجہ ہے كہ قرآن كے مطابق انھوں نے كہا :'' آئو خدا كى قسم اٹھا كر عہد كريں كہ صالح(ع) اور ان كے خاندان پر شب خون ماركر انھيں قتل كرديں گے پھر ان كے خون كے وارث سے كہيں گے كہ ہميں اس كے خاندان كے قتل كى كوئي خبر نہيں اور اپنى اس بات ميں ہم بالكل سچے ہيں _''(۲)
پھر لائق غور بات يہ ہے كہ انھوں نے قسم بھى ''اللہ '' كى كھائي تھى جس سے ظاہر ہوتا ہے كہ وہ بتوں كو پوجنے كے علاوہ زمين وآسمان كے خالق اللہ پر بھى عقيدہ ركھتے تھے اور اپنے اہم مسائل ميں اسى كے نام كى قسم كھاتے تھے يہ بھى واضح ہوتاہے كہ وہ اتنے مغرور اور بدمست ہوچكے تھے كہ اس قدر ہولناك جرم كے ارتكاب كے لئے بھى انھوں نے خدا ہى كا نام ليا گوياوہ كوئي اہم عبادت يا كوئي ايسا كام انجام دينے لگے ہوں جو اللہ كو بہت منظور ہے خدا سے بے خبر مغروراور گمراہ لوگوں كا وطيرہ ايساہى ہوا كرتا ہے _
وہ صالح(ع) عليہ السلام كے ہمنوائوں اور ان كے قوم وقبيلہ سے خوف كھاتے تھے لہذا انھوں نے ايسا منصوبہ بنايا كہ جس سے وہ اپنے مقصد ميں بھى كامياب ہوجائيں اور صالح(ع) كے طرفداروں كے غيظ وغضب كابھى شكار نہ ہوں _ گويا وہ ايك تير سے دو شكار كرنا چاہتے تھے بنابر اين انھوں نے رات كے وقت حملہ كى تركيب سوچى اور طے كرليا كہ جب بھى كوئي شخص ان سے پوچھ گچھ كرے گا تو سب متفق ہوكر قسم اٹھائيں گے كہ اس منصوبے ميں ان كا كوئي عمل دخل نہيں تھا يہاں تك كہ وہ اس وقت موجود بھى نہيں تھے _ (كيونكہ ان كي
____________________
(۱) سورہ نمل آيت ۴۸
(۲)سورہ نمل آيت ۴۹
صالح(ع) كے ساتھ مخالفت پہلے سے دنيا كو معلوم تھى )_
تاريخوں ميں ہے كہ ان كى سازش كچھ يوں تھى كہ شہر كے اطراف ميں ايك پہاڑ تھا اور پہاڑميں ايك غار تھى جس ميں جناب صالح عليہ السلام عبادت كيا كرتے تھے اور كبھى كبھار وہ رات كو بھى اسى غار ميں جاكر اپنے پروردگار كى عبادت كرتے تھے اور اس سے رازونياز كيا كرتے تھے _
انھوں نے طے كرليا كہ وہاں كمين لگا كر بيٹھ جائيں گے جب بھى صالح وہاں آئيں گے انھيں قتل كرديں گے _ان كى شہادت كے بعد ان كے اہل خانہ پر حملہ كركے انھيں بھى راتوں رات موت كے گھاٹ اتارديں گے پھر اپنے اپنے گھروں كو واپس چلے جائيں گے اگر ان سے اس بارے ميں كسى نے پوچھ بھى ليا تو اس سے لاعلمى كا اظہار كرديں گے _
يہ خالى گھران كے ہيں ؟
ليكن خداوندعالم نے ان كى اس سازش كو عجيب وغريب طريقے سے ناكام بناديا اور ان كے اس منصوبے كو نقش برآب كرديا _
جب وہ ايك كونے ميں گھات لگائے بيٹھے تھے تو پہاڑسے پتھر گرنے لگے اور ايك بہت بڑا ٹكڑاپہاڑكى چوٹى سے گرا اور آن كى آن ميں اس نے ان سب كا صفايا كرديا _
پھر قرآن پاك ان كى ہلاكت كى كيفيت اور ان كے انجام كو يوں بيان كرتاہے :''ديكھويہ ان لوگوں ہى كے گھر ہيں كہ جو اب ان كے ظلم وستم كى وجہ سے ويران پڑے ہيں ''_(۱)
نہ وہاں سے كوئي آوازسنائي ديتى ہے _
نہ كسى قسم كا شور شرابہ سننے ميں آتا ہے _
اور نہ ہى وہ زرق برق گناہ بھرى محفليں دكھائي ديتى ہيں _
____________________
(۱)سورہ نمل آيت ۵۲
جى ہاں : وہاں پر ظلم وستم كى آگ بھڑكى جس نے سب كو جلاكر راكھ كرديا _
ظالموں كے اس انجام ميں خداوندعالم كى قدرت كى واضح نشانى اور درس عبرت ہے ان لوگوں كے لئے جو علم وآگہى ركھتے ہيں ''_(۱)
ليكن اس بھٹى ميں سب خشك وترنہيں جلے بلكہ بے گناہ افراد، گناہگاروں كى آگ ميں جلنے سے بچ گئے ہم نے ان لوگوں كو بچاليا جو ايمان لاچكے تھے اور تقوى اختيار كرچكے تھے_
بنابريں حضرت صالح كے قتل كى سازش كے بعد ہى عذاب نازل نہيں ہوا بلكہ قوى احتمال يہ ہے كہ خدا كے اس پيغمبر كے قتل كى سازش كے واقعے ميں فقط سازشى ٹولے ہلاك ہوئے اور دوسرے ظالموں كو سنبھل جانے كے لئے مہلت دى گئي ، ليكن ناقہ كے قتل كے بعد تمام ظالم اور بے ايمان گناہگار فناہوگئے جيسا كہ سورہ ہود اور سورہ اعراف كى آيات كے ملانے سے يہى نكلتاہے _
____________________
(۱) سورہ نمل آيت ۵۲
حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام)
حضرت ابراہيم عليہ السلام كا نام قرآن مجيد ميں ۶۹/مقامات پر آياہے اور ۶۵/سورتوں ميں ان كے متعلق گفتگو ہوئي ہے، قرآن كريم ميں اس عظيم پيغمبر كى بہت مدح و ثناء كى گئي ہے_ اور ان كے بلند صفات كا تذكرہ كيا گيا ہے،ان كى ذات ہر لحاظ سے راہنما اور اسوہ ہے اور وہ ايك كامل انسان كا نمونہ تھے_
خدا كے بارے ميں ان كى معرفت ،بت پرستوں كے بارے ميں ان كى منطق،جابر و قاہر بادشاہوں كے سامنے ان كا انتھك جہاد،حكم خدا كے سامنے ان كا ايثار اور قربانياں ،طوفان،حوادث اور سخت آزمائش وں ميں ان كى بے نظير استقامت،صبر اور حوصلے اور ان جيسے ديگر امور،ان ميں سے ہر ايك مفصل داستان ہے اور ان ميں مسلمانوں كے لئے نمونہ عمل ہے_قرآنى ارشادات كے مطابق وہ ايك نيك اور صالح،(۱) فروتنى كرنے والے، ( ۲) صديق،(۳) بردبار،(۴) اور ايفائے عہد كرنے والے تھے_(۵) وہ ايك بے مثال شجاع اور بہادر تھے_ نيزبہت زيادہ سخى تھے _
____________________
(۱)سورہ ص آيت۴۴
(۲)سورہ نحل آيت۱۲۲
(۳)سورہ نحل آيت۱۲۰
(۴)سورہ مريم آيت۴۱
(۵)سورہ توبہ آيت ۱۱۴
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى پر تلاطم زندگي
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى زندگى كے تين دور ميں بيان كيا جاسكتا ہے:
۱_قبل بعثت كا دور_
۲_دور نبوت اور بابل كے بت پرستوں سے مقابلہ_
۳_بابل سے ہجرت اور مصر،فلسطين اور مكہ ميں سعى و كوشش كا دور_
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى جائے پيدائش
حضرت ابراہيم عليہ السلام بابل ميں پيدا ہوئے_ يہ دنيا كا حيرت انگيز اور عمدہ خطہ تھا_ اس پر ايك ظالم و جابر اور طاقتور حكومت مسلط تھي_(۱)
حضرت ابراہيم عليہ السلام نے آنكھ كھولى تو بابل پر نمرود جيسا جابر و ظالم بادشاہ حكمراں تھا_وہ اپنے آپ كو بابل كا بڑاخدا سمجھتا تھا_البتہ بابل كے لوگوں كے لئے يہى ايك بت نہ تھا بلكہ اس كے ساتھ ساتھ ان كے يہاں مختلف مواد كے بنے ہوئے مختلف شكلوں كے كئي ايك بت تھے_ وہ ان كے سامنے جھكتے اور ان كے عبادت كياكرتے تھے_
حكومت وقت سادہ لوح افراد كو بيوقوف بنانے اور انہيں افيون زدہ ركھنے كے لئے بت پرستى كو ايك مو ثرذريعہ سمجھتى تھى لہذا وہ بت پرستى كى سخت حامى تھي_ وہ كسى بھى بت كى اہانت كو بہت بڑا نا قابل معافى جرم قرار ديتى تھي_
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى ولادت كے سلسلے ميں مو رخين نے عجيب و غريب داستان نقل كى ہے جس كا خلاصہ يوں پيش كيا جاتا ہے:
____________________
(۱)بعض مو رخين نے لكھا ہے كہ آپ(ع) ملك بابل كے شہر آور ميں پيداہوئے
بابل كے نجوميوں نے پيشن گوئي كى تھى كہ ايك ايسا بچہ پيدا ہوگا جو نمرود كى غير متنازعہ طاقت سے مقابلہ كرے گا_ لہذا اس نے اپنى تمام قوتيں اس بات پر صرف كرديں كہ وہ بچہ پيدا نہ ہو_ اس كى كوشش تھى كہ ايسا بچہ پيدا ہو بھى جائے تو اسے قتل كرديا جائے_ ليكن اس كى كوئي تدبير كار گر نہ ہوئي اور يہ بچہ آخر كار پيدا ہوگيااس بچے كى جائے ولادت كے قريب ہى ايك غار تھى _ اس كى ماں اس كى حفاظت كے لئے اسے اس ميں لے گئي اور اسكى پرورش ہونے لگي_ يہاں تك كہ اس كى عمر كے تيرہ برس وہيں گزر گئے_
اب بچہ نمرود كے جاسوسوں سے بچ بچ كر نوجوانى ميں قدم ركھ چكا تھا_ اس نے ارادہ كيا كہ اس عالم تنہائي كو چھوڑديا جائے اور لوگوں تك وہ درس توحيد پہنچائے جو اس نے باطنى الہام اور فكرى مطالعے سے حاصل كيا تھا_
دور نبوت
حضرت ابراہيم عليہ السلام كب مبعوث نبوت ہوئے، اس سلسلے ميں ہمارے پاس كوئي واضح دليل موجود نہيں ہے_ البتہ سورہ مريم سے بس اتنا معلوم ہوتا ہے كہ جب آپ(ع) نے اپنے چچا آزر سے بحث چھيڑى تو آپ (ع) مقام نبوت پر فائز ہوچكے تھے_ آيت كہتى ہے كہ :''اس كتاب ميں ابراہيم عليہ السلام كو ياد كرو،وہ خداكا بہت ہى سچا نبى تھا_جب اس نے اپنے باپ(چچا) سے كہا:''اے بابا تو ايسى چيز كى كيوں عبادت كرتا ہے كہ جو نہ سنتى ہے اور نہ ہى ديكھتى ہے اور تيرى كوئي مشكل بھى حل نہيں كرتي''_(۱)
ہم جانتے ہيں كہ يہ واقعہ بت پرستوں كے ساتھ شديد معركہ آرائي اور آپ كو آگ ميں ڈالے جانے سے پہلے كا ہے_ بعض م ورخين نے لكھا ہے كہ آگ ميں ڈالے جانے كے وقت حضرت ابراہيم عليہ السلام كى عمر ۱۶/سال تھي_ ہم اس كے ساتھ يہ اضافہ كرتے ہيں كہ يہ عظيم كار رسالت آغاز نوجوانى ميں آپ(ع) كے دوش پر آن پڑا تھا_
____________________
(۱)سورہ مريم آيت ۴۱/۴۲
حضرت ابراہيم عليہ السلام كے پانچ برجستہ صفات
قرآن مجيد ميں خدا كى شكر گزارى ايك كامل مصداق يعنى مكتب توحيد كے مجاہد اور علمبردار حضرت ابراہيم عليہ السلام كا ذكر ہے ان كا ذكر اس لحاظ سے بھى خصوصيت كاحامل ہے كہ مسلمان با لعموم اور عرب بالخصوص حضرت ابراہيم كو اپنا پہلاپيشوا اور مقتداء سمجھتے ہيں _
اس عظيم اور بہادر انسان كى صفات ميں سے يہاں صرف پانچ صفات كى طرف اشارہ كيا گيا ہے :
پہلے فرمايا گيا ہے :'' ابراہيم اپنى ذات ميں ايك امت تھے''_(۱)
اس سلسلے ميں حضرت ابراہيم عليہ السلام كو''امت '' كيوں قرار ديا گيا ، مفسرين نے مختلف نكات بيان كيے ہيں ان ميں سے چارقابل ملاحظہ ہيں :
۱_ابراہيم عليہ السلام انسانيت كے عظيم رہبر، مقتداء اور معلم تھے اسى بناء پر انھيں امت كہا گيا ہے كيونكہ '' امت '' اسم مفعول كے معنى ميں اسے كہا جاتاہے جس كى لوگ اقتداء كريں اور جس كى رہبرى لوگ قبول كريں _
۲_ ابراہيم عليہ السلام ايسى شخصيت كے مالك تھے كہ اپنى ذات ميں ايك امت تھے _كيونكہ بعض اوقات كسى انسان كى شخصيت كا نور اتنى وسيع شعاعوں كا حامل ہوتا ہے كہ اس كى حيثيت ايك دويا بہت سے افراد سے زيادہ ہوجاتى ہے اور اس كى شخصيت ايك عظيم امت كے برابر ہوجاتى ہے _
ان دونوں معانى ميں ايك خاص روحانى تعلق ہے كيونكہ جو شخص كسى ملت كاسچا پيشوا ہوتا ہے وہ ان سب كے اعمال ميں شريك اور حصہ دار ہوتا ہے اور گويا وہ خود امت ہوتا ہے _
۳_ وہ ماحول كہ جس ميں كوئي خدا پرست نہ تھا اور جس ميں سب لوگ شرك وبت پرستى كے جوہڑميں غوطہ زن تھے _اس ميں ابراہيم عليہ السلام تن تنہاموحد اور توحيد پرست تھے پس آپ تنہا ايك امت
____________________
(۱)سورہ نمل آيت۱۲۰
تھے اور اس دور كے مشركين ايك الگ امت تھے _
۴_ ابراہيم عليہ السلام ايك امت كے وجودكا سرچشمہ تھے اسى لئے آپ كو ''امت '' كہا گيا ہے _ اس ميں كوئي اشكال نہيں كہ يہ چھوٹا سالفظ اپنے دامن ميں يہ تمام وسيع معانى لئے ہوئے ہو _
جى ہاں ، ابراہيم ايك امت تھے_
__وہ ايك عظيم پيشوا تھے _
__وہ ايك امت سازجوانمرد تھے _
__جس ماحول ميں كوئي توحيد كا دم بھر نے والا نہ تھا وہ توحيدكے عظيم علمبردار تھے_
۲_ ان كى دوسرى صفت يہ تھى كہ'' وہ اللہ كے مطيع بندے تھے ''_(۱)
۳_ ''وہ ہميشہ اللہ كے سيدھے راستے اور طريق حق پر چلتے تھے''_(۲)
۴_'' وہ كبھى بھى مشركين ميں سے نہ تھے ''_(۳)
ان كے فكر كے ہر پہلو ميں ، ان كے دل كے ہر گوشے ميں اور ان كى زندگى كے ہر طرف اللہ ہى كانور جلوہ گرتھا _
۵_ان تمام خصوصيات كے علاوہ ''وہ ايسے جواں مرد تھے كہ اللہ كى سب نعمتوں پر شكر گزار تھے''_(۴)
ان پانچ صفات كو بيان كرنے كے بعد ان كے اہم نتائج بيان كيے گئے ہيں :
۱_'' اللہ نے ابراہيم كو نبوت اور دعوت كى تبلغ كے لئے منتخب كيا ''_(۵)
۲_'' اللہ نے انھيں راہ است كى ہدايت كي''_(۶)
____________________
(۱)سورہ نمل آيت ۱۲۰
(۲)سورہ نمل آيت ۱۲۰
(۳)سورہ نمل آيت۱۲۰
(۴)سورہ نمل آيت ۱۲۱
(۵)سورہ نمل آيت ۱۲۱
(۶) سورہ آيت ۱۲۱
اور انھيں ہر قسم كى لغزش اور انحراف سے بچايا _
ہم نے بارہا كہا ہے كہ خدائي ہدايت ہميشہ لياقت واہليت كى بنياد پر ہوتى ہے كہ جس كا مظاہرہ خود انسان كى طرف سے ہوتا ہے اس كى طرف سے كسى كو كوئي چيز استعداد اور كسى حساب كتاب كے بغيرنہيں دى جاتى حضرت ابراہيم كو بھى اسى بنياد پر يہ ہدايت نصيب ہوئي _
۳_ ''ہم نے دنيا ميں انھيں ''حسنہ'' سے نوازا ''_ وسيع معنى كے اعتبار سے ''حسنہ '' ميں ہر قسم كى نيكى اور اچھائي كا مفہوم موجود ہے اس ميں مقام نبوت رسالت سے لے كر اچھى اولادوغيرہ تك كا مفہوم موجود ہے_
۴_ اور آخرت ميں وہ صالحين ميں سے ہوں گے ''_(۱)
۵_ ان صفات كے ساتھ ساتھ اللہ نے حضرت ابراہيم عليہ السلام كو ايك ايساا متياز عطا فرمايا ہے كہ ان كا مكتب و مذہب صرف ان كے اہل زمانہ كے لئے نہ تھا بلكہ ہميشہ كے لئے تھا خاص طور پر اسلامى امت كے لئے بھى يہ ايك الہام بخش مكتب قرارپايا ہے _جيساكہ قرآن كہتا ہے :''پھر ہم نے تجھے وحى كى دين ابراہيم كى اتباع كركہ جو خالص توحيد كا دين ہے '' _(۲)
ابراہيم عليہ السلام سب كے لئے نمونہ ہيں
قرآن مجيد بہت سے موارد ميں اپنى تعليمات كى تكميل كے لئے ايسے نمونے جو جہان انسانيت ميں موجود ہيں ،گواہ كے طور پر پيش كرتا ہے_ اس لئے قرآن ميں بھى دشمنان خدا سے دوستى كرنے سے سختى كے ساتھ منع كرنے كے بعد،ابراہيم عليہ السلام اور ان كے طريقہ كارميں ايك ايسے عظيم پيشوا كے عنوان سے جو تمام اقوام كے لئے اور خاص طور پر قوم عرب كے لئے احترام كى نظروں سے ديكھے جاتے تھے،گفتگو كرتے ہوئے فرماتا ہے:''تمھارے لئے ابراہيم عليہ السلام اور ان كے ساتھيوں كى زندگى ميں بہترين نمونہ ہے_''(۳)
____________________
(۱) سورہ نمل آيت۱۲۲
(۲) سورہ نمل آيت ۴
(۳)سورہ ممتحنہ آيت ۴
ابراہيم عليہ السلام پيغمبروں كے بزرگ تھے_ ان كى زندگى سرتا سر خدا كى عبوديت،جہاد فى سبيل اللہ اور اس كى پاك ذات كے عشق كے لئے ايك سبق تھي_وہ ابراہيم عليہ السلام كہ امت اسلامى ان كى بابركت دعا كا نتيجہ ہے اور ان كے ركھے ہوئے نام پر فخر كرتى ہے;وہ تمہارے لئے اس سلسلہ ميں ايك اچھا نمونہ بن سكتے ہيں _
''والذين معہ''(جو لوگ ابراہيم عليہ السلام كے ساتھ تھے)كى تعبير سے مراد وہ مو منين ہيں جو اس راہ ميں ان كے پيرو اور ساتھى رہے_اگر چہ وہ قليل تعداد ميں تھے_ باقى رہا يہ احتمال كہ اس سے مراد وہ پيغمبر ہيں جو آپ كے ساتھ ہم آواز تھے يا ان كے زمانے كے پيغمبر،جيسا كہ بعض نے احتمال ديا ہے_تا ہم يہ بہت بعيد نظر آتا ہے_خصوصاًجبكہ مناسب يہ ہے كہ قرآن يہاں پيغمبر اسلام(ص) كو ابراہيم عليہ السلام كے ساتھ اور مسلمانوں كو ان كے اصحاب اور انصار سے تشبيہ دے_
يہ تواريخ ميں بھى آيا ہے كہ بابل ميں ايك گروہ ايسا تھا،جو ابراہيم عليہ السلام كے معجزات ديكھنے كے بعدا ن پر ايمان لے آيا تھااور شام كى طرف ہجرت ميں وہ آپ كے ساتھ تھا،اس سے پتہ چلتا ہے كہ ابراہيم عليہ السلام كے كچھ وفادار ياروانصار بھى تھے_
شائستہ اولاد
قرآن كريم ميں بعض ان نعمات ميں سے ايك كى طرف اشارہ ہوا ہے كہ جو خدا وند تعالى نے حضرت ابراہيم كو عطا كى تھيں ، اور وہ نعمت ہے صالح اور آبرومند اور لائق نسل جو نعمات الہى ميں سے ايك عظيم ترين نعمت ہے _
پہلے ارشاد ہوتا ہے : ''ہم نے ابراہيم (ع) كو اسحاق اور يعقوب (فرزند اسحاق ) عطاكئے''_(۱)
اور اگر يہاں ابراہيم كے دوسرے فرزند اسماعيل كى طرف اشارہ نہيں ہوا بلكہ بحث كے دوران كہيں
____________________
(۱)سورہ انعام آيت ۸۴
ذكر آيا ہے شايد اس كا سبب يہ ہے كہ اسحاق كا سارہ جيسى بانجھ ماں سے پيدا ہونا ، وہ بھى بڑھا پے كى عمر ميں ، بہت عجيب وغريب امراور ايك نعمت غيرمترقبہ تھى _
اس كے بعد يہ بتانے كے لئے كہ كہيں يہ تصور نہ ہو كہ ابراہيم سے قبل كے دور ميں كوئي علم بردار توحيد نہيں تھا اور يہ كام بس انہى كے زمانے سے شروع ہوا ہے مزيد كہتاہے :''اس سے پہلے ہم نے نوح كى بھى ہدايت ورہبرى كى تھى ''_(۱)
اور ہم جانتے ہيں كہ نوح پہلے اولوالعزم پيغمبر ہيں جو آئين وشريعت كے حامل تھے اور وہ پيغمبران اولوالعزم كے سلسلے كى پہلى كڑى تھے_
حقيقت ميں حضرت نوح(ع) كى حيثيت اور ان كے مقام كى طرف اشارہ كركے كہ جو حضرت ابراہيم (ع) كے اجدادميں سے ہيں ، اور اسى طرح پيغمبروں كے اس گروہ كے مقام كا تذكرہ كركے كہ جو ابراہيم عليہ السلام كى اولاد اور ذريت ميں سے تھے،حضرت ابراہيم عليہ السلام كى ممتاز حيثيت كو وراثت، اصل اور ثمرہ كے حوالے سے مشخص كيا گيا ہے _
اوراس كے بعد بہت سے انبياء كے نام گنوائے ہيں جو ذريت ابراہيم (ع) ميں سے تھے پہلے ارشاد ہوتاہے : ''ابراہيم (ع) كى ذريت ميں سے دائود، سليمان ، ايوب ،يوسف ،موسى اور ہارون تھے''_(۲)
اس كے بعد:''زكر(ع) يا ،يحى (ع) ،عيسى (ع) اور الياس (ع) كانام ليا گيا ہے اور مزيد كہاگيا ہے كہ يہ سب صالحين ميں سے تھے _''(۳)
آزرسے گفتگو
اس كے بعد ان كى اپنے باپ آزر كے ساتھ گفتگو بيان كى گئي ہے _(يہاں باپ سے مراد چچاہے اور لفظ '' ابا '' عربى لغت ميں كبھى باپ كے معنى ميں اور كبھى چچاكے معنى ميں آتا ہے )_
____________________
(۱)سورہ انعام آيت ۸۴
(۲) سورہ انعام آيت۸۴
(۳)سورہ انعام آيت ۸۵
قرآن كہتا ہے :اس وقت جبكہ اس نے اپنے باپ سے كہا : اے بابا : تو ايسى چيز كى عبادت كيوں كرتا ہے جو نہ تو سنتى ہے اور نہ ہى ديكھتى ہے اور نہ ہى تيرى كوئي مشكل حل كرسكتى ہے ''_(۱)
يہ مختصر اور زور دار بيان شرك اور بت پرستى كى نفى ونقصان كا احتمال ہے اسے علمائے عقائد '' دفع ضرر محتمل '' سے تعبير كرتے ہيں _ابراہيم (ع) كہتے ہيں كہ تو ايسے معبود كى طرف كيوں جاتاہے كہ جو نہ صرف يہ كہ تيرى كسى مشكل كوحل نہيں كرسكتا ،بلكہ وہ تو اصلا ًسننے اور ديكھنے كى قدرت ہى نہيں ركھتا _
دوسرے لفظوں ميں عبادت ايسى ہستى كى كرنى چاہئے كہ جو مشكلات حل كرنے كى قدرت ركھتى ہو، اپنى عبادت كرنے والے كى حاجات وضروريات كو جانتى ،ديكھتى اور سن سكتى ہوں ليكن ان بتوں ميں يہ تمام باتيں مفقود ہيں _
درحقيقت ابراہيم عليہ السلام يہاں اپنى دعوت اپنے چچا سے شروع كرتے ہيں ،كيونكہ قريبى رشتہ داروں ميں اثرو نفوذ پيدا كرنا زيادہ ضرورى ہے پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم بھى اس بات پر مامور ہوئے تھے كہ پہلے اپنے نزديكى رشتہ داروں كو اسلام كى دعوت ديں _
اس كے بعد ابراہيم (ع) واضح منطق كے ساتھ اسے دعوت ديتے ہيں كہ وہ اس امر ميں ان كى پيروى كرتے نظر آتے ہيں :''اے بابا ''مجھے وہ علم ودانش ملى ہے جو تجھے نصيب نہيں ہوئي اس بنا پر تو ميرى پيروى كراور ميرى بات سن ميرى پيروى كرتا كہ ميں تجھے سيدھى راہ كى طرف ہدايت كروں ''_
ميں نے وحى الہى كے ذريعہ سے بہت علم وآگہى حاصل كى ہے اور ميں پورے اطمينان كے ساتھ يہ كہہ سكتا ہوں كہ ميں خطاكے راستے پر نہيں چلوں گا تجھے بھى ہرگز غلط راستے كى دعوت نہيں دوں گا ميں تيرى خوش بختى وسعادت كا خواہاں ہوں تو ميرى بات مان لے تاكہ فلاح ونجات حاصل كرسكے اور اس صراط مستقيم كو طے كركے منزل مقصود تك پہنچ جا_
____________________
(۱) سورہ مريم آيت۴۲
اس كے بعد اس اثباتى پہلو كو منفى پہلو اور ان آثاركے ساتھ ملاتے ہوئے ، كہ جو اس دعوت پر مترتب ہوتے ہيں ، كہتے ہيں :
''اے بابا : شيطان كى پرستش نہ كركيونكہ شيطان ہميشہ خدائے رحمن كا نافرمان رہاہے''_(۱)
البتہ ظاہرہے كہ يہاں عبادت سے مراد شيطان كے لئے سجدہ كرنے اور نمازروزہ بجالانے والى عبادت نہيں ہے بلكہ اطاعت اورا س كے علم كى پيروى كرنے كے معنى ميں ہے اور يہ بات خود ايك قسم كى عبادت شمار ہوتى ہے _
ايك مرتبہ پھر اسے شرك اور بت پرستى كے برے نتائج كى طرف متوجہ كرتے ہوئے كہتے ہيں : ''اے بابا : ميں اس بات سے ڈرتاہوں كہ تيرے اختياركردہ شرك وبت پرستى كے سبب خدائے رحمن كى طرف سے تجھ پر عذاب آئے اور تو اوليائے شيطان ميں سے ہوجائے ''_(۲)
اے ابراہيم تم پر پتھر برسائوں گا
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى ان كے چچا كى ہدايت كے سلسلے ميں منطقى باتيں جو خاص لطف ومحبت كى آميزش ركھتى تھيں گزرچكى ہيں اب آزركے جوابات بيان كرنے كى نوبت ہے تاكہ ان دونوں كا آپس ميں موازنہ كرنے سے حقيقت اور واقعيت ظاہر ہوجائے _قرآن كہتاہے كہ نہ صرف ابراہيم كى دل سوزياں اور ان كا مدلل بيان آزر كے دل پر اثرانداز نہ ہوسكا بلكہ وہ ان باتوں كو سنكر سخت برہم ہوا ،اور اس نے كہا :
''اے ابراہيم(ع) كيا تو ميرے خدائوں سے روگردان ہے ،اگر تو اس كام سے باز نہيں آئے گاتو ميں ضرور ضرور تجھے سنگسار كروں گا،اور تو اب مجھ سے دور ہوجاميں پھر تجھے نہ ديكھوں ''_(۳)
قابل توجہ بات يہ ہے كہ اولاًآزر يہ تك كہنے كے لئے تيار نہيں تھا كہ بتوں كے انكار ،يا مخالفت اور ان كے بارے ميں بدگوئي كا ذكر زبان پر لائے،بلكہ بس اتنا كہا:كيا تو بتوں سے روگردان ہے ؟ تاكہ كہيں
____________________
(۱)سورہ مريم آيت ۴۴
(۲)سورہ مريم آيت۴۵
(۳)سورہ مريم ايت ۴۶
ايسانہ ہو بتوں كے حق ميں جسارت ہوجائے ثانياًابراہيم (ع) كو تہديد كرتے وقت اسے سنگسار كرنے كى تہديد كى وہ بھى اس تاكيد كے ساتھ كہ جو ''لام'' اور '' نون '' تاكيد ثقيلہ سے جو ''لارجمنك'' ميں واردہے، اور ہم جانتے ہيں كہ سنگسار كرنا قتل كرنے كى ايك بدترين قسم ہے ثالثاً اس مشروط تہديد اور دھمكى پر ہى قناعت نہيں كى بلكہ اس حالت ميں جناب ابراہيم كو ايك ناقابل برداشت وجود شمار كرتے ہوئے ان سے كہا كہ تو ہميشہ كے لئے ميرى نظروں سے دور ہوجا_
يہ تعبير بہت ہى توہين آميزہے،جسے سخت مزاج افراد اپنے مخالفين كے لئے استعمال كرتے ہيں ،اور فارسى زبان ميں اس كى جگہ ''گورت راگم كن''كہتے ہيں ، يعنى نہ صرف اپنے آپ كو مجھ سے ہميشہ كے لئے چھپالے بلكہ كسى ايسى جگہ چلے جائو كہ ميں تمہارى قبرتك كو بھى نہ ديكھوں ليكن ان تمام باتوں كے باوجود حضرت ابراہيم نے تمام پيغمبروں اور آسمانى رہبروں كى مانند اپنے اعصاب پر كنڑول ركھا، اور تندى اور تيزى اور شديد خشونت وسختى كے مقابلے ميں انتہائي بزرگوارى كے ساتھ كہا:'' سلام ہو تجھ پر''_(۱)
ممكن ہے كہ يہ ايسا سلام الوداعى اورخدا حافظى كا سلام ہو، كيونكہ اس كے چند جملوں كے كہنے كے بعد حضرات ابرہيم عليہ السلام نے آزركو چھوڑديا يہ بھى ممكن ہے كہ يہ ايسا سلام ہوكہ جودعوى اور بحث كو ترك كرنے كے لئے كہاجاتاہے جيسا كہ سورہ قصص ميں ہے :
''اب جبكہ تم ہمارى بات قبول نہيں كرتے ہو، ہمارے اعمال ہمارے لئے ہيں اور تمہارے اعمال تمہارے ليے،تم پر سلام ہے ہم جاہلوں كے ہواخواہ نہيں ہيں ''_(۲)
اس كے بعد مزيد كہا :'' ميں عنقريب تيرے لئے اپنے پروردگار سے بخشش كى درخواست كروں گا، كيونكہ وہ ميرے لئے رحيم ولطيف اور مہربان ہے''_(۳)
حقيقت ميں حضرت ابراہيم(ع) نے آزركى خشونت وسختى اور تہديدودھمكى كے مقابلے ميں اسى جيسا
____________________
(۱) سورہ مريم آيت ۴۷
(۲)سورہ قصص ايت ۵۵
(۳)سورہ مريم آيت ۴۷
جواب دينے كى بجائے اس كے برخلاف جواب ديا اور اس كے لئے پروردگار سے استغفار كرنے اور اس كے ليئے بخشش كى دعا كرنے كا وعدہ كيا _
اس كے بعد يہ فرمايا كہ :''ميں تم سے (تجھ سے اوراس بت پرست قوم سے )كنارہ كشى كرتاہوں اور اسى طرح ان سے بھى كہ جنہيں تم خدا كے علاوہ پكارتے ہو، يعنى بتوں سے بھى (كنارہ كشى كرتاہوں )''اور ميں تو صرف اپنے پروردگار كو پكارتاہوں اورمجھے اميد ہے كہ ميرى دعا ميرے پروردگاركى بارگاہ ميں قبول ہوئے بغير نہيں رہے گا ''_(۱)
قرآن ايك طرف حضرت ابراہيم (ع) كے آزر كے مقابلے ميں ادب كى نشاندہى كرتاہے _كہ اس نے كہا كہ مجھ سے دور ہوجا تو ابراہيم(ع) نے بھى اسے قبول كرليا اور دوسرى طرف ان كى اپنے عقيدہ ميں قاطعيت اوريقين كوواضح كرتى ہے يعنى وہ واضح كررہے ہيں كہ ميرى تم سے يہ دورى اس بناء پر نہيں ہے كہ ميں نے اپنے توحيد اعتقاد راسخ سے دستبردارى اختيار كرلى ہے بلكہ اس بناء پر ہے كہ ميں تمہارے نظريہ كو حق تسليم كرنے كے لئے تيار نہيں ہوں ، لہذا ميں اپنے عقيد ے پر اسى طرح قائم ہوں _
ضمنى طور پر يہ كہتے ہيں كہ اگر ميں اپنے خداسے دعا كروں تو وہ ميرى دعا كو قبول كرتاہے ليكن تم بيچارے تو اپنے سے زيادہ بيچاروں كو پكارتے ہو اور تمہارى دعا ہرگز قبول نہيں ہوتى يہاں تك كہ وہ تو تمہارى باتوں كو سنتے تك نہيں _
ابراہيم (ع) نے اپنے قول كى وفا كى اور اپنے عقيدہ پر جتنا زيادہ سے زيادہ استقامت كے ساتھ رہا جاسكتا ہے، باقى رہے ،ہميشہ توحيد كى منادى كرتے رہے اگرچہ اس وقت كے تمام فاسد اور برے معاشرے نے ان كے خلاف قيام كيا ليكن وہ جناب بالآخراكيلے نہ رہے اور تمام قرون واعصارميں بہت سے پيروكار پيدا كرلئے اس طورپر كہ دنيا كے تمام خدا پرست لوگ ان كے وجود پر فخركرتے ہيں _(۲)
____________________
(۱) سورہ مريم آيت ۴۸
(۲)كيا آزر حضرت ابراہيم(ع) كا باپ تھا؟
لفظ ''اب ''عربى زبان ميں عام طور پر باپ كے لئے بولا جاتا ہے،اور جيسا كہ ہم ديكھيں گے كہ بعض اوقات چچا،نانا،مربى و معلم اور اسى طرح وہ افراد كہ جو انسان كى تربيت ميں كچھ نہ كچھ زحمت و مشقت اٹھاتے ہيں ان پر بھى بولا جاتا ہے ليكن اس ميں شك نہيں كہ جب يہ لفظ بولا جائے اور كوئي قرينہ موجود نہ ہو تو پھر معنى كے لئے پہلے باپ ہى ذہن ميں آتا ہے_
اب سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ كيا سچ مچ قرآن كہتا ہے كہ وہ بت پرست شخص(آزر) حضرت ابراہيم عليہ السلام كاباپ تھا، تو كيا ايك بت پرست اور بت ساز شخص ايك اولوالعزم پيغمبر كا باپ ہوسكتا ہے،اس صورت ميں كيا انسان كى نفسيات و صفات كى وراثت اس كے بيٹے ميں غير مطلوب اثرات پيدا نہيں كردے گي_
اہل سنت مفسرين كى ايك جماعت نے پہلے سوال كا مثبت جواب ديا ہے اور آزر كو حضرت ابراہيم عليہ السلام كا حقيقى باپ سمجھا ہے،جب كہ تمام مفسرين و علماء شيعہ كا عقيدہ يہ ہے كہ آزر حضرت ابراہيم عليہ السلام كا باپ نہيں تھا،بعض اسے آپ كا نانا اور بہت سے حضرت ابراہيم عليہ السلام كا چچا سمجھتے ہيں _
وہ قرائن جو شيعہ علماء كے نقطہ نظر كى تائيد كرتے ہيں حسب ذيل ہيں :
۱_كسى تاريخى منبع و مصدر اور كتاب ميں حضرت ابراہيم عليہ السلام كے والد كا نام آزر شمار نہيں كيا گيا بلكہ سب نے''تارخ''لكھا ہے_كتب عہدين ميں بھى يہى نام آيا ہے،قابل توجہ بات يہ ہے كہ جو لوگ اس بات پر اصرار كرتے ہيں كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام كا باپ آزر تھا،يہاں انہوں نے ايسى توجيہات كى ہيں جو كسى طرح قابل قبول نہيں ہيں _منجملہ ان كے يہ ہے كہ ابراہيم عليہ السلام كے باپ كا نام تارخ اور اس كا لقب آزر تھا_حالانكہ يہ لقب بھى منابع تاريخ ميں ذكر نہيں ہوا_يا يہ كہ آزر ايك بت تھا كہ جس كى ابراہيم عليہ السلام كا باپ پوجا كرتا تھا،حالانكہ يہ احتمال قرانى آيت كے ظاہر كے ساتھ جو يہ كہتى ہے كہ آزر ان كا باپ تھا كسى طرح بھى مطابقت نہيں ركھتي،مگر يہ كہ كوئي جملہ يا لفظ مقدر مانيں جو كہ خلاف ظاہر ہو_
۲_قرآن مجيد كہتا ہے كہ مسلمان يہ حق نہيں ركھتے كہ مشركين كے لئے استغفار كريں اگر چہ وہ ان كے عزيز و قريب ہى كيوں نہ ہوں _اس كے بعد اس غرض سے كہ كوئي آزر كے بارے ميں ابراہيم عليہ السلام كے استغفار كو دستاويز قرار نہ دے اس طرح كہتا ہے:
''ابراہيم عليہ السلام كى اپنے باپ آزر كے لئے استغفار صرف اس وعدہ كى بنا پر تھى جو انہوں نے اس سے كيا تھا_(سورہ توبہ آيت۱۱۴)
چونكہ آپ نے يہ كہا تھا كہ:''يعنى ميں عنقريب تيرے لئے استغفار كروں گا_''
يہ اس اميد پر تھا كہ شايد وہ اس وعدہ كى وجہ سے خوش ہوجائے اور بت پرستى سے باز آجائے ليكن جب اسے -->
بت پرستى كى راہ ميں پختہ اور ہٹ دھرم پايا تو اس كے لئے استغفار كرنے سے دستبردار ہوگئے_
يہاں سے يہ بات اچھى طرح معلوم ہوجاتى ہے كہ ابراہيم عليہ السلام نے آزر سے مايوس ہوجانے كے بعد پھر كبھى اس كے لئے طلب مغفرت نہيں كي_اور ايسا كرنا مناسب بھى نہيں تھا_ تمام قرائن اس بات كى نشاندہى كرتے ہيں كہ يہ واقعہ حضرت ابراہيم عليہ السلام كى جوانى كے زمانے كا ہے جب كہ آپ شہر بابل ميں رہائش پذير تھے اور بت پرستوں كے ساتھ مبارزہ اور مقابلہ كررہے تھے_ ليكن قرآن كى دوسرى آيات نشاندہى كرتى ہيں كہ ابراہيم عليہ السلام نے اپنى آخرى عمر ميں خانہ كعبہ كى تعمير كے بعد اپنے باپ كے لئے طلب مغفرت كى ہے(البتہ ان آيات ميں جيسا كہ آئندہ بيان ہوگا،باپ سے''اب''كو تعبير نہيں كيا بلكہ''والد''كے ساتھ تعبير كيا ہے جو صراحت كے ساتھ باپ كے مفہوم كو ادا كرتا ہے)_
جيسا كہ قرآن ميں ہے:
''حمدوثنا اس خدا كے لئے ہے كہ جس نے مجھے بڑھاپے ميں اسماعيل اور اسحاق عطا كيے ،ميرا پروردگار دعائوں كا قبول كرنے والا ہے، اے پروردگار مجھے ،ميرے ماں باپ اور مومنين كو قيامت كے دن بخش دے ''_(سورہ ابراہيم آيت۳۹و۴۱
سورہ ابراہيم كى اس آيت كو سورہ توبہ كى آيت كے ساتھ ملانے سے جو مسلمانوں كو مشركين كےلئے استغفار كرنے سے منع كرتى ہے اور ابراہيم كو بھى ايسے كام سے سوائے ايك مدت محدود كے وہ بھى صرف ايك مقدس مقصدوہدف كے لئے روكتى ہے، اچھى طرح معلوم ہوجاتاہے كہ زيربحث قرآنى آيت ميں ''اب''سے مراد باپ نہيں ہے بلكہ چچايانانا يا كوئي اور اسى قسم كارشتہ ہے دوسرے لفظوں ميں '' والد'' باپ كے معنى ميں صريح ہے جب كہ'' اب'' ميں صراحت نہيں پائي جاتى _ قرآن كى آيات ميں لفظ'' اب'' ايك مقام پرچچا كے لئے بھى استعمال ہوا ہے مثلا سورہ بقرہ آيت۱۳۳:
يعقوب (ع) كے بيٹوں نے اس سے كہا ہم تيرے خدا اور تيرے آباء ابراہيم واسماعيل واسحاق كے خدائے يكتا كى پرستش كرتے ہيں _ ہم يہ بات اچھى طرح سے جانتے ہيں كہ اسماعيل (ع) يعقوب (ع) كے چچا تھے باپ نہيں تھے _
۳_مختلف اسلامى روايات سے بھى يہ بات معلوم ہوتى ہے ،پيغمبر اكرم (ص) كى ايك مشہور حديث ميں آنحضرت(ص) سے منقول ہے:
''خداوند تعالى مجھے ہميشہ پاك آبائو اجداد كے صلب سے پاك مائوں كے رحم ميں منتقل كرتارہا اور اس نے
اسمانوں ميں توحيد كے دلائل
اس سر زنش اور ملامت كے بعد جو ابراہيم عليہ السلام بتوں كى كرتے تھے ،اور اس دعوت كے بعد جو اپ نے ازر كو بت پرستى كو ترك كرنے كے لئے كى تھى يہاں خدا ابراہيم عليہ السلام كے بت پرستوں كے مختلف گروہوں كے ساتھ منطقى مقابلوں كى طرف اشارہ كرتے ہوئے ان كے واضح عقلى استدلالات كے مجھے كبھى زمانہ جاہليت كى آلود گيوں اور گندگيوں ميں آلودہ نہيں كيا ''_
اس ميں شك نہيں ہے كہ زمانہ جاہليت كى واضح ترين آلودگى شرك وبت پرستى ہے اور جنہوں نے اسے آلودگى كوزنا ميں منحصر سمجھا ہے ان كے پاس اپنے قول پر كوئي دليل موجود نہيں ہے خصوصا جبكہ قرآن كہتا ہے: ''مشركين گندگى ميں آلودہ اور ناپاك ہيں ''_(سورہ توبہ ايت ۲۸)
طبرى جوعلماے اہل سنت ميں سے ہے اپنى تفسير جامع البيان ميں مشہور مجاہد سے نقل كرتا ہے _وہ صراحت كے ساتھ يہ كہتا ہے كہ ازر ابراہيم عليہ السلام كا باپ نہيں تھا_
اہل سنت كا ايك دوسرا مفسر الوسى اپنى تفسير روح المعانى ميں مندرجہ ذيل قرآنى گفتگو ميں كہتا ہے كہ جو لوگ يہ كہتے ہيں كہ يہ عقيدہ كہ ازر، ابراہيم عليہ السلام كا باپ نہيں تھا شيعوں سے مخصوص ہے ان كى كم اطلاعى كى وجہ سے ہے كيونكہ بہت سے علماء (اہل سنت) بھى اسى بات كا عقيدہ ركھتے ہيں كہ ازر ابراہيم عليہ السلام كا چچا تھا_
''سيوطي''مشہور سنى عالم كتاب ''مسالك الحنفاء'' ميں فخر الدين رازى كى كتاب ''اسرارالتنزيل''سے نقل كرتا ہے كہ پيغمبر اسلام (ص) كے ماں باپ اور اجداد كبھى بھى مشرك نہيں تھے اور اس حديث سے جو ہم اوپر پيغمبر اكرم (ص) سے نقل كر چكے ہيں استدلال كيا ہے ،اس كے بعد سيوطى خود اضافہ كرتے ہوئے كہتا ہے : ہم اس حقيقت كو دوطرح كى اسلامى روايات سے ثابت كر سكتے ہيں : پہلى قسم كى روايات تو وہ ہيں كہ جو يہ كہتى ہيں كہ پيغمبر كے اباء واجداد حضرت ادم عليہ السلام تك ہر ايك اپنے زمانہ كا بہترين فرد تھا (ان احاديث كو''صحيح بخاري''اور ''دلائل النبوة''سے بيہقى وغيرہ نے نقل كيا ہے)_ اور دوسرى قسم كى روايات وہ ہيں جو يہ كہتى ہيں كہ ہر زمانے ميں موحد و خدا پرست افراد موجود رہے ہيں ،ان دونوں قسم كى روايت كو باہم ملانے سے ثابت ہوجاتا ہے كہ اجداد پيغمبر (ص) كہ جن ميں سے ايك ابراہيم (ع) كے باپ بھى ہيں يقناً موحد تھے.
طريق سے اصل توحيد كو ثابت كر نے كى كيفيت بيان كرتا ہے _
قرآن پہلے كہتا ہے :''جس طرح ہم نے ابراہيم عليہ السلام كو بت پرستى كے نقصانات سے اگاہ كيا اسى طرح ہم نے اس كے لئے تمام اسمانوں اور زمين پر پرودگار كى مالكيت مطلقہ اور تسلط كى نشاندہى كي''_(۱)
اس ميں شك نہيں ہے كہ ابراہيم عليہ السلام خدا كى يگانگيت كا استدلال و فطرى يقين ركھتے تھے،ليكن اسرار آفرينش كے مطالعہ سے يہ يقين درجہ كمال كو پہنچ گيا ،جيسا كہ وہ قيامت اور معاد كا يقين ركھتے تھے ،ليكن سربريدہ پرندوں كے زندہ كرنے كے مشاہدہ سے ان كاايمان''عين اليقين''كے مرحلہ كو پہنچ گيا _
اس كے بعد ميں اس موضوع كو تفصيلى طور پر بيان كيا ہے جو ستاروں اور افتاب كے طلوع و غروب سے ابراہيم عليہ السلام كے استدلال كو ان كے خدا نہ ہونے پر واضح كرتا ہے _
پہلے ارشاد ہوتا ہے:''جب رات كے تاريك پردے نے سارے عالم كو چھپا ليا تو ان كى آنكھوں كے سامنے ايك ستارہ ظاہر ہوا ،ابراہيم عليہ السلام نے پكا ر كر كہا كہ كيا يہ ميرا خدا ہے ؟ليكن جب وہ غروب ہو گيا تو انھوں نے پورے يقين كے ساتھ كہا كہ ميں ہرگز ہرگز غروب ہوجانے والوں كو پسند نہيں كرتا اور انھيں عبوديت و ربوبيت كے لائق نہيں سمجھتا''_(۲)
انھوں نے دوبارہ اپنى انكھيں صفحہ اسمان پر گاڑديں ،اس دفعہ چاند كى چاندى جيسى ٹكيہ وسيع اور دل پذير روشنى كے ساتھ صفحہ اسمان پر ظاہر ہوئي،جب چاند كو ديكھا تو ابراہيم عليہ السلام نے پكار كر كہا كہ كيا يہ ہے ميرا پروردگار ؟ليكن اخر كار چاند كا انجام بھى اس ستارے جيسا ہى ہوااور اس نے بھى اپنا چہرہ پر دہ افق ميں چھپا ليا ،تو حقيقت كے متلاشى ابراہيم عليہ السلام نے كہا كہ اگر ميرا پروردگار مجھے اپنى طرف رہنمائي نہ كرے تو ميں گمراہوں كى صف ميں جا كھڑا ہو ں گا_(:)
اس وقت رات اخر كو پہنچ چكى تھى اور اپنے تاريك پردوں كو سميٹ كر اسمان كے منظر سے بھاگ رہى تھى ،افتاب نے افق مشرق سے سر نكالا اور اپنى زيبا اور لطيف نور كو زر بفت كے ايك ٹكڑے كى طرح دشت و
____________________
(۱)سورہ انعام ايت ۷۶
(۲)سورہ انعام ايت ۷۶
(۳)سورہ انعام ايت ۷۷
كوہ و بيابان پر پھيلا ديا،جس وقت ابراہيم عليہ السلام كى حقيقت بين نظر اس كے خيرہ كرنے والے نور پر پڑى تو پكار كر كہا :كيا ميرا خدا يہ ہے ؟جو سب سے بڑا ہے اور سب سے زيادہ روشن ہے ،ليكن سورج كے غروب ہوجانے اور افتاب كى ٹكيہ كے ہيولائے شب كے منہ ميں چلے جانے سے ابراہيم عليہ السلام نے اپنى اخرى بات ادا كى ،اور كہا:''اے گروہ(قوم)ميں ان تمام بناوٹى معبودوں سے جنھيں تم نے خدا كا شريك قرار دے ليا ہے برى و بيزار ہوں ''_(۱)
اب جبكہ ميں نے يہ سمجھ ليا ہے كہ اس متغير و محدود اور قوانين طبيعت كے چنگل ميں اسير مخلوقات كے ماوراء ايك ايسا خدا ہے كہ جو اس سارے نظام كائنات پر قادر و حاكم ہے،'' تو ميں تو اپنا رخ ايسى ذات كى طرف كرتا ہوں كہ جس نے آسمانوں اور زمين كو پيدا كيا ہے اور اس عقيدے ميں كم سے كم شرك كو بھى راہ نہيں ديتا،ميں تو موحد خالص ہوں اور مشركين ميں سے نہيں ہوں ''_(۲)(۳)
____________________
(۱)سورہ انعام ايت ۷۸
(۲)سورہ انعام آيت۷۹
(۳)جناب ابراہيم عليہ السلام جيسے موحد و يكتا پرست نے كس طرح اسمان كے ستارے كى طرف اشارہ كيا اور يہ كہا كہ يہ ميرا خدا ہے مفسرين نے بہت بحث كى ہے ،ان تمام تفاسير ميں سے دو تفسير يں زيادہ قابل ملاحظہ ہيں كہ جن ميں سے ہر ايك كو بعض بزرگ مفسرين نے اختيا ر كيا ہے ہم ان ميں سے ايك كو بيا ن كرتے ہيں كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام نے يہ بات ستارہ پرستوں اور سور ج پرست لوگوں سے گفتگو كرتے ہوئے كى اور احتمال يہ ہے كہ بابل ميں بت پرستوں كے ساتھ سخت قسم كے مقابلے اور مبارزات كرنے اور اس زمين سے شام كى طرف نكلنے كے بعد جب ان اقوام سے ان كا سامنا ہوا تو اس وقت يہ گفتگو كى تھى ،حضرت ابراہيم عليہ السلام بابل ميں نادان قوموں كى ہٹ دھرمى كو ان كى غلط راہ ورسم ميں ازما چكے تھے لہذا اس بنا پر كہ افتاب و ماہتاب كے پجاريوں اور ستارہ پرستوں كو اپنى طرف متوجہ كريں ،پہلے ان كے ہم صدا ہو گئے اور ستارہ پرستوں سے كہنے لگے كہ تم يہ كہتے ہو كہ يہ زہرہ ستارہ ميرا پروردگار ہے ،بہت اچھا چلو اسے ديكھتے ہيں يہاں تك كہ اس عقيدے كا انجام تمہارے سامنے پيش كروں ،تھوڑى ہى دير گزرى تھى كہ اس ستارے كا چمكدار چہرہ افق كے تاريك پردے كے پيچھے چھپ گيا،يہ وہ مقام تھا كہ ابراہيم عليہ السلام كے ہاتھ ميں ايك محكم ہتھيار اگيا اور وہ كہنے لگے ميں تو كبھى ايسے معبود كو قبول نہيں كر سكتا ،اس بنا پر''ھذاربي'' كا مفہوم يہ ہے كہ تمہارے عقيدے كے مطابق يہ ميرا خدا ہے ،يا يہ كہ اپ نے بطور استفہام فرمايا: ''كيا يہ ميرا خدا ہے ''؟
ستارہ سے كون سا ستارہ مراد ہے ؟
اس بارے ميں مفسرين كے درميان اختلاف ہے ليكن زيادہ تر مفسرين نے زہرہ يا مشترى كا ذكر كيا ہے اور كچھ تواريخ سے معلوم ہوتا ہے كہ قديم زمانوں ميں ان دونوں ستاروں كى پرستش كى جايا كرتى تھى اورخداو ں كے حصہ شمار ہوتے تھے ليكن اس حديث ميں جو امام على بن موسى رضا عليہ السلام سے عيون الااخبار ميں نقل ہوئي ہے يہ تصريح ہوئي ہے كہ يہ زہرہ ستارہ تھا ،تفسير على بن ابراہيم ميں بھى امام جعفر صادق عليہ السلام سے يہى بات مروى ہے _
توحيد كى دعوت
قرآن دعوت حضرت ابراہيم عليہ السلام كو اس طرح بيان كرتاہے :''ہم نے ابراہيم (ع) كو بھيجا;اور جب اس نے اپنى قوم سے كہا كہ :خدائے واحد كى پرستش كرو اوراس كے لئے تقوى اختيار كروكيونكہ اگر تم جان لو تو يہ تمہارے لئے بہترہے ''_(۱)
اس كے بعد حضرت ابراہيم (ع) دلائل بت پرستى كا باطل ہونا ثابت كرتے ہيں آپ نے اس دعوى كو مختلف دلائل سے ثابت كيا ہے اور ان مشركين كے معتقدات اور روش حيات كو نا درست ثابت كيا ہے _
پہلى بات انھوں ں نے يہ فرمائي كہ :''تم خدا سے منحرف ہوكے بتوں كى عبادت كرتے ہو'' _(۲)
حالانكہ يہ بت بے روح مجسمے ہيں نہ يہ صاحب ارادہ ہيں نہ صاحب عقل اور نہ صاحب شعور وہ ان تمام اوصاف سے محروم ہيں ان كى ہيت ہى بت پرستى كے عقيدے كوباطل ثابت كرنے كے لئے كافى ہے _
اس كے بعد حضرت ابراہيم(ع) اور آگے بڑھتے ہيں اور فرماتے ہيں كہ :'' صرف ان بتوں كى وضع ہى يہ ثابت نہيں كرتى كہ يہ معبود نہيں ہيں ''بلكہ تم بھى جانتے ہو كہ ''تم جھوٹى باتيں كرتے ہو اور ان بتوں كو معبود كہتے ہو '' _(۳)
تمہارے پاس اس جھوٹ كو ثابت كرنے كى بجز چند اوہام وخرافات كے اور كيا دليل ہے _
____________________
(۱)سورہ عنكبوت آيت ۱۶
(۲)سورہ عنكبوت آيت ۱۷
(۳)سورہ عنكبوت آيت ۱۷
اس كے بعد حضرت ابراہيم (ع) تيسرى دليل ديتے ہيں : اگر تم ان بتوں كو مادى منفعت كے لئے پوجتے ہو يا دوسرے جہان ميں فائدے كے لئے، دونوں صورتوں ميں تمہارا يہ خيال باطل ہے ''كيونكہ تم خدا كے علاوہ جن كى پرستش كرتے ہو وہ تمہيں رزق اور روزى نہيں دے سكتے ''_(۱)
تم خود اقرار كرتے ہو كہ يہ بت خالق نہيں ہيں بلكہ خالق حقيقى خدا ہے اس بناء پرروزى دينے والا بھى وہى ہے ''لہذا تم روزى خدا سے طلب كرو''_(۲)
اور چونكہ روزى دينے والاو ہى ہے '' لہذا اسى كى عبادت كرو اور اس كا شكربجالائو''_(۳)
اس مفہوم كا ايك پہلو يہ بھى ہے منعم حقيقى كے حضور ميں ''حس شگر گزاراى '' سے بھى عبادت كى تحريك ہوتى ہے _ تم جانتے ہو كہ منعم حقيقى خدا ہى ہے پس شكر اورعبادت بھى اسى كى ذات كے لئے مخصوص ہے _
''نيز اگر تم آخرت كى زندگى كے خواستگار ہو تو سمجھ لو كہ ہم سب كى باز گشت اسى طرف ہے ''نہ كہ بتوں كى طرف ''_(۴) اس كے بعد حضرت ابراہيم (ع) تہديد كے طور پر ان مشركين كى سركشى سے بے اعتنائي كا اظہار كرتے ہوئے فرماتے ہيں :'' اگر تم ميرے پيام كى تكذيب كرتے ہو تويہ كوئي نئي بات نہيں ہے،تم سے پہلے جو امتيں گزر چكى ہيں انھوں نے بھى اس طرح اپنے پيغمبروں كى تكذيب كى ہے اور آخركار ان كا انجام بڑا دردناك ہوا''_(۵)
''رسول اور فرستادئہ خدا كا فرض واضح ابلاغ كے علاوہ اور كچھ نہيں ''_(۶)
خواہ لوگ اسے قبول كريں يا نہ كريں _
____________________
(۱) سورہ عنكبوت آيت۱۷
(۲) سورہ عنكبوت آيت ۱۷
(۳)سورہ عنكبوت آيت۱۷
(۴)سورہ عنكبوت آيت۱۷
(۵) سورہ عنكبوت آيت۱۷
(۶)سورہ عنكبوت آيت ۱۸
ہمارے بڑے بھى بتوں كى پوجا كرتے تھے ابراہيم عليہ السلام كے جواب ميں انھوں نے كہا : ''ہم بتوں كى عبادت كرتے ہيں اور سارادن ان پر توجہ ركھتے ہيں اور نہايت ہى ادب اور احترام كے ساتھ ان كى عبادت ميں لگے رہتے ہيں ''_(۱)
اس تعبير سے ظاہر ہوتا ہے كہ وہ نہ فقط اپنے اس عمل پر شرمندہ نہيں تھے بلكہ اس پر فخرو مباہات بھى كيا كرتے تھے كيونكہ (''ہم بتوں كى عبادت وپرستش كرتے ہيں '' )كا جملہ ان كے مقصود اور مدعا كے بيان كے لئے كافى تھا،ساتھ ہى انھوں نے يہ بھى كہا''ہم سارا سارادن ان كے آستان پر جبہ سائي كرتے رہتے ہيں ''_
بہرحال ابراہيم (ع) عليہ السلام نے ان كى يہ باتيں سن كران پر اعتراضات كى بوچھاركردى اور دوزبردست منطقى اور معتدل جملوں كے ذريعہ انھيں ايسى جگہ لاكھڑا كيا جہاں '' نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن ''كے مصداق ان سے كوئي جواب نہيں بن پڑتا تھا آپ نے ان سے فرمايا :''جب تم ان كو پكارتے ہوتو كيا وہ تمہارى فرياد سنتے بھى ہيں ؟''،''ياكيا وہ تمہيں كوئي نفع يانقصان پہنچاسكتے ہيں ''(۲)
ليكن متعصب لوگ بجائے اس كے كہ اس منطقى سوال كا كوئي ٹھوس جواب ديتے وہى پرانا اور بار بار كا دہرايا ہوا جواب پيش كرتے ہيں :''انھوں نے كہا ايسى كوئي بات نہيں سب سے اہم بات يہ ہے كہ ہم نے اپنے بزرگوں كو ايساكرتے ديكھا ہے ''(۳)
ان كا يہ جواب اپنے جاہل اور نادان بزرگوں كى اندھى تقليد كو بيان كررہا ہے وہ جوجواب ابراہيم(ع) كو دے سكتے تھے يہى تھا اور بس يہ ايسا جواب جس كے بطلان كى دليل خود اسى ميں موجود ہے اور كوئي بھى عقل مند انسان اپنے آپ كو اس بات كى اجازت نہيں دے سكتا كہ وہ آنكھيں بند كركے دوسروں كے پيچھے لگ جائے، خاص كر جبكہ آنے والے لوگوں كے تجربے گزشتہ لوگوں سے كہيں زيادہ ہوتے ہيں اور ان كى اندھى تقليد كا نہ تو كوئي جوازرہتا ہے اور نہ ہى كوئي دليل _
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۷۱
(۲) سورہ شعراء آيات ۷۲۰۷۳
(۳) سورہ شعراء آيت ۷۴
ابراہيم عليہ السلام كى بت شكنى كا زبردست منظر
يہاں پر پہلے حضرت ابراہيم (ع) كى بت شكنى كے واقعہ اور ان سے بت پرستوں كى شديد مڈھ بھيڑكے بارے ميں گفتگوكى گئي ہے _(۱)
حضرت ابراہيم عليہ السلام نے اس بات كو ثابت كرنے كے لئے كہ يہ بات سوفى صد صحيح اور محكم ہے اور وہ اس عقيدہ پر ہر مقام تك قائم ہيں اور اس كے نتائج و لوازم كو جو كچھ بھى ہوں انھيں جان و دل سے قبول كرنے كے لئے تيار ہيں ، مزيد كہتے ہيں : مجھے خدا كى قسم جس وقت تم يہاں پر موجود نہيں ہوں گے اور يہاں سے كہيں باہر جائوگے تو ميں تمہارے بتوں كو نابود كرنے كا منصوبہ بنائوں گا''_(۲)
ان كى مراد يہ تھى كہ انھيں صراحت كے ساتھ سمجھاديں كہ آخر كار ميں اسى موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انھيں نابود اور درہم و برہم كردوں گا_
ليكن شايد ان كى نظر ميں بتوں كى عظمت اور رعب اس قدر تھا كہ انھوں نے اس كو كوئي سنجيدہ بات نہ سمجھا او ركوئي ردّ عمل ظاہر نہ كيا شايد انھوں نے يہ سوچا كہ كيا يہ ممكن ہے كہ كوئي شخص كسى قوم و ملّت كے مقدسات كے ساتھ ايسا كھيل كھيلے ، جبكہ ان كى حكومت بھى سو فى صد ان كى حامى ہے وہ كس طاقت كے بل بوتے پر ايسا كام كرے گا_
____________________
(۱)قرآن مجيد ميں واقعہ ابراہيم كو قصہ كے ساتھ اس طرح سے منسلك كيا گيا ہے :'' اور ابراہيم ،نوح كے پيروكاروں ميں سے تھے_''( سورہ صافات ايت ۸۳)
وہ اسى راہ توحيد وعدل اورراسى راہ تقوى واخلاص پر گا مزن تھا جو نوح كى سنت تھي،كيونكہ انبياء سارے كے سارے ايك ہى مكتب كے مبلغ اور ايك ہى يونيورسٹى كے استاد ہيں اور ان ميں سے ہر ايك دوسرے كے پروگرام كو دوام بخشتا ، اسے آگے بڑھاتا اور اس كى تكميل كرتاہے ، كيسى عمدہ تعبير ہے كہ ابراہيم، (ع) نوح كے شيعوں ميں سے تھے حالانكہ ان دونوں كے زمانے ميں بہت فاصلہ تھا (بعض مفسرين كے قول كے مطابق تقريباً۲۶۰۰/ سال فاصلہ تھا، ليكن ہم جانتے ہيں كہ مكتبى رشتے ميں زمانے كى كوئي حيثيت نہيں ہے
(۲) سورہ انبياء آيت ۵۷
اس سے يہ بات بھى واضح ہوجاتى ہے كہ يہ جو بعض نے كہا كہ حضرت ابراہيم(ع) نے يہ جملہ اپنے دل ميں كہا تھا يا بعض مخصوص افراد سے كہا تھا كسى لحاظ سے اس كى ضرورت نہيں ہے، خاص طور پر جبكہ يہ بات كامل طور سے قرآن كريم كے خلاف ہے_
اس كے علاوہ قرآن مجيد ميں يہ بھى بيان ہوا ہے كہ بت پرستوں كو ابراہيم كى يہ بات ياد آگئي اور انھوں نے كہا كہ ہم نے سنا ہے كہ ايك جوان بتوں كے خلاف ايك سازش كى بات كرتا ہے_
بہر حال حضرت ابراہيم نے ايك دن جبكہ بُت خانہ خالى پڑا تھا، اور بُت پرستوں ميں سے كوئي وہاں موجود نہيں تھا، اپنے منصوبہ كو عملى شكل دےدي_
بابل كے بت پرست ہر سال ايك مخصوص عيد كے دن كچھ رسومات ادا كيا كرتے تھے بت خانہ ميں كھانے تيار كرتے ہيں اور وہيں انھيں دسترخوان پر چن ديتے تھے اس خيال سے كہ يہ كھانے متبرك ہوجائيں گے _اس كے بعد سب كے سب مل كر اكٹھے شہرسے باہر چلے جاتے تھے اور دن كے آخرميں واپس لوٹتے تھے اور عبادت كرنے اور كھانا كھانے كے لئے بت خانہ ميں آجاتے تھے _ ايك روز اسى طرح جب شہر خالى ہوگيا اور بتوں كو توڑنے اور انھيں درہم برہم كرنے كے لئے ايك اچھا موقع حضرت ابراہيم (ع) كے ہاتھ آگيا _يہ ايسا موقع تھا جس كا ابراہيم عرصے سے انتظار كررہے تھے اور وہ نہيں چاہتے تھے كہ موقع ہاتھ سے نكل جائے _
لہذا جب انھوں نے ابراہيم (ع) كو جشن ميں شركت كى دعوت دى تو '' اس نے ستاروں پر ايك نظر ڈالى ''اور كہا ميں تو بيمارہوں '' _(۱) اور اس طرح سے اپنى طرف سے عذرخواہى كي_
''انھوں نے رخ پھيرا اور جلدى سے اس سے دورہوگئے ''_(۲)
اور اپنے رسم ورواج كى طرف روانہ ہوگئے _(۳)
____________________
(۱) سورہ صافات ۸۸_۸۹
(۲)سورہ صافات آيت۹۰
(۳)يہاں دوسوال پيدا ہوتے ہيں :
پہلايہ كہ حضرت ابراہيم (ع) نے ستاروں كى طرف كيوں ديكھا ،اس ديكھنے سے ان كا مقصد كيا تھا ؟ -
دوسرايہ كہ كيا واقعا وہ بيمار تھے كہ انھوں نے كہا ميں بيمارہوں ؟انھيں كيا بيمارى تھى ؟
پہلے سوال كا جواب بابل كے لوگوں كے اعتقادات اوررسوم وعادات كو ديكھتے ہوئے واضح وروشن ہے وہ علم بخوم ميں بہت ماہر تھے _يہاں تك كہ كہتے ہيں كہ ان كے بت بھى ستاروں كے ہيكلوں اور شكلوں ميں تھے اور اسى بناپر ان كا احترام كرتے تھے كہ وہ ستاروں كے سمبل تھے _
البتہ علم بخوم ميں مہارت كے ساتھ ساتھ بہت سى خرافات بھى ان كے يہاں پائي جاتى تھيں منجملہ يہ كہ وہ ستاروں كو اپنى تقدير ميں موثر جاتے تھے اور ان سے خيروبركت طلب كرتے تھے اور ان كى وضع وكيفيت سے آنے والے واقعات پر استدلال كرتے تھے ، ابراہيم نے اس غرض سے كہ انھيں مطمئن كرديں ، ان كى رسوم كے مطابق آسمان كے ستاروں پر ايك نظر ڈالى تاكہ وہ يہ تصور كريں كہ انھوں نے اپنى بيمارى كى پيشن گوئي ستاروں كے اوضاع كے مطالعے سے كى ہے اور وہ مطمئن ہوجائيں _
بعض بزرگ مفسرين نے يہ احتمال بھى ذكر كيا ہے كہ وہ چاہتے تھے كہ ستاروں كى حركت سے اپنى بيمارى كا وقت ٹھيك طورسے معلوم كرليں كيونكہ ايك قسم كى بيمارى انھيں تھى وہ يہ كہ بخار انھيں ايك خاص وقفہ كے ساتھ آتا تھا ليكن بابل كے لوگوں كے افكارونظريات كى طرف توجہ كرتے ہوئے پہلااحتمال زيادہ مناسب ہے _
بعض نے يہ احتمال بھى ذكركيا ہے كہ ان كا آسمان كى طرف ديكھنا درحقيقت اسرار آفرينش ميں مطالعہ كے لئے تھا اگر چہ وہ آپ كى نگاہ كو ايك منجم كى نگاہ سمجھ رہے تھے جو يہ چاہتا ہے كہ ستاروں كے اوضاع سے آئندہ كے واقعات كى پيش بينى كر ے_
دوسرے سوال كے مفسرين نے متعدد جواب ديئے ہيں ، منجملہ ان كے يہ ہے كہ وہ واقعا ًبيمار تھے ،اگرچہ وہ صحيح وسالم بھى ہوتے تب بھى جشن كے پروگرام ميں ہرگز شركت نہ كرتے ، ليكن ان كى بيمارى ان مراسم ميں شركت نہ كرنے اور بتوں كو توڑنے كے لئے ايك سنہرى موقع اور اچھا بہانہ بھى تھا، اور اس بات پر كوئي دليل نہيں ہے كہ ہم يہ كہيں كہ انھوں نے يہاں ''توريہ''كيا تھا ، كيونكہ انبياء كے لئے '' توريہ ''كرنا مناسب نہيں ہے
تم يہ بہترين اور شيرين غذا كيوں نہيں كھاتے
حضرت ابراہيم (ع) اكيلے شہرميں رہ گئے اوربت پرست شہرخالى كركے باہر چلے گئے حضرت ابراہيم نے اپنے ادھر ادھر ديكھا، شوق كى بجلى ان كى آنكھوں ميں چمكى ،وہ لمحات جن كا وہ ايك مدت سے انتظار كررہے تھے آن پہنچے ،انھوں نے اپنے آپ سے كہا، بتوں سے جنگ كے لئے اٹھ كھڑاہو اور ان كے پيكروں پر سخت ضرب لگا ايسى ضرب جو بت پرستوں كے سوئے دماغوں كو ہلاكر ركھ دے اور انھيں بيداركردے _
قرآن كہتاہے :''وہ ان كے خدائوں كے پاس آيا ،ايك نگاہ ان پر اور كھانے كے ان برتنوں پر جوان كے اطراف ميں موجودتھے ، ڈالى اور تمسخر كے طور پر كہا : تم يہ كھانے كھاتے كيوں نہيں '' ؟(۱)
يہ كھانے تو تمہارى عبادت كرنے والوں نے فراہم كيے ہيں _مرغن وشيرين ، طرح طرح كى رنگين غذائيں ہيں ، كھاتے كيوں نہيں ہو؟
اس كے بعد مزيد كہتا ہے :'' تمہيں كيا ہوگيا ہے ؟ تم بات كيوں نہيں كرتے ؟ تم گونگے كيوں بن گئے ہو ؟تمہارامنہ كيوں بندہے_''(۲)
اس طرح كے تمام بيہودہ اور گمراہ عقائد كامذاق اڑايا بلاشك وہ اچھى طرح جانتے تھے كہ وہ نہ كھانا كھاتے ہيں اور نہ ہى بات كرتے ہيں اور بے جان موجودات سے زيادہ حيثيت نہيں ركھتے ،ليكن حقيقت ميں وہ يہ چاہتے تھے كہ اپنى بت شكنى كے اقدام كى دليل اس عمدہ اور خوبصورت طريقہ سے پيش كريں _
پھر انھوں نے اپنى آستين چڑھالي، كلہاڑا ہاتھ ميں اٹھايا اور پورى طاقت كے ساتھ اسے گھمايا اور بھر پور ''توجہ كے ساتھ ايك زبردست ضرب ان كے پيكر پر لگائي ''_(۳)
بہرحال تھوڑى سى دير ميں وہ آباداور خوبصورت بت خانہ ايك وحشت ناك ويرانہ ہوگيا _تمام بت ٹوٹ پھوٹ گئے ہر ايك ہاتھ پائوں تڑوائے ہوئے ايك كونے ميں پڑاتھا اور سچ مچ بت پرستوں كے لئے ايك دلخراش ، افسوسناك اور غم انگيز منظر تھا _ ابراہيم اپنا كام كرچكے اور پورے اطمينان وسكون كے ساتھ بتكدہ سے باہر آئے اور اپنے گھر چلے گئے اب وہ اپنے آپ كو آئندہ كے حوادث كے لئے تيار كررہے تھے _
وہ جانتے تھے كہ انھوں نے شہرميں بلكہ پورے ملك بابل ميں ايك بہت بڑادھماكہ كيا ہے جس كى صدابعد ميں بلند ہوگى _غصہ اور غضب كا ايك ايسا طوفان اٹھے گا اور وہ اس طوفان ميں اكيلے ہوں گے _ليكن ان كا خدا موجود ہے اور وہى ان كے لئے كافى ہے _
____________________
(۱)سورہ صافات آيت۹۱
(۲)سورہ صافات آيت۹۲
(۳) سورہ صافات آيت ۹۳
جناب ابراہيم (ع) نمروديوں كى عدالت ميں
آخر وہ عيد كا دن ختم ہوگيا اور بت پرست خوشى مناتے ہوئے شہر كى طرف پلٹے اور سب بت خانے كى طرف گئے تاكہ بتوں سے اظہار عقيدت بھى كريں اور وہ كھانا بھى كھائيں كہ جو ان كے گمان كے مطابق بتوں كے پاس ركھے رہنے سے بابركت ہوگيا تھا جو نہى وہ بت خانے كے اندر پہنچے تو ايك ايسا منظر ديكھا كہ ان كہ ہوش اڑگئے آبادبت خانہ كے بجائے بتوں كا ايك ڈھيرتھا ان كے ہاتھ پائوں ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ ايك دوسرے پر گرے ہوئے تھے _'' وہ تو چيخنے چلانے لگے :''يہ بلا اور مصيبت ہمارے خدائوں كے سر پر كون لايا ہے ''؟ ''يقينا جو كوئي بھى تھا ، ظالموں ميں سے تھا ''_(۱)
اس نے ہمارے خدائوں پر بھى ظلم كيا ہے ، ہمارى قوم اور معاشرے پر بھى ،اور خود اپنے اوپر بھى كيونكہ اس نے اپنے اس عمل سے اپنے آپ كو ہلاكت ميں ڈال ديا ہے _
ليكن وہ لوگ جو بتوں كے بارے ميں ابراہيم كى دھمكيوں سے آگاہ تھے اور ان جعلى خدائوں كے بارے ميں ان كى اھانت آميز باتوں كو جانتے تھے ، كہنے لگے :''ہم نے سنا ہے ايك جوان بتوں كے بارے ميں باتيں كرتا تھا اور انہيں برابھلاكہتا تھا ، اس كا نام ابراہيم (ع) ہے_''(۲)
يہ ٹھيك ہے كہ بعض روايات كے مطابق حضرت ابرہيم (ع) اس وقت مكمل طور پر جوان تھے اور احتمال يہ ہے كہ ان كى عمر۱۶/ سال سے زيادہ نہيں تھى اور يہ بھى درست ہے كہ جوانمردى كى تمام خصوصيات ، شجاعت ، شہامت ، صراحت اور قاطعيت ان كے وجود ميں جمع تھيں ليكن اس طرح سے بات كرنے سے بت پرستوں كى مراد يقينا تحقير كے علاوہ كچھ نہيں تھى ، بجائے اس كے كہ يہ كہتے كہ ابراہيم(ع) نے يہ كام كيا ہے ،كہتے ہيں كہ ايك جوان ہے كہ جسے ابراہيم(ع) كہتے ہيں ، وہ اس طرح كہتا تھا يعنى ايك ايسا شخص كہ جو بالكل گمنام اور ان كى نظر ميں بے حيثيت ہے _
____________________
(۱)سورہ انبياء آيت۹ ۵
(۲)سورہ انبياء آيت ۶۰
اصولاً معمول يہ ہے كہ جب كسى جگہ كوئي جرم ہوجائے تو اس شخص كو تلاش كرنے كے لئے كہ جس سے وہ جرم سرزد ہوا ہو ان سے دشمنى ركھنے والوں كو تلاش كيا جاتاہے اور اس ماحول ميں ابراہيم (ع) كے سوا مسلماً كوئي شخص بتوں كے ساتھ دست وگريبان نہيں ہوسكتا تھا لہذا تمام افكار انہيں كى طرف متوجہ ہوگئے اور بعض نے كہا : '' اب جب كہ معاملہ اس طرح ہے تو جائو اور اس كو لوگوں كے سامنے پيش كرو تاكہ وہ لوگ كہ جو پہچانتے ہيں اور خبر ركھتے ہيں گواہى ديں ''_(۱)
منادى كرنے والوں نے شہر ميں ہر طرف يہ منادى كى كہ جو شخص بھى ابراہيم(ع) كى بتوں سے دشمنى اور ان كى بدگوئي كے بارے ميں آگاہ ہے ، حاضر ہوجائے، جلدہى جو آگاہ تھے وہ لوگ بھى اور تمام دوسرے لوگ بھى جمع ہوگئے تاكہ ديكھيں كہ اس ملزم كا انجام كيا ہوتا ہے _
ايك عجيب وغريب شور وغل لوگوں ميں پڑا ہوا تھا ،چونكہ ان كے عقيدے كے مطابق ايك ايسا جرم جو پہلے كبھى نہ ہوا تھا جس نے ان كے دينى ماحول ميں ايك دھماكہ كر ديا تھا _
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى دندان شكن دليل
آخركار عدالت لگى اور بازپرس ہوئي زعمائے قوم وہاں جمع ہوئے بعض كہتے ہيں كہ خود نمردو اس عمل كى نگرانى كررہاتھا _
پہلا سوال جو انہوں نے ابراہيم سے كيا وہ يہ تھا :'' اے ابراہيم :كيا تونے ہى ہمارے خدائوں كے ساتھ يہ كام كيا ہے_ ''(۲) وہ اس بات تك كے لئے تيار نہيں تھے كہ يہ كہيں كہ تونے ہمارے خدائوں كو توڑا ہے اور ان كے ٹكڑے ٹكڑے كرديئے ہيں ، بلكہ صرف يہ كہا كيا تونے ہمارے خدائوں كے ساتھ يہ كام كيا ہے ؟
ابراہيم(ع) نے ايسا جواب ديا كہ وہ خود گھرگئے اور ايسے گھرے كہ نكلنا ان كے بس ميں نہ تھا '' ابراہيم(ع) نے كہا : يہ كام اس بڑے بت نے كيا ہے ،ان سے پوچھو اگر يہ بات كرتے ہوں _''(۳)
____________________
(۱)سورہ انبياء آيت ۶۱
(۲)سورہ انبيائ(ع) آيت ۶۲
(۳) سورہ انبياء آيت ۶۳
جرائم كى تفتيش كے اصول يہ ہيں ، كہ جس كے پاس آثار جرم ملے، وہ ملزم ہے (مشہور روايت كے مطابق حضرت ابراہيم(ع) نے وہ كلہاڑا بڑے بت كى گردن ميں ڈال ديا تھا )_
اصلاً ،تم ميرے پيچھے كيوں پڑگئے ہو؟ تم اپنے بڑے خدا كو ملزم قرار كيوں نہيں ديتے ؟ كيا يہ احتمال نہيں ہے كہ وہ چھوٹے خدائوں پر غضبناك ہوگيا ہو يا اس نے انہيں اپنا آيندہ كا رقيب فرض كرتے ہوئے ان سب كا حساب ايك ہى ساتھ پاك كرديا ہو؟
ابراہيم (ع) نے قطعى طورپر اس عمل كو بڑے بت كى طرف منسوب كيا ، ليكن تمام قرائن اس بات كى گواہى دے رہے تھے كہ وہ اس بات سے كوئي پختہ اور مستقل قصد نہيں ركھتے تھے،بلكہ وہ اس سے يہ چاہتے تھے كہ بت پرستوں كے مسلمہ عقائد كو، جو كہ خرافاتى اور بے بنيادتھے، ان كے منہ پر دے ماريں اور ان كا مذاق اڑائيں اور انہيں يہ سمجھائيں كہ يہ بے جان پتھراور لكڑياں اس قدر حقير ہيں كہ ايك جملہ تك بھى منہ سے نہيں نكال سكتيں ، كہ اپنى عبادت كرنے والوں سے مدد طلب كرليں ،چہ جائيكہ وہ يہ چاہيں كہ ان كى مشكلات كوحل كرديں _
اس تعبير كے نظير ہمارے روز مرہ كے محاورات ميں بہت زيادہ ہے كہ مد مقابل كى بات كو باطل كرنے كے لئے اس كے مسلمات كوامر يا خبريا استفہام كى صورت ميں اس كے سامنے ركھتے ہيں تاكہ وہ مغلوب ہوجائے اور يہ بات كسى طرح بھى جھوٹ نہيں ہوتي'' جھوٹ وہ ہوتا ہے كہ جس كے ساتھ كوئي قرينہ نہ ہو ''_
اس روايت ميں كہ جو كتاب كافى ميں امام صادق عليہ ا لسلام سے نقل ہوئي ہے ،يہ بيان ہوا ہے كہ : ''ابراہيم عليہ السلام نے يہ بات اس لئے كہى كہ وہ ان كے افكار كى اصلاح كرنا چاہتے تھے_اور انہيں سمجھانا چاہتے تھے كہ ايسے كام بتوں سے نہيں ہو سكتے_''
اس كے بعد امام عليہ السلام نے مزيد فرمايا:
''خدا كى قسم يہ كام بتوں نے نہيں كيا تھا اور ابراہيم عليہ السلام نے جھوٹ بھى نہيں بولا_''
زودگذربيداري
ابراہيم (ع) كى باتوں نے بت پرستوں كو ہلاكرركھ ديا ، ان كے سوئے ہوئے وجدان كو بيداركيا اور اس طوفان كى مانند كہ جو آگ كى چنگاريوں كے اوپر پڑى ہوئي بہت سى راكھ كو ہٹا ديتاہے اور اس كى چمك كو آشكار كرديتا ہے ،ان كى فطرت توحيدى كو تعصب ،جہالت اور غرور كے پردوں كے پيچھے سے آشكار وظاہر كرديا_ زود گزرلمحے ميں وہ موت كى سى ايك گہرى نيند سے بيدار ہوگئے جيسا كہ قرآن كہتا ہے : '' وہ اپنے وجدان اور فطرت كى طرف پلٹے اور خود اپنے آپ سے كہنے لگے كہ حق بات يہ ہے كہ ظالم تو تم خود ہى ہو_''(۱)
تم نے تو خود اپنے اوپر بھى ظلم وستم كيا ہے اور اس معاشرے كے اوپر بھى كہ جس كے ساتھ تمہارا تعلق ہے اور نعمتوں كے بخشنے والے پروردگار كى ساحت مقدس ميں بھى _يہ بات قابل توجہ ہے كہ گزشتہ صفحات ميں يہ بيان ہوا ہے كہ انہوں نے ابراہيم پر ظالم ہونے كا اتہام لگايا تھا ليكن اب انہيں يہاں معلوم ہوگيا كہ اصلى اورحقيقى ظالم تو وہ خود ہيں _
اور واقعا ًابراہيم(ع) كا اصل مقصد بتوں كے توڑنے سے يہى تھا _ مقصد تو بت پرستى كى فكر اور بت پرستى كى روح كو توڑنا تھا ورنہ بتوں كے توڑنے كا تو كوئي فائدہ نہيں ہے، ہٹ دھرم بت پرست ان سے زيادہ اور ان سے بھى بڑے اور بناليتے اور ان كى جگہ پر ركھديتے جيسا كہ نادان ،جاہل اور متعصب اقوام كى تاريخ ميں اس مسئلے كے بے شمار نمونے موجودہيں _ابراہيم(ع) اس حدتك كامياب ہوئے كہ انہوں نے اپنى تبليغ كے ايك بہت ہى حساس اور ظريف مرحلہ كو ايك نفسياتى طوفان پيدا كركے طے كرليا اور وہ تھا سوئے ہوئے وجدانوں كو بيداركرنا _
بت تو بولتے ہى نہيں
ليكن افسوس : كہ جہالت وتعصب اور اندھى تقليد كا زنگ اس سے كہيں زيادہ تھا كہ وہ توحيدكے اس
____________________
(۱) سورہ انبياء آيت ۶۴
علمبرداركى صيقل بخش پكار سے كلى طورپر دور ہوجاتاہے _
افسوس كہ يہ روحانى اور مقدس بيدارى زيادہ دير تك نہ رہ سكى اور ان كے آلودہ اور تاريك ضمير ميں ، جہالت اور شيطانى قوتوں كى طرف سے اس نور توحيد كے خلاف قيام عمل ميں آگيا اور ہر چيز اپنى پہلى جگہ پر پلٹ آئي قرآن كتنى لطيف تعبير پيش كررہا ہے : '' اس كے بعد وہ اپنے سركے بل الٹے ہوگئے_''(۱)
اور اس غرض سے كہ اپنے گونگے اور بے زبان خدائوں كى طرف سے كوئي عذرپيش كريں ، انہوں نے كہا : '' تو تو جانتاہے كہ يہ باتيں نہيں كرتے_''(۲)
يہ توہميشہ چپ رہتے ہيں اور خاموشى كے رعب كو نہيں توڑتے _
اور اس تراشے ہوئے عذر كے ساتھ انہوں نے يہ چاہا كہ بتوں كى كمزورى ، بدحالى اور ذلت كو چھپائيں _
يہ وہ مقام تھا كہ جہاں ابراہيم جيسے ہيرو كے سامنے منطقى استدلال كے لئے ميدان كھل گيا تاكہ ان پر بھر پورحملے كريں اور ان كے ذہنوں كو ايسى سرزنش اور ملامت كريں كہ جو منطقى اور بيدار كرنے والى ہو '' (ابراہيم نے ) پكار كركہا: كيا تم خداكو چھوڑكر دوسرے معبودوں كى پرستش كرتے ہو كہ جونہ تمہيں كچھ فائدہ پہنچاتے ہيں اور نہ ضرر ''(۳)
يہ خيالى خدا كہ جو نہ بات كرنے كى قدرت ركھتے ہيں ،نہ شعورو ادراك ركھتے ہيں ،نہ خود اپنا دفاع كرسكتے ہيں ، نہ بندوں كو اپنى حمايت كے لئے بلاسكتے ہيں ،اصلا ًان سے كو نساكام ہوسكتا ہے اور يہ كس درد كى دوا ہيں ؟ ايك معبود كى پرستش يا تو اس بناء پرہوتى ہے كہ وہ عبوديت كے لائق ہے تو يہ بات بتوں كے بارے ميں كوئي مفہوم نہيں ركھتى ،يا كسى فائدہ كى اميدميں ہوتى ہے اور يا ان سے كسى نقصان كے خوف سے ، ليكن بتوں كے توڑنے كے ميرے اقدام نے بتاديا كہ يہ كچھ بھى نہيں كرسكتے تو كيا اس حال ميں تمہارا يہ كام احمقانہ نہيں ہے ؟
____________________
(۱)سورہ انبياء آيت ۶۵
(۲) سورہ انبياء آيت ۶۵
(۳)سورہ انبياء آيت۶۶
پھر يہ معلم توحيدبات كو اس سے بھى بالاترلے گيااور سرزنش كے تازيانے ان كى بے درد روح پر لگائے اور كہا : تف ہے تم پر بھى اور تمہارے ان خدائوں پر بھى كہ جنہيں تم نے خدا كوچھوڑكر اپنا ركھاہے _''
''كيا تم كچھ سوچتے نہيں ہو اور تمہارے سرميں عقل نہيں ہے _''(۱)
ليكن انہيں برابھلاكہنے اور اور سرزنش كرنے ميں نرمى اور ملاء مت كو بھى نہيں چھوڑا كہ كہيں اور زيادہ ہٹ دھرمى نہ كرنے لگيں درحقيقت ابراہيم نے بہت ہى جچے تلے انداز ميں اپنا منصوبہ آگے بڑھايا پہلى مرتبہ انہيں توحيد كى طرف دعوت ديتے ہوئے انہيں پكار كركہا : يہ بے روح مجسمے كيا ہيں ؟ كہ جن كى تم پرستش كرتے ہو؟ اگر تم يہ كہتے ہو كہ يہ تمہارے بڑوں كى سنت ہے تو تم بھى گمراہ ہو اور وہ بھى گمراہ تھے _
دوسرے مرحلے ميں ايك عملى اقدام كيا تاكہ يہ بات واضح كرديں كہ يہ بت اس قسم كى كوئي قدرت نہيں ركھتے كہ جو شخص ان كى طرف ٹيڑھى نگاہ سے ديكھے تو اس كو نابود كرديں ، خصوصيت كے ساتھ پہلے سے خبردار كركے بتوں كى طرف گئے اور انہيں بالكل درہم وبرہم كرديا تاكہ يہ بات واضح كريں كہ وہ خيالات وتصورات جو انہوں نے باندھے ہوئے ہيں سب كے سب فضول اور بے ہودہ ہيں _
تيسرے مرحلے ميں اس تاريخى عدالت ميں انہيں برى طرح پھنسا كے ركھ ديا كبھى ان كى فطرت كو ابھارا، كبھى ان كى عقل كو جھنجھوڑا، كبھى پندو نصيحت كى اور كبھى سرزنش وملامت _
خلاصہ يہ كہ اس عظيم خدائي معلم نے ہر ممكن راستہ اختيار كيا اور جو كچھ اس كے بس ميں تھا اسے بروئے كار لايا ليكن تاثيركے لئے ظرف ميں قابليت كا ہونا بھى مسلمہ شرط ہے _ افسوس يہ اس قوم ميں موجود نہيں تھي_
ليكن بلاشبہ ابراہيم كى باتيں اور كام ، توحيدكے بارے ميں كم از كم استفہامى علامات كى صورت ميں ان كے ذہنوں ميں باقى رہ گئے اور يہ آيندہ كى وسيع بيدارى اور آگاہى كے لئے ايك مقدمہ اور تمہيد بن گئے _
____________________
(۱)سورہ انبياء آيت ۶۷
تاريخ كے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے كہ ان ميں سے كچھ افراد اگرچہ وہ تعداد ميں بہت كم تھے ، ليكن قدر وقيمت كے لحاظ سے بہت تھے ،ان پر ايمان لے آئے تھے اور نسبتاًكچھ آمادگى كا سامان دوسروں كے لئے بھى پيدا ہوگيا تھا _
ابراہيم (ع) كو جلا ديا جائے
اگرچہ ابراہيم(ع) كے عملى ومنطقى استدلالات كے ذريعے سب كے سب بت پرست مغلوب ہوگئے تھے اور انہوں نے اپنے دل ميں اس شكست كا اعتراف بھى كرليا تھا _
ليكن تعصب اور شديد ہٹ دھرمى حق كو قبول كرنے ميں ركاوٹ بن گئي لہذا اس ميں كوئي تعجب كى بات نہيں ہے كہ انہوں نے ابراہيم كے بارے ميں بہت ہى سخت اور خطرناك قسم كا ارادہ كرليا اور وہ لوگ ابراہيم(ع) كو بدترين صورت ميں قتل كرنا چاہتے تھے انہوں نے پروگرام بنايا كہ انہيں جلاكر راكھ كرديا جائے _
عام طور پر طاقت اور منطق كے درميا ن معكوسى رابطہ ہوتا ہے ، جس قدر انسان ميں طاقت اور قدرت زيادہ ہوتى جاتى ہے ، اتنى ہى اس كى منطق كمزور ہوتى جاتى ہے سوائے مردان حق كے كہ وہ جتنا زيادہ قوى اور طاقتور ہوتے ہيں ، اتناہى زيادہ متواضع اور منطقى ہوجاتے ہيں _
جو لوگ طاقت كى زبان سے بات كرتے ہيں جب وہ منطق كے ذريعے كسى نتيجے پر نہ پہنچ سكيں تو فورا ًاپنى طاقت وقدرت كا سہارالے ليتے ہيں حضرت ابراہيم كے بارے ميں ٹھيك يہى طرز عمل اختيار كيا گيا جيسا كہ قرآن كہتا ہے :
'' ان لوگوں نے (چيخ كر)كہا: اسے جلادواور اپنے خدائوں كى مدد كرو ، اگر تم سے كوئي كام ہوسكتا ہے_''(۱)
طاقتور صاحبان اقتداربے خبر عوام كو مشتعل كرنے كے لئے عام طور پر ان كى نفسياتى كمزوريوں سے
____________________
(۱) سورہ انبياء آيت ۶۸
فائدہ اٹھاتے ہيں كيونكہ وہ نفسيات كو پہچانتے ہيں اور اپنا كام كرنا خوب جانتے ہيں _
جيساكہ انہوں نے اس قصہ ميں كيا اور ايسے نعرے لگائے اور ان كى غيرت كو للكارا: يہ تمہارے خدا ہيں ، تمہارے مقدسات خطرے ميں پڑگئے ہيں ، تمہارے بزرگوں كى سنت كو پائوں تلے روند ڈالاگيا ہے ، تمہارى غيرت وحميت كہاں چلى گئي ؟ تم اس قدرضعيف حال كيوں ہوگئے ہو؟ اپنے خدائوں كى مدد كيوں نہيں كرتے ؟ابراہيم كو جلادو اور اپنے خدائوں كى مدد كرو، اگر كچھ كام تم سے ہوسكتا ہے اور بدن ميں توانائي اورجان ہے ،ديكھو: سب لوگ اپنے مقدسات كا دفاع كرتے ہيں ، تمہارا تو سب كچھ خطرے ميں پڑگيا ہے_
خلاصہ يہ كہ انہوں نے اس قسم كى بہت سى فضول اور مہمل باتيں كيں اور لوگوں كو ابراہيم كے خلاف بھڑكايا اس طرح سے كہ لكڑيوں كے چند گٹھوں كى بجائے كہ جو كئي افرادكے جلانے كے لئے كافى ہوتے ہيں ، لكڑيوں كے ہزارہا گٹھے ايك دوسرے پر ركھ كر لكڑيوں كا ايك پہاڑ بناديا اور اس كے بعد آگ كا ايك طوفان اٹھ كھڑاہوا تاكہ اس عمل كے ذريعہ سے اپنا انتقام بھى اچھى طرح سے لے سكيں اور بتوں كا وہ خيالى رعب ودبدبہ اور عظمت بھي، جس كو ابراہيم (ع) كے طرز عمل سے سخت نقصان پہنچاتھا، كسى حدتك بحال ہوسكے _
تاريخ دانوں نے اس مقام پر بہت سے مطالب تحرير كيے ہيں كہ جن ميں سے كوئي بھى بعيدنظر نہيں آتا _
فرشتوں كى فرياد
سب لوگ چاليس دن تك لكڑياں جمع كرنے ميں لگے رہے اور ہر طرف سے بہت سى خشك لكڑياں لالا كر جمع كرتے رہے اور نوبت يہاں تك پہنچ گئي تھى كہ وہ عورتيں تك بھى كہ جن كاكام گھر ميں بيٹھ كر چرخا كاتنا تھا، وہ اس كى آمدنى سے لكڑيوں كا گٹھالے كر اس ميں ڈلواتى تھيں اور وہ لوگ كہ جو قريب مرگ ہوتے تھے ، اپنے مال ميں سے لكڑياں خريد نے كى وصيت كرتے تھے اور حاجت منداپنى حاجتوں كے پورے ہونے كے لئے يہ منت مانتے تھے كہ اگران كى حاجت پورى ہوگئي ، تو اتنى مقدار لكڑيوں كا اضافہ كريں گے _
يہى وجہ تھى كہ جب ان لكڑيوں ميں مختلف اطراف سے آگ لگائي گئي تو اس كے شعلے اتنے بلند
ہوگئے تھے كہ پرندے اس علاقے سے نہيں گزر سكتے تھے _
يہ بات واضح ہے كہ اس قسم كى آگ كے تو قريب بھى نہيں جايا جاسكتا چہ جائيكہ ابراہيم عليہ السلام كو لے جاكر اس ميں پھينكيں مجبوراً منجنيق سے كام ليا گيا حضرت ابراہيم كو اس كے اندار بٹھاكر بڑى تيزى كے ساتھ آگ كے اس دريا ميں پھينك ديا گيا _
ان روايات ميں كہ جو شيعہ اور سنى فرقوں كى طرف سے نقل ہوئي ہيں ، يہ بيان ہواہے كہ:
''جس وقت حضرت ابراہيم(ع) كو منجنيق كے اوپر بٹھايا گيا اور انہيں آگ ميں پھينكاجانے لگا تو آسمان، زمين اور فرشتوں نے فرياد بلند كى اور بارگاہ خداوندى ميں درخواست كى كہ توحيد كے اس علمبرداراور حريت پسندوں كے ليڈركوبچالے _''
اس وقت جبرئيل، حضرت ابراہيم كے پاس آئے اور ان سے كہا :
كيا تمہارى كوئي حاجت ہے كہ ميں تمہارى مدد كروں ؟
ابراہيم عليہ السلام نے مختصر سا جواب ديا : تجھ سے حاجت ؟نہيں ، نہيں ،(ميں تو اسى ذات سے حاجت ركھتا ہوں كہ جو سب سے بے نياز اور سب پر مہربان ہے )
تواس موقع پر جبرئيل نے كہا : تو پھر تم اپنى حاجت خداسے طلب كرو _
انہوں نے جواب ميں كہا : ''ميرے لئے يہى كافى ہے كہ وہ ميرى حالت سے آگاہ ہے ''_
ايك حديث ميں امام باقر عليہ السلام سے نقل ہوا ہے كہ اس موقع پر حضرت ابراہيم نے خداسے اس طرح رازونياز كيا:
''يااحد يا احد ياصمد يا صمد يا من لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفواًاحد توكلت على اللّه _''
اے اكيلے: اے اكيلے اے بے نياز اے بے نياز اے وہ كہ جس نے كسى كو نہيں جنا اور نہ جو جنا گيا اور جس كا كوئي ہم پلہ نہيں : ميں اللہ پر ہى بھرسہ ركھتا ہوں _
آگ گلزار ہوگئي
بہرحال لوگوں كے شوروغل ہو اور جوش وخروش كے اس عالم ميں حضرت ابراہيم(ع) آگ كے شعلوں كے اندر پھينك ديئے گئے لوگوں نے خوشى سے اس طرح لغرے لگائے گويا بتوں كو توڑنے والا ہميشہ كے لئے نابود اور خاكستر ہوگيا _
ليكن وہ خدا كہ جس كے فرمان كے سامنے تمام چيزيں سرخم كيے ہوئے ہيں _ جلانے كى صلاحيت اسى نے آگ ميں ركھى ہے اور مائوں كے دل ميں محبت بھى اسى نے ڈالى ہے اس نے ارادہ كرليا كہ يہ خالص بندئہ مومن آگ كے اس دريا ميں صحيح وسالم رہے تاكہ اس كے افتخاراور اعزاز كى سندوں ميں ايك اور سند كا اضافہ ہوجائے _
جيسا كہ قرآن اس مقام پر كہتا ہے :''ہم نے آگ سے كہا :اے آگ : ابراہيم پر سلامتى كے ساتھ ٹھنڈى ہوجا_''(۱)
مشہور يہ كہ آگ اس قدر ٹھنڈى ہوگئي كہ ابراہيم كے دانت ٹھنڈك كى شدت سے بجنے لگے اور بعض مفسرين كے قول كے مطابق تو اگر''سلاماً'' كى تعبير ساتھ نہ ہوتى تو آگ اس قدر سرد ہوجاتى كہ ابراہيم كى جان سردى سے خطرے ميں پڑجاتى _ مشہور روايت ميں يہ بھى بيان ہوا ہے كہ نمرود كى آگ خوبصورت گلستان ميں تبديل ہوگئي _يہاں تك كہ بعض نے تو كہا ہے كہ جس دن ابراہيم آگ ميں رہے ، ان كى زندگى كے دنوں ميں سب سے بہترين راحت وآرام كا دن تھا ؟(۲)
____________________
(۱)سورہ انبياء آيت ۶۹
(۲) آگ نے حضرت ابراہيم كو كيوں نہ جلايا ؟، مفسيرين كے درميان بہت اختلاف ہے ليكن اجمالاً بات يہ ہے كہ بينش توحيد ى كو مد نظر ركھتے ہوئے كسى سبب سے بھى خدا كے حكم كے بغير كوئي كام نہيں ہوسكتا ايك دن وہ ابراہيم كے ہاتھ ميں موجود چھرى سے كہتا ہے: نہ كاٹ اور دوسرے دن آگ سے كہتا : نہ جلا اور ايك دن پانى كوجو سبب حيات ہے حكم ديتا ہے كہ فرعون اور فرعونيوں كو غرق كردے
يہ بات كہنے كى ضرورت نہيں ہے كہ ابراہيم كے آگ ميں صحيح وسالم رہ جانے سے صورت حال بالكل بدل گئي خوشى اورمسرت كا شور وغل ختم ہوگيا، تعجب سے منہ كھلے كے كھلے رہ گئے كچھ لوگ ايك دوسرے كے كان ميں رونماہونے والى اس عجيب چيزكے بارے ميں باتيں كررہے تھے ابراہيم (ع) اور اس كے خدا كى عظمت كا ورد زبانوں پر جارى ہوگيا نمرود كا اقتدار خطرے ميں پڑگيا ليكن پھر بھى تعصب اور ہٹ دھرمى حق كو قبول كرنے ميں پورى طرح حائل ہوگئي اگرچہ كچھ بيداردل اس واقعہ سے بہرہ ور بھى ہوئے اور ابراہيم كے خدا كے بارے ميں ان كے ايمان ميں زيادتى اور اضافہ ہوا ، مگريہ لوگ اقليت ميں تھے _
بہادرنوجوان
حضرت ابراہيم كو جب آگ ميں ڈالاگيا تو ان كى عمر سولہ سال سے زيادہ نہيں تھى اوربعض نے اس وقت ان كا سن ۲۶ سال كا ذكر كيا ہے _
بہرحال وہ جوانى كى عمر ميں تھے اور باوجود اس كے كہ ظاہرى طور پر ان كا كوئي ياردمددگار نہيں تھا، اپنے زمانے كے اس عظيم طاغوت كے ساتھ پنجہ آزمائي كى كہ جو دوسرے طاغوتوں كا سرپرست تھا، آپ تن تنہا جہالت ، خرافات اور شرك كے خلاف جنگ كرنے كے لئے نكل كھڑے ہوئے اور ماحول كے تمام خيالى مقدسات كا مذاق اڑايا اور لوگوں كے غصے اور انتقام سے ذرا بھى نہ گھبرائے كيونكہ ان كا دل عشق خدا سے معمور تھا اور ان كا اس پاك ذات پر ہى توكل اور بھروسہ تھا _
ہاں : ايمان ايسى ہى چيز ہے كہ يہ جہاں پيدا ہوجاتاہے وہاں جرا ت وشجاعت پيدا كرديتا ہے اور جس ميں يہ موجود ہو، اسے شكت نہيں ہوسكتى _
ابراہيم عليہ السلام اور نمرود
حضرت ابراہيم(ع) كو جب آگ ميں ڈالا گيا، نمرود كو يقين ہوگياتھا كہ ابراہيم مٹى بھر خاك ميں تبديل ہوگئے ہيں ليكن جب اس نے غور سے ديكھا تو معلوم ہوا كہ وہ زندہ ہيں تو اپنے ارد گرد بيٹھے ہوئے لوگوں سے
كہنے لگا مجھے تو ابراہيم زندہ دكھائي دے رہا ہے شايد مجھے اشتباہ ہورہا ہے وہ ايك بلند مقام پر چڑھ گيا اور خوب غور سے ديكھا تو اسے معلوم ہوا كہ معاملہ تو اسى طرح ہے _
نمرودنے پكار كركہا : اے ابراہيم(ع) : واقعاً تيرا خدا عظيم ہے اور اس قدر قدرت ركھتا ہے كہ اس نے تيرے اور آگ كے درميان ايك ركاوٹ پيدا كردى اب جبكہ يہ بات ہے تو ميں چاہتاہوں كہ اس كى قدرت اور عظمت كى وجہ سے اس كے لئے قربانى كروں (اور اس نے چار ہزار قربانياں اس مقصد كے لئے تياركيں ) ليكن ابراہيم نے اس سے كہا : تجھ سے كسى قسم كى قربانى او ر كارخير قبول نہيں كيا جائے گا مگر يہ كہ توپہلے ايمان لے آئے _
نمرودنے جواب ميں كہا :'' اس صورت ميں تو ميرى حكومت ختم ہوجائے گى اور ميں يہ بات گوارا نہيں كرسكتا _''
بہرحال يہى حادثات اس بات كا سبب بن گئے كہ كچھ آگاہ اور بيدار دل لوگ ابراہيم كے خدا پر ايمان لے آئے يا ان كے ايمان ميں اضافہ ہوگيا (اور شايد يہى واقعہ اس بات كا سبب بناكہ نمرود ابراہيم كے مقابلہ ميں كسى سخت رد عمل كا اظہار نہ كرے اور صرف ان كو سرزمين بابل سے جلاوطن كرنے پر قناعت كرے _)
نمرود سے گفتگو
سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ حضرت ابراہيم(ع) كے مد مقابل اس اجتماع ميں كون تھا اور كون آپ(ع) سے حجت بازى كررہا تھا؟
اس كا جواب يہ ہے كہ قرآن ميں اس كے نام كى صراحت نہيں ہے ليكن فرمايا گيا ہے:
اس غرور و تكبر كے باعث جو اس ميں نشہ حكومت كى وجہ سے پيدا ہوچكا تھا وہ ابراہيم(ع) سے حجت بازى كرنے لگا_
ليكن حضرت على عليہ السلام سے منقول درمنثور كى ايك حديث ميں اور اسى طرح تواريخ ميں اس كا نام ''نمرود بن كنعان''بيان كيا گيا ہے_
يہاں پر اس مباحثے كا وقت نہيں بتايا گيا_ليكن قرائن سے اندازا ہوتا ہے كہ يہ واقعہ حضرت ابراہيم(ع) كى بت شكنى اور آگ كى بھٹى سے نجات كے بعد كا ہے كيونكہ يہ مسلم ہے كہ آگ ميں ڈالے جانے سے قبل اس گفتگو كا سوال ہى پيدا نہيں ہوتا تھا،اور اصولى طور پر بت پرست آپ كو ايسے مباحثے كا حق نہ دے سكتے تھے وہ حضرت ابراہيم(ع) كو ايك ايسا مجرم اور گنہ گار سمجھتے تھے جسے ضرورى تھا كہ جتنى جلدى ہوسكے اپنے اعمال اور خدايان مقدس كے خلاف قيام كى سزا ملے_وہ تو انہوں نے بت شكنى كے اقدام كا صرف سبب پوچھا تھا اور اس كے بعد انتہائي غصے اور سختى سے انہيں آگ ميں جلانے كا حكم صادر ہوا تھا ليكن جب آپ(ع) حيرت انگيز طريقے سے آگ سے نجات پاگئے تو پھر اصطلاحى الفاظ ميں ''نمرود كے حضور رسائي ہوئي''اور پھر بحث و مباحثے كے ليے بيٹھ سكے_
بہر حال نمرود اپنى حكومت كى وجہ سے بادہ غرور سے سرمست تھا لہذا حضرت ابراہيم(ع) سے پوچھنے لگا تيرا خدا كون ہے_ حضرت ابراہيم(ع) نے كہا: ''وہى جو زندہ كرتا اور مارتا ہے''،حقيقت ميں آپ(ع) نے عظيم ترين شاہكار قدرت كو دليل كے طور پر پيش كيا_ مبداء جہان ہستى كے علم و قدرت كى واضح نشانى يہى قانون موت وحيات ہے ليكن اس نے مكر و فريب كى راہ اختيار كى اور مغالطہ پيدا كرنے كى كوشش كرنے لگا_ لوگوں اور اپنے حمايتيوں كو غافل ركھنے لے لئے كہا وہ تو ميں زندہ كرتا اور مارتا ہوں اور موت و حيات كا قانون ميرے ہاتھ ميں ہے_
قرآن ميں اس كے جملے كے بعد واضح نہيں ہے كہ اس نے اپنے پيدا كئے گئے مغالطے كى تائيد كے لئے كس طرح عملى اقدام كيا ليكن احاديث و تواريخ ميں آيا ہے كہ اس نے فوراًدو قيديوں كو حاضر كرنے كا حكم ديا_قيدى لائے گئے تو اس نے فرمان جارى كيا كہ ايك كو آزاد كردو اور دوسرے كو قتل كردو_ پھر كہنے لگا:تم نے ديكھا كہ موت و حيات كس طرح ميرے قبضے ميں ہے_
يہ امر قابل توجہ ہے كہ حضرت ابراہيم(ع) كى موت و حيات سے متعلق دليل ہر لحاظ سے قوى تھى ليكن دشمن شادہ لوح لوگوں كو جھل دے سكتا تھا لہذا حضرت ابراہيم عليہ السلام نے دوسرا استدلال پيش فرمايا كہ خدا
آفتاب كو افق مشرق سے نكالتا ہے اگر جہاں ہستى كى حكومت تيرے ہاتھ ميں ہے تو تو اسے مغرب سے نكال كر دكھا_
يہاں دشمن خاموش،مبہوت اور عاجز ہوگيا_ اس ميں سكت نہ رہى كہ اس زندہ منطق كے بارے ميں كوئي بات كرسكے_ ايسے ہٹ دھرم دشمنوں كو لاجواب كرنے كايہ بہترين طريقہ ہے_
يہ مسلم ہے كہ موت و حيات كا مسئلہ كئي جہات سے آسمان اور گردش شمس و قمرى كى نسبت پروردگار عالم كے علم و قدرت پر زيادہ گواہى ديتاہے_ اسى بنا_ پر حضرت ابراہيم(ع) نے پہلے وہى مسئلہ پيش كيا اور يہ فطرى امر ہے كہ اگر صاحب فكر اور روشن ضمير افراد اس مجلس ميں ہوں گے تو وہ اسى دليل سے مطمئن ہوگئے ہوں گے كيونكہ ہر شخص اچھى طرح جانتا ہے كہ ايك قيدى كو آزاد كرنا اور دوسرے كو قتل كردينا يہ طبيعى اور حقيقى موت و حيات سے بالكل ربط نہيں ركھتا، ليكن جو لوگ كم عقل تھے اور اس دور كے ظالم حكمران كے پيدا كردہ مغالطے سے متا ثر ہوسكتے تھے ان كى فكر راہ حق سے منحرف ہوسكتى تھى لہذا آپ(ع) نے دوسرا استدلال پيش كيا اور سورج كے طلوع و غروب كا مسئلہ پيش كيا تا كہ حق ہر دو طرح كے افراد كے سامنے واضح ہوجائے_
اس بات كى توجہ كرنا مناسب ہے كہ قرآنى گفتگو سے يہ بات اچھى واضح ہوتى ہے كہ وہ ظالم اپنے بارے ميں الوہيت كا مدعى تھا، يہى نہيں كہ وہ اپنى پرستش كرواتا تھابلكہ اپنے آپ كو عالم ہستى كا پيدا كرنے والابھى بتاتا تھا، يعنى اپنے آپ كو ''معبود'' بھى سمجھتا تھا اور ''خالق'' بھي_
بت پرستوں كى سرزمين سے ابراہيم كى ہجرت
ابراہيم(ع) كے آگ ميں ڈالے جانے كے واقعہ اور اس خطرناك مرحلہ سے ان كى معجزانہ نجات نے نمرودكے اركان حكومت كو لرزہ براندام كرديا،نمرود تو بالكل حواس باختہ ہوگيا كيونكہ اب وہ ابراہيم كو ايك فتنہ كھڑا كرنے والا اور نفاق ڈالنے والا جوان نہيں كہہ سكتا تھا كيونكہ ابراہيم اب ايك خدائي رہبر اور بہادر رہبر كى حيثيت سے پہچانا جاتاتھا اس نے ديكھاكہ ابراہيم اس كے تمام ترطاقت ووسائل كے باوجود اس كے خلاف جنگ كى ہمت ركھتا ہے اس نے سوچا كہ اگر ابراہيم ان حالات ميں اس شہراور اس ملك ميں رہا تو اپنى باتوں
،قوى منطق اور بے نظير شجاعت كے ساتھ ،مسلمہ طور پر اس جابر، خود سراور خود غرض حكومت كےلئے ايك خطرے كا مركز بن سكتا ہے لہذا اس نے فيصلہ كيا كہ ابراہيم كو ہر حالت ميں اس سرزمين سے چلا جانا چاہئے_
دوسرى طرف ابرہيم حقيقت ميں اپنى رسالت كا كام اس سرزمين ميں انجام دے چكے تھے وہ حكومت كى بنيادوں پر يكے بعد ديگرے چكنا چوركرنے والى ضربيں لگا چكے تھے اس سرزمين ميں ايمان وآگاہى كا بيج بوچكے تھے اب صرف ايك مدت كى ضرورت تھى كہ جس سے يہ بيج آہستہ آہستہ بار آور ہواور بت پرستى كى بساط الٹ جائے _
اب ان كے لئے بھى مفيد يہى تھا كہ يہاں سے كسى دوسرى سرزمين كى طرف چلے جائيں اور اپنى رسالت كے كام كو وہاں بھى عملى شكل ديں لہذا انہوں نے يہ ارادہ كرليا كہ لوط (جو آپ كے بھتيجے تھے )اور اپنى بيوى سارہ اور احتمالاً مومنين كے ايك چھوٹے سے گروہ كو ساتھ لے كر اس سرزمين سے شام كى طرف ہجرت كرجائيں _
جيسا كہ قرآن كہتا ہے : ہم نے ابراہيم اور لوط كو ايسى سرزمين كى طرف نجات دى كہ جسے ہم نے سارے جہان والوں كے لئے بركتوں والا بنايا تھا_''(۱)
اگرچہ قرآن ميں اس سرزمين كانام صراحت كے ساتھ بيان نہيں ہوا ہے ليكن سورہ بنى اسرائيل كى پہلى آيت( سبحان الذي_____باركناحوله _) پر توجہ كرنے سے معلوم ہوتا ہے كہ اس سے مراد ہى شام كى سرزمين ہے جوظاہرى اعتبار سے بھى پر بركت ، زرخيز اور سرسبز وشاداب ہے اور معنوى لحاظ سے بھى ،كيونكہ وہ انبيا كى پرور ش كا مركز تھى _
ابراہيم (ع) نے يہ ہجرت خود اپنے آپ كى تھى يا نمرود كى حكومت نے انہيں جلاوطن كيا يا يہ دونوں ہى صورتيں واقع ہوئيں ، اس بارے ميں تفاسيروروايات ميں مختلف باتيں بيان كى گئي ہيں ان كا مجموعى مفہوم يہي
____________________
(۱)سورہ انبياء آيت ۷۱
ہے كہ ايك طرف تو نمرود اور اس كے اركان حكومت ابراہيم(ع) كو اپنے لئے بہت بڑا خطرہ سمجھتے تھے،لہذا انھوں نے انھيں اس سرزمين سے نكلنے پر مجبور كرديا اور دوسرى طرف ابرہيم(ع) بھى اس سرزمين ميں اپنى رسالت كے كام تقريباً مكمل كرچكے تھے اور اب كسى دوسرے علاقے ميں جانے كے خواہاں تھے كہ دعوت توحيد كو وہاں بھى پھيلائيں خصوصاً بابل ميں باقى رہنے سے ممكن تھا كہ آپ كى جان چلى جاتى اور آپ كى عالمى دعوت نامكمل رہ جاتى _
يہ بات قابل توجہ ہے كہ امام صادق عليہ السلام سے ايك روايت ميں يہ بيان ہوا كہ جس وقت نمرود نے يہ ارادہ كيا كہ ابراہيم كو اس سرزمين سے جلاوطن كردے تو اس نے يہ حكم ديا كہ ابراہيم كى بھيڑيں اور ان كا سارا مال ضبط كرليا جائے اور وہ اكيلاہى يہاں سے باہر جائے حضرت ابراہيم نے ان سے كہا يہ ميرى عمربھر كى كمائي ہے اگر تم ميرا مال لينا چاہتے ہو تو ميرى اس عمر كو جو ميں نے اس سرزمين ميں گزارى ہے مجھے واپس دے دو لہذا طے يہ پايا كہ حكومت كے قاضيوں ميں سے ايك اس بارے ميں فيصلہ دے ،قاضى نے حكم ديا كہ ابراہيم (ع) كا مال لے ليا جائے اور جو عمر انہوں نے اس سرزمين ميں خرچ كى ہے وہ انہيں واپس كردى جائے _
جس وقت نمرود اس واقعے سے آگاہ ہوا تو اس نے بہادر قاضى كے حقيقى مفہوم كو سمجھ ليا اور حكم ديا كہ ابراہيم كا مال اور اس كى بھيڑيں اسے واپس كردى جائيں تاكہ وہ انہيں ساتھ لے جائے اور كہا: مجھے ڈر ہے كہ اگر وہ يہاں رہ گيا تو وہ تمہارے دين وآئين كو خراب كردے گا اور تمہارے خدائوں كو نقصان پہنچائے گا ''_
كس طرح مردوں كو زندہ كرے گا ؟
ايك دن حضرت ابراہيم(ع) دريا كے كنارے سے گزررہے تھے _ آپ نے دريا كے كنارے ايك مردار پڑاہوا ديكھا، اس كا كچھ حصہ دريا كے انداراور كچھ باہر تھا دريا اور خشكى كے جانور دونوں طرف سے اسے كھارہے تھے بلكہ كھاتے كھاتے ايك دوسرے سے لڑنے لگتے تھے ،اس منظر نے حضرت ابراہيم(ع) كو ايك ايسے مسئلہ كى فكر ميں ڈال ديا جس كى كيفيت سب تفصيل سے جاننا چاہتے ہيں اور وہ ہے موت كے بعد مردوں كے زندہ ہونے كى كيفيت ابراہيم(ع) سوچنے لگے كہ اگر ايسا ہى انسانى جسم كے ساتھ ہو اور انسان كا بدن جانوروں كے
بدن كا جزء بن جائے تو قيامت ميں اٹھنے كا معاملہ كيسے عمل ميں آئے گا جب كہ وہاں انسان كو اسى بدن كے ساتھ اٹھنا ہے _
حضرت ابراہيم(ع) نے كہا : خدايا مجھے دكھا كہ تو مردوں كو كيسے زندہ كرے گا؟اللہ تعالى نے فرمايا : كيا تم اس بات پر ايمان نہيں ركھتے؟ انہوں نے كہا: ايمان تو ركھتا ہوں ليكن چاہتاہوں دل كو تسلى ہوجائے _
خدا متعال نے حكم ديا : چار پرندے لے لو اور ان كا گوشت ايك دوسرے سے ملادو پھر اس سارے گوشت كے كئي حصے كردو اور ہر حصہ كو ايك پہاڑپر ركھ دو اس كے بعد ان پرندوں كو پكار و تاكہ ميدان حشر كا منظر ديكھ سكو _ انہوں نے ايسا ہى كيا تو انتہائي حيرت كے ساتھ ديكھا كہ پرندوں كے اجزاء مختلف مقامات سے جمع ہوكر ان كے پاس آگئے ہيں اور ان كى ايك نئي زندگى كا آغاز ہوگيا ہے _
اس سلسلہ ميں قرآن كہتا ہے :
''اس وقت (كو ياد كرو)جب ابراہيم نے كہا : خدايا : مجھے دكھا دے تو كيسے مردوں كو زندہ كرتا ہے ،فرمايا : كيا تم ايمان نہيں لائے _ كہنے لگے : كيوں نہيں ، ميں چاہتاہوں ميرے دل كو اطمينان ہوجائے فرمايا : يہ بات ہے تو چار پرندے انتخاب كرلو (ذبح كرنے كے بعد ) انہيں ٹكڑے ٹكڑے كرلو (پھر ان كے گوشت كو آپس ميں ملادو ) پھر ہر پہاڑپر ايك حصہ ركھ دو ، پھر انہيں پكارو ، وہ تيزى سے تمہارے پاس آئےں گے، اور جان لوكہ خدا غالب اور حكيم ہے ''_(۱) (وہ مردوں كے اجزائے بدن كو بھى جانتا ہے اور انہيں جمع كرنے كى طاقت بھى ركھتا ہے _)
چندا ہم نكات
۱_ چار پرندے : اس ميں شك نہيں كہ مذكورہ چار پرندے مختلف قسم كے پرندوں ميں سے تھے كيونكہ اس كے بغير حضرت ابراہيم كا مقصد پورا نہيں ہوسكتاہے _ اس كے لئے ضرورى تھا كہ ہرايك كے اجزاء اس
____________________
(۱) سورہ بقرہ آيت ۲۵۹
كے اصلى بدن ميں واپس آئيں اوريہ مختلف قسم كے ہونے كى صورت ميں ہى ظاہر ہوسكتا تھا _ مشہور روايت كے مطابق وہ چار پرندے اس طرح تھے مور، مرغ ،كبوتر اور كوا جو كہ كئي پہلوئوں سے ايك دوسرے سے بہت مختلف ہيں _
بعض ان پرندوں كو انسانوں كى مختلف صفات اور جذبات كا مظہر سمجھتے ہيں _
مور: خود نمائي، زيبائش اور تكبركا مظہر ہے _
مرغ : شديد جنسى ميلانات كا مظہرہے_
كبوتر : لہوولعب اور كھيل كود كا مظہر ہے _
كوا: لمبى چوڑى آرزئوں اور تمنائوں كا مظہر ہے _
۲_ پہاڑوں كى تعداد : جن پہاڑوں پر حضرت ابراہيم عليہ السلام نے پرندوں كے اجزاركھے تھے ان كى تعدا كى صراحت قرآن حكيم ميں نہيں ہے ليكن روايات اہل بيت ميں يہ تعداد دس بتائي گئي ہے _(۱)
۳_ واقعہ كب رونماہوا : جب حضرت ابراہيم بابل ميں تھے يا جب شام چلے آئے تھے ،يوں لگتا ہے ،يہ شام ميں آنے كے بعد كا واقعہ ہے كيونكہ سرزمين بابل ميں پہاڑنہيں ہيں _
اسماعيل (ع) اور ہاجرہ(ع) كو منتقل كرنے كا حكم
سالہا گذرگئے كہ جناب ابراہيم(ع) نے اس صالح فرزند كے انتظار اور خواہش ميں زندگى بسركرتے رہے، انھوں نے عرض كيا:'' پروردگارا: مجھے ايك فرزند صالح عطا فرما_''(۲)
آخر كار خدا نے ان كى دعا قبول كرلي، پہلے انھيں اسماعيل(ع) اور پھر اسحاق(ع) مرحمت فرمايا كہ جن ميں سے ہر ايك بزرگ پيغمبر اور صاحب منزلت تھے_
____________________
(۱)اسى لئے بعض روايات ميں آيا ہے كہ اگر كوئي شخص وصيت كرجائے كہ اس كے مال كا ايك جزء فلاں سلسلے ميں صرف كرنا اور اس كى مقدار معين نہ كرجائے تو مال كا دسواں حصہ دينا كافى ہے _
(۲)سورہ صافات آيت ۱۰۰
آپ نے اپنى كنيزہاجرہ كو اپنى بيوى بناليا تھا _ اس سے انہيں اسماعيل جيسا بيٹا نصيب ہوا آپ كى پہلى بيوى سارہ نے ان سے حسد كيا يہى حسد سبب بنا كہ آپ ہاجرہ اور اپنے شيرخوار بچے كو حكم خدا سے فلسطين سے لے كر مكہ كى جلتى ہوئي سنگلاخ پہاڑوں كى سرزمين ميں لے گئے يہ وہ علاقہ تھا جہاں پانى كى ايك بوند بھى دستياب نہ تھى آپ(ع) حكم خدا سے ايك عظيم امتحان سے گزرتے ہوئے انہيں وہاں چھوڑ كر واپس فلسطين آگئے _
وہاں چشمہ زمزم پيدا ہوا اس اثنا ميں جرہم قبيلہ ادھر سے گزرا اس نے جناب ہاجرہ سے وہاں قيام كى اجازت چاہى __گويا واقعات كا ايك طولانى سلسلہ ہے كہ جو اس علاقے كى آبادى كا باعث بنا_
حضرت ابراہيم (ع) نے خدا سے دعا كى تھى كہ اس جگہ كو آباد اور پر بركت شہر بنادے اور لوگوں كے دل ميرى اولاد كى طرف مائل كردے ان كى اولاد وہاں پھلنے پھولنے لگى تھى _(۱)
يہ بات جاذب نظر ہے كہ بعض مو رخين نے نقل كيا ہے كہ جب حضرت ابراہيم ہاجرہ اور شير خوار اسماعيل كو مكہ ميں چھوڑ كر واپس جانا چاہتے تھے تو جناب ہاجرہ نے فرياد كي: اے ابراہيم(ع) آپ كو كس نے حكم ديا ہے كہ ہميں ايسى جگہ پر چھوڑ جائيں كہ جہاں نہ كوئي سبزہ ہے ، نہ دودھ دينے والا كوئي جانور،يہاں تك كہ يہاں پانى كا ايك گھونٹ بھى نہيں ہے آپ پھر بھى ہميں بغير زادو توشہ اور مونس ومدد گار كے چھوڑے جارہے ہيں _
حضرت ابراہيم(ع) نے مختصر سا جواب ديا : ميرے پروردگار نے مجھے يہى حكم ديا ہے _
ہاجرہ نے يہ سنا تو كہنے لگيں : اگر ايسا ہے تو پھر خدا ہرگز ہميں يونہى نہيں چھوڑے گا _
ابراہيم(ع) نے حكم خدا كى اطاعت كى اور انہيں سرزمين مكہ ميں لے گئے جو ايسى خشك اور بے آب وگياہ تھى كہ وہاں كسى پرندے كا بھى نام ونشان نہ تھا جب ابراہيم انہيں چھوڑ كر تنہا واپس ہولئے تو ان كى اہليہ رونے لگيں كہ ايك عورت اور ايك شيرخوار بچہ اس بے آب وگياہ بيابان ميں كيا كريں گے_
اس خاتون كے گرم آنسو اور ادھر بچے كا نالہ ودزارى اس منظرنے ابراہيم(ع) كا دل ہلاكے ركھ ديا _
____________________
(۱)سورہ ابراہيم ايت ۳۷ تا ۴۱
انہوں نے بارگاہ الہى ميں ہاتھ اٹھائے اور عرض كيا:
خدا وندا: ميں تيرے حكم پر اپنى بيوى اور بچے كو اس جلادينے والے بے آب وگياہ بيابان ميں تنہا چھوڑ رہا ہوں ، تاكہ تيرا نام بلند اور تيرا گھر آباد ہو_
يہ كہہ كر غم واندوہ اور شديد محبت كے عالم ميں الوداع ہوئے _
زيادہ وقت نہيں گزرا تھا كہ ماں كے پاس آب وغذا كا جو توشہ تھا ختم ہوگيا اور اس كى چھاتى كا دودھ بھى خشك ہوگيا شير خوار بچے كى بے تابى اور تضرع وزارى نے ماں كو ايسا مضطرب كرديا كہ وہ اپنى پياس بھول گئي وہ پانى كى تلاش ميں اٹھ كھڑى ہوئي، پہلے كوہ صفا كے قريب گئي تو پانى كا كوئي نام ونشان نظر نہ آيا، سراب كى چمك نے اسے كوہ مروہ كى طرف كھينچا تو وہ اس كى طرف دوڑى ليكن وہاں بھى پانى نہ ملا، وہاں ويسى چمك صفاپر دكھائي دى تو پلٹ كر آئي، زندگى كى بقاء اور موت سے مقابلہ كے لئے اس نے سات چكر لگائے، آخر شيرخوار بچہ زندگى كى آخرى سانسيں لينے لگا كہ اچانك اس كے پائوں كے پاس انتہائي تعجب خيز طريقہ سے زمزم كا چشمہ ابلنے لگا، ماں اور بچے نے پانى پيا اور موت جو يقينى ہوگئي تھى اس سے بچ نكلے_
زمزم كا پانى گويا آب حيات تھا، ہر طرف سے پرندے اس چشمہ كى طرف آنے لگے، قافلوں نے پرندوں كى پروازديكھى تو اپنے رُخ كو اس طرف موڑديا اور ظاہراً ايك چھوٹے سے خاندان كى فداكارى كے صلے ميں ايك عظيم مركز وجود ميں آگيا_
آج خانہ خدا كے پاس اس خاتون اور اس كے فرزند اسماعيل (ع) كا مسكن ہے، ہر سال تقريباً ۲۰ / لاكھ افراد اطراف عالم سے آتے ہيں ان كى ذمہ دارى ہے كہ اس مسكن كو جسے مقام اسماعيل كہتے ہيں اپنے طواف ميں شامل كريں گويا اس خاتون اور اس كے بيٹے كے مدفن كو كعبہ كا جز ء سمجھيں _
اسماعيل (ع) قربان گاہ ميں
اسماعيل كا سن ۱۳ /سال كا تھا كہ حضرت ابراہيم نے ايك عجيب اور حيرت انگيز خواب ديكھا ،يہ خواب اس عظيم الشان پيغمبر كے لئے ايك اور آزمائش كو بيان كرتا تھا _ انھوں نے خواب ديكھا كہ انھيں خدا كى طرف
سے يہ حكم ديا گيا ہے كہ وہ اپنے اكلوتے بيٹے كو اپنے ہاتھ سے قربانى كريں اور اسے ذبح كرديں _
ابراہيم(ع) وحشت زدہ خواب سے بيدار ہوئے ،وہ جانتے تھے كہ پيغمبروں كے خواب حقيقت اور شيطانى وسو سوں سے دور ہوتے ہيں ليكن اس كے باوجود دو راتوں ميں بھى يہى خواب ديكھا جو اس امر كے لازم ہونے اور اسے جلد انجام دينے كے لئے تاكيد تھى _
كہتے ہيں كہ پہلى مرتبہ '' شب ترويہ'' (آٹھ ذى الحجہ كى رات ) يہ خواب ديكھا اور '' عرفہ '' اور '' عيد قربان '' (نويں اور دسويں ذى الحجہ ) كى راتوں ميں خواب كا تكرار ہوا _ لہذا اب ان كے لئے ذراسا بھى شك باقى نہ رہا كہ يہ خدا كا قطعى فرمان ہے _
ابراہيم(ع) جو بار ہا امتحان خداوندى كى گرم بھٹى سے سرفراز ہو كر باہر آچكے تھے،اس دفعہ بھى چاہئے كہ بحر عشق ميں كود پڑيں اور خداوند عالم كے فرمان كے سامنے سرجھكاديں ،اور اس فرزند كو جس كے انتظار ميں عمر كا ايك حصہ گذارديا تھا اور اب وہ ايك آبرومند نوجوان تھا، اسے اپنے ہاتھ سے ذبح كرديں _
ليكن ضرورى ہے كہ ہر چيز سے پہلے اپنے فرزند كو اس كام كے لئے آمادہ كريں ، لہذا اس كى طرف رخ كركے فرمايا :'' ميرے بيٹے : ميں نے خواب ديكھا ہے كہ ميں تجھے ذبح كررہاہوں ، اب تم ديكھو: تمہارى اس بارے ميں كيا رائے ہے ''؟(۱)
بيٹا بھى تو ايثار پيشہ باپ كے وجود كا ايك حصہ تھا اور جس نے صبرو استقامت اور ايمان كا درس اپنى چھوٹى سى عمر ميں اسى كے مكتب ميں پڑھا تھا ، اس نے خوشى خوشى خلوص دل كے ساتھ اس فرمان الہى كا استقبال كيا اور صراحت اور قاطيعت كے ساتھ كہا:
''اباجان : جو حكم آپ كو ديا گيا ہے اس كى تعميل كيجئے''_(۲)
ميرى طرف سے بالكل مطمئن رہئے_ '' انشاء اللہ آپ مجھے صابرين ميں سے پائيں گے ''_(۳)
____________________
(۱)سورہ صافات آيت۱۰۲
(۲) سورہ صافات آيت ۱۰۲
(۳)سورہ صافات آيت۱۰۲
باپ اور بيٹے كى يہ باتيں كس قدر معنى خيز ہيں اور كتنى باريكياں ان ميں چھپى ہوئي ہيں _
ايك طرف تو باپ، ۱۳/ سالہ بيٹے كے سامنے اسے ذبح كرنے كى بات بڑى صراحت كے ساتھ كرتا ہے اور اس سے اس كى رائے معلوم كرتا ہے اس كے لئے مستقل شخصيت اور ارادے كى آزادى كا قائل ہوتا ہے ، وہ ہرگز اپنے بيٹے كو دھوكے ميں ركھنا نہيں چاہتا اور اسے اندھيرے ميں ركھتے ہوئے امتحان كے اس عظيم ميدان ميں آنے كى دعوت نہيں ديتا وہ چاہتا ہے كہ بيٹا بھى اس عظيم امتحان ميں پورے دل كے ساتھ شركت كرے اور باپ كى طرح تسليم ورضا كا مزہ چكھے _
دوسرى طرف بيٹا بھى يہ چاہتا ہے كہ باپ اپنے عزم وارادہ ميں پكااور مضبوط رہے، يہ نہيں كہتا كہ مجھے ذبح كريں بلكہ كہتا ہے : جوآپ كو حكم ديا گيا ہے اسے بجالائيں ميں اس كے امرو فرمان كے سامنے سر تسليم خم ہوں ،خصوصاً باپ كو '' يا ابت '' (ابا جان :) كہہ كر مخاطب كرتا ہے ،تاكہ اس بات كى نشاندہى كردے كہ اس مسئلے پر جذبات فرزندو پدر كاسوئي كى نوك كے برابر بھى اثر نہيں ، كيونكہ فرمان خدا ہر چيز پر حاكم ہے _
اور تيسرى طرف سے پروردگار كى بارگاہ ميں مراتب اداب كى اعلى ترين طريقے سے پاسدارى كرتا ہے ،ہرگز اپنے ايمان اور عزم وارادہ كى قوت پر بھروسہ نہيں كرتا ، بلكہ خدا كى مشيت اور اس كے ارادہ پر تكيہ كرتاہے اور اس عبادت كے ساتھ اس سے پامردى اور استقامت كى توفيق چاہتاہے _
اس طرح سے باپ بھى اور بيٹا بھى اس عظيم آزمائش كے پہلے مرحلے كو مكمل كاميابى كے ساتھ گزارديتے ہيں _
شيطانى وسوسہ
شيطان نے بہت ہاتھ پائوں مارے كہ كوئي ايسا كام كرے كہ حضرت ابراہيم(ع) اس ميدان سے كامياب ہوكر نہ نكليں ، كبھى وہ (اسمعيل كي) ماں ہاجرہ كے پاس آيا اور ان سے كہا:كيا تمھيں معلوم ہے كہ ابراہيم نے كيا ارادہ كيا ہے ؟ وہ چاہتاہے كہ آج اپنے بيٹے كو ذبح كردے_
ہاجرہ نے كہا: دورہوجا ، محال اور نہ ہونے والى بات نہ كر، كيونكہ وہ تو بہت مہربان ہے اپنے بيٹے كو
كيسے ذبح كرسكتا ہے ؟ اصولاً كيا دنيا ميں كوئي ايسا انسان پيدا ہوسكتا ہے جو اپنے بيٹے كو اپنے ہاتھ سے ذبح كردے ؟
شيطان نے اپنے وسوسہ كو جارى ركھتے ہوئے كہا: اس كا دعوى ہے كہ خدانے اسے حكم ديا ہے _ ہاجرہ نے كہا : اگر خدا نے اسے حكم ديا ہے تو پھر اسے اطاعت كرنا چاہيے، اور سوائے رضاو تسليم كے كوئي دوسرى راہ نہيں ہے _
پھر شيطان ان كے بيٹے اسماعيل(ع) كے پاس آيا،اور انھيں ورغلانے لگا ،ان سے بھى اسے كچھ حاصل نہ ہوسكا، كيونكہ اس نے اسماعيل (ع) كو تسليم ورضا كا پيكر پايا _
آخرميں حضرت ابراہيم (ع) كے پاس آيا اور ان سے كہا: ابراہيم(ع) : جو خواب تم نے ديكھا ہے وہ شيطانى خواب ہے، تم شيطان كى اطاعت نہ كرو _
ابراہيم (ع) نے نور ايمان اور نبوت كے پر تو ميں اسے پہچان ليا : چلاكر كہا: ''دورہوجااے دشمن خدا _''
ايك حديث ميں منقول ہے كہ حضرت ابراہيم (ع) پہلے'' مشعرالحرام'' ميں آئے تاكہ بيٹے كى قربانى ديں ، تو شيطان ان كے پيچھے دوڑا _ وہ'' جمرہ اولى '' كے پاس آئے شيطان كو ديكھا ، اس كو سات پتھر مارے، اس كے بعد وہاں سے جمرہ دوم پر ائے وہاں شيطان كو ديكھا تو دوبارہ سات پتھراسے مارے يہاں تك كہ '' جمرہ عقبہ '' ميں آئے تو سات اور پتھراسے مارے _(اور اسے ہميشہ ہميشہ كے لئے اپنے سے مايوس كرديا)_
ميرى والدہ كو سلام كہنا
اس دوران كيا كيا حالات پيش آئے، قرآن نے انھيں تشريح كے ساتھ بيان نہيں كيا اور صرف اس عجيب ماجرے كے نہايت حساس پہلو ذكركئے ہيں _
بعض نے لكھا ہے كہ فدا كار بيٹے نے اس بنا پر كہ باپ كى اس ماموريت كى انجام دہى ميں مدد كرے اور ماں كے رنج واندوہ ميں كمى كرے جس وقت وہ اسے سرزمين '' منى ''كے خشك اور جلاڈالنے والے گرم
پہاڑوں كے درميان ، قربان گاہ ميں لائے توباپ سے كہا: اباجان :رسى كو مضبوطى كے ساتھ باندھ ديجئے، تاكہ ميں فرمان خداوندى كے اجراء كے وقت ہاتھ پائوں نہ ہلا سكوں ،مجھے ڈرہے كہ كہيں اس سے ميرے اجر ميں كمى واقع نہ ہوجائے _
اباجان :چھرى تيزكر ليجيے اور تيزى كے ساتھ ميرے گلے پر چلايئےاكہ اسے برداشت كرنا مجھ پر بھى (اور آپ پر بھى ) زيادہ آسان ہوجائے_
اباجان : ميرا كرتا پہلے ہى ميرے بدن سے اتار ليجئے تاكہ وہ خون آلودنہ ہو، كيونكہ مجھے خوف ہے كہ كہيں ميرى ماں اسے ديكھے تو دامن صبر اس كے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے_
پھر مزيد كہا: ميرا سلام ميرى ماں كو پہنچاديجئے گا اور اگر كوئي امر مانع نہ ہو تو ميرا كرتا اس كے لئے لے جايئےا جو اسكى تسلى خاطر اور تسكين كا باعث بنے گا كيونكہ وہ اس سے بيٹے كى خوشبوسونگھے گى اور جس وقت دل بے قرار ہوگا تو اسے اپنى آغوش ميں لے لے گى اس طرح يہ اس كے درددل ميں تخفيف كا باعث ہوگا _
باپ بيٹے ايك دوسرے سے مل كررونے لگے
آخروہ حساس لمحے آن پہنچے جب فرمان الہى كى تعميل ہونا تھى حضرت ابراہيم(ع) نے جب بيٹے كے مقام تسليم كو ديكھا، اسے اپنى آغوش ميں لے ليا، اس كے ر خساروں كے بوسے لئے اوراس گھڑى دونوں رونے لگے _ ايسا گريہ تھا كہ ان كے جذبات اور لقائے خدا كےلئے ان كا شوق ظاہر ہوتا تھا _
قرآن مختصر اور معنى خيز عبارت ميں صرف اتنى سى بات كہتا ہے : ''جب دونوں آمادہ وتيار ہوگئے اور (باپ ) ابراہيم (ع) نے بيٹے كو ماتھے كے بل لٹايا''(۱)
قرآن يہاں پھر اختصار كے ساتھ گزرگيا ہے اور سننے والے كو اجازت ديتا ہے كہ وہ اپنے احساسات كى موجوں كى ساتھ قصے كو سمجھے _
____________________
(۱) سورہ صافات آيت ۱۰۳
بعض نے كہا ہے كہ '' تلہ للجبين ''_سے مراد يہ تھى كہ پيشانى خود اس كى فرمائش پر زمين پر ركھى كہ مبادان كى نگاہ بيٹے كے چہرے پر پڑے اور پدرى جذبات جوش ميں آجائيں اور فرمان خدا كے اجراء ميں مانع ہوجائيں _
بہرحال حضرت ابراہيم نے بيٹے كے چہرے كو خاك پر ركھا اور چھرى كو حركت دى اور تيزى اور طاقت كے ساتھ اسے بيٹے كے گلے پر پھير ديا جب كہ ان كى روح ہيجان ميں تھى اور صرف عشق خداہى انھيں اپنى راہ ميں كسى شك كے بغير آگے بڑھا رہاتھا _
ليكن تيزدھار چھرى نے بيٹے كے لطيف ونازك گلے پر معمولى سا بھى اثر نہ كيا _
حضرت ابراہيم(ع) حيرت ميں ڈوب گئے ،دوبارہ چھرى كو چلايا ، ليكن پھر بھى وہ كار گر ثابت نہ ہوئي ، ہاں : خليل تو كہتے ہيں كہ ''كاٹ'' ليكن خدا وند جليل يہ حكم دے رہا ہے كہ ''نہ كاٹ '' اور چھرى تو صرف اسى كى فرمانبردارہے _
يہ وہ منزل ہے كہ جہاں قرآن ايك مختصر اور معنى خيز جملے كے ساتھ انتظار كو ختم كرتے ہوئے كہتا ہے:'' اس وقت ہم نے ندادى (اور پكار كر كہا ) كہ اے ابراہيم : خواب ميں جو حكم تمھيں ديا گيا تھا وہ تم نے پورا كرديا ،ہم نيكو كاروں كو اسى طرح جزا ديا كرتے ہيں _ ''(۱)
ہم ہى انھيں امتحان ميں كاميابى كى توفيق ديتے ہيں اور ہم ايسا بھى نہيں ہونے ديں گے كہ ان كا فرزند دل بندان كے ہاتھ ہى سے چلاجائے ہاں : جو شخص سرتاپا ہمارے حكم كے سامنے سر تسليم خم كئے ہوئے ہے اوراس نے نيكى كو اعلى حد تك پہنچا ديا ہے ، اس كى اس كے سوااور كوئي جزا نہيں ہوگى _
اس كے بعد مزيد كہتا ہے :'' بے شك يہ اہم اور آشكار امتحان ہے _''(۲)
بيٹے كو اپنے ہاتھ سے ذبح كرنا ، وہ بھى نيك اور لائق بيٹا ،اس باپ كے لئے جس نے ايك عمر ايسے
____________________
(۱)سورہ صافات آيات ۱۰۴
(۲) سورہ صافات آيات ۱۰۶
فرزند كے انتظار ميں گذارى ہو، آسان كام نہيں ہے _ ايسے فرزندكى ياد كس طرح دل سے نكال سكتا تھا ؟اس سے بھى بالا تر يہ كہ وہ انتہائي تسليم ورضا كے ساتھ ماتھے پرشكن لائے بغير ايسے فرمان كى تعميل كے لئے آگے بڑھے اور اس كے تمام مقدمات كو آخرى مرحلے تك انجام دے ، اس طور پر كہ روحانى اور عملى آمادگى كے لحاظ سے كوئي كسرباقى نہ چھوڑے _
اس سے بھى بڑھ كر عجيب، اس فرمان كے آگے اس نوجوان كى اطاعت شعارى كى انتہا ،وہ خوشى خوشى ، اطمينان قلب كے ساتھ پروردگار كے لطف سے ، اس كے ارادے كے سامنے ، سرتسليم خم كرتے ہوئے ، ذبح كے استقبال كےلئے آگے بڑھا _
جبرئيل (ع) كى فرياد تكبير
جس وقت يہ كام انجام پاچكا تو جبرئيل نے (تعجب كرتے ہوئے )پكاركر كہا '' اللّہ اكبر'''' اللّہ اكبر'' ابراہيم(ع) كے فرزندنے كہا : ''لااله الااللّه و اللّه اكبر ''_اور عظيم فداكار باپ نے بھى كہا '' اللّہ اكبر واللّہ الحمد '' _
اور يہ ان تكبيروں كے مشابہ ہے جو ہم عيد قربان كے دن پڑھتے ہيں _
ہم جانتے ہيں كہ اسلامى روايات ميں عيد الاضحى كے بارے ميں جو احكام آئے ہيں ان ميں كچھ مخصوص تكبيريں ہيں جو تمام مسلمان پڑھتے ہيں چاہے وہ مراسم حج ميں شريك ہوں اوريا منى ميں موجود ہوں اور چاہے دوسرے مقامات پر ہوں _ فرق اتنا ہے كہ جو منى ميں ہيں وہ ان نمازوں كے بعد پڑھتے ہيں جن سے پہلى عيد كے دن كى نماز ظہر ہے اور جو منى ميں نہيں ہوتے وہ ان نمازوں كے بعد تكرار كرتے ہيں اور ان تكبيرات كى صورت اس طرح ہے :
''اللّه اكبر، اللّه اكبر، لااله الاللّه ، اللّه اكبر ، اللّه اكبر، وللّه الحمد، اللّه اكبر على ماهدانا ''_
جس وقت ہم اس حكم كا اس حديث كے ساتھ موازنہ كركے ديكھتے ہيں ، جسے ہم پہلے نقل كرچكے
ہيں _ تو معلوم ہوتا ہے كہ يہ تكبيريں حقيقت ميں جبرئيل(ع) اور اسماعيل (ع) اور ان كے باپ ابراہيم كى تكبيروں كا مجموعہ ہيں ، اور كچھ اس پراضافہ ہے _دوسرے لفظوں ميں يہ الفاظ حضرت ابراہيم(ع) اور حضرت اسماعيل كى اس عظيم آزمائش ميں كاميابى كى ياد لوگوں كى نظروں ميں زندہ كرتے ہيں ، اور تمام مسلمانوں كو ايك پيغام الہى ديتے ہيں چاہے وہ منى ميں ہوں يا منى كے علاوہ دوسرے مقامات پر _''(۱)
ذبح عظيم
ليكن اس غرض سے كہ ابراہيم(ع) كا پروگرام بھى نامكممل نہ رہ جائے اور خدا كى بارگاہ ميں ان كى طرف سے قربانى بھى ہوجائے اور ابرہيم كى آرزو پورى ہوجائے ، خدا نے ايك بہت بڑا مينڈھا بھيج ديا تاكہ بيٹے كى جگہ اس كى قربانى كريں اور مراسم '' حج'' اور سرزمين '' منى '' ميں آنے والوں كے لئے اپنى سنت چھوڑجائيں چنانچہ قرآن كہتا ہے :'' ہم نے ذبح عظيم كو اس كا فديہ قرارديا _''(۲)(۲)
اس ذبح كى عظمت كى ايك نشانى يہ ہے كہ زمانہ گذرنے كے ساتھ ساتھ ہر سال زيادہ وسعت پارہى ہے _
اس وقت ہر سال اس ذبح عظيم كى ياد ميں بيس لاكھ سے زيادہ'' منى ''ميں جانورذبح كيے جاتے ہيں اوراس ياد كو زندہ كيا جاتاہے_
____________________
(۱) سورہ حجر آيت ۵۱
(۲)سورہ صافات آيات ۱۰۷
(۳) اس بارے ميں كہ اس ذبح كى عظمت كس لحاظ سے تھى ، جسمانى اور ظاہرى لحاظ سے يااس جہت سے كہ فرزند ابراہيم كا فديہ تھى يا اس لحاظ سے كہ خدا كى راہ ميں اور خداكے لئے تھى يا اس لحاظ سے كہ قربانى خدا كى طرف سے ابراہيم كے لئے بھيجى گئي تھى _
مفسرين نے اس سلسلے ميں بہت كچھ كہا، ليكن كوئي مانع نہيں كہ يہ تمام جہات ذبح عظيم ميں جمع ہوں اور وہ مختلف جہات سے عظمت كى حامل ہو_
وہ بہت بڑامينڈھا ابراہيم كو كس طرح ديا گيا اس بارے ميں زيادہ تر اس بات كے معتقد ہيں كہ اسے جبرئيل لائے تھے ، بعض يہ بھى كہتے ہيں كہ وہ ''مني'' كے پہاڑوں كے دامن سے نيچے اتراتھا _ بہرحال جو كچھ بھى تھا خدا كے حكم اور اس كے ارادے سے تھا ،خدانے نہ صرف اس دن كے عظيم امتحان ميں حضرت ابراہيم كى كاميابى كى تعريف وتوصيف كى بلكہ اس كى ياد كو جاويدانى بناديا _
جيسا كہ قرآن ميں فرمايا گيا ہے :''ہم نے ابراہيم كے نيك نام كوبعد كى امتوں ميں باقى رہنے والا بنايا _''(۱)
وہ آنے والى سب نسلوں اور لوگوں كے لئے نمونہ اور تمام پاكباز اور كوئے دوست كے دلدادہ عاشقوں كے لئے راہنمابن گئے اور ہم نے ان كے طرز عمل كو رہتى دنيا تك كے لئے حج كى سنت كے طور پر جاويدانى بناديا وہ عظيم پيغمبروں كے باپ تھے وہ امت اسلامى اور پيغمبر اسلام كے باپ تھے _
'' ابراہيم پر سلام (جو مخلص اور پاكباز تھے) _''(۲) ہاں '' ہم اسى طرح سے نيكو كاروں كو بدلہ ديا كرتے ہيں _''(۳) عظمت دنيا كاصلہ، تمام زمانوں ميں باقى رہنے والا كاصلہ ،خدائے برزگ كے لائق درودوسلام كاصلہ _
ذبيح اللہ كون ہے ؟
اس بارے ميں كہ حضرات ابراہيم كے دونوں فرزندوں (اسماعيل (ع) اور اسحاق (ع) ) ميں سے كون قربان گاہ ميں لايا گيا اور كس نے ذبيح اللہ كا لقب پايا؟ مفسرين كے درميان شديد بحث ہے ايك گروہ حضرت اسحاق (ع) كو '' ذبيح'' جانتا ہے اور ايك جماعت حضرت اسماعيل (ع) ،كو پہلے نظريہ كو بہت سے مفسرين اہل سنت اور دوسرے نظريہ كو مفسرين شيعہ نے اختيار كيا ہے ،ليكن جو كچھ قرآن كى مختلف آيات كے ظاہر سے ہم آہنگ ہے وہ يہى ہے كہ '' ذبيح'' '' اسماعيل (ع) '' تھے_
____________________
(۱)سورہ صافات آيت ۱۰۸
(۲)سورہ صافات آيت ۱۰۹
(۳) سورہ صافات آيت۱۱۰
جناب اسحاق كى بشارت
يہ امر جاذب نظر ہے كہ بات حضرت ابراہيم عليہ السلام كے مہمانوں كے واقعہ سے شروع كى گئي ہے (وہى فرشتے كہ جو آپ كے پاس انسانى لباس ميں آئے تھے پہلے انھوں نے آپ كو ايك ذى وقاربيٹے كى پيدائش كى بشارت دى اور پھر قوم لوط كے دردناك انجام كى خبردى )_
ارشادفرمايا : ميرے بندوں كو ابراہيم كے مہمانوں كے بارے ميں خبردو _''(۱)
يہ بن بلائے مہمان وہى فرشتے تھے جنہوں نے '' ابراہيم (ع) كے پاس پہنچ كر پہلے انجانے طور پر اسے سلام كيا _''(۲)
جيسا كہ ايك بزرگوار ميزبان كا فريضہ ہے، ابراہيم(ع) نے ان كى پذيرائي كا اہتمام كيا فورا ًان كےلئے مناسب غذافراہم كى ليكن جب دسترخوان بچھايا گيا تو انجانے مہمانوں نے غذا كى طرف ہاتھ نہ بڑھايا تو حضرت ابراہيم(ع) كو اس پر وحشت ہوئي ،انھوں نے اپنى پريشانى چھپائي نہيں صراحت سے ان سے كہا: ''ہم تم سے خوفزدہ ہيں _ ''(۳)
يہ خوف اس رواج كى بناء پر تھا كہ اس زمانے ميں اور بعد ميں بھى بلكہ ہمارے زمانے تك بعض قوموں كا معمول ہے كہ جب كوئي شخص كسى كا نان نمك كھاليتا ہے تو اسے ضرر نہيں پہنچاتااور اپنے آپ كو اس كا ممنون احسان سمجھتا ہے لہذا كھانے كى طرف ہاتھ نہ بڑھانے كو برا سمجھتا ہے اور اسے كينہ وعداوت كى دليل شمار كيا جاتاہے _
ليكن زيادہ ديرنہ گذرى تھى كہ فرشتوں نے حضرت ابراہيم عليہ السلام كو پريشانى سے نكال ديا اور ''ان سے كہا :'' ڈرو نہيں ہم تجھے ايك عالم ودانا بيٹے كى بشارت ديتے ہيں _''(۴)
____________________
(۱) سورہ حجر آيت ۵۱
(۲) سورہ حجر آيت ۵۲
(۳) سورہ حجر آيت۵۲
(۴)سورہ فجر آيت ۵۳
يہ كہ غلام عليم(صاحب علم لڑكے ) سے كون مراد ہے؟
قرآن كى ديگر آيات كو سامنے ركھتے ہوئے واضح ہوجاتاہے كہ اس سے مراداسحاق ہيں كيونكہ فرشتوں نے جب حضرت ابراہيم كو يہ بشارت دى تو ان كى بيوى سارہ جوظاہراً ايك بانجھ عورت تھى وہ بھى موجود تھى انھوں نے اسے بھى يہ بشارت دي_(۱)
ہم يہ بھى جانتے ہيں كہ سار ہ حضرت اسحاق عليہ السلام كى والدہ تھيں اس سے پہلے حضرت ابراہيم عليہ السلام حضرت ہاجرہ سلام اللہ عليہا سے صاحب اولاد تھے حضرت اسماعيل عليہ السلام ان كے فرزند تھے ( حضرت ہاجرہ وہ كنيزتھيں جنھيں حضرت ابراہيم نے زوجيت كے لئے انتخاب كيا تھا ) ليكن حضرت ابراہيم(ع) اچھى طرح جانتے تھے كہ طبيعى اصولوں كے لحاظ سے ان سے ايسے بيٹے كى پيدائش بہت بعيد ہے اگرچہ خدا كى قدرت كاملہ كے لئے كوئي چيز محال نہيں ہے، مگر انھوں نے معمول كے طبيعى قوانين كى طرف توجہ كى جس نے ان كے تعجب كو ابھارا لہذا انھوں نے كہا مجھے ايسى بشارت ديتے ہو حالانكہ ميں بڑھاپے كى عمر كو پہنچ گيا ہوں ،واقعاً مجھے كس چيز كى بشارت دے رہے ہو _(۲)
''كيا تمہارى يہ بشارت حكم الہى سے ہے يا خود تمہارى طرف سے ہے صراحت سے كہو تاكہ مجھے زيادہ اطمينان ہو''_
''ممكن ہے كہا جائے كہ اس لحاظ سے ابراہيم ايك اچھے تجربے سے گذرے تھے كہ بڑھاپے ميں ہى ان كے بيٹے اسماعيل پيدا ہوئے تھے لہذا نئے بيٹے يعنى حضرت اسحاق كى پيدائش كے بارے ميں انھيں تعجب نہيں كرنا چاہئے تھا ليكن معلوم ہونا چاہئے ،كہ بعض مفسرين كے بقول حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق كى پيدائش ميں دس سال سے زيادہ كا فاصلہ تھا لہذابڑھاپے ميں دس سال گذر جائيں تو بچے كى پيدائش كا احتمال بہت ہى كم ہوتا ہے_
____________________
(۱) سورہ ہودكى آيہ ۷۱ميں ہے''اس كى بيوى كھڑى تھى ،وہ ہنسى اور ہم نے اسے اسحاق كى بشارت دي''
(۲)سورہ حجر ايت ۵۴
ثانياً اگر كوئي واقعہ خلاف معمول ہو اگر چہ استثنائي طورپر ہو،اس سے مشابہ مواقع پر تعجب كرنے سے مانع نہيں ہے''_
كيونكہ ايسے سن وسال ميں بچے كى پيدائش بہرحال ايك امر عجيب ہے ،كہتے ہيں كہ جناب اسماعيل كى پيدائش كے وقت جناب ابرہيم (ع) كى ۹۹/ سال كى عمر تھى اور جناب اسماعيل كى ولادت كے وقت ۱۱۲/كى عمر ہوچكى تھي_(۱)
بہرحال فرشتوں نے حضرت ابراہيم عليہ السلام كو ترد د يازيادہ تعجب كا موقع نہ ديا ، اور ان سے صراحت وقاطعيت سے كہا ہم تجھے حق كے ساتھ بشارت دے رہے ہيں _ ''(۲)
وہ بشارت كہ جوخدا كى طرف سے ہے اور اس كے حكم سے ہے اسى بناء پر يہ حق ہے مسلم ہے _
اس كے بعد اس لئے كہ مبادا ابراہيم مايوس ونااميد ہوں تاكيد كے طور پر كہنے لگے : ''اب جبكہ ايسا ہے تو مايوس ہونے والوں ميں سے نہ ہو ''_
ليكن ابراہيم عليہ السلام نے فوراً ان كے اس خيال كودور كرديا كہ يہاں پر مايوسى اوررحمت خدا سے نااميدى كا غلبہ نہيں ہے اور واضح كيا كہ يہ تو صرف طبيعى معمولات كے حوالے سے تعجب ہے، لہذا صراحت سے كہا: گمراہوں كے سوا اپنے پروردگار كى رحمت سے كون مايوس ہوگا_''(۳)
وہى گمراہ كہ جنھوں نے خدا كواچھى طرح نہيں پہچانا اور اس كى بے پاياں قدرت پر ان كى نگاہ نہيں _ وہ خدا كہ جو مشت خاك سے ايسا عجيب وغريب انسان پيدا كرتا ہے اور ناچيز نطفہ سے ايك مكمل بچہ وجود ميں لاتاہے خرمے كا خشك درخت جس كے حكم سے پھل سے لدجاتاہے اور جلانے والى آگ جس كے حكم سے گلزار ہوجاتى ہے، كون شخص ايسے پروردگار كى قدرت ميں شك كرے يا اس كى رحمت سے مايوس ہو _
____________________
(۱)سورہ حجر ايت ۵۵
(۲) سورہ حجر آيت۵۳
(۳)سورہ حجر آيت ۵۵
حضرت ابراہيم (ع) كے ہاتھوں خانہ كعبہ كى تعمير نو
قرآن كى مختلف آيات،احاديث اور تو اريخ اسلامى سے واضح ہوتا ہے خانہ كعبہ حضرت ابراہيم سے پہلے ،بلكہ حضرت آدم (ع) كے زمانے ميں موجود تھا كيونكہ سورہ ابراہيم ميں حضرت ابراہيم (ع) جيسے عظيم پيغمبر كى زبانى يوں آياہے :
پروردگار :ميں اپنى ذريت ميں سے (بعض كو ) اس بے آب وگياہ وادى ميں تيرے محترم گھر كے پاس بسارہاہوں _ ''(۱)
يہ آيت واضح طور پر گواہى ديتى ہے كہ جب حضرت ابراہيم اپنے شير خوار بيٹے اسماعيل اور اپنى زوجہ كے ساتھ سرزمين مكہ ميں آئے تو خانہ كعبہ كے آثار موجود تھے _
اسى طرح سورہ آل عمران ميں بھى ہے :
''پہلا گھر جو عبادت خدا كى خاطر انسانوں كے لئے بنايا گيا وہ سرزمين مكہ ميں تھا'' _(۲)
يہ مسلم ہے كہ عبادت خدا اور مركز عبادت كى بنياد حضرت ابراہيم عليہ السلام كے زمانہ سے نہيں پڑى بلكہ حضرت آدم عليہ السلام كے زمانے سے يہ سلسلہ جارى تھا _
اتفاقاً قرآنى كى تعبير بھى اس معنى كو تقويت ديتى ہے كہ فرماياگيا ہے : ياد كرو اس وقت كو جب ابراہيم اور اسماعيل عليہما السلام (جب اسماعيل عليہ السلام كچھ بڑے ہوگئے تو ) خانہ كعبہ كى بنيادوں كو اونچا كررہے تھے اور كہتے تھے:''پروردگاراہم سے قبول فرما،تو سننے والا اور جاننے والا ہے_''(۳)
آيت كا يہ انداز بتاتا ہے كہ خانہ كعبہ كى بنياديں موجود تھيں اور ابراہيم(ع) اور اسماعيل(ع) اس كے ستون بلند كررہے تھے _
نہج البلاغہ كے مشہور خطبہ قاصعہ ميں بھى ہے :
____________________
(۱)سورہ ابراہيم آيت ۳۷
(۲)سورہ ال عمران ايت ۹۶
(۳)سورہ بقرہ آيت ۱۲۷
''كيا ديكھتے نہيں كہ ہو كہ خدا نے آدم سے لے كر آج تك كچھ پتھروں كے ذريعہ ذريعہ امتحان ليا(وہ پتھر كہ) جنھيں اپنا محترم گھر قرار ديا، پھر آدم اور اولاد آدم كو حكم ديا كہ اس كے گرد طواف كريں ''_
مختصر يہ كہ آيات قرآن اور روايات ،تاريخ كى اس مشہور بات كى تائيد كرتى ہيں كہ خدا كعبہ پہلے پہل حضرت آدم عليہ السلام كے ہاتھوں بنا_ پھر طوفان نوح(ع) ميں گرگيا _ اس كے بعد حضرت ابراہيم عليہ السلام اوران كے فرزند حضرت اسماعيل عليہ السلام كے ہاتھوں اس كى تعمير نو ہوئي _
حضرت ابراہيم عليہ السلام كو انعام ميں امامت ملي
قرآن كريم حضرت ابراہيم عليہ السلام كى زندگى كے اہم ترين موڑ يعنى ان كى بڑى بڑى آزمائش وں اور ان ميں ان كى كاميابى كے متعلق گفتگو كرتا ہے وہ آزمائش يں جنھوں نے ابراہيم عليہ السلام كى عظمت، مقام اور شخصيت كو مكمل طور پر نكھار ديا اور ان كى شخصيت كى بلندى كو روشن كرديا، ارشاد ہوتا ہے:
''اس وقت كو ياد كرو جب خدا نے ابراہيم كو مختلف طريقوں سے آزمايا اور وہ ان آزمائش وں ميں اچھى طرح سے كامياب ہوئے_''(۱)
جب ابراہيم عليہ السلام ان امتحانات ميں كامياب ہوگئے تو وہ منزل آئي كہ خدا انھيں انعام دے ،تو فرمايا: ''ميں تمہيں لوگوں كا امام، رہبر اورپيشوا قرار ديتا ہوں _''(۲)
'' ابراہيم عليہ السلام نے درخواست كى كہ ميرى ذريت اور خاندان سے بھى آئمہ قرار دے ''تاكہ يہ رشتہ نبوت وامامت منقطع نہ ہو، اور صرف مجھ سے قائم نہ رہے_ ''(۳)
خدا نے اس كے جواب ميں فرمايا:''ميرا عہدہ يعنى مقام امامت ظالموں تك ہرگز نہيں پہنچے گا_''(۴)
____________________
(۱) سورہ بقرہ آيت ۱۲۴
(۲) سورہ بقرہ آيت ۱۲۴
(۳) سورہ بقرہ آيت ۱۲۴
(۴) سورہ بقرہ آيت ۱۲۴
يعنى ہم نے تمہارى درخواست قبول كرلى ہے ليكن تمہارى ذريت ميں سے صرف وہ لوگ اس مقام كے لائق ہيں جو پاك اور معصوم ہيں _
ابراہيم عليہ السلام كا كن چيزوں كے ذريعہ امتحان ليا گيا
آيات قرآن سے اور ابراہيم عليہ السلام كے وہ نظر نوازاعمال جن كى خدانے تعريف كى ہے،ان كے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے كہ كلمات (وہ جملے جو خدانے ابراہيم عليہ السلام كو سكھائے ) در اصل ذمہ داريوں كا ايك گراں اور مشكل سلسلہ تھا جو خدانے ابراہيم عليہ السلام كے ذمہ كيا اور اس مخلص پيغمبر نے انہيں بہترين طريقے سے انجام ديا _
حضرت ابراہيم عليہ السلام كے امتحانات ميں يہ امور شامل تھے :
(۱)بيٹے كو قربان گاہ ميں لے جانا اور فرمان خدا سے اسے قربان كرنے كے لئے پر عزم آمادگى كا مظاہرہ كرنا _
(۲) اپنى بيوياں اور بيٹے كو مكہ كى خشك اور بے آب وگياہ سرزمين ميں لے جانا جہاں كوئي انسان نہ بستا تھا _
(۳) بابل كے بت پر ستوں كے مقابلے ميں قيام كرنا ،بتوں كو توڑنا اور اس تاريخى مقدمو ں ميں پيش ہونا اور نتيجتاًآگ ميں پھينكا جانا اور ان تمام مراحل ميں اطمينان وايمان كا ثبوت دينا _
(۴) بت پرستوں كى سرزمين سے ہجرت كرنا اور اپنى زندگى كے سرمائے كو ٹھوكرمارنا اور ديگر علاقوں ميں جاكر پيغام حق سنانا ،ايسے اور بھى بہت سے امور ہيں _
حقيقت يہ ہے كہ ان ميں سے ہر ايك بہت سخت اور مشكل آزمائش تھى ليكن ابراہيم عليہ السلام ايمانى قوت كے ذريعہ ان تمام امتحانات ميں پورا اترے اور ثابت كيا كہ وہ مقام'' امامت ''كى اہليت ركھتے تھے _
امام كسے كہتے ہيں ؟
قرآن كريم سے اجمالاً يہ ظاہر ہوتا ہے كہ حضرت ابراہيم كو جو مقام امامت بخشا گيا وہ مقام نبوت ورسالت سے بالاتر تھا_ ''
امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں :
''خداوندعالم نے نبى بنانے سے قبل ابراہيم عليہ السلام كو عبد قرار ديا،اور اللہ نے انہيں رسول بنانے سے قبل نبى قرار ديا،اور انہيں خليل بنانے سے پہلے اپنى رسالت كے لئے منتخب كيا اور اس سے پہلے كہ امام بناتا انھيں اپنا كليل بناياجب يہ تمام مقامات و مناصب انہيں حاصل ہوچكے تو اللہ نے فرمايا ميں تمہيں انسانوں كے لئے امام بناتا ہو ں حضرت ابراہيم كو يہ مقام عظيم ديا تو انہوں نے عرض كيا : خدايا ميرى ذريت ميں سے بھى امام قرار دے _ ارشاد ہوا: ميرا عہدہ ظالموں تك نہيں پہنچے گا، بے وقوف شخص متقى لوگوں كا امام نہيں ہوسكتا _
۳ انبياء عليهم السلام کے واقعات
حضرت لوط عليہ السلام
جناب لوط عليہ السلام خدا كے عظيم پيغمبر تھے اور حضرت ابراہيم (ع) كے ہم عصر تھے اور جناب ابراہيم(ع) سے قريبى رشتہ دارى تھى (كہا جاتاہے كہ آپ جناب ابراہيم(ع) كے خا لہ زاد بھائي تھے )_
يہ بات مسلمہ ہے كہ ابراہيم(ع) عراق اور سرزمين بابل سے ہجرت كرنے كے بعد شامات كى طرف گئے، كہتے ہيں كہ لوط بھى ان كے ساتھ تھے ليكن كچھ مدت كے بعد (توحيد كى طرف دعوت دينے اور فتنہ وفساد سے مبارزہ كے لئے ) شہر'' سدوم'' كى طرف گئے _
'' سدوم '' قوم لوط كے ايك شہر اور آبادى كا نام تھا جو شامات( ملك اردن ميں )'' بحر الميت'' كے قريب واقع تھا جو آباد اور درختوں اور سبزہ زار سے بھرا تھا، ليكن اس بدكاروبے غيرت قوم پر عذاب الہى كے نازل ہونے كے بعد، ان كے شہر مسمار اور تہ وبالا ہوگئے ، چنانچہ انہيں '' مدائن مو تفكات''_ (تہ وبالاہونے والے شہر) كہتے ہيں _
بعض كا نظر يہ، يہ ہے كہ ان شہروں كے ويرانے زير آب آگئے ہيں ، اور ان كا دعوى ہے كہ انہوں نے '' بحر الميت''كے ايك گوشہ ميں كچھ ستون اور دوسرے آثار جوان شہروں كے خرابوں پر دلالت كرتے ہيں ديكھے ہيں _
جب كہ بعض لوگوں كا نظريہ ہے كہ قوم لوط كے شہر زير اب نہيں ائے ،اور اب بھى ''بحر الميت''كے قريب ايك علاقہ ہے جو سياہ پتھروں كے نيچے ڈھكا ہوا ہے، احتمال ہے كہ قوم لوط كے شہروں كى جگہ يہيں ہو _
اور يہ بھى كہا ہے كہ ابراہيم(ع) كا مركز شہر'' حبرون'' ميں تھا ، جو شہر'' سدوم '' سے چنداں دور فاصلہ پر نہيں تھا، اور جس وقت زلزلہ يا صاعقہ كے زيراثران كے شہروں كو آگ لگى تو اس وقت ابراہيم حبرون كے قريب كھڑے ہوئے تھے، اور شہر سے جو دھنواں اٹھ رہا تھا اسے اپنى آنكھ سے ديكھ رہے تھے _
اس گفتگو كے مجموعہ سے ان شہروں كے قريباً حدودواضح ہوگئے، اگرچہ ان كے جزئيات كے ابھى تك پردہ ابہام ميں ہيں _
قوم لوط كا سب سے بڑا اخلاقى انحراف
قرآن كريم اس عظيم پيغمبر اور ان كى قوم كے واقعہ كو اس طرح شروع كرتا ہے كہ ''لوط كى قوم نے خدا كے بھيجے ہوئے رسولوں كى تكذيب كي_''(۱)
'' مرسلين ''رسولوں كو جمع كى صورت ميں بيان كرنے كى وجہ يا تويہ ہے كہ انبياء عليہم السلام كى دعوت ايك ہوتى ہے لہذا كسى بھى پيغمبر كى تكذيب سب كى تكذيب شمار كى جاتى ہے يا پھر اس لئے ہے كہ وہ گزشتہ كسى بھى پيغمبر پر ايمان نہيں ركھتے تھے_پھر فرمايا گيا ہے : ميں تمہارے لئے امين رسول ہوں _
اب جبكہ صورت حال يہ ہے تو پرہيزگارى اختياركرو ، خدا سے ڈرو اور ميرى اطاعت كرو ،كيونكہ ميں راہ سعادت كا رہبر ہوں _''(۲)
كيا اب تك تم نے مجھ سے كوئي خيانت ديكھى ہے ؟اس كے بعد وحى الہى اور تمہارے رب كا پيغام پہنچانے ميں بھى يقينا امانت كو مدنظر ركھوں گا _
يہ نہ سمجھوكہ يہ دعوت الہى ميرے گزراوقات كا ايك ذريعہ ہے يا كسى مادى مقصد كو پيش نظر ركھ كر ايسا كام كررہاہوں ، نہ، ميں تو ذرہ بھر بھى تم سے اجرت نہيں مانگتا، ميرا اجر تو صرف عالمين كے رب كے پاس ہے_''(۳)
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۱۶۱
(۲)سورہ شعراء آيت ۱۶۲
(۳)سورہ شعراء آيت ۱۶۳
پھروہ ان كے ناشائستہ اعمال اورا ن كى كچھ اخلاقى بے راہروى كى باتوں كو بيان كرتے ہيں اور چونكہ ان كا بڑا انحراف اور ہم جنس بازى تھا لہذا اسى بات پرزيادہ زوردے كر كہتے ہيں : آيا تم سارى دنيا ميں صرف مردوں كے پاس ہى جاتے ہو ''_(۱)
يعنى باوجود يكہ خداوندعالم نے اس قدر جنس مخالف تمہارے لئے خلق فرمائي ہے جن سے صحيح طريقے سے شادى كركے پاك وپاكيزہ اور اطمينان بخش زندگى بسركرسكتے ہو ں
خدا كى اس پاك اور فطرى نعمت كو چھوڑكر تم نے خود كو اس طرح كے پست اور حيا سوزكام سے آلودہ كرليا ہے _
''اپنى ازواج كو ترك كرديتے ہو جنھيں خدانے تمہارے لئے خلق فرمايا ہے تم تو تجاوز كرنے والى قوم ہو _''(۲)
يقينا كسى روحانى يا جسمانى فطرى ضرورت نے تمہيں اس بے راہروى پر آماوہ نہيں كيا بلكہ يہ تمہارى سركشى ہے جس نے تمہارے دامن كو اس شرمناك فعل كى گندگى سے آلودہ كرديا ہے _
تمہارے كام كى مثال ايسے ہے جيسے كوئي شخص خوشبودار ميوے ،مقوى اور صحيح سالم غذائيں چھوڑكرزہر آلوداور مارڈالنے والى غذائوں كو استعمال كرے يہ فطرى خواہش نہيں بلكہ سركشى ہے _
جہاں پر عفت ايك عيب ہو
قوم لوط كے افراد جو بادہ شہوت وغرور سے مست ہوچكے تھے، اس رہبر الہى كى نصيحتوں كو جان ودل سے قبول كرنے اور خود كو اس دلدل سے باہر نكالنے كى بجائے اس كے مقابلے پر تل گئے اور ان سے كہا :اے لوط(ع) كافى ہوچكا ہے ،اب خاموش رہو اگر ان باتوں سے بازنہ آئے تو تمہارا شمار بھى اس شہر سے نكال ديئےانے والوں ميں سے ہوگا ''_(۳)
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۱۶۵
(۲) سورہ شعراء آيت ۱۶۶
(۳)سورہ شعرا آيت ۱۶۷
تمہارى باتيں ہمارى فكر اور آرام ميں خلل ڈال رہى ہيں ہم ان باتوں كے سننے كے ہرگز روادار نہيں ، اگر تمہارى يہى حالت رہى تو ہم تمہيں سزاديں گے جو كم از كم جلاوطنى كى صورت ميں ہوگى ہے _قرآن مجيدميں ايك اور مقام پر ہے كہ انھوں نے اپنى اس دھكى كو عملى جامہ بھى پہنايا اور حكم ديا كہ لوط(ع) كے خاندان كو شہرسے باہر نكال دو كيونكہ وہ پاك لوگ ہيں اور گناہ نہيں كرتے _
ان گمراہ اور گناہ سے آلود لوگوں كى جسارت اس حدتك جاپہنچى كہ تقوى اور طہارت ان كے درميان بہت بڑا عيب سمجھا جانے لگا اور ناپا كى اور گناہ سے آلود گى سرمايہ افتخار اور يہ كسى معاشرے كى تباہى كى علامت ہوتى ہے جو تيزى كے ساتھ برائيوں كى طرف بڑھ رہا ہوتا ہے _اس سے معلوم ہوتا ہے كہ اس فاسق وفاجر گروہ نے ايسے پاك وپاكيزہ لوگوں كوپہلے باہرنكال ديا جوان كوان كے بے ہودہ اعمال سے روكا كرتے تھے لہذا انھوں نے حضرت لوط عليہ السلام كو بھى يہى دھمكى دى كہ اگر تم نے اپنے اس تبليغى سلسلے كو جارى ركھا تو تمہارا بھى وہى انجام ہوگا _بعض تفسيروں ميں صراحت كے ساتھ تحرير ہے كہ وہ پاك دامن لوگوں كو بدترين طريقے سے جلاوطن كرديا كرتے تھے _
قرآن كہتا ہے ان كے پاس اس كے سوا اور كوئي جواب نہيں تھا كہ ايك دوسرے سے كہا: ''لوط كے خاندان كو اپنے شہر اور علاقے سے نكال باہر كرو كيونكہ يہ برے پاكباز لوگ ہيں اور يہ اپنے تئيں ہم سے ہم آہنگ نہيں كرسكتے ''_(۱)
يہ ايك ايسا جواب ہے جو ان كى فكرى پستى اور انتہائي اخلاقى تنزل كا آئينہ دار ہے _
جى ہاں : مجرم اور گناہ سے آلودہ ماحول ميں پاكيزگى ايك جرم وعيب ہوا كرتى ہے يوسف جيسے پاكدامن كو عفت وپارسائي كے جرم ميں زندانوں ميں ڈالا جاتا ہے جبكہ زليخائيں اس ماحول ميں آزاد اور صاحب جاہ ومقام ،ہوا كرتى ہيں اور قوم لوط(ع) اپنے اپنے گھروں ميں آرام وآساآش كے ساتھ رہتى ہے _
____________________
(۱) سورہ شعراء آيت ۱۶۷
