تفسیرنور

مؤلف: شیخ محسن قرائتی
تفسیر قرآن


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تفسیرنور

مصنف: شیخ محسن قرائتی


سورہ انعام

( بسم الله الرحمن الرحیم )

یہ سورت قرآن مجید کی ۹ ویں سورت ہے کہ جس کی تمام آیات خصوصی اہتمام کے ساتھ مکہ معظمہ میں یکجا نازل ہوئیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کے جلو میں یہ سورت لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے۔

اس سورت کی فضلیت اور اس کی تلاوت کے ذریعہ قضاء حوائج کے بارے میں بہت سی روایات بیان ہوئی ہیں، جن میں سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں جو شخص (دو سلاموں کے ساتھ) چار رکعت نماز پڑھے پھر اس سورت کی تلاوت کرے اور اس کے بعد دعا مانگے تو اس کی حاجات پوری ہوں گی۔ (ملاحظہ ہو تفسیر اطیب البیان)

( بسم الله الرحمن الرحیم )

آیت ۱

( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنُّوْرَ ۵ط ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ابِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور روشنی کو قرار دیا، پس (ان تمام چیزوں کے باوجود) جن لوگوں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا دوسروں کو اپنے پروردگار کے برابر قرار دیتے ہیں۔

ایک نکتہ:

تمام قرآن مجید میں "نور" مفرد (واحد) کے صیغہ کے ساتھ اور "ظلمات" جمع کے صیغہ کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں۔ کیونکہ حق ایک ہے اور باطل کی راہیں کئی ہیں۔ "نور" وحدت اور توحید کی علامت اور "ظلمات" انتشار اور پراگندگی کی نشانی ہے۔

نکات و پیام:

۱ ۔ اس سورت کی پہلی آیت "نظام کائنات" کی طرف دوسری آیت "تخلیق انسان" کی طرف اور تیسری آیت "انسان کے اعمال و کردار" کے نظام کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔

۲ ۔ وہی ذات ہی کتم عدم سے منصہ شہود پر لے آتی ہے اور خلق شدہ اشیا ء سے بھی نئی قسم کی کیفیات اور جدید قسم کی صورتیں ایجا د کرتی ہے( خلق، جعل )

۳ ۔ اصل راہ توحید ہی کی ہے جبکہ شرک ایسا راستہ ہے جو بعد میں پیدا ہوتا ہے( ثم--- )

۴ ۔ حضرت علی علیہ السلام کے فرمان کے مطابق یہ آیت تین قسم کے گمراہ لوگوں کا جواب ہے۔

الف: "مادہ پرستوں" کا جو کائنات کی تخلیق اور حدوث کے منکر ہیں( خلق السماوات--- )

ب: "دوگانہ پرستوں" کا جو "نور" اور "ظلمت" دونوں کے لئے علیحدہ علیحدہ مبدأ( خالق ) کے قائل ہیں۔( جعل الظلمات ) ( و النور ) ۱

ج: "مشرکین" کا جو خدا کے شریک اور شبیہ کے قائل ہیں۔( ثم الذین کفروا بربهم یعدلون ) ۲

آیت ۲

( هُوَالَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰٓی اَجَلًا ط وَّاَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَه ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ وہی (خدا ہی) تو ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر ایک مدت مقرر کی اور مقررہ مدت (کا علم) اسی کے پاس ہے، پھر (اس کے باوجود) بھی تم شک و شبہ کرتے ہو۔

چند نکات:

اس سے پہلی آیت میں آفاق اور آسمان و زمین کے مسائل کو پیش کیا گیا ہے۔ اور زیرِ نظر آیت میں انسانی تخلیق اور اندرونی مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں بیس ( ۲۰) سے زیادہ مرتبہ "اجل مسمیّ" کا تذکرہ ہے۔

خداوند عالم نے انسان کے لئے دو قسم کے زمانوں کو مقرر فرمایا ہے۔ ایک حتمی مدت ہوتی ہے کہ اگر ہر طرح اس کی حفاظت کی جائے پھر بھی جس طرح چراغ کا تیل ختم ہو جانے سے چراغ بجھ جاتا ہے اسی طرح انسانی عمر ختم ہوجاتی ہے۔ اور دوسری مدت زمانی جو خود ہمارے اپنے کردار سے متعلق ہوتی ہے جیسے چراغ میں تیل موجود ہوتا ہے لیکن اسے طوفانی ہواؤں کے رُخ پر رکھ دینے سے جلد بجھ جاتا ہے۔

روایات کی رو سے کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں کہ عمر کے طولانی ہونے کا سبب ہوتے ہیں۔ جیسے صلہ رحمی، صدقہ، زکوٰة اور دُعا وغیرہ اور کچھ اعمال ایسے ہیں جن سے عمر کوتاہ ہوجاتی ہے جیسے قطع رحمی اور ظلم وغیرہ۔

حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے دو طرح کی "اجل" مقرر فرمائی ہے ایک تو ولادت سے وفات تک اور دوسری وفات سے قیامت تک۔ اور انسان اپنے ہی اعمال وکردار کے ذریعہ بعض اوقات ایک میں کمی کرکے دوسری میں اضافہ کردیتا ہے۔ لہٰذا اجل کی انتہا کسی بھی شخص کے لئے تبدیل نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشاد الٰہی ہے "وما یعمر من معمر ولا ینقص من عمرہ الافی کتاب" یعنی جس کسی کو کوئی عمر ملتی ہے یا اس کی عمر کم ہوتی ہے وہ سب کچھ کتابِ خدا (لوح محفوظ) میں درج ہے۔

پیام:

۱۔ جب کائنات اور عالم انسانیت کی تخلیق اور مقررہ اجل خدا ہی کی طرف سے اور خدا ہی کے ہاتھ میں ہے تو پھر مبدا اور معاد میں اس قدر شک کیوں؟( ثم انتم تمترون )

۲۔ تمہاری عمر، تمہاری زندگی کی مقررہ مدت تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔ (مدت عمر، کسی کو معلوم نہیں کیونکہ لفظ "اجلا" نکرہ استعمال ہوا ہے۔)

۳۔ انسان کے لئے دو طرح کی "اجل" ایک مشروط اور تبدیل ہوسکنے والی جسے صرف "اجل" کہا گیا ہے۔ اور دوسری غیر مشروط اور ناقابلِ انتقال و ناقابلِ تغیر جسے "اجل مسمٰی" سے تعبیر کیا گیا ہے کہ اگر یہی اجل واقع ہو جائے تو اس میں ایک لمحہ کی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔

واضح رہے کہ جس طرح قانون سازی کے نظام میں یہ ہوتا ہے کہ وقت کے تقاضوں کے پیشِ نظر قانون بھی یا تو تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یا انہیں منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح تخلیق کائنات کے نظام میں بھی مصلحت کے تقاضوں کے پیشِ نظر تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے۔ جسے اصطلاح میں "بدا" کہتے ہیں۔ اور موضوع کو مٹا دیا جاتا ہے۔ سورہ رعد / ۳۹ میں ارشاد ہوتا ہے۔

"( یمحوا الله مایشأ ویثبت ) ۔۔۔ " یعنی خدا جس چیز کو چاہے مٹا دے اور جسے چاہے برقرار رکھے۔۔

۴۔ کہاں خاک کا پُتلہ اور کہاں خدا کے بارے میں شک و شبہ؟( من طین - تمترون )

آیت ۳

( وَ هُوَاللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ ط یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَجَهْرَکُمْ وَیَعْلَمُ مَاتَکْسِبُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور آسمانوں اورزمین میں وہی اللہ ہے۔ تمہاری چھپی ہوئی اور ظاہری باتوں کو جانتا ہے، اور جو کچھ تم کماتے ہو (اسے بھی) جانتا ہے۔

ایک نکتہ:

۱ ۔ چند خداؤں (بارش کا خدا، جنگ کا خدا، صلح کا خدا، زمین اور نباتات کا خدا وغیرہ) جیسے خرافاتی عقیدہ کے جواب میں یہ آیت فرماتی ہے "تمام چیزوں کا اور تمام جگہوں پر صرف ایک ہی خدا ہے۔

پیام:

۱ ۔ خداوند عالم کی فرمانروائی کا علاقہ تمام کائنات ہے۔

۲ ۔ خداوند عالم انسانوں کا خالق ہونے "( خلقکم من طین ) " کے ساتھ ساتھ ان کے ظاہر و باطن سے بھی آگاہ ہے( یعلم سرکم و جهرکم )

(یعنی خداوند عالم ہر جگہ موجود ہے "مکانی" موجودگی کی بنا پر نہیں بلکہ "علمی"، "قیومی"، "سلطانی" اور کامل "گرفت" کے لحاظ سے)

۳ ۔ خداوند عالم انسان کے مستقبل سے بھی پوری طرح آگاہ ہے( تکسبون )

آیت ۴ ۔ ۵

( وَمَاْ تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّّهِمْ اِلَّا کَانُوْا عَنْهَا مُُعْرِضِیْنَ- فَقَدْ کَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ هُمْ ط فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْبٓؤُا مَا کَانُوْا بِه یَسْتَهْزِءُ ْونَ ) ۔

ترجمہ۔ ان کے پاس ان کے رب کی آیات اور نشانیوں میں سے کوئی اور آیت اور نشانی نہیں آئی تھی مگر وہ (اس کی تصدیق اور اس پر ایمان کی بجائے) اس سے منہ پھیر لیتے۔ پس جونہی ان کے پاس کوئی حق آ گیا تو انہوں نے اس کی یقیناً تکذیب کی اور اسے جھٹلا دیا تو جن (ناگوار اور تلخ) خبروں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے آئندہ وہ ان کے پاس آ کر رہیں گی (اور وہ اپنی تکذیب کی سزا کو پا لیں گے)

دو نکتے:

اسی سورت کی آیت ۱ اور ۲ میں توحید کی طرف اشارہ ہے اور زیر نظر آیت میں معاد اور نبوت کی طرف۔

آیت میں مذکور "بڑی خبر" سے مراد یا تو فتح مکہ کی خبر ہو سکتی ہے یا پھر جنگ بدر وغیرہ میں مشرکین کی شکست کی خبر۔

(تفسیر مراغی)

پیام:

۱ ۔ انسان تین مراحل میں پستی کی انتہائی گہرائیوں میں جا گرتا ہے۔ ۱ ۔ حق سے روگردانی ۲ ۔ حق کی تکذیب اور ۳ اس کا مذاق اڑانا۔ ان دونوں آیات میں تینوں مراحل کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

۲ ۔ ہٹ دھرم شخص کے لئے کسی قسم کی دلیل اور آیت کارگر اور موثر واقع نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ وہ ہر ایک کو مسترد کر دیتا ہے( آیة من آیات ربهم )

۳ ۔ ہٹ دھرم اور کافر لوگ نہ تو کسی بات کو سننے کے روادار ہوتے ہیں اور نہ ہی غور و فکر، تحقیق کرنے کے۔ جونہی حق بات ان کے سامنے پیش ہوتی ہے فوراً جھٹلا دیتے ہیں( کذبوا بالحق لما جاء هم )

۴ ۔ کفار کا سکون فوراً سلب کر لو( فسوف یاتیهم )

۵ ۔ ادھر مومنین کو تسلی دینی چاہئے کہ جس راستے کو اختیار کئے ہوئے ہیں وہ برحق ہے اور ادھر کفار کو مرعوب کرنا چاہئے کہ تمہیں ناگوار اور کڑوی خبریں سننا پڑیں گی۔

۶ ۔ ٹھٹھا مذاق اور تمسخر اڑانا کفار کا قدیمی شیوہ ہے( کانوا به یستهزوٴن )

آیت ۶

( اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَهْلَکْنَا مِنْ قَبْلِهمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّکَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنْ لَّکُمْ وَاَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَاص رًاوَّجَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَکْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَاَنْشَاْنَا مِنْم بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ آیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کس قدر بڑی تعداد میں امتوں کو ہلاک کیا؟ حالانکہ ہم نے انہیں زمین میں وہ مقام اور طاقت عطا کی تھی جو تمہیں نہیں دی۔ اور ان پر آسمان (کی بارش) کو پے درپے بڑھایا اور ان کے پاؤں کے نیچے پانی کی نہریں جاری کیں۔ پس ہم نے انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کیا، اور ان کے بعد دوسری نسل کو پیدا کیا۔

ایک نکتہ

"قرن" ایسی امت کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی مرتبہ ہلاک ہو گئی ہو اور ا س سے کوئی بھی شخص باقی نہ رہا ہو۔ (اقرب الموارد ) جو لوگ ایک ہی دور میں رہ رہے ہوں انہیں بھی "قرن" کہا جاتا ہے۔ اور عام طور پر ایک نسل ساٹھ سے سو سال تک چلی جاتی ہے۔ اسی لئے ساٹھ یا اسی یا سو سال کو "قرن" کہتے ہیں (تفسیرالمیزان اور تفسیر فخر رازی)

پیام

۱ ۔ دوسروں کی تاریخ اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ (الم یروا) اور یہ قرآن مجید کا ایک تربیتی ایک طریقہ کار ہے کہ واقعی اور سبق آموز داستانیں بیان کرتا ہے۔

۲ ۔ جو لوگ قدرتی اور خداداد وسائل سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں ان کی سزا ہلاکت اور تباہی ہے۔( کم اهلکنا )

۳ ۔ اللہ تعالیٰ آخرت کے عذاب کے علاوہ دنیا میں بھی سزا دیتا ہے( فاهلکنا هم )

۴ ۔ اعمال کی خرابی کا موجب خود انسان ہی ہوتا ہے( فاهلکنا هم بذنوبهم )

۵ ۔ صاحبان اقتدار و دولت یہ نہ سمجھیں کہ دنیا ہمیشہ انہی کے حق میں رہے گی اور وہ دنیا میں رہیں گے، خداوند عالم انہیں اس دنیا سے اٹھا کر دوسروں کو ان کی جگہ لے آتا ہے( اهلکنا هم…وانشأنا من بعدهم قرتًااٰخرین )

۶ ۔ نعمتوں کے زوال اور خوشحال لوگوں کی سرنگونی کی طرف توجہ غفلت دور کرنے کے اسباب میں سے ایک ہے۔

۷ ۔ اگر اقتدار اور امکانات نیک لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو وہ نماز کو قائم کرتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری ہے "( ان مکناهم اقاموالصلوٰة--- ) " لیکن اگر بے ایمان اور نااہل لوگوں کے ہاتھ میں ہوں تو فساد اور گناہ کرتے ہیں( مکناهم…بذنوبهم )

۸ ۔ "( ارسلنا من السماء ) " (آسمان سے بھیجا) کی بجائے فرمایا "( ارسلنا السّماء ) " (آسمان کو تمہارے لئے بھیجا) جس سے خداوند عالم کے لطف و کرم کی انتہا معلوم ہوتی ہے۔

۹ ۔ مادی وسائل و امکانات خدائی قہر و غضب سے مانع نہیں ہوتے( مکناهم…اهلکناهم ) ۳

۱۰ ۔ مادی وسائل اور امکانات ہمیشہ اور ہر جگہ کامیابی کی دلیل نہیں ہوتے۔ ۳-

۱۱ ۔ گناہوں کی وجہ سے ہلاکت اور تباہی، ایک قانون قدرت ہے جو کسی خاص گروہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ارشاد باری ہے "فکلا اخذ نا بذنبہ" یعنی ہم نے سب کو ان کے گناہوں کی وجہ سے اپنی گرفت میں لے لیا۔ (عنکبوت/ ۳۹)

۱۲ ۔ موت دو طرح کی ہوتی ہے ایک طبعی جو "اجل" آ جانے کے ساتھ واقع ہوتی ہے اور دوسری غیرطبعی جو خدائی قہر و غضب اور اچانک حادثات کی وجہ سے واقع ہوتی ہے( بذنوبهم )

آیت ۷

( وَلَوْنَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰباً فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْرٌمُّبِیْنٌ ) ۔

ترجمہ۔ اور (ہٹ دھرم اور ضدی کفار تو بہانوں کی تلاش میں رہتے ہیں) حتی کہ اگر کوئی ہم کوئی تحریر کسی کاغذ میں تمہاری طرف نازل کرتے جسے وہ اپنے ہاتھوں کے ساتھ مس کرتے پھر بھی کافر لوگ یہی کہتے کہ یہ تو جادو کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

چند نکات:

کچھ مشرکین کہتے تھے کہ ہم اس وقت ایمان لائیں گے جب ایک کاغذ پر کوئی تحریر فرشتے کے ذریعہ ہمارے پاس آئے۔ لیکن یہ سب ان کی جھوٹی باتیں ہیں اور ان کے بہانے ہیں۔

"قرطاس" اس چیز کو کہتے ہیں جس پر کوئی چیز لکھی جائے خواہ وہ کاغذ ہو یا لکڑی، چمڑا ہو یا پتھر۔ لیکن موجودہ دور میں کاغذ کو "قرطاس" کہتے ہیں۔

آنکھوں کے ساتھ دیکھے جانے والے معجزات کے بارے میں ممکن ہے کہ بہانہ کی تلاش میں لگے رہنے والے یہ لوگ یہ کہیں کہ ہماری آنکھوں اور ہماری نگاہوں کو الٹ پھیر کر دیا گیا ہے (قرآن مجید کے بقول وہ کہیں گے "سکرت ابصارنا لیکن یہ لوگ اگر انہیں اپنے ہاتھوں کے ساتھ چھو لیں تو بھی ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔

پیام:

۱ ۔ جب مقصد ہی ضد اور ہٹ دھرمی ہو تو پھر کوئی بھی دلیل اور برہان بے فائدہ ہوتی ہے حتی کہ محسوسات (ہاتھوں وغیرہ سے چھوئی جانے والی چیزوں) کا بھی انکار کر دیا جاتا ہے۔

۲ ۔ "جادو" ایک ایسا موثر حربہ تھا جسے مشرکین، حضرت رسول خدا کے لئے استعمال کیا کرتے تھے۔

آیت ۸

( وَقَالُوْا لَوْ لَآ اُنْزلَ عَلَیْهِ مَلَکٌ ط وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُُضِیَ الْاَمْرُثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور (بہانہ جُو کفار نے) کہا (محمد، اللہ کا رسول ہے تو پھر) اس پر کوئی (ایسا) فرشتہ نازل کیوں نہیں ہوا (جسے ہم دیکھتے) اور اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو یقیناً بات ختم ہوجاتی۔ اور اس وقت کسی قسم کی مہلت نہ دی جاتی (اگر فرشتے کے آنے کے باوجود بھی وہ ہٹ دھرمی سے کام لیں گے تو فوراً سب لوگ سزا کے مستحق قرار پائیں گے)

ایک نکتہ:

جس قسم کے فرشتے کا کفار نے مطالبہ کیا ہے اگر وہ انسانی صورت میں ہو تو پھر اسی پیغمبر کی مانند ہو گا اور اگر اپنی حقیقی صورت میں جلوہ نمائی کرے گا تو یہ لوگ اس کو دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتے لہٰذا اسے دیکھتے ہی ان کی جان نکل جائے گی۔ (تفسیر قرطبی از ابن عباس اور تفسیر فخر رازی اور تفسیر نورالثقلین)

پیام:

۱ ۔ استکبار کا شیطانی شیوہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ انسان اپنے جیسے بشر کی پیروی کرے (اسی لئے کبھی تو کہتے تھے کہ "انبیاء کس لئے ہماری طرح کھانا کھاتے، بازاروں میں چلتے اور ہمارے جیسے لباس پہنتے ہیں؟ کبھی ایک دوسرے سے کہتے تھے: اگر اپنے جیسے بشر نبی کی اطاعت کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے" جیسا کہ قرآن کہتا ہے "( ولئن اطعتم بشر امثلکم انکم اذاً لخاسرون ) "

۲ ۔ خدائی طریقہ کار یہی چلا آ رہا ہے کہ اگر لوگ معجزہ طلب کریں اور وہ انجام بھی پا جائے اور پھر وہ اس کا انکار کریں تو پھر ان کی ہلاکت اور بربادی یقینی ہو جاتی ہے (ملاحظہ ہو تفسیر مراغی)

۳ ۔ خدائی دعوت کا انداز یہ ہے کہ مکمل آزادی، سوچ و بچار سے کام لینے، انتخاب اور مہلت دینے کی بنیاد پر ہوتا ہے، دوسرے طریقے سے معجزہ کا تقاضا (جیسے فرشتے کا نزول یا آسمان سے مائدہ کا بھیجنا یا پہاڑ کے اندر سے اونٹنی کے باہر نکالنے کا مطالبہ) انتخاب کی مہلت اور فرصت کو ختم کر دیتا ہے اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ یا تسلیم کرکے مسلمان بن جاؤ یا پھر ہلاکت کا انتظار کرو( لقضی الامر )

آیت ۹

( وَلَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَکًا الَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًاوَّلَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّایَلْبِسُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ حتی کہ اگر ہم (تمہارے لئے پیغمبر) کسی فرشتے کو قرار دیتے تو پھر بھی یقین کے ساتھ اسے مرد کی ہی صورت میں بناتے اور جس شبہے کے ساتھ اب وہ حق کو چھپاتے ہیں اسی طرح ہم ان کے لئے چھپا دیتے۔

دو نکتے:

انسان کے لئے اگر فرشتہ نمونہ عمل ہوتا تو پھر ایسے انسانوں کے لئے کیونکر نمونہ عمل قرار پاتا جو غریزوں کے طوفان میں گھرے ہوئے ہیں اور خوراک و خواہشات نفسانی کے سمندر میں غرق ہیں۔

ہو سکتا ہے کہ آیت کا اسی طرح معنی ہو "اگر پیغمبر، فرشتہ ہوتا تو بھی اسے مرد کی صورت میں ظاہر ہونا چاہئے تھا کہ جسے لوگ دیکھ سکیں۔ اور یہ بات لوگوں کے شک و شبہ میں پڑ جانے کا موجب ہوتی کہ آیا یہ انسان ہے یا فرشتہ؟( للبسنا علیهم )

پیام

۱ ۔ لوگوں کو دعوت دینے اور ان کی تربیت کرنے کے لئے ایسے لوگوں کو نمونہ کے طور پر پیش کرناچاہئے جو دعوت اور عمل میں پیش قدم ہوتے ہیں۔( لجعلناه رجلا )

۲ ۔ پیغمبر، مرد ہونا چاہئے( لجعلناه رجلا )

۳ ۔ خدائی طریقہ کار حکمت پر مبنی ہوتا ہے ہر کہ و مہ کی خواہشات کے مطابق تبدیل نہیں ہو سکتا۔

آیت ۱۰

( وَلَقَدِاسْتُهْزِیٴَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْامِنْهُمْ مَّا کَانُوْا بِه یَسْتَهْزِءُ ْونَ ) ۔

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) یقیناً تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا، تو ان میں سے جن لوگوں نے مذاق اڑایا تھا ان پر عذاب نازل ہوا۔

ایک نکتہ:

یہ آیت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے تسکین اور تسلی ہے کہ ایک تو یہ کہ تمام سابق انبیاء کا مذاق اڑایا گیا "( مایا تیهم من رسول الا کانوا به یستهزوٴن ) " اور دوسرے یہ کہ صرف اخروی عذاب ہی انہیں نہیں ملے گا۔ دنیا میں بھی مذاق اُڑانے والوں پر خدائی قہر و غضب نازل ہوا اور ان کی خطرناک سازشیں خود ان کے لئے وبال جان بن گئیں۔ "( ولا یحیق مکر السییٴ الا باهله ) "

پیام

۱ ۔ دوسروں کی مشکلات اور ان کے صبر کو یاد کرنے سے، انسان کے صبر میں اضافہ ہوتا ہے، اور مبلغ دین کو مخالفین کی مسخرہ بازی اور مذاق اڑانے سے دل تنگ نہیں ہونا چاہئے۔

۲ ۔ استہزأ اور ٹھٹھا مذاق دشمن کی نفسیاتی جنگ کا ایک حصہ ہے جس سے خدائی رہبروں کے حوصلے پست کرنا مقصود ہوتا ہے۔

۳ ۔ مسخرہ بازی کرنے والے انجام کار خود ذلیل و رسوا ہوتے ہیں اور یہی مذاق بازی خود انہی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے( حاق بالذین سخروا )

۴ ۔ استہزا یا مسخرہ بازی کا شمارکبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے کہ جس پر عذاب کا وعدہ کیا گیا ہے۔

۵ ۔ دوسری ایذارسانیوں پر خداوند عالم مہلت دے دیتا ہے کہ شاید توبہ کر لیں لیکن زبان کے ساتھ زخم پہنچانے اور انبیاء کا مذاق اڑانے پر فوری سزا مل جاتی ہے( فحاق ) میں "فا" کی دلیل کے ساتھ۔


آیت ۱۱

( قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِیْنَ )

ترجمہ۔ کہہ دو کہ زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا(برا) انجام ہوا۔

ایک نکتہ

قرآن مجید میں چھ مرتبہ "سیروا فی الارض" کے تحت زمین میں چلنے پھرنے کا حکم آیا ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ غیرمسلمین نے ہم سے زیادہ اس حکم پر عمل کیا ہے۔ اور اسلامی ممالک کی ایک ایک بالشت زمین چھان ماری ہے اور مسلمانوں کے قدرتی وسائل، معدنی ذخائر، قوت اور کمزوری کے نقاط، تہذیبی، ثقافتی اور علمی آثار، خطی اور قلمی کتابوں اور ان کے علوم و فنون سے آگاہ ہو کر انہیں لوٹ لے گئے اور مسلمان خواب غفلت میں پڑے رہے اور اب تک غفلت کی میٹھی نیند سوئے ہوئے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ معلوماتی، عبرت انگیز اور سبق آموز سفر قابل ستائش اور مستحسن ہوتے ہیں( سیروا ) (ملاحظہ ہو تفسیر قرطبی)

۲ ۔ حق کے مخالفوں اور دشمنوں کی شکست اور ہلاکت یقینی ہے اگر شک ہو تو ان کی تاریخوں کو پڑھئے یا پھر سفر کرکے باقی ماندہ آثار کو اپنی آنکھوں سے دیکھئے اور عبرت حاصل کیجئے۔

۳ ۔ چند روزہ جلوہ نمائیاں کسی قسم کی اہمیت کی حامل نہیں ہیں اصل چیز انجام ہے( عاقبة المکذبین )

آیت ۱۲

( قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط قُلْ لِّلّٰهِ ط کَتَبَ عَلٰی نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ط لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ ط اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْآ اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُوٴْمِنُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے کس کے لئے ہے؟ کہہ دو کہ خدا ہی کے لئے ہے کہ جس نے اپنے اوپر رحمت کو واجب قرار دے دیا ہے۔ وہ یقیناً تمہیں قیامت کے اس دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ہے (اور رشد و ہدایت حاصل کرنے کی بجائے اپنی استعداد کو ضائع کرکے پستی میں چلے گئے ہیں) وہی ایمان نہیں لائیں گے۔

چند نکات:

"( کتب علی نفسه الرحمة ) " یعنی اس نے اپنے اوپر رحمت کو واجب قرار دے دیا ہے کا جملہ پورے قرآن میں دو مرتبہ آیا ہے اور وہ بھی اسی سورت میں کہ ایک تو اسی آیت میں اور دوسرا آیت ۵۴ میں۔

"( لاریب فیه ) " یعنی جس میں کوئی شک نہیں ہے کا جملہ ایک تو قرآن مجید کے بارے میں آیا ہے اور دوسرے قیامت کے متعلق۔

اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہم پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں اسی طرح اپنی ذات کے لئے بھی وظائف مقرر کئے ہیں، جن میں سے ایک وظیفہ "ہدایت کرنا ہے"، چنانچہ ارشاد ہوتاہے "( ان علینا للهدی ) " یعنی ہم پر ہدایت کرنا لازم ہے۔ ایک "رزق دینا ہے" چنانچہ فرماتا ہے "( علی الله رزقها ) " یعنی رزق و روزی دینا خدا کے ذمہ ہے۔ ایک "لطف اور رحم کرنا ہے" چنانچہ فرماتا ہے "کتب علی نفسہ الرحمة" یعنی اس نے اپنے اوپر رحمت کو واجب قرار دے دیا ہے۔ البتہ رحمت الٰہی کے حصول کی شرط بندگانِ خدا پر رحم کرنا ہے۔ حدیث مبارک ہے کہ "من لایرحم لا یرحم " یعنی جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔ (ملاحظہ ہو تفسیر فی ظلال القرآن) رحمتِ خداوندی کی کوئی حد نہیں ہے، جبکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضرت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ "رحمت خداوندی (گویا) سو درجہ کی ہے جن میں سے ایک درجہ دنیا میں ہے اور قیامت کے دن تمام سو درجوں کے ساتھ اپنے بندوں کے ساتھ برتاؤ کرے گا" (تفسیر ظلال القرآن اور تفسیر آلوسی)

استدلال اور دلائل سے کام لینے کی بجائے اپنی خواہشات کی اتباع کرنا۔ اولیاء اللہ یعنی انبیاء اور ائمہ کی بجائے طاغوت کی پیروی کرنا، ایمان لانے اور آخرت کو مدنظر رکھنے کی بجائے کفر اختیار کرنا اور نور کے آگے سر جھکانے کی بجائے نار کو اختیار کرنا کفار کے لئے بہت بڑے خسارے کا سودا ہے۔

پیام:

۱ ۔ تبلیغ کے طریقہ کاروں میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ سوال اور جواب کی روش کو اپنایا جائے خواہ کسی ایک فرد کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو۔( قل لمن…قل لله )

۲ ۔ کائنات کا وجود رحمت خداوندی کا مرہون منت ہے اور رحمتِ الٰہی ہر چیز پر اور ہر جگہ حاوی ہے( کتب علی نفسه الرحمة ) ۴

۳ ۔ جس طرح خدا پر ایمان کے آثار (جیسے ہوا، بارش، روز و شب اور نباتات وغیرہ رحمت ہیں اسی طرح معاد (قیامت) بھی رحمت ہے( لیجمعنکم )

آیت ۱۳

( وَلَه مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ والَنَّهَارِط وَ هُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) ۔

ترجمہ۔ اور اسی ہی کے لئے ہے وہ چیز جو رات اور دن میں سکون پاتی ہے اور وہی سننے اور جاننے والا ہے۔

ایک نکتہ:

رات اور دن ایک گہوارے کی مانند ہیں جو انسانوں اور دوسری چیزوں کو اپنے دامان راحت میں لئے ہوئے ہیں انہی سے انہیں سکون نصیب ہوتا ہے، کچھ چیزیں ایسی ہیں جو رات کو آرام کرتی ہیں اور بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو دن میں سکون کرتی ہیں۔ ظاہر اور باطن کو وہی ذات ذوالجلال ہی جانتی ہے۔

پیام:

۱ ۔ ایک تو کائنات کا نظام اسی کے ہاتھ میں ہے (ولہ ماسکن) دوسرے اس نظام پر کنٹرول بھی اسی کے پاس ہے( هوالسمیع العلیم )

آیت ۱۴

( قُلْ اَغَیْْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُْوَلِّیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُط قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَکُْوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ کہہ دو (اے پیغمبر!) آیا میں آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے خدا کے علاوہ کسی اور کو اپنا سرپرست بناؤں جو دوسروں کو تو طعام اور روزی دیتا ہے اور خود طعام سے بے نیاز ہے۔

کہہ دو کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کا) سب سے پہلا فرمانبردار بنوں! اور (اے پیغمبر!) تم مشرکین میں سے ہرگز نہ بننا۔

دو نکتے:

اس آیت کے شان نزول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اہل مکہ کے کچھ افراد نے رسول خدا کو یہ پیش کش کی "چونکہ، آپ نے غربت کی وجہ سے بتوں سے دوری اختیار کی ہوئی ہے لہٰذا ہم اس بات کے لئے تیار ہیں کہ آپ کو مکمل طور پر بے نیاز کر دیں اور آپ ہماری مخالفت سے باز رہیں۔"

چونکہ خداوند عالم انسانیت کا خالق اور رازق ہے اور وہی سب کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے لہٰذا اسی کی ہی عبادت کرنی چاہئے اور اسی کو اپنا سرپرست تسلیم کرناچاہئے۔

پیام:

۱ ۔ تبلیغ کے عمدہ طریقہ کار میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ دلیل کو فریق مخالف سے سوال کے قالب میں ڈھال کر پیش کرنا چاہئے (قل اغیراللہ)

۲ ۔ ولایت اور سرپرستی اسی کو جچتی ہے جو خالق بھی ہے اور رازق بھی۔( فاطر- یُطعِم )

۳ ۔ خداوند عالم کے علاوہ دوسری مخلوق اور خودساختہ معبود اسی کے محتاج ہیں( لایُطعِم )

۴ ۔ رہبر کو سب سے پہلے آئین کی پابندی کرنی چاہئے اور اخلاص و تسلیم کے اعلیٰ درجہ کا حامل ہونا چاہئے( اول من اسلم )

۵ ۔ اقتصاد اور خوراک جس کے قبضہ میں ہوتے ہیں ولایت اور تسلط بھی اسی کو حاصل ہوتا ہے( ولیا- یُطعِم )

۶ ۔ غیراللہ کی ولایت کو تسلیم کرنا شرک ہے( أغیرالله…لاتکونن من المشرکین )

۷ ۔ خدا کے اوامر و نواہی عقل اور فطرت کے عین مطابق ہیں۔ خدا کی اطاعت اور اس کی فرمانبرداری کا امر اور شرک سے نہی اس لئے ہے کہ عقلی طور پر خالق کی فرمانبرداری کرنا حق ہوتا ہے اور اس کے غیر کی اطاعت اطاعت باطل ہوتی ہے۔

آیت ۱۵

( قُلْ اِنِّیْ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) ۔

ترجمہ۔ کہہ دو کہ اگر یقینا میں بھی اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بھی بہت بڑے دن کے عذاب سے بہت خطرہ ہے۔

ایک نکتہ:

خوف اور خطرہ دو طرح کا ہوتا ہے۔

الف: پسندیدہ جیسے عذاب الٰہی کا خوف

ب: ناپسندیدہ جیسے جہاد سے ڈرنا

پیام:

۱ ۔ قانون الٰہی سب کے لئے یکساں ہے حتیٰ کہ پیغمبر خدا بھی اس کی نافرمانی سے ڈرتے ہیں۔

۲ ۔ اولیاء اللہ (انبیاء و ائمہ) کا خوف، خدا کے قہر و غضب سے ہوتا ہے نہ کہ عوام اور طاغوتوں سے۔

۳ ۔ خوف ایک ایسا عامل ہے جو گمراہی اور خطاکاری سے روکے رکھتاہے۔

۴ ۔ لوگوں کی طرف سے دنیوی لالچ اور طمع کی پیشکش کے موقع پر قیامت کے دن کے حساب کتاب کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔ (آیت کے شان نزول کے پیش نظر)

۵ ۔ جب اس بات کی اتمام حجت ہو گئی کہ خداوند عالم خالق بھی ہے اور رازق بھی اور شرک سے بھی اس نے منع فرمایا ہے، تو پھر اس کے فرمان کی خلاف ورزی عذاب کا موجب ہو گی۔

آیت ۱۶

( مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَه ط وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ ) ۔

ترجمہ۔ اس دن جس سے بھی عذاب الٰہی اٹھا لیا جائے گا تو یقیناً اس پر خدا کی رحمت ہو گی اور یہی کھلم کھلا اور واضح کامیابی ہے۔

ایک نکتہ:

حضرت رسول خدا نے (ایک دن) ارشاد فرمایا: "اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ قیامت کے دن کوئی بھی شخص اپنے اعمال کی وجہ سے بہشت میں نہیں جائے گا" لوگوں نے سوال کیا: "یا رسول اللہ! آپ بھی؟" فرمایا: "میں بھی! مگر یہ کہ خدا کا فضل اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو گی" پھر آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں کو سر پر رکھ کر اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ (تفسیر مجمع البیان۔ تفسیر نورالثقلین)

پیام:

۱ ۔ ہر شخص کو خطرات کا سامنا ہے اور عذاب الٰہی کو خدا کے خصوصی لطف و کرم سے دور کیا جا سکتا ہے۔

۲ ۔ صرف خداوند کریم کی رحمت ہی اس کے قہر و غضب کو روک سکتی ہے، ہمارے اعمال اور اولیاء اللہ کی شفاعت بھی اسی رحمت کا پرتو ہیں۔

۳ ۔ قہر خداوندی سے نجات ہی کامیابی کہلاتی ہے۔

آیت ۱۷

( وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَهٓ اِلَّا هُوَ ط وَا اِنْ یَمْسَسْکَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ ) ۔

ترجمہ۔ اگر خداوند عالم (آزمائش اور پروان چڑھانے کے لئے یا اعمال کی سزا کے طور پر) تمہیں کسی نقصان سے دوچار کر دے تو اس کے بغیر کوئی بھی اسے دور نہیں کر سکتا، اور اگر (لطف وکرم کی بنا پر) تمہیں کوئی فائدہ پہنچائے تو وہی ہر چیز پر قادر ہے۔

پیام

۱ ۔ تمام امیدیں بھی خدا سے وابستہ رکھنی چاہئیں اور ہر قسم کا خوف بھی خدا ہی سے کرنا چاہئے( …الاهو )

۲ ۔ تمام امور کا سرچشمہ اور منبع صرف ایک ہی ہے ایسا نہیں ہے کہ بھلائیاں کسی اور کی طرف سے اور برائیاں کسی دوسرے کی طرف سے ہوتی ہیں۔ (البتہ ان کا موجب خود انسان کو ہوتا ہے۔ از مترجم)

۳ ۔ خدائی قوانین میں استثنا کی گنجائش نہیں ہوتی، حضرت رسول خدا کو بھی تلخ اور شیریں حوادثات میں خدا سے متوسل ہونا پڑتا ہے۔

آیت ۱۸

( وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِه ط وَهُوَالْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ) ۔

ترجمہ۔ اور خداوند عالم اپنے بندوں پرمکمل اقتدار اور تسلط رکھتا ہے اور وہی حکیم اور آگاہ ہے۔

دو نکات

۱۴ ویں آیت میں خدا کا خالق اور رازق ہونا بیان کیا گیا ہے، ۱۵ ویں آیت میں خدا کے قہر و غضب اور قیامت کو بیان کیا گیا ہے ۱۶ ویں آیت میں قہر و غضب سے نجات اور خدا کی رحمت کا تذکرہ ہے، سترھویں آیت میں مشکلات کا حل اور نیکیوں تک رسائی کی صورت کا ذکر ہے اور اس آیت میں خداوند قہار کی قدرت مطلقہ کو بیان کیا گیا ہے۔

اگر کچھ لوگ عوام الناس کی جہالت، ان کے تفرقہ و انتشار اور کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چند روز ان پر مسلط ہو جائیں تو اس سے خدا کی قہاریت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اور خداوند عالم کی قہاریت ان کی اس بساط کو لپیٹ کر رکھ دیتی ہے اور اپنے علم و حکمت کے تحت اپنی قدرت اور قہاریت کو کام میں لاتی ہے۔

پیام

۱ ۔ اے اللہ کے رسول! آپ لوگوں سے ہرگز نہ گھبرائیں کیونکہ خدا کی قدرت تمام قدرتوں سے بالاتر ہے( هوالقاهر )

۲ ۔ خدا کی قدرت اور قہاریت حکمت اور علم کے تحت ہوتی ہے( الحکیم الخبیر )

آیت ۱۹

( قُلْ اَیُّ شَیْ ءٍ اَکْبَرُ شَهَادَةًط قُلْ الِّلّٰهُ شَهِیْدٌم بَیْنِیْ وَ بَیْنَکُمْ وَاُوْحِی اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُ نْذِرَکُمْ بِهم وَمَنْم بَلَغَ ط اَئِنَّکُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰیط قُلْ لَّا ٓ اَشْهَدُ ج قُلْ اِنَّمَا هُوَاِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓء ٌمِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ کہہ دو کہ بہت بڑا شاہد اور گواہ کون ہے؟ کہو خدا ہی ہے جو میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور یہ قرآن مجھ پر وحی ہوا ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ تمہیں اور ہر اس شخص کو ڈراؤں کہ جن پر قرآن اور پیغام پہنچا ہے۔ آیا تم گواہی دیتے ہو کہ معبود حقیقی کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہیں؟ کہہ دو کہ میں گواہی نہیں دیتا، کہہ دو کہ صرف وہی خداوند یکتا ہے اور میں یقینا اس سے بَری ہوں جس کے ذریعہ تم شرک کرتے ہو۔

چند نکات

مشرکین مکہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی رسالت کی گواہی طلب کرتے تھے اور آپ کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ: "یہود و نصاریٰ بھی آپ کو نبی نہیں مانتے " یہ آیت خدا اور اس کی نصرت کے الہام کا پیغام لئے، اسلام کی غربت کے دور میں روشن مستقبل کی خوشخبری سنا رہی ہے اور شرک سے بیزاری اور برائت کا اظہار کر رہی ہے۔

ایک سطر سے بھی کم مقدار میں تین مرتبہ توحید کا اعلان اور شرک سے برائت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔( لا اشهد، اله واحد، بریٴ مما تشرکون )

(حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ) آنحضرت کا ارشاد گرامی ہے "جس شخص تک قرآن پہنچ گیا گویا میں نے اسے دیکھ لیا"( من بلغ )

پیام

۱ ۔ دوسرے معجزوں، غیبی امدادوں اور دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کے علاوہ قرآن پاک بھی پیغمبر اسلام کی رسالت کا بہت بڑا گواہ ہے( هذا القرآن )

۲ ۔ خود پیغمبر خدا کے زمانہ ہی میں قرآن مجید ایک کتاب کے عنوان سے پہچانا جاتا تھا اور "ھذا" کے ساتھ اس کی طرف اشارہ کیا جاتا تھا( هذا القرآن )

۳ ۔ لوگوں کے ساتھ "انذار" (ڈرانے) کے انداز میں بات کرنا زیادہ موثر ہوتا ہے( لانذر کم ) ۔

۴ ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت عالمی، جاویدانی، تمام رنگ و نسل کے لوگوں اور تمام زمانوں کے لئے ہے( لانذر کم و من بلغ )

۵ ۔ چونکہ تبلیغ کا سلسلہ قیامت تک جاری ہے لہٰذا اس کے ساتھ مبلغین کا ہونا بھی ضروری ہے پس خدا کی امامت اور رہبری کاقرآن کے ساتھ تا ابد ہونا لازمی ہے (تفسیر صافی،اصول کافی منقول از امام جعفر صادق)

۶ ۔غفلت، سہو و نسیان، بھول چوک اور محدودیت انسان کی خبرگیری کی قدرت کو بھی کم کر دیتی ہے اور اس کے گواہ بننے کی طاقت کو بھی اور چونکہ خداوند عالم عوارض سے پاک اور منزہ ہے لہٰذا وہ سب سے بڑا شاہد ہے (اکبر شھادة قل اللہ)

۷ ۔ آسمانی رہبر کے لئے لازمی ہے کہ اس میں یہ چیزیں ضروری پائی جائیں۔ ۱ ۔ ہدف اور مقصد پر پختہ ایمان( او حی الی هذا القرآن ) ۲ ۔ مستقبل سے وابستہ امید( ومن بلغ ) ۳ ۔ پختگی عزم( قل لا اشهد ) اور ۴ ۔ شرک سے برائت اور دوری( اننی بری مما تشرکون )

۸ ۔ عام طور پر انسان میں دفع ضرر کی خواہش، حصول منفعت کی خواہش سے زیادہ طاقت ور ہوتی ہے، لہٰذا خداوند عالم نے بھی قرآن مجید میں جہاں بہت سی خوشخبریوں سے نوازا ہے وہاں پر ڈرانے پر کافی زور دیا ہے( لانذر کم ) (جبکہ دوسری آیات میں کہیں فرمایا: "ان انت الانذیر" یعنی اے پیغمبر! آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں (فاطر/ ۲۳) کہیں پیغمبر کی زبانی فرمایا: "( انما انا نذیر مبین ) " یعنی میں تو بس کھلم کھلا ڈرانے والا ہی ہوں (عنکبوت/ ۵۰)

۹ ۔ مشرکین خدا کو پہچانتے تھے اسی لئے تو قرآن کہتا ہے( الله شهید )

۱۰ ۔ "انما هواله واحد " یعنی خداوندتو تنہا معبود ہی ہے کی مناسبت سے حضرت علی علیہ اسلام فرماتے ہیں: "اگر کوئی دوسرا خدا ہوتا تو وہ بھی اپنے رسول بھیجتا" (نہج البلاغة)

آیت ۲۰

( اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَه کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآ ءَ هُمْم اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْآ اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ جن (یہود و نصاریٰ) کو ہم نے کتاب عطا کی ہے وہ ان (محمد مصطفیٰ) کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں (سابقہ انبیاء اور گزشتہ آسمانی کتابوں کی بشارتوں کو آنحضرت کے مطابق دیکھتے ہیں لیکن تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں) تو جن لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا وہی ایمان نہیں لے آتے۔

چند نکات:

اسی آیت سے ملتی جلتی سورہ بقرہ کی ۱۴۶ ویں آیت ہے۔

توریت و انجیل میں ایک تو سرکار رسالت مآب کا اسم گرامی اور ان کی نشانیاں موجود تھیں اور اہل کتاب کے علماء آنجناب کی "نبی موعود" کے نام سے لوگوں کو خبر دیا کرتے تھے اور دوسرے آپ کے اور آپ کے دوستوں کے اخلاق و صفات ان کتابوں میں موجود تھے چنانچہ ارشاد پروردگار ہے "( محمد رسول الله والذین معه اشدآء علی الکفار رحماٰء بینهم…ذالک مثلهم فی التورٰة ) " پس بنا بریں آنحضرت کے ساتھیوں اور دوستوں کی صفات تک کو بھی ذکر کیا جا چکا ہے۔

اولاد کی پہچان، حقیقی پہچان ہے اور قدیم الایام سے چلی آ رہی ہے، اس لئے کہ انسان اولاد کو ان کی پیدائش کے وقت مقام پیدائش کی خصوصیات اور انداز ولادت وغیرہ سے اچھی طرح جانتا ہے۔ جبکہ بہن بھائیوں اور ماں باپ کی شناخت کے لئے کئی مہینے درکار ہوتے ہیں اور زن و شوہر کی پہچان، ازدواج کے بعد ہوتی ہے۔ اسی لئے خداوند عالم فرماتا ہے "وہ پیغمبر خدا کو اپنی اولاد کی طرح پہچانتے ہیں" یعنی مکمل طور پر اور اچھی طرح سے۔

پیام

۱ ۔ پیغمبر خدا کی معرفت اس حد تک ہونی چاہئے کہ اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش ہی نہ ہو۔( کما یعرفون ابنائهم )

۲ ۔ صرف پہچان اور علم ہی انسان کے لئے باعث نجات نہیں ہے، کیونکہ بہت سے خداشناس، پیغمبر شناس اور دین شناس ایسے ہیں جو خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہیں( الذین خسروا انفسهم )

۳ ۔ حق پوشی، خسارت اور نامرادی ہے( خسروا انفسهم )


آیت ۲۱

( وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِهط اِنَّه لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور اس شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوتا ہے جو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے یا آیات خداوندی کو جھٹلاتا ہے، یقیناً ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔

دو نکات:

تقریباً پندرہ مرتبہ قرآن مجید میں "ومن اظلم" کا جملہ استعمال ہوا ہے۔ جو یا تو خدا پر بہتان باندھنے یا لوگوں کو مسجد سے روکنے اور یا پھر گواہی اور حق کو چھپانے کے سلسلہ میں ذکر ہوا ہے۔ جس سے یہ بات بخوبی سمجھی جا سکتی ہے کہ ثقافتی اور تعلیمی ظلم اور لوگوں کی معلومات کو پروان چڑھنے اور علم و فہم کے ترقی کرنے سے روکنا معاشرہ اور اجتماع پر بہت بڑا ظلم ہے۔

پتھر اور لکڑی کو خدا کے ہم پلہ قرار دینا، خدا پر ظلم ہوتا ہے اور مذکورہ اشیاء کی پرستش انسانیت پر ظلم ہوتا ہے۔

پیام:

۱۔ مظلوم جس قدر زیادہ قابلِ عزت اور زیادہ مقدس ہوگا ظلم کا خطرہ اسی قدر زیادہ ہوگا۔ اسی لئے خدا پر ظلم، خانہ خدا پر ظلم، ذات اقدس الٰہی پر افترا پر دازی بدترین ظلم کے زمرے میں آتے ہیں۔( ومن اظلم )

۲۔ انسانیت کے افکار و اذہان اور تعلیم و ثقافت پر ظلم، بدترین ظلم ہوتا ہے۔ شرک، خدا کی ذات پر افتراپردازی، نبوت کا جھوٹا دعویٰ، بدعت، تفسیر بالرائے اور حق کی پردہ پوشی ان سب کا شمار ظلم میں ہوتا ہے۔

آیت ۲۲

( وَیَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْآ اَیْنَ شُرَکَآوُٴ کُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ) ۔

ترجمہ: اور جس دِن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، پھر مشرکین سے کہیں گے کہ کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کے بارے میں تمہیں خدائی کا گمان تھا؟

چند نکات:

گذشتہ آیت میں بیان ہو چکا ہے کہ جو ظالم لوگ افترا پردازی، تکذیب اور حق پوشی سے کام لیتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ کامیاب وہ شخص ہوگا جس کے پاس قیامت کے لئے جواب ہوگا۔ جبکہ قیامت کے دِن تمام مشرکانہ خیالات مٹ جائیں گے۔

"( جمیعاً ) " کے کلمہ سے مراد یا تو تمام لوگ ہیں یا مشرکین اور بت ہیں، کیونکہ ایک اور آیت میں ارشاد ہو رہا ہے "( احشرواالذین ظلموا و ازواجهم وما کانو یعبدون ) " اس آیت میں لوگوں کے زندہ ہونے، ان کے زن و مرد کے جوڑوں اور ان کے معبودوں کے زندہ ہونے اور محشور ہونے کے بارے میں خطاب ہے۔

آیت میں اگرچہ شرک کو بیان کیا گیا ہے، لیکن جو لوگ حقیقی اولیاء اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا رہبر و رہنما تسلیم کرتے ہیں یا اولیاء اللہ سے مخالفت کرتے ہیں وہ بھی ایک طرح کے مشرک ہیں۔ جب کہ "زیارت جامعہ" کے الفاظ ہیں "ومن خالفکم مشرک " اور ایک حدیث میں ہے کہ "الرادعلینا کالراد علی الله والراد علی الله فی حد الشرک " یعنی جو شخص ہمارے کلام اور ہمارے طریقہ کار کا انکار کرے گا وہ ایسے ہے جیسے کلامِ خدا کا انکار کرے اور ایسا شخص مشرک کی مانند ہے۔

پیام:

۱۔ خدا کے علم اور اس کی قدرت کی کوئی حد و انتہا نہیں ہے۔ کوئی ایک بھی فراموش نہیں ہوگا سب کے سب بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوں گے۔( جمیعاً )

۲۔ قیامت کے دن کی عدالت کھلی عدالت ہوگی۔( نحشرهم جمیعا ثم نقول )

۳۔ شرک تو بس ایک خیالِ محض ہے۔( تزعمون )

۴ ۔ ہر قسم کے عقیدہ، عشق و عبادت سے پہلے قیامت کے دِن کی جواب دہی کے لئے تیاری کرنی چاہیے۔(( این شرکاؤکم )

آیت ۲۳ ۔ ۲۴

( ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ- اُنْظُرْ کَیْفَ کَذَبُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) ۔

ترجمہ: پس (بتوں کے فریفتہ مشرکین کے لئے) کوئی عذر اور بہانہ باقی نہیں رہا سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا ہمیں اپنے رب، خدا کی قسم ہم مشرکین نہیں تھے۔

دیکھو تو سہی کہ مشرکین اپنے نقصان کے لئے کیونکر جھوٹ بولتے (اور اپنے شرک کا انکار کرتے) ہیں اور جو وہ خدا پر جھوٹ باندھتے تھے ان کے ہاتھ سے جاتا رہا۔

دو نکات:

اس آیت میں "فتنہ" کا معنی بتوں اور شرک سے فریفتگی ہے یا "معذرت" کے معنی میں ہے۔

دروغ گو اپنی ہی عادت کے مطابق قیامت کے دِن بھی جھوٹ بولیں گے ۔ جیسا کہ ایک اور جگہ پر ارشاد ہوتا ہے۔ "( یوم یبعثهم الله جمیعا فیحلفون له کما یحلفون لکم ویحسبون انهم علی شییٴً ) " یعنی جس دِن اللہ تعالیٰ ان سب کو دوبارہ اُٹھائے گا اور وہ خدا کے سامنے بھی اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ اپنی کسی بات پر قائم ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام اسی آیت کے ذیل میں ارشاد فرماتے ہیں "اس جھوٹ کے بعد ان کے لبوں پر مہر لگا دی جائیے گی اور ان کے دوسرے اعضاء حق بات بیان کریں گے"

پیام:

۱۔ جھوٹ بولنے کی عادت قیامت میں بھی ظاہر ہوگی۔( والله ربنا ماکنا مشرکین )

۲۔ خدائی عدالت میں نہ تو جھوٹ کام آئے گا اور نہ ہی قسم۔( ضل عنهم ماکانو ایفترون )

۳۔ قیامت کے دِن، مشرکین اپنے افکار اور عقائد سے اظہار برائت کریں گے۔( ماکنا مشرکین )

۹; (یہ اور بات ہے کہ قیامت کے دِن شر ک سے بیزاری ان کے لئے کارآمد نہیں ہوگی)

۴۔ قیامت اس قدر حتمی اور یقینی ہے گویا اس وقت موجود ہے۔( انظر ) فرمایا ہے "ستنظر" نہیں فرمایا)

۵۔ خدا کے علاوہ دوسرے تمام سہارے نابود ہو جائیں گے۔( ضل عنهم )

۶۔ خدا کے علاوہ دوسرے تمام سہارے صرف خیال ہی خیال ہیں۔( یفترون )

آیت ۲۵

( وَمِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ ج وَجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِهِمْ اَکِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَفِیْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا ط وَاِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُوٴمِنُوْا بِهَاط حَتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْکَ یُجَادِ لُوْنَکَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) ۔

ترجمہ: اور ان میں سے کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو (اے پیغمبر!) آپ کی باتوں کو غور سے سنتے ہیں۔ لیکن ہم نے ان کے دِلوں پر پردے ڈال دئیے ہیں تاکہ وہ کچھ نہ سمجھ سکیں اور ان کے کان (حق بات سننے کے لئے) سنگین ہیں۔ اور اگر وہ ایک آیت کو دیکھیں پھر بھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے حتیٰ کہ جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو جھگڑا شروع کر دیتے ہیں۔ کافر لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو گذشتہ لوگوں کے قصے کہانیوں کے علاوہ کچھ نہیں۔

چند نکات:

اس آیت کا شانِ نزول اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ابوسفیان، ولید بن مغیرہ، عتبہ، شیبہ اور نضربن حارث خانہ کعبہ کے باہر کھڑے ہو کر پیغمبرِ گرامی اسلام( ٴ ) کی تلاوت کو غور سے سننے لگے، سب نے "نضر" سے پوچھا۔ "کیا پڑھ رہے ہیں؟" اس نے کہا "رب کعبہ کی قسم! میں نہیں سمجھ رہا کہ کیا پڑھ رہے ہیں؟ البتہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ لوگوں کے قصے کہانیوں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اس قسم کے قصے کہانیوں میں بھی تم سے بیان کرتا رہتا ہوں۔" جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

۹; "اکنة " جمع ہے "کن " یا "کنان " کی جس کا معنی ہے "پردہ" اور "وقر" کا معنی ہے "سنگینی" اور "اساطیر"جمع ہے "اسطورة" کی جس کا معنی ہے "پے در پے" اور خیالی مطالب" ہے، چنانچہ ایک اور مقام پر قرآن فرماتا ہے ’‘’( فلماز اغوا أزاغ الله قلوبهم ) " یعنی جب وہ خود پھر گئے تو خدا نے ان کے دلوں کو بھی پھیر دیا۔

پیام:

۱۔ تمام کفار سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے ان میں سے بعض کافر ضدی اور اکھڑ مزاج ہیں۔( ومنهم )

۲۔ قرآنی آواز کا سننا اس وقت موثر اور قابل قدر ہوتا ہے جب دِلوں پر اثر کرے( اکنة ان یفقهوه )

۳۔ کفار کے دلوں کی پردہ پوشی خود ان کے معاندانہ رویہ کی وجہ سے ہے۔ (قرآن مجید کے ایک اور مقام پر ہے کہ وہ انبیاء سے کہتے تھے "قلوبنا فی اکنة مماتدعون وفی آذاننا وقر" یعنی جس بات کی طرف تم بلاتے ہو اس سے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ہمارے کانوں میں سنگینی ہے۔

۴۔ خدائی رہبر کو چاہیے کہ وہ خود کو ہر طرح کی افتراء پردازیوں اور ناروا تہمتوں کے سننے کے لئے تیار رکھیں۔

۵۔ ہٹ دھرمی، ضد اور اکھڑ مزاجی لا علاج بیماری ہے۔ اور ٹیڑھے میڑھے آئینہ کی مانند بہترین شکل و صورت کو بھی بے ڈھنگے انداز میں پیش کرتا ہے۔( یرواکل آیة لایوٴمنوا )

۶۔ اگر لڑائی جھگڑے، بدگمانی، منفی انداز اور پہلے سے تیارشدہ منصوبے کے تحت پیغمبر گرامی اسلام سے بھی ملاقات کی جائے، بے فائدہ ہے( جاؤک یجادلونک… )

آیت ۲۶

( وَهُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَیَنْئَوْنَ عَنْهُ ج وَاِنْ یُّهْلِکُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَهُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ) ۔

ترجمہ: اور وہ کفار لوگوں کو ایمان لانے سے (بھی) روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور اور محروم ہیں اور (لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) لاشعوری طور پر اپنے سوا کسی کو تباہ و برباد نہیں کر رہے۔

دو نکات:

"ینئون" کا لفظ"نأی" سے مشتق ہے جس کا معنی ہے "دور کرنا"

۹; بعض اہل سنت مفسرین نے اپنی تفسیروں میں لکھا ہے کہ "یہ آیت حضرت ابو طالب کے بارے میں ہے۔ کیونکہ وہ لوگوں کو پیغمبر کی ایذارسانی سے تو روکتے تھے لیکن خود ایمان نہیں لائے اور ایمان سے دور رہے" اسی طرح قرآن مجید کی ایک دو اور آیات (مثلاً توبہ/ ۱۱۵ ۔ قصص/ ۵۷) کے بارے میں بھی یہی کہتے ہیں۔ جبکہ مذہب شیعہ کے نزدیک وہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ بہترین مومن بھی ہیں۔ جن کے ایمان اور اسلام کا اظہار ان کے اشعار سے ہوتاہے۔ علاوہ ازیں حضرت فاطمہ بنت اسد جیسی دنیا کی بہترین مومن خاتون آخر عمر تک آپ کی زوجیت میں رہیں جو آپ کے مومن ہونے کی ایک اور عمدہ دلیل ہے۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو کتاب "الغدیر" جلد ۷ ۔ ۸)

پیام

۱ ۔ کفار ہوں یا مشرکین ہر دو تخریب کاری اور لوگوں کو راہ راست سے روکنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔

۲ ۔ حق کو قبول کرنے کی بجائے اس سے دوری اختیار کرنا، انسان کا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔

۳ ۔ حقیقی شعور یہ ہے کہ راہ حق کو پا لیا جائے۔ حقیقی راستہ اور برحق رہبر کو گم کر دینا خواہ کسی کی طرف سے کیوں نہ ہو بے شعوری ہے۔

آیت ۲۷

( وَلَوْتَرٰیٓ اِذْوُقِفُوْا عَلَی النَّارِ فَقَالُوْا یَلَیْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَنَکُوْنَ مِنَ الْمُوٴمِنِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اگر تم انہیں اس وقت دیکھو جب وہ جہنم کے کنارے ٹھہرائے جائیں گے اور کہیں گے اے کاش کہ واپس پلٹائے جاتے اور اپنے پروردگار کی آیات کو نہ جھٹلاتے اور (حقیقی) مومنوں سے ہوتے۔

ایک نکتہ

قرآنی آیات کے مطابق دنیا کی طرف واپس پلٹائے جانے کی آرزو تین موقعوں میں ہو گی۔ ایک مرتے وقت دوسرے قبر میں اور تیسرے قیامت میں۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: "( رب ارجعونی لعلی اعمل صالحا ) " یعنی اے میرے رب! مجھے دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ میں نیک اعمال کو بجا لاؤں (مومنون/ ۱۰۱) اور "( ربنا اخرجنا منها فان عدنا فانا ظٰلمون ) " یعنی اے ہمارے رب تو ہمیں یہاں سے نکال! پس اگر ہم دوبارہ ایسے کام کریں تو ہم ظالم ہوں گے۔ (مومنون/ ۱۰۷)

پیام

۱ ۔ جب تک دنیا میں فرصت باقی ہے ایمان لے آؤ کیونکہ آخرت میں اس کی گنجائش نہیں ہوگی۔

۲ ۔ آیات خداوندی کی تکذیب، آخرت میں پشیمانی کا موجب ہو گی( لیتنا )

۳ ۔ آیات الٰہی کی تکذیب کا نتیجہ، جہنم کی آگ میں ڈالا جانا ہے( علی النار…لانکذب )

آیت ۲۸

( بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا کَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ ط وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَانُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَکٰذِبُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ بلکہ وہ اس سے پہلے دنیا میں جو (کفر و نفاق) چھپایا کرتے تھے (اس دن) وہ ان کے لئے ظاہر ہو جائے گا اور اگر (وہ درخواست اور خواہش کے مطابق) دنیا میں پلٹا بھی دیئے جائیں پھر بھی جس چیز سے انہیں روکا گیا ہے دوبارہ انجام دیں گے اور یہ لوگ قطعی طور پر جھوٹے ہیں۔

ایک نکتہ:

قیامت کا دن، لوگوں کے مخفی رازوں کے ظاہر ہونے کا دن ہے، اور قرآن مجید نے بارہا اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں سے ایک یہ بھی ہے( بدالهم سیئات ما عملوا ) ان کے برے اعمال ان کے لئے ظاہر ہو جائیں گے (جاثیہ/ ۳۳) اور( بدالهم سیئات ماکسبوا ) ان کے برے کرتوت ان کے لئے ظاہر ہو جائیں گے (زمر/ ۴۸)

پیام:

۱ ۔ قیامت کے دن تمام راز کھل جائیں گے( بدالهم )

۲ ۔ آخرت سے دنیا کی طرف واپسی محال ہے( ولوردوا… )

۳ ۔ بعض لوگ ایسے ہیں کہ جن کے سدھرنے اور ٹھیک ہونے کی ہرگز امید نہیں ہے۔ اور اگر انہیں (ان کی اپنی درخواست کے مطابق) واپسی کی فرصت مل بھی جائے تو بھی اسی حالت میں رہیں گے جس میں وہ پہلے تھے۔ کیونکہ انسان بارہا مصائب و مشکلات میں کئی قسم کے فیصلے کرتا ہے لیکن ان سے نجات حاصل کر لیتا ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہے( لوردوا لعادوا )

۴ ۔ جب جھوٹ بولنا انسان کی عادت بن جائے تو قیامت میں بھی جھوٹ بولنے سے نہیں چوکے گا اور وہاں پر بھی جھوٹے دعوے کرے گا( لکاذبون ) ۶

آیت ۲۹ ، ۳۰

( وَقَالُوْآ اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ- وَ لَوْ تَرٰیٓ اِذْوُقِفُوْا عَلٰی رَبِِّّهِمْ ط قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّط قَالُوْا بَلٰی وَ رَبِّنَا ط قَالَ فَذُوْقُوا العَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور انہوں نے کہا: ہماری اس دنیوی زندگی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور ہم (مرنے کے بعد) دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔

اور اگر تم اس وقت دیکھو جب وہ تمہارے پروردگار کے سامنے روکے ہوئے ہوں گے (اللہ تعالیٰ) فرمائے گا آیا یہ (قیامت میں دوبارہ اٹھانا) حق نہیں ہے؟ تو وہ کہیں گے: ہمارے رب کی قسم ایسا ہی ہے! تو خدا فرمائے گا پس تم اپنے کفر کے ارتکاب کی وجہ سے عذا ب کو چکھو۔

چند نکات:

۲۹ ویں آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین کا معاد (قیامت) پر ایمان نہیں ہے اور اگر وہ باتوں کے بارے میں "( هٰوٴلآء شفعاوٴنا ) " (یہ ہمارے شفیع ہیں) کہا کرتے تھے تو ان کا یہ اعتقادِ شفاعت آخر (معاد) کے بارے میں نہیں بلکہ دنیوی شفاعت کے سلسلہ میں تھا (تفسیر المیزان)

۱ ۔ اسلام کے نزدیک انسان کے لئے چند قسم کی حیات (زندگی) ہے۔

۱ ۔ دنیوی حیات ۲ ۔ برزخ کی حیات۔ ارشاد ہوتا ہے "( بل احیاء عند ربهم ) "

۳ ۔ حیات معنوی یا ہدایت۔ ارشاد ہوتا ہے "( دعا کم لم یحییکم ) "

۴ ۔ اجتماعی و معاشرتی حیات۔ ارشاد ہوتا ہے "( لکم فی القصاص حیٰوة ) "

۵ ۔ حیات طیبہ یا پاکیزہ زندگی (جو قلب سلیم اور قناعت کے زیرسایہ ملتی ہے)

۳۰ ویں آیت کے مطابق خداوند عالم مجرمین سے باتیں کرے گا، جبکہ بعض دوسری آیات ان کے ساتھ خدا کے بات کرنے کی نفی کرتی ہیں کہ "( لایکلمهم الله ) " (خدا ان سے بات تک نہیں کرے گا) تو اس سے مراد یا تو یہ ہے کیفیتیں مختلف ہوں گی یا پھر ان سے کلام طیب نہیں کرے گا۔

پیام:

۱ ۔ مشرکین، زندگی کو صرف دنیاوی زندگی تک ہی محدود سمجھتے ہیں اور آخرت کی زندگی کے منکر ہیں۔

۲ ۔ مجرم افراد، ذلیل قیدیوں کی طرح گرفتار کئے جائیں گے( اذوقفوا )

۳ ۔ قیامت کے دن، پہلے مرحلہ میں قاضی بھی خود خدا ہو گا اور سوال بھی وہ خود ہی کرے گا( قال الیس هذا بالحق )

۴ ۔ مجرمین کا اپنے جرائم کا اقرار و اعتراف، قیامت کے لرزا دینے والے مناظر میں سے ایک ہو گا۔( قالوابلیٰ )

۵ ۔ قیامت کے دن گناہوں کا اعتراف بے سود ہو گا( فذوقوا )


آیت ۳۱ ۔ ۳۲

( قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ ط حتّٰیٓ اِذَا جَآ ءَ تْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطْنَا فِیْهَالا وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰی ظهُوْرِِهِمْ ط اَ لَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ- وَمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَعِبٌ وَّلَهْوٌ ط وَلَلدَّارُالْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ چکھو بیشک جن لوگوں نے قیامت کے دن خدا کی حضوری کو جھٹلا دیا وہ بڑے گھاٹے میں ہیں یہا ں تک کہ جب ان کے سر پر قیامت ناگہاں پہنچے گی تو کہنے لگیں گے اے ہے افسوس ہم نے تو اس میں بڑی کوتاہی کی (یہ کہتے جائیں گے) اور اپنے گناہوں کا پشتاوہ اپنی اپنی پیٹھ پر لادے جائیں گے دیکھو تو (یہ) کیا بوجھ ہے جس کو یہ لادے (لادے) پھر رہے ہیں اور (ئی) دنیاوی زندگی تو کھیل تماشے کے سوا کچھ بھی نہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ آخرت کا گھر (بہشت)پرہیزگاروں کے لئے اس سے بدرجہا بہتر ہے تو کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے۔

چند نکات:

۱ ۔ اگر دنیا، آخرت کی کھیتی قرار نہ پائے تو بازیچہ( ٴ ) اطفال بن جاتی ہے ۔ اور لوگ اس میں بچوں کی مانند مال و مقام وغیرہ جیسے کھلونوں سے کھیلتے ہیں۔ بالکل ویسے جس طرح کسی ڈرامہ میں کوئی شخص بادشاہ کا لباس پہن کر اس جیسا کردار ادا کرتا ہے کوئی وزیر کا ، کوئی کوتوال ، چوکیدار کا۔ لیکن جب ڈرامہ ختم ہو جاتا ہے اور لباس اتر جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک نمائش اور خیال تھا اور بس!

۲ ۔ قرآن مجید کی دوسری آیات کے پیش نظر، زیرِ نظر آیت کو رہبانیت اور ترک دنیا کا دائمی نہیں سمجھنا چاہئے۔

۳ ۔ دنیا کو لہو و لعب سے تشبیہ دینے کی درج ذیل وجوہات ہیں۔

ا۔ دنیا بھی کھیل کے دورانیہ کی مدت کی مانند کوتاہ ہے۔

ب۔ جس طرح کھیل میکں تفریح بھی ہوتی ہے اور تھکاوٹ بھی ، اسی طرح دنیا بھی تلخ اور شیریں حالات کا مجموعہ ہے۔

ج۔ اپنے مقصد تخلیق سے غافل لوگوں نے کھیل کو اپنا کاروبار بنا لیا ہے۔

پیام:

۱ ۔ خود خالقِ دنیا، آخرت سے غفلت اور دنیا کے ساتھ سرگرمی کو کھیل تماشہ سمجھتا ہے، ہم کیوں باور نہیں کرتے؟

۲ ۔ "انجام" پر نظر رکھنے والے کے لئے "آخرت" بہتر ہے۔ اور "طعام" پر نظر رکھنے والے کے لئے دنیا بہتر ہے (کیونکہ وہ اسی مستی میں مست ہے)

۳ ۔ آخرت کو مد نظر رکھے بغیر دنیا خطرناک ہے۔ اور جو دنیا آخرت کی کھیتی، آخرت کے لئے مقدمہ، آخرت کے لئے گزرگاہ اور آخرت کے لئے مقام تجارت ہو وہ میدان رُشدیددایت اور مقام نشونما ہے۔

۴ ۔ آخرت صاحبان تقوٰی کے لئے کے لئے مطلق خیر ہے۔ ورنہ تو اس میں انہیں کوئی رنج ہو گا، نہ تو وہ عارضی ہو گی اور نہ ہی وہ صرف اوہام اور خیالات پر مبنی ہے۔

۵ ۔ عقل سے کام لینا، تقوٰی اختیار کرنا اور آخرت پر ایمان رکھنا یہ سب ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔( للدارالاخرة، تیقون، تعقلون )

۶ ۔ تقویٰ، آخرت کی نعمتوں تک رسائی کا ذریعہ ہے۔( خیر اللذینِ تیقون )

آیت ۳۳

( قَدْ نَعْلَمُ اِنَّه لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُکَذِّبُوْنَکَ وَلٰکِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) البتہ ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ کہتے ہیں ان کی باتیں آپ کو غمگین کر دیتی ہیں وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ (یہ) ظالم لوگ (حقیقت میں) خدا کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔

ایک نکتہ:

اس آیت کے شان نزول کے بارے بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن آپ کو صادق اور امین سمجھتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ "اگر ہم ان کی تصدیق کریں گے تو قوم و قبیلہ میں ہماری توہین ہو گی اور ہماری ساکھ خراب ہو جائے گی۔" اس طرح سے وہ آیات الٰہی کی تکذیب کرتے تھے۔

پیام:

۱ ۔ ہادی برحق کو مخالفین کی تکذیب سے نہیں گھبرانا چاہئے۔

۲ ۔ حتیٰ کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی تسلی، تشویق اور دلجوئی کی ضرورت ہوتی ہے۔

۳ ۔ جن لوگوں پر زبان کے ذریعہ ظلم کیا جاتا ہے ان کی حمایت کی جانی چاہئے۔( قد نعلم انه… )

۴ ۔ پیغمبر کی تکذیب درحقیقت خدا کی تکذیب ہوتی ہے جس طرح کہ پیغمبر کی بیعت درحقیقت خدا کی بیعت ہوتی ہے۔

۵ ۔ بڑی بڑی مشکلات کو پیش نظر رکھ کر اپنی مشکل کو آسان سمجھئے۔( لایکذبونک…بایات الله یجحدون )

۶ ۔ پیغمبر کے مخالفین درحقیقت خدا کا فریق مخالف ہیں لہٰذا غمگین نہیں ہونا چاہئے۔

۷ ۔ جھٹلائے جانے میں صرف پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکیلے فرد نہیں ہیں، آیات خداوندی کے مخالف لوگ تمام انبیاء کی تکذیب اور مخالفت کرتے رہے۔ (جیسا کہ بعد والی آیت میں ہے "( کذبت رسل من قبلک )

۸ ۔ آیات الٰہی اور اولیاء اللہ کی تکذیب کا نتیجہ ایک تو جھٹلانے والوں کا اپنی ذات پر ظلم ہوتا ہے کہ ایمان نہیں لاتے، دوسرے رسول خدا پر ظلم ہوتا ہے کہ انہیں غمگین اور محزون کرتے ہیں تیسرے مذہب و ملت پر ظلم ہوتا ہے اور چوتھے نسل انسانی پر ظلم ہوتا ہے۔

آیت ۳۴

( وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْا عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰیٓ اَتٰهُمْ نَصْرُنَاج وَلَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰهِج وَلَقَدْ جَآءَ کَ مِنَ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور یقین جانئے کہ آپ سے پہلے انبیاء کو بھی جھٹلایا گیا، لیکن انہوں نے تکذیب اور مصائب پر صبر کیا یہاں تک کہ ان تک ہماری امداد پہنچ گئی۔ خدا کے کلمات (اور طریقہ کار) کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں، یقیناً پیغمبروں کی طرح کچھ خبریں آپ تک پہنچ چکی ہیں (اور آپ ان کی تاریخ سے واقف ہیں)

ایک نکتہ:

سابقہ انبیاء اور ان کا صبر ہمارے لئے نمونہ ہونا چاہئے، اور ہود، صالح اور لوط وغیرہ جیسے پیغمبروں کی امتوں سے عبرت حاصل کرنی چاہئے جو انبیاء کو جھٹلانے کی وجہ سے تباہ و برباد ہو گئیں۔ انبیاء کا بھیجنا خدا کا کام ہے اور ان کی راہ کو اختیار کرنے میں بندوں کو آزادی حاصل ہے۔ البتہ وہ کفار کو سزا دیتا ہے اور انبیاء کی راہ حق کے لئے دعوت دینے میں امداد کرتا ہے۔

پیام

۱ ۔ حق کا سیدھا راستہ خطرات سے گھرا ہوا ہوتا ہے۔

۲ ۔ مشکلات اور شدائد میں ثابت قدم رہنے کا ایک بہترین اور اہم عنصر تاریخ اور خدا کے طریقہ کار سے آشنائی ہے

۳ ۔ رہبر کو اس بات کی توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ تمام دنیا اس کی اطاعت کرے گی۔

۴ ۔ کامیابی کی اصل شرط صبر ہے( فصبروا )

۵ ۔ حق کے دشمن حق کے خلاف کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرتے کبھی تکذیب کرتے ہیں اور کبھی ایذائیں پہنچاتے ہیں۔( کذبوا، اوزوا )

۶ ۔ حق، ہمیشہ کامیاب و کامران اور سرخرو ہوتا ہے( نصرها ) ۷

۷ ۔ خدائی طریقہ کار میں کبھی تبدیلی نہیں آتی( لامبدل لکلمات الله ) ۸

۸ ۔ نصرت الہٰی کے پہنچنے تک صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے( حتی اتاهم )

۹ ۔ گزشتہ لوگوں کے رنج اٹھانے اور تکلیفیں برداشت کرنے کی قدر کرنی چاہئے( ولقد جاء ک… )

۱۰ ۔ ہر شخص کو اپنے جیسے تاریخی نمونے پہچاننے چاہئیں( نبای المرسلین )

آیت ۳۵

( وَاِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرٰضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْسُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیٰةٍط وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَی الْهُدٰي فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور اگر ان (کفار) کی روگردانی اور بے اعتنائی تمہارے لئے گراں ہے (اور چاہتے ہو کہ ہر صورت میں انہیں راہ راست پر لے آؤ تو) اگر کر سکتے ہو کہ زمین میں نقب لگا کر یا آسمان میں سیڑھی لگا کر ان کے لئے کوئی آیت لے آؤ (پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لے آئیں گے) اور اگر خدا چاہے تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دے، (لیکن یہ خدا کا طریقہ نہیں ہے) پس تم ہرگز جاہلوں میں سے نہ ہونا۔

ایک نکتہ:

اس آیت کے شان نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: کفار حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہتے تھے کہ "( لن نومن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعاً او ترقی فی السماء ) " (بنی اسرائیل/ ۹۰) یعنی ہم آپ پر اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ آپ ہمارے لئے زمین سے کوئی چشمہ جاری نہیں کریں گے یا آسمان پر نہیں چڑھ جائیں گے۔

شاید یہ آیت ان مشرکین کے ان بے جا تقاضوں کی طرف اشارہ ہو کہ اگر آپ زمین میں نقب لگائیں یا سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اس لئے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ میرے پیغمبر! آپ کی دعوت اور تبلیغ میں کسی قسم کا عیب اور نقص نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ ضدی، ہٹ دھرم اور اکھڑ ہیں لہٰذا آپ ان کی ہدایت اور انہیں راہ راست پر لانے کے لئے اس قدر دل سوزی سے کام نہ لیں۔

پیام:

۱ ۔ حضرت رسول خدا لوگوں کی ہدایت کے لئے دلسوز اور ان کی روگردانی پر غمگین تھے۔( کبر علیک )

۲ ۔ اسلامی تعلیمات میں کوئی نقص نہیں ہے، ساری خرابی ضدی اور ہٹ دھرم کفار کی طبیعتوں میں ہے۔

۳ ۔ اللہ تعالیٰ سب کو ہدایت کر سکتا ہے لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آزاد رہیں۔

۴ ۔ بہانہ گیر لوگوں کے ہر تقاضے کو پورا کرنا اور مبلغین کی بے صبری اور بے قراری جہالت ہے۔( فلاتکونن من الجاهلین )

آیت ۳۶

( اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ ط وَ الْمَوْتٰی یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ صرف وہی لوگ ہی بات کو قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں، اور مردوں کو تو اللہ تعالیٰ دوبارہ اٹھائے گا اور پھر سارے کے سارے اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

ایک نکتہ:

قرآن مجید نے بات کو قبول نہ کرنے والوں کو کئی مقامات پر "مردے" اور "بہرے" کی تعبیر کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ منجملہ ان کے سورہ نمل/ ۸۰ اور سورہ روم/ ۵۲ میں ہم پڑھتے ہیں کہ: "انک لا تسمع الموتی ولا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرین" یعنی اے پیغمبر! نہ تو آپ مردوں کو اپنی آواز سنا سکتے ہیں اور نہ ہی بہروں کو خصوصاً جب وہ پیٹھ پھیر کر چلے جائیں۔

پیام:

۱ ۔ انسان راہ کے انتخاب میں آزاد ہے( انما یستجیب… )

۲ حق کو سننا اور اسے تسلیم کرنا معنوی زندگی اور قلبی حیات کی علامت ہے۔

۳ ۔ جو حیات معنوی نہیں رکھتا اور حق کو تسلیم نہیں کرتا، مردہ ہے کیونکہ کھانے، پینے اور سونے اور چلنے، پھرنے والی زندگی تو حیوان بھی رکھتے ہیں۔

۴ ۔ اے میرے پیغمبر! حق کو قبول کرنے والے دل تمہارے ذمہ اور کفار میرے ذمہ! اور دیکھنا کہ قیامت کے دن ان سے کیسے نمٹتا ہوں!

آیت ۳۷

( وَقَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهط قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰٓی اَنْ یُنَزِّلَ اٰیَةً وَّلَکِنَّ اَکْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور (کفار نے) کہا: اس (پیغمبر) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی معجزہ (جسے ہم چاہتے ہیں) نازل نہیں ہوا؟ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ خدا اس بات پر قادر ہے کہ کوئی معجزہ اور نشانی اتارے لیکن ان (بہانہ گیروں) میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

دو نکات:

اس آیت کے شان نزول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ: قریش کے کچھ روسأ بہانہ سازی کے طور پر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہتے تھے: معجزہ کے طور پر صرف قرآن کافی نہیں ہے، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ اور حضرت صالح وغیرھم جیسے معجزات لے آئیے! (از تفسیر مجمع البیان)

جو پیغمبر، گزشتہ انبیاء کے معجزات یاد دلا رہا ہے وہ ان کے جیسے معجزات بھی لا سکتا ہے، ورنہ لوگوں کو ان انبیاء کے معجزے اس وجہ سے یاد نہ دلاتا کہ مبادا لوگوں کا اس سے بھی اسی قسم کے معجزات کا تقاضا شروع ہو جائے۔

البتہ شیعہ اور سنی روایات کے مطابق رسول خدا نے قرآن کے علاوہ بھی کئی اور معجزات لوگوں کو دکھائے ہیں۔

معجزات دکھانے کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ خداوند عالم اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ میرے اور رسول کے درمیان ایک خصوصی رابطہ ہے۔ اور میری قدرت حد و حساب سے باہر ہے۔ تاہم یہ مقصد ہرگز نہیں ہوتا کہ جب بھی کوئی ضدی مزاج اور ہٹ دھرم شخص مطالبہ کرے تو فوراً معجزہ دکھا دیا جائے۔ البتہ بعض اوقات لوگوں کی درخواست کے مطابق بھی معجزہ دکھایا گیا ہے۔

پیام:

۱ ۔ دشمنوں اور مخالفوں کے بہانوں پر کان نہ دھرو۔ (خداوند عالم فرماتا ہے "( ولوداننا نزلنا--- ) " یعنی اگر ہم لوگوں پر فرشتے اتار دیں یا ان سے مردے باتیں کرنے لگیں تو معاند لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ (انعام/ ۱۱۱)

۲ ۔ معجزہ کا مقصد تو محبت اور دلیل قائم کرنا ہوتا ہے نہ کہ کسی ایرے غیرے کی فرمائش کو پورا کرنا۔

۳ ۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلسل معجزات بھی ضدی مزاج اور ہٹ دھرم لوگوں کی ہدایت کا سبب نہیں بن سکے بلکہ الٹا ان کے لئے خدائی قہر و غضب اور سزا اور عذاب کا موجب بن گئے۔

۴ ۔ جہاں خداوند قادر مطلق ہے وہاں حکیم علی الاطلاق بھی ہے۔ لہٰذا اسکی قدرت و ہاں پر جلوہ گر ہوتی ہے جہاں اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے( ان الله قادر… )

آیت ۳۸

( وَمَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا طَٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّآ اُمَمٌ اَمْثَالُکُمْط مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ شَیْ ءٍ ثُمَّ اِلٰی رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور زمین پر کوئی چلنے (پھرنے) والا نہیں اور اپنے دو پروں کے ساتھ اڑنے والا کوئی پرندہ نہیں مگر یہ کہ وہ بھی تمہاری طرح امتیں ہیں۔ ہم نے اس کتاب میں کسی چیز کو فروگزاشت نہیں کیا، پھر سارے کے سارے اپنے پروردگار کے ہاں اکٹھے کئے جائیں گے۔

دو نکات:

قرآن مجید کی پرندوں اور ان کی صفات پر مکمل توجہ ہے۔ اور لوگوں کو ہدایت کرنے کے لئے ان کی تخلیق، شعور اور صفات کی یاددہانی کرا رہاہے، سورہ جاثیہ/ ۴ میں فرماتا ہے: و فی خلقکم وما یبث من دابة اٰیٰت للمومنین" یعنی تمہاری پیدائش میں بھی اور زمین پر چلنے پھرنے والے جانوروں (کی تخلیق) میں بھی یقین رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

روایات میں بھی اور انسانی تجربوں میں بھی جانوروں کے ادراک اور شعور کے وافر نمونے ملتے ہیں۔

ممکن ہے کہ "کتاب" سے مراد "لوح محفوظ" بھی ہو۔

پیام:

۱ ۔ مخلوق کی تخلیق اور اس کے مقاصد کی تکمیل کے لئے قدرت خداوندی تمام موجودات عالم کے لئے یکساں ہے( ومامن دابة …ولا طائر… )

۲ ۔ بامقصد تخلیق اور اجتماعی زندگی کا نظم و انتظام صرف انسانوں ہی سے مخصوص نہیں( امم امثالکم )

۳ ۔ انسان ہوں یا جانور، سب کو خدا کی تدبیر کی ضرورت ہوتی ہے۔ خداوند عالم اپنی مصلحت کے مطابق انہیں شعور عطا کرتا ہے، سب تسبیح خداوندی بجا لاتے ہیں، سب خدا کا رزق کھاتے ہیں اور سب کے اندر نظم و نظام ہے۔

۴ ۔ جو جو چیزیں انسان کی رشد و ہدایت اور تربیت کا سبب بنتی ہیں ان سب کو قرآن مجید میں بیان کر دیا گیا ہے۔( مافرطنافی الکتٰب ) چاہے وہ چیزیں ایسی ہیں جنہیں انسان وحی کے بغیر نہیں سمجھ سکتا۔ چاہے ایسی چیزیں ہیں جن کاجاننا انسان کے لئے واجب اور ضروری ہے اور خواہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں رہنما اصول کہا جاتا ہے۔

۵ ۔ انسان کے ساتھ چرند و پرند کی مماثلت اور حیوانی زندگی کو سمجھنے کے لئے خوب غور و فکر اور عمیق مطالعہ و تجربہ کی ضرورت ہے( امم امثالکم )

۶ ۔ حیوانات پر بھی ظلم نہ کرو اور نہ ہی ان کے حق میں کوتاہی کرو کیونکہ وہ بھی تمہاری طرح ہیں( امم امثالکم ) (ازتفسیر قرطبی)

۷ ۔ قرآن مجید کامل ترین کتاب ہے( مافر طنافی الکتٰب من شیٴ ) ۹

۸ ۔ معاد اور حشر صرف انسانوں ہی سے مخصوص نہیں( ثم امی ربهم یحشرون )

حیوانات کا شعور:

آیات و روایات اور تجربوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ شعور صرف انسان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔

مندرجہ ذیل چند نمونے ملاحظہ ہوں۔

۱ ۔ حضرت سلیمان پیغمبر اپنے لشکر کے ساتھ ایک جگہ سے گزر رہے تھے کہ ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا: "جلدی سے اپنے بلوں میں گھس جاؤ کہیں سلیمان کا لشکر تمہیں پامال نہ کر دے۔" (نمل/ ۱۸) یہ ٹھیک ہے کہ دشمن کی پہچان چیونٹیوں کے عزیزہ (فطرت ) میں شامل ہے لیکن یہ شناخت کہ یہ سلیمان ہیں اور ان کے ساتھ ان کا لشکر ہے یہ بات عزیزہ سے بالاتر ہے۔

۲ ۔ ہد ہد فضا کی بلندیوں سے زمین پر رہنے والے بندوں کے شرک سے مطلع ہوا اور سلیمان کے پاس آکر اس کا ذکر کیا کہ "سبا"کے رہنے والے کدا پرست نہیں ہیں ، اس کے ذمہ ایک کام لگایا جسے اس نے انجام دیا ہے۔ شرک اور توحید کی معرفت کہ یہ شرک بری چیز ہے، اس بات کی خبر حضرت سلیمان پیغمبر تک پہنچانا اور پھر پیغام رسانی کی خصوصی ڈیوٹی انجام دینا یہ سب کچھ عزہزہ سے بالاتر امور ہیں۔

۳ ۔ ہد ہد کا غائب ہو جانے کے بعد واپس آکر غیر حاضری کی معقول اور قابلِ قبول دلیل کرنا عزہزہ سے بالاتر شعور کی دلیل ہے۔

۴ ۔ خدا فرماتا ہے کہ "تمام موجودات ِ عالم خدا کی تسبیح پڑھتے ہیں لیکن تم اسے نہیں سمجھتے" "تسبیح تکوینی" کو تو ہم سمجھ سکتے ہیں لیکن دوسری تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔

۵ ۔ قرآن مجید میں تمام معجودات کا خدا کے لئے سجدہ ریز ہونے کا ذکر ہے۔

۶ ۔ بعض جانوروں ازآنجملہ کتے میں اپنے مالک اور اس کے بچوں کے لئے وفاداری کا عنصر۔ اس کے خصوصی شعور کی علامت ہے۔

۷ ۔ جرائم خصوصاً منشیات اور اسمگلنگ کی دریافت کے لئے پولیس اور فوج کے کتوں کی تربیت یا شکار اور اشیاء کی خریداری کے لئے انہیں سدھایا جانا ان کے خاص شعور اور آگاہی کی دلیل ہے۔

۸ ۔ اسلام نے ایک جانور کودوسرے جانوروں کے سامنے ذبح کرنے سے منع کیا ہے۔

۹ ۔ حضرت سلیمان کے لشکر کی مشقوں میں پرندوں کی شرکت کا تذکرہ ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: "( وحئی لسلیمٰن جنوده من الجن و الانس والطیر… ) " یعنی حضرت سلیمان کے پاس جنوں، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے جاتے (نمل/ ۱۷)

۱۰ ۔ پرندے ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں اور حضرت سلیمان اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ "ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے "( علمنا منطق الطیر ) " (نمل/ ۱۶)

۱۱ ۔ بعض روایات میں بعض جانوروں کے لئے فضلیت اور درجات کا ذکر ہے، مثلاً جو اونٹ تین بار (عازمین حج کو لے کر) مکہ مکرمہ جائے تو وہ بہشتی ہے۔ (تفسیر صافی)

اسی طرح حضرت امام زین العابدین علیہ اسلام فرماتے ہیں جو اونٹ سات سال تک صحرائے عرفہ میں رہے وہ بہشتی جانوروں میں سے ہو گا۔ (تفسیر نور الثقلین)

۱۲ ۔ "( واذا الوحوش حشرت ) " یعنی جب وحشی جانوروں کو جمع کیا جائے گا (تکویر/) یہ آیت قیامت کے دن جانوروں کے محشور ہونے کو بیان کر رہی ہے۔

۱۳ ۔ "( کل قد علم صلاة و تسبیحه ) " یعنی سب کے سب اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتے ہیں (نور/ ۴۱) یہ آیت انسان کے علاوہ دوسری موجودات کے بارے میں ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حیوانات بھی شعوری طور پر عبادت کرتے ہیں۔

آیت ۳۹

( وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُکْمٌ فِی الظُّلُمٰتِط مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُط وَمَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) ۔

ترجمہ۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ تاریکیوں میں بہرے اور گونگے ہیں۔ خداوند جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست پر قائم رکھتا ہے۔

ایک نکتہ:

اگرچہ ہدایت اور گمراہی خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن انسان کا اپنا ارادہ اور اس کے لئے تیار کی جانے والی راہیں بھی موثر ہوتی ہیں، اور خدا کا کام بھی حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ موجب ہوتا ہے خدا کی طرف سے ہدایت کا "( والذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا ) " اور خدا کے بندوں پر ظلم سبب ہوتا ہے گمراہی کا "یضل اللہ الظالمین"۔

پیام:

۱ ۔ کفر اور عناد ایسی ظلمت اور تاریکی ہے جو نجات کی راہوں سے دوری کا سبب بن جاتی ہے( فی الظلمات )

۲ ۔ حق کو چھپانا "گونگا پن" ہے اور حق کو نہ سننا "بہرا پن"( صم و بکم )

۳ ۔ لوگوں کا گمراہ کرنا اور ان پر خدا کا غضب نازل کرنا خود ان کی تکذیب کا نتیجہ ہوتا ہے۔( کذبوا…یضلله )

۴ ۔ صراط مستقیم پر چلنے کے لئے حق کے سننے والے کانوں، حق بات کہنے والی زبان اور باطن کی روشنی درکار ہوتی ہے۔

آیت ۴۰

( قُلْ اَرَءَ یْتَکُمْ اِنْ اَٰتکُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْکُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَجاِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ کہہ دو کہ آیا تم نے کچھ غور بھی کیا ہے کہ اگر (دنیا میں) خدا کا عذاب تمہارے پاس آجائے یا قیامت (کادن) تمہیں آلے تو کیا (اپنی نجات کے لئے پھر بھی ) غیر اللہ کو پکاروگے؟ اگر تم سچے ہو تو ۔

ایک نکتہ:

اگرچہ آیت کا خطاب کفارسے ہے جو معاد سے انکاری ہیں ، لیکن یہ بھی معلوم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے بعض کا قیامت پر عقیدہ ہے ۔ علاوہ ازیں ہو سکتا ہے کہ "اتتکما الساعته " میں "ساعت سے مراد موت کا وقت یا قیامت سے پہلے ہو لناک حوادث کا ظہور ہو۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ فرض کرنے کی صورت میں ا یمان کا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔

پیام:

ا۔ حواد ثات اور مشکل حالا ت میں جب تمام پردے اٹھ جاتے ہیں تو انسان خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے( اغیرالله تد عون )


آیت ۴۱

( بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِکُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ بلکہ (خطرناک حالات میں تو ) صرف اسی کو پکارتے ہو اور اگر وہ چاہے تو جس بات کے لئے تم اسے پکارتے ہو وہ اسے دور کر دے ، اور تم بھی جسے خدا کا شریک ٹھہراتے ہو اسے بھول جاؤ۔

پیام:

۱ ۔ فطرت ، خدا کی معرفت کا ایک ہموار راستہ ہے( بل ایاه تدعون )

۲ ۔ خلوص پر مبنی دعا، دنیا میں خطرات سے نجات کا بہترین راستہ ہے (کافر کی دعا قیامت کے دن نہیں سنی جائے گی جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے "( وما دعاء الکفرین الافی ضلٰل ) " (رعد/ ۱۴)

۳ ۔ آخر صرف خطرناک حالات میں ہی خدا وند ذوالجلال کی طرف کیوں توجہ کرتے ہو؟ اور اپنے باطل خداؤں کی طرف کیوں نہیں جاتے ۱۰آخر کس لئے کسی قسم کی خاصیت سے عاری خداؤں کے پیچھے لگے ہوئے ہو؟ اور عارضی خداؤں کی پوجا کرتے ہو جنہیں مصیبت کے وقت بھلا دیتے ہو؟

۴ ۔ خدا کے علاوہ دوسری تمام طاقیتں معمول کے حالات میں جلوہ نمائیاں کرتی ہیں لیکن سخت اور خطرناک حالات میں سب کچھ فراموش ہو جاتا ہے۔۱۱

۵ ۔ خداوند تعالٰی ہر خطرے کو دور کرنے کی قدرت رکھتا ہے خواہ وہ دنیوی ہو یا (اخروی لیکن یہ اس کے ارادے اور حکمت سے مشروط ہے( فیکشف----ان شاء )

۶ ۔ عذاب کو دور کرنا یا تو اتمام حجت کے لئے ہوتا ہے یا پھر حالات کی تبدیلی کی بناء پر ۔ ۱۲

آیت ۴۲

( وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْ ٰنهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور یقینا ہم نے تجھ سے پہلی امتوں کی طرف (پیغمبروں کو) بھیجا ، پس ہم نے انہیں تنگدستی اور بیماری میں مبتلا کر دیا تا کہ گڑ گڑاٹیں اور سر تسلیم خم کریں۔

ایک نکتہ:

"بآساء" کا معنی ہے جنگ، فقرو تنگدستی ‘ قحط ‘ سپلاب ‘ زلزلہ اور متعدی امراض کی مشکلات ۔ اور "ضرآئکا معنی ہے غم و غصہ ‘ آبروریزی ‘ جہالت او رنقصان۔

پیام:

۱ ۔ انبیاء کی بعثت ہو یا اتمام حجت دونوں ہی تاریخ کا حصہ او ر خدائی طریقہ کار میں شامل ہیں( الی المم )

۲ ۔ گزشتہ لوگوں کی تاریخ ، آئندہ والوں کے لئے باعث عبرت ہے۔( قبلک )

۳ ۔ تربیت اور ہدایت و رہنمائی کے لئے کبھی سختی سے بھی کام لینا پڑتا ہے( اخذ نا هم )

۴ ۔ مشکلات ‘ خدا کی طرف توجہ کرنے کا راستہ اور مغرور وسر کش افراد کو ٹھیک کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں( یتضرعون )

۵ ۔ ضروری نہیں کہ ہر آسائش لطف خداوند ی ہوا ور رنج و غم خدا کا قہر و غضب ہو( لعلهم یتضرعون )

۶ ۔ تمام سرکش، ضدی اور ہٹ دھرم لوگ دباؤ پڑنے پر سیدھے نہیں ہو جاتے( لعلهم )

۷ ۔ اے پیغمبر ! تمام انبیاء کرام کو ضدی اور اکھڑ مزاج لوگوں سے واسطہ پڑتا رہا لہٰذا آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

۸ ۔ مشکلات میں گھر جانے کے موقع پر دست نیاز خدا ہی کی طرف بلند ہوتے ہیں۔ ۱۳

آیت ۴۳

( فَلَوْ لَآ اِذْ جَآ ءَ هُمْ بَاْ سُنَا تَضَرَّعُوْا وَٰلکِِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیِّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ پس جب ہماری طرف سے ان کو ناگواری نے آ لیا تو انہوں نے تضرع اور زاری کیوں نہیں کی؟ لیکن ان کے دل پتھر اور سخت ہو چکے ہیں۔ اور وہ جو کام کرتے ہیں شیطان اسے ان کے سامنے زیبا کرکے پیش کرتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ خبردار اور ہوشیار کرنے کے باوجود بھی بے پروائی سے کام لینا سنگدلی کی علامت ہے۔( قست )

۲ ۔ ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں پر نہ تو تبلیغ اثر کرتی ہے اور نہ ہی تنبیہ( جاء هم باسنا )

۳ ۔ شیطان کا ان کے کرتوتوں کو زیبا کرکے پیش کرنا ان کے غرور و تکبر کا سبب بن جاتا ہے( زین لهم )

آیت ۴۴

( فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِه فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْئٍط حَتّٰیٓ اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْآ اَخَذْ ٰنهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ پس جو نصیحتیں انہیں کی گئی تھیں جب انہوں نے ان کو بھلا دیا تو ہم نے ان کے لئے تمام چیزوں کے دروازے کھول دیئے (تاکہ وہ آسائش اور مادیات میں پوری طرح غرق ہو جائیں) حتیٰ کہ جب وہ ان چیزوں پر خوش ہو گئے جو انہیں دی گئی تھیں تو ہم نے اچانک انہیں (سز اکی) گرفت میں لے لیا اور وہ یکدم غمگین اور نا امید ہو گئے۔

ایک نکتہ:

آیت میں لفظ "مبلسون" آیا ہے جو "ابلاس" کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے "مایوسی کے ہمراہ غم و اندوہ" یعنی وہ کیفیت جو مجرم لوگوں کی عدالت میں ان کی شنوائی نہ ہونے پر ہوتی ہے۔ (تفسیر المیزان)

پیام:

۔ آسائش پر مبنی زندگی ہمیشہ رحمت خداوندی کی علامت نہیں ہوا کرتی، کبھی سزا کا موجب بھی بن جاتی ہے( نسوا- فتحنا ) ۱۴

۲ ۔ مجرمین کو مہلت دینا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لئے آسائش کے وسائل فراہم کرنا خدا کا ایک دیرینہ طریقہ کار چلا آ رہا ہے۔

۔ دنیا اور اس سے بہرہ برداری نعمت بھی ہو سکتی ہے اور عذاب بھی، خواہ یہ کسی کو بھی ملے۔ جیسا کہ سورہ اعراف/ ۹۶ میں ارشاد ہوتا ہے "( ولو ان اهل القریٰ امنوا و اتقو الفتحنا علیهم برکات من السماء و الارض ) " یعنی اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور پرہیزگار بنتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے۔

یہاں ایمان اور تقویٰ کو برکات الٰہی کا موجب گردانا گیا ہے جبکہ زیر بحث آیت میں دنیا کو خدا کا عذاب اور نقمت بتایا گیا ہے۔ ۱۵

۵ ۔ موت ہو یا خدا کا قہر و غضب اچانک آتے ہیں لہٰذا ہمیشہ آمادہ رہنا چاہئے( بغتةً )

۶ ۔ فیصلے جلدی نہ کر لیا کرو اور نعمتوں کو خدا کا لطف و مہربانی نہ سمجھ لیا کرو۔

۷ ۔ عیاش لوگوں کی خوشی کے نعرے بہت جلد مایوسی کی فریادوں میں تبدیل ہو جائیں گے۔( فرحوا … مبلسون )

آیت ۴۵

( فَقُطِعَ دَابِرُالْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاط وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ پس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا گیا اور ان کی نسل ختم ہو گئی او رحمد خاص ہے عالمین کے رب کے لئے۔

پیام:

۱ ۔ ظلم، ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔( قطع )

ظلم کا اثر نسلوں پر پڑتا ہے۔( دابر )

۳ ۔ ظالموں کا انقراض اور ان کی تباہی قطعی، حتمی اور یقینی ہے (فقطع دابر) یا جس طرح کہ ایک اور آیت میں ہے "( فهل تری لهم من باقیه ) " ان میں سے تو کسی کو باقی دیکھتا ہے" (الحاقہ/ ۸)

۴ ۔ ظالموں کی تباہی پر خدا کا شکر کرنا چاہئے( فقطع…والحمد لله )

۵ ۔ ظالموں کی نابودی درحقیقت ان کے ظلم کا انجام اور اس کی سزا ہوتی ہے ورنہ اس پر خدا کی حمد نہ کی جاتی( والحمدلله )

۶ ۔ ظالموں کی ہلاکت، دوسرے لوگوں کے لئے تربیت کا موجب ہوتی ہے( رب العالمین )

آیت ۴۶

( قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَکُمْ وَ اَبْصَارَکُمْ وَخَتَمَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْ تِیْکُمْ بِهط اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ آیا تم نے کچھ غور کیا ہے کہ اگر خداوند عالم تمہارے کانوں اور تمہاری آنکھوں کو اپنی گرفت میں لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے (کہ کچھ بھی نہ سمجھ سکو) تو خدا کے علاوہ کون معبود ایسا ہے جو تمہیں یہ سب کچھ واپس لوٹا دے؟ دیکھو کہ ہم آیات کو کن طریقوں سے بیان کرتے ہیں، پھر بھی وہ (ایمان لانے اور بات کو تسلیم کرنے کی بجائے ) منہ پھیر لیتے ہیں۔

ایک نکتہ:

۹; سورت کے آغاز سے لے کر یہاں تک اللہ تعالیٰ نے تقریباً دس مرتبہ سوالیہ انداز میں مخالفین کو دعوت فکر دی ہے۔

پیام:

۱ ۔ دی ہوئی نعمتوں کا واپس لینا خدا کے لئے آسان ہے۔ لہٰذا ہمیشہ خبردار رہو( اخذسمعکم )

۲ ۔ ایک تو تخلیق کائنات ہی خدا کا کام ہے اور دوسرے کائنات کو اپنے طور پر چلانا اور ہر لمحہ اس کی حفاظت، پروردگار عالم کی نعمت ہے( اخذسمعکم )

۳ ۔ خدا کی نعمتوں کے بارے میں غور و فکر اور ان نعمتوں میں تغیر و تبدل کا فرض کرنا، معرفت خداوندی اور نعمت شناسی کی راہوں میں سے ایک راہ ہے۔ مثلاً فرض کیجئے کہ:

اگر درخت سرسبز نہ ہونے پائیں( لونشاء لجعلناه حطامًا ) ۔ واقعہ/ ۶۰)

اگر پانی کڑوا اور شور ہوجائے( لونشاء لجعلناه اجاجا ) ۔ واقعہ/ ۷۰)

اگر پانی سارے کا سارا زمین کے اندر چلا جائے( ان اصبح ماؤ کم غورا ) ۔ ملک/ ۳۰)

اگر ہمیشہ ہی رات یا دن برقرار رہیں( ان جعل علیکم اللیل سرمدا ) ۔ قصص/ ۷۱)

اگر یہ ہو جائے اور وہ ہو جائے تو کیا ہو گا؟ یہ سب خدا کی نعمتیں ہیں

۴ ۔ ضدی مزاج لوگوں کے لئے ہر طرح کا بیان بے اثر ہوتا ہے( نصرف الایات ) ۔۔ (یصدفون)

آیت ۴۷

( قُلْ اَرَءَ ْیتَکُمْ اِنْ اَٰتکُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَکُ اِلَّا الْقَوْمُ الظٰلِمُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ کہہ دو کہ آیا تم نے کچھ غور کیا ہے کہ خدا کا عذاب اچانک یا آشکارا تمہیں آ لے تو کیا ظالم لوگوں کے علاوہ کوئی اور ہلاک ہو گا؟

دو نکات:

۹; اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ صرف ظالم لوگ ہی عذاب الٰہی سے ہلاک ہوں گے، جبکہ ایک اور آیت میں ہے کہ "( واتقوافتنة لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصة ) " یعنی اس فتنہ سے ڈرو جو صرف تم میں سے ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا (بلکہ سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا) (انفال/ ۲۵) اس آیت میں فتنہ کی لپیٹ اور عذاب کے شعلے ہر ایک کے لئے بیان ہوئے ہیں اور اس سے ہر ایک کو خبردار کیا گیا ہے۔ تو پھر ان دونوں آیات کو کیونکر جمع کیا جا سکتا ہے؟ تفسیر فخر رازی اور مجمع البیان میں اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ "ہر فتنہ ہلاکت نہیں ہوتا، اور تلخ اور ناگوار حوادث میں جو چیز ظالموں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے وہ ہلاکت اور خدائی قہر ہے۔ اور جو چیز مومنین کو پہنچتی ہے وہ امتحان اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہوتی ہے"

۹; شاید کہ "( بغتة ) " سے مراد رات اور "جھرة" سے مراد دن ہو۔ جیسا کہ ایک اور مقام پر فرماتا ہے "( اتاها امرنا لیلا اونهارا ) " یونس/ ۲۴ ۔ تفسیر آلوسی)

۹; اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ "( بغتة ) " سے مراد ایسا عذاب ہو جو کسی مقدمہ کے بغیر آئے اور "جھر ة" سے مراد وہ عذاب ہو جس کے آثار پہلے دن سے ظاہر ہوں جیسے قوم عاد پر برسنے والے خطرناک عذاب کے بادل تھے، جس کے متعلق ارشاد الٰہی ہے "( قالو اهذا عار ض ممطرنا بل هوما استعجلتم به ریح فیها عذاب الیم ) " (احقاف/ ۲۳) یعنی وہ لوگ کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برس کر رہے گا (نہیں) بلکہ یہ وہ (عذاب) ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے، وہ آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ (از تفسیر اطیب البیان)

پیام:

۱ ۔ اپنی سرکشی اور اس پر تمہیں ملنے والی خدا کی مہلت سے مغرور نہ ہو جانا، ہو سکتا ہے کہ خدا کا عذاب اچانک ہی تم پر نازل ہو جائے( بغتة )

۲ ۔ جب خدا کا عذاب نازل ہو گا تو تباہی اور ہلاکت یقینی ہو جائے گی جسے نہ تو تم ٹال سکو گے اور نہ ہی کوئی اور۔( عذاب الله- یهلک )

۳ ۔ خدا کی طرف سے ملنے والی سزائیں عادلانہ اور منصفانہ ہوتی ہیں اور وہ بھی لوگوں کے ظلم کرنے کی وجہ سے۔ (یھلک۔ ظالمون)

۴ ۔ انبیاء علیہم اسلام کی دعوت سے انحراف اور روگردانی ظلم ہے( یصدفون- الظالمون )

آیت ۴۸ ، ۴۹

( وَمَا نُرْسِلُ الْمَرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ ج فَمَنْ اٰمَنَ وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَاهُمْ یَحْزَنُوْنَ- وَالَّذِیْنَ کَذَّبُُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ ہم، رسولوں کو صرف خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجتے ہیں پس جو لوگ ایمان لے آتے ہیں اور اپنی اصلاح کرتے ہیں (نیک بن جاتے ہیں) تو ان پر نہ تو کسی قسم کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوتے ہیں۔

۹; اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں تو ان کے فسق کی وجہ سے عذاب انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

ایک نکتہ:

۹; متعدد آیات میں اولیاء اللہ کے بارے میں ہے کہ ان پر نہ تو کسی قسم کا خوف ہوتا ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوتے ہیں۔( لا خوف علیهم ولا هم یحزنون ) جبکہ دوسری طرف آیات قرآنی میں جو خوف خدا اولیاء اللہ کا خاصہ بتایا گیا ہے مثلاً وہ کہتے ہیں "انا نخاف من ربنا( --- ) " یعنی ہم اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ (دہر/ ۱۰) تو ان دونوں طرح کی آیات کو کیونکر جمع کیا جا سکتا ہے؟ تو ا س کا جواب یہ ہے کہ: اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے بیمار آپریشن اور معالجہ سے ڈرتا ہے لیکن ڈاکٹر اسے اطمینان اور تسلی دیتا ہے کہ "گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں" تو گھبرانے کی ضرورت کا نہ ہونا، بیمار کے اندیشوں سے منافات نہیں رکھتا۔

پیام:

۱ ۔ تمام انبیاء کا مجموعی طریقہ کار ایک جیسا تھا( مبشرین ومنذرین )

۲ ۔ ہدایت اور تربیت، بیم و امید اور سزا و جزا کے دو اصولوں پر استوار ہے( مبشرین، منذرین )

۳ ۔ ایمان اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ اور ایمان کے بغیر عمل بیکار ہے( آمن و اصلح )

۴ ۔ مومن کا کام ہمیشہ اصلاح کے رخ پر ہونا چاہئے( آمن و اصلح )

۵ ۔ صرف صالح ہونا ہی کافی نہیں، مصلح ہونا بھی ضروری ہے( اصلح )

۶ ۔ ایمان اور عمل دونوں مل کر انسان کا بیمہ کرتے ہیں( لاخوف علیهم ولا هم یخزنون )

۷ ۔ فسق، عذاب الٰہی کا موجب بن سکتا ہے( بما کانوا یفسقون )

آیت ۵۰

( قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌج اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ ط قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَ الْبَصِیْرُط اَفَلَا تَتَفَکَّرُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ (اے پیغمبر! لوگوں سے) کہہ دو کہ میں تمہیں نہیں کہتا کہ میرے پاس خدا کے خزانے ہیں۔ اور میں غیب بھی نہیں جانتا اور تمہیں یہ بھی نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اسی بات کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی ہوتی ہے۔ (اور اے پیغمبر یہ بھی) کہہ دو کہ آیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ آیا تم کچھ غور و فکر نہیں کرتے؟

ایک نکتہ:

۹; اس آیت میں پیغمبر خدا کی غیب دانی کی نفی کی گئی ہے لیکن خدا کی طرف سے غیب پر آگاہی آنجناب کو ضرور عطا ہوئی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے بارہا حضرت یوسف ، جناب مریم، حضرت نوح اور دیگر انبیاء کرام علیہم اسلام کے بارے میں آپ سے فرمایا ہے کہ:( ذالک من انباء الغیب نوحیه الیک ) " یعنی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں۔

۹; اسی طرح اللہ تعالیٰ سورہ جن کے آخر میں فرماتا ہے: "خداوند عالم کے پاس غیب کا علم ہے جو وہ اپنے برگزیدہ بندوں کے علاوہ کسی اور کو عطا نہیں کرتا" پس علم غیب مخصوص تو خدا ہی سے ہے لیکن اگر وہ چاہے تو اس میں سے اپنے اولیاء کو بھی عطا کر دیتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ پیغمبر خدا کی صداقت تو اس حد تک ہے کہ اگر ان سے کوئی قدرت سلب ہوتی ہے تو اس کا بھی وہ لوگوں میں اعلان کرتے ہیں( قل لا اقول )

۲ ۔ انبیاء علیہم اسلام کا کام خرافات سے نبردآزمائی اورجھوٹی شخصیت بنانے کے خلاف جنگ ہے (متن آیت)

۳ ۔ انبیاء کرام سے بے جا توقعات وابستہ نہ رکھو( لا اقول لکم عندی خزائن الله )

۴ ۔ رہبر کی زندگی، اس کا ہدف اور طریقہ کار عوام پر واضح ہونا چاہئے۔

۵ ۔ "جو کچھ تم ہو" لوگوں کو بھی وہی باور کراؤ اورایسا نہ ہونے دو کہ لوگ تمہیں تمہاری اصلی حالت سے بڑھ کر سمجھنے لگیں )(اگر نامور شخصیات اپنی ذات سے جھوٹے القاب کی خود نفی کریں تو غلو اور گمراہی کے آگے بند باندھا جا سکتا ہے)

۶ ۔ انبیاء کرام روپے پیسے کا لالچ دے کر لوگوں کو خدا کی طرف نہیں بلاتے اور نہ ہی دھونس اور دھاندلی سے کام لیتے ہیں تاکہ لوگ ڈر کر یا کسی لالچ میں آ کر ان کے پاس اکٹھے نہ ہوں۔ (اور لوگ یہ خیال نہ کریں کہ اگر پیغمبر خدا کے ساتھ ہوں گے تو علم غیب یا خدا ئی خزانہ سے ان کی مشکلات حل ہو جائیں گی)

۷ ۔ پیغمبر خدا اپنی شخصی زندگی یا حکومت چلانے کے لئے دوسرے لوگوں کی طرح عام روش پر چلتے ہیں علم غیب اور خدائی خزانے سے کام نہیں لیتے۔ البتہ اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ان چیزوں سے استفادہ کریں)

۸ ۔ اگرچہ پیغمبر خدا کے پاس خدائی خزانہ یا علم غیب نہیں ہوتا لیکن چونکہ ان پر "وحی" ہوتی ہے لہٰذا ان کی پیروی لازمی ہے۔

۹ ۔ پیغمبر کا کام نہ ان کے خیال اور سلیقہ کی بنا پر ہوتا ہے اور نہ ہی معاشرتی میلان اور ماحول سے متاثر ہوتا ہے بلکہ صرف اور صرف وحی کی اتباع اور پیروی ہوتا ہے( ان اتبع الاما یوحیٰ الی )

۱۰ ۔ انبیاء کی اتباع بصیرت ہے اور ان سے روگردانی اندھاپن۔( هل یستوی الاعمٰی والصبیر )

۱۱ ۔ صحیح فکر انسان کو انبیاء کی پیروی پر آمادہ کرتی ہے، اور بہانوں اور توقعات کو رد کرتی ہے( افلاتتفکرون )

۱۲ ۔ انبیاء علیہم السلام کی رفتار اور ان کی گفتار ہمارے لئے حجت ہوتی ہے کیونکہ اس کی بنیاد وحی پر استوار ہوئی ہے۔( ان اتبع الا مایوحی الی )

۱۳ ۔ لوگوں سے تمام انبیاء کا رویہ ایک جیسا رہا ہے، حضرت نوح علیہ اسلام نے بھی لوگوں سے یہی باتیں کی تھیں۔ ملاحظہ ہو سورہ ہود آیت ۳۱ ۔


آیت ۵۱

( وَاَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْآ اِلٰی رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِه وَلِیٌّ وَّلَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور اس (قرآن) کے ذریعہ ان لوگوں کو ڈراؤ جو اپنے پروردگار کے حضور محشور ہونے سے ڈرتے ہیں (کیونکہ) خداوند عالم کے علاوہ ان کا نہ تو کوئی ولی و سرپرست ہے اور نہ ہی کوئی شفاعت کرنے والا۔ ہو سکتا ہے کہ متقی بن جائیں۔

ایک نکتہ:

۹; قرآن مجید میں بارہا پیغمبر خدا سے کہا گیا ہے کہ آپ کا ڈرانا صرف ان لوگوں کے دلوں پر اثر کرتا ہے جو خدا سے ڈرتے ہیں۔ مثلاً "( انما تنذر من اتبع الذکر و خشی الرحمٰن ) " یعنی تم تو صرف اس شخص کو ڈرا سکتے ہو جو نصیحت کو مانے اور ان دیکھے، خد اسے ڈرے ( یٰس/ ۱۱) اور "( انما تنذرالذین یخافون ربهم بالغیب ) " یعنی تم تو بس ان لوگوں کو ڈرا سکتے ہو جو ان دیکھے، خدا سے ڈرتے ہیں (فاطر/ ۱۸)

پیام:

۱ ۔ لوگوں کی آمادگی، ہدایت انبیاء کے موثر ہونے کی شرط ہے( الذین یخافون )

۲ ۔ معاد (قیامت) کا عقیدہ تقویٰ کی کلید ہے( یخافون ان یحشروا…لعلهم یتقون )

آیت ۵۲

( وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهط مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْ ءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْ ءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں جبکہ وہ اس کی رضامندی کے طلبگار ہوتے ہیں انہیں اپنے پاس سے نہ دھتکارو۔ ان کے حساب سے تمہارے ذمہ کوئی چیز نہیں ہے اور تمہاے حساب سے ان کے ذمہ کوئی چیز نہیں ہے کہ اگر تم نے انہیں دھتکار دیا تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔

چند نکات:

۹; اس آیت کے شان نزول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کچھ مالدار کفار نے جب دیکھا کہ عمار، بلال اور خباب وغیرہ جیسے غریب لوگ حضرت رسول خدا کے اطراف جمع رہتے ہیں، انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کش کی کہ آپ ان لوگوں کو اپنے اطراف سے ہٹا دیں تاکہ ہم آپ کے پاس آیا کریں۔ بقول مفسر تفسیر "المنار" خلیفہ دوم نے یہ تجویز پیش کی کہ کفار کی اس پیشکش کو آزمائش کے طور پر قبول کر لیا جائے، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس سے ملتی جلتی سورہ کہف کی ۲۸ ویں آیت بھی ہے۔

۹; تفسیر قرطبی میں منقول ہے کہ اس آیت کے نازل ہو جانے کے بعد پیغمبر خدا غریبوں کی مجلس سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک کہ وہ نہ اٹھ جاتے۔

۹; صبح و شام خدا کو پکارنے سے مراد شاید روزانہ کی نمازیں ہیں (تفیسر المیزان)

پیام:

۱ ۔ مخلص، فقیر اور مجاہد افرادی قوت کی حفاظت کرنا سرمایہ دار کفار کے امکانی جذب کرنے سے زیادہ اہم ہے( لاتطرد )

۲ ۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو امتیازات ‘نسل پرستی‘ تفوق طلبی اور ساز باز کے مخالف ہے (آیت کے شان نزول کے پیش نظر)

۳ ۔ "ایمان" کے ساتھ کوئی بھی امتیاز مقابلہ نہیں کر سکتا( یریدون وجهه )

۴ ۔ انبیاء کے طرفداروں کی غالب اکثریت غریب اور فقیر لوگوں کی تھی (آیت کے شان نزول کے پیش نظر)

۵ ۔ اسلا م میں "مقصد کا حصول" ہر قسم کے ذرائع اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ کفر کے سرداروں کو اپنانے کے لئے موجودہ مسلمانوں کی توہین نہیں کرنی چاہئے( لاتطرد )

۶ ۔ بہانہ بنانے والے اگر رہبر اور اس کے مسلک پر عیب نہیں لگا سکتے تو اس کے پیروکاروں یا پیروکاروں کی اقتصادی حالت کی عیب جوئی کرنے لگ جاتے ہیں (آیت کے شان نزول کے پیش نظر)

۷ ۔ معیار، افراد کی موجودہ حالت ہے۔ اگر غریب مومن اس سے پہلے کسی قسم کی کوئی خلاف ورزی کر چکے ہیں تو اس کا حساب کتاب خدا ہی کے سپرد ہے۔

۸ ۔ سب کا حساب خدا کے سپرد ہے، حتی کہ رسول اکرم بھی کسی کے گناہوں کے بخشنے یا سزا دینے کے ذمہ دار نہیں ہیں (برخلاف دین مسیحیت کے کہ ان کے لاٹ پادری گناہوں کو بخش دیتے ہیں)( ماعلیک )

۹ ۔ مخلص غریب اور فقیر افراد کو دھتکار دینا ظلم ہے( فتکون من الظالمین )

۱۰ ۔ پیغمبر اکرم کے لئے بھی حساب و کتاب ہے( وما من حسابک )

آیت ۵۳

( وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَهٰٓوٴُ لَآ ءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْ م بَیْنِنَاط اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی دوسرے بعض افراد کے ذریعہ آزمائش کی ہے تاکہ وہ (استہزا کے طور پر) کہیں، آیا یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے ہمارے درمیان میں سے ممنون فرمایا ہے؟ آیا خداوند عالم شکر ادا کرنے والوں کے حالات زیادہ نہیں جانتا؟

دو نکات:

۹; قرآن مجید میں بارہا سرمایہ داروں کی بلندپروازیوں اور اونچی اونچی توقعات کا ذکر آیا ہے اور اس سلسلہ میں ان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ مثلاً ان کی ایک توقع یہ تھی کہ قرآن مجید ان پر ہی نازل ہوتا چنانچہ قرآن کہتا ہے:( لاء القی الذکر علیه من بیننا ) " یعنی آیا ہم سرمایہ داروں کے درمیان وحی اس پر نازل ہوئی؟ (قمر/ ۲۵) اور سورہ زخرف/ ۳۱ میں ہے وہ کہتے تھے "( لو لا نزل هذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم ) " یعنی یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی ایک بڑے آدمی پر نازل کیوں نہیں ہوا؟۔

۹; حقیقی مومن، نعمت ایمان پر شکر ادا کرتا ہے۔ چنانچہ کسی شخص نے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے فقر و فاقہ اور غربت کی شکایت کی، امام علیہ اسلام نے اس سے فرمایا: "تمہاری نگاہوں میں مالدارترین شخص کون ہے؟ "اس نے کہا: "ہارون الرشید" امام نے اس سے فرمایا: " آیا اس بات کے لئے تیار ہو کہ اپنا ایمان دے کر اس کی ثروت حاصل کرو؟" اس نے عرض کیا: "نہیں! "فرمایا! "پس تو تم ہی سب سے زیادہ تونگر ہو! اس لئے کہ تمہارے پاس ایک ایسی چیز ہے جسے تم اس کے مال و دولت کے بدلے میں نہیں دینا چاہتے!" (از تفسیر اطیب البیان)

پیام:

۱ ۔ طبقاتی تقسیم بعض اوقات، امتحان کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی عادات و خصائل کے پروان چڑھنے کا موجب بھی! امیروں کا امتحان غریبوں کے ذریعہ ہوتا ہے( فتنا بعضهم ببعض )

۲ ۔ امیر لوگ، غریبوں کا مذاق اڑاتے ہیں( أ هولا ءٓ )

۳ ۔ غریب مومن، خدا کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں( من الله علیهم )

۴ ۔ انبیاء کرام علیہم السلام خدا کے شکرگزار بندوں کا واضح نمونہ ہوتے ہیں( بالشاکرین )

۵ ۔ غریبوں پر خدا کا احسان، ان کے شکر کا نتیجہ ہوتا ہے (( من الله- شاکرین )

۶ ۔ کفار کے توہین کرنے کا جواب، مومنین کو خدا کی طرف سے نوازشات کی صورت میں دیا جاتا ہے( اهوٴلاء- اعلم بالشٰکرین )

۷ ۔ خداوند اپنی حکمت کے مطابق کام کرتا ہے، لوگوں کی توقعات کے مطابق نہیں،( لیس الله باعلم بالشاکرین )

آیت ۵۴ ۔ ۵۵

( وَاِذَا جَآ ءَ کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِهِ الرَّحْمةَلا اَنَّه مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سَوْٓءً ام بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ م بَعْدِه وَاَصْلَحَ فَاَنَّه غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ- وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ جب وہ لوگ تمہارے پاس آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو (ان سے) کہو تم پر سلام ہو۔ تمہارے پروردگار نے اپنی ذات پر رحمت واجب کر دی ہے کہ تم میں سے جو شخص نادانستہ طور پر کوئی برا کام انجام دیتا ہے اور پھر توبہ کرکے اپنی اصلاح کر لیتا ہے تو یقیناً خدا وند عالم بھی بخشنے والا مہربان ہے۔

۹; اور ہم اسی طرح (لوگوں کے لئے) تفصیل کے ساتھ آیات کو بیان کرتے ہیں تاکہ حق آشکار اور) گناہگاروں کا راستہ واضح ہو جائے۔

دو نکات:

۹; اس آیت کے شان نزول کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کچھ گنہگار لوگ حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے "ہم نے بہت سی خلاف ورزیاں کی ہیں!" یہ سن کر آنحضرت خاموش ہو گئے جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

۹; اسی سورت میں اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ "کتب علی نفسہ الرحمة" کا جملہ ارشاد فرمایا ہے۔ ایک تو اسی دنیا میں سرگرم رہنے کے لئے ہے (زیر نظر آیت) اور دوسرا قیامت کے لئے ہے (آیت ۱۲)

پیام

۔ اگر گناہ کو ہٹ دھرمی غرور اور ضد کی بنا پر انجام نہ دیا جائے تو قابل معافی ہوتا ہے( جهالة ) ۱۶

۲ ۔ رہبر اور عوام کا باہمی رابطہ انس و محبت کی بنیادوں پر مبنی ہونا چاہئے( قل سلام علیکم )

۔ "سلام" اسلام کی علامت ہے اور بڑا چھوٹے کو سلام کرتا ہے( سلام علیکم )

۴ ۔ مربی اور مبلغ کو چاہئے کہ لوگوں کے ساتھ محبت کرکے ان کی شخصیت سازی کرے( سلام علیکم )

۵ ۔ خداوند عالم نے رحمت کو اپنے اوپر واجب کر دیا ہے، لیکن اس کے شامل حال توبہ کرنے والے ہیں۔( کتب…ثم تاب )

۶ ۔ توبہ صرف ایک لفظ کا نام نہیں ہے، اس کے لئے عزم مصمم اور اصلاح احوال کی ضرورت بھی ہوتی ہے( تاب واصلح )

۷ ۔ مومن کی توبہ قابل قبول ہے ہر شخص کی نہیں۔( عمل منکم )

۸ ۔ خدا کی بخشش اس کی رحمت کے ساتھ ساتھ ہے( غفور رحیم )

۹ ۔ مجرمین کی علامتیں اور خطاکاروں اور سازشی عناصر کی راہیں واضح کرنا مذہب اور دین کے اہداف میں شامل ہے۔( لتستبین )

آیت ۵۶

( قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِط قُلْ لَّآ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَ کُمْ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَآ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ مجھے ان کی عبادت سے روک دیا گیا ہے کہ تم خدا کے علاوہ جن کو پکارتے ہو، (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا کیونکہ ایسی صورت میں میں گمراہ ہو جاؤں گا، اور ہدایت یافتہ افراد سے نہیں ہوں گا۔

پیام:

۱ ۔ بے جا خواہشات کا دو ٹوک الفاظ میں نفی میں جواب دینا چاہئے( نهیت، لااتبع، ضللت )

۲ ۔ پیغمبر اسلام کے موقف کا مرکز اور منبع وحی الٰہی ہے( قل- قل )

۳ ۔ شرک سے اظہار برائت، اسلام کا جزو ہے( نهیت ان اعبد )

۴ ۔ شرک کا اصل مرکز، ہوس پرستی ہے( لااتبع اهوائکم )

۵ ۔ مبلغ کو نہیں چاہئے کہ وہ لوگوں کی خواہشات کو پورا کرتا پھرے( لااتبع اهوائکم )

۶ ۔ ہوس پرستی، ہدایت کے رستے گم کر دیتی ہے( لااتبع اهوائکم…وما انا من المهتدین )

آیت ۵۷

( قُلْ اِنِّیْ عَلٰی بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَکَذَّبْتُمْ بِهط مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهط اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰهِط یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفَاصِلِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ میں تو یقیناً اپنے پروردگار کی روشن دلیل پر ہوں، لیکن تم اسے جھٹلاتے ہو۔ اور تم (خدا کی) جس فوری سزا کی جلدی کے خواہاں ہو وہ میرے پاس نہیں ہے۔ حکم تو بس اللہ ہی کے لئے ہے، وہی حق کو بیان کرتا ہے اور وہ (حق کو باطل سے) بہترین جدا کرنے والا (حاکم) ہے۔

چند نکات:

۹; "بینہ" کا لفظ "بینونہ" سے ہے جس کا معنی ہے "جدائی" اور بینہ اس دلیل کو کہتے ہیں جو مکمل طور پر واضح اور روشن ہو اور حق کو باطل سے جدا کر دے۔

۹; کفار کہتے تھے کہ اے محمد! اگر تم سچ کہتے ہو تو پھر ہم پر خدا کا قہر و غضب نازل کیوں نہیں ہوتا؟( تستعجلون به ) بعینہ اس آیت کی مانند جس میں کہا گیا ہے کہ کافر کہتے ہیں کہ اگر یہ بات سچی ہے تو اے اللہ! ہم پر پتھر برسا("( فامطر علینا حجارة من السماء ) " (انفال/ ۳۲)

۹; انبیاء کے دلائل اور معجزات نہ تو ثقیل (بوجھل) ہوتے تھے اور نہ ہی مبہم۔ سب لوگ انہیں سمجھ لیتے تھے بشرطیکہ ہٹ دھرمی اور ضد سے کام نہ لیتے ہوں۔ اور انہیں دل وجان سے تسلیم بھی کر لیتے تھے۔ اسی لئے تو انبیاء نے اپنا تعارف "صاحب بینہ" کے طور پر کرایا ہے۔

۹; "استعجال" یعنی جلد عذاب خواہی کی بیماری دوسری قوموں میں بھی تھی، حضرت صالح، حضرت ہود اور حضرت نوح کی قوم کے افراد بھی کہا کرتے تھے "فاتنا بما تعدنا" یعنی اگر سچ کہتے ہو تو عذاب موعود کو ہمارے لئے لے آؤ (اعراف/ ۷۰ ۔ ۷۷ ہود/ ۳۲)

پیام:

۱ ۔ انبیاء کی دعوت کا دارومدار "بینہ" (واضح دلیل) پر ہوتا ہے، خیالات اور اندھی تقلید پر نہیں۔( علی بینة )

۲ ۔ انبیاء کے پاس "بینہ الٰہی" ہونا چاہئے انہیں لوگوں کے روزمرہ کے تقاضوں کے مطابق عمل نہیں کرنا چاہئے( بینة من ربی )

۳ ۔ کفار ادھر تو پیغمبر کے بینہ کو جھٹلاتے ہیں اور ادھر اس بات کی توقع بھی رکھتے ہیں کہ وہ ان کی خواہشات نفسانی کی اتباع بھی کریں( کذبتم ما عندی تستعجلون به )

۴ ۔ بہانہ گروں کے ساتھ دوٹوک الفاظ میں بات کرنی چاہئے۔( ما عنوی )

۵ ۔ یہ آیت جہاں کفار کو تہدید اور سرزنش کرا رہی ہے وہاں پیغمبر کو تسلی بھی دے رہی ہے ۔( خیر الفٰصلین )

۶ ۔ پیغمبر کو اللہ نے منطق اور بینہ دے کر بھیجا ہے اور کائنات کا سارا انتظام خدا کے ہاتھ میں ہے (لہٰذا پیغمبر سے اپنی زندگی کے خاتمے کی درخواست نہ کرو)

آیت ۵۸

( قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِه لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَکُمْ ط وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ کہہ دو کہ جس چیز کے بارے میں تم مجھ سے جلدی کا سوال کرتے ہو اگر وہ میرے پاس ہوتی (اور تمہارے کہنے کے مطابق عذاب نازل ہوتے) تو یقینا میرے اور تمہارے درمیان بات ہی ختم ہو جاتی ۔ اور اللہ تعالی ٰظالموں کو اچھی طرح جانتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ ہر قسم کی سزا اور عذاب خدا کے ہاتھ میں ہیلیکن وہ اپنی حکمت اور طریقہ کار کے تحت ظالمون کو ڈھیل دیتا ہے۔

۲ ۔ لوگوں کی جلد بازی ، خدا کی حکمت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

۳ ۔ خدائی قہر و غضب میں تاخیر اس بات کا سبب نہ بن جائے کہ کفار خیال کرنے لگ جائیں کہ خدا نے ان کے کفر کو بھلا دیا ہے( واللّٰه اعلم بالشاکرین )

۴ ۔ ایمان سے روگردانی اور عذاب میں جلد بازی ظلم ہے( بالظٰلمین )

۵ ۔ اگر خداوند عالم کفار کے تقاضوں کے مطابق اپنے عذاب میں جلدی کرے تو کوئی شخص بھی زندہ نہ رہ سکے۔( اقضی الامر ) ۱۷

آیت ۵۹

( وَعِنْدَه مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَایَعْلَمُهَٓا اِلاَّ هُوَط وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِط وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ) ۔

ترجمہ۔ اور غیب کی چابیاں صرف اسی (خدا) کے پاس ہیں، اور انہیں اس کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا۔ اور وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو خشکی اور سمندر میں ہے۔ اور (درخت سے) کوئی پتہ نہیں گرتا مگر وہ اسے بھی جانتا ہے۔ اور کوئی بھی دانہ زمین کی تاریکیوں میں اور کوئی تراور خشک ایسا نہیں ہے مگر اس کا علم کتاب مبین میں (درج) ہے۔

دو نکات:

۹; "مفاتیح" ایک تو خزینہ کے معنی میں ہے اور وہ "مفتح" کی جمع ہے، اور دوسرے چابی کے معنی میں ہے اور وہ "مفتح" کی جمع ہے، لیکن پہلا معنی زیادہ بہتر ہے (از تفسیر المیزان)

۹; خشکی اور سمندر یا خشک اور تر کا کلمہ کنایہ ہے ان دوسری تمام چیزوں سے جو ایک دوسرے کے مقابل ہیں۔ جیسے موت اور حیات، صحت اور بیماری، فقر اور غنا، نیک اور بد اور مجرد اور مادہ۔ نیز یہی بات سورہ یس/ ۱۱ میں بھی بیان ہوئی ہے ارشاد ہوتا ہے "( وکل شیٴ احصیناه فی امام مبین ) "

پیام:

۱ ۔ چونکہ خداوند عالم ہر چیز سے واقف اور کائنات کی تمام جزئیات سے باخبر ہے لہٰذا ہمیں اپنے اعمال کا خاص خیال رکھناچاہئے۔

۲ ۔ خدا کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اپنی طرف سے علم غیب نہیں جانتا( وعنده )

۳ ۔ ہو سکتا ہے کہ پتوں کے گرنے سے مراد "نزولی حرکات" ہوں اور دانہ کے زمین کے اگنے سے "صعودی حرکات" مراد ہوں۔ (تفسیر فی ظلال القرآن)

۴ ۔ کائنات میں معلومات کا ایک مرکز موجود ہے( کتاب مبین )

۵ ۔ نظام کائنات، باقاعدہ منصوبہ کے تحت مرتب کیا گیا ہے۔( کتاب مبین )

آیت ۶۰

( وَهُوَ الَّذِْیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِالَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّی ج ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ وہ (خدا تو) وہی ہے جو تمہیں (تمہاری روح کو) رات کے وقت (نیند کی حالت میں) پوری طرح لے لیتا ہے اور تم نے جو کچھ دن کو انجام دیا ہے اسے جانتا ہے، پھر تمہیں دن میں دوبارہ اٹھاتا ہے تاکہ مقررہ مدت پوری ہو اور اس کے بعد تمہاری بازگشت اسی کی طرف ہو گی پھر تمہیں وہ ہر اس کام سے باخبر کرے گا جو تم کیا کرتے تھے۔

ایک نکتہ:

۹; "جرحتم" کا کلمہ "جارحہ" بمعنی عضو سے لیا گیا ہے یعنی ایسا عضو جس سے کوئی کام سرانجام دیا جاتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ نیند ایک عارضی موت ہے اور نیند سے بیداری ایک قسم کا قبر سے باہر آنا ہے۔( یتو فاکم- یبعثکم )

۲ ۔ انسان کی حقیقت وہی روح ہی ہے، کیونکہ آیت میں( یتوفاکم ) فرمایا ہے "یتو فی روحکم" نہیں فرمایا۔

۳ ۔ ہماری جان ہر رات خدا کے سپرد ہوتی ہے اور ہر رات ہمارے لئے قبر کی پہلی رات کی مانند اور ہر بیداری قبر سے باہر آنے کی طرح ہوتی ہے۔ (اس کے باوجود پھر موت اور قبر سے باہر آنے سے انکار کیا؟)

۴ ۔ قانون طبیعت بھی یہی ہے کہ رات سونے کے لئے اور دن کام کرنے کے لئے ہوتا ہے۔( جرحتم بالنهار- تیوفاکم باللیل )

۵ ۔ زندگی کا ہر دن ایک تازہ فرصت اور ایک نئی زندگی کا سرنامہ ہوتا ہے( یبعثکم )

۶ ۔ ہماری زندگی کے لئے ایک مقررہ تاریخ، منصوبہ اور متعینہ مدت ہے( اجل مسمی )

۷ ۔ اپنے آپ کو قیامت کے دن میں جواب دینے کے لئے تیار رکھو( الیه مرجعکم )


آیت ۶۱

( وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِه وَ یُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَةً ط حَتّٰیٓ اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور وہ وہی (خدا) ہی تو ہے جو اپنے بندوں پر مکمل تسلط رکھتا ہے۔ اور تمہارے اوپر نگرانی کرنے والے (فرشتے) بھیجتا ہے۔ حتیٰ کہ جب تم میں سے کسی ایک کو موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے اس کی جان کو پوری طرح اپنے پاس لے لیتے ہیں۔ اور یہ فرشتے کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتے۔

دو نکات:

۹; قبض روح کا مسئلہ قرآن مجید میں کہیں تو خدا کی طرف منسوب ہے جیسے "( الله یتو فی الانفس ) " (زمر/ ۴۲) کہیں ملک الموت کی طرف جیسے "( یتو فاکم ملک الموت ) " (سجدہ/ ۱۱) اور کہیں خصوصاً اسی آیت میں فرشتوں کی طرف۔

۹; "محافظ فرشتوں" سے مراد ممکن ہے کہ وہ فرشتے ہوں جو انسان کو حوادثات سے بچانے پر مامور ہیں۔ جیسا کہ سورہ رعد/ ۱۱ میں ہے "( له معقبٰت من بین یدیه ومن خلفه یحفظونه من امر الله ) " یعنی انسان کے لئے مامور کچھ ایسے (فرشتے) ہیں جو پے درپے سامنے سے اور اس کے پیچھے سے اسے حوادثات سے محفوظ رکھتے ہیں (از تفسیرالمیزن) اور ممکن ہے کہ ان محافظ فرشتوں سے وہ فرشتے مراد ہوں جو انسان کے اعمال ثبت و درج کرنے پر مامور ہوتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے "( رسلنا لدیهم یکتبون ) " (زخرف/ ۸۰)

پیام:

۱ ۔ خدا کا بندوں پر تسلط اس حد تک ہے کہ کسی کو اس کے آگے چوں کرنے کی جرات نہیں( القاهر )

۲ ۔ کائنات عالم میں مختلف قسم کے نگران ہیں( حفظة )

۳ ۔ خداوند عالم مکمل طور پر قدرت کاملہ کا مالک ہے، اگر اس نے تمہیں آزاد چھوڑا ہوا ہے تو اس کی کمال مہربانی ہے۔( وهوالقاهر )

۴ ۔ فرشتوں کے ہر گروہ کی اپنی ایک مخصوص ڈیوٹی ہے( حفظة، توفته، رسلنا )

۵ ۔ فرشتے اپنے مقررکردہ فرائض کی بجا آوری میں سہل انگاری سے کام نہیں لیتے اور وہ معصوم ہیں( لایفرطون )

۶ ۔ فرشتوں کے نگہبان ہونے پر ایمان، خدا کے شکر کا موجب ہے جس طرح دوسری آیات کے مطابق فرشتوں کے ذریعہ اعمال کے لکھے جانے پر ایمان، حیا اور تقوی کا سبب ہے۔

آیت ۶۲

( ثُمَّ رُدُّوْآ اِلَی اللّٰهِ مَوْلٰهُمُ الْحَقِّ ط اَ لَا لَهُ الْحُکْمُ وَهُوَاَسْرَعُ الْحَاسِبِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ پھر لوگ اپنے حقیقی مولا کی طرف پلٹائے جائیں گے۔ آگاہ رہو کہ (اس دن) فیصلہ صرف اور صرف اسی کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے۔

ایک نکتہ:

۹; روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا حساب ایک ہی لحظہ میں لے لے گا، یا صرف اس قدر مدت میں جتنا دیر کسی بکری کا دودھ دوہنے میں لگتی ہے۔ (تفسیر مجمع البیان اور تفسیر نورالثقلین) چنانچہ حضرت علی علیہ اسلام سے پوچھا گیا کہ "کیف یحاسب اللہ الخلق ولایرونہ؟ " یعنی اللہ تعالیٰ مخلوق کا حساب کیونکر لے گا جبکہ مخلوق اسے دیکھ نہیں پائے گی؟ فرمایا: "کما یرزقھم ولا یرونہ" جس طرح مخلوق اسے دیکھ نہیں پاتی لیکن وہ مخلوق کو روزی دیتا ہے۔

۹; ایک سوال: اس قدر آیات و روایات کے باوجود پھر قیامت کا دن کیوں طولانی ہو گا؟

۹; جواب۔ (بقول تفسیر اطیب البیان) روز قیامت کی اس قدر لمبائی ایک قسم کی سزا ہو گی نہ کہ کام کی زیادتی اور حساب و کتاب میں عاجزی کی وجہ سے وہ دن لمبا ہو گا۔

پیام:

۱ ۔ سب لوگوں کی باز گشت خدا کے حضور ہو گی اور قیامت کے دن اکیلا قاضی ہو گا۔( ردواالی الله - له الحکم )

۲ ۔ حقیقی مولا وہ ہے جس کے قبضہ قدرت میں پیدائش ، تخلیق ، نگرانی ، خواب اور بیداری ، موت اور دوبارہ زندگی ، حساب رسی او رفیصلہ ہے اور وہ ہے خدا و ند عالم ۔( الی الله مولهم الحق )

۳ ۔ خدا کی عدالت میں پیشی لازمی اور حتمی ہے( ردوا )

۴ ۔ حقیقی مولا صرف خدا ہے باقی یا تو مجازی ہیں یا پھر باطل ۔( مولهم الحق )

۵ ۔ قیامت کا در حقیقت ہماری اپنی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ہے ورنہ خدا تو مولا بھی ہے اور حق بھی۔

آیت ۶۳ ۔ ۶۴

( قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَه تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً ج لَئِنْ اَنْجٰنَا مِنْ هٰذِه لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ- قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْکُمْ مِّنْهَا وَمِنْ کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ ) ۔

ترجمہ: کہہ دو کہ کون تمہیں خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں نجات عطا کرتا ہے؟ جبکہ تم اسے زور زور کے نالہ و زاری کے ساتھ اور مخفی طور پر پکارتے ہو (اور کہتے ہو) کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دے دی تو ہم شکر گذاروں میں سے ہوں گے۔

۹; کہہ دو کہ خدا وندعالم ہی تمہیں ان (تاریکیوں) اور دوسری مصیبتوں سے نجات دیتا ہے، پھر بھی تم (سپاسگزاری کی بجائے) شرک کرتے ہو۔

دو نکات:

کچھ لوگ زور زور سے خدا سے مانگ رہے تھے تو پیغمبر خدا نے انہیں ایسا کرنے سے منع فرمایا اور کہا کہ خداوندعالم ہر ایک کے نزدیک بھی ہے اور ہر ایک کی بات کو سنتا بھی ہے۔ (نورالثقلین)

اس آیت کے مشابہ سورہ یونس کی ۱۳ ویں آیت بھی ہے کہ: "انسان خطرے کے موقع پر سوتے اور بیٹھتے وقت خدا کو یاد کرتا اور اسے پکارتا ہے"( فلما کشفنا عنه ضره مرکان لم یدعنا الی ضرمسه ) " یعنی جوں ہی اس کی مشکل حل ہوجاتی ہے۔ تو سر جھکائے گزر جاتا ہے گویا اس نے ہمیں کبھی پکارا ہی نہیں۔

پیام:

۱۔ مادی اسباب کے منقطع ہو جانے پر ہی خدا کی یاد انسان کے دل میں انگڑائیاں لینے لگتی ہے۔ اور وہ مشکلات میں خدائی طاقت کا مشاہدہ کرتا ہے۔

۲۔ اپنے ضمیر اور فطرت کو خطرات کی یاد دِلا کر بیدار کرو۔

۳۔ دُعا، فطرت کی ایک تصویر ہے۔( تدعون ) ہ)

۴۔ وعظ و تبلیغ کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ لوگوں کے ضمیر سے سوال کیا جائے۔( من ینجیکم )

۵۔ انسان جب خطرات اور مشکلات میں پھنس جاتا ہے تو کئی طرح کے وعدے کرتا ہے۔( لئن انجٰنا… لنکونن من الشا کرین )

۶۔ ہمیشہ ہر شخص کے لئے موجودہ مشکل ہی بہت بڑی مشکل ہوا کرتی ہے۔( هذه )

۷۔ انسان بڑا بدقول ہے، اور خدا سے کئے ہوئے وعدے بھی پورے نہیں کرتا( ثم انتم تشرکون )

آیت ۶۵ ۔ ۶۶

( قُلْ هُوَالْقَادِرُ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْیَلْبِسَکُمْ شِیَعًاوَّ یُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍط اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ- وَکَذَّبَ بِه قَوْمُکَ وَهُوَ الْحَقُّط قُلْ لَّسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ط ) ۔

ترجمہ۔ (اے پیغمبر !) کہہ دو کہ وہ (خدا) اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے تم پر عذاب بھیجے یا تمہیں مختلف گروہوں کی صورت میں ایک دوسرے درگیر کردے اور تمہیں ایک دوسرے کے ذریعے جنگ اور خونریزی کا تلخ مزا چکھائے۔ دیکھو تو ہم اپنی آیات کو گوناگوں طریقوں سے بیان کرتے ہیں۔ شاید کہ وہ سمجھ جائیں۔ اور تیری قوم نے اس (قرآن) کو جھٹلایا ہے حالانکہ وہ (کلام) برحق ہے، (ان سے) کہہ دو کہ میں تمہارے کاموں کا وکیل (اور ذمہ دار) نہیں ہوں۔

چند نکات:

۹; "لبس" کا معنی ہے ملانا اور "شیع" جمع ہے "شیعہ" کی جس کا معنی ہے گروہ۔

۹; اس سے پہلی آیت میں خداوند عالم کی نجات عطا کرنے والی قوت کا ذکر ہوا ہے جبکہ اس آیت میں اس کے قہر و عذاب کا تذکرہ ہے۔

۹; اوپر اور نیچے سے آنے والے عذاب سے مراد یا تو آسمانی یا زمینی عذاب ہے یا اوپر کے عذاب سے مراد حکام بالا کا عذاب اور ان کی سختیاں ہیں اور نیچے کے عذاب سے مراد ماتحتوں کا دباؤ ہے (جو کام میں رخنہ اندازی اور ہڑتال وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے) ضمناً یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے طبعی یا غیرطبعی عذاب مراد ہو جیسے اوپر سے فضائی بمباری اور نیچے سے بموں کے دھماکے مراد ہوں۔

پیام:

۔ خداوند عالم نجات بھی دیتا ہے اور عذاب بھی نازل کرتا ہے۔ جو شخص جان بوجھ کر غیر اللہ کی پرستش کرتا ہے اسے عذاب الٰہی کا منتظر رہنا چاہئے( قل هو القادر علی ان یبعث… )

۲ ۔ فرقہ واریت اور تفرقہ اندازی بھی خدائی عذاب ہے جو آسمانی اور زمینی عذاب کے ساتھ ساتھ مذکور ہے۔( یلبسکم شیعا )

۳ ۔ بعض اوقات لوگ ایک دوسرے کے ہاتھوں سے عذاب سے دوچار ہوتے ہیں یا پھر متنبہ ہوجاتے ہیں۔( بعض بأس بعض )

۴ ۔ تم جس راہ پر گامزن ہو وہ چونکہ حق کی راہ ہے لہٰذا لوگوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے( وهوالحق )

۵ ۔ اے پیغمبر! آپ اپنے فریضہ کے متعلق جوابدہ ہوں گے، نتیجہ کی ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی۔( لست علیکم بوکیل ) ۱۹

آیت ۶۷

( لِکُلِّ نَبَاٍمُّسْتَقَرٌّوَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ جو خبر بھی (خدا یا اس کا رسول تمہیں دیتا) ہے اس کا ایک خاص مقرر وقت ہے اور تم بہت جلد اسے جان لو گے۔

پیام:

۱ ۔ خدا کی خبریں قطعی اور یقینی ہوتی ہیں۔

۲ ۔ خداوند عالم کے تمام منصوبے اور پروگرام حکمت پر مبنی اور مقررہ زمانے کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں۔

۳ ۔ اگرچہ تم ایمان لانے پرمجبور نہیں ہو لیکن اپنی عاقبت اور انجام کار کی ضرور فکر کرو۔( سوف تعلمون )

۴ ۔ جلدی میں فیصلہ نہ کر لینا اور خدا کی طرف سے ملنے والی مہلت کو اس کی غفلت نہ سمجھ لینا۔

آیت ۶۸

( وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهط وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلاَ تَقْعُدْ بَعْدِالذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیات میں بیہودہ بحث کر رہے ہیں تو ان سے منہ پھیر لو یہاں تک کہ (گفتگو کا موضوع تبدیل کرکے) دوسری باتوں میں بحث کرنے لگ جائیں۔ اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو متوجہ ہو جانے کے بعد ان ظالم لوگوں کے پاس ہرگز نہ بیٹھو (اور فوراً اٹھ آؤ)

چند نکات:

۹; "خوض" کا لفظ قرآن مجید میں باطل اور بے ہودہ مسائل میں سرگرم ہونے کے معنی میں آیا ہے۔

۹; "( بعدالذکریٰ ) " کا کلمہ ممکن ہے یاد دلانے کے معنی میں ہو اور ہو سکتا ہے کہ خود انسان کو یاد آ جانے کے معنی میں ہو۔

۹; انبیاء علیہم اسلام معصوم ہیں حتیٰ کہ بھول چوک سے بھی پاک اور مبرا ہیں۔ لہٰذا آیت میں شیطان کے فراموش کرا دینے سے مرا دیا ایک فرضی مسئلہ ہے جس طرح دوسری آیات میں بھی کئی مسائل فرض کئے گئے ہیں: جیسے آیت ہے کہ: "لئِن اشرکت لیحبطن عملک" (زمر/ ۶۵) یعنی اگر تونے شرک کیا تو تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ یا یہ آیت ہے کہ: "( لو تقول علینا بعض الاقاویل ) " (حاقہ/ ۴۴) یعنی اگر وہ ہم پر جھوٹ باندھتے یا پھر محاورہ کے مطابق دروازے سے کہہ رہا ہوں تاکہ دیوار سن لے یعنی خطاب پیغمبر سے ہے اور مراد امت ہے۔

۹; اسی آیت سے ملتی جلتی آیت سورہ نسأ میں بھی ہے کہ: "( اذا سمعتم ایات الله یکفر بها و یستهزأ بها فلا تقعدوا معهم حتی یخوضوا فی حدیث غیره ) " (آیت ۱۴۰) یعنی اگر تم یہ سنو کہ آیات الٰہی سے کفر اختیار کیا جا رہا ہے یا ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو یہاں تک کہ بات کو تبدیل نہ کر دیں۔

پیام:

۱ ۔ دشمن کے سامنے اپنے عقائد کے مقدسات کے بارے میں اپنی دینی غیرت اور اپنے مذہب میں تعصب کا ثبوت دو۔( فاعرض عنهم )

۲ ۔ برائیوں سے روگردانی اور بدکاروں سے نبردآزمائی نہی عن المنکر کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ ۲۰

۳ ۔ معاشرتی برائیوں میں خود غرق ہونے کی بجائے بری محفلوں، برے افراد اور برے گروہوں میں تبدیلی پیدا کرو (فی حدیث غیرہ)

۴ ۔ صرف اظہار برائت یا زبانی مذمت ہی کافی نہیں، ڈٹ کر مقابلہ کرنا ضروری ہے۔

۵ ۔ ظالم لوگوں کے ساتھ نشست و برخاست ناجائز ہے لہٰذا اس سے پرہیز کیا کرو۔( فلا تقعد ) ۲۱

۶ ۔ فریضہ کی ادائیگی کی شرط توجہ اور آگاہی ہے( اماینسینک الشیطٰن )

۷ ۔ آیات قرآنی کے بارے میں کسی بھی قسم کی ناجائز سرگرمی (خواہ مذاق اڑانا ہو، خواہ تفسیر بالرائے ہو خواہ بدعت اور تحریف ہو) ظلم ہے( الظالمین )

۸ ۔ باطل اور بیہودہ باتوں کو سننا (اور گمراہ کن کتابوں کا پڑھنا) قابل مذمت ہے۔ ۲۲

آیت ۶۹

( وَمَا عَلَی الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّٰلکِنْ ذِکْرٰی لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ ان (ظالم) لوگوں کے حساب سے (جو کہ ہماری آیات میں مسخرہ بازی کے لئے بحث کرتے ہیں) متقی لوگوں کے ذمہ کوئی چیز نہیں ہے۔ لیکن یاددہانی (لازم) ہے، ہو سکتا ہے کہ وہ بھی (مسخرہ بازی سے) پرہیز کریں۔

دو نکات:

۹; جب آیات الٰہی کے بارے میں یاوہ گوئی اور مسخرہ بازی کرنے والوں کے ساتھ نشست و برخاست کی حرمت کے لئے سابقہ آیت نازل ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا کہ: "اس لحاظ سے تو ہمیں مسجد الحرام میں بھی نہیں جاناچاہئے اور نہ ہی وہاں طواف کرنا چاہئے کیونکہ یہ ظالم لوگ تو وہاں بھی موجود ہوتے ہیں"

۹; اہل گناہ کی مجلسوں میں نہی عن المنکر اور ارشاد و تبلیغ کی غرض سے شرکت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ یہ اجازت ان لوگوں کے لئے ہے جو تقوی کے حامل ہیں اور ان پر دشمن کا کلام اثر نہیں کر سکتا ورنہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو دوسروں کو غرق ہونے سے بچانے کے لئے جاتے ہیں لیکن خود ڈوب جاتے ہیں۔ بقول سعدی (ترجمہ شعر)

۹; غلام نے پانی کی نہر کھودی جب پانی آیا تو وہ خود ہی اس میں ڈوب گیا۔

پیام:

۱ ۔ مسائل کو "اہم" اور "اہم تر" میں تقسیم کرنے کا اصول عقلی بھی ہے اور اسلامی بھی، جواب دینے یا گمراہوں کو ہمیشہ کے لئے راہ راست پر لانے کی غرض سے یاوہ گوئیوں اور بے ہودہ باتوں کو سننا جائز ہے۔

۲ ۔ تقویٰ انسان کے لئے گناہ کے مقابلے میں حفاظت اور اس کے بیمہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جیسے نہ جلنے والا لباس فائر بریگیڈ کے عملہ کے لئے ہوتا ہے۔

۳ ۔ اپنے آپ کے لئے تقویٰ اختیار کرنے کے علاوہ دوسروں کو متقی بنانے کے لئے بھی فکر کیا کرو،( لعلهم یتقون )

آیت ۷۰

( وَذَرِالَّذِّیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًاوَّلَهْوًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَذَکِّرْ بِهٓ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌم بِمَا کَسَبَتْ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّلاَ شَفِیْعٌج وَاِنْ تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لَّا یُوٴْ خَذْ مِنْهَاط اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا کَسَبُوْاج لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌٌم بِمَا کَانُوْایَکْفُرُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا ہے اور دنیا نے انہیں دھوکہ دے رکھا ہے۔ اور انہیں قرآن کے ذریعہ (اسی قدر) یاد دلا دو تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنے کئے کی سزا میں ہلاکت میں جا پڑیں اور خدا کے علاوہ ان کے لئے نہ کوئی مددگار ہے اور نہ ہی کوئی شفاعت کرنے والا (اس دن) اگر وہ ہر قسم کا بدلہ بھی دیں (تاکہ سزا سے بچ جائیں) پھر بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی بدکرداری کی وجہ سے پکڑے جا چکے ہیں، ان کے پینے کے لئے جلا دینے والا گرم پانی اور دردناک عذاب ہو گا، اس لئے کہ وہ کفرکیا کرتے تھے۔

دو نکات:

۹; "انہیں چھوڑ دو"( ذرالذین --- ) سے مراد نفرت کا اظہار اور قطع تعلقی ہے جو بعض اوقات ان سے لڑائی کے معاملہ تک بھی جا پہنچتی ہے۔ اور یہ مراد نہیں ہے کہ ان سے جہاد ترک کر دیا جائے۔

۹; ہر دور میں دین کو کھیل تماشا سمجھنا اور دین کا مذاق اڑانا مختلف انداز میں ہوتا ہے کبھی خرافات پر مبنی عقائد کو اس کا حصہ بنا لیا جاتا ہے تو کبھی اس کے احکام کو قابل اجرا نہیں سمجھا جاتا۔ کبھی اپنے گناہوں کی توجیہہ کی جاتی ہے تو کبھی بدعت ایجاد کر دی جاتی ہے۔ کبھی تفسیر بالرائے کرکے آیات متشابہات کی پیروی کی جاتی ہے وغیرہ۔

پیام:

۱ ۔ دین کے بارے میں سستی سے کام لینا، منافقانہ رویہ اختیار کرنا اور دین کو بازیچہ اطفال سمجھ لینا، دینداری سے سازگار نہیں ہے۔( لعباولهوا )

۲ ۔ دنیا کے ساتھ فریفتہ ہو جانا دین کو کھیل تماشا سمجھنے کا موجب ہوتا ہے( غرتهم الحیٰوة الدنیا )

۳ ۔ وعظ و نصیحت، خدا کے قہر و غضب سے عذاب کا موجب ہوتا ہے( وذکربه )

۴ ۔ دنیا کے دھوکے میں نہ آؤ کیونکہ قیامت کے دن خدا کے علاوہ کوئی بھی تمہاری امداد نہیں کرے گا۔( لیس لها من دون الله ولی ولا شفیع )

۵ ۔ انسان کی بدبختی اور تباہی کا موجب خود وہ اور اس کی کارستانیاں ہوتی ہیں۔( بماکسبت، بماکسبوا، بما کانوا یکفرون ) ۔

۶ ۔ دینی غیرت معاشرہ سے بے دین لوگوں کے نکال باہر کرنے اور دشمنان دین و مذہب کے بائیکاٹ کا موجب ہوتی ہے( ذرالذین… )


آیت ۸۱

( وَکَیْفَ اَخَافُ مَآ اَشْرَکْتُمْ وَلَا تَخَافُوْنَ اَنَّکُمْ اَشْرَکْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِه عَلَیْکُمْ سُلْطٰانًاط فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِج اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور میں اس چیز سے کیونکر ڈروں جسے تم نے خدا کا شریک بنا لیا ہے جبکہ تم (اس بات سے نہیں ڈرتے کہ) ان چیزوں کی پرستش کرتے ہو جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ اگر تم جانتے ہو (تو بتاؤ کہ) ان دونوں فریقوں میں سے کون سا (فریق) امن میں رہنے کا زیادہ سزاوار ہے؟

ایک نکتہ:

۹; جو لوگ خداپرستی کا عقیدہ خوف اور ڈر کی پیداوار بتاتے ہیں، ان کے اس نظریہ کے برعکس آیت بتا رہی ہے کہ دراصل شرک کا عقیدہ، ڈر کی پیداوار ہے۔

پیام:

۱ ۔ مشرک کے پاس کسی قسم کی دلیل اور برہان نہیں ہے( لم ینزل به علیکم سلطانا )

۲ ۔ امن و سکون، خدا پر ایمان کے زیرسایہ ہے( فای الفریقین احق بالامن )

۳ ۔ صحیح علم خدا تک رسائی کا ذریعہ ہوتا ہے، اگر اس علم سے صحیح کام لیا جائے تو اس سے صحیح نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔( ان کنتم تعلمون )

۴ ۔ بحث اور مناظرہ میں لوگوں کے تعصب کو نہیں چھیڑنا چاہئے (ای الفریقین) فرمایا ہے یہ نہیں کہا کہ "حتماً ہم ہی امن و سکون میں ہیں"۔

آیت ۸۲ ، ۸۳

( اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسَُُوْٓا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُوُْنَ- وَ تِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰهَآ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰی قَوْمِهط نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْْ نَّشَآئُط اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ ) ۔

ترجمہ۔ جو لوگ ایمان لے آتے ہیں اور اپنے ایمان کو کسی قسم کے ظلم کے ساتھ نہیں چھپاتے، ان کے لئے امن و سکون ہے اور ایسے ہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ اور یہ ہمارے دلائل تھے جو ہم نے ابراہیم کو عطا کئے تاکہ وہ اپنی قوم پر استدلال کریں ہم جس کے لئے چاہتے ہیں درجات بلند کر دیتے ہیں۔ بے شک تمہارا پروردگار حکمت والا اور صاحب علم ہے۔

چند نکات:

۹; "لبس" کا معنی ہے کسی چیز کو ڈھانپنا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان چونکہ ایک فطری امر ہے لہٰذا ختم نہیں ہو سکتا۔ البتہ اسے مختلف قسم کے غبار ضرور ڈھانپ لیتے ہیں۔

۹; اگرچہ آیت ۸۲ خداوند عالم ہی کا بیان ہے، لیکن ایک حدیث میں ہے کہ یہ کلام بھی حضرت ابراہیم کی اس گفتگو کا حصہ ہے جو اس سے پہلی آیت میں بیان ہوئی ہے۔

۹; بعض روایات کے مطابق آیت میں مذکور ظلم سے مراد "شرک" ہے۔ اور بعض دوسری روایات میں یہ بھی ہے کہ خدا کے مقررکردہ رہبروں اور برحق ہادیان کو چھوڑ کر دوسروں کے پیچھے لگ جانا بھی ظلم ہے۔ (تفسیر نمونہ از تفسیر نورالثقلین)

پیام:

۱ ۔ ظلم، ایمان کے لئے آفت ہے اور اس پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

۲ ۔ ترک ظلم، ہدایت کی علامت ہے اور ستم، مانع ہدایت ہے( هم مهتدون، لم یلبسوا )

۳ ۔ ایمان کی حفاظت، خود ایمان سے زیادہ اہم ہے( لم یلبسوا ایمانهم )

۴ ۔ حقیقی امن و سکون اور صحیح ہدایت ایمان اور عدالت کے سایہ میں ہے( الامن، مهتدون ) نہ تو ظالم مومن ہدایت یافتہ ہوتے ہیں اور نہ ہی بے ایمان عدالت پسند۔

۵ ۔ جب تک خالص ایمان نہ ہو دل کو کھٹکا لگا رہتا ہے( لهم الامن )

۶ ۔ جو توحیدپرست دلیل اور برہان کے ساتھ معاشرہ کی بے راہروی کا مقابلہ کرے وہ بہت سے درجات کا مستحق ہوتا ہے۔

۷ ۔ خدا کی طرف سے افراد کو ملنے والے درجات اس کی حکمت کے مطابق ہوتے ہی( درجات…حکیم )

آیت ۸۴

( وَوَهَبْنَا لَهٓ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَط کُلًّا هَدَیْنَاج وَنُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِه دَاودَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰی وَ هٰرُوْنَط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ-لا )

ترجمہ۔ اور ہم نے ابراہیم کو (ان کی بانجھ بیوی بنام سارہ سے) اسحق اور یعقوب بخشے۔ اور ان میں سے ہر ایک کو ہدایت کی۔ اور نوح کو اس سے پہلے ہدایت کر چکے ہیں اور ابراہیم کی نسل سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو (پیغمبر) قرار دیا۔ اور نیک لوگوں کو ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ ۲۵

دو نکات:

۹; اگرچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام جناب ابراہیم کے سب سے پہلے اور سب سے بڑے بیٹے تھے، لیکن چونکہ حضرت اسحق بانجھ ماں سے اور وہ بھی ان کے بڑھاپے میں پیدا ہوئے اسی لئے آیت اسحق کا تذکرہ کر رہی ہے۔

۹; اس آیت میں اور بعد کی دو آیتوں میں مجموعی طور پر سترہ انبیاء کا نام آیا ہے، لیکن ان میں نہ تو زمانی ترتیب ہے اور نہ ہی ان کے رتبے کے مطابق۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ ان تینوں آیات میں ان کی تقسیم اس بنیاد پر ہو کہ آیت ۸۴ میں ان انبیاء کا نام ہے جنہوں نے حکومت کی ہے۔ آیت ۸۵ میں ان انبیاء کا ذکر ہے جو دنیادار نہیں غریب تھے اور آیت ۸۶ میں وہ انبیاء مذکور ہیں جو خاص قسم کی مشکلات سے دوچار رہے ہیں۔ (تفسیرالمیزان)

پیام:

۱ ۔ نیک اولاد (جو پاکیزہ ذریت کے ذریعہ انسان کے توحیدی افکار کے دوام کا موجب ہوتی ہے) خدا کا بہترین ہدیہ اور بخشش ہے۔( وهبنا- نجزی )

۳ ۔ تاریخ بشریت میں ہدایت اور بعثت کا قدیم سے سلسلہ چلا آ رہا ہے۔( نوحاهدینا من قبل )

۴ ۔ صرف اولاد پیغمبر ہونا کوئی اعزاز نہیں ہے، ابراہیم کی ذریت میں ذاتی کمالات بھی تھے اور خدائی ہدایت سے بھی بہرہ مند رہے ہیں۔( کلاهدینا )

۵ ۔ الطاف الٰہی کسی کو بے مقصد عطا نہیں ہوتے۔( کذٰلک نجزی المحسنین )

آیت ۸۵ تا ۸۷

( وَزَکَرِیَّا وَیَحْیٰ وَ عِیْسٰی وَ اِلْیَاسَط کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ-لا وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاط وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعٰلَمِیْنَ-لا وَمِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْج وَاجْتَبَیْنٰهُمْ وَهَدَیْنٰهُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) ۔

ترجمہ۔ اور زکریا، یحیٰ، عیسیٰ اور الیاس کو (بھی ابراہیم کی نسل سے قرار دیا) جو سب کے سب صالحین میں سے تھے۔

۹; اور اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کو بھی، اور سب کو تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اور ان کے آباء، ذریت اور بھائیوں میں سے (کچھ لوگوں پر لطف و کرم کیا اور ان کی شائستگی کی وجہ سے انہیں) برگزیدہ کیا اور انہیں سیدھے راستے کی ہدایت کی۔

چند نکات:

۱ ۔ "ذریت‘ ‘ اس اولاد کو کہتے ہیں جو باپ کی طرف سے کسی انسان کی طرف منسوب ہوتی ہے۔ اگرچہ حضرت عیسیٰ کے والد نہیں تھے اور وہ صرف ماں کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب تھے لیکن اس آیت میں انہیں بھی ابراہیم کی ذریت میں شمار کیا گیا( ومن ذریة…وعیسیٰ ) ۔

۹; روایات میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق اور حضرت امام موسیٰ کاظم علیہم السلام نے بھی اسی آیت کوسند بنا کر اہلبیت اطہار علیہم اسلام کو جو ماں کی طرف سے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک جا پہنچتے ہیں ذریت رسول اور اولاد رسول بتایا ہے۔ (تفسیر نورالثقلین جلد اول ص ۷۴۳ ۔) اور فخر رازی نے بھی اپنی تفسیر جلد ۱۳ ص ۶۶ میں اسی نکتہ کو قبول کیا ہے۔ اور صحیح بخاری میں بھی حضرت ابوبکر سے منقول ہے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی "ذریت" کا لفظ حضرت امام حسن علیہ السلام کے لئے استعمال کیا ہے۔

۹; آیا "یسع" ایک مستقل نام ہے یا لغوی طور پر "وسعت" کے لفظ سے لیا گیا ہے اور وسع کا مضارع ہے (جیسے یحی ہے) یا یہ کہ وہی "یوس ع" نبی کا نام ہے جو عبری زبان کا لفظ ہے اور عربی میں منتقل ہو کر "یسع" بن گیا ہے؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں،

۹; اگرچہ بعض تاریخیں حضرت یونس کو نسل ابراہیم میں شمار نہیں کرتیں، لیکن چونکہ اس آیت میں انہیں ذریہ( ٴ ) ابراہیم میں شمار کیا گیا ہے لیکن ہم کتب تاریخ کے نقل کرنے کی وجہ سے آیات قرآنی سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ بلکہ دوسرے حد سیات کا قرآنی آیات کے ساتھ مقائسہ کریں گے۔ اسی طرح یہی شبہ حضرت لوط کے بارے میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

۹; بعض لوگوں نے آیت ۸۷ میں موجود "آبائھم" کے کلمہ کے ساتھ "من" (بعضیہ) کی وجہ سے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نعوذ باللہ انبیاء کے آباؤاجداد میں کچھ گمراہ لوگ بھی تھے، لیکن آیات کا انداز یہ بتا رہا ہے کہ ان انبیاء کے آباؤ اجداد میں سے بعض کو نبوت کے لئے برگزیدہ کیا اور بعض کو برگزیدہ نہیں کیا، نہ یہ کہ ان میں سے کچھ کافر تھے اور کچھ مومن۔ (از تفسیر نمونہ)

آیت ۸۸

( ذٰلِکَ هُدَی اللّٰهِ یَهْدِیْ بِه مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهط وَلَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ یہ ہے خدا کی ہدایت، جس کے ذریعہ خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ اور ا گر وہ شرک کریں گے تو ان کے تمام اعمال حبط (اور برباد) ہو جائیں گے۔

پیام:

۱ ۔ حقیقی اور واقعی ہدایت تو خدا ہی کی ہے۔ دوسری تمام ہدایتیں سراب ہیں( ذٰلک هدی الله )

۲ ۔ الٰہی ہدایت کا دروازہ ہر شخص کے لئے کھلا ہے (من یشاء) اب یہ ہمارا کام ہے کہ اپنے دل اور کانوں کو حق کے قبول کرنے اور وحی کے سننے کے لئے آمادہ کریں۔

۳ ۔ انبیاء سمیت تمام لوگ جب تک خدا کے ارادے اور اس کے لطف و کرم کے زیرِ سایہ نہیں ہوں گے از خود ہدایت نہیں پا سکتے۔( یهدی به من یشاء )

۴ ۔ شرک تمام اعمال کے مٹنے اور باطل ہونے کا موجب بن جاتا ہے( لحبط )

۵ ۔ خدائی طریقہ کار میں تفریق نہیں ہے۔ حتیٰ کہ اگر انبیاء بھی شرک کریں گے تو ان کو بھی تنبیہ کی جائے گی، کیونکہ معیار حق ہے نہ کہ افراد۔( ولواشرکوا ) اس بات کے پیش نظر کہ سابقہ آیات انبیاء سے متعلق ہیں۔

۶ ۔ تمام انبیاء معصوم ہیں اور غبار شرک کبھی بھی ان کے پاکیزہ دامن پر نہیں پڑا۔ آیت میں انبیاء کے لئے شرک کا فرض، فرض محال کے عنوان سے لیا گیا ہے،(( ولو )

۷ ۔ زندگی بھر میں اگر انسان نے ایک لمحہ کے لئے بھی شرک کیا ہے تو وہ رہبر بننے کے لائق نہیں ہے،( اشرکوا ) ۲۶

۸ ۔ الٰہی نقطہ نظر سے اخلاص اور خدائی روح کے حامل ہونے کو اہمیت حاصل ہے۔ اگر روح اخلاص نہ ہو تو سب کچھ ضائع ہو جاتا ہے۔( ولو اشرکوا لحبط )

آیت ۸۹

( اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَالنُّبُوَّةَج فَاِنْ یَّکْفُرْ بِهَا هٰٓؤُلَآءِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِهَا قَوْماً لَّیْسُوْا بِهَا بِکٰفِرِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے آسمانی کتاب، حکومت اور مقام نبوت عطا کیا۔ پس اگر (مشرک لوگ) ان سے کفر برتیں اور انہیں تسلیم نہ کریں (تو اے پیغمبر! پریشان نہ ہونا کیونکہ) ہم نے ایسے لوگوں کو ان کے لئے نگہبان مقرر کر دیا ہے جو کافر نہیں ہیں۔ (اگر مشرکین ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں اور تسلیم نہیں کرتے تو دوسرے لوگ موجود ہیں جو ایمان لا چکے ہیں اور ان پر نگران ہیں)

دو نکات:

۹; "حکم" کا لفظ، حکومت اور فرمانروائی کے معنی کے لئے بھی آتا ہے اور فیصلہ کرنے اور عقل و ادراک کے لئے بھی۔ مفردات راغب میں ا س کا اصلی معنی "روکنا" اور "منع کرنا" ذکر ہوا ہے۔

۹; چونکہ صحیح عقل، صحیح فیصلہ اور صحیح حکومت غلطی، اشتباہ اور خلاف ورزیوں سے مانع ہوتے ہیں لہٰذا "حکم" کا اطلاق ان پر ہوتا ہے (تفسیر نمونہ)

۹; تفسیر المنار اور تفسیر روح المعانی میں مفسرین سے نقل کیا گیا ہے کہ "جو لوگ کافر نہیں ہیں اور حق کو قبول کر چکے ہیں اور اس کی حمایت پر کمربستہ ہیں" سے مراد ایرانی قوم ہے، (تفسیر نمونہ)

پیام:

۱ ۔ کچھ لوگوں کے کفر کی وجہ سے حق کا مشن اپنے حامیوں اور طرفدارں کے بغیر نہیں رہ جاتا، جب راستہ، حق کا راستہ ہو اور خدائی راستہ ہو تو افراد کی آمدورفت انسان کے لئے اہمیت کی حامل نہیں ہونی چاہئے۔ اگر کچھ لوگ چلے جاتے ہیں تو دوسرے افراد آ ہی جاتے ہیں۔

آیت ۹۰

( اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ هَدَی اللّٰهُ فَبِهُدٰهُمُ اقْتَدِهْط قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًاط اِنْ هُوَ اِلَّا ذِکْرٰی لِلْعٰلَمِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی ہے پس تم بھی ان کے انداز ہدایت کی اقتدا کرو، (لوگوں سے) کہو کہ: میں اس (رسالت) کی مزدوری تم سے نہیں مانگتا، یہ قرآن تو عالمین ہی کے لئے ہدایت ہے۔

ایک نکتہ:

۹; لفظ "اقتدہ" میں حرف "ہ" ضمیر کے لئے نہیں ہے بلکہ "ہائے سکتہ ہے" ، اور وقت کے لئے استعمال ہوئی ہے۔

پیام:

۱ ۔ ہدایت انبیاء کی پیروی درحقیقت الٰہی ہدایت کی اقتدأ ہے۔( هدی الله فبهدلٰهم اقتده )

۲ ۔ اولیاء اللہ کا نام، ان کی یاد اور ان کی راہ کو زندہ رکھنا چاہئے، اور نئے احکامات کے آ جانے سے گزشتہ افراد کی خدمات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے( فبهدا هم اقتده )

۳ ۔ انسانیت کی اہمیت یا اس کی قدر و قیمت اس کے افکار اور عملی سیرت سے ہے۔ فرمایا ہے( فبهداهم اقتده ) یہ نہیں فرمایا "( بهم اقتده ) " یعنی خود ان کی اقتدا کرو۔ (از تفسیرالمیزان)

۴ ۔ بعض جزئی احکام کی تبدیلی یا تنسیخ سے اصول اور کلیات پر اثر نہیں پڑتا، پس انبیاء کے کلی اصولوں کو دائمی رہنا چاہئے( فبهدا هم اقتده )

۵ ۔ مبلغ دین کو دنیا طلبی اور مادیات سے دور رہنا چاہئے( قل لا اسئلکم )

۶ ۔ انبیاء میں اور دنیا کے دوسرے انقلابی رہنماؤں کے درمیان یہی فرق ہے کہ انبیاء کا ہدف مادیات نہیں ہوتا(( لا اسئلکم )

۷ ۔ موفق اور کامیاب ترین انسان وہ ہوتا ہے جو گزشتہ لوگوں کے کمالات، نیک اخلاق اور محکم طریقہ سے فیض حاصل کرے،( فبهدا هم اقتده )

۸ ۔ انبیاء، فراموش کار لوگوں کے لئے یادگار اور یادآور ہیں( ذکری )

۹ ۔ اسلام، عالمی دین ہے( للعالمین )


آیت ۹۱

( وَمَا قَدَرُوااللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٓ اِذْ قَالُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰی بَشَرٍ مِّنْ شَیْ ئٍط قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِه مُوْسٰی نُوْرًا وَّ هُدًی لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَه قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ کَثِیْرًاج وَعُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْآ اَنْتُمْ وَلَآ اٰبَآوٴُکُمْط قُلِ اللّٰهُلا ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور ان لوگوں نے خدا کو اس طرح نہیں پہچانا جس طرح اس کے پہچاننے کا حق ہے، کیونکہ انہوں نے کہا کہ: خداوند عالم نے کسی بشر پر کوئی چیز (اور کتاب) نازل نہیں کی۔ تم خود ہی کہہ دو کہ جو کتاب (توریت) موسیٰ لے کر آئے تھے وہ لوگوں کے لئے نور اورہدایت تھی، اسے کس نے نازل کیا؟ جس کتاب کو تم کاغذ کے پرزے بنا لیتے ہو اور (اپنی مرضی کے مطابق) اس سے (ایک حصے کو) ظاہر کرتے ہو اور بہت سے حصے کو چھپا دیتے ہو۔ اور جو کچھ تم اور تمہارے باپ دادا نہیں جانتے تھے (اسی آسمانی کتاب تورات) کے ذریعہ تمہیں تعلیم دی گئی۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ خدا ہی ہے (کہ جس نے ان کتابوں کو نازل کیا ہے) پھر تم انہیں چھوڑ دو تاکہ وہ اپنی یاوہ گوئیوں اور بیہودہ باتوں میں سرگرم رہیں۔

ایک نکتہ:

۹; یہ آیت یہودیوں کے اس گروہ کے جواب میں ہے جو لفظی نزاع کے طور پر کہتے تھے کہ خداوند عالم نے تو کسی پیغمبر پر کوئی کتاب نازل ہی نہیں کی۔

پیام:

۱ ۔ انبیاء اور آسمانی کتابوں کا بھیجنا خدا کا اپنے بندوں پر لطف ہے، لہٰذا جو لوگ اس بات کا انکار کرتے ہیں درحقیقت وہ خدا کے لطف و کرم، رحمت و مہربانی، حکمت اور دیرینہ طریقہ کار کے منکر ہیں۔( ما قدروا الله )

۲ ۔ اصلی تورات نور اور ہدایت تھی( نوراً وهدیً )

۳ ۔ دینی معارف کی قطع و برید، ان معارف کے ساتھ کھیلنا ہوتا ہے( قراطیس- یلعبون )

۴ ۔ وحی کے بغیر انسان کی بہت سے معارف اور معلومات تک دسترس ناممکن ہے( علمتم مالم تعلموا )

۵ ۔ کفار کے انکار اور ان کی ہٹ دھرمی کے مقابلے میں جو چیز انسان کی تقویت کا باعث بنتی ہے وہ ہے خدا کی ذات پر توکل۔( قل الله )

۶ ۔ انبیاء کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے کسی کو مجبور کرنا نہیں ہے( ذرهم )

آیت ۹۲

( وَهٰذَا کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰاهُ مُبٰرَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَلِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰی وَمَنْ حَوْلَهَاط وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِه وَهُمْ عَلٰی صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور یہ مبارک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، (اس آسمانی کتاب کی) تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آ چکی ہے۔ اور اس لئے بھی کہ تم مکہ اور اس کے اطراف (کے لوگوں) کو ڈراؤ۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

ایک نکتہ:

۹; آیت میں "ولتنذر" کہا گیا ہے "لتنذر" نہیں کہا گیا۔ اور یہ شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید کے اور بھی اہداف ہیں۔ جن میں ایک مکہ اور اس کے اطراف کے لوگوں کو ڈرانا بھی ہے۔

پیام:

۱ آن مجید ہر قسم کی برکات کا حامل ہے (مثلاً تدبر، عبرت کا حصول، شفا، رشد و ہدایت عزت تک رسائی وغیرہ کیونکہ یہ سب کچھ قرآن میں ہے) (مبارک)

۲ ۔ قرآن دوسری آسمانی کتابوں کے ہم آہنگ ہے اور یہ اس کے مقصد واحد کے حامل ہونے اور الٰہی کتاب ہونے کی دلیل ہے (مصدق) جبکہ انسانوں کی لکھی ہوئی کتابیں جو ان کی خواہشات پر مبنی اور محدودیت پر مشتمل ہوتی ہیں ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں۔

۳ ۔ مکہ "ام القریٰ" (تمام آبادیوں کی ماں) ہے، لہٰذا عالم اسلام کو وہاں سے علمی اور روحانی غذا ملنی چاہئے اور وہیں سے ہی دنیائے اسلام کے امیدافزا پروگرام بننے چاہئیں، جس طرح ماں اپنی اولاد کے لئے امید، حفاظت، غذا، تربیت اور رشد و ہدایت کا ذریعہ ہوتی ہے۔

۔ اگرچہ انبیاء کرام علیہم السلام ہدایت اور نجات کی خوشخبری دینے والے ہوتے ہیں، لیکن چونکہ انسان کی زیادہ تر کوشش ضرر کو دور کرنے کے لئے ہوتی ہے اور روحانی طور پر اسے ڈرانے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اسی لئے قرآن مجید میں "نذیر" کا کلمہ "بشارت" کے کلمہ سے زیادہ استعمال ہوا ہے، "انذار" ۱۲۰ مرتبہ اور "بشارت" ۸۰ مرتبہ،( لتنذر )

۵ تبلیغ کا انداز قدم بقدم ہونا چاہئے۔ پہلے اسے اپنے رشتہ داروں سے شروع کیا جائے "( وانذر عشیرتک الاقربین ) " یعنی اپنے قریب ترین رشتہ دارں کو ڈراؤ (شعرأ/ ۲۱۴) پھر علاقہ کے لوگوں کو (ام القریٰ) پھر دنیا بھر کے انسانوں کو "رحمة للعالمین" تمام جہانوں کے لئے رحمت (انبیاء/ ۱۰۷) "( کافة للناس ) " (تمام لوگوں کے لئے) (سبا/ ۲۸) " لانذر کم بہ و من بلغ" یعنی تاکہ میں تمہیں اور ان تمام افراد کو ڈراؤں جن تک یہ قرآن پہنچے (انعام ۱۹) "( ان هو الاذکر للعالمین ) " یعنی یہ قرآن عالمین ہی کے لئے ہدایت ہے، انعام/ ۹۰)

۔ آخرت پر عقیدہ، نبوت پر عقیدہ کا موجب ہے( یوٴمنون بالاخرة، یوٴمنون به )

۷ ۔ ایمان کا واضح اور روشن ترین مظہر، نماز ہے( علی صلاتهم… )

۸ ۔ آخرت پر ایمان، نماز کی پابندی کے ساتھ ادائیگی کا ایک عامل ہے( بالاخرة…وهم علی صلاتهم یحافظون )

آیت ۹۳

( وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ کَذِباً اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَلَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْ ءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مثِْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ط وَلَوْتَرٰیٓ اِذِالظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰٓئِکَةُ بَاسِطُوْآ اَیْدِیْهُمْج اَخْرِجُوْآ اَنْفُسَکُمْط اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ کُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِه تَسْتَکْبِرُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور اس سے بڑھ کر اور کون ظالم ہو گا جو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے یا (دعویٰ کرکے) کہتا ہے کہ: مجھ پر وحی ہوتی ہے جبکہ اس پر کوئی بھی وحی نہیں ہوئی۔ یا (جھوٹ فریب کے طور پر) کہتا ہے کہ میں بھی اسی طرح نازل کرتا ہوں جس طرح خدا نے نازل کیا ہے، (اے پیغمبر!) اگر تم اس وقت کو دیکھو جب ظالم لوگ موت کی سکرات میں گرفتار ہو چکے ہوں گے اور فرشتے ان کی روح کو قبضرنے کے لئے اپنے طاقتور ہاتھ ان کی طرف بڑھائے ہوئے انہیں جان دینے کاحکم کرتے ہیں، (اور کہتے ہیں) آج رسواکن عذاب دیئے جاؤ گے بوجہ ان ناجائز باتوں کے جو تم خدا کی طرف منسوب کرتے تھے اور اس کی آیات سے سرپیچی کرتے تھے۔

چند نکات:

اس آیت کی شان نزول کے بارے میں کہا گیا ہے کہ: "عبد بن سعد" نامی ایک شخص کاتبان وحی میں سے تھا، اس نے وحی کی کتابت میں خیانت سے کام لیا تو سرکار رسالت نے اسے وہاں سے نکال دیا اس نے لوگوں کو اکٹھا کرکے کہنا شروع کر دیا "میں بھی قرآنی آیات کی مثل لا سکتا ہوں۔"

بعض لوگوں نے اس آیت کے نزول کی وجہ "مسیلمہ کذاب" کے دعوائے نبوت کو بیان کیا ہے جس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری ایام میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا، ان مفسرین کے نزدیک یہ آیت مدنی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے حکم سے اس جگہ پر درج کی گئی ہے۔

"غمرات" کا معنی ہے مرنے کے وقت کی سختیاں، جو انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں، جو لفظ "غمرہ" سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے آثار کا مٹ جانا اور غرق ہونا۔

پیام:

۱ ۔ علمی طریقہ سے کسی پر ظلم کرنا اور نااہل افراد کی طرف سے رہبری کا دعویٰ بہت بڑا ظلم ہے( ومن اظلم…اوقال اوحی الی ) ۔

۲ ۔ دین میں بدعت۔ جو کہ بعض خلفأ کا کام بھی رہا ہے۔ جھوٹ باندھنے اور خدا پر بہتان طرازی کے مصداقوں میں سے ایک ہے۔

۳ ۔ حق کے دشمن یا تو حق کو نیچے لے آنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر اپنی باتوں کو اوپر لے جاتے ہیں۔ پہلے تو کہتے ہیں کہ "قرآن افسانہ ہے۔" اگر اس مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو کہتے ہیں کہ: "میں بھی قرآن کی طرح بہترین باتیں کر سکتا ہوں" (سانزل مثل ما انزل اللہ) ۲۷ یا کہتے ہیں: "( لو نشاء لقلنا مثل هذا ) " (انفال/ ۳۱)

۴ ۔ دینی منصب اور مذہبی تخصص کے جھوٹے اور نااہل دعویدار بہت برے طریقے سے جان دیتے ہیں۔( ولوتری اذا لظالمون )

۵ ۔ غرور و تکبر اور وحی و دین کی توہین کی سزا "عذاب الھون" (رسواکن عذاب) ہے۔( تجزون عذاب الهون )

۶ ۔ خدائی سزا کا آغاز موت کے پہلے ہی لمحہ سے ہو جاتا ہے اگرچہ روح اور جان لینا خدا کا کام ہے، لیکن کافروں سے کہا جائے گا "مرو" "نکالو اپنی جان"( اخرجوا انفسکم ) یہ ایک طرح کی توہین اور تحقیر ہے۔

۷ ۔ انسان کی روح مستقل ہے( اخرجوا انفسکم )

۸ ۔ دنیا میں تکبرو غرور کا نتیجہ آخرت کی خواری اور ذلت ہے( عذاب الهون…تستکبرون )

آیت ۹۴

( وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَاخَلَقْٰنکُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِکُمْ وَمَا نَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰٓؤُاط لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَکُمْ وَضَلَّ عَنْکُمْ مَّا کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ یقیناً تم (بوقت موت یا بروز قیامت) اکیلے ہی ہمارے پاس آؤ گے۔ جس طرح کہ پہلی مرتبہ ہم نے تمہیں تنہا پیدا کیا ہے، اور تمام اموال کو جو ہم نے تمہیں دئیے ہیں اپنے پیچھے چھوڑ آؤ گے۔ اور جن (بتوں) کو تم اپنا شفیع اور خدا کا شریک سمجھتے تھے ہم انہیں تمہارے ساتھ نہیں دیکھتے۔ تمہارے تمام رشتے ٹوٹ گئے اور تمہارے تمام خیالات اور گمان مٹ گئے۔

دو نکات:

یہ خطاب بوقت مرگ یا بروز قیامت مشرکین سے کیا جائے گا۔ "خولنا" کا کلمہ "خول"(بر وزن عمل) سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے وہ خیر اور بہتری جس کے لیے سر پرست کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور عام طور پر اس کا اطلاق مال و شروت پر کیا جاتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ قیامت اور قبر میں انسان ‘ پیدائش کے دن کی مانند یکہ و تنہا ہو گا( فرادیٰ )

۲ ۔ انسان قیامت کے دن کے لیے محشور ہونے کے وقت روز ولادت کی طرح عریان ‘ گریان ‘ عاجز و نادار ہو گا( کما خلقنکم اول مرة )

۳ ۔ معاد‘ جسمانی ہو گی۔( کما خلقنکم اول مرة )

۴ ۔ مشرکین کو چار چیزوں پر زیادہ بھر وسہ تھا ۔ ا۔ قوم و قبیلہ ۲ ۔ مال و ثروت ۳ ۔ طاعوت او رارباب ۴ ۔ بت۔ چنانچہ یہ آیت مرنے کے بعد اور قیامت میں ان چار چیزوں کی بے ثباتی اور بے بضاعتی کو بیان کر رہی ہے۔

"( فردایٰ" ) قوم و قبیلہ کے بغیر۔

"( ترکتم ما خولناکم ) " مال و ثروت کے بغیر۔

"( مانریٰ معکم شفعاء ) " یارو مدد گار کے بغیر۔

"( ضل عنکم ما کنتم تزعمون ) " ہر قسم کی دوسری خیالی قدرت کی حمایت کے بغیر۔

آیت ۹۵

( اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰیط یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّط ذٰلِکُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ بے شک خدوند عالم ہی دانے اور گٹھلی کو شگافتہ کرنے والا ہے، زندہ کو مردے سے نکالتا ہے اور مردے کو زندہ سے باہر نکالنے والا ہے، یہ ہے تمہارا خدا بس تم کس لئے بھٹکتے پھرتے ہو؟

دو نکات:

"فالق کا لفظ "فلق" سے نکلا ہے جس کامعنی ہے شگافتہ کرنا۔ "حب" اور "حبہ" غلہ کے دانے کو کہتے ہیں۔ جیسے گندم اور جو وغیرہ کے دانے کہ جن کی فصلات کو کاٹا جاتا ہے۔ دوسرے دانوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے اور "نویٰ" کا معنی ہے گٹھلی۔

بے جان چارے سے جاندار حیوانوں کو اور جاندار حیوانوں سے بے جان دودھ کو پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح بے جان گٹھلی سے زندہ اور فعال درخت کو اور پروان چڑھے درخت سے بے جان گٹھلی کو پیدا کرتا ہے اور روایات کے بقول: بے ایمان لوگوں سے مومن افراد پیدا ہوتے ہیں اور مومن افراد سے بعض اوقات کافر پیدا ہوتے ہیں۔ (یخرج الحی من المیت و مخرج المیت من الحی)

پیام:

۱ ۔ دانے یا گٹھلی کو زمین میں ڈالنا اور کاشت کرنا انسان کا کام ہے لیکن انہیں شگافتہ کرنا اور اگانا خدا کا کام ہے۔( فالق )

۲ ۔ تمہارا رزق اور روزی انہی دانوں اور گٹھلیوں کی راہ سے حاصل ہوتی ہے پس تم کہاں اور کس کے پیچھے سرگرداں پھر رہے ہو؟( فانی توٴفکون )

۳ ۔ قدرتی اور طبعی آثار میں غور و فکر، خدا کی معرفت کا بہترین راستہ ہے۔

آیت ۹۶

( فَالِقُ الْاِصْبَاحِج وَجَعَلَ الَّیْلَ سَکَنًا وَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًاط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعََلِیْمِ ) ۔

ترجمہ۔ خداوند عالم صبح (کی سفیدی) کو شگافتہ کرنے والا ہے، اس نے رات کو آرام و سکون کے لئے اور سورج اور چاند کو حساب کے لئے مقرر فرمایا ہے۔ یہ خداوند دانا و توانا کے مقررکردہ (اصول) ہیں۔

دو نکات:

"اصباح" کا ایک معنی تو ہے "صبح" اور دوسرا معنی ہے "صبح میں داخل" ہونا، لیکن یہاں پر مراد وہی پہلا معنی ہے۔

اس سے پہلی آیت میں زمین میں خداوند عالم کی قدرت اور حکمت کی تین نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ اور اس آیت میں آسمان میں اس کی قدرت کی نشانیوں کو بیان کیا گیا ہے، اور وہ ہیں رات اور دن جو اس کی قدرت کی دو نشانیاں ہیں۔ جس طرح کہ سورہ بنی اسرائیل / ۱۲ میں ارشاد ہوتا ہے "وجعلنا اللیل والنھار آیتین"۔ رات کے وقت آرام و استراحت، مناجات، معراج، نزول قرآن اور تہجد کی باتوں کا ذکر ہے۔

پیام:

۱ ۔ رات اور دن کے ہر لمحہ کی پیدائش، قدرت، حکمت اور ایسے فالق کی محتاج ہے جو یہ کام تقدیر اور اندازے کے ساتھ انجام دیتا ہے۔

۲ ۔ رات آرام کے لئے ہے اسی لیے روایات میں رات کے وقت کام کرنے، جانور کو ذبح کرنے اور سفر کرنے کی مذمت وارد ہوئی ہے۔ ۲۸

۳ ۔ سورج اور چاند نظم و انتظام، حساب و کتاب اور دوسرے منظم امور بجا لانے کا ذریعہ ہیں۔ ۲۹

آیت ۹۷

( وَهُوَالَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِط قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور وہ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے ہیں تاکہ تم خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں ان کے ذریعہ سے راہ معلوم کرو۔ اس میں شک نہیں ہے کہ ہم نے اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کر دی ہیں جو آگاہ ہیں اور دانا ہیں۔

دو نکات:

علم ہیئت، انسان کے قدیم ترین علوم میں سے ہے۔ اور انسان ایک عرصہ دراز سے وقت، سمت، قبلہ اور دوسری چیزوں کی پہچان کے لئے صحراؤں اور دریاؤں کے سفر میں ستاروں سے استفادہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا اوزار ہیں جو قابل اطمینان، دائمی، ہر دم تازہ، طبعی قدرتی، عمومی اور مفت ہیں۔

اسلام نے مظاہر فطرت پر خصوصی توجہ فرمائی ہے۔ بعض سورتوں کے نام طبعی چیزوں کے نام پر ہیں۔ اسلامی عبادات کا طبعیات سے گہرا تعلق ہے۔ مثلاً وقت شناسی، قبلہ شناسی، چاند گرہن، سورج گرہن، نماز آیات، ہر مہینے کی پہلی تاریخ، اور یہی چیزیں، علم ہیئت سے مسلمانوں کی آشنائی کا سبب بنیں اور انہی کی وجہ سے بغداد، دمشق، قاہرہ، مراغہ اور اندلس میں مسلمانوں کے ہاتھوں رصدخانے وجود میں آئے اور اس بارے میں مسلمانوں نے کتابیں تحریر کیں۔

پیام:

۱ ۔ ستارے، خدا کی مخلوق اور راہ معلوم کرنے کا ذریعہ ہیں، کائنات کے خالق اور اس کے مدبر نہیں ہیں۔( جعل لکم )

۲ ۔ ستاروں کا نظام اس قدر منظم اور مرتب ہے کہ اس سے بڑی آسانی کے ساتھ راہیں معلوم ہو جاتی ہیں۔( لتهتدوا )

۳ ۔ دریائی اور صحرائی سفر کے لئے جس کا انسان کو زندگی میں بہت کم ہی اتفاق ہوتا ہے خدا نے راہنما مقرر فرمائے ہیں، تو کیا یہ بات قابل قبول ہو سکتی ہے کہ انسان کی دائمی حرکت کے لئے اور راہ حق کو گم نہ کرنے کے لئے کوئی راہنما (نبی اور امام) نہ بنائے ہوں؟

۴ ۔ فقط ستاروں کے وزن، حجم، فاصلے، حرکت اور مدار کی پہچان بلکہ کلی طور پر ستارہ شناسی یا علم نجوم انسان کو خدا تک نہیں پہنچاتا، بلکہ انسان خود ارادہ کرے کہ اس ذریعہ سے خدا کی معرفت حاصل کرے( لقوم یعلمون )

اس لئے بہت سے آئینہ فروش ایسے ہیں جو اپنے چہرے کو نہیں سنوارتے اور آئینہ میں اپنی صورت کو نہیں دیکھتے۔ اصلاح کے لئے شرط ہے کہ ارادہ کرکے مقصد کو حاصل کیا جائے صرف آئینہ یا اس کی طرف دیکھنا ہی کافی نہیں۔

آیت ۹۸

( وَهُوَالَّذِیْٓ اَنْشَاَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌط قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور وہ وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (تم سب آدم کی اولاد ہو) پس تم میں سے کچھ تو قرار پا چکے ہیں (اور اپنی معمول کی زندگی گزار رہے ہیں) اور کچھ ابھی (باپ کی پشتوں اور ماؤں کے رحم میں) نقل وانتقال کی حالت میں ہیں۔ ہم نے اپنی آیات کو ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے جو اہل فہم و شعور ہیں۔

دو نکات:

"انشأ" کی تعبیر میں دو نکتے پوشیدہ ہیں ۱ ۔ نئی چیز کووجود میں لانا ۲ ۔ مسلسل تربیت۔ انسان کی پیدائش میں ان دونوں نکات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ ایک تو اس میں نیا وجود ہے اور دوسرے اس کی مسلسل تربیت کی جاتی ہے۔ کسی کی تقلید کرتے ہوئے پیدا کرنا یا پیدا کرکے اسے چھوڑ دینا بے فائدہ ہے۔ اور اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔

"مستقر" اور "مستودع" کی تعبیر میں اور بھی معانی ذکر ہوئے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ بھی ہیں کہ: ۱ ۔ تم پائیدار روح اور ناپائیدار جسم کے حامل ہو۔ ۲ ۔ تم پائیدار اور ناپائیدار ایمان کے حامل ہو۔ ۳ ۔ تم عورت کے پائیدار اور مرد کے ناپائیدارنطفوں سے پیدا ہوئے ہو۔ ۴ ۔ تم زمین میں مستقر ہو اور قیامت تک کے لئے قبر میں ودیعت ہو۔ ۵ ۔ نعمتیں کبھی پائیدار ہوتی ہیں اور کبھی ناپائیدار۔ جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام سے منقول ہے کہ: "نماز عید کے بعد خدا سے دعا مانگی جائے کہ وہ اپنی نعمتیں ہمارے لئے دائمی قرار دے کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے "فمستقرو مستودع" (تفسیر نورالثقلین اسی آیت کے ذیل میں)

پیام:

۱ ۔ تم سب کی اصل اور بنیاد ایک ہی ہے پس یہ سب اختلافات، تفوق طلبی اور نسلی امتیاز کیسا؟( من نفس واحدة )

۲ ۔ ایک نفس (جان) سے تمام انسانوں کی تخلیق میں اس قدر تنوع اور نت نئے نمونے، عظمت خداوندی کی علامت ہے۔

۳ ۔ ہر بخشش اور عطیہ پائیدار نہیں ہوتا جب تک نعمت اور امکانات موجود ہیں ا س سے بہتر سے بہتر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو( فمستقرو مستودع )

۴ ۔ جب تک انسان "اہل فہم" نہ ہو معارفِ الٰہی سے بہرہ مند نہیں ہو سکتا۔( لقوم یفقهون )

آیت ۹۹

( وَهُوَالَّذِیْٓ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآئًج فَاَخْرَجْنَا بِه نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ ِمنْهُ حَبًّا مُّتَرَاکِبًاج وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّجَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّغَیْرَ مُتَشَابِهٍط اُنْظُرُوْآ اِلٰی ثَمَرِهٓ اِذَآ اَثْمَرَوَیَنْعِهط اِنَّ فِیْ ذٰلِکُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور وہ وہی خدا تو ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا، پس اس کے ذریعہ ہر قسم کی نباتات کو ہم نے اگایا اور اس نباتات سے سبز تنے اور شاخیں نکالیں کہ ہم اس سے باہم گتھے ہوئے دانے نکالتے ہیں۔ اور کھجور کے شگوفوں سے لٹکے ہوئے گچھے اور خوشے (باہر نکالے) اور (ہم نے) انگور اور زیتون اور انار کے باغات (کی پرورش کی) جو باہم صورت میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور (کچھ) ایک دوسرے سے جدا جدا بھی ہیں۔ اور اس کے پھل کی طرف غور سے نگاہ کرو کہ جب وہ پھلے اور پکے۔ بے شک اس میں ایماندار لوگوں کے لئے (خدا کی) بہت سی نشانیاں ہیں۔

چند نکات:

اس سے پہلی آیت میں فرمایا: تمام انسان ایک نفس سے ہیں اور اس آیت میں فرماتا ہے کہ: تمام نباتات، درخت اور پھل میوے ایک ہی سرچشمہ سے ہیں اور وہ ہے بارش کا پانی۔

"متراکب" کا لفظ "رکوب" (سوار ہونا) سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب ہے ایک دوسرے پر سوار پھل اور باہم گتھے ہوئے دانے۔

"طلع" کھجور کے بند شگوفوں کو کہتے ہیں۔ "قنوان" تار کی مانند باریک لڑیاں بعد میں جن پر کھجور کے خوشے تیار ہوتے ہیں۔ "دانیہ" ایسے خوشے ہوتے ہیں جو گتھے ہوئے ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کے نزدیک ہوتے ہیں یا سنگین بوجھ کی وجہ سے زمین کے نزدیک ہوتے ہیں۔ "متشابہ" وہ درخت ہوتے ہیں جو ظاہری شکل و شباہت میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں،۔ جیسے زیتون اور انار ہیں (اس بارے میں اسی سورت کی ۱۴۱ ویں آیت میں بھی اسی بات کاذکر ہے) "غیرمتشابہ" مزے اور خاصیت میں ایک دوسرے سے جدا جدا۔ یا اس سے یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ ایک دوسرے سے اس بات میں مشابہ ہیں کہ ایک ہی آب و خاک سے ہیں۔ اور غیرمتشابہ میووں اور درختوں میں ہیں۔ بعض پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور بعض ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اور "ینع" کا معنی ہے پھل کے پکنے کی طرز۔

اس آیت میں اور اس سے پہلے کی دو آیات میں تین پے درپے تعبیریں بیان ہوئی ہیں۔ "( لقوم یعلمون ) "، "لقوم یفقھون" اور "لقوم یومنون" اس قسم کی تعبیرات لانے کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب آپ کو ذیل کے پیام میں ملے گا۔

پیام:

۱ ۔ تمام سبزہ جات اور نباتات کا منبع بارش کا پانی ہے( من السماء ماء فاخر جنابه نبات کل شیٴ )

۲ ۔ بارش کا نازل کرنا ہو یا دانے کا شگافتہ کرنا اور ا س سے درختوں اور پھل میووں کا اگانا، سب خدا کے ہاتھ میں ہے( انزل، فالق، نخرج )

۳ ۔ مطلب کو بیان کرنے میں اولویت کو پیش نظر رکھا جائے (زراعت اور گندم، خرما، انگور، زیتون، اور انار)

۴ ۔ پھل میووں سے تمہارا تعلق صرف مادی اور کھانے کی حد تک ہی نہیں ہونا چاہئے، ان سے فکری اور توحیدی تعلق بھی ہونا چاہئے( انظروا )

۵ ۔ ستاروں سے بہرہ مندی کے علم اور واقفیت کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا فرمایا ہے "( لقوم یعلمون ) " (آیت ۹۷) اس بات کا ادراک کہ کاروان بشریت کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے اور یہ کاروان پائیدار اور ناپائیدار صورت میں رواں دواں ہے ، اس بات کو سمجھنے کے لئے گہرے ادراک کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا فرمایا ہے "لقوم یفقہون" (آیت ۹۸) نباتات، بارش اور پھل میووں سے معنوی طور پر بھی استفادہ کیا جانا چاہئے، اور اس بات سے غافل نہیں رہنا چاہئے کہ ان سب کا پیدا کرنے والا اور انہیں ہستی کی نعمت سے نوازنے والا خداوند عالم ہے، اس کے لئے ایمان کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا فرماتا ہے( لقوم یوٴمنون )

آیت ۱۰۰

( وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوْا لَه بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍم بِغَیْرِ عِلْمٍط سُبْحٰنَه وَ تَعٰالٰی عَمََّا یَصِفُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور ان لوگوں نے جنات کو خدا کا شریک بنایا ہے جبکہ جن خدا کی مخلوق ہیں۔ اور بغیر سوچے سمجھے خدا کے لئے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لی ہیں۔ خداوند عالم ان صفات سے منزہ اور برتر ہے جو وہ خدا کے لئے بیان کرتے ہیں۔

دونکات:

"خلق" کا معنی ہے کسی چیز کو باقاعدہ حساب کے تحت وجود میں لانا، اور "خرق" کسی چیز کو بغیر سوچے سمجھے اور بغیر کسی حساب کے پارہ پارہ کر دینا اور "اختراق" بے انتہا اور بغیر سوچے سمجھے جھوٹ بنانا۔ پس "خرقوا" کے جملے کا معنی ہو گا بغیر کسی سوچ سمجھ کے اور اطراف و جوانب کو پیش نظر رکھے بغیر کسی بات کا اظہار کرنا، باتیں بنانا اور دعوے کرنا۔ (تفسیر نمونہ)

بقول قرآن مجید، عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کو اور یہودی حضرت عزیر علیہ اسلام کو خدا کا بیٹا جانتے تھے۔ اور سورہ زخرف کی آیت ۱۹ کے بقول: کئی لوگ ملائکہ کو خدا کی اولاد سمجھتے تھے۔ زردشتی بھی "اھریمن" کو جو جنات میں سے تھا خدا کا شریک قرار دیتے تھے اور تمام برائیاں اسی کی طرف منسوب کرتے تھے۔ کچھ عرب تو خدا اور جنوں کے درمیان رشتہ داری کے قائل تھے۔ بقول قرآن "وجعلوابینہ و بین الجنة نسبا" یعنی ان لوگوں نے خدا اور جنات کے درمیان رشتہ قرار دیا ہے (صافات/ ۱۵۸)

پیام:

۱ ۔ جہالت، خرافات گھڑنے کی بنیاد ہے( خرقوا…بغیر علم )

۲ ۔ مخلوق، خالق کیونکر بن سکتی ہے؟( وخلقهم )

۳ ۔ ازدواج اور اولاد کا پیدا کرنا ایک کمی کو پورا کرنے کے لئے ہوتے ہیں اور خداوند متعال اس قسم کے نقائص اور عیوب سے پاک و مبرا ہے( سبحٰنه )


آیت ۱۰۱ ۔ ۱۰۲

( بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط اَنّٰی یَکُوْنُ لَه وَلَدٌ وَّلَمْ تَکُنْ لَّه صَاحِبَةٌ ط وَخَلَقَ کُلَّ شَیْئٍج وَهُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ- ذٰلِکُمُ اللّٰهُ رَبُّکُمْج لَآاِلٰهَ اِلَّا هُوَج خَالِقُ کُلِّ شَیْ ءٍ فَاعْبُدُوْهُج وَهُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ وَّکِیْلٌ ) ۔

ترجمہ۔ (وہ) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اس کے لئے بیٹا کیسے ہو جبکہ اس کے بیوی ہی نہیں ہے۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور ہر چیز کو جانتا ہے۔

وہی ہے خدا جو تمہارا پروردگار ہے، اس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں، ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ پس تم اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا نگہبان اور مدبر ہے۔

ایک نکتہ:

جس نے کسی کی دیکھا دیکھی اور پہلے سے تیارشدہ نقشہ کے بغیر آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اسے اولاد اور بیوی کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو ایک ہی ارادے کے ساتھ جو چاہے پیدا کرے۔

پیام:

۱ ۔ خالق کائنات، قادر و توانا ہے اسے اولاد اور بیوی کی کوئی ضرورت نہیں ہے (پہلی آیت کے آخری حصے اور اس آیت کے پہلے حصہ کے پیش نظر)

۲ ۔ جس خدا کا قرآن تعارف کرا رہا ہے اس کا اور جن خداؤں کے متعلق دوسرے لوگ عقیدہ رکھتے ہیں ان کا، آپس میں تقابل کرو( ذلکم الله )

۳ ۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق پیدا کرنے والا (خالق) اور پروردگار (رب) ایک ہی ہے( ربکم…خالق ) لیکن مشرکین خالق تو اللہ کو ہی جانتے تھے لیکن رب، دوسری کئی چیزوں کو سمجھتے تھے۔

۴ ۔ خدا کی خالقیت مطلقہ اس کی توحید کی دلیل ہے( لااله الا هو خالق کل شیٴ )

۵ ۔ جس طرح تخلیق خدا کے ہاتھ میں ہے اسی طرح ہر چیز کی بقا اور ثبات بھی اسی کے ارادے کے تحت ہے( خالق- وکیل )

۶ ۔ خدا کی ربوبیت اور خالقیت ہی ہماری عبادت کا فلسفہ ہے( خالق کل شیٴ فاعبدوه )

آیت ۱۰۳

( لَا تُدْرِکُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَج وَهُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ) ۔

ترجمہ۔ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں، لیکن وہ آنکھوں کا ادراک رکھتا ہے، وہ نہ دیکھا جانے والا باریک بین اور آگاہ ہے۔

دو نکات:

خداوند عالم ہرگز نہیں دیکھا جا سکتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے سوال رویت کے جواب میں فرمایا "( لن ترانی ) " یعنی اے موسیٰ! تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے (اعراف/ ۱۴۳) لیکن اہلسنت اس بات کے قائل ہیں کہ خداوند عالم کو قیامت کے دن دیکھا جا سکے گا اور وہ قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ"( الی ربها ناظرة ) " یعنی قیامت کے دن چہرے خدا کی طرف دیکھ رہے ہوں گے (قیامت/ ۲۳) ( اشاعرہ اور تفسیر المنار) لیکن وہ اس بات سے غافل ہیں کہ خدا جسم اور مادہ نہیں ہے۔ اور خدا کو دیکھنے سے مراد ظاہر آنکھوں سے نہیں بلکہ دل کی آنکھوں سے دیکھنا ہے۔ مثلاً ایک اور آیت ہے:( ولقدراه نزلةاخریٰ" ) یعنی پیغمبر نے خدا کو ایک اور بار دیکھا (نجم/ ۱۳) یعنی اس کے آثار و الطاف کا مشاہدہ کیا۔ کیونکہ ظاہری آنکھوں سے تو اس چیز کو دیکھا جاتا ہے جو جسم و مکان اور محدودیت اور رنگ وغیرہ کی حامل ہو جبکہ خداوند تعالیٰ ان چیزوں سے پاک، منزہ اور مبرا ہے۔

حضرت امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں اگر ہمارے ظاہری حواس اس کے ادراک سے عاجز ہیں اس سے یہی سمجھ لیا جائے کہ وہ مخلوق سے علاوہ ذات ہے۔ نہ یہ کہ ہم اس کے منکر ہو جائیں۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ "آیا تمہیں شرم نہیں آتی کہ پیغمبر خدا کی طرف خدا کو دیکھنے کی نسبت دیتے ہو جبکہ خدا خود فرماتا ہے: "( لیس کمئله شیٴ ) " یعنی اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ (شوریٰ/ ۱۱) یا ایک اور جگہ پر فرماتا: "( لایحیطون به ) " یعنی لوگ اس کا احاطہ نہیں کر سکتے، (طہ/ ۱۱۰) از تفسیر نورالثقلین)

"لطیف" کے چند ایک معانی ہیں، ۱ ۔ جو اپنی عطا کو کم اور بندوں کی اطاعت زیادہ سمجھے۔ ۲ ۔ نہایت باریک۔ ۳ ۔ امور پر مخفی نگاہ رکھنے والا، باریک بیں اور ظریف اور نایاب چیزوں کا خالق۔ ۴ ۔ خاطرو مدارات کرنے والا، دوستی کے لائق۔ ۵ ۔ وفاشعاروں کو جزا دینے والا اور خطاکاروں کومعاف کر دینے والا۔

پیام:

۱ ۔ خداوند عالم نہ جسم ہے اور نہ ہی مادہ سے بنی مخلوق۔( لاتدرکه الابصار )

۲ ۔ کوئی بھی اس کی ذات سے آگاہ نہیں ہے( هواللطیف ) ۳۰

۳ ۔ خدا بشری فکر کے احاطہ سے باہر ہے۔( هواللطیف ) ۳۱

۴ ۔ پردہ یا اور کوئی چیز خدا کے علم کو نہیں روک سکتی( هواللطیف الخبیر )

۵ ۔ خداوند عالم کائنات کے تمام لطائف و رموز خواہ وہ ظاہری ہوں یا باطنی سب سے آگاہ ہے( هواللطیف الخبیر )

۶ ۔ خدا کا ادراک، خدا کا وہی علم ہی تو ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ ذہن و فکر یا مغزی خلیوں وغیرہ سے کام لے کر علم و ادراک حاصل کرتا ہے، جیسے سمیع و بصیر ہے یعنی وہ دیکھنے اور سننے میں آنکھ اور کان کا محتاج نہیں ہے۔

آیت ۱۰۴

( قَدْ جَآءَ کُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهج وَمَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَاط وَمَآ اَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیْظٍ ) ۔

ترجمہ۔ یقیناً (آیات الٰہی اور آسمانی کتابیں اور) روشن دلائل جو تمہاری بصیرت کا سبب ہیں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آ چکی ہیں۔ پس جس شخص نے بصیرت حاصل کر لی تو یہ اس کے اپنے فائدہ کے لئے ہے۔ اور جو ان چیزوں سے اندھا رہا تو یہ اس کے نقصان میں ہے۔ اور میں (زبردستی طریقہ پر) تمہاری حفاظت کا ضامن اور نگہبان نہیں ہوں۔

چند نکات:

اسی سورت کی آیت ۹۵ سے یہاں تک، خدا کے تعارف اور شرک پر تنقید کا سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ اور یہ آیت گویا گزشتہ ایٓات کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔

اس قسبم کی آیتیں قرآن مجید میں بہت زیادہ ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ ایمان و کفر، اچھائی اور برائی اور بصیرت اور کور باطنی کا نتیجہ خود انسان ہی کو حاصل ہوتا ہے، منجملہ ان آیات کے چند ایک نمونے یہ بھی ہیں، ۱ ۔( لها ما کسبت و علیها ما اکتسبت ) (بقرہ/ ۲۸۶) جس نے اچھا کام کیا تو اس کا نفع اسی کے لئے اور برا کام کیا تو اس کا وبال اسی کے لئے۔ ۲ ۔( من عمل صالحا فلنفسه و من اساء فعلیها ) ۔ (فصلت/ ۴۶) جو نیک کام کرتا ہے اپنے لئے کرتا ہے اور جو برا کام کرتا ہے اس کا اسی کو نقصان ہو گا۔

۳ ۔( ان احسنتم احسنتم لا نفسکم و ان اسأتم فلها ) (بنی اسرائیل/ ۷) اگر نیکی کرو گے تو اپنے آپ سے بھلائی کرو گے اور اگر برائی کرو گے تو بھی اپنے ہی لئے برائی کرو گے۔

اندھاپن یا نابینائی کئی طرح کی ہوتی ہے۔ یعنی یا تو طبعی ہوتی ہے جو والدین یا خود انسان کی اپنی وجہ سے وجود میں آتی ہے اور وہ یوں کہ حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے انسان اندھا ہو جاتا ہے۔ یا پھر تقدیر کی طرف سے ہوتی ہے جو انسان کی آزمائش کے لئے ہوتی ہے اور یا پھر انتخابی ہوتی ہے اور وہ یوں کہ انسان عمداً حقیقت کو دیکھنے سے آنکھیں بند کئے رکھتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ کفر کے لئے عذر کی کوئی راہ باقی نہیں رہ گئی تاکہ ہر شخص کی ہلاکت یا نجات بطور آگاہانہ ہو( قد جاء کم بصائر )

۲ ۔ لوگ، راہ کے انتخاب کرنے میں آزاد ہیں( من ابصر…من عمی )

۳ ۔ پیغمبر کا کام صرف تبلیغ ہوتا ہے کسی کو مجبور کرنا نہیں۔( ما انا علیکم بحفیظ )

۴ ۔ لوگوں کے کفر و ایمان کا نقصان یا فائدہ خود لوگوں ہی کو ملے گا خدا کو نہیں( فلنفسنا- فعلیها )

۵ ۔ اے پیغمبر! آپ کے پیغام میں کسی قسم کا نقص نہیں ہے ساری خرابی ان کے اندھے دلوں کی ہے۔( ومن عمی )

آیت ۱۰۵

( وَکَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَلِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَلِنُبَیِّنَه لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور اس طرح ہم اپنی آیات کو (مختلف طریقوں سے) بیان کرتے ہیں تاکہ کہیں (یہ نہ) کہیں کہ تم نے (کسی کے پاس) کوئی درس پڑھا ہے۔ اور ان لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں،

پیام:

۱ ۔ بیان و استدلال اور تعلیمی ذرائع میں گوناگوں تبدیلیاں، انسان کے لئے قبول کرنے کی راہیں زیادہ کھولتی ہیں،( نصرف الایات ) ۔

۲ ۔ لوگوں کے تحقیر و توہین کرنے کا ایک راستہ یہ بھی ہے کہ وہ کسی کے استقلال کی نفی کر دیتے ہیں اور یہی بات کفار نے اپنائی ہوئی تھی وہ کہا کرتے تھے: پیغمبر کی باتیں اپنی نہیں ہیں، اس نے کسی سے پڑھ کر ہی سب کچھ یاد کیا ہوا ہے (درست) ۳۳

۳ ۔ آیات الٰہی کے مقابلے میں کچھ لوگ تو وہ ہیں جو ڈٹ جاتے اور انکار پر اڑے رہتے ہیں (درست) اور جن میں جوہر قابل ہوتا ہے وہ ہدایت پا جاتے ہیں (لقوم یعلمون) گویا قرآن پاک اہل دین کے لئے شفا اور ظالموں کے لئے خسارہ ہے۔ (بقول سعدی)

باران کہ در لطافت طبعش خلاف نیست

درباغ لالہ روید و درشور زار خس

یعنی بارش کی لطیف طبع میں کوئی فرق نہیں ہے، بلکہ بارش قبول کرنے والے کا ظرف ہوتا ہے کہ باغ میں تو گل لالہ اگتا ہے اور شورہ زار زمین میں خس و خاشاک۔

۴ ۔ توہین و تحقیر کا جواب بھی اسی انداز میں دینا چاہئے، کفار و مشرکین پیغمبر اسلام پر درس پڑھنے اور لوگوں سے سیکھنے کی تہمت لگایا کرتے تھے تو قرآن نے بھی ضمنی طور پر ان لوگوں کو جاہل کہا ہے اور بیان قرآن کو اہل علم و فہم کے لئے مخصوص قرار دیا ہے۔( لقوم یعلمون )

آیت ۱۰۶

( اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رِّبِّکَج لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَج وَاعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) تم اس چیز کی پیروی کرو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں اور مشرکین سے منہ پھیر لو۔

ایک نکتہ:

اس سے پہلی آیت میں مشرکین کے پیغمبر اسلام پر اتہامات اور الزامات کی بات ہوئی جو کہا کرتے تھے: "تمہارا کلام وحی نہیں ہے بلکہ دوسروں سے سیکھی ہوئی باتیں ہیں" اور اس آیت میں آنجناب کو تسلی دی جا رہی ہے کہ: آپ اپنا کام کریں اور دشمنوں کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دیں"

پیام:

۱ ۔ الٰہی رہبروں کو دشمن کی تہمتوں، حقارتوں اور غلط قسم کی تاویلوں سے گھبرا کر پریشان نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے آگے بڑھتے رہنا چاہئے( اتبع )

۲ ۔ خداوند عالم خود ہی رسالت کے کاموں کا حامی اور مددگار ہے( ربک )

۳ ۔ دین کی راہ میں خود کو حد سے زیادہ مشقت میں نہیں ڈالنا چاہئے( اعرض )

۴ ۔ بے اعتنائی، دشمن کے پروپیگنڈوں کا ایک اہم توڑ ہے،( اعرض ) ۳۴

آیت ۱۰۷

( وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَآ اَشْرَکُوْاط وَمَا جَعَلْٰنکَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاج وَمَآ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَکِیْلٍ ) ۔

ترجمہ۔ اگر خدا چاہتا تو (زبردستی طور پر تمام لوگ ایمان لے آتے اور) مشرک نہ ہوتے (لیکن خدا کا طریقہ کار یہ نہیں ہے) اور ہم نے تجھے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا اور تو ان کے (ایمان لانے) کا ذمہ دار نہیں ہے۔

پیام:

۱ ۔ خداوند عالم کا طریقہ کار ابتدا ہی سے یہی چلا آ رہا ہے کہ لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے اور شرک و مشرکین کا وجود اس آزادی کی علامت ہے( ولو شاء الله ما اشرکوا )

۲ ۔ پیغمبر اسلام نہ تو مشرکین سے بلائیں دور کرنے کے ذمہ دار ہیں اور نہ ہی ان کے لئے فوائد و منافع حاصل کرنے کے( حفیظا…وکیل )

۳ ۔ انبیاء الٰہی لوگوں کے معلم اور مربی ہیں داروغہ جیل نہیں ہیں کہ کسی پر زبردستی حکم چلائیں،( ماجعلناک علیهم حفیظا )

۴ ۔ چند لوگوں کی گمراہی کی وجہ سے اپنی طراوت و شادابی کو ضائع نہ کرو (آیت کا مفہوم)

۵ ۔ انبیاء کرام کی بھی تمام آرزوئیں پوری نہیں ہوئیں، اس قدر سعی و کوشش کے باوجود بہت سے لوگ شرک پر باقی رہے۔

آیت ۱۰۸

( وَلَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوااللّٰهَ عَدْوًآم بِغَیْرِ عِلْمٍط کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْص ثُمَّ اِلٰی رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور جو لوگ خدا کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں ان (کے معبودوں) کو گالیاں مت دو جس کے نتیجہ میں وہ بھی جہالت اور دشمنی کی وجہ سے خداوند متعال کو ناسزا کہیں گے۔ ہم نے اسی طرح ہر امت کے عمل کو مزین کیا ہے، پھر ان سب کی بازگشت ان کے رب کی طرف ہے، پس اللہ انہیں ان کے کرتوتوں سے آگاہ کرے گا۔

ایک نکتہ:

ہر عمل کی ایک تاثیر ہوتی ہے، خدا نے انسان کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ گناہ اور خلاف ورزی آہستہ آہستہ اس کی روح میں موثر ہو جاتی ہے اور وہ اس کی عادت بنا لیتا ہے، اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ برائیوں کو بھی اچھائیاں سمجھنے لگتا ہے، اور یہ تاثیر کبھی تو لوگوں کے سمجھانے کی وجہ سے ہوتی ہے اور کبھی شیطانی وسوسوں کی بنا پر اور بعض اوقات اعمال کا طبعی ردعمل ہوتا ہے، اسی لئے "برے کاموں کو مزین کرنے" کی نسبت خدا کی طرف بھی دی گئی ہے (زینا) کیونکہ وہ روح میں گناہ کی تاثیر کا خالق ہے، اور شیطان کی طرف بھی اس کی نسبت دی گئی ہے کیونکہ وہ وسوسوں اور وعدوں کے ذریعہ برے کاموں کو اچھا کرکے پیش کرتا ہے، جیسے ارشاد ہوتا ہے "( زین لهم الشیطان ) ۔۔۔۔،، (انعام ۴۳ ۔انفال ۴۸ ۔ نحل ۶۳ ۔ نمل ۲۴ ۔ عنکبوت ۳۸)

پیام:

۱ ۔ گالیاں دینے اور ناسزا کہنے سے کسی کو اس کی غلط راہ سے نہیں ہٹایا جا سکتا( لا تسبوا ) ۳۵

۲ ۔ ہر گروہ اپنے عقائد کے لحاظ سے متعصب ہے( فیسبوا الله عدوا )

۳ ۔ گالی دینا یا تو منطق کے فقدان کی علامت ہے یا پھر بے ادبی اور بے صبری کی۔ مسلمان کو چاہئیے کہ ناسزاکہنے سے پرہیزکر کے یہ ثابت کر دے کہ اس میں صبر، منطق اور ادب جیسی خوبیاں پائی جاتی ہیں،( لا تسبوا )

۴ ۔ جو کام بھی ہمارے مقدسات کی توہین کا سبب بنے حرام ہے( فیسبوا الله )

۵ ۔ تبلیغ ، مناظرہ اورنہی عن المنکر کے انجام دینے کے وقت دشنام طرازی کے حربہ سے کام لینا ممنوع ہے (تفسیرفخر رازی)

۶ ۔ ایسا کام جس کی وجہ سے دوسرے لوگ گناہ کے مرتکب ہوں، حرام ہے (تفسیرمحمع البیان)

۷ ۔ بعض اوقات انسان لاشعوری طور پر دوسرے لوگوں کے گناہ میں شریک ہو جاتا ہے اور وہ اس وقت دوسروں کے لئے گناہ کے مقدمات فراہم کرتا ہے۔

۸ ۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ولی خدا کو گالی دینا خود خدا کو گالی دینا ہے۔ (تفسیر المیزان)

۹ ۔ مشرکین سے تبرا کا مقصدا نہیں گالی دینا نہیں ہے ، اسی طرح لعنت اور نفرین بھی گالی نہیں ہے۔

۱۰ ۔ ناجائز باتیں اور گالیاں دینا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ او رقیامت کے دن اس کا غلط انجام ظاہر ہو گا۔( فینبئهم بما کا نوا یعملون )

آیت ۱۰۹

( وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآئَتْهُمْ اٰیَةٌ الَّیُؤْمِنُنَّ بِهَاط قُلْ اِنَّمَاالْاٰیٰتُ عِنْدَاللّٰهِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ اَنَّهَآ اِذَا جَآءَ تْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور انہوں نے خدا کی بڑی سخت قسمیں کھائیں کہ اگر ان کے لئے کوئی معجزہ ظاہر ہوتووہ یقیناایمان لائیں گے۔ (اے پیغمبر!) کہ دو کہ معجزات توصرف خد اہی کے پاس (اور اسی کے ہاتھ میں) ہیں اور تمہیں کیا معلوم کہ اگر معجزہ آبھی جائے تو بھی وہ ایمان نہیں لائے گے۔

ایک نکتہ:

کفار قریش کا یک طولہ حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا! "آپ بھی حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی مانند معجزات دکھائیے تا کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں! "آپ نے پوچھا : "میں کونسا معجزہ دکھاؤں ؟ انہوں نے کہا : "کوہ صفا کو(جومکہ میں ہے) سونے میں تبدیل کر دیجئے، ہمارے مردوں کو زندہ کیجئے او رخدا اور اس کے فرشتے ہمیں دکھلائیے۔۔۔۔! ،، اور ساتھ ہی قسم کھا کر کہا کہ ایسی صورت میں ایمان لے آئیں گے، اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے کہا کہ : "معجزہ خدا کے ہاتھ میں ہے، ان لوگوں کی خواہشات کے مطابق نہیں دکھایا جا سکتا،، (تفسیرمجمع البیان اور تفسیر نمونہ)

بعض مطالبے ایسے بھی ہوتے ہیں جو خلاف عقل ہوتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ اس دنیا کو نمایشگاہ بنا دیا جائے ااور نظام کائنات مشرکین کی خواہشات کا بازی گھر بن جائے۔

پیام:

۱ ۔ کفار او ردشمنان دین کے نعروں اور جھوٹی قسموں کے فریب میں نہیں آجانا چاہئے۔( واقسموا بالله جهد ایمانهم )

۲ ۔ دلیل پیش کرنا قبول ! لیکن مشرکین کی ناز برداری نفسانی خواہشات کی تکمیل نا قابل قبول !( انما الایات عند الله )

۳ ۔ ابنیاء کرام کے معجزات ، خدا کے ہاتھ میں ہیں۔( انما الایات عند الله )

۴ ۔ ہٹ دھرمی لا علاج مرض ہے، کیونکہ ضدی مزاج اور ہٹ دھرم لوگ ہر قسم کے معجزات دیکھنے کے باوجود بھی ایمان نہیں لاتے( لایوٴ منون )

آیت ۱۱۰

( وَنُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور (کفار کے بے جاتعصب اور ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ) ہم ان کے دلوں او رآنکھوں کو دگر گوں کر دیتے ہیں جس طرح کہ وہ آغاز ہی میں ایمان نہیں لائے۔ اور انہیں ان کی سر کشی میں رہنے دیتے ہیں تا کہ وہ اسی حالت میں دل کے اندھے بن کرسر گرواں رہیں۔

پیام:

۱ ۔ گناہ اور ہٹ دھرمی انسان کی بصیرت اور بصارت دونوں کو الٹ پلٹ کر رکھ دیتے ہیں۔( ونقلب ا فئدتهم ۔۔۔)

۲ ۔ اگرچہ خد اہی "مقلب القلوب " (دلوں کو بدلنے والا) ہے ، لیکن یہ انسان ہی ہے جو کفر یا ایمان کا انتخاب کر کے اس کی دگر گونی کے اسباب فراہم کرتا ہے۔( نقلب ----کما لم یو منوا )

۳ ۔ طغیان اور سرکشی ، کفر کی بنیاد ہے( لم یو منوا --طغیانهم )

۴ ۔ جسے خد اچھوڑ دے وہ ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے( تزرهم --یعمهون )

آیت ۱۱۱

( وَلَوْاَنَّنَا نَزَّلْنَآ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِکَةَ وَ کَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰی وَحَشَرْنَا عَلَیْهِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلاً مَّا کَانُوْا لِیُوٴْمِنُوْا اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَٰلکِنَّ اَکْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور اگر ہم فرشتے (بھی) ان کی طرف نازل کرتے اور مردے (بھی) ان سے باتیں کرتے اور (صدق و اعجاز کی گواہی کے لئے) تمام چیزوں کو گروہ در گروہ ان کے سامنے اکٹھا کر دیتے پھر بھی وہ ایمان لانے والے نہ تھے۔ مگر یہ کہ خدا چاہے ۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ جہالت سے کام لیتے ہیں۔

چند نکات:

"قبل"کا معنی یا تو"مقابل "ہے یا "قبیل" کی جمع ہے یعنی گروہ اور دستے ۔

اس سے پہلے کی دو آیتوں میں مشرکین کے جھوٹے دعوے کو بیان کیا گیا ہے کہ اگر معجزہ ظاہر ہو تو ہم ایمان لے آئیں گے ، اس آیت میں ان معجزات کے نمونے بیان کئے گئے ہیں۔

خدا چاہے تو جبر کے طور پر سب کو مومن بنا دے لیکن یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔

پیام:

۱ ۔ ضدی اور ہٹ دھرم دلوں کے لئے کوئی بھی آیت اور نشانی ایمان کی راہ ہموار نہیں کر سکتی( ما کانوا لیومنوا ) ۳۶

۲ ۔ جہالت ، آیات الہی پر ایمان نہ لانے کا موجب ہوتی ہے( اکثر هم یجهلون )

اس سے ملتی جلتی ایک او ر آیت سورہ حجر میں ہے ارشاد ہوتا ہے"( ولو فتحنا علیهم با با من السماء فظلوا فیه یعرجون ) ۔( لقالو اانما سکرت ابصار نابل نحن قوم مسحورون ) یعنی اگر آسمان کا دروازہ کھل جائے اور کفار اس سے آسمان پرچڑھ جائیں پھر بھی وہ کہیں گے کہ ہماری آنکھوں پر جادو کر دیاگیا ہے (آیت ۱۴)

آیت ۱۱۲

( وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰی بَعْضٍ زُخُرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًاط وَلَوْشَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر !) یہ لوگ صرف تمہارے سامنے ہی ہٹ دھرمی سے کام نہیں لیتے ہم نے ہر پیغمبر کے لئے انسانوں اور جنوں کے شیطانوں سے ایک دشمن قرار دیا ہے (جن کا کام یہ تھا کہ ) اپنی دلچسپ او رفریب د ہندہ باتیں مخفیانہ طور پر ایک دوسرے تک پہنچاتے تھے تا کہ اس طرح سے وہ فریب دے سکیں ۔ اگر تمہارا پردردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے ۔ (لیکن خدا کا طریقہ کار تو یہ ہے کہ انسان کو آزاد رہنے دیا جائے) پس تم انہیں ان کی تہمتوں کے ساتھ اپنے حال پر رہنے دو۔

ٓایک نکتہ:

اس سے دو آیات پہلے گذر چکا ہے کہ "ہم نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے " اور اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ : " اے پیغمبر ! تم بھی انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو"( فذر هم )

پیام:

۱ ۔ روح کی تسکین کے عوامل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دوسروں کی تاریخ اور مشکلات سے آگاہی حاصل کی جائے۔( وکذٰلک )

۲ ۔ حق اور باطل کی آویزش ازل سے چلی آرہی ہے( و کذٰلک )

(بقول علامہ اقبال : ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تاامروز۔ چراغ مصطفوی سے شراربولہبی)

۳ ۔ تضاد اور آویزش اختیاری ارتقاء کا ذریعہ ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس جہان کو تضادات کی دنیا بنایا ہے( و کذٰلک )

۴ ۔ ہر رہبر اپنے آپ کو مخالفین کی ناروااور ناگوارباتیں سننے کے لئے ہمیشہ تیار رکھے اور مخالفین اور مخالفتوں کو برداشت کرنے کے لئے آمادہ رہے( و کذٰلک )

۵ ۔ دشمنوں اور مخالفوں کی بیخ کنی کی امیدیں نہ رکھو( وکذٰلک جعلنا )

۶ ۔ ہر موذی انسان ، شیطان ہوتا ہے،جس طرح تبلیغ کبھی ظاہری ہوتی ہے او رکبھی مخفی اسی طرح دشمن بھی کبھی ظاہری ہوتے ہیں اور کبھی چھپے ہوئے۔( شیاطین الانس والجن )

۷ ۔ انبیاء علیہم السلام کے دشمن اپنے اندرونی پروپیگنڈے میں مصروف رہتے ہیں۔( یوحی بعضهم الی بعض )

۸ ۔ فتنہ پرور لوگوں کی چکنی چیڑی باتیں اور مخفیانہ کاروائیاں کا عوام الناس کو فریب دینے کے لئے ہوتی ہیں۔( یوحی--زخرف القول )

۹ ۔ اللہ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور دنیا ستیزہ کاری کا میدان ہے( ولوشاء ربک مافعلوا )

۱۰ ۔ کائنات کا نظام چلانے کے لئے صرف ایک ہی خدا کا ارادہ کا رفرما ہے دو طاقتیں اسے نہیں چلارہیں۔ یعنی اہریمن اور یزورن آپس میں نہیں ٹکڑارہے۔ لوگوں کی گمراہ کن کوششیں خدا کی قدرت اور اس کے تسلط سے باہرنہیں ہیں۔( ولوشاء ربک مافعلوه )

۱۱ ۔ انسان کے سقوط کے مراحل کا آغاز شیطانی وسوسوں کے قبول کرنے ہی سے ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد قدرت ہے "( یوسوس فی صدور الناس ) " یعنی لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے (الناس ۵) پھر جس کے دل میں وسوسہ اثر کر گیا وہ شیطان کے دوستوں میں شمار ہونے لگا ۔ ارشاد قدرت ہے:( اخوان الشیاطین ) " یعنی شیطان کے بھائی ہیں (بنی اسرائیل ۲۷) آخر میں انسان خود ہی شیطان بن جاتا ہے: جیسا کہ یہی زیر بحث آیت ہے، "( شیاطین الانس ) " یعنی انسانی شیطان۔

آیت ۱۱۳

( وَلِتَصْغٰی اِلَیْهِ اَفْئِدَةُالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَلِیَرْضَوْهُ وَلِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور (شیطان صفت لوگوں کے نعروں اور وسوسوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے) کہ ان کے دلوں کے کان جو کہ قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ان لوگوں کی باتوں کے سپردہو جاتے ہیں او روہ انہیں پسند کرتے اور اپنی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہونے لگتے ہیں۔ جن کے وہ اس سے پہلے مرتکب ہو اکرتے تھے۔ (جس کے نتیجہ میں وہ بھی تاریخ کے خلاف ورزی کرنے والوں کے انجام سے دو چارہوجاتے ہیں)

دو نکات:

" تصغی" کا کلمہ"صخو" سے ہے جس کا معنی ہے تمایل پیداکرنا ایسا تمایل جو کانوں کے ذریعہ سننے کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔

"( اقتراف ) "کامعنی ہے کمانا اور حاصل کرنا۔

پیام:

۱ ۔ صرف نعرے ، وسوسے اور پروپیگنڈے ہی گمراہی کا عامل نہیں ہوتے بلکہ کان لگا کر سننا ، دل لگا کر قبول کرنا ، جذب ہو جانا او رراضی ہونابھی موثرہوتا ہے۔( لتصخی--لیرضوه )

۲ ۔ انسان کی گمراہی کا راستہ عام طور پر یوں ہوتا ہے ۔ سننا ، راضی ہونا پسند کرنا اور واردعمل ہونا۔( لتصخی، لیر ضوه- لیقترفوا )

۳ ۔ شیطان او راس کے وسوسے صرف ان لوگوں کے دلوں میں اثر کرتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔( لایوٴمنون بالاخرة ) معاد او رآخرت پر ایمان دوسروں میں جذب ہو جانے سے مانع ہوتا ہے۔

آیت ۱۱۴

( اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَکَمًاوَّهُوَالَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفُصَّلًاط وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْکِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّه مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ آیا (دین کے تمام دلائل کے ہوتے ہوئے بھی ) خد اکے علاوہ کسی او رکو اپنا داور اور حاکم مان لوں؟

جبکہ اسی نے ہی تو تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب کو نازل کیا ہے۔ او رجن(یہود و نصاری) کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب حق ہے اور تیرے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ پس تو شک او رتردید کرنے والوں میں سے نہ ہو جا۔

چند نکات:

"حکم" کو بعض مفسرین نے "حاکم " کے ہم معنی مراد لیا ہے۔ لیکن بعض دوسرے مفسرین کہتے ہیں کہ"حکم" وہ ہوتا ہے جسے مقدمہ کے دونوں فریق اپنے فیصلہ کے لئے منتخب کریں۔ لیکن "حاکم "ہر طرح فیصلہ کرنے والے کو کہتے ہیں۔ (تفسیر نمونہ منقول ازتفسیر المنار)

تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ "حکم" وہ ہو تا ہے جو برحق فیصلے کرے جبکہ "حاکم" ہر قاضی کو کہتے ہیں۔

چند آیات پہلے یہ بات ہوئی تھی کہ اگر ان لوگوں کے پا س فرشتے بھی آجائیں او رمردے بھی باتیں کرنے لگیں پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ اور یہ آیت کہتی ہے کہ"اہل کتاب"قرآن کو وحی سمجھتے تھے نصاریٰ کی طرف سے دوسرے معجزات کا مطالبہ صرف ایک بہانہ تھا۔

پیغمبر اکرم کو اپنے مشن میں ذرہ بھر شک وتردید نہیں تھی، لا تکونن"کا خطاب مسلمانوں کو متنبہہ کرنے کے لئے ہے کہ ہر گز اپنے دل میں شک کا گزر نہ ہونے دیں۔

پیام:

۱ ۔ خدا کے علاوہ کسی کو نہ تو قانون بنانے کا حق ہے او رنہ ہی فیصلہ کرنے کا( افخیرالله اتبخی حکما )

۲ ۔ اسلام کے قوانین و احکام میں ابہام نہیں ہے( مفصلا )

۳ ۔ اسلام کی حقانیت کے دلائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سابقہ انبیاء توریت اور انجیل نے بھی اس بارے میں بشارتیں دی ہیں( یعلمون انه منزل من ربک )

۴ ۔ اہل کتاب پیغمبر اسلام کو بھی اور قرآن مجید کو بھی بڑی گہری نظر سے پہچانتے تھے( یعلمون انه منزل ) ۳۷

۵ ۔ رہبر کو چاہئیے کہ دل میں کسی قسم کا شبہ پیدا کئے بغیرڈٹ کراپنے سلسلہ دعوت و تبلیغ کو جاری رکھے( فلا تکونن- )

آیت ۱۱۵

( وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقًا وَّ عَدْلَا ط لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِه وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) ۔

ترجمہ۔ اور تیرے پروردگار کا کلام صداقت او رعدالت کی تما م و کمال حد تک پہنچ گیا، اس کے کلمات کو کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکتا اور وہ سننے اور جاننے والاہے۔

ایک نکتہ:

قرآن مجید میں "کلمہ" کئی معانی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ۔ ۱ ۔ حتمی وعدہ : مثلاً( وتمت کلمت ربک الحسنی علی بنی اسرائیل بما صبروا ) "یعنی بنی اسرائیل نے چونکہ صبرکیا تھا اس لئے تیرے رب کا نیک وعدہ ان کے لئے پورا ہوگیا (اعراف ۱۳۷) یہاں بنی اسرائیل کے صبر کی وجہ سے وعدہ الہی کے پورا ہونے کو بیان کیا گیا ہے۔

۲ ۔ دین ۔ جیسے "کلمتہ اللہ " یعنی خد اکا دین او رکلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ۔

۳ ۔ خدا کا بنی ۔ یا اولیاء اللہ ۔ کیلئے بھی استعمال ہو اہے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتاہے۔۔۔( کلمته القهاالی مریم ) " یعنی حضرت عیسیٰ خد اکے رسو ل اور اسی کے کلمہ ہیں جسے اللہ نے مریم کی طرف القافرمایا۔ (نساء ۱۷۰) نیز روایات میں ائمہ اطہار علیہم السلام کی زبانی یہ ارشاد ات موجود ہیں کہ : "نحن الکلمات التامات " یعنی ہم خد اکے کلمات تامہ ہیں۔

پیام:

۱ ۔ دین اسلام میں قرآن مجید کامل او رتمام ہے۔( تمت کلمت ربک )

۲ ۔ الہی دین کی تمام خبریں سچ او رتمام احکام عدل پر مبنی ہیں( صدقاوعدلا ) ۳۸

۳ ۔ خدا کے وعدے او رطریقہ کار نہیں بدل سکتے( لا مبدل لکلماته )

۴ ۔ قرآن مجید میں تحریف نہیں ہو سکتی( لا مبدل لکلماته )

آیت ۱۱۶

( وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِطاِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلاَّ الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور اگر تم روئے زمین کے بہت سے افراد کی پیروی کرو گے تو تمہیں راہ خدا سے منحرف اور گمراہ کر دیں گے۔ کیونکہ وہ بھی گمان کے علاوہ کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے او راپنے گمان اور تخمینے ہی سے کام لیتے رہتے ہیں،

ایک نکتہ:

"خرص" کا معنی ہے تخمینہ لگانا او رحد س و گمان سے کام لینا ، پہلے تو اس کا استعمال درخت پر موجود پھل کی مقدارکا تخمینہ لگانے کے لئے ہوتا تھا بعد میں ہر طرح کے تخمینے کے لئے استعمال ہونے لگا ، چونکہ بعض تخمینے غلط بھی ثابت ہوتے ہیں لہذا جھوٹ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے (تفسیر نمونہ)

پیام:

۱ ۔ جھوٹ کا بازار ہمیشہ گرم رہتا ہے عوام الناس کی اکثریت کا کاروبار برہان اور منطق کی بنیاد پر نہیں ہوتا جبکہ حق او ربرہان کے بازار میں ہمیشہ مندی رہتی ہے او روہ ہر وقت کساد بازاری کا شکار رہتے ہیں۔( اکثر من فی الارض یضلوک )

۲ ۔ گمراہیوں کی بنیاد حد س و گمان پر اعتماد کرنے پر استوار ہوتی ہے( یضلوک--ان یتبحون الا الظن )

۳ ۔ اکثریت کو خوش کرنے کی خاطر ان کی پیروی کیلئے کسی قسم کا اقدام بھی انسان کی تباہی اور گمراہی کا موجب ہو سکتا ہے،( ان تطع --یضلوک )

۴ ۔ اکثریت ، حقانیت کی دلیل نہیں ہے۔ معیار حق ہے تعداد نہیں ، کیفیت کمیت پر مقدم ہوتی ہے۔ (بندوں کو گنا نہیں تولا کرتے ہیں۔ از مترجم)

۵ ۔ اکثریت بعض اوقات اس حد تک جلوہ گرہوتی ہے کہ پیغمبر کو بھی اس کی طرف متوجہ کرانا پڑتا ہے۔

۶ ۔ جس اکثریت کی بنیاد یں حق او ر برہان کی بجائے تخمین او رہوس پر استوار ہوں وہ قابل مذمت ہے۔( ان هم الا یخرصون )

۷ ۔ راستہ اختیار کرنے کے لئے دلیل و برہان لازم ہوتی ہے حدس و قیاس اور استحسان نہیں۔( ان یتبعون الا الظن----یخرصون )

آیت ۱۱۷

( اِنَّ رَبَّکَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِه وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ یقینا تمہارا پروردگار ان لوگوں کو اچھی طرح جانتاہے جو اس کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں اور وہ ہدایت یافتہ لوگوں سے( بھی) اچھی طرح واقف ہے۔

ایک نکتہ:

"مھدی"اور "مھتدی ‘ ‘ میں فرق ؟ فرق یہ ہے کہ مھدی جیسے امام معصوم ہوتے ہیں ۔ جو روز اول ہی سے خد اکی طرف سے ہدایت یافتہ ہوتے ہیں ۔ جبکہ مھتدی وہ ہوتا ہے جو پہلے گمراہی کا شکار رہا ہو پھر ہدایت حاصل کرے (از تفسیر اطیب البیان)

پیام:

۱ ۔ انسان کو عقل ، تجربہ او رمشورہ سے پہچاننے سے محدورنتیجہ حاصل ہوتا ہے، او رخدا حقیقی انسان شناس ہے۔ انسان ہزار طرح کے ذریعے اختیار کر کے صرف "عالم" بن سکتا ہے جبکہ خدا وند عالم کسی بھی ذریعہ کو اختیار کئے بغیر "اعلم" ہے۔

۲ ۔ ریا کاری ‘ ظاہر سازی اور چاپلوسی سے نہ تو خود کو دھوکہ دو او رنہ ہی دوسروں کو کیونکہ خد اہر ایک کو اچھی طرح جانتا ہے۔( هوا علم من یضل---- )

آیت ۱۱۸

( فَکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَاسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ کُنْتُمْ بِاٰیٰتِه مُؤْمِنِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ پس اگر خد اکی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو ان (جانوروں کے گوشت) سے کھاؤ جن پر ( ذبح کے وقت) خدا کانا م لیا گیاہے۔

دو نکات:

جانور کو ذبح کرتے وقت خد اکا نام لینا، مادیات کو ایک طرح کا بچاؤ دینا اور ایمان کا اظہار کرنا ہے ویسے تو ہر کام میں خد ا کو یاد کرنا اچھی با ت ہے لیکن جانور کو ذبح کرتے وقت جبکہ اس کی جان لینے کا موقع ہوتا ہے اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے

ذبح جو ایک جزوی امر ہے، اس کے لئے بھی بہت سی شرائط کا لحاظ رکھا گیا ہے (مثلاً صرف خدا کا نام لیا جائے کسی اور کا نہیں ذبح کرنے والا مسلمان ہونہ کہ کافر ، رخ قبلہ کی طرف ہوکسی او رسمت کو نہیں، لوہے کے ساتھ ذبح کیا جائے کسی اور چیز کے ساتھ نہیں ، ذبح کیا جائے گلہ نہ دبایا جائے وغیرہ) اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ملت اسلامیہ کے لئے تمام امور میں خدا کی بتائی ہوئی جہت او ردیا ہوا دین پیش نظر رہنا چاہئیے۔

پیام:

۱ ۔ مومن کی خوراک او رغذا کو جچا تلا ہونا چاہئے۔( ذکر اسم الله )

۲ ۔ خدا کا نام گوشت کے استعمال کیلئے جائز ہونے کی مہر اور مصرف کا اجازت نامہ ہوتا ہے( کلو امما-- )

۳ ۔ توحید کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے ہر فرصت سے فائدہ اٹھانا چاہئے ، حتی کہ غذاکے طور پر استعمال کرنے کے لئے گوشت حاصل کرنے کے موقع پر جانور کو ذبح کرتے وقت بھی توحید کو ہی پیش نظر رکھا جائے۔ کیونکہ توحید صرف ایک ذہنی مسئلہ نہیں ہے،

۴ ۔ حلال غذا کا استعمال ، ایمان کی شرط اور علامت ہے( ان کنتم بایاته موٴمنین )

۵ ۔ اسلام ایک ایسا جامع دین ہے جس نے ذبح جیسے ایک جزوی مسئلہ کے لئے بھی تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھا ہے۔ دین کہ خدا کا نام لیا جائے۔ ذبح کے آلہ کو کہ لوہا ہو، ذبح کے انداز کو ، چار رگوں کو کاٹا جائے ، امت کو، کہ ذبح کرنے والا مسلمان ہو، اور سمت کو ، کہ قبلہ کی طرف ہو۔

آیت ۱۱۹

( وَمَا لَکُمْ اَلَّا تَاْکُلُوْا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْ تُمْ اِلَیْهِط وَاِنَّ کَثِیْرَا لِّیُضِلُّوْنَ بَاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍط اِنَّ رَبَّکَ هُوَاَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ اس ذبح سے تم نہیں کھاتے جس پر خدا کا نام لیا گیا ہے؟ (اور ہمارے حلال کردہ کو بغیر کسی وجہ کے حرام کرتے ہو) حالانکہ خداوند عالم نے خود ہی تفصیل کے ساتھ تمہارے لئے ان چیزوں کو بیان کر دیا ہے جو حرام ہیں، (اور تمہارے حرام کرنے کی ضرورت نہیں ہے) جہاں تم مجبور ہو جاؤ تو پھر حرام چیزوں کا استعمال تمہارے لئے جائز ہے، اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ بہت سے لوگ جہالت کی بنا پر اپنی خواہشات کے مطابق دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں۔ یقین جانو کہ تمہارا پروردگار حد سے تجاوز کرنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔

ایک نکتہ:

کچھ لوگ ایسے تھے اور ہیں جو ذبح کئے ہوئے اور مردہ جانور کے درمیان تقابل کرتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کہتے ہیں: "آخر کیا وجہ ہے کہ جو جانور ہم ذبح کریں وہ حلال ہے اور جسے خدا موت دے وہ حرام ہے؟( لیضلون باهوائهم )

پیام:

۱ ۔ بے بنیاد طریقہ پر کسی چیز کو حرام کرنا قابل مذمت ہے، جس طرح حرام کو حلال کرنا ممنوع ہے اسی طرح حلال کو حرام کرنا بھی ممنوع اور ناجائز ہے( وما لکم )

آیت ۱۲۰

( وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ الَّذِینَ یَکْسِبُونَ الْإِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُوا یَقْتَرِفُونَ )

ترجمہ۔ اور آشکار اور پنہائی گناہ کو ترک کر دو (جسم اور فکر کے گناہ کو) یقینا جو لوگ گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں وہ بہت جلد اپنے گناہ کے ارتکاب کی سزا پائیں گے۔

دو نکات:

۔ زمانہ جاہلیت ہو یا دور حاضر زمانے کے بتہرے لوگ آشکارا اور ظاہری گناہوں سے ڈرتے چلے آرہے ہیں۔

۔ ظاہری اور باطنی گناہوں کے بہت سے مصداق بتائے گئے ہیں۔ مثلاً ظاہری گناہ وہ ہوتے ہیں جن کے خطرناک نتائج فوراً اور فوراً اور ہر شخص کے لئے واضح ہو جاتے ہیں اور باطنی گناہ وہ ہوتے ہیں جو اس کے برعکس ہیں۔ مثلاً وہ غذائیں جو سنگدلی کا باعث بنتی ہیں۔

پیام:

۱ ۔ گناہ میں ایک طرح کی جاذبیت اور کشش ہوتی ہے جس کو ایک محکم اور قطعی ارادے کے ساتھ دل سے نکال دینا چاہیے۔( ذورا )

۲ ۔ خدا کی طرف سے سزا صرف ان گناہوں پر ملتی ہے جو جان بوجھ کر اور علم وارادے سے کئے جائیں۔( یکسبون )

۳ ۔ اسلام کی توجہ ظاہری تربیت اور طہارت پر بھی ہے اور باطنی پر بھی۔ چنانچہ پاک دل کے لوگ ہوں یا منافق لوگ جو ظاہر کی پابندی نہیں کرتے اسلان ان پر کڑی تنقید کرتا ہے۔( ظاهرالائم و باطنه )

۴ ۔ انسان گناہ کے ارتکاب میں آزاد ہے۔( یکسبون )

۵ ۔ قیامت اور آخرت کی سزا زیادہ دور نہیں۔( سیجزون )


آیت ۱۲۱

( وَلاَتَأْکُلُوا مِمَّا لَمْ یُذْکَرْ اسْمُ اللهِ عَلَیْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّیَاطِینَ لَیُوحُونَ إِلَی أَوْلِیَائِهِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُونَ )

ترجمہ۔ اور (ذبح یا نحر کے وقت) جن چیزوں پر خدا کا نام نہیں لیا گیااسے نہ کھاؤ۔ کیونکہ یقینی بات ہے کہ یہ فسق(مدار بندگی سے نکل جاتا) ہے۔ بے شک شیطان اپنے (وسوسہ پذیر) دوستوں کو القا کرتے ہیں تاکہ وہ تمہارے ساتھ لڑنے کے لئے تیار ہو جائیں (کہ مردہ یا ذبیحہ میں کیا فرق ہے؟) اور اگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو یقینا تم بھی مشرک ہو جاؤ گے۔

چند نکات:

چونکہ حرام خواری دل کی سختی یا سنگدلی کا باعث ہوتی ہے۔ اور دوسرے بڑے گناہوں کے لئے زمین ہموار کرتی ہے۔ لہٰذا اسلام نے اس سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔

سورہ مائدہ کی پانچویں آیت میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے۔ اور یہ آیت کہتی ہے کہ جس جانور پر ذبح کے وقت خدا کا نام نہ لیا جائے اس کا گوشت حرام ہے۔ چونکہ اہلِ کتاب اس شرط کی پابندی نہیں کرتے لہٰذا ن کے جانوروں کا گوشت ہمارے لئے حرام ہوگا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آیت میں طعام سے مراد غلہا ور اس کی مانند دوسری خشک چیزیں ہیں نہ کہ گوشت۔ (تفسیر المیزان)

۔ جن و انس کے شیطانوں کا وسوسہ اس طرح ہوتا ہے کہ "مردہ جانور کو خدا نے موت دی ہے۔ لہٰذا خدا کا مارا ہوا انسان کے مارے ہوئے سے بہتر ہے۔ لیکن وہ اس نکتہ سے غافل ہیں کہ مردہ جانور کے بدن سے کثیف اور غلیظ خون باہر نہ نکلنے کی وجہ سے عام طور پر کئی طرح کی بیماریاں اس کے ہمراہ ہوتی ہے۔

پیام:

۱ ۔ مسلمان کو چاہیئے کہ وہ خوراک کے مسائل اور طعام کے ایک لقمہ کی حد تک بھی دینی پابندی اور اعتقادی اور عملی حدود کو پیشِ نظر رکھے۔( لاتاکاکلوا )

۲ ۔ ذبح کے وقت خدا کا نام لینا صرف تکلف کی حد تک نہیں ہے بلکہ ایک ایسا حکم ہے جس کی تکمیل واجب اور جس کی خلاف ورزی جرم ہے۔( انه لفسق )

۳ ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان صرف ایک ناجائز لقمے کی وجہ سے فاسق ہو جاتا ہے۔( انه فسق )

۴ ۔ شیاطین میں الہام اور القاء کی قدرت موجود ہے۔( لیوحون )

۵ ۔ شیطانی وسوفہ صرف ان کے اولیاء (دوستوں) پر اثر کرتا ہے۔ اولیاء اللہ پہ اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔( اولیائهم )

۶ ۔ احکام الٰہی میں لڑنا جھگڑنا اور کج بحثی کرنا ایک شیطانی حربہ ہے۔( لیجادلوکم )

۷ ۔ انسان "آزادانہ استعمال" کے نتیجہ میں شیطانی القاء کی راہیں ہموار کرتا ہے۔( لیوجون )

۸ ۔ جزوی مسائل میں جدال اور بحث و مباحثہ انسان کو شرک کی حدود تک پہنچاتا ہے۔( لمشرکون )

۹ ۔ لڑائی جھگڑے اور بحث مباحثہ کا موجب وسوسے اور خواہشات ہوتی ہیں۔( الیوحون- لیجادلوکم )

۱۰ ۔ خدا پرست بھی اگر عمل کی راہ میں غیر اللہ کی اطاعت کریں گے، مشرک ہو جائیں گے۔( انکم لمشرکون )

آیت ۱۲۲

( أَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَأَحْیَیْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا یَمْشِی بِهِ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَثَلُهُ فِی الظُّلُمَاتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا کَذَلِکَ زُیِّنَ لِلْکَافِرِینَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ )

ترجمہ۔ آیا جا شخص (جہالت اور شرک کی موت) مر چکا تھا اور ہم نے اسے (اپنی ہدایت کی بدولت )زندہ کردیا۔ اور اُس کے لئے ایک نور قرار دے دیا جس کے ساتھ وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے۔ اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو (جہالت اور شرک کی) تاریکیوں میں (ڈوبا ہوا) ہے۔ اور اس سے نکل ہی نہیں سکتا ہے۔ کافروں کے لئے اسی طرح ان کے اعمال مزین کر دئیے گئے ہیں۔

ایک نکتہ:

۔ یہ آیت حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ کے ایمان لانے کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب حضرت حمزہ کو معلوم ہوا کہ ابوجہل نے حضرت رسول کو سخت اذیت پہنچائی ہے تو فوراً اس کے پیچھے گیا ور جب وہ مل گیا تو انہوں نے ابوجہل کے سر پر ایک زور دار مکال رسید کر دیا۔ پھر فرمانے لگے ۔ "میں آج سے محمد پر ایمان لا رہا ہوں" چنانچہ اس وقت سے آخر عمر تک اسلام کے ایک مومن اور جری فوجی سردار بن کر رہے۔

پیام:

۱ ۔ کفر، موت ہے اور ایمان زندگی۔ ایمان مردہ انسانوں اور معاشروں کو زندہ کرتا ہے، انسان کی حقیقی زندگی اور موت۔ ایمان اور کفر ہے۔( میتا- فاحینیاه ) ۴۰

۲ ۔ ہدایت اور رہنمائی خدا کا کام ہے۔ ہر چند کے خود انسان ہدایت کی راہیں ہموار کرتا ہے۔( احینیاه )

۳ ۔ مومن کی راہ میں ہرگز رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی۔( نورایمشی )

۴ ۔ جب روشنی نہ ہو تو طرح طرح کی تاریکیاں انسان کو اپنے گھیرے میں لے لیتی ہیں۔( فی الظلمات )

۵ ۔ حق ایک ہے و ر باطل ڈھیروں ہیں۔ ( "نور" مفرد ہے اور "ظلمات " جمع )

۶ ۔ روایات ہیں کہ امامت اور الٰہی رہبری "نور" کا ایک مکمل مصداق ہے۔ ۱

۷ ۔ نور ایمان اور الٰہی ہدایت کے بغیر انسان کے لئے کوئی اور چیز حیات بخش نہیں ہے۔( لیس نجارج منها )

۸ ۔ انسان کے کارنامے اس کی نگاہا ور فکر میں موثر ہوتے ہیں۔( زین-- کانو ایعملون )

۹ ۔ کفار کے پرکشش کارنامے مثلاً نئی ایجادات، انکشافات، ٹیکنالوجی، تمدن وغیرہ ان کے لئے اس قدر خوبصورت اور مزین ہوچکے ہیں کہ انہیں اپنی گمراہی اور اپنی انسانیت کے انحطاط و سقوط کا بھی احساس نہیں رہا۔( زین للکافرین ما کانوا یعملون- )

آیت ۱۲۳

( وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا فِی کُلِّ قَرْیَةٍ أَکَابِرَ مُجْرِمِیهَا لِیَمْکُرُوا فِیهَا وَمَا یَمْکُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِهِمْ وَمَا یَشْعُرُونَ )

ترجمہ۔ اور اسی طرح ہم نے ہر بستی (آبادی) میں بڑے مجرم مقرر کئے ہیں جو وہاں پر مکر وحیلوں سے کام لیتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے علاوہ کسی اور کے ساتھ مکاری نہیں کرتے اور اس بات کو سمجھتے بھی نہیں۔

دو نکات:

اس سے پہلی آیت کے شان نزول میں ابوجہل کی اسلام کے ساتھ شیزہ کاری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اور اس آیت میں خدا یہ بتانا چاہتا ہے کہ "ابوجہلوں" کا وجود کوئی نئی بات نہیں۔ ہمیشہ اور ہر جگہ دعوتِ حق کے مقابلے میں ایسے فاسد مہرے موجود چلے آرہے ہیں۔( کذالک )

۔ حق اور باطل اور ان کے طرفداروں کی آویزشیں ازل سے چلی آرہی ہیں۔ اور یہ ایک طرقہ کار قدرت ہے جو ان کے اختیار کے منافی بھی نہیں ہے۔ اسی لیے سابقہ آیت میں انسان کی نورخدا کی روشنی میں حرکت کرنے کو اپنی طرف نسبت دی ہے۔ اور فرمایا ہے۔ "وجعلنا" اور اس آیت میں بزرگ مومنین کے وجود کو اپنی طرف نسبت دے کر کہا۔( وجعلنا فی کل قریة اکابرمجرمیها ) گویا "نور" اور "مجرم" کا وجود دونون ہی قدرت خداوندی کے مدار میں ہیں۔

پیام:

۱ ۔ نیک اور بد لوگوں کی تمام سرگرمیاں مدار قدرت خداوندی سے باہر نہیں۔( جعلنا )

۲ ۔ فاسد اور مفسد سردار ہی حق شرہ میں فساد کی جڑیں ہین۔ (یعنی مالی، فوجی، فکری اور سیاسی مراکز میں یہی "رکابر" ہی تمام برائیوں، بدبختیوں اور تباہیوں کا سرچشمہ ہیں۔)

۳ ۔ شاطرانہ چالیں اور طرح طرح کی زیرنگیاں انہی مفسد سرداروں کا حربہ ہیں۔( لیمکروا )

۴ ۔ صدق و صفا جیسے جوہر کو ضائع کرکے خدائی قہر و غضب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہی ایک بہت بڑی ضرب ہے جو یہ مکار لوگ اپنے آپ لگاتے ہیں۔

۵ ۔ ہر یبماری سے بدتر بیماری کو نہ جاننا ہے اور مکر و فریب سے بدتر اس بات کو نہ سمجھنا ہے کہ اس مضر اثرات خود مکار اور فریبی ہی کی طرح پلٹ جاتے ہیں۔( وما یشعرون )

آیت ۱۲۴

( وَإِذَا جَائَتْهُمْ آیَةٌ قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّی نُؤْتَی مِثْلَ مَا أُوتِیَ رُسُلُ اللهِ اللهُ أَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَیُصِیبُ الَّذِینَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِنْدَ اللهِ وَعَذَابٌ شَدِیدٌ بِمَا کَانُوا یَمْکُرُونَ )

ترجمہ: اور جب (خدا کی طرف سے ان کی ہدایت کیلئے) کوئی آیت اور نشانی نازل ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہمیں بھی وہی کچھ عطا نہ کیا جائے جو خدا کے رسولوں کو (وحی کا شرف یا اجتماعی رتبہ) دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں (اور کس میں) مقرر کرے۔ جن لوگوں نے (مکر و فریب جیسے) جرم کئے ہیں بہت جلد ہی انہیں ان کے حیلوں فریبوں کی سزا ذلت و خوایر اور سخت عذاب (کی صورت)میں ملے گی۔

ایک نکتہ:

اس آیت کے شانِ نزول میں بتایا گیا ہے کہ کفار کا نام نہاد بڑا سمجھدار اور باشعور شخص ولید بن مغیرہ کہا کرتا تھا "چونکہ میری عمر اور دولت محمد سے زیادہ ہے لہٰذا مجھ پر بھی وحی آنی چاہیے۔" اور اس قسم کی باتیں ابوجہل سے بھی منقول ہیں۔

پیام:

۱ ۔ صاحبان مال و اقتدار میں سے بڑے بڑے افراد کسی منطقی دلیل کے بغیر صرف اپنی "چودھراہٹ" کی وجہ سے دعوت اسلام کو ٹھکرا دیا کرتے ہیں۔( قالوا لن موٴمن )

۲ ۔ مجرمین ہی غرور و تکبر کا شکار ہوتے ہیں۔ (سابقہ آیت میں "( اکابرمجرمیها ) " ہے اور اس آیت میں "( لن موٴمن ) " ہے۔) ۴۱

۳ ۔ خدا کا کسی منصوب اور مقرر کرنا، اس امر کی حکمت کے تحت ہوتا ہے۔( الله اعلم حیث یجعل رسالته )

۴ ۔ خداوند اعلم کے انتخاب کا معیار کسی کی لیاقت اور شائستگی کے بارے میں اس کا علم ہے۔( الله اعلم )

۵ ۔ استکبار کا نتیجہ ذلت ہی ہے۔( لن موٴمن- صغار )

۶ ۔ کفار کے کچھ سردار "بدر" میں مارے گئے جس سے خدائی وعدہ کی تعمیل ہوگئی اور وہ ذلت کا شکار ہوگئے۔

آیت ۱۲۵

( فَمَنْ یُرِدْ اللهُ أَنْ یَهدِیَهُ یَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلاَمِ وَمَنْ یُرِدْ أَنْ یُضِلَّهُ یَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَیِّقًا حَرَجًا کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَاءِ کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللهُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔

ترجمہ: پس خدا جس کو ہدایت کرنا چاہتا ہے تو اس کے سینہ اور روح کو اسلام (کی قبولیت) کیل ئے کشادہ کر دیتا ہے۔ اور جس کو (اس کے ناشائستہ اعمال اور خصلتوں کی وجہ سے) گمراہ کرنا چاہتا ہے تو اس کے سینہ کو تنگ اور قبول نہ کرنے والا دشوار گزار بنا دیتا ہے۔ گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہو (کہ زمین کو اپنے پیروں سے نکلتا ہوا اور راہ کو دور دیکھتا ہے اور کافی حد تک آکسیجن بھی اپنے پاس نہیں رکھتا) اللہ تعالیٰ اسی طرح پلیدی کو ان لوگوں کے لئے قرار دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ ۴۲

دو نکات:

۔ خدا کی ہدایت اور گمراہی سے مراد شائستہ اور اہل لوگوں کے لئے اسبابِ ہدایت کا فراہم کرنا اور ناشائستہ اور نااہل افراد کے لئے اسباب ہدایت کا سلب کرنا ہے۔

۔ "صدر" (سینہ) سے مراد روح اور دل ہے۔ اور "شرح صدر" سے مراد حق اور ہدایت کو قبول کرنے کے لئے تحصل و فکر کے افق کی وسعت اور روح کی بلندی ہے۔ اور اس کے لئے نفسانی خواہشات اور دلی آرزوؤں کی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو شرح صدر کا حامل نہیں ہوتا وہ ہمیشہ ایک ہی خول میں پڑا رہتا ہے۔ اور اس سے باہر نہیں نکل سکتا۔ شرح صدر کا نتیجہ ایک تو بصیرت اور نورانیت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور دوسرے نرم دلی اور حق کو قبول کرنے کی صورت میں۔

پیام:

۱ ۔ حق کو قبول کرنے کے لیے وسعت ظرفی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور دوسرے تہہ دل سے اس کے لئے راہ ہموار کرنا پڑتی ہے۔( نشرح صدره )

۲ ۔ جو حق کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا وہ آسمان کی طرف پرواز نہیں کرسکتا۔( یصعد فی اسماء )

۳ ۔ فطرت، عقل اور طبعی امور کے مدار سے نکل جانے کا نتیجہ سینے کی تنگی اور گھٹن ہوتا ہے۔( یصعد فی اسماء )

۴ ۔ گمراہ لوگ ہر چند کے بظاہر اپنے آپ کو کشادہ حالی اور ترقی کی صورت میں دیکھیں درحقیقت وہ ذہنی دباؤ اور قلبی تنگی کا شکار ہوتے ہیں۔( فیقا حرجا )

۵ ۔ بے حوصلہ اور کم ظرف ہونا ایک طرح کی روحانی نجاست اور غلاظت ہوتی ہے۔( یجعل الرجس )

۶ ۔ جو حق پر ایمان نہیں لاتا وہ تدریجی طور پر غلیظ اور آلودہ ہوجاتا ہے۔( کذالک یجعل الرجس )

آیت ۱۲۶

( وَهَذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسْتَقِیمًا قَدْ فَصَّلْنَا الْآیَاتِ ) ( لِقَوْمٍ یَذَّکَّرُونَ )

ترجمہ: اور یہ ہے یترے رب کا سیدھا راستہ۔ یقینا ہم نے اپنی آیات کو ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔

دو نکات:

۔ خاوند عالم کا قدیم سے یہی طریقہ کار چلا آرہا ہے کہ حق کو قبول کرنے والے پاک دل لوگوں کے سینے کو کشادہ کر دیتا ہے اور ایمان سے گریز کرنے والے ہٹ دھرم لوگوں کو سلب توفیق اور رجس جیسی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔

۔ ممکن ہے کہ "ھذا" کا اشارہ "اسلام" کے لفظ کی طرف ہو۔ (جو اس سے پہلے آیت میں ذکر ہو چکا ہے۔ "للاسلام" )

پیام:

۱ ۔ خدا کے رستے کے علاوہ باقی تمام راستے یا منزل مقصود تک نہیں لے جاتے یا پھر آگے جا کر بند ہو جاتے ہیں۔( وهذا صراط ربک )

۲ ۔ یاد دہانی ا ور نصیحت کے لئے تنوع، تفصیل اور تکرار ضروری ہوتا ہے۔( فصلنا )

۳ ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک پر اپنی حجت تمام کر دی ہے اگر کوئی اہل توجہ ہو۔ حق کی تمام آیات اور نشانیاں مختلف انداز میں بیان کرکے واضح کر دی گئی ہیں۔( لقوم یذکرون )

آیت ۱۲۷

( لَهُمْ دَارُ السَّلاَمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ )

ترجمہ: ان کے لئے رب کے نزدیک امن اور آسودگی کا گھر ہوگا، اور وہ ان کا سرپرست اور حامی ہوگا کیونکہ وہ (نیک) اعمال انجام دیتے رہے۔

پیام:

۱ ۔ بہشت میں کسی دشمنی، رقابت، ضدبازی، تہمت، حسد، کینہ، جھوٹ، غم، اندوہ کسی قسم کی بے چینی، موت، بیماری، غربت اور ناداری وغیرہ نہیں ہے۔ (دارالسلام)

۲ ۔ امن و سلامتی کی نعمت سے بھی بالاتر ایک اور نعمت ہے اور وہ پروردگار کے مخصوص سایہ الطاف میں رہنا۔( عندربهم )

۳ ۔ الٰہی ولایت اور امان تک رسائی، عمل کے زیر سایہ حاصل ہوتی ہے۔( بما کانوا یعملون )

آیت ۱۲۸

( وَیَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیعًا یَامَعْشَرَ الْجِنِّ قَدْ اسْتَکْثَرْتُمْ مِنْ الْإِنسِ وَقَالَ أَوْلِیَاؤُهُمْ مِنْ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِی أَجَّلْتَ لَنَا قَالَ النَّارُ مَثْوَاکُمْ خَالِدِینَ فِیهَا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ إِنَّ رَبَّکَ ) ( حَکِیمٌ عَلِیمٌ )

ترجمہ: اور اس دن (کو یاد رکو) جب کہ خداوندعالم سب کو محشور کرے گا (پھر شیاطین جو کہ جنات کو مخاطب کرکے فرمائے گا۔) اے شیطانوں اور جنوں کے گروہ! تم نے بہت سے انسانوں کو اپنا پیروکار پایا۔ ان کے طرفدار انسان کہیں گے۔ پروردگار! اہم انسانوں اور جنوں نے ایکدوسرے فائدہ اٹھایا اور اپنے اس انجام کو پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لئے مقرر کیاتھا۔ خدا فرمائے گا۔ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے جس مین تم ہمیشہ رہو گے، مگر یہ کہ خدا چاہے (کہ تم میں سے کچھ افراد کے گروہ کو بخش دے) یقینا تیرا پروردگار حکیم و دانا ہے۔

ایک نکتہ:

۔ سابقہ آیات (مثلاً ۱۱۲ ۔ ۱۲۱) میں شیطانی کارستانیوں اور وسوسوں کی طرف اشارہ موجود ہے، اس آیت میں شیطانی وسوسوں کو قبول کرنے کا انجام جو کہ جہنم ہے، بیان کیا جارہا ہے۔ ضمنا یہ بات بھی یاد رہے کہ قرآن مجید کے بقول شیطان۔ جنات میں سے ہے، جس جن نے لوگوں کی بڑی تعداد کو گمراہ کیا وہی شیطان ہے۔

پیام:

۱ ۔ شیطان، جنوں میں سے ہے اور جن بھی مکلف اور مختار ہوئے ہیں انہیں بھی سزا اور جزا سے واسطی بڑھے گا۔( یامعشرالجن )

۲ ۔ شیطان لوگوں کے کم گروہوں کو گمراہ کرنے پر راضی نہیں ہے اس نے انسانوں کے بہت سے گروہوں کو گمراہ کیا ہے۔ (قد استرکثرتم من الانس) ۴۳

۳ ۔ قیامت کے دن خدا کی عدالت اور سزا و تنبیہ کھلم کھلا ہوگی۔( نحشرهم---- یامعشرالجن )

۴ ۔ اپنے اعمال کے انجام کے بارے میں بھی سوچو!( ویوم )

۵ ۔ قیامت کے دن تمام انسان اور شیاطین یکجا اکٹھے اور محشور ہوں گے۔( جمعیا )

۶ ۔ شیطانی وسوسوں کی اتباع سے انسان میں آہستہ آہستہ شیطان سے انس اور اس کی حکومت کو تسلیم کرنے کی عادت پیدا ہوجاتی ہے۔( اولیاء هم )

۷ ۔ شیطان کی پیروی کو موجب، بہرہ مندی ہے۔( استمتع )

۸ ۔ انسان آزاد ہے اور اس کو اختیار حاصل ہے کہ کسی کا اثر قبول نہ کرے اور کسی فریب میں نہ آئے۔( بعضنا )

۹ ۔ تمام گمراہ ایک جیسی سزا کے مستحق نہیں ہوں گے اور نہ ہی جہنم میں ہمیشہ رہنے کے( الا ماشاء الله )

۱۰ ۔ خدائی عدالت کے فیصلے علم و حکمت کی بنا پر ہیں۔( علیم حکیم )

آیت ۱۲۹

( وَکَذَلِکَ نُوَلِّی بَعْضَ الظَّالِمِینَ بَعْضًا بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ )

ترجمہ: اور اسی طرح (کہ تمہاری خواہش تھی کہ کامیابی حاصل کرو تو) ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کر دیں گے تاکہ انہیں ان کے کئے کی سزا مل جائے۔)

ایک نکتہ:

۔ روایات کے مطابق امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو ترک کرنے، خمس و زکوٰة اور دیگر شرعی اور واجبات کو ادا نہ کرنے اور ظالموں کی امداد کرنے والوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر ظالموں کا تسلط کر دیا جاتا ہے۔ (تفسیر اطیب البیان)

ایک اور حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے راضٰ ہوتا ہے تو ان کے امور نیک لوگوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ اور اگر ناراض ہوتا ہے تو بُرے لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ (کشف الاسرار)

پیام:

۱ ۔ عیاشی اور لذت کام و دین۔ باطل حکومتوں کے اثرورسوخ اور ظالموں کے مسلط ہو جانے کا موجب ہوتی ہے۔ (استمتع۔۔۔ نولی) جبکہ ظالموں سے نجات کا راستہ لذتوں اور عیاشیوں کو ترک کردینے میں ہوتا ہے۔

۲ ۔ صرف حاکم ہی ظالم نہیں ہوتے، بزدل، ڈرپوک، خاموش اور عیاش محکوم بھی ظالم ہیں۔( بعض الظالمین بعضا )

۳ ۔ ظالموں کے تسلط کا سبب خود لوگوں کا اپنا کردار ہوتا ہے۔( بما کانوایکسبون ) ۴۴

آیت نمبر ۱۳۰

( یَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ هَذَا قَالُوا شَهِدْنَا عَلَی أَنفُسِنَا وَغَرَّتْهُمْ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا وَشَهِدُوا عَلَی أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ کَانُوا کَافِرِینَ ) ۔

ترجمہ: (قیامت ے دن ان سے کہیں گے) اے جن و انس کے گروہ! آیا تمہارے پاس تم میں پیغمبر نہیں آئے تاکہ تمہارے سامنے میری آیات پڑھیں اور تمہیں آج کے اس دن کی ملاقات کے بارے میں ڈرائیں تو وہ کہیں گے: ہم اپنے خلاف گواہی دے رہے ہیں۔ اور دنیوی زندگی نے انہیں فریب دیا تھا اور (اب) خود ہی اپنے خلاف گواہی دیر ہے ہیں کہ بے شک وہ کافر تھے۔

چند نکات:

۔ آیات قرآنی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت محمد اور قرآن مجید جنات کے لئے بھی بھیجے گئے ہیں۔ ا ور وہ قرآن کو بھی سمجھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ مومن بھی ہیں۔ (ملاحظہ قرطبی، طبرسی، مفسرِ الفرقان اور مغرفی ظلال القرآن) کہتے ہیں کہ جنوں کے رسول، انسانوں کے رسولوں سے وحٰ دریافت کرکے اپنی جس کے افراد تک پہنچاتے ہیں۔ (یہ حدیث ابن عباس سے منقول ہے)

"رسول" کا لفظ انسان کے علاوہ دوسروں کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے "( ان الله یصطفی من الملائکة رسلا ) " یعنی خداوندعالم ملائکہ میں سے بھی رسولوں کا انتخاب کرتا ہے۔ (حج/ ۷۰)

۔ اس آیت میں جن و انس کے دو تلخ اقراروں کا تذکرہ ہے، ایک تو یہ کہ وہ اپنی طرف رسولوں کے آنے ک گواہی دیں گے۔ اور دوسرے یہ کہ اپنے کفر کا اعتراف کریں گے۔

۔ قیامت کے مختلف مراحل ہیں۔ ا ور سب سے پہلے مرحلہ میں وہ اپنے کفر و شرک کا انکار کریں گے۔ اور کہیں گے "( والله ماکنا مشرکین ) " یعنی خدا کی قسم ہم مشرک نہیں تھے۔ (انعام/ ۲۳) لیکن جب انہیں معلوم ہو جائے گا کہ انکار ناممکن ہے تو پھر اعتراف کرلیں گے۔

پیام:

جن و انس دونوں، انبیاء کی دعوت کو قبول کرنے کے پابند ہیں اور دونوں قوموں کیلئے رسول آئے ہیں۔( الجن والانس )

۲ ۔ "انذار" (ڈرانا) انسانوں کی تربیت کیلئے طاقتور ترین اور موثر ترین ہتھیار ہے۔( وینذرونکم )

۳ ۔ فرد اور اجتماع (معاشرے) کی اصلاح کیلئے، احکام الٰہی کے اجرا کا طاقتور ترین ضامن معاد اور آخرت پر ایمان ہے۔( الم یاتکم ----ینذرونکم )

۴ ۔ قیامت کے دن کسی بھی بات کو چھپایا نہیں جاسکے گا، اس دن انسان اپنے خلاف بھی گواہی دیں گے۔( شهدواعلیٰ انفسهم )

۵ ۔ عیاشی، آسائش طلبی اور دنیا پرستی، انبیاء کی دعوت سے بے اعتنائی کا موجب ہیں۔( عزتهم الحیاة الدنیا )

۶ ۔ دنیا ہر فریفتگی، آخرت کی فراموشی کا موجب ہاتی ہے۔( عزتهم -- یمکم هذا )

۷ ۔ دنیا کے ساتھ محبت انسان کو کفر تک لے جاسکتی ہے۔( عزتهم -- کافرین )

آیت ۱۳۱

( ذَلِکَ أَنْ لَمْ یَکُنْ رَبُّکَ مُهْلِکَ الْقُرَی بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُونَ )

ترجمہ۔ یہ (تمام حجت اور تنبیہ) اس لئے ہے کہ تمہارا پروردگار ظلم کی بناء پر ایسی آبادیوں کو ہرگز ہلاک نہیں کرتا جن کے رہنے والے غافل ہوں۔ (اللہ تعالیٰ پہلے تولوگوں کو غفلت اور جہالت سے باہر نکلتا ہے اور اپنے پیغمبروں کے ذریعے انہیں خبردار کرتا ہے اگر وہ پھر بھی قبول نہیں نہ کریں تو ہلاک کر دیتا ہے۔

ایک نکتہ:

۔ خداوندعالم کا ایک طریقہ کار یہ ہے کہ انبیاء بھیج کر لوگوں کو خبردار کرتا ہے۔ انہیں "راہ" اور "چاہ" کے درمیان فرق بتاتا ہے۔ حقائق کو اُن پر واضح کرتا ہے اور اپنی حجت ان پر تمام کر دیتا ہے۔ (اگر پھر بھی وہ نہ سمجھیں اور بے اعتنائی کا ثبوت دیں تو پھر انہیں سزا دیتا ہے۔ خدا کا یہ دیرینہ قانون اور طریقہ کار قرآن کی متعدد آیات میں بیان ہوا ہے۔ منجملہ ان کے سورہ شعرأ/ ۲۰۸ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے "( وما اهلکنا من قریة الاولها منذرون ) " یعنی ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ وہاں کے لوگوں کے پاس ڈرانے والے موجود تھے۔ اسی طرح سورہ بنی اسرائیل / ۱۵ میں ہے کہ "وما کنا معتدبین حتی نبعث رسولا" یعنی جب تک کوئی رسول نہ بھیج لیں اس وقت تک عذاب نہیں کرتے۔

پیام:

۱ ۔ خدا کی سزائیں، اس کے رب ہونے کی وجہ سے ہیں۔( ربک )

۲ ۔ بیان کئے اور خبردار کئے بغیر عذاب اور سزا دینا ظلم ہے اور بُری بات ہے۔

آیت ۱۳۲

( وَلِکُلٍّ دَرَجَاتٌ مِمَّا عَمِلُوا وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ )

ترجمہ۔ اور تمام انسانوں کیلئے اس بنیاد پر درجات ہیں جو انہوں نے انجام دئیے ہیں اور تیرا پروردگار اس بات سے غافل نہیں ہے جو وہ انجام دیتے ہیں۔

ایک نکتہ:

۔ اس آیت میں "درجہ" سے مراد صرف اس کی بلندی ہی نہیں، بلکہ درکات اور سقوط کے مراحل کو بھی شامل ہے۔

پیام:

۱ ۔ خداوند عالم عادل ہے اور ہر شخص کو اس کے کارناموں کی وجہ سے رتبہ اور درجہ عطا کرتا ہے۔( مما عملوا )

۲ ۔ انسان ک سعادت (خوشبختی) اور شقاوت (بدبختی) ایسی کے اعمال سے وابستہ ہیں۔( مما عملوا ) ۴۵

۳ ۔ انسان کو اپنے ہوش و حواس ٹھکانے رکھنے چاہئیں کہ اس کی نگرانی کی جا رہی ہے۔( وما ربک بغافل )

آیت ۱۳۳ ، ۱۳۴

( وَرَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ إِنْ یَشَأْ یُذْهِبْکُمْ وَیَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِکُمْ مَا یَشَاءُ کَمَا أَنشَأَکُمْ مِنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ آخَرِینَ إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ )

ترجمہ: اور تیرا پروردگار بے نیاز اور رحمت والا ہے۔ (لہٰذا اے ظلم کرنے کی ضرورت نہیں ہے) اگر چاہے تو تم سب کو لے جائے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہارا جانشین بنائے۔ جس طرح تمہیں ایک دوسری قوم کی نسل سے پیدا کیا ہے۔

یقینا تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا گیا ہے وہ البتہ ضرور آنے والا ہے وار تم (خدا کو) ناتواں نہیں بنا سکتے (اور اس کی سزا اور عدل سے گریز نہیں کرسکتے۔)

ایک نکتہ:

۔ سابقہ آیات میں خدا کے عدل و انصاف پر مبنی سزا کی بات ہو رہی تھی اور یہاں پر اس کی بے نیازی اور رحمت کا ذکر ہے اور یہی دونوں اس کی عدالت کی دلیل ہیں۔

لفظ "الغنی" میں ایک نکتہ پوشیدہ ہے جو "غنی" میں نہیں ہے۔ اور وہ یہ کہ "الغنی" کے ذرکعہ بتایا جا رہا ہے بے نیازی صرف اور صرف خدا ہی کے لئے ہے۔

پیام:

۱ ۔ بے نیازی صرف خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے لہٰذا تم کبھی بھی خود کو بے نیاز نہ سمجھو۔( ربک الغنی ) ۴۶

۲ ۔ گناہگاروں کو اسی دنیا میں بھی خدا سے ڈرنا چاہیئے کیونکہ ان کا مٹانا خدا کے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔( یذهبکم )

۔ ظلم (کہ جس کا ذکر دو آیت پہلے ہو چکا ہے) یا تو ضرورت کی بنا پر کہا جاتا ہے یا سنگدلی کی وجہ سے اور خدا ان دونوں ضرورتوں سے بے نیاز ہے ۔( الغنی ذوالرحمة )

۔ ایک اچھے مربی کی خصوصیت یہ ہے کہ بے نیاز اور مہربان ہو۔ البتہ کبھی قدرت اور تہدید کو بھی کام میں لانا پڑتا ہے۔( ربک الغنی ذوالرحمة )

۵ ۔ بشری معاشروں کی بقا مشیعت ایزدی سے وابستہ ہے۔( ان یشاء یذهبکم )

۶ ۔ خدا کو ہماری عبادتوں کی کوئی ضرورت نہیں وہ اس سے بے نیاز ہے اس کے عبادت کے فرامین ہماری ہی رشدوہدایت اور ترقی کا عامل ہیں۔( الغنی )

۷ ۔ رحمت خدا کا خاس مواقع سے تعلق ہے۔ اور کبھی اپنی حکمت کے تقاضوں کے پیش نظر اپنے قہر و غضب کو کام میں لائے ہوئے سب کو نابود کرسکتا ہے۔( ذوالرحمة---- یذهبکم )

۸ ۔ الٰہی وعدے قطعی ہوتے ہیں مذاق نہیں۔( لات ) ۴۷

۹ ۔ قیامت کے دن مجرم، قدرت خداوندی سے نہیں ٹکرا سکے گا۔( ماانتم بمعجزین )

آیت نمبر ۱۳۵

( قُلْ یَاقَوْمِ اعْمَلُوا عَلَی مَکَانَتِکُمْ إِنِّی عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ تَکُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ إِنَّهُ لاَیُفْلِحُ الظَّالِمُونَ )

ترجمہ۔ کہہ دو کہ اے میری قوم جو کچھ تم عمل کرسکتے ہو کرو۔( تمہاری ہٹ دھرمی میرے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی) میں بھی اپنے فریضہ پر عمل کرتا رہونگا (جو کہ تبلیغ اور صبر ہے) پس بہت جلد جان لوگے کہ نیک انجام (اور عزت کا مقام) کس کیلئے ہے؟ یقینا ظالم کامیاب نہیں ہونگے۔

پیام:

۱ ۔ پیغمبر اکرم کو چونکہ اپنے موقف پر یقین ہے لہٰذا اس پر پورے اطمینان سے ڈٹے ہوئے ہیں۔( اعملوا علی مکانتکم )

۲ ۔ لوگوں کا انجام خود ان کے اپنے کارناموں سے وابستہ ہے۔( اعملوا -- فسوف تعلمون )

۳ ۔ لوگوں کی سرکشی، انبیاء کے فرائض کو نہیں بدل سکتی۔( انی عامل )

۴ ۔ کامیابی کا دارومدار اچھے انجام پر ہے، ناکہ دنیا کی ظاہری زرق وبرق اور بھاگ دوڑ پر۔( عاقبة الله )

۵ ۔ ظالم، کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔( لایفلح )

۶ ۔ خدا اور انبیاء کے رستے سے روگردانی ظلم ہے۔( الظالمون )

آیت ۱۳۶

( وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنْ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِیبًا فَقَالُوا هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَکَائِنَا فَمَا کَانَ لِشُرَکَائِهِمْ فَلاَیَصِلُ إِلَی اللهِ وَمَا کَانَ لِلَّهِ فَهُوَ یَصِلُ إِلَی شُرَکَائِهِمْ سَاءَ مَا یَحْکُمُونَ )

ترجمہ: اور ان (بت پرست) لوگوں نے جو خدا نے کھیتی اور جانور پیدا کئے ہیں ان میں سے اپنے باطل گمان کے مطابق ایک حصہ خدا کیلئے (بھی) مقرر کردیا اور کہا: یہ حصہ خدا کیلئے ہے اور یہ حصہ ہمارے شریکوں (بتوں) کیلئے ہے (جو کہ خدا کے بھی شریک ہیں اور مال کے بھی) پس جو حصہ ان شریکوں (بتوں) کا تھا وہ خدا تک نہیں پہنچتا تھا لیکن جو خدا کا حصہ تھا ہو شریکوں تک پہنچ جاتا تھا۔ یہ کیسا بُرا فیصلہ کرتے ہیں۔

ایک نکتہ:

۔ جو لوگ انبیاء کی ترتیب کے مدار سے نکل کر وادی خیال میں جا پہنچتے ہیں ان کی باتیں اور فیصلے بھی خیالی او بے منطق ہوتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو ہر چیز کا مالک سمجھنے لگتے ہیں۔ اور اپنی مرضٰ کی تقسیم شروع کر دیتے ہیں۔ کبھی تو لڑکوں کو اپنا حصہ لڑکیوں کو خدا کا حصہ سمجھتے ہیں۔ "( الکم الذکرو له الانثی ) " (نجم/ ۲۱) اور کبھی غلہ اور جانوروں کو تقسیم کرتے ہیں۔

۔ مشرکین سمجھتے تھے کہ بتوں کا حصہ تبدیل نہیں ہوسکتا لہٰذا اسے بت خانوں اور ان کے پجاریوں پر خرچ کر دیا کرتے تھے اور جو خدا کا حصہ ہوتا تو اس بناء پر کہ آسمانوں کا مالک خدا تو بے نیاز ہے لہٰذا جب بت خانوں اور ان کے پجاریوں کا خرچہ کم ہونے لگتا تو خدا کے حصے سے اُٹھا کر وہیں پر لگا دیتے اور غریبوں اور ضرورت مندوں پر خرچ نہیں کرتے تھے۔

پیام:

۱ ۔ زراعت اور پرورش حیوانات کے ساتھ اگرچہ انسان کا تعلق ہے لیکن زراعت اور جانوروں کا اصل خالق تو خدا ہی ہے۔( مماذی أ )

۲ ۔ زکواة کی نوعیت اور آمدنی اور منافع کی تقسیم تمام انسانوں کے عقائد میں شامل رہی ہے یہ اور بات ہے کہ خرافاتی انداز میں رہی ہے۔( هذالله ----- هذا لشرکائنا )

۳ ۔ انبیاء کے فرائض میں شامل ہے کہ خرافات کے خلاف علم بلند کرنا( ساء مایحکون )

۴ ۔ مشرکین اگرچہ بتوں کو خدا کا شریک سمجھتے تھے لیکن خدا کے لئے خصوصی عظمت کے قائل بھی تھے اور عزت اور بے نیازی خدا کے لئے خاص سمجھتے تھے۔ اور کمی کو خدا کے حصے سے پورا کرتے تھے۔

آیت ۱۳۷

( وَکَذَلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیرٍ مِنْ الْمُشْرِکِینَ قَتْلَ أَوْلاَدِهِمْ شُرَکَاؤُهُمْ لِیُرْدُوهُمْ وَلِیَلْبِسُوا عَلَیْهِمْ دِینَهُمْ وَلَوْ شَاءَ اللهُ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ )

ترجمہ: اور اسی طرح بتوں (کے ساتھ عشق و محبت) نے بہت سے مشرکین کے لئے ان کی اولاد کے (بتوں کی قربانی کے طور پر) قتل کو مزین کردیا تھا کہ انہیں ہلاکت اور بربادی تک لے گئے اور ان کے دین کو ان کے لیے دگرگوں کر ڈالا۔ اور اگر خدا (زبردستی کرنا) چاہتا تو وہ ایسا نہ کرسکتے لہٰذا تو بھی انہیں ان کی انترپردازیوں کی حالت میں چھوڑ دے۔

دو نکات:

۔ جس طرح زراعت اور جانوروں کی خدا اور بتوں کے درمیان تقسیم اگرچہ ایک فضول خیال تھا لیکن ان کی نظروں میں ایک بہت اچھا کام تھا، اسی طرح بتوں کے ساتھ محبت اور بتوں کے آگے قربانی کے طور پر اولاد کا قتل بھی شیطانی وسوسوں کی وجہ سے ان کی نگاہوں میں بہت اچھی ریت تھی۔

۔ "یردوھم" کا لفظ "ارداء" سے ہے جس کا معنی ہے ہلاکت اور بربادی۔

پیام:

۱ ۔ جس معاشرے کی انہی خطوط پر تربیت نہ ہوئی ہو۔ اس کے افراد اپنی اولاد تک کو پتھر اور لکڑی کے تراشے بتوں کے آگے قربان کر دیتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں اور اسے عبادت بھی سمجھتے ہیں۔( زین ----- قتل اولادهم )

۲ ۔ مجرم لوگ اپنی اولاد کئی تک کی (بزعم خویش) صحیح توجیہ کرتے ہیں۔ (زین) ۴۸

۳ ۔ گناہ کی توجیہ اور برائیوں کو اچھائیوں کی صورت میں پیش کرنا انسان ہی نہیں انسانیت کے بھی سقوط و تباہی کا موجب ہے۔( لیردوهم )

۴ ۔ گناہوں کو آراستہ کرکے پیش کرنا، دین کو شبہات کے ساتھ مخلوط کرنے کا سبب ہوتا ہے۔( ولیلبسوا )

۵ ۔ انسان، آزاد ہے۔( ولوشاء الله مافعلوه )

۶ ۔ پیغمبر پر تو صرف تبلیغ کا فریضہ عائد ہوتا ہے، اگر لوگ ان کی بات کو نہیں سنیں گے تو انہیں چھوڑ کر ان سے زیادہ آمادہ دل رکھنے والوں کے پاس چلے جاتے ہیں۔( فذرهم )

۷ ۔ گمراہ لوگوں کے افکار اور ان کا رویہ، حق کی دعوت دینے والوں کے لئے پریشانی کا سبب نہیں بننا چاہیئے۔( فذرهم وما یفترون )

آیت ۱۳۸

( وَقَالُوا هَذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لاَیَطْعَمُهَا إِلاَّ مَنْ نَشَاءُ بِزَعْمِهِمْ لاَیَطْعَمُهَا إِلاَّ مَنْ نَشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لاَیَذْکُرُونَ اسْمَ اللهِ عَلَیْهَا افْتِرَاءً عَلَیْهِ سَیَجْزِیهِمْ بِمَا کَانُوا یَفْتَرُونَ )

ترجمہ: اور (مشرکین نے) کہا! یہ حیوانات اور کھتیاں ممنوع ہیں، ان کے گمان کے مطابق کسی کو ان کے مصرف اور ان سے کھانے کا حق حاصل نہیں ہے۔ مگر (بت خانے کے پجاریوں کے) جنہیں ہم چاہیں اور چوپائے کہ جن کی پشت (پر سواری) حرام ہے۔ اور چوپایوں کو بغیر خدا کے نام کے ذبح کیا کرتے تھے۔ (ان احکام کو) خدا کی طرف جھوٹ کے ساتھ منسوب کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد انہیں ان کی افتراپردازی کی سزا دے گا۔

چند نکات:

۔ "حجر" کا معنی ہے رکاوٹ۔ اور "حجارہ" اور "تحجیر" کا معنی بھی رکاوٹ ہے۔ یعنی کسی علاقے کے گرد پتھر رکھ کر لوگوں کو وہاں پر آمدورفت اور قبضة کرنے سے روکنا۔ "حجراسماعیل" وہی جگہ ہے جو پتھروں کی دیوار کے ذریعے مسجد الحرام سے علیحدہ کی گئی ہے۔ "عقل" کو بھی "حجر" کہتے ہیں کیونکہ یہ انسان کو بُری چیزوں سے باز رکھتی ہے۔ جب کہ قرآن میں ہے "( هل فی ذٰلک قسم لذی حجر ) " (الفجر/ ۵) یعنی کیا اس میں صاحبان عقل کے لئے بڑی قسم نہیں ہے؟

۔ اس سے دو آیات قبل زراعت اور جانوروں میں خدا اور بتوں کے حصوں کے بارے میں مشرکین کے خرافاتی عقائد کو بیان کیا گیا ہے۔ اور اس آیت میں بتوں کے حصے کی تقسیم کی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ بت خانے اور بتوں کے پجاریوں کے علاوہ کسی کو اس سے استفادہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور وہ بھی جنہیں ہم چاہیں۔

۔ چوپایوں اور جانوروں سے بہرہ برداری کو حرام قرار دینا، زمانہ جاہلیت کی بدعتوں میں سے ایک ہے۔ اس سلسلے میں سورہ مائدہ / ۱۰۳ میں بھی اس کا بیان گزر چکاہے۔

پیام:

۱ ۔ خرافات اور گمراہ کُن عقائد سے نبردآزمائی انبیاء کرام کے اصل فرائض میں سے ایک ہے۔( افتراء ًعلیه )

۲ ۔ دین کو خدائی اور خدا کی طرف ہی منسوب ہونا چاہیئے۔ نا کہ انسان کے اپنے خیال، گمان، قیاس اور استحسان کی بنیاد پر۔( زعمهم )

۳ ۔ بدعت اور حلال کو حرام کر دینا یا حرام کو حلال کر دینا خدا پر تہمت لگانا ہے۔( افترء ) ً) ۴۹

۴ ۔ اسلام ایک ایسا جامع دین ہے کہ جانوروں تک کے بارے میں بھی انحراف و گمراہی کو برداشت نہیں کرتا۔ جب قرآن مجید کسی جانور کو بغیر مصرف کے رکھنے اور اس پر سواری کو حرام جاننے کی مذمت کرتا ہے تو انسانوں، قدرتی وسائل، سرمائے اور استعداد اور لیاقتوں کو بغیر مصرف کے رکھنے یا ضائع کر دینے کو تو اور بھی زیادہ قابل مذمت جانتا ہے۔

۵ ۔ بدعت ایجاد کرنے والوں کو اپنے موہیوماتی قوانین کی اختراع کے سزا کا منتظر رہنا چاہیے۔( سیجزیهم )

آیت ۱۳۹

( وَقَالُوا مَا فِی بُطُونِ هَذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِذُکُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَی أَزْوَاجِنَا وَإِنْ یَکُنْ مَیْتَةً فَهُمْ فِیهِ شُرَکَاءُ سَیَجْزِیهِمْ وَصْفَهُمْ إِنَّهُ حَکِیمٌ عَلِیمٌ )

ترجمہ۔ اور (مشرکین دوسرے خرافاتی عقائد مین یہ بات شامل تھی کہ وہ) کہتے: جو بچہ ان چوپایوں کے شم میں ہے ہمارے مردوں کے لئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ اور اگر حیوان کوئی بچہ مردہ پیدا ہو تو سب (زن و مرد) اس میں شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد اس قسم کے توصیف (غلط احکام) کی سزا انہیں دے گا کہ وہ حکمت والا دانا ہے۔

پیام:

۱ ۔ زن و مرد کے درمیان بے جا تفریق جاہلیت کی ایک رسم ہے۔( خالصة الذکورز- )

۲ ۔ عورت کو اس قدر حقیر بنا دیا گیا تھا کہ ایک پورا مردہ جانور تک بھی اسے نہ دیا جاتا، بلکہ اسے اس کا کچھ حصہ دیا جاتا۔( شرکاء )

۳ ۔ زمانہ جاہلیت کی خرافات سے آگہی، انسان کو پیغمبرِ اسلام کی زحمتوں اور رکاوٹوں سے آشنا کرتی ہے اور قدر شناسی کی روح کو زندہ کرکے اسے پروان چڑھاتی ہے۔

۴ ۔ قیامت کے دن خدا کی طرف سے ملنے والی سزا یا جزا انسان کے وہی اوصاف، نفسانی حالات اور اختیار کئے ہوئے عادات ہوں گے جو جسمانی صورت اختیار کر لیں گے۔( سیجزیهم وصفهم )

۵ ۔ خدا کی طرف سے ملنے والی سزا یا جزا اس کے علم و حکمت کی بنیاد پر ہوگی۔( سیجزیهم- حکیم علیم )

آیت نمبر ۱۴۰

( قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ قَتَلُوا أَوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمْ اللهُ افْتِرَاءً عَلَی اللهِ قَدْ ضَلُّوا وَمَا کَانُوا مُهْتَدِینَ )

ترجمہ: یقینا ان لوگوں نے خسارہ اُٹھایا جنہوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی اور جہالت کی بنا پر قتل کیا۔ اور خدا نے ان کے لئے جو روزی مقرر کی تھی انہوں نے خدا پر جھوٹ باندھ کر اُن پر حرام کر دی، وہ یقینا گمراہ ہوگئے اور ہدایت پانے والے نہیں تھے۔

چند نکات:

۔ حضرت ابن عباس کہتے ہیں جو شخص زمانہ جاہلیت کی اقوام کی کا اندازہ کرنا چاہتا ہے اسے چاہیئے کہ سورہ انعام کی انہی چند آیات کو پڑھ لے۔ (از تفسیر نمونہ)

۔ دورِ جاہلیت کے عرب، بتوں کا قرب حاصل کرنے یا اپنی آبرو بچانے کے خیال سے اپنی لڑکیوں کو یا تو بتوں کی قربانی کر دیا کرتے یا پھر انہیں زندہ درگور کر دیتے تھے۔

۔ ایک شخص نے اپنی پریشانی کا سبب پیغمبرِ خدا سے ان الفاظ میں کہا: "خدا نے زمانہ جاہلیت میں مجھے ایک بیٹی عطا کی، میں چاہتا تھا کہ اسے قتل کر دوں لیکن میری بیوی اس سے مانع ہوئی۔ لڑکی جوان ہوگئی، اس کی خواستگاری کیلئے لوگ آنے لگے، میری غیرت اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی، اور اُس کا غیر شادی شُدہ رہنا بھی مناسب نہیں تھا، آخر اسے ایک دِن جنگل میں لے گیا اور کنویں میں جا کر پھینک دیا۔ وہ جتنا چیختی چلاتی رہی میں نے ذرہ بھر پرواہ نہیں کی"

یہ سُن کر رسول خدا رو دئیے اور فرمایا "اگر گذشتہ خطائیں معاف نہ کر دی ہوتیں تو تجھے سخت سزا دیتا۔"

پیام:

۱ ۔ خرافات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے۔( قد خروا، سفها، بغیر علم، افتراء ً، ضلوا، ماکانو ا مهتدین )

۲ ۔ جہالت اور حماقت، خسارے کا موجب ہیں۔ (خسارے مثلاً اولاد کو ضائع کر دینا، محبت اور نرم دلی کو دل سے نکال دینا، حلال نعمتوں کا فقدان، جہنم خرید کرنا، اور خدائی عذاب کا مستحق ہونا۔)

۳ ۔ بہت بڑا خسارہ یہ ے کہ انسان باطل کی راہ میں قربان ہو جائے۔ (خواہ بتوں کی قربانی کی صورت میں ہو یا خیالات اور بے جا غیرت کیلئے)

۴ ۔ کسی چیز کا حرام قرار دینا یا شرعی دلیل کی وجہ سے ہوتا ہے یا عقلی دلیل کی وجہ سے( بغیر علم- افتراء ً علی الله )

۵ ۔ حلال چیزوں کو بے مقصد حرام کر دینا خدا پر تہمت لگانے کے مترادف ہے۔ ممنون ہے۔( وحرموا مارزقهم الله )


آیت ۱۴۱

( وَهُوَ الَّذِی أَنْشَأَ جَنَّاتٍ مَعْرُوشَاتٍ وَغَیْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُکُلُهُ وَالزَّیْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَغَیْرَ مُتَشَابِهٍ کُلُوا مِنْ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ یَوْمَ حَصَادِهِ وَلاَتُسْرِفُوا إِنَّهُ لاَیُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ )

ترجمہ۔ اور وہ وہی ہے جس نے باغات اور بوستانوں کو پیدا کیا جو مچانوں کے ساتھ بھی ہیں اور مچانوں کے بغیر بھی ہیں۔ اور کھجور کے درخت، کھیتی کہ جن کی مختلف خوراکیں ہیں۔ اور زینوں و انار کو بھی پیدا کیا۔ کچھ تو ان پھلوں میں سے ایکدوسرے کے مشابہ ہیں اور کچھ آپس میں نہیں ملتے، جب باغات پھل دینے لگیں تو ان کے پھلوں میں سے کھاؤ، اور فصلات کو کاٹنے کے وقت اور پھلوں کو چننے کے وقت (غریبوں کو) ان کا حق دو۔ اور اسراف نہ کرو کیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو اچھا نہیں سمجھتا۔

دو نکات:

۔ "جنات" درختوں سے بھرے باغات اور کھیتی سے ڈھکی زمینوں کو کہتے ہیں۔ "معروش" ایسے درختوں یا باالفاظ دیگر ایسی بیلوں کو کہتے ہیں جن کے لئے مچان کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے انگور وغیرہ۔ اور "کل" کا معنی ہے کھائی جانے والی چیزیں۔

۔ اسی سورت کی ۹۹ ویں آیت میں آیا ہے ۔ "( انظروا الیٰ ثمره اذا اثمر ) " لینی جونہی کوئی درخت پھل لے آئے اسے غور سے دیکھو اور اس آیت میں بھی ہم پڑھتے ہیں۔( کلوامن ثمره اذا اثمر ) یعنی جب درخت پھل دے تو کھاؤ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تمہارا کھاناغور و فکر اور اچھی طرح دیکھ بھال کر ہونا چاہیے، غفلت برت کر نہیں کھانا چاہیئے۔

پیام:

۱ ۔ اس آیت سے ہمیں چند چیزوں کا درس ملتا ہے۔ ۱ ۔خداشنانی، ۲ ۔استعمال کی اجازت، ۳ ۔غریبوں اور معاشرہ کے محروم لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا، ۴ ۔راہ خدا میں خرچ کرنا اور ۵ ۔اسراف سے کام نہ لینا( انشاء- کلوا، اتو- لاتسرفوا )

۲ ۔ اسلام ایک معتدل اور میانہ رو دین ہے۔ جہاں ہ ر وہ حلال چیزوں کو بے جا طور پر حرام کرنے سے منع کرتا ہے۔ وہاں پر بے رویہ استعمال سے بھی روکتا ہے۔( لاتسرفوا ) جبکہ اس سے پہلی آیت میں فرمایا۔ "حرموا مارزقھم اللہ"

۳ ۔ استعمال کی شرط یہ ہے کہ غریبوں کا حق دیا جائے۔( کلوا- اتواحقه )

۴ ۔ کس قدر کھایا جائے؟ جب تک اسراف کی حد تک نہ جا پہنچے۔( کلوا- لاتسرفوا )

۵ ۔ اناج اور پھل کے محصولات اٹھانے کے دن غریبوں کو نہیں بھولنا چاہیئے۔( یوم حصاده )

۶ ۔ فصلات کو دن کے وقت اٹھایا کرو تاکہ دوسرے بھی ان سے محروم نہ رہ جائیں۔( یوم حصاده )

۷ ۔ محصولات اور فصلات کو اُٹھانے کے دن راہ خدا میں خرچ کرنے کیلئے بہتر آمادگی ہوتی ہے۔ لہٰذا فرصت کو ہاتھ سے نہ جانے دیا کرو۔( یوم حصاده )

۸ ۔ کچے پھل نہ کھایا کرو۔( اذا اثمر ) تازہ پھل کھایا کرو۔( اذا اثمر ) پھل طبعی طورپر پکنے چاہئیں انہیں مصنوعی طور پر نہ پکایا کرو۔( اذااثمر )

۹ ۔ اسراف کرنے والے پر خدا ناراض ہوتا ہے۔( لایحب )

آیت نمبر ۱۴۲

( وَمِنْ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا کُلُوا مِمَّا رَزَقَکُمْ اللهُ وَلاَتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إِنَّهُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُبِینٌ )

ترجمہ: اور چوپاؤں میں سے بعض تو وہ ہیں جو بوجھ اُٹھاتے ہیں اور بعض (بوجھ نہیں اُٹھاتے اور) چھوٹے چھوٹے اور فرش کی مانند (ان کے بدن زمین سے نزدیک ہوتے ہیں) اس سے کھاؤ جو خدا نے تمہارے لئے روزی مقرر کی ہے۔ اور شیطان کے نقشِ قدم (اور اس کے وسوسوں) کی پیروی نہ کرو۔ کیونکہ یقینا وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔

چند نکات:

بعض چوپاؤں میں سے فرش کے کلمہ سے مراد گوسفند جیسے جانور ہیں جن کے بدن زمین سے نزدیک ہونے کی وجہ سے فرش کی مانند ہوتے ہیں، یا یہ کہ ان جانوروں کے اون، پشم اور بالوں سے زمین پر بچھانے کے لئے فرش بنائے جاتے ہیں۔ چنانچہ سورہ نحل / ۸۰ میں بھی جانوروں کی پشم، بالوں اور چمڑے سے بہرہ گیری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔ "( وجعل لکم من جلودالانعام بیوتا-- ومن اصوافها واوبارها واشعارها اثاثاومتاعا ) "

سابقہ آیت مین چند پھلوں کا نام لیا گیا تھا اور یہاں پر جانوروں کی برکات کا ذکر کیا گیا ہے۔ لہٰذا "حمولہ اور فرش کو پھلوں اور باغات پر عطف کیا گیا ہے جو گذشتہ آیت میں مذکور ہوئے ہیں۔

پیشتر مفسرین نے "حمولہ" سے مراد بوجھ اُٹھانے والے اور "فرش" سے بوجھ نہ اُٹھانے والے جانور مراد لئے ہیں۔ اس لیے پہلی آیت آیت میں کاشتکاری کی ضرورت پر اشارہ کیا گیا ہے۔ اور یہاں پر جانور رکھنے کی طرف۔

پیام:

۱ ۔ یہ جہان اور اس میں موجود تمام مخلوق کسی مقصد اور حکمت کے تحت پیدا کی گئی ہے۔ اور انسان کے لئے مسخر کر دی گئی ہے۔( حمولة وفرشا )

۲ ۔ حیوانات کے بارے میں اصول اور کلیہ قاعدہ یہ ہے کہ ان کا مصرف اور استعمال حلال ہے۔ بشرطیکہ اس کی حرمت پر کوئی دلیل موجود نہ ہو۔( کلوا )

۳ ۔ حلال گوشت جانور صرف چوپاؤں ہی میں منحصر نہیں اسی لئے "کلوا من الانعام" نہیں فرمایا بلکہ فرمایا ہے۔( خلوا ممارزقکم الله )

۴ ۔ حلال جانوروں کو بے جا اور بغیر کسی دلیل کے حرام کر دینا شیطانی قدم ہے۔( کلوا ---- ولا تتبعوا )

۵ ۔ شکم پُری سے انسان بھٹک سکتا ہے لہٰذا تنبیہ کرنا ضروری ہے۔( کلوا ----- ولا تتبعوا )

۶ ۔ دینی عنوان کے ساتھ خام خواری، بدعت اور ممنوع ہے۔( کلوا مما رزقکم الله )

۷ ۔ گمراہ کرنے کے لئے شیطان کا سب سے پہلا حربہ خوراک تھا (شجر ممنوعہ کا ماجرا) لہٰذا کھانے کے معاملے میں احتیاط برتنی چاہیے۔( کلوا---- ولا تتبعوا )

۸ ۔ خدائی دسترخوان پر بیٹھ کر اس کے دشمن کا اتباع نہ کرو۔( رزقکم الله----الشیطان )

۹ ۔ خدائی نعمتوں سے صحیح طریقے سے استفادہ کرو۔ نہ تو حرس سے کام لو اور نہ ہی دوسروں کے مال کو ہتھیانے کی سوچو۔( رزقکم الله---- لاتتبعوا )

۱۰ ۔ شیطان جن رستوں کے ذریعہ اپنے اثرات قائم کرتا ہے ان میں سے ایک شکم پرستی اور حرام خوری بھی ہے۔( کلوا---- ولا تتبعوا )

۱۱ ۔ شیطانی سیاست یہ ہوتی ہے کہ قدم بقدم گمراہ کیا جائے نا کہ ایک ہی دفعہ میں۔( خطوات الشیطان )

آیت ۱۴۳

( ثَمَانِیَةَ أَزْوَاجٍ مِنْ الضَّأْنِ اثْنَیْنِ وَمِنْ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ قُلْ أَالذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ أَمْ الْأُنْثَیَیْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ أَرْحَامُ الْأُنثَیَیْنِ نَبِّئُونِی بِعِلْمٍ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ )

ترجمہ: (اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جانوروں میں سے حلال کیا ہے) آٹھ جوروں کو، دو تو ہیں بھیڑیں (ایک نر اور ایک مادہ) اور دو ہیں بکریاں (ایک نر ایک مادہ) جو لوگ اپنی طرف سے بعض چوپاؤں کو حرام قرار دیتے ہیں ان سے) کہہ دو کہ آیا خدا نے گوسفندوں اور بکریوں میں سے دونوں نر کو حرام کیا ہے یا دنوں مادہ کو یا اس بچے کو جو ان دونوں مادہ کے پیٹ میں ہے؟ اگر تم سچ کہتے ہو تو علم و دانش کی رو سے مجھے باخبر کرو۔

چند نکات:

۔ "زوج" کا لفظ نر اور مادہ دونوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے اور ان میں سے ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ کے لئے بھی۔ اس آیت میں ہر ایک کے علیحدہ علیحدہ کیلئے زوج کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور آٹھ جوڑوں سے مراد آٹھ عدد ہیں۔ جن میں سے چار نر اور چار مادہ ہیں۔ جن میں سے چار تو اسی آیت میں اور چار اگلی آیت مذکور میں ہیں۔ سورہ نجم کی ۴۵ ویں آیت "خلق الزوجین الذکر والانثی" نے ابھی "زوج" کا لفظ "فرد" کے لئے استعمال کیا ہے نا کہ جوڑے کے لئے۔

بعض روایات میں آٹھ جوڑے (جو سولہ عدد بنتے ہیں) یوں بیان ہوئے ہیں کہ ان چاروں نسلوں (گوسفند، بکری، اونٹ اور گائے) میں سے ایک پالتو ہے اور ایک جنگل ہے، ایک نر ہے اور ایک مادہ ہے۔

سورہ زمر کی پانچویں آیت مین آٹھ نر اور مادہ کو انسان کی پیدائیش کے ساتھ ہی ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ "خلقکم من نفس واحدة ثم جعل منہازوجھا وانزل لکم من الانعام ثمنیة ازواج" اور یہ شاید جانوروں کی تخلیق اور انسانوں کی پیدائش اکٹھا ہونے کی وجہ سے کہا گیا ہے۔

پیام:

۱ ۔ خرافات کو ختم کرنے اور ذہن میں بیٹھے ہوئے غلط نظریات کو اصلاح کرنے کے لئے عقائد حقہ کو ا چھی طرح اور زیادہ سے زیادہ اور واضح طور پر بیان کرنا چاہیئے۔ جس طرح قرآن نے اس آیت میں مشرکین کے خرافاتی عقائد کے لئے بیان کیا ہے۔

۲ ۔ فتویٰ دینے کے لئے یا کسی چیز کے حلال یا حرام کا عقیدہ رکھنے کے لئے علم کا ہونا ضروری ہے۔( بنئونی بعلم )

آیت ۱۴۴

( وَمِنْ الْإِبِلِ اثْنَیْنِ وَمِنْ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ قُلْ أَالذَّکَرَیْنِ حَرَّمَ أَمْ الْأُنثَیَیْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ أَرْحَامُ الْأُنثَیَیْنِ أَمْ کُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ وَصَّاکُمْ اللهُ بِهَذَا فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَی عَلَی اللهِ کَذِبًا لِیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللهَ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِینَ )

ترجمہ: اور اونٹ سے دو عدد (نر اور مادہ) اور گائے سے دو عدد (نر اور مادہ) کو (تمہارے لئے حلال کیا ہے) کہہ دو: آیا اللہ نے ان دونوں کے نر جانوروں کو حرام کیا ہے یا مادہ جانوروں کو یا ان کے ان بچوں کو دونوں مادہ کے شکم میں ہیں۔ یا تم گواہ تھے کہ خدا نے ان کے گوشت کے حرام ہونے کی تمہیں سفارش کی ہے؟ پس اس سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوگا جس نے خدا پر جھوٹ باندھا ہے تاکہ لوگوں کو بغیر علم کے گمراہ کرے؟ یقینا خداوند تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔

ایک نکتہ:

احتمال یہ ہے کہ ان چار جانوروں (بھیڑ، بکری ، اونٹ، اور گائے ) کا بالترتیب نام لینے کی وجہ ان کے گوشت کے استعمال میں برتری کی طرف اشارہ ہے۔

پیام:

۱ ۔ خدا پر بہتان طرازی بہت بڑا ظلم ہے۔( فمن اظلم )

۲ ۔ خدا پر جھوٹ باندھنا، لوگوں کے گمراہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔( لیضل الناس )

۳ ۔ ظلم اور افتراپردازی، انسان کو ہدایت کو قبول کرنے سے روک دیتی ہے۔( لایهدی )

آیت ۱۴۵

( قُلْ لاَأَجِدُ فِی مَا أُوحِیَ إِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلَی طَاعِمٍ یَطْعَمُهُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ مَیْتَةً إِلاَّ أَنْ یَکُونَ مَیْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِیرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَیْرِ اللهِ بِهِ فَمَنْ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَلاَعَادٍ فَإِنَّ رَبَّکَ غَفُورٌ رَحِیمٌ )

ترجمہ۔ کہہ دو کہ جو مجھ پر وحی ہوئی ہے اس میں کسی کھانے والے کے لئے جو وہ غذا کھاتا ہے کسی حرام کو نہیں پاتا۔ مگر یہ کہ مردار، یا بہہ جانے والا خون یا کنزیر کا گوشت ہو کہ حتما وہ نجاست ہیں۔ یا (پھر) یہ کہ فسق اور نافرمانی کی بنا پر خدا کا نام لئے بغیر ذبح کیا جائے۔ پس جو شخص ان کے کھانے کے لئے مضطر اور ناچار ہو بشرطیکہ سرکشی اور ضرورت کی حد سے زیادہ نہ ہو (تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے) یقینا تیرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔

چند نکات:

مردار صرف وہی حرام نہیں ہوتا جو خودبخود مر جائے، بلکہ اگر الٰہی اصولوں کے مطابق بھی اُسے ذبح نہ کیا جائے پھر بھی مردار کے حکم میں اور حرام ہے۔

مردار اور خوں کے حرام ہونے کا تذکرہ قرآن مجید میں چار مقامات پر ہوا ہے دو مرتبہ مکی سورتوں میں اور دو مرتبہ مدنی سورتوں میں۔ اور یہ اس سلسلے کی پہلی آیت ہے۔

۔ "اُھل" کا لفظ "اھلال" مصدر سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے پہلی رات کا چاند دیکھنے کے موقع پر آواز کو بلند کرنا۔ پھر اس کا پھر اس کا استعمال پر بلند آواز کے لئے ہونے لگا۔ جانوروں کو ذبح کرتے وقت بھی بلند آواز کے ساتھ بتوں کا نام لیا جاتا تھا۔ اس لئے "اُھل" کہا گیا ہے۔

۔ "( لااجد" -- الا ان یکون میتة ) " کا جملہ در حقیقت مشرکین کے جاہلانہ انداز میں حرام کرنے کے مقابلے میں ہے۔ ورنہ بعض پرندے اور درندے بھی حرام ہیں۔ اور اصولی اصطلاح میں اس حصر کو " حصر اضافی" کہتے ہیں۔ یعنی یہ "حصراضافی" ہے۔ "حصرحقیقی" نہیں ہے۔ ۱

۔ تفسیر مراغی میں اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ "حرام جانور فقط یہی چار طرح کے ہیں۔ باقی جانوروں کی حرمت کی روایات کراہت پر محمول ہیں۔" ان سے پوچھنا چاہیئے کہ آیا کتنے کا گوشت بھی مکروہ ہے؟

پیام:

۱ ۔ اصولی طور پر قانون اولیہ کے مطابق سب جانور حلال ہیں۔( لا اجد )

۲ ۔ ہم، ظاہر کے پابند ہیں اور اسی پر عمل کرنے کا ہمیں حکم ہے۔ اور آیات میں جن محرمات کو بیان کیا گیا ہے ان پر عمل پابند ہیں۔ اگر ہم تلاش کرتے ہیں لیکن اچھی خاصی تگ و دو کے بعد ہمیں کسی جانور کی حرمت کا حکم نہیں ملتا تو وہ ہمارے لئے حرام ہے۔ (البتہ پیغمبر کے لئے: "عدم الوجدان" دلیل ہے۔ "عدم الوجود" ہر لااجد)

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے فقط وہی چند چیزیں حرام تھیں، لہٰذا بعض دوسرے جانوروں کا حرام ہونا اس آیت کے منافی نہیں ہے، کیونکہ ان کی حرمت بعد میں یا تو قرآن کے ذریعے یا پھر پیغمبرِ اکرم اور ان کی پاک آل کے ذریعہ بیان ہوئی۔

۳ ۔ جب کسی چیز کے کھانے یا نہ کھانے کے متعلق خود پیغمبر اکرم بھی وحی کے ذریعے حکم کے محتاج ہیں کہ ادھر سے حکم ملے اور لوگوں کو بتائیں، تو عام لوگ کیونکر کسی چیز کو اپنی طرف سے حرام کر سکتے ہیں؟

۴ ۔ غذا کا قانون زن و مرد کے لئے یکساں ہے،( طاعم یطعمه ) یہ قانون اس بے ہودہ عقیدہ کے مقابل میں ہے جس کے تحت مشرکین ان جانوروں کا گوشت مردوں کے لئے حلال اور عورتوں کے لئے حرام سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ "خالصة لذکور ناومحرم علی ازورجنا"

۵ ۔ قانون میں "اہم" اور "اہم تر" کے قاعدہ کا خاص خیال رکھنا چاہیئے۔ جان کی حفاظت مردار کھانے سے زیادہ اہم ہے۔( فمن اضطر )

۶ ۔ دین اسلام میں کہیں پر بھی رکاوٹ نہیں ہے۔ جب مجبوری کا سوال پیدا ہوتا ہے تو حرام بھی حلال ہو جاتا ہے۔( فمن اضطر )

۷ ۔ قانون اور استثنائی صورتوں سے ناجائز فائدہ اٹھانا ممنوع ہے۔ صرف مجبوری ہی کی حد تک اکتفا کرنا چاہیئے۔( غیر باغ والاعاد )

۸ ۔ جو خون شرعی ذبح کرنے کے بعد گوشت کے اندر یا رگوں میں باقی رہ جاتا ہے وہ حرام نہیں ہے۔ ذبح کے وقت بہنے والا خون حرام ہے۔( دمامسفوحا )

۹ ۔ حرام ہونے کا سبب یا تو مادی اثرات ہیں (رجس) یا معنوی بُرے اثرات ہیں جیسے خدا کے نام سے غفلت یا شرک کے جلوے ہیں کہ اُن کا شمار بُرے معنوی اثرات میں ہوتا ہے۔( فسقا )

۱۰ ۔ جہاں پر جبری طور پر اضطرار اور مجبوری پیش آجائے وہاںُ ر حرام گوشت کو کھایا جاسکتا ہے لیکن اگر ہم خود اپنے ہاتھوں سے کوئی ایسا کام کریں مجبور اورمضطر ہو جائیں تو پھر ایسی حالت میں اس کی حرمت بحال رہے گی اور کھانا حلال نہیں ہوگا ( کیونکہ "اُضطر" کا لفظ ہے "اِضْطَرَّ" کا نہیں۔)

آیت ۱۴۶

( وَعَلَی الَّذِینَ هَادُوا حَرَّمْنَا کُلَّ ذِی ظُفُرٍ وَمِنْ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوْ الْحَوَایَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِکَ جَزَیْنَاهُمْ بِبَغْیِهِمْ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ )

ترجمہ۔ اور ہم نے یہودیوں پر ہر ناخن والے جانور کو حرام کر دیا اور گائے اور گوسفند سے ان دونوں کی چربی کو اُن پر حرام کیا مگر وہ چربی جو گائے اور گوسفند کی پُشت پر ہو یا انتڑیوں کے ساتھ ہو یا ہڈیوں سے ملی ہوئی ہو۔ یہ (حرمت) ان کے اس ظلم کی وجہ سے ہے جس کے وہ مرتکب ہوئے ہیں اور ہم یقینا سچے ہیں۔

چند نکات:

اس سے پہلی آیت میں ان چیزوں کو بیان کیا گیا ہے جو اسلام میں حرام ہیں اور اس آیت میں وہ چیزیں بتائی گئی ہیں جو یہودیوں پر حرام تھیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ مشرکین کے بیہودہ عقائد کسی بھی آسمانی دین کے ساتھ میل نہیں کھاتے۔ (تفسیر نمونہ)

"ظُفر" کا معنی ناخن ہے، لیکن اس کا اطلاق جانوروں کے ان سموں پر بھی ہوتا ہے جو چیریہوئے نہیں ہوتے (مثلاً گھوڑے کے سُم یا اونٹ کے پاؤں کی نوک) بنا بریں اونٹ اور ہر وہ جانور جس کے سُم چیرے ہوئے نہیں ہوتے خواہ چوپائے ہوں یا پرندے، یہودیوں پر حرام ہیں۔ (ملاحظہ وہ تورات، سفر لاویان فصل ۱۱)

"حوایا" جمع ہے "حاویہ" کی جو شکم کے مجموعی حصے پر بولا جاتا ہے۔ (تفسیر نمونہ)

اس آیت کا مضمون توریت، سفر لاویان فصل ۷ آیت ۲۴ میں بھی مذکور ہے۔

سورہ نساء / ۱۶۰ میں ہے "( فبظلم من الذین هادواحرمنا علیهم---- ) " یعنی بعض پاکیزہ چیزیں یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ان پر حرام کر دی گئی تھیں۔

اور یہ اس کے علاوہ ہے جو یہودیوں نے مشرکین کی مانند کچھ چیزیں اپنے اور خود حرام کر دی تھیں۔ ۵۰

پیام:

۱ ۔ یہودیوں پر یہ چیزیں وقتی اور عارضی طورپر حرام تھیں جو بعد میں حضرت عیسیٰ کے ذریعہ حلال کردی گئیں۔ ۱ ۵

۲ ۔ احکام خداوندی تین طرح کے ہیں۔ الف: جن میں واقعاً کوئی بھلائی یا بُرائی ہوتی ہے جیسے اکثر دینی احکام۔ ب: جو امتحان اور آزمائش کیلئے ہوتے ہیں جیسے حضرت اسماعیل کے ذبح کرنے کا حکم۔ ج:جو سزا کے طورپر ہوتے ہیں جیسے یہی زیرِ بحث آیت ہے۔ خدائی سزاؤں مٰں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی کی مشیعت تنگ کر دی جائے۔

۳ ۔ خلاف ورزی کرنے والوں، باغیوں اور قیدیوں کے خوراک کے لئے پروگرام کو محدود کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

۴ ۔ خدائی سزائیں صرف آخرت ہی میں نہیں ملیں گی، دنیا میں بھی ملتی ہیں۔ (جزیناھم بینٰھم)

آیت ۱۴۷

( فَإِنْ کَذَّبُوکَ فَقُلْ رَبُّکُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَاسِعَةٍ وَلاَیُرَدُّ بَأْسُهُ عَنْ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِینَ )

ترجمہ: (اے پیغمبر!) اس پر بھی اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو تم (ان سے) کہہ دو کہ تمہارا پروردگار وسیع رحمت کا مالک ہے (اور اگر تم توبہ نہیں کروگے اور اپنی تکذیب کے سلسلے کو جاری رکھو گے تو) اس کا قہر و عذاب مجرم لوگوں سے پلٹایا نہیں جائے گا۔

پیام:

۱ ۔ رہبر کو لوگوں کی طرف سے تکذیب و تہمت سننے کے لئے تیار رہنا چاہیئے۔( کذبوک )

۲ ۔ جھٹلانے والوں کے ساتھ بھی خیرخواہانہ رویہ اختیار کرنا چاہیئے، لیکن اگر اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو پھر ڈانٹ ڈپٹ سے بھی کام لینا چاہیے۔( ذو رحمة ---- لایردباسه )

۳ ۔ مربی کو رحمت کا موجیں مارنے والا سمندر ہونا چاہیے۔( ذورحمة )

۴ ۔ خوف اور اُمید ساتھ ساتھ ہوں تو کام بنتا ہے۔( رحمة ---- باسه )

۵ ۔ خدا کی رحمت کے دروازے تو انبیاء کے مخالفین کے لئے بھی بند نہیں ہیں۔( کذبوک - ذ ورحمة )

آیت ۱۴۸

( سَیَقُولُ الَّذِینَ أَشْرَکُوا لَوْ شَاءَ اللهُ مَا أَشْرَکْنَا وَلاَآبَاؤُنَا وَلاَحَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتَّی ذَاقُوا بَأْسَنَا قُلْ هَلْ عِنْدَکُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَا إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنْتُمْ إِلاَّ تَخْرُصُونَ )

ترجمہ: عنقریب مشرکین کہیں گے: اگر خدا چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا مشرک ہوتے اور نہ ہی کسی چیز کو حرام کرتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے ان (انبیاء ماسلف) کو بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے۔ یہاں تک کہ ہمارے قہر و عذاب کا ذائقہ چکھا۔ کہہ دو کہ آیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے لئے ظاہر کرو؟ تم تو صرف خیال اور گمان کی پیروی کرتے ہو اور بے جا تخمینے لگاتے ہو۔

دو نکات:

مشرکین کا یہ بہانہ کہ "اگر خدا چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا مشرک نہ ہوتے" قرآن میں بار رہا بیان ہوا ہے ا۔منجملہ ان کے سورہ نحل کی ۳۰ ویں آ یت اورسورہ زخرف کی ۲۰ ویں آیت میں بھی ہے اس آیت میں ہے کہ در عنقریب مشرکین کہیں گے جب کہ سورہ نحل میں ہے ۔( قال الذین اشر کوا ) ۔)یعنی انہوں نے کہا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ غیب کی خبر ہے

پیام ۔

۱ ۔ یہ بات اچھی طرح معلوم ہونی چاہے کہ انبیاء اور آسمانی کتابوں کا بھیجنااورتوحید کی دعوت دنیا صرف اس لئے ہے تا کہ لوگ اپنے ارادے ،اختیار اور پوری آزادی کے ساتھ توحید پرست بنیں لہذا مشرکین کی یہ منطق کے ِِاگر خدا چاہتا ۔۔۔۔۔غلط ہے( ولوشاء الله مااشرکنا )

۲ ۔ دین کے رہبر اور دانشودوں کو مستقبل میں پیش آ نے والے شبہات اور بہا نوں کا جواب دینے کے لئے آمادہ رہنا چاہئے( سیقول ) ۵۲

۳ ۔ عذرگنا ہ ، بدتر ازگناہ کے مصداق مشرکین اپنے ترکو خدا کی منشا اور مشیت سمجھتے تھے ۔( لوشاء الله )

۴ ۔ جبر کا عقیدہ گمراہ لو گوں کی بے بنیاد توجیہ ہے ، شیطان نے بھی جو گمراہوں کا سردار ہے ۔ اپنی گمراہی کو خدا کی طرف منسوب کیا تھا ۔ ۵۳

۵ ۔ خدا چاہتا ہے کہ لوگ مومن بنیں، نا کہ انہیں زبردستی مومن بنایا جائے۔ قرآن مجید میں بارہا آیا ہے کہ : "اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت کرتا" لیکن زبردستی کے ایمان میں نہ تو تربیت کا عنصر ہوتا ہے اور نہ ارتقاء کا۔ اور پیغمبر کو بھی زبردستی یا کسی کو مجبور کرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور نہ ہی وہ لوگوں پر جبار ہے اور نہ ہی ان کا وکیل۔

۶ ۔ قرآن، مخالفین سے بھی دلیل اور ثبوت طلب کرتا ہے۔( هل عندکم من علم )

۷ ۔ جبر کے معتقدین کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے صرف باتیں کرتے ہیں( الا الظن )

۸ ۔ تاریخی لحاظ سے دیکھا جائیت و معلومہ ہوگا کہ لوگ جبر کا سہارا لے کر انبیاء کو جھٹلاتے رہے۔( کذب الذین من قبلهم )

۹ ۔ اگر کسی بھی بہانے کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں سے فرار کریں گے تو پھر انہیں خدا کا قہر و غضب چکھنے کے لئے منتظر رہنا چاہیے۔( ذاقوالینا )

۱۰ ۔ اگر علم و یقین کی بجائے ظن اور گمان کی پیروی کریں گے تو گمراہ ہو جائیں گے۔( ان انتم الا تخرصون )

آیت ۱۴۹

( قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاکُمْ أَجْمَعِینَ )

ترجمہ: (اے پیغمبر) کہہ دو کہ صرف خدا ہی کے لئے (روشن اور مقصد تک پہنچانے والی دلیل ) پس اگر وہ چاہتا تو یقینا تم سب کو (زبردستی)ہدایت کرتا۔

چند نکات:

خداوندعالم نے "فطرت توحیدی" جو انسان کے اندر قرار دی ہے اور انبیاء و عقل کی ہدایت کے ذریعہ اپنی حجت تمام لوگوں پر تمام کر دی ہے۔ اور خیر و شر کی راہیں اور ہر ایک کا نیک و بد انجام بھی بیان کر دیا ہے۔ خطاکاروں کے لئے توبہ اور تلافی کے دروازے بھی کھلے رکھے ہیں۔ انبیاء کے روشن معجزے، ان کی دعوت کا احسن طریقہ کار اور فطرت و عقل کے ساتھ دین کی مطابقت اور سازگاری کے محکم دلائل غرض ہر قسم کی حجت کو تمام کر دیا ہے۔ تمام گمراہ کن رستوں کا سدباب بھی کر دیا ہے۔ خدائی راستے کے علاوہ دوسرے تمام راستے اختیار کرنے کے خطرات سے بھی آگاہ کر دیا ہے۔ اب کسی کیل ئے کسی قسم کے جواب کی گنجائش نہیں چھوڑی۔

اب مشرکین کے پاس بے بنیاد گمان کے علاوہ ان کے شرک کی کوئی اور دلیل باقی نہیں رہ گئی۔ اور اگر وہ خدا کے بتائے ہوئے رستے کے علاوہ کوئی اور راہ اختیار کریں گے تو اوہام و خیال اور علمی اور فکری محدودیت اور ہوار و ہوس کی پیروی کریں گے۔

تفسیر نور الثقلین میں ہے کہ: خداوندعالم قیامت کے دن انسان سے فرمائے گا: "آیا تو جانتا تھا یا نہیں جانتا تھا؟" اگر وہ جواب دے گا کہ "میں جانتا تھا!" تو خدا پوچھے گا کہ "تو اس پر عمل کیوں نہیں کیا؟" اور اگر وہ کہے گا کہ "میں نہیں جانتا تھا!" تو خدا سوال کرے گا : "اسے سیکھا کیوں نہیں؟" تو یہ ہے بندوں کے لئے خدا کی حجت بالغہ۔

پیام:

۱ ۔ یہ صرف خدا ہی ہے کہ جس کے پاس حجت بالغہ ہے اور ہم سب اس کے جواب کے لئے عاجز، یہی دست اور قصوروار!( فللّٰه الحجة البالغه )

۲ ۔ مخالفین کیلئے راہ خدا میں کسی قسم کا ابہام اور بہانہ نہیں ہے جس سے وہ کوئی دلیل قائم کر سکیں نہ تو استدلال میں نہ سابقہ حالات و واقعات میں نہ انبیاء کی صفات میں اور نہ ہی ان کے اندازِ تبلیغ میں۔( فللّٰه الحجة البالغة )

۳ ۔ خدا کی مشیعت اور ارادہ یہ ہے کہ بندے آزاد اور خودمختار رہیں( فلوشاء لهداکم )

آیت ۱۵۰

( قُلْ هَلُمَّ شُهَدَائَکُمْ الَّذِینَ یَشْهَدُونَ أَنَّ اللهَ حَرَّمَ هَذَا فَإِنْ شَهِدُوا فَلاَتَشْهَدْ مَعَهُمْ وَلاَتَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَالَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَهُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُونَ )

ترجمہ: (جن لوگوں نے ناجائز طور پر اپنے اوپر زراعت اور جانوروں کو حرام کر دیا ہے ان سے) کہہ دو کہ اگر تمہارے پاس اس بات کے گواہ ہیں کہ خدا نے حرام کیا ہے تو لے آؤ! پس اگر وہ (اس بات کی) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ (مل کر) گواہی نہ دینا۔ اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو لوگ آخرت ایمان نہیں رکھتے اور خدا کا ہمسر اور شریک ٹھہراتے ہیں۔

چند نکات:

چونکہ اسلام خود منطق اور آزادی کا دین ہے لہٰذا وہ فی لفن سے بھی دلیل اور برہان کا مطالبہ کرتا ہے۔ پہلے کی دو آیات میں بھی اس نے پوچھا کہ : "آیا تمہارے پاس کسی کوئی اطلاع ہے جو ہمارے پاس نہیں؟ "( هل عندکم من علم ) " اور یہاں پر فرماتا ہے: "اگر تمہارے پاس گواہ ہیں تو لے آؤ!"( هلم شهداء کم )

اس آیت میں پہلے تو فرمایا: اگر ان کے پاس کوئی دلیل یا گواہ ہے تو لے آئیں! پھر فرمایا کہ! "اگر گواہی دیں بھی تو تم اسے قبول نہ کرو۔" (اس لئے کہ صداقت پر مبنی نہیں ہے۔)

"یعدلون" کا کلمہ "عدل" سے لیا گیا ہے جس کا معنی "ہم پلہ" پس( بربهم یعدلون ) کا معنی ہوگا "وہ خا کے لئے شریک، ہمسر اور مشابہ قرار دیتے ہیں۔" (تفسیر نمونہ)

پیام:

۱ ۔ اسلام، منطق اور دلیل کا دین ہے لہٰذا مخالفین سے بھی گواہی مانگ رہا ہے۔( هلم شهداء کم )

۲ ۔ ہر شہادت اور گواہی قابل اعتبار نہیں ہوتی( فان شهدوافلا تشهدمعهم )

۳ ۔ خبردار! کہیں معاشرہ اور ماحول تمہیں دام اور اشتباہ میں ڈال دے۔( فان شهدوافلا تشهدمعهم )

۴ ۔ آیات الٰہی کا منکر، عوام کا رہبر نہیں بن سکتا( فلا تتبع-- )

۵ ۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین چونکہ کفار کی خواہشات کے مطابق بنائے جاتے ہیں لہٰذا ناقابلِ عمل ہیں۔( لاتتبع اهوائهم )


آیت ۱۵۱

( قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ أَلاَّ تُشْرِکُوا بِهِ شَیْئًا وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا وَلاَتَقْتُلُوا أَوْلاَدَکُمْ مِنْ إِمْلاَقٍ نَحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَإِیَّاهُمْ وَلاَتَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلاَتَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِهِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ )

ترجمہ: (اے پیغمبر ! ان سے) کہہ دو کہ آؤ میں وہ چیز تمہارے لئے پڑھوں جو تمہارے پروردگار نے تمہارے اوپر حرام کر دی ہے۔ (وہ) یہ کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بناؤ، والدین کے ساتھ نیکی کرو، اپنی اولاد کو تنگدستی کی وجہ سے قتل نہ کرو۔ (اس لئے کہ) ہم تمہیں بھی روزی دیتے ہیں اور انہیں بھی اور برائیوں کے نزدیک نہ جاؤ۔ خواہ وہ ظاہری ہوں یا پوشیدہ ۔ اور کسی جان کو کہ خدا نے جس کا قتل حرام قرار دیا ہے، قتل نہ کروسوائے (قصاص یا دفاع وغیرہ جیسے) حق کے۔ یہی وہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے اکہ عقل و خرد سے کام لو۔

ایک نکتہ:

زیر نظر آیت اور اس کے بعد کی آیت میں محرمات کے دہ گانہ اصول بیان ہوئے ہیں۔ جن کا آغاز توحید سے اور اختتام: اختلافات کے خاتمے پر ہوتا ہے۔ بقول تفسیر المیزان یہ آیت تمام ادیان کے مشترکات میں سے ہے۔ توریت (سفر خروج باب ۲۰) میں بھی اس سے ملتے جلتے احکام مذکور ہیں۔

مدینہ سے وہاں سے دو سردار حضرت رسول خدا کی خدمت مٰں حاضر ہوئے۔ آنجناب نے جب ان کے سامنے ان آیات کی تلاوت کی تو وہ مسلمان ہوگئے اور آپ سے مبلغ کی درخواست ک۔ حضور پاک نے مصعب بن عمر کو ان کے ہمراہ بھیج دیا۔ اس طرح مدینہ کے لوگوں کے مسلمان ہونے کی راہیں ہموار ہوگئیں۔

پیام:

۱ ۔ لوگوں کو حرام چیزیں بتانا انبیاء کے فرائض میں شامل ہے۔( اتل ماحرم )

۲ ۔ چونکہ ہر چیز میں اصل اس کا حلال ہونا ہے لہٰذا حلال کو شمار کرنے اور تلاوت کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ حرام کو بیان کرنا چاہیئے۔( اتل ماحرم )

۳ ۔ دین میں حرام کردہ چیزیں خدا کی طرف سے ہیں، پیغمبر اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام نہیں کرتے۔( حرم ربکم )

۴ ۔ بُرے کاموں سے رکاوٹ، انسان کی تربیت اور ارتقاء کے لئے ہے۔( حرم ربکم )

۵ ۔ چونکہ شرک بہت بڑا ظلم اور تمام بُرائیوں کی جڑ ہے۔ اسی لئے ممنوعات میں سرفہرست بیان کیا گیا ہے۔( الائشرکوا )

۶ ۔ توحید پرستی کے بعد والدین کے ساتھ نیکی اور خاندان کے نظام کی حفاظت کا حکم ہے۔( وبالوالدین )

قرآن مجید میں چار مقامات پر والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا یگا ہے۔ اور ہر جگہ مسئلہ توحید اور شرک سے نہی کے بعد۔ ۵۴

۷ ۔ اس آیت میں تمام احکامات نہی کی صورت میں بیان ہوئے ہیں مگر والدین کے ساتھ نیکی کا امر کیا گیا ہے یعنی نہ صرف انہیں اپنی نظروں سے نہ گراؤ بلکہ ان کے ساتھ احسان (نیک سلوک ) بھی کرو۔

۸ ۔ غربت کے ڈر سے اولاد کشی اور اسقاط حمل ایک جاہلانہ کام ہے، اگر خدا ہی روزی کا ضامن ہے تو پھر غربت کا خوف کیسا؟( نحن نرزقکم )

۹ ۔ معاشرے کی اصلاح خرابیوں کا دور کرنا بھی ضروری اور روح کی اصلاح کے لئے اس سے رذالتوں کا دور کرنا بھی۔( ماظهرمن هاومابطن )

۱۰ ۔ ایک گناہ سے آلودگی، دسرے گناہوں کی چابی ہوتی ہے، اسی لئے "فواحش" کہا ہے "فاحشہ" نہیں کہا۔

۱۱ ۔ بعض گناہ ایسے خطرناک ہیں کہ ان کے نزدیک بھی نہیں بھٹکنا چاہئے جیسے پیڑول کے نزدیک آگ نہیں لائی جاسکتی۔( لاتقربوا )

آیت ۱۵۲

( وَلاَتَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی هِیَ أَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ أَشُدَّهُ وَأَوْفُوا الْکَیْلَ وَالْمِیزَانَ بِالْقِسْطِ لاَنُکَلِّفُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبَی وَبِعَهْدِ اللهِ أَوْفُوا ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِهِ ) ( لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ )

ترجمہ: بہتر اور مفید تر انداز کے بغیر یتیم کے مال کے نزدیک نہ جاؤ۔ جب تک کہ وہ بلوغ اور رشد کی حد تک نہ پہنچ جائیں۔ اور (لین دین میں) پیمانے اور وزن کے حق کی عدالت کے ساتھ پورا کرو ہم کسی شخص کو اس کی وسعت کے سوا تکلیف نہیں دیتے اور جب تم کوئی بات کرو (خواہ فیصلہ کی ہو خواہ گواہی دینے کی) تو عدالت کی بات کرو خواہ تمہارے قریبی شرتہ داروں کے بارے میں ہو، اللہ سے کئے ہوئے اپنے وعدے پورے کرو، یہ ایسے امور ہیں جن کی خدا نے تم کو حکم دیا ہے، شاید کہ تم نصیحت حاصل کرو۔

ایک نکتہ:

خداوند تعالیٰ اپنے کام "احسن طریقے" سے انجام دیتا ہے۔ "احسن الخالقین" ۔ "احسن تقویم" "نزل احسن الحدیث" وغیرہ۔ وہ ہم سے بھی یہی چاہتا ہے کہ ہمارے کام بھی احسن طریقے سے انجام پائیں خواہ یتیموں کے مال میں دخل اندازی ہو یا مد مقابل کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ۔ خواہ دوسرے لوگوں کی باتوں کو سُن کر ان میں اچھی باتوں کو قبول کرنا ہو یا لوگوں کی برائیوں کا بہترین انداز میں جواب دینا۔ کیونکہ ان تمام صورتوں میں لفظ "احسن" استعمال ہوا ہے۔

پیام:

۱ ۔ یتیموں کے حقوق کی حفاظت کے لئے بہترین رویہ اپنانا چاہیئے (التی ھی احسن) جو لوگ اقتصادی صلاحیت رکھتے ہیں اور کافی حد تک تقویٰ کے پابند ہیں ان کے علاوہ کسی کو ان کے مال کے نزدیک نہیں جانا چاہیئے۔( لاتقربوا ---- الا )

۲ ۔ جب یتیم اچھی طرح رشد اور سوجھ بوجھ کی حد تک پہنچ جائیں ان سے اپنا تسلط اٹھا لو۔ (حتی یبلغ اشدہ)

۳ ۔ اقتصادی نظام عدل اور قسط کی بنیادوں پر چلنا چاہئے (ب( القسط ) ۵۵

۴ ۔ اگر عدالت کا اجر صحیح معنوں میں ممکن نہیں ہوسکتا تو امکان اور طاقت کی حد تک تو اس کا لحاظ ضرور رکھو۔( لاتکلف تفساالا وسعها )

۵ ۔ قرآنی آیات میں خدا کے امر اور نہی انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہے( لاتکلف نفسا الا وسعها )

۶ ۔ فرائض کی بجا آوری کے لئے قدرت اور توانائی کا ہونا شرط ہے اور عروحرج کی نفی ہے۔ اور یہی چیز فقہ کے قوانین مرتب کرنے کے لئے کافی حد تک معاون اور کارساز ہے۔( الا وسعها )

۷ ۔ اسلام میں فریضہ کی بجا آوری، قدرت اور توانائی کے مطابق ہے۔ جو جس قدر طاقتور ہوگا، فرائض کی بجاآوری اس کے لئے اسی قدر سنگین ہوگی۔

۸ ۔ گفتگو اور گواہی دینے میں مشفقانہ جذبات کا شکار ہو کر حق اور عدالت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو۔( اذاهلتم فاعداوا )

۹ ۔ عدالت ایک ضروری اصول ہے خواہ وہ رفتار مٰں ہو یا گفتار مٰن۔( اوفواالکیل---- واذاتلتم فاعدلوا ) اسی طرح (قرار کرنے) گواہی دینے، وصیت کرنے، فیصلہ کرنے، حکم جاری کرنے، کسی پر تنقید کرنے یا کسی تعریف کرنے مٰں عدل کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹنا چاہیئے۔

۱۰ ۔ خدا کے کئے ہوئے عہد و پیماں کے وفادار رہو( جس مٰں اورمر اور نواہی، نیز ضمیر اور فطرت سب داخل ہیں)

۱۱ ۔ رشتہ داری کے "رابطہ" کو حق اور عدل کے "ضابطہ" پر ترجیح نہ دو( ولوکان ذاقربیٰ )

آیت ۱۵۳

( وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِی مُسْتَقِیمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلاَتَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیلِهِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِهِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ )

ترجمہ: اور یقینا یہ (مذکورہ احکام) یہ سیدھا راستہ ہیں۔ پس تم اس راستے کی پیروی کرو۔ اور دوسرے کی پیروی نہ کرو ورنہ وہ تمہیں راہ خدا سے پراگندہ کر دیں گے۔ یہ تمہیں خدا کا حکم ہے شاید کہ تم متقی بن جاؤ۔

چند نکات:

پیغمبر خدا نے اس آیت کی وضاحت کے لئے تصویر کشی سے کام لیا، چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ زمین پر ایک لکیر کھینچی اور فرمایا "یہ سیدھا راستہ ہے جو ایک سے زیادہ نہیں ہے" پھر اس لکیر کے دائیں بائیں کئی لکیریں کھنچیں اور فرمایا۔ "متعدد راستے ہیں جن میں سے ہر ایک کے لئے ایک نہ ایک شیطانی دعوت کرتا ہے۔ " پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمایا۔ (تفسیر مراغی منقول از ابن عباس)

حضرت رسول اکرم انہی تین آیات کی بنیاد پر لوگوں سے بیعت لیا کرتے تھے۔ (تفسیر فرقان)

ان آخری تین آیتوں میں تین مختلف تعبیریں بیان ہوئی ہیں، آیت ۱۵۱ میں شرک، قتل اور فحاشی سے روکا گیا ہے اور آخر میں کہا گیا ہے۔ "( لعلکم تعقلون ) " یعنی ان امور کی بُرائی تھوڑے سے غور و فکر کرنے سے سب پر روشن ہوجاتی ہے۔ آیت ۱۵۲ میں یتیموں کے مال کی حفاظت ، قسط و عدل کا پس، اور ایفائے عہد کا حکم دیا گیا ہے اور آخر میں کہا یگا ہے کہ "( لعلکم تذکرون ) " یعنی عدالت کی اچھائی کو ہر شخص کی فطرت اور ضمیر قبول کرتے ہیں۔ صرف یاد دلانے کی ضرورت ہے۔ اور زیر بحث آیت میں خدائی احکام کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔ لہٰذا آخر میں "( لعلکم تتقون ) " آیا ہے۔ کیونکہ تقویٰ نام ہی فرمان الٰہی کی اطاعت کی راہ میں قدم اٹھانے کا ہے۔

پیام:

۱ ۔ جس طرح "نور" ایک ہے اور "ظلمات" بہت زیادہ، اسی طرح راہ مستقیم بھی ایک ہے یعنی تمام صحیح حرکتیں اور سلیقے ایک ہی منزل مقصود تک جا پہنچاتے ہیں۔ لیکن گمراہ کن رشتے بہت زیادہ ہیں۔ ("صراط" مفرد ہے اور "سبل" جمع ہے۔)

۲ ۔ تمام خدائی ادیان کی اساس اور بنیاد خدا کی راہ پر چلنا اور دوسرے رستوں سے دوری اختیار کرنا ہے۔( صراطی، فاتبعوه، ولا تتبعوا السبل ) ۵۶

۳ ۔ تقویٰ کے حصول کی راہ صرف یہی ہے کہ متعدد اور مختلف رستوں سے دوری اختیار کی جائے( ولا تتبعوالسبل---- تتقون ) ۔

۴ ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ شاید انسان کے رشدوکمال کے مراحل تعقل، تذکر اور تقویٰ سے عبارت ہیں۔ (جوان آخری تین آیتوں میں ذکر ہوتے ہیں۔ یعنی "( لعلکم تعقلون- لعلکم تذکرون ) اور لعلکم تتقون۔" پہلے تعقل ہے پھر تذکر ہے اور آخر میں راہ حق کو اختیار کرنا اور دوسری راہوں سے بے اعتنائی برتنا ہے۔

آیت ۱۵۴

( ثُمَّ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ تَمَامًا عَلَی الَّذِی أَحْسَنَ وَتَفْصِیلًا لِکُلِّ شَیْءٍ وَهُدًی وَرَحْمَةً لَعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ ) ( رَبِّهِمْ یُؤْمِنُونَ )

ترجمہ: اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو (آسمانی) کتاب دی تاکہ ہم اپنی نعمتیں اس شخص پر مکمل کریں جو اچھی طرح سمجھتا ہے اور اچھے اچھے کام کرتا ہے۔ اور (یہ کتاب) تمام مسائل کو تفصیل کے ساتھ بیان کرے اور لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت کا وسیلہ ہو۔ تاکہ لوگ (قیامت کے دن) اپنے پرودگار کی ملاقات پر ایمان لے آئیں۔

ایک نکتہ:

قرآن مجید اور توریت میں کئی طرح کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ جب کہ روایات میں ہے کہ: مسلمانوں کی سرنوشت بھی قوم بنی اسرائیل سے ملتی جلتی ہے۔ انجیل میں زیادہ زور وعظ و نصیحت پر دیا گیا ہے۔ زبور میں دعائیں بہت زیادہ ہیں۔ لیکن قوانین کے لحاظ سے توریت قرآن مجید سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ اسی لئے توریت کو "امام" بھی کہا گیا ہے جیسا کہ سورہ ہود/ ۱۷ میں: "ومن قبلہ کتاب موسیٰ اماما" اور زیر بحث آیت میں بھی توریت کا رحمت، ہدایت اور ہر چیز کا تفصیل سے بیان کرنے والی کتاب کے عنوان سے تعارف کرایا گیا ہے۔

پیام:

۱ ۔ ہر کتاب اپنے زمانے کے حساب سے کامل ومکمل ہے۔( تماما )

۲ ۔ صرف نیک لوگ اور نیک فکر رکھنے والے افراد ہی آسمانی کتابوں کے پیغامات کو لیتے اور انبیاء کے بتائے ہوئے اصولوں کو اپناتے ہیں۔( علی الذی احسن )

۳ ۔ تمام انسانی ضرورتیات جو معنوی ارتقا کے لئے ضروری ہوتی ہیں آسمانی کتابوں میں مذکور ہیں۔( تفصیلا لکل شیء ) ۔)

۴ ۔ جو نقطہ ہمیشہ اور ہر نبی کے پیش نظر رہا "قیامت" ہے۔( لقاء ربهم )

آیت ۱۵۶ ، ۱۵۶

( وَهَذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَکٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ أَنْ تَقُولُوا إِنَّمَا أُنزِلَ الْکِتَابُ عَلَی طَائِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا وَإِنْ کُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِینَ )

ترجمہ: اور یہ کتاب (قرآن مجید) جسے ہم نے نازل کیا ہے برکت سے بھرپور ہے۔ لہٰذا تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو شاید کہ تم پر رحم کیا جائے۔

(اسے ہم نے اس لئے نازل کیا ہے) تاکہ تم یہ نہ کہو کہ کتاب تو بس دو ہی گروہوں (یہودو نصاریٰ) ہر نازل ہوئی ہے جو ہم سے پہلے تھے اور ہم اس کے پڑھنے سے بے خبر تھے۔

چند نکات:

"مبارک" اور "برکت" جیسے کلمات میں دو چیزیں ہوتی ہیں۔ ۱ ۔طاقتور اور پائیدار بنیاد، ۲ ۔ہمیشہ کی ترقی، چنانچہ قرآن مجید میں بنیادی اور ناقابل تغیر و تبدل: محکم اور پائیدار مطالب بھی پائے جاتے ہیں اور زمانے کے گزرنے کے ساتھ اس کے اسرار سے پردے بھی اُٹھتے جاتے ہیں اور روز بروز اس کا جلوہ افروزن تر ہوتا جاتا ہے۔

"ان تقولوا" کا معنی ہے "لئلاتقولوا" یعنی تاکہ تم کوئی بات نہ کر سکو اور کسی قسم کا بہانہ نہ بنا سکو۔

"دراستہ" کا معنی تلاوت اور علم ہے۔

پیام:

۱ ۔ قرآن مجید صرف تھیوری کی کتاب نہیں ہے بلکہ عمل کی کتاب اور قابل اتباع ہے۔( فاتبعوه )

۲ ۔ انسان کی سعادت کا راز دو چیزوں میں مضمر ہے۔ ۱ ۔حق کی اطاعت اور ۲ ۔باطل سے دوری۔( فاتبعوه اتقو )

۳ ۔ قرآن کی اتباع تو راہ کا صرف ایک حصہ ہے۔ جبکہ اس کا دوسرا حصہ پیغمبر اسلام کی نیت اور ان کے معصوم جانشینوں کے اسوہ عمل کی پیروی ہے۔( لعلکم )

۴ ۔ خدا نے اپنی حجت لوگوں پر تمام کر دی ہے( ان تقولوا )

۵ ۔ مسلمانوں کی نشریاتی اور تبلیغی مشینری پر ملک، ہر ملت، اور ہر زبان کے لئے ہونی چاہیئے جس کہ ذریعہ سے صحیح پروگرام عالمی سطح پر نشر کئے جائیں تاکہ دنیا کے تمام لوگوں پر حجت تمام ہو جائے۔( ان تقولوا )

آیت ۱۵۷

( أَوْ تَقُولُوا لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَیْنَا الْکِتَابُ لَکُنَّا أَهْدَی مِنْهُمْ فَقَدْ جَائَکُمْ بَیِّنَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَهُدًی وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَّبَ بِآیَاتِ اللهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِی الَّذِینَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوا یَصْدِفُونَ )

ترجمہ: یا یہ کہو کہ: اگر آسمانی کتاب ہم پر نازل ہوتی تو ہم بھی یقینا ان سے زیادہ اور بہتر ہدایت پاجاتے۔ (اس بہانے کو ختم کرنے کے لئے) تمہارے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل، ہدایت اور رحمت آچکی ہے۔ پس اس شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم ہوگا جو آیات الٰہی کی تکذیب کرتا ہے اور اس سے منہ پھیر لیتا ہے۔ ہم بہت جلد ان لوگوں کو جو ہماری آیات سے روگردانی کرتے ہیں سخت عذاب کے ساتھ سزا دیں گے۔ اس لئے کہ حق کی راہ کی طرف پشت کرتے تھے۔

ایک نکتہ:

"صدف" کا معنی ہے بغیر سوچے سمجھے کسی چیز سے سخت روگردانی کرنا۔

پیام:

۱ ۔ قرآن، دلائل کی کتاب، ہدایت اور رحمت ہے۔( جاء کم بینة ---- وهدیً ورحمة )

۲ ۔ آزمائش سے پہلے دعویٰ کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں لیکن جب امتحان ہوتا ہے تو سب کی صداقت آشکار ہوجاتی ہے۔( لکنا اهدیٰ----- وصدف عنها )

۳ ۔ آسمانی کتابوں سے روگردانی، انسانیت پر بہت بڑا ظلم ہے۔( فمن اظلم )

۴ ۔ دین حق سے بلاوجہ روگردانی کی سزا، عذاب شدید ہے۔( سواء العذاب بما کانوا---- )

۵ ۔ انسان کی بدبختی اور شقاوت کا اصل عامل و اس کے اپنے کارنامے ہوتے ہیں۔( بما کانوا یصدفون )

آیت ۱۵۸

( هَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ أَنْ تَأْتِیَهُمْ الْمَلاَئِکَةُ أَوْ یَأْتِیَ رَبُّکَ أَوْ یَأْتِیَ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ یَوْمَ یَأْتِی بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَیَنفَعُ نَفْسًا إِیمَانُهَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِی إِیمَانِهَا خَیْرًا قُلْ انتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ )

ترجمہ: آیا (آیات، معجزات، بنیات اور رحمتوں کے دیکھنے کے باوجود بھی) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آئیں یا خود تیرا پروردگار ان کے پاس آئے یا تیرے رب کی بعض آیات (قیامت کی نشانیاں) آئیں؟ (آیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ) جس دن تیرے رب کی بعض نشانیاں (خدا کے قہر و غضب کی صورت میں) آئیں گی تو انہیں ان کا (مجبوری کے تحت لایاجانے والا) ایمان (اور توبہ) کسی کام نہیں آئے گا کیونکہ وہ اس سے پہلے ایمان نہیں لائے تھے اسی طرح ان لوگوں کا ایمان بھی بے کار ہوگا جنہوں نے نیکی کا کوئی کام نہیں کیا تھا۔ (اے پیغمبر!)کہہ دو کہ (قہر خداوندی کے) منتظر رہیں ہم بھی انتظار میں ہیں۔

ایک نکتہ:

سورہ بنی اسرائیل کی ۹۱ ویں آیت میں بھی کفار کی بے جا توقعات کو ذکر کیا گیا ہے کہ وہ کہتے تھے : "ہم تمہارے اوپر ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ تم آسمان ہمارے سر پر گرا دو یا خدا اور فرشتوں کو ہمارے پاس لے آؤ۔ اس آیت میں کفار کی اس قسم کی توقعات کو مسترد کر دیا گیا ہے۔

پیام:

۱ ۔ ضدی مزاج کافر: خدا کے معجزات دیکھنے کے باوجود بھی انہیں تسلیم نہیں کرتے۔( هل ینظرون )

۲ ۔ ایمان کے بارے میں ٹال مٹول سے کام لینے کا نتیجہ شفاوت اور بدبختی ہے۔( لاینفع تفسا ایمانها )

۳ ۔ ایمان اور عمل اس وقت فائدہ مند ہوتے ہیں جب آزادانہ اور طبعی طور پر اختیار کئے جائیں۔ مجبوری اور خوف کے مارے ایمان یا عمل کا کوئی فائدہ نہیں۔( یوم یاتی بعض آیات ربک لاینفع-- )

آیت ۱۵۹

( إِنَّ الَّذِینَ فَرَّقُوا دِینَهُمْ وَکَانُوا شِیَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِی شَیْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَی اللهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا کَانُوا یَفْعَلُونَ )

ترجمہ: بے شک جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکروں میں بانٹ دیا اور گروہ گروہ بن گئے (تو اے پیغمبر!) تمہارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی سزا، انجام اور معاملہ صرف خدا کے سپرد ہے۔ پھر وہ انہیں ان کے کرتوتوں اور کارناموں سے آگاہ کرے گا۔

پیام:

۱ ۔ دین کے معارف میں کوئی فرق نہیں ہے لہٰذا سب پر ایمان رکھنا اور عمل کرنا چاہیئے۔ (ف( رقوادینهم )

۲ ۔ مسلم معاشرے کا بٹوارہ عام طور پر دین میں ردوبدل کرنے کی وجہ سے وجود میں آتا ہے۔( فرقوا دینهم وکانو اشیعا )

۳ ۔ جو لوگ تمام اسلامی نظام کو نہیں مانتے ان کے ساتھ تعاون اور ہمکاری نہیں کرنی چاہیئے اور نہ ہی انہیں اپنا سمجھنا چاہیئے۔( لست منهم فی شیء )

۴ ۔ دین مٰں فرقہ رستی اور تفرقہ بازی ایک قسم کا شرک ہے چنانچہ سورہ روم/ ۳۲ مٰن ہے "( ولا تکونوامن المشرکین من الذین فرقوادینهم ) " یعنی مشرکین سے نہ ہو جاؤ یعنی ان لوگوں سے جنہوں نے اپنے دین کو ٹکروں میں تقسیم کر دیا اور فرقوں میں بٹ گئے۔ ۵۷

آیت ۱۶۰

( مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَنْ جَاءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلاَیُجْزَی إِلاَّ مِثْلَهَا وَهُمْ لاَیُظْلَمُونَ )

ترجمہ: جو شخص بھی کوئی نیکی لے آئے گا تو اس کے لئے (جزا کے طور پر) اس کا دس گناہیں۔ اور جو برائی لے آئے گا۔ اسے اسی مقدار کے علاوہ سزا نہیں ملے گی اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا۔

چند نکات:

"( جاء ) " کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ سزا اور جزا کا تعلق قیامت کی عدالت سے ہے، ورنہ بہت سے ایسے گناہ ہوتے ہیں جو یا تو توبہ کے ذریعہ مٹا دئیے جاتے ہیں جیسا کہ خدا فرماتا ہے "یقبل التوبہ" توبہ/ ۱۰۴ ۔ شوریٰ/ ۲۰ اوریہ خدا کی ایک صفت یا پھر نیکی میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ "( یبدلالله میئاتهم حسنات ) " خدا ان کے گناہوں کو نیکیوں مٰں بدل دیتا ہے۔(فرقان/ ۷۰) یا معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ "یفعواعن کثیر" خدا بہت سے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ (شوریٰ/ ۳۰)

اسی طرح کئی ایسی نیکیاں بھی ہیں جو ریا، خود پسندی اور دوسرے گناہوں کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہیں۔ پس وہی عمل ہی تو اب وقعاب کا مستوجب بنے گا جو عرصہ محشر میں لایا جائے گا۔( جاء )

اگرچہ آیت کا تعلق نیک اور بداعمال سے ہے لیکن روایات کے مطابق جو شخص نیکی کی نیت کرے گا اسے اس کا بھی ثواب ملے گا۔ (خواہ وہ نیکی نہ بھی بجا لائے) لیکن برائی کی نیت کو جب تک عملی جامہ نہیں پہنایا جاے گا اس وقت اس کی سزا کا مستوجب نہیں ہوگا، اور یہ ایک فضل خداوندی ہے۔

روایات میں ہے کہ جو شخص ہر مہینے تین روزے رکھے گا اس نے پورے مہینے کے روزے رکھے" اسی آیہ "عشرامثالھا" کی دلیل کے مطابق کہ اس کا ہر ایک روزہ دس روزوں کے برابر شمار ہوگا۔

پیام:

۱ ۔ اسلام کے طریقہ تربیت میں تنبیہ صرف ایک ہے اور تشویق دس گنا۔( عشرامثالها )

۲ ۔ تشویق کئی گناہ ہو تو یہ ظلم نہیں ہے لیکن حد سے زیادہ سزا ظلم ہے۔

۳ ۔ خداوندعالم جزا اور تو اب میں اپنے فضل کا مظاہرہ کرتا ہے اور سزا اور عذاب میں عدل کا ۔ ۵۸

۴ ۔ دس گنا جزا مٰن سے صرف ایک حصہ "مزدوری" ہے اور باقی نو حصے "فضل" جب کہ خود فرماتا ہے۔ "( فیوفیهم اجورهم ویزیدهم من فضله ) " یعنی انہیں ان کی اجرت بھی پوری ملے گی اور ساتھ ہی خدا کا مزید فضل بھی ہوگا۔ (مائدہ/ ۱۷۳)

۵ ۔ انسان کا عمل ہمیشہ اور ہر جگہ اس کے ساتھ ساتھ ہے( جاء بالحسنة - جاء بالسیئة )

۶ ۔ دس گنا تو اب تو ایک عمومی بات ہے ورنہ بعض اعمال ایسے بھی ہیں جنہیں بعض حالات میں بعض افراد سرانجام دیتے ہیں جن کی جزا اور ثواب سات سو گنا بلکہ بعض اوقات بے حساب بھی ہے۔

آیت ۱۶۱

( قُلْ إِنَّنِی هَدَانِی رَبِّی إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ دِینًا قِیَمًا مِلَّةَ إِبْرَاهِیمَ حَنِیفًا وَمَا کَانَ مِنْ الْمُشْرِکِینَ )

ترجمہ: (اے پیغمبر )کہہ دیجیئے کہ میرے پروردگار نے مجھے راہ راست کی اور ثابت و استوار دین کی ہدایت کر دی ہے۔ اس ابراہیم کے آئین کی جو (باطل سے منہ موڑ کر) حق کی راہ پر گامزن تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔

چند نکات:

جس قدر اس سورت مین لفظ "قل" (کہہ) استعمال ہوا ہے اتنا قرآن مجید کی کسی اور سورت میں استعمال نہیں ہوا۔ اس خطاب کا ۴۴ مرتبہ تکرار شاید اس وجہ سے ہے کہ اس سورت میں گمراہ کن اور باطل عقائد کی تردید اور مشرکین کی ناروا اور بے جا توقعات کو بیان کرکے ان کو مسترد کیا جاچکا ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ ایسے مواقع پر دشمنانِ دین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت رسالتمآب خدا کی طرف سے مامور تھیا ور جو چکھ وحی ناز ہو اسے من و عن بیان کردیں۔

۔ "( قِیمَ ) " اور "( قِیمَّ ) " دونوں ایک ہی طرح کے کلمات ہیں جن کا معنی ہے سیدھا، پائیدار اور استوار دائمی اور جامع۔ یعنی ایسا دین جو لوگوں کے اس دنیا کے مادی مسائل پر بھی توجہ رکھتا ہے اور اُس جہان کے معنوی مسائل پر بھی۔

پیام:

۱ ۔ پیغمبرِ اسلام کے فرمودات اور ان کی تعلیمات، آپ کی ذاتی رائے کے مطابق نہیں تھیں بلکہ جو کچھ بھی تھا وحی خداوندی کا متن تھا۔( قل )

۲ ۔ پیغمبرِ خدا نہ صرف صراطِ مستقیم پر گامزن تھے بلکہ اس پر مسلط بھی تھے۔ (اس سے اچھی طرح آگاہ بھی تھے کیونکہ اس آیت میں "الی صراط مستقیم" ہے اور سورہ یس میں "علی صراط مستقیم" ہے۔

۳ ۔ ہدایت صرف خدا کا کام ہے ، حضرت انبیاء کرام علیھم السلام بھی الٰہی ہدایت کے تحت راہ مستقیم پر گامزن ہیں۔( هدنیٰ ربی )

۴ ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا راستہ بھی وہی توحید اور یگانہ پرستی کا راستہ تھا وہ مشرکانہ عقائد و افکار سے بالکل پاک اور منزہ تھے۔( حنیفا و مان من المشرکین ) مشرکین حضرت ابراہیم کی طرف عقائد باطلہا ر مشرکانہ افکار کو منسوب کرتے تھے۔

۵ ۔ بت شکنی اور سرک سے روگردانی کا کام صرف رسول اسلام ہی نے سر انجام نہیں دیا بلکہ ابراہیم بھی ایسا کر چکے تھے۔( حنیفا )

۶ ۔ تاریخی لحاظ سے تمام توحیدی ادیان کی اساس اور اصول ایک ہی چکے آرہے ہیں۔ اسلام وہی دین ہے جو ابراہیم کا آئینی اصول تھا اور شرک سے نفرت اور بیزاری تمام انبیاء کا کام رہا ہے۔

آیت ۱۶۲ ، ۱۶۳

( قُلْ إِنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَای وَمَمَاتِی لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لاَشَرِیکَ لَهُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ )

ترجمہ: کہہ دو کہ یقینا میری نماز میری عبادت، میری زندگی اور میری موت اس اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے اسی بات (سر تسلیم خم کرنے اور اس کی عبودیت کا اقرار کرنے) کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔ ۵۹

دو نکات:

موت، زندگی کو، زندگی نُسک (عبادت) کو اور نُسک نماز کو اپنے احاطہ میں لئے ہوتی ہے۔ بنا بریں نماز تمام عبادات کا اندرونی مرکز ہے اور عبادت و نُسک زندگی کے متن میں واقع ہیں۔

اسلام کا معنی ہے امر خداوندی کے آگے سر جھکانا اور اس کی نسبت تمام انبیاء کی طرف دی گئی اور حضرت آدم اور حضرت نوح خود کو مسلمان کہتے تھے ملاحظہ ہو سورة احقاف آیت ۱۵ ۔ سورہ یونس/ ۷۲ ۔ حضرت ابراہیم نے خدا سے درخواست کی کہ انہیں مسلمان قرار دے۔ "واجعلنا مسلمین" تو پھر جناب پیغمبر اسلام کس معنی کے لحاظ سے سب سے پہلے مسلمان ہیں؟ یا تو اس معنی کے لحاظ سے کہ اپنے زمانے کے سب سے پہلے مسلمان ہیں یا چونکہ مقام اور رتبہ کی وجہ سے سب پر مقدم ہیں لہٰذا پہلے مسلمان ہیں۔

پیام:

۱ ۔ مخلص انسان اپنی "تکونی راہ "(موت و حیات) اور "تشریعی راہ "(نماز و عبادت ) صرف اور صرف خدا کے لئے سمجھتے ہیں۔

۲ ۔ اگرچہ نماز جزو عبادات ہے لیکن نُسک (عبادات) کے ساتھ ساتھ اس کا علیحدہ ذکر اس کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے۔

۳ ۔ باطل اور گمراہ کن رستوں کے مقابلہ میں اپنے موقف کو ڈٹ کر، صراحت اور پورے فخر کے ساتھ بیان کرو( قل )

۴ ۔ پیغمبر اسلام ہم سب کے لئے اسہ (نمونہ عمل) ہیں لہٰذا ہماری تمام زندگیا ور موت بھی انہی کی مانند خدا کے لئے ہونی چاہیئے۔

۵ ۔ موت اور زندگی اہم نہیں۔ اہم یہ ہے کہ خدا کے لئے اور خدا کی راہ میں ہوں۔( اللّٰه )

۶ ۔ جو چیز خدا ے لئے ہو وہ پروان چڑھتی ہے( اللّٰه رب العالمین )

۷ ۔ ہم جس طرح نماز میں قصد قربت کرتے ہیں اسی طرح ہر ہر سانس میں اور موت اور زندگی کے ہر لمحے میں بھی ہمارا قصد قربت ہونا چاہیئے۔

۸ ۔ اگرچہ زندگی اور موت ہاتھوں میں نہیں ہیں لیکن انہیں رُخ دینا تو ہمارے اختیار میں ہے۔( للّٰه )

۹ ۔ تمام کاموں میں خلوص، امر الٰہی ہے۔( ا مرتُ )

۱۰ ۔ رہبر کو چاہیئے کہ راستہ طے کرنے میں اور فرمان اور دعوت پر عمل کرنے میں پیش قدم ہو۔( اوّل المسلمین )

آیت ۱۶۴

( قُلْ أَغَیْرَ اللهِ أَبْغِی رَبًّا وَهُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ وَلاَتَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْهَا وَلاَتَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُمْ مَرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ فِیهِ تَخْتَلِفُونَ )

ترجمہ: کہہ دو کہ آیا میں خدا کے علاوہ کوئی اور پروردگار تلاش کروں؟ حالانکہ وہ تمام چیزوں کا پروردگار ہے اور کوئی شخص جو کام بھی کرتا ہے، اسی کے ذمہ ہوتا ہے (اس کا نفع یا نقصان اسے ہی پہنچتا ہے) اور کوئی شخص کسی کا بوجھ نہیں اُٹھاتا۔ پھر تمہاری بازگشت تمہارے پروردگار کی طرف ہے پس وہ تمہیں اس چیز سے آگاہ کرے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

چند نکات:

عدل الٰہی کا موضوع اور یہ کہ "کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اُٹھاتا" نہ صرف اسلام میں بلکہ قرآنی تصریحات کے مطابق صحف اور ابراہیم و موسیٰ میں بھی مذکور ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: "( ام لم ینبأمافی صحف موسیٰ- و ابراهیم الذی وفیّٰ- الائزر وارزة وزراخرض ) ۔" یعنی کیا اسے ان باتوں کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے اور ابراہیم (کے صحیفوں میں بھی) جنہوں نے پوراپورا حق ادا کیا (یہ ہے کہ) کوئی شخص کسی دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا۔ (نجم/ ۳۶ تا ۳۸)

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ "اگر کوئی شخص کسی وجہ کے بغیر دوسرے کے گناہوں کا ذمہ دار نہیں ہے تو پھر قرآن میں جو یہ ہے کہ "گمراہ اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے رہبر، اپنے پیروکاروں کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے اوپر اُٹھائیں گے، جب کہ ارشاد ہوتا ہے: "( لیحملوا اوزارهم کا ملة یوم القیٰمة ومن اوزارالذین یضلونهم ) " (نحل/ ۲۵) اس کا کیا جواب ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا بلاوجہ نہیں ہے، وہ یوں کہ گمراہ کن رہبر دوسروں کے گمراہ ہونے اور ان کے بھٹکنے کا موجب بنے ہیں، درحقیقت گناہ کا بوجھ ان کے گمراہ کرنے کا بوجھ ہوگا۔

پھر ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ : "اگر کسی شخص کا عمل دوسروں کے لئے فائدہ مند نہیں ہے تو پھر عبادت میں نیابت کا یہ مسئلہ کیا ہے؟"

تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی عمل کے وضعی آثار کسی دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہوسکتے لیکن عمل کی جزا اور ثواب دوسروں کو "ہدیہ" دیا جاسکتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ انسان کا بیدار ضمیر ایک ایسی بہترین عدالت ہے کہ جو اندرونی سوالات کے از خود جواب دیتی ہے۔( اغیرالله ابغی )

۲ ۔ خدا ہی ہر شے کا پروردگار ہے، اس کے علاوہ اور لوگ کون ہوتے ہیں؟( رب کل شی ء )

۳ ۔ ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار اور جوابدہ ہے۔( لاتزروازرة ورز اخریٰ )

۴ ۔ لوگوں کا کفر و شرک یا نیکی اور بُرائی، خدا کو نہ تو نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان، بلکہ جو کوئی جو کچھ کرے گا اس کا نفع یا نقصان خود اسی کا دامنگیر ہوگا۔( لاتکسب کل نفس الا علیها )

آیت ۱۶۵

( وَهُوَ الَّذِی جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الْأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِیَبْلُوَکُمْ فِی مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِیمٌ )

ترجمہ: اور وہ وہی خدا ہی تو ہے جس نے تمہیں زمین کے جانشین قرار دیا۔ اور تم میں سے بعض کے درجات کو دوسرے بعض پر برتری دی تاکہ تمہیں اس چیز میں آزمائے جو تمہیں عطا کی ہے، یقینا تمہارا پروردگار بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

دونکات:

سورہ انعام حمد الٰہی کے ساتھ شروع ہوئی اور اس آیت میں رحمت الٰہی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

"( خلائف الارض ) " سے مراد یا تو زمین میں خدا کے خلیفے اور جانشین ہیں یا پھر گذشتہ امتوں کے جانشین۔

پیام:

۱ ۔ انسان زمین میں خلیفہ اور اس کا امیر ہے اور کائنات پر حاکم ہے ناکہ کائنات کا اسیر۔( خلائف الارض )

۲ ۔ خدا کے عطئے، برتری کا معیار نہیں ہے بلکہ آزمائش کا ذریعہ ہے۔( لیبلوکم )

۳ ۔ جس کے جس قدر امکانات ہیں، اس کی اسی قدر آزمائش ہے۔( فیما اتاکم )

۴ ۔ خدا کے عطیات اور درجات دائمی نہیں بلکہ عارضی ہیں۔ اور وہ بھی آزمائش کے لئے کبھی کچھ دے کر آزمایا جاتا ہے اور کبھی لے کر)

۵ ۔ ہر امتحان اور آزمائش کے بعد جو ناکام ہوجاتے ہیں خدا ان کے لئے (سریع العقاب) ہے اور جو کامیاب ہو جاتے ہیں ان کے لئے( غفور الرحیم ) ہے۔


سورہ انفال

( بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )

آیت ۱

( یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَاْلِطقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِج فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَه ٓاِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ )

ترجمہ۔ خداوند رحمان و رحیم کے نام کے ساتھ۔ (اے پیغمبر!) یہ لوگ آپ سے، جنگی غنیمتوں اور غیرمملوکہ املاک کے بارے میں سوال کرتے ہیں (کہ کس کی ملکیت ہیں؟) تو کہہ دیجئے کہ انفال خدا اور رسول کی ملکیت ہیں۔ پس تم خدا سے ڈرو اور اپنے اندرونی حالات کی اصلاح کرو اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان رکھتے ہو!