يہيں پر قرآن مجيد كا مصداق واضح ہوجاتاہے جووہ گمراہ لوگوں كے بارے ميں كہتا ہے كہ:
ہم (ان كے اپنے اعمال كى بناپر) ان كے دلوں پر مہرلگاديتے ہيں اور ان كى آنكھوں پر پردے ڈال ديتے اور ان كے كان بہرے ہوجائے _
ايك احتمال يہ بھى ہے كہ وہ گناہوں كى دلدل ميں اس حدتك پھنس چكے تھے كہ لوط كے خاندان كا تمسخراڑا كر كہتے تھے كہ وہ ہميں ناپاك سمجھتے ہيں اور خود بڑے پاكباز بنتے ہيں ، يہ كيسا مذاق ہے؟
يہ عجيب بات نہيں تو اور كيا ہے كہ بے حيائي اور بے شرمى كے فعل سے مانوس ہوجانے كى وجہ سے انسان كى حس شناخت ہى يكسر بدل جائے يہ بالكل اس چمڑارنگنے والے كى مثال ہے جوبدبوسے مانوس ہوچكا تھا اور جب ايك مرتبہ وہ عطاروں كے بازارسے گزررہا تھا تو عطر كى نامانوس بوكى وجہ سے بے ہوش ہوگيا، جب اسے حكيم كے پاس لے گئے تو اس نے حكم ديا كہ اسے دوبارہ چمڑار نگنے والوں كے بازار ميں لے جاياجائے چنانچہ ايسا ہى كيا گيا اور وہ ہوش ميں آگيا اور مرنے سے بچ گيايہ واقعاًاس بارے ميں ايك دلچسپ حسى مثال ہے _
۳۰ /سال سعى و كوشش
جناب لوط عليہ السلام نے اس قوم كو تيس سال تك تبليغ كي، ليكن اپنے خاندان كے سوا(اور وہ بھى بيوى كو مستثنى كر كے كيونكہ وہ مشركين كے ساتھ ہم عقيدہ ہوگئي تھي)، اور كوئي آپ پر ايمان نہيں لايا_
ليكن حضرت لوط عليہ السلام نے ان دھمكيوں كى كوئي پرواہ نہ كى اور اپنا كام جارى ركھا اور كہا :'' ميں تمہارے ان كاموں كا دشمن ہوں _''(۱)
يعنى ميں اپنا احتجاج برابر جارى ركھوں گا ،تم جو كچھ ميرا بگاڑنا چاہتے ہو بگاڑلو ،مجھے راہ خدا اور برائيوں كے خلاف جہاد كے سلسلے ميں ان دھمكيوں كى قطعا ًكوئي پرواہ نہيں ہے_
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۱۶۷
اس احتجاج ميں اور بھى بہت سے لوگ جناب لوط عليہ السلام كے ہمنوا ہوچكے تھے، يہ اوربات ہے كہ سركش قوم نے آخركارانھيں جلاوطن كرديا _
لائق توجہ بات يہ كہ حضرت لوط عليہ السلام فرماتے ہيں كہ '' تمہارے اعمال كا دشمن ہوں '' يعنى مجھے تمہارى ذات سے دشمنى نہيں بلكہ تمہارے شرمناك اعمال سے نفرت ہے اگر ان اعمال كو اپنے سے دور كردو تو پھر تم ميرے پكے دوست بن جاو گے _
بہرحال جناب لوط عليہ السلام كى ذمہ دارى كا آخرى مرحلہ آن پہنچا لہذا وقت آپہنچا كہ جناب لوط عليہ السلام خود كو بھى اور جو لوگ ان پر ايمان لاچكے ہيں انھيں بھى اس گناہ آلود علاقے سے باہر نكال كرلے جائيں تاكہ ہولناك عذاب اس بے حياقوم كو اپنى لپيٹ ميں لے لے _
حضرت لوط عليہ السلام نے اللہ كى بارگاہ ميں دست دعا بلند كركے كہا:
''پروردگار : جو كچھ يہ لوگ كہہ رہے ہيں مجھے اور ميرے خاندان كو اس سے نجات دے _''(۱)
يہ ہے گناہ گاروں كا انجام
آخركار حضرت لوط عليہ السلام كى دعا مستجاب ہوئي اور خدا كى طرف سے اس قوم تباہ كار كے خلاف سخت سزا كا حكم صادر ہوا ،وہ فرشتے جو عذاب نازل كرنے پر مامور تھے قبل اس كے كہ سرزمين لوط پر اپنا فرض ادا كرنے كے لئے جاتے، حضرت ابراہيم (ع) كے پاس ايك اور پيغام لے كر گئے اور وہ پيغام تھا، حضرت ابراہيم (ع) كو فرزند كى پيدائش كى خوشخبرى تھى _
'' اس كى وضاحت يہ ہے كہ:ابراہيم شام كى طرف جلا وطن ہونے كے بعد لوگوں كو خدا كى طرف دعوت دينے اور ہر قسم كے شرك و بت پرستى كے خلاف مبارزہ كرنے ميں مصروف تھے،حضرت ''لوط''جو ايك عطيم پيغمبر تھے ،ان ہى كے زمانہ ميں ہوئے ہيں اور احتمال يہ ہے كہ اپ ہى كى طرف سے مامور ہوئے
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۱۶۹
تھے،كہ گمراہوں كو تبليغ و ہدايت كرنے كے لئے شام كے ايك علاقہ (يعنى سدوم كے شہروں كى طرف) سفر كريں ،وہ ايك ايسى گناہگار قوم كے درميان ائے جو شرك اور بہت سے گناہوں ميں الودہ تھى ،اور سب سے قبيح گناہ اغلام اور لواطت تھى ،اخر كار فرشتوں كا ايك گروہ،اس قوم كى ہلاكت پر ما مور ہوا ليكن وہ پہلے ابراہيم (ع) كے پاس ائے_
ابراہيم (ع) مہمانوں كى وضع و قطع سے سمجھ گئے كہ يہ كسى اہم كام كے لئے جارہے ہيں ،اور صرف بيٹے كى ولادت كى بشارت كے لئے نہيں ائے، كيونكہ اس قسم كى بشارت كے لئے تو ايك ہى شخص كا فى تھا ،يا اس عجلت كى وجہ ہے جو وہ چلنے كے لئے كر رہے تھے ،اس سے محسوس كيا كہ كوئي اہم ڈيوٹى ركھتے ہيں ''_ قران ميں حضرت ابراہيم عليہ السلام سے ملاقات كا ذكر ہے چنانچہ كہا گيا ہے : جس وقت ہمارے ايلچى حضرت ابراہيم عليہ السلام كے پاس بشارت لے كرگئے _انھيں اسحاق اور يعقوب كے پيدا ہونے كى خوش خبرى سنائي اور پھر (قوم لوط كى بستى كى طرف اشارہ كرتے ہوئے )كہا كہ ہم اس شہر اور اس ميں رہنے والوں كو ہلاك كرديں گے كيونكہ يہ لوگ ظالم ہيں _ ''(۱)
چونكہ فرشتوں نے ''ھذہ القرية''_ كہا اس سے ثابت ہوتا ہے كہ قوم لوط اسى مقام كے قرب جوار ميں رہتى تھى جہاں حضرت ابراہيم (ع) رہتے تھے_،اور اس قوم كو لفظ ''ظالم''سے ياد كرنا اس وجہ سے تھا كہ وہ اپنے نفوس پر ظلم كرتے تھے يہاں تك كہ اس طرف سے گزرنے والے مسافروں اور قافلوں پر بھى ستم كرتے تھے _
جب حضرت ابراہيم عليہ السلام نے يہ بات سنى تو انھيں حضرت لوط پيغمبر خدا كى فكر ہوئي اور كہا :'' اس آبادى ميں تو لوط بھى ہے ''_(۲)
اس پر كيا گزرے گى ؟
مگر فرشتوں نے فورا ًجواب ديا :'' آپ فكر نہ كريں ہم ان سب لوگوں سے خوب واقف ہيں جو اس
____________________
(۱)سورہ عنكبوت آيت ۳۱
(۲)سورہ عنكبوت آيت ۳۲
بستى ميں رہتے ہيں ''_(۱)
ہم اندھا دھند عذاب نازل نہيں كريں گے ہمارا پروگرام نہايت سنجيدہ اور نپاتلاہے _
فرشتوں نے يہ بھى كہا كہ'' ہم لوط(ع) اور اس كے خاندان كو نجات ديں گے بجز اس كى بيوى كے كہ جو اس قوم كے ساتھ ہى مبتلائے عذاب ہوگى ''_(۲)
صرف ايك خاندان مومن اور پاك
فرآن سے بخوبى ثابت ہوتاہے كہ اس علاقے كى تمام آباديوں اور بستيوں ميں صرف ايك ہى خاندان مومن اور پاك نفس تھا اور خدانے بھى اسے عذاب سے نجات دى جيسا كہ قرآن ميں مذكورہے :
''ہم نے وہاں ايك خاندان كے سوائے كوئي بھى مسلمان نہ پايا _''(۳)
يہاں تك كہ حضرت لوط كى زوجہ بھى مومنين كى صف سے خارج تھى اس لئے وہ بھى عذاب ميں گرفتار ہوئي _
وہ عورت جو خانوادہ نبوت ميں شامل تھى اسے تو ''مو منين اور مسلمين '' سے جدا نہيں ہونا چاہئے تھا مگر وہ اپنے كفرو شرك اور بت پرستى كى وجہ سے اس صنف سے جدا ہوگئي _
اس طرح كلام سے واضح ہوتاہے كہ وہ عورت منحرف العقيدہ تھى كچھ بعيد نہيں كہ اس ميں يہ بد عقيدگى اس مشرك معاشرے كے اثر سے پيداہوگئي ہو ا،ور ابتدا ميں مومن وموحد ہو اس صورت ميں حضرت لوط پر يہ اعتراض نہيں ہوتا كہ انھوں نے ايسى مشركہ سے نكاح ہى كيوں كيا تھا ؟
يہ خيال بھى ہوتاہے كہ اگر كچھ اور لوگ حضرت لوط عليہ السلام پر ايمان لائے ہوں گے تو وہ حتما ًنزول عذاب سے پہلے اس گناہ آلود زمين سے ہجرت كرگئے ہوں گے ،تنہا حضرت لوط عليہ السلام اور ان كے اہل
____________________
(۱)سورہ عنكبوت آيت۳۲
(۲)سورہ عنكبوت آيت۳۲
(۳)سورہ ذاريات آيت۳۶
وعيال اس مقام پر اس توقع سے آخرى وقت تك ٹھہرے ہوں گے كہ ممكن ہے ان كى تبليغ اور ڈرانے كا لوگوں پر اثرہو_
يہاں تك كہ حضرت ابراہيم عليہ السلام سے فرشتوں كى گفتگو ختم ہوگئي اور وہ حضرت لوط عليہ السلام كے علاقے كى طرف روانہ ہوگئے _
حضرت لوط عليہ السلام مہمانوں كو ديكھ كر پريشان ہوگئے
قرآن ميں ارشاد ہوتاہے:
''جب ہمارے رسول،لوط(ع) كے پاس آئے تو وہ ان كے آنے پر بہت ہى ناراحت اور پريشان ہوئے ، ان كى فكر اورروح مضطرب ہوئي اور غم واندوہ نے انہيں گھيرليا _''(۱)
اسلامى روايات اور تفاسير ميں آيا ہے كہ حضرت لوط اس وقت اپنے كھيت ميں كام كررہے تھے، اچانك انہوں نے خوبصورت نوجوانوں كو ديكھا جو ان كى طرف آرہے تھے وہ ان كے يہاں مہمان ہونا چاہتے تھے ،اب حضرت لوط(ع) مہمانوں كى پذيرائي بھى چاہتے تھے ليكن اس حقيقت كى طرف بھى ان كى توجہ تھى كہ ايسے شہر ميں جو انحراف جنسى كى آلود گى ميں غرق ہے_
ان خوبصورت نوجوانوں كا آنا طرح طرح كے مسائل كا موجب ہے اور ان كى آبروريزى كا بھى احتمال ہے، اس وجہ سے حضرت لوط سخت مشكل سے دوچار ہوگئے يہ مسائل ،روح فرسا افكار كى صورت ميں ان كے دماغ ميں ابھرے اور انہوں نے آہستہ آہستہ اپنے آپ سے كہنا شروع كيا آج بہت سخت اورو حشتناك دن ہے _''(۲)
بہرحال حضرت لوط عليہ السلام كے پاس اس كے علاوہ كوئي چارہ كار نہ تھا كہ وہ اپنے نووارد مہمانوں كو اپنے گھرلے جاتے، ليكن اس بناء پر كہ وہ غفلت ميں نہ رہيں راستے ميں چند مرتبہ ان كے گوش گزار كرديا
____________________
(۱) سورہ ہودآيت ۷۷
(۲) سورہ ہودآيت ۷۷
كہ اس شہر ميں شرير اور منحرف لوگ رہتے ہيں تاكہ اگر مہمان ان كا مقابلہ نہيں كرسكتے تو صورت حال كا اندازہ كرليں _
خداوند عالم نے فرشتوں كو حكم ديا تھا كہ جب تك يہ پيغمبر تين مرتبہ اس قوم كى برائي اور انحراف كى گواہى نہ دے انہيں عذاب نہ ديا جائے ( يعنى يہاں تك كہ ايك گنہگار قوم سے متعلق بھى حكم خدا عدالت كے ايك عادلانہ فيصلے كى روشنى ميں انجام پائے)اور ان رسولوں نے راستے ميں تين مرتبہ لوط عليہ السلام كى گواہى سن لى _
حضرت لوط عليہ السلام نے مہمانوں كو اتنى دير تك (كھيت ميں ) ٹھہرائے ركھا كہ رات ہوگئي تاكہ شايد اس طرح اس شرير اور آلودہ قوم كى آنكھ سے بچ كر حفظ آبرو كے ساتھ ان كى پذيرائي كر سكيں ليكن جب انسان كا دشمن خود اس كے گھر كے اندر موجود ہوتو پھر كيا كيا جاسكتا ہے حضرت لوط عليہ السلام كى بيوى كو جوايك بے ايمان عورت تھى اور اس گنہگار قوم كى مدد كرتى تھى جب اسے ان نوجوانوں اور خوبصورت مہمانوں كے آنے كى خبر ہوئي تو چھت پر چڑھ گئي پہلے اس نے تالى بجائي پھر آگ روشن كركے اس كے دھوئيں كے ذريعے اس نے منحرف قوم كے بعض لوگوں كو آگاہ كيا كہ لقمہ تر جال ميں پھنس چكا ہے _
قوم لوط(ع) آپ كے گھر ميں داخل ہوگئي
شہروالوں كو جب لوط عليہ السلام كے پاس آنے والے نئے مہمانوں كا پتہ چلاتو وہ ان كے گھر كى طرف چل پڑے، راستے ميں وہ ايك دوسرے كو خوشخبرى ديتے تھے_ گمراہى كى شرمناك وادى ميں بھٹكنے والے ان افراد كا خيال تھا كہ گويا نرمال ان كے ہاتھ آگيا ہے خوبصورت اور خوش رنگ نوجوان اور وہ بھى لوط كے گھر ميں _
قرآن ميں اس جگہ اہل مدينہ استعمال ہوا ہے اوريہ كى تعبير نشاندہى كرتى ہے كہ كم از كم شہر كے بہت سے لوگ ٹوليوں ميں حضرت لوط عليہ السلام كے گھر كى طرف چل پڑے ،اس سے يہ امر واضح ہوتا ہے كہ وہ كس حدتك بے شرم ، ذليل اور جسور تھے خصوصا لفظ ''يستبشرون ''(ايك دوسرے كو بشارت ديتے تھے )ان كى
آلودگى كى گہرائي كى حكايت كرتا ہے كيونكہ يہ ايك ايسا شرمناك عمل ہے كہ شايد كسى نے اس كى نظيرجانوروں ميں بھى بہت ہى كم ديكھى ہوگى اور يہ عمل اگر كوئي انجام ديتا بھى ہے تو كم از كم چھپ چھپا كراور احساس شرمندگى كے ساتھ ايسا كرتا ہے ليكن يہ بدكاراور كمينہ صفت قوم كھلم كھلا ايك دوسرے كو مباركباد ديتى تھي_
حضرت لوط عليہ السلام نے جب ان كا شوروغل سنا تو بہت گھبرائے اورمضطرب ہوئے انھيں اپنے مہمانوں كے بارے ميں بہت خوف ہوا كيونكہ ابھى تك وہ نہيں جانتے تھے كہ يہ مہمان مامورين عذاب ہيں اور قادر وقاہر خدا كے فرشتے ہيں لہذا وہ ان كے سامنے كھڑے ہوگئے اور كہنے لگے :يہ ميرے مہمان ہيں ، ميرى آبرونہ گنوائو_''(۱)
يعنى اگر تم خدا ، پيغمبر اور جزاء وسزا كے مسئلہ سے صرف نظر كرلو تو بھى كم از كم يہ انسانى مسئلہ ہے اور يہ بات تو سب انسانوں ميں چاہے مومن ہوں يا كافر ، موجود ہے كہ وہ مہمانوں كا احترام كرتے ہيں تم كيسے انسان ہو كہ اتنى سى بات بھى نہيں مانتے ہو اگر تمہارا كوئي دين نہيں تو كم ازكم آزاد انسان تو بنو _اس كے بعد آپ نے مزيد كہا : آئو خدا سے ڈرو اور مجھے ميرے مہمانوں كے سامنے شرمسار نہ كرو_''(۲)
ليكن ،وہ بہت جسوراورمنہ پھٹ تھے بجائے اس كے كہ و ہ شرمندہ ہوتے كہ انہوں نے اللہ كے پيغمبر حضرت لوط عليہ السلام سے كے سا مطالبہ كيا ہے الٹا اس طرح سے پيش آئے جيسے لوط عليہ السلام سے كوئي جرم سرزد ہوا ہے انھوں نے زبان اعتراض دراز كى اور كہنے لگے : '' كيا ہم نے تجھ سے نہ كہا تھا كہ دنيا والوں كو اپنے يہاں مہمان نہ ٹھہرانا اور كسى كو اپنے يہاں نہ آئے دينا _''(۳)
تم نے اس كى خلاف ورزى كيوں كى اور ہمارے كہنے پر عمل كيوں نہ كيا _
يہ اس بناء پر تھا كہ يہ قوم انتہائي كم ظرف اور كنجوس تھى يہ لوگ ہرگز كسى كو اپنے يہاں مہمان نہيں ٹھہراتے تھے اور اتفاق سے ان كے شہرقافلوں كے راستے ميں پڑتے تھے كہتے ہيں كہ انھوں نے يہ كام بعض
____________________
(۱)سورہ حجر آيت ۶۸
(۲)سورہ حجرآيت ۶۹
(۳)سورہ حجر آيت ۷۰
آنے والوں كے ساتھ اس لئے كيا كوئي ان كے يہاں ٹھہرے نہ ،آہستہ آہستہ ان كى عادت بن گئي لہذا جب حضرت لوط عليہ السلام كو شہر ميں كسى مسافر كے آنے كى خبر ہوتى تو اسے اپنے گھر ميں دعوت ديتے تاكہ وہ كہيں ان كے چنگل ميں نہ پھنس جائے ان لوگوں كو جب اس كا پتہ چلاتو بہت سيخ پاہوئے اور حضرت لوط عليہ السلام سے كھل كر كہنے لگے كہ تمھيں كوئي حق نہيں پہنچتا كہ اب تم كسى مہمان كو اپنے گھرلے جائو _
اے كاش ميں تم سے مقابلہ كرسكتا
بہر حال جب حضرت لوط عليہ السلام نے ان كى يہ جسارت اور كمينہ پن ديكھى تو انھوں نے ايك طريقہ اختيار كيا تاكہ انھيں خواب غفلت اور انحراف وبے حيائي كى مستى سے بيدار كرسكيں _ آپ نے كہا : تم كيوں انحراف كے راستے پر چلتے ہو اگر تمہارا مقصد جنسى تقاضوں كو پورا كرنا ہے تو جائز اور صحيح طريقے سے شادى كركے انھيں پورا كيوں نہيں كرتے ، ،يہ ميرى بيٹياں ہيں (تيار ہوں كہ انھيں تمہارى زوجيت ميں دے دوں ) اگر تم صحيح كام انجام دينا چاہتے ہو تو اس كا راستہ يہ ہے _''(۱)
اس ميں شك نہيں كہ حضرت لوط عليہ السلام كى تو چند بيٹياں تھيں اور ان افراد كى تعداد زيادہ تھى ليكن مقصديہ تھا كہ ان پر اتمام حجت كيا جائے اور كہا جائے كہ ميں اپنے مہمانوں كے احترام اور حفاظت اور تمہيں برائي كى دلدل سے نكالنے كے لئے اس حد تك ايثار كے لئے تيار ہوں _يہ بات واضح ہے كہ جناب لوط يونہى اپنى لڑكيوں كا عقد ان مشركوں اور گمراہوں سے نہيں كرنا چاہتے تھے بلكہ مقصد يہ تھا كہ پہلے ايمان لے او تاكہ بعد ميں اپنے لڑكيوں كى شادى تم سے كردوں _
ليكن افسوس شہوت، انحراف اور ہٹ دھرمى كے اس عالم ميں ان ميں ذرہ بھر بھى انسانى اخلاق اور جذبہ باقى ہوتا تو كم از كم اس امر كے لئے كافى تھا كہ وہ شرمندہ ہوتے اور پلٹ جاتے، مگرنہ صرف يہ كہ وہ شرمندہ نہ ہوئے بلكہ اپنى جسارت ميں اور بڑھ گئے اور چاہا كہ حضرت لوط كے مہمانوں كى طر ف ہاتھ بڑھائيں _
____________________
(۱)سورہ حجر آيت ۷۱
وہ قوم حرص اور شوق كے عالم ميں اپنے مقصد تك پہنچنے كے لئے بڑى تيزى سے لوط كى طرف آئي_
مگر اس تباہ كار قوم نے نبى خدا حضرت لوط(ع) كو بڑى بے شرمى سے جواب ديا :
''تو خود اچھى طرح سے جانتا ہے كہ ہماراتيرى بيٹيوں ميں كوئي حق نہيں ، اور يقينا تو جانتا ہے كہ ہم كيا چاہتے ہيں _''(۱)
يہ وہ مقام تھا كہ اس بزر گوار پيغمبر نے اپنے آپ كو ايك محاصرے ميں گھراہوا پايا اور انہوں نے ناراحتى وپريشانى كے عالم ميں فرياد كى :اے كاش : مجھ ميں اتنى طاقت ہوتى كہ ميں اپنے مہمانوں كا دفاع كر سكتا اورتم جيسے سر پھروں كى سركوبى كرسكتا ''_(۲)
يا كوئي مستحكم سہارا ہوتا ، كوئي قوم و قبيلہ ميرے پيروكارں ميں سے ہوتا اور ميرے كوئي طاقتور ہم پيمان ہوتے كہ جن كى مدد سے تم منحرف لوگوں كا مقابلہ كرتا_(۳)
اے لوط(ع) آپ پريشان نہ ہويئے
آخر كار پروردگار كے رسولوں نے حضرت لوط كى شديد پريشانى ديكھى اور ديكھا كہ وہ روحانى طور پر كس اضطراب كا شكار ہيں تو انہوں نے اپنے اسرار كار سے پردہ اٹھايا اور ان سے كہا :'' اے لوط(ع) : ہم تيرے پروردگار كے بھيجے ہوئے ہيں ، پريشان نہ ہومطم ن رہو كہ وہ ہرگز تجھ پر دسترس حاصل نہيں كرسكيں گے''_(۴)
قران ميں دوسرى جگہ پر ہے :(۵)
يہ آيت نشاندہى كرتى ہے كہ اس وقت حملہ آورقوم پروردگار كے ارادے سے اپنى بينائي كھوبيٹھى تھي
____________________
(۱)سورہ ہودآيت ۷۹
(۲)سورہ ہود آيت ۸۰
(۳)سورہ ہود آيت۸۰
(۴)سورہ ہود آيت ۸۱
(۵)وہ لوط عليہ السلام كے مہمانوں كے بارے ميں تجاوز كا ارادہ ركھتے تھے ليكن ہم نے ان كى آنكھيں اندھى كرديں _
اور حملے كى طاقت نہيں ركھتى تھى بعض روايات ميں بھى ہے كہ ايك فرشتے نے مٹھى بھر خاك ان كے چہروں پر پھينكى جس سے وہ نابينا ہوگئے _
بہرحال جب لوط اپنے مہمانوں كے بارے ميں ان كى ماموريت كے بارے ميں آگاہ ہوئے تو يہ بات اس عظيم پيغمبر كے جلتے ہوئے دل كے لئے ٹھنڈك كى مانند تھي، ايك دم انہوں نے محسوس كيا كہ ان كے دل سے غم كا بار گراں ختم ہوگيا ہے اور ان كى آنكھيں خوشى سے چمك اٹھيں ، ايسا ہوا جيسے ايك شديد بيمارى كى نظر مسيحاپر جاپڑے، انہوں نے سكھ كا سانس ليا اور سمجھ گئے كہ غم واندوہ كا زمانہ ختم ہورہاہے اور اس بے شرم حيوان صفت قوم كے چنگل سے نجات پانے كا اور خوشى كا وقت آپہنچا ہے _
مہمانوں نے فوراً لوط عليہ السلام كو حكم ديا : تم تاريكى شب ميں اپنے خاندان كو اپنے ساتھ لے لو اور اس سرزمين سے نكل جائو ليكن يہ پابندى ہے كہ '' تم ميں سے كوئي شخص پس پشت نہ ديكھے_ ''(۱)
اس حكم كى خلاف ورزى فقط تمہارى معصيت كار بيوى كرے گى كہ جو تمہارى گنہگار قوم كو پہنچنے والى مصيبت ميں گرفتار ہوگى _''(۲)
____________________
(۱)''ولا يلتفت منكم احد''_ كى تفسير ميں مفسيرين نے چند احتمال ذكر كيے ہيں :
پہلا يہ كوئي شخص اپنى پس پشت نہ ديكھے _
دوسرا يہ كہ شہر ميں سے مال اور وسائل لے جانے كى فكر نہ كرے بلكہ صرف اپنے آپ كو اس ہلاكت سے نكال لے جائے _
تيسرايہ كہ اس خاندان كے اس چھوٹے سے قافلہ ميں سے كوئي شخص پيچھے نہ رہ جائے_
چوتھا يہ كہ تمہارے نكلنے كے وقت زمين ہلنے لگے كى اور عذاب كے آثار نماياں ہوجائيں گے لہذا اپنے پس پشت نگاہ نہ كرنا اور جلدى سے دور نكل جانا_
البتہ كوئي مانع نہيں ہے كہ يہ سب احتمالات اس آيت كے مفہوم ميں جمع ہوں
(۲)سورہ ہود آيت ۸۱
كيا صبح قريب نہيں ہے؟
بالآخر انھوں نے لوط سے آخرى بات كہي: ''نزول عذا ب كا لمحہ اور وعدہ كى تكميل كا موقع صبح ہے اور صبح كى پہلى شعاع كے ساتھ ہى اس قوم كى زندگى غروب ہوجائے گى _''(۱)
ابھى اٹھ كھڑے ہو اور جتنا جلدى ممكن ہو شہر سے نكل جائو''كيا صبح نزديك نہيں ہے _''(۲)
بعض روايات ميں ہے كہ جب ملائكہ نے كہا كہ عذاب كے وعدہ پر عمل درآمدصبح كے وقت ہوگا توحضرت لوط عليہ السلام كو جو اس آلودہ قوم سے سخت ناراحت اور پريشان تھے، وہى قوم كہ جس نے اپنے شرمناك اعمال سے ان كا دل مجروح كرركھا تھا اور ان كى روح كو غم واندوہ سے بھرديا تھا، فرشتوں سے خواہش كى كہ اب جب كہ ان كو نابودہى ہونا ہے تو كيا ہى اچھا ہو كہ جلدى ايسا ہو ليكن انہوں نے حضرت لوط كى دلجوئي اور تسلى كے لئے كہا : كياصبح نزديك نہيں ہے ؟
آخركار عذاب كا لمحہ آن پہنچا اور لوط پيغمبر عليہ السلام كے انتظاركے لمحے ختم ہوئے ، جيسا كہ قرآن كہتا ہے :
''جس وقت ہمارا فرمان آن پہنچا تو ہم نے اس زمين كو زيروزبر كرديا اور ان كے سروں پر مٹيلے پتھروں كى پيہم بارش برسائي _''(۳)
پتھروں كى يہ بارش اس قدر تيز اور پے درپے تھى كہ گويا پتھرايك دوسرے پر سوار تھے _ليكن يہ معمولى پتھرنہ تھے بلكہ تيرے پروردگار كے يہاں معين اور مخصوص تھے ''مسومة عند ربك ''_ البتہ يہ تصور نہ كريں كہ يہ پتھر قوم لوط كے ساتھ ہى مخصوص تھے بلكہ'' يہ كسى ظالم قوم اور جمعيت سے دور نہيں ہيں _ ''(۴)
اس بے راہ روااور منحرف قوم نے اپنے اوپر بھى ظلم كيا اور اپنے معاشرے پر بھى وہ اپنى قوم كى تقدير
____________________
(۱)سورہ ہود آيت ۸۱
(۲)سورہ ہود آيت ۸۱
(۳)سورہ ہود آيت ۸۲
(۴)سورہ ہود آيت ۸۳
سے بھى كھيلے اور انسانى ايمان واخلاق كا بھى مذاق اڑايا ،جب ان كے ہمدرد رہبر نے داد وفرياد كى تو انہوں نے كان نہ دھرے اور تمسخركيا اعلى ڈھٹائي ، بے شرمى اور بے حيائي يہاں تك آپہنچى كہ وہ اپنے رہبر كے مہمانوں كى حرمت وعزت پر تجاوز كے لئے بھى اٹھ كھڑے ہوئے _
يہ وہ لوگ تھے كہ جنہوں نے ہر چيز كو الٹ كر ركھ ديا ان كے شہروں كو بھى الٹ جانا چاہئے تھا فقط يہى نہيں كہ ان كے شہرتباہ وبرباد ہوجاتے بلكہ ان پر پتھروں كى بارش بھى ہونا چاہئے تھى تاكہ ان كے آخرى آثار حيات بھى درہم وبرہم ہوجائيں اور وہ ان پتھروں ميں دفن ہوجائيں اس سے كہ ان كا نام ونشان اس سرزمين ميں نظر نہ آئے، صرف وحشت ناك ، تباہ وبرباد بيابان ، خاموش قبرستان اور پتھروں ميں دبے ہو ئے مردوں كے علاوہ ان ميں كچھ باقى نہ رہے _
كيا صرف قوم لوط(ع) كو يہ سزا ملنى چاہئے نہيں ، يقينا ہر گز نہيں بلكہ ہر منحرف گروہ اور ستم پيشہ قوم كے لئے ايسا ہى انجام انتظار ميں ہے كبھى سنگريزوں كى بارش كے نيچے ، كبھى آگ اگلتے بموں كے نيچے اور كبھى معاشرے كے لئے تباہ كن اختلافات كے تحت خلاصہ يہ كہ ہر ستمگر كو كسى نہ كسى صورت ميں ايسے عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا _
صبح كے وقت نزول عذاب كيوں ؟
يہاں پر ذہن ميں يہ سوال پيدا ہوتاہے كہ نزول عذاب كےلئے صبح كا وقت كيوں منتخب كيا گيا رات كے وقت ہى عذاب كيوں نازل نہيں ہوا ؟
ايسا اس لئے تھا كہ جب حضرت لوط(ع) كے گھر پر چڑھ آنے والے افراد اندھے ہوگئے اور قوم كے پاس لوٹ كر گئے اور واقعہ بيان كيا تو وہ كچھ غور وفكر كرنے لگے، معاملہ كيا ہے خدانے صبح تك انہيں مہلت دى كہ شايد بيدار ہوجائيں اور اس كى بارگاہ كى طرف رجوع كريں اور توبہ كريں يا يہ كہ خدا نہيں چاہتا تھا كہ رات كى تاريكى ميں ان پر شب خون مارا جائے اسى بناء پر حكم ديا كہ صبح تك مامور عذاب سے ہاتھ روكے ركھيں _تفاسير ميں اس كے بارے ميں تقريباً كچھ نہيں لكھا گيا ليكن جو كچھ ہم نے اوپر ذكر كيا ہے وہ اس سلسلے
ميں پند قابل مطالعہ احتمالات ہيں _
زيرو زبركيوں كيا گيا
ہم كہہ چكے ہيں كہ چكے ہيں كہ عذاب كى گناہ سے كچھ نہ كچھ مناسبت ہونا چاہئے، اس قوم نے انحراف جنسى كے ذريعہ چونكہ ہر چيز كوالٹ پلٹ كرديا تھا لہذا خدا نے بھى ان شہروں كو زيرو زبر كرديا اور چونكہ روايات كے مطابق ان كے منہ سے ہميشہ ركيك اور گندى گندگى كى بارش ہوتى تھى لہذا خدانے بھى ان پر پتھروں كى بارش برسائي _
جس نكتے كا ہم آخر ميں ذكر ضرورى سمجھتے ہيں وہ يہ ہے كہ جنسى انحراف كى طرف افراد كے ميلان كے بہت سے علل واسباب ہيں يہاں تك كہ بعض اوقات ماں باپ كا اپنى اولاد سے سلوك يا ہم جنس اولاد كى نگرانى نہ كرنا ، ان كے طرز معاشرت اور ايك ہى جگہ پر سونا وغيرہ بھى ہوسكتا ہے اس آلودگى كا ايك عامل بن جائے _
بعض اوقات ممكن ہے كہ اس انحراف سے ايك اور اخلاقى انحراف جنم لے لے، يہ امر قابل توجہ ہے كہ قوم لوط كے حالات ميں ہے كہ ان كے اس گناہ ميں آلودہ ہونے كا ايك سبب يہ تھا كہ وہ بخيل اور كنجوس لوگ تھے اور چونكہ ان كے شہر شام جانے والے قافلوں كے راستے ميں پڑتے تھے اور وہ نہيں چاہتے تھے كہ مہمانوں اور مسافروں كى پذيرائي كريں لہذا ابتداء ميں وہ اس طرح ظاہر كرتے تھے كہ وہ چاہتے تھے كہ مہمانوں اور مسافروں كو اپنے سے دور بھگائيں ليكن تدريجاًيہ عمل ان كى عادت بن گيا اور انحراف جنسى كے ميلانات آہستہ آہستہ ان كے وجود ميں بيدار ہوگئے اور معاملہ يہاں تك جاپہنچا كہ وہ سرسے لے كر پائوں تك اس ميں آلودہ ہوگئے _(۱)
____________________
(۱) يہاں تك كے فضول قسم كا مذاق جو كبھى كبھى لڑكوں كے درميان اپنے ہم جنسوں كے بارے ميں ہوتا ہے بعض اوقات ان انحرافات كى طرف كھينچ لے جانے كا سبب بن جاتاہے _
قوم لوط(ع) كا اخلاق
اسلامى روايات وتواريخ ميں جنسى انحراف كے ساتھ ساتھ قوم لوط(ع) كے برے اور شرمناك اعمال اور گھٹيا كردار بھى بيان ہواہے _
كہا گيا ہے كہ ان كى مجالس اور بيٹھكيں طرح طرح كے منكرات اور برے اعمال سے آلودہ تھيں وہ آپس ميں ركيك جملوں ، فحش كلامى اور پھبتيوں كا تبادلہ كرتے تھے ايك دوسرے كى پشت پر مكے مارتے تھے قمار بازى كرتے تھے بچوں والے كھيل كھيلتے تھے گزرنے والوں كو كنكرياں مارتے تھے طرح طرح كے آلات موسيقى استعمال كرتے تھے او رلوگوں كے سامنے برہنہ ہو جاتے تھے اور اپنى شرمگاہوں كو ننگاكرديتے تھے _
واضح ہے كہ اس قسم كے گندے ماحول ميں ہر روز انحراف اور بدى نئي شكل ميں رونما ہوتى ہے اور وسيع سے وسيع تر ہوتى چلى جاتى ہے ايسے ماحول ميں اصولى طور پر برائي كا تصور ختم ہوجاتاہے اور لوگ اس طرح سے اس راہ پر چلتے ہيں كہ كوئي كام ان كى نظر ميں برا اور قبيح نہيں رہتا ان سے زيادہ بد بخت وہ قوميں ہيں جو علم كى پيش رفت كے زمانے ميں انہى راہوں پر گا مزن ہيں ،بعض اوقات تو ان كے اعمال اس قدر شرمناك اور رسوا كن ہوتے ہيں كہ قوم لوط كے اعمال بھول جاتے ہيں _
حضرت لوط (ع) كى بيوى كافروں كے لئے مثال
قرآن مجيد ميں ارشاد ہوتا ہے ''خدا نے كافروں كے لئے ايك مثال بيان كى ہے'' نوح عليہ السلام كى بيوى كى مثال اور لوط عليہ السلام كى بيوى كى مثال ''وہ دونوں ہمارے دوصالح بندوں كے ما تحت تھيں ليكن انہوں نے ان سے خيانت كي، ليكن ان دو عظيم پيغمبر وں سے ان كے ارتباط نے عذاب الہى كے مقابلہ ميں انھيں كوئي نفع نہيں ديا اور ان سے كہا گيا كہ تم بھى آگ ميں داخل ہونے والے لوگوں كے ساتھ آگ ميں داخل ہوجائو_ ''(۱)
____________________
(۱) سورہ تحريم آيت ۱۰
حضرت نوح كى بيوى كا نام ''والھہ'' اور حضرت لوط كى بيوى كا نام ''والعة''تھا ۱ اور بعض نے اس كے برعكس لكھا ہے يعنى نوح كى بيوى كانام''والعة'' اورلوط كى بيوى كا نام ''والھہ'' يا ''واہلہ'' كہا ہے_
بہرحال ان دونوں عورتوں نے ان دونوں عظيم پيغمبروں كے ساتھ خيانت كى ،البتہ ان كى خيانت جائدہ عفت سے انحراف ہرگزنہيں تھا كيونكہ كسى پيغمبر كى بيوى ہرگز بے عفتى سے آلودہ نہيں ہوتى جيسا كہ پيغمبر اسلام سے ايك حديث ميں صراحت كے ساتھ بيان ہواہے :
''كسى بھى پيغمبر كى بيوى ہرگز منافى عفت عمل سے آلودہ نہيں ہوئي''_
حضرت لوط كى بيوى كى خيانت يہ تھى كہ وہ اس پيغمبر كے دشمنوں كے ساتھ تعاون كرتى تھى اور ان كے گھر كے راز انھيں بتاتى تھى اور حضرت نوح (ع) كى بيوى بھى ايسى ہى تھى _
حضرت يوسف اور يعقوب (عليہماالسلام)
داستان عشق يا پاكيزگى كا بہترين سبق
حضرت يوسف (ع) كے واقعہ كو بيان كرنے سے پہلے چند چيزوں كا بيان كرنا ضرورى ہے:
۱_ بے ہدف داستان پردازوں يا پست اور غليظ مقاصد ركھنے والوں نے اس اصلاح كنندہ واقعہ كو ہوس بازوں كے لئے ايك عاشقانہ داستان بنانے اور حضرت يوسف عليہ السلام او ران كے واقعات كے حقيقى چہرے كو مسخ كرنے كى كوشش كى ہے،يہاں تك كہ انھوں نے اسے ايك رومانى فلم بناكر پردہ سيميں پر پيش كرنا چاہا ہے ،ليكن قرآن مجيد نے كہ جس كى ہر چيز نمونہ اور اسوہ ہے اس واقعے كے مختلف مناظرسے پيش كرتے ہوئے اعلى ترين عفت وپاكدامني، خوداري، تقوى ،ايمان اور ضبط نفس كے درس دئے ہيں اس طرح سے كہ ايك شخص اسے جتنى مرتبہ بھى پڑھے ان قوى جذبوں سے متاثر ہوئے بغير نہيں رہ سكتا_
اسى بنا پر قرآن نے اسے ''احسن القصص'' (بہترين داستان) جيسا خوبصورت نام ديا ہے اور اس ميں صاحبان فكرونظر كے لئے متعدد عبرتيں بيان كى ہيں _
قہرمان پاكيزگي
۲_اس واقعہ ميں غوروفكر سے يہ حقيقت واضح ہو تى ہے كہ قرآن تمام پہلو ئوں سے معجزہ ہے اور اپنے واقعات ميں جو ہيرو پيش كرتا ہے وہ حقيقى ہيرو ہو تے ہيں نہ كہ خيا لى _كہ جن ميں سے ہر ايك اپنى نو عيت كے
اعتبار سے بے نظير ہو تا ہے _
حضرت ابراہيم ،وہ بت شكن ہيرو ،جن كى روح بلند تھى اور جو طاغوتيوں كى كسى سازش ميں نہ آئے _
حضرت نو ح،طويل اور پر بر كت عمرميں _صبر واستقا مت،پا مردى اور دلسوزى كے ہيرو بنے_
حضرت مو سى وہ ہير و كہ جنہوں نے ايك سركش اور عصيان گر طاغوت كے مقابلے كے لئے ايك ہٹ دھرم قوم كو تيار كرليا _
حضرت يوسف ;ايك خوبصورت ،ہو س باز اور حيلہ گر عورت كے مقابلے ميں پاكيز گى ، پارسائي اور تقوى كے ہيرو بنے_
علاوہ ازيں اس واقعے ميں قرآنى وحى كى قدرت بيان اس طرح جھلكتى ہے كہ انسان حيرت زدہ ہو جاتا ہے كيونكہ جيسا كہ ہم جانتے ہيں كئي مواقع پر يہ واقعہ عشق كے بہت ہى باريك مسائل تك جا پہنچتاہے اور قرآن انہيں چھوڑ كر ايك طرف سے گزر ے بغير ان تمام مناظر كو ان كى بار يكيوں كے سا تھ اس طرح سے بيان كرتا ہے كہ سا مع ميں ذرہ بھر منفى اور غير مطلوب احساس پيدا نہيں ہوتا _قرآن تمام واقعات كے تن سے گزر تا ہے ليكن تمام مقامات پر تقوى وپاكيزگى كى قوى شعاعوں نے مباحث كا احا طہ كيا ہوا ہے _
حضرت يوسف(ع) كا واقعہ اسلام سے پہلے اور اسلام كے بعد
۳_ اس ميں شك نہيں كہ قبل از اسلام بھى داستان يوسف لوگوں ميں مشہور تھى كيو نكہ تو ريت ميں سفر پيد ائش كى چو دہ فصلوں (فصل ۳۷تا ۵۰) ميں يہ واقعہ تفصيل سے مذكورہے _البتہ ان چودہ فصلوں كا غور سے مطا لعہ كيا جا ئے تو يہ بات ظاہر ہو تى ہے كہ توريت ميں جو كچھ ہے وہ قرآن سے بہت ہى مختلف ہے _ان اختلافات كے موازنے سے معلوم ہو تا ہے كہ جو كچھ قرآن ميں آيا ہے وہ كس حد تك پيراستہ اور ہر قسم كے خرافات سے پاك ہے_ يہ جو قرآن پيغمبر سے كہتا ہے :''اس سے پہلے آپ كو علم نہيں تھا ،،اس عبرت انگيز داستا ن كى خالص واقعيت سے ان كى عدم آگہى كى طرف اشارہ ہے_ (اگر احسن القصص سے مراد واقعہ يوسف ہو ) _
موجود ہ توريت سے ايسا معلوم ہوتا ہے كہ حضرت يعقوب نے جب حضرت يوسف كى خون آلود قميص ديكھى تو كہا :''يہ ميرے بيٹے كى قبا ہے جسے جانور نے كھا ليا ہے يقينا يوسف چير پھاڑڈالا گيا ہے _''
پھر يعقوب نے اپنا گريبان چا ك كيا ٹاٹ اپنى كمر سے باند ھا اور مدت دراز تك اپنے بيٹے كے لئے گريہ كرتے رہے، تمام بيٹوں اور بيٹيوں نے انہيں تسلى دينے ميں كسراٹھا نہ ركھى ليكن انہيں قرار نہ آيا اور كہا كہ ميں اپنے بيٹے كے ساتھ اسى طرح غمزدہ قبر ميں جائوں گا _
جبكہ قرآن كہتا ہے كہ حضرت يعقوب عليہ السلام اپنى فراست سے بيٹوں كے جھوٹ كو بھانپ گئے اور انہوں نے اس مصيبت ميں داد وفرياد نہيں كى اور نہ اضطراب دكھا يا بلكہ جيسا كہ انبياء عليہم السلام كى سنت ہے اس مصيبت كا بڑے صبر سے سا منا كيا اگر چہ ان كا دل جل رہا تھا، آنكھيں اشكبار تھيں ، فطر ى طور پر كثرت گريہ سے ان كى بينا ئي جاتى رہى _ليكن قرآن كى تعبير كے مطابق انہوں نے صبر جميل كا مظاہرہ كيا اور اپنے اوپر قابو ركھا (كظيمہ) انہوں نے گريبان چاك كر نے ، دادو فرياد كرنے اور پھٹے پرا نے كپڑے پہنے سے گريز كيا جو كہ عزادارى كى مخصوص علامات تھيں _
بہر حال اسلام كے بعد بھى يہ واقعہ مشرق مغرب كے مو رخين كى تحريروں ميں بعض اوقات حاشيہ آرائي كے ساتھ آيا ہے فارسى اشعار ميں سب سے پہلے ''يوسف زليخا ،،كے قصے كى نسبت فردوسى كى طرف دى جاتى ہے اس كے بعد شہاب الدين عمق اور مسعودى قمى كى ''يوسف زليخا''ہے اور ان كے بعد نويں صدى كے مشہور شاعر عبدالرحمن جامى كي'' يوسف زليخا ''ہے _
احسن القصص
۴_قران ميں داستان يوسف كو شروع كرتے ہوئے خدافرماتا ہے:''ہم اس قران كے ذريعہ (جو اپ پر وحى ہوتى ہے )،كے ذريعہ ''احسن القصص ''بيان كرتے ہيں ''_(۱)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت۳
يہ واقعہ كيسے بہترين نہ ہو جب كہ اس كے ہيجان انگيز پيچ وخم ميں زندگى كے اعلى تر ين دروس كى تصوير كشى كى گئي ہے _اس واقعے ميں ہر چيز پر خدا كے اراد ے كى حاكميت كا ہم اچھى طرح مشاہدہ كرتے ہيں _
حسد كرنے والوں كا منحوس انجام ہم اپنى آنكھوں سے ديكھتے ہيں اوران كى سازشوں كونقش بر آب ہو تے ہو ئے ديكھتے ہيں _
بے عفتى كى عارو ننگ اور پارسا ئي وتقوى كى عظمت وشكوہ اس كى سطور ميں ہم مجسم پاتے ہيں كنويں كى گہرائي ميں ايك ننھے بچے كى تنہائي، زندان كى تاريك كو ٹھرى ميں ايك بے گناہ قيدى كے شب وروز ، ياس ونا اميدى كے سياہ پردوں كے پيچھے نو ر اميد كى تجلى اور آخر كار ايك وسيع حكو مت كى عظمت وشكوہ كہ جو آگاہ ہى وامانت كا نتيجہ ہے يہ تمام چيز يں اس داستان ميں انسان كى آنكھوں كے سامنے سا تھ سا تھ گزر تى ہيں _
وہ لمحے كہ جب ايك معنى خيز خواب سے ايك قوم كى سر نوشت بدل جاتى ہے _
وہ وقت كہ جب ايك قوم كى زندگى ايك بيدا ر خدا ئي زمام دار كے علم وآگہى كے زير سا يہ نابودى سے نجات پاليتى ہے _
اور ايسے ہى دسيوں درس ، جس داستا ن ميں مو جود ہوں وہ كيوں نہ ''احسن القصص''ہو _
البتہ يہى كافى نہيں كہ حضرت يوسف عليہ السلام كى داستان ''احسن القصص'' ہے اہم بات يہ ہے كہ ہم ميں يہ لياقت ہو كہ يہ عظيم درس ہمارى روح ميں اتر جائے_
بہت سے ايسے لوگ ہيں جو حضرت يوسف (ع) كے واقعہ كو ايك اچھے رومانوى واقعہ كے عنوان سے ديكھتے ہيں ، ان جا نو روں كى طرح جنھيں ايك سر سبز وشاداب اور پھل پھو ل سے لدے ہوئے باغ ميں صرف كچھ گھا س نظر پڑتى ہے كہ جو ان كى بھو ك كو زائل كردے _
ابھى تك بہت سے ايسے لوگ ہيں كہ جو اس داستا ن كو جھو ٹے پر وبال دے كر كوشش كرتے ہيں كہ اس سے ايك سيكسى ( sexsi )داستان بنا ليں جب كہ اس واقعہ كے لئے يہ بات نا شائستہ ہے اور اصل داستان ميں تمام اعلى انسا نى قدر يں جمع ہيں آئند ہ صفحات ميں ہم ديكھيں گے كہ اس واقعہ كے جامع خو
بصورت پيچ وخم كو نظر انداز كر كے نہيں گزرا جاسكتا ايك شاعر شيريں سخن كے بقول :
''كبھى كبھى اس داستان كے پر كشش پہلوئوں كى مہك انسا ن كو اس طرح سر مست كر ديتى ہے كہ وہ بے خود ہو جاتا ہے_''
اميد كى كرن او ر مشكلات كى ابتدا ء
حضرت يوسف عليہ السلام كے واقعے كا آغاز قرآن ان كے عجيب اور معنى خيز خواب سے كرتا ہے كيونكہ يہ خواب دراصل حضرت يوسف كى تلا طم خيز زندگى كا پہلاموڑ شمار ہو تا ہے _
ايك دن صبح سوير ے آپ بڑے شوق اور وار فتگى سے باپ كے پاس آئے اور انہيں ايك نيا واقعہ سنا يا جو ظا ہر اً كو ئي زيادہ اہم نہ تھا ليكن درحقيقت ان كى زندگى ميں ايك تازہ با ب كھلنے كا پتہ دے رہا تھا _
''يو سف نے كہا :ابا جان :
''ميں نے كل رات گيا رہ ستاروں كو ديكھا كہ وہ آسمان سے نيچے اتر ئے سورج اور چاندان كے ہمراہ تھے ' سب كے سب ميرے پاس آئے اور مير ے سامنے سجدہ كيا _''(۱)
حضرت يوسف (ع) نے يہ خواب شب جمعہ ديكھا تھا كہ جو شب قدر بھى تھى (وہ رات جو مقدرات كے تعين كى رات ہے ) _
يہاں پر سوال يہ پيد ا ہوتا ہے كہ حضرت يوسف نے جب يہ خواب ديكھا اس وقت آپ كى عمر كتنے سال تھى 'اس سلسلے ميں بعض نے نو سال' بعض نے بارہ سال اور بعض نے سات سال عمر لكھى ہے جو بات مسلم ہے وہ يہ ہے كہ اس وقت آپ بہت كم سن تھے _
اس ہيجان انگيز اور معنى خيز خواب پر خدا كے پيغمبر يعقوب فكر ميں ڈوب گئے كہ سورج ،چاند اور آسمان كے گيارہ ستارے ،وہ گيا رہ ستارہ نيچے اترے اور ميرے بيٹے يوسف كے سامنے سجدہ ريز ہو گئے _
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۴
يہ كس قدر معنى آفر يں ہے يقينا سورج اور چاند ميں اور اس كى ماں (يامَيں اور اس كى خالہ ) ہيں اور گيارہ ستارے اس كے بھائي ہيں ميرے بيٹے كى قدر ومنزلت اور مقام اس قدر بلند ہو گا كہ آسمان كے ستارے ، سورج اور چاند اس كے آستا نہ پر جبيں سائي كريں گے يہ بار گاہ الہى ميں اس قدر عزيز اور باوقار ہو گا كہ آسمان والے بھى اس كے سامنے خضوع كريں گے كتنا پر شكوہ اور پر كشش خواب ہے _ لہذا پريشانى اور اضطراب كے انداز ميں كہ جس ميں ايك مسرت بھى تھى ،اپنے بيٹے سے كہنے لگے ''ميرے بيٹے :اپنا يہ خواب بھائيوں كو نہ بتانا،كيو نكہ وہ تيرے خلا ف خطر ناك سازش كريں گے ،ميں جانتا ہوں كہ شيطان انسا ن كا كھلا دشمن ہے _( ۲) وہ مو قع كى تاڑميں ہے تا كہ اپنے وسوسو ں كا آغاز كرے ، كينہ وحسد كى آگ بھڑ كا ئے يہا ں تك كہ بھا ئيوں كو ايك دوسرے كا دشمن بنادے_ ليكن يہ خواب صرف مستقبل ميں يو سف كے مقام كى ظاہرى ومادى عظمت بيان نہيں كرتا تھا بلكہ نشا ندہى كرتا تھا كہ وہ مقام نبوت تك بھى پہچنيں گے كيونكہ آسمان والو ں كا سجدہ كرنا آسمانى مقام كے بلند ى پر پہنچنے كى دليل ہے اسى لئے تو ان كے پدر بزر گوار حضرت يعقوب نے مزيد كہا : اور اس طر ح تير ا پرور دگار تجھے منتخب كرے گا _'' اور تجھے تعبير خواب كا علم دے گا اور اپنى نعمت تجھ پر اور آل يعقوب(ع) پر تمام كرے گا ،جيسے اس نے قبل از يان تيرے باپ ابراہيم عليہ السلام اور اسحاق(ع) پر تمام كى ہاں تيرا پروردگار عالم ہے اور حكمت كےمطابق كام كرتاہے_''(۳)
بھائيوں كى سازش
يہاں سے يوسف(ع) كے بھائيوں كى يوسف(ع) كے خلاف سازش شروع ہو تى ہے ،قران ميں ان بہت سے اصلا حى دروس كى طرح اشارہ كيا گيا ہے جو اس داستا ن ميں موجود ہيں ،ارشاد ہوتا ہے :''يقينا يوسف اور اس كے بھائيوں كى داستا ن ميں سوال كرنے والوں كے لئے نشانياں تھيں _''(۴)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۵
(۲)سورہ يوسف آيت ۵
(۳)سورہ يوسف آيت ۶
(۴)سورہ يوسف آيت ۷
اس سے بڑھ كر اوركيا درس ہوگا كہ چند طاقتور افراد ايك سو چے سمجھے منصوبے كے تحت كہ جس كا سر چشمہ حسد تھا'ظاہراً ايك كمزور اور تنہا شخص كو نابود كرنے كے لئے اپنى تمام تر كو شش صرف كرتے ہيں مگر اس كام سے انہيں خبر نہيں ہو تى كہ وہ اسے ايك حكومت كے تخت پر بٹھا رہے ہيں اور ايك وسيع مملكت كا فرماں روا بنا رہے ہيں اور آخر كا وہ سب اس كے سامنے سر تعظيم وتسليم خم كرتے ہيں يہ امر نشاند ہى كرتا ہے كہ جب خدا كسى كام كا ارادہ كرتا ہے تو وہ اتنى طاقت ركھتا ہے كہ اس كا م كو اس كے مخالفين كے ہا تھوں پايہ تكميل تك پہنچا دے تا كہ يہ واضح ہوجائے گا كہ ايك پاك اور صاحب ايمان انسان اكيلا نہيں ہے اور اگر سارا جہان اس كى نا بودى پر كمر باند ھ لے ليكن خدا نہ چاہے تو كوئي اس كا بال بھى بيكا نہيں كرسكتا _
حضرت يعقوب(ع) كے بارہ بيٹے تھے ان ميں يو سف اور بنيا مين ايك ماں سے تھے ان كى والدہ كا نام ''راحيل'' تھا يعقوب (ع) ان دونوں بيٹوں سے خصوصاًيو سف سے زيا دہ محبت كرتے تھے كيونكہ ايك تو يہ ان كے چھوٹے بيٹے تھے لہذا فطرتاً زيادہ تو جہ اور محبت كے محتاج تھے اور دوسرا ان كى والدہ ''راحيل''فوت ہو چكى تھيں اس بنا ء پر بھى انہيں زيادہ تو جہ اور محبت كى ضرورت تھى علاوہ ازيں خصوصيت كے سا تھ حضرت يوسف ميں نا بغہ اور غير معمولى شخصيت ہونے كے آثار نمايا ں تھے؟ مجمو عى طور پر ان سب باتو ں كى بنا ء پر حضرت يعقوب واضح طور پر ان سے زيادہ پيار محبت كا برتائو كرتے تھے _
حاسد بھا ئيوں كى تو جہ ان پہلوئوں كى طرف نہيں تھى اور وہ اس پر بہت نا راحت اور ناراض تھے_ خصوصاًشايد مائوں كے الگ الگ ہونے كى وجہ سے بھى فطر تاً ان ميں رقابت مو جود تھى لہذا وہ اكٹھے ہو ئے اور كہنے لگے : يو سف اور اس كے بھا ئي كو باپ ہم سے زيادہ پيار كرتا ہے حالانكہ ہم طاقتور اور مفيد لوگ ہيں _''(۱)
اور باپ كے امور كو بہتر طور پر چلا سكتے ہيں اس لئے اسے ان چھوٹے بچوں كى نسبت ہم سے زيادہ محبت كرنا چاہئے جب كہ ان سے تو كچھ بھى نہيں ہو سكتا ،اس طرح يك طرفہ فيصلہ كرتے ہو ئے انہوں نے اپنے باپ كے خلاف كہا كہ'' ہمارا باپ واضح گمراہى ميں ہے_''( ۲)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۸
(۲)سورہ يوسف آيت ۸
حسد اور كينے كى آگ نے انہيں اجازت نہ دى كہ وہ معا ملے كے تمام اطراف پر غور وفكر كرتے اور ان دو بچوں سے اظہار محبت پر باپ كے دلائل معلوم كرتے كيو نكہ ہميشہ ذاتى مفادات ہر شخص كى فكر پر پر دہ ڈال ديتے ہيں اور اسے يك طرفہ فيصلوں پر آمادہ كرديتے ہيں كہ جن كا نتيجہ حق وعدا لت كے راستے سے گمراہى ہے_البتہ ان كى مراد دين ومذہب كے اعتبار سے گمراہى نہ تھى كيو نكہ بعد ميں آنے والى گفتگو نشاندہى كرتى ہيں كہ اپنے باپ كى عظمت او رنبوت پر ان كا عقيدہ تھا اور انہيں صرف ان كے طرز معا شر ت پر اعتراض تھا _
يوسف (ع) كو قتل كر ديا جائے
بغض ،حسد اور كينے كے جذبات نے آخر كار بھا ئيوں كو ايك منصوبہ بنا نے پر آمادہ كيا وہ ايك جگہ جمع ہو ئے اور دو تجاو يزاان كے سامنے تھيں كہنے لگے :''يا يوسف كو قتل كردو يا اسے دور دراز كے كسى علاقے ميں پھينك آئو تا كہ باپ كى محبت كا پورا رخ ہما رى طرف ہو جائے ''_(۱)
يہ ٹھيك ہے كہ اس كا م پر تمہيں احساس گناہ ہو گا اور وجدان كى ندامت ہو گى كيو نكہ اپنے چھو ٹے بھا ئے پر يہ ظلم كرو گے ليكن اس گناہ كى تلافى ممكن ہے ،تو بہ كر لينا'' اور اس كے بعد صالح جمعيت بن جانا ''_(۲)
ليكن بھائيوں ميں سے ايك بہت سمجھدار تھا يا اس كا ضمير نسبتاًزيادہ بيدارتھا اسى لئے اس نے يوسف(ع) كو قتل كرنے كے منصوبے كى مخالفت كى اور اسى طرح كسى دور دراز علاقے ميں پھينك آنے كى تجويز پيش كي،كيونكہ اس منصوبے ميں يوسف(ع) كى ہلاكت كا خطرہ تھا_ اس نے ايك تيسرا منصبوبہ پيش كيا،وہ كہنے لگا:''اگر تمہيں ايسا كا م كرنے پر اصرار ہى ہے تو يوسف(ع) كو قتل نہ كرو بلكہ اسے كسى كنويں ميں پھينك دو(اس طرح سے كہ وہ زندہ رہے)تا كہ راہ گزاروں كے كسى قافلے كے ہاتھ لگ جائے اور وہ اسے اپنے ساتھ لے جائيں اور اس طرح يہ ہمارى اور باپ كى آنكھوں سے دور ہو جائے _(۳)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۹
(۲)سورہ يوسف آيت ۹
(۳)سورہ يوسف آيت۱۰
منحوس سازش
يوسف (ع) كے بھائيوں نے جب يوسف كو كنويں ميں ڈالنے كى آخرى سازش پر اتفاق كرليا تو يہ سوچنے لگے كہ يوسف كو كس طرح لے كر جائيں لہذا اس مقصد كے لئے انہوں نے ايك اور منصوبہ تيار كيا اس كے لئے وہ باپ كے پاس آئے اور اپنے حق جتا نے كے انداز ميں ، نرم ونازك لہجے ميں محبت بھرے شكو ے كى صورت ميں كہنے لگے :''ابا جان :آپ يو سف كو كيوں كبھى اپنے سے جدا نہيں كرتے اور ہما رے سپر د نہيں كر تے آپ ہميں بھائي كے بارے ميں امين كيوں نہيں سمجھتے حالا نكہ ہم يقينا اس كے خير خوا ہ ہيں ''_(۱)
آيئے :جس كا آپ ہميں متہم سمجھتے ہيں اسے جانے ديجئے ،علا وہ ازيں ہمارا بھائي نو عمر ہے، اس كا بھى حق ہے 'اسے بھى شہر سے باہر كى آزاد فضا ميں گھو منے پھر نے كى ضرورت ہے 'اسے گھر كے اندر قيد كردينا درست نہيں ،كل اسے ہمارے سا تھ بھيجئے تا كہ يہ شہر سے باہر نكلے ،چلے پھر ے، درختوں كے پھل كھا ئے ،كھيلے كو دے اور سير و تفريح كرے ''_(۲)
اور اگر آپ كو اس كى سلامتى كا خيال ہے اور پريشانى ہے ''تو ہم سب اپنے بھائي كے محا فظ ونگہبان ہوں گے ''_(۳)
كيو نكہ آخر يہ ہمارا بھائي ہے اور ہمارى جان كے برابر ہے _اس طرح انہو ں نے بھائي كو باپ سے جدا كرنے كا بڑاماہر انہ منصوبہ تيار كيا ،ہو سكتا ہے انہوں نے يہ باتيں يوسف كے سا منے كى ہوں تا كہ وہ بھى باپ سے تقاضا كريں اور ان سے صحرا كى طرف جا نے كى اجازت لے ليں _
اس منصوبہ ميں ايك طرف باپ كے لئے انہوں نے يہ مشكل پيدا كر دى تھى كہ اگر وہ يوسف كو ہمارے سپر د نہيں كرتے تو يہ اس امر كى دليل ہے كہ ہميں متہم سمجھتے ہيں اور دوسرى طرف كھيل كو د اور سير وتفريح كے لئے شہر سے باہر جانے كى يوسف كے لئے تحريك تھى _
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۱۱
(۲)سورہ يوسف آيت ۱۲
(۳)سورہ يوسف آيت ۱۲
كنعان كے بھيڑئے
حضرت يعقوب عليہ السلام نے برادران يو سف كى باتوں كے جواب ميں بجائے اس كے كہ انہيں برے ارادے كا الزام ديتے، كہنے لگے كہ ميں جو تمہارے ساتھ يوسف كو بھيجنے پر تيار نہيں ہوں تو اس كى دو وجوہ ہيں :''پہلى يہ كہ يوسف كى جدا ئي مير ے لئے غم انگيز ہے ''_(۱) اور دوسرى يہ كہ ہو سكتا ہے كہ ان كے ارد گرد كے بيابانوں ميں خو نخوار بھيڑئے ہوں ''اور مجھے ڈر ہے كہ مبادا كوئي بھيڑيا ميرے فرزند دلبند كو كھا جائے اور تم اپنے كھيل كود ،سير و تفريح اور دوسرے كامو ں ميں مشغول رہو'' _(۲)
يہ بالكل فطرى امر تھا كہ اس سفر ميں بھائي اپنے آپ ميں مشغول ہوں اور اپنے چھو ٹے بھا ئي سے غافل ہوں اور بھيڑ يوں سے بھرے اس بيابان ميں كوئي بھيڑيا يوسف كو اٹھائے البتہ بھائيوں كے پا س باپ كى پہلى دليل كا كوئي جواب نہ تھا كيو نكہ يو سف كى جدا ئي كا غم ايسى چيز نہ تھى كہ جس كى وہ تلافى كر سكتے بلكہ شايد اس بات نے بھا ئيوں كے دل ميں حسد كى آگ كو اور بھڑكا ديا ہو _
دوسرى طرف بيٹے كو باہر لے جانے كے بارے ميں باپ كى دليل كا جواب تھا كہ جس كے ذكر كى چندا ں ضرورت نہ تھى اور وہ يہ كہ آخر كار بيٹے كو نشوو نما اور تر بيت كے لئے چاہتے يا نہ چاہتے ہوئے باپ سے جدا ہو نا ہے اور اگر وہ ''نورستہ ''كے پودے كى طرح ہميشہ باپ كے زير سايہ رہے تو نشوو نما نہيں پاسكے گا اور بيٹے كے تكا مل وار تقا ء كے لئے باپ مجبور ہے كہ يہ جدا ئي بردا شت كرے آج كھيل كو د ہے كل تحصيل علم و دانش ہے پر سوں زندگى كے لئے كسب وكار اور سعى وكو شش ہے اخر كا ر جدا ئي ضرورى ہے _
لہذا اصلاً انہوں نے اس كا جواب نہيں ديا بلكہ دوسرى دليل كا جواب شروع كيا كہ جو ان كى نگاہ ميں اہم اور بنيا دى تھى اور كہنے لگے : ''كيسے ممكن ہے كہ ہمارے بھائي كو بھيڑ يا كھاجائے حالانكہ ہم طا قتور لوگ ہيں اگر ايسا ہو جائے تو ہم زياں كا روبد بخت ہوں گے ''(۳)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۱۳
(۲)سورہ يوسف آيت ۱۳
(۳)سورہ يوسف آيت ۱۴
يعنى كيا ہم مردہ ہيں كہ بيٹھ جائيں اور ديكھتے رہيں گے اور بھيڑ يا ہمارے بھائي كو كھا جائےگا ،بھا ئي كو بھائي سے جو تعلق ہو تا ہے اس كے علاوہ جو بات اس كى حفاظت پر ہميں ابھارتى ہے يہ ہے كہ ہمارى لوگوں ميں عزت وآبرو ہے ،لوگ ہمارے متعلق كيا كہيں گے ،يہى نا كہ طاقتور مو ٹى گر دنوں والے بيٹھے رہے اور اپنے بھائي پر بھيڑئے كو حملہ كرتے ديكھتے رہے كيا پھر ہم لوگوں ميں جينے كے قابل رہيں گے _(۱)
انہوں نے ضمناً باپ كى اس بات كا بھى جواب ديا كہ ہو سكتا ہے تم كھيل كود ميں لگ جائو اور يوسف سے غافل ہو جائواور وہ يہ كہ يہ مسئلہ گو يا سارى دولت اور عزت وآبرو كے ضا ئع ہو نے كا ہے ايسا مسئلہ نہيں ہے كہ كھيل كود ہميں غافل كردے كيو نكہ اس صورت ميں ہم لوگ بے وقعت ہوجائيں گے اور ہمارى كوئي قدر وقيمت نہيں ہو گى _
بہر حال انہوں نے بہت حيلے كئے خصو صا ًحضر ت يو سف كے معصوم جذ بات كو تحريك كيااور انہيں شوق دلا يا كہ وہ شہر سے باہر تفر يح كے لئے جائيں اور شايد يہ ان كے لئے پہلا مو قع تھا كہ وہ باپ كو اس كے لئے راضى كريں اور بہر صورت اس كام كے لئے ان كى رضا مندى حاصل كريں _
يہ احتمال بھى ذكر كيا گيا ہے كہ حضرت يعقوب (ع) نے كنائے كى زبان ميں بات كى تھى اور ان كى نظر بھيڑيا صفت انسانوں كى طرف تھى ،جيسے يوسف كے بعض بھائي تھے
____________________
(۱)يہاں يہ سوال سامنے اتا ہے كہ تمام خطرات ميں سے حضرت يعقو ب (ع) نے صرف بھيڑئے كے حملے كے خطرے كى نشاندہى كيوں كى تھى _
بعض كہتے ہيں كہ كنعان كا بيابان بھيڑيوں كا مركز تھا ،اس لئے زيادہ خطرہ اسى طرف سے محسوس ہوتا تھا _
بعض ديگر كہتے ہيں كہ يہ ايك خواب كى وجہ سے تھا كہ جو حضرت يعقوب عليہ السلام نے پہلے ديكھاتھا كہ بھيڑيوں نے ان كے بيٹے يوسف پر حملہ كر ديا ہے _
روتے ہوئے جناب يوسف(ع) كو وداع كيا
آخركا ربھائي كامياب ہوگئے_انہوں نے باپ كو راضى كرليا كہ وہ يوسف(ع) كو ان كے ساتھ بھيج دے_ وہ رات انہوں نے اس خوش خيالى كے ساتھ گزارى كہ كل يوسف(ع) كے بارے ميں ان كا منصوبہ عملى شكل اختيار كرے گا اور راستے كى ركاوٹ اس بھائي كو ہميشہ كے لئے راستے سے ہٹاديں گے_پريشانى انہيں صرف يہ تھى كہ باپ پشيمان نہ ہور اور اپنى بات واپس نہ لے لے_
صبح سويرے وہ باپ كے پاس گئے اور يوسف(ع) كى حفاظت كے بارے ميں باپ نے ہدايات دہرائيں _ انہوں نے بھى اظہار اطاعت كيا_ باپ كے سامنے اسے بڑى محبت و احترام سے اٹھايا اور چل پڑے_
كہتے ہيں شہر كے دروازے تك باپ ان كے ساتھ آئے اور آخرى دفعہ يوسف(ع) كو ان سے لے كر اپنے سينے سے لگايا_ آنسو ان كى آنكھوں سے برس رہے تھے_ پھر يوسف(ع) كو ان كے سپرد كركے ان سے جدا ہوگئے ليكن حضرت يعقوب(ع) كى آنكھيں اسى طرح بيٹوں كے پيچھے تھيں _ جہاں تك باپ كى آنكھيں كام كرتى تھيں وہ بھى يوسف(ع) پر نوازش اور محبت كرتے رہے ليكن جب انہيں اطمينان ہوگيا كہ اب باپ انہيں نہيں ديكھ سكتا تو اچانك انہوں نے آنكھيں پھير ليں _ سالہاسال سے حسد كى وجہ سے جو ان كے اندرتہ بہ تہ بغض و كينہ موجود تھا وہ حضرت يوسف(ع) پر نكلنے لگا_ ہر طرف سے اسے مارنے لگے وہ ايك سے بچ كر دوسرے كى پناہ ليتے ليكن كوئي انہيں پناہ نہ ديتا_
يوسف كى ہنسى اور ان كا رونا
ايك روايت ميں ہے كہ اس طوفان بلاء ميں حضرت يوسف آنسوبہار ہے تھے اور جب وہ انہيں كنويں ميں پھينكنے لگے تواچانك حضرت يوسف ہنسنے لگے ،بھا ئيوں كو بہت تعجب ہوا يہ ہنسنے كا كو نسا مقام ہے گو يا يوسف نے اس مسئلے كو مذاق سمجھا ہے اور بات سے بے خبر ہے كہ سياہ وقت اور بدبختى اس كے انتظار ميں ہے
ليكن يوسف (ع) نے اس ہنسنے كے مقصد سے پردہ اٹھا يا اور سب كو عظيم در س ديا ،وہ كہنے لگے :
''ميں نہيں بھو لتا كہ ايك دن تم طاقتور بھا ئيوں ،تمہارے قوى بازووں اور بہت زيادہ جسمانى طاقت پر ميں نے نظر ڈالى تو ميں بہت خو ش ہوا اور ميں نے اپنے آپ سے كہا كہ جس كے اتنے دوست اور مدد گار ہوں اسے سخت حوادث كا كيا غم ہے اس دن ميں نے تم پر بھر وسہ كيا اور پناہ ليتا ہوں اور تم مجھے پناہ نہيں ديتے خدا نے تمہيں مجھ پر مسلط كيا ہے تا كہ ميں يہ درس سيكھ لوں كہ اس كے غير پر يہاں تك كہ بھائيوں پر بھى بھروسہ نہ كروں ''؟
اس كے آگے قران مزيدكہتا ہے:''اس وقت ہم نے يوسف (ع) كى طرف وحى بھيجى ،اسے تسلى دى اور اس كى دلجوئي كى اور اس سے كہا كہ غم نہ كھاو ''ايك دن ايسا ائے گا كہ تم انھيں ان تمام منحوس سازشوں اور منصوبوں سے اگاہ كروگے اور وہ تمہيں پہچان نہيں سكيں گے''_(۱)
وہ دن كہ جب تم تخت حكو مت پر تكيہ لگا ئے ہو گے اور تمہارے يہ بھائي تمہارى طرف دست نياز پھيلا ئيں گے اور ايسے تشنہ كامو ں كى طرح كہ جو چشمئہ خوش گواركى تلاش ميں تپتے ہوئے بيابان ميں سرگر داں ہوتے ہيں تمہارے پاس بڑے انكسار اور فروتنى سے آئيں گے ليكن تم اتنے بلند مقام پر پہنچے ہوں گے كہ انہيں خيال بھى نہ ہو گا كہ تم ان كے بھائي ہو اس روز تم ان سے كہو گے كہ كيا تم ہى تھے جنہوں نے اپنے چھو ٹے بھائي يو سف كے سا تھ يہ سلو ك كيا اور اس دن يہ كس قدر شرمسار اور پشيمان ہوں گے _(۲)
اس نكتہ كى طرف توجہ ضرورى ہے كہ انھوں نے اتفاق كيا كہ اسے كنويں كى مخفى جگہ پر ڈال ديں يہ جملہ اس بات كى دليل ہے كہ انھوں نے حضرت يوسف (ع) كو كنويں ميں پھينكا نہيں تھا بلكہ نيچے لے گئے تھے ،كنويں كي
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت۱۵
(۲) سورہ يوسف كى آيت ۲۲ كے قرينے سے معلوم ہو تا ہے كہ يہ وحى الہى وحى نبوت نہ تھى بلكہ يو سف كے دل پر الہام تھا تا كہ وہ جان لے كہ وہ تنہا نہيں ہے اور اس كا ايك حافظ ونگہبان ہے، اس وحى نے قلب يو سف پر اميد كى ضيا پا شى كى اور يا س ونا اميد كى تاريكيو ں كو اس كى روح سے نكال ديا _
تہ ميں ايك چبوترا سا نيچے جانے والوں كے لئے بنايا جاتا ہے اور سطح اب كے قريب ہوتا ہے انھوں نے حضرت يوسف (ع) كى كمر ميں طناب ڈال كر وہاں تك پہنچا يا اور وہاں چھوڑديا_
جناب يوسف(ع) بر ہنہ كنويں
ميں يہ نكتہ بھى قا بل تو جہ ہے كہ جس وقت حضرت يو سف كے بھا ئيو ں نے انہيں كنويں ميں پھينكا تو ان كا كرتہ اتار ليا اور ان كا بدن برہنہ ہو گيا تو يوسف(ع) نے بہت دادو فرياد كى كہ كم از كم مير ا كرتہ تو مجھے دے دو تا كہ اگر ميں زندہ رہو ں تو ميرا بدن ڈھا پنے اور اگر مر جائوں تو ميرا كفن بن جائے_ بھائي كہنے لگے :اسى سورج ،چاند اور ستاروں سے كہہ جنہيں خواب ميں ديكھا تھا، تقاضا كرو كہ اس كنويں ميں تيرے مونس وغمخوار ہو ں اور تجھے لباس پہنائيں _
يو سف(ع) كے بھا ئيوں نے جو منصوبہ بناركھا تھا اس پر انہوں نے اپنى خواہش كے مطا بق عمل كر ليا_ ليكن آخر كار انہيں واپس لوٹنے كے بارے ميں سوچنا تھا كہ جا كر كوئي ايسى بات كريں كہ باپ كو يقين آجائے كہ يو سف كسى سازش كے تحت نہيں بلكہ طبيعى طور پر وادى عدم ميں چلا گيا ہے اور اس طرح وہ باپ كى نوازشات كو اپنى جانب مو ڑسكيں _
ذليل كنندہ جھوٹ
قرآن كہتا ہے :''رات كے وقت بھائي روتے ہوئے ائے''_(۱)
ان كے جھوٹے آنسوئوں اور ٹسوے بہانے سے ظاہر ہو تا ہے كہ جھو ٹا رونا بھى ممكن ہے اور صرف روتى ہوئي آنكھ سے دھو كا نہيں كھانا چاہئے_
باپ جو بڑى بے تا بى اور بے قرارى سے اپنے فرزند دلبند يو سف كى واپسى كے انتظار ميں تھا اس نے جب انہيں واپس آتے ديكھا اور يوسف ان ميں دكھائي نہ ديا تو وہ لرز گئے اور كا نپ اٹھے _حالات پوچھے
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۱۶
تو انہوں نے كہا :''ابا جانہم گئے اور ہم (سوارى اورتير اندازى كے) مقابلوں ميں مشغول ہوگئے اور يوسف كہ چھوٹا تھا اور ہم سے مقا بلہ نہيں كر سكتا تھا ہم اسے اپنے سامان كے پاس چھوڑگئے ،اس كا م ميں ہم اتنے محو ہو گئے كہ ہر چيز يہا ں تك كہ بھا ئي كو بھى بھول گئے ،اس اثنا ميں ايك بے رحم بھيڑيا اس طرف آپہنچا اور اس نے اسے چير پھا ڑ كھا يا ''_(۱) ''ليكن ہم جانتے ہيں كہ تم ہر گز ہمارى باتوں كا يقين نہيں كرو گے اگر چہ ہم سچے ہوں كيو نكہ تم نے پہلے ہى اس قسم كى پيش بينى كى تھى لہذ ا اسے بہانہ سمجھو گے _''(۲)
بھائيوں كى با تيں بڑى سو چى سمجھى تھيں پہلى با ت يہ كہ انہوں نے باپ كو يا''اے ہمارے والد ''كے لفظ سے مخاطب كيا كہ جس ميں ايك جذباتى پہلو تھا _دو سرى بات يہ ہے كہ فطرى طورپر ايسى تفريح گاہ ميں طاقتور بھائي بھا گ دوڑ ميں مشغول ہوں گے اور چھو ٹے كو سامان كى نگہداشت پر مقرر كريں گے اور اس كے علاوہ انہوں نے باپ كو غفلت ميں ركھنے كے لئے ايك قدم اور آگے بڑ ھا يا اور روتى ہوئي آنكھوں سے كہا كہ تم ہر گز يقين نہيں كرو گے اگر چہ ہم سچ بول رہے ہوں نيز اس بنا ء پر كہ باپ كو ايك زند ہ نشا نى بھى پيش كريں ''وہ يو سف كى قميض كو جھوٹے خون ميں تر كئے ہو ئے تھے ''_(۳) (وہ خون انہوں نے بكرى يا بھيڑكے بچے يا ہرن كا لگا ركھا تھا )_''
ليكن ''درد غ گو حافظہ ندارد''اورايك حقيقى واقعہ كے مختلف پہلو ہو تے ہيں اور اس كے مختلف كو ائف اور مسائل ہوتے ہيں ،ايسا بہت كم ہو تا ہے كہ ان سب كو ايك فرضى كہانى ميں سمو يا جاسكے لہذا برادران يو سف بھى اس نكتے سے غا فل رہے كہ كم از كم يو سف كے كر تے كو چند جگہ سے پھاڑ ليتے تاكہ وہ بھيڑ ئے كے حملے كى دليل بن سكے وہ بھا ئي كى قميص كو اس كے بدن سے صحيح سالم اتار كر خون آلود كر كے با پ كے پاس لے آئے، سمجھدا ر اور تجربہ كا ر باپ كى جب اس كر تے پر نگاہ پڑى تو وہ سب كچھ سمجھ گئے اور كہنے لگے كہ تم جھوٹ بو لتے ہو ''بلكہ نفسا نى ہو او ر ہوس نے تمہا ر ے لئے يہ كا م پسند يد ہ بنادياہے ''_(۴) اور يہ شيطا نى سا زشيں ہيں _
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۱۷
(۲)سورہ يوسف آيت ۱۷
(۳)سورہ يوسف آيت ۱۸
(۴)سورہ يوسف آيت ۱۸
مہربان بھيڑيا
جناب يعقوب نے كرتہ اٹھايا اور اس كو الٹ پلٹ كر ديكھا اور كہا تو پھر اسميں بھيڑيئےے پنجوں اور دانتوں كے نشان كيوں نہيں ہيں _؟
ايك اور روايت كے مطابق :حضرت يقوب(ع) نے كر تہ اپنے منہ پر ڈال ليا ،فر يا د كرنے لگے اور آنسو بہا نے لگے ،اور كہہ رہے تھے :يہ كيسا مہربان بھيڑيا تھا جس نے ميرے بيٹے كو تو كھا ليا ليكن اس كے كر تے كو تو ذر ہ بھر نقصان نہ پہنچا يا؟ اس كے بعد وہ بے ہو ش ہو كر خشك لكڑى كى طرح زمين پر گر پڑے بعض بھائيوں نے فر ياد كى : اے وائے ہو ہم پر روز قيامت عد ل الہى كى عدالت ميں ہم بھا ئي بھى ہا تھ سے دے بيٹھے ہيں اور با پ كو بھى ہم نے قتل كرديا ہے ،ادھرباپ اسى طرح سحرى تك بے ہو ش رہے ليكن سحر گا ہى كى نسيم سرد كے جھونكے ان كے چہر ے پر پڑے تو وہ ہو ش ميں آگئے_
با وجود يكہ يعقوب كے دل ميں آگ لگى ہو ئي تھى ،ان كى روح جل رہى تھى ليكن زبان سے ہر گز ايسى بات نہ كہتے تھے جو نا شكرى ، ياس و نااميدى اور جزع وفزع كى نشانى ہو بلكہ كہا :ميں صبر كروں گا ،صبرجميل، ايسى شكيبا ئي جو شكر گزارى اور حمد خدا كے ساتھ ہو'' _(۱) اس كے بعدجناب يعقوب كہنے لگے ''جو كچھ تم كہتے ہو اس كے مقابلے ميں خدا سے مدد طلب كرتا ہوں ''(۲)
ميں اس سے چا ہتا ہوں كہ جام صبر كى تلخى ميرے حلق ميں شير يں زبان; نا درست اور غلط بات سے آلودہ نہ ہو _
انہوں نے يہ نہيں كہا كہ يوسف كى مو ت كى مصيبت پر مجھے شكيبائي دے كيو نكہ وہ جانتے تھے كہ يوسف قتل نہيں ہو ئے بلكہ كہا كہ جو كچھ تم كہتے ہو كہ جس كا نتيجہ بہر حال اپنے بيٹے سے ميرى جدا ئي ہے ،ميں صبر طلب كرتا ہوں _
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۱۸
(۲)سورہ يوسف آيت ۱۸
ايك ترك اولى كے بدلے
ابو حمزہ ثمالى نے ايك روايت امام سجاد عليہ السلام سے نقل كى ہے ابو حمزہ كہتے ہيں :
جمعہ كے دن ميں مدينہ منورہ ميں تھا نماز صبح ميں نے امام سجادعليہ السلام كے ساتھ پڑھى جس وقت امام نماز اور تسبيح سے فارغ ہوئے تو گھر كى طرف چل پڑے ميں آپ كے سا تھ تھا _
آپ نے خادمہ كو آوازدى اور كہا :
خيال ركھنا ، جو سائل اور ضرورت مند گھر كے دووازے سے گزرے اسے كھانا دينا كيو نكہ آج جمعہ كا دن ہے _
ابو حمزہ كہتے ہيں :
ميں نے كہا : ہر وہ شخص جو مدد كا تقاضا كرتا ہے مستحق نہيں ہو تا ، تو امام نے فرمايا :
ٹھيك ہے ، ليكن ميں اس سے ڈر تا ہوں كہ ان ميں مستحق افراد ہوں اور انہيں غذا نہ ديں اور اپنے گھر كے در واز ے سے دھتكار ديں تو كہيں ہمارے گھر والوں پر وہى مصيبت نہ آن پڑے جو يعقوب اور آل يعقوب پر آن پڑى تھى _
اس كے بعد اپ نے فرمايا :
ان سب كو كھا نا دو كہ ( كيا تم نے سنانہيں ہے كہ ) يعقوب كے لئے ہر روز ايك گو سفند ذبح كى جا تى تھى اس كا ايك حصہ مستحقين كو ديا جاتا تھا ايك حصہ وہ خود اور ان كى اولاد كھا تے تھے ايك دن ايك سائل آيا وہ مو من اور روزہ دار تھا خدا كے نزديك اس كى بڑى قدر ومنزلت تھى وہ شہر ( كنعا ن ) سے گزر ا شب جمعہ تھى افطار كے وقت وہ دروازہ يعقوب پر آيا اور كہنے لگا بچى كچى غذا سے مدد كے طالب غريب ومسافر بھو كے مہمان كى مدد كرو ،اس نے يہ بات كئي مر تبہ دہرائي انہوں نے سنا تو سہى ليكن اس كى بات كو باور نہ كيا جب وہ مايوس ہوگيا اور رات كى تاريكى ہر طرف چھا گئي تو وہ لوٹ گيا، جاتے ہو ئے اس كى آنكھوں ميں آنسو تھے اس نے
بارگا ہ الہى ميں بھوك كى شكا يت كى رات اس نے بھوك ہى ميں گزارى اور صبح اسى طرح روزہ ركھا جب كہ وہ صبر كئے ہو ئے تھا اور خدا كى حمدد ثنا كر تا تھا ليكن حضرت يعقوب (ع) اور ان كے گھر والے مكمل طور پر سير تھے اور صبح كے وقت ان كا كچھ كھا نا بچا بھى رہ گيا تھا _
امام نے اس كے بعد مزيد فرمايا :خدا نے اسى صبح يعقوب كى طرف وحى بھيجى : اے يعقوب :تو نے ميرے بند ے كو خوار كيا ہے اور ميرے غضب كو بھڑكا يا ہے اور تو اور تيرى اولاد نزول سزا كى مستحق ہو گئي ہے اے يعقوب : ميں اپنے دوستوں كو زيادہ جلدى سر زنش كرتا اور سزا ديتا ہوں اور يہ اس لئے كہ ميں ان سے محبت كرتا ہوں _
يہ امر قابل توجہ ہے كہ اس حديث كے بعد ہے كہ ابو حمزہ ثما لى كہتے ہيں :
ميں نے امام سجاد سے پوچھا :كہ يو سف نے وہ خواب كس مو قع پر ديكھا تھا ؟
امام نے فرمايا :اسى رات _
اس حديث سے اچھى طرح معلوم ہو تا ہے كہ انبياء واولياء كے حق سے ايك چھو ٹى سى لغزش يا زيادہ صريح الفاظ ميں ايك ''ترك اولى '' كہ جو گنا ہ اور معصيت بھى شمار نہيں ہو تا تھا ( كيو نكہ اس سائل كى حالت حضرت يعقوب عليہ السلام پر واضح نہيں تھى ) بعض او قات خدا كى طرف سے ان كى تنبيہ كا سبب بنتا ہے اور يہ صرف اس لئے ہے كہ ان كا بلند وبا لا مقام تقاضا كرتا ہے كہ وہ ہميشہ اپنى چھوٹى سے چھوٹى بات اور عمل كى طرف متوجہ رہيں كيونكہ:''حسنات الا برار سيئا ت المقربين ''(۱)
وہ كام جو نيك لوگوں كے لئے نيكى شمار ہو تے ہيں مقر بين بارگا ہ الہى كے لئے برائي ہيں _
____________________
(۱) حضرت يوسف(ع) كى دلكش دعا روايات اہل بيت اور طرق اہل سنت ميں ہے كہ جس وقت حضرت يوسف عليہ السلام كنويں كى تہ ميں پہنچ گئے تو ان كى اميد ہر طرف سے منقطع ہو گئي اور ان كى تمام تر تو جہ ذات خدا كى طرف ہو گئي انہوں نے اپنے خدا سے مناجات كى اور جبرئيل كى تعليم سے رازونياز كرنے لگے كہ جو روايا ت ميں مختلف عبارتوں ميں منقول ہے _
سر زمين مصر كى جانب
يوسف(ع) نے كنويں كى وحشت ناك تاريكى اور ہو لناك تنہائي ميں بہت تلخ گھڑ ياں گزاريں ليكن خداپر ايمان اور ايمان كے زير سايہ ايك اطمينان نے ان كے دل ميں نوراميد كى كرنيں روشن كرديں تھيں اور انہيں ايك توانائي بخشى تا كہ وہ اس ہو لناك تنہا ئي كو برداشت كريں اور آزمائش كى اس بھٹى سے كا ميابى كے ساتھ نكل آئيں ،اس حالت ميں وہ كتنے دن رہے ،يہ خدا جانتا ہے بعض مفسرين نے تين دن لكھے ہيں اور بعض نے دو دن ،بہر حال ''ايك قافلہ آپہنچا ''(۱)
اور اس قافلے نے وہيں نزديك ہى پڑا ئوڈالا ،واضح ہے كہ قافلے كى پہلى ضرورت يہى ہو تى ہے كہ
ايك روايت ميں ہے كہ آپ نے خدا سے يوں مناجات كى :
بارالہا : اے وہ جو غريب ومسافركا مو نس ہے اور تنہا ئي كا ساتھى ہے اے وہ جو ہر خائف كى پناہ گا ہ ہے ہر غم كو بر طرف كرنے والا ہے ، ہر فرياد سے آگاہ ہے ، ہر شكا يت كر نے والے كى آخرى اميد ہے اور ہر مجمع ميں مو جود ہے اے حى : اے قيوم : اے زندہ : اے سارى كا ئنا ت كے حافظ و نگہبان ميں تجھ سے چا ہتا ہوں كہ اپنى اميد ميرے دل ميں ڈ ال دے تا كہ تيرے علاوہ كو ئي فكر نہ ركھوں اور تجھ سے چاہتا ہوں كہ ميرے لئے اس عظيم مشكل سے راہ نجات پيدا كردے كہ تو ہر چيز پر قادر ہے
يہ امر جاذب نظر ہے كہ اس حديث كے ذيل ميں ہے كہ فرشتوں نے حضرت يو سف كى آواز سنى تو عر ض كيا :
''الهنا نسمع صوتا ودعا ء ، الصوت صوت صبى والد عا ء دعا ء البتى ''
(پر وردگار : ہم آواز اور دعا سن رہے ہيں آواز تو بچے كى ہے ليكن دعا نبى كى ہے _)
ايك روايت ميں امام صادق عليہ السلام سے منقول ہے كہ جناب جبرائيل (ع) نے حضرت يوسف كو يہ دعا تعليم كي:
پروردگارا : ميں تجھ سے دعا كرتا ہوں ،اے وہ كہ حمد و تعريف تير ے لئے ہے ، تيرے علاوہ كوئي معبود نہيں ، تو ہے جو بندوں كو نعمت بخشتا ہے ، آسمانوں اور زمين كا پيدا كرنے والا ہے صاحب جلا ل واكرام ہے ، ميں درخواست كرتا ہوں كہ محمد وآل محمد (ص) پر در ود بھيج اور جس ميں ميں ہوں اس سے مجھے كشا ئش و نجات عطا فرما
ليكن كو ئي مانع نہيں كہ حضرت يوسف عليہ السلام نے يہ دونوں دعائيں كى ہوں _
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۱۹
وہ پا نى حاصل كر ے اس لئے انہوں نے پانى پر مامور شخص كو پانى كى تلاش ميں بھيجا ''_(۱)
اس نے اپنا ڈول كنويں كى تہ ميں ڈالاجس سے جناب يوسف(ع) كنويں كے اندرمتوجہ ہو ئے كہ كنو يں كے اوپر سے كو ئي آواز آرہى ہے سا تھ ہى ديكھا كہ ڈول اور رسى تيزى سے نيچے آرہى ہے انہوں نے مو قع غنيمت جا نا اور اس عطيئہ الہى سے فائدہ اٹھا يا اور فور اً اس سے لپٹ گئے بہشتى نے محسوس كيا كہ اس كاڈول اندازے سے زيادہ بھا رى ہے جب اس نے زور لگا كر اسے اوپر كھينچا تو اچا نك اس كى نظر ايك چاند سے بچے پر پڑى وہ چلايا : خو شخبرى ہو :'' يہ تو پانى كے بجا ئے بچہ ہے''(۲) آہستہ آہستہ قافلے ميں سے چند لوگوں كو اس بات كا پتہ چل گيا ليكن اس بنا ء پر كہ دوسروں كو پتہ نہ چلے اور يہ خود ہى مصر ميں اس خوبصورت بچے كو ايك غلام كے طور پر بيچ ديں ''اسے انہوں نے ايك اچھا سرمايہ سمجھتے ہو ئے دوسروں سے مخفى ركھا ''(۳)
جناب يوسف(ع) كو كم داموں ميں بيچنا
''آخر كار انہوں نے يو سف كو تھوڑى سى قيمت پر بيچ ديا ،اور وہ اس كے بيچنے كے سلسلے ميں بے رغبت تھے (تا كہ ان كا راز فاش نہ ہوں )''_
(۴) اگر چہ يوسف(ع) كو بيچنے والے كون لوگ تھے ،بعض لوگوں نے ان كو برادران يوسف(ع) بتايا ہے، ليكن قران سے ايساظاہر ہوتا ہے كہ قافلہ والوں نے يوسف (ع) كو بيچا تھا _(۵)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۱۹
(۲)سورہ يوسف آيت ۱۹
(۳) سورہ يوسف آيت ۱۹
(۴)سورہ يوسف آيت ۲۰
(۵)يہاں يہ سوال سامنے اتا ہے كہ انھوں نے حضرت يوسف (ع) كو تھوڑى سى قيمت پر كيوں بيچ ديا،قران نے اے ''ثمن بخس''سے تعبير كيا ہے كيونكہ حضرت يوسف (ع) كم از كم ايك قيمتى غلام سمجھے جاسكتے تھے
ليكن يہ معمول كى بات ہے كہ ہميشہ چوريا ايسے افرا دجن كے ہاتھ كوئي اہم سرمايہ بغير كسى زحمت كے اجائے تو وہ اس خوف سے كہ كہيں دوسروں كو معلوم نہ ہو جائے اسے فوراً بيچ ديتے ہيں اور يہ فطرى بات ہے كہ اس جلد بازى ميں وہ زيادہ قيمت حاصل نہيں كر سكتے
اس بارے ميں كہ انہوں نے حضرت يوسف كو كتنے داموں ميں بيچا اور پھر يہ رقم آپس ميں كس طرح تقسيم كى ، اس سلسلے ميں بھى مفسرين ميں اختلاف ہے بعض نے يہ رقم ۲۰ /درہم ، بعض نے ۲۲ /درہم ، بعض نے ۴۰/ درہم اور بعض نے ۱۸/ درہم لكھى ہے اور اس طرف تو جہ كرتے ہوئے كہ بيچنے والوں كى تعداد دس بيان كى جاتى ہے ، اس نا چيز رقم ميں سے ہر ايك كا حصہ واضح ہو جا تا ہے _
عزيز مصر كے محل ميں
حضرت يوسف (ع) كى داستان جب يہاں تك پہنچى كہ بھا ئي انہيں كنويں ميں پھينك چكے تو بہر صورت بھا ئيوں كے سا تھ والا مسئلہ ختم ہو گيا اب اس ننھے بچے كى زندگى كا ايك نيا مر حلہ مصر ميں شروع ہوا اس طرح سے كہ آخر كار يو سف مصر لائے گئے وہاں انہيں فروخت كے لئے پيش كيا گيا چو نكہ يہ ايك نفيس تحفہ تھا لہذا معمول كے مطابق ''عزيز مصر '' كو نصيب ہوا كہ جو درحقيقت فرعونوں كى طرف سے وزير اعظم تھا اور ايسے ہى لوگ ''تمام پہلوئوں سے ممتا ز اس غلام '' كى زيادہ قيمت دے سكتے تھے، اب ديكھتے ہيں كہ عزيز مصر كے گھر يوسف پر كيا گزر تى ہے _
قرآن كہتا ہے :'' جس نے مصر ميں يو سف كو خريدا اس نے اپنى بيوى سے اس كى سفارش كى اور كہا كہ اس غلام كى منزلت كا احترام كرنا اور اسے غلاموں والى نگاہ سے نہ ديكھنا كيو نكہ ہميں اميد ہے كہ مستقبل ميں ہم اس غلام سے بہت فائدہ اٹھا ئيں گے يا اسے فرزند كے طور پر اپنا ليں گے_''( ۱)
اس جملے سے معلوم ہو تا ہے كہ عزيز مصر كى كو ئي اولاد نہ تھى اور وہ بيٹے كے شوق ميں زند گى بسر كر رہا تھا جب اس كى آنكھ اس خوبصورت اور آبرومند بچے پر پڑى تو اس كے دل ميں آيا كہ يہ اس كے بيٹے كے طور پر ہو _
اس كے بعد قرآن مجيد كہتا ہے :''اس طرح اس سر زمين ميں ہم نے يوسف كو متمكن اور صا حب نعمت و اختيار كيا،ہم نے يہ كام كيا تا كہ ان كو تعبير خواب كا علم عطا ہو_''(۲)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۲۱
(۲)سورہ يوسف آيت ۲۱
جناب يوسف (ع) كى پاكيز گى كا انعام
يہاں پرايك سوال يہ پيدا ہو تا ہے كہ علم تعبير خواب اور عز يز مصر كے محل ميں حضرت يو سف كى مو جود گى كا كيا ربط ہے كہ اسے كس طرف ''لنعلمہ'' كى ''لام ''كہ جو لام غايت ہے كہ ذريعے اشارہ كيا گيا ہے _
ليكن اگر ہم اس نكتے كى طرف تو جہ ديں تو ہو سكتا ہے مذكورہ سوال كا جواب واضح ہو جا ئے كہ خداوندعالم بہت سى علمى نعمتيں اورعنا يا ت; گناہ سے پر ہيز اور سر كش ہوا وہوس كے مقابلے ميں استقامت كى وجہ سے بخشتا ہے دوسرے لفظوں ميں يہ نعمات كہ جو دل كى نورا نيت كا ثمر ہ ہيں ، ايك انعام ہيں كہ جو خدا اس قسم كے اشخاص كو بخشتا ہے _
''ابن سيرين'' تعبير خواب جاننے ميں بڑے مشہور ہيں انكے حالات ميں لكھا ہے كہ وہ كپڑا بيچا كرتے تھے اور بہت ہى خوبصورت تھے ايك عورت انہيں اپنا دل دے بيٹھى بڑے حيلے بہانے كر كے انہيں اپنے گھر ميں لے گئي اور دروازے بند كر لئے ، ليكن انہوں نے عورت كى ہوس كے سامنے سر تسليم خم نہ كيا اور مسلسل اس عظيم گناہ كے مفا سد اس كے سا منے بيان كرتے رہے ليكن اس عورت كى ہو س كى آگ اس قدر سر كش تھى كہ وعظ و نصيحت كا پانى اسے نہيں بجھا سكتا تھا _
''ابن سيرين'' كو اس چنگل سے نجات پانے كے لئے ايك تد بير سو جھى وہ اٹھے اور اپنے بدن كو اس گھر ميں مو جود گند ى چيزوں سے اس طرح كثيف ،آلودہ اور نفرت انگيز كر ليا كہ جب عورت نے يہ منظر ديكھا توان سے متنفر ہو گئي اور انہيں گھر سے باہر نكال ديا _
كہتے ہيں اس واقعے كے بعد ابن سير ين كو تعبير خواب كے بارے ميں بہت فراست نصيب ہو ئي اور ان كى تعبير سے متعلق كتابوں ميں عجيب وغريب واقعات لكھے ہو ئے ہيں كہ جو اس سلسلے ميں ان كى گہرى معلومات كى خبر ديتے ہيں _اس بنا ء پر ممكن ہے كہ يہ خا ص علم وآگاہى حضرت يو سف كو عزيز مصر كى بيوى كى انتہائي قوت جزب كے مقا بلے ميں نفس پر كنڑول ركھنے كى بنا ء پر حاصل ہو ئي ہو _
جى ہاں : انہوں نے بہت سى چيزيں اس شور وغل كے ماحول ميں سيكھيں ان كے دل ميں ہميشہ غم
واندوہ كا ايك طوفان مو جز ن ہو تا تھا كيو نكہ ان حالات ميں وہ كچھ نہيں كر سكتے تھے ،اس دور ميں وہ مسلسل خود سازى اور تہذيب نفس ميں مشغول تھے _
قرآن كہتا ہے :'' جب وہ بلوغ اور جسم وروح كے تكامل كے مرحلے ميں پہنچا اور انوار وحى قبول كرنے كے قابل ہو گيا ، تو ہم نے اسے حكم (نبوت)اور علم ديا_''( ۱)
عزيز مصر كى بيوى كا عشق سوزاں
حضرت يوسف(ع) نے اپنے خو بصورت ، پر كشش اور ملكو تى چہرے سے نہ صرف عزيز مصر كو اپنى طرف جذب كرليا بلكہ عزيز كى بيوى بھى بہت جلد آپ كى گرويدہ ہو گئي آ پ كا عشق اس كى روح كى گہرائيوں ميں اتر گيا جو ں جوں وقت گزر تا گيا اس كے عشق كى حدت ميں اضافہ ہو تا چلا گيا ليكن يو سف كہ جو پاكيز ہ اور پرہيزگا ر انسا ن تھے انہيں خدا كے علاوہ كسى كى كو ئي فكر اور سو چ نہ تھى ان كے دل نے عشق سو زاں كو اور بھڑكا ديا
ايك تو اسے اولاد ہو نے كا ارمان تھا ،دوسرا اس كى رنگينيوں سے بھر پور اشراف كى زند گى تھى ، تيسرا داخلى زندگى ميں اسے كو ئي پريشانى اور مسئلہ نہ تھا جيسا كہ اشراف اور نا زو نعمت ميں پلنے والوں كى زندگى ہو تى ہے اور چوتھا در بار مصر ميں كسى قسم كى كو ئي پا بندى اور قدغن نہ تھى ان حالات ميں وہ عورت كہ جوايمان و تقوى سے بھى بے بہر ہ تھى شيطا نى وسوسوں كى مو جوں ميں غوطہ زن ہو گئي يہا ں تك كہ اس نے ارادہ كر ليا كہ اپنے دل كا راز يوسف سے بيان كرے اور اپنے دل كى تمنا ان سے پورا كر نے كا تقاضا كرے _
اپنے مقصد كے حصول كى خاطر اس نے ہر ذر يعہ اور ہر طورطريقہ اختيار كيا اور بڑى خواہش كے ساتھ كو شش كى كہ ان كے دل كو متا ثر كرے جيسا كہ قرآن كہتا ہے :''جس عورت كے گھر يو سف تھے اس نے اپنى آرزو پو رى كرنے كے لئے پيہم ان سے تقاضا كيا _''(۲)
آخر كار جو آخرى راستہ اسے نظر آيايہ تھا كہ ايك دن انھيں تنہا اپنى خلوت گاہ ميں پھنسالے اور ان
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۲۲
(۲)سورہ يوسف آيت ۲۳
كے جذبات ابھارنے كے لئے تمام وسائل سے كام لے جاذب تر ين لباس پہنے ، بہتر ين بنائوسنگھار كرے بہت مہك دارعطر لگا ئے اور اس طرح سے آرائش وزيبائش كرے كہ يو سف جيسے قوى انسان كو گھٹنے ٹيكنے پر مجبور كردے _
قرآن كہتا ہے :'' اس نے سارے دروازوں كو اچھى طرح بند كر ليا اور كہا آئو ميں تمہارے لئے حاضر ہوں ''(۱)
زليخا نے ساتوں دروازے بند كر دئے
اس نے تمام دروازے مضبوطى سے بند كئے اس سے ظاہر ہو تا ہے كہ وہ يو سف كو محل كى ايسى جگہ پرلے گئي كہ جہاں كمرے بنے ہوئے تھے اور جيسا كہ بعض روايات ميں آيا ہے اس نے سات درواز ے بند كئے تا كہ يو سف كے لئے فرار كى كو ئي راہ باقى نہ رہے _
علاوہ ازيں شايد وہ اس طرح حضرت يو سف كو سمجھا نا چاہتى تھى كہ وہ راز فاش ہو نے سے پريشان نہ ہوں كيو نكہ ان بنددروازوں كے ہو تے ہوئے كسى شخص كے بس ميں نہيں كہ وہ اندرآسكے _
جب حضرت يو سف (ع) نے ديكھا كہ تمام حالات لغزش وگناہ كى حما يت ميں ہيں اور ان كے لئے كوئي راستہ باقى نہيں رہ گيا تو انہوں نے زليخا كو بس يہ جواب ديا :''ميں خداسے پناہ ما نگتا ہوں ''_(۲)
اس طرح حضرت يو سف نے زوجہء عزيز كى خواہش كو قطعى وحتمى طور پر رد ّكرديا اور اسے سمجھاياكہ وہ ہر گز اس كے سامنے سر تسليم خم نہيں كر يں گے آپ نے ضمناً اسے اور تمام افراد كو يہ حقيقت سمجھا دى كہ ايسے سخت اور بحرانى حالات ميں شيطا نى وسو سو ں اور ان سے كہ جو شيطانى اخلاق وعادات ركھتے ہيں نجات كيلئے ايك ہى راستہ ہے اور وہ يہ كہ خدا كى طرف پناہ لى جائے ،وہ خدا جس كے لئے خلوت اور بزم ايك سى ہے اور جس كے ارادے كے سامنے كوئي چيز نہيں ٹھہر سكتى _
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت۲۳
(۲)سورہ يوسف آيت ۲۳
اس مختصر سے جملے سے انہوں نے عقيدے اور عمل كے لحاظ سے خدا كى وحدا نيت كا اعتراف كيا اس كے بعد مزيد كہا كہ ''تمام چيزوں سے قطع نظر ميں اس خواہش كے سامنے كس طرح سے سرتسليم خم كرلوں جبكہ ميں عزيز مصر كے گھرميں رہتا ہوں اس كے دستر خوان پر ہوں او ر اس نے مجھے بہت احترام سے ركھا ہوا ہے''_(۱)
''كيا يہ واضح ظلم اور خيانت نہ ہوگى يقيناستمگار فلاح نہيں پائيں گے_''(۲)
حضرت يوسف(ع) كے دل ميں ايك طوفان
يہاں يو سف اور زوجہ عزيز كا معا ملہ نہايت باريك مر حلے اور انتہائي حساس كيفيت تك پہنچ جاتا ہے جس كے متعلق قرآن بہت معنى خيز انداز ميں گفتگو كرتا ہے :'' عزيز مصر كى بيوى نے اس كا قصد كيا اور اگر يوسف بھى بر ہان پر ور دگار نہ ديكھتا تو ايسا ارادہ كرليتا _''(۳)(۴)
اس جگہ ايك بت تھا كہ جو زوجہ عزيز كا معبود شما ر ہو تا تھا اچا نك اس عورت كى نگاہ اس بت پر پڑى اسے يوں محسوس ہوا جيسے وہ اسے گھور رہا ہے اور اس كى خيانت آميز حركات كو غيض وغضب كى نگاہ سے ديكھ رہا ہے وہ اٹھى اور اس بت پر كپڑا ڈال ديا يو سف نے يہ منظر ديكھا تو ان كے دل ميں ايك طوفان اٹھ كھڑا ہو،ا وروہ لرز گئے اور كہنے لگے:
تو تو ايك بے عقل ،بے شعور ،بے حس ، وبے تشخيص عارى بت سے شرم كر تى ہے ،كيسے ممكن ہے كہ ميں اپنے پروردگار سے شرم نہ كروں جو تمام چيزوں كو جا نتا ہے اور تمام مخفى امور اور خلوت گا ہوں سے با خبر ہے_
____________________
(۱)(۲)سورہ يوسف آيت ۲۳
(۳)سورہ يوسف آيت ۲۴
(۴)اس جملہ كے بارے ميں بہت زيادہ اختلاف ہے ،اسى طرح وہ برہان پروردگار جس كے ذريعہ سے جناب يوسف بچ گئے ،كے بارے ميں اختلاف ہےرجوع كريں تفسير نمونہ ج۵/۴۱۳
اس احساس نے يو سف كو ايك نئي توانائي اور قوت بخشى اور شديد جنگ كہ جوان كى روح كى گہرائيوں ميں جذ بات اور عقل كے درميان جارى تھى اس ميں ان كى مدد كى تاكہ وہ جذ بات كى سر كش موجوں كو پيچھے ڈھكيل سكيں _(۱)
قران مجيد كہتا ہے :ہم نے يوسف (ع) كو اپنى ايسى برہان پيش كى تاكہ بدى اور فحشاء كو اس سے دور كريں ،كيونكہ وہ ہمارے بر گزيدہ اور مخلص بندوں ميں سے تھا_(۲) يہ اس طرف اشارہ ہے كہ ہم نے جو اس كے لئے غيبى اور روحا نى مدد بھيجى تا كہ وہ بدى اور گناہ سے رہائي پا ئے ،تو يہ بے دليل نہيں تھا وہ ايك ايسا بند ہ تھا جس نے اپنے آپ كومعرفت، ايمان پرہيز گارى اور پاكيز ہ عمل سے آراستہ كيا ہوا تھا اور اس كا قلب وروح شرك كى تاريكيوں سے پاك اور خالص تھا اسى لئے وہ ايسى خدائي امدا د كى اہليت وليا قت ركھتا تھا_ اس دليل كا ذكر نشاندہى كرتا ہے كہ ايسى خدائي امداد جو طغيانى وبحرانى لمحات ميں يوسف جيسے نبى كو ميسر آئي تھى ان سے مخصوص نہ تھى بلكہ جو شخص بھى خدا كے خالص بندوں اور ''عباد اللہ المخلصين'' كے زمرے ميں آتا ہو ايسى نعمات كے لائق ہے_(۳)
____________________
(۱)وہ بے بنيا د روايات جو مفسرين نے نقل كى ہے كہ جن كے مطابق حضرت يوسف نے گناہ كا ارادہ كر ليا تھا اچانك حالت مكاشفہ ميں جبرئيل يا حضرت يعقوب (ع) كو ديكھا جو اپنى انگلى دانتوں سے كاٹ رہے تھے انھيں ديكھا تو يوسف پيچھے ہٹ گئے، ايسى روايات كى كوئي معتبر سند نہيں ہے،يہ اسرائيليات كى طرح ہيں اور كوتاہ فكر انسانوں كے دماغوں كى پيدا وار ہيں جنھوں نے مقام انبياء كو بالكل نہيں سمجھا_
(۲)سورہ يوسف ايت ۲۴
(۳)متين و پاكيزہ كلام :قران كے عجيب و غريب پہلوو ں ميں سے ايك يہ بھى ہے كہ جو اعجاز كى ايك نشانى ہے بھى ہے،يہ ہے كہ اس ميں كوئي چھپنے والى ،ركيك،ناموزوں ،متبذل اور عفت و پاكيزگى سے عارى تعبير نہيں ہے اور كسى عام ،ان پڑھ جہالت كے ماحول ميں پرورش پانے والے كا كلام طرز كا نہيں ہو سكتا كيونكہ ہر شخص كى باتيں اس كے افكار اور ماحول سے ہم اہنگ ہوتى ہيں قران كى بيان كردہ تمام داستانوں ميں ايك حقيقى عشقيہ داستان موجود ہے اور يہ حضرت يوسف اور عزيز مصر كى بيوى كى داستان ہے _ ايك خوبصورت اور ہوس الود عورت كے ايك زيرك اور پاك دل نوجوان سے شعلہ ور عشق كى داستان ہے _ كہنے والے اور لكھنے والے جب ايسے مناظر تك پہنچتے ہيں تو وہ مجبور ہو جاتے ہيں كہ يا تو ہيرو اور اس واقعے كے اصلى مناظر كى تصوير كشى كے لئے قلم كھلا چھوڑ ديں اور بزبان اصطلاح حق سخن ادا كرديں اگر چہ اس ميں ہزار ہا تحريك اميز چبھنے والے اور غير اخلاقى لفظ اجائيں _ يا وہ مجبور ہو جاتے ہيں كہ زبان و قلم كى نزاكت و عفت كى حفاظت كے لئے كچھ مناظر كو پردہ ابہام ميں لپيٹ ديں اور سامعين و قارئين كو سر بستہ طورپر بات بتائيں _ كہنے والا اور لكھنے والا كتنى بھى مہارت ركھتا ہو اكثر اوقات ان ميں سے كسى ايك مشكل سے دوچار ہو جاتاہے _ كيا يہ باور كيا سكتا ہے كہ ايك ان پڑھ شخص ايسے شور ا نگيز عشق كے نہايت حساس لمحات كى دقيق اور مكمل تصورى كشى بھى كرے ليكن بغير اس كے كہ اس ميں معمولى سى تحريك اميز اور عفت سے عارى تعبير استعمال ہو _ ليكن قراان اس داستان كے حسا س ترين مناظر كى تصوير كشى شگفتہ انداز ميں متانت و عفت كے ساتھ كرتا ہے ،بغير اس كے كہ اس ميں كوئي واقعہ چھوٹ جائے اور اظہار عجز ہو جب كہ تمام اصول اخلاق و پاكيزگى بيان بھى ہے _ ہم جانتے ہيں كہ اس داستان كے تمام مناظر ميں سے زيادہ حساس ''خلوت گاہ عشق''كا ماجرا ہے جسے زوجہ عزيز مصر كى بيقرارى اور ہوا و ہوس نے وجود بخشا _ قران اس واقعے كى وضاحت ميں تمام كہنے كى باتيں بھى كہہ گيا ہے ليكن پاكيزہ اور عفت كے اصول سے ہٹ كر اس نے تھوڑى سے بات بھى نہيں كي.
زوجہ عزيز مصر كى رسوائي
يوسف كى انہتا ئي استقامت نے زوجہء عزيز كوتقريبا'' مايوس كرديا يوسف اس معر كہ ميں اس نا زوا دا والى اور سر كش ہوا وہو س والى عورت كے مقابلے ميں كا مياب ہو گئے تھے انہوں نے محسوس كيا كہ اس لغزش گا ہ ميں مزيد ٹھہر نا خطر ناك ہے انہوں نے اس محل سے نكل جانے كا ارادہ كيا لہذا وہ تيزى سے قصر كے دروازے كى طرف بھا گے تاكہ دروازہ كھول كر نكل جائيں زوجہ ء عزيزبھى بے اعتنا نہ رہى وہ بھى يوسف كے پيچھے دروازے كى طرف بھاگى تا كہ يوسف كو باہر نكلنے سے روكے اس نے اس مقصد كے لئے يوسف كى قميص پيچھے سے پكڑلى اور اسے اپنى طرف كھينچا اس طرح سے كہ قميص پيچھے سے لمبائي كے رخ پھٹ گئي _''(۱) ليكن جس طرح بھى ہوا يوسف درواز ے تك پہنچ گئے اور در وازہ كھول ليا اچانك عزيز مصر كو دروازے كے پيچھے ديكھاجيسا كہ قرآن كہتا ہے:''ان دونوں نے اس عورت كے آقا كو دروازے پر پايا_''(۲) اب جبكہ زوجہ عزيز نے ايك طرف اپنے كورسوائي كے آستا نے پر ديكھا اور دوسرى طر ف انتقام كى آگ اس كى روح ميں بھڑك اٹھى تو پہلى بات جو اسے سو جھى يہ تھى كہ اس نے اپنے آپ كو حق بجا نب ظاہر كرتے ہو ئے اپنے شو ہر كى طرف رخ كيا اور يوسف پر تہمت لگائي:اس نے پكا ر كر كہا : ''جو شخض تيرى اہليہ سے خيا نت كا ارادہ كرے اس كى سزا زندان يا در د نا ك عذاب كے سوا اوركيا ہو سكتى ہے_ ''(۳)
يہ امر قابل توجہ ہے كہ اس خيانت كار عورت نے جب تك اپنے آپ كو رسوائي كے آستا نے پر نہيں ديكھا تھا ، بھول چكى تھى كہ وہ عزيز مصر كى بيوى ہے ليكن اس مو قع پر اس نے ''اہلك ''(تيرى گھر والى ) كا لفظ استعمال كركے عزيز كى غيرت كو ابھارا كہ ميں تيرے سا تھ مخصوص ہو ں لہذا كسى دوسرے كو ميرى طرف حرص كى آنكھ سے نہيں ديكھنا چاہئے_
دوسرا قابل توجہ نكتہ يہ ہے كہ عزيز مصر كى بيوى نے يہ ہر گز نہيں كہا كہ يوسف ميرے بارے ميں برا ارادہ ركھتا تھا بلكہ عزيز مصر سے اس كى سزا كے بارے ميں بات كى اس طرح سے كہ اصل مسئلہ مسلم ہے اور بات صرف اس كى سزا كے بارے ميں ہے ايسے لمحے ميں جب وہ عورت اپنے آپ كو بھول چكى تھى اس كى يہ جچى تلى گفتگو اس كى انتہائي حيلہ گرى كى نشانى ہے _
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۲۵ (۲)سورہ يوسف آيت ۲۵ (۳) سورہ يوسف آيت ۲۵
پھر يہ كہ پہلے وہ قيد خانے كے بارے ميں بات كرتى ہے اور بعد ميں گو يا وہ قيد پر بھى مطمئن نہيں ہے ايك قدم اور آگے بڑھا تى ہے اور ''عذاب اليم ''كا ذكر كر تى ہے كہ جو سخت جسما نى سزا اور قتل تك بھى ہو سكتى ہے _
اس مقام پر حضرت يوسف نے خا مو شى كو كسى طور پر جائز نہ سمجھا اور صرا حت سے زوجہ عزيز مصر كے عشق سے پر دہ اٹھا يا انہوں نے كہا : ''اس نے مجھے اصرار اور التما س سے اپنى طرف دعوت دى تھي_''(۱)
واضح ہے اس قسم كے موقع پر ہر شخص ابتدا ء ميں بڑى مشكل سے يہ باور كر سكتا ہے كہ ايك نو خيز جوان غلام كہ جو شادى شدہ نہيں ،بے گنا ہ ہو اور ايك شوہر دارعو رت كہ جو ظاہر ا ًباوقار ہے گنہگار ہو ،اس بنا ء پرزيادہ الزام زوجہ عزيز كى نسبت يوسف كے دامن پر لگتا تھا _
شاہد گواہى ديتا ہے
ليكن چو نكہ خدا نيك اور پاك افراد كا حامى ومدد گار ہے وہ اجا زت نہيں ديتا كہ يہ نيك اور پار سا مجا ہد نو جوان تہمت كے شعلو ں كى لپيٹ ميں آئے، لہذا قرآن كہتا ہے: اس مو قع اس عورت كے اہل خاندان ميں سے ايك گواہ نے گواہى دى كہ اصلى مجرم كى پہچان كے لئے اس واضح دليل سے استفادہ كيا جا ئے كہ اگر يوسف كا كر تہ آگے كى طرف سے پھٹا ہے تو وہ عورت سچ كہتى ہے اور يوسف جھو ٹا ہے '' اور اگر اس كا كرتہ پيچھے سے پھٹا ہے تو وہ عورت جھوٹى اور يوسف سچا ہے _''(۲)
اس سے زيا دہ مضبوط دليل اور كيا ہو گى ،كيو نكہ زوجہ عزيز كى طرف سے تقا ضا تھا تو وہ يوسف كے پيچھے دو ڑى ہے اور يوسف اس سے بھا گ رہے تھے كہ وہ ان كے كر تے سے لپٹى ہے ، تو يقينا وہ پيچھے سے پھٹا ہے اور اگر يوسف نے عزيز كى بيوى پر حملہ كيا ہے اور وہ بھا گى ہے يا سا منے سے اپنا دفاع كيا ہے تو يقينا يوسف كا كر تہ آگے سے پھٹا ہے ،يہ امر كس قدر جاذب نظر ہے كہ كر تہ پھٹنے كا سا دہ سا مسئلہ بے گناہى كا تعين كرديتا
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۲۶
(۲)سورہ يوسف آيت ۲۷
ہے ،يہى چھوٹى سى چيز ان كى پاكيز گى كى سند اور مجرم كى رسوائي كا سبب ہو گئي _
عزيز مصر نے يہ فيصلہ كہ جو بہت ہى جچا تلا تھا بہت پسند كيا يوسف كى قميص كو غور سے ديكھا ''اور جب اس نے ديكھا كہ ان كى قميص پيچھے سے پھٹى ہے ( خصوصا اس طرف تو جہ كر تے ہو ئے كہ اس دن تك اس نے كبھى يوسف سے كو ئي جھو ٹ نہيں سنا تھا )
اس نے اپنى بيوى كى طرف رخ كيا اور كہا :
''يہ كام تم عو ر توں كے مكر و فريب ميں سے ہے ، بے شك تم عورتوں كا مكر وفريب عظيم ہے_ ''(۱)
اس وقت عزيز كو خو ف ہوا كہ يہ رسو اكن واقعہ ظاہر نہ ہو جا ئے اور مصر ميں اس كى آبرو نہ جا تى رہے اس نے بہتر سمجھا كہ معا ملے كو سميٹ كر دبا ديا جا ئے اس نے يوسف كى طرف رخ كيا اور كہا :
'' اے يوسف تم صر ف نظر كر و اور اس واقعے كے بارے ميں كو ئي با ت نہ كہو''( ۲)
پھر اس نے بيوى كى جا نب رخ كيا اور كہا :''تم بھى اپنے گناہ سے استغفار كرو كہ تم خطا كا روں ميں سے تھي''(۳)
شاہد كون تھا ؟
شاہد كون تھا كہ جس نے يوسف اور عزيز مصر كى فائل اتنى جلد ى درست كر دى اور مہرلگادى اور بے گناہ كو، گہنگار سے الگ كر دكھا يا،اس بارے ميں مفسر ين كے درميان اختلاف ہے _
بعض نے كہا ہے كہ وہ عزيز مصر كى بيوى كے رشتہ داروں ميں سے تھا اور قاعد تاً ايك حكيم ، دانش مند اور سمجھدار شخص تھا ، اس واقعے ميں كہ جس كا كو ئي عينى شا ہد نہ تھا اس نے شگا ف پيرا ہن سے حقيقت معلو م كرلي، كہتے ہيں كہ يہ شخص عزيز مصر كے مشيروں ميں سے تھا اور اس وقت اس كے ساتھ تھا _
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۲۸
(۲) سورہ يوسف آيت۲۹
(۳)سورہ يوسف آيت۲۹
(۴) لفظ (من اهلها ) اس پر گواہ ہے _سورہ يوسف ايت ۲۶
دوسرى تفسير يہ ہے كہ وہ شير خوار بچہ تھا يہ بچہ عزيز مصر كى بيوى كے رشتہ داروں ميں سے تھا اس وقت يہ بچہ وہيں قريب تھا يوسف نے عزيز سے خواہش كى اس سے فيصلہ كروا لو، عزيزكو پہلے تو بہت تعجب ہوا كہ كيا ايسا ہو سكتا ہے ليكن جب وہ شير خوار حضرت عيسى كى طرح گہوارے ميں بول اٹھا اور اس نے گنہگا ر كو بے گنا ہ سے الگ كر كے معيار بتا يا تو وہ متوجہ ہوا كہ يوسف ايك غلام نہيں بلكہ نبى ہے يا نبى جيسا ہے _(۱)
زوجہ عزيز مصر كى ايك اور سازش
زوجہ عزيز كے اظہا ر عشق كا معاملہ مذ كورہ داستان ميں اگر چہ خاص لوگوں تك تھا اور خود عزيز نے بھى اسے چھپا نے كى تاكيد كى تھى تاہم ايسى باتيں چھپا ئے نہيں چھپتيں خصوصاً بادشا ہوں اور اہل دولت واقتدار كے تو محلوں كى ديوار يں بھى سنتى ہيں بہر حال آخر كا ر يہ راز قصر سے باہر نكل گيا اور جيسا كہ قرآن كہتا ہے شہر كى كچھ عور تيں اس بارے ميں ايك دوسرے سے باتيں كرتى تھيں اور اس بات كا چر چا كر تى تھيں '' كہ عزيز كى بيوى نے اپنے غلام سے راہ ورسم پيدا كر لى ہے اور اسے اپنى طرف دعوت ديتى ہے''(۲) ''اور غلام كا عشق تو اس كے دل كى گہرائيوں ميں اتر گيا ہے''(۳)
پھر وہ يہ كہہ كر اس پر تنقيد كر تيں كہ ''ہمارى نظر ميں تو وہ واضح گمراہى ميں ہے ''(۴)
واضح ہے كہ ايسى باتيں كرنے والى مصر كے طبق ہ امر ا ء كى عور تيں تھيں جن كے لئے فرعونيوں اورمستكبرين كے محلات كى گھٹيا كہا نياں بہت دلچسپ ہو تى تھيں اور وہ ہميشہ ان كى ٹوہ ميں لگى رہتى تھيں _
اشراف كى يہ عور تيں كہ جو خود بھى زوجہ عزيز كى نسبت ہو س رانى ميں كسى طرح كم نہ تھيں ان كى چو نكہ يوسف تك رسائي نہيں تھى لہذا بقو لے ''جانماز آب مى كشيد ند ''مكر وفريب ميں لگى ہو ئي تھيں اور زوجہ ء عزيز كو
____________________
(۱)حضرت امام صاد ق عليہ السلام سے ايك روايت منقول ہے :
''شہادت دينے والا گہوارہ ميں ايك چھوٹا بچہ تھا''ليكن توجہ رہے كہ اس حديث كى كوئي محكم سند نہيں ہے
(۲)سورہ يوسف آيت ۳۰
(۳ )سورہ يوسف آيت۳۰
(۴)سورہ يوسف ۳۰
اس كے عشق پر واضح گمراہى ميں قرار ديتى تھيں ، يہاں تك كہ بعض مفسرين نے يہ احتمال بھى ذكر كيا ہے كہ يہ رازبعض زنان مصر نے ايك سا زش كے تحت پھيلا يا وہ چا ہتى تھيں كہ زوجہ ء عزيز مصر اپنى بے گنا ہى ثابت كرنے كے لئے انہيں اپنے محل ميں دعوت دے تاكہ وہ خود وہاں يوسف كو ديكھ سكيں ان كا خيا ل تھا كہ وہ يوسف كے سامنے ہوں تو ہو سكتا ہے اس كى نظر ان كى طرف مائل ہو جا ئے كہ جو شايد زوجہ عزيز مصر سے بھى بڑھ كر حسين تھيں اور پھر يوسف كے لئے ان كا جمال بھى نيا تھا اور پھر يوسف كے لئے عزيز كى بيوى ما ں يا مولى يا ولى نعمت كا مقام ركھتى تھى اور ايسى كو ئي صورت ان كے لئے نہ تھى لہذا وہ سمجھتى تھيں كہ زوجہ عزيز كى نسبت ان كے اثر كا احتمال زيادہ ہے _
يہ نكتہ بھى قابل تو جہ ہے كہ كس شخص نے يہ راز فاش كيا تھا ، زوجہ ء عزيز تو يہ رسوا ئي ہر گز گوارا نہ كر تى تھى اور عزيز نے تو خود اسے چھپا نے كى تاكيد كى تھى رہ گيا وہ حكيم ودانا كہ جس نے اس كا فيصلہ كيا تھا ، اس سے تو ويسے ہى يہ كا م بعيدنظر آتا ہے بہر حال جيسا كہ ہم نے كہا كہ خرابيوں سے پُران محلات ميں ايسى كوئي چيز نہيں كہ جسے مخفى ركھا جا سكے اور آخر كا ر ہر بات نا معلوم افراد كى زبانوں سے درباريوں تك اور ان سے باہر كى طرف پہنچ جاتى ہے اور يہ فطرى امر ہے كہ لو گ اسے زيب داستان كے لئے اور بڑھا چڑھا كر دوسروں تك پہنچا تے ہيں _
جنا ب يوسف(ع) كے پاس مصر كی عور تيں
''زوجہ عزيز كومصر كى حيلہ گر عورتوں كے بارے ميں پتہ چلا تو پہلے وہ پريشان ہو ئي پھر اسے ايك تدبير سو جھى اس نے انہيں ايك دعوت پر مد عو كيا فر ش سجايا اور قيمتى گا ئو تكئے لگا ديئے وہ آبيٹھيں تو ہر ايك كے ہاتھ ميں پھل كا ٹنے كے لئے چھرى تھمادي''_(۱) (يہ چھر يا ں پھل كا ٹنے كى ضرورت سے زيادہ تيز تھيں )
يہ كا م خود اس امر كى دليل ہے كہ وہ اپنے شوہر كى پرواہ نہ كر تى تھى اور گزشتہ رسوائي سے اس نے كوئي سبق نہ سيكھا تھا _
____________________
(۱)سورہ يوسف ۳۱
اس كے بعد اس نے يوسف كو حكم ديا كہ'' اس مجلس ميں داخل ہو تا''_(۱)
كہ تنقيد كرنے والى عورتيں اس كے حسن وجمال كو ديكھ كر اسے اس كے عشق پر ملامت نہ كريں ''_(۲)
زوجہ عزيز نے حضرت يوسف كو كہيں باہر نہيں بٹھا ركھا تھا بلكہ اندر كے كسى كمرے ميں كہ غالبا جہاں غذا اور پھل ركھا گيا تھا مشغول ركھا تھا تا كہ وہ محفل ميں داخل ہو نے والے درواز ے سے نہ آئيں بلكہ با لكل غير متو قع طور پر اور اچا نك آئيں _
مصر كى عورتوں نے اپنے ہاتھ كا ٹ لئے
زنان مصر جو بعض روايات كے مطا بق دس يا اس سے زيادہ تھيں جب انہوں نے زيبا قا مت اور نورانى چہرہ ديكھا اور ان كى نظر يوسف كے دلربا چہر ے پر پڑى تو انہيں يوں لگا جيسے اس محل ميں آفتاب اچا نك بادلوں كى اوٹ سے نكل آيا ہے اور آنكھو ں كو خير ہ كر رہا ہے_
وہ اس قدر حيران اور دم بخود ہوئيں كہ انھيں ہاتھ اور پائو ں ميں اور ہاتھ اور تر نج بين ميں فرق بھول گئيں انہوں نے يوسف كو ديكھتے ہى كہا يہ تو غير معمولى ہے، وہ خود سے قدر بے خود ہوئيں كہ ( ترنج بين كى بجائے ) اپنے ہاتھ كا ٹ لئے اور جب انہوں نے ديكھا كہ ان كى دلكش آنكھوں ميں تو عفت وحيا كا نورضو فشاں ہے اور ان كے معصوم رخسار شر م وحيا سے گلگوں ہيں تو ''سب پكار اٹھيں كہ نہيں يہ جوان ہر گز گناہ سے آلودہ نہيں ہے يہ تو كوئي بزرگوارآسمانى فرشتہ ہے''(۳)(۴)
____________________
(۱)سورہ يوسف ۳۱
(۲)سورہ يوسف ۳۱
(۳)سورہ يوسف آيت ۳۱
(۴)اس بارے ميں كہ زنان مصر نے اس وقت اپنے ہاتھوں كى كتنى مقدار كاٹى تھى ،مفسرين كے درميان اختلاف ہے بعض نے يہ بات مبالغہ اميز طورپر نقل كى ہے ليكن قران سے اجمالاً يہى معلوم ہوتا ہے كہ انھوں نے ہاتھ كاٹ لئے تھے
تو پھر يوسف سے عشق ميں مجھے كيوں ملامت كرتى ہو ؟
اس وقت مصر كى عورتيں پورى بازى ہار چكى تھيں ان كے زخمى ہا تھوں سے خون بہہ رہا تھا پر يشا نى كے عالم ميں وہ بے روح مجسمے كى طرح اپنى جگہ چپكى سى بيٹھى تھيں ان كى حالت كہہ رہى تھى كہ وہ بھى نے زوجہ عزيزسے كچھ كم نہيں ہيں ، كيا اس نے اس مو قع كو غنيمت سمجھا اور كہا :'' يہ ہے وہ شخص جس كے عشق پر تم مجھے طعنے ديتى تھيں ''(۱)
گو يا زوجہ عزيز چاہتى تھى كہ ان سے كہے كہ تم نے تو يوسف كو ايك مر تبہ ديكھا ہے اور يوں اپنے ہوش وحواس گنوا بيٹھى ہو تو پھر مجھے كيو نكر ملا مت كرتى ہو جبكہ ميں صبح وشام اس كے سا تھ اٹھتى بيٹھى ہوں ،زوجہ عزيز نے جو منصو بہ بنايا تھا اس ميں اپنى كا ميابى پر وہ بہت مغرور اور پورى صراحت كے سا تھ اپنے گناہ كا اعترف كيا اور كہا : جى ہاں : ''ميں نے اسے اپنى آرزو پورا كرنے كے لئے دعوت دى تھى ليكن يہ بچا رہا_''(۲)
اس كے بعد بجائے اس كے كہ اپنے گناہ پر اظہا ر ندامت كر تى يا كم از كم مہمانو ں كے سا منے كچھ پردہ پڑا رہنے ديتى اس نے بڑى بے اعتنائي اور سخت انداز ميں كہ جس سے اس كا قطعى ارا دہ ظاہر ہو تا تھا ، صراحت كے سا تھ اعلان كيا :'' اگر اس (يوسف ) نے ميرا حكم نہ ما نا اور ميرے عشق سوزاں كے سامنے سر نہ جھكا يا تو يقينا اسے قيد ميں جانا پڑے گا ''(۳) ''نہ صر ف يہ كہ ميں اسے زندان ميں ڈال دوں گى بلكہ قيد خا نے كے اندر بھى ذليل و خوار ہو گا_''(۴) فطرى امر ہے كہ جب عزيز مصر نے اس واضح خيانت پر اپنى زوجہ سے فقط يہى كہنے پر قنا عت كى كہ'' اپنے گناہ پر استغفار كر'' تو اس كى بيوى رسوائي كى اس منزل تك آپہنچى اصولى طور پر جيسا كہ ہم نے كہا ہے مصر كے فرعون اور عزيزوں كے در بار ميں ايسے مسائل كو ئي نئي بات نہ تھى _
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۳۲
(۲)سورہ يوسف ۳۲
(۳)سورہ يوسف ايت ۳۲
(۴)سورہ يوسف آيت۳۲
اے يوسف(ع) قبول كر لو
بعض نے تو اس مو قع پر ايك تعجب انگيز روايت نقل كى ہے وہ يہ كہ چند زنان مصر جو اس دعوت ميں مو جود تھيں وہ زوجہ عزيز كى حمايت ميں اٹھ كھڑى ہو ئيں اور اسے حق بجا نب قرارديا وہ يوسف كے گرد جمع ہو گئيں اور ہر ايك نے يوسف كو رغبت دلانے كے لئے مختلف بات كى _
ايك نے كہا : اے جوان : يہ اپنے آپ كو بچا نا ، يہ نا زو نخرے آخر كس لئے ؟ كيوں اس عاشق دلدادہ پر رحم نہيں كرتے ؟ اس خيرہ كن جمال دل آرا كو نہيں ديكھتے ؟ كيا تمہارے سينے ميں دل نہيں ہے ؟ كيا تم جوان نہيں ہو ؟ كيا تمہيں عشق وزيبا ئي سے كو ئي رغيبت نہيں اور كيا تم پتھر اور لكڑى كے بنے ہوئے ہو _
دوسرى نے كہا : ميں حيران ہوں چونكہ حسن وعشق كى وجہ سے ميرى سمجھ ميں كچھ نہيں آتا ليكن كيا تم سمجھتے نہيں ہو كہ وہ عزيز مصر اور اس ملك كے صاحب اقتدا ر كى بيوى ہے ؟ كيا تم يہ نہيں سو چتے كہ اس كا دل تمہارے ہا تھ ميں ہو تو يہ سارى حكومت تمہارے قبضے ميں ہو گى اور تم جو مقام چا ہو تمہيں مل جائے گا ؟
تيسرى نے كہا : ميں حير ان ہوں كہ نہ تم اس كے جمال زيبا كى طرف مائل ہو اور نہ اس كے مقام ومال كى طرف ليكن كيا تم يہ بھى نہيں جا نتے كہ وہ ايك خطر ناك انتقام جو عورت ہے اور انتقام لينے كى طاقت بھى پورى طرح اس كے ہاتھ ميں ہے ؟ كيا تمہيں اس كے وحشتنا ك اور تاريك زندان كا كو ئي خوف نہيں ؟ كيا تم اس قيد تنہا ئي كے عالم غربت وبيچا ر گى كے بارے ميں غور وفكر نہيں كرتے ؟
زندان كى تمنا
ايك طرف عزيز كى دھمكى اور ان آلودہ گناہ عور توں كا وسوسہ تھا كہ جو اس وقت دلالى كا كھيل كھيل رہيں تھيں اور دوسرى طرف يوسف كے لئے ايك شديد بحرانى لمحہ تھا ،ہر طرف سے مشكلات كے طوفان نے انہيں گھير ركھا تھا ليكن وہ تو پہلے سے اپنے آپ كو اسلحہ سے آراستہ كئے ہو ئے تھے نور ايمان ' پاكيز گى اور تقوى نے ان كى روح ميں ايك خاص اطمينان پيدا كر ركھا تھا وہ بڑى شجاعت اور عزم سے اپنے موقف پر اڑے
رہے بغير اس كے كہ وہ ان ہوس باز اور ہو س ران عورتوں سے باتوں ميں الجھتے ،انہوں نے پرور گار كى بارگاہ كا رخ كيا اور اس طرح سے ان دعا كرنے لگے : بارالہا پر ور دگار : ''جس كى طرف يہ عورتيں مجھے دعوت ديتى ہيں اس كى نسبت قيد خانہ اپنى تمام تر سختيوں كے باوجود مجھے زيادہ محب ہے'' _(۱)
اس كے بعد چو نكہ وہ جانتے تھے كہ تمام حالات ميں خصوصاً مشكلات ميں لطف الہى كے سوا كو ئي راہ نجات نہيں كہ جس پر بھر وسہ كيا جائے ، انہوں نے اپنے آپ كو خدا كے سپر د كيا اور اس سے مدد ما نگى اور پكارے: پر ور دگارا :''اگر تو مجھے ان عور توں كے مكر اور خطر ناك منصوبوں سے نہ بچا ئے تو ميرا دل ان كى طرف مائل ہو جائے گا اور ميں جاہلوں ميں سے ہو جائوں ''(۲)
خدا وندا : ميں تيرے فرمان كا احترام كرتے ہوئے اور اپنى پاكدامنى كى حفاظت كرتے ہو ئے اس وحشت ناك قيد خا نے كا استقبال كرتا ہوں وہ قيد خانہ كہ جس ميں ميرى روح آزاد ہے اور ميرا دامن پاك ہے اس كے بدلے ميں اس ظاہر ى آزادى كوٹھوكر مارتا ہوں كہ جس ميں ميرى روح كو زندا ن ہو س نے قيد كرركھا ہو اور جو ميرے دامن كو آلودہ كرسكتى ہے _ خدا يا : ميرى مدد فرما ، مجھے قوت بخش ،اور ميرى عقل ،ايمان اور تقوى كى طاقت ميں اضافہ فر ماتا كہ ميں ان شيطانى وسو سوں پر كا ميا بى حاصل كروں _
اور چو نكہ خداوندعالم كا ہميشہ سے وعدہ ہے كہ وہ مخلص مجاہد ين كى ( چاہے وہ نفس كے خلاف برسر پيكا ر ہوں يا ظاہرى دشمن كے خلاف ) مدد كرے گا ، اس نے يوسف كو اس عالم ميں تنہا نہ چھوڑا حق تعالى كا لطف وكرم اس كى مدد كو آگے بڑھا، جيسا كہ قرآن كہتا ہے:'' اس كے پروردگا ر نے اس كى اس مخلصا نہ دعا كو قبول كيا، ان كے مكر اور سازشوں كو پلٹا ديا،كيو نكہ وہ سننے اور جاننے والا ہے_''( ۳)
وہ بندوں كى دعا بھى سنتا ہے اور ان كے اندر ونى اسرار سے بھى آگاہ ہے اور انہيں مشكلات سے بچا نے كى راہ سے بھى واقف ہے _
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۳۳
(۲)سورہ يوسف ۳۳
(۳)سورہ يوسف ۳۴
بے گنا ہى كے پاداش ميں قيد
قصر عزيز ميں يوسف كى موجود گى ميں زنان مصر كى حيران كن محفل اس شور وغو غا كے عالم ميں تمام ہوئي ،فطرى بات تھى كہ يہ خبر عزيز كے كان تك پہنچ گئي ان تمام واقعات سے واضح ہو گيا كہ يوسف كوئي معمولى انسان نہيں ہے اور اس قدر پاكيزہ ہے كہ كوئي طاقت اسے گنا ہ پر ابھار نہيں سكتى مختلف حوالوں سے اس كى پاكيزگى كى نشا نيا ں واضح ہوگئيں _
يوسف(ع) كى قميص كا پيچھے سے پھٹا ہو نا ، زنان مصر كے وسوسے كے مقابلے ميں استقامت كا مظاہرہ كرنا ، قيد خانے ميں جانے كے لئے آمادہ ہونااور زوجہ عزيز كى طرف سے قيد اور دردناك عذاب كى دھمكيوں كے سامنے سر نہ جھكا نا يہ سب اس كى پاكيز گى كى دليليں تھيں يہ ايسے دلائل تھے كہ كوئي شخص نہ اسے چھپاسكتا تھا نہ ان كا انكار كر سكتا تھا ان كا لازمى نتيجہ زوجہ عزيز مصر كى نا پا كى اور جرم تھا يہ جرم ثابت ہو نے كے بعد عوام ميں خاندان عزيز كى جنسى حوالے سے رسوائي كا خوف بڑھ رہا تھا عزيز مصر اور اس كے مشيروں كو اس كے لئے صرف يہى چارہ دكھا ئي ديا كہ يوسف كو منظر سے ہٹا ديا جا ئے ، اس طرح سے كہ لوگ اسے اور اس كے نام كوبھول جائيں اس كے لئے ان كى نظر ميں بہتر ين راستہ اسے تاريك قيد خانے ميں بھيجنا تھا كہ جسے يوسف كو بھلا بھى ديا جائے گا اور وہ يہ بھى سمجھيں گے كہ اصلى مجرم يوسف تھا اسى لئے قرآن كہتا ہے :
''جب انہوں نے ( يوسف كى پا كيز گى كى ) نشا نيا ں ديكھ ليں تو پختہ ارادہ كرليا كہ اسے ايك مدت تك قيد ميں ڈال دياجائے ''_(۱)
پہلے اس كے بارے ميں ان كا كو ئي ارادہ نہ تھا اور پہلى مر تبہ زوجہ عزيز نے يہ بات احتمال كے طور پر پيش كى تھى ، بہر حال اس طرح يوسف پاكدامنى كے گناہ ميں قيد خانے ميں پہنچ گئے اور يہ پہلى مر تبہ نہ تھا كہ ايك قابل اور لائق انسان پاكيز گى كے جرم ميں زندان ميں گيا _
____________________
(۱)سورہ يوسف ۳۵
زندان كے واقعات
''يوسف كے ساتھ زندان ميں داخل ہو نے والوں ميں دو جوان بھى تھے'' _(۱)
جب انسان كسى معمول كے طريقے سے خبر وں تك رسائي حاصل نہ كر سكے تو اس كے لئے دوسرے احساسات كو استعمال كرتا ہے تاكہ حوادث كا اندازہ لگا سكے، خواب بھى اس مقصد كے لئے كا ر آمد ہو سكتا ہے _
اسى بنا ء پر دونوں جوان كہ جن كے بارے ميں كہا جاتا ہے كہ ايك بادشا ہ كے گھر مشروبات پر ما مور تھا اور دوسرا باورچى خا نے كا كنٹرولر دشمنوں كى چغلخورى اور بادشاہ كو زہر دينے كے الزام ميں قيد تھا ، ايك روز يوسف كے پاس آئے دونوں نے اپنا گزشتہ شب كا خواب سنا يا جو كہ ان كے لئے عجيب تھا ايك نے كہا :
'' ميں نے خواب ميں ديكھا ہے كہ شراب بنا نے كے لئے انگور نچوڑ رہا ہوں _''(۲)
''دوسرے نے كہا كہ ميں نے خواب ميں ديكھا ہے كہ ميں نے كچھ روٹيا ں سر پر اٹھا ركھى ہيں اور آسمان كے پرندے آتے ہيں اور ان ميں سے كھا تے ہيں _''(۳)
اس كے بعد انہوں نے مزيد كہا :
'' ہميں ہمارے خواب كى تعبير بتائو ، كيو نكہ ہم ديكھ رہے ہيں كہ تم نيكو كاروں ميں سے ہو_''(۴)
قيد خانہ يا مر كز تربيت
حضرت يوسف نے قيد خانے ميں آتے ہى اپنے نيك اطوار ، حسن اخلاق اور قيديوں كى دلجوئي ، خدمت اور بيمار وں كى عيادت سے يہ ظاہر كر ديا تھا كہ وہ ايك نيك اور گرہ كشا انسان ہيں اسى لئے قيدى مشكلات ميں انہى كى پنا ہ لينے تھے اور ان سے مدد ما نگتے تھے _
____________________
(۱)سورہ يوسف ۳۶
(۲)سورہ يوسف ۳۶
(۳)سورہ يوسف آيت ۳۶
(۴)سورہ يوسف آيت ۳۶
بہر حال وہ يوسف كہ جو قيديوں كى ہدايت اور راہنما ئي كا كو ئي مو قع ہاتھ سے نہ جانے ديتے تھے انہوں نے ان دو قيد يوں كى طرف سے تعبير خواب كے لئے رجو ع كر نے كو غنيمت جا نا اور اس بہانے سے ايسے اہم حقا ئق بيا ن كئے جو ان كے تعبير خواب سے متعلق اپنى آگاہى كے بارے ميں كہ جوان دو قيديوں كے لئے بہت اہميت ركھتے تھے ، اور تمام انسانوں كے لئے راستہ كھو لنے والے تھے آپ نے پہلے تو ان كا اعتماد حاصل كرنے كے لئے ان سے كہا : تمہارے كھا نے كا را شن آنے سے پہلے وہ ان كے خواب كى تعبير بتاديں گے_''(۱)
اس كے بعد با ايمان اور خدا پر ست يوسف كہ جن كے وجود كى گہرائيوں ميں تو حيد پورى وسعت سے جڑپكڑ چكى تھى ، نے يہ واضح كرنے كے لئے كہ امر الہى كے بغير كو ئي چيز حقيقت كا روپ اختيار نہيں كر تى ، اپنى بات كو اسى طرح سے جارى ركھا :''تعبير خواب كے متعلق ميرا يہ علم ودا نش ان امور ميں سے ہے كہ جن كى تعليم مجھے مير ے پر وردگا نے دى ہے''(۲)
نيز اس بناء پر كہ وہ يہ خيال نہ كريں كہ خدا كو ئي چيز بغير كسى بنياد كے بخش ديتا ہے ، آپ نے مزيد فرمايا: ''ميں نے ان لوگوں كا دين ومذہب ترك كرركھا ہے كہ جو خدا پر ايمان نہيں ركھتے اور آخرت كے منكر ہيں اور اس نور ايمان اور تقوى نے مجھے اس نعمت كے لائق بنايا ہے''(۳)
اس قوم وملت سے مصر كے بت پر ست لو گ يا كنعا ن كے بت پرست مراد ہيں مجھے ايسے عقائد سے الگ ہى ہو نا چا ہيئےيو نكہ يہ انسان كى پاك فطرت كے خلاف ہيں ،علاوہ ازيں ميں نے ايسے خاندان ميں پر ورش پائي ہے كہ جو وحى ونبوت كا خاندان ہے _'' ميں نے اپنے آبا ء واجداد اور بزرگوں ابراہيم (ع) ، اسحاق (ع) اور يعقوب (ع) كے دين كى پيروى كى ہے_''(۴)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت۳۷
(۲)سورہ يوسف آيت ۳۷
(۳) سورہ يوسف آيت ۳۷
(۴)سورہ يوسف آيت ۳۸
شايد يہ پہلا مو قعہ تھا كہ حضرت يوسف نے قيد يوں سے اپنا تعارف كروايا تا كہ انہيں معلوم ہو جا ئے كہ وہ وحى ونبوت كے گھر انے سے ہيں اور ديگر بہت سے قيديوں كى طرح كہ جو طا غوتى نظا موں ميں قيد ہوتے ہيں ، بے گناہ زندان ميں ڈالے گئے ہيں _
قيديوں كى تعبير خواب
جس وقت حضرت يوسف نے گذ شتہ گفتگو كے بعد ان قيد يو ں كے دلوں كو حقيقت تو حيد قبول كرنے كے لئے آمادہ كرليا تو ان كى طرف روئے سخن كرتے ہوئے كہا :'' اے ميرے قيدى سا تھيو : كيا منتشر خدا اور متفرق معبود بہتر ہيں يا يگا نہ ويكتا اور قہار اور ہر چيز پر قدر ت ركھنے والا خدا''(۱)
گو يا يوسف انہيں سمجھا نا چا ہتے تھے كہ كيوں تم فقط عالم خواب ميں آزادى كو ديكھتے ہو بيدارى ميں كيوں نہيں ديكھتے ، آخر ايسا كيوں ہے ؟ كيا اس كا سبب تمہارا انتشار ، تفر قہ بازى اور نفاق نہيں كہ جس كا سر چشمہ شرك ، بت پرستى اور ارباب متفر ق ہيں جن كى وجہ سے ظالم طاغوت تم پر غالب آگئے ہيں تم لوگ پر چم توحيد كے تلے كيوں جمع نہيں ہو تے اور ''الله واحد قھار ،، كا دامن پر ستش كيوں نہيں تھا متے تا كہ ان خودغرض ستمگروں كو اپنے معاشرے سے نكال باہر كرو كہ جو تمہيں بے گناہ اور صرف الزام كى بنيا د پر قيد ميں ڈال ديتے ہيں _
اپنے دو قيدى سا تھيوں كو رہبر ى وارشاد اور انہيں حقيقت تو حيد كى طرف مختلف پہلوئوں كے حوالے سے دعوت دينے كے بعد حضرت يوسف عليہ السلام نے ان كے خواب كى تعبير بيان كى كيو نكہ وہ دونوں اسى مقصد كے لئے آپ كے پاس آئے تھے اور آپ نے بھى انہيں وعدہ ديا تھا كہ انہيں ان كے خوابوں كى تعبير بتائيں گے ليكن آپ نے مو قع غنيمت جا نا اور تو حيد كے بارے ميں اور شرك كے خلا ف واضح اور زنداہ دلا ئل كے سا تھ گفتگو كي_
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۳۹
اس كے بعد آپ نے ان دو قيدى سا تھيوں كى طرف رخ كر كے كہا :'' اے ميرے قيدى سا تھيوں : تم ميں سے ايك آزاد ہو جائے گا اور اپنے ''ارباب '' كو شراب پلانے پر ما مور ہوگا_''(۱)
'' ليكن دوسرا سولى پر لٹكا يا جا ئے گا اور اتنى دير تك اس كى لاش لٹكائي جائے گى كہ آسمانى پر ند ے اس كے سر كو نوچ نوچ كر كھا ئيں گے_ ''(۲)
ان دونوں ميں سے ايك لٹكا يا جا ئے گا ليكن حضرت يوسف نے نہ چا ہا كہ يہ نا گوار خبر اس سے زيادہ صراحت سے بيان كريں لہذا آپ نے 'تم ميں سے ايك '' كہہ كر گفتگو كى اس كے بعد اپنى بات كى تا ئيد كے لئے مزيد كہا: ''يہ معاملہ جس كے بارے ميں تم نے مجھ سے سوال كيا ہے اور مسئلہ پو چھا ہے حتمى اور قطعى ہے_''(۳)
يہ اس طرف اشارہ تھا كہ يہ خواب كى كو ئي معمولى سى تعبير نہيں ہے بلكہ ايك غيبى خبر ہے جسے ميں نے الہى تعليم سے حاصل كيا ہے لہذا اس مقام پر تردد وشك اور چون وچر ا كى كو ئي گنجائش نہيں _
جب دوسرے شخص نے يہ نا گوار خبر سنى تو وہ اپنى بات كى تكذيب كرنے لگا اور كہنے لگا : ميں نے جھوٹ بولا تھا ' ميں نے ايسا كو ئي خواب نہيں ديكھا تھا ' ميں نے مذاق كيا تھا اس كا خيا ل تھا كہ اگر وہ اپنے خواب كى ترديد كر دے گا تو اس كى سر نوشت تبديل ہو جائے گى لہذا حضر ت يوسف نے سا تھ ہى يہ بات كہہ دى كہ جس چيز كے بارے ميں تم نے دريا فت كيا وہ نا قابل تغير ہے _
يہ احتمال بھى ہے كہ حضرت يوسف كو اپنى تعبير خواب پر اس قدر يقين تھا كہ انہوں نے يہ جملہ تا كيد كے طور پر كہا _
بادشاہ كے سا منے مجھے ياد كرنا
ليكن جس وقت آپ نے محسوس كيا كہ يہ دونوں عنقريب ان سے جدا ہو جائيں گے لہذا ہو سكتا ہے
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۴۱
(۲)سورہ يوسف آيت ۴۱
(۳)سورہ يوسف آيت ۴۱
كہ ان كے ذريعے آزادى كا كو ئي در يچہ كھل جائے اور روشنى كى كوئي كرن پھو ٹے اور جس گناہ كى آپ كى طرف نسبت دى گئي تھى اس سے اپنے آپ كو بے گناہ ثا بت كريں ''آپ نے ان دو قيدى ساتھيوں ميں سے جس كے بارے ميں جانتے تھے كہ وہ آزاد ہوں گے، اس سے فرمائش كى كہ اپنے مالك وصاحب اختيار ( بادشاہ ) كے پاس ميرے متعلق بات كرنا_ ''(۱) تاكہ وہ تحقيق كرے اور ميرى بے گناہى ثابت ہو جائے'' _
ليكن اس فرامو ش كا رغلام نے يوسف كا مسئلہ با لكل بھلا ديا جيسا كہ كم ظرف لوگوں كا طريقہ ہے كہ جب نعمت حاصل كر ليتے ہيں تو صاحب نعمت كو فراموش كر ديتے ہيں البتہ قرآن نے بات يوں بيان كى ہے : ''جب وہ اپنے مالك كے پاس پہنچا تو شيطان نے اس كے دل سے يوسف كى ياد بھلا دي_''(۲)
اور اس طرح يوسف فراموش كرديئے گئے ''اور چند سال مزيد قيد خانے ميں رہے _'' ( ۳)(۴)
پيغمبر اكرم صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم سے ايك روايت ميں ہے كہ آپ نے فرمايا :مجھے اپنے بھائي يوسف پر تعجب ہو تا ہے كہ انہوں نے كيونكر خالق كے بجائے مخلوق كى پناہ لى اور اس سے مدد طلب كى _
ايك اور روايت ميں امام صادق عليہ السلام سے منقول ہے :
اس واقعے كے بعد جبرئيل يوسف (ع) كے پاس آئے اور كہا : كس نے تمہيں سب لو گوں سے زيا دہ حسين بنا يا ؟ كہنے لگے : ميرے پرور دگار نے _كہا : كس نے قافلے كو تمہارى طرف بھيجا تا كہ وہ تمہيں كنويں سے نجات دے ؟
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۴۲
(۲)سورہ يوسف آيت ۴۲
(۳)سورہ يوسف آيت ۴۲
(۴)البتہ زندان يا ديگر مشكلات سے نجات كے لئے ايسى كوشش عام افراد كے لئے كوئي اہم مسئلہ نہيں ہے اور طبيعى اسباب سے كام لينے كے ضمن ميں ہے ليكن ايسے افراد كے لئے جو نمونہ ہوں اور ايمان و توحيد كى بلند سطح پر فائز ہوں ان كے لئے اشكال سے خالى نہيں ہو سكتى ،شايد اسى بناء پر خدا نے يوسف كے اس ''ترك اولى ''كو نظر انداز نہيں كيا اور اس كى وجہ سے ان كى قيد چند سال مزيد جارى رہي
بولے : ميرے پرور دگار نے _
كہا : كس نے مصر كى عور توں كے مكر وفريب سے تمہيں دور ركھا ؟
كہنے لگے : ميرے پر ور د گار نے _
اس پر جبرئيل نے كہا : تمہارا پرور دگار كہہ رہا ہے كس چيز كے سبب تم اپنى حاجت مخلوق كے پاس لے گئے ہو اور ميرے پاس نہيں لائے ہو لہذاتمہيں چند سال اورزندان ميں رہنا چاہئے _
باد شاہ مصر كا خواب
حضرت يوسف عليہ السلام سات برس تك قيد خانے ميں تنگى وسختى ميں ايك فراموش شدہ انسان كى طرح رہے وہ خود سازى ' قيديوں كو ارشاد وہدايت ' بيماروں كى عيادت اور در د مند وں كى دلجو ئي ميں مصر وف رہے يہا ں تك كہ ايك ظاہر اً چھوٹا سا واقعہ رونما ہوا جس نے نہ صرف ان كى بلكہ مصر اور اس كے اطراف ميں رہنے والوں كى سر نوشت كو بدل كے ركھ ديا _
بادشاہ مصر كہ جس كا نام كہا جاتا ہے كہ وليدبن ريان تھا ( اور عزيز مصر اس كا وزير تھا ) اس نے ايك خواب ديكھا يہ ظاہر ا ًايك پريشا ن كن خواب تھا،دن چڑھا تو اس نے خواب كى تعبير بتانے والوں اور اپنے ساتھيوں كو جمع كيا اور كہنے لگا ميں نے خوب ميں ديكھا ہے كہ'' سات كمزورسى اور سات مو ٹى تازى گائيں ہيں اور دبلى پتلى گا ئيں ان پر حملہ آور ہو ئي ہيں اور انہيں كھا رہى ہيں نيز سات ہرے بھرے اور سات خشك شدہ گچھے ہيں اور خشك شدہ گچھے سبزگچھوں پر لپٹ گئے ہيں اور انہيں ختم كرديا ہے''( ۱)
اس كے بعد اس نے ان كى طرف روئے سخن كيا اور كہنے لگا : ''اے قوم كے سردارو : ميرے خواب كے بارے ميں اپنا نقطئہ نظر بيان كرو اگر تم خواب كى تعبير بتا سكتے ہو ''(۲) ليكن سلطان كے حواريوں نے فورا ًكہا كہ :يہ خواب پريشان ہيں اور ہم لوگ ايسے خوابوں كى تعبير نہيں جانتے ''( ۳)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۴۳
(۲) سورہ يوسف آيت ۴۴
(۳)سورہ يوسف آيت ۴۴
يہاں يہ سوال پيش آتا ہے كہ انہوں نے كس طرح جرا ت كى 'شاہ مصر كے سا منے اس رائے كا اظہار كريں كہ وہ اسے پريشان خواب ديكھنے كا الزام ديں ،جبكہ ان حاشيہ نشينوں كا معمول يہ ہے كہ وہ ان كى ہر چھو ٹى بڑى اور بے معنى حركت كے لئے كو ئي فلسفہ گھڑتے ہيں اور بڑى معنى خيز تفسير يں كرتے ہيں ،يہ ہو سكتا ہے كہ يہ اس لئے ہو كہ انہوں نے ديكھا تھا كہ بادشاہ يہ خواب ديكھ كر پريشان ومضطرب ہے اور وہ پريشانى ميں حق بجانب بھى تھا كيو نكہ اس نے خواب ميں ديكھا تھا كہ كمزور اور لاغر گائيں تو انا اور موٹى تازى گائوں پر حملہ آور ہوتى ہيں اور انہيں كھا رہى ہيں اور يہى صورت خشك گچھوں كى تھى ،كيا يہ اس بات كى دليل ہے كہ كمزور لوگ اچانك اس كے ہاتھ سے حكو مت چھين ليں گے لہذا انہوں نے بادشاہ كے دل كا اضطراب دور كرنے كے لئے اس سے كہا كہ خواب كسى چيز كى دليل نہيں ہو تے _
بادشاہ كے ساقى نے جناب يوسف كو ياد كيا
اس مو قع پر بادشاہ كا سا قى كہ جو چند سال قبل قيد خانے سے آزاد ہو ا تھا ' اسے قيد خانے كا خيال آيا اسے ياد آيا كہ يوسف اس خواب كى تعبير بيان كر سكتے ہيں اس نے بادشاہ كے حاشيہ نشينوں كى طرف رخ كر كے كہا:'' ميں تمہيں اس خواب كى تعبير بتا سكتا ہو ں مجھے اس كا م كے ماہر استاد كے پاس بھيجو كہ جو زندان ميں پڑا ہے تاكہ تمہيں بالكل سچ خبر لاكر دوں ''(۱)
جى ہاں اس گوشئہ زنداں ميں ايك روشن ضمير ' صاحب ايمان اور پاك دل انسان زند گى كے دن گزار ہا ہے كہ جس كا دل، حوادث آئندہ كا آئينہ ہے ، وہ ہے كہ جو اس راز سے پردہ اٹھا سكتا ہے اور اس خواب كى تعبير بيان كر سكتا ہے _
اس كى اس بات نے محفل كى كيفيت ہى بدل دى ،سب كى آنكھيں سا قى پر لگ گئيں آخر كار اسے اجازت ملى اور حكم ملا كہ جتنى جلدى ہو سكے اس كام كے لئے نكل كھڑا ہوا اور جلد نتيجہ پيش كر ے ساقى زندان ميں
____________________
(۱) سورہ يوسف ۴۵
آيا اور اپنے پرانے دوست يوسف(ع) كے پاس پہنچا، وہى دوست جس نے بڑى بے وفائي كى تھى ليكن اس كى عظمت سے تو قع نہيں كہ وہ د فتر شكا يت كھول بيٹھے _اس نے حضرت يوسف سے مخاطب ہو تے ہو ئے كہا : ''يوسف اے سرا پا صداقتاس خواب كے بارے ميں تم كيا كہتے ہو كہ كسى نے ديكھا ہے كہ سات لا غر گا ئيں مو ٹى تازى كو كھا رہى ہيں نيز سات ہر ے گچھے ہيں اور سات خشك شدہ ہيں ( كہ جن ميں سے دوسرا پہلے سے لپٹ گيا ہے اور اسے نابود كر ديا ہے '')'' شايد ميں اس طرح ان لوگوں كے پاس لو ٹ كے جائوں تو وہ اس خواب كے اسرار سے آگاہ ہو سكيں ''_(۱)
بہر حال حضرت يوسف عليہ السلام نے بغير كسى شرط كے اور بغير كسى صلہ كے تقاضے كے فوراً خواب كى واضح اور نہا يت اعلى تعبير بيان كى اس ميں آپ نے كچھ چھپا ئے بغير در پيش تاريك مستقبل كے بارے ميں بتايا ساتھ ہى اس كے لئے راہنما ئي كردى اور ايك مر تب پروگرام بتا ديا آپ نے كہا:''سات سال پيہم محنت سے كا شت كا رى كرو كيونكہ ان سات برسوں ميں بارش خو ب ہو گى ليكن جو فصل كا ٹو اسے خوشوں سميت انباروں كى صورت ميں جمع كر لو سوائے كھا نے كے لئے جو تھوڑ ى سى مقدار ضرورى ہو'' _(۲)
ليكن جان لوكہ ان سات برسوں كے بعد سات برس خشك سالى ، بارش كى كمى اور سختى كے آئيں گے كہ جن ميں صرف اس ذخيرے سے استفا دہ كرنا ہو گا جو گزشتہ سالوں ميں تمام ذخير،كيا ہوگا ورنہ ہلاك ہوجائوگے البتہ خيال رہے كہ خشكى اور قحط كے ان سات سالو ں ميں تمام ذخيرہ شدہ گندم نہ كھا جا نا ''بلكہ كچھ مقدار بيج كے طور پر آئندہ كا شت كيلئے ركھ چھوڑنا كيونكہ بعد كا سال اچھا ہو گا''( ۳)
اگر خشك سالى اور سختى كے يہ سال تم سو چے سمجھے پر گرام اور پلان كے تحت ايك ايك كركے گزار لو تو پھر تمہيں كوئي خطرہ نہيں ''اس كے بعد ايك ايسا سال آئے گا كہ خوب باران رحمت ہو گى اور لوگ اس آسمانى نعمت سے خوب بہرہ مند ہوں گے ''( ۴)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۴۶
(۲)سورہ يوسف ۴۷
(۳)سورہ يوسف آيت ۴۸
(۲)سورہ يوسف آيت ۴۸
اس سے نہ صرف زراعت اور اناج كا مسئلہ حل ہو جا ئے گا بلكہ رس دار پھل اور روغن داردا نے بھى فراواں ہو ں گے ''كہ لوگ جن سے رس اور روغن حاصل كريں گے ''( ۱)
مصر كا قيدى يا بہترين رہبر
حضرت يوسف عليہ السلام نے خواب كى جو تعبير بيان كى وہ كس قدر جچى تلى تھى قديمى كہا نيوں ميں گائے سال كا سنبل سمجھى جا تى تھى اور اس كا توانا ہو نا فراواں نعمت كى دليل ہے جبكہ لاغر ہو نا مشكلات اور سختى كى دليل ہے سات لاغر گا ئيں سات تو انا گا ئو ں پر حملہ آور ہو ئيں تو يہ اس بات كى دليل ہے كہ سختى كے سات سالوں ميں قبل كے سالوں كے ذخائر سے فائدہ اٹھا نا چاہئے اور سات خشك شدہ خوشہ يا گچھے جو سات سبز خوشوں سے لپٹ گئے تو يہ فراوانى نعمت اور خشك سالى كے دو مختلف ادوار كے لئے ايك اور دليل تھى اس ميں اس نكتہ كا اضا فہ تھا كہ اناج كو خو شوں كى شكل ميں ذخيرہ كيا جانا چا ہئے تاكہ جلد خراب نہ ہو اور سات برس تك چل سكے _ نيز يہ كہ لاغر گا ئيں اور خشك شدہ خو شوں كے سات سے زيادہ نہ تھے يہ امر اس بات كى نشاندہى كر تا ہے كہ ان سخت سات سالوں كے بعد يہ كيفيت ختم ہو جا ئے گى اور فطرى طور پر بيج كى فكربھى كر نا چاہئے اور ذخيرے كا كچھ حصہ اس كے لئے محفوظ ركھنا چا ہئے_
حضرت يوسف(ع) درحقيقت كہ عام تعبير خواب بيان كرنے والے شخص نہ تھے بلكہ ايك رہبر تھے كہ جو گوشئہ زندان ميں بيٹھے ايك ملك كے مستقبل كے لئے منصوبہ بندى كر رہے تھے اور انہيں كم از كم پند رہ برس كے لئے مختلف مراحل پر مشتمل ايك پلان دے رہے تھے اور جيسا كہ ہم ديكھيں گے كہ يہ تعبير جو ائندہ كے لئے منصوبہ بندى اور راہنمائي پر مشتمل تھي;نے جابر بادشاہ اور اس كے حواريوں كو ہلا كے ركھ ديا اور اہل مصر كے ہلاكت خيز قحط سے نجات كا سبب بنى اور اسى كے سبب حضرت يوسف كو زندا ن سے اور حكومت كو بھى خود غرض اور خود سر لوگوں سے نجات مل گئي _
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۴۹
يوسف ہر الزام سے برى ہو گئے
جيسا كہ ہم كہہ چكے ہيں كہ حضرت يوسف عليہ السلام نے شا ہ مصر كے خواب كى جو تعبير بيان كى وہ اس قدر جچى تلى اور منطقى تھى كہ اس نے بادشاہ اور اس كے حاشيہ نشينوں كو جذب كرليا بادشاہ نے ديكھا كہ ايك غير معروف سے قيدى نے كسى مفاد كى تو قع كے بغير اس خواب كى مشكل تعبير كس بہتر ين طريقہ سے بيان كر دى ہے اور ساتھ ہى آئندہ كے لئے نہايت جچا تلا پر وگرام بھى پيش كر ديا ہے _ اجمالا ًاس نے سمجھ ليا كہ يہ كو ئي غلام قيدى نہيں ہے بلكہ غير معمولى شخصيت ہے كہ جو كسى پر اسرار ماجر ے كے باعث قيد ميں ڈالا گيا ہے لہذا اسے اس كے ديدار كا اشتياق پيدا ہوا ليكن ايسا نہيں كہ سلطنت كا غرور ايك طرف ركھ كر وہ ديد ار يوسف كے لئے چل پڑے بلكہ'' اس نے حكم ديا كہ اسے ميرے پاس لے آئو ''(۱)
ليكن جب اس كا فرستا دہ يوسف كے پاس آيا تو بجا ئے اس كے كہ يوسف اس خوشى ميں پھولے نہ سماتے كہ سالہا سال قيدخانے كے گڑھے ميں رہنے كے بعد اب نسيم آزادى چل رہى ہے 'آپ نے بادشاہ كے نمائندہ كو منفى جواب ديا اور كہا كہ ميں اس وقت تك زندان سے باہر نہيں آئوں گا،''جب تك كہ تو اپنے مالك كے پاس جاكر اس سے يہ نہ پوچھے كہ وہ عورتيں جنھوں نے تيرے وزير( عزيز مصر كے محل ميں اپنے ہاتھ كا ٹ لئے تھے ان كاما جرا كيا تھا'' _(۲)
وہ نہيں چاہتے تھے كہ ايسے ہى جيل سے رہا ہو جا ئيں اور شاہ كى طرف سے معين كئے گئے ايك مجرم يا كم از كم ايك ملزم كى صورت ميں زندگى بسر كريں وہ چاہتے تھے كہ سب سے پہلے ان كى قيد كے سبب كے بارے ميں تحقيق ہو اور ان كى بے گناہى اور پاكدامنى پورى طرح درجہء ثبوت كو پہنچ جائے اور برائت كے بعد وہ سر بلندى سے آزاد ہوں اور ضمناً حكومت مصر كى مشينرى كى آلود گى بھى ثابت ہو جا ئے اور يہ ظاہر ہو جا ئے كہ اس كے وزير كے در بار ميں كيا گزرتى ہے _
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۵۰
(۲)سورہ يوسف آيت ۵۰
جى ہاں : وہ اپنے عزو شرف كو آزادى سے زيادہ اہميت ديتے تھے اور يہى ہے حر يت پسند وں كا راستہ ہے_
يہ امر جاذب تو جہ ہے كہ حضرت يوسف نے اپنى گفتگو ميں اس قدر عظمت كا مظاہر ہ كيا كہ يہاں تك تيار نہ ہو ئے كہ عزيز مصر كى بيوى كا نام ليں كہ جو ان پر الزام لگا نے اور جيل بھجنے كا اصلى عامل تھى بلكہ مجمو عى طور پر زنان مصر كے ايك گروہ كى طرف اشارہ كيا كہ جو اس ما جرا ميں دخيل تھيں _
اس كے بعد آپ نے مزيد كہا : اگر چہ اہل مصر نہ جانيں اور يہا ں تك در بار سلطنت بھى بے خبر ہو كہ مجھے قيد كئے جا نے كا منصوبہ كيا تھا اور كن افراد كى وجہ سے پيش آيا ليكن '' ميرا پر وردگار ان كے مكر وفريب اور منصوبہ سے آگاہ ہے ''(۱)
شاہ كا خاص نما ئندہ اس كے پاس لوٹ آيا اور يوسف كى تجويز كہ جس سے اعلى ظرفى اور بلند نظرى جھلكتى تھى ، بادشاہ نے سنى تو وہ يوسف كى بزرگوارى سے بہت زيا دہ متا ثر ہوا لہذا اس نے فوراً اس ما جر ے ميں شريك عورتوں كو بلا بھيجا وہ حاضر ہو ئيں تو ان سے مخا طب ہو كر كہنے لگا : ''بتائو ميں ديكھوں كہ جب تم نے يوسف سے اپنى خواہش پورا كرنے كا تقاضا كيا تو اصل معا ملہ كيا تھا ''(۲)
سچ كہنا ، حقيقت بيان كرنا كہ كيا تم نے اس ميں كو ئي عيب تقصير اور گنا ہ ديكھا ہے ؟
ان كے خوابيدہ ضمير اس سوال پر اچا نك بيدار ہو گئے'' اور سب نے متفقہ طورپر يوسف كى پاكدا منى كى گواہى دى اور كہا : منزہ ہے خدا ' ہم نے يوسف ميں كو ئي گنا ہ نہيں ديكھا ''(۳)
زليخا كا اعتراف
عزيز مصر كى بيوى وہاں مو جو د تھى بادشاہ اور زنان مصر كى باتيں سن رہى تھى بغير اس كے كہ كوئي اس سے سوال كر ے، ضبط نہ كر سكى ' اس نے محسوس كيا كہ اب وہ مو قعہ آگيا ہے كہ ضمير كى سالہا سال كى شرمند گى كي
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۵۰
(۲)سورہ يوسف آيت ۵۱
(۳) سورہ يوسف آيت ۵۱
يوسف كى پاكيز گى اور اپنى گنہگارى كے ذريعہ تلافى كرے ،خصوصاًجب كہ اس نے يوسف(ع) كى بے نظير عظمت كو اس پيغام ميں ديكھ ليا تھا جوانہوں نے بادشا ہ كو بھيجا تھا ديكھ ليا كہ اپنے پيغام ميں انہوں نے اس كے بارے ميں تھوڑى سى بات بھى نہيں كى اور اشارتا ًصرف زنان مصر كے بارے ميں بات كى ہے اس كے اندار گويا ايك ہلچل مچ گئي ''وہ چيخ اٹھى : اب حق آشكارہو گيا ہے ميں نے اس سے خواہش پورى كرنے كا تقا ضا كيا تھا وہ سچا ہے''_(۱) اور ميں نے اس كے بارے ميں اگر كوئي بات كى ہے تو وہ جھوٹ تھى ، بالكل جھوٹ تھي''(۲)
زوجہ عزيز نے اپنى بات جارى ركھتے ہو ئے كہا : ميں نے يہ صريح اعتراف اس بناء پر كيا ہے ''تا كہ يوسف كو معلوم ہو جائے كہ ميں نے اس كى غيبت ميں اس كے بارے ميں خيانت نہيں كى ''( ۳)
كيونكہ اتنى مدت ميں اور اس سے حاصل ہو نے والے تجربات كے بعد ميں نے سمجھ ليا ہے'' كہ خدا خيانت كر نے والوں كے مكر و فريب كوچلنے نہيں ديتا ''(۴)
در حقيقت(۵) اس نے يوسف كى پاكيز گى اور اپنى گنہگار ى كے صر يح اعتراف كے لئے دو دليليں قائم كيں : پہلى يہ كہ اس كا ضميراور احتما لا يوسف سے اس باقى ما ندہ لگا ئو اسے اجا زت نہيں ديتا اور اسى لئے محلوں كى پر خواب زندگى كے پر دے آہستہ آہستہ اس كى آنكھوں كے سا منے سے ہٹ گئے اور وہ زندگى كى حقيقتوں كو سمجھنے لگى كے خصو صا عشق ميں شكست نے اس كے افسانوى غرور پر جو ضرب لگا ئي اس سے اس كى نگاہ حقيقت اور كھل گئي _
اس حالت ميں تعجب كى بات نہيں كہ وہ اس طرح كا صريح اعتراف كر ے_ اس نے اپنى بات جارى ركھتے ہوئے مزيد كہا : ''ميں ہر گز اپنے نفس كى برائت كا اعلان نہيں كر تى كيو نكہ ميں جانتى ہوں كہ يہ نفس امارہ مجھے برائيوں كا حكم ديتا ہے،مگر يہ كہ ميرا پروردگار رحم كرے ''_(۶)
____________________
(۱)(۲)سورہ يوسف آيت ۵۱
(۳) سورہ يوسف آيت ۵۲
(۴)سورہ يوسف آيت ۵۲
(۵)اگر چہ يہ جملہ عزيز مصر كى بيوى كا ہے ' جيسا كہ ظاہر عبارت كا تقاضا ہے
(۶)سورہ يوسف آيت ۳۵
اور اس كى حفاظت اور نصرت ومدد كے باعث بچ جائوں (۱ ) بہر حال اس گنا ہ پر ميں اس سے عفو وبخشش كى اميد ركھتى ہوں ''كيو نكہ ميرا پر ور د گا ر غفور ورحيم ہے ''(۲)
يوسف (ع) ،مصر كے خزانہ دار كى حيثيت سے
''بادشا ہ نے حكم ديا كہ اسے ميرے پاس لے آئوتاكہ ميں اسے اپنا مشير اور نما ئندہ خاص بنائوں ''_(۳) اور اپنى مشكلا ت حل كر نے كے لئے اس كے علم ودا نش اور انتظامى صلا حيت سے مدد لوں _
با د شا ہ كا پر جوش پيام لے كر اس كا خاص نما ئند ہ قيد خا نے ميں يوسف كے پا س پہنچا _اس نے بادشا ہ كى طرف سے سلام ودعاپہنچا يا اور بتايا كہ اسے آپ سے شديد لگا و ہو گيا ہے _اس نے مصر كى عورتوں كے بارے ميں تحقيق سے متعلق آپ كى در خواست كو عملى جا مہ پہنا يا ہے اور سب نے كھل كر آپ كى پاكدا منى اور بے گنا ہى كى گواہى دى ہے لہذا اب تا خير كر نے كى گنجا ئش نہيں رہى اٹھيے تا كہ ہم اس كے پا س چليں حضرت يوسف باد شا ہ كے پاس تشريف لائے ''ان كى آپس ميں بات چيت ہو ئي بادشا ہ نے ان كى گفتگو سنى اور آپ كى پر مغزاور نہا يت اعلى باتيں سنيں اس نے ديكھا كہ آپ كى باتيں انتہائي علم ودانش اور دانا ئي سے معمو ر ہيں اور ہما رے نزديك قابل اعتما د رہيں گے ''( ۴)
آج سے اس ملك كے اہم كا م آپ كے سپر د ہيں اور آپ كو امور كى اصلاح كے لئے كمر ہمت باندھ لينا چا ہئے كيو نكہ ميرے خواب كى جو تعبير آپ نے بيان كى ہے اس كے مطا بق اس ملك كو شديد اقتصادى بحر ان در پيش ہے اور ميں سمجھتا ہوں كہ اس بحران پر صرف آ پ ہى قابو پاسكتے ہيں _ ''حضرت يوسف نے تجويز پيش كى مجھے اس علاقے كے خزا نوں كى ذمہ دارى سونپ دى جائے كيونكہ ميں خواب كے اسرار سے بھى واقف ہوں _''(۵)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۵۳
(۲)سورہ يوسف آيت ۵۳
(۳)سورہ يوسف آيت ۵۴
(۴) سورہ يوسف آيت ۵۴
(۵) سورہ يوسف آيت ۵۵
حضرت يوسف اچھى طرح جانتے تھے كہ ظلم سے بھر ے اس معا شر ے كى پر يشانيوں كى ايك اہم بنياد اس كے اقتصا دى مسائل ہيں لہذا انہوں نے سو چا كہ اب جب كہ انہيں مجبور اً آپ كى طرف آنا پڑا ہے تو كيا ہى اچھا ہے كہ مصر كى اقتصا ديات كو اپنے ہاتھ ميں لے ليں اور محروم و مستضعف عوام كى مدد كے لئے آگے بڑ ھيں اور جتنا ہو سكے طبقاتى تفاوت اور او نچ نيچ كو كم كريں مظلوموں كا حق ظالموں سے ليں اور اس وسيع ملك كى بد حالى كو دور كريں _
آپ كى نظر ميں تھا كہ خاص طور پر زرعى مسائل اس ملك ميں زيادہ اہم ہيں اس بات پر بھى توجہ ركھنا ہو گى كہ چند سا ل فراوانى كے ہوں گے اور پھر خشكى كے سال در پيش ہوں گے لہذا لوگوں كو زيادہ سے زيادہ غلہ پيدا كر نے اور پھر انہيں احتياط سے محفوظ ركھنے اور نہا يت كم خر چ كرنے پر آمادہ كرنا ہوگا تا كہ قحط سالى كے لئے غلہ ذخيرہ كيا جاسكے،لہذا اس مقصد كے لئے آپ كو يہى بہتر معلوم ہوا كہ آپ مصر كے خزانوں كواپنى سر پرستى ميں لينے كى تجويز پيش كريں _ بعض نے لكھا ہے كہ اس سال بادشاہ سخت مشكلا ت ميں گھراہو ا تھا اور كسى طرح ان سے نجات چاہتا تھا لہذا اس نے تمام امور كى باگ ڈور حضرت يوسف كے ہاتھ ميں دے دى اور خود كنار ہ كشى اختيار كرلى _
بعض دوسروں كا كہنا ہے كہ اس نے عزيز مصر كى جگہ حضرت يوسف كو اپنا وزير اعظم بناليا _يہ احتمال بھى ہے كہ(۱) وہ صر ف مصر كے خزا نہ دار بنے ہوں _(۲) بہر حال اس مقام پر خدا كہتا ہے: ''اور اس طرح ہم نے يوسف كو سرزمين مصر پر قدرت عطا كى كہ وہ جيسے چاہتا تھا اس ميں تصرف كرتا تھا''(۳)
____________________
(۱)سورہ يوسف ايت ۵۵كے ظاہر ى مفہوم كے مطابق
ليكن سورہ يوسف آيت ۱۰۰ ،اور ۱۰۱، اس امر كى دليل ہيں كہ آخر كار آپ بادشاہ ہوگے اور تمام امور مملكت كى باگ ڈور آپ كے ہاتھ آگئي اگر چہ آيت ۸۸، ميں ہے كہ يوسف كے بھا ئيوں نے ان سے كہا : (يا ايھا العزيز )_
يہ اس امر كى دليل ہے كہ آپ نے عزيز مصر كا منصب سنبھا لا مگر اس ميں كوئي مانع نہيں كہ آپ نے يہ منصب تدريجا ًحاصل كئے ہوں پہلے وزير خزانہ ہو ئے ہوں ، پھر وزير اعظم اور پھر بادشا ہ _
(۲)(۳)سورہ يوسف آيت ۵۶
جى ہاں :''ہم اپنى رحمت اور ما دى ورو حا نى نعمتيں جسے چا ہتے ہيں اور اہل پاتے ہيں عطا كر تے ہيں ''(۱) اور ہم نيكوں كا اجر ہر گز ضا ئع نہيں كريں گے ''_اگر چہ اس ميں تا خير ہو جا ئے تا ہم آخر كار جوكچھ ان كہ لائق ہوانھيں ديں گے_'' كيو نكہ ہم كسى نيك كام كو فراموش نہيں كرتے ''( ۲)
ليكن اہم بات يہ ہے كہ ہم صر ف دنيادى اجرہى نہيں ديں گے بلكہ ''جو اجر انہيں آخرت ميں ملے گا وہ اہل ايمان اور صاحبان تقوى كے لے زيادہ اچھا ہے ''( ۳)
سات سال بر كت اورسات سال قحط
آخر كار جيسا كہ پيشين گوئي ہوئي تھى سات سال پے در پے بارش ہو نے كے سبب اور دريا ئے نيل كے پانى ميں اضافہ كے باعث مصر كى زرعى پيدا وار خوب تسلى بخش ہو گئي مصر كا خزانہ اور اقتصادى امور حضرت يوسف كے زير نظر تھے آپ نے حكم ديا كہ غذا ئي اجنا س كو خراب ہو نے سے بچانے كے لئے چھو ٹے بڑے گودام بنائے جائيں آپ نے عوام كو حكم ديا كہ پيدا وار سے اپنى ضرورت كے مطا بق ركھ ليں اور باقى حكمومت كو بيچ ديں اس طرح گودام غلے سے بھر گئے _
نعمت وبر كت كى فرا وانى كے يہ سات سال گزر گئے اور خشك سالى كا منحوس دور شروع ہوا يوں لگتا تھا جيسے آسمان زمين كے لئے بخيل ہو گيا ہے كھيتياں اور نخلستان خشك ہو گئے عوام كو غلے كى كمى كا سامنا كر نا پڑا ليكن وہ جانتے تھے كہ حكومت نے غلے كے ذخائر جمع كر ركھے ہيں لہذا وہ اپنى مشكلات حكومت ہى كے ذر يعے دور كرتے تھے حضر ت يوسف بھى پورى منصوبہ بندى اور پرو گرام كے تحت غلہ فروخت كر تے تھے اور عاد لا نہ طور پر ان كى ضرورت پورى كر تے _
يہ بات جاذب نظر ہے كہ حضرت يوسف (ع) نے مصر كے لوگوں ميں طبقاتى تفاوت اور لوٹ گھسوٹ كو ختم كرنے كے لئے قحط كے سالوں سے استفادہ كيا ،اپ نے زيادہ پيدا وار كے عرصے ميں لوگوں سے غذائي
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۵۶
(۲) سورہ يوسف آيت ۵۶
(۳)سورہ يوسف۵۷
مواد خريد ليا اورا س كے لئے تيار كئے گئے بڑے بڑے گوداموں ميں اسے ذخيرہ كر ليا ،جب يہ سال گزر گئے اور قحط كے سال شروع ہوئے تو پہلے سال اجناس كو درہم و دينا ر كے بدلے بيچا ،اس طرح كرنسى كا ايك بڑا حصہ جمع كر ليا ،دوسرے سال اسباب زينت اور جواہرات كے بدلے اجناس كو بيچا ،البتہ جن كے پاس يہ چيزيں نہ تھيں انھيں مستثنى ركھا تيسرے برس چوپايوں كے بدلے ،چوتھے برس غلاموں اور كنيزوں كے عوض، پانچويں برس عمارت كے بدلے ،چھٹے برس زرعى زمينوں اور پانى كے عوض اور ساتويں سال خود مصر كے لوگوں كے بدلے اجناس ديں ،پھر يہ سب چيز يں انھيں (عادلانہ طورپر)واپس كر ديں اور كہا كہ ميرا مقصد يہ تھا كہ عوام كو بلا و مصيبت اور بے سروسامانى سے نجات دلاو ں _
برادران يوسف (ع) مصر پہونچے
يہ خشك سالى صرف مصر ہى ميں نہ تھى ،بلكہ اطراف كے ملكوں كا بھى يہى حال تھا فلسطين اور كنعا ن مصر كے شمال مشر ق ميں تھے وہاں كے لو گ بھى انہى مشكلات سے دوچارتھے حضر ت يعقوب كا خاندان بھى اسى علاقے ميں سكو نت پذ ير تھا وہ بھى غلہ كى كمى سے دوچار ہو گيا حضر ت يعقوب (ع) نے ان حالات ميں مصمم ارادہ كيا كہ بنيا مين كے علاوہ باقى بيٹوں كو مصر كى طرف بھيجيں يوسف كى جگہ اب بنيا مين ہى ان كے پاس تھا بہر حال وہ لوگ مصر كى طرف جانے والے قافلے كے ہمر اہ ہولئے اور بعض مفسرين كے بقول اٹھا رہ دن كى مسافت كے بعدمصر پہنچے _
جيسا كہ تو اريخ ميں ہے ، ضرورى تھا كہ ملك كے باہر سے انے والے افراد مصر ميں داخل ہو تے وقت اپنى شناخت كروائيں تاكہ مامور ين حضرت يوسف كو مطلع كريں جب مامورين نے فلسطين كے قافلے كى خبر دى تو حضرت يوسف نے ديكھا كہ غلے كى درخواست كر نے والوں ميں ان كے بھائيوں كے نام بھى ہيں آپ انھيں پہچان گئے اور يہ ظاہر كئے بغير كہ وہ اپ كے بھا ئي ہيں ، اپ نے حكم ديا كہ انہيں حاضر كيا جا ئے اور جيسا كہ قران كہتا ہے : ''يوسف كے بھائي ائے اور ان كے پاس پہنچے يوسف نے انہيں پہچا ن ليا ليكن
انہوں نے يوسف كو نہيں پہچانا ''( ۱)
وہ يوسف كو نہ پہچا ننے ميں حق بجا نب تھے كيو نكہ ايك طرف تو تيس سے چا ليس سال تك كا عر صہ بيت چكا تھا ( اس دن سے لے كر جب انہوں نے حضرت يوسف كو كنويں ميں پھينكا تھا ان كے مصر ميں انے تك ) اور دوسرى طرف وہ سوچ بھى نہ سكتے تھے كہ ان كا بھا ئي عزيز مصر ہو گيا ہے يہا ں تك كہ اگر وہ اسے اپنے بھا ئي سے مشا بہ بھى پا تے تو اسے ايك اتفاق ہى سمجھتے ان تمام امور سے قطع نظر حضر ت يوسف كے لباس كا اندازبھى بالكل بدل چكا تھا انہيں مصر يوں كے نئے لباس ميں پہچا ننا كو ئي اسان نہيں تھا بلكہ يوسف كے ساتھ جو كچھ ہو گزرا تھا اس كے بعد ان كى زندگى كا احتمال بھى ان كے لئے بہت بعيد تھا _
بہر حال انہوں نے اپنى ضرورت كا غلہ خريد ا اور اس كى قيمت نقدى كى صورت ميں اور يا مو زے ، جوتے يا كچھ اور اجناس كى صورت ميں ادا كى كہ جو وہ كنعان سے مصر لا ئے تھے _
جناب يوسف (ع) نے اپنے بھا ئيوں سے ايك پيشكش كي
حضرت يوسف (ع) نے اپنے بھا ئيوں سے بہت محبت كا برتائو كيا اور ان سے بات چيت كرنے لگے بھائيوں نے كہا :ہم دس بھائي ہيں اور حضرت يعقوب كے بيٹے ہيں ہمارے والد خدا كے عظيم پيغمبر ابراہيم خليل كے پوتے ہيں اگر اپ ہمارے باپ كو پہچا نتے ہو تے تو ہمارا بہت احترام كرتے ہمارا بوڑھا باپ انبياء الہى ميں سے ہے ليكن ايك نہا يت گہرے غم نے اس كے پورے وجود كو گھير ركھا ہے _
حضرت يوسف نے پوچھا :يہ غم كس بناء پر ہے _انہوں نے كہا :
ان كا ايك بيٹا تھا جس سے وہ بہت محبت كر تے تھے ،عمر ميں وہ ہم سے بہت چھوٹا تھا ايك دن وہ ہمارے سا تھ شكار اور تفريح كے لئے صحرا ميں گيا ہم اس سے غافل ہو گئے تو ايك بھيڑيا اسے چير پھاڑ ا گيا اس دن سے لے كر اج تك باپ اس كے لئے گرياں اورغمگين ہيں _
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۵۸
حضرت يوسف (ع) كى عادت تھى كہ ايك شخص كو ايك اونٹ كے بارسے زيادہ غلہ نہيں بيچتے تھے حضرت يوسف كے يہ بھا ئي چو نكہ دس تھے لہذا انہيں غلے كے دس بار ديئے گئے _
انہوں نے كہا : ہمارا بوڑ ھا باپ ہے اور ايك چھو ٹا بھا ئي ہے جو وطن ميں رہ گيا ہے باپ غم واندوہ كى شدت كى وجہ سے سفر نہيں كر سكتا اور چھوٹا بھائي خدمت كے لئے اور مانوسيت كى وجہ سے اس كے پاس رہ گيا ہے لہذا ان دونوں كا حصہ بھى ہميں دے ديجئے _
حضرت يوسف (ع) نے حكم ديا كہ دو او نٹوں كے باركا اضا فہ كيا جائے پھر حضرت يوسف ان كى طرف متوجہ ہو ئے اور كہا : ميں ديكھ رہا ہوں كہ تم ہوشمند اور مو دب افراد ہوا ور يہ جو تم كہتے ہو كہ تمہارے باپ كو تمہارے سب سے چھوٹے بھا ئي سے لگا ئو ہے اس سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ غير معمولى اور عام بچوں سے ہٹ كر ہے ميرى خواہش ہے كہ تمہارے ايندہ سفر ميں ميں اسے ضرور ديكھوں اس كے علاوہ يہاں كے لوگوں كو تمہارے بارے ميں كئي بدگمانيا ں ہيں كيو نكہ تم ايك دوسرے ملك سے تعلق ركھتے ہو لہذا بدگمانى كى اس فضا ء كو دور كرنے كے لئے ايندہ سفر ميں چھو ٹے بھائي كو نشانى كے طور پر ساتھ لے انا _
يہا ں قران كہتا ہے :
'' جب يوسف نے ان كے بارتيار كئے تو ان سے كہا : تمہارا بھائي جو باپ كى طرف سے ہے اسے ميرے پاس لے ائو''_(۱)
اس كے بعد مزيد كہا :
''كيا تم ديكھتے نہيں ہو كہ ميں پيما نہ كا حق ادا كرتا ہوں اور بہترين ميزبان ہوں '' _(۲)
اس تشويق اور اظہار محبت كے بعد انہيں يوں تہديد بھى كى :'' اگر اس بھا ئي كو ميرے پاس نہ لائے تو نہ تمہيں ميرے پاس سے غلہ ملے گا اور نہ تم خود ميرے پاس پھٹكنا_ ''(۳)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۵۹
(۲) سورہ يوسف آيت ۵۹
(۳) سورہ يوسف آيت ۶۰
حضرت يوسف چاہتے تھے كہ جيسے بھى ہو بنيا مين كو اپنے پاس بلائيں اس كے لئے كبھى وہ لطف و محبت كا طريقہ اختيا ر كر تے اور كبھى تہديد كا _ ان تعبيرات سے ضمنى طور پر واضح ہو تا ہے كہ مصر ميں غلاّت كى خريدو فروخت تو ل كر نہيں ہو تى تھى بلكہ پيما نے سے ہو تى تھى _ نيز يہ بھى واضح ہو تا ہے كہ حضرت يوسف اپنے بھا ئيوں اور دوسرے مہمانوں كى بہت اچھے طريقے سے پذير ائي كر تے تھے اور ہر حوا لے سے مہمان نواز تھے _ بھائيوں نے ان كے جواب ميں كہا :'' ہم اس كے باپ سے بات كريں گے اور كو شش كريں گے كہ وہ رضا مند ہو جائيں اور ہم يہ كام ضرور كريں گے ''(۱)
اس مو قع پر ان كى ہمدردى اور توجہ كو زيادہ سے زيادہ اپنى طرف مبذول كر نے كے لئے ''حضر ت يوسف نے اپنے كا رندوں سے كہا كہ ان كى نظر بچا كروہ اموال ان كے غلے ميں ركھ ديں جو انہوں نے غلہ اس كے بدلے ميں ديئےھے تا كہ جب وہ واپس اپنے خاندان ميں جاكر اپنا سامان كھوليں تو انہيں پہچان ليں اور دو بارہ مصر كى طرف لوٹ ائيں ''_( ۲)(۳)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۶۱
(۲)سورہ يوسف آيت ۶۲
(۳) حضرت يوسف(ع) نے بھائيوں سے اپنا تعارف كيوں نہ كر وايا : مندر جہ بالا واقعہ كے مطالعہ سے جو پہلا سوال سامنے اتا ہے وہ يہ ہے كہ حضرت يوسف نے بھائيوں سے اپنا تعارف كيوں نہ كروايا كہ وہ جلداز جلد اپ كو پہچان ليتے اور باپ كے پاس واپس جا كر انہيں ا پ كى جدائي كے جانكاہ غم سے نكالتے ؟
يہ سوال زيادہ وسيع حوالہ سے بھى سامنے اسكتا ہے اور وہ يہ كہ جس وقت حضرت يوسف كے بھا ئي اپ كے پاس ائے اس وقت اپ كى زندان سے رہائي كو كو ئي اٹھ سال گزر چكے تھے كيو نكہ گزشتہ سات سال فراوان نعمتوں پر مشتمل گزر چكے تھے جن كے دوران اپ قحط سالى كے عر صہ كے لئے اناج ذخير ہ كر نے ميں مشغول رہے اٹھويں سال قحط كا دور شرع ہوا اس سال يا اس كے بعد اپ كے بھا ئي غلہ لينے كے لئے مصر ائے ،كيا چا ہئے نہ تھا كہ ان اٹھ سالوں ميں اپ كو ئي قاصد كنعان كى طرف بھيجتے اور اپنے والد كو اپنے حالات سے اگاہ كر تے اور انہيں شديد غم سے نجات دلاتے ؟
بہت سے مفسر ين نے مثلاً طبرسى نے مجمع البيان ميں ، علامہ طباطبائي نے الميزان ميں اور قرطبى نے الجامع الا حكام القران ميں اس سوال كا جواب ديا ہے اور اس سلسلے ميں كئي جوابات پيش كئے ہيں ان ميں سے زيادہ بہتر يہ نظر اتا ہے كہ حضرت يوسف كو خدا تعالى كى طرف سے اس كى اجازت نہ تھى كيو نكہ فراق يو سف ديگر پہلوئوں كے علاوہ يعقوب كے لئے بھى ايك امتحان بھى تھا،اور ضرورى تھا كہ آزمائش كى يہ دور فرمان الہى سے ختم ہوتا،اور اس سے پہلے حضرت يوسف(ع) خبردينے كے مجا ز نہ تھے _
اس كے علاوہ اگر حضرت يو سف فوراً ہى اپنے بھا ئيوں كو اپنا تعارف كرو اديتے تو ممكن تھا كہ اس كا نتيجہ اچھا نہ ہو تا اور ہو سكتا تھا كہ وہ اس سے ايسے وحشت زدہ ہو تے كہ پھر لوٹ كر اپ كے پاس نہ اتے كيونكہ انہيں يہ خيال پيدا ہو تا كہ ممكن ہے يوسف ان كے گزشتہ رويہ كا انتقام ليں
اخر كار باپ راضى ہو گيا
حضرت يو سف(ع) كے بھا ئي ما لامال ہو كر خو شى خو شى كنعان واپس ائے ليكن ايند ہ كى فكر تھى كہ اگر باپ چھو ٹے بھا ئي ( بنيا مين ) كو بھيجنے پر راضى نہ ہوئے تو عزيز مصر ان كى پذيرائي نہيں كرے گا اور انہيں غلے كا حصہ نہيں دے گا _ اسى لئے قران كہتا ہے :
''جب وہ باپ كے پاس لوٹ كر ائے تو انہوں نے كہا : ابا جان حكم ديا گيا ہے كہ ايندہ ہميں غلے كا حصہ نہ ديا جائے اور پيمانہ ہم سے روك ديا جا ئے، '' اب جب يہ صورت در پيش ہے تو ہمارے بھا ئي كو ہمارے ساتھ بھيج ديں تا كہ ہم پيمانہ حاصل كرسكيں ،''اور اپ مطمئن رہيں ہم اس كى حفا ظت كر يں گے'' _(۱)
باپ كہ جو يو سف كو ہر گز نہيں بھو لتا تھا يہ بات سن كر پريشا ن ہو گيا ،ان كى طرف رخ كر كے اس نے كہا :'' كيا ميں تم پر اس بھا ئي كے بارے ميں بھروسہ كر لوں جب كہ اس كے بھائي يو سف كے بارے ميں گزشتہ زمانے ميں تم پر بھروسہ كيا تھا ''(۲)
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۶۳
(۲) سورہ يوسف آيت ۶۴
يعنى جب تمہارا ايسا برا ما ضى ہے جو بھولنے كے قابل نہيں تو تم كس طرح تو قع ركھتے ہو كہ دوبارہ تمہارى فرمائش مان لوں اور اپنے فرزند دل بند كو تمہارے سپرد كر دوں اور وہ بھى ايك دور درازسفر اور پرا ئے ديس كے لئے ،اس كے بعد اس نے مزيد كہا :'' ہر حالت ميں خدا بہتر ين محا فظ اور''ارحم الرحمين'' ہے_(۱)
''پھر ان بھا ئيوں نے جب اپنا سامان كھولا تو انہوں نے بڑے تعجب سے ديكھا كہ وہ تمام چيز يں جو انہوں نے غلے كى قيمت كے طور پر عزيز مصر كو دى تھيں سب انہيں لوٹادى گئي ہيں اور وہ ان كے سامان ميں موجود ہيں ''_(۲) جب انہوں نے ديكھا كہ يہ تو ان كى گفتگو پر سند قاطع ہے تو باپ كے پاس ائے اور كہنے لگے: ''اباجا ن ہميں اس سے بڑھ كر اور كيا چا ہيے ، ديكھئے انہوں نے ہمارا تمام مال ومتاع ہميں واپس كر ديا ہے''_(۳) كيا اس سے بڑھ كر كوئي عزت واحترام اور مہر بانى ہو سكتى ہے كہ ايك غير ملك كا سربراہ ايسے قحط اور خشك سالى ميں ہميں اناج بھى دے اور اس كى قيمت بھى واپس كر دے ، وہ بھى ايسے كہ ہم سمجھ ہى نہ پائيں اور شرمندہ نہ ہو ں ؟ اس سے بڑھ كر ہم كيا تصور كر سكتے ہيں ؟
ابا جا ن اب كسى پر يشا نى كى ضرورت نہيں ہمارے بھا ئي كو ہما رے ساتھ بھيج ديں ہم اپنے گھر والوں كے لئے اناج لے آئيں گے،اور اپنے بھائي كى حفاظت كى كو شش كر يں گے _نيز اس كى وجہ سے ايك اونٹ كا بار بھى زيادہ لا ئيں گے _ اور عزيز مصر جيسے محترم ، مہربان اور سخى شخص كے لئے كہ جسے ہم نے ديكھا ہے ''ايك آسان اور معمولى كا م ہے ''_(۴)
ان تمام امور كے باوجود حضرت يعقوب اپنے بيٹے بنيا مين كو ان كے ساتھ بھيجنے كے لئے راضى نہ تھے ليكن دوسرى طرف ان كا اصرار تھا جو واضح منطق كى بنياد پرتھا يہ صور ت حال انھيں آمادہ كرتى تھى كہ وہ ان
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۶۴
(۲) سورہ يوسف آيت ۶۵
(۳) سورہ يوسف آيت ۶۵
(۴)سورہ يوسف آيت ۶۵
كى تجويز قبول كرليں آخر كار انہوں نے ديكھا كہ اس كے بغير چارہ نہيں كہ مشروط طور پر بيٹے كو بھيج ديا جا ئے لہذا آپ نے ان سے اس طرح سے كہا : ''ميں اسے ہر گز تمہارے ساتھ نہيں بھيجوں گا ، جب تك كہ تم ايك خدائي پيمان نہ دو اور كو ئي ايسا كا م نہ كرو كہ جس سے مجھے اعتماد پيدا ہو جا ئے كہ تم اسے واپس لے كر آئو گے مگر يہ موت يا دوسرے عوامل كى وجہ سے يہ امر تمہارے بس ميں نہ رہے''_(۱)
''وثيقہ الہي'' سے مراد وہى قسم ہے جو خدا كے نام كے ساتھ ہے_
بہر حال يوسف(ع) كے بھائيوں نے باپ كى شرط قبول كرلي،اور جب انھوں نے اپنے باپ سے عہد و پيمان باندھاتو يعقوب(ع) نے كہا:خدا شاہد،ناظر اورمحافظ ہے اس بات پر كہ جو ہم كہتے ہيں _(۲)
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۶۶
(۲) حضرت يعقوب كيسے راضى ہو گئے : مند رجہ بالاو اقعہ كے سلسلے ميں جو پہلا سوال ذہن ميں آتا ہے يہ ہے كہ حضرت يعقوب بنيا مين كو ان كے سپر د كرنے پر كيسے آمادہ ہوگئے جب كہ ان كے بھائي ،يو سف (ع) كے بارے ميں سلوك كى وجہ سے پہلے برے كردا ركے شمار ہو تے تھے حالا نكہ ہم جانتے ہيں كہ وہ صر ف يو سف كے بارے ميں اپنے دل ميں كينہ وحسد نہيں ركھتے تھے بلكہ وہ يہى احساسات اگر چہ نسبتا خفيف ہى سہى بنيا مين كے لئے بھى ركھتے تھے جيسا كہ شروع داستان ميں پڑھا_''انہوں نے كہا كہ يوسف اوراس كا بھائي باپ كے نزديك ہم سے زيادہ محبوب ہے جب كہ ہم زيادہ طاقتور ہيں ''_
اس نكتہ كى طرف تو جہ كر نے سے اس سوال كا جواب واضح ہو جا تا ہے كہ حضرت يوسف والے حا دثے كو تيس سے چاليس سال تك كا عر صہ بيت چكا تھا اور حضر ت يو سف كے جو ان بھا ئي بڑھا پے كو پہنچ گئے تھے اور فطر تا ان كا ذہن پہلے زما نے كى نسبت پختہ ہو چكا تھا اس كے علاوہ گھر كے ما حول پر اور اپنے مضطرب وجدان پر اپنے برے ارادے كے اثرات وہ اچھى طرح سے محسوس كر تے تھے اور تجربے نے ان پر ثابت كر ديا كہ يوسف كے فقدان سے نہ صرف يہ كہ ان كے لئے باپ كى محبت ميں اضا فہ نہ ہوا بلكہ مزيد بے مہر ى اور بے التفاتى پيدا ہو گئي _ان سب باتوں سے قطع نظر يہ تو ايك زندگى كا مسئلہ ہے ،قحط سالى ميں ايك گھر انے كے لئے اناج مہياكر نا ايك بہت بڑى چيز تھى اور يہ سيرو تفريح كا معا ملہ نہ تھا جيسا كہ انہوں نے ماضى ميں حضرت يو سف كے متعلق فر ما ئش كى تھى _ان تمام پہلوئوں كے پيش نظر حضرت يعقوب (ع) نے ان كى بات مان لي، ليكن اس شرط كے سا تھ وہ كہ آپ سے عہد وپيمان باندھيں كہ وہ اپنے بھا ئي بنيامين كو صحيح وسالم آپ كے پاس واپس لے آئيں گے _
ايك دروازے سے داخل نہ ہو نا
آخر كار حضر ت يو سف كے بھائي باپ كى رضا مندى كے بعد اپنے چھوٹے بھائي كو ہمراہ لے كر دوسرى مر تبہ مصر جانے كو تيار ہو ئے تو اس موقع پر باپ نے انہيں نصيحت كى ''اس نے كہا : ميرے بيٹو تم ايك درواز ے سے داخل نہ ہو نا بلكہ مختلف در وازوں سے داخل ہو نا _''(۱)
اس ميں شك نہيں كہ اس زمانے ميں دوسرے شہروں كى طرح مصر كے دارالخلافت كے گرد اگر د بھى فصيل تھى اس كے بھى برج وبار تھے اور اس كے متعدد دروازے تھے _
رہا يہ سوال كہ حضرت يعقوب نے كيوں نصيحت كى كہ ان كے بيٹے ايك دروازے سے داخل نہ ہوں بلكہ مختلف حصوں ميں تقسيم ہو كر مختلف دروازوں سے شہر ميں داخل ہوں ، اس كى وجہ قرآن ميں مذ كور نہيں ہے بعض مفسرين كہتے ہيں كہ حضر ت يو سف كے بھا ئي ايك تو بہت حسين وجميل تھے ( اگر چہ وہ يو سف نہ تھے مگر يوسف كے بھا ئي تو تھے ) ان كا قد وقامت بہت اچھا تھا_
لہذا ان كے باپ پريشان تھے كہ گيا رہ افراد اكھٹے جن كے چہرے مہرے سے معلوم ہو كہ وہ مصر كے علاوہ كسى اور ملك سے آئے ہيں ، لوگ ان كى طرف متوجہ نہ ہوں وہ نہيں چا ہتے تھے كہ اس طرح انہيں نظربد لگ جائے _
حضرت يعقوب كے اس حكم كے بارے ميں جو دوسرى علت بيان كى گئي ہے وہ يہ ہے كہ ہو سكتا ہے جب اونچے لمبے چوڑے چكلے مضبوط جسموں والے اكٹھے چليں تو حاسدوں كو انہيں ديكھ كر حسد پيدا ہواور وہ ان كے بارے ميں حكومت سے كو ئي شكايت كرنے لگيں اور ان كے متعلق يہ بدگمانى كر يں كہ وہ فتنہ وفساد كا ارادہ ركھتے ہيں اس لئے باپ نے انہيں حكم ديا كہ مختلف در وازوں سے داخل ہوں تاكہ لوگ ان كى طرف متوجہ نہ ہوں _
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۶۷
بعض مفسرين نے اس كى ايك عرفانى تفسير بھى كى ہے وہ يہ كہ حضرت يعقوب راہنما ئے راہ كے حوالے سے اپنے بيٹوں كو ايك باہم معا شرتى مسئلہ سمجھا نا چاہتے تھے اور وہ يہ كہ كھو ئي ہو ئي چيز كو صر ف ايك ہى راستے سے تلاش نہ كر يں بلكہ ہردروازے سے داخل ہو كر اسے ڈھونڈيں كيونكہ اكثر ايساہوتا ہے كہ انسان ايك مقصد تك پہنچنے كے لئے صرف ايك ہى راہ كا انتخاب كر تا ہے اور جب آگے راستہ بند پاتا ہے تو مايوس ہو كر بيٹھ جاتا ہے ليكن اگر وہ اس حقيقت كى طرف متوجہ ہو كہ گمشدہ افراد اور چيز يں عمو ماً ايك ہى راستے پر جانے سے نہيں ملتيں بلكہ مختلف راستوں سے ان كى جستجو كر نا چا ہيے تو عام طور پر كامياب ہو جاتاہے _
برادر ان يو سف (ع) روانہ ہو ئے اور كنعان ومصر كے در ميان طويل مسا فت طے كر نے كے بعد سر زمين مصر ميں داخل ہو گئے _
بھا ئي كو روكنے كى كو شش
آخر كار بھائي، يو سف (ع) كے پاس پہنچے اور انہيں بتايا كہ ہم نے آپ كے حكم كى تعميل كى ہے اور باوجود اس كے ہمارے والد پہلے چھو ٹے بھا ئي كو ہمارے ساتھ بھيجنے پر راضى نہ تھے ليكن ہم نے اصرار كر كے اسے راضى كيا ہے تا كہ آپ جان ليں كہ ہم نے قول وقرا ر پورا كيا ہے _
حضرت يو سف (ع) نے بڑى عزت واحترام سے ان كى پذيرائي كي، انہيں مہمان بلايا اور حكم ديا كہ دستر خوان يا طبق كے پا س دو دو افراد آئيں ، انہوں نے ايسا ہى كيا اس مو قع پر بنيا مين جو تنہارہ گيا تھا رونے لگا اوركہنے لگا كہ ميرا بھائي يو سف زندہ ہو تا تو مجھے اپنے ساتھ ايك دسترخوان پر بٹھا تا كيونكہ ہم پدر ى بھائي تھے_ پھر حكم ديا كہ دو دو افراد كے لئے ايك ايك كمرہ سونے كے لئے تيار كيا جا ئے بنيا مين پھر اكيلا رہ گيا تو حضرت يوسف نے فرمايا : اسے ميرے پاس بھيج دو اس طرح حضرت يو سف (ع) نے اپنے بھا ئي كو اپنے يہاں جگہ دى ليكن ديكھا كہ وہ بہت دكھى اور پريشان ہے اور ہميشہ اپنے كھوئے ہوئے بھائي يوسف(ع) كى ياد ميں رہتا ہے كہ ايسے ميں يو سف كے صبر كا پيمانہ لبر يز ہو گيا اور آپ نے حقيقت كے چہرے سے پر دہ ہٹا ديا ، جيسا كہ قرآن كہتا ہے :''
جب يوسف (ع) كے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھا ئي كو اپنے يہا ں جگہ دى اوركہا كہ ميں وہى تمہارا بھائي يو سف ہوں ، غمگين نہ ہو اور اپنے دل كو دكھى نہ كر اور ان كے كسى كا م سے پر يشا ن نہ ہو ''_(۱)
بھا ئيوں كے كا م كہ جو بنيا مين كو دكھى اور پريشان كر تے تھے ان سے مرادان كى وہ نامہر بانيا ں او ر بے التفا تياں تھيں جو وہ اس كے اور يو سف كے لئے رواركھتے تھے اور وہ سازشيں كہ جو اسے گھر والوں سے دور كرنے كے لئے انجام ديتے تھے ،حضرت يوسف(ع) كى مراد يہ تھى كہ تم ديكھ رہے ہو كہ ان كى كار ستانيوں سے مجھے كو ئي نقصان نہيں پہنچا بلكہ وہ ميرى تر قى اور بلندى كا ذريعہ بن گئيں لہذا اب تم بھى اس بارے ميں اپنے دل كو دكھى نہ كرو _
اے اہل قافلہ تم چو رہو
اس مو قع پر حضرت يوسف (ع) نے اپنے بھائي بنيامين سے كہا:كيا تم پسند كر تے ہو كہ ميرے پاس رہ جائو ،اس نے كہا : ہا ں ميں تو راضى ہوں ليكن بھائي ہر گز راضى نہيں ہوں گے كيو نكہ انہوں نے باپ سے قول وقرار كيا ہے اور قسم كھا ئي ہے كہ مجھے ہر قيمت پر اپنے ساتھ واپس لے جائيں گے _
حضر ت يوسف(ع) نے كہا :تم فكر نہ كرو ميں ايك منصوبہ بناتا ہوں جس سے وہ مجبور ہو جائيں گے كہ تمہيں ميرے پاس چھوڑجائيں _ ''غلاّت كے بارتيار ہو گئے تو حكم ديا كہ مخصوص قيمتى پيمانہ بھائي كے بارميں ركھ ديں ''_(۲) ( كيو نكہ ہرشخص كے لئے غلے كا ايك بار ديا جاتا تھا _
البتہ يہ كام مخفى طور پر انجام پايا اور شايد اس كا علم مامور ين ميں سے فقط ايك شخص كو تھا _
جب اناج كو پيما نے سے دينے والوں نے ديكھا كہ مخصوص قيمتى پيما نے كا كہيں نام ونشان نہيں ہے حالانكہ پہلے وہ ان كے پاس موجود تھا لہذا جب قافلہ چلنے لگا ''تو كسى نے پكار كر كہا : اے قافلے والو : تم چور ہو''_(۳)
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۶۹
(۲)سورہ يوسف آيت ۷۰
(۱) سورہ يوسف آيت ۷۰
يو سف كے بھائيوں نے جب يہ جملہ سنا تو سخت پريشان ہو ئے اورو حشت زدہ ہوگئے كيو نكہ ان كے ذہن ميں تو اس كا خيال بھى نہ آسكتا تھا كہ اس احترام واكرم كے بعد ان پر چورى كا الزام لگا يا جائے گا لہذا انہوں نے ان كى طرف رخ كر كے كہا :'' تمہارى كو نسى چيز چورى ہو گئي ہے''_(۱)
''انہوں نے كہا ہم سے بادشاہ كا پيمانہ گم ہو گيا ہے اور ہميں تمہارے بارے ميں بد گمانى ہے'' _(۲)
پيمانہ چو نكہ گراں قيمت ہے اور بادشاہ كو پسند ہے لہذا '' وہ جس شخص كو ملے اور وہ اسے لے آئے تو اسے ايك اونٹ كا باربطور انعام ديا جائے گا ''_(۳)
پھر بات كہنے والے نے مزيد تاكيد كے لئے كہا:''اور ميں ذاتى طور پر اس انعام كا ضامن ہوں ''_(۴)
بھائي يہ بات سن كر سخت پريشان ہوئے اور حواس باختہ ہوگئے، وہ نہيں سمجھتے تھے كہ معاملہ كيا ہے،ان كى طرف رخ كر كے انھوں نے كہا:
''انھوں نے كہا:خدا كى قسم تم جانتے ہو كہ ہم يہاں اس لئے نہيں آئے ہيں كہ فتنہ و فساد كريں اور ہم كبھى بھى چور نہيں تھے ''_(۵)
يہ سن كر وہ ان كى طرف متوجہ ہو ئے اور ''كہا : ليكن اگر تم جھوٹے ہو ئے تو اس كى سزا كيا ہوگي؟(۶)
انہوں نے جواب ميں كہا :'' اس كى سزا يہ ہے كہ جس شخص كے بارميں سے بادشاہ كا پيمانہ مل جائے اسے روك لو اور اسے اس كے بدلے ميں لے لو ''_(۷) ''جى ہاں : ہم اسى طرح ظالموں كو سزا ديتے ہيں _''(۸)
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۷۱ (۲) سورہ يوسف آيت ۷۲ (۳) سورہ يوسف آيت ۷۲
(۴)سورہ يوسف آيت۷۲ (۵)سورہ يوسف آيت۷۳ (۶) سورہ يوسف آيت ۷۴
(۷) سورہ يوسف آيت ۷۵ (۸) سورہ يوسف آيت ۷۵
اس مو قع پرحضرت يوسف نے حكم ديا كہ ان كے غلات كے باركھولے جائيں اور ايك ايك كى جانچ پڑتال كى جائے البتہ اس بناء پر كہ ان كے اصلى منصوبے كا كسى كو پتہ نہ چلے ،'' اپنے بھائي بنيا مين كے بارسے پہلے دوسروں كے سامان كى پڑتال كى اور پھر وہ مخصوص پيمانہ اپنے بھائي كے بار سے برآمد كر ليا''(۱)
اے بنيا مين تم نے ہميں ذليل كر ديا
پيمانہ بر آمد ہوا تو تعجب سے بھائيوں كے منہ كھلے كے كھلے رہ گئے گويا غم واندوہ كا پہاڑان كے سروں پر آگرا اور انہيں يوں لگا جيسے وہ ايك عجيب مقام پر پھنس گئے ہيں كہ جس كے چاروں طرف كے راستے بند ہو گئے ہيں ايك طرف ان كا بھائي ظاہر ًا ايسى چورى كا مر تكب ہوا جس سے ان كے سرندامت سے جھك گئے اور دوسرى طرف ظاہراً عزيز مصر كى نظروں ميں ان كى عزت وحيثيت خطرے ميں جاپڑى كہ اب آيندہ كے لئے اس كى حمايت حاصل كرنا ان كے لئے ممكن نہ رہا اور ان تمام باتو ں سے قطع نظر انہوں نے سوچا كہ باپ كو كيا جواب ديں گے اور وہ كيسے يقين كر ے گا كہ اس ميں ان كا كوئي قصور نہيں ہے _
بعض مفسرين نے لكھا ہے كہ اس مو قع پربھائيوں نے بنيامين كى طرف رخ كر كے كہا : اے بے خبر : تو نے ہميں رسوا كرديا ہے اور ہمارا منہ كالا كرديا ہے تو نے يہ كيساغلط كام انجام ديا ہے ؟(نہ تو نے اپنے آپ پر رحم كيا ،نہ ہم پر اور نہ خاندان يعقوب (ع) پر كہ جو خاندان نبوت ہے ) آخر ہميں بتا تو سہى كہ تو نے كس وقت پيمانہ اٹھا يا اور اپنے بار ميں ركھ ليا؟ بنيامين نے جو معاملے كى اصل اور قضيے كے باطن كو جانتا تھا ٹھنڈے دل سے جواب ديا كہ يہ كام اسى شخص نے كيا ہے جس نے تمہارى دى ہوئي قيمت تمہارے بارميں ركھ دى تھى ليكن بھائيوں كو اس حادثے نے اس قدر پريشان كر ركھا تھا كہ انھيں پتہ نہيں چلا كہ وہ كيا كہہ رہا ہے_
پھر قرآن مزيد كہتا ہے:'' ہم نے اس طرح يوسف (ع) كے لئے ايك تدبير كي''_(۲) ( تاكہ وہ اپنے
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۷۶
(۲) سورہ يوسف ايت۷۶
بھائي كو دوسرے بھائيوں كى مخالفت كے بغير روك سكيں )(۱) اسى بناء پر قرآن كہتا ہے:'' يوسف ملك مصر كے قانون كے مطا بق اپنے بھائي كو نہيں لے سكتے تھے اور اپنے پاس نہيں ركھ سكتے تھے_''(۲)
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۷۶
(۲)يہاں پر دو سوال پيدا ہوتے ہيں :
۱_بے گناہ پر چورى كا الزام ؟
كيا جائز تھا كہ ايك بے گناہ شخص پر چورى كا اتہام لگايا جائے،ايسا اتہام كہ جس كے بُرے اثار نے باقى بھائيوں كو بھى كسى حد تك اپنى لپٹ ميں لے ليا؟
اس سوال كا جواب بھى خود واقعے ميں موجود ہے اور وہ يہ كہ يہ معاملہ خودبنيامين كى رضا مندى سے انجام پايا تھا ،كيونكہ حضرت يوسف نے پہلے اپنے اپ كو اس سے متعارف كروايا تھا اور وہ جانتا تھا كہ يہ منصوبہ خود اس كى حفاظت كے لئے بنايا گيا ہے،نيز اس سے بھائيوں پر بھى كوئي تہمت نہيں لگى البتہ انھيں اضطراب و پريشانى ضرور ہوئي جس ميں كہ ايك اہم امتحان كى وجہ سے كوئي ہرج نہ تھا _
۲_چورى كى نسبت سب كى طرف كيوں دى گئي ؟
كيا (انكم اسارقون )''يعنى تم چور ہو ''كہہ كر سب كى طرف چورى كى نسبت نہيں دينا جھوٹ نہ تھا اور اس جھوٹ اور تہمت كا كيا جواز تھا ؟ ذيل كے تجزيے سے اس سوال كا جواب واضح ہو جا ئے گا : اولاً يہ معلوم نہيں كہ يہ بات كہنے والے كو ن لو گ تھے قرآن ميں صرف اس قدر ہے ''قالوا ''يعنى انہوں نے كہا'' ہوسكتا ہے يہ بات كہنے والے حضرت يوسف كے كچھ كار ندے ہوں كہ جب انہوں نے ديكھا كہ مخصوص پيمانہ نہيں ہے يقين كر ليا كہ كنعان كے قافلے ميں سے كسى شخص نے اسے چراليا ہے اور يہ معمول ہے كہ اگر كوئي چيز ايسے افراد ميں چورى ہو جائے كہ جو ايك ہى گروہ كى صورت ميں متشكل ہو اور اصل چور پہچا نا نہ جائے تو سب كو مخاطب كر تے ہيں اور كہتے ہيں كہ تم نے يہ كام كيا ہے يعنى تم ميں سے ايك نے يا تم ميں سے بعض نے ايسا كيا ہے_
ثانيا ًاس بات كا اصلى نشانہ بنيامين تھا جو كہ اس نسبت پر راضى تھا كيونكہ اس منصوبے ميں ظاہرا تو اس پر چورى كى تہمت لگى تھى ليكن درحقيقت وہ اس كے اپنے بھائي يو سف كے پاس رہنے كے لئے مقدمہ تھى اور يہ جو سب پر الزام آيا يہ ايك بالكل عارضى سى بات تھى جو صرف برادران يو سف كے سامان كى تلاشى پر ختم ہو گيا اور جودر حقيقت مراد تھا يعنى ''بنيامين ''وہ پہچان لياگيا_
قرآن سے معلوم ہوتا ہے كہ مصريوں اور كنعان كے باشندوں ميں چورى كى سزا مختلف تھي_ حضرت يوسف عليہ السلام كے بھائيوں اور احتمالاً اہل كنعان ميں اس عمل كى سزا يہ تھى كہ چور كو اس چورى كے بدلے ميں (ہميشہ كے ليے يا وقتى طور پر)غلام بناليا جاتا _ليكن مصريوں ميں يہ سزارائج نہ تھى بلكہ چوروں كو دوسرے ذرائع سے مثلاً مار پيٹ سے اور قيد و بند وغيرہ سے سزا ديتے تھے_
علامہ طبرسى نے مجمع البيان ميں نقل كيا ہے كہ اس زمانے ميں ايك گروہ ميں يہ طريقہ رائج تھا كہ وہ چور كو ايك سال كے ليے غلام بناليتے تھے_ نيز يہ بھى نقل كيا گيا ہے كہ خاندان يعقوب عليہ السلام ميں چورى كى مقدار كے برابر غلامى كى مدت معين كى جاتى تھى (تا كہ وہ اسى كے مطابق كام كرے)_
يوسف نے بھى چورى كى تھي
آخر كار بھائيوں نے يقين كر ليا كہ ان كے بھا ئي بنيامين نے ايسى قبيح اور منحوس چورى كى ہے اور اس طرح اس نے عزيز مصر كى نظروں ميں ان كا سا بقہ ريكار ڈسارا خراب كرديا ہے لہذا اپنے آپ كو برى الذمہ كرنے كے لئے انہوں نے كہا : ''اگر اس لڑكے نے چورى كى ہے تو يہ كوئي تعجب كى بات نہيں كيو نكہ اس كا بھائي يوسف بھى پہلے ايسے كا م كا مرتكب ہو چكا ہے ''_(۱) اور يہ دونوں ايك ہى ماں اور باپ سے ہيں اور ہم جو دوسرى ماں سے ہيں ہمارا حساب كتاب ان سے الگ ہے _
اس طرح سے انہوں نے اپنے اور بنيا مين كے درميان ايك حد فاصل قائم كر نا چاہى اور كا تعلق يوسف سے جوڑديا _
يہ بات سن كر يو سف بہت دكھى اور پريشان ہوئے اور ''اسے دل ميں چھپا ئے ركھا اور ان كے سامنے اظہار نہ كيا ''_(۲)
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۷۷
(۲) سورہ يوسف آيت ۷۷
كيو نكہ وہ جانتے تھے كہ يہ بات كہہ كر انہوں نے ايك بہت بڑا بہتان باندھا ہے ليكن انہوں نے اس كا كو ئي جواب نہ ديا بس اجمالى طور پر اتنا كہا كہ جس كى طرف تم يہ نسبت ديتے ہو تم اس سے بد تر ہو يا ميرے نزديك مقام و منزلت كے لحاظ سے تم بد ترين لوگ ہو_''(۱)
اس كے بعد مزيد كہا :'' جو كچھ تم كہتے ہو خدا اس كے بارے ميں زيادہ جاننے والا ہے ''_(۲)
يہ ٹھيك ہے كہ يوسف كے بھائيوں نے ان بحرانى لمحوں ميں اپنے آپ كو برى الذمہ ثابت كر نے كے لئے اپنے بھائي يو سف پر ايك نا روا تہمت باندھى تھي_
ليكن پھر بھى اس كا م كے لئے كو ئي بہا نہ اور سند ہو نا چا ہيے جس كى بناء پر وہ يو سف كى طرف ايسى نسبت ديں _
اس سلسلے ميں مفسرين كا وش وزحمت ميں پڑے ہيں اور گذشتہ لو گوں كى تواريخ سے انہوں نے تين روايات نقل كى ہيں _
پہلى يہ كہ يو سف اپنى ما ں كى وفات كے بعد اپنى پھوپھى كے پاس رہا كرتے تھے اور انہيں يو سف سے بہت زيا دہ پيار تھا جب آپ بڑے ہوگئے اور حضرت يعقوب (ع) نے انہيں ان كى پھوپھى سے واپس لينا چاہا تو ان كى پھوپھى نے ايك منصوبہ بنايا اور وہ يہ كہ كمر بند يا ايك خاص شال جو حضرت اسحاق (ع) كى جانب سے ان كے خاندان ميں بطور ياد گار چلى آرہى تھى يو سف كى كمر سے باندھ دى اور دعوى كيا كہ يو سف اسے چھپا لے جانا چا ہتا تھا ايسا انہوں نے اس لئے كيا تا كہ اس كمر بند يا شال كے بدلے يو سف كو اپنے پاس ركھ ليں _
دوسرى روايت يہ ہے كہ حضرت يو سف كے مادرى رشتہ داروں ميں سے ايك كے پاس ايك بت تھا جسے يو سف نے اٹھا كر توڑ ديا اور اسے سٹرك پر لاپھينكا لہذا انہوں نے حضرت يوسف پر چورى كا الزام لگا ديا حالا نكہ اس ميں تو كوئي گناہ نہيں تھا _
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۷۷
(۲) سورہ يوسف آيت ۷۷
تيسرى روايت يہ ہے كہ كبھى كبھا روہ دستر خوان سے كچھ كھانا لے كر مسكينوں اور حاجت مندوں كو دے ديتے تھے لہذا بہا نہ تراش بھائيوں نے اسے بھى چورى كا الزام دينے كے لئے سند بنا ليا حالانكہ ان ميں سے كو ئي چيز گناہ كے زمرے ميں نہيں تھا _
اگر ايك شخص كسى كو كوئي لباس پہنا دے اور پہننے والا نہ جانتا ہو كہ يہ كسى دوسرے كا مال ہے تو كيا اسے چورى كا الزام دينا صحيح ہے _ اسى طرح كيا كسى بت كو اٹھاكر پٹخ دينا گناہ ہے _ نيز انسان كو ئي چيز اپنے باپ كے دستر خوان سے اٹھا كر مسكينوں كو دے دے جب كہ اسے يقين ہو كہ اس كا باپ اس پر راضى ہے تو كيا اسے گناہ قرار ديا جاسكتا ہے _
برادران يو سف كى فداكا رى كيوں قبول نہ ہوئي
بھا ئيوں نے ديكھا كہ ان كے چھوٹے بھائي بنيامين كو اس قانون كے مطابق عزيز مصر كے پاس رہنا پڑے گا جسے وہ خو د قبول كر چكے ہيں اور دوسرى طرف انہوں نے باپ سے پيمان باند ھا تھا كہ بنيامين كى حفاظت اور اسے واپس لانے كے لئے اپنى پورى كو شش كريں گے ايسے ميں انہوں نے يوسف كى طرف رخ كيا جسے ابھى تك انہوں نے پہچانا نہيں تھا اور كہا : ''اے عزيز مصر : اے بزر گور صاحب اقتدار : اس كا باپ بہت بوڑھا ہے اور وہ اس كى جدا ئي كو برداشت كر نے كى طاقت نہيں ركھتا ہم نے آپ كے اصرار پر اسے باپ سے جدا كيا اور باپ نے ہم سے تاكيد ى وعدہ ليا كہ ہم ہر قيمت پر اسے واپس لائيں گے اب ہم پر احسان كيجئے اور اس كے بدلے ميں ہم ميں سے كسى ايك كو ركھ ليجئے ، ''كيونكہ ديكھ رہے ہيں كہ آپ نيكوكاروں ميں سے ہيں ''_(۱)
اور يہ پہلا مو قع نہيں كہ آپ نے ہم پر لطف وكرم اور مہرومحبت كى ہے ، مہر بانى كر كے اپنى كر م نوازيوں كى تكميل كيجئے _
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۷۸
حضرت يو سف (ع) نے اس تجويز كى شدت سے نفى كى ''اور كہا :پناہ بخدا : يہ كيسے ہو سكتا ہے كہ جس كے پاس سے ہمارا مال ومتا ع برآمد ہوا ہے ہم اس كے علاوہ كسى شخص كو ركھ ليں ''كبھى تم نے سنا ہے كہ ايك منصف مزاج شخص نے كسى بے گناہ كو دوسرے كے جرم ميں سزا دى ہو _(۱) '' اگر ہم ايسا كريں تو يقينا ہم ظالم ہوں گے''_(۲) يہ امر قابل توجہ ہے كہ حضرت يوسف نے اپنى اس گفتگو ميں بھائي كى طرف چورى كى كوئي نسبت نہيں دى بلكہ كہتے ہيں كہ ''جس شخص كے پاس سے ہميں ہمارامال ومتا ع ملا ہے ''اور يہ اس امر كى دليل ہے كہ وہ اس امر كى طرف سنجيد گى سے متوجہ تھے كہ اپنى پورى زندگى ميں كبھى كوئي غلط بات نہ كريں _
بھا ئي سر جھكا ئے باپ كے پاس پہنچے
بھا ئيوں نے بنيا مين كى رہائي كے لئے اپنى آخرى كو شش كرڈالى ليكن انہوں نے اپنے سا منے راستے بند پا ئے ايك طرف تو اس كام كو كچھ اس طرح سے انجام ديا گيا تھا كہ ظاہرا بھائي كى برائت ممكن نہ تھى اور دوسرى طرف عزيز مصر نے اس كى جگہ كسى اور فرد كو ركھنے كى تجويز قبول نہ كى لہذا وہ مايو س ہوگئے يو ں انہوں نے كنعان كى طرف لوٹ جا نے اور باپ سے سارا ماجر ا بيان كر نے كا ارادہ كر ليا قرآن كہتا ہے : ''جس وقت وہ عزيز مصر سے يا بھائي كى نجات سے مايوس ہو گئے ،تو ايك طرف كو آئے دوسروں سے الگ ہو گئے اور سر گوشى كرنے لگے'' _( ۳)
بہر حال سب سے بڑے بھا ئي نے اس خصوصى ميٹنگ ميں ان سے'' كہا : كيا تم جا نتے نہيں ہو كہ تمہارے باپ نے تم سے الہى پيمان ليا ہے كہ بنيامين كو ہر ممكنہ صورت ميں ہم واپس لائيں گے ''_(۴) '' اور تمہيں نے اس سے پہلے بھى يو سف كے بارے ميں كو تا ہى كى ''اور باپ كے نزديك تمہارا گزشتہ كر داربرا ہے''_(۵)
____________________
(۱)(۲)سورہ يوسف آيت ۷۹
(۳)سورہ يوسف آيت ۸۰
(۴) سورہ يوسف آيت ۸۰
(۵) سورہ يوسف آيت ۸۰
''اب جبكہ معاملہ يو ں ہے تو ميں اپنى جگہ سے ( ياسر زمين مصر سے ) نہيں جائوں گا اور يہيں پڑائو ڈالوں گا ، مگر يہ كہ مير ا باپ مجھے اجازت دے دے يا خدا ميرے متعلق كو ئي فرمان صادر كرے جو كہ بہتر ين حاكم وفرماں روا ہے'' _( ۱)
پھر بڑے بھا ئي نے دوسرے بھائيوں كو حكم ديا كہ ''تم باپ كے پاس لوٹ جائو اور كہو : اباجان آپ كے بيٹے نے چورى كى ہے ، اور يہ جو ہم گواہى دے رہے ہيں اتنى ہى ہے جتنا ہميں علم ہوا ہے'' _(۲) بس ہم نے اتنا ديكھا كہ بادشا ہ كا پيمانہ ہمارے بھائي كے بار سے برآمد ہو ا جس سے ظاہر ہو تا تھا كہ اس نے چورى كى ہے، باقى رہا امر باطن تو وہ خدا جانتا ہے ،'' اور ہميں غيب كى خبر نہيں '' _( ۳)
ممكن ہے يہ احتمال بھى ہے كہ بھيا ئيوں كا مقصد يہ ہو كہ وہ باپ سے كہيں كہ اگر ہم نے تيرے پاس گواہى دى اور عہد كيا كہ ہم بھائي كو لے جائيں گے اور واپس لے آئيں گے تو يہ اس بناء پر تھا كہ ہم اس كے باطن سے باخبر نہ تھے اور غيب سے آگاہ نہ تھے كہ اس كا انجام يہ ہوگا ،پھر اس بناء پر كہ باپ سے ہر طرح كى بدگمانى دور كريں اور اسے مطمئن كريں كہ ماجر ا اسى طرح ہے نہ اس سے كم اور نہ اس سے زيادہ ، انہوں نے كہا:''مزيد تحقيق كے لئے اس شہر سے سوال كر ليں جس ميں ہم تھے ،اسى طرح اس قافلہ سے پوچھ ليں ''_(۴)
بہرحال ''آپ مطمئن رہيں كہ ہم اپنى بات ميں سچے ہيں اور حقيقت كے سواكچھ نہيں كہتے''_(۵) اس سارى گفتگو سے معلوم ہو تا ہے كہ بنيا مين كى چورى كا واقعہ مصر ميں مشہور ہو چكا تھا يہ بات شہرت پاچكى تھى كہ كنعان سے ايك قافلہ يہاں آيا ہے اس ميں سے ايك شخص بادشاہ كا پيمانہ اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا بادشاہ كے مامور ين بروقت پہنچ گئے اور انہوں نے اس شخص كو روك ليا ،شايد بھائيوں نے جويہ كہا كہ مصر كے علاقے سے پو چھ ليں يہ اس طرف كنايہ ہو كہ يہ واقعہ اس قدر مشہور ہو چكا ہے كہ درو ديوار كو اس كا علم ہے _
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۸۰
(۲) سورہ يوسف آيت ۸۱
(۳) سورہ يوسف آيت ۸۱
(۴) سورہ يوسف آيت ۸۲
(۵) سورہ يوسف آيت ۸۲
ميں وہ الطاف الہى جانتا ہوں جو تم نہيں جانتے
بھائي مصر سے چل پڑے سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے بھائي كو وہاں چھوڑآئے اور پريشان وغم زدہ كنعان پہنچے باپ كى خدمت ميں حاضر ہوئے اس سفر سے واپسى پر باپ نے جب گز شتہ سفر كے برعكس واندوہ كے اثار ان كے چہروں پر ديكھے تو سمجھ گئے كہ كوئي ناگوار خبر لائے ہيں خصوصاً جب كہ بنيا مين اور سب سے بڑا بھائي ان كے ہمرا ہ نہ تھا جب بھائيوں نے بغير كسى كمى بيشى كے سارى آپ بيتى كہہ دى تو يعقوب بہت حيران ہوئے اور ان كى طرف رخ كر كے كہنے لگے :'' تمہارى نفسا نى خواہشات نے يہ معاملہ تمہارے سامنے اس طرح سے پيش كيا ہے اور اسے اس طرح سے مزين كياہے '' _(۱) اس كے بعد يعقوب اپنى جانب متوجہ ہوئے اور ''كہنے لگے كہ ميں صبر كا دامن اپنے ہاتھ سے نہيں چھوڑوں گا'' اور ميں اچھا صبر كروں گا كہ جو كفر ان سے خالى ہو_''( ۲)
''مجھے اميد ہے كہ خدا ان سب كو ( يو سف ، بنيامين اور ميرے بڑے بيٹے كو ) ميرى طرف پلٹا دے گا'' _( ۳) كيونكہ ميں جانتاہوں كہ ''وہ ان سب كے دل كى داخلى كيفيات سے باخبر ہے ، اس كے علاوہ، وہ حكيم بھى ہے ،''اور وہ كوئي كا م بغير كسى حساب كتاب كے نہيں كر تا_ ''(۴) اس وقت يعقوب رنج وغم ميں ڈوب گئے بنيامين كہ ان كے دل كى ڈھارس تھا واپس نہ آيا تو انہيں اپنے پيارے يو سف كى ياد آگئي انہيں خيال آيا كہ اے كا ش آج وہ آبرومند ، باايمان اور حسين وجميل بيٹا ان كى آغوش ميں ہو تا اور اس كى پيار ى خو شبو ہر لمحہ باپ كو ايك حيات نو بخشتى ليكن آج نہ صرف يہ كہ اس كا نام و نشان نہيں بلكہ اس كا جانشين بنيا مين بھى اس كى طرح ايك درد ناك معاملے ميں گر فتا ر ہو گيا ہے ''اس وقت انہوں نے اپنے بيٹوں سے رخ پھير ليا اور كہا : ہائے يو سف ''_(۵)
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۸۳
(۲)سورہ يوسف آيت ۸۳
(۳) سورہ يوسف آيت ۸۳
(۴) سورہ يوسف آيت ۸۳
(۵) سورہ يوسف آيت ۸۴
برادران يوسف شر مند ہ اور حضرت يعقوب نابينا ہو گئے
بھا ئي جو پہلے ہى بنيا مين كے ماجرے پر باپ كے سامنے شرمندہ تھے يوسف كا نام سن كر فكر ميں ڈوب گئے ان كے ماتھے پر عرق ندامت كے قطرے چمكنے لگے _''حزن وملال اتنا بڑھا كہ يعقوب كى آنكھوں سے بے اختيار اشكوں كا سيلاب بہہ نكلا يہاں تك كہ ان كى آنكھيں درد وغم سے سفيد اور نابينا ہوگئيں ''_(۱) ليكن اس كے باوجود وہ كو شش كر تے تھے كہ ضبط كريں اور اپنا غم وغصہ پى جائيں اورر ضائے حق كے خلاف كو ئي بات نہ كہيں ''وہ باحوصلہ اور جواں مرد تھے اور انہيں اپنے غصہ پر پورا كنٹرول تھا ''_(۲)
ظاہرقرآن سے اندازہ ہو تاہے كہ حضرت يعقوب كى اس وقت تك نابينا نہيں ہوئے تھے ليكن جب كہ رنج و غم كئي گناہ بڑھ گيا اور آپ مسلسل گريہ و زارى كرتے رہے اورآپ كے آنسوتھمنے نہ پائے تو آپ كى بينا ئي ختم ہوگئي اور جيسا كہ ہم وہاں بھى اشارہ كر چكے ہيں كہ يہ كوئي اختيارى چيز نہ تھى كہ جو صبر جميل كے منافى ہو_
بھائي كہ جو ان تمام واقعات سے بہت پريشا ن تھے ، ايك طرف تو ان كا ضمير حضرت يو سف كے واقعے كى بناء پر انہيں عذاب ديتا اور دوسرى طرف وہ بنيامين كى وجہ سے اپنے آپ كو ايك نئے امتحان كى چو كھٹ پر پاتے اور تيسرى طرف باپ كا اتنا غم اور دكھ ان پر بہت گراں تھا، لہذا انہوں نے پريشانى اور بے حوصلگى كے ساتھ باپ سے ''كہا : بخدا تو اتنا يو سف يوسف كر تا ہے كہ بيمار ہو جائے گا اور موت كے كنارے پہنچ جا ئے گا يا ہلاك ہو جائے گا''_( ۳) ليكن كنعان كے اس مرد بزرگ اور روشن ضمير پيغمبر نے ان كے جواب ميں كہا : ''ميں نے تمہارے سامنے اپنى شكا يت پيش نہيں كى جو اس طرح كى باتيں كر تے ہو ، ميں اپنا درد وغم بارگا ہ الہى ميں پيش كر تا ہوں اور اس كے يہاں اپنى شكايت پيش كر تاہوں ،اور اپنے خدا كى طرف سے مجھے معلوم ہے كہ جن سے غم بے خبر ہوا''_(۴)
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۸۴
(۲) سورہ يوسف آيت ۸۴
(۳) سورہ يوسف آيت ۸۵
(۴) سورہ يوسف آيت ۸۶
كوشش كرو اور مايوس نہ ہو،كيونكہ مايوسى كفر كى نشانى ہے
مصر اور اطراف مصر جس ميں كنعان بھى شامل تھا ;ميں قحط ظلم ڈھا رہا تھا _انا ج بالكل ختم ہو گيا توحضرت يعقوب نے دو بارہ اپنے بيٹوں كو مصر كى طرف جا نے اور غلہ حاصل كر نے كا حكم ديا ليكن اس مر تبہ اپنى آرزئوں كى بنياد يوسف اور ان كے بھا ئي بنيا مين كى تلاش كو قرار ديا ''اور كہا : ميرے بيٹو جائو اور يو سف اور اسكے بھا ئي كو تلاش كرو ''_(۱)
حضرت يعقوب كے بيٹے چو نكہ اس بارے ميں تقريبا مطمئن تھے كہ يو سف مو جود ہى نہيں اس لئے وہ باپ كى اس نصيحت اور تا كيد پر تعجب كرتے تھے ،يعقوب ان كے گو ش گزار كر رہے تھے : ''رحمت الہى سے كبھى ما يو س نہ ہو نا '' كيو نكہ اس كى قدرت تمام مشكلوں اور سختيوں سے ما فوق ہے _(۲) ''كيو نكہ صر ف يہ كا فرہى ہيں كہ جو قدرت خدا سے بے خبر ہيں اس كى رحمت سے مايوس ہو تے ہيں '' _( ۳)
بہر حال فرزندان يعقوب نے اپنا مال واسباب باندھا اور مصر كى طرف چل پڑے اور اب كے وہ تيسرى مرتبہ داستا نو ں سے معمو ر اس سر زمين پر پہنچے گزشتہ سفر وں كے بر خلاف اس سفر ميں ان كى روح كو ايك احساس ندا مت كچوكے لگا رہا تھا كيو نكہ مصر ميں اور عزيز مصر كے نزديك ان كا سابقہ كر دار بہت برا تھا اور وہ بد نام ہو چكے تھے اور اند يشہ تھا كہ شا يد بعض لو گ انہيں ''كنعان كے چور '' كے عنوان سے پہچا نيں دوسرى طرف ان كے پاس گندم اور دوسرے اناج كى قيمت دينے كے لئے در كا رمال ومتاع موجود نہيں تھا اور ساتھ ہى بھائي بنيا مين كے كھو جا نے اور باپ كى انتہا ئي پر يشانى نے ان كى مشكلات ميں اضافہ كر ديا تھا _ گويا تلوار ان كے حلقوم تك پہنچ گئي تھى بہت سارى مشكلات اور روح فرسا پريشانيوں نے انہيں گھير ليا تھا ايسے ميں جوچيز ان كے تسكين قلب كا باعث تھى وہ صرف باپ كا اخرى جملہ تھا جس ميں اپ نے فرماياتھا كہ كبھى خدا كى رحمت سے مايوس نہ ہوناكيو نكہ اس كے لئے ہر مشكل آساں ہے_
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۸۷
(۲) سورہ يوسف آيت ۸۷
(۳) سورہ يوسف آيت ۸۷
اس عالم ميں ''وہ يو سف كے پاس پہنچے اور اس وقت انتہائي پر يشانى كے عالم ميں انہوں نے اس كى طرف رخ كيا اور كہا : ''اے عزيز : ہميں اور ہمارے خاندان كو قحط ، پر يشا نى اور مصيبت نے گھير ليا ہے ''_(۱) اور ہمارے پاس صرف تھوڑى سى كم قيمت پو نچى ہے ''_( ۲) '' ليكن پھر بھى ہميں تيرے كرم اورشفقت پر بھروسہ ہے ''اورہميں تو قع ہے كہ تو ہما را پيما نہ بالكل پورا كرے گا '' _(۳) ''اور اس معاملہ ميں ہم پر احسان كرتے ہوئے بخشش كر ''_(۴)
''اور اپنا اجر و ثواب ہم سے نہ لے بلكہ اپنے خدا سے لے كيو نكہ'' خدا كريموں اور صدقہ كر نے والوں كو اجر خير ديتا ہے''_(۵) يہ امر قابل تو جہ ہے كہ برادران يو سف كو باپ نے تا كيد كى تھى كہ پہلے يو سف اور اس كے بھا ئي كے لئے جستجو كر يں اور بعد ميں اناج كا تقاضہ كريں شا يد اسكى وجہ يہ ہو كہ انہيں يو سف كے ملنے كى اميد نہ تھى يا ممكن ہے انہوں نے سوچا ہو كہ بہتر ہے كہ اپنے كو اناج كے خريداروں كے طور پر پيش كريں جو كہ زيادہ طبيعى اور فطرى ہے اور بھا ئي كى آزادى كا تقاضا ضمناً رہنے ديں تاكہ يہ چيز عزيز مصر پر زيادہ اثرانداز ہو ،بعض نے كہا كہ(تصدق علينا)سے مراد وہى بھائي كى آزادى ہے ورنہ وہ اناج بغير معاوضہ كے حاصل نہيں كر نا چا ہتے تھے كہ اسے (تصدق )قرار ديا جا تا _
جناب يو سف نے روتے ہو ئے باپ كے خط كو چو ما
روايات ميں بھى ہے كہ بھائي باپ ،كى طرف سے عزيز مصر كے نام ايك خط لے كر آئے تھے اس خط ميں حضرت يعقوب نے عزيز مصر كے عدل وانصاف كا تذ كرہ كيا اپنے خاندان سے اس كى محبتوں اور شفقتوں كى تعريف كى پھر اپنا اور اپنے خاندان نبوت كا تعارف كروايا اپنى پر يشانيوں كا ذكر كيا اور ساتھ ہى اس كے ضمن ميں اپنے بيٹے يو سف اور دوسرے بيٹے بنيامين كے كھو جا نے اور خشك سالى سے پيدا ہونے والي
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۸۸
(۲) سورہ يوسف آيت ۸۸
(۳)سورہ يوسف آيت۸۸
(۴)سوره يوسف آيت ۸۸
(۵) سورہ يوسف آيت ۸۸
مصيبتوں كا ذكر كيا خط كے آخر ميں اس سے خواہش كى گئي تھى كہ بنيا مين كو آزاد كر دے اور تاكيد كى تھى كہ ہمارے خاندان ميں چورى وغيرہ ہر گز نہ تھى اور نہ ہو گى _
جب بھا ئيوں نے باپ كا خط عزيز مصر كو ديا تو انہوں نے اسے لے كر چو ما اور اپنى آنكھوں پر ركھا اور رونے لگے گريہ كا يہ عالم تھا كہ قطرات اشك ان كے پيرا ہن پر گر نے لگے ( يہ ديكھ كر بھا ئي حيرت وفكر ميں ڈوب جا تے ہيں كہ عزيز كو ان كے باپ سے كيا لگائو ہے وہ سوچتے ہيں كہ ان كے باپ كے خط نے اس ميں ہيجان واضطراب كيوں پيدا كر ديا ہے شايد اسى مو قع پر ان كے دل ميں يہ خيال بجلى كى طرح اتر ا ہو كہ ہو نہ ہو يہى خود يو سف ہو اور شايد باپ كے اسى خط كى وجہ سے يو سف اس قدر بے قرار ہو گئے كہ اب مزيد اپنے آپ كو عزيز مصر كے نقاب ميں نہ چھپا سكے اور جيسا كہ ہم ديكھيں گے كہ بہت جلد بھا ئيوں سے بھائي كى حيثيت سے اپنا تعارف كروايا_
كيا تو وہى يو سف ہے ؟
اس موقع پر جبكہ دور آزمائش ختم ہورہا تھا اور يوسف بھى بہت بے تاب اور سخت پريشان نظر آرہے تھے،تعارف كے لئے گفتگو كا آغاز كر تے ہوئے بھا ئيوں كى طرف رخ كر كے آپ نے كہا :'' تمہيں معلوم ہے كہ جب تم جاہل ونادان تھے تم نے يوسف اوراس كے بھا ئي كے ساتھ كيا سلوك كيا''_(۱)
حضر ت يوسف كى عظمت اور شفقت ملا حظہ كيجئے كہ اولاً تو ان كا گناہ مجمل طور پر بيان كيا اور كہا (ما فعلتم )''جو كچھ تم نے انجا م ديا '' اور ثانيا ًانہيں عذر خواہى كا راستہ دكھا يا كہ تمہارے يہ اعمال وافعال جہا لت كى وجہ سے تھے اور اب جہا لت كا زمانہ كذر گيا ہے اور اب تم عاقل اور سمجھد ار ہو _
ضمناً اس گفتگو سے واضح ہوتا ہے كہ گز شتہ زمانے ميں انہوں نے صرف يو سف پر ظلم نہيں ڈھا يا تھا بلكہ بنيا مين بھى اس دور ميں ان كے شرسے محفوظ نہيں تھے اور انہوں نے اس كے لئے بھى اس زمانہ ميں
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۸۹
مشكلات پيدا كى تھيں جب بنيامين مصر ميں يو سف كے پاس تھے شايدان دنوں ميں انہوں نے ان كى كچھ بے انصا فياں اپنے بھا ئي كو بتا ئي ہوں _
بعض روايات ميں ہے كہ وہ زيا دہ پر يشان نہ ہوں اور يہ خيال نہ كريں كہ عزيز مصر ہم سے انتقام لينے والا ہے يو سف نے اپنى گفتگو كو ايك تبسم كے ساتھ ختم كيا اس تبسم كى وجہ سے بھا ئيوں كو حضرت يو سف كے خوبصورت دانت پورى طرح نظر آگئے جب انہوں نے خوب غور كيا تو انہيں محسوس ہوا كہ يہ دانت ان كے بھائي يو سف سے عجيب مشا بہت ركھتے ہيں ،اس طرح بہت سے پہلو جمع ہو گئے ايك طرف تو انہوں نے ديكھا كہ عزيز مصر يو سف كے بارے ميں اور اس پر بھائيوں كى طرف سے كئے گئے مظالم كے بارے ميں گفتگو كر رہا ہے جنہيں سوائے ان كے اور يوسف (ع) كے كو ئي نہيں جا نتا تھا _
دوسرى طرف انہوں نے ديكھا كہ يعقوب كے خط نے اسے اس قدر مضطر ب كر ديا ہے جيسے اس كا يعقوب سے كوئي بہت ہى قريبى تعلق ہو ،تيسرى طرف وہ اس كے چہرے مہر ے پر جتنا غور كرتے انہيں اپنے بھائي يو سف سے بہت زيادہ مشا بہت دكھا ئي ديتى ليكن ان تمام چيزوں كے باوجود انہيں يقين نہيں آتا تھا كہ يوسف عزيز مصر كى مسند پر پہنچ گيا ہو وہ سو چتے كہ يو سف كہا ں اور يہ مقام كہا ں ؟ لہذا انہوں نے شك وتردد كے لہجہ ميں ''كيا تم خود يو سف تو نہيں _(۱)
اس موقع بھا ئيوں پر بہت زيادہ حساس لمحا ت گذرا كيونكہ صيح طور پہ معلوم بھى نہ تھا كہ عزيز مصران كے سوال كے جواب ميں كيا كہے گا كيا سچ مچ وہ پر دہ ہٹا دے گا اور اپنا تعارف كروائے گا يا انہيں ديوانہ اور بے وقوف سمجھ كر خطاب كر ے گا كہ انہوں نے ايك مضحكہ خيز بات كى ہے گھڑياں بہت تيزى سے گزررہى تھيں انتظار كے روح فر سالمحے ان كے دل كو بوجھل كر رہے تھے ليكن حضرت يو سف نے نہ چاہا كہ يہ زمانہ طويل ہو جائے اچانك انہوں نے حقيقت كے چہر ے سے پر دہ ہٹا يا اور كہا :'' ہا ں ميں يو سف ہو ں اور يہ ميرا بھائي بنيامين ہے ''_( ۲)
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۹۰
(۲) سورہ يوسف آيت ۹۰
ليكن اس بناء پركہ وہ خدا كى نعمت كا شكر ادا كريں كہ جس نے يہ سب نعمات عطافرمائي تھيں اور ساتھ ہى بھا ئيوں كو بھى ايك عظيم درس ديں انہوں نے مزيد كہا :'' خدا نے ہم پر احسان كيا ہے جو شخص بھى تقوى اور صبر اختيا ر كرے گا خدا اسے اس كا اجر وثواب دے گا كيو نكہ خدا نيكو كاروں كا اجر ضائع نہيں كرتا ''(۱) كسى كو معلوم نہيں كہ ان حساس لمحات ميں كيا گزرى اور جب ديسوں سال بعد بھا ئيوں نے ايك دوسرے كو پہنچانا تو كيسا شور وغل بپا كيا وہ كسى طرح آپس ميں بغل گير ہو ئے اور كس طرح سے ان كى آنكھوں سے خوشى كے آنسو ٹپك پڑے _ ان تمام چيزوں كے باوجود بھا ئي اپنے آپ ميں شرمندہ تھے وہ يو سف كے چہرے كى طرف نظر بھر كے نہيں ديكھ پا رہے تھے وہ اسى انتظار ميں تھے كہ ديكھيں ان كا عظيم گناہ بخشش وعفو كے قابل ہے يا نہيں لہذا انہوں نے بھائي كى طرف رخ كيا اور كہا :'' خدا كى قسم :اللہ نے تجھے ہم پر مقدم كيا ہے''(۲) اور تجھے ترجيح دى ہے اور علم وحلم اور عقل وحكومت كے لحا ظ سے تجھے فضيلت بخشى ہے يقينا ہم خطاكا ر اور گناہ گار تھے''_(۳)
آج رحمت كا دن ہے
ليكن يوسف نہيں چا ہتے تھے كہ بھا ئي اس طرح شر مسار رہيں خصو صاً جب كہ يہ ان كى اپنى كا ميابى و كا مرانى كا مو قع تھا يا يہ كہ احتمالاً بھا ئيوں كے ذہن ميں يہ بات آئے كہ يو سف اس مو قع پر انتقام لے گا لہذا فور اًيہ كہہ كر انہيں مطمئن اور پر سكون كرديا كہ ''آج تمہيں كو ئي سر ز نش اور تو بيخ نہيں ہوگي''(۴) تمہارى فكر آسودہ رہے اور وجد ان كو را حت رہے اورگذشتہ گنا ہوں پر غم نہ كرو _ اس بناء پر كہ انہيں بتايا جا ئے كہ انہيں نہ صرف يو سف كا حق بخش ديا گيا ہے بلكہ ان كى ند امت وپشيمانى كى وجہ سے اس سلسلے ميں خدائي حق بھى قابل بخشش ہے ، مزيد كہا :'' اللہ بھى تمہيں بخش دے گا كيو نكہ وہ ارحم الرحمين ہے ''_(۵)
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۹۰ (۲) سورہ يوسف آيت ۹۱
(۳) سورہ يوسف آيت ۹۱ (۴) سورہ يوسف آيت ۹۲
(۵) سورہ يوسف آيت ۹۲
يہ حضرت يو سف (ع) كى انتہائي عظمت كى دليل ہے كہ نہ صرف اپنا حق معاف كر ديا بلكہ اس بات پر بھى تيار نہ ہوئے كہ انہيں تھوڑى سى بھى سر زنش كى جا ئے ،چہ جائيكہ بھا ئيوں كو كوئي سزا ديتے بلكہ حق الہى كے لحاظ سے بھى انہيں اطمينان دلا يا كہ خدا غفور اور بخشنے والاہے بلكہ يہ بات ثابت كرنے كے لئے يہ استد لال پيش كيا كہ وہ ارحم الرا حمين ہے
اس مو قع پر بھائيوں كو ايك اور غم بھى ستارہا تھا اور وہ يہ كہ باپ اپنے بيٹوں كے فراق ميں نابينا ہو چكا ہے اور اس كا اس طرح رہنا پورے خاندان كے لئے ايك جانكا ہ رنج ہے اس كے علاوہ ان كے جر م پر ايك مسلسل دليل ہے لہذا يوسف (ع) نے اس عظيم مشكل كے حل كے لئے بھى فرمايا: ''ميرا يہ پيراہن لے جائو اور ميرے باپ كے چہرے پر ڈال دو تاكہ وہ بينا ہوجائے'' _(۱) '' اس كے بعد سارے خاندان كے ہمراہ ميرے پاس آجائو''_(۲)
يوسف (ع) كى قيمص كون لے كر گيا؟
حضرت يوسف (ع) نے كہا: ميرا شفا بخش كرتہ باپ كے پاس وہى لے جائے جو خون آلود كرتہ لے كر گيا تھا تاكہ جيسے اس نے باپ كو تكليف پہنچائي اورپريشان كيا تھا اس مرتبہ كے اسے خوش وخرم كرے_
لہذا يہ كام ''يہودا'' كے سپرد ہوا كيونكہ اس نے بتايا تھا كہ وہ ميں ہوں جو خون آلود كرتہ لے كرباپ كے پاس گيا تھا اور ان سے كہا تھا كہ آپ كے بيٹے كو بھيڑيا كھا گيا ہے_اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ اگرچہ حضرت يوسف (ع) اس قدر مشكلات اور مصائب ميں گرفتار رہے ليكن اخلاقى مسائل كى باريكيوں سے غافل نہيں رہتے تھے_
يوسف (ع) كى عظمت
اس ماجرے كے بعد حضرت يوسف (ع) كے بھائي ہميشہ شرمسار رہتے تھے انھو ں نے كسى كو يوسف (ع) كے
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۹۳
(۲) سورہ يوسف آيت ۹۳
پاس بھيجا اور كہلايا كہ آپ ہر صبح وشام ہميں اپنے دسترخوان پر بٹھاتے ہيں او رآپ كا چہرہ ديكھ كر ہميں شرم وخجالت محسوس ہوتى ہے كيونكہ ہم نے آپ كے ساتھ اس قدر جسارتيں كى ہيں _
اس بناء پر كہ انھيں نہ صرف ذرہ بھر احساس شرمندگى نہ ہو بلكہ يوسف (ع) كے دسترخوان پر اپنى موجودگى كو يوسف (ع) كى ايك خدمت محسوس كريں ، حضرت يوسف نے انھيں بہت ہى عمدہ جواب ديا، آپ نے كہا:مصر كے لوگ اب تك مجھے ايك زر خريد غلام كى نظر سے ديكھتے تھے اور ايك دوسرے سے كہتے تھے:''پاك ہے وہ ذات جس نے اس غلام كو كہ جو بيس درہم ميں بيچا گيا اس مقام تك پہنچايا_''
ليكن اب جب كہ تم لوگ آگئے ہو اور ميرى زندگى كى كتاب اس كے سامنے كھل گئي ہے تو وہ سمجھنے لگے ہيں كہ ميں غلام نہيں ہوں بلكہ ميں خاندان نبوت سے تعلق ركھتا ہوں اور ابراہيم خليل اللہ كى اولاد ميں سے ہوں اور يہ ميرے لئے باعث افتخار ہے_
آخر كار لطف الہى نے اپنا كام كرڈالا
فرزندان يعقوب (ع) خوشى سے پھولے نہ سماتے تھے، وہ خوشى خوشى يوسف (ع) كا پيراہن اپنے ساتھ لے كر قافلے كے ساتھ مصر سے چل پڑے، ادھر ان بھائيوں كے لئے زندگى كے شرين ترين لمحات تھے اُدھر شام كے علاقہ كنعان ميں بوڑھے باپ كا گھر غم واندوہ ميں ڈوبا ہوا تھا، سارا گھرانہ افسردہ اور غم زدہ تھا_
ليكن ادھر يہ قافلہ مصر سے چلا اور اُدھر اچانك يعقوب (ع) كے گھر ميں ايك واقعہ رونما ہوا جس نے سب كو تعجب ميں ڈال ديا، يعقوب (ع) كا جسم كانپ رہا تھا، انھوں نے بڑے اطمينان اور اعتماد سے پكار كر كہا:''اگر تم بدگوئي نہ كرو اور ميرے طرف نادانى اور جھوٹ كى نسبت نہ دو تو ميں تم سے كہتا ہوں كہ مجھے اپنے پيارے يوسف (ع) كى خوشبو آرہى ہے''_(۱)
ميں محسوس كررہا ہوں كہ رنج وغم اور زحمت ومشكل كى گھڑياں ختم ہونے كو ہيں اور
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۹۴
وصال وكاميابى كا زمانہ آنے كو ہے، خاندان يعقوب (ع) اب لباس ماتم اتاردے گا اور لباس مسرت زيب تن كرے گا،ليكن ميرا يہ خيال نہيں كہ تم ان باتوں پر يقين كرو گے_
لفظ''فصلت''سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت يعقوب (ع) ميں يہ احساس اسى وقت پيدا ہوا جب قافلہ مصر سے چلنے لگا ،_
قاعدتاً حضرت يعقوب كے پاس اس وقت ان كے پوتے پوتياں اور بہو ئيں وغير ہ تھيں انہوں نے بڑے تعجب اور گستا خى سے اور پورے يقين سے يعقوب سے كہا :'' بخدا آپ اسى پرانى گمراہى ميں ہيں ''_(۱)
يعنى اس سے بڑھ كر گمراہى كيا ہو گى كہ يو سف كى موت كو سا لہا سال گزر گئے ہيں اور ابھى آپ كا خيال ہے كہ وہ زندہ ہے اور اب آپ يہ كہہ رہے ہيں كہ مصر كى طرف سے مجھے يوسف كى خوشبو آرہى ہے ، مصر كہا ں اور شام وكنعان كہا ں ،كيا يہ اس بات كى دليل نہيں كہ آپ ہميشہ خواب وخيا ل كى دنيا ميں رہتے ہيں اور اپنے خيالات وتصورات كو حقيقت سمجھتے ہيں ، آپ يہ كيسى عجيب وغريب بات كہہ رہے ہيں بہرحال آپ تو پہلے بھى اپنے بيٹوں سے كہہ چكے ہيں كہ مصر كى طرف جا ئو اور مير ے يو سف كو تلاش كرو _
اس سے ظاہر ہو تا ہے كہ يہاں ضلالت وگمراہى سے مراد عقيدہ اور نظر يہ كى گمراہى نہيں ہے بلكہ يوسف سے متعلق مسائل كے سمجھنے ميں گمراہى مراد ہے _
بہركيف ان الفاظ سے ظاہر ہو تا ہے كہ وہ لوگ اس عظيم كہن سال اور روشن ضمير پيغمبر سے كيسا شديد اورجسا رت آميز سلوك كر تے تھے _
ايك جگہ انہوں نے كہا : ہمارا باپ ''ضلال مبين ''( كھلى گمراہى )ميں ہے اور يہا ں انہوں نے كہا: تم اپنى اسى دير ينہ گمرا ہى ميں ہو _
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۹۵
وہ پير كنعان كے دل كى پاكيزگى اور روشنى سے بے خبر تھے ان كا خيال تھا كہ اس كا دل بھى انہى كے دل كى طرح تاريك ہے انہيں يہ خيال نہ تھا كہ آيندہ كے واقعات اور دور ونزيك كے مقامات اس كے آئينہ دل ميں منعكس ہو تے ہيں _
قافلہ كنعان پہو نچتا ہے
كئي رات دن بيت گئے يعقوب اسى طرح انتظار ميں تھے ايسا پر سوز انتظار كہ جس كى گہرائي ميں مسرت وشاد مانى اور سكون واطمينان مو جزن تھا حالانكہ ان كے پاس رہنے والوں كو ان مسائل سے كو ئي دلچسپى نہ تھى اور وہ سمجھتے تھے كہ يو سف كا معا ملہ ہميشہ كے لئے ختم ہو چكا ہے معلوم نہيں يعقوب پر يہ چند دن كس طرح گز ريں گے_ آخر ايك دن آيا جب آوزآئي وہ ديكھو مصر سے كنعان كا قافلہ آيا ہے گزشتہ سفروں كے بر خلاف فرزند ان يعقوب شاداں وخرّم شہر ميں داخل ہوئے اور بڑى تيزى سے باپ كے گھر پہنچ گئے سب سے پہلے ''بشير ''بوڑھے يعقوب كے پاس آيا وہي'' بشير '' (جو وصال كى بشارت لايا تھا اور جس كے پاس يو سف كا پير اہن تھا ) اس نے آتے ہى پير اہن يعقوب كے چہر ے پر ڈال ديا _
يعقوب كى آنكھيں تو بے نور تھيں وہ پير اہن كو ديكھ نہ سكتے تھا انہوں نے محسوس كيا كہ ايك آشنا خو شبو ان كى مشام جان ميں اتر گئي ہے يہ ايك پُركيف زريں لمحہ تھا گويا ان كے وجود كا ہر ذرہ روشن ہو گيا ہو آسمان وزمين مسكرا اٹھے ہوں ہر طرف قہقہے بكھر گئے ہوں نسيم رحمت چل اٹھى ہوا اور غم واند وہ كا گر د وغبار لپيٹ كر لے جارہى ہو، درود يوار سے خوشى كے نعرے سنا ئي دے رہے تھے اور يعقوب كى آنكھيں روشن ہو گئي ہيں اور وہ ہر جگہ ديكھ رہے ہيں دنيا اپنى تمام تر زيبا ئيوں كے ساتھ ايك مر تبہ پھر ان آنكھوں كے سامنے تھى جيسا كہ قرآن كہتا ہے :'' جب بشارت دينے والا آيا تو اس نے وہ (پيراہن ) ان كے چہرے پر ڈال ديا تو اچا نك وہ بينا ہو گئے''_(۱)
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۹۶
بھا ئيوں اور گر دو پيش والوں كى آنكھوں سے خوشى كے آنسو امنڈ آئے اور يعقوب نے پورے اعتماد سے كہا : ''ميں نہ كہتا تھا كہ ميں خدا كى طرف سے ايسى چيزيں جانتا ہوں جنہيں تم نہيں جا نتے ''(۱) اس معجزے پر بھا ئي گہرى فكر ميں ڈوب گئے ايك لمحے كے لئے اپنا تاريك ماضى ان كى آنكھوں كے سامنے گھوم گيا ، خطا ،گنا ہ ، اشتباہ اور تنگ نظر ى سے پُر ماضى ليكن كتنى اچھى بات ہے كہ جب انسان اپنى غلطى كو سمجھ لے تو فوراً اس كى اصلاح اور تلافى كى فكر كرے فرزند ان يعقوب بھى اسى فكر ميں گم ہو گئے انہوں نے باپ كا دامن پكڑليا اور كہا :''بابا جا ن خدا سے درخواست كيجئے كہ وہ ہمارے گنا ہوں اور خطائوں كو بخش دے كيو نكہ ہم گنہگار اور خطا كار تھے_''(۲)
بزرگور اور با عظمت بوڑھا جس كا ظرف سمندر كى طرح وسيع تھا ، اس نے كوئي ملامت وسرزنش كئے بغير ان سے وعدہ كيا كہ'' ميں بہت جلدى تمہارے لئے اپنے پروردگار سے مغفرت طلب كروں گااور مجھے اميد ہے كہ وہ تمہارى تو بہ قبول كرلے گا اور تمہارے گناہوں سے صرف نظر كرے گا ''كيونكہ وہ غفور ورحيم ہے_''(۳)(۴)
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۹۶
(۲) سورہ يوسف آيت ۹۷
(۳) سورہ يوسف آيت ۹۸
(۴)يہاں پر چند سوال پيدا ہو تے ہيں :
۱_يعقوب نے پيراہن يو سف كى خو شبو كيسے محسو س كى ؟
يہ سوال بہت سے مفسر ين نے اٹھا يا ہے اور اس پر بحث كى ہے عام طور پر مفسرين نے اسے يعقوب يا يو سف كا معجزہ قرار ديا ہے ليكن چو نكہ قرآن نے اسے اعجاز يا غير اعجا ز ہو نے كے لحاظ سے پيش نہيں كيا اور اس سلسلے ميں خا مو شى اختيار كى ہے اس كى سائنس توجيہ معلوم كى جاسكتى ہے_ موجودہ زمانے ميں ''ٹيلى پيتھي'' ايك مسلمہ علمى مسئلہ ہے ( اس ميں يہ بات تسليم كى گئي ہے كہ ايك دوسرے سے دور رہنے والے كے درميان فكرى ارتباط اور روحانى رابطہ ہوسكتا ہے اسے ''انتقال فكر'' كہتے ہيں ) ايسے افراد جو ايك دوسرے سے نزديكى تعلق ركھتے ہيں يا جو بہت زيادہ روحانى طاقت ركھتے ہيں يہ تعلق ان كے درميان پيدا ہوتا ہے شايد ہم ميں سے بہت سے افراد نے اپنى روز مرہ كى زندگى ميں اس كا سامنا كيا ہو كہ بعض اوقات كسى كى والدہ يا بھائي اپنے اندر بلاسبب بہت زيادہ اضطراب او رپريشانى محسوس كرتے ہيں اور زيادہ دير نہيں گذر تى كے كہ خبر پہنچتى ہے كہ اس كے بيٹے يا بھائي كو فلاں دور دراز علاقے ميں ايك ناگوار حادثہ پيش آيا ہے_ ماہرين اس قسم كے احساس كو ٹيلى پيتھى اور دور دراز كے علاقوں سے انتقال فكرى كا عمل قرار ديتے ہيں _ حضرت يعقوب (ع) كے واقعہ ميں بھى ممكن ہے كہ يوسف (ع) سے شديد محبت اور آپ كى روحانى عظمت كے سبب آپ ميں وہى احساس پيدا ہوگيا جو يوسف كا كرتہ اٹھاتے وقت بھائيوں ميں پيدا ہوا تھا_
البتہ يہ بات بھى ہر طرح ممكن ہے كہ اس واقعہ كا تعلق انبياء كے دائرہ علم كى وسعت سے ہو ، بعض روايات ميں بھى انتقال فكر كے مسئلہ كى طرف جاذب نظر اور عمدہ اشارہ كيا گيا ہے مثلاً: كسى نے حضرت امام محمد باقر عليہ السلام سے عرض كيا : كبھى ايسا ہوتا ہے كہ ميں بغير كسى مصيبت يا ناگوار حادثہ كے غمگين ہوجاتا ہوں يہاں تك كہ ميرے گھروالے اور ميرے دوست بھى اس كے اثرات ميرے چہرے پر ديكھ ليتے ہيں _
امام عليہ السلام نے فرمايا: ہاں ، خدا نے مومنين كو ايك ہى بہشتى طينت سے پيدا كيا ہے اور اس كى روح ان ميں پھونكى ہے لہذا مومنين ايك دوسرے كے بھائي ہيں جس وقت كسى ايك شہر ميں ان ميں سے كسى ايك بھائي كو كوئي مصيبت پيش آتى ہے تو باقى افراد پر اس كا اثر ہوتا ہے_ بعض روايات سے يہ بھى معلوم ہوتا ہے كہ يہ كرتہ كوئي عام كرتہ نہ تھا بلكہ ايك جنتّى پيراہن تھا جو حضرت ابراہيم عليہ السلام كى طرف سے خاندان يعقوب (ع) ميں يادگار كے طور پر چلاآرہا تھا اور جو شخص حضرت يعقوب (ع) كى طرح بہشتى قوت شامہ ركھتا تھا وہ اس كى خوشبو دور سے محسوس كرليتا تھا_
۲_انبياء كے حالات ميں فرق_
يہاں پر ايك اور مشہور اعتراض سامنے آتا ہے فارسى زبان كے اشعار ميں بھى يہ اعتراض بيا ن كيا گيا ہے، كسى نے يعقوب (ع) سے كہا:
زمصرى بوى پيراہن شنيدي
چرا در جاہ كنعانش نہ ديدي
يعنى آپ نے مصر سے پيراہن كى خوشبو سونگھ لى ليكن آپ كو كنعان كے كنويں ميں يوسف كيوں نہ دكھائي دئے؟
كيسے ہوسكتا ہے كہ اس عظيم پيغمبر نے اتنے دور دراز كے علاقے سے يوسف (ع) كى قميص كى خوشبو سونگھ لى جب كہ بعض نے يہ فاصلہ اسّى فرسخ لكھا ہے اور بعض نے دس دن كى مسافت بيان كى ہے ليكن اپنے علاقہ كنعان كے اندر جب كہ يوسف كو اس كے بھائي كنويں ميں پھينك رہے تھے اور ان پر وہ واقعات گزرہے تھے اس سے يعقوب (ع) آگاہ نہ ہوئے؟
قبل اس كے انبياء اور ائمہ عليہم السلام كے علم غيب كى حدود كے بارے ميں جو كچھ كہا جاچكا ہے اس كى طرف توجہ كرتے ہوئے اس سوال كا جواب ہرگز مشكل نہيں رہتا،امور غيب كے متعلق ان كا علم پروردگار كے ارادے اور عطاكئے ہوئے علم پر منحصر ہے جہاں خدا چاہتا ہے وہ جانتے ہيں ، چاہے واقعہ كا تعلق كسى بہت دور دراز علاقے سے ہو اور جہاں وہ نہ چاہے نہيں جانتے چاہے معاملہ كسى نزديك ترين علاقے سے مربط ہو جيسے كسى تاريك رات ميں ايك قافلہ كسى بيابان سے گزررہا ہو آسمان كو بادلوں نے ڈھانپ ركھا ہو ايك لمحہ كے لئے آسمان سے بجلى چمك اٹھے اور بيابان كى تمام گيرائياں او رگہرائياں روشن ہوجائيں اور تمام مسافر ہر طرف سب كچھ ديكھ ليں ليكن دوسرے لمحہ وہ بجلى خاموش ہوجائے او رپھر تاريكى ہر طرف چھا جائے اسى طرح سے كہ كوئي چيز نظر نہ آئے_
شايد امام جعفر صادق عليہ السلام سے علم امام كے بارے ميں مروى يہ حديث اسى مفہوم كى طرف اشارہ كرتى ہے ، آپ فرماتے ہيں :
''جعل الله بينه وبين الامام عموداً من نور ينظر الله به الى الامام وينظر الامام به اليه، فاذا راد علم شى ء نظر فى ذالك النور فعرفه ''
خد انے اپنے اور امام وپيشوائے خلق كے درميان نور كا ايك ستون بنايا ہے اسى سے خدا امام كى طرف ديكھتا ہے اور امام بھى اسى طريق سے اپنے پروردگار كى طرف ديكھتا ہے اور جب امام كوئي چيز جاننا چاہتا ہے تو نور كے اس ستون ميں ديكھتا ہے اور اس سے آگاہ ہوجاتا ہے_
ايك شعر جو پہلے ذكر كيا گيا ہے اس كے بعد سعدى كے مشہور اشعار ميں اسى روايات كے پيش نظر كہا گيا ہے:
بگفت احوال ما برق جہان است
گہى پيدا ودگر دم نہان است
گہى بركارم اعلا نشينم
گہى تاپشت پاى خود نبينم
يعنى اس نے كہا ہمارے حالات چمكنے والى بجلى كى طرح ہيں جو كبھى دكھائي ديتى ہے اور كبھى چھپ جاتى ہے_
كبھى ہم آسمان كى بلنديوں پر بيٹھتے ہيں اور كبھى اپنے پائوں كے پيچھے بھى كچھ دكھائي نہيں ديتا_
اس حقيقت كى طرف توجہ كرتے ہوئے تعجب كا مقام نہيں كہ ايك دن مشيت الہى كى بناء پر يعقوب (ع) كى آزمائش كے لئے اپنے قريب رونما ہونے والے واقعات سے آگاہ نہ ہوں اور كسى دوسرے دن جب كہ دور آزمائش ختم ہوچكا تھا اور مشكلات كے دن بيت چكے تھے انھوں نے مصر سے قميص يوسف كى مہك سونگى لى ہو_
۳_بينائي كيسے لوٹ آئي؟
بعض مفسرين نے يہ احتمال ديا ہے كہ حضرت يعقوب (ع) كى آنكھ كا نور بالكل ختم نہيں ہوا تھا بلكہ ان كى آنكھيں كمزور ہوگئي تھيں او ربيٹے كى ملاقات كے امكانات پيدا ہوئے تو ان ميں ايك ايسا ہيجان پيدا ہوا كہ وہ پہلى حالت پر واپس آگئيں ، ليكن آيات كا ظہور نشاندہى كرتا ہے كہ وہ بالكل نابينا ہوگئے تھے يہاں تك كہ ان كى آنكھيں سفيد ہوچكى تھيں لہذا ان كى بينائي معجزانہ طور پر واپس ہوئي_ قرآن كہتا ہے: (فارتد بصيرا)
يوسف (ع) ، يعقوب اور بھائيوں كى سرگزشت كا اختتام
عظيم ترين بشارت لئے ہوئے مصرسے قافلہ كنعان پہنچا بوڑھے يعقوب بينا ہو گئے عجيب جو ش وخروش تھا سا لہا ل سال سے جو گھرانا غم واندوہ ميں ڈوبا ہوا تھا وہ خوشى اور سرور ميں ڈوب گيا ان سب نعمات الہى پر وہ پھولے نہيں سما تے تھے_
يو سف كى فرمائش كے مطا بق اس خاندان كو اب مصر كى طرف روا نہ ہو نا تھا سفر كى تيارى ہر لحا ظ سے مكمل ہو گئي يعقوب ايك مر كب پر سوارہو ئے_
جب كہ ان كے مبارك لبوں پر ذكر و شكر خدا جارى تھا اور عشق وصال نے انہيں اس طرح سے قوت وتو انا ئي بخشى تھى كہ گو يا وہ نئے سرے سے جوان ہو گئے تھے _
بھا ئيوں كے گزشتہ سفر تو خوف وپر يشانى سے گزر ے ليكن ان كے بر خلاف يہ سفر ہر قسم كے فكر وانديشہ سے خالى تھا يہا ں تك كہ اگر سفر كى كوئي تكليف تھى بھى تو اس انتظار ميں پنہاں مقصد كے سامنے اس كى كوئي حقيقت نہ تھى _
وصال كعبہ چناں مى دواندم بششاب
كہ خا رہاى مغيلاں حريرمى آيد
كعبہ مقصود كے وصال نے مجھے اتنا تيز دوڑا يا كہ خار مغيلاں ريشم معلوم ہو تے تھے _
رات اور دن گو يا بڑى آہستگى سے گزررہے تھے كيو نكہ اشتياق وصال ميں ہر گھڑى ايك دن بلكہ ايك سال معلوم ہو رہى تھى مگر جو كچھ بھى تھا آخر گزرگيا مصر كى آبادى دور سے نما ياں ہو ئيں مصر كے سر سبز كھيت ، آسمان سے باتيں كر نے والے درخت اور خوبصور ت عمارتيں دكھا ئي دينے لگيں ،ليكن قرآن اپنى دائمى سيرت كے مطابق ان سب مقدما ت كو كہ جو تھوڑے سے غور وفكر سے واضح ہو جاتے ہيں حذف كر تے ہوئے كہتا ہے: ''جب وہ يو سف كے پاس پہنچے تو يو سف اپنے ماں باپ سے گلے ملے _''(۱)
آخر كار يعقوب كى زندگى كا شيريں تر ين لمحہ آگيا ديدار وصال كا يہ لمحہ فراق كے كئي سالوں بعد آيا تھا خدا كے سوا كو ئي نہيں جانتا ، كہ وصال كے يہ لمحات يعقوب اور يوسف پر كيسے گذرے ان شيريں لمحات ميں ان دونوں كے احساسات و جذبات كيا تھے، عالم شوق ميں انھوں نے كتنے آنسو بہائے اور عالم شوق ميں كيا نالہ و فرياد ہوا_
جناب يو سف كے خواب كى تعبير
''پھر يو سف نے سب سے كہا سر زمين مصر ميں قدم ركھيں كہ انشا ء اللہ يہا ں آپ بالكل امن وامان ميں ہوں گے''(۲) كيو نكہ مصر يو سف كى حكومت ميں امن وامان كا گہوارہ بن چكا تھا_
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے كہ يو سف اپنے ماں باپ كے استقبال كے لئے شہر كے دروازے كے باہر تك آئے تھے اور شايد جملہ (ادخلو ا على يو سف ) كہ جو در واز ے سے باہر سے مر بوط ہے ، اس طرف اشارہ ہے كہ يو سف نے حكم ديا تھا كہ وہا ں خيمے نصب كئے جا ئيں اور ما ں باپ اور بھا ئيوں كى پہلے پہل وہاں پذيرائي كى جائے ،جب بارگا ہ يو سف ميں پہنچے ''تو اس نے اپنے ماں باپ كو تخت پر بٹھا يا ''(۳) نعمت الہى كى اس عظمت اور پرور دگار كے لطف كى اس گہرائي اور وسعت نے بھائيوں اور ماں باپ كو اتنا متا ثر كيا كہ وہ سب كے سب ''اس كے سامنے سجدے ميں گر گئے_ ''(۴)
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۹۹
(۲) سورہ يوسف آيت ۹۹
(۳)سورہ يوسف آيت ۱۰۰
(۴) سورہ يوسف آيت ۱۰۰
اس مو قع پر يو سف نے باپ كى طرف رخ كيا ''اور عر ض كيا : ابان جان : يہ اسى خواب كى تعبير ہے جو ميں نے بچپن ميں ديكھا تھا ''(۱) كيا ايسا ہى نہيں كہ ميں نے خواب ميں ديكھا كہ سورج ، چاند اور گيار ہ ستارے ميرے سامنے سجدہ كر رہے ہيں ديكھئے : جيسا كہ آپ نے پيشين گو ئي كى تھى ''خدا نے اس خواب كو واقعيت ميں بدل ديا ہے ''(۲) ''اور پر وردگار نے مجھ پر لطف و احسان كيا ہے كہ اس نے مجھے زندان سے نكا لا ہے ''_(۳)
يہ بات قابل تو جہ ہے كہ حضرت يو سف نے اپنى زندگى كى مشكلات ميں صر ف زندان مصر كے بارے ميں گفتگو كى ہے ليكن بھائيوں كى وجہ سے كنعان كے كنوئيں كى بات نہيں كى ،اس كے بعد مزيد كہا :'' خدا نے مجھ پر كس قدر لطف كيا كہ آپ كو كنعان كے اس بيابان سے يہاں لے آيا جب كہ شيطان ميرے اور ميرے بھا ئيوں كے در ميان فساد انگيز ى كر چكا تھا _''(۴)
يہاں يو سف ايك مر تبہ پھر اپنى وسعت قلبى اور عظمت كا ايك نمو نہ پيش كر تے ہيں يہ نہيں كہتے كہ كو تا ہى كس شخص نے كي،بلكہ اس طرح سربستہ اور اجمالى طور پر كہتے ہيں كہ شيطان نے اس كا م ميں دخل اندا زى كى اور وہ فساد كا باعث بنا كيو نكہ وہ نہيں چا ہتے تھے كہ بھا ئيوں كى گزشتہ خطائوں كا گلہ كريں ،وہ جا نتا ہے كہ كون حا جت مند ہيں اور كو ن اہل ہيں '' كيونكہ وہ عليم وحكيم ہے '' _( ۵)
اس كے بعد يو سف، حقيقى مالك الملك اور دائمى ولى نعمت كى طرف رخ كر تے ہيں اور شكر اور تقاضے كے طور پر كہتے ہيں : ''پر ور دگار تونے ايك وسيع حكو مت كا ايك حصہ مجھے مر حمت فرمايا ہے '' _(۶) ''اور تو نے مجھے تعبير خواب كے علم كى تعليم دى ہے ''_(۷) اور اسى علم نے جو ظاہر اً سا دہ اور عام ہے ميرى زندگى اور تيرے بندوں كى ايك بڑى جما عت كى زندگى ميں كس قسم كا انقلا ب پيدا كر ديا ہے اور يہ علم كس قدر پر بر كت ہے_
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۱۰۰ (۲) سورہ يوسف ايت۱۰۰
(۳) سورہ يوسف آيت ۱۰۰ (۴)سورہ يوسف آيت ۱۰۰
(۵) سورہ يوسف آيت ۱۰۰ (۶) سورہ يوسف آيت ۱۰۱
(۷) سورہ يوسف آيت ۱۰۱
''تو وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمين كو ايجاد كيا ہے ''_(۱)
اور اسى بناء پر تمام چيزيں تيرى قدرت كے سامنے سر تسليم خم كئے ہو ئے ہيں ''پروردگار دنيا وآخرت ميں تو مير ا ولى ناصر مد بر اور محا فظ ہے ''_(۲)
'' مجھے اس جہا ن سے مسلمان اور اپنے فرمان كے سامنے سر تسليم خم كئے ہو ئے لے جا، اور مجھے صالحين سے كر دے ''_(۳)
ميں تجھ سے ملك كے دوام اور اپنى مادى حكو مت اور زند گى كى بقا ء كا تقا ضا نہيں كر تا كيو نكہ يہ تو سب فانى ہيں اور صرف ديكھنے ميں دل انگيز ہيں بلكہ ميں تجھ سے يہ چا ہتا ہو ں كہ ميرى عا قبت اور انجا م كا ر بخير ہو اور ميں تيرى راہ ميں ايمان وتسليم كے ساتھ ہوں اور تيرے لئے جان دوں اور صالحين اور تيرے باخلوص دو ستوں كى صف ميں قرار پائوں ميرے لئے يہ چيزيں اہم ہيں _
باپ كو سرگزشت نہ سنانا
جس وقت يعقوب (ع) يوسف (ع) سے ملاقات كے لئے پہنچے تو ان سے كہا: ميرے بيٹے ميرا دل چاہتا ہے كہ ميں پورى تفصيل جانوں كہ بھائيوں نے تمہارے ساتھ كيا سلوك كيا_
حضرت يوسف (ع) نے باپ سے تقاضا كيا كہ وہ اس معاملہ كو جانے ديں ليكن يعقوب (ع) نے انھيں قسم دے كر كہا كہ بيان كريں _
يوسف (ع) نے واقعات كا كچھ حصہ بيان كيا يہاں تك كہ بتايا : بھائيوں نے مجھے پكڑليا او ركنويں كے كنارے بٹھايا مجھے حكم ديا كہ كرتا اتاردوں تو ميں نے ان سے كہا: ميں تمہيں اپنے باپ يعقوب كے احترام كى قسم ديتا ہوں كہ ميرے بدن سے كرتا نہ اتاروں اور مجھے برہنہ نہ كرو، ان ميں سے ايك كے پاس چھرى تھى اس نے وہ چھرى نكالى اور چلاكر كہا: كرتا اتاردے_
____________________
(۱) سورہ يوسف آيت ۱۰۱
(۲) سورہ يوسف آيت ۱۰۱
(۳) سورہ يوسف آيت ۱۰۱
يہ جملہ سنتے ہى يعقوب كى طاقت جواب دے گئي انھوں چيخ مارى او ربے ہوش ہوگئے جب وہ ہوش ميں آئے تو بيٹے سے چاہا كہ اپنى بات جارى ركھے ليكن يوسف (ع) نے كہا: آپ كو ابراہيم (ع) ، اسماعيل (ع) اور اسحاق (ع) كے خدا كى قسم مجھے اس كام سے معاف ركھيں _
جب يعقوب (ع) نے يہ جملہ سنا تو اس معاملہ سے صرف نظر كرليا_
يہ امر نشاندہى كرتا ہے كہ يوسف (ع) ہرگز نہيں چاہتے تھے كہ ماضى كے تلخ واقعات اپنے دل ميں لائيں يا باپ كے سامنے انھيں دھرائيں اگرچہ يعقوب (ع) كى جستجو كى حسّ انھيں مجبور كرتى تھي_
۴ انبياء عليهم السلام کے واقعات
حضرت شعيب عليہ السلام
حضرت شعيب (ع) كى سر زمين''مدين''
يہاں گفتگو قوم شعيب اور اہل مدين كى ہے يہ وہى لوگ ہيں جنہوں نے توحيد كا راستہ چھوڑ ديا تھا اورشرك وبت پرستى كى سنگلاخ زمين ميں سرگرداں ہوگئے تھے يہ لوگ نہ صرف بتوں كو پوجتے تھے بلكہ درہم ودينار اور اپنے مال وثروت كى بھى پرستش كرتے تھے اور اسى لئے وہ اپنے كاروبار اور بارونق تجارت كو نادرستي،كم فروشى اور غلط طريقوں سے آلودہ كرتے تھے _
ابتداء ميں فرمايا گيا ہے :'' مدين كى طرف ہم نے ان كے بھائي شعيب كو بھيجا'' _(۱)(۲)
مدين (بروزن'' مريم'') حضرت شعيب اور ان كے قبيلے كى آبادى كا نام ہے يہ شہر خليج عقبہ كے مشرق ميں واقع ہے اس كے لوگ اولاد اسماعيل ميں سے تھے مصر، لبنان اور فلسطين سے تجارت كياكرتے تھے_
____________________
(۱)سورہ ہود آيت ۸۴
(۲)جيسا كہ ہم پہلے كہہ چكے ہيں لفظ''اخاھم'' (ان كا بھائي ) اس بناء پر ہے كہ اپنى قوم سے پيغمبروں كى انتہائي محبت كو بيان كيا جائے نہ صرف اس بناء پر كہ وہ افرادان كے گروہ اور قبيلے سے تھے بلكہ اس لئے كہ وہ ان كے خير خواہ اور ہمدرد بھائي كى طرح تھے_
آج كل شہر مدين كا نام ''معان'' ہے بعض جغرافيہ دانوں نے خليج عقبہ كے درميان سے كوہ سينا تك زندگى بسر كرنے والوں پر مدين كے نام كا اطلاق كيا ہے ،توريت ميں بھى لفظ'' مديان '' آيا ہے ليكن بعض قبائل كے لئے (البتہ ايك ہى لفظ شہراور اہل شہر پر عام طور پر استعمال ہوجاتاہے )
قوم شعيب كى اقتصادى برائياں
اس پيغمبر اور ہمدرو ومہربان بھائي نے جيسا كہ تمام انبياء كا آغاز دعوت ميں طريقہ ہے پہلے انہيں مذہب كے اساسى ترين ركن '' توحيد'' كى طرف وعوت دى اور كہا : اے قوم : ''يكتا ويگانہ خدا كى پرستش كرو، كہ جس كے نے علاوہ تمہارا كوئي معبود نہيں ہے ''_(۱)
اس وقت اہل مدين ميں ايك اقتصادى خرابى شديد طور پر رائج تھى جس كا سر چشمہ شرك اور بت پرستى كى روح ہے اس كى طرف اشارہ كرتے ہوئے فرمايا گيا ہے :''خريد وفروخت كرتے وقت چيزوں كا پيمانہ اور وزن كم نہ كرو :''(۲)
كم فروشى كے ذريعے فساد اور برائي ، لوگوں كے حقوق غصب كرنے كا فساد اور حقوق پر تجاوز كا فسانہ، معاشرتى ميزان اور اعتدال كو درہم برہم كرنے كا فساد ،اموال اورا شخاص پر عيب لگانے كا فساد _ خلاصہ يہ كہ لوگوں كى حيثيت، آبرو، ناموس اور جان كے حريم پر تجاوز كرنے كا فساد _
'' لاتعشوا'''' فساد نہ كرو'' كے معنى ميں ہے اس بناء پر اس كے بعد ''مفسدين'' كا ذكر زيادہ سے زيادہ تاكيد كى خاطر ہے _
قرآن مجيد ميں موجود آيات سے يہ حقيقت اچھى طرح سے واضح ہوتى ہے كہ توحيد كا اعتقاد اور آئيڈيالوجى كا معاملہ ايك صحيح وسالم اقتصاد كے لئے بہت اہميت ركھتا ہے نيز آيات اس امر كى نشاندہى كرتى ہيں كہ اقتصادى نظام كا درہم برہم ہونا معاشرے كى وسيع تباہى اور فساد كا سرچشمہ ہے _
____________________
(۱) سورہ ہود آيت ۸۴
(۲)سورہ ہود آيت ۸۴
آخر ميں انھيں يہ گوش گزار كيا گيا ہے كہ ظلم وستم كے ذريعے اور استعمارى ہتھكنڈوں سے بڑھنے والى دولت تمہارى بے نيازى اور استغناء كا سب نہيں بن سكتى بلكہ حلال طريقے سے حاصل كيا ہوا جو سرمايہ تمہارے پاس باقى رہ جائے چاہے وہ تھوڑاہى ہو اگر خدا اور اس كے رسول پر ايمان كے ساتھ ہو تو بہترہے _(۱)
ہٹ دھرموں كى بے بنياد منطق
اب ہم ديكھتے ہيں كہ اس ہٹ دھرقوم نے اس آسمانى مصلح كى دعوت كے جواب ميں كيا رد عمل ظاہر كيا _
وہ جو بتوں كو اپنے بزرگوں كے آثار اور اپنے اصلى تمدن كى نشانى خيال كرتے تھے اور كم فروشى اور دھوكا بازى سے معاملات ميں بڑے بڑے فائدے اور مفادات اٹھاتے تھے حضرت شعيب كے جواب ميں كہنے لگے: اے شعيب : كيا تيرى نماز تجھے حكم ديتى ہے كہ ہم انہيں چھوڑديں كہ جن كى ہمارے آبائو اجداد پرستش كرتے تھے اور يا اپنے اموال كے بارے ميں اپنى آزادى سے ساتھ دھو بيٹھيں تو تو ايك بردبار حوصلہ مند اور سمجھ دار آدمى ہے تجھ سے يہ باتيں بعيد ہيں _(۲)(۳)
اس ظالم اور ستم گر قوم نے جب خود كوشعيب عليہ السلام كى منطقى باتوں كے مقابلے ميں بے دليل ديكھا تو اپنى برائيوں كو جارى و سارى ركھنے كے لئے ان پر تہمتوں كى بوچھاڑكردى _
____________________
(۱)سورہ ہود آيت۸۶
(۲)سورہ ہود آيت ۸۷
(۳)يہاں يہ سوال سامنے آتا ہے كہ انہوں مو حضرت شعيب كى نماز كا ذكر كيوں كيا ؟ بعض مفسرين نے كہا ہے كہ يہ اس بناء پر تھا كہ حضرت شعيب زيادہ نماز پڑھتے تھے اور لوگوں سے كہتے تھے كہ نماز انسان كو برے اور قبيح اعمال سے روكتى ہے ليكن وہ لوگ جو نماز اور ترك منكرات كے رابطے كو نہ سمجھ سكے انہوں نے اس بات كا تمسخر اڑايا اور كہا كہ كيا يہ ذكر واذكار اور حركات تجھے حكم ديتى ہيں كہ ہم اپنے بزرگوں كے طور طريقے اور مذہبى ثقافت كو پائوں تلے روندديں يا اپنے اموال كے بارے ميں اپنا اختيار گنوابيٹھيں _
سب سے پہلے وہى پراناليبل جو مجرم اور ظالم لوگ ہميشہ سے خدا كے انبياء پرلگاتے رہے ہيں آپ پر بھى لگايا اور كہا : ''توتو بس پاگل ہے''_(۱)
تيرى گفتگو ميں كوئي منطقى اور مدلل بات دكھائي نہيں ديتى تيرا خيال ہے كہ ايسى باتيں كركے تو ہميں اپنے مال ميں آزادى عمل سے روك دے ،اس كے علاوہ '' تو بھى تو صرف ہمارى طرح كا ايك انسان ہے '' _(۲) كيا تو سمجھتا ہے كہ ہم تيرى اطاعت كريں گے آخر تجھے ہم پر كون سى فضيلت اور برترى حاصل ہے_
''تيرے بارے ميں ہمارايہى خيال ہے كہ تو ايك جھوٹا شخص ہے ''_(۳)
ان كى يہ گفتگو كيسى تضادات پر مبنى ہے كبھى تو انھيں ايسا جھوٹا اور مفادپرست انسان كہتے تھے جود عوائے نبوت كى وجہ سے ان پر فوقيت حاصل كرنا چاہتاہے اور كبھى انھيں مجنون كہتے تھے ان كى آخرى بات يہ تھى كہ بہت اچھا '' اگر توسچا ہے تو ہمارے سر پر آسمان سے پتھربرسا اور ہميں اس مصيبت ميں مبتلا كردے جس كى ہميں دھمكى دے رہاہے تاكہ تجھے معلوم ہوجائے كہ ہم ايسى دھمكيوں سے نہيں ڈرتے ''_(۴) يہ الفاظ كہہ كرانھوں نے اپنى ڈھٹائي اوربے حيائي كى انتہا كردى اور اپنے كفرو تكذيب كا بدترين مظاہرہ كيا _
جناب شعيب(ع) كا جواب
ليكن جنہوں نے ان كى باتوں كو حماقت پرحمل كيا تھا اور ان كى بے عقلى كى دليل قرار دياتھا حضرت شعيب نے ان سے كہا:''اے ميرى قوم :(اے وہ لوگو: كہ تم مجھ سے ہو اور ميں تم سے ہوں اور جو كچھ ميں اپنے لئے پسند كرتا ہوں وہى تمہارے لئے بھى پسند كرتاہوں ) اگر خدا نے مجھے واضح دليل وحى اور نبوت دى ہو اوراس كے علاوہ مجھے پاكيزہ روزى اور حسب ضرورت مال ديا ہوتو كيا اس صورت ميں صحيح ہے كہ ميں اس كے فرمان كى مخالفت كروں يا تمہارے بارے ميں كوئي غرض ركھوں اور تمہارا خير خواہ نہ بنوں ''_(۵)
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۱۸۵ (۲)سورہ شعراء آيت ۱۸۵
(۳) سورہ شعراء آيت ۱۸۶ (۴)سورہ شعراء آيت۱۸۷
(۵)سورہ ہود آيت ۸۸
اس جملے سے حضرت شعيب يہ كہنا چاہتے ہيں كہ اس كام ميں ميراصرف روحانى ، انسانى اور تربيتى مقصدہے ميں ايسے حقائق كو جانتا ہوں جنہيں تم نہيں جانتے اور انسان ہميشہ اس چيز كا دشمن ہوتاہے جسے نہيں جانتا ہے _
اس كے بعد يہ عظيم پيغمبر مزيد كہتے ہيں :يہ گمان نہ كرنا كہ ميں تمہيں كسى چيز سے منع كروں اور پھر خود اسى كى جستجو ميں لگ جائوں ''_(۱)
تمہيں كہوں كم فروشى نہ كرو اور دھوكا بازى اور ملاوٹ نہ كرو ليكن ميں خود يہ اعمال انجام دوں كہ دولت و ثروت اكھٹا كرنے لگوں يا تمہيں تو بتوں كى پرستش سے منع كروں مگر خودان كے سامنے سر تعظيم خم كروں نہيں ايسا ہرگز نہيں ہے _
اس جملے سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ وہ حضرت شعيب پر الزام لگاتے تھے كہ خود يہ فائدہ اٹھانے كا ارادہ ركھتا ہے لہذا وہ صراحت سے اس امر كى نفى كرتے ہيں _
آخر ميں ان سے كہتے ہيں :
''ميرا صرف ايك ہدف اور مقصد ہے اور وہ ہے اپنى قدرت واستطاعت كے مطابق تمہارى اور تمہارے معاشرے كى اصلاح ''_(۲)
يہ وہى ہدف ہے جو تمام پيغمبروں كے پيش نطر رہا ہے ،يعنى عقيدے كى اصلاح، اخلاق كى اصلاح، عمل كى اصلاح ، روابط اور اجتماعى نطاموں كى اصلاح _
''اور اس ہدف تك پہنچنے كے لئے صرف خدا سے توفيق طلب كرتا ہوں ''(۳)
مشكلات كے حل كے لئے اس كى مدد پر بھروسہ كرتے ہوئے كو شش كرتاہوں اور اس راہ ميں سختياں گوارا كرنے كےلئے اس كى طرف رجوع كرتا ہوں _
____________________
(۱)سورہ ہود آيت۸۸
(۲)سورہ ہود آيت۸۸
(۳)سورہ ہود آيت ۸۸
اس كے بعد انہيں ايك اخلاقى نكتے كى طرف متوجہ كيا گيا ہے اور وہ يہ كہ اكثر ايسا ہوتا ہے كہ انسان كسى سے بغض وعداوت كى بناء پر يا تعصب اور ہٹ دھرمى سے اپنے تمام مصالح نظر انداز كرديتا ہے اور انجام كو فراموش كرديتا ہے ،چنانچہ حضرت شعيب نے ان سے فرمايا : ''اے ميرى قوم ايسا نہ ہوكہ ميرى دشمنى اور عداوت تمہيں گناہ، عصياں اور سركشى پر ابھارے اور كہيں ايسانہ ہو كہ وہى بلائيں ، مصيبتيں ، تكليفيں عذاب اور سزائيں جو قوم نوح ، قوم ہود يا قوم صالح كو پہنچيں وہ تمہيں بھى آليں ،يہاں تك كہ قوم لوط كے شہروں كا زير وزبر ہونا اور ان پر سنگبارى كا واقعہ تم سے كوئي دور نہيں ہے''_(۱)
نہ ان كا زمانہ تم سے كوئي دور ہے اور نہ ان كے علاقے تم سے دور ہيں اور نہ ہى تمہارے اعمال اور گناہ ان لوگوں سے كچھ كم ہيں _''مدين'' كہ جو قوم شعيب كا مركز تھا وہ قوم لوط كے علاقے سے كوئي زيادہ فاصلے پر نہيں تھا_ كيونكہ دونوں شامات كے علاقوں ميں تھے_زمانے كے لحاظ سے اگر چہ كچھ فاصلہ تھاتا ہم اتنا نہيں كہ ان كى تاريخ فراموش ہوچكى ہوتي_باقى رہا عمل كے لحاظ سے تو اگر چہ قوم لوط كے جنسى انحرافات نماياں تھے اور قوم شعيب كے اقتصادى انحرافات زيادہ تھے_ اور ظاہراًبہت مختلف تھے ليكن دونوں معاشرے ميں فساد پيدا كرنے،اجتماعى نظام خراب كرنے،اخلاقى فضائل كو نابود كرنے اور برائي پھيلانے ميں ايك دوسرے سے مشابہت ركھتے تھے_
ايك دوسرے كو دھمكياں
يہ عظيم پيغمبرحضرت شعيب كہ انتہائي جچے تلے،بليغ اور دلنشين كلام كى وجہ سے جن كا لقب،''خطيب الانبياء ''ہے،ان كا كلام ان لوگوں كے لئے روحانى ومادى زند گى كى راہيں كھولنے والاتھا_انہوں نے بڑے صبر،حوصلے،متانت اور دلسوزى كے ساتھ ان سے تمام باتيں كيں ليكن ہم ديكھ رہے ہيں كہ اس گمراہ قوم نے انہيں كس طرح سے جواب ديا_
____________________
(۱) سورہ ہود آيت ۸۹
انہوں نے چار جملوں ميں كہ جو ڈھٹائي،جہالت اور بے خبرى كا مظہر تھے آپ(ع) كو جواب ديا:
پہلے وہ كہنے لگے:''اے شعيب(ع) تمہارى زيادہ تر باتيں ہمارى سمجھ ميں نہيں آتيں ''_(۱)
بنيادى طور پر تيرى باتوں كا كوئي سر پير نہيں ،ان ميں كوئي خاص بات اور منطق ہى نہيں كہ ہم ان پر كوئي غوروفكر كريں _ لہذا ان ميں كوئي ايسى چيز نہيں جس پر ہم عمل كريں اس ليے تم اپنے آ پ كو زيادہ نہ تھكائو اور دوسرے لوگوں كے پيچھے جائو_
''دوسرا يہ كہ ہم تجھے اپنے مابين كمزور پاتے ہيں ''_(۲)
لہذا گر تم يہ سوچتے ہو كہ تم اپنى بے منطق باتيں طاقت كے بل پر منوالوگے تو يہ بھى تمہارى غلط فہمى ہے_
يہ گمان نہ كروں كہ اگر ہم تم سے پوچھ گچھ نہيں كرتے تو يہ تمہارى طاقت كے خوف سے ہے_اگر تيرى قوم و قبيلہ كا احترام پيش نظر نہ ہوتا تو ہم تجھے بد ترين طريقے سے قتل كرديتے اور تجھے سنگسار كرتے_(۳)
آخر ميں انہوں نے كہا:
''تو ہمارے ليے كوئي طاقتور اور ناقابل شكست نہيں ہے''_(۴)
اگر چہ تو اپنے قبيلے كے بزرگوں ميں شمار ہوتا ہے ليكن جو پروگرام تيرے پيش نظر ہے اس كى وجہ سے ہمارى نگاہ ميں كوئي وقعت اور منزلت نہيں ہے_
حضرت شعيب(ع) ان باتوں كے نشتروں اور توہين آميز رويّے سے(سيخ پا ہوكر)اٹھ كرنہيں گئے بلكہ آپ(ع) نے اس طرح انہيں پر منطق اور بليغ پيرائے ميں جواب ديا:''اے قومميرے قبيلے كے يہ چند افراد تمہارے نزديك خدا سے زيادہ عزيز ہيں _''(۵)
____________________
(۱)سورہ ہود آيت۹۱ (۲)سورہ ھود آيت ۹۱
(۳)سورہ شعيب آيت۹۱ (۴)سورہ ھود آيت۹۱
(۵)سورہ ھودآيت۹۲
تم ميرے خاندان كى خاطر كہ جو تمہارے بقول چند نفر سے زيادہ نہيں ہے ،مجھے آزار نہيں پہنچاتے ہو،توكيوں خدا كے ليے تم ميرى باتوں كو قبول نہيں كرتے ہو_ كيا عظمت خدا كے سامنے چندافرادكى كوئي حيثيت ہے؟
كيا تم خدا كے لئے كسى احترام كے قائل ہو''جبكہ اسے اور اس كے فرمان كو تم نے پس پشت ڈال ديا ہے_''(۱)
آخر ميں حضرت شعيب(ع) كہتے ہيں :'' يہ خيال نہ كرو كہ خدا تمہارے اعمال كو نہيں ديكھتا اور تمہارى باتيں نہيں سنتا_ يقين جانو كہ ميرا پروردگار ان تمام اعمال پر محيط ہے جو تم انجام ديتے ہو''_(۲)
بليغ سخن ور وہ ہے كہ جو اپنى باتوں ميں مدمقابل كى تمام تنقيدوں كا جواب دے_قوم شعيب(ع) كے مشركين نے چونكہ اپنى باتوں كے آخر ميں ضمناًانہيں سنگسار كرنے كى دھمكى دى تھى اور ان كے سامنے اپنى طاقت كا اظہار كيا تھا لہذا ان كى دھمكى كے جواب ميں حضرت شعيب(ع) نے اپنے موقف كواس طرح سے بيان كيا:
اے ميرى قومجو كچھ تمہارے بس ميں ہے كر گزرواور اس ميں كوتاہى نہ كرو اور جو كچھ تم سے ہو سكتا ہے اس ميں رورعايت نہ كرو_ميں بھى اپنا كام كروں گا_ليكن تم جلد سمجھ جائو گے كہ كون رسوا كن عذاب ميں گرفتار ہوتا ہے اور كون جھوٹا ہے ميں يا تم _
اور اب جبكہ معاملہ اس طرح ہے تو تم بھى انتظار كرو اور ميں بھى انتظار كرتا ہوں ،تم اپنى طاقت،تعداد،سرمائے اور اثرورسوخ سے مجھ پر كاميابى كے انتظار ميں رہو اور ميں بھى اس انتظار ميں ہوں كہ عنقريب دردناك عذاب الہى تم جيسى گمراہ قوم كے دامن گير ہو اور تمہيں صفحہ ہستى سے مٹادے_
مدين كے تباہ كاروں كا انجام
گزشتہ اقوام كى سرگزشت كے بارے ميں قرآن مجيد ميں ہم نے بارہا پڑھا ہے كہ پہلے مرحلے ميں
____________________
(۱)سورہء ھود آيت۹۲
(۲)سورہ ھودآيت۹۲
انبياء انہيں خدا كى طرف دعوت دينے كے ليے قيام كرتے تھے اور ہر طرح سے تعليم و تربيت اور پند ونصيحت ميں كوئي گنجائش نہيں چھوڑتے تھے_ دوسرے مرحلے ميں جب ايك گروہ پر پند و نصائح كا كوئي اثر نہ ہوتا تو انہيں عذاب الہى سے ڈراتے تاكہ وہ آخرى افراد تسليم حق ہوجائيں جو قبوليت كى اہليت ركھتے ہيں اور راہ خدا كى طرف پلٹ آئيں نيز اتمام حجت ہو جائے_
تيسرے مرحلے ميں جب ان پركوئي چيز مو ثر نہ ہوتى تو روئے زمين كى ستھرائي اور پاك سازى كر ليے سنت الہى كے مطابق عذاب آجاتا اور راستے كے ان كانٹوں كو دور كرديتا _
قوم شعيب(ع) يعنى اہل مدين كا بھى آخر كار مرحلہ انجام آپہنچا_چنانچہ قرآن كہتا ہے: ''جب(اس گمراہ، ظالم اور ہٹ دھرم قوم كو عذاب ديئے جانے كے بارے ميں ) ہمارا فرمان آپہنچا تو ہم نے شعيب(ع) اور اس پر ايمان لانے والوں كو اپنى رحمت كى بركت سے نجات دي_''(۱) ''پھر آسمانى پكار اور مرگ آفريں عظيم صيحہ نے ظالموں اور ستمگروں كو اپنى گرفت ميں لے ليا_''(۲)
جيسا كہ ہم كہہ چكے ہيں _''صيحہ'' ہرقسم كى عظيم آواز اور پكار كے معنى ميں ہے، قرآن نے بعض قوموں كى نابودى صيحہ آسمانى كے ذريعے بتائي ہے_ يہ صيحہ احتمالاًصاعقہ كے ذريعے يا اس كى مانند ہوتى ہے اور جيسا كہ ہم نے قوم ثمود كى داستان ميں بيان كيا ہے كہ صوتى امواج بعض اوقات اس قدر قوى ہوسكتى ہيں كہ ايك گروہ كى موت كا سبب بن جائيں _
اس كے بعد فرمايا گيا ہے:''اس آسمانى صيحہ كے اثر سے قوم شعيب كے لوگ اپنے گھروں ميں منہ كے بل جاگرے اور مرگئے اور ان كے بے جان جسم درس عبرت بنے ہو ايك مدت تك وہيں پڑے رہے''_(۳)
ان كى زندگى كى كتاب اس طرح بندكردى گئي كہ ''گويا كبھى وہ اس سرزمين كے ساكن ہى نہ تھے''_
____________________
(۱)سورہ ھودآيت۹۴
(۲)سورہ ھود آيت۹۴
(۳)سورہ ھود آيت۹۴
سات روز تك شدت كى گرمى پڑى اور ہوا بالكل نہ چلي، اس كے بعد اچانك آسمان پر بادل آئے، ہوا چلى ان كو گھروں سے نكال پھينكا، گرمى كى وجہ سے بادل كے سايہ كے نيچے چلے گئے_
اس وقت صاعقہ موت كا پيغام لے كر آئي خطرناك آواز، آگ كى بارش اور زمين ميں زلزلہ آگيا، اس طرح وہ سب نابود ہوگئے_
وہ تمام دولت وثروت كہ جس كى خاطر انہوں نے گناہ اور ظلم و ستم كيے نابود ہوگئي_ انكى زمينيں اور زرق برق زندگى ختم ہوگئي اور ان كا شور وغو غا خاموش ہوگيا اور آخر كار جيسا كہ قوم عادوثمود كى داستان كے آخر ميں بيان ہوا ہے فرمايا گيا ہے:دورہو سرزمين مدين لطف و رحمت پروردگار سے جيسے كہ قوم ثمود دور ہوئي_(۱)
''واضح ہے كہ يہاں ''مدين''سے مراد اہل مدين ہيں جو رحمت خدا سے دور ہوئے''_
____________________
(۱)سورہ ھود آيت۹۵
حضرت موسى عليہ السلام
تمام پيغمبر كى نسبت قرآن ميں حضرت موسى (ع) كا واقعہ زيادہ آيا ہے_تيس سے زيادہ سورتوں ميں موسى (ع) و فرعون اور بنى اسرائيل كے واقعہ كى طرف سومرتبہ سے زيادہ اشارہ ہوا ہے_
اگر ہم ان آيتوں كى الگ الگ شرح كريں ااس كے بعد ان سب كو ايك دوسرے كے ساتھ ملا ديں تو بعض افراد كے اس توہم كے برخلاف كہ قرآن ميں تكرار سے كام ليا گيا ہے،ہم كو معلوم ہوگا كہ قرآن ميں نہ صرف تكرار نہيں ہے بلكہ ہر سورہ ميں جو بحث چھيڑى گئي ہے اس كى مناسبت سے اس سرگزشت كا ايك حصہ شاہد كے طور پر پيش كيا گيا ہے_
ضمناًيہ بات بھى ذہن ميں ركھنا چايئےہ اس زمانے ميں مملكت مصر نسبتاً وسيع مملكت تھي_وہاں كے رہنے والوں كا تمدن بھى حضرت نوح(ع) ،ہود(ع) اور شعيب(ع) كى اقوام سے زيادہ ترقى يافتہ تھا_ لہذا حكومت فراعنہ كى مقاومت بھى زيادہ تھي_
اسى بناء پر حضرت موسى (ع) كى تحريك اور نہضت بھى اتنى اہميت كى حامل ہوئي كہ اس ميں بہت زيادہ عبرت انگيز نكات پائے جاتے ہيں _بنابريں اس قرآن ميں حضرت موسى (ع) كى زندگى اور بنى اسرائيل كے حالات كے مختلف پہلوئوں پر روشنى ڈالى گئي ہے_
كلى طور پر اس عظيم پيغمبر(ع) كى زندگى كو پانچ ادوار ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے_
حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے پانچ ادوار
۱_پيدائش سے لے كر آغوش فرعون ميں آپ(ع) كى پرورش تك كا زمانہ_
۲_مصر سے آپ(ع) كا نكلنا اور شہر مدين ميں حضرت شعيب(ع) كے پاس كچھ دقت گزارنا_
۳_آپ(ع) كى بعثت كا زمانہ اور فرعون اور اس كى حكومت والوں سے آپ(ع) كے متعدد تنازعے_
۴_فرعونيوں كے چنگل سے موسى (ع) اور بنى اسرائيل كى نجات اور وہ حوادث جو راستہ ميں اور بيت المقدس پہنچنے پر رونما ہوئے_
۵_حضرت موسى (ع) اور بنى اسرائيل كے درميان كشمكش كا زمانہ_
ولادت حضرت موسى عليہ السلام
حكومت فرعون نے بنى اسرئيل كے يہاں جو نومولود بيٹے ہوتے تھے انہيں قتل كرنے كا ايك وسيع پروگرام بنايا تھا_ يہاں تك كہ فرعون كى مقرر كردہ دائياں بنى اسرائيل كى باردار عورتوں كى نگرانى كرتى تھيں _
ان دائيوں ميں سے ايك والدہ موسى (ع) كى دوست بن گئي تھي_ (شكم مادر ميں موسى (ع) كا حمل مخفى رہا اوراس كے آثار ظاہر نہ ہوئے) جس وقت مادر موسى (ع) كو يہ احساس ہوا كہ بچے كى ولادت كا وقت قريب ہے تو آپ نے كسى كے ذريعہ اپنى دوست دائي كو بلانے بھيجا_جب وہ آگئي تو اس سے كہا:ميرے پيٹ ميں ايك فرزند ہے،آج مجھے تمہارى دوستى اور محبت كى ضرورت ہے_
جس وقت حضرت موسى عليہ السلام پيدا ہوگئے تو آپ كى آنكھوں ميں ايك خاص نور چمك رہا تھا،چنانچہ اسے ديكھ كر وہ دايہ كاپنے لگى اور اس كے دل كى گہرائي ميں محبت كى ايك بجلى سماگئي،جس نے اس كے دل كى تمام فضاء كو روشن كرديا_
يہ ديكھ كر وہ دايہ، مادر موسى (ع) سے مخاطب ہوكر بولى كہ ميرا يہ خيال تھا كہ حكومت كے دفتر ميں جاكے اس بچے كے پيدا ہونے كى خبر دوں تاكہ جلاد آئيں اور اسے قتل كرديں اور ميں اپنا انعام پالوں _ مگر ميں كيا كروں
كہ ميں اپنے دل ميں اس نوزائيدہ بچے كى شديد محبت كا احساس كرتى ہوں _ يہاں تك كہ ميں يہ نہيں چاہتى كہ اس كا بال بھى بيكا ہو_اس كى اچھى طرح حفاظت كرو_ميرا خيال ہے كہ آخر كار يہى ہمارا دشمن ہوگا_
جناب موسى عليہ السلام تنور ميں
وہ دايہ مادر موسى (ع) كے گھر سے باہر نكلي_ تو حكومت كے بعض جاسوسوں نے اسے ديكھ ليا_ انھوں نے تہيہ كرليا كہ وہ گھر ميں داخل ہوجائيں گے_ موسى (ع) كى بہن نے اپنى ماں كو اس خطرے سے آگاہ كرديا ماں يہ سن كے گھبراگئي_ اس كى سمجھ ميں نہ آتا تھا كہ اب كيا كرے_
اس شديد پريشانى كے عالم ميں جب كہ وہ بالكل حواس باختہ ہورہى تھياس نے بچے كو ايك كپڑے ميں لپيٹا او رتنور ميں ڈال ديا_ اس دوران ميں حكومت كے آدمى آگئے_مگر وہاں انھوں نے روشن تنور كے سوا كچھ نہ ديكھا_ انھوں نے مادر موسى (ع) سے تفتيش شرو ع كردى _ پوچھا_دايہ يہاں كيا كررہى تھي_؟ موسى (ع) كى ماں نے كہا كہ وہ ميرى سہيلى ہے مجھ سے ملنے آئي تھى _حكومت كے كارندے مايوس ہوكے واپس ہوگئے_
اب موسى (ع) كى ماں كو ہوش آيا_ آپ نے اپنى بيٹى سے پوچھا كہ بچہ كہاں ہے؟ اس نے لاعلمى كا اظہار كيا_ ناگہاں تنور كے اندر سے بچہ كے رونے كى آواز آئي_ اب ماں تنور كى طرف دوڑى _كيا ديكھتى ہے كہ خدا نے اس كے لئے آتش تنور كو ''ٹھنڈا اور سلامتى كہ جگہ''بناديا ہے_ وہى خدا جس نے حضرت ابراھيم(ع) كے ليے آتش نمرود كو ''برد وسلام''بناديا تھا_ اس نے اپنا ہاتھ بڑھايا اور بچے كو صحيح وسالم باہر نكال ليا_
ليكن پھر بھى ماں محفوظ نہ تھي_كيونكہ حكومت كے كارندے دائيں بائيں پھرتے رہتے اور جستجو ميں لگے رہتے تھے_ كسى بڑے خطرے كے ليے يہى كافى تھا كہ وہ ايك نوزائيد بچے كے رونے كى آواز سن ليتے_
اس حالت ميں خدا كے ايك الہام نے ماں كے قلب كو روشن كرديا_وہ الہام ايسا تھا كہ ماں كو بظاہر ايك خطرناك كام پر آمادہ كررہا تھا_مگر پھر بھى ماں اس ارادے سے اپنے دل ميں سكون محسوس كرتى تھي_
''ہم نے موسى (ع) كى ماں كى طرف وحى كى كہ اسے دودھ پلا اور جب تجھے اس كے بارے ميں كچھ خوف پيدا ہوتو اسے دريا ميں ڈال دينا اور ڈرنا نہيں اور نہ غمگين ہونا كيونكہ ہم اسے تيرے پاس لوٹا ديں گے اور اسے رسولوں ميں سے قرار ديں گے_(۱)
اس نے كہا: ''خدا كى طرف سے مجھ پريہ فرض عائد ہوا ہے_ ميں اسے ضرور انجام دوں گي''_اس نے پختہ ارادہ كرليا كہ ميں اس الہام كو ضرور عملى جامہ پہنائوں گى اور اپنے نوزائيدہ بچے كو دريائے نيل ميں ڈال دوں گي_
اس نے ايك مصرى بڑھئي كو تلاش كيا (وہ بڑھئي قبطى اور فرعون كى قوم ميں سے تھا)اس نے اس بڑھئي سے درخواست كى كہ ميرے ليے ايك چھوٹا سا صندوق بنادے_
بڑھئي نے پوچھا:جس قسم كا صندوقچہ تم بنوانا چاہتى ہو اسے كس كام ميں لائوگي؟
موسى (ع) كى ماں جو دروغ گوئي كى عادى نہ تھى اس نازك مقام پر بھى سچ بولنے سے باز نہ رہي_اس نے كہا:ميں بنى اسرائيل كى ايك عورت ہوں _ميرا ايك نوزائيد بچہ لڑكا ہے_ميں اس بچے كو اس صندوق ميں چھپانا چاہتى ہوں _
اس قبطى بڑھئي نے اپنے دل ميں يہ پختہ ارادہ كرليا كہ جلادوں كو يہ خبر پہنچادےگا_وہ تلاش كركے ان كے پاس پہنچ گيا_ مگر جب وہ انھيں يہ خبر سنانے لگاتو اس كے دل پر ايسى وحشت طارى ہوئي كہ اس كى زبان بند ہوگئي_ وہ صرف ہاتھوں سے اشارے كرتا تھا اور چاہتا تھا كہ ان علامتوں سے انھيں اپنا مطلب سمجھا دے_ حكومت كے كارندوں نے اس كى حركات ديكھ كر يہ سمجھا كہ يہ شخص ہم سے مذاق كررہا ہے_اس ليے اسے مارا اور باہر نكال ديا_
جيسے ہى وہ اس دفتر سے باہر نكلا اس كے ہوش و حواس يكجاہوگئے، وہ پھر جلادوں كے پاس گيا اور اپنى حركات سے پھر ماركھائي_
____________________
(۱)سورہ قصص آيت۷
آخر اس نے يہ سمجھا كہ اس واقعے ميں ضرور كوئي الہى راز پوشيدہ ہے_چنانچہ اس نے صندوق بناكے حضرت موسى (ع) كى والدہ كو دےديا_
دريا كى موجيں گہوارے سے بہتر
غالباًصبح كا وقت تھا_ابھى اہل مصر محو خواب تھے_مشرق سے پو پھٹ رہى تھي_ماں نے نوزائيدہ بچے اور صندوق كو دريائے نيل كے كنارے لائي،بچے كو آخرى مرتبہ دودھ پلايا_پھر اسے،مخصوص صندوق ميں ركھا(جس ميں يہ خصوصيت تھى كہ ايك چھوٹى كشتى كى طرح پانى پر تيرسكے)پھر اس صندوق كو نيل كى موجوں كے سپرد كرديا_ نيل كى پر شور موجوں نے اس صندوق كوجلدہى ساحل سے دور كرديا_ماں كنارے كھڑى ديكھ رہى تھى _ معاًاسے ايسا محسوس ہوا كہ اس كا دل سينے سے نكل كر موجوں كے اوپر تيررہاہے_اس دقت،اگر الطاف الہى اس كے دل كو سكون و قرار نہ بخشتا تو يقينا وہ زور زور سے رونے لگتى اور پھر سارا راز فاش ہو جاتا،كسى آدمى ميں يہ قدرت نہيں ہے كہ ان حساس لمحات ميں ماں پر جو گزررہى تھي_الفاظ ميں اس كا نقشہ كھينچ سكے مگر _ ايك فارسى شاعرہ نے كسى حد تك اس منظر كو اپنے فصيح اور پر از جذبات اشعار ميں مجسم كيا ہے_
۱_مادر موسى (ع) چو موسى (ع) رابہ نيل ---درفگند از گفتہ رب جليل
۲_خودز ساحل كرد باحسرت نگاہ ---گفت كاى فرزند خرد بى گناہ
۳_گر فراموشت كند لطف خداى ---چون رہى زين كشتى بى ناخداي
۴_وحى آمد كاين چہ فكر باطل است ---رہرو ما اينك اندر منزل است
۵_ماگرفتيم آنچہ را انداختى ----دست حق را ديدى ونشاختي
۶_سطح آب از گاہوارش خوشتراست ---دايہ اش سيلاب و موجش مادراست
۷_رودھا از خودنہ طغيان مى كنند--- آنچہ مى گوئيم ما آن مى كنند
۸_ما بہ دريا حكم طوفان مى دہيم
ما بہ سيل وموج فرماں مى دہيم
۹_نقش ہستى نقشى از ايوان ما است
خاك وباد وآب سرگردان ماست
۱۰_بہ كہ برگردى بہ ما بسپاريش
كى تو از ما دوسترمى داريش؟(۱)
۱_جب موسى (ع) كى ماں نے حكم الہى كے مطابق موسى (ع) كو دريائے نيل ميں ڈال ديا_
۲_وہ ساحل پركھڑى ہوئي حسرت سے ديكھ رہى تھى اور كہہ رہى تھى كہ اے ميرے بے گناہ ننھے بيٹے
۳_اگر لطف الہى تيرے شامل حال نہ ہو تو ،تو اس كشتى ميں كيسے سلامت رہ سكتا ہے جس كا كوئي نا خدا نہيں ہے_
۴_حضرت موسى عليہ السلام كى ماں كو اس وقت وحى ہوئي كہ تيرى يہ كيا خام خيالى ہے ہمارا مسافر تو سوئے منزل رواں ہے_
۵_تونے جب اس بچے كو دريا ميں ڈالاتھا تو ہم نے اسے اسى وقت سنبھال ليا تھا _ تو نے خدا كا ہاتھ ديكھا مگر اسے پہچانا نہيں _
۶_اس وقت پانى كى سطح(اس كے ليے)اس كے گہوارے سے زيادہ راحت بخش ہے_دريا كا سيلاب اس كى دايہ گيرى كررہا ہے اور اس كى موجيں آغوش مادر بنى ہوئي ہيں _
۷_ديكھوں دريائوں ميں ان كے ارادہ و اختيار سے طغيانى نہيں آتي_وہ ہمارے حكم كے مطيع ہيں وہ وہى كرتے ہيں جو ہمارا امر ہوتا ہے_
۸_ہم ہى سمندروں كو طوفانى ہونے كاحكم ديتے ہيں اور ہم ہى سيل دريا كو روانى اور امواج بحر كو تلاطم كا فرمان بھيجتے ہيں _
____________________
(۱)از ديوان پروين اعتصامي
۹_ہستى كا نقش ہمارے ايوان كے نقوش ميں سے ايك نقش ہے جو كچھ ہے،يہ كائنات تو اس كامشتے ازخروارى نمونہ ہے_ اور خاك،پاني،ہوا اور آتش ہمارے ہى اشارے سے متحرك ہيں _
۱۰_بہتر يہى ہے كہ تو بچے كو ہمارے سپرد كردے اور خود واپس چلى جا_ كيونكہ تو اس سے ہم سے زيادہ محبت نہيں كرتي_
دلوں ميں حضرت مو سى عليہ السلام كى محبت
اب ديكھناچاہيئے فرعون كے محل ميں كيا ہورہا تھا؟
روايات ميں مذكور ہے كہ فرعون كى ايك اكلوتى بيٹى تھي_وہ ايك سخت بيمارى سے شديد تكليف ميں تھي_فرعون نے اس كا بہت كچھ علاج كرايا مگر بے سود_اس نے كاہنوں سے پوچھا_ انھوں نے كہا:''اے فرعون ہم پيشن گوئي كرتے ہيں كہ اس دريا ميں سے ايك آدمى تيرے محل ميں داخل ہوگا_اگر اس كے منہ كى رال اس بيمار كے جسم پر ملى جائے گى تو اسے شفا ہوجائيگي_
چنانچہ فرعون اور اس كى ملكہ آسيہ ايسے واقعے كے انتظار ميں تھے كہ ناگہاں ايك روز انھيں ايك صندوق نظر آيا جو موجوں كى سطح پر تير رہا تھا_فرعون نے حكم ديا كہ سركارى ملازمين فوراً ديكھيں كہ يہ صندوق كيسا ہے اور اسے پانى ميں سے نكال ليں _ديكھيں كہ اس ميں كيا ہے؟
نوكروں نے وہ عجيب صندوق فرعون كے سامنے لاكے ركھ ديا_ كسى كو اس كا ڈھكنا كھولنے كى ہمت نہ ہوئي_ مطابق مشيت الہي،يہ لازمى تھا كہ حضرت موسى (ع) كى نجات كے ليے صندوق كا ڈھكنا فرعون ہى كے ہاتھ سے كھولا جائے،چنانچہ ايسا ہى ہوا_
جس وقت فرعون كى ملكہ نے اس بچے كو ديكھا تو اسے يوں محسوس ہواكہ ايك بجلى چمكى ہے جس نے اس كے دل كو منور كرديا ہے_
ان دونوں بالخصوص فرعون كى ملكہ كے دل ميں اس بچے كى محبت نے گھر بناليا اور جب اس بچے كا
آب دہن اس كے ليے موجب شفا ہوگيا تو يہ محبت اور بھى زيادہ ہوگئي _
قرآن ميں يہ واقعہ اس طرح مذكور ہے كہ:_فرعون كے اہل خانہ نے موسى (ع) كو نيل كى موجوں كے اوپر سے پكڑ ليا_ تا كہ وہ ان كا دشمن اور ان كے ليے باعث اندوہ ہوجائے_(۱)
''يہ امر بديہى ہے كہ فرعون كے اہل خانہ نے اس بچے كے قنداقہ(وہ كپڑاجس ميں بچہ كو لپيٹتے ہيں )كو اس نيت سے دريا سے نہيں نكالا تھا كہ اپنے جانى دشمن كو اپنى گود ميں پاليں ،بلكہ وہ لوگ بقول ملكہ فرعون،اپنے ليے ايك نور چشم حاصل كرناچاہتے تھے_
ليكن انجام كار ايسا ہى ہوا،اس معنى و مراد كى تعبير ميں لطافت يہى ہے كہ خدا اپنى قدرت كا اظہار كرنا چاہتا ہے كہ وہ كس طرح اس گروہ كو جنھوں نے اپنى تمام قوتيں اور وسائل،بنى اسرائيل كى اولاد ذكور كو قتل كرنے كے ليے وقف كرديا تھا،اس خدمت پر مامور كرے كہ جس بچے كو نابود كرنے كے ليے انھوں نے يہ پروگرام بنايا تھا،اسى كوو وہ اپنى جان كى طرح عزيز ركھيں اور اسى كى پرورش كريں _
قرآن كى آيات سے يہ معلوم ہوتاہے كہ اس بچے كى بابت فرعون،اس كى ملكہ اور ديگر اہل خاندان ميں باہم نزاع اور اختلاف بھى ہوا تھا،كيونكہ قرآن شريف ميں يوں بيان ہے:فرعون كى بيوى نے كہا كہ يہ بچہ ميرى اور تيرى آنكھوں كا نور ہے_ اسے قتل نہ كرو_ ممكن ہے يہ ہمارے ليے نفع بخش ہو يا ہم اسے ہم اپنا بيٹابنا ليں _(۲)
ايسا معلوم ہوتا ہے كہ فرعون بچے كے چہرے اور دديگر علامات سے،من جملہ ان كے اسے صندوق ميں ركھنے اور دريائے نيل ميں بہادينے سے يہ سمجھ گيا تھا كہ يہ بنى اسرائيل ميں سے كسى كا بچہ ہے_
يہ سمجھ كر ناگہاں ،بنى اسرائيل ميں سے ايك آدمى كى بغاوت اور اس كى سلطنت كے زوال كا كابوس اس كى روح پر مسلط ہوگيا اور وہ اس امر كا خواہاں ہوا كہ اس كا وہ ظالمانہ قانون،جو بنى اسرائيل كے تمام نوزاد اطفال كے ليے جارى كيا گيا تھا اس بچے پر بھى نافذ ہو_
____________________
(۱)سورہ قصص آيت ۸
(۲)قصص آيت ۹
فرعون كے خوشامدى درباريوں او ررشتہ داروں نے بھى اس امر ميں فرعون كى تائيد و حمايت كى اور كہا اس كى كوئي دليل نہيں ہے كہ يہ بچہ قانون سے مستثنى رہے_
ليكن فرعون كى بيوى آسيہ جس كے بطن سے كوئي لڑكا نہ تھا اور اس كا پاك دل فرعون كے درباريوں كى مانند نہ تھا،اس بچے كے ليے محبت كا كان بن گيا تھا_ چنانچہ وہ ان سب كى مخالفت پرآمادہ ہوگئي اور چونكہ اس قسم كے گھريلو اختلافات ميں فتح ہميشہ عورتوں كى ہوتى ہے،وہ بھى جيت گئي_
اگر اس گھريلو جھگڑے پر،دختر فرعون كى شفايابى كے واقعے كا بھى اضافہ كرليا جائے تواس اختلاف باہمى ميں آسيہ كى فتح كا امكان روشن تر ہو جاتا ہے_
قرآن ميں ايك بہت ہى پر معنى فقرہ ہے:''وہ نہيں جانتے تھے كہ كيا كررہے ہيں :''(۱)
البتہ وہ بالكل بے خبر تھے كہ خدا كا واجب النفوذ فرمان اور اس كى شكست ناپذير مشيت نے يہ تہيہ كرليا ہے كہ يہ طفل نوزاد انتہائي خطرات ميں پرورش پائے _ اور كسى آدمى ميں بھى ارادہ و مشيت الہى سے سرتابى كى جرا ت اور طاقت نہيں ہے''_
اللہ كى عجيب قدرت
اس چيز كانام قدرت نمائي نہيں ہے كہ خداآسمان و زمين كے لشكروں كو مامور كركے كسى پُرقوت اور ظالم قوم كو نيست و نابود كردے_
بلكہ قدرت نمائي يہ ہے كہ ان ہى جباران مستكبر سے يہ كا م لے كر وہ اپنے آپ كو خود ہى نيست و نابود كرليں اور ان كے دل و دماغ ميں ايسے خيالات پيدا ہوجائيں كہ بڑے شوق سے لكڑياں جمع كريں اور اس كى آگ ميں جل مريں ،اپنے ليے خودہى قيدخانہ بنائيں اور اسميں اسير ہوكے جان دے ديں ، اپنے ليے خود ہى صليب كھڑى كريں اور اس پر چڑھ مرجائيں _
____________________
(۱)سورہ قصص آيت ۹
فرعون اوراسكے زور منداور ظالم ساتھيوں كے ساتھ بھى يہى پيش آيا_ چنانچہ تمام مراحل ميں حضرت موسى (ع) كى نجات اور پرورش انہى كے ہاتھوں سے ہوئي،حضرت موسى (ع) كى دايہ قبطيوں ميں سے تھي،صندوق موسى (ع) كو امواج نيل سے نكالنے اور نجات دينے والے متعلقين فرعون تھے،صندوق كا ڈھكنا كھولنے والا خود فرعون يا اس كى اہليہ تھي،اور آخر كا ر فرعون شكن اور مالك غلبہ و اقتدار موسى (ع) كے ليے امن و آرام اور پرورش كى جگہ خود فرعون كا محل قرار پايا_ يہ ہے پروردگار عالم خدا كى قدرت_
موسى عليہ السلام پھر آغوش مادر ميں
حضرت موسى عليہ السلام كى ماں نے اس طرح سے جيسا كہ ہم نے پيشتر بيان كيا ہے،اپنے فرزند كو دريائے نيل كى لہروں كے سپرد كرديا_ مگر اس عمل كے بعد اس كے دل ميں جذبات كا يكايك شديد طوفان اٹھنے لگا،نوزائيدہ بيٹے كى ياد،جس كے سوا اس كے دل ميں كچھ نہ تھا،اس كے احساسات پر غالب آگئي تھي،قريب تھا كہ وہ دھاڑيں مار كر رونے لگے اور اپنا راز فاش كردے،قريب تھا كہ چيخ مارے اور اپنے بيٹے كى جدائي ميں نالے كرے_
ليكن عنايت خداوندى اس كے شامل حال رہى جيسا كہ قرآن ميں مذكور ہے:''موسى عليہ السلام كى ماں كا دل اپنے فرزند كى ياد كے سوا ہر چيز سے خالى ہوگيا،اگر ہم نے اس كا دل ايمان اور اميد كے نور سے روشن نہ كيا ہوتا تو قريب تھا كہ وہ راز فاش كرديتي_ ليكن ہم نے يہ اس ليے كيا تاكہ وہ اہل ايمان ميں سے رہے''_(۱)
يہ قطعى فطرى امر ہے كہ: ايك ماں جو اپنے بچے كو اس صورت حال سے اپنے پاس سے جدا كرے وہ اپنى اولاد كے سوا ہر شے كو بھول جائے گي_ اور اس كے حواس ايسے باختہ ہو جائيں گے كہ ان خطرات كا لحاظ
____________________
(۱)سورہ قصص آيت۱۰
كيے بغير جو اس كے اور اس كے بيٹے دونوں كے سر پر منڈلارہے تھے فرياد كرے اور اپنے دل كا راز فاش كردے_
ليكن وہ خدا جس نے اس ماں كے سپرد يہ اہم فريضہ كيا تھا،اسى نے اس كے دل كو ايسا حوصلہ بھى بخشا كہ وعدہ الہى پر اس كا ايمان ثابت رہے اور اسے يہ يقين رہے كہ اس كا بچہ خدا كے ہاتھ ميں ہے آخر كار وہ پھر اسى كے پاس آجائے گا اور پيغمبر بنے گا_
اس لطف خداوندى كے طفيل ماں كے دل كا سكون لوٹ آيامگر اسے آرزورہى كہ وہ اپنے فرزندكے حال سے باخبر رہے'' اس لئے اس نے موسى عليہ السلام كى بہن سے كہاكہ جا تو ديكھتى رہ كہ اس پر كيا گزرتى ہے''_(۱)
موسى عليہ السلام كى بہن ماں كا حكم بجالائي اور اتنے فاصلہ سے جہاں سے سب كچھ نظر آتا تھا ديكھتى رہى _ اس نے دور سے ديكھا كہ فرعون كے عمال اس كے بھائي كے صندوق كو پانى ميں سے نكال رہے ہيں اور موسى عليہ السلام كو صندوق ميں سے نكال كر گود ميں لے رہے ہيں _
''مگر وہ لوگ اس بہن كى ا س كيفيت حال سے بے خبر تھے_''_(۲)
بہر حال ارادہ الہى يہ تھا كہ يہ طفل نوزاد جلد اپنى ماں كے پاس واپس جائے اور اس كے دل كو قرار آئے_اس ليے فرمايا گيا ہے :''ہم نے تمام دودھ پلانے والى عورتوں كو اس پر حرام كرديا تھا''_(۳)
يہ طبيعى ہے كہ شير خوار نوزاد چندگھنٹے گزرتے ہى بھوك سے رونے لگتا ہے اور بے تاب ہوجاتا ہے_ درين حال لازم تھا كہ موسى عليہ السلام كو دودھ پلانے كے ليے كسى عورت كى تلاش كى جاتي_ خصوصاً جبكہ ملكہ مصر اس بچے سے نہايت دل بستگى ركھتى تھى اور اسے اپنى جان كے برابر عزيز ركھتى تھي_
محل كے تمام خدام حركت ميں آگئے اور دربدر كسى دودھ پلانے والى كو تلاش كرنے لگے_مگر يہ عجيب بات تھى كہ وہ كسى كا دودھ پيتا ہى نہ تھا_
____________________
(۱)سورہ قصص آيت۱۱
(۲)سورہ قصص آيت۱۱
(۳)سورہ قصص آيت۱۲
ممكن ہے كہ وہ بچہ ان عورتوں كى صورت ہى سے ڈرتا ہو اور ان كے دودھ كا مزہ(جس سے وہ آشنا نہ تھا) اسے اس كا ذائقہ ناگوار اور تلخ محسوس ہوتا ہو_اس بچے كا طور كچھ اس طرح كا تھا گويا كہ ان (دودھ پلانے والي)عورتوں كى گود سے اچھل كے دورجاگرے در اصل يہ خدا كى طرف سے''تحريم تكويني''تھى كہ اس نے تمام عورتوں كو اس پر حرام كرديا تھا_
بچہ لحظہ بہ لحظہ زيادہ بھوكا اور زيادہ بيتاب ہوتا جاتا تھا_ بار بار رورہا تھا اور اس كى آواز سے فرعون كے محل ميں شور ہورہا تھا_ اور ملكہ كا دل لرز رہا تھا_
خدمت پرمامور لوگوں نے اپنى تلاش كو تيز تر كرديا_ ناگہاں قريب ہى انھيں ايك لڑكى مل جاتى ہے_ وہ ان سے يہ كہتى ہے:ميں ايك ايسے خاندان كو جانتى ہوں جو اس بچے كى كفالت كرسكتا ہے_ وہ لوگ اس كے ساتھ اچھا سلوك كريں گے_
''كيا تم لوگ يہ پسند كروگے كہ ميں تمہيں وہاں لے چلوں ''؟(۱)
ميں بنى اسرائيل ميں سے ايك عورت كو جانتى ہوں جس كى چھاتيوں ميں دودھ ہے اور اس كا دل محبت سے بھرا ہوا ہے_ اس كا ايك بچہ تھا وہ اسے كھو چكى ہے_ وہ ضرور اس بچے كو جو محل ميں پيدا ہوا ہے،دودھ پلانے پر آمادہ ہوجائے گي_
وہ تلاش كرنے والے خدام يہ سن كر خوش ہوگئے اور موسى عليہ السلام كى ماں كو فرعون كے محل ميں لے گئے_ اس بچے نے جونہى اپنى ماں كى خوشبو سونگھى اس كا دودھ پينے لگا_ اور اپنى ماں كا روحانى رس چوس كر اس ميں جان تازہ آگئي_اسكى آنكھوں ميں خوشى كا نور چمكنے لگا_
اس وقت وہ خدام جو ڈھونڈ ڈھونڈ كے تھك گئے تھے_ بہت ہى زيادہ خوش و خرم تھے_ فرعون كى بيوى بھى اس وقت اپنى خوشى كو نہ چھپا سكي_ممكن ہے اس وقت لوگوں نے كہا ہوكہ تو كہاں چلى گئي تھي_ہم تجھے ڈھونڈ ڈھونڈ كے تھك گئے _ تجھ پر اورتيرے شير مشكل كشا پر آفرين ہے_
____________________
(۱)سورہ قصص آيت۱۲
صرف تيرا ہى دودھ كيوں پيا
جس وقت حضرت موسى عليہ السلام ماں كا دودھ پينے لگے،فرعون كے وزير ہامان نے كہا: مجھے لگتا ہے كہ تو ہى اسكى ماں ہے_ بچے نے ان تمام عورتوں ميں سے صرف تيرا ہى دودھ كيوں قبول كرليا؟
ماں نے كہا:اس كى وجہ يہ ہے كہ ميں ايسى عورت ہوں جس كے دودھ ميں سے خوشبو آتى ہے_ ميرا دودھ نہايت شيريں ہے_ اب تك جو بچہ بھى مجھے سپرد كيا گيا ہے_ وہ فوراً ہى ميرا دودھ پينے لگتا ہے_
حاضرين دربار نے اس قول كى صداقت كو تسليم كرليا اور ہر ايك نے حضرت موسى عليہ السلام كى ماں كو گراں بہا ہديے اور تحفے ديے_
ايك حديث جو امام باقر عليہ السلام سے مروى ہے اس ميں منقول ہے كہ:''تين دن سے زيادہ كا عرصہ نہ گزرا تھا كہ خدانے كے بچے كواس كى ماں كے پاس لوٹا ديا''_
بعض اہل دانش كا قول ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كے ليے يہ''تحريم تكويني''(يعنى دوسرى عورتوں كا حرام كيا جانا)اس سبب سے تھاكہ خدا يہ نہيں چاہتا تھا كہ ميرا فرستادہ پيغمبر ايسا دودھ پيئے جو حرام سے آلودہ ہو اور ايسا مال كھاكے بنا ہو جو چوري،نا جائز ذرائع،رشوت اور حق الناس كو غصب كركے حاصل كيا گيا ہو_
خدا كى مشيت يہ تھى كہ حضرت موسى عليہ السلام اپنى صالحہ ماں كے پاك دودھ سے غذا حاصل كريں _تاكہ وہ اہل دنيا كے شر كے خلاف ڈٹ جائيں اور اہل شروفساد سے نبردآزمائي كرسكيں _
''ہم نے اس طرح موسى عليہ السلام كو اس كى ماں كے پاس لوٹا ديا_تاكہ اس كى آنكھيں روشن ہوجائيں اور اس كے دل ميں غم واندوہ باقى نہ رہے اور وہ يہ جان لے كہ خدا كا وعدہ حق ہے_ اگر چہ اكثر لوگ يہ نہيں جانتے''_(۱)
____________________
(۱)سورہ قصص آيت ۱۳
اس مقام پر ايك سوال پيدا ہوتا ہے اور وہ يہ ہے كہ:كيا وابستگان فرعون نے موسى عليہ السلام كو پورے طور سے ماں كے سپرد كرديا تھا كہ وہ اسے گھر لے جائے اور دودھ پلايا كرے اور دوران رضاعت روزانہ يا كبھى كبھى بچے كو محل ميں لايا كرے تا كہ ملكہ مصر اسے ديكھ ليا كرے يا يہ كہ بچہ محل ہى ميں رہتا تھا اور موسى عليہ السلام كى ماں معين اوقات ميں آكر اسے دودھ پلاجاتى تھي؟
مذكورہ بالا دونوں احتمالات كے ليے ہمارے پاس كوئي واضح دليا نہيں ہے_ ليكن احتمال اول زيادہ قرين قياس ہے_
ايك اور سوال يہ ہے كہ:
آيا عرصہ شير خوارگى كے بعد حضرت موسى عليہ السلام فرعون كے محل ميں چلے گئے يا ان كا تعلق اپنى ماں اور خاندان كے ساتھ باقى رہا اور محل سے وہاں آتے جاتے رہے؟
اس مسئلے كے متعلق بعض صاحبان نے يہ كہا ہے كہ شير خوار گى كے بعد آپ كى ماں نے انھيں فرعون اور اس كى بيوى آسيہ كے سپرد كرديا تھا اور حضرت موسى عليہ السلام ان دونوں كے پاس پرورش پاتے رہے_
اس ضمن ميں راويوں نے فرعون كے ساتھ حضرت موسى عليہ السلام كى طفلانہ(مگر با معنى )باتوں كا ذكر كيا ہے كہ اس مقام پر ہم ان كو بعذر طول كلام كے پيش نظر قلم انداز كرتے ہيں _ ليكن فرعون كا يہ جملہ جے اس نے بعثت موسى عليہ السلام كے بعد كہا:
''كيا ہم نے تجھے بچپن ميں پرورش نہيں كيا اور كيا تو برسوں تك ہمارے درميان نہيں رہا''_(۱)
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے كہ جناب موسى عليہ السلام چند سال تك فرعون كے محل ميں رہتے تھے_
على ابن ابراھيم كى تفسير سے استفادہ ہوتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام تازمانہ بلوغ فرعون كے محل ميں نہايت احترام كے ساتھ رہے_مگر ان كى توحيد كے بارے ميں واضح باتيں فرعون كو سخت ناگوار ہوتى تھيں _
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت۱۸
يہاں تك كہ اس نے انھيں قتل كرنے كا ارادہ كرليا_ حضرت موسى عليہ السلام اس خطرے كو بھاپ گئے اوربھاگ كر شہر ميں آگئے_ يہاں وہ اس واقعے سے دوچار ہوئے كہ دو آدمى لڑرہے تھے جن ميں سے ايك قبطى اور ايك سبطى تھا_(۱)
موسى عليہ السلام مظلوموں كے مددگار كے طورپر
اب ہم حضرت موسى عليہ السلام كى نشيب و فراز سے بھرپور زندگى كے تيسرے دور كو ملاحظہ كر تے ہيں _
اس دور ميں ان كے وہ واقعات ہيں جو انھيں دوران بلوغ اور مصر سے مدين كو سفر كرنے سے پہلے پيش آئے اور يہ وہ اسباب ہيں جو ان كى ہجرت كا باعث ہوئے_
''بہر حال حضرت موسى عليہ السلام شہر ميں اس وقت داخل ہوئے جب تمام اہل شہر غافل تھے''_(۲)
يہ واضح نہيں ہے كہ يہ كونسا شہر تھا_ليكن احتمال قوى يہ ہے كہ يہ مصر كا پايہ تخت تھا_ بعض لوگوں كا قول ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كو اس مخالفت كى وجہ سے جو ان ميں فوعون اور اس كے وزراء ميں تھى اور بڑھتى جارہى تھي،مصر كے پايہ تخت سے نكال ديا گيا تھا_ مگر جب لوگ غفلت ميں تھے _ موسى عليہ السلام كو موقع مل گيا اور وہ شہر ميں آگئے_
اس احتمال كى بھى گنجائش ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام فرعون كے محل سے نكل كر شہر ميں آئے ہوں كيونكہ عام طور پر فرعونيوں كے محلات شہر كے ايك كنارے پر ايسى جگہ بنائے جاتے تھے جہاں سے وہ شہر كى طرف آمدورفت كے راستوں كى نگرانى كرسكيں _
____________________
(۱)اس واقعہ كى تفصيل آئندہ آئے گي
(۲)سورہ قصص آيت ۱۸
شہر كے لوگ اپنے مشاغل معمول سے فارغ ہوچكے تھے اور كوئي بھى شہر كى حالت كى طرف متوجہ نہ تھا_ مگر يہ كہ وہ وقت كونسا تھا؟بعض كا خيال ہے كہ''ابتدائے شب''تھي،جب كہ لوگ اپنے كاروبار سے فارغ ہوجاتے ہيں ،ايسے ميں كچھ تو اپنے اپنے گھروں كى راہ ليتے ہيں _كچھ تفريح اور رات كوبيٹھ كے باتيں كرنے لگتے ہيں _
بہر كيف حضرت موسى عليہ السلام شہر ميں آئے اور وہاں ايك ماجرے سے دوچار ہوئے ديكھا :'' دو آدمى آپس ميں بھڑے ہوئے ہيں اور ايك دوسرے كو مار رہے ہيں _ان ميں سے ايك حضرت موسى عليہ السلام كا طرف دار اور ان كا پيرو تھا اور دوسراان كا دشمن تھا''_(۱)
كلمہ ''شيعتہ'' اس امر كا غماز ہے كہ جناب موسى (ع) اور بنى اسرائيل ميں اسى زمانے سے مراسم ہوگئے تھے اور كچھ لوگ ان كے پيرو بھى تھے احتمال يہ ہوتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام اپنے مقلدين اور شيعوں كى روح كو فرعون كى جابرانہ حكومت كے خلاف لڑنے كے لئے بطور ايك مركزى طاقت كے تيار كررہے تھے _
جس وقت بنى اسرائيل كے اس آدمى نے موسى عليہ السلام كو ديكھا:'' تو ان سے اپنے ،دشمن كے مقابلے ميں امداد چاہي''_(۲)
حضرت موسى عليہ السلام اس كى مدد كرنے كےلئے تيار ہوگئے تاكہ اسے اس ظالم دشمن كے ہاتھ سے نجات دلائيں بعض علماء كا خيال ہے كہ وہ قبطى فرعون كا ايك باورچى تھا اور چاہتاتھا كہ اس بنى اسرائيل كو بيكار ميں پكڑكے اس سے لكڑياں اٹھوائے'' حضرت موسى عليہ السلام نے اس فرعونى كے سينے پر ايك مكامارا وہ ايك ہى مكے ميں مرگيا اور زمين پر گر پڑا ''_(۳)