چند نکات:

قرآن مجید میں تقریباً ۱۳۰ مرتبہ لفظ "سوال" یا اس کے مشتقات استعمال ہوئے ہیں، اور ۱۵ مرتبہ "( یسئلونک ) " کا جملہ استعمال ہوا ہے۔

"انفال" جمع ہے "نفل" کی جس کے معنی ہیں "عطیہ" اور "اضافہ"۔ اور "نوفل" اس شخص کو کہا جاتا ہے جو صاحب عطا و بخشش ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو فرزند کا عطیہ "نافلہ" کہلایا۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :( ووهبناله اسحق و یعقوب نافلة ) ۔ (انبیاء/ ۷۲) فقہی اصطلاح میں مندرجہ ذیل اشیاء کو "انفال کہا جاتا ہے۔ قدرتی وسائل اور عمومی دولت، جنگی غنیمتیں، متروکہ املاک، لاوارث اموال، جنگلات، پہاڑی درے، بیشے، بنجر زمینیں ہر قسم کے معدنی ذرائع وغیرہ۔

تاریخی کتابوں میں ہے کہ جنگ بدر میں جو غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگی اس کے بارے میں مختلف سوالات ذہنوں میں گردش کرنے لگے کہ: مال غنیمت کا کیا کیا جائے؟ کسے دیا جائے کسے نہ دیا جائے؟ کن لوگوں کا حق اولیٰ بنتا ہے؟ چنانچہ اس موقع پر مال غنیمت کی تقسیم کا کام سرکار رسالت نے خود اپنے ذمہ لے لیا اور ہر ایک کا حصہ منصفانہ طور پر اسے دیا تاکہ زمانہ جاہلیت کے فرضی امتیازی سلوک کو ختم کر دیا جائے اور مستضعفین کی حمایت اور پشت پناہی کی جائے۔ ہرچند کہ کئی لوگوں نے اس مساویانہ سلوک کو سخت ناپسند بھی کیا۔ (ملاحظہ ہو کتاب "فروغ ابدیت" جلد ۱ ص ۴۲۳)

چونکہ تقریباً تمام سورت جنگ بدر کے بارے میں ہے لہٰذا یہ آیت بھی زیادہ تر جنگی غنیمت پر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن اس کے ساتھ مخصوص نہیں ہے (ازتفسیر المیزان)

پیام:

۱ ۔ عمومی اموال: لوگوں کی مقدس ترین اور محبوب ترین ذات کے ہاتھوں میں ہونے چاہئیں( لله والرسوله )

۲ ۔ انفال، اسلامی نظام کی پشت پناہ ہے اور اسلامی حکومت کو اقتصادی پشت پناہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

۳ ۔ مسائل چاہے عمومی ہوں یا اقتصادی ان کے بیان کرنے کا اصل مرجع الٰہی رہبر ہی ہے۔( یسئلونک- قل ) ۱

۴ ۔ اسلام کے پاس تو جنگلوں اور بیابانوں تک کے لئے قانون بھی ہیں۔

۵ ۔ حضرت رسول خدا کے تمام مصرف، اہداف الٰہی کی روشنی میں ہوتے ہیں( لله و الرسول ) ۲

۶ ۔ عمومی اموال کی حفاظت کے لئے تقوی اور پاکیزگی قلب کی ضرورت ہوتی ہے( فاتقوا الله )

۷ ۔ اتحاد و اتفاق کی حفاظت اور لوگوں کے اندر اصلاح قائم رکھنا ہر ایک پر واجب ہے۔( اصلحوا ) ۳

۸ ۔ ایمان کا تعلق صرف دل ہی کے ساتھ نہیں ہوتا، ظاہری جلوے اور عملی اطاعت بھی ضروری ہوتی ہے( اطیعوا، ان کنتم موٴمنین )

۹ ۔ مسلمان کو چاہئے کہ اخلاق، معاشرے اور سیاست میں پیش پیش ہو تاکہ کہیں بھی ناکام نہ ہو( اتقواالله، اصلحوا- ذات بینکم، اطیعوا )

۱۰ ۔ صرف محاذ پر چلے جانا ہی ایمان کی نشانی نہیں ہے، جنگی غنیمت سے بے نیازی، برادری اور بھائی چارے کی حفاظت اور رہبر اور قائد کے حکم کی بجاآوری بھی لازمی شرط ہے۔( ان کنتم موٴمنین )

۱۱ ۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ محاذ پر جانے اور جان کی بازی میں تو کامیاب ہو جائیں، لیکن مال کی آزمائش، غنیمت اور انفال کی تقسیم کے موقع پر مار کھا جائیں اور ناکام ہو جائیں۔

۱۲ ۔ محاذ جنگ میں اصل اور بنیاد ہے "حق کی باطل پر فتح" غنیمت کا تو مسئلہ ہی فرعی اور اضافی ہے۔ (انفال عفی "اضافہ" کے پیش نظر)

۱۳ ۔ جو معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھاتا ہے اسے خود بذات متقی ہونا چاہئے۔( اتقوا الله واصلحوا )

آیت ۲ ، ۳

( اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُه زَادَ تْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ صلي الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ ) ط

َ ترجمہ۔ صحیح بات یہ ہے کہ مومن تو درحقیقت وہی لوگ ہیں کہ جب اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل (اس کی عظمت سے) لرز جاتے ہیں، اور جب ان کے سامنے خدا کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان میں اضافہ کر دیتی ہیں، اور وہ صرف اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں۔

وہی لوگ تو ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ کہ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے (معاشرہ کے محروم لوگوں پر) خرچ کرتے ہیں،

ایک نکتہ:

جونہی عاشق کے سامنے معشوق کا نام لیا جاتا ہے تو اس کا دل تڑپ اٹھتا ہے اور اس کے غیظ و غضب کا تصور دل کو لرزا دیتا ہے اور اس کے لطف و کرم کا احساس دل کو سکون عطا کرتا ہے، یا جس طرح بچہ اپنے ماں باپ سے ڈرتا بھی ہے اور ان سے اپنا قلبی سکون بھی حاصل کرتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ ایمان، عشق اور تقویٰ کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے (المومنون۔ وجلت)

۲ ۔ ڈرنے والا دل ہی کمالات کی بنیاد ہے، سب سے پہلے دل میں خوف پیدا ہوتا ہے (وجلت) پھر ایمان میں اضافہ، نماز کے قیام اور خدا پر توکل کی باری آتی ہے( ایمانا، یتوکلون، یقیمون )

۳ ۔ ایمان کے مختلف درجات ہیں اور اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے( زادتهم )

۴ ۔ قرآن پاک کی ہر ایک آیت، حجت، دلیل اور نور ہے جو ایمان کے اضافے کا موجب بن سکتی ہے( زادتهم )

۵ ۔ جس خوف کا تعلق جہالت سے ہو وہ برا ہوتا ہے، اور جس کا تعلق معرفت سے ہو قابل تحسین ہے( الموٴمنون- وجلت )

۶ ۔ جو شخص اذان اور خدا کی آیات سننے کے باوجود بھی بے پروائی کا مظاہرہ کرے اسے اپنے ایمان کو مشکوک سمجھنا چاہئے۔

۷ ۔ مومن ہمیشہ دو حالتوں کے درمیان رہتا ہے۔ خوف اور امید۔( وجلت، یتوکلون )

۸ ۔ راہ خدا میں حلال مال اور خدا کی عطاکردہ روزی سے ہی خرچ کیا جانا چاہئے۔( رزقناهم )

۹ ۔ مومن اپنے مال و دولت کو خدائی عطیہ سمجھتا ہے، اپنے ہاتھوں کی کمائی نہیں جانتا۔( رزقناهم )

آیت ۴

( اُولٰئِٓکَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا طلَهُمْ دَرَجٰتٌعِِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ )

ترجمہ۔ یہی تو حقیقی مومن ہیں، جن کے لئے ان کے پروردگار کے پاس درجات ہیں، بخشش ہے اور باعظمت اور کریمانہ روزی ہے۔

ایک نکتہ:

"کریم" رزق سے مراد ہمیشہ کی "کسی کے احسان کے بغیر" وسیع اور خالص روزی ہے۔

پیام:

۱ ۔ ایمان اس وقت کامل ہوتا ہے جب اس کے ساتھ توکل، نماز، راہ خدا میں خرچ کرنا بھی جمع ہو جائیں۔ ایمان نعرے کے ساتھ نہیں عمل کے ساتھ ہوتا ہے( حقا )

۲ ۔ خداوند تعالیٰ سے درجات حاصل کرنے کا راز ایمان اور نماز میں پوشیدہ ہے( لهم درجات )

۳ ۔ ہیں ایسے لوگ بھی جو ایک دنیوی درجے کے حصول کے لئے پوری زندگی خرچ کر دیتے ہیں لیکن الٰہی درجات سے بالکل غافل ہیں( درجات )

۴ ۔ اللہ تعالیٰ کے درجے بہشت کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں، اس دنیا میں بھی ہیں اور برزخ میں بھی( عندربهم ) مطلق ہے۔

۵ ۔ چونکہ ایمان میں کمی بیشی کا امکان ہوتا ہے لہٰذا درجات بھی گھٹتے اور بڑھتے رہتے ہیں۔

آیت ۵

( کَمَآ اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْم بَیْتِکَ بِالْحَقِّص وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِهُوْنَ ) لا

ترجمہ۔ جس طرح تمہارا پروردگار تمہیں (جنگ بدر کا حکم دے کر) اپنے گھر سے برحق طور پر باہر لے آیا جبکہ مومنین میں سے کچھ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے تھے۔

ایک نکتہ:

جس طرح کہ افرادی قوت اور وسائل کی کمی کی وجہ سے محاذ جنگ پر جانا اور دشمن کے ساتھ جہاد کرنا کچھ لوگوں کے لئے سخت دشوار اور بہت ہی ناگوار تھا‘ بدر میں جنگی غنیمتوں کی تقسیم بھی ان کے لئے ناگوار تھی اور سب کچھ ٹھیک ہو گیا، اسی طرح یہ ناگواری بھی گزر جائے گی۔ اللہ کے رسول کو تو بس اس بات کی فکر ہونی چاہئے کہ حقیقی مصلحت کیا ہے اور احکام خداوندی کی بجاآوری کیسے کی جاتی ہے؟ لوگوں کی ناگواری اور ناپسندیدگی تو ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے۔

پیام:

۱ ۔ پیغمبر اسلام کا مدینہ سے جنگ بدر کے لئے باہر نکلنا حکم خداوندی کے مطابق تھا( اخرجک )

۲ ۔ محاذ جنگ میں تمام امور کا محور و مرکز قائد اور رہبرہی ہوتا ہے، اگرچہ جہاد کے لئے کئی اور لوگ بھی باہر نکلے تھے، لیکن آیت صرف پیغمبر اکرم کے نکلنے کو بیان کر رہی ہے۔( اخرجک )

۳ ۔ جنگ ترقی اور تربیت کا موجب ہوتی ہے( ربک )

۴ ۔ مدینہ، پیغمبر اکرم کا گھر ہے۔( بیتک ) (ہر شخص کے لئے گھر وہی ہوتا ہے جہاں وہ اپنی شخصیت کو منواتا ہے، صرف جائے پیدائش ہی گھر نہیں کہلاتی)

۵ ۔ مسلمانوں کے رہبر اور قائد کو اپنے فریضہ کی بجاآوری کی فکر ہونی چاہئے، ورنہ ہر کام میں اور ہر حکم کے صادر ہونے پر کچھ نہ کچھ لوگ ناراض ہوتے ہی ہیں( بالحق )

۶ ۔ جہاد کو ناپسند کرنے سے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا بشرطیکہ اطاعت میں فرق نہ آنے پائے( من الموٴمنین لکارهون )

۷ ۔ رہبر اور قائد کو اس بات کی توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ سب لوگ اس کی بے چون و چرا اطاعت کریں گے (فریقا)

۸ ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان بڑی محبت اور خلوص کے ساتھ محاذ جنگ پر جاتا ہے، لیکن آخر میں مالی مسائل اور جنگی غنائم کی وجہ سے اس کے دل میں کئی قسم کی باتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔

۹ ۔ جس کے پاس مال یا مالی اختیارات ہوتے ہیں، اس کے دشمن اور مخالف بھی ہوتے ہیں خواہ وہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔

آیت ۶

( یُجَادِ لُوْنَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَاتَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ ) ط

ترجمہ۔ وہ لوگ حق کے بارے میں اس کے واضح ہو جانے کے بعد آپ سے لڑائی جھگڑا کرتے ہیں (اور اس قدر ڈر چکے ہیں) گویا یہ دیکھ رہے ہیں کہ موت کی طرف ہنکا کر لے جائے جا رہے ہیں۔

ایک نکتہ:

مسلمانوں کے ایک گروہ کا پیغمبر کے ساتھ جھگڑا جنگ بدر کے بارے میں تھا، اور وہ بھی اس بات پر کہ نہ تو کافی مقدار میں وسائل جنگ ہیں اور نہ ہی افرادی قوت۔ اور پھر یہ کہ قریش تاجروں کا مال لینے کے لئے باہر نکل رہے ہیں۔ لشکر قریش سے جنگ کرنے کے لئے نہیں۔

چنانچہ کچھ لوگ تو جنگ نہ کرنے کی باتیں کرتے تھے اور کچھ دوسرے (جیسے حضرت مقداد) کہتے تھے: "ہم حضرت موسیٰ کے اصحاب کی مانند نہیں ہیں کہ خود بیٹھ جائیں اور پیغمبر سے کہیں کہ آپ خود جا کر لڑیں۔ ہم جنگجو لوگ ہیں، آپ جو حکم دیں گے ہم بسرو چشم بجا لائیں گے! "لیکن جو ڈرپوک لوگ جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے، حضرت رسول خدا سے لڑائی جھگڑا کرتے تھے۔

پیام:

۱ ۔ پیغمبر خدا کے سارے یار عادل اور آنحضرت کے مطیع امر نہیں تھے( یجاد لونک )

۲ ۔ تن پرور اور ڈرپوک لوگ جنگ سے گریز کے طور پر ہمیشہ لڑائی جھگڑے، توجیہیں، تاویلیں اور بہانے تراشا کرتے تھے۔

۳ ۔ اگر حوصلے پست اور دل خراب ہو جائیں تو فقط علم کافی نہیں ہوتا۔( بعد ماتبین )

۴ ۔ حوصلہ ہار جانے والے سپاہیوں کا میدان جنگ کی طرف جانا ایسے ہے جیسے کسی تابوت کو اٹھا کر لے جایا جا رہا ہو۔( یساقون )

آیت ۷

( وَ اِذْ یَعِدُ کُمُ اللّٰهُ اِحْدَی الطَّآئِفَتَیْنِ اَنَّهاَ لَکُمْ وَ تَوَ دُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَةِ تَکُوْنُ لَکُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یَُّحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِه وَ یَقْطَعَ دَابِرَالْکٰفِرِیْنَ ) لا

ترجمہ۔ اور اس وقت کو یاد کرو کہ جب خداوند عالم تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ ان دو گروہوں (دشمن کا تجارتی قافلہ یا جنگی لشکر) میں سے ایک تمہارے لئے ہی ہو گا، اور تم اس بات کودوست رکھتے تھے کہ غیرمسلح گروہ (تجارتی قافلہ) تمہارے قابو میں آ جائے۔ جبکہ خدا چاہتا ہے کہ اپنے کلمات (اور طریقہ کار) کے ذریعہ حق کو تقویت بخشے اور کفار کی بیخ کنی کر دے۔

چند نکات:

"شوکة" کا لفظ "شوک" سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں کانٹے اور نیزے کی انیاں، اور "ذات الشوکة" سے مراد مسلح گروہ ہے جبکہ "غیر ذات الشوکة" سے مراد غیرمسلح تجارتی قافلہ ہے۔

ابو سفیان ایک تجارتی قافلہ لے کر سفر پر روانہ ہوا، حضور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار کی طاقت کو کمزور کرنے اور مہاجر مسلمانوں کے مال کی تلافی کے لئے جو کہ کفار مکہ نے ان سے چھین لیا تھا یا قبضہ کر لیا تھا، کچھ لوگوں کو اس تجارتی قافلے پر حملہ کرنے کے لئے تیار کیا، اس منصوبے کا ابو سفیان کو علم ہو گیا اور اس نے اس کی خبر مکہ والوں کو بھی پہنچا دی، چنانچہ مکہ سے تقریباً ایک ہزار کا لشکر اس ۴۰ افراد پر مشتمل تجارتی قافلے کی حفاظت کے لئے مکمل طور پر سنبھل کر اور مسلح ہو کر پہنچ گیا، مکہ اور مدینہ کے درمیان ان تینوں گروہوں (مسلمانوں، کفار کے لشکر اور تاجروں) کی مڈبھیڑ ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے غیبی امداد کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد فرمائی، باوجودیکہ مسلمان فوجی تیاری اور جنگ کے قصد کے بغیر باہر آئے ہوئے تھے لیکن پھر بھی دشمن پر غالب آ گئے۔ مسلمانوں کی تعداد ۳۱۳ تھی اور جنگ بدر ۱۷ رمضان ۲ ھ میں واقع ہوئی۔ اس جنگ میں ابوجہل اور ستر دوسرے کفار واصل جہنم ہوئے اور ستر آدمیوں کو قید کر لیا گیا، حالانکہ کفار کے لشکر کی تعداد مسلمانوں سے تین گناہ زیادہ تھی۔

پیام:

۱ ۔ خدائی امداد کی یادآوری، ایمان کی تقویت کا موجب ہوتی ہے( واذ )

۲ ۔ حق کی باطل پر فتح، اقتصادی درآمد سے زیادہ اہم ہوتی ہے( تو دون ان غیر ذات الشوکة تکون لکم … یقطع دابر الکافرین )

۳ ۔ بعض اوقات خدائی ارادے کی تکمیل مومنین کے ہاتھوں سے بھی ہوتی ہے( یرید الله )

۴ ۔ فتح صرف افرادی قوت اور جنگی وسائل کے ذریعہ ہی حاصل نہیں ہوتی اصل اور اہم عامل ارادہ الٰہی ہے۔( یرید الله )

۵ ۔ انسان طبعی طور پر آرام طلب ہے۔( تودون ان غیرذات الشوکة )

۶ ۔ جہاد اسلامی کا اصل مقصد و مطلوب احقائق حق اور باطل کی بیخ کنی ہوتا ہے نہ کہ کشور کشائی اور زمینوں پر قبضہ!

۷ ۔ احقاق حق، اللہ اور اولیأ اللہ کے کلمات اور خدائی اوامر و قوانین کے ذریعہ ہوتا ہے۔ اور عزت و فتح جہاد اور فداکاری کے سایہ میں ہے، نہ کہ سیاسی مذاکرات اور مختلف سازشوں کے ذریعے۔

۸ ۔ کائنات میں حق کی عزت اور باطل کی ذلت کے ساتھ ہی آخری فتح حاصل ہو گی۔( یریدالله )

آیت ۸

( لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ کَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ )

ترجمہ۔ تاکہ خداوند عالم حق کو پائیدار اور باطل کو نیست و نابود کر دے اگرچہ مجرمین اس بات کو ناپسند بھی کریں۔

ایک نکتہ:

یہ آیت مسلمانوں کے لئے بہترین تسلی اور دلجوئی کا باعث ہے۔

پیام:

۱ ۔ خداوند عالم کے وعدے کسی کے ذاتی اور مادی مفادات کے لئے نہیں بلکہ حق کے پائیدار کرنے اور باطل کی نابودی کے لئے ہوتے ہیں۔( لیحق الحق )

۲ ۔ کافر دشمن کا اس بارے میں کیا ردعمل ہوتا ہے؟ اس سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے، خداوند عالم اپنے ارادے کو خود ہی عملی جامہ پہنائے گا۔( ولوکره المجرمون )

آیت ۹

( اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّ کُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَةِ مُرْدِفِیْنَ )

ترجمہ۔ اس زمانے کو یاد کرو جب تم (بدر کے میدان میں) اپنے رب سے نصرت طلبی کر رہے تھے، پس اس نے تمہاری درخواست کو قبول کیا (اور فرمایا) میں ایک دوسرے کے پیچھے آنیوالے ایک ہزار فرشتوں کے ذریعے تمہاری مدد کرنے والا ہوں۔

چند نکات:

"مردف" کا لفظ "ارداف" سے لیا گیا ہے جو "ردیف" کے معنی میں ہے یعنی ایک دوسرے کے پیچھے ہونا گویا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کی امدادیں جاری رہیں گی۔

سورہ آل عمران/ ۱۲۴ میں "ثلثة آلاف" تین ہزار فرشتوں کے ذریعہ امداد کا ذکر ہے جبکہ اس کے بعد کی آیت میں پانچ ہزار نشان زدہ فرشتوں کا تذکرہ ہے۔ اور شاید یہ اس لئے ہے کہ مسلمانوں کی مقاومت و پائیداری جتنا بڑھتی گئی غیبی امداد میں بھی اسی قدر اضافہ ہوتا گیا۔

جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کفار کی تعداد کے ایک تہائی تھی، جبکہ ان کے عسکری ذرائع اور حربی وسائل بھی کفار سے بہت ہی کم تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں ذہنی آمادگی بھی نہیں تھی، اس میں پیغمبر خدا صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور اپنے رب کے حضور ان الفاظ میں دعا مانگی:

"اللهم انجزلی ما وعدتنی، اللهم ان تهلک هذه العصابة لاتعبد فی الارض " خداوندا! تونے جو مجھ سے وعدہ فرمایا تھا اسے میرے لئے پورا فرما! بار الٰہا! اگر مسلمانوں کا یہ چھوٹا سا گروہ بھی شہید ہو گیا تو پھر روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔

پیام:

۱ ۔ سختی اور مشکلات کے دنوں کو کبھی نہ بھلاؤاور خداوند عالم کی نعمتوں کو کبھی فراموش نہ کرو۔ کیونکہ خداوند عالم کی نعمتوں کی یاد انسان کے شکراس کے حوصلے کو پروان چڑھاتی ہے۔( اذ )

۲ ۔ محاذ جنگ میں موجود مجاہدین کی دعا اور ان کا استغاثہ موثر ہوتا ہے اور دعائیں قبول ہوتی ہیں( تستغیثون- فاستجاب )

۳ ۔ انسانی زندگی میں فرشتے بہت ہی موثر ہوتے ہیں۔( ممدکم )

۴ ۔ دعا، قبولیت کی کنجی ہے( تستغیثون…فاستجاب )

۵ ۔ اللہ اگر چاہے تو دعا مانگے بغیر بھی عطا کر سکتا ہے، لیکن دعا، الٰہی تربیت کا ایک راستہ ہے( ربکم )

۶ ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے غیبی امداد اس وقت آتی ہے جب ہم بھی ان اسباب کو کام میں لائیں جو اللہ نے ہمیں ظاہری طور پر عطا فرمائے ہیں۔( ممد کم )

آیت ۱۰

( وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰی وَ لِتَطْمَئِنَّ بِه قُلُوْبُکُمْ ط وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِاللّٰهِط اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ )

ترجمہ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس (فتح اور فرشتوں کے نزول) کو اور کچھ بھی قرار نہیں دیا سوائے اس کے کہ تمہارے لئے خوشخبری ہو اور یہ کہ تمہارے دلوں کو اطمینان حاصل ہو جائے۔ اور نصرت وکامیابی خدا کے علاوہ کسی اور کی طرف سے نہیں ہوتی، یقیناً خداوند عالم غالب (اور) حکمت والا ہے۔

چند نکات:

قرآن مجید میں مومنین کے لئے امداد کرنے والے فرشتوں کا بارہا تذکرہ ہوا ہے۔ حتی کہ جب مومن کی روح قبض ہو رہی ہوتی ہے اور جان نکل رہی ہوتی ہے تو اس وقت بھی خداوند کریم فرشتے کو بھیجتا ہے تاکہ وہ مومن کے دل کی ڈھارس بن سکے اور حق کے کلمات اس کی زبان پر جاری کرائے اور اسے شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھے۔

خداوند عالم کی تخلیق و آفرینش میں القأ دو طرح کا ہوتا ہے ایک تو خدا کے فرشتوں کی طرف سے جو مومن لوگوں کے دلوں میں سکون و اطمینان کا القأ کرتے ہیں۔ جب کہ خداوند عالم فرماتا ہے: "( اذیوحی ربک الی الملائکة انی معکم فثبتوا الذین امنوا سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب ) " خداوند عالم فرشتوں کی طرف وحی کرتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس تم مومنین کو ثابت قدم رکھو، میں کفار کے دلوں میں خوف اور وحشت ڈال دوں گا (انفال/ ۱۲) ۔ اور ایک القأ شیطان کی طرف سے خوف اور وحشت کی صورت میں ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے: "( ذٰلکم الشیطان یخوف اولیائه ) " یہ تو شیطان ہی ہے جو اپنے پیروکاروں کو ڈراتا ہے (آل عمران/ ۱۷۴)

پیام:

۱ ۔ امداد کرنے والے فرشتے، مومنین کا حوصلہ بڑھانے کے لئے آئے تھے، کفار کو ہلاک کرنے کے لئے نہیں آئے تھے۔ (کیونکہ تاریخی نکتہ نظر سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جنگ بدر میں کون کافر کس مسلمان مجاہد کی تیغ کا لقمہ بنا ہے جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگ بدر کے مقتولین کی زیادہ تعداد علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ہاتھوں فی النار ہوئی۔( وما جعله الله الابشریٰ )

۲ ۔ اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی تھی تو اس میں نہ تو ان کی جنگی چالوں اور وسائل حرب کی وجہ سے ہوئی اور نہ ہی فرشتوں کی وجہ سے بلکہ صرف اور صرف خداوند متعال کی جانب سے ہی ہوئی( وما النصر الامن عندالله… )

۳ ۔ فتح و کامرانی نہ تو افرادی قوت سے حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی جنگی سازو سامان سے، بلکہ اس کا دارومدار رب العزت کی مرضی اور منشا پر ہے ۴( وما النصر الامن عند الله )

۴ ۔ خدا کی امداد اس کی حکمت کی بنیادوں پر ہوتی ہے( حکیم )

آیت ۱۱

( اِذْیُغَشِّیْکُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَهِّرَ کُمْ بِه وَ یُذْهِبَ عَنْکُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ وَ لِیَرْبِطَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ وَ یَُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَ ) ط

ترجمہ۔ اس زمانے کو یاد کرو جب خداوند عالم نے اپنی طرف سے امن و سکون کی خاطر تم پر مختصر سی نیند مسلط کر دی اور تم پر آسمان سے پانی برسایا تاکہ اس سے تمہیں پاک کر دے اور تم سے شیطان (کے وسوسوں) کی پلیدی کو دور کر دے، تمہارے دلوں کو محکم کرے اور تمہیں ثابت قدم رکھے۔

ایک نکتہ:

جنگ بدر میں ابتدا میں پانی کے تمام کنویں دشمن کے قبضے میں تھے، جس کی وجہ سے مسلمان سخت تزلزل کا شکار ہو گئے، اللہ تعالیٰ نے مینہ برسایا جس سے وہ نہال نہال ہوگئے، ان کے پاؤں کی ریت بھی جم کر سخت ہو گئی کہ لڑائی کے موقع پر ان کے پاؤں پھسلنے سے بچ گئے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ ثبات قدم سے استقامت، ثابت قدمی اور پائیداری مراد ہو۔ نہ کہ بارش والی زمین پر ان کے پاؤں کا استحکام۔

پیام:

۱ ۔ جنگ میں ہلکی سی نیند بھی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے کہ اس سے ایک تو تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی دشمن کو شب خون مارنے کا موقع بھی نہیں مل پاتا( النعاس امنة )

۲ ۔ اگر خدا چاہے تو انسان کثیر تعداد میں مسلح دشمن کی موجودگی میں بھی سکون کی نیند سو سکتا ہے۔ اگر وہ نہ چاہے تو بہترین باغات میں بھی نیند نہ آئے اور اگر آئے بھی تو سکون کی نہ ہو( النعاس امنة )

۳ ۔ اگر مومن اور صابر رہو تو خداوند عالم تمام عوامل فطرت اور اسباب طبیعت تمہارے اختیار میں دے دے اور تمہارے مفاد میں چلا دے( ینزل علیکم… )

۴ ۔ محاذ جنگ میں طبعی عوامل مثلاً ہوا، بارش، نیند وغیرہ کو اتفاقی امور نہیں سمجھنا چاہئے۔

۵ ۔ مسلمان مجاہد کو صاف ستھرا اور پاک و پاکیزہ ہوناچاہئے اور اس کے حوصلے بھی بلند ہونے چاہئیں۔( لیطهرکم…لیربط علی قلوبکم )

آیت ۱۲

( اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلٰٓئِکَةِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاط سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَ اضْرِبُوْا مِنْهُمْ کَلَّ بَنَانٍ ) ط

ترجمہ۔ اس زمانے کو بھی خاطر میں لے آؤ کہ جب تمہارے رب نے فرشتوں کی طرف وحی کی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس تم مومن لوگوں کو ثابت قدم رکھو، اور میں بہت جلد کفار کے دلوں میں رعب اور ڈر ڈال دوں گا پس تم ان کی گردنوں کے اوپر کو مارو اور ان کی انگلیوں کو کاٹ ڈالو (تاکہ ہتھیار نہ اٹھا سکیں)

دو نکات:

"بنان" جمع ہے "بنانہ" کی، جس کے معنی ہیں ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کے سرے یا خود انگلیاں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ "( فوق الاعناق ) " سے مراد کفار کے سرکردہ اور معروف سردار اور سربراہوں جیسا کہ ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے : "( فقاتلو ائمة الکفر ) " کفر کے سربراہوں کے ساتھ جنگ کرو (توبہ/ ۱۲) یعنی دشمن کے سرداروں اور سربراہوں کو ٹھکانے لگانا چاہئے۔ (از تفسیر فرقان)

پیام:

۱ ۔ خداوند عالم اہل ایمان پر سکون و اطمینان نازل فرماتا ہے جبکہ کفار کے دلوں میں رعب ڈال کر انہیں وحشت زدہ کر دیتا ہے۔( فثبتوا…سالقی )

۲ ۔ دل خدا کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور ان کا سکون یا اضطراب بھی اسی کی طرف سے ہوتا ہے( سالقی )

۳ ۔ خداوند عالم، مومنین کی حمایت اور ہدایت کا کام بعض اوقات فرشتوں سے بھی لیتا ہے۔( الی الملائکة )

۴ ۔ خدا نے استقامت اور پائیداری کے لئے تشویق و ترغیب کا کام فرشتوں کے ذریعہ قرار دیا ہے، لیکن کافروں کے دلوں میں رعب و وحشت کا کام اپنی طرف منسوب کیا ہے۔( فثبتوا…سالقی )

۵ ۔ فرشتے از خود کسی قسم کی قدت و طاقت کے حامل نہیں ہیں، ان کے پاس جو بھی قدرت و طاقت ہے وہ سب لطف و حمایت پروردگار کی مرہون منت ہے۔( انی معکم فثبتوا ) ۔

۶ ۔ میدان جنگ میں اپنی رزمی توانائیوں سے بھرپور فائدہ اٹھاؤ، اور حساس مقامات پر ضربیں لگاؤ( فوق الاعناق…کل بنان )

۷ ۔ فقط وسائل اور توانائی آرام و سکون کا موجب نہیں ہیں، اس لئے کہ جنگ بدر میں مسلمانوں کو عددی قلت کے باوجود آرام و سکون نصیب ہوا (اور وہ بھی ایک مختصر سی نیند کے ساتھ) جبکہ دشمن کثیر تعداد میں اور ہر طرح سے منظم ہونے کے باوجود بیمناک اور مرعوب ہو گیا( امنة…الرعب )

آیت ۱۳ ، ۱۴

( ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ شَآقُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهج وَ مَنْ یُّشَا قِقِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَه فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْهُ وَ اَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ )

(دشمن کے سروں اور انگلیوں کے پوروں پر مارنے کا) یہ حکم اس لئے تھا کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کے مقابلے میں سرکشی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کے ساتھ الجھتا اور ان کی مخالفت کرتا ہے تو یقینا خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے۔ یہ تمہی تو ہو، پس اسے چکھو اور کافروں کے لئے (بہت سخت سزا) جہنم کا عذاب ہے۔

پیام:

۱ ۔ رسول خدا کی مخالفت، خدا کی مخالفت ہے( شاقوا الله و رسوله )

۲ ۔ خداوند عالم کا ازل سے یہی شیوہ چلا آ رہا ہے کہ جو بھی حق کے ساتھ الجھے گا، نیست و نابود ہوجائے گا( ومن یشاقق )

۳ ۔ خدا کا قہر و غضب، سرکش عناصر کی سرکشی کا نتیجہ ہوتا ہے کسی پر بے وجہ عذاب نازل نہیں ہوتا۔( ذالک بانهم… )

۴ ۔ کفار دنیا میں بھی خدائی انتقام اور ہلاکت کا شکار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی عذاب الٰہی میں جکڑے جائیں گے (عذاب النار) "( فوق الاعناق )

آیت ۱۵

( یٰٓا یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذْا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَ لُّوْ هُمُ الْاَدْبَارَ )

ترجمہ۔ اے ایماندارو! جب کافروں کے ساتھ تمہاری مڈبھیڑ ہو جائے کہ وہ میدان جنگ میں انبوہ کی صورت میں تم پر حملہ آور ہو جائیں تو تم انہیں پیٹھ دکھا کر بھاگ نہ جانا۔

ایک نکتہ:

"زحف" کے معنی ہیں گھٹنوں یا سرین کے بل زمین پر گھسٹنا ، ایک انبوہ اور جرار لشکر کی حرکت کو اس لئے "زحف" کہتے ہیں کہ وہ دور سے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر گھسٹتا چلا آ رہا ہے۔

پیام

۱ ۔ جنگ سے فرار حرام ہے۔( لاتولو هم )

۲ ۔ میدان جنگ میں دشمن کی عددی کثرت، میدان سے فرار کرنے کو جائز نہیں بنا دیتی (( زحفا-لاتولو هم )

۳ ۔ اس وقت فرار حرام ہے جب میدان میں دونوں فریق تیار ہو کر آئیں اور جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ مصروف ہو جائیں۔ لیکن اگر دشمن مسلح ہو کر شب خون مارے اور مسلمان اس وقت نہتے اور بے خبر ہوں تو پھر ایسی صورت میں ان کے لئے عقب نشینی اختیار کر لینے میں کوئی حرج نہیں ۵( لقیتم )

۴ ۔ اسلامی جنگیں مکتب اور مذہب کے لئے لڑی جاتی ہیں جن کا استعمار و استثمار اور ہوا و ہوس وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔( الذین امنوا- الذین کفروا )

۵ ۔ دین اور اس کے رہبر و رہنما پر ہزاروں جانیں قربان! ایک روایت کے مطابق حضرت امام رضا علیہ السلام نے میدان جنگ سے فرار کی حرمت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ: "فرار، رہبر برحق کی توہین، دشمن کے جری ہونے اور مذہب کے مٹنے کا موجب ہوتا ہے" ۵- (تفسیر نورالثقلین)

۶ ۔ میدان جنگ سے فرار نامردی پر دلالت کرتا ہے، قرآن مجید نے بھی "دبر‘ اور "ادبار" کے جیسے الفاظ استعمال کرکے دشمن کو پیٹھ دکھانے کو توہین آمیز انداز میں ذکر کیا ہے( الادبار )

آیت ۱۶

( وَ مَنْ یُّوَلِّهِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَهٓ الِاِّ مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَةٍ فَقَدْ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاْ وٰهُ جَهَنَّمُط وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ )

ترجمہ۔ اور ان لوگوں کے علاوہ جو جنگی ساز و سامان کے لئے دوبارہ واپس جاتے ہیں یا جو لوگ دوسرے گروہ کی مدد کو جاتے ہیں کوئی اور شخص جنگ کے دن دشمن کو پیٹھ دکھائے گا تو وہ خداوند عالم کے غیظ و غضب کا شکار ہو جائے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور جہنم بہت بری جگہ ہے۔

چند نکات:

آیت میں بتایا گیا ہے کہ میدان جنگ سے بھاگ جانا حرام ہے سوائے دو موقعوں کے۔ ایک تو جنگی تکنیک کے تحت ایک جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ پر جاگزین ہونا اور دوسرے اپنی جگہ سے فرار کرکے مسلمانوں کے دوسرے گروہ سے جا ملنا اور وہاں سے دشمن پر یکبارگی حملہ کرنا۔ البتہ تفسیر کی بعض دوسری کتابوں میں کچھ اور مواقع بھی ذکر ہوئے ہیں مثلاً مسلمانوں تک اطلاع پہنچانے کے لئے فرار کرنا یا موجودہ مورچے سے زیادہ اہم کسی اور مورچے کی حفاظت کرنے کے لئے دوڑ لگانا، (تفسیر فے ظلال القرآن) لیکن یہ سب اسی مذکورہ پہلی قسم کا مصداق ہیں۔

"متحرفا" کے معنی ہیں تکنیکی بنیادوں پر دشمن کو زچ کرکے اور دھوکہ دے کر پھر اس کو کاری ضرب لگانے کے لئے خود کو ایک طرف کر لینا۔

"متحیزا" جب مجاہد کو تنہائی اور دشمن سے مقابلے کی ناتوانی کا احساس ہونے لگے تو اس وقت دوسرے مجاہد گروہ کے ساتھ جا ملنا اور اس کے پہلو بہ پہلو دشمن کی طرف آگے بڑھنا۔

پیام:

۱ ۔ میدان جنگ سے فرار گناہ کبیرہ ہے اور خدا نے اس پر اپنے قہر و غضب اور عذاب کا وعدہ کیا ہے۔ ۶ (باء لغضب)

۲ ۔ تکنیکی بنیادوں پر پیچھے ہٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔( متحرفا )

۳ ۔ جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینا جائز ہے( متحرفا )

۴ ۔ صرف محاذ جنگ پر چلے جانا ہی اہم نہیں ہے وہاں سے فرار نہ کرنا بھی اہم ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ میدان جنگ میں تو تشریف لے جاتے ہیں لیکن وہاں علم چھوڑ کر واپسی پر جہنم کا پروانہ اپنے ساتھ لے آتے ہیں۔

۵ ۔ یقیناً فتح و نصرت خداوند تعالیٰ کی طرف سے ہے لیکن فوجی فنون اور تکنیک اور جنگی سیاست بھی ضروری ہوتی ہے، (متحرفا لقتال اور متحیزا)

۶ ۔ تبصرہ کرتے اور نتیجہ نکالتے وقت سب کومتہم نہ کرو اور نہ ہی جلدی میں فیصلہ دے دیا کرو، ہو سکتا ہے کہ کسی کے عمل کی تبدیلی کسی خاص نقشے اور تکنیک کے ماتحت ہو( متحرفا )

۷ ۔ جنگ کے میدان سے فرار دنیا میں ذلت کا اور آخرت میں عذاب کا موجب ہے( بغضب --جهنم )

۸ ۔ محاذ جنگ سے بھاگ جانے والوں کی پناہ گاہ سیدھی، جہنم ہے( ماواه جهنم )

۹ ۔ میدان جنگ کے بھگوڑے اللہ کے ایسے غضب شدہ لوگ ہوتے ہیں جن سے ہم ہر نماز میں برائت طلب کرتے ہیں۔ یا بہ الفاظ دیگر ان سے تبرا کرتے ہیں (بغضب) سورہ فاتحہ میں ہے "( غیرالمغضوب علیهم )

۱۰ ۔ نامراد بھگوڑوں کا انجام بہت ہی برا ہوتا ہے( بئس المصیر )

آیت ۱۷

( فَلَمْ تَقْتُلُوْ هُمْ وَ لٰکِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ ٰلکِنَّ اللَّهَ رَمٰیج وَ لِیُبْلِیَ الْمُوٴْمِنِیْنَ مِنْهُ بَلَآءً حَسَنًاط اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ )

ترجمہ۔ تم نے کافروں کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے انہیں قتل کیا ہے۔ (اے پیغمبر!) جب تم تیر پھینک رہے تھے، تم نہیں پھینک رہے تھے بلکہ خدا نے پھینکا تھا (تاکہ کافروں کو مرعوب کرے) اور تاکہ مومنین کو اپنی طرف سے اچھے طریقے سے آزمائے۔ کیونکہ اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔

پیام:

۱ ۔ تگ و دو اور سعی و کوشش تو انسان کی طرف سے ہوتی ہے لیکن اسے اثر خداوند متعال عطا فرماتا ہے( قتلهم ولکن الله قتلهم )

۲ ۔ غرور و تکبر، کامیابی کی آفات ہیں جس سے بچنا انتہائی ضروری ہے( ولکن الله قتلهم )

۳ ۔ کام چونکہ انسان کے اپنے اختیار کے ساتھ اسی سے سرزد ہوتا ہے لہٰذا اسی کی طرف اسے نسبت دی جاتی ہے لیکن چونکہ کام اس کی طاقت اور اثر خدا کی طرف سے ہوتا ہے اور وہی اس کا حوصلہ اور قوت عطا کرتا ہے اسی لئے خدا کی طرف منسوب ہوتا ہے۔( مارمیت…ولکن الله رمیٰ )

۴ ۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کو ملنے والی فتح و نصرت خداوند عالم کے ارادہ اور امداد سے تھی اور وہ بھی صرف مادی طاقت اور فوجی فارمولوں کے ساتھ نہیں، ورنہ دو گھوڑوں پر مشتمل مختصر سا لشکر ایک منظم اور آراستہ فوج پر جو سو گھوڑوں پر مشتمل ہو کیونکر غالب آ سکتا تھا؟

۵ ۔ جنگیں اللہ تعالیٰ کی آزمائش و امتحان کے وسائل میں سے ایک ہوتی ہیں، جن سے ایمانداروں اور بے ایمانوں کی لیاقت، آمادگی، استعداد اور پائیداری کا پتہ چل جاتا ہے۔( بلآء حسنا )

آیت ۱۸

( ذٰلِکُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ کَیْدِالْکٰفِرِیْنَ )

ترجمہ۔ یہ (جنگ بدر میں تم پر خدا کی مہربانی تھی) اور اللہ تعالیٰ یقیناً کافروں کی چالوں کو ناکام کر دینے والا ہے۔

ایک نکتہ:

"ذالکم" کے ساتھ جنگ میں مسلمانوں کی کیفیت اور آسمان و زمین سے الٰہی امداد، پیغمبر اکرم کے نیزہ پھینکنے اور اس قسم کی دوسری مہربانیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، گویا یوں کہا جا رہا ہے "( ذالکم لطف الله علیکم ) "

پیام:

۱ ۔ اگر تم محاذ جنگ میں اپنے فریضہ پر عمل کرو گے اور الٰہی رہبر کی اطاعت کرو گے تو خداوند عالم بھی تمہارے خلاف دشمن کے ہر قسم کے نقشوں کو ناکام بنا دے گا۔( موهن کید الکٰفرین )

(معلوم ہونا چاہئے کہ دشمن کے دل میں رعب پڑنا، ان کے رازوں کا فاش ہونا، ان کے درمیان تفرقہ کا پیدا ہو جانا، طوفان اور رعد و برق کا انہیں اپنی لپیٹ میں لے لینا دشمن کے نقشوں کی ناکامی ہی ہے)

آیت ۱۹

( اِنْ تَسْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَآءَ کُمُ الْفَتْحُج وَ اِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَیْرٌ لَّکُمْج وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْج وَ لَنْ تُغْنِیْ عَنْکُمْ فِئَتُکُمْ شَیْئًا وَّلَوْ کَثُرَتْ وَ اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُوٴْمِنِیْن َ )

ترجمہ۔ اگر تم (اے کفار) اسلام کی فتح و کامرانی کے انتظار میں تھے تو وہ فتح و کامرانی تمہارے پاس آ چکی (اور اسلام کی حقانیت آشکار ہو چکی) ہے۔ اور اگر تم گمراہی اور باطل سے باز آ جاؤ تو یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے۔ اور اگر (اپنے کفر و عناد کی طرف) پلٹ جاؤ تو ہم بھی (تمہارے بارے اپنے قہر و غضب کی حالت میں) پلٹ جائیں گے۔ اور تمہارا گروہ خواہ کتنا ہی کثیر تعداد میں ہو تمہارے کچھ کام نہیں آئے گا۔ کیونکہ یقینی طور پر اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔

ایک نکتہ:

یہ بھی ممکن ہے کہ اس آیت کا خطاب جنگ بدر میں شکست خوردہ کفار کے ساتھ بھی ہو اور ان مسلمانوں کے ساتھ بھی جو مال غنیمت کی تقسیم پر اختلاف رکھتے تھے۔ پہلے نظریئے کی تائید سابقہ آیت سے ہوتی ہے جس کا اسی آیت کے ساتھ تعلق ہے۔ "( موهن کیدالکافرین- ان تستفتحوا--- ) "

اسی طرح مشرکین کے سردار ابوجہل کی وہ باتیں بھی اس کی موید ہیں جب اس نے جنگ کے لئے مکہ سے باہر آتے ہوئے خانہ کعبہ کا غلاف پکڑ کر کہا تھا: "خدایا! ان دونوں گروہوں میں سے جو زیادہ ہدایت یافتہ ہے تو اس کو فتح و کامرانی عطا فرما! "اس لئے کہ اسے اپنی فتح پر یقین تھا لیکن شکست کھا گیا۔

اگر مسلمانوں سے خطاب ہو تو اس فتح کے بعد یہ ان کے لئے بہت بڑی تنبیہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات سے باز رہیں۔ اور اگر انہوں نے دوبارہ ایسی گستاخی کی تو خداوند عالم کافضل و کرم ان سے پلٹا لیا جائے گا۔ دشمن کے مقابلے میں ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی اور وہ شکست سے دوچار ہوتے رہیں گے۔ (البتہ پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے)

پیام:

۱ ۔ اللہ کا قہر و غضب یا لطف و کرم ہمارے اپنے انتخاب اور کارناموں سے وابستہ ہے( ان تفتهوا- ان تعودوا )

۲ ۔ خداوند عالم نے اتمام حجت کر دی ہے اور ہر قسم کے حیلے بہانوں کے رستے بند کر دیئے ہیں۔( فقد جاء کم الفتح )

۳ ۔ تشویق و ترغیب اور تنبیہ و انتباہ کو ساتھ ساتھ ہونا چاہئے( خیر لکم- ان تعودوا نعد )

۴ ۔ خلاف ورزیوں کا تدارک کرنا چاہئے اور بات دو ٹوک کرنی چاہئے( ان تعودوا نعد )

۵ ۔ خدا کے قہر و غضب کے آگے عددی برتری افرادی کثرت کا کوئی بس نہیں چل سکتا( لن تغنی )

۶ ۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ ہے( مع الموٴمنین )


آیت ۲۰ ، ۲۱

( یٰٓاَ یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَه وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ صلي وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ )

ترجمہ۔ اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو! اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو اور اب جبکہ اس کی باتوں کو سنتے ہو تو اس سے روگردانی نہ کرو۔

اور ان لوگوں کی مانند نہ بنو جو کہتے ہیں کہ "ہم نے سن لیا" درحقیقت وہ نہیں سن رہے ہوتے۔

ایک نکتہ:

پورے قرآن میں جہاں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا حکم ہو وہاں اس کے رسول کی اطاعت کا حکم بھی مذکور ہے اور گیارہ مقامات پر "اتقوااللہ" کے بعد "اطیعون" کا جملہ مذکور ہے۔ اور اس آیت میں اگرچہ خدا اور رسول "دونوں کی اطاعت کا ذکر ہے لیکن صرف رسول پاک کے فرمان کی سرپیچی سے منع کیا گیا ہے نہ کہ خدا اور رسول کے فرمان کی سرپیچی سے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے (خدا کی نہیں) رسول کی اطاعت مشکل تھی اور وہ بھی خصوصی طور پرجنگ بدر میں اور فوجی مسائل کے بارے میں آنحضرت کے فرامین کی اتباع اور بھی مشکل تھی۔

پیام:

۱ ۔ نظام برحق کو بحال رکھنے کے لئے لوگوں کو ہمیشہ خدائی رہبری کی اطاعت کی تاکید کرتے رہنا چاہئے( اطیعوا الله و رسوله )

۲ ۔ پیغمبر کی عدم اطاعت یا ان کی نافرمانی درحقیقت خدا کی نافرمانی ہے( ولا تولوا عنه ) ہے "عنہما" نہیں ہے۔

۳ ۔ سننا اور سمجھنا، ذمہ داری کا موجب بن جاتا ہے( تسمعون )

۴ ۔ دور سابق میں خلاف ورزی کرنے والوں کے حالات سننا اور ان سے آگاہ ہونا عبرت کا موجب ہوتا ہے( ولاتکونوا کالذین… )

۵ ۔ قائد اور رہبر کی اطاعت صدق دل سے کرو، صرف "ہم نے سن لیا ہے" کہہ کر جان نہ چھڑاؤ( ولاتکونوا… )

آیت ۲۲

( اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَاللّٰهِ الصُّمُّ الْبُکْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ )

ترجمہ۔ یقیناً اللہ کے نزدیک بدترین چلنے والے وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔

دو نکات:

"صم" جمع ہے "اصم" کی جس کے معنی ہیں بہرا اور "بکم" جمع ہے "ابکم" کی جس کے معنی ہیں گونگا۔

جو لوگ انبیاء علیہم اسلام کی الٰہی تربیت کو قبول نہیں کرتے اور نہ ہی حق کے آگے اپنے دل و جان کو جھکاتے ہیں، قرآن کی تعبیرات میں انہیں کہیں تو:

الف: مردوں سے تشبیہ دی گئی ہے جیسے: "( انا لاتسمع الموتي ) ٰ" آپ یقینا مردوں کو نہیں سنواتے۔ (روم/ ۵۲)

ب: چوپایوں سے تشبیہ دی گئی ہے جیسے: "( یا کل کماتا کل الانعام ) " ایسے کھاتے ہیں جیسے چوپائے کھائیں (محمد/ ۱۲)

ج: چوپایوں سے بھی بدتر کہا گیا ہے، جیسے: "( کالانعام بل هم اضل ) " چوپایوں جیسے بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں (اعراف/ ۱۷۹)

د: روئے زمین پر چلنے والوں میں سے بدتر بھی کہا گیا ہے جیسے: "( شرالدواب ) " بدترین چلنے والے (انفال/ ۲۲)

پیام:

۱ ۔ انسان کی قدر و قیمت اس وجہ سے ہے کہ وہ عقل سے کام لیتا ہے، اگر ایسا نہیں کرتا تو ہر چلنے والے سے بدتر ہے( شرالدواب )

۲ ۔ کان اور زبان کا حامل ہونا اہم نہیں۔ اہم یہ ہے کہ ان اعضأ سے صحیح کام لیا جائے جس شخص کی زبان سے امر بالمعروف یا نہیں عن المنکر کا کلمہ نہیں نکلتا وہ گویا گونگا ہے۔

۳ ۔ دینی تعلیمات سے رخ موڑنے والے بے عقل ہیں( لایعقلون ) ۸

آیت ۲۳

( وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَ سْمَعَهُمْط وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ )

ترجمہ۔ اور اگر اللہ کو ان میں کوئی اچھائی نظر آتی تو انہیں ضرور سننے والا بنا دیتا (حق بات ان کے دلوں تک پہنچاتا) اور اگر انہیں سنواتا تو بھی وہ سرکشی کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے۔

ایک نکتہ:

ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کی چند قسمیں ہیں۔

۱ ۔ کچھ تو وہ ہیں جو قرآن مجید کو سننے کے لئے تیار نہیں ہیں: "( لاتسمعوا لهذا القرآن ) " اس قرآن کو نہ سنو۔ (فصلت/ ۲۶)

۲ ۔ کچھ وہ ہیں جو سنتے اور سمجھتے تو ہیں لیکن اس میں تحریف کرتے ہیں۔

۳ ۔ اور کچھ وہ ہیں جو اپنے شدید تعصب، حسد اور سنگدلی کی وجہ سے اپنے اندر تشخیص دینے کی قدرت نہیں رکھتے۔

پیام:

۱ ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کے اسباب خود اپنے اندر تلاش کرنے چاہئیں۔( فیهم )

۲ ۔ صرف آیات قرآنی کا یاد کر لینا، نور نہیں، حق کو قبول کر لینے کا نام نور ہے( ولواسمعهم لتولوا )

۳ ۔ اللہ تعالیٰ کو لوگوں کی ہدایت سے کوئی مضائقہ نہیں، ضدی لوگ اپنا منہ پھیر لیتے ہیں( ولوعلم…لاسمعهم )

۴ ۔ انسان آزاد ہے اور حق کی ہر آواز کے سننے سے روگردانی کر سکتا ہے( لو اسمعهم لتولوا )

آیت ۲۴

( یٰٓاَ یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْ الِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَا کُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْج وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِه وَ اَنَّهٓ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ )

ترجمہ۔ اے ایماندارو! تمہیں جب بھی اللہ اور اس کا رسول اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہاری زندگی کا سبب ہے تو فوراً اس کا جواب دو۔ اور جانے رہو کہ اللہ تعالیٰ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، اور یہ کہ تم کو اسی کی طرف محشور ہونا ہے۔

چند نکات:

حیات (زندگی) کی مختلف قسمیں ہیں۔

۱ ۔ نباتاتی حیات: جیسے "( یحی الارض بعد موتها ) " اللہ تعالیٰ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ (روم/ ۱۹)

۲ ۔ حیوانی حیات: جیسے "( لمحی الموتی ) " اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ (روم/ ۵۰ فصلت/ ۳۹)

۳ ۔ فکری حیات: جیسے "( من کان میتا فاحییناه ) " مردہ تھا ہم نے اسے زندہ کر دیا (انعام/ ۱۲۲)

۴ ۔ ابدی حیات: جیسے "( قدمت لحیاتی ) " کاش میں اپنی زندگی کے لئے پہلے سے کچھ بھیجتا (فجر/ ۱۴)

جو حیات(زندگی) انبیاء کی دعوت کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے وہ "حیوانی زندگی" نہیں ہے، کیونکہ وہ تو ان کی دعوت کے بغیر بھی حاصل ہے، بلکہ مراد فکری، عقلی اور معنوی زندگی ہے۔

خدا کا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہر جگہ پر حاضر ناظر ہے اور وہ ہر چیز کو اپنے قبضہ قدرت میں لئے ہوئے ہے۔ تمام توفیقات اسی کی طرف سے ہیں، وہ ہم سے ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ عقل اور روح کی کارکردگی بھی اسی کے دست قدرت میں ہے۔

پیام:

۱ ۔ پیغمبر اسلام کی دعوت کی قبولیت درحقیقت خدا کی دعوت کی پذیرائی ہے (دعا کم) فرمایا ہے، "( دعواکم ) " نہیں۔

۲ ۔ انسان کی حقیقی حیات وزندگی تو ایمان اور عمل صالح ہی میں ہے اور انبیاء بھی اسی کی دعوت دیتے ہیں ۹( لما یحییکم )

۳ ۔ احکام اسلام معنوی حیات عطا کرتے ہیں، جس طرح کہ دوا یا عمل جراحی (آپریشن) زندگی دیتے ہیں۔

۴ ۔ اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے رستوں پر چلنے سے حقیقی زندگی ملتی ہے اور ان سے ہٹ کر چلنے سے انسانیت کی موت ہے۔

۵ ۔ زندگی بہت قیمتی چیز ہے اور انبیاء کا راستہ انمول نعمت ہے۔

۶ ۔ شیعہ، سنی روایات کے مطابق "حیات طیبہ" کے مصداقوں میں سے ایک مصداق علی اور اولاد علی علیہم السلام کی ولایت کے بارے میں پیغمبر اسلام کی آواز کو سننا اور قبول کرنا ہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر فرقان، منقول از مناقب ترمذی)

۷ ۔ جس شخص کا اس بات پر ایمان ہوتا ہے کہ خدا حاضر و ناظر ہے اور وہ ہر چیز پر محیط ہے تو وہ انبیاء کی دعوت کو قبول کرنے سے روگردانی نہیں کرتا۔( یحول بین المرٴو قلبه- استجیبوا )

۸ ۔ جب تک اس دنیا سے رخصت نہیں ہوئے اور تمہارے پاس فرصت بھی ہے تو حق کو قبول کر لو (اس تفسیر کی بنا پر خدا کا بندے اور اس کے دل کے درمیان حائل ہونا، موت سے کنایہ ہے)

۹ ۔ خدا کا انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہونے کا ایک مصداق "محو و اثبات" کا مسئلہ بھی ہے یعنی کفر کا محو کرنا اور ایمان کا اثبات کرنا، شک اور غفلت کا محو کرنا اور یاد اور یقین کا اثبات کرنا۔ (تفسیر فرقان، اسی آیت کے ذیل میں حضرت امام محمد باقر علیہ اسلام کا فرمان)

۱۰ ۔ مومن کو اپنے ایمان پر مغرور اور کافر کو اپنے کفر سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ دلوں کا معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہ "مقلب القلوب" (دلوں کو پھیرنے والا) ہے۔( یحول بین المرٴو قلبه )

۱۱ ۔ تم سب کو قیامت کے دن محشور ہونا ہے، لہٰذا انبیاء الٰہی کو ان کی دعوت پر مثبت جواب دو۔( استجیبوا…الیه تحشرون )

آیت ۲۵

( وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآصَّةًج وَ اعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ )

ترجمہ۔ اور اس فتنے سے ڈرو جو صرف تم میں سے ظالم لوگوں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا، اور جانے رہو کہ خداوند سخت عذاب دینے والا ہے۔

چند نکات:

سابقہ آیت میں پیغمبر اسلام کی طرف سے "حیات طیبہ" کی دعوت قبول کرنے کا حکم تھا اور اس آیت میں فرماتا ہے: "اگر تم نے اس دعوت کو قبول نہ کیا تو یاد رکھو ایسے فتنے میں گرفتار کر لئے جاؤ گے جس کی آگ سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

"فتنہ" کے کئی معنی ہیں مثلاً شرک، کفر، آزمائش، شکنجہ وغیرہ۔

سابقہ آیت میں پیغمبر اکرم کی اطاعت کا حکم تھا، اور اس آیت میں فتنے سے ڈرنے کا حکم ہے، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فتنہ: پیغمبر اسلام کی اطاعت نہ کرنے کا نام ہے۔ اور آیت کا مفہوم وہی "( واعتصموا بحبل الله جمیعا ولا تفرقوا ) " ہے۔ (تفسیر المیزان)

فساد اور فحاشی ایک نظام کی چھت کو گرا دیتے ہیں جس کا نقصان سب کو پہنچتا ہے جیسے بنی امیہ کے حکام کا فساد ہے، کیونکہ جب لوگوں نے پیشوائے حق کی ولایت کا انکار کر دیاتو بنی امیہ کے فساد کی زنجیروں میں صدیوں تک ذلیل و خوار ہو کر جکڑے رہے۔ ۱۰

پیام:

۱ ۔ معاشرہ کے افراد اپنے کاموں کے علاوہ دوسروں کے کاموں پر بھی نظر رکھیں، کیونکہ خلاف ورزی کے مضر اثرات سب کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ جس طرح کہ کشتی کے پیندے میں سوراخ کر دینے سے اس میں سوار تمام لوگ ڈوب سکتے ہیں۔( لاتصیبن )

۲ ۔ نہ تو خود فتنہ برپا کرو، نہ دوسرے فتنہ پرور لوگوں کی ہاں میں ہاں ملاؤ اور نہ ہی ان کی فتنہ پردازیوں پر خاموشی اختیار کرو۔( واتقوا فتنة )

۳ ۔ فتنے سے بچنے کا مقصد اس سے ہوشیا ر رہنا ہے نہ کہ معاشرہ سے کٹ جانا ہے۔

۴ ۔ زمانے میں پیدا ہونے والے آشوب اور فتنوں میں ہوشیار رہنا چاہئے کہ کہیں تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں۔ ۱۱

آیت ۲۶

( وَ اذْکُرُوْآ اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰکُمْ وَ اَیَّدَکُمْ بِنَصْرِه وَ رَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ )

ترجمہ۔ اور اس وقت کو یاد کرو جب تم (تعداد میں) کم تھے اور (مکہ کی) زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے، تمہیں ہر وقت یہ ڈر رہتا تھا کہ (دشمن) لوگ تمہیں جلدی اچک لیں گے، پس اللہ تعالیٰ نے تمہیں (مدینہ میں) پناہ دی اور اپنی مدد کے ساتھ تمہاری تائید کی اور تمہیں ہر قسم کی پاکیزہ روزی عطا فرمائی، شاید کہ تم شکرگزار بن جاؤ۔

پیام:

۱ ۔ ناتوانی اور کمزوری کے دنوں اور خدائی امداد کی یادآوری، خدا کے شکر، اس کے ساتھ عشق و محبت اور اس پر توکل کا سبب ہوتا ہے( لعلکم تشکرون )

۲ ۔ ناتوانی اور امداد الٰہی کے ایام کی یاد، فتنوں سے دور رہنے کا موجب ہوتی ہے( واتقوا فتنة- واذکروا )

۳ ۔ راہ حق میں افرادی قلت، کمزوری و ناتوانی اور جلاوطنی سے نہیں گھبرانا چاہئے کیونکہ تمام باوقار انقلابی اسی راہ سے گزر چکے ہیں۔

آیت ۲۷

( یٰٓاَ یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُونُوْآ اَمٰنٰتِکُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ )

ترجمہ۔ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیانت نہ کرو اور (نہ ہی) اپنی امانتوں کے ساتھ خیانت کرو، جبکہ تم جانتے ہو کہ اللہ، رسول اور امانتوں کے ساتھ خیانت نہیں کی جاتی۔

ایک نکتہ:

اس آیت کے شان نزول میں شیعہ اور سنی تفسیروں میں مذکور ہے کہ جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کے مطابق بنی قریظہ کے یہودیوں کا محاصرہ کیا گیا تو اس دوران انہوں نے صلح کی پیشکش کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اس جگہ کو چھوڑ کر شام چلے جائیں گے۔ لیکن آنحضرت نے ان کی اس پیشکش کو قبول نہ فرمایا بلکہ اس بارے میں مذاکرات کے لئے سعد بن معاذ کو مامور فرمایا۔

اس وقت "ابو لبابہ" نامی ایک مسلمان موجود تھا، اس کی یہودیوں کے ساتھ پرانی دوستی تھی، اس دوران اس نے اپنے گلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ سعد بن معاذ کو قبول کرنے کی صورت میں سب تہ تیغ کر دیئے جاؤ گے۔ جبرائیل علیہ اسلام نے ابو لبابہ کے اس اشارے کی حضرت رسول خدا کو خبر دی۔ ابو لبابہ بہت شرمندہ ہوا کہ اس نے تو بہت بڑی خیانت کی ہے۔ اس نے اس کے پاداش کے طور پر اپنے آپ کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دیا اور سات رات دن تک کچھ نہ کھایا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کو قبول فرمایا( --- ) (تفسیر مجمع البیان، تفسیر صافی، تفسیر نمونہ اور دوسری تفاسیر)

اس کا ایک اور شان نزول بھی بتایا گیا ہے وہ یہ کہ جنگ بدر میں ایک مسلمان شخص نے ابو سفیان کو خط لکھا جس میں اس نے حضرت پیغمبر خدا صلے اللہ وآلہ وسلم کے منصوبوں سے اسے آگاہ کیا، جس کی وجہ سے ابوسفیان نے اہل مکہ سے مدد طلب کی اور ایک ہزار آدمی اس کی مدد کے لئے بدر کی جانب چل دیا۔ (تفسیر المیزان۔ تفسیر مجمع البیان)

پیام:

۱ ۔ بعض اوقات دشمن کے حق میں ایک اشارہ بھی خیانت میں شمار ہوتا ہے (ابو لبابہ کا واقعہ اور آیت کا شان نزول)

۲ ۔ خیانت فطری طور پر بھی بری اور قابل مذمت عادت ہے( وانتم تعلمون )

۳ ۔ جان بوجھ کر خیانت کرنا تو اور بھی خطرناک بات ہے( وانتم تعلمون )

۴ ۔ فوجی رازوں کا فاش کرنا بدترین خیانت ہے (آیت کے دوسرے شان نزول کے مطابق)

البتہ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ انفال، زکوٰة ، خمس اور دوسرے لوگوں کے باقی اموال تمہارے ہاتھوں میں امانت ہیں۔ اسی طرح مذہب و مکتب، رہبر و قائد، قرآن مجید، اولاد، وطن کی آب و خاک سب خدائی امانتیں ہیں)

۵ ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہلبیت اطہار علیہم السلام بھی اللہ کی طرف سے امانت ہیں۔ ۱۲

۶ ۔ اہل، لائق، افضل اور صالح افراد کے ہوتے ہوئے نااہل، نالائق، "مفضول" اور غیرصالح افراد کو آگے لانا اور انہیں معاشرتی اجتماعی، حکومتی اور سرکاری ذمہ داریاں سونپنا خدا، رسول اور مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی خیانت اور بددیانتی ہے۔

۷ ۔ ایک تو ہم خود بھی اپنے لئے امانت ہیں اور اس کے ساتھ یہ معاشرہ بھی ہمارے لئے امانت ہے۔ (ایک اور آیت میں ہے "تختانون انفسکم" اپنے آپ کے ساتھ خیانت کرتے ہو (بقرہ/ ۱۷۸)

۸ ۔ اللہ اور رسول کے ساتھ خیانت دراصل تمہاری اپنے ساتھ خیانت ہے اور اس کا نقصان خود تمہیں پہنچے گا۔ ۱۳

(ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رہے کہ جب تک ہمیں اپنی توبہ کی قبولیت کا یقین نہ ہو جائے، اس وقت تک اپنے آپ کو مطمئن نہ سمجھیں۔) ۱۴

آیت ۲۸

( وَ اعْلَمُوْآ اَنَّمَا اَمْوَالُکُمْ وَ اَوْلَادُ کُمْ فِتْنَةٌ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عنِدْهٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ )

ترجمہ۔ جان لو کہ تمہارے مال اور اولاد تمہاری آزمائش کا ذریعہ ہیں اور خدا کے نزدیک یقینا بہت بڑا اجر ہے۔

ایک نکتہ:

مال اور اولاد کے ساتھ انسان کی محبت، انسان کے لئے بہت سی لغزشوں کا سبب بن سکتی ہے، حرام کا کاروبار، دروغ گوئی، ذخیرہ اندوزی، کم فروشی، راہ خدا میں خرچ نہ کرنا، خمس و زکوٰة کی عدم ادائیگی، حرص و لالچ، تخریب کاری، جھوٹی قسمیں، حقوق الناس کا ضیاع غرض اس قسم کی کئی دوسری خرابیوں کی اصل جڑ مال کے ساتھ بے تحاشا محبت ہے، اسی طرح میدان جنگ سے فرار، افراد خاندان سے جدا نہ ہونا، اسی طرح کی دوسری خامیوں کا اصل سبب اولاد کے ساتھ محبت ہے۔

پس یہ سب امتحان کے اسباب و عوامل ہیں، جس طرح (سابقہ آیت کی رو سے) ابولبابہ ایک لغزش کا شکار ہو گیا تھا، تو اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اپنے مال اور اولاد کو بچانے کے لئے دشمن کے ساتھ ہمکاری پر آمادہ ہو گیا تھا۔

پیام:

۱ ۔ مال اور اولاد کے ساتھ حد سے زیادہ محبت انسان کو خیانت پر آمادہ کر دیتی ہے( لاتخونوا…واعلموا--- ) سابقہ آیت کے شان نزول کے پیش نظر ۱۵

۲ ۔ مال اور اولاد دو ایسے جال ہیں جو انسان کو فریب دینے کے لئے اس کی راہوں میں بچھے ہوئے ہیں جن کے بارے میں قرآن پاک نے مختلف تعبیرات کے ساتھ ان سے خبردار رہنے کو کہا ہے (فتنة) ۱۶

۳ ۔ خداوند عالم کے اجر عظیم کی طرف توجہ ہی سے انسان کے دل سے دنیا کی محبت اور خیانت جیسی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے( اجر عظیم )

آیت ۲۹

( یٰٓاَ یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا وَّ یُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰ تِکُمْ وَ یَغْفِرْ لَکُمْط وَاللّٰهُ ذُوْالْفَضْلِ ) ( الْعَظِیْمِ )

ترجمہ۔ اے وہ لوگو جو ایمان لے آئے ہو! اگر خدا سے ڈرتے رہو گے اور اس کاتقویٰ اختیار کئے رہو گے تو خداوند عالم تمہارے لئے فرقان (حق اور باطل کی شناخت کی قوت) قرار دے گا اور تمہارے گناہوں کو چھپا دے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور اللہ تعالیٰ تو بہت بڑے فضل اور بخشش والا ہے۔

چند نکات:

حق اور باطل کی شناخت کے معیار مختلف ہیں۔ مثلاً:

الف: "انبیاء اور اولیاء اللہ۔" جب کہ حدیث پیغمبر ہے" "( من فارق علیا فقد فارق الله ) " جس نے علی کو چھوڑ دیا (گویا) اس نے خدا کو چھوڑ دیا۔ (ملحقات احقائق الحق جلد ۴ ص ۲۶)

ب: " آسمانی کتاب"اس کی طرف رجوع کرکے حق کو باطل سے پہچانا جا سکتا ہے۔

ج: "تقویٰ" کیونکہ بے تقوائی کے ساتھ چونکہ خواہشات کے اور حب و بغض کے طوفانوں میں حقائق کا ادراک نہیں ہو سکتا۔

فرقان یا حق و باطل کی تشخیص، ایک خداداد حکمت اور بینش ہوتی ہے جس کا تعلق پڑھنے لکھنے اور معلومات کی فراوانی کے ساتھ نہیں ہوتا۔

"تکفیر سی( ٴ ) ات" یا گناہوں کی پردہ پوشی اور "مغفرت" کے درمیان کیا فرق ہے؟ اس بارے میں حضرت فخر رازی فرماتے ہیں: "گناہوں کی پردہ پوشی دنیا میں ہوتی ہے اور مغفرت یعنی قہر خداوندی سے چھٹکارا آخرت میں ہوتا ہے" لیکن "تفسیر نمونہ" کے بقول: "تکفیر، گناہ کے اجتماعی، معاشرتی اور نفسیاتی آثار کے مٹانے کو کہا جاتا ہے جبکہ "مغفرت" جہنم سے نجات اور بخشش کا نام ہے"

پیام:

۱ ۔ تقویٰ، صحیح معرفت کا عامل (فرقان) ہے اور اسی سے انسان کی معاشرتی حیثیت اور آبرو قائم رہتی ہے۔ اور آخرت میں مغفرت نصیب ہوتی ہے( یغفر لکم )

۲ ۔ جو لوگ نفسانی خواہشات سے بچے رہتے ہیں وہ صحیح معنوں میں حق کو پہچان سکتے ہیں اور تقویٰ صحیح پہچان کا سبب ہوتا ہے۔ ۱۷

آیت ۳۰

( وَ اِذْیَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَط وَیَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُاللّٰهُطوَ اللّٰهُ خَیْرُالْمَاکِرِیْنَ )

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر!) اس وقت کو یاد کرو جب کافر لوگ تمہارے بارے میں منصوبے بنا رہے تھے کہ تمہیں قید کر دیں یا قتل کر دیں یا بے گھر کر دیں، وہ تدبیریں سوچ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنی تدبیریں بنا رہا تھا اور اللہ تعالیٰ بہترین تدبیریں بنانے والا ہے۔

دو نکات:

اس آیت میں "شب ہجرت" اور کفار کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کے شیطانی منصوبوں کی طرف اشارہ ہے۔ آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جبرائیل علیہ اسلام کے ذریعہ اس منصوبے کا علم ہو گیا اور آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے بستر پر لٹایا اور خود راتوں رات غار ثور کی طرف چل دیئے اور وہاں سے مدینہ کی جانب ہجرت فرما گئے۔

آیت کے مطابق آنحضرت کے متعلق تین طرح کے منصوبے کفار کے پیش نظر تھے اور یہ مشرکین کے "دارالندوہ" میں ان کے مشترکہ اجلاس میں پیش ہوئے۔ بالآخر دوسری تجویز پاس ہوئی اور طے پایا کہ ہر قبیلے میں سے ایک ایک آدمی لیا جائے اور تمام افراد مل کر آپ پر حملہ کرکے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دیں۔ تاکہ اس طرح سے پیغمبر اسلام کے لواحقین کسی سے آپ کے خون کا بدلہ نہ لے سکیں۔

پیام:

۱ ۔ جو خطرات اللہ نے تم سے دور کئے ہیں انہیں خاطر میں لاؤ تاکہ دل کو قوت اور قلب کو سکون حاصل ہو( واذیمکر )

۲ ۔ انبیاء کی مشکلات صرف مشرکین کی دشمنی یا ہٹ دھرمی ہی نہیں ہوتی تھیں، ان کی طرف سے دھمکیاں اور شیطانی منصوبے بھی ہوا کرتے تھے۔( واذیمکربک--- )

۳ ۔ قید، قتل اور جلاوطنی تو جباران تاریخ کا قدیم سے شیوہ چلا آ رہا ہے کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کے لئے ایسے حربے ہی اختیار کیا کرتے تھے( یثتبوک او یقتلوک--- )

۴ ۔ انسان کے تمام افکار، خدا کے سامنے ہوتے ہیں( یمکرون ویمکراللّٰه )

۵ ۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب اور اپنے دوستوں کا حامی ہوتا ہے اور مکڑی کے جالے سے اشرف المخلوقات کی حفاظت کرتا ہے، تاریخ کی عظیم ترین سازش کو ناکام بناتا ہے اور تاریخ کے دھارے موڑ دیتا ہے۔

۶ ۔ جہاں ضروری ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو سازشوں سے آگاہ کر دیتا ہے۔ جس سازش کے بارے میں دشمن چاہتا ہے کسی کو اس کا علم نہ ہونے پائے اسے ساری دنیا صدیوں تک جانتی سمجھتی رہتی ہے۔

۷ ۔ جو حق کے طرفداروں کے خلاف سازشیں کرتا ہے درحقیقت وہ خدا کے مقابلے میں آن کھڑا ہوتا ہے۔( یمکرون و یمکراللّٰه )

۸ ۔ ضروری نہیں ہے کہ سپر طاقتیں ہمیشہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہیں( --- )

۹ ۔ دشمن کا منصوبہ جس قدر مضبوط ہو گا۔ اللہ تعالیٰ اسی قدر کمزور مخلوق کے ذریعے اسے ناکام بنا دے گا( --- ) بلقیس کو ایک ہدید کے ذریعہ دعوت پہنچتی ہے ۔ فرزند آدم ایک کوے سے سبق سیکھتا ہے ابرہہ کے اور اس کے ہاتھی سوار لشکری ابابیل کے ذریعہ نابود ہوتے ہیں، نمرود کا ایک مچھر کے ذریعہ ستیاناس ہوتا ہے، اور کفار مکہ کی سازشیں، ایک مکڑی کے ذریعہ ناکام ہوتی ہیں۔

البتہ اس بارے میں یہ بھی بتاتے ہیں کہ جب شب ہجرت علی بن ابی طالب علیہ السلام اپنی جان خوشی خوشی پیغمبر اکرم پر فدا کرنے کے لئے تیار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی:

"( ومن الناس من یشری نفسه ابتغاء مرضات الله والله روٴف بالعباد ) " (بقرہ/ ۲۰۷)

آیت ۳۱

( وَ اِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ اِنْ هٰذَآ اَلَّا ٓ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ )

ترجمہ۔ اور جب ان پر ہماری آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم نے سن لیا ہے، اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس قرآن کی طرح کہہ سکتے ہیں، یہ تو پہلے لوگوں کے افسانوں کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں۔

چند نکات:

سابقہ آیت میں پیغمبر اکرم کو قتل کرنے کے بارے میں دشمن کے قتل کے منصوبے کی بات ہو رہی تھی اور اس آیت میں دشمن کی طرف سے ان کے مکتب اور قرآن کو سبک کرنے کی گفتگو ہو رہی ہے۔

"اساطیر" جمع ہے "اسطورہ" کی جس کے معنی ہیں خرافاتی اور خیالی قصے کہانیاں،

بعثت سے پہلے " نضر بن حارث" ایران آیا تھا اور یہاں سے اس نے رستم اور اسفند یار کے قصے یاد کر لئے تھے، جب حجاز واپس گیا تو لوگوں سے کہنے لگا: "میں بھی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح قصے کہانیاں بیان کر سکتا ہوں" (تفسیر آلوسی، مجمع البیان، فی ظلال القرآن)

پیام:

۱ ۔ عوام فریبی، حقارت اور سبک سمجھنا دشمن کے حربوں میں شامل ہیں۔( لو نشأ لقلنا مثل هذا )

۲ ۔ دشمن ڈھول کا پول ہوتے ہیں وہ بلند بانگ دعوتے کرتے ہیں( لقلنا مثل هذا ) لیکن عملی میدان میں قرآن جیسی کتاب لانے سے عاجز ہیں۔

۳ ۔ قدیم الایام سے مومنین کو "قدامت پرستی" کی تہمتوں سے متہم کیا جاتا رہا ہے۔( اساطیر الاولین )

آیت ۳۲

( وَ اِذْ قَالُوا اللَّهُمَّ اِنْ کَانَ هٰذَا هُوَالْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ )

ترجمہ۔ اور (اس وقت کو یاد کرو) جب انہوں نے (مخالفین نے دعا کے ہاتھ اٹھا کر) کہا: خداوندا! اگر یہ (اسلام اور قرآن) حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو پھر ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا یا دردناک عذاب ہم پر نازل کر،

چند نکات:

اس قسم کی نفرین یا تو ان کے شدید تعصب اور سخت ہٹ دھرمی کی بنا پر ہوتی ہے جو کہ اپنی راہوں کو حق اور اسلام کو باطل سمجھتے تھے۔ یا پھر عوام کو دھوکہ دینے کے لئے کہ اپنے لئے بددعا کریں تاکہ سادہ لوح عوام کو اس بات کا احساس دلائیں کہ اسلام (نعوذباللہ) باطل ہے۔

جب میدان غدیرخم میں پیغمبر خدا نے اللہ کے حکم سے علی بن ابی طالب کو امامت کے لئے منصوب کرکے "من کنت مولاه کے ذریعہ اس کا اعلان فرمایا تو نعمان بن حارث جو کہ ایک منافق شخص تھا، آنحصرت صلی اللہ علییہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر گستاخانہ لہجے میں کہنے لگا: تونے ہمیں توحید، نبوت، جہاد، حج، روزے۔ نماز اور زکوٰة کا حکم دیا ہم نے قبول کیا، اب اس جوان کو بھی ہمارے لئے امام مقرر کر دیا؟ اس پر آنحضرت نے فرمایا: "یہ خدا کے حکم سے تھا" اس نے غصے میں پاگل ہو کر اپنے لئے بددعا کی اور اسی آیت کے الفاظ سے اقتباس کیا۔ (الغدیر جلد اول ص ۲۳۹ تا ص ۲۶۶ ۔ منقول از ۳۰ علمائے اہلسنت)

پیام:

۱ ۔ دشمن اپنے آپ کو اہلِ حق منوانے کے لئے ہو سکتا ہے کہ اپنے اوپر لعنتیں بھی بھیجنا شروع کر دے۔

آیت ۳۳

( وَ مَا کَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْط وَمَا کَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ )

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر!) جب تک تم ان لوگوں کے درمیان موجود ہو خدا انہیں عذاب نہیں دے گا اور جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے پھر بھی اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں ہے۔

دو نکات:

عذاب کی نفی سے مراد پیغمبر گرامی اسلام کے وجود مبارک کی وجہ سے مسلمانوں سے اس طرح کے عمومی عذاب اٹھا لئے گئے جن سے سابقہ اقوام ان سے دوچار ہوا کرتی تھیں، ورنہ انفرادی طور پر بہت سے افراد خصوصی مواقع پر عذاب الٰہی میں گرفتار ہوئے ہیں۔

احادیث شریفہ میں ہے کہ خداوند عالم بعض پاک دل افراد اور علمائے ربانی کی وجہ سے بھی لوگوں کے سروں سے عذاب کو ٹال دیتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود گرامی اہل زمین کے لئے امان ہے( وانت فیهم ) ۱۸

۲ ۔ استغفار، بلاؤں کو روک دیتی ہے۔( وهم یستغفرون ) ۱۸- A

آیت ۳۴

( وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا کَانُوْآ اَوْلِیَآءَ هط اِنْ اَوْلِیَآوٴُهٓ اِلَّا الْمُُتَّقُوْنَ وَٰلکِنَّ اَکْثَرَ هُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ )

ترجمہ۔ اور کیوں نہ خدا انہیں عذاب میں مبتلا کرے حالانکہ وہ لوگوں کو مسجد الحرام سے روکتے ہیں جبکہ وہ اس جگہ کے سرپرست بھی نہیں ہیں، متقی اور پرہیزگار لوگوں کے علاوہ کسی اور کو وہاں کی تولیت اور سرپرستی کا حق حاصل نہیں ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔

ایک نکتہ:

سابقہ آیت میں یہ بات ہو رہی تھی کہ لوگوں کے درمیان پیغمبر اکرم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود مبارک اور ان کی استغفار کی وجہ سے قوم عاد و ثمود پر نازل ہونے والے عذابوں جیسے آسمانی عذاب اٹھا لئے گئے ہیں۔ اور اس آیت میں ان کو ملنے والے عذاب کی بات ہو رہی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ ہو سکتا ہے کہ اس عذاب سے مراد دنیوی عذاب اور زمین پر جنگ ہو۔ اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایسے لوگ عذاب کے مستحق تو ہیں لیکن یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب پیغمبر کی وجہ سے انہیں عذاب نہیں کرتا۔ یا یہ کہ انہیں دنیا میں عذاب نہیں دیا جاتا لیکن آخرت کاعذاب ان سے کبھی نہیں ٹل سکے گا۔ (از تفسیر نمونہ)

پیام:

۱ ۔ جو لوگوں کو مسجدالحرام میں جانے سے روکتے ہیں انہیں عذاب الٰہی کا منتظر ہونا چاہئے۔( وما لهم الایعذبهم… ) ۱۹

۲ ۔ جس گھر کی تولیت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں میں رہی ہو اور جس کی بنیادیں تقویٰ پر رکھی گئی ہوں اس کی تولیت غیرمتقی افراد کے ہاتھوں میں نہیں ہونی چاہئے۔( ان اولیائه الاالمتقون )

آیت ۳۵

( وَ مَا کَانَ صَلاَ تُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُکَآءً وَّ تَصْدِیَةًط فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ )

ترجمہ۔ بیت اللہ (خانہ کعبہ) کے پاس ان کی (دعا اور) نماز سیٹیوں اور تالیوں کے علاوہ کچھ اور نہیں تھی۔ پس تم اپنے کفر کی وجہ سے عذاب کو چکھو۔

ایک نکتہ:

"مکاء" کے معنی ہیں سیٹی بجانا اور "تصدیہ" کے معنی ہیں تالی بجانا۔ مشرکین اس لئے سیٹیاں بجاتے تھے تاکہ خانہ کعبہ کے اندر رکھے ہوئے بتوں کو باور کرا سکیں کہ یاترا کے لئے آئے ہوئے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ تاریخی طور پر مذہبی مراسم، تحریف سے دوچار چلی آ رہی ہیں( صلوٰتهم…مکاء )

۲ ۔ بعض اوقات مقدس ترین مرکز، خرافات کا بالاترین محور بن جاتا ہے۔

۳ ۔ اس آیت میں عذاب کا مصداق، مشرکین کی جنگ بدر میں شکست ہے۔( فذوقواالعذاب ) ۲۰

(یاد رہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں اجلاسوں اور میٹنگوں میں صلوات پڑھنے کی بجائے تالیاں بجانا اسی دور جاہلیت کی ایک تبدیل شدہ صورت ہے جبکہ لوگ دعا و نماز کی بجائے سیٹیاں اور تالیاں بجایا کرتے تھے۔)

آیت ۳۶

( اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِط فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَکُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْْنُ ۵ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِلٰی جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَ )

ترجمہ۔ یقیناً جو لوگ کافر ہو گئے ہیں وہ اپنے اموال کو اس لئے خرچ کرتے ہیں تاکہ خدا کی راہ سے (لوگوں کو) روکیں، پس وہ آئندہ بھی اس قسم کے خرچ کرتے رہیں گے (پھر ان کا یہ خرچ شدہ مال) ان کے لئے حسرت کا سبب بن جائے گا اور وہ شکست کھا جائیں گے۔ اور جو لوگ کافر ہو چکے ہیں وہ جہنم کی طرف جمع کرکے لائے جائیں گے۔

ایک نکتہ:

منقول ہے کہ یہ آیت کفار مکہ کی جنگ بدر کے لئے سرمایہ کاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کے تحت انہوں نے ایک عظیم بجٹ جنگ کے لئے مخصوص کر دیا تھا، لیکن آیت کی عمومیت ان ہر قسم کی سرمایہ کاریوں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے جو دین اسلام سے مقابلہ اور نبردآزمائی کے لئے مخصوص کی جاتی ہیں۔ (جیسا کہ آج سے کچھ عرصہ پہلے شیطان بزرگ امریکہ نے ایران کے اسلامی انقلاب کو ختم کرنے کے لئے کئی ملین ڈالر کابجٹ مخصوص کر لیا ہے۔ از مترجم)

پیام:

۱ ۔ کفار تو اپنے ناپاک مقاصد کے لئے اپنا سرمایہ خرچ کریں لیکن مسلمان اپنے مقدس دین کے مقاصد کے لئے خرچ نہ کریں اور بخل سے کام لیں، کیا تعجب کی بات نہیں ہے؟

۲ ۔ جو مال و دولت، باطل کی راہ میں خرچ ہو گا وہ موجب حسرت بنے گا اور جو اس قدر خرچ کرکے مومنین کے مقابلے میں آئیں گے شکست سے دوچار ہوں گے۔

۳ ۔ وحی کے ذریعہ پیغمبر اکرم غیب کی خبر دے رہے ہیں کہ آئندہ بھی ایسے لوگ اسلام کے خلاف سرمایہ کاری کریں گے( فسینفقونها )

(از مترجم۔ جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے دور حاضر کی شیطانی سپر طاقت امریکہ "نیو ورلڈ آرڈر" کے تحت عالم اسلام کو زک پہنچانے کی غرض سے کئی ملین ڈالر خرچ کر رہی ہے، یہ اسی شیطانی منصوبے کا تسلسل ہے جس کی پیشین گوئی اس آیت میں کی گئی ہے)

۴ ۔ کفار کی کوششوں کی سزا صرف دنیوی شکست ہی نہیں، انہیں آخرت میں عذاب بھی ہو گا( یغلبون…جهنم )

۵ ۔ کفر، سقوط و پستی اور جہنم میں جانے کا موجب ہوتا ہے۔

۶ ۔ مومن چونکہ خدا کی رضا کے لئے کام کرتا ہے اور اس کی خوشنودی کی خاطر سرمایہ خرچ کرتا ہے اگر اسے بظاہر کوئی نتیجہ نہ بھی ملے پھر بھی اس پر حسرت نہیں کرتا کیونکہ خداوند عالم اسے اس کا اجر ضرور عطا کرے گا۔

۷ ۔ "الذین کفروا" کے جملے کا تکرار شاید اس لئے ہے کہ سرمایہ کاری کرنے والے بعض کفار بعد میں مسلمان ہو جاتے ہیں جو اپنے خرچ شدہ مال پر حسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ جبکہ بعض دوسرے کافر اپنے کفر پر باقی رہتے ہیں اور جہنم کا ایندھن بنتے ہیں اور جہنم ایسے کافروں کے لئے ہے جو کفر کی حالت میں مرتے ہیں۔

آیت ۳۷

( لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَه عَلٰی بَعْضٍ فَیَرْ کُمَه جَمِیْعًا فَیَجْعَلَه فِیْ جَهَنَّمَط اُولٰٓئِکَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ )

ترجمہ۔ (یہ حسرت اور شکست) اس لئے ہے تاکہ اللہ تعالیٰ (اس جہان اور اس جہان میں) ناپاک لوگوں کو پاک و پاکیزہ لوگوں سے جدا کر دے اور ناپاک اور پلید لوگوں کو آپس میں ملا دے، اور باہم یکجا کرکے انہیں جہنم میں بھیج دے، یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

ایک نکتہ:

"یرکمہ" کا کلمہ "رکم" سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں کئی چیزوں کو ایک دوسرے کے اوپر تہ بہ تہ رکھنا۔

پیام:

۱ ۔ باہمی تضادات، حدگیری اور حق و باطل کی جنگ کا نتیجہ ہوتا ہے کہ اس سے حوصلوں کا، مقاصد کا، اعمال کا پائیداری کا اور سازشوں کا پتہ چلتا ہے اور انسان کے جوہر کھلتے ہیں۔( لیمیز اللّٰه )

۲ ۔ حق اور باطل کے طرفداروں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ابتدا ہی سے خدا کا کام چلا آ رہا ہے( لیمیز اللّٰه )

۳ ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام ناپاک لوگوں کو جمع کرے گا اور سب کو اکٹھا واصل جہنم کرے گا( فیرکمه جمیعا )

۴ ۔ جگہ کی تنگی، دباؤ اور ایک دوسرے پر گرے پڑنا، جہنمیوں کی خصوصیات میں شامل ہے، اگرچہ دوزخ بہت وسیع ہے جو بھرنے میں بھی نہیں آئے گی بلکہ مسلسل "ھل من مزید" کی رٹ لگاتی رہے گی۔ اور زیادہ سے زیادہ خوراک کی طالب ہو گی لیکن دوزخی ہمیشہ دباؤ اور جگہ کی کمی کی شکایت کریں گے۔ بالکل ویسے جیسے ایک بہت بڑی دیوار ہو جس میں بہت سی میخوں کی گنجائش ہو، لیکن ہر ایک میخ تنگی میں گھٹی ہوئی ہوتی ہے۔

آیت ۳۸

( قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَج وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کفار سے کہہ دیجئے کہ اگر (گمراہی اور ناشائستہ افعال سے) باز آ جائیں تو ان کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے اور اگر (اپنی سابق کارستانیوں کی طرف) پلٹ جائیں تو خدائی طریقہ کار جو گزشتہ لوگوں کے ساتھ چلا آ رہا ہے ان کے بارے میں بھی جاری ہو گا۔

پیام:

۱ ۔ مسلمان ہونا، سابقہ گناہوں او رخلاف ورزیوں کو مٹا دیتا ہے( ان ینتهوایغفِرلهم ما قد سلف ) ۲۱

۲ ۔ اسلام میں ہمیشہ توبہ اور اصلاح کی راہیں کھلی ہیں اور اسلام کبھی بند گلی میں محدود نہیں ہوتا ۔( ان ینتهوا )

۳ ۔ فیصلہ کرتے وقت یہ دیکھا جائے کہ افراد کی موجود ہ حالت کیا ہے ؟ سابقہ حالت کو نہیں دیکھا جائے گا( ان ینتهوا- )

۴ ۔ تشویق کے ساتھ ساتھ دھمکی بھی ہوتی ہے( ان ینتهوا، ان یعودوا )

۵ ۔ امید کا دروازہ کھلا رکھنے سے کسی کو یہ احساس نہیں ہونا چاہئیے کہ کسی قسم کی کمزوری کی وجہ سے مجرمین کے لیے ایسا کیا گیاہے۔( ان ینتهوا ان یعودوا )

۶ ۔ لوگوں کو سوچنے کا موقع ، توبہ اور نظرثانی کی مہلت دینی چاہئیے( ان ینتهوا-- )

۷ ۔ پہلے تشویق وترغیب او راتمام حجت پھر دھمکی ، سختی اور دباؤ( ان ینتهوا، ان یعودوا )

۸ ۔ کافر اور زندیق کی توبہ بھی قابل قبول ہے ۔( قل للذین کفروا ان ینتهوا )

۹ ۔ اسلام جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ اصلاح طلب دین ہے( ان ینتهوا یغفرلهم )

۱۰ ۔ اللہ کے عادلانہ اور حکیمانہ قوانین ہر دور میں ہر ایک کے لئے یکساں اور ناقابل تبدیلی ہیں( مضت سنت الاولین )

۱۱ سابقہ امتوں میں خدائی طریقہ کار یہ رہا ہے کہ خدانے انبیاء کو ہی غلبہ عطا فرمایاہے ۔ ۲۲

آیت ۳۹

( وَقَاتِلُوْ هُمْ حَتّٰی لَاتَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّه لِلّٰهِج فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ )

ترجمہ۔ اور ان (دشمنوں ) کے ساتھ اتنی جنگ کرو کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہ جائے ، اور دین سارے کا سارااللہ کا ہوجائے ، پس اگر ان لوگوں نے (اپنے کفرسے ) دست کشی اختیار کر لی تو خداوند بھی ان کے کارناموں کو جانتا ہے۔

دونکات:

۔ اسلام میں جنگ کشور کشائی کے لیے نہیں بلکہ دین اسلام کی وسعت وہمہ گیری اور فتنوں سے مقابلے کے لیے ہے ۔

۔ "فتنہ " کے وسیع معنی ہیں اور دباؤ پر مبنی ہر طرح کے اعمال کو بھی شامل ہے۔ اور قرآن مجید میں "شرک " کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ اور یہ شا ید اس لیے ہے کہ مشرکین کی طرف سے انسانی افکار ‘ معاشرے اورحق طلب افراد پر مختلف قسم کی حد بندیاں اور طرح طرح کے دباؤ ڈالے جاتے ہیں ۔ یا پھر اس لئے کہ شرک چونکہ ابدی عذاب کا موجب ہوتا ہے اسی لئے مومنین اور پاک فطرت لوگوں پر اس کا مسلط کرنا بھی ایک فتنہ ہے۔ (از تفسیر نمونہ)

پیام:

۱ ۔ اسلام میں جنگ کا مقصد حق کی دعوت کے لئے فتنے او رکفار کے تسلط کا خاتمہ اور صاف ستھری فضا قائم کرے۔ ۲۳

۲ ۔ تاریخی طور پر جب تک کفار فتنہ پر دازی میں مشغول رہیں گے ، فتنے کے قلع قمع کرنے کا حکم بھی موجود رہے گا۔( وقا تلوهم حتی لا تکون فتنهته )

۳ ۔ یہ آیت دین میں آزادی اور "لا اکرہ فی الدین " کے منافی نہیں ہے ۔ اس لئے کہ طاغوت اور فتنے کو جڑ سے اکھیڑ پھینکا جائے تا کہ آزادی کے ساتھ اسلام کی اختیار کرنے کی فضا ساز گار ہو۔

۴ ۔ جب بھی دشمن جنگ سے ہاتھ اٹھا لے اس کے اسی وقت کو مطابق مناسب سلوک کیا جائے۔

آیت ۴۰

( وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلِمُوْا اِنَّ اللّٰهَ مَوْلَکُمْط نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ )

ترجمہ۔ اور اگر (پھر بھی ) وہ رو گردانی اور سرپیچی کریں تو معلوم کر لو کہ خدا تمہارا مولا اور سر پرست ہے کس قدر بہترین مولا اور بہترین مددگار ہے ۔

پیام:

۱ ۔ اگر دشمن ، فتنہ پر دازی سے باز نہ آئے تو تم مومنوں کو ہر گز گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس لئے کہ تمہار ا دمدگار اللہ ہے ۔

۲ ۔ فوجی مسائل پر عملدر آور کراتے او ر سیاسی منصوبہ کرتے وقت تمام اطراف پر نگاہ ہونی چاہئیے( فان تولوا ) اور درفان انتہوا"

۳ ۔ تم اپنے فرائض ادا کرتے جاؤ اگر دوسرے اس پر عمل نہیں کرتے یا روگردانی کرتے ہیں تو نہ گھبراؤ خدا تمہارا یارویاو ر ہے ۔

۴ ۔ خدا کی ولدیت ، سر پرستی اور مدد و نصرت سے کبھی غفلت نہ بر تو ۔( فاعلموا )

۵ ۔ اللہ تعالی اور اس کے لطف و کرم کی یاد مومنین کے دلوں کو مشکل وقت اور ہرسازش کے موقع پر تفویت عطا کرتی اور سکون بخشتی ہے۔

۶ ۔ خداوند عالم بہترین مولا ہے کیونکہ نہ تو ہمیں دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہے اور نہ ہی فراموش کرتا ہے ۔ نہ ہمیں اپنے کسی ذاتی مفاد کے لئے چاہتا ہے او رنہ ہی کسی کا حق ضائع کرتا ہے ۔( نعم المولی ) ٰ)

۷ ۔ ہر یارویاور سے خدا کی مدد و نصرت بالا تر ہے( نعم النصیر )

آیت ۴۱

( وَاعْلَمُوْآ اَنَّماَ غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاِنَّ لِلّٰهِ خُمْسَه وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلَ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِط وَاللّٰهُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ )

ترجمہ۔ اور جان لو کہ جو بھی غنیمت حاصل کرو تو یقینا اس کا خمس (پانچواں حصہ ) خدا ، رسول خدا اس کے قرابتداروں (اہلبیت) یتیموں ، بے نواؤں اور مسافروں کے لئے ہے ، اگرتم خدا اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر حق اور باطل کی جدائی کے دن نازل کی ، جس (جنگ بدر کے) دن دو گروہ ایماندار اور بے ایمان آپس میں گھتم گتھا ہو گئے۔ اور اللہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

چند نکات :

۔ شیعی نقطہ نظر اور روایات کی رو سے اس آیت میں "غنیمت " جنگی غنائم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ بلکہ ہر طرح کی آمدنی کو شامل ہے خواہ وہ معدنیات ہوں ، غوطہ زنی ہو، تجارت ہو یا کوئی اور ذریعہ آمدنی۔ اور جنگ بدر کے موقع پر آیت کا نزول اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس سے مراد صرف جنگی غنیمتیں ہیں۔

۔ اس سورت کی سب سے پہلی آیت میں "انفال کو خدا اور رسول کا مال بتایا گیاہے او راس آیت میں مال غنیمت کے صرف پانچویں حصے کو اللہ اور رسول اللہ کا مال بتایا گیا ہے۔

۔ اگر غنیمت سے مراد "جنگی غنیمت "ہی لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خمس کا ایک موقع اور محل اسی آیت میں ہے اور دیگر موارد روایات میں بیان ہوئے ہیں ۔

۔" ذوی القربیٰ " سے مراد بہت سی شیعی روایات اور بعض اہلسنت روایات کے مطابق پیغمبر اسلام کے تمام رشتہ دار نہیں ہیں بلکہ صرف ائمہ اہلبیت ہی ہیں جن کے پاس امت اسلامیہ کی قیادت اور رہبر ی ہے ۔ اور خمس اسلامی حکومت اور ا س کے رہبر سے تعلق رکھتا ہے نہ کہ پیغمبر کے سارے رشتہ داروں سے۔

۔ خمس کا ایک اور مصرف سادات بنی ہاشم میں سے غریب و مسکین او رمسافر افراد ہیں۔ کیونکہ غریب سادات پر غیر سیدوں کی زکوة حرام ہے لہذا خمس کے ذریعہ ان کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔

۔ روایات جو کہ ۔۔۔ذوی القربی" سے مراد معصوم امام سمجھتی ہیں ان کے علاوہ ان کا اللہ اور رسول کے ساتھ ہی ساتھ ذکر ہونا اور خاص طور پرحرف "لام" کے ساتھ آنا ا س بات کی دلیل ہے کہ ذوی القربےٰ سے مراد ائمہ اطہار ہیں جو خدا اور ا سکے رسول کے ساتھ ساتھ مذکورہیں۔

پیام:

۱ ۔ اب جب کہ تم جنگ بدر میں خدا کی مدد او رنصرت سے کامیاب ہو گئے ہو لہذا غنیمت کے ما ل سے خمس کی ادائیگی کے لئے ٹال مٹول سے کام نہ لو۔( ان کنتم آمنتم--قدیر )

۲ ۔ مال غنیمت کا خمس رسالت اور مقام حکومت کے لئے ہے ۔

۳ ۔ حکومت او ر سر براہ حکومت راہبر اور قائد کو تبلیغ اور رسالت کے لئے اموال کی ضرورت ہوتی ہے( لله وللرسول )

۴ ۔ خمس واجب ہے خواہ آمدنی او رغنیمت کم ہی کیوں نہ ہوں ،( من شییٴ )

۵ ۔ ایمان ‘ ایثار کا موجب ہوتاہے۔( لله خمسه-- ان کنتم آمنتم )

۶ ۔ مالی قربانی اس حد تک مشکل ہوتی ہے کہ بعض موقعوں پر مجاہدین کیلئے بھی دشوار ہو جاتی ہے( ان کنتم - )

۷ ۔ غریب طبقہ اور حکومت ، لوگوں کے ۲۰ فیصد اموال کے مالک ہیں ۔( لله خمسه و -- )

۸ ۔ خداوند عالم کو مال کی ضرورت نہیں ، آیت میں خدا کے سہم (حصے) کا ذکر خدا اور رسول کی حاکمیت اور ولایت کے لئے ہے۔

۹ ۔ خدا کا حصہ کلمہء حق کی بلندی ، خانہ کعبہ ، دینی تبلیغات اور قانون الہٰی کی حاکمیت اور سر بلندی کے لئے خرچ کیا جاتا ہے۔

۰ ۔ فقرو فاقہ اور محرومیت کو دور کرنا اسلام کے پروگراموں میں شامل ہے لہذا جہاد او رغنیمت کے ثمرات سے فقراء اور مساکین کو بہرہ ور کیاجانا چاہئیے ۔

۱۱ ۔ ایمان کامل کی نشانی یہ ہے کہ خدا کے تمام قوانین کے آگے سر تسلیم خم کر دیا جائے ، صرف عبادات اور جنگ ہی میں سر کو نہ جھکایا جائے۔( ان کنتم---- )

۱۲ ۔ جنگ کا دن ، سچوں کا جھوٹوں سے جدا ہونے کا دن ہوتا ہے( یوم الفرقان )

۱۳ ۔ جنگ بدر میں خدائی امدادوں نے حقانیت اسلام کوروشن کر دیا۔

۱۴ ۔ جس طرح "غرامت " ہر قسم کے نقصان کو کہا جاتا ہے صرف جنگی نقصان ہی کو نہیں کہا جاتا ۔ ۲۴ اسی طرح "غنیمت " بھی ہر گونہ منافع اور فائدوں کو کہا جاتا ہے صرف جنگی مال کو نہیں ۔

۱۵ ۔ خدا کا سہم (حصہ) رسول خدا کے پاس ہوتا ہے او ررسول خدا کا سہم (حصہ) امام علیہ اسلام کے اختیار میں ہوتا ہے ۔ (روایات کی رو سے ۔ تفسیر صافی )

۔ آیت میں مذکورسہم میں فیصلہ کرنا امام کا کام ہوتا ہے (حضرت امام رضاعلیہ السلام کا تفسیر صافی )

۔ معاشرہ کے غریب اور محروم لوگوں کی شان بلند کرنے کے لئے ان کا نام اللہ او ررسول اللہ کے ناموں کے ساتھ ہی مذکور ہوا ہے


آیت ۴۲

( اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَة ِالدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰی وَالرَّکْبُ اَسْفَلَ مِنْکُمْط وَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ وَلَکِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًا لِّیَهْلِکَ مَنْ هَلَکَ عَنْم بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰ مَنْ حَیَّ عَنْم بَیِّنَةٍط وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ) لا

ترجمہ ۔ (وہ وقت یاد کرو)جب تم نچلی جانب تھے او روہ (دشمن) اوپر کی طرف (اور تم پر برتری رکھتے ) تھے ا ور( ابو سفیان )کا لشکر تم سے بہت نیچے تھا۔ اگر تم جنگ کے لئے پہلے کوئی وعدہ کر لیتے تو یقینا اس میں اختلا ف کرتے(کیونکہ ایک دشمن تو تمہارے اوپر تھا اورایک نشیب میں اور تم دو مخالف صفوں کے درمیان ہوتے اور ہر گز ایسی جنگ میں شرکت نہ کرتے ) لیکن خدا ہونے والے امر کا فیصلہ کرنا چاہتا تھا تا کہ جو ہلاک ہو تو وہ بھی دلیل اور آگاہی کے ساتھ ہلاک ہو اور جو حقیقی زندگی چاہتا ہے تو وہ بھی دلیل اور حجت کے ساتھ زندہ رہے اور خدا یقینا سننے اور جاننے والا ہے۔

دو نکات :

۔"عدوہ" کا لفظ "عدو" سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں حد سے بڑھ جانا ۔ ہر چیز کے حاشیہ اور اطراف کو جو درمیانی حد سے بڑھ چکی ہو اسے بھی "عدوہ" کہتے ہیں ۔ اور اس آیت میں "عدوہ" سے مراد اطراف و جوانب ہے۔ "دنیا" کا لفظ "دنو " سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں نیچے او رنزدیک تر۔ جبکہ "قصویٰ" اور اقصیٰ " کے معنی ہیں "دور تر"۔

۔ جنگ بدر میں کفار کو صرف اسلحے ، افرادی قوت اور آمادگی کے لحاظ ہی سے برتری حاصل نہیں تھی ، بلکہ لشکر کے پڑاؤ کے اعتبار سے بھی علاقائی فوقیت رکھتے تھے۔ اور اس طرح جگہ کا انتخاب کیا ہوا تھا کہ بوقت ضرورت بحیرہ احمر کی طرف بھاگ کر جا سکتے تھے ۔ لیکن خداوند عالم نے کفار اور ان کے اموال ان کے قبضہ میں دینے کے لئے ، مسلمانوں کو کفار کے مقابل لا کھڑا کیا۔ اور جنگ کے سوا چارہ کار نہ رہا۔ اور خد اکے لطف و کرم نے انہیں سرفراز اور کامیاب و کامران کر دیا۔

سورت کی ابتدا سے ایک مرتبہ پھر جنگ بدر پر ایک نگاہ

امدادالٰہی کی بہتر پہچان

۱ ۔ اے مسلمانو! تم جنگ کے لئے نہیں مال ہتھیانے کی فکر میں تھے "( تودون ان غیرذات الشوکة تکون لکم ) " (آیت ۷)

۲ ۔ جب جنگ شروع ہوئی تو تم پریشان ہو گئے۔ "( فریقامن المومنین لکارهون ) " (آیت ۵)

۳ ۔ موت سے ڈر رہے تھے۔ "( کانمایساقون الی الموت ) " (آیت ۶)

۴ ۔ پریشان ہو کر نصرت طلبی کر رہے تھے"( تستغیثون ربکم ) " (آیت ۹)

۵ ۔ حملے کی رات شیطان نے تم پر اپنی پلیدی (جنابت) مسلط کر دی "( رجز الشیطان ) " (آیت ۱۱)

۶ ۔ فرمانروائے لشکر کی مکمل اطاعت نہیں کی "( قالو ا سمعنا و هم لا یسمعون ) " (آیت ۲۱)

۷ ۔ تعداد میں کم تھے اور دشمن کا شکار ہونے سے پریشان تھے ۔ "( انتم قلیل تخافوان یتخطفکم ) " (آیت ۲۶)

۸ ۔ تم میں سے بعض لوگوں نے تو ابتداء ہی سے خیانت کا ارتکاب کیا تھا "( ابولبابه کا ماجرا ) " (آیت ۲۷)

۹ ۔ تمہارا قائد اور رہبر دشمن کی سازشوں او ردھمکیوں سے دو چار ہو چکا تھا"( یمکر بک ) " (آیت ۳۰)

۱۰ ۔ تم پیاسے تھے اور پھر ساتھ ہی جنب بھی ہو گئے ، تمہارے پاؤں کے نیچے کی ریت بھی نرم تھی۔ ہم نے بارش برسائی۔

پیام: (آیت ۴۲)

۱ ۔ اگر جنگ کا مسئلہ تمہارے اختیار میں ہو تا تو ان مشکلات کی وجہ سے کسی بات پر اتفاق نہ کر پاتے( لاختلفتم )

۲ ۔ جب خدا چاہتا ہے تو کمزوری کے تمام اسباب بر طرف کر دیتا ہے ۔( لیقضی الله )

۳ ۔ ایسی ہر طرح کی امداد آجانے کے باوجود بھی جو ایمان نہیں لایا وہ بطور آگاہ ہلاک ہو گیا اور جو ایمان لے آیا وہ سوچ سمجھ کر اور آگاہ ہو کر ایمان لے آیا( لیهلک---- عن بینته )

۴ ۔ جلدی میں فیصلہ نہ کر دیا کرو، ابتدا میں تو جنگ تمہیں پسند نہیں تھی لیکن بعد میں اس کی بہتری سے باخبر ہوئے۔

۵ ۔ اللہ تعالیٰ تمام منصوبے نا کام بنا دیتا ہے او رکیفیت کو تبدیل کر دیتا ہے ، اور یہیں سے خدا کو پہچانا جا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جنگ بدرکے دن کو۔۔ گزشتہ آیت میں۔۔۔ "فرقان کا دن" کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس دن اس قدر غیبی امدادیں نازل ہوئیں کہ سب لوگوں پر حق واضح ہو گیا ، لیکن اس کے باوجود جس نے بے توجہی سے کام لیا او راس پر ایمان نہیں لایا تو یہ اس کی ہٹ دھرمی ، عناد او ر ضد کا نتیجہ تھا۔( لیهلک من هلک عن بینته ) ۔

آیت ۴۳

( اِذْ یُرِیْکَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلًاط وَلَوْ اَرٰکَهُمْ کَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَٰلکِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَط اِنَّه عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِ )

ترجمہ۔ اے پیغمبر! اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں دشمن کی تعداد کم کرکے دکھلائی ، اور اگر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تمہیں زیادہ دکھلاتا تو تم سست ہو جاتے اور جنگ کے معاملہ میں لڑائی جھگڑ ا کرتے لیکن اللہ تعالی نے (تمہیں اس سے) محفوظ رکھا۔ بے شک اللہ تعالیٰ سینے کے اندر کی چیزوں کو جانتا ہے

چند نکات:

۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر اپنے لطف و کرم اور امداد و نصرت کے سلسلے میں مسلمانوں کی نگاہوں میں کفار کی تعداد کم کر کے دکھانے کی بات کر رہا ہے۔ کہ ایک نہیں کئی مرحلوں پر ایسا ہوا ہے ۔ ایک تو خود پیغمبراکرم نے خواب میں ان کی تعداد کو بہت ہی کم دیکھا، او ریہ خواب مسلمانوں کو بتایا جس سے ان کے حوصلے بلند ہو گئے۔

دوسری صورت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کی نگاہوں میں مسلمانوں کی تعداد کو کم کرکے دکھایا۔

تاکہ اس طرح سے وہ مکہ سے تازہ دم لشکر نہ منگوائیں۔ (یہ بعد کی آیت میں ہے )

۔ حضرت رسول خد ا کی عمہ محترمہ جناب عاتکہ نے جنگ بدرسے تین دن پہلے مکہ میں خواب دیکھاکہ:

کوئی شخص بلند آواز سے کہہ رہا ہے کہ اے مکہ والو! اپنی مقتل کی طرف جانے میں جلدی کرو ، اتنے میں ایک پتھر کے ٹکڑے کو ہلایا جس سے اس کے کئی ٹکڑے ہو گئے او ر ایک ایک ٹکڑاکر کے ایک گھر میں جا گرا جس سے پورے شہر سے خون جاری ہو گیا"۔

چنانچہ یہ خواب ہر ایک کی زبان پر جاری ہو گیا جس سے کفار کے دل پر وحشت طاری ہو گئی، اور ا سطرح سے اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں مسلمانوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ (تفسیر نمونہ)

۔ اگرچہ انبیاء علیہم السلام کا خواب وحی کا پرتو ہو ا کرتا ہے، لیکن پیغمبر اسلام نے خواب میں کفار کی بھاری تعداد کو بہت کم تعداد میں ملاحظہ فرمایا تو یہ ان کفار کی باطنی کیفیت تھی جو ان کی ناتوانی اور کمزوری پر دلالت کر رہی تھی جو تعداد کی صور ت میں مجسم ہو کر دکھا ئی دی ، ارشاد رب العزت ہے"( تحسبهم جمیعا و قلوبهم شی ) " (حشر ۱۴)

پیام:

۱ ۔ خواب اللہ تعالیٰ سے امداد حاصل کرنے ، حوصلہ پانے او راس کی ذات کے ساتھ ربط پیدا کر نے کا ایک راستہ ہے( فی مناماک ) ۲۵

۲ ۔ خواب کی محیر العقول دنیا کی زبان اور نشانی ہی کچھ اور ہوتی ہے ۔ دشمن کی کمزوری اور شکست ، افرادی تعداد کی کمی کی صورت میں نظر آئی اگرچہ ان کی تعداد بہت ہی زیادہ تھی۔

۳ ۔ اطلاعات ، اعداد و شمار وغیرہ یا جس سے مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو جائے یا ان کے حوصلے پست ہو جائیں ایسی چیزوں کو ظاہر کرنا ، خصوصاً محاذ جنگ میں ایسی چیزوں کا فاش کرنا ممنوع ہے( ولوا راکهم کثیرالفشلتم )

۴ ۔ خداوند عالم سخت ترین بحرانی لمحات میں بھی مومنین کی حفاظت فرماتا ہے۔ ۲۶

آیت ۴۴

( وَ اِذْ یُرِیْکُمُوْهُمْ اِذِالْتَقَیْتُمْ فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُکُمْ فِیْٓ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًاط وَ اِلَی اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ )

ترجمہ۔ اور اس وقت کو بھی یاد کرو جب تم دشمن سے دوبدو ہوئے، اس وقت خدا نے دشمن کو تمہاری نگاہ میں کم کرکے دکھایا (تاکہ تم پوری جرأت کے ساتھ ان پر حملہ کرو) اور تمہیں بھی ان کی نظروں میں کم کرکے دکھایا (تاکہ کفار مکہ سے کمک کی درخواست نہ کریں) یہ اس لئے تھا تاکہ جو کام ہونا تھا ا للہ تعالیٰ اسے پورا کر دے۔ اور تمام امور خدا کی طرف ہی لوٹائے جائیں گے (اور اس کا ارادہ پورا ہو کر رہے گا)

ایک نکتہ:

جب کفار کی نگاہ مسلمانوں پر پڑی تو انہیں اس قدر کم نظر آئے کہ کہنے لگے "ان کے ساتھ لڑنے کے لئے تو ہم اپنے نوکر غلام ہی بھیجیں گے جو ان کا مقابلہ کریں گے، ہمیں لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (تفسیر صافی) لیکن جونہی جنگ شروع ہوئی تو دوران جنگ ہی انہیں مسلمانوں کی تعداد دوگنی نظر آئی اس پر وہ سخت مرعوب ہو گئے (تفسیر صافی، نمونہ اور المیزان) "( یرونهم مثثلیهم رأی العین ) " (آل عمران/ ۱۳)

پیام:

۱ ۔ اللہ کی مددجنگ سے پہلے بھی مسلمانوں کے شامل حال ہوئی "فی منامک" اور جنگ کے دوران بھی( اذا لقیتم )

۲ ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی امداد کے لئے ولایت تکوینی اور نگاہوں میں تصرف سے کام لیتا ہے( فی اعینکم قلیلا )

۳ ۔ ظاہری حواس سے بہرہ برداری بھی خدا کے ہاتھ میں ہے۔

۴ ۔ اگر کسی کام میں ارادہ خداوندی کارفرما ہو تو تمام رکاوٹیں برطرف ہو جاتی ہیں،( لیقضی الله--- )

یہ کلمہ ایک مرتبہ تو ۴۲ ویں آیت اور ایک مرتبہ یہاں پر ذکر ہوا ہے۔

۵ ۔ کامیابی اور فتح کا دارومدار افرادی قوت اور عددی برتری پر نہیں ہے، مجاہدین کے ایمان و حوصلے اور ارادہ الٰہی پر منحصر ہے۔

آیت ۴۵

( یٰٓاَ یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللّٰهَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ )

ترجمہ۔ اے ایماندارو! جب بھی میدان جنگ میں (دشمن سے) دوبدو ہونے لگو تو ثابت قدم رہو اور خدا کو بہت یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

ایک نکتہ:

ذکر خد اسے مراد صرف، زبان اور لبوں کے ساتھ ذکر نہیں ہے، بلکہ اس کے لطف و کرم، احسان و مہربانی اور غیبی امدادوں اور وعدوں، عزت و عظمت اور اس کے احکام و فرامین کی یاد بھی مراد ہے۔

پیام:

۱ ۔ میدان جنگ میں ثبات قدمی، پائیداری اور خدا کی یاد ہی جنگ میں کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔

۲ ۔ میدان جنگ میں ہمیں حکم ہے کہ ثابت قدم رہیں، لیکن اس بات کی درخواست بھی خدا ہی سے کرنی چاہئے۔ ۲۷( فاثبتوا )

۳ ۔ ثابت قدمی، ایمان کا جزو لازم ہے )( امنوا، فاثبتوا )

۴ ۔ مسلمانوں کے محاذ جنگ کی فضا کو یاد الٰہی سے معمور ہونا چاہئے، اور مشکلات جس قدر زیادہ ہوں گی نیاز اور یاد خدا اسی قدر زیادہ ہو گی۔

۵ ۔ جنگ کے بحران اور محاذ جنگ کے حوادثات میں اگر خدا کی یاد نہ ہو تو اہداف و مقاصد میں انحراف اور اعمال و افعال میں گمراہی کے پیدا ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

۶ ۔ محاذ جنگ میں زن و فرزند اور مال ودولت کی یادوں کی بجائے خدا کی یاد کو جاگزین ہونا چاہئے ۲۸( واذکروا الله )

۷ ۔ محاذ جنگ ان مقامات میں سے ہے جہاں انسان کو فلاح اور کامیابی کی سند ملتی ہے( تفلحون )

آیت ۴۶

( وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَه وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِیْحُکُمْ وَ اصْبِرُوْاط اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ )

ترجمہ۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور نزاع مت کرو کیونکہ اس سے سست ہو جاؤ گے، اور تمہاری ہیبت اور قوت جاتی رہے گی اور صبر کرو کہ اللہ تعالیٰ یقینی طور پر صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

دو نکات:

سابقہ آیت میں فتح اور کامیابی کے دو اہم عوامل "پائیداری" اور "خدا کی یاد" کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس آیت میں دو عوامل "اطاعت" اور "وحدت" کی بات ہو رہی ہے۔

"( ریح ) " (ہوا) قدرت اور شان و شوکت سے کنایہ ہے۔ جیسا کہ ہوا، کشتی کو متحرک رکھتی ہے اور اس کے پرچم کو لہرائے رکھتی ہے جو کہ تمہاری کامیابی و کامرانی اور عزت و عظمت کی علامت ہے، اگر تمہارے اختلاف و انتشار اور لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے یہ ہوا خالی ہو جائے تو تم ذلیل و خوار اور حقیر ہو جاؤ۔

پیام:

۱ ۔ قانون اور رہبر وحدت کا محور و مرکز ہیں۔

۲ ۔ مسلمانوں کا جہاد مسلمانوں کے رہبر کی قیادت میں اور خدا و رسول (اور رسول کے برحق جانشینوں) کے حکم کے مطابق ہونا چاہئے۔

۳ ۔ محاذ جنگ میں اطاعت اور وحدت کے سلسلے میں ثابت قدم اور پائیدار رہو، اگر کوئی چیز تمہاری مرضی کے خلاف ہو یا تمہاری مرضی کے خلاف کوئی کام ہو تو صبر سے کام لو۔

۴ ۔ عقائد کا اختلاف، تمہارے اعمال و کردار کو کمزور کر دے گا( فتفشلوا )

۵ ۔ باہمی نزاع تمہیں اندر سے کھوکھلا اور باہر سے بے عزت و بے آبرو کر دے گا۔( تفشلوا و تذهب ریحکم )

آیت ۴۷

( وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِط وَاللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ )

ترجمہ۔ اور ان لوگوں کے مانند نہ بنو جو لوگ سرمستی، خودنمائی، غرور اور ریا کی بنا پر اپنے گھروں سے (محاذ جنگ کی طرف) نکلے ہیں اور خدا کا راستہ لوگوں کے لئے بند کر دیتے ہیں حالانکہ جو کچھ وہ کرتے ہیں خداوند عالم اسے جانتا ہے۔

دو نکات:

جب ابو سفیان کا تجارتی قافلہ مسلمانوں سے بچ کر صحیح سالم مکہ پہنچ گیا تو ابو سفیان نے ابو جہل کو پیغام بھیجا کہ "ہم خیر و عافیت کے ساتھ مکہ پہنچ گئے ہیں، تم لوگ جو کہ ہماری امداد کے لئے گئے ہوئے تھے واپس آ جاؤ! "

ابو جہل نے نہایت مغرورانہ انداز میں کہا: "جب تک ہم مسلمانوں کو سرکوب نہیں کر لیں گے اور اس خوشی میں جام شراب نہیں پی لیں گے اور اپنی قدرت انہیں نہیں دکھا دیں گے واپس نہیں پلٹیں گے" لیکن اللہ کے فضل و کرم سے شکست سے دوچار ہوئے اور خیر سے( --- ) گھر کو آئے۔

اس آیت میں اور اس سے پہلے کی دو آیات میں محاذ جنگ میں کامیابی کے عوامل کو یوں بیان کیا گیا ہے۔ "ثبات قدم، یاد خدا، رہبر کی اطاعت، اختلافات سے دوری، صبر کی پابندی، غرور، ریا اور دنیا طلبی سے پرہیز"( بطراو رئاء الناس )

پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہ سورت زیادہ تر جنگ بدر کے بارے میں ہے اور اس میں فوجی اصول، عسکری تجربے، جنگی غنائم اور فتح و شکست کے اسباب کو بیان کیا گیا ہے۔

پیام:

۱ ۔ غرور اور ریاکاری، قدرت و طاقت، محاذ جنگ اور لشکرکشی کی آفتیں ہیں( بطرا )

۲ ۔ محاذ جنگ پر روانہ ہوتے وقت اپنی نیت کو خالص کر لیا کرو۔( رئاء الناس ) ۲۹

۳ ۔ اسلامی محاذ جنگ کو زیب و زینت اور دکھاوے اور آرائش کی آلودگی سے پاک ہونا چاہئے۔ (تفسیرالمیزان)

۴ ۔ اسلامی اور غیراسلامی جنگوں کا اصولی فرق ان کے اہداف اور مقاصد میں ہوتا ہے، کیونکہ مسلمانوں کا ہدف عالم سے فتنہ کی بیخ کنی ہے (انفال/ ۳۸) جبکہ دوسروں کا مقصد استعمار، سامراج اور تسلط و اظہار قدرت ہوتا ہے۔( بطرا و رئاء الناس )

آیت ۴۸

( وَ اِذْزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَکُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌلَّکُمْج فَلَمَّا تَرَآءَ تِ الْفِئَتٰنِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّی بَرِیْءٌ مِّنْکُمْ اِنِّیْ اَرٰی مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیٓ اَخَافُ اللّٰهَط وَاللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ )

ترجمہ۔ اور اس زمانے کو یاد کرو جب شیطان نے ان (مشرکین) کے کارناموں کو ان کی نظروں میں مزین کرکے دکھایا، اور کہا: آج کے دن لوگوں میں سے کوئی بھی شخص تم پر غالب آنے والا نہیں۔ اور میں بھی تمہارے لئے پناہ ہوں۔ لیکن جونہی دونوں لشکر آپس میں گتھم گتھا ہوئے (اور سپاہ اسلام کی امداد کے لئے فرشتے آ پہنچے) تو شیطان پیچھے ہٹ کر کہنے لگا: میں تم سے بیزار ہوں میں ایسی چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے، میں خدا سے ڈرتا ہوں اور خدا بہت سخت عذاب دینے والا ہے۔

دو نکات:

اس آیت میں بیان ہونے والی شیطان کی اپنے دوستوں سے گفتگو، ہو سکتا ہے کہ وہی شیطانی وسوسے ہوں جو ان کے دلوں میں پیدا ہوئے یا چونکہ شیطان انسانی قالب میں ڈھل کر اپنے ناپاک مقاصد کو پورا کرتا رہتا ہے لہٰذا اس موقع پر بھی اس نے انسانی شکل میں ان کے دلوں میں وسوسے ڈالے ہوں۔ (اور روایات بھی اس بارے میں موجود ہیں)

روایات کے مطابق جنگ بدر میں شیطان، قبیلہ بنی کنانہ کے ایک شخص "سراقہ بن مالک" کی صورت میں مشرکین کے پاس آیا، اور اپنی شکست کے بعد جب کفار و مشرکین مکہ واپس آئے تو اسے کہنے لگے "تو ہماری شکست کا سبب بنا" جبکہ اس نے قسمیں کھائیں کہ " وہ تو مکہ سے باہر گیا ہی نہیں تھا" بعد میں معلوم ہوا کہ شیطان، سراقہ کی شکل میں ان کے پاس آیا انہیں فتح و نصرت کے وعدے دیئے، پھر بھاگ گیا۔

پیام:

۱ ۔ شیطانی فریب کاری کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ برائیوں کو اچھائی کی صورت میں پیش کرتا ہے۔

۲ ۔ شیطان، انسانی شکل و صورت میں ظاہر ہوتا ہے (روایات کی رو سے)

۳ ۔ شیطان اور شیطان صفت لوگ، دوسرے لوگوں کو فساد برپا کرنے کے لئے مختلف توجیہات کے ذریعے انہیں برائیوں پر اکساتے ہیں۔

۴ ۔ شیطان بے وفا ہے( جارلکم- بریٴ منکم )

۵ ۔ شیاطین فتنے کی آگ تو بھڑکاتے ہیں لیکن خود وارد معرکہ نہیں ہوتے( انی بریٴ )

۶ ۔ خدائی راہوں سے ہٹ کر مراسم اور روابط ہمیشہ ناپائیدار اور ابن الوقتی ہوا کرتے ہیں( انی جار لکم انی بریٴ )

۷ ۔ ایمان، فرشتوں کی حمایت کو اور کفر، شیطان کی حمایت کو اپنی طرف مبذول کراتا ہے۔( جارلکم )

۸ ۔ غیراللہ پر توکل، انسان کو مشکلات میں پھنسا دیتا ہے۔( انی بریٴ، انی جارلکم )

۹ ۔ شیطان، فرشتوں کی قدرت سے آگاہ ہے( انی اریٰ مالاترون )

آیت ۴۹

( اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّهٰٓؤُ لَآءِ دِیْنُهُمْط وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ )

ترجمہ۔ اس وقت کو یاد کرو جب منافق اور دلوں کے بیمار لوگ کہتے تھے: "ان (مسلمانوں) کو ان کے دین نے دھوکہ دیا ہے" حالانکہ جو شخص خدا پر بھروسہ کرتا ہے تو خدابھی یقیناً ناقابل شکست اور صاحب حکمت ہے۔

دو نکات:

نصرت الٰہی پر عقیدہ نہ رکھنے والے منافقین کو تو یہ تصور تک نہیں تھا کہ مسلمان اپنے تھوڑے سے ہتھیاروں سے فتح حاصل کر لیں گے، اسی لئے وہ کہتے تھے "دین نے ان لوگوں کو دھوکہ دیا ہے"

ہو سکتا ہے "منافقین" سے مراد، مدینہ کے کچھ مسلمان نما افراد ہوں اور "فی قلوبھم مرض" سے مراد، مکہ کے ضعیف الایمان افراد ہوں (تفسیر فخر رازی) اور ممکن ہے منافقین سے مراد مدینہ کے وہ لوگ ہوں جو بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتے تھے یا وہ لوگ مراد ہوں جو مکہ میں مسلمان تو ہوئے تھے لیکن پیغمبر کی حمایت اور مسلمانوں کے ساتھ ہجرت سے دست کش ہو گئے تھے۔

پیام:

۱ ۔ منافق لوگ مسلمانوں کو فریب خوردہ سمجھتے ہیں (اور کہتے ہیں کہ آیا ممکن ہے کہ خالی "اللہ اکبر" کے نعرے کے ساتھ ہر قسم کے جدید اسلحہ کا مقابلہ کیا جائے؟ آیا فقط نعرہ تکبیر سے غیراسلامی طاقتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے؟ دین نے انہیں دھوکہ دیا ہے)( غرهوٴ لآء دینهم )

۲ ۔ خدا پر توکل اور ہے اور غرور کی بات اور ہے۔

۳ ۔ اس قدرت اور طاقت پر بھروسہ کیا جانا چاہئے جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا اور اس کی حمایت بھی حکمت پر مبنی ہے۔( عزیز حکیم )

۴ ۔ جن کے حوصلے پست ہوتے ہیں وہ منافقین کے ہم نوا ہو جاتے ہیں( المنافقون والذین في قلوبهم مرض )

۵ ۔ ایک ہی عمل کے متعلق مختلف نظریئے قائم کئے جا سکتے ہیں کوئی اسے "توکل" سمجھتا ہے اور کوئی "غرور" اور کوئی فریب۔

آیت ۵۰ ، ۵۱

( وَلَوْتَرٰٓی اِذْیَتَوَ فَّی الَّذِیْنَ کَفَرُوا الْمَلٰٓئِکَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْج وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّ مَتْ اَیْدِیْکُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیِْدِ )

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر!) اس وقت دیکھو جب فرشتے، کافروں کی جانوں کو لے رہے ہوتے ہیں کہ ان کے چہروں پر اور پشت پر ضربیں لگا رہے ہوتے ہیں (اور کہتے ہیں) جلانے والے عذاب کو چکھو۔ یہ تمہارے اس کئے کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ انجام دے چکے ہیں، ورنہ خدا تو اپنے بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔

ایک نکتہ:

قرآن مجید میں کئی بار کفار کی سخت جانکنی کا تذکرہ آیا ہے جن میں سے سورہ محمد/ ۲۷ ، اور سورہ انعام ۹۳ میں بھی یہی چیز مذکور ہے۔

پیام:

۱ ۔ کافروں پر قہر الٰہی کا آغاز، ان کی جانکنی کے لمحہ ہی سے ہو جاتا ہے۔( یضربون… )

۲ ۔ برزخ میں بھی عذاب ہے،( ذوقوا عذاب الحریق )

۳ ۔ خدا کی سزائیں، عدل کی بنیاد پر ہوتی ہیں( بما قدمت… )

آیت ۵۲

( کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْط کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْط اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ )

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) تمہارے زمانے کے کافرں کی عادت بھی) فرعون والوں اور ان سے پہلے کے کفار جیسی عادت ہے کہ جنہوں نے (عناد اور دشمنی کی بنا پر) آیات خداوندی کا کفر کیا، تو اللہ نے بھی انہیں ان کے گناہوں کی سزا میں اپنی گرفت میں لے لیا، یقیناً اللہ تعالیٰ طاقتور اور سخت عذاب دینے والا ہے۔

پیام:

۱ ۔ بعض اوقات کفر اور ہٹ دھرمی بعض لوگوں کی عادت اور خصلت ہو جاتی ہے۔( کداْب )

۲ ۔ تمام اقوام خدا کے نزدیک یکساں ہیں اگر گمراہی اور کفر کی راہیں اختیار کریں گی تو سزا پائیں گی( والذین من قبلهم )

۳ ۔ اللہ تعالیٰ کا تو قدیم سے یہی طریقہ چلا آ رہا ہے کہ کفار کو ضرور سزا دے (جنگ بدر میں مشرکین کو سزا کوئی نئی بات نہیں تھی)

۴ ۔ گناہ قہر خداوندی کا سبب ہے۔( بذنوبهم )

۵ ۔ خدا قطعاً عاجز نہیں ہے۔ بلکہ تمام اقوام (خواہ فرعون ور فرعونیوں جیسی طاقتور ہوں یا مشرکین جیسی کمزور ہوں) قہر الٰہی کے آگے عاجز ہیں۔( قوی، شدید العقاب )

۶ ۔ جب خدا کا عذاب کسی قوم پر نازل ہوتا ہے تو گناہ اور کفر ان کی عادت اور خصلت بن جاتے ہیں (کداب)

آیت ۵۳

( ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰی قَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ) لا

ترجمہ۔ یہ سزا اس وجہ سے ہے کہ جب خداوند عالم کسی قوم کو کسی نعمت سے نوازتا ہے تو اسے تبدیل نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ خود اپنے آپ کو تبدیل کر دیں، یقیناً خدا سننے اور جاننے والا ہے۔

ایک نکتہ:

احادیث میں ہے کہ بعض عوامل مثلاً ظلم اور گناہ ایسے ہیں جو نعمتوں کے تبدیل ہو جانے کا موجب بنتے ہیں، اسی طرح اقوام و ملل کا گناہوں سے توبہ تائب ہو جانا اور گمراہی کو چھوڑ کر راہ حق کو اپنا لینا اللہ کی نعمتوں کے نزول کا موجب بن جاتا ہے۔ (تفسیر فرقان) گناہ اور ظلم انسان کو خدائی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے سے دور کر دیتے ہیں۔

حدیث شریف میں ہے کہ ظلم سے بڑھ کر اور کوئی چیز خدائی نعمتوں کے تبدیل ہونے کا موجب نہیں ہوتی۔ کیونکہ خداوند عالم مظلوم کی آہ و فریاد کو جلد شرف پذیرائی بخشتا ہے (تفسیر فرقان)

پیام:

۱ ۔ نعمتوں کا زوال خود ہماری اپنی طرف سے ہوتا ہے۔

۲ ۔ معاشرے کی تقدیر خود افراد کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

(بقول علامہ اقبال نئی سطر افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر۔ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔ از مترجم)

۳ ۔ خدا کی طرف سے نعمتوں کی عطا اور گرفت اس کے حکیمانہ قانون کے تحت ہوتی ہے۔

۴ ۔ اسلام میں شخصی سزاؤں کے علاوہ اجتماعی اور معاشرتی سزائیں بھی ہیں اور معاشروں کی تبدیلی کے لئے بھی قوانین موجود ہیں۔

۵ ۔ انسان ہی تاریخ کو بناتا ہے نہ کہ اقتصاد، تاریخی جبر اور ماحول !

۶ ۔ انسان بھی آزاد ہے اور اپنی راہیں تبدیل کرنے میں آزاد ہے اور معاشرہ بھی انقلابی بن کر اپنے اندر تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔

۷ ۔ اقوام و ملل کی سعادت و شقاوت ان کی اندرونی تبدیلیوں کی مرہون ہوتی ہیں۔ قدرت اور ثروت سعادت یا بدبختی پیدا نہیں کر سکتیں۔

۸ ۔ سیاسی، اقتصادی اور فوجی تبصروں میں محور و مرکز افراد کی روحانی کیفیت ہوتی ہے نہ کہ اتفاق اور چانس، خرافات، حکمفرمانظام (سسٹم) اور تاریخی جبر وغیرہ۔

۹ ۔ افراد کے اندر کی تبدیلی معاشرے کے اندر تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ اور معاشرے کی یہی اندرونی تبدیلی نعمتوں میں تبدیلی اور انقلاب کی راہیں ہموار کرتی ہے۔

۱۰ ۔ تم سب خدا کی نگرانی میں ہو اور خدا تمہیں دیکھ رہا ہے( سمیع علیم )

آیت ۵۴

( کَدَاْبِ اٰلِ ِفرْعَوْنَ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ طکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَکْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَج وَکُلٌّ کَانُوْاظٰلِمِیْنَ )

ترجمہ۔ (تمہارے زمانے کے کافر لوگوں کی اندرونی کیفیت) فرعون والوں اور ان سے پہلے کے لوگوں کی جیسی ہے۔ انہوں نے اپنے پروردگار کی نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس ہم نے بھی انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیا اور فرعون والوں کو غرق کر دیا اور یہ سب لوگ ظالم تھے۔

ایک نکتہ:

اس سے دو آیات پہلے بھی "کدأب آل فرعون( ٴٴ ) کا جملہ گزر چکا ہے، چونکہ ہر ایک جملے کی نوعیت علیحدہ تھی لہٰذا اس جگہ پر اسے دوبارہ ذکر کیا گیا ہے۔ اس جگہ پر ظالم کو سزا دینے کی بات ہو رہی تھی اور یہاں لوگوں حالات کی تبدیلی کی بنا پر نعمتوں کی تبدیلی کا ذکر ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلی آیت میں آخرت کا عذاب مراد ہو اور اس آیت میں دنیوی عذاب مقصود ہو۔

پیام:

۱ ۔ گزشتہ لوگوں کے حالات سے درس حاصل کرو۔

۲ ۔ ظلم اور گناہ قہر خداوندی کا موجب ہوتے ہیں خواہ اپنے نفس پر ظلم ہو یا لوگوں پر یا انبیاء اور دین پر( اهلکنا هم بذبوبهم )

۳ ۔ آیات خداوندی کا جھٹلانا، ظلم ہے،( کذبوا…کانوا ظالمین )

آیت ۵۵

( اِنَّ شَرَّالدَّوَآبِّ عِنْدَاللّٰهِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ )

ترجمہ۔ یقینا اللہ کے نزدیک چلنے والوں میں سے بدترین وہ لوگ ہیں جو کافر ہو گئے ہیں، پس وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

چند نکات:

اسی سورت کی ۲۲ ویں آیت میں "شرالدوآب" (چلنے والوں میں سے بدترین) ان لوگوں کو قرار دیا گیا ہے جو سوچ و بچار اور عقل و فکر سے کام نہیں لیتے۔ اور اس آیت میں ان لوگوں کو قرار دیا گیا ہے جو ایمان نہیں لاتے اور کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر کا سرچشمہ، صحیح معنوں میں عقل سے کام نہ لینا ہے۔

قرآن مجید انسان کی تصویرکشی عقل اور ایمان میں کرتا ہے یعنی اگر کوئی شخص عقل سے کام نہیں لیتا یا کفر کا ارتکاب کرتا ہے وہ مدار انسانیت سے خارج ہے۔ پس حقیقی انسان عاقل اور مومن ہی ہے۔

ممکن ہے کہ کافر، لوگوں کے نزدیک کسی عزت و احترام کا حامل ہو لیکن خدا کے نزدیک وہ بدترین جانور ہے۔

تفسیروں میں اس آیت کا مصداق یہودیوں کو بتایا گیا ہے: لیکن اس کے مفہوم کے کلی ہونے سے بھی کوئی چیز مانع نہیں ہے۔

پیام:

۱ ۔ عقل سے کام نہ لینا، کفر کی جڑ ہے۔ (اسی آیت اور اسی سورت کی ۲۲ ویں آیت کے پیش نظر)

۲ ۔ جو لوگ انبیاء کی آواز کو سنتے ہیں لیکن اس کی طرف توجہ نہیں دیتے وہ روئے زمین پر چلنے والوں میں سے بدترین مخلوق ہیں۔

۳ ۔ بعض اوقات، بعض لوگوں کے لئے کفر ملکہ بن جاتا ہے اور ان کے مستقبل کو تاریک کر دیتا ہے (کفرو۔لایومنون )

آیت ۵۶

( اَلَّذِیْنَ عَاهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ هُمْ فِیْ کُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ )

ترجمہ۔ یہ وہی لوگ تو ہیں کہ جن سے تم نے عہد و پیمان لیا ہے لیکن پھر وہ ہر مرتبہ اسے توڑ دیتے ہیں اور (اپنے عہد و پیمان کے حفظ کرنے میں) تقویٰ سے کام نہیں لیتے۔

ایک نکتہ:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ یہودیوں کا یہ معاہدہ تھا کہ وہ مشرکین کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کریں گے اور مسلمانوں کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائیں گے۔ لیکن بدعہد یہودیوں نے اپنے اس معاہدے پر عمل درآمد نہ کرکے اپنی روایتی عہدشکنی کا ثبوت دیا اور جنگ خندق میں مشرکین کی کمک کرتے ہوئے انہیں اسلحہ بھی فروخت کیا۔

پیام:

۱ ۔ عہد شکنی، انسانیت سے سازگار نہیں ہے۔( شر الدوآب…ینقضون عهدهم )

۲ ۔ عہدشکنی کافروں کا وطیرہ ہے۔ "کفروا" گزشتہ آیت میں( ینقضون ) اسی آیت میں۔

۳ ۔ وفاشعاری اور جوانمردی تقویٰ کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔( ینقضون، لایتقون )

۴ ۔ عہدشکنی کرنے والا، جھوٹا بھی ہے اور خیانت کار بددیانت بھی۔ ۳۰

۵ ۔ زیادہ خطرہ ان لوگوں سے ہوتا ہے، پیمان شکنی اور بدعہدی جن کا شیوہ اور خصلت بن چکی ہوتی ہے اور انہیں اس بات کی کوئی پروا تک بھی نہیں ہوتی۔( ینقضون- فی کل مرة، لایتقون )

آیت ۵۷

( فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّکَّرُوْنَ )

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) جب تم ان کے ساتھ جنگ کرو تو (دشمن کو سزا دے کر) ان کے بعد والوں کو وحشت میں ڈال کر انہیں منتشر کر دو شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں (اور سازشوں سے باز آ جائیں)۔

دو نکات:

"( تثقفنهم ) " کا جملہ "ثقف" سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں خوب غور و خوض اور بڑی تیزی کے ساتھ کسی چیز کا درک کرنا، یعنی کفار کے ساتھ جنگ کے موقع پر مکمل ہوشیاری کے ساتھ ان کا سامنا کرو تاکہ غفلت کا شکار نہ ہو جاؤ۔

"تشرید" کے معنی ہیں بدامنی اور بے چینی پیدا کرکے منتشر کر دینا، یعنی دشمن پر اس طرح حملہ کرو اور ایسے جنگی منصوبے کے ساتھ ان سے لڑو کہ ان کے پس پردہ حامی اور مددگار نیز محاذ کے پیچھے چھپے ہوئے ان کے ساتھی اس حد تک گھبرا جائیں اور وحشتناک ہو جائیں کہ تم پر حملے کا سوچ بھی نہ سکیں۔

پیام

۱ ۔ جو عہدشکن، قوم اور معاشرے کے امن و امان کو درہم برہم کرتے ہیں ان کی سزا یہ ہے کہ وہ خود وحشت ناک اور غیرمطمئن ہو جائیں۔

۲ ۔ عہد شکنوں پر تمہارا حملہ اچانک، بڑی تیزی کے ساتھ، پورے حساب و کتاب کے تحت اور تباہ کن ہونا چاہئے( تثقفنهم- شردبهم )

۳ ۔ دشمن کو غافل کرکے مار دینا، ان میں انتشار پیدا کرنا، ان کے لشکر میں خوف اور وحشت ایجاد کرنا فوجی اصولوں میں شامل ہے۔

۴ ۔ عہدشکنوں سے بڑی سختی کے ساتھ پیش آؤ۔( شردبهم )

۵ ۔ اگرچہ اسلام رحمت و مہربانی کا دین ہے لیکن خیانت، عہدشکنی، گڑبڑ پھیلانے اور امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے کو برداشت نہیں کرتا۔

۶ ۔ مسلمانوں میں ہیبت اور شان و شوکت ہونی چاہئے۔( فشرد بهم من خلفهم )

۷ ۔ کفار کے حوصلے اس قدر پست کر دو کہ دوبارہ کبھی تم پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں،( فشردبهم )

۸ ۔ اسلام جہاں تبلیغ اور موعظے کا دین ہے وہاں قدرت و طاقت اور پیش قدمی اور حملے سے بھی بے خبر نہیں ہے۔( فشردبهم )

آیت ۵۸ ، ۵۹

( وَاِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَاَ م نْبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰی سَوَآئٍط اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ ع وَلَا َیحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَبَقُوْاط اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ )

ترجمہ۔ اور اگر (کچھ علامتوں کی وجہ سے) ان لوگوں سے اس بات کا خوف محسوس کرو کہ وہ عہد و پیمان میں خیانت کریں گے تو تم پیمان کو یکدم ختم کرکے انہیں بتا دو کہ ان کے ساتھ انہی کے جیسا عمل کیا جائے گا، یقیناً خدا خیانت کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

اور کفار یہ خیال نہ کریں کہ وہ (مسلمانوں سے) سبقت لے گئے ہیں، یقینا وہ (تمہیں) عاجز نہیں کر سکیں گے۔

چند نکات:

"فانبذ" کا لفظ "نبذ" سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں پھینکنا، اور یہاں پر دشمن کی طرف پیمان کے پھینکنے سے مراد یہ ہے کہ اسے ختم کر دینے کا اعلان کر دیا جائے تاکہ دشمن بھی غفلت میں نہ رہے اور تمہیں بھی یہ نہ کہا جائے کہ "انہوں نے جوانمردی کا ثبوت نہیں دیا"

"علی سواء" کے معنی یا تو "مقابلہ بہ مثل" کے ہیں یعنی جس طرح وہ دشمن سازشوں اور معاہدہ کے توڑنے کی فکر میں ہیں تم بھی انہی کی طرح معاہدہ کو ختم کر دو، یا پھر معاہدے کے خاتمے کا واضح اعلان مراد ہے۔ (تفسیر نمونہ) یا دشمن کے ساتھ عادلانہ سلوک مراد ہے (تفسیرالمیزان)

یہ آیت اس موقع کے لئے ہے جہاں دشمن کی طرف سے اس بات کے قرائن پائے جائیں کہ وہ حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، تو ایسے موقع پر معاہدہ کو ختم کرنے کے لئے پہل کی جا سکتی ہے۔

پیام:

۱ ۔ معاہدے کی پابندی اس وقت تک ہے جب تک کسی قسم کی سازش کا خطرہ نہ ہو، ورنہ اسے ختم کر دینے کا اعلان کر دیا جائے۔

۲ ۔ اگر تمہیں دشمن کی طرف سے خطرہ بھی درپیش ہو پھر بھی بددیانتی کا مظاہرہ نہ کرو، معاہدے کے خاتمے کا کھلم کھلا اعلان کر دو۔( فانبذالیهم )

۳ ۔ دشمن کے ساتھ بھی عدل و انصاف کا سلوک کرو۔( علی سواء ) بنا بر تفسیرالمیزان "( علی سوآء ) " کے معنی ہیں "بالعدل"

۴ ۔ معاہدے کا ختم کر دینا، "مقابلہ بہ مثل" کے طور پر ایک عادلانہ طریقہ کار ہے۔( علی سوآء )

۵ ۔ خیانت خواہ کسی طرف سے ہو حرام اور قابل مذمت ہے، خواہ کفار کی طرف سے ہو یا مسلمین کی طرف سے( لایحب الخائنین )

۶ ۔ غیراعلانیہ جنگ خیانت ہے۔ (از تفسیر المیزان)

۷ ۔ اسلام، انسانی حقوق، اقرارناموں اور معاہدوں کا پابند ہے۔

۸ ۔ خدائی طریقہ کار سے سبقت حاصل نہیں کی جا سکتی( سبقوا )

۹ ۔ کفار، خیانت کرکے کسی مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔( لایعجزون )

۱۰ ۔ ایسا زیرکانہ طریقہ کار اپناؤ کہ کفار یہ نہ سمجھیں کہ تم سے آگے بڑھ گئے ہیں۔

آیت ۶۰

( وَاَعِدُّوْا لُهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِه عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّ کُمْ وَاٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْج اللّٰهُ یَعْلَمَهُمْطوَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ )

ترجمہ۔ اور ان (دشمنوں کے ساتھ مقابلے) کے لئے جتنا کر سکتے ہو طاقت اور گھوڑے تیار رکھو، تاکہ خدا کے دشمن کو اور اپنے دشمن کو اور ان کے علاوہ ان دشمنوں کو ڈراؤ جنہیں تم نہیں جانتے لیکن خدا جانتا ہے۔ اور خدا کی راہ میں جس قدر بھی خرچ کرو گے اس کاپورا پورا بدلہ تمہیں ملے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

ایک نکتہ:

یہ آیت مسلمانوں کو دشمن کے مقابلے میں ہر طرح سے خبردار کر رہی ہے اور ساتھ ہی انہیں ہر دور میں ہر قسم کے اسلحہ، وسائل، امکانات، تبلیغی طریقہ کار حتی کہ نعرے اور ترانے وغیرہ تیار رکھنے کے متعلق آمادہ رہنے کا حکم دے رہی ہے۔ کہ "اے مسلمانو! تم ہر وقت اس حد تک تیار رہو کہ کفار تمہاری جنگی صلاحیتوں سے گھبرا جائیں اور تم پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں"

حضرت رسالت مآب صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب معلوم ہوا کہ یمن میں جدید اسلحہ تیار کیا جا رہا ہے تو آپ نے کسی شخص کو بھیجا کہ وہاں سے وہ خرید کر لے آئے۔ اور آپ ہی سے روایت ہے کہ فرمایا: "ایک تیر کے ذریعہ تین آدمی بہشت میں جائیں گے، بنانے والا، تیار کرنے والا اور چلانے والا" (تفسیر فرقان، منقول از تفسیر در منثور) اسلام میں تیراندازی اور گھڑسواری کے مقابلوں کی تاکید کی گئی ہے اور ان مقابلوں میں لگائی جانے والی بازی کو جائز قرار دیا گیا ہے تاکہ مسلمانوں میں جنگی آمادگی ہمیشہ برقرار رہے۔

"( لهم ) " کی ضمیر کفار اور ان لوگوں کی طرف لوٹ رہی ہے جو سابقہ آیت میں مذکور ہوئے ہیں کہ جن سے خیانت کا خطرہ ہوتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ مسلمانوں کو جنگ کے لئے ہمیشہ مکمل طور پر آمادہ رہنا چاہئے، افرادی قوت کے لحاظ سے، اسلحہ کے لحاظ سے اور وسائل حمل و نقل کے لحاظ سے غرض کسی بھی لحاظ سے کوئی کمی نہیں ہونی چاہئے اور اس انتظار میں نہ رہیں کہ دشمن حملہ کرے گا تو پھر تیاری کریں گے۔( اعدوا )

۲ ۔ ہر مقام پر منطق اور مذاکرات بھی کارساز اور کافی نہیں ہوا کرتے کبھی قدرت اور طاقت کا مظاہرہ بھی ضروری ہو جاتا ہے( قوة )

۳ ۔ ہر دور میں جدیدترین اور ترقی یافتہ ترین اسلحہ کو اور دیگر وسائل جنگ کو اپنے دفاع کے لئے آمادہ رکھو اور کسی بھی چیز سے فروگزار نہ کرو۔ اور سیاسی اور عسکری قوت سے کبھی غفلت نہ برتو، خواہ تبلیغی وسائل ضروری ہوں تو بھی اور عسکری ذرائع کی ضرورت ہو تو بھی، غافل ہرگز نہ ہونا( من قوة ) ۔

۴ ۔ اسلام میں سب مسلمان سپاہی ہیں اور عمومی لام بندی ضروری ہے۔( اعدوا، ترهبون، تنفقوا… )

۵ ۔ اگر صورت تبدیل کر لینے سے دشمن کے دل میں وحشت پیدا ہوتی ہے تو بھی ایسا کرو۔ اور رعب ڈالنے کا یہ انداز ایک فریضہ بن جاتا ہے( من قوة ) ۳۱

۶ ۔ جنگی گھوڑے وہ ہوتے ہیں جو اصطبل میں ہر وقت جنگ کے لئے تیار رکھے جاتے ہیں اور انہیں اصطبل ہی میں دانہ پانی دیا جاتا ہے نا کہ وہ جو کھلے ہوئے ہوتے ہیں۔

۷ ۔ افرادی قوت کی آمادگی بھی لازم ہے اور جنگی وسائل کی بھی،( من قوة- من رباط الخیل )

۸ ۔ موجودہ فوجی وسائل پر ہی اکتفا نہ کرو، ان وسائل میں اضافہ بھی کرو( من قوة )

۹ ۔ وحدت اور قومی اتحاد بھی ایک طرح کی قوت ہے، جو فراہم رکھنا چاہئے، کیونکہ قومی انتشار کی صورت میں دشمن کو نہیں ڈرایا جا سکتا۔( من قوة )

۱۰ ۔ جنگی آمادگی کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت ہوتا ہے نہ کہ لوٹ مار، غارت گری اور استعمار و استثمار (یا باالفاظ دیگر مارشل لاء)

۱۱ ۔ اقدا راسلامی کی بھی حفاظت ہونی چاہئے اور حقوق انسانی کی بھی( عدوالله وعدو کم )

۱۲ ۔ اسلام میں دین و مذہب ہی کو پیش نظر رکھا جاتا ہے ذاتی، نسلی اور قومی اغراض کو نہیں( عدوالله وعدوکم )

۱۳ ۔ سارے دشمن بھی پہچانے ہوئے نہیں ہوتے( لاتعلمونهم ) ۳۲

۱۴ ۔ آمادہ رہنے کے بارے میں صرف جانے پہچانے دشمن کو مدنظر نہ رکھو، بلکہ ہر موقع محل پر ان جانے دشمن کو بھی ضرور مدنظر رکھا کرو۔( لاتعلمونهم )

۱۵ ۔ صرف اسلحہ اور افرادی قوت ہی کافی نہیں مالی تعاون بھی ضروری ہوتا ہے( وما تنفقوا )

۱۶ ۔ مالی امداد، امت مسلمہ کی تقویت کا موجب ہوتی ہے جس کا فائدہ خود لوگوں ہی کو پہنچتا ہے اور اسلامی معاشرے کی اقتصادی حالت سدھر جاتی ہے جو مسلمانوں کی عزت و عظمت کا موجب ہوتی ہے( یوف الیکم )

۱۷ ۔ اسلام ایک نظام اور منظم حکومت کا دین ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر دشمن کو کوئی خوف و ہراس نہیں ہوتا( ترهبون )

۱۸ ۔ دشمن کے مقابلے میں آمادہ رہنے کے لئے تمام دفاعی بنیادوں کو خواہ وہ علمی ہوں یا ثقافتی، اقتصادی ہوں یا عقیدتی اور سیاسی اس قدر مضبوط ہونا چاہئیں کہ دشمن ہر لحاظ سے مسلمانوں سے خوف کھائے، اور ہر محاذ پر اس کے ناپاک منصوبے ناکام ہو جائیں( ترهبون به ) بطور مطلق بیان ہوا ہے۔

۱۹ ۔ محاذ جنگ کی امداد صرف مالی لحا ظ ہی سے نہیں کی جاتی بلکہ ہر طرح سے کی جاتی ہے خواہ مالی ہو یا جانی، عزت کی ہو یا آبرو کی، اثر و رسوخ کی ہو یا قلم کی غرض ہر طرح سے محاذ کی امداد ضروری ہے( من شیٴ )

۲۰ ۔ کمک کی بہم رسانی کے لئے مالی امداد کی ضرورت ہوتی ہے خالی تقریروں اور نعروں سے کچھ نہیں بنتا۔

۲۱ ۔ تمہارے خرچ کرنے اور خیر و برکت کے آثار کا تمہیں اس وقت فائدہ ہو گا جب یہ انفاق خدا کی راہ میں اور خدا کی خوشنودی کے لئے ہو گا، اگر مقصود ریاکاری شہرت، خودنمائی اور شرما شرمی ہوں گے تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔( فی سبیل الله )

۲۲ ۔ جنگ کا بجٹ اور محاذ جنگ کا سنبھالنا لوگوں کے ذمہ ہے اور پھر یہ کہ یہ جنگ کے دنوں کے ساتھ بھی مخصوص نہیں( وما تنفقوا ) کا حکم ہے جو مطلق طور پر ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر وقت آمادہ رہنے کے لئے رقم خرچ کریں۔


آیت ۶۱

( وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَکَّلْ عَلَی اللّٰهِ ط اِنَّه هُوَالسَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ )

ترجمہ۔ اور اگر دشمن صلح کے لئے مائل ہوجائیں تو تم بھی مائل ہو جاؤ اور خدا پر توکل کرو کیونکہ وہ یقیناً سننے اور جاننے والا ہے۔

پیام:

۱ ۔ اسلام، جنگ کا خواہاں نہیں ہے۔

۲ ۔ مسلمانوں کو اس قدر طاقتور ہونا چاہئے کہ صلح کی پیشکش دشمن کی طرف سے( جنجوا )

۳ ۔ جنگ کا حکم ہو یا صلح کی پیشکش کی منظوری اس کا اختیار پیغمبر خدا کے ہاتھ میں ہے اور یہ رہبر کے اختیارات میں شامل ہے۔( فاجنح ) کا لفظ ہے "فاجنحوا" نہیں ہے۔

۴ ۔ جب قدرت مند بن جاؤ تو اپنی اس قدرتمندی سے ناجائز مفاد نہ اٹھاؤ بلکہ میلان دکھاؤ( فاجنح )

۵ ۔ صلح کی پیشکش منظور کرتے ہوئے خدا پر بھروسہ کرو( فاجنح لها و توکل )

۶ ۔ صلح کی پیشکش کے وقت دشمن کی سازش کا بھی اندیشہ ہوتا ہے اور بعض "یار دوستوں" کی زبان کے زخم کا خطرہ بھی ہوتا ہے، لیکن ہر حالت میں خدا پر بھروسہ کیا جائے( توکل علی الله ) ۳۳

آیت ۶۲

( وَ اِنْ یُّرِیْدُوْآ اَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰهُط هُوَالَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِه وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ) لا

ترجمہ۔ اور اگر دشمن آپ کو دھوکہ دینا چاہیں گے بھی تو یقیناً خدا آپ کے لئے کافی ہے، خدا وہی تو ہے، جس نے اپنی اور مومنین کی نصرت کے ساتھ آپ کی تائید کی ہے۔

دو نکات:

اگر رہبر مسلمین کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ دشمن صلح کے پردے میں دھوکہ دینا چاہتا ہے تو یہ اور بات ہے، ورنہ اگر احتمال ہو کہ دھوکہ ہے یا نیک نیتی تو ایسی صورت میں مکمل ہوشیاری کے ساتھ صلح کی پیشکش کو قبول کر لینا چاہئے۔

بعض روایات میں "مومنین کے ذریعے پیغمبر اکرم کی تائید و حمایت" سے مراد حضرت علی علیہ اسلام کی تائید اور حمایت ہے، چنانچہ ابن عساکر اپنی کتاب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عرش الٰہی پر لکھا ہوا ہے:

"لا اله الا انا لاشریک لی محمد عبدی و رسولی: ایدته بعلی " میرے سوا کوئی معبود نہیں، میرا کوئی شریک نہیں، حضرت محمد میرے بندے اور رسول ہیں اور میں نے علی کے ذریعہ ان کی تائید و نصرت کی ہے،

یہ وہی ہے جو اللہ نے قرآن کی اسی آیت میں فرمایا ہے (ھوالذی ایدک بنصرہ و بالمومنین)۔

(ملاحظہ ہو تفسیر فرقان منقول از در منثور جلد ۳ ص ۱۹۹ ، و ملحقات احقاق الحق جلد ۳ ص، ۱۹۴)

پیام:

۱ ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ صلح کی پیشکش کو نہ ٹھکرائیں تاکہ دشمن کو ان کے خلاف اس پروپیگنڈے کا موقع نہ مل سکے کہ "مسلمان جنگ طلب ہوتے ہیں"، البتہ ہوشیاری ضروری ہے تاکہ دھوکہ نہ کھا جائیں۔

۲ ۔ اگر ہم اپنے فریضہ پر عمل پیرا رہیں تو مشکلات سے نہیں گھبرانا چاہئے، کیونکہ مشکل کشا خدا کی ذات ہے۔( ایدک )

۳ ۔ خدائی امداد بھی، عوامی حمایت کے ساتھ ساتھ ہے( بنصره و بالموٴمنین )

۴ ۔ لوگ، رہبر کے دست و بازو اور حامی و مددگار ہوتے ہیں( و بالموٴمنین )

۵ ۔ اگر خدا سے غفلت برتے بغیر اس کے بندوں سے مدد مانگی جائے تو شرک نہیں ہے۔

۶ ۔ اگر عوام بیدار ہوں اور لطف الٰہی شامل حال ہو تو دشمن کی تمام چالیں ناکام ہو جاتی ہیں۔

۷ ۔ عوامی حمایت بھی اللہ کے ارادے اور منشا کے تحت حاصل ہوتی ہے۔( حسبک الله )

آیت ۶۳

( وَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْط لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفَتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَلٰکِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْطاِنَّه عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ )

ترجمہ۔ اور اللہ نے ان (مومنین) کے دلوں میں الفت پیدا کر دی ہے، اگر آپ وہ سب کچھ خرچ کرتے جو کہ زمین میں ہے پھر بھی ان کے دلوں میں الفت اور محبت پیدا نہ کر سکتے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان الفت پیدا کی ہے اور وہ یقینی طور پر غالب اور حکمت والا ہے۔

پیام:

۱ ۔ دل اور دلوں کے درمیان الفت خدا کے ہاتھ میں ہے (الف)

۲ ۔ مال و دولت اور جاہ و مقام ہر جگہ پر کارآمد نہیں ہوا کرتے۔( لوانفقت…ما الفت )

۳ ۔ لوگوں کے دیرینہ اختلافات کا حل کرنا، پیغمبر اسلام کی نبوت کا ایک معجزہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ اور ان کے درمیان الفت برقرار ہو گئی۔

۴ ۔ وحدت اور الفت اللہ کی نعمتیں ہیں جنہیں قرآن میں ذکر کیا گیا ہے اور ان کو لوگوں اور پیغمبر کے لئے احسان کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ ۳۴

۵ ۔ ظاہری اتحاد سے زیادہ اہم، قلبی اور باطنی پیوند ہے ورنہ ظاہر میں تو کافر بھی متحد ہیں لیکن ان کے دل منتشر ہیں۔ ۳۵

۶ ۔ وحدت اور اتحاد قائم کرنے کی واحد راہ، خدا پر ایمان اور "حبل اللہ" (خدائی رسی) کو مضبوطی سے تھامنا ہے اور وہ بھی خدا کی طرف سے ہے۔

۷ ۔ لوگ اپنے رہبر کے لئے اس وقت زور بازو ثابت ہو سکتے ہیں جب وہ باہم متحد ہوں، ورنہ رہبر کی کمر کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ (گزشتہ اور موجودہ آیت کے پیش نظر)

سوال: اس آیت میں تو یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر تمام روئے زمین کا سرمایہ بھی خرچ کر ڈالو تب بھی ان لوگوں کے دلوں میں الفت اور محبت ایجاد نہیں کر سکو گے، تو پھر زکوٰة کی مدد سے تالیف قلب کے لئے کیوں خرچ کرنے کا حکم ہے کہ "والمولفة قلوبھم"؟

جواب: لوگوں کے دلوں میں موجود کینہ اور اس کی تاریخ مختلف ہیں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی مسکراہٹ اور مختصر سے تحفے کے ساتھ تمام رنجشیں دور ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ اس قدر گہرا اور پرانا ہوتا ہے کہ کسی بھی طرح سے اسے دور نہیں کیا جا سکتا۔

آیت ۶۴

( یٰٓاَ یُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ )

ترجمہ۔ اے پیغمبر! آپ کے لئے اللہ اور مومنین میں سے وہ لوگ کافی ہیں جو آپ کی پیروی کر چکے ہیں۔

دو نکات:

بنی قریظہ اوربنی نضیر میں سے کچھ یہودیوں نے پیغمبر اسلام کو اپنی مدد کی جھوٹی یقین دہانی کرائی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ان کی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے، مومنین ہی آپ کے لئے کافی ہیں۔ اور اسی آیت کے ضمن میں اگلی آیت میں بیان ہونے والا جہاد کا حکم بھی مقدمہ کے طور پر ذکر ہو گیا ہے۔

کتاب "فضائل الصحابہ" میں حافظ ابو نعیم روایت کرتے ہیں کہ اس آیت میں مذکور "مومنین" سے مراد ذات علی بن ابی طالب علیہ اسلام ہے۔ ۳۶

پیام:

۱ ۔ اسلامی نظام کا دارومدار خدا، رسول اور مومنین پر ہے۔ اسلامی معاشرے میں رہبر کا تعین خدا کی طرف سے ہوتا ہے، جس کا قانون وحی کے ذریعہ مرتب ہوتا ہے اور لوگ اس قانون اور رہبر کے فرمانبردار ہوتے ہیں۔

۲ ۔ اگر غیراللہ سے استمداد اور حمایت سے دلی سکون خداوند عالم کی منشا اور اس کی مرضی کے ساتھ ہو تو یہ توحید کے منافی نہیں ہے۔ شرک تو وہاں ہوتا ہے جہاں خدا کی قدرت اور مرضی کے خلاف غیراللہ پر ہی سارا تکیہ کیا جائے۔ لیکن جب تک قلوب، افکار، نظریات اور حمایتیں خدائی ارادہ کے تحت اور ا س کے نور کی روشنی میں باقی رہیں گے توحید کے مدار سے باہر نہیں نکل پائیں گے۔

۳ ۔ ایمان کے ساتھ ہی اطاعت سودمند ہوتی ہے نہ کہ ایمان کے بغیر اطاعت یا اطاعت کے بغیر ایمان،( من اتبعک من الموٴمنین )

۴ ۔ کچھ لوگ پیغمبر کے اطاعت گزار نہیں تھے۔( من الموٴمنین )

آیت ۶۵

( یٰٓاَ یُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی الْقِتَالِط اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ عِشْرُوْنَ صَابِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِج وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْآ اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ )

ترجمہ۔ اے پیغمبر! مومنین کو جنگ کے لئے آمادہ کرو، اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں اور اگر تم میں سے سو (صابر) لوگ ہوں تو وہ کفار کے ہزار افراد پر کامیابی حاصل کر لیں، کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے نہیں ہیں۔

دو نکات:

یہ آیت تعداد کے لحاظ سے افرادی طاقت کی نفی کر رہی ہے اور ایمان، صبر اور حوصلے ہی کو معیار قرار دے رہی ہے، آیت اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے کہ بیس آدمی دو سو پر فتح پا سکتے ہیں، اس بات کو ایک بار پھر دہراتی ہے کہ سو آدمی ہزار انسانوں پر غالب آ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ مومن اور صابر ہوں۔

زمانہ صدر اسلام کی جنگوں میں کبھی بھی اعداد و شمار کے ذریعے موازنہ نہیں کیا جاتا تھا، اور نہ کہیں پر عددی قوت کو معیار قرار دیا جاتا تھا، جنگ بدر میں ۳۱۳ مجاہد ہزار کفار کے مقابلے میں تھے، احد میں تین ہزار کفار کے مقابلے میں صرف سات سو جنگجو تھے، جنگ خندق میں تین ہزار مسلمانوں کا دس ہزار کفار سے مقابلہ تھا جبکہ جنگ موتہ میں دس ہزار مسلمان ایک لاکھ کے ساتھ نبردآزما تھے۔

پیام:

۱ ۔ رہبر کے وظائف اور فرائض میں شامل ہے کہ لوگوں کو جہاد کے لئے آمادہ کرے۔ لشکر کے فرمانروا کا فرض بنتا ہے کہ جنگی کارروائی سے پہلے اپنی دلنشین باتوں سے لشکر کا دل گرما دے (حرض)

۲ ۔ دشوار اور مشکل کام تشویق و ترغیب اور تلقین کے ذریعہ آسان ہو جاتے ہیں اور اسی میں کامیابی کا راز ہے۔

۳ ۔ جنگ اور جہاد میں تبلیغات کا ہونا بہت ضروری ہے۔

۴ ۔ محاذ جنگ میں اصل اہمیت ایمان اور صبر کو حاصل ہے عددی قلت اور کثرت کی کوئی اہمیت نہیں۔

۵ ۔ ابتدائے اسلام میں دشمن کے دسویں حصے کے برابر مجاہدین کی موجودگی سے حکم جہاد صادر ہو جاتا تھا۔

۶ ۔ مجاہد کے لئے ان تین صفات کا حامل ہونا ضروری ہے ایمان، صبر اور معرفت و آگاہی (مومنین، صابرین) اور کفار کے بارے میں ہے "( لایفقهون )

۷ ۔ اسلامی لشکر کو کم از کم بیس افراد پر مشتمل ہونا چاہئے اس سے کم پر نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں تو ایک سو سے کم افراد پر مشتمل نہیں ہونا چاہئے۔ (از تفسیر فرقان)

۸ ۔ آگاہی اور معرفت کامیابی کے عوامل میں سے ہے چنانچہ اگر گہری شناخت، آگاہی پر مبنی عقائد اور مقصد و ہدف کی معرفت نہ ہو تو شکست یقینی ہو جاتی ہے( لایفقهون )

آیت ۶۶

( اَلْئٰنَ خَفَفَّ اللّٰهُ عَنْکُمْ وَعَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضَعْفًاط فَاِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِج وَ اِنْ یَّکُنْ مِّنْکمُ ْاَلْفٌ یَّغْلِبُوْآ اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِط وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ )

ترجمہ۔ اب اللہ تعالیٰ نے تمہارے بوجھ کو ہلکا کر دیا اور جان لیا کہ تمہارے اندر کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے سو صابر آدمی ہوں تو وہ (کفار کے) دو سو لوگوں پر غالب آ جائیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار آدمی ہوں تو (ان کے) دو ہزار افراد پر خدا کے حکم سے کامیاب ہو جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

دو نکات:

آیت میں مذکور "ضعف" (کمزوری) سے مراد عقیدتی اور روحانی کمزوری ہے کیونکہ سپاہ اسلام میں جسمانی اور عددی کے اعتبار سے کمی نہیں ہوئی تھی۔

اس آیت میں اور اس سے پہلی آیت میں تین ایسے روحانی مسائل کی طرف اشارہ ہوا ہے جو کامیابی کے اصل عوامل ہیں۔ اور جن کے بغیر شکست یقینی ہے اور وہ ہیں صبر، ایمان اور معرفت۔

پیام:

۱ ۔ امور کو چلانے کے لئے بعض خصوصی احوال کی بنا پر آئین اور قوانین میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے اور اس سے استقلال مزاجی متاثر نہیں ہوتا۔( الان خفف )

۲ ۔ فرائض کی ادائیگی کا حکم بھی استطاعت کے مطابق ہوتا ہے اور قانون سازی کے موقع پر کمزور لوگوں کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔( فیکم ضعفا )

۳ ۔ شکست کا اصل موجب اندر سے ہی ظاہر ہوتا ہے باہر سے نہیں( فیکم ضعفا )

۴ ۔ بعض اوقات ارادے کی کمزوری، جنگی توانائیوں کو دس گناہ سے دوگناہ کی حد تک یعنی اسی فیصد تنزلی پر لے آتی ہے۔

۵ ۔ ایک گروہ کی کمزوری دوسرے لوگوں کے حوصلے بھی پست کر دیتی ہے۔( فیکم ضعفا )

۶ ۔ فتح و کامرانی میں اصل شے خدا کا ارادہ اور حکم ہے (ورنہ جنگ حنین میں اس قدر زیادہ افرادی قوت کے باوجود مسلمان شکست کھا کر بھاگ نہ جاتے۔ "( اعجبتکم کثرتکم…ثم ولیتم مدبرین ) "

۷ ۔ صابر، خدا کا محبوب اور اسی کی پناہ میں ہوتا ہے۔( والله مع الصابرین )

۸ ۔ سالار لشکر کو سپاہ اسلام کے حوصلوں، ارادوں اور قوت ایمانی پر توجہ رکھنی چاہئے( علم ان فیکم ضعفا )

۹ ۔ "واللہ مع الصابرین" (اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) کا نعرہ اسلام کے جنگی محاذوں پر لگنا چاہئے۔

۱۰ ۔ اپنی فتح و کامرانی پر اتراؤ نہیں کیونکہ یہ اس ذات کی عطا کردہ ہے۔( باذن الله )

آیت ۶۷

( مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَهٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِط تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَط وَاللّٰهُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ )

ترجمہ۔ کسی پیغمبر کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو اسیر بنائے مگر اس کے بعد جب (فوجی علاقہ اور) زمین پر پوری طرح قابو پا لے۔ تم تو جلد گزر جانے والی دنیا کو چاہتے ہو لیکن اللہ (تمہارے لئے) آخرت کو چاہتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ناقابل شکست اور صاحب حکمت ہے۔

دو نکات:

"ثخن" کے معنی ہیں ضخامت، سنگینی اور ٹھوس ہونا اور یہ کنایہ ہے کامیابی، واضح غلبہ اور اقتدار سے۔

آیت خبردار کر رہی ہے کہ قیدی بنانا، پھر فدیہ لے کر اسے آزاد کر دینا اور جنگی غنیمتوں کا سمیٹنا مسلمانوں کو اپنے اصل مقصد سے نہ ہٹا دے کہ جس سے وہ اچانک کوئی نقصان اٹھائیں۔

پیام:

۱ ۔ دنیا ناپائیدار اور جلد گزر جانے والی ہے۔( عرض )

۲ ۔ فوجی کارروائیوں میں مرحلہ وار حکمت عملی کا اجرا کیا جاتا ہے اور حالات پر مکمل قابو پانے سے پہلے جنگی قیدی بنانے کی پالیسی صحیح نہیں ہے۔( ما کان…حتی یثخن )

۳ ۔ اسلامی جنگوں کا اصل مقصد، رضائے الٰہی کا حصول، حق کی تقویت اور مستضعفین کی نجات ہے، غنیمتیں سمیٹنا، قیدی بنانا اور فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دینا اصل مقصد نہیں ہے۔

۴ ۔ جنگ کے بحرانی ترین لمحات میں مومنین کو بھی دنیا کی طرف رغبت و رحجان سے پرہیز کرنا چاہئے۔

۵ ۔ مقصد میں مرکزیت اور انتشار و افتراق سے دوری ایک ضرورت ہے (جب تک میدان جنگ میں اپنی پوزیشنیں مضبوط نہ کر لو، ہرگز قیدی نہ بناؤ)

آیت ۶۸ ۔ ۶۹

( لَوْ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلاً طَیِّباً وَّاتَّقُوا اللّٰهَط اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ )

ترجمہ۔ اگر خداوند عالم کا پہلے سے قانون نہ ہوتا (کہ اطلاع دیئے بغیر کسی امت کو ہلاک نہیں کرتا) تو تم نے جو بے جا اسیر پکڑے تھے اس کی وجہ سے تمہیں بہت بڑا عذاب آ لیتا۔

پس جو غنیمت تم نے حاصل کی ہے اس سے کھاؤ کہ یہ حلال اور پاکیزہ ہے اور خدا سے ڈرتے رہو بلاشبہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

چند نکات:

"کتاب من اللہ" سے مراد یا تو خداوند عالم کا وہ طریقہ کار ہے کہ کسی حکم کے بیان کرنے سے پہلے کسی کو سزا نہیں دیتا، جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: "( وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا ) "۔ جب تک رسول نہ بھیج دیں اس وقت تک ہم عذاب دینے والے نہیں (بنی اسرائیل ۱۵) یا جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح کی طرف اشارہ ہے کہ اگر تقدیر الٰہی نہ ہوتی تو، پوزیشن مضبوط ہونے سے پہلے جو قیدی بنا لئے ہیں اس کی سزا میں تمہیں زبردست زک پہنچاتا۔ (تفسیر اطیب البیان)

روایات کے مطابق اس آیت میں "غنیمت " سے مراد وہ رقم ہے جو مسلمانوں نے فدیہ کے طور پر قیدی آزادکرنے کے بدلے میں لی تھی۔ اور وہ فدیہ ہر ایک قیدی کی طرف سے ایک ہزار سے چار ہزار درہم تک تھا ۔

فدیہ زبردستی نہیں لیا جاتا اور نہ ہی اسے انسان فروشی کے زمرے میں لے آئیں گے ، بلکہ یہ رہبر مسلمین کی صوابد ید پر منحصر ہے اور مسلمانوں کے نقصان کی تلافی کے طور پر ہے۔

پیام:

۱ ۔ کسی چیز کے استعمال میں لانے کی شرط اس کا حلال اور پاکیزہ ہونا ہے ۔

۲ ۔ ہوشیار اور خبردار ہناکہیں جنگی غنیمتیں اور قیدیوں کے فدئیے تمہیں جہاد سے اعلی اور والا ترین مقصد سے نہ ہٹا دیں ۔ لہذا ہمیشہ خدا کو پیش نظر رکھے رہو۔( اتقو االله )

آیت ۷۰

( یٰٓاَ یُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْٓ اَیْدِیْکُمْ مِّنَ الْاَسْرٰٓی اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ خَیْرًا یُّؤْتِکُمْ خَیْرًا مِّمَّآ اُخِذَ مِنْکُمْ وَ یَغْفِرْ لَکُْمْط وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ )

ترجمہ ۔ اے پیغمبر! ان اسیروں سے کہہ دیجئے جو آپ کے ہاتھ میں ہیں کہ: اگر خدا کو علم ہو جائے کہ تمہارے دلوں میں خیر اور بھلائی ہے تو جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس سے بہتر تمہیں عطا کرے گا (اور تم مسلمان ہو جاؤ گے ) اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا۔ اللہ تعالیٰ تو بخشنے والا مہربان ہے۔

چند نکات:

۔آیت کے شان نزول کے بارے میں منقول ہے کہ: عباس‘ عقیل اور نوفل جنگ بدر میں گرفتار ہو کر آئے تو حضرت رسول خدا نے ان سے فدیہ لے کر آزاد کر دیا، اس پر وہ بھی مسلمان ہو گئے ۔ ان کے فدیہ کی رقم انہیں واپس کر دی گئی۔ (تفسیر نور الثقلین، منقول از کافی) ۳۷

۔ اسلامی نظام میں جنگی قیدیوں کے بارے میں تین صورتیں ہیں ۔

۱ ۔ فدیہ لئے بغیر انہیں آزاد کر دیا جائے جیسے فتح مکہ کے موقع پر کہ کسی کو قیدی ہی نہیں بنایا گیا۔

۲ ۔ فدیہ لے کر قیدی کو آزاد کر دیا جائے ، قیدی کا قیدی سے تبادلہ کیا جائے۔

۳ ۔ قیدیوں کو مسلمانوں کے سپرد کر دیا جائے تا کہ ایک تو دشمن کے طاقت حاصل کرنے سے رکاوٹ ہو گی اور ساتھ ہی وہ بتدریج دینی تعلیم حاصل کر کے اسلام کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیں گے ۔

البتہ ان تین صورتوں میں سے کسی کا بھی اختیار سربراہ کو حاصل ہے۔

پیام:

۱ ۔ قیدیوں سے ایسا سلوک کرو جس سے انہیں ہدایت اور ارشاد ملے (خیر ، مغفرت وغیرہ جیسے کلمات ان لوگوں کے لئے استعمال کئے جائیں جو شکست کھانے کے بعد پشیمان ہو چکے ہیں)

۲ ۔ جنگ کا مقصد قتل و غارت او رقیدی اور فدیہ لینا نہیں ہے بلکہ اصل مقصد لوگوں کی ہدایت او رطاغوت شکنی ہے۔

۳ ۔ اسراء کو تبلیغ اور ان کی رہنمائی لازم ہے ۔( قل لمن فی ایدیکم )

۴ ۔ حقیقی خیر تو ایمان ہی ہے( ان یعلم الله فی قلوبکم خیرا )

آیت ۷۱

( وَ اِنْ یُّرِیْدُ ْواخِیَانَتَکَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْکَنَ مِنْهُمْط وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ )

ترجمہ۔ اور اگر وہ (قیدی ) آپ کے ساتھ خیانت کرنا چاہیں گے تو (کیا ہوا)وہ پہلے بھی خدا سے خیانت کر چکے ہیں ۔ پس خدا نے (آپ کو ) ان پر غلبہ اور تسلط دیا ہے او راللہ تعالیٰ علم اور حکمت والا ہے ۔

پیام:

۱ ۔ دشمن طاقتوں پر نہ تو سو فیصد یقین کامل رکھو اور نہ ہی ان کے بارے میں سو فیصد بد گمانی ۔ نہ صرف سختی ا ور نہ ہی بالکل نرمی ۔ بلکہ زیر ک، خبردار ، ہوشیار اور مہربان بنے رہو، (سابقہ اور موجود آیات کا مجموعہ)

۲ ۔ دشمن کا کام تو ہے ہی خیانت کرنا( خانواالله من قبل )

۳ ۔ خدا وند عالم حق اور حق کے طرفداروں کو غلبہ عطا کرتا ہے( امکن منهم )

۴ ۔ اللہ تعالیٰ دشمن کی نیتوں سے آگاہ اور حکم فرمائی میں حکیم اور مصلحت اندیش ہے۔( علیم حکیم )

آیت ۷۲

( اِنَّ الَّذِینَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُْوا وَجَاهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِی سَبِیْلِ اللّٰهِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْآ اُولٰٓئِکَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍط وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَکُمْ مِّنْ وَّلَا یَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰی یُهَاجِرُوْاج وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰی قَوْمٍم بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌط وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ )

ترجمہ۔ یقینا لوگ ایمان لے آئے ، ہجرت کی ، اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ خدا کی راہ میں جہاد کیا ۔ اور جنہوں نے (مجاہدین اور مہاجر ین کو ) پناہ دی او ران کی مدد کی وہی تو ایک دوسرے کے دوست ، حامی اور ہم پیمان ہیں ۔ اور جو لوگ ایمان لے آئے لیکن انہوں نے ہجرت نہیں کی تو تمہیں ان کے ساتھ دوستی او ران کی حمایت کا حق نہیں ہے ۔ جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں ۔ او ر اگر( کفار میں دبے ہوئے مومنین اپنے دین کی حفاظت کے لئے ) تم سے مدد طلب کریں تو تم پر لازم ہے کہ ان کی ا مدادکرو۔ مگر ان لوگوں کے خلاف جن کا تمہارے ساتھ (جنگ نہ کرنے کا ) معاہدہ ہے۔ اور خدا وند عالم جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔

دو نکات:

۔ اس آیت میں چند اہم باتیں بتائی گئی ہیں مثلا مہاجرین او رانصار کا باہمی تعلق ، ہجرت کی ضرورت ، ہجرت سے جان بچانے والے اشرافیہ سے بے اعتنائی ، مہاجرین او رکفار کے درمیان موجود معاہدے اور مسلمانوں کی نجات بشرطیکہ پہلے سے کئے ہوئے معاہدے متاثر نہ ہوں ۔

۔ وحدت واتحاد کو مستحکم کرنے کے لئے اسلام نے تین منصوبے پیش کئے ہیں ۔ ۱ ۔ لوگوں کا اپنے رہبر کی بیعت کرنا ۔

۲ ۔ مہاجرین اور انصارکی باہمی دوستی ۔ ۳ ۔ مسلمانوں کی باہمی اخوت

پیام:

۱ ۔ سعی و کوشش کے بغیر اسلام اور ایمان پروان نہیں چڑھتے ۔ اوائل اسلام کے مسلمان یا مہاجر تھے یا مہاجرین کو پناہ دینے والے تھے یا مجاہد یا پھر مجاہدین کے حامی۔

۲ ۔ مہاجرین او رانصار کے درمیان گہرا رابطہ ہے ، ہر شخص کے اپنے حالات کے مطابق ہی اس پر حکم لگایا جا تا ہے او راس پر فریضہ کی ادائیگی لازم ہوتی ہے ۔ کسی پر ہجرت واجب ہوتی تو کسی پر مہاجرین کی پناہ ضروری ۔

۳ ۔ اسلامی معاشرے کی طرف ہجرت ، ولایت کی ایک شرط ہے (( لم یهاجروا مالکم من ولا یتهم- )

۴ ۔ صرف عقیدہ ہی کافی نہیں ہجرت ، جہاد ، مہاجرین اور مجاہدین کی حمایت بھی ضروری ہے۔

۵ ۔ ترقی کی طرف پرواز اس وقت ممکن ہوتی ہے جب اذہان و افکار ، قوت بازو ، سرمایہ، طاقت اور ہجرت یکجاہوں( امنوا ، ها جروا، جاهدوا، اموالهم )

۶ ۔ اسلامی معاشرہ میں ہجرت کرنے والوں اور مرفہ حال یا ہجرت سے گریز کرنے والے اشرافیہ کے درمیان فرق ضرور ہونا چاہیے( امنو ولم یهاجروا )

۷ ۔ ہجرت کرنے سے ایک تو کافر انہ نظام کوزک پہنچتی ہے او ردوسرے دین کی حفاظت اور مسلمانوں کی طاقت محفوظ رہتی ہے۔ ۳۸

۸ ۔ کفار کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں اوربین الاقوامی حقوق کا احترام ، مسلمانوں کی حمایت سے زیادہ اہم ہے،( الاعلی قوم---- )

۹ ۔ ان لوگوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہنا چاہیے جو بعد میں مسلمانوں سے آملتے ہیں( حتی یهاجروا )

۱۰ ۔ اگرچہ مہاجرین کا فی امتیازات کے مستحق ہیں لیکن اگر رفاہ طلب اور بے حال مسلمان کفر کے دباؤ میں ہوں او ران کے مظالم کی چکی میں پِس رہے ہوں تو ان کی امداد کرنے سے بھی قطعا گریز نہیں کرنا چاہیے( ان استنصروکم فعلیکم النصر )

آیت ۷۳

( وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍط اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَکُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ کَبِیْرٌ ) ط

ترجمہ۔ اور جو لوگ کافر ہو گئے ہیں وہ ایک دوسرے کے یارو مددگار ہیں (تم ان سے معاہدے نہ کرو) اگر تم بھی یہ ہم بستگی نہ رکھو تو زمین میں فتنہ او ربہت بڑا فساد کھڑا ہو جائے۔

ایک نکتہ:

"( الا تفعلوه ) " کے تین معنی بیان ہوئے ہیں۔

۱ ۔ اگر ہمارے حکم کے مطابق تم مومنین کے ساتھ باہمی موالات پر عمل نہیں کرو گے او رکفار کے ساتھ تعلق رکھو گے تو اس سے بہت بڑا فساد پیدا ہو جائے گا ، کیونکہ وہ متحد ہیں او رتم متفرق ہو۔

۲ ۔ اگر ان مسلمانوں سے بے پرواہی برتو گے جنہیں تمہاری امداد کی ضرورت ہے او روہ کفار کے سخت دباؤ میں ہیں تو یا تو ان کا قتل عام ہو جائے گا یا پھر وہ اسلام سے منحرف ہو جائیں گے۔

۳ ۔ اگر کفار کے ساتھ بین الاقوامی معاہدوں کا پاس نہیں کرو گے اور صرف چند مسلمانوں کی حمایت کرو گے تو کفار اکٹھے ہو کر تمہارے خلاف ہو جائیں گے جس سے بہت بڑے فساد کا اندیشہ ہے ،

پیام:

۱ ۔ دشمنوں سے محبت ۔ انہیں اپنے امور میں داخل کرنا ، ان کی ولایت و حکومت او راثر و نفوذ کو قبول کر لینا زمین میں بہت بڑا فتنہ و فساد ہے ۔

۲ ۔ جب کفار ایک دوسرے کے یارو مددگار ہیں تو اگر مسلمان آپس میں دوستی اور محبت کا ثبوت نہیں دیں گے تو فتنہ و فساد میں گرفتار ہو جائیں گے ۔( والاتفعلوه ) (ازتفسیر اطیب البیان)

۳ ۔ اگر تم مسلمانوں کے درمیان دوستی او رولایت کا مستحکم رشتہ نہیں ہو گا تو کفار متحد ہوکر تمہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے۔( الا تفعلوه تکن فتنته )

آیت ۷۴

( وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَجاَهَدُوْا فِیْ سَبِیِِْلِ اللّٰهِ وَالَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْآ اُولٰٓئِکَ هُمُ الْمَؤْمِنُوْنَ حَقًّاط لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ )

ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لے آئے اور ہجرت کی اور راہ خدا میں جہاد کیا ، اور جنہوں نے پناہ دی او رامداد کی تو یہی لوگ حقیقی مومن ہیں انہی کے لئے بخشش او رشائستہ رزق ور ورزی ہے۔

پیام:

۱ ۔ ایمان ہمیشہ نیک اعمال پر مقدم ہوتا ہے۔( امنو و هاجروا )

۲ ۔ حقیقی ایمان ہجرت ، جہاد ، مجاہد مسلمانوں کو پناہ دینے او ران کی امداد کرنے میں مضمر ہے۔( هم المومنون حقا )

۳ ۔ کسی عمل کی قدرو قیمت اسی وقت ہوتی ہے جب اس پر خدائی رنگ او ررضائے الہٰی غالب ہو۔( فی سبیل الله )

۴ ۔ انسان ہر مرحلے پر اور ہمیشہ جواب دہ ہے او را س پرکوئی نہ کوئی ذمہ داری عائد رہتی ہی ہے کبھی جہاد کی صورت میں کبھی ہجرت کی صورت میں او رکبھی مجاہدین کی نصرت کی صورت میں۔

۵ ۔ ہجرت اور جہاد بخشش اور رزق الہٰی کے حصول کا ذریعہ ہیں۔

۶ ۔ اگر ہجرت او رجہاد کی خاطر معمول کے رزق ورزی سے آنکھیں بند کر لو تو خد ا کے کریم اور شائستہ رزق کو ضرور حاصل کر لو گے۔

آیت ۷۵

( وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْم بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا َوجَاهَدُوْا مَعَکُمْ فَاُولٰٓئِکَ مِنْکُمْط وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ فِیْ کِتٰبِ اللّٰهِط اِنَّ اللّٰهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ )

ترجمہ۔ اور لوگ بعد میں ایمان لائے او رتمہارے ہمراہ ہجرت بھی کی او رجہاد بھی کیا ، تو وہ لوگ بھی تم میں سے ہیں ، اور قرابت دار (خدائی قانون اور) کتاب خدا میں ایک دوسرے کی نسبت اولویت رکھتے ہیں ۔ یقینا اللہ تعالی ہر چیز کو جانتا ہے۔

دو نکات:

۔اسلام سے پہلے وراثت کی تقسیم خاندانی اعزّہ منہ بولی اولا د او ر باہمی عہدو پیمان کی بنیادوں پر ہوا کرتی تھی۔ لیکن اسلام نے اسے صرف قرابت داری کی بنیاد پر ہی مقرر فرمایا ہے۔

۔ہمارے آئمہ اطہار اور علماء اسلام نے علی بن ابی طالب او ران کے مقدس جانشینوں کی امامت ا ورخلافت کے مسئلے میں بار ہا اسی آیت سے استناد کیا ہے۔ البتہ علم ، سبقت ایمانی جہاد او رتقوی جیسی صفات اس کے علاوہ ہیں کہ جن سے امامت کے لئے استناد کیا جاتا ہے اس آیت سے علی بن ابیطالب کی پیغمبر خدا سے قرابت داری کے ذریعہ ان کی امامت او رخلا فت بلا فصل پر استد لال کیا جاتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ اگر اسلامی معاشرے کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہوا ہے ۔ اس نے کسی اور پر کبھی اپنا دروازہ بند نہیں کیا۔ اگرچہ اس میں بہت سے سابق الایمان او ر صاحبان فضیلت لوگ رہتے ہیں۔

۲ ۔ قرابت دار مومنین میں ایمانی ولایت جو کہ ہجرت اور جہاد کے سایہ میں انہیں ملی ہے اپنی قرابتداری کی ولایت کے حامل بھی ہیں۔

۳ ۔ باہمی رشتہ داروں میں سلسلہ مراتب موجود ہے (( اولیٰ ببعض )

(صدق الله العلي العظیم

حوالا جات ۔ فٹ نوٹس

۱ چونکہ اسلام سے پہلے مال غنیمت کو امتیازی سلوک کے تحت تقسیم کیا جاتا تھا، اور جنگ بدر میں جو کہ مسلمانوں کی پہلی جنگ تھی اور اس جنگ میں مال غنیمت بھی ہاتھ لگا تھا، لہٰذا مسلمانوں نے اس بارے میں پیغمبر خدا سے سوال کیا

۲ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "سہم خداوند بھی حضرت رسول خدا کی نگرانی میں خرچ ہو گا۔

۳ روایات میں ان لوگوں کا اجر و ثواب عام مستحبی نماز روزے سے بھی زیادہ بیان کیا گیا ہے جو لوگوں کے درمیان صلح و صفائی اور اصلاح قائم کرتے ہیں، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے مفضل سے فرمایا: "اگر ہمارے دو پیروکاروں کے درمیان کوئی جھگڑا کھڑا ہو جائے تو میرے ذاتی مال سے خرچ کرکے بھی ان کے درمیان صلح کرا دو"

۴ بعض اوقات ایک چھوٹا سا گروہ خدا کے حکم اور اس کی مرضی کے مطابق بہت بڑے گروہ پر غالب آ جاتا اور فتح پا لیتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے "کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن الله " (بقرہ/ ۲۴۹)

۵ تفسیر فرقان

۵- a تفسیر نورالثقلین میں حضرت امیر علیہ السلام کے فضائل میں سے ۶۳ویں فضلیت یہ ذکر کی ہے کہ آپ نے اپنی تمام عمر میں ایک مرتبہ بھی میدان جنگ میں دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائی۔

۶ البتہ یہ گناہ قابل توبہ ہے ملاحظہ ہو سورہ آل عمران/ ۱۵۵ "ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعان اغا استزلهم الشیطان ببعض ماکسبوا ولقد عفا الله عنهم "

۷ ایک اور جگہ پر فرماتا ہے: "ولوسمعوا لا ستجابوا " (فاطر /۱۴) یعنی عملی جواب، صداقت کی علامت ہے،

۸ اس بے عقلی کا وہ خود بھی اعتراف کریں گے اور کہیں گے: "لوکنا نسمع اور نقل نعقل ما کنا فی اصحاب السعیر " اگر ہم سننے والے کان رکھتے ہوئے یا عقل سے کام لیتے تو جہنمی نہ ہوتے۔ (ملک / ۱۰)

۹ ارشاد قدرت ہے: "من عمل صالحا من ذکر اور انثی وهو مومن فلنحینه طیبة " جو انسان نیک عمل کرتا ہے خواہ مرد ہے یا عورت اور وہ ہے بھی مومن تو ہم اسے پاک و پاکیزہ زندگی عطا کرتے ہیں (نخل /۹۷)

۱۰ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور پیغمبر خدا نے فرمایا:من ظلم علیا مقعدی هذا بعد و فاتی فکا نما حجد نبوتی و نبوة الانبیاء قبلی " جس نے میرے بعد علی پر میری جانشینی کے بارے میں ظلم کیا گویا اس نے میری اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء کی نبوت کا انکار کر دیا۔ (تفسیر فرقان، منقول الاشواہد التنزیل حسکانی جلد اول ص ۲۰۶

۱۱ حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ حکمت اول میں فرماتے ہیں: "کن فی الفتنة کابن للبون، لا ظهر فیرکب ولا ضرع فیحلب " فتنہ اور فساد کے دورانیے میں اونٹ کے اس بچے کی مانند بن جاؤ کہ جس پر نہ تو بوجھ لادا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے دودھ دوہا جا سکتا ہے۔

حضرت زبیر فرماتے ہیں: "جنگ جمل میں شریک ہونے سے پہلے میں اس آیت کے معنی کو نہیں سمجھتا تھا۔‘ ‘ (تفسیر فخر رازی) حضرت پیغمبر اکرم فرماتے ہیں: "جب میری امت میں فتنے ظاہر ہونے لگ جائیں تو تمہیں علی کے ساتھ رہنا چاہئے خواہ وہ اکیلے ہی کیوں نہ ہوں!" (تفسیر مجمع البیان)

۱۲ شواہد التنزیل حاکم حسکانی جلد اول ص ۲۰۵ منقول از ملحقات احقاق الحق جلد ۱۴ ص ۵۶۴

۱۳ اس معنی کے مطابق جو کہ آیت کے متن سے بھی مطابقت رکھتا ہے "تخونوا اماناتکم " میں "لا" نافیہ کے مقدر کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔

۱۴ ابو لبابہ کی داستان کی طرف اشارہ ہے جس نے اپنے آپ کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ کر اس قدر گریہ کیا کہ خدا نے اس کی توبہ کو قبول فرما لیا،

۱۵ جن لوگوں نے مدینہ سے ابوسفیان کو اطلاع دی تھی کہ مسلمان، مشرکین کے خلاف فوجیں اکٹھی کر رہے ہیں وہ ایسے مہاجر تھے مکہ میں جن کے مال و اولاد رہ گئے تھے (تفسیرالمیزان) مثلا: الف: شیطان انسان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا ہے "شارکهم فی الاموال و الاولاد " (بنی اسرائیل/ ۶۴) ب: مال و اولاد کی کثرت طلبی لیکن اس کے منفی اثرات "تکاثرفی الاموال و الاولاد " (حدید /۲۰) ج: مال و اولاد کا یاد خدا سے روک دینا "لا تلهکم اموالکم ولا اولاد کم عن ذکر الله " (منافقون /۹) د: قیامت کے دن مال اور اولاد نجات نہیں دلائیں گے: "لن تغنی عنهم اموالهم ولا اولادهم " (آل عمران /۱۰)

۱۷ بقول حافظ، جمال یار ندارد حاجب و پردہ ولی، غبار رہ بنشان تا نظرتوانی کرد۔

یعنی جمال یار تو پردوں میں چھپا ہوا نہیں ہے، یہ غبار راہ ہے جس نے اسے چھپایا ہوا ہے، اسے بیٹھ جانے دو پھر اس کا دیدار کرو۔

حقیقت سرائی است آراستہ ہوا و ہوس گرد برخاستہ

بنینی کہ ہر جا کہ برخاست گرد بنیند نظر، گرچہ بنیاست مرد

ایک اور آیت میں ہے "اتقوا الله ویعلملکم الله " خدا سے ڈرتے رہو خدا تمہیں تعلیم دے گا (بقرہ /۲۸۲) گویا روح کی مثال آئینے جیسی ہے۔ تقوی جس پر پڑے ہوئے غبار کو صاف کرتا ہے اور خورشید حق کا نور اس میں جلوہ فگن ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس ہوا و ہوس اور حرص و لالچ، عقل و خرد کی لغزش کا موجب بنتے ہیں، جیسا کہ حضرت امام الاولیاء علیہ السلام فرماتے ہیں: "اکثر مصارع العقول تحت بروق المطامع " (نہج البلاغہ)

۱۸ نہج البلاغہ میں ہے کہ حضرت امیر علیہ السلام نے جناب رسالت مآب کی رحلت کے بعد فرمایا: "ہمارے درمیان دو امانتیں تھیں جن میں سے ایک تو اٹھ چکی ہے دوسری (استغفار) کی حفاظت کرو" (حکمت صحبی صالح) دعائے کمیل میں کچھ ایسے گناہوں کا تذکرہ ہے جو عذاب نازل کرتے ہیں "الذنوب التی تنزل البلاء" سورہ ہود /۱۱۷ میں ہے "ماکان ربک لیهلک القریٰ بظلم و اهلها مصلحون " جب تک کسی آبادی کے لوگ اصلاح کرتے رہیں گے اور صالح رہیں گے اس وقت تک تمہارا رب کسی کو ہلاک نہیں کرے گا۔

۱۹ نہج البلاغہ میں ہے: "اللہ فی بیت ربکم فانھا ان ترکت تم تناظروا" اپنے رب کے گھر کے بارے میں خدا سے ڈرو، کہ اگر اس کا حج اور عبادت ترک کر دیئے گئے تو پھر تمہیں عذاب الٰہی مہلت دیئے بغیر اپنی لپیٹ میں لے لیگا،

۲۰ تفسیر مجمع البیان، المیزان اور فی ضلال القرآن

۲۱ حدیث شریف میں ہے: "الاسلام یمحو ما قبله " اسلام سابقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے،

۲۲ "کتب الله لاغبن انا و رسلی " اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ضرور غالب ہیں۔ (مجادلہ /۲۱)

۲۳ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت مہدی علیہ السلام کے زمانے میں عملی جامہ پہنے گی۔

۲۴ لسان العرب، تاج العروس، قاموس، تفسیر قرطبی، تفسیر فخر رازی اور تفسیر آلوسی کو بھی لغت کی عمومیت میں شک نہیں ہے اور قرآن مجید میں بھی "غنیمت" کا لفظ جنگی غنیمت کے علاوہ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے ملاحظہ ہو سورہ نسأ/ ۹۴، ارشاد ہوتا ہے "وعندالله مغانم کثیرة " نیز غنیمت کا لفظ قرآن مجید میں چھ مرتبہ استعمال ہوا ہے اسی طرح "غراست" کا لفظ بھی چھ مرتبہ ذکر ہوا ہے

۲۵ قرآن مجید میں بارہا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رویائے صادقہ (سچے خوابوں) کا تذکرہ آیا ہے۔

۲۶ گر نگہدار من آنست کہ من می دانم # شیشہ را در بغل سنگ نگہ می دارد

میرا بچانے والا تو وہ ہے جسے میں جانتا ہوں جو شیشے کو پتھرں کے درمیان بھی بچائے رکھتا ہے

۲۷ سورہ بقرہ/ ۲۵۰

۲۸ حضرت امام سجاد علیہ السلام سرحدی محافظین کے بارے میں دعا فرماتے ہیں کہ: "خداوندا! مال و اولاد کی یاد مجاہدین کے دلوں سے نکال دے اور بہشت کو ان کی نگاہوں کے سامنے جلوہ گر کر دے۔ (صحیفہ سجادیہ دعا ۲۷)

۲۹ اگرچہ آیت کا سیاق جنگ بدر سے تعلق رکھتا ہے، لیکن آیت کا کلی معنی ان منافقین کو بھی اپنے دامان میں لئے ہوئے ہے جو ریاکاری کے طور پر اور خودنمائی، پراپیگنڈے، افواہیں اڑانے اور حوصلے پست کرنے کے لئے محاذ جنگ پر جاتے ہیں۔ (یصدون، رئاء الناس )

۳۰ روایات میں ہے: "جو شخص عہدشکنی کرتا ہے وہ منافق ہے خواہ نمازیں پڑھتا اور روزے رکھتا ہو۔

۳۱ حدیث میں ہے کہ "خضاب کرکے بھی دشمن کو ڈراؤ، تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ اسلام کے سپاہی بوڑھے ہیں" (تفسیر فرقان، منقول از "من لا یحضرہ الفقیہ

۳۲ شاید اس سے مراد منافق لوگ ہوں ا س لئے کہ اس طرح کے الفاظ انہی کے واسطے آئے ہیں مثلاً "لا تعلهم نحن نعلهم " یعنی آپ انہیں نہیں جانتے ہم جانتے ہیں (توبہ /۱۰۱)

۳۳ مالک اشتر کے نام امیرالمومنین علیہ السلام کے مکتوب گرامی میں ہے: "لا تدفعن صلحا دعاک الیه عدوک ولکن الحذر الحذر من عدوک بعد صلحه فان العدو ربما قارب لیتغفل " دشمن کی صلح کی پیشکش کو نہ ٹھکراؤ، لیکن صلح کے بعد دشمن کے نیرنگ سے بہت زیادہ ہوشیار رہو کیونکہ بعض اوقات دشمن، غاقفل کرنے کے لئے بھی قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

۳۴ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے: "القیت علیک محبة منی" (طہ/ ۳۹) شادی کے بعد زن و شوہر میں باہمی محبت کے بارے میں ہے: "وجعل بینکم مودة و رحمة" (روم/۲۱)

۳۵ ارشاد ہوتا ہے: "تحسبهم جمیعا و قلوبهم شیٴ " (حشر /۱۴)

۳۶ الغدیر جلد ۲ ص ۵۱

۳۷ تفسیروں میں ہے: جنگ بدر میں کچھ لوگوں نے کہا: رسول خدا کے احترام کے پیش نظر ان کے چچا حضرت عباس سے فدیہ نہ لیا جائے۔ آنحضرت نے فرمایا: "والله لاتذرن فیه درهما " خدا کی قسم ان کو ایک درہم بھی معاف نہ کرو۔ پھر آپ نے خود ہی ارشاد فرمایا: "چچا! آپ مالدار شخص ہیں اپنا بھی اور اپنے بھتیجے عقیل کا بھی فدیہ ادا کرو" عباس نے کہا: "اگر میں فدیہ دوں تو میں غریب ہو جاؤں گا" آنجناب نے فرمایا: "اس رقم سے دو جو آپ کی بیوی ام الفضل مکہ میں چھوڑ آئے ہو!" اس پر عباس نے کہا: "اس رقم کا کسی کو بھی علم نہیں ہے لہٰذا میں نے سمجھ لیا کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں، اس پر میں مسلمان ہو گیا"

۳۸ اگر تمام صاحبان عقل و خرد اور ہر علم و فن کے متخصص (سپیشلسٹ) مسلمان مغربی ممالک سے ہجرت کرکے اسلامی ملکوں میں آ جائیں تو اس سے ایک تو دشمن کو زبردست دھچکا لگے گا اور دوسرے اسلامی ملکوں کو بہت زیادہ تقویت مل جائے گی، ہماری بہت سی مصیبتوں کا سبب یہ ہے کہ ہمارے لوگ دوسروں کے نظاموں میں غرق ہو چکے ہیں اور ہجرت کو ترک کر چکے ہیں کہ جس سے اسلامی ملکوں کو فائدہ پہنچتا۔


سورہ اعراف

آیت ۱ ، ۲

( بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )

( کِتَبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِنْهُ لِتُنْذِرَ بِه وَذِکْرَیٰ لِلْمُؤْمِنِیْنَ )

الف۔ لام۔ میم۔ صاد

(یہ) وہ کتاب ہے جو ( اے پیغمبر) تمہاری طرف نازل کی گئی، پس اس سے تمہارے سینے میں تنگی (اور شک و شبہ) نہیں ہونا چاہیے۔ (یہ کتاب اس لئے نازل ہوئی ہے۔) تاکہ اس کے ذریعہ تم ڈراؤ اور مومنین کے لئے نصیحت ہو۔

ایک نکتہ

صاحب تفسیر المیزان کے بقول، وہ تمام موضوعات جو سورة "الم" اور سورة "ص" میں ذکر ہوئے ہیں۔ وہ سب اسی سورة میں بیان ہوئے ہیں۔ (کیونکہ اس کی پہلی آیت ان دونوں کا مجموعہ (یعنی "المص" ہے۔)

پیام:

۱۔ قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے مفہوم کی طرف توجہ سینے کی وسعت کا سبب ہوتی ہے۔( اُنزل- فلایکن )

۲۔ رسالت کی شرط وسعت قلبی ہے۔( فلایکن فی صدرک حرج منه لتنذر )

۳۔ اے پیغمبر! آپکو کفار کی ہٹ دھرمی اور اکھڑ پن سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ آپ کا کام تو صرف (انہیں ڈرانا) ہے۔ اجبار و زربردستی نہیں ہے۔( لتنذر )

۴۔ انبیاء علیہم السلام کی تنبیہ، عمومی ہوتی ہے لیکن یاد دہانی اور سبق سکھلانا صرف مومنین کے ساتھ مخصوص ہے۔( وذکٰری للمومنین )

آیت ۳

( اُتَّبِعُوْا مَااُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِنْ رِّبِّکُمْ وَلَاتَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهِ اَوْلِیَاءَ قَلِیْلًامَّا تَذَکَّرُوْنَ )

ترجمہ: جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے۔ اس کی پیروی کرو۔ اور اس کے علاوہ کسی اور معبود کی پیروی نہ کرو۔ تم کیا ہی کم نصیحت حاصل کر تے ہو۔

سابقہ آیت پیغمبر اکرم کے فرائض کو بیان کر رہی ہے۔ اور یہ آیت امت کے فریضہ کو۔ اس آیت میں پیغمبر کو وسعت قلبی کا ثبوت دینے کے لیے کہا گیا اور اس آیت میں امت سے اطاعت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس آیت میں "انزل الیک"ہے۔ اور اس میں "( انزل الیکم ) "

پیام:

۱۔ آیات الٰہی کی پیروی تمہارے اپنے اارتقاء اور رشدو تربیت کا سبب ہے( ربکم )

۲ ۔ آیاتِ الٰہی کی پیروی کا نتیجہ "ولایت الٰہی" کو تسلیم کرنا ہوتا ہے۔ اور اس کے ترک کر دینے کا نتیجہ غیر اللہ کی ولایت کا جو گلے میں ڈالنا ہوتا ہے۔( ولا تتبعوامن دونة اولیاء )

۳۔ جو خداوند یکتا وحدہ لاشکریک کی ولایت اور اس کے قانون کو قبول نہیں کرتا۔ (ربکم) اسے کئی "ولیّوں" کو راضی کرنا پڑتا ہے۔( اولیاء )

۴۔ نصیحت حاصل کرنے والا ہمیشہ اور ہر دور میں قلیل تعداد میں ہوتے ہیں۔( قلیلا ماتذکرون )

آیت ۴ ۔ ۵

( وَ کَمْ مِنْ قَرْیَةٍ اَهْلَکْنَهَا فَجَآءَ هَا بَاسُنَا بَیَتًا اَوْهُمْ قَائِلُوْنَ فَمَا کَانَ دَعْوَهُمْ اِذْ جَآءَ هُمْ بَاسُنَآ اِلَّا اَنْ قَالُوْ اِنَّا کُنَّا ظَلِمِیْن )

اور کتنی ایسی آبادیاں ہیں کہ ہم نے وہاں کے رہنے والوں کو (ان کے اپنے کرتوتوں اور کفر کی وجہ سے) نیست و نابود کردیا۔ پس ہمارا عذاب رات کو یا دِن کو جب وہ سو رہے ہوتے تھے ان کے پاس پہنچ جاتا۔

پس جب ہمارا عذاب ان کے پاس آجاتا تو وہ اس کے سوا اور کچھ نہ کہتے کہ "ہم خود ظالم تھے"

چند نکات:

دو " قریہ" کے معنی گاؤں یا بستی کے نہیں بلکہ اس کے معنی ہیں آبادی، لوگوں کے جمع ہونے کا مرکز، خواہ شہر ہو یا گاؤں۔

دو "قائلون "کے لفظ کو" قیلولہ" سے لیا گیا ہے۔ جس کے معنی ہیں دوپہر کا آرام و استراحت اور اقالہ کا تعلق بھی اسی باب سے ہے جس کا معنی ہے فروخت شدہ چیز کو واپس لینا۔ کیونکہ اس طرح سے خریدار معاملے کی پریشانی سے راحت محسوس کرتا ہے۔

"بیات "کے معنی "شبانہ" یا رات کا وقت ہے۔ (ازتفسیر نمونہ)

پیام:

۱۔ جو علاقے خدائی قہر و غضب سے نیست و نابود ہوئے ہیں وہ بہت کم ہیں۔( وکم )

۲۔ دوسروں کے تلخ تجربوں سے عبرت حاصل کرو( وکم )

۳۔ خدائی سزاؤں کا تعلق صرف قیامت ہی سے نہیں بلکہ دنیا میں اس کے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں۔( اهلکنا )

۴۔ خدائی قہر و غضب ناگہانی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔( بیاتا او هم قائلون )

۵۔ آرام کے وقت عذاب کا اپنی گرفت میں زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔( بیاتااوهم قائلون )

۶۔ خدائی عذاب اس وقت اپنی لپیٹ میں لیتا ہے جب سوچنے سمجھنے اور چارہ جوئی کی فرصت بھی نہیں ملتی۔( بیاتا اوهم قائلون )

۷۔ باحوصلہ رہبر اور کامل قانون (سابقہ دو آیات کی طرف اِشارہ ہے۔) کے آجانے کے بعد لوگوں پر حجت تمام ہوچکی ہے۔ لہٰذا اس کی نافرمانی سخت سزا کا موجب بن جائے گی۔( وکم اهلکنا )

۸۔ خطرات اور جوادثات، غرور کا سر نیچا کردیتے ہیں۔ غفلت کے پردے چاک کر دیتے ہیں۔ اور مردہ ضمیروں کو زندہ اور سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کر دیتے ہیں۔( لاان قالوا )

۹۔ ہر ظالم و جابر انسان جب عذاب الٰہی کو دیکھتا ہے تو اس میں ٹھراؤ آجاتا ہے۔ اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیتا ہے۔( انا کنا ظالمین )

۱۰۔ نعرے اس وقت لگائے جاتے ہیں جب آسائش کا زمانہ ہوتا ہے۔ لیکن جب خطرہ سر پر منڈلانے لگتا ہے تو ایک حرف بھی منہ سے نہیں نکل پاتا۔( فما کان دعوٰهم )

۱۱۔ اگر آج اپنے ارادے اور اختیار سے سر تسلیم خم نہیں کروگے۔ تو کل خواہ مخواہ مجبوراً کورنش بجانا پڑے گی۔( قانو اناکنا ) ۔)

۱۲۔ غیر اللہ کے پیچھے جانا ان کی اطاعت کرنا اور انبیاء کی اطاعت سے منہ موڑنا۔ (سابقہ دو آیات کے پیشِ نظر) ظلم ہے۔ (کنا ظالمین)

آیت ۶ ۔ ۷

( فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَ مَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ )

ترجمہ: پس ہم یقینا ان لوگوں سے باز پرس کریں گے جن کی طرف پیغمبر بھیجے گئے۔ اور خود پیغمبروں سے بھی جواب طلبی کریں گے۔

پس ہم یقینا علم ( اور پوری تحقیق) کی بناء پر ان لوگوں کو (وہ) سب کچھ بتا دیں گے (جو انہوں نے کیا ہوگا) اور ہم غائب اور بے خبر نہیں تھے۔

ایک نکتہ

سابقہ آیت میں دنیوی سزا کا تذکرہ تھا۔ اور یہ آیت اخروی سزا اور احتساب کو بیان کر رہی ہے۔ اور اس طرح تاکید کے ساتھ اس کا تذکرہ کر رہی ہے کہ قیامت کے دِن سوال و جواب ختمی ہوں گے۔ اور یہ صرف گناہگاروں ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے۔

پیام:

۱۔ قیامت کے دِن، رہبروں اور راہنماؤں سے بھی سوال ہوں گے۔ اور اُمتوں اور پیروکاروں سے بھی۔ نیک لوگوں سے بھی پوچھا جائے گا۔ اور بدکاروں سے بھی۔ علماء سے بھی بازپرس ہوگی اور مقلدین سے بھی۔

۲۔ قیامت کے دن سوال کرنے کا مقصد یہ نہیں ہوگا کہ خدا سے کوئی چیز پوشیدہ ہے۔ اور وہ پوچھ پوچھ کر شکوک و شبہات دور کر ے گا، نہیں بلکہ مقصد بندوں کی اپنے اعمال کے بارے میں شہادت، ان کا اقرار اور خدا کی

ہے۔ جب کہ سورہ سبا / ۳ میں ہے۔

"( ومایغرب عن ربک مثقال ذرة فی السٰمٰوات والارض ) "

تفسیر:

اس آیت میں چند نکتے موجود ہیں۔

الف: کن چیزوں کے بارے میں پوچھا جائے گا؟ اِن چیزوں کے بارے میں:

۱۔ نعمتوں کے بارے میں جیسا کہ ارشاد ہے ۔ "( ثم لتسئلن یومئذٍ عن النعیم ) ۔" (تکاثر/ ۷) تم سے اس دِن نعمتوں کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا۔ اور روایات میں ہے کہ یہاں ہر نعمت سے مراد "رہبری اور ولایت " ہے۔

۲۔ کردار کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ جیسا کہ فرماتا ہے۔ "( لنسئکنهم اجمعین عما کانوا یعملون ) " (حجر/ ۹۲) ہم ان سے ضرور سوال کریں گے ان چیزوں کے بارے میں جو وہ انجام دیتے رہے۔

۳۔ اعضاء کے بارے میں پوچھا جائے گا جیسا کہ فرماتا ہے۔ "( ان السمع والصبرو الفواد کل اولئک کان عنه مسئولا ) " (بنی اسرائیل / ۸۳) کان، آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں سوال ہوگا۔

۴۔ عمر و جوانی اور مال و دولت کا حصول اور ان کے مصرف کے بارے میں سوال ہوگا۔ جیساکہ روایات و احادیث اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ب: سوال کس انداز میں کیا جائے گا؟ اس انداز میں مثلاً

۱) "( یمعشرالجن والا نس اکم یاتکم رسل منکم ) ۔۔۔" (انعام / ۱۳۰) اے گروہ جن و انس! آیا دنیا میں تمہارے پاس پیغمبر نہیں آتے تھے کہ تمہیں حقائق بتاتے؟

۲) "( یومِ یجمع الله الرسل فیقول ماذا اجبتم ) ۔۔۔" (مائدہ / ۱۰۹) جس دن اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو اکٹھا کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ لوگوں نے آپ کو کس طرح جواب دیا تھا؟

ج: اس آیت میں فرماتا ہے کہ یقینا انبیاء سے بھی سوال کریں گے اور لوگوں سے بھی! جبکہ سوة الرحمن / ۳۹ میں فرماتا ہے کہ " اس دِن کسی جن و انس سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔ "( فیومئذٍلایسئل عن ذنبه انس و الاجان ) " تو کیا ان دونوں آیات کا آپس میں اختلاف ہے؟

جواب: قیامت میں صرف ایک جگہ ہی سوال نہیں کیا جائے گا، کئی مقامات پر ٹھہرایا جائے گا اور ہر مقام پر مختلف نوعیت کا سوال کیا جائے گا۔ اور ایک جگہ پر ہونٹوں پر مہر لگا دی جائے گی اور کسی کو بولنے کا یارا نہیں ہوگا۔ کہیں پر مہر سکوت توڑ دی جائے گی۔ ہر طرف سے چیخ و پکار، نصرت طلبی اور اقرار کی آوازیں گونج رہی ہوں گی۔ کسی جگہ پر سب سے پوچھا جائے گا۔ اور کہیں پر سب خاموش!

آیت ۸

( وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهُ فَاُوْلٰئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ )

ترجمہ: اور (قیامت کے دِن) میزان (لوگوں کے جاننے کا ذریعہ) حق ہے، پس جس شخص (کے اعمال) کے پلڑے بھاری ہوں گے تو وہ لوگ ہی کامیاب ہیں۔"

"میزان" کسی چیز کے وزن کرنے ا ور جانچنے کے ذریعہ کو کہتے ہیں اور ہر چیز کا میزان جداگانہ ہے۔ْ دیوار کو ساہول کے ساتھ، آب و ہوا کو تھرمامیٹر کے ساتھ، پھل و میوے کو کلو کے ساتھ اور کپڑے کو میٹر یا گز کے ساتھ جانچتے ہیں۔ عام انسانوں کی جانچ اور وزن کا ذریعہ انسان کامل ہیں جو مجسم حق ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام "( ونضع الموازین القسط ) " ہم عدل و انصاف کے ترازو قائم کریں گے۔ (انبیاء / ۴۷) کی تفسیر کے متعلق حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں اور انبیاء اور اوصیاء علیہم السلام میزان ہیں۔ اور حضرت امیر الم( ٴ ) ومنین علی علیہ السلام کی زیارت مطلقہ میں ہم پڑھتے ہیں۔ "السلام علی میزان الاعمال " اعمال کے ترازو پر ہمارا سلام۔ اس لئے کہ یہی ذوات قدسیہ بذات خود دوسروں کے اعمال و افعال کے جانچنے، پرکھنے اور تولنے کا حقیقی معیار ہیں۔

پیام:

۱۔ قیامت کے دِن حق کی حکومت ہوگی۔ "( هنالک الولایة للّٰه الحق ) " (کہف/ ۴۴) اور وہ دن بذاتِ خود حق ہوگا۔ "( ذالک الیوم الحق ) " (بنا/ ۳۹) اس دِن وزن بھی حق ہوگا اور فیصلہ بھی برحق ہوگا۔ (آیت الذکر)

۲۔ قیامت کے دِن تمام بندوبست باقاعدہ منظم طریقے سے کئے جائیں گے، حساب و کتاب احکام اور فیصلوں کا صدور، سزا و جزا کا فیصلہ سب کچھ حق کی بنیادوں پر ہوگا۔ ارشاد ہوتا ہے۔ "( والوزن یومئَذالحق ) "

۳۔ ہر شخص کے لئے کسی قسم کے جانچنے اور وزن کرنے کے معیار ہوں گے۔ "و( موازینه ) "

۴۔ عمل کے بغیر کسی جزا کی توقع غلط ہے۔ "( فمن ثقلت---- هم المفلحون ) "

آیت ۹

( وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهُ فَاُ ْولٰئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْ ا اَنْفُسَهُمْ بِمَا کَانُوْ ا بِئَایَتِنَا یَظْلِمُوْنَ )

ترجمہ: اور جس شخص کے (اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گے (اور ان کے اعمال و افکار ناشائستہ ہوں گے) تو یہی وہ لوگ ہوں گے جو ہماری آیات پر ظلم کرنے کی وجہ سے خود کو تباہ و برباد کرکے نقصان پہنچائیں گے۔

پیام:

۱۔ ایک انسان کے جانچنے اور پرکھنے کے لئے کئی وسائل ضروری ہوتے ہیں۔( موازین )

۲۔ اعمال صالح اگر کم مقدار میں ہوں تو خسارے کا موجب ہوتے ہیں، چہ جائیکہ سرے ہی سے نہ ہو۔( خفت خسروا )

۳۔ آیات الٰہی کا انکار اور ان سے بے پرواہی۔ ان پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ (ب( ایاتنایظلمون )

۴۔ اس دنیا کو بازار کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس میں رہ کر ایمان لانا "منافع" ہے اور کفارو انکار کا خسارہ ہے۔ اور فطرات سلیم اور استدلال کو نظر انداز کردینا جو ہر انسانیت کو نابود کرنے اور اپنے اوپر ظلم کا موجب ہے۔( خسرو اانفسهم )

آیت ۱۰

( فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَکُمْ فِیْهَا مَعَیِشَ قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُونَ )

ترجمہ: اور ہم نے یقینا تمہیں روئے زمین پر تسلط اور حکومت عطا کی (اور فطرت کو مسخر کرکے) تمہارے لئے اس زمین میں وسائل زندگی فراہم کئے۔ (لیکن) تم بہت ہی کم شکر بجا لاتے ہو۔

پیام:

۱۔ دنیا میں تمام چیزیں انسان کے اختیار میں اور اس کے لئے مسخر ہیں۔( مکناکم ) ۱

۲۔ زمین کی تخلیق اور اس کے متعلقہ امور مثلاً گردش، حرارت، جاذنیت، وافعیت، پانی، نباتات، فضلات کو قبول کرکے سبزیجات و پھل میوے واپس کرنا وغیرہ ایسے امور کہ جنہیں دیکھ انسان اپنے لئے زمین کو محل سکونت کے عنوان سے منتخب کرسکتا ہے۔ "( مکناکم فی الارض ) "

۳۔ طبیعت و فطرات پر حکمران قوانین کچھ اس طرح سے ہیں کہ انسان ان پر تسلط قائم کرسکتا ہے اور انہیں اپنے اختیار میں لاسکتا ہے۔ اگر خداوندتعالیٰ زمین کو رام نہ کرتا۔ تو انسان کے بس کی بات نہیں تھی کہ اسے اپنے قابو میں رکھتا اور اس سے بہرہ گیری کرتا۔ "( مکنا ) "

۴۔ نعمتوں کو شکر بجا لانے کا سبب سمجھو نہ کہ غفلت اور عیاشی کا موجب۔( تشکرون )

۵۔ قرآن مجید بار بار لوگوں کی ناشکری، غفلت اور بے ایمانی کی بات کرتا ہے۔( قلیلا مایشکرون )

آیت ۱۱

( اوَلَقَدْ خَلَقْنَاکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلَائِکَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلاَّ إِبْلِیسَ لَمْ یَکُنْ مِنْ السَّاجِدِینَ )

ترجمہ: اور ہم نے یقینا تمہیں پیدا کیا، پھر تمہاری صورت بندی اور چہرہ نگاری کی، پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ "آدم کو سجدہ کرو" پس سب نے سجدہ کیا سوائے ! ابلیس کے۔ کہ وہ سجدہ کرنے والوں میں سے نہیں تھا۔

دو نکات:

سابقہ آیت میں انسان کو زمین پر تسلط کی بات ہو رہی تھی جو کہ اس کی مادی قدرت کی بات تھی، اور اس آیت میں اس کے "مسجود ملائکہ" ہونے کا تذکرہ جو اس کی تصویر عظمت کی دلیل ہے۔

اس آیت سے لے کر بعد کی ۱۰ آیت تک حضرت آدم کی داستان سے تعلق رکھتی ہے۔ جو گذشتہ آیت یعنی انسان کی زمین پر تمکین و قدرت کی تفصیل ہیں۔

پیام:

۱۔ انسانی تخلیق چند مراحل میں عمل میںآ ئی۔( ثُم ثُم )

۲ ۔ انسان میں اس مقام پر و منزلت تک پہنچنے کی استعداد و صلاحیت ہو کہ مسجود ملائکہ بن سکتا ہو ۔( اسجدو الادم )

۳ ۔ اگر فرمان خدا کے مطابق غیر خدا کو سجدہ کیا جائے تو شرک نہیں ہے۔( قلنا -السجدوا )

۴ ۔ باپ پر احسان، اولاد پر احسان ہوتا ہے( حکم خداوندی کے ملائکہ نے ابوابستہ آدم کو سجدہ کیا ہے اپنی قدرو منزلت کو خوب اچھی طرح پہچانو)

آیت ۱۲

( قَالَ مَا مَنَعَکَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُکَ قَالَ أَنَا خَیْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِی مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِینٍ )

ترجمہ: اللہ نے (ابلیس سے) فرمایا جب میں نے تجھے سجدے کا حکم دیا تھا تو تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے باز رکھا؟ اس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی کے خلق کیا ہے ۔

ایک نکتہ:

سجدہ کرنے کی وجہ لیاقت اور شایستگی تھی تاکہ "ذات پات" اور شرعی روایات کیمطابق سب سے پہلے جس کسی نے قیاس کیا وہ شیطان تھا ۲

پیام:

۱ ۔ غرور اور تکبر کے خطرہ اس حد تک ہے کہ متکبرین خدا کے فرمان کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ امر کے آگے لکڑ جاتے ہیں۔( اناخیرمنه )

۲ ۔ شیطان نے قیاس سے کام لیا جو گمان اور تخمین پر مبنی ہے۔( خلقنی نارو خلقته من طین )

۳ ۔ تعصب اور بے جا حمیت نے شیطان کو تباہ و برباد کر ڈالا۔( خلقتنی من نار )

۴ ۔ کائنات کا سب سے پہلا گناہگار شیطان ہے اور اس کی تباہی و بربادی کا موجب اس کا غرور و تکبر اور دریں کہنا ہے۔

۵ ۔ میرے خدا کی خالقیت ہی کو قبول کر لینا۔ (تسلیم کر لینا) کافی نہیں بلکہ امر کا حکم ماننا اور امر کے آگے سر تسلیم حکم کرنا بھی ضروری ہے۔ (خراضتنی)

۶ ۔ شیطان، آدم کے نہیں خدا ایک ہے ڈٹ گیا۔ (اذام تک ) ۳

۷ ۔ شیطان نے نص کے مقابلے میں اجتہاد کیا۔ اور آگ کی مٹی ہے بدتر کا سہارا لے کر خدا ئی حکمت کا انکار کر دیا۔( خلقتنی من نار )

آیت ۱۳

( قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَکُونُ لَکَ أَنْ تَتَکَبَّرَ فِیهَا فَاخْرُجْ إِنَّکَ مِنْ الصَّاغِرِین ) ترجمہ: اللہ نے شیطان سے کہا: اس مرتبے اور درجے سے نیچے آ جا! تجھے نہیں چاہیے تھا کہ تکبر کرتا۔ پس باہر نکل جا کیونکہ تو یقینا ذلیل اور رسواؤں سے ہے۔

پیام:

۱ ۔ غروروتکبر کا نتیجہ حقارت ذلت اور رسوائی ہے۔( فاهبط- فاخرج )

۲ ۔ تکبر صرف عام لوگوں کے لئے خطرناک نہیں ہے بلکہ ان کیلئے بھی خطرناک ہے جو ملاء اعلیٰ میں فرشتوں کا ہم نشین رہ کر ہزاروں سال کی ریکارڈ عبادت کے حاصل ہوتے ہیں۔( فاهبط فاخرج )

۳ ۔ نہ تو شیطان کر اس کا خدا کے بارے میں علم بچا سکا اور نہ ہی لمبی چوڑی عبادت، راہ نجات صرف اور صرف اس کے آگے سر تسلیم خم کر دینے میں ہے۔( تتکبر فیها- فاخرج ) ۴

۴ ۔ تکبر اعمال کی نابودی اور بربادی کا موجب ہوتا ہے ۔( فاخرج )

۵ ۔ "میں بہتر ہوں" (اناخیر) کے نعرے کا جواب "نکل جا"( فاخرج ) ہے۔

۶ ۔ بعض اوقات ایک لمحے کا تکبر، اور تباہی کا موجب بن سکتا ہے۔( تتکبر- فاخرج )

آیت ۱۴ ۔ ۱۵

( قَالَ أَنظِرْنِی إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ - قَالَ إِنَّکَ مِنْ الْمُنظَرِینَ )

ترجمہ: (شیطان نے توبہ کرنے اور معافی مانگنے کی بجائے ) کہا : مجھے اس دن تک مہلت دے جس دن لوگ قبور سے اٹھائے جائیں گے۔ (اللہ نے) فرمایا : یقینا تو ان افراد میں سے ہے جنہیں مہلت دی جا چکی ہے۔

دو نکات:

ابلیس تو قیامت تک کی مہلت چاہتا تھا۔ لیکن اس آیت سے اور سورہ ۳۸ ویں اور سورہ ص کی ۸۱ ویں آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے قیامت تک تو نہیں البتہ ایک لمبے عرصے کے لئے مہلت ملی ہے۔ کہ "درانک من المنظرین امر یوم الوقت المعلوم"

تفسیر صافی میں ہے کہ ابلیس پہلے صور کے پھونکے جانے تک زندہ رہے گا پھر وہ بھی مر جائے گا۔

سوال: ابلیس کو خدا نے کس لیے مہلت دی ہے؟

جواب: اس لئے کہ مہلت دینا خدا کا ایک طریقہ کار چلا آ رہا ہے۔ تاکہ خیر اور شر کے اسباب مہیا رہیں اور انسان اپنے ارادہ اور اختیارات۔ راہ کا انتخاب کرے، ابلیس، انسان کو گمرہ کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ ( سورہ ابراہیم ۲۶)

پیام:

۱ ۔ پر لمبی عمر بھی قابل قدر نہیں ہوا کرتی۔( انظرنی )

۲ ۔ بعض اوقات کافر کی دلی تمنا بھی پوری ہو جاتی ہے۔( انک من المنظرین )

۳ ۔ شیطان بھی جانتا ہے کہ عمر خدا کے ہاتھ اور ارادے میں ہے۔ اسی لئے اے خدا اے خدا مانگا ہے۔( انظرنی )

۴ ۔ مہلت دینا خدا کا طریقہ کار ہے۔( انک من المنظرین )

۵ ۔ ابلیس، اپنے خالق کو بھی پہچانتا تھا کہ کہا( خلقتنی ) اور معاد کو بھی جانتا تھا اسی لئے قیامت کے دن تک کی مہلت مانگی (یوم یبعثون) لیکن ایسی معرفت کا کیا فایدہ جب اس کے فرمان پر عمل نہ کرے۔

آیت ۱۶ ۔ ۱۷

( قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْتَنِی لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیمَ - ثُمَّ لَآتِیَنَّهُمْ مِنْ بَیْنِ أَیْدِیهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَیْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلاَتَجِدُ أَکْثَرَهُمْ شَاکِرِینَ )

ترجمہ: (شیطان نے )کہا: تو چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے لہٰذا میں بھی یقینا (فریب دینے کے لئے) تیرے سیدھے راستے پر بیٹھا رہوں گا۔

پھر (تیرے) ان (بندوں) کے آگے سے یا پیچھے سے، دائیں سے اور بائیں سے ان تک آ پہنچوں گا (میرے مسلسل وسوسوں کے نتیجے میں تو ان میں سے بہترین کو شکر گزار نہیں پائے گا۔

دو نکات:

شیطان نے خدا سے اس لئے مہلت نہیں مانگی تھی کہ غلطی کی تلافی کرے، بلکہ آدم کا انتقام اولاد آدم سے لینے کے لئے مہلت مانگی تاکہ انہیں گمراہ کرے۔

حدیث میں ہے کہ شیطان نے قسم کھائی کہ اولاد آدم کے چاروں طرف گھات لگائے رکھے گا تاکہ انہیں گمراہ کر دے یا نیکی سے روکے رکھے۔ فرشتوں نے انسانوں کی ہمدردی میں خدا کی بارگاہ میں عرض کی۔ "پروردگا! یہ انسان کے پنجے سے کیسے چھٹکارا پا سکے گا؟ "اللہ نے فرمایا" اگر وہ چاروں اطراف سے انہیں گمراہ کرے گا تو دو راستے اورپر اور نیچے والے ان کے لئے کھلے ہوں گے جب بھی انسان دعا کے لئے ہاتھ کھڑے دے گا یا اپنی صورت خاک پر رکھ دے گا تو اس کے ستر سال کے گناہ معاف کر دوں گا" (از تفسیر فخر الدین رازی)

جب آدم کو شیطان کے تسلط کا علم ہوا تو خدا کی بارگاہ میں فریاد کرنے لگ گئے۔ اللہ نے فرمایا: "گھبرانے کی ضرورت نہیں میں گناہ کو اور نیکی کو اسی گناہ کروں گا۔ اور توبہ کا دروازہ بھی کھلا رکھوں گا"

(ازتفسر نورا الثقلین)

پیام:

۱ ۔ اپنی خلاف ورزیوں کی توجیہہ نہیں کرنی چاہئے جب کہ عذر گناہ بلا تراز گناہ کے میدان شیطان نے اپنے تکبر کو تو نظر انداز کر دیا اور گمراہی کی نسبت خدا کی طرف دیدی۔( اغوتنی )

۲ ۔ شیطان، انسان کا تو قسم خوردہ دشمن ہے۔( لاغوینهم ) ۵

۳ ۔ راہ مستقیم پر چلنا اور اس راہ کا تلاتر کرنا بہت مشکل ہے جس کے الھی امداد کی ضروت ہے چونکہ شیطان بروقت گھات میں ہے لہٰذا اس کے بروقت ہوشیار اور اس کے خلاف نبر آزمانا رہنے کے لئے بروقت مسلح رہنا چاہتے (لاقعدن لھم۔۔)

۴ ۔ شیطان سب کچھ سے واقف ہے۔ صراط مستقیم کو بھی جانتا ہے۔ شکر گزاروں سے بھی واقف ہے وسوسے ڈالنا بھی خوب جانتا ہے اور جارحانہ انداز سے حملے کرنے سے بھی باخبر ہے۔ (تفسیر)

یاد رہے کہ شیطان کے وسوسہ ڈالنے کے کئی راستے ہیں۔ اگر آپ ایک راسے کوبند کر دیں گے تو وہ دوسری راہ لے آ جائے گا۔ لہٰذا اچھی طرح ہوشیار اور خبردار رہنا چاہئے ہو سکتا ہے کہ اس کا آگے کی طرف سے آنے کا مقصد جاہ و مقام اور سال کے حصول کی خواہش ہو، پیچھے کی طرف یہ آنے کا مقصد اولاد اور الاتوں کی فکر ہو، دائیں طرف کا مقصد علم و عبادت کے اور سماجی خدمات کے ذریعہ وسوسے ڈالنا ہو اور بائیں جانب کے رسوخ سے مراد برائیوں اور بے حیائیوں کی طرف رغبت دلانا ہو۔ (ازتفسر المیزان)

۵ ۔ شیطان کے گھات کی تاثیر چند چیزوں کے ذریعہ سے ہوتی ہے یا گمراہ کرنے سے یا پیچھے ہٹا دینے سے یا روک دینے سے یا دل میں مختلف شکوک و شبہات اور وسوسے ڈالنے سے۔

۶ ۔ شیطان آگے کی طرف سے یوں آتا ہے کہ دنیا کو انسان کے لئے مزین کر کے پیش کر کے پیش کرتا ہے پیچھے سے یوں کہ آخرت کو فرا موش کرا دیتا ہے۔ دائیں طرف سے اس طرح کہ عبادتوں کو بوجھل اور سنگین ظاہر کرتا ہے۔ اور بائیں جانب سے اس طرح کہ گناہوں کو شیریں لذیذ اور خوشگوار انداز میں پیش کرتا ہے۔ (ازتفسیر مجمع البیان)

آیت ۱۸

( قَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْئُومًا مَدْحُورًا لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْهُمْ لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنْکُمْ أَجْمَعِین )

ترجمہ: (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: تو ذلیل و خوار ہو کر (اپنے مقام و منزلت سے) نکل جا، (میں قسم کھا کر کہتاہوں) ان میں سے جو شخص تیری پیروی کرے گا تو میں یقینا تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔

دو نکات:

ایک لمحہ کے لئے اظہار تکبر اور "( اناخیرة ) " کہنا کہ قدتباہی کا موجب بن گیا! "اھبط، اخرج" انک من الصاغرین" جیسے الفاظ انجام دے دو چار ہونا پڑا اور یہ سب حقدارتیں پستی اور ذلت ، متکبر نام پرور قربان" اس لئے کہ معذرت طبی کی اور معافی مانگنے کی بجائے ڈٹ گیا اور نسل انسانی کی گمراہی پر کمر باندھ لی۔

"مذعوم" کو اصل "ذعم" ہے جس کا معنی ہے شدید عیب اور "مدحور" کی اصل "دم" ہے جبر کا معنی ہے ذلت و رسائی کے ساتھ دھکے دیکر باہر نکال دینا۔

پیام:

۱ ۔ انسان خود شیطان کی پیروی کرتا اور جہنم کا حقدار بنتا ہے۔

۲ ۔ گمراہ اور اس قدر زیادہ ہیں کہ دوزخ جب "داھل من مزید" (اور کچھ) کا نعرہ لگائے گی تو (لاملئن) کے تحت اسے بھر دیا جائے گا، جبکہ نیک اور پاک سیرت لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جب کہ خداوند عالم فرماتا ہے: "( وقلیلا ماتشکرون ) "

آیت ۱۹

( وَیَاآدَمُ اسْکُنْ أَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ فَکُلاَمِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَلاَتَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَکُونَا مِنْ الظَّالِمِینَ )

ترجمہ: اور اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ بہشت میں جا ٹھہرو! اور جو چیز جہاں ہے اور جب چاہو کھاؤ لیکن اس درخت کے نزدیک نہ جانا کہ (اپنے اوپر) ظلم کرنے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔

دونکات:

اس جیسی آیت سورہ بقرہ میں گزر چکی ہے ملاحظہ ۳۵ ویں آیت

آیت میں مذکور نہیں تحریمی نہیں بلکہ کرایت پر مبنی تھی۔ لیکن آدم کا بلند مقام و مرتبہ اس قدر زہر و توبیخ کا موجب بن گیا یا پھر نہی ارشادی تھی کہ جس کا خبر کی خلاف ورزی کا ضبطی نتیجہ وہی نکلا جو آگے بیان ہو رہا ہے۔ جیسے کوئی ڈاکٹر بیمار کو ایک غذا سے روکتا ہے کہ اگر اسے کھائے گا تو سخت پریشان ہو گا۔ ورنہ وہ حرام نہیں ہے۔

پیام:

۱ ۔ مقام رہائش میں عورت مردکے تابع ہوتی ہے۔ (انت و زوجک)

۲ ۔ حلال راستہ ہو جانے کے باوجود (فکلا) حرام کے پیچھے جانا ظلم ہے۔( فتکو نامن الظلمین )

۳ ۔ پہلے حلال مصرف کی راہیں کھو لو پھرا نہیں اور ممنوعیت کے مقامات کی نشاندہی کرو( کلالاتقرب ) ا)

۴ ۔ گناہ کے نزدیک جانا بھی آلودگی کا موجب بن جاتاہے( لاتقربا- فتکونا )

آیت ۲۰

( فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطَانُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَا وُورِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلاَّ أَنْ تَکُونَا مَلَکَیْنِ أَوْ تَکُونَا مِنْ الْخَالِدِینَ )

ترجمہ: پس شیطان نے ان دونوں (آدم اور ان کی بیوی) کو وسوسہ میں ڈال دیا تاکہ ان کے چھپائے جانے کے مقامات کو ظاہر کرے اور کہا: تمہارے پروردگار نے اس درخت سے کھانے سے نہیں روکا مگر اس لئے کہ کہیں فرشتے بن جاؤ یا حیات ابدی حاصل نہ کر لو۔

چند نکات:

شیطان ان کے دل میں یہ وسوسہ ڈال رہا تھا کہ اس درخت سے کھانے سے وہ فرشتے بن جائیں گے یا اور زندگی کے حاصل ہو جائیں گے، اور چونکہ خدا یہ نہیں چاہتا کہ تم اس مقام و منزلت تک جا پہنچو لہٰذا تمہیں اس سے روک دیتا ہے۔

وہ درخت کونسا تھا جس کے قریب جانے سے انہیں روک دیا گیا تھا؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے بعض حضرات کہتے ہیں کہ گندم کا پودا تھا، اور نباتات پر بھی " شجرہ " کا لفظ بولا جاتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "شجرة من لقطین" (کدو کا درخت) حالانکہ وہ تو پودا بھی نہیں ہوتا بلکہ اس کی بیل ہوتی ہے لیکن چونکہ نباتات ہے اس لئے اسے "شجرہ" کہا گیا۔

بعض حضرات نے اس درخت سے "حسد" کی خصلت مراد لی ہے۔

تو ریت نے شجرہ سے "علم و معرفت کا درخت" مراد لیا ہے (جو ندات اس کی تحریف کی دلیل ہے، اس لئے کہ خداوند متعال انسان کو علم و معرفت سے نہی نہیں کرتا ہے اگرچہ پورے کلام پاک میں یہ ماجرا چھ مرتبہ بیان ہوا ہے لیکن کہیں پر بھی اس درخت کی تعین نہیں کی گئی۔

پیام:

۱ ۔ شیطان تو انبیاء تک کو بھی نہیں چھوڑتا۔( لهما )

۲ ۔ شیطان کا آخری حربہ وسوسے پیدا کرنا ہوتا ہے کسی کو مجبور کرنا نہیں ہو گا۔ رہنمائی کرنا ہے مداخلت نہیں۔( فوسوس )

۳ ۔ گناہ کے ارتکاب اور خلاف ورزی کا نتیجہ رسوائی ہوتا ہے۔( لیبدی )

۴ ۔ پر دے اتارنا اور جنسی مسائل کو نمایاں کرنا انسان کی راہ پر شیطان کے بچھائے جانے والے جال اور اس کی دلی آرزو ہے۔( لیبدی )

۵ ۔ احکام الٰہی کی خلاف ورزی کے لئے غلط توجیہات اور فلسفہ آرائی ممنوع ہے۔( مانها کماربکما ) ۔)

۶ ۔ انسانی آرزؤوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بے غم، بے فکر اور سکون کی فضا میں زندگی گزارے۔( ملکین )

۷ ۔ ہمیشہ کے لئے اور زندگی جاودانہ سے محبت پر انسان کو ہے۔( خالدین )

۸ ۔ انسانی آرزؤوں کے راستہ ہی سے شیطان کو داخل ہونے کام وقعہ ملتا ہے۔( تکونامن الخالدین )

۹ ۔ شیطان انسان کو گناہ پر آمادہ کرنے کے لئے اس کی فکری اس کے اندر ثقافتی اور تعلیمی راہوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔( تکونا من الخالدین )

آیت ۲۱

( وَقَاسَمَهُمَا إِنِّی لَکُمَا لَمِنْ النَّاصِحِینَ )

ترجمہ: اور شیطان نے (اپنے وسوسے کو موثر بنانے کے لئے) ان دونوں کے قسم کھائی کہ یقین جانو میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔

چند نکات:

سب سے پہلی جھوٹی قسم شیطان نے کھائی۔

قرآن مجید کے بقول منافقین ہی جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو سورہ توبہ آیات ۴۵۶ ۔ ۶۲: ۷۴ ۔ ۱۰۷)

جو ہمیشہ یا اکثر و بیشتر قسمیں کھاتا رہتا ہے وہ قیادت اور رہبری کے لائق نہیں ہے ملاحظہ اہو سورہ قلم ۱۰ اور لاتطع کل حلاف مھین"

پیام:

۱ ۔ جھوٹی قسمیں کھانا، شیطانی کام ہے( قاسمها )

۲ ۔ ہر قسم پر اعتماد نہیں کر لینا چاہئے( قاسمها )

۳ ۔ دشمن ہمارے عقائد سے اپنے مفادات اٹھانے کی کوشش کرتا ہیے( قاسمهما )

۴ ۔ خیر خواہلی کے بلند بانگ دعوے اور نعرے ہی دشمن کے ہمارے اندر درآنے کے موجب ہوتے ہیں۔( لمن لناصحین ) ۶

آیت ۲۲

( فَدَلاَّهُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَکُمَا عَنْ تِلْکُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَکُمَا إِنَّ الشَّیْطَانَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُبِینٌ )

ترجمہ: پس شیطان نے ان دونوں (آدم اور ان کی زوجہ) کو دھوکہ دیا (اور انہیں مقام و مرتبہ سے نیچے گرا دیا) پس جونہی انہوں نے (ممنوعہ) درخت سے چکھا (انکا الباس گر پڑا اور) شرمگاہیں ان کے لئے نمایاں ہو گئیں۔ اور اپنے آپ کو جنت کے پتوں سے چھپانے لگے۔ اور ان کے رب نے انہیں آواز دی: آیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہیں روکا تھا۔ اور نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارے لئے کھلم کھلا دشمن ہے؟

چند نکات:

"دلی" کا لفظ "تدلیة" سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے" نزدیک کرنا" اور یہ ڈول اور رسی کی طرف اشارہ ہے کہ جب پانی کے حصول کے لئے اسے کنویں میں چھوڑا جاتا ہے۔ اور پھر کھینچا جاتا ہے۔ گویا شیطان نے دھوکے کی رسی سے آدم کو فریب کے کنویں کے قریب کر دیا۔

"یخیصفان" لفظ "خصف" سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے سینا، ٹانکنا، جوڑ لگانا۔

آدم و حوا کے بارے میں اللہ نے "( ناداهما ) " فرمایا ہے جس کا معنی ہے انیس دورے پکارا، گویا ممنوعہ درخت سے کھانے کے بعد وہ قریب خداوندی سے دور ہو گئی۔

پیام:

۱ ۔ زن و مرد دونوں میں ہمیشہ شیطانی وسوسوں کے تیروں کی زد میں ہیں۔( دلاهما )

۲ ۔ شیطان کا حربہ دھوکا اور فریب ہی ہے( بغرور )

۳ ۔ شیطانی چالیں ایسی ہوتی ہیں جیسے گناہ کے کنویں میں سقوط کے لئے رسی ہوتی ہے( دلاهما )

۴ ۔ گناہ کے ارتکاب میں کم یا زیادہ کو نہیں دیکھا جاتابلکہ جسارت اور گستاخی کو دیکھا جاتا ہے۔( ذاقا )

۵ ۔ عریانی برائی اور چھپا رہنا شرافت ہے اور دونوں انسانی فطرت میں شامل ہیں۔( طفقا یخصفان )

۶ ۔ عریانی ایک الٰہی سزا ہے (نہ کہ فیشن وار تمدن و ترقی کی علامت)

۷ ۔ ہر شخص کے ساتھ اس کے مرتبہ اور حسب حال بات کرنی چاہئے۔ (آدم جو کہ خد کے مخاطب تھے۔ ممنوعہ درخت سے کھا لینے کے بعد اپنا مقام گنوا بیٹھے۔ اور "خطاب" کی بجائے داندا "اے نورزے گے۔ اور "ھذہ الشجرہ" کے بجائے "تکلما الشجرة" کہا گیا۔

۸ ۔ اور ابلیس نے انسان پر سب سے پہلا جو وار کیا وہ یہی کہ اس کا پردہ اتروا دیا۔

۹ ۔ باوجودیکہ شیطانکی دشمنی حکم کھلا، واضح‘ آشکار اور الم نشرح ہے، لیکن انسان کے اس خطرات غافل ہے۔( الم اقل- عدومبین )

۱۰ ۔ ممنوع لقمہ اور بے مقصد اخراجات عریانی کا موجب ہیں اس لئے کہ عریانی اور اقتصاد کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔( ذاقا الشجرة بدتلهما، سورهتهما )

۱۱ ۔ عریانی بری شے ہے خواہ اپنے محرم اور زن و شوہر کے سامنے بھی ہو،( سوئاتهما )

۱۲ ۔ چھپانا لازمی ہے جیسے بھی ہو اور جہاں بھی ہو۔( ورق الجنة )

آیات ۲۳

( قَالاَرَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنْ الْخَاسِرِین )

ترجمہ: (آدم و حوا نے) کہا خداوندا! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اگر تو ہمیں بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو یقینا خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔

ایک نکتہ:

شیطان اور آدم میں یہی فرق ہے کہ شیطان نے اپنے سجدہ نہ کرنیکی نافرمانی کے بارے میں خدا کے عدل اور کرم کی حکمت پر اعتراض کیا، تکبر کا مظاہرہ کیا، غرور کااظہار کیا، اپنی غلطی پر ڈٹ گیا، قوم پرستی کو فروغ دیا، پشیمانی کا اظہار نہ کیا۔ لیکن آدم نے اپنی اور اپنی بیوی کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا، اپنی بخشش کا خدانے تقاضا کیا۔ اور یہ نہیں کہا کہ "تو ہمیں بخش دے "بلکہ کہا: اگر نہیں بخشے گا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہونگے۔

پیام:

۱ ۔ ہر قسم کی خلاف ورزی اپنے اور ہر ظلم ہوتا ہے ۔ (کیونکہ خدا کے فرمان کی مخالفت، حقیقی سعادت اور ارتقاء بشریت کی مخالفت ہوتی ہے)

۲ ۔ بخش دیا جاتا، قہر خداوندی سے نجات مل جاتا ہے۔( وان لمتغفرلنا و ترحمنا ) ۔

۳ ۔ آدم و حوا جس طرح خلاف ورزی میں شریک تھے اسی طرح گزشتہ کی تلافی اور عزر خواہی میں بھی شریک تھے۔( ذاقا- قالاربنا )

۴ ۔ تاریخ شریت میں سب سے پہلی خواہش غفور ورحمت الٰہی کا تقاضا ہے۔( وان نم تغفرلنا )

۵ ۔ گناہگاروں کا سب سے اہم مسئلہ خدا کی مغفرت ہے اس کے بعد باقی درخواستیں۔( تغفرلنا و ترحمنا )

۶ ۔ خداوند عالم کے ایک لمحہ کی رحمت اور عنایت ابدی اور دائمی خساروں کے آگے بند باندھ دیتی ہے۔( خاسرین )

آیت ۲۴ ۔ ۲۵

( قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَلَکُمْ فِی الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَی حِینٍ - قَالَ فِیهَا تَحْیَوْنَ وَفِیهَا تَمُوتُونَ ) ( وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ )

ترجمہ: اللہ نے فرمایا: نیچے اتراو! تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے اور ایک (مقررہ) مدت تک تمہارے لئے زمین میں ٹھکانہ اور فائدہ اٹھانے کے ذریعہ ہو گا۔

فرمایا: اسی زمین ہی میں سے زندگی گزرو گے اسیمیں مرو گے اور (قیامت کے دن حساب و کتاب کے لئے) اسی سے نکالے جاؤ گے۔

دو نکات:

بالکل یہی آیت سورہ بقرہ میں گزر چکی ہے، ملاحظہ ہو ۳۷ ویں آیت۔

اگرچہ خداوند نے آدم و حوا کی توبہ قبول کر لی "( فتاب علیه ) " بقرہ ۳۷ لیکن خلاف ورزی کا ایک طبعی اثر ہوتا ہی ہے اور اس نافرمانی کا طبعی اثر بہشت سے خروج اور زمین پرنزول ہو گا۔

پیام:

۱ ۔ خلاف ورزی کے طبعی اثر سے فرار ناممکن ہے۔( اهبطوا )

۲ ۔ بسا اوقات والدین کی خلاف ورزی کا اثر اولاد بلکہ نسلوں کے ہوط و سقوط میں بھی ہوتا ہے۔

۳ ۔ دنیا، تنازع، چپقلش، گیردار اور تضاد کا گھر ہے اور اور انسان اپنے مفادات کے حصول اور غرائز کی تسکین کے لئے آپس میں دست و گریبان رہتے ہیں۔( بدضیکم بعض عدو )

۴ ۔ دنیاوی زندگی اور اس کے فوائد و منافع ابلا نہیں ہیں۔( الی حین )


آیت ۲۶

( یَابَنِی آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُوَارِی سَوْآتِکُمْ وَرِیشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَی ذَلِکَ خَیْرٌ ذَلِکَ مِنْ آیَاتِ اللهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّکَّرُونَ )

ترجمہ: اے اولاد آدم! یقینا ہم نے تمہارے لئے بکا سر اتارا ہے تاکہ تمہاری عریانی کی برائی کو بھی چھپائے اور تمہاری زینت بھی ہو۔ لیکن تقویٰ کا لباس بہتر ہے۔ یہ خدا کی نگاہوں میں سے ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

دو نکات:

حضرت آدم کی داستان بیان کرنے کے بعد چار مقامات (اس آیت میں اور آیت ۲۷ ، ۳۱ ، ۳۴) پر بنی آدم کو خطاب کرتے ہوئے کلی سفارشوں سے نوازا ہے جن کا تعلق عالم انسانیت سے ہے، مثلاً تدبیر تقوی کی حفاظت، شیطان کے فریب میں نہ آنا۔ اسراف نہ کرنا، کھانے، پینے، اور پہننے کی چیزوں میں سے فضول خرچہ سے بچنا اور انبیاء کی دعوت کو تسلیم کرنا وغیرہ۔

"درویش" کا ابتدائی معنی تو پرندوں کے ہر میں جو ان کے لباس کا کام بھی دیتے ہیں۔اور ان کی زینت کا ذریعہ بھی۔ اور جو لباس انسان کی زینت و آرائش کا سبب بنے اسے "ریش" کہا جاتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ نعمتوں کی طرف توجہ خدا کے ساتھ محبت اور اس کی بندگی کا موجب ہوتی ہے۔ (تمام آیت کو غور سے پڑھیں)

۲ ۔ مادی نعمتوں سے تمام لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں( بنی آدم ) لیکن معنوی نعمتوں سے صرف شائستہ پرہیز کار ہی بہرہ مند ہوتے ہیں۔( لباسا- لباس التقوی )

۳ ۔ تمام نعمتیں خدا کے غیبی خزانوں سے انسان کے لئے آ موجود ہوتی ہیں ۔( انزلنا علیکم ) اور ان کا خزانہ خدا کے پاس ہے۔ ۸ اور وہ اندازے اور اپنی حکمت کیمطابق نازل کرتا ہے۔ پس تمام نعمتیں مقام ربوبیت سے ہی نازل ہوتی ہیں۔( انزلنا )

۴ ۔ لباس کا اسی وقت نعمت ہے جب بدن کو بھی چھپائے۔( یواری )

۵ ۔ لباس پہنانا خدا کا کام ہے( انزلنا علیکم لباسا ) اور برہنہ کرنا شیطان کا کام ہوتا ہے۔( فوسوس- لیبدی لهما ماوری عنهما من سوا تهما )

۶ ۔ لباس پہننا نعمت ہو اور اس کا اتار لینا سزا ہے( فلماذا اقالشجرة بدت لهما سوء اتهما ) ۔

۷ ۔ جب تک اسراف کے زمرے میں نہ آ جائے اس وقت تک خوبصورت لباس سے زینت وار آرائش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔( ریشا )

۸ ۔ تقویٰ کا بھی زینت و زیبائش کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ (ریشاولباس و تقوی) گویا لباس تقویٰ کے ساتھ اچھا لگتا ہو اگر تقویٰ سے ہٹ کر لباس اختیار کیا جائے تو وہ اسراف تکبر، فساد، خود نمائی، فیشن، رشوت دانی، استعمار، کفار کی جیبیں بھرنے اور بے جا مصرف کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

۹ ۔ مادیت کے ساتھ معنویت کا ہونا بھی ضروری ہے۔( لباسا- لباس التقویٰ ) ۹

۱۰ ۔ جس طرح مادی لباس عیبوں کا چھپاتا ہے۔ سردی گرمی سے بچاتاہے، زیبائی کا سبب بنتا ہے۔ اسی طرح تقویٰ بھی عیبورہ کے چھپانے، گناہوں سے بچانے اور معنوی حسن عطاکرنے کا سبب ہوتا ہے۔

۱۱ ۔ زمین سے گھاس اگتی ہے زمین سے ہی اگنے والی گھاس کو جانور چرتاہے اور اس سے پشم حاصل کی جاتی ہے اور کیڑے کی لعاب سے ریشم بنتی ہے یہ سب خدا کی آیات ہیں۔( ذلک من آیاتِ اللّٰه )

آیت ۲۷

( یَابَنِی آدَمَ لاَیَفْتِنَنَّکُمْ الشَّیْطَانُ کَمَا أَخْرَجَ أَبَوَیْکُمْ مِنْ الْجَنَّةِ یَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْآتِهِمَا إِنَّهُ یَرَاکُمْ هُوَ وَقَبِیلُهُ مِنْ حَیْثُ لاَتَرَوْنَهُمْ إِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِینَ أَوْلِیَاءَ لِلَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔

ترجمہ: اے فرزندانِ آدم: کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں دھوکہ دے جس طرح کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکال دیا تھا۔ (جبکہ درخت کے وسوسہ میں) ان سے لباس اتروا دیا تاکہ ان کی شرمگاہ انہیں دکھائے ۔ یقینا شیطان اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھ رہے ہیں جہاں سے تم انہیں دیکھ رہے۔ یقین جانو کہ ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لائے۔

دونکات:

اس سے پہلی آیت میں لباس کو نعمت کے عنوان سے ذکر کیا ہے اور یہاں خبردار کرتا ہے کہ ہوشیار رہنا کہ شیطان کہیں تم سے یہ لباس اور نعمت نہ طلب کر لے۔

شیطان اگرچہ اہل ایما ن کے دلوں میں سے وسوسے ڈالتا ہے اور انہیں بھی گمراہ کرنے کوشش کرتا ہے، لیکن ان پر اس کا پورا تسلط اور ولایت نہیں ھے۔ اس لئے کہ مومن خدا نے توبہ کر کے اسی کے حضور پناہ لیتا ہے اور کافر کا چونکہ کوئی ایسا ٹھکانہ اور اس کے لئے جائے پناہ نہیں ةے لہٰذا اس پر پوری طرح مسلط ہے۔

پیام:

۱ ۔ ہر قسم کا پروپیگنڈا جو عریانی کا سبب بنے شیطانی کام ہے۔( الفیتنکم )

۲ ۔ ان کے جسم سے ضروری چھپائے جانے ولاے مقامات کا کھلا رکھنا بے ایمانی اور شیطانی تسلط کی علامت ہے( ینزع عنهما لباسهما- لایوٴمنون )

۳ ۔ عریانی، قرب خداوندی سے دور کر دینے کا موجب ہے( اخرج ابویکم- ینزع عنهما )

۴ ۔ حضرت آدم جو کہ مسجود الملائکہ تھے، شیطان کے پھندے میںآ گئے نہیں تو زیادہ ہوشیار رہنا چاہئے۔( اخرج ابویکم-- )

۵ ۔ شیطان اکیلا نہیں ہے، اس کے ٹولے ہیں، آلہ کار ہیں، ایجنٹ ہیں جو ہر وقت آپ لوگوں کی تاک میں رہتے ہیں۔( قبیله -یراکم ) ۔ ۱۰

۶ ۔ چونکہ تم شیطان کو نہی دیکھ سکتے اس لئیے تیار نہیں رہ سکتے ہو اور غفلت کا شکار ہو جاتے ہو۔( اثرونهم )

۷ ۔ شیطان اس لئے فریب میں جکڑلیتا ہے کہ نظر نہیں آتا۔ لہٰذا زیادہ سے زیادہ خبردار رہو( لایفتنکم لاترنهم )

۸ ۔ شیطان نظر نہیں آتا لیکن اس کا دائرہ کا رہر ایک کو نظر آتا ہے۔ (مثلا غصے کا موقعہ، فیصلہ کرنے کا وقت، نامحرم عورت کے ساتھ خلوت کا موقع) ۱۱

۹ ۔ شیطان کا تسلط، انسان کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔( اولیاء للذین لایوٴمنون ) ۱۲

آیت ۲۸

( وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَیْهَا آبَائَنَا وَاللهُ أَمَرَنَا بِهَا قُلْ إِنَّ اللهَ لاَیَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ أَتَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ )

ترجمہ: اور جب وہ کوئی برا کام کرتے ہیں تو (اس کی توجیہ میں) کہتے ہیں: ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو اسی حالت میں پایا ہے۔ اور خدا نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ تو (اے پیغمبر ! آپ) کہہ دیجئے خدا قطعا برائی کا حکم نہیں دیتا۔ تو جس چیز کو نہی جانتے ہو اس کی نسبت خدا کی طرف دیتے ہو؟

دونکات:

یہ آیت عریانی سے متعلق ہے خصوصاً طواف کی حالت جس کا زمانہ حاہلیت میں رواج تھا۔

بدکار لوگ پیروی تو اپنے باپ دادوں کی کرتے ہیں لیکن اپنے شرک کی نسبت خدا کی طرف دیتے ہیں۱۳

اور سمجھتے ہیں چونکہ خدا نے انہیں مہلت دی ہوئی ہے لہٰذا ان کی برائیوں اور بدکاریوں پر بھی راضی ہے، یا نہیں اس کا حکم دیا ہے۔

پیام:

۱ ۔ عذر گناہ بدستر ازگناہ خواہ مذہبی عذر تراشا جائے (کہ خدا نے اس کا حکم دیا ہے) یا معاشرتی اور سماجی (کہ ہمارے دادے پڑدادے ایسے تھے۔)

۲ ۔ بعض اعمال اس قدر فاسد وار برے ہوتے ہیں اور ان کی برائی اس قدر فطری اور روشن ہے کہ انہیں "فحشاء" کہا جاتا ہے۔

۳ ۔ گمراہی تو آنے والی نسلوں میں بھی منتقل ہو جاتی ہے۔( آبائنا )

۴ ۔ گمراہ لوگ آئندہ نسلوں کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پرلیتے ہیں۔

۵ ۔ گزشتہ لوگوں کا طریقہ کار ہمیشہ قابل فخر نہیں ہوتا۔ اور سابقہ لوگوں کی تقلید ناجائز ہے۔

آیت ۲۹

( قُلْ أَمَرَ رَبِّی بِالْقِسْطِ وَأَقِیمُوا وُجُوهَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوهُ مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّینَ کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ )

ترجمہ: کہہ دیجئے کہ میرے رب نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے اور (نماز کے وقت) ہرمسجد میں اپنے چہرے اسی کی طرف سیدھے کر لو اور اپنے دین کو خالص بنتے ہوئے اسے پکارو اجر حرام اس نے تمہیں آغاز میں پیدا کیا ہے اسی طرح تم پلٹ جاؤ گے۔ ۱۴

دو نکات:

"( قسط ) " "امتیازی سلوک" کے مقابلے میں ہے یعنی ہر شخص کو جو اس کا حق بنتا ہے دیا جائے نہ کہ کسی دوسرے کو۔

اس آیت میں متعدد موضوعات بیان ہوئے ہیں۔ مثلا "ترصبیت" (ربی) "عدل و انصاف"( قسط ) "عبادت"( اقیموا ) "جماعت"( وجوهکم ) "وحدت"( مسجد ) "دعوت"( وادعوه ) "نقطہ نظر"( مخلصین له ) ’معاد"( تعودون )

پیام:

۱ ۔ انبیاء، قسط و عدل کے لئے مامور ہیں( امرربی )

۲ ۔ مسجد ، صدق و صفا اور اخلاص کا مرکز ہے ترک و ریاکار نہیں۔( اقیموا- مسجد، مخلصین )

۳ ۔ اللہ تعالی نیک کاموں کا حکمدیتا ہے،( امر ربی بالقسط ) اور برائیوں سے روکتا ہے، "لایامر بالفحشاء کی جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حسن اور قبائح عقلی ہیں یعنی عقلی طور پر چیزیں اچھی یا بری ہیں۔ اور ایسا نہیں ہے کہ خدا جو کام چاہے انجام دے حتی کہ اگر چاہے تو انبیاء کو دوزخ میں بھیج دے (یایزید اور یزید جیسوں کو بہشت میں۔ از مترجم)

۴ ۔ نماز کے ساتھ ہی ساتھ امتیازی سلوک سے روکنے کا تذکرہ ہوا ہے، گویا نماز وہی قبل قدر ہوتی ہے جو عدل و قسط کی فضا میں ہو۔( قسط اقیموا )

۵ ۔ صحیح تربیت عادلانہ نظام ہی میں ممکن ہے۔( ربي بالقسط )

۶ ۔ عدل و انصاف اور قسط، خدائی راستہ ہے۔ اپنے باپ دادوں کے مشرکانہ افکار کے بجائے دل کے ساتھ اس کی بارہ میں آ جاؤ۔

۷ ۔ قیامت کے دن خالص عبادت جو شرک دور کرکے انجام دی گئی ہو کام آئے گی۔( مخلصین - تعودون )

۸ ۔ معاد پر ایمان قسط اور عمل میں اخلاص کا باعث ہوتا ہے( کمابدأ کم تعودون )

۹ ۔ معاد جسمانی ہے جس طرح تماہرے اندر غذا کے راستے خاکہ کے والے جمع ہو چکے ہیں۔ اسی طرح تمہاری گلی سڑی ہڈیاں بھی جمع ہو جائیں گی۔( کما بدا کم تعودون ) جب اللہ نے تمہیں ایک خلئے اور ایک سپرم سے پیدا کیا ہے قیامت کے دن وہی تمہارے بقایا جات کو بھی زندہ کرے گا، وہی قدرت باقی ہے۔

آیت ۳۰

( فَرِیقًا هَدَی وَفَرِیقًا حَقَّ عَلَیْهِمْ الضَّلَالَةُ إِنَّهُمْ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِینَ أَوْلِیَاءَ مِنْ دُونِ اللهِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ ) ۔

ترجمہ: (اللہ تعالی نے) ایک فریق کو ہدایت فرمائی اور ایک فریق کیلئے گمراہی حق بن گئی۔ کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیطانوں کو اپنا سر پرست بنا لیا۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہدایت یافتہ ہیں۔

پیام:

۱ ۔ انسان کو آزاد ہے چاہے تو خدا کی ولایت کو تسلیم کر کے اس کا تابع فرمان بن جائے اور رہ راست پر گامزن رہے اگر چاہے تو شیطان کی سرپرستی کو قبول کرے۔

۲ ۔ ہدایت کرنا خدا کا کام ہے لیکن گمراہی ہمارے اپنے غلط انتخاب سے ہوتی ہے۔( اتخذووالشیطین )

۳ ۔ گمراہ لوگوں کا نظریہ حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا۔( یحسبون انهم )

۴ ۔ شیطانی وسوسے تو قابل علاج و تلافی ہوتے ہیں ۔۱۵

لیکن خدا سے کٹ کر شیطان کی ولایت میں چلے جانا ناقابل تلافی ہے۔( حق علیهم الضلالة )

۵ ۔ غلط سوچ اور بے جا نظریہ قائم کرنا یہ گمراہی سے بدتر ہے۔ (گمراہ ہونے کے باوجودخود کو راہ ہدایت پر سمجھنا( ویسبونانهم مهتدون ) ۱۶

آیت ۳۱

( یَابَنِی آدَمَ خُذُوا زِینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَکُلُوا وَاشْرَبُوا وَلاَتُسْرِفُوا إِنَّهُ لاَیُحِبُّ الْمُسْرِفِینَ ) ۔

ترجمہ: اے اولاد آدم! یہ مسجد کا وقت (نماز کے لئے اپنے لباس اور زینت اختیار کیا کرو۔ اور کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو۔ بے شک خدا اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

دو نکات:

یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جن آیات میں (پانی آدم) کے ساتھ خطاب کیا جا رہا ہے ان کے مطالب کا تعلق تمام ادیان کے اور سب کے مشترکات سے ہو۔

قرآن نے مال اور اولاد کو بھی "زینت" کہا ہے اور اس آیت کی مراد شاید یہ بھی ہو کہ مسجد جاتے وقت انہیں بھی ساتھ لے لیا کرو۔ تاکہ مال کے ذریعہ مسلمانوں کے اقتصادی مشکلات میں ہاتھ بٹا سکو اور اولاد کو مسجد میں لے جا کر آنے والی نسلوں کی تربیتی مشکلات کو حل کر سکو۔ اور یہ اشارہ بھی لیا جا سکتا ہے "اول نماز بعد طعام"

پیام:

۱ ۔ مسجد چونکہ مسلمانوں کا دینی مرکز ہے لہٰذا اسے آراستہ ، مرتب، منظم اور پرکشش ہونا چاہئے عبادت اور خوبصورتی وزیبائی آپس مخالف نہیں ہیں۔( خذواز ینتکم )

۲ ۔ اسلام نے باطن کو بھی پیش نظر رکھا ہوا ہے "فی صلٰوتھم خاشعون" اور ظاہر بھی اس کے نظر ہے۔( زینتکم عندکل مسجد )

۳ ۔ بہترین لباس، بہترین حکام کے لئے ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت امام حسن مجتبی ایسا ہی کیا کرتے تھے اور اسی آیت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔

۴ ۔ زینت کو اپنے ہمراہ مسجد میں لے جانا خدا، عبادت، وقت اور واقف کے احترام کے مترادف ہے۔ اور دوسرے لوگوں کے مسجد و عبادت گاہ کی طرف آنے کے لئے باعث کشش اور عملی طور پر رغبت دلانے کا موجب ہے۔

۵ ۔ زینت کی اگرچہ فراد کی نماز میں بھی بڑی اہمیت ہے لیکن اجتماعی عبادت میں تو اس کا اپناخاص مقام ہے۔( عندکل مسجد )

۶ ۔ اسلام آئین فطرت ہے اور انسان زینت سے لذت اٹھاتا ہے۔

۷ ۔ حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں: "مسجد کی زینت امام عادل ہے" (ازتفسیر نوراثقلین)

۸ ۔ زینت کو مسجد میں لے جاؤ لیکن جوتے باہر اتارو ایک اور آیت میں ہے "( فاخلع نعلیک ) " (طہ ۱۱)

۹ ۔ اخراجات محدود انداز میں ہونے چاہیئں، کفایت شعاری خدا کو پسند ہے، مال جو کہ انسان کے ہاتھوں میں اللہ کی ایک امانت ہے اس سے ضرور فائدہ اٹھایا جائے لیکن اسراف کے پرہیز کیا جائے۔ (تفسیر صافی میں مذکور امام صادق کی حدیث کا ایک مضمون)۔

۱۰ ۔ زینت اور غذا سے بہرہ اندوزی قسط و عدل کے تقاضوں کے مطابق اور اسراف سے ہٹ کر ہولی( پہلی آیت میں رہ ہو چکا ہے)

۱۱ ۔ غذا میں اسراف اور پرخوری بہت بیماریوں کا سبب ہے جن میں جسمانی بیماریوں کے علاوہ سنگدلی اور عرفان کے مزے سے لطف اندوز ہونے کی محرومی بھی ہے۔ ۱۷

۱۲ ۔ زینت اور طعام سے استفادہ ایک طبعی اور فطری قانون ہے لیکن خاص معاشرتی حالات اور معاشرت کے ضرورت مند اور محروم طبقات کی موجودگی میں ان کی ضروریات کا بھی خاص خیال رکھا جائے اور ان کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کی جائے۔ حضرت امام جعفر صادق کا لباس ایرا لمومنین کے لاس سے مختلف تھا۔ اس لئے ہر ایک معصوم کے دور کے معاشرتی حالات مختلف تھے۔ ۱۸

آیت ۳۲

( قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِینَةَ اللهِ الَّتِی أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّیِّبَاتِ مِنْ الرِّزْقِ قُلْ هِیَ لِلَّذِینَ آمَنُوا فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ) ۔

ترجمہ: کہہ دو کہ کس نے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کی ہے اور دلپسند اور پاکیز ہ رزق کو اپنے اوپر بغیر کی دلیل کے حرام قرار دیا ہے۔ کہہ دو کہ یہ نعمتیں دنیوی زندگی میں مونین کے لئے ہیں (اگرچہ کفار بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔)

اور قیامت کے دن (آخرت میں) مومنین کیلئے مخصوص ہیں۔ اسی طرح ہم رہنما آیات کو ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔

چند نکات:

یہ آیت انسان کے زینت کو حلال قرار دے رہی ہے۔ قرآن مجید نورِ آسمان کی ستاروں کے ساتھ زینت کو بھی انسانوں کے لئے بیان کر رہا ہے۔ فرماتا ہے "( زیناها للناظرین ) " (حجر ۱۶) ہاں البتہ انسان کی زینت کے محبت اسے ہلاکت اور تباہیوں کے گڑھوں میں نہ پھینک دے اگر زینت لے استفادہ کرنا چاہتا ہے توآئے، صحیح اور مناسب طریقوں سے فائدہ اٹھائے۔ قرآن مجید عورت کی زینت کو سوائے اپنے شوہر کے حرام سمجھتا ہے ارشاد ہو رہا ہے: "( لایبدین زینتهن الا لبعولتهن ) " (لفد ۳۱)

عتان بن مظعون حضرت رسول کی خدمت میں حاضرہوئے اپنے عزائم پیغمبر کی خدمت میں بیان کئے کہ مردانہ لزتوں کو خیرباد کہہ کہ راہب بننا چاہتا ہے اور بیوی عطریات اور معاشرہ وسماج کو چھوڑ چھاڑ کر جنگل کا رخ کرنا چاہتا ہے!

آنحضرت نے اسے اس کام سے سختی سے روکا اور ارشاد فرمایا: "اپنی شہوت پر کنٹرول کرنے کے لئے روزے رکھو، رہبانیت اختیار کرنے کی بجائے مسجد چلے جاؤ اور جنگلوں بیابانوں کی خاک چھاننے کی بجائے محاذ جہاد میں شرکت کرو اپنی عورت اور خوشبو کے فائدہ اٹھاؤ، اپنے مال میں سے غریبوں کو دو، یہ ہے میرا دین اور میری شریعت اور جواس سے منہ موڑے گا اور تبہ نہیں کرے گا فرشتے اے حوض کو تدبیر آنے سے روک دیں گے۔ (ازتفسیر فخررازی)

عاصم بن زیاد نے بھی یہی تہہ کر لیا تھا، اس طرح سے اس نے اپنی زندگی میں تبدیل کر لینے کی ٹھان لی اورجلال اور لذت سے کنارہ کشی پر تل گیا۔ حضرت علی نے اس کے اس طرز فکر کی سخت مذمت کی، اس نے کہا تو پھر آپ یوں اس قدر سادہ ترین زندگی گزار رہے ہیں؟

حضرت نے فرمایا: "میں امام اور رہبر ہوں اور اللہ تعالی نے ائمہ اور رہبروں کے لئے لازم قرار دے دیا ہے کہ اپنی سطح زندگی ملک کے غریب بے غریب افراد کی سطح زندگی پر رکھیں اور دوسروں کے رنج و غم میں شریک رہیں۔" (نہج البلاء حکمت ۲۸۴)

پیام:

۱ ۔ اسلام ریاکارانہ زہد، رہبانیت اور تقدس نمائی کے مخالف ہے۔( من حرم )

۲ ۔ خدا تک پہنچنے کا رستہ یہ نہیں ہے کہ انسان حلال اور پاکیزہ چیزیں بھی ترک کر دے، بلکہ ان کے ذریعہ سے گناہوں کا ارتکاب نہ کرے۔

۳ ۔ اسلام ، فطری تقاضوں کے ہم آہنگ اور معتدل آئین کا ہم خوا ہے اسی کے پاس فطری تقاضوں کا مثبت جواب اور جواز موجود ہے۔ مفید کو حلال اومضر کو ناجائز اور حرام قرار دیتا ہے۔( من حرم- اخرج لعباده )

۴ ۔ ہر چیز کے لئے اصل یہ ہے کہ مباح ہے مگر جب اس کی حرمت پر کوئی خاص دلیل موجود ہو۔( من حرم ) یقینا مسلمان کی ہر حالت میں جیت ہی جیت ہے کیونکہ وہ دنیا میں لذتوں اور پاکیزہ چیزوں سے اسی طرح بہرہ ور ہیں جس طرح کوئی غیر مسلم، جبکہ آخرت میں صرف مسلمان ہی بہرہ مند ہوں گے کافر محروم رہیں گے۔ اورہار جائیں گے۔

۵ ۔ اپنے آپ کو لذتوں سے محروم نہ کرو، بلکہ انہیں خدائی طریقوں اور شرعی حدود میں لا کر ان سے فائدہ اٹھاؤ۔( من حرم )

قرآن مجید میں ہے "( اناجعلنا ماعلی الارض زینة لها لنبلوهم ایهم احسن عملا ) " جو کچھ کہ روئے زمین پر ہے ہم نے اس کی زینت قرار دیا ہے ۔ تکاہ ہم اس بات کی آزمائش کریں کہ ان میں سے کس کے عمل سب سے بہترین۔ (کہف ۷)

آیت ۳۳

( قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّی الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَأَنْ تُشْرِکُوا بِاللهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَنْ تَقُولُوا عَلَی اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ )

ترجمہ: (اے پیغمبر !) کہہ دو کہ صرف میرے رب ہی نے ظاہری اور باطنی برائیوں کو گناہ کو لوگوں کے حق پر ناجائز تجاوز کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور خدا کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک قرار دینے کو جس کی حقانیت پر کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ اور جو کچھ نہیں جانتے اے خدا کیطرف نسبت دے یہ سب کچھ حرام قرار دیا ہے ۔

چند نکات:

"فواحش" جمع ہے "فاحشہ" کی اور وہ ایسا گناہ ہے کہ جس کی برائی ہر ایک پر آشکار ہوتی ہے جیسے آتا ہے، چونکہ زمانہ جاہلیت میں چھپ کر زنا کرنے کو جائز سمجھتے تھے لہٰذا اس آیت نے اس کی حرمت کی دونوں صورتوں میں تاکید کر دی ہے۔( مابطن )

"( اثُم ) " وہ گناہ ہوتا ہے جس کے ارتکاب سے انسان پستی میں جا گرتاہے۔

"یعنی دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کا نام ہے۔ اور اس آیت میں اعتقاد سے اور زبان سے تعلق رکھنے والے گناہوں کی ایک مختصر فہرست موجود ہے۔

ُپیام:

۱ ۔ خداوند عالم کی طرف سے حرام کردہ چیزیں انسان کو تربیت اور اسے ترقی و کما ل کی منزلوں تک پہنچانے کے لئے ہوتی ہیں۔

۲ ۔ حلال زیادہ ہیں اور حرام کم ہیں۔

۳ ۔ گناہ کا قبح (برائی) ذات اور عقلی بھی ہے صرف اجتماعی ہی نہیں( ومابطن )

۴ ۔ مشرکین کے افکار کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے

۵ ۔ تبلیغی روسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے مثبت نقاط بیان کئے جائیں پھر منکر اور ان کے منفی نقطے پیش کئے جائیں۔ اس سے پہلی آیت میں حلال چیزوں کا تذکرہ تھا یہاں پر حرام اشیاء کا)

آیت ۳۴

( وَلِکُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لاَیَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَیَسْتَقْدِمُون )

ترجمہ: اور راحت کے لئے ایک مقررہ مدت ہے ، پس جب بھی ان کا مقررہ وقت آن پہنچتا ہے تو پھرنہ تو ایک لحظہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔

ایک نکتہ:

اجل" صرف افرادی کے لئے نہیں ہے، حکومتوں، قوموں اور امتوں کے لئے بھی ہے، جو خود بھی ختم ہو گئیں اور ان کے تمدن، ثقافت، عادات و اطوار اور آثار بھی ملیا میٹ ہو گئے۔ اجل کا تعلق صرف صرف زندگی اور موت ہی سے نہیں ہوتا،عزت ، اقتدار، حکومت اور دولت سے بھی ہوتا ہے۔ جب ان میں سے کسی کی اجل آجاتی ہے تو الٹ ہو گئیں اب تدبیریں کچھ نہ دوانے کام دیا کے مصداق سب کچھ رخصت ہو جاتاہے۔

پیام:

۔ اس کائنات میں کوئی بھی چیز، کوئی بھی تبدیلی،کوئی بھی حادثہ (اتفاقی) اور تدبیر الٰہی سے باہر نہیں ہے۔ اہم، اقوام اور ملل پر حکم فرما قوانین بھی ویسے ہی ہوتے ہیں جیسا کہ افراد پر ہوتے ہیں۔( لکل امةاجل )

۲ ۔ جو سہولیات تمہیں حاصل ہیں ختم ہو سکتی ہیں جس قدر ہو سکتے ان سے صحیح صحیح فائدہ اٹھاؤ۔

۳ ۔ دنیا اور امر کے دئیے ہوئے مقام و مرتبے ہر مغرور نہ ہو جانا۔( لکل امة اجل )

۴ ۔ ظالم لوگ خدا کی مہلت کو امر کی مہربانی نہ سمجھیں، ان کا وقت بھی آیا ہی چاہتا ہے ۱۹

۵ ۔ ازل سے یہ سلسلہ چلا آ رہا ہے کہ کچھ افراد برسراقتدار آتے ہیں۔ حکومت کرتے ہیں۔ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں وقت آنے پر صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔( جاه اجلهم )

۶ ۔ راہ خدا میں برسرپیکار لوگوں کو طاغوت کے تسلط سے مایوس نہ ہوں، کوشش جاری رکھیں، طاغوت نے آخر ایک دن مٹنا ہی ہے۔( الکل امة اجل )

آیت ۳۵ ۔ ۳۶

( یَابَنِی آدَمَ إِمَّا یَأْتِیَنَّکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی فَمَنْ اتَّقَی وَأَصْلَحَ فَلاَخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَهُمْ یَحْزَنُونَ - َ وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُوا عَنْهَا أُوْلَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ )

ترجمہ: اے اولاد آدم ! جب بھی تمہارے پاس تم میں سے پیغمبر آئیں جو میری آیات تم پر پڑھتے ہوں ( تو ان کی پیروی کرنا) پس جو تقویٰ اختیار کرے اور نیک کام انجام دے تو ان پر نہ تو کوئی خود اپنے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر برتتے ہوئے ان سے روگردانی کی تو وہ جہنم کے ساتھی ہیں۔ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔

پیام:

خدائی طریقہ کار کے مطابق انبیاء مسلسل آتے رہے ہیں۔ اور یہ پہلے ایک طے شدہ منصوبہ تھا۔( یاتینکم )

۲ انبیاء علیہم السلام کے کلام کی لوگوں میں تاثیر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کا تعلق وہاں کے لوگوں ہی سے ہوتا ہے۔( منکم )

۳ متقی کو دوسروں کی اصلاح کرنی چاہیے۔ اور مثبت سرگرمیاں انجام دینی چاہئیں گوشہ نشینی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔( اتقی واصلح )

انبیاء پر حقیقی طور پر ایمان لانے والے وہ لوگ ہی ہیں جو تقویٰ اور صلاح کے حامل ہوتے ہیں۔ کیونکہ "آمن بھم" کی بجائے "( اتقی واصلح ) " فرمایا ہے۔

سکون و اطمینان ایمان اور تقویٰ کے زیر سایہ ہے۔( الاخوف )

انبیاء کی پیروی سے منہ موڑ کر تکبر اختیار کرنے کی سزا ایذی عذاب اور جہنم ہے۔

۷ انبیاء کی تکذیب کے ساتھ ہی ساتھ تکبر ہوتا ہے۔( کذبوا- استکبروا )

آیت ۳۷

( فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰهِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِه ط اُوْلٰٓئِکَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِنَ الْکِتٰبِ ط حَتّٰٓی اِذَ اجَآ ءَ تْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَ فَّوْنَهُمْ قَالُوْ ا اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ط قَالُوْ ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُ ْو ا عَلٰٓی اَنْفُسِهِمْ کَا ُنوْ کٰفِرِیْنَ۰ )

ترجمہ: پس اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو خدا پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی آیات کو جھٹلاتا ہے؟ وہ (اسی دنیا ہی میں) خدا کی طرف سے اپنا مقرر کردہ حصہ پا لیں گے۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے ان کی روح قبض کرنے کے لئے آئیں تو ان سے پوچھیں گے کہ کہاں ہیں وہ جنہیں تم معبودِ حقیقی کی بجائے پکارا کرتے تھے؟ تو وہ کہیں گے وہ سب ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوکر گم ہوگئے ہیں۔ اور اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ کافر تھے۔

ایک نکتہ:

قرآنی آیات میں عام طور پر "خدا پر بہتان باندھنے " سے مرادسرکشی ہی ہوتا ہے۔ (تفسیر المیزان)

پیام:

خدا کو جھٹلانا اور خدا پر بہتان باندھنا بہت بڑا ظلم ہے۔( اظلم )

۲ خداوندتعالیٰ دنیا میں مادی ذرائع، امداد، مہلت جس طرح مومنوں کو دیتا ہے اسی طرح کافروں کو بھی دیتا ہے۔( ینا لهم نصیبهم ) ۲۰

انسان جب موت کی نشانیاں دیکھے گا تو بیدار ہوگا لیکن اب کیا فائدہ؟( یتوفونهم )

انسان سے جواب طلبی کے مراحل کا آغاز ہنگام مرکزی سے شروع ہوجائے گا۔( این ماکنتم )

کچھ فرشتے روح قبض کرنے پر مامور ہیں۔( رسلنا )

غیر اللہ تو سراب ہیں اور بس( ضلوا عنا )

آیت ۳۸

( قَالَ ادْخُلُوْ ا فِیْٓ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ فِی النَّا رِ کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ الَّعَنَتْ اُخْتَهَاط حَتّٰٓی اِذَا ادَّرَاکُوْ ا فِیْهَا جَمِیْعًا قَالَتْ اُخْرٰ هُمْ لِاُوْلٰهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلٰآءِ اَضَّلُّوْ نَا فَاٰتِهِمْ عَذَاباً ضِعْفًا مِّنَ النَّارِط قَالَ لِکُلِّ ضِعْفٌ وَّ لٰکِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ ) ۰

ترجمہ: (مرنے کے وقت ان کے اعتراف کے بعد) خداوندعالم فرمائے گا۔ تم بھی (جن و انس کے ان گروہوں میں داخل ہو جاؤ جو تم سے پہلے (یہاں) پہنچ چکے ہیں۔ جب بھی کوئی گروہ جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے ہم مذہب گروہ پر نفرتیں اور لعنت کرے گا۔ تو جب سب گروہ جہنم میں اکٹھے ہو جائیں گے تو بعد میں آنے والا، پہلے آنے والے گروہ کے بارے میں کہے گا۔ "پروردگار! یہی لوگ تھے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا، پس تو انہیں جہنم کے دوہرا عذاب دے۔ (ایک تو ان کی اپنی گمراہی کا اور ایک ہمارے گمراہ کرنے کا) خدا فرمائے گا تم سب کے لئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے۔

ایک نکتہ :

قیامت کے لرزا دینے والے مناظر میں سے ایک یہ بھی ہوگا کہ جب جہنمی ایک دوسرے کے ساتھ خصوصاً ان سرداروں اور پیشواؤں کے ساتھ گفتگو کریں گے جو ان کے جہنمی ہونے کا سبب بنے تھے۔ اسی بنا پر وہاں پر یہاں کے جگری دوست، دشمن بن جائیں گے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ "( الاخلٴا یومَئذٍ بعضهم بعض عدوالاالمتقین ) " اس دن دوست ایکدوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیز گاروں ( کہ وہ دوست ہی رہیں گے) (زخرف/ ۶۷) اور سورہ ص / ۶۴ میں فرماتا ہے کہ "ان ذٰلک لحق تخاصم اھل النار" بیشک یہ بات حق اور ایک واقفیت ہے کہ دوزخی مخاصمانہ باتیں کریں گے۔

پیام:

۱ ۔ بہشت میں نہ کینہ ہوگا اور نہ ہی دشمنی صرف صلح و صفا ہوگی جبکہ جہنم میں افراد ایکدوسرے پر لعنت کریں گے۔( لعنت اختها )

۲ ۔ انسانوں کی طرح جنات بھی مکلف (احکام الٰہی کی پابندی کے ذمہ دار) ہیں۔ اور ایک جیسے انجام سے دوچار ہوں گے۔( الجن و انس )

۳ ۔ کفار ایک ہی دفعہ جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے بلکہ بالترتیب اور باری باری وارد جہنم ہوں گے۔( کلما دخلت )

۴ ۔ غیر الٰہی محبتیں، دوستیاں، حمایتیں بروز قیامت کینوں اور نفرتوں میں عناد اور دشمنی میں بدل جائیں گی۔( لعنت اختها )

۵ ۔ قیامت کے دِن ہر ایک کی یہی کوشش ہوگی کہ اپنا گناہ دوسروں کے سر تھونپنے یا اپنے لئے کسی ایک مجرم کو تلاش کرے( هولاء الضلونا )

۶ ۔ اعمال کی بجا آوری کے لئے انسان آزاد بنے لیکن "( اضلونا ) " (انہوں نے ہمیں گمراہ کیا) کہہ کر اپنا پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔ کہ اپنے گناہ دوسروں کے کھاتے میں ڈال دے۔

۷ ۔ بعض اوقات انسان کی ایسی سزائیں بھی ملیں گی جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہونگی۔( والله تعلمون )

قرآن کہتا ہے "پیشواؤں کو بھی دوہری سزا ملے گی اور پیروکاروں کو بھی " پیشواؤں کو اس لئے کہ خود بھی گمراہ تھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ پیروکاروں کو اس لئے کہ خود بھی گمراہ تھے ا ور باطل کے اماموں اور پیشواؤں کی دوکانوں کو خوب چمکایا۔ اگر یہ ان کی پیروی نہ کرتے تو باطل کے امام بھی اس قدر ترقی نہ کرتے۔( لعل ضعف )

آیت ۳۹

( وَ قَالَتْ اُوْلٰهُمْ لِاُخْرٰهُمْ فَماَ کَا نَ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوْ الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ ) ۰

ترجمہ: اور (عذاب میں) پیشگام گو (اپنے) پیروکاروں سے کہیں گے۔ "تم ہم سے برتر (اور زیادہ بے گناہ) نہیں تھے۔ پس تم اپنی کارستانیوں کا عذاب چکھو۔

ایک نکتہ:

گمراہ کرنے والوں کے لئے دوہرے عذاب کے تقاضے کے خلاف وہ لوگ اپیل دائر کریں گے کہ "یہ پیروکار ہی تھے جنہوں نے ہماری ترقی کے اسباب فراہم کئے تھے۔ اگر یہ ہماری اتباع نہ کرتے تو ہماری گمراہ کرنے کی رفتار آگے نہ بڑھتی، لہٰذا یہ خود ہی قصور وار ہیں۔"

تو کیوں ایک لقمہ نان یا چند روزہ جاہ و مقام کی خاطر اے نامراد اور نالائق پیشواؤں کی اتباع کا دم بھریں جو شفاعت تو بجائے خود ہماری فریاد کو ہی نہ پہنچیں؟!

پیام:

۱ ۔ بروز قیامت ہر قسم کی مدد خواہی اور امداطلبی بھی بیسودا ثابت ہوگی۔( فذوقو العذاب )

۲ ۔ حتیٰ کہ خود مجرمین کو بھی علم ہے کہ جہنم ان کے اعمال کی سزا ہوگی پھر بھی گمراہی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔( فماکان لکم علینا من فضل )

آیت ۴۰

( اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْ ا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَکْبَرُوْ ا عَنْهَا لَاتُفُتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَلَا یَدَخْلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ ط وَ کٰذَلِکَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ ) ۰

ترجمہ: یقینا جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر کے ساتھ ان سے منہ پھیرا تو آسمان (رحمت) کے دروازے ان کے لئے نہیں کھولے جائیں گے۔ اور جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گذر جائے اس وقت تک وہ بہشت میں نہیں جائیں گے۔ (یہ ان کے لئے انہونی بات ہے۔) اور ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔

دو نکات:

اس آیت سے یہ سمجھاجاسکتا ہے کہ آسمان سے مراد ایک عالم ہے کہ جس پر بہشت واقع ہے۔ اور بہشت کے اندر جانے کے لئے ان کے لئے دروازوں سے ہو کر جانا پڑے گا۔

اس آیت میں "جمل" سے مراد یا تو اونٹ ہے یا پھر وہ ضخیم رسہ ہے جس کے ساتھ کشتیوں اور جہازوں کو ساحل پر باندھتے ہیں۔ اور یہ معنی سوئی کے ساتھ زیادہ مناسب یا نسبت اس معنی کے کہ کیا جائے "اونٹ سوئی کے ناکے سے گذر جائے"

اللہ تعالیٰ نے چونکہ مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ کفار کا بہشت میں جانا محال ہے لہٰذا "جمل" کا معنی اونٹ اور اس سورخ سے اونٹ کا عبور کرنا اس سے زیادہ نزدیک ہے۔ اس کے علاوہ انجیل موقا (کے باب اٹھائیس آیت ۴۲) میں ہے کہ : اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گذرنا آسان ہے۔ لیکن دولتمند اور سرمایہ داروں کا ملکوت اعلیٰ تک پہنچنا مشکل ہے۔"

پیام:

۱ ۔ جہاں ہر مومنین باتقویٰ کے لئے خدائی رحمت کے آسمانی اور زمینی رستے کھلے ہوتے ہیں۲۲

اس کے برخلاف کفار اور جھٹلانے والوں کے لئے آسمان کے دروازے بند رہتے ہیں۔( لاتفتح لهم )

۲ ۔ اس آیت سے یہ استفادہ بھی ہوسکتا ہے کہ "بہشت آسمانوں میں ہے" (تفسیرفخررازی والمیزان)

۳ ۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں "آسمان کے دروازے پانچ موقع پر کھولے جاتے ہیں۔"

۱ ۔ جب مجاہدین اسلام راہ خدا میں جنگ کررہے ہوتے ہیں۔

۲ ۔ جب بارش ہورہی ہوتی ہے۔

۳ ۔ جب قرآن مجید یعنی اللہ کے کلام کی تلاوت کی جا رہی ہوتی ہے۔

۴ ۔ جب طلوع فجر ہو رہی ہوتی ہے اور اذان دی جا رہی ہوتی ہے۔ (تفسیر نور الثقلین)

آیت ۴۱

( لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّمِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ۰ )

ترجمہ: ان (مجرمین) کے لئے جہنم کے بستر ہوں گے اور ان کے اوپر (آگ کی) اوڑھیاں ہوگی اور اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیتے ہیں۔

چند نکات:

اصل "مھاد" "مھد" سے ہے۔ جس کا معنی بستر اور "غوائیں" جمع ہیں۔ "غاشیہ" کی اور اس کا معنی ہے ڈھانپ دینے والی چیز۔ اور "خیمہ" کو بھی غاشیہ کہتے ہیں۔

ہر دشمن اور روگردانی کرنے والے گروہ کو اسی سورت کی ۳۷ ویں آیت میں "کافر" اور اسی آیت میں "ظالم" گروہ کے عنوان سے کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ یہ لوگ آیاتِ الٰہی کی تکذیب کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کے شایانِ شان ہی یہی ہے کہ انہیں ایسے القاب کے ساتھ یاد کیا جائے۔ اور سورہ بقرہ کی آیت ۳۰۴ میں ہم پڑھ چکے ہیں "( والکافرون هم الظالمون ) " اور کافر ہی تو ظالم ہیں۔

اس آیت میں "مھاد" کا لفظ جہنمیوں کے لئے ایک قسم کے استہزاء کے طور پر یعنی "اُن کی آرام گاہ" اللہ نے جہنم بنائی ہے۔ (ازتفسیر فی ظلال القرآن)

پیام:

۱ ۔ جہنم کفار کے سارے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی۔ (مھاد و غواش) ۲۳

آیت ۴۲

( وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ا وَ عَمِلُو الصّٰلِحٰتِ لَانُکَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ) ۰

ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لے آتے اور نیک کام انجام دیتے (جس قدر بھی انجام چیتے ہم قبول کر لیں گے کیونکہ) ہم کسی کو اتنا ہی تکلیف دیتے ہیں جتنا اس کی توانائی ہوتی ہے۔ یہی لوگ ہی بہشتی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

دو نکات:

قرآن مجید عام طور پر خوشخبری اور خوف دِلانے کو ایک دوسرے کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں بدکار متکبر بن کے انجام کو ذکر کیا ہے۔ یہاں پر شائستہ مومنین کے نیک انجام کا تذکرہ کر رہا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ اس دنیا میں شاذ و نادر افراد کے لئے بہشت کی جیسی نعمتیں مہیا ہوں۔ مثلاً دودھ اور شہد کی نہریں، خوبصورت بیویاں، باغات و محلات وغیرہ، لیکن ایک تو ان میں اور بہشت کی نعمتوں میں بڑا فرق ہوگا دوسرے یہ کہ ان میں ہمیشگی اور پائیداری ناممکن ہے۔

پیام:

۱ ۔ بہشت امان و عمل کی جزا ہے۔ یہ قیمت کے بدلے ملتی ہے۔ بہانوں سے نہیں ملتی۔( امنواوعملوا )

۲ ۔ اگرچہ تمام نیک اعمال مطلوب ہوتے ہیں، لیکن ہرشخص اپنی توانائی کے مطابق اپنے اعمال کے بارے میں جوابدہ ہوگا۔( الصالحات- وسعها )

۳ ۔ اسلام میں تکلیف مالایطاق نہیں ہے۔( وسعها ) ۲۴

۴ ۔ اگر خداوند عالم نے ہم پر کوئی تکلیف عائد کی ہے تو یقینا ہم اس کی توانائی بھی رکھتے ہیں یہ اور بات ہے کہ ہم اس توانائی سے کماحقہ استفادہ نہ کریں۔

آیت ۴۳

( وَنَزَعْنَا مَافِیْ صُدُوْرِ هِمْ مِنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ وَقَالُو االْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰنَالِهٰذَا وَ مَا کُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَآ اَنْ هَدٰنَااللّٰهُ لَقَدْ جَآئَتْ رُسُلِ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ط وَنُوْدُوْٓااَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّةُ اُوْ رِثْتُمُوْهَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْْنَ ) ۰

ترجمہ: اور ہم ان کے سینوں سے بھی کینے ہوں گے نکال دیں گے۔ (تاکہ وہ صدق و صفا اور غنیمت باہم زندگی گذاریں) ان کے محلات کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ اور وہ کہیں گے اس نے ہمیں اس (بہشت) کی ہدایت کی ہے۔ اور اگروہ ہمیں ہدایت نہ کرتا ہم (خودبخود) یہاں نہ پہنچ پاتے۔ خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر ہمارے پاس آئے (جنہوں نے ہمیں ہدایت کی) اور ان ہدایت یافتہ افراد سے خطاب ہوگا۔ یہ وہی بہشت ہے جس کے تم اپنے اعمال کی وجہ سے وارث ہوئے ہو۔

دو نکات:

"غل" کے معنی ہیں کسی چیز میں چپکے سے داخل ہوجانا۔ اسی لئے خفیانہ طور پر دل میں موجود حسد اور کینے کو "غل" کہتے ہیں۔

گذشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جہنمی لوگ ایکدوسرے کو نصب اور نفرتیں کریں گے۔ جبکہ یہاں فرماتا ہے کہ اہلِ بہشت کے دلوں میں ایکدوسرے کے بارے میں کوئی کینہ اور حسد نہیں ہوگا۔ سب صلح و صفائی اور محبت بھرے ماحول میں مل جل کر رہیں گے۔ کوئی کسی کے مقام و مرتبے سے بھی حسد نہیں کرے گا۔

پیام:

۱ ۔ بہشت میں صفائے باطن اور صفائے ظاہر ایک جا جمع ہوں گے۔( نزعنا ) باطنی صفائی کا مظہرہے۔ اور( تجری ) ظاہر صفا کا۔

۲ ۔ بہشت میں اگرچہ درجات کا فرق ہوگا لیکن کسی بارے میں کسی کے دل میں حسدو کدورت نہیں ہوگی۔( نزعنا )

۳ ۔ مومن اپنی دینوی زندگی کو بہشتی زندگی جیسا صاف و ستھرا رکھنا چاہتا ہے۔( نزعنا ) ۲۵

۴ ۔ ہدایت ایک ایسی نعمت ہے جو تا ابد شکریے کی مستحق ہے۔( هدانا لهذا )

۵ ۔ انبیاء علیہم السلام ہدایت کا وسیلہ ہیں اور ان کی ہدایت حق کے ساتھ ہوتی ہے۔ یعنی وہ خود آپ، ان کی گفتگو، ان کے اعمال، ان کے طریقہ پائے کار اور ان کے وعدے سب حق ہوتے ہیں۔

۶ ۔ بہشتی لوگ ذکر الٰہی میں مصروف ہیں۔( قالو الحمدللّٰه )

۷ ۔ فقط عقل اور علم ہی کافی نہیں، ہدایت کے لئے خدا کی عنایت اور مدد بھی ضروری ہے۔( مولا ان هدانا )

۸ ۔ اہل بہشت خدا کے لطف و کرم پر شکر ادا کریں گے۔ اور اپنے ہدایت یافتہ ہونے پر مغرور نہیں ہوں گے۔( الحمدللّٰه )

۹ ۔ اور آیات کے مطابق ہر مومن اور کافر کا جنت اور دوزخ میں ایک ایک مقام ہے۔ لہٰذا بہشت میں کافر کا مکان وراثت میں اور کافر جہنم میں مومن کا مکان وراثت میں لے جائے گا۔( اورثتموها ) (ازتفسیر نورالثقلین)

اس قسم کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت اور جہنم کے دروازے ہر شخص کے لئے کھلے ہوتے ہیں اور کوئی بھی شخص ابتدا میں جنت یا دوزخ کے لئے خلق نہیں ہوا بلکہ اس کا رستے کا انتخاب اور اس انتخاب کی روشنی میں اس عمل ہی سے "نوری یا ناری" بناتا ہے۔ (ازمترجم ۔۔ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔ یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے۔ ۔۔ اقبال)

۱۰ ۔ خیالی پلاؤ پکانے اور پکا کر کھانے سے نہیں عمل سے جنت ملتی ہے۔( تعلمون )

آیت ۴۴

( وَنَا دٰٓی اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّا رِ اَنْ قَدْ وَجْدَنَامَا وَعْدَنَارَبُّنَا بِاالْحَقِّ فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَ عَدَ رَبُّکُمْ حَقًّا ۰ قَالُوْ اَ نْعَمْ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌبَیْنَهُمْ اَنْ لَّعَنَةُ اللّٰهِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ ) ۰

ترجمہ: اور بہشتی، دوزخیوں کو پکار کر کہیں گے "ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا اسے ہم نے حق اور سچ پایا (اور اس تک پہنچ بھی گئے) تو کیا تم نے بھی اپنے رب کے وعدے کو حق پایا؟ (ہم تو بہشت بریں کی نعمت کے مزے لوٹ رہے ہیں کی تم بھی جہنم کے عذاب میں مبتلا ہو۔؟) تو وہ کہیں گے "ہاں! تو اسی دوران میں ایک موذن ان کے درمیان میں بلند آواز سے کہے گا: "خدا کی لعنت ہے ظالموں پر"

ایک نکتہ:

شیعہ اور کچھ اہلسنت مثلاً حاکم حکانی وغیرہ کی روایات میں ہم پڑھتے ہیں کہ:

"جو موذن بیانگ دہل اعلان کرے گا کہ "ظالموں پر اللہ کی لعنت !" وہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہوگا"

علی نے جس طرح دنیا میں سورہ برائت کے ذریعے اسے مکہ میں پڑھ کر مشرکین سے اعلان برائت کیا تھا اسی طرح آخرت میں بھی ظالموں پر لعنت کا اعلان بھی وہی کریں گے۔ گویا خدا کی طرف سے مشرکین اور ظالمین کے خلاف نازل ہونے والی قراردادوں کا پڑھنا علی کا کام ہے۔

پیام:

۱ ۔ آخرت میں بہشتی اور دوزخی آپس میں گفتگو کریں گے۔( نادی-- )

۲ ۔ جنتویوں اور جہنمیوں کے درمیان فاصلہ ہوگا۔ جس کے لئے ندا کی ضرورت ہوگی۔( نادیٰ )

۳ ۔ جغرافیائی لحاظ سے جنت اور جہنم کا وقوع اس طرح سے ہوگا کہ بہشتی بہشت میں پہنچ کر اہل جہنم سے حال احوال پوچھ سکیں گے۔( نادی-- )

۴ ۔ مومن بھی اور کافر بھی اپنے ساتھ خدا کے کئے ہوئے وعدے کو حق اور عملی صورت میں دیکھیں گے۔( وجدنا- حق )

۵ ۔ اللہ تعالیٰ بہشتی لوگوں کے ذریعہ جہنمیوں سے اعتراف لے گا ان کی شرمندگی اور عذاب میں مزید اضافہ ہو۔ (ازتفسیر المیزان)

۶ ۔ کفار کی ہر قسم کی تکذیب، تہمت، زبان کے زخم کا ایک دن ایک اور صرف ایک جواب ہوگا جو انہیں ابد الدباد تک دُکھ اور درد میں مبتلا کئے رکھے گاوہ ہے( لعنة اللّٰه علی الظالمین )

۷ ۔ قیامت کی عدالت اس نعرے کے ساتھ برخواست ہوگی۔ "ظالموں پر خدا کی لعنت" (لعنة اللّٰہ علی الظالمین)

آیت ۴۵

( الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًاوَهُمْ بِالْاٰ خِرَةِ کٰفِرُوْنَ ) ۰

ترجمہ: (ظالم وہیں) جو لوگوں کو خدا کی راہ سے ہٹاتے ہیں اور اس راہ کو ٹیڑھا بنانا چاہتے ہیں اور یہی لوگ آخرت کے منکر بھی ہیں۔

ایک نکتہ:

خدا کا راستہ، توحید و تسلیم، ایمان، ہجرت اور جہاد کا راستہ ہے۔ مگر ظالموں کا کام یہ ہوتا ہے کہ اس بارے میں شبہے اور وسوسے پیدا کرکے لوگوں کو اس سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا پروپیگنڈا کرکے، مومنین کے دلوں میں کمزوری پیدا کرکے یا بدعتیں اور خرافات کو اس راہ پر ڈال کر گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں یا پھر الٰہی راہبروں کے مقابلے میں یا مایوسیاں پھیلا کر یا رخنہ اندازی کرکے یا روڑے اٹکا کر خدا کے رستے سے لوگوں کوہٹانے کی کوشش کرتے ہیں یا اس میں تبدیلی اور ایجاد کردیتے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ خدا کی راہ سے جس طرح بھی ہٹایا جائے ظلم ہے۔ بلکہ اگر اس میں کجی اور انحراف پیدا کرنا بھی ستم ہے۔ اور "ثقافتی یلغار" تو ایک ایسا ظلم ہے جس کا مقابلہ کسی طرح کا ظلم بھی نہیں کرسکتا۔

۲ ۔ اگر دشمن کے بس میں ہو تو کھلم اور اعلانیہ طور پر جنگ کرکے راہ حق کو مکمل طور پر بند کردیتا ہے۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرسکتا تو پھر مختلف حیلوں بہانوں اور عیاریوں کے ساتھ راہ کوکج کرکے اس میں تبدیلیاں پیدا کرکے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔( یصدون ----- یغبونها عوجا )

آیت ۴۶

( وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ وَ عَلَی الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ کُلًّا بِسِیْمٰهُمْ وَناَ دَوْ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ ۰ )

ترجمہ: اور ان دو (جنتی اور جہنمی گروہوں) کے درمیان حجاب ہے۔ اور اعراف ہر (اولیاء اللہ میں سے) کچھ لوگ ہوں گے جو تمام (بہشتوں اور دوزخیوں) کو ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گیا ور بہشتوں کو جو کہ ابھی بہشت میں نہیں پہنچے ہوں گے بلکہ اس کے امیدوار ہوں گے صدا دے کر کہیں گے "السلام علیکم" تم پر سلام ہو۔

چند نکات:

حجاب سے مراد شاید وہ دیولد ہو جس کا تذکرہ سورہ حدید کی ۱۳ ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ "فضرب بینھم من سورلہ باب باطنہ فیہ الرحمة و ظاھرہ من قبلہ العذاب" ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی۔ جس کا بیرون حصہ عذاب اور اندرونی حصہ رحمت ہے۔ (از تفسیر المیزان)

"اعراف" جمع ہے۔ "عرف" جس کا معنی ہے بلند جگہ۔ اس سورة کو "اعراف" کہتے ہیں۔ اور پورے قرآن مجید میں صرف اسی جگہ پر اعراف اور اہل اعراف کا تذکرہ ہے۔

اہل اعراف کون ہیں؟

اس بارے میں روایات اور تفاسیر میں مختلف آراء اور نظریات ملتے ہیں۔ کچھ تو وہ جو "اولیاء اللہ" کو اہل اعراف سمجھتے ہیں۔ جو کہ جنت اور جہنم کے درمیان بلند جگہ پر موجود ہوں گے۔ اور تمام لوگوں میں وہیں پرسے پہچان لیں گے۔ اہلِ بہشت کو سلام اور مبارک باد سے نوازیں گے۔ جبکہ جہنمیوں کے بارے میں پریشان دِکھائی دیں گے۔

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد ضعیف اور کمزور لوگ ہیں جن کے گناہ بھی ہوں گے لیکن عبادت بھی ساتھ ہی ہوگی۔ خدا کے لطف و کرم کے منتظر ہوں گے۔ (جب کہ سورہ توبہ کی آیت ۱۰۵ بتلاتی ہے۔)

ان دونوں نظریات کو اس طرح جمع کیا جاسکتا ہے کہ اصل مراد تو اولیاء اللہ ہوں لیکن ان کی اطراف میں مذکورہ متوسط اور ضعیف افراد بھی ہوں جو اعراف میں گرفتار اور اپنے انجام کے منتظر ہوں۔ کیونکہ بہشتی، بہشت ہیں اور جنہمی جہنم میں چلے جائیں گے۔ اور متوسط اور ضعیف لوگ اپنے انجام کے منتظر ہوں گے۔ اور اولیاء اللہ جو اعراف پر ہوں ان کی مدد کرتے ہوئے ان کے حق میں شفاعت کریں گے۔ اور مفسرین اور روایات حدیث نے بھی اسی طرح ان نظریات کو جمع کیا ہے۔ (از مترجم: روایات اہل بیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیاء اللہ آئمہ اطہار ہی ہیں۔)

آیت ۴۷

( وَ اِذَاصُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ قَالُوْ رَبَّنَا لَا تَجَعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۰ )

ترجمہ: اور جب ان کی نگاہیں جہنمیوں کی طرف پلٹائی جائیں گی تو وہ کہیں گے پروردگار! تو ہمیں ظالموں کے ساتھ قرار نہ دے۔

دونکات:

اہل اعراف، بہشتوں کی طرف دیکھیں گے بھی اور انہیں سلام بھی کریں گے۔ لیکن جہنمیوں کو دیکھنا گوارا نہیں کریں گے بلکہ ان کی ان پر صرف اچکتی ہوئی نگاہ پڑے گی۔ (صرفت ابصارھم)

وہ اپنی دعا میں یہ نہیں کہیں گے کہ "ہمیں اہل جہنم نہ بنا" بلکہ کہیں گے "ہمیں ظالموں کا ہم نشیں نہ بنا" جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظالم کی ہم نشینی، جہنم سے بھی بدتر ہے۔ (تفسیر الوسی)

(ہماری دعا بھی ہے کہ خداوند! اگر تو ہمیں بہشت میں نہیں لے جائے گا تو ظالموں کا ہم نشین بھی نہ بنانا۔ آمین)

آیت ۴۸

( وَ نَا دٰی اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجْالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰهُمْ قَالُوْ مَآ اَغْنٰی عَنْکُمْ جَمْعُکُمْ وَ مَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُوْنَ ۰ )

ترجمہ: اور اہل اعراف (وہ اولیاء اللہ جو بلند جگہ پر موجود ہوں گے، جہنم والے) لوگوں کو ان کی نشانیوں سے پہچان کر آواز دیں گے اور کہیں گے۔ تمہیں نہ تو تمہارے جمع شدہ سرمائے اور مال نے فائدہ پہنچایا اور نہ ہی اشکبار نے۔

پیام:

۱ ۔ قیامت کے دن جہنمیوں کو خدائی عذاب کے علاوہ انسانوں کی جھڑکیاں اور سرزنش بھی سننا پڑیں گی۔( قالوا---- )

۲ ۔ زراندوزی اور تکبر قہر خداوندی کا موجب ہے۔

۳ ۔ مال اور اقتدار، نجات کا موجب نہیں ہیں۔( مااغنیٰ عنکم---- ) ۲۶

آیت ۴۹

( اَهٰٓؤُلَآءِ الّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَا لُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ ط اُدْخُلُواالْجَنَّةَ لَاخَوْفٌ عَلَیْکُمْ وَ لَا اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ ) ۰

ترجمہ: آیا یہ بہشتی دینی لوگ ہیں کہ جن کے متعلق تم قسم کھایا کرتے تھے (خدا کی) رحتم ان کے شامل حال نہیں ہوگی؟ (پھر مومنین سے خطاب ہوگا) بہشت میں داخل ہو جاؤ۔ نہ تو تم پر کوئی خوف ہے اور نہ ہی غم سے دوچار ہوگے۔

ایک نکتہ:

کفار میں سے کچھ مغرور فراد ایسے بھی تھے جو مومنین کی تحقیر کرتے تھیا ور کہتے تھے کہ خدا کی رحمت ان کے شامل حال نہیں ہوگی۔ حالانکہ وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کا ایمان اور نیک اعمال ہی انہیں خُدائی رحمت کے شامل حال قرار دے چکے ہوں گے۔ اور "( ادخلواالجنة ) " خطاب انہیں سے ہوگا۔ رحمت خداوندی کے لئے اندرونی لیاقت و شائستگی اور بیرونی اعمال صالحہ کا ہونا ضروری ہے۔ جاہ و مال اور مقام و منصب کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ کیا رحمت خداوندی کی ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے کہ جسے چاہے دیدے یا اس ذات کے قبضہ قدرت میں جو ہر شئے پر قادر ہے؟ اس لئے تو خداوند فرماتا ہے۔ "( اهم لیقسمون رحمة ربک ) " آیا یہی لوگ تیرے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں؟

پیام:

۱۔ کون لوگ خدائی رحمت کے مستحق ہیں؟ اس بارے میں جلد فیصلہ نہ کرلیا کرو۔

۲۔ دنیا میں فقر و فاقہ، تنہائی اور گمنامی، قیامت کے دن رحمت خداوندی سے محرومیت کی علامت نہیں ہے۔

آیت ۵۰

( وَنَادٰٓی اَصْحٰبُ النَّا رِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْ ا عَلَیْنَا مِنَ الْمَٓاءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰهُ ط قَالُوْااِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ) ۰

ترجمہ۔ اور اہل جہنم بہشتوں کو پکاریں گے کہ کچھ پانی یا جو کچھ تمہیں اللہ نے عطا کیا ہے اس میں سے کچھ ہمارے اوپر بھی ڈالو ۔ تو (بہشتی) کہیں گے کہ اللہ نے یہ پانی اور نعمتیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔

ایک نکتہ:

قیامت کے منجملہ ناموں میں سے ایک نام "یوم التناد" بھی ہے۔ یعنی جس دِن آوازیں بلند ہوں گے۔ اور ایکدوسرے کو مدد کے لئے پکارا جائے گا۔

پیام:

۱ ۔ جو دنیا میں رہ کر آخرت کے لئے توشہ تیار نہیں کرتے، قیامت کے دن ان کی ضرورت اور احتیاج کا ہاتھ ہر ایک کے آگے پھیلا ہوگا۔( ونادیٰ---- )

۔ قیامت کے دن مجرمین کی آہ و زاری کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔( ان الله حرمهما )

۔ آخرت کی نعمتیں، مومنین کے ساتھ مخصوص ہیں۔( حرمهما علی الکٰفرین )

۔ نہ خدابخیل ہے۔ اور نہ ہی اہلِ بہشت! لیکن کفر، آزادانہ مصرف اور دنیا میں عیاشی کی سزا قیامت کے دن نعمتوں سے محرومی کی صورت میں ملے گی۔( حرمهما علی الکٰفرین )


آیت ۵۱

( اَلَّذِیْنَ اتَّخَذُوْ ادِیْنَهُمْ لَهْوً ا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فَالْیَوْمَ نَنْسٰهُمْ کَمَانَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا وَ مَا کَا نُوْ ا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ ) ۰

ترجمہ: وہی لوگ تو (کافر) ہیں جو اپنے دین کو کھیل تماشہ سمجھتے ہیں اور دینوی زندگی نے انہیں مغرور بنا دیا ہے۔ پس جس طرح وہ اپنے اس دن ملاقات کو فراموش کر چکے ہیں۔ اور ہماری آیات کا انکار کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہم بھی انہیں فراموشی کے سپرد کر دیں گے۔

ایک نکتہ:

"لھو" یہ ہوتا ہے کہ انسان بنیادی کاموں سے غافل ہو جائے۔ اور "لعب" یہ ہے کہ انسان خیالی پلاؤ پکاتا ہے۔ (ازتفسیر المیزان)

پیام:

۱۔ کفار دین کو مذاق سمجھتے ہیں حالانکہ وہ ایک یقینی چیز ہے۔ اور دنیا کو حقیقت سمجھتے ہیں حالانکہ کھیل تمام ہے۔( دینهم لهوا ) ۲۷

۲۔ جب دین کی طنابیں کٹ جاتی ہیں تو دینوی گرداب انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔( اتخذوا---- عرتهم )

۳۔ خدا اور قیامت سے غفلت، انسان کے قیامت کے دن فراموش ہوجانے کا سبب بن بن جاتا ہے۔ ۲۸

اور( افیضواعلینا ) گذشتہ آیت ہیں۔

۴۔ دین کا مذاق اُڑانا، دنیاوی لذتوں میں غرق ہوجانا، آخرت کو فراموش کردینا، خدا کی آیات کا للکار غرض اس قسم کی تمام باتیں کفر کی علامتیں ہیں۔( الذین---- )

آیت ۵۲

( وَلَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِکِتٰبٍ فَصَّلْنَهُ عَلٰی عِلْمٍ هُدً ی وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۰ )

ترجمہ: اور یقینا ہم ان کے لئے کتاب لے آئے کہ جس میں ہر چیز کو علم کی بنیادوں پر تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا تاکہ ایمانداروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہو۔

پیام:

۱ ۔ اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کردی ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر کوئی دنیا کے گرداب میں غرق ہے یا آخرت کو فراموش کر چکا ہے یا آیات خداوندی کو للکارتا ہے تو یہ اس کی اپنی کوتاہی ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔( لقدجلناهم )

صد ہا چراغ دار دوبیراہہ ہی رود۔ بگزار تا بیفتد و بیندسزا سی خویش

سینکڑوں چراغوں کے باوجود بھی غلط رستے پر چل رہا ہے تو چلنے دو تاکہ گر کر مرے اور اپنی سزا کو پا لے۔

۲۔ خدا کی وحی کی اساس علم اور حقیقت ہے۔

۳۔ انسان کی ہدایت، خد اکی بہت بڑی رحمت اور مہربانی ہے۔

۴۔ دین اسے ہدایت کرتا ہے جو اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ ضدی مزاج اور ہٹ دھرم افراد کو ہدایت اور دین نصیب نہیں ہوتا۔( لقوم یومنون )

آیت ۵۳

( هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاوِیْلَه ط یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلَه یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلِ قَدْ جَآئَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَلْ لَّنَامِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَا اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُ قَدْ خَسِرُوْ ٓا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا کَا نُوْ یَفْتَرُوْنَ ) ۔

ترجمہ: کیا کفار کتاب کی تاویل (اور قرآنی وعدوں کے پورا ہونے) کے علاوہ کسی اور چیز کے منتظر ہیں؟ جس دن کہ کتاب کی تاویلیں (خدا کا قہر و غضب اور اس کے حساب و کتاب کی نشانیاں) پہنچ جائیں گی تو جو لوگ اس سے پہلے (دنیامیں) اس دن کو بھلا چکے تھے کہیں گے: اس میں شک نہیں کہ اللہ کے رسول ہمارے پاس ہی حق لے کرآئے (لیکن ہم نے ان سے منہ پھیرے رکھا) آیا ہمارے کوئی شفاعت کرنے والے ہیں جو شفاعت کریں گے؟ یا ممکن ہے کہ ہم دنیا میں واپس ہٹائے جائیں تاکہ ایسے کام کریں جو نہیں کئے تھے؟ (یہ سب بے فائدہ حسرت ہے) یقیناً ان لوگوں نے اپنے آپ کو خسارہ پہنچایااور وہ سب کچھ ختم ہو جائے گا جو وہ افتراپردازی کیا کرتے تھے (اور بتوں کو اپنا معبود سمجھتے تھے)۔

دو نکات

"تاویل" کا معنی ہے گزشتہ یا آئندہ (ماضی یا مستقبل کی طرف پلٹانا۔ اور قرآن میں اس کا معنی ہے حقیقت امر اور کسی کام کا آغاز یا انجام۔

اس سورت کی ۴۳ ویں آیت می اہل بہشت کی زبانی کہا گیا ہے "لقد جأت رسل ربنا بالحق" اور اس جگہ ہر اہلِ جہنم یہی اقرار کر رہے ہیں۔

پیام

۱ ۔ قیامت کے دن کفار کی داد و فریاد اور اعتراف اور آرزوئیں کسی کام نہیں آئیں گی۔ لہٰذا انہیں چاہئے کہ جو کچھ کرنا ہے اسی دنیا میں ہی کر لیں۔( یوم باقی تاویل )

۲ ۔ دین، مذہب اور قرآن کو فراموش کر دینا بہت بڑا احسان ہے( نسوه ) ۲۹

۳ ۔ کفار، یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کے اعمال صحیح ہیں، قیامت کے دن جب اپنی خطاؤں اور غلط کاریوں کی طرف متوجہ ہوں گے تو دنیا کی طرف واپسی کی خواہش کریں گے لیکن یہ آرزو غلط ہو گی( اونرد فضل ) ۳۰

۴ ۔ قیامت آگاہی اور بیداری کا دن ہے۔( جائت رسل ربنا بالحق )

۵ ۔ شفاعت ہر ایک کے لئے نہیں ہو گی( هل لنا من شفعاء )

۶ ۔ قیامت کے دن طاغوتوں، بتوں، مال و دولت اور اقتدار کا نام و نشان اور جلوہ گری نہیں ہو گی( ضل عنهم )

آیت ۵۴

( اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلیَ الْعَرْشِ یُغْشَی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُه حَثِیْثَا وَالشَّمْسَ وَ ْالْقَمْرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ م بِاَمْرِه ط اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ ط تَبٰرَکَ اللّٰهُ رَبُّ الْعَلٰمِیْنَ ) ۰

ترجمہ: درحقیقت تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے کہ جس نے چھ دنوں (اور دورانیوں) میں آسمان اور زمین کو پیدا پھر اقتدار کی کرسی اور کائنات کی تدبیر پر مسلط ہوا۔ وہی تو ہے جو دن کو رات کے ذریعہ چھپا دیتا ہے اور رات بڑی تیزی سے دن کا پیچھا کرتی ہے اور سورج، چاند اور ستارے اس کے احکام کے فرمانبردار ہیں۔ آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کا کام ہے اور تدبیر بھی۔ نہایت ہی بابرکت ہے وہ اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

گزشتہ آیت میں بتایا گیا تھا کہ قیامت کے دن ہر چیز اور ہر شخص فنا ہو جائے گا بقا صرف ذات پروردگار عالم ہی کو حاصل ہے۔( ضل عنهم--- ) اور اس آیت میں حقیقی پروردگار کا تعارف کرایا جا رہا ہے۔

"یوم" کے کئی معنی ہیں۔ اور یہ "نہار" (دن) کے علاوہ ہے جو "لیل" (رات) کے مقابل میں ہوتا ہے۔ اس لئے کہ "یوم" کا ایک معنی تو "دن" کا ہے ایک "دن رات" کا اور ایک "دورانئے" کا۔

"تبارک" کو "برکت" سے لیا گیا ہے جو "برک" سے ماخوذ ہے۔ جبر کا معنی ہے "اونٹ کا سینہ جب وہ زمین پر رکھتا ہے" یہ اس کے وہاں پر ٹھہرنے کی علامت ہوتی ہے۔ اور "برکت" کا معنی بھی "بقاء" اور "ٹھہرا رہنا ہے" اور "برکہ" (کنواں) اسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی ٹھہرا اور ذخیرہ بنا رہتا ہے۔

پیام

۱ ۔ اگرچہ خداوند عالم اس بات پر قادر ہے کہ تمام کائنات کو ایک ہی لمحہ میں خلق فرما دے، لیکن آرام اور سکون کے ساتھ کام کی بجاآوری ہی اس کا انداز کار ہے اور اسی میں لوگوں اور کائنات کی مصلحت ہے۔ (فرشتہ ایام)۳۱

۲ ۔ "عرش پر متمکن ہونا" یا "تخت پر بیٹھنا" "تسلط، اقتدار، تدبیر امور، ہدایت اور مکمل ارادے سے کنایہ ہے۔ دوسری زبانوں میں بھی اسی قسم کا کنایہ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں کہ "فلاں کو عرش سے فرش پر پھینک دیا گیا" یعنی اسے اقتدار اور تسلط سے علیحدہ کر دیا گیا۔( استوی علی العرش )

۳ ۔ زمین گول اور متحرک ہے( یطلب حثیثا ) شب و روز کا مسلسل ایک دوسرے کے پیچھے لگ رہنا یہ زمین کے گول اور متحرک ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔

۴ ۔ کائنات کا ایک باقاعدہ نظام ہے اور وہ بھی ارادہ الٰہی کے آگے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے( بامره مسخرات )

۵ ۔ کائنات کی پیدائش بھی خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس کا ارادہ اور تدبیر بھی۔( له الخلق والامر )

آیت ۵۵

( اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّ خُفْیَةً ط اِنَّه لَایُحِبُُّ الْمُعْتَدِیْنَ ) ۰

ترجمہ: اپنے پروردگار کو گڑگڑا کر اور مخفی انداز میں پکارو، یقیناً وہ تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے۔

دو نکات

ایک سفر میں حضرت رسول خدا نے اپنے بعض صحابیوں کو دیکھا جو زور زور سے دعا کر رہے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:

"دعا آہستہ مانگا کرو۔" (از تفسیر فخر رازی، فی ظلال القرآن اور مجمع البیان)

سابقہ آیت میں خدا کی معرفت کی بات ہوئی تھی اور اس میں خدا کی عبادت کی بات ہو گی۔

پیام

۱ ۔ خدا کی معرفت کے بعد اس کی عبادت ضروری ہے( ادعوا ربکم )

۲ ۔ بہتر یہی ہے کہ دعا تضرع و زاری کے ساتھ اور آہستہ سے ہونی چاہئے۔( تضرعا و خفیة )

۳ ۔ دعا میں تضرع، نالہ اور زاری کا اسی لئے حکم ہے تاکہ انسان اپنی ضروریات اور اپنے اندر ہر قسم کی کمی کو محسوس کرے اور غرور، تکبر اور خودخواہی جو اس کے اندر موجود ہے اسے باہر نکال دے (جو خود کو بے نیاز اور طاقتور سمجھتا ہے وہ آہ و زاری نہیں کرتا)

۴ ۔ گریہ و زاری اس وقت موثر ہے جب خلوص قلب اور تہہ دل سے ہو( تضرعا و خفیة ) حضرت زکریا علیہ السلام بھی اپنے رب کو مخفی انداز میں اور خلوص دل سے پکارا کرتے تھے جب کہ ارشاد الٰہی ہے "( اذنادی الله نداء خفیا ) "

۵ ۔ عبادت اور دعا و نیائش میں بلند آواز ریاکاری اور دکھاوے کا موجب بن سکتی ہے( خفیة )

۶ ۔ پورے وجود کے ساتھ خدا کی عبادت کرو اور اس سے دعا مانگو، تمہاری زبان تمہارے وجود کی نمائندہ ہونی چاہئے۔( لضرعا )

۷ ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "دعا میں ہاتھوں کو بلند کرنا ہی گڑگڑانا اور تضرع و زاری کرنا ہے" حضرت پیغمبر اکرم بھی ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کیا کرتے تھے، چنانچہ حضرت سلمان فارسی روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا نے فرمایا:

"خداوند عالم کو ایسا ہاتھ خالی لوٹانے سے شرم آتی ہے جو دعا کے لئے اٹھایا جائے" (اس روایت کو تفسیر قرطبی اور سنن ترمذی نے بھی نقل کیا ہے)

۸ ۔ سرے سے دعا ہی نہ مانگی جائے، اگر مانگی جائے تو اس میں تضرع و زاری نہ ہو، یا ریاکارانہ انداز میں مانگی جائے یا مخفی طو رپر نہ مانگی جائے بلکہ زور زور سے اور بلند آواز کے ساتھ مانگی جائے تو "تجاوز" کے زمرے میں آئے گی( لایحب المعتدین )

آیت ۵۶

( وَلَاتُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَاوَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمْعًاط اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ ) ( مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ ) ۰

ترجمہ: زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، اور خدا کو خوف اور امید کے ساتھ پکارو! یقیناً اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے نزدیک ہے۔

چند نکات

گزشتہ آیت میں بندے کا خدا سے تعلق بیان کیا گیا تھا اس آیت میں بندے کا بندوں کے ساتھ رابطہ کیا گیا ہے۔

اس میں اور اس سے پہلی آیت میں دو مرتبہ "ادعوا" کا حکم ہے۔ اور ان دونوں فرمانوں کے درمیان "( لاتفسدو فی الارض ) " کا حکم ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زبان کے ساتھ مانگی جانے والی دعا کے ساتھ ساتھ اجتماعی طور پر اصلاح طلبی کی سعی پیہم کو بھی ہر وقت پیش نظر رکھنا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ زبان سے تو دعا مانگی جائے لیکن عمل سے فساد اور معاشرے کی تباہی کے سامان مہیا کئے جائیں۔

اس میں اور اس سے پہلی آیت میں دعا کے شرائط، آداب اور قبولیت کے اسباب کو بیان کیا گیا ہے جو درج ذیل ہیں:

۱ ۔ دعا گڑگڑا کر اور تضرع و زاری کے ساتھ مانگی جائے ۲ ۔ ریاکاری سے ہٹ کر اور مخفی انداز میں دعا کی جائے ۳ ۔ امید اور خوف کے درمیان رہ کر دعا مانگی جائے ۴ ۔ حق کی حدود سے تجاوز کئے بغیر ہونی چاہئے ۵ ۔ فساد اور تباہی کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہونا چاہئے۔

پیام

۱ ۔ اصلاح شدہ اور صاف ستھرے معاشرے کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں( بعد اصلاحها )

۲ ۔ انقلابی مصلح دعا، عرفان اور مناجات سے بے نیاز نہیں ہوتے( وادعوه خوف و … )

۳ ۔ اگر دعا، خوف اور طمع حد اعتدال پر نہ ہوں تو فساد کی حد تک جا پہنچتے ہیں۔

۴ ۔ انسان کو ہر وقت خوف اور امید کی حالت میں رہنا چاہئے، اسی اعتدال کو خداوند عالم نے "احسان" کا نام دیا ہے( --- ) ( قریب من المحسنین )

۵ ۔ احسان، خداوند عالم کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہے اور اس کے بغیر رحمت کا انتظار بے جا ہے( قریب من المحسنین )

۶ ۔ حق کی جانب دست نیاز دراز کرنا اور فساد سے دور رہنا ہی "احسان" ہے( قریب من المحسنین )

آیت ۵۷

( وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْراًًم بَیْنَ یَدَ یْ رَحْمَتِه حَتّٰی اِذَآ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثَقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِه الْمَآءَ فَاَخْْرَجْنَا بِه مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ ) ۰

ترجمہ: اور وہ وہی (خدا) ہے جو اپنی (باران) رحمت کے آگے آگے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے، حتیٰ کہ جب ہوا سنگین (اور پانی سے بھرے) بادلوں کو اٹھا کر روانہ ہوتی ہے تو ہم اسے بے جان سرزمین کی طرف روانہ کرتے ہیں پس اس ذریعے سے ہم بارش نازل کرتے ہیں، پس اس کی وجہ سے ہم ہر قسم کے میوے (زمین سے) اگاتے اور باہر نکالتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زمین سے نکالیں گے تاکہ تم (زمین کے بے جان او رافسردہ ہونے کے بعد اس کی زندگی کو ملاحظہ کرکے) نصیحت حاصل کرو۔

ایک نکتہ

گزشتہ آیات میں خدا شناسی یا معرفت الٰہی کا ذکر تھا اور یہاں ہر معاد کا تذکرہ ہے۔ اور مبداء و معاد دونوں میں فطری مسائل اور نظام تخلیق کائنات سے استدلال کیا گیا ہے۔

پیام

۱ ۔ طبعی اور فطری قوانین اپنی تمام پیچیدگی اور نظم و انتظام کے باوجود پروردگار عالم کے ارادہ و اختیار کے ماتحت ہیں لہٰذا کہیں ایسا نہ ہو کہ انسان کو مبرا ہستی یا خالق کائنات سے غافل کر دے۔( هوالذی )

(سائنسی او رمادی فارمولوں کے چکر میں پڑ کر مادیات کے سمندر میں غرق نہ ہو جانا ہوا کی حرکت اور اس کی ہدایت، بارش کا برسنا اور نباتات کا اگنا سب خداوند عالم کی تدبیر کے تابع ہیں( هوالذی )

۲ ۔ معاد (قیامت کے منکرین کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے صرف وہ "استبعاد" (بعید سمجھنے) سے کام لیتے ہیں یعنی کہتے ہیں کہ قیامت کے دن منتشر اجزاء اور پراگندہ ذرات کو یکجا کرنا بعید ہے۔ حالانکہ اس کائنات میں اس کے نمونے موجود ہیں۔ سیب، ناشپاتی اور انار کے ذرات جو کہ اس زمین میں منتشر اور اجزا جو کہ پراگندہ ہیں انہیں جمع کرکے سیب، ناشپاتی اورانار کی صورت میں پیدا کرنے والی ذات مردوں کے ذرات اور اجزا کو جمع کرنے پر قادر ہے۔ اور یہی بات اس استبعاد کے دور کرنے کے لئے کافی ہے۔( کذالک مخرج الموتیٍ )

۳ ۔ موت، عدم (نیستی) نہیں بلکہ حالت کی تبدیلی کا نام ہے جبکہ مردہ زمین، معدوم چیز کا نام نہیں ہے۔

آیت ۵۸

( وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یُخْرِجُ نَبَاتُه بِاِذْنِ رَبِّه وَالَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَکِدًا ط کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ) ( لِقَوْمٍ یَّشْکُرُوْنَ ) ۰

ترجمہ: پاکیزہ (اور آمادہ) سرزمین کی نباتات اپنے پروردگار کے حکم سے (مفید اور بابرکت) باہر نکلتی ہے۔ لیکن جو زمین خبیث (شورہ زار اور معیوب) ہوتی ہے وہ تھوڑی سی بے فائدہ چیز کے علاوہ اور کچھ باہر نہیں نکالتی۔ اس طرح ہم اپنی آیات کو شکرگزار لوگوں کے لئے الٹ پھیر کر بیان کرتے ہیں۔

ایک نکتہ

قرآنی آیات باران رحمت کی مانند ہیں اگر آمادہ دلوں پر پڑھی جائیں تو معرفت، عشق ایمان اور سعی مسلسل میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ نااہل افراد کے لئے ہٹ دھرمی اور ضد کے علاوہ کسی چیز میں اضافہ نہیں ہوتا۔ ارشاد پروردگار ہے: "( وننزل من القرآن ماهوشفاء و رحمة للموٴمنین ولا یزید الظالمین الاخسارا ) " (بنی اسرائیل/ ۸۲)

باران کہ در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لالہ روید و در شورہ زار خس

پیام

۱ ۔ خاندانی، شرافت، وراثت اور شخصیت کے عوامل میں سے ایک ہے۔( البلد الطیب )

۲ ۔ صرف نزول رحمت ہی کافی نہیں، مکان و محل کی قابلیت اور فراخیت کے علاوہ اذن الٰہی بھی ضروری ہے( باذن ربه )

۳ ۔ اگرچہ نظام فطرت اپنے خاص قوانین کی بنیادوں پر استوار ہے لیکن سب کچھ پروردگار عالم کی زیرنگرانی اور اس کے ارادہ و اختیار کے تحت چل رہا ہے( باذن ربه )

۴ ۔ اگرچہ قرآن مجید تمام لوگوں کے لئے ہدایت اور بیان ہے لیکن اس سے صرف متقین اور شاکرین ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں( لقوم یشکرون ) ۳۲

آیت ۵۹ ، ۶۰

( لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًااِلَی قَوْمِه فَقَالَ یَقَوْمِ عْبُدُو ا اللّٰهَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُه ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ۰ قَالَ الْمَلَاءُ مِنْ قَوْمِهٓ اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ ضَلٰلِ مُّبِیْنٍ ) ۔

ترجمہ: بے شک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا، تو اس نے کہا: اے میری قوم! خدا کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ یقین جانو کہ میں تم پر بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

اس کی قوم کے سرداروں نے کہا: اس میں شک نہیں کہ ہم تجھے واضح اور آشکارا گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔

چند نکات "بلاخبیث" (جو گزشتہ آیت میں بیان ہوا ہے) کا نمونہ حضرت نوح کی قوم تھی کہ حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں جس قدر بھی تبلیغ کی انہوں نے اس سے کوئی اثر نہ لیا۔

حضرت نوح علیہ السلام کی داستان سورت احقاف، سورہ صافات، اسرأ (بنی اسرائیل) احزاب، مومنون او رقمر میں مذکور ہے۔

"خوف" میں مثبت پہلو پایا جاتا ہے جبکہ "جبن" (بزدلی) منفی بھی ہے اور ناپسند میں بھی( اخاف علیکم )

پیام

۱ ۔ توحید اور خداپرستی کی دعوت تمام انبیا کی دعوت و تبلیغ کا سرنامہ ہے اور تمام ادویات کے مشترکات میں شامل ہے( اعبدواالله )

۲ ۔ انبیاء، عالم انسانیت کے حقیقی اور دلسوز وست میں( یا قوم، اخاف علیکم )

(البتہ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت عالمی تھی۔ کیونکہ ان کی قوم اس دور کے تمام لوگ تھے۔ او رحضرت نوح نے اپنی بددعا میں روئے زمین کے تمام کفار کو شامل کیا تھا اور وہ غرق ہو گئے تھے۔ انہوں نے بددعا کی کہ "( رب لاتعزی علی الارض من الکافرین دیارا ) " (نواح/ ۸)

۳ ۔ انبیاء کے مخالف ہمیشہ بڑے لوگ، اشرافیہ، سردار، ثروتمند اور مالدار لوگ ہی ہوا کرتے تھے کہ جن کی دولت کی "چمک" لوگوں کی آنکھوں کو "پُر" کر دیتی تھی۔( اعلأ من قومه )

۴ ۔ اگرچہ ایمان نہ لانا بری بات ہے لیکن اس سے بڑھ کر برائی یہ ہے کہ انبیاء کو (نعوذ باللہ) گمراہ سمجھا جائے۔ جب فطرت مسخ ہو جاتی ہے تو حقیقی راہنماؤں کو بھی گمراہ سمجھاجانے لگتا ہے آج بیسویں صدی میں بھی دنیا کے الحاد کو روشن فکر اور انبیاء اور مبلغین دین کو رجعت پسند، وقیانوسی اور سادہ لوح سمجھتے ہیں۔

۵ ۔ جو نظام توحید کے اجرا اور نظام شرک کی بیخ کنی کا داعی ہوتا ہے اسے ہر قسم کی تہمت، توہین، استہزاء اور مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔( لنراک فی ضلٰل مبین )

آیت ۶۱ ۔ ۶۲

( قَالَ یَقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لَکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۰ اُبَلِّغُکُمْ رِسَلَتِ رَبِّیْ وَاَنْصَحُ لَکُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَاتَعْلَمُوْنَ ) ۰

ترجمہ: (حضرت نوح نے کہا! اے میری قوم! مجھ میں کسی قسم کا انحراف اور گمراہی نہیں ہے، بلکہ میں عالمین کے پروردگار کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں۔

میں اپنے پروردگار کے پیغامات تم تک پہنچاتا ہوں، تمہارا خیرخواہ ہوں اور خدا کی طرف وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

ایک نکتہ

"نصح" کا معنی ہے خالص اور کسی قسم کی ملاوٹ کے بغیر ہونا۔ اسی لئے خالص شہد و "ناصح العسل" کہتے ہیں۔

پیام

۱ ۔ تمام کائنات کا صرف اور صرف ایک ہی رب ہے جو سب کا پروردگار ہے، لہٰذا ہر ایک چیز کے لئے علیحدہ علیحدہ رب نہ بناؤ۔( رب العالمین )

۲ ۔ جاہلوں کی توہین و استہزاء کے مقابل میں صبر سے کام لو۔( یس بی ضلالة )

۳ ۔ سب سے پہلا اولوالعزم نبی، بدترین باتوں کے جواب میں نرم ترین روش اختیار کرتا ہے۔ اس سے ہمیں سبق سیکھنا چاہئے۔

۴ ۔ مبلغ کو ایک تو خیرخواہ اور دلسوز ہونا چاہئے اور اس کے ساتھ ہی کافی حد تک عوام سے بہرہ ور بھی ہونا چاہئے۔( الضح- اعلم )

۵ ۔ انبیاء کرام، علم و معرفت کی ان حدود تک پہنچے ہوتے ہیں کہ جہاں پر عام انسان کی رسائی نہیں ہو سکتی۔( لاتعلمون )

آیت ۶۳

( اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآئَکُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٌ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْ وَ لِتَتَّقُوْ ا وَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) ۰

ترجمہ: کیا تم نے اس بات پر تعجب کیا ہے کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم میں سے ایک شخص کے پاس نصیحت آ چکی ہے تاکہ وہ تمہیں ڈرائے اور تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو اور ہو سکتا ہے کہ تم پر رحم کیا جائے۔

پیام

۱ ۔ وحی کا اصل مقصد انسان کی تربیت ہے۔( ربکم )

۲ ۔ "حجاب معاصرت" (کسی کا ہم عصر ہونا اس کی) برحق اور منطقی باتوں کی قبولیت سے مانع ہوتا ہے۔ حضرت نوح کی قوم بھی کہتی تھی کہ "وہ کیونکر نبی ہوئے اور ان پر کسی لئے وحی نازل ہوئی ہے جبکہ ہم اس چیز سے محروم ہیں؟ وہ وحی کی باتوں کو سمجھیں اور ہم کیوں محروم رہیں؟ آخر کس لئے نوح جیسے غریب آدمی پر وحی نازل ہو اور فلاں امیر کبیر اور سرمایہ دار پر نازل نہ ہو؟"( اوعجبتم )

۳ ۔ بعثت اور نبوت کا فلسفہ، لوگوں کو خبردار کرنا، توجہ دلانا، گناہوں سے بچانا، تقویٰ کا درس دینا اور خداوند عالم کے لطف و کرم کو حاصل کرنا ہے( لینذر کم، تتقوا، ترحمون )

۴ ۔ تقویٰ، رحمت خداوندی کے نزول کا موجب ہوتا ہے( لتتقوا، لعلکم ترحمون )

آیت ۶۴

( فَکَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَالَّذِیْنَ مَعَه فِی الْفُلْکِ وَ اَغْرَقَنْاَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْ ا بِاٰیٰتِنَا ط اِنَّهُمْ کَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ ) ۰

ترجمہ: پس انہوں نے (اس بے جا تعجب کی وجہ سے ) نوح کو جھٹلایا، تو ہم نے اسے اور جو کشتی میں اس کے ہمراہ تھے نجات بخشی اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی انہیں غرق کردیا کیونکہ وہ (دل کے ) اندھے لوگ تھے۔

ایک نکتہ

"عمین" جمع ہے "عمی (بروزن دلو) کی۔ اور عمی اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کی چشم بصیرت یا باطنی دید ختم ہو چکی ہو، جبکہ "اعمٰی" اس شخص کو کہتے ہیں کہ جسکے باطن کی آنکھیں بھی جواب دے چکی ہوں۔ (تفسیر نمونہ، المیزان قدر کے فرق کے ساتھ)

پیام

۱ ۔ ایمان، نجات کا سبب اور تکذیب موجب ہلاکت ہے۔( انجینا- اغرقنا )

۲ ۔ دل کا اندھاپن، انبیاء کی دعوت کی تکذیب کا اصل عامل ہے( عمین )

آیت ۶۵

( وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ط قَالَ یَقَوْمِ اعْبُدُوااللّٰهَ مَالَکُمْ مِنْ اِلٰهٍ غَیْرُهط اَفَلَاتَتَّقُوْنَ ) ۰

ترجمہ: ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا، اس نے (ان سے) کہا، اے میری قوم! صرف ایک ہی خدا کی عبادت کرو جس کے علاوہ کوئی اور عبادت کے لائق نہیں۔ کیا تم تقویٰ اختیار نہیں کرتے؟

چند نکات

یہ اس سورت کی دوسری داستان ہے۔ جبکہ حضرت ہود کی داستان کی تفصیل سورہ شعرأ اور سورہ ہود میں بیان ہوئی ہے۔

قوم عاد، یمن کی سرزمین اور حجاز کے جنوبی علاقہ "احقاف" میں رہتی تھی۔ جسمانی لحاظ سے ہٹے کٹے لوگوں کی قوم تھی۔ افزائش حیوانات اور کاشتکاری کے لحاظ سے بھی مالدار قوم تھی۔ لیکن اخلاقی جرائم اور بت پرستی کی مصیبت میں گرفتار تھی، حضرت ہود علیہ السلام کا اس قوم سے رشتہ تھا۔ آپ اسے ڈرانے کے لئے مبعوث بہ نبوت ہوئے۔ اور نوح علیہ السلام کی طرح سب سے پہلے انہیں توحید کی دعوت دی۔

پیام:

۱ ۔ تمام انبیاء کی دعوت کا سرنامہ "توحید" ہے( اعبدواالله )

۲ ۔ انبیاء علیہم اسلام عوامی اور عوام کے بہت بڑے ہمدرد، خیرخواہ اور دلسوز افراد تھے( اخاهم )

۳ ۔ مبلغین کو چاہئے کہ وہ عوام الناس کے ساتھ بھائیوں کے جیسا سلوک کریں اور ان کے ساتھ محبت کا اظہار کریں( اخاهم )

۴ ۔ اگر گزشتہ کفار پر اللہ تعالیٰ کا قہر و غضب نازل ہوا ہے تو اس سے آئندہ اور آنے والی نسلوں کو دراصل عبرت حاصل کرنا چاہئے اور دین کی تکذیب سے گرنا چاہئے۔( افلاتتقون )

آیت ۶۶ ، ۶۷

( قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا مِنْ قَوْمِه اِنَّا لَنَرٰکَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا الَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَذِبِیْنَ ۰ قَالَ یَقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لَکِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) ۰

ترجمہ: (ہود علیہ السلام کی دعوت کے جواب میں) اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا، ہم تو تجھے یقینی طور پر بیوقوفی اور بے عقلی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں اور اس میں تو شک ہی نہیں ہم تجھے جھوٹے لوگوں میں سے سمجھتے ہیں۔

(ہود علیہ السلام نے ان کی جسارت اور گستاخی کے جواب میں) کہا: اے میری قوم! میں بے وقوف نہیں ہوں بلکہ میں تو عالمین کے پروردگار کی طرف سے رسول بھیجا گیا) ہوں۔

ایک نکتہ

ہود کے مخالفین کی جسارت اور گستاخی، نوح علیہ السلام کے مخالفین کی گستاخی سے زیادہ تھی۔

حضرت نوح کے دشمن انہیں "فی ضلالت" گمراہ کیا کرتے تھے۔ جبکہ حضرت ہود علیہ السلام کے دشمن انہیں کم عقل اور جھوٹا کہتے تھے( سفاهة، کاذبین )

پیام

۱ ۔ اللہ کے پیغمبروں کو بہت ہی سخت اور نہایت ہی واضح پروپیگنڈوں، مخالفتوں اور تہمتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔( سفاهة، کاذبین )

۲ ۔ لوگوں کو راہ خدا میں تبلیغ و ارشاد کے سلسلہ میں کائنات کے شریف ترین اور عالم ترین لوگوں کودنیا جہان کے پست ترین اور رذیل ترین لوگوں سے بدترین الفاظ سننے اور برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

۳ ۔ انبیاء کی فراخدلی، وسعت ظرفی اور اخلاقی بزرگواری کا کمال بھی دیکھئے کہ اس قدر گستاخانہ اور جسارت آمیز لہجے میں گفتگو سننے کے بعد بھی کہتے ہیں "اے میری قوم!"( لقوم )

۴ ۔ اپنی ذات پر لگنے والی تہمت کا ازالہ ضرور کریں، لیکن دوسروں کومتہم ہرگز نہ کریں۔( لیس بی سفاهة )

۵ ۔ مبلغ کو اپنا مقصد کبھی پس پشت نہیں ڈالنا چاہئے( لکنی رسول )

۶ ۔ جسے اپنے ہدف پر یقین ہوتا ہے اور خدائی پشت پناہی سے بھی بہرہ ور ہوتا ہے وہ صبر و سکون کے ساتھ گفتگو کرتا ہے( لیس بی سفاهة )

آیت ۶۸

( اُبَلِّغُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَاَ َنا لَکُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ ) ۰

ترجمہ: میں تو اپنے پروردگار کے پیغامات تم تک پہنچاتا رہوں گا اور میں ہی تمہارا خیرخواہ امیں ہوں۔

پیام

۱ ۔ پیغمبروں کی باتیں خدائی رسالت و احکام ہوتی ہیں، اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں کہتے۔( رسالات ربی )

۲ ۔ مبلغین کے لئے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۱ ۔ عوام الناس کے ساتھ دلسوزی ۲ ۔ صداقت۔( ناصح امین )

۳ ۔ جہاں ہر کسی کی اصلاح مقصود ہو تو وہاں پر اپنی تعریف کرنے میں جرم نہیں( انا لکم ناصح امین ) ۳۳

۴ ۔ اگر دلسوزی کے ساتھ دیانتداری نہ ہو تو وہ خطرناک ہو جاتی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ایسی دلسوزی سے کسی کے حقوق پامال ہو جائیں یا قوانین الٰہیہ کی خلاف ورزی ہو جائے( ناصح امین )

آیت ۶۹

( اَوَ اَعْجِبْتُمْ اَنْ جَآئَکُمْ ذِکْرٌ مِّنْ رِّبِّکُمْ عَلٰی رَجُلٌ مِّنْکُمْ لِیُنْذِرَکُمْْ ط وَاذْکُرُوْا اِذْجَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْ م بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَ کُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْطَةً فَاذْ کُرُوْٓ ا اَلآَءَ اللّٰهِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) ۰

ترجمہ: آیا تم نے اس بات سے تعجب کیا ہے کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک شخص کے ذریعہ ہدایت پہنچی ہے؟ تاکہ وہ تمہٰں (گناہوں اور گمراہی کے انجام سے) ڈرائے۔ اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے تمہیں قوم نوح کے بعد اس کا جانشین قرار دیا اور تمہاری خلقت میں اضافہ فرمایا۔ پس تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ فلاح پا جاؤ۔

ایک نکتہ:

۱ ۔ قوم عاد کی جسمانی طاقت اس حد تک تھی کہ وہ خود کہا کرتے تھے: "من اشد منا فوة" ہم سے بڑھ کر اور کون طاقتور ہو سکتا ہے؟۔ اور اس حد تک تنومند تھے کہ جب ہلاک ہو کر زمین پر گرے تو معلوم ہوتا تھا کہ کھجور کے درخت کے تنے گرے پڑے ہیں:( کا نهم اعجاز نخل خاویة ) " (الحاقہ / ۷)

پیام:

۱ ۔ آیا تم اس شخص کو تعجب کرتے ہو کہ جو خدا کا پیغمبر ہے امین بھی ہے، اس کا ماضی بھی تابناک ہے اور تم میں سے بھی ہے، لیکن اپنی بت پرستی سے تعجب نہیں کرتے ہو؟( اوعجتم )

۲ ۔ جسمانی توانائی خدا کی ایسی نعمت ہے جسے صحیح راہ میں صرف کرنا دچاہئے۔( زاد کم فی الخلق البطعة فاذ کروا ) ۔

۳ ۔ خدا کی نعمتوں کی یاد آوری، کامیابی کی دلیل ہے۔( فاذ کروا- تفلحون ) اس لئے نعمتوں کی یاد آوری سے حق و محبت پیدا ہوتی ہے، محبت کیس اتھ ساتھ اطاعت کا جذبہ پدیا ہوتا ہے اور اطاعت سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

آیت ۷۰

( قَالُوْٓا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَ حْدَه وَ نَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُاٰبَآؤُنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدِنَآاِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ) ۰

ترجمہ: (قوم عاد کے افراد نے حضرت ہود سے) کیا: آیا تم ہمارے پاس آ لتے آئے ہو کہ ہم خدائے یگانہ کی پرستش کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجا کرتے تھے انہیں چھوڑ دیں؟ اگر تم سچوں میں سے ہو تو تم نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا وہ لے آؤ!