اس ميں شك نہيں كہ حضرت موسى كا اس فرعونى كو جان سے ماردينے كا ارادہ نہ تھا قرآن سے بھى يہ خوب واضح ہوجاتاہے ايسا اس لئے نہ تھا كہ وہ لوگ مستحق قتل نہ تھے بلكہ انھيں ان نتائج كا خيال تھا جو خود حضرت موسى اور بنى اسرائيل كو پيش آسكتے تھے _
____________________
(۱)سورہ قصص آيت ۱۵ (۲)سورہ قصص آيت۱۵ (۳) سورہ قصص آيت۱۵
لہذا حضرت موسى عليہ السلام نے فوراً كہا:'' كہ يہ كام شيطان نے كرايا ہے كيونكہ وہ انسانوں كا دشمن اور واضح گمراہ كرنے والاہے ''_(۱)
اس واقعے كى دوسرى تعبير يہ ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام چاہتے تھے كہ بنى اسرئيلى كا گريبان اس فرعونى كے ہاتھ سے چھڑا ديں ہر چند كہ وابستگان فرعون اس سے زيادہ سخت سلوك كے مستحق تھے ليكن ان حالات ميں ايسا كام كر بيٹھنا قرين مصلحت نہ تھا اور جيسا كہ ہم آگے ديكھيں گے كہ حضرت موسى اسى عمل كے نتيجے ميں پھر مصر ميں نہ ٹھہرسكے اور مدين چلے گئے _
پھر قرآن ميں حضرت موسى عليہ السلام كا يہ قول نقل كيا گيا ہے اس نے كہا:''پروردگار اميں نے اپنے اوپر ظلم كيا تو مجھے معاف كردے ،اور خدا نے اسے بخش ديا كيونكہ وہ غفورو رحيم ہے ''_(۲)
يقينا حضرت موسى عليہ السلام اس معاملے ميں كسى گناہ كے مرتكب نہيں ہوئے بلكہ حقيقت ميں ان سے ترك اولى سرزد ہوا كيونكہ انہيں ايسى بے احتياطى نہيں كرنى چاہيئے تھى جس كے نتيجے ميں وہ زحمت ميں مبتلا ہوں حضرت موسى نے اسى ترك اولى كے لئے خدا سے طلب عفو كيا اور خدا نے بھى انھيں اپنے لطف وعنايت سے بہرہ مند كيا _
حضرت موسى عليہ السلام نے كہا: خداوندا تيرے اس احسان كے شكرانے ميں كہ تونے ميرے قصور كو معاف كرديا اور دشمنوں كے پنجے ميں گرفتار نہ كيا اور ان تمام نعمتوں كے شكريہ ميں جو مجھے ابتداء سے اب تك مرحمت كرتا رہا،ميں عہد كرتا ہوں كہ ہر گز مجرموں كى مدد نہ كروں گا اور ظالموں كا طرف دار نہ ہوں گا ''_(۳)
بلكہ ہميشہ مظلومين اور ستم ديدہ لوگوں كا مددگارر ہوں گا _(۴)
____________________
(۱) سورہ قصص آيت۱۵
(۲)سورہ قصص آيت۱۵
(۳)سورہ قصص آيت ۱۷
(۴)كيا حضرت موسى عليہ السلام كا يہ كا م مقام عصمت كے خلاف نہيں ہے ؟
مفسرين نے ، اس قبطى اور بنى اسرائيل كى باہمى نزاع اور حضرت موسى كے ہاتھ سے مرد قبطى كے مارے جانے كے بارے ميں بڑى طويل بحثيں كى ہيں _
درحقيقت يہ معاملہ كوئي اہم اور بحث طلب تھا ہى نہيں كيونكہ ستم پسند وابستگان فرعون نہايت بے رحم اور مفسد تھے انہوں نے بنى اسرائيل كے ہزاروں بچوں كے سرقلم كيے اور بنى اسرائيل پر كسى قسم كا ظلم كرنے سے بھى دريغ نہ كيا اس جہت سے يہ لوگ اس قابل نہ تھے كہ بنى اسرائيل كےلئے ان كا قتل احترام انسانيت كے خلاف ہو _
البتہ مفسرين كے لئے جس چيزنے دشوارياں پيدا كى ہيں وہ اس واقعے كى وہ مختلف تعبيرات ہيں جو خود حضرت موسى نے كى ہيں چنانچہ وہ ايك جگہ تو يہ كہتے ہيں :
''هذا من عمل الشيطان ''
''يہ شيطانى عمل ہے ''_
اور دوسرى جگہ يہ فرمايا:
''رب انى ظلمت نفسى فاغفرلى ''
''خداياميں نے اپنے نفس پر ظلم كيا تو مجھے معاف فرمادے ''_
جناب موسى عليہ السلام كى يہ دونوں تعبيرات اس مسلمہ حقيقت سے كيونكر مطابقت ركھتى ہيں كہ :
عصمت انبيا ء كا مفہوم يہ ہے كہ انبيا ء ماقبل بعثت اور ما بعد عطائے رسالت ہر دو حالات ميں معصوم ہوتے ہيں '' _
ليكن حضرت موسى عليہ السلام كے اس عمل كى جو توضيح ہم نے آيات فوق كى روشنى ميں پيش كى ہے ، اس سے ثابت ہوتا ہے كہ حضرت موسى سے جو كچھ سرزد ہوا وہ ترك اولى سے زيادہ نہ تھا انھوں نے اس عمل سے اپنے آپ كو زحمت ميں مبتلاكرليا كيونكہ حضرت موسى كے ہاتھ سے ايك قبطى كا قتل ايسى بات نہ تھى كہ وابستگان فرعون اسے آسانى سے برداشت كرليتے_
نيز ہم جانتے ہيں كہ ''ترك اولى ''كے معنى ايسا كام كرنا ہے جو بذات خود حرام نہيں ہے_ بلكہ اس كا مفہوم يہ ہے كہ ''عمل احسن ''ترك ہوگيا بغير اس كے كہ كوئي عمل خلاف حكم الہى سرزد ہوا ہو؟
موسى عليہ السلام كى مخفيانہ مدين كى طرف روانگي
فرعونيوں ميں سے ايك آدمى كے قتل كى خبر شہر ميں بڑى تيزى سے پھيل گئي قرائن سے شايد لوگ يہ سمجھ گئے تھے كہ اس كا قائل ايك بنى اسرائيل ہے اور شايد اس سلسلے ميں لوگ موسى عليہ السلام كا نام بھى ليتے تھے_
البتہ يہ قتل كوئي معمولى بات نہ تھى اسے انقلاب كى ايك چنگارى يا اس كا مقدمہ شمار كيا جاتاتھا اورحكومت كى مشينرى اسے ايك معمولى واقعہ سمجھ كراسے چھوڑنے والى نہ تھى كہ بنى اسرائيل كے غلام اپنے آقائوں كى جان لينے كا ارادہ كرنے لگيں _
لہذا ہم قرآن ميں يہ پڑھتے ہيں كہ'' اس واقعے كے بعد موسى شہر ميں ڈررہے تھے اور ہر لحظہ انہيں كسى حادثے كا كھٹكا تھا اور وہ نئي خبروں كى جستجو ميں تھے ''_(۱)
ناگہاں انہيں ايك معاملہ پيش آيا آپ نے ديكھا كہ وہى بنى اسرائيلى جس نے گزشتہ روز ان سے مدد طلب كى تھى انھيں پھر پكاررہا تھا اور مدد طلب كررہاتھا (وہ ايك اور قبطى سے لڑرہا تھا) _
''ليكن حضرت موسى عليہ السلام نے اس سے كہا كہ تو آشكارا طور پر ايك جاہل اور گمراہ شخص ہے''_(۲)
توہر روز كسى نہ كسى سے جھگڑ پڑتا ہے اور اپنے لئے مصيبت پيدا كرليتا ہے اور ايسے كام شروع كرديتا ہے جن كا ابھى موقع ہى نہيں تھا كل جو كچھ گزرى ہے ميں تو ابھى اس كے عواقب كا انتظار كرہا ہوں اور تونے وہى كام از سر نو شروع كرديا ہے _
بہر حال وہ ايك مظلوم تھا جو ايك ظالم كے پنجے ميں پھنسا ہو تھا ( حواہ ابتداء اس سے كچھ قصور ہوا ہو يانہ ہوا ہو ) اس لئے حضرت موسى كے لئے يہ ضرورى ہوگيا كہ اس كى مدد كريں اور اسے اس قبطى كے رحم وكرم پر نہ چھوڑديں ليكن جيسے ہى حضرت موسى نے يہ اراداہ كيا كہ اس قبطى آدمى كو (جو ان دونوں كا دشمن تھا )پكڑ كر اس بنى اسرائيل سے جدا كريں وہ قبطى چلايا، اس نے كہا :
اے موسى : كيا تو مجھے بھى اسى طرح قتل كرنا چاہتا ہے جس طرح تو نے كل ايك شخص كو قتل كيا تھا''_(۳) ''تيرى حركات سے تو ايسا ظاہر ہوتا ہے كہ تو زمين پر ايك ظالم بن كررہے گا اور يہ نہيں چاہتا كہ مصلحين ميں سے ہو ''_(۴)
____________________
(۱)سورہ قصص آيت۱۵ (۲)سورہ قصص آيت۱۶ (۳)سورہ قصص آيت۱۹ (۴)سورہ قصص آيت ۱۹
اس جملے سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام نے فرعون كے محل اور اس كے باہر ہر دو جگہ اپنے مصلحانہ خيالات كا اظہار شروع كرديا تھا بعض روايات سے يہ بھى معلوم ہوتا ہے كہ اس موضوع پر ان كے فرعون سے اختلافات بھى پيدا ہوگئے تھے اسى لئے تو اس قبطى آدمى نے يہ كہا :
يہ كيسى اصلاح طلبى ہے كہ تو ہر روز ايك آدمى كو قتل كرتاہے ؟
حالانكہ اگر حضرت موسى كا يہ ارادہ ہوتا كہ اس اس ظالم كو بھى قتل كرديں تو يہ بھى راہ اصلاح ميں ايك قدم ہوتا _
بہركيف حضرت موسى كو يہ احساس ہوا كہ گزشتہ روز كا واقعہ طشت ازبام ہوگيا ہے اور اس خوف سے كہ اور زيادہ مشكلات پيدا نہ ہوں ، انھوں نے اس معاملے ميں دخل نہ ديا _
حضرت موسى عليہ السلام كے ليے سزا ئے موت
اس واقعے كى فرعون اور اس كے اہل دربار كو اطلاع پہنچ گئي انھوں نے حضرت موسى سے اس عمل كے مكرر سرزد ہونے كو اپنى شان سلطنت كے لئے ايك تہديد سمجھا _ وہ باہم مشورے كے لئے جمع ہوئے اور حضرت موسى كے قتل كا حكم صادر كرديا _
(جہاں فرعون اور اس كے اہل خانہ رہتے تھے)وہاں سے ايك شخص تيزى كے ساتھ حضرت موسى كے پاس آيا اور انھيں مطلع كيا كہ آپ كو قتل كرنے كا مشورہ ہورہا ہے ، آپ فورا شہرسے نكل جائيں ، ميں آپ كا خير خواہ ہوں _''(۱)
يہ آدمى بظاہر وہى تھا جو بعد ميں ''مومن آل فرعون ''كے نام سے مشہور ہوا ،كہا جاتاہے كہ اس كا نام حزقيل تھا وہ فرعون كے قريبى رشتہ داروں ميں سے تھا اور ان لوگوں سے اس كے ايسے قريبى روابط تھے كہ ايسے مشوروں ميں شريك ہوتا تھا _
____________________
(۱) سورہ قصص آيت ۱۹
اسے فرعون كے جرائم اور اس كى كرتوتوں سے بڑا دكھ ہوتا تھا اور اس انتظار ميں تھا كہ كوئي شخص اس كے خلاف بغاوت كرے اور وہ اس كار خير ميں شريك ہوجائے _
بظاہر وہ حضرت موسى عليہ السلام سے يہ آس لگائے ہوئے تھا اور ان كى پيشانى ميں من جانب اللہ ايك انقلابى ہستى كى علامات ديكھ رہا تھا اسى وجہ سے جيسے ہى اسے يہ احساس ہوا كہ حضرت موسى خطرے ميں ہيں ، نہايت سرعت سے ان كے پاس پہنچا اور انھيں خطرے سے بچاليا _
ہم بعد ميں ديكھيں گے كہ وہ شخص صرف اسى واقعے ميں نہيں ، بلكہ ديگر خطرناك مواقع پر بھى حضرت موسى كے لئے بااعتماد اور ہمدرد ثابت ہواحضرت موسى عليہ السلام نے اس خبر كو قطعى درست سمجھا اور اس ايماندار آدمى كى خيرخواہى كو بہ نگاہ قدر ديكھا اور اس كى نصيحت كے مطابق شہر سے نكل گئے_''اس وقت آپ خوف زدہ تھے اور ہر گھڑى انہيں كسى حادثے كا كھٹكا تھا ''_(۱)
حضرت موسى عليہ السلام نے نہايت خضوع قلب كے ساتھ متوجہ الى اللہ ہوكر اس بلا كو ٹالنے كےلئے اس كے لطف وكرم كى درخواست كى :''اے ميرے پروردگار : تو مجھے اس ظالم قوم سے رہائي بخش ''_(۲)
ميں جانتاہوں كہ وہ ظالم اور بے رحم ہيں ميں تو مظلوموں كى مدافعت كررہاتھا اور ظالموں سے ميرا كچھ تعلق نہ تھا اور جس طرح سے ميں نے اپنى توانائي كے مطابق مظلوموں سے ظالموں كے شركو دور كيا ہے تو بھى اے خدائے بزرگ ظالموں كے شركو مجھ سے دور ركھ _
حضرت موسى عليہ السلام نے پختہ ارادہ كرليا كہ وہ شہرمدين كو چلے جائيں يہ شہر شام كے جنوب اور حجاز كے شمال ميں تھا اور قلم رو مصر اور فراعنہ كى حكومت ميں شامل نہ تھا _
مدين كہاں تھا؟
''مدين '' ايك شہر كانام تھا جس ميں حضرت شعيب اور ان كا قبيلہ رہتا تھا يہ شہر خليج عقبہ كے مشرق ميں
____________________
(۱)سورہ قصص آيت۲۱
(۲)سورہ قصص آيت۲۱
تھا (يعنى حجاز كے شمال اور شامات كے جنوب ميں )وہاں كے باشندے حضرت اسماعيل (ع) كى نسل سے تھے وہ مصر، لبنان اور فلسطين سے تجارت كرتے تھے آج كل اس شہر كانام معان ہے(۱)
نقشے كو غور سے دبكھيں تو معلوم ہوتا ہے كہ اس شہر كا مصر سے كچھ زبادہ فاصلہ نہيں ہے،اسى لئے حضرت موسى عليہ السلام چند روز ميں وہاں پہنچ گئے_
ملك اردن كے جغرافيائي نقشہ ميں ، جنوب غربى شہروں ميں سے ايك شہر'' معان '' نام كا ملتا ہے ، جس كا محل وقوع ہمارے مذكورہ بالا بيان كے مطابق ہے _
ليكن وہ جوان جو محل كے اندار نازو نعم ميں پلا تھا ايك ايسے سفر پر روانہ ہو رہا تھا جيسے كہ سفر اسے كبھى زندگى بھر پيش نہ آيا تھا_
اس كے پاس نہ زادراہ تھا، نہ توشہ سفر، نہ كوئي سوارى ، نہ رفيق راہ اور نہ كوئي راستہ بتانے والا ،ہردم يہ خطرہ لاحق تھا_
كہ حكومت كے اہلكار اس تك پہنچ جائيں اور پكڑكے قتل كرديں اس حالت ميں ظاہر ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كا كيا حال ہوگا _
ليكن حضرت موسى عليہ السلام كے لئے يہ مقدر ہوچكا تھا كہ وہ سختى اور شدت كے دنوں كو پيچھے چھوڑديں اور قصرفرعون انھيں جس جال ميں پھنسانا چاہتا تھا_
اسے توڑكر باہر نكل آئيں اور وہ كمزور اور ستم ديدہ لوگوں كے پاس رہيں ان كے درد وغم كا بہ شدت احساس كريں ور مستكبرين كے خلاف ان كى منفعت كے لئے بحكم الہى قيام فرمائيں _
____________________
(۱) بعض لوگ كلمہ '' مدين '' كا اطلاق اس قوم پر كرتے ہيں جو خليج عقيہ سے كوہ سينا تك سكونت پذير تھى توريت ميں بھى اس قوم كو '' مديان ''كہا گيا ہے _
بعض اہل تحقيق نے اس شہر كى وجہ تسميہ بھى لكھى ہے كہ حضرت ابراہيم (ع) كا ايك بيٹا جس كا نام '' مدين '' تھا اس شہر ميں رہتا تھا_
اس طويل ، بے زادو راحلہ اور بے رفيق ورہنما سفر ميں ايك عظيم سرمايہ ان كے پاس تھا اور وہ تھا ايمان اور توكل برخدا _
''لہذا جب وہ مدين كى طرف چلے تو كہا : خدا سے اميد ہے كہ وہ مجھے راہ راست كى طرف ہدايت كرے گا''_(۱)
ايك نيك عمل نے موسى (ع) پر بھلائيوں كے دروازے كھول ديئے
اس مقام پر ہم اس سرگزشت كے پانچوں حصے پر پہنچ گئے ہيں اور وہ موقع يہ ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام شہرمدين ميں پہنچ گئے ہيں _
يہ جوان پاكباز انسان كئي روز تك تنہا چلتا رہا يہ راستہ وہ تھا جو نہ كبھى اس نے ديكھا تھا نہ اسے طے كيا تھا بعض لوگوں كے قول كے مطابق حضرت موسى عليہ السلام مجبور تھے كہ پابرہنہ راستہ طے كريں ، بيان كيا گيا ہے كہ مسلسل آٹھ روز تك چلتے رہے يہاں تك كہ چلتے چلتے ان كے پائوں ميں چھالے پڑگئے _
جب بھوك لگتى تھى تو جنگل كى گھاس اور درختوں كے پتے كھاليتے تھے ان تمام مشكلات اور زحمات ميں صرف ايك خيال سے ان كے دل كوراحت رہتى تھى كہ انھيں افق ميں شہرمدين كا منظر نظر آنے لگا ان كے دل ميں آسود گى كى ايك لہر اٹھنے لگى وہ شہر كے قريب پہنچے انہوں نے لوگوں كا ايك انبوہ ديكھا وہ فورا سمجھ گئے كہ يہ لوگ چرواہے ہيں كہ جو كنويں كے پاس اپنى بھيڑوں كو پانى پلانے آئے ہيں _
''جب حضرت موسى عليہ السلام كنويں كے قريب آئے تو انھوں نے وہاں بہت سے آميوں كو ديكھا جو كنويں سے پانى بھر كے اپنے چوپايوں كو پلارہے تھے،انھوں نے اس كنويں كے پاس دو عورتوں كو ديكھا كہ وہ اپنى بھيڑوں كو لئے كھڑى تھيں مگر كنويں كے قريب نہيں آتى تھيں ''_(۲)
ان باعفت لڑكيوں كى حالت قابل رحم تھى جو ايك گوشے ميں كھڑى تھيں اور كوئي آدمى بھى ان كے
____________________
(۱) سورہ قصص آيت ۲۲
(۲)سورہ قصص آيت۲۳
ساتھ انصاف نہيں كرتا تھا چرواہے صرف اپنى بھيڑوں كى فكر ميں تھے اور كسى اور كو موقع نہيں ديتے تھے حضرت موسى عليہ السلام نے ان لڑكيوں كى يہ حالت ديكھى تو ان كے نزديك آئے اور پوچھا :
'' تم يہاں كيسے كھڑى ہو''_(۱)
تم آگے كيوں نہيں بڑھتيں اور اپنى بھيڑوں كو پانى كيوں نہيں پلاتيں ؟
حضرت موسى عليہ السلام كے لئے يہ حق كشى ، ظلم وستم ، بے عدالتى اور مظلوموں كے حقوق كى عدم پاسدارى جو انھوں نے شہر مدين ميں ديكھي، قابل برداشت نہ تھى _
مظلوموں كو ظالم سے بچانا ان كى فطرت تھى اسى وجہ سے انھوں نے فرعون كے محل اور اس كى نعمتوں كو ٹھكراديا تھا اور وطن سے بے وطن ہوگئے تھے وہ اپنى اس روش حيات كو ترك نہيں كرسكتے تھے اور ظلم كو ديكھ كر خاموش نہيں رہ سكتے تھے _
لڑكيوں نے حضرت موسى عليہ السلام سے جواب ميں كہا :'' ہم اس وقت تك اپنى بھيڑوں كو پانى نہيں پلاسكتے، جب تك تمام چرواہے اپنے حيوانات كو پانى پلاكر نكل نہ جائيں ''_(۲)
ان لڑكيوں نے اس بات كى وضاحت كے لئے كہ ان باعفت لڑكيوں كے باپ نے انھيں تنہا اس كام كے لئے كيوں بھيج ديا ہے يہ بھى اضافہ كيا كہ ہمارا باپ نہايت ضعيف العمرہے _
نہ تو اس ميں اتنى طاقت ہے كہ بھيڑوں كو پانى پلاسكے اور نہ ہمارا كوئي بھائي ہے جو يہ كام كرلے اس خيال سے كہ كسى پر بارنہ ہوں ہم خود ہى يہ كام كرتے ہيں _
حضرت موسى عليہ السلام كو يہ باتيں سن كر بہت كوفت ہوئي اور دل ميں كہا كہ يہ كيسے بے انصاف لوگ ہيں كہ انھيں صرف اپنى فكر ہے اور كسى مظلوم كى ذرا بھى پرواہ نہيں كرتے _
وہ آگے آئے ،بھارى ڈول اٹھايا اور اسے كنوئيں ميں ڈالا، كہتے ہيں كہ وہ ڈول اتنا بڑا تھا كہ چند
____________________
(۱) سورہ قصص آيت ۲۳
(۲)سورہ قصص آيت ۲۴
آدمى مل كر اسے كھينچ سكتے تھے ليكن حضرت موسى عليہ السلام نے اپنے قوى بازوئوں سے اسے اكيلے ہى كھينچ ليا اور ان دونوں عورتوں كى بھيڑوں كو پانى پلاديا ''_(۱)
بيان كيا جاتاہے كہ جب حضرت موسى عليہ السلام كنويں كے قريب آئے اورلوگوں كو ايك طرف كيا تو ان سے كہا:'' تم كيسے لوگ ہو كہ اپنے سوا كسى اور كى پرواہ ہى نہيں كرتے ''_
يہ سن كر لوگ ايك طرف ہٹ گئے اور ڈول حضرت موسى كے حوالے كركے بولے :
'' ليجئے، بسم اللہ، اگرآپ پانى كھينچ سكتے ہيں ،انھوں نے حضرت موسى عليہ السلام كو تنہاچھوڑ ديا،ليكن حضرت موسى عليہ السلام اس وقت اگرچہ تھكے ہوئے تھے،اور انھيں بھوك لگ رہى تھى مگر قوت ايمانى ان كى مدد گار ہوئي ، جس نے ان كى جسمانى قوت ميں اضافہ كرديا اور كنويں سے ايك ہى ڈول كھينچ كر ان دنوں عورتوں كى بھيڑوں كو پانى پلاديا _
اس كے بعد حضرت موسى عليہ السلام سائے ميں آبيٹھے اور بارگاہ ايزدى ميں عرض كرنے لگے :'' خداوند اتو مجھے جو بھى خيراور نيكى بخشے ، ميں اس كا محتاج ہوں ''_(۲)
حضرت موسى عليہ السلام ( اس وقت ) تھكے ہوئے اور بھوكے تھے اس شہر ميں اجنبى اور تنہاتھے اور ان كے ليے كو ئي سرچھپانے كى جگہ بھى نہ تھى مگر پھر بھى وہ بے قرار نہ تھے آپ كا نفس ايسا مطمئن تھا كہ دعا كے وقت بھى يہ نہيں كہا كہ'' خدايا تو ميرے ليے ايسا ياويسا كر'' بلكہ يہ كہا كہ : تو جو خير بھى مجھے بخشے ميں اس كا محتاج ہوں '' _
يعنى صرف اپنى احتياج اور نياز كو عرض كرتے ہيں اور باقى امور الطاف خداوندى پر چھوڑديتے ہيں _
ليكن ديكھو كہ كار خير كيا قدرت نمائي كرتا ہے اور اس ميں كتنى عجيب بركات ہيں صرف ''لوجہ اللہ'' ايك قدم اٹھانے اور ايك نا آشنا مظلوم كى حمايت ميں كنويں سے پانى كے ايك ڈول كھيچنے سے حضرت موسى كي
____________________
(۱) سورہ قصص آيت۲۴
(۲) سورہ قصص آيت ۲۴
زندگى ميں ايك نياباب كھل گيا اور يہ عمل خيران كے ليے بركات مادى اور روحانى دنيا بطور تحفہ لايا اور وہ ناپيدا نعمت (جس كے حصول كےلئے انھيں برسوں كوشش كرنا پڑتى ) اللہ نے انھيں بخش دى حضرت موسى عليہ السلام كے لئے خوش نصيبى كا دور اس وقت شروع ہوا جب انھوں نے يہ ديكھا كہ ان دونوں بہنوں ميں سے ايك نہايت حياسے قدم اٹھاتى ہوئي آرہى ہے اس كى وضع سے ظاہر تھا كہ اسكوايك جوان سے باتيں كرتے ہوئے شرم آتى ہے وہ لڑكى حضرت موسى عليہ السلام كے قريب آئي اور صرف ايك جمكہ كہا : ميرے والد صاحب آپ كو بلاتے ہيں تاكہ آپ نے ہمارى بكريوں كے لئے كنويں سے جو پانى كھينچا تھا ، اس كا معاوضہ ديں ''_(۱)
يہ سن كر حضرت موسى عليہ السلام كے دل ميں اميد كى بجلى چمكى گوياانھيں يہ احساس ہوا كہ ان كے لئے ايك عظيم خوش نصيبى كے اسباب فراہم ہورہے ہيں وہ ايك بزرگ انسان سے مليں گے وہ ايك ايسا حق شناس انسان معلوم ہوتا ہے جو يہ بات پسند نہيں كرتا كہ انسان كى كسى زحمت كا، يہاں تك كہ پانى كے ايك ڈول كھيچنے كا بھى معاوضہ نہ دے يہ ضرور كوئي ملكوتى اور الہى انسان ہوگا يا اللہ يہ كيسا عجيب اور نادر موقع ہے ؟
بيشك وہ پير مرد حضرت شعيب(ع) پيغمبر تھے انہوں نے برسوں تك اس شہر كے لوگوں كو'' رجوع الى اللہ''كى دعوت دى تھى وہ حق پرستى اور حق شناسى كا نمونہ تھے _
جب انھيں كل واقعے كا علم ہوا تو انھوں نے تہيہ كرليا كہ اس اجنبى جوان كو اپنے دين كى تبليغ كريں گے _
حضرت موسى (ع) جناب شعيب(ع) كے گھر ميں
چنانچہ حضرت موسى عليہ السلام اس جگہ سے حضرت شعيب كے مكان كى طرف روانہ ہوئے _
بعض روايات كے مطابق وہ لڑكى رہنمائي كے لئے ان كے آگے چل رہى تھى اور حضرت موسى عليہ السلام اس كے پيچھے چل رہے تھے اس وقت تيز ہوا سے اس لڑكى كا لباس اڑرہا تھا اور ممكن تھا كہ ہوا كى تيزي
____________________
(۱) سورہ قصص آيت ۲۵
لباس كو اس كے جسم سے اٹھادے حضرت موسى (ع) كى پاكيزہ طبيعت اس منظر كو ديكھنے كى اجازت نہيں ديتى تھي،اس لڑكى سے كہا:ميں آگے آگے چلتا ہوں ،تم راستہ بتاتے رہنا_
جب جناب موسى عليہ السلام حضرت شعيب عليہ السلام كے گھر پہنچ گئے ايسا گھر جس سے نور نبوت ساطع تھا اور اس كے ہر گوشے سے روحانيت نماياں تھى انھوں نے ديكھا كہ ايك پير مرد، جس كے بال سفيد ہيں ايك گوشے ميں بيٹھا ہے اس نے حضرت موسى عليہ السلام كو خوش آمديد كہا اور پوچھا:
'' تم كون ہو ؟ كہاں سے آرہے ہو ؟ كيا مشغلہ ہے ؟ اس شہر ميں كيا كرتے ہو ؟ اور آنے كا مقصد كيا ہے ؟ تنہا كيوں ہو ؟
حضرت موسى عليہ السلام نے حضرت شعيب عليہ السلام كے پاس پہنچے اور انھيں اپنى سرگزشت سنائي تو حضرت شعيب عليہ السلام نے كہا مت ڈرو، تمہيں ظالموں كے گروہ سے نجات مل گئي ہے _''(۱)
ہمارى سرزمين ان كى حدود سلطنت سے باہر ہے يہاں ان كا كوئي اختيار نہيں چلتا اپنے دل ميں ذرہ بھر پريشانى كو جگہ نہ دينا تم امن وامان سے پہنچ گئے ہو مسافرت اور تنہائي كا بھى غم نہ كرو يہ تمام مشكلات خدا كے كرم سے دور ہوجائيں گى _ حضرت مو سى عليہ السلام فورا ًسمجھ گئے كہ انھيں ايك عالى مرتبہ استاد مل گيا ہے، جس كے وجود سے روحانيت ، تقوى ، معرفت اور زلال عظيم كے چشمے پھوٹ رہے ہيں اور يہ استاد ان كى تشنگى تحصيل علم ومعرفت كو سيراب كرسكتا ہے _
حضرت شعيب عليہ السلام نے بھى يہ سمجھ ليا كہ انھيں ايك لائق اور مستعد شاگرد مل گيا ہے، جسے وہ اپنے علم ودانش اور زندگى بھر كے تجربات سے فيض ياب كرسكتے ہيں _
يہ مسلم ہے كہ ايك شاگرد كو ايك بزرگ اور قابل استاد پاكر جتنى مسرت ہوتى ہے استاد كو بھى ايك لائق شاگرد پاكر اتنى ہى خوشى ہوتى ہے_
____________________
(۱) سورہ قصص آيت ۲۵
جناب موسى عليہ السلام حضرت شعيب (ع) كے داماد بن گئے
اب حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے چھٹے دور كا ذكر شروع ہوتا ہے حضرت موسى عليہ السلام جناب شعيب عليہ السلام كے گھر آگئے يہ ايك سادہ ساديہاتى مكان تھا، مكان صاف ستھرا تھا اور روحانيت سے معمور تھا جب حضرت موسى عليہ السلام نے جناب شعيب عليہ السلام كو اپنى سرگزشت سنائي تو ان كى ايك لڑكى نے ايك مختصر مگر پر معنى عبارت ميں اپنے والد كے سامنے يہ تجويز پيش كى كہ موسى عليہ السلام كو بھيڑوں كى حفاظت كے لئے ملازم ركھ ليں وہ الفاظ يہ تھے :
اے بابا : آپ اس جوان كو ملازم ركھ ليں كيونكہ ايك بہترين آدمى جسے آپ ملازم ركھ سكتے ہيں وہ ايسا ہونا چاہئے جو قوى اور امين ہو اور اس نے اپنى طاقت اور نيك خصلت دونوں كا امتحان دے ديا ہے'' _(۱)
جس لڑكى نے ايك پيغمبر كے زيرسايہ تربيت پائي ہوا سے ايسى ہى مو دبانہ اور سوچى سمجھى بات كہنى چاہئے نيز چاہئے كہ مختصر الفاظ اور تھوڑى سى عبارت ميں اپنا مطلب ادا كردے _
اس لڑكى كو كيسے معلوم تھا كہ يہ جوان طاقتور بھى ہے اور نيك خصلت بھى كيونكہ اس نے پہلى باركنويں پر ہى اسے ديكھا تھا اور اس كى گزشتہ زندگى كے حالات سے وہ بے خبر تھي؟
اس سوال كا جواب واضح ہے اس لڑكى نے اس جوان كى قوت كو تو اسى وقت سمجھ ليا تھا جب اس نے ان مظلوم لڑكيوں كا حق دلانے كے لئے چرواہوں كو كنويں سے ايك طرف ہٹايا تھا اور اس بھارى ڈول كو اكيلے ہى كنويں سے كھينچ ليا تھا اور اس كى امانت اور نيك چلنى اس وقت معلوم ہوگئي تھى كہ حضرت شعيب عليہ السلام كے گھر كى راہ ميں اس نے يہ گوارا نہ كيا كہ ايك جوان لڑكى اس كے آگے آگے چلے كيونكہ ممكن تھا كہ تيز ہوا سے اس كا لباس جسم سے ہٹ جائے _
علاوہ بريں اس نوجوان نے اپنى جو سرگزشت سنائي تھى اس كے ضمن ميں قبطيوں سے لڑائي كے ذكر
____________________
(۱)سورہ قصص ايت ۲۶
ميں اس كى قوت كا حال معلوم ہوگيا تھا اور اس امانت وديانت كى يہ شہادت كافى تھى كہ اس نے ظالموں كى ہم نوائي نہ كى اور ان كى ستم رانى پر اظہار رضا مندى نہ كيا _
حضرت شعيب عليہ السلام نے اپنى بيٹى كى تجويز كو قبول كرليا انھوں نے موسى (ع) كى طرف رخ كركے يوں كہا :''ميرا ارادہ ہے كہ اپنى ان دولڑكيوں ميں سے ايك كا تيرے ساتھ نكاح كردوں ، اس شرط كے ساتھ كہ تو آٹھ سال تك ميرى خدمت كرے ''_(۱)
اس كے بعد يہ اضافہ كيا:'' اگر تو آٹھ سال كى بجائے يہ خدمت دس سال كردے تو يہ تيرا احسان ہوگا مگر تجھ پر واجب نہيں ہے :''(۲)
بہرحال ميں يہ نہيں چاہتا كہ تم سے كوئي مشكل كام لوں انشاء اللہ تم جلد ديكھو گے كہ ميں صالحين ميں سے ہوں ، اپنے عہدوپيمان ميں وفادار ہوں تيرے ساتھ ہرگز سخت گيرى نہ كروں گا اور تيرے ساتھ خيراور نيكى كا سلوك كروں گا _(۳)
حضرت موسى عليہ السلام نے اس تجويزاور شرط سے موافقت كرتے ہوئے اور عقد كو قبول كرتے ہوئے كہا : '' ميرے اور آپ كے درميان يہ عہد ہے '' _ البتہ'' ان دومدتوں ميں سے (آٹھ سال يا دس سال ) جس مدت تك بھى خدمت كروں ، مجھ پر كوئي زيادتى نہ ہوگى اور ميں اس كے انتخاب ميں آزاد ہوں ''_(۴)
عہد كو پختہ اور خدا كے نام سے طلب مدد كے لئے يہ اضافہ كيا : ''جو كچھ ہم كہتے ہيں خدا اس پر شاہد ہے ''_(۵)
اوراس اسانى سے موسى عليہ السلام داماد شعيب(ع) بن گئے حضرت شعيب عليہ السلام كى لڑكيوں كا نام '' صفورہ ''( يا صفورا ) اور '' ليا ''بتايا جاتاہے حضرت موسى عليہ السلام كى شادى '' صفورہ '' سے ہوئي تھى _
____________________
(۱) سورہ قصص آيت ۲۷
(۲)سورہ قصص آيت ۲۷
(۳)سورہ قصص آيت ۲۷
(۴) سورہ قصص آيت ۲۸
(۵)سورہ قصص آيت ۲۸
حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے بہترين ايام
كوئي آدمى بھى حقيقتاً يہ نہيں جانتا كہ ان دس سال ميں حضرت موسى عليہ السلام پر كيا گزرى ليكن بلاشك يہ دس سال حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے بہترين سال تھے يہ سال دلچسپ، شيريں اور آرام بخش تھے نيز يہ دس سال ايك منصب عظيم كى ذمہ دارى كے لئے تربيت اور تيارى كے تھے _
درحقيقت اس كى ضرورت بھى تھى كہ موسى عليہ السلام دس سال كا عرصہ عالم مسافرت اور ايك بزرگ پيغمبر كى صحبت ميں بسر كريں اور چرواہے كاكام كريں تاكہ ان كے دل ودماغ سے محلول كى ناز پروردہ زندگى كا اثر بالكل محوہوجائے حضرت موسى كو اتنا عرصہ جھونپڑيوں ميں رہنے والوں كے ساتھ گزارنا ضرورى تھا تاكہ ان كى تكاليف اور مشكلات سے آگاہ ہوجائے اور ساكنان محلول كے ساتھ جنگ كرنے كے لئے آمادہ ہوجائيں _
ايك اور بات يہ بھى ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كو اسرار آفرينش ميں غور كرنے اور اپنى شخصيت كى تكميل كے لئے بھى ايك طويل وقت كى ضرورت تھى اس مقصد كے لئے بيابان مدين اور خانہ شعيب سے بہتر اور كو نسى جگہ ہوسكتى تھى _
ايك اولوالعزم پيغمبر كى بعثت كوئي معمولى بات نہيں ہے كہ يہ مقام كسى كو نہايت آسانى سے نصيب ہوجائے بلكہ يہ كہہ سكتے ہيں كہ پيغمبر اسلام (ص) كے بعد تمام پيغمبروں ميں سے حضرت موسى عليہ السلام كى ذمہ دارى ايك لحاظ سے سب سے زيادہ اہم تھى اس لئے كہ :
روئے زمين كے ظالم ترين لوگوں سے مقابلہ كرنا، ايك كثير الا فراد قوم كى مدت اسيرى كو ختم كرنا _
اور ان كے اندر سے ايام اسيرى ميں پيدا ہوجانے والے نقائص كو محو كرنا كوئي آسان كام نہيں ہے _
حضرت شعيب عليہ السلام نے موسى عليہ السلام كى مخلصانہ خدمات كى قدر شناسى كے طور پر يہ طے كرليا تھا كہ بھيڑوں كے جو بچے ايك خاص علامت كے ساتھ پيداہوں گے، وہ موسى عليہ السلام كو ديديں گے،اتفاقاًمدت مو عود كے آخرى سال ميں جبكہ موسى عليہ السلام حضرت شعيب عليہ السلام سے رخصت ہو كر
مصر كو جانا چاہتے تھے تو تمام يا زيادہ تر بچے اسى علامت كے پيدا ہوئے اور حضرت شعيب عليہ السلام نے بھى انھيں بڑى محبت سے موسى عليہ السلام كو دےديا _
يہ امر بديہى ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام اپنى سارى زندگى چرواہے بنے رہنے پر قناعت نہيں كرسكتے تھے ہر چند ان كے لئے حضرت شعيب عليہ السلام كے پاس رہنا بہت ہى غنيمت تھا مگر وہ اپنا يہ فرض سمجھتے تھے كہ اپنى اس قوم كى مدد كے لئے جائيں جو غلامى كى زنجيروں ميں گرفتارہے اور جہالت نادانى اور بے خبرى ميں غرق ہے _
حضرت موسى عليہ السلام اپنا يہ فرض بھى سمجھتے تھے كہ مصر ميں جو ظلم كا بازار گرم ہے اسے سرد كريں ،طاغوتوں كو ذليل كريں اور توفيق الہى سے مظلوموں كو عزت بخشيں ان كے قلب ميں يہى احساس تھا جو انھيں مصر جانے پر آمادہ كررہا تھا _
آخركار انھوں نے اپنے اہل خانہ، سامان واسباب اور اپنى بھيڑوں كو ساتھ ليا اوراس وقت موسى عليہ السلام كے ساتھ ان كى زوجہ كے علاوہ ان كا لڑكا يا كوئي اور اولاد بھى تھي، اسلامى روايات سے بھى اس كى تائيد ہوتى ہے تو ريت كے '' سفر خروج '' ميں بھى ذكر مفصل موجود ہے علاوہ ازيں اس وقت ان كى زوجہ اميد سے تھى _
وحى كى تابش اول
جب حضرت موسى عليہ السلام مدين سے مصر كو جارہے تھے تو راستہ بھول گئے يا غالبا ًشام كے ڈاكوئوں كے ہاتھ ميں گرفتار ہوجانے كے خوف سے بوجہ احتياط رائج راستے كو چھوڑكے سفر كررہے تھے _
بہركيف قرآن شريف ميں يہ بيان اس طور سے ہے كہ :''جب موسى عليہ السلام اپنى مدت كو ختم كرچكے اور اپنے خاندان كو ساتھ لے كر سفر پر روانہ ہوگئے تو انھيں طور كى جانب سے شعلہ آتش نظر آيا _
حضرت موسى عليہ السلام نے اپنے اہل خاندان سے كہا :'' تم يہيں ٹھہرو'' مجھے آگ نظر آئي ہے ميں
جاتاہوں شايد تمہارے لئے وہاں سے كوئي خبرلائوں يا آگ كا ايك انگارالے آئوں تاكہ تم اس سے گرم ہوجائو''_(۱)
''خبر لائوں '' سے يہ معلوم ہوتا ہے كہ وہ راستہ بھول گئے تھے اور ''گرم ہوجائو''يہ اشارہ كررہاہے كہ سرد اور تكليف دہ رات تھى _
قرآن ميں حضرت موسى عليہ السلام كى زوجہ كى حالت كا كوئي ذكر نہيں ہے مگر تفاسير اور روايات ميں مذكورہے كہ وہ اميد سے تھيں اور انہيں دروازہ ہورہا تھا اس لئے موسى عليہ السلام پريشان تھے _
حضرت موسى عليہ السلام جس وقت آگ كى تلاش ميں نكلے تو انھوں نے ديكھا كہ آگ تو ہے مگر معمول جيسى آگ نہيں ہے، بلكہ حرارت اور سوزش سے خالى ہے وہ نور اور تابندگى كا ايك ٹكڑا معلوم ہوتى تھى ،حضرت موسى عليہ السلام اس منظر سے نہايت حيران تھے كہ ناگہاں اس بلندو پُر بركت سرزمين ميں وادى كے دا ھنى جانب سے ايك درخت ميں سے آواز آئي: ''اے موسى ميں اللہ رب العالمين ہوں ''_(۲)
اس ميں شك نہيں كہ يہ خدا كے اختيار ميں ہے كہ جس چيز ميں چاہے قوت كلام پيدا كردے يہاں اللہ نے درخت ميں يہ استعداد پيدا كردى كيونكہ اللہ موسى عليہ السلام سے باتيں كرنا چاہتا تھا ظاہر ہے كہ موسى عليہ السلام گوشت پوست كے انسان تھے، كان ركھتے تھے اور سننے كے لئے انہيں امواج صوت كى ضروت تھى البتہ انبياء عليہم السلام پر اكثر يہ حالت بھى گزرى ہے كہ وہ بطور الہام درونى پيغام الہى كو حاصل كرتے رہے ہيں ،اسى طرح كبھى انھيں خواب ميں بھى ہدايت ہوتى رہى ہے مگر كبھى وہ وحى كو بصورت صدا بھى سنتے رہے ہيں ، بہر كيف حضرت موسى عليہ السلام نے جو آواز سنى اس سے ہم ہرگز يہ نتيجہ نہيں نكال سكتے كہ خدا جسم ركھتا ہے _
اے موسى جوتى اتاردو
موسى عليہ السلام جب آگ كے پاس گئے اور غور كيا توديكھا كہ درخت كى سبز شاخوں ميں آگ
____________________
(۱)سورہ قصص ايت۲۹
(۲)سورہ قصص آيت ۳۰
چمك رہى ہے اور لحظہ بہ لحظہ اس كى تابش اور درخشندگى بڑھتى جاتى ہے جو عصا ان كے ہاتھ ميں تھا اس كے سہارے جھكے تاكہ اس ميں سے تھوڑى سى آگ لے ليں تو آگ موسى عليہ السلام كى طرف بڑھى موسى عليہ السلام ڈرے اور پيچھے ہٹ گئے اس وقت حالت يہ تھى كہ كبھى موسى عليہ السلام آگ كى طرف بڑھتے تھے اور كبھى آگ ان كى طرف، اسى كشمكش ميں ناگہاں ايك صدا بلند ہوئي ،اور انھيں وحى كى بشارت دى گئي _
اس طرح ناقابل انكار قرائن سے حضرت موسى عليہ السلام كو يقين ہوگيا كہ يہ آواز خدا ہى كى ہے، كسى غير كى نہيں ہے _
''ميں تيرا پروردگار ہوں ، اپنے جوتے اتاردے كيونكہ تو مقدس سرزمين ''طوى ''ميں ہے ''_(۱)
موسى عليہ السلام كو اس مقدس سرزمين كے احترام كا حكم ديا گيا كہ اپنے پائوں سے جوتے اتاردے اور اس وادى ميں نہايت عجزوانكسارى كے ساتھ قدم ركھے حق كو سنے اور فرمان رسالت حاصل كرے _
موسى عليہ السلام نے يہ آوازكہ '' ميں تيرا پروردگار ہوں '' سنى تو حيران رہ گئے اور ايك ناقابل بيان پر كيف حالت ان پر طارى ہوگئي، يہ كون ہے ؟ جو مجھ سے باتيں كررہا ہے ؟ يہ ميرا پروردگارہے، كہ جس نے لفظ'' ربك '' كے ساتھ مجھے افتخار بخشا ہے تاكہ يہ ميرے لئے اس بات كى نشاندہى كرے كہ ميں نے آغاز بچپن سے لے كر اب تك اس كى آغوش رحمت ميں پرورش پائي ہے اور ايك عظيم رسالت كے لئے تياركيا گيا ہوں _''
حكم ملاكہ پائوں سے اپنا جوتا اتار دو، كيونكہ تو نے مقدس سرزمين ميں قدم ركھا ہے وہ سرزمين كہ جس ميں نور الہى جلوہ گرہے ، وہاں خدا كا پيغام سننا ہے ، اور رسالت كى ذمہ دارى كو قبول كرنا ہے، لہذا انتہائي خضوع اور انكسارى كے ساتھ اس سرزمين ميں قدم ركھو ،يہ ہے دليل پائوں سے جوتا اتارنے كى _
ايك حديث ميں امام صادق عليہ السلام سے ،حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے اس واقعہ سے
____________________
(۱) سورہ طہ آيت ۱۲
متعلق ايك عمدہ مطلب نقل ہوا ہے ،آپ فرماتے ہيں :
جن چيزوں كى تمہيں اميد نہيں ہے ان كى ان چيزوں سے بھى زيادہ اميد ركھو كہ جن كى تمہيں اميد ہے كيونكہ موسى بن عمران ايك چنگارى لينے كے لئے گئے تھے ليكن عہدہ نبوت ورسالت كے ساتھ واپس پلٹے يہ اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ اكثر ايسا ہوتا ہے كہ انسان كسى چيز كى اميد ركھتا ہے مگر وہ اسے حاصل نہيں ہوتى ليكن بہت سى اہم ترين چيزيں جن كى اسے كوئي اميد نہيں ہوتى لطف پروردگار سے اسے مل جاتى ہيں _
موسى عليہ السلام كا عصا اور يد بيضا
اس ميں شك نہيں كہ انبياء عليہم السلام كو اپنے خدا كے ساتھ ربط ثابت كرنے كے لئے معجزے كى ضرورت ہے ، ورنہ ہر شخص پيغمبر ى كا دعوى كرسكتا ہے اس بناء پر سچے انبياء عليہم السلام كا جھوٹوں سے امتياز معجزے كے علاوہ نہيں ہوسكتا، يہ معجزہ خود پيغمبر كى دعوت كے مطالب اور آسمانى كتاب كے اندر بھى ہوسكتا ہے اور حسى اور جسمانى قسم كے معجزات اوردوسرے امور ميں بھى ہوسكتے ہيں علاوہ ازيں معجزہ خود پيغمبر كى روح پر بھى اثرانداز ہوتا ہے اور وہ اسے قوت قلب، قدرت ايمان اور استقامت بخشتا ہے _
بہرحال حضرت موسى عليہ السلام كو فرمان نبوت ملنے كے بعد اس كى سند بھى ملنى چاہئے، لہذا اسى پُر خطر رات ميں جناب موسى عليہ السلام نے دو عظيم معجزے خدا سے حاصل كئے _
قرآن اس ماجرے كو اس طرح بيان كرتا ہے :
''خدا نے موسى سے سوال كيا : اے موسى يہ تيرے دائيں ہاتھ ميں كيا ہے ''؟_(۱)
اس سادہ سے سوال ،ميں لطف ومحبت كى چاشنى تھى ، فطرتاً موسى عليہ السلام، كى روح ميں اس وقت طوفانى لہريں موجزن تھيں ايسے ميں يہ سوال اطمينان قلب كے لئے بھى تھا اورايك عظيم حقيقت كو بيان كرنے كى تمہيد بھى تھا _''موسى عليہ السلام نے جواب ميں كہا: يہ لكڑى ميرا عصا ہے ''_(۲)
____________________
(۱)سورہ طہ آيت ۱۷
(۲)سورہ طہ آيت ۱۸
اور چونكہ محبوب نے ان كے سامنے پہلى مرتبہ يوں اپنا دروازہ كھولا تھا لہذا وہ اپنے محبوب سے باتيں جارى ركھنا اور انہيں طول دينا چاہتے تھے اور اس وجہ سے بھى كہ شايد وہ يہ سوچ رہے تھے كہ ميرا صرف يہ كہنا كہ يہ ميرا عصا ہے، كافى نہ ہو بلكہ اس سوال كا مقصد اس عصا كے آثار و فوائد كو بيان كرنا مقصودہو، لہذا مزيد كہا : ''ميں اس پرٹيك لگاتاہوں ، اور اس سے اپنى بھيڑوں كے لئے درختوں سے پتے جھاڑتا ہوں ،اس كے علاوہ اس سے دوسرے كام بھى ليتا ہوں ''_(۱)
البتہ يہ بات واضح اور ظاہر ہے كہ عصا سے كون كون سے كام ليتے ہيں كبھى اس سے موذى جانوروں اور دشمنوں كا مقابلہ كرنے كے لئے ايك دفاعي، ہتھيار كے طور پر كام ليتے ہيں كبھى اس كے ذريعے بيابان ميں سائبان بنا ليتے ہيں ، كبھى اس كے ساتھ برتن باندھ كر گہرى نہرسے پانى نكالتے ہيں _
بہرحال حضرت موسى عليہ السلام ايك گہرے تعجب ميں تھے كہ اس عظيم بارگاہ سے يہ كس قسم كا سوال ہے اور ميرے پاس اس كا كيا جواب ہے ، پہلے جو فرمان ديئےئے تھے وہ كيا تھے ، اور يہ پرسش كس لئے ہے ؟
موسى سے كہا گيا كہ : اپنے عصا كو زمين پرڈال دو '' چنانچہ موسى عليہ السلام نے عصا كو پھينك ديا اب كيا ديكھتے ہيں كہ وہ عصا سانپ كى طرح تيزى سے حركت كررہا ہے يہ ديكھ كر موسى عليہ السلام ڈرے اور پيچھے ہٹ گئے يہاں تك كہ مڑكے بھى نہ ديكھا '' _(۲)
جس دن حضرت موسى عليہ السلام نے يہ عصا ليا تھا تاكہ تھكن كے وقت اس كا سہارا لے ليا كريں ،اور بھيڑوں كے لئے اس سے پتے جھاڑليا كريں ، انھيں يہ خيال بھى نہ تھا كہ قدرت خدا سے اس ميں يہ خاصيت بھى چھپى ہوئي ہوگى اور يہ بھيڑوں كو چرانے كى لاٹھى ظالموں كے محل كو ہلادے گى _
موجودات عالم كا يہى حال ہے كہ وہ بعض اوقات ہمارى نظر ميں بہت حقير معلوم ہوتى ہيں مگرا ن ميں بڑى بڑى استعداد چھپى ہوتى ہے جو كسى وقت خدا كے حكم سے ظاہر ہوتى ہے _
____________________
(۱)سورہ طہ آيت۱۸
(۲) سورہ قصص آيت ۳۱
اب موسى عليہ السلام نے دوبارہ آواز سنى جو ان سے كہہ رہى تھى :'' واپس آ اور نہ ڈر توامان ميں ہے''_(۱)(۲)
بہرحال حضرت موسى عليہ السلام پر يہ حقيقت آشكار ہوگئي كہ درگاہ رب العزت ميں مطلق امن وامان ہے اور كسى قسم كے خوف وخطر كا مقام نہيں ہے_
انذار و بشارت
حضرت موسى عليہ السلام كو جو معجزات عطا كئے گئے ان ميں سے پہلا معجزہ خوف كى علامت پر مشتمل تھا اس كے بعد موسى كو حكم ديا گيا كہ اب ايك دوسرا معجزہ حاصل كرو جو نورواميد كى علامت ہوگا اور يہ دونوں معجزہ گويا ''انذار اوربشارت'' تھے_
موسى عليہ السلام كو حكم ديا گيا كہ'' اپنا ہاتھ اپنے گريبان ميں ڈالو اور باہر نكا،لو موسى عليہ السلام نے جب گريبان ميں سے ہاتھ باہر نكالا تو وہ سفيد تھا اور چمك رہا تھا اور اس ميں كوئي عيب اور نقص نہ تھا ''_(۳)
حضرت موسى عليہ السلام كے ہاتھ ميں يہ سفيدى اور چمك كسى بيمارى (مثلا ''برص يا كوئي اس جيسى چيز) كى وجہ سے نہ تھى بلكہ يہ نور الہى تھا جو بالكل ايك نئي قسم كا تھا_
جب حضرت موسى عليہ السلام نے اس سنسان كو ہسار اور اس تاريك رات ميں يہ دوخارق عادت
____________________
(۱)سورہ قصص آيت۳۱
(۲) البتہ قرآن كى بعض دوسرى آيات ميں '' ثعبان مبين'' (واضح ادھا) بھى كہا گيا ہے _(اعراف ۱۰۷ شعراء ۳۲)
ہم نے قبل ازيں كہا ہے كہ اس سانپ كے لئے جو يہ دوالفاظ استعمال ہوئے ہيں ممكن ہے اس كى دو مختلف حالتوں كے لئے ہوں كہ ابتدا ميں وہ چھوٹا سا ہو اور پھر ايك بڑا ادھا بن گيا ہو اس مقام پر يہ احتمال بھى ہوسكتا ہے كہ موسى نے جب واوي طور ميں اسے پہلى بار ديكھا تو چھوٹا سا سانپ تھا، رفتہ رفتہ وہ بڑا ہوگيا _
(۳)سورہ قصص آيت۳۱
اور خلاف معمول چيزيں ديكھيں تو ان پر لرزہ طارى ہوگيا، چنانچہ اس لئے كہ ان كا اطمينان قلب واپس اجائے انھيں حكم ديا گيا كہ'' اپنے سينے پر اپنا ہاتھ پھريں تاكہ دل كو راحت ہوجائے ''_(۱)
اس كے بعد موسى عليہ السلام نے پھروہى صدا سنى جو كہہ رہى تھى :'' خدا كى طرف سے تجھے يہ دودليليں فرعون اور اس كے ساتھيوں كے مقابلے كے لئے دى جارى ہيں كيونكہ وہ سب لوگ فاسق تھے اور ہيں ''_(۲)
جى ہاں يہ لوگ خدا كى طاعت سے نكل گئے ہيں اور سركشى كى انتہا تك جاپہنچے ہيں تمہارا فرض ہے كہ انھيں نصيحت كرو اور راہ راست كى تبلغ كرو اور اگر وہ تمہارى بات نہ مانيں تو ان سے جنگ كرو_
كاميابى كے اسباب كى درخواست
موسى عليہ السلام اس قسم كى سنگين مامورريت پر نہ صرف گھبرائے نہيں ،بلكہ معمولى سى تخفيف كےلئے بھى خدا سے درخواست نہ كي، اور كھلے دل سے اس كا استقبال كيا ،زيادہ سے زيادہ اس ماموريت كے سلسلے ميں كاميابى كے وسائل كى خدا سے درخواست كى اور چونكہ كاميابى كا پلااور ذريعہ، عظيم روح، فكر بلند اور عقل توانا ہے، اور دوسرے لفظوں ميں سينہ كى كشاد گى وشرح صدر ہے لہذا ''عرض كيا ميرے پروردگار ميرا سينہ كشادہ كردے ''_(۳)
ہاں ، ايك رہبر انقلاب كا سب سے اولين سرمايہ ، كشادہ دلى ، فراوان حوصلہ، استقامت وبرد بارى اور مشكلات كے بوجھ كو اٹھاناہے _
اور چونكہ اس راستے ميں بے شمار مشكلات ہيں ، جو خدا كے لطف وكرم كے بغير حل نہيں ہوتيں ، لہذا خدا سے دوسرا سوال يہ كيا كہ ميرے كاموں كو مجھ پر آسان كردے اور مشكلات كو راستے سے ہٹادے آپ نے عرض كيا : ''ميرے كام كو آسان كردے ''_(۴)
____________________
(۱) سورہ قصص آيت ۳۲
(۲)سورہ قصص آيت ۳۲
(۳)سورہ طہ آيت۲۳
(۴)سورہ طہ آيت۲۷
اس كے بعد جناب موسى عليہ السلام نے زيادہ سے زيادہ قوت بيان كا تقاضا كيا كہنے لگے:'' ميرى زبان كى گرہ كھول دے'' _(۱)
يہ ٹھيك ہے كہ شرح صدر كا ہونا بہت اہم بات ہے ، ليكن يہ سرمايہ اسى صورت ميں كام دے سكتا ہے جب اس كو ظاہر كرنے كى قدرت بھى كامل طور پر موجود ہو، اسى بناء پر جناب موسى عليہ السلام نے شرح صدر اور ركاوٹوں كے دور ہونے كى در خواستوں كے بعد يہ تقاضا كيا كہ خدا ان كى زبان كى گرہ كھول دے _
اور خصوصيت كے ساتھ اس كى علت يہ بيان كى :'' تاكہ وہ ميرى باتوں كو سمجھيں ''_(۲)
يہ جملہ حقيقت ميں پہلى بات كى تفسير كرر ہاہے اس سے يہ بات واضح ہورہى ہے كہ زبان كى گرہ كے كھلنے سے مراد يہ نہ تھى كہ موسى عليہ السلام كى زبان ميں بچپنے ميں جل جانے كى وجہ سے كوئي لكنت آگئي تھى (جيسا كہ بعض مفسرين نے ابن عباس سے نقل كيا ہے)بلكہ اس سے گفتگو ميں ايسى ركاوٹ ہے جو سننے والے كے لئے سمجھنے ميں مانع ہوتى ہے يعنى ميں ايسى فصيح وبليغ اور ذہن ميں بيٹھ جانے والى گفتگو كروں گہ ہر سننے والا ميرا مقصد اچھى طرح سے سمجھ لے _
ميرا بھائي ميراناصر ومددگار
بہرحال ايك كامياب رہبر ورہنما وہ ہوتا ہے كہ جو سعي ، فكر اور قدرت روح كے علاووہ ايسى فصيح وبليغ گفتگو كرسكے كہ جو ہر قسم كے ابہام اور نارسائي سے پاك ہو _
نيز اس بار سنگين كے لئے _ يعنى رسالت الہي، رہبرى بشر اور طاغوتوں اور جابروں كے ساتھ مقابلے كے لئے يارومددگار كى ضرورت ہے اور يہ كام تنہاانجام دينا ممكن نہيں ہے لہذا حضرت موسى (ع) نے پروردگار سے جو چوتھى درخواست كى :
''خداونداميرے لئے ميرے خاندان ميں سے ايك وزيراور مددگار قراردے''_(۳)
____________________
(۱)سورہ طہ آيت۲۷
(۲)سورہ طہ آيت۲۸
(۳)سورہ طہ آيت۲۹
البتہ يہ بات كہ حضرت موسى عليہ السلام تقاضا كررہے ہيں كہ يہ وزير ان ہى كے خاندان سے ہو، اس كى دليل واضح ہے چونكہ اس كے بارے ميں معرفت اور شناخت بھى زيادہ ہوگى اور اس كى ہمدردياں بھى دوسروں كى نسبت زيادہ ہوں گى كتنى اچھى بات ہے كہ انسان كسى ايسے شخص كو اپنا شريك كار بنائے كہ جو روحانى اور جسمانى رشتوں كے حوالے سے اس سے مربوط ہو_
اس كے بعد خصوصى التماس كے بعد خصوصى طور پر اپنے بھائي كى طرف اشارہ كرتے ہوئے عرض كيا : ''يہ ذمہ دارى ميرے بھائي ہارون كے سپرد كردے ''_(۱)
ہارون بعض مفسرين كے قول كے مطابق حضرت موسى عليہ السلام كے بڑے بھائي تھے اور ان سے تين سال بڑے تھے بلند قامت فصيح البيان اور اعلى علمى قابليت كے مالك تھے، انہوں نے حضرت موسى عليہ السلام كى وفات سے تين سال پہلے رحلت فرمائي _(۲)
اور وہ نور اور باطنى روشنى كے بھى حامل تھے، اور حق وباطل ميں خوب تميز بھى ركھتے تھے _(۳)
آخرى بات يہ ہے كہ وہ ايك ايسے پيغمبر تھے جنہيں خدا نے اپنى رحمت سے موسى عليہ السلام كو بخشا تھا_(۴)
وہ اس بھارى ذمہ دارى كى انجام دہى ميں اپنے بھائي موسى عليہ السلام كے دوش بدوش مصروف كار ہے _
يہ ٹھيك ہے كہ موسى عليہ السلام نے اس اندھيرى رات ميں ، اس وادي مقدس كے اندر، جب خدا سے فرمان رسالت كے ملنے كے وقت يہ تقاضا كيا ، تو وہ اس وقت دس سال سے بھى زيادہ اپنے وطن سے دور
____________________
(۱)سورہ طہ آيت۳۱
(۲)جيسا كہ سورہ مومنون كى آيہ ۴۵ ميں بيان ہوا ہے : (ثم ارسلنا موسى واخاه هارون بايا تنا وسلطان مبين )
(۳) جيسا كہ سورہ انبياء كى آيہ ۴۸ ميں بيان ہوا ہے : (ولقد اتينا موسى وهارون الفرقان وضيائ )
(۴) (وو هبناله من رحمتنا اخاه هارون نبيا ) (سورہ مريم آيت ۵۳)
گزار كر آرہے تھے، ليكن اصولى طور پر اس عرصہ ميں بھى اپنے بھائي كے ساتھ ان كارابطہ كامل طور پر منقطع نہ ہو، اسى لئے اس صراحت اور وضاحت كے ساتھ ان كے بارے ميں بات كررہے ہيں ، اور خدا كى درگاہ سے اس عظيم مشن ميں اس كى شركت كے لئے تقاضا ركرہے ہيں _
اس كے بعد جناب موسى عليہ السلام ہارون كو وزارت ومعاونت پر متعين كرنے كےلئے اپنے مقصد كو اس طرح بيان كرتے ہيں : ''خداوندا ميرى پشت اس كے ذريعے مضبوط كردے''_(۱)
اس مقصد كى تكميل كے لئے يہ تقاضا كرتے ہيں : '' اسے ميرے كام ميں شريك كردے_''(۲)
وہ مرتبہ رسالت ميں بھى شريك ہو اور اس عظيم كام كو رو بہ عمل لانے ميں بھى شريك رہيں ، البتہ حضرت ہارون ہر حال ميں تمام پروگراموں ميں جناب موسى عليہ السلام كے پيرو تھے او رموسى عليہ السلام ان كے امام و پيشوا كى حيثيت ركھتے تھے_
آخر ميں اپنى تمام درخواستوں كا نتيجہ اس طرح بيان كرتے ہيں : '' تاكہ ہم تيرى بہت بہت تسبيح كريں اور تجھے بہت بہت ياد كريں ، كيونكہ تو ہميشہ ہى ہمارے حالات سے آگاہ رہا ہے_''(۳)
تو ہمارى ضروريات و حاجات كو اچھى طرح جانتا ہے اور اس راستہ كى مشكلات سے ہر كسى كى نسبت زيادہ آگاہ ہے، ہم تجھ سے يہ چاہتے ہيں كہ تو ہميں اپنے فرمان كى اطاعت كى قدرت عطا فرمادے اور ہمارے فرائض، ذمہ داريوں اور فرائض انجام دينے كے لئے ہميں توفيق اور كاميابى عطا فرما_
چونكہ جناب موسى عليہ السلام كا اپنے مخلصانہ تقاضوں ميں سوائے زيادہ سے زيادہ اور كامل تر خدمت كے اور كچھ مقصد نہيں تھا لہذا خداوندعالم نے ان كے تقاضوں كو اسى وقت قبول كرليا،'' اس نے كہا: اے موسى تمہارى درخواستيں قبول ہيں _''(۴)
____________________
(۱) سورہ طہ آيت ۳۱
(۲) سورہ طہ آيت ۳۲
(۳) سورہ طہ آيت ۳۳ تا۳۵
(۴) سورہ طہ آيت ۳۶
حقيقت ميں ان حساس اور تقدير ساز لمحات ميں چونكہ موسى عليہ السلام پہلى مرتبہ خدائے عظيم كى بساط مہمانى پر قدم ركھ رہے تھے،لہذا جس جس چيز كى انہيں ضرورت تھى ان كا خدا سے اكٹھا ہى تقاضا كرليا،اور اس نے بھى مہمان كا انتہائي احترام كيا،اور اس كى تمام درخواستوں اور تقاضوں كو ايك مختصر سے جملے ميں حيات بخش ندا كے سا تھ قبول كرليا اور اس ميں كسى قسم كى قيدو شرط عائد نہ كى اور موسى عليہ السلام كا نام مكرر لا كر،ہر قسم كے ابہام كو دور كرتے ہوئے اس كى تكميل كر دى ،يہ بات كس قدر شوق انگيز اور افتخار آفرين ہے كہ بندے كا نام مولا كى زبان پر بار بار آئے_
فرعون سے معركہ آرا مقابلہ
حضرت موسى عليہ السلام كى ماموريت كا پہلا مرحلہ ختم ہوا جس ميں بتايا گيا ہے كہ انھيں وحى اور رسالت ملى اور انھوں نے اس عظيم مقصد كو حاصل كرنے كے ليے وسائل كے حصول كى درخواست كى _
اس كے ساتھ ہى زير نظر دوسرے مرحلے كے بارے ميں گفتگو ہوتى ہے يعنى فرعون كے پاس جانا اور اس كے ساتھ گفتگو كرنا چنانچہ ان كے درميان جو گفتگو ہوئي ہے اسے يہاں پر بيان كيا جارہا ہے_
سب سے پہلے مقدمے كے طور پر فرمايا گيا ہے:اب جبكہ تمام حالات ساز گار ہيں تو تم فرعون كے پاس جائو ''اور اس سے كہو كہ ہم عالمين كے پروردگار كے رسول ہيں ''_(۱)
اور اپنى رسالت كا ذكر كرنے كے بعد بنى اسرائيل كى آزادى كا مطالبہ كيجئے اور كہيئے''كہ ہميں حكم ملا ہے كہ تجھ سے مطالبہ كريں كہ تو بنى اسرائيل كو ہمارے ساتھ بھيج دے''_(۲)
وہ مصر ميں گئے اور اپنے بھائي ہارون كو مطلع كيا اور وہ رسالت جس كے ليے آپ(ع) مبعوث تھے،اس كا پيغام اسے پہنچايا_پھر يہ دونوں بھائي فرعون سے ملاقات كے ارادے سے روانہ ہوئے_ آخر بڑى مشكل سے اس كے پاس پہنچ سكے_اس وقت فرعون كے وزراء اور مخصوص لوگ اسے گھيرے ہوئے تھے_
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت۱۶
(۲)سورہ شعراء آيت۱۷
حضرت موسى عليہ السلام نے ان كو خدا كا پيغام سنايا_
اس مقام پر فرعون نے زبان كھولى اور شيطنت پر مبنى چند ايك جچے تلے جملے كہے جس سے ان كى رسالت كى تكذيب كرنا مقصود تھا_ وہ حضرت موسى عليہ السلام كى طرف منہ كركے كہنے لگا:''آيا بچپن ميں ہم نے تجھے اپنے دامن محبت ميں پروان نہيں چڑھايا ''_(۱)
ہم نے تجھے دريائے نيل كى ٹھاٹھيں مارتى ہوئي خشمگين موجوں سے نجات دلائي وگرنہ تيرى زندگى خطرے ميں تھي_تيرے ليے دائيوں كو بلايا اور ہم نے اولاد بنى اسرائيل كے قتل كردينے كا جو قانون مقرر كر ركھا تھا اس سے تجھے معاف كرديا اور امن و سكون اور نازونعمت ميں تجھے پروان چڑھايا_
اور اس كے بعد بھى ''تو نے اپنى زندگى كے كئي سال ہم ميں گزارے''_(۲)
پھر وہ موسى عليہ السلام پر ايك اعتراض كرتے ہوئے كہتا ہے:تو نے وہ اہم كام كيا ہے_(فرعون كے حامى ايك قبطى كو قتل كيا ہے)_(۳)
يہ اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ ايسا كام كرنے كے بعد تم كيونكررسول بن سكتے ہو؟
ان سب سے قطع نظر كرتے ہوئے ''تو ہمارى نعمتوں سے انكار كررہا ہے''_(۴)
تو كئي سالوں تك ہمارے دسترخوان پر پلتا رہا ہے،ہمارا نمك كھانے كے بعد نمك حلالى كا حق اس طرح ادا كررہا ہے؟اس قدر كفران نعمت كے بعد تو كس منہ سے نبوت كا دعوى كررہاہے؟
در حقيقت وہ بزعم خود اس طرح كى منطق سے ان كى كردار كشى كركے موسى عليہ السلام كو خاموش كرنا چاہتا تھا_
جناب موسى عليہ السلام نے فرعون كى شيطنت آميز باتيں سن كر اس كے تينوں اعتراضات كے
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۱۸
(۲)سورہ شعراء آيت ۱۸
(۳)سورہ شعراء آيت۱۹
(۴)سورہ شعراء آيت۱۹
جواب دينا شروع كيے_ليكن اہميت كے لحاظ سے فرعون كے دوسرے اعتراض كا سب سے پہلے جواب ديا(يا پہلے اعتراض كو بالكل جواب كے لائق ہى نہيں سمجھا كيونكہ كسى كا كسى كى پرورش كرنا اس بات كى دليل نہيں بن جاتا كہ اگر وہ گمراہ ہوتو اسے راہ راست كى بھى ہدايت نہ كى جائے)_
بہر حال جناب موسى عليہ السلام نے فرمايا:''ميں نے يہ كام اس وقت انجام ديا جب كہ ميں بے خبر لوگوں ميں سے تھا''_(۱)
يعنى ميں نے اسے جو مكا مارا تھا وہ اسے جان سے ماردينے كى غرض نہيں بلكہ مظلوم كى حمايت كے طور پر تھا ،ميں تو نہيں سمجھتا تھا كہ اس طرح اس كى موت واقع ہوجائے گي_
پھر موسى عليہ السلام فرماتے ہيں :''اس حادثے كى وجہ سے جب ميں نے تم سے خوف كيا تو تمہارے پاس سے بھاگ گيا اور ميرے پروردگارنے مجھے دانش عطا فرمائي اور مجھے رسولوں ميں سے قرار ديا''_(۲)
پھر موسى عليہ السلام اس احسان كا جواب ديتے ہيں جو فرعون نے بچپن اور لڑكپن ميں پرورش كى صورت ميں ان پر كيا تھادو ٹوك انداز ميں اعتراض كى صورت ميں فرماتے ہيں :''تو كيا جو احسان تو نے مجھ پر كيا ہے يہى ہے كہ تو بنى اسرائيل كو اپنا غلام بنالے''_(۳)
يہ ٹھيك ہے كہ حوادث زمانہ نے مجھے تيرے محل تك پہنچاديا اور مجھے مجبوراًتمھارے گھر ميں پرورش پانا پڑى اور اس ميں بھى خدا كى قدرت نمائي كار فرما تھى ليكن ذرا يہ تو سوچو كہ آخر ايسا كيوں ہوا؟كيا وجہ ہے كہ ميں نے اپنے باپ كے گھر ميں اور ماں كى آغوش ميں تربيت نہيں پائي؟ آخر كس ليے؟
كيا تو نے بنى اسرائيل كو غلامى كى زنجيروں ميں نہيں جكڑ ركھا؟يہاں تك كہ تو نے اپنے خودساختہ قوانين كے تحت ان كے لڑكوں كو قتل كرديا اور ان كى لڑكيوں كو كنيز بنايا_
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت۲۰
(۲)سورہء شعراء آيت۲۱
(۳)سورہ شعراء آيت۲۲
تيرے بے حدوحساب مظالم اس بات كا سبب بن گئے كہ ميرى ماں اپنے نو مولود بچے كى جان بچانے كى غرض سے مجھے ايك صندوق ميں ركھ كر دريائے نيل كى بے رحم موجوں كے حوالے كردے اور پھر منشائے ايزدى يہى تھا كہ ميرى چھوٹى سى كشتى تمھارے محل كے نزديك لنگر ڈال دے_ہاں تو يہ تمہارے بے اندازہ مظالم ہى تھے جن كى وجہ سے مجھے تمھارا مرہون منت ہونا پڑا اور جنھوں نے مجھے اپنے باپ كے مقدس اور پاكيزہ گھر سے محروم كركے تمھارے آلودہ محل تك پہنچاديا_
ديوانگى كى تہمت
جب موسى عليہ السلام نے فرعون كو دوٹوك اور قاطع جواب دے ديا جس سے وہ لا جواب اور عاجز ہوگيا تو اس نے كلام كا رخ بدلا اور موسى عليہ السلام نے جو يہ كہا تھا''ميں رب العالمين كا رسول ہوں ''تو اس نے اسى بات كو اپنے سوال كا محور بنايا اور كہا يہ رب العالمين كيا چيز ہے؟(۱)
بہت بعيد ہے كہ فرعون نے و اقعاًيہ بات مطلب كے لئے كى ہو بلكہ زيادہ تر يہى لگتا ہے كہ اس نے تجاہل عارفانہ سے كام ليا تھا اور تحقير كے طور پر يہ بات كہى تھي_
ليكن حضرت موسى عليہ السلام نے بيدار اور سمجھ دارافراد كى طرح اس كے سوا اور كوئي چارہ نہ ديكھا كہ گفتگو كو سنجيدگى پر محمول كريں اور سنجيدہ ہوكر اس كا جواب ديں اور چونكہ ذات پروردگار عالم انسانى افكار كى دسترس سے باہر ہے لہذا انھوں نے مناسب سمجھا كہ اس كے آثار كے ذريعے استدلال قائم كريں لہذا انھوں نے آيات آفاقى كا سہارا ليتے ہوئے فرمايا:''(خدا)آسمانوں اور زمين اور جو كچھ ان دونوں كے درميان ہے سب كا پر وردگار ہے اگر تم يقين كا راستہ اختيار كرو''_(۲)
اتنے وسيع و عريض اور باعظمت آسمان و زمين اور كائنات كى رنگ برنگى مخلوق جس كے سامنے تو اور تيرے چاہنے اور ماننے والے ايك ذرہ ناچيز سے زيادہ كى حيثيت نہيں ركھتے، ميرے پروردگار كى آفرينش
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۲۳
(۲)سورہ شعراء آيت ۲۴
ہے اور ان اشياء كا خالق ومدبر اور ناظم ہى عبادت كے لائق ہے نہ كہ تيرے جيسى كمزور اور ناچيز سى مخلوق_
ليكن عظيم آسمانى معلم كے اس قدر محكم بيان اورپختہ گفتگو كے بعد بھى فرعون خواب غفلت سے بيدار نہ ہوا اس نے انپے ٹھٹھے مذاق اور استہزاء كو جارى ركھا اور مغرور مستكبرين كے پرانے طريقہ كار كو اپناتے ہوئے ''اپنے اطراف ميں بيٹھنے والوں كى طرف منہ كركے كہا: كيا سن نہيں رہے ہو(كہ يہ شخص كيا كہہ رہا ہے)''_(۱)
معلوم ہے كہ فرعون كے گردكون لوگ بيٹھے ہيں اسى قماش كے لوگ تو ہيں _صاحبان زوراور زرہيں يا پھرظالم اور جابر كے معاون _
وہاں پر فرعون كے اطراف ميں پانچ سوآدمى موجود تھے،جن كا شمار فرعون كے خواص ميں ہوتا تھا_
اس طرح كى گفتگو سے فرعون يہ چاہتا تھا كہ موسى عليہ السلام كى منطقى اور دلنشين گفتگو اس گروہ كے تاريك دلوں ميں ذرہ بھر بھى اثر نہ كرے اور لوگوں كو يہ باور كروائے كہ انكى باتيں بے ڈھنگى اور ناقابل فہم ہيں _
مگر جناب موسى عليہ السلام نے اپنى منطقى اور جچى تلى گفتگو كو بغير كسى خوف وخطر كے جارى ركھتے ہوئے فرمايا:''تمہارا بھى رب ہے اور تمھارے آباء واجداد كا رب ہے''_(۲)
درحقيقت بات يہ ہے كہ جناب موسى عليہ السلام نے پہلے تو آفاقى آيات كے حوالے سے استدلال كيا اب يہاں پر'' آيات انفس''اور خود انسان كے اپنے وجود ميں تخليق خالق كے اسرار اور انسانى روح اور جسم ميں خداوند عالم كى ربوبيت كے آثار كى طرف اشارہ كررہے ہيں تاكہ وہ عاقبت نا انديش مغرور كم از كم اپنے بارے ميں تو كچھ سوچ سكيں خود كو اور پھر اپنے خدا كو پہچان سكيں _
ليكن فرعون اپنى ہٹ دھرمى سے پھر بھى باز نہ آيا،اب استہزاء اور مسخرہ پن سے چند قدم آگے بڑھ
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۳۵
(۲)سورہ شعراء آيت ۲۶
جاتا ہے اور موسى عليہ السلام كو جنون اور ديوانگى كا الزام ديتا ہے چنانچہ اس نے كہا:''جو پيغمبر تمھارى طرف آيا ہے بالكل ديوانہ ہے''_(۱)
وہى تہمت جو تاريخ كے ظالم اور جابر لوگ خدا كے بھيجے ہوئے مصلحين پر لگاتے رہتے تھے_
يہ بھى لائق توجہ ہے كہ يہ مغرور فريبى اس حد تك بھى روادارنہ تھا كہ كہے''ہمارا رسول''اور'' ہمارى طرف بھيجا ہوا ''بلكہ كہتا ہے''تمہارا پيغمبر''اور ''تمھارى طرف بھيجا ہوا'' كيونكہ''تمہارا پيغمبر''ميں طنز اور استہزاء پايا جاتا ہے او رساتھ ہى اس ميں غرور اور تكبر كا پہلو بھى نماياں ہے كہ ميں اس بات سے بالا تر ہوں كہ كوئي پيغمبر مجھے دعوت دينے كے لئے آئے اور موسى عليہ السلام پر جنون كى تہمت لگانے سے اس كا مقصد يہ تھا كہ جناب موسى عليہ السلام كے جاندار دلائل كو حاضرين كے اذہان ميں بے اثر بنايا جائے_
ليكن يہ ناروا تہمت موسى عليہ السلا م كے بلند حوصلوں كو پست نہيں كر سكى اور انھوں نے تخليقات عالم ميں آثار الہى اور آفاق و انفس كے حوالے سے اپنے دلائل كو برابر جارى ركھا اور كہا:''وہ مشرق ومغرب اور جو كچھ ان دونوں كے درميان ہے سب كا پروردگار ہے اگر تم عقل وشعور سے كام لو''_(۲)
اگر تمہارے پاس مصر نامى محدود سے علاقے ميں چھوٹى سى ظاہرى حكومت ہے توكيا ہوا؟ميرے پروردگار كى حقيقى حكومت تو مشرق و مغرب اور اس كے تمام درميانى علاقے پر محيط ہے اور اس كے آثار ہر جگہ موجودات عالم كى پيشانى پر چمك رہے ہيں اصولى طور پر خود مشرق و مغرب ميں آفتاب كا طلوع و غروب اور كائنات عالم پر حاكم نظام شمسى ہى اس كى عظمت كى نشانياں ہيں ، ليكن عيب خود تمہارے اندر ہے كہ تم عقل سے كام نہيں ليتے بلكہ تمہارے اندر سوچنے كى عادت ہى نہيں ہے_(۳)
درحقيقت يہاں پر حضرت موسى عليہ اسلام نے اپنى طرف جنون كى نسبت كا بڑے اچھے انداز ميں جواب ديا ہے_ دراصل وہ يہ كہنا چاہتے ہيں كہ ديوانہ ميں نہيں ہوں بلكہ ديوانہ اور بے عقل وہ شخص ہے جو
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت۲۷
(۲)سورہ شعراء آيت۲۸
(۳)سورہ شعراء آيت۲۸
اپنے پروردگار كے ان تمام آثار اور نشانات كو نہيں ديكھتا _
عالم وجود كے ہر دروديوار پر ذات پروردگار كے اس قدر عجيب وغريب نقوش موجود ہيں پھر بھى جو شخص ذات پروردگار كے بارے ميں نہ سوچے اسے خود نقش ديوار ہوجانا چاہئے _
ان طاقتور دلائل نے فرعون كو سخت بوكھلاديا، اب اس نے اسى حربے كا سہارا ليا جس كا سہارا ہربے منطق اور طاقتور ليتا ہے اور جب وہ دلائل سے عاجزہوجاتاہے تو اسے آزمانے كى كوشش كرتاہے_
'' فرعون نے كہا: اگر تم نے ميرے علاوہ كسى اور كو معبود بنايا تو تمہيں قيديوں ميں شامل كردوں گا''_(۱) ميں تمہارى اور كوئي بات نہيں سننا چاہتا ميں تو صرف ايك ہى عظيم الہ اور معبوے كو جانتاہوں اور وہ ميں خود ہوں اگر كوئي شخص اس كے علاوہ كہتا ہے تو بس سمجھ لے كہ اس كى سزا يا تو موت ہے يا عمر قيد جس ميں زندگى ہى ختم ہوجائے_
درحقيقت فرعون چاہتا تھا كہ اس قسم كى تيزوتند گفتگو كركے موسى عليہ السلام كو ہراساں كرے تاكہ وہ ڈركر چپ ہوجائيں كيونكہ اگر بحث جارى رہے گى تو لوگ اس سے بيدار ہوں گے اور ظالم وجابر لوگوں كے لئے عوام كى بيدارى اور شعور سے بڑھ كر كوئي اور چيز خطر ناك نہيں ہوتى _
تمہارا ملك خطرے ميں ہے
گزشتہ صفحات ميں ہم نے ديكھ ليا ہے كہ جناب موسى عليہ السلام نے منطق اور استدلال كى روسے فرعون پر كيونكر اپنى فوقيت اوربر ترى كا سكہ منواليا اور حاضرين پر ثابت كرديا كہ ان كا خدائي دين كس قدر عقلى ومنطقى ہے اور يہ بھى واضح كرديا كہ فرعون كے خدائي دعوے كس قدر پوچ اور عقل وخردسے عار ى ہيں كبھى تو وہ استہزاء كرتا ہے ،كبھى جنون اور ديوانگى كى تہمت لگاتاہے اور آخر كار طاقت كے نشے ميں آكر قيدوبند اور موت كى دھمكى ديتا ہے _
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت۲۹
اس موقع پر گفتگو كارخ تبديل ہوجاتاہے اب جناب موسى كو ايسا طريقہ اختيار كرنا چاہئے تھا جس سے فرعون كى ناتوانى ظاہر ہوجائے _
موسى عليہ السلام كو بھى كسى طاقت كے سہارے كى ضرورت تھى ايسى خدائي طاقت جس كے معجزانہ اندازہوں ، چنانچہ آپ فرعون كى طرف منہ كركے فرماتے ہيں :'' آيا اگر ميں اپنى رسالت كے لئے واضح نشانى لے آئوں پھر بھى تو مجھے زندان ميں ڈالے گا ''_(۱)
اس موقع پر فرعون سخت مخمصے ميں پڑگيا، كيونكہ جناب موسى عليہ السلام نے ايك نہايت ہى اہم اور عجيب وغريب منصوبے كى طرف اشارہ كركے حاضرين كى توجہ اپنى طرف مبذول كرالى تھى اگر فرعون ان كى باتوں كو ان سنى كر كے ٹال ديتا تو سب حاضرين اس پر اعتراض كرتے اور كہتے كہ موسى كو وہ كام كرنے كى اجازت دى جائے اگر وہ ايسا كرسكتا ہے تو معلوم ہوجائے گا اور اس سے مقابلہ نہيں كيا جاسكے گا اور اگر ايسا نہيں كرسكتا تو بھى اس كى شخيى آشكار ہوجائے گى بہرحال موسى عليہ السلام كے اس دعوے كو آسانى سے مسترد نہيں كيا جاسكتا تھا آخركار فرعون نے مجبور ہوكر كہا'' اگر سچ كہتے ہو تو اسے لے آئو''(۲)
''اسى دوران ميں موسى عليہ السلام نے جو عصا ہاتھ ميں ليا ہوا تھا زمين پر پھينك ديا اور وہ (خدا كے حكم سے ) بہت بڑا اور واضح سانپ بن گيا''_(۳)
''پھر اپنا ہاتھ آستين ميں لے گئے اور باہر نكالا تو اچانك وہ ديكھنے والوں كے لئے سفيد اور چمك دار بن چكا تھا''_(۴) در حقيقت يہ دو عظيم معجزے تھے ايك خوف كا مظہر تھا تو دوسرا اميد كا مظہر، پہلے ميں انذار كا پہلو تھا تو دوسرے ميں بشارت كا ،ايك خدائي عذاب كى علامت تھى تو دوسرا نور اور رحمت كى نشانى ،كيونكہ معجزے كو پيغمبر خدا كى دعوت كے مطابق ہونا چاہئے_
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۳۱
(۲)سورہ شعراء آيت ۳۱
(۳)سورہ شعراء آيت ۳۲
(۴)سورہ شعراء آيت ۳۳
فرعون نے جب صورت حال ديكھى تو سخت بوكھلا گيا اور وحشت كى گہرى كھائي ميں جاگرا ،ليكن اپنے شيطانى اقتدار كو بچانے كے لئے جو موسى عليہ السلام كے ظہور كے ساتھ متزلزل ہوچكا تھا اس نے ان معجزات كى توجيہ كرنا شروع كردى تاكہ اس طرح سے اطراف ميں بيٹھنے والوں كے عقائد محفوظ اور ان كے حوصلے بلند كرسكے اس نے پہلے تو اپنے حوارى سرداروں سے كہا: ''يہ شخص ماہر اور سمجھ دار جادو گر ہے''_(۱)
جس شخص كو تھوڑى دير پہلے تك ديوانہ كہہ رہا تھا اب اسے '' عليم'' كے نام سے ياد كررہا ہے، ظالم اور جابر لوگوں كا طريقہ كار ايسا ہى ہوتا ہے كہ بعض اوقات ايك ہى محفل ميں كئي روپ تبديل كرليتے ہيں اور اپنى انا كى تسكين كے لئے نت نئے حيلے تراشتے رہتے ہيں _
اس نے سوچا چونكہ اس زمانے ميں جادوكادور دورہ ہے لہذا موسى عليہ السلام كے معجزات پر جادو كا ليبل لگا ديا جائے تاكہ لوگ اس كى حقانيت كو تسليم نہ كريں _
پھر اس نے لوگوں كے جذبات بھڑكانے اور موسى عليہ السلام كے خلاف ان كے دلوں ميں نفرت پيدا كرنے كے لئے كہا : ''وہ اپنے جادو كے ذريعے تمہيں تمہارے ملك سے نكالنا چاہتا ہے،تم لوگ اس بارے ميں كيا سوچ رہے ہو اور كيا حكم ديتے ہو ''_(۲)
يہ وہى فرعون ہے جو كچھ دير پہلے تك تمام سرزمين مصر كو اپنى ملكيت سمجھ رہا تھا'' كيا سرزمين مصر پر ميرى حكومت اور مالكيت نہيں ہے ؟''اب جبكہ اسے اپنا راج سنگھا سن ڈوبتا نظرآرہا ہے تو اپنى حكومت مطلقہ كو مكمل طور پر فراموش كر كے اسے عوامى ملكيت كے طور پر ياد كركے كہتا ہے '' تمہارا ملك خطرات ميں گھر چكا ہے اسے بچانے كى سوچو''_وہى فرعون جو ايك لحظہ قبل كسى كى بات سننے پر تيار نہيں تھا بلكہ ايك مطلق العنان آمر كى حيثيت سے تخت حكومت پر براجمان تھا اب اس حد تك عاجز اور درماندہ ہوچكا ہے كہ اپنے اطرافيوں سے درخواست كررہا ہے كہ تمہارا كيا حكم ہے نہايت ہى عاجز اور كمزور ہوكر التجا كررہا ہے _
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت۳۴
(۲)سورہ شعراء آيت۳۵
قرآن سے معلوم ہوتا ہے كہ اس كے دربارى باہمى طور پر مشور ہ كرنے ميں لگ گئے وہ اس قدر حواس باختہ ہوچكے تھے كہ سوچنے كى طاقت بھى ان سے سلب ہوگئي تھى ہر كوئي دوسرے كى طرف منہ كركے كہتا :
''تمہارى كيا رائے ہے ؟''(۱)
بہرحال كافى صلاح مشورے كے بعد درباريوں نے فرعون سے كہا :'' موسى اور اس كے بھائي كو مہلت دو اور اس بارے ميں جلدى نہ كرو اور تمام شہروں ميں ہركارندے روانہ كردو،تاكہ ہر ماہر اور منجھے ہوئے جادو گر كو تمہارے پاس لے آئيں ''_(۲)
در اصل فرعون كے دربارى يا تو غفلت كا شكار ہوگئے يا موسى عليہ السلام پر فرعون كى تہمت كو جان بوجھ كر قبول كرليا اور موسى كو'' ساحر'' (جادوگر) سمجھ كر پروگرام مرتب كيا كہ ساحر كے مقابلے ميں '' سحار'' يعنى ماہر اور منجھے ہوئے جادو گروں كو بلايا جائے چنانچہ انھوں نے كہا : ''خوش قسمتى سے ہمارے وسيع وعريض ملك (مصر) ميں فن جادو كے بہت سے ماہر استاد موجود ہيں اگر موسى ساحر ہے تو ہم اس كے مقابلے ميں سحار لاكھڑا كريں گے اور فن سحر كے ايسے ايسے ماہرين كو لے آئيں گے جو ايك لمحہ ميں موسى كا بھرم كھول كر ركھ ديں گے''_
ہر طرف سے جادو گر پہنچ گئے
فرعون كے درباريوں كى تجويز كے بعد مصر كے مختلف شہروں كى طرف ملازمين روانہ كرديئےئے اورانھوں نے ہر جگہ پر ماہر جادو گروں كى تلاش شروع كردى '' آخر كار ايك مقررہ دن كى ميعادكے مطابق جادو گروں كى ايك جماعت اكٹھا كرلى گئي ''(۳)
دوسرے لفظوں ميں انھوں نے جادوگروں كو اس روزكے لئے پہلے ہى سے تيار كرليا تاكہ ايك مقرر دن مقابلے كے لئے پہنچ جائيں _
____________________
(۱)سورہ اعراف آيت ۱۱۰
(۲) سورہ شعراء ۳۶ تا ۳۶
(۳)سورہ شعراء آيت ۳۸
''يوم معلوم '' سے كيا مراد ہے ؟جيسا كہ سورہ اعراف كى آيات سے معلوم ہوتا ہے مصريوں كى كسى مشہور عيد كا دن تھا جسے موسى عليہ السلام نے مقابلے كے لئے مقرر كيا تھا اور اس سے ان كا مقصد يہ تھا كہ اس دن لوگوں كو فرصت ہوگى اور وہ زيادہ سے زيادہ تعداد ميں شركت كريں گے كيونكہ انھيں اپنى كاميابى كا مكمل يقين تھا اور وہ چاہتے تھے كہ آيات خداوندى كى طاقت اور فرعون اور اس كے ساتھيوں كى كمزورى اور پستى پورى دنيا پر آشكار ہوجائے ''اور زيادہ سے زيادہ لوگوں سے كہا گيا كہ آيا تم بھى اس ميدان ميں اكٹھے ہوگے؟(۱)
اس طرزبيان سے معلوم ہوتا ہے كہ فرعون كے كارندے اس سلسلے ميں سوچى سمجھى ا سكيم كے تحت كام كررہے تھے انھيں معلوم تھا كہ لوگوں كو زبردستى ميدان ميں لانے كى كوشش كى جائے تو ممكن ہے كہ اس كا منفى رد عمل ہو، كيونكہ ہر شخص فطرى طور پر زبردستى كو قبول نہيں كرتا لہذا انھوں نے كہا اگر تمہارى جى چاہے تو اس اجتماع ميں شركت كرو اس طرح سے بہت سے لوگ اس اجتماع ميں شريك ہوئے _
لوگوں كو بتايا گيا'' مقصد يہ ہے كہ اگر جادو گر كامياب ہوگئے كہ جن كى كاميابى ہمارے خدائوں كى كاميابى ہے تو ہم ان كى پيروى كريں گے ''(۲) اور ميدان كو اس قدر گرم كرديں گے كہ ہمارے خدائوں كا دشمن ہميشہ ہميشہ كے لئے ميدان چھوڑجائے گا _
واضح ہے كہ تماشائيوں كا زيادہ سے زيادہ اجتماع جو مقابلے كے ايك فريق كے ہمنوا بھى ہوں ايك طرف توان كى دلچسپى كا سبب ہوگا اور ان كے حوصلے بلند ہوں گے اور ساتھ ہى وہ كاميابى كے لئے زبردست كوشش بھى كريں گے اوركاميابى كے موقع پر ايسا شور مچائيں گے كہ حريف ہميشہ كے لئے گوشئہ گمنامى ميں چلاجائے گا اور اپنى عددى كثرت كى وجہ سے مقابلے كے آغاز ميں فريق مخالف كے دل ميں خوف وہراس اور رعب ووحشت بھى پيدا كرسكيں گے_
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۳۹
(۲)سورہ شعراء آيت۴۰
يہى وجہ ہے كہ فرعون كے كارندے كوشش كررہے تھے كہ لوگ زيادہ سے زيادہ تعداد ميں شركت كريں موسى عليہ السلام بھى ايسے كثيراجتماع كى خدا سے دعا كررہے تھے تاكہ اپنا مدعا اور مقصد زيادہ سے زيادہ لوگوں تك پہنچا سكيں _
يہ سب كچھ ايك طرف، ادھر جب جادو گر فرعون كے پاس پہنچے اور اسے مشكل ميں پھنسا ہوا ديكھا تو موقع مناسب سمجھتے ہوئے اس سے زيادہ سے زيادہ فائدہ اٹھانے اور بھارى انعام وصول كرنے كى غرض سے اس سے كہا :'' اگر ہم كامياب ہوگئے تو كيا ہمارے لئے كوئي اہم صلہ بھى ہوگا ؟''(۱)
فرعون جو برى طرح پھنس چكا تھا اور اپنے لئے كوئي راہ نہيں پاتاتھا انھيں زيادہ سے زيادہ مراعات اور اعزاز دينے پر تيار ہوگيا اس نے فورا ًكہا: : ''ہاں ہاں جو كچھ تم چاہتے ہوميں دوں گا اس كے علاوہ اس صورت ميں تم ميرے مقربين بھى بن جائوگے''_(۲)
در حقيقت فرعون نے ان سے كہا :تم كيا چاہتے ہو؟ مال ہے يا عہدہ: ميں يہ دونوں تمہيں دوں گا _
اس سے معلوم ہوتا ہے كہ اس ماحول اورزمانے ميں فرعون كا قرب كس حد تك اہم تھا كہ وہ ايك عظيم انعام كے طور پر اس كى پيش كش كررہا تھا درحقيقت اس سے بڑھ كر اور كوئي صلہ نہيں ہوسكتا كہ انسان اپنے مطلوب كے زيادہ نزديك ہو_
جادو گروں كا عجيب وغريب منظر
جب جادوگروں نے فرعون كے ساتھ اپنى بات پكى كرلى اور اس نے بھى انعام، اجرت اور اپنى بارگاہ كے مقرب ہونے كا وعدہ كركے انھيں خوش كرديا اور وہ بھى مطمئن ہوگئے تواپنے فن كے مظاہرے اور اس كے اسباب كى فراہمى كے لئے تگ ودوكرنى شروع كردي، فرصت كے ان لمحات ميں انھوں نے بہت سى رسياں اور لاٹھياں اكٹھى كرليں اور بظاہر ان كے اندر كو كھوكھلاكر كے ان ميں ايسا كوئي كيميكل مواد (پارہ وغيرہ
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۴۱
(۲)سورہ شعراء آيت ۴۲
كى مانند)بھر ديا جس سے وہ سورج كى تپش ميں ہلكى ہوكر بھاگنے لگتى _
آخركاروعدے كا دن پہنچ گيا اور لوگوں كا اكثير مجمع ميدان ميں جمع ہوگيا تاكہ وہ اس تاريخى مقابلے كو ديكھ سكيں ،فرعون اور اس كے درباري، جادوگر اور موسى عليہ السلام اور ان كے بھائي ہارون عليہ السلام سب ميدان ميں پہنچ گئے _
ليكن حسب معمول قرآن مجيد اس بحث كو خدف كركے اصل بات كو بيان كرتا ہے _
يہاں پر بھى اس تاريخ ساز منظر كى تصوير كشى كرتے ہوئے كہتا ہے :''موسى نے جادو گروں كى طرف منہ كركے كہا :جو كچھ پھينكنا چاہتے ہو پھينكو اور جو كچھ تمہارے پاس ہے ميدان ميں لے آئو ''_(۱)
قرآن سے معلوم ہوتا ہے كہ جناب موسى عليہ السلام نے يہ بات اس وقت كى جب جادوگروں نے ان سے كہا:'' آپ پيش قدم ہوكر اپنى چيز ڈاليں گے يا ہم ؟''(۲)
موسى عليہ السلام كى يہ پيش كش درحقيقت انھيں اپنى كاميابى پر يقين كى وجہ سے تھى اوراس بات كى مظہر تھى كہ فرعون كے زبردست حاميوں اور دشمن كے انبوہ كثير سے وہ ذرہ برابر بھى خائف نہيں ،چنانچہ يہ پيش كش كركے آپ نے جادوگروں پر سب سے پہلا كامياب وار كيا جس سے جادو گروں كو بھى معلوم ہوگيا كہ موسى عليہ السلام ايك خاص نفسياتى سكون سے بہرہ مند ہيں اور وہ كسى ذات خاص سے لولگائے ہوئے ہيں كہ جوان كا حوصلہ بڑھارہى ہے _
جادو گر تو غرور ونخوت كے سمندر ميں غرق تھے انھوں نے اپنى انتہائي كوششيں اس كام كے لئے صرف كردى تھيں اور انھيں اپنى كاميابى كا بھى يقين تھا'' لہذانھوں نے اپنى رسياں اور لاٹھياں زمين پر پھينك ديں اور كہافرعون كى عزت كى قسم ہم يقينا كامياب ہيں ''_(۳)
جى ہاں :انھوں نے دوسرے تمام چاپلوسيوں خوشامديوں كى مانند فرعون كے نام سے شروع كيا اور
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۴۳
(۲)سورہ اعراف آيت۱۱۵
(۳)سورہ شعراء آيت۴۴
اس كے كھوكھلے اقتدار كا سہاراليا _
جيسا كہ قرآن مجيد ايك اور مقام پر كہتا ہے :
'' اس موقع پر انھوں نے جب رسياں اور لاٹھياں زمين پر پھينكيں تو وہ چھوٹے بڑے سانپوں كى طرح زمين پر حركت كرنے لگيں ''_(۱)
انھوں نے اپنے جادو كے ذرائع ميں سے لاٹھيوں كا انتخاب كيا ہوا تھا تاكہ وہ بزعم خود موسى كى عصا كى برابرى كرسكيں اور مزيد برترى كے لئے رسيوں كو بھى ساتھ شامل كرليا تھا _
اسى دوران ميں حاضرين ميں خوشى كى لہر دوڑگئي اور فرعون اور اس كے درباريوں كى آنكھيں خوشى كے مارے چمك اٹھيں اور وہ مارے خوشى كے پھولے نہيں سماتے تھے يہ منظر ديكھ كر ان كے اندر وجدو سرور كى كيفيت پيدا ہوگئي اور وہ جھوم رہے تھے _ چنانچہ بعض مفسرين كے قول كے مطابق ان ساحروں كى تعداد كئي ہزار تھى نيز ان كے وسائل سحر بھى ہزاروں كى تعداد ميں تھے چونكہ اس زمانے ميں مصر ميں سحرو ساحرى كا كافى زور تھا اس بناپر اس بات پر كوئي جائے تعجب نہيں ہے _
خصوصاً جيسا كہ قران(۲) كہتا ہے كہ :
وہ منظر اتنا عظيم ووحشتناك تھا كہ حضرت موسى نے بھى اس كى وجہ سے اپنے دل ميں كچھ خوف محسوس كيا _
اگرچہ نہج البلاغہ ميں اس كى صراحت موجود ہے كہ حضرت موسى كو اس بات كا خوف لاحق ہو گيا تھا كہ ان جادوگروں كو ديكھ كر لوگ اس قدر متاثر نہ ہوجائيں كہ ان كو حق كى طرف متوجہ كرنا دشوار ہوجائے بہرصورت يہ تمام باتيں اس بات كى مظہر ہيں كہ اس وقت ايك عظيم معركہ درپيش تھا جسے حضرت موسى عليہ السلام كو بفضل الہى سركرنا تھا_
____________________
(۱)سورہ طہ آيت ۶۶
(۲) سورہ طہ اايت ۶۷
جادو گروں كے دل ميں ايمان كى چمك ليكن موسى عليہ السلام نے اس كيفيت كو زيادہ دير نہيں پنپنے ديا وہ آگے بڑھے اور اپنے عصا كو زمين پردے مارا تو وہ اچانك ايك ادہے كى شكل ميں بتديل ہوكر جادو گروں كے ان كر شموں كو جلدى نگلنے لگا اور انھيں ايك ايك كركے كھاگيا _(۱)(۲)
____________________
(۱)سورہ طہ ، آيت۶۶
(۲)كيا عصاكا اژدھابن جانا ممكن ہے ؟
اس ميں كوئي شك نہيں كہ عصا كا ازدہا بن جانا ايك بيّن معجزہ ہے جس كى توجيہ مادى اصول سے نہيں كى جاسكتي، بلكہ ايك خدا پرست شخص كو اس سے كوئي تعجب بھى نہ ہوگا كيونكہ وہ خدا كو قادر مطلق اور سارے عالم كے قوانين كو ارادہ الہى كے تابع سمجھتا ہے لہذا اس كے نزديك يہ كوئي بڑى بات نہيں كہ لكڑى كا ايك ٹكڑا حيوان كى صورت اختيار كرلے كيونكہ ايك مافوق طبيعت قدرت كے زير اثر ايسا ہوناعين ممكن ہے _
ساتھ ہى يہ بات بھى نہ بھولنا چاہئے كہ اس جہان طبيعت ميں تمام حيوانات كى خلقت خاك سے ہوئي ہے نيز لكڑى و نباتات كى خلقت بھى خاك سے ہوئي ہے ليكن مٹى سے ايك بڑا سانپ بننے كے لئے عادتاًشايد كروڑوں سال كى مدت دركار ہے،ليكن اعجاز كے ذريعے يہ طولانى مدت اس قدر كوتاہ ہوگئي كہ وہ تمام انقلابات ايك لحظہ ميں طے ہوگئے جن كى بنا پر مٹى سے سانپ بنتا ہے ،جس كى وجہ سے لكڑى كا ايك ٹكڑا جو قوانين طبيعت كے زير اثر ايك طولانى مدت ميں سانپ بنتا،چند لحظوں ميں يہ شكل اختيار كرگيا_
اس مقام پر كچھ ايسے افراد بھى ہيں جو تمام معجزات انبياء كى طبيعى اور مادى توجيہات كرتے ہيں جس سے ان كے اعجازى پہلوں كى نفى ہوتى ہے،اور ان كى يہ سعى ہوتى ہے كہ تمام معجزات كو معمول كے مسائل كى شكل ميں ظاہر كريں ،ہر چند وہ كتب آسمانى كى نص اور الفاظ صريحہ كے خلاف ہو،ايسے لوگوں سے ہمارا يہ سوال ہے كہ وہ اپنى پوزيشن اچھى طرح سے واضح كريں _كيا وہ واقعاً خدا كى عظيم قدرت پر ايمان ركھتے ہيں اور اسے قوانين طبيعت پر حاكم مانتے ہيں كہ نہيں ؟ اگر وہ خدا كو قادر و توانا نہيں سمجھتے توان سے انبياء كے حالات اور ان كے معجزات كى بات كرنا بالكل بے كار ہے اور اگر وہ خدا كو قادر جانتے ہيں تو پھر ذرا تا مل كريں كہ ان تكلف آميز توجيہوں كى كيا ضرورت ہے جو سراسر آيات قرآنى كے خلاف ہيں (اگر چہ زير بجث آيت ميں ميرى نظر سے نہيں گزرا كہ كسى مفسر نے جس كا طريقہ تفسير كيسا ہى مختلف كيوں نہ ہو اس آيت كى مادى توجيہہ كى ہو،تا ہم جو كچھ ہم نے بيان كيا وہ ايك قاعدہ كلى كے طور پر تھا_
اس موقع پر لوگوں پر يكدم سكوت طارى ہوگيا حاضرين پر سناٹا چھاگيا،تعجب كى وجہ سے ان كے منہ كھلے كے كھلے رہ گئے آنكھيں پتھرا گئي گويا ان ميں جان ہى نہيں رہى ليكن بہت جلد تعجب كے بجائے وحشت ناك چيخ و پكار شروع ہوگئي،كچھ لوگ بھاگ كھڑے ہوئے كچھ لوگ نتيجے كے انتظار ميں رك گئے اور كچھ لوگ بے مقصد نعرے لگارہے تھے ليكن جادوگرں كے منہ تعجب كى وجہ سے كھلے ہوئے تھے_
اس مرحلے پر سب كچھ تبديل ہوگيا جو جادوگر اس وقت تك شيطانى رستے پر گامزن ،فرعون كے ہم ركاب اور موسى عليہ السلام كے مخالف تھے يك دم اپنے آپے ميں آگئے اور كيونكہ جادو كے ہر قسم كے ٹونے ٹوٹكے او رمہارت اور فن سے واقف تھے اس لئے انھيں يقين آگيا كہ ايسا كام ہر گز جادو نہيں ہوسكتا، بلكہ يہ خدا كا ايك عظيم معجزہ ہے ''لہذا اچانك وہ سارے كے سارے سجدے ميں گر پڑے ''_(۱)
دلچسپ بات يہ ہے كہ قرآن نے يہاں پر ''القي''كا استعمال كيا ہے جس كا معنى ہے گراديئے گئے يہ اس بات كى طرف اشارہ ہے كہ وہ جناب موسى عليہ السلام كے معجزے سے اس قدر متا ثر ہوچكے تھے كہ بے اختيار زمين پر سجدے ميں جاپڑے _
اس عمل كے ساتھ ساتھ جو ان كے ايمان كى روشن دليل تھا ;انھوں نے زبان سے بھى كہا:''ہم عالمين كے پروردگار پر ايمان لے آئے''_(۲)
اور ہر قسم كا ابہام وشك دور كرنے كے لئے انھوں نے ايك اور جملے كابھى اضافہ كيا تاكہ فرعون كے لئے كسى قسم كى تاويل باقى نہ رہے،انھوں نے كہا:''موسى اور ہارون كے رب پر'' _(۳)
اس سے معلوم ہوتا ہے كہ عصازمين پر مارنے اور ساحرين كے ساتھ گفتگو كرنے كا كام اگرچہ موسى عليہ السلام نے انجام ديا ليكن ان كے بھائي ہارون عليہ السلام ان كے ساتھ ساتھ ان كى حمايت اور مدد كررہے تھے_
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۴۶
(۲)سورہ شعراء آيت۴۷
(۳)سورہ شعراء آيت ۴۸
يہ عجيب وغريب تبديلى جادوگروں كے دل ميں پيدا ہوگئي اور انھوں نے ايك مختصر سے عرصے ميں مطلق تاريكى سے نكل كر روشنى اور نور ميں قدم ركھ ديا اور جن جن مفادات كا فرعون نے ان سے وعدہ كيا تھا ان سب كو ٹھكراديا ،يہ بات تو آسان تھي، انھوں نے اس اقدام سے اپنى جانوں كو بھى خطرے ميں ڈال ديا،يہ صرف اس وجہ سے تھا كہ ان كے پاس علم و دانش تھا جس كے باعث وہ حق اور باطل ميں تميز كرنے ميں كامياب ہوگئے اور حق كا دامن تھام ليا_
كيا ميرى اجازت كے بغير موسى عليہ السلام پر ايمان لے آئے؟
اس موقع پر اس طرف تو فرعون كے اوسان خطا ہوچكے تھے اور دوسرے اسے اپنا اقتدار بلكہ اپنا وجود خطرے ميں دكھائي دے رہا تھا خاص طور پر وہ جانتا تھا كہ جادوگرو ں كا ايمان لانا حاضرين كے دلوں پر كس قدر مو ثر ہوسكتا ہے اور يہ بھى ممكن ہے كہ كافى سارے لوگ جادوگروں كى ديكھا ديكھى سجدے ميں گر جائيں ، لہذا اس نے بزعم خود ايك نئي اسكيم نكالى اور جادوگروں كى طرف منہ كركے كہا:''تم ميرى اجازت كے بغير ہى اس پر ايمان لے آئے ہو''_(۱)
چونكہ وہ سالہا سال سے تخت استبداد پر براجمان چلاآرہا تھا لہذا اسے قطعاً يہ اميد نہيں تھى كہ لوگ اس كى اجازت كے بغير كوئي كام انجام ديں گے بلكہ اسے تو يہ توقع تھى كہ لوگوں كے قلب و عقل اور اختيار اس كے قبضہ قدرت ميں ہيں ،جب تك وہ اجازت نہ دے وہ نہ تو كچھ سوچ سكتے ہيں اور نہ فيصلہ كرسكتے ہيں ،جابر حكمرانوں كے طريقے ايسے ہى ہوا كرتے ہيں _
ليكن اس نے اسى بات كو كافى نہيں سمجھا بلكہ دو جملے اور بھى كہے تا كہ اپنے زعم باطل ميں اپنى حيثيت اور شخصيت كو برقرار ركھ سكے اور ساتھ ہى عوام كے بيدار شدہ افكار كے آگے بند باندھ سكے اور انھيں دوبارہ خواب غفلت ميں سلادے_
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۴۹
اس نے سب سے پہلے جادوگروں سے كہا:تمھارى موسى سے يہ پہلے سے لگى بندھى سازش ہے ،بلكہ مصرى عوام كے خلاف ايك خطرناك منصوبہ ہے اس نے كہا كہ وہ تمہارا بزرگ اور استاد ہے جس نے تمہيں جادو كى تعليم دى ہے اور تم سب نے جادوگر ى كى تعليم اسى سے حاصل كى ہے_ ''(۱)
تم نے پہلے سے طے شدہ منصوبہ كے تحت يہ ڈرامہ رچايا ہے تا كہ مصر كى عظيم قوم كو گمراہ كركے اس پر اپنى حكومت چلائو اور اس ملك كے اصلى مالكوں كو ان كے گھروں سے بے گھر كردو اور ان كى جگہ غلاموں اور كنيزوں كو ٹھہرائو_
ليكن ميں تمہيں كبھى اس بات كى اجازت نہيں دوں گا كہ تم اپنى سازش ميں كامياب ہوجائو،ميں اس سازش كو پنپنے سے پہلے ہى ناكام كردوں گا''تم بہت جلد جان لوگے كہ تمہيں ايسى سزادوں گا جس سے دوسرے لوگ عبرت حاصل كريں گے تمہارے ہاتھ اور پائوں كو ايك دوسرے كى مخالف سمت ميں كاٹ ڈالوں گا(داياں ہاتھ اور باياں پائوں ،يا باياں ہاتھ اور داياں پائوں )اور تم سب كو (كسى استثناء كے بغير)سولى پر لٹكادوں گا''_(۲)
يعنى صرف يہى نہيں كہ تم سب كو قتل كردوں گا بلكہ ايسا قتل كروں گا كہ جس ميں دكھ،درد،تكليف اور شكنجہ بھى ہوگا اور وہ بھى سرعام كھجور كے بلند درختوں پركيونكہ ہاتھ پائوں كے مخالف سمت كے كاٹنے سے احتمالاًانسان كى دير سے موت واقع ہوتى ہے اور وہ تڑپ تڑپ كر جان ديتا ہے_
ہميں اپنے محبوب كى طرف پلٹادے
ليكن فرعون يہاں پر سخت غلط فہمى ميں مبتلا تھا كيونكہ كچھ دير قبل كے جادوگر اور اس وقت كے مومن افراد نور ايمان سے اس قدر منور ہوچكے تھے اور خدائي عشق كى آگ ان كے دل ميں اس قدر بھڑك چكى تھى كہ انھوں نے فرعون كى دھمكيوں كو ہر گز ہرگز كوئي وقعت نہ دى بلكہ بھرے مجمع ميں اسے دو ٹوك جواب دے كر اس
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۴۹
(۲)سورہ شعراء آيت۴۹
كے تمام شيطانى منصوبوں كو خاك ميں ملاديا_
انھوں نے كہا:''كوئي بڑى بات نہيں اس سے ہميں ہر گز كوئي نقصان نہيں پہنچے گا تم جو كچھ كرنا چاہتے ہو كر لو، ہم اپنے پروردگار كى طرف لوٹ جائيں گے''_(۱)
اس كام سے نہ صرف يہ كہ تم ہمارا كچھ بگاڑ نہ سكوگے بلكہ ہميں اپنے حقيقى معشوق اور معبود تك بھى پہنچادوگے،تمھارى يہ دھمكياں ہمارے لئے اس دقت مو ثر تھيں جب ہم نے خود كو نہيں پہچانا تھا،اپنے خدا سے نا آشنا تھے اور راہ حق كو بھلاكے زندگى كے بيابان ميں سرگردان تھے ليكن آج ہم نے اپنى گمشدہ گراں بہا چيز كو پاليا ہے جو كرنا چاہو كرلو_
انھوں نے سلسلہ كلام آگے بڑھاتے ہوئے كہا: ہم ماضى ميں گناہوں كا ارتكاب كرچكے ہيں اور اس ميدان ميں بھى اللہ كے سچے رسول جناب موسى عليہ السلام كے ساتھ مقابلے ميں پيش پيش تھے اور حق كے ساتھ لڑنے ميں ہم پيش قدم تھے ليكن''ہم اميد ركھتے ہيں كہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ معاف كردے گا كيونكہ ہم سب سے پہلے ايمان لانے والے ہيں ''_(۲)
ہم آج كسى چيز سے نہيں گھبراتے، نہ تو تمھارى دھمكيوں سے اور نہ ہى بلند و بالا كھجور كے درختوں كے تنوں پر سولى پر لٹك جانے كے بعد ہاتھ پائوں مارنے سے_
اگر ہميں خوف ہے تو اپنے گزشتہ گناہوں كا اور اميد ہے كہ وہ بھى ايمان كے سائے اور حق تعالى كى مہربانى سے معاف ہوجائيں گے_
يہ كيسى طاقت ہے كہ جب كسى انسان كے دل ميں پيدا ہوجاتى ہے تو دنيا كى بڑى سے بڑى طاقت بھى اس كى نگاہوں ميں حقير ہوجاتى ہے اوروہ سخت سے سخت شكنجوں سے بھى نہيں گھبراتا اور اپنى جان ديدينا اس كے لئے كوئي بات ہى نہيں رہتي_
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت۴۹
(۲)سورہ شعراء آيت ۵۱
يقينا يہ ايمانى طاقت ہوتى ہے_
يہ عشق كے روشن ودرخشاں چراغ كا شعلہ ہوتا ہے جو شہادت كے شربت كو انسان كے حلق ميں شہد سے بھى زيادہ شيريں بناديتا ہے اور محبوب كے وصال كو انسان كا ارفع و اعلى مقصد بنا ديتا ہے_
بہر حال يہ منظر فرعون اور اس كے اركان سلطنت كے لئے بہت ہى مہنگا ثابت ہوا ہر چند كہ بعض روايات كے مطابق اس نے اپنى دھمكيوں كو عملى جامہ بھى پہنايا اور تازہ ايمان لانے والے جادوگروں كو شہيد كرديا ليكن عوام كے جو جذبات موسى عليہ السلام كے حق ميں اور فرعون كے خلاف بھڑك اٹھے تھے وہ انھيں نہ صرف دبا نہ سكا بلكہ اور بھى بر انگيختہ كرديا_
اب جگہ جگہ اس خدائي پيغمبر كے تذكرے ہونے لگے اور ہر جگہ ان با ايمان شہداء كے چرچے تھے بہت سے لوگ اس وجہ سے ايمان لے آئے_جن ميں فرعون كے كچھ نزديكى لوگ بھى تھے حتى كہ خود اس كى زوجہ ان ايمان لانے والوں ميں شامل ہوگئي_
فرعون كى زوجہ ايمان لے آئي
فرعون كى بيوى كا نام آسيہ اور باپ كا نام مزاحم تھا_كہتے ہيں كہ جب اس نے جادوگروں كے مقابلہ ميں موسى عليہ السلام كے معجزے كو ديكھا تو اس كے دل كى گہرائياں نور ايمان سے روشن ہوگئيں ،وہ اسى وقت موسى عليہ السلام پر ايمان لے آئي _وہ ہميشہ اپنے ايمان كو پوشيدہ ركھتى تھي_ ليكن ايمان اور خدا كا عشق ايسى چيز نہيں ہے جسے ہميشہ چھپايا جاسكے_جب فرعون كو اس كے ايمان كى خبر ہوئي تو اس نے اسے بارہا سمجھايا اور منع كيا اور يہ اصرار كيا كہ موسى كے دين سے دستبردار ہوجائے اور اس كے خدا كو چھوڑدے،ليكن يہ با استقامت خاتون فرعون كى خواہش كے سامنے ہر گز نہ جھكي_
آخر كار فرعون نے حكم ديا كہ اس كے ہاتھ پائوں ميخوں ساتھ جكڑ كر اسے سورج كى جلتى ہوئي دھوپ ميں ڈال ديا جائے اور ايك بہت بڑا پتھر اس كے سينہ پر ركھ ديں _جب وہ خاتون اپنى زندگى كے آخرى لمحے گزار رہى تھى تو اس كى دعا يہ تھي:
''پروردگاراميرے لئے جنت ميں اپنے جوار رحمت ميں ايك گھر بنادے_ مجھے فرعون اور اس كے عمال سے رہائي بخش اور مجھے اس ظالم قوم سے نجات دے''_
خدا نے بھى اس پاكباز اور فدار كار مومنہ خاتون كى دعا قبول كى اور اسے مريم(ع) جيسى دنيا كى بہترين خاتون جناب مريم(ع) كے ہم رديف قرار پائي ہے_
ايك روايت ميں رسول خدا(ص) سے منقول ہے:
''اہل جنت ميں افضل ترين اور برترين عورتيں چارہيں _ خويلد كى بيٹى خديجہ(ع) ،محمد(ص) كى بيٹى فاطمہ(ع) اور عمران كى بيٹى مريم(ع) اور مزاحم كى بيٹى آسيہ(ع) جو فرعون كى بيوى تھي''_
قابل توجہ بات يہ ہے كہ فرعون كى بيوى اپنى اس بات سے فرعون كے عظيم قصر كى تحقير كررہى ہے،اور اسے خدا كے جوار رحمت ميں گھر،كے مقابلہ ميں كوئي اہميت نہيں ديتي_اس گفتگو كے ذريعہ ان لوگوں كے جو اسے يہ نصيحت كرتے تھے كہ ان تمام نماياں وسائل و امكانات كو جو ملكہ مصر ہونے كى وجہ سے تيرے قبضہ و اختيار ميں ہيں ، موسى عليہ السلام جيسے چرواہے پر ايمان لاكر ہاتھ سے نہ دے_ جواب ديتى ہے:
اور''نجى من فرعون و عملہ'' كے جملہ كے ساتھ خود فرعون سے اور اس كے مظالم اور جرائم سے بيزارى كا اعلان كرتى ہے_
اور( نجى من القوم الظالمين ) كے جملہ سے اس آلودہ ماحول سے اپنى على حدگي،اور ان كے جرائم سے اپنى بيگانگى كا اظہار كرتى ہے_
مسلمہ طور پر فرعون كے دربار سے بڑھ كرز رق برق اور جلال و جبروت موجود نہيں تھا_اسى طرح فرعون جيسے جابر و ظالم كے شكنجوں سے بڑھ كر فشار اور شكنجے موجود نہيں تھے_ ليكن نہ تو وہ زرق برق اور نہ ہى وہ فشار اور شكنجے اس مومنہ عورت كے گھٹنے جھكا سكے_ اس نے رضائے خدا ميں اپنا سفر اسى طرح سے جارى ركھا_يہاں تك كہ اپنى عزيز جان اپنے حقيقى محبوب كى راہ ميں فدا كردي_
قابل توجہ بات يہ ہے كہ وہ يہ استدعا كرتى ہے كہ اے خدا جنت ميں اوراپنے جوار ميں اس كے لئے
ايك گھر بنادے جس كا جنت ميں ہونا تو جنبہ جسمانى ہے اور خدا كے جوار رحمت ميں ہونا جنبہ روحانى ہے_ اس نے ان دونوں كو ايك مختصر سى عبارت ميں جمع كرديا ہے_
جناب موسى عليہ السلام كے قتل كا حكم
ايك طرف موسى عليہ السلام اور ان كے پيروكاروں كے درميان باہمى نزاع،اور دوسرى طرف فرعون اور اس كے ہم نوائوں كے ساتھ لڑائي جھگڑا كافى حد تك بڑھ گيا اوراس دوران ميں بہت سے واقعات رونما ہوچكے،جنہيں قرآن نے اس مقام پر ذكر نہيں كيا بلكہ ايك خاص مقصد كو جسے ہم بعد ميں بيان كريں گے پيش نظر ركھ كر ايك نكتہ بيان كيا گيا ہے كہ حالات بہت خراب ہوگئے تو فرعون نے حضرت موسى عليہ السلا م كى انقلابى تحريك كو دبانے بلكہ ختم كرنے كے لئے ان كے قتل كى ٹھان لى ليكن ايسا معلوم ہوتا ہے كہ گويا اس كے مشيروں اور درباريوں نے اس كے اس فيصلے كى مخالفت كى _چنانچہ قرآن كہتا ہے:
''فرعون نے كہا مجھے چھوڑدوتاكہ ميں موسى كو قتل كر ڈالوں اور وہ اپنے پروردگار كو بلائے تاكہ وہ اسے اس سے نجات دے''_(۱)
اس سے يہ بات سمجھنے ميں مدد ملتى ہے كہ اس كے اكثر يا كم از كم كچھ مشير موسى عليہ السلام كے قتل كے مخالف تھے وہ يہ دليل پيش كرتے تھے كہ چونكہ موسى كے كام معجزانہ اور غير معمولى ہيں لہذا ہوسكتا ہے كہ وہ ہمارے لئے بددعا كردے تو اس كا خدا ہم پر عذاب نازل كردے ليكن كبر و غرور كے نشے ميں مست فرعون كہنے لگا:ميں تواسے ضرور قتل كروں گا جو ہوگا ديكھا جائے گا_
يہ بات تو معلوم نہيں ہے كہ فرعون كے حاشيہ نشينوں اور مشيروں نے كس بناء پر اسے موسى عليہ السلام كے قتل سے باز ركھا البتہ يہاں پر چند ايك احتمال ضرور ہيں اور ہوسكتا ہے وہ سب كے سب صحيح ہوں _
ايك احتمال تو يہ ہے كہ ممكن ہے خدا كى طرف سے عذاب نازل ہوجائے_
____________________
(۱)سورہ مومن آيت ۲۶
دوسرا احتمال ان كى نظر ميں يہ ہوسكتا ہے كہ موسى عليہ السلام كے مارے جانے كے بعد حالات يكسردگر گوں ہوجائيں گے كيونكہ وہ ايك شہيد كا مقام پاليں گے اور انہيں ہيروكا درجہ مل جائے گا اس طرح سے ان كا دين بہت سے مو من،ہمنوا،طرفدار اور ہمدرد پيدا كرلے گا _
خلاصہ كلام انہيں اس بات كا يقين ہوگياكہ بذات خود موسى ان كے لئے ايك عظيم خطرہ ہيں ليكن اگر ان حالات ميں انہيں قتل كرديا جائے تو يہ حادثہ ايك تحريك ميں بدل جائے گا جس پر كنٹرول كرنا بھى مشكل ہوجائے گااور اس سے جان چھڑانى مشكل تر ہوجائے گي_
فرعون كے كچھ دربارى ايسے بھى تھے جو قلبى طور پر فرعون سے راضى نہيں تھے_وہ چاہتے تھے كہ موسى عليہ السلام زندہ رہيں اورفرعون كى كى تمام تر توجہ انہى كى طرف مبذول رہے، اس طرح سے وہ چار دن آرام كے ساتھ بسر كرليں اور فرعون كى آنكھوں سے اوجھل رہ كر ناجائز مفاد اٹھاتے رہيں كيونكہ يہ ايك پرانا طريقہ كار ہے كہ بادشاہوں كے دربارى اس بات كى فكر ميں رہتے ہيں كہ ہميشہ ان كى توجہ دوسرے امور كى طرف مبذول رہے تا كہ وہ آسودہ خاطر ہوكر اپنے ناجائز مفادات كى تكميل ميں لگے رہيں _اسى لئے تو بعض اوقات وہ بيرونى دشمن كو بھى بھڑكاتے ہيں تاكہ بادشاہ كى فارغ البالى كے شر سے محفوظ رہيں _
كہيں موسى تمہارا مذہب نہ بدل دے
بہر حال فرعون نے حضرت موسى عليہ السلام كو قتل كے منصوبے كى توجيہہ كرتے ہوئے اپنے درباريوں كے سامنے اس كى دودليليں بيان كيں _ايك كا تعلق دينى اور روحانى پہلو سے تھا اور دوسرى كا دنياوى اور مادى سے ،وہ كہنے لگا:مجھے اس بات كا خوف ہے كہ وہ تمہارے دين كو تبديل كردے گا اور تمہارے باپ دادا كے دين كو دگر گوں كردے گا،يا يہ كہ زمين ميں فساد اور خرابى برباد كردے گا_(۱)
اگر ميں خاموشى اختيار كرلوں تو موسى بہت جلد مصر والوں ميں اتر جائے گا اور بت پرستى كا''مقدس
____________________
(۱)سورہ مومن آيت ۲۶
دين''جو تمہارى قوميت اور مفادات كا محافظ ہے ختم ہوجائے گااور اس كى جگہ توحيد پرستى كا دين لے لے گا جو يقينا تمہارے سوفيصد خلاف ہوگا_
اگر ميں آج خاموشى ہوجائوں اور كچھ عرصہ بعد موسى سے مقابلہ كرنے كے لئے اقدام كروں تو اس دوران ميں وہ اپنے بہت سے دوست اور ہمدرد پيدا كرلے گا جس كى وجہ سے زبردست لڑائي چھڑجائے گى جو ملكى سطح پر خونريزي، گڑ بڑاور بے چينى كا سبب بن جائے گى اسى لئے مصلحت اسى ميں ہے كہ جتنا جلدى ہوسكے اسے موت كے گھاٹ اتار ديا جائے _
اب ديكھنا يہ ہے كہ اس گفتگو سے موسى عليہ السلام نے كس رد عمل كا اظہار كيا جو اس مجلس ميں تشريف فرمابھى تھے، قرآن كہتا ہے :موسى نے كہا : ''ميں اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار كى ہر اس متكبر سے پناہ مانگتا ہوں جو روز حساب پر ايمان نہيں لاتا ''_(۱)
موسى عليہ السلام نے يہ باتيں بڑے سكون قلب اور اطمينان خاطر سے كيں جوان كے قوى ايمان اور ذات كردگار پر كامل بھروسے كى دليل ہيں اور اس طرح سے ثابت كرديا كہ اس كى اس دھمكى سے وہ ذرہ بھر بھى نہيں گھبرائے _
حضرت موسى عليہ السلام كى اس گفتگو سے ثابت ہوتا ہے كہ جن لوگوں ميں مندرجہ ذيل دوصفات پائي جائيں وہ نہايت ہى خطر ناك افراد ہيں ايك '' تكبر'' اور دوسرے '' قيامت پر ايمان نہ ركھنا'' اور اس قسم كے افراد سے خدا كى پناہ مانگنى چاہئے _
آيا كسى كو خدا كى طرف بلانے پر بھى قتل كرتے ہيں ؟
يہاں سے موسى عليہ السلام اور فرعون كى تاريخ كا ايك اور اہم كردار شروع ہوتا ہے اور وہ ہے ''مئومن آل فرعون '' جو فرعون كے رشتہ داروں ميں سے تھا حضرت موسى عليہ السلام كى دعوت توحيد قبول كرچكا
____________________
(۱)سورہ مومن آيت ۲۷
تھا،ليكن اپنے اس ايمان كو ظاہر نہيں كرتا تھا كيونكہ وہ اپنے آپ كو خاص طريقے سے موسى عليہ السلام كى حمايت كا پابند سمجھتا تھا جب اس نے ديكھا كہ فرعون كے غيظ وغضب سے موسى عليہ السلام كى جان كو خطرہ پيدا ہوگيا ہے تو مردانہ وار آگے بڑھا اور اپنى دل نشين اور موثر گفتگو سے قتل كى اس سازش كو ناكام بناديا _
قرآن ميں فرمايا گيا ہے :'' آل فرعون ميں سے ايك شخص نے جو اپنے ايمان كو چھپائے ہوئے تھا كہا:
''كياكسى شخص كو صرف اس بناء پر قتل كرتے ہوكہ وہ كہتا ہے كہ ميرا رب اللہ ہے ؟''(۱)
''حالانكہ وہ تمہارے ربّ كى طرف سے معجزات اور واضح دلائل اپنے ساتھ لايا ہے _''(۲)
آيا تم اس كے عصا اور يدبيضاء جيسے معجزات كا انكار كرسكتے ہو ؟ كيا تم نے اپنى آنكھوں سے اس كے جادو گروں پر غالب آجانے كا مشاہدہ نہيں كيا ؟ يہاں تك كہ جادوگروں نے اس كے سامنے اپنے ہتھيار ڈال ديئےور ہمارى پرواہ تك نہ كى اور نہ ہى ہمارى دھمكيوں كو خاطر ميں لائے اور موسى كے خدا پر ايمان لاكر اپنا سراس كے آگے جھكاديا، ذرا سچ بتائو ايسے شخص كو جادوگر كہا جاسكتا ہے،؟ خوب سوچ سمجھ كر فيصلہ كرو، جلد بازى سے كام نہ لو اور اپنے اس كام كے انجام كو بھى اچھى طرح سوچ لوتاكہ بعد ميں پشيمان نہ ہونا پڑے _
ان سب سے قطع نظر يہ دوحال سے خالى نہيں '' اگر وہ جھوٹا ہے تو جھوٹ اس كا خود ہى دامن گير ہوگا اور اگر سچا ہے تو كم ازكم جس عذاب سے تمہيں ڈرايا گيا ہے وہ كچھ نہ كچھ تو تمہارے پاس پہنچ ہى جائےگا''_(۳)
يعنى اگر وہ جھوٹا ہے جھوٹ كے پائوں نہيں ہوتے ، آخركار ايك نہ ايك دن اس كا پول كھل جائے گا اور وہ اپنے جھوٹ كى سزا پالے گا ليكن يہ امكان بھى تو ہے كہ شايد وہ سچا ہو اور خدا كى جانب سے بھيجا گيا ہو تو پھر ايسى صورت ميں اس كے كئے ہوئے وعدے كسى نہ كسى صورت ميں وقوع پذير ہوكررہيں گے لہذا اس كا قتل كرنا عقل وخرد سے كو سوں دورہے _
____________________
(۱)سورہ مومن آيت۲۸
(۲)سورہ مومن آيت ۲۸
(۳)سورہ مومن ۲۸
اس سے يہ نتيجہ نكلا، ''االلہ تعالى مسرف اور جھوٹے كى ہدا يت نہيں فرماتا''_(۱)
اگر حضرت موسى تجاوزو اسراف ودروغ كو اختيار كرتے تو يقينااللہ تعالى كى ہدايت حاصل نہ كرتے اور اگر تم بھى ايسے ہى ہوگئے تو اس كى ہدايت سے محروم ہوجائوگے _
مومن آل فرعون نے اس پر ہى اكتفاء نہيں كى بلكہ اپنى گفتگو كو جارى ركھا، دوستى اور خير خواہى كے انداز ميں ان سے يوں گويا ہوا : اے ميرى قوم آج مصر كى طويل وعريض سرزمين پر تمہارى حكومت ہے اور تم ہر لحاظ سے غالب اور كامياب ہو، اس قدر بے انداز نعمتوں كا كفران نہ كرو، اگر خدائي عذاب ہم تك پہنچ گيا تو پھر ہمارى كون مدد كرے گا ''_(۲)
ظاہر اً اس كى يہ باتيں '' فرعون كے ساتھيوں '' كے لئے غير موثر ثابت نہيں ہوئيں انہيں نرم بھى بنا ديا اور ان كے غصے كو بھى ٹھنڈا كرديا _
ليكن يہاں پر فرغون نے خاموشى مناسب نہ سمجھى اس كى بات كاٹتے ہوئے كہا: بات وہى ہے جو ميں نے كہہ دى ہے_''جس چيز كا ميں معتقد ہوں اسى كا تمہيں بھى حكم ديتا ہوں ميں اس بات كا معتقد ہوں كہ ہر حالت ميں موسى كو قتل كردينا چاہئے اس كے علاوہ كوئي اور راستہ نہيں ہے اور ميں تو صرف تمہيں صحيح راستہ كى طرف راہنمائي كرتا ہوں ''_(۳)
ميں تمہيں خبردار كرتا ہوں
اس دور ميں مصر كے لوگ ايك حدتك متمدن اور پڑھے لكھے تھے انہوں نے قوم نوح، عاد اور ثمود جيسى گزشتہ اقوام كے بارے ميں مو رخين كى باتيں بھى سن ركھى تھيں اتفاق سے ان اقوام كے علاقوں كا اس علاقے سے زيادہ فاصلہ بھى نہيں تھا يہ لوگ ان كے دردناك انجام سے بھى كم وبيش واقفيت ركھتے تھے _
لہذا مو من آل فرعون نے موسى عليہ السلام كے قتل كے منصوبے كى مخالفت كى اس نے ديكھا كہ
____________________
(۱)سورہ مومن آيت ۲۸
(۲)سورہ مومن آيت۲۹
(۳)سورہ مومن آيت۲۹
فرعون كو زبردست اصرار ہے كہ وہ موسى كے قتل سے باز نہيں آئے گا، اس مرد مو من نے پھر بھى ہمت نہ ہارى اور نہ ہى ہارنى چاہئے تھى لہذا اب كہ اس نے يہ تدبير سوچى كہ اس سركش قوم كو گزشتہ اقوام كى تاريخ اور انجام كى طرف متوجہ كرے شايد اس طرح سے يہ لوگ بيدارہوں اور اپنے فيصلے پر نظر ثانى كريں قرآن كے مطابق اس نے اپنى بات يوں شروع كى اس باايمان شخص نے كہا:'' اے ميرى قوم ، مجھے تمہارے بارے ميں گزشتہ اقوام كے عذاب كے دن كى طرح كا خوف ہے _''(۱)
پھر اس بات كى تشريح كرتے ہوئے كہا :''ميں قوم نوح(ع) ، عاد، ثمود اور ان كے بعد آنے والوں كى سى برى عادت سے ڈرتا ہوں ''_(۲)
ان قوموں كى عادت شرك،كفر اور طغيان وسركشى تھى اور ہم ديكھ چكے ہيں كہ ان كا كيا انجام ہوا ؟ كچھ تو تباہ كن طوفانوں كى نذر ہوگئيں ، كچھ وحشت ناك جھگڑوں كى وجہ سے برباد ہوئيں ، كچھ كو آسمانى بجلى نے جلاكر راكھ كرديا اور كچھ زلزلوں كى بھينٹ چڑھ كر صفحہ ہستى سے مٹ گئيں _كيا تم يہ نہيں سمجھتے كہ كفراور طغيان پر اصراركى وجہ سے تم بھى مذكورہ عظيم بلائوں ميں سے كسى ايك كا شكار ہوسكتے ہو؟ لہذا مجھے كہنے دو كہ مجھے تمہارے بارے ميں بھى اس قسم كے خطرناك مستقبل كا انديشہ ہے _ آيا تمہارے پاس اس بات كا كوئي ثبوت ہے كہ تمہارے كردار اور افعال ان سے مختلف ہيں ؟ آخران لوگوں كا كيا قصور تھا كہ وہ اس طرح كے بھيانك مستقبل سے دوچار ہوئے كيا اس كے سوا كچھ اور تھا كہ انھوں نے خدا كے بھيجے ہوئے پيغمبر وں كى دعوت كے خلاف قيام كيا، ان كى تكذيب كى بلكہ انہيں قتل كرڈالا_
ليكن يادركھو جو مصيبت بھى تم پر نازل ہوگى خود تمہارے كئے كى سزا ہوگى كيونكہ '' خدا اپنے بندوں پر ظلم نہيں كرنا چاہتا_''(۳) پھر كہتا ہے : اے ميرى قوم ميں تمہاريے لئے اس دن سے ڈرتا ہوں جس دن لوگ ايك دوسرے كو پكاريں گے ليكن كوئي مدد نہيں كرے گا''_(۴)
____________________
(۱)سورہ مومن آيت ۳۱
(۲)سورہ مومن آيت ۳۱
(۳)سورہ مومن آيت۳۱
(۴)سورہ مومن آيت۳۲
ان بيانات كے ذريعے مومن آل فرعون نے جو كچھ كرنا تھا كردكھايا اس نے فرعون كو جناب موسى كے قتل كى تجويز بلكہ فيصلے كے بارے ميں ڈانواڈول كرديا يا كم از كم اسے ملتوى كرواديا اسى التواء سے قتل كا خطرہ ٹل گيا اور يہ تھا اس ہوشيار، زيرك اور شجاع مرد خدا كا فريضہ جو اس نے كماحقہ ادا كرديا جيسا كہ بعد كى گفتگوسے معلوم ہوگا كہ اس سے اس كى جان كے بھى خطرے ميں پڑنے كا انديشہ ہوگيا تھا _
آخرى بات
پانچويں اور آخرى مرحلے پر مومن آل فرعون نے تمام حجاب الٹ ديئے اور اس سے زيادہ اپنے ايمان كو نہ چھپاسكا ،وہ جو كچھ كہنا چاہتا تھا كہہ چكا اور فرعون والوں نے بھى ،جيسا كہ آگے چل كر معلوم ہوگا، اس كے بارے ميں بڑا خطرناك فيصلہ كيا _ خداوند عالم نے بھى اپنے اس مومن اور مجاہد بندے كو تنہا نہيں چھوڑا جيسا كہ قران نے بيان كياہے : ''خدا نے بھى اسے ان كى ناپاك چالوں اور سازشوں سے بچاليا ''_(۱)
اس كى تعبير سے واضح ہوتا ہے كہ فرعونيوں نے اس كے بارے ميں مختلف سازشيں اور منصوبے تيار كرركھے تھے _
ليكن وہ منصوبے كيا تھے ؟ قرآن نے اس كى تفصيل بيان نہيں كي، ظاہر ہے كہ مختلف قسم كى سزائيں اذيتيں اور آخركار قتل اور سزائے موت ہوسكتى ہے ليكن خداوندعالم كے لطف وكرم نے ان سب كو ناكام بناديا _
چنانچہ بعض تفسيروں ميں ہے كہ وہ ايك مناسب موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے موسى عليہ السلام تك پہنچ گيا اور اس نے بنى اسرائيل كے ہمرا ہ دريائے نيل كو عبور كيا، نيز يہ بھى كہا گيا ہے كہ جب اس كے قتل كا منصوبہ بن چكا تو اس نے اپنے آپ كو ايك پہاڑ ميں چھپاليا اور نگاہوں سے اوجھل ہوگيا _
يہ دونوں روايات آپس ميں مختلف نہيں ہيں كيونكہ ممكن ہے كہ پہلے وہ شہر سے مخفى ہوگيا ہو اور پھر بنى اسرائيل سے جا ملاہو _
____________________
(۱)سورہ مومن آيت۴۵
موسى كے خدا كى خبرلاتا ہوں
اگرچہ مومن آل فرعون كى باتوں نے فرعون كے دل پر اس قدر اثر كيا كہ وہ موسى عليہ السلام كے قتل سے تو باز آگيا ليكن پھر بھى غرور كى چوٹى سے نيچے نہ اترا اور اپنى شيطنت سے بھى بازنہ آيا اور نہ ہى حق بات قبول كرنے پر آمادہ ہوا كيونكہ فرعون كے پاس اس بات كى نہ توصلاحيت تھى اور نہ ہى لياقت لہذا اپنے شيطنت آميز اعمال كو جارى ركھتے ہوئے اس نے ايك نئے كام كى تجويز پيش كى اور وہ ہے آسمانوں پر چڑھنے كے لئے ايك بلندو بالابرج كى تعمير تاكہ اس پر چڑھ كر موسى كے خدا كى خبر لے آئے _
فرعون نے كہا: اے ہامان : ميرے لئے ايك بلند عمارت تيار كروتاكہ ميں اسباب وذرائع تك پہنچ سكوں ايسے اسباب وذرائع جو مجھے آسمانوں تك لے جاسكيں تاكہ ميں موسى كے خدا سے باخبر ہوسكوں ہر چند كہ ميں گمان كرتاہوں كہ وہ جھوٹاہے _
جى ہاں اس قسم كے برے اعمال فرعون كى نظر ميں مزين كرديئے گئے تھے اور انھوں نے اسے راہ حق سے روك ديا تھا ،ليكن فرعون كى سازش اور چالوں كا انجام نقصان اور تباہى كے سوا كچھ نہيں ''_(۱)
سب سے پہلى چيز جو يہاں پر نظر آتى ہے وہ يہ ہے كہ آخر اس كام سے فرعون كا مقصد كيا تھا؟ آياوہ واقعاً اس حدتك احمق تھا كہ گمان كرنے لگا كہ موسى كا خدا آسمان ميں ہے ؟ بالفرض اگر آسمان ميں ہو بھى تو آسمان سے باتيں كرنے والے پہاڑوں كے ہوتے ہوئے اس عمارت كے بنانے كى كيا ضرورت تھى جو پہاڑوں كى اونچائي كے سامنے بالكل ناچيز تھي؟ اور كيا اس طرح سے وہ آسمان تك پہنچ بھى سكتا تھا؟
يہ بات تو بہت ہى بعيد معلوم ہوتى ہے كيونكہ فرعون مغرور اور متكبر ہونے كے باوجود سمجھ دار اور سياستداں شخص تو ضرورتھا جس كى وجہ سے اس نے ايك عظيم ملت كو اپنى زنجيروں ميں جكڑا تھا اور بڑے زور دار طريقے سے اس پر حكومت كرتارہا لہذا اس قسم كے افراد كى ہر ہر بات اور ہر ہر حركت شيطانى حركات
____________________
(۱)سورہ مومن آيت۳۷
وسكنات كى آئينہ دار ہوتى ہيں لہذا سب سے پہلے اس كے اس شيطانى منصوبے كا تجزيہ وتحليل كرنا چاہئے كہ آخر ايسى عمارت كى تعمير كا مقصد كيا تھا ؟
بظاہر يہ معلوم ہوتا ہے كہ فرعون نے ان چند مقاصد كے پيش نظر ايسا اقدام كيا :
۱_وہ چاہتا تھا كہ لوگوں كى فكر كو مصروف ركھے موسى عليہ السلام كى نبوت اور بنى اسرائيل كے قيام كے مسئلہ سے ان كى توجہ ہٹانے كے لئے اس نے يہ منصوبہ تيار كيا، بعض مفسرين كے بقول يہ عمارت ايك نہايت ہى وسيع وعريض زمين ميں كھڑى كى گئي جس پر پچاس ہزار مزدور كام كرنے لگے اس تعميرى منصوبے نے دوسرے تمام مسائل كو بھلاديا جوں جوں عمارت بلند ہوتى جاتى تھى توں توں لوگوں كى توجہ اس كى طرف زيادہ مبذول ہوتى تھى ہر جگہ اور ہر محفل ميں نئي خبر كے عنوان سے اس كے چرچے تھے اس نے وقتى طور پر جادو گروں پر موسى عليہ السلام كى كاميابى كو جو كہ فرعون اور فرعونيوں كے پيكر پر ايك كارى ضرب تھى لوگوں كے ذہنوں سے فراموش كرديا _
۲_ وہ چاہتا تھا كہ اس طرح سے زحمت كش اور مزوور طبقے كى جزوى مادى اور اقتصادى امداد كرے اور عارضى طور پر ہى سہى بيكار لوگوں كے لئے كام مہيا كرے تاكہ تھوڑاسا اس كے مظالم كو فراموش كرديں اور اس كے خزانے كى لوگوں كو زيادہ سے زيادہ احتياج محسوس ہو _
۳_پروگرام يہ تھا كہ جب عمارت پايہ تكميل كو پہنچ جائے، تو وہ اس پر چڑھ كر آسمان كى طرف نگاہ كرے اور شايد چلہ كمان ميں ركھ كر تير چلائے اور وہ واپس لوٹ آئے تو لوگوں كو احمق بنانے كے لئے كہے كہ موسى كا خدا جو كچھ بھى تھا آج اس كا خاتمہ ہو گيا ہے اب ہر شخص بالكل مطمئن ہوكر اپنے اپنے كام ميں مصروف ہوجائے _
وگرنہ فرعون كے لئے تو صاف ظاہر تھا كہ اس كى عمارت جتنى بھى بلند ہو چند سو ميڑسے زيادہ تو اونچى نہيں جاسكتى تھى جبكہ آسمان اس سے كئي گنا بلند اور اونچے تھے، پھريہ كہ اگر بلند ترين مقام پر بھى كھڑے ہوكر آسمان كى طرف ديكھا جائے تو اس كا منظر بغير كسى كمى بيشى كے ويسے ہى نظر آتا ہے جيسے سطح زمين سے _
يہ بات بھى قابل توجہ ہے كہ فرعون نے يہ بات كركے درحقيقت موسى عليہ السلام كے مقابلے سے ايك قسم كى پسپائي اختيار كى جبكہ اس نے كہا كہ ميں موسى كے خدا كے بارے ميں تحقيق كرنا چاہتاہوں '' فاطلع الى الہ موسى '' اور ساتھ ہى يہ بھى كہتا ہے كہ'' ہر چند كہ ميں اسے جھوٹا گمان كرتا ہوں '' اس طرح سے وہ يقين كى منزل سے ہٹ كر شك اور گمان كے مرحلے تك نيچے آجاتاہے _
اس مسئلے ميں مفسرين كے ايك گروہ نے (مثلاً فخر رازى اور آلوسى نے ) يہ سوال بھى اٹھايا ہے كہ آيا : فرعون نے اپنا مجوزہ بلند مينار تعمير كرايا تھا يانہيں ؟
ان مفسرين كا ذہن اس طرف اس لئے منتقل ہوا كہ مينار كى تعمير كا كام كسى طرح بھى عاقلانہ نہ تھا كيا اس عہد كے لوگ كبھى بلند پہاڑوں پر نہيں چڑھے تھے ؟ اور انھوں نے آسمان كے منظر كو ويسا ہى نہيں ديكھا تھا جيسا كہ وہ زمين سے نظرآتا ہے ؟كيا انسان كا بنايا ہوا مينار پہاڑسے زيادہ اونچا ہوسكتا ہے ؟ كيا كوئي احمق بھى يہ يقين كرسكتا ہے كہ ايسے مينار پر چڑھ كر آسمان كو چھوا جاسكتا ہے ؟
ليكن وہ مفسرين جنہوں نے يہ اشكا لات پيدا كئے ہيں ان كى توجہ ان نكات كى طرف نہيں گئي كہ اول تو ملك مصر كو ہستانى نہيں دوم يہ كہ انہوں نے اس عہد كے لوگوں كى سادہ لوحى كو فراموش كرديا كہ ان سيدھے سادھے لوگوں كو ايسے ہى مسائل سے غافل كيا جاسكتا تھا يہاں تك كہ خود ہمارے زمانے جسے عصر علم ودانش كہا جاتاہے، لوگوں كى توجہ اصل مسائل سے ہٹانے كے لئے كيسے كيسے مكرو فريب اور حيلہ سازياں كى جاتى ہيں _
پچاس ہزار معمار برج بناتے ہيں
بہر كيف _بعض تواريخ كے بيان كے مطابق، ہامان نے حكم ديا كہ ايسا محل اور برج بنانے كے لئے زمين كا ايك وسيع قطعہ انتخاب كريں اور اس كى تعمير كے لئے پچاس ہزار معمار اور مزدور روانہ كردے اور اس عمارت كے واسطے مٹيريل فراہم كرنے كے لئے ہزاروں آدمى مقرر كئے گئے اس نے خزانہ كا منہ كھول ديا اور اس مقصد كے لئے كثير رقم خرچ كى يہاں تك كہ تمام ملك مصر ميں اس عظيم برج كى تعمير كى شہرت ہوگئي _
يہ عمارت جس قدر بھى بلند سے بلندتر، ہوتى جاتى تھى لوگ اتنے ہى زيادہ اسے ديكھنے آتے تھے اور منتظر تھے كہ ديكھئے فرعون يہ عمارت بنا كر كيا كرتا ہے ؟
يہ عمارت اتنى بلند ہوگئي كہ اس سے دوردور تك اطراف وجوانب كا ميدان نظر آنے لگا بعض مو رخين نے لكھا ہے كہ معماروں نے اس كى مارپيچ سيڑھياں ايسى بنائي تھيں كہ آدمى گھوڑے پر سوار ہوكر اس پر چڑھ سكتا تھا _
ميں نے موسى عليہ السلام كے خدا كو مارا ڈالا
جب وہ عمارت پايہ تكميل كو پہنچ گئي اور اسے مزيد بلند كرنے كا كوئي امكان نہ رہا تو ايك روز فرعون پورى شان وشوكت سے وہاں آيا اور بذات خود برج پر چڑھ گيا جب وہ برج كى چوٹى پر پہنچا اور آسمان كى طرف نظر اٹھائي تو اسے آسمان ويسا ہى نظر آيا جيسا كہ وہ زمين سے ديكھا كرتا تھا اس منظر ميں ذرا بھى تغيرو تبديلى نہ تھى _
مشہور يہ ہے كہ اس نے مينار پر چڑھ كے كمان ميں تير جوڑا اور آسمان كى طرف پھنكا يا تووہ تير كسى پرندے كے لگايا پہلے سے كوئي سازش كى گئي تھى كہ تير خون آلود واپس آيا تب فرعون وہاں سے نيچے اترآيا اور لوگوں سے كہا :جائو، مطمئن رہو اور كسى قسم كى فكر نہ كرو ميں نے موسى كے خدا كو مارڈالاہے _
يہ بات حتمى طور پر كہى جاسكتى ہے كہ سادہ لوحوں اور اندھى تقليد كرنے والوں كے ايك گروہ نے او ران لوگوں نے جن كى آنكھيں اور كان حكومت وقت كے پروپيگنڈے سے بند ہوگئے تھے، فرعون كے اس قول كا يقين كرليا ہوگا اور ہر جگہ اس خبر كو عام كيا ہوگا اور مصر كى رعايا كو غافل ركھنے كا ايك اور سبب پيدا ہوگا _
مفسرين نے يہ بھى لكھا ہے كہ يہ عمارت دير تك قائم نہيں رہى (اور اسے رہنا بھى نہ چاہئے تھا) تباہ ہوگئي بہت سے لوگ اس كے نيچے دب كے مرگئے اس سلسلے ميں اہل قلم نے اور بھى طرح طرح كى داستانيں لكھى ہيں ليكن ان كى صحت كى تحقيق نہ ہوسكى اس لئے انھيں قلم زد كرديا گيا ہے _
بيدار كرنے والى سزائيں
ايك كلى قانون تمام پيغمبروں كے لئے يہ تھا كہ جب ان كو لوگوں كى مخالفت كا سامنا ہو اور وہ كسى طرح سے راہ راست پر نہ آئيں تو خدا ان كو بيدار كرنے كے لئے مشكلات ومصائب ميں گرفتار كرتا تھا تاكہ وہ اپنے ميں نياز مندى اور محتاجى كا احساس كريں ، اور ان كى فطرت توحيد جو آرام وآسائش كى وجہ سے غفلت كے پردوں ميں چلى گئي ہے دوبارہ ابھر آئے اوران كو اپنى ضعف وناتوانى كا اندازہ ہو اور اس قادر وتوانا ہستى كى جانب متوجہ ہوں جو ہر نعمت و نقمت كا سر چشمہ ہے _
قرآن ميں اس مطلب كى طرف اشارہ فرمايا گيا ہے : ہم نے آل فرعون كو قحط، خشك سالى اور ثمرات كى كمى ميں مبتلا كيا كہ شاہد متوجہ اور بيدار ہوجائيں(۱)
باوجود يكہ قحط سالى نے فرعونيوں كو گھير ليا تھا ليكن مذكورہ بالابيان ميں صرف فرعون كے مخصوصين كا ذكر كيا گيا ہے مقصد يہ ہے كہ اگر يہ بيدار ہوگئے تو سب لوگ بيدار ہوجائيں گے كيونكہ تمام لوگوں كى نبض انہى كے ہاتھوں ميں ہے يہ چاہيں تو بقيہ افراد كو گمراہ كريں يا ہدايت كريں _
اس نكتہ كو بھى نظر انداز نہيں كرنا چاہئے كہ خشك سالى اہل مصر كے لئے ايك بلائے عظيم شمار ہوتى تھى كيونكہ مصر پورے طور سے ايك زرعى مملكت تھى اس بناء پر اگر زراعت نہ ہوتو اس كا اثر ملك كے تمام افراد پر پڑتا ہے ليكن مسلمہ طور پر فرعون اور اس كے افراد چونكہ ان زمينوں كے مالك اہلى تھے اس لئے فى الحقيقت وہ سب سے زيادہ اس سے متاثر ہوئے تھے _
ضمناً يہ بھى معلوم ہوا كہ يہ خشك سالى كئي سال تك باقى رہى كيونكہ'' سنين'' جمع كا صيغہ ہے _
ليكن آل فرعون، بجائے اس كے كہ ان الہى تنبيہوں سے نصيحت ليتے اور خواب خرگوش سے بيدار ہوتے انہوں نے اس سے سوء استفادہ كيا اور ان حوادث كى من مانى تفسير كي، جب حالات ان كے
____________________
(۱)سورہ اعراف ۱۳۰
منشا كے مطابق ہوتے تھے تو وہ راحت وآرام ميں ہوتے تھے اور كہتے كہ يہ حالات ہمارى نيكى ولياقت كى وجہ سے ہيں : ''فى الحقيقت ہم اس كے اہل ولائق ہيں ''_
ليكن جس وقت وہ مشكل ومصيبت ميں گرفتار ہوتے تھے تو اس كو فوراً موسى عليہ السلام اور ان كے ساتھيوں كے سرباندھ ديتے تھے'' اور كہتے تھے كہ يہ ان كى بد قدمى كى وجہ سے ہوا ہے _
ليكن قرآن كريم ان كے جواب ميں كہتا ہے : '' ان كى بدبختيوں اور تكليفوں كا سر چشمہ خدا كى طرف سے ہے خدا نے يہ چاہا ہے كہ اس طرح ان كو ان كے اعمال بد كى وجہ سے سزادے ليكن ان ميں سے اكثر اس كو نہيں جانتے ''_(۱)
مختلف اور پيہم بلائوں كا نزول
قرآن ميں ان بيدار كنندہ درسوں كا ايك اور مرحلہ بيان كيا گيا ہے جو خدا نے قوم فرعون كو ديئے جب مرحلہ اول يعنى قحط، خشك سالى اور مالى نقصانات نے ان كو بيدار نہ كيا تو دوسرے مرحلہ كى نوبت پہنچى جو پہلے مرحلہ سے شديد تر تھا اس مرتبہ خدا نے ان كو پے درپے ايسى بلائوں ميں جكڑا جو ان كو اچھى طرح سے كچلنے والى تھيں مگر افسوس ان كى اب بھى آنكھيں نہ كھليں _
پہلے ان بلائوں كے نزول كے مقدمہ كے طور پر فرمايا گيا ہے : انہوں نے موسى كى دعوت كے مقابلے ميں اپنے عناد كو بدستور باقى ركھا اور ''كہا كہ تم ہر چند ہمارے لئے نشانياں لائو اوران كے ذريعے ہم پر اپنا جادو كرو ہم كسى طرح بھى تم پر ايمان نہيں لائيں گے''_(۲)
لفظ''آيت '' شايد انہوں نے ازراہ تمسخر استعمال كيا تھا ، كيونكہ حضرت موسى نے اپنے معجزات كو آيات الہى قرار ديا تھا ليكن انہوں نے سحر قرار ديا_
آيات كا لہجہ اور ديگر قرائن اس بات كے مظہر ہيں كہ فرعون كے پروپيگنڈوں كا محكمہ جو اپنے زمانے
____________________
(۱)سورہ اعراف ۱۳۱
(۲)سورہ اعراف آيت ۱۳۲
كے لحاظ سے ہر طرح كے سازو سامان سے ليس تھا وہ حضرت موسى كے خلاف ہر طرف سے حركت ميں آگيا تھا اس كے نتيجے ميں تمام لوگوں كا ايك ہى نعرہ تھا اور وہ يہ كہ اے موسى تم تو ايك زبردست جادو گر ہو ، كيونكہ موسى كى بات كو رد كرنے كا ان كے پاس اس سے بہتر كوئي جواب نہ تھا جس كے ذريعے لوگوں كے دلوں ميں وہ گھربنانا چاہتے تھے _
ليكن چونكہ خدا كسى قوم پر اس وقت تك اپنا آخرى عذاب نازل نہيں كرتا جب تك كہ اس پر خوب اچھى طرح سے اتمام حجت نہ كرلے اس لئے بعد والى آيت ميں فرمايا گيا ہے كہ ہم نے پہلے طرح طرح كى بلائيں ان پر نازل كيں كہ شايد ان كو ہوش آجائے _(۱)
''پہلے ہم نے ان پر طوفان بھيجا''
اس كے بعد قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے:
''اس كے بعد ہم نے ان كى زراعتوں اور درختوں پر ٹڈيوں كو مسلط كرديا_''
روايات ميں وارد ہوا ہے كہ كہ اللہ نے ان پر ٹڈياں اس كثرت سے بھيجيں كہ انھوں نے درختوں كے شاخ و برگ كا بالكل صفايا كرديا، حتى كہ ان كے بدنوں تك كو وہ اتنا آزار پہنچاتى تھيں كہ وہ تكليف سے چيختے چلاتے تھے_
جب بھى ان پر بلا نازل ہوتى تھى تو وہ حضرت موسى عليہ السلام سے فرياد كرتے تھے كہ وہ خدا سے كہہ كر اس بلا كو ہٹواديں طوفان اور ٹڈيوں كے موقع پر بھى انھوں نے جناب موسى عليہ السلام سے يہى خواہش كى ، جس كو موسى عليہ السلام نے قبول كرليا اور يہ دونوں بلائيں برطرف ہوگئيں ، ليكن اس كے بعد پھر وہ اپنى ضد پر اتر آئے جس كے نتيجے ميں تيسرى بلا ''قمّل '' كى ان پر نازل ہوئي_
''قمّل'' سے كيا مراد ہے؟ اس بارے ميں مفسرين كے درميان گفتگو ہوئي ہے ليكن ظاہر يہ ہے كہ يہ
____________________
(۱) سورہ اعراف كى ايت ۱۳۳ ميں ان بلاو ں كا نام ليا گيا ہے
ايك قسم كى نباتى آفت تھى جو زراعت كو كھاجاتى تھي_
جب يہ آفت بھى ختم ہوئي اور وہ پھر بھى ايمان نہ لائے،تو اللہ نے مينڈك كى نسل كو اس قدر فروغ ديا كہ مينڈك ايك نئي بلا كى صورت ميں ان كى زندگى ميں اخل ہوگئے_
جدھر ديكھتے تھے ہر طرف چھوٹے بڑے مينڈك نظر آتے تھے يہاں تك كہ گھروں كے اندر، كمروں ميں ، بچھونوں ميں ، دسترخوان پر كھانے كے برتنوں ميں مينڈك ہى مينڈك تھے، جس كى وجہ سے ان كى زندگى حرام ہوگئي تھي، ليكن پھر بھى انھوں نے حق كے سامنے اپنا سرنہ جھكايا اور ايمان نہ لائے_
اس وقت اللہ نے ان پر خون مسلط كيا_
بعض مفسرين نے كہا كہ خون سے مراد ''مرض نكسير'' ہے جو ايك وبا كى صورت ميں ان ميں پھيل گيا، ليكن بہت سے مفسرين نے لكھا ہے كہ دريائے نيل لہو رنگ ہوگيا اتنا كہ اس كا پانى مصرف كے لائق نہ رہا_
آخر ميں قرآن فرماتا ہے: '' ان معجزوں اور كھلى نشانيوں كو جو موسى كى حقانيت پر دلالت كرتى تھيں ،ہم نے ان كو دكھلايا ليكن انھوں نے ان كے مقابلہ ميں تكبر سے كام ليا اور حق كو قبول كرنے سے انكار كرديا اور وہ ايك مجرم او رگناہگار قوم تھے_''(۱)
بعض روايات ميں ہے كہ ان ميں سے ہر ايك بلا ايك ايك سال كے لئے آتى تھى يعنى ايك سال طوفان و سيلاب، دوسرے سال ٹڈيوں كے دَل، تيسرے سال نباتاتى آفت، اسى طرح آخر تك، ليكن ديگر روايات ميں ہے كہ ايك آفت سے دوسرى آفت تك ايك مہينہ سے زيادہ فاصلہ نہ تھا، بہر كيف اس ميں شك نہيں كہ ان آفتوں كے درميان فاصلہ موجود تھا( جيسا كہ قرآن نے لفظ ''مفصلات'' سے تعبير كيا ہے)تاكہ ان كو تفكر كے لئے كافى موقع مل جائے_
قابل توجہ بات يہ ہے كہ يہ بلائيں صرف فرعون اور فرعون والوں كے دامن گير ہوتى تھيں ، بني
____________________
(۱) سورہ اعراف آيت ۱۳۳
اسرائيل اس سے محفوظ تھے، بے شك يہ اعجاز ہى تھا ،ليكن اگر نكتہ ذيل پر نظر كى جائے تو ان ميں سے بعض كى علمى توجيہہ بھى كى جاسكتى ہے_
ہميں معلوم ہے كہ مصر جيسى سرسبز و شاداب اور خوبصورت سلطنت جو دريائے نيل كے كناروں پر آباد تھى اس كے بہترين حصے وہ تھے جو درياسے قريب تھے وہاں پانى بھى فراوان تھا اور زراعت بھى خوب ہوتى تھى ،تجارتى كشتياں وغيرہ بھى دستياب تھيں ، يہ خطے فرعون والوں اور قبطيوں كے قبضے ميں تھے جہاں انھوں نے اپنے قصر و باغات بنا ركھے تھے اس كے بر خلاف اسرائيلوں كو دور دراز كے خشك اور كم آب علاقے دئے گئے تھے جہاں وہ زندگى كے يہ سخت دن گذارتے تھے كيونكہ ان كى حيثيت غلاموں جيسى تھي_
بنا بر اين يہ ايك طبيعى امر ہے كہ جب سيلاب اور طوفان آيا تو اس كے نتيجے ميں وہ آبادياں زيادہ متاثر ہوئيں جو دريائے نيل كے دونوں كناروں پر آباد تھيں ، اسى طرح مينڈھك بھى پانى سے پيدا ہوتے ہيں جو قبطيوں كے گھروں كے آس پاس بڑى مقدار ميں موجود تھے، يہى حال خون كا ہے كيونكہ رود نيل كا پانى خون ہو گيا تھا، ٹڈياں اور زرعى آفتيں بھى باغات، كھيتوں اور سر سبز علاقوں پر حملہ كرتى ہيں ، لہذا ان عذابوں سے زيادہ تر نقصان قبطيوں ہى كا ہوتا تھا_
جو كچھ قرآن ميں ذكر ہوا ہے اس كا ذكر موجودہ توريت ميں بھى ملتا ہے، ليكن كسى حد تك فرق كے ساتھ_(۱)
بار بار كى عہد شكنياں
قرآن ميں فرعونيوں كے اس رد عمل كا ذكر كيا گيا ہے جو انہوں نے پروردگار عالم كى عبرت انگيزاور بيدار كنندہ بلائوں كے نزول كے بعد ظاہر كيا،ان تما م قرآنى گفتگو سے يہ ظاہر ہوتا ہے كہ جس وقت وہ بلا كے چنگل ميں گرفتار ہو جاتے تھے،جيسا كہ عام طور سے تباہ كاروں كا دستور ہے،وقتى طور پر خواب غفلت
____________________
(۱)ملاحظہ ہو سفر خروج فصل ہفتم تا دہم توريت
سے بيدار ہوجاتے تھے اور فرياد وزارى كرنے لگتے تھے اور حضرت موسى عليہ السلام سے درخواست كرتے تھے كہ خدا سے ان كى نجات كے لئے دعا كريں _ چونكہ حضرت موسى عليہ السلام ان كے لئے دعا كرتے تھے اور وہ بلا ان كے سروں سے ٹل جاتى تھي،مگر ان كى حالت يہ تھى كہ جونہى وہ بلا سر سے ٹلتى تھى تو وہ تمام چيزوں كو بھول جاتے تھے اور وہ اپنى پہلى نا فرمانى اور سركشى كى حالت پر پلٹ جاتے تھے_
جس وقت ان پر بلا مسلط ہوتى تھى تو كہتے تھے:'' اے موسى ہمارے لئے اپنے خدا سے دعا كرو كہ جو عہد اس نے تم سے كيا ہے اسے پورا كرے اور تمہارى دعا ہمارے حق ميں قبول كرے،اگر تم يہ بلا ہم سے دور كردو تو ہم يہ وعدہ كرتے ہيں كہ ہم خود بھى تم پر ضرور ايمان لائيں گے اور بنى اسرائيل كو بھى يقينا تمہارے ہمرا ہ روانہ كرديں گے''_(۱)
اس كے بعد ان كى پيمان شكنى كا ذكر كيا گيا ہے،ارشاد ہوتا ہے:''جس وقت ہم ان پر سے بلائوں كو تعين شدہ مدت كے بعد ہٹا ديتے تھے تو وہ اپنا وعدہ توڑ ڈالتے تھے''_(۲)
نہ خود ہى ايمان لاتے تھے اور نہ ہى بنى اسرائيل كو اسيرى سے آزاد كرتے تھے_
حضرت موسى عليہ السلام ان كايك مدت معين كرتے تھے كہ فلا ں وقت يہ بلا بر طرف ہوجائے گى تاكہ ان پر اچھى طرح كھل جائے كہ يہ بلا كوئي اتفاقى حادثہ نہ تھا بلكہ حضرت موسى عليہ السلام كى دعا كى وجہ سے تھا_
موسى عليہ السلام كے پاس سونے كے كنگن كيوں نہيں ؟
حضرت موسى عليہ السلام كى منطق ايك طرف ان كے مختلف معجزات دوسرى طرف مصر كے لوگوں پر نازل ہونيوالى بلائيں جو موسى عليہ السلا م كى دعا كى بركت سے ٹل جاتى تھيں تيسرى طرف،ان سب اسباب نے مجموعى طور پر اس ماحول پر گہرے اثرات ڈالے اور فرعون كے بارے ميں لوگوں كے افكار كو ڈانواں ڈول
____________________
()اعراف آيت ۱۳۴
(۲)سورہ اعراف ايت ۱۳۵
كرديا اور انھيں پورے مذہبى اور معاشرتى نظام كے بارے ميں سوچنے پر مجبور كرديا_
اس موقع پر فرعون نے دھوكہ دھڑى كے ذريعہ موسى عليہ السلام كا اثر مصرى لوگوں كے ذہن سے ختم كرنے كى كوشش كى اور پست اقدار كا سہارا ليا جو اس ماحول پر حكم فرماتھا، انھيں اقدار كے ذريعہ اپنا اور موسى عليہ السلام كا موازنہ شروع كرديا تا كہ اس طرح لوگوں پر اپنى برترى كو پايہ ثبوت تك پہنچائے، جيسا كہ قرآن پاك فرماتا ہے:
''اور فرعون نے اپنے لوگوں كو پكار كر كہا:اے ميرى قوم آيا مصر كى وسيع و عريض سر زمين پر ميرى حكومت نہيں ہے اور كيا يہ عظيم دريا ميرے حكم سے نہيں بہہ رہے ہيں اور ميرے محلوں ،كھيتوں اور باغوں سے نہيں گررہے ہيں ؟كيا تم ديكھتے نہيں ہو؟''(۱)
ليكن موسى عليہ السلام كے پاس كيا ہے،كچھ بھى نہيں ، ايك لاٹھى اور ايك اونى لباس اور بس ،تو كيا اس كى شخصيت بڑى ہوگى يا ميري؟ آيا وہ سچ بات كہتا ہے يا ميں ؟اپنى آنكھيں كھولوں اور بات اچھى طرح سمجھنے كى كوشش كرو_ اس طرح فرعون نے مصنوعى اقدار كو لوگوں كے سامنے پيش كيا،بالكل ويسے ہى جيسے عصر جاہليت كے بت پرستوں نے پيغمبر اسلام (ص) كے مقابلے ميں مال و مقام كو صحيح انسانى اقدار سمجھ ركھا تھا_
لفظ''نادى ''(پكار كر كہا )سے معلوم ہوتا ہے كہ فرعون نے اپنى مملكت كے مشاہير كى ايك عظيم محفل جمائي اور بلند آواز كے ساتھ ان سب كو مخاطب كرتے ہوئے يہ جملے ادا كيے،يا حكم ديا كہ اس كى اس آواز كو ايك سركارى حكم نامے كے ذريعے پورے ملك ميں بيان كيا جائے_
قرآن آگے چل كر فرماتا ہے كہ فرعون نے كہا:''ميں اس شخص سے برتر ہوں جو ايك پست خاندان اور طبقے سے تعلق ركھتا ہے_اور صاف طور پر بات بھى نہيں كرسكتا''_(۲)
اس طرح سے اس نے اپنے لئے دو بڑے اعزازات(حكومت مصر اور نيل كى مملكت)اور موسى
____________________
(۱)سورہ زخرف آيت ۵۱
(۲)سورہ زخرف آيت ۵۲
عليہ السلام كے دوكمزور پہلو(فقر اور لكنت زبان) بيان كرديئے_
حالانكہ اس وقت حضرت موسى عليہ السلام كى زبان ميں لكنت نہ تھي_كيونكہ خدا نے ان كى دعا كو قبول فرماليا تھا اور زبان كى لكنت كو دور كرديا تھا كيونكہ موسى عليہ السلام نے مبعوث ہوتے ہى خداسے يہ دعا مانگى تھى كہ _''خدا وندا ميرى زبان كى گرہيں كھول دے''_(۱) اور يقينا ان كى دعا قبول ہوئي اور قرآن بھى اس بات پر گواہ ہے_ بے پناہ دولت،فاخرہ لباس اور چكاچوند كرتے محلات،مظلوم طبقے پر ظلم و ستم كے ذريعے حاصل ہوتے ہيں _ ان كا مالك نہ ہونا صرف عيب كى بات ہى نہيں بلكہ باعث صدافتخار شرافت اور عزت كا سبب بھى ہے_
''مھين''(پست)كى تعبير سے ممكن ہے اس دور كے اجتماعى طبقات كى طرف اشارہ ہو، كيونكہ اس دور ميں بڑے بڑے سرمايہ داروں كا معاشرہ كے بلند طبقوں ميں شمار ہوتا تھا او رمحنت كشوں اور كم آمدنى والے لوگوں كا پست طبقے ميں ،يا پھر ممكن ہے موسى عليہ السلام كى قوم كى طرف اشارہ ہو كيونكہ ان كا تعلق بنى اسرائيل سے تھا اور فرعون كى قبطى قوم اپنے آپ كو سردار اور آقا سمجھتى تھي_ پھر فرعون دو اور بہانوں كا سہارا ليتے ہوئے كہتا ہے:''اسے سونے كے كنگن كيوں نہيں ديئے اور اس كے لئے مددگار كيوں نہيں مقرر كئے تاكہ وہ اس كى تصديق كريں ؟'' اگر خدا نے اسے رسول بنايا ہے تو دوسرے رسول كى طرح طلائي كنگن كيوں نہيں دئے گئے اور اس كے لئے مدد گار كيوں نہيں مقرر كئے گئے_
كہتے ہيں كہ فرعونى قوم كا عقيدہ تھا كہ روساء اور سر براہوں كو ہميشہ طلائي كنگنوں اور سونے كے ہاروں سے مزين ہونا چاہيئےور چونكہ موسى عليہ السلام كے پاس اس قسم كے زيورات نہيں تھے بلكہ ان زيورات كے بجائے وہ چرواہوں والا موٹا سا اونى كرتا زيب تن كئے ہوئے تھے،لہذا ان لوگوں نے اس بات پر تعجب كا اظہار كيا اور يہى حال ان لوگوں كا ہوتا ہے جو انسانى شخصيت كے پركھنے كا معيار سونا،چاندى اور دوسرے زيورات كو سمجھتے ہيں _
____________________
(۱)سورہ طہ آيت ۲۷
جناب موسى اورہارون عليہما السلام كے اونى لباس
اس بارے ميں ايك نہايت عمدہ بيان آيا ہے ،امام على بن ابى طالب عليہما السلام فرماتے ہيں :موسى عليہ السلام اپنے بھائي(ہارون) كے ساتھ فرعون كے دربار ميں پہنچے دونوں كے بدن پراونى لباس اور ہاتھوں ميں عصا تھا اس حالت ميں انھوں نے شرط پيش كى كہ اگر فرمان الہى كے سامنے جھك جائے تو اس كى حكومت اور ملك باقى اور اقتدار قائم و برقرار رہے گا،ليكن فرعون نے حاضرين سے كہا:تمہيں ان كى باتوں پر تعجب نہيں ہوتا كہ ميرے ساتھ شرط لگا رہے ہيں كہ ميرے ملك كى بقا اور ميرى عزت كا دوام ان كى مرضى كے ساتھ وابستہ ہے جبكہ ان كا اپنا حال يہ ہے كہ فقر و تنگدستى ان كى حالت اور صورت سے ٹپك رہى ہے(اگر يہ سچ كہتے ہيں تو)خود انھيں طلائي كنگن كيوں نہيں ديئے گئے_
دوسرا بہانہ وہى مشہور بہانہ ہے جو بہت سى گمراہ اور سركش امتيں انبياء كرام عليہم السلام كے سامنے پيش كيا كرتى تھيں ،كبھى تو كہتى تھيں كہ''وہ انسان كيوں ہے اور فرشتہ كيوں نہيں ؟اور كبھى كہتى تھى كہ اگر وہ انسان ہے تو پھر كم از كم اس كے ہمراہ كوئي فرشتہ كيوں نہيں آيا؟''
حالانكہ انسانوں كى طرف بھيجے ہوئے رسولوں كوروح انسانى كا حامل ہونا چاہئے تا كہ وہ ان كى ضرورتوں ،مشكلوں اور مسائل كو محسوس كرسكيں اور انہيں ان كا جواب دے سكيں اور عملى لحاظ سے ان كے لئے نمونہ اور اسوہ قرار پاسكيں _
چوتھا مرحلہ انقلاب كى تياري
حضرت موسى عليہ السلام ميدان مقابلہ ميں فرعون پر غالب آگئے اور سرخرو اور سرفراز ہوكر ميدان سے باہر آئے اگر چہ فرعون اور اس كے تمام دربارى ان پر ايمان نہ لائے ليكن اس كے چند اہم نتائج ضرور برآمد ہوئے،جن ميں سے ہر ايك اہم كاميابى شمار ہوتا ہے_
۱_بنى اسرائيل كا اپنے رہبر اور پيشوا پر عقيدہ مزيد پختہ ہوگيا اور انھيں مزيد تقويت مل گئي چنانچہ ايك
دل اور ايك جان ہو كر ان كے گرد جمع ہوگئے كيونكہ انھوں نے سالہا سال كى بدبختى اور دربدر كى ٹھوكريں كھانے كے بعد اب اپنے اندر كسى آسمانى پيغمبر كو ديكھا تھا جو كہ ان كى ہدايت كابھى ضامن تھا اور ان كے انقلاب،آزادى اور كاميابى كا بھى رہبر تھا_
۲_موسى عليہ السلام نے مصريوں اور قبطيوں تك كے درميان ايك اہم مقام حاصل كرليا_ كچھ لوگ ان كى طرف مائل ہوگئے اور جو مائل نہيں ہوئے تھے وہ كم ازكم كم ان كى مخالفت سے ضرور گھبراتے تھے اور جناب موسى عليہ السلام كى صدائے دعوت تمام مصر ميں گونجنے لگي_
۳_سب سے بڑھ كر يہ كہ فرعون عوامى افكار اور اپنى جان كو لاحق خطرے سے بچائو كے لئے اپنے اندر ايسے شخص كے ساتھ مقابلے كى طاقت كھوچكا تھا جس كے ہاتھ ميں اس قسم كا عصا اور منہ ميں اس طرح كى گويا زبان تھي_
مجموعى طور پر يہ امور موسى عليہ السلام كے لئے اس حد تك زمين ہموار كرنے ميں معاون ثابت ہوئے كہ مصريوں كے اندر ان كے پائوں جم گئے اور انھوں نے كھل كر اپنا تبليغى فريضہ انجام ديا اور اتمام حجت كي_
قرآن ميں فرعونيوں كے خلاف بنى اسرائيل كے قيام اور انقلاب كا ايك اور مرحلہ بيان كيا گيا ہے_پہلى بات يہ ہے كہ خدا فرماتا ہے:''ہم نے موسى اور اس كے بھائي كى طرف وحى كى كہ سرزمين مصر ميں اپنى قوم كے لئے گھروں كا انتخاب كرو''_(۱)
''اور خصوصيت كے ساتھ ان گھروں كو ايك دوسرے كے قريب اور آمنے سامنے بنائو''_(۲)
پھر روحانى طور پر اپنى خود سازى اور اصلاح كرو''اور نماز قائم كرو_''اس طرح سے اپنے نفس كو پاك اور قوى كرو_(۳)
____________________
(۱)سورہ يونس آيت۸۷
(۲)سورہ يونس آيت۸۷
(۳)سورہ يونس آيت۸۷
اور اس لئے كہ خوف اور وحشت كے آثار ان كے دل سے نكل جائيں اور وہ روحانى و انقلابى قوت پاليں ''مومنين كوبشارت دو''كاميابى اور خدا كے لطف و رحمت كى بشارت_(۱)
زير بحث آيات كے مجموعى مطالعے سے معلوم ہوتا ہے كہ اس زمانے ميں بنى اسرائيل منتشر،شكست خوردہ،وابستہ،طفيلي،آلودہ اور خوف زدہ گروہ كى شكل ميں تھے،نہ ان كے پاس گھر تھے نہ كوئي مركز تھا،نہ ان كے پاس معنوى اصلاح كا كوئي پروگرام تھا اور نہ ہى ان ميں اس قدر شجاعت،عزم اور حوصلہ تھا جو شكست دينے والے انقلاب كے لئے ضرورى ہوتا ہے_لہذا حضرت موسى عليہ السلام اور ان كے بھائي حضرت ہارون عليہ السلام كو حكم ملاكہ وہ بنى اسرائيل كى مركزيت كے لئے خصوصاً روحانى حوالے سے چند امور پر مشتمل پروگرام شروع كريں _
۱_مكان تعمير كريں اور اپنے مكانات فرعونيوں سے الگ بنائيں _ اس ميں متعدد فائدے تھے_
ايك يہ كہ سرزمين مصر ميں ان كے مكانات ہوں گے تو وہ اس كا دفاع زيادہ لگائو سے كريں گے_
دوسرا يہ كہ قبطيوں كے گھروں ميں طفيلى زندگى گزارنے كے بجائے وہ اپنى ايك مستقل زندگى شروع كرسكيں گے_
تيسرا يہ كہ انكے معاملات اور تدابير كے راز دشمنوں كے ہاتھ نہيں لگيں گے_
۲_اپنے گھر ايك دوسرے كے آمنے سامنے اور قريب قريب بنائيں ،بنى اسرائيل كى مركزيت كے لئے يہ ايك موثر كام تھا اس طرح سے وہ اجتماعى مسائل پر مل كر غور فكر كرسكتے تھے اور مذہبيمراسم كے حوالے سے جمع ہوكر اپنى آزادى كے لئے ضرورى پروگرام بنا سكتے تھے_
۳_عبادت كى طرف متوجہ ہوں ،خصوصاً نماز كى طرف كہ جو انسان كو بندوں كى بندگى سے جدا كرتى ہے اور اس كا تعلق تمام قدرتوں كے خالق سے قائم كرديتى ہے_ اس كے دل اور روح كو گناہ كى آلودگى سے
____________________
(۱)سورہ يونس آيت ۸۷
پاك كرتى ہے اپنے آپ پر بھروسہ كرنے كا احساس زندہ كرتى ہے اورقدرت پروردگار كا سہارا لے كر انسانى جسم ميں ايك تازہ روح پھونك ديتى ہے_
۴_ايك رہبر كے طور پر حضرت موسى عليہ السلام كو حكم ديا گيا ہے كہ وہ بنى اسرائيل كى روحوں ميں موجود طويل غلامى اور ذلت كے دور كا خوف ووحشت نكال باہر پھينكيں اور حتمى فتح ونصرت،كاميابى اور پروردگار كے لطف وكرم كى بشارت دے كر مومنين كے ارادے كو مضبوط كريں اور ان ميں شہامت و شجاعت كى پرورش كريں _
اس روش كو كئي سال گزر گئے اور اس دوران ميں موسى عليہ السلام نے اپنے منطقى دلائل كے ساتھ ساتھ انھيں كئي معجزے بھى دكھائے _
ہم نے انھيں باہر نكال ديا
جب موسى عليہ السلام ان لوگوں پر اتمام حجت كرچكے اور مومنين ومنكرين كى صفيں ايك دوسرے سے جدا ہوگئيں تو موسى عليہ السلام نے بنى اسرائيل كے كوچ كرنے كا حكم دے ديا گيا، چنانچہ قرآن نے اس كى اسطرح منظر كشى كى _
سب سے پہلے فرمايا گياہے:''ہم نے موسى پر وحى كى كہ راتوں رات ميرے بندوں كو(مصر سے باہر)نكال كرلے جائو،كيونكہ وہ تمہارا پيچھا كرنے والے ہيں ''_(۱)
موسى عليہ السلام نے اس حكم كى تعميل كى اور دشمن كى نگاہوں سے بچ كر بنى اسرائيل كو ايك جگہ اكٹھا كرنے كے بعد كوچ كا حكم ديا اور حكم خدا كے مطابق رات كو خصوصى طور پر منتخب كيا تاكہ يہ منصوبہ صحيح صورت ميں تكميل كو پہنچے_
ليكن ظاہر ہے كہ اتنى بڑى تعداد كى روانگى ايسى چيز نہيں تھى جو زيادہ دير تك چھپى رہ جاتي_ جاسوسوں
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۵۲
نے جلد ہى اس كى رپورٹ فرعون كو دے دى اور جيسا كہ قرآن كہتا ہے:'' فرعون نے اپنے كارندے مختلف شہروں ميں روانہ كرديئے تا كہ فوج جمع كريں ''_(۱)
البتہ اس زمانے كے حالات كے مطابق فرعون كا پيغام تمام شہروں ميں پہنچانے كے لئے كافى وقت كى ضرورت تھى ليكن نزديك كے شہروں ميں يہ اطلاع بہت جلد پہنچ گئي اور پہلے سے تيار شدہ لشكر فوراً حركت ميں آگئے اور مقدمة الجيش اور حملہ آور لشكر كى تشكيل كى گئي اور دوسرے لشكر بھى آہستہ آہستہ ان سے آملتے رہے_
ساتھ ہى لوگوں كے حوصلے بلند ركھنے اور نفسياتى اثر قائم ركھنے كے لئے اس نے حكم ديا كہ اس بات كا اعلان كرديا جائے كہ''وہ تو ايك چھوٹا سا گروہ ہے''_(۲) (تعداد كے لحاظ سے بھى كم اور طاقت كے لحاظ سے بھى كم)_
لہذا اس چھوٹے سے كمزور گروہ كے مقابلے ميں ہم كامياب ہوجائيں گے گھبرانے كى كوئي بات نہيں _كيونكہ طاقت اور قوت ہمارے پاس زيادہ ہے لہذا فتح بھى ہمارى ہى ہوگي_
فرعون نے يہ بھى كہا:'' آخر ہم كس حد تك برداشت كريں اور كب تك ان سركش غلاموں كے ساتھ نرمى كا برتائو كرتے رہيں ؟انھوں نے تو ہميں غصہ دلايا ہے''_(۳)
آخر كل مصر كے كھيتوں كى كون آبپاشى كرے گا؟ہمارے گھر كون بنائے گا؟اس وسيع و عريض مملكت كا كون لوگ بوجھ اٹھائيں گے؟اور ہمارى نوكرى كون كرے گا؟
اس كے علاوہ'' ہميں ان لوگوں كى سازشو ں سے خطرہ ہے(خواہ وہ يہاں رہيں يا كہيں اور چلے جائيں )اور ہم ان سے مقابلہ كے لئے مكمل طور پر آمادہ اور اچھى طرح ہوشيار ہيں ''_(۴)
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت۵۳
(۲)سورہ شعراء آيت ۵۴
(۳)سورہ شعراء آيت۵۵
(۴)سورہ شعراء آيت ۵۶
پھر قرآن پاك فرعونيوں كے انجام كا ذكر كرتا ہے اور اجمالى طور پر ان كى حكومت كے زوال اور بنى اسرائيل كے اقتدار كو بيان كرتے ہوئے كہتا ہے:''ہم نے انھيں سر سبز باغات اور پانى سے لبريز چشموں سے باہر نكال ديا''_(۱) خزانوں ،خوبصورت محلات اور آرام و آسائش كے مقامات سے بھى نكال ديا_
ہاں ہاں ہم نے ايسا ہى كيا اور بنى اسرائيل كو بغير كسى مشقت كے يہ سب كچھ دےديا اور انھيں فرعون والوں كا وارث بناديا_(۲)(۳)
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت۵۷تا۵۹
(۲)سورہ شعراء ايت ۵۹
(۳)آيا بنى اسرائيل نے مصر ميں حكومت كى ہے؟
خدا وند عالم قران مجيد ميں فرماتا ہے كہ ہم نے بنى اسرائيل كو فرعون والوں كا وارث بنايا_ اسى تعبير كى بناء پر بعض مفسرين كى يہ رائے ہے كہ بنى اسرائيل كے افراد مصر كى طرف واپس لوٹ آئے اور زمام حكومت و اقتدار اپنے قبضے ميں لے كر مدتوں وہاں حكومت كرتے رہے_
آيات بالا كا ظاہرى مفہوم بھى اسى تفسير سے مناسبت ركھتا ہے_
جبكہ بعض مفسرين كى رائے يہ ہے كہ وہ لوگ فرعونيوں كى ہلاكت كے بعد مقدس سرزمينوں كى طرف چلے گئے البتہ كچھ عرصے كے بعد مصر واپس آگئے اور وہاں پر اپنى حكومت تشكيل دي_ تفسير كے اسى حصے كے ساتھ موجودہ توريت كى فصول بھى مطابقت ركھتى ہيں _
بعض دوسرے مفسرين كا خيال ہے كہ بنى اسرائيل دوحصوں ميں بٹ گئے_ايك گروہ مصر ميں رہ گيا اور وہيں پر حكومت كى اور ايك گروہ موسى عليہ السلام كے ساتھ سر زمين مقدس كى طرف روانہ ہو گيا_ يہ احتمال بھى ذكر كيا گيا ہے كہ بنى اسرائيل كے وارث ہونے سے مراد يہ ہے كہ انھوں نے حضرت موسى عليہ السلام كے بعد اور جناب حضرت سليمان عليہ السلام كے زمانے ميں مصر كى وسيع و عريض سر زمين پر حكومت كي_ ليكن اگر اس بات پر غور كيا جائے كہ حضرت موسى عليہ السلام چونكہ انقلابى پيغمبر تھے لہذا يہ بات بالكل بعيد نظر آتى ہے كہ وہ ايسى سر زمين كو كلى طور پر خير باد كہہ كر چلے جائيں جس كى حكومت مكمل طور پر انھيں كے قبضہ اور اختيارميں آچكى ہو اور وہ وہاں كے بارے ميں كسى قسم كا فيصلہ كئے بغير بيابانوں كى طرف چل ديں خصوصاً جب كہ لاكھوں بنى اسرائيلى عرصہ دراز سے وہاں پر مقيم بھى تھے اور وہاں كے ماحول سے اچھى طرح واقف بھى تھے_ بنابريں يہ كيفيت دوحال سے خالى نہيں يا تو تمام بنى اسرائيلى مصر ميں واپس لوٹ آئے اور حكومت تشكيل دي،يا كچھ لوگ جناب موسى عليہ السلام كے حكم كے مطابق وہيں رہ گئے تھے اور حكومت چلاتے رہے اس كے علاوہ فرعون او رفرعون والوں كے باہر نكال دينے او ربنى اسرائيل كو ان كا وارث بنادينے كا اور كوئي واضح مفہوم نہيں ہوگا_
فرعونيوں كا درناك انجام
قرآن ميں حضرت موسى عليہ السلام اور فرعون كى داستان كا آخرى حصہ پيش كيا گيا ہے كہ فرعون اور فرعون والے كيونكر غرق ہوئے اور بنى اسرائيل نے كس طرح نجات پائي؟ جيسا كہ ہم گزشتہ ميں پڑھ چكے ہيں كہ فرعون نے اپنے كارندوں كو مصر كے مختلف شہروں ميں بھيج ديا تاكہ وہ بڑى تعداد ميں لشكر اور افرادى قوت جمع كرسكيں چنانچہ انھوں نے ايسا ہى كيا اور مفسرين كى تصريح كے مطابق فرعون نے چھ لاكھ كا لشكر مقدمہ الجيش كى صورت ميں بھيج ديا اور خود دس لاكھ كے لشكر كے ساتھ ان كے پيچھے پيچھے چل ديا _
سارى رات بڑى تيزى كے ساتھ چلتے رہے اورطلوع آفتاب كے ساتھ ہى انھوں نے موسى عليہ السلام كے لشكر كو پاليا، چنانچہ اس سلسلے كى پہلى آيت ميں فرمايا گيا ہے : فرعونيووں نے ان كا تعاقب كيا اور طلوع آفتاب كے وقت انھيں پاليا_
''جب دونوں گروہوں كا آمناسامنا ہوا تو موسى عليہ السلام كے ساتھى كہنے لگے اب تو ہم فرعون والوں كے نرغے ميں آگئے ہيں اور بچ نكلنے كى كوئي راہ نظر نہيں آتى ''_(۱)
ہمارے سامنے دريا اور اس كى ٹھاٹھيں مارتى موجيں ہيں ، ہمارے پيچھے خونخوارمسلح لشكر كا ٹھاٹھيں مارتا سمندر ہے لشكر بھى ايسے لوگوں كا ہے جو ہم سے سخت ناراض اور غصے سے بھرے ہوئے ہيں ، جنھوں نے اپنى خونخوارى كا ثبوت ايك طويل عرصے تك ہمارے معصوم بچوں كو قتل كركے ديا ہے اور خود فرعون بھى بہت بڑا مغرور،ظالم اور خونخوار شخص ہے لہذا وہ فوراً ہمارا محاصرہ كركے ہميں موت كے گھاٹ اتارديں گے ياقيدى بنا كر تشدد كے ذريعے ہميں واپس لے جائيں گے قرائن سے بھى ايسا ہى معلوم ہورہا تھا _
____________________
(۱) سورہ شعراء آيت۶۱
اپنے عصا كو دريا پر ماردو
اس مقام پر بنى اسرائيل پر كرب و بے چينى كى حالت طارى ہوگئي اور ان كا ايك ايك لمحہ كرب واضطراب ميں گزر نے لگا يہ لمحات ان كے لئے زبردست تلخ تھے شايد بہت سے لوگوں كا ايما ن بھى متزلزل ہوچكا تھا اور بڑى حدتك ان كے حوصلے پست ہوچكے تھے _
ليكن جناب موسى عليہ السلام حسب سابق نہايت ہى مطمئن اور پر سكون تھے انھيں يقين تھا كہ بنى اسرائيل كى نجات اورسركش فرعونيوں كى تباہى كے بارے ميں خدا كا فيصلہ اٹل ہے اور وعدہ يقينى ہے _
لہذا انھوں نے مكمل اطمينان اور بھرپور اعتمادكے ساتھ بنى اسرائيل كى وحشت زدہ قوم كى طرف منہ كركے كہا: ''ايسى كوئي بات نہيں وہ ہم پر كبھى غالب نہيں آسكيں گے كيونكہ ميرا خدا ميرے ساتھ ہے اور وہ بہت جلدى مجھے ہدايت كرے گا ''_(۱)
اسى موقع پر شايد بعض لوگوں نے موسى كى باتو ں كو سن تو ليا ليكن انھيں پھر بھى يقين نہيں آرہا تھا اور وہ اسى طرح زندگى كے آخرى لمحات كے انتظار ميں تھے كہ خدا كا آخرى حكم صادر ہوا، قرآن كہتا ہے :'' ہم نے فوراً موسى كى طرف وحى بھيجى كہ اپنے عصا كودريا پرمارو''_(۲)
وہى عصاجو ايك دن تو ڈرانے كى علامت تھا اور آج رحمت اور نجات كى نشانى _
موسى عليہ السلام نے تعميل حكم كى اور عصا فوراًدرياپر دے مارا تو اچانك ايك عجيب وغريب منظر ديكھنے ميں آيا جس سے بنى اسرائيل كى آنكھيں چمك اٹھيں اور ان كے دلو ں ميں مسرت كى ايك لہردوڑگئي، ناگہانى طور پر دريا پھٹ گيا، پانى كے كئي ٹكڑے بن گئے اور ہر ٹكڑا ايك عظيم پہاڑ كى مانند بن گيا اور ان كے درميان ميں راستے بن گئے_(۳)
بہرحال جس كا فرمان ہر چيز پر جارى اور نافذ ہے اگر پانى ميں طغيانى آتى ہے تو اس كے حكم سے اور
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت ۶۲
(۲)سورہ شعراء آيت۶۳
(۳)سورہ شعراء آيت ۶۳
اگر طوفانوں ميں حركت آتى ہے تو اس كے امر سے ، وہ خدا كہ :
نقش ہستى نقشى ازايوان
اوست آب وبادوخاك سرگردان اوست
اسى نے دريا كى موجوں كو حكم ديا امواج دريا نے اس حكم كو فورا ًقبول كياايك دوسرے پر جمع پرہوگئيں اور ان كے درميان كئي راستے بن گئے اور بنى اسرائيل كے ہر گروہ نے ايك ايك راستہ اختيار كرليا _
فرعون اور اس كے ساتھى يہ منظر ديكھ كر حيران وششد ررہ گئے،اس قدر واضح اور آشكار معجزہ ديكھنے كے باوجود تكبر اور غرور كى سوارى سے نہيں اترے، انھوں نے موسى عليہ السلام اور بنى اسرائيل كا تعاقب جارى ركھا اور اپنے آخرى انجام كى طرف آگے بڑھتے رہے جيسا كہ قرآن فرماتاہے :''اور وہاں پر دوسرے لوگوں كو بھى ہم نے نزديك كرديا''_
اس طرح فرعونى لشكر دريائي راستوں پر چل پڑے اور وہ لوگ اپنے ان پرانے غلاموں كے پيچھے دوڑتے رہے جنھوں نے اب اس غلامى كى زنجيريں توڑدى تھيں ليكن انھيں يہ معلوم نہيں تھا كہ يہ ان كى زندگى كے آخرى لمحات ہيں اور ابھى عذاب كا حكم جارى ہونے والا ہے _
قرآن كہتا ہے :''ہم نے موسى اور ان تمام لوگوں كو نجات دى جوان كے ساتھ تھے _''(۱)
ٹھيك اس وقت جبكہ بنى اسرائيل كا آخرى فرددريا سے نكل رہا تھا اور فرعونى لشكر كا آخرى فرد اس ميں داخل ہورہاتھا ہم نے پانى كو حكم ديا كہ اپنى پہلى حالت پر لوٹ ا،اچانك موجيں ٹھاٹھيں مارنے لگيں اور فرغون اور اس كے لشكر كو گھاس پھونس اور تنكوں كى طرح بہاكرلے گئيں اور صفحہ ہستى سے ان كانام ونشان تك مٹاديا _
قرآن نے ايك مختصرسى عبارت كے ساتھ يہ ماجرايوں بيان كيا ہے : پھر ہم نے دوسروں كو غرق كرديا_''(۲)
____________________
(۱)سورہ شعراء آيت۶۵
(۲)سورہ شعراء آيت ۶۶
اے فرعون تيرا بدن لوگوں كے لئے عبرتناك ہوگا
بہر كيف يہ معاملہ چل رہا تھا '' يہاں تك كہ فرعون غرقاب ہونے لگا اور وہ عظيم دريائے نيل كى موجوں ميں تنكے كى طرح غوطے كھانے لگا تو اس وقت غرور وتكبر اور جہالت وبے خبرى كے پردے اس كى آنكھوں سے ہٹ گئے اور فطرى نور توحيد چمكنے لگا وہ پكاراٹھا :'' ميں ايمان لے آيا كہ اس كے سوا كوئي معبود نہيں كہ جس پر بنى اسرائيل ايمان لائے ہيں ''_(۱)
كہنے لگا كہ نہ صرف ميں اپنے دل سے ايمان لايا ہوں '' بلكہ عملى طور پر بھى ايسے توانا پروردگار كے سامنے سرتسليم خم كرتا ہوں ''_(۲)
درحقيقت جب حضرت موسى كى پيشين گوئياں يكے بعد ديگرے وقوع پذير ہوئيں اور فرعون اس عظيم پيغمبر كى گفتگو كى صداقت سے آگاہ ہوا اور اس كى قدر ت نمائي كامشاہدہ كيا تو اس نے مجبوراً اظہار ايمان كيا، اسے اميد تھى كہ جيسے ''بنى اسرائيل كے خدا'' نے انھيں كوہ پيكر موجوں سے سے نجات بخشى ہے اسے بھى نجات دے گا، لہذا وہ كہنے لگاميں اسى بنى اسرائيل كے خدا پر ايمان لايا ہوں ، ليكن ظاہر ہے كہ ايسا ايمان جو نزول بلا اور موت كے چنگل ميں گرفتار ہونے كے وقت ظاہر كيا جائے، در حقيقت ايك قسم كا اضطرارى ايمان ہے، جس كا اظہار سب مجرم اور گناہگار كرتے ہيں ، ايسے ايمان كى كوئي قدر و قيمت نہيں ہوتي، اور نہ يہ حسن نيت اور صدق گفتار كى دليل ہوسكتا ہے_
اسى بنا پر خدا وندعالم نے اسے مخاطب كرتے ہوئے فرمايا:'' تو اب ايمان لايا ہے حالانكہ اس سے پہلے تو نافرمانى اورطغيان كرنے والوں ، مفسدين فى الارض اور تباہ كاروں كى صف ميں تھا''(۳)
''ليكن آج ہم تيرے بدن كو موجوں سے بچاليں گے تاكہ تو آنے والوں كے لئے درس عبرت ہو، برسراقتدار مستكبرين كے لئے، تمام ظالموں اور مفسدوں كےلئے اور مستضعف گروہوں كے لئے بھى ''
____________________
(۱)سورہ يونس آيت ۹۰
(۲)سورہ يونس آيت ۹۰
(۳)سورہ يونس آيت ۹۰
يہ كہ''بدن سے مراد يہاں كيا ہے ،اس سلسلے ميں مفسرين ميں اختلاف ہے ان ميں سے اكثر كا نظريہ ہے كہ اس سے مراد فرعون كا بے جان جسم ہے كيونكہ اس ماحول كے لوگوں كے ذہن ميں فرعون كى اس قدر عظمت تھى كہ اگر اس كے بدن كو پانى سے باہرنہ اچھالاجاتاتو بہت سے لوگ يقين ہى نہ كرتے كہ اس كا غرق ہونا بھى ممكن ہے اور ہوسكتا تھا كہ اس ماجرے كے بعد فرعون كى زندگى كے بارے ميں افسانے تراش لئے جاتے _
يہ امر جاذب توجہ ہے كہ لغت ميں لفظ '' بدن'' جيسا كہ راغب نے مفردات ميں كہا ہے '' جسد عظيم'' كے معنى ميں ہے اس سے معلوم ہوتاہے كہ بہت سے خوشحال لوگوں كى طرح كہ جنكى بڑى زرق برق افسانوى زندگى تھى وہ بڑا سخت اور چاك وچوبند تھا مگر بعض دوسرے افراد نے كہاہے كہ''بدن'' كا ايك معني'' زرہ'' بھى ہے يہ اس طرف اشارہ ہے كہ خدا نے فرعون كو اس زريں زرہ سميت پانى سے باہر نكالاكہ جو اس كے بدن پر تھى تاكہ اس كے ذريعے پہچاناجائے اور كسى قسم كا شك وشبہ باقى نہ رہے _
اب بھى مصر اور برطانيہ كے عجائب گھروں ميں فرعونيوں كے موميائي بد ن موجود ہيں كيا ان ميں حضرت موسى عليہ السلام كے ہم عصر فرعون كا بدن بھى ہے كہ جسے بعد ميں حفاظت كے لئے مومياليا گيا ہويا نہيں ؟ اس سلسلے ميں كوئي صحيح دليل ہمارے پاس نہيں ہے _
بنى اسرائيل كى گذرگاہ
قرآن مجيد ميں بارہا اس بات كو دہرايا گيا ہے كہ موسى عليہ السلام نے خدا كے حكم سے بنى اسرائيل كو'' بحر'' عبور كروايا اورچند مقامات پر''يم'' كا لفظ بھى ايا ہے _
اب سوال يہ ہے كہ يہاں پر ''يم'''' بحر'' اور '' يم'' سے كيا مراد ہے آيايہ نيل ( NILE RIYER ) جيسے وسيع وعريض دريا كى طرف اشارہ ہے كہ سرزمين مصر كى تمام آبادى جس سے سيراب ہوتى تھى يا بحيرہ احمريعنى بحر قلزم ( RID SEA )كى طرف اشارہ ہے _
موجودہ تو ريت اور بعض مفسرين كے انداز گفتگو سے معلوم ہوتاہے كہ بحيرہ احمر كى طرف اشارہ ہے ليكن ايسے قرائن موجود ہيں جن سے معلوم ہوتا ہے كہ اس سے مراد نيل كا عظيم ووسيع دريا ہے _
حضرت موسى عليہ السلام سے بت سازى كى فرمائش
قرآن ميں بنى اسرائيل كى سرگزشت كے ايك اور اہم حصہ كى طرف اشارہ كيا گيا ہے يہ واقعہ فرعونيوں پر ان كى فتحيابى كے بعد ہوا، اس واقعہ سے بت پرستى كى جانب ان كى توجہ ظاہر ہوتى ہے _
واقعہ يہ ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام فرعون كے جھگڑے سے نكل چكے تو ايك اور داخلى مصيبت شروع ہوگئي جو بنى اسرائيل كے جاہل ، سركش اور فرعون اور فرعونيوں كے ساتھ جنگ كرنے سے بدر جہا سخت اور سنگين تر تھى اور ہر داخلى كشمكش كا يہى حال ہواكرتا ہے _قرآن ميں فرماياگيا ہے:'' ہم نے بنى اسرائيل كو دريا (نيل) كے اس پار لگا ديا :''
ليكن '' انہوں نے راستے ميں ايك قوم كو ديكھا جو اپنے بتوں كے گرد خضوع اور انكسارى كے ساتھ اكٹھا تھے'' _(۱) امت موسى عليہ السلام كے جاہل افراد يہ منظر ديكھ كر اس قدر متاثر ہوئے كہ فوراً حضرت موسى كے پاس آئے اور '' وہ كہنے لگے اے موسى ہمارے واسطے بھى بالكل ويسا ہى معبود بنادو جيسا معبود ان لوگوں كا ہے''_(۲) حضرت موسى عليہ السلام ان كى اس جاہلانہ اور احمقانہ فرمائش سے بہت ناراض ہوئے ، آپ نے ان لوگوں سے كہا: ''تم لوگ جاہل وبے خبر قوم ہو''_(۳)
بنى اسرائيل ميں ناشكر گزار افراد كى كثرت تھي،باوجود يكہ انہوں نے حضرت موسى عليہ السلام سے اتنے معجزے ديكھے، قدرت كے اتنے انعامات ان پر ہوئے، ان كا دشمن فرعون نابود ہوا ابھى كچھ عرصہ بھى نہيں گذرا تھا، وہ غرق كرديا گيا اور وہ سلامتى كے ساتھ دريا كو عبور كرگئے ليكن انہوں نے ان تمام باتوں كو يكسر بھلاديا اور حضرت موسى عليہ السلام سے بت سازى كا سوال كربيٹھے_
____________________
(۱)سورہ اعراف آيت ۱۳۸
(۲)سورہ اعراف آيت ۱۳۸
(۳)سورہ اعراف ۱۳۸
ايك يہودى كو حضرت اميرالمومنين عليہ السلام كا جواب
نہج البلاغہ ميں ہے كہ ايك مرتبہ ايك يہودى نے حضرت اميرالمو منين عليہ السلام كے سامنے مسلمانوں پر اعتراض كيا:
''ابھى تمہارے نبى دفن بھى نہ ہونے پائے تھے كہ تم لوگوں نے اختلاف كرديا ''_
حضرت على عليہ السلام نے اس كے جواب ميں فرمايا :
ہم نے ان فرامين واقوال كے بارے ميں اختلاف كيا ہے جو پيغمبر سے ہم تك پہنچے ہيں ، پيغمبريا ان كى نبوت سے متعلق ہم نے كوئي اختلاف نہيں كيا (چہ جائيكہ الوہيت كے متعلق ہم نے كوئي بات كہى ہو)ليكن تم (يہودي) ابھى تمہارے پير دريا كے پانى سے خشك نہيں ہونے پائے تھے كہ تم نے اپنے نبى (حضرت موسى عليہ السلام) سے يہ كہہ ديا كہ ہمارے لئے ايك ايسا ہى معبود بنادو جس طرح كہ ان كے متعدد معبود ہيں ، اور اس نبى نے تمہارے جواب ميں تم سے كہا تھا كہ تم ايك ايسا گروہ ہوجو جہل كے دريا ميں غوطہ زن ہے _
حضرت موسى عليہ السلام نے اپنى بات كى تكميل كے لئے بنى اسرائيل سے كہا: ''اس بت پرست گروہ كو جو تم ديكھ رہے ہو ان كا انجام ہلاكت ہے اور ان كاہر كام باطل وبے بنيادہے ''_(۱)
اس كے بعد مزيد تاكيد كے لئے فرمايا گيا ہے : ''آيا خدائے برحق كے علاوہ تمہارے لئے كوئي دوسرا معبود بنالوں ، وہى خدا جس نے اہل جہان (ہمعصر لوگوں )پر تم كو فضيلت دى ''_(۲)
اس كے بعد خداوند كريم اپنى نعمتوں ميں سے ايك بڑى نعمت كا ذكر فرماتا ہے جو اس نے بنى اسرائيل كوعطا فرمائي تھى تاكہ اس عظيم نعمت كا تصور كركے ان ميں شكر گزارارى كا جذبہ بيدار ہواور انہيں يہ احساس ہوكہ پرستش اور سجدے كا مستحق صرف خدائے يكتا ويگانہ ہے، اور اس بت كى كوئي دليل نہيں پائي جاتى كہ جو بت بے نفع اور بے ضرر ہيں ان كے سامنے سر تعظيم جھكايا جائے _
____________________
(۱)سورہ اعراف آيت ۱۳۹
(۲)سورہ اعراف۱۴۰
پہلے ارشاد ہوتا ہے :'' ياد كرو اس وقت كو جب كہ ہم نے تمہيں فرعون كے گروہ كے شرسے نجات ديدي، وہ لوگ تم كو مسلسل عذاب ديتے چلے آرہے تھے ''_(۱)
اس كے بعد اس عذاب وايزارسانى كى تفصيل يوں بيان فرماتاہے:وہ تمہارے بيٹوں كو تو قتل كرديتے تھے اور تمہارى عورتوں لڑكيوں كو (خدمت اور كنيزى كے لئے ) زندہ چھوڑديتے تھے'' _(۲)
بنى اسرائيل سر زمين مقدس كى طرف
قران ميں اس كے بعد سرزمين مقدس ميں بنى اسرائيل كے ورود كے بارے ميں يوں بيان كيا گيا ہے:'' موسى عليہ السلام نے اپنى قوم سے كہا كہ تم سرزمين مقدس ميں جسے خدا نے تمہارے لئے مقرر كيا ہے_داخل ہوجائو، اس سلسلے ميں مشكلات سے نہ ڈرو، فدا كارى سے منہ نہ موڑو اور اگر تم نے اس حكم سے پيٹھ پھيرى تو خسارے ميں رہوگے ''_(۳)
ارض مقدسہ سے كيا مراد ہے اس، اس سلسلے ميں مفسرين نے بہت كچھ كہا ہے، بعض بيت المقدس كہتے ہيں كچھ اردن يا فلسطين كانام ليتے ہيں اور بعض سرزمين طور سمجھتے ہيں ، ليكن بعيد نہيں كہ اس سے مراد منطقہ شامات ہو، جس ميں تمام مذكورہ علاقے شامل ہيں _
كيونكہ تاريخ شاہد ہے كہ يہ سارا علاقہ انبياء الہى كا گہوراہ، عظيم اديان كے ظہور كى زمين اور طول تاريخ ميں توحيد، خدا پرستى اور تعليمات انبياء كى نشرواشاعت كا مركزرہاہے_
لہذا اسے سرزمين مقدس كہاگيا ہے اگرچہ بعض اوقات خاص بيت المقدس كو بھى ارض مقدس كہاجاتاہے_
بنى اسرائيل نے اس حكم پر حضرت موسى عليہ السلام كو وہى جواب ديا جو ايسے موقع پر كمزور، بزدل اور جاہل لوگ ديا كرتے ہيں _
____________________
(۱)سورہ اعراف آيت ۱۴۱
(۲)سورہ اعراف آيت ۱۴۱
(۳)سورہ مائدہ آيت۲۱
ايسے لوگ چاہتے ہيں كہ تمام كاميابياں انھيں اتفاقا ًاور معجزانہ طور پر ہى حاصل ہوجائيں يعنى لقمہ بھى كوئي اٹھاكران كے منہ ميں ڈال دے وہ حضرت موسى عليہ السلام سے كہنے لگے :'' آپ جانتے ہيں كہ اس علاقے ميں ايك جابر اور جنگجو گروہ رہتاہے جب تك وہ اسے خالى كركے باہر نہ چلاجائے ہم تو اس علاقے ميں قدم تك نہيں ركھيں گے اسى صورت ميں ہم آپ كى اطاعت كريں گے اور سرزمين مقدس ميں داخل ہوں گے ''_(۱)
بنى اسرائيل كا يہ جواب اچھى طرح نشاندہى كرتا ہے كہ طويل فرعونى استعمارنے ان كى نسلوں پر كيسا اثر چھوڑا تھا لفظ'' لن '' جود ائمى پر دلالت كرتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ وہ لوگ سرزمين مقدس كى آزادى كے لئے مقابلے سے كس قدر خوف زدہ تھے _
چاہئے تو يہ تھا كہ بنى اسرائيل سعى وكوشش كرتے، جہادو قربانى كے جذبے سے كام اور سرزمين مقدس پر قبضہ كرليتے اگر فرض كريں كہ سنت الہى كے برخلاف بغير كسى اقدام كے ان كے تمام دشمن معجزانہ طور پر نابود ہوجاتے اور بغير كوئي تكليف اٹھائے وہ وسيع علاقے كے وارث بن جاتے تو اس كانظام چلانے اور اس كى حفاظت ميں بھى ناكام رہتے بغير زحمت سے حاصل كى ہوئي چيز كى حفاظت سے انھيں كيا سروكار ہوسكتا تھا نہ وہ اس كے لئے تيار ہوتے اور نہ اہل _
جيسا كہ تواريخ سے ظاہر ہوتا ہے آيت ميں قوم جبار سے مراد قوم ''عمالقہ'' ہے يہ لوگ سخت جان اور بلند قامت تھے يہاں تك كہ ان كى بلند قامت كے بارے ميں بہت مبالغے ہوئے اور افسانے تراشے گئے اس سلسلے ميں مضحكہ خيز باتيں گھڑى گئيں جن كے لئے كوئي عملى دليل نہيں ہے _(۲)
____________________
(۱)سورہ مائدہ آيت ۲۲
(۲)خصوصاً '' عوج'' كے بارے ميں خرافات سے معمور ايسى كہانياں تاريخوں ميں ملتى ہيں _اس سے معلوم ہوتا ہے كہ ايسے افسانے جن ميں سے بعض اسلامى كتب ميں بھى آگئے ہيں ، دراصل بنى اسرائيل كے گھڑے ہوئے ہيں انھيں عام طورپر '' اسرائيليات''كہا جاتا ہے اس كى دليل يہ ہے كہ خود موجودہ توريت كے متن ميں ايسے افسانے دكھائي ديتے ہيں _
اس كے بعد قرآن كہتا ہے :''اس وقت اہل ايمان ميں سے دوافراد ايسے تھے جن كے دل ميں خوف خدا تھا اور اس بنا پر انھيں عظيم نعمتيں ميسر تھيں ان ميں استقامت وشجاعت بھى تھى ، وہ دور انديش بھى تھے اور اجتماعى اور فوجى نقطہ نظر سے بھى بصيرت ركھتے تھے انھوں نے حضرت موسى عليہ السلام كى دفاعى تجويز كى حمايت كى اور بنى اسرائيل سے كہنے لگے : تم شہر كے دروازے سے داخل ہوجائو اور اگر تم داخل ہوگئے تو كامياب ہوجائو گے ''_
ليكن ہر صورت ميں تمہيں روح ايمان سے مدد حاصل كرنا چاہئے اور خدا پر بھروسہ كروتاكہ اس مقصد كو پالو _''(۱)
اس بارے ميں كہ يہ دو آدمى كون تھے ؟اكثر مفسرين نے لكھا ہے كہ وہ'' يوشع بن نون'' اور'' كالب بن يوفنا''(''يفنہ ''بھى لكھتے ہيں ) تھے جو بنى اسرائيل كے نقيبوں ميں سے تھے _
جب كامياب ہو جاو تو ہميں بھى خبركرنا
بنى اسرائيل نے يہ تجويز قبول نہ كى اور ضعف وكمزورى جوان كى روح پر قبضہ كرچكى تھي، كے باعث انھوں نے صراحت سے حضرت موسى عليہ السلام سے كہا:'' جب تك وہ لوگ اس سرزمين ميں ہيں ہم ہرگز داخل نہيں ہوں گے، تم اور تمہارا پروردگار جس نے تم سے كاميابى كا وعدہ كيا ہے،جائو اور عمالقہ سے جنگ كرو اور جب كامياب ہوجائو تو ہميں بتادينا ہم يہيں بيٹھے ہيں _(۲)
بنى اسرائيل نے اپنے پيغمبر كے ساتھ جسارت كى انتہاكردى تھي، كيونكہ پہلے تو انھوں نے لفظ ''لن'' اور'' ابداً'' استعمال كركے اپنى صريح مخالفت كا اظہار كيا اورپھر يہ كہا كہ تم اور تمہارا پروردگار جائو اور جنگ كرو، ہم تو يہاں بيٹھے ہيں ،انھوں نے حضرت موسى عليہ السلام اور ان كے وعدوں كي، تحقير كى يہاں تك كہ خدا كے ان دوبندوں كى تجويز كى بھى پرواہ نہيں كى اور شايد انھيں تو كوئي مختصر سا جواب تك نہيں ديا_
____________________
(۱)سورہ مائدہ آيت ۲۳
(۲)سورہ مائدہ آيت۲۴
يہ امر قابل توجہ ہے كہ موجودہ توريت سفر اعداد باب ۱۴/ ميں بھى اس داستان كے بعض اہم حصے موجود ہيں _
حضرت موسى عليہ السلام ان لوگوں سے بالكل مايوس ہوگئے اور انھوں نے دعا كے لئے ہاتھ اٹھا ديئے اور ان سے عليحدگى كے لئے يوں تقاضا كيا : ''پروردگارميرا تو صرف اپنے آپ پر اور اپنے بھائي پر بس چلتا ہے : خدايا ہمارے اور اس فاسق وسركش گروہ ميں جدائي ڈال دے''_(۱)
بنى اسرائيل بيابان ميں سرگرداں
آخركار حضرت موسى عليہ السلام كى دعا قبول ہوئي اور بنى اسرائيل اپنے ان برے اعمال كے انجام سے دوچار ہوئے خدا كى طرف سے حضرت موسى عليہ السلام كو وحى ہوئي :''يہ لوگ اس مقدس سرزمين سے چاليس سال تك محروم رہيں گے جو طرح طرح كى مادى اورر وحانى نعمات سے مالامال ہے''_(۲)
علاوہ ازيں ان چاليس سالوں ميں انھيں اس بيابان ميں سرگرداں رہنا ہوگا اس كے بعد حضرت موسى عليہ السلام سے فرمايا گيا ہے : ''اس قوم كے سرپر جو كچھ بھى آئے وہ صحيح ہے، ان كے اس انجام پر كبھى غمگين نہ ہونا ''_(۳)
آخرى جملہ شايد اس لئے ہو كہ جب بنى اسرائيل كے لئے يہ فرمان صادر ہوا كہ وہ چاليس سال تك سزا كے طور پر بيابان ميں سرگرداں رہيں حضرت موسى عليہ السلام كے دل ميں جذب ہ مہربانى پيدا ہوا ہو اور شايد انھوں نے درگاہ خداوندى ميں ان كے لئے عفوودر گذر كى درخواست بھى كى ہوجيسا كہ موجودہ توريت ميں بھى ہے_
ليكن انھيں فوراً جواب ديا گيا كہ وہ اس سزا كے مستحق ہيں نہ كہ عفوودرگذركے، كيونكہ جيسا كہ قرآن ميں ہے كہ وہ فاسق اور سركش لوگ تھے اور جو ايسے ہوں ان كے لئے يہ انجام حتمى ہے _
____________________
(۱)سورہ مائدہ آيت۲۵
(۲)سورہ مائدہ آيت۲۶
(۳)سورہ مائدہ آيت
توجہ رہے كہ ان كے لئے چاليس سال كى يہ محروميت انتقامى جذبے سے نہ تھى (جيسا كہ خدا كى طرف سے كوئي سزا بھى ايسى نہيں ہوتى بلكہ وہ يا اصلاح كے لئے ہوتى ہے اور يا عمل كا نتيجہ)درحقيقت اس كا ايك فلسفہ تھا اور وہ يہ كہ بنى اسرائيل ايك طويل عرصے تك فرعونى استعمار كى ضربيں جھيل چكے تھے،اس عرصے ميں حقارت آميز رسومات،اپنے مقام كى عدم شناخت اور احساسات ذلت كا شكار ہو چكے تھے اور حضرت موسى عليہ السلام جيسے عظيم رہبر كى سر پرستى ميں اس تھوڑے سے عرصے ميں اپنى روح كو ان خاميوں سے پاك نہيں كرسكے تھے اور وہ ايك ہى جست ميں افتخار،قدرت اور سربلندى كى نئي زندگى كے لئے تيار نہيں ہو پائے تھے_
حضرت موسى عليہ السلام نے انھيں مقدس سرزمين كے حصول كے لئے جہاد آزادى كا جو حكم ديا تھا اس پر عمل نہ كرنے كے لئے انھوں نے جو كچھ كہا وہ اس حقيقت كى واضح دليل ہے لہذا ضرورى تھا كہ وہ ايك طويل مدت وسيع بيابانو ں ميں سرگرداں رہيں اور اس طرح ان كى ناتواں اور غلامانہ ذہنيت كى حامل موجودہ كمزور نسل آہستہ آہستہ ختم ہوجائے اور نئي نسل حريت و آزادى كے ماحول ميں اورخدائي تعليمات كى آغوش ميں پروان چڑھے تاكہ وہ اس قسم كے جہاد كے لئے اقدام كرسكے او راس طرح سے اس سرزمين پر حق كى حكمرانى قائم ہو سكے_
بنى اسرائيل كا ايك گروہ پشيمان ہوا
بنى اسرارئيل كا ايك گروہ اپنے كئے پر سخت پشيمان ہوا_انہوں نے بارگاہ خدا كا رخ كيا_خدا نے دوسرى مرتبہ بنى اسرائيل كو اپنى نعمتوں سے نوازا جن ميں سے بعض كى طرف قرآن ميں اشارہ كيا گيا ہے_
''ہم نے تمہارے سر پر بادل سے سايہ كيا''_(۱) سر خط وہ مسافر جو صبح سے غروب تك سورج كى گرمى ميں بيابان ميں چلتا ہے وہ ايك لطيف سائے سے كيسى راحت پائے گا(وہ سايہ جو بادل كا ہو جس سے انسان كے لئے نہ تو فضا محدود ہوتى ہو اور نہ جو ہوا چلنے سے مانع ہو)_
____________________
(۱)سورہء بقر آيت۵۷
يہ صحيح ہے كہ بادل كے سايہ فگن ٹكڑوں كا احتمال ہميشہ بيابان ميں ہوتا ہے ليكن قرآن واضح طور پر كہہ رہا ہے كہ بنى اسرئيل كے ساتھ ايسا عام حالات كى طرح نہ تھا بلكہ وہ لطف خدا سے اكثر اس عظيم نعمت سے بہرہ ور ہوتے تھے_
دوسرى طرف اس خشك اور جلادينے والے بيابان ميں چاليس سا ل كى طويل مدت سرگرداں رہنے والوں كے لئے غذا كى كافى و وافى ضرورت تھي،اس مشكل كو بھى خداوند عالم نے ان كے لئے حل كرديا ،جيسا كہ اشاد ہوتا ہے:ہم نے'' من وسلوى '' جو لذيذ اور طاقت بخش غذا ہے تم پر نازل كيا_
ان پاكيزہ غذائوں سے جو تمہيں روزى كے طور پر دى گئي ہيں كھائو(اور حكم خدا كى نافرمانى نہ كرو اور اس كى نعمت كا شكر اداكرو_)
ليكن وہ پھر بھى شكر گزارى كے دروازے ميں داخل نہيں ہوئے(تاہم)''انہوں نے ہم پر كوئي ظلم نہيں كيا بلكہ اپنے اوپر ہى ظلم كيا ہے''_(۱)
منّ و سلوى كيا ہے؟
نبى اكرم (ص) سے منقول ايك روايت كے مطابق،آپ نے فرمايا:
''كھمبى كى قسم كى ايك چيز تھى جو اس زمين ميں اُگتى تھي''_پس معلوم ہوا كہ ''منّ''ايك ''قارچ''تھى جو اس علاقہ ميں پيدا ہوتى تھي_(۲)
____________________
(۱)سورہ بقر آيت۵۷
(۲)توريت ميں ہے كہ ''منّ''دھنيے كے دانوں جيسى كوئي چيزہے جو رات كو اس سر زمين پر آگرتى تھي،بنى اسرائيل اسے اكٹھا كركے پيس ليتے اور اس سے روٹى پكاتے تھے جس كا ذائقہ روغنى روٹى جيسا ہوتا تھا_
ايك احتمال اور بھى ہے كہ بنى اسرائيل كى سرگردانى كے زمانے ميں خدا كے لطف وكرم سے جو نفع بخش بارشيں برستى تھيں ان كے نتيجے ميں درختوں سے كوئي خاص قسم كا صمغ اور شيرہ نكلتا تھا اور بنى اسرائيل اس سے مستفيد ہوتے تھے_
بعض نے كہا ہے كہ'' منّ'' سے مراد وہ تمام نعمتيں جو خدانے بنى اسرائيل كو عطا فرمائي تھيں اور سلوى وہ تمام عطيات ہيں جو ان كى راحت و آرام اور اطمينان كا سبب تھے_
''سلوى ''اگر چہ بعض مفسرين نے اسے شہد كے ہم معنى ليا ہے ليكن دوسرے تقريباًسب مفسرين نے اسے پرندے كى ايك قسم قرار ديا ہے_يہ پرندہ اطراف اور مختلف علاقوں سے كثرت سے اس علاقے ميں آتا تھا اور بنى اسرائيل اس كے گوشت سے استفادہ كرتے تھے_عہدين پر لكھى گئي تفسير ميں بھى اس نظريہ كى تائيد دكھائي ديتى ہے_(۱)
البتہ بنى اسرائيل كى سرگردانى كے دنوں ميں ان پر خدا كا يہ خاص لطف وكرم تھا كہ يہ پرندہ وہاں كثرت سے ہوتا تھا تا كہ وہ اس سے استفادہ كرسكيں _ورنہ تو عام حالات ميں اس طرح كى نعمت كا وجود مشكل تھا_
بعض ديگر حضرات كے نزديك''من''ايك قسم كا طبيعى شہد ہے اور بنى اسرائيل اس بيابان ميں طويل مدت تك چلتے پھرتے رہنے سے شہد كے مخزنوں تك پہنچ جاتے تھے كيونكہ ''بيابان تيہ ''كے كناروں پر پہاڑ اور سنگلاخ علاقہ تھا جس ميں كافى طبيعى شہد نظر آجاتا تھا_
عہدين(توريت اور انجيل)پر لكھى گئي تفسير سے اس تفسير كى تائيد ہوتى ہے جس ميں ہے كہ مقدس سر زمين قسم قسم كے پھولوں اور شگوفوں كى وجہ سے مشہور ہے اسى لئے شہد كى مكھيوں كے جتھے ہميشہ پتھروں كے سوراخوں ،درختوں كى شاخوں اور لوگوں كے گھروں پر جا بيٹھتے ہيں اس طرح سے بہت فقير و مسكين لوگ بھى شہد كھا سكتے تھے_
____________________
(۱)اس ميں لكھا ہے معلوم ہونا چاہيے كہ بہت بڑى تعداد ميں سلوى افريقہ سے چل كے شمال كو جاتے ہيں _''جزيرہ كاپري'' ميں ايك فصل ميں ۱۶ہزار كى تعداد ميں ان كا شكار كيا گيا _يہ پرندہ بحيرہ قلزم كے راستے سے آتا ہے_ خليج عقبہ اور رسويز كو عبور كرتا ہے_ ہفتے كو جزيرہ سينا ميں داخل ہوتا ہے اور راستے ميں اس قدر تكان و تكليف جھيلنے كى وجہ سے آسانى سے ہاتھ سے پكڑا جا سكتا ہے، اور جب پرواز كرتا ہے تو زمين كے قريب ہوتا ہے_اس حصے كے متعلق(توريت كے)سفر خروج اور سفر اعداد ميں گفتگو ہوئي ہے_
اس تحرير سے بھى واضح ہوتا ہے كہ سلوى سے مراد وہى پر گوشت پرندہ ہے جو كبوتر كے مشابہ اور اس كے ہم وزن ہوتا ہے اور يہ پرندہ اس سر زمين ميں مشہور ہے _
بيابانوں ميں چشمہ ابلنا
بنى اسرائيل پر كى گئي ايك اور نعمت كى نشاندہى كرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے:''ياد كرو اس وقت كو جب موسى عليہ السلام نے(اس خشك اورجلانے والے بيا بان ميں جس وقت بنى اسرائيل پانى كى وجہ سے سخت تنگى ميں مبتلا تھے)پانى كى درخواست كي''_(۱) تو خدا نے اس درخواست كو قبول كيا جيسا كہ قرآن كہتا ہے:ہم نے اسے حكم ديا كہ اپنا عصا مخصوص پتھر پر مارو اس سے اچانك پانى نكلنے لگا اور پانى كے بارہ چشمے زور و شور سے جارى ہوگئے_(۲) بنى اسرائيل كے قبائيل كى تعداد كے عين مطابق جب يہ چشمے جارى ہوئے تو ايك چشمہ ايك قبيلے كى طرف جھك جاتا تھا جس پر بنى اسرائيل كے لوگوں ''اور قبيلوں ميں سے ہر ايك نے اپنے اپنے چشمے كو پہچان ليا_(۳) يہ پتھر كس قسم كا تھا،حضرت موسى عليہ السلام كس طرح اس پر عصا مارتے تھے اور پانى اس ميں سے كيسے جارى ہوجاتا تھا_اس سلسلے ميں بہت كچھ گفتگو كى گئي ہے_قرآن جو كچھ اس بارے ميں كہتا ہے وہ اس سے زيا دہ نہيں كہ موسى عليہ السلام نے اس پر عصا مارا تو اس سے بارہ چشمے جارى ہوگئے_ بعض مفسرين كہتے ہيں كہ يہ پتھر ايك كوہستانى علاقے كے ايك حصے ميں واقع تھا جو اس بيابان كى طرف جھكا ہوا تھا_ سورہ اعراف آيہ۱۶۰كى تعبيراس بات كى نشاندہى كرتى ہے كہ ابتداء ميں اس پتھر سے تھوڑا تھوڑا پانى نكلا ،بعد ميں زيادہ ہوگيا،يہاں تك كہ بنى اسرائيل كا ہر قبيلہ ان كے جانور جو ان كے ساتھ تھے اور وہ كھيتى جو انہوں نے احتمالاً اس بيابان كے ايك حصے ميں تيار كى تھى سب اس سے سيراب ہوگئے،يہ كوئي تعجب كى بات نہيں كہ كوہستانى علاقے ميں پتھر كے ايك حصے سے پانى جارى ہوا البتہ يہ مسلم ہے كہ يہ سب معجزے سے رونما ہوا_(۴)
____________________
(۱)سورہ بقرہ آيت۶۰
(۲)سورہ بقرہ ايت ۶۰
(۳)سورہ بقرہ آيت۶۰
(۴)توريت كى سترھويں فصل ميں سفر خروج كے ذيل ميں بھى يوں لكھا ہے:
''خدا نے موسى عليہ السلام سے كہا:قوم كے آگے آگے رہو اور اسرائيل كے بعض بزرگوں كو ساتھ لے لو اور وہ عصا جسے نہر پر مارا تھا ہاتھ ميں لے كر روانہ ہو جائو_ ميں وہاں تمہارے سامنے كوہ حوريب پر كھڑا ہوجائوں گا_ اور اسے پتھر پر مارو،اس سے پانى جارى ہوجائےگا ،تاكہ قوم پى لے اور موسى عليہ السلام نے اسرائيل كے مشائخ اور بزرگوں كے سامنے ايسا ہى كيا''_
بہر حال ايك طرف خداوند عالم نے ان پر من و سلوى نازل كيا اور دوسرى طرف انہيں فراوان پانى عطا كيا اور ان سے فرمايا:''خدا كى دى ہوئي روزى سے كھائو پيو ليكن زمين ميں خرابى اور فساد نہ كرو''_(۱)
گويا انہيں متوجہ كيا گياہے كہ كم از كم ان عظيم نعمتوں كى شكر گزارى كے طور پر ضدى پن،ستمگري،انبياء كى ايذا رسانى اور بہانہ بازى ترك كردو_
مختلف كھانوں كى تمنا
ان نعمات فراوان كى تفصيل كے بعد جن سے خدا نے بنى اسرائيل كو نوازا تھا_ قرآن ميں ان عظيم نعمتوں پر ان كے كفران اور ناشكر گزارى كى حالت كو منعكس كيا گيا ہے_اس ميں اس بات كى نشاندہى ہے كہ وہ كس قسم كے ہٹ دھرم لوگ تھے_شايد تاريخ دنيا ميں ايسى كوئي مثال نہ ملے گى كہ كچھ لوگوں پر اس طرح سے الطاف الہى ہو ليكن انہوں نے اس طرح سے اس كے مقابلے ميں ناشكر ى اور نا فرمانى كى ہو_
پہلے فرمايا گيا ہے:
''ياد كرو اس وقت كو جب تم نے كہا :اے موسى ہم سے ہر گز يہ نہيں ہوسكتا كہ ايك ہى غذا پر قناعت كرليں ،(من و سلوى كتنى ہى لذيذ غذا ہو، ہم مختلف قسم كى غذا چاہتے ہيں _)(۲)
''لہذا خدا سے خواہش كرو كہ وہ زمين سے جو كچھ اگايا كرتا ہے ہمارے لئے بھى اگائے سبزيوں ميں سے،ككڑي،لہسن،مسور اور پياز''_(۳)
ليكن موسى عليہ السلام نے ان سے كہا:''كيا تم بہتر كے بجائے پست تر غذا پسند كرتے ہو''_(۴)
''جب معاملہ ايسا ہى ہے تو پھر اس بيابان سے نكلو اور كسى شہر ميں داخل ہونے كى كوشش كروكيونكہ جو كچھ تم چاہتے ہو وہ وہاں ہے''_(۵) يعنى تم لوگ اس وقت اس بيابان ميں خود سازى اور امتحان كى منزل ميں ہو،يہاں مختلف كھانے نہيں مل سكتے ،جاو شہر ميں جاو تاكہ يہ چيزيں تمہيں مل جائيں ،ليكن يہ خود سازى كا پروگرام وہاں نہيں ہے_ اس كے بعد قرآن مزيد كہتا ہے كہ خدا نے ان كى پيشانى پر ذلت و فقر كى مہر لگاديااور وہ دوبارہ غضب الہى ميں گرفتار ہوگئے
____________________
(۱)سورہ بقرہ آيت۶۰ (۲)سورہ بقرہ آيت۶۱ (۳)سورہ بقرہ آيت۶۱
(۴)سورہ بقرہ آيت۶۱ (۵)سورہ بقرہ آيت۶۱
_ يہ اس لئے ہوا كہ وہ آيات الہى كا انكار كرتے تھے اور ناحق انبياء كو قتل كرتے تھے _ يہ سب اس لئے تھا كہ وہ گناہ،سركشى اور تجاوز كے مرتكب ہوتے تھے_(۱)
عظيم وعدہ گاہ
قرآن ميں بنى اسرائيل كى زندگى كا ايك اور منظر بيان كيا گيا ہے_ ايك مرتبہ پھر حضرت موسى عليہ السلام كو اپنى قوم سے جھگڑنا پڑا ہے،حضرت موسى عليہ السلام كا خدا كے مقام وعدہ پر جانا،وحى كے ذريعے احكام توريت لينا،خدا سے باتيں كرنا،كچھ بزرگان بنى اسرائيل كو ميعاد گاہ ميں ان واقعات كے مشاہدہ كے لئے لانا،اس بات كا اظہار ہے كہ خدا كو ان آنكھوں سے ہر گز نہيں ديكھا جاسكتا_ پہلے فرمايا گيا ہے:''ہم نے موسى سے تيس راتوں (پورے ايك مہينہ)كا وعدہ كيا،اس كے بعد مزيد دس راتيں بڑھا كر اس وعدہ كى تكميل كي، چنانچہ موسى سے خدا كا وعدہ چاليس راتوں ميں پورا ہوا''_(۲)
اس كے بعد اس طرح بيان كيا گيا ہے:''موسى نے اپنے بھائي ہارون سے كہا:ميرى قوم ميں تم ميرے جانشين بن جائو اور ان كى اصلاح كى كوشش كرو اور كبھى مفسدوں كى پيروى نہ كرنا''_(۳)(۴)
____________________
(۱)سورہ بقرہ آيت۶۱ (۲)سورہ اعراف آيت ۱۴۲ (۳)سورہ اعراف آيت۱۴۳
(۴)پہلا سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ خدا نے پہلے ہى سے چاليس راتوں كا وعدہ كيوں نہ كيا بلكہ پہلے تيس راتوں كا وعدہ كيا اس كے بعد دس راتوں كا اور اضافہ كرديا_
مفسرين كے درميان اس تفريق كے بارے ميں بحث ہے، ليكن جو بات بيشتر قرين قياس ہے،نيز روايات اہل بيت عليہم السلام كے بھى موافق ہے وہ يہ ہے كہ يہ ميعاد اگر چہ واقع ميں چاليس راتوں كا تھا ليكن خدا نے بنى اسرائيل كى آزمائش كرنے كے لئے پہلے موسى عليہ السلام كو تيس راتوں كى دعوت دى پھر اس كے بعد اس كى تجديد كردى تا كہ منافقين مومنين سے الگ ہوجائيں _اس سلسلے ميں امام محمد باقر عليہ السلام سے نقل ہوا ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا: جس وقت حضرت موسى عليہ السلام وعدہ گاہ الہى كى طرف گئے تو انہوں نے بنى اسرائيل سے يہ كہہ ركھا تھا كہ ان كى غيبت تيس روز سے زيادہ طولانى نہ ہوگى ليكن جب خدا نے اس پر دس دنوں كا اضافہ كرديا تو بنى اسرائيل نے كہا:موسى عليہ السلام نے اپنا وعدہ توڑ ديا اس كے نتيجہ ميں انہوں نے وہ كام كئے جو ہم جانتے ہيں (يعنى گوسالہ پرستى ميں مبتلا ہوگئے_) رہا يہ سوال كہ يہ چاليس روز يا چاليس راتيں ،اسلامى مہينوں ميں سے كونسا زمانہ تھا؟ بعض روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ يہ مدت ذيقعدہ كى پہلى تاريخ سے لے كر ذى الحجہ كى دس تاريخ تك تھي_ قرآن ميں چاليس راتوں كا ذكر ہے نہ كہ چاليس دنوں كا_ تو شايد اس وجہ سے ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كى اپنے رب سے جو مناجاتيں تھيں وہ زيادہ تر رات ہى كے وقت ہوا كرتى تھيں _ اس كے بعد ايك اور سوال سامنے آتا ہے،وہ يہ كہ حضرت موسى عليہ السلام نے كسطرح اپنے بھائي ہارون(ع) سے كہا كہ:قوم كى اصلاح كى كوشش كرنا اور مفسدوں كى پيروى نہ كرنا،جبكہ حضرت ہارون(ع) ايك نبى برحق اور معصوم تھے وہ بھلا مفسدوں كى پيروى كيوں كرنے لگے؟ اس كا جواب يہ ہے كہ:يہ درحقيقت اس بات كى تاكيد كے لئے تھا كہ حضرت ہارون(ع) كو اپنى قوم ميں اپنے مقام كى اہميت كا احساس رہے اور شايد اس طرح سے خود بنى اسرائيل كو بھى اس بات كا احساس دلانا چاہتے تھے كہ وہ ان كى غيبت ميں حضرت ہارون(ع) كى رہنمائي كا اچھى طرح اثر ليں اور ان كا كہنا مانيں اور ان كے اوامر ور نواہي(احكامات)كو اپنے لئے سخت نہ سمجھيں ،اس سے اپنى تحقير خيال نہ كريں اور انكے سامنے اس طرح مطيع و فرمانبرداررہيں جس طرح وہ خود حضرت موسى عليہ السلام كے فرمانبردار تھے_
ديدار پرودگار كى خواہش
قرآن ميں بنى اسرائيل كى زندگى كے بعض ديگر مناظر پيش كئے گئے ہيں _ان ميں سے ايك يہ ہے كہ بنى اسرائيل كے ايك گروہ نے حضرت موسى عليہ السلام سے بڑے اصرار كے ساتھ يہ خواہش كى كہ وہ خدا كو ديكھيں گے_ اگر ان كى يہ خواہش پورى نہ ہوئي تو وہ ہر گز ايمان نہ لائيں گے_ چنانچہ حضرت موسى عليہ السلام نے ان كے ستر آدميوں كا انتخاب كيا اور انہيں اپنے ہمراہ پروردگار كى ميعادگاہ كى طرف لے گئے، وہاں پہنچ كر ان لوگوں كى درخواست كو خدا كى بارگاہ ميں پيش كيا_ خدا كى طرف سے اس كا ايسا جواب ملا جس سے بنى اسرائيل كے لئے يہ بات اچھى طرح سے واضح ہوگئي_
ارشاد ہوتا ہے:'' جس وقت موسى ہمارى ميعادگاہ ميں آئے اور ان كے پروردگار نے ان سے باتيں كيں تو انہوں نے كہا:اے پروردگار خود كو مجھے دكھلادے تاكہ ميں تجھے ديكھ لوں ''_(۱) ليكن موسى عليہ السلام نے فوراًخدا كى طرف سے يہ جواب سنا: تم ہز گز مجھے نہيں ديكھ سكتے _ ليكن پہاڑ كى حانب نظر كرو اگر وہ اپنى جگہ پر ٹھہرا رہا تب مجھے ديكھ سكو گے_
جس وقت خدا نے پہاڑ پر جلوہ كيا تو اسے فنا كرديا اور اسے زمين كے برابر كرديا_
موسى عليہ السلام نے جب يہ ہولناك منظر ديكھا تو ايسا اضطراب لاحق ہوا كہ بے ہوش ہو كر زمين پر گرپڑے_اور جب ہوش ميں آئے تو خدا كى بارگاہ ميں عرض كى پروردگاراتو منزہ ہے،ميں تيرى طرف پلٹتا ہوں ،اور توبہ كرتا ہوں اور ميں پہلا ہوں مومنين ميں سے_(۲)
حضرت موسى عليہ السلام نے رويت كى خواہش كيوں كي؟
حضرت موسى عليہ السلام جيسے اولوالعزم نبى كو اچھى طرح معلوم تھا كہ ذات خداوندى قابل ديد نہيں ہے كيونكہ نہ تو وہ جسم ہے،نہ اس كے لئے كوئي مكان و جہت ہے اس كے باوجود انہوں نے ايسى خواہش كيسے كردى جو فى الحقيقت ايك عام انسان كى شان كے لئے بھى مناسب نہيں ہے؟
سب سے واضح جواب يہ ہے كہ جضرت موسى عليہ السلام نے يہ خواہش در اصل اپنى قوم كى طرف سے كى تھى كيونكہ بنى اسرائيل كے جہلاء كے ايك گروہ كا يہ اصرار تھا كہ وہ خدا كو كھلم كھلا ديكھيں گے تب ايمان لائيں گے_
____________________
(۱)سورہ اعراف ۱۴۳
(۲)سورہ اعراف آيت۱۴۳
حضرت موسى عليہ السلام كو اللہ كى جانب سے يہ حكم ملا كہ وہ اس درخواست كو خدا كى بارگاہ ميں پيش كريں تا كہ سب اس كا جواب سن ليں ،كتاب عيون اخبار الرضا ميں امام رضا عليہ السلام سے جو حديث مروى ہے وہ بھى اس مطلب كى تائيد كرتى ہے_(۱)
الواح توريت
آخر كار اس عظيم ميعادگاہ ميں اللہ نے موسى عليہ السلام پر اپنى شريعت كے قوانين نازل فرمائے_پہلے ان سے فرمايا:''اے موسى ميں نے تمہيں لوگوں پر منتخب كيا ہے،اور تم كو اپنى رسالتيں دى ہيں ،اور تم كو اپنے ساتھ گفتگو كا شرف عطا كيا ہے''_(۲)
____________________
(۱)حضرت موسى عليہ السلام نے كس چيز سے توبہ كى ؟اس بارے ميں جوسوال سامنے آتا ہے يہ ہے كہ جب حضرت موسى عليہ السلام ہوش ميں آئے تو انہوں نے كيوں كہا :''ميں تو بہ كر تا ہوں ''
حالانكہ انہوں نے كوئي خلاف ورزى نہيں كى تھي_كيونكہ اگر انہوں نے يہ درخواست اپنى امت كى طرف سے كى تھى تو اس ميں ان كا كيا قصور تھا،اللہ كى اجازت سے انہوں نے يہ درخواست خدا كے سامنے پيش كى اور اگر اپنے لئے شہود باطنى كى تمنا كى تھى تو يہ بھى خدا كے حكم كى مخالفت نہ تھي،لہذا توبہ كس بات كى تھي؟دوطرح سے اس سوال كا جواب ديا جا سكتا ہے:
اول:يہ كہ حضرت موسى عليہ السلام نے بنى اسرائيل كى نمائندگى كے طور پر خداسے يہ سوال كيا تھا،اس كے بعد جب خدا كى طرف سے سخت جواب ملا جس ميں اس سوال كى غلطى كو بتلايا گيا تھا تو حضرت موسى عليہ السلام نے توبہ بھى انہيں كى طرف سے كى تھي_
دوم:يہ كہ حضرت موسى عليہ السلام كو اگر چہ يہ حكم ديا گيا تھا كہ وہ بنى اسرائيل كى درخواست كو پيش كريں ليكن جس وقت پروردگار كى تجلى كا واقعہ رونما ہوا اور حقيقت آشكار ہوگئي تو حضرت موسى عليہ السلام كى يہ ماموريت ختم ہوچكى تھى اب حضرت موسى عليہ السلام كو چاہيئے پہلى حالت(يعنى قبل از ماموريت)كى طرف پلٹ جائيں اور اپنے ايمان كا اظہار كريں تاكہ كسى كے لئے جائے شبہ باقى نہ رہے،لہذا اس حالت كا اظہار موسى عليہ السلام نے اپنى توبہ اور اس جملہ ''انى تبت اليك وانا اول المو منين''سے كيا_
(۲)سورہ اعراف۱۴۴
اب جبكہ ايسا ہے تو''جو ميں نے تم كو حكم ديا ہے اسے لے لو اور ہمارے اس عطيہ پر شكر كرنے والوں ميں سے ہوجائو''_(۱)
اس كے بعد اضافہ كيا گيا ہے كہ :ہم نے جو الواح موسى عليہ السلام پر نازل كى تھيں ان پر ہر موضوع كے بارے ميں كافى نصيحتيں تھيں اورضرورت كے مسائل كى شرح اور بيان تھا_
اس كے بعد ہم نے موسى عليہ السلام كو حكم ديا كہ''بڑى توجہ اور قوت ارادى كے ساتھ ان فرامين كو اختيار كرو_''(۲) اور اپنى قوم كو بھى حكم دو كہ ان ميں جو بہترين ہيں انہيں اختيار كريں _
اور انہيں خبردار كردوكہ ان فرامين كى مخالفت اور ان كى اطاعت سے فرار كرنے كا نتيجہ دردناك ہے اوراس كا انجام دوزخ ہے اور ''ميں جلد ہى فاسقوں كى جگہ تمہيں دكھلادوں گا_''(۳)(۴)
____________________
(۱)سورہ اعراف۱۴۴
(۲)سورہ اعراف آيت ۱۴۵
(۳)سورہ اعراف آيت۱۴۵
(۴)يہاں پردو چيزوں كى طرف توجہ كرنا ضرورى ہے:
۱_الواح كس چيز كى بنى ہوئي تھيں :اس آيت كا ظاہر يہ ہے كہ خداوند كريم نے حضرت موسى عليہ السلام پر جو الواح نازل كى تھيں ان ميں توريت كى شريعت اور قوانين لكھے ہوئے تھے ،ايسا نہ تھا كہ يہ لوحيں حضرت موسى عليہ السلام كے ہاتھ ميں تھيں اور اس ميں فرامين منعكس ہوگئے تھے_ اب رہا يہ سوال كہ يہ لوحيں كيسى تھيں ؟كس چيز كى بنى ہوئي تھيں ؟ قرآن نے اس بات كى كوئي وضاحت نہيں كى ہے صرف كلمہ''الواح'' سربستہ طور پر آيا ہے_جو در اصل''لاح يلوح''كے مادہ سے ماخوذ ہے جس كے معنى ظاہر ہونے اور چمكنے كے ہيں _چونكہ صفحہ كے ايك طرف لكھنے سے حروف نماياں ہوجاتے ہيں اور مطلب آشكار ہوجاتے ہيں ،اس لئے صفحہ كو جس پر كچھ لكھا جائے''لوح''كہتے ہيں _ليكن روايات و اقوال مفسرين ميں ان الواح كى كيفيت كے بارے ميں اور ان كى جنس كے بارے ميں گوناگوں احتمالات ذكر كئے گئے ہيں _ چونكہ ان ميں سے كوئي بھى يقينى نہيں ہے اس لئے ان كے ذكر سے ہم اعراض كرتے ہيں _
۲_كلام كيسے ہوا:قرآن كريم كى مختلف آيات سے استفادہ ہوتا ہے كہ خداوندمتعال نے حضرت موسى عليہ السلام سے كلام كيا،خدا كا موسى عليہ السلام سے كلام كرنا اس طرح تھا كہ اس نے صوتى امواج كو فضا ميں يا كسى جسم ميں پيدا كرديا تھا_ كبھى يہ امواج صوتي''شجرہ وادى ايمن ''سے ظاہر ہوتى تھيں اور كبھي''كوہ طور'' سے حضرت موسى عليہ السلام كے كان ميں پہنچتى تھيں _ جن لوگوں نے صرف الفاظ پر نظر كى ہے اور اس پر غور نہيں كيا كہ يہ الفاظ كہاں سے نكل سكتے ہيں انہوں نے يہ خيال كيا كہ خدا كا كلام كرنا اس كے تجسم كى دليل ہے_حالانكہ يہ خيال بالكل بے بنياد ہے_
يہوديوں ميں گوسالہ پرستى كاآغاز
قرآن ميں افسوسناك اور تعجب خيز واقعات ميں سے ايك واقعہ كا ذكر ہوا ہے جو حضرت موسى عليہ السلام كے ميقات كى طرف جانے كے بعد بنى اسرائيل ميں رونما ہوا_وہ واقعہ ان لوگوں كى گوسالہ پرستى ہے_ جو ايك شخص بنام''سامري''نے زيور و آلات بنى اسرائيل كے ذريعے شروع كيا_
سامرى كو چونكہ اس بات كا احساس تھاكہ قوم موسى عليہ السلام عرصہ دراز محرومى اور مظلومى كى زندگى بسر كررہى تھى اس وجہ سے اس ميں ماد ہ پرستى پائي جاتى تھى اور حب زر كا جذبہ بدرجہ اتم پايا جاتا تھا_ جيسا كہ آج بھى ان كى يہى صفت ہے لہذا اس نے يہ چالاكى كى كہ وہ مجسمہ سونے كا بناياكہ اس طرح ان كى تو جہ زيادہ سے زيادہ اس كى طرف مبذول كراسكے_
اب رہا يہ سوال كہ اس محروم و فقير ملت كے پاس اس روز اتنى مقدارميں زروزيور كہاں سے آگيا كہ اس سے يہ مجسمہ تيار ہوگيا؟اس كا جواب روايات ميں اس طرح ملتا ہے كہ بنى اسرائيل كى عورتوں نے ايك تہوار كے موقع پر فرعونيوں سے زيورات مستعار لئے تھے يہ اسوقت كى بات ہے جس كے بعد ان كى غرقابى عمل ميں آئي تھي_اس كے بعد وہ زيورات ان عورتوں كے پاس باقى رہ گئے تھے_
اتنا ضرور ہے كہ يہ حادثہ مثل ديگر اجتماعى حوادث كے بغير كسى آمادگى اور مقدمہ كے وقوع پذيز نہيں ہوا بلكہ اس ميں متعدد اسباب كار فرما تھے،جن ميں سے بعض يہ ہيں :
بنى اسرائيل عرصہ دراز سے اہل مصر كى بت پرستى ديكھتے آرہے تھے_
جب دريائے نيل كو عبور كيا تو انہوں نے ايك قوم كو ديكھا جو بت كى پرستش كرتى تھي_ جيسا كہ قرآن نے بھى اس كا ذكر كيا ہے اور گذشتہ ميں بھى اس كا ذكر گزرا كہ بنى اسرائيل نے حضرت موسى عليہ السلام سے ان كى طرح كا بت بنانے كى فرمائش كى جس پر حضرت موسى عليہ السلام نے انہيں سخت سرزنش كي_
حضرت موسى عليہ السلام كے ميقات كاپہلے تيس راتوں كا ہونا اس كے بعد چاليس راتوں كا ہوجانا اس سے بعض منافقوں كو يہ موقع ملاكہ حضرت موسى عليہ السلام كى وفا ت كى افواہ پھيلا ديں _
قوم موسى عليہ السلام ميں بہت سے افرادكا جہل و نادانى سے متصف ہونا اس كے مقابلے ميں سامرى كى مكارى و مہارت كيونكہ اس نے بڑى ہوشيارى سے بت پرستى كے پروگرام كو عملى جامہ پہنايا، بہر حال ان تمام باتوں نے اكٹھا ہوكر اس بات كے اسباب پيدا كئے كہ بنى اسرائيل كى اكثريت بت پرستى كو قبول كرے اور''گوسالہ''كے چاروں طرف اس كے ماننے والے ہنگامہ برپاكرديں _
دودن ميں چھ لاكھ گوسالہ پرست بن گئے
سب سے بڑھ كرعجيب بات يہ ہے كہ بعض مفسرين نے يہ بيان كيا ہے كہ بنى اسرائيل ميں يہ انحرافى تبديلياں صرف گنتى كے چند دنوں كے اندر واقع ہوگئيں جب موسى عليہ السلام كو ميعاد گاہ كى طرف گئے ہوئے ۳۵/دن گزر گئے تو سامرى نے اپنا كام شروع كرديا اور بنى اسرائيل سے مطالبہ كيا كہ وہ تمام زيورات جو انہوں نے فرعونيوں سے عاريتاًلئے تھے اور ان كے غرق ہوجانے كے بعد وہ انھيں كے پاس رہ گئے تھے انہيں جمع كريں چھتيسويں ، سنتيسويں اور اڑ تيسويں دن انہيں ايك كٹھائي ميں ڈالااور پگھلاكر اس سے گوسالہ كا مجسمہ بنا ديا اور انتاليسويں دن انہيں اس كى پرستش كى دعوت دى اور ايك بہت بڑى تعداد (كچھ روايات كى بناء پر چھ لاكھ افراد) نے اسے قبول كرليااور ايك روز بعد يعنى چاليس روز گزرنے پر موسى عليہ السلام واپس آگئے _
قرآن اس طرح فرماتا ہے:
''قوم موسى نے موسى كے ميقات كى طرف جانے كے بعد اپنے زيوارات وآلات سے ايك گوسالہ بنايا جو ايك بے جان جسد تھا جس ميں سے گائے كى آواز آتى تھي_(۱)
اسے انہوں نے اپنے واسطے انتخاب كيا ''
اگرچہ يہ عمل سامرى سے سرزد ہوا تھا_(۲)
ليكن اس كى نسبت قوم موسى كى طرف دى گئي ہے اس كى وجہ يہ ہے كہ ان ميں سے بہت سے لوگوں
____________________
(۱)سورہ اعراف آيت ۱۴۸
(۲)جيسا كہ سورہ طہ كى آيات ميں آياہے
نے اس كام ميں سامرى كى مدد كى تھى اور وہ اس كے شريك جرم تھے اس كے علاوہ ان لوگوں كى بڑى تعداد اس كے فعل پر راضى تھى _
قرانى گفتگو كاظاہر يہ ہے كہ تمام قوم موسى اس گوسالہ پرستى ميں شريك تھى ليكن اگردوسرى ايت پر نظر كى جائے جس ميں آيا ہے كہ :
''قوم موسى ميں ايك امت تھى جو لوگوں كو حق كى ہدايت كرتى تھى اور اسى كى طرف متوجہ تھي''_(۱)
اس سے معلوم ہوگا كہ اس سے مراد تمام امت موسى نہيں ہے بلكہ اس كى اكثريت اس گوسالہ پرستى كى تابع ہوگئي تھي، جيسا كہ آئندہ آنے والا ہے كہ وہ اكثريت اتنى زيادہ تھى كہ حضرت ہارون عليہ السلام مع اپنے ساتھيوں كے ان كے مقالے ميں ضعيف وناتواں ہوگئے تھے _
گوسالہ پرستوں كے خلاف شديد رد عمل
يہاں پر قرآن ميں اس كشمكش اور نزاع كا ماجرا بيان كيا گيا ہے جو حضرت موسى عليہ السلام اور گوسالہ پرستوں كے درميان واقع ہوئي جب وہ ميعادگاہ سے واپس ہوئے جس كى طرف گذشتہ ميں صرف اشارہ كيا گيا تھا يہاں پر تفصيل كے ساتھ حضرت موسى عليہ السلام كے اس رد عمل كو بيان كيا گيا ہے جو اس گروہ كے بيدار كرنے كے لئے ان سے ظاہر ہوا _
پہلے ارشاد ہوتا :'' جس وقت موسى غضبناك ورنجيدہ اپنى قوم كى طرف پلٹے اور گوسالہ پرستى كانفرت انگيز منظر ديكھا تو ان سے كہا كہ تم لوگ ميرے بعد برے جانشين نكلے تم نے ميرا آئين ضائع كرديا ''_(۲)
يہاں سے صاف معلوم ہوتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام ميعاد گاہ پروردگار سے پلٹتے وقت قبل اس كے كہ بنى اسرائيل سے ملتے، غضبناك اور اندو ہگين تھے، اس كى وجہ يہ تھى كہ خدا نے ميعادگاہ ميں انہيں اس كى خبردے دى تھى _
____________________
(۱) سورہ اعراف آيت ۱۵۹
(۲)سورہ اعراف آيت۱۵۰
جيسا كہ قرآن كہتا ہے :ميں نے تمہارے پيچھے تمہارى قوم كى آزمائش كى ليكن وہ اس آزمائش ميں پورى نہ اترى اور سامرى نے انہيں گمراہ كر ديا_
اس كے بعد موسى عليہ السلام نے ان سے كہا:'' آيا تم نے اپنے پروردگار كے فرمان كے بارے ميں جلدى كى ''_(۱)
تم نے خدا كے اس فرمان، كہ اس نے ميعاد كا وقت تيس شب سے چاليس شب كرديا ، جلدى كى اور جلد فيصلہ كرديا ، ميرے نہ آنے كو ميرے مرنے يا وعدہ خلافى كى دليل سمجھ ليا، حالانكہ لازم تھا كہ تھوڑا صبر سے كام ليتے ، چند روز اور انتظار كرليتے تاكہ حقيقت واضح ہوجاتى _
اس وقت جبكہ حضرت موسى عليہ السلام بنى اسرائيل كى زندگى كے ان طوفانى وبحرانى لمحات سے گزر رہے تھے، سرسے پيرتك غصہ اور افسوس كى شدت سے بھڑك رہے تھے ،ايك عظيم اندوہ نے ان كے وجود پر سايہ ڈال ديا تھا اور انہيں بنى اسرائيل كے مستقبل كے بارے ميں بڑى تشويش لاحق تھي، كيونكہ تخريب اور تباہ كارى آسانى سے ہوجاتى ہے كبھى صرف ايك انسان كے ذريعے بہت بڑى خرابى اور تباہى واقع ہوجاتى ہے ليكن اصلاح اور تعمير ميں دير لگتى ہے _
خاص طور پر جب كسى نادان متعصب اورہٹ دھر م قوم كے درميان كوئي غلط سازبجاديا جائے تو اس كے بعد اس كے برے اثرات كا زائل كرنا بہت مشكل ہوتا ہے _
بے نظير غصہ
اس موقع پر حضرت موسى عليہ السلام كو غصہ كرنا چاہئے تھا اور ايك شديد ردّ عمل ظاہر كر ناچا ہئے تھا تاكہ بنى اسرائيل كے فاسد افكار كى بنياد گر اكر اس منحرف قوم ميں انقلاب برپا كرديں ،ورنہ تو اس قوم كو پلٹانا مشكل تھا_
____________________
(۱)سورہ اعراف آيت ۱۵۰
قرآن نے حضرت موسى عليہ السلام كا وہ شديد ردّ عمل بيان كيا ہے جو اس طوفانى و بحرانى منظركو ديكھنے كے بعد ان سے ظاہر ہوا ،موسى عليہ السلام نے بے اختيار نہ طور پر اپنے ہاتھ سے توريت كى الواح كو زمين پر ڈال ديا اور اپنے بھائي ہارون عليہ السلام كے پاس گئے اور ان كے سر اور داڑھى كے بالوں كو پكڑكر اپنى طرف كھينچا''(۱)
حضرت موسى عليہ السلام نے اس كے علاوہ ہارون عليہ السلام كو بڑى شدت سے سرزنش كى اور بآواز بلند چيخ كرپكارے:
كيا تم نے بنى اسرائيل كے عقائدكى حفاظت ميں كوتاہى كى اور ميرے فرمان كى مخالفت كى ؟''(۲)
درحقيقت حضرت موسى عليہ السلام كا يہ ردّ عمل ايك طرف تو ان كى اس واردات قلبي، بے قرارى اور شديد ناراضى كى حكايت كرتا ہے تاكہ بنى اسرائيل كى عقل ميں ايك حركت پيدا ہو اور وہ اپنے اس عمل كى قباحت كى طرف متوجہ ہوجائيں _
بنابريں اگرچہ بالفرض الواح توريت كا پھينك دينا قابل اعتراض معلوم ہوتا ہو، اور بھائي كى شديد سرنش نادرست ہو ليكن اگرحقيقت كى طرف توجہ كى جائے كہ اگر حضرت موسى عليہ السلام اس شديد اور پرہيجانى ردّ عمل كا اظہار نہ كرتے تو ہر گز بنى اسرائيل اپنى غلطى كى سنگينى اور اہميت كا اندازہ نہيں كرسكتے تھے ،ممكن تھا كہ اس بت پرستى كے آثاربدان كے ذہنوں ميں باقى رہ جاتے لہذا حضرت موسى عليہ السلام نے جو كچھ كيا وہ نہ صرف غلط نہ تھا بلكہ امر لازم تھا_
حضرت موسى عليہ السلام اس واقعہ سے اس قدر ناراض ہوئے كہ تاريخ بنى اسرائيل ميں كبھى اس قدر ناراض نہ ہوئے تھے كيونكہ ان كے سامنے بدترين منظر تھا يعنى بنى اسرائيل خدا پرستى كو چھوڑ كر گوسالہ پرستى اختيار كرچكے تھے جس كى وجہ سے حضرت موسى عليہ السلام كى وہ تمام زحمتيں جو انہوں نے بنى اسرائيل كى ہدايت كے لئے كى تھيں سب برباد ہورہى تھيں _
____________________
(۱)سورہ اعراف ۱۵۰
(۲)سورہ طہ آيت ۱۵۰
لہذا ايسے موقع پر الواح كا ہاتھوں سے گرجانا اور بھائي سے سخت مواخذہ كرنا ايك طبعى امر تھا_
اے ميرى ماں كے بيٹے ميں بے گناہ ہوں
اس شديد رد عمل اور غيظ وغضب كے اظہارنے بنى اسرائيل پر بہت زيادہ تربيتى اثر مرتب كيا اور منظر كو بالكل پلٹ ديا جبكہ اگر حضرت موسى عليہ السلام نرم زبان استعمال كرتے تو شايد اس كا تھوڑا سا اثر بھى مرتب نہ ہوتا _
اس كے بعد قرآن كہتا ہے : ہارون عليہ السلام نے موسى عليہ السلام كى محبت كو برانگيختہ كرنے كے لئے اور اپنى بے گناہى بيان كرنے كے لئے كہا:
''اے ميرے ماں جائے:اس نادان امت كے باعث ہم اس قدر قليل ہوگئے كہ نزديك تھا كہ مجھے قتل كرديں لہذا ميں بالكل بے گناہ ہوں لہذا آپ كوئي ايسا كام نہ كريں كہ دشمن ہنسى اڑائيں اور مجھے اس ستمگر امت كى صف ميں قرار نہ ديں ''_(۱)
قرآن ميں جو '' ابن ام'' كى تعبير آئي ہے جس كے معنى (اے ميرى ماں كے بيٹے،كے ہيں )حالانكہ موسى عليہ السلام اورہارون عليہ السلام دونوں ايك والدين كى اولاد تھے يہ اس لئے تھا كہ حضرت ہارون چاہتے تھے كہ حضرت موسى كا جذبہ محبت بيدار كريں بہر حال حضرت موسى عليہ السلام كى يہ تدبير كار آمد ہوئي اور بنى اسرائيل كو اپنى غلطى كا احساس ہوا اور انہوں نے توبہ كى خواہش كا اظہار كيا _''
اب حضرت موسى عليہ السلام كى آتش غضب كم ہوئي اور وہ درگاہ خداواندى كى طرف متوجہ ہوئے اور عرض كى :
''پروردگارا مجھے اور ميرے بھائي كو بخش دے اور ہميں اپنى رحمت بے پاياں ميں داخل كردے، تو تمام مہربانوں سے زيادہ مہربان ہے''_(۲)
____________________
(۱)سورہ اعراف آيت ۱۵۱
(۲)سورہ اعراف آيت ۱۵۰
اپنے لئے اور اپنے بھائي كے لئے بخشش طلب كرنا اس بناپر نہيں تھا كہ ان سے كوئي گناہ سرزد ہوا تھا بلكہ يہ پروردگار كى بارگاہ ميں ايك طرح كا خضوع وخشوع تھا اور اس كى طرف بازگشت تھى اور بت پرستوں كے اعمال زشت سے اظہار تنفر تھا _(۱)
____________________
(۱)قران اور موجود ہ توريت كا ايك موازنہ
جيسا كہ آيات سے معلوم ہوتا ہے كہ '' گوسالہ '' كو نہ تو بنى اسرائيل نے بنايا تھا نہ حضرت ہارون عليہ السلام نے ،بلكہ بنى اسرائيل ميں سے ايك شخص سامرى نے يہ حركت كى تھي، جس پر حضرت ہارون عليہ السلام جو حضرت موسى عليہ السلام كے بھائي اور ان كے معاون تھے خاموش نہ بيٹھے بلكہ انہوں نے اپنى پورى كوشش صرف كي، انہوں نے اتنى كوشش كى كہ نزديك تھا كہ لوگ انہيں قتل كرديتے _ ليكن عجيب بات يہ ہے كہ موجودہ توريت ميں گوسالہ سازى اور بت پرستى كى طرف دعوت كو حضرت ہارون عليہ السلام كى طرف نسبت دى گئي ہے، چنانچہ توريت كے سفر خروج كى فصل ۳۲ ميں يہ عبارت ملتى ہے: جس وقت قوم موسى نے ديكھا كہ موسى كے پہاڑسے نيچے اترنے ميں دير ہوئي تو وہ ہارون كے پاس اكٹھا ہوئے اور ان سے كہا اٹھو اور ہمارے لئے ايسا خدا بنائو جوہمارے آگے آگے چلے كيونكہ يہ شخص موسى جو ہم كو مصر سے نكال كريہاں لايا ہے نہيں معلوم اس پر كيا گذري، ہارون نے ان سے كہا: طلائي بندے (گوشوارے) جو تمہارى عورتوں اور بچوں كے كانوں ميں ہيں انہيں ان كے كانوں سے اتار كر ميرے پاس لاو ،پس پورى قوم ان گوشواروں كو كانوں سے جدا كر كے ہارون كے پاس لائي، ہارون نے ان گوشواروں كو ان لوگوں كے ہاتھوں سے ليا اور كندہ كرنے كے ايك آلہ كے ذريعے تصوير بنائي اور اس سے ايك گوسالہ كا مجسمہ ڈھالااور كہا كہ اے بنى اسرائيل يہ تمہارا خدا ہے جو تمہيں سرزمين مصر سے باہر لايا ہے '' اسى كے ذيل ميں ان مراسم كوبيان كيا گيا ہے جوحضرت ہارون نے اس بت كے سامنے قربانى كرنے كے بارے ميں بيان كئے تھے _
جو كچھ سطور بالا ميں بيان ہوا يہ بنى اسرائيل كى گوسالہ پرستى كى داستان كا ايك حصہ ہے جو توريت ميں مذكورہے اس كى عبارت بعينہ نقل كى گئي ہے حالانكہ خود توريت نے حضرت ہارون كے مقام بلندكومتعدد فصول ميں بيان كيا ہے ان ميں سے ايك يہ ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كے معجزات حضرت ہارون عليہ السلام كے ذريعے ظاہر ہوئے تھے (فصل ۸ از سفر خروج توريت ) اور ہارون عليہ السلام كا حضرت مو سى عليہ السلام كے ايك رسول كى حيثيت سے تعارف كروايا گيا ہے_ (فصل ۸ از سفر خروج) بہركيف حضرت ہارون عليہ السلام جو حضرت موسى عليہ السلام كے جانشين برحق تھے اور ان كى شريعت كے سب سے بڑے عالم وعارف تھے توريت ان كے لئے مقام بلند كى قائل ہے اب ذراان خرافات كو بھى ديكھ ليجئے كہ انہيں ايك بت سازہى نہيں بلكہ ايك مئوسس بت پرستى كى حيثيت سے روشناس كرايا ہے بلكہ ''عذر گناہ بد تراز گناہ'' كے مقولہ كے مطابق ان كى جانب سے ايك غلط عذر پيش كيا كيونكہ جب حضرت موسى عليہ السلام نے ان پر اعتراض كيا تو انہوں نے يہ عذر پيش كيا كہ چونكہ يہ قوم بدى كى طرف مائل تھى اس لئے ميں نے بھى اسے اس راہ پرلگاديا جبكہ قرآن ان دونوں بلند پايہ پيغمبروں كو ہر قسم كے شرك اور بت پرستى سے پاك وصاف سمجھتا ہے _ صرف يہى ايك مقام نہيں جہاں قرآن تاريخ انبياء ومرسلين كى پاكى وتقدس كا مظہرہے جبكہ موجودہ توريت كى تاريخ انبياء ومرسلين كى ساحت قدس كے متعلق انواع واقسام كى خرافات سے بھرى ہوئي ہے ہمارے عقيدہ كے مطابق حقانيت واصالت قرآن اور موجودہ توريت وانجيل كى تحريف كو پہچاننے كا ايك طريقہ يہ بھى ہے كہ ان دونوں ميں انبياء كى جو تاريخ بيان كى گئي ہے اس كا موازنہ كرليا جائے اس سے اپنے آپ پتہ چل جائيگا كہ حق كيا ہے اور باطل كيا ہے ؟
طلائي گوسالہ سے كس طرح آواز پيدا ہوئي؟
سامرى جو كہ ايك صاحب فن انسان تھا اس نے اپنى معلومات سے كام لے كر طلائي گوسالہ كے سينے ميں كچھ مخصوص نل ( PIPE ) اس طرح مخفى كرديئے جن كے اندر سے دبائو كى وجہ سے جب ہوا نكلتى تھى تو گائے كى آواز آتى تھى _
كچھ كاخيال ہے كہ گوسالہ كا منہ اس طرح كا پيچيدہ بنايا گيا تھا كہ جب اسے ہوا كے رخ پرركھا جاتاہے تھا تو اس كے منہ سے يہ آوازنكلتى تھي_
قرآن ميں پڑھتے ہيں كہ جناب موسى نے سامرى سے بازپرس شروع كى اور كہا :''يہ كيا كام تھا كہ جوتونے انجام ديا ہے اور اے سامرى : تجھے كس چيزنے اس بات پر آمادہ كيا_
اس نے جواب ميں كہا :''ميں كچھ ايسے مطالب سے آگاہ ہوا كہ جو انہوں نے نہيں ديكھے اور وہ اس سے آگاہ نہيں ہوئے ''_
ميں نے ايك چيزخدا كے بھيجے ہوئے رسول كے آثار ميں سے لى اور پھر ميں نے اسے دور پھينك ديا اور ميرے نفس نے اس بات كو اسى طرح مجھے خوش نما كركے دكھايا''(۱)
اس بارے ميں كہ اس گفتگو سے سامرى كى كيا مراد تھي، مفسرين كے درميان دوتفسيريں مشہور ہيں : پہلى يہ كہ اس كا مقصد يہ تھا كہ فرعون كے لشكر كے دريائے نيل كے پاس آنے كے موقع پر ميں نے جبرئيل كو ايك سوارى پر سوار ديكھا كہ وہ لشكر كو دريا كے خشك شدہ راستوں پر ورود كےلئے تشويق دينے كى خاطران كے آگے آگے چل رہاتھا ميں نے كچھ مٹى ان كے پائوں كے نيچے سے ياان كى سوارى كے پائوں كے نيچے سے اٹھالى اور اسے سنبھال كر ركھا اور اسے سونے كے بچھڑے كے اندارڈالا اور يہ صدا اسى كى بركت سے پيدا ہوئي ہے _
دوسرى تفسير يہ ہے كہ ميں ابتداء ميں ميں خدا كے اس رسول (موسى )كے كچھ آثار پر ايمان لے آيا اس كے بعد مجھے اس ميں كچھ شك اور تردد ہوا لہذا ميں نے اسے دور پھينك ديا اور بت پرستى كے دين كى طرف مائل ہوگيا اور يہ ميرى نظر ميں زيادہ پسنديدہ اورزيبا ہے _
سامرى كى سزا
يہ بات صاف طور پر واضح اور روشن ہے كہ موسى كے سوال كے جواب ميں سامرى كى بات كسى طرح بھى قابل قبول نہيں تھي،لہذا حضرت موسى عليہ السلام نے اس كے مجرم ہونے كا فرمان اسى عدالت ميں صادر كر ديا اور اسے اس گوسالہ پرستى كے بارے ميں تين حكم ديئے_
پہلا حكم يہ كہ اس سے كہا'' تو لوگوں كے درميان سے نكل جا اور كسى كے ساتھ ميل ملاپ نہ كر اور تيرى باقى زندگى ميں تيرا حصہ صرف اتنا ہے كہ جو شخص بھى تيرے قريب آئے گا تو اس سے كہے گا '' مجھ سے مس نہ ہو'' _(۲)
____________________
(۱)سورہ طہ آيت۹۶
(۲)سورہ طہ آيت۹۷
اس طرح ايك قاطع اور دوٹوك فرمان كے ذريعے سامرى كو معاشرے سے باہر نكال پھينكا اور اسے مطلق گوشہ نشينى ميں ڈال ديا _
بعض مفسرين نے كہا ہے كہ '' مجھ سے مس نہ ہو'' كا جملہ شريعت موسى عليہ السلام كے ايك فوجدارى قانون كى طرف اشارہ ہے كہ جو بعض ايسے افراد كے بارے ميں كہ جو سنگين جرم كے مرتكب ہوتے تھے صادر ہوتا تھا وہ شخص ايك ايسے موجود كى حيثيت سے كہ جو پليد ونجس وناپاك ہو، قرار پاجاتا تھا كوئي اس سے ميل ملاپ نہ كرے اور نہ اسے يہ حق ہوتا تھا وہ كسى سے ميل ملاپ ركھے _
سامرى اس واقعے كے بعد مجبور ہوگيا كہ وہ بنى اسرائيل اور ان كے شہر وديار سے باہر نكل جائے اور بيابانوں ميں جارہے اور يہ اس جاہ طلب انسان كى سزا ہے كہ جو اپنى بدعتوں كے ذريعے چاہتا تھا كہ بڑے بڑے گروہوں كو منحرف كركے اپنے گرد جمع كرے، اسے نا كام ہى ہونا چاہئے يہاں تك كہ ايك بھى شخص اس سے ميل ملاپ نہ ركھے اور اس قسم كے انسان كےلئے يہ مكمل بائيكاٹ موت اور قتل ہونے سے بھى زيادہ سخت ہے كيونكہ وہ ايك پليد اور آلودہ وجود كى صورت ميں ہر جگہ سے راندہ اور دھتكارا ہوا ہوتا ہے _
بعض مفسرين نے يہ بھى كہا ہے كہ سامرى كا بڑا جرم ثابت ہوجانے كے بعد حضرت موسى نے اس كے بارے ميں نفرين كى اور خدا نے اسے ايك پر اسرار بيمارى ميں مبتلا كرديا كہ جب تك وہ زندہ رہا كوئي شخص اسے چھو نہيں سكتا تھا اور اگر كوئي اسے چھوليتا تو وہ بھى بيمارى ميں گرفتار ہوجاتا _يايہ كہ سامرى ايك قسم كى نفسياتى بيمارى ميں جو ہر شخص سے وسواس شديد اور وحشت كى صورت ميں تھى ;گرفتار ہوگيا، اس طرح سے كہ جو شخص بھى اس كے نزديك ہوتا وہ چلاتا كہ'' مجھے مت چھونا''_سامرى كے لئے دوسرى سزا يہ تھى كہ حضرت موسى عليہ السلام نے اسے قيامت ميں ہونے والے عذاب كى بھى خبردى اور كہا تيرے آگے ايك وعدہ گاہ ہے، خدائي دردناك عذاب كا وعدہ كہ جس سے ہرگز نہيں بچ سكے گا ''(۱)
____________________
(۱)سورہ طہ ايت ۹۷
تيسرا كام يہ تھا كہ جو موسى عليہ السلام نے سامرى سے كہا: '' اپنے اس معبود كو كہ جس كى تو ہميشہ عبادت كرتا تھا ذرا ديكھ اور نگاہ كر ہم اس كو جلا رہے ہيں اور پھر اس كے ذرات كو دريا ميں بكھيرديں گے ''(تاكہ ہميشہ كے لئے نابود ہوجائے)(۱)(۲)
گناہ عظيم اور كم نظير توبہ
حضرت موسى عليہ السلام كے اس شديد رد عمل نے اپنا اثر دكھايا او جن لوگوں نے گوسالہ پر ستى اختيار كى تھى اور ان كى تعداد اكثريت ميں تھى وہ اپنے كام سے پشيمان ہوئے ان كى شايد مذكورہ پشيمانى كافى تھي، قرآن نے يہ اضافہ كيا ہے :باقى رہتا ہے يہ سوال كہ اس '' غضب '' اور ذلت '' سے كيا مراد ہے؟ قرآن نے اس امر كى كوئي توضيح نہيں كى ہے صرف سربستہ كہہ كر بات آگے بڑھادى ہے_
____________________
(۱)سورہ طہ آيت۹۷
(۲)سامرى كون ہے ؟اصل لفظ '' سامري'' عبرانى زبان ميں '' شمرى '' ہے اور چونكہ يہ معمول ہے كہ جب عبرانى زبان كے الفاظ عربى زبان ميں آتے ہيں تو '' شين'' كا لفظ ''سين'' سے بدل جاتا ہے ، جيسا كہ '' موشى '' ''موسي'' سے اور '' يشوع'' '' يسوع'' سے تبديل ہوجاتاہے اس بناء پر سامرى بھى '' شمرون '' كى طرف منسوب تھا' اور'' شمرون'' '' يشاكر'' كا بيٹا تھا، جو يعقوب كى چوتھى نسل ہے _اسى سے يہ بات بھى واضح ہوجاتى ہے كہ بعض عيسائيوں كا قرآن پر يہ اعتراض بالكل بے بنيادہے كہ قرآن نے ايك ايسے شخص كو كہ جو موسى عليہ السلام كے زمانے ميں رہتا تھا اور وہ گوسالہ پرستى كا سر پرست بنا تھا ،شہر سامرہ سے منسوب ''سامري''كے طورپر متعارف كرايا ہے، جب كہ شہر سامرہ اس زمانے ميں بالكل موجود ہى نہيں تھا ،كيونكہ جيسا كہ ہم بيان كرچكے ہيں كہ ''سامرى '' شمرون كى طرف منسوب ہے نہ كر سامرہ شہر كى طرف _
بہرحال سامرى ايك خود خواہ اور منحرف شخص ہونے كے باوجود بڑا ہوشيار تھا وہ بڑى جرا ت اور مہارت كے ساتھ بنى اسرائيل كے ضعف كے نكات اور كمزورى كے پہلوئوں سے استفادہ كرتے ہوئے اس قسم كا عظيم فتنہ كھڑا كرنے پرقادر ہوگيا كہ جو ايك قطعى اكثريت كے بت پرستى كى طرف مائل ہونے كا سبب بنے اور جيسا كہ ہم نے ديكھا ہے كہ اس نے اپنى اس خود خواہى اور فتنہ انگيزى كى سزا بھى اسى دنيا ميں ديكھ لى _''
(۳)سورہ اعراف ايت ۱۵۲
ليكن ممكن ہے اس سے ان بد بختيوں اور پريشانيوں كى جانب اشارہ مقصود ہوجو اس ماجرے كے بعد اور بيت المقدس ميں ان كى حكومت سے پہلے انہيں پيش آئيں _
يا اس سے مراد اللہ كا وہ حكم ہو جو اس گناہ كے بعد انہيں ديا گيا كہ وہ بطور پاداش ايك دوسرے كو قتل كريں _
قرآن اس كے بعد اس گناہ سے توبہ كے سلسلے ميں كہتا ہے:''اور ياد كرو اس وقت كو جب موسى نے اپنى قوم سے كہا :اے قوم تم نے بچھڑے كو منتخب كر كے اپنے اوپر ظلم كيا ہے ،اب جو ايسا ہوگيا ہے تو توبہ كرو اور اپنے پيدا كرنے والے كى طرف پلٹ آئو''_
''تمہارى توبہ اس طرح ہونى چاہيئے كہ تم ايك دوسرے كو قتل كرو_يہ كام تمہارے لئے تمہارے خالق كى بارگاہ ميں بہتر ہے_اس ماجرے كے بعد خدا نے تمہارى توبہ قبول كرلى جو تواب و ررحيم ہے''_(۱)
اس ميں شك نہيں كہ سامرى كے بچھڑے كى پرستش و عبادت كوئي معمولى بات نہ تھى وہ قوم جو خدا كى يہ تمام آيات ديكھ چكى تھى اور اپنے عظيم پيغمبر كے معجزات كا مشاہدہ كرچكى تھى ان سب كو بھول كر پيغمبر كى ايك مختصر سى غيبت ميں اصل توحيد اور آئين خداوندى كو پورے طور پر پائوں تلے رونددے اور بت پرست ہوجائے_
اب اگر يہ بات ان كے دماغ سے ہميشہ كے لئے جڑ سے نہ نكالى جاتى تو خطرناك حالت پيدا ہونے كا انديشہ تھا اور ہر موقعے كے بعدا ور خصوصاًحضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے بعد ممكن تھا ان كى دعوت كى تمام آيات ختم كردى جاتيں اور اس عظيم قوم كى تقدير مكمل طور پر خطرے سے دوچار ہوجاتي_
اكٹھا قتل
يہاں شدت عمل سے كام ليا گيا اور صرف پشيمانى اور زبان سے اظہار توبہ پر ہرگز قناعت نہ كى گئي_يہى وجہ ہے كہ خدا كى طرف سے ايسا سخت حكم صادر ہوا جس كى مثال تمام انبياء كى طويل تاريخ ميں كہيں
____________________
(۱)سورہ بقرہ آيت۵۴
نہيں ملتى اور وہ يہ كہ توبہ اور توحيد كى طرف باز گشت كے سلسلے ميں گناہگاروں كے كثير گروہ كے لئے اكٹھا قتل كرنے كا حكم ديا گيا_يہ فرمان بھى ايك خاص طريقے سے جارى ہونا چاہيئےھا اور وہ يہ ہوا كہ وہ لوگ خود تلواريں ہاتھ ميں لے كر ايك دوسرے كو قتل كريں كہ ايك اس كا اپنا مارا جانا عذاب ہے اور دوسرا دوستوں اور شناسائوں كا قتل كرنا_
بعض روايات كے مطابق حضرت موسى عليہ السلام نے حكم ديا كہ ايك تاريك رات ميں وہ تمام لوگ جنہوں نے بچھڑے كى عبادت كى تھى غسل كريں كفن پہن ليں اور صفيں باندھ كر ايك دوسرے پرتلوار چلائيں _
ممكن ہے يہ تصور كيا جائے كہ يہ توبہ كيوں اتنى سختى سے انجام پذير ہوئي كيا يہ ممكن نہ تھاكہ خدا ان كى توبہ كو بغير اس خونريزى كے قبول كرليتا_
اس سوال كا جواب گذشتہ گفتگو سے واضح ہوجاتا ہے كيونكہ اصل توحيد سے انحراف اوربت پرستى كى طرف جھكائو كا مسئلہ اتنا سادہ اور آسان نہ تھا كہ اتنى آسانى سے درگذر كرديا جاتا اور وہ بھى ان واضح معجزات اور خدا كى بڑى بڑى نعمتوں كے مشاہدے كے بعد _ در حقيقت اديان آسمانى كے تمام اصولوں كو توحيد اور يگانہ پرستى ميں جمع كيا جاسكتا ہے_اس اصل كا متزلزل ہونا دين كى تمام بنيادوں كے خاتمے كے برابر ہے اگر گائو پرستى كے مسئلے كو آسان سمجھ ليا جاتا تو شايد آنے والے لوگوں كے لئے سنت بن جاتا_
خصوصاً بنى اسرائيل كے لئے جن كے بارے ميں تاريخ شاہد ہے كہ ضدى اور بہانہ باز لوگ تھے_ لہذا چاہئے تھا كہ ان كى ايسى گوشمالى كى جائے كہ اس كى چبھن تمام صديوں اور زمانوں تك باقى رہ جائے اور اس كے بعد كوئي شخص بت پرستى كى فكر ميں نہ پڑے_
خداكى آيات كو مضبوطى سے پكڑ لو
عظيم اسلامى مفسر مرحوم طبرسي،ابن زيد كا قول اس طرح نقل كرتے ہيں :جس وقت حضرت موسى عليہ السلام كوہ طور سے واپس آئے اور اپنے ساتھ توريت لائے تو اپنى قوم كو بتايا كہ ميں آسمانى كتاب لے كر آيا ہوں جو دينى احكام اور حلال و حرام پر مشتمل ہے_ يہ وہ احكام ہيں جنہيں خدا نے تمہارے لئے عملى پروگرام
قرار ديا ہے_اسے لے كر اس كے احكام پر عمل كرو_ اس بہانے سے كہ يہ ان كے لے مشكل احكام ہيں ،يہودى نافرمانى اور سركشى پر تل گئے_ خدا نے بھى فرشتوں كو مامور كيا كہ وہ كوہ طور كا ايك بہت بڑا ٹكڑا ان كے سروں پر لاكر كھڑا كرديں ،اسى اثناء ميں حضرت موسى عليہ السلام نے انہيں خبردى كہ عہد وپيمان باندھ لو،احكام خداپر عمل كرو،سركشى و بغاوت سے توبہ كرو تو تم سے يہ عذاب ٹل جائے گا ورنہ سب ہلاك ہو جائوگے_
اس پر انہوں نے سر تسليم خم كرديا_ توريت كو قبول كيا اور خدا كے حضور ميں سجدہ كيا_جب كہ ہر لحظہ وہ كوہ طور كے اپنے سروں پر گرنے كے منتظر تھے ليكن بالآخر ان كى توبہ كى وجہ سے عذاب الہى ٹل گيا_
يہ نكتہ ياد ركھناضرورى ہے كہ كوہ طور كے بنى اسرائيل كے سروں پر مسلط ہونے كى كيفيت كے سلسلے ميں مفسرين كى ايك جماعت كا اعتقاد ہے كہ حكم خدا سے كوہ طور اپنى جگہ سے اكھڑ گيا اور سائبان كى طرح ان كے سروں پر مسلط ہوگيا_
جبكہ بعض دوسرے مفسرين يہ كہتے ہيں كہ پہاڑميں سخت قسم كا زلزلہ آيا ،پہار اس طرح لرزنے اور حركت كرنے لگا كہ كسى بھى وقت وہ ان كے سروں پر آگرے گا ليكن خدا كے لطف و كرم سے زلزلہ رك گيا اور پہاڑ اپنى جگہ پر قائم ہوگيا_
يہ احتمال بھى ہو سكتا ہے كہ پہاڑ كا ايك بہت بڑا ٹكڑا زلزلے اور شديد بجلى كے زير اثر اپنى جگہ سے اكھڑ كر ان كے سروں كے اوپر سے بحكم خدا اس طرح گزرا ہو كہ چند لحظے انہوں نے اسے اپنے سروں پر ديكھا ہو اور يہ خيال كيا ہو كہ وہ ان پر گرناچاہتا ہے ليكن يہ عذاب ان سے ٹل گيا اور وہ ٹكڑا كہيں دور جاگرا_(۱)
____________________
(۱)كيا اس عہد وپيمان ميں جبر كا پہلو ہے:اس سوال كے جواب ميں بعض كہتے ہيں كہ ان كے سروں پر پہاڑ كا مسلط ہونا ڈرانے دھمكانے كے طور پر تھا نہ كہ جبر و اضطرار كے طور پر ورنہ جبرى عہد و پيمان كى تو كوئي قدرو قيمت نہيں ہے_ليكن زيادہ صحيح يہى ہے كہ اس ميں كوئي حرج نہيں كہ سركش او رباغى افراد كو تہديد و سزا كے ذريعے حق كے سامنے جھكاديا جائے_يہ تہديد اور سختى جو وقتى طور پر ہے ان كے غرور كو توڑدے گي_ انہيں صحيح غور و فكر پر ابھارے گى اور اس راستے پر چلتے چلتے وہ اپنے ارادہ و اختيار سے اپنى ذمہ دارياں پورى كرنے لگيں گے_بہر حال يہ پيمان زيادہ تر عملى پہلوئوں سے مربوط تھا ورنہ عقائد كو تو جبرو اكراہ سے نہيں بدلا جاسكتا_
ايئے _واقعہ كى تفصيل قرآن ميں پڑھتے ہيں كہ:''اور (وہ وقت كہ)جب ہم نے تم سے عہد ليا اور كوہ طور كو تمہارے سروں كے اوپر مسلط كرديا اور تمہيں كہا كہ،جو كچھ (آيات و احكام ميں )ہم نے تمہيں ديا ہے اسے مضبوطى سے تھامو اور جو كچھ اس ميں ہے اسے ياد ركھو (اور اس پر عمل كرو)شايد اس طرح تم پرہيزگار ہوجائو''_(۱)
اس كے بعد پھر تم نے روگردانى كى اور اگر تم پر خدا كا فضل و رحمت نہ ہوتا تو تم نقصان اٹھانے والوں ميں سے ہوتے''_(۲)
اس عہد و پيمان ميں يہ چيزيں شامل تھيں :
پروردگار كى توحيد پر ايمان ركھنا،ماں باپ، عزيز و اقارب،يتيم اور حاجتمندو ں سے نيكى كرنا اور خونريزى سے پرہيز كرنا_ يہ كلى طور پر ان صحيح عقائد اور خدائي پروگراموں كے بارے ميں عہد و پيمان تھا جن كا توريت ميں ذكر كيا گيا تھا_
كوہ طور
كوہ طورسے مراد يہاں اسم جنس ہے يا يہ مخصوص پہاڑ ہے_اس سلسلے ميں دو تفسيريں موجودہيں _بعض كہتے ہيں كہ طور اسى مشہور پہاڑ كى طرف اشارہ ہے جہاں حضرت موسى عليہ السلام پر وحى نازل ہوئي_
ليكن بعض كے نزديك يہ احتمال بھى ہے كہ طور لغوى معنى كے لحاظ سے مطلق پہاڑ ہے_ يہ وہى چيز ہے جسے سورہ اعراف كى آيہ۱۷۱ ميں ''جبل''سے تعبير كيا گيا ہے:
توريت كيا ہے
توريت عبرانى زبان كا لفظ ہے، اس كا معنى ہے''شريعت''اور''قانون''_يہ لفظ خداكى طرف سے
____________________
(۱)سورہ بقر آيت ۶۳
(۲)سورہ بقرہ آيت ۶۴
حضرت موسى عليہ السلام بن عمران پر نازل ہونے والى كتاب كے لئے بولا جاتا ہے_نيز بعض اوقات عہد عتيق كى كتب كے مجموعے كے لئے اور كبھى كبھى توريت كے پانچوں اسفار كے لئے بھى استعمال ہوتا ہے_
اس كى وضاحت يہ ہے كہ يہوديوں كى كتب كے مجموعے كو عہد عتيق كہتے ہيں _اس ميں توريت اور چندديگر كتب شامل ہيں _
توريت كے پانچ حصے ہيں :
جنہيں سفر پيدائش ،سفر خروج،سفر لاويان،سفر اعداد اور سفر تثنيہ كہتے ہيں _ اس كے موضوعات يہ ہيں :
۱)كائنات،انسان اور ديگر مخلوقات كى خلقت_
۲)حضرت موسى (ع) بن عمران،گذشتہ انبياء اور بنى اسرائيل كے حالات وغيرہ_
۳)اس دين كے احكام كى تشريح_
عہد عتيق كى ديگر كتابيں در اصل حضرت موسى عليہ السلام كے بعد كے مو رخين كى تحرير كردہ ہيں _ ان ميں حضرت موسى (ع) بن عمران كے بعد كے نبيوں ،حكمرانوں اور قوموں كے حالات بيان كئے گئے ہيں _
يہ بات بغير كہے واضح ہے كہ توريت كے پانچوں اسفار سے اگرصرف نظر كرليا جائے تو ديگر كتب ميں سے كوئي كتاب بھى آسمانى كتاب نہيں ہے_ خود يہودى بھى اس كا دعوى نہيں كرتے_يہاں تك كہ حضرت داو د(ع) سے منسوب زبور جسے وہ ''مزامير'' كہتے ہيں ،حضرت داو د(ع) كے مناجات اور پندو نصائح كى تشريح ہے_
رہى بات توريت كے پانچوں سفروں كى تو ان ميں ايسے واضح قرائن موجود ہيں جو اس بات كى نشاندہى كرتے ہيں كہ وہ بھى آسمانى كتابيں نہيں ہيں بلكہ وہ تاريخى كتاب ہيں جو حضرت موسى عليہ السلام كے بعد لكھى گئي ہيں كيونكہ ان ميں حضرت موسى عليہ السلام كى وفات،ان كے دفن كى كيفيت اور ان كى وفات كے بعد كے كچھ حالات مذكور ہيں _
خصوصاً سفر تثنيہ كے آخرى حصے ميں يہ بات وضاحت سے ثابت ہوتى ہے كہ يہ كتاب حضرت موسى
بن عمران عليہ السلام كى وفات سے كافى مدت بعد لكھى گئي ہے_
علاوہ ازيں ان كتب ميں بہت سى خرافات اور ناروا باتيں انبياء و مرسلين سے منسوب كردى گئي ہيں _بعض بچگانہ باتيں بھى ہيں جو ان كے خود ساختہ اور جعلى ہونے پر گواہ ہيں نيز بعض تاريخى شواہد بھى نشاندہى كرتے ہيں كہ اصلى توريت غائب ہوگئي اور پھر حضرت موسى (ع) بن عمران عليہ السلام كے پيروكاروں نے يہ كتابيں تحرير كيں _
۵ انبياء عليهم السلام کے واقعات
حضرت خضر عليہ السلام
ابى بن كعب نے ابن عباس كى وساطت سے پيغمبر اكرم(ص) كى ايك حديث اس طرح نقل كى ہے:
''ايك دن موسى عليہ السلام بنى اسرائيل سے خطاب كررہے تھے_ كسى نے آپ(ع) سے پوچھا روئے زمين پر سب سے زيادہ علم كون ركھتا ہے_تو موسى عليہ السلام نے كہا مجھے اپنے آپ سے بڑھ كر كسى كے عالم ہونے كا علم نہيں _ اس وقت موسى عليہ السلام كو وحى ہوئي كہ ہمارا ايك بندہ مجمع البحرين ميں ہے كہ جو تجھ سے زيادہ عالم ہے_ اس قت موسى عليہ السلام نے درخواست كى كہ ميں اس عالم كى زيارت كرنا چاہتا ہوں _اس پر اللہ نے انہيں ان سے ملاقات كى راہ بتائي''_
يہ درحقيقت حضرت موسى عليہ السلام كو تنبيہ تھى كہ اپنے تمام تر علم و فضل كے باوجود اپنے آپ كو افضل ترين نہ سمجھيں _(۱)
____________________
(۱)ليكن يہاں يہ سوال سامنے آتا ہے كہ كيا ايك اولوالعزم صاحب رسالت و شريعت شخص كو اپنے زمانے كا سب سے بڑا عالم نہيں ہونا چاہئے؟ اس سوال كے جواب ميں ہم كہيں گے كہ اپنى ماموريت كى قلمرو ميں نظام تشريع ميں اسے سب سے بڑاعالم ہونا چاہيئےور حضرت موسى عليہ السلام اسى طرح تھے ليكن ان كى ماموريت كى قلمرو ان كے عالم دوست كى قلمرو سے الگ تھي_ ان كے عالم دوست كى ماموريت كا تعلق عالم بشريت سے نہ تھا_ دوسرے لفظوں ميں وہ عالم ايسے اسرار سے آگاہ تھے كہ جو دعوت نبوت كى بنياد نہ تھے. -->
حضرت موسى عليہ السلام اور خضر عليہ السلام كہ جو اس زمانے كے بڑے عالم تھے ان كا واقعہ بھى عجيب ہے_يہ واقعہ نشاندہى كرتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام جيسے اولو العزم پيغمبر كہ جو اپنے ماحول كے آگاہ ترين اور عالم ترين فرد تھے،بعض پہلوئوں سے ان كا علم بھى محدود تھا لہذا وہ استاد كى تلاش ميں نكلے تاكہ اس سے درس ليں ،استاد نے بھى ايسے درس ديئے كہ جن ميں سے ہر ايك دوسرے سے عجيب تر ہے_ اس داستان ميں بہت سے اہم نكات پوشيد ہ ہيں _
حضرت موسى ، جناب خضر كى تلاش ميں
حضرت موسى عليہ السلام كو كسى نہايت اہم چيزى كى تلاش تھي_وہ اس كى جستجو ميں دربدر پھر رہے تھے_وہ عزم بالجزم اور پختہ ارادے سے اسے ڈھونڈ رہے تھے_وہ ارادہ كئے ہوئے تھے كہ جب تك اپنا مقصود نہ پاليں چين سے نہيں بيٹھيں گے_
حضرت موسى عليہ السلام جس كى تلاش پر مامور تھے اس كا آپ(ع) كى زندگى پر بہت گہرا اثر ہوا اور اس نے آپ(ع) كى زندگى كا نيا باب كھول ديا_جى ہاں وہ ايك مرد عالم و دانشمند كى جستجو ميں تھے_ايسا عالم كہ جو حضرت موسى عليہ السلام كى آنكھوں كے سامنے سے بھى حجاب ہٹا سكتا تھا اور انہيں نئے حقائق سے روشناس كرواسكتا تھا اور ان كے لئے علوم و دانش كے تازہ باب كھول سكتا تھا_
اتفاقاً ايك حديث كہ جو امام صادق عليہ السلام سے منقول ہے اسميں صراحت كے ساتھ بتايا گيا ہے كہ حضرت موسى (ع) حضرت خضر(ع) سے زيادہ عالم تھے يعنى علم شريعت ميں _
شايد اس سوال كا جواب نہ پانے كى وجہ سے اور نسيان سے مربوط سوال كا جواب نہ پانے كے سبب بعض نے ان آيات ميں جن موسى عليہ السلام كا ذكر ہے اسے موسى بن عمران تسليم كرنے سے انكار كرديا ہے_
ايك حديث كہ جو حضرت على بن موسى رضا عليہ السلام سے نقل ہوئي ہے اس سے بھى يہ نكتہ معلوم ہوتا ہے كہ ان دونوں بزرگوں كا دائرہ كار اور قلمرو ايك دوسرے سے مختلف تھى اور ہر ايك دوسرے سے اپنے كام ميں زيادہ عالم تھا_
ہم اس سلسلے ميں جلد پڑھيں گے كہ اس عالم بزرگ كى جگہ معلوم كرنے كے لئے حضرت موسى عليہ السلام كے پاس ايك نشانى تھى اور وہ اس نشانى كے مطابق ہى چل رہے تھے_
قرآن كہتا ہے :وہ وقت ياد كرو جب موسى نے اپنے دوست اور ساتھى جوان سے كہاكہ ميں تو كوشش جارى ركھوں گا جب تك''مجمع البحرين''تك نہ پہنچ جائوں ،اگر چہ مجھے يہ سفر لمبى مدت تك جارى ركھنا پڑے''_(۱)
مجمع البحرين كا مطلب ہے دو دريائوں كا سنگم_اس سلسلے ميں مفسرين ميں اختلاف ہے كہ ''بحرين''سے يہاں كون سے دو دريا ہيں _اس سلسلے ميں تين مشہور نظريئےيں :
۱_خليج عقبہ اور خليج سويز كے ملنے كى جگہ_ہم جانتے ہيں كہ بحيرہ احمر دو حصوں ميں تقسيم ہوجاتا ہے_ايك حصہ شمال مشرق كى طرف بڑھتا رہتا ہے اور دوسرا شمال مغرب كى طرف پہلے حصے كو خليج عقبہ كہتے ہيں اور دوسرے كو خليج سويز اور يہ دونوں خليجيں جنوب ميں پہنچ كر آپس ميں مل جاتى ہيں اور پھر بحيرہ احمر اپنا سفر جارى ركھتا ہے_
۲_اس سے بحر ہند اور بحيرہ احمر كے ملنے كى طرف اشارہ ہے كہ جو باب المندب پر جاملتے ہيں _
۳_يہ بحيرہ روم اور بحر اطلس كے سنگم كى طرف اشارہ ہے كہ جو شہر طنجہ كے پاس جبل الطارق كا تنگ دہانہ ہے_
تيسرى تفسير تو بہت ہى بعيد نظر آتى ہے كيونكہ حضرت موسى عليہ السلام جہاں رہتے تھے وہاں سے جبل الطارق كا فاصلہ اتنا زيادہ ہے كہ اس زمانے ميں حضرت موسى عليہ السلام اگر عام راستے سے وہاں جاتے تو كئي ماہ لگ جاتے_
دوسرى تفسير ميں جس مقام كى نشاندہى كى گئي ہے اس كا فاصلہ اگر چہ نسبتاًكم بنتا ہے ليكن اپنى حد تك وہ
____________________
(۱)سورہ كہف آيت ۶۰
بھى زيادہ ہے كيونكہ شام سے جنوبى يمن ميں فاصلہ بھى بہت زيادہ ہے_
پہلا احتمال زيادہ صحيح معلوم ہوتاہے كيونكہ حضرت موسى عليہ السلام جہاں رہتے تھے وہاں سے يعنى شام سے خليج عقبہ تك كوئي زيادہ فاصلہ نہيں ہے_ويسے بھى قرآنى آيات سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام نے كوئي زيادہ سفر طے نہيں كيا تھا اگر چہ مقصد تك پہنچنے كے لئے بہت زيادہ سفركے لئے بھى تيار تھے_
عرصہ دراز تك جناب خضر عليہ السلام كى تلاش
بعض لوگوں نے جناب موسى عليہ السلام كے اس قول كے ،كہ انھوں نے كہا:''ميں اس وقت تك كوشش كروں گا بج تك اپنا مقصد حاصل نہ كرلوں ''كے بارے ميں كہا ہے :كہ لفظ''حقب'' ، ''عرصہ دراز''كے معنى ميں ہے_ بعض نے اس كى ۸۰ /سال سے تفسير كى ہے_ اس لفظ سے حضرت موسى عليہ السلام كا مقصد يہ تھا كہ مجھے جس كى تلاش ہے ميں اسے ڈھونڈھ كے رہوں گا چاہے اس مقصد كے لئے مجھے سالہا سال تك سفر جارى ركھنا پڑے_
''بہر حال جس وقت وہ ان دو دريائوں كے سنگم پر جاپہنچے تو ايك مچھلى كہ جو ان كے پاس تھى اسے بھول گئے''_(۱)
ليكن تعجب كى بات يہ ہے كہ'' مچھلى نے دريا ميں اپنى راہ لى اور چلتى بني''_(۲)
يہ مچھلى جو ظاہراً ان كے پا س غذا كے طور پر تھي_ كيا بھونى ہوئي تھى اور اسے نمك لگا ہوا تھا يا يہ تازہ مچھلى تھى كہ جو معجزانہ طور پر زندہ ہوكر اچھل كر پانى ميں جاكر تيرنے لگي_
اس سلسلے ميں مفسرين ميں اختلاف ہے_بعض كتب تفاسير ميں يہ بھى ہے كہ اس علاقے ميں آب حيات كا چشمہ تھا_ اس كے كچھ قطرات مچھلى پر پڑگئے جس سے مچھلى زندہ ہوگئي_
____________________
(۱)سورہ كہف آيت۶۱
(۲)سورہ كہف آيت ۶۱
ليكن يہ احتمال بھى ہے كہ مچھلى ابھى پورى طرح مرى نہ تھى كيونكہ بعض مچھلياں ايسى بھى ہوتى ہيں جو پانى سے نكلنے كے بعد بہت دير تك نيم جاں صورت ميں رہتى ہيں اور اس مدت ميں پانى ميں گر جائيں تو ان كى معمول كى زندگى پھر شروع ہوجاتى ہے_
آخر كار موسى عليہ السلام اور ان كے ہمراہى دو دريائوں كے سنگم سے آگے نكل گئے تو لمبے سفر كے باعث انہيں خستگى كا احساس ہوا اور بھوك بھى ستانے لگي_ اس وقت موسى عليہ السلام كو ياد آيا كہ غذا تو ہم ہمراہ لائے تھے، لہذا انہوں نے اپنے ہمسفر دوست سے كہا: ہمارا كھانا لايئےس سفرنے تو بہت تھكا ديا ہے_(۱)
اس وقت ''ان كے ہمسفر نے انہيں خبردى كہ آپ كو ياد ہے كہ جب ہم نے اس پتھر كے پاس پناہ لى تھي(اور آرام كيا تھا)تو مجھے مچھلى كے بارے ميں بتانا ياد نہ تھا اور شيطان ہى تھا جس نے يہ بات مجھے بھلادى تھي_ ہوا يہ كہ مچھلى نے بڑے حيران كن طريقے سے دريا كى راہ لى اور پانى ميں چلتى بني''_(۲)
يہ معاملہ چونكہ موسى عليہ السلام كے لئے اس عالم بزرگ كو تلاش كرنے كے لئے نشانى كى حيثيت ركھتا تھا لہذا موسى عليہ السلام نے كہا:''يہى تو ہميں جاہئے تھا اور يہى چيزتو ہم ڈھونڈتے پھرتے تھے''_(۳)
''اور اس وقت وہ تلاش كرتے ہوئے اسى راہ كى طرف پلٹے''_(۴)
عظيم استاد كى زيارت
قرآن اس داستان كو آگے بڑھاتے ہوئے كہتا ہے:جس وقت موسى عليہ السلام اور ان كے ہمسفر دوست ''مجمع البحرين ''اور پتھر كے پاس پلٹ كر آئے تو'' اچانك ہمارے بندوں ميں سے ايك بندے سے ان كى ملاقات ہوگئي_ وہ بندہ كہ جس پر ہم نے اپنى رحمت كى تھى اور جسے ہم نے بہت سے علم و دانش سے نوازا تھا''_(۵)
____________________
(۱)سورہ كہف آيت ۶۲ (۲)سورہ كہف آيت ۶۳ (۳)سورہ كہف آيت۶۴
(۴)سورہ كہف آيت۶۴ (۵)سورہ كہف آيت۶۵
اس وقت حضرت موسى عليہ السلام نے بڑے ادب سے اس عالم بزرگ كى خدمت ميں عرض كيا: ''كيا مجھے اجازت ہے كہ ميں آپ كى پيروى كروں تاكہ جو علم آپ كو عطا كيا گيا ہے اور جو باعث رشد و صلاح ہے،مجھے بھى تعليم ديں ''_(۱) ليكن بڑے تعجب كى بات ہے كہ اس عالم نے موسى عليہ السلام سے كہا:''تم ميرے ساتھ ہر گز صبر نہ كرسكوگے''_(۲) ساتھ ہى اس كى وجہ اور دليل بھى بيان كردى اور كہا:''تم اس چيز پر كيسے صبر كر سكتے ہو جس كے اسرار سے تم آگا ہى نہيں ركھتے''؟(۳) جيسا كہ ہم بعد ميں ديكھيں گے يہ عالم، اسرار و حوادث كے باطنى علوم پر دسترس ركھتا تھا جبكہ حضرت موسى عليہ السلام نہ باطن پر مامور تھے اور نہ ان كے بارے ميں زيادہ آگاہى ركھتے تھے_
ايسے مواقع پر ايسا بہت ہوتا ہے كہ حوادث كے ظاہر سے ان كا باطن مختلف ہوتا ہے، بعض اوقات كسى واقعے كا ظاہر احمقانہ اور ناپسنديدہ ہوتا ہے جبكہ باطن ميں بہت مقدس منطقى اور سوچا سمجھا ہوتا ہے ايسے مواقع پر جو شخص ظاہر كو ديكھتا ہے وہ اس پر صبرنہيں كرپاتا اور اس پر اعتراض كرتا ہے يا مخالفت كرنے لگتا ہے_
ليكن وہ استاد كہ جو اسرار دروں سے آگاہ ہے اور معاملے كے باطن پر نظر ركھتا ہے وہ بڑے اطمينان اور ٹھنڈے دل سے كام جارى ركھتا ہے اور اعتراض اور واويلاپر كان نہيں دھرتا بلكہ مناسب موقع كے انتظار ميں رہتا ہے تاكہ حقيقت امر بيان كرے جبكہ شاگرد بے تاب رہتا ہے ليكن جب اسرار اس پر كھل جاتے ہيں تو اسے پورى طرح سكون و قرار آجاتا ہے_
حضرت موسى عليہ السلام يہ بات سن كر پريشان ہوئے ،انہيں خوف تھا كہ اس عالم بزرگ كا فيض ان سے منقطع نہ ہو لہذا انہوں نے وعدہ كيا كہ تمام امور پر صبر كريں گے اور كہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائيں گے اور ميں وعدہ كرتا ہوں كہ كسى كام ميں آپ كى مخالفت نہيں كروں گا_(۴)
____________________
(۱)سورہ كہف آيت۶۶
(۲)سورہ كہف آيت ۶۷
(۳)سورہ كہف آيت۶۸
(۴)سورہ كہف آيت۶۹
يہ كہہ كر حضرت موسى عليہ السلام نے پھر انتہائي ادب و احترام اور خدا كى مرضى پر اپنے بھروسے كا اظہار كيا_
آپ نے اس عالم سے يہ نہيں كہا كہ ميں صابر ہوں بلكہ كہتے ہيں :انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائيں گے_ليكن چونكہ ايسے واقعات پر صبر كرنا كہ جو ظاہراً ناپسنديدہ ہوں اور انسان جن كے اسرار سے آگاہ نہ ہوكوئي آسان كام نہيں اس لئے اس عالم نے حضرت موسى عليہ السلام كو خبردار كرتے ہوئے پھر عہد ليا ''اور كہا اچھا اگر تم ميرے پيچھے پيچھے آنا چاہتے ہو تو ديكھو خاموش رہنا اور كسى معاملے پر سوال نہ كرنا جب تك كہ مناسب موقع پر ميں خود تم سے بيان نہ كردوں ''_(۱)
جناب موسى (ع) نے پھر دوبارہ وعدہ كيا اور استادكے ساتھ ہولئے_
خدائي معلم اور يہ ناپسند يدہ كام ؟
''موسى (ع) اس عالم ربانى كے ساتھ چل پڑے _چلتے چلتے ايك كشتى تك پہنچے اور اس ميں سوار ہو گئے''_(۲)
يہاں سے ہم ديكھتے ہيں كہ اب قرآن تثنيہ كى ضمير استعمال كرنے لگا ہے_ يہ اشارہ ہے حضرت موسى عليہ السلام اور اس عالم بزرگوار كى طرف_ يہ امر نشاندہى كرتا ہے كہ حضرت موسى عليہ السلام كے ہمسفر يوشع(ع) كى ماموريت اس مقام پر ختم ہوگئي تھى اور وہ يہاں سے پلٹ گئے تھے يا پھر يہ ہے كہ وہ موجود تو تھے ليكن اس معاملے سے ان كا تعلق نہيں تھا لہذا انہيں يہاں نظرا نداز كرديا گيا ہے_ ليكن پہلا احتمال زيادہ قوى معلوم ہوتا ہے_
''بہرحال وہ دونوں كشتى پر سوار ہوگئے تو اس عالم نے كشتى ميں سوراخ كرديا ''_(۳)
حضرت موسى عليہ السلام چونكہ ايك طرف تو اللہ كے عظيم نبى بھى تھے ،الہذاانہيں لوگوں كى جان ومال
____________________
(۱)سورہ كہف ايت ۷۰
(۲)سورہ كہف ايت۷۱
(۳)سورہ كہف آيت ۷۱
كا محافظ بھى ہونا چاہئے تھا او رانہيں امر بالمعروف اور نہى عن المنكر بھى كرنا چاہتے تھا اور دوسرى طرف ان كا انسانى ضمير اس بات كى اجازت نہيں ديتا تھا كہ وہ اس قسم كے غلط كام پر خاموشى اختيار كريں لہذا حضرت خضر كے ساتھ ان كا جو معاہدہ ہوا تھا اسے ايك طرف ركھا اور اس كام پر اعتراض كرديا اور ''كہا:
كيا آپ نے اہل كشتى كو غرق كرنے كے لئے اس ميں سوراخ كرديا ہے واقعاً آپ نے كس قدر برا كام انجام ديا ہے ''_(۱)
واقعا ًيہ كام كتنا حيرت انگيز ہے كہ كسى كشتى ميں بہت سے مسافر سوار ہوں اور اس ميں سوراخ كرديا جائے ؟
بعض روايات ميں ہے كہ اہل كشتى جلدہى متوجہ ہوگئے اور انہوں نے اس سوارخ كو كسى چيز كے ذريعے سے پركرديا ليكن اب وہ كشتى صحيح نہيں رہ گئي تھى _
اس وقت اس عالم نے بڑى متانت كے ساتھ موسى پر نگاہ ڈالى اور ''كہا: ميں نے نہيں كہا تھا كہ تم ميرے ساتھ ہرگز صبر نہيں كرسكو گے ''_(۲)
اس واقعے كى اہميت كے پيش نظر حضرت موسى كى عجلت اگرچہ فطرى تھى تاہم وہ پشيمان ہوئے انہيں اپنا معاہدہ ياد آيا لہذا معذرت آميز لہجے ميں استاد سے '' كہا اس بھول پر مجھ سے مواخذہ نہ كيجئے اور اس كام پرمجھ پر سخت گيرى نہ كيجئے ''_(۳)
كيوں اس بچے كو قتل كررہے ہو؟
ان كا دريائي سفر ختم ہوگيا وہ كشتى سے اتر آئے ،''سفر جارى تھا اثنائے راہ ميں انہيں ايك بچہ ملا ليكن اس عالم نے كسى تمہيد كے بغير ہى اس بچے كو قتل كرديا''_(۴)
____________________
(۱)سورہ كہف آيت ۷۱
(۲)سورہ كصف آيت ۷۲
(۳)سورہ كہف آيت ۷۳
(۴)سورہ كصف آيت ۷۴
حضرت موسى (ع) سے پھر نہ رہاگيا يہ نہايت وحشتناك منظر تھا بلا جواز اور بےوجہ ايك بے گناہ بچے كا قتل ، ايسى چيز نہ تھى كہ حضرت موسى خاموش رہ سكتے آپ غصے سے آگ بگولہ ہوگئے غم واندوہ اور غصے كا يہ عالم تھا كہ آپ نے پھر اپنے معاہدے كو نظر انداز كرتے ہوئے اب كى شديد تراور واضح تر اعتراض كيا يہ واقعہ بھى پہلے واقعے كى نسبت زيادہ وحشتناك تھا وہ كہنے لگے :''كيا آپ نے ايك بے گناہ اور پاك انسان كو قتل كرديا ہے جبكہ اس نے كسى كو قتل نہيں كيا،واقعاً آپ نے كيسا برا كا م انجام دياہے_''(۱)(۲) اس عالم بزرگوار نے پھر اپنے خاص اطمينان اور نرم لہجے ميں وہى جملہ دہرايا : '' كہا: ميں نے تم سے نہ كہا تھا كہ تھا تم ہرگز ميرے ساتھ صبر نہ كر سكو گے''_(۳)
حضرت موسى عليہ السلام كو اپنا عہد ياد آگيا انہيں بہت احساس شرمندگى ہورہا تھا كيونكہ دومرتبہ يہ پيمان ٹوٹ چكا تھا چاہے بھول كرہى ايسا ہوا ہو انہيں خيال آرہا تھا كہ ہوسكتا ہے استاد كى بات صحيح ہو كہ انہوں نے تو پہلے ہى واضح كرديا تھا كہ ابتدا ميں ان كے كام موسى كے لئے ناقابل برداشت ہوں گے_
موسى (ع) نے پھر عذر خواہى كے لہجے ميں كہا كہ اس دفعہ بھى مجھ سے صرف نظر كيجئے اور ميرى بھول چوك كو نظر انداز كرديجئے اور'' اگر اس كے بعد ميں آپ كے كاموں كے بارے ميں وضاحت كا تقاضا كروں (اور آپ پر اعتراض كروں ) تو پھربے شك مجھے ساتھ نہ ركھيں اور اس صورت ميں آپ ميرى استادى سے معذور ہوں گے ''(۴)
____________________
(۱)سورہ كہف آيت ۷۴
(۲)لفظ'' غلام'' جو ان نورس كے معنى ميں ہے وہ حد بلوغ كو پہنچا ہو يا نہ پہنچا ہو _
جس نوجوان كو اس عالم نے قتل كيا تھا وہ حد بلوغ كو پہنچا ہوا تھا يا نہيں اس سلسلے ميں مفسرين ميں اختلاف ہے _
بعض نے '' نفسا زكية'' (پاك اور بے گناہ انسان ) كى تعبير كو اس بات كى دليل بنايا ہے كہ وہ بالغ تھا كيونكہ قصاص صرف بالغ سے ليا جاسكتا ہے _البتہ آيت كو مجموعى طور پر ديكھا جائے تو اس سلسلے ميں حتمى فيصلہ نہيں كيا جاسكتا _
(۳)سورہ كہف آيت ۷۵
(۴)سورہ كہف آيت۷۶
يہ جملہ حضرت موسى (ع) كى انصاف پسندي، بلند نظرى اور اعلى ظرفى كى حكايت كرتا ہے اور نشاندہى كرتا ہے كہ وہ ايك حقيقت كے سامنے سرجھكادينے والے تھے اگرچہ وہ كتنى ہى تلخ كيوں نہ ہو _
دوسرے لفظوں ميں تين بار كى آزمائش سے يہ واضح ہوجائے گا كہ ان دونوں كى ماموريت الگ الگ ہے اور اس كا نباہ نہيں ہوسكتا _
اپنے كام كى مزدورى لے لو
اس گفتگو اور نئے معاہدے كے بعد ''موسى (ع) اپنے استاد كے ساتھ چل پڑے ،چلتے چلتے وہ ايك بستى ميں پہنچے انہوں نے اس بستى والوں سے كھانا مانگا ليكن بستى والوں نے انہيں مہمان بنانے سے انكار كرديا ''(۱)
اس ميں شك نہيں كہ حضرت موسى اور حضرت خضر(ع) كوئي ايسے افراد نہ تھے كہ اس بستى كے لوگوں پر بوجھ بننا چاہتے تھے،ايسا معلوم ہوتا ہے كہ وہ اپنا زاد وتوشہ راستے ميں كہيں دے بيٹھے تھے يا پھر ختم ہوگيا تھا لہذاوہ چاہتے تھے كہ بستى والوں كے مہمان ہوجائيں (يہ احتمال بھى ہے كہ اس عالم نے جان بوجھ كرلوگوں سے ايسا كہا ہوتاكہ حضرت موسى كو ايك اور درس ديا جاسكے)_(۲)
بہر حال مفسرين ميں اس سلسلے ميں اختلاف ہے كہ يہ شہر كو نسا تھا اور كہاں واقع تھا ابن عباس سے منقول ہے كہ يہ شہر ''انطاكيہ'' تھا_
بعض نے كہا ہے كہ يہاں '' ايلہ '' شہر مراد ہے كہ جو آج كل '' ايلات''نام كى مشہور بندرگاہ ہے اور بحيرہ احمر كے كنارے خليج عقبہ كے نزديك واقع ہے _
____________________
(۱)سورہ كہف آيت۷۷
(۲)اس نكتے كى ياد دہانى بھى ضرورى ہے كہ '' قرية'' قرآن كى زبان ميں ايك عام مفہوم ركھتا ہے اور ہر قسم كے شہر اور آبادى كے معنى ميں آيا ہے ليكن يہاں خصوصيت سے شہر مراد ہے كيونكہ چند آيات كے بعد اس كے لئے لفظ '' المدينہ''(يعنى شہر) آياہے _
بعض دوسروں كا نظريہ ہے كہ اس سے '' ناصرہ''شہر مراد ہے كہ كہ جو فلسطين كے شمال ميں واقع ہے اور حضرت عيسى كى جائے پيدائش ہے_
مرحوم طبرسى نے اس مقام پر حضرت امام جعفرصادق عليہ السلام كى ايك حديث نقل كى ہے كہ جو آخرى احتمال كى تائيد كرتى ہے _
مجمع الجرين كے بارے ميں ہم كہہ چكے ہيں كہ اس سے مراد'' خليج عقبہ'' اور'' خليج سويز ''كا سنگم ہے اس سے واضح ہوتا ہے كہ شہر ناصرہ اور بندرگاہ ايلہ اس جگہ سے انطاكيہ كى نسبت زيادہ قريب ہيں _
بہرصورت جو كچھ حضرت موسى عليہ السلام اور ان كے استاد كے ساتھ اس شہر ميں پيش آيا اس سے معلوم ہوتا ہے كہ اس شہر كے رہنے والے بہت بخيل اور كم ظرف لوگ تھے پيغمبر اكرم (ص) سے اس شہر والو ں كے بارے ميں ايك حديث منقول ہے كہ آپ نے فرمايا :''وہ كمينے اور كم ظرف لوگ تھے ''_
قرآن كہتا ہے :'' اس كے باوجود انہوں نے اس شہر ميں ايك گرتى ہوئي ديوار ديكھى تو اس عالم نے اس كى مرمت شروع كردى اور اسے كھڑا كرديا _''(۱) اور اس كو ويرانى سے بچاليا_
حضرت موسى اس وقت تھكے ہوئے تھے انہيں بھوك بھى ستارہى تھي، كوفت الگ تھى وہ محسوس كررہے تھے اس آبادى كے نا سمجھ لوگوں نے ان كى اور ان كے استاد كى ہتك كى ہے دوسرى طرف وہ ديكھے رہے تھے ، اس بے احترامى كے باوجود حضرت خضر اس گرتى ہوئي ديوار كى تعمير ميں لگے ہوئے تھے جيسے ان كے سلوك كى مزدورى دے رہے ہوں وہ سوچ رہے تھے كہ كم از كم استاد يہ كام اجرت لے كر ہى كرتے تاكہ كھانا تو فراہم ہوجاتا _
لہذا وہ اپنے معاہدے كو پھر بھول گئے انہوں نے پھر اعتراض كيا ليكن اب لہجہ پہلے كى نسبت ملائم اور نرم تھا '' كہنے لگے: اس كام كى كچھ اجرت ہى لے ليتے ''(۲)
____________________
(۱)سورہ كہف آيت۷۷
(۲)سورہ كہف آيت۷۷
درحقيقت حضرت موسى عليہ السلام يہ سوچ رہے تھے كہ يہ عدل تو نہيں كہ انسان ان لوگوں سے ايثار كا سلوك كرے كہ جو اس قدر فرومايہ اور كم ظرف ہوں _دوسرے لفظوں ميں نيكى اچھى چيز ہے مگر جب محل پر ہو، يہ ٹھيك ہے كہ برائي كے جواب ميں نيكى كرنا مردان خدا كا طريقہ ہے ليكن وہاں كہ جہاں بروں كے لئے برائي كى تشويق كا باعث نہ ہو ''
فراق دوست ،زندگى كے سخت ترين ايام
اس موقع پر اس عالم بزرگوار نے حضرت موسى سے آخرى بات كہى كيونكہ گزشتہ تمام واقعات كى بناء پر انہيں يقين ہوگيا تھا كہ موسى ان كے كاموں كو برداشت نہيں كرسكتے لہذا فرمايا :'' لواب تمہارے اور ميرے درميان جدائي كا وقت آگيا ہے جلد ميں تمہيں ان امور كے اسرار سے آگاہ كروں گا كہ جن پر تم صبر نہ كرسكے''_(۱)
حضرت موسى نے بھى اس پر كوئي اعترا ض نہ كيا كيونكہ گزشتہ واقعے ميں يہى بات وہ خود تجويز كر چكے تھے يعنى خود حضرت موسى پر يہ حقيقت ثابت ہوچكى تھى كہ ان كا نباہ نہيں ہوسكتا ليكن پھر بھى جدائي كى خبر موسى كے دل پر ہتھوڑے كى ضرب كى طرح لگى ايسے استاد سے جدائي كہ جس كا سينہ مخزن اسرار ہو، جس كى ہمراہى باعث بركت ہو اور جس كى ہر بات ايك درس ہو، جس كا طرز عمل الہام بخش ہو، جس كى پيشانى سے نور خدا ضوفشاں ہو اور جس كا دل علم الہى كا گنجينہ ہو ايسے رہبر سے جدائي باعث رنج وغم تھى ليكن يہ ايك ايسى تلخ حقيقت تھى جو موسى كو بہرحال قبول كرنا تھى _
مشہور مفسر''ابوالفتوح رازي'' كہتے ہيں كہ ايك روايت منقول ہے :
لوگوں نے حضرت موسى سے پوچھا: آپ كى زندگى ميں سب سے بڑى مشكل كونسى تھي؟
حضرت موسى (ع) نے كہا : ميں نے بہت سختياں جھيلى ہيں (فرعون كے دور كى سختياں اور پھر بنى اسرائيل
____________________
(۱)سورہ كہف آيت ۷۸
كے دور كى مشكلات كى طرف اشارہ ہے ) ليكن كسى مشكل اور رنج نے ميرے دل كو اتنا رنجور نہيں كيا جتنا حضرت خضرسے جدائي كى خبر نے _
ان واقعات كاراز
جب حضرت موسى اور حضرت خضر كا جدا ہونا طے پاگيا تو ضرورى تھا كہ يہ الہى استاد اپنے ان كاموں كے اسرار ظاہر كرے كہ حضرت موسى جنھيں گوارانہيں كرپائے تھے درحقيقت ان سے ہمراہى كا فائدہ حضرت موسى عليہ السلام كے لئے يہى تھا كہ وہ ان تين عجيب واقعات كا راز سمجھ ليں اور يہى راز بہت سے مسائل كى تفہيم كے لئے كليدبن سكتا تھا اور مختلف سوالوں كا جواب اس ميں پنہاں تھا _
حضرت خضر(ع) نے كشتى والے واقعے سے بات شروع كى اور كہنے لگے : ''ہاں ، تووہ كشتى والى بات يہ تھى كہ وہ چند غريب ومسكين افرادكى ملكيت تھى وہ اس سے دريا ميں كام كرتے تھے ميں نے سوچا كہ اس ميں كوئي نقص ڈال دوں كيونكہ ميں جانتا تھا كہ ايك ظالم بادشاہ ان كے پيچھے ہے اور وہ ہر صحيح سالم كشتى كو زبردستى ہتھياليتا ہے''_(۱)
گويا كشتى ميں سوارخ كرنا ظاہرا تو برالگتا تھا ليكن اس كام ميں ايك اہم مقصد پوشيدہ تھا اور وہ تھا كشتى كے غريب مالكوں كو ايك غاصب بادشاہ كے ظلم سے بچانا كيونكہ اس كے نزديك عيب دار كشتياں اس كے كام كى نہ تھيں اور ايسى كشتيوں پروہ قبضہ نہيں جماتا تھا خلاصہ يہ كہ يہ كام چند مسكينوں كے مفاد كى حفاظت كے لئے تھا اور اسے انجام پاناہى چاہئے تھا _
اس كے بعد حضرت خضر(ع) لڑكے قتل كے مسئلے كى طرف آتے ہيں كہتے ہيں : ''رہاوہ لڑكا، تو اس كے ماں باپ صاحب ايمان تھے ہميں يہ بات اچھى نہ لگى كہ وہ اپنے ماں باپ كو راہ ايمان سے بھٹكادے اور سركشى وكفر پر ابھارے _''(۲)
____________________
(۱)سورہ كہف آيت۷۹
(۲)سورہ كہف آيت۸۰
بہرحال اس عالم نے اس لڑكے كو قتل كرديا اور اس لڑكے كے زندہ رہنے كى صورت ميں اس كے ماں باب كو آئندہ جو ناگوار واقعات پيش آنے والے تھے انہيں اس قتل كى دليل قرار ديا _
اس كے بعد مزيد فرمايا گيا ہے : ''ہم نے چاہا كہ ان كارب ان كو اس كے بدلے زيادہ پاك اور زيادہ پر محبت اولاد عطا فرمائے _''(۱)
آخرى اور تيسرے كام يعنى ديوار بنانے كے واقعے كا جواب ہے ،اس عالم نے اس واقعے كے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے كہا: رہى ديواركى بات _تو وہ اس شہر كے دو يتيم بچوں كى تھى اس ديوار كے نيچے ان كا خزانہ چھپا ہوا تھا اور ان كا باپ ايك نيك اور صالح شخص تھا ،تيرا پروردگار چاہتا تھا كہ وہ بالغ ہوجائيں اور اپنا خزانہ نكال ليں ،يہ تو تيرے رب كى طرف سے رحمت تھے_
اور ان كے نيك ماں باپ كى وجہ سے ميں مامور تھا كہ اس ديوار كو تعمير كروں كہ كہيں وہ گرنہ جائے اور خزانہ ظاہر ہوكر خطرے سے دوچار نہ ہوجائے_(۲)
لہذا انہوں نے كہا : اور ميں نے يہ كام خود سے نہيں كئے بلكہ اللہ كے حكم تحت انجام ديئے _(۳)
جى ہاں : يہ تھے ان كاموں كے راز كہ جن پرصبر كى تم ميں تاب نہيں تھى _(۴)(۵)
____________________
(۱)سورہ كہف آيت ۸۱
(۲)سورہ كہف آيت۸۲
(۳)سورہ كہف آيت۸۲
(۴)سورہ كہف آيت۸۲
(۵)خضر كى ماموريت تشريعى تھى يا تكوينى ؟
يہ وہ اہم ترين مسئلہ ہے جس نے بزرگ علماء كو اپنى طرف متوجہ كيا ہے تين واقعات كہ جو اس عالم كے ہاتھوں انجام پائے ان پر حضرت موسى نے اعتراض كيا كيونكہ وہ باطن امر سے آگاہ نہ تھے ليكن بعد ميں استاد نے وضاحت كى تو مطمئن ہوگئے _ سوال يہ ہے كہ كيا واقعاً كسى كے مال ميں اس كى اجازت كے بغير نقص پيدا كيا جاسكتا ہے، كہ غاصب اسے لے نہ جائے _ اور كيا كسى لڑكے كو اس كام پر سزادى جاسكتى ہے جو وہ آئندہ ميں انجام دے گا؟ اور كيا ضرورى ہے كہ كسى كے مال كى حفاظت كے لئے ہم مفت زحمت برداشت كريں _؟
ان سوالات كے جواب ميں ہمارے سامنے دوراستے ہيں : پہلايہ كہ ان امور كو ہم فقہى احكام اور شرعى قوانين كى روشنى ميں ديكھيں _بعض مفسرين نے يہى راستہ اختيا ر كيا ہے _ انہوں نے پہلے واقعے كو اہم اور اہم تر قوانين پر سمجھا ہے اور كہا ہے كہ مسلم ہے كہ سارى كشتى اور پورى كشتى كى حفاظت اہم كام تھا جبكہ جزوى نقص سے حفاظت زيادہ اہم نہيں تھا دوسرے لفظوں ميں حضرت خضر (ع) نے كم نقصان كے ذريعے زيادہ نقصان كو روكا، فقہى زبان ميں '' افسد كو فاسد سے دفع كيا'' خصوصا ًجبكہ يہ بات ان كے پيش نظر تھى كہ كشتى والوں كى باطن رضا مندى انہيں حاصل ہے كيونكہ اگر وہ اصل صورت حال سے آگاہ ہوجاتے تو اس كام پر راضى ہوجاتے (فقہى تعبير كے مطابق حضرت خضر (ع) كو اس مسئلے ميں '' اذن فحوى '' حاصل تھا)_ اس لڑكے كے بارے ميں مفسرين كا اصرار ہے كہ يقيناً وہ بالغ تھا اور وہ مرتد يا فاسد تھا لہذا وہ اپنے موجودہ اعمال كى وجہ سے جائز القتل تھا اور يہ جو حضرت خضراپنے اقدام كے لئے اس كے آئندہ جرائم كو دليل بناتے ہيں تو وہ اس بناء پر ہے كہ وہ كہنا چاہتے ہيں كہ يہ مجرم نہ صرف يہ كہ اس وقت اس كام ميں مبتلا ہے بلكہ آئندہ بھى اس سے بڑھ كر جرائم كا مرتكب ہوگا لہذا اس كاقتل قوانين شريعت كے مطابق تھا اور وہ اپنے افعال اورخود كردہ گناہوں كى وجہ سے جائز القتل تھا _ رہا تيسرا واقعہ تو كوئي شخص كسى پر يہ اعتراض نہيں كرسكتا كہ تم دوسرے كے لئے كيوں ايثار كرتے ہو اور اس كے اموال كو بچانے كے لئے كيوں بيگار اٹھاتے ہو،ہوسكتا ہے يہ ايثار واجب نہ ہو ليكن مسلم ہے كہ يہ اچھا كام ہے اور لائق تحسين ہے بلكہ ہوسكتا ہے كہ بعض مواقع پر سرحد وجوب تك پہنچ جائے مثلاً كسى يتيم بچے كا بہت سامال ضائع ہو رہا ہو اور تھوڑى سى زحمت كركے اسے بچايا جاسكے تو بعيد نہيں ہے كہ ايسے موقع پريہ كام واجب ہو _ دوسرا راستہ اس بنياد پر ہے كہ مذكورہ بالا تو ضيحات اگرچہ خزانے اور ديوار كے بارے ميں لائق اطمينان ہوں ليكن جو جوان مارا گيا اس كے بارے ميں مذكورہ وضاحتيں ظاہر قرآنى گفتگو سے مناسبت نہيں ركھتيں كيونكہ اس كے قتل كا قصدظاہرا اس كے آئندہ كا عمل قرار ديا گيا ہے نہ كہ موجودہ عمل _ كشتى كے بارے ميں بھى مذكورہ وضاحت كسى حدتك قابل بحث ہے _
لہذا ضرورى ہے كہ كوئي اور راہ اختيار كى جائے اور وہ يہ ہے :
اسى جہان ميں ہميں دو نظاموں سے سابقہ پڑتا ہے ايك نظام تكوين ہے اور دوسرا نظام تشريع يہ دونوں نظام اگرچہ كلى اصول ميں تو ہم آہنگ ہيں ليكن كبھى ايسا ہوتا ہے كہ جزئيات ميں ايك دوسرے سے مختلف ہوتے ہيں _
مثلا اللہ تعالى اپنے بندوں كى آزمائش خوف، اموال وثمرات كے نقصان ، اپنى اور عزيزوں كى موت اور قتل كے ذريعے كرتا ہے تاكہ يہ معلوم ہوكہ كون شخص ان حوادث ومصائب پر صبر وشكيبائي اختيار كرتا ہے _
تو كيا كوئي فقيہ بلكہ كوئي پيغمبر ايسا كرسكتا ہے _يعنى اموال ونفوس، ثمرات اور امن كو ختم كركے لوگوں كو آزمائے ؟
يا كبھى ايسا ہوتا ہے كہ اللہ تعالى اپنے بعض نبيوں اور صالح بندوں كو خبر دار كرنے اور انہيں تنبيہ كرنے كے لئے كسى ترك اولى پر بڑى مصيبتوں ميں گرفتار كرتاہے جيسا كہ حضرت يعقوب مصيبت ميں گرفتار ہوئے اس بات پر كہ انہوں نے بعض مساكين كى طرف كم توجہ دى يا حضرت يونس كو ايك معمولى ترك اولى پر مصيبت ميں گرفتار ہونا پڑا تو كيا كوئي حق ركھتا ہے كہ كسى كو سزا كے طور پر ايسا كرے يا يہ كہ ہم ديكھتے ہيں كبھى اللہ تعالى كسى انسان كى ناشكرى كى وجہ سے اس سے كوئي نعمت چھين ليتا ہے مثلاً كوئي شخص مال ملنے پر شكر ادا نہيں كرتا تو اس كا مال دريا ميں غرق ہوجاتاہے يا صحت پر شكر ادا نہيں كرتا تو اللہ تعالى اس سے صحت لے ليتا ہے تو كيا فقہى اور شرعى قوانين كى رو سے كوئي ايسا كرسكتا ہے كہ ناشكرى كى وجہ سے كسى كا مال ضائع كردے اور اس كى مثاليں مجموعى طور پر ظاہر كرتى ہيں كہ جہان آفرينش خصوصا خلقت انسان اس احسن نظام پر استوار ہے كہ اللہ نے انسان كو كمال تك پہنچا نے كے لئے كچھ تكوينى قوانين بنائے ہيں كہ جن كى خلاف ورزى سے مختلف نتائج مرتب ہوتے ہيں حالانكہ قانوں شريعت كے لحاظ سے ہم ان قوانين پر عمل نہيں كرسكتے _
مثلاً كسى انسان كى انگلى ڈاكڑ اس لئے كاٹ سكتا ہے كہ زہراس كے دل كى طرف سرايت نہ كرجائے ليكن كيا كوئي شخص كسى انسان ميں صبر پيدا كرنے كے لئے يا كفران نعمت كى وجہ سے اس كى انگلى كاٹ سكتا ہے ؟(جبكہ يہ بات مسلم ہے كہ خدا ايسا كرسكتا ہے كيونكہ ايسا كرنا نظام احسن كے مطابق ہے )
اب جبكہ ثابت ہوگيا كہ ہم دو نظام ركھتے ہيں اور اللہ تعالى دونوں نظاموں پر حاكم ہے تو كوئي چيز مانع نہيں ہے كہ اللہ ايك گروہ كو نظام تشريعى كو عملى شكل دينے پر مامور كرے اورفرشتوں كے ايك گروہ يا بعض انسانوں كو (مثلا حضرت خضر كو )نظام تكوين كو عملى شكل دينے پر مامور كرے _
اللہ تعالى كے نظام تكوين كے لحاظ سے كوئي مانع نہيں كہ وہ كسى نابالغ بچے كو بھى كسى حادثے ميں مبتلا كر دے اور اس ميں اس كى جان چلى جائے كيونكہ ہوسكتا ہے اس كا وجود مستقبل كے لئے بہت بڑے خطرات كاباعث ہو، نيز كوئي مانع نہيں كہ اللہ مجھے آج كسى سخت بيمارى ميں مبتلا كردے ، اس طرح سے كہ ميں گھرسے باہر نہ نكل سكوں كيونكہ وہ چاہتا ہے _
حضرت خضر كون تھے؟
جيسا كہ ہم نے ديكھا ہے كہ حضرت خضر(ع) كانام صراحت كے ساتھ قرآن ميں نہيں ليا گيا اور حضرت موسى كے دوست اور استاد كا ذكر ان الفاظ ميں كيا گيا ہے :''ہمارے بندوں ميں سے ايك بندہ جسے ہم نے اپنى رحمت عطا كى اور جسے ہم نے اپنے علم سے نوازا''_اس تعارف ميں ان كے مقام عبوديت كا تذكرہ ہے اور ان كے خاص علم كو واضح كيا گيا ہے لہذا ہم نے بھى عالم كے طور پر ان كا زيادہ ذكر كيا ہے_
ليكن متعدد روايات ميں اس عالم كا نام''خضر''بتايا گيا ہے_بعض روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ ان كا اصلى نام''بليا ابن ملكان''تھا اور''خضر''ان كا لقب تھاكيونكہ وہ جہاں كہيں قدم ركھتے ان كے قدموں كى بدولت زمين سر سبز ہوجاتى تھي_
دوسرے لفظوں ميں اس عالم ميں مامورين كا ايك گروہ باطن پر مامور ہے اور ايك گروہ ظاہر پر مامور ہے جو باطن پر مامور ہيں ان كے لئے اپنے اصول وضوابط اور پروگرام ہيں اور جو ظاہر پر مارمور ہيں ان كے لئے اپنے خاص اصول وضوابط ہے_
يہ ٹھيك ہے كہ ان دونوں پر وگراموں كا اصلى اور كلى مقصد انسان كو كمال كى طرف لے جانا ہے اس لحاظ سے دونوں ہم آہنگ ہيں ، شك نہيں كہ ان دونوں طريقوں ميں سے كسى ميں بھى كوئي خود سرى سے كوئي اقدام نہيں كرسكتا بلكہ ضرورى ہے كہ وہ حقيقى مالك وحاكم كى طرف سے مجاز ہو لہذا حضرت خضر عليہ السلام نے صراحت كے ساتھ اس حقيقت كو بيان كيا اور كہا:
ميں نے يہ كام حكم الہى كے مطابق اور اسى كے ضابطے اور طريقے كے مطابق انجام ديئےيں اس طرح ان اقدامات ميں جو ظاہرى تضاد نظر آتا ہے وہ ختم ہوجاتاہے _اور يہ ہم ديكھ رہے ہيں كہ حضرت موسى حضرت خضر كے كاموں كو برداشت نہيں كرپاتے تھے تو يہ اسى بناء پر تھا كہ ان كى ماموريت اور ذمہ دارى كا طريقہ جناب خضر(ع) كى ذمہ دارى كے راستے سے الگ تھا لہذا جب انہوں نے حضرت خضر كاكام ظاہراً شرعى قوانين كے خلاف ديكھا تو اس پر اعتراض كيا ليكن خضر نے ٹھنڈے دل سے اپنا كام جارى ركھا اور چونكہ يہ دو عظيم خدائي رہبر مختلف ذمہ داريوں كى بناء پر ہميشہ كے لئے اكٹھے نہيں رہ سكتے تھے لہذا حضرت خضرا نے كہا :
''يہ اب ميرے اور تمہارے جدا ہونے كا مرحلہ آگيا ہے ''_
بعض نے يہ احتمال بھى ذكر كيا ہے كہ اس عالم كا نام''اليا(ع) س''ہے يہى سے يہ تصور پيدا ہوا كہ ہوسكتا ہے''الياس''اور''خضر''ايك ہى شخص كے دو نام ہوں ليكن مشہور و معروف مفسرين اور راويوں نے پہلى بات ہى بيان كى ہے_
واضح ہے كہ يہ بات كوئي خاص اہميت نہيں ركھتى كہ اس شخض كا نام كيا ہے_اہم بات يہ ہے كہ وہ ايك عالم ربانى تھے اور پروردگار كى خاص رحمت ان كے شامل حال تھي_وہ باطن اور نظا م تكوينى پر مامور تھے اور كچھ اسرار سے آگاہ تھے اور ايك لحاظ سے موسى (ع) بن عمران كے معلم تھے اگر چہ حضرت موسى عليہ السلام كئي لحاظ سے ان پر مقدم تھے_
يہ كہ وہ پيغمبر تھے يا نہيں _اس سلسلے ميں روايات مختلف ہيں _اصول كافى جلد اول ميں متعدد روايات ہيں كہ جو اس بات پر دلالت كرتى ہيں كہ وہ پيغمبر نہيں تھے بلكہ وہ''ذوالقرنين''اور''آصف ابن برخيا''كى طرح ايك عالم تھے_
جبكہ كچھ اور روايات ايسى بھى ہيں كہ جن سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ مقام نبوت كے حامل تھے اور زير نظر روايات ميں بھى بعض تعبيرات كا ظاہرى مفہوم بھى يہى ہے_كيونكہ ايك موقع پروہ كہتے ہيں :
''ميں نے يہ كام اپنى طرف سے نہيں كيا''_
ايك اور مقام پر كہتے ہيں :
''ہم چاہتے تھے كہ ايسا ہو''_
نيز بعض روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ ايك لمبى عمر كے حامل تھے_(۱)
____________________
(۱)يہاں ايك سوال سامنے آتا ہے_ وہ يہ كہ كيا اس عالم بزرگوار كا واقعہ يہوديوں اور عيسائيوں كى كتابوں ميں بھى ہے؟
سوال كا جواب يہ ہے:
اگر كتب سے مراد كتب عہدين(توريت و انجيل)ہيں ،تو ان ميں تو نہيں ہے ليكن بعض يہودى علماء كى كتابيں كہ جو گيارہويں صدى عيسوى ميں مدون ہوئي ہيں ،ان ميں ايك داستان نقل ہوئي ہے كہ جو حضرت موسى عليہ السلام كى مذكورہ داستان سے كچھ مشابہت ركھتى ہے_اگر چہ اس داستان كے ہيرو''الياس''اور''يوشع بن لاوي''ہيں كہ جو تيسرى صدى عيسوى كے''تلمود''كے مفسرين ميں سے تھے_يہ داستان اور كئي پہلوئوں سے بھى موسى عليہ السلام و خضر عليہ السلام سے مختلف ہے_
مزيد وضاحت كے لئے تفسير نمونہ ج۷ص۱۷۱پر رجوع كريں
خود ساختہ افسانے
حضرت موسى عليہ السلام اور حضرت خضر عليہ السلام كى داستان كى بنياد وہى ہے كہ جو كچھ قرآن ميں آيا ہے ليكن افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ اس سے منسلك كركے بہت سے افسانے گھڑلئے گئے ہيں _ ان افسانوں كو اس داستان كے ساتھ خلط ملط كرنے سے اصل داستان كى صورت بھى بگڑ جاتى ہے_ جاننا چاہئے كہ يہ كوئي پہلى داستان نہيں ہے كہ جس كے ساتھ يہ سلوك كيا گيا ہے اور بہت سى سچى داستانوں كے ساتھ يہى حال كيا گيا ہے_
لہذا حقيقت تك رسائي كے لئے قرآن كو بنياد قرار ديا جانا چاہئے جس ميں يہ داستا ن بيان ہوئي ہے_ يہاں تك كہ احاديث كو بھى اسى صورت ميں قبول كيا جاسكتا ہے جب وہ قرآن كے موافق ہوں _اگر كوئي حديث اس كے برخلاف ہو تو يقينا وہ قابل قبول نہيں ہے اور خوش قسمتى سے معتبر احاديث ميں ايسى كوئي حديث نہيں ہے_
علم موسى (ع) و خضر (ع) ،علم خدا كے مقابلہ ميں
پيغمبر اكرم (ص) سے منقول ہے:
''جس وقت موسى عليہ السلام خضر عليہ السلام سے ملے تو ايك پرندہ ان كے سامنے ظاہر ہوا_ اس نے پانى كا ايك قطرہ اپنى چونچ ميں ليا تو حضرت موسى عليہ السلام سے خضر عليہ السلام نے كہا:
جانتے ہو كہ پرندہ كيا كہتا ہے:
موسى عليہ السلام نے كہا:كيا كہتا ہے؟
خضر عليہ السلام كہنے لگے: كہتا ہے:
''تيرا علم اور موسى كا علم، خدا كے علم كے مقابلے ميں اس قطرے كى طرح ہے جو ميں نے پانى سے چونچ ميں ليا ہے''_
وہ خزانہ كيا تھا؟
اس داستان كے بارے ميں ايك سوال اور بھى ہے اور وہ يہ كہ وہ خزانہ آخر كيا تھا جسے موسى عليہ السلام كے عالم دوست پوشيدہ ركھنا چاہتے تھے اور آخر اس با ايمان شخص يعنى يتيموں كے باپ نے يہ خزا نہ كيوں چھپا ديا تھا؟
بعض نے كہا ہے كہ وہ خزانہ مادى پہلو كى بجائے زيادہ معنوى پہلو ركھتا تھا_ بہت سى شيعہ سنى روايا ت كے مطابق وہ ايك تختى تھى جس پر حكمت آميز كلمات نقش تھے_ اس بارے ميں مفسرين ميں اختلاف ہے كہ وہ حكمت آميز كلمات كيا تھے_
كتاب كافى ميں امام صادق عليہ السلام سے منقول ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا:
يہ سونے چاندى كا خزانہ نہيں تھا_ يہ تو صرف ايك تختى تھى جس پر چار جملے ثبت تھے_
اللہ كے سوا كوئي معبود نہيں _
جو موت پر يقين ركھتا ہے وہ(بے ہودہ)نہيں ہنستا_
اور جسے اللہ كى طرف سے حساب كا يقين ہے(اوراسے جو ابدہى كى فكر ہے)وہ خوش نہيں رہتا_
اور جسے تقدير الہى كا يقين ہے وہ اللہ كے سوا كسى سے نہيں ڈرتا_
اوربنى اسرائيل كى نافرماني اصحاب سبت،سنيچر كى چھٹي بنى اسرائيل كا ايك گروہ جو ايك سمندر (بظاہر بحيرہ احمر جو فلسطين كے پاس ہے)كے كنارے شہر''ايلہ''(جسے آج كل''ايلات''كہتے ہيں )ميں رہتے تھے،ان كى آزمائش كے لئے اللہ نے انہيں حكم ديا تھا كہ ہفتہ كے روز مچھلى كا شكار نہ كريں ،سارے دنوں ميں شكار كريں صرف ايك دن تعطيل كرديا كريں ليكن ان لوگوں نے اس حكم كى صريحاًمخالفت كى جس كے نتيجے ميں وہ درد ناك عذاب ميں مبتلا ہوئے جس كى تفصيل قرآن ميں بيان كى گئي ہے_
قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے:''جو يہودى تمہارے زمانہ ميں موجود ہيں ان سے اس شہر كے ماجرے كے متعلق سوال كرو جو سمندر كے كنارے آباد تھا''_اور انہيں وہ زمانہ ياددلائو جبكہ وہ ہفتہ كے روز قانون الہى كى مخالفت كرتے تھے_''(۱)