پیام:

۱ ۔ منطق کی بجائے تعصب کا اظہار قابل مذمت ہے۔ اسی طرح جاہل کا کسی جاہل کی تقلید کرنا بھی!۔( یعبد آباؤنا )

۲ ۔ رسومات اور گزشتگان کی مقرر کی ہوئی سنتیں ہر جگہ پر قابل قدر نہیں ہوا کرتیں۔( یعبد آباؤ نا )

۳ ۔ تعصب اور اندھی تقلید ، حقیقت کی معرفت کے مانع ہوتی ہے اور انسان کو عناد دشمنی کی طرف لے جاتا ہے۔( فائنبما تعدنا )

۴ ۔ بعض اوقات، عادت فطرت پر غالب آ جاتی ہے جیسے گزشتہ لوگوں کی عادت حق طلبی کی فطرت پر غالب آ گئی تھی۔

۵ ۔ انبیاء نے ناجائزرسومات اور بیہودہ سنتوں کی بیخ کنی کی ہے۔( نذرمان کان یعبد اباؤنا )

۶ ۔ انسان چاہے کل (ماضی) کا ہو یا آج (حال) کا اس پر دور میں حق مکی منطق کا رستہ اختیار کرنے کی بجائے زوروجبر اور قدرت اور طاقت کی منطق کی بات کی ہے۔ اور انبیاء سے بھی یہی راستہ اختیار کرنے کی خواہش کی ہے۔( فاتنا بماتعدنا )

آیت ۷۱

( قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ ط اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْ ٓ اَسْمَآءِ سَمَّیْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُکُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ط فَانْتَظِرُؤْٓ ا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ ) ۰

ترجمہ: (ہود نے قوم عاد کی ضد کو دیکھ کر کہا: تمہارے پروردگار کی طرف سے پلیدی اور غلیظ و غضب اوعر سزا تمہارے لئے حتمی ہو چکی ہے۔ آیا تم میرے ساتھ اپنے کاموں کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو کہ جنہیں تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے موسوم کیا ہے؟ خدا نے تمہارے معبودوں کے بارے میں کوئی دلیل و برہان نازل نہیں کی ہے۔ پس تم (خدائی قہر کے) منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ اسی انتظار میں ہوں۔

پیام:

۱ ۔ ضد، ہٹ دھرمی اور حق کے ساتھ آویز شرکا نتیجہ خدا کی منزل ننگ و عار اور ہلاکت و تباہی ہوتا ہے۔( قدروقع علیکم )

۲ ۔ پتھر اور لکڑی کو "خدا" کا نام دینے سے خدا نہیں بن جاتے۔ ہمارے دور میں بھی بڑے بڑے بھاری بھر کم الفاظ کے بے مقصد نام ایک وبائی سورت اختیار کر چکے ہیںَ( اسماء سمیتموها )

۳ ۔ مشرکین کے معبود بے مسمیٰ نام ہیں کہ جن کی نہ تو کوئی حقیقت ہے اوعر نہ ہی جواز، نہ ہی خدا نے اس بارے کوئی حکم صادر فرمایا ہے۔( اسماء----- مانزل الله بهما من سلطٰن )

۴ ۔ بت پرستوں سے بھی دلیل طلب کیا کرو۔ وہ جو یہ کہتے ہیں کہ "بت، خدا کے تقرب کا ذریعہ سب "ان سے پوچھو کہ‘ آیا تمہارے پاس کوئی دلیل ہے کہ خدا نے اپنے قرب کے لئے بتوں کی پرستش کو وسیلہ قرار دیا ہے؟"( مانزل الله بهما من سلطان )

۵ ۔ انبیاء کو اپنے ہدگ اور کامیابی پر پورا پورا یقین ہوتا ہے اور دشمنوں کی شکست پر مکمل اطمینان۔( انتظر وا انی معکم من المتنظرین )

آیت ۷۲

( فَاَنْجَیْنٰهُ وَالَّذِیْنَ مَعَه بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَمَاکَانُوْا مُؤْمِنِِیْنَ ) ۰

ترجمہ:

پس ہم نے ہود اور ان کے (عملی اوعر فکری) ساتھیوں کو اپنے لطف و کرم سے نجات دی۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور جو لوگ بے ایمان تھے ہم نے ان کی بیخ کنی کر ڈالی۔

چند نکات:

"دابر" کا معنی ہے کسی چیز کا آخر یا پچھلا حصہ یا اختتام۔ اور "قاطع دابر" کا معنی ہے کسی چیز کی بیخ کنی کر اور آخری شخص کو ہلاک کر ڈالا۔

قوم عاد کی ہلاکت ایسے ہوئی طوفان سے ہوائی جو بانجھ، شور شرابے سے بھرپور ، سرد اور زہریلا تھا۔ اور مسلسل آٹھ دن تک ان پر مسلط رہا۔ جیسا کہ سورہ "الحاقہ" میں ہے کہ: "بریح موصوعاتیةً اور مفسرین نے "ایح صرصر" کی تین خصوصیات بیان کی ہیں اس حال پر دی ہوتی ہے۔ ۲ ۔ شور ہوتا ہے اور ۳ ۔ زہر ہوتی ہے اور زہریلے سرد اور گونجتے طوفان نے ان کا ایک قلع قمع کیا کہ وہ سارے کے سارے درخت فرما کے منہ کی مانند زمین پر پرے ہوئے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے: فتری القوم فیھا صرعیٰ کانھم اعجاز نخل خاویة"

پیام:

۱ ۔ تاریخ سے عبرت حاصل کرو( قطعنا دارالذین کو بهرا )

۲ ۔ رحمت خداوندی انبیاء کے ماننے والوں کے شامل حال ہوتی ہے۔( انجنیاه- برحمة منا )

آیت ۷۳

( وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صَلِحًا قَالَ یَقَوْمِ اعْبُدُو اللّٰهَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهط قَدْ جَآَتْکُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ هٰذِه نَاقَةُ اللّٰهِ لَکُمْ اٰیَةً فَذَرُوْ هَا تَاکُلْ فِیْٓ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ) ۰

ترجمہ: اور قوم ثمود کی طرف اس کے بھائی صالح کو (ہم نے بھیجا اور اس نے بھی نو اور ہود کی مانند لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور) اس نے کہا: اے میری قوم (صرف ایک) خدا کی عبادت کرو کہ خبر کے بغیر کوئی تمہارا معبود نہیں۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس معجزہ اور واضح دلیل آ چکی ہے۔ یہ خدا کی اونتنی سرزمین میں کھاتی (پیتی) رہے۔ اور اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچاؤ ورنہ تمہیں دردناک عذاب اپنی گرفت میں لے لے گا۔

چند نکات:

قرآن مجید میں سات مرتبہ ناقہء صالح" اور چھبیس بار قوم ثمود" کا نام لیا گیا ہے۔ قوم ثمود کی داستان سورہ شعرأ، قمر، کسمس، اور ہود میں بیان ہوتی ہے۔ بقول صاحب۔ تفسیر "المیزان" یہ لوگ یمن میں رہتے تھے۔

بینہ اور معجزہ کا دوسرے خارق العادت انسان ی کاموں کے ساتھ چند چیزوں میں فرق ہوتا ہے،

الف: معجزہ کے لئے ، مشق، کسی سے سیکھنے ، حاصل کرنے اور ماضی کے ساتھ تعلق جیسی صورت نہیں ہوتی۔ جبکہ دوسرے کے خارق العادت انسانی کاموں کے لئے ان چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

ب: معجزے و معصوم اور باکردار افراد سے رونما ہوتا ہے جبکہ دوسرے کام نااہل افراد سے بھی صادر ہو سکتے ہیں۔

ج: معجزے کا مقصد لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی ہوتا ہے جبکہ دوسرے افراد کا ہدف خودنمائی شہرت، حصول زر اور کسی قسم کی دوسری سرگرمی ہوتا ہے۔

د: معجزے میں انبیاء کا کام چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے یعنی وہ ایسا دعویٰ کرتے ہیں جس کو دوسرے انجام نہیں دے سکتے۔ جبکہ نابغہ روزگار افراد، اختراع کنندگان اور ریافت کرنے والوں میں یہ چیز نہیں پائی جاتی۔

پیام:

۱ ۔ انبیاء کا عوام کے ساتھ رابطہ بھائیوں جیسا ہوتا ہے۔( اخاهم )

۲ ۔ انبیاء عوام ہی کے درمیان میں سے ہوتے ہیں۔( یاقوم )

۳ ۔ توحید پرستی، تمام انبیاء کی دعوت کا سرنامہ ہوتا ہے۔( اعبدوالله )

۴ ۔ انبیاء کو خدائی معجزہ کی ضرورت ہوتی ہے۔( مالکم من اله غیره ) تمام انبیاء کی دعوت تھی۔

۵ ۔ انبیاء کو خدائی معجزہ کی ضرورت ہوتی ہے۔( بنیة من ربکم ) البتہ بعض اوقات عوام کی درخواست کے مطابق بھی معجزات رونما ہوتے ہیں جسے "شق القمر" اور "ناقہ صالح"۔

۶ ۔ مقدسات الٰہی کی توہین کی سزا۔ عذاب الہٰی ہے۔( لا تمسوها لبو ٴفیاخذکم )

۷ ۔ خداوند عالم کی خصوصی عنایت اور اس کا لطف و کرم جس چیز کے ساتھ بھی متعلق ہو جائے وہ چیز مقدس ہوجاتی ہو۔( ناقة الله )

۸ ۔ معجزہ ایسا ہونا چاہئے جو جسے پرسطح کے لوگ درک کر سکیں۔ (ناقہ۔ اور۔ اس کا پہاڑے باہر آنا)

۹ ۔ معجزہ کی نوعیت بعض اوقات اس کا تقاضا کرنے والوں کی فکری حیثیت اور عوامی و معاشرتی نیز اقتصادی حالات کے پیش نظر بھی ہوتی ہے۔ (شاید اگر آج کے دور میں ایسی کنیت ہوتی تو وہ پہاڑے ہوائی جہاز کے باہر آنے کا تقاضا کرتے۔)

آیت ۷۴

( وَاذْکُرُوْٓا اِذجَعَلَکُمْ خُلَفَآءَ مِنْ م بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهْوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیَوْتًا فَاذْکُرُوْٓا الَآَءَ اللّٰهِ وَ لَاتَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْْنَ ) ۰

ترجمہ: اور اس وقت کو یاد کرو جب خدا نے عاد (کی ہلاکت) کے بعد تمہیں (ان کا) جانشین بنایا اور زمین میں تمہیں ٹھکانہ عطا کیا کہ جس کے نرم اور ہموار حصوں کے تم محلات تیار کر سکتے ہو اور پہاڑوں سے مکان تراش سکتے ہو۔ پس تم خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔

ایک نکتہ:

"( لاتعثوا ) ‘ ‘ کے معنی ہٰں "لاتفسدوا" (فساد نہ پھیلاؤ) اور "مفسدین" کا کلمہ یا تو تاکید کے لئے ہے یا پھر اس لئے کہ "فساد تمہارا شیوہ نہ بن جائے۔"

پیام:

۱ ۔ گزشتہ افراد کی تاریخ سے عبرت حاصل کرو۔( بعدعاد )

۲ ۔ تمہیں ملنے والی ہر نعمت خدا کی طرف سے ہے۔( جعلکم )

۳ ۔ ہر طبعی کیفیت سے بہرہ مند ہو سکتے ہو۔( سهدلها- الجبال )

۴ ۔ مسکن اور مقام رہائش، خداوند عالم کی مخصوص نعمتوں میں سے ہے۔( قصور، هوت، الآء الله )

۵ ۔ آسائش، مقام رہائش اور محلات اگر یاد خدا سے ہت کر ہوں تو فساد کا سبب بن جاتے ہیں۔( قصوراً- هوتا- مفسدین )

۶ ۔ اگر نعمتوں کو خدا کی امانت سمجھو اور خود کو فانی، تو ہر قسم کے تجاوز اور فساد ہے، دوری اختیار کرو۔( واذکروا--- ولاتعثبوا )

۷ ۔ اشرافیہ اور محل نشینان کے لئے یاد خداوندی کی زیادہ ضروررت ہے تکاہ فساد و تباہی کا شکار نہ ہو جائیں۔ ("قصر" کا کلمہ دو "واذکروا" کے درمیان واقع ہوا ہے)


آیت ۷۵ ۔ ۷۶

( قَالَ الْمَلَاُالَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْ ا مِنْ قَوْمِه لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْ ا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صَلِحًامُّرْسَلٌ مِّنْ رِّبِّه ط قَالُوْٓااِنَّابِمَا اُرْسِلَ بِه مُؤْمِنُوْنَ ۰ قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرَوْٓا اِنَّا بِالَّذِیْٓ اٰمَنْتُمْ بِه کٰفِرُوْنَ ) ۰

ترجمہ: حضرت صالح کی قوم کے متکبر سرداروں نے اس قوم کے مستصعف مومنین سے کہا: آیا تمہیں "سلام ہے کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجا گیا ہے؟ (مومنین نے ان کے شکوک و شبہات پیدا کرنے والے انداز گفتگو کے جواب میں) کہا: یقیناً ہم ان تمام چیزوں پر ایمان لا چکے ہیں جن کے ساتھ انہیں بھیجا گیا ہے۔ تو متکبرین نے کہا: ہم ان چیزوں کے کافر ہیں جن پر تم ایمان لا چکے ہو۔

پیام:

۱ ۔ اشرافیہ اورپوش علاقوں کے مکین انبیاء کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہوتے ہیں۔( الملا الذین استکبروا )

۲ ۔ انبیاء کے بیشتر پیروکارمستضعفین ہی ہوا کرتے تھے۔( لمن آمن منهم )

۳ ۔ انبیاء کی دعوت پر مستضعفین کے ایمان لانے کا عامل صرف مادی فقر نہیں ہوتا تھا کیونکہ بہت سے مستضعفین صاحب ایمان نہیں تھے۔( منهم )

۴ ۔ رہبر کو کمزور کر دینا دشمن کے اصل ہداف میں شامل ہے۔( اتعلمون ان صالحامرسل )

۵ ۔ دلوں میں شک و شبہ ایجاد کرنا ایمان کے کمزور آنے کا ایک شیوہ ہے۔( القلمون )

۶ ۔ اگرچہ یہ ماحول اور معاشرے کا بھی اثر ہوتا ہے لیکن کسی کو مجبور نہیں کرتا۔ (غریب مستضعفین نے مالدار اور تونگ متکبرین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا؛ "ہم صالح پر ایمان رکھتے ہیں۔ )

۷ ۔ نہ تو فقری فاقہ اور استضعاف کی اہمیت ہے اور نہ ہی تونگری، قصر شکنی اور مالداری کی۔ اصل قدروقیمت منطبق، علم، ایمان، تقویٰ، ہجرت اور جہاد کو حاصل ہے۔ جیسا کہ گزشتہ آیت میں قصر سازی کو خدا کی نعمت میں شمار کیا گیا ہے بشرطیکہ موجب فساد نہ بنے اور اس جگہ پر متضعفین کے مومن گروہ کی ستائش کی گئی ہے نہ کہ سب کی۔ (امن منھم)

آیت ۷۷

( فَعَقَرُالنَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْ یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنََ ) ۰

ترجمہ: پس ان (متکبرین) نے ناقہ (صالح) کو پے کر کے قتل کر دیا اور اپنے پروردگار کے فرمان (عذاب) ہمارے لئے لے آؤ جس کا تم وعدہ کرتے ہو۔

دونکات:

"عُقر" کا معنی ہے "پے کرنا" یعنی ایسی مخصوص حکم و مضبوط رگ کو کاٹ دینا ہے جو اونٹ یا گھوڑے کے پاؤں کے پچھلے حصے میں ہوتی ہے اور ان کی حرکت کا اہم عامل ہوتی ہے۔ اگر اسے کاٹ دیا جائے تو جانور زمین پر گر پڑتا ہے اور چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتا۔

سورہ قمر میں "عقر" مفرد کی صورت میں استعمال ہوا ہے کیونکہ قاتل ایک ہی شخص تھا۔ لیکن اس آیت میں سورہ والشمس میں "عقروا" جمع کی صورت میں آیا ہوا ہے۔ کیونکہ اس کے پے کرنے کی نسبت ان سب لوگوں کو نگا طرف دی گئی ہے یہ اس لئے ہے کیونکہ ان کا اس تجاوز پرسکوت اور رضامندی انہیں امر کے جرم میں برابر کا شریک ٹھہرا رہی ہے۔

پیام:

۱ ۔ کسی گناہ پر خاموشی اختیار کر لینا اور اس پر راضی رہنا، خود گناہ میں شرکت حساب ہوتا ہے۔ (غور کیجئے کہ قاتل ناقہ ایک شخص تھا لیکن فعل میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔)

۲ ۔ اونٹ یا اونٹنی کا قتل کر دینا اتنا اہم نہیں جتنا فرمان ھق سے سر نیچی اور نافرمان اہم ہے۔( عتوا عن امر ربهم )

۳ ۔ تکبر، جسارت اور گستاخی کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔( امتنا بما تعدنا )

۴ ۔ جانور بذات خود مقدتر نہیں ہوتا اس کا تقدیر اس کی نسبت کی وجہ سے اورنمونہ ہونے کی بنا پر ہوتا ہے۔( فعقروآالناقة و عتوا )

آیت ۷۸

( فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ ) ۰

ترجمہ: پس زلزلے نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، انہیں نے صبح کی تو ان کی کیفیت یہ تھی کہ اپنے گھروں میں منہ کے بل گرے مرے پڑے تھے۔

دونکات:

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ قوم ثمود کی ہلاکت زلزلے کی وجہ سے ہوئی۔ جبکہ سورہ فصلت ۱۴ ء اور سورہ زاریات ۴۴ میں ان کی ہلاکت کا موجب بجلی کو بتایا گیا ہے جب کہ ارشاد رب العزت ہے کہ "فاخذتھم الصاعقة وھم ینظرون" یعنی گرنے والی بجلی نے انہیں اس وقت تباہ کر دیا جب وہ دیکھ رہے تھے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم بیک وقت دو قسم کے عذابوں میں گرفتار ہوئی اوپر سے گرنے ولای بجلی اور نیچے سے زلزلہ۔

"جائم" اس کو کہتے ہیں جو زانو میں سر ڈالے ہوئے ہو اور اٹھنے پر قدرت نہ رکھتا ہو۔

پیام:

۱ ۔ خبردار! خدائی عذاب ناگہانی آتا ہے۔( فاخذهم- فاصبحوا- )

۲ ۔ انبیاء کا وعدہ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے لہٰذا ان کی تنہیات کو مذاق نہ سمجھو۔ (گذشتہ آیات میں تنبیہ کی گئی تھی۔ "لاتمبوھابسوء فیا خذکم عذاب الیم" اس ناقہ کو کوئی تکلیف نہ دو ورنہ تمہیں عذاب الیم اپنی گرفت میں لے لے گا۔ چنانچہ اسی زلزلہ میں "عذاب الیم" ہے۔

۳ ۔ بعض اوقات قدرتی آفات اور زلزلے عذاب الہٰی بن کر آتے ہیں۔( فاخذتهم الرجفة )

آیت ۷۹

( فَتَوَلّٰی عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ وَلَکِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ ) ۰

ترجمہ: پس (اللہ کے) اس (پیغمبر صالح) نے ان سے منہ پھیر لیا اور کہا اے میری قوم! یقینا میں نے قوم ثم تک اپنے خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہارے لئے خیر خواہی کی لیکن تم خیرخواہوں کو دوست نہیں رکھتے۔

ایک نکتہ:

حضرت صالح کی اس گفتگو کے بارے میں دو احتمال میں ایک تو یہ کہ ممکن ہے عذاب سے پہلے انہوں نے اپنی قوم کے ساتھ یہ باتیں کی ہوں۔ جبکہ یہ احتمال بھی ہے کہ ہو سکتا ہے ان کی ہلاکت کے بعد اس نے ایسا کہا ہو! جیسا کہ حضرت رسول خدا نے چاہ بدر کے کنارے پر کھڑے ہو کر مردہ کفار کے ساتھ باتیں کی تھیں۔ صحابہ نے پوچھا کہ: "آیا لوگ سن رہے ہیں؟" فرمایا: ’ہاں سن رہے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ انبیاء کا تبلیغی پروگرام دل سوزی اور خیر خواہی پر مبنی ہوتا ہے تاکہ صرف خشک اور سرکاری دفتری حکم نامہ جاری کرنے کے انداز میں۔( لصحت لکم )

۲ ۔ خدائی سزائیں اتمام حجت کے بعد ہی ملتی ہیں۔( لقد ابلغتکم )

۳ ۔ جو لوگ ہمارے ساتھ دل سوزی اور خیر خواہی کا اظہار کرتے ہیں ہمیں ان کے ساتھ محبت ہونی چاہئے۔ کیونکہ جو شخص ایسے لوگوں کو دوست نہیں رکھتا وہ قہر خداوندی کی راہیں ہمسوار کرتا ہے۔( فاخذتهم الرجفة ) ۔

۴ ۔ کسی کو دولت رکھنا، اس کی اتباع کرنے کی کنجی ہوتا ہے۔

آیت ۸۰ ۔ ۸۱

( وَلُوْ طًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِه اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَکُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ۰ اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ ) ۰

ترجمہ: اور (ہم نے) لوط کو (لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا) جب اس نے اپنی قوم سے کہا: آیا تم ایسا برا کام کرتے ہو کہ اس سے پ ہلے اس جیسا دوسرا کام عالمین میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کیا؟

تم شہوت کے لئے عورتوں کے بجائے مردوں کے باس جاتے ہو! بلکہ تم تو اسراف کرنے والے لوگ ہو۔

چند نکات:

حضرت لوط جناب ابراہیم کے رشتہ دار تھے اور وہ اکیلے شخص تھے جو اُن پر ایمان لائے اور ان کے ساتھ ہجرت کی "فآمن لہ لوط" (عنکبوت/ ۲۲) اور حضرت ابراہیم نے انہں ایسے علاقہ میں تبلیغ کے لئے بھیجا جہاں یہ برائی عام تھی۔

حدیثوں میں آیا ہے کہ: حضرت لوط کی قوم کے افراد مہمانوں کے ساتھ لوط جیسا قبیح فعل سرانجاقم دیتے تھے تاکہ لوگ ان کا مہمان بننے سے اجتناب کریں۔ قرآن کے بقول حضرت لوط نے انہیں لڑکیوں کے ساتھ شادی کرنے کی بھی پیشکش کی لیکن انہوں نے اسے مسترد کر دیا۔

ازدواج اور نکاح میں چند خوبیان ہیں جو لواط میں نہیں ہیں۔

۱ ۔ انس و محبت اور پیار و رحمت

۲ ۔ افزائش نسل

۳ ۔ خانوادگی نظام کی تشکیل

۴ ۔ انسانی اور فطری طریقہ کار۔

بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پورے معاشرے نے ہم جنس بازی کے آس قبیح فعل کو برائی میں شمار نہیں کیا بلکہ بعض ملکوں میں تو اس کو باقاعدہ قانونی شکل دے دی گئی ۔

حضرت ہود، حضرت صالح اور حضرت شعیب کے بارے میں لفظ "اخاھم" استعمال ہوا ہے لیکن حضرت لوط کے بارے میں استعمال نہیں ہوا تو اس کی وجہ شاید یہی ہو سکتی ہے کہ حضرت لوط ایک اور علاقے سے ان لوگوں کی تبلیغ کے لئے ہجرت کر آئے تھے۔

پیام:

۱ ۔ حضرت لوط کی تبلیغ کا عمدہ پہلو فحاشی خصوصاً جنسی برائیوں کے خلاف جہاد تھا۔ کیونکہ ان کے معاشرے بہت بڑی مشکل یہی برائی تھی۔

۲ ۔ اگر بت پرستوں کے پاس یہ بہانہ تھا کہ ان کے اباؤ اجداد ایسا کام کرتے تھے تو فحاشی اور بدکاری پیروکاروں کے پاس یہ بہانہ بھی نہیں تھا۔ اس بدکاری اور گناہ کے موجد وہ خود آپ تھے۔( ماسبقکم بها )

۳ ۔ جو فطری راہوں کے استعمال کو چھوڑ کر دوسرے استعمال کرتا ہے سرف ہوتا ہے۔( مسرفون )

آیت ۸۲

( وَماَ کَانَ جَوَابَ قَوْمِه اِلَّا اَنْ قَالُوْا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِکُمْ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ ) ۰

ترجمہ: اور حضرت لوط کی قوم کا جواب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا کہ انہیں اپنی آبادی سے نکال دو (کیونکہ) یہ ایسے لوگ ہیں جو (تمہارے اس کام سے بڑے) پاکباز بنتے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ گناہگاروں کے ہر کوئی منطقی جواب نہیں ہوتا۔( ماکان جواب قومه )

۲ ۔ جب کسی معاشرے میں بے حیائی عام ہو جاتی ہے تو اس میں نیک پاک لوگوں کو گوش گمنامی اختیار کر دینے پر مجبور کر دیا جاتا ہے اور پاکیزگی جرم سمجھی جاتی ہے۔( اخرجوهم )

۳ ۔ نہی عن المفتکر کی راہ میں جلاوطنی اور مشکلات کے گھیراؤ کے لئے بھی تیار رہنا چاہئیت۔( اجرحوهم )

۴ ۔ مجرمین، پاکدامن لوگوں کے لئے معاشرہ میں زندہ رہنے کے بھی روادار نہیں ہیں۔ (ق( ریتکم )

۵ ۔ یہ ٹھیک ہے کہ حضرت لوط کی قوم گناہ کی عادت کر چکی تھی لیکن وہ حضرت لوط اور ان کے ساتھیوں کو پاک افراد سمجھتے تھے۔( یطهرون )

آیت ۸۳

( فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٓ اِلَّا امْرَاَتَه کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ) ۰

ترجمہ: پس ہم نے لوط اور اس کے خاندان کو نجات دی سوائے اس کی بیوی کے کہ وہ (خاکستر عذاب میں) باقی رہنے والی تھی۔

پیام:

۱ ۔ انسان کو آزادی حاصل ہے اور خاندانی ماحول انسانی ارادے کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتا (ہو سکتا ہے کہ ایک نبی کے گھرمیں رہ کر اس کی بیوی جو وحی کے ماحول میں رہ رہی ہو کفر کا راستہ اختیار کرلے اور نبی کا اس پر بس نہ چل سکے)

۲ ۔ اسلام میں مذہبی اور دینی رابطوں کو اہمیت حاصل ہوتی ہے رشتہ داری کو نہیں۔( الاامرأته )

۳ ۔ مقدر اور نورانی چہرہ افراد کا حساب الگ ہوتا ہے اور ان سے وابستہ لوگوں کا حساب الگ( الامراته )

۴ ۔ ہر شخص اپنے اعمال کے گروی ہے۔ ایک نبی کی بیوی تباہ و برباد ہو سکتی ہے اور فرعون جیسے ظالم اور جابر شخص کی بیوی راہی خُلد برین ہوتی ہے۔( للاامراته )

آیت ۸۴

( وَ اَمْطَرْناَ عَلَیْهِمْ مَّطَرًا ط فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ ) ۰

ترجمہ: اور ہم نے ان کے اوپر (عذاب کی) بااثر برسائی، پس دیکھو کہ گنہگار مجرموں کا انجام کیسا ہوتا ہے؟

چند نکات:

قوم لوط کی ہلاکت ان کے سروں آسمانی پتھروں کی بارش سے ہوئی ایسے پتھر جو ڈھیلوں کی مانند نشان لگائے ہوئے تھے۔ یا پھر پتھر کسی خاص فرد کی ہلاکت کے لئے مخصوص تھا۔ (لفظ "مسومة" سے استفادہ کرتے ہوئے جو سورہ ہود / ۸۳ میں ہے "واصطرنا علیھا حجارة من سجیل منضود مسومة عندربک" یعنی ہم نے اس بستی پر ڈھیلے نما پتھر تابڑ برسائے جن پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نشان بنائے ہوئے تھے۔

قوم لوط میں صرف لواط جیسے قبیح فعل کی برائی نہیں پائی جاتی تھی وہ گور جواری بھی تھے ہرزہ گوئی بھی ان کا شیوہ تھا۔ راہ چلتے لوگوں کی توہین کرتا اور ان کی طرف کنکریان پھینکنا ان کا دلچسپ مشغلہ بھی تھا۔ اور پھر یہ کہ عام گزرگاہوں ، پر ننگے ہو کر بیٹھ جاتے تھے۔ (از سفینة البحار جلد نمبر ۲ صفحہ نمبر ۵۱۷)

حضرت امام جعفر صادق لواط کی حرمت کے فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: "لواط، زن و شوہر کے درمیان ازدواجی تعلقات پر اثر انداز ہوتا ہے، نسل انسانی کو منقطع کر دیتا ہے۔ طبعی طور پر جنسی آمیز شر کی لذت کو ضائع کر دیتا ہے، اس کے علاوہ بھی اس کے دوسرے بہت سارے نقصانات ہیں۔ (وسائل الشیعہ جلد ۱۴ ص ۲۵۴)

اسلام میں لواط کی سزا، موت ہے فاعل ہو یا مفعول دونوں کے لئے حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ ’لواطت کے موقعہ پر عرش الہٰی لہٰذا براندام ہو جاتا ہے۔ اس کا ارتکاب کرنے والا قیامت کے دن جنب محشور ہو گا۔ اس پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے (وسائل الشیعہ جلد ۱۴ ص ۲۴۹)

حضرت رسول فرماتے ہیں۔

"خدا لعنت کرے ایسے لوگوں پر جو خود کو عورتوں کی مانند بنا کر ہوس کے پجاریوں کے اختیار میں دے دیتے ہیں" (وسائل الشیعہ جلد ۱۴ ص ۲۰۰)

یہ حصہ تفسیر نمونہ سے خلاصہ کیا گیا ہے۔

پیام:

۱ ۔ فطری راہوں کو تبدیل کرنا ۰ مردون کے ذریعہ جنسی خواہش کی تکمیل کرنا) خدا کے مقرر کردہ راستوں میں تبدیلی کرنے کے مترادف ہوتا ہے، اسی لئے اس کی سزا بھی بارش کے پانی کی بجائے پتھروں کی بارش ہوتی ہے۔

۲ ۔ خدا کا قہر و غضب کسی خاص گناہگار طبقے سے مخصوص نہیں ہے عذاب پر گنہگار کے تعاقب میں ہے اس لئے سب کو مجرمین کو ہر ترمین رہنا چاہئے۔( فانظر )

آیت ۸۵

( وَ اِلٰی مَدَیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا ط قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُواللّٰهَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُه قَدْ جَآءَ تْکُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رِّبِّکُمْ فَاَوْفُو الْکَیْلَ وَالَمِیْزَنَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیآَئَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا ط ذٰلِکُمْ خَیْرُ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْْ مُّؤْمِنِیْنَ ) ۰

ترجمہ: اور مدین (کے لوگوں) کی طرف (ہم نے) ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا) اس نے کہا: اے میری قوم (صرف) ایک خدا کی پرستش کرو جس کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود نہیں۔ یقینا تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس واضح دلیل اور روشن معجزہ آ چکا ہے۔ پس تم (لین دین میں) پیمانہ اور ترازو کو پورا رکھو، اور لوگوں کی اشیاء کو کم نہ کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ برپا کرو۔ تمہارے لئے یہ (راہنما اصول) بہتر ہیں اگر تم ایمان رکھتے ہو۔

چند نکات:

اس سورت میں یہ انبیاء کی یہ پانچیوں داستان ہے۔ حضرت شعیب جناب موسیٰ کے خُسر تھے جو مدین کے لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے۔ (مدین ، شام کا ایک شہر تھا جس کے رہنے والے تجارت پیشہ، خوشحال، بت پرست اور کم فروش تھے۔) حضرت شعیب نے انہیں راہ الات کی ہدایت لیکن انہوں نے مند اور ہٹ دھرمی بے کام لیا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد ’ایکہ" کے لوگوں کے لئے بھیجے گئے انہوں نے بھی آپ کی نافرمانی کی چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔ "کذب اصحاب الایکة المرسلین اذقال لھم شعیب۔‘

احتمال یہی ہے کہ "مدین" آج کے جغرافیہ میں اردن کے نزدیک ایک جگہ ہے جسے آج کل "معان" کہتے ہیح۔ اور "ایکہ" وہی مدین ہی ہو۔ کیونکہ "ایکہ" امیر جگہ کو کہتے ہیں جہاں گھنے درخت ہوں، نیزار اور نخلستان ہوں۔ گویا حضرت شعیب کے شہر کے دو نام تھے، ایک "مدین" اور ایک "ایکہ"۔

پیام:

۱ ۔ کم فروشی، لین دین میں جعل سازی اور اقتصاد یں خلل اندازی "فساد پھیلانے" کے مصداقوں میں شمال ہے۔( ولاتفسدوا )

۲ ۔ شرک اور عقیدے کے انحراف کے بعد قوم شعیب کا اقتصاد اور انحراف بہت ہی اہممسئلہ تھا۔( اعبدواالله- اوفواالکیل )

۳ ۔ ایمان، عدالت اجتماعی کیااجرا کا ضامن ہے( ان کنتم موٴمنین )

۴ ۔ انبیاء کرام ، معاشرے کے اقتصادی مسائل کے نگران ہیں۔

۵ ۔ ہر دور میں لوگوں کی روحانی امراض مختلف ہوا کرتی ہیں حضرت لوط کے دور میں بواطت اور اخلاقی بگاڑ عروج پر تھا جبکہ حضرت شعیب کے زمانے میں اقتصادی بیمار اور فساد زورون پر تھا۔

۶ ۔ کم کاری بھی کم فروشی کی طرح جرم ہے۔ اسی لئے "اموالھم" کی بجائے (اشیاء ھم) فرمایا ہے تاکہ ہر چیز کو شامل ہو اجائے۔

۷ ۔ ایمان کامل ہو اور اقتصاد متعادل ہو تو اس سے دینا اور دنیا کی سلامتی یقینی ہو جاتی ہے۔( ذلکم خیر )

آیت ۸۶

( وَلَاتَقْعُدُ وْ ابِکُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِه وَ تَْبغُوْنَهَا عِوَجًا وَ اذْکُرُوْٓا اِذْ کُنْتُمْ قَلِیْلًا فَکَثَّرَکُمْ وَ انْظُرُ ْو اکَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ ) ۰

ترجمہ: اور ہر راہ پر ڈرانے کے لئے اور انہیں خدا کے راستے سے روکنے کے لئے مت بیٹھو اور (شکوک و شابہات پیدا کر کے) اس راہ کو ٹیڑھی صورت میں تلاشی نہ کرو۔ اور اس زمانے کو یاد کرو جیسا تم تعداد میں تھوڑے تھے پس خدا نے تمہیں زیادہ کر دیا، اور دیکھو کہ فساد برپا کرنے والوں کا انجام کیا ہوا؟

دونکات:

ہر راہ پر بیٹھنے سے مراد ممکن ہے کہ رستوں، لڑکوں اور گلی کوچوں میں فتنہ برپا کرنے کی غرض سے بیٹھنے سے روکا گیا ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فتنہ و فساد برپا کرنے کے لئے ہر راستہ اور ہر قسم کا طریقہ کار اختیار کرنا مراد ہو جیسا کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا کہ:

"( لا قعدن لبهم صراط المستقیم ) " میں ان کے لئے تیرے سیدھے رستے پر بیٹھ جاوئں گا۔ اس سے مراد انسان کو سیدھی راہ سے گمراہ کرنے کے لئے ہر وقت کمین میں لگا ہوا ہے، تاکہ ظاہراً کسی راستے پر بیٹھا ہوا ہے۔

یہ آیت بھی حضرت شعیب کے وعظ و نصیحت سے تعلق رکھتی ہے جو انہوں نے بدین والوں کو کہا تھا۔

پیام:

۱ ۔ حق کے دشمن ، خدا کے راستے سے ہٹانے کے لئے ہر قسم کی راہوں اور ہر طرح کے طریقہ کار سے کام لیتے ہیں۔( کل صراط )

۲ ۔ لوگوں کو وحشت زدہ کرنا، ان سے بھتہ وصول کرنا اور ان کے لئے کسی قسم کی پریشانی کے اسباب جیسا کرنا حرام ہے۔( توعدون )

۳ ۔ اگر دشمنان دین، مومنین کو بے دین نہیں بنا سکتے تو ان کی کوشش ہو تی ہے کہ دین کو کج مج انداز میں پیش کریں۔( عوجام )

۴ ۔ آبادی کی کثرت بھی ایک اہمیت کی حامل ہے۔( فکترکم )

۵ ۔ تاریخ کا مطالعہ اور اس سے واس عبرت لینا، خدائی حکم ہے۔( وانظرواکیف ) ۔۔)

۶ ۔ لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کرتے وقت ان کے انجام کو پیش نظر رکھا کرو کہا ن کا اناجام کیا ہوا؟ یہ نہ دیکھو کہ اس نے وقتی طور پرکیا کارنامے سرانجام دئیے؟( عاقبة )

آیت ۸۷

( وَ اِنْ َکَانَ طَائِفَةٌ مِّنْکُمْ اَمَنُوْا بِالََّذِیْٓ اُرْسِلْتُ بِه وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا وَهُوَ خَیْرُ الْحٰکِمِیْنَ ) ۰

ترجمہ: اور اگر تم میں سے ایک گروہ اس چیز پرایمان لے آیا ہے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا تھا۔ تو پھر بھی (جلدبازی سیکام نہ لو کہ خدا کا لطف و کرم یا اس کی وسزا و عذاب کا کیا بنا؟) صبر کرو تاکہ اللہ تاعلیٰ ہمارے درمیانفیصلہ کرے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

ایک نکتہ:

حضرت شعیب کے مخالفین بڑی جسارت کے ساتھ کیا کرتے تھے، "اور کہاں ہے خدا کا قہر و غضب؟" جبکہ ان کے ماننے والے خدائی امداد کے منتظر تھے۔ اسی لئے آیت دونوں تمناؤں کا جواب دے نہیں ہے تاکہ نہ تو کفار مغرور ہو جائیں اور نہ ہی مومن مایوس ہوں۔

پیام:

۱ ۔ حق اور باطل کے طرفداروں انجام کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے۔( فاصبروا )

۲ ۔ مکتب انبیاء یا دین الہٰی میں انبیاء کا ہدف اور مشن اہمہوتا ہے شخصیت نہیں۔ (ا( رسلتبه ) ہے نہ یہ کہ مجھ پر بلکہ مجھ پر نازل کیا چیزوں پر ایمان لاؤ۔

۳ ۔ مومنین اور کفار کی بظاہر اور چند روزہ زندگی تمہارے پاؤں میں لغزگیر پیدا نہ کرے دے۔ پائیداری سے کام لو اپنے من پر ڈٹے رہو اس لئے آخری فیصلہ خدا ہی نے کرنا ہے۔

آیت ۸۸

( قَالَ الْمَلَاءُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُ ْوا مِنْ قَوْمِه لَنُخْرِجَنَّکَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَا اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا قَالَ اَوَ لَوْ کُنَّا کٰرِهِیْنَ ) ۰

ترجمہ: شعیب کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا: اے شعیب! ہم تمہں اور تمہارے رب بھلائی کرم نے والوں کو انی آبادی سے حتماً باہر نکال دیں گے یا پھر تم ہماری ملت کی طرف واپس آ جاؤ۔

(شعیب نے) فرمایا: خواہ ہم (تمہاری) اس (ملت) کو نہ بھی چاہیں؟۔

ایک نکتہ:

دیس نکالے اور جلا وطنی کی دھمکی پر نبی کو ملتی رہی۔ اور اس طرح کی دھمکیاں زور آور گھر دیا کرتے ہیں جنکے پاس کوئی منطقی دلیل نہیں ہوا رکتی۔ چنانچہ سورہ ابراہیم/ ۱۴ میں ہم پڑھتے ہیں کہ: "قال الذین کفر وا لر سلھما لتخزجنکم من ارضنا اولتعودن فی ملتنا" کفار اپنے انبیاء کو کہا کرتے تھے کہ یا تو ہماری ملت میں شامل ہو جکاؤ ورنہ ہم تمہیں باہر نکال دیں گے۔

پیام:

۱ ۔ متکبرین اور شرافیہ۔ انبیاء کے نمبر ایک دشمن ہیں۔( استکبروا )

۲ ۔ انبیاء کا شیوہتو منطق اور استدلال تھا جاء تکم نبیہ ۔ اعراف / ۷۵) لیکن کفار کا کام زور آوری اور دھمکی ہوتا ہے۔( لنخرجنک )

۳ ۔ زبردستی ٹھولنے جانے والے دین و مذہب کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور عقائد کا مسلط کرنا کفار کا کام ہے۔( کارهین- لتعودن فی ملتنا )

۴ ۔ مبلغین کو، دشمنوں کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے۔ اس لئے جلاوطنی کو دشمنان دین کا بہت بڑا حربہ ہوتا ہے۔( لنجرجنکٌ )

۵ ۔ کفار کے جاہلانہ سلوک کے مقابلے میں ادب، نرم گفتاری اور حکمت بھرے کلام سے استفادہ کرنا چاہئے( اولوکناکار هین )

آیت ۸۹

( قَدِ افْتَرَیْنَا عَلٰی اللّٰهِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰنَا اللّٰهُ مِنْهَا ط وَماَ یَکُوْنُ لَنَٓا اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَا اِلَّا اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا ط وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْ ءٍ عِلْمًا ط عَلَی اللّٰهِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِیْنَ ) ۰

ترجمہ: (حضرت شعیب نے مخالفین سے کہا): جب اللہ نے ہمیں تمہاری ملت سے نجات دی ہے ہم دوبارہ اس میں لوٹ جائیں تو یقینا ہم خدا پر جھوٹ باندھیں گے، یہ تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ تمہارے دین کی طرف پلٹ جائیں۔ مگر یہ کہ خدا چاہے تو ہمارا پروردگار ہے۔ (اور خدا بھی ہرگز نہیں چاہے گا۔ ہماراپروردگار ہرچیز کا علمی احاطہ کئے ہوئے ہے۔ ہم خدا پر توکل کر چکے ہیں۔ پروردگارا! تو ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان برحق فیصلہ کر اور راستہ کھول دے، کیونکہ تو بہترین، فیصلہ کرنے والا اور راستہ کھولنے والا ہے۔

چند نکات:

"ملت" کا منی "دین" آئین مذہب اور دھرم ہے۔

چونکہ حضرت شعیب کے پیروکار دلیل و برہان کی بنیاد پر دین کو قبول کر چکے تھے۔ (ہوس اور کسی نفسانی خواہش کی بنیاد پر نہیں) لہٰذا وہ اسے کسی صورت میں نہیں چھوڑیں گے۔ اور خداوندا عالم بھی انہیں کسی صورت میں کفر و ترک کی طرف بازگشت کا حکم نہیں دے گا۔ اس لئے کہ اگر وہ ایسا حکم دیتا ہے تو پھر اپنے ہی بنائے ہوئے قانون سے پسپائی اختیار کرتا ہے، حد کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ اپنی کم علمی کی بناء پر اپنے کئے پر پشیمان ہوا اور ایسا حکم دیا (نعوذباللہ) لہٰذا ماننا پڑے گا کہ خداوند عالم کی ذات والا صفات اس قسم کے مواع پر "درفتح" اور "فاتح" معنی بالترتیب فیصلہ اور حاکم کے ہیں۔ چونکہ آخری فیصلہ خدا ہی کا ہوتا ہے کہ خبر ہے لوگ بند گلی سے نکل کر کھلے راستے پر آ جاتے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ عقائد حقہ سے پلٹ کر عقائدباطلہ کو اپنانا، گویا خدا پر افتراپردازی اور اس کے ساتھ کئے ہوئے پیمان کو توڑنا ہوتا ہے۔( افترینا- مایکون لنا ان نعود )

۲ ۔ دشمن کی ہر قسم کی ناپاک پیشکش کو قبول کرنے کے بجائے خدا پر توکل کر کے اسے پائے استحقارسے ٹھکرا دینا چاہئے۔( مایکون لنا- توکلکنا )

۳ ۔ مومن کسی بھی صورت میں عقائد کے بارے میں سودے بازی نہیں کرتا ۔ راہ حق سے کبھی روگردان نہیں ہوتا اور اس کے نزدیک پچھلے پاؤں پلٹ جانا رجعت پسندی اور ناقابل قبول ہے۔( مایکون لنا ) ۔۔۔)

۴ ۔ خدا کے آگے میں سرتسلیم خم اور اس کے امر کی اطاعت کرنا چاہئے۔ اگر وہ چاہے گا کہ تمہارے دین کی طرف لوٹ جائیں تو ایسا ہی کریں گے۔( الاان یشاء الله ) اور واضح سی بات ہے کہ وہ ہرگز ایسا نہیں چاہے گا۔

۵ ۔ ہم خداوند عالم کے آگے کیوں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں؟ اس لئے کہ اس کا علم بے ہایات ہے۔( الاان یشأ الله--- وسع-- علما )

۶ ۔ گفتگو میں ادب کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ لعن و نفرین کی بجائے خدا سے عادلانہ فیصلے کی درخواست کی جا رہی ہے۔( ربنا افتح )

۷ ۔ دعا میں اپنے مطالب اور اسمائے الہٰی کے درمیان تناسب کو ضرور پیش نظر رکھا جائے۔ چونکہ ایسے موقع پر "فتح" کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا خدا کو "خیرا لفاتحین" کہہ کر پکارتے ہیں۔( افتح- خیر الفاتحین )

آیت ۹۰ ۔ ۹۱

( وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِه لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّکُمْ اِذَا لَّخٰسِرُوْنَ۰ فَاَخْذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاصْبَحُوْ ا فِیْ دٰارِهِمْ جَاثِِمِیْنَ ) ۰

ترجمہ: قوم شعیب کے کافر اشراف اور سرداروں نے کہا: اگر تم نے شعیب اور ان کے ارشادات کی پیروی کی تو یقینا تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گے۔

پس انہیں (ان کو دشمنی کی سزا میں) زبردست زلزلے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تو جب انہوں نے صبح کی تو اپنے گھروں میں خاک ہلاکت میں منہ کا بھل پڑے ہوئے تھے۔

دو نکات:

اس آیت میں"رجفہ" کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ سورہ ہود / ۹۴ میں "صیحہ" اور سورہ شعرا / ۸۹ میں "عذاب یوم الظلة" (ابرہلاکت بار کا سایہ) مذکور ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا زلزلہ تھا جس میں خطرناک آواز بھی تھی اور تباہ کن تاریک بادل بھی۔ (ازتفسیر نمونہ)

"جاثم‘ کا لفظ "جثم" (بروزن خشم) سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں زانوں کے بل ایک جگہ جم کر بیٹھے رہنا۔ گویا عذاب رات کے وقت آیا جب وہ محو آرام تھے۔ اٹھے تو بھاگنے کی مہلت نہ مل سکی۔ اسی نیم خیز حالت میں تباہ و برباد ہو گئے۔ (ازتفسیر نمونہ اسی سورت کی ۷۸ ویں آیت کے ذیل میں)۔

پیام:

۱ ۔ انبیاء کے اکثر مخالف ۔ طبقہ اشرافیہ سے تھے۔( الملأ )

۲ ۔ محاصرہ اقتصادی کی دھمکی دینا کفار کا قدیمی شیوہ چلا آ رہا ہے۔( انکم اذالخاسرون )

(توضیح: جلاوطنی، اموال کی ضبطی، کہ فروشی کی آمدنی سے محرومی، کفار کے نکتہ نظر سے خسارہ ہے)

۳ ۔ اکثع خدائی عذاب رات کو نازل ہوتے ہیں۔( فاصحوا ) ۔ از تفسیر امیزان۔

آیت ۹۲

( اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا اَلَّذِِیْنَ کَذَّبُوْا شُعَیْبًا کَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ ) ۰

ترجمہ: جن لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا (وہ یوں ہلاک ہو گئے کہ) گویا ان گھروں میں کبھی رہے ہی نہ کیوں جن لوگوں نے شعیب کی تکذیب کی وہی تو نقصان اور خسارہ والے تھے۔

دونکات:

"یغنو" کا لفظ "غنی" سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے "مکان میں رہنا" اور "غنا" معنی "بے نیازی" کے بھی آیا ہے۔ یعنی جو شخص ایک پرآسائش اور مکمل طور پر آمادہ مکان میں رہتا ہے وہ بے نیاز ہے۔

بہت بڑا خسارہ مشرکین ہی کے لئے ہے جو خداوند وحدہ الاشریک پر ایمان کی بجائے شریک کالا تکاب کرتے ہیں۔ اور معصوم رہبر کی اطاعت کی بجائے غیروں کے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں، مطمئن زندگی کی بجائے خانہ خراب ہو چکے ہوئے ہینَ بہشت کی بجائے جہنم جائیں گے اور رضولن کی بجائے ۔ غضب الہٰی کا شکار ہوں گے۔

پیام:

۱ ۔ باطل پرستوں کی تمام نیر نگیان نقش برآب ہو جاتی ہیں۔ (کفار تو حضرت شعیب کو اپنی آبادی سے جلاوطن کرنے کے در پے تھے لیکن خود ہی اپنے گھروں میں ہلاک ہو گئے۔)

۲ ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن پتوں پر تکیہ ہوتا ہے وہی ہوا دینے لگتے ہیں۔ اور کبھی تکیہ گاہ قتل گاہ بن جاتے ہیں۔ (قوم شعیب کی آبادی جو ان لوگوں کے لئے خوشگوار اور شعیب کو دھمکانے کا ذریعہ تھیں خود انہی لوگوں کے اوپر آ گری اور ان کا قتل کا ذریعہ بن گئی)

۳ ۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہئے۔ گزشتہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ کفار، حضرت شعیب کی حمایت اور طرفداری کو خارت اور نقصان سمجھتے تھے۔ جبکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ تو خود ہی زیان کار ہیں۔ وہ نعرے لگاتے تھے، خدا نے عملی کر کے دکھا دیا ہے۔

۴ ۔ جب خدا کا عذاب نازل ہوتا ہے تب پتہ چلتا ہے کہ خسارے میں کون رہا؟( هم الخاسرون )

آیت ۹۳

( فَتَوَلّٰی عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْفَ اٰسٰی عَلٰی قَوْمٍ کٰفِرِیْنَ ) ۰

ترجمہ: پس (جب خدائی قہر نازل ہو گیا تو) شعیب نے ان سے منہ پھیر لیا۔ اور کہا: اے میری قوم! میں نے اپنے پروردگار کا پیغام تم لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور تمہارے لئے خیر خواہی بھی کی تھی تو پھر کیوں اور کس لئے کافر لوگوں (کی سرنوشت) ہے افسوس کروں؟

پیام:

۱ ۔ لوگوں کی طرف توجہ کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ آخر ایک وقت ایسا بھی آ جاتا ہے کہ ان سے منہ پھیر لینا پڑ جاتا ہے۔( فتولی عنهم )

۲ ۔ تبلیغ، مہربانی اور دل سوزی کے ساتھ ہونی چاہئے۔( ابلغتکم- نصحت )

۳ ۔ جب آپ نے اپنے فریضہ پر عمل کر لیا تو پھر اس بات سے نہیں گھبرانا چاہیے کہ انجام کیا ہو گا؟( کیف آسیٰ )

۴ ۔ بے جا افسوس اور مہربانی، ممنوع ہے (فکیف آسیٰ) ایک اور مقام پر حضرت رسول خدا سے خطاب ہے "( لاتخرن علیهم ) " ان لوگوں کے لئے غم کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

۵ ۔ اگر ضد اور ہٹ دھرمی کو خیر باد نہیں کہیں گے انبیاء کی نصیحتیں بھی غیر موثر ثابت ہوں گی۔

آیت ۹۴

( وَمَا اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَبِیٍّ اِلَّا اَخَذْنَا اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ ) ۰

ترجمہ: اور ہم نے کسی آبادی میں کوئی پیغمبر نہیں مگر وہاں کے لوگوں کو مصیبتوں اور بلاؤں میں گرفتار کیا تاکہ وہ تضرع اور زاری سے کام لیں۔

ایک نکتہ:

"باسأ" ایسے حواثات ہوتے ہیں جو جان پر ولاد ہوتے ہیں جیسے موت اور بیماری وغیرہ اور "جزأ" ایسے مصائب ہوتے ہیں جو مال کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں۔ (ازتفسیر فرقان)

پیام:

۱ ۔ مصائب اور تلخیاں اور ناخوشگواریاں تمام اقوام عالم کے لئے ازل سے چلی آ رہی ہیں یہ ایک خدائی طریقہ کار ہے۔( ماارسلنا فی قریة من نبی الا ) ۔۔۔۔)

۲ ۔ سختیاں اور مشکلات، انسان کی تربیت ، غفلت دور کرنے اور اسے صحیح معنوں میں انسان بنانے کا موجب ہوتی ہیں۔

۳ ۔ ضروری نہیں ہے کہ مصائب و مشکلات ہمیشہ خدائی عذاب ہی ہوں بلکہ بعض اوقات بلا کی صورت میں خدا کا لطف و کرم بھی ہوتا ہے۔ (جیسے لوہے کو بھٹی میں گرم کر کے اسے نرم کیا جاتا ہے اور پھر اسے ہر شکل دینے کے لئے موڑا جاتا ہے، اسی طرح حوادثات بھی انسان کو نرم کر دیتے ہیں۔) اور فکرائد اور پریشانیاں مشکلات اور مصائب انسان کو تفرع و زاری اور خدائے نیاز مندی کے لئے آمادہ کرتے ہیں۔

آیت ۹۵

( ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰی عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبٰآئَنَا الضَّرَآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَایَشْعُرُوْنَ ) ۰

ترجمہ: پھر ہم نے بدی (سختی اور غم) کی بجائے نیکی کو مقرر کر دیا، حتیٰ کہ ان کے مال و اولاد میں اضافہ ہو گیا اور کہتے لگے: ہمارے آباؤ اجداد کو تو (طبعی طور پر) رنج و غم اور خوشی نصیب ہوئی تھی (اور یہ تلخ و شیریں حوارث خدا کے غضب یا رحمت کے آئینہ دار نہیں تھے) تو ہم انہیں ناگہانی طور پر (اپنے قہر و غضب میں) گرفتار کر لیا اور انہیں اس بات کا شعور تک نہیں تھا۔

ایک نکتہ:

"عفوا" کا معنی ہے کامل اور اولاد کی کثرت ۔ اللہ کا فضل و کرم انہیں وافر مقدار میں ملا لیکن انہوں نے اس کا کوئی احساس نہ کیا اور قدر کی نگاہوں سے نہ دیکھا۔ اورنہ ہی اس سے عبرت حاصل کی۔ اس سے ملتی جلتی ایک آیت سورہ انعام میں ہے کہ "فلما نسوا ماذکروابہ فتحنا علیھم ابورب کل شیءٍ حتی اذافرحوابما اوتوا اخذنا ھم بغتة" یعنی چونکہ انہوں نے ہماری باربار کی یاد دہانیوں کو فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے لئے اپنی ہر قسم کی نعمتوں کے دروازے کھول دئیے اور کئی کامیابیوں کے بعد ہم نے انہیں ناگہانی طور پر اپنے قہر و غضب میں گرفتار کر لیا۔ (انعام ۴۵) ایسے بیمار کی مانند ڈاکٹر جس کی زندگی سے ناامید ہو کر کہتا ہے جو چاہتا ہے اسے کھانے پینے کو دو کیونکہ اب اس کا کام ختم ہے"

البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ آیت کا ایک اور معنی بھی سوجے مرجوم قمشرری ترجمہ کی صورت میں بیان کیا اور وہ یہ کہ "مصیبتیں دور ہو جانے کے بعد آنے والی نسل کہنے لگی تلخ جوائیاں تو ہمارے آباؤاجداد کے ساتھ مخصوص تھے ہم تو بالکل امن میں ہی ہیں۔ لیک وہ اس بات سے غافل تھے کہ خدا کا ازل سے یہی طریقہ کار چلا آ رہا ہے کہ وہ تمام نسلوں کو گرفتار کرنے پر قادر ہے اور اس قسم کی غفلت بھی قہر خداوندی کی علامت ہے"

پیام:

۱ ۔ تلخ اور شیرینِ حوادثات کے پاس سے گزرنا اور ان سے عبرت حاصل نہ کرنا بے شعوری کی علامت اور قہر خداوندی کے نزول کا سبب ہوتا ہے۔( لایشعرون )

۲ ۔ ضروری نہیں ہے کہ ہر قسم کی آسائش اور خوشی خدا کے لطف و کرم کی علامت ہو۔ کبھی قہر خداوندی کا پیش خیمہ بھی ہو جاتی ہے۔( حتی عفوا )

۳ ۔ بعض اوقات آسائش نسیان اور سرکشی کا موجب بھی بن جاتی ہے( قدمس آیائنا الفرٓء )

۴ ۔ اللہ کی آزمائش میں ناکام ہونے ولاے افراد میں زیادہ تر مسرفہ حال لوگوں کی تعداد ہوتی ہے۔ محروم طبقہ کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔

۵ ۔ خدائی قہر کسی کو بتا کر نہیں آیا کرتا۔ اچانک سر پر آ پہنچتا ہے۔( بغتة )

آیت ۹۶

( وَلَوْا اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰی اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتْحَنَا عَلَیْهِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ وَلَکِنْ کَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْ نَ ) ۰

ترجمہ: اگر آبادیوں اور قبروں میں ر ہنے والے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم بھی یقینا ان کے لئے آسمان اور زمین کی برکتوں (کے دروازوں) کو کھول دیتے لیکن انہوں نے (ایمان لانے کے بجائے) جھٹلایا (اور کفر اختیار کرنا) شروع کر دیا تو ہم نے بھی ان کی کرتوتوں کی وجہ سے انہیں (اپنے قہر و غضب میں) گرفتار کر لیا۔

چند نکات:

"برکات" جمع ہے "برکت" کی جس کے معنی میں اللہ تعالیٰ کی مستقل اور پائیدار نعمتیں جو کہ وقتی اور جلد ختم ہو جانے والی چیز کے مقابلے میں ہے۔ اسی برکت کے معنی میں کچرت خیز اور افزائش کا معنی پایا ہے۔ اور یہ مادی اور معنوی برکات کو شامل ہے، جیسے عمر، علم اور کتاب میں برکت وغیرہ۔

یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ: اگر ایمان اور تقویٰ برکت کا سبب ہے تو پھر کافر ملکوں کی یہ ترقی یافتہ کیفیت اور اسلامی ملکوں کی یہ اسفبار نوعیت کیوں ہے؟

اس کے کئی جوابات ہو سکتے ہیں۔

۱ ۔ وہ ملک اگر چہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے ترقی یافتہ ہیں لیکن بہت بڑی مشکلات سے دچار بھی ہیں۔

۲ ۔ بہت سے اسلامی ملکوں میں اسلام کا صرف نام ہے اسلام احکام اور قوانین حکمفرما نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں مادی آسائشیں ایک طرح کا خدائی قہر بھی ہیں جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے "فلما نسواماذکروابہ فتحنا علیھم ابواب کل شی( ٴ ) ٍ" جب انہوں نے تمام یادداشتیں فراموش کر دیں۔ تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دئیے۔ (انعام / ۴۴) تاکہ وہ اپنی مستی میں مست رہیں۔ اگر فوب غور سے کام لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ’متقی مومنین کے لئے برکتوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور بدمست غافلوں کے واسطے نعمتوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں برکتوں کے نہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ رفاہ و آسائش کفار کے لئے غفلت اور بے پرواہی کا سبب بن جائے تاکہ برکت اور مستقبل کے لئے ذخیرے کا موجب۔

ان تمام باتوں سے قطع نظریہ چیز بھی پیش نظر ہونی چاہئے کہ بسا اوقات نعمتیں مہلت اور آسائش کا موجب بھی بن جایا کرتی ہیں۔

پیام:

۱ ۔ ممکن ہے کہ انفرادی ایمان اور تقویٰ کا اثر کم ہو، اس لئے معاشرے کی اکثریت کو ایمان و تقویٰ کا حامل ہونا چاہئے۔ تاکہ اس طرح سے وہ خداوند عالم کے اسواف و برکات کے شامل حال ہو سکیں۔ (اھل القری) از تفسیرفرقان ۳۴

۲ ۔ معاشرے کی معنوی تعلیم و تربیت اور اگر و ہدایت کے لئے سرمایہ کاری اقتصادی اور مادی منافع کا موجب بھی ہوتی ہے۔( اتقوا- برکت )

۳ ۔ ایمان اور تقویٰ نزول برکات کا سبب ہوتا ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر نعمت اور آسائش ایمان اور تقویٰ کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔( امنوا، واتقوا، برکات )

۴ ۔ محرومیوں اور مشکالت کا عامل خود انسان ہی ہوتا ہے۔( یکسبون )

آیت ۹۷ ۔ ۹۸

( اَفَاٰمِنَ اَهْلُ الْقَرٰی اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ۰ اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓی اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًی وَّهُمْ یَلْعَبُوْنَ ) ۰

ترجمہ: آیا آبادی کے رہنے والے اس بات سے مطمئن ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب اس وقت آ جائے جب وہ سوئے ہوئے ہوں؟

آیا آبادی کے رہنے والے اس بات مطمئن ہو چکے ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذٓب بن کے وقت اس حالت میں پہنچے کہ وہ کھیل کود میں لگے ہوئے ہوں؟

پیام:

۱ ۔ یہ مت سمجھو کہ عذاب صرف گذشتہ اقوام کے ساتھ ہی مخصوص تھا۔ الہٰی قانون سب قوموں کے لئے یکساں ہے۔( افامن )

۲ ۔ پورا عالم انسانیت اپنی تمام تدابیر، ایجادات، اختراعات، ترقی اورپیشرفت کے باوجود عذاب الہٰی سے آسودہ خاطر اور مطمئن نہیں ہو سکتا اور نہ ہی مطمئن اور آسودہ خاطر ہونا چاہئے۔

۳ ۔ اگرخدا چاہے تو اپنا قہر و غضب اس وقت نال کر دے جبکہ کوئی راہ چارہ موجود نہ ہو اور راتوں رات سب کو ہلاک کر کے رکھ دے۔( بیاتاوهم نائمون )

۴ ۔ غضب کے دور کرنے کے لئے ایک راہ یہ بھی ہے کہ انسان کو جھنجوڑا جائے اور احتمال خطررات سے متنبہ کیا جائے۔( اوامن )

۵ ۔ خواب غضب اور بے جا سرگرمیاں خدائی قہر و غضب کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔( یلعبون )

آیت ۹۹

( اَفَآمِنُوْا مَکْرَاللّٰهِ ج فَلَا یَآمَنُ مَکْرَاللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُونَ ) ۰

ترجمہ: تو کیا یہ لوگ خدا کے مکر (ناگہانی عذاب) سے مطمئن ہو چکے ہیں؟ پس خدا کے مکر (ناگہانی عذاب سے خسارہ اٹھانے والوں کے علاوہ کوئی اور مطمئن نہیں ہوتا۔

ایک نکتہ:

ٍ اگرچہ "مکر" کا لفظ اردو اور فارسی میں "نیرنگی" "مکاری" "عیاری" اور غلط قسم کے حیلے بہانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اس کا حقیقی اور لغوری معنی "اصل مقصد سے لگانے کے لئے تدبیر اور چارہ سازی ہے خواہ وہ حق ہو یا باطل اور "مکر خدا" کا مطلب ہے "اس کی ایسی تدبیریں کہ جن سے کفار کے سارے منصوبے نقش برآب ثابت ہو جائیں۔

پیام:

۱ ۔ کسی بھی وقت خدائی عذاب سے مطمئن نہیں ہونا چاہئے بلکہ خوف اور امید کے درمیان درمیان زندگی گزارنی چاہئے۔

۲ ۔ بے خیال اور لاربانی قسم کے لوگ خسارے میں ہیں۔( لایامن- خاسرون )

آیت ۱۰۰

( اَوَلَمْ یَهْدِ الِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْ م بَعْدِ اَهْلِهَا اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ نَطْبَعْ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ) ۰

ترجمہ: آیا خدا وند عالم نے ان لوگوں کو اس ذریعہ سے ہدایت نہیں کی، جو زمین پر رہنے والوں کے ہلاک ہو جانے کے بعد اس کے وارث ہوئے ہیں۔ کہ اگر ہم چاہیں تو انہیں بھی ان کے گناہوں کی بدولت ہلاک کر ڈالیں اور ان کے دلوں پر یوں مہر لگا دیں کہ حق کی آوازکو نہ سن سکیں۔ (اور منطق واستدلال کو قبول نہ کریں)

پیام:

۱ ۔ جو لوگ مسند اقتدار تک جا پہنچتے ہیں انہیں چاہئے کہ سابقہ حکومتوں اور ان کے اقتدار کے حصول سے بھی آگاہی حاصل کریں اور ان کے تلخ و شرین تجربوں سے فائدہ اٹھائیں( اولم یهد للذین یرثون ) ۔۔۔)

۲ ۔ خدا کی طرف سے انسانوں کو ملنے والی سزائیں خود ان کے لئے گناہوں کی بدولت ہوتی ہیں۔ (ب( ذنوبهم )

۳ ۔ تاریخ پر حکم فرما الہٰی قوانین ثابت، مستقل اور پائیدار ہیں۔ اور اس کا تسلسل بحال ہے۔ (آیت کے لب و لہجہ کے پیش نظر)

۴ ۔ گناہ، دلوں پر مہر لگنے کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اور انسان سے توفیق کے سبب ہو جانے کا سبب بھی( ذنوبهم- نطبع )

آیت ۱۰۱

( تِلْکَ الْقُرٰی نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآئِهَا وَلَقَدْ جَآئَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ط کَذَلِکَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِ الْکٰفِرِیْنَ ) ۰

ترجمہ: یہ وہی بستیاں ہیں کہ ہم جن کی کچھ خبریں تمہیں بیان کرتے ہیں۔ اور لیکن وہ لوگ جس بات کی پہلے سے تکذیب کر چکے تھے اس پر ایمان لانے والے کہاں تھے اسی طرح اللہ تعالیٰ کفار کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

ایک نکتہ:

اس آیت میں "قریٰ" سے مراد وہ بستیاں ہیں جن کے لوگوں کی ہدایت کے لئے حضرت صالح، شعیب، لوط اور ہود علیھم السلام مبعوث ہوئے تھے۔

پیام:

۔ تاریخ کا جو حصہ ہندو نصائح پر مشتمل ہے اسے بیان کرنا چاہئے۔( من انبائها )

۔ مفید داستانیں، تعمیری اہمیت رکھتی ہیں۔( نقص )

۔ تمام انبیاء معجزے کے حامل تھے۔( رسئلهم بالبینات )

۔ ضد، ہٹ دھرمی، خودروبی، مناسب اور جائز نہیں ہے۔( فما کانوا یسومنوا ابماکذبوا )

۔ لوگوں کے انکار کر دینے سے انبیاء کے ارادوں میں گزلزل پیدا نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ تاریخ میں یہ سلسلہ قدیم چلا آ رہا ہے۔( وقد جاء تهم رسلهم ) ۔۔۔)

۔ لوگوں کی طرف انطار، کفر، ضد، ہٹ دھرمی کا زوال بھی طرف سے ایسے دلوں پر مہر لگا دینے کا سبب بن جاتا ہے۔( یطبع الله علی قلوب الکافرین )


آیت ۱۰۲

( وَمَا وَجَدْ نَا لِاَ کْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ ج وَ اِنْ وَّجَدْناَ اَکْثَرَ هُمْ لَفٰسِقِیْنَ )

ترجمہ: اور ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں کے لئے وعدے کی پابندی نہیں دیکھی۔ اور ان میں سے بیشتر لوگوں کو ہم نے فاسق پایا۔

دو نکات:

اس آیت میں "عہد" سے مراد یا تو خدا اور لوگوں کی صحیح و سالم فطرت کے درمیان باہمی رابطہ ہے یا انبیاء علیہم السلام کی دعوت اور قوانین میں اور یا پھر وہ مخصوص عہد و پیمان ہے جو کہ لوگ انبیاء کے ساتھ برقرار کیا کرتے تھے کہ اگر فلاں معجزہ دکھائیں گے تو یا فلاں مستقل حل کریں گے تو ایمان لے آئیں گے۔ جیسا کہ قرآن مجید کہتا ہے: "( لئن کشفت عناالرجز لنوٴمنن بک ولنرسلن معک بنی اسرائیل فلما کشفنا عنهم الرجزالی احل هم بالفوه اذاهم ینکثون ) " (ان لوگوں نے حضرت موسیٰ سے کہا) اگر تو ہم سے اس بدبختی کو ہٹ ادے اور عذاب کو برطرف کردے تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور نبی اسرائیل کو تمہارے ساتھ روانہ کر دیں گے، لیکن جونہی ہم نے ان کی مشکل حل کر دی تو انہوں نے اپنا کہا ہو ا وعدہ توڑ ڈالا۔ (اعراف / ۳۵)

خداوند عالم نے فطرت اور انبیاء کے ذریعے تمام حقائق انسان کے لئے بیان فرما دئیے ہیں تاکہ وہ ان کے ساتھ عہد و پیمان برقرار کر کے انہیں تسلیم کر لیں، لیکن لوگوں نے فطرت اور انبیاء کی آواز کو بھلا کر حق کے مدار سے نکل جانے کا ارتکاب کی اور فاسق ہو گئے۔

پیام:

۱ ۔ گزشتہ اقوام کی ہلاکتوں کی وجہ ان کی عہد شکنی اور سر پیش اور ہٹ دھرمی تھی( عهد، فاسقین )

۲ ۔ فیصلہ کرتے وقت انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے ("اثر" کلا لفظ ہے "سب" کا نہیں)

۳ ۔ اللہ تعالیٰ نے وفاداری کی تعریف کی ہے اور بے وفاؤں اور عہد شکنوں کی مذمت، ۳۵

آیت ۱۰۳

( ثُمَّ بَعَثْْنَا مِنْم بَعْدِ هِمْ مُّوْسٰی بِاٰیٰتِنَا اِلٰی فِرْعَوْنَ وَمَلٓائِه فَظَلَمُوْْْا بِهَا فَانْظُرْ کَیْفَ کاَنَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ )

ترجمہ: پھر ہم نے ان سابق انبیاء کے بعد موسیٰ کو اپنی آیات اور معجزا سارے (بھیجا، پس انہوں نے ہماری آیت کے ساتھ ظلم کیا (اور کفر اختیار کیا) پس دیکھو کہ مفسدین کا کیا انجام ہوا ہے؟

چند نکات:

قرآن مجید میں حضرت موسیٰ کا اسم گرامی بھی اکتیس مرتبہ سے زیادہ استعمال ہوا ہے، اور اتنی تعداد میں کوئی اور نام مذکور نہیں ہوا۔ اور بقول تفسیر المیزان: "قرآن مجید میں جتنے حضرت موسٰی کے معجزات بیان ہوتے ہیں اتنا کسی اور نبی کے نہیں۔"

قرآن مجید میں حضرت موسٰی کی بیان ہونے والی داستان پانچ مراحل میں تقسیم ہوتی ہے۔

۱ ۔ ولادت اور بچپن کا دورانیہ ۲ ۔اپنے شہر کو خیرباد کہہ کر حضرت شعیب کے پاس مدین میں جا کر رہنے کا عرصہ ۳ ۔ بعثت اور فرعون کے ساتھ ہنجر آزمائی کا زمانہ۔ ۴ ۔ اپنی اور قوم کی فرعون سے نجات کے بعد سے فلسطین میں واپسی کا دورانیہ۔ ۵ ۔ بنی اسرائیل کے ساتھ نبردآزمانی کا زمانہ۔

یہ وہ پہلی مکی سورت ہے جس میں حضرت موسیٰ کی داستان کو بیان کیا گیا ہے۔

پیام:

۱ ۔ حضرت انبیاء عظام کی بعثت کا ایک فلسفہ، طاغوتوں کے ساتھ بزدآمائی بھی ہے( الی فرعون وملائه )

۲ ۔ معاشرے کی کلی اور مکمل اصلاح کے لئے موٹے موٹوں کی گردنوں کو پکڑنا چاہئے۔ اور باقی کو چشمے ہی سے صاف ستھرا کرنا چاہئے۔( الی فرعون وملائه )

۳ ۔ ایمان، معاشرے کی اصلاح کرتا ہے اور کفر الحاد اسے فساد اور خرابی کی طرف لے جاتے ہیں۔( مفسدین )

۴ ۔ جو زمین عبادت کے لئے بچھائی گئی ہے اگر اس میں حق کی پھر جانہ کی جائے تو "فساد فی الارض" کے زمرے میں آ جاتی ہے۔( مفسرین )

۵ ۔ جو خدا پرستی سے ہٹ جاتا ہے وہ فساد کا مرتکب ہوتا ہے۔( مفسدین )

۶ ۔ جو بھی خدا کی شریعت کو ٹھکراتا ہے، مفسد ہے۔

۷ ۔ جب کسی معاشرے پر خدا کی بجائے طاغوت حاکم ہو جاتا ہے وہ اپنے بچاؤ اور حفاظت کے لئے سی قسم کے فساد کا ارتکاب کرتے سے باک نہیں کرتا۔( مفسدین )

آیت ۱۰۴

( وَ قَالَ مُوْسٰی ٰیفِرْعَوْنَ اَنِّی رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الٰعلَمِیْنَ )

ترجمہ: اور موسیٰ نے کہا: اے فرعون! میں یقینی طور پر عالمین کے رب کی طرف سے رسول ہوں۔

پیام:

۱ ۔ انبیاء نے رسالت اور دعوت حق کے علاوہ کسی اور قسم کا دعویٰ نہیں کیا۔( الی رسول )

۲ ۔ انبیاء کرام اپنی دعوت کے وقت کسی قسم کے خوف و ہراس اور کمزور کو خاطر میں لائے بغیر اپنے زمانے کے طاغوتوں کو للکارتے رہے۔( یا فرعون )

۳ ۔ ایسا معاشرہ کہ جس میں طبقاتی نظام حکمرانا ہو اس کی اصلاح کیلئے سب سے پہلے سرغنہ افراد کی اصلاح ضروری ہوتی ہے۔( یا فرعون )

۴ ۔ فرعون اپنے آپ کو لوگوں کا پروردگار سمجھتا تھا اور "اناربکم الاعلیٰ" کہتا تھا۔ جبکہ حضرت موسٰی اپنے "رب العالمین کے رسول" کی حیثیت سے متعارف کراتے تھے جس سے یہ بتانا مقصود تھا کہ "فرعون! تو بھی اس پر وردگار کے زیر تسلط ہے جس کا میں رسول ہوں!"

آیت ۱۰۵

( حَقِیْقٌ عَلیٰ اَنْ لَّا اَقُوْلَ عَلَی اللّّٰهِ اِلَّا الْحَقَّّط قَدْْ جِئْتُکُمْْ بِبَیِّنَةٍٍٍٍ مِّّنْْ رَّبِّّکُمْْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْ اِسْرٰائِیْلَ ) ط

ترجمہ: سزا وار بات یہ ہے کہ میں خداوند عالم کی طرف حق بات کے علاوہ کسی اور چیزکی نسبت نہ دوں، یقین جانو کہ میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل (اور روشن معجزہ) لے کر آیا ہوں۔ پس بنی اسرائیل کو میرے ساتھ روانہ کر دے۔

پیام:

۱ ۔ تمام انبیاء معصوم ہیں اور حق بات کے علاوہ کچھ نہیں کہتے۔( لااقو اعلی الله الاالحق )

۲ ۔ انبیاء کو معجز نما ہونا چاہئے۔( بینته )

۳ ۔ تمام لوگوں کے لیے اییک رب ہونا چاہئے حتی کہ فرعون کے لئے بھی، پس فرعون کا دعوائے ربوبیت ، غلط تھا۔( ربکم )

۴ ۔ انسانوں کی آزادی انبیاء کے اہداف و مقاصد میں لے سب سے پہلا مقصد ہے۔ او ر ان کے علاوہ جو بھی برسر اقتدار آکر سر پر آرائے حکومت ہوتا ہے لوگوں کو اپنا غلام بنانے کی کوشش کرتا ہے۔( ارسل معی بنی اسرائیل )

۵ ۔ جب تک لوگوں کو طاغوتوں سے پوری طرح چھٹکارا نہیں مل جاتا اس وقت تک ان کے لئے صحیح معنوں میں مگر و ہدایت اور تعلیم و تریبت کا بندوبست کرنا مشکل ہوتا ہے۔( ارسل معی بنی اسرائیل )

آیت ۱۰۶ ، ۱۰۷

( قَالَ اِنْ کُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَا اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ فَاَلْقٰی عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنَ )

ترجمہ: (فرعون نے) کہا: اگر تو سچوں میں سے ہے تو کوئی معجزہ لے آ۔

پس (موسیٰ ) اپنا عصا پھینکا تو وہ آنا فانا واضح طور پر اژدہا بن گیا۔

ایک نکتہ:

سورہ شعرأ کی آیت ۴۵ میں ہے کہ: یہ اژدھا جادوگروں کے جادو کے تمام مال و اسباب کو چٹ کر گیا۔ "( تلقف مایافکون ) " اور اس عصا کے کئی اور معجزات بھی ظاہر ہوئے ۔ مثلاً اسے دریا پر مارا گیا تو اس کا پانی خشک ہو گیا "( فاضرب بعصاک البحر ) " (شعرأ/ ۶۳) اور پتھر پر مارا گیا تو اس سے چشمے پھوٹ پڑے۔ "( فاضرب بعصاک الحجر ) " (البقرہ/ ۶۰)

پیام:

۱ ۔ مخاطب افراد کی حیرت و شگفتگی کے مطابق معجزات مختلف ہوا کرتے تھے۔ (ثعبان) امر کی وضاحت یوں سمجھے کہ فرعون اور فرعون والوں کے لئے تو عصا "اژدہا" تھا جبکہ خودحضرت موسٰی کے سامنے یہی "اژدہا" ایک چھوٹا سا سانپ تھا: "( الق عصاک کا نها جان ) " (نحل/ ۱۰) اور عوام الناس کے سامنے ایک عام سا سانپ تھا "( حیة تسعیٰ ) " (طہ / ۲۰)

۲ ۔ معجزہ ایسا صاف اور واضح ہونا چاہئے جس میں کسی شخص کے لئے شک و تردید کی گنجائش نہ ہو۔( مبین )

آیت ۱۰۸ ۔ ۱۰۹

( وَنَزَعَ یَدَه فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءَ لِلنّٰظِرِیْنَ قَالَ اِنَّ الْمَلَاَ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّّ هٰذَا الَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ )

ترجمہ: اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ (اپنے گریبان سے) باہر نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے سفید (اور چمکدار) تھا۔

قوم فرعون کے سرداروں نے کہا: یہ تو یقینا ایک سمجھدار جادو گر ہے۔

پیام:

۱ ۔ انبیاء جہان پر ڈراتے ہیں (اور عصا سے اژہا بناتے ہیں) وہاں پر خوشخبری بھی سناتے ہیں (اور نورانی ہاتھ دکھاتے ہیں)( بیضاء )

۲ ۔ طاغوث کے حامی ہمیشہ ان کے جرائم میں برابر کے شریک رہے ہیں( الملأمن قوم فرعون )

۳ ۔ مخالفین، انبیاء کی تبلیغ اور ان کے ثمن کو تہمتیں لگ اکر مخدوثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آیت ۱۱۰

( یُرِیْْدَُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِنْ اَرْضِکُمْ فَماَذَا تَاْمُرُوْنَ )

ترجمہ: موسیٰ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دے (اور تمہارے علاقہ پر قبضہ کر لے) تو اس بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے؟

ایک نکتہ:

فرعون نے عوام الناس کو فریب دینے کے اور ان کے افطار کو گمراہ کرنے کے لئے حضرت موسٰی پر ناروا تمہیں لگائی۔ ایک تو اعتقادی لحاظ سے انہیں "جادوگر" کہا، اور دوسرے اجتماعی، معاشرتی اور سیاسی نکتہ نظر سے انہیں ’فتنہ پرور" اور "آشوب گر" کیا۔

پیام:

۱ ۔ مردان حق پر اتہام اور بہتان طرازی، مخالفین کا ایک عملہ ہتھیار ہے( یرید ان یخرجکم )

۲ ۔ اپنے مکمل استہداد کے باوجود طاغوت کبھی کبھار اس قد رسیاسی گرفتاری میں مبتلا ہو کر ایسا ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنے اطرافیوں سے مشورے کرنے پڑ جاتے ہیں۔ (ف( ماذاتامرون )

۳ ۔ چوکہ ہر شخس کو اپنے گھر اور وطن سے محبت ہوتی ہے اسی لئے لوگوں کو مردان خدا کے خلاف اکسانے کیلئے یہی حربہ اختیار کیا جاتا ہے۔( یخرجکم من ارضکم )

آیت ۱۱۱ ، ۱۱۲

( قَالُوْآ اَرْجِهْ وَاَخَاهُ وَاَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِِ حٰشِرِیْنَ یَاْتُوْکَ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ )

ترجمہ: (فرعون کے اطرافیوں نے) کہا: اسے اور اس کے بھائی کو روکے رکھو اور نظر بند کر دو (اور اس کے قتل میں جلدی نہ کرو) جادو گروں کو جمع کرنے والوں کو شہروں میں روانہ نہ کرو تاکہ وہ ہر دانا اور آزمودہ کار جادوگر کو تمہارے پاس لے آئیں۔

ایک نکتہ:

اس آیت میں "سحر علیم" کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ سورہ شعراأ کی آیت ۳۷ میں "سحارعلیم" کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جادو گر بڑے تجربہ کار ، آزمودہ کار اور ماہر فنکار تھے۔ اسی طرح "ارجہ" کا لفظ "رجاء" سے مشتق کیا گیا ہے جس کا معنی ہے "نطڑ بند کرنا" "قید کرنا" اور تاخیر میں ڈالنا"۔

لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو چونکہ حضرت موسٰی کی دعوت و تبلیغ کا دائرہ کار وسیع ہو چکا تھا اور ان کے معجزات کا ردعمل بہت اچھا تھا لہٰذا فرعون کے لئے ان کا قید کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ لہٰذا "تاخیر میں ڈالنا" کا معنی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ دعوت انبیاء کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے طاعوتی طاقتیں ماہرین کی عالمی کانفرنسیں منعقد کرتی ہیں۔( یاتوک بکل ساحر )

آیت ۱۱۳ ، ۱۱۴

( وَجاَءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْا اِنَّ لَنَا لَاَجْراً اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ )

ترجمہ: اور جادوگر فرعون کے پا س پہنچ گئے۔ کہنے لگے اگر ہم غالب آ جائیں تو ہمارے لئے یا اثر اور انعام ہے؟ اس نے کہا: ہاں، یقینا تم میری بارگاہ میں) مقرب ہو جاؤ گے۔

پیام:

۱ ۔ انبیاء اور جادوگروں کے اہداف و مقاصد میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے وہ یوں کہ انبیاء لوگوں کی ہدایت اور انہیں راہ راست پر لانے کے لئے کام کرتے ہیں اور کسی قسم کی اجرت کے طلبگار نہیں ہوتے بلکہ کہتے ہیں "( ما اسئلکم علیه من اجر" ) جبکہ جادوگروں کا مطمع نظر ہی دنیا کا کمانا ہوتا ہے۔( لاجرا )

۲ ۔ طاغوتی درباروں کا رخ کرنے والے دنیور مقاصد کے حامل ہوتے ہیں۔( ان لنا لاجرا )

۳ ۔ لوگوں کو وعدوں اور سرمایہ کے ذریعہ ہی طاغوتی طاقتیں اپنے گرد اکٹھا کرتی ہیں۔( قال نعم )

۴ ۔ طاغوت کبھی اس قدر عاجز اور درماندہ ہو جاتے ہیں کہ ہر قسم کے مطالبے کو تسلیم کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔( قال نعم )

۵ ۔ دنیا پرست افراد کے نزدیک مال سے زیادہ سیاسی مقا مو منصب اور اجتماعی و معاشرتی قیدو منزلت زیادہ وقیع ہوتی ہے۔( لمن المقربین )

آیت ۱۱۵۔۱۱۶

( قَالُوْْا یٰمُوْسٰی اِمَّا اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّا اَنْ نَّکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ قَالَ اَلْقُوْا فَلَمَّا اَلْقَوْا سٰحَرُوْا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوْهُمْْ وَجَاءُ ْو بِسِحْرٍِ عَظِیْمٍ )

ترجمہ: (جادوگروں نے) کہا: اے موسٰی! آیا تو (اپنے جادو کے ذرائع کو) پھینکتا ہے یا ہم پھینکیں (موسیٰ نے خدا کی نصرت پر یقین رکھتے ہوئے) کہا: تم ہی پھینکو۔ تو جونہی انہوں نے (اپنے جادو کے وسائل کو) پھینکا تو لوگوں کی آنکھوں کو موند دیا اور (اس چشم بندی کی وجہ سے) لوگوں کے اندر خوف اور وحشت پھیلا دی اور ایک بڑے جادو کو لے آئے۔

پیام:

۱ ۔ معرفت کی راہوں میں صرف ظاہری جو اس پر ہی بھروسہ نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ بعض اوقات آنکھیں دھوکہ کھا جاتی ہیں اور ان پر جادو کا اثر ہو جاتا ہے( سحر واعین الناس )

۲ ۔ جادوگروں کے جادو کا اثر لوگوں کی آنکھوں میں ہوتا ہے۔ حقیقت میں تبدیلی پیدا نہیں کر دیتا۔ جیسے سراب دورے پانی نظر آتا ہے۔ لیکن معجزات میں ایسا نہیں ہوتا۔ موسیٰ کا اژدہا حقیقة اژدہا بنا صرف نظر نہیں آیا۔ انبیاء کا لوگوں کی بصیرت کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ جبکہ جادوگر اور ساحروں کا کام لوگوں کی آنکھوں موندنا ہوتا ہے۔( اعین الناس )

۳ ۔ ہرموقع پر حق کو ناکام بنانے کے لئے اسی جیسے وسائل سے کام لیا جاتا ہے۔ مذہب کے خلاف، مذہب، عالم کے خلاف اور یہاں پر معجزہ کے خلاف جادو۔

۴ ۔ طاغوت اور باطل کے دعویدار ہمیشہ اپنے دعوے دھونس اور دھاندلی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔( واسترهبوهم )

آیت ۱۱۷

( وَ اَوْحَیْنَا اِلٰی مُوْسٰی اَنْ اَلْقِ عَصَاکَ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ )

ترجمہ: اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنے عصا کو (زمین پر) پھینکو، (جونہی انہوں نے عصا کو پھینکا تو ہو اژدھا بن گیا اور ناگہانی طور پر جادوگروں کے گھڑے ہوئے جھوٹوں کو نگلنے لگ گیا۔

چند نکات:

"تلقف" کا لفظ "لقف" سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کو طاقت اور جلدی کے ساتھ پکڑنا چاہے دانتوں سے پکڑا جائے یا ہاتھوں اور انگلیوں سے۔ لیکن اس آیت میں اس کا معنی "نگلنا" ہے۔

"یافکون" کا کلمہ "افک" سے لیا گیا ہے اور "افک" کے معنی ہیں ’ایسا جھوٹ جو سچ کے قالب میں ڈھالا گیا ہو" یا "ایسا باطل جو حق کی صورت میں ہو۔"

اگر حضرت موسٰی کی لاٹھی جادوگروں کے گھڑے ہوئے جھوٹوں کو نگل سکتی ہے تو قرآن مجید کی تلاوت اور قرآن مقدس کے ذریعہ سے شیطان سے پناہ حاصل کرنا امر لاٹھی سے زیادہ موثر ہے اور باطل کے پیرکاروں کی سازشوں اور گٹھ جوڑ ان کے ہر طرح کے نقش برآب بنا کر رکھ دیتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ بحرانی دور میں انبیاء کو براہِ راست غیبی مدد مل جاتی ہے۔( اوحینا )

۲ ۔ اگر خدا چاہے تو اپنے مخلص بندوں کی بین الاقوامی اجتماعات اور دشمن کے مجمع میں جس میں حق کی تباہی کے لئے اکٹھے ہو جائیں امداد کر کے ان پر غالب کر دے۔

۳ ۔ جو باطل لوگوں کی آنکھوں کو خطا اور دلوں کولرزہ براندام کر دے( سحر وااعین الناس واستر هبوهم ) وہ خدائی قدرت کے ذریعہ اور انبیاء کے توسط سے سرکوب ہو جاتا ہے۔( تلقف مایافکون )

آیت ۱۱۸ تا ۱۲۰

( فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ فَغَلَبُوْْا هُنَا لِکَ وَاْنقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَ وَاَلْقٰی السَّحَرَةُ سٰجِِدِیْنَ )

ترجمہ: پس حق آشکار اور ثابت ہو گیا (اور موسیٰ کی نبوت واضح ہو گئی) وار جادوگروں کے تمام کارنامے باطل اور محو ہو گئے۔

پس فرعون والے اسی جگہ پر ہی مغلوب ہو کر ذلیل اور خوار ہو گئے۔ اور جادو گر نے اختیار ہو کر) سجدے میں گرپڑے۔

ایک نکتہ:

حضرت موسٰی کے معجزہ کی کامیابی کے ساتھ فرعونی نظام کو سخت دھچکا لگا اور اس کے بڑھ کر یہ کہ تمام جادوگر بیک وقت موسی پر ایمان لے آئے اور فرعون کی عزت اندرونی طور پر خاک میں مل گئی۔

پیام:

۱ ۔ حق غالب اور باطل مغلوب اور نابود ہونے والا ہے۔( فوقوع الحق )

۲ ۔ حق کے صرف ایک ہی جلوہ سے باطل کی ساری چکا چوند ختم ہو جاتی ہے( الحق ماکانوا )

۳ ۔ انسانی ہاتھوں سے تراشے ہوئے باطل الہٰی حق کے مقابلہ کی تاب نہیں رکھتے۔( الحق-یعملون )

۴ ۔ تبلیغ کے موقع پر حق کو بیان کر کے باطل کو میدان سے دور بھگایا جا سکتا ہے۔( وقع الحق بطل )

۵ ۔ اگر معرفت حاصل ہو جائے تو پھر سجدہ اور سرتسلیم خم کر دینا لازمی ہو جاتا ہے۔( القی )

۶ ۔ شکسوت کی ذلت اور تحقیق خود شکست سے بدتر ہوتی ہے۔( صٰغرین )

۷ ۔ معرفت کے سایہ ایک ہی لمحہ میں عقیدے کو تبدیل کر کے خوش بختی حاصل کی جا سکتی ہے۔( فالقی السحرة سٰجدین )

۸ ۔ "نحن الغالبون" (ہم ہی غالب ہیں ۔ آیت ۱۱۳) کے دعویدار آج "صاغرین" کی صورت میں مغلوب ہو چکے ہیں( وانقلبو اصاغرین )

آیت ۱۲۱۔۱۲۲

( قَالُوْا اٰمَنَّا بِرَبِّ العٰلَمِیْنَ رَبِّ مُوْسٰی وَ هٰرُوْنَ )

ترجمہ: ان (جادوگر) لوگں نے کیا ہم تمام حیاتوں کے پروردگار پر ایمان لے آئے۔

(وہی جو) موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے۔

دونکات:

جو جادوگر حضرت موسٰی کو رسوا کرنے، مال و دولت اور فرعون کا تقرب حاصل کرنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔ موسٰی کامعجزہ دیکھ کر ایمان لے آئے اور علی الاعلان اس کا اظہار کر دیا۔

اپنے اس اعلان میں انہوں نے تینوں اصول دین کا اقرا ر کیا۔ یعنی توحید نبوت اور مدد کا۔ (رب العالمین، رب موسیٰ وہارون) اور بعد کی چند آیات میں ہے کہ انہوں نے کہا : "الی ربنا منقلبون" ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں گے۔ (آیت ۱۱۵)

پیام:

۱ ۔ انسان کا آزادی حاصل ہے اور وہ حق کو سمجھ لینے کے بعد اپنے ایمان اور عقیدے کو تبدیل کر سکتا ہے۔( قالو آفنا )

۲ ۔ شرک اور ذہنی گمراہی سے توبہ کا نام ایمان ہے( آمان )

۳ ۔ معجزہ کی کیفیت کو دوسرے لوگوں سے زیادہ جادوگر ہی بہتر جانتے ہیں اسی لئے جلد ایمان لے آتے ہیں۔( آمنا )

۴ ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ حق بیان نہ ہونے کی وجہ سے لوگ ایمان نہیں لا سکتے، جونہی حق روشن ہوتا ہے، کئی لوگ ایمان لے آتے ہیں۔( آمنا )

۵ ۔ خداوند عالم کے خالق ہونے میں تو کسی کو اختلاف نہیں ، سارا جھگڑا اس کی ربوبیت اور تدبیر عالم کے بارے میں ہے اور ہدیہ برہستی کی اطاعت کے متعلق ہے۔( رب موسیٰ و هارون )

۶ ۔ "عدو شود سبب خیر گر خدا وہد "والی کہاوت سو فیصد درست ہے، فرعون نے دنیا بھر کے جادوگروں کو ایک جگہ پر اکٹھا کیا جو اس بات کا سبب بن گیا کہ وہ سارے یگجا موسیٰ پر ایمان لے آئے۔

۷ ۔ لفظی طور پر بھی کسی کو ناجائز فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہئے۔ جادوگروں نے کہا: آمنا برب العالمین" ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔ کہیں شکست خوردہ فرعون یہ نہ کہہ دے کہ وہ رب العالمین، میں ہوں، اس لئے آیت کہتی ہے: "رب موسیٰ و ھارون"( هارون و موسیٰ کا رب )

آیت ۱۲۳

( قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْْتُمْ بِه قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ اِنَّ هٰذَا لَمَکْرُمَّکَرْ تُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا فَسَوْفَ َتعْلَمُوْنَ )

ترجمہ:

فرعون نے (جادوگروں سے) کہا: تم میرے اجازت دینے سے پہلے اس پر ایمان لے آئے ہو؟ یقینا یہ تمہاری ایک چال ہے جو تم نے شہر میں چلی ہے تاکہ (علاقہ کو اپنے قبضہ میں لے کر) لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کرو۔ پس تم بہت جلد سمجھ لو (کہ تمہارا مقابلہ کسی کے ساتھ ہے اور تمہیں کیا سزا ملے گی؟)

پیام:

۱ ۔ فکری، ذہنی اور عقیدتی استعمار میں حکومتوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ لوگوں کے عقیدہ اور افکار پر پہرے بٹھا دئیے جاتے ہیں اور ان کی فکر سلب کر لی جاتی ہے (قبل ان اذن) بالفاظ دیگر طاغوتی نظاموں میں عقائد پر سینسر کی پابندیاں لگا دی جاتی ہیں۔

۲ ۔ طاغوت کا ایک طریقہ کار یہ بھی ہے کہ وہ مردان حق پر تہمتیں لگاتا ہے۔( مکر مکرتموه ) ۳۶

۳ ۔ طاغوت کی کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کو انبیاء کے خلاف بھڑکانے کے لئے انہیں ہر بات سے ڈراتے ہیں کہ وہ تمہیں تمہاری سرزمین سے باہر نکال دیں گے اور خود اس پر قابض ہو جائیں گے۔( لتخر جوامنها اهلها )

۴ ۔ طاغوتی طاقتوں کا کام ڈرانا دھمکانا ہوتا ہے۔( فسوف تعلمون )

آیت ۱۲۴ ۔ ۱۲۵

( لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَ اَرْجُلَکُْمْ مِنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْنَ قَالُوْ اِنَّا اِلٰی رَبِّّنَا مَنْقَلِبُوْنَ )

ترجمہ: میں تمہارے ہاتھ پاؤں ایک دوسرے کے برخلاف (ایک دائیں طرف سے اور دوسرا بائیں جانب سے) ضرور کاٹوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پر بھی ضرور لٹکاؤں گا۔

انہوں نے کہا: ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جائیں گے۔ (اور ہمارے لئے عقیدے کی راہ میں شہادت، ایک سعادت ہے۔)

چند نکات:

ان آیات سے ملتی جلتی سورہ طٰہ کی ۷۰ کے بعد کی آیات ہیں۔

آیت میں اگرچہ ان دھمکیوں پر عمل درآمد کرنے کی طرف اشارہ نہیں ہے لیکن روایات اور تاریخیں بتاتی ہیں فرعون نے حضرت موسٰی پر ایمان لانے والون کو ٹکڑے ٹکڑ کر کے درخت ضرما کی شاخوں پر لٹکا دیا تھا۔ اور مورخ طبری کے بقول: "کانوا اول النھار سحرة وآخر النھار شھداء بررة" وہ دن کے پہلے حصے میں جادو گر تھے اور آخری حصے میں نیک پاک شہید تھے۔ اپنے ایمان کی بدولت انہیں فرعون سے کسی قسم کا خوف و ہراس دامن گیر نہیں ہوا۔

فرعون اس قدر شور و ترابے کے باوجود حقیر اور رسوا ہو گای "القلبواصاغرین" اور جادوگر اپنے ایمان کی وجہ سے سعادت اور شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہو گئے۔( الی ربنا منقلبون )

پیام:

۱ ۔ دھمکی اور دھونس، صاحبان اقتدار کا آخری حربہ ہوتا ہے۔( لاقطعن )

۲ ۔ جو شخص دل کی بصیرت کے ساتھ ایمان لاتا ہے وہ مختلف اور مشکل کیفیات سے گزرتنے باوجود بھی ایمان سے دستبردار نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی قسم کی دھمکی کو خاطر میں نہیں لاتا( قالو انالی ربنا )

۳ ۔ اصلاحی اور انقلابی افکار کے اثر ور سوخ کو روکنے اور اس کے آگے بند باندھنے کے لئے طاغوت اور طاغوتی طاقتیں انقلابی و رہنماؤں کو قتل کرنے سے بھی باز نہیں آئیں۔( لاصلبنکم )

۴ ۔ انسان کی طاغوت۔ نظام اور ماحول کا محکوم نہیں ہے۔ اور اپنے ایک ارادے کے ساتھ اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔( لاقطعن- قالوا )

۵ ۔ ذلت کی زندگی غیرت کی موت بہتر( الی ربنا منقلبون )

۶ ۔ اس بات پر مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ہم قدیمی مومن اور پرانے عبادت گزار ہیں کیونکہ بعض اوقات چند جادوگر اور کافر بھی یکسر تبدیلی کے ساتھ سب پر سبقت لے جاتے ہیں۔

۷ ۔ تبلیغی دورانئے میں زمانہ ماضی کے جوانمردوں کی تاریخ کو بھی دہرانا چاہئے۔( قالوا )

۸ ۔ معاد اور قیامت پر ایمان انسان کو ہر قسم کے خوف و خطر سے محفوظ رکھتا ہے۔( الی ربنا منقلبون ) ۳۷

۹ ۔ گمراہ اور منحرفین کی ہدایت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ جادوگروں جیسے کافروں میں بھی ایک ہی مرتبہ تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔( قالوا ) ۔۔)

۱۰ ۔ ایمان، انسان کے اندر تبدیلی پیدا کر کے اس کی شخصیت کو بلند و بالا کر دیتا ہے۔ (جو جادوگر کل فرعون کی طرف سے انعام و اکرام کی منتظر تھے آج ان کے مومن ہو جانے کے بعد ان کے لئے اس قسم کی ساری باتیں بے وقعت ہو چکی تھیں۔( الی ربنا )

آیت ۱۲۶

( وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّا اِلَّا اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّناَ لَمَّا جَاءَ تْنَاط رَبَّنَا اَفْرِغْنَا عَلَیْنَا صَبْراً َو تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ )

ترجمہ: اور (اے فرعون!) تو ہم سے اس کے علاوہ اور کسی بات کا انتقام لے گا کہ ہم اپنے رب کی آیات پر ایمان لائے جب وہ ہمارے پاس آ گئیں۔ اے ہمار پروردگار! تو ہم کو صبر و شکیبائی فراوانی کے ساتھ عطا فرما اور ہمیں اپنا فرمابردار اور مسلمان بنا کر موت دے۔

ایک نکتہ:

یہ آیت اس مذموم و مسموم پراپگنڈے کا جواب ہے جو فرعون کی طرف سے موسیٰ پر ایمان لانے والوں کے خلاف کیا جا رہا تھا اور سابقہ آیات میں جس کی طرف اشارہ بھی ہو چکا ہے۔

پیام:

۱ ۔ خدا پر ایمان اور طاغوت کی نافرمانی کی قیمت تو چکانی ہی پڑتی ہے جو کافی بھاری ہوتی ہے۔( وما تنقم )

۲ ۔ طاغوتی طاقتیں لوگوں کے عقیدہ توحید کے مخالف ہیں، کود ان کی ذات کے مخالف نہیں ہیں( الاانآمنا )

۳ ۔ سچے اور پکے مومن کی نشانی، آرام و سکون ، صبر وپائیداری ، صراحت و وضاحت ، شجاعت و شبہامت اور تضرع و دعا ہے۔( ربنا )

۴ ۔ طاغوت کی دھمکی کے مقابل میں خدا سے بہترین طلب اور دعا ، ایمان کی بقا اور حفاظت کے لئے ہوتی ہے۔( افرغ علینا توفنا )

۵ ۔ فریق مخالف کی دھونس اور دھمکی جس قدر شدید ہو گی اس قدر، صبر و جرأت کی بھی ضرور ت ہو گی۔( افرغ علینا صبرا ) کی درخواست کی گئی ہے کہ دلوں کو صبر سے لبریز کر دے، یہ دعا نہیں کی گئی کہ "انزل علینا صبرا" یعنی ہم پر صبر نازل فرما۔

آیت ۱۲۷

( وَقَالَ الْمَلٓا ءُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَزَرُ مُوْسٰی وَقَوْمَه لِیُفْسِدُوْفِیْ الْاَرْضِ وَیَزَرَکَ اٰلِهٰتَکَ قَالَ سُنِقَتِّلَ اَبْنَآئَهُمْ وَ نَسْتَحْیِِِِِِِِِیْ نِسَآئَهُمْ وَ اَنَا فَوْقَهُمْ قَاْهِرُوْنَ )

ترجمہ: اور قوم فرعون کے سرداروں نے (فرعون سے) کہا: آیا تو موسٰی اور اس کے پیروکاروں کو چھوڑ دے گا۔ تاکہ وہ زمین میں فساد پھیلائیں اور تجھے اور تیرے خداؤں کو چھوڑ دیں؟

تو اس (فرعون) نے کہا: ہم بہت جلد ان کے لڑکوں کو مار ڈالیں گے اور لڑکیوں کو (کنیزی اور خدمتگاری کے لئے) بچائے رکھیں گے۔ اور ہم ان پر پورا پورا تسلط رکھتے ہیں۔

چند نکات:

فرعون نے حضرت موسٰی کی دعوت کو ایک عرصے تک نظر انداز کئے رکھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت موسیٰ کے پیروکاروں کی تبلیغات کا دائرہ وسیع ہونے لگا جس سے قوم فرعون کے سرداروں کو خطرہ محوار ہوا اور فرعون سے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کای۔

فرعون اپنے آپ کو خالق نہیں بلکہ "رب" سمجھتا تھا اور کہا کرتا تھا۔ "( انا ربکم الاعلیٰ‘ ) ‘ میں تمہارا بہت ہی بڑا رب ہوں (نازعات / ۳۷) اور یہ بھی کہ خوا وہ اور اس کے ماننے والے مختلف معبودوں کے قائل تھے۔ فرعونم کی قوم اسے اوردوسرے معبودوں کو "خالق کائنات کے مظاہر" سمجھ کر پوجتے تھے۔

پیام:

۱ ۔ طاغوتوں کی کچھ خرابیاں ان کے چیلے چانٹوں کی وجہ سے بھی ہوتی ہیں( قال الملأ )

۲ ۔ انبیاء کے انقلابی اور اصلاحی اقدامات طاغوتی طاقتوں کی نظر میں فتنہ و فساد گڑبڑ اور امن عامہ میں خلل اندازی ہوا رکتے ہیں۔( لیفسدوافی الارض )

۳ ۔ مردوں کو ختم کر دینا اور علاقوں کو بچائے رکھنا ایک فرعون سیاست ہے۔ تاکہ جوانمردی اور مردانہ غیرت کا جنازہ نکال دیا جائے اور عورتیں فرعونی سیاست کا آلہ گارنبی اس بعینہ آج کل کی استہماری سیاست کے مانند۔( سنتقل ابنا ئهم و نستحی نسائهم )

۴ ۔ انبیاء دشمن قوتیں نوجوانوں اور عورتوں کے لئے خصوصی پروگرام مرتب کرتی ہیں۔

۵ ۔ متضاد اور مخالف قسم کے اقدامات فرعونی سیاست کی سرگدانی کی علامت ہوتے ہیں۔ کبھی تو موسیٰ کو قتل کر دینے کے منصوبے تیار کئے جاتے ہیں "( ذرونی اقتل موسٰی ) " (غافر/ ۲۶) لیکن پھر انہیں آزاد چھوڑا جاتا ہے اور اس حد تک آزادی دی جاتی ہے کہ خود فرعون کے طرفداروں کو احتجاج کرنا پڑتا ہے۔

۶ ۔ خالی خولی وار کھوکھلے نعروں کی بدولت اپنی جھوٹی انا کو بچائے رکھنا "فرعونی سیاست" ہے۔( انافوقهم قاهرون )

آیت ۱۲۸

( وَقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمٍ اِسْتَعِیُوْنَ بِااللّٰهِ وَاصْبِرُوْ اَنََّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآ ءُ مِنْ عِبَادِه وَالْعَاقِبَةُ الْمُتَّقِیْنَ )

ترجمہ: حضرت موسٰی نے اپنی قوم سے کہا: اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور صبر و پائیداری کا مظاہرہ کرو کیوں کہ اس بات میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ زمین اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے کہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور اس کے اختیار میں دے دیتا ہے۔ اور انجام کا (آخری فتح) تو مومنین ہی کے لئے ہے۔

ایک نکتہ:

اس آیات میں دو فرمان اور دو طرح کی خوشخبری بیان کی گئی ہے۔ فرمان یہ کہ خدا اسے مدد ضبط اور صبر اختیار کیا جائے۔ اور خوشخبری یہ کہ زمین کی ولائت اور نیک انجام مومنین کے لئے ہے۔

پیام:

۱ ۔ آخری کامیابی کے حصول اور دھمکیوں سے محفوظ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ خدا اسیت مدد طلب کی جائے، اس پر توکل کیا جائے اور تقویٰ اور پائیداری اختیار کی جائے۔( استعینوا- اصبروا ) اس سے بھی مدد حاصل کی جائے اور خود بھی صبر کریں۔

۲ ۔ حساس مواقع پر رہبر کو چاہئے کہ اپنی امت کی دلجوئی کرے۔( قال موسیٰ )

۳ ۔ روشن مستقبل کی امید اسلام سمیت تمام ادیان کے وعدوں میں شامل ہے۔( العاقبة للمتقین )

۴ ۔ متقی افراد ایک تو دنیامیں نیک انجام کے حامل ہوتے ہیں۔( یورثها من یشاء ) اور دوسرے آخرت میں بھی انہی کا نیک انجام ہو گا۔( والعاقبة للمتقین )

آیت ۱۲۹

( قَالُْْوْ اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلُ اَنْ تَاْتِیْنَا وَ مِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَناَ قَالَ عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّهْلِکَ عَدُوُّکُمْ وَ یَسْتَخْلِفُکُمْ فِیْ الْاَرْضِ فَیَنْظُرْ کَیْفَ تَعْلَمُوْنَ )

ترجمہ: (موسٰی کے پیروکاروں نے) کہا: ہمیں تو آپ کے آنے سے پہلے بھی دکھ پہنچائے گئے اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ (موسٰی نے) کہا: امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا۔ اور تمہیں زمین میں ان کا جانشین بنائے گا پھر دیکھے گا کہ تم کب عمل کرتے ہو؟

ایک نکتہ:

بنی اسرائیل کو یہ توقع تھی کہ حضرت موسٰی کے قیام اور انقلاب کے بعد سارے کام ایک ہی رات میں ٹھیک ہو جائیں گے۔ اور سارے وسائل سمیت مملکت مسر ان کے قبضہ قدرت میں آ جائے گی اور فرعون والے تب چٹ ہو جائیں گے۔ اسی لئے وہ اس بات مدعی تھے کہ موسیٰ کے انقلاب نے ان کے لئے آسائش فراہم نہیں کی۔ خدا کا جواب یہ ہے کامیابی کے بھی کچھ شرائط ہوتے ہیں۔ مثلاً صبر، استقلال، سعی و کوشش اور توکل برخدا وغیرہ ۔ اگر یہ فراہم ہو جائیں پھر خدائی امداد کی امید ہوتی ہے۔

پیام:

۱ ۔ الہٰی رہبر بعض اوقات اپنے ہی کم ظرف دوستوں کی تنقید کا نشانہ بن جاتے ہیں۔( قالوا اوذینا )

۲ ۔ اکثر لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ راحت اور آسائش و آرام ہی سعادت اور خوش بختی ہے اگر یہ چیزیں نہ ہوں تو انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔ حالانکہ وہ اس بات سے غافل ہوتے ہیں کہ آسمانی ادیان لوگوں کی زندگی وک صحیح سمت کی طرف رہنمائی کرنے کے لئے ہوتے ہیں ان کی مشکلات ختم کرنے کے لئے نہیں ہوتے( من قبل ان تاتینا ومن بعد )

۳ ۔ رہبر کو چاہئے کہ ہر قسم کی تنقید کو سنے اور امید افزا پیغام سے نوازے( عسبی ربکم )

۴ ۔ لوگوں پر حکمرانی آزمائش امتحان کا ایک ذریعہ ہوتاہے، لذت حاصل کرنے کا راستہ نہیں۔( فینظر کیف )

۵ ۔ قدرتی، معاشرتی اور فوجی مشکلات کو اپنی راہ اور تدبیروں سے حل کرنا چاہئے معجزات کے ذریعہ نہیں۔ (سابقہ آیت میں "اصبروا‘ اور "( بعد ماجئتنا ) " کے جملے کے بہتر نظر۔

۶ ۔ عوام الناس حکومت الیہ کے سامنے جوابدہ ہیں( کیف تعملون ) فرماتا ہے "کیف اعمل" نہیں کیا۔

آیت ۱۳۰

( وَلَاقَدْاَخَذَ اٰلُ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ یَذَکَّرُوْنَ ) ۰

ترجمہ: اور ہم نے فرعون کو طرفداروں کو قحط خشک سالی اور پھل میووں کی کمی کے ذریعہ اپنی گرفت میں لے لیا۔ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (اور اپنے گمراہی کے رستوں سے باز آ جائیں۔)

ایک نکتہ:

"سنین" جمع ہے "سنة" کی جس کے معنی میں "سال" لیکن جب لفظ "اخذ" کے ساتھ استعمال ہو تو اس کا غالب طور پر معنی "قحط اور خشک سالی میں گرفتار کرنا ہو گا۔

پیام:

۱ ۔ لوگوں کی تربیت کے لئے بعض دباؤ سے بھی کام لینا پڑھ جاتا ہے۔( اخذنا )

۲ ۔ قحط اور خشک سالی یا تو عذاب الہٰی ہوتا ہے یا پھر بیداری کی گھنٹی اور غفلت دور کرنے کے لئے( بالسنین و نقص من الثمرات )

۳ ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کی تبلیغ ولایت کے واسطے کوئی بھی ذریعہ موثرکاتب نہ ہو کیونکہ انسان کو ہدایت کے لئے مجبور تو نہیں کیا جا سکتا۔( لعلهم )

آیت ۱۳۱

( فَاِذَ جَآئَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْ الَنَا هٰذِه وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٍ یَّطِیْرُوْ ا بِمُوْسٰی وَ مَنْ مَّعَه اِلَّااِ نَّمَا طَیْرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰکِنْ اَکْثَرُهُمْ لَاْیَعْلَمُوْنَ ) ۰

ترجمہ: پس جب کوئی خوبی اور بھلائی انہیں خاص حاصل ہوتی تو وہ کہتے یہ ہمارا حق اور ہماری لیاقت اور شائستگی کی وجہ سے ہے لیکن اگر کوئی برائی ان کے دامنگیر ہوتی تو اس سے وہ موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی نحوست اور بدفالی سمجھتے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی تمام نحوستوں کا سرچشمہ خدا کے پاس ہے (اور وہی انہیں ان کی بداعملایوں کی سزاد ے گا) لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

چند نکات:

"یطیروا" کا صیغہ "تطیر" سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں بدفالی اور نحولت سمجھنا۔ چونکہ عرب لوفگ اکثر کسی پرندے کی پرواز اور اس کی آواز سے بدفالی لیا کرتے تھے۔ پھر ہر قسم کی بدفالی کو "طیرہ" کہا جانے لگا۔ (ازتفیسر نمونہ)

سورہ یس کی انیسویں نحل کی سنتالیسویں اور نسأ کی ۷۸ ویں آیات میں انبیاء حتی سرکار رسالتماب کی ذات سے لوگوں کی بدفالی لینے کا تذکرہ ہے۔

حوادث اور واقعات کے معرض وجود میں لانے کے لئے بدفالی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ البتہ اس سے ایک نفسیاتی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو بدگمانی اور کام کے ٹھپ ہو جانے کا سبب بن جاتی ہے اس بناء پر بدفالی لینے سے منع کیا گیا ہے۔ ا ور روایت میں ہے کہ : "جب کسی موقع پر بری فال لو تو فوراً اس کام کو کر گزرو اور بدفالی کی پروا نہ کرو" لیکن نیک فال چوکہ امید و عشق اور تحرک کا موجب ہوتی ہے لہٰذا اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں بدفال کا رواج قدیم اقوام میں بھی پایا جاتا تھا اور آج کی متمدن قوموں میں بھی پایا جاتا ہے۔ حالانکہ روایات میں ہے کہ "بدفالی" خدا کے ساتھ شریک کرنا ہوتی ہے۔" (از تفیسر نمونہ)

پیام:

۱ ۔ اچھائیوں کی نسبت اپنی طرف اور برائیوں کی نسبت دین اور انبیاء کیطرف یہ انسان مغرور خود متکبر سونے کی علامت ہے۔

۲ ۔ خرافات اور بدفالی کا منبع جہالت ہے۔( لایعلمون )

آیت ۱۳۲

( وَقَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِه مِنْ اٰیَةٍ لِتَسْحََرنَا بِهَا فَمَانَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ ) ۰

ترجمہ: اور (فرعون والوں نے حضرت موسٰی سے) کہا: تم ہمارے پاس جو بھی آیت اور معجزہ لے آؤ جس سے ہم پر جادو کرو ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

ایک نکتہ:

دشمن کوبھی علم تھا کہ موسیٰ کا کام جادو نہیں بلکہ آیت اور معجزہ ہے لیکن اپنے تکبر ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ لیکن فن جادو کے مارہین نے چونکہ اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ موسٰی کا کام جادو نہیں ہے لہٰذا یمان لے آئے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ فرعون والوں نے حضرت موسیٰ کے کام کو آیت کا نام مذاق کے طور پر دیا ہو۔

پیام:

۱ ۔ انسان آزاد ہے معجزات کے مقابلے میں بھی ڈٹ جاتا ہے اور ایمان نہیں لاتا۔( فمانحن لک بمومنین )

۲ ۔ دشمنان دین کی طرف انبیاء علیہم پر جادو کی تہمت آسان اور عام تھی۔( تسحرنا )

آیت ۱۳۳

( فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَوَالْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍِ مُفَصَّلٰتٍ فَاسْتَکْبَرُوْ اَوْ کَا نُوْ قَوْمٍ مُجْرِمِیْنَ ) ۰

ترجمہ: پس ہم نے ان پر طوفان ، ٹڈی، چھوٹے چھوٹے جانور (متکبر جوئیں، چونٹیاں وغیرہ) مینڈک اور خوں کو بھیجا جو علیحدہ اور آشکار نشانشیاں تھیں، لیکن انہوں نے متکبر سے کام لیا اور بدکاری لوگ تھے۔

چند نکات:

فارسی اور اردو میں "طوفان" کامنی ہے تیز اور تندہو اور آندھی جھکڑا وغیرہ لیکن عربوں میں اسے " تباہ کن سیلاب" کے معنی میں لیا جاتا ہے۔ اور مفردات راغب میں ہے کہ "ہر عمومی اور وحشت ناک حادثہ کو طوفان کہا جاتا ہے"

’قمل‘ چھوٹے چھوٹے جانوروں مثلاً جوئیں، سنڈیاں، زرعی آفات اور حشرات کے لئے بولا جاتا ہے۔

"خون" بھی فرعون والوں کے لئے عذاب بن کر آیا، یا تو پانی خون ہو جاتا تھا یا پھر ہر شخص کے ناک اور منہ سے خون بہنے لگ جاتا تھا۔

ہر قسم کا مذوکرہ عذاب صرف فرعون والوں کے لئے تھا بنی اسرائیل اس سے محفوظ تھے۔

اس عذاب کی داستان توریت میں بھی موجود ہے۔ (ملاحظہ ہو سفر خروج باب ۱۷ آیت ۲۰ ۔ پانی کا خون میں تبدیل ہو جانا باب ۸ آیت ۷ مچھروں کی یلغار باب ۹ آیت ۲۵ ادبوں کا ہڑنا باب ۱۰ آیت ۴ ٹڈی دل کی یلغار

پیام:

۱ ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف جسے بار بار کی تنبیہ اور بندوں کی طرف مسلسل بے غوری اس بات کا موجب بن جاتی ہے کہ بندوں ہر سخت سے سخت عذاب نازل ہو۔( فارسلنا )

۲ ۔ جانور بھی حکم الہٰی کے پابند ہیں کبھی تو رحمت کے حکم کی پابندی کرتے ہیں جیسے پیغمبر کی حفاظت کے لئے مکڑی کا غار کے منہ پر جالا بنانا، اور کبھی عذاب کے اجرا کے پابند ہوتے ہیں جیسے ابابیل، مینڈک ٹڈی دل وغیرہ۔

۳ ۔ مصیبتیں عام طور پر تربیتی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ ہرسزا کے بعد مہلت ملتی ہے تاکہ انسان سوچ و بچار کرے اور خدا کی طرف پلٹ آئے لیکن ضد اور ہٹ دھرمی کے مظاہرے پر پھر سزا پھر مہلت پھر سزا۔( مفصلات )

۴ ۔ اتمام حجت کے بعد ہی خدا کی طرف سے سزائیں ملتی ہیں۔ پہلے انہیں آیات و معجزات دکھائے گئے جب انہوں نے ان کا انکار کیا اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے تو پھر عذاب کی لپیٹ میں آگئے۔( فا رسلنا )

۵ ۔ مایہ رحمت ، ارراہ الہٰی ہی ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو پانی وسیلہ رحمت بن جاتا ہے اور اگر چاہے تو عذاب کا موجب بھی بن جاتا ہے۔( طوفان )


آیت ۱۳۴ ۔ ۱۳۵

( وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْ ا یٰمُوْسٰی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَ کَ لَئِنْ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَ لَنُرْسَلَنَّ مَعَکَ بَنِیْٓ اِسْرَآ ئِیْلَ ۰ فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰی ٓ اَجَلٍ هُمْ بَالِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْکُثُوْنَ ) ۰

ترجمہ: اور جب ان پر کوئی عذاب نازل ہوتا تو (موسٰی کے پاس آ کر) کہتے: اے موسٰی! اپنے اس عہد کی وجہ سے جو خدا نے تمہارے ساتھ کیا ہو اہے (اور تمہاری دعا کو قبول کرتا ہے) ہمارے لئے دعا مانگو کہ اگر اس مصیبت کو ہم سے دور کر دیا تو ہم یقینا تم پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی یقینی طور پر (رہا کر کے) تمہارے ساتھ روانہ کر دیں گے۔

پس جب ہم نے ان سے ایک مقرررہ مدت تک کے لئے کہ جن تک انہیں پہنچنا چاہئے تھا عذاب کو دور کر دیا تو پھر وہ عہد شکنی کے مرتکب ہونے لگ گئے۔

دو نکات:

"نکث" کے معنی میں بتی ہوئی اس کو کھولنا لیکن اس کے بعد عہد شکنی پر اس کا اطلاق ہونے لگ گیا۔

اس آیت میں "اجل" سے ممکن ہے وہ مدت مراد ہو جو ضرت موسٰی انہیں مہلت کے طور پر دیا کرتے تھے کہ مثلاً فلاں دن یا فلاں وقت عذاب ہر طرف ہو جائے گا، تاکہ انہیں اچھی طرح یہ باور ہو جائے کہ یہ خدائی سزا ہے کوئی اتفاقی سانحہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مراد بھی ہو کہ یہ ضدی اور ہٹ دھرمی قوم آخر کار خداوند عالم کے حتمی قہر و غضب کا شکار ہو کر رہے گی لیکن اس حتمی اور یقینی مقرر کردہ مدت کے پہنچنے اور دریا میں غرق ہونے سے پہلے وقتی طور پر اگر برسے عذاب کو عذا ب اٹھا لیا گیا ہے۔

پیام:

۱ ۔ ضرورت اور مجبوری انسان کے غرور کو توڑ کر رکھ دیتی ہے۔ بول شاعر

آنچہ شیران را کندو رویہ مزاج احتیاج الت، احتیاج الت، احتیاج

یعنی چیز شیروں کو روباہ مزاج بنا دیتی ہے، وہ ضرورت ہے، ضرورت ہے اور ضرورت ہے۔( لماوقع علیهم الرجز )

۲ ۔ کفار بھی اولیاء اللہ کے توبل سے نتیجہ حاصل کیا کرتے تھے( یاموسی ادع لنا )

۳ ۔ انسانوں اور مردوں کو غلامی ہائے آزادی دلانا، انبیاء کے منصب میں شامل ہے۔( لنرسلن معک بنی اسرائیل )

۴ ۔ لوگوں کے ایسے وعدوں پر کبھی یقین نہ کرنا جو مجبوری کے وقت دیتے ہیں( فلما کشفنا -- ینکثون )

۵ ۔ عام طور پر انسان اس وقت سرکشی پر اتر آتا ہے جب رفاہ اور آسائش کی حالت میں ہوتا ہے۔( کشفنا - ینکثون ) ۳۸

۶ ۔ خوشگوار واقعات اور ناخوش گوار حوارث کی اس نظٓم کائنات میں ایک مدت مقرر ہے۔( الی اجل )

آیت ۱۳۶

( فَانْتَقَمْنَامِنْهُمْ فَاغْرَقْنٰهُمْ فِیْ الْیَمِّ بِاَ نَّهُمْ کَذَّبُوْ ا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوْعَنْهَا غَفِلِیْنَ ) ۰

ترجمہ: پس ہم نے ان سے انتقام لے لیا اور انہیں دریا میں غرق کر دیا، کوینکہ وہ ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے اور ان سے غفلت برتے تھے۔ ۳۹

دونکات:

"انتقام" کے معنی سزا ہیے ناکہ کینہ پروری۔

مصر کی قدیم "سمندر اور دریا کو کہتے تھے چونکہ اس داستان کا تعلق مصر سے ہے لہٰذا اس پر ان نعت کو قرآن میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ (از تفسیر نمونہ۔ منقول نہ معجم الکبیر)

پیام:

۱ ۔ ناخوش گواریوں اور بلاؤں کا اصل خود ہمارے اندر ہے ۔ اور غفلت کی سزا بہت سنگین ہے( غافلون )

۲ ۔ جہاں پر خدا وند عالم "رؤف" (مہربان) ہے وہاں پر وہ ’منقتم" (انتقام لینے والا) بھی ہے

آیت ۱۳۷

( وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْ یُسْتَضْعِفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِیْ بَرَکْنَا فِیْهَا ط وَ تَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلَی بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ بِمَا صَبَرُوْا وَدَمَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنَ وَقَوْمُه وَمَاکَانُوْایَعْرِشُوْنَ ) ۰

ترجمہ: اور ہم نے ان (بنی اسرائیل) کو جو کہ مستعفف لوگ تھے (فرعون والوں کے غرق ہو جانے کے بعد) ایسی سرزمین کے مشارق اور منارب کا وارث بنایا کہ جس میں ہم نے برکت قرار دی۔ اور بنی اسرائیل کامیابی کے بارے میں تیرے پروردگار کا اچھا وعدہ پورا ہو گیا اس لئے کہ انہوں نے صبر سے کام لیا۔ اور جو کچھ فرعون اور اس کی قوم (والوں) نے بنایا اور پھیلایا ہوا تھا اسے ہم تباہ و برباد کر لیا۔

دونکات:

جس علاقہ کے بنی اسرائیل وارث ہوئے وہ موجودہ شام، اردن، مصر، لبنان، اور فلسطین کا علاقہ تھا، کہ جس کہ سرزمین مادی برکات کی حامل بھی تھی اور معنوی برکات کی بھی کہ اللہ کے عظیم انبیاء کی بعثت اور دفن کی جگہ ہے۔

جو سرزمین فرعون والوں کے اختیار میں تھی وہ اس قدر وسیع تھی کہ اس کے ہر علاقہ میں متعدد افق اور مختلف طلوع و غروب کے مقامات تھے۔

پیام:

۱ ۔ صابر اور صاحبان عزم و حوصلہ متصفف ہی زمین کے وارث ہو سکتے ہیں۔( اورثنا- بماصبروا )

۲ ۔ انبیاء کی حکومت ہی، حکومتِ مستفعفن ہے۔( یستضعفون )

۳ ۔ اللہ اپنے وعدے پر عمل کرتا ہے۔ (جیسا کہ موسٰی کی قوم کے صبر کے نتیجہ میں اسے زمین کا وارث بنایا اسی سورت کی آیات ۱۲۸ ۔ ۱۲۹ کی روشنی میں)۔

۴ ۔ زمین گول ہے اور اس کے کئی مشارق اور کئی مغارب ہیں۔

۵ ۔ زمین کا سرسبز ہونا وار انبیاء کا مقام پیدائش ہونا برکت کے دو عامل ہیں۔( بارکنا )

۶ ۔ جو قوم راہ خدا میں اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور صبرو حوصلے سے آگے بڑھتی ہے وہ فاتح اور کامیاب ہے( بماصبروا )

۷ ۔ طاغوتی طاقتوں کے دباؤ کے مقالبے میں ڈٹ جانا ہوتا ہے ذلت کے ساتھ ہتھیار ڈالنا نہیں ہوتا۔

۸ ۔ جو معاشرہ الہٰی رنگ اختیار کر چکا ہو وہان طاغوت کے تمام مفہرا ختم کر دینے چاہئیں۔( دمرنا )

۹ ۔ صنعت و حرفت، کاشتکماری اور فن تعمیر کے لحاظ سے قوم فرعون بہت ترقی کر چکی تھی۔( یعرشون )

آیت ۱۳۸

( وَجَوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْْا علَیٰ قَوْمٍ َیعْکِفُوْنَ عَلٰی اَصْنٰامٍ لَّهُمْ قَالُوْا یٰمُوْْسٰی اجْعَلْ لَّنَا اِلٰهًا کَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ )

ترجمہ: اور ہم نے بنی اسرائیل دریا کے پار کر دیا، پس وہ ایک ایسی قوم کے پاس آئے جو اپنے بتوں کے گرد محبت اور احترام کے ساتھگ عبادت میں لگے ہئوے اور قیام پذیر تھے۔ (یہ کیفیت دیکھتے ہی) انہو ں نے کہا: اے موسیٰ! ہامرے لئے بھی اس طرح خدا بنا دے جس طرح ان کے لئے خدا (الابت) ہیں۔ موسٰی نے کہا: یقینا تم ایسے لوگ ہو جو نادانی سے کام لیتے ہو۔

ایک نکتہ:

جو لوگ ساری زندگی جادو اور جادوگری سے گزار چکے تھے وہ تو ایک معجزہ دیکھتے ہی امر حد تک مومن ہو گئے کہ فرعون کی ہر قسم کی دھمیاں ان کے ہائے ثبات میں لغزثر پیدا نہ کر سکیں، لیکن موسٰع کے یہ موالی ان سے اس قدر معجزات ملاحظہ کرنے کے باوجودیت پرستی کا منظر دیکھ کر ان سے بتوں کا تقاضا کرنے لگے، بت پرستی کا گمراہ کن منظر دیکھنے کے ساتھ ہی وہ گمراہی کی طرف مائل ہو گئے۔ ۴۰

پیام:

۱ ۔ انسان بعض اوقات اہم ترین نعمت کو بھی بھلا دیتا ہے( جاوزنا- اجعل لنا )

۲ ۔ عبادت اور پرستش (خواہ حق کی ہو یا باطل کی) انسانی تاریخ کے ساتھ ساتھ چلی آ رہی ہے۔

۳ ۔ جب تک انسان کا ایمان و عقیدہ پختہ نہ ہو جائیں اسے اس وقت تک گمراہ کن اور خطرناک علاقوں میں ہجرت نہیں کرنا چاہئے۔( فاتوا علی قوم )

۴ ۔ ماحول مجبور نہیں کرتا لیکن اثر انداز ضرور ہوتا ہے۔( اتواعلی قوم--- )

۵ ۔ افراد ہوں ، اقوام ہر لمحہ انحراف و گمراہی کے خطرات سے دوچار ہیں۔( قالوایاموسیٰ )

۶ ۔ تقلیئد اور فیشن پرستی انسانی خصائل میں شامل ہے( کمالهم الهة )

۷ ۔ خراب قسم کے لوگ اپنے رہبروں سے بھی خرابی ہی کی درخواستے کرتے ہیں۔( اجعل لنا )

۸ ۔ ضرور نہیں ہے کہ ہر مقام پر لوگوں کا ہر ایک تقاضا صحیح بھی ہو۔ اور ہر جگہ پر اکثریت اور اس مطالبے اہم نہیں ہوا کرتے۔( اجعل لنا )

۹ ۔ بعوض اوقات ایک منفرا کے دیکھ لینے سے (خواہ وہ منظر فلم کیصورت میں ہو یا تصویر کی، ڈش انٹینا کی صورت میں ہو مجلس اور محفل کی دہبر کی تمام تربیتی رحمتوں ہریانی پھر جات اہے۔( قالو- قالوا )

۱۰ ۔ بیرونی اور اجنبی دشمن سے بدتر اندرونی احمق حمایتی ہوتے ہیں۔( یموسی اجعل-- )

۱۱ ۔ جہالت ، بت پرستی کی جڑ ہوتی ہے۔( مجهلون )

آیت ۱۳۹

( اِنَّ هٰوُلٰآءِ مُتَّبِِّرٌ مَّّا هُمْ فِیْهِ وَ ٰبطِلٌ مَّّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ )

ترجمہ: (موسٰی نے) کہا: یقینا یہ بت پرست قوم کہکو خبر گمراہی میں یہ رہ رہی ہے ۔ ہلاک ہونے ولای ہے اور جو کچھ یہ لوگ سرانجام دے رہے ہیں سب باطل اور ناکارہ ہے۔

دونکات:

"متبر" کے لفظ کو "تبار" سے لیا گیا ہے جس کے معنی میں "ہلاکت"

یہ آیت شاید حضرت موسٰی کی اس بشارت کو بیان کرائی ہے جو انہوں نے لوگوں کو دی تھی کہ ہمارے اس علاقے میں آنے سے شرک اور گمراہی محو ہو جائے گی۔ (تفسیر مراغی)

پیام:

۱ ۔ فکری گمراہی بھی ختم ہو جانے والی ہے اور عملی گمراہی بھی۔ انجام کا کب کا خاتمہ ہو کر رہے گا( متبر )

آیت ۱۴۰ ۔ ۱۴۱

( قَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْکُمْ اِلٰهاً وَ هُوَ فَضَّلَکُمْْ عَلٰی الٰعلَمِیْنَ َو اِذْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْْ مُوْنَکُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ یَقَتِّلُوْْنُ اَبْْنَآءَ کُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْط وَ فِی ذٰلِکُمْ بَلٓاءٌ مِّنْْ رِّبِّّکُمْْ عَظِیْمٌ )

ترجمہ: (موسٰی نے) کہا: آیا تمہارے لئے اس خدا کے علاوہ کوئی اور معبود تلاش کروں کہ جس نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے؟

اور (اس وقت کو مت بھلاؤ) جب ہم نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی، وہ تمہیں مسلسل سخت عذاب بے دو چار کئے ہوئے تھے۔ تمہارے لڑکوں کو قتل کرایا کرتے تھے اور لڑکیوں کو (خدمت گزاری اور کنیزی کے لئے) زندہ چھوڑ دیتے تھے۔ اور اس مشکل حالت میں تمہارے لئے تمہارے پروردگار کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔

ایک نکتہ:

"یسونکم" کا کلمہ "سوم" سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کے پیچھے جانا۔

پیام:

۱ ۔ عبادت ہمیشہ سوچ سمجھ کر اور عقل و شکر کے تحت ہونی چاہئے( اغیر الله الغی وهوفضلکم )

۲ ۔ دوسرے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کرنا، خداوندعالم کے خصوصی لطف و کرم کی وجہ سے تھا لہٰذا شکر بھی خصوصی طور پر بجا لانا چاہئے۔( فضلکم )

۳ ۔ بنی اسرائیل کی بجات میں اگرچہ دل غوت کا دباؤ اور موسٰی کی قیادت اس نجات کا اہم موجب تھی لیکن حقیقی نجات دہندہ تو خداوند عالم ہی تھا۔( انجیناکم )

۴ ۔ طاغوتوں کے ماہر ان کے یارومددگار لوگوں کے بغیر کوئی طاقت نہیں ہوتی( آل فرعون )

۵ ۔ رہبروں کا کام ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو ہمیشہ خدا کی نعمتیں یاد دلا تے رہیں تاکہ لوگ غفلت کا شکار نہ ہو جائیں۔( واذانجیناکم )

۶ ۔ ہر قسم کے ناگوار اور تلخ حوادث خدا کیط رف سے آزمائش وائلڈ کا ذریعہ ہوتے ہیں۔( بلا من ربکم )

۷ ۔ طاغوت اپنی حکومت کو بچانے کے لئے بے گناہوں کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔( یقتلون ابناء کم )

۸ ۔ عورتیں اور نئی نسل طاغوتی طاقتوں کا زیادہ نشانہ ہوتے ہیں۔

آیت ۱۴۲

( وَ وٰعَدْنَا مُوْسٰی ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّّ مِیْقَاتٌ رَبِّه اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً وَ قَالَ مُوْسٰی لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِی قَوْمِیْ وَ اَصْلَحَ وَ لَاََ تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْْمُفْسِدِیْنَ )

ترجمہ: اور ہم نے (توریت اور آیات الہٰی کے حصول کے لئے کوہ طور پر) موتے اے تیس راتوں کا وعدہ کیا۔ اور اس وعدے کو اس راتوں کے اضافے کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ اور (اس وعدہ گاہ کی طرف جانے سے پہلے) موسٰی نے اپنے بھائی ہارون سے کہا: میری امت میں مریے جانشین بن کر رہو اور لوگوں کے کاموں کی اصلاح اور فساد برپا کرنے والوں کے راستے کی پیروری نہ کرو۔

چندنکات:

سورہ بقرہ کی ۵۰ آیت میں حضرت موسٰی سے چالیس راتوں کے وعدے کی بات ہے جب کہ ارشاد ہوتا ہے "وواعدنا موسیٰ اربعین لیلة" لیکن اس آیت میں تیس کے ساتھ دس راتوں کے اضافے کی بات ہے۔ اور امام محمد باقر کے فرماں کے مطابق اس طرح سے بنی اسرائیل کی آزمائش مقصود تھی (تفسیر نورالثقلین صد ۲ صد ۶۱)

اگرچہ یہ مدت چالی سشبانہ روز پر مشتمل تھی لیکن اس کے باوجود لفظ "لیلة" استعمال کیا گیا ہے اور یہ شاید اس لئے ہے کہ غالب طور پر مناجات رات کو کی جاتی ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ اس دور میں کیلنڈر کی بنیاد چاند پر رکھی جاتی تھی۔ اور چاند رات کو ہی آشکار ہوتا ہے اسی لئے دن کا شمار بھی رات ہی میں ہوتا تھا۔( لیلة )

"اربعین" یا "چالیس" کے عدد میں بھی کئی راز پوشیدہ ہیں۔ اور ادیان کی نعت میں اس عدد کو ایک خاص مقام حاصل مثلاً

۱ ۔ حضرت رسول خدا چالیس سال کی عمر میں مبعوث پر سالت ہوئے۔

۲ ۔ آنحضرت چالیس روز تک حضرت خدیجہ ابکری سے جدار ہے تاکہ آسمانی غذا نازل ہو اور حضرت فاطمہ الزہرا علیہا السلام کی ولادت کا پیش خیمہ قرار پائے۔

۳ ۔ چالیس دن تک حضرت رسول خدا سے وحی منقطع رہی۔

۴ ۔ حضرت موسٰی کی قوم چالیس برس تک سرگرداں رہی۔

۵ ۔ حضرت نوح کے زمانے میں چالیس دن تک بارش برستی رہی۔

۶ ۔ چالیس حدیثیں یاد کرلینے سے اس بت کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں کہ جن سے انسان بروز قیامت فقہاء کے زمرے میں محشور ہو گا۔

۷ ۔ چالیس سال تک روحانی اور معنوی بالدیگی کے اسباب مہیا ہوتے رہتے ہیں اس کے بعد کام مشکل تر اور حساب سخت تر ہو جاتا ہے۔

۸ ۔ سورہ حمد کو چالیس مرتبہ پانی پر دم کر کے اسے مریض پر چھڑکنے سے مریض کو شفا حاصل ہوتی ہے۔

۹ ۔ شرابی کی نامز چالیس دن تک قبول نہیں ہوتی۔

۱۰ ۔ اگر کسی مومن کے جنازہ پر چالیس مومن اس کی نیکی کی گواہی دیدیں تو خداوند عالم اسے بخش دیتا ہے۔۔۔ ۴۱

یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ حضرت موسٰی کی چالیس راتوں کا ماجرا توریت سفر خروج میں بھی بیان ہوا ہے۔

اسلامی روایات کی رو سے ان چالیس راتوں میں سے پہلی تیس راتیں ماہ ذیقعدہ کی تھیں اور دوسری دس اضافی راتیں ذلحجہ کی پہلی دس راتیں تھیں۔ (تفسیر نورالثقلین)

پیام:

۱ ۔ کسی مقدمہ، خودسازی اور عبادت کے بغیر کسی پر آسمانی کتاب نازل نہیں ہوتی۔ (شبانہ اور عارفانہ عبادات و مناجات لازم ہیں)

۲ ۔ ذمہ داریاں خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں اور خواہ رہبر کی ذات سے ہی کیوں نہ متعلق ہوں انہیں عبادت، اعتکاف اور خدائے رازونیاز سے مانع نہیں ہونا چاہئے۔( وواعدنا موسیٰ )

۳ ۔ رازونیاز اور مناجات کے لئے رات کا وقت نہایت ہی موزون ہوتا ہے۔( لیلة )

۴ ۔ الہٰی قانون اس قدر مقدس ہوتا ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لئے پرٹوکول کی ضرورت ہوتی ہے۔( وواعدنا )

۵ ۔ حکعمت کی بنیاد پر قانون ، فرمان اور پروگرام میں تبدیلی میں کوئی حرج نہیں ہے یہ ایسے ہے جسے کوئی ڈاکٹر کی کسی مریض کی خصوصی کینیت کے پیش نظر اس کے نسخون میں تبدیلی کرتا رہتا ہے۔( فاتمهنا ها بعثد )

۶ ۔ نئے رہبر کو تجربہ کار پرانے رہبر کے روشادوش تحریک کے ہر ایک نشیب و فراز میں ساتھ رہنا چاہئے۔( لاخیه )

۷ ۔ کسی معاشرے کو رہبر کے بغیر نہیں ہونا چاہئے۔( اخلفنی )

۸ ۔ رہبر کے تقرر کا حق انبیاء کو حاصل ہے( اخلفی )

۹ ۔ ایک ہی دور میں بیک وقت دو رہبر نہیں ہو سکتے، جب تک موسٰی موجود رہے، ہارون نے نبی ہونے کے باوجود رہبری کی باگ دوڑ کو ہاتھ میں نہیں لیا۔ اور قیادت موسٰی موجود رہی اور جب موسٰی نے پردہ غیبت اختیار کیا تو ہارون قیامت میں ان کے جانشین قرار پائے۔

۱۰ ۔ رہبری اور قیامت کے دائر ہ اختیار اور اقتدار میں فرق ہوتا ہے۔( فی قومی )

۱۱ ۔ قائد اور رہبر کا کلی اور عمومی فریضہ امت کی اصلاح ہے۔( اصلح )

۱۲ ۔ اگر عوام الناس خود بخود فساد و خرابی کی طرف جھک جائیں یا اس کے خواہان ہو جائیں تو رہبر کو اپنے فریضہ سے ہاتھ نہیں اٹھا لینا چاہئے۔ اور اسے کسی سے نہیں گھبرانا چاہئے۔( لاتتبع سبیل المفسدین )

۱۳ ۔ باوجودیکہ حضرت ہارون معصوم اور اللہ کے نبی تھے لیکن پھر بھی حضرت موسٰی نے انہیں دو اہم فرائض کی طرف متوجہ کیا ایک تو اصلاح امت اور دوسرے مفسدین کی پیروی نہ کرنا۔

۱۴ ۔ انبیاء امت کیلئے اس قدر ہمدرد، خیر خواہ اور دل سوز ہوتے ہیں کہ چند مختصر دنوں تک کے لئے بھی اسے سرپرست کے بغیر نہیں چھوڑتے۔( اخلفنی )

۱۵ ۔ حضرت موسٰی تو اپنی چند روزہ اور عارضی غیبت کے لئے اپنا جانشین مقرر کر کے جائیں لیکن (عقیدہ اہلسنت کے مطابق) سرور دو عالم، خاتم الانبیاء ابدی اور دائمی عیبت کے لئے اپنا جانشین مقرر نہ فرمائیں؟ ۴۲

۱۶ ۔ رہبر اور قائد میں دونوں طرح کے کاموں کی صلاحیت ہونی چاہئے ایجابی کاموں کی بھی( اصلح ) اور سلبی کاموں کی بھی( لاتتبع )

۱۷ ۔ ہر کام میں دمت کا تقرر اور تعین ضروری ہے۔( اریسن )

۱۸ ۔ خداوند عالم کی اپنے انبیاء کے لئے وعدہ گاہ یاتھ تو کوہ طور ہے یا پھر غار حرا ہے، جبکہ اپنے نیک بندوں کے لئے اس کی ضیافت، دعا و مناجات ہے( واعدنا )

آیت ۱۴۳

( وَ لَمَّا جَاءَ مُوْْسٰی لِمِیْقٰاتِنَا وَ کَلَّمَه رَبَّه قَالَ رَبِّ اَرِنِیْ اَنْظُرْ اِلَیْکَط قَالَ لَنْ تَرٰنِیْ وَلٰکِنِ انْظُرْْ اِلٰی الْجَبَلِ فَاِنَّ اسْتَقَرَّ مَکَانَه فَسَوْفَ تَرٰنِیْْ فَلَمََّا تَجَلَّی رَبَّه لِلْجَبَلِ جَعَلَه دَکاًّ وَخَرَّ مُوْسٰی صَعِقَاً فَلَمَّا اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُوْمِنِیْنَ )

ترجمہ: اور جب موسٰی ہمارے وعدہ کے مقام پر پہنچ گئے اور اس کے پروردگار نے اس کے ساتھ گفتگو کی تو موسٰی نے عرض کیا: پروردگارا! تو مجھے اپنے آپ کو دکھلا تاکہ میں تجھے دیکھو! اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ پائے گا۔ ہاں البتہ پہاڑ کی طرف دیکھ اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو مجھے بھی بہت جلد دیکھ لے گا۔ پس جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی اور جلوہ دکھایا (اور اپنی عظمت کا پر تو پہاڑ پر ڈالا) تو پہاڑ کو (صاف زمین کی مانند) ریزہ ریزہ کر دیا اور موسٰی مدہوش ہو کر زمین پر گر پڑے پس جب ہوش میں آئے تو کہنے لگے: تو پاک و منزہ ہے (کہ دیکھا جائے یا کسی مکان کا محتاج ہو یا تیری ذات محل حوادث ہو) میں تیری طرف واپس آتا ہوں اور سب سے پہلا مومن ہوں۔

چند نکات:

"دک" کے معنی ہیں صاف اور چٹیل میدان پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا حتی کہ چٹیل میدان بن گیا۔

وہ خدائی طاقت آیا عظیم طاقت تھی یا قوت امورج تھی یا کوئی اور تھی طاقت؟ غرض جو کچھ بھی تھا اس نے پہاڑ کو نرم اور جاہے بے جا کر دیا۔

موسٰی کی طرف سے خدا کے دیکھنے کا تقاضا دو مرتبہ ہوا۔ ایک بار تو ذات خداوند عالم کی حقیقت کے دیدار کا مطالبہ تھا جو خود حضرت موسٰی کی طرف سے کیا گیا اور اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ موسٰی میں اس کے دیکھنے کی اہلیت نہیں ہے۔ اور ایک بار بنی اسرائیل کی جاہلانہ خواہش تھی جبکہ وہ بہانے کی تلاش میں تھے اور چاہتے تھے کہ خدا کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھیں اور یہ ماجرا بارہ آیات بعد میں پڑھتیں۔

پیام:

۱ ۔ خداوند تعالیٰ ان ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا نہ تو دنیا میں اور نہ آخرت میں( لن ترانی ) ۴۳

۲ ۔ اللہ تعالیٰ کو اس کے آثار کے ذریعہ پہچانا جا سکتا ہے اور اس کے جلوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ (بلکہ یہ بات بھی یاد رہے کہ جلووں کی حقیقت بھی اچھی طرح واضح ہے۔ ان کے آثار کو دیکھا جا سکتا ہے۔( تجلی- جعله دکا )

۳ ۔ انبیاء اپنے مکتب و مذہب کے سرخیل ہوتے ہیں۔( اول الموٴمنین )

آیت ۱۴۴

قَالَ یٰمُوْسٰی اَنِّی اصْطَفَیْتُکَ عَلیَ النَّاسِّ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِکَلاَمِیْ فَخُذْ مَا اٰتَیْتُکَ وَکُنْ مِّنَ الشّٰکِرِیْنَ

ترجمہ: خداوند عالم نے فرمایا: اے موسٰی! میں نے تجھے اپنا پیغام پہنچانے اور اپنے ساتھ کلام کمرنے کے لئے تمام لوگوں سے برگزیدہ کیا ہے پس جو کچھ میں نے تجھے (کتاب اور انواح) عطا کی ہیں انہیں پکڑ لے اور شکر گزاروں میں سے ہو جا۔

پیام:

۱ ۔ حضرت موسٰی اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں اور ان کے اللہ سے تقاضے ، بے ہوش ہو جانا اور توبہ وغیرہ ان کی برگزیدگی سے مانع نہیں ہیں۔( اصطفتیک ) ۴۴

۲ ۔ خدائی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے ، دینی اور تبلیغی مسولیت بھی خدائی نعمتوں میں سے ایک ہے۔

۳ ۔ طاغوتی حکومت کے خاتمے اور الہٰی معاشرہ کے تشکیل پا جانے کے بعد خدائی احکام و قوانین کے اجرا کی نوبت آتی ہے۔( فخذمااتیتک )

۴ ۔ شکر صرف ایک اخلاقی تقاضا ہی نہیں خدا کا حکم اور واجب فریضہ بھی ہے۔( کن )

آیت ۱۴۵

( وَکَتَبْْنَا لَه فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَوْعِظَةٍ وَّّ تَفْصِیْلاً لِِکُلِّّ شَیْءٍ فَخُذْ هَا بِقُوَّةٍ وَ اَمَرَ قَوْمَکَ یَاْخُذُوْا بِاِحْسَنِهَاط سَاُوْرِیْکُمْ دَارَالْفٰسِقِیْنَ )

ترجمہ: اور ہم نے الواح (تورات) میں موسیٰ کیلئے ہر چیز کا موعظہ اور تفصیل لکھ دی (اے موسیٰ ) انہیں پوری طاقت سے لے لے اور قوم کو حکم دے کہ ان میں سے بہتر کو اختیار کریں۔۴۵ بہت جلد میں تمہیں فاسق لوگوں کا ٹھکانہ (جہنم) دکھاؤں گا۔

ایک نکتہ:

ممکن ہے کہ قوت سے مراد یہ ہو کہ اگر پوری طاقت کے ساتھ تورات پر عمل کرو گے تو اپنے دشمنوں پر غالب آجاؤ گے اور ہم تمہیں انکے گھر دکھلائیں گے جو تم حاصل کرو گے۔

پیام:

۱ ۔ انسان کو تکبر، ہدایت اور آیات خداوندی پر ایمان لانے سے محروم کر دیتا ہے۔( ساصرف ) یعنی خدا وند عالم کسی کو بھی کسی وجہ کے بغیر گمراہی کے رستوں میں نہیں چھوڑتا اور اپنا لطف و کرم اس سے نہیں اٹھاتا۔ بلکہ یہ انسان کے اپنے کرتوت ہوتے ہیں جو اسے گمراہ کرتے اور ایمان سے محروم کر دیتے ہیں۔( ساصرف- یتکبرون )

۲ ۔ تکبر ایسی خصلت ہے جو دل کو سیاہ اور خداوندعالم کی طرف سے مقرر کردہ ہدایت کے نشانات کو غیر موثر کر دیتا ہے۔ اور خدا کی طرف سے بار بارنازل ہونے والی آیات تھی اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔( وان یرواکل آیة )

۳ ۔ کمزور اور محتاج شخص کو تکبرزیب ہی نہیں دیتا بلکہ کبر زیبا ہے جناب کبریا کے واسطے( بطیرالحق )

۴ ۔ انسان کو ہدات اور گمراہی کے راستوں میں کسی ایک کو اکتیار کرنے میں آزاد ہے۔( لاتخذ وه سبیلا- یتخذوه سبیلا )

آیت ۱۴۶

( سَأَصْرِفُ عَنْ آیَاتِی الَّذِینَ یَتَکَبَّرُونَ فِی الْأَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَإِنْ یَرَوْا کُلَّ آیَةٍ لاَیُؤْمِنُوا بِهَا وَإِنْ یَرَوْا سَبِیلَ الرُّشْدِ لاَیَتَّخِذُوهُ سَبِیلًا وَإِنْ یَرَوْا سَبِیلَ الغَیِّ یَتَّخِذُوهُ سَبِیلًا ذَلِکَ بِأَنَّهُمْ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا وَکَانُوا عَنْهَا غَافِلِینَ )

ترجمہ: جوزمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں میں انہیں بہت جلد اپنی آیات پر ایمان سے پھیر دوں گا (وہ یوں کہ) اگر (ہماری قدرت کی) کوئی ھبی نشانی دیکھیں تو ایمان نہیں لائیں گے اور اگر ہدایت کی راہ کو دیکھ لیں تو اسے اختیار نہیں کریں گے اور اگر گمراہی کی راہ کو دیکھ لیں تو اسے اختیار نہیں کریں گے اور اگر گمراہی کی راہ کو دیکھ لیں تو اسے اختیار کر لیں گے، یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان سے غفلت اختیار کئے ہوئے تھے۔

پیام:

۱ ۔ انسان کو تکبر، ہدایت اور آیات خداوندی پر ایمان لانے سے محروم کر دیتا ہے (سا صرف) یعنی خدا وند عالم کسی کو بھی کسی وجہ کے بغیر گمراہی کے راستوں میں نہیں چھوڑتا اور اپنا لطف و کرم اس سے نہیں اٹھاتا۔ بلکہ یہ انسان کے اپنے کرتوت ہوتے ہیں جو اسے گمراہ کرتے اور ایمان سے محروم کر دیتے ہیں۔ (ساصرف۔ یتکبرون)

۲ ۔ تکبر ایسی خصلت ہے جو دل کو سیاہ اور خداوند عالم کی طرف سے مقرر کردہ ہدایت کے نشانات کو غیر موثر کر دیتا ہے اور خدا کی طرف سے بار بار نازل ہونے والی آیات بھی اسے کوئی فائدہ نہیں پہچا سکتیں۔( و ان یرواکل آیة )

۳ ۔ کمزور اور محتاج شخصکو تکبر زیب ہی نہیں دیتا بلکہ کبرزیبا ہے جناب کبریا کے واسطے (ب( غیرلحق )

۴ ۔ انسان ہدایت اور گمراہی کے راستوں میں کسی ایک کو اختیار کرنے میں آزاد ہے( لا یتخذوه سبیلا- یتخذوه سبیله )

آیت ۱۴۷

( وَالَّذِیْنَ کَذَبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَلِقَآءَ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالَهُمْط هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ )

ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہماری آیات اور قیامت کے دن کی ملاقات کو جھٹلایا ہے، ان کے اعمال نیت نابود ہو گئے۔ تو کیا ان کے کئے کے علاوہ کوئی اور جزا ملے گی؟

دونکات:

"حبط" کا لفظ "حبطت الناقة" سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے: وہ اونٹنی جس نے زہر کھا لیا ہو اور اس کا پیٹ پھو ل کر اس میں سوراخ ہو جائے اور اس کی آنتیں باہر آ چکی ہوں۔

اس طرح بعض کام ایسے ہوتے ہیں جو انسان کی ساری زندگی کے اعمال کو زہر کی مانند تباہ و برباد کر دیتے ہیں (تفسیر فی ظلال القرآن)

"حبط" "عدل" کے خلاف نہیں ہے بلکہ قانون کے مطابق اور انسان کے اعمال کا نتیجہ ہے۔( هُل یجزون الاماکانوا یعملون )

پیام:

۱ ۔ کفر اور آیات الہٰی کی تکذیب گزشتہ اعمال کے حبط ہونے کا موجب ہیں( کذبوا- حبطت )

۲ ۔ قیامت کے دن کی جزا اورعذاب ، تجسم اعمال ہی تو ہے( هل یجزون الاماکا نوا یعملون )

آیت ۱۴۸

( وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰی مِنْم بَعْدِه مِنْ حُلِیِّّهِمْ عَجَلاً جَسَد ًالَّه خُوَارٌط اَلَمْ یَرَوْا اَنَّه لَا یُکَلِّمَهُمْ وَلَا یَهْدِیَهُمْ سَبِیْلاً م اِتَّخِذُوْهُ وَ کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ )

ترجمہ: اور موسٰی کی قوم نے موسیٰ (کے کوہ طور پر جانے) کے بعد اپنے زیورات سے بچھڑے کا مجسمہ بنایا جس سے گائے کی آواز آتی تھی۔ آیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ بچھڑا نہ تو ان کے ساتھ باتیں کرتا ہے اور نہ ہی انہیں سیدھے راہ کی ہدایت کرتا ہے؟ انہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا اور ظالم ہو گئے۔

چند نکات:

بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کا تذکرہ قرآن مجید کی چودہ سورتوں میں موجود ہے۔

ان کی گوسالہ پرستی اچانک اور کسی مقدمہ کے بغیر وجود میں نہیں آ گئی تھی، بلکہ اس کے بھی کئی اسباب تھے ایک تو یہ کہ انہوں نے مصر میں کئی سال تک گائے کی شکل کے بتوں کو دیکھا تھا، جب دریائے نیل سے عبور کر کے اس پار پہنچے تو ان کی نگاہیں پہلی مرتبہ ایسی قوم پر جا پڑیں جو گائے کی پوجا کر رہی تھی اس کا بھی انہوں نے فوری اثر لیا۔

اس کے علاوہ تیس راتوں کی مدت کا چالیس راتوں میں تبدیل ہو جانا بھی اس کا باعث ہو گیا کہ مخالفین کو موقعہ مل جائے اور وہ پھر حضرت موسیٰ کے مرنے کے افواہیں پھیلانا شروع کر دیں یہ پھر عوام الناس کی جہالت اور سامری کا ہنرمند ہاتھ اس کیلئے مرنے سوہاگے کا کام دے گیا ان اسباب کا نتیجہ یہ نکلا کہ موسیٰ کی قوم کے دو خدا پرستی کی بجائے "گوسالہ پرستی" اختیار کر لی۔

سورہ طہ کی ۷۸ ویں آیت میں گوسالہ سازی کی نسبت سامری کی طرف دی گئی ہے لیکن سب سے زیادہ تعجب آور بات یہ ہے کہ تورات (باب ۳۲ سفر خروج) میں اس کی حضرت ہارون کی طرف دی گئی ہے۔

اسی سورت کی ۱۰۹ ویں آیت میں گوسالہ پرستی کی طرف جھکاؤ کی نسبت کچھ لوگوں کی طرف دی گئی ہے سب کی طرف نہیں ارشاد ہوتا ہے۔ "( ومن قوم موسیٰ امة ) ۔۔۔"

پیام:

۱ ۔ دشمن اپنے کاروبار کو فروغ دینے کے لئے اپنے ہنر اور عوام کے رجحانات سے استفادہ کرتا ہے۔ (بچھڑے کا مجسمہ بنایا۔ لوگوں کی سونے سے محبت ہوتی ہے)

۲ ۔ سامری کا بنایا ہوا بچھڑا، مجسمہ تھا۔

۳ ۔ لوگوں کے گمراہی کرنے کے لئے رزق و برق اور شرابے کو بڑی حد تک عمل دخل حاصل ہے۔( علیهم خوار )

۴ ۔ ہر آواز کے پیچھے نہیں جانا چاہئے۔( له خوار )

۵ ۔ انسان کے معبود کو اس کا ہاوی بھی ہونا چاہئے۔( لایهدیهم )

۶ ۔ انحرافات، کجرویوں اور گمراہیوں کے خاتمہ کے لئے قابل لمس دلائل سے کام لینا چاہئے۔ بچھڑے کی خدائی کی نفی یوں ثابت ہو گی کہ وہ مصنوع (بنایا ہوا) ہے صانع (بنانے والا) نہیں ہے۔ زمان و مکان اور حجم و شکل کا محتاج ہے۔ اور سب سے آساب بات یہ کہ یہ تو بات کر سکتا ہے اور نہ ہی راہنمائی کرتا ہے۔ (از تفسیر المیزان)

۷ ۔ جو شخص اپنے ہی ہاتھوں سے بنی ہوئی چیز کا اسیر ہو جائے اور حق کو چھوڑ دے وہ ظالم نہیں تو اور کیا ہے؟( کانوا ظالمین )

آیت ۱۴۹

( وَلَمَّا سَقَطَ فِیْ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنِّهُمْ قَدْ ضَلُّوا لا قَالُوْلَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبَّنَا وَیَغْفِرْ لَنَا لَنَکُوَْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ )

ترجمہ: اور جب انہوں نے اپنا سقوط اپنے ہاتھوں دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ یقینی طورپر گمراہ ہو چکے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارے پروردگار نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمیں معاف نہ کیا تو ہم حتما خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔

پیام:

۱ ۔ انسان جب تک اپنے اعمال کا نتیجہ نہ دیکھ لے اپنی خطاؤں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔( لماسقوط- ) ۔)

۲ ۔ انسان اللہ کی رحمت اور مغفرت کے بغیر، زبان اور خسارے میں ہے۔( خاسرین )

آیت ۱۵۰

( وَلَمَّا رَجَعَ مُوْْسٰی اِلٰی قَوْمِه غَضَبَانَ اَسِفاً لا قاَلَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْ ِنیْ مِنْم بَعْدِیْج اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ َربَّکُم وَاَلْقٰی الْاَلْوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهُٓ اِلَیْهِ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْْعَفُوْ نِیْ وَکَادُوْا یَقْتُلُوْ نَنِیْ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَلَاَ تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ )

ترجمہ: اور جب موسٰی (کوہ طور سے) غضبناک اور افسوس کی حالت میں اپنی قوم کی طرف واپس آ گئے اور بچھڑے کی پرستش کو دیکھا تو کہا: تم نے میرے اور میرے بڑے جانشین ثابت ہوئے۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کے حکم سے (کہ جس میں اس نے دس راتوں کا اضافہ کر دیا) سبقت لے گئے؟ (اور تم نے اتنا بھی صبر نہ کیا کہ میں کوہ طور سے واپس آ جاتا) اور تورات کیک الواح کو زمین پر پھینک دیا اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں ) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ (ہارون نے) کہا: اے میرے ماں جائے اس قوم نے مجھے کمزور سمجھ لیا تھا۔ (میری بات تک کو نہیں سنا بلکہ) قریب تھا مجھے قتل کر دیتے۔ پس (میں بے گناہ ہوں اور آپ) ایسا کام نہ کریں جس سے میرے دشمنوں کو خوشی حاصل ہو، اور نہ ہی مجھے ظالموں کے ساتھ بھی قرار نہ دیں۔

پیام:

۱ ۔ افکار و عقائد کی گمراہی کے مقابلے میں دینی غیرت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔( غضبان آسفا )

تحریک کی آفات میں سے ارتدار اور رجحت پسندی ہے۔

۲ ۔ ارتداو اور رجحت پسندی پر انقلاب اور اصلاحی تحریک کی آفت ہوتی ہے لہٰذا قائد تحریک کو پہلے سے ہی اس بارے میں سوچ سمجھ لینا چاہئے۔ (افسوس بچھڑے کی پرستش پر کیا گیا تھا)

۳ ۔ اولیاء اللہ کا غم و غصہ لوگوں کے حال پر افسوس کی بنا پر ہوتا، ان کا کوئی ذاتی نظریہ نہیں ہوتا۔( غضبان آسفا )

۴ ۔ اگر کسی وقت خدا کی طرف سے کسی چیز کے بیان کرنے یا امرونہیں میں تاخیر ہو جائے تو جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے۔( اوعجلتم امر ربکم )

۵ ۔ حضرت موسیٰ کی واپسی میں تاخی راور کوہ طور میں ٹھہرنے کی مدت میں تجدید، حکم الہٰی سے عمل میں آئیں اس میں حضرت کی اپنی مرضی کا کوئی دخل نہیں تھا بلکہ اس میں تربیت کا پہلو نمایاں تھا۔( امرر بکم )

۶ ۔ جس معاشرے کا خمیر مردہ ہو چکا ہو، افکار منحرف ہو چکے ہوں اور سوچ جامد ہو چکی ہو تو ایسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہئے جس سے مردہ خمیر زندہ ہو جائیں منحرف افکار راہ راست پر آ جائیں اور جمود ٹوٹ جائے۔( القی الاانواح واخذ براس اخیه یجره )

۷ ۔ مرد کے لئے لانبے بال رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔( اخذ براس اخیه یجره )

۸ ۔ غصہ ور شخص کے سامنے مہر و محبت سے لبریز گفتگو کرنی چاہئیے۔( قل ابن ام ) باجودیکہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے والدین ایک تھے لیکن ہارون نے موسٰی کو "ماں جائے" کہہ کر خطاب کیا۔

۹ ۔ کل کے متصنف جو فرعون کے عذاب اور شکنجوں سے بچ کر یہاں آ گئے آج اپنے قائدین کو کمزور بنانے کے درپے ہو گئے تھے۔( استضعفونی )

۱۰ ۔ انسانی اخلاق کی پستی ملاحظہ ہو، کہ بچھڑے کی پرستش کی خاطر اپنے ولی نعمت کو قتل کی دھمکیاں دینے لگ گئے تھے۔( وکا دوایقتلوننی )

۱۱ ۔ ڈانٹ ڈپٹ کے موقع پر یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ دشمن کو اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔( لایسئمت )

۱۲ ۔ ضروری نہیں کہ انبیاء کے تمام اصحاب عادل ہوں بعض اوقات کچھ لوگ مرتد بھی ہو سکتے ہیں۔ (بچھڑے کی پرستش تک کر سکتے ہیں۔)

۱۳ ۔ جب معاشرہ اور طرح بگڑ چکا ہو تو بعض اوقات انبیاء کی کوششیں بھی مکمل طور پر بار آور ثابت نہیں ہوتیں۔

آیت ۱۵۱

( قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِاَ خِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِکَ َو اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ )

ترجمہ: (اور جب موسٰی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو) کیا: پروردگارا! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر دے اور تو سب رحم کرنے والوں میں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

پیام:

۱ ۔ حضرت موسٰی کی مغفرت طلبی یا تو دوسروں کو سبق دینے کے لئے تھی یا حضرت ہارون پر غصہ کرنے کی وجہ سے تھی۔ یا پھر الواح تورایت کو زین پر پھینکنے کی بنا پر ۔

۲ ۔ معاشرے کے طوفانی اور بحرانی امام میں قائدین کو دوسروں سے زیادہ دعا اور خداوند کے لطف و کرم کی ضرورت ہوتی ہے۔( وادخلتافی رحمتک )

۳ ۔ اپنے ہم کاروں اور معاونین کو کے حق میں بھی دعا کرنی چاہئے۔( لی ولاخی )

۴ ۔ بخشش ، خداوند عالم کی رحمت میں داخل ہونے کا مقدمہ ہویت ہے۔( اغفر، ادحلنا )

۵ ۔ دعا کے وقت خداوند عالم کے بہترین لطف و کرم اور اعلیٰ صفات کو ذکر کرنا چاہئے۔( ارحم الراحمین )

آیت ۱۵۲

( اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْْا الْعِجْلَ سَیَنَا لُهُمْ غَضَبَ مِنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْْیَاط وَ کَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُفْتَرِیْْنَ )

ترجمہ: بے شک لوگوں نے بچھڑے کو (خدا) بنایا اور ان کے پروردگار کی طر سے غضب انہیں بہت جلد آلے گا اور دنیوی زندگی میں ذلت بھی اور ہم افرا پردازوں کو اسطرح کی سزا دیتے ہیں۔

ایک نکتہ:

اسی سورت کی آیت ۱۴۹ سے پہلے کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اپنے کئے پر پشیمان ہوئے اور الزاہات سے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی توبہ قبول نہیں ہوئی۔ توبہ کی قبولیت صرف اس صورت میں ہوتی ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی تحریت ۵۴ بنائی ہے کہ یہ اپنے آپ پر ظلم ہے اور ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اللہ کے حضور توبہ کریں اور ایک دوسرے کو قتل کریں۔( ’انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل فتوبواالی بارئکم فاقتلو انفسکم ) "

جی ہاں! خدا کو چھوڑے دینے اور بچھڑے کے پیچھے لگ جانے کی توبہ صرف زبان کے ساتھ "استغفر اللہ" کہنا ہی کافی نہیں بلکہ جس طرح سورہ بقرہ میں بتایا گیا ہے اس کی سزا ور توبہ یہ ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے ایک دوسرے کو انقلابی قتل کریں تاکہ مشرک کے ساتھ نبردآزمائی کا یہ نظریہ رہتی دنیا تک اور آئندہ اور نسلوں میں باقی رہے۔

پیام:

۱ ۔ مرتد لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے۔( غضب من ربهم )

۲ ۔ خدا کا غضب صرف بنی اسرائیل کے ساتھ خاص نہیں دوسرے اقوام پر بھی نازل ہوا ہے اور ہوتا رہے گا۔(( کذلک )

۳ ۔ اولیأ خدا کا غضب، خدا ہی کا غضب ہوتا ہے( غضبان آسفا- غضب من ربهم )

۴ ۔ جو لوگ ایمان لانے کی بجائے رزق و برق اور شور شرابے کے حامل بچھڑے کی پرستش میں لگ جاتے ہیں وہ اس دنیا میں بھی رسوا ہوا کرتے ہیں۔( ذلة فی الحیٰوة الدنیا )

آیت ۱۵۳

( وَالَّذِیْنَ عَمِلُوْا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ هَا وَ اٰمَنُوْا اِنَّ رَبَّکَ مِنْم بَعْدِ هَا لَغَفُوْرُ رَّحِیْمٌ )

ترجمہ: جن لوگوں نے برائیوں کا ارتکاب اور اس کے بعد (پشیمان ہوئے اور) توبہ کر لی اور ایمان لائے تو یقینا اس کے بعد تمہارا پروردگار بھی بخشنے والا مہربان ہے۔

پیام:

۱ ۔ راستہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہوا ہے اور توبہ ہر وقت کی جا سکتی ہے۔

۲ ۔ برخلاف ورزی کی توبہ، اسکی کام کی تلافی ہے، بچھڑے کی پوجا کی توبہ یہ ہے کہ حقیقی معنوں میں لوٹ آنے کے بعد خدا پر ایمان لایا جائے اور اسکی عبادت کی جائے۔( امنوا ) اور وہ بھی اسی طرح جس طرح اس سے پہلی آیت میں اور سورہ بقرہ کی ۵۴ ویں آیت میں بتایا گیا ہے۔

۳ ۔ حقیقی معنوں میں توبہ کرنے والوں کے لئے خدا کی طرف سے بخشش کے علاوہ اس کی رحمت بھی ان کے شامل حال ہوتی ہے۔( غفور رحیم )

آیت ۱۵۴

( وَ لَمَّا سَکَتَ عَنْ مُّوْسٰی الْغَضَبُ اَخَذَالْاَلْوَاحَ وَ فِیْْ نُسْخَتِهَا هُدیً وَّ رَحْمَةٌ لِلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْْهَبُوْنَ )

ترجمہ: اور جب حضرت موسٰی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو انہوں نے (زمین سے) الواج (تختیوں) کو اٹھایا اور اس میں لکھا ہو اتھا ان لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔

چند نکات:

"رھب" اور "ترھیب" ایسا خوف ہوتا ہے جس میں اجتناب اور بچاؤ کا پہاڑیاں ہوتا ہے۔

یہ نہیں کیا کہ: موسٰی نے غصے سے دستبرداری اختیار کی" بلکہ فرمایا ہے کہ "غصے نے موسیٰ سے ہاتھ اٹھا لیا" یہ حضرت موسٰی کے غصے پر مکمل کنٹرول کی طرف اشارہ ہے۔

"( اخذا لالواح ) " کے جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ تختیوں کے زمین پر گرنے سے نہ تو وہ ٹوٹیں اور نہ ہی کم و بیش ہوئیں۔

پیام:

۱ ۔ آسمانی قوانین رحمت خداوندی ہوتے ہیں اور ہدایت کو اسی رحمت و مہربانی کے ساتھ ہونا چاہئے۔ (( هدی و رحمة )

۲ ۔ صرف قرآن ہی متقین کے لئے ہدایت نہیں "ھدًی للمتقین " توریت بھی صاحبان تقویٰ کے لئے مایہ ہدایت ہے۔( هدی --- یرهبون )

۳ ۔ خدا کا خوف، انسان کے لئے رحمت خداوند کے دروازے کھول دیتا ہے۔( رحمة للذین -- )

آیت ۱۵۵

( وَ اخْتَارَ مُوْسٰی قَوْمَه سَبْعِیْنَ رَجُلَا لِّمِیْقَاتِنَا فَلَمَّا اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَکْتَهُمْ مِنْ قَبْلِ وَ اِیَّایَط اَتُهْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُکَط تُضِّلُ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآئُط اَنْتَ وَ لِّیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغَافِرِیْنَ )

ترجمہ: اور موسٰی نے ہماری وعدہ گاہ (کی طرف جانے) کے لئے اپنی قوم سے ستر مردوں کا چنا پس جونہنم زلزلے نے انہیں اپنی لپیٹ میں لیا تو موسیٰ نے کہا: پروردگارا! اگر تو چاہتا تو ان لوگوں کو بھی اور مجھے بھی اس (کوہ طور تک پہنچنے) سے پہلے ہلاک کر دیتا، کیا تو ہمیں اس کے بدلے ہلاک کرتا ہے جو ہم نے بے وقوف اور ناسمجھ لوگوں نے سرانجام دیا ہے؟ یہ توتری آزمائش کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ اس آزمائش کے ذریعہ جسے تو (مناسب سمجھے اور) چاہے گمراہ کر دے اور جسے تو چاہے (اور لائق سمجھے) ہدایت کرے تو ہمارا ولی اور سرپست ہے۔ کہیں تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحمت فرما کیونکہ تو بہترین بخشنے والا ہیے۔

چند نکات:

آیا حضرت موسٰی کا ایک متصات (مقام وعدہ) تھا یا کئی؟ اور کیا ان لوگوں کی میقات میں ہلاکت ان کے خدا کے دیدار کے تقاضے کی وجہ سے عمل میں آئی یا گوسالہ پرستی کی وجہ سے؟ اس بارے میں کافی تفصیلی گفتگو ہے لیکن اس کا آیت کے سمجھنے سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا ہم اس سے چشم پوشی کرتے ہیں۔

حضرت موسٰی کے اصحاب نے اس قدر معجزات دیکھنے کے باوجود بھی خدا کے دیدار یا اس کی آواز سننے کا شدید اصرار کیا اور ان کی تعداد کستر تھی اور ان ستر لوگوں کو حضرت موسٰی نے سات سو افراد کے درمیان میں سے منتخب کیا تھا۔ اور یہ لوگ کوہ طور پر گئے اور خدائی قہر و غضب میں مبتلا ہو گئے۔ لہٰذا جو معجزات دیکھ چکا ہو اسے مزید بہانے بہل بنانے چاہیں۔

"چالیس کے عدد" کی مانند "ستر کے عدد" میں بھی راز در پوشیدہ ہے۔

پیام:

۱ ۔ مقام اور اہم مسائل کے لئے جانے کے واسطے برجستہ افراد کا انتخاب ہونا چاہئے۔ تاکہ یہ کس و ناکس او ر ہر سطح کا انسان( واختصار موسٰی )

۔ انبیاء کرام علیہ السلام اپنے تحریک کے لئے ظاہر پر عمل کہتے ہیں تاکہ علم غیب پر۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات انبیاء کے منتخب کردہ افراد نالائق بھی ثابت ہوتے ہیں۔

۳ ۔ تمام حوادث اور بلاؤں میں خدائی آزمائش ہوتی ہے۔ اور ہر آزمائش میں لوگ درجنوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔

۔ جب حضرت موسٰی جیسے پیغمبر کے منتخب افراد نالائق ثابت ہو سکتے ہیں تو عام لوگ اپنے لئے امام کیونکر منتخب کر سکتے ہیں؟

۔ بعض اوقات قہر خداوند کی ااغ اس قدر شعلہ ور ہو جاتی ہے کہ خشک و تر لباس میں مل جاتے ہیں۔

۔ خدا کی آزمائش اور امتحان میں صفیں ایک دوسرے سے جدا ہو جاتی ہیں۔( تضل -- تهدی )

۔ بہانے بنانا احمق اور بے وقوف لوگوں کا کام ہوتا ہے۔( السفهاء )

۔ دعا مانگنے سے پہلے خدا کی تعریف کرنی چاہئے۔( انت ولینا فاغفرلنا )

۹ ۔ جب تک روح کا صفحہ گناہ کی آلودگیوں سے پاک نہیں ہو گا تب تک خدا کی رحمت کو اپنے اند رجذب نہیں کر پائے گا۔( اغفرلنا- ارحمنا )

۱۰ ۔ خدا کی بخشش اور بندوں کی بخشش میں فرق ہوتا ہے کیونکہ بندوں کی بخشش یا تو دیر سے ہوتی ہے یا منت و احسان جتانے کے ساتھ یا پھر حقارت کا پہلو اپنے ساتھ لئے ہوتی ہے۔ جب کہ بخشش خداوندی ایسی نہیں ۔( خٰیر الغفرین )

۱۱ ۔ لوگوں کے طعنے سہنے اور ان کا دباؤ برداشت کرنے سے زیادہ آسان ہے۔( من قبل وایای )


آیت ۱۵۶

( وَاکْتُبْ لَنَا فِی هٰذِه الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هَدٰنَا اِلَیْکَط قَالَ عَذَابِیْ اُصِیْبُ بِِه مَنْ اَشَآءُ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ کُلَّ شَیْئٍط فَسَاَ کْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُوْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَالَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُوْمِنُوْنَ )

ترجمہ: اور (خدا وندا!) تو ہمارے لئے اس دنیا میں اور آخرت میں خیر اور نیکی مقرر فرما اس لئے کرم تیری طرف لوٹ آئے ہیں اور توبہ کر لی ہے۔ (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: میں اپنا عذاب جسے چاہوں (اور وہ مستحق بھی ہو) پہنچاؤں گا، اور ہر رحمت ہر چیز پر چھائی ہے۔ اور میں بہت جلد اپنی اس رحمت کو ان لوگوں کے لئے مقرر کر دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ، زکٰوة ادا کرتے اور ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں۔

چند نکات:

حضرت موسٰی کی سابقہ دعاؤں کے ساتھ اس درخواست کا بھی تعلق ہے۔

"حدنا" کے لفظ کے ساتھ ان لوگوں کی توبہ کی طرف اشارہ ہے جو منحرف ہو گئے تھے اور خدا کے دیدار کا ناجائز مطالبہ کیا تھا۔

پیام:

۱ ۔ بہترین قدم اور بہترین کام، پائیدار اور دائمی ہو( واکتب )

۲ ۔ بہترین دعا وہ ہے جو سب سے زیادہ جامع ہو( دنیا و آخرت )

۳ ۔ خالص دل کے ساتھ خدا کی طرف بازگشت خدائی الطاف و کرم کے حصول کی راہ ہے۔( هدنا )

۴ ۔ خدا کی رحمت بے حدو حساب ہے، اگر کوئی اس تک نہیں پہنچ پاتا تو اس کی اپنی کوتاہی ہے۔( رحمتی وسعت )

۵ ۔ رحمت خداوندی لب خیز پر حاوی ہے لیکن عذاب الہٰی ایسا نہیں ہے( عذاب بي اصب به ) ۔۔)

۶ ۔ خدا کای رحمت کی بے انتہا اور لامحدود ہے لیکن اس سے ناگدہ اٹھانے کی شرط یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کہا جائے، زکوٰة اداؤں جائے اور ایمان رکھا جائے( یتقون - الزکٰوه- یومنون )

۷ ۔ خداوند عالم کی رحمت اس دنیا میں سب کے شامل حال ہے (وسعت) لیکن آخرات میں اس سے صرف ایک خاص گروہ ہی فائدہ اٹھائے گا( ساکتبها للذین ) ۔۔)

آیت ۱۵۷

( اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیِّ الْاُ مِّیِّ الِّذِیْ یَجِدُوْنَه مَکْتُوْباً عِنْدَ هُمْ فِیْ التَّوْرٰةِ وَ الْاِنْجِیْلَ یَاْ مُرُهُمْْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰهُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یَحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْْْهِمُ الْخَبٰئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَ هُمْ وَالْاَ غْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْهِمْط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِه وَ عَزَّرُوْه وَ نْصُرُوْهُ وَ اتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِیْ اَنْزَلَ مَعَه اُوْلٰٓئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ )

ترجمہ: جو لوگ اس رسول اور پیغمبر کی اتباع کرتے ہیں جس نے دنیا میں کسی سے کوئی سبق نہیں پڑھا ۔ کہ جس (کے نام و نشان) کو وہ لوگ اپنے پاس موجود تو رات دا نبھل میں لکھا ہوا ہیں (ایسا پیغمبر ہے) جو انہیں نیک کاموں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے، اور جو پاک و پاکیزہ چیزیں ہیں ان کے لئے حلال کرتا ہے اور جو بلند اور خبیث چیزیں ہیں ان پر حرام کرتا ہے، اور ان سے بوجھ ہلکا کرتا ہے اور ان پر پڑے ہوئے پھندے ان سے ہٹا دیتا ہے۔ پس جو لوگ ایمان لے آئیں گے اور اس کا احترام کریں گے اور اس (قرآن اور) نور کی اتباع کریں گے جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

چند نکات:

"اُمّی" ایسا کلمہ ہے جو "اُم" کی طرف منسوب ہے، اور اُمیّ اس شخص کو کہتے ہیں جس نے کسی سے کوئی سبق نہ پڑھا ہو، اور بالکل ایسے ہو جیسے شکم مادر سے متولد ہوا ہو۔

بعض حضرات کہتے ہیں "امی" اس شخص کو کہتے ہیں جو "امت" یعنی عوام الناس سے تعلق رکھتا ہو طبقہ اشرافیہ سے اس کا تعلق نہ ہو۔

جبکہ کچھ اور لوگ اسے "ام القری" یعنی مکہ کی طرف منسوب سمجھتے ہیں یعنی "مکہ والا"

"ہم اگرچہ بعض وجوہات کی بناء پر توریت اور انجیل کو تحریف شدہ سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں تحریف شدہ کتابوں میں حضرت پیغمبر کی ذات سے متعقل کئی ارشادات اور بشارتیں موجود ہیں۔ اور یہ اس بات کا سبب تھے کہ اہل کتاب آنحضرت کی معرفت حاسل کریں اور آپ کو ایسے پہچانیں جیسے باپ اور اپنی اولاد کو پہچناتا ہے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

توریت بمفر تکوین (پیدائش) فصل ۱۷ نمبر ۱۸ ، سفر پیدائش (تکفدین) باب ۴۹ نمبر ۱۰ ،

انجیل: یوحنا باب ۱۴ آیت ۱۵ آیت ۲۶ ۔

بوقت بعثت مکہ مکرمہ میں کل ۱۷ مرد اور ایک عورت تعلیم یافتہ تھے۔ اور اگر آنحضرت نے کسی شخص سے ایک حرف بھی پڑھا ہوتا تو کبھی بھی اپنے ااپ کو "امی" (کسی سے سبق نہ پڑھا ہوا) کے عنوان سے متعارف نہ کراتے۔

(ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ منقول از فتوح البلان بلاذری نمبر ۴۰۹)

"اغلال" باطل عقائد، خرافات، بت پرستی، باپ دادا کی اندھی تقلید کے بندھنوں اور زنجیروں کو کہتے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ اسلام کا جلیل القدر اور عظیم رسول "امّی" یعنی کسی سے سبق پڑھا ہوا نہیں تھا( الامی ) ۴۷

۲ ۔ بات کو پکا کرنے اورحق کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسمی اور تحریر سند ہو( مکتوبا )

۳ ۔ اپنے بعد آنے والے رہبر اور قائد کے بارے میں خبر دینا اور اس کی تفصیل بیان کرنا قیادت اور رہبری کے فرائض میں شامل ہے۔( مکتوباعندهم فی التوراة )

۴ ۔ بہتر یہی ہے کہ ہر آنے والا مبلغ اپنے بعد آنے ولاے مبلغ کے لئے راہ ہموار کرے

( فی التوراة والانجیل)

۵ ۔ اگر تورات اور انجیل میں پیغمبر اسلام کا نام و نشان نہ ہوتا تو مخالفین کے لئے بڑ ا آسان سی بات تھی کہ وہ دونوں کتابیں لے آتے اور کہتے کہاں ہے وہ سب کچھ جس کا تم دعویٰ کرتے ہو؟ اور مخالف کو شکست دینے کا یہ بہترین ذریعہ تھا، نہ لشک رکشی کی ضرورت تھی اور نہ ہی اس قدر سرمایہ خرچ کرنے کی، جس سے معلوم ہوتا ہے ان کتابوں میں وہ سب کچھ تھا جس کا قرآن کہتا ہے۔( یجدونه )

۶ ۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر انبیاء عظام علیہم السلام کے تبلیغی پروگراموں میں سرفہرست ہے۔( یامرهم بالمعروف )

۷ ۔ غذا کے بارے میں اسلام کی خاص توجہ رہی ہے۔( یحرم- یحل )

۸ ۔ خدا کی حلال اور حرام کردہ چیزیں فطرت کی بنیاد پر ہیں۔( طیبات - خبائث )

۹ ۔ غلط عادات و یوم عوام الناس کے گلے کا زنجیر ہوتی ہیں اور انبیاء و اولیاء اللہ کے علاوہ باقی سب دنیا ان زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔( اصرهم )

۱۰ ۔ تبلیغ اور تربیت کا اصل انداز یہی ہے کہ پہلے سہولیات فراہم کی جائین پھر قدغن کا سوچا جائے۔ (یحرم سے پہلے "یجل" ہے)

۱۱ ۔ صرف پیغمبر کی ذات پر ایمان ہی کافی نہیں ان کی حمایت اور عزتے و توقیر بھی لازم ہے۔( عزروه- نصروه )

۱۲ ۔ عزت و احترام اور توقیر ، نصرت، تعاون اور امداد کے ساتھ ہونا چاہئے، ورنہ نفاق ہو گا۔( عزروه، نصروه )

۱۳ ۔ قرآن ایک ایسا نور ہے جو دل و دماغ کا منور کر دیتا ہے۔( النور )

۱۴ ۔ پیغمبر السلام کا احترام اور ان کی نصرت، ان پر ایمان کی مانند کسی خاص زبان یا مکان کے ساتھ متعلق نہیں ہے ہر زمانے اور ہر مکان میں ان کا احترام اور ان کی نصرت فرض ہے، لہٰذا آنحضرت کی قبر مطہر اور آچار باقیہ کا احترام بھی آپ کی نصرت و تکریم کے زمرے میں آتا ہے۔( عزروه )

آیت ۱۵۸

( قُلْ یٰاَ یُّهَا النَّاسُ اِنِّی رَسُوْلَ اللّٰهِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعاً نِ الَّذِیْ لَه مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیِ وَ یُمِیْتُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلَهِ النَّبِیِّ اْْلاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ کَلِمٰتِه وَ اتَّبِعُوْْهُ لَعَلَّکُمْْ تَهْتَدُوْنَ )

ترجمہ: (اے پیغمبر!) کہہ دیجئے اے لوگو! میں تم سب لوگوں کی طرف خدا کا رسول ہوں کہ آسمانوں اور زمین پر جس کی حکومت ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندہ کرتا اور موت دیتا ہے۔ پس تم بھی خدا اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ جو کسی سے سبق نہ پڑھا ہوا پیغمبر ہے جو (خود بھی) خدا اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے۔ اور اسی کی اتباع کرو شاید کہ تم ہدایت پا جاؤ۔

چند نکات:

بعض متشرقین (یا اسلام شناس) حضرات یہ کہتے ہیں کہ: پیغمبر اسلام اپنے "علاقہ" کے لوگوں کی ہدایت کی فکر میں تھے، لیکن جب انہیں کامیابی حاصل ہو گئی تو پھر "عالمین" کی ہادیت کی فکر لے کر آگے بڑھے"

حالانکہ بات وہ نہیں ہے جو یہ لوگ کہتے ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات میں ’جمیعا" "کافةٰ" "للعالمین" "ومن بَلغ" وغیرہ جیسے کلمات حضرت رسول خدا کی آفاقی اور عالمی رسالت کو بیان کر رہے ہیں، اور مکہ میں بھی اور کامیابی حاصل کرنے سے پہلے بھی آپ تمام کائنات کے رسول تھے نہ یہ کہ بعد میں اس بارے میں سوچا۔

حضرت امام حسن مجتبیٰ فرماتے ہیں کہ یہودیوں کا ایک گروہ پیغمبر خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: "آپ سمجھتے ہیں کہ حضرت موسٰی کی طرح اللہ کے رسول ہیں؟ "یہ سن کر آنحضرت نے قدرے سکوت اختیار فرمایا اور کہا: "جی ہاں! میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور اس پر میرے لئے فخر کی کوئی بات نہیں! میں ہوں خاتم الانبیاء پرہیزگاروں کا پیشوا اور رب العالمین کا رسول!"

انہوں نے پھر سوال کیا: "آپ کن لوگوں کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں، عرب کی طرف ، عجم کی طرف یا ہماری طرف؟ "جس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی میں سب کی طرف بھیجا گیا ہو خواہ عرب ہوں یا عجم یا تم لوگ! (تفیسر صافی)

لفظ "امی" کا تکرار مسئلہ کی اہمیت پر دلالت کر رہا ہے۔

پیام:

۱ ۔ حضرت محمد مصطفی کی رسالت آفاقی اور عالمی ہے۔( الیکم جمیعا ) ۴۷ اس لئے عالمی مذہب کے لئے عالمی قائد اور رہبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ آپ جناب کی عالمی رسالت بھی دوسرے تمام منصوبوں کی مانند مرحلہ وار آگے بڑھتی رہی ابتدا میں ذوالعشیرہ کی دعوت ، پھر ام القریٰ (مکہ) کے لوگ اس کے بعد دوسری دنیا۔

۲ ۔ نبوت ، توحید اور معاد کا لازمی حصہ ہے، کیونکہ خداوند وحدہ لاشریک تمام کائنات کا مالک ہے، موت اور زندگی بھی اسی کے ہاتھوں میں ہے لہٰذا عالم انسانیت کی رہنمائی اور ہدایت بھی اسی کی طرف سے ہونی چاہئے۔( فامنوا بالله و رسوله النبی الامن الذی )

۳ ۔ رہبر اور قائد کو اپنی راہ پر ایمان کامل رکھنا ہوتا ہے۔( یوٴمن بالله وکلماته )

۴ ۔ خدا اور رسول پر ایمان اور رسول خدا کی اتباع ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ اور پہلو پہلو ہونا بھی ہدایت اور رہنمائی کی دلیل ہے۔( آمنوا بالله ورسوله -- واتبعوه لعلکم )

۵ ۔ قرآن مجید اور حضرت رسول خدا کی سنت و سیرت کی اتباع ضرور ہے۔ (سابقہ آیت میں نور کی اتباع کا تذکرہ تھا اور اس آیت میں پیغمبر خدا کی پیروری کا ذکر ہے)

سورہ اعراف آیت ۱۵۹

( ومِنْ قَوْمِ مُوْسٰی اُمَّة ٌیَّهْدُوْنَ بِالْْحَقِّ وَ بِه یَعْدِلُوْنَ )

ترجمہ: اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ کے لوگ حق کی طرف ہدایت کرتے اور حق و عدالت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

چند نکات:

حق کی ہدایت ، عدم تعصب کی دلیل اور حق شناسی اور حق کی اتباع کی دلیل ہے اور اس حق پرست گروہ کا ضدی مزاج اور ہت دھرم یہودیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس گروہ سے مراد شاید وہ یہودی مراد ہوں جنہوں نے پیغمبر اسلام کی دعوت پر لبیک کہا:۔

پیام:

۱ ۔ اقلیتوں کے ساتھ تعلق کے سلسلے میں انصاف سے کام نہیں چاہئے۔ اور خدمات اور کمالات کو نظر انداز نہیں کر دینا چاہئے۔

آیت ۱۶۰

( وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطاً اُمَماًط وَ اَوْحَیْنَا اِلٰی مُوْسٰی اِذِاسْتَسْقٰهُ قَوْمُهٓ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانْبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْناًط قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُْمْط وَظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْناَ عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰیط کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْط وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَلٰکِنْْ کَانُوْا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ )

ترجمہ:

اور ہم نے موسیٰ کی قوم کو بارہ حصوں میں تقسیم کر دیا تاکہ ان میں سے ہر ایک (بنی اسرائیل کے خاندان سے اور) ایک امت جب موسیٰ سے اس کی قوم نے پانی طلب کیا (تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی) اپنے عصا کو پتھر پر مارو۔ پس اس پتھر سے پارہ چشمے پھوٹ اٹھے (اور ہر طرف بہنے لگے اور وہ بھی اسطرح کہ) ہر گروہ نے اپنے حصے کے پانی کو اچھی طرح کی غزاؤں من اور سلویٰ کو نازل کیا۔ (اور انہیں کہا) پاک و پاکیزہ روزی جو ہم نے تمہیں عطا کی ہے اس سے کھاؤ۔ ان لوگوں نے (اپنی نافرمانی کی وجہ سے) ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔

چند نکات:

"اسباط" جمع ہے "سبط" کی اور سبط اولاد ، نورسوں اور ایک خاندان کے افراد کو کہا جاتا ہے اور بنی اسرائیل کی اس پر ایک خاندان ی شاخ کو "سبط" کہا جاتا ہے جو اولاد یعقوب میں سے ایک فرزند کی طرف سے پروان چڑھی۔ اور آگے بڑھی۔

"من" شہد کی مانند ایک شیرہ دار غذا کو اور "سلویٰ" بٹیرے کی مانند ایک حلال پرندے کو کہا جاتا ہے۔

"بارہٰ" کا عدد سال کے مہیوں کا، بنی اسرائیل کے نقیبوں کا، پانی کے چشموں کا اور پیغمبر اسلام کے مقدس اور معصوم جانشینوں کا عدد ہے۔ چنانچہ پیغمبر اسلام نے اپنے جانشینوں کی تعداد بنی اسرائیل کے نشینوں کی تعداد کے مطابق بارہ بتائی ہے اور یہ بھی کہ وہ اب قریش سے ہوں گے۔ لیکن دشمنان اہلبیت اصبار نے بڑی کوشش کی ہے کہ یہ تعداد بنی امیہ یا بنی عباس کے خلیفوں سے پوری کجی جائے مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ حضرت پیغمبر کی مذکور حیثیت کو بیٹیوں اسناد کے شیعہ اور سنی مورثین نے نقل کیا ہے۔

ایک ہی وقت میں کئی معجزے رونما ہوئے۔ پتھر پہ عصاکا مارنا ، پانی کا بری مقدار میں پھوٹ کر بہہ نکلنا اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کی تعداد بارہ چشموں کا پھوٹنا وغیرہ۔

پیام:

۱ ۔ کسی اہم معاملے کو چلانے اور امور میں سہولت پیدا کرنے کے لئے منصوبہ بندی اور منصفانہ تقسیم بہت ضروری ہوتی ہے۔( قطعنا هم )

۲ ۔ لوگ اپنی مادی اور اقتصادی ضروریات بھی انبیاء کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے( استقاه )

۳ ۔ وسیلہ کی زیادہ اہمیت ،اہمیت ارادہ الہٰی کو حاصل ہے، کہ بعض اوقات لکڑی کا ایک ڈنڈا پر جگہ الہٰی ارادے کے تحت مشکل کشائی کا کام کرتا ہے( بعصاک )

۴ ۔ اگر ہر گروہ کو معلوم ہو جائے کہ اس نے کہاں مراحہ کرنا ہے تو بہت سی اجتماعی اور معاشرتی مشکلات حل ہو جائیں( قدعلم کل اناس مشربهم ) ۴۸

۵ ۔ اگر مقصد تربیت کجرنا ہو تو ایک موضوع کے تکرار میں کوئی حرج نہیں ہے (یہی تذکرہ سورہ بقرہ کی آیت ۵۶ کے بعد میں بھی موجود ہے۔)

۶ ۔ حضرت موسٰی کے عصا کی ایک خیریت سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ، لیکن ان تمام معجزات کے باوجود نااہل لوگوں کے دل پر کوئی اثر نہ ہوا۔

۷ ۔ لوگوں کے اندر آگاہی اور علم و معرفت پیدا کرو کہ وہ خود ہی عمل کریں۔( قدعلم کل اناس مشربهم ) فرمایا ہے۔ "قد شرب" نہیں فرمایا۔

۸ ۔ طلب کے بعد اس کی قدوقیمت زیادہ ہوتی ہے۔ ۰( استیقاه، اضرب بعصاک )

۹ ۔ تمام بارہ گروہوں کا تعلق ایک خاندا سے تھا۔( قطعنا ) فرامایا ہے "جعلنا" انہیں فرمایا۔

۱۰ ۔ اگر مقصد میں وحدت اور اتفاق و اعاد موجود رہے تو گروہ گروہ ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔( قطعنا )

۱۱ ۔ انسانی جسم کو تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، پانی، ایسی غذا جس سے جسم پروان چڑھے اور ایسی غزا جس سے انرجی اور طاقت پیدا ہو، چنانچہ بنی اسرائیل کے لئے چشمہ اب سیراب ہونے کے لئے تھا "من" طاقت اور انرجی کے لئے اور "سلویٰ" جسمانی نشوونما کے واسطے اس لئے کہ گوشت اور وہ بھی خصوصی طور پر پرندوں کے سفید گوشت میں پروٹین ہوتے ہیں۔)

۱۲ ۔ بادلوں کی حرکت و پیدائش، ان کا اپنا کام انجام دینا سب ارادہ الہٰی کا مظہر تھے۔

۱۳ ۔ ناشکری یا کفران نعمت ، نعمتوں کے منقطع ہو جانے کا سبب ہوتاہے جس کا نقصان ناشکروں کو پہنچتا ہے۔

۱۴ ۔ جو لوگ یہی ہدایت اور معنویت کے راہوں کے لئے مادی نعمتوں سے بہرہ مند ہیں وہ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اور اقوام و ملل کی پستی اور ان کا سقوط ایسے لوگوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے( کانو انفسهم یظلمون )

آیت ۱۶۱

( و اِذْ قِیْلَ لَهُمْ اسْْکُنُوْْْا هٰذِه الْقَرْیَةَ وَکُلُوْا مِنْهَا حَیْْثُ شِئْْتُمْ وَقُوْلُوْْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوْْا الْبَابَ سَُجَّداً نَّغْْفِرْ لَکُمْ خَطٰیٰکُمْط سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ )

ترجمہ: اور (یاد کرو ابھی وقت کو) جب ان (بنی اسرائیل) سے کہا گیا کہ اس آبادی (بیت المقدس) میں سکونت اختیار کرو اور اس (کی نعمتوں) سے جہاں اور جیسے چاہے کھاؤ۔ (ان تمام حیلوں بہانوں اور موسیٰ کو ستانے کے بدلے استغفار کے طور پر) کہو "حصٰہ (ہمارے گناہوں کو جھاڑ دے) اور (بیت المقدس کے) دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ، اس سے ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے۔ اور نیک لوگوں کو بہت جلد بیشتر جئزا دیں گے۔

چند نکات:

"حِطہ" کا لفظ اورپر سے نیچے کی طرف نازل ہونے کے معنی میں آتا ہے۔ (منحط اور انحطاط کا بھی اسی سے تعلق ہے) اور اس کا معنی ہے خداوند عالم کی عفو اور رحمت کی درخواست کرنا۔ اور اس بارے حکم خداوندی یہ تھا کہ جب بنی اسرائیل سرزمین بیت المقدس داخل ہوں تو اس لفظ (حصٰہ) کے ساتھ خدائے مغفرت مانگیں۔ (لیکن ان لوگوں نے اس لفظ کامذاق اڑایا اور اسے بگاڑ کر رکھ دیا۔

اس آیت سے ملتی جلتی البتہ قدرے تغاوت کے ساتھ سورہ بقرہ کی ۵۸ ویں اور ۸۹ ویں آیات ہیں۔

روایات میں ہے کہ حضرت ائمہ اظہار علیہم السلام نے فرمایا ہے کہ "نحن باب حطتکم" یعنی ہم ہی تمہاری خطاؤں کی معافی کا دروازہ ہیں۔ یعنی اگر تم ہماری حکومت اور ولایت کے مدار میں داخل ہو جاؤ گے تو خداوند عالم کی رحمت اور بخشش تمہارے شامل حال ہو گی۔

پیام:

۱ ۔ خداوند عالم انسان کی تمام امدی و معنوی اور دنیوی اور اخروی ضروریات کو پیدا کرتا ہے اور روٹی کپڑا اور مکان جیسی نعمتوں سے استفادہ کے لئے حکم دیتا ہے کہ دعا، استغفار اور سبھی کریں۔

۲ ۔ اللہ تعالیٰ ایک ہی معذرت خواہی اور خالص دل کے ساتھ توبہ کے ذریعہ بہت سے گناہ بخش دیتا ہے۔( نغفرلکم خطیئاتکم ) ۴۹

۳ ۔ مقامات مقدسہ میں داخل ہونے کے خصوصی آداب و شرائط ہوتے ہیں( وادخلو الباب سجدا )

۴ ۔ خدا وند عالم کی عفوومغفرت کے لئے دعا بھی ضروری ہے اع عمل بھی لازمی ہے( قولوا حطة وا دخلوا الباب )

۵ ۔ نیکوکاروں اور بدکاروں کے درمیان کوئی فرق ہونا چاہئے۔ جب گناہگاروں کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں تو نیک لوگوں کو درجات میں بھی اضافہ ہونا چاہئے۔( سنزید المحسنین )

آیت ۱۶۲

( فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَالَّّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزاً مِّنَ السَّمَآءْ بِمَا کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ )

ترجمہ: پس ان (بنی اسرائیل) میں سے ظالم لوگوں نے اس بات کو جو انہیں کہنا چاہئے تھی اس کے علاوہ میں تبدیل کر دیا، پس ہم نے بھی ان کے ظلم کرنے کی وجہ سے ان پر آسمان سے عذاب نازل کیا۔

چند نکات:

تحریف اور تبدیلی کبھی تو واضح اور آشکارا ہوتی ہے جیسے کسی لفظ کو تبدیل کر دینا، اور کبھی لفظ کی ظاہری صورت کو تو برقرار رکھا جاتا ہے لیکن اس کو روح موضوع اور مفہوم کو تبدیل کر دیا جاتاہے۔ جیسے بنی اسرائیل کو سینچر کے دن مچھلی کے شکار کا حیلہ، (کہ اس کا تذکرہ اگلی آیت میں ہو گا)

قرآن مجید قانون الہٰی میں تین طرح کی تبدیلیوں کو بیان فرماتا ہے۔

۱ ۔ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر کسی بات میں تحریف و تبدیلی ۔ جیسے لفظ "حطة" (عفوومغفرت کی درخواست) کی بجائے "حنطة" (گندم) کہنا۔

۲ ۔ بدنیتی پر مشتمل فریبکاری سے کام لے کر کوء تبدیلی کونا، جیسے بنی اسرائیل نے دریا کے ساحل پر کچھ حوض بنا لئے تھے کہ سنیچر کے دن ان میں مچھلیاں جمع ہو جایا کرتی تھیں اور اس کے دوسرے دن (اتوار) کو شکار کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم سے سینچر کے دن شکار نہیں کیا۔ قرآن مقدس میں ارشاد ہوتا ہے "( ولقد علمتم الذین اعتدوامنکم فی السبت ) " اور اپنی قوم سے ان لوگوں کی حالت تو تم بخوبی جانتے ہو جو سینچر کے دن اپنی حد سے گزر گئے۔ (بقرہ / ۶۵)

۳ ۔ روشن فکری پر مشتمل تبدیلی، جیسے زمانہ جاہلیت میں جنگ کو جاری رکھنے کے لئے حرمت والے چار مہینوں میں موقوف کر دیں، لہٰذا ان مہینوں میں ردوبدل کر کے آگے کر دیا کرتے تھے جس پر یہ آیت نازل ہوا: "( انما النسئی زیارة فی الکفر ) " یعنی مہینوں کا آگے پیچھے کرنا کفر ہی کی زیادتی ہے۔ (عموبر / ۳۷)

پیام:

۱ ۔ احکام خداوندی میں ردوبدل اور تحریف و تبدیلی کی سزا خدائی قہر و غضب ہے۔( رجزا من السمآء )

۲ ۔ ہٹ دھرمی اور ضد اور وہ بھی مسخرہ بازی پر مبنی ایک ایسا جرم ہے جو کبھی معاف نہیں ہو سکتا( رجزامن سما )

۳ ۔ انسان کا انجام اس کے اپنے ہاتھ میں ہے اور عذاب، ظلم کا نتیجہ ہوتا ہے۔

آیت ۱۶۳

( وَسْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِم اِذْ یَعْدُوْنَ فِیْ السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَا نُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرْعاً وَّ یَوْمَ لَایَسْْبِتُوْنَ لَا تَاْتِیْهِمْ کَذٰلِکَ نَبْلُوْ هُمْْ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْْنَ )

ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) ان سے اس آبادی کے بارے میں پوچھئے جو دریا کے کنارے تھے؟ جب وہ (قانون اور) شنبہ کے دن کے بارے میں تجاوز کیا کرتے تھے، جب انکے چھٹی (سینچر) کے دن مچھلیاں بڑی تعداد میں دریا کے کنارے پانی کے اوپر آ جا یا کرتی تھیں۔ اور (دوسرے ایام میں) جب وہ چھٹی نہیں کرتے تھے وہ مچھلیاں بھی ظاہر نہیں ہوا کرتی تھیں اسی طرح ہم ان کے تجاوز اورفسق کی وجہ سے آزمایا کرتے تھے۔

ایک نکتہ:

بنی اسرائیل کا یہ گروہ ساحل سمندر (زیادہ امکان یہی ہے کہ بحیرہ احمر کے کنارے فلسطین کی اس سرزمین میں جسے آج بند ر ایلات کہا جاتاہے) رہا کرتا تھا۔ حکم خداوندی کے مطابق ان کے لئے شنبہ (سینچر) کے دن شکار ممنوع تھا، لیکن اسی دن مچھلیان دوسرے ایام کی نسبت زیادہ جلوہ گری کیا کرتی تھیں جس سے ان لوگوں کے منہ میں پانی بھر آتا، اور یہ ایک خدائی آزمائش تھی۔ اور اس قوم نے مختلف چالیں چل کر قوانین الہٰی کی خلاف ورزی کی اور وہ یوں کہ سمندر کنارے چھوٹے چھوٹے حوض بنا لئے اور ان میں مچھلیوں کے نکلنے کے راستے بند کر دئیے سینچر کے دن جب ان میں سے وافر مقدار میں مچھلیاں آ جایا کرتی تھیں۔ تو باہر نہیں نکل جاتی تھیں اسی لئے وہ اتوار کے دن بڑے آرام سے انہیں پکڑتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہم نے حکم الہٰی کے تحت ان کا سینچر کا دن شکار نہیں کیا۔

پیام:

۱ ۔ اسلاف کی قانون شکنی آنے والی نسلوں کو بھی شرمندہ کرتی ہے۔( واسئلهم )

۲ ۔ اسلاف کی بری عادات کا تذکرہ کہ جن کی وجہ سے انہیں تنبیہ کی گئی ہو اگر دوسروں کی عبرت کے لئے نقل کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔( عن القریة التی )

۳ ۔ گناہ کے چہرے پر شرعی پردہ ڈال کر اسے شرعی حیثیت دینا سخت قابل مذمت ہے ۔۵۰

(جس طرح کہ بنی اسرائیل نے اتوار کے دن شکار کے لئے سمندر کے کنارے حوض بنائے اور سینچر کے دن ان میں مچھلیوں کو اکٹھا کر لیا کرتے تھے)

۴ ۔ ماہی گیری کے ذریعہ گزر اوقات کا سلسلہ اور ساحل نشینی کی زندگی قدیم الایام سے چلی آ رہی ہے۔

۵ ۔ چھٹی اور عبادت کے دن کاروبار کرنا ایک طرح کا تجاوز ہے۔( یعدون فی السبت )

۶ ۔ سمندر کی مچھلیاں بھی حکم الہٰی کے تحت سینچر کے دن کی اور انسانی افراد کی قدرت تشخیص پیدا کر چکی تھیں۔( تاتیهم- لاتا تیهم )

۷ ۔ اگرچہ خداوند عالم نے مچھلیوں کو لوگوں کے استفادے کے لئے خلق فرمایا ہے لیکن ہفتے میں ایک دن ان کے شکار سے منع کر کے ان لوگوں کی آزمائش کی ہے۔( حتیانهم )

۸ ۔ حرمت کا ہر حکم ضروری نہیں کہ طبی خصوصیت کا حاصل بھی ہو، سینچر کے دن کی مچھلیوں میں اور دوسری مچھلیوں میں پروٹین کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں تھا، البتہ کسی اور دلیل کے ساتھ ان کا شکار حرام کیا گیا تھا۔

۹ ۔ دنیوی اورمادی جلوے بھی خدا کی آزمائش ہوا کرتے ہیں۔ (ن( بلوهم )

۱۰ ۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ بھی ایسے مقامات پر انسان کا امتحان لیتا ہے جہاں کے انسانی خواہشات اپنے عروج پر ہوتی ہیں۔( تاتیهم حیتا نهم ) ۵۱

آیت ۱۶۴

( وَاِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْْ لِمَا تَعِظُوْنَ قَوْماَ نِ اللّٰهُ مُهْلِکُهُمْ اَوْمُعَذَّبُهُمْْ عَذَاباً شَدِیْْداًط قَالُوْا مَعْذِرَةًاِلٰی رَبِّکُمْ وَلَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْْنَ )

ترجمہ: اور اس وقت کو یاد کرو، جب ان (بنی اسرائیل) میں سے ایک گروہ نے (دوسرے گروہ سے جونہی عن المنکر کر رہا تھا، ہے) کہا: تم ایسے لوگوں کو کس لئے نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ تعالیٰ یا تو ہلاک کرنے والا ہے یا پھر سخت عذاب دینے والا ہے؟ تو انہوں نے جوا بدیا: اس لئے کہ تمہارے پروردگار کے پاس ہمارا عذر موجود ہو اور تاکہ شاید وہ بھی تقویٰ اختیار کر لیں۔

ایک نکتہ:

معلوم ایسے ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے تین گروہ تھے۔ ۱ ۔ قانونی شکن اکثریت میں مشتمل گروہ۔ ۲ ۔ دلسوز اور ناصح گروہ اور ۳ ۔ لاغرض اور بے پرمالہ گوہ ، یہ تیرا گروہ دوسرے گروہ کے افراد سے کہتا تھا، اپنے آپ کو بے فائدہ پریشان نہ رکو، کیونکہ تمہاری باتوں کا ان فاسق لوگوں پر اثر نہیں ہوتا وہ تو میں ہی ہر حال میں جہنمی ۔ لیکن مبلغین کہتے تھے کہ ہماری باتیں اگر نہیں ہیں کم از کم ہم تو خدا کے حوجر اپنا عذر پیش کر سکیں گے۔ جی ہاں! عام طور پر ہر معاشرے کے لوگ اسی قسم کے تین گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

سورہ مرسلات کی چھٹی آیت میں ہے۔ "فالملقیات ذکرا۔ عذرا اور نذرا" یعنی ان لوگوں کی قسم جو ذکر خداوندی دوسرے لوگوں کو القاء کرتے ہیں خواہ اتمام حجت کے طور پر انہیں خبردار کرنے کے واسطے ۔

پیام:

۱ ۔ نہی عن المنکر، اتمام حجت کے لئے اور خدا کے نزدیک عذر پیش کرنے کے لئے لازم ہے۔( معذرة )

(ہم اپنے فریضہ پر عمل کرنے کے پابند ہیں نتیجہ کا ضامن نہیں )

۲ ۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نہ تو خود کسی کو موعظہ کرتے ہیں اور نہ ہی دوسروں کے موغطہ کو برداشت کرتے ہیں۔ (لم تعظون)

۳ ۔ اپنی لاپرواہی کے گناہ کی "خدا کی مرضی" سے توجیہ نہیں کرنی چاہئے۔( لم تعظون قومان الله مهلکهم )

۴ ۔ لاپرواہ قسم کے لوگ، مجرمین اور گناہگاروں کو تنبیہ کرنے کی بجائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والوں پر اعتراض کرتے ہی۔( لم تعظون )

۵ ۔ جو لوگ موعظہ اور تربیت کی کوششوں کو بے فائدہ اور غیر موثر سمجھتے ہیں ان کے مقابل میں ڈٹ جانا چاہئے۔( معذرة )

۶ ۔ جلد بازی میں فیصلہ نہیں کر دینا چاہئے۔ کسی کے بارے میں فوراً نہیں کہہ دینا چاہئے۔ کہ خداوند عالم اسے عذاب دے گا یا ہلاک کرے گا۔( مهلکهم اومذبهم )

۷ ۔ آپ لوگوں کو بھی اس قدر کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے رب کے پاس گھر جائیں تو آپ کے پاس معقول عذر ہونا چاہئے۔ (ربکم) ہے "ربنا" نہیں ہے۔

۸ ۔ اگر نہی عن المنکر کے اثر کے احتمال نہ بھی ہو، تاہم حجت اور خدا کے نزدیک معقول عذر تو ہو گا۔ لہٰذا اس فریضہ کو ترک نہیں کرنا چاہئے۔

۹ ۔ اللہ والے، معاشرتی اصلاح سے کبھی نامید نہیں ہوتے۔( لعلهم یتقون )


آیت ۱۶۵۔۱۶۶

( فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا ِبه اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍ بَئِیْسٍم بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّانَهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ کُوْنُوْا قِرَدَةً خٰاسِئِیْنَ )

ترجمہ: پس جب انہوں نے اس یاد دہانی کو فراموش کر دیا تو ہم نے نہی عن المنکر کرنے والوں کو نجات دیدی اور ظالموں کو ان کے فسق وفجوربجالانے کے سبب سخت عذاب میں گرفتار کر دیا۔

پس جب انہو ں ے اس بات سے سرکشی کی جس سے انہیں روکا گیا تھا تو ہم نے انہیں کہا: تم دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ!

چند نکات:

"بئس" کا لفظ "باس" سے نکلا ہے جس کا معنی ہے "سخت"

سورہ مائدہ/ ۶۰ میں ہے کہ کچھے لوگ بندر اور سور بن گئے۔ جبکہ یہاں صرف بندر بننے کا تذکرہ ہے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ دونوں آیات ایک ہی گروہ کے بارے میں ہیں اور آیت کا ظاہر یہی بتاتا ہے کہ وہ لوگ بندروں کی شکل میں تبدیل ہو گئے تھے بندروں کی خصلت نہیں بنائی تھی۔

روایات کے مطابق جب بنی اسرائیل کے موغطہ کرنے والوں نے دیکھا کہ ان کی نصیحت اپنی قوم میں بے اثر ہے تو وہ ان لوگوں سے جدا ہو گئے اور اسی رات عذاب الہٰی نازل ہوا جس نے گناہگاروں اور خاموشی اختیار کرنے والوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ (ازتفسیر نمونہ)

پیام:

۱ ۔ نہی عن المنکر اگر دوسروں کی ہدایت کا سبب نہ بن سکے، ہماری اپنی نجات کا ذریعہ ضرور ہوتا ہے۔ (( انجینا ینهون الذین )

۲ ۔ اگر عدم توجہ اور غفلت کی وجہ سے فراموشی کو اختیار کیا جائے تو اس سے سزا مل سکتی ہے۔( فلما نسوا- ) ۔۔۔۔)

۳ ۔ جوا پنے لئے موغطہ اور پندو نصیحت کے راستے بند کر دیتا ہے وہ اپنے لئے خدائی قہر و غضب کے دروازے کھول دیتا ہے( نسوا-- اخذنا )

۴ ۔ نہی عن المنکر ایک دائمی فریضہ ہے۔ (ینہون) فعل مضارع دوام و استمرار دلالت کرتا ہے،

۵ ۔ بے پروا قسم کے لوگ ظالم ہیں۔( الذین ظلموا ) اس سے پہلی آیت بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ چکے تھے۔ ۱ ۔ ظالم۔ ۲ ۔ ہندونصحت کرنے والے اور ۳ ۔ لاپرواہ قسم کے لوگ جو ہر بات پر خاموشی اختیار کر لیتے تھے۔ اس آیت میں خاموشی اختیار کرنے والوں کو بھی ظلم کرنے والوں میں شمار کیا گیا ہے۔( انجینا الذین ینهون عنه )

۶ ۔ بہت بڑا اور بہت سخت عذاب ، مرحلہ ان نیت سے گر جاتا ہے( عذاب بئیس ----- قردة )

۷ ۔ حد سے تجاوز کرنے والوں کی سزا یہ ہے کہ ان کی صورتیں مسخ ہو جائیں اور متکبرین کی سزا یہ ہے کہ انہیں معاشرے کی دھتکار دیا جائے اوران کی توہین و تحقیر کی جائے۔( عتوا، قردة خاسئین )

۸ ۔ جو قومیں قوانین الہٰی کے مقابلے میں غرور اور تکبر کا مظاہرہ کرتی ہیں وہ بندروں کی مانند کبھی تو مشرق والوں کی ور کبھی اہل مغرب کی نقالی کرتی رہتی ہیں۔( قردة )

۹ ۔ جو لوگ حکم خداوندی کو مختلف حیلو ں بہانوں سے مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے اپنے چہرے مسخ ہو جاتے ہیں۔ دین کے ساتھ بازیگری کرنے والے، خود ہی بازیگر جانوروں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

۱۰ ۔ جو خدا صر ف ایک ہی حکم کے ساتھ ابراہیم کے لئے آگ کو گلستان بنا سکتا ہے، وہ انسان کو بندر میں بھی تبدیل کر سکتا ہے۔

آیت ۱۶۷

( وَ اِذْتَاَذِّنَ رَبُّکَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوٓءَ الْعَذَابِط اِنَّ رَبََََََّکَ لَسَرِیْعُ الْْعِقَابِ وَاِنَّه لَغَفُوْرُُرَّحِیْمِ )

ترجمہ: اور اس وقت کو یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے اعلان کر دیا کہ قیامت کے دن تک ان (بنی اسرائیل) پر کسی ایسے شخص کو مسلط کرے گا جو انہیں سخت اور برا عذاب دیتا رہے گا یقینا تمہارا مددگار ، بہت جلد سزا دینے والا ہے اور (توبہ کرنے والوں کے لئے) بخشنے والا اور مہربان ہے۔

ایک نکتہ:

"تاذّن" اور "اذّن" (دونوں) کا معنی اعلان کرنا ہے۔ اور قسم کے معنی کے لئے بھی آتے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ خدا وند عالم کا طریقہ کار تو یہ ہے کہ مجرمین کومہلت دیتاہے، لیکن جو لوگ اس کے آگے اکڑ جاتے ہیں تو انہیں سزا بھی بہت جلد دیتا ہے۔

۲ ۔ فاسد اور جابر لوگوں کا تباہکار عوام پر تسلط کبھی خدائی سزا اور ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ بھی ہوا کرتا ہے۔( لیبعثن )

۳ ۔ اقوام و ملل کی تاریخ زنجیر کڑیوں کی مانند ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہے اور کسی ایک گناہ کی سزا بعض اوقات تاریخی طور پر اس قدر طوانی ہوتی ہے کہ قیامت تک چلی جاتی ہے۔( الی یوم القیامة )

۴ ۔ جو لوگ اولیاء اللہ کا منہ چیڑٓتے ہیں وہ ذلیل اور اشرار لوگ ہوتے ہیں۔( یسومهم ) ۔۔) ۵۲

۵ ۔ خداوند عالم کی پیشن گوئی یہی ہے کہ ظالم یہودی قوم ہمیشہ ذلیل اور خوار ہی رہے۔( الی یوم القیامة )

۶ ۔ توبہ کا دروازہ ہمیشہ اور ہر ایک کے واسطے کھلا ہوا ہے۔( غفور رحیم )

آیت ۱۶۸

( وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَماً مِّنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِکَ وَبَلَوْْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّیِّّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ )

ترجمہ: اور ہم نے بنی اسرائیل کو روئے زمین پر کئی گروہوں کی صورت میں منتشر کر دیا، ان میں سے کچھ لوگ تو نیک اور صالح ہیں اور کچھ لوگ ان کے علاوہ (ضدی اور ہٹ دھرم) ہیں۔ اور ہم نے انہیں نیکیوں اور برائیوں کے ساتھ آزمایا ہے تاکہ وہ لوٹ آئیں۔

ایک نکتہ:

بنی اسرائیل کو بعض اوقات عزت اور اقتدار مل جاتا ہے تاکہ ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کا شکر بجا لائیں اور بعض اوقات انہی سختیوں اور مصیبتوں میں جکڑ دیا جاتا ہے تاکہ ہو سکتا ہے کہ ان میں توبہ اور بازگشت کی حس بیدار ہو جائے۔ انجام کار ایسا ہوتا ہے کہ بعض لوگ صالح بھی ہوتے ہیں اور اسلام کی حقانیت کو صدقہ دل سے قبول کر لیتے ہیں اور بعض کم بخت قسم کے لوگ دنیا پرستی اور ہٹ دھرمی پر ڈٹے رہتے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ بعض اوقات انتشار ، آوارگی اور پراکندگی، خدا کے قہر و غضب کی علامتیں ہوتی ہیں اور مرکزیت اور ہمبستگی لطف خداوندی کی نشانیاں ہوتی ہیں۔( قطعناهم )

۲ ۔ انسان، آزاد ہے( منهم الصالحون ومنهم دون ذالک )

۳ ۔ کسی پر تنقید کرتے وقت اچھے لوگوں کے حق کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔( منهم الصالحون )

۴ ۔ تلخ اور شیریں واقعات خدا کی آزمائش کا ذریعہ ہوتے ہیں۔( بلوناهم )

۵ ۔ تشویق و ترغیب اور تنبیہ نیز مہر اور قہر دونوں ہی انسان ساز اور تربیت کنندہ ہوتے ہیں۔( لعلهم یرجعون )

۶ ۔ انسان کی روحانی تبدیلی اور حق کی طرف اس کی بازگشت امتحان الہٰی کی حکومتوں میں سے ایک حکمت ہے۔( لعلهم رجعون )

آیت ۱۶۹

( فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِ هِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوْا الْکِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰی وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُلَنَا وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُه یَاْخُذُوْهُط اَلَمْ یُوْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْکِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِط وَالدَّارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرُ لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَط اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ )

ترجمہ: پس ان کے بعد ان کی ناخلف اولاد ان کی جانشین ہوئی جو کہ آسمانی کتاب (تورات) کی وارث ہوئی (لیکن اس کی قدر کو نہ جانا) اور اس ناپائیدار دنیا کا مال و متاع سمیٹتی رہی اور (قوانین خداوندی کو ترک کر دینے کے ساتھ ساتھ) کہتی رہی کہ ہم بہت جلد بخش دئیے جائیں گے۔ اور اگر دوسری مرتبہ بھی ان قسم کے مادی منافع ملنے لگ جائیں پھر بھی وہ اسے لے لیں (اور قوانین الہٰی کو ترک کر دیں) آیا ان سے کتاب کا میثاق نہیں لیا گیا تھا کہ خد اکی طرف حق بات کے علاوہ کسی بھی چیز کی نسبت نہ دیں؟ اور ان لوگوں نے اس کتاب اور میثاق کو بارہا (درس کی صورت میں) پڑھا بھی ہے (لیکن عملی طور پر دنیا کی پرستش کی) حالانکہ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں، آیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے؟

دو نکات:

’خلف" (بروزن حرف) عام طور پر ناخلف اولاد کو کہا جاتا ہے اور "خلف" (بروزن شرف) صالح شائستہ اور لائق اولاد کو کہتے ہیں۔ (ازتفسیر نمونہ، منقول از تفسری مجمع البیان وابوالفتوح)

"عرض" (بروزن صمد) ہر قسم کے سرمائے کو کہا جاتا ہے جبکہ "عرض" (بروزن قرض) صرف نقد رقم کے لئے بولا جاتا ہے۔ چونکہ دنیا ناپائیدار ہے اسی لئے اسے عرض کہا گیا ہے۔ علامہ محسن فیض کاشانی فرماتے ہیں اس آیت میں "عرض" سے مراد "رشوت" ہے۔

پیام:

۱ ۔ اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں غفلت سے کام نہ لو کہ کہیں وہ رفاہ طلب اور دنیا پرست نہ ہو جائیں!( خلف )

۲ ۔ دنیا پرستی اور دنیا داری پر انقلاب کے لئے آفت ہوا کرتی ہے۔( من بعدهم خلف )

۳ ۔ دنیا ناپائیدار ہے۔( عرض )

۴ ۔ یہودی ایک ایسی قوم تھے جو اپنے آپ پر راضی اور خوش تھے نیز بڑی ڈینگیں مارا کرتے تھے۔( سیغفر لنا ) ۵۴

۵ ۔ بے جا امید بھی بے جا خوف کی مانند خرابی پیدا کر دیتی ہے۔( سیغفرلنا )

۶ ۔ حقیقی توبہ کی علامت یہ ہے کہ اگر دوسری مرتبہ خلاف ورزی کا موقع ملے تو اس کا ارتکاب نہ کیا جائے( یاتیهم عرض مثله یاخذوه )

۷ ۔ آسمانی کتاب کا صرف جان لینا اور اس کا مطالعہ کرنا ہی کافی نہیں ساتھ ہی تقویٰ بھی ضروری ہے( ورؤا الکتاب ، درسوا، یاخذوه )

آیت ۱۷۰

( وَالَّذِیْنَ یُمَسِّکُوْنَ بِالْکِتٰبِ وَاَقَامُوْا الصَّلٰوةَط اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ )

ترجمہ: اور جو لوگ آسمانی کتاب کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں تو ہم بھی یقینا اصلاح کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کریں گے۔

دو نکات:

قرآن کریم کا عموم قرینہ ہے کہ فاسد اور مفسد اکثریت کے ساتھ نیک اور صالح اقلیت کا تذکرہ بھی کرتا ہے۔

"کتاب" کا لفظ تمام آسمانی کتابوں کو شامل ہے اور آیت کا مفہوم کسی خاص گوہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ ہان البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ گھر گزشتہ آیات کو پیش نظر لایا جائے تو پھر ممکن ہے کہ اس سے مراد "تورات" ہو۔

پیام:

۱ ۔ حقیقی معنوں میں اصلاح کی دو شرائط ہیں۔ ۱ ۔ قوانین کے ساتھ مکمل تمسک ۲ ۔ نماز کے ذریعہ خداوند عالم کے ساتھ مستحکم ربط۔ (مکمل آیت کا مفہوم)

۲ ۔ آسمانی کتا ب کو پڑھنا ، اسے حفظ کرنا، اسے چھاپنا، اس کی نشر و اشاعت کرنا ہی اصلاح کا موجب نہیں ہوتا بلکہ اس کو مضبوطی سے تھامنا یعنی اس پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ اس طرح سے نجات حاصل ہو،( یمسکون )

۳ ۔ دین یہودیت میں بھی نماز فرض چلی آئی ہے۔( اقاموالصلٰوة )

۴ ۔ اگرچہ نماز آسمانی کتاب کے مضامین کا ایک حصہ ہے لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر یہاں پر اس کا خصوصیت کے ساتھ نام لیا گیا ہے۔( اقامواالصلٰوة )

۵ ۔ بے نماز اور کتاب سے بے خبر لوگ مصلح نہیں بن سکتے۔

۶ ۔ دین کے جہاں اُخروی فوائد میں وہاں پر اس دنیا میں بھی اس کی زبردست اہمیت ہے( مصلحین )

۷ ۔ نماز، معاشرے کی اصلاح کا ایک اہم ذریعہ ہے( اقامواالصلٰوة ، مصلحین )


آیت ۱۷۱

( وَاِذْنَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ کَاَنَّه ظُلَّةٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّه وَاقِعٌم بِهِمْ خُذُوْا مَا اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّةٍ وَ اذْکُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ )

ترجمہ: اور (اس وقت کو یاد کرو) جب ہم نے کوہ (طور) کو اس کی اپنی جگہ سے اکھاڑ کر ان کے سروں پر سائبان کی مانند قرار دیدیا اور وہ گمان کرنے لگے کہ یہ ان کے سروں پر گراہی چاہتا ہے اور ہم نے عطا کئے ہیں انہیں مضبوطی کے ساتھ اور سنجیدگی سے لے لو اور جو کچھ ان میں ہے انہیں یاد کر لو (اور ان پر عمل کرو) ہو سکتا ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔

چند نکات:

یہ اس سورت کی آخری آیت ہے جو بنی اسرائیل کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے آیت ۱۰۱ سے یہاں تک (یہ مسلسل ستر آیتیں ایسی ہیں جو) ان کے بارے میں مسائل کو ذکر کر رہی ہیں)

زیر نظر آیت سے ملتی جلتی سورہ بقرہ کی ۶۱ ویں آیت ہے۔

"نتق" کے معنی ہیں اکٹھا کر پھینک دینا۔

جب حضرت موسیٰ تورات لے کر کوہ طور سے واپس آ گئے تو بنی اسرائیل نے آپ کی مخالفت شروع کر دی، خداوند عالم نے پہاڑ کو زمین سے اکھاڑا اور ان کے سروں پر سائبان کی مانند لٹکا دیا جس سے وہ وحشت زدہ ہو گئے اور وعدہ کیا کہ اُن کی اطاعت کریں گے اور سجدہ میں بھی گر گئے۔

یہاں ہر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا کسی کو مجبور کر کے وعدہ لینا اور اس سے اطاعت کرانا صحیح ہے اور اس سے اطاعت کرانا صحیح ہے اور اس کی قدر وقیمت بھی ہے؟

تو اس جواب یہ ہے کہ ہر مقام پر مجبور کرنا برا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات نشے کے عادی کو مجبور کر کے اس سے نشہ چھڑایا جاتا ہے جو بجائے خود ایک اہم بات ہے البتہ مجبور کر کے اس پر قلبی عقیدہ مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن صحیح اعمال کو معاشرے میں زربدستی طریقے سے بھی رائج کیا جا سکتا ہے علاوہ ازیں بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کسی کام کو زبردستی کرایا جاتا ہے اور پھر وہ آہستہ آہستہ معرفت اور آگاہی اور شعور پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ارادہ اور اختیار سے انجام پانے لگتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ معاشرے کی عمومی تربیت کے لئے بعض اوقات دباؤ اور سختی سے بھی کام لینا پڑتا ہے تاکہ لوگوں کو کارخیر پر آمادہ کیا جا سکے۔( اذنتقنا ---- خذوامااتیناکم----- )

۲ ۔ احکام الہٰی کو عشق و شوق پھر سنجیدگی اور قوت کے ساتھ لینا چاہئے اور ان پر عمل کرنا چاہئے۔

۳ ۔ آسمانی کتابوں اور دینی رستوارات کا اصل مقصد لوگوں کے دلوں میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔( لعلکم تتقون )

آیت ۱۷۲

( وَ اِذْاَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِ هِمْ ذُرِیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَ هُمْ عَلٰی اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْط قَالُوْا بَلٰی شَهِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا کُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَ )

ترجمہ: اور اس روز کو یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم کی پشت سے ان کی ذریت کو لیا اور انہیں اپنے آپ پر گواہ بنایا (اور کہا) آیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں؟ تو سب نے کہا: کیوں نہیں؟ ہم گواہی دیتے ہیں (کہ تو ہمارے پروردگار ہے اولاد آدم سے اس طرح کا اقرار اس لئے لیا گیا) تاکہ بروز قیامت یہ نہ کہو کہ ہم اس سے غافل رہے تھے۔

چند نکات:

"ذریت" کے معنی ویسے تو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہیں لیکن عام طور پر اس کا استعمال تمام اولد میں بھی ہوتا ہے۔

آیت میں اولاد آدم سے پیمان لینے کا انداز ذکرنہیں ہوا۔ البتہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم کی تخلیق کے بعد ان کی تمام اولاد باریک لیکن باشعور ذرات کی صورت میں ان کی پشت سے نکالا گیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں مخاطب کر کے ان سے سوال کیا، جس پر انہوں نے خداوندمتعال کی ربوبیت کا اعتراف کیا: اس کے بعد ساری ذریت ان کی سلب اور مٹی میں واپس چلی گئی اور پھر تدریجی اور طبعی طور پر ان سے باہر آتی رہی، اس عالم کو "عالم ذر" اور اس پیمان کو "پیمان الست" اور اس کائنات کو "عالم ِ اَلَست" کہا جاتا ہے۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ "عالم ذر" سے مراد وہی استعداد اور صلاحیتوں کا عالم ہو اور پیمان سے مراد فطرت کا تکوینی پیمان ہو۔ یعنی جب اولاد آدم نطفہ کی صورت میں اپنے بالوں کی صلبوں سے نکل کر ماؤں کے رحموں میں منتقل ہوتی ہے تو اس وقت ایک ذرہ سے زیادہ ان کی حیثیت نہیں ہوتی۔ اور اللہ تعالیٰ توحید کی معرفت کی استعداد اور فطرت اسی طرح حق جوئی کی فطرت ان میں ودیعت کر دیتا ہے۔ اور یہ خدائی راز ایک اندرونی حسّ کی صورت میں ہر ایک کی نہاد وفطرت میں امانت کے طور پر رکھ دی جاتی ہے اور ساتھ ہی ان کی عقل و خرد میں بھی یہی بات بٹھا دی جاتی ہے۔ جب سے خدا کی تلاش اس کی شناخت اور اس کا اقرار ایک خود آگاہ حقیقت کی صورت میں منقش ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے تخلیقی زبان میں ان سے سوال کیا ہے اور انہوں نے بھی اسی زبان میں جواب دیا ہے۔

پیام:

۱ ۔ خداوند عالم نے توحید کو ہر انسان کی فطرت اورسرشت میں داخل کر دیا ہے۔( اشهد هم علی انفسهم )

۲ ۔ فطرت اور حق جوئی کا میثاق بندوں پر اتمام حجت کی طور پر ہے۔( ان تقولوایوم القیامة )

۳ ۔ انسان اپنے وجود کی گہرائیوں میں خداوند عالم کے اقرار کی حس کو ضرور تلاش کرتا ہے اس لئے کہ اس نے عالم ذر میں اس کا اقرار کیا ہوا ہوتا ہے۔

آیت ۱۷۳ ، ۱۷۴

( اَوْ تَقُوْلُوْا اِنَّمَا اَشْرَکَ اٰبٰٓائُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِیَّةً مِّنْ م بَعْدِ هِمْ اَفَتُهْلِکُنَا بِمَا فَعََلَ الْمُبْطِلُوْنَ وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ )

ترجمہ: (ذُریت آدم سے ہم سے یہ سوال و جواب اس لئے کئے) تاکہ یہ نہ کہیں کہ ہمارے باپ دادا تو پہلے ہی سے مشرک تھے اور ہم ان کے بعد ان کی اولاد تھے (اور مجبور ان کی راہوں پر چلتے رہے) تو کیا ہم ٰن اہل باطل کی کارستانیوں کی وجہ سے سزا دے گا اور ہلاک کرے گا؟

اور ہم اس طرح اپنی آیات کو روشن کر کے بیان کرتے ہیں (تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ توحید کا نور ابتدا ہی سے ان کی فطرت میں شامل ہے) اور شاید کہ خداوند (اور توحید کی پاک فطرت) کی جانب لوٹ آئیں۔

پیام:

۱ ۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت کی فطرت، خدا کی طرف سے اتمام حجت کے طور پر ہوتی ہے اور فطرت کا چراغ اپنے اندر اس قدر طاقت رکھتا ہے کہ اس میں چاروں طرف پھیلائی ظلمت پر اپنا نور ڈالنے کی پوری پوری طاقت ہوتی ہے۔

۲ ۔ ماحول اور معاشرہ انسان کو مجبور نہیں کرتا۔( اوتقولوا )

۳ ۔ اصول دین میں تقلید جائزنہیں ہے( اشرک آباؤنا )

۴ ۔ اپنے گناہ اور گمراہی کا بوجھ دوسروں کی گردن میں مت ڈالو( اشرک آباؤنا )

۵ ۔ اپنے اسلاف کا احترام اس حد تک ہے کہ انسان کومشرک نہ بنا دے۔( ذی یة من بدهم )

۶ ۔ شرک انسان کو ہلاکت اور یا وہ کوئی اور غلط کایوں تک جا پہنچاتا ہے( تهلکنا -- مبطلون )

۷ ۔ آیات الہٰی انسان کو میثاق فطرت اور توحیدی سرشت کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔( لعلهم یرجعون )

آیت ۱۷۵

( وَاتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْ اٰتَیْنٰه اٰیٰتِنَافَنْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَه الشَّیْطٰنُ فَکَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ )

ترجمہ: اور ان لوگوں کے لئے اس شخص کی داستان کو پڑھو کہ جسے ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں، پس اس نے (ناشکری کرتے ہوئے) اپنے آپ کو ان آیات اور علوم سے باہر نکال لیا اور شیطان نے اسے اپنے پیچھے لگا لیا پس وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔

ایک نکتہ:

یہ آیت بنی اسرائیل کے ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جو پہلے پہل تو مومنین اور الہٰی آیات و علوم کے حاد ملن کی صف میں تھا، لیکن بعد میں گمراہ ہو گیا اور شیطان نے اس کے دل میں کئی وسوسے ڈال دیئے تمام تاریخی اور تفسیری کتابوں میں اس کا نام "بلعم باعورا" مذکور ہے۔

حضرت امام رضا سے روایت ہے کہ بلعم باعورا "اسم اعظم" جانتا تھا جس کی وجہ سے اس کی ہر دعا قبول ہوتی تھی لیکن بعد میں فرعون کے دربار میں جا پہنچا۔ اگرچہ وہ آغاز کار میں حضرت موسٰی کا مبلغ تھا، لیکن اس کا انجام بہت خرا ب ہوا۔

قرآن مجید میں اس کا نام تو نہیں لیا گیا لیکن اس کی کارستانیاں ضرور بیان کی گئی ہیں اور حضرت امام محمد باقر کے بقول یہ آیت ہر اس شخص سے مطا بقت رکھتی ہے جو خواہشات نفسانی کو حق پر غالب کرتا ہے (ازتفسیر نورالثقلین) اور اس قسم کے لوگ ہر دور اور ہر زمانے میں پائے جاتے ہیں آیت صرف بلعم سے ہی مخصوص نہیں ہے۔

بلعم باعورا کا قصہ توریت میں بھی ذکر ہوا ہے۔ (تفسیر قرطبی)

پیام:

۱ ۔ رہبر اور قائد کا فرض بنتا ہے کہ لوگوں کو درپیش آنے والے خطرات سے آگاہ کرے اور ڈرائے۔( واتل علیهم )

۲ ۔ انسان کو جس قدر ترقی ملتی جائے اسے کبھی مغرور نہیں ہونا چاہئے۔ کیونکہ اسے تباہی کا خطرہ ہر وقت درپیش رہتا ہے صحیح معنوں میں انجام کار ہی اہمیت رکھتا ہے، آغاز کار کو اپنی اہمیت حاصل نہیں، جو جتنا بلند ہو گا اس کا خطرہ بھی اسی قدر زیادہ ہوگا۔( فانسلخ منها )

۳ ۔ میرے انجام کے بارے میں ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے اور اس خطرے کو ہر وقت پیش نظر رکھنا چاہئے کہ کہیں نعمت ، عذاب اور سزا میں نہ بدل جائے!

۴ ۔ اگر نعمتوں کو ان کے صحیح مصرف میں استعمال نہ کیا جائے، واپس لے لیا جاتی ہیں( آئیناه آیاتنا فانسلخ )

۵ ۔ جو خدا سے کٹ جاتا ہے ، شیطان کی گرفت میں آ جاتا ہے اور اس کا لقمہ بن جاتا ہے( فانسلخ مظ فاتبعه الشیطان )

۶ ۔ دنیاوی چکا چوند اور شاہی دربار ایسی چیزیں جہاں پر علماء اور دانشوروں کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں ، عوام الناس کا تو خدا ہی حافظ ہے!

۷ ۔ انسان آزاد ہے، جب چاہے اپنی سمت بدل لے( آتینا آیتنا فانسلنج )

۸ ۔ جب شیطان کسی میں اپنی متابعت کی صلاحیت دیکھتا ہ تو اس کے پیچھے لگ جاتاہے۔( فانسلخ فاتبعه )

۹ ۔ صرف اکیلا علم ہی نجات دہندہ نہیں ہے۔ دنیا پرست عالم، شیطان کا اسیر ہو سکتا ہے( فاتبعه الشیطان )

۱۰ ۔ طاغوتی طاقتیں علماء کو بھی فریب دے سکتی ہیں علماء سوکا انجام بلعم باعوراجیسا ہوتا ہے لہٰذا اے تاریخ کے لئے ایک یادگار سبق کے طور پر باقی رہنا چاہئے۔

۱۱ ۔ راہ خدا کو چھوڑ دینا حماقت ہے( فکان من الغاوین ) اور "غوایت" اس گمراہی کو کہتے ہیں جو حماقت کی وجہ سے اختیار کی جاتی ہے۔

آیت ۱۷۶

( وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰکِنَّهُ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰهُ فَمَثَلُه کَمَثَلِ الْکَلْبِ اِنْ َتحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُکْه یَلْهَثْطذٰٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ )

ترجمہ: اور اگر ہم چاہتے تو اس کی قدرومنزلت کو (ان آیات و علوم کی وجہ سے) اورپر لے جاتے (جو ہم نے اسے عطا کئے تھے) لیکن وہ خود زمین (اور مادیات) سے چمٹ گئی اور اپنی خواہش کی اتباع کر لی، تو اس کی مثال اس کے جیسی ہے کہ لگ تو اس پر حملہ کرے تگو وہ منہ کھول کر بھونکنے لگے اور زبان کو باہر نکال لے، اور اگر (حملہ نہ کرے بلکہ) اسے ویسے ہی چھوڑ دے تو بھی وہ ایسا ہی کرے (دنیا پرستوں کا منہ ہمیشہ کھلا رہاتا ہے) کہتے کی یہ مثال ان لوگوں جیسی ہے جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔ پس (اے پیغمبر) تم ایسی داستانوں کو بیان کرتے رہو شاید کہ یہ لوگ غور فکر کے نام لیں۔

پیام:

۱ ۔ آیات خداوندی انسان کی بلندی (مراتب) کاسبب ہیں( لرفعناه بها )

۲ ۔ دنیا کے ساتھ دل لگا انسان کی پستی کا موجب ہوتا ہے اور اس کی معنوی پرواز رکاوٹ پید اکر دیتا ہے۔( اخلد )

۳ ۔ لطف خداوندی مختلف طور طریقوں سے حاصل ہوتا رہتا ہے، لیکن انسان اسے اپنے تک پہنچنے سے روکنے کا سبب بن جاتا ہے( لوشئنا لرفعنٰه بها ولکن ) ۔۔۔)

۴ ۔ دنیا پرستی ہو ا وہوس پرستی کے ساتھ ملی ہوتی ہے( اخلا - اتبع هواه )

۵ ۔ غافل لوگوں کو چاپایوں سے تشبیہ دی گئی ہے لیکن علماء سو یا دنیا پرست عالموں کو حریص کتے کی مانند بتایا گیا ہے۔ (کمثل الکلب)

۶ ۔ بے عمل عالم۔ لوگوں کے نزدیک قابل نفرت ہوتا ہے( کمثل الکلب )

۷ ۔ دنیا کا بندہ کبھی سکون قلب حاصل نہیں کر پاتا( ان لتحمل علیه یلهث وترکه یلعث )

۸ ۔ دنیا کے ساتھ محبت اور خواہشات نفسانی کی اتالج، انسان کو لاپرواہ کر دیتی ہے( ان تحمل ---- اوتترکه ) ۔۔)

۹ ۔ فریب خوردہ علماء کا انجام لوگوں کے سرمایہ عبرت اور موجب غور وفکر ہوتا ہے۔ (سابقہ آیت میں "واتل" ہے اور اس میں (ناقصص) ہے۔

۱۰ ۔ حرص اور دنیا پرستی کی کوئی حد انتہا نہیں ہے، دنیا پرستوں کے پاس جس قدر بھی دنیا موجود ہو بھی ان کے لئے کم ہے اور وہ طمع ولالچ کی زبان کھولے کتے کی طرح ہانپ کانپ رہے ہوتے ہیں۔

۱۱ ۔ قصوں اور داستانوں کو انسان کی فکری ترقی کا موجب بننا چاہئے تاکہ دماغی نشہ یا سرگرمی کا سبب تبلیغی قسم کی داستانیں بیان کرنا انبیاء کا کام ہوت اہے( فاقصص القصص لعلهم یتفکرون )

آیت ۱۷۷ ۔ ۱۷۸

( سَاءَ مَثَلَا نِ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ کَانُوْا یَظْلِمُوْنَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِی وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُوْلٰئِکَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ )

ترجمہ: جن لوگوں نے یہی آیات کو جھٹلایا ہے ا ن کی مثال کس قدر بری ہے، اور یہ لوگ اپنے اوپر خود ہی ظلم کرتے تھے۔

جسے خدا ہدایت کرے وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے، اور جسے خدا گمراہی میں چھوڑ دے پس وہی لوگ ہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

چند نکات:

یہ جو انسان اپنے علمی اور معنوی سرمائے کو طاغوت کی تقویت پہنچانے کے لئے خرچ کرتا ہے اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔

ہدایت یافتہ افراد کے لئے مفرد (مھتد) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور گمراہوں کے لئے جمع (خاسرون) کا لفظ لایا گیا ہے اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہدایت یافتہ افراد کا راستہ ایک ہی ہے اور وہ متحد ہیں لیکن گمراہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں اور ان کی راہیں بھی مختلف ہیں۔

ہر چند کہ ہدایت اور گمراہی خدا کے ہاتھ میں ہے لیکن اس کے لئے راہیں ہموار کرنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے اور خداوند عالم حکیم اور رحیم ہے جب تک انسان راہیں ہموار نہیں کرے گا اس کے لطف و رکم یا قہر و غضب کے شامل حال نہیں ہو گا۔

پیام:

۱ ۔ آیات خداوندی کی تکذیب کرنا اپنے آپ پر ظلم کرنا ہوتا ہے دوسروں پر نہیں۔( انفسهم کا نوا یظلمون ) "انفسھم" کو "یظلمون" ہر مقدم کرنا انحصار کی دلیل ہے۔

۲ ۔ برا انجام آیات الہٰی کو جھٹلانے والوں کے انتظار میں ہے۔

۳ ۔ اگر خداوند تعالیٰ کی مہربانی شامل حال نہ ہو تو صرف علم رکھنا نجات اور ہدایت کا موجب نہیں بن سکتا۔ (من یھد اللہ)

آیت ۱۷۹

( وَ لَقَدْ ذَرَاْنَالِجَهَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ لَهُمْ قُلُوْبُ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَاوَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَاط اُولٰئِکَ کَالْاَنْعَامِ َبلْ هُمْ اَضَلُّ اُوْلٰٓئِکَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ )

ترجمہ: اور یہ بات یقینی ہے کہ ہم نے بہت سے جن وانس کو جہنم کے لئے پید اکیا ہے (کیونکہ) ان کے ایسے دل ہیں جن کے ذریعہ وہ حق کو درک نہیں کرتے آنکھیں ہیں کہ جن کے ذریعہ وہ نہیں دیکھ پاتے ایسے کان ہیں جن کے ذریعے وہ اسے نہیں سنتے وہ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ یہی لوگ ہی غافل ہیں۔

چند نکات:

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے جن وانس دوزخ کے لئے پیدا کیا گیا ہے جبکہ سورہ ذاریات/ ۵۶ میں جن وانس کی تخلیق کا سبب عبادت بیان کیا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے "وما خلقت الجن والانس الالیعبدون" تو اان میں سے کس کو صحیح مانا جائے؟

جواب: تخلیق کا اصل مقصد تو عبادت اور خدا پرستی ہی ہے، لیکن انسانوں "لجھنم" پر موجود "لام" عاقبت اور انجام کے لئے ہے مقعید اور ہدف کے لئے نہیں۔ جیسا کہ برھئی کا اصل مقصد تو دڑور دروازے کھڑکیاں وغیرہ تیار کرناہوتا ہے لیکن انہیں دروازوں اور کھڑکیوں کے تختے اور لکڑیاں انگیٹھی میں بھی جلتی ہیں تو یہ اس کا تبعی ہدف ہوتا اصل اور بنیادی مقصد نہیں ہوتا ۵۵

یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا فرشتہ زیادہ اہم یا انسان؟ تو اس کا جواب حضرت علی نے یوں دیا ہے کہ فرشتے میں صرف عقل ہوتی ہے اور حیوان میں فقط غریزہ حکم فرما ہوتا ہے۔ لیکن انسان ان دونوں صفات کا حامل ہوتا ہے۔ جس کی عقل اس کے عزیز پر غالب آ گئی وہ فرشتے سے برتر جس کا غریزہ اس کی عقل پر غالب آ گیا وہ حیوان سے بدتر ہو گیا۔( اولئک کالانعام بل هم اضل ) ۵۶

پیام:

۱ ۔ آفرنیش اور تخلیق تو رحمت کی بنیاد پر ہوتی ہے لیکن انسان اپنے غلط اختیار کی وجہ سے جہنمی بن جاتا ہے۔( لهم قلوب ) ۔۔۔)

۲ ۔ جنات بھی انسانوں کی طرح مکلف ہیں، وہ بھی صاحب اختیار وارادہ ہیں، انہیں بھی سزا اور جزا ملے گی۔ (( من الجن ولانس )

۳ ۔ جو شخص خدائی نعمتوں سے صحیح معنوں میں فائدہ نہیں اٹھاتا وہ اس سے بدتر ہے جس کے ہر اس قسم کی نعمتیں نہیں ہیں۔( بل هم اضل )

۴ ۔ آنکھ، کان، دل اور زبان رکھنے میں انسان بھی حیوان کے مشابہ ہے لیکن انسان کو چاہئے کہ وہ ان سے بہتر طور پر استفادہ کرے اور زیادہ سے زیادہ بہرہ برداری کرے، ورنہ وہ حیوان کی مانند بلکہ اس سے بھی زیادہ پست ہو ا۔ آنکھ کو چاہئے کہ ظاہری چیزوں کے علاوہ ملکوت کو بھی دیکھے۔ کان کو چاہئے کہ ظاہری شور شرابے کو سننے کے علاوہ باطنی زمزموں کو بھی سنے۔

(انسان معرفت کے ذرائع کی وجہ سے حیوان سے برتر اور بہتر ہے اور اگر یہ نہ ہوں تو حیوان کے برابر ہے( لایفقهون - کالانعام )

۵ ۔ بے سمجھ اور بے بصیرت انسان مندرجہ ذیل امور میں چوپایوں کی مانند ہیں، بے پرواہی ، شکم پرستی ، استشمار ہونے، بار اٹھانے ، معرفت کی لذت سے محروم ہونے۔۔۔ وغیرہل ہیں۔

۶ ۔ بے بصیرت انسان مندرجہ ذیل مسائل سے غافل ہوتے ہیں۔

ہدف اور مقصد بے خدا، خود اپنے آپ سے وسائل سے ، آخرت سے اولاد سے، آیات الہٰی سے ، قانون خداوندی سے، خدا کی سابقہ مہربانیوں اور اپنے گناہوں سے۔

۷ ۔ غافل لوگ تو حیوانات سے بھی گئے گزرے ہوتے ہیں( بل هم اضل )

۸ ۔ بہت سے انسان اس لئے جہنم خرید کر لیتے ہیں کہ وہ خداوند عالم کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں کو ہدایت اور کمال کی راہوں میں استعمال نہیں کرتے۔ ایسے لوگ آنکھ، کان، دل اور زبان رکھنے کے باوجود غفلت اختیار کئے ہوتے ہیں۔

آیت ۱۸۰

( وَلِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْهُ بِهَا وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْ اَسْمَآئِهط سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ )

ترجمہ: اور اللہ ہی کے لئے ہیں اچھے اچھے نام، پس تم بھی خدا کو انہی ناموں سے پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ کے ناموں میں کجروہی سے کام لیتے اور لڑائی جھگڑا کرتے ہیں۔ بہت جلد یہی لوگ اپنے کیفر کردار کو پہنچ جائیں گے۔

چند نکات:

"( السماء حسنیٰ ) " کا کلمہ قرآن مجید میں تین جگہ پر آیا ہے۔ ۱ ۔ اسی آیت میں ۲ ۔ بنی اسرائیل کی ۱۱۰ ویں آیت میں اور طہٰ کی ۸ ویں آیت میں۔

اگرچہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام ہی حسنیٰ (اچھے) ہیں اور خداوند متعال تمام کمالات اور اسماء کا مالک ہے لیکن روایات میں زیادہ تر ننانوے ناموں پر زور دیا گیا ہے کہ جو شخص خدا کو ان ناموں کے ساتھ پکارے گا اسکی دعا قبول ہو گی۔ اور جو شخص انہیں شمار کرے گا وہ بہشتی ہے (توحید شیخ صدوق تفسیر المیزان، مجمع البیان اور نور الثقلین۔ منقول از تفسیر نمونہ) البتہ شمار کرنے سے مراد لفظ یا لبوں کی حرکت کے ساتھ نہیں بلکہ ان اسماء کی طرف توجہ ، ان سے الہام لینا، ان کی صفات سے متصف ہونا اور ان کے ساتھ ہونا مراد ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کا مسئلہ صحیح بخاری ، مسلم اور ترمذی شریف میں بھی موجود ہے کہ جو شخص خدا کو ان ناموں کے ساتھ پکارے گا اس کی دعا مستجاب ہو گی، (تفسیر المیزان تفسیر نمونہ)

خداوند تعالیٰ کے ننانوے نام یہ ہیں۔

الله، الٰه، الواحد، الاحد، الصمد، الاول، الآخر، السمیع، البصیر، القدیر، العلی، الاعلیٰ، الباقی، البدیع، الباریٴ، الاکرم، الباطن، الحی، الحکیم، العلیم، الحلیم ، الحفیظ، الحق، الحسیب، الحمید، الحفی، الرب، الرحمن، الرحیم، الذارء، الرازق، الرقیب، الروٴف، الرائی، السلام الموٴمن، المهمین، العزیز، الجبار، المتکبر، انسید، السبوح، الشهید، الصادق، الصانع، الظٓهر، العدل، العفو، الغفور، الغنی، الغیاث، الفاطر، الفرد، الفتاح، الفالق، القدیم، الملک الدوس، القوی ، القریب، القیوم، القابض، الباسط، متقی، الحاجات، المجید، المولی، المنان، المحیط، المبین، المغیث، المصور، الکریم، الکبیر، الکافی، کاشف الضّر، القدیر، النور، لاوهاب، الناصر، الواسع، الودود، الهادی، الوفی، الوکیل، الوارث، البر، الباعث، التتواب، الجلیل، الجواد، الخبیر، الخالق، خیرالناصرین، العیان، الشکور، العظیم، اللطیف، الشافی ، (ازتفسیر)

قرآن مجید میں اس سے زیادہ (تقریباً ۱۴۵) نام ہیں اور یہ جو ننانوے کی تعداد کا تذکرہ بعض روایات میں آیا ہے یا تو اس لئے ہے کہ بعض نام ایسے ہیں جو کہ ایک دوسرے میں لدغم ہونے کے قابل ہیں اور بعض ایسے کہ جنہیں ایک دوسرے سے مطابق دی جا سکتی ہے، یا پھر اس سے یہ مراد ہے کہ یہ نام بھی قرآن مجید میں ہیں نہ یہ کہ فقط یہی تعداد ہے۔ جبکہ بعض آیات میں ان ناموں کا مضمون ملتا ہے مثلاً قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے نام کے لئے "صادق‘ کا لفظ استعمال نہیں ہوا لیکن "( من اصدق من الله قیلا ) " (النسأ/ ۱۲۲) یا "( ومن اصدق من الله حدیثا ) " (نسأ / ۷۷) یعنی خدا سے بڑھ کر بعض دعاؤں اور روایات میں خداوند تعالیٰ کے لئے کئی اور نام بھی ذکر ہوئے ہیں۔ (مثلا دعائے جو شن کبیر مکمل) البتہ بعض اسماء ایسے ہیں جن کے خصوصی آثار وبرکات اور اختیارات ہیں۔

بعض روایات میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں: "خدا کی قسم! اللہ کے اسماء حسنیٰ ہم ہی ہیں" (اصول کافی) یعنی خداوند عالم کی صفات ہمارے اندر جلوہ گر ہیں اور ہم ہی خدا خدا کی معرفت کا حقیقی ذریعہ ہیں" تو ان احادیث کی روشنی میں آیت میں موجود یہ جملہ "( وذروالذین یلحدون ) ‘ ہمیں کہہ رہا ہے کہ فضائل اہلبیت علیہم السلام کے بارے میں الحاد کرنے والوں کی پرواہ نہ کریں" (از تفسیر نورالثقلین ، منقول از اصول کافی)

وضو کے بغیر خدا کے کسی نام کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا، اور نہ ہی اللہ کے نام کو جنب شخص کے بدن کا کوئی حصہ میں کر سکتا ہے اور اس کی ہر طرح کی توہین بھی حرام ہے۔

"اسم اعظم" کیا ہے اور کونسا؟ تو اس بارے میں یہ عرض ہے کہ بعض روایات کے مطابق جو شخص خدا کا رسم اعظم جانتا ہے اس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور عالم طبعیت اور جہان فطرت میں تصرف کر سکتا ہے بلعم باعورا (کہ جس کا ذکر اسی سورت کی ۱۷۵ ویں آیت میں گزر چکا ہے) بھی اسم اعظم جانتا تھا۔

بعض علماء کے بقول یہ خدا کا ایک ایسا نام ہے جو ہم سے پوشیدہ ہے۔ جبکہ بعض دوسرے علماء فرماتے ہیں "اسم اعظم" درحقیقت کوئی لفظ اور نام نہیں ہے بلکہ خدا کی صفت اور کمال ہے اور صفت اور کمال کا پر تو جو شخص اپنے وجود میں پا لیتا ہے اس کی روحانی قدرت اس حد تک جا پہنچتی ہے کہ وہ عالم فطرت اور جہاں طبعیت میں تصرف کر سکتا ہے ورنہ ایسی کوئی بات نہیں کہ ایک فاسق و فاسد شخص ایک لفظ یا کلمے کو یاد کر لے اور مستجاب الدعوت بن جائے، یا عالم فطرت میں تصرف کرنا شروع کر دے۔ (تفسیر نمونہ)

فخر الدین رازی فرماتے ہیں: "اللہ تعالیٰ کی تمام صفات دو چیزوں کی طرف پلٹتی ہیں۔

۱ ۔ خدا کی بے نیازی۔ ۲ ۔ مالوی اللہ کی خدا کی طرف نیاز مندی، (تفسیر نمونہ)

پیام:

۱ ۔ "اللہ" تمام اسمائے الہٰی محورو مرکز ہے۔( ولله الاسماء الحسنی ) ٰ)

۲ ۔ تمام نیک اور مقدس نام جو خدا کے شایان ہیں اسی کے لئے ہیں( الاسماء )

۳ ۔ "اسمائے حسنیٰ" صرف خدا ہی کے ساتھ خاص ہیں، دوسرے لوگوں کو "حسنیٰ" کی رسائی کے لئے اسی کے پاس جانا چاہئے( لله الاسماء )

۴ ۔ خدا کے کچھ نام ایسے ہیں جو دوسروں کے لئے نہیں رکھے جا سکتے مثلاً "رازق" کسی کا نام نہیں رکھا جا سکتا۔( ولله الاسماء )

۵ ۔ اپنی طرف سے خدا کا کوئی نام نہیں رکھا جا سکتا۔ مثلاً ازخود خدا کو "عفیف" یا "شجاع" یا کسی اور نام سے موسوم نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت امام علی رضا فرماتے ہیں: "ان الخالق لایوصف الابما وصف بہ نفسہ" خالق کائنات کو صرف انہی تصیف کی ہے (تفیسر فرقان)

۶ ۔ اسم، اپنے مسمی پر دلالت کرتا ہے چونکہ اس کی ذلت مقدس ہے لہٰذا اس کے نام بھی مقدس ہونے چاہئیں۔ اور خدا کو ہرنا رواصفات و اسماء سے پاک و منزہ جاننا چاہئے "سج محمد ربک ۔۔" اور "سج اسم ربک"۔

۷ ۔ دعا بھی اچھائی اور زیبائی کے ساتھ مانگی جانی چاہئے۔( الحسنیٰ- فادعوه بها )

۸ ۔ اسلام، نام پر بھی توجہ رکھتا ہے( الاسماء یلحدون فی اسمائه ) ۔۔۔)

۹ ۔ اسمائے الہٰی، اس کی نشانی کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس کے نشانات کے ذریعہ سے اس کی ذات تک رسائی حاصل کرنا چاہئے۔( فادعوه بها )

۱۰ ۔ اولیاء اللہ بھی اللہ کی آیات اور نشانیاں ہیں (روایات میں ہے حضرات ائمہ اطہار علیہم السلام فرماتے ہیں "ہم خدا کے اسمائے حسنیٰ ہیں

۱۱ ۔ ملحدین کے متعلق ردعمل ظاہر کرنا چہائے( ذرواالذین یئلحدون )

۱۲ ۔ حق کا راستہ ، فطری ہے اور تمام کمالات کی جامع ذات خدا وند ذوالجلال پر ایمان فطرت اور ضمیر کی آواز ہے۔ اور اس راہ سے انحراف، فطرت کے راستوں سے ہٹ کر راستہ ہو گا۔( یلحدون ) الحاد کا معنی انحراف اور بے راہ روی ہے۔

۱۳ ۔ خدا کا نام کسی کو دنیا بھی الحاد ہے اور دوسروں کا نام خدا کو دینا بھی الحاد اور گمراہی ہے( یلحدون فی اسمائه )

۱۴ ۔ اسمائے حسنی کے تین مصداق ہیں۔ ۱ ۔ صفات الہٰی ۲ ۔ اولیاء الہٰی اور ۳ ۔ اسمائے الہٰی۔ (از تفسیر فرقان)

۱۵ ۔ دعا اور نام رکھنا ایمان اور عمل کی علامت ہوتے ہیں۔ (م( اکانوایعملون ) یہ نہیں فرماتا: "( ما کانوایعلمون )

۱۶ ۔ غفلت کا علاج خدا کی یاد ہے، جیسا کہ اس سے گزشتہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ "ھم الغافلون" اور اس آیت میں فرمایا ہے( لله الاسماء الحسنیٰ )

آیت ۱۸۱

( وَمِمَّنْ خَلَقْنَا اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِه یَعْدِلُوْنَ )

ترجمہ:

اور جن لوگوں کو ہم نے پیدا کیا ہے ان میں سے کچھ ایسے گروہ بھی ہیں جو (دوسروں کو) حق کی ہدایت کرتے ہیں اور حق کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں۔

دو نکات:

اسی سورت کی ۱۰۹ ویں آیت میں حضرت موسیٰ کی قوم کے کچھ افراد کے لئے یہی انداز اختیار کیا گیا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ "( ومن قوم موسیٰ امة ) ۔۔"

روایات کے مطابق اس آیت میں "امت" سے مراد "امت محمد ہے جو تمام امتوں سے بہتر امت ہے۔ اور بعض اہل سنت روایات میں ہے کہ مسلمانوں کے بہتر فرقے ہوں گے جن میں سے صرف ایک فرقہ ہی نجات پائے گا۔ (تفسیر نور الثعلین منقول از تفسیر نمونہ)

پیام:

۱ ۔ حق وہدایت کے پیروکار کم ہی ہوا کرتے ہیں( وممن خلقنا امة )

۲ ۔ ہدایت اور حکومت کا محور مرکز صرف اور صرف "حق" کو ہی ہونا چاہئے۔

۳ ۔ وہی لوگ قابل قدر ہوتے ہیں جو ہدای قبول کرنے کے ساتھ ساتھ نظام حق کو وجود میں لانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں، صرف شناخت اور معرفت ہی کافی نہیں اس کی نثر و اشاعت اور اس پر عمل بھی ضروری ہے۔( به یعدلون ) یعنی "( به یحکمون ) "

آیت ۱۸۲ ۔ ۱۸۳

( وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْ رِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَاْ یَعْلَمُوْنَ وَ اُمْلِیْ لَهُمْط اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ )

ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہم بہت جلد انہیں مرحلہ وار ہاں سے اپنی گرفت میں لائیں گے جہاں کے بارے میں وہ جانتے بھی نہیں ہوں گے۔

اور میں انہیں مہلت دیتا ہوں (تاکہ ان کے ظلم کا پیمانہ پوری طرح لبریز ہو جائے) یقینا میر ی تدبیر تو محکم اور مستحکم ہوتی ہی ہے۔

چند نکات:

"استدراج" جو کہ خدائی طریقہ کاروں میں سے ایک ہے اور جس کا تعلق آیات خداوندی کی تکذیب کرنے والوں اور مفہ حال آسائش پرستوں سے ہے لفظ "درجہ" سے لیا گی اہے جس کا معنی ہے "تدریجی طور پر لپیٹنا" ( ملاحظہ ہو مفردات راغب) اور یہی صورت حال سورہ قلم / ۴۴ میں بھی بیان ہوئی ہے۔ امیر المومنین حضرت علی فرماتے ہیں: "جو لوگ مرفہ حالی اور آسودگی کی زندگی گزارتے ہیں انہیں اس طرف بھی متوجہ رہنا چاہئے کہ کہیں تدریجی لپیٹ کا شکار نہ ہو جائیں اور ان کی یہ نعشیں ان کی غفلت کا موجب نہ بن جائیں" (تفیسر نور اثقلین)

استدراج کے طور پر خدا کا کسی کو مہلت دینا، کسی کو لمبی عمر دینا اور اس طرح کی دوسری چیزیں قرآن مجید میں بارہا بیان ہو چکی ہیں۔ مثلاً زیر نظر آیات ہیں یا "( نذر هم فی غمر تهم حتی حین ) (مومنون / ۵۴) "( لایحسبن الذین کفرواانما علی لهم خیر لانفسهم انما علی لهم یزداوا اثما ) " (آل عمران / ۱۷۸) نیز یہی موضوع انعام / ۴۴ ۔ مومنون / ۵۵ توبہ / ۵۵ ۔ آل عمران / ۱۹۸ اور کہف / ۱۰۳ میں بھی متعظہ کیا جا سکتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ خدا کی طرف سے نعمتوں کا حصول امیر کی طرف سے گناہوں سے پردہ پوشی، لوگوں کا دادتحسن کے ڈونگرے برسانا ان سب باتوں کا تعلق ایسی چیز سے ہے جو انسان کے مغرور ہو جانے کا موجب اس کے سرگرم رہنے اور خدا کی طرف سے استدراج کا سبب بن سکتی ہے۔ ۵۷

۲ ۔ انسان کی پستی بعض اوقات قدم بقدم اور آہستہ آہستہ ہوتی ہے جسے وہ محسوس نہیں کر پاتا باالفاظ دیگر خدائی لاٹھی بے اوند ہوتی ہے،( سنستدر جهم من حیث لایعلمون )

۳ ۔ اللہ تعالیٰ کی اظہرمن اشمس آیات کی تکذیب تدریجی سقوط اور مخفی ہلاکت کا موجب ہوتی ہے۔ (کفربوا ۔ سنستدر جھم)

۴ ۔ لوگوں کو مہلت دینا خدائی طریقہ کار ہے جو ازل سے چلا آ رہا ہے تاکہ جو شخص جس راہ کا چاہے انتخاب کر لے اور اس راہ پر چل کر پروان چڑھے ، اور سب لوگوں کے واسطے دروازے کھلے ہوں، تاہم اس میں سرکشی کی فرصت بھی باقی رہے اور توبہ اور بازگشت کی مجال بھی موجود ہو۔

۵ ۔ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو تلخ ترش مشکلات سے دوچار کر کے انہیں متنبہ کرتا ہے اور ۴ افراد کو ان کی سرمستیوں میں مگن رہنے دیتا ہے۔ ۵۸

۶ ۔ جو لوگ تحریف کر کے توجیہ کرتے اور ہر روز نئے طاغوت کی اطاعت میں لگے رہتے ہیں وہ بھی اس استدراج کے قانون میں شامل ہیں۔ ۵۹

۷ ۔ زندگی اللہ کے ہاتھوں میں ہے۔( اُملی )

۸ ۔ ضروری نہیں ہے نعمتیں ہمیشہ خدا کے لطف و کرم کی علامات ہوں، بعض اوقات اس کے ناگہانی قہر و غضب کا موجب بھی بن سکتی ہیں۔( املی- کیدی )

۹ ۔ گناہگار لوگ خدا کے شکنجے سے بچ کر نہیں جا سکتے( املی لهم ) اور خواب غفلت میں بڑے ہوئے اشرافیہ کے افراد خدا کے مقابلے میں کمر بستہ ہوتے ہیں( کیدی )

۱۰ ۔ خداوند عالم توبہ اور گناہوں کی تلافی کی مہلت تو کافروں کو بھی دیتا ہے، لیکن وہ اس کے ایل ثابت نہیں ہوتے۔ (لھم)

۱۱ ۔ غرور وار غفلت کا خطرہ اس حد تک زیادہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلسل تین بار مختلف تعبیروں کے ساتھ اس سے آگاہ کیا ہے۔( استدراج - کیدی- املی لهم )

۱۲ ۔ اللہ تعالیٰ کا منصوبے اور اس کی تدبیریں ایسی ہیں کہ جنہیں کوء شکست نہیں دے سکتا۔( متین )

آیت ۱۸۴

( اَوَ لَمْ یَتَفَکَّرُوْا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍط اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ )

ترجمہ: آیا ان لوگوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ ان کے ساتھی (پیغمر اسلام) کو کوئی دیوانگی اور جنون نہیں ہے۔ وہ تو بس آشکارا طور پر ڈرانے والا ہے۔

ایک نکتہ:

"جنہ" کے معنی ہیں "جنون" اور اس کا اصل معنی ہے "ڈھنپنا" گویا جب کجسی پر جنون طاری ہوتاق ہے تو اس کی عقل پر پردے پڑ جاتے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ تہمت لگانا، جسارت اور گستاخی کرنا صاحبان فکر و اندیشہ کا کام نہیں ہوتا( اولم یتفکروا )

۲ ۔ پیغمبر اسلام لوگوں کا ساتھی یا باالفاظ دیگر ان کے ساتھ نشست و برخاست رکھنے ولای ہستی ہے۔ (اگر( نعوذ بالله ) دیوانے ہوتے تو یہ لوگ سالہا سال تک ان کے ہم نشین کیوں رہے؟( صاجهم )

۳ ۔ پیغمبر تو لوگوں کے ہم نشین اور دولت تھے، ان سے ہٹ کر اور کٹ کر کبھی نہیں رہے( صاحبهم )

۴ ۔ فاسد نظام میں ہمیشہ حق گو افراد کو مجنون کہاہی جاتا ہے۔

۵ ۔ تمام انبیاء کو ان کے مخالفین کی طرف سے جادو اور جنون کی تہمتوں کا سامنا ہمیشہ سے رہا ہے۔ ۶۰

۶ ۔ خطابت اور مخاطب شناسی کے فن میں یہ بات شامل ہے کہ غفلت کے شکار لوگوں کو ہمیشہ ڈرایا جاتا ہے، انہیں خوشخبری نہیں دی جاتی( ان هولانذیر )

۷ ۔ مغرور اور خواب غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کے لئے صاف صاف اور دو ٹوک بات کہنی چاہئے۔( مبین )

آیت ۱۸۵

( اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَکُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْ ءٍ وَّ اَنْ عَسٰی اَنْ یَّکُوْنَ قَدْ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ م بَعْدَه یُؤْمِنُوْنَ )

ترجمہ: آیا وہ آسمانوں اور زمین کے ملکوت (اور باطن) میں اور ہر اس چیز کے بارے میں خوب غور و فکر سے کام نہیں لیتے جسے خدا نے پیدا کیا ہے۔ (تاکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ ان تمام چیزوں کے پیدا کرنے میں یقینا کوئی مقصد کار فرما ہے اور ان کی تخلیق بے سود نہیں اور یہ کہ شاید ان کی موت نزدیک ہو چکی ہے؟ پس اس قدر روشن آیات کے بعد پھر کسی بات پر ایمان لے آئیں گے؟

ایک نکتہ:

"ملکوت" کا کلمہ "مُلک" سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں حکومت اور مالکیت اور اس آیت میں یہ کلمہ عالم ہستی پر خداوند عالم کی حکومت مطلقہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔

پیام:

۱ ۔ نگاہ کو عمیق اور تفکر کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے تاکہ وہ کسی نتیجہ پر جا پہنچے ، اس کائنات کے باطنی نظام میں توجہ اور غور و فکر اور اس کا خالق کائنات کے رابطہ کے بارے میں عمیق سوچ سے کام لینا انسان کو خدا سے جا ملاتا ہے، توحید اور نبوت کو عقل و فکر کے ساتھ سمجھنا چاہئے، کسی کی تقلید نہیں کرنی چاہئے "اولم یتفکروا" سابقہ آیت میں اور( اولم ینظروا ) اسی آیت میں۔

۲ ۔ تشریعی نظام کے بغیر، تکوینی ظام نامکمل ہے( اولم ینظروا --- فبای حدیث )

۳ ۔ توحید، نبوت کا سرچشمہ اور پشت پناہ ہے۔ اور کائنات کے نظام میں غور و فکر کرے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اس نظام کو رہبر اور قائد کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا( اولم ینظروا--- فبای حدیث )

۴ ۔ اس جہان کا ظاہر جسم کی مانند اور باطن روح کی مثل ہے( ملکوت )

۵ ۔ نظام تخلیق کائنات میں کوئی بھی ذرہ بے مقصد اور بغیر فلسفہ کے نہیں ہے( من شیءٍ )

۶ ۔ انسانوں کی بہت سی بدبختیاں اس وجہ سے ہوتی ہیں کہ وہ موت کی یاد سے غافل ہو چکے ہوتے ہیں( عسی ان یکون قد اقترب اجلهم )

۷ ۔ موت کی یاد، بہت سی ہٹ درمیوں کے خاتمہ کا سبب ہوتی ہے۔ اور لوگوں کو فرصت سے استفادہ اور مرنے سے پہلے ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے( قداقترب اجلهم )

۸ ۔ قرآن بہترین کتاب اور بہترین گفتگو ہے۔ اور اسے قبول نہ کرنے کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔( فبای حدیث بعده یوٴمنون )

آیت ۱۸۶

( مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهط وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ )

ترجمہ: جسے خداوند عالم (اس کے فق واعمال کی وجہ سے) گمراہی میں چھوڑ دے۔ اسے کوئی تقویت کرنے والا نہیں ہوتا اور انہیں ان کی سرکشی اور طغیان میں چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ سرگردان رہیں۔

پیام:

۱ ۔ جو لوگ انبیاء کرام کی تنبیہات پر کان نہیں دھرتے اور ان کے فرمودات کے بارے میں غور و فکر نہیں کرتے ان کی سزا یہ ہے کہ ہمیشہ خدائی قہر و غضب میں جکڑے رہیں اور اپنے حال میں مگن رہیں "فبای حدیث بعدہ یومنون۔۔۔" سابقہ آیت میں اور( یذرهم ) اسی آیت میں۔

۲ ۔ اضلال و ہدایت خدا کا کام ہے لیکن ان کے لئے اسباب کی فراہمی انسان کی نیت اور اس کے عمل میں مضمر ہے۔ جو اس بات کا موجب ہوتی ہے کہ انسان کا دل زنگ آلود وہ جاتا ہے اور ہدایت الہٰی اس کے شامل حال نہیں ہوتی( یضلل الله ) ۶۱

۳ ۔ طاغوت ہمیشہ ، سرگردان اور پریشان حال رہتا ہے( یعمهون )

۴ ۔ لوگوں کی سرکشی زبردستی نہیں ہوتی۔( طغیانهم )

آیت ۱۸۷

( یَسْئَلُوْنَکَ عَن السَّاعِةِ اَیَّانَ مُرْسٰهَاط قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ لَاْ یُجَلِّیْهَا لِوَ قْتِهَااِلَّا هُوَط ثَقُلَتْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط لَاْ تَاْتِیْکُمْ اِلَّا بَغْتَةًط یَسْئَلُوْنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْهَاط قُلْ اِنَّمَا عِلْمَُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَاْ یَعْلَمُوْنَ )

ترجمہ: (اے پیغمبر!) آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ ہر وقت برپا ہو گی؟ تو ااپ کہہ دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے پروردگار کے پاس اور اس کے علاوہ کوئی اور اس کے وقت کو آشکار نہیں کر سکتا۔ قیامت کا آسمانوں اور زمین میں آنا بہت ہی سنگین ہو گا، اور یہ تمہاری پاس اچانک آن پہنچے گی۔ یہ لوگ آپ سے یوں سوال کرتے ہیں گویا آپ اس کی مکمل آگاہی رکھتے ہیں، کہہ دیجئے کہ اس کا علم اور صرف خدا کے پاس ہے لیکن بہت سارے لوگ اس چیز کو نہیں جانتے۔

چند نکات:

کفار قریش نے کچھ لوگوں کو یہودی علماء کے پاس بھیجا تاکہ اسن سے چند مشکل اور پچیدہ سوالات سیکھ کر آئیں اور پیغمبر اسلام سے جا کر پوچھیں اور وہ ان مشکل سوالوں کا جواب نہیں دے پائیں گے جس کی وجہ سے وہ (نعوذباللہ) مغلوب ہو کر شکست کھا جائیں گے، ان مشکل سوالات میں سے ایک قیامت کے واقع ہونے کے وقت کی تعین کے بارے میں بھی تھا۔

"ایان" زمانے کے بارے میں سوال ہے (یاد رہے لفظ "الساعة" قیامت کے شروع کے لئے بولا جاتا ہے اور "القیاة" سزا وجزا کے لئے حساب و کتا ب کے زمانے کو کہتے ہیں۔ لزیز "مراغی

"مُرسیٰ" ثابت اور واقع ہونے کے معنی میں ہے، "جبال راسیات" محکم اور استوار پہاڑوں کو کہا جاتا ہے۔

"حفی" کے معنی ہیں ہمیشہ جستجو میں لگا رہنے والا شخص، اور پیغمبر کا "حفی" ہونا اس معنی میں ہے کہ گویا آپ نے قیامت کے بارے میں خدا سے بار بار پوچھ کر اس کی مکمل طور پر تحقیق کر لی ہے اورپوری طرح آگاہ ہو چکے ہیں۔

آسمانوں اور زمین کے قیامت کی سنگینی شاید آسمانوں کے ایک دوسرے پر گرنے مختلف کرات کے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرانے سورج کے بے نور ہو جانے اور زمین کے اورپر تلے ہو جانے وغیرہ کی صورت میں ہو گی۔

پیام:

۱ ۔ خداوند عالم کے علاوہ کوئی بھی شخص قیامت کے واقع ہونے کے وقت کو نہیں جانتا ۔( انما علمها عندربی )

۲ ۔ وقت کا نہ جاننا انسان کی تربیت اور ہمہ وقت آمادہ رہنے کے لئے بہتر ہے۔

۳ ۔ قیامت، اچانک واقع ہو گی( بغتة ) ۶۲

۴ ۔ قیامت کی گھڑی بہت ہی سخت ہو گی حتی کہ آسمانوں اور زمین تک کے لئے بھی ، اللہ جانے انسان کا کیا حال ہو گا؟( ثقلت )

۵ ۔ "میں نہیں جانتا" کہنے سے نہ گھبراؤ، اس لئے کہ اس آیت میں پیغمبر خدا کے بارے میں بھی حکم کوئی خداوندی ہے کہ وہ کہیں "میں نہیں جانتا"( قل انما علمها عندربی )

۶ ۔ قیامت کے خصوصیات اور جزئیات کو نہ جاننے سے قیامت کے اصل عقیدہ پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی بھی شخص اپنی موت کے زمانے اور مکان کو نہیں جانتا لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ اصل موت کا ہی منکر ہے۔( انما علمها عندربی )

آیت ۱۸۸

( قُلْ لَاْ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعاً وَّ لَا ضَرًّ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُط وَ لَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْءُ اِنْ اَنَا اِلَّانَذِیْرٌ وَ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُوْمِنُوْنَ )

ترجمہ: (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ میں اپنے لئے کسی نفع نقصان کا مالک نہیں ہو مگر صرف اسی کا جو خداچاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا اپنے لئے بہت سے فوائد اکٹھے کر لیتا اور مجھے کبھی بھی کوئی نقصان نہ پہنچتا ۔ میں تو صرف لانے والوں کے لئے ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں،

پیام:

۱ ۔ کسی کا خبر کا خدا پر ایمان س قدر زیادہ ہو گا، خدا کی قدرت کے آگے اسی قدر اس کا سر زیادہ جھکا ہو گا، اور اپنے بارے میں اسی قدر زیادہ عجز و نیاز کا اظہار کرے گا( لااملک لنفسی ) ۔۔۔)

۲ ۔ ہر قسم کا نفع و نقصان خداوند عالم کے منشاء اور ارادے کے تحت ہی ہوتا ہے۔( الاماشاء الله )

۳ ۔ پیغمبر خدا اپنی طر ف سے اور اپنی نجی زندگی کے بارے میں غیب نہیں جانتے اگر غیب نہیں جانتے، اگر غیب کی خبریں انہیں عطا کی گئی ہیں تو وہ بھی پیغمبر خدا ہونے کے ناطے، اور وہ بھی خداوند متعال بھی ہی کی طرف سے۔( لوکنت ) ۔۔)

۴ ۔ پیغمبر عالیقدر ویسے تو تمام عالم انسانیت کے لئے بشیر و نذیر میں لیکن اس سے فائدہ صرف مومنین ہی حاصل کرتے ہیں( بشیر و نذیر لقوم یوٴمنون )

آیت ۱۸۹

( هُوَالَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ َنفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْکُنَ اِلَیْهَا فَلَمَّا تَغَشّٰهَا حُمِلَتْ حَمْلاً خَفِیْفاً فَمَرَّتْ بِه فَلَمَّا اَثْقَلَتْ دَعَوُا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحاً لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ )

ترجمہ: وہ وہی (خدا) ہے جس نے تمہیں ایک قفس جان سے پیدا کیا ہے اور اس کی زوجہ کو بھی اسی کی جنس سے قرار دیا تاکہ اس سے اسے سکون حاصل ہو۔ پس جب مرد اپنی بیوی کو آغوش میں ڈھانپ لیتا ہے (اور اس سے جنسی آمیزش کرتا ہے) تو عورت ہلکا بوجھ اٹھا لیتی ہے (اور حاملہ ہو جاتی ہے) اور ایک عرصے تک اسے اپنے ساتھ لئے پھرتی ہے، پس جب اس سے بوجھل ہو جاتی ہے تو زن و مرد دنوں خدا سے جو ان کا پروردگار ہے دعا کرتے ہیں (اور اس سے عہد کرتے ہیں) کہ اگر تو ہمیں نیک فرزند عطا فرمائے گا تو ہم شکر کرنے والوں میں سے ہوں گے۔

پیام:

۱ ۔ زن و مرد کا جوہر وجودی ایک ہی ہے۔( جعل منهازوجها )

۲ ۔ ازدواج یا شادی روح اور زندگی کے آرام و سکون کا موجب ہوتی ہے اور ازدواجی روحانی بے چینی کا سبب ہوتی ہے( یسکن الیها )

۳ ۔ زندگی انس و الفت کی بنیادوں پرت استوار ہے اختلاف اور انتشار ہر نہیں( یسکن الیها )

۴ ۔ جنسی مسائل کے بارے میں کنایہ کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔( تغشٰها )

۶ ۔ جنسی ملاپ صرف لذات اور شہوت کی تسکین کے لئے نہیں بلکہ نیک بلکہ نیک اور صالح نسل کی بقا اور دوم کے لئے ہوتا ہے۔( صالحا )

۷ ۔ انسان فطری طور پر اولادچ اور بقا کی طرف مائل ہوتا ہے۔( آتیتنا )

۸ ۔ جب تک انسان کابوجھ سنگین نہ ہو جائے اس وقت تک متوجہ نہیں ہوتا۔( فلما القلت دعوا ) ۔۔)

۹ ۔ مشکلات خدا کی طرف توجہ کا ذرعیہ اور روحانی اور معنوں کیفیت کے پیدا ہونے کا سبب ہوتی ہیں۔ حاملہ عورتیں چونکہ تقدیر الہی سے بے خبر اور اضطرابی کیفیت سے دو چارہوتی ہیں لہذا ان کی اس کیفیت سے فائدہ اٹھا کر انہیں موعظہ اور نصیحت کی جا سکتی ہے۔ (از کتاب روانشناسی تبلیغی)

۱۰ ۔ انسان کی نفسیاتی کیفیت یہ ہے کہ وہ مجبوری کے وقت ہر طرح کا قول قرار دینے کے لئے تیار ہوتا ہے لیکن عام معمول کی حالت اور رفاہ وآسائش میں بے وفائی پر اُتر آتا ہے( لنکونن--- )

۱۱ ۔ فطری طور پر انسان صلاح و بہتری کا خواہاں ہوتا ہے فساد اور بے پرواہی کا نہیں۔ اسی لئے تو کہا ہے( صالحا ) اور "ولدا"نہیں کیا۔

۱۲ ۔ والدین اپنی اولاد کے انجام میں خود کو شریک سمجھتے ہیں( دعوا )

۱۳ ۔ شکم میں پروان چڑھنے والے بچے کسی نشوونما تدریجی ہوتی ہے تا کہ عورت میں اس کے اٹھانے کی آمادگی پائی جائے۔( خفیا، )

۱۴ ۔ اولاد کوخدا کا عطیہ سمجھو، اس میں اپنا کمال یا کسی اور کا عمل دخل نہ سمجھو۔( آتیتنا )

آیت۱۹۰، ۱۹۱

( فَلَمَّا اَتٰی هُمَا صَالِحاً جَعَلاً لَّه شُرَکَآءَ فِیْمَا اَتٰی هُمَا فَتَعٰلٰی اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ اَیُشْرِکُوْنَ مَا لَایَخْلُقُوْ شَیْئاً وَ هُمْ یَخْلُقُوْنَ )

ترجمہ۔ پس جونہی خد ا نے انہیں صالح فرزند عطا فرمایا تو وہ اس چیز میں خدا کا شریک ٹھہرانے لگے جو لطیف اور اولاد جیسی نعمت خدا نے انہیں عطا فرمائی تھی۔ یقینا اللہ تعالیٰ اس چیز سے بلند اور بالا تر ہے جس کو وہ خدا کا شریک جانتے ہیں۔

آیا وہ ان چیزوں کو خدا کا شریک جانتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کر سکتیں اور خود مخلوق ہیں؟!!

پیام

۱ ۔ اولاد کا تعلق ماں اور باپ دونوں سے ہوتا ہے( آتاهما )

۲ ۔ اللہ تعالیٰ تو نیک ‘صالح اور شائستہ اولاد ہمیں عطا فرماتا ہے یہ ہم ہوتے ہیں جو ان کی کجروی‘گمراہی اور بے لا پرواہی کا موجب بنتے ہیں( آتا هما صالحا )

۳ ۔ خدائی امانت کو دوسروں کے سپرد کرنا خیانت ہے۔( جعلاله شرکاء )

۴ ۔ انسان بہت جلد اپنے وعدے بھول جاتا ہے( جعلاله شرکاء )

۵ ۔ نا شکری ہو گی کہ انسان ایک چیز کسی سے لے اور کسی دوسرے کو دیدے ، یا اس کی مرضی کے خلاف اسے مصرف میں لے آئے۔( شرکاء فیما آتاهما )

۶ ۔ اولاد خُدا کا عطیہ ہے اسے کسی اور شخص ،چیزیا عمل کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ مشکل وقیافے، ماں باپ کی غذا، معالج یا علاج اور اسپتال وغیرہ کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ ایسا سمجھنا شرک ہے( شرکاء )

۷ ۔ بعض اوقات اولاد جیسی نعمت ، والدین کے لئے غفلت کا سبب بن جاتی ہے( فلما آتا هما--- )

۸ ۔ معبود ہونے کے سب سے اولین شرط اس کاتخلیق پر قدرت کا ملہ رکھنا ہے، تعجب کی بات ہے کہ آج کے ترقی یافتہ اور علم وصنعت کے دور میں بھی لاکھوں کروڑوں افراد بت پرستی کرتے ہیں( ایشرکون مالا یخلق ) ۶۳

قرآن مجید کا یہ خطاب ہر دور کے لوگوں کے لئے ہے۔

آیت۱۹۲۔ ۱۹۳

( وَلَاْ یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْراً وَلَا اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلٰی الْهُدٰی لَا یَتْبَعُوْکُمْط سَوَآءٌ عَلَیْکُمْ اَدْعَوْتُمُوْ هُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ )

ترجمہ۔ اور (ان کے یہ معبود)ان لوگوں کی مدد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، حتی کہ وہ تو اپنی نصرت و حمایت بھی نہیں کر سکتے۔

اور اگر تم ان(معبودوں)کو ہدایت کے لئے بلاؤ تو وہ تمہاری التجا نہیں کریں گے تمہارے لئے برابر ہے کہ تم انہیں بلاؤ یا خاموش رہو۔ ۶۴

ایک نکتہ

ہو سکتا ہے کہ"( وان تدعو هم الی الهدی ) "کا ایک معنی یہ بھی ہو کہ اگرتم ان سے یہ درخواست کرو کہ ہو تمہاری رہنمائی کریں تو وہ اس کا جواب تک نہیں دیں گے۔

پیام

۱ ۔ جومعبود نہ تو دوسروں کی امداد کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنا دفاع کر سکتے ہیں پھر ان کی پرستش کیسی؟( ولا یستطیعون--- )


آیت ۱۹۴

( اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنَ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ )

ترجمہ۔ یقینا جن لوگوں کو تم پکارتے (اور جن کی تم عبادت کرتے )ہو وہ تمہارے ہی جیسے بندے ہیں۔ (جو زبان و مکان وغیرہ میں محدود ہیں)پس تم انہیں پکارو، اگر تم سچے ہو تو وہ تمہیں جواب دیں۔

ایک نکتہ

"عباد" سے مراد ممکن ہے ، وہ انسان ہوں جنہیں یہ لوگ خدا سمجھتے ہیں جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، یا فرشتے مراد ہوں، یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ بت مراد ہوں جنہیں بت پرست"الہٰ"سمجھتے ہیں۔

پیام

۱ ۔ پرستش اور پوجا پاٹ کیلئے دلیل اور کسی خاص امتیاز کی ضرورت ہوتی اور مخلوق یا اپنے جیسے انسانوں کی بندگی کے لئے نہ تو کوئی دلیل ہے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا امتیاز حاصل ہے( عباد ) ۶۵

۲ ۔ "معبودوں"کی خاموشی ان کے عاجزا اور بے وقعت ہونے کی دلیل ہے( فلیستجیبوا )

۳ ۔ "معبود"کاکام ہوتا ہے کہ اپنے"عبد" کی ذہنی نشوونما کرے اور اسے پروان چڑھائے تا کہ اسے ساکت وجامذ اور موقوف کر دے۔( فلیستجیبوا )

آیت ۱۹۵

( اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَمْشُوْنَ بِهَا اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَا اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٍ یُّبْصِرُوْنَ بِهَا اَمْ لَهُمْ اَذَانٌ یَسْمَعُوْنَ بِهَاط قُلْ اَدْعُوْا شُرَکَآءَ کُمْ ثُمَّ کِیْدُوْنَ فَلَا تَنْظُرُوْنَ )

ترجمہ۔ آیا ان (معبودُوں) کے لئے پاؤں ہیں جن کے ساتھ وہ چل سکیں، یا ہاتھ ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنا زور دکھا سکیں، یا آنکھیں ہیں جن کے ذریعہ وہ دیکھ سکیں، یا کان ہیں جن کے ذریعہ وہ سن سکیں؟(تو اے پیغمبر!) کہہ دو کہ تم اپنے شریکوں کو بلاؤ پھر میرے خلاف نقشے بناؤ اور مجھے کوئی مہلت بھی نہ دو!

دو نکات

"( یبطشون ) "کا لفظ "بطش"سے لیا گیا ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو پوری قوت اور زور سے پکڑنا۔

اس آیت میں ان مشرکین کو جھنجھوڑا گیا ہے جو خدا کیلئے ایسے شریک ٹھہراتے ہیں جو ان سے بھی زیادہ عاجز اور لا چار ہیں، کیونکہ یہ مشرکین تو اپنے پاؤں سے چل بھی سکتے ہیں، ہاتھوں سے پکڑا سکتے ہیں آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، کانوں سے سن سکتے ہیں جب کہ وہ بے روح مجسمے ایسی تمام باتوں سے محروم ہیں۔ اگر ان سے درخواست کی جائے کہ فلاں کام کر دیں تو وہ ایسا کرنے سے عاجز ہیں، تو پھر ان کی یہ بت پرستش اور عبادت کیسی؟

پیام

۱ ۔ خدائی رہبر میں اس قدر جرات اور قدرت ہونی چاہئے کہ پورے اطمینان کے ساتھ مخالف طاقتوں کے للکار سکے اور اس میں چیلنج کی وہ طاقت ہونی چاہئے کہ باطل اور طاغوتی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کہہ سکے "تمہارے جو بھی خطرناک"ناپاک اور گھناوے منصوبے ہیں انہیں بے شک عملی پا جامہ پہناؤ، میرا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے، تا کہ اس طرح سے ان کا عجز اور ناتوانی ثابت ہو جائے( قل ادعوا--- )

۲ ۔ جن کے ہاتھ اور پاؤں ہیں وہ تو مشرکین کی امداد نہیں کر سکتے اب بے چاری بے دست و پا چیزوں کی کیا مجال کہ ان کی کوئی مدد کر سکیں!

۳ ۔ مشرکین کی عقلیں بھی عجیب ہیں، کسی پیغمبر کی بات کو اس لئے ماننے کے لئے تیار نہیں کہ کہتے ہیں"یہ تو ہمارے جیسے بشر ہیں!"لیکن بتوں کے آگے سر جھکائے ہوئے ہیں اُن جیسے تو کیا ان سے بھی کم ترین ہیں۔

۴ ۔ تبلیغ و مناظرے کا یہ شیوہ بہترین ہے کہ سوال بھی ہو، تنفید بھی ہو، دباؤ بھی ہو پھر ساتھ ہی للکار اور چیلنج بھی! (اس آیت کے اور اس سے پہلی آیات کے پیش نظر)

آیت ۱۹۶

( اِنَّ وَلِیَّ اللّٰهِ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتٰبَ ---- وَ هُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیْنَ )

ترجمہ۔ٍ میرا ولی اور سر پرست یقینا وہ اللہ ہے جس نے(اس آسمانی) کتاب کو نازل کیا ہے اور وہ تمام صالح لوگوں کی ولایت ، سر پرستی (اور مخصوص ہدایت) کرتا ہے۔

ایک نکتہ

اس سے پہلی آیات میں باطل معبودوں کی ناتوانی اور عاجزی کا تذکرہ تھا اور اس آیت معبود برحق کا تعارف کرایا جا رہا ہے۔

پیام

۱ ۔ اللہ اور مومن انسان کا باہمی رابطہ بہت ہی قریبی ہے( ولیّ )

۲ ۔ آسمانی کتاب کا نزول ، ولایت الہٰی کا ایک پر تو ہے( ولی- نزل )

۳ ۔ معبود حقیقی تو وہ ہوتا ہے جو منصوبے اور پروگرام بھی بھیجتا ہے (نزل الکتاب)اور ان کے اجراء اور نفاذ ہیں اس راہ پر چلنے والوں کی سر پرستی بھی کرتا ہے( یتولی الصالحین ) ۔ یعنی جہاں سے قانون بن کر آتا ہے ا سے نفاذ کے لئے قانون کا اجرا کرانے والوں کی حمایت اور سر پرستی بھی ہونی چاہئے( نزل- یتولی )

۴ ۔ تنہائی سے نہیں گھبرانا چاہئے، اس لئے کہ خداوندعالم صالحین کا ولی وسرپرست ہے۔ اور امداد کا وعدہ کیا ہوا ہے (یتولی الصالحین۔ ولیی)

۵ ۔ متقی اور صالح افراد کو کبھی اور کسی مقام پررکاوٹ پیش نہیں آتی( یتولی الصالحین ) ۶۶

۶ ۔ خدا کی ولایت اپنے اولیاء کے ساتھ دائمی ہوتی ہے( یتولی )

۷ ۔ انسانوں کی مشکل یہ ہے کہ تو ان کے پاس کوئی ٹھوس پروگرام نہیں ہوتا یا پھر اس کے ساتھ انہیں دلچسپی نہیں ہوتی ، جبکہ مومن کے لئے مذکورہ دونوں مشکلات میں سے کوئی بھی مشکل نہیں ہوتی( نزل الکتاب- یتولی الصالحین )

۸ ۔ فاسق لوگ اللہ تعالیٰ کی حمایت اور امداد کے مدار سے باہر ہیں( صالحین )

آیت ۱۹۷ ۔ ۱۹۸

( وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِه لَاْ یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصَرَ کُمْ وَلَا اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلٰی الْهُدٰی لَا یَسْمَعُوْاط وَ تَرٰهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ وَهُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ )

ترجمہ۔ اور تم لوگ خد اکے علاوہ دوسرے جن لوگوں کو پکارتے اور ان کی عبادت کرتے ہو نہ وہ تمہاری امداد کر سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔

اور اگر تم ان(بت پرستوں یا بتوں) کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ نہیں سن پاتے اور اگر تم انہیں دیکھو تو(معلوم ہو گا کہ)وہ تمہاری طرف نگاہ کر رہے ہیں حالانکہ وہ نہیں دیکھ رہے ہوتے(اس لئے کہ ان میں بصیرت نہیں ہوتی)۔

(بتوں اور بت پرستوں کی نگاہیں،مصنوعی آنکھوں سے ہوتی ہیں گویا وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان کی نگاہیں ہر طرح کے غور اور شعور سے خالی ہوتی ہیں)۔

پیام

۱ ۔ شعور، ارادے اور قدرت سے عاری معبود، کبھی لائق عبادت نہیں ہوا کرتے۔( لا یستطیعون- لایسمعوا،لا یبصرون ) گذشتہ تمام آیات سے مجموعی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معبود ،مدبراور رب کو:

الف: خالق اور مالک ہونا چاہئے:"( ایشرکون مالا یخلق وهم یخلقون ) "

ب: تاجر اورمددگار ہونا چاہئے:( لا یستطیعون نصرکم )

ج: حاجات اور دعاؤں کو سننااور قبول کرنا چاہئے:"( سواء علیکم ادعوتموهم ) "

د: قادر اور توانا ہونا چاہئے:( ام لهم ایدیبطشون بها--- ) ،

ھ: سمیع اور بصیر(سننے اور دیکھنے وال) ہونا چاہئے:( ام لهم اذان یسمعون بها ام لهم المین یبصرون بها ) ،،

و: دشمنوں کی چالوں کو ناکام بنانے والا ہونا چاہئے:( ادعوا شرکائکم ثم کیدون ) ،،

ز: کتاب اور قانون دینے والا ہونا چاہئے:"( نزل الکتٰب ) ،،

ح: نیک اور صالح افراد کو اپنی مخصوص ولایت عطا کرنے والا ہونا چاہئے:"( یتولی صالحین ) "

آیت ۱۹۹

( خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ )

ترجمہ۔ (لوگوں کے ساتھ) عفو و درگزر سے کام لو (ان کے ساتھ آسانی برتو اور میانہ روی کا سلوک کرو) نیک کاموں کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو۔

چند نکات

"عفو" کے معنی ہیں متوسط اور درمیانی حد، خطاکار کے عذر کو قبول کرکے اسے معاف کر دینا، کاموں میں سختی سے کام نہ لینا، اور اضافی مقدار وغیرہ۔ لیکن اس آیت میں بظاہر پہلا معنی مراد ہے۔

یہ آیت اختصار اور سادگی کے باوجود تمام اخلاقی کی جامع ہے۔ مثلاً ا : انفرادی جیسے "عفو" ب: اجتماعی جیسے "امر" ج: دوستوں کے ساتھ جیسے "عفو" د: دشمنوں کے ساتھ جیسے : "جاھلین" ھ: زبانی جیسے: "امر" و: عملی جیسے: "اعرض" ز: مثبت جیسے: "خذ" ح: منفی جیسے: "اعرض" ط: رہبر کے لئے بھی ی: امت کے واسطے بھی۔ ک: گزشتہ زمانے کے لئے بھی۔ ل: موجودہ اور آئندہ دور کے لئے بھی۔۶۷

جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرائیل سے اس کی وضاحت طلب کی تو جبرائیل بار دیگر یہ پیغام لے کر آئے: "تعفوا عمن ظلمک، تعطلی من حرمک و تصل من قطعک" جس نے تم پر ظلم کیا ہے اسے معاف کر دو، جس نے تمہیں محروم کر دیا ہے اسے عطا کرو اور جو تم سے تعلقات توڑ چکا ہے اس سے اپنے ناتے بحال کرو۔

پیام

۱ ۔ ہمیشہ اور ہر ایک کے ساتھ عفو و درگزر کے ساتھ کام لینا اور خاطر و مدارات سے کام لینا چاہئے (خذ) اس کا معنی ہے ہمیشہ اور ہر وقت عمل کرنا۔

۲ ۔ طاقت کے مطابق ہی فریضہ کی ادائیگی کا حکم ہونا چاہئے( خذا العفو )

۳ ۔ دین کی بنیاد آٰسانی اور نرمی پر ہے تنگی اور سختی پر نہیں( خذ العفو )

۴ ۔ ذاتی اور نجی معاملات میں بھی عفو و درگز سے کام لینا چاہئے( خذالعفو )

۵ ۔ صرف خود کو اچھا بنانا یا خود اچھا بننا کافی نہیں معاشرے میں بھی نیکیوں کو فروغ دینا اور ان کا حکم دینا بھی ضروری ہے( وامر بالمعروف )

۶ ۔ آیت کے مخاطب صرف سرکار سرور دو عالم ہی نہیں بلکہ ہر مسلمان، ہر مبلغ اور ہر مصلح کو معاشرے میں ضدی مزاج اور ہٹ دھرم، جاہل اور یاوہ گو لوگوں کے ساتھ روگردانی والی حکمت عملی اپنانی چاہئے، اگر وہ توہین کریں یا تہمتیں لگائیں تو چشم پوشی اور صبر سے کام لینا چاہئے، ان سے الجھنا اور لڑنا جھگڑنا نہیں چاہئے( اعرض--- )

۷ ۔ جہاں نیکیوں کا حکم دینا چاہئے وہاں پر یہ حکم بھی اچھے اور معروف انداز میں دینا چاہئے( وامر بالعرف )

۸ ۔ جاہلوں سے مراد بے عقل لوگ ہیں نا کہ ان پڑھ افراد (جہل، عقل کے مقابلے میں ہے نا کہ علم کے مقابلے میں)۶۸

۹ ۔ جاہلوں سے میل ملاقات یا عفو و درگزر کے موقع پر ان کی مرضی یا خواہشات کے مطابق عمل نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی ان کی طرف توجہ کرنی چاہئے کیونکہ یہ قرین مصلحت نہیں ہے، بلکہ ان سے روگردانی کر لینی چاہئے( اعرض عن الجاهلین )

۱۰ ۔ یہ ساری کی ساری سورت مختلف تعبیرات کے ساتھ اعتدال پسندی کی دعوت دے رہی ہے، مثلاً حقوق میں اعتدال کی: جیسے آیت ۲۹ ۔ خرچ اخراجات میں اعتدال کی جیسے: آیت ۳۱ ۔ زینت میں اعتدال کی جیسے: آیت ۳۲ ۔ عبارت میں اعتدال کی جیسے: آیت ۵۶ ۔ مکان بنانے میں اعتدال کی جیسے آیت ۷۳ ۔ اقتاصد میں اعتدال کی جیسے: آیت ۸۵ ۔ حضرت موسیٰ کی امت کو حق و عدل کا حکم ملا اسی طرح حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو حق و عدل اپنانے کا حکم ہوا۔ جیسے آیت ۱۵۷ ۔ امت موسیٰ کے بارے میں اور آیت ۱۸۱ امت پیغمبر اسلام کے بارے میں ("( یهدون بالحق و به یعدلون )

آیت ۲۰۰

( وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِط اِنَّه سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ )

ترجمہ۔ اور اگر تمہیں شیطان (اور شیطان صفت لوگوں) سے کوئی وسوسہ دامن گیر ہو تو تم خدا کی پناہ طلب کرو، کیونکہ وہ یقینی طور پر سننے اور جاننے والا ہے۔

دو نکات

"نزع" کا معنی ہے کسی کام میں فساد پیدا کرنے اور گڑبڑ پھیلانے کی غرض سے شامل ہونا۔ (تفسیر المیزان۔ تفسیر نمونہ)

اسی سورت کی آیت ۱۶ سے ۲۷ تک شیطانی کے آدم کو وسوسے ڈالنے کا تذکرہ ہے۔ اور سورت کے آخر میں بھی شیطانی وسوسوں سے خبردار رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اس سے پہلی آیت میں جاہل لوگوں سے روگردانی اختیار کر لینے کی دعوت دی گئی تھی، جس پر رسول خدا نے جبرائیل سے دریافت کیا: "غصے کے عالم میں اس پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے؟ تو اس کے جواب میں یہی آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر نمونہ۔ و۔ تفسیر المنار)

پیام

۱ ۔ اگرچہ انبیاء کرام علیہم اسلام معصوم ہیں، لیکن شیطان ان کے لئے بھی وسوسے ڈالنے سے نہیں چوکتے۔۶۹ (اور انبیاء علیہم اسلام کی عظمت بھی اسی میں ہے کہ بشری ضروریات، شیطانی اور وسوسوں کے باوجود پاک و پاکیزہ، معصوم، متقی اور ہر طرح کے گناہ سے دور ہیں۔( ینزعنک )

۲ ۔ تمام انبیاء معصوم ہیں، اور ان کی عصمت کا ایک راستہ یہی خدا سے امداد طلب کرنا، اس کی طرف متوجہ رہنا اور اسی سے پناہ مانگنا ہے( فاستعذ )

۳ ۔ گناہ یا وسوسے کا فرض کر لینا اس کے واقع ہونے پر دلالت نہیں کرتا، صرف متوجہ اور خبردار کرنا مقصود ہوتا ہے۔ "اما" کا لفظ شرط کے سانچے میں ہے ثبوت اور وقوع کی صورت میں نہیں۔۷۰

۴ ۔ خداوند عالم سے مددخواہی اور پناہ طلبی شیطانی وسوسوں کا بہترین علاج ہے، (فاستعذ)۷۱

۵ ۔ انبیاء کو بھی خدا کی امداد اور پناہ کی ضرورت ہوتی ہے( فاستعذ )

۶ ۔ اولیاء اللہ کے لئے شیطانی وسوسہ جزوی صورت میں ہوتا ہے( نزغ )

۷ ۔ شیطانی وسوسہ حتمی ہوتا ہے( ینز غنک ) نون تاکید ثقیلہ کے ساتھ۔

۸ ۔ شیطانی وسوسے دائمی اور ہمیشہ کے لئے ہوتے ہیں( ینز غنک ) فعل مضارع کی صورت میں،

۹ ۔ خطرے کے وقت خصوصی ہوشیاری اور زیر کی درکار ہوتی ہے(( فاستعذ )

۱۰ ۔ چونکہ شیطانی وسوسے مختلف انداز اور مختلف صورتوں میں ہوتے ہیں لہٰذا پناہ بھی "اللہ" ہی سے طلب کرنا چاہئے جو کمال کی تمام صفات کا جامع ہے (باللہ) فرمایا ہے "بالغنی" یا "بالعلیم" یا کسی اور صفت کو بیان نہیں فرمایا۔

۱۱ ۔ اس خدا سے پناہ طلب کرنا چاہئے جو سننا بھی ہے اور جاننا بھی اور ہر ظاہری اور باطنی مسئلے سے آگاہ ہے لہٰذا بتوں یا کسی اور خرافات کی پناہ بے سود ہے( سمیع علیم )

آیت ۲۰۱ ۔ ۲۰۲

( اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقُوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُبْصِرُوْنَ وَ اِخْوَانُهُمْ یَمَدُّوْنَهُمْ فِیْ الْغَیِّ ثُمَّ لَایَقْصُرُوْنَ )

ترجمہ۔ یقیناً جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے، جب شیطان کی طرف سے کوئی چکر لگانے والا انہیں مل جاتا ہے تو وہ فوراً (خدا اور اس کی سزا و جزا کی طرف)متوجہ ہو جاتے ہیں اور بینا ہو جاتے ہیں (اور انہیں بصیرت مل جاتی ہے)

اور ان کے (شیطان صفت گمراہ کن) بھائی انہیں گمراہی کی طرف کھینچ کر لے جانے میں مصروف رہتے ہیں اور پھر وہ اس بارے کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔

پیام

۱ ۔ شیطان، مومن اور متقی افراد کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں( اتقوا )

۲ ۔ شیاطین ہمیشہ اپنی مشقوں میں لگے رہتے ہیں اور مسلسل چکر لگاتے رہتے ہیں اور ان کے لئے تختہ مشق اور چکروں کا محور ہمیشہ انسان ہی ہوا کرتے ہیں۔( طائف )

۳ ۔ شیطانی اور نفسانی وسوسے جراثیموں کی مانند ہر جگہ گھومتے رہتے ہیں۔ اور کمزور جسم و جان اور ضعیف الاعتقاد و الایمان لوگوں کے تو پیچھے ہوتے ہیں( طائف من الشیطان )

۴ ۔ شیطانی وسوسے کئی طرح کے ہوتے ہیں۔ کبھی تو دور سے ہوتے ہیں جیسے "( وسوس الیه ) " (طٰہ ۱۲۰) کبھی جان و دل میں نفوذ پیدا کرکے جیسے "( فی صدور الناس ) " (والناس/ ۵) کبھی ہم نشینی کی صورت میں جیسے "فھو لہ قرین" (زخرف/ ۳۶) اور کبھی چکر لگنے اور گھومنے کی صور تمیں جیسے "( مسهم ) " (یہی آیت)

۵ ۔ علماء، مصلحین اور تربیت کنندگان کو خاص طور پر ہوشیار اور خبردار رہنا چاہئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مشکوک اور مجہول الحال لوگوں کے ساتھ تعلقات قائم کرکے دشمن کی چالوں اور ان کے جالوں میں نہ پھنس جائیں۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو خاص طور پر خدا کی پناہ طلب کرنا چاہئے( اذا منهم…تذکروا )

۶ ۔ خدا کی یاد انسان کو بصیرت عطا کرتی ہے اور وسوسوں سے محفوظ رکھتی ہے۔( تذکروا…مبصرون )

۷ ۔ شیطان کے شکنجوں میں جکڑا ہوا انسان دل کا اندھا ہوتا ہے اور ابلیس کے دام سے محفوظ لوگ بابصیرت ہوتے ہیں (مبصرون)

۸ ۔ اگر معاشرہ اخلاقی، سیاسی، اقتصادی اور عسکری اعتبار سے پاک اور متقی ہو تو شیطان صفت لوگوں کی اس معاشرے میں آمد و رفت اور میل جول معاشرہ کے افراد پر کوئی اثر نہیں کر سکتی( تذکروا- مبصرون )

۹ ۔ متقی لوگ، شیطان شناس اور آگاہ و باخبر ہوتے ہیں۔( اتقوا- تذکروا )

۱۰ ۔ اگر تقویٰ اور یاد خدا نہ ہو تو شیطان انسانوں کے بھائی بند بن جائیں اور انسانوں پر ان کی گرفت آسان اور موثر ہو جائے( اخوانهم )

۱۱ ۔ انحراف اور گمراہی کی راہیں بے انتہا اور لامحدد ہیں( یمدونهم فی الغی )

۱۲ ۔ اللہ تعالیٰ صالح اور متقی افراد کو اپنی ولایت کے سایہ میں لے لیتا ہے لیکن غیر متقی اور بے ایمان لوگ شیطانی اخوت کے جال میں پھنس جاتے ہیں( اخوانهم )

۱۳ ۔ گمراہ کرنے میں شیطان، کسی پر رحم نہیں کرتا۔( لایقصرون )

آیت ۲۰۳

( وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیٰةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَاط قُلْ اِنَّمَا اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰی اِلٰی مِنْ رَبِّیْ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّکُمْ وَ هُدیً وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّوْمِنُوْنَ )

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر!) جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہیں لاتے (اور وحی کی تاخیر کی وجہ سے، چند روز کے لئے تلاوت کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے) تو وہ کہتے ہیں: کسی آیت کو کیوں منتخب نہیں کیا؟

(تلاوت یا آیت کی کوئی بات نہیں ہوئی) تو تم کہہ دو کہ میں تو صرف اس چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر وحی ہوتی ہے۔ یہ (قرآن) بصیرتوں کا مجموعہ ہے جو تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

ایک نکتہ

"اجتباء" کا لفظ "جبایت" سے لیا گیا ہے جس کا اصل معنی ہے "حوض میں پانی کا جمع کرنا" اور حوض کو "جابیہ" کہا جاتا ہے۔ خراج اور مالیات کی جمع آوری کو بھی جبایت کہتے ہیں۔ پھر اس کا استعمال ہر طرح کی برگزیدہ چیزوں پر ہونے لگا، اور اس کے "اجتباء" کا انتخاب نہیں کہ اسے پڑھے؟ "اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آیت کا معنی یوں ہو کہ: "جس معجزے کا ہم نے تم سے مطالبہ کیا تھا اس کا انتخاب نہیں کیا اور دوسرا معجزہ لے آؤ ہو اور ہمارے سلیقے کے مطابق عمل کیوں نہیں کیا؟"

پیام

۱ ۔ کفار، بہانے جو لوگ ہوتے ہیں۔

۲ ۔ کفار، قرآنی آیات کو پیغمبر خدا کے برگزیدہ مطالب سمجھتے تھے وحی الٰہی کے طور پر نہیں مانتے تھے( لولا اجبیتها )

۳ ۔ الٰہی رہبر کا فرض بنتا ہے کہ لوگوں کے حیلوں بہانوں اور ان کے ناجائز مطالبات کے آگے سر تسلیم خم نہ کر دے بلکہ اپنے موقف کو ڈٹ کر اور صاف صاف واضح کر دے( قل انما اتبع )

۴ ۔ ضروری نہیں ہے کہ مبلغ ہر روز ہی تبلیغی کام سرانجام دے، شاید بعض اوقات سکوت بھی تبلیغی کام کی ایک صورت شمار ہوتی ہو۔( لم تاتهم بایه )

۵ ۔ پیغمبر گرامی صرف اور صرف وحی کے سرچشمہ سے ہی اپنی راہیں متعین کرتے اور احکام لیتے ہیں۔( انما اتبع ما یوحیٰ الی )

۶ ۔ وحی، پیغمبر اور امت دونوں کے لئے تربیت کا ذریعہ ہوتی ہے( ربي- ربکم )

۷ ۔ ارشاد اور ہدایت و رہنمائی بصیرت کی بنیادوں پر ہونی چاہئے۔( بصأر- هدی )

۸ ۔ قرآن مجید ایک طرف تو فکری بصیرت اور معرفت کی کتاب ہے دوسری طرف ہدایت اور عملی حرکت کے لئے رہنما بھی ہے۔ اور اس کی اتباع و پیروی کا نتیجہ بھی دونوں جہانوں میں رحمت اور برکت ہی ہوتا ہے۔

۹ ۔ قرآن اگرچہ عمومی طور پر اور ہر ایک کے لئے کتاب ہدایت ہے، لیکن اس سے فائدہ صرف صاحبانِ ایمان ہی اٹھاتے ہیں۔ اور دل کے اندھے بصیرت سے بھی محروم ہوتے ہیں اور ہدایت الٰہی سے بھی دور ہوتے ہیں۔ اورنتیجہ اس کی رحمت سے بھی محروم ہوتے ہیں،( هدی، رحمة ، قوم یوٴمنون )

سورہ اعراف آیت ۲۰۴

( وَ اِذَا قُرِیَ الْقُرْآنَ فَاسْتَمَعُوْا لَه وَا نْصُتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ )

ترجمہ۔ اور جب بھی قرآن پڑھا جائے تو تم اسے غور سے سنو اور خاموش ہو جاؤ تاکہ اسے سن سکو، شاید کہ خدا کی رحمت تمہارے شامل حال ہو جائے۔

چند نکات

فقہاء کرام سکوت کو مطلقاً واجب نہیں سمجھتے صرف نماز میں واجب جانتے ہیں، یہ آیت اس بات کی تاکید کر رہی ہے کہ جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو ادب کے طور پر خاموش ہو جاؤ اور اسے سنو۔

حضرت علی علیہ السلام نماز پڑھ رہے تھے تو ساتھ ہی ایک منافق بارہا قرآن کو بلند آواز سے پڑھنے لگا۔ حضرت خاموش ہو گئے، جب وہ پڑھ چکا تو آپ نے باقی سورت کو مکمل کیا۔ (از تفسیر نمونہ)

"الضات" کا معنی ہے " کان لگا کر سننے کے لئے خاموش ہونا"

پیام

۱ ۔ قرآن جو کہ بصیرت اور رحمت کا وسیلہ ہے اسے مودبانہ طور پر اور کان لگا کر سننا چاہئے( وانصتو )

۲ ۔ قرآن کو کانوں کے راستے سے گزر کر دل تک جا پہنچنا چاہئے اور دلنشین ہو جانا چاہئے تاکہ اس طرح سے تم پر رحم کیا جائے۔( لعلکم ترحمون )

(اگر سکوت اور خاموش رہنے کا حکم نہ بھی ہوتا، پھر بھی عقل اور ادب اس بات کے متقاضی تھے کہ کلام الٰہی کو خاموش ہو کر سنا جائے)

آیت ۲۰۵

( وَ اذْکُرْ رَبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعاً وَّ خُفْیَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصٰالِ وَ لَا تَکُنْ مِنَ الْغٰفِلِیْنَ )

ترجمہ۔ اور اپنے پروردگار کو اپنے دل میں گڑگڑاتے ہوئے، ڈر کر آہستہ اور آرام کے ساتھ صبح و شام یاد کرو اور غفلت کرنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔

چند نکات

سابقہ آیت میں تلاوت قرآن کے آداب کو بیان کیا گی تھا اس آیت میں ذکر اور دعا کے آداب کے بیان کو کیا جا رہا ہے۔

" آصال" جمع ہے "اصیل" کی جس کے معنی ہیں غروب کے نزدیک شام کا وقت۔

بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں مذکور "ذکر" تمام شبانہ روزی نمازوں کے لئے ہے۔

پیام

۱ ۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ہمیشہ کے لئے اور دائمی ہے لہٰذا اس کی یاد بھی ہمیشہ کے لئے ہونی چاہئے( ربک )

۲ ۔ قرآن مجید، زبان کے ساتھ ذکر الٰہی کو سراہنے کے ساتھ ساتھ قلبی اور اندرونی یاد کو بھی ستائش کرتا ہے۔( فی نفسک )

۳ ۔ وہ ذکر یاد الٰہی انسان کو محفوظ رکھتی ہے جو عاشقانہ اور سوزناک ہو اور ہر صبح و شام کی جائے۔( تضرعا )

۴ ۔ انبیاء علیہم اسلام کو بھی ہمیشہ خدا کی یاد میں مگن رہنا چاہئے۔ دوسروں کا حال تو واضح ہے۔

۵ ۔ صبح و شام خدا کو یاد کرنا چاہئے، یعنی جب کام کا آغاز کیا جائے اور دن کے پروگرام مرتب کئے جائیں تو پہلے خدا کو یاد کرنا چاہئے، اور جب سارے دن کے کاموں کے نتیجے کو سمیٹا جائے اور کام کی جمع بندی کی جائے تو بھی اسے یاد کیا جائے۔( بالعذو و الاصال )

۶ ۔ یاد خدا اس وقت غفلت کو دور کرتی ہے جب کسی قسم کے ریأ ، دکھاوے اور شور شرابے سے پاک صاف ہو، ورنہ بذات خود ایک طرح سرگرمی اور غفلت ہو جائے گی۔( تضرعا و خیفة و دون الجهر )

۷ ۔ جو لوگ صبح و شام خدا کو یاد نہیں کرتے ان کا غافلوں میں شمار ہوتا ہے۔

سورہ اعراف آیت ۲۰۶

( اِنَِّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّکَ لَاْ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِه وَ یَسْبَحُوْنَه وَلَه یَسْجُدُوْنَ ) ع

ترجمہ۔ یقیناً جو لوگ تیرے پروردگار کی بارگاہ کے مقرب ہیں وہ اس کی عبادت اور پرستش سے سرکشی اور تکبر نہیں کرتے، اس کی تسبیح بیان کرتے اور اس کے لئے سجدہ کرتے ہیں۔

ایک نکتہ

"الذین عند ربک" کا جملہ احتمالاً فرشتوں کو بھی شامل ہے اور مقربان بارگاہ رب العزت بندوں کو بھی کہ جن کا رابطہ ذات الہٰی کے ساتھ ہے اور خود کو خدا کے حضور میں سمجھتے ہیں،

پیام

۱ ۔ اپنی عبادت پر کبھی ناز نہ کرنا اس لئے کہ خدا کے ایسے فرشتے ہی جو ہمیشہ عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔

۲ ۔ عبادت کے ساتھ خود کو فرشوتں کے ہم رنگ اور ہم آہنگ کر دو۔

۳ ۔ استکبار اور اظہار تکبر کی بدترین قسم، خدا کے آگے تکبر کا اظہار اور سرپیچی اورا س کی عبادت کو ترک کر دینا ہے۔

۴ ۔ سب سے پہلے استکباری کیفیت کو خیرباد کہا جائے، پھر اس کی تسبیح بیان کی جائے اور اس کے بعد سجدہ کیا جائے۔

۵ ۔ مستکبرین کبھی بھی خداوند عالم کے مقام قرب تک نہیں پہنچ سکتے،( عند ربک لایستکبرون )

۶ ۔ خدا کے سامنے تضرع اور زاری کی جائے۔ تواضع اختیار کی جائے۔ اس کی پاکیزگی کی طرف توجہ کی جائے اور سجدہ صرف اسی کی ذات کے لئے خاص سمجھا جائے۔( لایستکبرون- یسجونه، له یسجدون )

حوالا جات ۔ فٹ نوٹس

۱۔ ابروبادومہ وخورشید و فلک درکارند۔ تاتونانی بہ کف آری و بہ غفلت نخواری ہم از بہر تو سرگستہ وفرمانبردار۔ شرط انصاف بنا شد کرتوفرمانبری بادل، ہوا، چاند، سورج اور فلک سب اس کام میں لگے ہوئے ہیں کہ تو روٹی حاصل کرے مگر غافل ہو کر نہ کھائے۔ چیزیں ہی لئے سرگرداں ار تیرے ہی فرمانبردار ہیں۔ لیکن یہ انصاف سے بعید ہوگا کہ جس کی اطاعت کے لئے تو پیدا ہوا ہے اس کی اطاعت نہ کرے۔

۲مکتب تشیع اس قدر غنی اور بے نیاز ہے کہ اسے "قیاس" سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے حضرت ابوحنفیہ کے قیاس سے کام لینے کی سخت مذمت کی ہے۔ عامة المسلمین کی کتب تفسیر مثلاً المنار اور طبرسی میں بھی قیاس سے روکا گیا ہے۔

۳ سورہ کہف /۵۰میں ہے "ففسق عن امرربه " (اس نے اپنے رب کے امر کی خلاف ورزی کی )

۴حضرت علی علیہ السلام خطبہ "قاصعہ" میں فرماتے ہیں، ابلیس سے عبرت حاصل کرو اس نے اپنی طولانی عمر کو ایک لمحے میں تکبر کے ساتھ کیونکر برباد کر دیا۔ روایات میں ہے کہ کفر کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔ ۱۔حرص ۲۔حسد ۳۔تکبر (کام) جلد ۲ باب ۶ ف خوافی ۔ شیعہ سنی روایات میں ہے کہ قیامت کے دن متکبرین گواہی کی حالت میں گواہ ہوں گے۔ اور اہل محشر کے پاؤں تلے روندے جائیں گے۔

۵سورہ ص / ۸۳ میں ہے کہ ہم پڑھتے ہیں کہ شیطان نے کہا: "فبعزتک لاغوینهم " (تیری عزت کی قسم! میں ان (تیرے بندوں) کو ضرور گمراہ کروں گا۔

۶برادرانِ یوسف نے بھی یوسف کو باپ سے جدا کرنے کے لئے کیا تھا "بابا اناله لناصحون " ہم تویوسف کے خیرخواہ ہیں۔ (سورہ یوسف)

۷شیطان کی انسان کے ساتھ دشمنی کی طرف اور حق بات پر بھی اشارہ کیا گیا ہے جن میں سے ایک سورہ طہٰ کی ۱۱۰۔ ۱۱۶ویں آیات میں ہیں کہ جب آدم علیہ السلام شیطانی وسوسوں کا مقابلہ نہ کرسکے "فنسی ولم بخدله غرما " اور بہشت سے نکال دئیے جانے کی سزا پائی اور "فقلنا یٰادم --- فتشعی ٰ" آنے کیا اے آدم ! یہ تمہارا اور تمہاری زوجہ کا دشمن ہے کہیں تمہیں بہشت سے نہ نکلوا دے کہ بدبخت ہو جاؤ گے۔"

۸"ان من شیء ٍ الاعندنا خزائنه ومان ننزله الاقدر معلوم " کوئی بھی چیز نہیں ہے مگر اس کے خزانے تمہارے پاس ہیں اور ہم معلوم اندازے کے علاوہ نہیں بھیجتے (حجر/ ۲۱) اور بھیجتے کیا ہیں؟ "انزلنا الحدید " "انزل لکم من الانعام " ۔۔۔۔ "انزل علیکم لباسا "

۹ہو سکتا ہے کہ جنگی لباس مثلاً زرہ ڈھال، خود وغیرہ بھی "لباس تقوی" کے مصداق میں شامل ہوں، کیونکہ حضرت علی علیہ السلام نے جہاد کو بھی لباس تقوی قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں "الجهاد لباس التقویٰ" نہج البلاغہ خطبہ ۲۷۔

۱۰۔ ابلیس کا لشکر ہے۔ "وخبودابلیس" (شعراء / ۹۵)

۱۱ بحارالانوار جلد ۱۱ ص۳۱۸

۱۲ اس سے ملتی جلتی سورہ نحل / ۱۰۰ ہے۔

۱۳اور آیات میں بھی ہے۔ "لوشأالله مااشرکنا " (انعام/ ۱۴۸) یعنی اگر خدا چاہتا تو ہم مشرک نہ بنتے۔ "ولوشاء الله ما عبدنا من دونه من شی ء ٍ " (نحل/ ۳۵) یعنی اگر خدا چاہتا تو ہم اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرتے۔

۱۴حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن لوگ ننگے بدن اور ننگے پاؤں محشور ہوں گے جیسا کہ پہلے دن اس دنیا میں قدم رکھا تھا۔ (تفسیر نورالثقلین)

۱۵توبہ اور یادِ الٰہی شیطانی وسوسوں کو ختم کرتی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے "اذامسهم طائف من الشیطان تذکروا " (اعراف/۲۰۱)

۱۶سورہ کہف کی آیت ۱۰۴ میں ایسے لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے "قل انبئکم بالاخیرمن اعمالا الذین ضل سیعهم فی الحیٰوة الدنیا وهم یحسبون انهم یحسنون صنعا " کہہ دو کہ آیا میں تمہیں ان لوگوں کے بارے میں بتاؤں جو اعمال کے لحاظ سے خسارے میں رہے، وہی تو ہیں جن کی تگ و دو اس دنیاوی زندگی میں اکارت گئی اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اچھا کام کر رہے ہیں۔

۱۷حدیث شریف میں ہے کہ "المعدة بیت الداء" معدہ بیماریوں کا گھر ہے، چنانچہ ایک مسیحی ڈاکٹر کہتا ہے کہ : "سارا علم طب اسی صرف اسی آیت میں پوشیدہ ہے۔" حدث میں ہے کہ جو لوگ دنیا میں اکثر اوقات پیٹ بھرے رہتے ہیں قیامت کے دن بھوکے پیاسے ہوں گے۔ (تفسیر فرقان)

۱۸امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :"جس کے پاس ایک دن کی غذا موجود ہو اور پھر بھی لوگوں سے مانگنے یا گداگری کرے تو اس کا شمار بھی مشرقین میں ہوتا ہے۔ (تفسیر فرقان)

۱۹سورہ کہف / ۵۹ میں فرماتا ہے "جعلنا لمهلکهم موعدا " ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے وقت مقرر کر رکھا ہے۔

۲۰ایک اور آیت میں ہے "کلانمرهٰوٴلاء وهولاء "

۲۱سورہ عنکبوت/۲۰ میں ارشاد ہوتا ہے"یکفر بعضکم بیعض ویلعن بعضکم بعضا " تم ایک دوسرے کو کافر بتاؤ گے۔

۲۲ارشاد باری ہے: "ولوان اهل القریٰ امنو اواتقوالفتحنا علیهم برکات من السماء و الارض " اگر ان بستیوں والے ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کریں تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیں

۲۳دوسری آیت میں بھی اسی طرح ہے: "لمیحطة بالکافرین " یعنی کافروں کو گھرے ہوئے ہیں (عنکبوت /۵۵)

"لھم من فوقہ ظلل من النار و من تحتھم ظلل" یعنی انکے اوپر بھی آگ کے سائبان ہیں اور نیچے بھی ایسے ہی (زمر/۱۶) اور "یغشنهم العذاب من فوقهم و من تحت ارجلهم " یعنی عذاب انہیں اوپر سے بھی ان کے پاؤں کے نیچے سے بھی ڈھانپ لے گا۔ (عنکبوت/۵۵)

۲۴"ماجعل علیکم فی الدین من حرج" خدانے دین میں تمہارے لئے کوئی تنگی قرار نہیں دی (حج /۴۷) "یرید الله بکم الیسر و لا یرید بکم العسر " خدا تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور مشکل نہیں چاہتا

۲۵ایک اور آیت میں فرماتا ہے کہ مومن کہتے ہیں "لا تجعل فی قلوبنا غلا " ہمارے دلوں میں کینہ نہ رکھ (حشر/۱۰) جو کہ اہل ایمان کی دعا ہے۔

۲۶انسان بھی اس حقیقت کا اعتراف کرے گا اور کہے گا"اغنی عنی ما لیہ" میرے مال نے مجھے کوئی فائدہ نہ پہنچایا

۲۷قرآن کہتا ہے: "انما الحٰیوة الادنیا لعب ولهو " دنیا تو بس کھیل تماشا ہے جبکہ وہ دین کو تماشا سمجھتے ہیں۔

۲۸خدا فرماتا ہے: "فاذ کرونی اذکرکم " تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا تو انسان کی یاد، خدا کی یاد کا سبب ہوتی ہے اور اسکی خدا سے غفلت، انسان کی فراموشی کا موجب ہوتی ہے۔

۲۹چونکہ اس سے پہلے آیت "کتاب" سے تعلق رکھتی ہے لہٰذا "نسوہ" کا جملہ کتاب کے فراموش کرنے کے بارے میں ہے۔ تو کیا آج مسلمان کتاب اور قرآن کو فراموش نہیں کر چکے؟ قرآن کا فراموش کرنا خدا کو بھلا دینا اور خدا کو بھلا دینے والے شیطان کے جماعتی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے "انساهم ذکر الله اوئیک حزب الشیطان " (مجادلہ /۱۹۳

۳۰قرآن کہتا ہے کہ اگر کفار دنیا میں واپس آ بھی جائیں تو بھی وہی کام کریں گے "ولوی دو انعاد والمانهوا عنه " (انعام /۱ ۲)

۳۱ :مکر شیطان است تعجیل و شتاب

خوی رحمان است صبر واحتساب

یاتانی گشت موجود از خدا

تابہ شش روز این زمین و چرخ ہا

ورہ قادر بود کز کن فیکون

صد زمین و چرخ آوردی برون

آدمی را اندک اندک آن ہمام

تاچہل سائش کند مردی تمام

این تانی ازیی تعلیم توست

صبر کن در کار در آئی درست

ترجمہ: شیطان کا کام اور مکاری جلد بازی میں ہے۔ جبکہ رحمان کا کام صبر و حوصلے کے ساتھ کام کرنا ہے۔ خداوند عالم آرام اور حوصلے کے ساتھ تخلیق کا عمل انجام دیتا ہے اور یہ زمین و آسمان چھ دن میں پیدا کئے وہ اس بات پر بھی قادر تھا کہ "کن" کہہ کر اس طرح کے سینکڑوں آسمان و زمین پیدا کرتا وہ خالق و مالک انسان کو بھی چالیس سال کی عمر میں پختہ کرتا ہے۔ یہ سب کچھ تمہارے سمجھانے کیلئے ہے لہٰذا صبر سے کام لو تاکہ دیر آید درست آید کے مصداق تمہارے کام صحیح طریقے سے انجام پائیں۔

۳۲زمین شوہ سنبل نیارد دراو تخم و عمل ضایع مگر دان

شورہ زار: زمین میں سنبل کا درخت نہیں اگ سکتا لہٰذا اس میں نہ تو بیج کو ضائع کرو اور نہ ہی اپنی کاوشوں کو۔

گوہر پاک بیاید کہ شود قابل فیض ورنہ ہر سنگ و گلی ٹو ٹو و مرجان نشود

ذرہ راتا نبود ہمت عالی حافظ طالب چشمہ خورشید درخشاں نشود

ایک پاک جوہر ہونا چاہئے جو فیض کے قابل بھی ہو ۔ ورنہ ہر پتھر اور مٹی لولو و مرجان نہیں ہو سکتے۔

اے حافظ) جب تک ذرہ میں عالمی ہمتی نہ ہو تو اس وقت تک وہ نیردرخشاں کے چشمہ فیض کا طالب نہیں ہو سکتا۔

افتادگی آموز اگر طالب فیضی ہرگز نخورد آب زمینی کہ بلند است

اگر فیض کی ضرورت ہے تو پھر انکساری سیکھو۔ کیونکہ بلند زمین کبھی پانی سے سیراب نہیں ہو سکتی۔

۳۳از حضرت امام جعفر صادق علیہم السلام (تفسیر نور الثقلین)

۳۴اس آیت کے واضح ترین مصداقوں میں سے ایک حضرت امام زمان عجل الله فرجہ کا زمانہ ظہور ہے جس میں بقول روایات آسمان اور زمین سے برکتیں نازل ہوں گی (تفسیر نور الثقلین جلد نمبر ۰۲)

۳۵وفاداروں کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے "مومنون" (سورہ منون/۱۔۲) متقین (آل عمران/۷۶)

"الوالالباب" (رعد/۲۰) "ابرار" (الدھر/۷) جبکہ بے وفاؤں اورعہد شکنوں کی ان الفاظ میں مذمت کی ہے " فاسقین " (زیر نظرآیت ) "کافرین" (نسا/۱۰۰) اور "مشرکین" " ظالمین" "شرالاواب‘و (بدترین جانور)

۳۶سورہ طہ/۷۱ میں ہم پڑھتے ہیں"انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر" تم سب جادو موسیٰ کے شاگرد ہو۔

۳۷سورہ طہ/۷۰ میں ہم پڑھتے ہیں کہ جادوگروں نے فرعون سے کہا "فاقض ما انت قاض انما تقضی ھذہ الحیٰوة الدنیا" جو چاہو کرو تمہارا تسلط صرف اور صرف اسی دنیوی زندگی کے ساتھ محدود ہے۔

۳۸جسے قرآن کہتا ہے "ان الانسان لیطفی ان راہ استغفی" جب انسان خود کو تونگر سمجھنے لگتا ہے توسرکشی پر اتر آتا ہے۔

۳۹آن گزشت لذنیل بایاران چو برق موسیٰ اپنے ساتھیوں سمیت دریائے نیل سے ایسے گزر گئے جیسے بجلی گزرتی ہے۔

وین بہ خواری گشت درود ابہ غرق لیکن فرعون بڑی ذلت اور خواری کے ساتھ دریائے نیل کے پانی میں غرق ہو گیا۔

ناظران بینند با چشم سئود دیکھنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ موسیٰ کہاں پر جا پہنچے اور کان کجا رقت، این کجا مانند از حجود فرعون، نافرمانی کا ارتکاب کر کے کہاں پر رہ گیا۔

۴۰ایک دن کسی یہودی نے مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا: "تم مسلمانوں نے ابھی اپنے پیغمبر کا جنازہ دفن نہیں کیا تھا کہ اختلاف شروع کر دیا اس پر حضرت علی نے فرمایا: ہمارا اختلاف تو حضرت پیغمبر خدا کی باتوں کے سلسلے میں تھا نہ تو خود پیغمبر کے بارے میں اور نہ ہی خدا کے بارے میں تھا۔ جبکہ تمہارے پاؤں ابھی دریا کے پانی سے خشک نہیں ہوئے تھے کہ تم نے موسیٰ سے بتوں کا تقاضا شروع کر دیا (نہج البلاغہ حکمت ۳۱۷) ۲قرآن جید کی بعض آیات میں جہالت عمقل کے مقابلے میں ہے تاکہ علم کے مقابلے میں یعنی جہالت بے عقلی کا نام ہے۔

۴۱سفینة البحار جلد اول ص ۰.۰ و ص ۴.۰ نیز سید رضا نقوی کی کتاب "اربعین در فرہنگ اسلامی" کا بھی مطالعہ کیا جائے

۴۲حدیث منزلت یعنی پیغمبر اسلام کا حضرت علی سے فرمانا "انت منی بمنزلة ہارون من موسیٰ" یعنی اے علی تم میرے لئے ایسے ہو جیسے موسیٰ کیلئے ہارون تھے اہل سنت کی کتابوں میں بھی موجود ہے ملاحظہ ہو صحیح بخاری جلد ۶ ص ۳ صحیح مسلم جلد ۴ ص ۱۸۷ سنن ابن ماجہ جلد ۱ ص ۴۲ مسند احمد بن حنبل جلد ۱ ص ۱۷۳ ص ۱۷۰، ۱۷۷ ۔۱۷۹۔۱۸۲

۴۳"لا تدرکة الابصار " اسے ظاہری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں البتہ خدا کو دل کی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔"رائة القلوب بحقائق الایمان " (از تفسیر صافی) بقول شاعر چشم دل باز کن کہ جان بینی آنچہ نادیدنی است، آن بینی

۴۴امام جعفر صادق فرمتے ہیں "الله تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے فرمایا،جانتے ہو کہ میں نے تمہیں کس لئے برگزیدہ کیا ہے؟" اس لئے کہ تمہارا خضوع و خشوع میری بارگاہ میں بے نظیر تھا، جب بھی نماز کیلئے کھڑے ہوتے ہو تو الٹے اپنے رخسار زمین پر رکھے (اصول کافی)

۴۵مثلاً جہاں ہر "قصاص" اور "معافی‘ کا مسئلہ پیدا ہو جائے تو "معافی کو اپنائیں

۴۶یعنی یہ نکتہ سورہ عنکبوت ۴۸ میں بھی بیان ہو چکا ہے "وما کنت تتلوا من قبله من کتاب "

۴۷جو آیات آنحضرت کی عالمی اور آفاقی رسالت پر دلالت کرتی ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔ سورہ عبس/۲۸ "کافة للناس " انعام/۱۹ "لا نذرکم و من بلغ " فرقان/۱ "للعالمین نذیرا"

۴۸حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنے داماد (حضرت موسیٰ علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان سے ملاقات کیلئے انتظارکرنے کیلئے بہت بڑی قطار کھڑی ہوئی ہے تو شعیب نے موسیٰ کو اس بات کی پیشکش کی کہ ان لوگوں کو چند گروہوں میں تقسیم کر دیں اور ہر ایک گروہ کا ایک مسئول مقرر فرمائیں تاکہ مسئول قسم کی مشکلات کو وہ حل کریں اور اہم ترین سائل موسیٰ کیخدمت میں پیش کئے جائیں (از تفسیر کاشف)

۴۹ہم دعائیں پڑھتے ہیں "یا من یقبل الیسیرو و یعفوا عن الکثیر " یعنی اے وہ الله جو تھوڑے سے عمل کو بھی قبول کر لیا ہے اور زیادہ سے زیادہ گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔

۵۰حضرت علی علیہ السلام نے گناہوں کی توجہ اور شراب کو نیند کے نام سے رشوت کو تحفے کے نام سے اور سود کو منافع کے نام سے موسوم کرنے کی بڑی سخت مذمت کی ہے۔ (نہج البلاغہ خطبہ ۱۰۶)

۵۱اسی طرح کے ایک اور امتحان کا تذکرہ سورہ مائدہ/۹۴ میں ہے کہ "یبلوکم الله بشیئی من الصید تناله ایدیکم ورماحکم " اس آیت میں حالت احترام کی حرمت کا تذکرہ ہے کہ جب شکاریاتو انسان کی دسترس میں ہوتا ہے یا تیر کی زد میں اور ایسی ہیجانی کیفت میں شکار سے روکنا خدا کی طرف سے ایک امتحان ہے۔

۵۲حضرت علی علیہ السلام نے بارہا اپنے زمانہ کے بیوفا لوگوں کی شکایت کی ہے اور فرمایا ہے کہ الله مجھے تمہارے درمیان سے اٹھا لے اور دوسروں کو تم پر مسلط فرمائے"

۵۳بنی اسرائیل اس قدر حیلہ سازی، دنیا طلبی، حرص و بہر اور قانون شکنی کے باوجود ہمیشہ ذلیل و خوار ہی رہے ہیں ہٹلر نے لاکھوں یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

۵۴دوسری آیات میں ہے کہ کہیں پر تو کہتے تھے "نحن ابناء الله و احبائه " ہم الله کے بیٹے اور اسکے دوست ہیں (مائدہ/۱۸) یا کہتے تھے "لن تمسناالنار " ہمیں تو آگ چھوئے گی بھی نہیں مگر چند گنتی کے دن (بقرہ/۸۰ آل عمران/۲۴)

۵۵اسی سے ملتا جلتا حضرت علی علیہ السلام کا یہ جملہ ہے کہ "لدواللموت وابنو اللخراب" پیدائش کا انجام موت ہے اور تعمیر کا انجام خانہ خرابی ہے۔

۵۶شاعر کا قول ہے

آدمی زادہ طرفہ معجونی است وز فرشتہ سرشتہ و زگل

گررود سوے این شود بہ ازاین ور رود سوی آن شودیس ازان

اسکا مفہوم وہی ہے جو اوپر بیان ہو چکا ہے۔

۵۷حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث کا مفہوم (تفسیر مونہ منقول از تفسیر نور الثقلین)

۵۸ایضاً (تفسیر نمونہ منقول از تفسیر برہان)

۵۹حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی حدیث کا مفہوم (تفسیر نمونہ منقول از نور الثقلین)

۶۰مسفطہ ہو سورہ ذاریات /۵۲ ۔ "کذالک ما اتی الذین من قبلهم من رسول الاقالوا ساحر اومجنون "

۶۱دوسری آیات جو اس حقیقت کو بیان کر رہی ہیں بہت زیادہ ہیں منجملہ انکے یہ ہیں کہ "ومایضل به الاالفاسقین " (بقرہ/۲۶) یا "بل ران علی قلوبهم ماکانو ایکسنون " (مطففین/۱۴)

۶۲حضرت رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے حضرت قائم آل محمد کے ظہور کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا"مثله مثل الساعة " یعنی انکا ظہور بھی قیام قیامت کی مانند اچانک ہو گا پھر آپ نے آیت تلاوت فرمائی "لا بحلیها توقنا……الانقبة " (از حضرت امام رضا علیہ السلام تفسیر نور الثقلین)

۶۳قرآن مجید بار ہا مختلف انداز میں مثلاً "لا یستطیعون لهم نصرا " (اعراف/۱۹۲) "لایملکون لا نفسهم نفعا " (رعد/۱۶) کہہ کر ہمیں شرک سے منع کر دیا ہے۔

۶۴یقین جانیے طاغوتی طاقتوں کا یہی کام ہے کہ اپنی حکومت کو مستحکم بنائیں اور تمہارا استعمال کریں اگر یقین نہ آئے آزما کر دیکھ لیں اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ انہیں چند اصلاحی اور تعمیری باتوں کی پیشکش کریں تو وہ یقینا قبول نہیں کریں گے انکے نزدیک آپ لوگوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے خواہ آپ نالہ و فریاد کریں یا خاموشی اختیار کئے رکھیں آپ کیلئے ایک جیسی بات ہے۔ حتیٰ کہ اگر آپ انہیں کرنا چاہیں تو بھی آپکی بات کو نہیں سنیں گی۔ اس لئے تو قرآن کہتا ہے "وان تدعوھم……… "

۶۵علامہ اقبال فرماتے ہیں۔

آدم از بے بصری بندگی آدم کرد

یعنی انسان نے اپنی بے بصیرتی کی وجہ سے دوسرے انسان کی بندگی اختیار کی

گوہری داشت ولی نذر قبادو جم کرد

اس نے انسانیت جیسے عظیم گوہر کی بے قدری کرتے ہوئے اسے قباد اور جمید جیسے بادشاہوں کے قدموں میں ڈال دیا

یعنی از خوے غلامی زسگان پست تراست

من ندیدم کہ سگی پیش سگی سر خم کرد

ایسے انسان خصلت کے لحاظ سے تو کتوں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ میں نے کبھی کسی کتے کو دوسرے کتے کے آگے سر جھکائے ہوئے نہیں دیکھا

۶۶ایک اور مقام پر فرماتا ہے "الله ولی الذین امنو یخرجهم من الظلمات الی النور " (بقرہ/۲۵۷)

۶۷حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے قرآن مجید میں مکارم اخلاق کے سلسلے میں اس سے بڑھ کر کوئی اور آیت جامع نہیں ہے (تفسیر فرقان از درمنشور)

۶۸۔ قرآن اور حدیث کی لغات میں کبھی "جہل" "عقل" کے مقابلے میں بھی آتا ہے اور روایات میں "کتاب العقل والجہل"

۔۶۹ جیسا کہ یہ آیت ہے "وکذالک جعلنا لکل بنی عدو الشیاطین الانس والجن " (انعام/۱۱۲) جو اس بات کی نشاندہی کر رہی ہے کہ انبیاء کے دشمن جنوں میں سے بھی ہیں اور انسانوں میں سے بھی۔

۷۰۔ جیسے یہ آیت ہے "لئن اشرکت لیحبطن عملک " اگر شرک کرو گے تو تمہارے سارے اعمال تباہ ہو جائیں گے۔ (زمر/۶۰) یہاں پر شرط ، واقع ہونے پر دلیل نہیں بن رہی۔

۷۱صرف "اعوذبالله" کہہ دینے سے پناہ نہیں مل جاتی۔بلکہ خدا کے ساتھ ایک خصوصی روحانی تعلق، اسکے ساتھ ربط، اس پر توکل اور خود کو مکمل طور پر اسکے سپرد کر دینے سے ہی پناہ طلب کی جا سکتی ہے۔


سورہ مائدہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَِحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

مقدمہ:

سورہ مائدہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت سے ایک دو ماہ پہلے نازل ہوئی اور اس کی کوئی ایک آیت بھی منسوخ نہیں ہوئی ہے۔

اس کو سورہ "مائدہ" کہنے کی وجہ یہ ہے اس کی ایک سو چودھویں آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے آسمانی مائدہ کے نازل ہونے کا تذکرہ ہے اس لئے اسے سورہ مائدہ کہتے ہیں۔ اس کی ایک سو بیس آیات ہیں اور "یاایھا الذین امنوا" کے ساتھ خطاب اس صورت میں سب سے زیادہ آیا ہے مثلاً سورہ بقرہ میں یہ خطاب گیارہ مرتبہ آیا ہے جبکہ اس سورت میں سولہ مرتبہ بیان ہوا ہے۔

اس سورت میں ولایت اور رہبری، عقیدہ تثلیث کی تردید، ایفائے عہد کی اہمیت، عدل و انصاف پر مبنی گواہی، کسی کو قتل کرنے کی حرمت، کھانے کی چیزوں کے احکام، وضو، اور تمیم اور عدالت اجتماعی وغیرہ کا تذکرہ ہے۔

چونکہ یہ نازل ہونے والی آخری سورت ہے لہٰذا سورت کے آغاز ہی میں "اوفوا بالعقود" کے جملہ کے ساتھ ہر قسم کے عہد و پیمان کو پورا کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

( بِسْمِ اللّٰهِ الرَِحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )

آیت ۱

( یٰٓاَیُّهاَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓ ا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِط اُحِلَّتْ لَکُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ غَیْرَ مُُحِلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ ط ِانَّ اللّٰهَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ )

ترجمہ۔ اے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہو اپنے (ان) عہد اور پیمانوں کو پورا کرو (جو تم نے خدا یا لوگوں کے ساتھ باندھا ہے) حلال چوپایوں (کے گوشت کھانے) کو تمہارے لئے حلال کیا گیا ہے، مگر جن کی (حرمت) کو تمہارے لئے پڑھا (اور بیان کیا) جائے گا، جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار کو حلال نہ جانو، یقیناً اللہ تعالیٰ جو کچھ کہنا چاہتا ہے حکم کرتا ہے۔

پیام و نکات:

۱ ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ جس شخص یا گروہ کے ساتھ جس قسم کا معاہدہ کریں اس کی پابندی اختیار کریں۔ چاہے وہ معاہدہ زبانی ہو یا تحریری اور عملی، چاہے سیاسی معاہدہ ہو یا اقتصادی، اجتماعی اور عائلی، خواہ طاقتور کے ساتھ ہو یا کمزور کے ساتھ، دوست کے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ۔ ۱ چاہے خدا کے ساتھ ہو (جیسے نذر اور عہد وغیرہ) خواہ لوگوں کے ساتھ، فرد کے ساتھ ہو یا معاشرہ کے ساتھ، چھوٹے کے ساتھ ہو یا بڑے کے ساتھ، علاقائی حکومتوں کے ساتھ ہو یا بین الاقوامی سطح پر، کیونکہ "( اوفوا بالعقود ) " میں موجود "الف لام" ہر قسم کے معاہدوں کو شامل ہے۔

۲ ۔ جس طرح عہدشکنی اور ظلم بہت سی چیزوں سے محروم ہو جانے کا موجب ہوتے ہیں ۲ اسی طرح عہد و پیمان کی پابندی بہت سی چیزوں سے استفادہ کا موجب ہوتی ہے "اوفوا بالعقود احلت لکم" اچھے طریقے سے لوگوں کے ساتھ پیش آنا، اچھی روزی کی علامت ہے مثل مشہور ہے "اچھے طریقہ سے لین دین کرنے والا، لوگوں کے مال میں شریک ہوتا ہے"

۳ ۔ آسمانی کتابیں بھی خدا کا "عہد" ہیں۔ ان کی پابندی بھی ضروری ہے، عہد قدیم (تورات) عہد جدید (انجیل) اور عہد اخیر (قرآن مجید) ہیں۔ حدیث میں ہے کہ "القرآن عھد اللہ" ۳ یعنی قرآن اللہ کا عہد ہے۔

۴ ۔ ایمان، عہد و پیمان کے وفا کی بنیاد ہے، ارشاد نبوی ہے "لا دین لمن لا عھدلہ" یعنی جو عہد و پیمان کی پابندی نہیں کرتا ہے وہ بے دین ہے۔

اگر عہد و پیمان پر عمل درآمد نہ ہو تو معاشرتی بنیادیں ہل کر رہ جائیں، عمومی اعتماد ایک دوسرے سے ختم ہو جائے اور معاشرہ تباہ و برباد وہ جائے۔

۵ ۔ مکہ کے امن و امان کو محفوظ رکھنے کے لئے بعض چیزوں سے محروم ہونے کو برداشت کیا جائے اور شکار سے چشم پوشی کی جائے۔ (غیر، محلی الصید)

آیت ۲

( یٰٓاَیُّهُاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْ اشَعَآئِرَ اللّٰهِ وَلَاالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْیَ وَلَا الْقَلَآئِدَ وَلَآ آٰمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رِضْوَانًا ط وَ اِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوْا ط وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوْا اللّٰهَ ط اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ )

ترجمہ۔ اے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہو! شعائر خداوندی، حرمت والے مہینے، بغیر نشانی والی قربانی اور گلے میں پڑی ہوئی نشانیوں والی قربانی اور بیت اللہ کے قصد سے آنے والوں جو کہ اپنے رب کے فضل اور خوشنودی کے طلبگار ہوتے ہیں (کی حرمت) کو حلال نہ سمجھو۔ اور جب تم (اعمال عمرہ بجا لا کر حالت احرام سے نکل جاؤ تو پھر شکار کر سکتے ہو۔ اور ایسے لوگوں کے ساتھ دشمنی، جنہوں نے (اپنے اقتدار کے دوران) تمہیں مسجد الحرام (مکہ) میں داخل ہونے سے روکا تھا، تمہیں بے عدالتی اور بے اعتدالی پر آمادہ نہ کرے۔ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ اور ستم کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو، اور خدا سے ڈرتے رہو، اس لئے کہ یقیناً (مجرمین کے لئے) خدا کا عذاب بہت سخت ہے۔

نکتہ:

"ھدی" بغیر نشانی کے وہ جانور ہوتے ہیں حج کے موقع پر ہدیہ (قربان) کئے جاتے ہیں۔ اور "قلائد" نشانیوں والے جانور ہوتے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ شعائر اللہ کے تقدس اور ان کی عظمت کو پامال نہ کرو( لاتحلوا شعائرالله )

۲ ۔ تمام زمانے ایک جیسے نہیں ہوتے، بعض دن اور "ایام اللہ" کا خصوصی احترام ہوتا ہے۔ یعنی وہ خاص طور پر محترم ہوتے ہیں۔( ولاالشهر الحرام )

۳ ۔ جو جانور الٰہی مقاصد کی تکمیل کے لئے کام میں لائے جاتے ہیں وہ بھی قابل احترام ہوتے ہیں۔( والهدی ولاالقلائد )

۴ ۔ بیت اللہ کے مسافروں کا احترام کیا جانا چاہئے( ولا آمین البیت الحرام )

۵ ۔ حج، دنیوی اور اخروی مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے( یبتغون فضلا من ربهم و رضوانا )

۶ ۔ حج میں سفر کا اصل ہدف تو خانہ خدا ہی ہے باقی سرگرمیاں ضمنی ہیں۔( آمین البیت الحرام )

۷ ۔ مکہ میں انجام دی جانے والی ہر قسم کی اقتصادی سرگرمیاں اور اسلامی ممالک کے لئے تجارت اور درآمدات و برآمدات آزاد ہیں( یبتغون فضلا )

۸ ۔ اگر کسی زمانے میں لوگوں نے ہمارے ساتھ دشمنی کا مظاہرہ کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے دور میں ہم ان پر ظلم و تجاوز کو جائز سمجھنے لگ جائیں۔( ولا یجرمنکم ) ۔۔۔ ) ۴

۹ ۔ خدا کے حرم کے تقدس و احترام کے لئے ہمارے باہمی تعاون کی ضرورت ہے( لاتحلوا شعائر اللّٰه---وتعاونوا )

۱۰ ۔ دوسروں کی غلطیوں سے چشم پوشی، انہیں اپنی طرف مائل کرنے اور نیکی کے کاموں میں تعاون کا ایک راستہ ہے( لایجر منکم---تعاونوا )

۱۱ ۔ اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ بین الاقوامی تلخ و شیریں حوادثات اور ظالم و مظلوم کے مدمقابل آنے میں اپنا فعال کردار ادا کریں جہاں ضرورت ہو حمایت کریں اور جہاں ضروری سمجھیں مذمت کریں۔( تعاونوا علی البر ) ۔۔)

۱۲ ۔ تمام پہلوؤں کے لحاظ سے فضلیتوں کو پروان چڑھانے کی راہیں ہموار کرنی چاہئیں اور اس مقصد کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہئے( تعاون علی البر ) ۔۔۔ ) ۵

۱۳ ۔ کسی خاص قبیلے، علاقے، قوم، زبان اور اتحادی ملکوں وغیرہ کی بے جا حمایت کی بجائے "حق" کی حمایت کرنی چاہئے اور "نیکی" میں مدد بہم پہنچانی چاہئے۔( تعاونوا علی البر )

۱۴ ۔ اسلامی معاشرہ میں نیک شخص اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھے، جبکہ ظالم کا کوئی یارومدگار نہیں ہوتا۔( تعاونوا علی البر--- ولاتعاونوا--- )

۱۵ ۔ ظالموں اور گناہ کا ارتکاب کرنے والوں پر ہر قسم کے دروازے بند کر دینے چاہئیں، تاکہ فساد اور بدکاری کا قلع قمع کیا جا سکے۔( ولاتعاونوا ) ۶

۱۶ ۔ جو لوگ شعائراللہ کے تقدس کو پامال کرتے ہیں اور گناہ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں انہیں خدا کے عذاب کے لئے خود کو تیار کر لینا چاہئے۔( واتقواالله ان الله شدید العقاب ) ۷

آیت ۳

( حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَةُ وَ الدَّمُّ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَآ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِه وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوْذَةُ وَالْمَتَرَدِّیَةُ وَالنَّطِیْحَةُ وَ مَآ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ط ذٰلِکُمْ فِسْقٌ ط اَلْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْ ا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ ط اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاط فَمَنِّ اضْطُرَّ فِی مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِ ثْمٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ )

ترجمہ۔ تمہارے اوپر حرام کیا گیا ہے مردار کا گوشت خون، سور کا گوشت (کا کھانا) اور وہ جانور جو غیرخدا کے نام سے ذبح کیا جائے، اور حلال گوشت جانور جو گلا گھٹنے یا مار کھانے یا بلندی سے گرنے یا کسی دوسرے جانور کے سینگ لگنے کی وجہ سے مر جائیں یا کسی درندہ کا باقی ماندہ جانور (بھی حرام ہیں) مگر جس جانور کو (درندہ کے شکار کی وجہ سے مرنے سے پہلے تم اس کے پاس پہنچ جاؤ اور اسے شرعی طریقہ سے) ذبح کرو اور (اسی طرح وہ جانور بھی حرام ہیں) جو بتوں کے آگے ذبح کئے جائیں۔ یا جنہیں تم "ازلام" کے ذریعہ تقسیم کرتے ہو ۸ یہ سب خدا کی نافرمانی کی چیزیں ہیں۔

آج کے دن کفار تمہارے دین سے مایوس ہو گئے ہیں۔ لہٰذا ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج کے دن میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو "دین" کے طور پر پسند کرلیا۔

لیکن جو شخص بھوک کی وجہ سے مجبور ہو جائے اور گناہ کی طرف مائل بھی نہ ہو (تو وہ مذکورہ حرام شدہ غذا سے کھا سکتا ہے) کیونکہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

نکتہ:

اسی سورت کے اول میں چوپایوں کے گوشت سے بہرہ مندی کا تذکرہ تھا کہ یہ گوشت تمہارے لئے حلال ہے مگر جس قسم کے گوشت کی حرمت بعد میں بیان ہو گی وہ حلال نہیں ہے۔ چنانچہ اس آیت میں دوسری قسم کے گوشت کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

"مخنقہ" وہ جانور ہوتا ہے جس کا گلا گھٹ جائے خواہ کسی انسان کے ہاتھوں سے گھٹے یا کسی جوان سے یا خودبخود۔

"موقوذہ" وہ جانور ہوتا ہے جو مارنے، یا تشدد کرنے یا بیماری کی وجہ سے مر جائے۔ چنانچہ عربوں کی رسم یہ تھی۔ بتوں کے احترام کی خاطر بعض جانوروں کو اس قدر تشدد کا نشانہ بنائے کہ وہ اس کی وجہ سے مر جاتا تھا۔ اور وہ اسے اپنے لئے ایک قسم کی عبادت سمجھتے تھے۔ (ملاحظہ ہو تفسیر قرطبی)

"متردیہ" وہ جانور ہوتا ہے جو کسی بلندی سے گرنے کی وجہ سے مر جائے۔

"نطیحہ" وہ جانو رہوتا ہے جو کسی دورسے جانور کے سینگ لگنے کی وجہ سے مر جائے۔

اس آیت میں جس قسم کی غذا کی حرمت بیان کی گئی ہے قرآن مجید میں کئی بار ذکر کی گئی ہے۔ سورہ انعام اور سورہ نحل مکی سورتیں ہیں ان میں بھی اور سورہ بقرہ جو مدنی سورت ہے اس میں بھی۔ لیکن اس آیت میں مردار کی مختلف نوعیتیں بیان کی گئی ہیں کہ جن کا مصرف حرام ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس مقام پر دو آیتیں ایک ہی آیت میں بیان کی گئی ہیں، ایک میں تو اضطراری اور مجبوری کے علاوہ حرام گوشت کے استعمال کو بیان کیا گیا ہے اور دوسری "الیوم" سے لے کر "دنیا" تک ایک مستقل آیت ہے۔ اوراس کی چند دلیلیں ہیں۔

۱ ۔ اگر مذکورہ آیت سے "الیوم" سے "دنیا" تک کو حذف کر دیا جائے تو آیت کے معنی میں کسی قسم کی کمی اور نقص واقع نہیں ہوتا۔

۲ ۔ کفار کو دین سے اس لئے مایوسی نہیں ہوتی کہ وہ کسی قسم کے گوشت کو کھائیں یا کسی قسم کے گوشت کو نہ کھائیں۔

۳ ۔ شیعہ اور سنی روایات کی رو سے جو اس آیت کے شان نزول کے بارے میں بیان ہوئی ہیں۔ "( الیوم یئس الذین کفروا ) " کا تعلق "( الیوم الکملت لکم دینکم ) ۔۔۔ " سے تاکہ اس سے پہلے یا اس کے بعد کے جملوں سے۔

چونکہ آیت کا یہ حصہ نہایت ہی حساس تھا اور حاسدوں اور مخالفوں کے دل میں بہت کھٹکتا تھا۔ لہٰذا حضرت رسول خدا کے حکم ہی سے اسے گوشت کی حرمت کے حکم کے درمیان قرار دیا گیا ہے تاکہ مخالفین کی دستبرد سے محفوظ رہ جائے۔ ویسے ہی جیسے طلا اور جواہرات کو دوسری عام قسم کی چیزوں کے درمیان میں چھپایا جاتا ہے تاکہ چوروں اور لٹیروں کی لوٹ مار سے محفوظ رہ سکیں۔

شیعہ اور سنی روایات بتاتی ہیں کہ آیت کا یہ حصہ "( الیوم یئس الذین ) ۔۔۔ تا۔۔۔( لکم الاسلام دینا ) " حضرت علی علیہ السلام کے مقام عذیرخم میں منصب امامت پر فائز ہونے کے بعد نازل ہوا۔ نقلی دلائل سے قطع نظر عقلی دلائل بھی اسی بات کی راہنمائی کرتے ہیں۔ کیونکہ اس دن "الیوم" کے لئے چار اہم خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔ ۱ ۔ تمام کفار کی مایوسی کا دن ۲ ۔ دین کے کامل ہونے کا دن ۳ ۔ لوگوں پر نعمت خداوندی کے تمام ہونے کا دن ۴ ۔ ایک دن کہ جس میں اسلام لوگوں کے لئے ایک کامل دین اور مکمل مذہب کے طور پر خدا کا پسندیدہ قرار دیا گیا۔

اگر ہم تاریخ اسلام کے تمام ایام پر اچھی طرح غور و حوض سے کام لیں تو تاریخی نوعیت کا کوئی بھی دن خواہ وہ روز بعثت پیغمبر ہو یا روز ہجرت، یا یوم ولادت حضرت فاطمہ زہرا ہو یا کسی بھی جنگ میں لشکر اسلام کی کامیابی کا دن، حجة الوداع ہو یا کوئی اور تاریخی اہمیت کا حامل دن، اس دن کی عظمت، سربلندی، اعزاز اور افتخار کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ حتیٰ کہ حجة الوداع کا دن بھی اس کی برابری نہیں کر سکتا۔ اس لئے کہ حج خواہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو پھر بھی ہے تو دین کا ایک جزو۔ پس مذکورہ چار صفات کا حامل صرف روز عزیزخم ہی ہے جس میں علی بن ابی طالب علیہ السلام کو پیغمبر کے جانشین کے طور پر منصوب کیا گیا اور حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امامت کی رہبری کے لئے منتخب کیا گیا۔

پیام:

قرآن میں رہبر کا مقام

۱ ۔ دین و مذہب اور مکتب فکر صحیح معنوں میں اس کے قائد کے دم قدم ہی سے قائم رہ سکتا ہے اور تمام کفار کو اسی قائد کی موجودگی سے ہی مایوسی ہوئی ہے کسی اور چیز سے نہیں،

۲ ۔ اگر اسلامی معاشرہ میں عذیر و ولایت جیسا رہبر موجود ہو تو مسلمانوں کو کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ (ف( لاتخشوهم )

۳ ۔ کفار کی امیدوں کا اہم ترین مرکز اسلامی رہبر و قائد کی موت ہے اور امیرالمومنین علی کے رہبر و قائد کی حیثیت سے انتخاب نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔( الیوم یئس--- )

۴ ۔ اگر خارجی دشمن سے محفوظ رہ بھی جاؤ پھر بھی داخلی دشمن اور گناہ کا اندرونی امکان موجود ہے جس کا مقابلہ صرف خوف خدا ہی کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔( لاتخشوهم و اخشون )

۵ ۔ رہبر و قائد کے بغیر دین نامکمل ہے( اکملت لکم دینکم )

۶ ۔ اگر رہبر و قائد کی طرف سے خدائی نعمتوں کی طرف راہنمائی نہ ہو تو تمام نعمتیں نامکمل اور ناقص ہوتی ہیں( اتممت علیکم نعمتی )

۷ ۔ بغیر رہبر اور قائد کے دین رضائے الٰہی کی سند حاصل نہیں کر سکتا۔ (۔۔۔( رضیت لکم الاسلام دینا )

۸ ۔ اگر اکمال دین، اتمام نعمت، رضائے الٰہی اور کفار کی مایوسی میں سے کوئی ایک صورت بھی کسی دن انجام پا جائے تو اس دن کے لئے کافی ہے کہ اس کا شمار "ایام اللہ" میں ہونے لگے چہ جائیکہ غدیر جیسا دن کہ جس میں تمام خصوصیات یکجا انجام پا گئیں۔ اسی لئے تو اہلِ کتاب کہتے ہیں کہ اگر "ہماری کتاب میں اس قسم کا دن ہوتا تو ہم اسے "عید کا دن" قرار دیتے۔ چنانچہ روایات اہلبیت میں "عید غدیر" کو اسلام کی عظیم ترین عید قرار دیا گیا ہے۔

۹ ۔ کفار، ایک کامل اور اکمل دین سے ڈرتے ہیں اور مسلمانوں سے مایوس ہو چکے ہیں تاکہ ایسے دین سے کہ جس کا رہبر ان کے سامنے ہتھیار ڈال دے، جس میں جہاد کا حکم معطل ہو جائے، جس کے مصادر اور منابع تہس نہس ہو چکے ہوں اور جس کے ماننے والے پراگندہ ہو چکے ہوں( الیوم یئس-- الیوم اکملت لکم دینکم )

۱۰ ۔ اگر اس کے باوجود بھی کفار تم سے امیدیں لگائے ہوئے ہیں اور مایوس نہیں ہوئے تو تم جان لو کہ تمہاری دینداری میں کچھ کمی ہے۔( الیوم یئس--- الیوم اکملت لکم--- )

۱۱ ۔ کفار کی اس وقت تک امیدیں وابستہ تھیں جب تک "غدیر کے دن کا رہبر" منصوب اور متعین نہیں ہوا تھا۔ اور جب رہبر متعین ہو گیا تو ان کی تمام امیدیں خاک میں مل گئیں، تو معلوم ہوا کہ تمام کفار ایک طرف اور اکیلے علی بن ابی طالب ایک طرف۔

۱۲ ۔ خدائی رہبر کے بغیر تمام نعمتیں نامکمل ہیں( الیوم--- اتممت علیکم نعمتی )

۱۳ ۔ جب دیکھو کہ کفار اسلام اور مسلمانوں کی گھات میں لگے ہوئے ہیں تو فوراً اسلامی معاشرہ کی رہبری کی اصلاح کی فکر کرو۔( الیوم یئس الذین کفروا )

۱۴ ۔ دین کامل ہے لیکن لوگ نہ! لہٰذا اپنا خاص خیال رکھو اور خدا سے ہمیشہ ڈرتے رہو۔( اکملت لکم دینکم-- واخشون )

۱۵ ۔ مسلمانوں کو کفار کی مایوسی کے دن کا انتظار تھا اور یوم غدیر اس انتظار کی تکمیل کا دن ہے۔

۱۶ ۔ خدا کا علی بن ابی طالب کو امامت کے عہدے پر فائز کرنا، نعمتوں کے تمام ہونے کا موجب ہے اورعلی کی ولایت کا انکار، کفران نعمت ہے اور کفران نعمت کا انجام بہت خطرناک ہے۔ "یعرفون نعمت اللہ ثم ینکرونھا" یعنی لوگ اللہ کی نعمت کو پہچانتے ہوئے اس کا انکار کر دیتے ہیں۔

۱۷ ۔ اگر مسلمان، غدیر کے دن کے رہبر کا انکار نہ کرتے تو انہیں کفار کی طرف سے تاریخ میں کبھی بھی کوئی خطرہ لاحق نہ ہوتا۔( لاتخشوهم )

۱۸ ۔ قرآن میں مسلمانوں کو جس خطرے سے زیادہ خبردار کیا گیا ہے وہ ہے رہبر سے انحراف اور منہ موڑنے کا خطرہ۔ (واخشون) او رسورہ آل عمران/ ۲۸ میں ارشاد ہوتا ہے "( ویحذرکم الله نفسه ) " یعنی خدا تمہیں اپنی نافرمانی سے ڈراتا ہے۔

۱۹ ۔ اشیاء کے آثار بعض اوقات ان کے مجموعی اجزا پر مترتب ہوتے ہیں۔ مثلاً روزہ ہے کہ اگر اذان مغرب سے ذرا بھی پہلے اسے افطار کیا جائے تو باطل ہو جاتا ہے اسی لئے روزہ کے بارے میں لفظ "تمام" کا استعمال ہوا ہے کہ "( ثم اتموا الصیام الی اللیل ) "

اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی چیز کی ہر جزو کا اپنا علیحدہ اثر ہوتا ہے۔ مثلاً قرآنی آیات کی تلاوت ہے کہ تلاوت کا کمال یہ ہے کہ پورے قرآن کی آیات کو تلاوت کیا جائے، لیکن اگر صرف چند ایک آیت کو پڑھا جائے تو بھی ثواب مل جاتا ہے۔

بعض اوقات کسی چیز کے بعض اجزاء ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اس میں نہ ہوں تو وہ چیز کلی طور پر ناقص ہوتی ہے۔ ہر چند کہ دوسرے تمام اجزا موجود ہی ہوں جیسے ہوائی جہاز کا پائلٹ یا گاڑی کا ڈرائیور اگر نہ ہوں تو جہاز یا گاڑی بے ثمر اور بے مقصد ہوتی ہے۔

برحق رہبر کی قیادت اور ولایت بھی بعینہ اسی طرح ہے کیونکہ یہی چیز تو انسان کو خدا سے جا ملاتی ہے۔ اور اگر یہ نہ ہوتی تو تمام کائنات اور اس کی نعمتیں، عذاب میں بدل جاتی ہیں اس لئے کہ یہ چیزیں بذات خود انسان کو خدا تک نہیں پہنچاتیں۔

یہ تو تھی ولایت اور قیادت و رہبری کے بارے میں تھوڑی سی بحث، اب ہم آیت کے پہلے حصہ کے بارے میں گفتگو کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور غذاؤں اور گوشت کے بارے چند ایک مطالب کا ذکر کرتے ہیں۔

پیام:

غذا کا زندگی کے ساتھ تعلق

۱ ۔ روح اور جسم کی سلامتی کے لئے غذا اس حد تک ضروری ہے کہ قرآن مجید میں بارہا اس کی تاکید کی گئی ہے۔

۲ ۔ اسلام ایک ایسا جامع دین ہے کہ جو انسان کی تمام طبعی اور روحانی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ان کے بارے میں اپنا واضح اور صریح نظریہ پیش کرتا ہے (حرمت)

۳ ۔ ایسا قانون صحیح معنوں میں مکمل اور کامل کہلا سکتا ہے جو تمام انسانوں کے حالات اور ضروریات پر توجہ قائم کئے رکھے کہ عام حالات میں انہیں کیا کرنا چاہئے؟ مجبوری اور بھوک وغیرہ کی صورت میں کیا کریں؟

۴ ۔ اسلامی احکام کہیں پر بھی مشکل یا ناتوانی سے دوچار نہیں ہوتے (ف( من اضطر )

۵ ۔ مجبوری کے خاص حالات، گناہ اور مطلق آزادی کے موجب نہیں بننے چاہئیں، بلکہ صرف اس حد تک اکتفا کرنا چاہئے جس سے صرف مجبوری دور ہو سکے۔( غیرمتوانف لاثم )

۶ ۔ نظام توحید میں جانوروں کا ذبح کرنا بھی رنگ الٰہی میں رنگا ہوا ہونا چاہئے، ورنہ جانور حرام ہو جائیں گے( وما اهل لغیرالله )

۷ ۔ شرک کے تمام مظاہر سے نبردآزمائی کرنی چاہئے خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو (وما( ذبح علی النصب ) ۱۱

۸ ۔ اسلام، دین عدل ہے، نہ تو یورپی ملکوں کی مانند گوشت کے کثرت استعمال کا حکم دیتا ہے اور نہ بدھ بھکشوؤں کی مانند اسے حرام جانتا ہے۔ اور نہ ہی چینیوں کی طرح ہر قسم کے جانور کا ہر صورت میں استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ اسلام میں گوشت کے استعمال کے لئے کچھ شرائط اور حدود مقرر کئے گئے ہیں۔ منجملہ ان کے چند ایک شرائط یہ بھی ہیں۔

الف۔ گوشت خور جانوروں کے گوشت کو نہیں کھانا چاہئے، اور اس کی وجہ شاید یہ ہو سکتی ہے کہ اس قسم کے جانور عام طور پر مردار کا گوشت کھاتے ہیں۔

ب۔ درندوں کا گوشت نہیں کھانا چاہئے، کیونکہ اس سے انسان میں شقاوت اور درندگی کی روح پیدا ہوتی ہے۔

ج۔ ان جانوروں کا گوشت نہیں کھانا چاہئے جو عام طور پر نفرت کا موجب ہوتے ہیں۔

د۔ جس جانور پر ذبح کے وقت خدا کا مبارک نام نہ لیا جائے اس کا گوشت نہیں کھانا چاہئے۔ ۱۲

۹ ۔ تمام حرام گوشت جانوروں میں سے صرف "سور" کا نام ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اس کے استعمال کا عام رواج ہے۔

۱۰ ۔ خون کا خوراک کی صورت میں استعمال چونکہ (سنگدلی) دل کی قساوت اور بیماریوں کے منتقل کرنے کا موجب ہوتا ہے لہٰذا حرام ہے۔ البتہ دوا کے طور پر اور انجکشن کی صورت میں استعمال میں کوئی حرج نہیں۔

آیت میں مذکور گوشت خوری اور غذا کے حصول پر ایک نظر

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام مردار کے گوشت کے بارے میں فرماتے ہیں "جو شخص بھی اس (مردار کے گوشت) کے قریب گیا، کمزوری، لاغری، سستی، قطع نسل، سکتہ اور ناگہانی موت نے اسے اپنا شکار بنا لیا۔‘

خون کا پینا زمانہ جاہلیت کی رسم تھی اور یہ کام سنگدلی اور رحمدلی کے فقدان کا اس حد تک موجب ہوتی ہے کہ انسان اپنی اولاد اور ماں باپ تک کو قتل کرنے سے نہیں چوکتا، خونخوار انسان اپنے رفیق اور دوست تک کو نہیں پہچانتا۔ اسی طرح سور کے گوشت کے بارے میں بھی بہت سی روایات موجود ہیں۔ (تفسیر المیزان)

کچھ گوشت خوری کے بارے میں

بدھ مت کے پیروکار گوشت کھانے کے مخالف ہیں، جبکہ بعض دوسرے افراد ہر قسم کے جانور کا ہر قسم کا گوشت کھاتے ہیں، خواہ وہ کتا ہو یا خنزیر، مینڈک ہو یا کیکڑا وغیرہ۔

البتہ یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ " آیا گوشت کے حصول کے لئے کسی جانور کی جان لینا اور اسے ذبح کرنا رحمدلی کے ساتھ سازگار ہے؟

جواب:

۱ ۔ نظام تخلیق کائنات تغیر اور تبدل پر مبنی ہے۔ مٹی، نباتات بنتی ہے، نباتات حیوانات میں تبدیل ہو جاتی ہے اور حیوانات کا گوشت انسان میں بدل جاتا ہے۔ یہی ایک ارتقاء ہے اور ان تبدیلیوں کا نتیجہ انسانی ارتقا اورنشو و نما ہے۔

۲ ۔ نظام ہضم کی کیفیت اور دانتوں کی نوعیت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ انسان کی غذا کیا کیا چیزیں ہیں؟

۳ ۔ عدل ہر جگہ بہتر ہے لیکن رحمدلی ہر مقام پر بہتر نہیں ہے ورنہ جنگ اور قصاص کا حکم نہ ہوتا۔

۴ ۔ جانورں کے ذبح کے بارے میں جن جن باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے وہ سنگدلی اور بے رحمی کے برعکس ہے۔ مثلاً جانور کو تیزدھار آلے سے ذبح کیا جائے، اسے تکلیف نہ دی جائے، ذبح کرنے سے پہلے اسے پانی پلا یا جائے اور مکمل طور پر جان نکل جانے سے پہلے اس کے اعضا نہیں کاٹنے چاہئیں۔ وغیرہ۔

آیت ۴

( یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ اُحِلَّ لَهُمْ ط قُلْ اُحِلَّ لَکُمْ الطَّیِّبٰتُ وَمَاعَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلَّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَهَنَّ مِمَّا عَلَمَّکُمُ اللّٰهُ فَکُلُوْا مِمَّآ اَمْ سَکْنَاعَلَیْکُمْ وَاذْکُرُوْ ا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَاتَّقُوْااللّٰهَ ط اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ )

ترجمہ: (اے رسول) لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں؟ تو آپ کہہ دیں کہ تمہارے لئے تمام پاکیزہ چیزیں حلال ہیں اور ان جانوروں کا شکار (بھی حلال ہے) جنہیں تم نے وہ کچھ سکھایا جس کی خدا نے تمہیں تعلیم دی تھی۔ جبکہ تم شکاری کتوں کو سکھاتے ہو، پس جو کچھ کہ شکار کے لئے سدھائے ہوئے کتے تمہارے لئے شکار کرتے ہیں اور روک رکھتے ہیں وہ کھا لو او ر(جب جانور کو شکار کے لئے چھوڑو تو) اس پر خدا کا نام لیا کرو، اور اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ حساب لینے والا ہے۔

نکتہ

لفظ "مکلبین" کے پیش نظر شیعہ عقیدہ کے مطابق صرف سدھائے ہوئے شکاری کتے کا شکار حلال ہے (نا کہ کسی اور جانور کا شکار کہ جو شکار کو جائے اور کوئی چیز شکار کرکے لے آئے) اور پھر سدھائے ہوئے کتے کا بھی وہ شکار کہ کتا جس کے پیچھے چھوڑا جائے اور وہ اسے پکڑ کر لے آئے یا اسے بچائے رکھے۔ نا کہ کتا خود شکار کے پیچھے جائے اسے پکڑے چیرپھاڑ کرے خود کھائے اور جو بچ جائے وہ تمہارے لئے لے آئے۔ کیونکہ ایسا شکار حرام ہے۔

"جوارح" جمع ہے "جارحہ" کی اور لفظ "جرح" سے ماخود ہے جس کا معنی ہے "کمانا" اور "کسی چیز کا حاصل کرنا" اور "زخم" کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اور شکاری جانوروں کو "جارحہ" کہتے ہیں اس لئے کہ وہ اسے زخمی کرتے ہیں۔ یا اس لئے کہ اپنے مالک کے لئے شکار حاصل کرتے ہیں۔ اعضائے بدن کو بھی "جوارح" کہتے ہیں کیونکہ یہ تلاش و کوشش اور حصول اشیاء کا ذریعہ ہوتے ہیں۔

پیام

۱ ۔ انبیائے عظام معاشرہ کے ہر قسم کے طبعی سوالوں اور ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جواب گو ہوتے ہیں( یسئلونک )

۲ ۔ ہم جو کچھ نہیں جانتے وہ انبیاء یا ان کے وارثوں سے پوچھنا چاہئے( یسئلونک )

۳ ۔ اصول اور قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ تمام پاکیزہ اور من پسند چیزیں حلال ہوں کہ جن سے انسان کو نفرت نہ ہو۔( احل لکم الطیٰبت )

۴ ۔ جو غذا یا عمل حرام ہوا ہے اس کی وجہ یا تو اس کا فاسد اور خراب ہونا ہے یا پھر اس کا "خبیث" ہونا ہے( احل لکم الطیٰبت )

۵ ۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے لہٰذا جو چیزیں قابل نفرت نہیں اور نہ ہی ان میں کسی قسم کے فاسد ہونے کا پہلو ہے وہ حلال ہیں( احل لکم الطیٰبت )

۶ ۔ تعلیم دینا اور سدھانا صرف انسان ہی کے لئے نہیں ہے حیوان بھی سدھائے اور سکھائے جا سکتے ہیں اور انسان کے لئے مسخر ہیں( تعلمونهن )

۷ ۔ دانش کی اہمیت اس قدر ہے کہ اگر کتا بھی اسے حاصل کر لے تو وہ قدر و قیمت کا حامل ہوجاتا ہے اور اس کی اہمیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

۸ ۔ کتا اپنی تھوڑی سی سکھلائی اور تعلیم سے اپنی ساری زندگی کا شکار اپنے معلم کو ہدیہ کرتا رہتا ہے۔( امسکن علیکم ) لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو خدا سے سب کچھ، تعلیم پاتے ہیں( علیکم الله ) مگر خدا کو کیا ہدیہ دیتے ہیں؟ معلوم نہیں!

۹ ۔ حصول غذا کا مسئلہ اہم ہے (شکار بھی حصول غذا یا حصول رزق کے لئے کیا جائے) اور اسے معمولی نہیں سمجھنا چاہئے لہٰذا حرام شکار، اسراف کے شکار اور نفسانی خواہشات کے تحت شکار سے پرہیز کرنا چاہئے( اتقوا الله )

آیت ۵

( اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَکُمَُ الطَّیِّبٰتِ ط وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوْ ا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّهُمْ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْا الِْکتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ اِذَآ اٰتَیْتُمُوْ هُنَّ اُْجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِینَْ وَلَا مُتَّخِذِیْٓ اَخْدَانٍ ط وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیمَْانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُه وَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) ۰

ترجمہ۔ آج تمام پاکیزہ اور دلپسند چیزیں تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہیں اور (نیز) اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے۔ اور (نیز) پاکدامن مومنہ عورتیں اور اہل کتاب کی پاکدامن عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں، بشرطیکہ ان کا حق مہر ادا کرو اور پاکدامن رہو (ناکہ زنا کرو) اور (نامشروع) پوشیدہ طریقہ سے دوستی نہ لگاؤ۔ اور جو شخص ایمان لانے سے انکار کرے گا یقینا اس کا عمل تباہ ہو جائے گا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔

نکتہ:

تنہا لفظ "طعام" اگرچہ ہر قسم کی کی غذا پر بولا جاتا ہے لیکن سابقہ آیت کی وجہ سے بھی کہ حیوانوں کے گوشت کے لئے ان کے ذبح کے وقت خدا کا نام لینا شرط قرار دیا گیا تھا، نیز روایات اہل بیت کی رو سے بھی اس سے مراد گندم، جو اور دیگر غلہ ہے۔ اور ابن کثیر اور خلیل جیسے ماہرین لغات کہتے ہیں کہ "حجاز کی لغت میں "گندم" کو بھی "طعام" کہا جاتا ہے" (تفسیرالمیزان)

چونکہ اس آیت کی رو سے دینی اقلیتوں (یہود و نصاریٰ) کے ساتھ آمد و رفت، غذا کھانے اور ان کی عورتوں سے نکاح کی راہیں کھل جاتی ہیں اور ممکن ہے کہ مسلمان یہود و نصاریٰ کی لڑکیوں کو حاصل کرنے کے لئے اپنی روزانہ کی آمد و رفت میں اضافہ کر دیں اور آہستہ آہستہ ان کے افکار و آداب کو اپنانے لگ جائیں اور اسلام کا راستہ چھوڑ کر کافر ہو جائیں لہٰذا آیت کا آخری حصہ اس قسم کے خطرات کے پیش نظر مسلمانوں کو متنبہ کر رہا ہے۔

"اخدان"، "خدن" کی جمع ہے جس کا معنی ہے "دو دوست" لیکن عام طور پر مخفی اور غیرشرعی دوستوں کے لئے بولا جاتاہے۔

اس آیت میں مسلمانوں کے لئے سابقہ محدودیت کو لازم قرار نہیں دیا گیا، بلکہ اہل کتاب کے ساتھ ارتباط اور معاشرے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس لئے کہ مسلمان طاقتور ہو چکے ہیں اور کفار مسلمانوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔

آیت مذکورہ میں فریقین (مسلمانوں اور اہلِ کتاب) کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے طعام سے استفادہ کریں، لیکن ازدواج کے بارے میں اسلام نے مسلمانوں کو اہلِ کتاب سے رشتہ لینے کی اجازت دی ہے لیکن رشتہ دینے کی اجازت نہیں دی، اس لئے کہ عورتیں عموماً اپنے لطیف اور ہمدردانہ جذبات کے تحت مرد کے زیراثر آ جاتی ہیں۔ چنانچہ اگر کتابیہ عورتیں اسلام کو اپنا لیں گی تو یہ اسلام کی ترقی کی ایک صورت ہو گی جبکہ مسلمان عورتیں اگر اہلِ کتاب کے مذہب کو اپنا لیں گی تو یہ اسلام کی تنزلی کی ایک صورت ہو گی۔ اسی لئے مسلمانوں کا اہلِ کتاب کو رشتہ دینا جائز نہیں ہے۔

زنانِ اہل کتاب سے ازدواج سے مراد نکاح موقت (متعہ ہے) اور اس کی چند دلیلیں ہیں۔

۱ ۔ اس بارے میں متعدد روایات موجود ہیں۔ ۲ ۔ لفظ "اجورھن" کا استعمال، کہ جو زیادہ تر متعہ کے مہر کے لئے استعمال ہوا ہے۔ ۳ ۔ چونکہ عدم زنا اور دوستانہ مراسم کی شرط ازدواج موقت (متعہ) سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے جبکہ دائمی عقد (نکاح) کے سلسلہ میں زنا یا دوستانہ مراسم کی بات نہیں ہوتی۔

البتہ شیعہ اور سنی علماء میں سے کچھ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ کتابیہ عورت سے ہر قسم کا عقد (دائمی یا موقت) جائز ہے اور اس میں کوئی جرم نہیں ہے۔

پیام

۱ ۔ احکام اور قوانین میں "زمانہ" کے عنصر سے غافل نہیں ہونا چاہئے( الیوم )

۲ ۔ کسی نعمت کی حرمت یا حلیت ممکن ہے کہ تدریجی طور پر ہو، جبکہ شراب یا سور کی حرمت تدریجی طور پر ہوئی۔ اور یہ تدریج بھی حکمت اور مصلحت کے تحت تھی۔

اسی طرح بنی اسرائیل پر بعض حلال چیزیں ان کے ظلم کی وجہ سے ان پر حرام قرار دے دی گئیں۔ (سورہ بقرہ/ ۱۰۹) یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بعض ممنوع چیزوں کے استعمال کو حلال قرار دے دیا۔ لیکن زیربحث آیت نے کلی طور پر تمام پاک و پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دے رہی ہے۔

۳ ۔ ازدواجی روابط میں اقتصادی اور لین دین کے روابط سے افکار میں رسوخ و نفوذ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے لہٰذا خبردار رہنا اور اہل کتاب کو اپنا رشتہ نہ دینا۔

۴ ۔ پاکدامنی خواہ کسی بھی مذہب و ملت میں قابلِ ستائش ہے( والمحصنات من الموٴمنات والمحصنات من الذین اوتواالکتاب )

۵ ۔ پاکدامنی، مردوں اور عورتوں دونوں قسم کے افراد کے لئے لازمی شرط ہے( محصنین، محصنات )

۶ ۔ عورت کو حق مالکیت حاصل ہے خواہ وہ مسلمان ہے یا غیرمسلم( اجورهن )

۷ ۔ دھوکہ، فریب اور جعل سازی خواہ غیرمسلم ہی سے کیوں نہ ہو ہر حالت میں ممنوع ہے( آتیتموهن اجورهن )

۸ اہل کتاب سے مراسم، ان کے محلوں میں رہائش، ان کے ملکوں میں سفر، لغزش کے مواقع فراہم کرتے ہیں، اس لئے اس آیت میں جہاں پر ان سے مراسم قائم کرنے کی اجازت دی گئی ہے وہاں پر اس بات سے بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اپنے ایمان کو بچائے رکھنا۔

۹ ۔ مخفی اور غیرشرعی دوستی خواہ غیرمسلمان سے ہی کیوں نہ ہو ناجائز اور ممنوع ہے( ولا متخذی اخذان )

۱۰ ۔ خبردار! اقتصادی اور خاندانی رابطے تمہارے عقیدوں کو تبدیل نہ کر دیں اور نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے اپنے ایمان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھو۔( ومن یکفر بالایمان )

آیت ۶

( یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا قُمْتُُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ فَاَغْسِلُوْا وُجُوْهَکُمْ وَ اَیْدِیَکُمْ اِلَی اْلمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُ وْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِط وَ اِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْاط وَ اِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْ عَلَی سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِکُمْ وَ اَیْدِیْکُمْ مِّنْهُط مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّلٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَه عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ )

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو، اور اپنے سروں اور پاؤں کے کچھ حصے کا ٹخنوں (پاؤں کی ابھری ہوئی جگہ) تک کا مسح کر لیا کرو۔ اور اگر تم حالت جنب میں ہو تو خود کو پاک (غسل) کر لیا کرو۔ اور اگر تم بیمار یا مسافر ہو یا تم میں سے کوئی شخص نشیبی جگہ (قضائے حاجت سے) لوٹا ہے یا عورتوں کو (جنسی آمیزش کے لئے) ہاتھ لگایا ہے تو اگر (غسل یا وضو کے لئے) پانی تک تمہاری رسائی نہیں ہے تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو۔ پس چہرے اور ہاتھوں (کے کچھ حصے) پر اس مٹی سے (جو تمہارے ہاتھوں پر رہ گئی ہے) مسح کر لیا کرو۔ اللہ نہیں چاہتا کہ تمہارے لئے مشکل اور تنگی پیدا کرے، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پرتمام کرے شاید کہ تم اس کے شکرگزار (بندے) بن جاؤ۔

سورہ نساء کی ۴۳ ویں آ یت میں غسل اور تیمم کے مسئلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہاں پر مذکورہ دو مسائل کے علاوہ وضو کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

"قیام" کا لفظ جب "الیٰ" کے ساتھ استعمال ہو تو اس کا معنی "ارادہ کرنا" ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے "( قمتم الی الصلٰوة ) " کا معنی ہو گا اور جب تم نے نماز پڑھنے کا ارادہ کر لیا"۔

"جنب" کے لفظ کا مرد، عورت، مفرد اور جمع سب کے لئے یکساں اطلاق ہوتا ہے۔ اور اس آیت میں شاید جنب سے مراد "احتلام" ہو، اور "عورتوں کو ہاتھ لگانے" سے مراد جنسی آمیزش ہے۔

"( فاطهروا ) " کا لفظ "غسل کرنے" کا معنی دے رہا ہے۔ اور سورہ نساء کی ۴۳ ویں آیت میں "فاطھروا" کی بجائے "تغتبلوا" ہے۔

"( الی المرافق ) " کا جملہ ہاتھوں کی دھونے کی مقدار کو بیان کر رہا ہے نا کہ دھونے کی کیفیت کو۔ (یعنی دھونے کی مقدار کہنیوں سے انگلیوں کے سرے تک ہے نا کہ انگلیوں کے سرے سے لے کر کہنیوں تک)

تیمم میں بھی عبادت کی روح موجود ہے۔ کیونکہ ہاتھوں کا خاک پر مارنا اور پھر اس کا عضائے بدن میں سے بالاترین عضو (چہرے) پر ملنا ایک قسم کی تواضح اور خاکساری ہے جس کا اظہار جلیل القدر خدا کے سامنے کیا جاتا ہے۔

جس طرح پانی آلودگیوں کو دور کرتا ہے اسی طرح پاک مٹی بھی جراثیم کشی کی صلاحیت رکھتی ہے کیونکہ اس پر سورج کی شعاعیں پڑ چکی ہوتی ہیں۔

"صعید" کا لفظ "صعود" سے نکلا ہے۔ جس کا معنی ہے بلند، اور یہ بلند زمین کی طرف اشارہ ہے۔ اس لئے کہ برجستہ اور بلند زمین کی مٹی آلودگی اور نجاست سے بچی رہتی ہے۔ یا پھر اس سے مراد وہ مٹی ہے جو زمین کی بلند جگہوں پر ہوتی ہے۔

پیام

۱ ۔ طہارت، نماز کے لے شرط ہے( فاغلوا )

۲ ۔ جس طرح قرآن کو پاکیزہ لوگ مس کر سکتے ہیں اسی طرح خدا سے بھی رابطہ کرنے کے لئے طہارت ضروری ہے۔

۳ ۔ نجاست سے آلودگی اور کثافت، قرب خداوندی سے مانع ہے۔ ۱۴

۴ ۔ نماز کے لئے غسل جنابت واجب ہے( اذاقمتم الی الصلٰوة-- وان کنتم جنبا فاطهروا )

۵ ۔ نماز کے شرائط اور مقدمات میں تخفیف تو ہو سکتی ہے لیکن انہیں بطور کلی ختم نہیں کیا جا سکتا۔

۶ ۔ ناپاک مقدمات کے ذریعہ خداوند پاک و منزہ کی بارگاہ میں حاضری نہیں دینی چاہئے۔( صعید اطیبا )

۷ ۔ جس طرح خوراک پاک اور طیب ہونی چاہئے اسی طرح پاک اور طیب مٹی سے تیمم کے ساتھ خدا کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔

۸ ۔ کلام کا کلی اصول یہ ہے کہ اس کے دوران آداب کو پیش نظر رکھا جائے( لامستم النساء ) صرف ان مسائل میں بے حجاب گفتگو کی جاتی ہے جن کا تعلق حقوق سے ہوتا ہے، تاکہ کسی کا حق ضائع نہ ہو۔ جیسے عورتوں کے حق مہر کے بارے میں ہے کہ "دخلتم بھن" یا حضرت مریم سلام اللہ علیہا سے تہمت کو دور کرنے کے لئے فرمایا کہ "( احصنت فرجها )

۹ ۔ بعض اوقات صرف ایک کلمہ ہی سے نہیں بلکہ ایک حرف سے بھی کلام کا مطلب الٹ ہو جاتا ہے۔ جیسے (وامسحوابرو سکم) ہے کہ اگر اس میں "روو سکم" ہوتا تو اس سے سارے سر کا مسح مراد ہوتا نہ کہ کچھ حصے کا۔

۱۰ ۔ دین میں دشواری اور مشکل نہیں ہے( من خرج )

۱۱ ۔ غسل، وضو اورتیمم کا مقصد معنوی اور اندرونی طہارت کا حصول اور خداوند متعال سے رابطہ قائم کرنا ہوتا ہے( لیطهرکم ) ۱۵

۱۲ ۔ خدا کی طرف سے عائد فرائض انسان کے لئے نعمت ہیں (( لتم نعمة علیکم )

۱۳ ۔ فرائض کی ادائیگی، خدا کا شکر ہے( لعلکم تشکرون )

آیت ۷

( وَاذْکُرُوْ ا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَ اثَقَکُمْ بِهٓ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَاتَّقُوْا اللّٰهَ ط اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ )

ترجمہ: اپنے اوپر خدا کی نعمت کو یاد کرو نیز اس عہد و پیمان کو بھی، جو اس نے تم سے لیا ہے جبکہ تم نے کہا تھا کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔ اور اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ سینوں کے اندر چھپے ہوئے حالات سے آگاہ ہے۔

نکتہ:

آیت میں اگرچہ ایک کلی اور عمومی تنبیہ ہے لیکن ممکن ہے کہ چند دلائل کے پیش نظر اسلامی امہ کی قیادت اور رہبری کا مسئلہ اور قیادت کی اطاعت مراد ہو۔ اور وہ دلائل یہ ہیں۔

۱ ۔ خدا کی طرف سے عطا کردہ قیادت اور رہبری خدا کا میثاق ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی داستان میں ان کا اپنی ذریت میں امامت کے لئے درخواست کرنا اور خدا کا جواب دینا کہ "ظالم افراد میرے عہد (امامت) کو نہیں پہنچیں گے۔"

۲ ۔ جب حضرت علی علیہ السلام کو مقام غدیرخم میں منصب امامت پر فائز کر دیا گیا تو آیت نازل ہوئی کہ "میں نے اپنی نعمتیں تم پر تمام کر دیں"

۳ ۔ غدیرخم کے مقام پر لوگوں نے علی علیہ السلام کی بیعت کی اور "سمعاً و طاعةً " (یعنی ہم نے سن لیا اور اطاعت کریں گے) کہا۔ شاید اس آیت میں لوگوں کوایک بار پھر قائد اور رہبر کے ساتھ کئے ہوئے اس عہد و پیمان کو پورا کرنے کے لئے بلایا گیا ہو جو انہوں نے غدیرخم کے مقام پر کیا تھا۔

پہلی آیت میں ایفائے عہد کو لازمی قرار دیا، تیسری آیت میں رہبر اور قائد کی تعین کرکے دین کو کامل کر دینے کا مژدہ سنایا اور اس آیت کے آخر میں اس خدا کا تقویٰ اختیار کرنے کو کہا جو جان کی گہرائیوں اور دلوں کے راز سے بخوبی واقف ہے۔

"( سمعنا و اطعنا ) " کہہ کر سننے اور اطاعت کرنے کا پیمان ہوتا ہے جو ہر قسم کے عہد و پیمان کو شامل ہے جو انسان فطری، طبعی، قولی یا عملی طور پر انبیاء سے باندھتا ہے۔ جیسے ان کی بیعت ہے اور توحید و نبوت کی گواہی ہے۔

پیام:

۱ ۔ نعمت کو یاد کرنا بھی، نعمت کا شکر ادا کرنا ہے۔

۲ ۔ عظیم ترین اور کامل ترین نعمت قیادت اور رہبری کی نعمت ہے۔ (جو کہ اس سے پہلے والی آیت میں ذکر ہو چکی ہے) اور اس نعمت کی یادآوری مسلمین کے ولی امر کی اطاعت ہے۔

۳ ۔ اس آیت کی نعمت، میثاق، سمع و طاعت اور ذات الصدور جیسے مفاہیم پر تاکید اور وہ بھی غدیرخم کے واقعہ کے بعد اور آیت ۳ میں بیان ہونے والے مضمون کی فراموشی اور اس کی خلاف ورزی پر تنبیہ اور اشارہ ہو سکتا ہے کہ خبردار! غدیرخم میں پیش کئے گئے خطوط سے منحرف نہ ہو جانا۔ (جیسا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے، ملاحظہ ہو تفسیر نورالثقلین)

آیت ۸

( یَاَیُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ وَلَا یَجْرِ مَنَّکمُْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُْوا ط اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوْا اللّٰهَ ط اِنّ َاللّٰهَ خَبِیْرٌ بِّمَا تَعْمَلُوْنَ )

ترجمہ۔ اے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہو! ہمیشہ اللہ کے لئے قیام کرو۔ اور عدالت کی گواہی دو اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں عدالت کے ترک کرنے کی طرف نہ لے جائے، عدل کرو کہ وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے۔ اور خدا سے ڈرو کیونکہ جو کچھ تم کرتے ہو یقیناً اللہ تعالیٰ اس سے آگاہ ہے۔

نکتہ:

اسی آیت سے ملتی جلتی مگر قدرے تفاوت کے ساتھ سورہ نساء کی ۱۳۵ ویں آیت ہے کہ "( یایهاالذین امنواکونوا قوامین بالقسط شهدآ ء لله ولو علی انفسکم اوالوالدین والاقربین ) ۔۔۔ " یعنی اے ایماندارو! مکمل طور پر عدالت کے ساتھ قیام کرو، خدا کے لئے گواہی دو خواہ یہ تمہارے اپنے یا تمہارے والدین اور عزیز و اقارب کے لئے ہی نقصان دہ کیوں نہ ہو۔

یعنی کسی قسم کا کینہ تمہیں عدالت کی راہ سے نہ ہٹا دے۔۔۔

چونکہ لوگوں سے کینے کا جدا ہونا مشکل ہوتا ہے لہٰذا اس آیت میں چند فرمان اور چند ترغیبیں پیش کی گئی ہیں۔

پیام:

۱ ۔ عدالت اجتماعی صرف اور صرف خدا اور معاد (قیامت) پر ایمان ہی کے سایہ میں برقرار ہو سکتی ہے (ی( ٰا یها الذین امنوا--- --- اعدلوا--- ) ورنہ جس نظام میں نہ مبدا کا تصور ہو اور نہ معاد کا، نہ تو جبر کا کوئی ولی و وارث ہو اور نہ ہی کسی قسم کا حساب کتاب تو اس کا کیا فائدہ؟ انسان ہوں اور عدالت کااجرا کریں اور غصے پر قابو پائیں یہ کیسے ہو سکتا ہے؟

۲ ۔ اگر انسان کا مقصد کینہ پروری قرار پا جائے تو خلوص و اخلاص رخصت ہو جاتا ہے لیکن اگر اس کا مقصد رضائے الٰہی ہو تو ہر قسم کے کینے کافور ہو جاتے ہیں۔

۳ ۔ ہمیشہ کی عدالت اور وہ بھی عادت اور ملکہ کی صورت میں ہو تو قابل قدر ہوتی ہے وقتی اور عارضی عدالت کا کوئی فائدہ نہیں۔( قوامین )

۴ ۔ عدالت صرف ایک اخلاقی صفت ہی نہیں خدا کا حتمی فرمان بھی ہے۔( کونوا )

۵ ۔ انتقام اور کینہ توزی، عدالت سے انحراف کے اسباب میں سے ایک عامل ہے۔( شنان قوم )

۶ ۔ داخلی اور خارجی سیاست حتیٰ کہ دشمنوں کے ساتھ بھی عدالت کے ساتھ رفتار کرنی چاہئے۔( شنان قوم )

۷ ۔ مومنین کا خدا کے ساتھ بھی رابطہ ہوتا ہے (ہمیشہ خدا ہی کے لئے قیام کرتے ہیں) اور لوگوں کے ساتھ بھی ان کا رابطہ ہوتا ہے کہ عدل کے ساتھ گواہی دیتے ہیں( شهدآء بالقسط )

۸ ۔ فریضہ جس قدر سنگین اور مشکل ہو گا اس کے بارے میں تاکید اور تشویق بھی اسی قدر زیادہ ہو گی کیونکہ لوگوں کی دشمنی کو نظرانداز کرنا سخت مشکل بات ہوتی ہے لہٰذا اس آیت میں "کونوا" "اعدلوا" اور "اتقوا" کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

۹ ۔ "قسط" اور "عدل" کا ایک ہی مفہوم ہے کیونکہ آیت میں "قسط" کی تفسیر "عدل" سے کی گئی ہے۔( شهداء بالقسط--- اعدلوا )

۱۰ ۔ کینہ ور اور منتقم مزاج لوگ عادل نہیں ہو سکتے۔

۱۱ ۔ عادل اور منصف لوگ تقویٰ سے زیادہ نزدیک ہیں اور قرآن ان کے لئے موجب ہدایت ہے۔

آیت ۹ , ۱۰

( وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ- وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا اُوْلٰئِٓکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ )

ترجمہ۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور شائستہ اعمال بجا لاتے رہے اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کے لئے بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہ سب دوزخی ہیں۔

نکتہ:

قرآن مجید میں چند مختلف اقسام کے اجر کا ذکر ہے۔ "اجر کریم"، "اجر کبیر" اور "اجر عظیم"۔

خدا کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا "( ان الله لا یخلف المیعاد ) " یعنی اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ۔ (آل عمران۔۔۔ ۹)

"حجیم" کا لفظ "حجم" سے ہے جس کا معنی ہے " آگ کا شدت سے بھڑکنا" چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داستان میں ہے کہ انہیں نمرود نے "حجیم" یعنی شعلہ ور آگ میں ڈالا تھا۔ اور "( اصحاب الحجیم ) " کا معنی ہے جو لوگ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔

پیام:

۱ ۔ ایمان اور عمل صالح دو ایسے عناصر ہیں جو گزشتہ گناہوں کی تلافی کرتے ہیں اور آئندہ کے لئے گناہوں سے بچنے کا موجب ہوتے ہیں۔( مغفرة- اجر )

۲ ۔ گزشتہ اعمال کی یادآوری اور عاقبت، کی طرف توجہ، انسان کے ارادوں کے لئے زبردست اہمیت کے حامل ہیں۔

۳ ۔ مغفرت، اجر کے عطا کرنے کا مقدمہ ہوتی ہے( مغفرة و اجر )

۴ ۔ کافروں اور آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والوں کی سزا ابدی جہنم ہے۔

آیت ۱۱

( یَاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْکُمْ اِذْهَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْا اِلَیْکُمْ اَیْدِیْهِمْ فَکَفَّ اَیْدِیْهِمْ عَنْکُمْ وَ اتَّقُوْااللّٰهَ ط وَ عَلٰی اللّٰهِ فَلْیَتَوَکّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ) ہ

ترجمہ۔ اے ایمان والو! خدا کی وہ نعمت یاد کرو جو اس نے تمہیں عطا کی ہے جب (دشمنوں کی) ایک جماعت نے ارادہ کر لیا تھا کہ تمہاری طرف دست ستم دراز کرے (اور تمہیں ختم کر دے) لیکن خدا نے ان کے دست تجاوز کو تم سے کوتاہ کر دیا اور خدا سے ڈرتے رہو اور مومنین کو چاہئے کہ صرف خدا پر ہی توکل کریں۔

نکتہ:

اگرچہ اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ آیت کس سلسلہ میں نازل ہوئی ہے، لیکن اسے تمام ان واقعات کے بارے میں سمجھنا چاہئے جہاں پر مسلمانوں نے دشمنوں کے غلط ارادوں اور جارحیت کے ارتکاب کے موقع پر خدا پر توکل کرکے کامیابی حاصل کی اور نجات پائی۔

پیام:

۱ ۔ خدائی نعمتوں کی یادآوری ایک طرح کا شکر ہوتا ہے اور انسان کو غرور و غفلت سے دور کرکے اس کے خدا کے ساتھ عشق کو دوبالا کرتی ہے۔

۲ ۔ دشمن کے خطرات کو دور کرنا خدا کی اہم ترین نعمت ہے۔

۳ ۔ خدا سے تقویٰ، اس پر توکل اور ایمان رکھ کر لطف پروردگار کو حاصل کرو، اور دشمن کے خطرات کو خود سے دور ہٹاؤ۔ (جس طرح کہ گناہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انسان پر اس کے دشمن کو مسلط کر دیتا ہے، اسی طرح خدا کی طرف توجہ دشمنوں کو دور بھگانے کا موجب ہوتی ہے)

آیت ۱۲

( وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْ اِْسرَآ ءِ ْیلَ وَ َبعَثْنَا مِنْهُمْ اِثْنَی عَشَرَ نَقِیْبًا ط وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعْکُمْ ط لَئِنْ اَقَمْتُمْ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّکَٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْ تُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهُ قَرَضًا حَسَنًالَّا ُکَفِّرَنَّ عَنْکُمْ سَیِّاٰ تِکُمْ وَلَا ُدِخِلَنَّکُمْ جَنّٰتٍ تَّجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الّاَنْهَرُ فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَذٰلِکَ مِنْکُمْ فَقْدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ ) ہ

ترجمہ: یقینا اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ سرپرست اور رہبر (بارہ گروہوں کے لئے) معبوث کئے۔ اور اللہ نے (ان سے) فرمایا: میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم کرو، زکوةٰ ادا کرو اور میرے رسولوں پر ایمان لے آؤ اور ان کی مدد کرو اور اللہ کو قرض حسنہ دو تو میں (بھی) یقیناً تمہارے گناہوں کو چھپاؤں گا اور تمہیں بہشت کے ایسے باغات بھیجوں گا جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں بہتی ہیں۔ تو اس کے بعد تم میں سے جو شخص بھی کافر ہو جائے تو وہ راہِ راست سے بھٹک جائے گا۔

نکتہ:

بنی اسرائیل کے نقیب بارہ افراد تھے، جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وزیر اور بنی اسرائیل کے بارہ ٹولوں (گروہوں) کے سرپرست اور رہبر تھے۔

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : "میرے بعد میرے بارہ خلیفے ہوں گے بنی اسرائیل کے نقیبوں کی تعداد کے برابر: ۱۶

مسلک اہلبیت علیہم اسلام کے مخالفین اس تعداد کو خلفائے راشدین، خلفائے بنی امیہ اور خلفائے بنی عباس سے پورا کرنے کی فضول کوشش کرتے چلے آئے ہیں لیکن کبھی بھی یہ تعداد ان سے پوری نہیں ہو سکی۔ جبکہ ا س کے برعکس پیغمبر اکرم کی زبانی بیسیوں ایسی احادیث منقول ہیں جن میں ان بارہ نائبین کا نام بنام تذکرہ ہے اور حضرت علی سے لے کر حضرت امام مہدی علیہم السلام تک بارہ اماموں کا کہیں تفصیلی اور کہیں اجمالی تذکرہ ہے۔

"عذرتموھم" کا کلمہ لفظ "عذر" سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے کسی کی اس انداز میں امداد کرنا کہ احترام بھی اس کے ساتھ ہو۔ اسی طرح "تعزیر" کالفظ ہے جس سے مجرم کو ترک جرم میں مدد ملتی ہے۔ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی سزائیں تربیتی پہلو کی حامل ہوتی ہیں نا کہ انتقامی پہلو کی۔

"( سواء السبیل ) " کا معنی ہے راستے کا درمیانی حصہ کہ جس سے انحراف، سقوط اور گمراہی کا موجب ہوتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ خدا ہمارے ساتھ چند شرائط کی وجہ سے ہوتا ہے اور وہ ہیں نماز، زکوٰة، ایمان، انبیاء کی نصرت، راہ خدا میں خرچ کرنا وغیرہ اور ان کے بغیر لطف پروردگار ختم ہوجاتا ہے۔

۲ ۔ نماز، زکوٰة اور انفاق ازراہ خدا میں خرچ کرنا، تمام آسمانی ادیان میں شامل ہے۔

۳ ۔ انبیاء عظام پر صرف ایمان ہی کافی نہیں، ان کی نصرت بھی ضروری ہے (وعذرتموھم)

۴ ۔ صرف واجبات کی بجاآوری ہی کافی نہیں ہوتی، واجبات اور مستحبات مل کر ہی کارساز اور کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ (نماز، زکوٰة اور انفاق)

۵ ۔ مخلوق خدا کی امداد ہی خدا کی امداد ہوتی ہے( اقرضتم الله )

۶ ۔ دین کے راہنما کو خدا ہی کی طرف سے معبوث ہونا چاہئے (بعثنا) اور انبیاء کے برگزیدہ افراد بھی خدا کے فرمان کے مطابق ہونے چاہئیں۔

۷ ۔ نماز، زکوٰة اور انفاق بھی صحیح معنوں میں اس وقت حقیقت کا روپ حاصل کرتے ہیں جب خدائی رہبر اور قائد کی رہنمائی میں انجام دیئے جائیں۔ اور وہ بھی تمام انبیاء کی ولایت کو تسلیم کرنے کے ساتھ نا کہ بعض کی۔

۸ ۔ رہبر اور قائد اگر خود انہی لوگوں میں سے ہو تو اپنے مقاصد میں کامیاب رہتا ہے۔( بعثنا منهم )

۹ ۔ بہشت "قیمت" دے کر حاصل کی جاتی ہے حیلوں بہانوں سے نہیں۔ اگر نماز، زکوٰة، انبیاء پر ایمان، ان کی امداد، راہ خدا میں انفاق ہو گا تو بہشت بھی ملے گی ورنہ نہیں!

۱۰ ۔ بہشت پلید لوگوں کی جگہ نہیں ہے، پہلے پاک ہونا چاہئے پھر بہشت میں داخلہ ممکن ہوگا۔( لاکفرون--- لارخلنکم )

۱۱ ۔ خدا کی بخشش تک دسترسی، ایمان اور عمل صالح ہی سے ہو سکتی ہے( لاکفرن )

۱۲ ۔ میثاق، اتمام حجت اور لطف پروردگار کے حصول کی شرائط کے بیان کے بعد اب کسی کے لئے کوئی عذر اور بہانہ باقی نہیں رہ گیا۔

آیت ۱۳

( فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبِهِمْ قٰسِیَةً یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِه وَ نُسَوْا حَظًّا مِمَّا ذُکِّرُوْا بِه وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآئِنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ط اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ )

ترجمہ: پس ان کی پیمان شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا وہ کلمات (الٰہی) کی اپنی جگہ سے تحریف کرتے ہیں۔ اور جو چیز کے ان کے گوشزد کی گئی تھی اس کے کچھ حصے کو فراموش کر دیا۔ اور تم ہمیشہ ان کی (نئی) خیانت سے آگاہ ہوتے رہتے ہو (روزانہ ان کی نئی سازش اور نئی خیانت ہوتی ہے) مگر ان میں سے بہت کم لوگ (جو سنگدل، تحریف کرنے والے اور خائن نہیں ہیں) پس تم ان سے درگزر سے کام لو اور ان کی لغزشوں کو معاف کر دو۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

نکتہ:

۱ ۔ اس سورت کی سب سے پہلی آیت میں ایفائے عہد کی بات ہوئی ہے، بارہویں آیت میں بنی اسرائیل کے خدا کے ساتھ عہد و پیمان باندھنے اور پھر اس سے روگردانی کا تذکرہ ہے اور زیرنظر آیت عہدشکنی کے نتائج کا پتہ دے رہی ہے۔ اسی لئے اس سورت (مائدہ) کو "سورہ عہد" بھی کہتے ہیں، اگر تمام آیات کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ پیمان شکنی کے بارے میں زبردست تنبیہ کی گئی ہے۔

پیام:

۱ ۔ عہدشکنی لطف الٰہی سے محرومی اور سنگدلی کی پیدائش کا موجب ہوتی ہے( لعنا هم جعلنا قلوبهم قاسیة ) ۱۷

۲ ۔ عہدشکنی، سنگدلی کا اور سنگدلی دین میں تحریف اور تصرف کرنے کا موجب ہوتی ہے۔( وقلوبهم قاسیة یحفون )

۳ ۔ بنی اسرائیل ہمیشہ سے خیانت کرتے چلے آ رہے ہیں۔( لاتزال )

۴ ۔ بنی اسرائیل کی عہدشکنی اور اس عہدشکنی کے نتائج سے تم بھی عبرت حاصل کرو( فبمانقضهم--- )

۵ ۔ جو لوگ دین میں تحریف کرتے ہیں وہ اپنے ایک بہت بڑے حصے کو فراموش کر دیتے ہیں۔( یحرفون، نسواخط )

۶ ۔ عفو درگزر نیکی کی ایک بہترین قسم ہے( فاعف--- محسنین )

آیت ۱۴

( وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّا نَصٰرٰی اَخَذْنَا مِیْثَاقَهُمْ فَنُسُّوْا حَظًّا مِمَّا ذُکِّرُوْا ِبه فَاَغْرَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَوَاةَ وَ الْبََغْضَآءُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ وَ سَوْفَ یُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ )

ترجمہ: اور جن لوگوں نے کہا کہ ہم "نصاریٰ" ہیں ہم نے ان سے (بھی) عہد لیا، تو انہوں نے (بھی بنی اسرائیل کی طرح) اس کے ایک حصے کو فراموش کر دیا جو انہیں بتایا گیا تھا۔ پس ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور کینے کو قیامت کے دن تک ڈال دیا۔ اور اللہ تعالیٰ بہت جلد انہیں ان کے کئے سے آگاہ کردے گا۔

نکتہ:

۱ ۔ سابقہ آیت میں بنی اسرائیل کی عہد شکنی کی بات ہو رہی تھی اور اس آیت میں نصاریٰ کی پیمان شکنی کا تذکرہ ہے، اس آیت میں تمام بنی اسرائیل کو عہدشکن بتایا گیا (سوائے چند لوگوں کے "( الاقلیلا منهم ) اور اس آیت میں پہلے سے ہی نصاریٰ کے صرف ایک گروہ کو پیمان شکن کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے (من الذین) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کے گمراہ لوگوں کی تعداد نصرانیوں کے گمراہوں سے زیادہ ہے (از تفسیر نمونہ)

۲ ۔ "نصاریٰ" جمع ہے "نصرانی" کی، چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوستوں کا یہ نعرہ تھا کہ "نخن انصار اللہ" یعنی ہم خدا کے یارو مددگار ہیں۔ اس لئے عیسائیوں کو "نصاریٰ" کہتے ہیں۔

۳ ۔ "بغضاء" باطنی دشمنی اور بغض و کینہ کو کہتے ہیں جبکہ "عداوت" ظاہری دشمنی کو کہا جاتا ہے۔

۴ ۔ نصرانیوں کو بتائی ہوئی باتوں میں سے بعض کو فراموش کر دینا یہ ہے کہ وہ "توحید" کی حدود سے بڑھ کر "تثلیث" کی حدوں تک جا پہنچے اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت تبلیغ کو قبول کرنے کی بجائے ان کے بارے میں بتائی ہوئی خدا کی نشانیوں کو چھپا دیا۔

پیام

۱ ۔ دعوے تو زیادہ ہوتے ہیں لیکن عمل اور حقیقت بہت کم ہوتی ہے۔( قالوا انا نصاریٰ )

۲ ۔ تفرقہ بازی اور فرقہ بندی کی جڑ، خدا کو فراموش کر دینا ہے، جبکہ توحید پرستی وحدت و اتحاد کا موجب ہوتی ہے۔( فتسوا--- فاغرینا ) ۔

۳ ۔ خدا کی طرف سے کرائی گئی یاددہانی کو فراموش کر دینے حقائق اور عہدین (قدیم و جدید عہدوں) کو چھپانے کا نتیجہ تفرقہ اور دشمنی ہوتا ہے۔

۴ ۔ دوسروں کی عہدشکنی کے تلخ نتائج سے عبرت حاصل کرو (ہم نے نصاریٰ سے عہد و پیمان لیا اور انہوں نے اسے فراموش کر دیا لہٰذا بدبختی او رشقاوت سے دوچار ہو گئے، خبردار تم ایسا نہ کرنا)

۵ ۔ یہود اور نصاریٰ تا قیامت باقی ہیں اور منقرض نہیں ہوں گے( الی یوم القیمة )

۶ ۔ تفرقہ اور دشمنی، خدائی عذاب کا ایک حصہ ہیں( نسوا--- فاغرینا )

۷ ۔ تمہارے سارے کام خدا کی نظروں میں ہیں لہٰذا خدا تمہیں تمہارے اعمال کی سزا اور جزا دے گا۔( ینبئهم الله بما کانوایصنعون )

آیت ۱۵

( یَاَ ْهلَ الْکِتٰبِ قَدْجَآئَکُمْ رُسُولِنَا یُبَیِّنَ لَکُمْ کَثِیْرًا مِمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ وَ یَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ط قَدْ جَآءَ کُمْ مِنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَ کِتٰبٌ مُبِیْنٌ )

ترجمہ: اے اہل کتاب! یقیناً تمہارے پاس ہمارا رسول آ چکا ہے جو (آسمانی) کتاب کے ان بہت سے حقائق کو تمہارے لئے بیان کرتا ہے جو تم چھپاتے ہو۔ اور بہت سے حقائق سے (کہ جنہیں تم چھپاتے ہو اور سر دست ان کی ضرورت نہیں) چشم پوشی کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں کی خدا کی طرف سے تمہارے پاس نور اور واضح کتاب پہنچ چکی ہے۔

پیام:

۱ ۔ اسلام ایک عالمی دین ہے اور سب ادیان کو حق اور اپنی طرف دعوت دیتا ہے( یٰاهل الکتاب )

۲ ۔ لوگوں کو راہ راست کی دعوت دینے سے مایوس نہ ہو جاؤ حتیٰ کہ عہدشکن اہل کتاب کو بھی دعوت دینے سے گریز نہ کرو( یااهل الکتاب )

۳ ۔ انبیاء علیہ السلام کے فرائض میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ایسی چیزوں کو بیان کریں جو چھپائی گئی ہیں( یبین-- )

۴ ۔ چھپائے گئے مطالب کو بیان کرنا پیغمبر کی غیب دانی کی دلیل اور ان کی معرفت کا ایک راستہ ہے۔ (تفسیر المیزان)

۵ ۔ توریت ہو یا انجیل دونوں میں تحریف کی گئی ہے( کثیر ابما تخفون )

۶ ۔ اسلام سب سے آسان اور نہایت ہی سادہ دین ہے (( یعفوا عن کثیر )

۷ ۔ تبلیغ و ارشاد کا ایک شیوہ یہ بھی ہے کہ مطالب کو بقدر ضرورت بیان کیا جائے ناکہ کسی کو رسوا کیا جائے یا اسے نقصان پہنچایا جائے( ویعفوا عن کثیر )

۸ ۔ یہ کائنات اور عالم انسانیت قرآن کے بغیر تاریک( قدجاء کم من الله نور )

آیت ۱۶

( یَهْدِیْ بِهٓ اللّٰهُ مِنُ اتَّبْعِ رِضْوَانَه سُبُلَ السَّلٰمِ وَ یُخْرِجُهُم ْمِنَ الظُّلُمتِ اِلَی النُّوْرِ بِاِذْنِه وَ یَهْدِیْهِمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) ہ

ترجمہ: اللہ تعالیٰ اسی (نور) کے ذریعہ ان لوگوں کو سلامتی کے رستوں کی ہدایت کرتا ہے جو رضائے الٰہی کی پیروی کرتے ہیں۔ اور انہیں اپنے (لطف وکرم اور) حکم سے تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آتا ہے اور سیدھے رستے کی ہدایت کرتا ہے۔

نکتہ

"سلام" اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے "( السلام الموٴمن المهیمن--- ) " اور بہشت کو "دارلسلام" کہا جاتا ہے، گویا "سلام" کی راہوں کی ہدایت کا مقصد اللہ اور بہشت کی راہوں کی ہدایت ہے۔ اور اگر ان دونوں "سلام" تک پہنچنا مقصود ہو تو "سبل اسلام" کو اختیار کرنا چاہئے جو پیروان حق سے مخصوص ہے۔

"سلام" فرد و معاشرہ، خاندان و نسل اور فکر و روح و ناموس غرض ہر قسم کی سلامتی کو شامل ہے۔

پیام

۱ ۔ صرف وہی لوگ قابل ہدایت ہیں جو رضائے حق کے حصول کی کوشش کرتے ہیں، نا کہ جاہ و مقام، مال و منال، ہوائے نفسانی اور انتقام کے طلبگار ہوتے ہیں۔

۲ ۔ رضائے الٰہی کے پیروکاروں کے واضح مصداق "غدیرخم" کے بتائے ہوئے رستوں پر گامزن افراد ہیں۔ کیونکہ " رضیت لکم الاسلام دینا" کی سورت اسی دن نازل ہوئی تھی۔ (ملاحظہ ہو تفسیر اطیب البیان)

۳ ۔ سلامتی اور سعادت کی تمام راہیں رضائے الٰہی کے حصول سے ہی ملتی ہیں۔ اور جو شخص "غیراللہ" کو راضی کرے گا وہ گمراہی کی راہوں پر گامزن ہو گا۔

۴ ۔ "نور" صرف ایک ہی ہے اور "ظلمات" (تاریکیاں) بہت زیادہ ہیں( ظلمات، نور )

۵ ۔ حصول حق کے لئے متعدد فروعی رستے، انجام کار حق کے اصل راستے تک لے جاتے ہیں۔ "( سبل اسلام ) " (سلامتی کی راہیں) صراط مستقیم تک جا پہنچاتی ہیں۔ اور یہ سب راستے جو مختلف حالات میں گوناگوں فرائض کی بجاآوری اور رضائے الٰہی کے حصول کے ساتھ ایک ہی راستے تک پہنچ جاتے ہیں۔

۶ ۔ صرف نور اور کتاب ہی کافی نہیں خدا کا لطف و کرم اور ارادہ بھی ضروری ہے( باذنه )

۷ ۔ منزل مقصود ایک ہی ہے لیکن اس تک پہنچنے کی راہیں متعدد ہیں (یعنی "سبل السلام"، رضوان اللہ تک پہنچا دیتے ہیں)

۸ ۔ قرآن مجید اور مکتب وحی فرد اور معاشرے، روح اور جسم، افطار اور نظام کی ہر گونہ سلامتی کی ضمانت دیتے ہیں۔( سبل السلام )

۹ ۔ عالم انسانیت قرآن مجید کے زیرسایہ بقائے باہمی اور صدق و صفا کے زریں اصولوں کے تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔( سبل السلام )

۱۰ ۔ قرآن مجید تمام ظلمانی بیماریوں کی شافی علاج ہے چاہے وہ شکوک و شبہات کی ظلمانی بیماری ہو یا خواہشات، خرافات، جرائم اور کوئی دوسری ظلمانی بیماری۔۔۔

آیت ۱۷

( لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ ط قُلْ فَمَنْ یَّمْلِکُ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا اِنْ اَرَادَا اَنْ یُّهْلِکَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَ اُمَّه وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا َولِلّٰهِ مُلْکَ السَّمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَاط یَخْلُقُ مَا یَشَاءُ ط وَاللّٰهُ عَلَی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ )

ترجمہ: جن لوگوں نے یہ کہا کہ (حضرت عیسیٰ) مسیح بن مریم ہی اللہ ہے تو یقیناً وہ کافر ہو گئے (اے پیغمبر! ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا ارادہ کرے کہ مسیح بن مریم اور اس کی ماں کو اور روئے زمین پر موجود تمام لوگوں کو ہلاک کر دے تو کون شخص ان سب کو خدا کے اس ارادے سے بچا سکتا ہے؟ اور زمین اور آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کی حکومت اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

نکتہ:

خدا کے بارے میں عیسائیوں کے چند بے بنیاد دعوے ہیں قرآن مجید جن کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ:

۱ ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ خدا تین ہیں: اور قرآن یکتا ہے "( لاتقو لوائلئة ) " یعنی یہ نہ کہو کہ خدا تین ہیں۔ (نسأ/ ۱۷۱)

۲ ۔ وہ کہتے ہیں خداوند خالق کائنات ان تین خداؤں میں سے ایک ہے جو کہ "باپ خدا" ہے قرآن مجید اس عقیدہ کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے "( قالوا ان الله ثالث ئلٰئة ) " یعنی وہ کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے تیسرا خدا ہے (مائدہ/ ۷۳)

۳ ۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا، حضرت عیسیٰ اور روح القدس سب ایک ہیں، اور یہ آیت اسی عقیدہ کی رو میں ہے۔ قرآن کہتا ہے "( مخلق ما یشاء ) " یعنی خدا جو چاہے پیدا کرے، اور یہ حضرت عیسیٰ کی بغیر باپ کے اور حضرت آدم کی بغیر ماں اور باپ کے پیدائش کی طرف اشارہ ہے۔

پیام

۱ ۔ اسلام، کفر، شرک اور خرافات کے مخالفت ہے خواہ وہ کسی مذہب و ملت میں ہو (غلو بھی ایک قسم کا کفر ہے)

۲ ۔ اگر حضرت عیسیٰ مسیح خدا ہیں تو پھر (تمہارے اپنے عقیدے کے مطابق) کیونکر قتل ہو گئے؟ اور "صلیب" کس لئے ان کی مظلومیت کی علامت قرار پائی؟ خدا کو تو قتل نہیں کیا جا سکتا۔

۳ ۔ خدا تو ماں کے شکم میں نہیں ٹھہرتا اور تم کہتے ہو "مسیح بن مریم"۔

۴ ۔ "واجب الوجود" (خدا) ہونے کے ساتھ فنا اور نیستی کا احتمال قطعاً ہی سازگار نہیں

۵ ۔ انسان ہونے کے ناتے حضرت عیسیٰ، ان کی والدہ اور روئے زمین کے لوگ سب یکساں ہیں۔( المسیح بن مریم و امه و من فی الارض جمیعا )

۶ ۔ قدرت خداوندی کسی خاص نظام میں محدود نہیں ہے، وہ چاہے تو بغیر باپ کے بیٹا پیدا کر سکتی ہے۔( علیٰ کل شیٴ قدیر )

آیت ۱۸

( وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهَ وَ اَحِبَّائُوه ط قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ ط بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ ط یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَعَذِّبُ مَّنْ یَّشَآءُ ط وَاللّٰهُ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا وَ اِلَیْه ِالْمَصِیْرُ )

ترجمہ۔ یہود اور نصاریٰ کہتے آ رہے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے (خاص) دوست ہیں۔ تو (اے پیغمبر! ان سے) کہہ دو کہ پھر تمہیں وہ تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دیتا ہے؟ (ایسی بات نہیں ہے) بلکہ تم بھی اس کی مخلوقات میں سے (باقی انسانوں کی طرح) انسان ہو (اور تمہیں کوئی خاص امتیاز حاصل نہیں ہے) خدا جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے سزا اور عذاب دے، اور آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب خدا ہی کے لئے ہے اور (سب کی) بازگشت اسی کی طرف ہے۔

نکتہ

جب حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے کہا "ہم تو خدا کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں" ۱۹ (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ منقول از تفسیر فخر رازی)

یہود اور نصاریٰ خود کو خدا کا حقیقی فرزند نہیں سمجھتے تھے بلکہ ایک قسم کے تکلف کے طور پر خدا کا منہ بولا بیٹا سمجھتے تھے۔ "ابناء اللہ" ان کی کسی دلیل کے بغیر بلند پروازی کی توقع سے ایک کنایہ ہے۔

پیام

۱ ۔ نسل پرستی، امتیازطلبی، خود کو یا اپنے گروہ اور اپنی جماعت کو برحق جاننا اور دوسروں کو ناحق سمجھنا، ضوابط کو چھوڑ کر روابط کو اپنانا، قطعاً ممنوع اور ناجائز ہے( بل انتم بشرممن خلق )

۲ ۔ کوئی بھی فرد، قوم، نسل اور امت خدا کی بخشش سے سو فیصد مطمئن نہ ہو جائے اور نہ ہی اس کی رحمت سے قطعاً مایوس ہو جائے( یغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء )

۳ ۔ گستاخ یہودی، خدا کی اس قدر آیات کو دیکھ لینے کے باوجود اس قدر جرائم کے مرتکب ہوتے ہوئے بھی خود کو خدا کا خاص دوست سمجھتے تھے، اس سے بڑھ کر اور کیا ڈھٹائی اور بے شرمی ہو سکتی ہے؟ ۲۰

آیت ۱۹

( یَاَهْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآئُکُمْ رُسَولِنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلیَ فِتْرَةِ مَنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَ نَا مِنْ بَشِیْرٍ وَلاَ نَذِیْر فقد جائکم بشیر و نذیر ط والله علی کل شئی قدیر )

ترجمہ: اے اہل کتاب! ہمارا رسول اس دوران میں تمہارے پاس آیا ہے جس میں رسول نہیں آئے۔ تاکہ (کہنے کی باتوں کو) تمہارے لئے بیان کرے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ تم (قیامت کے دن) یہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ اب یقیناً بشارت دینے والا اور ڈرانے والا (پیغمبر) تمہارے پاس آ گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

نکتہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کا درمیانی فاصلہ اور "فترت" کا عرصہ تقریباً چھ سو سال ہے۔

جس دوران میں کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوتا، زمین پھر بھی محبت خدا سے خالی نہیں ہوئی اس لئے کہ اس دوران میں انبیاء علیہم السلام کے اوصیاء موجود ہوتے ہیں۔ بقول حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام "زمین ہرگز حجت خدا سے خالی نہیں ہوتی چاہے وہ طاقتور ہوں یا کمزور تاکہ خدا کا راستہ، طے کرنے والوں کے لئے مخفی نہ رہے" ۲۱ تو معلوم ہوا کہ فترت کا عرصہ ایسا نہیں ہے کہ بندوں کو کسی ہادی اور راہنما کے چھوڑ دیا جائے۔

پیام

۱ ۔ انبیاء علیہم اسلام کا کام ان حقائق کو بیان کرنا ہے جو چھپائے جا چکے ہوتے ہیں یا جن میں تحریف کی جا چکی ہوتی ہے یا جنہیں فراموش کر دیا گیا ہوتا ہے( یبین لکم )

۲ ۔ فترت کا عرصہ یا لمبی یا طویل مدت کا فاصلہ خدا کے تربیتی نظام میں مفید پروگراموں کا ایک حصہ ہے۔ ۲۲

۳ ۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت، لوگوں کے لئے اتمام حجت ہوتی ہے اور ان کے واسطے عذر اور بہانے کی راہیں بند کر دیتی ہے۔( ما جاء نا من بشیر ) ۔۔۔ )

۴ ۔ انبیاء کی تبلیغ کا انداز بشارت اور انذار (ڈرانا) ہوتا ہے۔

۵ ۔ حضرت محمد مصطفی صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے بارے میں شک نہ کرنا (کہ دنیا میں کسی سے سبق نہ پڑھنے والا انسان کیونکہ چھپائے جانے والے حقائق اور دینی تحریفات کو بیان کر سکتا ہے؟) کیونکہ خداوند عالم ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔

۶ ۔ انبیاء کا کام صرف بشارت (خوشخبری دینا) اور انذار (ڈرانا) ہے، اب یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ کس راہ کا انتخاب کرتا ہے، کیونکہ اس بارے میں انسان آزاد ہے۔

آیت ۲۰

( وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِه یٰقَوْمِ اذْکُرُوْا نِعْمْةَ اللّٰهِ عَلَیْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ وَ جَعَلَکُمْ مَلُوْکًا وَ اٰتَکُمْ مَا لَمْ یُؤْتِ اَحَدَ مِنَ الْعٰلِمِیْنَ )

ترجمہ: اور (اس وقت کو یاد کرو کہ) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! خدا کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تمہیں دی ہے کہ اس نے تمہارے درمیان انبیاء مقرر کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا (اور تم، لوگوں کے جان و مال، عزت و ناموس اور ملک و حکومت کے لئے صاحب اختیار قرار پائے) اور تمہیں وہ چیزیں عطا کیں جو تمام جہانوں میں سے کسی ایک کو نہیں دیں۔

پیام

۱ ۔ خدائی نعمتوں کی یادآوری خدا کے ساتھ عشق، اس کے شکر اور اس کی عبادت کرنے کا موجب ہوتی ہے۔

۲ ۔ نبوت، حکومت، اقتدار اور آزادی جیسی نعمتیں ہوتی ہیں۔

۳ ۔ لوگوں کو دعوت دینے کے لئے ان کے جذبات اور احساسات کے عناصر کو پیش نظر رکھنا چاہئے( یٰقوم )

۴ ۔ کسی کے کام کے لئے اور اپنے ساتھ چلنے کے لئے لوگوں کو دعوت دینے کے واسطے پہلے انہیں خدا کے لئے لطف و کرم کی یاد دلائی جائے پھر انہیں اپنے ساتھ ملا یا جائے۔ (اس آیت میں خدا کی نعمتوں کا ذکر ہے اور بعد کی آیت میں ایک اہم فرمان صادر ہو رہا ہے)

۵ ۔ نعمتوں میں سے خصوصی نعمات کو یاد کیا جانا چاہئے( آ تا کم مالم یوٴت احدا ) ۔۔۔ ) ۲۳

۶ ۔ لوگوں کے لئے خدا کی نعمتوں کی یاددہانی انبیاء کے فرائض میں شامل ہے( اذکرو نعمة الله ) ۔

۷ ۔ تاریخ سے عبرت حاصل کرو، کیونکہ موسیٰ کی قوم خدا کی خصوصی نعمتوں سے بہرہ مند ہونے اور حکومت حاصل کرنے کے بعد، ذلت اور خواری کا شکار ہو گئی۔( لم یوٴت احدا من العالمین )

آیت ۲۱

( یَقَوْمِ ادْخُلُوْا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰهُ لَکُم وَلَا تَرْتَدُوْ ا عَلَی اَدْباَرِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ )

ترجمہ: (موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم! مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جسے خدا نے تمہارے لئے مقرر کر دیا ہے اور اپنے پچھلے پاؤں واپس نہ لوٹو (پیچھے نہ ہٹو) ورنہ خسارہ اٹھا کر واپس لوٹو گے۔

نکتہ:

"ارض مقدس" یا تو شامات کے تمام علاقے (شام، اردن اور فلسطین وغیرہ) مراد ہیں یا پھر صرف "بیت المقدس" مراد ہے۔

"( لاترتدوا ) " کے تحت پیچھے کی طرف نہ لوٹنے سے مراد یا تو اس راستے سے واپس نہ پلٹنا ہے جو اختیار کئے ہوئے ہیں یا پھر احکام و فرامین الٰہی کو پشت نہ کرنا مراد ہے۔

پیام

۱ ۔ عوام اور رہبر کا ایک دوسرے سے رابطہ اور تعلق گہرا اور پیار و محبت پر مبنی ہونا چاہئے( یٰقوم )

۲ ۔ تمام زمینیں ایک جیسی نہیں ہوتیں بعض مقامات کو زیادہ تقدس حاصل ہوتا ہے( الارض المقدسة )

۳ ۔ بنی اسرائیل میں سرکشی کاعنصر پایا جاتا تھا جس کی بنا پر انہیں پیچھے لوٹنے سے روکا گیا ہے( لاترتدوا )

۴ ۔ خدا کا بندوں پر لطف وکرم مشروط ہوتا ہے (اس آیت میں مقدس سرزمین کا مقدر ہونا ان لوگوں کے لئے بیان کیا گیا ہے کہ( کتب الله لکم ) جبکہ ایک اور آیت میں وہی سرزمین ان پر چالیس سال تک حرام قرار دی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ: "( فانها محرمته علیهم بعین سنته ) "

۵ ۔ دین سے فرار اور مرتد ہونے کا انجام "خسارت" ہے۔

۶ ۔ مقدس سرزمینوں کو نااہل افراد کے چنگل سے نکالنا چاہئے( ادخلوا الارض المقدسة )

سورہ مائدہ آیت ۲۲

( قَالُوْا یٰمُوْسٰی اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ وَ اِنَّا لَنْ نَّدْ خُلْهَا حَتّٰی یَخْرُجُوْا مِنْهاَ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دْاخُلُوْنَ )

ترجمہ: (بنی اسرائیل نے جواب میں) کہا اے موسیٰ! اس (زمین) میں ظالم اور جابر لوگ (رہتے) ہیں اور ہم ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے جب تک کہ وہ لوگ اس سے باہر نہیں چلے جائیں گے۔ پس اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم یقیناً اس میں داخل ہو جائیں گے۔

نکتہ

" جبار " کا حکمہ "جبر" سے لیا گیا ہے، جس کا معنی ہے زور اور غلبہ کے ساتھ کسی چیز کی اصلاح کرنا، پھر ان دونوں میں سے ہر ایک معنی جداگانہ طور پر استعمال ہونے لگا۔

۱ ۔ تلافی کرنا ۲ ۔ قہر اور غلبہ اور خداوند عالم کے بارے میں اس کلمہ کے دونوں معنی استعمال ہوتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ)

"قوم جبار" سے مراد "شام" کی نسل سے "عمالقہ" تھے جو جزیرہ نمائے عرب کے شمال اور صحرائے سینا میں رہتے تھے۔ اور مصر پر حملہ کرکے وہاں پر پانچ سو سال تک حکومت کرتے رہے۔ (ملاحظہ ہو کتاب "دائرة المعارف" از فرید وجدی)

پیام

۱ ۔ کسی مقام پر نااہل افراد کا ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اہل اور شائستہ افراد موجود ہی نہیں ہیں۔ لہٰذا چاہئے کہ دشمن کو نکال باہر کیا جائے اور اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ وہ خودبخود باہر نکل جائے گا۔

۲ ۔ آرام طلبی صحیح نہیں ہے لہٰذا آگے بڑھنا چاہئے اور امدا دکی اپیل کرنی چاہئے تاکہ دشمن کو نکال باہر کیا جا سکے۔

۳ ۔ جنگ میں سستی اور شکست کا موجب احساس کمتری اور خوف ہے( لن ند خلها ) ۲۴

سورہ مائدہ آیت ۲۳

( قَالَ رُجُلٰنِ مِنَ الَّذِْینَ یُخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ فَاِذَا دَخَلَْتُمُوْهُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ وَ عَلَی اللّٰهِ فَتَوَکَّلُوْا ِانّ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ )

ترجمہ: (ڈرپوک لوگوں کے مقابلے میں) دو خدا ترس افراد نے کہ اللہ نے جنہیں (عقل، ایمان اور جرأت کی) نعمت سے نوازا تھا، کہنے لگے (شہر کے) دروازہ سے ہی ان (دشمنوں) کے پاس داخل ہو جاؤ (اور کسی قسم کا خوف نہ کرو) پس، جونہی تم ان کے پاس پہنچ جاؤ گے تو تم یقینی طور پر کامیاب ہو گے اور خدا پر بھروسہ کرو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔

نکتہ

تفسیروں میں مذکور ہے کہ جن دو افراد کا آیت میں ذکر ہے وہ بنی اسرائیل کے بارہ نقیبوں میں سے تھے جن کا نام ۱ ۔ یوشع بن نون اور ۲ ۔ کالب بن یوفنا تھا، توریت سفر تشنیہ میں یہی نام مذکور ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ)

تفسیر المیزان میں ہے کہ اگرچہ "نعمت" کا حکم قرآن مجید میں کلی طور پر بیان ہوا ہے لیکن یہاں پر اس سے مراد ولایت اور نبوت کی نعمت مراد ہے۔

پیام

۱ ۔ خدا ترسی (خوف خدا) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور لطف و کرم کے فراہم کرنے کا موجب ہوتی ہے۔ (یخافون انعم اللہ علیہما)

۲ ۔ جو خدا سے ڈرتا ہے وہ دنیا کی کسی اور طاقت سے نہیں ڈرتا۔( یخافون--- ادخلوا )

۔ حرکت میں برکت ہے۔ اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے۔ پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے( ادخلوا علیهم- غالبون )

۔ حملہ کرنے کے موقع پر مجاہدین کے حوصلے بڑھانے چاہئیں( ادخلوا--- فانکم غالبون )

۔ توکل صرف خدا کی ذات پر اور وہ بھی خلوص کی بنیادوں پر ہونا چاہئے( علی الله فتو کلوا )

۔ جرأت اور جسارت بھی ضروری ہے اور تقویٰ اور عہد کی پاسداری بھی لازم ہے( یخافون--- ادخلوا )

۔ دلیرانہ انداز میں دشمن پر تمہارا حملہ اس کی شکست اور کمزوری سبب ہوتا ہے( ادخلوا--- غالبین )

۸ ۔ کامیابی کے دو بنیادی اصول ہیں ۱ ۔ خدا پر ایمان اور توکل اور ۲ ۔ عزم صمیم اور جرأت۔ صرف مادی ذرائع اور ہتھیار کافی نہیں ہیں۔

۹ ۔ خدا پر توکل، سعی اور کوشش کے ساتھ ہونا چاہئے( ادخلوا--- توکلوا )

۰ ۔ اگر دشمن پر خالصانہ انداز میں یلغار کر دو اور ساتھ ہی خدا پر توکل بھی ہو تو یہ تمہاری کمیابی کا ضامن ہو گا۔

۱۱ ۔ خدا کا خوف اور تقویٰ و پرہیزگاری کے ذریعہ انسان میں بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ جس سے انسان مسائل کا صحیح طریقے سے تجزیہ و تکمیل کرسکتا ہے۔( یخافون--- انکم غالبون )

۱۲ ۔ توکل لفظوں کا نہیں بلکہ ایمان کی ایک روحانی کیفیت کا نام ہے۔( فتوکلوا ان کنتم موٴمنین )

سورہ مائدہ آیت ۲۴

( قَالُوْا یٰمَوْسٰی اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهاَ اَبَدًا مَا دَامُوْا فِیْهَا فاَذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّکُ فَقَاتَلَااِناَّ هُهُنَا قَاعِدُوْنَ )

ترجمہ۔ ان لوگوں (اور بنی اسرائیل) نے کہا: اے موسیٰ ! جب تک کہ وہ (ظالم اور جابر لوگ) اس (شہر) میں ہیں ہم ہرگز اس میں داخل نہیں ہوں گے۔ لہٰذا تم خود اور تمہارے پروردگار جاؤ اور جا کر (ان سے) لڑو۔ ہم تو یہیں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

نکتہ:

مکہ معظمہ اور بیت المقدس دونوں ہی مقدس سرزمینیں ہیں۔ لیکن حضرت موسیٰ نے جب اپنی قوم سے کہا کہ : "اس سرزمین میں داخل ہو جاؤ اور دشمن سے جنگ کرو!" تو وہ بہانے بنانے لگے اور موسیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ لیکن ۶ ئھجری میں جب مسلمان آنحضرت صلی اللہ علی آلہ وسلم کی ہمرای میں عمرہ کی بجا آوری کی غرض سے مکہ معظمہ روانہ ہوئے لیکن مکہ پہنچنے سے پہلے ہی روک دئیے گئے۔ اگر حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلمانوں کو نہ روکتے تو وہ یقینا شہر پر حملہ آور ہوجاتے۔ اور اسی سفر کے دوران ہی "صلح حدیبیہ" عمل میں آئی۔

گویا دونوں قومیں (موسیٰ کی قوم بھی اور پیغمبرِ اسلام کی قوم بھی) دو مقدس شہروں کے دروازے تک پہنچ گئیں لیکن ایک (موسیٰ کی) قوم اس قدر بزدل اور دوسری (محمدِ مصطفےٰ کی) قوم اس حد تک نڈر!

پیام:

۱۔ بنی اسرائیل بے ادبی، بہانہ جوئی، کمزوری اور رفاہ طلبی کا مجسم نمونہ تھے۔ انہوں نے "انا" کا لفظ کہہ کر اپنی برتری اور فوقیت ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اور یہ بہت بڑی بے ادبی ہے۔( هم )

انہوں نے خدا کے فرمان "ادخلوا" (داخل ہو جاؤ) کے مقابلہ میں "لن ندخلھا" (ہرگز نہیں جائیں گے) کہہ کر جسارت اور گستاخی کی انتہا کر دی۔

"ابدا" (ہمیشہ کے لئے) کا کلمہ ان کی گستاخی اور جسارت پر اصرار کی دلیل ہے۔

"اذھب" (تو خود جا) کے کلمہ سے حضرت موسیٰ کی توہین واضح ہوتی ہے۔

"ربک" (تیرا رب) کے کلمہ سے ذاتِ پروردگار کی توہین ظاہر ہوتی ہے۔

"قاعدون" (ہم بیٹھے ہیں) کے جملہ سے ان کی رفاہ طلبی واضح ہوتی ہے نا کہ عزت خواہی۔

۲۔ بجائے اس کے کہ وہ بذاتِ خود معاشرہ کی اصلاح کے لئے قدم بڑھاتے خدا اور دینی رہبر سے اس کی توقع قائم کرلی۔( قاتلا انا هٰبهنا قاعدون )

۳۔ وہ لوگ تو کامیابی کے حصول کے لئے اپنی جگہ سے ہلنے کے بھی روادار نہیں تھے۔ (ھ( ٰبهُنا )

۴۔ دشمن سے جنگ کے لئے بنی اسرائیل کی سستی اس حد تک شہرت حاصل کرگئی کہ مسلمانوں نے ( ۲ ئھ میں) جنگ بدر شروع ہونے سے پہلے اور ( ۶ ئھ میں) مکہ میں داخل ہونے کے وقت کہ جب کفار نے انہیں مکہ جانے سے روک دیا تھا۔ ا ور "صلح حدیبیہ" کا واقعہ پیش آگیا۔ حضرت رسول خدا کی خدمت میں عرض کیا کہ "ہم بنی اسرائیل کی مانند نہیں ہیں کہ آپ سے کہیں "انا ھٰبہنا قاعدون" (ہم یہیں پر بیٹھے ہیں) ہم ہر حالت میں آپ کے ہم رکاب لڑنے کیلئے تیار ہیں۔"

سورہ مائدہ آیت ۲۵

( قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَا اَمْلِکُ اِلَّا نَفْسِْی وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ )

ترجمہ۔ (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا پروردگار! میرا بس تو صرف اپنے اور اپنے بھائی پر چلتا ہے پس تو ہمارے اور فاسق و بدکار قوم کے درمیان جدائی ڈال دے۔

نکتہ:

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ دُعا، بنی اسرائیل سے مایوس ہوجانے کے بعد ہوئی۔ جدائی ڈالنے کی درخواست اس لئے کی تھی کہ خدا کے قہر و غضب کی آگ موسیٰ علیہ السلام کے یاران و مددگاران کو نہ جلا ڈالے۔ اور دشمن اپنے کئے کی سزا پائیں۔ یا پھر وہ یہ دُعا مانگ رہے تھے کہ موت دے کر ان کے اور دشمنوں کے درمیان جدائی ڈال دے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس جملہ میں صرف اپنا اور اپنے بھائی کا ذکر کیا ہے۔ اور ان دو حضرات کا ذکر نہیں کیا جو خدا کا خوف رکھنے والے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم نوا تھے۔ اور لوگوں کو شہر میں داخل ہونے کی رغبت دِلائی تھی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے چنانچہ

تفسیر مراغی میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان دونوں کی ثابت قدمی کا بھی یقین نہیں تھا۔

تفسیر المیزان میں ہے کہ چونکہ حضرت موسیٰ نے خدا سے ان لوگوں کی شکایت کی تھی اور اپنی ذات کے لئے مدد کے طلبگار ہوئے لہٰذا اپنے کم سے کم ساتھیوں کا ذکر کیا۔

تفسیر اطیب البیان میں ہے کہ چونکہ مذکورہ دونوں حضرات کو اس ضدی اور ہٹ دھرم قوم کی طرف سے سنگسار کرنے کی دھمکی مل چکی تھی لہٰذا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زبان حال سے بارگاہِ رب العزت میں عرض کیا۔ "پروردگار! اب میرا کوئی بس نہیں چل سکتا، حتیٰ کہ وہ دو حضرات کی جان بھی خطرے میں ہے۔"

پیام:

۱۔ تبلیغ میں انبیاء علیہم السلام کا طریقہ کار "زور اور زبردستی" سے ماورا ہوتا ہے۔( لااملک الانفسی )

۲۔ بددُعا یا خُدا کی بارگاہ میں شکایت اس وقت کی جانی چاہیے جب لوگوں کی اطاعت سے مایوسی حاصل ہوجائے۔

۳۔ انبیاء علیہم السلام کی اطاعت سے روگردانی "فسق" ہے۔

سورہ مائدہ آیت ۲۶

( قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً یَنْهَوْنَ فِی الْاَرْضِ ط فَلَا تاَسَ عَلَی الْقَوْمِ الْٰفسِقِیْنَ ) ہ

ترجمہ۔ (اللہ نے موسیٰ سے) فرمایا! یقینا وہ (مقدس سرزمین) چالیس برس تک ان پر حرام کردی گئی ہے۔ (پس وہ اس سستی اور خلاف ورزی کی وجہ سے) چالیس سال تک زمین میں سرگرداں رہیں گے۔ (اور اس مقدس سرزمین کی مادی اور معنوی نعمتوں سے محروم رہیں گے۔) پس فاسق اور بدکار لوگوں پر افسوس نہ کرو۔

نکتہ:

"یتیہون" کا کلمہ "تیہ " کے لفظ سے لایا گیا ہے جس کا معنی ہے "سرگردانی" لیکن وقت گذارنے کے ساتھ ساتھ "تیہ" "صحرائے سینا" کو کہا جانے لگا جس میں بنی اسرائیل سرگرداں مارے مارے پھرتے رہے۔ اور وہاں پر چالیس برس تک مادی اور معنوی نعمتوں سے محروم رہے۔ اور مقدس سرزمین کی برکات سے کوئی فائدہ نہ اُٹھاسکے۔

بنی اسرائیل کی خلاف ورزی، ان پر خدا کے قہر و غضب اور وادی تیہ میں ان کی سرگردانی کی داستان توریت سفر اعداد فصل چہارم میں بھی موجود ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں! وہ لوگ چالیس سال کی سرگردانی، آوارہ وطنی اور موسیٰ و ہارون سے محروم ہو جانے کے بعد بھی فوجی حملہ کئے بغیر شہر میں داخل نہ ہو سکے۔ اور ان کی رفاہ طلبی نے انہیں تاخیر اور سرگردانی کے سوا کوئی فائدہ نہیں دیا۔"

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ہی فرماتے ہیں کہ: بنی اسرائیل سے ملتی جلتی داستان مسلمانوں کو بھی درپیش آئے گی۔

پیام:

۱۔ کمزوری اور سستی دِکھانے، رہبر کے فرمان سے منہ موڑنے اور جنگ سے فرار کی سزا، خدا کی نعمتوں سے محرومی اور آوارہ وطنی ہوتی ہے۔( فانها محرمة علیهم )

۲۔ سرگردانی، فاسقوں کے لئے عذاب کی ایک قسم ہے۔ اور "نور" و "فرقان" کا حامل ہونا "متقین" کے لئے ایک قسم کا ہدیہ ہے۔

۳۔ میدان جنگ سے فرار کرنے والوں اور تن آسان لوگوں کی سزا یہ ہونی چاہیئے کہ انہیں وسائل اور امکانات اور بعض خصوصیات سے محروم کردیا جائے۔( فانها محرمة علیهم )

۴۔ "اربعین" (چالیس) کے عدد میں ایک خاص رمز ہے جو خدا کے لطف و کرم یا قہر و غضب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

۵۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے نسل قدیم کے منقرض ہوجانے کے بعد ہی نسل جدید کی اصلاح ہوتی ہے۔( اربعین سنة ) ۲۵

۶۔ انبیاء کرام علیھم السلام اور ان لوگوں کے لیے دردمند دل رکھتے ہیں( لا تائس )

۷ ۔ فاسقوں کے لئے کسی قسم کی ہمدردی اور دلسوزی نہیں کرنی چاہئیے۔ مجرم کو سزا، کڑوی دوا کے مانند ہے جو فرد اور معاشرہ کے مفادمیں ہے۔( فلاتائس )

سورہ مائدہ آیت ۲۷

( وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلََ مِنْ اَحَدِهِمَا وَلَمْ یَتَقَبَّلُ مِنَ الْاٰخَرِ ط قَالَ لَاَ قْتُلَنَّکَ ط قاَلَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ )

ترجمہ۔ (اے پیغمبر ! ) ان کے سامنے آدم کے دو بیٹوں کی بر حق داستان پڑھو! جبکہ ا ن میں سے ہر ایک نے (اپنی اپنی) قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی تو قبول ہوگئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی ۔ (ہابیل کی قربانی قبو ل ہوئی اورقابیل کی قبول نہیں ہوئی قابیل نے کہا) میں تجھے یقیناقتل کر دو ں گا۔ (ہابیل نے) کہا: خداتو صرف ہر پیز گاروں سے قبول کرتاہے۔

نکتہ

"برحق " داستان کی تلاوت سے مراد شاید یہ ہو کہ یہ داستان تو ریت میں یاتو تحریف کی گئی ہے یا پھر اس کے ساتھ خرافات کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ لیکن جو کچھ قرآن میں ہے وہ حق ہے۔

اسلامی روایات اور توریت (سفر تکوین باب چہارم ) میں مذکورہے کہ ہابیل گلہ بانی کرتے تھے اور انہوں نے اپنی بہترین گوسفند قربانی کے لئے پیش کی اورقابیل کسان تھا اور کھیتی باڑی کا کام کرتاتھا ، اور اپنی زراعت میں سے بد ترین چیز قربانی کے لئے پیش کی ۔ اور قرآن بھی کہتاہے کہ: " لن تنالو اابرحتی تنفقو امماتحبون" یعنی تم نیکی تک ہر گزنہیں پہنچ سکو گے جب تک تم اپنی اس چیز سے خرچ نہیں کر و گے جسے تم دوست رکھتے ہو ،

پیام

۔ تاریخ کا مطالعہ عزت حاصل کرنے کے لیے ہونا چاہئیے( واتل علیهم )

۔ تاریخ کے اہم ترین واقعات بیان کئے جانے چاہئیں( نبا )

۔ تاریخ حقائق کو عام قصے کہانیوں سے جدا رکھنا چاہیئے (ب( الحق )

۔ اصل حقیقت ،،قرب خداوندی ،، ہے ناکہ قربانی تو کسی بھی قسم کی ہو سکتی ہے( قربان )

۔ اعمال کی قبولیت یا عدم قبولیت کے لئے دلی جذبات، روحانی کیفیات اور خصائل کو بڑی حد تک عمل دخل ہوتاہے۔

۔ حسد اور کینہ اس حد تک بڑھ سکتاہے کہ بھائی کو بھائی قتل کر ڈالے(ل( اقتلنک )

۔ اعمال کو قبولیت کا دارو مدار تقویٰ پر ہے ناکہ میں اور آپ !( انمایتقبل الله من المتقین )

۔ قتل اور خونریزی کی تاریخ !تاریخ انسانیت ہی سے شروع ہو جاتی ہے( نباء النبی آدم )

۔ قبولیت یا عدم قبولیت حکمت کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ کسی کو کسی پر ترجیح دینے کی وجہ سے نہیں ۔( من المتقین )

۔ قاتل کو بھی منطقی جواب دینا چاہیئے( انماتیقبل الله )

۔ خود سازی اور تقوی کا حصول ہر قسم کے دوسرے کام پر مقدم ہے۔( انماتیقبل الله من المتقین )


آیت ۲۸

( فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیْهِ کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْئَةَ اَخِیْهِ ط قَالَ یٰوَیْلَتٰٓی اَعَجَزْتُ اِنْ اَکُوْنَ مِثْلَ هٰذَا اْلغُرَابِ فَاُوَارَیَ سَوْئَةَ اَخِیْ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ ه ْ اَخَافَ اللّٰهُ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ )

ترجمہ۔ (ہابیل نے اپنے بھائی قابیل سے )کہا! اگر تو نے میرے قتل کے لئے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایاتو میں تیرے قتل کے لئے اپنا ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ کیونکہ میں تو تمام جہانو ں کے پروردگار سے ڈرتاہوں ،

پیام

۱ ۔ حاسدین کے ساتھ نرمی سے بات کرنی چاہیئے ، اور حسد کی آگ کو آرام و سکون کی گفتگوسے بجھایا جائے( لئِن بسطت )

۲ ۔ نہی عن المنکر کا نیک راستہ یہ بھی ہے کہ آپ گناہگار کو اس بات کا اطمینان دلائیں کہ اس سے تجاوزاور زیادتی نہیں کی جائے گی( ماانابباسط یدی---- )

۳ ۔ ہابیل کا قابیل کو قتل کرنے کا ارادہ ہی نہیں تھا ، ناکہ وہ اپنا دفاع کر رہے تھے۔

(کیونکہ قاتل کے آگے سر جھکا دینا ، تقوی سے میل نہیں کھاتا)

۴ ۔ جو چیز قابل قدر ہے وہ یہ کہ کسی کو خوف خدا کی بنیا دپر قتل نہ کیاجائے ناکہ عجز و ناتوانی کی وجہ سے کسی کو قتل نہ کیا جائے۔( انی اخاف الله )

۵ ۔ خوف خدا اور تقوی ، حساس ترین حالات میں گناہ اور سر کسی سے بازو رکھنے کا بہت بڑا عامل ہوتاہے ۔( انی اخاف الله )

آیت ۲۹ ، ۳۰

( اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْآَ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ فَطَوَّعَتْ لَه نَفْسُه قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَه فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ )

ترجمہ۔ میں تو یقینا یہی چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ اور اپنے گناہ کے (بوجھ کے ) ساتھ (خدا کی طرف) پلٹ جائے ۔ اور توجہنمیوں میں سے ہوجائے گا ، اور ظالموں کی یہی سزاہے ،

پس (حسد کی وجہ سے پیدا ہونے والے وسوسوں کی وجہ سے ) اس (قابیل) کے نفس نے بھائی کے قتل کو اس کے لئے آسان اور رام کردیا اور اس نے اسے قتل کر ڈالا ۔ جس کی وجہ سے وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گیا۔

نکتہ

ہابیل نہیں چاہتے تھے کہ دوسرے کے گناہ کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائیں ۔ اسی لئے انہوں نے بر ادرکشی اور خونریزی کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا ۔ بلکہ اپنے گناہو ں کابوجھ بھی دوسرے کے کندھوں پر ڈال دیا۔ ایک حدیث میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: من قتل مو منا متعمدا اثبت اللہ علی قاتلہ جمیع الذنوب وبرء المقتول منھا، ذالک قولہ :"انی اریدان تبوا۔۔۔یعنی جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اللہ تعالی مقتول کے تمام گناہ پھر (قاتل ) کے کھاتے میں لکھ دیتا ہے او رمقتول کو گناہوں سے پاک کر دیتاہے (ازتفسیرنورالتقین)

البتہ آیت کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ ظالم کے آگے سکوت اختیار کر لیا جائے اس امید کے ساتھ کہ وہ ہمارے گناہ اپنے کندھوں پر اٹھا رہا ہے ۔

پیام :

۱ ۔ مقتول کے گناہ قاتل کو منتقل ہو جاتے ہیں( تبوء باثمی )

۲ ۔ معاد (قیامت) پر ایمان ، روئے زمین کے سب سے پہلے انسانوں کے عقائد کا حصہ رہ ہے ۔( اصحٰب النار )

۳ ۔ نہی المنکر کرنے کی سزا کے علاوہ مظلوم کے گنا ہوں کا بوجھ بھی اٹھانا ہو گا کہ جس کی سزا اورعذاب بہت زیادہ ہے۔

۴ ۔ انسان کا نفس اگر یکبارگی اس پر تسلط حاصل نہ کر سکے تو پھر آہستہ آہستہ اور مختلف ذرائع مثلاً وسوسوں ، مختلف انداز میں آرائش اور دل میں مختلف باتوں کورائج کر نے کے ذریعہ انسان کو رام اور خام کر کے یہی گناہ کا ارتکاب کر ا دیتاہے( فطوعت له نفسه )

۵ ۔ انسان کی پاک "انسانی فطرت " آدم کُشی سے بیزار ہوتی ہے لیکن اس کا نفس اس کام کو اس کے سامنے مزین کر کے پیش کر تا ہے اور اسے انسان کے قتل پر آمادہ کر دیتاہے( فطوعت )

۶ ۔ روئے زمین پر سب سے پہلی موت کا آغاز " شہادت " سے ہوا( فقتله )

۷ ۔ قاتل ‘ خود کو بھی خسارے میں ڈالتا ہے اور مقتول کو بھی خسارہ پہنچاتا ہے ، مقتول کے خاندان کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور معاشرے کو بھی زیاں سے دو چار کرتا ہے۔

۷ ۔ قاتل اندرونی طور پر بھی "ضمیر کے عذاب " میں مبتلا رہتا ہے اور بیرونی طور پر معاشرے کی خدمت میں گرفتار ہوتا ہے ۔ اور قصاص اور عدل کے آ ہنی ہاتھوں میں جکڑا جاتاہے ۔ غرض جس مقصد کے لئے اس نے قتل کیا ہوتا ہے اسے وہ مقصد حاصل نہیں ہوپاتا۔( فاصبح من الٰخسرین )

۷ ۔ حق اور باطل کے درمیان محاذ آرائی اتنا ہی پرانی ہے جتنا انسانی تاریخ۔

آیت ۳۱

( فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیْهِ کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْئَةَ اَخِیْهِ ط قَالَ یٰوَیْلَتٰٓی اَعَجَزْتُ اِنْ اَکُوْنَ مِثْلَ هٰذَا اْلغُرَابِ فَاُوَارَیَ سَوْئَةَ اَخِیْ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ ه ْ اَخَافَ اللّٰهُ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ )

ترجمہ۔ پس اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھیجا جو زمین کھودتا تھا، تاکہ امر (قاتل) کو دکھا سکے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کس طرح چھپائے (اور دفن کرے) ۔ اس (قاتل) نے کہا کہ وائے ہو مجھ پر کہ آیا میں اس بات سے بھی عاجز ہوں کہ اس کوے کی طرح ہو سکوں؟ اور اپنے بھائی کے لاشے کو دفن کر سکوں! آخر کار وہ پشیمانوں میں سے ہو گیا۔

نکتہ

قابیل جب اپنے بھائی کے قتل کے گناہ کا مرتکب ہو چکا تو دیکھا کہ درندے اس کی لاش کو کھانے کے لئے اس کی طرف آ رہے ہیں تو اس نے اسے وہاں سے اٹھا لیا اور اٹھائے پھرتا رہا، لیکن جب اسے اس میں بھی کوئی فائدہ نظر نہ آیا اور اسی حالت پر سرگردوں رہا، تو خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے کوے سے سبق حاصل کیا کہ وہ دوسرے مردہ کوے کے جسم کو زمین میں دفن کر رہا ہے تو اس نے اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں دفن کر دیا۔

پیام

۱ ۔ بعض اوقات جانوروں کو بھی خدا کی طرف سے ڈیوٹی سونپی جاتی ہے اور پرندوں کی حرکت بھی اس کے فرمان کے مطابق ہوتی ہے جس راستے پر وہ انہیں چلانا چاہتاہے( فبعث الله غرابا )

۲ ۔ ہر قسم کی حرکت سے سبق حاصل کیاجا سکتا ہے بہت سی انسانی معلومات ، حیوانات کی حرکات و سکنات کی مرہون منت ہیں۔

۳ ۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ، مغرور اور سرکش لوگوں کو چھوٹے چھوٹے جانوروں کے ذریعہ ذلیل کروا دیتا ہے تاکہ انہیں یہ باور کروائے کہ ہد ہد اور کوا بھی انسان کو سکھانے کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ بس غرور کو اپنے دماغ سے نکال دو۔

۴ ۔ انسان کو ہمیشہ سیکھتے رہنا چاہئے خواہ اسے جانوروں ہی سے سیکھنا پڑے! پس اصل چیز "سیکھنا اور نہ یاد کرنا" ہے خواہ کسی سے ہو اور کہیں پر ہو۔

۵ ۔ مردوں کو زمین ہی میں دفنانا چاہئے (ا نہیں شیشے میں رکھنا یا مومیائی کرنا یا جلادینا وغیرہ صحیح نہیں ہے)

۶ ۔ تاریخی طور پر انسان کی زیادہ تر تعلیم، تجربوں کے ساتھ ہوئی ہے۔ تاریخ انسانیت میں تجرباتی تعلیم کی ایک لمبی تاریخ ہے۔

۷۔ پشیمانی، انسانی فطرت کی حق طلبی کی دلیل ہے۔( اصبح من النادمین )

آیت ۳۲

( مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلَی بَنِیْ اِسْرٰاِئیْلَ اَنَّه مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بَغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا ط وَمَنْ اَحْیَاهَا فَکَاَنَّماَ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا ط وَلَقَدْ جَائَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ ) ہ

ترجمہ۔ اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا (واجب قرار دے دیا) کہ جو شخص کسی انسان کو قتل کرے بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین پر تباہی پھیلائی ہو تو ایسے ہے جیسے اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا۔ اور جو کسی ایک انسان کو زندہ کرے (اسے مرنے سے بچالے) گویا اس نے تمام لوگوں کو زندہ کر دیا۔ البتہ ہمارے رسول روشن دلیلوں کے ساتھ ان کے پاس آئے، پھر ان میں سے بہت سے لوگ (انبیاء کے) اس (پیغام) کے بعد زمین پر اسراف کرنے والے ہوگئے۔

پیام:

۱۔ تاریخ حوادث بعض اوقات فرامین الٰہی کے صدور کا موجب بن جاتے ہیں۔( من اجل ذالک )

۲۔ تاریخی طور پر انسانوں اور ان کی سر نوشت کا چولی دامن کا ساتھ چلا آرہا ہے۔( من اجل ذالک کتبناعلی بنی اسرائیل )

۳ ۔ چاہے انسان کسی قوم ، نسل اور علاقہ سے تعلق رکھتے ہوں سب کی جان محترم ہے( نفسا )

۴ ۔ کسی انسان کو دو صورتوں میں قتل کرنا جائزہے ۔ الف! قاتل سے قصا ص کے طور پر ب۔ مفسد کاخاتمہ کرنے کے عنوان سے ۔

۵ ۔ تمام انسان ، ایک مشرکہ حقیقت اور ایک ہی قسم کی رو ح کے حاصل ہوتے ہیں ۔ اور ایک جسم کے مختلف اعضاء کی مانند لہذا ایک انسان کو قتل کرنا گویا تمام انسانیت کا ایک طرح قتل کرنا ہے( فکا نماقتل الناس جمیعا )

۶۔ روایات کے مطابق لوگوں کو راہ حق کی ہدایات بھی انسانیت کے احیاء (زندہ کرنے ) کی ایک قسم ہے ۔۲۶ اور لوگوں کو گمراہ کرنا انسانیت کا ایک طرح کا قتل ہے۔

۷ ۔ اعمال کی قدرو قیمت کا دارومدا ر ان اعمال کے مقاصد پر ہوتا ہے ۔ ظلم وجود کی بناء پر ایک انسان کا قتل ، پورے انسانی معاشرے کی موت ہے۔ جبکہ کسی کو قصاص کے عنوان کے قتل کرنا پورے معاشرے کی زندگی ہے۔

۸ ۔ کسی ایک انسان کی زندگی یا موت بعض اوقات پورے انسانی معاشر ے کی زندگی یا موت کے لئے موثرہوتی ہے ۔ اور بعض اوقات انفرادی قتل ، اجتماع قتل و غارت کا موجب بن جاتے ہیں ۔

۹ ۔ جس قدر روئے زمین کے لوگوں کا قتل مشکل بات ہے اسی طرح ایک انسان کا قتل بھی خطرناک ہے۔

۱۰ ۔ ہر انسان میں ایک عظیم معاشرے اور جدید نسل کی پیدائش کی صلاحیت ہوتی ہے اسی لئے کسی ایک شخص کی نابودبعض اوقات ایک پوری نسل کی تباہی ہوتی ہے۔

۱۱ ۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی کو بے گناہ قتل کرتا ہے اس کا عذاب اس شخص کی مانند ہے جو تمام لوگوں کو شہید کر ڈالے، اور ایک نفس کی جان بچانے کا اجر پوری انسانیت کو بچانے کے برابر ہے۔(از تفسیر نور الثقلین)

۱۲ ۔ ایک زندہ معاشرے کی شناخت یہ ہے کہ وہ مصیبت میں گھرے لوگوں کو امداد بہم پہنچاتا اور انسانی جانوں کو مرنے سے بچاتا ہے۔( من احیاها فکانما احی الناس جمیعا )

۱۳ ۔ خودکشی اور اسقاط حمل بھی "قتل النفس" میں شمار ہوتے ہیں، اور حرام ہیں۔

۱۴ ۔ ایک فرد کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا پورے انسانی معاشرہ کے امن و امان کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔( وکانما قتل الناس جمیعا )

۱۵ ۔ جو شخص کسی دوسرے انسان کی جان کی قدر و قیمت کو کچھ نہیں سمجھتا یا ذہن میں فساد پھیلاتا ہے تو اس کا اپنا خون بھی بے ارزش ہے ۔ اس کی بھی کوئی قدروقیمت نہیں ہے ۔( بغیر نفس او فساد )

۱۶ ۔ جن لوگوں کاکام انسانی جان کوبچانا ہے ، انہیں اپنی قدروقیمت کو جاننا نہیں چاہیئے۔ مثلاً، ڈاکٹر ،اطباء، نرسیں ، آگ بجھانے والے افراد ، ان کے معاون ، دو کزانے والے افراد وغیرہ( فکانمااحی الناس جمیعا )

۱۷ ۔ انسان خود مختار ہے انبیاء کے تشریف لے آنے کے بعد بھی ان کے بر خلاف رستوں پر چل سکتاہے( بعد ذالک )

۱۸ ۔ لوگوں کے ایمان نہ لانے سے پریشان نہ ہونا ، کیونکہ قدیم الایام سے یہی سلسلہ چلاآرہا ہے۔

( کثیر امنهم بعد ذالک فی الارض لمترفون )

آیت ۳۳

( اِنَّماَ جَزَئُو الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَه وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اِنْ یُّقتَّلُوْا وَ یُصَلَّبُوْا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلَهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ط ذٰلِکَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الَّدُنْیَا وَلَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ )

ترجمہ۔ جو خدا اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور (اسلحہ ،دہشت اور لوٹ مار کا ذریعہ) زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، ان کی سزا بس یہی ہے کہ یا تو انہیں قتل کردیا جائے یا سولی پہ لٹکایا جائے یا ان کے مخالف طریقہ سے ہاتھ اور پاؤں کاٹے جائیں ۔ ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کی مقدار وہی ہے جو چور کے کاٹنے کی ہے (یعنی ہاتھ کی انگلیاں) اور "مخالف طریقہ" سے مراد جو کہ آیت میں مذکور ہے یہ ہے کہ بالترتیب دائیں ہاتھ کی انگلیاں اور بایاں پاؤں یا بائیں ہاتھ کی انگلیاں اور دایاں پاؤں۔ یا پھر (اپنی) سرزمین سے نکال دئیے جائیں۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوا کن سزا ہے اور آخرت میں ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

نکتہ:

آیت کے شان ِ نزول کے بارے میں ہے کہ کچھ مشرکین مدینہ آئے اور مسلمان ہو گئے چونکہ وہ مریض تھے لہٰذا حضور پیغمبرِ خدا کے حکم کے مطابق شہر کے اچھی آب و ہوا کے بیرونی علاقہ میں چلے گئے اور انہیں اس بات کی اجازت تھی کہ وہاں پر زکواة کی اونٹنیوں کے دودھ کو استعمال کر یں، جب وہ وہاں پر ٹھیک ہو گئے تو اور جانوروں کو اپنے ساتھ بھگا لے گئے۔ اور اسلام سے بھی دستبردار ہو گئے۔

اس پر حضرت رسالتمآب نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیاجب گرفتار ہو گئے تو آنجناب نے ان کے ساتھ وہی سلوک کرنے کا حکم دیا جو انہوں نے چرواہے سے کیا تھا۔ مذکورہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی۔

آیت میں مذکور سزائیں "حقوق اللہ" میں شمار ہوتی ہیں لہٰذا نہ تو معاف ہو سکتی ہیں اور نہ ہی تبدیل کی جا سکتی ہیں۔ (تفسیر اطیب البیان) ۲۸

پیام

۱ ۔ معاشرے کی اصلاح کے لئے موعظہ اور تبلیغ بھی لازم ہے اور تلوار اور دو ٹوک اور انقلابی رفتار بھی ضروری ہے۔

(سابقہ آیت میں قاتل کو علمی اور منطقی طور پر خبردار کیا گیا تھا اور یہاں پر ہر ڈاکو اور مفسد کی سزا کو بیان کیا گیا ہے)

۲ ۔ خلق خدا کے ساتھ جنگ، خود خدا کے ساتھ جنگ ہوتی ہے اور جو لوگ مخلوق خدا کے مقابل آتے ہیں گویا خود خدا کے مقابلہ میں آتے ہیں۔

۳ ۔ جو لوگ معاشرے کے امن و سکون کو تہ و بالا کرتے ہیں ان کے لئے کئی قسم کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں، موت ، جلا وطنی، ہاتھ اور پاؤں کا کاٹنا اور سولی پر لٹکانا۔

۴ ۔ سزائیں، عدالت کے مطابق ہیں، چونکہ فسادات اور مفسدین کی خصوصیات مختلف ہوتی ہیں لہٰذا سزائیں بھی ایک جیسی نہیں ہیں۔ اگر فساد میں دردناک پہلو ہوتا ہے تو اس کی سزا قتل ہے۔ اگر عام قسم کا ہوتا ہے تو سزا جلا وطنی ہے۔ اور یہ بات روایت سے معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ قتل کی سزا موت ہے۔ ڈرانے دھمکانے اور دہشت پھیلانے کی سزا جلاوطنی ہے چوری کی سزا ہاتھ پاؤں کاٹنا ہے

قتل اور مسلحانہ ڈکیتی کی سزا ہاتھ اور پاؤں کاٹنا اور پھانسی ہے۔ (تفسیر صافی)

۵ ۔ سخت قسم کی سزائیں، ستم پیشہ لوگوں کے لئے ہیں تاکہ ان لوگوں کے لئے جو اچانک اس معاملہ میں آ پھنسے ہیں۔( یحاربون- یسعون )

۶ ۔ حدود و احکام الٰہی کا اجرا اسلام نظام ِ حکومت کے سائے میں ہی ہو سکتا ہے یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ دین سیاست سے جدا نہیں ہے۔

۷ ۔ حکومت اور نظامِ حکومت کا فرض ہے کہ شہروں ، دیہاتوں اور رستوں کے امن و امان کو یقینی بنائے۔

۸ ۔ رسول ِ خدا کی ولایت کے مخالفین کہ جو نبوی حکومت کو ختم کرنا چاہتے ہیں یا نظام کے ساتھ برسر پیکار ہیں ان کا قلع قمع کر دینا چاہئے۔

۹ ۔ جو لوگ امام المسلمین یا صحیح اسلامی حکومت پر خروج کرتے ہیں وہ "یحاربون اللہ" (خدا سے لڑنے والوں ) کے زمرے میں آتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفسیر فی ظلال القرآن)

۱۰ ۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں اور فسادی کی جلا وطنی کا عرصہ ایک سال ہے اور لوگوں میں اس کی جلا وطنی کا اعلان کرنا چاہئے تاکہ جلا وطن شخص سے لوگوں کا کسی قسم کا رابطہ نہ ہو سکے۔ (تفسیر نور الثقلین)

۱۱ ۔ قرآنی آیت کی رو سے "سود خور" بھی "خدا کے ساتھ جنگ کرنے والا" ہوتا ہے کیونکہ وہ بھی معاشرہ کے اقتصادی امن و امان کو تباہ کرتا ہے۔ روایت کے مطابق کسی مسلمان کی توہین بھی خدا کے ساتھ جنگ میں شمار ہوتی ہے۔ حدیث کی رو سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "من اھانی لی ولیا فقد بار زنی ابالمحاربة" یعنی جس نے میرے کسی دوست کی توہین کی اس نے مجھے جنگ کے لئے للکارا۔

آیت ۳۴

( اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلُ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ فَاعْلَمُوْا ) ( اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌه )

ترجمہ۔ مگر جو لوگ ان پر تمہارے قابو پانے سے پہلے تو بہ کرلیں، تو جانے رہو کہ خدا وند عالم بخشنے والامہربان ہے۔

نکتہ

خدا اور رسول کے ساتھ لڑنے والے ڈاکو اور مفسد کی توبہ سے صرف اسے ڈرانے دھمکانے کی سزا اٹھ سکتی ہے لیکن قتل اور چوری کی سزا اسے ضرور ملے گی۔ یعنی توبہ صرف "حقو ق اللہ " میں موثر ہوتی ہے "حقوق الناس" میں نہیں۔ کیونکہ حقوق الناس کا تعلق حقداروں کی رضا مندی سے ہوتا ہے۔ "محارب" کا اپنا علیحدہ عنوان ہوتا ہے اور چور اور قاتل کا اپنا علیحدہ حساب۔ (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ)

پیام

۱ ۔ توبہ کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہوا ہے۔

۲ ۔ ایسی توبہ قابلِ قدر ہوتی ہے جو مجرم کی گرفتاری اور عدالت میں پیش ہونے سے پہلے ہو۔ اور پھر یہ کہ پوری سوجھ بوجھ ، سوچ سمجھ بغیر کسی جبر و اکراہ اور مکمل آزادی کے ساتھ کی جائے۔ (دوسرے گناہوں میں توبہ مرنے سے پہلے تک مفید ہے۔ ملاحظہ ہو سورہ نساء / ۱۸)

ضمنی طور پر یہ بات بھی جاننی ضروری ہے کہ سزا ختم کرنے کے لئے حقیقی توبہ کا معلوم ہونا ضروری ہے ( کہ مجرم کے اخلاق ، رفتار اور کردار سے عیاں ہو یا پھر دو عادل آدمی گواہی دیں)

۳ ۔ خدا کی مقرر کردہ سزائیں، فرد اور معاشرے کی اصلاح اور تربیت کی حامل ہوتی ہیں، ان میں جذبہ انتقام کار فرما نہیں ہوتا ۔ لہٰذا گنہگار کی توبہ موثر ہوتی ہے۔

آیت ۳۵

( یَاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِه لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) ہ

ترجمہ۔ اے ایماندارو! خدا سے ڈرتے رہو اور (اس کے تقرب کے لئے) وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کروہو سکتا ہے تم فلاح پا جاؤ۔

نکتہ

حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے خطبہ ۱۱۰ میں فرماتے ہیں ۔ "بہترین وسیلہ کہ جس کے ذریعہ خدا کا تقرب حاصل ہو سکتا ہے ، خدا کی ذات اور اس کے پیغمبر پر ایمان ، اس کی راہ میں جہاد، کلمہ اخلاص ، نماز کا قائم کرنا، زکوٰة کا ادا کرنا ماہ رمضان کو روزوں کا رکھنا، حج اور عمرہ کا بجا لانا، صلہ رحمی کرنا، خدا کی راہ میں چھپا کر اور ظاہر کرکے خرچ کرنا اور نیکی کا کام کرنا۔"

پیام

۱ ۔ سعادت اور فلاح و کامیابی کا راستہ، ایمان ، تقویٰ ، شفاعت اور جہاد ہے۔( لعلکم تفلحون )

۲ ۔ فلاح اور رستگاری تک پہنچنے کے لئے گناہوں کو بھی ترک کرنا چاہئے اور خدا اور رسول کی اطاعت بھی کرنی چاہئے۔( اتقوالله- وابتغوا-- )

۳ ۔ نیکی کے تمام کام ، سعادت و نیک بختی کے وسیلہ اور ذریعہ میں بشرطیکہ ہم خود گناہوں کا ارتکاب کرکے ان وسیلوں کو ختم نہ کردیں۔( لعلکم )

۴ ۔ اہلِ بیت اطہار علیہم السلام خدا تک پہنچنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کا وسیلہ اور اس کی مضبوط رسی ہیں۔

آیت ۳۶ ، ۳۷

( اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَ مِثْلُه مَعْه لِیْفَتَدُوْابِه مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُم وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ )

( یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخَارِجِیْنَ مِنْهَا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُقِیْمٌ )

ترجمہ: یقیناً جو لوگ کافر ہوگئے ہیں، اگر روئے زمین پر جو کچھ ان کے پاس ہے اور اس کے برابر کے بھی (زمین پر موجود دوگنا کے) مالک بن جائیں اور وہ قیامت کے دن سزا سے بچنے کے لئے سب کچھ فدیہ کے طور پر یکجا دے دیں تو بھی ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

اور وہ جب بھی جہنم سے باہر آنا چاہیں گے تو اس سے نہیں نکل سکیں گے اور ان کے لئے پائیدار عذاب ہے۔ ۳۰

پیام:

۱ ۔ مال ، صرف دنیا میں ہی کارآمد ہوتا ہے اور آخرت میں یہ دولت بیکار ہے( ماتقبل--- )

۲ ۔ عدل الٰہی کے نظام میں دوزخ سے نجات حاصل کرنے کے لئے فدیہ قبول نہیں (م( اتقبل )

۳ ۔ کافر، ہر حالت میں جہنمی ہے اور کسی بھی قیمت اس کی بخشش نہیں ہے۔

۴ ۔ سعادت اور نیک بختی کا عامل انسان کے اندر موجود ہے (یعنی ایمان، تقویٰ اور جہاد) نا کہ اس کے باہر میں (مال اور ثروت وغیرہ)

۵ ۔ کافروں کو ملنے والا دائمی عذاب نہ تو فدیہ سے ٹل سکتا ہے اور نہ ہی زمانے کے گزرنے سے ختم ہو سکتا ہے۔( وماهم بخارجین )

۶ ۔ نجات کی تمام راہیں کافروں پر بند ہو چکی ہیں۔ نہ تو وہ خدا کی رحمت سے بہرہ مند ہو سکیں گے کیونکہ وہ تو پرہیزگاروں کے ساتھ خاص ہے "( رحمتی وسعت کل شیٴ فساکتبها للذین یتقون ) " یعنی میری رحمت نے ہر چیز کو اپنی وسعت میں لیا ہوا ہے جس کو میں ان لوگوں کے لئے لکھوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔۔۔ (اعراف/ ۱۵۶) اور نہ ہی شفاعت سے بہرہ ور ہو سکیں گے کیونکہ شفاعت ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے جن سے خدا راضی ہو گا ارشاد ہوتا ہے "( یومئذٍ لاتنفع الشفاعة الامن اذن له الرحمن رضی له قولا ) " یعنی قیامت کے دن کسی شخص کی شفاعت فائدہ نہیں دے گی سوائے اس شخص کے کہ جسے خدائے رحمان نے اجازت دی ہو گی اور وہ اس کی گفتگو سے راضی ہو گا۔ (طہ/ ۱۰۹) اور نہ ہی وہاں پر موت آئے گی۔ وہ ہمیشہ جہنم میں زندہ رہیں گے اور ان کی موت کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔ چنانچہ ارشاد باری ہے "( ونا دوا، یٰمٰلک لیقض علینا ربک- قال انکم مکئون ) " یعنی وہ پکاریں گے کہ اے مالک (داروغہ جہنم!) ہماری آرزو ہے کہ تیرا پروردگار ہمیں موت دیدے، وہ جواب دے گا کہ تمہیں اسی حال میں رہنا ہو گا (زخرف/ ۷۷)

۷ ۔ جو شخص دنیا میں اس قدر واضح اور روشن براہین و ارشادات کے باوجود شرک و جہالت کی تاریکیوں سے باہر نہیں نکلتا وہ آخرت میں بھی جہنم سے باہر نہیں نکلے گا۔( لهم عذاب مقیم )

آیت ۳۸

( وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْا اَیْدِیْهُمَا جَزٰآء ً بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِّنَ اللّٰهِ ط وَاللّٰهُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ )

ترجمہ: چور مرد اور عورت کا ہاتھ ان کے انجام دیئے گئے عمل کی سزا میں کاٹ دو۔ یہ سزا خدا کی طرف سے ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔

نکتہ:

اس مقام پر پہلے چور مرد کا نام لیا گیا ہے پھر چور عورت کا( السارق- والسارقة ) لیکن سورہ نور کی دوسری آیت میں کہ جہاں پر زناکاری کی سزاکے بارے میں بتایا گیا ہے پہلے زناکار عورت کا نام لیا گیا ہے پھر زانی مرد کا۔ "الزانیة۔ والزانی" تو شاید اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ چوری میں مرد کا نقش زیادہ ہے اور زناکاری میں عورت کا۔

مرحوم سید مرتضی علم الہدیٰ سے (تقریباً آج سے ایک ہزار سال پہلے) سوال کیا گیا تھا کہ: جس ہاتھ کی دیت پانچ سو دینار ہے وہ ایک چوتھائی دینار چوری کرنے کے بدلے میں کیوں کاٹا جاتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: امانت کی عزت نے اس ہاتھ کو گراں قیمت بنا دیا تھا، لیکن خیانت کی ذلت نے اس کی قیمت گرا دی۔

روایات کے مطابق ہاتھ کے کاٹنے کی مقدار صرف اس کی چار انگلیاں ہیں۔ لہٰذا انگوٹھا اور ہتھیلی کو نہیں کاٹا جائے گا۔

چوری کے مال کی مقدار کم از کم ایک چوتھائی دینار ہو کہ جس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور وہ مال بھی کسی مکان کے اندر محفوظ ہو۔ لہٰذا مسافرخانوں، حماموں، مسجدوں اور اس قسم کے عوامی مقامات میں نہ ہو۔

جب چور پر حد جاری ہو جائے تو مسروقہ مال اس کے مالک کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ اور چور کو اس سزا کا علم بھی ہو یعنی اسے یہ بھی معلوم ہو کہ چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے، ورنہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح اگر چور اپنے شریک کے مالک و چرائے یا قحط سالی کے دوران مجبور ہو کر اشیائے خوردنی کی چوری کرے تو بھی اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔

اسی طرح باپ کا اپنے بیٹے کے مال کو چرانا، غلام کا اپنے آقا کے مال کو چوری کرنا، نابالغ یا دیوانے یا ایسے شخص کا چوری کرنا جو یہ سمجھتا ہے وہ مال لینے کا حق رکھتا ہے۔ ان کے چوری کرنے سے، ان کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ البتہ مذکورہ موارد میں صرف ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، دوسری سزا دی جا سکتی ہے۔

حدیث میں ہے کہ حضرت رسول خدا نے چوری کی بدترین قسم نماز میں چوری کو قرار دیا ہے جس میں رکوع اور سجود کو ناقص طریقہ سے بجا لایا جائے۔ (تفسیر قرطبی)

بعض بزرگان دین کی تصریحات میں آیا ہے کہ: مسلمانوں کا ایک گروہ سورہ حمد کی تلاوت میں "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" کی چوری کیوں کرتے ہیں؟"

چوری میں ہاتھ کاٹنے کا پہلا مرحلہ ہے۔ جب دوسری دفعہ چوری کرے گا تو بایاں پاؤں ابھری ہوئی جگہ کے نیچے سے کاٹا جائے گا۔ تیسری مرتبہ عمر قید کی سزا کاٹے گا اور چوتھی مرتبہ میں اسے سزائے موت دی جائے گی

(تفسیر صافی اور تفسیر مجمع البیان)

پیام و نکات:

۱ ۔ صرف سنگین جرمانہ اور سخت سزا سے ہی چوری کا سدباب کیا جا سکتا ہے( فاقطعوا ایدیهما )

۲ ۔ اسلام کے قانون سزا میں جسمانی نقصان کے علاوہ حیثیت عرفی اور عزت و آبرو کا نقصان بھی ہے۔ تاکہ جرائم کا زیادہ سے زیادہ سدباب ہو سکے۔ (مجمع عام میں کوڑوں کی سزا یا ہاتھ کا کاٹنا وغیرہ)

۳ ۔ اسلام کے قانون سزا میں جہاں مجرم کو تنبیہ کا پہلو مدنظر رکھا گیا ہے وہاں دوسروں کی عبرت کا سامان بھی فراہم کیا گیا ہے۔ (حدود کے اجرا میں لوگوں کا موجود ہونا) اس کے علاوہ جب بھی لوگ ہتھ کٹے شخص کو دیکھیں گے فوراً متوجہ ہو جائیں گے کہ چوری کی سزا سخت ہے۔

۴ ۔ حدود الٰہی کے اجراء (سز ادینے) کے لئے رحمدلی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔

۵ ۔ چونکہ چوری کی سزا کے لئے دنیا کا قانون سزا صرف قید اور جرمانے پر مبنی ہے لہٰذا چوری کا سدباب کرنے سے عاجز ہے اور قید یا جرمانے سے اس کے اعداد و شمار میں کمی نہیں آئی ہے۔

۶ ۔ ہاتھ کاٹنے کی سزا خود مجرم کے لئے بھی ہمیشہ کے لئے خبردار کرنے اور دائمی طور پر متنبہ رہنے کا موجب ہے کہ دوبارہ اس قسم کی غلطی نہ کرے۔

۷ ۔ چونکہ سرقہ (چوری) ہاتھ اور پاؤں سے انجام پاتی ہے لہٰذا پہلے مرحلہ میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور دوسرے مرحلہ میں پاؤں تاکہ پھر ایسا جرم سرزد نہ ہونے پائے۔

۸ ۔ جہاں پر چوری کے لئے ہاتھ کاٹنے کی تمام شرائط موجود نہ ہوں تو پھر تعذیر اور تنبیہ کے طور پر دوسری سزا دی جائے گی۔

۹ ۔ سرقہ کا موجب یا تو مال اکٹھا کرنا اور دولت جمع کرنا ہوتا ہے یا پھر مستقبل بہتر صورت میں گزرنے کی توقع ہوتی ہے، جبکہ ہاتھ کا کاٹنا ان تمام عوامل کو کمزور کر دیتا ہے۔ اور یہ ایک ایسی سزا ہے جس کا مقابلہ قید یا کوڑے نہیں کر سکتے۔

۱۰ ۔ سارق (چوری) کا صرف ہاتھ ہی نہیں کاٹا جاتا مال مسروقہ کا ضامن بھی ہوتا ہے۔

۱۱ ۔ کسی کی ذاتی ملکیت اور عمومی امن وامان اس قدر اہم ہے کہ اس کے لئے مسلمان کا ہاتھ تک کاٹنا پڑتا ہے۔

۱۲ ۔ ان احکام کے اجراء کے لئے حکومت، اقتدار، نظام خاص اور سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ "اسلام، حکومت اور سیاست کا دین ہے۔"

۱۳ ۔ غربت، سرقت کا موجب اور اس کے جواز کا سبب نہیں بن سکتی۔ (کیونکہ اسلام نے ہاتھ کاٹنے سے پہلے عوام کے لئے روزگار کی اہمیت پر زور دیا ہے اور غریبوں کو بیت المال سے وظیفہ یا ان کے عزیزوں رشتہ داروں کو ان کا حق دینے پر زور دیا ہے اور قرض حسنہ اور امداد اور تعاون کے دوسرے راستوں سے ان کی زندگی بسر کرنے کے سامان فراہم کرنے کی تاکید کی ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر (فی ظلال القرآن)۔

۱۴ ۔ خداوند عالم کی مقررکردہ سزائیں انتقام کے طور پر نہیں ہیں بلکہ جرائم کے سدباب کے لئے ہیں (کیونکہ "نکال" کا معنی ہے "مہار" جو جانور کو روکنے کا ایک ذریعہ ہوتی ہے)۔

۱۵ ۔ روایات کی رو سے چور کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا تاکہ بایاں ہاتھ بیت الخلاء کی طہارت کے لئے محفوظ رہے اور ایسا حفظان صورت کی اہمیت کے پیش نظر کیا جاتا ہے (ملاحظہ ہو تفسیر صافی اور تفسیر مجمع البیان)

۱۶ ۔ قدرت اور طاقت کا استعمال بھی جچے تلے انداز میں ہونا چاہئے۔( عزیز حکیم )

آیت ۳۹

( فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِه وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهِ یَتُوْبَ عَلَیْهِ ط اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ )

ترجمہ۔ پس جو شخص اپنے ظلم کے بعد توبہ کرے اور (اپنے برے کاموں کی) اصلاح کرے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

نکتہ:

اسلام میں سزائیں، تبلیغ، ارشاد اور ہدایت کے ساتھ ساتھ ہیں، اس سے پہلی آیت میں چور کی سزا بیان ہوئی ہے اور یہاں پر خداوند غفور کی بارگاہ میں توبہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اور اپنی برائیوں کی اصلاح کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ جو اس بات کا موجب ہوتی ہے کہ خداوند کریم بھی اپنا لطف و کرم بندے کی طرف پھیر دے۔

پیام:

۱ ۔ خطارکار انسان کے لئے بازگشت اور اصلاح کا راستہ ہمیشہ کھلا ہے( فمن تاب )

۲ ۔ توبہ صرف باطنی طور پر ندامت ہی کا نام نہیں بلکہ گزشتہ برائیوں کی تلافی بھی ضروری ہوتی ہے( واصلح )

۳ ۔ اگر انسان توبہ کرے اور اپنی حقیقت کی طرف لوٹ آئے تو خداوند عالم بھی اپنے قطع شدہ لطف و کرم کو اسکی طرف پلٹا دیتا ہے۔( یتوب علیه )

۴ ۔ اگر چور (گرفتار ہو جانے اور عدالت میں پیش ہونے سے پہلے) توبہ کر لے اور مال مسروقہ اس کے اصل مالک کو واپس کر دے تو دنیا میں بھی اسے معاف کر دیا جائے گا اور آخرت میں بھی، لیکن اگر گرفتار ہونے کے بعد توبہ کرے تو اس پر سرقہ کی حد جاری کی جائے گی رہا توبہ کا معاملہ، تو یہ قیامت سے متعلق ہوجائے گا۔

۵ ۔ سرقہ کوئی معمولی جرم نہیں بلکہ خود پر اور معاشرہ پر ظلم کے علاوہ اپنی روح اور معاشرہ کے امن وامان پر زیادتی ہوتی ہے۔

۶ ۔ مجرمین کو ہر طرح سے راہ خدا کی دعوت دینی چاہئے اور انہیں امید دلانی چاہئے۔( یتوب، غفور، رحیم ) ۳۱

آیت ۴۰

( اَلَمْ تَعْلَمْ اِنَّ اللّٰهَ لَه مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یُعَذِّبَ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰهُ عَلَی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْرٌ )

ترجمہ۔ آیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کے لئے ہے (اپنی حکمت اور عدالت کے مطابق) جسے چاہتا ہے عذاب میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔ اور اللہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔ چاہے تو مفسد اور چور کو ذلت اور عذاب دیتا ہے اور پشیمان ہونے والے، توبہ کرنے والے اور اپنی اصلاح کرنے والوں کو بخش دیتا ہے)

پیام:

۱ ۔ اللہ تعالیٰ کو بندوں کی توبہ کی احتیاج نہیں ہے کیونکہ تمام عالم ہستی پر اسی کی حکومت ہے( له ملک السماوات والارض )

۲ ۔ چوروں، لٹیروں، غنڈوں اور بدمعاشوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے لئے کوئی بھی راہ فرار نہیں ہے لہٰذا انہیں خدا کی ہی کی طرف لوٹ آنا چاہئے۔( له ملک السموت والارض )

۳ ۔ انسان کو ہمیشہ خوف اور امید کی حالتوں میں رہنا چاہئے( یعذب من یشأ ویغفر من یشا )

آیت ۴۱

( یَاَیُّهَاالرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیَْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تَؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اَخِرِیْنَ لَمْ یَاتُْوْکَ ط یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِه یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَمْ تُؤْتُْوْهُ فَاحْذَرُوْا ط وَمَنْ یَّرِدِ اللّٰهُ فَتْنَتَه فَلَنْ تَمْلِکَ لَه مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا ط اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَمْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ ط لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَلَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌه )

ترجمہ۔ اے رسول! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں وہ آپ کو غمگین نہ کر دیں، ان میں سے کچھ لوگ (منافقانہ طور پر) زبان سے کہتے ہیں کہ ہم لے آئے، لیکن ان کے دل ایمان نہیں لائے، اور (نیز) یہودیوں سے بھی غم نہ کھاؤ! جو کہ جھوٹ گھڑنے اور تحریف کرنے کے لئے بڑے غور سے آپ کی باتوں کو سنتے ہیں، وہ ان لوگوں کی جاسوسی کے لئے آپ کی باتوں کو غور سے سنتے ہیں جو آپ کے پاس نہیں آئے ہیں، وہ آسمانی قوانین کی تحریف کرتے ہیں اور (ایک دوسرے سے) کہتے ہیں: اگر یہ مطلب (جو ہماری منشا کے مطابق ہے) تمہیں دے دیا جائے تو تم لے لو اور قبول کر لو، اور اگر (جو ہماری منشا کے مطابق ہے) تمہیں نہ دیا جائے تو اس سے دوری اختیار کر لو۔ اور جس شخص کو خدا عذاب دینا چاہے اور رسوا کرنا چاہے تو تم قہر خداوندی کے سامنے اس کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی قلبی طہارت کو خدا نہیں چاہتا۔ (یہ دل کے مریض، متعصب اور ہٹ دھرم لوگ ہیں جنہوں نے اپنے لئے ہدایت کی راہیں بند کر لی ہیں) ان کے لئے دنیا میں ذلت و خواری ہے اور آخرت میں ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

پیام:

۱ ۔ گمراہ لوگوں کے بارے میں بھی انبیاء دل سوزی سے کام لیتے ہیں( لایحزنک )

۲ ۔ دوسرے لوگوں کا کفر کی طرف میلان، پیغمبر کی حالت اور ان کے فیصلہ کے بارے میں کسی قسم کا ردوبدل کا سبب نہیں بننا چاہئے۔( ولایحزنک )

۳ ۔ ایمان، دل سے قبولیت کا نام ہے، زبانی اظہار کا نہیں۔( باخواهم--- قلوبهم )

۴ ۔ منافقین اور یہودی ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ایک مقصد کو پیش نظر رکھ کر آگے بڑھتے ہیں۔( ومن الذین هاروا )

۵ ۔ کان لگا کر سننا اتنا زیادہ اہم نہیں ہے جتنا اس کے مقاصد کی تکمیل اہم ہے( سماعون للکذب )

۶ ۔ کفار نے اپنے ایجنٹ اور جاسوس مسلمانوں کے درمیان چھوڑے ہوئے ہیں۔ مبلغین دین کو ہوشیار رہنا چاہئے اور اپنے تمام سامعین کو نیک نیت نہیں سمجھنا چاہئے( سماعون لقوم آخرین )

۷ ۔ تحریف، یہود کی ایک علمی خیانت ہے( یحرفون الکلم )

۸ ۔ ہمیں خدا کے اوامر اور حقائق کو تسلیم کرنا چاہئے، صرف اپنی مرضی کے دینی احکام ہی کو قبول نہیں کرنا چاہئے۔( خذوه--- فاحذوه ) ۳۲

۹ ۔ انسان کا گناہ، اس کی ہدایت کے لائق ہونے کو ختم کر دیتا ہے۔( مردالله فتنة )

۱۰ ۔ ہٹ دھرم متعصبین اور ہوس کے پجاریوں کے لئے تو اللہ کا رسول بھی کچھ نہیں کر سکتا۔( فلن تملک )

۱۱ ۔ سخت اور ہٹ دھرم قسم کا دل خداوند عالم کے لطف و کرم کے حصول سے محروم ہوتا ہے۔

۱۲ ۔ دشمن تو کفر اور نفاق میں جلدبازی سے کام لیتے ہیں، لیکن مسلمان راہ حق میں سستی سے کام لیں، یہ عجیب نہیں ہے؟( یسارعون فی الکفر )

۱۳ ۔ جاسوسانہ انداز میں بیان ہونے والا جھوٹ سننا، کفر میں جلدی کرنے کی علامت ہے۔

۱۴ ۔ تقویٰ سے ہٹ کر مرتب کی جانے والی رپورٹیں، بہت ہی خطرناک کھیل ہوتی ہیں۔( سماعون للکذب--- یحرفون--- )

۱۵ ۔ منافقین، دنیاوی بدبختی کے بھی حامل ہوتے ہیں (جھوٹ سنتے ہیں، جاسوسی کرتے ہیں، تحریف کرتے ہیں اور اپنے مقصد و منشا کا دین چاہتے ہیں) اور قیامت کے دن آخرت کا عظیم عذاب بھی ان کا منتظر ہے( لهم فی الاخرة عذاب عظیم )

آیت ۴۲

( سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکَّلُوْنَ لِلسُّحْتِ ط فَاِنْ جَآءُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْکَ شَیْئًا ط وَ اِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ ط اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِِطِیْنَ )

ترجمہ: (وہ لوگ) جھوٹ کو بڑے غور سے سنتے ہیں اور حرام کا مال بڑی فراوانی سے کھاتے ہیں۔ پس اگر وہ (فیصلہ کے لئے) آپ کے پاس آئیں تو آپ یہ تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیں یا پھر ان سے منہ پھیر لیں۔ اور اگر آپ ان سے منہ پھیر لیں تو وہ ہرگز آپ کو کسی قسم کی گزند نہیں پہنچا سکتے۔ اور اگر ان کے درمیان فیصلہ کریں تو قسط و عدل کے مطابق فیصلہ دیں۔ یقیناً اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

نکتہ:

کچھ یہودی جو کہ "زنائے محصنہ" (شوہردار عورت سے زنا) کے مرتکب ہو چکے تھے، سنگساری کی سزا سے بچنے کے لئے۔۔۔ جو یہودیوں کے دین میں ہے۔۔۔ پیغمبر اسلام کی خدمت میں فیصلہ کرانے کے لئے حاضر ہوئے۔ لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ ایسے لوگوں کے بارے میں اسلام کا حکم بھی یہی (سنگساری) ہے۔ چنانچہ جب انہوں نے دیکھا کہ اس بارے میں اسلام کا بھی یہی حکم ہے تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔

"سحت" کا معنی روایات کے مطابق رشوت یا ایسا تحفہ ہے جو کسی کام کی بجاآوری کے لئے دیا جاتا ہے۔ جبکہ اس کا لغوی معنی "ہلاکت" یا ایسی چیز ہے جو ہلاکت کا موجب ہوتی ہے۔

پیام:

۱ ۔ علمائے یہود راشی تھے( اکالون للسحت ) اور یہودی جھوٹ سننے کو پسند کرتے تھے۔ (سماعون للکذب) اور لفظ "سماعون" کا تکرار شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ خصلت آہستہ آہستہ ان کی عادت ثانوی بن چکی تھی۔

۲ ۔ کفار اہل کتاب کے ساتھ مسلمانوں کا باہمی میل جول اس حد تک تھا کہ وہ اپنے فیصلے پیغمبر اسلام کے پاس لے آتے تھے۔

۳ ۔ انبیاء کو بعض مسائل میں یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق عمل کریں اور وحی کا انتظار نہ کریں،( فاحکم--- اواعرض )

۴ ۔ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ ہمیشہ اور ہر قوم کے لئے قابل قدر چیز ہے( فاحکم بینهم بالقسط )

۵ ۔ اگر کوئی اسلامی حاکم یا اسلامی حکومت، غیرمسلم حکومتوں کے لئے "جج" مقرر ہو جائے تو اسے چاہئے کہ عدالت، جرأت اور صراحت کے ساتھ مگر دو ٹوک فیصلہ کرے۔( فاحکم بینهم )

۶ ۔ فیصلہ کرنے کے لئے نسلی اور علاقائی مسائل اور جماعتی تعصب اور ذاتی میلان یا کسی کی طرف سے کسی قسم کی دھمکی کو اثرانداز نہیں ہونا چاہئے۔( بالقسط )

۷ ۔ اگر مناسب سمجھو کہ کسی مقدمہ میں فیصلہ دینا خلاف مصلحت ہے تو اس سے دستکشی کر لو اور نہ ڈرو۔

آیت ۴۳

( وَکَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَ هُمْ التَّوْرٰٰٰٰةُ فِیْهَا حُکْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ م بَعْدِ ذٰلِکَ ط وَمَآ اُوْلٰٓئِکَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ )

ترجمہ۔ اور وہ (یہودی) آپ کو کس طرح اپنا فیصلہ کرنے والے کی حیثیت سے قبول کر سکتے ہیں؟ جبکہ توریت ان کے پاس ہے۔ اور اس میں خدا کا حکم (بیان کیا گیا) ہے۔ پھر آپ کے فیصلہ کے بعد وہ منہ موڑ لیتے ہیں اور وہ مومن نہیں ہیں۔

پیام:

۱ ۔ تمام توریت، تحریف شدہ نہیں ہے( فیها حکم الله )

۲ ۔ یہودیوں کے لئے جو چیز اہمیت کی حامل ہے وہ ان کی آسائش طبی اور سزا میں تخفیف ہے نا کہ قانون اور ادائیگی فرائض پر ایمان! (اسی لئے تو توریت میں قانون موجود ہونے کے باوجود اپنی سہولت کی خاطر آپ کے پاس آئے ہیں)

۳ ۔ کاش کہ اہل کتاب: اپنی کتاب میں موجود احکام ہی کے پابند ہوتے!!( وعذرهم التوراة )

۴ ۔ ایمان کی علامت یہ ہے کہ قوانین الٰہی کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا جائے( وما اولئک الموٴمنین )

آیت ۴۴

( اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰةَ فِیْهَا هُدٰی وَ نُوْرٌ یَحْکُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبَّانِیُّوْنَ وَالْاَ حْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللّٰهِ وَ کَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَلاَتَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُوْلٰٓئِکَ هُمُ الْکٰفِرُوْنَ )

ترجمہ۔ ہم نے تورات کو نازل کیا جس میں ہدایت اور نور ہے۔ انبیاء اللہ جو حکم خدا کے سامنے تسلیم تھے (اور توریت کے نازل ہونے کے بعد اپنے فرائض انجام دینے لگے، سارے کے سارے) اسی کے مطابق یہودیوں کے لئے فیصلے کیا کرتے تھے اور (اسی طرح) یہودیوں کے بڑے علماء اور پاک دل اور نیک دانشور بھی اسی آسمانی کتاب کے مطابق (فیصلے کرتے تھے) جو ان کے سپرد کر دی گئی تھی اور وہ اسی پر گواہ تھے۔ پس (اے علماء!) تم لوگوں سے نہ ڈرو (اور خدائی احکام کو بیان کرو) اور مجھ سے (یعنی میری مخالفت سے) ڈرو اور میری آیات کو معمولی قیمت نہ بیچو اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے پس وہ کافر ہیں۔

نکتہ:

"ربانی" کا لفظ "رباّن" (بروزن عطشان) سے نکلا ہے جس کا معنی ہے "تربیت کرنے والا" اور بعض علماء کے بقول "ربانی" وہ شخص ہوتا ہے جس کا تعلق رب العالمین سے ہو اور اس کے علاوہ کسی اور کے ساتھ اسے کسی کروٹ چین نہ آئے۔ اور اپنے علم وعمل کے لحاظ سے خدائی رنگ میں رنگ چکا ہو اور لوگوں کی تربیت کرے۔

"جر" کا معنی ہے "نیک اثر" چونکہ معاشرہ میں علماء کرام نیک اثر کا موجب ہوتے ہیں لہٰذا انہیں "جر" اور "احبار" کہتے ہیں۔ ۳۳

پیام:

۱ ۔ تحریف کا اعتراف کرنے کے باوجود اصل آسمانی کتاب کا احترام کرنا چاہئے۔

۲ ۔ اگرچہ توریت حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی، لیکن ان کے بعد آنے والے تمام انبیاء اور علماء مامور تھے کہ اسی کے مطابق فیصلے کریں۔

۳ ۔ اگر حکم الٰہی کے سامنے انبیاء تسلیم ہو چکے ہیں تو پھر ہم کیوں نہ ہوں؟( اسلموا ) انبیاء اپنی طرف سے کوئی فیصلہ نہیں کرتے بلکہ حکم خداوندی کے آگے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔

۴ ۔ اسلام، تمام لوگوں کا دین ہے، انبیاء بنی اسرائیل کی بھی "اسلموا" کے جملہ سے توصیف و تعریف کی گئی ہے، نصرانیت اور یہودیت سے نہیں!