كيونكہ ہفتہ كے روز ان كى تعطيل كا دن تھا جس ميں ان كو يہ حكم ملا تھا كہ اس روز وہ اپنا كاروبار ترك كرديں اور عبادت خدا ميں مشغول ہوں ليكن انہوں نے اس حكم كى طرف كوئي توجہ نہ دي_
____________________
(۱)سورہ اعراف ۱۶۲
اس كے بعد قرآن كريم اس جملے كى جو اجمالى طور پر پہلے گزر چكا ہے اس طرح شرح كرتاہے كہ ياد كرو:'' جب ہفتہ كے دن مچھلياں پانى كے اوپر ظاہر ہوتى تھيں اور دوسرے دنوں ميں وہ كم دكھلائي ديتى تھيں ''_(۱)
يہ بات واضح ہے كہ جو لوگ سمندر كے كنارے زندگى بسر كرتے تھے ان كى خوراك اور آمدنى كا بڑا ذريعہ مچھلى كاشكار ہوتا ہے،اور چونكہ ہفتہ كے روز مسلسل تعطيل ان كے درميان رائج تھي، لہذا اس روز مچھلياں امن محسوس كرتى تھيں اور وہ گروہ در گروہ پانى كى سطح پر ظاہر ہوتى تھيں ليكن دوسرے دنوں ميں چونكہ ان كا شكار كيا جاتا تھا اس لئے وہ گہرے پانى ميں بھاگ جاتى تھيں _ بہر حال يہ كيفيت چاہے كسى فطرى امر كے نتيجہ ميں ہو يا كوئي خلاف معمول الہى بات ہو اس سے ان لوگوں كى آزمائش مطلوب تھى جيسا كہ قرآن بيان كرتا ہے:
''ہم نے اس طرح ان لوگوں كى آزمائش كى اس چيز كے ذريعے جس كى وہ مخالفت كرتے تھے''_(۲)
جس وقت بنى اسرائيل اس بڑى آزمائش سے دوچار ہوئے جو ان كى زندگى كے ساتھ وابستہ تھى تو وہ تين گروہوں ميں بٹ گئے:
اول:جن كى اكثريت تھي،وہ لوگ تھے جنہوں نے اس فرمان الہى كى مخالفت پر كمر باندھ لي_
دوم:جو حسب معمولى ايك چھوٹى اقليت پر مشتمل تھا وہ گروہ اول كے مقابلے ميں امر بالمعروف اور نہى عن المنكر كى شرعى ذمہ دارى ادا كرتا تھا_
سوم:يہ وہ لوگ تھے جو ساكت اور غير جانبدار تھے_يہ نہ تو گنہگاروں كے ساتھ تھے اور نہ انہيں گناہوں سے منع كرتے تھے_
قرآن ميں اس گروہ نے دوسرے گروہ سے جو گفتگو كى ہے اسے نقل كيا گيا ہے_
____________________
(۱)سورہ اعراف آيت ۱۶۲
(۲)سورہ اعراف آيت ۱۶۳
اس وقت كو ياد كرو جب ان ميں سے ايك گروہ نے دوسرے سے كہا:
تم ان لوگوں كو كيوں وعظ و نصيحت كرتے ہو جنہيں آخر كار خدا ہلاك كرنے والا ہے يا درد ناك عذاب ميں مبتلا كرنے والا ہے_
انہوں نے جواب ميں كہا:ہم اس لئے برائي سے منع كرتے ہيں كہ خدا كے سامنے اپنى ذمہ دارى كو ادا كرديں اور وہ اس بارے ہم سے كوئي باز پرس نہ كرے_
علاوہ ازيں شايد ان كے دلوں ميں ہمارى باتو ں كا كوئي اثر بھى ہوجائے اور وہ طغيان و سركشى سے ہاتھ اٹھاليں _(۱)
''آخر كار دنيا پرستى نے ان پر غلبہ كيا_اور انہوں نے خدا كے فرمان كو فراموش كرديا_ اس وقت ہم نے ان لوگوں كو جو لوگوں كو گناہ سے منع كرتے تھے،نجات دي،ليكن گناہگاروں كو ان كے گناہ كے سبب سخت عذاب ميں مبتلا كرديا''_(۲)
اس كے بعد انہيں سزاديئے جانے كى كيفيت اس طرح بيان فرمائي گئي ہے:''انہوں نے اس بات كے مقابلے ميں سركشى كى جس سے انہيں روكا گيا تھا_(لہذا)ہم نے ان سے كہا دھتكارے ہوئے بندروں كى شكل ميں ہوجائو''_(۳)
بنى اسرائيل نے كس طرح گناہ كيا تھا؟
اس امر ميں كہ بنى اسرائيل نے كس وقت قانون شكنى كي،مفسرين كے درميان بحث ہے_بعض روايات سے پتہ چلتا ہے كہ انہوں نے ايك حيلہ اختيار كيا،انہوں نے سمندر كے كنارے بہت سے حوض بنالئے تھے اور انہيں نہروں كے ذريعے سمندر سے ملا ديا تھا_ہفتہ كے روز ان حوضوں كے راستے كھول ديتے تھے پانى كے ساتھ مچھلياں ان حوضوں كے اندر آجاتى تھيں ،غروب كے وقت جب واپس جانا چاہتى تھيں تو
____________________
(۱)سورہ اعراف ۱۶۴
(۲)سورہ اعراف آيت ۱۶۵
(۳)سورہ اعراف آيت ۱۶۶
واپسى كا راستہ بند كر ديتے تھے،جب اتوار كا دن ہوتا تھا تو پھر ان كا شكار كرليتے تھے اور يہ كہتے تھے كہ ہم نے ہفتہ كے روز شكار تھوڑى كيا ہے بلكہ ہم نے تو صرف انہيں حوضوں ميں محصور كرليا تھا اصل شكار تو اتواركے روز ہوا ہے_
بعض مفسرين نے يہ كہا ہے كہ وہ لوگ ہفتہ كے روز مچھلى پكڑنے كے كانٹوں كو دريا ميں ڈال ديتے تھے اس كے بعد جب اس ميں مچھلياں پھنس جاتى تھيں تو دوسرے روز انہيں نكال ليتے تھے اور اس حيلہ سے ان كا شكار كرتے تھے_
بعض روايات سے يہ بھى پتہ چلتا ہے كہ وہ بغير كسى حيلہ كے بروز شنبہ بڑى ڈھٹائي كے ساتھ شكار ميں مشغول ہوتے تھے_
ممكن ہے كہ يہ تمام روايات صحيح ہوں اس طرح كہ ابتدا ء ميں حوضوں يا قلابوں كے ذريعے حيلے سے شكار كرتے ہوں ،جب اس طرح سے ان كى نظر ميں گناہ كى اہميت كم ہوگئي ہو تو پھر انہوں نے اعلانيہ گناہ كرنا شروع كرديا ہو اور ہفتہ كے دن كى حرمت كو ضائع كركے مچھلى كى تجارت سے مالدار ہوگئے ہوں _(۱)
____________________
(۱)آيا يہ مسخ جسمانى تھايا روحاني؟
''مسخ''يا دوسرے لفظوں ميں ''انسانى شكل كا كسى حيوان كى شكل ميں تبديل ہو جانا''مسلمہ طور پر ايك خلاف معمول اور خلاف طبيعت بات ہے اگر چہ ميوٹيشن( mutation )بعض حيوانات كا دوسرے حيوانات كى شكل اختيار كرلينا نادر طور پر ديكھا گيا ہے اور سائنس ميں تكامل حيات كى بنياد بھى اس بات پر ركھى گئي ہے،ليكن ميوٹيشن( mutation )جہاں ديكھا گيا ہے وہ بہت نادر الموقع موارد ہيں ،وہ بھى حيوانات كى جزوى صفات ميں پايا جاتا ہے نہ كہ ان كى كلى صفات ميں ،بلكہ ايسا ہرگز نہيں ہواكہ ميوٹيشن( mutation )كى وجہ سے ايك حيوان اپنى نوع مثلاً بندر سے بكرى بن گيا ہو_ہاں يہ ممكن ہے كہ كسى حيوان كى خصوصيات دگر گوں ہو جائيں ،پھر يہ كہ يہ تبديلى اس كى نسل ميں پيدا ہوتى ہے نہ كہ جو حيوان پيدا ہوگيا ہے اس كى شكل يك بيك بدل گئي ہو،بنا بريں كسى انسان يا حيوان كى شكل كا بدل كر دوسرى نوع اختيار كرلينا ايك خلاف معمول بات ہے_
ہم نے بارہا يہ بات كہى ہے كہ كچھ مسائل ايسے بھى ہيں جو طبيعت اور عادت كے بر خلاف واقع ہوتے ہيں جو كبھى تو پيغمبروں كے معجزوں كى صورت ميں اور كبھى بعض خارق العادت كاموں كى صورت ميں بعض انسانوں سے ظاہر ہوتے ہيں ، -
بنى اسرائيل كى گائے كا واقعہ
بنى اسرائيل ميں سے ايك شخص نا معلوم طور پر قتل ہو جاتا ہے _اس كے قاتل كا كسى طرح پتا نہيں چلتا_
تاريخ اور تفاسير سے جو كچھ ظاہر ہوتاہے وہ يہ ہے كہ قتل كا سبب مال تھا يا شادي_
بعض مفسرين كہتے ہيں كہ بنى اسرائيل ميں ايك ثروت مند شخص تھا_ اس كے پاس بے پناہ دولت تھي_اس دولت كا وارث اس كے چچا زاد بھائي كے علاوہ كوئي نہ تھا_وہ دولت مند كافى عمر رسيدہ ہوچكا تھا_اس كے چچازاد بھائي نے بہت انتظار كيا كہ وہ دنيا سے چلا جائے تاكہ اس كا وارث بن سكے ليكن اس كا انتظار بے نتيجہ رہا لہذا اس نے اسے ختم كردينے كا تہيہ كرليا _بالاخر اسے تنہائي ميں پاكر قتل كرديا اور اس كى لاش سڑك پر ركھ دى اور گريہ وزارى كرنے لگا اورحضرت موسى عليہ السلام كى بارگاہ ميں مقدمہ پيش كيا كہ بعض لوگوں نے ميرے چچا زاد بھائي كو قتل كرديا ہے_
سليمان (ع) اپنى فوجى طاقت كامظاہرہ ديكھتے ہيں
قرآن ميں موجود مختلف قرائن سے مجموعى طور پر نتيجہ نكلتا ہے كہ ايك روز حضرت سليمان(ع) اپنے تيز رفتار گھوڑوں كا معائنہ كررہے تھے كہ جنھيں ميدان جہاد كے لئے تيار كيا گيا تھا_ عصر كا وقت تھا_ مامورين مذكورہ گھوڑوں كے ساتھ مارچ كرتے ہوئے ان كے سامنے سے گزر رہے تھے_
ايك عادل اور با اثر حكمران كے لئے ضرورى ہے كہ اس كے پاس طاقتور فوج ہو اور اس زمانے ميں لشكر كے اہم ترين وسائل ميں سے تيز رفتار گھوڑے تھے لہذا حضرت سليمان(ع) كا مقام ذكر كرنے كے بعد نمونے كے طورپر گھوڑوں كا ذكر آيا ہے_
____________________
ملكہ سبا كے دل ميں نور ايمان
قرآن ميں سليمان عليہ السلام اور ملكہ سبا كى سبق آموز داستان سے متعلق ايك اور پہلو پيش كياگيا ہے_
حضرت سليمان عليہ السلام نے ملكہ سبا كى عقل و خرد كو آزمانے اور خدا پر اس كے ايمان لانے كے لئے راہ ہموار كرنے كى غرض سے اس كے تخت ميں كچھ تبديلى كرنے كا حكم ديا_ تاكہ وہ پہچانا نہ جاسكے چنانچہ انھوں نے كہا:اس كے تخت ميں كچھ تبديلى كردو ہم ديكھتے ہيں كہ وہ سمجھ پاتى ہے يا ان لوگوں ميں سے ہے جو ہدايت نہيں پاتے''_(۱)
۶ انبياء عليهم السلام کے واقعات
حضرت ايوب عليہ السلام
حضرت ايوب (ع) كى حيران كن زندگى اور ان كا صبر
گفتگو حضرت ايوب عليہ السلام كے بارے ميں ہيں كہ جو صبر و استقامت كا نمونہ تھے،ان كا ذكر اس لئے ہے تاكہ اس وقت كے اور پھر اج كے اور ائندہ كے مسلمانوں كے لئے مشكلوں اور پريشانيوں ميں استقامت ،قيام اور جد و جہد كا درس ہواور انھيں پامردى كى دعوت دى جائے اور اس صبر و استقامت كا حسن انجام واضح كياجائے_
حضرت ايوب عليہ السلام وہ تيسرے نبى ہيں كہ ہمارے عظيم نبى (ص) پر فرض كيا گيا ہے كہ ان كے واقعہ كو مسلمان كے لئے بيان كريں تاكہ مسلمان بڑى بڑى مشكلات سے نہ گھبرائيں اوراس كى رحمت سے كبھى بھى مايوس نہ ہوں _(۱)
قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے:''ہمارے بندے ايوب كو ياد كرو كہ جب اس نے اپنے پروردگار كو پكارا اور عرض كي:شيطان نے مجھے بہت تكليف اور اذيت ميں مبتلا كر ركھا ہے''_(۲)
____________________
(۱)بر خلاف موجودہ توريت كے كہ جو انھيں انبياء كے زمرے ميں شمار نہيں كرتى بلكہ انھيں ايك نيك اور صالح انسان سمجھتى ہے كہ جن كى بہت سى اولاد تھى اور جو صاحب مال شخص تھے_
(۲) سورہ انبياء ايت ۴۱
اس گفتگو ميں قرآن:
اولاً :بارگاہ الہى ميں حضرت ايوب عليہ السلام كا بلند مقام ''عبدنا ''(ہمارابندہ )سے معلوم ہوتا ہے_
ثانياً:اشارتاً حضرت ايوب عليہ السلام كى شديد اور طاقت فرسا تكليف اور فراواں مصيبت كا ذكر ہے ،اس ماجرے كى تفصيل قران ميں نہيں ائي ليكن حديث و تفسير كى مشہور كتب ميں اس كى تفصيل نقل ہوئي ہے _
حضرت ايو ب عليہ السلام كيوں مشكلات ميں گرفتار ہوئے
كسى نے امام جعفر صادق عليہ السلام سے پوچھا:
وہ مصيبت جو حضرت ايوب عليہ السلام كو دامن گير ہوئي ،كس بنا پر تھى ؟(شايد سائل كا خيال تھا كہ ان سے كوئي غلط كام سر زد ہو گيا تھا جس كى وجہ سے اللہ نے انھيں مصيبت ميں مبتلا كر ديا)_
امام عليہ السلام نے اس سوال كا تفصيلى جواب ديا جس كا خلاصہ يوں ہے :
ايوب عليہ السلام كفران نعمت كى وجہ سے ان عظيم مصائب ميں گرفتا رنہيں ہوئے بلكہ اس كے بر عكس شكر نعمت كى وجہ سے ہوئے، كيونكہ شيطان نے بارگاہ خدا ميں عرض كى كہ يہ جو ايوب تيرا شكر گزار ہے وہ فراواں نعمتوں كى وجہ سے ہے كہ جو تونے اسے دى ہيں ، اگر يہ نعمتيں اس سے چھين لى جائيں تو يقينا وہ كبھى شكر گزار بندہ نہيں ہو گا_
اس بنا پر كہ سارى دنيا پر ايوب عليہ السلام كا خلوص واضح ہو جائے اور انھيں عالمين كے لئے نمونہ قرار ديا جائے تاكہ لوگ نعمت اور مصيبت ہر دوعالم ميں شاكر و صابر وہيں _اللہ نے شيطان كو اجازت دى كہ وہ حضرت ايوب عليہ السلام كى دنيا پر قبضہ كر لے، شيطان نے اللہ سے خواہش كى ايوب كا فراواں مال و دولت ،ان كى كھيتياں ،بھيڑ بكرياں اور ال اولاد سب ختم ہو جائے _افتيں اور مصيبتيں ائيں اور ديكھتے ہى ديكھتے سب كچھ تباہ و برباد ہو گيا ليكن نہ صرف يہ كہ ايوب عليہ السلام كے شكر ميں كمى نہيں ائي بلكہ اس ميں اور اضافہ ہو
گيا_خدا سے شيطان نے خواہش كى كہ اب اسے ايوب عليہ السلام كے بدن پر بھى مسلط كردے اور وہ اس طرح بيمار ہو جائيں كہ ان كا بدن شدت درد كى لپيٹ ميں اجائے اور وہ بيمارى كے بستر كا اسير ہوجائے ليكن اس چيز نے بھى ان كے مقام شكر ميں كمى نہ كى _
پھر ايك ايسا واقعہ پيش ايا كہ جس نے ايوب عليہ السلام كا دل توڑ ديا اور ان كى روح كو سخت مجروح كيا، وہ يہ كہ نبى اسرائيل كے راہبوں كى ايك جماعت انھيں ديكھنے ائي اور انھوں نے كہا كہ تونے كون سا گناہ كيا ہے جس كى وجہ سے اس درد ناك عذاب ميں مبتلا ہے؟ايوب عليہ السلام نے جواباً كہا: ميرے پرور دگار كى قسم كہ مجھ سے كوئي غلط كام نہيں ہوا ميں ہميشہ اللہ كى اطاعت ميں كوشاں رہا ہوں اور ميں نے جب بھى كوئي لقمہ غذا كا كھايا ہے كوئي نہ كوئي يتيم و بے نوا ميرے دسترخوان پر ہوتا تھا_
يہ ٹھيك ہے كہ ايوب عليہ السلام دوستوں كى اس شماتت پر ہر دوسرى مصيبت سے زيادہ دكھى ہوئے پھر بھى صبر كا دا من نہ چھوڑا اور شكر كے صفاف و شريں پانى كو كفران سے الودہ نہ كيا،صرف بارگاہ خدا كى طرف رخ كيا اور مذكورہ جملہ عرض كيا اور چونكہ اپ اللہ كے امتحانوں سے خوب عہدہ بر اہوئے لہذا اللہ نے اپنے اس شاكر و صابر بندے پر پھر اپنى رحمت كے دروازے كھول ديئے اور كھوئي ہوئي نعمتيں يكے بعد ديگرے پہلے سے بھى زيادہ انھيں عطا كيں تاكہ سب لو گ صبر و شكر كا نيك انجام ديكھ ليں _
بہرحال كہتے ہيں كہ ان كى بيمارى اور ناراحتى سات سال تك رہى اور ايك روايت كے مطابق سترہ برس تك رہى ،يہاں تك كہ اپ كے نزديك ترين ساتھى بھى ساتھ چھوڑ گئے ،صرف ايك بيوى نے وفا ميں استقامت كى اور يہ چيز خود ايك شاہد ہے بعض بيويوں كى وفادارى پر_
سب سے بڑا غم دشمنوں كى شماتت
ليكن حضرت ايوب عليہ السلام كو جس چيز سے زيادہ دكھ ہوتا تھا وہ دشمنوں كى شماتت تھي،اسى لئے ايك حديث ميں ہے كہ جب حضرت ايوب عليہ السلام كو كھوئي ہوئي صحت و سلامتى پھر مل گئي اور رحمت الہى كے
دروازے ان كے لئے كھل گئے تو لوگوں نے اپ سے سوال كيا كہ سب سے شديد درداپ كو كون سا تھا؟تواپ نے كہا:دشمنوں كى شماتت _
آخرم كار حضرت ايوب عليہ السلام ازمائش الہى كى اس گرم بھٹى سے صحيح و سالم باہر نكل ائے اور پھر رحمت خدا كا اغاز ہوا،انھيں حكم ديا گيا كہ'' اپناپاو ں زمين پر مارو''تو پانى كا چشمہ ابل پڑے گا كہ جو تيرے نہانے كے لئے ٹھنڈا بھى ہوگا اور تيرے پينے كے لئے عمدہ بھي_(۱)
وہى خدا جس نے خشك اور تپتے بيابان ميں شير خوار اسماعيل كى ايڑيوں كے نيچے چشمہ پيدا كر ديا ،وہى خدا كہ ہر حركت و سكون اور ہر نعمت و عنايت جس كى طرف سے ہے،اس نے يہ فرمان ايوب عليہ السلام كے لئے بھى صادر فرمايا ،پانى كا چشمہ ابلنے لگا،ٹھنڈا اور ميٹھا چشمہ جو اندرونى و بيرونى سب بيماريوں كے لئے شفا بخش تھا_
بعض كا خيال ہے كہ اس چشمے ميں ايك طرح كا معدنى پانى تھا جو پينے كے لئے بھى اچھا تھا اور بيماريوں كو درو كرنے كے لئے بھى مو ثر تھا ،بہر حال كچھ بھى تھا ايك صابر و شاكر بنى كے لئے اللہ كا لطف و كرم تھا_
پہلى اور اہم ترين خدائي نعمت صحت تھى ،جب وہ ايوب عليہ السلام كى طرف لوٹ ائي تو دوسرى نعمتوں كے لوٹنے كى نوبت ائي ،اس سلسلے ميں قران كہتا ہے :''ہم نے اسے اس كے گھر والے بخش ديئے_ اور ان كے ساتھ ان كے مانند بھى قرا ر ديئے _تاكہ ہمارى طرف سے رحمت ہو اور صاحبان فكر و نظر كے لئے نصيحت بھى ''_(۲)
ان كا گھر انہ ان كے پاس واپس ايا ،اس سلسلے ميں مختلف تفسيريں موجود ہيں ،مشہور يہ ہے كہ وہ مر چكے تھے اور اللہ نے انھيں پھر زندگى دي_
____________________
(۱)سورہ ص ايت ۴۲
(۲)سورہ ص ايت ۴۳
ليكن بعض نے لكھا ہے كہ حضرت ايوب عليہ السلام كى طويل بيمارى كے باعث وہ ادھر ادھر بكھر چكے تھے جب حضرت ايوب عليہ السلام صحت ياب ہوگئے تو وہ پھر اپ كے گرد ا گردجمع ہوگئے _
كچھ لوگوں نے يہ احتمال بھى ذكر كيا ہے كہ وہ سب يا ان ميں سے بعض افراد بھى طرح طرح كى بيماريوں ميں مبتلا ہوگئے تھے رحمت الہى ان كے شامل حال ہوئي وہ سب رو بصحت ہوئے اور پروانوں كى طرح وجود پدر كى شمع كے گرد جمع ہوئے _
''اور ان كے ساتھ ان كے مانند بھى قرار ديئے ''يہ اس طرف اشارہ ہے كہ اللہ نے ان كے گھر كو پہلے سے بھى زيادہ اباد اور پر رونق كيا اور ايوب عليہ السلام كو مزيد بيٹے عطا كئے _
قران ميں اگر چہ حضرت ايوب عليہ السلام كے مال و دولت كے بارے ميں بات نہيں كى گئي ليكن مو جودقرائن سے معلوم ہوتا ہے كہ اللہ نے پھر اپ كو مال ودولت بھى فراواں تر عطا فرمايا_
حضرت ايوب عليہ السلام كى قسم
اب صرف ايك مشكل ايوب عليہ السلام كے لئے باقى تھى ،وہ قسم جو انھوں نے اپنى بيوى كے بارے ميں كھائي تھى اور وہ يہ تھى كہ انھوں نے ان سے كوئي خلاف مرضى كام ديكھا تھا لہذا انھوں نے اس بيمارى كى حالت ميں قسم كھائي كہ جس وقت ان ميں طاقت پيدا ہو گئي تو وہ اسے ايك سويا اس سے كچھ كم كوڑے ماريں گے،ليكن صحت يابى كے بعد وہ چاہتے تھے _
كہ اس كى خدمات اور وفاداريوں كا لحاظ ركھتے ہوئے اسے معاف كرديں ليكن قسم اور خدا كے نام كا مسئلہ درميان ميں تھا_
خدانے يہ مشكل بھى ان كے لئے حل كر دى ،جيسا كہ قران كہتا ہے كہ ان سے فرمايا گيا:''گندم كى شاخوں (يا اسى قسم كى كسى چيز ) كى ايك مٹھى بھر لو اور اس كے ساتھ مارو اور اپنى قسم نہ توڑو ''_(۱)
____________________
(۱)سورہ ص ايت ۴۴
حضرت ايوب عليہ السلام كى بيوى كا نام ايك روايت كے مطابق ''ليا'' بنت يعقوب تھا ،اس بارے ميں كہ اس سے كون سى غلطى ہوئي تھى مفسرين كے درميان بحث ہے _
مشہورترين مفسر ،ابن عباس سے نقل ہوا ہے كہ شيطان يا (كوئي شيطان صفت )ايك طبيب كى صورت ميں ايوب عليہ السلام كى بيوى كے پاس ايا اس نے كہا :ميں تيرے شوہر كا علاج كرتا ہوں صرف اس شرط پر كہ جس وقت وہ ٹھيك ہو جائے تو وہ مجھ سے يہ كہہ دے كہ صرف ميں نے اسے شفا ياب كيا ہے،اس كے علاوہ ميں اور كوئي اجرت نہيں چاہتا _ان كى بيوى نے جو ان كى مسلسل بيمارى كى وجہ سے سخت پريشان تھى اس شرط كو قبول كر ليا اور حضرت ايوب عليہ السلام كے سامنے يہ تجويز پيش كي،حضرت ايوب عليہ السلام جو شيطان كے جال كو سمجھتے تھے ،بہت ناراض ہوئے اور قسم كھائي كہ وہ اپنى بيوى كو سزا ديں گے_
بعض نے كہا ہے كہ جناب ايوب عليہ السلام نے اسے كسى كام كے لئے بھيجا تھا تو اس نے دير كردي، حضرت ايوب عليہ السلام چونكہ بيمارى سے تكليف ميں تھے ،بہت پريشان ہوئے اور اس طرح كى قسم كھائي_ بہر حال اگر وہ ايك طرف سے اس قسم كى سزا كى مستحق تھى تو دوسرى طرف اس طويل بيمارى ميں اس كى وفاداري، خدمت اور تيماردارى اس قسم كے عفو و در گذر كا استحقاق بھى ركھتى تھى _
يہ ٹھيك ہے كہ گندم كى شاخوں كے ايك دستہ يا خوشہ خرما كى لكڑيوں سے مارنا ان كى قسم كا واقعى مصداق نہيں تھا ليكن خدا كے نام كے احترام كى حفاظت اور قانون شكنى پھيلنے سے روكنے كے لئے انھوں نے يہ كام كيا اور يہ بات صرف اس صورت ميں ہے كہ كوئي مستحق عفو و در گذر ہو،اور انسان چاہے كہ عفو و درگذر كے باجود قانون كے ظاہر كو بھى محفوظ ركھے ورنہ ايسے مواقع پر جہاں استحقاق عفو و بخشش نہ ہو وہاں ہر گز اس كام كى اجازت نہيں ہے_قران ميں اس واقعہ كے اخرى جملے ميں جو اس داستان كى ابتداء و انتہاكا نچوڑ ہے ،فرمايا گيا ہے:''ہم نے اسے صابر و شكيبا پايا ،ايوب كتنا اچھا بندہ تھا جو ہمارى طر ف بہت زيادہ باز گشت كرنے والا تھا''_(۱)
____________________
(۱)سورہ ص ايت ۴۴
يہ بات كہے بغير ہى ظاہر ہے كہ ان كا خدا كى بارگاہ ميں دعاكرنا اور شيطان كو وسوسوں اور درد ،تكليف اور بيمارى كے درو ہونے كا تقاضا كرنا،مقام صبر و شكيبائي كے منافى نہيں اور وہ بھى سات سال اور ايك روايت كے مطابق اٹھارہ سال تك بيمارى اور فقر و نادارى كے ساتھ نبھا نے اور شاكر رہنے كے بعد_
قابل توجہ بات يہ ہے كہ اس جملے ميں حضرت ايوب عليہ السلام كى تين اہم صفات كے ساتھ تو صيف كى گئي ہے كہ جو جس كسى ميں بھى پائي جائيں وہ ايك انسان كا مل ہوتا ہے _
۱_مقام عبوديت۲_صبر و استقامت۳_پے در پے خدا كى طرف باز گشت_
حضرت ايوب عليہ السلام قرآن اور توريت ميں
اس عظيم پيغمبر كا پاك چہرہ ،جو صبر و شكيبائي كا مظہر ہے ،يہاں تك كہ صبر ايوب عليہ السلام سب كے لئے ضرب المثل ہو گيا ہے ،قران مجيد ميں ہم نے ديكھ ليا ہے كہ خدا نے كس طرح سے اس داستان كى ابتدااور انتہا ميں ان كى تعريف كى ہے_
ليكن افسوس كے ساتھ كہنا پڑتا ہے كہ اس عظيم پيغمبر كى سر گزشت بھى جاہلوں يا دانا دشمنوں كى دستبرد سے محفوظ نہ رہى اور ايسے ايسے خرافات ان پر باندھے گئے جن سے ان كى مقدس و پاك شخصيت منزہ ہے ،ان ميں سے ايك يہ ہے كہ بيمارى كے وقت حضرت ايوب عليہ السلام كے بدن ميں كيڑے پڑگئے تھے اور ان ميں بدبو پيدا ہو گئي تھى كہ بستى والوں نے انھيں ابادى سے باہر نكال ديا _
بلا شك و شبہ اس قسم كى روايت جعلى اور من گھڑت ہے ،چاہے وہ حديث كى كتابوں كے اندر ہى كيوں نہ ذكر ہوئي ہوں ،كيونكہ پيغمبر وں كى رسالت كا تقاضا يہ ہے كہ لوگ ہر وقت اور ہر زمانے ميں ميل و رغبت كے ساتھ ان سے مل سكيں اور جو بات لوگوں كے تنفر و بے زارى اور افراد كے ان سے دور رہنے كا موجب بنے ،چاہے وہ تنفر بيمارياں ہوں يا عيوب جسمانى يا اخلاقى خشونت و سختى ،ان ميں نہيں ہوں گي،كيونكہ يہ چيزيں ان كے فلسفہ رسالت سے تضاد ركھتى ہيں _
ليكن توريت ميں ايك مفصل قصہ ''ايوب''كے بارے ميں نظر اتا ہے جو ''مزامير داو د ''سے پہلے موجود ہے ،يہ كتاب ۴۲/فصل پر مشتمل ہے اور ہر فصل ميں تفصيلى بحث موجود ہے ،بعض فصول ميں تو انتہائي تكليف دہ مطالب نظر اتے ہيں ،ان ميں سے تيسرى فصل ميں ہے كہ :
ايوب عليہ السلام نے شكايت كے لئے زبان كھولى اور بہت زيادہ شكوہ كيا،جب كہ قران نے ان كى صبر وشكيبائي كى تعريف كى ہے _
حضرت يونس عليہ السلام
''يونس ''''متي''كے فرزند ہيں ''ذوالنون''(مچھلى والا)اپ كا لقب ہے اور يہ لقب اس بناپر ہے كہ چونكہ ان كى سر گذشت ،جيسا كہ ہم بيان كريں گے،ايك مچھلى كے ساتھ تعلق ركھتى ہے ،اپ ان مشہور پيغمبروں ميں سے ہيں جو حضرت موسى عليہ السلام اور حضرت ہارون عليہ السلام كے بعد اس دنيا ميں ائے _
بعض نے انھيں حضرت ہود عليہ السلام كى اولاد ميں سے قرار دياہے اور ان كى ماموريت قوم ثمود كے باقى ماندہ لوگوں كى ہدايت قرار ديا ہے _
ان كے ظہور كا مقام عراق كا ايك علاقہ ہے جس كانام نينوا تھا_
بعض نے ان كا ظہور ۸۲۵ قبل مسيح لكھا ہے اور اب بھى كوفہ كے نزديك شط فرات كے كنارے ''يونس''كے نام كى معروف قبر موجود ہے_
بعض كتابوں نے لكھا ہے كہ اپ بنى اسرائيل كے ايك پيغمبر تھے جو حضرت سليمان عليہ السلام كے بعد اہل نينوا كى طرف مبعوث ہوئے_(۱)
____________________
(۱)كتاب ''يوناہ '' ميں جو عہد عتيق (توريت ) كى كتابوں ميں سے ہے _''يونس''كے بارے ميں تفصيلى ذكر''يوناہ بن متي''كے نام سے كيا گيا ہے _
اس كے مطابق وہ اس كے لئے مامور ہوئے تھے كہ عظيم شہر نينوا جائيں اور لوگوں كى شرارت كے خلاف قيام كريں ،
يونس عليہ السلام امتحان كى بھٹى ميں
يونس(ع) نے بھى ديگر انبياء كى طرح اپنى دعوت كى ابتداء توحيد اور بت پرستى كے خلاف قيام سے شروع كي_اس كے بعد ان برائيوں كے خلاف نبرد آزمائي كى جو اس ماحول ميں رائج تھے_
ليكن وہ متعصب قوم،جو آنكھيں اور كان بند كركے،اپنے بوڑھوں كى تقليد كررہى تھي_ان كى دعوت كو تسليم كرنے پر آمادہ نہ ہوئي_
قرآن ميں حضرت مريم(ع) سے فرشتوں كى گفتگو كى تفصيل بيان كى گئي ہے_ انہو ں نے حضرت مريم(ع) كو خدا كى طرف سے برگزيدہ ہونے كى بشارت دينے كے بعد كہا:''اب پروردگار كے حضور خضوع كرو اور سجدہ و قيام بجالائو''_(۱)
يہ درحقيقت اس عظيم نعمت پر شكرانہ تھا_
حضرت عيسى عليہ السلام كى ولادت كا سراغاز
قرآن حضرت عيسى عليہ السلام كى ولادت كے واقعہ كو اس طرح بيان كرتا ہے:
''آسمانى كتاب قرآن ميں مريم(ع) كى بات كرو كہ جس وقت اس نے اپنے گھروالوں سے جدا ہوكر مشرقى حصہ ميں قيام كيا''_(۲)
درحقيقت وہ ايك ايسى خالى اور فارغ جگہ چاہتى تھى جہاں پر كسى قسم كا كوئي شور و غل نہ ہوتا كہ وہ اپنے خدا سے راز و نياز ميں مشغول رہ سكے،اور كوئي چيز اسے ياد محبوب سے غافل نہ كرے،اسى مقصد كے لئے ا س نے عظيم عبادت گاہ بيت المقدس كى مشرقى سمت كو جو شايد زيادہ آرام و سكون كى جگہ تھى يا سورج كى روشنى كے لحاظ سے زيادہ پاك و صاف اور زيادہ مناسب تھي،انتخاب كيا_
اس وقت مريم(ع) نے''اپنے اور دوسروں كے درميان ايك پردہ ڈال ليا''_(۳)
تاكہ اس كى خلوت گاہ ہر لحاظ سے كامل ہوجائے_
____________________
۷ ديگر قرآنى واقعات
ديگر قرآنى واقعات
حضرت لقمان كا نام سورہ لقمان كى دوايا ت ميں ايا ہے ،ايا وہ پيغمبر تھے يا صرف ايك دانا اور صاحب حكمت انسان تھے ؟قران ميں اس كى كوئي وضاحت نہيں ملتى ،ليكن ان كے بارے ميں قران كالب ولہجہ نشان دہى كرتا ہے كہ وہ پيغمبر نہيں تھے كيونكہ عام طور پر پيغمبروں كے بارے ميں جو گفتگو ہوتى ہے اس ميں رسالت; توحيد كى طرف دعوت ،شرك اور ماحول ميں موجود بے راہ روى سے نبر دازمائي ،رسالت كى ادائيگى كے سلسلہ ميں كسى قسم كى اجرت كا طلب نہ كرنا نيز امتوں كو بشارت و انذار كے مسائل وغيرہ ديكھنے ميں اتے ہيں ،جب كہ لقمان كے بارے ميں ان مسائل ميں سے كوئي بھى بيان نہيں ہوا، صرف انكے پند نصائح بيان ہوئے ہيں جو اگر چہ خصوصى طورپر تو ان كے اپنے بيٹے كے لئے ہيں ليكن ان كا مفہوم عمومى حيثيت كا حامل ہے اور يہى چيز اس بات پر گواہ ہے كہ وہ صرف ايك مرد حكيم و دانا تھے _
جو حديث پيغمبر گرامى اسلام (ص) سے نقل ہوئي ہے اس طرح درج ہے :
'' سچى بات يہ ہے كہ لقمان پيغمبر نہيں تھے بلكہ وہ اللہ كے ايسے بندے تھے جو زيادہ غور وفكر كيا كرتے ، ان كا ايمان و يقين اعلى درجے پر تھا، خدا كو دوست ركھتے تھے اور خدا بھى انھيں دوست ركھتا تھا اور اللہ نے انھيں اپنى نعمتوں سے مالا مال كرديا تھا ''_
بعض تواريخ ميں ہے لقمان مصر اور سوڈان كے لوگوں ميں سے سياہ رنگ كے غلام تھے باوجود يكہ ان كا چہرہ خوبصورت نہيں تھا ليكن روشن دل اور مصفا روح كے مالك تھے وہ ابتدائے زندگى سے سچ بولتے اورا
مانت كو خيانت سے الودہ نہ كرتے اور جو امور ان سے تعلق نہيں ركھتے تھے ان ميں دخل اندازى نہيں كرتے تھے _
بعض مفسرين نے ان كى نبوت كا احتما ل ديا ہے ليكن جيسا كہ ہم كہہ چكے ہيں اس پر كوئي دليل موجود نہيں ہے بلكہ واضح شواہد اس كے خلاف موجود ہيں _
يہ تمام حكمت كہاں سے
بعض روايات ميں ايا ہے كہ ايك شخص نے لقمان سے كہا كيا ايسا نہيں ہے كہ اپ ہمارے ساتھ مل كر جانور چراياكرتے تھے ؟
اپ نے جواب ميں كہا ايسا ہى ہے اس نے كہا تو پھر اپ كو يہ سب علم و حكمت كہاں سے نصيب ہوئے ؟
لقمان نے فرمايا:اللہ كى قدر ت،امانت كى ادائيگى ،بات كى سچائي اور جو چيز مجھ سے تعلق نہيں ركھتى اس كے بارے ميں خاموشى اختيار كرنے سے
حديث بالا كے ذيل ميں انحضرت سے ايك روايت يوں بھى نقل ہوئي ہے كہ :
''ايك دن حضرت لقمان دوپہر كے وقت ارام فرمارہے تھے كہ اچانك انھوں نے ايك اواز سنى كہ اے لقمان كيا اپ چاہتے ہيں كہ خداوند عالم اپ كو زمين ميں خليفہ قرار دے تاكہ لوگوں كے درميان حق كے ساتھ فيصلہ كريں ؟
لقمان نے اس كے جواب ميں كہا كہ اگر ميرا پروردگار مجھے اختيار دےدے تو ميں عافيت كى راہ قبول كروں گا كيونكہ ميں جانتا ہوں كہ اگر اس قسم كى ذمہ دارى ميرے كندھے پر ڈال دے گا تو يقينا ميرى مدد بھى كرے گا اور مجھے لغزشوں سے بھى محفوظ ركھے گا _
فرشتوں نے اس حالت ميں كہ لقمان انھيں ديكھ رہے تھے كہا اے لقمان كيوں (ايسا نہيں كرتے؟)
تو انھوں نے كہا اس لئے كيونكہ لوگوں كے درميان فيصلہ كرنا سخت ترين منزل اور اہم ترين مرحلہ ہے
اور ہر طرف سے ظلم و ستم كى موجيں اس كى طرف متوجہ ہيں اگر خدا انسان كى حفاظت كرے تو وہ نجات پاجائے گا ليكن اگر خطا كى راہ پر چلے تو يقينا جنت كى راہ سے منحرف ہوجائے گا اور جس شخص كا سر دنيا ميں جھكا ہوا اور اخرت ميں بلند ہو اس سے بہتر ہے كہ جس كا سر دنياميں بلند اور اخرت ميں جھكا ہو اہو اور جو شخص دنيا كو اخرت پر ترجيح دے تو نہ تو وہ دنيا كو پاسكے گا اور نہ ہى اخرت كو حاصل كر سكے گا _
فرشتے لقمان كى اس دلچسپ گفتگو اور منطقى باتوں سے متعجب ہوئے ،لقمان نے يہ بات كہى اور سوگئے اور خدانے نور حكمت ان كے دل ميں ڈال ديا جس وقت بيدار ہوئے تو ان كى زبان پر حكمت كى باتيں تھيں ''_
اصحاب كہف
چند بيدار فكر اور باايمان نوجوان تھے ،وہ نازو نعمت كى زندگى بسر كر رہے تھے ،انھوں نے اپنے عقيدے كى حفاظت اور اپنے زمانے كے طاغوت سے مقابلے كے لئے ان سب نعمتوں كو ٹھوكر ماردى پہاڑ كے ايك ميں جا پناہ لى ،وہ جس ميں كچھ بھى نہ تھا ،يہ اقدام كر كے انھوں نے راہ ايمان ميں اپنى استقامت اور پا مردى ثابت كردى _
يہ بات لائق توجہ ہے كہ اس مقام پر قران فن فصاحت و بلاغت كے ايك اصول سے كام ليتے ہوئے پہلے ان افراد كى سر گزشت كو اجمالى طورپر بيان كرتا ہے تاكہ سننے والوں كا ذہن مائل ہو جائے ،اس سلسلے ميں چار ايات ميں واقعہ بيان كيا گيا ہے اور اس كے بعد ميں تفصيل بيان كى گئي ہے _
اصحاب كہف كى زندگى كا اجمالى جائزہ
پہلے فرمايا گيا ہے :''كيا تم سمجھتے ہو كہ اصحاب كہف و رقيم ہمارى عجيب ايات ميں سے تھے ''_(۱)
زمين و اسمان ميں ہمارى بہت سى عجيب ايا ت ہيں كہ جن ميں سے ہر ايك عظمت تخليق كا ايك نمونہ ہے ،خود تمہارى زندگى ميں عجيب اسرار موجود ہيں كہ جن ميں سے ہر ايك تمہارى دعوت كى حقانيت كى نشانى ہے اور اصحاب كہف كى داستان مسلما ً ان سے عجيب تر نہيں ہے _
____________________
(۱)سورہ كہف ايت ۹
''اصحاب كہف''(اصحاب )كو يہ نام اس لئے ديا گيا ہے كيونكہ انھوں نے اپنے جان بچانے كے لئے ميں پناہ لى تھى جس كى تفصيل انكى زندگى كے حالات بيان كرتے ہوئے ائے گى _
ليكن ''رقيم ''دراصل ''رقم ''كے مادہ سے'' لكھنے ''كے معنى ميں ہے ،زيادہ تر مفسرين كا نظريہ ہے كہ يہ اصحاب كہف كا دوسرا نام ہے كيونكہ اخر كا ر اس كا نام ايك تختى پر لكھا گيا اور اسے كے دروزاے پر نصب كيا گيا _
بعض اسے اس پہاڑ كا نام سمجھتے ہيں كہ جس ميں يہ تھى اور بعض اس زمين كانام سمجھتے ہيں كہ جس ميں وہ پہاڑ تھا بعض كا خيال ہے كہ يہ اس شہر كانام ہے جس سے اصحاب كہف نكلے تھے ليكن پہلا معنى زيادہ صحيح معلوم ہوتا ہے _(۱)
اس كے بعد فرمايا گيا ہے :
''اس وقت كا سوچو جب چند جوانوں نے ايك ميں جاپناہ لي''_(۲)(۳)
____________________
(۱)رہا بعض كا يہ احتمال كہ اصحاب كہف اور تھے اور اصحاب رقيم اور تھے بعض روايت ميں ان كے بارے ميں ايك داستان بھى نقل كى گئي ہے ،يہ ظاہر ايت سے ہم اہنگ نہيں ہے كيونكہ زير قران كا ظاہرى مفہوم يہ ہے كہ اصحاب كہف و رقيم ايك ہى گروہ كا نام ہے يہى وجہ ہے كہ ان دو الفاظ كے استعمال كے بعد صرف ''اصحاب كہف ''كہہ كر داستان شروع كى گئي ہے اور انكے علاوہ ہر گز كسى دوسرے گروہ كا ذكر نہيں كيا گيا ،يہ صورت حال خود ايك ہى گروہ ہونے كى دليل ہے
(۲)سورہ كہف آيت۱۰
(۳)جيسا كہ قرآن ميں موجود ہے: ''اذا وى الفتية الى الكهف''
(فتية) فتى كى جمع ہے_در اصل يہ نوخيز و سرشار جوان كے معنى ميں ہے البتہ كبھى كبھار بڑى عمر والے ان افراد كے لئے بھى بولاجاتا ہے كہ جن كے جذبے جوان اور سرشار ہوں _اس لفظ ميں عام طورپر جوانمردى حق كے لئے ڈٹ جانے اور حق كے حضور سر تسليم خم كرنے كا مفہوم بھى ہوتا ہے_
اس امر كى شاہد وہ حديث ہے جو امام صادق عليہ السلام سے نقل ہوئي ہے_
امام(ع) نے اپنے ايك صحابى سے پوچھا:''فتى ''كس شخص كو كہتے ہيں ؟
جب وہ ہر طرف سے مايوس تھے،انہوں نے بارگاہ خدا كا رخ كيا اور عرض كي:''پروردگاراہميں اپنى رحمت سے بہرہ ور كر''_(۱)
اور ہمارے لئے راہ نجات پيدا كردے_
ايسى راہ كہ جس سے ہميں اس تاريك مقام سے چھٹكارا مل جائے اور تيرى رضا كے قريب كردے_ ايسى راہ كہ جس ميں خير و سعادت ہو اور ذمہ دارى ادا ہوجائے_
ہم نے ان كى دعا قبو ل كي''ان كے كانوں پر خواب كے پردے ڈال ديئے اور وہ سالہا سال تك ميں سوئے رہے''_
''پھر ہم نے انہيں اٹھايا اور بيدار كيا تا كہ ہم ديكھيں كا ان ميں سے كون لوگ اپنى نيند كى مدت كا بہتر حساب لگاتے ہيں ''_(۲)
داستان اصحاب كہف كى تفصيل
جيسا كہ ہم نے كہا ہے اجمالى طور پر واقعہ بيا ن كرنے كے بعد ميں اس كى تفصيل بيان كى گئي ہے_ گفتگو كا آغازيوں كيا گياہے: ''ان كى داستان،جيسا كہ ہے،ہم تجھ سے بيان كرتے ہيں ''_(۳)
ہم اس طرح سے واقعہ بيان كرتے ہيں كہ وہ ہر قسم كى فضول بات بے بنياد چيزوں اور غلط باتو ں سے پاك ہوگا_
____________________
۸ حضرت رسول اكرم (ص)
حضرت رسول اكرم (ص)
نبوت سے پہلے آنحضرت (ص) كس دين پر تھے؟
اس بات ميں تو شك كى گنجائش ہى نہيں كہ بعثت سے پہلے آنحضرت(ص) نے نہ تو كسى بت كو سجدہ كيا اور نہ ہى تو حيد كى راہ سے سر موانحراف كيا،ليكن سوال يہ پيدا ہوتا ہے كہ وہ كس دين پر پابندتھے؟ تو اس بارے ميں علماء كى آراء مختلف ہيں _
بعض كہتے ہيں كہ آپ(ص) دين مسيح(ع) پر تھے،كيونكہ آنحضرت(ص) كى بعثت سے پہلے جو مستقل،قانونى اور غير منسوخ دين تھا وہ حضرت عيسى (ع) كا دين ہى تھا_
بعض علماء آپ(ص) كو دين ابراہيمى پرپا بند سمجھتے ہيں _ كيونكہ جناب ابراہيم(ع) شيخ الانبياء اور ابوالانبياء تھے اور قرآن كى بعض آيات ميں بھى دين اسلام كا دين ابراہيم(ع) كے نام سے تعارف كروايا گيا ہے_(۱)
بعض علماء نے اس بارے ميں اپنى لا علمى كا اظہار كيا ہے اور دليل يہ دى ہے كہ يقينا آپ(ص) كسى دين پر تو پا بند تھے ليكن يہ نہيں معلوم كہ وہ كونسا دين تھا؟
____________________
(۱)''ملة ابيكم ابراھيم'' (سورہ حج ايت ۷۸)
اگر چہ ان احتمالات ميں سے ہر ايك كى اپنى جگہ پر دليل تو ہے ليكن مسلم كوئي بھى نہيں _ البتہ ان تينوں اقوال سے ہٹ كر ايك چوتھااحتمال زيادہ مناسب معلوم ہوتا ہے اور وہ يہ كہ''آنحضرت(ص) خداوند عالم كى طرف سے اپنے لئے ايك خاص پروگرام ركھتے تھے،اور اسى پر عمل پيرا تھے اور درحقيقت يہ آپ(ص) كى ذات كے ليے مخصوص ايك دين تھا،جب تك كہ اسلام نازل نہيں ہوگيا''_
اس قول پر وہ حديث شاہد ہے جو نہج البلاغہ ميں موجود ہے :
''جس وقت سے پيغمبر(ص) كى دودھ بڑھائي ہوئي،اللہ نے اپنے فرشتوں ميں سے ايك عظيم فرشتے كو آپ(ص) كے ساتھ ملاديا،جوشب وروز مكارم الاخلاق اور نيك راستوں پر آپ(ص) كو اپنے ساتھ ركھتا''_
اس قول كا ايك اور گواہ يہ ہے كہ كسى بھى تاريخ ميں نہيں ملتاكہ پيغمبر اسلام(ص) يہوديا نصارى ياكسى اور مذہب كے عبادت خانوں ميں عبادت كے ليے تشريف لے گئے ہوں ،نہ تو كفار كے ساتھ مل كر كبھى كسى بت خانے ميں گئے اور نہ ہى اہل كتاب كے ساتھ كسى عبادت خانے ميں بلكہ ہميشہ راہ توحيد پر گامزن رہے اور آپ(ص) اخلاقى اصولوں اور عبادت الہى كے سخت پابند تھے_
بحار الانوار ميں علامہ مجلسي كے مطابق ،بہت سى اسلامى روايات اس بات كا پتہ ديتى ہيں كہ پيغمبر اسلام(ص) اپنى عمر كے آغاز ہى سے روح القدس كے ساتھ مو يد تھے اور اس تائيد كے ساتھ يقيناوہ روح القدس كى راہنمائي كے مطابق عمل كيا كرتے تھے_
علامہ مجلسي ذاتى طور پر اس بات كے معتقد ہيں كہ پيغمبر اسلام(ص) رسالت كے مرتبے پر فائز ہونے سے پہلے مقام نبوت پر فائز تھے،اور كبھى آپ(ص) ان كى آواز سنا كرتے تھے اور كبھى سچے خواب كى صورت ميں آپ(ص) پر خدائي الہام ہوا كرتاتھا_ چاليس سال كے بعد اعلان رسالت كا حكم ہوا اور اسلام و قرآن با قاعدہ طور پر آپ(ص) پر نازل ہوئے_
علامہ مجلسي نے اپنے اس مدعا پر چھ دلائل ذكر كئے ہيں جن ميں سے كچھ ان دلائل كے ساتھ ملتے جلتے اور ہم آہنگ ہيں جو ہم اوپر بيان كرچكے ہيں _
آغاز وحي
پيغمبر اكرم (ص) كوہ حرا پر گئے ہوئے تھے كہ جبرئيل آئے اور كہا : اے محمد پڑھ:پيغمبر (ص) نے فرمايا ميں پڑھا ہوانہيں ہوں _ جبرئيل نے انہيں آغوش ميں لے كردبايا اور پھر دوبارہ كہا : پڑھ، پيغمبر (ص) نے پھر اسى جواب كو دہرايا_ اس كے بعد جبرئيل نے پھر وہى كام كيا اور وہى جواب سنا ، اور تيسرى باركہا: ( اقراباسم ربك الذى خلق)(۱)
جبرئيل (ع) يہ بات كہہ كر پيغمبر (ص) كى نظروں سے غائب ہوگئے رسول خدا (ص) جو وحى كى پہلى شعاع كو حاصل كرنے كے بعد بہت تھكے ہوئے تھے خديجہ كے پاس آئے اور فرمايا : '' زملونى ودثرونى '' مجھے اڑھادو اور كوئي كپڑا ميرے اوپر ڈال دوتاكہ ميں آرام كروں _
''علامہ طبرسي'' بھى مجمع البيان ميں يہ نقل كرتے ہيں كہ رسو لخدا (ص) نے خديجہ سے فرمايا :
''جب ميں تنہا ہوتا ہوں تو ايك آواز سن كر پريشان ہوجاتاہوں '' _ حضرت خديجہ(ع) نے عرض كيا : خداآپ كے بارے ميں خير اور بھلائي كے سواكچھ نہيں كرے گا كيونكہ خدا كى قسم آپ امانت كو ادا كرتے ہيں اور صلہ رحم بجالاتے ہيں 'اور جوبات كرتے ہيں اس ميں سچ بولتے ہيں _
____________________
(۱) سورہ علق آيت ۱
''خديجہ''(ع) كہتى ہيں : اس واقعہ كے بعد ہم ورقہ بن نوفل كے پاس گئے (نوفل خديجہ كا زاد بھائي اور عرب كے علماء ميں سے تھا )رسول اللہ (ص) نے جو كچھ ديكھا تھا وہ'' ورقہ'' سے بيان كيا '' ورقہ '' نے كہا : جس وقت وہ پكارنے والا آپ كے پاس آئے تو غور سے سنو كہ وہ كيا كہتا ہے ؟ اس كے بعد مجھ سے بيان كرنا_
پيغمبر (ص) نے اپنى خلوت گاہ ميں سنا كہ وہ كہہ رہاہے :
اے محمد كہو :
''بسم اللّه الرحمن الرحيم الحمد للّه رب العالمين الرحمن الرحيم مالك يوم الدين اياك نعبدواياك نستعين اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غيرالمغضوب عليهم ولاالضالين'' _
اور كہو '' لاالہ الاالله '' اس كے بعد آپ ورقہ كے پاس آئے اور اس ماجرے كو بيان كيا _
'' ورقہ '' نے كہا : آپ كو بشارت ہو ' پھر بھى آپ كو بشارت ہو _ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ وہى ہيں جن كى عيسى بن مريم نے بشارت دى ہے' آپ موسى عليہ السلام كى طرح صاحب شريعت ہيں اور پيغمبر مرسل ہيں _ آج كے بعد بہت جلدہى جہاد كے ليے مامور ہوں گے اور اگر ميں اس دن تك زندہ رہا تو آپ كے ساتھ مل كر جہاد كروں گا '' جب '' ور قہ دنيا سے رخصت ہو گيا تو رسول خدا (ص) نے فرمايا:
''ميں نے اس روحانى شخص كو بہشت (برزخى جنت ) ميں ديكھا ہے كہ وہ جسم پر ريشمى لباس پہنے ہوئے تھا' كيونكہ وہ مجھ پر ايمان لايا تھا اور ميرى تصديق كى تھي_ ''(۱)
____________________
(۱)يقينى طورپر مفسرين كے بعض كلمات يا تاريخ كى كتابوں ميں پيغمبر اكرم (ص) كى زندگى كى اس فصل كے بارے ميں ايسے ناموزوں مطالب نظرآتے ہيں جو مسلمہ طور پر جعلي' وضعى ' گھڑى ہوئي روايات اور اسرائيليات سے ہيں ' مثلاًيہ كہ پيغمبر (ص) نزول وحى كے پہلے واقعہ كے بعد بہت ہى ناراحت ہوئے اور ڈرگئے كہ كہيں يہ شيطانى القاآت نہ ہوں ' يا آپ نے كئي مرتبہ
پہلا مسلمان(۱)
اس سوال كے جواب ميں سب نے متفقہ طور پر كہا ہے كہ عورتوں ميں سے جو خاتون سب سے پہلے مسلمان ہوئيں وہ جناب خديجہ(ع) تھيں جو پيغمبر اكرم (ص) كى وفاداراور فدا كار زوجہ تھيں باقى رہا مردوں ميں سے تو تمام شيعہ علماء ومفسرين اور اہل سنت علماء كے ايك بہت بڑے گروہ نے كہا ہے كہ حضرت على (ع) وہ پہلے شخض تھے جنہوں نے مردوں ميں سے دعوت پيغمبر (ص) پر لبيك كہى علماء اہل سنت ميں اس امركى اتنى شہرت ہے كہ ا ن ميں سے ايك جماعت نے اس پر اجماع واتفاق كا دعوى كيا ہے ان ميں سے حاكم نيشاپورى(۲) نے كہا ہے :
مورخين ميں اس امر پر كوئي اختلاف نہيں كہ على ابن ابى طالب اسلام لانے والے پہلے شخص ہيں _ اختلاف اسلام قبول كرتے وقت انكے بلوغ كے بارے ميں ہے _
جناب ابن عبدالبر(۳) لكھتے ہيں : اس مسئلہ پر اتفاق ہے كہ خديجہ(ع) وہ پہلى خاتون ہيں جو خدا اور
____________________
اس بات كا پختہ ارادہ كرليا كہ خود كو پہاڑ سے گراديں ' اور اسى قسم كے فضول اور بے ہودہ باتيں جو نہ تو نبوت كے بلند مقام كے ساتھ سازگار ہيں اور نہ ہى پيغمبر (ص) كى اس عقل اور حد سے زيادہ دانش مندى ' مدبريت ' صبر وتحمل وشكيبائي ' نفس پر تسلط اور اس اعتماد كو ظاہر كرتى ہيں جو تاريخوں ميں ثبت ہے _
ايسا دكھائي ديتا ہے كہ اس قسم كى ضعيف وركيك روايات دشمنان اسلام كى ساختہ وپرداختہ ہيں جن كا مقصد يہ تھا كہ اسلام كو بھى مورد اعتراض قراردے ديں اور پيغمبر اسلام (ص) كى ذات گرامى كو بھى _
(۱)اس سوال كو اكثر مفسرين نے سورہ توبہ ايت۱۰۰''السابقون الاولون''كے ضمن ميں بيان كيا ہے
(۲)مستدرك على صحيحين كتاب معرفت ص۲۲
(۳)استيعاب ،ج ۲ ص۴۵۷
اس كے رسول پر ايمان لائيں اور جو كچھ وہ لائے تھے اسى كى تصديق كى _ پھر حضرت على نے ان كے بعد يہى كام انجام ديا _
(۱)
ابوجعفر الكافى معتزلى لكھتا ہے : تمام لوگوں نے يہى نقل كيا ہے كہ سبقت اسلام كا افتخار على سے مخصوص ہے _(۲) قطع نظر اس كے كہ پيغمبر اكرم (ص) سے،خود حضرت على (ع) سے اور صحابہ سے اس بارے ميں بہت سى روايات نقل ہوئي ہيں جو حد تواتر تك پہنچى ہوئي ہيں ،ذيل ميں چند روايات ہم نمونے كے طور پر نقل كرتے ہيں : پيغمبر اكر م(ص) نے فرمايا :
۱_پہلا شخص جو حوض كوثر كے كنارے ميرے پاس پہنچے گا وہ شخص ہے جو سب سے پہلے اسلام لايا اور وہ على بن ابى طالب ہے_(۳)
۲_ علماء اہل سنت كے ايك گروہ نے پيغمبر اكرم (ص) سے نقل كيا ہے كہ آنحضرت(ص) نے حضرت على (ع) كا ہاتھ پكڑكر فرمايا :
يہ پہلا شخص ہے جو مجھ پر ايمان لايا اور پہلا شخص ہے جو قيامت ميں مجھ سے مصافحہ كرے گا اور يہ ''صديق اكبر'' ہے _(۴)
۳_ابو سعيد خدرى رسول اكرم (ص) سے نقل كرتے ہيں كہ آنحضرت (ص) نے حضرت على عليہ السلام كے دونوں شانوں كے درميان ہاتھ ماركر فرمايا :''اے على (ع) : تم سات ممتاز صفات كے حامل ہو كہ جن كے بارے ميں روز قيامت كوئي تم سے حجت بازى نہيں كرسكتا _ تم وہ پہلے شخص ہو جو خدا پر ايمان لائے اور خدائي پيمانوں كے زيادہ وفادار ہو اور فرمان خداكى اطاعت ميں تم زيادہ قيام كرنيوالے ہو ''(۵)
____________________
(۱)الغدير ج ،۳ص۲۳۷
(۲)الغدير ج ،۳ص۲۳۷
(۳)الغديرميں يہ حديث مستدرك حاكم ج۲ص۶ ۱۳ ،استيعاب ج۲ ص ۴۵۷ اور شرح ابن ابى الحديد ج ۳ ص ۲۵۸ سے نقل كى گئي ہے
(۴) الغدير ہى ميں يہ حديث طبرانى اور بيہقى سے نقل كى گئي ہے نيز بيہقى نے مجمع ميں ، حافظ گنجى نے كفايہ اكمال ميں اور كنز العمال ميں نقل كى ہے
(۵) الغدير ميں يہ حديث حليتہ الاولياء ج اص ۶۶ كے حوالے سے نقل كى گئي ہے
تحريف تاريخ
يہ امر لائق توجہ ہے كہ بعض لوگ ايسے بھى جوايمان اوراسلام ميں حضرت على كى سبقت كا سيدھے طريقے سے تو انكار نہيں كرسكے ليكن كچھ واضح البطلان علل كى بنياد پر ايك اور طريقے سے انكار كى كوشش كى ہے يا اسے كم اہم بنا كر پيش كيا ہے بعض نے كو شش كى ہے ان كى جگہ حضرت ابوبكر كو پہلا مسلمان قرار ديں يہ لوگ كبھى كہتے ہيں كہ على اس وقت دس سال كے تھے لہذا طبعاًنا با لغ تھے اس بناء پر ان كا اسلام ايك بچے كے اسلام كى حيثيت سے دشمن كے مقابلے ميں مسلمانوں كے محاذ كے ليے كوئي اہميت نہيں ركھتا تھا_(۱)
يہ بات واقعاً عجيب ہے اور حقيقت ميں خود پيغمبر خدا پر اعتراض ہے كيونكہ ہميں معلوم ہے كہ يوم الدار(دعوت ذى العشيرہ كے موقع پر )رسول اللہ (ص) نے اسلام اپنے قبيلے كے سامنے پيش كيا اور كسى نے حضرت علي(ع) كے سوا اسے قبول نہ كيا اس وقت حضرت على كھڑے ہوگئے اور اسلام كا اعلان كيا تو آپ نے ان كے اسلام كو قبول كيا بلكہ يہاں تك اعلان كيا كہ تو ميرے بھائي ،ميرا وصى اور ميرا خليفہ ہے _
يہ وہ حديث ہے جو شيعہ سنى حافظان حديث نے كتب صحاح اور مسانيد ميں نقل كى ہے، اسى طرح كئي مورخين اسلام نے اسے نقل كيا ہے يہ نشاندہى كرتى ہے كہ رسول اللہ (ص) نے حضرت على (ع) كى اس كم سنى ميں نہ صرف ان كا اسلام قبول كيا ہے بلكہ ان كا اپنے بھائي ، وصى اور جانشين كى حيثيت سے تعارف بھى كروايا ہے _(۲)
كبھى كہتے ہيں كہ عورتوں ميں پہلى مسلمان خديجہ تھيں ، مردوں ميں پہلے مسلمان ابوبكر تھے اور بچوں
____________________
(۱)يہ بات فخرالدين رازى نے اپنى تفسير ميں سورہ توبہ آيت ۱۰۰ كے ذيل ميں ذكر كى ہے
(۲)يہ حديث مختلف عبارات ميں نقل ہوئي ہے اور جو كچھ ہم نے بيان كيا ہے اسے ابو جعفر اسكافى نے كتاب ''نہج العثمانيہ'' ميں ،برہان الدين نے'' نجبا الانبا'' ميں ،ابن اثير نے كامل ميں اور بعض ديگر علماء نے نقل كيا ہے (مزيد وضاحت كے لئے الغدير،عربى كى جلد دوم ص۲۷۸ تا۲۸۶كى طرف رجوع كريں )
ميں پہلے مسلمان على تھے يوں دراصل وہ اس امر كى اہميت كم كرنا چاہتے ہيں(۱)
حالانكہ اول تو جيسا كہ ہم كہہ چكے ہيں حضرت على عليہ السلام كى اہميت اس وقت كى سن سے اس امر كى اہميت كم نہيں ہوسكتى خصوصاً جب كہ قرآن حضرت يحيي(ع) كے بارے ميں كہتا ہے : ''ہم نے اسے بچپن كے عالم ميں حكم ديا''_(۲)
حضرت عيسى عليہ السلام كے بارے ميں بھى ہے كہ وہ بچپن كے عالم ميں بھى بول اٹھے اور افراد ان كے بارے ميں شك كرتے تھے ان سے كہا : ''ميں اللہ كا بندہ ہوں مجھے اس نے آسمانى كتاب دى اور مجھے نبى بنايا ہے ''_(۳)
ايسى آيات كو اگر ہم مذكورہ حديث سے ملاكرديكھيں كہ جس ميں آپ نے حضرت على (ع) كو اپنا وصي، خليفہ اور جانشين قرار ديا ہے توواضح ہوجاتاہے كہ صاحب المنار كى متعصبانہ گفتگو كچھ حيثيت نہيں ركھتى _
دوسرى بات يہ ہے كہ يہ امرتاريخى لحاظ سے مسلم نہيں ہے كہ حضرت ابوبكر اسلام لانے والے تيسرے شخص تھے بلكہ تاريخ وحديث كى بہت سى كتب ميں ان سے پہلے بہت سے افراد كے اسلام قبول كرنے ذكر ہے _ يہ بحث ہم اس نكتے پر ختم كرتے ہيں كہ حضرت على (ع) نے خود اپنے ارشادات ميں اس امر كى طرف اشارہ كيا ہے كہ ميں پہلا مومن ، پہلا مسلمان اور سول اللہ (ص) كے ساتھ پہلا نماز گذارہوں اور اس سے آپ نے اپنے مقام وحيثيت كو واضح كيا ہے يہ بات آپ سے بہت سى كتب ميں منقول ہے_
علاوہ ازيں ابن ابى الحديد مشہور عالم ابو جعفر اسكافى معتزلى سے نقل كرتے ہيں كہ يہ جو بعض لوگ كہتے ہيں كہ ابوبكر اسلام ميں سبقت ركھتے تھے اگر يہ امر صحيح ہے تو پھر خود انھوں نے اس سے كسى مقام پر اپنى فضيلت كے ليے استدلال كيوں نہيں كيا اور نہ ہى ان كے حامى كسى صحابى نے ايسا دعوى كيا ہے_(۴)
____________________
(۱)يہ تعبير مشہور اور متعصب مفسر مو لف المنارنے بھى سورہ توبہ آيت ۱۰۰كے ذيل ميں ذكر ہے
(۲)سورہ مريم آيت۱۲
(۳)سورہ مريم آيت ۳۰
(۴)الغدير ج۲ ص ۲۴۰
دعوت ذوالعشيرة
تاريخ اسلام كى رو سے آنحضرت (ص) كو بعثت كے تيسرے سال اس دعوت كا حكم ہوا كيونكہ اب تك آپ كى دعوت مخفى طورپرجارى تھى اور اس مدت ميں بہت كم لوگوں نے اسلام قبول كيا تھا ،ليكن جب يہ آيت نازل ہوئي '' وانذر عشيرتك الا قربين ''(۱)
اور يہ آيت بھى '' فاصدع بما تومرواعرض عن المشركين ''(۲) تو آپ كھلم كھلا دعوت دينے پر مامور ہوگئے اس كى ابتداء اپنے قريبى رشتہ داروں سے كرنے كا حكم ہوا _
اس دعوت اور تبليغ كى اجمالى كيفيت كچھ اس طرح سے ہے : آنحضرت (ص) نے اپنے قريبى رشتہ داروں كو جناب ابوطالب كے گھر ميں دعوت دى اس ميں تقريباً چاليس افراد شريك ہوئے آپ كے چچائوں ميں سے ابوطالب، حمزہ اور ابولہب نے بھى شركت كى _
كھانا كھالينے كے بعد جب آنحضرت (ص) نے اپنا فريضہ ادا كرنے كا ارادہ فرمايا تو ابولہب نے بڑھ كر كچھ ايسى باتيں كيں جس سے سارا مجمع منتشر ہوگيالہذا آپ نے انھيں كل كے كھانے كى دعوت دے دى _
دوسرے دن كھانا كھانے كے بعد آپ نے ان سے فرمايا : '' اے عبد المطلب كے بيٹو: پورے عرب ميں مجھے كوئي ايسا شخص دكھائي نہيں ديتا جو اپنى قوم كے ليے مجھ سے بہتر چيز لايا ہو ، ميں تمہارے ليے دنيا اور آخرت كى بھلائي لے كر آيا ہوں اور خدا نے مجھے حكم ديا ہے كہ تمھيں اس دين كى دعوت دوں ، تم ميں سے كون
____________________
(۱) سورہ شعراء آيت ۲۱۴
(۲)سورہ حجرات آيہ ۹۴
ہے جو اس كام ميں ميرا ہاتھ بٹائے تاكہ وہ ميرا بھائي ، ميرا وصى اور ميرا جانشين ہو'' ؟ سب لوگ خاموش رہے سوائے على بن ابى طالب كے جو سب سے كم سن تھے، على اٹھے اور عرض كى : ''اے اللہ كے رسول اس راہ ميں ميں آپ(ص) كا ياروومددگار ہوں گا'' آنحضرت (ص) نے اپنا ہاتھ على (ع) كى گردن پر ركھا اور فرمايا : ''ان ھذا اخى ووصى وخليفتى فيكم فاسمعوالہ واطيعوہ ''_ يہ (على (ع) ) تمہارے درميان ميرا بھائي ، ميرا وصى اور ميرا جانشين ہے اس كى باتوں كو سنو اور اس كے فرمان كى اطاعت كرو _ يہ سن كر سب لوگ اٹھ كھڑے ہوئے اور تمسخر آميز مسكراہٹ ان كے لبوں پر تھى ، ابوطالب (ع) سے سے كہنے لگے، ''اب تم اپنے بيٹے كى باتوں كو سنا كرو اور اس كے فرمان پر عمل كيا كرنا''_(۱)
اس روايت سے معلوم ہوتا ہے كہ آنحضرت (ص) ان دنوں كس حدتك تنہا تھے اور لوگ آپ كى دعوت كے جواب ميں كيسے كيسے تمسخرآميزجملے كہا كرتے تھے اور على عليہ السلام ان ابتدائي ايام ميں جب كہ آپ بالكل تنہا تھے كيونكر آنحضرت (ص) كے مدافع بن كر آپ كے شانہ بشانہ چل رہے تھے_
ايك اور روايت ميں ہے كہ پيغمبراكرم (ص) نے اس وقت قريش كے ہر قبيلے كا نام لے لے كر انھيں بلايا اور انھيں جہنم كے عذاب سے ڈرايا، كبھى فرماتے:'' يابنى كعب انقذواانفسكم من النار ''_
اے بنى كعب : خود كو جہنم سے بچائو، كبھى فرماتے : ''يا بنى عبد الشمس'' __ كبھى فرماتے :'' يابنى عبدمناف'' _كبھى فرماتے : ''يابنى ہاشم ''_كبھى فرماتے : ''يابنى عبد المطلب انقذ وانفسكم النار ''_ تم خودہى اپنے آپ كو جہنم سے بچائو ، ورنہ كفر كى صورت ميں ميں تمہارا دفاع نہيں كرسكوں گا _
____________________
(۱)اس روايت كو بہت سے اہل سنت علماء نے نقل كيا ہے جن ميں سے چند ايك كے نام يہ ہيں :
ابن ابى جرير، ابن ابى حاتم ، ابن مردويہ ، ابونعيم ، بيہقى ، ثعلبى اور طبرى مورخ ابن اثير نے يہ واقعہ اپنى كتاب '' كامل '' ميں اور '' ابوالفداء '' نے اپنى تاريخ ميں اور دوسرے بہت سے مورخين نے اپنى اپنى كتابوں ميں اسے درج كيا ہے مزيد اگاہى كے لئے كتاب'' المرجعات ''ص۱۳۰ كے بعد سے اور كتاب ''احقاق الحق''ج۲،ص۶۲ ملاحظہ فرمائيں
ايمان ابوطالب
تمام علمائے شيعہ اور اہل سنت كے بعض بزرگ علماء مثلاً ''ابن ابى الحديد''شارح نہج البلاغہ نے اور''قسطلاني'' نے ارشاد السارى ميں اور'' زينى دحلان'' نے سيرةحلبى كے حاشيہ ميں حضرت ابوطالب كو مومنين اہل اسلام ميں سے بيان كيا ہے_اسلام كى بنيادى كتابوں كے منابع ميں بھى ہميں اس موضوع كے بہت سے شواہد ملتے ہيں كہ جن كے مطالعہ كے بعد ہم گہرے تعجب اور حيرت ميں پڑجاتے ہيں كہ حضرت ابوطالب پرايك گروہ كى طرف سے اس قسم كى بے جا تہميں كيوں لگائي گئيں ؟
جو شخص اپنے تمام وجود كے ساتھ پيغمبر اسلام كا دفاع كيا كرتا تھا اور بار ہا خوداپنے فرزند كو پيغمبراسلام كے وجود مقدس كو بچانے كے لئے خطرات كے مواقع پر ڈھال بناديا كرتا تھايہ كيسے ہوسكتا ہے كہ اس پر ايسى تہمت لگائي جائے_
يہى سبب ہے كہ دقت نظر كے ساتھ تحقيق كرنے والوں نے يہ سمجھا ہے كہ حضرت ابوطالب كے خلاف، مخالفت كى لہر ايك سياسى ضرورت كى وجہ سے ہے جو '' شجرہ خبيثہ بنى اميّہ'' كى حضرت على عليہ السلام كے مقام ومرتبہ كى مخالفت سے پيداہوئي ہے_
كيونكہ يہ صرف حضرت ابوطالب كى ذات ہى نہيں تھى كہ جو حضرت على عليہ السلام كے قرب كى وجہ سے ايسے حملے كى زد ميں آئي ہو ،بلكہ ہم ديكھتے ہيں كہ ہر وہ شخص جو تاريخ اسلام ميں كسى طرح سے بھى اميرالمومنين حضرت على عليہ السلام سے قربت ركھتا ہے ايسے ناجو انمردانہ حملوں سے نہيں بچ سكا، حقيقت ميں
حضرت ابوطالب كا كوئي گناہ نہيں تھا سوائے اس كے وہ حضرت على عليہ السلام جيسے عظيم پيشوائے اسلام كے باپ تھے_
ايمان ابو طالب پر سات دليل
ہم يہاں پر ان بہت سے دلائل ميں سے جو واضح طور پر ايمان ابوطالب كى گواہى ديتے ہيں كچھ دلائل مختصر طور پر فہرست وار بيان كرتے ہيں تفصيلات كے لئے ان كتابوں كى طرف رجوع كريں جو اسى موضوع پر لكھى گئي ہيں _
۱_ حضرت ابوطالب پيغمبر اكرم (ص) كى بعثت سے پہلے خوب اچھى طرح سے جانتے تھے كہ ان كا بھتيجا مقام نبوت تك پہنچے گا كيونكہ مورخين نے لكھا ہے كہ جس سفر ميں حضرت ابوطالب قريش كے قافلے كے ساتھ شام گئے تھے تو اپنے بارہ سالہ بھتجے محمد (ص) كو بھى اپنے ساتھ لے گئے تھے _ اس سفر ميں انہوں نے آپ سے بہت سى كرامات مشاہدہ كيں _
ان ميں ايك واقعہ يہ ہے كہ جو نہيں قافلہ ''بحيرا''نامى راہب كے قريب سے گزرا جو قديم عرصے سے ايك گرجے ميں مشغول عبادت تھا اور كتب عہدين كا عالم تھا ،تجارتى قافلے اپنے سفر كے دوران اس كى زيارت كے لئے جاتے تھے، توراہب كى نظريں قافلہ والوں ميں سے حضرت محمد (ص) پر جم كررہ گئيں ، جن كى عمراس وقت بارہ سال سے زيادہ نہ تھى _
بحيرانے تھوڑى دير كے لئے حيران وششدر رہنے اور گہرى اور پُرمعنى نظروں سے ديكھنے كے بعد كہا:يہ بچہ تم ميں سے كس سے تعلق ركھتا ہے؟لوگوں نے ابوطالب كى طرف اشارہ كيا، انہوں نے بتايا كہ يہ ميرا بھتيجا ہے_
'' بحيرا'' نے كہا : اس بچہ كا مستقبل بہت درخشاں ہے، يہ وہى پيغمبر ہے كہ جس كى نبوت ورسالت كى آسمانى كتابوں نے خبردى ہے اور ميں نے اسكى تمام خصوصيات كتابوں ميں پڑھى ہيں _
ابوطالب اس واقعہ اور اس جيسے دوسرے واقعات سے پہلے دوسرے قرائن سے بھى پيغمبر اكرم (ص) كى
نبوت اور معنويت كو سمجھ چكے تھے _
اہل سنت كے عالم شہرستانى (صاحب ملل ونحل) اور دوسرے علماء كى نقل كے مطابق: ''ايك سال آسمان مكہ نے اپنى بركت اہل مكہ سے روك لى اور سخت قسم كى قحط سالى نے لوگوں كوگھير لياتو ابوطالب نے حكم ديا كہ ان كے بھتيجے محمد كو جو ابھى شير خوارہى تھے لاياجائے، جب بچے كو اس حال ميں كہ وہ ابھى كپڑے ميں لپيٹا ہوا تھا انہيں ديا گيا تو وہ اسے لينے كے بعد خانہ كعبہ كے سامنے كھڑے ہوگئے اور تضرع وزارى كے ساتھ اس طفل شير خوار كو تين مرتبہ اوپر كى طرف بلند كيا اور ہر مرتبہ كہتے تھے، پروردگارا، اس بچہ كے حق كا واسطہ ہم پر بركت والى بارش نازل فرما _
كچھ زيادہ دير نہ گزرى تھى كہ افق كے كنارے سے بادل كا ايك ٹكڑا نمودار ہوا اور مكہ كے آسمان پر چھا گيا اور بارش سے ايسا سيلاب آيا كہ يہ خوف پيدا ہونے لگا كہ كہيں مسجد الحرام ہى ويران نہ ہوجائے ''_
اس كے بعد شہرستانى لكھتا ہے كہ يہى واقعہ جوابوطالب كى اپنے بھتيجے كے بچپن سے اس كى نبوت ورسالت سے آگاہ ہونے پر دلالت كرتا ہے ان كے پيغمبر پر ايمان ركھنے كا ثبوت بھى ہے اور ابوطالب نے بعد ميں اشعار ذيل اسى واقعہ كى مناسبت سے كہے تھے :
و ابيض يستسقى الغمام بوجهه
ثمال اليتامى عصمة الارامل
'' وہ ايسا روشن چہرے والا ہے كہ بادل اس كى خاطر سے بارش برساتے ہيں وہ يتيموں كى پناہ گاہ اور بيوائوں كے محافظ ہيں ''
يلوذ به الهلاك من آل هاشم
فهم عنده فى نعمة و فواضل
'' بنى ہاشم ميں سے جوچل بسے ہيں وہ اسى سے پناہ ليتے ہيں اور اسى كے صدقے ميں نعمتوں اور احسانات سے بہرہ مند ہوتے ہيں ،،
وميزان عدلہ يخيس شعيرة
ووزان صدق وزنہ غير ہائل
'' وہ ايك ايسى ميزان عدالت ہے كہ جو ايك جَوبرابر بھى ادھرادھر نہيں كرتا اور درست كاموں كا ايسا وزن كرنے والا ہے كہ جس كے وزن كرنے ميں كسى شك وشبہ كا خوف نہيں ہے ''
قحط سالى كے وقت قريش كا ابوطالب كى طرف متوجہ ہونا اور ابوطالب كا خدا كو آنحضرت كے حق كا واسطہ دينا شہرستانى كے علاوہ اور دوسرے بہت سے عظيم مورخين نے بھى نقل كيا ہے _''(۱)
اشعار ابوطالب زندہ گواہ
۲_اس كے علاوہ مشہور اسلامى كتابوں ميں ابوطالب كے بہت سے اشعار ايسے ہيں جو ہمارى دسترس ميں ہيں ان ميں سے كچھ اشعار ہم ذيل ميں پيش كررہے ہيں :
والله ان يصلواليك بجمعهم
حتى اوسدفى التراب دفينا
''اے ميرے بھتيجے خدا كى قسم جب تك ابوطالب مٹى ميں نہ سوجائے اور لحد كو اپنا بستر نہ بنالے دشمن ہرگز ہرگز تجھ تك نہيں پہنچ سكيں گے''
فاصدع بامرك ماعليك غضاضته
وابشربذاك وقرمنك عيونا
''لہذا كسى چيز سے نہ ڈراور اپنى ذمہ دارى اور ماموريت كا ابلاع كر، بشارت دے اور آنكھوں كو ٹھنڈا كر''_
____________________
(۱) علامہ امينى نے اسے اپنى كتاب''الغدير'' ميں '' شرح بخاري'' ،''المواہب اللدنيہ'' ،'' الخصائص الكبرى '' ،'' شرح بہجتہ المحافل'' ،''سيرہ حلبي''، '' سيرہ نبوي'' اور '' طلبتہ الطالب'' سے نقل كيا ہے
ودعوتنى وعلمت انك ناصحي
ولقد دعوت وكنت ثم امينا
''تونے مجھے اپنے مكتب كى دعوت دى اور مجھے اچھى طرح معلوم ہے كہ تيرا ہدف ومقصد صرف پندو نصيحت كرنا اور بيدار كرنا ہے، تو اپنى دعوت ميں امين اور صحيح ہے''
ولقد علمت ان دين محمد(ص)
من خير اديان البرية ديناً
'' ميں يہ بھى جانتا ہوں كہ محمد كا دين ومكتب تمام دينوں اور مكتبوں ميں سب سے بہتردين ہے''_
اور يہ اشعار بھى انہوں نے ہى ارشاد فرمائے ہيں :
الم تعلمواانا وجدنا محمد اً
رسولا كموسى خط فى اول الكتب
'' اے قريش كيا تمہيں معلوم نہيں ہے كہ محمد( (ص) )موسى (عليہ السلام) كى مثل ہيں اور موسى عليہ السلام كے مانند خدا كے پيغمبر اور رسول ہيں جن كے آنے كى پيشين گوئي پہلى آسمانى كتابوں ميں لكھى ہوئي ہے اور ہم نے اسے پالياہے''_
وان عليه فى العباد محبة
ولاحيف فى من خصه الله فى الحب
'' خدا كے بندے اس سے خاص لگائو ركھتے ہيں اور جسے خدا وندمتعال نے اپنى محبت كے لئے مخصوص كرليا ہو اس شخص سے يہ لگائوبے موقع نہيں ہے_''
ابن ابى الحديد نے جناب ابوطالب كے كافى اشعار نقل كرنے كے بعد (كہ جن كے مجموعہ كو ابن شہر آشوب نے '' متشابہات القرآن'' ميں تين ہزار اشعار كہا ہے) كہتا ہے : ''ان تمام اشعار كے مطالعہ سے ہمارے لئے كسى قسم كے شك وشبہ كى كوئي گنجائش باقى نہيں رہ جاتى كہ ابوطالب اپنے بھتيجے كے دين پر ايمان
ركھتے تھے''_
۳_ پيغمبر اكرم (ص) سے بہت سى ايسى احاديث بھى نقل ہوئي ہيں جو آنحضرت (ص) كى ان كے فدا كار چچا ابوطالب كے ايمان پر گواہى ديتى ہيں منجملہ ان كے كتاب '' ابوطالب مومن قريش'' كے مولف كى نقل كے مطابق ايك يہ ہے كہ جب ابوطالب كى وفات ہوگئي تو پيغمبر اكرم (ص) نے ان كى تشيع جنازہ كے بعد اس سوگوارى كے ضمن ميں جو اپنے چچا كى وفات كى مصيبت ميں آپ كررہے تھے آپ يہ بھى كہتے تھے:
''ہائے ميرے بابا ہائے ابوطالب ميں آپ كى وفات سے كس قدر غمگين ہوں كس طرح آپ كى مصيبت كو ميں بھول جائوں ، اے وہ شخص جس نے بچپن ميں ميرى پرورش اور تربيت كى اور بڑے ہونے پر ميرى دعوت پر لبيك كہى ، ميں آپ كے نزديك اس طرح تھا جيسے آنكھ خانہ چشم ميں اور روح بدن ميں ''_
نيز آپ ہميشہ يہ كيا كرتے تھے :''مانالت منى قريش شيئًااكرهه حتى مات ابوطالب ''
''اہل قريش اس وقت تك كبھى ميرے خلاف ناپسنديدہ اقدام نہ كرسكے جب تك ابوطالب كى وفات نہ ہوگئي''_
۴_ ايك طرف سے يہ بات مسلم ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) كو ابوطالب كى وفات سے كئي سال پہلے يہ حكم مل چكا تھا كہ وہ مشركين كے ساتھ كسى قسم كا دوستانہ رابطہ نہ ركھيں ،اس كے باوجود ابوطالب كے ساتھ اس قسم كے تعلق اور مہرو محبت كا اظہار اس بات كى نشاندہى كرتا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) انھيں مكتب توحيد كا معتقد جانتے تھے، ورنہ يہ بات كس طرح ممكن ہوسكتى تھى كہ دوسروں كو تو مشركين كى دوستى سے منع كريں اور خود ابوطالب سے عشق كى حدتك مہرومحبت ركھيں _
۵_ان احاديث ميں بھى كہ جو اہل بيت پيغمبر كے ذريعہ سے ہم تك پہنچى ہيں حضرت ابوطالب كے ايمان واخلاص كے بڑى كثرت سے مدارك نظر آتے ہيں ، جن كا يہاں نقل كرنا طول كا باعث ہوگا، يہ احاديث منطقى استدلالات كى حامل ہيں ان ميں سے ايك حديث چوتھے امام عليہ السلام سے نقل ہوئي ہے اس ميں امام عليہ السلام نے اس سوال كے جواب ميں كہ كيا ابوطالب مومن تھے؟ جواب دينے كے بعد ارشاد فرمايا:
''ان ھنا قوماً يزعمون انہ كافر'' ، اس كے بعد فرماياكہ: '' تعجب كى بات ہے كہ بعض لوگ يہ كيوں خيال كرتے ہيں كہ ابوطالب كا فرتھے_ كيا وہ نہيں جانتے كہ وہ اس عقيدہ كے ساتھ پيغمبر(ص) اور ابوطالب پر طعن كرتے ہيں كيا ايسا نہيں ہے كہ قرآن كى كئي آيات ميں اس بات سے منع كيا گيا ہے (اور يہ حكم ديا گيا ہے كہ ) مومن عورت ايمان لانے كے بعد كافر كے ساتھ نہيں رہ سكتى اور يہ بات مسلم ہے كہ فاطمہ بنت اسدرضى اللہ عنہا سابق ايمان لانے والوں ميں سے ہيں اور وہ ابوطالب كى زوجيت ميں ابوطالب كى وفات تك رہيں _''
ابوطالب تين سال تك شعب ميں
۶_ان تمام باتوں كو چھوڑتے ہوئے اگرانسان ہر چيز ميں ہى شك كريں تو كم از كم اس حقيقت ميں تو كوئي شك نہيں كرسكتا كہ ابوطالب اسلام اور پيغمبر اكرم (ص) كے درجہ اول كے حامى ومددگار تھے ، ان كى اسلام اور پيغمبر كى حمايت اس درجہ تك پہنچى ہوئي تھى كہ جسے كسى طرح بھى رشتہ دارى اور قبائلى تعصبات سے منسلك نہيں كيا جاسكتا _
اس كا زندہ نمونہ شعب ابوطالب كى داستان ہے_ تمام مورخين نے لكھا ہے كہ جب قريش نے پيغمبر اكرم (ص) اور مسلمانوں كا ايك شديد اقتصادي، سماجى اور سياسى بائيكاٹ كرليا اور اپنے ہر قسم كے روابط ان سے منقطع كرلئے تو آنحضرت (ص) كے واحد حامى اور مدافع، ابوطالب نے اپنے تمام كاموں سے ہاتھ كھينچ ليا اور برابر تين سال تك ہاتھ كھينچے ركھا اور بنى ہاشم كو ايك درہ كى طرف لے گئے جو مكہ كے پہاڑوں كے درميان تھا اور ''شعب ابوطالب'' كے نام سے مشہور تھا اور وہاں پر سكونت اختيار كر لي_
ان كى فدا كارى اس مقام تك جا پہنچى كہ قريش كے حملوں سے بچانے كےلئے كئي ايك مخصوص قسم كے برج تعميركرنے كے علاوہ ہر رات پيغمبر اكرم (ص) كو ان كے بستر سے اٹھاتے اور دوسرى جگہ ان كے آرام كے لئے مہيا كرتے اور اپنے فرزند دلبند على كو ان كى جگہ پر سلاديتے اور جب حضرت على كہتے: ''بابا جان ميں تو اسى حالت ميں قتل ہوجائوں گا '' تو ابوطالب جواب ميں كہتے :ميرے پيارے بچے بردبارى اور صبر ہاتھ
سے نہ چھوڑو، ہر زندہ موت كى طرف رواں دواں ہے، ميں نے تجھے فرزند عبد اللہ كا فديہ قرار ديا ہے _
يہ بات اور بھى طالب توجہ ہے كہ جو حضرت على عليہ السلام باپ كے جواب ميں كہتے ہيں كہ بابا جان ميرا يہ كلام اس بناپر نہيں تھا كہ ميں راہ محمد ميں قتل ہونے سے ڈرتاہوں ، بلكہ ميرا يہ كلام اس بنا پر تھا كہ ميں يہ چاہتا تھا كہ آپ كو معلوم ہوجائے كہ ميں كس طرح سے آپ كا اطاعت گزار اور احمد مجتبى كى نصرت ومدد كے لئے آمادہ و تيار ہوں _
قارئين كرام ہمارا عقيدہ يہ ہے كہ جو شخص بھى تعصب كو ايك طرف ركھ كر غير جانبدارى كے ساتھ ابوطالب كے بارے ميں تاريخ كى سنہرى سطروں كو پڑھے گا تو وہ ابن ابى الحديد شارح نہج البلاغہ كا ہمصدا ہوكر كہے گا :
ولولا ابوطالب وابنه لما مثل الدين شخصا وقاما
فذاك بمكة آوى وحامي وهذا بيثرب جس الحماما
'' اگر ابوطالب اور ان كا بيٹا نہ ہوتے تو ہرگزمكتب اسلام باقى نہ رہتا اور اپنا قدسيدھا نہ كرتا ،ابوطالب تو مكہ ميں پيغمبر كى مدد كےلئے آگے بڑھے اور على يثرب (مدينہ) ميں حمايت اسلام كى راہ ميں گرداب موت ميں ڈوب گئے''
ابوطالب كا سال وفات ''عام الحزن
'' ۷_''ابوطالب كى تايخ زندگي، جناب رسالت مآب (ص) كے لئے ان كى عظيم قربانياں اور رسول اللہ اور مسلمانوں كى ان سے شديد محبت كو بھى ملحوظ ركھنا چاہئے ہم يہاں تك ديكھتے ہيں كہ حضرت ابوطالب كى موت كے سال كا نام ''عام الحزن'' ركھا يہ سب باتيں اس امر كى دليل ہيں كہ حضرت ابوطالب كو اسلام سے عشق تھا اور وہ جو پيغمبر اسلام كى اس قدر مدافعت كرتے تھے وہ محض رشتہ دارى كى وجہ سے نہ تھى بلكہ اس دفاع ميں آپ كى حيثيت ايك مخلص، ايك جاں نثار اور ايسے فدا كار كى تھى جو اپنے رہبر اور پيشوا كا تحفظ كررہا ہو_''
ابولہب كى دشمني
اس كانام '' عبدالعزي'' (عزى بت كا بندہ ) اور اس كى كنيت ''ابولہب'' تھي_ اس كے ليے اس كنيت كا انتخاب شايد اس وجہ سے تھا كہ اس كا چہرہ سرخ اور بھڑكتا ہوا تھا، چونكہ لغت ميں لہب آگ كے شعلہ كے معنى ميں ہے _
وہ اور اس كى بيوى ''ام جميل''جو ابوسفيان كى بہن تھى ، پيغمبر اكرم (ص) كے نہايت بدزبان اور سخت ترين دشمنوں ميں سے تھے _
''طارق محارق '' نامى ايك شخص كہتاہے : ميں '' ذى المجاز '' كے بازار ميں تھا _(۱)
اچانك ميں نے ايك جوان كو ديكھا جو پكار پكار كر كہہ رہا تھا: اے لوگو: لاالہ الا اللہ كا اقرار كر لو تو نجات پاجائوگے _ اور اس كے پيچھے پيچھے ميں نے ايك شخص كو ديكھا جو اس كے پائوں كے پچھلے حصہ پرپتھر مارتاجاتاہے جس كى وجہ سے اس كے پائوں سے خون جارى تھا اوروہ چلا چلا كر كہہ رہاتھا _اے لوگو يہ جھوٹاہے اس كى بات نہ ماننا ''_
ميں نے پوچھا كہ يہ جوان كون ہے ؟ تو لوگوں نے بتايا :'' يہ محمد، ، (ص) ہے جس كا گمان يہ ہے كہ وہ پيغمبر ہے اور يہ بوڑھا اس كا چچا ابولہب ہے جو جو اس كو جھوٹا سمجھتا ہے _
____________________
(۱)ذى المجار عرفات كے نزديك مكہ سے تھوڑے سے فاصلہ پر ہے
''ربيع بن عباد'' كہتا ہے : ميں اپنے باپ كے ساتھ تھا، ميں نے رسول اللہ (ص) كو ديكھاكہ وہ قبائل عرب كے پاس جاتے اور ہر ايك كو پكار كر كہتے : ميں تمہارى طرف خدا كا بھيجا ہوا رسول ہوں : تم خدائے يگانہ كے سوا اور كسى كى عبادت نہ كرو اور كسى كو اس كا شريك نہ بنائو _
جب وہ اپنى بات سے فارغ ہوجاتاتو ايك خوبرو بھينگا آدمى جو ان كے پيچھے پيچھے تھا، پكاركركہتا : اے فلاں قبيلے : يہ شخص يہ چاہتاہے كہ تم لات وعزى بت اور اپنے ہم پيمان جنوں كو چھوڑدو اور اس كى بدعت وضلالت كى پيروى كرنے لگ جائواس كى نہ سننا، اور اس كى پيروى نہ كرنا ''_
ميں نے پوچھا كہ يہ كون ہے ؟ تو انہوں نے بتايا كہ يہ '' اس كا چچا ابولہب ہے ''_
ابولہب پيغمبر كا پيچھا كرتارہا
جب مكہ سے باہر كے لوگوں كا كوئي گروہ اس شہر ميں داخل ہوتا تھا تو وہ پيغمبر (ص) سے اس كى رشتہ دارى اور سن وسال كے لحاظ سے بڑاہونے كى بناپر ابولہب كے پاس جاتاتھا اور رسول اللہ (ص) كے بارے ميں تحقيق كرتا تھا وہ جواب ديتا تھا: محمد ايك جادوگر ہے ،وہ بھى پيغمبر سے ملاقات كئے بغير ہى لوٹ جاتے اسى اثناء ميں ايك ايسا گروہ آيا جنہوں نے يہ كہا كہ ہم تو اسے ديكھے بغير واپس نہيں جائيں گے ابولہب نے كہا : ''ہم مسلسل اس كے جنون كا علاج كررہے ہيں : وہ ہلاك ہوجائے ''_
وہ اكثر مواقع پر سايہ كى طرح پيغمبر كے پيچھے لگارہتا تھا اور كسى خرابى سے فروگذاشت نہ كرتا تھا خصوصاً اس كى زبان بہت ہى گندى اور آلودہ ہوتى تھى اور وہ ركيك اورچبھنے والى باتيں كيا كرتا تھا اور شايد اسى وجہ سے پيغمبر اسلام (ص) كے سب دشمنوں كا سرغنہ شمار ہوتا تھا اسى بناء پر قرآن كريم اس پر اور اس كى بيوى ام جميل پر ايسى صراحت اور سختى كے ساتھ تنقيد كررہاہے وہى ايك اكيلا ايسا شخص تھا جس نے پيغمبر اكرم (ص) سے بنى ہاشم كى حمايت كے عہد وپيمان پر دستخط نہيں كئے تھے اور اس نے آپ كے دشمنوں كى صف ميں رہتے ہوئے دشمنوں كے عہد وپيمان ميں شركت كى تھي_
ابو لہب كے ہاتھ كٹ جائيں
''ابن عباس ''سے نقل ہوا ہے كہ جس وقت آيہ ''ونذر عشيرتك الاقربين'' _نازل ہوئي اور پيغمبر (ص) اپنے قريبى رشتہ داروں كو انذار كرنے اور اسلام كى دعوت دينے پر مامور ہوئے،تو پيغمبر(ص) كوہ صفا پرآئے اور پكار كر كہا''يا صباحاہ''(يہ جملہ عرب اس وقت كہتے تھے جب ان پر دشمن كى طرف سے غفلت كى حالت ميں حملہ ہو جاتا تھاتا كہ سب كو با خبر كرديں اور وہ مقابلہ كے ليے كھڑے ہو جائيں ،لہذا كوئي شخص''يا صباحاہ''كہہ كر آواز ديتا تھا''صباح''كے لفظ كا انتخاب اس وجہ سے كيا جاتا تھا كہ عام طور پر غفلت كى حالت ميں حملے صبح كے دقت كيے جاتے تھے_
مكہ كے لوگوں نے جب يہ صدا سنى تو انہوں نے كہا كہ يہ كون ہے جو فرياد كررہا ہے_
كہا گيا كہ يہ''محمد'' (ص) ہيں _ كچھ لوگ آپ(ص) كے پاس پہنچے تو آپ(ص) نے قبائل عرب كو ان كے نام كے ساتھ پكارا_ آپ(ص) كى آواز پر سب كے سب جمع ہوگئے تو آپ(ص) نے ان سے فرما يا:
''مجھے بتلائو اگر ميں تمہيں يہ خبر دوں كہ دشمن كے سوار اس پہاڑ كے پيچھے سے حملہ كرنے والے ہيں ،تو كيا تم ميرى بات كى تصديق كروگے''_
انہوں نے جواب ديا:''ہم نے آپ(ص) سے كبھى بھى جھوٹ نہيں سنا''_
آپ (ص) نے فرمايا:
''انى نذير لكم بين يدى عذاب شديد'' _
''ميں تمہيں خدا كے شديد عذاب سے ڈراتا ہوں ''_
(''ميں تمہيں توحيدكا اقرار كرنے او ربتوں كو ترك كرنے كى دعوت ديتا ہوں '')جب ابو لہب نے يہ بات سنى تو اس نے كہا:
''تبالكا ما جمعتنا الا لهذا؟ ''_
تو ہلاك ہو جائے كيا تو نے ہميں صرف اس بات كے ليے جمع كيا ہے''؟
اس مو قع پر يہ سورہ نازل ہوا :
(تبت يداا بى لهب وتب )(۱)
اے ابو لہب تو ہى ہلاك ہو اور تيرے ہاتھ ٹوٹيں ،تو ہى زياں كار اور ہلاك ہونے والاہے،اس كے مال وثروت نے اور جو كچھ اس نے كمايا ہے اس نے، اسے ہر گز كوئي فائدہ نہيں ديا اور وہ اسے عذاب الہى سے نہيں بچائے گا''_
اس تعبير سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ ايك دولت مند مغرور شخص تھا جواپنى اسلام دشمن كوششوں كے لئے اپنے مال ودولت پر بھروسہ كرتاتھا_
بعدميں قرآن مزيے كہتا ہے،''وہ جلدى ہى اس آگ ميں داخل ہوگا جس كے شعلے بھڑكنے والے ہيں ''_(۲)
اگر اس كا نام ''ابو لہب''ہے تو اس كے لئے عذاب بھي''بو لہب''ہے يعنى اس كے لئے بھڑگتے ہوئے اگ كے شعلہ ہيں _
ايندھن اٹھائے ہوئے
قرآن كريم نے اس كے بعد اس كى بيوى ''ام جميل '' كى كيفيت بيان كرتے ہوئے فرماياہے :''اس كى بيوى بھى جہنم كى بھڑكتى ہوئي آگ ميں داخل ہوگى ، جو اپنے د وش پر ايندھن اٹھاتى ہے''_(۳)
''اور اس كى گردن ميں خرماكى چھال كى رسى يا گردن بند ہے ''_(۴) ''فى جيدھا حبل من مسد''
____________________
(۱)سورہ مسد آيت۱ تا ۲
(۲)سورہ مسدآيت۳
(۳)سورہ مسد آيت ۴
(۴)سورہ مسد آيت ۴
''مسد'' (بروزن حسد) اس رسى كے معنى ميں ہے جو كھجور كے پتوں سے بنائي جاتى ہے _ بعض نے يہ كہا ہے كہ ''مسد'' وہ رسى ہے جو جہنم ميں اس كى گردن ميں ڈاليں گے جس ميں كھجور كے پتوں جيسى سختى ہوگى اور اس ميں آگ كى حرارت اور لوہے كى سنگينى ہوگى _
بعض نے يہ بھى كہا ہے كہ چونكہ بڑے لوگوں كى عورتيں اپنى شخصيت كو آلات وزيورات خصوصا ًگردن كے قيمتى زيورات سے زينت دينے ميں خاص بات سمجھتى ہيں ،لہذا خدا قيامت ميں اس مضراوروخود پسند عورت كى تحقير كے ليے ليف خرما كا ايك گردن بند اس كى گردن ميں ڈال دے گايا يہ اصلا اس كى تحقير سے كنايہ ہے _
بعض نے يہ بھى كہا ہے كہ اس تعبير كے بيان كرنے كا سبب يہ ہے كہ '' ام جميل '' كے پاس جواہرات كا ايك بہت ہى قيمتى گردن بند تھااور اس نے يہ قسم كھائي تھى كہ وہ اسے پيغمبراكرم (ص) كى دشمنى ميں خرچ كرے گى لہذا اس كے اس كام كے بدلے ميں خدا نے بھى اس كے لئے ايسا عذاب مقرر كرديا ہے _
ابولہب كاعبرت ناك انجام
روايات ميں ايا ہے كہ جنگ''بدر''اور سخت شكست كے بعد ،جو مشركين قريش كو اٹھانى پڑى تھى ، ابولہب نے جوخود ميدان جنگ ميں شريك نہيں ہوا تھا ،ابوسفيان كے واپس آنے پر اس ماجرے كے بارے ميں سوال كيا،ابو سفيان كے قريش كے لشكر كى شكست اور سركوبى كى كيفيت بيان كي، اس كے بعد اس نے مزيد كہا :خدا كى قسم ہم نے اس جنگ ميں آسمان وزمين كے درميان ايسے سوار ديكھے ہيں جو محمد كى مدد كے ليے آئے تھے _
اس موقع پر'' عباس '' كے ايك غلام ''ابورافع ''نے كہا :ميں وہاں بيٹھاہوا تھا ،ميں نے اپنے ہاتھ بلند كيے اور كہا كہ وہ آسمانى فرشتے تھے _
اس سے ابولہب بھڑك اٹھا اور اس نے ايك زوردار تھپڑميرے منہ پر دے مارا ، مجھے اٹھاكر زمين پر
پٹخ ديا اور اپنے دل كى بھڑاس نكالنے كے ليے مجھے پيٹے چلے جارہا تھا وہاں عباس كى بيوي''ام الفضل'' بھى موجود تھى اس نے ايك چھڑى اٹھائي اور ابولہب كے سرپر دے مارى اور كہا :''كيا تونے اس كمزور آدمى كو اكيلاسمجھا ہے ؟ ''
ابولہب كا سرپھٹ گيا اور اس سے خون بہنے لگا سات دن كے بعد اس كے بدن ميں بدبو پيدا ہوگئي ، اس كى جلد ميں طاعون كى شكل كے دانے نكل آئے اور وہ اسى بيمارى سے واصل جہنم ہوگيا _
اس كے بدن سے اتنى بدبو آرہى تھى كہ لوگ اس كے نزديك جانے كى جرات نہيں كرتے تھے وہ اسے مكہ سے باہر لے گئے اور دور سے اس پر پانى ڈالا اور اس كے بعد اس كے اوپر پتھر پھينكے يہاں تك كہ اس كا بدن پتھروں اور مٹى كے نيچے چھپ گيا _
ابوسفيان وابوجہل چھپ كر قرآن سنتے ہيں
ايك شب ابوسفيان ،ابوجہل اور مشركين كے بہت سے دوسرے سردارجدا گانہ طور پر اور ايك دوسرے سے چھپ كر آنحضرت (ص) سے قرآن سننے كے لئے آگئے آپ اس وقت نماز پڑھنے ميں مشغول تھے اور ہر ايك ، ايك دوسرے سے بالكل بے خبر عليحدہ عليحدہ مقامات پر چھپ كر بيٹھ گئے چنانچہ وہ رات گئے تك قرآن سنتے رہے اور جب واپس پلٹنے لگے تو اس وقت صبح كى سفيدى نمودار ہوچكى تھى _اتفاق سے سب نے واپسى كے ليے ايك ہى راستے كا انتخاب كيا اور ان كى اچانك ايك دوسرے سے ملاقات ہوگئي اور ان كا بھانڈا وہيں پر پھوٹ گيا انھوں نے ايك دوسرے كوملامت كى اور اس بات پر زورديا كہ آئندہ ايسا كام نہيں كريں گے ، اگر نا سمجھ لوگوں كو پتہ چل گيا تو وہ شك وشبہ ميں پڑجائيں گے _
دوسرى اور تيسرى رات بھى ايسا ہى اتفاق ہوا اور پھروہى باتيں دہرائي گئيں اور آخرى رات تو انھوں نے كہا جب تك اس بات پر پختہ عہد نہ كرليں اپنى جگہ سے ہليں نہيں چنانچہ ايسا ہى كيا گيا اور پھر ہر ايك نے اپنى راہ لى _اسى رات كى صبح اخنس بن شريق نامى ايك مشرك اپنا عصالے كر سيدھا ابوسفيان كے گھر پہنچا اور اسے كہا : تم نے جو كچھ محمدسے سناہے اس كے بارے ميں تمہارى كيا رائے ہے ؟
اس نے كہا:خدا قسم : كچھ مطالب ايسے سنے ہيں جن كا معنى بخوبى سمجھ سكاہوں اور كچھ مسائل كى مراد اور معنى كو نہيں سمجھ سكا _ اخنس وہاں سے سيدھا ابوجہل كے پاس پہنچا اس سے بھى وہى سوال كيا : تم نے جو كچھ محمد سے سنا ہے اس كے بارے ميں كيا كہتے ہو ؟
ابوجہل نے كہا :سناكياہے، حقيقت يہ ہے كہ ہمارى اور اولاد عبدمناف كى قديم زمانے سے رقابت
چلى آرہى ہے انھوں نے بھوكوں كو كھانا كھلايا، ہم نے بھى كھلايا ، انھوں نے پيدل لوگوں كو سوارياں ديں ہم نے بھى ديں ، انھوں نے لوگوں پر خرچ كيا، سوہم نے بھى كيا گويا ہم دوش بدوش آگے بڑھتے رہے_جب انھوں نے دعوى كيا ہے كہ ان كے پاس وحى آسمانى بھى آتى ہے تو اس بارے ميں ہم ان كے ساتھ كس طرح برابرى كرسكتے ہيں ؟ اب جب كہ صورت حال يہ ہے تو خداكى قسم ہم نہ تو كبھى اس پر ايمان لائيں گے اور نہ ہى اس كى تصديق كريں گے _اخنس نے جب يہ بات سنى تو وہاں سے اٹھ كر چلاگيا(۱)
جى ہاں : قرآن كى كشش نے ان پر اس قدرا ثركرديا كہ وہ سپيدہ صبح تك اس الہى كشش ميں گم رہے ليكن خود خواہى ، تعصب اور مادى فوائدان پر اس قدر غالب آچكے تھے كہ انھوں نے حق قبول كرنے سے انكار كرديا _اس ميں شك نہيں كہ اس نورالہى ميں اس قدر طاقت ہے كہ ہر آمادہ دل كو وہ جہاں بھى ہو، اپنى طرف جذب كرليتا ہے يہى وجہ ہے كہ اس (قرآن)كا ان آيات ميں ''جہاد كبير'' كہہ كر تعارف كروايا گيا ہے_(۲)
ايك اور روايت ميں ہے كہ ايك دن ''اخنس بن شريق'' كا ابوجہل سے آمناسامنا ہوگيا جب كہ وہاں پر اور كوئي دوسرا آدمى موجود نہيں تھا_تو اخنس نے اس سے كہا :سچ بتائو محمد سچاہے ،ياجھوٹا ؟قريش ميں سے كوئي شخص سواميرے اور تيرے يہاں موجود نہيں ہے جو ہمارى باتوں كو سنے _
ابوجہل نے كہا: وائے ہو تجھ پر خداكى قسم وہ ميرے عقيدے ميں سچ كہتا ہے اور اس نے كبھى جھوٹ نہيں بولا ليكن اگر يہ اس بات كى بناہو جائے كہ محمد كا خاندان سب چيزوں كو اپنے قبضہ ميں كرلے، حج كا پرچم ، حاجيوں كو پانى پلانا،كعبہ كى پردہ دارى اور مقام نبوت تو باقى قريش كے لئے كيا باقى رہ جائےگا_(۳)
____________________
(۱)سيرت ابن ہشام جلداول ص۳۳۷ ، اور تفسير فى ظلال القر،آن جلد۶ ص ۱۷۳
(۲)تفسير نمونہ ج ۸ ص ۱۴۴
(۳)مندرجہ بالاروايات تفسير المنار اور مجمع البيان سے سورہ انعام ايت ۳۳/ كے ذيل ميں بيان كردہ تفسير سے لى گئي ہيں
اسلام كے پہلے مہاجرين
پيغمبر اكرم (ص) كى بعثت اور عمومى دعوت كے ابتدائي سالوں ميں مسلمان بہت ہى كم تعداد ميں تھے قريش نے قبائل عرب كو يہ نصيحت كرركھى تھى كہ ہر قبيلہ اپنے قبيلہ كے ان لوگوں پر كہ جو پيغمبر اكرم (ص) پر ايمان لاچكے ہيں انتہائي سخت دبائوڈاليں اور اس طرح مسلمانوں ميں سے ہر كوئي اپنى قوم وقبيلہ كى طرف سے انتہائي سختى اور دبائوميں مبتلا تھا اس وقت مسلمانوں كى تعداد جہادآزادى شروع كرنے كے لئے كافى نہيں تھى _پيغمبراكرم (ص) نے اس چھوٹے سے گروہ كى حفاظت اور مسلمانوں كے لئے حجاز سے باہر قيام گاہ مہياكرنے كے لئے انہيں ہجرت كا حكم دے ديا اور اس مقصد كےلئے حبشہ كو منتخب فرمايا اور كہا كہ وہاں ايك نيك دل بادشاہ ہے جو ظلم وستم كرنے سے اجتناب كرتا ہے _ تم وہاں چلے جائو يہاں تك كہ خداوند تعالى كوئي مناسب موقع ہميں عطافرمائے_پيغمبر اكرم (ص) كى مراد نجاشى سے تھى (نجاشى ايك عام نام تھا جيسے ''كسرى '' جو حبشہ كے تمام بادشاہوں كا خاص لقب تھا ليكن اس نجاشى كا اصل نام جو پيغمبر اكرم (ص) كا ہم عصر تھا اصحمہ تھا جو كہ حبشہ كى زبان ميں عطيہ وبخشش كے معنى ميں ہے )_
مسلمانوں ميں سے گيارہ مرداور چار عورتيں حبشہ جانے كے لئے تيار ہوئے اور ايك چھوٹى سى كشتى كرايہ پر لے كر بحرى راستے سے حبشہ جانے كے لئے روانہ ہوگئے _يہ بعثت كے پانچويں سال ماہ رجب كا واقعہ ہے _كچھ زيادہ عرصہ نہيں گزراتھا كہ جناب جعفر بن ابوطالب بھى مسلمانوں كے ايك دوسرے گروہ كے ساتھ حبشہ چلے گئے _ اب اس اسلامى جمعيت ميں ۸۲/مردوں علاوہ كافى تعداد ميں عورتيں اور بچے بھى تھے _
مشركين ،مہاجرين كى تعقيب ميں
اس ہجرت كى بنيادبت پرستوں كے لئے سخت تكليف دہ تھى كيونكہ دہ اچھى طرح سے ديكھ رہے تھے كہ كچھ زيادہ عرصہ نہيں گزرے گا كہ وہ لوگ جو تدريجاً اسلام كو قبول كرچكے ہيں اور حبشہ كى سرزمين امن وامان كى طرف چلے گئے ہيں ، مسلمانوں كى ايك طاقتور جماعت كى صورت اختيار كرليں گے يہ حيثيت ختم كرنے كے لئے انہوں نے كام كرنا شروع كرديا اس مقصد كے لئے انہوں نے جوانوں ميں سے دوہوشيار، فعال، حيلہ باز اور عيار جوانوں يعنى عمروبن عاص اور عمارہ بن وليد كا انتخاب كيا بہت سے ہديے دے كر ان كو حبشہ كى طرف روانہ كيا گيا ،ان دونوں نے كشتى ميں بيٹھ كر شراب پى اور ايك دوسرے سے لڑپڑے ليكن آخركار وہ اپنى سازش كو روبہ عمل لانے كے لئے سرزمين حبشہ ميں داخل ہوگئے _ ابتدائي مراحل طے كرنے كے بعد وہ نجاشى كے دربار ميں پہنچ گئے ،دربار ميں بارياب ہونے سے پہلے انہوں نے نجاشى كے درباريوں كو بہت قيمتى ہديے دے كران كو اپنا موافق بنايا تھا اور ان سے اپنى طرفدارى اور تائيد كرنے كا وعدہ لے ليا تھا _
'' عمروعاص '' نے اپنى گفتگو شروع كى اور نجاشى سے اس طرح ہمكلام ہوا:
ہم سرداران مكہ كے بھيجے ہوئے ہيں ہمارے درميان كچھ كم عقل جوانوں نے مخالفت كا علم بلند كيا ہے اور وہ اپنے بزرگوں كے دين سے پھر گئے ہيں ،اور ہمارے خدائوں كو برابھلا كہتے ہيں ،انہوں نے فتنہ وفساد برپا كرديا ہے لوگوں ميں نفاق كا بيچ بوديا ہے ،آپ كى سرزمين كى آزادى سے انہوں نے غلط فائدہ اٹھايا ہے اور انہوں نے يہاں آكر پناہ لے لى ہے ، ہميں اس بات كا خوف ہے كہ وہ يہاں بھى خلل اندازى نہ كريں بہتريہ ہے كہ آپ انہيں ہمارے سپرد كرديں تاكہ ہم انہيں اپنى جگہ واپس لے جائيں _
يہ كہہ كر ان لوگوں نے وہ ہديئےو وہ اپنے ساتھ لائے تھے پيش كيے _
نجاشى نے كہا : جب تك ميں اپنى حكومت ميں پناہ لينے والوں كے نمائندوں سے نہ مل لوں اس سلسلے ميں كوئي بات نہيں كرسكتا اور چونكہ يہ ايك مذہبى بحث ہے لہذا ضرورى ہے كہ تمہارى موجودگى ميں مذہبى نمائندوں كوبھى ايك جلسہ ميں دعوت دى جائے _
جعفربن ابى طالب مہاجرين كے بہترين خطيب
چنانچہ دوسرے دن ايك اہم جلسہ منعقد ہوا، اس ميں نجاشى كے مصاحبين اور عيسائي علماء كى ايك جماعت شريك تھى جعفر بن ابى طالب مسلمانوں كے نمائندہ كى حيثيت سے موجود تھے اور قريش كے نمائندے بھى حاضر ہوئے نجاشى نے قريش كے نمائندوں كى باتيں سننے كے بعد جناب جعفر كى طرف رخ كيا اور ان سے خواہش كى كہ وہ اس سلسلے ميں اپنا نقطہ نظربيان كريں جناب جعفرا دائے احترام كے بعد اس طرح گويا ہوئے : پہلے ان سے پوچھيے كہ كيا ہم ان كے بھاگے ہوئے غلاموں ميں سے ہيں ؟
عمرو نے كہا :نہيں بلكہ آپ آزاد ہيں _
جعفر: ان سے يہ بھى پوچھئے كہ كيا ان كا كوئي قرض ہمارے ذمہ ہے كہ جس كا وہ ہم سے مطالبہ كرتے ہيں ؟
عمرو : نہيں ہمارا آپ سے ايسا كوئي مطالبہ نہيں ہے _
جعفر: كيا ہم نے تمہارا كوئي خون بہايا ہے كہ جس كا ہم سے بدلہ لينا چاہتے ہو ؟
عمرو:نہيں ايسا كچھ نہيں ہے؟
جعفر: تو پھر تم ہم سے كيا چاہتے ہو ؟تم نے ہم پر اتنى سختياں كيں اور اتنى تكليفيں پہنچائيں اور ہم تمہارى سرزمين سے جو سراسر مركز ظلم وجور تھى باہر نكل آئے ہيں _
اس كے بعد جناب جعفر نے نجاشى كى طرف رخ كيا اور كہا : ہم جاہل اور نادان تھے، بت پرستى كرتے تھے ،مردار كا گوشت كھاتے تھے ، طرح طرح كے برے اور شرمناك كام انجام ديتے تھے، قطع رحمى كرتے تھے ، اپنے ہمسايوں سے براسلوك كرتے تھے اور ہمارے طاقتور كمزوروں كے حقوق ہڑپ كرجاتے تھے _ ليكن خدا وند تعالى نے ہمارے درميان ايك پيغمبر كو معبوث فرمايا، جس نے ہميں حكم ديا كہ ہم خدا كا كوئي مثل اورشريك نہ بنائيں اور فحشاء ومنكر، ظلم وستم اور قماربازى ترك كرديں ہميں حكم ديا كہ ہم نماز پڑھيں ،
زكوة ادا كريں ، عدل واحسان سے كام ليں اور اپنے وابستگان كى مدد كريں _
نجاشى نے كہا : عيسى مسيح عليہ السلام بھى انہى چيزوں كے لئے مبعوث ہوئے تھے _
اس كے بعد اس نے جناب جعفر سے پوچھا: ان آيات ميں سے جو تمہارے پيغمبر پر نازل ہوئي ہيں كچھ تہميں ياد ہيں _جعفرنے كہا : جى ہاں : اور پھر انہوں نے سورہ مريم كى تلاوت شروع كردى ،اس سورہ كى ايسى ہلادينے والى آيات كے ذريعہ جو مسيح عليہ السلام اور ان كى ماں كو ہر قسم كى نارو اتہمتوں سے پاك قرارديتى ہيں ، جناب جعفر كے حسن انتخاب نے عجيب وغريب اثر كيا يہاں تك كہ مسيحى علماء كى آنكھوں سے فرط شوق ميں آنسو بہنے لگے اور نجاشى نے پكار كر كہا : خدا كى قسم : ان آيات ميں حقيقت كى نشانياں نماياں ہيں _
جب عمرنے چاہا كہ اب يہاں كوئي بات كرے اور مسلمانوں كو اس كے سپرد كرنے كى درخواست كرے ، نجاشى نے ہاتھ بلند كيا اور زور سے عمرو كے منہ پر مارا اور كہا: خاموش رہو، خدا كى قسم اگر ان لوگوں كى مذمت ميں اس سے زيادہ كوئي بات كى تو ميں تجھے سزادوں گا ،يہ كہہ كر مامورين حكومت كى طرف رخ كيا اور پكار كر كہا : ان كے ہديے ان كو واپس كردو اور انہيں حبشہ كى سرزمين سے باہر نكال دو جناب جعفر اور ان كے ساتھيوں سے كہا : تم آرام سے ميرے ملك ميں زندگى بسر كرو _
اس واقعہ نے جہاں جعفر اور ان كے ساتھيوں سے كہا تم آرام سے ميرے ملك ميں زندگى بسركرو_(۱)
اس واقعہ نے جہاں حبشہ كے كچھ لوگوں پر اسلام شناسى كے سلسلے ميں گہرا تبليغى اثر كيا وہاں يہ واقعہ اس بات كا بھى سبب بنا كہ مكے كے مسلمان اس كو ايك اطمينان بخش جائے پناہ شماركريں اور نئے مسلمان ہونے والوں كو اس دن كے انتظارميں كہ جب وہ كافى قدرت و طاقت حاصل كريں ،وہاں پر بھيجتے رہيں _
____________________
(۱)بہت سے مفسرين نے نقل كيا ہے كہ سورہ مائدہ ايات ۸۲تا۸۶ نجاشى اور اس كے ساتھيوں كے بارے ميں نازل ہوئي ہيں
فتح خيبركى زيادہ خوشى ہے يا جعفركے پلٹنے كي
كئي سال گزر گئے پيغمبر (ص) بھى ہجرت فرماگئے اور اسلام روزبروز ترقى كى منزليں طے كرنے لگا،عہدنامہ حديبيہ لكھا گيا اور پيغمبر اكرم (ص) فتح خيبركى طرف متوجہ ہوئے اس وقت جب كہ مسلمان يہوديوں كے سب سے بڑے اور خطر ناك مركز كے لوٹنے كى وجہ سے اتنے خوش تھے كہ پھولے نہيں سماتے تھے، دور سے انہوں نے ايك مجمع كو لشكر اسلام كى طرف آتے ہوئے ديكھا ،تھوڑى ہى دير گزرى تھى كہ معلوم ہواكہ يہ وہى مہاجرين حبشہ ہيں ، جو آغوش وطن ميں پلٹ كر آرہے ہيں ،جب كہ دشمنوں كى بڑى بڑى طاقتيں د م توڑچكى ہيں اور اسلام كا پودا اپنى جڑيں كافى پھيلا چكا ہے _
پيغمبر اكرم (ص) نے جناب جعفراور مہا جرين حبشہ كو ديكھ كر يہ تاريخى جملہ ارشاد فرمايا:
''ميں نہيں جانتا كہ مجھے خيبر كے فتح ہونے كى زيادہ خوشى ہے يا جعفر كے پلٹ آنے كى ''
كہتے ہيں كہ مسلمانوں كے علاوہ شاميوں ميں سے آٹھ افراد كہ جن ميں ايك مسيحى راہب بھى تھا اور ان كا اسلام كى طرف شديد ميلان پيدا ہوگيا تھاپيغمبر (ص) كى خدمت ميں حاضرہو ئے اور انہوں نے سورہ ى سين كى كچھ آيات سننے كے بعد رونا شروع كرديا اور مسلمان ہوگئے اور كہنے لگے كہ يہ آيات مسيح عليہ السلام كى سچى تعليمات سے كس قدر مشابہت ركھتى ہيں _
اس روايت كے مطابق جو تفسير المنار، ميں سعيد بن جبير سے منقول ہے نجاشى نے اپنے يارو انصار ميں سے تيس بہترين افراد كوپيغمبر اكرم (ص) اور دين اسلام كے ساتھ اظہار عقيدت كے لئے مدينہ بھيجا تھا اور يہ وہى تھے جو سورہ ى سين كى ايات سن كر روپڑے تھے اور اسلام قبول كرليا تھا_
معراج رسول (ص)
علماء اسلام كے درميان مشہور يہ ہے كہ رسول اكرم (ص) جس وقت مكہ ميں تھے تو ايك ہى رات ميں آپ قدرت الہى سے مسجد الحرام سے اقصى پہنچے كہ جو بہت المقدس ميں ہے ، وہاں سے آپ آسمانوں كى طرف گئے ، آسمانى دسعتوں ميں عظمت الہى كے آثار مشاہدہ كئے اور اسى رات مكہ واپس آگئے _
نيزيہ بھى مشہور ہے كہ يہ زمينى اور آسمانى سير جسم اور روح كے ساتھ تھى البتہ يہ سير چونكہ بہت عجيب غريب اور بے نظير تھى لہذا بعض حضرات نے اس كى توجيہ كى اور اسے معراج روحانى قرار ديا اور كہا كہ يہ ايك طرح كا خواب تھايا مكا شفہ روحى تھا ليكن جيسا كہ ہم كہہ چكے ہيں يہ بات قرآن كے ظاہرى مفہوم كے بالكل خلاف ہے كيونكہ ظاہرقر آن اس معراج كے جسمانى ہونے كى گواہى ديتا ہے _
معراج كى كيفيت قرآن و حديث كى نظر سے
قرآن حكيم كى دوسورتوں ميں اس مسئلے كى طرف اشارہ كيا گيا ہے پہلى سورت بنى اسرائيل ہے اس ميں اس سفر كے ابتدائي حصے كا تذكرہ ہے _ (يعنى مكہ كى مسجد الحرام سے بيت المقدس كى مسجد الاقصى تك كا سفر) اس سلسلے كى دوسرى سورت _ سورہ نجم ہے اس كى آيت ۱۳ تا ۱۸ ميں معراج كا دوسرا حصہ بيان كيا گيا ہے اور يہ آسمانى سير كے متعلق ہے ارشاد ہوتا ہے :
ان چھ آيات كا مفہوم يہ ہے : رسول اللہ نے فرشتہ وحى جبرئيل كو اس كو اصلى صورت ميں دوسرى مرتبہ
ديكھا (پہلے آپ اسے نزول وحى كے آغاز ميں كوہ حرا ميں ديكھ چكے تھے) يہ ملاقات بہشت جاوداں كے پاس ہوئي ، يہ منظر ديكھتے ہوئے رسول اللہ (ص) كسى اشتباہ كا شكار نہ تھے آپ نے عظمت الہى كى عظيم نشانياں مشاہدہ كيں _
يہ آيات كہ جو اكثر مفسرين كے بقول واقعہ معراج سے متعلق ہيں يہ بھى نشاندہى كرتى ہيں كہ يہ واقعہ عالم بيدارى ميں پيش آيا خصوصا ''مازاغ البصروماطغي'' اس امر كا شاہد ہے كہ رسول اللہ (ص) كى آنكھ كسى خطا واشتباہ اور انحراف سے دوچار نہيں ہوئي _
اس واقعے كے سلسلے ميں مشہور اسلامى كتابوں ميں بہت زيادہ روايات نقل ہوئي ہيں _
علماء اسلام نے ان روايات كے تو اتر اور شہرت كى گواہى دى ہے _(۱)
معراج كى تاريخ
واقعہ معراج كى تاريخ كے سلسلے ميں اسلامى مو رخين كے درميان اختلاف ہے بعض كا خيال ہے كہ يہ واقعہ بعثت كے دسويں سال ۲۷ /رجب كى شب پيش آيا، بعض كہتے ہيں كہ يہ بعثت كے بارہويں سال ۱۷/رمضان المبارك كى رات وقوع پذير ہوا جب كہ بعض اسے اوائل بعثت ميں ذكر كرتے ہيں ليكن اس كے وقوع پذير ہونے كى تاريخ ميں اختلاف،اصل واقعہ پر اختلاف ميں حائل نہيں ہوتا _
اس نكتے كا ذكر بھى ضرورى ہے كہ صر ف مسلمان ہى معراج كا عقيدہ نہيں كھتے بلكہ ديگراديان كے پيروكار وں ميں بھى كم و بيش يہ عقيدہ پايا جاتا ہے ان ميں حضرت عيسى عليہ السلام كے بارے ميں يہ عقيدہ عجيب تر صورت ميں نظر آتا ہے جيسا كہ انجيل مرقس كے باب ۶/ لوقاكے باب ۲۴/ اور يوحنا كے باب ا۲/ ميں ہے:
عيسى عليہ السلام مصلوب ہونے كے بعد دفن ہوگئے تو مردوں ميں سے اٹھ كھڑے ہوئے ،اور چاليس روز تك لوگوں ميں موجود رہے پھر آسمان كى طرف چڑھ گئے ( اور ہميشہ كے لئے معراج پر چلے گئے )
____________________
(۱)رجوع كريں تفسير نمونہ ج
ضمناً يہ وضاحت بھى ہوجائے كہ بعض اسلامى روايات سے بھى معلوم ہوتا ہے كہ بعض گزشتہ انبياء كو بھى معراج نصيب ہوئي تھى _
پيغمبرگرامى (ص) نے يہ آسمانى سفر چند مرحلوں ميں طے كيا_
پہلا مرحلہ،مسجدالحرام اور مسجد اقصى كے درميانى فاصلہ كا مرحلہ تھا، جس كى طرف سورہ اسراء كى پہلى آيت ميں اشارہ ہوا ہے: ''منزہ ہے وہ خدا جو ايك رات ميں اپنے بندہ كو مسجد الحرام سے مسجد اقصى تك لے گيا''_ بعض معتبر روايات كے مطابق آپ(ص) نے اثناء راہ ميں جبرئيل(ع) كى معيت ميں سر زمين مدينہ ميں نزول فرمايا او روہاں نماز پڑھى _
او رمسجد الاقصى ميں بھى ابراہيم و موسى و عيسى عليہم السلام انبياء كى ارواح كى موجود گى ميں نماز پڑھى اور امام جماعت پيغمبر (ص) تھے، اس كے بعد وہاں سے پيغمبر (ص) كا آسمانى سفر شروع ہوا، اور آپ(ص) نے ساتوں آسمانوں كو يكے بعد ديگرے عبور كيا او رہر اسمان ميں ايك نياہى منظر ديكھا ، بعض آسمانوں ميں پيغمبروں اور فرشتوں سے، بعض آسمانوں ميں دوزخ او ردوزخيوں سے اور بعض ميں جنت اور جنتيوں سے ملاقات كى ،او رپيغمبر (ص) نے ان ميں سے ہر ايك سے بہت سى تربيتى اور اصلاحى قيمتى باتيں اپنى روح پاك ميں ذخيرہ كيں اور بہت سے عجائبات كا مشاہدہ كيا جن ميں سے ہر ايك عالم ہستى كے اسرار ميں سے ايك راز تھا، اور واپس آنے كے بعد ان كو صراحت كے ساتھ اور بعض اوقا ت كنايہ اور مثال كى زبان ميں امت كى آگاہى كے لئے مناسب فرصتوں ميں بيان فرماتے تھے، اور تعليم وتربيت كے لئے اس سے بہت زيادہ فائدہ اٹھاتے تھے_
يہ امر اس بات كى نشاندہى كرتا ہے كہ اس آسمانى سفر كا ايك اہم مقصد،ان قيمتى مشاہدات كے تربيتى و عرفانى نتائج سے استفادہ كرنا تھا،اور قرآن كى يہ پر معنى تعبير''لقد راى من آيات ربہ الكبرى ''(۱)
____________________
(۱)سورہ نجم ايت۱۸
ان تمام امور كى طرف ايك اجمالى اور سربستہ اشارہ ہو سكتى ہ۶ے_
البتہ جيسا كہ ہم بيان كرچكے ہيں كہ وہ بہشت اور دوزخ جس كو پيغمبر (ص) نے سفر معراج ميں مشاہدہ كيا اور كچھ لوگوں كو وہاں عيش ميں اور عذاب ميں ديكھا ، وہ قيامت والى جنت اور دوزخ نہيں تھيں ، بلكہ وہ برزخ والى جنت ودوزخ تھيں ، كيونكہ قرآن مجيدكے مطابق جيسا كہ كہتا ہے كہ قيامت والى جنت ودوزخ قيام قيامت اور حساب وكتاب سے فراغت كے بعد نيكو كاروں اور بدكاروں كو نصيب ہوگى _
آخر كار آپ ساتويں آسمان پر پہنچ گئے ، وہاں نور كے بہت سے حجابوں كا مشاہدہ كيا ، وہى جگہ جہاں پر ''سدرة المنتہى '' اور'' جنة الما وى '' واقع تھي، اور پيغمبر (ص) اس جہان سراسر نوروروشنى ميں ، شہود باطنى كى اوج، اور قرب الى اللہ اور مقام '' قاب قوسين اوادني''پر فائز ہوئے اور خدا نے اس سفر ميں آپ كو مخالب كرتے ہوئے بہت سے اہم احكام ديئے اور بہت سے ارشادات فرمائے جن كا ايك مجموعہ اس وقت اسلامى روايات ميں '' احاديث قدسى '' كى صورت ميں ہمارے لئے يادگار رہ گيا ہے _
قابل توجہ بات يہ ہے كہ بہت سى روايات كى تصريح كے مطابق پيغمبر (ص) نے اس عظيم سفر كے مختلف حصوں ميں اچانك على عليہ السلام كو اپنے پہلو ميں ديكھا، اور ان روايات ميں كچھ ايسى تعبيريں نظر آتى ہيں ، جو پيغمبر اكرم (ص) كے بعد على عليہ السلام كے مقام كى حد سے زيادہ عظمت كى گواہ ہيں _
معراج كى ان سب روايات كے باوجود كچھ ايسے پيچيدہ اور اسرار آميز جملے ہيں جن كے مطالب كو كشف كرنا آسان نہيں ہے، اور اصطلاح كے مطابق روايات متشابہ كا حصہ ہيں يعنى ايسى روايات جن كى تشريح كوخود معصومين عليہم السلام كے سپرد كردينا چاہئے _(۱)
ضمنى طورپر، معراج كى روايات اہل سنت كى كتابوں ميں بھى تفصيل سے آئي ہيں ،اور ان كے راويوں ميں سے تقريباً ۳۰/افراد نے حديث معراج كو نقل كيا ہے_
____________________
(۱)روايات معراج كے سلسلہ ميں مزيد اطلاع كے لئے بحارالانوار كى جلد ۱۸ از ص ۲۸۲ تاص ۱۰ ۴ رجوع فرمائيں
يہاں يہ سوال سامنے آتاہے : يہ اتنا لمبا سفر طے كرنا اور يہ سب عجيب اور قسم قسم كے حادثات، اور يہ سارى لمبى چوڑى گفتگو ، اور يہ سب كے سب مشاہدات ايك ہى رات ميں ياايك رات سے بھى كم وقت ميں كس طرح سے انجام پاگئے ؟
ليكن ايك نكتہ كى طرف توجہ كرنے سے اس سوال كا جواب واضح ہوجاتاہے ، سفر معراج ہرگز ايك عام سفر نہيں تھا ، كہ اسے عام معياروں سے پركھاجائے نہ تو اصل سفر معمولى تھا اور نہ ہى آپ كى سوارى معمولى اور عام تھي،نہ آپ كے مشاہدات عام اور معمولى تھے اور نہ ہى آپ كى گفتگو ، اور نہ ہى وہ پيمانے جواس ميں استعمال ہوئے، ہمارے كرہ خاكى كے محدود اور چھوٹے پيمانوں كے مانند تھے، اور نہ ہى وہ تشبيہات جواس ميں بيان ہوئي ہيں ان مناظر كى عظمت كو بيان كرسكتى ہيں جو پيغمبر (ص) نے مشاہدہ كيے ، تمام چيزيں خارق العادت صورت ميں ، اور اس مكان وزمان سے خارج ہونے كے پيمانوں ميں ، جن سے ہم آشنا نہيں ، واقع ہوئيں _
اس بناپر كوئي تعجب كى بات نہيں ہے كہ يہ امور ہمارے كرہ زمين كے زمانى پيمانوں كے ساتھ ايك رات يا ايك رات سے بھى كم وقت ميں واقع ہوئے ہوں _(۱)
معراج جسمانى تھى ياروحانى ؟
شيعہ اور سنى علمائے اسلام كے درميان مشہور ہے كہ يہ واقعہ عالم بيدارى ميں صورت پذير ہوا، سورہ بنى اسرائيل كى پہلى آيت اور سورہ نجم كى مذكورہ آيات كا ظاہرى مفہوم بھى اس امر كا شاہد ہے كہ يہ واقعہ بيدارى كى حالت ميں پيش آيا _
تواريخ اسلامى بھى اس امرپر شاہد وصادق ہيں ،تاريخ كہتى ہے : جس وقت رسول اللہ (ص) نے واقعہ معراج كا ذكر كيا تو مشركين نے شدت سے اس كا انكار كرديا اور اسے آپ كے خلاف ايك بہانہ بناليا_
____________________
(۱)تفسير نمونہ ج ۱۳ ص۹۷ تا ۹۹
يہ بات گواہى ديتى ہے كہ رسول اللہ (ص) ہرگز خواب يا مكا شفہ روحانى كے مدعى نہ تھے ورنہ مخالفين اس قدر شور وغوغا نہ كرتے _
يہ جو حسن بصرى سے روايت ہے كہ : ''يہ واقعہ خواب ميں پيش آيا ''_
اور اسى طرح جو حضرت عائشہ سے روايت ہے كہ : ''خداكى قسم بدن رسول اللہ (ص) ہم سے جدا نہيں ہوا صرف آپ كى روح آسمان پر گئي'' ايسى روايات ظاہر ًاسياسى پہلو ركھتى ہيں _
معراج كا مقصد
گزشتہ مباحث پر غور كرنے سے يہ بات واضح ہوجاتى ہے كہ معراج كا مقصد يہ نہيں كہ رسول اكرم (ص) ديدار خدا كے لئے آسمانوں پر جائيں ، جيسا كہ سادہ لوح افرادخيال كرتے ہيں ، افسوس سے كہنا پڑتا ہے كہ بعض مغربى دانشور بھى ناآگاہى كى بناء پر دوسروں كے سامنے اسلام كا چہرہ بگاڑكر پيش كرنے كے لئے ايسى باتيں كرتے ہيں ان ميں سے ايك مسڑ'' گيور گيو'' بھى ہيں وہ بھى كتاب ''محمد وہ پيغمبر ہيں جنہيں پھرسے پہچاننا چاہئے''(۱) ميں كہتے ہيں :
''محمد اپنے سفر معراج ميں ايسى جگہ پہنچے كہ انہيں خدا كے قلم كى آواز سنائي دي، انہوں نے سمجھا كہ اللہ اپنے بندوں كے حساب كتاب ميں مشغول ہے البتہ وہ اللہ كے قلم كى آواز تو سننے تھے مگر انہيں اللہ دكھائي نہ ديتا تھا كيونكہ كوئي شخص خدا كو نہيں ديكھ سكتا خواہ پيغمبر ہى كيوں نہ ہوں ''يہ عبارت نشاندھى كرتى ہے كہ قلم لكڑى كا تھا، ايسا كہ كاغذ پر لكھتے وقت لرزتاتھا اور اواز پيدا كرتا تھا، اسى طرح كى اور بہت سارے خرافات اس ميں موجود ہيں ''_ جب كہ مقصد معراج يہ تھا كہ اللہ كے عظيم پيغمبر كائنات ميں بالخصوص عالم بالا ميں موجود عظمت الہى كى نشانيوں كا مشاہدہ كريں اور انسانوں كى ہدايت ورہبرى كے لئے ايك نيا ادراك اور ايك نئي بصيرت حاصل كريں _
____________________
(۱)مذكورہ كتاب كے فارسى ترجمے كا نام ہے '' محمد پيغمبرى كہ از نوبايد شناخت '' ص ۱۲۵ ديكھئے
يہ ھدف واضح طورپر سورہ بنى اسرائيل كى پہلى ايت اور سورہ نجم كى ايت ۱۸ ميں بيان ہوا ہے_
امام صادق عليہ السلام سے مقصد معراج پوچھاگيا تو آپ نے فرمايا :
''خدا ہرگز كوئي مكان نہيں ركھتا اور نہ اس پر كوئي زمانہ گزرتاہے ليكن وہ چاہتا تھا كہ فرشتوں اور آسمان كے باسيوں كو اپنے پيغمبر كى تشريف آورى سے عزت بخشے اور انہيں آپ كى زيارت كا شرف عطاكرے نيزآپ كو اپنى عظمت كے عجائبات دكھائے تاكہ واپس آكر آپ انہيں لوگوں سے بيان كريں ''_
معراج اور سائنس
گزشتہ زمانے ميں بعض فلاسفہ بطليموس كى طرح يہ نظريہ ركھتے تھے كہ نو آسمان پياز كے چھلكے كى طرح تہہ بہ تہہ ايك دوسرے كے اوپر ہيں واقعہ معراج كو قبول كرنے ميں ان كے لئے سب سے بڑى ركاوٹ ان كا يہى نظريہ تھا ان كے خيال ميں اس طرح تويہ ماننا پڑتا ہے كہ آسمان شگافتہ ہوگئے اور پھر آپس ميں مل گئے_(۱)
ليكن'' بطليموسى ''نظريہ ختم ہو گيا تو اسمانوں كے شگافتہ ہونے كا مسئلہ ختم ہوگيا البتہ علم ہئيت ميں جو ترقى ہوئي ہے اس سے معراج كے سلسلے ميں نئے سوالات ابھر ے ہيں مثلاً;
۱)ايسے فضائي سفر ميں پہلى بار ركاوٹ كشش ثقل ہے كہ جس پر كنٹرول حاصل كرنے كے لے غير معمولى وسائل و ذرائع كى ضرورت ہے كيونكہ زمين كے مداراور مركز ثقل سے نكلنے كے لئے كم از كم چاليس ہزار كلو ميٹر فى گھنٹہ رفتار كى ضرورت ہے _
۲)دوسرى ركاوٹ يہ ہے كہ زمين كے باہر خلا ميں ہوا نہيں ہے جبكہ ہوا كے بغير انسان زندہ نہيں رہ سكتا _
____________________
(۱)بعض قديم فلاسفہ كا نظريہ يہ تھا كہ اسمانوں ميں ايسا ہونا ممكن نہيں ہے _اصطلاح ميں وہ كہتے تھے كہ افلاك ميں --''خرق ''(پھٹنا)اور ''التيام''(ملنا)ممكن نہيں
۳)تيسرى ركاوٹ ايسے سفر ميں اس حصہ ميں سورج كى جلادينے والى تپش ہے جبكہ جس حصہ پر سورج كى مستقيماً روشنى پڑرہى ہے اور اسى طرح اس حصے ميں جان ليوا سردى ہے جس ميں سورج كى روشنى نہيں پڑرہى ہے_
۴) اس سفر ميں چوتھى ركاوٹ وہ خطرناك شعاعيں ہيں كہ جو فضا ئے زمين كے اوپر موجود ہيں مثلا كا سمك ريز cosmic ravs الٹرا وائلٹ ريز ultra violet ravs اور ايكس ريز x ravs يہ شعاعيں اگر تھوڑى مقدار ميں انسانى بدن پر پڑيں تو بدن كے آرگانزم otganism كے لئے نقصان دہ نہيں ہيں ليكن فضائے زمين كے باہر يہ شعاعيں بہت تباہ كن ہوتى ہيں (زمين پر رہنے والوں كے لئے زمين كے اوپر موجود فضاكى وجہ سے ان كى تپش ختم ہوجاتى ہے )
۵) ايك اور مشكل اس سلسلہ ميں يہ ہے كہ خلاميں انسان بے وزنى كى كيفيت سے دوچار ہوجاتا ہے اگرچہ تدريجاًبے وزنى كى عادت پيدا كى جاسكتى ہے ليكن اگر زمين كے باسى بغير كسى تيارى اور تمہيد كے خلا ميں جا پہنچيں تو بےوزنى سے نمٹنا بہت ہى مشكل ہے _
۶) آخرى مشكل اس سلسلے ميں زمانے كى مشكل ہے اور يہ نہايت اہم ركاوٹ ہے كيونكہ دورحاضر كے سان سى علوم كے مطابق روشنى كى رفتار ہر چيز سے زيادہ ہے اور اگر كوئي آسمانوں كى سير كرنا چاہے تو ضرورى ہو گاكہ اس كى رفتار سے زيادہ ہو _
ان سوالات كے پيش نظر چندچيزوں پر توجہ
ان امور كے جواب ميں ان نكات كى طرف توجہ ضرورى ہے _
۱_ہم جانتے ہيں كہ فضائي سفر كى تمام تر مشكلات كے باوجود آخر كار انسان علم كى قوت سے اس پر دسترس حاصل كرچكا ہے اور سوائے زمانے كى مشكل كے باقى تمام مشكلات حل ہوچكى ہيں اور زمانے والى مشكل بھى بہت دور كے سفر سے مربوط ہے _
۲_اس ميں شك نہيں كہ مسئلہ معراج عمومى اور معمولى پہلو نہيں ركھتا بلكہ يہ اللہ كى لامتناہى قدرت و طاقت كے ذريعے صورت پذير ہوا اور انبياء كے تمام معجزات اسى قسم كے تھے زيادہ واضح الفاظ ميں يہ كہا جاسكتا ہے كہ معجزہ عقلاً محال نہيں ہونا چاہئے اور جب معجزہ بھى عقلاً ممكن ہے ، توباقى معاملات اللہ كى قدرت سے حل ہوجاتے ہيں _
جب انسان يہ طاقت ركھتا ہے كہ سائنسى ترقى كى بنياد پر ايسى چيزيں بنالے جو زمينى مركز ثقل سے باہر نكل سكتى ہيں ، ايسى چيزيں تيار كرلے كہ فضائے زمين سے باہر كى ہولناك شعاعيں ان پر اثر نہ كرسكيں اور ايسے لباس تيار كرلے كہ جو اسے انتہائي زيادہ گرمى اور سردى سے محفوظ ركھ سكيں اور مشق كے ذريعے بے وزنى كى كيفيت ميں رہنے كى عادت پيدا كرلے ،يعنى جب انسان اپنى محدود قوت كے ذريعے يہ كام كرسكتا ہے تو پھر كيا اللہ اپنى لا محدود طاقت كے ذريعہ يہ كام نہيں كرسكتا ؟
ہميں يقين ہے كہ اللہ نے اپنے رسول كو اس سفر كے لئے انتہائي تيز رفتار سوارى دى تھى اور اس سفرميں در پيش خطرات سے محفوظ رہنے كے لئے انہيں اپنى مدد كا لباس پہنايا تھا ،ہاں يہ سوارى كس قسم كى تھى اور اس كا نام كيا تھا براق ؟ رفرف ؟ يا كوئي اور ؟يہ مسئلہ قدرت كاراز ہے، ہميں اس كا علم نہيں _
ان تمام چيزوں سے قطع نظر تيز تريں رفتار كے بارے ميں مذكورہ نظريہ آج كے سائنسدانوں كے درميان متزلزل ہوچكا ہے اگر چہ آ ئن سٹائن اپنے مشہور نظريہ پر پختہ يقين ركھتا ہے _
آج كے سائنسداں كہتے ہيں كہ امواج جاذمہ rdvs of at f fion زمانے كى احتياج كے بغير آن واحد ميں دنيا كى ايك طرف سے دوسرى طرف منتقل ہوجاتى ہيں اور اپنا اثر چھوڑتى ہيں يہاں تك كہ يہ احتمال بھى ہے كہ عالم كے پھيلائو سے مربوط حركات ميں ايسے منظومے موجودہيں كہ جوروشنى كى رفتارسے زيادہ تيزى سے مركز جہان سے دور ہوجاتے ہيں (ہم جانتے ہيں كہ كائنات پھيل رہى ہے اور ستارے اور نظام ہائے شمسى تيزى كے ساتھ ايك دوسرے سے دور ہورہے ہيں )(غور كيجئے گا)مختصر يہ كہ اس سفر كے لئے جو بھى مشكلات بيان كى گئي ہيں ان ميں سے كوئي بھى عقلى طور پر اس راہ ميں حائل نہيں ہے اور ايسى كوئي بنياد نہيں كہ
واقعہ معراج كو محال عقلى سمجھا جائے اس راستے ميں درپيش مسائل كو حل كرنے كے لئے جو وسائل دركار ہيں وہ موجود ہوں تو ايسا ہوسكتا ہے _
بہرحال واقعہ معراج نہ تو عقلى دلائل كے حوالے سے ناممكن ہے اور نہ دور حاضر كے سائنسى معياروں كے لحاظ سے ، البتہ اس كے غير معمولى اور معجزہ ہونے كو سب قبول كرتے ہيں لہذا جب قطعى اور يقينى نقلى دليل سے ثابت ہوجائے تو اسے قبول كرلينا چاہئے_
شب معراج پيغمبر (ص) سے خداكى باتيں
پيغمبر نے شب معراج پروردگار سبحان سے اس طرح سوال كيا :
پروردگار ا: كونساعمل افضل ہے ؟
خدا وند تعالى نے فرمايا :
'' كوئي چيز ميرے نزيك مجھ پر توكل كرنے ، اور جو كچھ ميں نے تقسيم كركے ديا ہے اس پر راضى ہونے سے بہتر نہيں ہے ،اے محمد جولوگ ميرى خاطر ايك دوسرے كو دوست ركھتے ہيں ميرى محبت ان كے شامل حال ہوگى اور جو لوگ ميرى خاطر ايك دوسرے پر مہربان ہيں اور ميرى خاطر دوستى كے تعلقات ركھتے ہيں انھيں دوست ركھتا ہوں علاوہ بر ايں ميرى محبت ان لوكوں كے لئے جو مجھ پر توكل كريں فرض اور لازم ہے اور ميرى محبت كے لئے كوئي حد او ركنارہ اوراس كى انتہا نہيں ہے ''_
اس طرح سے محبت كى باتيں شروع ہوتى ہيں ايسى محبت جس كى كوئي انتہا نہيں ،جو كشادہ اور اصولى طور پر عالم ہستى ميں اسى محور محبت پر گردش كررہا ہے _
ايك اور ددسرے حصہ ميں يہ آيا ہے _
''اے احمد بچوں كى طرح نہ ہونا جو سبز وزرد اور زرق وبرق كو دوست ركھتے ہيں اور جب انہيں كوئي عمدہ اور شيريں غذا ديدى جاتى ہے تو وہ مغرور ہوجاتے ہيں اور ہر چيز كو بھول جاتے ہيں ''_
پيغمبرنے اس موقع پر عرض كيا :
پروردگارا :مجھے كسى ايسے عمل كى ہدايت فرماجو تيرى بارگاہ ميں قرب كا باعث ہو _
فرمايا : رات كو دن اور دن كو رات قرار دے _
عرض كيا : كس طرح ؟
فرمايا : اس طرح كے تيرا سونا نماز ہو اور ہرگز اپنے شكم كو مكمل طور پر سير نہ كرنا _
ايك اور حصہ ميں آيا ہے :
''اے احمد ميرى محبت فقيروں اور محروموں سے محبت ہے ،ان كے قريب ہوجاو اور ان كى مجلس كے قريب بيٹھو كہ ميں تيرے نزديك ہوں اور دنيا پرست اور ثروت مندوں كو اپنے سے دور ركھو اور ان كى مجالس سے بچتے رہو ''_
اہل دنيا و آخرت
ايك اور حصہ ميں آياہے:
''اے احمد دنيا كے زرق برق اور دنيا پرستوں كو مبغوض شمار كر اور آخرت كو محبوب ركھ'' عرض كرتے ہيں :
پروردگارا :اہل دنيا اور اہل آخرت كون ہيں ؟
فرمايا :''اہل دنيا تو وہ لوگ ہيں جو زيادہ كھاتے ہيں زيادہ ہنستے ہيں زيادہ سوتے ہيں اور غصہ كرتے ہيں اور تھوڑا خوش ہوتے ہيں نہ ہى تو برائيوں كے مقابلہ ميں كسى سے عذر چاہتے ہيں _اور نہ ہى كسى عذر چاہنے والے سے اس كا عذر قبول كرتے ہيں اطاعت خدا ميں سست ہيں اور گناہ كرنے ميں دلير ہيں ، لمبى چوڑى آرزوئيں ركھتے ہيں حالانكہ ان كى اجل قريب آپہنچى ہے مگر وہ ہر گز اپنے اعمال كا حساب نہيں كرتے ان سے لوگوں كو بہت كم نفع ہوتا ہے، باتيں زيادہ كرتے ہيں احساس ذمہ دارى نہيں ركھتے اور كھانے پينے سے ہى غرض ركھتے ہيں _
اہل دنيا نہ تو نعمت ميں خدا كا شكريہ ادا كرتے ہيں اورنہ ہى مصائب ميں صبر كرتے ہيں _ زيادہ خدمات بھى ان كى نظر ميں تھوڑى ہيں (اور خود ان كى اپنى خدمات تھوڑى بھى زيادہ ہيں ) اپنے اس كام كے انجام پانے پر جو انہوں نے انجام نہيں ديا ہے تعريف كرتے ہيں اور ايسى چيز كا مطالبہ كرتے ہيں جو ان كا حق نہيں ہے _ ہميشہ اپنى آرزوئوں اور تمنا وں كى بات كرتے ہيں اور لوگوں كے عيوب تو بيان كرتے رہتے ہيں ليكن ان كى نيكيوں كو چھپاتے ہيں _
'' عرض كيا :پروردگارا :كيا دنيا پرست اس كے علاوہ بھى كوئي عيب ركھتے ہيں ؟
''فرمايا : اے احمد ان كا عيب يہ ہے كہ جہل اور حماقت ان ميں بہت زيادہ ہے جس استاد سے انہوں علم سيكھا ہے وہ اس سے تواضع نہيں كرتے اور اپنے آپ كو عاقل كل سمجھتے ہيں حالانكہ وہ صاحبان علم كے نزديك نادان اور احمق ہيں '' _
اہل بہشت كے صفات
خدا وند عالم اس كے بعد اہل آخرت اور بہشتيوں كے اوصاف كو يوں بيان كرتا ہے : ''وہ ايسے لوگ ہيں جو با حيا ہيں ان كى جہالت كم ہے ، ان كے منافع زيادہ ہيں ،لوگ ان سے راحت و آرام ميں ہوتے ہيں اور وہ خود اپنے ہاتھوں تكليف ميں ہوتے ہيں اور ان كى باتيں سنجيدہ ہوتى ہيں ''_
وہ ہميشہ اپنے اعمال كا حساب كرتے رہتے ہيں اور اسى وجہ سے وہ خود كو زحمت ميں ڈالتے رہتے ہيں ان كى آنكھيں سوئي ہوئي ہوتى ہيں ليكن ان كے دل بيدار ہوتے ہيں ان كى آنكھ گرياں ہوتى ہے اور ان كا دل ہميشہ ياد خدا ميں مصروف رہتا ہے جس وقت لوگ غافلوں كے زمرہ ميں لكھے جارہے ہوں وہ اس وقت ذكر كرنے والوں ميں لكھے جاتے ہيں _
نعمتوں كے آغاز ميں حمد خدا بجالاتے ہيں اور ختم ہونے پر اس كا شكر ادا كرتے ہيں ، ان كى دعائيں بارگاہ خدا ميں قبول ہوتى ہيں اور ان كى حاجتيں پورى كى جاتى ہيں اور فرشتے ان كے وجود سے مسرور اور خوش
رہتے ہيں (غافل )لوگ ان كے نزديك مردہ ہيں اور خدا اُن كے نزديك حى و قيوم اور كريم ہے (ان كى ہمت اتنى بلند ہے كہ وہ اس كے سوا كسى كے اوپر نظر نہيں ركھتے )
لوگ تو اپنى عمر ميں صرف ايك ہى دفعہ مرتے ہيں ليكن وہ جہاد باالنفس اور ہواوہوس كى مخالفت كى وجہ سے ہر روز ستر مرتبہ مرتے ہيں (اور نئي زندگى پاتے ہيں )
جس وقت عبادت كے ليئےيرے سامنے كھڑے ہوتے ہيں تو ايك فولادى باندھ اور بنيان مرصوص كے مانند ہوتے ہيں اور ان كے دل ميں مخلوقات كى طرف كوئي توجہ نہيں ہوتى مجھے اپنى عزت و جلال كى قسم ہے كہ ميں انہيں ايك پاكيزہ زندگى بخشونگا اور عمر كے اختتام پر ميں خود ان كى روح كو قبض كروں گا اور ان كى پرواز كے لئے آسمان كے دروازوں كو كھول دوں گاتمام حجابوں كو ان كے سامنے سے ہٹا دوں گا اور حكم دوں گا كہ بہشت خود اپنے ان كے لئے آراستہ كرے ''اے احمد عبادت كے دس حصہ ہيں جن ميں سے نو حصے طلب رزق حلال ميں ہيں جب تيرا كھانا اور پينا حلال ہوگا تو تيرى حفظ و حمايت ميں ہوگا''
بہترين اور جاويدانى زندگي
ايك اور حصہ ميں آيا ہے:
''اے احمد كيا تو جانتا ہے كہ كونسى زندگى زيادہ گوارا اور زيادہ دوام ركھتى ہے''؟
عرض كيا : خداوندا: نہيں _
فرمايا: گوارا زندگى وہ ہوتى ہے جس كا صاحب ايك لمحہ كے لئے بھى ميرى ياد سے غافل نہ رہے، ميرى نعمت كو فراموش نہ كرے ، ميرے حق سے بے خبر نہ رہے اور رات دن ميرى رضا كو طلب كرے_
ليكن باقى رہنے والى زندگى وہ ہے جس ميں اپنى نجات كے لئے عمل كرے ، دنيا اس كى نظر ميں حقير ہو اور آخرت بڑى اور بزرگ ہو، ميرى رضا كو اپنى رضا پر مقدم كرے، اور ہميشہ ميرى خوشنودى كو طلب كرے، ميرے حق كو بڑا سمجھے اور اپنى نسبت ميرى آگاہى كى طرف توجہ ركھے_
ہرگناہ اور معصيت پر مجھے ياد كرليا كرے ، اور اپنے دل كو اس چيز سے جو مجھے پسند نہيں ہے پاك
ركھے، شيطانى وسو سوں كو مبغوض ركھے ،اور ابليس كو اپنے دل پر مسلط نہ كرے _
جب وہ ايسا كرے گا تو ميں ايك خاص قسم كى محبت كو اس كے دل ميں ڈال دوں گا اس طرح سے كہ اس كا دل ميرے اختيار ميں ہوگا ، اس كى فرصت اور مشغوليت اس كا ہم وغم اور اس كى بات ان نعمتوں كے بارے ميں ہوگى جو ميں اہل محبت كو بخشتا ہوں _ ميں اس كى آنكھ اور دل كے كان كھول ديتا ہوں تاكہ وہ اپنے دل كے كان سے غيب كے حقائق كو سننے اور اپنے دل سے ميرے جلال وعظمت كو ديكھے'' :
اور آخر ميں يہ نورانى حديث ان بيدار كرنے والے جملوں پر ختم ہوجاتى ہے :
'' اے احمد اگر كوئي بندہ تمام اہل آسمان اور تمام اہل زمين كے برابر نماز ادا كرے ،اور تمام اہل آسمان وزمين كے برابر روزہ ركھے، فرشتوں كى طرح كھانانہ كھائے اور كوئي فاخرہ لباس بدن پر نہ پہنے (اور انتہائي زہد اور پارسائي كى زندگى بسر كرے) ليكن اس كے دل ميں ذرہ برابر بھى دنيا پرستى يا رياست طلبى يازينت دنيا كا عشق ہو تو وہ ميرے جاودانى گھر ميں ميرے جوار ميں نہيں ہوگا اور ميں اپنى محبت كو اس كے دل سے نكال دوں گا ،ميرا سلام ورحمت تجھ پر ہو ،والحمد للہ رب العالمين ''
يہ عرشى باتيں __جو انسانى روح كو آسمانوں كى طرف بلند كرتى ہيں ، اور آستان ہ عشق وشہود كى طرف كھينچتى ہيں _حديث قدسى كا صرف ايك حصہ ہے _
مزيد براں ہميں اطمينان ہے كہ پيغمبر نے اپنے ارشادات ميں جو كچھ بيان فرمايا ہے ان كے علاوہ بھي، اس شب عشق وشوق اور جذبہ ووصال كى شب ميں ، ايسى باتيں ، اسرارورموز اور اشارے آپ كے اور اپ كے محبوب كے درميان ہوتے ہيں جن كو نہ تو كان سننے كى طاقت ركھتے ہيں اور نہ عام افكار ميں ان كے درك كى صلاحيت ہے، اور اسى بناپر وہ ہميشہ پيغمبر كے دل وجان كے اندر ہى مكتوم اور پوشيدہ رہے ، اور آپ كے خواص كے علاوہ كوئي بھى ان سے آگاہ نہيں ہوا _
ہجرت پيامبر اكرم (ص)(۱)
مختلف قبائل قريش اور اشراف مكہ كا ايك گروہ جمع ہوا تاكہ وہ'' دار الند وہ'' ميں ميٹنگ كريں اور انہيں رسول اللہ كى طرف سے درپيش خطرے پر غور وفكر كريں _
(كہتے ہيں ) اثنائے راہ ميں انہيں ايك خوش ظاہر بوڑھا شخص ملا جو در اصل شيطان تھا (يا كوئي انسان جو شيطانى روح وفكر كا حامل تھا)_
انہوں نے اس سے پوچھا : تم كون ہو؟
كہنے لگا : اہل نجد كا ايك بڑا بوڑھا ہوں ، مجھے تمہارے اراداے كى اطلاع ملى تو ميں نے چاہا كہ تمہارى ميٹنگ ميں شركت كروں اور اپنا نظريہ اور خير خواہى كى رائے پيش كرنے ميں دريغ نہ كروں _
كہنے لگے : بہت اچھا اندر آجايئے _
اس طرح وہ بھي'' دارالندوة''ميں داخل ہوگيا _
حاضرين ميں سے ايك نے ان كى طرف رخ كيا اور ( پيغمبر اسلام (ص) كى طرف اشارہ كرتے ہوئے ) كہا : اس شخص كے بارے ميں كوئي سوچ بچار كرو ، كيونكہ بخدا ڈر ہے كہ وہ تم پر كامياب ہوجائے ( اور تمہارے دين اور تمہارى عظمت كو خاك ميں ملادے گا )
____________________
(۱)سورہ انفال ايت ۳۰ كے ذيل ميں واقعہ ہجرت بيان ہوا ہے
ايك نے تجويز پيش كى : اسے قيد كردو يہاں تك كے زندان ہى ميں مرجائے _
بوڑھے نجدى نے اس تجويز پراعتراض كيا اور كہا : اس ميں خطرہ يہ ہے كہ اس كے طرف دار ٹوٹ پڑيں اور كسى مناسب وقت اسے قيد خانے سے چھڑا كر اس سرزمين سے باہر لے جائيں لہذا كوئي اور بنيادى بات كرو _
ايك اورشخص نے كہا: اسے اپنے شہرسے نكال دو تاكہ تمہيں اس سے چھٹكارامل جائے كيونكہ جب وہ تمہارے درميان سے چلا جائے گا تو پھر جو كچھ بھى كرتا پھرے تمہيں كوئي نقصان نہيں پہنچا سكتا اور پھر وہ دوسروں ہى سے سروكار ركھے گا _
اس بوڑھے نجدى نے كہا : واللہ يہ نظريہ بھى صحيح نہيں ہے ، كہا تم اس كى شيريں بيانى ،قدرت زبان اور لوگوں كے دلوں ميں اس كے نفوذ نہيں ديكھتے؟ اگر ايسا كروگے تو وہ تمام دنيائے عرب كے پاس جائے گا اور وہ اس كے گرد جمع ہوجائيں گے اور پھر وہ ايك انبوہ كثير كے ساتھ تمہارى طرف پلٹے گا اور تمہيں تمہارے شہروں سے نكال باہر كرے گا اور بڑوں كو قتل كردےگا _
مجمع نے كہا بخدا يہ سچ كہہ رہاہے كوئي اور تجويزسو چو_
ابوجہل كى رائے
ابوجہل ابھى تك خاموش بيٹھا تھا ، اس نے گفتگو شروع كى اور كہا : ميرا ايك نظريہ ہے اور اس كے علاوہ ميں كسى رائے كو صحيح نہيں سمجھتا _
حاضرين كہنے لگے :وہ كيا ہے ؟
كہنے لگا : ہم ہر قبيلے سے ايك بہادر شمشير زن كا انتخاب كريں اور ان ميں سے ہر ايك ہاتھ ميں ايك تيز تلوار دے ديديں اور پھر وہ سب مل كر موقع پاتے ہى اس پر حملہ كريں جب وہ اس صورت ميں قتل ہوگا تو اس كا خون تمام قبائل ميں بٹ جائے گا اور ميں نہيں سمجھتا كہ بنى ہاشم تمام قبائل قريش سے لڑسكيں گے لہذا مجبورا اس
صورت ميں خون بہا پر راضى ہوجائيں گے اور يوں ہم بھى اس كے آزار سے نجات پاليں گے_
بوڑھے نجدى نے (خوش ہوكر ) كہا: بخدا : صحيح رائے يہى ہے جو اس جواں مرد نے پيش كى ہے ميرا بھى اس كے علاوہ كوئي نظريہ نہيں _
اس طرح يہ تجويز اتفاق رائے سے پاس ہوگئي اور وہ يہى مصمم ارادہ لے كروہاں سے اٹھے _
حضرت على عليہ السلام نے اپنى جان كو بيچ ڈالي
جبرئيل نازل ہوئے اور پيغمبر اسلام (ص) كو حكم ملا كہ وہ رات كو اپنے بستر پر نہ سوئيں ،پيغمبر اكرم (ص) رات كو غار ثور كى طرف روانہ ہوگئے اور حكم دے گئے كہ على آپ كے بستر پر سوجائيں (تاكہ جو لوگ دروازے كى درازسے بستر پيغمبر (ص) پر نظر ركھے ہوئے ہيں انہيں بستر پر سويا ہوا سمجھيں اور آپ كو خطرے كے علاقہ سے دور نكل جانے كى مہلت مل جائے )_
اہل سنت كے مشہور مفسر ثعلبى كہتے ہيں كہ جب پيغمبراسلام (ص) نے ہجرت كرنے كا پختہ ارادہ كرليا تو اپنے قرضوں كى ادائيگى اور موجود امانتوں كى واپسى كے لئے حضرت على عليہ السلام كو اپنى جگہ مقرر كيا اور جس رات آپ غار ثور كى طرف جانا چاہتے تھے اس رات مشركين آپ پر حملہ كرنے كے لئے آپ كے گھر كا چاروں طرف سے محاصرہ كئے ہوے تھے، آپ نے حضرت على عليہ السلام كو حكم ديا كہ وہ آپ كے بستر پر ليٹ جائيں ، اپنى مخصوص سبز رنگ كى چادر انہيں اوڑھنے كو دى ، اس وقت خدا وند عالم نے جبرائيل اور ميكائيل پر وحى كى كہ ميں نے تم دونوں كے درميان بھائي چارہ اور اخوت قائم كى ہے اور تم ميں سے ايك كى عمر كو زيادہ مقرر كيا ہے تم ميں سے كون ہے جو ايثار كرتے ہوئے دوسرے كى زندگى كو اپنى حيات پر ترجيح دے ان ميں سے كوئي بھى اس كے لئے تيار نہ ہوا تو ان پروحى ہوئي كہ اس وقت على ميرے پيغمبر كے بستر پر سويا ہوا ہے اور وہ تيار ہے كہ اپنى جان ان پر قربان كردے، زمين پرجائو اور اس كے محافظ ونگہبان بن جائو ،جب جبرئيل ،حضرت على عليہ السلام كے سرہانے آئے اور ميكائيل پائوں كى طرف بيٹھے تو جبرئيل كہہ رہے تھے: سبحان اللہ، صدآفرين آپ پر اے على عليہ السلام كہ خدا آپ كے ذريعے فرشتوں پر فخر ومباہات كررہاہے ،اس موقع پر آيت نازل
ہوئي ''كچھ لوگ اپنى جان خدا كى خوشنودى كے بدلے بيچ ديتے ہيں اور خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے'' اور اسى بناء پروہ تاريخى رات '' ليلة المبيت''(شب ہجرت) كے نام سے مشہور ہوگئي _
ابن عباس كہتے ہيں :جب پيغمبر (ص) مشركين سے چھپ كر ابوبكر كے ساتھ غار كى طرف جارہے تھے يہ ايت على عليہ السلام كے بارے ميں نازل ہوئي جو اس وقت بستر رسول (ص) پر سوئے ہوئے تھے _
ابوجعفر اسكافى كہتے ہيں :جيسے ابن ابى الحديد نے شرح نہج البلاغہ، جلد ۳ ص ۲۷۰ پر لكھا ہے :
پيغمبر (ص) كے بستر پر حضرت على عليہ السلام كے سونے كا واقعہ تو اتر سے ثابت ہے اور اس كا انكار غير مسلموں اور كم ذہن لوگوں كے علاوہ كوئي نہيں كرتا(۱)
جب صبح ہوئي تومشركين گھر ميں گھس آئے _ انہوں نے جستجو كى تو حضرت على عليہ السلام كو پيغمبر(ص) كى جگہ پر ديكھا _ اس طرح سے خدا نے ان كى سازش كو نقش برآب كرديا _
وہ پكارے: محمد كہاں ہے ؟
آپ نے جواب ديا : ميں نہيں جانتا _
وہ آپ كے پائوں كے نشانوں پر چل پڑے يہاں تك كہ غار كے پاس پہنچ گئے ليكن (انہوں نے تعجب سے ديكھا كہ مكڑى نے غار كے سامنے جالاتن ركھاہے ايك نے دوسرے سے كہا كہ اگر وہ اس غار ميں ہوتے تو غاركے دہانے پر مكڑى كا جالا نہ ہوتا ، اس طرح وہ واپس چلے گئے )
پيغمبر (ص) تين دن تك غار كے اندر رہے ( اور جب دشمن مكہ كے تمام بيابانوں ميں آپ كو تلاش كرچكے اور تھك ہار كرمايوس پلٹ گئے تو آپ مدينہ كى طرف چل پڑے )_
____________________
(۱)الغدير، جلد ۲ ص۴۵ پر ہے كہ غزالى نے احياء العلوم ج۳ ص ۲۳۸ پر، صفورى نے نزہتہ المجالس ج۲ ،ص ۲۰۹ پر، ابن صباغ مالكى نے فصول المہمہ، ميں سبط ابن جوزى نے تذكرہ الخواص ص ۲۱ پر ، امام احمد نے مسندج ا ص ۳۴۸ پر، تاريخ طبرى جلد ۲ ص۹۹ پر، سيرة ابن ہشام ج ۲، ص ۲۹۱ پر، سيرة حلبى ج ۱ ص ۲۹ پر، تاريخى يعقوبى ج۲ ص ۲۹ پرليلة المبيت كے واقعہ كو نقل كيا ہے
قبلہ كى تبديلي
بعثت كے بعد تيرہ سال تك مكہ ميں اور چند ماہ تك مدينہ ميں پيغمبر اسلام (ص) حكم خدا سے بيت المقدس كى طرف رخ كركے نماز پڑھتے رہے ليكن اس كے بعد قبلہ بدل گيا اور مسلمانوں كو حكم ديا گيا كہ وہ مكہ كى طرف رخ كركے نماز پڑھيں _
مدينہ ميں كتنے ماہ بيت المقدس كى طرف رخ كركے نماز پڑھى جاتى رہي؟ اس سلسلے ميں مفسرين ميں اختلاف ہے، يہ مدت سات ماہ سے لے كر سترہ ماہ تك بيان كى گئي ہے ليكن يہ جتنا عرصہ بھى تھا اس دوران يہودى مسلمانوں كو طعنہ زنى كرتے رہے كيونكہ بيت المقدس دراصل يہوديوں كا قبلہ تھا وہ مسلمانوں سے كہتے تھے كہ ان كا اپنا كوئي قبلہ نہيں بلكہ ہمارے قبلہ كى طرف رخ كركے نماز پڑھتے ہيں اور يہ اس امر كى دليل ہے كہ ہم حق پر ہيں _
يہ باتيں پيغمبر اكرم (ص) اور مسلمانوں كے لئے ناگوار تھيں ايك طرف وہ فرمان الہى كے مطيع تھے اور دوسرى طرف يہوديوں كے طعنے ختم نہ ہوتے تھے، اسى لئے پيغمبر اكرم (ص) آسمان كى طرف ديكھتے تھے گويا وحى الہى كے منتظر تھے_
پيغمبر اكرم (ص) كا خانہ كعبہ سے خاص لگائو
پيغمبر اكرم (ص) خصوصيت سے چاہتے تھے كہ قبلہ، كعبہ كى طرف تبديل ہوجائے اور آپ انتظار
ميں رہتے تھے كہ خدا كى طرف سے اس سلسلہ ميں كوئي حكم نازل ہو، اس كى وجہ شايد يہ تھى كہ آنحضرت (ص) كو حضرت ابراہيم عليہ السلام اور ان كے آثار سے عشق تھا، علاوہ از ايں كعبہ توحيد كا قديم ترين مركز تھا، آپ(ص) جانتے تھے كہ بيت المقدس تو وقتى قبلہ ہے ليكن آپ كى خواہش تھى كہ حقيقى و آخرى قبلہ جلد معين ہوجائے_
آپ چونكہ حكم خدا كے سامنے سر تسليم خم تھے،پس اپ يہ تقاضا زبان تك نہ لاتے صرف منتظر نگاہيں آسمان كى طرف لگائے ہوئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے كہ آپ كو كعبہ سے كس قدر عشق اور لگائو تھا_
اس انتظار ميں ايك عرصہ گذرگيا يہاں تك كہ قبلہ كى تبديلى كا حكم صادر ہوا ايك روز مسجد ''بنى سالم'' ميں پيغمبر نماز ظہر پڑھارہے تھے دوركعتيں پڑھ چكے تھے كہ جبرئيل كو حكم ہوا كہ پيغمبر كا بازو تھام كر ان كارخ انور كعبہ كى طرف پھيرديں _
مسلمانوں نے بھى فوراً اپنى صفوں كا رخ بدل ليا،يہاں تك كہ ايك روايت ميں منقول ہے كہ عورتوں نے اپنى جگہ مردوں كو دى اور مردوں نے اپنے جگہ عورتوں كو ديدى ،(توجہ رہے كہ بيت المقدس شمالى سمت ميں تھا ،اور خانہ كعبہ جنوبى سمت ميں تھا_)
اس واقعے سے يہودى بہت پريشان ہوئے اور اپنے پرانے طريقہ كے مطابق ،ڈھٹائي، بہانہ سازى اور طعنہ بازى كا مظاہرہ كرنے لگے پہلے تو كہتے تھے كہ ہم مسلمانوں سے بہتر ہيں كيونكہ ان كا كوئي اپنا قبلہ نہيں ، يہ ہمارے پيروكار ہيں ليكن جب خدا كى طرف سے قبلہ كى تبديلى كا حكم نازل ہوا تو انہوں نے پھر زبان اعتراض درازكى چنانچہ قرآن كہتا ہے_
''بہت جلد كم عقل لوك كہيں گے ان (مسلمانوں ) كو كس چيز نے اس قبلہ سے پھيرديا جس پر وہ پہلے تھے''_(۱)
مسلمانوں نے اس سے كيوں اعراض كيا ہے جو گذشتہ زمانہ ميں انبيائے ماسلف كا قبلہ رہا ہے، اگر
____________________
(۱) سورہ بقرہ آيت ۱۴۲
پہلا قبلہ صحيح تھا تو اس تبديلى كا كيا مقصد،اور اگر دوسرا صحيح ہے تو پھرتير ہ سال اور پندرہ ماہ بيت المقدس كى طرف رخ كركے كيوں نماز پڑھتے رہے ہيں _؟
چنانچہ خدا وند عالم نے اپنے پيغمبر كو حكم ديا:
''ان سے كہہ دو عالم كے مشرق ومغرب اللہ كے لئے ہيں وہ جسے چاہتا ہے سيدھے راستے كى ہدايت كرتا ہے''_(۱)
تبديلى قبلہ كا راز
بيت المقدس سے خانہ كعبہ كى طرف قبلہ كى تبديلى ان سب كے لئے اعتراض كا موجب بنى جن كا گمان تھا كہ ہر حكم كو مستقل رہنا چاہئے تھااگر ہمارے لئے ضرورى تھا كہ كعبہ كى طرف نماز پڑھيں تو پہلے دن يہ حكم كيوں نہ ديا گيا اور اگر بيت المقدس مقدم ہے جو گذشتہ انبياء كا بھى قبلہ شمار ہوتا ہے توپھراسے كيوں بدلاگيا_؟
دشمنوں كے ہاتھ بھى طعنہ زنى كا موقع آگيا، شايد وہ كہتے تھے كہ پہلے تو انبياء ماسبق كے قبلہ كى طرف نماز پڑھتا تھا ليكن كاميابيوں كے بعد اس پر قبيلہ پرستى نے غلبہ كرليا ہے لہذا اپنى قوم اور قبيلے كے قبلہ كى طرف پلٹ گيا ہے ياكہتے تھے كہ اس نے دھوكا دينے اور يہودو نصارى كى توجہ اپنى طرف مبذول كرنے كے لئے پہلے بيت المقدس كو قبول كرليا اور جب يہ بات كار گرنہ ہوسكى تو اب كعبہ كى طرف رخ كرليا ہے _
واضح ہے كہ ايسے وسوسے اور وہ بھى ايسے معاشرے ميں جہاں ابھى نور علم نہ پھيلا ہو اور جہاں شرك وبت پرستى كى رسميں موجود ہوں كيسا تذبذب واضطراب پيدا كرديتے ہيں اسى لئے قرآن صراحت سے كہتا ہے كہ'' يہ مومنين اورمشركين ميں امتياز پيدا كرنے والى ايك عظيم آزمائش تھي''_(۲)
ممكن ہے كہ قبلہ كى تبديلى كے اہم اسباب ميں سے درج ذيل مسئلہ بھى ہو خانہ كعبہ اس وقت
____________________
(۱)سورہ بقرہ آيت۱۴۲
(۲)سورہ بقرہ ايت ۱۴۳
مشركين كے بتوں كامركز بنا ہوا تھا لہذا حكم ديا گيا كہ مسلمان وقتى طور پر بيت المقدس كى طرف رخ كركے نمازپڑھ ليا كريں تاكہ اس طرح مشركين سے اپنى صفيں الگ كرسكيں _
ليكن جب مدينہ كى طرف ہجرت كے بعد اسلامى حكومت وملت كى تشكيل ہوگئي اور مسلمانوں كى صفيں دوسروں سے مكمل طور پر ممتاز ہوگئيں تو اب يہ كيفيت برقرار ركھنا ضرورى نہ رہا ،لہذا اس وقت كعبہ كى طرف رخ كرليا گيا جو قديم ترين مركز توحيد اور انبياء كا بہت پرانا مركز تھا _
ايسے ميں ظاہر ہے كہ جو كعبہ كو اپنا خاندانى معنوى اور روحانى سرمايہ سمجھتے تھے بيت المقدس كى طرف نماز پڑھنا ان كے لئے مشكل تھا اور اسى طرح بيت المقدس كے بعد كعبہ كى طرف پلٹنا، لہذا اس ميں مسلمانوں كى سخت آزمائش تھى تاكہ شرك كے جتنے آثار ان ميں باقى رہ گئے تھے اس كٹھالى ميں پڑكر جل جائيں اور ان كے گذشتہ شرك آلود رشتے ناتے ٹوٹ جائيں _
جيسا كہ ہم پہلے كہہ چكے ہيں اصولى طور پر تو خدا كے لئے مكان نہيں ہے قبلہ تو صرف وحدت اور صفوں ميں اتحاد كا ايك رمزہے اور اس كى تبديلى كسى چيز كود گرگوں نہيں كرسكتى ، اہم ترين امر تو خدا كے حكم كے سامنے سر تسليم خم كرنا ہے اور تعصب اورہٹ دھرمى كے بتوں كو توڑناہے _
جنگ بدر(۱)
جنگ بدركى ابتداء يہاں سے ہوئي كہ مكہ والوں كا ايك اہم تجارتى قافلہ شام سے مكہ كى طرف واپس جارہا تھا اس قافلے كو مدينہ كى طرف سے گزرنا تھا اہل مكہ كا سردار ابوسفيان قافلہ كا سالار تھا اس كے پاس ہزار دينار كا مال تجارت تھا پيغمبر اسلام نے اپنے اصحاب كو اس عظيم قافلے كى طرف تيزى سے كوچ كا حكم ديا كہ جس كے پاس دشمن كا ايك بڑا سرمايہ تھا تاكہ اس سرمائے كو ضبط كركے دشمن كى اقتصادى قوت كو سخت ضرب لگائي جائے تاكہ اس كا نقصان دشمن كى فوج كو پہنچے _(۲)
____________________
(۱)واقعہ جنگ بدر سورہ انفال آيات ۵ تا ۱۸كے ذيل ميں بيان ہوئي ہے _
(۲)پيغمبراور ان كے اصحاب ايسا كرنے كا حق ركھتے تھے كيونكہ مسلمان مكہ سے مدينہ كى طرف ہجرت كركے آئے تو اہل مكہ نے ان كے بہت سے اموال پر قبضہ كرليا تھا جس سے مسلمانوں كو سخت نقصان اٹھانا پڑا لہذا وہ حق ركھتے تھے كہ اس نقصان كى تلافى كريں _اس سے قطع نظر بھى اہل مكہ نے گذشتہ تيرہ برس ميں پيغمبر اسلام (ص) اور مسلمانوں سے جو سلوك رواركھا اس سے بات ثابت ہوچكى تھى وہ مسلمانوں كو ضرب لگانے اور نقصان پہنچانے كے لئے كوئي موقع ہاتھ سے نہيں گنوائيں گے يہاں تك كہ وہ خودپيغمبر اكرم (ص) كو قتل كرنے پر تل گئے تھے ايسا دشمن پيغمبر اكرم (ص) كے ہجرت مدينہ كى وجہ سے بے كار نہيں بيٹھ سكتا تھا واضح تھا كہ وہ قاطع ترين ضرب لگانے كے لئے اپنى قوت مجتمع كرتا پس عقل ومنطق كا تقاضا تھا كہ پيش بندى كے طورپر ان كے تجارتى قافلے كو گھير كر اس كے اتنے بڑے سرمائے كو ضبط كرليا جاتا تاكہ اس پر ضرب پڑے اور اپنى فوجى اور اقتصادى بنياد مضبوط كى جاتى ايسے اقدامات آج بھى اور گذشتہ ادوار ميں بھى عام دنيا ميں فوجى طريق كار كا حصہ رہے ہيں ،جولوگ ان پہلوئوں كو نظر اندازكركے قافلے كى طرف پيغمبر كى پيش قدمى كو ايك طرح كى غارت گرى كے طور پر پيش كرنا چاہتے ہيں ياتو وہ حالات سے آگاہ نہيں اور اسلام كے تاريخى مسائل كى بنيادوں سے بے خبر ہيں اور يا ان كے كچھ مخصوص مقاصد ہيں جن كے تحت وہ واقعات وحقائق كو توڑمروڑكر پيش كرتے ہيں
بہرحال ايك طرف ابوسفيان كو مدينہ ميں اس كے ذريعے اس امر كى اطلاع مل گئي اور دوسرى طرف اس نے اہل مكہ كو صورت حال كى اطلاع كے لئے ايك تيز رفتار قاصد روانہ كرديا كيونكہ شام كى طرف جاتے ہوئے بھى اسے اس تجارتى قافلہ كى راہ ميں ركاوٹ كا انديشہ تھا _
قاصد ،ابوسفيان كى نصيحت كے مطابق اس حالت ميں مكہ ميں داخل ہوا كہ اس نے اپنے اونٹ كى ناك كوچير ديا تھا اس كے كان كاٹ ديئے تھے ، خون ہيجان انگيز طريقہ سے اونٹ سے بہہ رہا تھا ،قاصد نے اپنى قميض كو دونوں طرف سے پھاڑديا تھا اونٹ كى پشت كى طرف منہ كركے بيٹھا ہوا تھا تاكہ لوگوں كو اپنى طرف متوجہ كرسكے ، مكہ ميں داخل ہوتے ہى اس نے چيخنا چلانا شروع كرديا :
اے كا مياب وكامران لوگو اپنے قافلے كى خبر لو، اپنے كارواں كى مدد كرو _ ليكن مجھے اميد نہيں كہ تم وقت پر پہنچ سكو ، محمد اور تمہارے دين سے نكل جانے والے افراد قافلے پر حملے كے لئے نكل چكے ہيں _
اس موقع پر پيغمبر (ص) كى پھوپھى عاتكہ بنت عبدالمطلب كا ايك عجيب وغريب خواب تھا مكہ ميں زبان زد خاص وعام تھا اور لوگوں كے ہيجان ميں اضافہ كرہا تھا _ خواب كا ماجرايہ تھا كہ عاتكہ نے تين روزقبل خواب ميں ديكھاكہ :
ايك شخص پكاررہا ہے كہ لوگو اپنى قتل گاہ كى طرف جلدى چلو، اس كے بعد وہ منادى كوہ ابوقيس كى چوٹى پر چڑھ گيا اس نے پتھر كى ايك بڑى چٹان كو حركت دى تو وہ چٹان ريزہ ريزہ ہوگئي اور اس كا ايك ايك ٹكڑا قريش كے ايك ايك گھرميں جاپڑا اور مكہ كے درے سے خون كا سيلاب جارى ہوگيا _
عاتكہ وحشت زدہ ہوكر خواب سے بيدار ہوئي اور اپنے بھائي عباس كو سنايا _ اس طرح خواب لوگوں تك پہنچاتو وہ وحشت وپريشانى ميں ڈوب گئے _ ابوجہل نے خواب سنا تو بولا : يہ عورت دوسرا پيغمبر ہے جو اولادعبدالمطلب ميں ظاہر ہوا ہے لات وعزى كى قسم ہم تين دن كى مہلت ديتے ہيں اگر اتنے عرصے ميں اس خواب كى تعبير ظاہر نہ ہوئي تو ہم آپس ميں ايك تحرير لكھ كر اس پر دستخط كريں گے كہ بنى ہاشم قبائل عرب ميں سے سب سے زيادہ جھوٹے ہيں تيسرا دن ہوا تو ابوسفيان كا قاصد آپہنچا ، اس كى پكار نے تمام اہل مكہ كو ہلاكو ركھ ديا_
اور چونكہ تمام اہل مكہ كا اس قافلے ميں حصہ تھا سب فوراً جمع ہوگئے ابوجہل كى كمان ميں ايك لشكر تيار ہوا ، اس ميں ۵۰ ۹/ جنگجو تھے جن ميں سے بعض انكے بڑے اور مشہور سردار اور بہادر تھے ۷۰۰/ اونٹ تھے اور ۱۰۰/ گھوڑے تھے لشكر مدينہ كى طرف روانہ ہوگيا _
دوسرى طرف چونكہ ابو سفيان مسلمانوں سے بچ كر نكلنا چاہتاتھا ،لہذا اس نے راستہ بدل ديا اور مكہ كى طرف روانہ ہو گيا_
۳۱۳/ وفادار ساتھي
پيغمبر اسلام (ص) ۳۱۳ /افراد كے ساتھ جن ميں تقريباً تمام مجاہدين اسلام تھے سرزمين بدركے پاس پہنچ گئے تھے يہ مقام مكہ اور مدينہ كے راستے ميں ہے يہاں آپ كو قريش كے لشكر كى روانگى كى خبر ملى اس وقت آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ كيا كہ كيا ابوسفيان كے قافلہ كا تعاقب كيا جائے اور قافلہ كے مال پر قبضہ كيا جائے يا لشكر كے مقابلے كے لئے تيار ہواجائے؟ ايك گروہ نے دشمن كے لشكر كامقابلہ كرنے كو ترجيح دى جب كہ دوسرے گروہ نے اس تجويز كو ناپسند كيا اور قافلہ كے تعاقب كو ترجيح دى ،ان كى دليل يہ تھى كہ ہم مدينہ سے مكہ كى فوج كا مقابلہ كرنے كے ارادہ سے نہيں نكلے تھے اور ہم نے اس لشكر كے مقابلے كے لئے جنگى تيارى نہيں كى تھى جب كہ وہ ہمارى طرف پورى تيارى سے آرہا ہے _
اس اختلاف رائے اور تردد ميں اس وقت اضافہ ہوگيا جب انہيں معلوم تھاكہ دشمن كى تعداد مسلمانوں سے تقريبا تين گنا ہے اور ان كا سازوسامان بھى مسلمانوں سے كئي گنا زيادہ ہے، ان تمام باتوں كے باوجود پيغمبر اسلام (ص) نے پہلے گروہ كے نظريے كو پسند فرمايا اور حكم ديا كہ دشمن كى فوج پر حملہ كى تيارى كى جائے _
جب دونوں لشكر آمنے سامنے ہوئے تودشمن كو يقين نہ آيا كہ مسلمان اس قدر كم تعداد اور سازو سامان كے ساتھ ميدان ميں آئے ہوں گے ،ان كا خيال تھا كہ سپاہ اسلام كا اہم حصہ كسى مقام پر چھپاہوا ہے تاكہ وہ غفلت ميں كسى وقت ان پر حملہ كردے لہذا انہوں نے ايك شخص كو تحقيقات كے لئے بھيجا، انہيں جلدى معلوم
ہوگيا كہ مسلمانوں كى جمعيت يہى ہے جسے وہ ديكھ رہے ہيں _
دوسرى طرف جيسا كہ ہم نے كہا ہے مسلمانوں كاايك گروہ وحشت وخوف ميں غرق تھا اس كا اصرار تھا كہ اتنى بڑى فوج جس سے مسلمانوں كا كوئي موازنہ نہيں ، خلاف مصلحت ہے، ليكن پيغمبر اسلام (ص) نے خدا كے وعدہ سے انہيں جوش دلايا اور انہيں جنگ پر اُبھارا، آپ نے فرمايا :كہ خدا نے مجھ سے وعدہ كيا ہے كہ دوگرو ہوں ميں سے ايك پر تمہيں كا ميابى حاصل ہوگى قريش كے قافلہ پر يا لشكر قريش پراور خداكے وعدہ كے خلاف نہيں ہوسكتا _
خدا كى قسم ابوجہل اور كئي سرداران قريش كے لوگوں كى قتل گاہ كو گويا ميں اپنى آنكھوں سے ديكھ رہا ہوں _
اس كے بعد آپ نے مسلمانوں كو حكم ديا كہ وہ بدر كے كنوئيں كے قريب پڑا ئو ڈاليں _
رسول اللہ (ص) نے پہلے سے خواب ميں اس جنگ كا منظر ديكھا تھا، آپ نے د يكھا كہ دشمن كى ايك قليل سى تعداد مسلمانوں كے مقابلہ ميں آئي ہے، يہ در اصل كاميابى كى ايك بشارت تھى آپ نے بعينہ يہ خواب مسلمانوں كے سامنے بيان كرديا، يہ بات مسلمانوں كے ميدان بدر كى طرف پيش روى كے لئے ان كے جذبہ اور عزم كى تقويت كا باعث بني_
البتہ پيغمبر اكرم (ص) نے يہ خواب صحيح ديكھا تھا كيونكہ دشمن كى قوت اور تعداد اگرچہ ظاہراً بہت زيادہ تھى ليكن باطناً كم، ضعيف اور ناتواں تھي، ہم جانتے ہيں كہ خواب عام طور پر اشارے اور تعبير كا پہلو ركھتے ہيں ، اور ايك صحيح خواب ميں كسى مسئلے كا باطنى چہرہ آشكار ہوتا ہے_
قريش كا ايك ہزار كا لشكر
اس ہنگامے ميں ابوسفيان اپنا قافلہ خطرے كے علاقے سے نكال لے گيا _اصل راستے سے ہٹ كردريائے احمر كے ساحل كى طرف سے وہ تيزى سے مكہ پہنچ گيا _ اس كے ايك قاصدكے ذريعے لشكر كو پيغام
بھيجا:
خدانے تمہارا قافلہ بچاليا ہے ميرا خيال ہے كہ ان حالات ميں محمد كامقابلہ كرنا ضرورى نہيں كيونكہ اس كے اتنے دشمن ہيں جو اس كا حساب چكاليں گے _
لشكر كے كمانڈرابوجہل نے اس تجويز كو قبول نہ كيا ، اس نے اپنے بتوں لات اور عزى كى قسم كھائي كہ نہ صرف ان كا مقابلہ كريں گے بلكہ مدينہ كے اندر تك ان كا تعاقب كريں گے يا انہيں قيدكرليں گے اور مكہ ميں لے آئيں گے تاكہ اس كاميابى كا شہرہ تمام قبائل عرب كے كانوں تك پہنچ جائے _ آخر كارلشكر قريش بھى مقام بدر تك آپہنچا، انہوں نے اپنے غلام كوپانى لانے كے لئے كنويں كى طرف بھيجے ،اصحاب پيغمبر نے انہيں پكڑليا اور ان سے حالات معلوم كرنے كے لئے انہيں خدمت پيغمبر (ص) ميں لے آئے حضرت نے ان سے پوچھا تم كون ہو ؟ انہوں نے كہا : ہم قريش كے غلام ہيں ، فرمايا: لشكر كى تعداد كيا ہے ؟ انہوں نے كہا : ہميں اس كا پتہ نہيں ، فرمايا : ہرروز كتنے اونٹ كھانے كے لئے نحركرتے ہيں ؟ انہوں نے كہا : نو سے دس تك، فرمايا: ان كى تعداد ۹/ سوسے لے كر ايك ہزار تك ہے (ايك اونٹ ايك سو فوجى جوانوں كى خواراك ہے ) _
ماحول پُر ہيبت اور وحشت ناك تھا لشكر قريش كے پاس فراواں جنگى سازوسامان تھا _ يہاں تك كہ حوصلہ بڑھانے كے لئے وہ گانے بجانے والى عورتوں كو بھى ساتھ لائے تھے _ اپنے سامنے ايسے حريف كو ديكھ رہے تھے كہ انہيں يقين نہيں آتا تھا كہ ان حالات ميں وہ ميدان جنگ ميں قدم ركھے گا_
مسلمانو! فرشتے تمہارى مدد كريں گے
پيغمبر اكرم (ص) ديكھ رہے تھے كہ ممكن ہے آپ كے اصحاب خوف ووحشت كى وجہ سے رات ميں آرام سے سونہ سكيں اور پھر كل دن كو تھكے ہوئے جسم اور روح كے ساتھ دشمن كے مقابل ہوں لہذا خدا كے وعدے كے مطابق ان سے فرمايا:
تمہارى تعداد كم ہوتو اس كا غم نہ كر، آسمانى فرشتوں كى ايك عظيم جماعت تمہارى مدد كے لئے آئے گي، آپ نے انہيں خدائي وعدے كے مطابق اگلے روز فتح كى پورى تسلى دے كر مطمئن كرديا اور وہ رات
آرام سے سوگئے_
دوسرى مشكل جس سے مجاہدين كو پريشانى تھى وہ ميدان بدر كى كيفيت تھى ،ان كى طرف زمين نرم تھى اور اس ميں پائوں دھنس جاتے تھے اسى رات يہ ہوا كہ خوب بارش ہوئي ،اس كے پانى سے مجاہدين نے وضو كيا ، غسل كيا اور تازہ دم ہوگئے ان كے نيچے كى زمين بھى اس سے سخت ہوگئي ،تعجب كى بات يہ ہے كہ دشمن كى طرف اتنى زيادہ بارش ہوئي كہ وہ پريشان ہوگئے _
دشمن كے لشكر گاہ سے مسلمان جاسوسوں كى طرف سے ايك نئي خبر موصول ہوئي اور جلد ہى مسلمانوں ميں پھيل گئي ، خبريہ تھى كہ فوج قريش اپنے ان تمام وسائل كے باوجود خو فزدہ ہے گويا وحشت كا ايك لشكر خدا نے ان كے دلوں كى سرزمين پر اتار ديا تھا ،اگلے روز چھوٹا سا اسلامى لشكر بڑے ولولے كے ساتھ دشمن كے سامنے صف آراء ہوا، پيغمبر اكرم (ص) نے پہلے انہيں صلح كى تجويز پيش كى تاكہ عذر اور بہانہ باقى نہ رہے، آپ نے ايك نمائندے كے ہاتھ پيغام بھيجا كہ ميں نہيں چاہتا كہ تم وہ پہلا گروہ بن جائو كہ جس پر ہم حملہ آور ہوں ، بعض سردار ان قريش چاہتے تھے يہ صلح كا ہاتھ جوان كى طرف بڑھايا گيا ہے اسے تھام ليں اور صلح كرليں ، ليكن پھر ابوجہل مانع ہوا_
ستر قتل ستر اسير
آخركار جنگ شروع ہوئي ،اس زمانے كے طريقے كے مطابق پہلے ايك كے مقابلے ميں ايك نكلا ،ادھر لشكر اسلام ميں رسول اللہ (ص) كے چچا حمزہ اور حضرت على عليہ السلام جوجو ان ترين افراد تھے ميدان ميں نكلے، مجاہدين اسلام ميں سے چند اور بہادر بھى اس جنگ ميں شريك ہوئے ،ان جوانوں نے اپنے حريفوں كے پيكر پر سخت ضربيں لگائيں اور كارى وار كئے اور ان كے قدم اكھاڑديئے ،دشمن كا جذبہ اور كمزور پڑگيا ،يہ ديكھا تو ابوجہل نے عمومى حملے كا حكم دے ديا _
ابوجہل پہلے ہى حكم دے چكا تھا كہ اصحاب پيغمبر (ص) ميں سے جو اہل مدينہ ميں سے ہيں انہيں قتل
كردو ، مہاجرين مكہ كو اسير كرلو مقصديہ تھا كہ ايك طرح كے پر وپيگنڈا كے لئے انہيں مكہ لے جائيں _
يہ لمحات بڑے حساس تھے، رسول اللہ (ص) نے مسلمانوں كو حكم ديا كہ جمعيت كى كثرت پر نظر نہ كريں اور صرف اپنے مد مقابل پر نگاہ ركھيں دانتوں كو ايك دوسرے پرركھ كر پيسيں ، باتيں كم كريں ، خدا سے مدد طلب كريں ، حكم پيغمبر سے كہيں رتى بھر سرتابى نہ كريں اور مكمل كاميابى كى اميد ركھيں ، رسول اللہ (ص) نے دست دعا آسمان كى طرف بلند كئے اور عرض كيا : ''پالنے والے اگر يہ لوگ قتل ہوگئے تو پھر تيرى عبادت كوئي نہيں كرے گا''_
دشمن كے لشكر كى سمت ميں سخت ہوا چل رہى تھى اور مسلمان ہوا كى طرف پشت كركے ان پر حملے كررہے تھے _ ان كى استقامت ، پامردى اور دلاورى نے قريش كا ناطقہ بندكرديا ابوجہل سميت دشمن كے ستر آدمى قتل ہوگئے ان كى لاشيں خاك وخون ميں غلطاں پڑى تھيں سترا فراد مسلمانوں كے ہاتھوں قيد ہوگئے مسلمانوں كے بہت كم افراد شہيد ہوئے_
اس طرح مسلمانوں كى پہلى مسلح جنگ طاقتور دشمن كے خلاف غير متوقع كاميابى كے ساتھ اختتام پذيزر ہوئي _
جنگ بدر ميں مسلمانوں كى تعداد تين سو تيرہ تھي، ان ميں ۷۷/ مہاجر تھے اور دوسو چھتيس (۲۳۶) انصار، مہاجرين كا پرچم حضرت على عليہ السلام كے ہاتھ ميں تھا، اور انصار كا پرچم بردار'' سعد بن عبادہ'' تھے، اس عظيم معركہ كے لئے ان كے پاس صرف ۷۰ /اونٹ دو گھوڑے، ۶/زرہيں اور آٹھ تلواريں تھيں ، دوسرى طرف دشمن كى فوج ہزار افراد سے متجاوز تھي، اس كے پاس كافى ووافى اسلحہ تھا اور ايك سو گھوڑے تھے، اس جنگ۲۲/ مسلمان شہيد ہوئے ان ميں چودہ مہاجر او ر۸/ انصار تھے، دشمن كے ستر(۷۰) افراد مارے گئے اور ستر ہى قيدى ہوئے، اس طرح مسلمانوں كو فتح نصيب ہوئي اور يوں مكمل كامرانى كے ساتھ وہ مدينہ كى طرف پلٹ گئے_
واقعاً يہ عجيب و غريب بات تھى كہ تواريخ كے مطابق مسلمانوں كے چھوٹے سے لشكر كے مقابلہ ميں
قريش كى طاقتور فوج نفسياتى طور پر اس قدر شكست خودرہ ہوچكى تھى كہ ان ميں سے ايك گروہ مسلمانوں سے جنگ كرنے سے ڈرتا تھا، بعض اوقات وہ دل ميں سوچتے كہ يہ عام انسان نہيں ہيں ، بعض كہتے ہيں كہ يہ موت كو اپنے اونٹوں پر لادكر مدينہ سے تمہارے لئے سوغات لائے ہيں _
''سعدبن معاذانصارى ''نمائندہ كے طور پر خدمت پيغمبر ميں حاضر ہوئے اور عرض كرنے لگے :
ميرے ماں پاپ آپ پر قربان اے اللہ كے رسول ہم آپ پر ايمان لائے ہيں اور ہم نے آپ كى نبوت كى گواہى دى ہے كہ جو كچھ آپ كہتے ہيں خدا كى طرف سے ہے، آپ جو بھى حكم دينا چاہيں ديجئے اور ہمارے مال ميں سے جو كچھ آپ چاہيں لے ليں ، خدا كى قسم اگر آپ ہميں حكم ديں كہ اس دريا ( دريائے احمر كى طرف اشارہ كرتے ہوئے ،جووہاں سے قريب تھا ) ميں كود پڑو تو ہم كو د پڑيں گے ہمارى يہ آرزو ہے كہ خدا ہميں توفيق دے كہ ايسى خدمت كريں جو آپ كى آنكھ كى روشنى كا باعث ہو_
روز بدر رسول اللہ (ص) نے حضرت على عليہ السلام سے فرمايا:
زمين سے مٹى اور سنگريزوں كى ايك مٹھى بھر كے مجھے ديدو_
حضرت على عليہ السلام نے ايسا ہى كيا اور رسول خدا (ص) نے اسے مشركين كى طرف پھينك ديا اور فرمايا:
''شاہت الوجوہ''(تمہارے منھ قبيح اور سياہ ہوجائيں )
لكھا ہے كہ معجزانہ طور پر گرد و غبار اور سنگريزے دشمن كى آنكھوں ميں جا پڑے اور سب وحشت زدہ ہوگئے_
مجاہدين كى تشويق
ابن عباس سے منقول ہے كہ رسول اللہ (ص) نے جنگ بدر كے روز مجاہدين اسلام كى تشويق كے لئے كچھ انعامات مقرركيے مثلاً فرمايا كہ جو فلاں دشمن كو قيد كر كے ميرے پاس لائے گا اُسے يہ انعام دوں گا ان
ميں پہلے ہى روح ايمان وجہاد موجود تھى اوپر سے يہ تشويق بھي، نتيجہ يہ ہو اكہ جوان سپاہى بڑے افتخار سے مقابلہ كے لئے آگے بڑھے اور اپنے مقصد كى طرف لپكے بوڑھے سن رسيدہ افراد جھنڈوں تلے موجودرہے جب جنگ ختم ہوئي تو نوجوان اپنے پر افتخار انعامات كے لئے بارگاہ پيغمبر اكرم (ص) كى طرف بڑھے، بوڑھے ان سے كہنے لگے كہ اس ميں ہمارا بھى حصہ ہے كيونكہ ہم تمہارے لئے پناہ اور سہارے كاكام كررہے تھے اور تمہارے لئے جوش وخروش كا باعث تھے اگر تمہارا معاملہ سخت ہوجاتاہے تو تمہيں پيچھے ہٹنا پڑتا تو يقيناً تم ہمارى طرف آتے اس موقع پر دو انصاريوں ميں تو تو ميں ميں بھى ہوگئي اور انہوں نے جنگى غنائم كے بارے ميں بحث كى _
اس اثناء ميں سورہ انفال كى پہلى آيت نازل ہوئي جس ميں صراحت كے ساتھ بتايا گيا كہ غنائم كا تعلق پيغمبر (ص) سے ہے وہ جيسے چاہيں انہيں تقسيم فرمائيں ، پيغمبر اكرم (ص) نے بھى مساوى طور پر سب سپاہيوں ميں غنائم تقسيم كرديئے اور برادران دينى ميں صلح ومصالحت كا حكم ديا _
جنگ كا خاتمہ اور اسيروں كا واقعہ
جنگ بدر كے خاتمہ پر جب جنگى قيدى بنالئے گئے اور پيغمبر اكرم (ص) نے يہ حكم دياكہ قيديوں ميں سے دو خطر ناك افراد عقبہ اور نضر كو قتل كردياجائے تو اس پر انصار گھبراگئے كہ كہيں ايسا نہ ہو كہ يہ حكم تمام قيديوں كے متعلق جارى ہوجائے اور وہ فديہ لينے سے محروم ہوجائيں ) لہذا انہوں نے رسول اللہ كى خدمت ميں عرض كيا : ہم نے سترآدميوں كو قتل كيا ہے اور سترہى كو قيدى بنايا ہے اور يہ آپ كے قبيلے ميں سے آپ ہى كے قيدى ہيں ،يہ ہميں بخش ديجئے تاكہ ہم ان كى آزادى كے بدلے فديہ لے سكيں _
(رسول اللہ اس كے لئے وحى آسمانى كے منتظر تھے ) اس موقع پروحى الہى نازل ہوئي اورقيديوں كى آزادى كے بدلے فديہ لينے كى اجازت ديدى گئي _
اسيروں كى ازادى كے لئے زيادہ سے زيادہ چار ہزار درہم اور كم سے كم ايك ہزار درہم معين كى گئي، يہ بات قريش كے كانوں تك پہونچى تو انھوں نے ايك ايك كے بدلے معين شدہ رقم بھيج كرا سيروں كو ازاد
كراليا_
تعجب كى بات يہ ہے كہ رسول اللہ (ص) كا داماد ابوالعاص بھى ان قيديوں ميں تھا ،رسول (ص) كى بيٹى يعنى زينب جو ابولعاص كى بيوى تھى نے وہ گلو بند جو جناب خديجہ نے ان كى شاد ى كے وقت انہيں ديا تھا فديہ كے طور پررسول اللہ (ص) كے پاس بھيجا،جب پيغمبر اكرم (ص) كى نگاہ گلو بند پر پڑى تو جناب خديجہ جيسى فداكار اور مجاہدہ خاتون كى ياد يں ان كى آنكھوں كے سامنے مجسم ہوگئيں ،آپ(ص) نے فرمايا:خدا كى رحمت ہو خديجہ پر ،يہ وہ گلو بند ہے جو اس نے ميرى بيٹى زينب كو جہيز ميں ديا تھا(اور بعض دوسرى روايات كے مطابق جناب خديجہ كے احترام ميں آپ (ص) نے گلو بند قبول كرنے سے احرازكيا اور حقوق مسلمين كو پيش نظر كرتے ہوئے اس ميں ان كى موافقت حاصل كي)_
اس كے بعد پيغمبر اكرم (ص) نے ابوالعاص كو اس شرط پر آزاد كرديا كہ وہ زينب كو (جو اسلام سے پہلے ابوالعاص كى زوجيت ميں تھيں )مدينہ پيغمبر (ص) كے پاس بھيج دے ، اس نے بھى اس شرط كو قبول كرليا او ربعد ميں اسے پورا بھى كيا_
آنحضرت(ص) كے چچا عباس كا اسلام قبول كرنا
انصار كے كچھ آدميوں نے رسول اللہ (ص) سے اجازت چاہى كہ آپ كے چچا عباس جو قيديوں ميں تھے ان سے آپ(ص) كے احترام ميں فديہ نہ ليا جائے ليكن پيغمبر (ص) نے فرمايا:
''خداكى قسم اس كے ايك درھم سے بھى صرف نظر نہ كرو''( اگر فديہ لينا خدائي قانون ہے تو اسے سب پر جارى ہونا چاہئے ،يہاں تك كہ ميرے چچا پر بھى اس كے اور دوسروں كے درميان كوئي فرق نہيں ہے_)
پيغمبر اكرم (ص) عباس كى طرف متوجہ ہوئے اور فرمايا: اپنى طرف سے او راپنے بھتيجے ( عقيل بن ابى طالب) كى طرف سے آپ(ص) كو فديہ ادا كرنا چاہئے_
عباس ( جو مال سے بڑا لگائو ركھتے تھے ) كہنے لگے: اے محمد(ص) كيا تم چاہتے ہو كہ مجھے ايسا فقير او رمحتاج كردو كہ ميں اہل قريش كے سامنے اپنا ہاتھ پھيلائوں _
رسول اللہ (ص) نے فرمايا: اس مال ميں سے فديہ ادا كريں جو آپ(ص) نے اپنى بيوى ام الفضل كے پاس ركھا تھا اور اس سے كہا تھا كہ اگر ميں ميدان جنگ ميں مارا جائوں تو اس مال كو اپنے اور اپنى اولاد كے مصارف كے لئے سمجھنا_
عباس يہ بات سن كر بہت متعجب ہوئے اور كہنے لگے: آپ(ص) كو يہ بات كس نے بتائي ( حالانكہ يہ تو بالكل محرمانہ تھى )؟
رسول اللہ (ص) نے فرمايا : جبرئيل نے، خدا كى طرف سے_
عباس بولے : اس كى قسم كہ جس كى محمد (ص) قسم كھاتا ہے كہ ميرے اور ميرى بيوى كے علاوہ اس راز سے كوئي آگاہ نہ تھا_
اس كے بعد وہ پكار اٹھے: ''اشھد انك رسول اللہ''
( يعنى ميں گواہى ديتا ہوں كہ آپ(ص) اللہ كے رسول ہيں )
اور يوں وہ مسلمان ہوگئے_
آزادى كے بعد بدر كے تمام قيدى مكہ لوٹ گئے ليكن عباس، عقيل اور نوفل مدينہ ہى ميں رہ گئے كيونكہ انہوں نے اسلام قبول كرليا تھا_
عباس كے اسلام لانے كے بارے ميں بعض تواريخ ميں ہے كہ اسلام قبول كرلينے كے بعد وہ مكہ كى طرف پلٹ گئے تھے اور خط كے ذريعہ رسول اللہ (ص) كو سازش سے باخبر كيا كرتے تھے ، پھر ۸ سے پہلے فتح مكہ كے سال مدينہ كى طرف ہجرت كر آئے_
جنگ احد(۱)
جنگ احد كا پيش خيمہ جب كفار مكہ جنگ بدر ميں شكست خوردہ ہوئے اور ستر(۷۰) قيدى چھوڑكر مكہ كى طرف پلٹ گئے تو ابو سفيان نے لوگوں كو خبر دار كيا كہ وہ اپنى عورتوں كو مقتولين بدر پر گريہ وزارى نہ كرنے ديں كيونكہ آنسو غم واندوہ كو دور كرديتے ہيں اور اس طرح محمد كى دشمنى اور عداوت ا۶ن كے دلوں سے ختم ہوجائے گى ، ابو سفيان نے خود يہ عہد كرركھا تھا كہ جب تك جنگ بدر كے قاتلوں سے انتقام نہ لے لے اس وقت تك وہ اپنى بيوى سے ہمبسترى نہيں كرے گا ،بہر حال قريش ہر ممكن طريقہ سے لوگوں كوپيغمبر اسلام (ص) كے خلاف اكساتے تھے اور انتقام كى صدا شہر مكہ ميں بلند ہورہى تھى _
ہجرت كے تيسرے سال قريش ہزار سوار اور دوہزار پيدل كے ساتھ بہت سامان جنگ لے كر آپ سے جنگ كرنے كے لئے مكہ سے نكلے اور ميدان جنگ ميں ثابت قدمى سے لڑنے كے لئے اپنے بڑے بڑے بت اور اپنى عورتوں كو بھى ہمراہ لے آئے _
____________________
()جنگ احد كا واقعہ سورہ آل عمران آيت ۱۲۰ كے ذيل ميں بيان ہوا ہے
جناب عباس كى بر وقت اطلاع
حضرت رسول خدا (ص) كے چچاحضرت عباس جو ابھى مسلمان نہيں ہوئے تھے اور قريش كے درميان ان كے ہم مشرب و ہم مذہب تھے ليكن اپنے بھتيجے سے فطرى محبت كى بنا پر جب انھوں نے ديكھا كہ قريش كا ايك طاقتور لشكر پيغمبر (ص) سے جنگ كرنے كے لئے مكہ سے نكلا ہے تو فوراً ايك خط لكھا اور قبيلہ بنى غفار كے ايك آدمى كے ہاتھ مدينہ بھيجا ،عباس كا قاصد بڑى تيزى سے مدينہ كى طرف روانہ ہوا ،جب آپ كو اس كى اطلاع ملى تو آپ نے سعد بن اُبَ كو عباس كا پيغام پہنچايا اور حتى الامكان اس واقعہ كو پردہ راز ميں ركھنے كى كوشش كى _
پيغمبر كا مسلمانوں سے مشورہ
جس دن عباس كا قاصد آپ كو موصول ہوا آپ نے چند مسلمانوں كو حكم ديا كہ وہ مكہ ومدينہ كے راستہ پر جائيں اور لشكر كفار كے كوائف معلوم كريں ، آپ كے دو نمائندے ان كے حالات معلوم كركے بہت جلدى واپس آئے اور قريش كى قوت وطاقت سے آنحضرت (ص) كو مطلع كيا اور يہ بھى اطلاع دى كہ طاقتور لشكر خود ابوسفيان كى كمان ميں ہے _
پيغمبراكرم (ص) نے چند روز كے بعد تمام اصحاب اور اہل مدينہ كو بلايا اور ان در پيش حالات كا مقابلہ كرنے كے لئے ميٹنگ كي، اس ميں عباس كے خط كو بھى پيش كيا گيا اور اس كے بعد مقام جنگ كے بارے ميں رائے لى گئي اس ميٹنگ ميں ايك گروہ نے رائے دى كہ جنگ دشمن سے مدينہ كى تنگ گليوں ميں كى جائے كيونكہ اس صورت ميں كمزور مرد ،عورتيں بلكہ كنيزيں بھى مدد گار ثابت ہوسكيں گي_
عبد اللہ بن ابى نے تائيد ا ًكہا يا رسول اللہ (ص) آج تك ايسا نہيں ہوا كہ ہم اپنے قلعوں اور گھروں ميں ہوں اور دشمن ہم پر كامياب ہوگيا ہو _
اس رائے كو آپ بھى اس وقت كى مدينہ كى پوزيشن كے مطابق بنظر تحسين ديكھتے تھے كيونكہ آپ بھى
مدينہ ہى ميں ٹھہرنا چاہتے تھے ليكن نوجوانوں اورجنگجو و ں كا ايك گروہ اس كا مخالف تھا چنانچہ سعد بن معاذ اور قبيلہ اوس كے چند افراد نے كھڑے ہو كر كہا اے رسول خدا (ص) گذشتہ زمانے ميں عربوں ميں سے كسى كو يہ جرا ت نہ تھى كہ ہمارى طرف نظر كرے جبكہ ہم مشرك اور بت پرست تھے اب جبكہ ہمارے درميان آپ كى ذات والا صفات موجود ہے كس طرح وہ ہميں دبا سكتے ہيں اس لئے شہرسے باہر جنگ كرنى چاہئے اگر ہم ميں سے كوئي مارا گيا تو وہ جام شہادت نوش كرے گا اور اگر كوئي بچ گيا تو اسے جہاد كا اعزازوافتخار نصيب ہوگا اس قسم كى باتوں اور جوش شجاعت نے مدينہ سے باہر جنگ كے حاميوں كى تعدا دكو بڑھا ديا يہاں تك كہ عبد اللہ بن اُبَ كى پيش كش سرد خانہ ميں جاپڑى خود پيغمبر (ص) نے بھى اس مشورے كا احترام كيااور مدينہ سے باہر نكل كر جنگ كے طرف داروں كى رائے كو قبول فرماليا اور ايك صحابى كے ساتھ مقام جنگ كا انتخاب كرنے كے لئے شہر سے باہر تشريف لے گئے آپ نے كوہ احد كا دامن لشكر گاہ كے لئے منتخب كيا كيونكہ جنگى نقطہ نظر سے يہ مقام زيادہ مناسب تھا_
مسلمانوں كى دفاعى تيارياں
جمعہ كے دن آپ نے يہ مشورہ ليا اور نماز جمعہ كا خطبہ ديتے ہوئے آپ نے حمدو ثناء كے بعد مسلمانوں كو لشكر قريش كى آمد كى اطلاع دى اور فرمايا:
'' تہہ دل سے جنگ كے لئے آمادہ ہوجائو اور پورے جذبہ سے دشمن سے لڑو تو خدا وند قددس تمہيں كاميابى وكامرانى سے ہمكنار كرے گا اور اسى دن آپ ايك ہزار افراد كے ساتھ لشكر گاہ كى طرف روانہ ہوئے آپ خود لشكر كى كمان كررہے تھے مدينہ سے نكلنے سے قبل آپ نے حكم ديا كہ لشكر كے تين علم بنائے جائيں جن ميں ايك مہاجرين اور دو انصار كے ہوں ''_
پيغمبر اكرم (ص) نے مدينہ اور احد كے درميانى فاصلے كو پاپيادہ طے كيا اور سارے راستے لشكر كى ديكھ بھال كرتے رہے خود لشكر كى صفوں كو منظم ومرتب ركھا تاكہ وہ ايك ہى سيدھى صف ميں حركت كريں _
ان ميں سے كچھ ايسے افراد كو ديكھا جو پہلى وفعہ آپ كو نظر پڑے پوچھا كہ يہ لوگ كون ہيں ؟ بتايا گيا كہ يہ عبداللہ بن ابى كے ساتھى كچھ يہودى ہيں اور اس مناسبت سے مسلمانوں كى مدد كے لئے آئے ہيں آپ نے فرمايا كہ مشركين سے جنگ كرنے ميں مشركين سے مدد نہيں لى جاسكتى مگريہ كہ يہ لوگ اسلام قبول كرليں يہوديوں نے اس شرط كو قبول نہ كيا اور سب مدينہ كى طرف پلٹ آئے يوں ايك ہزار ميں سے تين سو افراد كم ہوگئے _
ليكن مفسرين نے لكھا ہے كہ چونكہ عبداللہ بن اُبَ كى رائے كو رد كيا گيا تھا اس لئے وہ اثنائے راہ ميں تين سوسے زيادہ افراد كو لے كر مدينہ كى طرف پلٹ آيا بہر صورت پيغمبر اكرم (ص) لشكر كى ضرورى چھان بين (يہوديوں يا ابن ابى ابى كے ساتھيوں كے نكالنے) كے بعد سات سو افراد كو ہمراہ لے كر كوہ احد كے دامن ميں پہنچ گئے، اور نماز فجر كے بعد مسلمانوں كى صفوں كو آراستہ كيا_
عبد اللہ بن جبير كو پچاس ماہر تير اندازوں كے ساتھ پہاڑ كے درہ پر تعينات كيا اور انھيں تاكيد كى كہ وہ كسى صورت ميں اپنى جگہ نہ چھوڑيں اور فوج كے پچھلے حصے كى حفاظت كريں اور اس حد تك تاكيد كى كہ اگر ہم دشمن كا مكہ تك پيچھا كريں يا ہم شكست كھاجائيں اور دشمن ہميں مدينہ تك جانے پر مجبور كردے پھر بھى تم اپنا مورچہ نہ چھوڑنا، دوسرى طرف سے ابو سفيان نے خالد بن وليد كو منتخب سپاہيوں كے ساتھ اس درہ كى نگرانى پر مقرر كيا اور انھيں ہر حالت ميں وہيں رہنے كا حكم د يا اور كہا كہ جب اسلامى لشكر اس درہ سے ہٹ جائے تو فوراً لشكر اسلام پر پيچھے سے حملہ كردو_
آغاز جنگ
دونوں لشكر ايك دوسرے كے امنے سامنے جنگ گے لئے آمادہ ہوگئے اور يہ دونوں لشكر اپنے نوجوانوں كو ايك خاص انداز سے اكسا رہے تھے، ابوسفيان كعبہ كے بتوں كے نام لے كر اور خوبصورت عورتوں كے ذريعے اپنے جنگى جوانوں كى توجہ مبذول كراكے ان كو ذوق وشوق دلاتا تھا_
جب كہ پيغمبر اسلام (ص) خدا كے اسم مبارك اور انعامات اعلى كے حوالے سے مسلمانوں كو جنگ
كى ترغيب ديتے تھے اچانك مسلمانوں كى صدائے اللہ اكبراللہ اكبر سے ميدان اور دامن كوہ كى فضا گونج اٹھى جب كہ ميدان كى دوسرى طرف قريش كى لڑكيوں نے دف اور سارنگى پر اشعار گا گا كر قريش كے جنگ جو افراد كے احساسات كو ابھارتى تھيں _
جنگ كے شروع ہوتے ہى مسلمانوں نے ايك شديد حملہ سے لشكر قريش كے پرخچے اڑاديئےور وہ حواس باختہ ہوكر بھاگ كھڑے ہوئے اور لشكر اسلام نے ان كا پيچھا كرنا شروع كرديا خالدبن وليد نے جب قريش كى يقينى شكت ديكھى تو اس نے چاہا كہ درہ كے راستے نكل كر مسلمانوں پر پيچھے سے حملہ كرے ليكن تيراندازوں نے اسے پيچھے ہٹنے پر مجبور كرديا قريش كے قدم اكھڑتے ديكھ كر تازہ مسلمانوں كے ايك گروہ نے دشمن كو شكت خوردہ سمجھ كرمال غنيمت جمع كرنے كے لئے اچانك اپنى پوزيشن چھوڑدى ، ان كى ديكھا ديكھى درہ پر تعينات تيراندازوں نے بھى اپنا مورچہ چھوڑديا، ان كے كمانڈرعبد اللہ بن جبيرنے انہيں آ نحضرت(ص) كا حكم ياددلايا مگرسوائے چند (تقريبا ًدس افراد) كے كوئي اس اہم جگہ پر نہ ٹھہرا_
پيغمبراكرم (ص) كى مخالفت كا نتيجہ يہ ہوا كہ خالدبن وليد نے درہ خالى ديكھ كر بڑى تيزى سے عبد اللہ بن جبير پر حملہ كيا اور اسے اس كے ساتھيوں سميت قتل كرديا، اس كے بعد انہوں نے پيچھے سے مسلمانوں پر حملہ كرديا اچانك مسلمانوں نے ہر طرف چمك دار تلواروں كى تيزدھاروں كو اپنے سروں پر ديكھا تو حواس باختہ ہوگئے اور اپنے آپ كو منظم نہ ركھ سكے قريش كے بھگوڑوں نے جب يہ صورتحال ديكھى تو وہ بھى پلٹ آئے اور مسلمانوں كو چاروں طرف سے گھيرليا_
اسى موقع پر لشكر اسلام كے بہادر افسر سيد الشہداء حضرت حمزہ نے دوسرے مسلمانوں كے ساتھ جام شہادت نوش كيا ،سوائے چند شمع رسالت كے پروانوں كے اور بقيہ مسلمانوں نے وحشت زدہ ہوكر ميدان كو دشمن كے حوالے كرديا_
اس خطرناك جنگ ميں جس نے سب سے زيادہ فداكارى كا مظاہرہ كيا اور پيغمبر اكرم (ص) پر ہونے والے دشمن كے ہر حملے كا دفاع كيا وہ حضرت على بن ابى طالب عليہ السلام تھے _
حضرت على عليہ السلام بڑى جرا ت اور بڑے حوصلہ سے جنگ كررہے تھے يہاں تك كہ آپ كى تلوار ٹوٹ گئي، اور پيغمبر اكرم (ص) (ص) نے اپنى تلوار آپ كو عنايت فرمائي جو ذوالفقار كے نام سے مشہور ہے بالآخر آپ ايك مورچہ ميں ٹھہرگئے اور حضرت على عليہ السلام مسلسل آپ كا دفاع كرتے رہے يہاں تك كہ بعض مورخين كى تحقيق كے مطابق حضرت على عليہ السلام كے جسم پر ساٹھ كارى زخم آئے، اور اسى موقع پر قاصد وحى نے پيغمبراكرم (ص) سے عرض كيا :اے محمد يہ ہے مواسات ومعاونت كا حق ،آپ (ص) نے فرمايا ( ايسا كيوں نہ ہو كہ ) على مجھ سے ہے اور ميں على سے ہوں ،تو جبرئيل نے اضافہ كيا : ميں تم دونوں سے ہوں _
امام صادق ارشاد فرماتے ہيں كہ پيغمبر اكرم (ص) نے قاصد وحى كو آسمان ميں يہ كہتے ہوئے ديكھا كہ: ''لاسيف الاذوالفقار ولا فتى الا على '' (ذوالفقار كے علاوہ كوئي تلوار نہيں اور على كے سوا كوئي جوانمرد نہيں )
اس اثناء ميں يہ آواز بلند ہوئي كہ محمد قتل ہوگئے _
يہ آواز فضائے عالم ميں گونج اٹھى اس آواز سے جتنابت پرستوں كے جذبات پر مثبت اثر پيدا ہوا اتناہى مسلمانوں ميں عجيب اضطراب پيدا ہوگيا چنانچہ ايك گروہ كے ہاتھ پائوں جواب دے گئے اور وہ بڑى تيزى سے ميدان جنگ سے نكل گئے يہاں تك كہ ان ميں سے بعض نے سوچا كہ پيغمبر شہيدہو گئے ہيں لہذا اسلام ہى كو خيرباد كہہ ديا جائے اور بت برستوں كے سرداروں سے امان طلب كرلى جائے ليكن ان كے مقابلہ ميں فداكاروں اور جانثاروں كى بھى ايك قليل جماعت تھى جن ميں حضرت على ابود جانہ اور طلحہ جيسے بہادر لوگ موجود تھے جوباقى لوگوں كوپامردى اور استقامت كى دعوت دے رہے تھے ان ميں سے انس بن نضر لوگوں كے درميان آيا اور كہنے لگا :اے لوگو اگر محمد شہيد ہوگئے ہيں تو محمد كا خدا تو قتل نہيں ہوا چلو اور جنگ كرو ،اسى نيك اور مقدس ہدف كے حصول كے لئے درجہ شہادت پر فائز ہو جائو ،يہ گفتگو تمام كرتے ہى انھوں نے دشمن پر حملہ كرديا يہاں تك كہ شہيد ہوگئے ،تاہم جلد معلوم ہوگيا كہ پيغمبر اكرم (ص) سلامت ہيں اور اطلاع ايك شايعہ تھى _
كون پكارا كہ محمد (ص) قتل ہوگئے ؟
''ابن قمعہ'' نے اسلامى سپاہى مصعب كو پيغمبر سمجھ كر اس پر كارى ضرب لگائي اور باآواز بلند كہا :لات وعزى كى قسم محمد قتل ہوگئے _
اس ميں كوئي شك نہيں ہے كہ يہ افواہ چاہے مسلمانوں نے اڑائي يا دشمن نے ليكن مسلمانوں كے لئے فائدہ مند ثابت ہوئي اس لئے كہ جب آواز بلند ہوئي تو دشمن ميدان چھوڑ كر مكہ كى طرف چل پڑے ورنہ قريش كا فاتح لشكر جو حضور (ص) كے لئے دلوں ميں كينہ ركھتا تھا اور انتقام لينے كى نيت سے آيا تھا كبھى ميدان نہ چھوڑتا، قريش كے پانچ ہزار افراد پر مشتمل لشكر نے ميدان جنگ ميں مسلمانوں كى كاميابى كے بعد ايك رات بھى صبح تك وہاں نہ گذارى اور اسى وقت مكہ كى طرف چل پڑے_
پيغمبر (ص) كى شہادت كى خبر نے بعض مسلمانوں ميں اضطراب وپريشانى پيدا كردى ،جو مسلمان اب تك ميدان كارزار ميں موجود تھے ، انھوں نے اس خيال سے كہ دوسرے مسلمان پراكندہ نہ ہوں آنحضرت (ص) كو پہاڑ كے اوپر لے گئے تاكہ مسلمانوں كو پتہ چل جائے كہ آپ بقيد حيات ہيں ، يہ ديكھ كر بھگوڑے واپس آگئے اور آنحضرت كے گرد پروانوں كى طرح جمع ہوگئے ،آپ نے ان كو ملامت وسرزنش كى كہ تم نے ان خطرناك حالات ميں كيوں فرار كيا ،مسلمان شرمندہ تھے انہوں نے معذرت كرتے ہوئے كہا : يا رسول خدا ہم نے آپ كى شہادت كى خبر سنى تو خوف كى شدت سے بھاگ كھڑے ہوے_
مفسر عظيم مرحوم طبرسي، ابو القاسم بلخى سے نقل كرتے ہيں كہ جنگ احد كے دن( پيغمبر اكرم (ص) كے علاوہ)سوائے تيرہ افرادكے تمام بھاگ گئے تھے، اور ان تيرہ ميں سے آٹھ انصار اور پانچ مہاجرتھے، جن ميں سے حضرت على عليہ السلام اور طلحہ كے علاوہ باقى ناموں ميں اختلاف ہے، البتہ دونوں كے بارے ميں تمام مو رخين كا اتفاق ہے كہ انھوں نے فرار نہيں كيا_
يوں مسلمانوں كو جنگ احد ميں بہت زيادہ جانى اورمالى نقصان كا سامنا كرنا،پڑا مسلمانوں كے ستر
افراد شہيد ہوئے اور بہت سے زخمى ہوگئے ليكن مسلمانوں كو اس شكست سے بڑا درس ملا جو بعد كى جنگوں ميں ان كى كاميابى و كامرانى كا باعث بنا _
جنگ كا خطرناك مرحلہ
جنگ احد كے اختتام پر مشركين كا فتحياب لشكر بڑى تيزى كے ساتھ مكہ پلٹ گيا ليكن راستے ميں انہيں يہ فكر دامن گير ہوئي كہ انہوں نے اپنى كاميابى كو ناقص كيوں چھوڑديا _كيا ہى اچھا ہو كہ مدينہ كى طرف پلٹ جائيں اور اسے غارت و تاراج كرديں اور اگر محمد زندہ ہوں تو انہيں ختم كرديں تاكہ ہميشہ كے لئے اسلام اور مسلمانوں كى فكر ختم ہوجائے ، اور اسى بنا پر انہيں واپس لوٹنے كا حكم ديا گيا اور درحقيقت جنگ احد كا يہ وہ خطر ناك مرحلہ تھا كيونكہ كافى مسلمان شہيد اور زخمى ہوچكے تھے اور فطرى طور پر وہ ازسر نو جنگ كرنے كے لئے آمادہ نہيں تھے _جبكہ اس كے برعكس اس مرتبہ دشمن پورے جذبہ كے ساتھ جنگ كرسكتا تھا_
يہ اطلاع پيغمبر اكرم (ص) كو پہنچى تو آپ نے فوراً حكم ديا كہ جنگ احد ميں شريك ہونے والا لشكر دوسرى جنگ كے لئے تيار ہوجائے ،آپ نے يہ حكم خصوصيت سے ديا كہ جنگ احد كے زخمى بھى لشكر ميں شامل ہوں ،(حضرت على عليہ السلام نے جن كے بدن پر دشمنوں نے ۶۰/زخم لگائے تھے،ليكن اپ پھر دوبارہ دشمنوں كے مقابلہ ميں اگئے) ايك صحابى كہتے ہيں :
ميں بھى زخميوں ميں سے تھا ليكن ميرے بھائي كے زخم مجھ سے زيادہ شديد تھے ، ہم نے ارادہ كرليا كہ جو بھى حالت ہو ہم پيغمبر اسلام كى خدمت ميں پہونچے گے، ميرى حالت چونكہ ميرے بھائي سے كچھ بہتر تھى ، جہاں ميرا بھائي نہ چل پاتا ميں اسے اپنے كندھے پر اٹھاليتا، بڑى تكليف سے ہم لشكر تك جا پہنچے، پيغمبر اكرم (ص) اور لشكر اسلام ''حمراء الاسد'' كے مقام پر پہنچ گئے اور وہاں پر پڑائو ڈالا يہ جگہ مدينہ سے آٹھ ميل كے فاصلے پر تھي_
يہ خبر جب لشكر قريش تك پہنچى خصوصاً جب انھوں نے مقابلہ كے لئے ايسى آمادگى ديكھى كہ زخمى بھى ميدان جنگ ميں پہنچ گئے ہيں تو وہ پريشان ہوگئے اور ساتھ ہى انھيں يہ فكر بھى لاجق ہوئي كہ مدينہ سے تازہ دم
فوج ان سے آملى ہے_
اس موقع پر ايسا واقعہ پيش آيا جس نے ان كے دلوں كو اور كمزور كرديا اور ان ميں مقابلہ كى ہمت نہ رہى ، واقعہ يہ ہوا كہ ايك مشرك جس كا نام ''معبد خزاعي'' تھا مدينہ سے مكہ كى طرف جارہا تھا اس نے پيغمبر اكرم اور ان كے اصحاب كى كيفيت ديكھى تو انتہائي متاثر ہوا، اس كے انسانى جذبات ميں حركت پيدا ہوئي، اس نے پيغمبر اكرم (ص) سے عرض كيا: آپ كى يہ حالت و كيفيت ہمارے لئے بہت ہى ناگوار ہے آپ آرام كرتے تو ہمارے لئے بہتر ہوتا، يہ كہہ كر وہ وہاں سے چل پڑااور'' روحاء'' كے مقام پر ابو سفيان كے لشكر سے ملا، ابو سفيان نے اس سے پيغمبر اسلام (ص) كے بارے ميں سوال كيا تو اس نے جواب ميں كہا: ميں نے محمد (ص) كو ديكھا ہے كہ وہ ايسا عظيم لشكر لئے ہوئے تمہارا تعاقب كرہے ہيں ايسا لشكر ميں نے كبھى نہيں ديكھا او رتيزى سے آگے بڑھ رہے ہيں _
ابوسفيان نے اضطراب اور پريشانى كے عالم ميں كہا : تم كيا كہہ رہے ہو؟ہم نے انہيں قتل كيا زخمى كيا اور منتشر كر كے ر كھ ديا تھا ،معبد خزاعى نے كہا: ميں نہيں جانتا كہ تم نے پايا كيا ہے ،ميں تو صرف يہ جانتا ہوں كہ ايك عظيم اور كثير لشكر اس وقت تمہارا تعاقب كر رہا ہے _
ابو سفيان اور اسكے سا تھيوں نے قطعى فيصلہ كر ليا كہ وہ تيزى سے پيچھے كى طرف ہٹ جا ئيں اور مكہ كى طرف پلٹ جا ئيں اور اس مقصد كے لئے كہ مسلمان ان كا تعاقب نہ كريں اور انہيں پيچھے ہٹ جا نے كا كا فى مو قع مل جا ئے ، انہوں نے قبيلہ عبد القيس كى ايك جما عت سے خواہش كى كہ وہ پيغمبر اسلا م (ص) اور مسلما نوں تك يہ خبر پہنجا ديں كہ ابو سفيان اور قريش كے بت پر ست با قى ماندہ اصحا ب پيغمبر (ص) كے ختم كرنے كے لئے ايك عظيم لشكر كے ساتھ تيزى سے مدينہ كى طرف آ رہے ہيں ، يہ جما عت گندم خريد نے كے لئے مدينہ جا رہى تھى جب يہ اطلاع پيغمبر اسلام (ص) اور مسلما نوں تك پہنچى تو انہوں نے كہا :''حسبنا اللہ و نعم الو كيل'' (خدا ہمارے لئے كافى ہے اور وہ ہمارا بہترين حامى اور مدافع ہے )_
انہوں نے بہت انتظار كيا ليكن دشمن كے لشكر كى كو ئي خبر نہ ہو ئي ، لہذا تين روز توقف كے بعد ،وہ
مدينہ كى طرف لوٹ گئے_
كھوكھلى باتيں
جنگ بدر ميں بعض مسلمانوں كى پر افتخا ر شہادت كے بعد بعض مسلمان جب باہم مل بيٹھتے تو ہميشہ شہادت كى آرزو كرتے اور كہتے كاش يہ اعزاز ميدان بدر ميں ہميں بھى نصيب ہوجا تا ،يقينا ان ميں كچھ لوگ سچے بھى تھے ليكن ان ميں ايك جھوٹا گروہ بھى تھا جس نے اپنے آپ كو سمجھنے ميں غلطى كى ،بہر حال زيادہ وقت نہيں گزرا تھا كہ جنگ احد كا وحشتناك معركہ در پيش ہوا تو ان سچے مجا ہدين نے بہادرى سے جنگ كى اور جام شہادت نوش كيا اور اپنى آرزوكو پا ليا ليكن جھوٹوں كے گروہ نے جب لشكر اسلام ميں شكست كے آثار ديكھے تو وہ قتل ہونے كے ڈر سے بھاگ كھڑے ہوئے تو يہ قران انہيں سرزنش كرتے ہوئے كہتا ہے كہ'' تم ايسے لوگ تھے كہ جو دلوں ميں آرزو اور تمنائے شہادت كے دعويدار تھے، پھرجب تم نے اپنے محبوب كو اپنى آنكھوں كے سامنے ديكھا تو كيوں بھاگ كھڑے ہوئے''_(۱)
حضرت على عليہ السلام كے زخم
امام باقر عليہ السلام سے اس طرح منقول ہے:حضرت على عليہ السلام كو احد كے دن اكسٹھ زخم لگے تھے اور پيغمبر (ص) نے ''ام سليم'' اور ''ام عطيہ'' كو حكم ديا كہ ہ دونوں حضرت على عليہ السلام كے زخموں كا علاج كريں ،تھوڑى ہى دير گذرى تھى كہ وہ حالت پريشانى ميں آنحضرت(ص) كى خدمت ميں عرض كرنے لگے: كہ حضرت على عليہ السلام كے بدن كى كيفيت يہ ہے كہ ہم جب ايك زخم باندھتے ہيں تو دوسرا كھل جا تاہے اور ان كے بدن كے زخم اس قدرزيادہ اور خطرناك ہيں كہ ہم ان كى زندگى كے بارے ميں پريشان ہيں تو حضرت رسول خدا (ص) اور كچھ ديگر مسلمان حضرت على عليہ السلام كى عيادت كے لئے ان كے گھرآئے جب كہ ان
____________________
(۱)سورہ ال عمران ايت ۱۶۳
كے بدن پر زخم ہى زخم تھے پيغمبراكرم (ص) اپنے دست مبارك ان كے جسم سے مس كرتے تھے اور فرماتے تھے كہ جو شخص راہ خدا ميں اس حالت كو ديكھ لے وہ اپنى ہى ذمہ دارى كے آخرى درجہ كو پہنچ چكا ہے اور جن جن زخموں پرآپ(ص) ہاتھ ركھتے تھے وہ فوراًمل جاتے تھے تواس وقت حضرت على عليہ السلام نے فرمايا: الحمدا للہ كہ ان حالات ميں جنگ سے نہيں بھا گا اوردشمن كو پشت نہيں دكھائي خدا نے ان كى كو شش كى قدر دانى كي_
ہم نے شكست كيوں كھائي ؟
كا فى شہيد دےكر اور بہت نقصان اٹھا كر جب مسلمان مدينہ كى طرف پلٹ آئے تو ايك دوسرے سے كہتے تھے كہ كيا خدانے ہم سے فتح و كاميابى كا وعدہ نہيں كيا تھا،پھر اس جنگ ميں ہميں كيوں شكست ہوئي ؟اسى سے قران ميں انہيں جواب ديا گيا اور شكست كے اسباب كى نشاندہى كى گئي_(۱)
قرآن كہتا ہے كہ كاميابى كہ بارے ميں خدا كا وعدہ درست تھا اور اس كى وجہ ہى سے تم ابتداء جنگ ميں كامياب ہوئے اور حكم خدا سے تم نے دشمن كو تتر بتر كر ديا كاميا بى كا يہ وعدہ اس وقت تك تھا جب تك تم استقامت اور پائيدارى اور فرمان پيغمبرى (ص) كى پيروى سے دست بردار نہيں ہو ئے اور شكست كا دروازہ اس وقت كھلا جب سستى اور نا فرمائي نے تمہيں آگھيرا ،يعنى اگر تم نے يہ سمجھ ركھا ہے كہ كا ميابى كا وعدہ بلا شرط تھا تو تمہارى بڑ ى غلط فہمى ہے بلكہ كاميابى كے تمام وعدے فرمان خدا كى پيروى كے ساتھ مشروط ہيں _
عمومى معافى كا حكم
جو لوگ واقعہ احد كے دوران جنگ سے فرار ہوگئے تھے وہ پيغمبر اكرم (ص) كے گرد جمع ہوگئے اور انہوں نے ندامت وپشيمانى كے عالم ميں معافى كى درخواست كى تو خدا ئے تعالى نے پيغمبر اكرم (ص) سے انہيں عام معافى دينے كے لئے فرمايا لہذا حكم الہى نازل ہوتے ہى آپ نے فراخ دلى سے توبہ كرنے والے خطا كاروں كو معاف كرديا _
____________________
(۱)ال عمران ايت ۱۵۲
قرآن ميں پيغمبر اكرم(ص) (ص) كى ايك بہت بڑى اخلاقى خوبى كى طرف اشارہ كيا گيا ہے كہ تم پروردگار كے لطف وكرم كے سبب ان پر مہربان ہوگئے اور اگر تم ان كے لئے سنگدل،سخت مزاج اور تند خو ہوتے اور عملا ًان پر لطف وعنايت نہ كرتے تو وہ تمہارے پاس سے بكھر جاتے _ اس كے بعد حكم ديا گيا كہ'' ان كى كوتاہيوں سے درگزر فرمايئےور انہيں اپنے دامن عفو ميں جگہ ديجئے''_(۱)
يعنى اس جنگ ميں انہوں نے جو بے وفائياں آپ سے كى ہيں اور جو تكا ليف اس جنگ ميں آپ كو پہنچائي ہيں ، ان كے لئے ان كى مغفرت طلب كيجئے اور ميں خود ان كے لئے تم سے سفارش كرتا ہوں كہ انہوں نے ميرى جو مخالفتيں كى ہيں ،مجھ سے ان كى مغفرت طلب كرو دوسرے لفظوں ميں جو تم سے مربوط ہے اسے تم معاف كردو اورجو مجھ سے ربط ركھتا ہے اسے ميں بخش ديتا ہوں ، آنحضرت (ص) نے فرمان خدا پر عمل كرتے ہوئے ان تمام خطا كاروں كو عام معافى دےدى _(۲)
پيغمبر اكرم (ص) شہداء سے مخاطب
ابن مسعود پيغمبر اكرم (ص) سے روايت كرتے ہيں : خدا نے شہداء بدرواحد كى ارواح كو خطاب كرتے ہوئے ان سے پوچھا كہ تمہارى كيا آرزو ہے تو انہوں نے كہا : پروردگارا ہم اس سے زيادہ كيا آرزو كرسكتے ہيں كہ ہم ہميشہ كى نعمتوں ميں غرق ہيں اور تيرے عرش كے سائے ميں رہتے ہيں ، ہمارا تقاضا صرف يہ ہے كہ ہم دوبارہ دنيا كى طرف پلٹ جائيں اور پھر سے تيرى راہ ميں شہيد ہوں ، اس پر خدا نے فرمايا : ميرااٹل فيصلہ ہے كہ كوئي شخص دوبارہ دنيا كى طرف نہيں پلٹے گا _
____________________
(۱) سورہ آل عمران آيت۱۵۹
(۲)واضح رہے كہ عفو ودر گزر كرنے كے لئے يہ ايك اہم اور بہت مناسب موقع تھا اور اگر آپ ايسانہ كرتے تو لوگوں كے بكھرجانے كےلئے فضا ہموار تھى وہ لوگ جو اتنى برى شكست كا سامناكر چكے تھے اور بہت سے مقتول ومجروح پيش گرچكے تھے (اگرچہ يہ سب كچھ ان كى اپنى غلطى سے ہواتا ہم ) ايسے لوگوں كو محبت ، دلجوئي اور تسلى كى ضرورت تھى تاكہ ان كے دل اور جسم كے زخم پر مرہم لگ سكے اور وہ ان سے جانبرہوكر آئندہ كے معركوں كےلئے تيار ہوسكيں
انہوں نے عرض كيا : جب ايسا ہى ہے تو ہمارى تمنا ہے كہ ہمارے پيغمبر كو ہماراسلام كو پہنچادے ، ہمارى حالت ہمارے پسما ندگان كوبتادے اور انہيں ہمارى حالت كى بشارت دے تاكہ ہمارے بارے ميں انہيں كسى قسم كى پريشانى نہ ہو_
حنظلہ غسيل الملائلكہ
''حنظلہ بن ابى عياش'' جس رات شادى كرنا چاہتے تھے اس سے اگلے دن جنگ احد برپاہوئي پيغمبر اكرم (ص) اپنے اصحاب سے جنگ كے بارے ميں مشورہ كررہے تھے كہ وہ آپ كے پاس آئے اور عرض كى اگر رسول اللہ (ص) اجازت دےديں تو يہ رات ميں بيوى كے ساتھ گزرالوں ، آنحضرت (ص) نے انہيں اجازت دےدى _
صبح كے وقت انہيں جہاد ميں شركت كرنے كى اتنى جلدى تھى كہ وہ غسل بھى نہ كرسكے اسى حالت ميں معركہ كارزار ميں شريك ہوگئے اور بالآخر جام شہادت نوش كيا ،رسول اللہ (ص) نے ان كے بارے ميں ارشاد فرمايا :ميں نے فرشتوں كو ديكھا ہے كہ وہ آسمان وزمين كے درميان حنظلہ كو غسل دے رہے ہيں _
اسى لئے انہيں حنظلہ كو:'' غسيل الملائكہ'' كے نام سے ياد كيا جاتاہے _
قبيلہ بنى نضير كى سازش
مدينہ ميں يہوديوں كے تين قبيلے رہتے تھے ، بنى نظير، بنو قريظہ اور بنو قينقاع، كہا جاتاہے كہ وہ اصلاً اہل حجازنہ تھے ليكن چونكہ اپنى مذہبى كتب ميں انہوں نے پڑھا تھا كہ ايك پيغمبر مدينہ ميں ظہور كرے گا لہذا انہوں نے اس سر زمين كى طرف كوچ كيا اور وہ اس عظيم پيغمبر (ص) كے انتظار ميں تھے_
جس وقت رسول خدا نے مدينہ كى طرف ہجرت فرمائي تو آپ نے ان كے ساتھ عدم تعرض كا عہد باندھا ليكن ان كو جب بھى موقع ملا انہوں نے يہ عہد توڑا _
دوسرى عہد شكنيوں كے علاوہ يہ كہ جنگ احد(جنگ احد ہجرت كے تيسرے سال واقع ہوئي ) كعب ابن اشرف چاليس سواروں كے ساتھ مكہ پہنچا وہ اور اس كے ساتھى سب قريش كے پاس اور ان سے عہد كيا كہ سب مل كر محمد (ص) كے خلاف جنگ كريں اس كے بعد ابوسفيان چاليس مكى افراد كے ساتھ اور كعب بن اشرف ان چاليس يہوديوں كے ساتھ مسجد الحرام ميں وارد ہوئے اور انہوں نے خانہ كعبہ كے پاس اپنے عہددپيمان كو مستحكم كيا يہ خبر بذريعہ وحى پيغمبر اسلام (ص) كو مل گئي_
دوسرے يہ كہ ايك روز پيغمبر اسلام (ص) اپنے چند بزرگ اصحاب كے ساتھ قبيلہ بنى نضير كے پاس آئے يہ لوگ مدينہ كے قريب رہتے تھے_
پيغمبر اسلام (ص) اور آپ كے صحابہ كا حقيقى مقصديہ تھا كہ آپ اس طرح بنى نظير كے حالات قريب سے ديكھناچاہتے تھے اس لئے كہ كہيں ايسانہ ہو كہ مسلمان غفلت كا شكار ہوكر دشمنوں كے ہاتھوں مارے
جائيں _
پيغمبر اسلام (ص) يہود يوں كے قلعہ كے باہر تھے آپ(ص) نے كعب بن اشرف سے اس سلسلہ ميں بات كى اسى دوران يہوديوں كے درميان سازش ہونے لگى وہ ايك دوسرے سے كہنے لگے كہ ايسا عمدہ موقع اس شخض كے سلسلہ ميں دوبارہ ہاتھ نہيں آئے گا، اب جب كہ يہ تمہارى ديوار كے پاس بيٹھا ہے ايك آدمى چھت پر جائے اور ايك بہت بڑا پتھر اس پر پھينك دے اور ہميں اس سے نجات دلادے ايك يہودى ،جس كا نام عمر بن حجاش تھا ،اس نے آمادگى ظاہر كى وہ چھت پر چلا گيا رسول خدا (ص) بذريعہ وحى باخبر ہوگئے اور وہاں سے اٹھ كر مدينہ آگئے آپ نے اپنے اصحاب سے كوئي بات نہيں كى ان كا خيال تھا كہ پيغمبر اكرم (ص) لوٹ كر مدينہ جائيں گے ان كو معلوم ہوا كہ آپ مدينہ پہنچ گئے ہيں چنانچہ وہ بھى مدينہ پلٹ آئے يہ وہ منزل تھى كہ جہاں پيغمبر اسلام (ص) پر يہوديوں كى پيما ن شكنى واضح وثابت ہوگئي تھى آپ نے مسلمانوں كو جنگ كے لئے تيار ہوجانے كا حكم ديا_
بعض روايات ميں يہ بھى آيا ہے كہ بنى نظير كے ايك شاعر نے پيغمبر اسلام (ص) كى ہجوميں كچھ اشعار كہے اور آپ كے بارے ميں بد گوئي بھى كى ان كى پيمان شكنى كى يہ ايك اور دليل تھي_
پيغمبر اسلام (ص) نے اس وجہ سے كہ ان پر پہلے سے ايك كارى ضرب لگائيں ، محمد بن مسلمہ كو جو كعب بن اشرف رئيس يہود سے آشنائي ركھتا تھا ،حكم ديا كہ وہ كعب كو قتل كردے اس نے كعب كو قتل كرديا، كعب بن اشرف كے قتل ہوجانے نے يہوديوں كو متزلزل كرديا،ا س كے ساتھ ہى پيغمبر اكرم (ص) نے حكم ديا كہ ہر مسلمان اس عہد شكن قوم سے جنگ كرنے كے لئے چل پڑے جس وقت وہ اس صورت حال سے باخبر ہوئے تو انہوں نے اپنے مضبوط ومستحكم قلعوں ميں پناہ لے لى اور دروازے بند كرلئے ،پيغمبر اسلام (ص) نے حكم ديا كہ وہ چند كھجوروں كے درخت جو قلعوں كے قريب ہيں ، كاٹ ديے جائيں يا جلادئے جائيں _
يہ كام غالبا ًاس مقصد كے پيش نظر ہوا كہ يہودى اپنے مال واسباب سے بہت محبت ركھتے تھے وہ اس نقصان كى وجہ سے قلعوں سے باہرنكل كر آمنے سامنے جنگ كريں گے مفسرين كى طرف سے يہ احتمال بھى تجويز
كيا گيا ہے كہ كاٹے جانے والے كھجوروں كے يہ درخت مسلمانوں كى تيز نقل وحركت ميں ركاوٹ ڈالتے تھے لہذا انہيں كاٹ ديا جانا چاہئے تھا بہرحال اس پر يہوديوں نے فرياد كى انہوں نے كہا :''اے محمد ًآپ تو ہميشہ اس قسم كے كاموں سے منع كرتے تھے يہ كيا سلسلہ ہے'' تو اس وقت وحى نازل ہوئي(۱) اور انہيں جواب ديا كہ يہ ايك مخصوص حكم الہى تھا_
محاصرہ نے كچھ دن طول كھينچا اور پيغمبر اسلام (ص) نے خوں ريزى سے پرہيز كرتے ہوئے ان سے كہا كہ وہ مدينہ كو خير باد كہہ ديں اور كہيں دوسرى جگہ چلے جائيں انہوں نے اس بات كو قبول كرليا كچھ سامان اپنا لے ليا اور كچھ چھوڑديا ايك جماعت'' اذرعات '' شام كى طرف اور ايك مختصر سى تعداد خيبر كى طرف چلى گئي ايك گروہ'' حيرہ'' كى طرف چلا گيا ان كے چھوڑے ہوئے اموال،زمينيں ،باغات اور گھر مسلمانوں كے ہاتھ لگے، چلتے وقت جتنا ان سے ہوسكا انہوں نے اپنے گھر توڑپھوڑدئےے يہ واقعہ جنگ احد كے چھ ماہ بعد اور ايك گروہ كى نظركے مطابق جنگ بدر كے چھ ماہ بعد ہوا(۲)
____________________
(۱)سورہ حشر ايت۵
(۲)يہ واقعہ سورہ حشركى ابتدائي آيات ميں بيان ہوا ہے.
۹ حضرت رسول اكرم (ص)
جنگ احزاب
تاريخ اسلام كے اہم حادثوں ميں سے ايك جنگ احزاب بھى ہے يہ ايك ايسى جنگ جو تاريخ اسلام ميں ايك اہم تاريخى موڑ ثابت ہوئي اور اسلام وكفر كے درميان طاقت كے موازنہ كے پلڑے كو مسلمانوں كے حق ميں جھكاديا اور اس كى كاميابى آئندہ كى عظيم كاميابيوں كے لئے كليدى حيثيت اختياركر گئي اور حقيقت يہ ہے كہ اس جنگ ميں دشمنوں كى كمر ٹوٹ گئي اور اس كے بعد وہ كوئي خاص قابل ذكر كار نامہ انجام دينے كے قابل نہ رہ سكے _
'' يہ جنگ احزاب'' جيسا كہ اس كے نام سے ظاہر ہے تمام اسلام دشمن طاقتوں اور ان مختلف گرو ہوں كى طرف سے ہر طرح كا مقابلہ تھا كہ اس دين كى پيش رفت سے ان لوگوں كے ناجائز مفادات خطرے ميں پڑگئے تھے _ جنگ كى آگ كى چنگاري''نبى نضير'' يہوديوں كے اس گروہ كى طرف سے بھڑكى جو مكہ ميں آئے اور قبيلہ ''قريش'' كو آنحضرت (ص) سے لڑنے پر اكسايا اور ان سے وعدہ كيا كہ آخرى دم تك ان كا ساتھ ديں گے پھر قبيلہ ''غطفان '' كے پاس گئے اور انھيں بھى كارزار كے لئے آمادہ كيا _
ان قبائل نے اپنے ہم پيمان اور حليفوں مثلاً قبيلہ '' بنى اسد '' اور'' بنى سليم '' كو بھى دعوت دى اور چونكہ يہ سب قبائل خطرہ محسوس كئے ہوئے تھے، لہذا اسلام كا كام ہميشہ كے لئے تمام كرنے كے لئے ايك دوسرے كے ہاتھ ميں ہاتھ دےديا تاكہ وہ اس طرح سے پيغمبر كو شہيد ، مسلمانوں كو سر كوب ، مدينہ كو غارت اور اسلام كا چراغ ہميشہ كے لئے گل كرديں _
كل ايمان كل كفر كے مقابلہ ميں
جنگ احزاب كفر كى آخرى كوشش ،ان كے تركش كا آخرى تيراور شرك كى قوت كا آخرى مظاہرہ تھا اسى بنا پر جب دشمن كا سب سے بڑا پہلو ان عمروبن عبدودعالم اسلام كے دلير مجاہد حضرت على ابن ابى طالب عليہ السلام كے مقابلہ ميں آيا تو پيغمبر اسلام (ص) نے فرمايا :''سارے كا سارا ايمان سارے كے سارے (كفر اور ) شرك كے مقابلہ ميں آگيا ہے ''_
كيونكہ ان ميں سے كسى ايك كى دوسرے پر فتح كفر كى ايمان پر يا ايمان كى كفر پر مكمل كا ميابى تھى دوسرے لفظوں ميں يہ فيصلہ كن معركہ تھا جو اسلام اور كفر كے مستقبل كا تعين كررہا تھا اسى بناء پر دشمن كى اس عظيم جنگ اور كار زار ميں كمر ٹوٹ گئي اور اس كے بعد ہميشہ مسلمانوں كاپلہ بھارى رہا _
دشمن كا ستارہ اقبال غروب ہوگيا اور اس كى طاقت كے ستون ٹوٹ گئے اسى لئے ايك حديث ميں ہے كہ حضرت رسول گرامى (ص) نے جنگ احزاب كے خاتمہ پر فرمايا :
''اب ہم ان سے جنگ كريں گے اور ان ميں ہم سے جنگ كى سكت نہيں ہے'' _
لشكر كى تعداد
بعض مو رخين نے لشكر كفار كى تعداد دس ہزار سے زيادہ لكھى ہے _مقريزى اپنى كتاب ''الا متاع '' ميں لكھتے ہيں :''صرف قريش نے چارہزار جنگ جوئوں ، تين سو گھوڑوں اور پندرہ سواونٹوں كے ساتھ خندق كے كنارے پڑائو ڈالا تھا ،قبيلہ '' بنى سليم ''سات سو افراد كے ساتھ ''مرالظہران '' كے علاقہ ميں ان سے آملا، قبيلہ ''بنى فرازہ'' ہزار افراد كے ساتھ ، ''بنى اشجع'' اور'' بنى مرہ'' كے قبائل ميں سے ہر ايك چار چار سو افراد كے ساتھ پہنچ گيا _ اور دوسرے قبائل نے بھى اپنے آدمى يہ بھيجے جن كى مجموعى تعداد دس ہزار سے بھى زيادہ بنتى ہے ''
جبكہ مسلمانوں كى تعداد تين ہزار سے زيادہ نہ تھى انہوں نے (مدينہ كے قريب )'' سلع '' نامى
پہاڑى كے دامن كو جو ايك بلند جگہ تھى وہاں پر لشكر كفر نے مسلمانوں كا ہر طرف سے محاصرہ كرليا اور ايك روايت كے مطابق بيس دن دوسرى روايت كے مطابق پچيس دن اور بعض روايات كے مطابق ايك ماہ تك محاصرہ جارى رہا _
باوجوديكہ دشمن مسلمانوں كى نسبت مختلف پہلوئوں سے برترى ركھتا تھا ليكن جيسا كہ ہم كہہ چكے ہيں ،آخر كار ناكام ہو كر واپس پلٹ گيا_
خندق كى كھدائي
خندق كے كھودنے كا سلسلہ حضرت سلمان فارسى كے مشورہ سے وقوع پذير ہوا خندق كے اس زمانے ميں ملك ايران ميں دفاع كا موثر ذريعہ تھا اور جزيرة العرب ميں اس وقت تك اس كى مثال نہيں تھى اور عرب ميں اس كا شمار نئي ايجادات ميں ہوتا تھا اطراف مدينہ ميں اس كا كھود نا فوجى لحاظ سے بھى اہميت كا حامل تھا يہ خندق دشمن كے حوصلوں كو پست كرنے اور مسلمانوں كے لئے روحانى تقويت كا بھى ايك موثر ذريعہ تھى _
خندق كے كو ائف اور جزئيات كے بارے ميں صحيح طور پر معلومات تك رسائي تو نہيں ہے البتہ مورخين نے اتنا ضرور لكھا ہے كہ اس كا عرض اتنا تھاكہ دشمن كے سوار جست لگا كر بھى اس كو عبور نہيں كرسكتے تھے اس كى گہرائي يقينا اتنى تھى كہ اگر كو ئي شخص اس ميں داخل ہوجاتاہے تو آسانى كے ساتھ دوسرى طرف باہر نہيں نكل سكتا تھا ،علاوہ ازيں مسلمان تير اندازوں كا خندق والے علاقے پر اتنا تسلط تھا كہ اگر كوئي شخص خندق كو عبور كرنے كا ارداہ كرتا تھا تو ان كے لئے ممكن تھا كہ اسے خندق كے اندرہى تير كا نشانہ بناليتے _
رہى اس كى لمبائي تو مشہور روايت كو مد نظر ركھتے ہوئے كہ حضرت رسالت ماب (ص) نے دس ،دس افراد كو چاليس ہاتھ (تقريباً ۲۰ ميڑ) خندق كھودنے پر مامور كيا تھا،اور مشہور قول كے پيش نظر لشكر اسلام كى تعداد تين ہزار تھى تو مجموعى طورپر اس كى لمبائي اندازاً بارہ ہزار ہاتھ (چھ ہزار ميڑ) ہوگي_
اس بات كا بھى اعتراف كرنا چاہئے كہ اس زمانے ميں نہايت ہى ابتدائي وسائل كے ساتھ اس قسم كى
خندق كھودنا بہت ہى طاقت فرسا كام تھا خصوصاً جب كہ مسلمان خوراك اور دوسرے وسائل كے لحاظ سے بھى سخت تنگى ميں تھے _
يقينا خندق كھودى بھى نہايت كم مدت ميں گئي يہ امر اس بات كى نشاندہى كرتا ہے كہ لشكر اسلام پورى ہوشيارى كے ساتھ دشمن كے حملہ آور ہونے سے پہلے ضرورى پيش بندى كرچكا تھا اور وہ بھى اس طرح سے كہ لشكر كفر كے مدينہ پہنچنے سے تين دن پہلے خندق كى كھدائي كا كام مكمل ہوچكا تھا _
عمرو بن عبدود دسے حضرت على (ع) كى تاريخى جنگ
اس جنگ كا ايك اہم واقعہ حضرت على عليہ السلام كا دشمن كے لشكر كے نامى گرامى پہلو ان عمروبن عبددد كے ساتھ مقابلہ تھا تاريخ ميں آيا ہے كہ لشكر احزاب نے جن دلاوران عرب ميں سے بہت طاقت ور افراد كو اس جنگ ميں اپنى امداد كے لئے دعوت دے ركھى تھي، ان ميں سے پانچ افراد زيادہ مشہور تھے، عمروبن عبدود ، عكرمہ بن ابى جہل ،ہبيرہ ، نوفل اور ضرار يہ لوگ دوران محاصرہ ايك دن دست بدست لڑائي كے لئے تيار ہوئے ، لباس جنگ بدن پر سجايا اور خندق كے ايك كم چوڑے حصے سے ، جو مجاہدين اسلام كے تيروں كى پہنچ سے كسى قدر دور تھا ، اپنے گھوڑوں كے ساتھ دوسرى طرف جست لگائي اور لشكر اسلام كے سامنے آكھڑے ہوئے ان ميں سے عمروبن عبدود زيادہ مشہور اور نامور تھا اس كي''كوئي ہے بہادر ''كى آواز ميدان احزاب ميں گونجى اور چونكہ مسلمانوں ميں سے كوئي بھى اس كے مقابلہ كے لئے تيار نہ ہوا لہذا وہ زيادہ گستاخ ہوگيا اور مسلمانوں كے عقايد اورنظريات كا مذاق اڑا نے لگا اور كہنے لگا :
''تم تويہ كہتے ہو كہ تمہارے مقتول جنت ميں ہيں اور ہمارے مقتول جہنم ميں توكياتم ميں سے كوئي بھى ايسا نہيں جسے ميں بہشت ميں بھيجوں يا وہ مجھے جہنم كى طرف روانہ كرے ؟''
اس موقع پر پيغمبر اسلام (ص) نے حكم ديا كہ كوئي شخص كھڑا ہواور اس كے شر كو مسلمانوں كے سرسے كم كردے ليكن حضرت على ابن ابى طالب عليہ السلام كے سوا كوئي بھى اس كے ساتھ جنگ كے لئے آمادہ نہ ہوا تو آنحضرت نے على ابن اطالب عليہ السلام سے فرمايا : يہ عمر وبن عبدود ہے '' حضرت على عليہ السلام نے عرض كى
حضور : ميں بالكل تيار ہوں خواہ عمروہى كيوں نہ ہو، پيغمبر اكرم (ص) نے ان سے فرمايا '' ميرے قريب آئو : چنانچہ على عليہ السلام آپ كے قريب گئے اور آنحضرت (ص) نے ان كے سر پر عمامہ باندھا اور اپنى مخصوص تلوار ذوالفقار انہيں عطا فرمائي اور ان الفاظ ميں انھيں دعا دى :
خدايا ،على كے سامنے سے ، پيچھے سے ، دائيں اور بائيں سے اور اوپر اور نيچے سے حفاظت فرما _
حضرت على عليہ السلام بڑى تيزى سے عمرو كے مقابلہ كےلئے ميدان ميں پہنچ گئے _
يہى وہ موقع تھا كہ پيغمبر اكرم (ص) ختمى المرتبت (ص) نے وہ مشہور جملہ ارشاد فرمايا :
''كل ايمان كل كفر كے مقابلہ ميں جارہا ہے ''_
ضربت على (ع) ثقلين كى عبادت پر بھاري
امير المو منين على عليہ السلام نے پہلے تو اسے اسلام كى دعوت دى جسے اس نے قبول نہ كيا پھر ميدان چھوڑكر چلے جانے كو كہا اس پر بھى اس نے انكار كيا اور اپنے لئے باعث ننگ وعار سمجھا آپ كى تيسرى پيشكش يہ تھى كہ گھوڑے سے اتر آئے اور پيادہ ہوكر دست بدست لڑائي كرے _
عمرو آگ بگولہ ہوگيا اور كہا كہ ميں نے كبھى سوچا بھى نہ تھا كہ عرب ميں سے كوئي بھى شخص مجھے ايسى تجويزدے گا گھوڑے سے اتر آيا اور على عليہ السلام پر اپنى تلوار كا وار كيا ليكن اميرالمومنين على عليہ السلام نے اپنى مخصوص مہارت سے اس وار كو اپنى سپركے ذريعے روكا ،مگر تلوار نے سپر كو كاٹ كرآپ كے سرمبارك كو زخمى كرديا اس كے بعد حضرت على عليہ السلام نے ايك خاص حكمت عملى سے كام ليا عمر وبن عبدود سے فرمايا :تو عرب كا زبردست پہلو ان ہے ، جب كہ ميں تجھ سے تن تنہا لڑرہا ہوں ليكن تو نے اپنے پيچھے كن لوگوں كو جمع كرركھا ہے اس پر عمر ونے جيسے ہى پيچھے مڑكر ديكھا _
حضرت على عليہ السلام نے عمرو كى پنڈلى پر تلوار كا وار كيا ، جس سے وہ سروقد زمين پر لوٹنے لگا شديد گردوغبار نے ميدان كى فضا كو گھيرركھا تھا كچھ منافقين يہ سوچ رہے تھے كہ حضرت على عليہ السلام ، عمرو كے
ہاتھوں شہيد ہوگئے ہيں ليكن جب انھوں نے تكبير كى آواز سنى تو على كى كاميابى ان پر واضح ہوگئي اچانك لوگوں نے ديكھا كہ آپ كے سرمبارك سے خون بہہ رہا تھا اور لشكر گاہ اسلام كى طرف خراماں خراماں واپس آرہے تھے جبكہ فتح كى مسكراہٹ آپ كے لبوں پر كھيل رہى تھى اور عمر و كا پيكر بے سر ميدان كے كنارے ايك طرف پڑا ہوا تھا _
عرب كے مشہور پہلوان كے مارے جانے سے لشكر احزاب اور ان كى آرزوئوں پر ضرب كارى لگى ان كے حوصلے پست اور دل انتہائي كمزور ہوگئے اس ضرب نے ان كى فتح كى آرزوو ں پر پانى پھيرديا اسى بناء پر آنحضرت (ص) نے اس كاميابى كے بارے ميں حضرت على عليہ السلام سے ارشاد فرمايا :
''اگر تمہارے آج كے عمل كو سارى امت محمد كے اعمال سے موازنہ كريں تو وہ ان پر بھارى ہوگا، كيونكہ عمرو كے مارے جانے سے مشركين كا كوئي ايسا گھر باقى نہيں رہا جس ميں ذلت وخوارى داخل نہ ہوئي ہو اور مسلمانوں كا كوئي بھى گھر ايسا نہيں ہے جس ميں عمرو كے قتل ہوجانے كى وجہ سے عزت داخل نہ ہوئي ہو'' _
اہل سنت كے مشہور عالم ، حاكم نيشاپورى نے اس گفتگو كو نقل كيا ہے البتہ مختلف الفاظ كے ساتھ اور وہ يہ ہے :
'' لمبارزة على بن ابيطالب لعمروبن عبدود يوم الخندق افضل من اعمال امتى الى يوم القيامة ''
'' يعنى على بن ابى طالب كى خندق كے دن عمروبن عبدود سے جنگ ميرى امت كے قيامت تك كے اعمال سے ا فضل ہے ''
آپ كے اس ارشاد كا فلسفہ واضح ہے ، كيونكہ اس دن اسلام اور قرآن ظاہراً نابودى كے كنارے پر پہنچ چكے تھے، ان كے لئے زبردست بحرانى لمحات تھے،جس شخص نے پيغمبر اكرم (ص) كى فداكارى كے بعد اس ميدان ميں سب سے زيادہ ايثار اور قربانى كا ثبوت ديا،اسلام كو خطرے سے محفوظ ركھا، قيامت تك اس كے دوام كى ضمانت دي،اس كى فداكارى سے اسلام كى جڑيں مضبوط ہوگئيں اور پھر اسلام عالمين پر پھيل گيا
لہذا سب لوگوں كى عبادتيں اسكى مرہون منت قرار پا گئيں _
بعض مورخين نے لكھا ہے كہ مشركين نے كسى آدمى كو پيغمبر (ص) كى خدمت ميں بھيجا تاكہ وہ عمر و بن عبدود كے لاشہ كو دس ہزار درہم ميں خريد لائے (شايد ان كا خيال يہ تھا كہ مسلمان عمرو كے بدن كے ساتھ وہى سلوك كريں گے جو سنگدل ظالموں نے حمزہ(ص) كے بدن كےساتھ جنگ ميں كياتھا)ليكن رسول اكرم(ص) نے فرمايا: اس كا لاشہ تمھا رى ملكيت ہے ہم مردوں كى قيمت نہيں ليا كرتے_
يہ نكتہ بھى قابل توجہ ہے كہ جس وقت عمرو كى بہن اپنے بھائي كے لاشہ پر پہنچى اوراس كى قيمتى زرہ كو ديكھا كہ حضرت على عليہ السلام نے اس كے بدن سے نہيں اتارى تو اس نے كہا:
''ميں اعتراف كرتى ہوں كہ اس كا قاتل كريم اور بزرگوارشخص ہى تھا''
نعيم بن مسعود كى داستان اور دشمن كے لشكر ميں پھوٹ
نعيم جو تازہ مسلمان تھے اور ان كے قبيلہ''غطفان ''كو لشكر اسلام كى خبر نہيں تھي،وہ پيغمبر اكرم (ص) كى خدمت ميں آئے اور عرض كى كہ آپ(ص) مجھے جو حكم بھى ديں گے ،ميں حتمى كاميابى كے لئے اس پر كار بند رہوں گا_
رسول اللہ (ص) نے فرمايا :
''تمہارے جيسا شخص ہمارے درميان اور كوئي نہيں ہے _اگر تم دشمن كے لشكر كے درميان پھوٹ ڈال سكتے ہو تو ڈ الو _كيونكہ جنگ پوشيدہ تدابير كا مجموعہ ہے ''_
نعيم بن مسعود نے ايك عمدہ تدبير سوچى اور وہ يہ كہ وہ بنى قريظہ كے يہوديوں كے پاس گيا ،جن سے زمانہ جاہليت ميں ان كى دوستى تھى ان سے كہا اے بنى قريظہ تم جانتے ہوكہ مجھے تمہارے ساتھ محبت ہے_
انھوں نے كہا آپ سچ كہتے ہيں :ہم آپ پراس بارے ميں ہر گز كوئي الزام نہيں لگاتے _
نعيم بن مسعود نے كہا :قبيلہ قريش اور عظفان تمہارى طرح نہيں ہيں ، يہ تمہارا اپنا شہر ہے، تمہارا مال
اولاد اور عورتيں يہاں پر ہيں اور تم ہر گز يہ نہيں كر سكتے كہ يہاں سے كو چ كر جا ئو_
قريش اور قبيلہ عظفان محمد(ص) اور ان كے اصحاب كے ساتھ جنگ كرنے كے لے آئے ہوئے ہيں اور تم نے ان كى حمايت كى ہے جبكہ ان كا شہر كہيں او رہے اور ان كے مال او رعورتيں بھى دوسرى جگہ پر ہيں ، اگر انھيں موقع ملے تو لوٹ مار اور غارت گرى كر كے اپنے ساتھ لے جائيں گے، اگر كوئي مشكل پيش آجا ئے تو اپنے شہر كو لوٹ جائيں گے، ليكن تم كو اور محمد(ص) كو تو اسى شہر ميں رہنا ہے او ريقيناتم اكيلے ان سے مقابلہ كرنے كى طاقت نہيں ركھتے ،تم اس وقت تك اسلحہ نہ اٹھائوجب تك قريش سے كوئي معاہدہ نہ كر لو او رو ہ اس طرح كہ وہ چندسرداروں اور بزرگوں كو تمہارے پاس گروى ركھ ديں تاكہ وہ جنگ ميں كو تاہى نہ كريں _
بنى قريظہ كے يہوديوں نے اس نظريہ كوبہت سراہا_
پھر نعيم مخفى طور پر قريش كے پاس گيا اور ابو سفيان اور قريش كے چندسرداروں سے كہا كہ تم اپنے ساتھ ميرى دوستى كى كيفيت سے اچھى طرح آگاہ ہو، ايك بات ميرے كانوں تك پہنچى ہے، جسے تم تك پہنچا نا ميں اپنا فريضہ سمجھتا ہوں تا كہ خير خواہى كا حق اداكر سكوں ليكن ميرى خواہش يہ ہے كہ يہ بات كسى او ركو معلو م نہ ہونے پائے _
انھوں نے كہا كہ تم بالكل مطمئن رہو _
نعيم كہنے لگے : تمہيں معلوم ہو نا چاہيے كہ يہودى محمد(ص) كے بارے ميں تمھارے طرز عمل سے اپنى برائت كا فيصلہ كر چكے ہيں ،يہوديوں نے محمد(ص) كے پاس قاصد بھيجا ہے او ركہلوايا ہے كہ ہم اپنے كئے پر پشيمان ہيں اور كيا يہ كافى ہو گا كہ ہم قبيلہ قريش او رغطفان كے چندسردار آپ(ص) كے لئے يرغمال بناليں اور ان كو بندھے ہاتھوں آپ كے سپرد كرديں تاكہ آپ ان كى گردن اڑاديں ، اس كے بعد ہم آپ كے ساتھ مل كر ان كى بيخ كنى كريں گے ؟محمد(ص) نے بھى ان كى پيش كش كوقبول كرليا ہے، اس بنا ء پر اگر يہودى تمہارے پاس كسى كو بھيجيں او رگروى ركھنے كا مطالبہ كريں تو ايك آدمى بھى ان كے سپرد نہ كر نا كيونكہ خطرہ يقينى ہے _
پھر وہ اپنے قبيلہ غطفان كے پاس آئے اور كہا :تم ميرے اصل اور نسب كو اچھى طرح جانتے ہو_
ميں تمھاراعاشق او رفريفتہ ہوں او رميں سوچ بھى نہيں سكتا كہ تمھيں ميرے خلوص نيت ميں تھوڑا سابھى شك اور شبہ ہو _
انھوں نے كہا :تم سچ كہتے ہو ،يقينا ايسا ہى ہے _
نعيم نے كہا : ميں تم سے ايك بات كہنا چاہتا ہوں ليكن ايسا ہو كہ گو يا تم نے مجھ سے بات نہيں سنى _
انھوں نے كہا :مطمئن رہويقينا ايسا ہى ہو گا ،وہ بات كيا ہے ؟
نعيم نے وہى بات جو قريش سے كہى تھى يہوديوں كے پشيمان ہونے او رير غمال بنانے كے ارادے كے بارے ميں حرف بحرف ان سے بھى كہہ ديا او رانھيں اس كام كے انجام سے ڈرايا _
اتفاق سے وہ ( ماہ شوال سن ۵ ہجرى كے ) جمعہ او رہفتہ كى درميانى رات تھى _ ابو سفيان او رغطفان كے سرداروں نے ايك گروہ بنى قريظہ كے يہوديوں كے پاس بھيجا او ركہا : ہمارے جانور يہاں تلف ہو رہے ہيں اور يہاں ہمارے لئے ٹھہر نے كى كو ئي جگہ نہيں _ كل صبح ہميں حملہ شروع كرنا چاہيے تاكہ كام كو كسى نتيجے تك پہنچائيں _
يہوديوں نے جواب ميں كہا :كل ہفتہ كا دن ہے او رہم اس دن كسى كام كو ہاتھ نہيں لگاتے ،علاوہ ازيں ہميں اس بات كا خوف ہے كہ اگر جنگ نے تم پر دبائو ڈالا تو تم اپنے شہروں كى طرف پلٹ جائو گے او رہميں يہاں تنہاچھوڑدوگے _ ہمارے تعاون او رساتھ دينے كى شرط يہ ہے كہ ايك گروہ گروى كے طور پر ہمارے حوالے كردو، جب يہ خبر قبيلہ قريش او رغطفان تك پہنچى تو انھوں نے كہا :خداكى قسم نعيم بن مسعود سچ كہتا تھا،دال ميں كالا ضرو رہے _
لہذا انھوں نے اپنے قاصد يہوديوں كے پاس بھيجے اور كہا : بخدا ہم تو ايك آدمى بھى تمھارے سپرد نہيں كريں گے او راگر جنگ ميں شريك ہو تو ٹھيك ہے شروع كرو _
بنى قريظہ جب اس سے با خبر ہوئے تو انھوں نے كہا :واقعا نعيم بن مسعود نے حق بات كہى تھى يہ جنگ نہيں كرنا چاہتے بلكہ كوئي چكر چلا رہے ہيں ، يہ چا ہتے ہيں كہ لوٹ مار كر كے اپنے شہروں كو لوٹ جائيں او
رہميں محمد(ص) كے مقابلہ ميں اكيلا چھوڑجا ئيں پھر انہوں نے پيغام بھيجا كہ اصل بات وہى ہے جو ہم كہہ چكے ہيں ،بخدا جب تك كچھ افرادگروى كے طور پر ہمارے سپرد نہيں كروگے ،ہم بھى جنگ نہيں كريں گے ،قريش اورغطفان نے بھى اپنى بات پراصرار كيا، لہذا ان كے درميان بھى اختلاف پڑ گيا _ اور يہ وہى موقع تھا كہ رات كو اس قدر زبردست سرد طوفانى ہوا چلى كہ ان كے خيمے اكھڑگئے اور ديگيں چو لہوں سے زمين پر آپڑيں _
يہ سب عوامل مل ملاكر اس بات كا سبب بن گئے كہ دشمن كو سر پر پائوں ركھ كر بھا گنا پڑا اور فرار كو قرار پر ترجيح دينى پڑى _ يہاں تك كہ ميدان ميں انكا ايك آدمى بھى نہ رہا_
حذيفہ كا واقعہ
بہت سى تواريخ ميں آيا ہے ،كہ حذيفہ يمانى كہتے ہيں كہ ہم جنگ خندق ميں بھوك او رتھكن ،وحشت اوراضطراب اس قدر دو چار تھے كہ خدا ہى بہتر جانتا ہے ،ايك رات (لشكر احزاب ميں اختلاف پڑ جانے كے بعد )پيغمبر (ص) نے فرمايا:كيا تم ميں سے كوئي ايسا شخص ہے جو چھپ چھپا كر دشمن كى لشكر گاہ ميں جائے اور ان كے حالات معلوم كر لائے تا كہ وہ جيت ميں ميرا رفيق اور ساتھى ہو_
حذيفہ كہتے ہيں : خدا كى قسم كوئي شخض بھى شدت وحشت ، تھكن اور بھوك كے مارے اپنى جگہ سے نہ اٹھا _
جس وقت آنحضرت(ص) نے يہ حالت ديكھى تو مجھے آوازدي، ميں آپ كى خدمت ميں حاضر ہوا تو فرماياجائو اور ميرے پاس ان لوگوں كى خبر لے آئو _ ليكن وہاں كوئي اور كام انجام نہ دينا يہاں تك كہ ميرے پاس آجائو _
ميں ايسى حالت ميں وہاں پہنچا جب كہ سخت آندھى چل رہى تھى اور طوفان برپا تھا اور خدا كا يہ لشكر انھيں تہس نہس كررہا تھا _ خيمے تيز آندھى كے سبب ہوا ميں اڑ رہے تھے _ آگ بيابان ميں پھيل چكى تھي_ كھانے كے برتن الٹ پلٹ گئے تھے اچانك ميں نے ابو سفيان كا سايہ محسوس كياكہ وہ اس تاريكى ميں بلند آواز سے كہہ رہا تھا: اے قريش تم ميں سے ہر ايك اپنے پہلو ميں بيٹھے ہوئے كو اچھى طرح سے پہچان لے تا
كہ يہاں كوئي بے گانہ نہ ہو ، ميں نے پہل كر كے فوراًہى اپنے پاس بيٹھنے والے شخص سے پوچھا كہ تو كون ہے ؟ اس نے كہا ، فلاں ہوں ، ميں نے كہابہت اچھا _
پھر ابو سفيان نے كہا:خدا كى قسم يہ ٹھہرنے كى جگہ نہيں ہے، ہمارے اونٹ گھوڑے ضائع ہو چكے ہيں اور بنى قريظہ نے اپنا پيمان توڑ ڈالا ہے اور اس طوفان نے ہمارے لئے كچھ نہيں چھوڑا _
پھر وہ بڑى تيزى سے اپنے اونٹ كى طرف بڑھا اور سوار ہو نے كے لئے اسے زمين سے اٹھا يا، اور اس قدر جلدى ميں تھا كہ اونٹ كے پائوں ميں بندھى ہوئي رسى كھولنا بھول گيا ،لہذا اونٹ تين پائوں پر كھڑا ہو گيا، ميں نے سوچا ايك ہى تيرسے اسكا كام تمام كردوں ،ابھى تير چلہ كمان ميں جوڑا ہى تھا كہ فوراًآنحضرت(ص) كا فرمان يادآگيا كہ جس ميں آپ (ص) نے فرمايا تھا كچھ كاروائي كے بغير واپس آجا نا،تمہارا كام صرف وہاں كے حالات ہمارے پاس لانا ہے، لہذا ميں واپس پلٹ گيا اور جا كر تمام حا لات عرض كئے _ پيغمبر اكرم (ص) نے بارگاہ ايزدى ميں عرض كيا :
''خداوندا تو كتاب كو نازل كرنے والا او رسريع الحساب ہے ، توخود ہى احزاب كو نيست و نا بو دفرما خدايا انہيں تباہ كردے اور ان كے پائوں نہ جمنے دے ''_
جنگ احزاب قرآن كى روشنى ميں
قرآن اس ماجرا تفصيل بيان كرتے ہوئے كہتا ہے: ''اے وہ لوگ جو ايمان لائے ہو، اپنے اوپر خدا كى عظيم نعمت كو ياد كرو،اس موقع پر جب كہ عظيم لشكر تمہارى طرف آئے ''_(۱)
''ليكن ہم نے ان پر آندھى اور طوفان بھيجے اور ايسے لشكر جنہيں تم نہيں ديكھتے رہے تھے اور اس ذريعہ سے ہم نے ان كى سركوبى كى اور انھيں تتر بتر كرديا ''_(۲)
'' نہ دكھنے والے لشكر '' سے مراد جو رسالت ماب (ص) كى نصرت كے لئے آئے تھے ، وہى فرشتے
____________________
(۱)سورہ احزاب آيت ۹
(۲) سورہ احزاب آيت ۹
تھے جن كا مومنين كى جنگ بدر ميں مدد كرنا بھى صراحت كے ساتھ قرآن مجيد ميں آيا ہے ليكن جيسا (كہ سورہ انفال كى آيہ ۹ كے ذيل ميں ) ہم بيان كرچكے ہيں ہمارے پاس كوئي دليل نہيں ہے كہ يہ نظر نہ آنے والا فرشتوں كا خدائي لشكر باقاعدہ طور پر ميدان ميں داخل ہوا اور وہ جنگ ميں بھى مصروف ہوا ہو بلكہ ايسے قرائن موجود ہيں جو واضح كرتے ہيں كہ وہ صرف مومنين كے حوصلے بلند كرنے اور ان كا دل بڑھانے كے لئے نازل ہوئے تھے _
بعد والى آيت جو جنگ احزاب كى بحرانى كيفيت ، دشمنوں كى عظيم طاقت اور بہت سے مسلمانوں كى شديد پريشانى كى تصوير كشى كرتے ہوئے يوں كہتى ہے '' اس وقت كو ياد كرو جب وہ تمہارے شہر كے اوپر اور نيچے سے داخل ہوگئے ،اور مدينہ كو اپنے محاصرہ ميں لے ليا) اور اس وقت كو جب آنكھيں شدت وحشت سے پتھرا گئي تھيں اور جاں بلب ہوگئے تھے اور خدا كے بارے ميں طرح طرح كى بدگمانيان كرتے تھے ''_(۱)
اس كيفيت سے مسلمانوں كى ايك جماعت كے لئے غلط قسم كے گمان پيدا ہوگئے تھے كيونكہ وہ ابھى تك ايمانى قوت كے لحاظ سے كمال كے مرحلہ تك نہيں پہنچ پائے تھے يہ وہى لوگ ہيں جن كے بارے ميں بعد والى آيت ميں كہتا ہے كہ وہ شدت سے متزلزل ہوئے _
شايدان ميں سے كچھ لوگ گمان كرتے تھے كہ آخر كار ہم شكست كھا جائيں گے اور اس قوت و طاقت كے ساتھ دشمن كا لشكر كامياب ہوجائے گا، اسلام كے ز ندگى كے آخر ى دن آپہنچے ہيں اور پيغمبر (ص) كا كا ميابى كا وعدہ بھى پورا ہوتا دكھا ئي نہيں ديتا _
البتہ يہ افكار اور نظريات ايك عقيدہ كى صورت ميں نہيں بلكہ ايك وسوسہ كى شكل ميں بعض لوگوں كے دل كى گہرائيوں ميں پيدا ہو گئے تھے بالكل ويسے ہى جيسے جنگ احد كے سلسلہ ميں قرآن مجيد ان كا ذكر كرتے ہو ئے كہتا ہے :''يعنى تم ميں سے ايك گروہ جنگ كے ان بحرانى لمحات ميں صرف اپنى جان كى فكر ميں تھا اور
____________________
(۱)سورہ احزاب ايت۱۰
دورجا ہليت كے گمانوں كى مانند خدا كے بارے ميں بدگمانى كررہے تھے ''_
يہى وہ منزل تھى كہ خدائي امتحان كا تنور سخت گرم ہوا جيسا كہ بعد والى آيت كہتى ہے كہ ''وہاں مومنين كو آزمايا گيا اور وہ سخت دہل گئے تھے_(۱)
فطرى امر ہے كہ جب انسان فكرى طوفانوں ميں گھر جاتا ہے تو اس كا جسم بھى ان طوفانوں سے لا تعلق نہيں رہ سكتا ،بلكہ وہ بھى اضطراب اور تزلزل كے سمندر ميں ڈوبنے لگتا ہے ،ہم نے اكثر ديكھا ہے كہ جب لوگ ذہنى طور پر پريشان ہوتے ہيں تو وہ جہاں بھى بيٹھتے ہيں اكثر بے چين رہتے ہيں ، ہاتھ ملتے كاپنتے رہتے ہيں اور اپنے اضطراب اور پريشانيوں كو اپنى حركات سے ظاہر كرتے رہتے ہيں _
اس شديد پريشانى كے شواہد ميں سے ايك يہ بھى تھا جسے مورخين نے بھى نقل كيا ہے كہ عرب كے پانچ مشہور جنگجو پہلوان جن كا سردار عمرو بن عبدود تھا ،جنگ كا لباس پہن كر اورمخصوص غرور اور تكبر كے ساتھ ميدان ميں آئے اور ''ھل من مبارز''( ہے كو ئي مقابلہ كرنے والا )كى آواز لگانے لگے ، خاص كر عمرو بن عبدود رجز پڑھ كر جنت اور آخرت كا مذاق اڑا رہا تھا ،وہ كہہ رہا تھا كہ ''كيا تم يہ نہيں كہتے ہوكہ تمہارے مقتول جنت ميں جائيں گے ؟تو كيا تم ميں سے كوئي بھى جنت كے ديدار كا شوقين نہيں ہے ؟ليكن اس كے ان نعروں كے برخلاف لشكر اسلام پر بُرى طرح كى خاموشى طارى تھى اور كوئي بھى مقابلہ كى جر ائت نہيں ركھتا تھا سوائے على بن ابى طالب عليہ السلام كے جو مقابلہ كے لئے كھڑے ہوئے اور مسلمانوں كو عظيم كاميابى سے ہم كنار كرديا _اس كى تفصيل نكات كى بحث ميں آئےگي_
جى ہاں جس طرح فولاد كو گرم بھٹى ميں ڈالتے ہيں تا كہ وہ نكھر جائے اسى طرح اوائل كے مسلمان بھى جنگ احزاب جيسے معركوں كى بھٹى ميں سے گزريں تا كہ كندن بن كر نكليں او رحوادثات كے مقابل ميں جرا ت اور پا مردى كا مظاہرہ كر سكيں _
____________________
(۱)سورہ احزاب آيت ۱۱
منافقين او رضعيف الايمان جنگ احزاب ميں
ہم كہہ چكے ہيں كہ امتحان كى بھٹى جنگ احزاب ميں گرم ہوئي او رسب كے سب اس عظيم امتحان ميں گھر گئے_ واضح رہے كہ اس قسم كے بحرانى دور ميں جولوگ عام حالات ميں ظاہراًايك ہى صف ميں قرارپاتے ہيں ،كئي صفوں ميں بٹ جاتے ہيں ،يہاں پربھى مسلمان مختلف گروہوں ميں بٹ گئے تھے، ايك جماعت سچے مومنين كى تھى ،ايك گروہ ہٹ دھرم اور سخت قسم كے منافقين كا تھا اور ايك گروہ اپنے گھر بار ،زندگى اور بھاگ كھڑے ہونے كى فكر ميں تھا ،اور كچھ لوگوں كى يہ كوشش تھى كہ دوسرے لوگوں كو جہاد سے روكيں _ اور ايك گروہ اس كوشش ميں مصروف تھا كہ منافقين كے ساتھ اپنے رشتہ كو محكم كريں _
خلاصہ يہ كہ ہر شخص نے اپنے باطنى اسراراس عجيب ''عرصہ محشر''اور ''يوم البروز''ميں آشكار كرديئے_
ميں نے ايران، روم اور مصركے محلوں كو ديكھا ہے
خندق كھودنے كے دوران ميں جب ہر ايك مسلمان خندق كے ايك حصہ كے كھودنے ميں مصروف تھا تو ايك مرتبہ پتھر كے ايك سخت اوربڑے ٹكڑے سے ان كا سامنا ہوا كہ جس پر كوئي ہتھوڑا كار گر ثابت نہيں ہورہا تھا ،حضرت رسالت مآب (ص) كو خبر دى گئي تو آنحضرت (ص) بنفس نفيس خندق ميں تشريف لے گئے او راس پتھر كے پاس كھڑے ہو كراورہتھوڑا لے كر پہلى مرتبہ ہى اس كے دل پر ايسى مضبوط چوٹ لگائي كہ اس كا كچھ حصہ ريزہ ريزہ ہو گيا اور اس سے ايك چمك نكلى جس پر آپ(ص) نے فتح وكامرانى كى تكبير بلند كي_ آپ(ص) كے ساتھ دوسرے مسلمانوں نے بھى تكبيركہي_
آپ(ص) نے ايك اورسخت چوٹ لگائي تو اس كا كچھ حصہ او رٹوٹا اوراس سے بھى چمك نكلي_اس پر بھى سروركونين (ص) نے تكبيركہى اور مسلمانوں نے بھى آپ(ص) (ص) (ص) كے ساتھ تكبيركہى آخر كاآپ(ص) نے تيسرى چوٹھى لگائي جس سے بجلى كوند ى اورباقى ماندہ پتھر بھى ٹكڑے ٹكڑے ہو گيا ،حضوراكرم (ص) نے پھر تكبير كہى او ر
مسلمانوں نے بھى ايسا ہى كيا، اس موقع پر جناب سلمان فارسي نے اس ماجرا كے بارے ميں دريافت كيا تو سركاررسالت مآب (ص) نے فرمايا :''پہلى چمك ميں ميں نے ''حيرہ''كى سرزمين او رايران كے بادشاہوں كے قصر ومحلات ديكھے ہيں او رجبرئيل نے مجھے بشارت دى ہے كہ ميرى امت ان پر كاميابى حاصل كرے گي،دوسرى چمك ميں ''شام او رروم''كے سرخ رنگ كے محلات نماياں ہوئے او رجبرئيل نے پھر بشارت دى كہ ميرى امت ان پرفتح ياب ہوگي، تيسرى چمك ميں مجھے ''صنعا و يمن ''كے قصور ومحلات دكھائي ديئےورجبرئيل نے نويد دى كہ ميرى امت ان پربھى كاميابى حاصل كرے گي، اے مسلمانوتمھيں خوشخبرى ہو
منافقين نے ايك دوسرے كى طرف ديكھا او ركہا: كيسى عجيب و غريب باتيں كر رہے ہيں اور كيا ہى باطل اور بے بنياد پروپيگنڈاہے ؟مدينہ سے حيرہ او رمدائن كسرى كو تو ديكھ كر تمہيں ان كے فتح ہونے كى خبرديتا ہے حالانكہ اس وقت تم چند عربوں كے چنگل ميں گرفتا رہو (او رخو ددفاعى پوزيشن اختيار كئے ہوئے ہو )تم تو'' بيت الحذر''(خوف كى جگہ ) تك نہيں جا سكتے ( كيا ہى خيال خام او رگمان باطل ہے _
الہى وحى نازل ہوئي او ركہا:
''يہ منا فق او ردل كے مريض كہتے ہيں كہ خدا او راس كے رسو ل نے سوائے دھوكہ و فريب كے ہميں كوئي وعدہ نہيں ديا، (وہ پر و ردگاركى بے انتہا قدرت سے بے خبر ہيں ''_)(۱)
اس وقت اس قسم كى بشارت او رخوشخبرى سوائے آگاہ او ربا خبر مو منين كى نظر كے علاوہ ( باقى لوگوں كے لئے )دھوكا او ر فريب سے زيادہ حيثيت نہيں ركھتى تھى ليكن پيغمبر (ص) كى ملكوتى آنكھيں ان آتشيں چنگاريوں كے درميان سے جو كدالوں او رہتھوڑوں كے خندق كھودنے كے لئے زمين پرلگنے سے نكلتى تھيں ، ايران روم او ريمن كے بادشاہوں كے قصرو محلات كے دروازوں كے كھلنے كو ديكھ سكتے تھے او رآئندہ كے اسرارو رموز سے پردے بھى اٹھاسكتے تھے_
____________________
(۱)سورہ احزاب آيت ۱۲
منافقانہ عذر
جنگ احزاب كے واقعہ كے سلسلے ميں قرآن مجيدمنافقين او ردل كے بيمارلوگوں ميں سے ايك خطرناك گروہ كے حالات تفصيل سے بيان كرتا ہے جو دوسروں كى نسبت زيادہ خبيث او رآلودہ گناہ ہيں ، چنانچہ كہتا ہے: ''او راس وقت كو بھى يا دكرو، جب ان ميں سے ايك گروہ نے كہا: اے يثرب (مدينہ )كے رہنے والويہاں تمہارے رہنے كى جگہ نہيں ہے ،اپنے گھروں كى طرف لوٹ جائو''(۱)
خلاصہ يہ كہ دشمنوں كے اس انبوہ كے مقابلہ ميں كچھ نہيں ہو سكتا، اپنے آپ كو معركہ كار زار سے نكال كرلے جائو او راپنے آپ كو ہلاكت كے اور بيوى بچوں كو قيد كے حوالے نہ كرو_ اس طرح سے وہ چاہتے تھے كہ ايك طرف سے تو وہ انصار كے گروہ كو لشكر اسلام سے جدا كرليں اوردوسرى طرف ''انہيں منافقين كا ٹولہ جن كے گھر مدينہ ميں تھے ،نبى اكرم (ص) سے اجازت مانگ رہے تھے كہ وہ واپس چلے جا ئيں او راپنى اس واپسى كے لئے حيلے بہانے پيش كررہے تھے ، وہ يہ بھى كہتے تھے كہ ہمارے گھردل كے دروديوارٹھيك نہيں ہيں حالانكہ ايسا نہيں تھا ،اس طرح سے وہ ميدان كو خالى چھوڑكر فراركرنا چاہتے تھے''_(۲)
منافقين اس قسم كا عذر پيش كركے يہ چاہتے تھے كہ وہ ميدان جنگ چھوڑكر اپنے گھروں ميں جاكرپناہ ليں _
ايك روايت ميں آيا ہے كہ قبيلہ ''بنى حارثہ ''نے كسى شخص كو حضور رسالت پناہ (ص) كى خدمت ميں بھيجااو ركہا كہ ہمارے گھر غير محفوظ ہيں اور انصار ميں سے كسى كا گھر بھى ہمارے گھروں كى طرح نہيں اور ہمارے او رقبيلہ ''غطفان ''كے درميان كوئي ركا وٹ نہيں ہے جو مدينہ كى مشرقى جانب سے حملہ آور ہو رہے ہيں ، لہذا اجا زت ديجئے تا كہ ہم اپنے گھروں كو پلٹ جا ئيں او راپنے بيوى بچوں كا دفاع كريں تو سركار رسالت (ص) (ص) نے انھيں اجازت عطا فرمادى _
____________________
(۱)سورہ احزاب آيت ۱۲
(۲)سورہ احزاب آيت ۱۳
جب يہ بات انصار كے سردار ''معد بن معاذ ''كے گوش گذارہوئي توانھوں نے پيغمبراسلام (ص) كى خدمت ميں عرض كيا ''سركا رانہيں اجازت نہ ديجئے ،بخدا آج تك جب بھى كوئي مشكل درپيش آئي تو ان لوگوں نے يہى بہانہ تراشا،يہ جھوٹ بولتے ہيں ''_(۱)
چنانچہ آنحضرت (ص) نے حكم ديا كہ واپس آجائيں _(۲)
قرآن ميں خداوندعالم اس گروہ كے ايمان كى كمزورى كى طرف اشارہ كرتے ہوئے كہتا ہے: ''وہ اسلام كے اظہار ميں اس قدر ضعيف اور ناتواں ہيں كہ اگر دشمن مدينہ كے اطراف و جوانب سے اس شہر ميں داخل ہوجائيں اور مدينہ كو فوجى كنٹرول ميں لے كر انھيں پيش كش كريں كہ كفر و شرك كى طرف پلٹ جائيں توجلدى سے اس كو قبول كرليں گے اور اس راہ كے انتخاب كرنے ميں ذراسا بھى توقف نہيں كريں گے''_(۳)
ظاہر ہے كہ جو لوگ اس قدرت ضعيف، كمزور اور غير مستقل مزاج ہوں كہ نہ تو دشمن سے جنگ كرنے
____________________
(۱)سورہ احزاب۱۴
(۲)''يثرب ''مدينہ كا قديمى نام ہے ،جناب رسالت مآب (ص) كے اس شہر كى طرف ہجرت كرنے سے پہلے تك اس كا نام ''يثرب''رہا پھر آہستہ آہستہ اس كا نام ''مدينةالرسول''(پيغمبركا شہر )پڑگيا جس كا مخفف''مدينہ ''ہے_ اس شہركے كئي ايك نام او ربھى ہيں _ سيد مرتضى نے ان دو ناموں ( مدينہ او ريثرب)كے علاوہ اس شہر كے گيارہ او رنام بھى ذكركيے ہيں ،منجملہ ان كے ''طيبہ''''طابہ''''سكينہ''''محبوبہ''''مرحومہ '' اور''قاصمہ''ہيں _ (اوربعض لوگ اس شہر كى زمين كو ''يثرب''كا نام ديتے ہيں ) چند ايك روايات ميں آياہے كہ رسالت مآب (ص) نے فرمايا كہ ''اس شہر كو يثرب نہ كہا كرو شايد اسكى وجہ يہ ہو كہ يثرب اصل ميں ''ثرب''(بروزن حرب)كے مادہ سے ملامت كرنے كے معنى ميں ہے اور آپ(ص) اس قسم كے نام كو اس بابركت شہر كے لئے پسند نہيں فرماتے تھے_ بہرحال منافقين نے اہل مدينہ كو ''يااہل يثرب''كے عنوان سے جو خطاب كيا ہے وہ بلاوجہ نہيں ہے او رشايد اس كى وجہ يہ تھى كہ آنحضرت (ص) كو اس نام سے نفرت ہے ،يا چاہتے تھے كہ اسلام او ر''مدينةالرسو(ص) ل''كے نام كو تسليم نہ كرنے كااعلان كريں _يالوگوں كو زمانہ جاہليت كى يادتازہ كرائيں _
(۳) سورہ احزاب آيت ۱۴
كے لئے تيار ہوں اور نہ ہى راہ خدا ميں شہادت قبول كرنے كے لئے، ايسے لوگ بہت جلد ہتھيار ڈال ديتے ہيں اور اپنى راہ فوراً بدل ديتے ہيں _
پھر قرآن اس منافق ٹولے كو عدالت كے كٹہرے ميں لاكر كہتا ہے: ''انھوں نے پہلے سے خدا كے ساتھ عہد و پيمان باندھا ہوا تھا كہ دشمن كى طرف پشت نہيں كريں گے اور اپنے عہد و پيمان پر قائم رہتے ہوئے توحيد، اسلام اور پيغمبر كے لئے دفاع ميں كھڑے ہوں گے، كيا وہ جانتے نہيں كہ خدا سے كئے گئے عہد و پيمان كے بارے ميں سوال كيا جائے گا''_(۱)
جب خدا نے منافقين كى نيت كو فاش كرديا كہ ان كا مقصد گھروں كى حفاظت كرنا نہيں ، بلكہ ميدان جنگ سے فرار كرنا ہے تو انھيں دود ليلوں كے ساتھ جواب ديتا ہے_
پہلے تو پيغمبر (ص) سے فرماتا ہے: ''كہہ ديجئے كہ اگر موت يا قتل ہونے سے فرار كرتے ہو تو يہ فرار تمہيں كوئي فائدہ نہيں پہونچائے گااور تم دنياوى زندگى كے چند دن سے زيادہ فائدہ نہيں اٹھاپائو گے''_(۲)
دوسرا يہ كہ كيا تم جانتے ہوكہ تمہارا سارا انجام خدا كے ہاتھ ميں ہے اور تم اس كى قدرت و مشيت كے دائرہ اختيار سے ہرگز بھاگ نہيں سكتے_ ''اے پيغمبر (ص) ان سے كہہ ديجئے : كون شخص خدا كے ارادہ كے مقابلہ ميں تمہارى حفاظت كرسكتا ہے، اگر وہ تمہارے لئے مصيبت يا رحمت چاہتا ہے''_(۳)
روكنے والا ٹولہ
اس كے بعد قران مجيد منافقين كے اس گروہ كى طرف اشارہ كرتا ہے جو جنگ احزاب كے ميدان سے خودكنارہ كش ہوا اور دوسروں كو بھى كنار كشى كى دعوت ديتا ہو فرماتا ہے: '' خدا تم ميں سے اس گروہ كو جانتا ہے جو كوشش كرتے تھے كہ لوگوں كو جنگ سے منحرف كرديں ،اور اسى طرح سے ان لوگوں كو بھى جانتا ہے جو
____________________
(۱) سورہ احزاب آيت ۱۵
(۲) سورہ احزاب آيت ۱۶
(۳) سورہ احزاب آيت ۱۷
اپنے بھائيوں سے كہتے تھے كہ ہمارى طرف آئو'' اور اس خطرناك جنگ سے دستبردار ہوجائو _
وہى لوگ جواہل جنگ نہيں ہيں اور سوائے كم مقدار كے اور وہ بھى بطور جبر واكراہ ياد كھاوے كے; جنگ كے لئے نہيں جاتے_(۱)
ہم ايك روايت ميں پڑھتے ہيں كہ ايك صحابى رسول كسى ضرورت كے تحت ميدان'' احزاب '' سے شہر ميں آيا ہوا تھا اس نے اپنے بھائي كو ديكھا كہ اس نے اپنے سامنے روٹى ، بھنا ہوا گوشت اور شراب ركھے ہوئے تھے ، تو صحابى نے كہا تم تو يہاں عيش وعشرت ميں مشغول ہواور رسول خدا نيزوں اور تلواروں كے درميان مصروف پيكار ہيں اس نے جواب ميں كہا ، اے بے وقوف : تم بھى ہمارے ساتھ بيٹھ جائو اور مزے اڑائو اس نے كہا:اس خدا كى قسم جس كى محمد كھاتا ہے وہ اس ميدان سے ہرگز پلٹ كر واپس نہيں آئے گا اور يہ عظيم لشكر جو جمع ہوچكا ہے اسے اور اس كے ساتھيوں كو زندہ نہيں چھوڑے گا _
يہ سن كر وہ صحابى كہنے لگے :تو بكتا ہے،خدا كى قسم ميں ابھى رسول اللہ كے پاس جاكر تمہارى اس گفتگو سے باخبر كرتا ہوں ، چنانچہ انھوں نے بارگاہ رسالت ميں پہنچ كر تمام ماجرا بيان كيا _
وہ ہرگز ايمان نہيں لائے
قرآن فرماتاہے :'' ان تمام ركاوٹوں كا باعث يہ ہے كہ وہ تمہارى بابت تمام چيزوں ميں بخيل ہيں ''_(۲)
نہ صرف ميدان جنگ ميں جان قربان كرنے ميں بلكہ وسائل جنگ مہيا كرنے كے لئے مالى امداد اور خندق كھودنے كے لئے جسمانى امداد حتى كہ فكرى امداد مہيا كرنے ميں بھى بخل سے كام ليتے ہيں ، ايسا بخل جو حرص كے ساتھ ہوتا ہے اور ايسا حرص جس ميں روز بروز اضافہ ہوتا رہتا ہے _
ان كے بخل اور ہر قسم كے ايثارسے دريغ كرنے كے بيان كے بعد ان كے ان دوسرے اوصاف كو جو
____________________
(۱)سورہ احزاب ايت۱۸
(۲)سورہ احزاف ايت۱۹
ہر عہد اور ہر دور كے تمام منافقين كے لئے تقريباً عمو ميت كا درجہ ركھتے ہيں بيان كرتے ہوئے كہتا ہے :'' جس وقت خوفناك اور بحرانى لمحات آتے ہيں تو وہ اس قدر بزدل اور ڈرپوك ہيں كہ آپ ديكھيں گے كہ وہ آپ كو ديكھ رہے ہيں حالانكہ ان كى آنكھوں ميں ڈھيلے بے اختيار گردش كررہے ہيں ، اس شخص كى طرح جو جاں كنى ميں مبتلا ہو ''(۱)
چونكہ وہ صحيح ايمان كے مالك نہيں ہيں اور نہ ہى زندگى ميں ان كا كوئي مستحكم سہارا ہے ، جس وقت كسى سخت حادثہ سے دوچار ہوتے ہيں تو وہ لوگ بالكل اپنا توازن كھوبيٹھتے ہيں جيسے ان كى روح قبض ہى ہوجائے گي_
پھر مزيد كہتا ہے: '' ليكن يہى لوگ جس وقت طوفان رك جاتاہے اور حالات معمول پر آجاتے ہيں تو تمہارے پاس يہ توقع لے كر آتے ہيں كہ گويا جنگ كے اصلى فاتح يہى ہيں اور قرض خواہوں كى طرح پكار پكار كر سخت اور درشت الفاظ كے ساتھ مال غنيمت سے اپنے حصہ كا مطالبہ كرتے ہيں اور اس ميں سخت گير، بخيل اور حريص ہيں ''_(۲)
آخر ميں ان كى آخرى صفت كى طرف جو درحقيقت ميں ان كى تمام بد بختيوں كى جڑ اور بنياد ہے ، اشارہ كرتے ہوئے فرماتاہے '' وہ ہر گز ايمان نہيں لائے_اور اسى بناپر خدانے ان كے اعمال نيست ونابود كرديئےيں كيونكہ ان كے اعمال خدا كے لئے نہيں ہيں اور ان ميں اخلاص نہيں پايا جاتا_(۳)
''وہ اس قدر وحشت زدہ ہو چكے ہيں كہ احزاب اور دشمن كے لشكروں كے پر اگندہ ہوجانے كے بعد بھى يہ تصور كرتے ہيں كہ ابھى وہ نہيں گئے''_(۴)
وحشتناك اور بھيانك تصور نے ان كى فكر پر سايہ كر ركھا ہے گويا كفر كى افواج پے درپے ان كي
____________________
(۱)سورہ احزاب ۱۹
(۲)سورہ احزاب ۱۹
(۳)سورہ احزاب آيت ۱۹
(۴)سورہ احزاب ايت ۲۰
آنكھوں كے سامنے قطاردر قطار چلى جارہى ہيں ، ننگى تلواريں اور نيزے تانے ان پر حملہ كررہى ہيں _
يہ بزدل جھگڑالو ، ڈرپوك منافق اپنے سائے سے بھى ڈرتے ہيں ، جب كسى گھوڑے كے ہنہنانے يا كسى اونٹ كے بلبلانے كى آواز سنتے ہيں تو مارے خوف كے لرزنے لگتے ہيں كہ شايد احزاب كے لشكر واپس آرہے ہيں _
اس كے بعدكہتا ہے '' اگر احزاب دوبارہ پلٹ كر آجائے تو وہ اس بات پر تيار ہيں كہ بيابان كا رخ كرليں اور باديہ نشين بدوو ں كے درميان منتشر ہو كر پنہاں ہو جائيں ہاں ، ہاں وہ چلے جائيں اور وہاں جاكر رہيں '' اور ہميشہ تمہارى خبروں كے جويا رہيں ''_(۱)
ہر مسافر سے تمہارى ہر ہر پل كى خبر كے جويا رہيں ايسا نہ ہوكہ كہيں احزاب ان كى جگہ قريب آجائيں اور ان كا سايہ ان كے گھر كى ديواروں پر آپڑے اور تم پر يہ احسان جتلائيں كہ وہ ہمشہ تمہارى حالت اور كيفيت كے بارے ميں فكر مند تھے _
اور آخرى جملہ ميں كہتا ہے:
''بالفرض وہ فراربھى نہ كرتے اور تمہارے درميان ہى رہتے ، پھر بھى سوائے تھوڑى سى جنگ كے وہ كچھ نہ كرپاتے''_(۲)
نہ ان كے جانے سے تم پريشان ہونا اور نہ ہى ان كے موجود رہنے سے خوشى منانا، كيونكہ نہ تو ان كى قدر وقيمت ہے اور نہ ہى كوئي خاص حيثيت، بلكہ ان كا نہ ہونا ان كے ہونے سے بہتر ہے _
ان كى يہى تھوڑى سى جنگ بھى خدا كےلئے نہيں بلكہ لوگوں كى سرزنش اور ملامت كے خوف اور ظاہردارى يارياكارى كےلئے ہے كيونكہ اگر خدا كے لئے ہوتى تو اس كى كوئي حدو انتہا نہ ہوتى اور جب تك جان ميں جان ہوتى وہ اس ميدان ميں ڈٹے رہتے _
____________________
(۱)سورہ احزاب ايت ۲۰
(۲) سورہ احزاب ايت۲۰
جنگ احزاب ميں سچے مومنين كا كردار
اب تك مختلف گر وہوں اور ان كے جنگ احزاب ميں كارناموں كے بارے ميں گفتگو ہورہى تھى جن ميں ضعيف الايمان مسلمان ، منافق، كفر ونفاق كے سرغنے اور جہد سے روكنے والے شامل ہيں _
قرآن مجيد اس گفتگو كے آخر ميں '' سچے مئومنين '' ان كے بلند حوصلوں ، پامرديوں ، جرائتوں اور اس عظيم جہاد ميں ان كى ديگر خصوصيات كے بارے ميں گفتگو كرتا ہے _
اس بحث كى تمہيد كو پيغمبر اسلام (ص) كى ذات سے شروع كرتا ہے جو مسلمانوں كے پيشوا ، سرداراور اسوہ كامل تھے، خدا كہتا ہے: '' تمہارے لئے رسول اللہ (ص) كى زندگى اور (ميدان احزاب ميں ) ان كا كردار ايك اچھا نمونہ اوراسوہ ہے ، ان لوگوں كے لئے جورحمت خدا اور روز قيامت كى اميد ركھتے ہيں اور خدا كو بہت زيادہ ياد كرتے ہيں _''(۱)
تمہارے لئے بہترين اسوہ اور نمونہ ،نہ صرف اس ميدان ميں بلكہ سارى زندگى پيغمبراسلام كى ذات والا صفات ہے آپ كے بلند حوصلے، صبرو استقامت ،پائمردى ،زير كى ، دانائي ، خلوص ، خدا كى طرف تو جہ، حادثات پر كنڑول، مشكلات اور مصائب كے آگے سر تسليم خم نہ كرنا ، غرضكہ ان ميں سے ہر ايك چيز مسلمانوں كے لئے نمونہ كامل اور اسوہ حسنہ ہے
وہ ايسا عظيم نا خدا ہے كہ جب اس كى كشتى سخت ترين طوفانوں ميں گھر جاتى ہے تو ذرہ برابر بھى كمزوري،گھبراہٹ اور سراسيمگى كا مظاہرہ نہيں كرتا وہ كشتى كانا خدا بھى ہے اور اس كا قابل اطمينان لنگر اور چراغ ہدايت بھى وہ اس ميں بيٹھنے والوں كے لئے آرام وسكون كا باعث بھى ہے اور ان كے لئے راحت جان بھى _
وہ دوسرے مئومنين كے ساتھ مل كر كدال ہاتھ ميں ليتا ہے اور خندق كھودتا ہے،بليچے كے ساتھ پتھر اكھاڑكركے خندق سے باہر ڈال آتا ہے اپنے اصحاب كے حوصلے بڑھانے اور ٹھنڈے دل سے سوچنے كے
____________________
(۱)سورہ احزاب آيت ۲۱
لئے ان سے مزاح بھى كرتا ہے ان كے قلب و روح كو گرمانے كے حربى اور جوش وجذبہ دلانے والے اشعار پڑھ كر انھيں ترغيب بھى دلاتاہے، ذكر خدا كرنے پرمسلسل اصرار كرتا ہے اور انھيں درخشاں مستقبل اور عظيم فتوحات كى خوشخبرى ديتاہے انہيں منافقوں كى سازشوں سے متنبہ كرتا ہے اور ان سے ہميشہ خبردار رہنے كا حكم ديتا ہے _
صحيح حربى طريقوں اور بہترين فوجى چالوں كو انتخاب كرنے سے ايك لمحہ بھى غافل نہيں رہتا اس كے باوجود مختلف طريقوں سے دشمن كى صفوں ميں شگاف ڈالنے سے بھى نہيں چوكتا _
جى ہاں : وہ مو منين كا بہترين مقتدا ہے اور ان كے لئے اسوہ حسنہ ہے اس ميدان ميں بھى اور دوسرے تمام ميدانوں ميں بھي_
مومنين كے صفات
اس مقام پر مومنين كے ايك خاص گروہ كى طرف اشارہ ہے:
'' جو پيغمبر اكرم (ص) كى اقتداء ميں سب سے زيادہ پيش قدمى كرتے تھے وہ خدا سے كئے ہوئے اپنے اس عہدو پيمان پرقائم تھے كہ وہ آخرى سانس اور آخرى قطرہ خون تك فداكارى اور قربانى كے لئے تيار ہيں فرمايا گيا ہے مومنين ميں ايسے بھى ہيں جواس عہدوپيمان پر قائم ہيں جو انھوں نے خدا سے باندھا ہے ان ميں سے كچھ نے تو ميدان جہاد ميں شربت شہادت نوش كرليا ہے اوربعض انتظار ميں ہيں _ور انھوں نے اپنے عہدوپيمان ميں كسى قسم كى كوئي تبديلى نہيں كى '' _(۱)
اور نہ ہى ان كے قدموں ميں لغزش پيدا ہوئي ہے_
مفسرين كے درميان اختلاف ہے كہ يہ آيت كن افراد كے بارے ميں نازل ہوئي ہے _
____________________
(۱)سورہ احزاب آيت ۲۳
اہل سنت كے مشہور عالم ، حاكم ابوالقاسم جسكانى سند كے ساتھ حضرت على عليہ السلام سے نقل كرتے ہيں كہ آپ نے فرمايا :
آيہ ''رجال صدقوا ما عاھدوا اللّہ عليہ '' ہمارے بارے ميں نازل ہوئي ہے اور بخدا ميں ہى وہ شخص ہوں جو(شہادت كا) انتظار كررہاہوں (اور قبل از ايں ہم ميں حمزہ سيد الشہداء جيسے لوگ شہادت نوش كرچكے ہيں )اور ميں نے ہرگز اپنى روش اور اپنے طريقہ كار ميں تبديلى نہيں كى اور اپنے كيئے ہوے عہدوپيمان پر قائم ہوں _
جنگ بنى قريظہ
مدينہ ميں يہوديوں كے تين مشہور قبائل رہتے تھے : بنى قريظہ، بنى النضير اور بنى قينقاع_
تينوں گروہوں نے پيغمبر اسلام (ص) سے معاہدہ كر ركھا تھا كہ آپ(ص) كے دشمنوں كا ساتھ نہيں ديں گے، ان كے لئے جاسوسى نہيں كريں گے، اور مسلمانوں كے ساتھ مل جل كر امن و آشتى كى زندگى گزاريں گے، ليكن قبيلہ بنى قينقاع نے ہجرت كے دوسرے سال اور قبيلہ بنى نضير نے ہجرت كے چوتھے سال مختلف حيلوں بہانوں سے اپنا معاہدہ توڑ ڈالا، اور پيغمبر اكرم (ص) سے مقابلہ كے لئے تيار ہوگئے آخر كار ان كى مزاحمت اور مقابلہ كى سكت ختم ہوگئي اور وہ مدينہ سے باہر نكل گئے_
بنى قينقاع'' اذر عات'' شام كى طرف چلے گئے اور بنى نضير كے كچھ لوگ تو خيبر كى طرف اور كچھ شام كى طرف چلے گئے _
اسى بناء پر ہجرت كے پانچويں سال جب كہ جنگ احزاب پيش آئي تو صرف قبيلہ بنى قريظہ مدينہ ميں باقى رہ گيا تھا ، وہ بھى اس ميدان ميں اپنے معاہدہ كو توڑكر مشركين عرب كے ساتھ مل گئے اور مسلمانوں كے مقابلہ ميں تلواريں سونت ليں _
جب جنگ احزا ب ختم ہوگئي اور قريش، بنى غطفان اور ديگر قبائل عرب بھى رسوا كن شكست كے بعد مدينہ سے پلٹ گئے تو اسلامى روايات كے مطابق پيغمبر اكرم (ص) اپنے گھر لوٹ آئے اور جنگى لباس اتاركر نہانے دھونے ميں مشغول ہوگئے تو اس موقع پر جبرئيل حكم خدا سے آپ پر نازل ہوئے اور كہا : كيوں آپ نے
ہتھيار اتار ديئے ہيں جبكہ فرشتے ابھى تك آمادہ پيكار ہيں آپ فوراً بنى قريظہ كى طرف جائيں اور ان كا كام تمام كرديں _
واقعاً بنى قريظہ كا حساب چكانے كے لئے اس سے بہتر كوئي اور موقع نہيں تھا مسلمان اپنى كاميابى پر خوش خرم تھے، بنى قريظہ شكست كى شديد وحشت ميں گرفتار تھے اور قبائل عرب ميں سے ان كے دوست اور حليف تھكے ماندے اور بہت ہى پست حوصلوں كے ساتھ شكست خوردہ حالت ميں اپنے اپنے شہروں اور علاقوں ميں جاچكے تھے اور كوئي نہيں تھا جوان كى حمايت كرے _
بہرحال منادى نے پيغمبر اكرم (ص) كى طرف سے ندادى كہ نماز عصر پڑھنے سے پہلے بنى قريظہ كى طرف چل پڑو مسلمان بڑى تيزى كے ساتھ ہى بنى قريظہ كے محكم ومضبوط قلعوں كو مسلمانوں نے اپنے محاصرے ميں لے ليا _
پچيس دن تك محاصرہ جارى رہا چنانچہ لكھتے ہيں كہ مسلمانوں نے بنى قريظہ كے قلعوں پر حملہ كرنے كے لئے اتنى جلدى كى كہ بعض مسلمان نماز عصر سے غافل ہوگئے كہ مجبوراً بعد ميں قضا كي،خداوند عالم نے ان كے دلوں ميں سخت رطب و دبدبہ طارى ہوگيا_
تين تجاويز
''كعب بن اسد'' كا شمار يہوديوں كے سرداروں ميں ہوتا تھا اس نے اپنى قوم سے كہا : مجھے يقين ہے كہ محمد ہميں اس وقت تك نہيں چھوڑيں گے جب تك ہم جنگ نہ كريں لہذا ميرى تين تجاويز ہيں ، ان ميں سے كسى ايك كو قبول كرلو ،پہلى تجويز تويہ ہے كہ اس شخص كے ہاتھ ميں ہاتھ دے كر اس پر ايمان لے او اور اس كى پيروى اختيار كرلو كيونكہ تم پر ثابت ہوچكا ہے كہ وہ خدا كا پيغمبر ہے اوراس كى نشانياں تمہارى كتابوں ميں پائي جاتى ہيں تو اس صورت ميں تمہارے مال ، جان، اولاد اور عورتيں محفوظ ہوجائيں گي_
وہ كہنے لگے كہ ہم ہرگز حكم توريت سے دست بردار نہيں ہوں گے اور نہ ہى اس كا متبادل اختيار كريں گے _
اس نے كہا : اگر يہ تجويز قبول نہيں كرتے تو پھر آئو اور اپنے بچوں اور عورتوں كو اپنے ہاتھوں سے قتل كرڈالو تاكہ ان كى طرف سے آسودہ خاطر ہوكر ميدان جنگ ميں كود پڑيں اور پھر ديكھيں كہ خدا كيا چاہتا ہے ؟ اگر ہم مارے گئے تو اہل وعيال كى جانب سے ہميں كوئي پريشانى نہيں ہوگى اور اگر كامياب ہوگئے تو پھر عورتيں بھى بہت بچے بھى بہت _
وہ كہنے لگے كہ ہم ان بے چاروں كو اپنے ہى ہاتھوں سے قتل كرديں ؟ان كے بعد ہمارے لئے زندگى كى قدرو قيمت كيارہ جائے گى ؟
كعب بن اسد نے كہا : اگر يہ بھى تم نے قبول نہيں كيا تو آج چونكہ ہفتہ كى رات ہے محمد (ص) اور اس كے ساتھى يہ خيال كريں گے كہ ہم آج رات حملہ نہيں كريں گے انھيں اس غفلت ميں ڈال كر ان پر حملہ كرديں شايد كاميابى حاصل ہوجائے _
وہ كہنے لگے كہ يہ كام بھى ہم نہيں كريں گے كيونكہ ہم كسى بھى صورت ميں ہفتہ كا احترام پامال نہيں كريں گے _
كعب كہنے لگا : پيدائش سے لے كر آج تك تمہارے اندر عقل نہيں آسكى _
اس كے بعد انھوں نے پيغمبر اكرم (ص) سے بات كى كہ'' ابولبابہ'' كو ان كے پاس بھيجا جائے تاكہ وہ ان سے صلاح مشورہ كرليں _
ابولبابہ كى خيانت
جس وقت ابولبابہ ان كے پاس آئے تو يہوديوں كى عورتيں اور بچے ان كے سامنے گريہ وزارى كرنے لگے اس بات كا ان كے دل پر بہت اثر ہوا اس وقت لوگوں نے كہا كہ آپ ہميں مشورہ ديتے ہيں كہ ہم محمد كے آگے ہتھيار ڈال ديں ؟ ابولبابہ نے كہا ہاں اور ساتھ ہى اپنے گلے كى طرف اشارہ كيا يعنى تم سب كو قتل كرديں گے _
ابولبابہ كہتے ہيں ، جيسے ہى ميں وہاں سے چلا تو مجھے اپنى خيانت كا شديد احساس ہوا پيغمبر اكرم (ص) كے پاس نہ گيا بلكہ سيدھا مسجد كى طرف چلا اور اپنے آپ كو مسجد كے ايك ستون كے ساتھ باندھ ديا اور كہا اپنى جگہ سے اس وقت تك حركت نہيں كروں گا جب تك خدا ميرى توبہ قبول نہ كرلے _
سات دن تك اس نے نہ كھانا كھايا نہ پانى پيا اور يونہى بے ہوش پڑا رہا يہاں تك كہ خدا نے اس كى توبہ قبول كر لي،جب يہ خبر بعض مومنين كے ذريعہ اس تك پہنچى شتو اس ننے قسم كھائي ميں خود رہنے كو اس ستون سے نہيں كھولوں گا يہاں تك كہ پيغمبر(ص) آكر كھوليں _
پيغمبر اكرم (ص) آئے اور اس كو كھولا ابولبابہ نے كہا كہ اونى توبہ كو كامل ہونے كے لئے اپنا سارا مال راہ خدا ميں ديتا ہوں _اس وقت پيغمبر(ص) نے كہا:ايك سوم مال كافى ہے،''آخركار خدانے اس كا يہ گناہ اس كى صداقت كى بنا ء پربخش ديا(۱)
ليكن آخر كار بنى قريظہ كے يہوديوں نے مجبور ہوكر غير مشروط طور پر ہتھيار ڈال ديئے_
جناب پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا سعد بن معاذ تمہارے بارے ميں جو فيصلہ كرديں كيا وہ تمہيں قبول ہے ؟وہ راضى ہوگئے _
سعدبن معاذ نے كہا كہ اب وہ موقع آن پہنچا ہے كہ سعد كسى ملامت كرنے والے كى ملامت كو نظر ميں ركھے بغير حكم خدا بيان كرے _
سعد نے جس وقت يہوديوں سے دوبارہ يہى اقرار لے ليا تو آنكھيں بند كرليں اور جس طرف پيغمبر (ص) كھڑے ہوئے تھے ادھر رخ كركے عرض كيا : آپ بھى ميرا فيصلہ قبول كريں گے ؟ آنحضرت (ص) نے فرمايا ضرور: تو سعد نے كہا : ميں كہتا ہوں كہ جو لوگ مسلمانوں كے ساتھ جنگ كرنے پر آمادہ تھے (بنى قريظہ كے مرد ) انھيں قتل كردينا چاہئے ، ان كى عورتيں اور بچے قيد اور ان كے اموال تقسيم كرديئے جائيں البتہ ان ميں سے ايك
____________________
(۱)سورہ توبہ آيت ۱۰۲
گروہ اسلام قبول كرنے كے بعد قتل ہونے سے بچ گيا _
قران اس ماجرا كى طرف مختصر اور بليغ اشارہ كرتا ہے اور اس ماجراكا تذكرہ خداكى ايك عظيم نعمت او رعنايت كے طور پر ہوا ہے _
پہلے فرمايا گيا ہے:''خدا نے اہل كتاب ميں سے ايك گروہ كو جنہوں نے مشركين عرب كى حمايت كى تھى ،ان كے محكم و مضبوط قلعوں سے نيچے كھينچا _(۱)
يہاں سے واضح ہو جا تا ہے كہ يہو ديوں نے اپنے قلعے مدينہ كے پاس بلند او راونچى جگہ پربنا ركھے تھے او ران كے بلند برجوں سے اپنا دفاع كرتے تھے ''انزل ''(نيچے لے آيا ) كى تعبير اسى معنى كى طرف اشارہ كرتى ہے _
اس كے بعد مزيد فرمايا گيا ہے : ''خدا نے ان كے دلوں ميں خوف او ررعب ڈال ديا '':
آخر كار ان كا مقابلہ يہاں تك پہنچ گيا كہ ''تم ان ميں سے ايك گروہ كو قتل كررہے تھے او ردوسرے كو اسير بنا رہے تھے _''او ران كى زمينيں گھر اور مال و متاع تمھارے اختيارميں دے ديا ''_(۲)
يہ چند جملے جنگ بنى قريظہ كے عام نتائج كا خلاصہ ہيں _ ان خيانت كاروں ميں سے كچھ مسلمانوں كے ہاتھوں قتل ہو گئے،كچھ قيد ہوگئے اوربہت زيادہ مال غنيمت جس ميں ان كى زمينيں ،گھر ،مكا نات او رمال و متاع شامل تھا ،مسلمانوں كو ملا _
____________________
(۱)سورہ احزاب آيت ۲۶
(۲)سورہ احزاب ايت ۲۶،۲۷
صلح حديبيہ
چھٹى ہجرى كے ماہ ذى قعدہ ميں پيغمبر اكرم (ص) عمرہ كے قصد سے مكہ كى طرف روانہ ہوئے ،مسلمانوں كو رسول اكرم(ص) كے خواب كى اطلاع مل چكى تھى كہ رسول اكرم(ص) نے اپنے تمام اصحاب كے ساتھ ''مسجد الحرام''ميں وارد ہونے كو خواب ميں ديكھا ہے ،او رتمام مسلمانوں كو اس سفرميں شركت كا شوق دلايا،اگر چہ ايك گروہ كنارہ كش ہو گيا ،مگر مہاجرين و انصار او رباديہ نشين اعراب كى ايك كثير جماعت آپ كے ساتھ مكہ كى طرف روانہ ہو گئي _
يہ جمعيت جو تقريباًايك ہزار چار سوافراد پر مشتمل تھى ،سب كے سب نے لباس احرام پہنا ہوا تھا ،او رتلوار كے علاوہ جو مسافروں كا اسلحہ شمار ہو تى تھى ،كوئي جنگى ہتھيار ساتھ نہ ليا تھا _
جب مسلمان ''ذى الحليفہ'' مدينہ كے نزديك پہونچے،اور بہت اونٹوں كو قربانى كے لئے لے ليا_
پيغمبر(ص) (اور آپ (ع) كے اصحاب كا)طرز عمل بتارہا تھا كہ عبادت كے علاوہ كوئي دوسرا قصد نہيں تھا_جب پيغمبر(ص) مكہ كے نزديكى مقام آپ كو اطلاع ملى كہ قريش نے يہ پختہ ارادہ كرليا ہے كہ آپ(ص) كو مكہ ميں داخل نہ ہونے ديں گے ،يہاں تك كہ پيغمبر(ص) مقام'' حديبيہ''ميں پہنچ گئے ( حديبيہ مكہ سے بيس كلو مٹر كے فاصلہ پر ايك بستى ہے ،جو ايك كنويں يا درخت كى مناسبت سے اس نام سے مو سوم تھى )حضرت(ص) نے فرمايا: كہ تم سب اسى جگہ پر رك جائو،لوگوں نے عرض كى كہ يہاں تو كوئي پانى نہيں ہے پيغمبر(ص) نے معجزانہ طور پر اس كنويں سے جو وہاں تھا ،اپنے اصحاب كے لئے پانى فراہم كيا _
اسى مقام پر قريش او رپيغمبر(ص) كے درميان سفراء آتے جاتے رہے تاكہ كسى طرح سے مشكل حل ہو جائے ، آخركا ر''عروہ ابن مسعودثقفي''جو ايك ہوشيا ر آدمى تھا ،قريش كى طرف سے پيغمبر(ص) كى خدمت ميں حاضر ہوا ،پيغمبر (ص) نے فرمايا ميں جنگ كے ارادے سے نہيں آيا او رميرا مقصد صرف خانہ خدا كى زيارت ہے ،ضمناًعروہ نے اس ملاقات ميں پيغمبر(ص) كے وضو كرنے كا منظربھى ديكھا،كہ صحابہ آپ(ص) كے وضو كے پانى كا ايك قطرہ بھى زمين پرگرنے نہيں ديتے تھے ،جب وہ واپس لوٹا تو اس نے قريش سے كہا :ميں قيصر وكسرى او رنجاشى كے دربارميں گيا ہوں _ميں نے كسى سربراہ مملكت كو اس كى قوم كے درميان اتنا با عظمت نہيں ديكھا ،جتنا محمد(ص) كى عظمت كو ان كے اصحاب كے درميان ديكھا ہے _ اگر تم يہ خيال كرتے ہو كہ محمد(ص) كو چھوڑ جائيں گے تويہ بہت بڑى غلطى ہو گى ،ديكھ لو تمھارا مقابلہ ايسے ايثار كرنے والوں كے ساتھ ہے _يہ تمہارے لئے غور و فكر كا مقام ہے _
بيعت رضوان
اسى دوران پيغمبر(ص) نے عمر سے فرمايا: كہ وہ مكہ جائيں ، او ر اشراف قريش كو اس سفركے مقصد سے آگاہ كريں ،عمر نے كہاقريش مجھ سے شديد دشمنى ركھتے ہيں ،لہذامجھے ان سے خطرہ ہے ، بہتر يہ ہے كہ عثمان كو اس كام كے لئے بھيجا جائے ،عثمان مكہ كى طرف آئے ،تھوڑى دير نہ گذرى تھى كہ مسلمانوں كے ورميان يہ افواہ پھيل گئي كہ ان كو قتل كر دياہے _ اس مو قع پرپيغمبر(ص) نے شدت عمل كا ارادہ كيا او رايك درخت كے نيچے جو وہاں پرموجودتھا ،اپنے اصحاب سے بيعت لى جو ''بيعت رضوان'' كے نام سے مشہو رہوئي ،او ران كے ساتھ عہد وپيمان كيا كہ آخرى سانس تك ڈٹيں گے،ليكن تھوڑى دير نہ گذرى تھى كہ عثمان صحيح و سالم واپس لوٹ آئے او رانكے پيچھے پيچھے قريش نے''سہيل بن عمر''كو مصالحت كے لئے پيغمبر (ص) كى خدمت ميں بھيجا ،ليكن تاكيد كى كہ اس سال كسى طرح بھى آپ(ص) كا مكہ ميں ورود ممكن نہيں ہے _
بہت زيادہ بحث و گفتگو كے بعد صلح كا عہد و پيمان ہوا،جس كى ايك شق يہ تھى كہ مسلمان اس سال عمرہ سے باز رہيں او ر آئندہ سال مكہ ميں آئيں ،اس شرط كے ساتھ كہ تين دن سے زيادہ مكہ ميں نہ رہيں ،او ر
مسافرت كے عام ہتھياركے علاوہ او ركوئي اسلحہ اپنے ساتھ نہ لائيں _اورمتعددمواد جن كا دارومداران مسلمانوں كى جان و مال كى امنيت پر تھا،جو مدينہ سے مكہ ميں واردہوں ،او راسى طرح مسلمانوں اورمشركين كے درميان دس سال جنگ نہ كرنے او رمكہ ميں رہنے والے مسلمانوں كے لئے مذہبى فرائض كى انجام دہى بھى شامل كى گئي تھي_
يہ پيمان حقيقت ميں ہر جہت سے ايك عدم تعرض كا عہد و پيمان تھا ،جس نے مسلمانوں او رمشركين كے درميان مسلسل اوربار با ركى جنگوں كو وقتى طور پر ختم كرديا _
صلح نامہ كى تحرير
''صلح كے عہدو پيمان كا متن ''اس طرح تھاكہ پيغمبر (ص) نے على عليہ السلام كوحكم ديا كہ لكھو:
''بسم اللہ الرحمن الرحيم'':سہيل بن عمرنے،جو مشركين كانمائندہ تھا ،كہا :ميں اس قسم كے جملہ سے آشنا نہيں ہو ں ،لہذا''بسمك اللھم'' لكھو:پيغمبر(ص) نے فرمايا لكھو :''بسمك اللھم''
اس كے بعد فرمايا: لكھويہ وہ چيز ہے جس پر محمدرسو ل اللہ (ص) نے سہيل بن عمرو سے مصالحت كى ، سہيل نے كہا : ہم اگر آپ كو رسول اللہ(ص) سمجھتے تو آپ سے جنگ نہ كرتے ،صرف اپنا او راپنے والد كا نام لكھئے،پيغمبر(ص) نے فرمايا كو ئي حرج نہيں لكھو :''يہ وہ چيز ہے جس پرمحمد (ص) بن عبد اللہ نے سہيل بن عمرو سے صلح كى ،كہ دس سال تك دو نو ں طرف سے جنگ مترو ك رہے گى تاكہ لو گوں كو امن و امان كى صورت دوبارہ ميسرآئے_
علاوہ ازايں جو شخص قريش ميں سے اپنے ولى كى اجازت كے بغير محمد(ص) كے پاس آئے (او رمسلمان ہو جائے )اسے واپس كرديں اورجو شخص ان افراد ميں سے جو محمد(ص) كے پاس ہيں ،قريش كى طرف پلٹ جائے تو ان كو واپس لوٹانا ضرورى نہيں ہے _
تمام لوگ آزاد ہيں جو چاہے محمد (ص) كے عہد و پيمان ميں داخل ہو او رجو چاہے قريش كے عہد و پيمان ميں داخل ہو،طرفين اس بات كے پابندہيں كہ ايك دوسرے سے خيانت نہ كرےں ،او رايك دوسرے كى
جان و مال كو محترم شمار كريں _
اس كے علاوہ محمد(ص) اس سال واپس چلے جائيں او رمكہ ميں داخل نہ ہوں ،ليكن آئندہ سال ہم تين دن كے لئے مكہ سے باہر چلے جائيں گے او ران كے اصحاب آجائيں ،ليكن تين دن سے زيادہ نہ ٹھہريں ، (اور مراسم عمرہ كے انجام دے كر واپس چلے جائيں )اس شرط كے ساتھ كہ سواے مسافركے ہتھيار يعنى تلوار كے،وہ بھى غلاف ميں كو ئي ہتھيار ساتھ نہ لائيں _
اس پيمان پر مسلمانوں او رمشركين كے ايك گروہ نے گواہى دى او راس عہد نامہ كے كاتب على (ع) ابن ابى طالب عليہ السلام تھے _
مرحو م علامہ مجلسى نے بحار الانوارميں كچھ او رامور بھى نقل كئے ہيں ،منجملہ ان كے يہ كہ :
''اسلام مكہ ميں آشكارا ہوگا اوركسى كو كسى مذہب كے انتخاب كرنے پر مجبورنہيں كريں گے ،اورمسلمان كو اذيت و آزارنہيں پہنچائيں گے''_
اس موقع پرپيغمبراسلام (ص) نے حكم ديا كہ قربانى كے وہ اونٹ جووہ اپنے ہمراہ لائے تھے ،اسى جگہ قربان كرديں اور اپنے سروں كو منڈوائيں اور احرام سے باہرنكل آئيں ،ليكن يہ بات كچھ مسلمانوں كو سخت ناگوار معلوم ہوئي ،كيونكہ عمرہ كے مناسك كى انجام دہى كے بغير ان كى نظرميں احرام سے باہر نكل آنا ممكن نہيں تھا ،ليكن پيغمبر (ص) نے ذاتى طور پرخودپيش قدمى كى او رقربانى كے اونٹوں كو نحر كيا او راحرام سے باہرنكل آئے اورمسلمانوں كو سمجھاياكہ يہ احرام اور قربانى كے قانون ميں استثناء ہے جو خداكى طرف سے قرارديا گيا ہے _
مسلمانوں نے جب يہ ديكھا تو سر تسليم خم كرديا ،او رپيغمبر (ص) كا حكم كامل طورسے مان ليا،اوروہيں سے مدينہ كى راہ لي،ليكن غم واندوہ كا ايك پہاڑ ان كے دلوں پر بوجھ ڈال رہا تھا ،كيونكہ ظاہر ميں يہ سارے كا ساراسفرايك نا كامى اور شكست تھى ،ليكن اسى وقت سورہ فتح نازل ہوئي اورپيغمبرگرامى اسلام (ص) كو فتح كى بشارت ملى _
صلح حديبيہ كے سياسى ،اجتماعى او رمذہبى نتائج
ہجرت كے چھٹے سال (صلح حديبيہ كے وقت )مسلمانوں كى حالت ميں او ردو سال بعد كى حالت ميں فرق نماياں تھا ،جب وہ دس ہزار كے لشكر كے ساتھ فتح مكہ كے لئے چلے تاكہ مشركين كو پيمان شكنى كا دندان شكن جواب ديا جائے،جنانچہ انھوں نے فوجوں كو معمولى سى جھڑپ كے بغيرہى مكہ كوفتح كرليا ،اس وقت قريش اپنے اندر مقابلہ كرنے كى معمولى سى قدرت بھى نہيں ركھتے تھے _ايك اجمالى موازنہ اس بات كى نشاندہى كرتا ہے كہ ''صلح حديبيہ'' كا عكس العمل كس قدر وسيع تھا _
خلاصہ كے طور پر مسلمانوں نے ا س صلح سے چند امتياز او راہم كاميابياں حاصل كيں ،جنكى تفصيل حسب ذيل ہے _
۱)عملى طور پر مكہ كہ فريب خوردہ لوگوں كو يہ بتا ديا كہ وہ جنگ و جدال كا ارادہ نہيں ركھتے ،او رمكہ كے مقدس شہر اور خانہ خداكے لئے بہت زيادہ احترام كے قائل ہيں ،يہى بات ايك كثيرجماعت كے دلوں كے لئے اسلام كى طرف كشش كا سبب بن گئي _
۲)قريش نے پہلى مرتبہ اسلام او رمسلمانوں كى رسموں كو تسليم كيا ،يہى وہ چيز تھى جو جزيرةالعرب ميں مسلمانوں كى حيثيت كو ثابت كرنے كى دليل بنى _
۳)صلح حديبيہ كے بعد مسلمان سكون واطمنان سے ہر جگہ آجا سكتے تھے او رانكا جان و مال محفوظ ہوگيا تھا ،او رعملى طورپرمشركين كے ساتھ قريبى تعلق اورميل جول پيدا ہوا،ايسے تعلقات جس كے نتيجہ ميں مشركين كو اسلام كى زيادہ سے زيادہ پہچان كے ساتھ ان كى توجہ اسلام كى طرف مائل ہو ئي _
۴)صلح حديبيہ كے بعد اسلام كى نشر واشاعت كے لئے سارے جزيرةالعرب ميں راستہ كھل گيا ،او رپيغمبر (ص) كى صلح طلبى كى شرط نے مختلف اقوام كو،جو پيغمبر (ص) كى ذات او راسلام كے متعلق غلط نظريہ ركھتے تھے ،تجديد نظر پر آمادہ كيا ،او رتبليغاتى نقطہ نظرسے بہت سے وسيع امكانات ووسائل مسلمانوں كے ہاتھ آئے _
۵)صلح حديبيہ نے خيبر كو فتح كرنے او ريہوديوں كے اس سرطانى غدہ كو نكال پھينكنے كے لئے،جوبالفعل اوربالقوہ اسلام او رمسلمانوں كے لئے ايك اہم خطرہ تھا ،راستہ ہموار كرديا_
۶)اصولى طو رپر پيغمبر(ص) كى ايك ہزار چار سو افراد كى فوج سے ٹكرلينے سے قريش كى وحشت جن كے پاس كسى قسم كے اہم جنگى ہتھياربھى نہيں تھے، او رشرائط صلح كو قبول كرلينا اسلام كے طرفداروں كے دلوں كى تقويت ،او رمخالفين كى شكست كے لئے ،جنہوں نے مسلمانوں كو ستاياتھا خود ايك اہم عامل تھا_
۷)واقعہ حديبيہ كے بعد پيغمبر(ص) نے بڑے بڑے ملكو ں ،ايران وروم وحبشہ كے سربراہوں ،او ردنيا كے بڑے بڑے بادشاہوں كو متعددخطوط لكھے او رانہيں اسلام كى طرف دعوت دى او ريہ چيزاچھى طرح سے اس بات كى نشاندہى كرتى ہے كہ صلح حديبيہ نے مسلمانوں ميں كس قدر خود اعتمادى پيداكردى تھي،كہ نہ صرف جزيرہ عرب ميں بلكہ اس زمانہ كى بڑى دنيا ميں ان كى راہ كو كھول ديا_
اب تك جو كچھ بيان كيا گيا ہے ،اس سے يہ بخوبى معلوم كيا جا سكتا ہے ،كہ واقعاً صلح حديبيہ مسلمانوں كے لئے ايك عظيم فتح او ركاميابى تھى ،اور تعجب كى بات نہيں ہے كہ قرآن مجيدا سے فتح مبين كے عنوان سے ياد كرتا ہے :
صلح حديبيہ يا عظيم الشان فتح
جس و قت پيغمبر (ص) حديبيہ سے واپس لوٹے (او رسورہ فتح نازل ہوئي )تو ايك صحابى نے عرض كيا :''يہ كيا فتح ہے كہ ہميں خانہ خدا كى زيارت سے بھى رو ك ديا ہے او رہمارى قربانى ميں بھى ركاوٹ ڈال دي''؟
پيغمبر (ص) نے فرمايا:''تو نے بہت برى بات كہى ہے ،بلكہ يہ تو ہمارى عظيم ترين فتح ہے كہ مشركين اس بات پر راضى ہوگئے ہيں كہ تمھيں خشونت آميز طريقہ سے ٹكر لئے بغير اپنى سرزمين سے دور كريں ، اور تمہارے سامنے صلح كى پيش كش كريں اوران تمام تكاليف او ررنج وغم كے باو جود جو تمہارى طرف سے انھوں
نے اٹھائے ہيں ،ترك تعرض كے لئے تمہارى طرف مائل ہوئے ہيں _
اس كے بعد پيغمبر (ص) نے وہ تكاليف جو انھوں نے بدر واحزاب ميں جھيلى تھيں انھيں ياد دلائيں ، تو مسلمانوں نے تصديق كى كہ يہ سب سے بڑى فتح تھى او رانھوں نے لا علمى كى بناء پر يہ فيصلہ كيا تھا _
''زہرى ''جو ايك مشہور تابعى ہے، كہتا ہے:كوئي بھى فتح صلح حديبيہ سے زيادہ عظيم نہيں تھى ،كيونكہ مشركين نے مسلمانوں كے ساتھ ارتباط اور تعلق پيدا كيا او راسلام ان كے دلوں ميں جاں گزيں ہوا ،او رتين ہى سال كے عرصہ ميں ايك عظيم گروہ اسلام لے آيا او رمسلمانوں ميں ان كى وجہ سے اضافہ ہوا''_
پيغمبر (ص) كا سچا خواب
جيسا كہ ہم نے شروع ميں عرض كيا كہ پيغمبر اكرم (ص) نے مدينہ ميں ايك خواب ديكھا كہ آپ اپنے صحابہ كے ساتھ عمرہ كے لئے مناسك ادا كرنے كے لئے مكہ ميں داخل ہورہے ہيں اور اس خواب كو صحابہ كے سامنے بيان كرديا ، وہ سب كے سب شاد و خوش حال ہوئے ليكن چونكہ ايك جماعت يہ خيال كرتى تھى كہ اس خواب كى تعبير اسى سال پورى ہوگي، تو جس وقت قريش نے مكہ ميں ان كے دخيل ہونے كا راستہ حديبيہ ميں ان كے آگے بند كرديا تو وہ شك و ترديد ميں مبتلا ہوگئے، كہ كيا پيغمبر (ص) كا خواب غلط بھى ہوسكتا ہے، كيا اس كا مطلب يہ نہيں تھا كہ ہم خانہ خدا كى زيارت سے مشرف ہوں ؟ پس اس وعدہ كا كيا ہوا؟ اور وہ رحمانى خواب كہاں چلا گيا؟
پيغمبر اكرم (ص) نے اس سوال كے جواب ميں فرمايا:كيا ميں نے تمہيں يہ كہا تھا كہ يہ خواب اسى سال پورا ہوگا؟ اسى بارے ميں مدينہ كى طرف بازگشت كى راہ ميں وحى الہى نازل ہوئي اور تاكيد كى كہ يہ خواب سچا تھا او رايسا مسئلہ حتمى و قطعى اور انجام پانے والا ہے_
ارشاد خدا وندعالم ہوتا ہے:''خد نے اپنے پيغمبر كو جو كچھ دكھلايا تھا وہ سچ اور حق تھا''_(۱)
____________________
(۱)سورہ فتح آيت۲۷
اس كے بعد مزيد كہتا ہے: ''انشاء اللہ تم سب كے سب قطعى طور پر انتہائي امن وامان كے ساتھ اس حالت ميں كہ تم اپنے سروں كو منڈوائے ہوئے ہوں گے، يا اپنے ناخنوں كو كٹوائے ہوئے ہوں گے مسجد الحرام ميں داخل ہوں گے اور كسى شخص سے تمہيں كوئي خوف ووحشت نہ ہوگي''_(۱)
مومنين كے دلوں پرنزول سكينہ
يہاں گذشتہ ميں جو كچھ بيا ن ہوا ہے،وہ اتنى عظيم نعمتيں تھيں جو خدا نے فتح مبين و (صلح حديبيہ) كے سائے ميں پيغمبر اكرم (ص) كو عطا فرمائي تھيں ليكن يہاں پراس عظيم نعمت كے بارے ميں بحث كى جارہى ہے جو اس نے تمام مئومنين كو مرحمت فرمائي ہے ، فرماتاہے : وہى تو ہے ، جس نے مومنين كے دلوں ميں سكون واطمينان نازل كيا، تاكہ ان كے ايمان ميں مزيد ايمان كا اضافہ كر''
اور سكون واطمينان ان كے دلوں پر نازل كيوں نہ ہو'' در آنحاليكہ آسمانوں اور زمين كے لشكر خدا كےلئے ہيں اور وہ دا ناو حكيم ہے ''(۲)
يہ سكينہ كيا تھا ؟
ضرورى ہے كہ ہم پھر''صلح حديبيہ'' كى داستان كى طرف لوٹيں اور اپنے آپ كو'' صلح حديبيہ '' كى فضا ميں اور اس فضاء ميں جو صلح كے بعد پيدا ہوئي ، تصور كريں تاكہ آيت كے مفہوم كى گہرائي سے آشنا ہوسكيں _
پيغمبر اكرم (ص) نے ايك خواب ديكھا تھا (ايك رئويائے الہى ورحماني) كہ آپ اپنے اصحاب كے ساتھ مسجد الحرام ميں داخل ہورہے ہيں اور اس كے بعد خان ہ خدا كى زيارت كے عزم كے ساتھ چل پڑے زيادہ تر صحابہ يہى خيال كرتے تھے كہ اس خواب اورر و يائے صالحہ كى تعبير اسى سفر ميں واقع ہوگي، حالانكہ مقدر ميں ايك دوسرى چيز تھى يہ ايك بات_
____________________
(۱)سورہ فتح آيت۲۷
(۲)سورہ فتح آيت ۴
دوسرى طرف مسلمانوں نے احرام باندھا ہوا تھا، ليكن ان كى توقع كے بر خلاف خانہ خدا كى زيارت كى سعادت تك نصيب نہ ہوئي اور پيغمبر اكرم (ص) نے حكم دے ديا كہ مقام حديبيہ ميں ہى قربانى كے اونٹوں كو نحركہ ديں ،كيونكہ ان كے آداب وسنن كا بھى اور اسلامى احكام ودستور كا بھى يہى تقاضا تھا كہ جب تك مناسك عمرہ كو انجام نہ دے ليں احرام سے باہر نہ نكليں _
تيسرى طرف حديبيہ كے صلح نامہ ميں كچھ ايسے امور تھے جن كے مطالب كو قبول كرنا بہت ہى دشوار تھا،منجملہ ان كے يہ كہ اگر قريش ميں سے كوئي شخص مسلمان ہوجائے اور مدينہ ميں پناہ لے لے تو مسلمان اسے اس كے گھروالوں كے سپرد كرديں گے،ليكن اس كے برعكس لازم نہيں تھا _
چوتھى طرف صلح نامہ كى تحرير كے موقع پر قريش اس بات پر تيار نہ ہوئے كہ لفظ '' رسول اللہ'' محمد'' كے نام كے ساتھ لكھا جائے، اور قريش كے نمائندہ '' سہيل '' نے اصرار كركے اسے حذف كرايا ، يہاں تك كہ ''بسم اللہ الرحمن الرحيم'' كے لكھنے كى بھى موافقت نہ كى ،اور وہ يہى اصرار كرتا رہا كہ اس كے بجائے ''بسمك اللھم''لكھاجائے ، جو اہل مكہ كى عادت اور طريقہ كے مطابق تھاواضح رہے، كہ ان امور ميں سے ہر ايك عليحدہ عليحدہ ايك ناگوار امرتھا_
چہ جائيكہ وہ سب كے سب مجموعى طور سے وہاں جاتے رہے، اسى لئے ضعيف الايمان ،لوگوں كے دل ڈگمگا گئے ،يہاں تك كہ جب سورہ فتح نازل ہوئي تو بعض نے تعجب كے ساتھ پوچھا :كونسى فتح ؟
يہى وہ موقع ہے جب نصرت الہى كو مسلمانوں كے شامل حال ہونا چاہئے تھا اور سكون واطمينان ان كے دلوں ميں داخل ہوتا تھا نہ يہ كہ كوئي فتور اوركمزورى ان ميں پيداہوتى تھي_
بلكہ ''ليزدادوا ايمانا مع ايمانھم''_ كے مصداق كى قوت ايمانى ميں اضافہ ہونا چاہئے تھا اوپر والى آيت ايسے حالات ميں نازل ہوئي _
ممكن ہے اس سكون ميں اعتقادى پہلو ہو اور وہ اعتقاد ميں ڈگمگا نے سے بچائے ، يا اس ميں عملى پہلو ہواس طرح سے كہ وہ انسان كو ثبات قدم ، مقاومت اور صبر و شكيبائي بخشے _
پيچھے رہ جانے والوں كى عذر تراشي
گذشتہ صفحات ميں ہم بيان كرچكے ہيں كہ پيغمبر (ص) ايك ہزار چار سو مسلمانوں كے ساتھ مدينہ سے عمرہ كے ارادہ سے مكہ كى طرف روانہ ہوئے_
پيغمبر(ص) كى طرف سے باديہ نشين قبائل ميں اعلان ہوا كہ وہ بھى سب كے سب كے ساتھ چليں ليكن ضعيف الايمان لوگوں كے ايك گروہ نے اس حكم سے رو گردانى كرلي،اور ان كا تجزيہ تھا كہ يہ كيسے ممكن ہے كہ مسلمان اس سفر سے صحيح وسالم بچ كر نكل آئيں ، حالانكہ كفار قريش پہلے ہى ہيجان واشتعال ميں تھے ، اور انھوں نے احدواحزاب كى جنگيں مدينہ كے قريب مسلمانوں پر تھوپ دى تھيں اب جبكہ يہ چھوٹا ساگروہ بغير ہتھياروں كے اپنے پائوں سے چل كر مكہ كى طرف جارہا ہے ، گويا بھڑوں كے چھتہ كے پاس خود ہى پہنچ رہا ہے ، تو يہ كس طرح ممكن ہے كہ وہ اپنے گھروں كى طرف واپس لوٹ آئيں گے ؟
ليكن جب انھوں نے ديكھا كہ مسلمان كا ميابى كے ساتھ اور قابل ملا حظہ امتيازات كے ہمراہ جو انھوں نے صلح حديبيہ كے عہد وپيمان سے حاصل كئے تھے ، صحيح وسالم مدينہ كى طرف پلٹ آئے ہيں اور كسى كے نكسير تك بھى نہيں چھوٹى ، تو انہوں نے اپنى عظيم غلطى كا احساس كيا اور پيغمبر كى خدمت ميں حاضر ہوئے تاكہ كسى طرح كى عذر خواہى كركے اپنے فعل كى توجيہ كريں ، اور پيغمبر اكرم (ص) سے استغفار كا تقاضا كريں _
ليكن وحى نازل ہوئي اور ان كے اعمال سے پردہ اٹھاديا اور انھيں رسوا كيا _
اس طرح سے منافقين اور مشركين كى سرنوشت كا ذكر كر نے كے بعد، يہاں پيچھے رہ جانے والے ضعيف الايمان لوگوں كى كيفيت كا بيان ہورہا ہے تاكہ اس بحث كى كڑياں مكمل ہوجائيں _
فرماتاہے '' عنقريب باديہ نشين اعراب ميں سے پيچھے رہ جانے والے عذر تراشى كرتے ہوئے كہيں گے: ہمارے مال ومتاع اور وہاں پر بچوں كى حفاظت نے ہميں اپنى طرف مائل كرلياتھا، اور ہم اس پرُبركت سفر ميں آپ كى خدمت ميں نہ رہ سكے، رسالتماب (ص) ہمارے عذر كو قبول كرتے ہوئے ہمارے لئے طلب
بخشش كيجئے ،وہ اپنى زبان سے ايسى چيز كہہ رہے ہيں جو ان كے دل ميں نہيں ہے ''_(۱)
وہ تو اپنى توبہ تك ميں بھى مخلص، نہيں ہيں _
ليكن ان سے كہہ ديجئے : ''خدا كے مقابلہ ميں اگر وہ تمہيں نقصان پہنچانا چاہے تو كس كى مجال ہے كہ وہ تمہارا دفاع كرسكے، اور اگر وہ تمہيں كچھ نفع پہنچانا چاہے تو كس ميں طاقت ہے، كہ اسے روك سكے ''_(۲)
خدا كے لئے يہ بات كسى طرح بھى مشكل نہيں ہے ، كہ تمہيں تمہارے امن وامان كے گھروں ميں ، بيوى بچوں اور مال ومنال كے پاس ،انواع واقسام كى بلائوں اور مصائب ميں گرفتار كردے ،اور اس كےلئے يہ بھى كوئي مشكل كام نہيں ہے كہ دشمنوں كے مركز ميں اور مخالفين كے گڑھ ميں تمہيں ہر قسم كے گزندسے محفوظ ركھے، يہ تمہارى قدرت خدا كے بارے ميں جہالت اور بے خبرى ہے جو تمہارى نظر ميں اس قسم كے انكار كو جگہ ديتى ہے _
ہاں ، خدا ان تمام اعمال سے جنھيں تم انجام ديتے ہو باخبر اور آگاہ ہے ''(۳)
بلكہ وہ تو تمہارے سينوں كے اندر كے اسرار اور تمہارى نيتوں سے بھى اچھى طرح باخبر ہے ، وہ اچھى طرح جانتا ہے كہ يہ عذر اور بہانے واقعيت اور حقيقت نہيں ركھتے اور جو اصل حقيقت اور واقعيت ہے وہ تمہارى شك و تريد، خوف وخطر اور ضعف ايمان ہے ، اور يہ عذر تراشياں خدا سے مخفى نہيں رہتيں ، اور يہ ہرگز تمہارى سزا كو نہيں روكيں گى _
قابل توجہ بات يہ ہے كہ قرآن كے لب ولہجہ سے بھى اور تواريخ سے بھى يہى معلوم ہوتا ہے كہ يہ وحى الہى پيغمبر (ص) كى مدينہ كى طرف بازگشت كے دوران نازل ہوئي، يعنى اس سے پہلے كہ پيچھے رہ جانے والے آئيں اورعذر تراشى كريں ، ان كے كام سے پردہ اٹھاديا گيا اور انھيں رسوا كرديا _
قرآن اس كے بعد مزيد وضاحت كے لئے مكمل طور پر پردے ہٹاكر مزيد كہتا ہے :''بلكہ تم نے تو يہ
____________________
(۱) سورہ فتح آيت ۱۱
(۲) سورہ فتح آيت ۱۱
(۳) سورہ فتح آيت ۱۱
گمان كرليا تھا كہ پيغمبر اكرم (ص) اور مومنين ہرگز اپنے گھروالوں كى طرف پلٹ كرنہيں آئيں گے'' _(۱)
ہاں ، اس تاريخى سفر ميں تمہارے شريك نہ ہونے كا سبب ، اموال اور بيوى بچوں كا مسئلہ نہيں تھا، بلكہ اس كا اصلى عامل وہ سوء ظن تھا جو تم خدا كے بارے ميں ركھتے تھے، اور اپنے غلط اندازوں كى وجہ سے يہ سوچتے تھے كہ يہ سفر پيغمبر اكرم (ص) كے ختم ہونے كا سفر ہے اور كيونكہ شيطانى وسوسہ تمہارے دلوں ميں زينت پاچكے تھے ،اور يہ تم نے برا گمان كيا''_(۲) كيونكہ تم يہ سوچ رہے تھے كہ خدا نے پيغمبر اكرم (ص) كو اس سفر ميں بھيج كر انھيں دشمن كے چنگل ميں دےديا ہے ، اور ان كى حمايت نہيں كرے گا ،'' اور انجام كار تم ہلاك ہوگئے ''_(۳) اس سے بدتر ہلاكت اور كيا ہوگى كہ تم اس تاريخى سفر ميں شركت ، بيعت رضوان، اور دوسرے افتخارات واعزازات سے محروم رہ گئے، اور اس كے پيچھے عظيم رسوائي تھى اور آئندہ كے لئے آخرت كادردناك عذاب ہے ، ہاں تمہارے دل مردہ تھے اس لئے تم اس قسم كى صورت حال ميں گرفتار ہوئے_
اگر حديبيہ ميں جنگ ہوجاتي
قرآن اسى طرح سے '' حديبيہ'' كے عظيم ماجرے كے كچھ دوسرے پہلوو ں كو بيان كرتے ہوئے، اور اس سلسلہ ميں دو اہم نكتوں كى طرف اشارہ كررہا ہے_
پہلا يہ كہ يہ خيال نہ كرو كہ سرزمين '' حديبيہ '' ميں تمہارے اور مشركين مكہ كے درميان جنگ چھڑجاتى تو مشركين جنگ ميں بازى لے جاتے، ايسا نہيں ہے ، اكثر كفار تمہارے ساتھ وہاں جنگ كرتے تو بہت جلدى پيٹھ پھير كر بھاگ جاتے ، اور پھر كوئي ولى وياورنہ پاتے ''_(۴)
اور يہ بات صرف تم تك ہى منحصر نہيں ہے ، '' يہ تو ايك سنت الہى ہے ،جو پہلے بھى يہى تھى اور تم سنت الہى ميں ہرگز تغيرو تبديلى نہ پائو گے_(۵) وہ اہم نكتہ جو قرآن خاص طور پر بيان كررہاہے، يہ ہے كہ كہيں قريش بيٹھ كر يہ نہ كہنے لگيں ، كہ افسوس
____________________
(۱)سورہ فتح آيت ۱۱ (۲) سورہ فتح آيت ۱۱
(۳)سورہ فتح آيت ۱۱ (۴)سورہ فتح آيت ۲۲ (۵)سورہ فتح آيت ۲۲
ہم نے جنگ كيوں نہ كى اوراس چھوٹے سے گروہ كى سركوبى كيوں نہ كي، افسوس كہ شكارہمارے گھر ميں آيا، اور اس سے ہم نے غفلت برتى ، افسوس ، افسوس _
ہرگز ايسا نہيں ہے اگر چہ مسلمان ان كى نسبت تھوڑے تھے، اور وطن اور امن كى جگہ سے بھى دور تھے، اسلحہ بھى ان كے پاس كافى مقدار ميں نہيں تھا، ليكن اس كے باوجود اگر جنگ چھڑجاتى تو پھر بھى قوت ايمانى اور نصرت الہى كى بركت سے كاميابى انھيں ہى حاصل ہوتي، كيا جنگ ''بدر '' اور'' احزاب '' ميں ان كى تعداد بہت كم اور دشمن كا سازو سامان اور لشكر زيادہ نہ تھا؟ ان دونوں مواقع پر دشمن كو كيسے شكست ہوگئي _
بہرحال اس حقيقت كا بيان مومنين كے دل كى تقويت اور دشمن كے دل كى كمزورى اور منافقين كے '' اگر '' اور '' مگر '' كے ختم ہونے كا سبب بن گئي اور اس نے اس بات كى نشاندہى كردى كہ ظاہرى طور پر حالات كے برابر نہ ہونے كے باوجود اگر جنگ چھڑجائے تو كاميابى مخلص مومنين ہى كو نصيب ہوتى ہے _
دوسرا نكتہ جو قرآن ميں بيان ہوا ہے يہ ہے كہ فرماتاہے ''وہى تو ہے جس نے كفار كے ہاتھ كو مكہ ميں تم سے باز ركھا اور تمہارے ہاتھ كو ان سے،يہ اس وقت ہوا جبكہ تمہيں ان پر كاميابى حاصل ہوگئي تھي، اور خدا وہ سب كچھ جو تم انجام دے رہے ہو ديكھ رہاہے ''_(۱)
مفسرين كى ايك جماعت نے اس آيت كےلئے ايك '' شان نزول'' بيان كى ہے اور وہ يہ ہے كہ: مشركين مكہ نے ''حديبيہ ''كے واقعہ ميں چاليس افراد كو مسلمانوں پرضرب لگانے كےلئے مخفى طور پر حملہ كے لئے تيار كيا، ليكن ان كى يہ سازش مسلمانوں كى ہوشيارى سے نقش برآب ہوگئي اور مسلمان ان سب كو گرفتار كركے پيغمبر (ص) كى خدمت ميں لے آئے ، اور پيغمبر (ص) نے انھيں رہا كرديا _ بعض نے يہ بھى كہا ہے كہ جس وقت پيغمبر (ص) درخت كے سائے ميں بيٹھے ہوئے تھے تاكہ قريش كے نمائندہ كے ساتھ صلح كے معاہدہ كو ترتيب ديں ، اور على عليہ السلام لكھنے ميں مصروف تھے، تو جوانان مكہ ميں سے ۳۰ /افراد اسلحہ كے ساتھ آپ پر حملہ آور ہوئے،اور معجزا نہ طورپر ان كى يہ سازش بے كار ہوگئي اور وہ سب كے سب گرفتار ہوگئے اور حضرت نے انھيں آزاد كرديا _
____________________
(۱) سورہ فتح آيت ۲۴
عمرة القضاء
''عمرة القضاء''وہى عمرہ ہے جو پيغمبر (ص) نے حديبيہ سے ايك سال بعد يعنى ہجرت كے ساتويں سال كے ماہ ذى القعدہ ميں اسے( ٹھيك ايك سال بعد جب مشركين نے آپ كو مسجد الحرام ميں داخل ہونے سے روكا تھا) اپنے اصحاب كے ساتھ انجام ديا اوراس كا يہ نام اس وجہ سے ہے ، چونكہ يہ حقيقت ميں گزشتہ سال كى قضاء شمار ہوتا تھا_ اس كى وضاحت اس طرح ہے كہ : قرار داد حديبيہ كى شقوں ميں سے ايك شق كے مطابق پروگرام يہ تھا كہ مسلمان آئندہ سال مراسم عمرہ اور خانہ خدا كى زيارت كو آزادانہ طور پر انجام ديں ، ليكن تين دن سے زيادہ مكہ ميں توقف نہ كريں اور اس مدت ميں قريش كے سردار اور مشركين كے جانے پہچانے افراد شہرسے باہر چلے جائيں گے تاكہ ايك تو احتمالى ٹكرائو سے بچ جائيں اور كنبہ پرورى اور تعصب كى وجہ سے جو لوگ مسلمانوں كى عبادت توحيدى كے منظر كو ديكھنے كا يارا اور قدرت نہيں ركھتے، وہ بھى اسے نہ ديكھيں )
بعض تواريخ ميں آيا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) نے اپنے صحابہ كے ساتھ احرام باندھا اور قربانى كے اونٹ لے كر چل پڑے اور '' ظہران''كے قريب پہنچ گئے اس موقع پر پيغمبر نے اپنے ايك صحابى كو جس كا نام '' محمد بن مسلمہ'' تھا، عمدہ سوارى كے گھوڑوں اور اسلحہ كے ساتھ اپنے آگے بھيج ديا، جب مشركين نے اس پر وگرام كو ديكھا تو وہ سخت خوف زدہ ہوئے اور انھوں نے يہ گمان كرليا كہ حضرت ان سے جنگ كرنا اور اپنى دس سالہ صلح كى قرار داد كو توڑنا چاہتے ہيں ، لوگوں نے يہ خبر اہل مكہ تك پہنچادى ليكن جب پيغمبر اكرم (ص) مكہ كے قريب پہنچے تو آپ نے حكم ديا كہ تمام تير اور نيزے اور دوسرے سارے ہتھاراس سرزمين ميں جس كا نام ''ياجج'' ہے منتقل كرديں ، اور آپ خود اور آپ كے صحابہ صرف نيام ميں ركھى ہوئي تلواروں كے ساتھ مكہ ميں
دارد ہوئے _ اہل مكہ نے جب يہ عمل ديكھا تو بہت خوش ہوئے كہ وعدہ پورا ہوگيا، (گويا پيغمبر (ص) كا يہ اقدام مشركين كے لئے ايك تنبيہ تھا،كہ اگر وہ نقض عہد كرنا چاہيں اور مسلمانوں كے خلاف سازش كريں ،تو ان كے مقابلہ كى قدرت ركھتے ہيں )
رئو سائے مكہ، مكہ سے باہر چلے گئے، تاكہ ان مناظر كو جوان كےلئے دل خراش تھے نہ ديكھيں ليكن باقى اہل مكہ مرد ، عورتيں اور بچے سب ہى راستوں ميں ، چھتوں كے اوپر ، اور خانہ خدا كے اطراف ميں جمع ہوگئے تھے ، تاكہ مسلمانوں اور ان كے مراسم عمرہ كو ديكھيں _ پيغمبر اكرم (ص) خاص رُعب اور دبدبہ كے ساتھ مكہ ميں وارد ہوئے اور قربانى كے بہت سے اونٹ آپ كے ساتھ تھے، اوراپ نے انتہائي محبت اور ادب كے ساتھ مكہ والوں سے سلوك كيا،اور يہ حكم ديا كہ مسلمان طواف كرتے وقت تيزى كے ساتھ چليں ، اور احرام كو ذراسا جسم سے ہٹاليں تاكہ ان كے قوى اور طاقتور اور موٹے تازے شانے آشكار ہوں ، اور يہ منظر مكہ كے لوگوں كى روح اور فكر ميں ، مسلمانوں كى قدرت وطاقت كى زندہ دليل كے طور پر اثراندز ہو _
مجموعى طور سے '' عمرة القضاء'' عبادت بھى تھا اور قدرت كى نمائش بھى ،يہ كہنا چاہئے كہ '' فتح مكہ '' جو بعد والے سال ميں حاصل ہوئي ، اس كا بيج انہيں دنوں ميں بويا گيا ، اوراسلام كے مقابلہ ميں اہل مكہ كے سرتسليم خم كرنے كے سلسلے ميں مكمل طور پر زمين ہموار كردى _ يہ وضع وكيفيت قريش كے سرداروں كے لئے اس قدر ناگوار تھى كہ تين دن گزرنے كے بعد كسى كو پيغمبر كى خدمت ميں بھيجا كہ قرادداد كے مطابق جتنا جلدى ہو سكے مكہ كو چھوڑديجئے _ قابل توجہ بات يہ ہے ، كہ پيغمبر اكرم (ص) نے مكہ كى عورتوں ميں سے ايك بيوہ عورت كو،جو قريش كے بعض سرداروں كى رشتہ دار تھي، اپنى زوجيت ميں لے ليا، تاكہ عربوں كى رسم كے مطابق ،اپنے تعلق اور رشتے كو ان سے مستحكم كركے ان كى عداوت اور مخالفت ميں كمى كريں _
جس وقت پيغمبر (ص) نے مكہ سے باہر نكل جانے كى تجويز سنى تو آپ نے فرمايا : ميں اس ازدواج كے مراسم كے لئے كھانا كھلانا چاہتا ہوں اور تمہارى بھى دعوت كرنا چاہتاہوں ،يہ دعوت رسمى طور پررد كردى گئي _
فتح خيبر
جب پيغمبر اكرم (ص) حديبيہ سے واپس لوٹے تو تمام ماہ ذى الحجہ اور ہجرت كے ساتويں سال كے محرم كا كچھ حصہ مدينہ ميں توقف كيا، اس كے بعد اپنے اصحاب ميں سے ان ايك ہزار چار سوافراد كو جنہوں نے حديبيہ ميں شركت كى تھى ساتھ لے كر خيبر كى طرف روانہ ہوئے ،(جو اسلام كے برخلاف تحريكوں كا مركز تھا، اور پيغمبر اكرم (ص) كسى مناسب فرصت كے لئے گن گن كردن گزار رہے تھے كہ اس مركز فساد كو ختم كريں _
روايات كے مطابق جس وقت پيغمبر اكرم (ص) ''حديبيہ'' سے پلٹ رہے تھے توحكم خدا سے آپ نے حديبيہ ميں شركت كرنے والے مسلمانوں كو '' فتح خيبر'' كى بشارت دى ، اور تصريح فرمائي كہ اس جنگ ميں صرف وہى شركت كريں گے ، اور جنگ ميں حاصل شدہ مال غنيمت بھى انھيں كے ساتھ مخصوص ہوگا تخلف كرنے والوں كو ان غنائم ميں سے كچھ نہ ملے گا _
ليكن جو نہى ان ڈر پوك دنيا پرستوں نے قرائن سے يہ سمجھ ليا كہ پيغمبر اكرم (ص) اس جنگ ميں جو انھيں درپيش ہے يقينى طور پر كامياب ہوں گے اور سپاہ اسلام كو بہت سامال غنيمت ہاتھ آئے گا، تو وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پيغمبر اكرم (ص) كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور ميدان خيبر ميں شركت كى اجازت چاہى اور شايد اس عذر كو بھى ساتھ ليا كہ ہم گزشتہ غلطى كى تلافى كرنے ، اپنى ذمہ دارى كے بوجھ كو ہلكا كرنے ، گناہ سے توبہ كرنے اور اسلام وقرآن كى مخلصانہ خدمت كرنے كے لئے يہ چاہتے ہيں كہ ہم ميدان جہاد ميں آپ كے ساتھ شركت كريں ، وہ اس بات سے غافل تھے كہ وحى الہى پہلے ہى نازل ہوچكى تھيں اور ان كے
راز كو فاش كرچكى تھيں ، جيسا كہ قرآن ميں بيان ہوا ہے _
'' جس وقت تم كچھ غنيمت حاصل كرنے كے لئے چلو گے تو اس وقت پيچھے رہ جانے والے كہيں گے : ہميں بھى اپنے ساتھ چلنے كى اجازت ديں اور اس جہاد ميں شركت كرنے كا شرف بخشيں ''_(۱)
بہرحال قران اس منفعت اور فرصت طلب گروہ كے جواب ميں كہتا ہے :''وہ يہ چاہتے ہيں كہ خدا كے كلام كو بدل ديں ''_(۲)
اس كے بعد مزيد كہتا ہے :''ان سے كہہ و : تم ہرگز ہمارے پيچھے نہ آنا'' تمھيں اس ميدان ميں شركت كرنے كا حق نہيں ہے ،يہ كوئي ايسى بات نہيں ہے جو ميں اپنى طرف سے كہہ رہاہوں '' يہ تو وہ بات ہے جو خدا نے پہلے سے ہى كہہ دى ہے '' _(۳) اور ہميں تمہارے مستقبل (كے بارے ميں ) باخبر كرديا ہے _
خدا نے حكم ديا ہے كہ '' غنائم خيبر''،''اہل حديبيہ '' كے لئے مخصوص ہيں اور اس چيز ميں كوئي بھى ان كے ساتھ شركت نہ كرے ، ليكن يہ بے شرم اور پرا دعا پيچھے رہ جانے والے پھر بھى ميدان سے نہيں ہٹتے اور تمہيں حسد كے ساتھ متہم كرتے ، اور عنقريب وہ يہ كہيں گے : كہ معاملہ اس طرح نہيں ہے بلكہ تم ہم سے حسد كررہے ہو _(۴)
اور اس طرح وہ ضمنى طور پر رسول اكرم (ص) كى تكذيب بھى كرتے تھے يہى لوگ''جنگ خيبر''ميں انھيں شركت سے منع كرنے كى اصل حسد كو شمار كرتے ہيں _
دعائے پيامبر (ص)
''غطفان''كے قبيلہ نے شروع ميں تو خيبر كے يہوديوں كى حمايت كرنے كا ارادہ كيا تھا، ليكن بعد ميں ڈرگئے اور اس سے رك گئے _
____________________
(۱) سورہ فتح آيت ۱۵ (۲) سورہ فتح آيت ۱۵
(۳) سورہ فتح آيت ۱۵ (۴) سورہ فتح آيت
پيغمبر اكرم (ص) جس وقت''خيبر'' كے قلعوں كے نزديك پہنچے تو آپ نے اپنے صحابہ كو ركنے كا حكم ديا، اس كے بعد آسمان كى طرف سربلند كيا اور يہ دعا پڑھي:
''خداوندا اے آسمانوں كے پروردگار اور جن پر انھوں نے سايہ ڈالا ہے، اور اے زمينوں كے پروردگار اور جن چيزوں كو انھوں نے اٹھاركھا ہے ميں تجھ سے اس آبادى اور اس كے اہل ميں جو خير ہے اس كا طلب گارہوں ، اور تجھ سے اس كے شراور اس ميں رہنے والوں كے شر اور جو كچھ اس ميں ہے اس شرسے پناہ مانگتاہوں '' _اس كے بعد فرمايا:'' بسم اللہ ''آگے بڑھو: اور اس طرح سے رات كے وقت ''خيبر'' كے پاس جاپہنچے' اور صبح كے وقت جب ا''ہل خيبر'' اس ماجرا سے باخبر ہوئے تو خود كو لشكر اسلام كے محاصرہ ميں ديكھا، اس كے بعد پيغمبر نے يكے بعد ديگرے ان قلعوں كو فتح كيا،يہاں تك كہ آخرى قلعہ تك ، جو سب سے زيادہ مضبوط اور طاقتور تھا، اور مشہور يہودى كمانڈر''مرحب'' اس ميں رہتا تھا، پہنچ گئے _
انھيں دنوں ميں ايك سخت قسم كا دردسر، جو كبھى كبھى پيغمبر اكرم (ص) كو عارض ہوا كرتا تھا، آپ كو عارض ہوگيا ، اس طرح سے كہ ايك دو دن آپ اپنے خيمہ سے باہر نہ آسكے تو اس موقع پر (مشہور اسلامى تواريخ كے مطابق ) حضرت ابوبكر، نے علم سنبھالا اور مسلمانوں كو ساتھ لے كر يہوديوں كے لشكر پر حملہ آور ہوئے ، ليكن كوئي نتيجہ حاصل كيے بغير واپس پلٹ آئے دوسرى دفعہ '' حضرت عمر'' نے علم اٹھايا، اور مسلمان پہلے دن كى نسبت زيادہ شدت سے لڑے، ليكن بغير كسى نتيجہ كے واپس پلٹ آئے _
فاتح خيبر على عليہ السلام
يہ خبر رسول اكرم (ص) تك پہنچى تو اپ نے فرمايا:''خدا كى قسم كل يہ علم ايسے مرد كو دوں گا جو خدا اور اس كے رسول كو دوست ركھتا ہے، اور خدا اور پيغمبر اس كو دوست ركھتے ہيں ،اور وہ اس سے قلعہ كو طاقت كے زورسے فتح كرے گا ''_ ہرطرف سے گردنيں اٹھنے ليگيں كہ اس سے مرادكون شخص ہے؟ كچھ لوگوں كا اندازہ تھا كہ پيغمبر (ص) كى مراد على عليہ السلام ہيں ليكن على عليہ السلام ابھى وہاں موجود نہيں تھے،كيونكہ شديد آشوب چشم
انہيں لشكر ميں حاضر ہونے سے مانع تھا، ليكن صبح كے وقت على عليہ السلام اونٹ پر سوار ہوكر وارد ہوئے، اور پيغمبر اكرم (ص) كے خيمہ كے پاس اترے درحاليكہ آپ كى آنكھيں شدت كے ساتھ درد كررہى تھيں _
پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا :ميرے نزديك آئو،آپ قريب گئے توانحضرت (ص) نے اپنے دہن مبارك كا لعاب على عليہ السلام كى آنكھوں پر ملا اور اس معجزہ كى بركت سے آپ كى آنكھيں بالكل ٹھيك ہوگئيں اس كے بعد آنحضرت (ص) نے علم ان كے ہاتھ ميں ديا_
على عليہ السلام لشكر اسلام كو ساتھ لے كر خيبر كے سب سے بڑے قلعہ كى طرف بڑھے تو يہوديوں ميں سے ايك شخص نے قلعہ كے اوپر سے پوچھا كہ آپ كون ہيں ؟ آپ نے فرمايا : '' ميں على بن ابى طالب'' ہوں ، اس يہودى نے پكار كر كہا : اے يہوديو اب تمہارى شكست كا وقت آن پہنچا ہے ، اس وقت اس قلعہ كا كمانڈر مرحب يہودى ، على عليہ السلام سے مقابلہ كے لئے نكلا، اور كچھ دير نہ گزرى تھى كہ ايك ہى كارى ضرب سے زمين پر گرپڑا _
مسلمانوں اور يہوديوں كے درميان شديد جنگ شروع ہوگئي، على عليہ السلام قلعہ كے دروازے كے قريب آئے ، اور ايك قوى اورپُر قدرت حركت كے ساتھ دروازے كو اكھاڑا اور ايك طرف پھينك ديا، اور اس زور سے قلعہ كھل گيا اور مسلمان اس ميں داخل ہوگئے اور اسے فتح كرليا ،يہوديوں نے اطاعت قبول كرلي، اور پيغمبر (ص) سے درخواست كى كہ اس اطاعت كے عوض ان كى جان بخشى كى جائے، پيغمبر (ص) نے ان كى درخواست كو قبول كرليا، منقول غنائم اسلامى لشكر كے ہاتھ آئے اور وہاں كى زمينيں اور باغات آپ نے يہوديوں كو اس شرط كے ساتھ سپرد كرديئےہ اس كى آمدنى كا آدھا حصہ وہ مسلمانوں كو ديا كريں گے _
آخركار پيغمبر (ص) نے تواريخ كى نقل كے مطابق غنائم خيبرصرف اہل حديبيہ پر تقسيم كئے، يہاں تك كہ ان لوگوں كے لئے بھى جو حديبيہ ميں موجود تھے اور كسى وجہ سے جنگ خيبر ميں شريك نہ ہوسكے ان كے لئے بھى ايك حصہ قرارديا ، البتہ ايسا آدمى صرف ايك ہى تھا، اور وہ '' جابربن عبداللہ تھا _
فتح مكہ
فتح مكہ نے; تاريخ اسلام ميں ايك ن ى فصل كا اضافہ كياہے اور تقريباً بيس سال كے بعد دشمن كى مقاومتوں كو ہميشہ كے لئے ختم كرديا، حقيقت ميں فتح مكہ سے جزيرة العرب سے شرك و بت پر ستى كى بساط لپيٹ دى گئي ،اور اسلام دنياكے دوسرے ممالك كى طرف حركت كے لئے آمادہ ہوا_
اس واقعہ كا خلاصہ يہ ہے كہ عہد وپيمان اور صلح كے بعد كفار نے عہد شكنى كى اور اس صلح نامہ كونظر انداز كرديا، اور پيغمبر (ص) كے بعض حليفوں كے ساتھ زيادتى كي، آپ(ص) كے حليفوں نے آنحضرت (ص) سے شكايت كى تورسول اللہ (ص) نے اپنے حليفوں كى مددكرنے كا ارادہ كرليا،اور دوسرى طرف مكہ ميں بت پرستى شرك اور نفاق كا جو مركز قائم تھا اس كے ختم ہونے كے تمام حالات فراہم ہوگئے تھے اور يہ ايك ايسا كام تھا جسے ہر حالت ميں انجام دينا ضرورى تھا،اس لئے پيغمبر خدا (ص) كے حكم سے مكہ كى طرف جانے كے لئے آمادہ ہوگئے ،فتح مكہ تين مراحل ميں انجام پائي _
پہلا مرحلہ مقدماتى تھا، يعنى ضرورى قوااور توانائيوں كو فراہم كرنا، زمانہ كے موافق حالات كا انتخاب اور دشمن كى جسمانى و روحانى قوت و توانائي كى مقدار وكيفيت كى حيثيت كے بارے ميں كافى اطلاعات حاصل كرنا تھا_
دوسرا مرحلہ، فتح كے مرحلہ كوبہت ہى ماہرانہ اور ضائعات و تلفات يعنى نقصان كے بغير انجام دينا تھا_ اور آخرى مرحلہ، جو اصلى مرحلہ تھا، وہ اس كے آثار و نتائج كا مرحلہ تھا_
يہ مرحلہ انتہائي دقت، باريك بينى اور لطافت كے ساتھ انجام پايا ، خصوصاً رسول اللہ (ص) نے مكہ و مدينہ كى شاہراہ كو اس طرح سے سے قرق كرليا تھا كہ اس عظيم آمادگى كى خبر كسى طرح سے بھى اہل مكہ كو نہ پہنچ سكي_ اس لئے انہوں نے كسى قسم كى تيار ى نہ كى ،وہ مكمل طور پر غفلت ميں پڑے رہے اور اسى وجہ سے اس مقد س سرزمين ميں اس عظيم حملہ اور بہت بڑى فتح ميں تقريباً كوئي خون نہيں بہا_
يہاں تك كہ وہ خط بھي،جو ايك ضعيف الايمان مسلمان ''حاطب بن ابى بلتعہ''نے قريش كو لكھا تھا اور قبيلہ ''مزينہ'' كى ايك عورت ''كفود''يا ''سارہ''نامى كے ہاتھ مكہ كى طرف روانہ كيا تھا،اعجاز آميز طريقہ سے پيغمبر اكرم (ص) كے لئے آشكار ہوگيا، على عليہ االسلام كچھ دوسرے لوگوں كے ساتھ بڑى تيزى سے اس كے پيچھے روانہ ہوئے، انہوں نے اس عورت كو مكہ و مدينہ كى ايك درميانى منزل ميں جاليا اور اس سے وہ خط لے كر،خود اسے بھى مدينہ واپس لے آئے_
مكہ كى طرف روانگي
بہر حال پيغمبر اكرم (ص) مدينہ ميں اپنا ايك قائم مقام مقرر كر كے ہجرت كے آٹھويں سال ماہ رمضان كى دس تاريخ كو مكہ كى طرف چل پڑے ، اور دس دن كے بعد مكہ پہنچ گئے _
پيغمبر اكرم (ص) نے راستے كے وسط ميں اپنے چچا عباس كو ديكھا كہ وہ مكہ سے ہجرت كركے آپ(ص) كى طرف آرہے ہيں _ حضرت(ص) نے ان سے فرمايا كہ اپنا سامان مدينہ بھيج ديجئے اور خود ہمارے ساتھ چليں ، اور آپ آخرى مہاجر ہيں _
آخر كار مسلمان مكہ كى طرف پہنچ گئے اور شہر كے باہر،اطراف كے بيابانوں ميں اس مقام پر جسے ''مرالظہران''كہا جاتا تھا اور جو مكہ سے چند كلوميٹر سے زيادہ فاصلہ پر نہ تھا،پڑائو ڈال ديا_ اور رات كے وقت كھانا پكانے كے لئے (يا شايد اپنى وسيع پيمانہ پر موجودگى كو ثابت كرنے كے لئے) وہاں آگ روشن كردي، اہل مكہ كا ايك گروہ اس منظر كو ديكھ كر حيرت ميں ڈوب گيا_
ابھى تك پيغمبر اكرم (ص) اور لشكر اسلام كے اس طرف آنے كى خبريں قريش سے پنہاں تھيں _
اس رات اہل مكہ كا سرغنہ ابو سفيان اور مشركين كے بعض دوسرے سرغنہ خبريں معلوم كرنے كے لئے مكہ سے باہر نكلے،اس موقع پر پيغمبر اكرم (ص) كے چچا عباس نے سوچا كہ اگر رسول اللہ (ص) قہرآلود طريقہ پر مكہ ميں وارد ہوئے تو قريش ميں سے كوئي بھى زندہ نہيں بچے گا، انہوں نے پيغمبر اكرم (ص) سے اجازت لئے اور آپ (ص) كى سوارى پر سوار ہوكر كہا ميں جاتاہوں ،شايد كوئي مل جائے تو اس سے كہوں كہ اہل مكہ كو اس ماجرے سے آگاہ كردے تا كہ وہ آكر امان حاصل كرليں _
عباس وہاں روانہ ہوكر بہت قريب پہنچ گئے_ اتفاقاً اس موقع پر انہوں نے ''ابو سفيان''كى آواز سنى جواپنے ايك دوست ''بديل'' سے كہہ رہا تھا كہ ہم نے كبھى بھى اس سے زيادہ آگ نہيں ديكھي، ''بديل'' نے كہا ميرا خيال ہے كہ يہ آگ قبيلہ''خزاعہ''نے جلائي ہوئي ہے، ابوسفيان نے كہا قبيلہ خزاعہ اس سے كہيں زيادہ ذليل وخوار ہيں كہ وہ اتنى آگ روشن كريں ،اس موقع پر عباس نے ابوسفيان كو پكارا، ابوسفيان نے بھى عباس كو پہچان ليا اور كہا سچ سچ بتائو كيا بات ہے؟
عباس نے جواب ديا: يہ رسول اللہ (ص) ہيں جو دس ہزار مجاہدين اسلام كے ساتھ تمہارى طرف آرہے ہيں ، ابو سفيان سخت پريشان ہوا اور كہا آپ مجھے كيا حكم ديتے ہيں _
عباس نے كہا:ميرے ساتھ آئو اور رسول اللہ (ص) سے امان لے لو ورنہ قتل كرديے جائوگے_
اس طرح سے عباس نے''ابوسفيان''كو اپنے ہمراہ رسول اللہ (ص) كى سوارى پر ہى سوار كرليا اور تيزى كے ساتھ رسول اللہ (ص) كى خدمت ميں پلٹ آئے _ وہ جس گروہ اور جس آگ كے قريب سے گزرتے وہ يہى كہتے كہ يہ تو پيغمبر (ص) كے چچا ہيں جو آنحضرت (ص) كى سوارى پر سوار ہيں ،كوئي غير آدمى ہے، يہاں تك كہ وہ اس مقام پر آئے، جہاں عمر ابن خطاب تھے ،جب عمر بن خطاب كى نگاہ ابو سفيان پر پڑى تو كہا خدا كا شكر ہے كہ اس نے مجھے تجھ ( ابوسفيان) پر مسلط كيا ہے، اب تيرے لئے كوئي امان نہيں ہے اور فوراً ہى پيغمبر (ص) كى خدمت ميں آكرآپ (ص) سے ابوسفيان كى گردن اڑانے كى اجازت مانگى _
ليكن اتنے ميں عباس بھى پہنچ گئے اور كہا: كہ اے رسول خدا (ص) ميں نے اسے پنا ہ دے دى ہے
پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا: ميں بھى سر دست اسے امان ديتا ہوں ، كل آپ (ص) اسے ميرے پاس لے آئيں اگلے دن جب عباس اسے پيغمبر (ص) كى خدمت ميں لائے تو رسول اللہ (ص) نے اس سے فرمايا:''اے ابوسفيان وائے ہو تجھ پر، كيا وہ وقت ابھى نہيں آيا كہ تو خدائے يگانہ پر ايمان لے آئے''_
اس نے عرض كيا: ہاں ےا رسول خدا (ص) ميرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ،ميں گواہى ديتاہوں كہ خدا يگانہ ہے اور اس كا كوئي شريك نہيں ہے،اگر بتوں سے كچھ ہو سكتا تو ميں يہ دن نہ ديكھتا_
آنحضرت نے فرمايا:''كيا وہ موقع نہيں آيا كہ تو جان لے كہ ميں اللہ كا رسو ل ہوں ''_
اس نے عرض كي:ميرے ماں باپ آپ پر قربان ہو ں ابھى اس بارے ميں ميرے دل ميں كچھ شك و شبہ موجود ہے ليكن آخر كار ابوسفيان اور اس كے ساتھيوں ميں سے دو آدمى مسلمان ہوگئے_
پيغمبر اكرم (ص) نے عباس سے فرمايا:
''ابوسفيان كو اس درہ ميں جو مكہ كى گزرگاہ ہے، لے جائو تاكہ خدا كا لشكر وہاں سے گزرے اور يہ ديكھ لے''_
عباس نے عرض كيا:''ابوسفيان ايك جاہ طلب آدمى ہے،اسكو كوئي امتيازى حيثيت دے ديجئے''پيغمبر (ص) نے فرمايا:''جو شخص ابوسفيان كے گھر ميں داخل ہوجائے وہ امان ميں ہے،جوشخص مسجد الحرام ميں پناہ لے لے وہ امان ميں ہے،جو شخص اپنے گھر كے اندر ہے اور دروازہ بند كرلے وہ بھى امان ميں ہے''_
بہر حال جب ابوسفيان نے اس لشكر عظيم كو ديكھا تو اسے يقين ہوگيا كہ مقابلہ كرنے كى كوئي راہ باقى نہيں رہى او راس نے عباس كى طرف رخ كركے كہا:آپ كے بھتيجے كى سلطنت بہت بڑى ہوگئي ہے،عباس نے كہا: وائے ہو تجھ پر يہ سلطنت نہيں نبوت ہے_
اس كے بعدعباس نے اس سے كہا كہ اب تو تيزى كے ساتھ مكہ والوں كے پاس جاكر انہيں لشكر اسلام كا مقابلہ كرنے سے ڈرا_
ابوسفيان; لوگوں كو تسليم ہونے كى دعوت كرتاہے
ابوسفيان نے مسجدالحرام ميں جاكر پكار كر كہا:
''اے جمعيت قريش محمد ايك بہت بڑے لشكر كے ساتھ تمہارى طرف آيا ہے،تم ميں اس كا مقابلہ كرنے كى طاقت نہيں ہے، اس كے بعد اس نے كہا: جو شخص ميرے گھر ميں داخل ہوجائے وہ امان ميں ہے،جو شخص مسجد الحرام ميں چلا جائے وہ بھى امان ميں ہے اور جو شخص اپنے گھر ميں رہتے ہوئے گھر كا دروازہ بندكرے وہ بھى امان ميں ہے''_
اس كے بعد اس نے چيخ كر كہا: اے جمعيت قريش اسلام قبول كرلو تا كہ سالم رہو اور بچ جائو، اس كى بيوي''ہندہ''نے اس كى داڑھى پكڑلى اور چيخ كر كہا:اس بڈھے احمق كو قتل كردو_
ابوسفيان نے كہا: ميرى داڑھى چھوڑدے_ خدا كى قسم اگر تو اسلام نہ لائي تو تو بھى قتل ہو جائے گي،جاكر گھر ميں بيٹھ جا_
على عليہ السلام كے قدم دوش رسول (ص) پر
اس كے بعد پيغمبر اسلام (ص) لشكر اسلام كے ساتھ روانہ ہوئے اور ''ذوى طوي''كے مقام تك پہنچ گئے،وہى بلند مقام جہاں سے مكہ كے مكانات صاف نظرآتے ہيں ،پيغمبر (ص) كو وہ دن ياد آگيا جب آپ مجبور ہوكر مخفى طور پر مكہ سے باہر نكلے تھے، ليكن آج ديكھ رہے ہيں كہ اس عظمت كے ساتھ داخل ہورہے ہيں ،تو آپ نے اپنى پيشانى مبارك اونٹ كے كجاوے كے اوپر ركھ دى او رسجدہ شكر بجا لائے،اس كے بعد پيغمبر اكرم(ص) ''حجون'' ميں (مكہ كے بلند مقامات ميں سے وہ جگہ جہاں خديجہ(ع) كى قبر ہے) اترے، غسل كر كے اسلحہ اور لباس جنگ پہن كر اپنى سوار ى پر سوار ہوئے،سورہ فتح كى قرائت كرتے ہوئے مسجدالحرام ميں داخل ہوئے اور آواز تكبير بلند كي، لشكر اسلام نے بھى نعرہ تكبير بلندكيا تو اس سے سارے دشت و كوہ گونج اٹھے_ اس كے بعد آپ اپنے اونٹ سے نيچے اترے اور بتوں كو توڑنے كے لئے خانہ كعبہ كے قريب آئے، آپ يكے بعد
ديگرے بتوں كو سرنگوں كرتے جاتے تھے اور فرماتے جاتھے:
''جاء الحق و زهق الباطل ان الباطل كان زهوقاً''
''حق آگيا اور باطل ہٹ گيا،اور باطل ہے ہى ہٹنے والا''_
كچھ بڑے بڑے بت كعبہ كے اوپر نصب تھے، جن تك پيغمبر(ص) كا ہاتھ نہيں پہنچتاتھا،آپ(ص) نے اميرالمومنين على عليہ السلام كو حكم ديا وہ ميرے دوش پر پائوں ركھ كر اوپر چڑھ جائيں اور بتوں كو زمين پر گرا كر توڑڈاليں ، على عليہ السلام نے آپ كے حكم كى اطاعت كي_
اس كے بعد آپ نے خانہ كعبہ كى كليد لے كر دروازہ كھولا اور انبياء كى ان تصويروں كو جو خانہ كعبہ كے اندر دروديوار پر بنى ہوئي تھيں ، محو كرديا_ اس سريع اور شاندا ركاميابى كے بعد پيغمبر (ص) نے خانہ كعبہ كے دروازے كے حلقہ ميں ہاتھ ڈالا اور وہاں پر موجود اہل مكہ كى طرف رخ كركے فرمايا:
''اب بتلائو تم كيا كہتے ہو؟ اور تمہارا كيا خيال ہے كہ ميں تمہارے بارے ميں كيا حكم دوں گا؟ انہوں نے عرض كيا: ہم آپ سے نيكى اور بھلائي كے سواراور كوئي توقع نہيں ركھتےآپ(ص) ہمارے بزرگواربھائي اور ہمارے بزرگوار بھائي كے فرزند ہيں ،آج آپ بر سر اقتدار آگئے ہيں ، ہيں بخش ديجئے ،پيغمبر (ص) كى آنكھوں ميں آنسو ڈبڈبانے لگے اورمكہ كے لوگ بھى بلند آواز كے ساتھ رونے لگے_
پيغمبر اكرم (ص) نے فرمايا: ''ميں تمہارے بارے ميں وہى بات كہتا ہوں جو ميرے بھائي يوسف عليہ السلام نے كى تھى كہ آج تمہارے اوپر كسى قسم كى كوئي سرزنش اور ملامت نہيں ہے، خدا تمہےں بخش دے گا،وہ الرحم الراحمين ہے''_(۱)
اور اس طرح سے آپ نے ان سب كو معاف كرديا اور فرمايا: ''تم سب آزاد ہو،جہاں چاہو جاسكتے ہو''_
____________________
(۱)سورہ يوسف آيت ۹۲
آج كا دن روز رحمت ہے
پيغمبر (ص) نے يہ حكم دياتھا كہ آپ كے لشكرى كسى سے نہ الجھيں اور بالكل كوئي خون نہ بہايا جائے_ ايك روايت كے مطابق صرف چھ افراد كو مستثنى كيا گيا جو بہت ہى بد زبان اور خطرناك لوگ تھے_
يہاں تك كہ جب آپ(ص) نے يہ سنا كہ لشكر اسلام كے علمدار''سعد بن عبادہ نے انتقام كا نعرہ بلند كيا ہے اور وہ يہ كہہ رہا ہے كہ:'' آج انتقام كا دن ہے'' تو پيغمبر (ص) نے على عليہ السلام سے فرمايا، ''جلدى سے جاكر اس سے علم لے كر يہ نعرہ لگائو كہ:
'' آج عفو وبخشش اور رحمت كا دن ہے''_
اور اس طرح مكہ كسى خونريزى كے بغير فتح ہوگيا،عفوورحمت اسلام كى اس كشش نے،جس كى انہيں بالكل توقع نہيں تھي،دلوں پر ايسا اثر كيا كہ لوگ گروہ در گروہ آكر مسلمان ہوگئے،اس عظيم فتح كى صدا تمام جزائر عربستان ميں جاپہنچي،اسلام كى شہرت ہر جگہ پھيل گئي اور مسلمانوں اور اسلام كى ہر جہت سے دھاك بيٹھ گئي _
جب پيغمبر اكرم (ص) خانہ كعبہ كے دروازے كے سامنے كھڑے ہوئے تھے تو آپ نے فرمايا:
''خداكے سوا اور كوئي معبود نہيں ہے،وہ يكتا اور يگانہ ہے،اس نے آخر كار اپنے وعدہ كو پورا كرديا، اور اپنے بندہ كى مددكي،اور اس نے خود اكيلے ہى تمام گروہوں كو شكست دےدي، ان لوگوں كا ہر مال ،ہر امتياز ،اورہر وہ خون جس كاتعلق ماضى اور زمانہ جاہليت سے ہے،سب كے سب ميرے ان دونوں قدموں كے نيچے ہيں ''_
(يعنى زمانہ جاہليت ميں ہوئے خون خرابہ كو بھول جاو ،غارت شدہ اموال كى بات نہ كرو اور زمانہ جاہليت كے تمام امتيازات كو ختم كر ڈالو، خلاصہ گذشتہ فائلوں كو بند كر ديا جائے _)
يہ ايك بہت ہى اہم اور عجيب قسم كى پيش نہاد تھى جس ميں عمومى معافى كے فرمان سے حجاز كے لوگوں كو
ان كے تاريك اور پُر ماجرا ماضى سے كاٹ كر ركھ ديا اور انہيں اسلام كے سائے ميں ايك نئي زندگى بخشى جو ماضى سے مربوط كشمكشوں اور جنجالوں سے مكمل طور پر خالى تھي_
اس كام نے اسلام كى پيش رفت كے سلسلہ ميں بہت زيادہ مد دكى اور يہ ہمارے آج اور آنے والے كل كے لئے ايك دستو رالعمل ہے_
عورتوں كى بيعت كے شرائط
پيغمبر اكرم (ص) نے كوہ صفا پر قيام فرمايا،او رمردوں سے بيعت لي،بعدہ مكہ كى عورتيں جو ايمان لے آئي تھيں بيعت كرنے كے لئے آپ(ص) كى خدمت ميں حاضر ہوئيں تووحى الہى نازل ہوئي اور ان كى بيعت كى تفصيل بيان كى _
روئے سخن پيغمبر (ص) كى طرف كرتے ہوئے فرماتا ہے :
''اے پيغمبر جب مومن عورتيں تيرے پاس آئيں او ران شرائط پر تجھ سے بيعت كرليں كہ وہ كسى چيز كو خداكا شريك قرار نہيں ديں گي، چورى نہيں كريں گى ،زنا سے آلودہ نہيں ہوں گي،اپنى اولاد كو قتل نہيں كريں گي،اپنے ہاتھوں اورپائوں كے آگے كوئي افتراء اور بہتان نہيں باندھيں گى اور كسى شائستہ حكم ميں تيرى نافرمانى نہيں كريں گى تو تم ان سے بيعت لے لو اوران كے لئے بخشش طلب كرو،بيشك خدا بخشنے ،والا اورمہربان ہے_ ''(۱)
اس كے بعد پيغمبر (ص) نے ان سے بيعت لي_
بيعت كى كيفيت كے بارے ميں بعض مورخين نے لكھا ہے كہ پيغمبر (ص) نے پانى كاايك برتن لانے كا حكم ديا او راپنا ہاتھ پانى كے اس برتن ميں ركھ ديا،عورتيں اپنے ہاتھ برتن كے دوسرى طرف ركھ ديتى تھيں ،جب كہ بعض نے كہا ہے پيغمبر (ص) لباس كے اوپر سے بيعت ليتے تھے _
____________________
(۱)سورہ ممتنحہ آيت ۱۲
ابوسفيان كى بيوى ہندہ كى بيعت كا ماجرا
فتح مكہ كے واقعہ ميں جن عورتوں نے پيغمبر (ص) كى خدمت ميں حاضر ہوكر بيعت كى ان ميں سے ايك ابو سفيان كى بيوي''ہندہ''تھي، يعنى وہ عورت جس كى طرف سے تاريخ اسلام بہت سے دردناك واقعات محفوظ ركھے ہوئے ہے،ا ن ميں سے ايك ميدان احد ميں حمزہ سيدالشہداء (ع) كى شہادت كا واقعہ ہے كہ جس كى كيفيت بہت ہى غم انگيز ہے _
اگرچہ آخركاروہ مجبور ہوگئي كہ اسلام اور پيغمبر اسلام (ص) كے سامنے گھٹنے ٹيك دے او رظاہراً مسلمان ہو جائے ليكن اسكى بيعت كا ماجرا بتاتا ہے كہ وہ حقيقت ميں اپنے سابقہ عقائد كى اسى طرح وفادار تھى ،لہذا اس ميں تعجب كى كوئي بات نہيں ہے كہ بنى اميہ كا خاندان اور ہندہ كى اولادنے پيغمبر (ص) كے بعد اس قسم كے جرائم كا ارتكاب كيا كہ جن كى سابقہ زمانہ ميں كوئي نظير نہيں ملتى _
بہر حال مفسرين نے اس طرح لكھا ہے كہ ہند ہ نے اپنے چہرے پر نقاب ڈالا ہوا تھا وہ پيغمبر (ص) كى خدمت ميں اس وقت حاضر ہوئي جب آپ كوہ صفا پر تشريف فرما تھے اور عورتوں كى ايك جماعت ہندہ كے ساتھ تھي، جب پيغمبر (ص) نے يہ فرماياكہ ميں تم عورتوں سے اس بات پر بيعت لتيا ہوں كہ تم كسى چيز كو خدا كا شريك قرار نہيں دو گي، تو ہندہ نے اعتراض كيا او ركہا:''آپ ہم سے ايسا عہد لے رہے ہيں جو آپ نے مردوں سے نہيں ليا ، (كيونكہ اس دن مردوں سے صرف ايمان اورجہاد پربيعت لى گئي تھى _)
پيغمبر (ص) نے اس كى بات كى پرواہ كئے بغير اپنى گفتگو كو جارى فرمايا:''كہ تم چورى بھى نہيں كرو گي،''ہند ہ نے كہا: ابو سفيان كنجوس اوربخيل آدمى ہے ميں نے اس كے مال ميں سے كچھ چيزيں لى ہيں ، ميں نہيں جانتى كہ وہ انھيں مجھ پر حلال كرے گا يا نہيں ابو سفيان موجود تھا ،اس نے كہا: جو كچھ تو نے گذشتہ زمانہ ميں ميرے مال ميں سے لے ليا ہے وہ سب ميں نے حلال كيا ،(ليكن آئندہ كے لئے پابندى كرنا _)
اس موقع پر پيغمبر (ص) ہنسے اور ہندہ كو پہچان كر فرمايا:''كيا تو ہندہ ہے''؟ اس نے كہا :جى ہاں ،يا
رسول اللہ پچھلے امور كو بخش ديجئے خدا آپ كو بخشے ''_
پيغمبر (ص) نے اپنى گفتگو كو جارى ركھا:''او رتم زنا سے آلودہ نہيں ہوگي،''ہندہ نے تعجب كرتے ہوئے كہا:''كيا آزاد عورت اس قسم كا عمل بھى انجام ديتى ہے؟''حاضرين ميں سے بعض لوگ جو زمانہ جاہليت ميں اس كى حالت سے واقف تھے اس كى اس بات پر ہنس پڑے كيونكہ ہندہ كا سابقہ زمانہ كسى سے مخفى نہيں تھا_
پھر پيغمبر (ص) نے اپنى بات كو جارى ركھتے ہوئے فرمايا:
''اور تم اپنى اولاد كو قتل نہيں كروگى ''_
ہند نے كہا:''ہم نے تو انھيں بچپن ميں پالا پوسا تھا،مگر جب وہ بڑے ہوئے تو آپ نے انھيں قتل كرديا، اب آپ او روہ خود بہتر جانتے ہيں ''_( اس كى مراد اس كا بيٹا ''حنظلہ''تھا جو بدر كے دن على عليہ السلام كے ہاتھوں ماراگيا تھا_)
پيغمبر (ص) نے اس كى اس بات پر تبسم فرمايا، او رجب آپ اس بات پر پہنچے او رفرمايا:
''تم بہتان او رتہمت كو روا نہيں ركھوگى ''_
تو ہندہ نے كہا:''بہتان قبيح ہے او رآپ ہميں صلاح و درستى ،نيكى او رمكارم اخلاق كے سوا او ركسى چيز كى دعوت نہيں ديتے''_
جب آپ نے يہ فرمايا:
''تم تمام اچھے كاموں ميں ميرے حكم كى اطاعت كروگى ''_تو ہندہ نے كہا:''ہم يہاں اس لئے نہيں بيٹھے ہيں كہ ہمارے دل ميں آپ كى نافرمانى كاارادہ ہو''_
(حالانكہ مسلمہ طور پر معاملہ اس طرح نہيں تھا، ليكن تعليمات اسلامى كے مطابق پيغمبر (ص) اس بات كے پابند تھے كہ ان كے بيانات كو قبول كرليں _
۱۰ حضرت رسول اكرم (ص)
پيغمبر (ص) كے خطوط دنيا كے بادشاہوں كے نام
تاريخ اسلام سے معلوم ہوتا ہے كہ جب سرزمين حجاز ميں اسلام كافى نفوذ كرچكا تو پيغمبراكرم(ص) نے اس زمانے كے بڑے بڑے حكمرانوں كے نام كئي خطوط روانہ كيے _ ان ميں بعض خطوط ميں كا سہارا ليا گيا ہے ،جس ميں آسما نى اديان كى قدر مشترك كا تذكرہ ہے_
مقوقس(۱)
كے نام خط مقوقس مصر كا حاكم تھا پيغمبر اسلام (ص) نے دنيا كے بڑے بڑے بادشاہوں او رحكام كو خطوط لكھے او رانہيں اسلام كى طرف دعوت دي،حاطب بن ابى بلتعہ كو حاكم مصر مقوقس كى طرف يہ خط دے كرروانہ كيا_
بسم اللّه الرحمن الرحيم
من: محمد بن عبداللّه
الي: المقوقس عظيم القبط
سلام على من اتبع الهدى ،اما بعد:''فانى ادعوك بدعايةالاسلام
اسلم تسلم،يو تك اللّه اجرك مرتين، فان توليت فانما عليكم اثم
____________________
(۱)''مقوقس''(بہ ضم ميم وبہ فتحہ ہردو ''قاف'')''ہرقل ''بادشاہ روم كى طرف سے مصر كا والى تھا_
القبط ، . يا اهل الكتب تعالواالى كلمة سواء بيننا و بينكم'' ان لا نعبد الا اللّه ولا نشرك به شيئاً ولا تتخذ بعضنا بعضاً ارباباً من دون اللّه ،فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون'' _
اللہ كے نام سے جو بخشنے والا بڑا مہربان ہے _
از _ _ _ محمد بن عبد اللہ
بطرف_ _ _ قبطيوں كے مقوقس بزرگ _
حق كے پيروكاروں پر سلام ہو_
ميں تجھے اسلام كى دعوت ديتا ہوں _ اسلام لے آئو تاكہ سالم رہو _ خدا تجھے دوگنا اجر دے گا _ (ايك خود تمہارے ايمان لانے پر اوردوسراان لوگوں كى وجہ سے جو تمہارى پيروى كركے ايمان لائيں گے ) او راگر تو نے قانون اسلام سے روگردانى كى تو قبطيوں كے گناہ تيرے ذمہ ہوں گے __اے اہل كتاب ہم تمہيں ايك مشترك بنيادكى طرف دعوت ديتے ہيں او روہ يہ كہ ہم خدائے يگانہ كے سوا كسى كى پرستش نہ كريں اور كسى كو اس كا شريك قرار نہ ديں حق سے روگردانى نہ كريں تو ان سے كہو كہ گواہ رہو ہم تم مسلمان ہيں ''_
پيغمبر (ص) كا سفير مصر كى طرف روانہ ہوا، اسے اطلاع ملى كہ حاكم مصر اسكندريہ ميں ہے لہذا وہ اس وقت كے ذرائع آمد ورفت كے ذريعے اسكندريہ پہنچا او رمقوقس كے محل ميں گيا، حضرت كا خط اسے ديا ، مقوقس نے خط كھول كر پڑھا كچھ دير تك سوچتا رہا، پھر كہنے لگا:''اگر واقعاً محمد(ص) خدا كا بھيجا ہوا ہے تو اس كے مخالفين اسے اس كى پيدائش كى جگہ سے باہر نكالنے ميں كيوں كامياب ہوئے او روہ مجبور ہوا كہ مدينہ ميں سكونت اختيار كرے؟ ان پر نفرين او ربد دعا كيوں نہيں كى تاكہ وہ نابود ہو جاتے؟''
پيغمبر (ص) كے قاصد نے جواباً كہا:
''حضرت عيسى عليہ السلام خدا كے رسول تھے اور آپ بھى ان كى حقانيت كى گواہى ديتے ہيں ، بنى اسرائيل نے جب ان كے قتل كى سازش كى توآپ نے ان پر نفرين اور بد دعا كيوں نہيں كى تاكہ خدا انہيں
ہلاك كرديتا؟
يہ منطق سن كر مقو قس تحسين كرنے لگا اور كہنے لگا :
''احسنت انت حكيم من عند حكيم ''
''افرين ہے ،تم سمجھ دار ہو اور ايك صاحب حكمت كى طرف سے ائے ہو ''
حاطب نے پھر گفتگو شروع كى اور كہا :
''اپ سے پہلے ايك شخص (يعنى فرعون )اس ملك پر حكومت كرتا تھا ،وہ مدتوں لوگوں ميں اپنى خدائي كا سودا بيچتا رہا ،بالاخر اللہ نے اسے نابود كر ديا تاكہ اس كى زندگى اپ كے لئے باعث عبرت ہو ليكن اپ كوشش كريں كہ اپ كى زندگى دوسروں كے لئے نمونہ بن جائے''_
''پيغمبر (ص) نے ہميں ايك پاكيزہ دين كى طرف دعوت دى ہے ، قريش نے ان سے بہت سخت جنگ كى او ران كے مقابل صف آراء ہوئے، يہودى بھى كينہ پرورى سے ان كے مقابلے ميں آكھڑے ہوئے او راسلام سے زيادہ نزديك عيسائي ہيں _ ''
مجھے اپنى جان كى قسم جيسے حضرت موسى عليہ السلام نے حضرت عيسى عليہ السلام كى نبوت كى بشارت دى تھى اس طرح حضرت عيسى عليہ السلام حضرت محمد كے مبشر تھے ، ہم آپ لوگوں نے تو ريت كے ماننے والوں كو انجيل كى دعوت دى تھى ،جوقوم پيغمبرحق كى دعوت كو سنے اسے چاہئے كہ اس كى پيروى كرے ،ميں نے محمد كى دعوت آپ كى سرزمين تك پہنچادى ہے، مناسب يہى ہے كہ آپ او رمصرى قوم يہ دعوت قبول كر لے''_
حاطب كچھ عرصہ اسكندريہ ہى ميں ٹھہرا تاكہ رسول اللہ (ص) كے خط كا جواب حاصل كرے ،چند روز گزر گئے، ايك دن مقوقس نے حاطب كو اپنے محل ميں بلايا او رخواہش كى كہ اسے اسلام كے بارے ميں كچھ مزيد بتايا جائے_
حاطب نے كہا:
''محمد (ص) ہميں خدانے يكتا ئي پرستش كى دعوت ديتے ہيں او رحكم ديتے ہيں كہ لوگ روزوشب
ميں پانچ مرتبہ اپنے پروردگار سے قريبى رابطہ پيدا كريں او رنماز پڑھيں ،پيمان پورے كريں ،خون او رمردار كھانے سے اجتناب كريں ''_
علاوہ ازيں حاطب نے پيغمبر اسلام (ص) كى زندگى كى بعض خصوصيات بھى بيان كيں _
مقوقس كہنے لگا:
''يہ تو بڑى اچھى نشانياں ہيں _ ميرا خيال تھا كہ خاتم النبيين سرزمين شام سے ظہور كريں گے جو انبياء عليہم السلام كى سرزمين ہے،اب مجھ پر واضح ہوا كہ وہ سر زمين حجاز سے مبعوث ہوئے ہيں ''_
اس كے بعد اس نے اپنے كاتب كو حكم ديا كہ وہ عربى زبان ميں اس مضمون كا خط تحرير كرے:
بخدمت : محمد بن عبد اللہ _
منجانب: قبطيوں كے بزرگ مقوقس _
''آپ پر سلام ہو،ميں نے آپ كاخط پڑھا ،آپ كے مقصد سے باخبر ہوااو رآپ كى دعوت كى حقيقت كو سمجھ ليا،ميں يہ تو جانتا تھا كہ ايك پيغمبر (ص) ظہور كرے گا ليكن ميرا خيال تھا كہ وہ خطہ شام سے مبعوث ہوگا، ميں آ پ كے قاصد كا احترام كرتا ہوں ''_
پھر خط ميں ان ہديوں اور تحفوں كى طرف اشارہ كيا جواس نے آپ كى خدمت ميں بھيجے ،خط اس نے ان الفاظ پر تمام كيا_
''آپ پر سلام ہو''
تاريخ ميں ہے كہ مقوقس نے كوئي گيارہ قسم كے ہديے پيغمبر (ص) كے لئے بھيجے ، تاريخ اسلام ميں ان كى تفصيلات موجود ہيں ،ان ميں سے ايك طبيب تھا تاكہ وہ بيما ر ہونے والے مسلمانوں كا علاج كرے، نبى اكرم (ص) نے ديگر ہديئے قبول فرمايائے ليكن طبيب كو قبول نہ كيا او رفرمايا:''ہم ايسے لوگ ہيں كہ جب تك بھوك نہ لگے كھانا نہيں كھاتے او رسير ہونے سے پہلے كھانے سے ہاتھ روك ليتے ہيں ، يہى چيز ہمارى صحت و سلامتى كے لئے كافى ہے، شايد صحت كے اس عظيم اصول كے علاوہ پيغمبر اسلام (ص) اس طبيب كى وہاں
موجودگى كو درست نہ سمجھتے ہوں كيونكہ وہ ايك متعصب عيسائي تھا لہذا آپ نہيں چاہتے تھے كہ اپنى او رمسلمانوں كى جان كا معاملہ اس كے سپرد كرديں _
مقوقس نے جو سفير پيغمبر (ص) كا احترام كيا،آپ كے لئے ہديے بھيجے او رخط ميں نام محمد اپنے نام سے مقدم ركھا يہ سب اس بات كى حكايت كرتے ہيں كہ اس نے آپ كى دعوت كو باطن ميں قبول كرليا تھا يا كم از كم اسلام كى طر ف مائل ہوگيا تھا ليكن اس بناء پركہ اس كى حيثيت او روقعت كو نقصان نہ پہنچے ظاہرى طو رپراس نے اسلام كى طرف اپنى رغبت كا اظہار نہ كيا _
قيصر روم كے نام خط
بسم اللّه الرحمن الرحيم
من:محمد بن عبداللّه
الي: هرقل عظيم الرّوم
سلام على من اتبع الهدى
اما بعد:فانى ادعوك بدعايةالاسلام_
اسلم تسلم،يو تك اللّه اجرك مرتين، فان توليت فانما عليكم اثم القبط،___يا اهل الكتب تعالواالى كلمة سواء بيننا و بينكم'' ان لا نعبد الا اللّه ولا نشرك به شيئاً ولا تتخذ بعضنا بعضاً ارباباً من دون اللّه ،فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون'' _
اللہ كے نام سے جو بخشنے والا بڑا مہربان ہے_
منجانب: محمدبن عبد اللہ _
بطرف: ہرقل بادشاہ روم_
''اس پر سلام ہے جو ہدايت كى پيروى كرے_ميں تجھے اسلام كى دعوت ديتا ہوں _ اسلام لے آئو تاكہ سالم رہو _ خدا تجھے دوگنا اجر دے گا _ (ايك خود تمہارے ايمان لانے پر اوردوسراان لوگوں كى وجہ سے جو تمہارى پيروى كركے ايمان لائيں گے ) او راگر تو نے قانون اسلام سے روگردانى كى تو اريسوں كا گناہ بھى تيرى گردن پر ہوگا_اے اہل كتاب ہم تمہيں ايك مشترك بنيادكى طرف دعوت ديتے ہيں او روہ يہ كہ ہم خدائے يگانہ كے سوا كسى كى پرستش نہ كريں اور كسى كو اس كا شريك قرار نہ ديں حق سے روگردانى نہ كريں تو ان سے كہو كہ گواہ رہو ہم تم مسلمان ہيں ''_
قيصر كے پاس نبى اكرم (ص) كا پيغام پہنچانے كے لئے ''دحيہ كلبي'' مامور ہوا سفيرپيغمبر(ص) عازم روم ہوا_
قيصركے دارالحكومت قسطنطنيہ پہنچنے سے پہلے اسے معلوم ہوا كہ قيصربيت المقدس كى زيارت كے ارادے سے قسطنطنيہ چھوڑ چكا ہے، لہذا اس نے بصرى كے گور نر حادث بن ابى شمر سے رابطہ پيداكيا اور اسے اپنامقصد سفر بتايا ظاہراً پيغمبر اكرم (ص) نے بھى اجازت دے ركھى تھى كہ دحيہ وہ خط حاكم بصرى كو ديدے تاكہ وہ اسے قيصرتك پہنچادے سفير پيغمبر (ص) نے گورنر سے رابطہ كيا تو اس نے عدى بن حاتم كو بلايا اور اسے حكم ديا كہ وہ دحيہ كے ساتھ بيت المقدس كى طرف جائے اور خط قيصر تك پہنچا دے مقام حمص ميں سفير كى قيصر سے ملاقات ہوئي ليكن ملاقات سے قبل شاہى دربار كے كاركنوں نے كہا:
''تمہيں قيصر كے سامنے سجدہ كرنا پڑے گا ورنہ وہ تمہارى پرواہ نہيں كرے گا ''
دحيہ ايك سمجھدار آدمى تھا كہنے لگا :
''ميں ان غير مناسب بدعتوں كوختم كرنے كے لئے اتنا سفر كر كے آيا ہوں _ ميں اس مراسلے كے بھيجنے والے كى طرف سے آيا ہوں تا كہ قيصر كو يہ پيغام دوں كہ بشر پرستى كو ختم ہونا چاہئے او رخدا ئے واحد كے سواكسى كى عبادت نہيں ہونى چاہيے ، اس عقيدے كے باوجود كيسے ممكن ہے كہ ميں غير خدا كے لئے سجدہ
كروں ''_
پيغمبر (ص) كے قاصد كى قوى منطق سے وہ بہت حيران ہوئے ،درباريوں ميں سے ايك نے كہا:
''تمہيں چاہئے كہ خط بادشاہ كى مخصوص ميز پر ركھ كر چلے جائو، اس ميز پر ركھے ہوئے خط كو قيصر كے علاوہ كوئي نہيں اٹھا سكتا''_
دحيہ نے اس كا شكريہ اداكيا ،خط ميز پر ركھا اورخودواپس چلا گيا،قيصر نے خط كھولا ،خط نے جو''بسم اللہ'' سے شروع ہوتا تھا اسے متوجہ كيا اور كہنے لگا_
''حضرت سليمان عليہ السلام كے خط كے سوا آج تك ميں نے ايسا خط نہيں ديكھا ''
اس نے اپنے مترجم كو بلايا تا كہ وہ خط پڑھے او راس كا ترجمہ كرے ،بادشاہ روم كو خيال ہوا كہ ہو سكتا ہے خط لكھنے والا وہى نبى ہو جس كاوعدہ انجيل او رتوريت ميں كيا گيا ہے، وہ اس جستجو ميں لگ گيا كہ آپ كى زندگى كى خصوصيات معلوم كرے، اس نے حكم ديا كہ شام كے پورے علاقے ميں چھان بين كى جائے،شايد محمد كے رشتہ داروں ميں سے كوئي شخص مل جائے جو ان كے حالات سے واقف ہو ،اتفاق سے ابوسفيان او رقريش كا ايك گروہ تجارت كے لئے شام آيا ہوا تھا، شام اس وقت سلطنت روم كامشرقى حصہ تھا، قيصر كے آدميوں نے ان سے رابطہ قائم كيا او رانہيں بيت المقدس لے گئے،قيصر نے ان سے سوال كيا :
كيا تم ميں سے كوئي محمد كا نزديكى رشتہ دار ہے ؟
ابو سفيان نے كہا :
ميں اور محمد ايك ہى خاندان سے ہيں او رہم چوتھى پشت ميں ايك درسرے سے مل جاتے ہيں _
پھرقيصر نے اس سے كچھ سوالات كئے دونوں ميں يوں گفتگو ہوئي''
قيصر: اس كے بزرگوں ميں سے كوئي حكمران ہوا ہے؟
ابوسفيان: نہيں _
قيصر: كيا نبوت كے دعوى سے پہلے وہ جھوٹ بولنے سے اجتناب كرتا تھا؟
ابوسفيان: ہاں محمد راست گو او رسچا انسان ہے_
قيصر: كونسا طبقہ اس كا مخالف ہے اور كونسا موافق؟
ابوسفيان: اشراف اس كے مخالف ہيں ، عام او رمتوسط درجے كے لوگ اسے چاہتے ہيں _
قيصر: اس كے پيروكاروں ميں سے كوئي اس كے دين سے پھرا بھى ہے؟
ابوسفيان: نہيں _
قيصر: كيا اس كے پيروكار روز بروز بڑھ رہے ہيں ؟
ابوسفيان:ہاں _
اس كے بعد قيصر نے ابوسفيان او راس كے ساتھيوں سے كہا:
''اگر يہ باتيں سچى ہيں تو پھر يقينا وہ پيغمبر موعود ہيں ، مجھے معلوم تھا كہ ايسے پيغمبر كا ظہور ہوگا ليكن مجھے يہ پتہ نہ تھا كہ وہ قريش ميں سے ہوگا، ميں تيار ہوں كہ اس كے لئے خضوع كروں او راحترام كے طور پر اس كے پائوں دھوو ں ،ميں پيش گوئي كرتا ہوں كہ اس كا دين او رحكومت سرزمين روم پر غالب آئے گي''_
پھر قيصر نے دحيہ كو بلايا او راس سے احترام سے پيش آيا، پيغمبر اكرم (ص) كے خط كا جواب لكھا او رآپ كے لئے دحيہ كے ذريعے ہديہ بھيجااورآپ كے نام اپنے خط ميں آپ سے اپنى عقيدت او رتعلق كا اظہار كيا_
يہ بات جاذب نظر ہے كہ جس وقت پيغمبرا كرم (ص) كا قاصد آنحضرت(ص) كا خط لے كر قيصر روم كے پاس پہونچا تو اس نے خصوصيت كے ساتھ آپ كے قاصد كے سامنے اظہار ايمان كيا يہاں تك كہ وہ روميوں كو اس دين توحيد و اسلام كى دعوت دينا چاہتا تھا، اس نے سوچا كہ پہلے ان كى آزمائش كى جائے، جب اس كى فوج نے محسوس كيا كہ وہ عيسائيت كو ترك كردينا چاہتا ہے تو اس نے اس كے قصر كا محاصرہ كرليا، قيصر نے ان سے فوراً كہا كہ ميں تو تمہيں آزمانا چاہتا تھا اپنى جگہ واپس چلے جائو_
جنگ ذات السلاسل
ہجرت كے آٹھويں سال پيغمبراكرم (ص) كو خبر ملى كہ بارہ ہزار سوار سرزمين ''يابس''ميں جمع ہيں ، اور انہوں نے ايك دوسرے كے ساتھ يہ عہد كيا ہے كہ جب تك پيغمبراكرم (ص) او رعلى عليہ السلام كو قتل نہ كرليں او رمسلمانوں كى جماعت كو منتشر نہ كرديں آرام سے نہيں بيٹھيں گے _ پيغمبر اكرم (ص) نے اپنے اصحاب كى ايك بہت بڑى جماعت كو بعض صحابہ كى سركردگى ميں ان كى جانب روانہ كيا ليكن وہ كافى گفتگو كے بعد بغير كسى نتيجہ كے واپس آئے_
آخر كار پيغمبر اكرم (ص) نے على عليہ السلام كو مہاجرين وانصار كے ايك گروہ كثير كے ساتھ ان سے جنگ كرنے كے لئے بھيجا، وہ بڑى تيزى كے ساتھ دشمن كے علاقہ كى طرف روانہ ہوئے او ررات بھر ميں سارا سفر طے كر كے صبح دم دشمن كو اپنے محاصرہ ميں لے ليا، پہلے تو ان كے سامنے اسلام كو پيش كيا، جب انہوں نے قبول نہ كيا تو ابھى فضا تاريك ہى تھى كہ ان پر حملہ كرديا اور انہيں درھم برھم كر كے ركھ ديا،ان ميں سے كچھ لوگوں كو قتل كيا ، ان كى عورتوں اور بچوں كو اسير كرليا او ربكثرت مال غنيمت كے طور پر حاصل كيا_
سورہ ''والعاديات''نازل ہوئي حالانكہ ابھى سربازان اسلام مدينہ كى طرف لو ٹ كر نہيں آئے تھے ،پيغمبر خدا (ص) اس دن نماز صبح كے لئے آئے تو اس سورہ كى نماز ميں تلاوت كي،نمازكے بعد صحابہ نے عرض كيا، يہ تو ايسا سورہ ہے جسے ہم نے آج تك سنا نہيں ہے_ آپ نے فرمايا: ہاں على عليہ السلام دشمنوں پر فتح ياب ہوئے ہيں اور جبرئيل نے گزشتہ رات يہ سورہ لاكر مجھے بشارت دى ہے_ كچھ دن كے بعد على عليہ السلام غنائم او رقيديوں كے ساتھ مدينہ ميں وارد ہوئے_(۱)
____________________
(۱)بعض كا نظريہ يہ ہے كہ يہ واقعہ اس سورہ كے واضح مصاديق ميں سے ايك ہے،يہ اس كا شان نزول نہيں ہے_
جنگ حنين(۱)
اس جنگ كى ابتداء يوں ہوئي كہ جب ''ہوازن'' جو بہت بڑا قبيلہ تھا اسے فتح مكہ كى خبر ہوئي تو اس كے سردار مالك بن عوف نے افراد قبيلہ كو جمع كيا او ران سے كہا كہ ممكن ہے فتح مكہ كے بعد محمد ان سے جنگ كے لئے اٹھ كھڑے ہو، كہنے لگے كہ مصلحت اس ميں ہے كہ اس سے قبل كہ وہ ہم سے جنگ كرے ہميں قدم آگے بڑھا نا چاہئے _
رسول اللہ (ص) كو يہ اطلاع پہونچى تو آپ نے مسلمانوں كو حكم ديا كہ وہ سر زمين ہوازن كى طرف چلنے كو تيار ہو جائيں _
۱ ہجرى رمضان المبارك كے آخرى دن تھے يا شوال كا مہينہ تھا كہ قبيلہ ہوازن كے افراد سردار ''مالك بن عوف ''كے پاس جمع ہوئے اور اپنا مال ، اولاد او رعورتيں بھى اپنے ساتھ لے آئے تاكہ مسلمانوں سے جنگ كرتے دقت كسى كے دماغ ميں بھاگنے كا خيال نہ آئے،اسى طرح سے وہ سرزمين ''اوطاس'' ميں وارد ہوئے_
پيغمبر اسلام (ص) نے لشكر كا بڑا علم باندھ كر على عليہ السلام كے ہاتھ ميں ديا او روہ تمام افراد جو فتح مكہ كے موقع پر اسلامى فوج كے كسى دستے كے كمانڈر تھے آنحضرت (ص) كے حكم سے اسى پرچم كے نيچے حنين
____________________
(۱)ذيل آيات ۲۵ تا ۲۷ سورہ توبہ
كے ميدان كى طرف روانہ ہوئے _
رسول اللہ (ص) كو اطلاع ملى كہ ''صفوان بن اميہ'' كے پاس ايك بڑى مقدار ميں زرہيں ہيں آپ نے كسى كو اس كے پاس بھيجا اور اس سے سو زرہيں عاريتاً طلب كي، صفوان نے پوچھا واقعاً عاريتاً يا غصب كے طور پر _ رسول اللہ (ص) نے فرمايا: عاريتاً ہيں اور ہم ان كے ضامن ہيں كہ صحيح و سالم واپس كريں گے _
صفوان نے زرہيں عاريتاً پيغمبر اكرم (ص) كودےديں اورخود بھى آنحضرت (ص) كے ساتھ چلا _
فوج ميں كچھ ايسے افراد تھے جنہوں نے فتح مكہ كے موقع پر اسلام قبول كيا تھا، ان كے علاوہ دس ہزار وہ مجاہدين اسلام تھے جو پيغمبر اكرم(ص) كے ساتھ فتح مكہ كے لئے آئے تھے ، يہ تعداد مجموعاً بارہ ہزار بنتى ہے، يہ سب ميدان جنگ كى طرف چل پڑے _
دشمن كے لشكر كا مورچہ
''مالك بن عوف'' ايك مرد جرى او رہمت و حوصلے والا انسان تھا، اس نے اپنے قبيلے كو حكم ديا كہ اپنى تلواروں كے نيام توڑ ڈاليں او رپہاڑ كى غاروں ميں ، دروں كے اطراف ميں او ردرختوں كے درميان لشكر اسلام كے راستے ميں كمين گاہيں بنائيں اور جب اول صبح كى تاريكى ميں مسلمان وہاں پہنچيں تو اچانك اور ايك ہى بار ان پر حملہ كرديں اور اسے فنا كرديں _
اس نے مزيد كہا :محمد كا ابھى تك جنگجو لوگوں سے سامنا نہيں ہوا كہ وہ شكست كا مزہ چكھتا _
رسول اللہ (ص) اپنے اصحاب كے ہمراہ نماز صبح پڑھ چكے تو آپ (ص) نے حكم ديا كہ سر زمين حنين كى طرف چل پڑيں ،اس موقع پر اچانك لشكر'' ہوازن'' نے ہر طرف سے مسلمانوں پرتيروں كى بوچھار كر دي، وہ دستہ جو مقدمہ لشكر ميں تھا (اور جس ميں مكہ كے نئے نئے مسلمان بھى تھے ) بھاگ كھڑا ہوا، اس كے سبب باقى ماندہ لشكر بھى پريشان ہوكر بھاگ كھڑا ہوا _
خداوندمتعال نے اس موقع پر دشمن كے ساتھ انہيں ان كى حالت پر چھوڑ ديا او روقتى طور پر ان كى
نصرت سے ہاتھ اٹھاليا كيونكہ مسلمان اپنى كثرت تعداد پر مغرور تھے، لہذا ان ميں شكست كے آثار اشكار ہوئے، ليكن حضرت على عليہ السلام جو لشكر اسلام كے علمبردار تھے وہ مٹھى بھر افراد سميت دشمن كے مقابلے ميں ڈٹے رہے او راسى طرح جنگ جارى ركھے رہے _
اس وقت پيغمبر اكرم (ص) قلب لشكر ميں تھے، رسول اللہ كے چچا عباس بنى ہاشم كے چند افراد كے ساتھ آپ (ص) كے گرد حلقہ باندھے ہوئے تھے، يہ كل افراد نو سے زيادہ نہ تھے دسويں ام ايمن كے فرزند ايمن تھے، مقدمہ لشكر كے سپاہى فرار كے موقع پر رسول اللہ (ص) كے پاس سے گزرے تو آنحضرت(ص) نے عباس كو جن كى آواز بلند او رزور دار تھى كو حكم ديا كہ اس ٹيلے پر جو قريب ہے چڑھ جائيں او رمسلمانوں كو پكاريں :
''يا معشر المھاجرين والانصار يا اصحاب سورةالبقرة يا اھل بيعت الشجرة الى اين تفرون ھذا رسول اللہ _ ''
اے مہاجرين وانصار اے سورہ بقرہ كے ساتھيو
اے درخت كے نيچے بيعت كرنے والوكہاں بھاگے جارہے ہو؟ رسول اللہ (ص) تو يہاں ہيں _ مسلمانوں نے جب عباس كى آواز سنى تو پلٹ آئے اور كہنے لگے:لبيك لبيك
خصوصاً لوٹ آنے والوں ميں انصار نے پيش قدمى كى او رفوج دشمن پر ہر طرف سے سخت حملہ كيا اور نصرت الہى سے پيش قدمى جارى ركھى يہاں تك كہ قبيلہ ہوازن وحشت زدہ ہوكر ہر طرف بكھر گيا، مسلمان ان كا تعاقب كررہے تھے، لشكر دشمن ميں سے تقريباً ايك سو افراد مارے گئے ،ان كے اموال غنيمت كے طور پر مسلمانوں كے ہاتھ لگے او ركچھ ان ميں سے قيدى بنا لئے گئے _
لكھا ہے كہ اس تاريخى واقعہ كے آخر ميں قبيلہ ہوازن كے نمائندے رسول اللہ (ص) كى خدمت ميں حاضر ہوئے او راسلام قبول كرليا،پيغمبر اكرم (ص) نے ان سے بہت محبت و الفت فرمائي، يہاں تك كہ ان كے سر براہ مالك بن عوف نے بھى اسلام قبو كر ليا، آپ (ص) نے اس كا مال او رقيدى اسے واپس كرديئےو راس كے قبيلہ كے مسلمانوں كى سردارى بھى اس كے سپرد كردى _
درحققت ابتداء ميں مسلمانوں كى شكست كا اہم عامل غرور و تكبر جو كثرت فوج كى وجہ سے ان ميں پيدا ہوگيا تھا، اسكے علاوہ دو ہزا رنئے مسلمانوں كا وجود تھا جن ميں سے بعض فطرى طور پر منافق تھے ، كچھ ان ميں مال غنيمت كے حصول كے لئے شامل ہوگئے تھے او ربعض بغير كسى مقصد كے ان ميں شامل ہوگئے تھے_
نہائي كاميابى كا سبب حضرت رسول اكرم (ص) ، حضرت على عليہ السلام اور بعض اصحاب كا قيام تھا، اور پہلے والوں كا عہد و پيمان اور خدا پر ايمان اور اس كى مدد پر خاص توجہ باعث بنى كہ مسلمانوں كو اس جنگ ميں كاميابى ملي_
بھاگنے والے كون تھے ؟
اس بات پر تقريباً اتفاق ہے كہ ميدان حنين ميں سے اكثريت ابتداء ميں بھاگ گئي تھي، جو باقى رہ گئے تھے ان كى تعداد ايك روايت كے مطابق دس تھى او ربعض نے تو ان كى تعداد چار بيان كى ہے بعض نے زيادہ سے زيادہ سو افراد لكھے ہيں _
بعض مشہور روايات كے مطابق چونكہ پہلے خلفاء بھى بھاگ جانے والوں ميں سے تھے لہذا بعض اہل سنت مفسرين نے كوشش كى ہے كہ اس فرار كو ايك فطرى چيز كے طور پر پيش كيا جائے _ المنار كے مو لف لكھتے ہيں : ''جب دشمن كى طرف سے مسلمانوں پر تيروں كى سخت بوچھارہوئي توجو لوگ مكہ سے مسلمانوں كے ساتھ مل گئے تھے، اورجن ميں منافقين اورضعيف الايمان بھى تھے اور جو مال غنيمت كے لئے آگئے تھے وہ بھاگ كھڑے ہوئے اور انہوں نے ميدان ميں پشت دكھائي تو باقى لشكر بھى فطرى طور پر مضطرب او رپريشان ہوگيا وہ بھى معمول كے مطابق نہ كہ خوف و ہراس سے ،بھاگ كھڑے ہوئے اوريہ ايك فطرى بات ہے كہ اگر ايك گروہ فرار ہو جائے تو باقى بھى بے سوچے سمجھے متزلزل ہو جاتے ہيں ، لہذا ان كا فرار ہونا پيغمبر (ص) كى مدد ترك كرنے او رانہيں دشمن كے ہاتھ ميں چھوڑ جانے كے طور پر نہيں تھا كہ وہ خداكے غضب كے مستحق ہوں ، ہم اس بات كى تشريح نہيں كرتے او راس كا فيصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہيں ''_
جنگ تبوك
''تبوك''(۱) كا مقام ان تمام مقامات سے دور تھا جہاں پيغمبر (ص) نے اپنى جنگوں ميں پيش قدمى كى _ ''تبوك''اصل ميں ايك محكم اور بلند قلعہ كا نام تھا _ جو حجاز او رشام كى سرحد پر واقع تھا اسى وجہ سے اس علاقے كو سر زمين تبوك كہتے تھے _
جزيرہ نمائے عرب ميں اسلام كے تيز رفتار نفوذ كى وجہ سے رسول اللہ (ص) كى شہرت اطراف كے تمام ممالك ميں گونجنے لگى باوجود يہ كہ وہ اس وقت حجازكى اہميت كے قائل نہيں تھے ليكن طلوع اسلام اور لشكر اسلام كى طاقت كہ جس نے حجاز كو ايك پرچم تلے جمع كرليا، نے انھيں اپنے مستقبل كے بارے ميں تشويش ميں ڈال ديا _
مشرقى روم كى سرحد حجاز سے ملتى تھى اس حكومت كو خيال ہوا كہ كہيں اسلام كى تيز رفتار ترقى كى وہ پہلى قربانى نہ بن جائے لہذا اس نے چاليس ہزار كى زبردست مسلح فوج جو اس وقت كى روم جيسى طاقتور حكومت كے شايان شان تھي' اكھٹى كى اور اسے حجاز كى سرحد پر لاكھڑا كيا يہ خبر مسافروں كے ذريعے پيغمبر اكرم (ص) كے كانوں تك پہنچى رسول اللہ (ص) نے روم اور ديگر ہمسايوں كودرس عبرت دينے كے لئے توقف كئے بغير تيارى كا حكم صادر فرماياآپ كے مناديوں نے مدينہ اور دوسرے علاقوں تك آپ(ص) كا پيغام پہنچايا تھوڑے ہى عرصہ
____________________
(۱) واقعہ جنگ تبوك سورہ توبہ آيت ۱۱۷ كے ذيل ميں بيان ہوا ہے
ميں تيس ہزار افراد روميوں سے جنگ كرنے كے لئے تيار ہوگئے ان ميں دس ہزار سوار اور بيس ہزار پيادہ تھے _
موسم بہت گرم تھا، غلے كے گودام خالى تھے اس سال كى فصل ابھى اٹھائي نہيں گئي تھى ان حالات ميں سفر كرنا مسلمانوں كے لئے بہت ہى مشكل تھا ليكن چونكہ خدا اور رسول كافرمان تھا لہذا ہر حالت ميں سفر كرنا تھا اور مدينہ اور تبوك كے درميان پرُ خطر طويل صحرا كو عبور كرنا تھا _
لشكر ى مشكلات
اس لشكر كو چونكہ اقتصادى طور پر بہت زيادہ مشكلات كا سامنا كرنا پڑا اس كا راستہ بھى طولانى تھا راستے ميں جلانے والى زہريلى ہوائيں چلتى تھيں سنگريزے اڑتے تھے اور جھكڑچلتے تھے سوارياں بھى كافى نہ تھيں اس لئے يہ ''جيش العسرة'' (يعنى سختيوں والا لشكر ) كے نام سے مشہور ہوا _
تاريخ اسلام نشاندہى كرتى ہے كہ مسلمان كبھى بھى جنگ تبوك كے موقع كى طرح مشكل صورت حال، دبائو اور زحمت ميں مبتلا نہيں ہوئے تھے كيونكہ ايك تو سفر سخت گرمى كے عالم ميں تھا دوسرا خشك سالى نے لوگوں كو تنگ اور ملول كرركھا تھا اور تيسرا اس وقت درختوں سے پھل اتارنے كے دن تھے اور اسى پر لوگوں كى سال بھر كى آمدنى كا انحصار تھا_
ان تمام چيزوں كے علاوہ مدينہ اور تبوك كے درميان بہت زيادہ فاصلہ تھا اور مشرقى روم كى سلطنت كا انھيں سامنا تھا جو اس وقت كى سپر پاور تھي_
مزيد برآں سوارياں اور رسد مسلمانوں كے پاس اتنا كم تھا كہ بعض اوقات دوافراد مجبور ہوتے تھے كہ ايك ہى سوارى پربارى بارى سفر كريں بعض پيدل چلنے والوں كے پاس جوتاتك نہيں تھا اور وہ مجبور تھے كہ وہ بيابان كى جلانے والى ريت پرپا برہنہ چليں آب وغذا كى كمى كا يہ عالم تھا كہ بغض اوقات خرمہ كا ايك دانہ چند آدمى يكے بعد ديگرے منہ ميں ركھ كر چوستے تھے يہاں تك كہ اس كى صرف گٹھلى رہ جاتى پانى كا ايك گھونٹ كبھى چند آدميوں كو مل كر پينا پڑتا _
يہ واقعہ نوہجرى يعنى فتح مكہ سے تقريبا ايك سال بعد رونماہوا _مقابلہ چونكہ اس وقت كى ايك عالمى سوپر طاقت سے تھا نہ كہ عرب كے كسى چھوٹے بڑے گروہ سے لہذا بعض مسلمان اس جنگ ميں شركت سے خوف زدہ تھے اس صورت حال ميں منافقين كے زہريلے پر وپيگنڈے اور وسوسوں كے لئے ماحول بالكل ساز گار تھا اور وہ بھى مومنين كے دلوں اور جذبات كوكمزور كرنے ميں كوئي دقيقہ فروگذاشت نہيں كررہے تھے _
پھل اتارنے اور فصل كاٹنے كا موسم تھا جن لوگوں كى زندگى تھوڑى سى كھيتى باڑى اور كچھ جانور پالنے پر بسر ہوتى تھى يہ ان كى قسمت كے اہم دن شمار ہوتے تھے كيونكہ ان كى سال بھر كى گزر بسر انہيں چيزوں سے وابستہ تھےں _
جيسا كہ ہم كہہ چكے ہيں مسافت كى دورى اور موسم كى گرمى بھى روكنے والے عوامل كى مزيد مدد كرتى تھى اس موقع پر آسمانى وحى لوگوں كى مدد كے لئے آپہنچى اور قرآنى آيات يكے بعد ديگر ے نازل ہوئيں اور ان منفى عوامل كے سامنے آكھڑى ہوئيں _
تشويق ، سرزنش، اور دھمكى كى زبان
قرآن جس قدر ہوسكتى ہے اتنى سختى اور شدت سے جہاد كى دعوت دتياہے _ كبھى تشويق كى زبان سے كبھى سرزنش كے لہجے ميں اوركبھى دھمكى كى زبان ميں ان سے بات كرتا ہے،اور انہيں آمادہ كرنے كے لئے ہر ممكن راستہ اختيار كرتا ہے_ پہلے كہتا ہے:'' كہ خدا كى راہ ميں ،ميدان جہاد كى طرف حركت كرو تو تم سستى كا مظاہرہ كرتے ہو اور بوجھل پن دكھاتے ہو ''_(۱)
اس كے بعد ملامت آميز لہجے ميں قرآن كہتا ہے : ''آخرت كى وسيع اور دائمى زندگى كى بجائے اس دنياوى پست اور ناپائيدار زندگى پر راضى ہوگئے ہو حالانكہ دنياوى زندگى كے فوائد اور مال ومتاع آخرت كى زندگى كے مقابلے ميں كوئي حيثيت نہيں ركھتے اور بہت ہى كم ہيں ''_(۲)
____________________
(۱)سورہ توبہ آيت ۳۸
(۲)سورہ توبہ آيت ۳۸
ايك عقلمند انسان ايسے گھاٹے كے سودے پر كيسے تيار ہوسكتا ہے اور كيونكہ وہ ايك نہايت گراں بہامتاع اور سرمايہ چھوڑكر ايك ناچيز اور بے وقعت متاع كى طرف جاسكتاہے _
اس كے بعد ملامت كے بجائے ايك حقيقى تہديد كا اندازاختيار كرتے ہوئے ارشاد فرمايا گيا ہے :'' اگر تم ميدان جنگ كى طرف حركت نہيں كرو گے تو خدا دردناك عذاب كے ذريعے تمہيں سزادے گا''_(۱)
''اور اگر تم گمان كرتے ہو كہ تمہارے كنارہ كش ہونے اور ميدان جہاد سے پشت پھيرنے سے اسلام كى پيش رفت رك جائے گى اور آئينہ الہى كى چمك ماند پڑجائے گى تو تم سخت اشتباہ ميں ہو ،كيونكہ خدا تمہارے بجائے ايسے صاحبان ايمان كو لے آئے گا جو عزم مصمم ركھتے ہوں گے اور فرمان خدا كے مطيع ہوں گے''_(۲)
وہ لوگ كہ جو ہر لحاظ سے تم سے مختلف ہيں نہ صرف ان كى شخصيت بلكہ انكا ايمان، ارادہ،دليرى اور فرماں بردارى بھى تم سے مختلف ہے لہذا '' اس طرح تم خدا اور اس كے پاكيزہ دين كو كوئي نقصان نہيں پہنچا سكتے'' _(۳)
تنہاوہ جنگ جس ميں حضرت على نے شركت نہ كي
اس لشكر كو چونكہ اقتصادى طور پر بہت زيادہ مشكلات كا سامنا كرنا پڑا اس كا راستہ بھى طولانى تھا راستے ميں جلانے والى زہريلى ہوائيں چلتى تھيں سنگريزے اڑتے تھے اور جھكّڑچلتے تھے سوارياں بھى كافى نہ تھيں اس لئے يہ'' جيش العسرة'' (يعنى سختيوں والا لشكر )كے نام سے مشہور ہوا اس نے تمام سختيوں كو جھيلا اور ماہ شعبان كى ابتداء ميں ہجرت كے نويں سال سرزمين ''تبوك'' ميں پہنچا جب كہ رسول اللہ حضرت على كو اپنى جگہ پر مدينہ ميں چھوڑآئے تھے يہ واحد غزوہ ہے جس ميں حضرت على عليہ السلام شريك نہيں ہوئے _
رسول اللہ كايہ اقدام بہت ہى مناسب اور ضرورى تھا كيونكہ بہت احتمال تھا كہ بعض پيچھے رہنے
____________________
(۱) سورہ توبہ آيت ۳۹
(۲)سورہ توبہ آيت ۳۹
(۳)سور ہ توبہ آيت ۳۹
والے مشركين يامنا فقين جو حيلوں بہانوں سے ميدان تبوك ميں شريك نہ ہوئے تھے، رسول اللہ اور ان كى فوج كى طويل غيبت سے فائدہ اٹھائيں اور مدينہ پر حملہ كرديں ، عورتوں اور بچوں كو قتل كرديں اور مدينہ كو تاراج كرديں ليكن حضرت على كا مدينہ ميں رہ جانا ان كى سازشوں كے مقابلے ميں ايك طاقتور ركاوٹ تھى _
بہرحال جب رسول اللہ تبوك ميں پہنچے تو وہاں آپ كو رومى فوج كا كوئي نام ونشان نظر نہ آيا عظيم سپاہ اسلام چونكہ كئي جنگوں ميں اپنى عجيب وغريب جرا ت وشجاعت كا مظاہرہ كرچكى تھي، جب ان كے آنے كى كچھ خبر روميوں كے كانوں تك پہنچى تو انھوں نے اسى كو بہتر سمجھا كہ اپنے ملك كے اندرچلے جائيں اور اس طرح سے ظاہر كريں كہ مدينہ پر حملہ كرنے كے لئے لشكر روم كى سرحدوں پر جمع ہونے كى خبر ايك بے بنياد افواہ سے زيادہ كچھ نہ تھى كيونكہ وہ ايك ايسى خطرناك جنگ شروع كرنے سے ڈرتے تھے جس كا جواز بھى ان كے پاس كوئي نہ تھا ليكن لشكر اسلام كے اس طرح سے تيز رفتارى سے ميدان تبوك ميں پہنچنے نے دشمنان اسلام كو كئي درس سكھائے، مثلاً:
۱_يہ بات ثابت ہوگئي كہ مجاہدين اسلام كا جذبہ جہاد اس قدر قوى ہے كہ وہ اس زمانے كى نہايت طاقت ور فوج سے بھى نہيں ڈرتے_
۲_ بہت سے قبائل اور اطراف تبوك كے امراء پيغمبر اسلام (ص) كى خدمت ميں آئے اور آپ سے تعرض اور جنگ نہ كرنے كے عہدوپيمان پر دستخط كيے اس طرح مسلمان ان كى طرف سے آسودہ خاطر ہوگئے _
۳_ اسلام كى لہريں سلطنت روم كى سرحدوں كے اندر تك چلى گئيں اور اس وقت كے ايك اہم واقعہ كے طور پر اس كى آواز ہر جگہ گونجى اور روميوں كے اسلام كى طرف متوجہ ہونے كے لئے راستہ ہموار ہوگيا _
۴_ يہ راستہ طے كرنے اور زحمتوں كو برداشت كرنے سے آئندہ شام كا علاقہ فتح كرنے كے لئے راہ ہموار ہوگئي اور معلوم ہوگيا كہ آخركار يہ راستہ طے كرنا ہى ہے _
يہ عظيم فوائد ايسے تھے كہ جن كے لئے لشكر كشى كى زحمت برداشت كى جاسكتى تھى _
بہرحال پيغمبر اكرم (ص) نے اپنى سنت كے مطابق اپنى فوج سے مشورہ كيا كہ كيا پيش قدمى جارى ركھى جائے ياواپس پلٹ جايا جائے؟
اكثريت كى رائے يہ تھي، كہ پلٹ جانا بہتر ہے اور يہى اسلامى اصولوں كى روح سے زيادہ مناسبت ركھتا تھا خصوصاً جبكہ اس وقت طاقت فرسا سفر اور راستے كى مشقت وزحمت كے باعث اسلامى فوج كے سپاہى تھكے ہوئے تھے اور ان كى جسمانى قوت مزاحمت كمزور پڑچكى تھي، رسول اللہ نے اس رائے كو صحيح قرار ديا اور لشكر اسلام مدينہ كى طرف لوٹ آيا_
ايك عظيم درس
''ابو حثيمہ ''(۱) اصحاب پيغمبر (ص) ميں سے تھا ،منافقين ميں سے نہ تھا ليكن سستى كى وجہ سے پيغمبراكرم (ص) كے ساتھ ميدان تبوك ميں نہ گيا _
اس واقعہ كو دس دن گذر گئے ،ہوا گرم او رجلانے والى تھي،ايك دن اپنى بيويوں كے پاس آيا انھوں نے ايك سائبان تان ركھا تھا ، ٹھنڈا پانى مہيا كر ركھا تھا او ربہترين كھانا تيار كر ركھا تھا، وہ اچانك غم و فكر ميں ڈوب گيا او راپنے پيشوا رسول اللہ (ص) كى ياد اسے ستانے لگى ،اس نے كہا:رسول اللہ(ص) كہ جنھوں نے كبھى كوئي گناہ نہيں كيا او رخدا ان كے گذشتہ اور آئندہ كا ذمہ دار ہے ،بيابان كى جلا ڈالنے والى ہوائوں ميں كندھے پر ہتھيار اٹھائے اس دشوار گذار سفر كى مشكلات اٹھارہے ہيں او رابو حثيمہ كو ديكھو كہ ٹھنڈے سائے ميں تيار كھانے اور خوبصورت بيويوں كے پاس بيٹھا ہے ،كيا يہ انصاف ہے ؟
اس كے بعد اس نے اپنى بيويوں كى طرف رخ كيا او ركہا:
خدا كى قسم تم ميں سے كسى كے ساتھ ميں بات نہ كروں گا او رسائبان كے نيچے نہيں بيٹھوں گا جب تك
____________________
(۱)يہ شخص انہيں افراد ميں سے تھا جن كے بارے ميں كہا جاتا ہے كہ سورہ توبہ آيت۱۱۷/نازل ہوئي _
پيغمبر (ص) سے نہ جاملوں _
يہ بات كہہ كر اس نے زادراہ ليا ،اپنے اونٹ پر سوار ہوااور چل كھڑا ہوا ،اس كى بيويوں نے بہت چاہا كہ اس سے بات كريں ليكن اس نے ايك لفظ نہ كہا او راسى طرح چلتا رہا يہاں تك كہ تبوك كے قريب جا پہنچا _
مسلماان ايك دوسرے سے كہنے لگے :يہ كوئي سوار ہے جو سڑك سے گذررہا ہے، ليكن پيغمبر اكرم(ص) نے فرمايا:اے سوار تم ابو حثيمہ ہو تو بہتر ہے_
جب وہ قريب پہنچا او رلوگوں نے اسے پہچان ليا تو كہنے لگے : جى ہاں ; ابو حثيمہ ہے _
اس نے اپنا اونٹ زمين پر بٹھايا او رپيغمبراكرم (ص) كى خدمت ميں سلام عرض كيا او راپنا ماجرابيان كيا _
رسول اللہ (ص) نے اسے خوش آمديد كہا اور اس كے حق ميں دعا فرمائي _
اس طرح وہ ايك ايسا شخص تھا جس كا دل باطل كى طرف مائل ہوگيا تھا ليكن اس كى روحانى آمادگى كى بنا ء پر خدا نے اسے حق كى طرف متوجہ كيا اور ثبات قدم بھى عطا كيا _
جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والے تين لوگ
مسلمانوں ميں سے تين افراد كعب بن مالك ،مرارہ بن ربيع او ربلال بن اميہ نے جنگ تبوك ميں شركت نہ كى او رانھوں نے پيغمبر خدا (ص) كے ہمراہ سفر نہ كيا وہ منافقين ميں شامل نہيں ہو نا چاہتے تھے بلكہ ايسا انھوں نے سستى اور كاہلى كى بنا پر كيا تھا،تھوڑا ہى عرصہ گذرا تھا كہ وہ اپنے كئے پر نادم اور پشيمان ہوگئے_
جب رسول اللہ (ص) ميدان تبوك سے مدينہ لوٹے تو وہ آنحضرت (ص) كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور معذرت كى ليكن رسول اللہ(ص) نے ان سے ايك لفظ تك نہ كہا اور مسلمانوں كو بھى حكم ديا كہ كوئي شخص ان سے بات چيت نہ كرے وہ ايك عجيب معاشرتى دبائو كا شكار ہوگئے يہاں تك كہ ان كے چھوٹے بچے او رعورتيں رسول اللہ (ص) كے پاس آئيں او راجازت چاہى كہ ان سے الگ ہو جائيں ،آپ (ص) نے
انھيں عليحدگى كى اجازت تو نہ دى ليكن حكم ديا كہ ان كے قريب نہ جائيں ،مدينہ كى فضااپنى وسعت كے باوجود ان پر تنگ ہو گئي ،وہ مجبور ہوگئے كہ اتنى بڑى ذلت اوررسوائي سے نجات حاصل كرنے كے لئے شہر چھوڑديں اوراطراف مدينہ كے پہاڑوں كى چوٹى پر جاكر پناہ ليں _
جن باتوں نے ان كے جذبات پر شديد ضرب لگائي ان ميں سے ايك يہ تھى كہ كعب بن مالك كہتا ہے :ميں ايك دن بازار مدينہ ميں پريشانى كے عالم ميں بيٹھا تھاكہ ايك شامى عيسائي مجھے تلاش كرتا ہوا آيا، جب اس نے مجھے پہچان ليا تو بادشاہ غسان كى طرف سے ايك خط ميرے ہاتھ ميں ديا ، اس ميں لكھاتھا كہ اگر تيرے ساتھى نے تجھے دھتكارديا ہے تو ہمارى طرف چلے آئو، ميرى حالت منقلب اور غير ہوگئي ،اور ميں نے كہا وائے ہو مجھ پر ميرا معاملہ اس حد تك پہنچ گيا ہے كہ دشمن ميرے بارے ميں لالچ كرنے لگے ہيں ، خلاصہ يہ كہ ان كے اعزا ء واقارب ان كے پاس كھانالے آتے مگر ان سے ايك لفظ بھى نہ كہتے ،كچھ مدت اسى صورت ميں گزر گئي او روہ مسلسل انتظار ميں تھے كہ اس كى توبہ قبول ہو اوركوئي آيت نازل ہو جو ان كى توبہ كى دليل بنے ، مگر كوئي خبر نہ تھى _
اس دوران ان ميں سے ايك كے ذہن ميں يہ بات آئي او راس نے دوسروں سے كہا اب جبكہ لوگوں نے ہم سے قطع تعلق كر ليا ہے ،كيا ہى بہتر ہے كہ ہم بھى ايك دوسرے سے قطع تعلق كرليں (يہ ٹھيك ہے كہ ہم گنہ گار ہيں ليكن مناسب ہے كہ دوسرے گنہ گار سے خوش او رراضى نہ ہوں )_
انھوں نے ايسا ہى كيا يہاں تك كہ ايك لفظ بھى ايك دوسرے سے نہيں كہتے تھے اوران ميں سے كوئي ايك دوسرے كے ساتھ نہيں رہتا تھا،اس طرح پچاس دن انھوں نے توبہ وزارى كى او رآخر كار ان كى توبہ قبول ہوگئي _(۱)
____________________
(۱)سورہ توبہ:آيت ۱۱۸_ اس سلسلے ميں نازل ہوئي ہے
مسجد ضرار(۱)
كچھ منافقين رسول اللہ (ص) كے پاس آئے او رعرض كيا، ہميں اجازت ديجيئے كہ ہم قبيلہ ''بنى سالم'' كے درميان''مسحد قبا''كے قريب ايك مسجد بناليں تاكہ ناتواں بيمار اور بوڑھے جو كوئي كام نہيں كرسكتے اس ميں نماز پڑھ ليا كريں _ اسى طرح جن راتوں ميں بارش ہوتى ہے ان ميں جو لوگ آپ(ص) كى مسجد ميں نہيں آسكتے اپنے اسلامى فريضہ كو اس ميں انجام دے ليا كريں _
يہ اس وقت كى بات ہے جب پيغمبر خد (ص) جنگ تبوك كا عزم كرچكے تھے آنحضرت(ص) نے انھيں اجازت دےدي_
انھوں نے مزيد كہا: كيا يہ بھى ممكن ہے كہ آپ(ص) خود آكر اس ميں نماز پڑھيں ؟نبى اكرم(ص) نے فرمايا: اس وقت تو ميں سفر كا ارادہ كر چكا ہوں البتہ واپسى پر خدا نے چاہا تو اس مسجد ميں آكر نماز پڑھوں گا_
جب آپ(ص) جنگ تبوك سے لوٹے تو يہ لوگ آپ(ص) كے پاس آئے اور كہنے لگے ہمارى درخواست ہے كہ آپ(ص) ہمارى مسجد ميں آكر اس ميں نماز پڑھائيں اورخدا سے دعا كريں كہ ہميں بركت دے _
يہ اس وقت كى بات ہے جب ابھى آنحضرت(ص) مدينہ كے دروازے ميں داخل نہيں ہوئے تھے اس وقت وحى خدا كا حامل فرشتہ نازل ہوا اور خدا كى طرف سے پيغام لايا او ران كے كرتوت سے پردہ اٹھايا_
____________________
(۱)مسجد ضرار كے سلسلے ميں سورہ توبہ ۱۰۷ تا۱۱۰ ميں بيان ہوا ہے
اس كے فوراً بعد رسول اللہ (ص) نے حكم ديا كہ مذكورہ مسجد كو جلا ديا جائے او راسكے باقى حصے كو مسماركرديا جائے او راس كى جگہ كوڑاكركٹ ڈالاجايا كرے_
ان لوگوں كے ظاہراًكام كو ديكھا جائے تو ہميں شروع ميں تو اس حكم پر حيرت ہوئي كہ كيا بيماروں اوربوڑھوں كى سہولت كے لئے اوراضطرارى مواقع كے لئے مسجد بنانا برا كام ہے جبكہ يہ ايك دينى او رانسانى خدمت معلوم ہوتى ہے كيا ايسے كام كے بارے ميں يہ حكم صادر ہوا ہے؟ليكن اگر ہم اس معاملہ كى حقيقت پر نظر كريں گے تو معلوم ہوگا كہ يہ حكم كس قدر بر محل اور جچاتلا تھا_
اس كى وضاحت يہ ہے كہ'' ابو عامر''نامى ايك شخص نے عيسائيت قبول كرلى تھى اور راہبوں كے مسلك سے منسلك ہوگيا تھا _ اس كا شمار عابدوں ميں ہوتا تھا ، قبيلہ خزرج ميں اس كا گہرا اثرورسوخ تھا _
رسول اللہ(ص) نے جب مدينہ كى طرف ہجرت كى او رمسلمان آپ(ص) كے گرد جمع ہوگئے تو ابو عامر جو خودبھى پيغمبر(ص) كے ظہور كى خبر دينے والوں ميں سے تھا،اس نے ديكھا كہ اس كے ارد گرد سے لوگ چھٹ گئے ہيں اس پر وہ اسلام كے مقابلے كے لئے اٹھ كھڑا ہوا ،وہ مدينہ سے نكلا اور كفار مكہ كے پاس پہنچا،اس نے ان سے پيغمبر اكرم(ص) كے خلاف جنگ كے لئے مدد چاہى اور قبائل عرب كو بھى تعاون كى دعوت دى ،وہ خود مسلمانوں كے خلاف جنگ احد كى منصوبہ بندى ميں شريك رہا تھا،اور راہنمائي كرنے والوں ميں سے تھا،اس نے حكم ديا كہ لشكر كى دو صفوں كے درميان گڑھے كھوددے جائيں _اتفاقاً پيغمبر اسلام(ص) ايك گڑھے ميں گر پڑے ،آپ(ص) كى پيشانى پر زخم آئے اور دندان مبارك ٹوٹ گئے _
جنگ احد ختم ہوئي،مسلمانوں كو اس ميدان ميں آنے والى مشكلات كے باوجود اسلام كى آواز بلند تر ہوئي او رہر طرف صدا ئے اسلام گونجنے لگي، تو وہ مدينہ سے بھاگ گيا او ربادشاہ روم ہرقل كے پاس پہنچا تاكہ اس سے مددچاہے اور مسلمانوں كى سركوبى كے لئے ايك لشكر مہيا كرے_
اس نكتے كا بھى ذكر ضرورى ہے كہ اس كى ان كارستانيوں كى وجہ سے پيغمبر اسلام(ص) نے اسے ''فاسق''كالقب دے ركھاتھا_
بعض كہتے ہيں كہ موت نے اسے مہلت نہ دى كہ وہ اپنى آرزو ہرقل سے كہتا ليكن بعض دوسرى كتب ميں ہے كہ وہ ہرقل سے جاكر ملا اور اس كے وعدوں سے مطمئن اورخوش ہوا_
بہر حال اس نے مرنے سے پہلے مدينہ كے منافقين كو ايك خط لكھا اور انھيں خوشخبرى دى كہ روم كے ايك لشكر كے ساتھ وہ ان كى مدد كوآئے گا_اس نے انھيں خصوصى تاكيد كى كہ مدينہ ميں وہ اس كے لئے ايك مركز بنائيں تاكہ اس كى آئندہ كى كارگذاريوں كے لئے وہ كام دے سكے ليكن ايسا مركز چونكہ مدينہ ميں اسلام دشمنوں كى طرف سے اپنے نام پر قائم كرنا عملى طور پر ممكن نہ تھا_ لہذا منافقين نے مناسب يہ سمجھا كہ مسجد كے نام پر بيماروں اور معذوروں كى مدد كى صورت ميں اپنے پروگرام كو عملى شكل ديں _
آخر كار مسجد تعمير ہوگئي يہاں تك كہ مسلمانوں ميں سے ''مجمع بن حارثہ'' (يا مجمع بَن جاريہ)نامى ايك قرآن فہم نوجوان كو مسجد كى امامت كے لئے بھى چن ليا گيا ليكن وحى الہى نے ان كے كام سے پردہ اٹھاديا_
يہ جو پيغمبر اكرم(ص) نے جنگ تبوك كى طرف جانے سے قبل ان كے خلا ف سخت كاروائي كا حكم نہيں ديا اس كى وجہ شايد ايك تو ان كى حقيقت زيادہ واضح ہوجائے او ردوسرا يہ كہ تبوك كے سفر ميں اس طرف سے كوئي او رذہنى پريشانى نہ ہو_ بہر حال جو كچھ بھى تھا رسول اللہ(ص) نے نہ صرف يہ كہ مسجد ميں نماز نہيں پڑھى بلكہ بعض مسلمانوں (مالك بن دخشم،معنى بن عدى اور عامر بن سكر يا عاصم بن عدي)كو حكم ديا كہ مسجدكو جلاديں او رپھر اس كى ديواروں كو مسمار كرواديا_ او رآخر كار اسے كوڑاكركٹ پھيكنے كى جگہ قرار دےديا_
مسجد قباء
يہ بات قابل توجہ ہے كہ خدا وند عالم اس حيات بخش حكم كى مزيد تاكيد كے لئے خداوند متعال فرماتا ہے كہ اس مسجد ميں ہرگز قيام نہ كرو اور اس ميں نمازنہ پڑھو_(۱)
''بلكہ اس مسجدكے بجائے زيادہ مناسب يہ ہے كہ اس مسجد ميں عبادت قائم كرو جس كى بنياد پہلے دن سے تقوى پر ركھى گئي ہے''(۲)
نہ يہ كہ يہ مسجد جس كى بنياد روز اول ہى سے كفر،نفاق،بے دينى اور تفرقہ پر ركھى گئي ہے_
''مفسرين نے كہا ہے كہ جس مسجد كے بارے ميں مندرجہ بالا جملے ميں كہا گيا ہے كہ زيادہ مناسب يہ ہے كہ پيغمبر(ص) اس ميں نماز پڑھيں اس سے مراد'' مسجد قبا ''ہے كہ جس كے قريب منافقين نے مسجد ضرار بنائي تھي''_
اس كے بعد قرآن مزيد كہتا ہے :''كہ علاوہ اس كے كہ اس مسجد كى بنياد تقوى پر ركھى گئي ہے ،مردوں كا ايك گروہ اس ميں مشغول عباد ت ہے جو پسند كرتا ہے كہ اپنے آپ كو پاك وپاكيزہ ركھے اور خدا پاكباز لوگوں كو دوست ركھتا ہے ''_(۳)
____________________
(۱)سورہ توبہ آيت ۱۰۸
(۲)سورہ توبہ آيت ۱۰۸
(۳)سورہ توبہ آيت ۱۰۸
سب سے پہلى نماز جمعہ
پہلا جمعہ جو حضرت رسول اللہ (ص) نے اپنے اصحاب كے ساتھ پڑھا وہ اس وقت پڑھا گيا جب آپ نے مدينہ كى طرف ہجرت فرمائي _ جب آپ(ص) مدينہ ميں وارد ہوئے تو اس دن پير كا دن بارہ ربيع الاول او رظہر كا وقت تھا_ حضرت چار دن تك''قبا ''ميں رہے او رمسجد قبا كى بنياد ركھى ، پھر جمعہ كے دن مدينہ كى طرف روانہ ہوئے(قبااور مدينہ كے درميان فاصلہ بہت ہى كم ہے اور موجودہ وقت ميں قبا مدينہ كا ايك داخلى محلہ ہے)
اور نماز جمعہ كے وقت آپ(ص) محلہ''بنى سالم''ميں پہنچے وہاں نماز جمعہ ادا فرمائي اور يہ اسلام ميں پہلا جمعہ تھا جو حضرت رسول اللہ (ص) نے اداكيا_ جمعہ كى نماز ميں آپ(ص) نے خطبہ بھى پڑھا_ جو مدينہ ميں آنحضرت(ص) كا پہلا خطبہ تھا_
واقعہ غدير
پيغمبر اكرم (ص) كى زندگى كا آخرى سال تھا''حجة الوداع ''كے مراسم جس قدر باوقار و پرشكوہ ہو سكتے تھے اس قدر پيغمبر اكرم(ص) كى ہمراہى ميں اختتام پذير ہوئے_ سب كے دل روحانيت سے سرشار تھے ابھى ان كى روح اس عظيم عبادت كى معنوى لذت كا ذائقہ محسوس كررہى تھى _ اصحاب پيغمبر(ص) جن كى تعداد بہت زيادہ تھى اس عظيم نعمت سے فيض ياب ہوئے او راس سعادت كے حاصل ہونے پر جامے ميں پھولے نہيں سماتے تھے_
نہ صرف مدينہ كے لوگ اس سفر ميں پيغمبر(ص) كے ساتھ تھے بلكہ جزيرہ نمائے عرب كے ديگر مختلف حصوں كے مسلمان بھى يہ عظيم تاريخى اعزازوافتخار حاصل كرنے كے لئے آپ(ص) كے ہمراہ تھے_
سرزمين حجاز كا سورج دروں اور پہاڑوں پر آگ برسارہا تھا ليكن اس سفركى بے نظير روحانى مٹھاس تمام تكليفوں كو آسان بنارہى تھي_ زوال كا وقت نزديك تھا_ آہستہ آہستہ ''حجفہ ''كى سرزمين او راس كے بعد خشك اور جلانے والے''غديرخم'' كے بيابان نظر آنے لگے_
در اصل يہاں پر ايك چوراہا ہے جو حجاز كے لوگوں كوايك دوسرے سے جدا كرتا ہے_ شمالى راستہ مدينہ كى طرف دوسرا مشرقى راستہ عراق كى طرف،تيسرا مغربى ممالك او رمصر كى طرف اور چوتھا جنوبى راستہ سرزمين يمن كو جاتا ہے يہى وہ مقام ہے جہاں پر آخرى مقصد او راس عظيم سفر كااہم ترين كام انجام پذير ہوتا تھا
تاكہ مسلمان پيغمبر(ص) كى اہم ذمہ داريوں ميں سے ان كا آخرى حكم جان كر ايك دوسرے سے جداہوں _
جمعرات كا دن تھا اورہجرت كا دسواں سال_ آٹھ دن عيد قربان كو گزرے تھے كہ اچانك پيغمبر(ص) كى طرف سے ان كے ہمراہيوں كو ٹھہر جانے كا حكم ديا گيا_ مسلمانوں نے بلندآواز سے ان لوگوں كو جو قافلے كے آگے چل رہے تھے واپس لوٹنے كے لئے پكارا اوراتنى دير كے لئے ٹھہر گئے كہ پيچھے آنے والے لوگ بھى پہنچ جائيں _ آفتاب خط نصف النہار سے گزر گيا تو پيغمبر(ص) كے مو ذن نے ''اللہ اكبر ''كى صداكے ساتھ لوگوں كونماز ظہر پڑھنے كى دعوت دى _ مسلمان جلدى جلدى نماز پڑھنے كے لئے تيار ہوگئے _ ليكن فضاء اتنى گرم تھى كہ بعض لوگ مجبور تھے كہ وہ اپنى عبا كا كچھ حصہ پائوں كے نيچے اور باقى سر كے اوپر لے ليں ،ورنہ بيابان كى گرم ريت اور سورج كى شعاعيں ان كے سر اور پائوں كو تكليف دے رہى تھيں _
اس صحراء ميں كوئي سائبان نظر نہ آتا تھا اور نہ ہى كوئي سبزہ ياگھاس صرف چند بے برگ وبار بيابانى درخت تھے جو گرمى كا سختى كے ساتھ مقابلہ كر رہے تھے كچھ لوگ انہى چند درختوں كا سہارا لئے ہوئے تھے اور انہوں نے ان برہنہ درختوں پر ايك كپڑاڈال ركھا تھا اور پيغمبر(ص) كے لئے ايك سائبان سا بنا ركھا تھا ليكن گرم ہوا اس سائبان كے نيچے سے گزرتى ہوئي سورج كى جلانے والى گرمى كو اس سائبان كے نيچے بھى پھيلا رہى تھي_ بہر حال ظہر كى نماز پڑھ لى گئي_
خطبہ غدير
مسلمان ارادہ كررہے تھے كہ فوراً اپنے چھوٹے چھوٹے خيموں ميں جاكر پناہ ليں جو انھوں نے اپنے ساتھ اٹھاركھے تھے ليكن رسول اللہ(ص) نے انہيں آگاہ كيا كہ وہ سب كے سب خداوندتعالى كا ايك نيا پيغام سننے كے لئے تيار ہوں جسے ايك مفصل خطبے كے ساتھ بيان كيا جائے گا_
جو لوگ رسول اللہ (ص) سے دور تھے وہ پيغمبر(ص) كا ملكوتى چہرہ اس عظيم اجتماع ميں دور سے ديكھ نہيں پارہے تھے لہذا اونٹوں كے پالانوں كا منبر بنايا گيا_پيغمبر(ص) اس كے اوپر تشريف لے گئے_پہلے پروردگار عالم كى حمد وثنا بجالائے اور خدا پر بھروسہ كرتے ہوئے يوں خطاب فرمايا:ميں عنقرب خداوندمتعال كى دعوت پر لبيك
كہتے ہوئے تمہارے درميان سے جارہا ہوں ،ميں بھى جوابدہ ہوں اورتم بھى جوابدہ ہو ،تم ميرے بارے ميں كيا گواہى دوگے لوگوں نے بلند آواز ميں كہا :
''ہم گواہى ديں گے كہ آپ(ص) نے فريضہ رسالت انجام ديا اورخير خواہى كى ذمہ دارى كو انجام ديا اور ہمارى ہدايت كى راہ ميں سعى و كوشش كي،خدا آپ(ص) كوجزا ئے خير دے''_
اس كے بعد آپ(ص) نے فرمايا كيا تم لوگ خدا كى وحدانيت،ميرى رسالت اور روز قيامت كى حقانيت اوراس دن مردوں كے قبروں سے مبعوث ہونے كى گواہى نہيں ديتے؟
سب نے كہا:كيوں نہيں ہم سب گواہى ديتے ہيں _
آپ(ص) نے فرمايا: خداوندگواہ رہنا_
آپ(ص) نے مزيد فرمايا:اے لوگو كيا تم ميرى آواز سن رہے ہو؟
انہوں نے كہا: جى ہاں _
اس كے بعد سارے بيابان پر سكوت كا عالم طارى ہوگيا_ سوائے ہوا كى سنسناہٹ كے كوئي چيز سنائي نہيں ديتى تھى _ پيغمبر(ص) نے فرمايا:ديكھو ميں تمہارے درميان دوگرانمايہ اور گرانقدر چيزيں بطور يادگار چھوڑے جارہا ہوں تم ان كے ساتھ كيا سلوك كروگے؟
حاضرين ميں سے ايك شخص نے پكار كر كہا:يا رسول اللہ (ص) وہ دو گرانمايہ چيزيں كونسى ہيں ؟
تو پيغمبراكرم(ص) نے فرمايا: پہلى چيز تو اللہ تعالى كى كتاب ہے جو ثقل اكبر ہے_ اس كا ايك سرا تو پروردگار عالم كے ہاتھ ميں ہے اور دوسرا سراتمہارے ہاتھ ميں ہے،اس سے ہاتھ نہ ہٹانا ورنہ تم گمراہ ہو جائوگے_ دوسرى گرانقدر يادگار ميرے اہل بيت ہيں اور مجھے خدائے لطيف وخبير نے خبردى ہے كہ يہ دونوں ايك دوسرے سے جدا نہيں ہوں گے يہاں تك كہ بہشت ميں مجھ سے آمليں گے_
ان دونوں سے آگے بڑھنے (اور ان سے تجاوز كرنے) كى كوشش نہ كرنا اور نہ ہى ان سے پيچھے رہنا كہ اس صورت ميں بھى تم ہلاك ہو جائوگے_
اچانك لوگوں نے ديكھا كہ ر سول اللہ(ص) اپنے ارد گرد نگاہيں دوڑارہے ہيں گويا كسى كو تلاش كر رہے ہيں جو نہى آپ(ص) كى نظر حضرت على عليہ السلام پر پڑى فوراً ان كا ہاتھ پكڑليا اور انہيں اتنا بلند كيا كہ دونوں كى بغلوں كے نيچے كى سفيدى نظر آنے لگى اور سب لوگوں نے انہيں ديكھ كر پہچان لياكہ يہ تو اسلام كا وہى سپہ سالار ہے كہ جس نے كبھى شكست كا منہ نہيں ديكھا_
اس موقع پر پيغمبر(ص) كى آواز زيادہ نماياں اوربلند ہوگئي اور آپ(ص) نے ارشاد فرمايا:
''ايها الناس من اولى الناس بالمو منين من انفسهم''
يعنى اے لوگو بتائو وہ كون ہے جو تمام لوگوں كى نسبت مومنين پر خود ان سے زيادہ اوليت ركھتا ہے ؟ اس پر سب حاضرين نے بہ يك آواز جواب ديا كہ خدا اور اس كا پيغمبر(ص) بہتر جانتے ہيں _
تو پيغمبر(ص) نے فرمايا: خداا ميرا مولا اوررہبر ہے اور ميں مومنين كا مولااوررہبر ہوں اور ان كے اوپر ان كى نسبت خود ان سے زيادہ حق ركھتا ہوں (اور ميرا ارادہ ان كے ارادے سے مقدم ہے)_
اس كے بعد فرمايا:
''فمن كنت مولاه فهذا على مولاه'' .
''يعنى جس جس كا ميں مولاہ ہوں على (ع) بھى اس اس كے مولاہ اوررہبر ہے''_
پيغمبر اكرم(ص) نے اس جملے كى تين مرتبہ تكرار كى او ربعض راويوں كے قول كے مطابق پيغمبر(ص) نے يہ جملہ چار مرتبہ دہرايا اور اس كے بعد آسمان كى طرف سر بلند كر كے بارگاہ خداوندى ميں عرض كي:_
''اللّهم وال من والاه وعاد من عاداه واحب من احبه و ابغض من ابغضه و انصرمن نصره واخذل من خذله، وادرالحق معه حيث دار.''
يعنى بار الہا جو اس كو دوست ركھے تو اس كو دوست ركھ او رجو اس سے دشمنى كرے تو اس سے دشمنى ركھ_ جو اس سے محبت كرے تو اس سے محبت كر اور جو اس سے بغض ركھے تو اس سے بغض ركھ_ جو اس كى مدد كرے تو اس كى مددكر _ جو اس كى مدد سے كنارہ كشى كرے تو اسے اپنى مددسے محروم ركھ اور حق كو ادھرپھيردے
جدھر وہ رخ كرے_
اس كے بعد فرمايا:
'' تمام حاضرين آگاہ ہوجائيں اس بات پر كہ يہ ان كى ذمہ دارى ہے كہ وہ اس بات كوان لوگوں تك پہنچائيں جو يہاں پر اور اس وقت موجود نہيں ہيں ''_
روز اكمال دين
پيغمبر(ص) كا خطبہ ختم ہوگيا پيغمبر(ص) پسينے ميں شرابور تھے حضرت على عليہ السلام بھى پسينے ميں نہائے ہوئے تھے_ دوسرے تمام حاضرين كے بھى سر سے پائوں تك پسينہ بہہ رہا تھا_
ابھى اس جمعيت كى صفيں ايك دوسرے سے جدا نہيں ہوئي تھيں كہ جبرئيل (ع) امين وحى لے كر نازل ہوئے اور تكميل دين كى پيغمبر(ص) كو بايں الفاظ بشارت دي:
''اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى ''_(۱)
''آج كے دن ميں نے تمہارے لئے تمہارے دين اور آئين كو كامل كرديا اور اپنى نعمت كو تم پر تمام كرديا''_
اتمام نعمت كا پيغام سن كر پيغمبر(ص) نے فرمايا:
''اللّه اكبر اللّه اكبر على اكمال الدين واتمام النعمة ورضى الرب برسالتى والولايةلعلى من بعدي'' .
''ہر طرح كى بزرگى وبڑائي خداہى كے لئے ہے كہ جس نے اپنے دين كو كامل فرمايا اور اپنى نعمت كو ہم پر تمام كيا اور ميرى نبوت ورسالت اور ميرے بعد كے لئے على (ع) كى ولايت كے لئے خوش ہوا_''
____________________
(۱) سورہ مائدہ آيت ۳
اميرالمو منين على ابن ابى طالب عليہما السلام كى ولايت كا پيغمبر(ص) كى زبان مبارك سے اعلان سن كر حاضرين ميں مبارك باد كا شور برپا ہوا لوگ بڑھ چڑھ كر اس اعزازومنصب پر حضرت على (ع) كو اپنى طرف سے مبارك باد پيش كررہے تھے _ معروف شخصيتوں ميں سے حضرت ابو بكر اور حضرت عمر كى طرف سے مبارك باد كے يہ الفاظ تاريخ كے اوراق ميں محفوظ ہيں كہ انہوں نے كہا:
''بخ: بخ: لك يا بن ابى طالب اصبحت وامسيت مولائي و مولاكل مو من و مو منة:''
''مبارك ہو مبارك ہو اے فرزند ابى طالب كہ آپ(ع) ميرے اور تمام صاحبان ايمان مردوں اورعورتوں كے مولا اور رہبر ہوگئے''_
اس وقت ابن عباس نے كہا :بخدا يہ عہد وپيمان سب كى گردنوں ميں باقى رہے گا''_(۱)
____________________
(۱) اس سلسلے ميں مزيد آگہى كے لئے كتاب الغدير، علامہ اميني ،احقاق الحق ،قاضى نوراللہ شوشتري ،المراجعات شرف الدين اور دلائل الصدق محمدحسين مظفر پر رجوع كريں
فدك
فدك اطراف مدينہ ميں تقريباً ايك سو چاليس كلو ميٹر كے فاصلہ پر خيبر كے نزديك ايك آباد قصبہ تھا_جب سات ہجرى ميں خيبر كے قلعے يكے بعد ديگر افواج اسلامى نے فتح كرلئے اور يہوديوں كى مركزى قوت ٹوٹ گئي تو فدك كے رہنے والے يہودى صلح كے خيال سے بارگاہ پيغمبر(ص) ميں سرتسليم خم كرتے ہوئے آئے اور انہوں نے اپنى آدھى زمينيں اور باغات آنحضرت (ص) كے سپرد كرديئےور آدھے اپنے پاس ركھے _ اس كے علاوہ انہوں نے پيغمبر اسلام(ص) كے حصہ زمينوں كى كاشتكارى بھى اپنے ذمہ لي_ اپنى كاشتكارى كى زحمت كى اجرت وہ پيغمبر اسلام(ص) سے وصول كرتے تھے،(سورہ حشر آيت)كے پيش نظراس كى طرف توجہ كرتے ہوئے يہ زمينيں پيغمبر اسلام(ص) كى ملكيت خاص تھيں _ ان كى آمدنى كو آپ(ص) اپنے مصرف ميں لاتے تھے يا ان مدات ميں خرچ كرتے تھے جن كى طرف اس سورہ كى آيت نمبر۷ ميں اشارہ ہوا ہے _
لہذا پيغمبر(ص) نے يہ سارى زمينيں اپنى بيٹى حضرت فاطمة الزہرا سلام اللہ عليہا كوعنايت فرماديں _ يہ ايسى حقيقت ہے جسے بہت سے شيعہ اور اہل سنت مفسرين نے تصريح كے ساتھ تحرير كيا ہے_منجملہ ديگر مفسرين كے تفسير درالمنثور ميں ابن عباس سے مروى ہے كہ جس وقت آيت( فات ذاالقربى حقه ) (۱) نازل ہوئي تو پيغمبر (ص) نے جناب فاطمہ سلام اللہ عليہا كو فدك عنايت فرمايا:
____________________
(۱) سورہ روم ايت ۳۸
كتاب كنزالعمال جو مسند احمد كے حاشيہ پر لكھى گئي ہے،ميں صلہ رحم كے عنوان كے ماتحت ابو سعيد خدرى سے منقول ہے كہ جس وقت مذكورہ بالاآيت نازل ہوئي تو پيغمبر (ص) نے فاطمہ سلام اللہ عليہا كو طلب كيا اور فرمايا:
''يا فاطمة لك فدك'' ''اے فاطمہ(ع) فدك تيرى ملكيت ہے''_
حاكم نيشاپورى نے بھى اپنى تاريخ ميں اس حقيقت كو تحريركيا ہے_
ابن ابى الحديد معتزلى نے بھى نہج البلاغہ كى شرح ميں داستان فدك تفصيل كے ساتھ بيان كى ہے اور اسى طرح بہت سے ديگر مورخين نے بھي،ليكن وہ افراد جو اس اقتصادى قوت كو حضرت على عليہ السلام كى زوجہ محترمہ كے قبضہ ميں رہنے دينا اپنى سياسى قوت كے لئے مضر سمجھتے تھے،انہوں نے مصصم ارادہ كيا كہ حضرت على عليہ السلام كے ياور وانصار كو ہر لحاظ سے كمزور اور گوشہ نشيں كرديں _ حديث مجہول(نحن معاشر الانبياء ولا نورث) كے بہانے انہوں نے اسے اپنے قبضہ ميں لے ليا اور باوجود يكہ حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا قانونى طور پر اس پر متصرف تھيں اور كوئي شخص ''ذواليد''(جس كے قبضہ ميں مال ہو)سے گواہ كا مطالبہ نہيں كرتا،جناب سيدہ سلام اللہ عليہا سے گواہ طلب كيے گئے _ بى بى نے گواہ پيش كيے كہ پيغمبر اسلام (ص) نے خود انہيں فدك عطا فرمايا ہے ليكن انہوں نے ان تمام چيزوں كى كوئي پرواہ نہيں كي_بعد ميں آنے والے خلفاء ميں سے جو كوئي اہلبيت سے محبت كا اظہار كرتا تو وہ فدك انہيں لوٹا ديتا ليكن زيادہ دير نہ گزرتى كہ دوسرا خليفہ اسے چھين ليتا اور دوبارہ اس پر قبضہ كرليتا _ خلفائے بنى اميہ اور خلفائے بنى عباس بارہا يہ اقدام كرتے رہے _
واقعہ فدك اور اس سے تعلق ركھنے والے مختلف النوع حوادث جو صدر اسلام ميں اور بعد كے ادوار ميں پيش آئے،زيادہ دردناك اورغم انگيز ہيں اور وہ تاريخ اسلام كا ايك عبرت انگيز حصہ بھى ہيں جو محققانہ طور پر مستقل مطالعہ كا متقاضى ہے تا كہ تاريخ اسلام كے مختلف حوادث نگاہوں كے سامنے آسكيں _
قابل توجہ بات يہ ہے كہ اہل سنت كے نامور محدث مسلم بن حجاج نيشاپورى نے اپنى مشہور و معروف كتاب ''صحيح مسلم'' ميں جناب فاطمہ (سلام اللہ عليہا) كا خليفہ اول سے فدك كے مطالبہ كا واقعہ تفصيل سے
بيان كيا ہے، اور جناب عائشہ كى زبانى نقل كيا ہے كہ جناب فاطمہ كو جب خليفہ اول نے فدك نہيں ديا تو بى بى ان سے ناراض ہوگئي اور آخر عمر ان سے كوئي گفتگو نہيں كي_(صحيح مسلم،كتاب جہاد ج۳ص۱۳۸۰حديث ۵۲)
''نحن معاشر الانبياء لا نورث''
اہل سنت كى مختلف كتابوں ميں پيغمبراسلام (ص) كى طرف منسوب ايك حديث موجود ہے جو اس طرح كے مضمون پر مشتمل ہے:
''نحن معاشر الانبياء لا نورث ما تركناه صدقة''
''ہم پيغمبر(ص) لوگ اپنى ميراث نہيں چھوڑتے جو ہم سے رہ جائے اسے راہ خدا ميں صدقے كے طور پر خرچ كرديا جائے''_
اور بعض كتابوں ميں ''لا نورث''كا جملہ نہيں ہے بلكہ''ما تركناہ صدقة''كى صورت ميں نقل كيا گيا ہے _
اس روايت كى سند عام طور پر ابوبكر تك جا كر ختم ہوجاتى ہے جنھوں نے آنحضرت (ص) كے بعد مسلمانوں كى زمام امور اپنے قبضے ميں لے لى تھي_ اور جب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا يا پيغمبر اكرم (ص) كى بعض بيويوں نے ان سے پيغمبر(ص) كى ميراث كا مطالبہ كيا تو انھوں نے اس حديث كا سہارا لےكر انھيں ميراث سے محروم كرديا_
اس حديث كو مسلم نے اپنى صحيح (جلد ۳ كتاب الجھاد والسير ص۱۳۷۹)ميں ،بخارى نے جزو ہشتم كتاب الفرائض كے صفحہ ۱۸۵پر اور اسى طرح بعض ديگر افراد نے اپنى اپنى كتابوں ميں درج كيا ہے_
يہ بات قابل توجہ ہے كہ مذكورہ كتابوں ميں سے بخارى ميں بى بى عائشہ سے ايك روايت نقل كى گئي ہے:فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا اور جناب عباس بن عبد المطلب (رسول (ص) كى وفات كے بعد )ابو بكر كے پاس آئے اور ان سے اپنى ميراث كا مطالبہ كيا _ اس وقت انھوں نے اپنى فدك كى اراضى اور خيبر سے ملنے والى
ميراث كا مطالبہ كيا تو ابو بكر نے كہا ميں نے رسول اللہ (ص) سے سنا ہے كہ آپ(ص) نے فرمايا_''ہم ميراث ميں كوئي چيز نہيں چھوڑتے،جو كچھ ہم سے رہ جائے وہ صدقہ ہوتا ہے''_
جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا نے جب يہ سنا تو نا راض ہو كر وہاں سے واپس آگئيں اور مرتے دم تك ان سے بات نہيں كي_
البتہ يہ حديث مختلف لحاظ سے تجزيہ و تحليل كے قابل ہے ليكن اس تفسير ميں ہم چند ايك نكات بيان كريں گے:
۱_يہ حديث،قرآنى متن كے مخالف ہے اور اس اصول اور كليہ قاعدہ كى رو سے نا قابل اعتبار ہے كہ جو بھى حديث كتاب اللہ كے مطابق نہ ہو اس پر اعتبار نہيں كرنا چاہيے اور ايسى حديث كو پيغمبر اسلام (ص) يا ديگر معصومين عليھم السلام كا قول سمجھ كر قبول نہيں كيا جا سكتا_
ہم قرآنى آيات ميں پڑھتے ہيں كہ حضرت سليمان(ع) جناب دائود (ع) كے وارث بنے اورآيت كا ظاہر مطلق ہے كہ جس ميں اموال بھى شامل ہيں _ جناب يحيى (ع) اور زكريا (ع) كے بارے ميں ہے:
''يرثنى ويرث من ال يعقوب''
''خداوندا مجھے ايسا فرزند عطا فرما جو ميرا اور آل يعقوب كا وارث بنے''_(سورہ مريم آيت ۶)
حضرت''زكريا(ع) ''كے بارے ميں تو بہت سے مفسرين نے مالى وراثت پر زور ديا ہے_
اس كے علاوہ قرآن مجيدميں ''وراثت''كى آيات كا ظاہر بھى عمومى ہے كہ جو بلا استثناء سب كے لئے ہے_
شايد يہى وجہ ہے كہ اہل سنت كے مشہور عالم علامہ قرطبى نے مجبور ہوكر اس حديث كو غالب اور اكثر فعل كى حيثيت سے قبول كيا ہے نہ كہ عمومى كليہ كے طور پر اور اس كے لئے يہ مثال دى ہے كہ عرب ايك جملہ كہتے ہيں :
''انا معشرالعرب اقرى الناس للضيف''_
ہم عرب لوگ دوسرے تمام افراد سے بڑھ كر مہمان نوازہيں (حالانكہ يہ كوئي عمومى حكم نہيں ہے)_
ليكن ظاہر ہے كہ يہ بات اس حديث كى اہميت كى نفى كررہى ہے كيونكہ حضرت سليمان(ع) اور يحيى (ع) كے بارے ميں اس قسم كا عذر قبول كرلئے تو پھر دوسرے كے لئے بھى يہ قطعى نہيں رہ جاتي_
۲_مندرجہ بالا روايت ان كے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہو كہ ابو بكر نے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا كو فدك واپس لوٹا نے كا پختہ ارادہ كر كيا تھا ليكن دوسرے لوگ اس ميں حائل ہوگئے تھے چنانچہ سيرت حلبى ميں ہے:
فاطمہ(ص) بنت رسول(ص) ،ابو بكر كے پاس اس وقت آئيں جب وہ منبر پر تھے _ انھوں نے كہا:
''اے ابو بكر كيا يہ چيز قرآن ميں ہے كہ تمھارى بيٹى تمہارى وراث بنے ليكن ميں اپنے باپ كى ميراث نہ لوں ''؟
يہ سن كر ابو بكر رونے لگے اور ان كى آنكھوں سے آنسو جارى ہوگئے پھر وہ منبر سے نيچے اترے اور فدك كى واپسى كا پروانہ فاطمہ (ص) كو لكھ ديا_ اسى اثناء ميں عمر آگئے _ پوچھا يہ كيا ہے؟انھوں نے كہاكہ ميں نے يہ تحرير لكھ دى ہے تا كہ فاطمہ كو ان كے باپ سے ملنے والى وراثت واپس لوٹا دوں
عمر نے كہا: اگرآپ يہ كام كريں گے تو پھر دشمنوں كے ساتھ جنگى اخراجات كہاں سے پورے كريں گے؟
جبكہ عربوں نے آپ كے خلاف قيام كيا ہوا ہے _ يہ كہا اور تحرير لے كر اسے پارہ پارہ كرديا_(۱)
يہ كيونكر ممكن ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) نے تو صريحى طور پر ممانعت كى ہو اور ابو بكر اس كى مخالفت كى جرا ت كريں ؟اور پھر عمر نے جنگى اخراجات كا تو سہارا ليا ليكن پيغمبر اكرم(ص) كى حديث پيش نہيں كي_
مندرجہ بالا روايت پر اگر اچھى طرح غور كيا جائے تو معلوم ہوگاكہ يہاں پر پيغمبر اسلام(ص) كى طرف سے
____________________
(۱)سيرہ حلبى ج۳/ص۳۶۱
ممانعت كا سوال نہيں تھا_ بلكہ سياسى مسائل آڑے تھے اور ايسے موقع پر معتزلى عالم ابن ابى الحديد كى گفتگو يادآجاتى ہے_ وہ كہتے ہيں :
ميں نے اپنے استاد'' على بن فارقي'' سے پوچھا كہ كيا فاطمہ(ص) اپنے دعوى ميں سچى تھيں ؟ تو انھوں نے كہا جى ہاں پھر ميں نے پوچھا تو ابوبكر انھيں سچا اور بر حق بھى سمجھتے تھے _
اس موقع پر ميرے استاد نے معنى خيز تبسم كے ساتھ نہايت ہى لطيف اور پيارا جواب ديا حالانكہ انكى مذاق كى عادت نہيں تھي،انھوں نے كہا:
اگر وہ آج انھيں صرف ان كے دعوى كى بناء پر ہى فدك دےديتے تو پھر نہ تو ان كے لئے كسى عذر كى گنجائش باقى رہتى اور نہ ہى ان سے موافقت كا امكان ''_(۱)
۳_پيغمبر اسلام (ص) كى ايك مشہور حديث ہے جسے شيعہ اور سنى سب نے اپنى اپنى كتابوں ميں درج كيا ہے،حديث يہ ہے: ''العلماء ورثة الانبياء'' _ ''علماء انبياء كے وارث ہوتے ہيں ''_
نيز يہ قول بھى آنحضرت(ص) ہى سے منقول ہے: ''ان الانبياء لم يورثوا ديناراً ولا درھماً''_ ''انبياء اپنى ميراث ميں نہ تودينار چھوڑتے ہيں اور نہ ہى درہم''_
ان دونوں حديثوں كو ملا كر پڑھنے سے يوں معلوم ہوتا ہے كہ آپ(ص) كا اصل مقصد يہ تھا كہ لوگوں كو يہ بات باور كرائيں كہ انبياء كے لئے سرمايہ افتخار ان كا علم ہے اور اہم ترين چيز جو وہ يادگاركے طور پر چھوڑ جاتے ہيں ان كا ہدايت و راہنمائي كا پروگرام ہے اور جو لوگ علم و دانش سے زيادہ بہرہ مند ہوں گے وہى انبياء كے اصلى وارث ہوں گے_ بجائے اس كے كہ ان كى مال پر نگاہ ہو اور اسے يادگار كے طور پر چھوڑجائيں _ اس كے بعد اس حديث كے نقل بہ معنى كرديا گيا اور اس كى غلط تعبيريں كى گئيں اور شايد''ماتركناہ صدقة'' والے جملے كا بعض روايات ميں اس پر اضافہ كرديا گيا_
____________________
(۱)شرح نہج البلاغہ،ابن ابى الحديد جلد_۱۶ص۲۸۴
مباہلہ
خداوندعالم نے اپنے پيغمبر(ص) كو حكم ديا ہے كہ ان واضح دلائل كے بعد بھى كوئي شخص تم سے حضرت عيسى (ع) كے بارے ميں گفتگو اور جھگڑا كرے تو اسے''مباھلہ''كى دعوت دو اور كہو كہ وہ اپنے بچوں ،عورتوں اور نفسو ں كو لے آئے اور تم بھى اپنے بچوں كو عورتوں اور نفسں كو بلا لو پھر دعا كرو تاكہ خدا جھوٹوں كو رسوا كردے_
بغير كہے يہ بات واضح ہے جب كہ مباہلہ سے مراد يہ نہيں كہ طرفين جمع ہوں ،اور ايك دوسرے پر لعنت اور نفرين كريں اور پھر منتشر ہو جائيں كيونكہ يہ عمل تو نتيجہ خيز نہيں ہے_
بلكہ مراد يہ ہے كہ دعا او رنفرين عملى طور پر اپنا اثر ظاہر كرے اور جو جھوٹا ہو فوراً عذاب ميں گرفتار ہو جائے_
آيات ميں مباہلہ كا نتيجہ تو بيان نہيں كيا گيا ليكن چونكہ يہ طريقہ كار منطق و استدلال كے غير موثر ہونے پر اختيار كيا گيا تھا اس لئے يہ خود اس بات كى دليل ہے كہ مقصود صرف دعا نہ تھى بلكہ اس كا خاجى اثر پيش نظر تھا_
مباہلہ كا مسئلہ عرب ميں كبھى پيش نہيں آيا تھا،اور اس راستہ سے پيغمبر اكرم(ص) كو صدقت و ايمان كو اچھى سرح سمجھا جاسكتا تھا،كيسے ممكن ہے كہ جو شخص كامل ارتباط كے ساتھ خدا پر ايمان نہ ركھتا ہو وہ ايسے ميدان كى طرف آئے اور مخالفين كو دعوت دى كہ آئو اكھٹے درگاہ خدا ميں چليں ،اس سے درخواست كريں اور دعا كريسيں كہ وہ جھوٹے كو رسو اكردے اور پھر يہ بھى كہے كہ تم عنقريب اس كا نتيجہ خودديكھ لو گے كہ خدا كس طرح
جھوٹوں كو سزا ديتا ہے او رعذاب كرتا ہے_
يہ مسلم ہے كہ ايسے ميدان كا رخ كرنا بہت خطرناك معاملہ ہے كيونكہ اگر دعوت دينے والے كى دعا قبول نہ ہوئي اور مخالفين كو ملنے والى سزا كا اثر واضح نہ ہوا تو نتيجہ دعوت دينے والے كى رسوائي كے علاوہ كچھ نہ ہوگا_
كيسے ممكن ہے كہ ايك عقلمند اورسمجھ دار انسان نتيجے كے متعلق اطمينان كئے بغير اس مرحلے ميں قدم ركھے _ اسى لئے تو كہا جاتا ہے كہ پيغمبراكرم(ص) كى طرف سے دعوت مباھلہ اپنے نتائج سے قطع نظر،آپ (ص) كى دعوت كى صداقت اور ايمان كى دليل بھى ہے_
اسلامى روايات ميں ہے كہ''مباھلہ''كى دعوت دى گئي تو نجران كے عيسائيوں كے نمائندے پيغمبر اكرم(ص) كے پاس آئے اور آپ(ص) سے مہلت چاہى تا كہ اس بارے ميں سوچ بچار كرليں اور اس سلسلے ميں اپنے بزرگوں سے مشورہ كرليں _ مشورہ كى يہ بات ان كى نفسياتى حالت كى چغلى كھاتى ہے_
بہر حال مشورے كا نتيجہ يہ نكلا كہ عيسائيوں كے ما بين يہ طے پاياكہ اگر محمد(ص) شور وغل،مجمع اور دادوفريادكے ساتھ''مباھلہ''كے لئے آئيں تو ڈرا نہ جائے اورمباہلہ كرليا جائے كيونكہ اگر اس طرح آئيں تو پھر حقيقت كچھ بھى نہيں ،جب بھى شوروغل كا سہارا ليا جائے گا اور اگر وہ بہت محدود افراد كے ساتھ آئيں ،بہت قريبى خواص اور چھوٹے بچوں كو لے كر وعدہ گاہ ميں پہنچيں تو پھر جان لينا چاہيے كہ وہ خدا كے پيغمبرہيں اور اس صورت ميں اس سے ''مباھلہ''كرنے سے پرہيز كرنا چاہيے كيونكہ اس صورت ميں معاملہ خطرناك ہے_
طے شدہ پروگرام كے مطابق عيسائي ميدان مباہلہ ميں پہنچے تو اچانك ديكھا كہ پيغمبر(ص) اپنے بيٹے حسين(ع) كو گود ميں لئے حسن(ع) كا ہاتھ پكڑے اور على (ع) اور فاطمہ(ع) كو ہمراہ لئے آپہنچے ہيں اور انہيں فرمارہے ہيں كہ جب ميں دعاكروں ،تم آمين كہنا_
عيسائيوں نے يہ كيفيت ديكھى تو انتہائي پريشان ہوئے اور مباہلہ سے رك گئے اور صلح و مصالحت كے لئے تيار ہوگئے اور اہل ذمہ كى حيثيت سے رہنے پر آمادہ ہوگئے _
عظمت اہل بيت كى ايك زندہ سند
شيعہ اورسنى مفسرين اور محدثين نے تصريح كى ہے كہ آيہ مباہلہ اہل بيت رسول عليہم السلام كى شان ميں نازل ہوئي ہے اور رسول اللہ (ص) جن افراد كو اپنے ہمراہ وعدہ گاہ كى طرف لے گئے تھے وہ صرف ان كے بيٹے امام حسن(ع) اور امام حسين(ع) ،ان كى بيٹى فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا اور حضرت على (ع) تھے _ اس بناء پر آيت ميں ''ابنائنا ''سے مراد صرف امام حسن(ع) اور امام حسين(ع) ہيں _''نسائنا''سے مراد جناب فاطمہ سلام اللہ عليہا ہيں اور''انفسنا'' سے مراد صرف حضرت على (ع) ہيں _
اس سلسلے ميں بہت سى احاديث نقل ہوئي ہيں _ اہل سنت كے بعض مفسرين نے جوبہت ہى تعداد ميں ہيں _ اس سلسلے ميں وارد ہونے والى احاديث كا انكار كرنے كى كوشش كى ہے_ مثلاًمولف''المنار''نے اس آيت كے ذيل ميں كہا ہے:
''يہ تمام روايات شيعہ طريقوں سے مروى ہيں ،ان كا مقصد معين ہے،انہوں نے ان احاديث كى نشرو اشاعت اور ترويج كى كوشش كى ہے_ جس سے بہت سے علماء اہل سنت كو بھى اشتباہ ہوگيا ہے''_
ليكن اہل سنت كى بنيادى كتابوں كى طرف رجوع كيا جائے تو وہ نشاندہى كرتى ہيں كہ ان ميں سے بہت سے طريقوں كا شيعوں يا ان كى كتابوں سے ہرگز كوئي تعلق نہيں ہے اور اگر اہل سنت كے طريقوں سے مروى ان احاديث كا انكار كيا جائے تو ان كى باقى احاديث اوركتب بھى درجہ اعتبار سے گرجائيں گي_
اس حقيقت كو زيادہ واضح كرنے كے لئے اہل سنت كے طريقوں سے كچھ روايات ہم يہاں پيش كريں گے_
قاضى نوراللہ شوسترى اپنى كتاب نفيس ''احقاق الحق''(۱) ميں لكھتے ہيں :
____________________
(۱) جلد سوم طبع جديد صفحہ۴۶
''مفسرين اس مسئلے ميں متفق ہيں كہ ''ابنائنا''سے اس آيت ميں امام حسن(ع) او رامام حسين(ع) مراد ہيں ،''نسائنا''سے ''حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا''اور''انفسنا''ميں حضرت على عليہ السلام كى طرف اشارہ كيا گيا ہے''_
اس كے بعد كتاب مذكور كے حاشيے پر تقريباً ساٹھ بزرگان اہل سنت كى فہرست دى گئي ہے جنہوں نے تصريح كى ہے كہ آيت مباہلہ اہل بيت رسول عليہم السلام كى شان ميں نازل ہوئي ہے_(۱)
____________________
(۱) ان كے نام او ران كى كتاب كى خصوصيات صفحہ _۴۶ سے ليكر صفحہ۷۶ تك تفصيل سے بيان كى گئي ہے ان شخصيتوں ميں سے يہ زيادہ مشہور ہيں
۱_مسلم بن حجاج نيشاپوري،مو لف صحيح مسلم جو نامور شخصيت ہيں اور ان كى حديث كى كتاب اہل سنت كى چھ قابل اعتماد صحاح ميں سے ہے ملا حظہ ہو مسلم،ج۷ص۱۲۰طبع مصر زير اہتمام محمد على صبيح.
۲_احمد بن حنبل نے اپني''مسند''ميں لكھاہے ملاحظہ ہو ،ج۲ص۱۸۵طبع مصر.
۳_طبرى نے اپنى مشہور تفسير ميں اسى آيت كے ضمن ميں لكھا ہے_ ديكھئے ج۳ص۱۹۲طبع ميمنيہ مصر.
۴_حاكم نے اپني''مستدرك''ميں لكھا ہے،ديكھئےج۳ص۱۵مطبوعہ حيدرآباد دكن.
۵_حافظ ابو نعيم اصفہاني،كتاب ''دلائل النبوة''ص۲۹۷مطبوعہ حيدرآباد دكن.
۶_واحدى نيشاپوري،كتاب''اسباب النزول''ص۷۴طبع ہند.
۷_فخر رازي، نے اپنى مشہور تفسير كبير ميں لكھاہے،ديكھئےج۸ص۸۵طبع بہيہ،مصر.
۸_ابن اثير،''جامع الاصول''جلد۹ص۴۷۰طبع سنتہ المحمديہ،مصر.
۹_ابن جوزي''تذكرة الخواص'' صفحہ۱۷طبع نجف.
۱۰_قاضى بيضاوي،نے اپنى تفسير ميں لكھا ہے،ملاحظہ كريں ج۲ص۲۲طبع مصطفى محمد،مصر.
۱۱_آلوسى نے تفسير''روح المعاني''ميں لكھا ہے_ ديكھئے _ج ۳ص۱۶۷طبع منيريہمصر.
۱۲_معروف مفسر طنطاوى نے اپنى تفسير ''الجواھر''ميں لكھا ہے _ج۲ص۱۲۰مطبوعہ مصطفى اليابى ال.حلبي،مصر.
۱۳_زمخشرى نے تفسير''كشاف''ميں لكھا ہے،ديكھئے_ج۱ص۱۹۳،مطبوعہ مصطفى محمد،مصر.
۱۴_حافظ احمد ابن حجر عسقلانى ،''الاصابة''_ج۲ص۵۰۳،مطبوعہ مصطفى محمد،مصر.
''غاية المرام'' ميں صحيح مسلم كے حوالے سے لكھا'':
''ايك روز معاويہ نے سعد بن ابى وقاص سے كہا:''
تم ابو تراب ( على (ع) ) كو سب وشتم كيوں نہيں كرتے_وہ كہنے لگا_
جب سے على (ع) كے بارے ميں پيغمبر(ص) كى كہى ہوئي تين باتيں مجھے ياد آتى ہيں ،ميں نے اس كام سے صرف نظركرليا ہے_ان ميں سے ايك يہ تھى كہ جب آيت مباہلہ نازل ہوئي تو پيغمبر(ص) نے فاطمہ(ع) ،حسن(ع) ،حسين(ع) ،اور على (ع) كو دعوت دي_اس كے بعد فرمايا''اللھم ھو لاء اھلي''(يعنى خدايا يہ ميرے نزديكى اور خواص ہيں )_
تفسير''كشاف''كے مو لف اہل سنت كے بزرگوں ميں سے ہيں _ وہ اس آيت كے ذيل ميں كہتے ہيں _''يہ آيت اہل كساء كى فضيلت كو ثابت كرنے كے لئے قوى ترين دليل ہے''_
شيعہ مفسرين،محدثين اور مو رخين بھى سب كے سب اس آيت كے ''اھل بيت ''كى شان ميں نازل ہونے پر متفق ہيں چنانچہ''نورالثقلين'' ميں اس سلسلے ميں بہت سى روايات نقل كى گئي ہيں _ ان ميں سے ايك كتاب''عيون اخبار الرضا''ہے_ اس ميں ايك مجلس مناظرہ كا حال بيان كيا گيا ہے،جو مامون نے اپنے دربار ميں منعقد كى تھي_
اس ميں ہے كہ امام على بن موسى رضا عليہ السلام نے فرمايا:
''خدا نے اپنے پاك بندوں كو آيت مباہلہ ميں مشخص كرديا ہے اور اپنے پيغمبر(ص) كو حكم ديا ہے:
( فمن حاجك فيه من بعد ما جاء ك من العلم فقل )
اس آيت كے نزول كے بعد پيغمبر(ص) ،على (ع) ،فاطمہ(ع) ،حسن(ع) ،اور حسين(ع) كو اپنے ساتھ مباھلہ كے لئے لے
فہرست
حرف اوّل ۴
تقريظ ۶
حضرت آيت اللہ العظمى مكارم شيرازى مدظلہ العالي ۶
پيش گفتار ۸
چند ضرورى نكات: ۹
انسانى زندگى پر داستان كااثر ۱۱
۱ انبياء عليهم السلام کے واقعات ۱۵
حضرت آدم عليہ السلام ۱۵
فرشتوں كا سوال ۱۶
فرشتے امتحان كے سانچے ميں ۱۸
آدم عليہ السلام جنت ميں ۱۹
ابليس نے مخالفت كيوں كي ۲۰
بہشت ميں قيام ۲۳
شيطان كا وسوسہ ۲۴
حضرت آدم عليہ السلام كو آب حيات كى تمنا ۲۵
شجرہ ممنوعہ كونسادرخت تھا؟ ۲۷
جنت سے اخراج ۲۹
آدم عليہ السلام كونسى جنت ميں تھے ۳۰
خدا كى طرف آدم عليہ السلام كى باز گشت ۳۲
خدا نے جو كلمات آدم عليہ السلام پر القاكئے وہ كيا تھے ؟ ۳۳
ادم عليہ السلام كا ماجرا اور اس جہان پر ايك طائرانہ نظر ۳۴
زمين پرسب سے پہلا قتل ۳۵
ظلم كى پردہ پوشي ۳۷
افسوس اپنے اوپر ۳۸
حضرت ادريس عليہ السلام ۴۰
حضرت نوح عليہ السلام ۴۱
۹۵۰/سال تبليغ ۷/مومن ۴۲
قوم نوح عليہ السلام كى ہلا دينے والى سرگزشت ۴۲
امام زادوں كو زائرين كى تعداد سے پہچاناجاتا ہے ۴۳
حضرت نوح عليہ السلام كے جوابات ۴۵
ميں كسى صاحب ايمان كو نہيں دھتكارتا ۴۶
خدائي خزانے ميرے قبضہ ميں نہيں ہيں ۴۷
كہاں ہے عذاب ؟ ۴۸
معاشرے كو پاك كرنے كا مرحلہ ۴۹
كشتى نوح عليہ السلام ۵۱
كشتى بنارہے ہو دريابھى بنائو ۵۱
آغاز طوفان ۵۳
نوح عليہ السلام كا بيٹابدكاروں كے ساتھ ۵۵
اللہ كا نام لے كركشتى پرسوارہوجائو ۵۵
پسر نوح كا درد ناك انجام ۵۶
اے نوح عليہ السلام تمہارا بيٹا تمہارے اہل سے نہيں ہے ۵۷
اس داستان كا اختتام ۵۹
كوہ جودى كہاں ہے ؟ ۶۰
حضرت نوح(ع) باسلامت اترآئے ۶۱
كيا طوفان نوح(ع) عالمگير تھا ؟ ۶۲
طوفان كے ذريعے سزا كيوں دى گئي ؟ ۶۳
جناب نوح(ع) كى بيوي ۶۴
۲ انبياء عليهم السلام کے واقعات ۶۵
حضرت ہود عليہ السلام ۶۵
شہر ارم اور شداد كى بہشت ۶۵
حضرت ہود(ع) برادر قوم عاد ۶۶
حضرت ہود كى بہترين دليل ۶۶
اے ہود تم ہمارے خدائوں كے غضب سے ديوانہ ہوگئے ہو ۶۸
كيوں بت مجھے نابود نہيں كرتے ۶۹
اس ظالم قوم پر ابدى لعنت ۷۱
عذاب الہى ايك نحس دن ميں ۷۲
كيا ان ميں سے كسى كو ديكھتے ہو ۷۳
حضرت صالح عليہ السلام ۷۵
فاسداوراسراف كرنے والوں كى اطاعت نہ كرو ۷۷
قوم صالح كى ہٹ دھرمي ۷۸
كيا ہم دوبارہ زندہ كئے جائيں گے ۷۹
اے صالح(ع) ہم تم پراميد ركھتے تھے ۸۰
تم كتنے نحس قدم ہو ۸۰
ناقہ صالح(ع) ۸۱
اگر تم سچے ہو تو عذاب ميں جلدى كرو ۸۳
قوم ثمود كا انجام ۸۴
''صيحة'' سے كيا مرادہے ؟ ۸۵
حضرت صالح(ع) كے ساتھ نجات پانے والے افراد ۸۶
وادى القرى ميں نو ۹ مفسدٹولوں كى سازش ۸۶
يہ خالى گھران كے ہيں ؟ ۸۸
حضرت ابراہيم ،حضرت اسماعيل اور حضرت اسحاق (عليہم السلام) ۹۰
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى پر تلاطم زندگي ۹۱
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى جائے پيدائش ۹۱
دور نبوت ۹۲
حضرت ابراہيم عليہ السلام كے پانچ برجستہ صفات ۹۳
ابراہيم عليہ السلام سب كے لئے نمونہ ہيں ۹۵
شائستہ اولاد ۹۶
آزرسے گفتگو ۹۷
اے ابراہيم تم پر پتھر برسائوں گا ۹۹
اسمانوں ميں توحيد كے دلائل ۱۰۴
ستارہ سے كون سا ستارہ مراد ہے ؟ ۱۰۷
توحيد كى دعوت ۱۰۷
ابراہيم عليہ السلام كى بت شكنى كا زبردست منظر ۱۱۰
تم يہ بہترين اور شيرين غذا كيوں نہيں كھاتے ۱۱۳
جناب ابراہيم (ع) نمروديوں كى عدالت ميں ۱۱۵
حضرت ابراہيم عليہ السلام كى دندان شكن دليل ۱۱۶
زودگذربيداري ۱۱۸
بت تو بولتے ہى نہيں ۱۱۸
ابراہيم (ع) كو جلا ديا جائے ۱۲۱
فرشتوں كى فرياد ۱۲۲
آگ گلزار ہوگئي ۱۲۴
بہادرنوجوان ۱۲۵
ابراہيم عليہ السلام اور نمرود ۱۲۵
نمرود سے گفتگو ۱۲۶
بت پرستوں كى سرزمين سے ابراہيم كى ہجرت ۱۲۸
كس طرح مردوں كو زندہ كرے گا ؟ ۱۳۰
چندا ہم نكات ۱۳۱
اسماعيل (ع) اور ہاجرہ(ع) كو منتقل كرنے كا حكم ۱۳۲
اسماعيل (ع) قربان گاہ ميں ۱۳۴
شيطانى وسوسہ ۱۳۶
ميرى والدہ كو سلام كہنا ۱۳۷
باپ بيٹے ايك دوسرے سے مل كررونے لگے ۱۳۸
جبرئيل (ع) كى فرياد تكبير ۱۴۰
ذبح عظيم ۱۴۱
ذبيح اللہ كون ہے ؟ ۱۴۲
جناب اسحاق كى بشارت ۱۴۳
يہ كہ غلام عليم(صاحب علم لڑكے ) سے كون مراد ہے؟ ۱۴۴
حضرت ابراہيم عليہ السلام كو انعام ميں امامت ملي ۱۴۷
ابراہيم عليہ السلام كا كن چيزوں كے ذريعہ امتحان ليا گيا ۱۴۸
امام كسے كہتے ہيں ؟ ۱۴۹
۳ انبياء عليهم السلام کے واقعات ۱۵۰
حضرت لوط عليہ السلام ۱۵۰
قوم لوط كا سب سے بڑا اخلاقى انحراف ۱۵۱
جہاں پر عفت ايك عيب ہو ۱۵۲
۳۰ /سال سعى و كوشش ۱۵۴
يہ ہے گناہ گاروں كا انجام ۱۵۵
صرف ايك خاندان مومن اور پاك ۱۵۷
حضرت لوط عليہ السلام مہمانوں كو ديكھ كر پريشان ہوگئے ۱۵۸
قوم لوط(ع) آپ كے گھر ميں داخل ہوگئي ۱۵۹
اے كاش ميں تم سے مقابلہ كرسكتا ۱۶۱
اے لوط(ع) آپ پريشان نہ ہويئے ۱۶۲
كيا صبح قريب نہيں ہے؟ ۱۶۴
صبح كے وقت نزول عذاب كيوں ؟ ۱۶۵
زيرو زبركيوں كيا گيا ۱۶۶
قوم لوط(ع) كا اخلاق ۱۶۷
حضرت لوط (ع) كى بيوى كافروں كے لئے مثال ۱۶۷
حضرت يوسف اور يعقوب (عليہماالسلام) ۱۶۹
داستان عشق يا پاكيزگى كا بہترين سبق ۱۶۹
قہرمان پاكيزگي ۱۶۹
حضرت يوسف(ع) كا واقعہ اسلام سے پہلے اور اسلام كے بعد ۱۷۰
احسن القصص ۱۷۱
اميد كى كرن او ر مشكلات كى ابتدا ء ۱۷۳
بھائيوں كى سازش ۱۷۴
يوسف (ع) كو قتل كر ديا جائے ۱۷۶
منحوس سازش ۱۷۷
كنعان كے بھيڑئے ۱۷۸
يوسف كى ہنسى اور ان كا رونا ۱۸۰
جناب يوسف(ع) بر ہنہ كنويں ۱۸۲
ذليل كنندہ جھوٹ ۱۸۲
مہربان بھيڑيا ۱۸۴
ايك ترك اولى كے بدلے ۱۸۵
سر زمين مصر كى جانب ۱۸۷
جناب يوسف(ع) كو كم داموں ميں بيچنا ۱۸۸
عزيز مصر كے محل ميں ۱۸۹
جناب يوسف (ع) كى پاكيز گى كا انعام ۱۹۰
عزيز مصر كى بيوى كا عشق سوزاں ۱۹۱
زليخا نے ساتوں دروازے بند كر دئے ۱۹۲
حضرت يوسف(ع) كے دل ميں ايك طوفان ۱۹۳
زوجہ عزيز مصر كى رسوائي ۱۹۵
شاہد گواہى ديتا ہے ۱۹۶
شاہد كون تھا ؟ ۱۹۷
زوجہ عزيز مصر كى ايك اور سازش ۱۹۸
جنا ب يوسف(ع) كے پاس مصر كی عور تيں ۱۹۹
مصر كى عورتوں نے اپنے ہاتھ كا ٹ لئے ۲۰۰
تو پھر يوسف سے عشق ميں مجھے كيوں ملامت كرتى ہو ؟ ۲۰۱
اے يوسف(ع) قبول كر لو ۲۰۲
زندان كى تمنا ۲۰۲
بے گنا ہى كے پاداش ميں قيد ۲۰۴
زندان كے واقعات ۲۰۵
قيد خانہ يا مر كز تربيت ۲۰۵
قيديوں كى تعبير خواب ۲۰۷
بادشاہ كے سا منے مجھے ياد كرنا ۲۰۸
باد شاہ مصر كا خواب ۲۱۰
بادشاہ كے ساقى نے جناب يوسف كو ياد كيا ۲۱۱
مصر كا قيدى يا بہترين رہبر ۲۱۳
يوسف ہر الزام سے برى ہو گئے ۲۱۴
زليخا كا اعتراف ۲۱۵
يوسف (ع) ،مصر كے خزانہ دار كى حيثيت سے ۲۱۷
سات سال بر كت اورسات سال قحط ۲۱۹
برادران يوسف (ع) مصر پہونچے ۲۲۰
جناب يوسف (ع) نے اپنے بھا ئيوں سے ايك پيشكش كي ۲۲۱
اخر كار باپ راضى ہو گيا ۲۲۴
ايك دروازے سے داخل نہ ہو نا ۲۲۷
بھا ئي كو روكنے كى كو شش ۲۲۸
اے اہل قافلہ تم چو رہو ۲۲۹
اے بنيا مين تم نے ہميں ذليل كر ديا ۲۳۱
يوسف نے بھى چورى كى تھي ۲۳۳
برادران يو سف كى فداكا رى كيوں قبول نہ ہوئي ۲۳۵
بھا ئي سر جھكا ئے باپ كے پاس پہنچے ۲۳۶
ميں وہ الطاف الہى جانتا ہوں جو تم نہيں جانتے ۲۳۸
برادران يوسف شر مند ہ اور حضرت يعقوب نابينا ہو گئے ۲۳۹
كوشش كرو اور مايوس نہ ہو،كيونكہ مايوسى كفر كى نشانى ہے ۲۴۰
جناب يو سف نے روتے ہو ئے باپ كے خط كو چو ما ۲۴۱
كيا تو وہى يو سف ہے ؟ ۲۴۲
آج رحمت كا دن ہے ۲۴۴
يوسف (ع) كى قيمص كون لے كر گيا؟ ۲۴۵
يوسف (ع) كى عظمت ۲۴۵
آخر كار لطف الہى نے اپنا كام كرڈالا ۲۴۶
قافلہ كنعان پہو نچتا ہے ۲۴۸
يوسف (ع) ، يعقوب اور بھائيوں كى سرگزشت كا اختتام ۲۵۲
جناب يو سف كے خواب كى تعبير ۲۵۳
باپ كو سرگزشت نہ سنانا ۲۵۵
۴ انبياء عليهم السلام کے واقعات ۲۵۷
حضرت شعيب عليہ السلام ۲۵۷
حضرت شعيب (ع) كى سر زمين''مدين'' ۲۵۷
قوم شعيب كى اقتصادى برائياں ۲۵۸
ہٹ دھرموں كى بے بنياد منطق ۲۵۹
جناب شعيب(ع) كا جواب ۲۶۰
ايك دوسرے كو دھمكياں ۲۶۲
مدين كے تباہ كاروں كا انجام ۲۶۴
حضرت موسى عليہ السلام ۲۶۷
حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے پانچ ادوار ۲۶۸
ولادت حضرت موسى عليہ السلام ۲۶۸
جناب موسى عليہ السلام تنور ميں ۲۶۹
دريا كى موجيں گہوارے سے بہتر ۲۷۱
دلوں ميں حضرت مو سى عليہ السلام كى محبت ۲۷۳
اللہ كى عجيب قدرت ۲۷۵
موسى عليہ السلام پھر آغوش مادر ميں ۲۷۶
صرف تيرا ہى دودھ كيوں پيا ۲۷۹
موسى عليہ السلام مظلوموں كے مددگار كے طورپر ۲۸۱
موسى عليہ السلام كى مخفيانہ مدين كى طرف روانگي ۲۸۵
حضرت موسى عليہ السلام كے ليے سزا ئے موت ۲۸۶
مدين كہاں تھا؟ ۲۸۷
ايك نيك عمل نے موسى (ع) پر بھلائيوں كے دروازے كھول ديئے ۲۸۹
حضرت موسى (ع) جناب شعيب(ع) كے گھر ميں ۲۹۲
جناب موسى عليہ السلام حضرت شعيب (ع) كے داماد بن گئے ۲۹۴
حضرت موسى عليہ السلام كى زندگى كے بہترين ايام ۲۹۶
وحى كى تابش اول ۲۹۷
اے موسى جوتى اتاردو ۲۹۸
موسى عليہ السلام كا عصا اور يد بيضا ۳۰۰
انذار و بشارت ۳۰۲
كاميابى كے اسباب كى درخواست ۳۰۳
ميرا بھائي ميراناصر ومددگار ۳۰۴
فرعون سے معركہ آرا مقابلہ ۳۰۷
ديوانگى كى تہمت ۳۱۰
تمہارا ملك خطرے ميں ہے ۳۱۳
ہر طرف سے جادو گر پہنچ گئے ۳۱۶
جادو گروں كا عجيب وغريب منظر ۳۱۸
كيا ميرى اجازت كے بغير موسى عليہ السلام پر ايمان لے آئے؟ ۳۲۳
ہميں اپنے محبوب كى طرف پلٹادے ۳۲۴
فرعون كى زوجہ ايمان لے آئي ۳۲۶
جناب موسى عليہ السلام كے قتل كا حكم ۳۲۸
كہيں موسى تمہارا مذہب نہ بدل دے ۳۲۹
آيا كسى كو خدا كى طرف بلانے پر بھى قتل كرتے ہيں ؟ ۳۳۰
ميں تمہيں خبردار كرتا ہوں ۳۳۲
آخرى بات ۳۳۴
موسى كے خدا كى خبرلاتا ہوں ۳۳۵
پچاس ہزار معمار برج بناتے ہيں ۳۳۷
ميں نے موسى عليہ السلام كے خدا كو مارا ڈالا ۳۳۸
بيدار كرنے والى سزائيں ۳۳۹
مختلف اور پيہم بلائوں كا نزول ۳۴۰
بار بار كى عہد شكنياں ۳۴۳
موسى عليہ السلام كے پاس سونے كے كنگن كيوں نہيں ؟ ۳۴۴
جناب موسى اورہارون عليہما السلام كے اونى لباس ۳۴۷
چوتھا مرحلہ انقلاب كى تياري ۳۴۷
ہم نے انھيں باہر نكال ديا ۳۵۰
فرعونيوں كا درناك انجام ۳۵۳
اپنے عصا كو دريا پر ماردو ۳۵۴
اے فرعون تيرا بدن لوگوں كے لئے عبرتناك ہوگا ۳۵۶
بنى اسرائيل كى گذرگاہ ۳۵۷
حضرت موسى عليہ السلام سے بت سازى كى فرمائش ۳۵۸
ايك يہودى كو حضرت اميرالمومنين عليہ السلام كا جواب ۳۵۹
بنى اسرائيل سر زمين مقدس كى طرف ۳۶۰
جب كامياب ہو جاو تو ہميں بھى خبركرنا ۳۶۲
بنى اسرائيل بيابان ميں سرگرداں ۳۶۳
بنى اسرائيل كا ايك گروہ پشيمان ہوا ۳۶۴
منّ و سلوى كيا ہے؟ ۳۶۵
بيابانوں ميں چشمہ ابلنا ۳۶۷
مختلف كھانوں كى تمنا ۳۶۸
عظيم وعدہ گاہ ۳۶۹
ديدار پرودگار كى خواہش ۳۷۰
حضرت موسى عليہ السلام نے رويت كى خواہش كيوں كي؟ ۳۷۰
الواح توريت ۳۷۱
يہوديوں ميں گوسالہ پرستى كاآغاز ۳۷۳
دودن ميں چھ لاكھ گوسالہ پرست بن گئے ۳۷۴
گوسالہ پرستوں كے خلاف شديد رد عمل ۳۷۵
بے نظير غصہ ۳۷۶
اے ميرى ماں كے بيٹے ميں بے گناہ ہوں ۳۷۸
طلائي گوسالہ سے كس طرح آواز پيدا ہوئي؟ ۳۸۰
سامرى كى سزا ۳۸۱
گناہ عظيم اور كم نظير توبہ ۳۸۳
اكٹھا قتل ۳۸۴
خداكى آيات كو مضبوطى سے پكڑ لو ۳۸۵
كوہ طور ۳۸۷
توريت كيا ہے ۳۸۷
۵ انبياء عليهم السلام کے واقعات ۳۹۰
حضرت خضر عليہ السلام ۳۹۰
حضرت موسى ، جناب خضر كى تلاش ميں ۳۹۱
عرصہ دراز تك جناب خضر عليہ السلام كى تلاش ۳۹۳
عظيم استاد كى زيارت ۳۹۴
خدائي معلم اور يہ ناپسند يدہ كام ؟ ۳۹۶
كيوں اس بچے كو قتل كررہے ہو؟ ۳۹۷
اپنے كام كى مزدورى لے لو ۳۹۹
فراق دوست ،زندگى كے سخت ترين ايام ۴۰۱
ان واقعات كاراز ۴۰۲
حضرت خضر كون تھے؟ ۴۰۶
خود ساختہ افسانے ۴۰۸
علم موسى (ع) و خضر (ع) ،علم خدا كے مقابلہ ميں ۴۰۸
وہ خزانہ كيا تھا؟ ۴۰۹
بنى اسرائيل نے كس طرح گناہ كيا تھا؟ ۴۱۲
بنى اسرائيل كى گائے كا واقعہ ۴۱۴
سليمان (ع) اپنى فوجى طاقت كامظاہرہ ديكھتے ہيں ۴۱۸
ملكہ سبا كے دل ميں نور ايمان ۴۲۷
۶ انبياء عليهم السلام کے واقعات ۴۳۶
حضرت ايوب عليہ السلام ۴۳۶
حضرت ايوب (ع) كى حيران كن زندگى اور ان كا صبر ۴۳۶
اس گفتگو ميں قرآن: ۴۳۷
حضرت ايو ب عليہ السلام كيوں مشكلات ميں گرفتار ہوئے ۴۳۷
سب سے بڑا غم دشمنوں كى شماتت ۴۳۸
حضرت ايوب عليہ السلام كى قسم ۴۴۰
حضرت ايوب عليہ السلام قرآن اور توريت ميں ۴۴۲
حضرت يونس عليہ السلام ۴۴۴
يونس عليہ السلام امتحان كى بھٹى ميں ۴۴۵
حضرت عيسى عليہ السلام كى ولادت كا سراغاز ۴۵۲
۷ ديگر قرآنى واقعات ۴۵۳
ديگر قرآنى واقعات ۴۵۳
حضرت لقمان ۴۵۴
يہ تمام حكمت كہاں سے ۴۵۵
اصحاب كہف ۴۵۷
اصحاب كہف كى زندگى كا اجمالى جائزہ ۴۵۷
داستان اصحاب كہف كى تفصيل ۴۵۹
۸ حضرت رسول اكرم (ص) ۴۶۴
حضرت رسول اكرم (ص) ۴۶۴
نبوت سے پہلے آنحضرت (ص) كس دين پر تھے؟ ۴۶۵
آغاز وحي ۴۶۷
پہلا مسلمان(۱) ۴۶۹
تحريف تاريخ ۴۷۱
دعوت ذوالعشيرة ۴۷۳
ايمان ابوطالب ۴۷۵
ايمان ابو طالب پر سات دليل ۴۷۶
اشعار ابوطالب زندہ گواہ ۴۷۸
ابوطالب تين سال تك شعب ميں ۴۸۱
ابوطالب كا سال وفات ''عام الحزن ۴۸۲
ابولہب كى دشمني ۴۸۳
ابولہب پيغمبر كا پيچھا كرتارہا ۴۸۴
ابو لہب كے ہاتھ كٹ جائيں ۴۸۵
ايندھن اٹھائے ہوئے ۴۸۶
ابولہب كاعبرت ناك انجام ۴۸۷
ابوسفيان وابوجہل چھپ كر قرآن سنتے ہيں ۴۸۹
اسلام كے پہلے مہاجرين ۴۹۱
مشركين ،مہاجرين كى تعقيب ميں ۴۹۲
جعفربن ابى طالب مہاجرين كے بہترين خطيب ۴۹۳
فتح خيبركى زيادہ خوشى ہے يا جعفركے پلٹنے كي ۴۹۵
معراج رسول (ص) ۴۹۶
معراج كى كيفيت قرآن و حديث كى نظر سے ۴۹۶
معراج كى تاريخ ۴۹۷
معراج جسمانى تھى ياروحانى ؟ ۵۰۰
معراج كا مقصد ۵۰۱
معراج اور سائنس ۵۰۲
ان سوالات كے پيش نظر چندچيزوں پر توجہ ۵۰۳
شب معراج پيغمبر (ص) سے خداكى باتيں ۵۰۵
اہل دنيا و آخرت ۵۰۶
اہل بہشت كے صفات ۵۰۷
بہترين اور جاويدانى زندگي ۵۰۸
ہجرت پيامبر اكرم (ص)(۱) ۵۱۰
ابوجہل كى رائے ۵۱۱
حضرت على عليہ السلام نے اپنى جان كو بيچ ڈالي ۵۱۲
قبلہ كى تبديلي ۵۱۴
پيغمبر اكرم (ص) كا خانہ كعبہ سے خاص لگائو ۵۱۴
تبديلى قبلہ كا راز ۵۱۶
جنگ بدر(۱) ۵۱۸
۳۱۳/ وفادار ساتھي ۵۲۰
قريش كا ايك ہزار كا لشكر ۵۲۱
ستر قتل ستر اسير ۵۲۳
مجاہدين كى تشويق ۵۲۵
جنگ كا خاتمہ اور اسيروں كا واقعہ ۵۲۶
آنحضرت(ص) كے چچا عباس كا اسلام قبول كرنا ۵۲۷
جنگ احد(۱) ۵۲۹
جناب عباس كى بر وقت اطلاع ۵۳۰
پيغمبر كا مسلمانوں سے مشورہ ۵۳۰
مسلمانوں كى دفاعى تيارياں ۵۳۱
آغاز جنگ ۵۳۲
كون پكارا كہ محمد (ص) قتل ہوگئے ؟ ۵۳۵
جنگ كا خطرناك مرحلہ ۵۳۶
كھوكھلى باتيں ۵۳۸
حضرت على عليہ السلام كے زخم ۵۳۸
ہم نے شكست كيوں كھائي ؟ ۵۳۹
عمومى معافى كا حكم ۵۳۹
پيغمبر اكرم (ص) شہداء سے مخاطب ۵۴۰
حنظلہ غسيل الملائلكہ ۵۴۱
قبيلہ بنى نضير كى سازش ۵۴۲
۹ حضرت رسول اكرم (ص) ۵۴۵
جنگ احزاب ۵۴۵
كل ايمان كل كفر كے مقابلہ ميں ۵۴۶
لشكر كى تعداد ۵۴۶
خندق كى كھدائي ۵۴۷
عمرو بن عبدود دسے حضرت على (ع) كى تاريخى جنگ ۵۴۸
ضربت على (ع) ثقلين كى عبادت پر بھاري ۵۴۹
نعيم بن مسعود كى داستان اور دشمن كے لشكر ميں پھوٹ ۵۵۱
حذيفہ كا واقعہ ۵۵۴
جنگ احزاب قرآن كى روشنى ميں ۵۵۵
منافقين او رضعيف الايمان جنگ احزاب ميں ۵۵۸
ميں نے ايران، روم اور مصركے محلوں كو ديكھا ہے ۵۵۸
منافقانہ عذر ۵۶۰
روكنے والا ٹولہ ۵۶۲
وہ ہرگز ايمان نہيں لائے ۵۶۳
جنگ احزاب ميں سچے مومنين كا كردار ۵۶۶
مومنين كے صفات ۵۶۷
جنگ بنى قريظہ ۵۶۹
تين تجاويز ۵۷۰
ابولبابہ كى خيانت ۵۷۱
صلح حديبيہ ۵۷۴
بيعت رضوان ۵۷۵
صلح نامہ كى تحرير ۵۷۶
صلح حديبيہ كے سياسى ،اجتماعى او رمذہبى نتائج ۵۷۸
صلح حديبيہ يا عظيم الشان فتح ۵۷۹
پيغمبر (ص) كا سچا خواب ۵۸۰
مومنين كے دلوں پرنزول سكينہ ۵۸۱
يہ سكينہ كيا تھا ؟ ۵۸۱
پيچھے رہ جانے والوں كى عذر تراشي ۵۸۳
اگر حديبيہ ميں جنگ ہوجاتي ۵۸۵
عمرة القضاء ۵۸۷
فتح خيبر ۵۸۹
دعائے پيامبر (ص) ۵۹۰
فاتح خيبر على عليہ السلام ۵۹۱
فتح مكہ ۵۹۳
مكہ كى طرف روانگي ۵۹۴
على عليہ السلام كے قدم دوش رسول (ص) پر ۵۹۷
آج كا دن روز رحمت ہے ۵۹۹
عورتوں كى بيعت كے شرائط ۶۰۰
ابوسفيان كى بيوى ہندہ كى بيعت كا ماجرا ۶۰۱
۱۰ حضرت رسول اكرم (ص) ۶۰۳
پيغمبر (ص) كے خطوط دنيا كے بادشاہوں كے نام ۶۰۳
مقوقس(۱) ۶۰۳
جنگ ذات السلاسل ۶۱۱
جنگ حنين(۱) ۶۱۲
دشمن كے لشكر كا مورچہ ۶۱۳
بھاگنے والے كون تھے ؟ ۶۱۵
جنگ تبوك ۶۱۶
لشكر ى مشكلات ۶۱۷
تشويق ، سرزنش، اور دھمكى كى زبان ۶۱۸
تنہاوہ جنگ جس ميں حضرت على نے شركت نہ كي ۶۱۹
ايك عظيم درس ۶۲۱
جنگ تبوك ميں شركت نہ كرنے والے تين لوگ ۶۲۲
مسجد ضرار(۱) ۶۲۴
مسجد قباء ۶۲۷
سب سے پہلى نماز جمعہ ۶۲۸
واقعہ غدير ۶۲۹
خطبہ غدير ۶۳۰
روز اكمال دين ۶۳۳
فدك ۶۳۵
''نحن معاشر الانبياء لا نورث'' ۶۳۷
مباہلہ ۶۴۱
عظمت اہل بيت كى ايك زندہ سند ۶۴۳