۵ ۔ ہر امت کے علماء لوگوں کے درمیان احکام الٰہی کے اجرا کے ذمہ دار ہیں اور "ولایت فقیہ" تمام ادیان کے رگ و ریشہ میں موجود ہے( یحکم بها النبیون )

۶ ۔ سلسلہ مراتب کی رعایت ضروری ہے، پہلے انبیاء پھر ربانیوں (ائمہ) پھر احبار اور علماء و صاحبان دانش و بصیرت۔

۷ ۔ انبیاء تمام توریت کے عالم ہیں۔ لیکن اخبار و علماء صرف اس حصہ کے کہ جو انہیں سونپا گیا ہے( بما استخفظوا )

۸ ۔ مبلغ اور قاضی کو مسائل دین سے آگاہ ہونا چاہئے، اور جس قدر کسی کا مبلغ علمی ہے اسی قدر اس بارے میں مداخلت کرے( کانواعلیه شهداء- بما استحفظوامن کتاب الله )

۹ ۔ علماء کو چاہئے کہ فیصلوں کے اجرا پر مکمل نگرانی رکھیں اور مذہب کے محافظ بنے رہیں( کانواعلیه شهداء )

۱۰ ۔ اللہ تعالیٰ نے علما اور قاضیوں سے دو طرح کا عہد و پیمان لیا ہے: الف: لوگوں کے خوف سے حکم خدا کو تبدیل نہ کریں۔ ب۔ معمولی مال کے لالچ میں حق بات کو چھپانے کے مرتکب نہ ہوں اور کسی مقام پر لغزش سے دوچار نہ ہوں۔

۱۱ ۔ فیصلہ کرتے وقت انحراف کا شکار ہو جانا کفر ہے۔ ۳۴

۱۲ ۔ فیصلہ کرتے وقت، صراحت، جرأت، ہمت اور شہامت ضروری ہے اور دھمکیوں اور غلط پروپیگنڈوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے( لاتخشواالناس )

۱۳ ۔ جو شخص اپنا معاملہ خدا کے ساتھ صاف رکھتا ہے وہ مخلوق خدا سے نہیں ڈرتا( لاتخشواالناس واخشون )

۱۴ ۔ تحریف، سکوت، حق پوشی اور فرمانِ الٰہی سے ہٹ کر فیصلے کرنا اگرچہ پوری دنیا کی قیمت حاصل کر لینے کے بدلے ہی میں کیوں نہ ہوں پھر بھی خساہ ہی خسارہ ہے، اس لئے کہ ساری دنیا "متاع قلیل" ہے (ثمنا قلیلا)

۱۵ ۔ آسمانی قوانین کے ہوتے ہوئے مشرق و مغرب کے (انگریزی اور دوسرے کافرانہ) نظام اور قوانین کو اپنانا کفر ہے( ومن لم یحکم بما انزل الله--- )

۱۶ ۔ احکام الٰہی کا قلبی انکار، عملی تکبر کا اظہار اور جان بوجھ کر ان میں تبدیلی پیدا کرنا کفر ہے۔

۱۷ ۔ طاغوتوں کے سامنے خاموشی اختیار کرنا اور حق کو چھپانا، سرمایہ داروں کے آگے دین فروشی اور عوام کو دھوکہ اور فریب ایسے خطرات ہیں جو علماء کو ہر وقت درپیش رہتے ہیں( لاتشتروا ولاتخشواالناس--- )

آیت ۴۵

( وَ کَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالُْاذُنِ وَالسِّنِ بِالسِّن ِوَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ ط فَمَنْ تَصَدَّقَ بِه فَهُوَ کَفَّارَةٌ لَّه ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُوْلٰٓئِکَ هُمُ الظّٰلِمُُوْنَه )

ترجمہ: اور ہم نے اس (توریت) میں ان (یہودیوں) کے لئے لکھ دیا کہ (قصاص میں) جان کے بدلے میں جان، آنکھ کے بدلے میں آنکھ، ناک کے بدلے میں ناک، کان کے بدلے میں کان اور دانت کے بدلے میں دانت ہے اور ہر زخم کے لئے قصاص ہے۔ پس جو شخص معاف کرتے ہوئے (قصاص سے) درگزر کرے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ شمار ہو گا۔ اور جو شخص خدا کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں۔

نکتہ:

جسم کو اور اس کے دوسرے حصوں مثلاً آنکھ، کان، دانت اور ناک وغیرہ کو نقصان پہنچانے کا قصاص ہے اور "اس جیسے عضو" کو ہی قصاص کی صورت میں کاٹا جائے گا۔ آیت میں مذکور اعضاء کا نام صرف نمونہ کے طور پر ہے ورنہ ہر ایک عضو کا قصاص ہے (تفسیر اطیب البیان)

پیام:

۱ ۔ تمام انسان خواہ وہ کسی قوم اور قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں، امیر ہوں یا غریب قانون کے سامنے برابر ہیں اور کسی ایک کا خون دوسرے کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔ ۳۵

۲ ۔ قصاص کا حکم سابقہ ادیان میں بھی تھا ۳۶ اور اسلام اور دوسرے ادیان ایک جیسے عادلانہ قوانین کے حامل ہیں۔

۳ ۔ صدقہ صرف، مال کو خرچ کرنے ہی کا نام نہیں، مجرم سے عفو و درگزر بھی ایک قسم کا صدقہ ہے۔ (فمن تصدق)

۴ ۔ تمہارا دوسروں کو معاف کر دینا، خدا کا تمہیں معاف کر دینے کا موجب بن جاتا ہے۔ (فھو کفارة لہ) اور شاید اس سے یہ بھی مراد ہو کہ تمہارا مجرم کو معاف کر دینا، اس کے جرم کا بھی کفارہ ہو گا اور وہ قیامت میں تمہارے معاف کر دینے کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہیں ہو گا۔ (تفسیرالمیزان)

۵ ۔ سزا کے مسائل کے ساتھ ساتھ اخلاقی مسائل کو بھی بیان کیا گیا ہے( قصاص ) ۔ اور۔( عفو )

۶ ۔ توریت میں "دیت" نہیں ہے یا "قصاص" اور یا "عفو" لیکن اسلا م میں "دیت" کا ایک تیسرا راستہ بھی موجود ہے۔ (تفسیر قرطبی)

۷ ۔ فقط مالی جرمانہ یا قید، جرائم کی روک تھام کے لئے کافی نہیں ہیں۔

۸ ۔ اگر حکم خداوندی کا اجراء نہ ہو تو انسانیت مظلومیت کا شکار ہے۔( ومن لم یحکم بما انزل الله فاولئک هم الظالمون )

۹ ۔ آنکھ اور کان وغیرہ کا نام بطور نمونہ ہے ورنہ ہر عضو کو نقصان پہنچانے کا قصاص ہے (تفسیر الطیف البیان)

آیت ۴۶

( وَ قَفَّیْنَا عَلَی اَثَارِهِمْ بِعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰةِ وَ اٰتَیْنَهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًی وَّ نُوْرٌ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰةِ وَ هُدًی وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ ) ہ

ترجمہ: اور ہم ان (گزشتہ انبیاء) کے بعد عیسیٰ بن مریم کو لے آئے جبکہ وہ تورات کی تصدیق کرتے تھے جو عیسیٰ سے پہلے موجود تھی۔ اور خود عیسیٰ کو انجیل عطا کی کہ جس میں ہدایت اور نور ہے۔ اور (خود عیسیٰ کی مانند) توریت کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے تھی۔ اور پرہیزگاروں کے لئے ہدایت اور موعظہ ہے۔

نکتہ:

قرآن بھی پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے (سورہ بقرہ/ ۱) اور انجیل بھی تیقن کے لئے ہدایت اور موعظہ ہے۔

ممکن ہے کہ اس آیت کا معنی اس طرح ہو کہ: ہم نے انبیاء بنی اسرائیل کے بعد عیسیٰ کو بھیجا کہ جن کی ذاتی خصوصیات ان نشانیوں سے مطابقت رکھتی ہیں جو توریت میں ان کے بارے میں بتائی گئی ہیں۔ پس خود حضرت عیسیٰ اور نشانیاں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔

پیام:

۱ ۔ انبیاء عظام اور ان کی کتابیں، تمام کا سرچشمہ ایک ہے اور ہدف بھی ایک ہے اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔( مصدق ) ا) ۳۷

۲ ۔ توریت، انجیل اور قرآن تینوں "( نور ) " ہیں۔ ۳۸

۳ ۔ لوگوں کے عقائد حقہ کا احترام کیا کرو( مصد قالمابین یدیه ) ۳۹

۴ ۔ اگرچہ انبیاء عظام اور آسمانی کتابیں تمام لوگوں کے لئے ہدایت ہیں، لیکن اس نور سے صرف صاحبان تقویٰ ہی ہدایت حاصل کرتے ہیں۔

آیت ۴۷

( وَلْیَحْکُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ ط وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُوْلٰٓئِکَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ )

ترجمہ: انجیل والوں کو چاہئے کہ وہ اس حکم کے مطابق حکم (فیصلہ) کریں جو اللہ نے انجیل میں نازل کیا ہے، اور جو لوگ خدا کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ فاسق ہیں۔

نکتہ:

اس آیت میں پیغمبر اسلام کی تشریف آوری سے پہلے حضرت عیسیٰ کے دین کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ورنہ دین اسلام کے آجانے کے بعد تمام لوگوں کا شرعی فریضہ دین اسلام پر عمل کرنا ہوتا ہے۔

جو لوگ قوانین الٰہی کے مطابق حکم اور فیصلہ نہیں کرتے ان کی پے درپے چند آیات میں مذمت کی گئی ہے اور انہیں "ظالموں"، "فاسقوں" اور "کافروں" کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور اسی سے مسئلہ کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ اس لئے کہ ایسے لوگ قوانین الٰہی کو زیرپا قرار دیتے ہیں لہٰذا "کافر" ہیں۔ چونکہ وہ اپنی ذمہ داری کی حدود سے نکل جاتے ہیں لہٰذا "فاسق" ہیں اور چونکہ فیصلہ کرنے میں ایک فریق کے حق کو پامال کرتے ہیں لہٰذا "ظالم" ہیں۔

اسی سورت کی ۴۴ ویں اور ۴۵ ویں آیت میں یہودیوں سے خطاب ہے اور انہیں "ظالم" اور "کافر" قرا دیا گیا ہے، اس لئے کہ وہ قانون میں تحریف اور ردوبدل کرتے ہیں، دین کو معمولی قیمت کے بدلے بیچ ڈالتے ہیں اور خدا سے ڈرنے کی بجائے خلق خدا سے ڈرتے ہیں اسی لئے "اولئک ھم الکافرون" اور افراد معاشرہ کے حقوق پر ظلم کرتے ہیں اسی لئے "( اولئک هم الظٰلمون ) " ہیں۔

اور اس ۴۷ ویں آیت میں نصاریٰ کے بارے میں صرف یہ ہے کہ وہ انجیل کے مطابق حکم اور فیصلہ نہیں کرتے (نہ تو قصاص میں سکوت اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی دین کومعمولی قیمت کے بدلے بیچتے ہیں) اور صرف حق کی حدود سے نکل جاتے ہیں لہٰذا( اولئک هم الفٰسقون ) ہیں۔

آیت ۴۸

( وَ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْکِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْکُمْ بَیْنَهُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰهُ وَلَا تَتَّبِعَ اَهْوَآءَ هُُمْ عَمَّا جَآئَکَ مِنَ الْحَقِّ ط لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَا جاً ط وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلَکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِی مَآ اٰتٰکُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ ط اِلَی اللّٰهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْهِ ) ( تَخْتَلِفُوْنَه )

ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) ہم نے کتاب (قرآن) کو آپ پر برحق نازل کیا، جبکہ یہ کتاب گزشتہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی اور ان کی محافظ اور نگہبان ہے۔ لہٰذا ان لوگوں کے درمیان خدا کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم کریں اور اس (حق سے دور ہو کر) جو آپ کے لئے آیا ہے، ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے آئین اور واضح طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ اور اگر خدا چاہتا تم سب کو ایک امت قرار دیتا (اور سب کے لئے ایک ہی قسم کا آئین اور قانون ہوتا) لیکن (خدا چاہتا ہے کہ) تمہیں ان چیزوں کے بارے میں آزمائے جو اس نے تمہیں عطا کی ہیں۔ لہٰذا تم نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، تم سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے پس وہ تمہیں اس چیز سے آگاہ کرے گا جس میں تم اختلاف کرتے ہو۔

نکتہ:

"شرعة" اس رستے کو کہتے ہیں جو پانی پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ اور "منہاج" روشن اور واضح راستے کو کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ: "شرعہ" وہ احکام ہیں جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور "منہاج" وہ ہیں جو سنت نبوی میں بیان ہوئے ہیں (مفردات راغب)

پیام:

۱ ۔ قرآن مجید، آسمانی کتابوں کے اصول کا شاہد اور محافظ ہے اور ان کا تکمیل کنندہ ہے۔( مهیمن ) یعنی قرآن مجید تمام آسمانی کتابوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، جس طرح یونیورسٹی کی کتابیں پرائمری سے ہائی سٹینڈرڈ کی کتابوں پر نظر رکھے ہوئے ہوتی ہیں)

۲ ۔ اہل کتاب کے درمیان، قرآن مجید کے مطابق فیصلہ دیا جا سکتا ہے( فاحکم بینهم بما انزل الله )

۳ ۔ دینی رہنماؤں کے لئے جس بات کا زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے وہ ہے لوگوں کی خواہشات کی پیروی اور حق کو نظرانداز کر دینا،( ولاتتبع اهوائهم )

۴ ۔ توریت اور انجیل جیسی کتابوں کی یہ تصدیق کہ آسمانی ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں ہمیشہ کے لئے برقرار رکھا جائے گا۔

۵ ۔ دین صرف ایک ہے لیکن "شریعتیں" متعدد ہیں، جیسے ایک دریا ہوتا ہے کہ جس تک پہنچنے کے لئے متعدد راستے ہوتے ہیں۔

۶ ۔ لوگوں کی آزمائش کا ایک ذریعہ، ادیان کا مختلف ہونا ہے۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون شخص ایمان لے آتا ہے اور کون کفر اور تعصب کا شکار ہو جاتا ہے۔

۷ ۔ منفی لڑائی جھگڑوں میں الجھنے کی بجائے خیر اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ (فاستب( قوا )

۸ ۔ آگے بڑھنے کا میدان اور راستہ امور خیریہ اور معنویہ ہونا چاہئے( فاستبقوا الخیرات )

۹ ۔ قیامت کے دن رسوا ہونے سے پہلے ہی اپنے اختلافات حل کر لو( فینبئکم، بما کنتم فیه تختلفون )

۱۰ ۔ قبل اس کے کہ موقع ہاتھ سے نکل جائے، نیکی کے کاموں میں سبقت لے جاؤ۔

۱۱ ۔ معاد (قیامت) پر ایمان تمام اختلافات کے رفع کرنے کا موجب ہے( فینبئکم بما کنتم فیه تختلفون )

آیت ۴۹

( وَ اَنِ احْکُمْ بَیْنَهُمْ بِمَآ اَنْزَ لَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعَ اَهْوَآءَ هُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْمبَعْضٍ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْکَ ط فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اِنَّماَ یُرِیْدُ اللّٰهَ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ ط وَ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفَسِقُوْنَ )

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر!) ان (اہلِ کتاب) کے درمیان وہی فیصلہ کرو جو خدا نے نازل کیا ہے۔ اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو، اور ان سے ان باتوں سے بچو کہ وہ تمہیں ان بعض چیزوں سے منحرف کر دیں جو خدا نے تم پر نازل کی ہیں۔ پس اگر وہ تمہارے حکم اور فیصلہ سے روگردانی کریں تو پھر تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ انہیں ان کے کچھ گناہوں کے بدلے سزا دے۔ اور یقیناً بہت سے لوگ فاسق (نافرمان) ہیں۔

نکتہ:

مفسرین نے اس آیت کے شان نزول کے بارے میں کہا ہے کہ: کچھ یہودی علماء حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ "اگر آپ فلاں مسئلہ کے بارے میں جو ہمارے اور دوسروں کے درمیان اختلافی مسئلہ ہے (ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور ہمارے ساتھ تمام یہودی بھی ایمان لے آئیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

قرطبی کہتے ہیں کہ اس آیت میں "یقتنوک" کا کلمہ آیا ہے جس میں فتنہ سے مراد "خدا کی راہ کو بند کرنا ہے"

پیام:

۱ ۔ نہایت ہی اہم اور حیات بخش مسائل میں پیغامات کا تکرار کہ "صرف حکم خداوندی کے مطابق فیصلہ کرو اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو" اس آیت میں اور اس سے پہلی آیت میں)

۲ ۔ "مقصد ذرائع کو جائز قرار نہیں دیتا" (یعنی کچھ لوگوں کے مسلمان ہونے کے لئے ناجائز فیصلے نہیں کرنے چاہئیں۔

۳ ۔ انبیاء عظام کو خدا کی تنبیہ ان کی عصمت کا عامل ہوتی ہے( فاحذرهم )

۴ ۔ جب حضرت رسول خدا کو کفار کی ثقافتی یلغار کا خطرہ درپیش ہے تو عام لوگوں کا حال تو واضح ہے۔

۵ ۔ دشمن کی ثقافتی یلغار کے نفوذ سے ہوشیار رہو!( واحذرهم ان یفتنوک )

۶ ۔ اس قدر سخت قسم کی تنبیہات( لاتتبع، احذرهم، یفتنوک--- ) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت اور صراحت کی دلیل ہیں کہ یہ آیات خدا کی طرف سے نازل کردہ ہیں، کیونکہ کوئی شخص خود کو ایسے سخت لہجے میں خطاب نہیں کرتا۔

۷ ۔ گناہ انسان کی پستی کا عامل اور عذاب الٰہی کا موجب ہوتے ہیں۔( لیعصیبهم ببعض ذنوبهم )

۸ ۔ مخالفین بھی بعض الٰہی احکام کو پسند کرتے ہیں، تحریف کا خطرہ بعض قسم کے احکام میں ہوتا ہے۔( عن بعض ما انزل الله )

۹ ۔ دشمن کی روگردانی کا سبب اس کا اپنا فسق ہے ورنہ اے پیغمبر! نہ آپ میں کسی قسم کا نقص ہے اور نہ ہی آپ کے دین میں کسی قسم کی کوئی کمی ہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔( فان تولوافاعلم )

۱۰ ۔ تمام لوگوں کے ہدایت پا جانے کی توقع نہیں رکھنی چاہئے( کثیرا منهم لفاسقون )

آیت ۵۰

( اَفَحُکْمَ الجَّاهِلِیْةِ یَبْغُوْنَ ط وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُکْمًا لِّقُوْمٍ یُّوْقِنُوْنَه )

ترجمہ۔ آیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟ صاحبان ایمان و یقین کے لئے خدا سے بڑھ کر اور کون بہتر فیصلہ کر سکتا ہے؟

نکتہ:

بہترین قانون وہ ہوتا ہے جس کا مقنن (قانون ساز) مندرجہ ذیل شرائط کا حامل ہو،

۔ جو تمام کائنات اور انسانوں کے حال اور مستقبل سے اچھی طرح واقف ہو۔

۔ اس کا اپنا کوئی ذاتی فائدہ پیش نظر نہ ہو۔

۔ کسی قسم کی عمداً اور سہواً غلطی کا ارتکاب نہ کرے۔

۔ کسی بھی طاقت سے نہ ڈرے۔

۔ سب کا خیرخواہ ہو۔

اور یہ تمام شرائط ذات پروردگار میں بدرجہ اتم موجود ہیں لہٰذا (ومن احسن من اللہ حکما) یعنی خدا سے بڑھ کر اور کون بہتر فیصلہ کر سکتا ہے؟

پیام:

۔ روابط و مراسم اور خارجہ سیاست میں کفار کا مسلمانوں پر تسلط اور ان کی سرپرستی قطعاً ناجائز ہے۔( لاتخذوا ) ۴۰ تسلط خواہ کسی بھی قسم کا ہو خواہ ماہر کے عنوان سے ہو یا سپیشلسٹ اور سیاح کے عنوان سے۔

۲ ۔ دشمن سے تبرا (اظہار برائت) ایمان کی شرط ہے (ی( ٰا یهاالذین امنوا لاتخذوا--- )

۳ ۔ جو مسلمان حکومتیں کفار کے تسلط اور ان کی آقائیت کو قبول کریں گی، کافر سمجھی جائیں گی( فانه منهم ) ہر انسان اور گروہ کے ساتھ دوستی انسان کو اس کا جز بنا دیتی ہے۔

۴ ۔ کفار، مسلمانوں کے خلاف متحد ہو جاتے ہیں( بعضهم اولیاء بعض )

۵ ۔ کفار کی ولایت اور آقائیت کو ہرگز قبول نہ کرنا کیونکہ صرف اپنی ذات کے فائدہ کے لئے سوچتے ہیں۔( بعضهم اولیاء بعض ) ۴۱

۔ نہ تو کفار کو اپنا "ولی" اور مقتدر اعلیٰ سمجھو اور نہ ہی ان افراد اور حکومتوں سے اپنے کسی قسم کے دوستانہ مراسم کو جو کفار کی "ولایت" کو قبول کئے ہوئے ہیں۔( فانه منهم )

۷ ۔ کفار سے ولایت کے رابطے کا مطلب ہے خدا سے رابطہ ولایت کا انقطاع۔( لایهدی القوم الظٰلمین )

۸ ۔ کفار پر بھروسہ اسلامی امہ اور نظام اسلام پر ظلم ہے( القوم الظٰلمین )

آیت ۵۲ ، ۵۳

( فَتَرَی الَّذِیَْنَ فِی قُلُوْبِهِمْ مَرَضٌ یُسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَائِرَةٌ ط فَعَسَی اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِه فَیُصْبِحُوْا عَلٰی مَآ اَسَرُّوْا فِیْ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَ ه وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هٰؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَاِنِهمِ اَنَّهُمْ لَمَعَکُمْط حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ ) ہ

ترجمہ: (اے پیغمبر! کفار کی سرپرستی قبول نہ کرنے کی اس قدر تاکید کے باوجود) تم ایسے لوگوں کو بھی دیکھو گے کہ جن کے دل میں بیماری ہے وہ کفار کے ساتھ دوستی میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں (اور اپنے اس اقدام کی توجیہ میں) کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر اس بات کا ہے کہ ہمیں کوئی حادثہ درپیش آ جائے (اور ہمیں ان کی مدد کی ضرورت پڑ جائے) پس امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے (مسلمانوں کے فائدہ کے لئے) کوئی فتح یا کوئی اور واقعہ ان کے درپیش کر دے اور اس وقت (منافقین) جو کچھ کہ اپنے دل میں چھپاتے ہیں اس پر پشیمان ہو جائیں۔

اور (مسلمانوں کی فتح و کامرانی اور منافقین کی رسوائی کے موقع پر) مومنین (بڑے تعجب سے) کہتے ہیں، آیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی تاکید کے ساتھ خدا کی قسمیں کھایا کرتے تھے کہ (اور کہتے تھے کہ) ہم تو تمہارے ساتھ ہیں؟ (اب ان کی یہ کیفیت کیوں ہو چکی ہے؟) ان کے اعمال اکارت گئے اور وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گئے۔

پیام:

۱ ۔ کمزور ایمان کے بیمار دل لوگوں کو کافر دشمنوں کے ساتھ دوستی کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی جلدی ہوتی ہے۔( فی قلوبهم مرض یسارعون )

۲ ۔ بیمار دل، ضعیف الایمان افراد اور منافقین انہی کفار کا ایک حصہ ہیں (یسارعون فیھم) ہے "یسارعون الیھم" نہیں ہے۔ (غور کیجئے گا)

۳ ۔ سپر طاقتوں کے ساتھ رسواکن تعلقات قائم کرنے کا موجب ایمان کی کمزوری اور غیرخدا سے خوف اور وحشت ہے (یقولون نحشی)

۴ ۔ مسلمانوں کو اپنی فتح و کامرانی، اسلام کی وسعت اور منافقین کے راز فاش ہونے کی امید رکھنی چاہئے( عسی الله ان یاتی بالفتح )

۵ ۔ سیاسی عزت، اقتصادی قدرت اور فوجی کامیابی سب خدا کی طرف سے اور خدا کے ہاتھ میں ہے (بالفتح اور امرض عندہ)

۶ ۔ اقتدار اور حکومت آنے جانے والی چیزیں ہوتی ہیں( دائرة )

۷ ۔ مستقبل کا خوف، دل کی بیماری اور خدا پر ایمان و توکل کی کمزوری ہے۔

۸ ۔ خوف اور ڈر کا بہانہ بنانا ایک توجیہ ہے حقیقت نہیں ہے( یقولون نخشی )

۹ ۔ کفار کے ساتھ "ولایت" پر مبنی تعلقات قائم نہ کرو تاکہ تمہاری طرف غیبی امدادیں امڈ آئیں( امر من عنده )

۱۰ ۔ نفاق کا انجام، اعمال اکارت جانا، رسوائی اور شرمندگی ہے( نادمین )

۱۱ ۔ منافقین کی قسموں کے فریب میں نہ آؤ۔( اقسموابالله )

آیت ۵۴

( یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِه فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُحِبُّهُمْ وَ یُحِبَّوْنَه اَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاهِدُوْنَ فِی سَبِیْلِ اللّٰهِ وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ ط ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ ط وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ )

ترجمہ۔ اے ایماندارو! تم میں سے جو شخص بھی اپنے دین سے پھر جائے گا (وہ خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا) کیونکہ عنقریب اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جسے خدا دوست رکھتا ہو گا اور وہ خدا کو دوست رکھتی ہوگی۔ وہ ایسے لوگ ہوں گے جو مومنین کے سامنے متواضع اور کفار کے مقابلہ میں طاقتور ہوں گے۔ خدا کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ یہ سب خدا کا فضل و کرم ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور جاننے والا ہے۔

نکتہ:

روایات میں ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو حضرت رسول اکرم نے اپنا دست مبارک حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر مار کر فرمایا: "تمہارے ہم وطن میں اس آیت کے مصداق ہیں‘ذ (تفسیر نورالثقلین)

سابقہ آیت میں کفار اور منافقین کے تسلط کے خطرہ کی بات ہو رہی تھی اور اس آیت میں ارتداد کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے۔ جو شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کفار نفاق اور کفار کے ساتھ دوستانہ مراسم کا انجام ارتداد (دین سے پھر جانا ہوتا ہے۔

پیام:

۱ ۔ خردمند اور روشن ضمیر رہبر اور قائد وہ ہوتا ہے جو اپنے پیروکاروں کے بارے میں ارتداد اور اصل اہداف سے پھر جانے کا احتمال بھی دے۔( من یرتد منکم )

۲ ۔ ہر مومن کو اپنے انجام بخیر کی فکر میں رہنا چاہئے( امنوا--- یرتکد منکم--- )

۳ ۔ مضبوط قیادت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ کسی لگی لپٹی بغیر کہہ دے کہ: "اگر کوئی پیروکار پھر بھی جائے تو ہمارے مقصد کو نقصان نہیں پہنچائے گا"۔

۴ ۔ ارتداد، نتیجہ ہے معرفت، دین اور خدا سے محبت کے فقدان کا۔( یاتی الله بقوم یحبهم ویحبونه )

۵ ۔ خدا اپنے دوستوں اور حامیوں کو لے آئے گا، اس تمہاری کوئی ضرورت نہیں لہٰذا اس پر احسان نہ جتاؤ۔( فسوف یاتی الله )

۶ ۔ ایمان کی راہ میں اور جاہلانہ عادات و رسوم کے توڑنے میں دشمن کے سرزنش شوروشرابے اور مسموم پروپیگنڈے سے گھبرانا نہیں چاہئے ۔ اور نہ ہی ماحول، عوام اور اکثریت کے آگے ہتھیار ڈالنے چاہئیں۔ (لایخافون لومة لائم)

۷ ۔ مسلمان کا لائحہ عمل یہ ہونا چاہئے کہ اپنے دینی بھائی کے سامنے تواضع اور انکساری کا مظاہرہ کرے اور دشمن کے آگے خم ٹھونک کر آ جائے۔ اور تواضع ہو یا طاقت کا مظاہرہ ان میں سے کوئی ایک بھی اصل مطلق نہیں ہے( اذلة- اعزة )

۸ ۔ فضل خداوندی صرف مال اور جاہ و مقام کے ملنے کا نام نہیں، خدا کی محبت، اس کی راہ میں جہاد اور دین میں پختگی کا مظاہرہ بھی پروردگار عالم کے فضل و کرم کا مظہر ہوتے ہیں۔

۹ ۔ خدا اور بندہ کے درمیان برابر کی دوستی انسانی کمالات میں سے ایک ہے( یحبهم و یحبونه ) ۴۲

آیت ۵۵

( اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُه وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَهُمْ رَاکِعُوْنَ ) ہ

ترجمہ: تمہارا ولی اور سرپرست تو بس اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ لوگ جو ایمان لے آئے، نمازکو قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت زکوةٰ دیتے ہیں۔

نکتہ:

اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ: ایک سائل مسجد نبوی میں داخل ہوا اور لوگوں سے راہ خدا میں اپنی امداد کی درخواست کی، کسی نے بھی اسے کچھ نہ دیا، حضرت علی علیہ السلام اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور حالت میں اسے انگلی سے اشارہ کیا اور اسی حالت میں اسے اپنی انگوٹھی عطا فرمائی، اس بخشش اور عطیہ کی عزت و تکریم کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔

اس ماجرا کو دس اصحاب پیغمبر نے نقل کیا ہے جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس، عمار بن یاسر، جابر بن عبداللہ، ابوذر غفاری، انس بن مالک اور بلال وغیرہ۔ اور اس کے شان نزول ہر شیعہ اور سنی کا اتفاق ہے اور حضرت عمار یاسر کہتے ہیں کہ جب مولا نے حالت رکوع میں انگشتری دے دی اور اس پر آیت ولایت بھی نازل ہوگئی تو حضرت رسول خدا نے فرمایا "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" یعنی جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفسیر المیزان)

پیغمبر اکرم نے غدیرخم کے مقام پر علی بن ابی طالب کی اوصاف اور ان کا مقام و منزلت بیان کرتے ہوئے اس آیت کو تلاوت فرمایا، (تفسیر صافی) خود حضرت علی علیہ السلام بھی اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے بارہا اس آیت کو پڑھا کئے۔ (تفسیرالمیزان) اور حضرت ابوذر غفاری جو خود اس واقعہ کے شاہد تھے مسجدالحرام میں اس واقعہ کو لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہے (تفسیر مجمع البیان)

اس آیت میں "ولی" کا لفظ "دوست" اور "مددگار" کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ دوستی اور امداد رسانی کا تعلق تمام مسلمانوں سے ہے۔ صرف ان سے نہیں جو حالت رکوع میں راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ اور روایات کی رو سے اس سے مراد ذات علی بن ابی طالب ہے اور ایک شخص کے لئے جمع کے الفاظ کا اطلاق (امنوا۔۔۔ ) اس کی اہمیت کو بیان کرنے کے لئے ہے جس طرح آیہ مباہلہ میں "انفسنا و انفسکم" آیا ہے۔

پیام:

۱ ۔ اسلام تولا اور تبرا کا دین ہے۔ اس میں جذب کرنے کی کشش بھی پائی جاتی ہے اور دور کرنے کی طاقت بھی، گزشتہ آیت میں یہود و نصاری کو ولی و سرپرست بنانے کے لئے روکا ہے۔

۲ ۔ خدا، رسول اور علی کی "روح ولایت" ایک ہے اسی لئے (ولیکم) فرمایا ہے ورنہ "اولیائکم کہا جاتا۔

۳ ۔ قرآن مجید میں عام طور پر نماز اور زکوٰة ساتھ ساتھ بیان ہوئی ہیں، لیکن اس آیت میں دونوں ایک دوسرے میں ملکی ہوئی ہیں۔ (رکوع کی حالت میں زکوٰة کی ادائیگی)

۴ ۔ جن لوگوں کا نماز و زکوة سے کوئی سروکار نہیں ہوتا انہیں لوگوں کی ولایت اور رہبری کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ معاشرہ کے محروم طبقہ کی فریادرسی کے لئے نماز جیسی عبادت کو بھی مانع نہ سمجھو اور مسلمانوں کے مجمع سے سائل کو خالی ہاتھ نہیں پلٹنا چاہئے۔

۶ ۔ رضائے الٰہی کے حصول کے لئے مخلوق خدا کی طرف توجہ، اخلاص کے لئے مضر نہیں ہوتی (حالت رکوع میں زکوٰة) اسی طرح خدا کو چھوڑ کر خلق خدا کے لئے کام کرنا "مارکسزم" ہے، خلق خدا سے بے پرواہ ہو کر خدا کے لئے کام کرنا "رہبانیت" (سادھو ازم) اور رضائے الٰہی کی خاطر خلق خدا کے لئے کام کرنا "اسلام" کی روش ہے)۔

۷ ۔ جسے غریبوں کی آہ کا کوئی خیال نہیں ہوتا وہ تمہارا رہبر اور ولی نہیں ہو سکتا۔

۸ ۔ (راہ خدا میں رضائے خدا کے لئے خرچ کرنے جیسے) جزوی کام نماز کو باطل نہیں کرتے۔

۹ ۔ قرآن نے مستحبی صدقہ اور انگوٹھی کو بھی زکوٰة کہا ہے( یوٴتون الزکوٰة )

۱۰ ۔ مسلمانوں پر ولایت کا حق پہلے مرحلہ میں خدا کو حاصل ہے اس کے بعد اس رسول خدا کو پھر امام کو اور اس کے بعد "ولی فقیہ" کو۔

۱۱ ۔ رسول اسلام کے بعد علی بن ابی طالب علیہ السلام ہی مسلمانانِ عالم کے اکلوتے رہنما ہیں۔

۱۲ ۔ تعارف کی بہترین نوعیت یہ ہے کہ کسی کا نام لئے بغیر اس کے اوصاف اور خصوصیات کو بیان کیا جائے، مخاطب خود ہی اس کا مصداق پیدا کرے۔ (جیسا کہ آیت میں علی علیہ السلام کا نام لئے بغیر ان کے اوصاف و افعال کو بیان کیا گیا ہے)

آیت ۵۶

( وَمَنْ یَّتَوَلَ اللّٰهَ وََ رَسُوْلَه وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ ) ہ

ترجمہ۔ جو شخص خدا، رسول اور مومنین سے ولایت کا تعلق رکھتا ہے تو (اسے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کامیاب ہے، کیونکہ) خدا کا گروہ یقینی طور پر کامیاب ہے۔

نکتہ:

"( امنوا ) " کا مصداق سابقہ آیت میں بیان ہو چکا ہے۔

"( حزب الله ) " (خدا کا گروہ) کے اوصاف سورہ مجادلہ/ ۲۲ میں مذکورہ ہیں۔

یہ آیت کہ جس میں خدا، رسول اور مومنین کی ولایت کے قبول کرنے کا ذکر ہے، یہ بات سمجھا رہی ہے کہ سابق آیت میں "ولیکم" سے مراد سرپرست اور حاکم ہے نا کہ دوست اور مددگار۔ کیونکہ "حزب اللہ" اور ا س کے غالب آنے کی تعبیر ایک مقتدر نظام اور حکومت کی طرف اشارہ ہے۔ ۴۳

"حزب" کا معنی ہے طاقتور اور مضبوط گروہ (کتاب معجم الوسیط)

پیام:

۱ ۔ "حزب اللہ" صرف وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا، پیغمبر اور اہلبیت کی ولایت اور حکومت کو تسلیم کیا ہے۔

۲ ۔ ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب "اسلام" تمام دنیا پر حکم فرما ہو گا "لیظہرہ علی الدین کلہ" اور اسی دور میں تشیع ہی کا مکمل غلبہ ہو گا( ومن یتول--- هم الغالبون )

۳ ۔ ہر طرح کی کامیابی حق پر مبنی قیادت اور رہبری میں ہے( ومن یتول--- هم الغالبون )

۴ ۔ چونکہ نظم و ضبط، مدیریت، قدرت، طاقت، وحدت اور جرأت کے بغیر کامیابی کا حصول ناممکن ہے لہٰذا حکومت اور غلبہ و کامرانی کے لئے "حزب اللہ" کو ان اوصاف کا حامل ہونا ضروری ہے۔

۶ ۔ اسلامی غلبہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں فلاح، عزت، وقار اور منطق کارفرما ہوتی ہے صرف اور صرف طاقت یا حکومت کا تختہ الٹنا نہیں ہوتا۔( حزب الله هم الغالبون ) اور ایک دوسرے مقام پر فرماتا ہے "حزب اللہ ہم المفلحون"

۷ ۔ چونکہ خداوند عالم غالب ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے "واللہ غالب علی امرہ" لہٰذا اس سے تعلق رکھنے والے افراد بھی غالب ہیں( حزب الله هم الغالبون )

آیت ۵۷

( یَاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْ الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ وَاتَّقُوْا اللّٰهَ اِنْ کُنْتَمْ مُؤْمِنِیْنَ )

ترجمہ۔ اے ایماندارو! ان (یہودی اور نصرانی) لوگوں کہ جنہیں تم سے پہلے آسمانی کتاب دی گئی ہے اپنا سرپرست نہ بناؤ جو تمہارے دین کا مذاق اڑائے اور اسے کھیل تماشہ سمجھتے ہیں۔ اور نہ میں (دوسرے) کفار کو اور اگر تم مومن ہوتو خدا سے ڈرتے رہو۔

پیام:

۱ ۔ دین خدا اور مذہبی مقدسات کی توہین اور مسخرہ بازی کی دنیا میں سزا یہ ہے کہ ایسا کرنے والوں سے تعلقات ختم کر دیئے جائیں( لاتتخذوا--- )

۲ ۔ دین کا مذاق اڑانا، کافروں کا کام ہے۔

۳ ۔ دینی حمیت رکھنا اور نااہل افراد سے تبرا کرنا، ایمان کی شرط ہے۔

۴ ۔ اگر تم ایماندار ہو اور خدا سے بھی ڈرتے ہو تو پھر دین کا مذاق اڑانے والے کفار سے تعلقات منقطع کرنے سے ہرگز نہ گھبراؤ۔

آیت ۵۸

( وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا ط ذٰلِکَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا یَعْقِلُوْنَ ) ہ

ترجمہ۔ اور جب تم (اذان کے ذریعہ لوگوں کو) نماز کیلئے بلاتے ہو تو وہ تمہارے بلاوے کامذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل تماشہ سمجھتے ہیں یہ اس لئے کہ وہ لوگ عقل نہیں رکھتے۔

پیام:

۱ ۔ ان لوگوں سے دوستانہ مراسم نہ رکھو جو اذان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

۲ ۔ نماز، دین کا چہرہ اور نمونہ ہے، (گزشتہ آیت میں دین کے مذاق اڑانے کی بات ہو رہی تھی اور اس آیت میں نماز کو مذاق سمجھنے کی بات ہو رہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز دین کی ایک نمایاں تصویر ہے۔

۳ ۔ نماز کیلئے بلند آواز سے بلانا چاہئے تاکہ سب لوگ اکٹھے ہوں اور نماز اعلانیہ طور پر ہونی چاہئے( نادیتم )

۴ ۔ اسلامی معاشرہ میں نماز کیلئے بلند آواز سے بلانا چاہئے اور اس کی زیادہ سے زیادہ تبلیغ کرنی چاہئے اور انداز ایسا ہو کہ کسی کے مزاحم بھی نہ ہو۔

۵ ۔ عقلمندوں کا طریقہ کار تو منطقی گفتگو ہے لیکن بے عقل لوگوں کا کام مذاق اڑانا ہوتا ہے( ذالک بانهم قوم لایعقلون )

آیت ۵۹

( قُلْ یَاَهْلَ الْکِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّا اِلَّا اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اَنْزَلَ اِلَیْنَا وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَ اَنَّ اَکْثَرَ کُمْ فٰسِقُوْنَ ) ہ

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) آپ کہہ دیں کہ اے اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) یہ جو تم ہم پر اعتراض کرتے ہو آیا ہم نے اس کے علاوہ کوئی کام کیا ہے کہ خدا پر ایمان لائے، جو چیز ہم پر نازل ہوئی ہے اس پر اور جو کچھ (قرآن سے) پہلے نازل ہوا (گزشتہ انبیاء پر) ایمان لائے، یقیناً تم میں سے بہت سے لوگ حق کی حدود سے نکل گئے ہیں (اور فاسق ہو چکے ہیں)

پیام:

۱ ۔ مخالفین کے ساتھ بھی اچھے انداز سے جھگڑنا چاہئے، یعنی ایسے استدلال پیش کرنے چاہئیں جن میں دل کو نرم کر دینے والے سوالات موجود ہوں( هل تنقمون ) ؟)

۲ ۔ ہمارے ساتھ مخالفین کی دشمنی صرف ہمارے ایمان کی وجہ سے ہے( الا ان امنا بالله )

۳ ۔ تاریخی اعتبار سے اہلِ کتاب نے ہم پر ظلم کرنے کی کیا کسر باقی چھوڑی ہے؟( هل تنقمون منا )

۴ ۔ دشمن کی سختی کے باوجود تم عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ اور سب کو ایک جیسا اور فاسق نہ سمجھو( اکثرکم )

۵ ۔ حق کا انکار اور حق کے پیروکاروں کی ایذارسانی، فسق ہے( فاسقون )

آیت ۶۰

( قُلْ هَلْ اُنَبِّئُکُمْ بِشَرِّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَةً عِنْدِ اللّٰهِ ط مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِ یْرَوَعَبْدَ الطَّاغُوْتِ ط اُوْلٰٓئٰکَ بِشَرٍّمَّکَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ )

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ آیا میں تمہیں یہ خبر نہ دوں کہ خدا کے نزدیک کن لوگوں کی بدترین جزا ہے؟ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور ان پر غضب ڈھایا ہے، اور ان میں سے کچھ لوگوں کو بندروں اور سوروں کی شکل میں تبدیل کر دیا ہے اور جنہوں نے طاغوت کی پرستش کی ہے۔ اللہ کے نزدیک ایسے لوگوں کا بدترین ٹھکانہ ہے اور راہ راست سے بھٹکے ہوئے گمراہ ترین لوگ ہیں۔

نکتہ:

جو لوگ مسلمانوں کے دین اور نماز کا مذاق اڑاتے ہیں، اور انہیں ایمان رکھنے کی وجہ سے اذیتیں دیتے ہیں وہ اپنے تاریک اور بے شرمانہ ماضی پر نگاہ کیوں نہیں کرتے؟ کہ خدا کے قہر و غضب میں گرفتار ہو کر مسخ اور رسوا ہوئے۔ اگرچہ زمانہ پیغمبر اسلام کے یہودی بندروں اور خنزیروں کی صورت میں تبدیل نہیں ہوئے لیکن چونکہ بنی اسرائیل خود کو ایک قوم اور اجتماعی اوصاف کا حامل سمجھتے تھے اور اپنے اسلاف کے کارناموں پر فخر کرتے تھے اور انہیں اپنی طرف نسبت دیتے تھے لہٰذا ان کے اسلاف کی رسوائیاں، ان کے غرور کو توڑ رہی ہیں۔

پیام:

۱ ۔ دشمن کے مسموم پروپیگنڈے اور ان کی نیش زنی سے خوف مت کھاؤ کہ ان کی اپنی ایک رسوا کن تاریخ ہے۔

۲ ۔ جو دوسروں کا احترام نہیں کرتا، اس کا بھی احترام نہیں کیا جاتا۔

۳ ۔ اگر اہل کتاب نے تہیہ کر لیا ہے کہ تمہارا مذاق اڑائیں اور تمہیں دکھ پہنچائیں تو ہم بھی ان کا تاریخی ریکارڈ پیش کئے دیتے ہیں (ان کا بندر اور خنزیر بن جانا اور طاغوت کی پرستش کرنا)

۴ ۔ دشمن کے مسخرہ بازی کے سوتوں (غرور اور تفوق طلبی) کو ان کے رسواکن ریکارڈ کے ذریعہ خشک کر دینا چاہئے۔

۵ ۔ طاغوت کی اطاعت کرنے والے، مسخ ہو جانے والوں کے زمرہ میں شامل ہیں۔

۶ ۔ تنقید یا مذمت تو وہ کرے جس کے پاس منطقی استدلال ہو اور دل پاک ہو۔ (گزشتہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ ان کے پاس کوئی منطقی دلیل نہیں ہے اور اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ ان کے دل پاک نہیں تھے)

سورہ مائدہ آیت ۶۱

( وَ اِذَا جَآءُ وْ کُمْ قَالُوْا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْکُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِه ط وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا یَکْتُمُوْنَ )

ترجمہ۔ اور جب بھی وہ (منافقین) تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ "ہم ایمان لے آئے" حالانکہ وہ یقینی طور پر کفر میں داخل ہو چکے ہوتے ہیں اور یقین کے ساتھ کفر کی حالت میں باہر جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بہتر طور پر آگاہ ہے کہ جو کچھ وہ چھپاتے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ لوگوں کا اظہار ایمان تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے۔

۲ ۔ کفر کی حالت میں آنا اور کافر ہو کر واپس جانا دل کی قساوت کی دلیل ہے۔

۳ ۔ ماحول اور معاشرہ انسان کو کسی چیز کے قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔

۴ ۔ اللہ تعالیٰ دشمن کی باطنی کیفیت سے آگاہ ہے۔

۵ ۔ اللہ تعالیٰ، انسان کے ضمیر اور باطن سے اس کی اپنی نسبت زیادہ آگاہ ہے( اعلم )

۶ ۔ بعض اوقات اسلامی معاشرہ کے مذہبی اجلاسوں میں بعض افراد کی شرکت ضروری نہیں ہے کہ ان کے خلوص کی وجہ سے اور ہدایت پانے کے لئے ہو۔

سورہ مائدہ آیت ۶۲

( وَ تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَ اَکْلِهُمُ السُّحْتَ ط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ )

ترجمہ۔ اور (اے پیغمبر! تم) ان (ایمان کے دعویداروں) میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھو گے کہ گناہ اور ظلم اور حرام کا کھانے میں جلدی کرتے ہیں۔ اور کیا ہی برا کام ہے جو وہ کرتے ہیں۔

نکتہ:

گزشتہ آیت میں ان لوگوں کی کافرانہ کیفیت کی بات ہو رہی تھی اور اس آیت میں ان کی اخلاقی، اجتماعی اور اقتصادی خرابیوں کی گفتگو ہو رہی ہے۔

پیام:

۱ ۔ منحرف اور گمراہ لوگوں پر تنقید اور ان کی مذمت کرنے میں بھی انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔( کثیرامنهم )

۲ ۔ اسلامی معاشرے کی تصویر یہ ہے کہ اس میں صدقات و خیرات اور نیکی کی طرف سبقت ہوتی ہے اور کافرانہ اور منافقانہ معاشروں میں فساد و خرابی کی طرف دوڑ ہوتی ہے۔ پہلے معاشرہ کے لئے ہے "یسارعون فی الخیرات" اور دوسرے کے لئے ہے( یسارعون فی الاثم والعدوان )

۳ ۔ منافقین کا اصل مقصد "شہوت" اور "ثروت" اور "قدرت" ہوتا ہے۔ ("اثم"، "سحت"، "عدوان

۴ ۔ گناہ سے برتر، اس کا علانیہ انجام دینا ہے( تری )

۵ ۔ اخلاقی برائیوں( اثم ) اجتماعی برائیوں (عدوان) اور اداری و دفتری برائیوں (سخت و رشوت) سے برتر برائیوں کی عادت بنا لیا ہے۔( یسارعون ) استمرار پر دلالت کر رہا ہے)

۶ ۔ گناہ کی آلودگی سے بدتر گناہ میں غرق ہونا ہے( فی الاثم )

آیت ۶۳

( لَوْلَایَنْهٰهُمُ الرَّبَّانِیُوْنَ وَالْاَحْبَارِ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَکْلِهِمُ السُّحْتَ ط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ )

ترجمہ۔ اللہ والے اور تربیت کرنے والے علماء (جن کا معاشرے میں مقام ہے اور کردار موثر ہے) ان لوگوں کو گناہ آلود گفتار اور کردار سے اور ناجائز طریقے سے مال کھانے سے کیوں نہیں روکتے؟ کس قدر برا کام کرتے ہیں!

نکتہ:

حضرت علی علیہ اسلام خطبہ قاصعہ (نہج البلاغہ کے ۱۹۲ ویں خطبہ) میں ارشاد فرماتے ہیں: "اللہ تعالیٰ نے گزشتہ اقوام پر اس لئے قہر و غضب نازل کیا ہے کہ انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ترک کر دیا تھا، خدا لعنت کرے گناہ کا ارتکاب کرنے والے عوام اورچپ رہنے والے علماء پر"۔

پیام:

۱ ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی ادائیگی سب سے پہلے علماء پر عائد ہوتی ہے اور ان کا کام صرف دین سکھانا اور تقریر کرنا نہیں ہے۔

۲ ۔ علماء کی خاموشی اور معاشرے سے ان کی لاتعلقی برائیوں کی ترویج کا سبب ہوتی ہے۔

۳ ۔ علماء کے پاس اقتدار ہونا چاہئے تاکہ وہ وعظ و تبلیغ کے علاوہ اس کے ذریعہ برائیوں کا سدباب کر سکیں (ی( نهاهم )

۴ اگر نہی عن المنکر، گناہ کو نہیں روک سکتی، کم از کم اس کی سرعت اور تیزی کو تو روک سکتی ہے۔ (ی( سارعون ) ۔۔۔( لولاینها هم )

۵ ۔ علماء اہل کتاب نے تو اپنے کم از کم فریضہ کو بھی ادا نہیں کیا (ا س سے پہلی آیت اثم، عدوان اور حرام خواری کو ان کے گناہ شمار کیا گیا ہے لیکن اس آیت میں "عدوان" کا لفظ نہیں آیا۔ جو شاید یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر علماء اہل کتاب عدوان کو نہیں روک سکتے تھے، "سحت" کو تو روک سکتے تھے اور کیوں نہیں روکا؟)

۶ ۔ علم زینت یہ ہے کہ اس کا اظہار کیا جائے اور اس کی برائی اس بات میں ہے کہ خاموشی اختیار کرکے حق بات کو چھپایا جائے۔

۷ ۔ برائیوں کے سامنے خاموشی اختیار کر لینے والا عالم، مجرم اور جرائم پیشہ لوگوں سے زیادہ بدتر ہے کیونکہ یہ سمجھ رکھتا ہے اور بیان کی قدرت بھی، لیکن کوئی کام نہیں کرتا۔ ۴۴

آیت ۶۴

( وَ قَالَتِ الیَّهُوْدَ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ ط غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ یُنْفِقُ کَیْفَ یَشَآئُط وَ لَیَزِ یْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّکُفْرًا ط وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَآءَ اِلَی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ ط کُلَّمَآ اَوْ قَدُوْ ا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًاط وَاللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ )

ترجمہ۔ اور یہودیوں نے کہا کہ "خدا کا ہاتھ بندھا ہوا ہے" ان کے اپنے ہاتھ بندھتے رہیں، وہ اس طرح کی بات کرنے سے خدا کے لطف و کرم سے دور ہو گئے۔ بلکہ خدا کے تو دونوں دست (قدرت) ہمیشہ کھلے ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے بخشش کرتا ہے۔ (دشمن اس قدر ہٹ دھرم اور ضدی ہیں کہ) جب بھی کوئی چیز (اے رسول!) آپ پر نازل ہوتی ہے (اسے قبول کرنے اور اس پر ایمان لانے کے لئے بجائے) ان میں سے بہت لوگوں کے کفر اور سرکشی میں اضافہ کر دیتی ہے۔ اور ہم نے (ان کے بغض و عناد کی وجہ سے) قیامت کے دن تک ان کے درمیان دشمنی اور کینہ ڈال دیا ہے۔ وہ جب بھی جنگ کے لئے آگ بھڑکاتے ہیں خداوند عالم (اسلام کے فائدہ اور ان کے نقصان میں) اسے بجھا دیتا ہے۔ وہ ہمیشہ زمین میں فتنہ و فساد اور تباہی و بربادی کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ فساد کرنیوالوں کو دوست نہیں رکھتا۔

نکتہ:

گزشتہ آیت میں یہودیوں کی مخالفانہ اور غیرمربوط باتوں کا ذکر اور علماء کا ایسی باتوں سے نہ روکنے کا تذکرہ تھا۔ اور اس آیت میں ایسی باتوں کا ایک نمونہ بیان کیا گیا ہے کہ یہودی کہتے ہیں۔ "خدا کا ہاتھ بندھا ہوا اب وہ ہمیں اقتدار و قدرت اور شان وشوکت نہیں دے سکتا جیسا کہ ہم سابق میں قدرت مند تھے۔"

شیعی روایات کے مطابق یہ آیت بتا رہی ہے کہ یہودیوں کا قضا و قدر کے بارے میں کیا عقیدہ ہے؟ کیونکہ یہودیوں کے عقیدہ کے مطابق ابتدائے آفرینش میں تو خدا کے ہاتھ کھلے تھے جو چاہتا تھا پیدا کر دیتا تھا۔ اور جب سب کچھ خلق کر لیا اب اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

آیت میں "ید" (ہاتھ) کا لفظ "قدرت" کے معنی میں ہے۔ عربی میں "ید" فارسی میں "دست‘ (اور اردو میں "ہاتھ کنایہ کے طور پر قدرت اور اثر و رسوخ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً ہم روزمرہ کی باتوں میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص کا فلاں علاقہ یا فلاں ادارے میں ہاتھ ہے۔ یا فلاں شخص کے بڑے لمبے ہاتھ ہیں۔ یا فلاں کے ہاتھ کٹ گئے۔ یا فلاں شخص تک ہمارا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا۔ یعنی ہمارے بس سے باہر ہے وغیرہ۔

روایات میں یہ آیا ہے کہ "اولیاء اللہ خدا کے ہاتھ ہیں" یعنی لوگوں کے لئے خدا کی رحمت اور لطف و کرم کا واسطہ اور وسیلہ ہیں۔

پیام:

۔ اپنی عدم لیاقت اور نااہلی کا الزام دوسروں پر نہ لگاؤ۔ (شیطان نے اپنے تکبر کا الزام خدا پر لگایا اور اس کی طرف گمراہ کرنے کی نسبت دی اور کہا: "( رب بما اغوتینی ) اور یہودیوں نے بھی اپنی بے لیاقتی اور نااہلی کا الزام خدا پر لگایا اور اس کی توجیہ یوں کی کہ خدا بخیل ہے( یدالله مغلوله )

۲ ۔ دین میں کج فہمی کی اجازت نہیں ہے۔ (علامہ طبا طبائی مرحوم فرماتے ہیں کہ جب فقر و فاقوں کی نوبت آ جاتی یا خدا کو قرض دینے کی آیت نازل ہوئی تو یہودی کہتے کہ: یہ قحط کی صورت اور قرض الحسنہ کی یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں)

۳ ۔ جیسا کردار ویسی ہی کیفر۔ انہوں نے کہا:( یدالله مغلوله ) اللہ نے فرمایا،( غلت ایدیهم )

۴ ۔ دوسروں کے گناہ پر راضی ہونا خود گناہ میں شریک ہونا ہوتا ہے (خدا کی طرف ہاتھ بندھنے کی نسبت بعض یہودی دیتے تھے۔ لیکن چونکہ دوسرے تمام یہودی اس پر راضی تھے لہٰذا اس غلط اور گمراہ کن نظریہ کی نسبت سب کی طرف دی گئی۔( قالت الیهود )

۵ ۔ جواب، اعتراض سے زیادہ طاقتور ہونا چاہئے۔ (انہوں نے کہا: خدا کا ہاتھ بندھا ہوا ہے، آیت کہہ رہی ہے خدا کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں۔ یعنی خدا صرف قدرت ہی نہیں رکھتا قدرت کاملہ بھی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا "یداللہ" آیت نے کہا: "یداہ

۶ ۔ قرآن مجید میں جس جگہ کوئی ایسا نقطہ نظر آئے جس کا بظاہر عقل کے ساتھ سازگار نہیں ہوتا تو اس کی صحیح تفسیر تلاش کرنی چاہئے۔ (خدا کی طرف "ہاتھ" کی نسبت کہ "یداہ مبسوطتان) جبکہ خدا کا جسم ہی نہیں کہ اس کے دو ہاتھ ہوں۔ تو یہاں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ "ہاتھ" خدا کی قدرت اور طاقت سے کنایہ کے طور پر استعمال ہوئے ہیں)

۷ ۔ جس طرح قرآن مجید، پرہیزگاروں کے لئے نور اور ہدایت ہے، اسی طرح ضدی اور ہٹ دھرم لوگوں کے لئے کفر اور سرکشی کا موجب بن جاتا ہے (ویزیدن۔۔۔ )

۹ ۔ یہودی ہمیشہ سے فتنہ کی آگ بھڑکاتے آ رہے ہیں لیکن خود ہی اس میں جل جاتے ہیں۔( کلما اوقدوا ) ۔۔ )

۱۰ ۔ یہودی بظاہر قیامت تک رہیں گے( الی یوم القیمٰة )

۱۱ ۔ جب تک مسلمان، حضرت رسول پاک کی اتباع کرتے رہے اس وقت تک خدا بھی یہودیوں کے فتنہ و فساد اور جنگ کی آگ کو بجھاتا رہا اور جب سے وہ اس رستے سے ہٹ گئے اور نصرت الٰہی کا سہارا چھوڑ دیا اس وقت سے یہودیوں کے فتنوں کی آگ میں جل رہے ہیں۔

۱۲ ۔ سزا کے طور پر ان یہودیوں میں کینہ اور دشمنی کا ڈالنا بھی خدا کی طرف سے ہے اور آتش جنگ کا بجھانا بھی اسی کی طرف سے ہے۔( القینا--- اطفا )


آیت ۶۵

( وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُْوا وَ اتَّقَوْا لَکَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاَتِهِمْ وَ لَاَ دْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ )

ترجمہ۔ اور لوگ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) ایمان لے آئے اور تقویٰ اختیار کرتے تو یقیناً ہم بھی ان کے گناہ معاف کر دیتے، اور پورے یقین کے ساتھ ہم انہیں نعمتوں بھری بہشت میں لے جاتے۔

پیام:

۱ ۔ شدید طریقہ پر مذمت کرنے کے ساتھ، واپسی کی راہ بھی کھلی رکھنی چاہئے( ولو ان اهل الکتاب )

۲ ۔ ایمان اور اسلام لے آنے سے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں (حدیث پاک میں ہے کہ "( الاسلام یجب ما قبله ) " یعنی اسلام سابقہ خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے اور قرآن مجید کہتا ہے( لفکرنا )

۳ ۔ تقویٰ گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے( اتقوا لکفرنا )

۴ ۔ تقویٰ کے بغیر ایمان کارساز نہیں ہوتا( امنوا و اتقوا )

۵ ۔ خدا کی رحمت اور اس کے لطف و کرم کے حصول کے لئے پہلے پاک صاف ہونا چاہئے( کفرنا، ادخلنا )

۶ ۔ خدا کے پاس عفو و درگزر کے علاوہ لطف و کرم بھی ہے( ولادخلنا )

آیت ۶۶

( وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوْا التَّوْرٰیةَ وَلْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِنْ رِّبِّهِمْ لَاَ کَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ ط مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ط وَ کَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ )

ترجمہ۔ اور اگر وہ (یہودی و نصاریٰ) توریت، انجیل اور اس چیز کو قائم رکھتے جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ہے تو ان کے اوپر سے (آسمانی برکتیں) اور نیچے سے (زمینی برکتیں) ان تک پہنچ جائیں اور وہ) مزے سے کھاتے۔ ان میں سے کچھ تو میانہ رو (اعتدال پسند) ہیں اور بہت سے لوگ برے کام کرتے ہیں۔

نکتہ:

اگر دوسری آسمانی کتابوں کے پیروکار قرآن کے آگے جھک جاتے، اور قرآن کے آگے جھکنے کا مقصد بنی اسرائیل کا عربوں کے آگے گھٹنے ٹیکنا نہ سمجھتے، اور یہ سمجھتے کہ انبیاء کی اصول تعلیمات ایک ہی ہیں اور توریت و انجیل کے بعد نازل ہونے والی کتاب (قرآن) پر ایمان، اوپر کی کلاس تک رسائی ہے نا کہ سابقہ آئین و دستور کا بطلان ہے تو وہ قیامت کے دن آخرت میں بہرہ مندی کے علاوہ اسی دنیا میں بھی انواع و اقسام کی نعمتوں سے مالا مال ہوتے۔

سابقہ آیت میں معنوی اور اخروی سعادت کے حصول میں ایمان کے عمل دخل کو بیان کیا گیا ہے اور اس آیت میں دنیوی سعادت اور اقتصادی آسائشوں کو ذکر کیا گیا ہے۔

پہلی آیت میں یہودیوں کے عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ خدا کے بارے میں کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ بند ہے، اور اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہودیو تم آسمانی کتابوں کی طرف رجوع کرو پھر دیکھو کو خدا کے ہاتھ بندھے ہیں یا کھلے؟ اگر تمہاری عظمت، ذلت میں تبدیل ہوگئی ہے تو یہ تمہارے کفر اور احکام الہٰی سے منہ موڑ لینے کی وجہ سے ہے نا کہ خدا کے بخل کی وجہ سے!

پیام:

۱ ۔ تمام آسمانی کتابیں قابل احترام ہیں( اقامو اا لتورٰة والا نجیل ) ۔۔۔۔۔)

۲ ۔ دوسروں کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے ان کے صحیح عقائد اور مقدسات پر حملہ نہ کرو۔( اقاموا التورٰة والانجیل ) ۔۔)

۳ ۔ آسمانی کتابیں، تمام تحریکوں کے لئے راہنما، محور اور آئین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس طرح محاذ جنگ پر جھنڈے کی حیثیت ہوتی ہے کہ اسے ہمیشہ کھلا اور سربلند رہنا چاہئے( اقاموا )

۴ ۔ مذہب کی طرف توجہ اور دینی دستوروں پر عمل مادی زندگی کو بھی سنوارتا ہے( لاکلوا ) ۔۔۔ ) ۴۴

۵ ۔ اسلام، عوام کے رفاہ اور سہولت کو بھی مدنظر رکھے ہوئے ہے۔( لاکلوا- ) ۔۔ )

۶ ۔ بگڑا ہوا معاشرہ انسان کو بگڑنے پرمجبور نہیں کرتا، بدکاروں کے انبوہ کثیر میں معتدل مزاج لوگ بھی موجود ہوتے ہیں( منهم امة معتقدة )

۷ ۔ لوگوں کا ایمان، نظام کائنات، زمین، ابروباراں، زراعت اور باغات وغیرہ میں بڑا عمل دخل رکھتا ہے (تفسیرالمیزان)

۸ ۔ کبھی بھی ایک اکائی، ایک قوم، ایک علاقہ اور ایک مذہب کے تمام لوگوں کو برا نہ سمجھو،( منهم امة مقتصدة )

۹ ۔ کتاب آسمانی کی صرف تلاوت ہی کافی نہیں اس کا قائم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے( اقاموا التورٰة )

۱۰ ۔ قرآن کی مخاطب تمام امتیں ہیں صرف مسلمان نہیں ہیں( ما انزل الیهم من ربهم )

آیت ۶۷

( یَاَ یُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رِّبِّکَ ط وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَلَتَه ط وَاللّٰهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ط اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ )

ترجمہ۔ اے رسول! جو کچھ کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ پہنچا دو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو الٰہی رسالت کو نہیں پہنچایا۔ (ڈرو نہیں) خدا تمہیں لوگوں (اور ان افراد کے شر) سے بچائے گا (جو اس اہم پیغام کو سننا گوارا نہیں کرتے) یقیناً خداوند عالم کافر لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔

نکتہ:

تمام شیعہ مفسرین روایات اہل بیت کی رو سے اور فخر رازی اور صاحب تفسیر "النار" جیسے بعض اہلسنت مفسرین کہتے ہیں کہ اس آیت کا تعلق علی بن ابی طالب کی ولایت اور واقعہ غدیرخم سے ہے۔

آیت کا انداز تخاطب اور لب و لہجہ اسے پہلے اور بعد کی آیات سے جدا کر رہا ہے پورے قرآن میں صرف اسی مقام پر پیغمبر کو پیغام نہ پہنچانے پر زبردست تہدید کی گئی ہے کہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو جو کچھ تم نے ۲۳ سال کے عرصہ میں کاررسالت انجام دیا ہے وہ سب اکارت جائے گی۔

اب یہاں پر دیکھنا یہ چاہئے کہ یہ کیسا اہم پیغام ہے جس کے بارے میں اس قدر تاکید و تہدید سے کام لیا گیا ہے؟

اس آیت میں چند نکات ایسے ہیں جو اس کے مضامین پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔

۱ ۔ سورہ مائدہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری ایام میں نازل ہوئی۔

۲ ۔ آیت میں آنجناب کو "یا ایھا النبی" کے ساتھ خطاب کرنے کی بجائے "یا ایھا الرسول" کے ساتھ خطاب کیا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کا کوئی اہم پیغام ہے۔

۳ ۔ "ابلغ" کی بجائے "بلغ" کے ساتھ تبلیغ رسالت کا حکم دیا گیا ہے جو ایک اہم سرکاری اور حتمی پیغام ہونے کی علامت ہے۔

۴ ۔ آیت شریفہ میں پیغمبر اکرم کو اس اہم پیغام نہ پہنچانے پر اس قدر دھمکی دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا اور لوگوں تک اسے نہ پہنچایا تو ان کی تمام تئیس سالہ دینی خدمات اور رسالت کا کام رائیگاں ہو جائے گا۔

۵ ۔ رسول گرامی اسلام کو اس پیغام کے پہنچانے پر کوئی خاص اندیشہ درپیش تھا، جس کی بنا پر خداوند عالم ان کی دلجوئی کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ "ہم تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھیں گے"۔

۶ ۔ سرکار رسالت کو اپنی جان کا خطرہ نہیں تھا، کیونکہ آپ تو اس وقت بھی نہیں ڈرے تھے تنہائیوں کے خلاف برسرپیکار رہے اور مشرکین کے ساتھ کئی لڑائیاں لڑیں حالانکہ اس وقت آپ اکیلے تھے اور خطرات اس سے کہیں زیادہ تھے۔ اس زمانے میں تو آپ کو پتھر مارے جاتے اور اصحاب کو اذیتیں پہنچائیں جاتیں۔ اب جبکہ آپ عمر کے آخری حصے میں ہیں اور اصحاب و احباب کی کثرت ہے کیسے ڈر سکتے ہیں؟

۷ ۔ آیت میں ایک ایسا پیغام ہے جو اپنی اہمیت کے لحاظ سے نبوت و رسالت کے تمام عرصے کے کار رسالت کے برابر ہے۔

۸ ۔ اس آیت میں الٰہی تربیت کے تسلسل کا پیغام پنہاں ہے۔( من ربک )

۹ ۔ اس پیغام کا مضمون کوئی خاص بنیادی اور اساسی مسئلہ ہونا چاہئے، ورنہ عام جزوی اور انفرادی مسائل میں اس قدر دھمکی یا دلجوئی کی ضرورت نہیں ہوتی۔

۱۰ ۔ آیت کا پیغام توحید، نبوت اور معاد (قیامت) سے متعلق بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ اصول تو بعثت کے پہلے ہی ایام میں مکہ مکرمہ میں بیان کئے جا چکے تھے اور آنحضرت کی عمر کے آخری دنوں میں اس بارے میں اس قدر تاکید کی ضرورت نہیں ہے۔

۱۱ ۔ آیت کا پیغام، نماز، روزہ، حج، زکوٰة، خمس، جہاد وغیرہ کے بارے میں بھی نہیں ہے کیونکہ یہ سب کچھ آنحضرت کی ۲۳ سالہ زندگی میں بیان ہو چکے ہیں اور لوگ بھی ان پر عملدرآمد کر چکے ہیں اور ان کے بارے میں کسی قسم کا خدشہ یا اندیشہ بھی پیش نظر نہیں ہے۔

تو پھر اس اہم پیغام کا مضمون اور مقصد کیا ہے جو اس آخری سورت میں آیا ہے؟ بہت سی شیعہ اور سنی روایات ہمیں اس حیرت سے نجات دلاتی ہیں اور ہماری راہنمائی کرتی ہیں۔ روایات بتاتی ہیں کہ اس آیت کا تعلق ۸ ذی الحجہ ۱۰ ہجری سے ہے جو حجة الوداع کے سفر میں آنحضرت پر نازل ہوئی ہے۔ اور وہ یوں کہ جب سرکار رسالت آخری حج سے فارغ ہو کر مدینہ واپس تشریف لے جا رہے تھے تو "غدیرخم" کے مقام پر آپ نے حکمِ الہٰی کے تحت تمام لوگوں کو رکنے کا حکم دیا اور سب حاجی صاحبان وہیں پر جمع ہوئے۔

یہ وہ جگہ ہے جس میں پانی بھی تھا اور درخت بھی جو حجاز کی گرمی میں بڑے کارآمد تھے اور یہیں سے ہی اہلِ یمن، عراق، شام، مدینہ اور حبشہ کے حاجیوں کے قافلے ایک دوسرے سے جدا ہوتے۔

مقام غدیرخم میں حضرت رسالت مآب نے مسلمانوں کے جم غفیر میں اونٹوں کے پالانوں کا منبر تیار کرایا اور اس پر تشریف لے جا کر ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی خاص اور اہم ترین مسئلہ پیش نظر ہے جس کے لئے طولانی خطبہ ارشاد کیا جا رہا ہے۔ اور وہ بھی ایسی جگہ پر جہاں جھلسا دینے والی گرمی ہو اور زمین آگ اگل رہی ہو۔ لوگ اپنے سروں پر کپڑے ڈالے ہوئے تھے اور عبائیں نیچے بچھائے ہوئے تھے۔ اس خطبہ کا ابتدائی حصہ توحید، نبوت اور معاد پر مشتمل تھا۔ جو نوعیت کے لحاظ سے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ نئی بات وہاں سے شروع ہوئی جب آنحضرت نے اپنے وصال کی خبر دی اور اپنے بارے میں لوگوں کا نظریہ معلوم کرنا چاہا۔ سب نے آپ کی عظمت، شرافت، خدمت اور رسالت کی اعلیٰ درجہ کی گواہی دی۔

جب آپ مطمئن ہو گئے کہ آپ کی آواز چار اطراف تک بخوبی پہنچ رہی ہے، تو اس پر مستقبل کے لئے ایک اہم پیغام ان لوگوں تک پہنچایا۔ اور اطمینان کا یہ حصول مستقبل کی پیش بندی کے لئے تھا تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہم نے آپ کا پیغام نہیں سنا تھا۔ کیونکہ جب آنحضرت کی وفات کے بعد بنت پیغمبر حضرت فاطمہ زہرا نے ہر ایک کے دروازے پر جا کر یہ کہا: "کیا تم غدیرخم میں موجود نہیں تھے؟ اور تم نے نہیں سنا تھا رسول خدا نے علی کے بارے میں کیا کہا؟ اور کیا علی کا امام اور رہبر کی حیثیت سے تعارف نہیں کرایا؟ ۔۔۔ " تو وہ لوگ جواب میں کہتے: "ہم غدیرخم میں پیغمبر سے دور بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی آواز کو نہیں سنا!"

خدا کی پناہ اس حق پوشی، ڈر، بے وفائی اور بنت پیغمبر سے جھوٹ بولنے سے!!!

بہرحال، تاریخ کے ان حساس ترین لمحوں میں اور اس کیفیت کے ساتھ ارشاد فرمایا: "من کنت مولاہ فعلی مولاہ" یعنی جس کا میں مولا و رہبر ہوں، علی بھی اسی کے مولا و رہبر ہیں۔

پس معلوم ہوا کہ اس اہم پیغام کا موضوع "علی بن ابی طالب کی رہبری، امامت اور خلافت" تھا۔

پیام:

۱ ۔ خطاب کی نوعیت، ہدف کی نوعیت سے ہم آہنگ ہونی چاہئے۔ چونکہ ہدف، پیغام کی رسالت ہے لہٰذا خطاب بھی( یایهاالرسول ) کے ساتھ ہوا ہے۔

۲ ۔ خدائی احکام اور پیام، سب ایک سطح کے نہیں ہوتے، بعض اوقات ایک جملہ کو ظاہر نہ کرنا، تمام حقائق کے چھپانے کے برابر ہوتا ہے۔

۳ ۔ دشمن کے نیزوں، تلواروں اور ایذارسانیوں سے زیادہ خطرہ نہیں ہوتا جتنا خطرہ داخلی فتنوں سے ہوتا ہے۔

۴ ۔ اگر قیادت اور رہبری صحیح نہ ہو مذہب اور امت برباد ہو جاتے ہیں۔

۵ ۔ یہود و مشرکین سے جنگ کرنا اتنا خطرناک نہیں جتنا حسد کی آفتیں خطرناک ہوتی ہیں۔

۶ ۔ اسلام کا اصل رکن اسلامی قیادت اور اسلامی حکومت ہے۔( رسالته )

۷ ۔ اسلامی رہبر کا انتخاب خدا کی طرف سے ہونا چاہئے( ماانزل الیک من ربک )

(ملاحظہ ہو تفسیرالمیزان)

۸ ۔ ولایت کا انکار ایک طرح کا کفر ہے( ان الله لایهدٰی القوم الکافرین )

۹ ۔ زمان اور مکان دو ایسے عناصر ہیں جو تبلیغ کے لئے اہم ارکان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ "غدیرخم"

۱۰ ۔ لوگ تو دو گواہوں کے ساتھ اپنا حق حاصل کر لیتے ہیں، لیکن علی بن ابی طالب ہزارہا گواہوں کی موجودگی میں اپنا حق حاصل نہ کر سکے۔ خدا برا کرے دنیا کی محبت اور حسد کا!

آیت ۶۸

( قُلْ یَاَ هْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلیَ شَْی ءٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا لتَّوْرٰیةَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِنْ رِّبِّکُمْ ط وَ لَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِنْهُمْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رِّبِّکَ طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا َفلَا تَاسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ )

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ اے اہلِ کتاب! جب تک تم تورات، انجیل اور اس چیز کو جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے قائم نہیں کرو گے (دین برحق کی) کسی چیز پر نہیں ہو گے۔ اور جو قرآن (اے پیغمبر!) تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے بالیقین ان میں سے بہتیروں کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کر دے گا، لہٰذا کافر لوگوں پر افسوس نہ کیا کرو۔ ۴۵

پیام:

۱ ۔ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنا ضروری ہے( یقیموا التورٰة والانجیل و ما ) ۔۔۔ )

۲ ۔ ایمان کا دعویٰ ہی کافی نہیں اسے قائم رکھنا اور اس کے مطابق عملی اقدام بھی ضروری ہوتا ہے( حتی یقیموا ) جو عمل نہیں کرتا بے دین ہے( لمنکم علی شیٴ )

۳ ۔ دینی احکام اور آسمانی کتاب کے قوانین کو محور عمل ہونا چاہئے اور انہی کی مقتدر اعلیٰ ہونا چاہئے۔( تقیموا، اقاموا )

۴ ۔ انسان کی شخصیت اور ان کی قدرو قیمت ان کے مذہبی امور کی پاسداری کے مطابق ہوتی ہے۔( لستم علی شیٴ حتی تقیمون )

۵ ۔ تبلیغ کا خوبصورت انداز یہ ہے کہ سب سے پہلے دوسروں عقائد حقہ کا احترام کرو پھر انہیں اپنے مذہب کی راہیں دکھاؤ (توریت، انجیل اور قرآن)

۶ ۔ افراد کا کفر اور ان کی سرکشی نہ تو نظام کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ ہی دین و مذہب کو، بلکہ خود ان کے اپنے لئے نقصان دہ اور مضر ہوتی ہے اور دین و مہذب کا حامی خود خدا ہے،( فلاتاس )

۷ ضدی مزاج اور ہٹ دھرم افراد کے لئے افسوس کرنا جائز نہیں ہے( فلاتاس )

آیت ۶۹

( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ هَادُْوا وَالصَّابِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰی مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحاً فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ )

ترجمہ۔ یقینا جو لوگ مومن ہیں، یہودی، صابی اور نصرانی ہیں، جو بھی (اپنے زمانے میں) خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لے آیا اور نیک کام انجام دیئے ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ ۴۶

نکتہ:

حضرت امام رضا علیہ اسلام کے فرمان کے مطابق "صائبین" ستارہ پرست ہیں۔ (تفسیر اطیب البیان)

آیت کا تعلق ان لوگوں کے ایمان اور عمل صالح سے ہے جو اپنے دور کے دین کے پیروکار تھے اور نئے دین کے آجانے کے بعد، انہیں چاہئے کہ خدا کی نئی شریعت پر ایمان لے آئیں ورنہ تو ان کے بعد میں آنے والے انبیاء کی بعثت کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔ یہودی، نصرانی اور دوسرے لوگ مسلمانوں کی طرح اسلام پر ایمان لے آئیں اور اعمال صالح بجا لائیں تو ان پر کسی قسم کا خوف اور غم نہیں ہوگا۔

۱ ۔ قوم پرستی، نسل پرستی اور ہر قسم کا مذہبی تعصب قطعاً ممنوع ہے( من امن بالله )

۲ ۔ تمام آسمانی ادیان میں سعادت کا معیار صرف اور صرف "ایمان اور عمل صالح ہے" نہ تو خالی خولی دعوے ہیں اور نہ ہی کسی خاص اسم سے موسوم ہونا۔

۳ ۔ ایمان اور عمل کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔( امن--- وعمل )

۴ ۔ سکون و اطمینان صرف ایمان اور عمل صالح کے زیرسایہ حاصل ہوتا ہے( فلاخوف ) ۔۔۔ )

آیت ۷۰

( لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ وَ اَرْسَلْنَا اِلَیْهِمْ رُسُلًا ط کُلَّمَا جَاءَ هُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَهْوٰٓی اَنْفُسُهُمْ فَرِیْقًا کَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَقْتُلُوْنَ )

ترجمہ۔ یقینا ہم نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے، جب بھی کوئی پیغمبر ان کے پاس کوئی (پیغام اور) بات لے آیا جو ان کی منشا کے خلاف تھی تو کچھ کو تو انہوں نے جھٹلا دیتے اور کچھ کو قتل کر دیتے۔

نکتہ:

اس آیت میں "میثاق" سے مراد شاید وہی عہد و پیمان ہے جو سورہ بقرہ/ ۹۳ اور سورہ آل عمران / ۸۱ میں گزر چکا ہے۔

لوگوں کی مرضی اور منشاء کے خلاف انبیاء کی دعوت، اولیاء خدا کی تکذیب، لوگوں کی پیمان شکنی اور اولیاء اللہ کی شہادت کا تذکرہ اور وہ بھی ایسی آیات میں جو مقام غدیرخم میں علی علیہ السلام کے منصب امامت و خلافت پر فائز ہونے کے بارے میں نازل ہونے والی آیت کے بعد، کوئی اتفاقی بات نہیں ہے۔ اسی طرح یہ آیت جو پیمان غدیرخم کے بعد کی آیت ہے، اور اس سورت کا آغاز بھی عقود و پیمان کو پورا کرنے " سے ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر کئی پیام مضمر ہیں۔

پیام:

۱ ۔ عہد شکنی، پیغمبرکشی ، تکذیب اور ہٹ دھرمی بنی اسرائیل کی خصوصیات رہی ہیں۔

۲ ۔ انبیاء کرام علیہم اسلام کی تکذیب کا سرچشمہ نفسانی خواہشات ہیں( بما لاتهوی ) ۔۔۔ )

۳ ۔ بنی اسرائیل میں صرف حضرت موسیٰ ہی نہیں کئی دوسرے انبیاء بھی گزر چکے ہیں( رسلا )

۴ ۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے واقفیت سے ایک تو ان کے حقائق سے واقفیت ہوتی ہے دوسرے ان کے واقعات سے عبرت حاصل ہوتی ہے تیسرے اس سے مسلمانوں کو خبردار کیا جاتا ہے اور چوتھے سب لوگوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بھی ہے۔

۵ ۔ تمام انبیاء علیہم اسلام یا تو جھٹلائے گئے ہیں یا پھر انہوں نے جام شہادت نوش کیا ہے( فریق کذبوا وفریقایقتلون )

۶ ۔ بگڑے ہوئے خراب معاشرے میں یا تو اللہ والوں کی ذات کو قتل کیا جاتا ہے یا پھر ان کی شخصیت کو۔( قتل- تکذیب )

آیت ۷۱

( وَ حَسَبُوْا اَلاََّ تَکُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثمُ َّعَمُوْا وَ صَمُّوْا کَثِیْرٌ مِّنْهُمْ ط وَاللّٰهُ بَصِیْرٌ بِمَا یَعْمَلُوْنَ )

ترجمہ۔ اور (یہودی چونکہ خود کو برتر اور اولیاء اللہ سمجھتے تھے لہٰذا) انہوں نے یہ گمان کر لیا کہ ان کے لئے کوئی فتنہ اور آزمائش نہیں ہو گی۔ لہٰذا وہ (حقائق کو دیکھنے سے) اندھے اور (حقائق کو سننے سے) بہرے ہو گئے۔ پھر خدا نے اپنا لطف و کرم ان کی طرف پلٹا دیا اور ان کی توبہ قبول کر لی۔ لیکن پھر بھی ان میں سے بہت لوگ (آیات الٰہی کو دیکھنے اور سننے سے) اندھے اور بہرے ہو گئے۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔

نکتہ:

بنی اسرائیل سمجھتے تھے کہ خدائی آزمائشات اور قہر و غضب کا تعلق صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے تک تھا۔ اب وہ بات نہیں رہی۔ اس لئے وہ مادی زندگی، آسائش طلبی میں سرگرم ہو گئے اور آیات خداوندی سے اپنا تعلق منقطع کر لیا۔

پیام:

۱ ۔ کبھی بھی فتنوں (خدا کی آزمائش، اس کے قہر و غضب اور شرک کی آلودگیوں) سے غافل نہیں ہونا چاہئے( وحسبوا الاتکون فتنة )

۲ ۔ غرور، تکبر، خیال گمان، انسان کو اندھا اور بہرہ اور صحیح شناخت سے محروم کر دیتے ہیں۔( عموا--- )

۳ ۔ کسی کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ امتحان کے بغیر کسی مقام و منصب پر فائز ہو جائے گا۔( حسبوا الاتکون فتنة )

۴ ۔ خداوند عالم کا لطف و کرم اس حد تک ہے کہ انسان کی عذرخواہی کے بغیر بھی اس کے پاس آ پہنچتا ہے( تاب الله )

۵ ۔ خداوند کریم تو مہربان ہے لیکن انسان ضدی اور ہٹ دھرم ہے( تاب الله علیهم ثم عموا )

۶ ۔ توبہ شکنی بنی اسرائیل کے کرتوتوں میں سے ایک ہے( تاب الله علیهم ثم عموا )

۷ ۔ اگرچہ انسان بعض اوقات اندھا اور بہرہ ہو جاتا ہے لیکن خداوند عالم ہمیں اچھی طرح دیکھ رہا ہوتا ہے،( والله بصیر )

سورہ مائدہ آیت ۷۲

( لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ ط وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اعْبُدُوْا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ ط اِنَّه مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰهِ فَقَدْ َحرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَمَاوٰهُ النَّارُ ط وَماَ لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ )

ترجمہ۔ جن لوگوں نے کہا: "حضرت مسیح بن مریم ہی خدا ہیں" یقیناً وہ کافر ہو گئے ہیں (وہ ایسا کیوں کہتے ہیں جبکہ خود) حضرت عیسیٰ نے کہا: اے بنی اسرائیل! اس خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے۔ یقینی بات یہ ہے کہ جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا، خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہے۔

نکتہ:

انجیل مرقس باب ۱۲ آیت ۲۹ میں حضرت عیسیٰ نے لوگوں کو توحیدِ الٰہی کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا ہے: "ہمارا خدا ایک ہی خدا ہے"

انجیل میں باب ۶ آیت ۲۴ میں بھی یوں آیا ہے کہ "مجال ہے کہ انسان کے دو آقا اور دو محبوب ہوں۔ اور وہ خدا کی بھی خدمت کرے اور کسی دوسرے کی بھی!"

پیام:

۱ ۔ انحراف، کج فکری اور گمراہی کا جواب دو ٹوک انداز میں دینا چاہئے۔( لقد )

۲ ۔ غلو، اور خدا کے حصول کا عقیدہ خواہ خدا کے بہترین بندے کے قالب کے بارے میں کیوں نہ ہو، کفر ہے( کفر )

۳ ۔ جو لوگ حضرت عیسیٰ کو خدا سمجھتے ہیں وہ کافر، مشرک، ظالم اور بہشت سے محروم ہیں۔

۴ ۔ جو شخص شکم مادر سے باہر آئے وہ کیونکر خدا ہو سکتا ہے؟( مسیح بن مریم )

۵ ۔ مدعی سست گواہ چست کا مصداق نہ بنو، خود حضرت عیسیٰ تو خدا کی توحیدپرستی کی دعوت دیں اور تم عیسیٰ کو خدا ماننے لگو( قال المسیح--- )

۶ ۔ مشرک ہرگز بہشت نہیں جائے گا۔( فقد حرم الله--- )

۷ ۔ غیرخدا کی عبادت کا سوچنا بھی مقام انسانیت پر ظلم ہوتا ہے( للظالمین )

۸ ۔ یہ خیال دل سے نکال دو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جان کا نذرانہ دے کر تمہاری نجات کی ضمانت دے دی ہے۔ ایں خیال است و محال است و جنون،( وما للظالمین من انصار )

آیت ۷۳

( لَقَدْ کَفَرَا لَّذِیْنَ قَالُْوا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةَ وَمَامِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اِلٰهٌ وّاحِدٌ ط وَاِنْ لَّمْ یَنْتَهَوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌه )

ترجمہ۔ جن لوگوں نے یہ کہا کہ" خدا تین (خداؤں میں) سے تیسرا خدا ہے" وہ یقیناً کافر ہو گئے جبکہ خداوند یکتا کے علاوہ اور کوئی خدا ہے ہی نہیں۔ اور اگر وہ اس بات سے باز نہیں آتے جو کہتے ہیں تو یقیناً دردناک عذاب کافروں کو آ لے گا۔

نکتہ:

گزشتہ آیت میں حضرت عیسیٰ کے قالب میں خداوند یگانہ کے حلول کے گمراہ کن عقیدہ کی نفی کی گئی ہے اور اس آیت میں "تثلیث" کے گمراہ کن عقیدہ کو باطل کیا جا رہا ہے۔ چونکہ دونوں شرک ہیں اور ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جانا چاہئے۔

اور عیسائیوں دانشوروں کی جدید تحقیق کے مطابق "تثلیث" کا عقیدہ علمی لحاظ سے قابلِ اعتبار نہیں ہے۔ (ملاحظہ ہو تفسیرالمیزان)

پیام:

۱ ۔ اسلام، تمام آسمانی ادیان اعتقادات کی اصلاح کا ذمہ دار ہے۔

۲ ۔ شرک اور کئی خداؤں (تثلیث) کا ماننا کفر ہے،( لقد کفر ) ۔۔۔ )

۳ ۔ ایسی یاوہ گوئی کی سزا ملتی ہے جو جان بوجھ کر، دشمنی کی بنا پر اور کوتاہی کی وجہ سے کی جائے۔( کفروامنهم )

۴ ۔ عذاب سے پہلے تنبیہ ضروری ہے( وان لم نیتهوا )

۵ ۔ کفر و شرک کا انجام، عذاب ہے( عذاب الیم )

آیت ۷۴

( اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَی اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَه ط وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ) ہ

ترجمہ۔ آیا وہ خدا کی طرف واپس نہیں لوٹتے اور (اپنی غلطیوں کی)خدا سے معافی نہیں مانگتے؟ جبکہ خداوند عالم بخشنے والا مہربان ہے۔

پیام:

۱ ۔ غلط اور گمراہ عقیدوں سے توبہ کرنی چاہئے( افلاتیوبوں )

۲ ۔ گمراہ اور منحرف لوگوں کو خدا کی بخشش اور رحمت کا ذکر کرکے سیدھے راستے کی دعوت دو( والله غفور رحیم )

۳ ۔ کفر اور شرک جیسے گناہ بھی توبہ اور خدا کی توحید پر عقیدہ رکھنے سے بخشے جاتے ہیں۔

۴ ۔ خدا بخشتا بھی ہے اور اپنی رحمت بھی نازل کرتا ہے( غفور رحیم )

۵ ۔ عذا ب کے ساتھ ساتھ (جیسا کہ گزشتہ آیت میں ہے) توبہ کرنے والوں کے لئے رحمت کا ذکر بھی ہے۔

آیت ۷۵

( مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرِیْمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ط وَ اُمُّه صَدِیْقَةٌ ط کَاَنَّا یَاْکُلٰنِ الطُّعَامَ ط اُنْظُرْ کَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰیْ یُؤْفَکُوْنَ )

ترجمہ۔ مسیح بن مریم کو رسول کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں۔ ان سے پہلے کئی رسول گزر چکے ہیں اور ان کی ماں بہت سچی تھیں اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ (اے پیغمبر!) آپ دیکھئے کہ ہم اپنی نشانیاں کس طرح بیان کرتے ہیں۔ پھر یہ بھی دیکھئے کہ یہ لوگ (حق سے) کس طرح بھٹکتے پھرتے ہیں۔

نکتہ:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین دلائل کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا نہیں ہیں۔

الف: شکم مادر سے باہر آئے ہیں اور مریم کے بیٹے ہیں۔

ب: ا ن کی طرح کے اور پیغمبر بھی گزر چکے ہیں وہ کوئی اکیلے پیغمبر نہیں ہیں۔

ج: انہیں بھی دوسرے لوگوں کی طرح کھانے اور زندگی کی ضروریات کی دوسری چیزوں کی ضرورت رہتی ہے اور اپنے زور بازو سے لقمہ نان حاصل کرتے ہیں اور کسی طرح کی قدرت کاملہ کے مالک نہیں ہیں کہ خدا ہوتے، جسے کھانے کی ضرورت ہوتی ہے وہ غذا کا خالق نہیں بن سکتا۔ یہ قرآن کا واضح اور عمومی بیان ہے۔

پیام:

۱ ۔ (معجزہ جیسی) بعض خصوصیات یا مستثنیات کا حامل ہونا کسی کے خدا ہونے کی دلیل نہیں ہوتا۔ دوسرے انبیاء بھی معجزے پیش کیا کرتے تھے یا آدم علیہ السلام بھی بغیر ماں اور باپ کے پیدا ہوئے تھے (قد خلت میں قبلہ الرسل)

۲ ۔ حضرت مریم "ولیتہ اللہ" ہیں۔ قرآن، عورت کی تعظیم کرتا ہے اور حضرت مریم کو "صدیقہ" کہتا ہے۔ ایک اور آیت میں ہے کہ حضرت مریم، کلمات اللہ کی تصدیق کرتی تھیں اور عبادت گزاروں میں سے تھیں۔( صدقت بکلمات ربها و کتبه و کانت من القانئین ) ،) سورہ تحریم/ ۱۲ ۔

۳ ۔ موت، تمام انبیاء کے لئے حتمی ہے۔( قد خلت )

۴ ۔ خدا کا نہ جسم ہے نہ کسی سے پیدا ہوا ہے، نہ کسی کا محتاج ہے نہ کسی مکان میں ہے، جبکہ حضرت عیسٰی ان سب چیزوں کے حامل ہیں، کہاں ضرورت مند ہونا اور احتیاج رکھنا اور کہاں خدا ہونا؟

۵ ۔ اگر عناد اور دشمنی ہی اصل بنیاد ہو تو واضح سے واضح اور روشن سے روشن دلائل بھی بیکار ہوتے ہیں( کیف نبین--- انی یوٴفکون )

آیت ۷۶

( قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِن دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَاللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ )

ترجمہ۔ (اے پیغمبر! لوگوں سے) کہہ دو کہ آیا خدا کے علاوہ ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہو جو نہ تو کسی نفع کی مالک ہیں اور نہ ہی نقصان کی؟ اور خداوند عالم ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔

پیام:

۱ ۔ کسی کی عبادت اور پرستش کا محور، ضروریات کا پورا کرنا، منفعت کا حصول اور مضرات کا دور کرنا ہے۔ اور غیراللہ تو تمہاری کوئی بھی ضرورت پوری نہیں کرتے۔( اتعبدون ) ۔۔۔ )

۲ ۔ مضرات کا دور کرنا، منفعت کے حصول پر مقدم ہوتا ہے( ضرا و الانفعا )

۳ ۔ مشرک کی راہوں کے باطل ہونے کے لئے اپنے ضمیر اور اپنی عقل کی طرف رجوع کرو!( اتعبدون )

۴ ۔ خدا کے علاوہ تمہارے دوسرے معبود تو تمہاری باتوں کے سننے اور ضروریات کو سمجھنے سے بھی عاجز ہیں تو انہیں پورا کیسے کر سکتے ہیں؟ جبکہ خداوند عالم سننے والا اور جاننے والا ہے۔( السمیع العلیم )

آیت ۷۷

( قُلْ یٰٓاَ هْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْا اَهْوَآ ءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا وَ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ )

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں (ناحق) غلو (حد سے تجاوز) نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے خود بھی گمراہ ہو چکے ہیں اور بہتیروں کو گمراہ بھی کر چکے ہیں اور (اب بھی) حق کی راہ سے منحرف ہو چکے ہیں۔

نکتہ:

اس آیت سے یہ بات سمجھتی جا سکتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کو خدا جاننے کا عقیدہ ایک طرح کا غلو ہے جو سابقہ امتوں کے مشرکانہ افکار سے اخذ کیا گیا ہے۔ سورہ برائت کی ۳۰ ویں آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا غلو، کفار کے ان عقائد سے ملتا جلتا ہے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ تمام ادیان کی نظریاتی سرحدوں کو محفوظ رہنا چاہئے اور شخصیتوں کے بارے میں غلو ممنوع اور ناجائز ہے( لاتغلوا )

۲ ۔ رہبر، دین و مذہب اور ملت کی تصویر ہوتا ہے لہٰذا اس کے بارے میں غلو کرنا دین میں غلو کے مترادف ہوتا ہے (گزشتہ آیات کے پیش نظر جن میں بتایا گیا ہے کہ عیسائی حضرت مسیح کو خدا جانتے ہیں)

۳ ۔ افراط اور تفریط دونوں ممنوع ہیں( لاتغلوا )

۴ ۔ اگر خدا کے دین اور اولیاء اللہ کے بارے میں غلو ممنوع ہے تو دوسرے لوگوں کے بارے میں مبالغہ آرائی بھی جائز نہیں ہے۔

۵ ۔ اندھی تقلید ممنوع ہے( ولاتتبعوا )

۶ ۔ غلو کا سرچشمہ، نفسانی خواہشات ہیں( لاتغلوا--- لاتتبعوا اهواء ) ۔۔۔ )

۷ ۔ غلو صرف حضرت عیسیٰ ہی بارے میں نہیں تھا، بعض یہودیوں نے بھی حضرت "عزیر" کے بارے میں غلو کیا اور انہیں خدا کا بیٹا جانا( یٰاهل الکتٰب )

۸ ۔ قدیمی اور پرانے علم و ہنر کی قدروقیمت ہے، لیکن نفسانی خواہشات پر مبنی پرانے لوگوں کے نظریات اور عقائد کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے( ضلوامن قبل )

آیت ۷۸

( لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ م بَنِیْ ٓ اِسْرَآ ئِْیلَ عَلَی لِسَانِ دَاودَ وَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ط ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ )

ترجمہ۔ جو لوگ بنی اسرائیل سے کافر ہو گئے ان پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی ہے (انبیاء کی یہ نفرین اور لعنت) ان لوگوں کے گناہوں اور حد سے تجاوزکرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔

نکتہ:

حضرت داؤد علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اس لئے لعنت کی کہ ان لوگوں نے ہفتہ کے دن تعطیل کے دوران احکام خداوندی کی خلاف ورزی کی۔ اور حضرت عیسیٰ نے اس لئے ان پر لعنت کی کہ ان لوگوں نے اپنے اطمینان قلب کی خاطر آسمانی مائدہ کی درخواست کی اور حضرت عیسیٰ کی دعا کی وجہ سے وہ زمین پر اترا انہوں نے اس سے کھایا بھی لیکن پھر کفر اختیار کر لیا جس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان پر لعنت بھیجی۔ (تفسیر نمونہ)

پیام:

۱ ۔ بنی اسرائیل اونچی اور برتر نسل سے نہیں ہیں( لعن )

۲ ۔ انبیاء کی دعا قبول ہوتی ہے( علی لسان )

۳ ۔ انبیاء ہمیشہ شفیع ہی نہیں ہوتے، کبھی لعنت بھی بھیجا کرتے ہیں۔

۴ ۔ گناہ اور حد سے تجاوز اللہ کی لعنت کا سبب ہوتے ہیں( بماعصوا )

۵ ۔ حد سے تجاوز اور قانون شکنی بنی اسرائیل کا شیوہ تھا( کانوایعتدون )

۶ ۔ اے میرے محبوب پیغمبر! آپ نہ گھبرائیں، بنی اسرائیل نے بھی گزشتہ انبیاء کے دل خون سے بھر دیئے تھے۔

سورہ مائدہ آیت ۷۹

( کَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْکِرٍ فَعَلُوْهُ ط لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ )

ترجمہ۔ (حضرت داؤد اور جناب عیسیٰ کی بنی اسرائیل پر لعنت اس لئے تھی ان لوگوں نے گناہ اور حد سے تجاوز کیا تھا اور) وہ جو بھی برا کام کرتے تھے اس سے ایک دوسرے کو نہیں روکتے تھے، اور کس قدر برا کام تھا جو وہ انجام دیتے تھے۔

نکتہ:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں۔ "بنی اسرائیل کے نیک لوگ گناہ کی محفلوں میں شریک نہیں ہوا کرتے تھے لیکن مجرموں اور گناہگاروں کے ساتھ ہنستے مسکراتے اور ان سے انس و محبت کرتے تھے" (اس لئے عذاب میں مبتلا ہوئے)

(ملاحظہ ہو تفسیر نورالثقلین)

پیام:

۱ ۔ جو معاشرتی برائیوں کے بارے میں لاتعلق رہے وہ انبیاء کی زبانی ملعون ہے،( لعن--- لایتناهون )

۲ ۔ نہی عن المنکر صرف دین اسلام سے مخصوص نہیں( کانوالاتینا هون )

۳ ۔ نہی عن المنکر ہر ایک کے لئے برابر کا فریضہ ہے( لایتناهون )

۴ ۔ بنی اسرائیل اور یہودیوں میں برائیاں پھیل چکی تھیں( منکر فعلوه )

سورہ مائدہ آیت ۸۰

( تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنَّ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ )

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) ان (بنی اسرائیل) میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھو گے جو (مومنین کی بجائے) کفار سے محبت کرتے ہیں، انہیں دوست بناتے ہیں اور اپنا سرپرست سمجھتے ہیں۔ کس قدر بری چیز کو ان کا نفس (قیامت کے لئے) آگے بھیجتا ہے کہ خدا کی ناراضگی ان پر حاکم ہے اور وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔

نکتہ:

اس آیت میں بنی اسرائیل کے ملعون ہونے کی ایک اور دلیل پیش کی گئی ہے کہ یہ لوگ کفار کے ساتھ دوستی اور ولایت کی پینگیں بڑھائے ہوئے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ کفار کی ولایت کو اپنانا، خدا کے غیض و غضب اور ناراضگی کا موجوب ہے۔

۲ ۔ اہلِ کتاب، کفار کے تسلط اور دوستی کو تو قبول کر لیتے ہیں لیکن اسلام کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ رکھنا گوارہ نہیں کرتے۔ (انہوں نے ایک مرتبہ تو یہ تک بھی کہہ دیا کہ "ھٰولاء اھدیٰ من الذین امنوا" یعنی مشرکین کا راستہ تو مسلمانوں سے بہتر ہے) ملاحظہ ہو تفسیر مجمع البیان


آیت ۸۱

( وَلَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النّبِیِّ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لَکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ )

ترجمہ۔ اور اگر وہ خدا، پیغمبر اور جو کچھ پیغمبر کی طرف نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لے آئے تو پھر ہرگز کافروں کو اپنا سرپرست اور دوست نہ بناتے۔ لیکن ان میں سے بہت سے لوگ فاسق ہیں۔

نکتہ:

اس آیت کے کئی مصداق ہو سکتے ہیں۔

الف۔ اگر یہودی، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی کتاب تورات پر حقیقی معنوں میں ایمان لے آتے تو مشرکین کو ہرگز اپنا ولی قرار نہ دیتے۔ (تفسیر آلوسی)

ب۔ اگر کفار اور مشرکین مسلمان ہو جاتے تو یہودی ان کے ساتھ تعاون اور ہم کاری نہ کرتے۔ (تفسیر المیزان)

ج۔ اگر اہل کتاب یا منافقین یا خود مسلمان صحیح معنوں میں خدا اور سول پر ایمان رکھتے تو کفار کو اپنا ولی نہ بتاتے۔

پیام:

۱ ۔ اہلِ کتاب کا ایمان لانا اس قدر بعید ہے کہ اس بارے میں صرف آرزو ہی کی جا سکتی ہے۔( ولو )

۲ ۔ ہر وہ مشرک، منافق یا اہل کتاب جو دل کی گہرائیوں سے خدا اور رسول پر ایمان لے آئے کبھی اس بات کے لئے حاضر نہیں ہوتا کہ غیراللہ کی ولایت کا چولا اپنے گلے میں ڈالے۔

۳ ۔ ایمان اور کفار کی ولایت کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں، سازشی عناصر جو کفار کے تسلط اور غلبہ کو قبول کئے ہوتے ہیں بے دین اور فاسق ہیں۔

۴ ۔ فسق، ایمان سے مانع ہوتا ہے( لوکانوا یوٴمنون--- ولکن--- فاسقون )

۵ فسق اور بے ایمانی کفار کا تسلط قبول کرنے کا موجب ہیں۔

۶ ۔ مختلف قسم کے گمراہ لوگوں کے درمیان تعلقات کا اہم سبب ان کا کفر ہے، ان میں سے جو بھی اس حدود سے نکلے گا، دوسرے اسے فوراً چھوڑ دیں گے۔

۷ ۔ جو مدار حق سے نکل جائے گا، طاغوتوں اور کافروں کی گرفت میں چلا جائے گا۔ (فسق کے معنی کو پیش نظر رکھتے ہوئے)

آیت ۸۲

( لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُُوْ ا الْیَهُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّا نَصٰرٰی ط ذٰلِکَ بِاَنّ َمِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ )

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) تم یقیناً مومنین کا سر سخت ترین دشمن یہودیوں اور مشرکین کو پاؤ گے، اور (اس کے برعکس) مومنین کے ساتھ دوستی کے لحاظ سے ان سب میں سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ (دوستی) اس وجہ سے ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ عالم اور راہب (عابد) ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔

نکتہ:

اس آیت کے شان نزول کے باے میں مفسرین کہتے ہیں کہ: یہ آیت نجاشی بادشاہ حبشہ اور اس ملک کے دوسرے عیسائیوں کا وہ حسن سلوک ہے جو انہوں نے "ہجرت حبشہ" کے مہاجرین کے ساتھ روا رکھا۔ اور یہ ہجرت بعثت کے پانچویں سال حضرت جفعر طیار (ابن ابی طالب) کی سرکردگی میں عمل آئی۔ چنانچہ بعثت میں کچھ مسلمان حضرت جعفر طیار کی قیادت میں رسول پاک کے حکم سے مکہ سے ہجرت کرکے حبشہ پہنچے اور وہاں کے بادشاہ نجاشی نے پناہ دی اور وہ مشرکین اور ان کے دوسرے ہم پیمان لوگوں کی ایذارسانیوں سے محفوظ رہے۔

یہودیوں کی کیفیت تو یہ تھی کہ انہوں نے پیغمبر اسلام کے اس قدر عظیم معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اخلاق کو بھی ملاحظہ کیا لیکن پھر بھی ایمان نہ لائے، بلکہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے کئی طرح کی عہدشکنی کی اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکاتے رہے۔ جبکہ اس کے برعکس حبشہ کے نصرانی علماء نے سورہ مریم کی چند آیات کو سن کر گریہ بھی کیا اور مسلمانوں کی حمایت بھی کی (تفسیر مجمع البیان)

"قسیس" عربی میں نصرانی علماء کو کہتے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ دشمنانِ اسلام اور غیرمسلمین کی درجہ بندی ہونی چاہئے۔ اور ہر ایک کے ساتھ اس کے درجہ کے مطابق سلوک ہونا چاہئے۔

۲ ۔ تمہاری تبلیغ کا زیادہ تر رخ عیسائی حکومتوں کی طرف ہونا چاہئے۔

۳ ۔ عیسائی اگرچہ تثلیث جیسے گمراہ عقیدہ کے حامل ہیں لیکن ان کی قبولیت حق کے لئے آمادگی زیادہ ہوتی ہے۔

۴ ۔ کسی معاشرے کی ترقی کے تین بنیادی ستون ہیں۔ ۱ ۔ علما اور دانشمند افراد (قسیس) عبادت اور پرہیزگاری (رہبان) اور غیرمتکبرانہ مزاج۔

۵ ۔ مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں کی پرانی دشمنی چلی آ رہی ہے۔

۶ ۔ یہودی، اسلام کے سخت ترین دشمن ہیں۔

آیت ۸۳

( وَوَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ یَقُوْلُوْنَ رَبَّناَ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَٰهِدِیْنَ )

ترجمہ۔ اور جب وہ (عیسائی) ان آیات کو سنتے ہیں جو پیغمبر پر نازل ہوئی ہیں تو تم ان کی آنکھوں کو دیکھو گے کہ امر حق کے پہچاننے کی وجہ سے آنسو اس زور سے بہتے ہیں جیسے گویا جام چھلک رہا ہو۔ اور کہتے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لا چکے۔ پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ دے۔

نکتہ:

مسیحیوں کے اشک شوق کا ایک نمونہ تو اس وقت دیکھنے میں آیا جب جناب جعفر طیار نے حبشہ میں نجاشی کے سامنے سورہ مریم کی کچھ آیات کی تلاوت کی۔ اور دوسرا اس وقت جب کچھ عیسائی حضرت جعفر طیار کے ہمراہ مدینہ آئے اور سورہ یٰس کی کچھ آیات کو سنا۔ (تفسیر نمونہ)

پیام:

۱ ۔ جن لوگوں کے دل حق بات قبول کرنے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں تو وہ صرف حق بات سن کر ہی منقلب ہو جاتے ہیں۔ لیکن جو نااہل ہوتے ہیں وہ آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے)( اذاسمعوا )

۲ ۔ اشک شوق اگر معرفت کے ساتھ ہوں تو یہ کمال کی علامت ہوتے ہیں( مماعرفوا )

۳ ۔ انسان کی روح اور فطرت، حق و حقیقت کی شیدائی ہوتی ہیں جب بھی انہیں اپنے معشوق کا وصال ہوتا ہے فوراً اشک شوق جام چشم سے چھلک اٹھتے ہیں۔

۴ ۔ ایمان اور اقرار، معرفت کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔( مماعرفوا )

۵ ۔ سو سالہ راہ کو ایک ہی مرتبہ طے کرنا قابل قدر ہے۔ "سننا"( سموا ) ۔ "پہچان لینا"( عرفوا ) "اقرار کر لینا"( آمنا ) اور "آملنا"( مع الشٰهدین )

۶ ۔ ایمان اور اقرار کے ساتھ ہی دعا موثر ہوتی ہے( آمنا فاکثینا )

۷ ۔ عارضی اور وقتی ایمان بے سود ہے، پائیدار اور دائمی ہونا چاہئے( فاکتبنا )

۸ ۔ اہل ایمان آخری دم تک اپنی عاقبت بخیر ہونے اور ایمان کے محفوظ رہنے کے بارے میں ہر وقت متفکر رہیں اور دعا کرتے رہیں۔( فاکتبنا )

آیات ۸۴ تا ۸۶

( وَمَا لَناَ لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَماَ جَآءَ نَا مِنَ الْحَقِّ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلْنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ ه فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا ط وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ ه وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا اُوْلٰٓئٰکَ اَصْحَبُ الْجَحِیْمِ )

ترجمہ۔ اور (کہتے ہیں کہ) ہمیں کیا ہو گیا ہے کہ ہم خدا پر اور (ہر) اس حق پر ایمان نہ لائیں جو (اس کی طرف سے) ہمارے پاس آ چکا ہے اور اس بات کی امید رکھیں کہ ہمارا پروردگار ہمیں نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) پہنچا دے گا۔

پسند خداوند عالم نے انہیں اس بات (اور گواہی) کے صلہ میں ایسے باغات عطا فرمائے کہ جن (کے درختوں) کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کی یہی جزا ہے۔

اور جو لوگ کافر ہو گئے ہیں اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہے، وہ جہنمی ہیں۔

نکتہ:

جو لوگ حق بات سمجھ لینے کے بعد مردانہ وار اور صدق دل سے فراخدلی کے ساتھ اس کا اعتراف کر لیتے ہیں اور اپنے دین و ہم مسلک لوگوں کی پروا نہیں کرتے، وہ بہترین اور نیک لوگ ہیں۔ اس لئے کہ ایک تو وہ خود اپنے ساتھ نیکی کرتے ہیں اور اس طرح کہ اپنے آپ کو جہنم سے نجات دلاتے ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ اپنے اقرار کے ساتھ دوسروں کے لئے نیکی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

پیام:

۱ ۔ ارتقائی مراحل میں سے ایک مرحلہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے ضمیر کی طرف لوٹ آئے اور اپنے ضمیر سے سوال کرے۔( ومالنا--- ) ۴۷

۲ ۔ خارجی اثرات اور اعمال کے ذریعہ ہی بہشت کی توقع رکھی جا سکتی ہے( دامن القسومن )

۳ ۔ صرف مسلمان قوم ہی، صالح اور شائستہ قوم ہے( مع القوم الصٰلحین )

۴ ۔ خدا پر ایمان، وحی پر ایمان سے ہٹ کر نہیں ہے( بالله وما جائنا )

۵ ۔ ایمان کی جزا بہشت اور کفر و تکذیب کی سزا جہنم ہے۔

آیت ۸۷

( یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمَعْتَدِیْنَ )

ترجمہ۔ اے ایماندارو! پاک و پاکیزہ چیزوں کو جو خدا نے تمہارے لئے حلال کی ہیں اپنے اوپر حرام نہ کرو، اور حد سے آگے نہ بڑھو، یقیناً خدا حد سے آگے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

نکتہ:

ایک دن سرکار ختمی مرتبت نے روز قیامت اور عرصہ محشر کے بارے میں خطبہ ارشاد فرمایا جس کا لوگوں پر زبردست اثر ہوا اور بہت گریہ کاری ہوا اوران میں انقلاب برپا ہو گیا ان میں سے کچھ لوگوں نے تہیہ کر لیا کہ اب کے بعد نہ تو وہ اچھا کھانا کھائیں گے، نہ ہی آرام و راحت کریں گے روزے رکھیں گے، اپنی بیویوں سے جدا رہیں گے، رات کو کم سے کم سوئیں گے۔ اور پھر اس پر انہوں نے قسم بھی کھا لی۔

اس بات کی اطلاع سرکار رسالت کی بارگاہ تک پہنچی تو آپ نے لوگوں کو مسجد میں اکٹھا ہونے کا حکم دیا۔ جب سب جمع ہو گئے تو آپ نے ارشاد فرمایا: "میں کھانا کھاتا ہوں رات کو سویا کرتا ہوں، اپنی بیویوں سے الگ تھلگ نہیں رہتا، ہمارا دین گوشہ نشینی اور رہبانیت کا دین نہیں ہے، میری امت کی رہبانیت جہاد ہے، لہٰذا جو شخص میری سنت کے خلاف کرے گا، وہ مجھ سے نہیں ہے"

کچھ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے جو قسمیں کھا رکھی ہیں ان کا کیا بنے گا؟" اس پر بعد کی آیات نازل ہوئیں۔

پیام:

۔ اسلام دین و آئین فطرت ہے اور فطرت کشی حرام ہے( لاتحرموا طیبتا )

۔ گوشہ نشینی، رہبانیت (سادھوازم) افراط اور تفریط ممنوع ہے۔( لاتحزوا )

مسلمان تو امر الٰہی کا فرمانبردار ہے از خود حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرتا۔

۔ حلال خوراک، حلال پوشاک اور حلال لذات انسان کے لئے ہی پیدا کی گئی ہیں( حکم )

۔ حلال چیزوں سے استفادہ کرنے میں اسراف سے کام نہ لو( لاتعتداوا )

۶ ۔ جو نذر، عہد اور قسم قرآن کی صریح نہی کے خلاف ہو اس کا کوئی اعتبار اور قدر و قیمت نہیں ہے۔

آیت ۸۸

( وَ کُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰهُ حَلٰلاً طَیِّبًا وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْنَ اَنْتُمْ بِه مُؤْمِنُوْنَ )

ترجمہ۔ اور جو پاک و پاکیزہ روزی اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے اس سے کھاؤ اور اس خدا سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔

نکتہ:

قرآن مجید میں عام طور پر جہاں بھی "کلوا" کا لفظ آیا ہے اس کے ساتھ دوسری شرائط اور احکام بھی موجود ہیں۔ مثلاً

( کلوا--- واشکروا ) (کھاؤ۔۔۔ اور (خدا کا) شکرو کرو)

( کلوا--- ولاتطفعوا ) (کھاؤ۔۔۔ اور سرکشی نہ کرو)

( کلوا--- واعملوا ) (کھاؤ۔۔۔ اور نیک کام کرو)

( کلوا--- واطعموا ) (کھاؤ۔۔۔ اور دوسروں کو کھلا ؤ)

( کلوا--- ولاتتبعوا خطوات الشیطان ) ۔ (کھاؤ۔۔۔ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو)

حدیث پاک میں ہے کہ: "اللہ تعالیٰ ٰنے لوگوں کا پاک و پاکیزہ رزق معین کیا ہے، جب وہ حرام کی طرف رخ کرتے ہیں تو ان کے حلال رزق کا حصہ کم ہو جاتا ہے (از تفسیراطیب البیان)

پیام:

۔ حلال چیزوں سے استفادہ، تمہارے ایمان کے منافی نہیں ہے( یایها الذین امنوا--- کلوا ) ۔ )

۔ غذائی مسائل میں خوب غور و فکر سے کام لو( حلالا، طیبا، واتوا )

۔ تمہارا رزق خدا کے ہاتھ میں ہے لہٰذا جلدبازی، حرص اور حرام خواری سے دور رہو۔( رزقکم الله )

۔ تقوا ایمان کی علامت ہے( واتقوا الله الذی انتم به موٴمنون )

آیت ۸۹

( لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْ اَیْمَانِکُمْ وَلَکِنْ یُّؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمْ الْاَیْمَانَ فَکَفَّارَتُهٓ اِطْعَامُ عَشْرَةِ مٰسَکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْکُمْ اَوْ کِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةً ط فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ ط ذٰلِکَ کَفَّارَةُ اَیْمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ ط وَ احْفِظْ وَ اَیْمَانِکُمْ ط کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَکُمْ اٰیٰتِه لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْْنَ )

ترجمہ۔ اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری بے ہودہ (اور بغیر ارادہ کے کھائی جانے والی) قسموں کا مواخذہ نہیں کرے گا، لیکن جو قسمیں تم نے (تہہ دل سے) پختہ کرکے کھائی ہیں ان کا مواخذہ (ضرور) کرے گا۔ پس اس (قسم توڑنے) کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو اس کا اوسط قسم کا کھانا ہے یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنانا ہے یا ایک غلام کا آزاد کرنا ہے۔ پس جو شخص ایسا نہیں کر سکتا تو تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب بھی تم قسم کھاؤ۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو (اور ان کا کفارہ ادا کرو) اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنی آیات کو بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔

نکتہ:

بے ہودہ قسمیں وہ ہوتی ہیں جو:

قصد اور توجہ کے بغیر بے مقصد غصے اور طیش کی حالت میں غلط مقاصد کے لئے خلاف شرع کاموں کے لئے۔۔۔ کھائی جائیں۔ اس قسم کی قسموں کا کفارہ نہیں ہوتا۔ لیکن قصد اور ارادے کے تحت اور مفید کاموں کے لئے کھائی جانے والی قسموں کی پابندی ضروری ہوتی ہے ورنہ کفارہ کی ادائیگی ضروری ہو جاتی ہے۔

قسم کے کفارہ کے بارے میں بیان ہونے والی ایک قسم مسکینوں کو کپڑے پہنانا بھی ہے، جو ہر قسم کی پوشاک خواہ وہ سردی کے لئے ہو یا گرمی کے لئے مردوں کے لئے ہو یا عورتوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

"اوسط" (متوسط اور درمیانہ قسم) کے لفظ کی بعض لوگوں نے بہترین اور عمدہ قسم کی غذا کے معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے۔ جیسا کہ سورہ نٓ و القلم کی ایک آیت ہے کہ "قال۔ اوسطھم" یعنی ان کے بہترین اور بالاترین شخص نے کہا۔

پیام

۱ ۔ اسلام ایک آسان دین ہے اور غیرحتمی قسم کی قسموں کے لئے کفارہ مقرر نہیں کیا۔( لایوٴاخذکم ) ۔۔۔ )

۲ ۔ اسلام میں مالی جرمانہ بھی ہے( اطعام--- اوکسوتهم ) ۔۔۔ )

۳ ۔ اعتدال پسندی اور عدالت کی ہر جگہ حتیٰ کہ جرمانے کی نوعیت میں بھی اپنی قدر و قیمت ہے( من اوسط ) ۔ )

۴ ۔ جرمانہ، افراد کی مالی حالت کے مطابق ہونا چاہئے۔( تطعمون اهلیکم )

۵ ۔ جرمانے اور کفارہ میں افرا دکی روزمرہ اور معمول کی متوسط زندگی کو پیش نظر رکھنا چاہئے نا کہ استثنائی ایام کی زندگی کو( من اوسط )

۶ ۔ کفارہ کی ادائیگی میں فقراء کی شخصیت اور ان کے دلوں کو نہ توڑو اور انہیں اپنے خاندان کے افراد سمجھو۔( اهلیکم )

۷ ۔ ایک عالمی اور پائیدار دین کے قوانین اور سزاؤں کے جرمانوں میں بھی وسعت ہونی چاہئے۔ مثلاً غلام کا آزاد کرنا یا غریبوں کو کھانا کھلانا یا انہیں کپڑے پہنانا۔ ان میں سے جو بھی اور جس کے لئے بھی اور جہاں پر بھی قابل عمل ہو اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

۸ ۔ مجرم پر جرمانے کی راہیں تنگ نہ کرو اور اسے جرمانہ کی نوعیت (خوراک، لباس یا غلام کی آزادی) میں اختیار دو۔

۹ ۔ اپنی قسم توڑنے کی جرأت کی تلافی روزے کی سختی یا جرمانہ کی ادائیگی سے کرو۔ اسلام میں جرمانہ کی ادائیگی اور کفارہ انسان سازی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

۱۰ ۔ اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لئے ہر فرصت سے استفادہ کیا ہے( تحریر رقبة )

۱۱ ۔ قسم اور خدا کے مقدس نام کی حرمت کا خاص خیال رکھو یا تو قسم نہ کھاؤ، اگر قسم کھاؤ تو پھر اس پر عمل کرو یا پھر کفارہ ادا کرکے اس کی تلافی کرو( واحفظوا ایمانکم )

۱۲ ۔ ہم اپنی قسموں کے جوابدہ ہیں، سرمایہ دار یہ نہ سمجھیں کہ انہیں حق حاصل ہے جب چاہیں قسم کھا لیں اور جرمانہ ادا کر دیں۔( واحفظوا ایمانکم )

۱۳ ۔ جس شخص میں مالی توانائی نہیں ہے وہ جسمانی توانائی کو خرچ کرے( فصیام ثلثة ایام )

آیت ۹۰

( یٰٓاَ یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُوَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ )

ترجمہ۔ اے ایماندارو! شراب، جوا، بت اور قرعہ کے تیر تو پلیدی اور شیطانی کاموں میں سے ہیں لہٰذا تم ان سے اجتناب کرو ہو سکتا ہے کہ تم فلاح پا جاؤ۔

نکتہ

عربوں کو شعر، شراب اور جنگ سے خاصی وابستگی تھی اور شراب کی حرمت کا حکم بتدریج نازل ہوا۔

پہلے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ خرما اور انگور سے رزق و روزی بھی حاصل ہوتی ہے اور مست کرنے والی چیزیں بھی ہیں (نحل/ ۶۷) یہ اشارہ مست کرنے کی طرف جو اس کی برائی کو بیان کر رہا ہے۔ پھر جوا اور شراب کے فوائد اور فوائد سے زیادہ گناہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے (بقرہ/ ۲۱۹) پھر آیت نازل ہوئی کہ مستی کی حالت میں نماز نہ پڑھو (نسأ/ ۴۳) اور آخر میں زیرنظر آیت نازل ہوئی جس نے شراب کو نجاست، شیطانی کام اور حرام قرار دے دیا۔

"خَمر" اور "خُمر" کا ایک ہی رشتہ ہے۔ جن کا معنی ہے "چھپانا" اسی لئے عورت کے مقنعہ کو "خِمار" کہتے ہیں کیونکہ وہ سر کے بالوں کو چھپاتا ہے۔ اور شراب عقل پر پردے ڈال دیتی ہے۔

"مَیسر" کو "یُسر" (آسانی) کے لفظ سے لیا گیا ہے۔ چونکہ جوابازی میں لوگ کسی قسم کی تکلیف اور زحمت اٹھائے بغیر جوا کے ذریعہ رقوم اور پیسے کو حاصل کرتے ہیں۔

"ازلام" زمانہ جاہلیت میں لکڑیوں کے ذریعہ قرعہ اندازی کی ایک قسم ہے جس کا ذکر پہلے بھی ہو چکا ہے (مائدہ/ ۳) مزید تفصیل کے لئے مفصل تفاسیر کا مطالعہ کیا جائے)

پیام

۱ ۔ ایمان اور شر انجواری باہم سازگار نہیں ہیں( امنوا--- رجس فاجتنوبه )

۲ ۔ شراب اور جوا، بت پرستی کے مترادف ہیں( الخمر و المیسر و الانصاب ) ۴۸

۳ ۔ اسلام کے اوامر و نواہی دلیل اور حکمت کے بغیر نہیں ہیں( رجس فاجتنوبه )

۴ ۔ نہ صرف شراب نہ پیو بلکہ اس کے نزدیک بھی نہ پھٹکو۔ (اسی لئے "ل( اتشربوا ) " کی بجائے "اجنبوا" کہا ہے) ۴۹

۵ ۔ صاف ستھری اور پاک و پاکیزہ غذا انسان کی سعادت کے لئے موثر ہے( فاجتنبوه لعلکم تفلحون )

آیت ۹۱

( اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَوَةَ وَالْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یُصُدَّ کُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰهِ وَ عَنْ الصَّلٰوةِ فَهَلْ اَنْتُمْ مُنْتَهُوْنَ )

ترجمہ۔ شیطان تو بس چاہتا ہی یہی ہے کہ شراب اور جوا کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی اور کینہ ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد اور نماز سے روک دے۔ تو کیا تم (ان تمام برائیوں کی وجہ سے) باز آ جاؤ گے؟

نکتہ

اعداد و شمار کی رو سے بہت سے قتل، جرائم، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں گاڑیوں کا ٹکرا جانا، طلاقیں، ذہنی اور اندرونی بیماریاں وغیرہ شراب کی وجہ سے رونما ہوتی ہیں لیکن قرآن مجید نے اس کی حرمت کے فلسفہ کی دو بنیادی وجوہات پیش کی ہیں۔ ایک تو اجتماعی اور معاشرتی نقصان اور دوسرا معنوی نقصان (مثلاً عداوت اور نماز، یاد خدا سے غفلت)

پیام و نکات

۱ ۔ فلسفہ احکام کا بیان کلام کے موثر ہونے والے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔( انما یرید ) ۔۔۔ )

۲ ۔ کینہ کو وجود میں لانے والے تمام ذرائع سے نبردآزما رہنا چاہئے۔

۳ ۔ جو بھی تحرک یا جو بھی شخص لوگوں کے درمیان عداوت اور کینہ کا سبب بنتا ہے شیطانی ہے۔

۴ ۔ جو بھی کام یاد خدا اور نماز سے غفلت کا سبب بنتا ہے شراب اور جوئے کی مانند ناپسندیدہ ہے۔

۵ ۔ جہاں پر کینہ اور عداوت پیدا ہوں وہاں پر بہتر ہے کہ مالی اور مادی منفعت سے دستبرداری اختیار کر لینا ضروری ہے۔ خواہ یہ منفعت کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو!

۶ ۔ روحانی اور معنوی نقصانات، جسمانی اور مادی نقصانات سے زیادہ اہم ہیں۔ (اگرچہ شراب سے جسمانی نقصانات بھی ہوتے ہیں لیکن قرآن نے زیادہ زور عداوت اور یاد خدا اور نماز سے غفلت پر دیا ہے)

آیت ۹۲

( وَ اَطِیْعُو اللّٰهَ وَ اَطِیْعُو الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْ ا فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اِنَّمَا عَلَی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ )

ترجمہ۔ اور خدا کی اطاعت کرو اور پیغمبر کی فرمانبرداری کرو اور (نافرمانی سے) بچتے رہو۔ پس اگر تم نے روگردانی کر لی (اور اطاعت نہ کی) تو جان لو کہ ہمارے پیغمبر پر واضح اور روشن پیغام پہنچانے کے علاوہ اور کوئی (ذمہ داری) نہیں ہے۔

پیام و نکات

۱ ۔ حضرت رسول خدا کے سرکاری اور سیاسی احکام، فرامین الٰہی کی مانند ہیں جن کی اطاعت واجب ہے( اطیعوا الله ) کے ساتھ ساتھ اطیعوا الرسول ہے)

۲ ۔ واضح اور روشن طریقہ سے دعوت، جزو نبوت لیکن التماس اور چاپلوسی ہرگز نہیں۔( فان تولیتم--- علی رسولنا البلاغ المبین )

۳ ۔ انسان، راستے کے انتخاب میں آزاد ہے( فان تولیتم )

۴ ۔ نافرمانی اور روگردانی کرکے اپنی ذات کے علاوہ کسی اور کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔( انما علی رسولنا البلاغ المبین )

آیت ۹۳

( لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوالصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَاٰمِنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّا اَحْسَنُوْا ط وَاللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ )

ترجمہ۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام انجام دیئے ہیں ان پر کوئی جرح نہیں ہے کہ جو وہ (حرام ہونے سے پہلے) کھا چکے ہیں۔ اگر وہ تقویٰ اختیار کریں۔ اور ایمان دار ہوں، (اور اس ایمان پر پائیدار ہوں) نیک اعمال بجا لائیں پھر (حرام کردہ چیزوں سے) پرہیز کریں اور (ان کی حرمت پر) ایمان رکھیں پھر (حرام سے) پرہیز کریں اور نیکی کے کام کریں، اور خداوند عالم تو نیکی کا کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

دو نکات:

۱ ۔ شراب کو حرام کرنے والی آیت کے نزول کے بعد بعض مسلمان ان لوگوں کے بارے میں دریافت کرنے لگے جو شراب پیتے تھے اور ان سے پہلے فوت ہو چکے تھے، یہ آیت اسی کے جواب میں نازل ہوئی۔

۲ ۔ آیت میں دو مرتبہ ایمان اور عمل کو بیان کیا گیا ہے دو بار تقویٰ اور ایمان کو اور ایک مرتبہ تقویٰ اور ایمان کو۔ چنانچہ بعض مفسرین کے بقول یہ اس لئے کہ ہے کیونکہ ایمان اور تقویٰ کے مقامات، مراحل اور درجات مختلف ہیں اس لئے ان کا تکرار کیا گیا ہے (ملاحظہ ہو تفسیر نمونہ) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ: ان کا تکرار دراصل ایمان اور تقویٰ کے تسلسل کو بحال رکھنے کے لئے ہے۔

پیام

۱ ۔ جو مومنین اور صاحبان تقویٰ اس حکم سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کی اس بارے میں غلطی قابل عفو ہے۔

۲ ۔ انسان اس دنیا میں جو چیزیں استعمال کرتا ہے اگر ان کے ساتھ "ایمان"، "عمل"، "تقویٰ" اور "احسان" وہ تو حلال ہیں وگرنہ کفران نعمت ہے۔

۳ ۔ مادیات اور دنیا سے استفادہ کرتے وقت آخرت اور معنویات پر توجہ رکھنی چاہئے۔

۴ ۔ تقویٰ انسان کے لئے ایسے ہے جیسے انسانی جسم میں موجود رگوں میں خون ہوتا ہے۔

یعنی: استفادہ کرتے وقت تقویٰ( طمعوا اذاما اتقوا )

مذہب و مکتب میں تقویٰ(( ثم اتوا و امنوا )

خدمت میں تقویٰ( ثم اتقوا و احسنوا )

۵ ۔ آیت کہتی ہے کہ: کہاں سے لائے ہو؟( تقویٰ )

کہاں اور کس لئے خرچ کر رہے ہو؟( عمل صالح )

معاشرہ کے کچلے اور پسے ہوئے طبقہ یعنی محرومین کے ساتھ تمہارا کس حد تک تعلق ہے؟( احسان )

آیت ۹۴

( یٰٓاَیُّهُا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللّٰهُ بِشَیْ ءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُه اَیْدِیْکُمْ وَ رِمَا حُکُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُه بِالْغَیْبِ فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَهُ عَذَابٌ اَلِیْمٌ )

ترجمہ۔ اے ایماندارو! یقینا خداوند عالم تمہیں کسی ایسے شکار کے ذریعہ آزماتا ہے جس تک تمہارے ہاتھ اور نیزے جا پہنچتے ہیں اور یہ (آزمائش) اس لئے ہے تاکہ اسے معلوم ہو جائے کہ کون شخص باطنی طور پر اس سے ڈرتا ہے (اور اس کا فرمانبردار ہے اور شکار نہیں کرتا) لہٰذا اس کے بعد جو شخص حد سے تجاوز کرے گا اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔

نکات:

۱ ۔ ایام حج اور احرام کی حالت میں حاجی کو شکار کرنے کا حق حاصل نہیں ہے، انہی ایام میں بعض اوقات شکار کا جانور انسان کے اس حد تک نزدیک آ جاتا ہے کہ انسان جھپٹ کر اسے اپنے قابو میں لا سکتا ہے لیکن خدا کی آزمائش اس بات میں ہے کہ حاجی اس کا شکار نہ کرے۔

۲ ۔ قرآن مجید میں "پیٹ کا مسئلہ" خدا کی آزمائشوں میں سے ایک آزمائش بیان ہوا ہے۔ اور ا س کے کئی نمونے بیان ہوئے ہیں۔

الف: حضرت آدم اور جناب حوا غذا کے مسئلہ میں شکست کھا گئے۔ (جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے "( لا تقربا هذه الشجرة ) " یعنی اس درخت کے نزدیک مت جانا۔

ب: بنی اسرائیل ہفتہ کے دن مچھلی کے شکار کے شکست کھا گئے۔

ج: بنی اسرائیل کے لئے خدا کے مقررکردہ ایک دینی رہبر نے دریا سے گزرتے وقت اپنے لشکر والوں کو حکم دیا کہ دریا سے پانی نہیں پینا، لیکن سوائے معدودے چند لوگوں کے سب نے اس سے پیا۔ "( فشربوا منه الاقلیلاً ) "

د: روزہ رکھنا بھی بذات خود ایک آزمائش ہے۔

ھ: حالت احرام میں شکار کے جانور کا حاجی کے قریب آ جانا کہ جس کے شکار کا اسے حق حاصل نہیں ہے۔ آزمائش ہے۔

و: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری باوجودیکہ آپ سے اس قدر معجزات ملاحظہ کر چکے تھے پھر بھی وہ خدا کا امتحان کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے آسمانی مائدہ کی درخواست کی۔ اور خدا نے بھی وہ مائدہ کا نازل فرمایا: البتہ ساتھ ہی یہ دھمکی بھی دے دی کہ اس کے نازل ہو جانے کے بعد جو کفر اختیار کرے گا اسے عذاب دیا جائے گا۔ (اسی سورہ کی ایک سو پندرھویں آیت)

پیام

۱ ۔ امتحان و آزمائش خداوند عالم کا ایک قطعی اور قدیمی طریقہ کار ہے( لیبلونکم )

۲ ۔ آزمائش و امتحان ہوتا ہی مومنین کا ہے ورنہ کفار کا تو کوئی دعویٰ ہی نہیں ہوتا۔( یٰا یهاالذین امنوا لیبلونکم )

۳ ۔ خوف خدا کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب گناہ کے ذرائع موجو ہوں اور انسان گناہ نہ کرے۔( تناله ایدیکم )

۴ ۔ ضروری نہیں ہے کہ جو چیز تمہارے ہاتھوں تک پہنچ جائے وہ حلال بھی ہو اور اس پر تمہاری روزی بھی۔( تناله ایدیکم )

۵ ۔ تقویٰ کا دارومدار باطنی خوف پر ہے نا کہ ظاہری حیا و شرم پر( یخافه بالغیب )

۶ ۔ جو حاجی کئی کئی دن تک اور کئی کئی میل تک جنگلوں اور بیابانوں میں حق تعالیٰ کے عشق میں جلتا رہتا ہے بعض اوقات اسے ایک چھوٹا سا شکار پچھاڑ دیتا ہے اور حق تعالیٰ کی نافرمانی تک جا پہنچتا ہے۔

۷ ۔ ذمہ داری پیغام پہنچ جانے کے بعد عائد ہوتی ہے۔( بعد ذالک )

۸ ۔ بعض اوقات شکار کا شمار بھی حد سے تجاوز کے زمرہ میں آتا ہے۔

۹ ۔ جس سرزمین میں حضرت ابراہیم نے اپنے فرزند حضرت اسماعیل کی ذات کے بارے میں درگزر سے کام لیا وہاں پر تم بھی ایک شکار سے درگزر سے کام لو۔

۱۰ ۔ خود شکار کا دردناک عذاب نہیں ہے بلکہ عذاب کا موجب قانون شکنی ہوتی ہے۔

آیت ۹۵

( یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ ط وَمَنْ قَتَلَه مِنْکُمْ مُعْتَمِدًا فَجَزَآءُ مِثْلَ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِه ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ هَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَةِ اَوْ کَفَّارَةٌ طَّعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صَیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِه ط عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ ط وَمَنْ عَادَفَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ ط وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُوْا انْتِقَامٍ ) ہ

ترجمہ۔ اے ایماندارو! احرام کی حالت میں شکار نہ کرو۔ اور تم میں سے جو شخص جان بوجھ کر شکار کو قتل کرے گا تو اس کی سزا اور کفارہ چوپالوں میں سے اسی جیسا جانو رذبح کرنا ہے ۔ اور ( اس جیسا ہونے کے لئے) دو عادل گواہ فیصلہ کریں گے ۔ (یہ جانور ) ایک ہدیہ اورقربانی ہے جو کعبہ تک جا پہنچے ۔ (وہیں پر ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت وہاں کے غریبوں کو ملے) یا ذبح شدہ شکار کے برابر کفارہ ہے جو مسکینوں کے دیا جائے یا اس کے برابر روزے رکھے۔

(یہ تین طرح کا کفارہ اس لئے ہے ) تا کہ شکاری اپنے کئے ہوئے شکار کا مزہ چکھے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری اس سے قبل کی خلاف ورزیوں کو معاف کر دیا ہے (جب تک کفارہ کا قانون نہیں آیا تھا ) اور جو شخص ( شکار کے قتل کا ) اعادہ کرے گا خدا ہی اس سے انتقام لے گا ۔ اور اللہ تعالیٰ ناقابل شکست اور انتقام لینے والا ہے ۔

پیام

۱ ۔ حرم کعبہ کا امن وا مان اور اس کی حفاظت کرنی چاہئیے خواہ جانوروں کے لئے ہی ہو ۔( لا تقتلوا الصید )

۲ ۔ عمل سے زیادہ خطرناک جان بوجھ کر برائی کا قصد کرنا ، اس کا سوچنا اور اسے ہدف قرار دینا ہے۔( متعمدا )

۳ ۔ سزا منصفانہ ہونی چاہئیے ۔( مثل ما )

۴ ۔ سزا اور جرمانہ کا اجر ا سوچ سمجھ کر اور خوب غور و خوض کے ساتھ ہونا چاہئیے۔( یحکم به ذواعدل )

۵ ۔ جرمانی کی ادائیگی کے لئے مجرم کا ہاتھ کھلا چھوڑنا چاہئیے۔ (قربانی دے یا کھانا کھلائے یا روزے رکھے) اور اس کی جسمانی اور مالی توانائیوں کو پیش نظر رکھنا چاہئیے۔

۶ ۔ کعبہ کے باہر گناہ کے ارتکاب کا کفارہ بھی کعبہ کے باہر ہی ادا کرنا چاہئیے۔( بالغ الکعبة )

۷ ۔ خدا کی طرف سے مقر ر کردہ جرمانے تربیت کا پہلو رکھتے ہیں اور انسانی غرور کو توڑتے ہیں( وبال امره )

۸ ۔ قوانین کا اجراء رسمی طور پر قوانین کے اعلان کے بعد ہوتا ہے( عضی الله عماسلف )

۹ ۔ گناہ کا تکرار ‘ زبردست اور سخت سزا کا موجب بن جاتا ہے( ومن عماد ) ۔۔۔ )

آیت ۹۶

( اَحِلَّ لَکُمْ صَیْدَ الْبَحْرِ وَ طَعَامُه مَتَاعًا لَّکُمْ وَ لِلسِّیَّارَةِ وَ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدَ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ط وَاتَّقُوْا اللّٰهَ الَّذِیْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ ) ہ

ترجمہ۔ دریاکی شکار اور اس کی غذا تمہارے لئے حلال کر دی گئی ہے ۔ (یہ شکار اور خوراک ) تمہارے لئے اور قافلہ والوں کے لئے زادراہ ہے۔ اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہو خشکی کا شکار تمہارے لئے حرام ہے ۔ او راس خدا سے ڈرتے رہو جس کی طرف تمہیں محشور ہونا ہے۔

ایک نقطہ :

اس آیات کی رو سے احرام کی حالت میں دریا کی شکار اور اسکی غذا کا استعمال جائز ہے ۔ لیکن صحرائی جانوروں کا شکار اور ان کی غذا کا استعمال حرام ہے ۔ (ملاحظہ ہو تفسیر مجمع البیان اور دیگر فقہی کتابیں)

پیام

۱ ۔ احرام والے شخص کے لئے تمام راہیں بند نہیں کی گئیں( احل ----حرم )

۲ ۔ دریائی شکار یا غذا صرف ساحل نشینوں کے ساتھ خاص نہیں ہے( ولسیارة )

۳ ۔ ساحل نشینوں کو دریاسے استفادہ کرنے میں اولویت ضروری حاصل ہے( لکم و للسیارة )

۴ ۔ کسی چیز کا حلال یا حرام کرنا ہمیشہ کے لئے ذاتی نہیں ہوتا ، بلکہ بعض اوقات زمان اور مکان کی کیفیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ تاریخ اور جغفرایہ کے پیش نظر احکام الہیٰ مئوثر ہوں( وانتم حرم )

۵ ۔ قیامت اور معاد پر ایمان ہی تقوی کا موجب ہوتا ہے( واتقو الله الذی الیه تحشرون )

۶ ۔ انسانی آبادی کا کثرت سے اژدھام اور عبادی وسیاسی مراسم کی ادائیگی کو جانوروں کی نسل یا درختوں کی تباہی کا موجب نہیں ہونا چاہئیے۔

آیت ۹۷

( جَعَلَ اللّٰهُ الْکَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًالِلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ والْهَدْیَ الْقَلَائِدَ ذٰلِکَ لِتَعْلَمُْوْا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ للّٰهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عُلَیّمٌ ) ۔

ترجمہ۔ خداوند عالم نے کعبہ حرمت والے گھر کعبہ کو لوگوں کے لئے امر کے قیام کا ذریعہ قرار دیا ہے اور( اسی طرح)حرمت والا مہینہ اور بے نشان قربانیوں اور نشاندار قربانیوں کو بھی (لوگوں کے امر کے قیام کا ذریعہ بنایا ہے) یہ سب اس لئے ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور خداوند عالم ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

نکات:

"قیام" پائیداری کا ذریعہ ہے جس طرح خیمہ کے لئے ستوں اس کی پائیداری کا ذریعہ ہوتا ہے (سفطہ ہو مفردات راغب)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ کعبہ کو اس لئے "بیت الحرام " کہا گیا ہے کہ وہاں پر کفارکا داخلہ حرام ہے۔ (تفسیر نور التقلین)

کسی امر کے قائم اور پائیدار ہونے کے لیے چند چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ۱ ۔مرکزیت ۔ ۲ ۔ امن و امان ۳ ۔ غذا اور خوراک ۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ تینوں چیزیں کعبہ بیت الحرام میں مقر ر فرما دی ہیں ۔ کہ یہ جگہ مرکز مسلمین بھی ہے ۔ وہاں ہر کسی کو کسی قسم کے جھگڑے فساد کی اجازت بھی نہیں ۔ او رقربانی کا گوشت مسلمان کی غذابھی ہے۔

"ھُدی" بغیر نشانی والی قربانی کو کہتے ہیں او ر"قلائد " نشانی والی قربانیوں کو حرمت والے مہینے چار ہیں ۱ ۔ رجب ۲ ۔ ذیقعد ۳ ۔ ذی الحجہ اور ۴ محرم کو ان مہینوں میں جنگ ممنوع اور حرام ہے۔

اس مقام پر مسلمانوں کالا کھوں کا اجتماع جس میں نہ تو کسی قسم کا سرکاری پرٹوکول ہوتاہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی امتیاز روا رکھاجاتاہے ایک مقدس مقام پر لفظی اور عملی جدال اور نزاع سے پاک موحول اسلام کے امتیاز میں سے ایک ہے۔ اور اگر ہم حج کی دوسری برکتوں کو بھی مد نظر لے آئیں یعنی حج پر جاتے وقت یا حجاج کی واپسی پران سے ملاقات کے موقع پر مسلمانوں کا ایک دوسرے سے معافی طلب کرنا ، اپنے گناہ بخشوانا ، ایام حج میں تجارت کی رونق ، خمس و زکات کی ادائیگی، معار ف الہیٰ اوررنگ و نسل کا امتیاز کئے بغیر مختلف قوموں کی ایک دوسرے آشنا کی ، سب لوگوں کا توحید کے قدیم ترین مرکز میں اجتماع ، گریہ وزری صحرائے عرفات و شعر میں توبہ کرنا اور وہاں پر قیامت کی یاد دلوں میں رونا ‘ سیاسی مشقیں اور کفارے اظہار برائت اور اس قسم کی دوسری برکتوں کو نظر میں لے آئیں تو ہمیں اچھی طرح معلوم ہو جائے گا کہ حج کے یہ تمام جچے تلے پروگرام اور منصوبے ۔ خدا کے ایسے بے پایاں علم سے عمل میں آئے ہیں جو کائنات کی ہر چیز سے آگاہ ہے او رمحدود علم ہر گز اس قسم کے ہر کشش قوانین جاری نہیں کر سکتا۔

پیام

۱ ۔ "کعبہ " سب کے لئے ہے( للناس )

۲ ۔ مسلمانوں کا ثبات اور ان کی زندگی حج سے وابستہ ہے( قیاماللناس )

۳ ۔ امور کے قیام کے لئے اجتماعیت ‘ وحدت اور عبادت (کعبہ) قدس اور حرمت( بیت الحرام ) امن اور سکون (الشھرالحرام) نشاندار اور بے نشان کام( هدی و قلائد ) اور بقدر ضرورت غذا اور خوراک ضروری ہے

۴ ۔ کعبہ جو کہ حرمت والاگھر ہے سادہ پتھروں سے بنایا گیاہے اور یہ اس کی معنوی قدرو قیمت کی دلیل ہے ۔

۵ ۔ قانون سازی اورقوانین کے نفاذ کا حق اسے حاصل ہوتاہے جو تمام کائنات سے آگاہ ہوتاہے( یعلم مافی السموت و مافی الارض )

۔ احکام الہٰی کا سرچشمہ اس کا بے پایاں اور بیکراں علم ہے ۔ اگر تمہیں ان احکام کا فلسفہ نظر نہ آئے تو ا س کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ احکام ہی نا مناسب ہیں ۔ اس لئے کہ وہ خود انہی سے آگاہ ہے ۔( ذالک لتعلموا )

۷ ۔ خدائی قوانین کے بعض اسرار ور موز مستقبل میں واضح ہوں گے اور سمجھ میں آئیں گے( تعلموا )

۸ ۔ مسجد ہو یا قربانگاہ دونوں قیام و پائیداری کاموجب ہیں( کعبه ، هدی )

آیت ۹۸ ، ۹۹

( اِعْلَمُوْآ اَن اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ - مَاعَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ وَاللّٰهُ یَعْلَمُ مَاتُبْدُْونَ وَ مَاتَکْتُمُوْنَ ) ۔

ترجمہ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خدا وند عالم سخت عذاب دینے والا ہے اور اللہ تعالی یقینا بخشنے والااور مہربان ہے۔

پیغمبر پر سوائے (احکام الٰہی کے )پہنچانے کے اور کچھ نہیں اور اللہ تعالی جانتاہے جو کچھ کہ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو۔

پیام

۱ ۔ تشویق و ترغیب اور تہدیدو دھمکی ساتھ ساتھ ہونی چاہئیے( شدید العقاب ، غفورر حیم )


آیت ۱۰۶

ی( ٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ شَهَادَةُ بَیْنَکُمْ اِذَ ا حَضَرَ اَحْدُکُم َالْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةَ اِثْنٰنِ ذَوَاعَدْلٍ مِنْکُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِکُْمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ تَحْبِسُوْا بِهِمَا مِّنْ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ رْتَبَتُْم لاَنَشْتَرَی بِه ثَمَنًا وَلَوْ کَا نَ ذَالْقُرْبٰی وَ لَا نَکْتُمْ شَهَادَةَ اللّٰهِ اِنَّا اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ ) ۔

ترجمہ۔ اے ایماندارو! جب تم میں سے کسی شخص کے پاس موت (کی نشانی) آپہنچے تو اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو وصیت کے وقت شہادت اور گواہی کے لئے بلاؤ۔ اور اگر سفر کی حالت میں ہو اور موت کی مصیبت تمہارے پاس آجائے (اور کوئی مسلمان گواہ بھی نہ ہو) تو اپنے غیر(دینی) افراد کو گواہی کے لیے بلاؤاور اگر تمہیں ان (کی صداقت)میں شک ہو تو نماز کے بعد انہیں اپنے پاس روکے رکھو تا کہ وہ خدا کی قسم کھائیں کہ ہم حق کو کسی قسمت پر بیچنے کے لئے تیار نہیں ہیں خواہ تمہارے قریبی لوگ ہی کیوں نہ ہوں۔ اور اپنی خد الگتی گواہی نہیں چھپائے گے۔ (اگر ایسا نہیں کریں گے ) تو اس وقت ہم گناہگاروں میں سے ہوں گے۔

ایک نقطہ

"ابن ابی ماریہ" نامی ایک مسلمان " تمیم" اور " عدی نامی دو عیسائی بھائیوں کے ساتھ تجارت کی غرض سے سفر پر گیا۔ اور دوران سفر بیمار ہو گیا۔ اس نے وصیت نامہ لکھ کر اپنے سفر کے سامان میں چھپا کر رکھ دیا ۔ اور تمام مال و اسباب ان دو عیسائی بھائیوں کے حوالے کر دیا۔ تا کہ وہ اسے اس کے ورثا تک پہنچا دیں۔ جب وہ فوت ہو گیاتو ان دونوں بھائیوں نے اس کے سامان میں سے مرحوم کے خط ملاخطہ کیا تو اس میں تمام اشیاء کی تفصیل درجہ تھی ۔ چناچہ انہوں نے ان سے تمام چیزوں کا مطالبہ کیاتو انہوں نے دینے سے انکار کر دیا۔ ورثاء نے اس بات کی شکایت پیغمبراکرم سے کی، تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔

کافی کی حدیث کے مطابق آنحضرت نے ان دونوں عیسائیوں سے قسم لے کر انہیں بری کر دیا۔ لیکن جب خط کے ذریعے ان کا پول کھل گیا توآنحضرت نے انہیں دوبارہ بلایا ، اور متوفی کے ورثاء نے قسم کھائی کہ او رمال بھی تھا ، لہذا ان سے وہ قیمتی واپس لے لیں۔

پیام

۱ ۔ وصیت کے وقت مومن کو چاہئیے کہ اچھی طرح اورسوچ سمجھ کر تمام لازمی امور کو پیش نظر رکھے( یا ایهاالذین امنوا )

۲ ۔ موت سب لوگوں کے ایک جیسی ہے او رہرایک نے موت کا پیالہ پینا ہے( احدکم )

۳ ۔ قرب قوت وصیت کے لئے آخری فرصت ہے( حضراحدکم الموت ----الوصیته )

۴ ۔ حقوق الناس کی ادائیگی کے لئے گواہ ٹھہرایاکرو۔( شهادة بینکم )

۵ ۔ حقوق الناس کی ادائیگی کے لئے ایک گواہ پر اکتفانہ کرو( اثنان )

۶ ۔ حقوق الناس کے لئے ادا کرنے کے لئے ہر شخص پر اعتماد کرو( ذو اعدل )

۷ ۔ حقوق الناس کے اداکرنے کے لیے مسلمان گواہ موجود نہ ہوں تو غیرمسلم کے ذریعہ بھی کام کو مستحکم کر سکتے ہو( غیرکم )

۸ ۔ حقوق الناس کی رعایت ہر جگہ ضروری ہے اس کے لئے زمان اور مکان کی کوئی قید نہیں۔( ضربتم فی الارض )

۹ ۔ حق کی ادائیگی کے لئے ہر قسم کے شک کو دور کرو( ان ارتبتم )

۱۰ ۔ قسم ۔ شک کے دور کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ (( یقسمان )

۱۱ ۔ صرف "اللہ " کے نام سے کھائی جانے والی قسم قابل اعتماد اور فائدہ مند ہے( باالله )

۱۲ ۔ ملزم کو ایک مناسب وقت تک روکے رکھنا ضروری ہے( تحسبونهما )

۱۳ ۔ حق کی ادائیگی کے لئے فرصت کے بہترلمحات سے فائدہ اٹھانا چاہئیے( بعد الصواة )

۱۴ ۔ حصول زراور روپیہ پیسہ کا حصول گمراہ کرنے والے اسباب میں سے ایک ہے۔( تمنا )

۱۵ ۔ رشتہ داری اور قوم پروری بھی گمراہی کے اسباب میں سے ایک ہے( ذاقربیٰ )

۱۶ ۔ وحی کے ذریعہ جس "قسم نامہ " کا متن قرآن میں بیان ہوا ہے وہ صرف "حقوق الناس " کے بارے میں ہے۔( لا نشتری ) ۔)

۱۷ ۔ حق پوشی‘ عادل کو فاسق کر دیتی ہے ("( ذوا عدل ) " تبدیل ہو جاتے ہیں "آثمین ! میں)

آیت ۱۰۷

( فَاِنْ عُثِرَ عَلَی اِنَّهُمَا اسْتَحَقًّا اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَآ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَا اِنَّا اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ )

ترجمہ۔ پس اگر معلوم ہو جائے کہ (سفر میں غیر مسلوں نے ) گناہ او رخیانت کا ارتکاب کیاہے (اور ان کی قسم ناحق تھی) تو دوسرے دو (مسلمان ) شخص جو میت کے زیادہ قریبی ہیں اور ان پرظلم ہوا ہے قسم کھائیں گے کہ ہماری (مسلمان وارثوں کی) گواہی ان دو (غیر مسلموں) کہ گواہی سے حق کے زیادہ قریب ہے (جن کی خیانت ظاہر ہو چکی ہے اورکہیں گے کہ ) ہم نے (حق اور حد سے ) تجاوز نہیں کیا ۔ اور اگر تجاوز کریں گے تو یقینا ظالموں میں سے ہوں گے ۔

ایک نقطہ

واضح یاد کہ میت کے ورثاء کی گواہی اور قسم ان معلومات کی بناء پر ہو گی جو پہلے سے میت کے اموال کے بارے میں سفر کے دوران یا اس کے علاوہ رکھتے ہیں۔

پیام

۱ ۔ تمہیں تجسس اور جستحو کا حق حاصل نہیں ہے لیکن اگر معلومات حاصل ہوجائیں تو پھر طریقہ کار بدل جائے گا (بقول مفردات راغب جستجوکئے بغیر حاصل ہونے والی معلومات کو "عشر" کہتے ہیں)

آیت ۱۰۸

( ذَلِکَ أَدْنَی أَنْ یَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَی وَجْهِهَا أَوْ یَخَافُوا أَنْ تُرَدَّ أَیْمَانٌ بَعْدَ أَیْمَانِهِمْ وَاتَّقُوا اللهَ وَاسْمَعُوا وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ ) ۔

ترجمہ۔ یہ (طریقہ کا ر بہتری کے ) زیادہ قریب ہے کہ گواہی کو اچھے انداز میں پیش کریں یا انہیں خوف ہو کہ ان کے قسم کھانے کے بعد ‘ قسمیں (میت کے ورثاء کی طرف) پلٹا ئی جائیں گی او رخدا سے ڈرتے رہو او ر(اور اس کے فرامین کو) سفو ‘ اور خد ا وندعالم فاسق لوگوں کوہدایت نہیں کرتا۔

ایک نقطہ

یہ آیت گواہی دینے اور گواہ بنانے کے بارے میں اچھی طرح بوجھ سے کام لینے کے فلسفہ کو بیان کررہی ہے جو اس سے پہلے کی دو آیا ت میں ذکر ہوا ہے ، نماز کے بعد لوگوں کے سامنے قسم کھانا اس بات کا موجب بن جاتا ہے کہ گواہی سچی حقیقی اور واقعی ہو جھوٹی نہیں ہو گی ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ ان کی گواہی قابل قبول نہ ٹھہرے تو قسم او رگواہی نا قابل اعتبار ہو گی اور معاشرہ میں ان لوگوں کی رسوائی ہو گی ۔

پیام

۱ ۔ ایسے مراسم اور تکلفات جو حقوق النا س کے ضائع ہونے سے روکتے ہیں قابل قدر ہوتے ہیں ۔( ذلک ادنی )

۲ ۔ گناہ سے بچانے کے اسباب میں سے ایک سبب معاشرہ میں رسوائی کااندیشہ بھی ہے( او یخافو ا ن ترد ایمان )

۳ ۔ رہن سہن ایسااختیار کرو کہ کچھ لوگ تمہارے افطار و خیالات اور مال ودولت سے اس قدر باخبر ہوں کہ نا اہل اور نام عادل اپنی جھوٹی قسموں سے تمہاری کاوشوں کو ضائع مت کر سکیں۔ اور انہیں اس بات کا یقین ہو کہ اگر وہ غلط معلومات فراہم کریں گے تو ان سے بہتر لوگ صیح معلومات فراہم کر دیں گے ۔( ترد ایمان بعد ایمانهم )

۴ ۔ (اس قدر سختی کے باوجود بھی) تقویٰ اختیار کئے رہو۔

۵ ۔ غلط گواہی ، فسق کی علامت ہے( والله لا یهدی القوم الفسقین )

آیت ۱۰۹

( یَوْمَ یَجْمَعُ اللهُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُوا لاَعِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ )

ترجمہ۔ (یادکرو) اس دن (کو) جب خداوند عالم رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ لوگوں نے تمہیں کیسا جواب دیا؟ تو وہ کہیں گے ہمیں علم نہیں ہے تو ہی تمام غیبوں کو اچھی طرح جانتا ہے ۔

ایک نقطہ

حقیقی علم صرف خدا ہی کے پاس ہے او رجو شخص بھی کوئی علم رکھتا ہے اسی کی طرف سے رکھتا ہے جس طرح کہ غیب کو صرف وہی جانتاہے او راس کا علم جسے چاہتا وہی خود عطا کرتا ہے۔

پیام

۱ ۔ قیامت کے دن انبیاء سے بھی سوال ہو گا کہ لوگوں کا تمہارے ساتھ کیسا رویہ رہا؟( ماذااجتبنم )

۲ ۔ انبیاء علیھم السلام کا علم ، خدا کے علم کی نسبت نہ ہونے کے برابر ہے( لا علم لنا )

آیت ۱۱۰

( إِذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِی عَلَیْکَ وَعَلی وَالِدَتِکَ إِذْ أَیَّدتُّکَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَکَهْلًا وَإِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِیلَ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنْ الطِّینِ کَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِإِذْنِی فَتَنفُخُ فِیهَا فَتَکُونُ طَیْرًا بِإِذْنِی وَتُبْرِءُ الْأَکْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِی وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَی بِإِذْنِی وَإِذْ کَفَفْتُ بَنِی إِسْرَائِیلَ عَنْکَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُبِین )

ترجمہ۔ اس وقت (کو یاد کرو) جب اللہ تعالی نے حضرت سے فرمایا : میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تمہیں اور تمہاری والدہ کو دی ۔ جب کہ میں نے "رو ح القدوس "کے ذریعہ تمہاری تائید کی کہ تم نے گہوارہ میں (معجزہ کے ساتھ ) اور بزرگی میں (وحی کے ساتھ) لوگوں سے باتیں کیں۔ جب کہ میں نے تمہیں کتاب و حکمت انجیل کی تعلیم دی ‘ او راس زمانے (کو فراموش نہ کرو) جب تم میرے حکم کے ساتھ مٹی سے پرندے جیسے چیز بناتے اور اس میں پھونک مارتے تو وہ میرے حکم سے پرندہ ہو جاتا ۔ اور میرے ہی اذن سے مادر زاد اند ھے اور کوڑھی کو شفا دیتے او رجبکہ میرے ہی اذن سے مردوں کو زندہ کرتے (اور قبر سے باہر نکالتے ) اوراس وقت کو یاد کرو جب میں نے بنی اسرائیل (کے ظلم ۔۔۔کے ہاتھ )کو میں نے تم سے روکے رکھا۔ جب کہ تم ان کے لیے واضح اور روشن دلائل لے آئے ۔ اور ان میں سے کافر لوگوں نے (معجزہ کے بارے میں ) کہا یہ تو کھلم کھلا جادو کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔

نکات

اس آیت سے لے کر سورت کے آخر تک کی تما م آیات حضرت عیسی کے بارے میں ہیں۔

اس آیت میں حضرت عیسی کے بارے میں خداوند کے لطف و کر م کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں جن میں سر فہرست روح القدس کے ساتھ انکی تائید کو بیان کیا گیا ہے ۔

حضرت عیسی کی والدہ کو ملنے والی نعمت سے مراد شاید انہیں حضرت عیسی کے بارے میں ملنے والی خوشخبری اور ان کی فرشتو ں کے ساتھ ہونے والی گفتگو ہو(ملاخطہ ہو سورہ آل عمران آیات ۴۵ تا ۵۰ کہ جن کاآغاز و اذقالت الملائکہ یمریم سے ہوتا ہے)

پیام

۱ ۔ خداوند عالم کی اپنے اولیاء کو نعمتیں اور لطف و کرم کی یاد دہانی حق کی راہ پر چلنے والے افراد کے لئے تسلی اور دل گرمی کا موجب ہوتی ہے۔

۲ ۔ انبیاء کو بھی خدا کی نعمتوں کی یاد سے غافل نہیں رہنا چاہئیے۔

۳ ۔ عورت ایسے مقام تک پہنچ سکتی ہے کہ اس کا تذکرہ انبیاء کے ساتھ ساتھ ہو(علیک و علی والدتک) بلکہ عورت او راس کا پیغمبر بیٹادونوں خدا کی " ایک آیت شمار ہوتے ہیں جیسا کہ ایک اور آیت میں ہے "و جعلنا ھا وا نبھاآیتہ ۔۔۔یعنی ہم نے اس (مریم ) اور اس کے بیٹے (عیسی ) کو ایک آیت قرار دیا ہے۔۔

۴ ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے صرف ایک ہی گفتگو کے ساتھ اپنی نبوت کو بھی ثابت کر دیااو راپنی والدہ کی عفت و عصمت کو بھی۔

۵ ۔ ارادہ الٰہی، تجربہ ،قدرت اور زمانے کے گزرنے کی ضرورت کو حل کر دیتا ہے او رحضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بغیر کسی تجربے ، مشق او رزمانہ کے گزرنے کے طفلی میں بھی ٹھیک ٹھیک وہی باتیں کیں جو بڑھاپے میں کرتے رہے بچپن میں بچوں والی باتیں نہیں کیں۔( فی المهد و کهلا )

۶ ۔ انبیاء کو عالم ہونا چاہئیے( الکتاب ) صاحب بینش ہونا چاہئیے( الحکمته ) سابق انبیاء کے فرمودات کے جانتے ہوں( التو را ة ) اور جدید پیام کا حامل ہونا چاہئیے( الانجیل )

۷ ۔ تخلیق و پیدائش کی نسبت غیر اللہ کی طرف بھی دی جا سکتی ہے البتہ خدا کے اذن و حکم کے تحت۔( اذنحلق )

۸ ۔ اذن الٰہی ، مجسمہ سازی کے جوا ز کا موجب بنا ہے( باذنی )

۹ ۔ خدا کے خاص بندے بھی ولایت تکوینی رکھتے ہیں ("تخلق "تنفخ،" برء اور تخرج کے ساتھ حضرت کو خطاب کیا گیا ہے )

۱۰ ۔ حضرت کے اعجاز میں جہاں ان کی مسیحائی کو عمل دخل حاصل ہے وہاں مجسمہ سازی کا ہنر بھی اپنی خاص اہمیت رکھتا ہے( کهیئته الطیر--- فتنفخ )

۱۱ ۔ حضرت عیسی کی مسیحائی نے جماد کو تو قوت پر ورز عطا کر دی لیکن بنی اسرائیل کے دلوں کو طاقت پرورزنہ دے سکی۔

۱۲ ۔ جہاں شرک کا اندیشہ ہوتا ہے وہاں توحید کا تکرار ضروری ہو جاتا ہے ( "باذنی"کے کلمہ کا تکرار)

۱۳ ۔ جب خداوند عالم کو مردہ زندہ کرنے او ربیماروں کو شفا دینے کی قدرت عطا کر تا ہے تو لوگوں کا ان سے مدد مانگنا انبیاء اور ان کو رہنا و سیلہ قرار دینا بھی جائز ہونا چاہئے۔ (توسل اور وسیلہ بنانے کے مخالفین سے ہمارا سوال ہے کہ آیا یہ ممکن ہے کہ خداوند عالم کسی کو قدرت تو عطا کرے لیکن لوگوں کو ان کی طرف توجہ کرنے سے روک دے؟

۱۴ ۔ "رجعت" اور مردوں کا زندہ کرنا اسی دنیا میں بھی رونما ہو چکا ہے۔( تحرج الموتیٰ )

۱۵ ۔ بنی اسرائیل کا حضرت عیسیٰ کو زک پہنچانے اور قتل کرنے کا ارادہ خدا کی طرف سے ناکام ہو چکا ہے( کففت )

آیت ۱۱۱

( وَإِذْ أَوْحَیْتُ إِلَی الْحَوَارِیِّینَ أَنْ آمِنُوا بِی وَبِرَسُولِی قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ )

ترجمہ۔ اور (اس وقت کو یاد کرو) جب میں نے (عیسیٰ کے) حواریوں کی طرف وحی کی مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لے آؤ، تو انہوں نے کہا: ہم ایمان لے آئے اور گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں اور سر جھکا چکے ہیں۔

نکتہ

حواریوں کی طرف وحی سے مراد یا تو خود انہی کے دلوں میں الہام ہے یا حضرت عیسیٰ کے ذریعہ وحی کا پیغام ہے۔

پیام

۱ ۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ آمادہ دلوں کو الہام کرتا ہے۔

۲ ۔ خدا پر ایمان، رسول پر ایمان سے علیحدہ نہیں ہے( لی وبرسولی )

۳ ۔ جب ہدایت باطنی اور خدا کی طرف سے ہو تو گہری بھی ہوتی ہے اور وسیع تر اثر بھی کرتی ہے۔( اوحیت--- قالوا آمنا )

۴ ۔ اندرونی طرف سے خدائی نور کے بغیر ہدایت یا تو بے اثر ہوتی ہے یا بہت ہی کم اثر اور ناپائیدار ہوتی ہے۔

۵ ۔ لوگوں کے خدا کے الہامات اس لئے ہوتے ہیں کہ وہ انبیاء کی تصدیق و تائید کرتے ہیں ان کی اپنی ذات کی وجہ سے نہیں ہوتے( اوحیت--- آمنوا بی و برسولی )

۶ ۔ باطنی ایمان کی نشانی، زبانی اقرار و اظہار ہوتا ہے وہ اس طرح کہ قلبی ایمان زبانی نعروں کا پشت پناہ ہوتا ہے( واشهد باننا مسلمون )

آیت ۱۱۲ ، ۱۱۳

( إِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیعُ رَبُّکَ أَنْ یُنَزِّلَ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَاءِ قَالَ اتَّقُوا اللهَ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ -- قَالُوا نُرِیدُ أَنْ نَأْکُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَکُونَ عَلَیْهَا مِنْ الشَّاهِدِینَ )

ترجمہ۔ (اس وقت کو یاد کرو) جب حواریوں نے کہا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ! آیا تمہارا پروردگار (تمہاری دعا کے ساتھ) آسمان سے (غذا کا) دسترخوان ہمارے لئے اتار سکتا ہے؟ عیسیٰ نے کہا: اگر تم مومن ہو تو خدا سے ڈرو۔

انہوں نے کہا: (ہمارا کوئی غلط نظریہ نہیں ہے اور ہم بہانہ گیری سے کام لے رہے ہیں بلکہ) ہم چاہتے ہیں کہ اس سے کھائیں تاکہ ہمارے دل مطمئن ہو جائیں اور جان لیں (اور دیکھ لیں) کہ تم نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم آسمانی دسترخوان پر گواہ رہیں۔

چند نکات

اس سورت کو اسی آسمانی دسترخوان کی درخواست کی وجہ سے "مائدہ" کہتے ہیں۔

"مائدہ" کا معنی غذا بھی ہے اور "دسترخوان" بھی کہ جس پر غذا ہوتی ہے۔

چونکہ ان کے سوال کا انداز کسی حد تک غیرمودبانہ اور مہذبانہ تھا، اسی لئے انہیں "اتقوااللہ" کے ساتھ جواب ملا۔ ("یاروح اللہ" یا پھر "یا رسول اللہ" کہنے کی بجائے انہوں نے "یا عیسیٰ بن مریم" کہا۔ " آیا خدا مہربانی کرے گا؟ " کی بجائے انہوں نے کہا " آیا خدا اتار سکتا ہے" اور "ہمارا پروردگار" کہنے کی بجائے "تمہارا پروردگار" کہا۔ جو غیرمہذبانہ انداز گفتگو ہے)

پیام

۱ ۔ اگر بری نیت نہ بھی رکھتے ہو لیکن کسی سے گفتگو کرتے وقت مخاطب کے احترام کو پیش نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے ("( اتقواالله ) " کے ساتھ جوا)

۲ ۔ مومن شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ خدا کا امتحان کرے( هل یستطیع؟ )

۳ ۔ کسب و کار اور معاشی امور کو معجزہ سے وابستہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ تلاش و کوششیں اور توکل برخدا کرکے طبعی راستہ کو اختیار کرنا چاہئے۔ اور یہاں پر تو درخواست ہی صرف ایک وقت کے کھانے کی گئی ہے نا کہ ہمیشہ کے لئے غذا بھیجنے کی (مائدة)

۴ ۔ تقویٰ ایمان کی علامت ہے( اتقوا الله ان کنتم مومنین )

۵ ۔ اے رسول اسلام ! آپ کو ان لوگوں سے زیادہ توقع وابستہ نہیں کرنی چاہئے، باوجودیکہ حواریوں عیسیٰ کی طرف الہام بھی ہوتا تھا، ایمان اور اسلام کا اقرار بھی کرتے تھے پھر بھی ہم سے مفت کھانے اور اپنی حسب منشاء معجزہ کے بھی طلبگار ہوئے۔

آیت ۱۱۴

( قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللهُ مَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَاءِ تَکُونُ لَنَا عِیدًا لِأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَةً مِنْکَ وَارْزُقْنَا وَأَنْتَ خَیرُ الرَّازِقِین )

ترجمہ۔ مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا: خداوندا! پروردگارا! ہم پر آسمان سے غذا کا دسترخوان بھیج تاکہ ہماری موجودہ اور آئندہ نسل کے لئے جشن و عید اور تیری نشانی قرار پائے، اور روزی عطا فرما کیونکہ تو بہترین روزی دینے والا ہے۔

ایک نکتہ

قرآنی دعائیں ہر مقام پر "ربنا" کے ساتھ شروع ہوتی ہیں لیکن اس آیت میں دو کلمات "( اللهم ربنا ) " کے ساتھ شروع ہورہی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ یہ ایک نہایت ہی اہم واقعہ ہے اور اس کا انجام بہت سخت ہے۔

پیام

۱ ۔ اولیاء اللہ کی طرف سے دعا، توسل اور تقاضائے حاجت جائز ہے۔

۲ ۔ انبیاء علیہم السلام کے تمام لوگ اور ہر دور کی نسلیں پیش نظر ہوتی ہیں( لاولنا و اخرنا )

۳ ۔ خدائی نشانیوں سے ہمیشہ کے لئے سبق حاصل کرنا چاہئے( اولنا و اخرنا )

۴ ۔ قرآن کی رو سے عید اور جشن منانا جائز ہے (اولیاء اللہ کی ولادت اور رسول اکرم کی بعثت آسمانی مائدہ کے نزول سے کم اہمیت کی حامل نہیں)

۵ ۔ اللہ کے پیغمبر جناب عیسیٰ علیہ السلام دعا میں "کھانے کے مسئلے" کی بجائے مائدہ کے خدا کی نشانی ہونے کی طرف توجہ دی ہے( آیة منک )

۶ ۔ مومنین کے عذر اور ان کی توجیہ کو قبول کرو۔ (اس سے پہلی آیت میں مائدہ کے نزول کا سبب بتایا گیا ہے۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام) آسمانی مائدہ (دسترخوان) کی طلب اور دعا کے ساتھ ان کی درخواست اور عذر کو قبول فرمایا)

۷ ۔ لوگوں کی پیش کش اور تقاضوں کو پورا کرنا چاہئے (سابق آیت میں لوگوں کی طرف سے مائدہ کی درخواست کھانے اور اطمینان حاصل کرنے کے لئے تھی۔ اور کھانے کو مقدم رکھا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خدا سے مائدہ کی درخواست کی تاکہ عید و جشن بھی ہو اور لوگوں کو اطمینان بھی حاصل ہوجائے اور آیت و نشانی بھی قرار پائے اور لوگ اسے کھائیں بھی۔ عیسیٰ علیہ السلام نے عید کے لفظ کا بھی اضافہ کیا اور نشانی ہونے کو کھانے کے مسئلہ پر مقدم کیا)

۸ ۔ دوسروں کی سبک اور توہین آمیز تعبیرات کو اصلاح کرکے بیان کرنا چاہئے۔ (حواریوں کا سوال اس طرح تھا کہ "ھل یستطع ربک" کیا تیرا رب قدرت رکھتا ہے؟ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب دعا کی تو انہوں نے اس سے بلند تر مقصد کے لئے مائدہ کی درخواست کی اور جو باتیں یا توہین کا پہلو رکھتی تھیں انہیں حذف کر دیا)

۹ ۔ دعاؤں میں خداوند تعالیٰ کو دعا سے مناسب صفات کے ساتھ پکارا جائے (چونکہ "مائدہ" کی درخواست کی گئی تھی لہٰذا "خیرالرازقین" کا جملہ استعمال کیا گیا)

آیت ۱۱۵

( قَالَ اللهُ إِنِّی مُنَزِّلُهَا عَلَیْکُمْ فَمَنْ یَکْفُرْ بَعْدُ مِنْکُمْ فَإِنِّی أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لاَأُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِین )

ترجمہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں یقینا اس (مائدہ) کو تم پر نازل کروں گا، پس تم میں سے جو شخص اس کے بعد اس سے کفر اختیار کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ تمام جہانوں میں سے کسی ایک کو اس جیسا عذاب نہیں کروں گا۔

چند نکات

مائدہ کے نزول کی داستان جس طرح قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے انجیل میں اسی طرح نہیں ہے (تفسیر نمونہ)

بعض لوگوں کے بقول جب حوراریوں نے آیت کی تہدید (دھمکی) کو سنا تو انہوں نے اپنی درخواست واپس لے لی اور مائدہ نازل نہیں ہوا۔ لیکن ان کا یہ قول آیت اور روایات کے خلاف ہے (ملاحظہ ہو تفسیراطیب البیان)

روایات میں ہے کہ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد کچھ لوگ کافر ہو گئے تھے اور سور (خنزیر) کی صورتوں میں مسخ ہوگئے۔

پیام

۱ ۔ انبیاء کی دعا قبول ہوتی ہے( انی منزلها )

۲ ۔ جو لوگ علم و یقین اور شہود کی اعلیٰ منازل تک جا پہنچتے ہیں ان پر ذمہ داری بھی بھاری عائد ہو جاتی ہے اور ان کی خلاف ورزی کی سزا بھی سخت ہوتی ہے( فمن یکفر بعد ذالک--- ) یہ آیت لوگوں کو خبردار کرنے کے لئے سب سے زیادہ دھمکی آمیز آیت ہے۔

۳ ۔ معمول کی زندگی بسر کرنے والے خداوند عالم کے قہر و غضب سے بہت دور ہوتے ہیں۔

۴ ۔ خداوند عالم کا عذاب اور لطف و کرم کے مختلف درجات ہیں۔

۵ ۔ جن کی توقعات زیادہ ہوتی ہیں (آسمانی مائدہ) انہیں اصولوں کی پاسداری بھی زیادہ کرنا پڑتی ہے پہاڑ کی بلند چوٹیوں کے درے بھی خطرناک ہوتے ہیں۔

ضمنی طور پر معلوم ہونا چاہئے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے لئے آسمان سے غذا نازل ہوئی ہے تو روایات کے مطابق رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بھی بہشتی میوے اترے ہیں جن سے حضرت فاطمہ زہر اسلام اللہ علیہا کی پیدائش عمل میں آئی۔

آیت ۱۱۶

( وَإِذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِی وَأُمِّی إِلَهَیْنِ مِنْ دُونِ اللهِ قَالَ سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِی أَنْ أَقُولَ مَا لَیْسَ لِی بِحَقٍّ إِنْ کُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَلاَأَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِکَ إِنَّکَ أَنْتَ عَلاَّمُ ) ( الْغُیُوبِ )

ترجمہ۔ اور جس وقت اللہ نے فرمایا: اے مریم کے فرزند عیسیٰ ! آیا تونے لوگوں سے کہا تھا کہ"خدا کی بجائے مجھے اور میری والدہ دونوں کو معبود بناؤ؟ " (حضرت عیسیٰ نے) کہا: (خداوندا! تو پاک اور منزہ ہے میرے لئے مناسب نہیں ہے کہ میں کوئی ایسی بات کہوں میرے شایان شان نہیں ہے۔ اگر میں ایسی کوئی (غلط) بات کی ہے تو تُو اسے جانتا ہے۔ جو کچھ میرے دل و جان میں ہے تو اسے جانتا ہے، یہ میں ہوں کہ تیرے اسرار سے بے خبر ہوں یقیناً تو ہی ہر قسم کے غیب کو اچھی طرح جانتا ہے۔

چند نکات

اسی سورہ (مائدہ) کی ۱۰۹ ویں آیت میں ہے کہ "خداوند عالم انبیاء (علیہم السلام) کو قیامت میں اکٹھا کرکے فرمائے گا، لوگوں سے تم نے کیا جواب سنا؟" اور یہ آیت اسی دن کے لئے خدا اور عیسیٰ علیہ السلام کی گفتگو کو بیان کر رہی ہے۔

اگرچہ عیسائی حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو خدا نہیں جانتے لیکن ان کے مجسمہ کے سامنے ان لوگوں کا عبادت کرنا، حضرت مریم کو معبود قرار دینا ہے۔

پیام

۱ ۔ بعض اوقات "درے کہا جاتا ہے تاکہ دیوار سن لے" کے مصداق سوال اور سرزنش تو بے گناہ کو کی جاتی ہے تاکہ دوسرے لوگ خبردار ہو جائیں۔( ء انت قلت )

۲ ۔ "دون اللہ" شرک کی نشانی ہے نا کہ خدا کی نفی کی دلیل، یعنی خدا کے علاوہ عیسیٰ اور مریم کو معبود سمجھنا بھی شرک اور تثلیث ہے۔ (البتہ عیسائیوں کی موجود تثلیث باپ، بیٹا اور روح القدس ہے

۳ ۔ انسانوں کا دعوی الوہیت ایک غلط اور ناروا دعوی ہے( لیس لی بحق )

۴ ۔ انبیاء معصوم ہوتے ہیں( مایکون لی ان اقول ما لیس لی بحق )

۵ ۔ انبیاء اپنے ماننے والوں کے غلو سے بیزار ہیں( ان کنت قلة فقد علمته ) ۵۰

۶ ۔ گزشتہ انسانوں کی تمام گفتگو اور ان کے باطن کے تمام اسرار خدا کے لئے روشن، آشکار اور واضح ہے۔( فقد علمته، تعلم ما فی نفسی )

۷ ۔ خداوند عالم کی مقدس ذات کو ہر طرح کی ناروا اور غیرمودبانہ نسبت سے پاک و منزہ سمجھنا لازم اور ضروری ہے( سبحانک ) ۵۱

آیت ۱۱۷

( مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِی بِهِ أَنْ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّی وَرَبَّکُمْ وَکُنت عَلَیْهِمْ شَهِیدًا مَا دُمْتُ فِیهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی کُنتَ أَنْتَ الرَّقِیبَ عَلَیْهِمْ وَأَنْتَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ شَهِیدٌ )

ترجمہ۔ (عیسیٰ نے خدا سے عرض کیا) میں نے ان سے صرف وہی بات کی ہے جس کا تونے مجھے حکم دیا ہے۔ (میں نے ان سے کہا) کہ "خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے" اور جب تک میں ان کے درمیان رہا، ان (کے توحیدی افکار و عقائد) کا شاہد اور ناظر رہا۔ پس جب تونے مجھے (ان کے درمیان سے) اٹھا لیا تو تو خود ہی ان پر نگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔

پیام

۱ ۔ انبیاء علیہم السلام معصوم ہوتے ہیں، خدا کے حکم کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کرتے، خدا کی وحی میں کسی قسم کی تبدیلی اور تصرف نہیں کرتے۔

۲ ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے آپ کو دوسرے لوگوں کی طرح خدا کا دست پروردہ سمجھتے ہیں( ربی و ربکم ) ۵۲

۳ ۔ انبیاء علیہم السلام لوگوں کے اعمال کے ناظر ہیں( کنت علیهم شهیدا )

آیت ۱۱۸

( إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ )

ترجمہ۔ (عیسیٰ نے کہا خدوندا!) اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں معاف کر دے تو تو خود ہی غالب اور حکمت والا ہے۔

ایک نکتہ

حضرت ابوذر غفاری روایت کرتے ہیں: پیغمبر خدا ایک رات صبح تک اس آیت کی بار بار تلاوت کرتے رہے اور رکوع و سجود میں اسے پڑھتے رہے اور خدا سے اس قدر شفاعت کی درخواست کی کہ خدا نے انہیں عطا فرما دی (تفسیر مراغی) آنحضرت اس آیت کو تلاوت کرتے وقت اپنے مبارک ہاتھوں کو بلند کرکے درود کر امت کے حق میں دعا فرماتے تھے۔

پیام

۱ ۔ حضرت انبیاء کرام علیہ السلام بارگاہ رب العزت میں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔ ۵۳

۲ ۔ خدا کا کسی پر قہر و غضب یا لطف و کرم اس کی حکمت کی بنیاد پر ہے( الحکیم )

۳ ۔ دعا کی روش میں رحمت طلبی کو فراموش نہیں کرنا چاہئے( فانهم عبادک )

۴ ۔ تم اپنے فریضہ کو ادا کرتے رہو، انجام خدا کے ہاتھ میں ہے۔

۵ ۔ انبیاء علیہم السلام مقام شفاعت کے حامل ہیں لیکن کبھی گناہ اور جرم اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ انبیاء کو بھی کنارہ کشی اختیار کرنی پڑ جاتی ہے۔( ان تعذبهم فانهم عبادک )

آیت ۱۱۹ ، ۱۲۰

( قَالَ اللهُ هَذَا یَوْمُ یَنفَعُ الصَّادِقِینَ صِدْقُهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْأَنهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا أَبَدًا رَضِیَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ -- لِلَّهِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا فِیهِنَّ وَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ )

ترجمہ۔ اللہ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے کہ جس میں سچ بولنے والوں کو ان کا سچ فائدہ پہنچاتا ہے۔ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے (درختوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے خدا ان سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ کہ ان کے اندر ہے (سب) کی ملکیت اور حکومت خدا کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

پیام

۱ ۔ اگر اپنی صداقت کی وجہ سے مومنین کو دنیا میں مشکلات اور سختیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو آخرت میں ان کی یہی صداقت ان کے لئے کارساز اور کارآمد ضرور ہو گی۔

۲ ۔ صرف سچے لوگوں کو ہی فائدہ حاصل ہو گا، نا کہ سچ کا غلط دعویٰ کرنے والوں، نعرہ بازوں اور ریاکاروں کو۔

۳ ۔ جس چیز کو اہمیت حاصل ہے وہ ہے خود بندوں سے خدا کی رضا نا کہ بندوں کے کاموں سے، (کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے فاسد اور غلط قسم کے لوگ اچھے اچھے کام کرتے ہیں، ان کے کام تو اچھے ہوتے ہیں لیکن خود افراد خدا کے لئے قہر و غضب کا شکار ہو جاتے ہیں)( منهم )

۴ ۔ خدا کی رضا کے ساتھ ساتھ بہشت، باغات اور نہریں بہت بڑی کامیابی اور "فوز عظیم" ہے۔

۵ ۔ عبادت اسی ذات کے شایان شان ہوتی ہے جس کے قبضہ میں کائنات کی سلطنت اور قدرت مطلقہ ہے نا کہ عیسیٰ و مریم جیسے لوگوں کے۔

تمام شد سورہ مائدہ

حوالا جات ۔ فٹ نوٹس

۱ قرآن مجید تو مشرکین کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کی بھی پابندی کو لازم سمجھتا ہے ارشاد ہوتا ہے "واتموا الیھم العھد" ان سے کیا ہوا وعدہ پورا کرو۔

حتیٰ کہ فاجر قسم کے لوگوں کے ساتھ بھی کیا ہوا وعدہ پورا کرنا پڑتا ہے، جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث کتاب کافی جلد ۲ ص ۱۶۲ پر موجود ہے،

اسی طرح اس عہد و پیمان کو بھی پورا کرنا پڑتا ہے جو کسی مسلمان کے اشارے کے ساتھ کسی دشمن سے کیا جاتا ہے۔ مثلاً جہاں پر کوئی کافر کسی مسلمان کے اشارے سے مسلمانوں کے علاقہ میں داخل ہو جائے تو وہ امان میں ہوتا ہے۔

ملاحظہ ہو کتاب مستدرک الوسائل جلد ۲ ص ۲۵۰

۲ سورہ نسأ کی آیات ۱۵۴ اور ۱۵۹ اور سورہ انعام کی آیت ۱۴۵ کی طرف اشارہ ہے

۳ بحارالانوار جلد ۱۶ ص ۱۴۶

۴ مسلمان اسی فرسخ کا فاصلہ طے کرکے مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ پہنچے تاکہ حج کا فریضہ ادا کر سکیں لیکن کفار نے انہیں ایسا نہ کرنے دیا جس کے نتیجہ میں "صلح حدیبیہ" کا واقعہ پیش آ گیا، اب جبکہ مکہ فتح ہو چکا ہے تو ہمیں ان سے انتقام نہیں لینا چاہئے۔

۵ مثلاً اگر حصول علم ایک "بر" (نیکی) ہے تو اس کی راہ ہموار کرنا "تعاون علی البر" ہے، مثلاً مدارس دینیہ کی تشکیل، کتب خانوں کا قیام، لیبارٹریوں کی تاسیس، کتاب، ذرائع حمل و نقل، استاد کی تربیت، استاد اور شاگرد کی تشویق وغیرہ۔

۶ مثلاً شراب بنانے والوں کو انگور فروخت نہیں کرنے چاہئیں، ظالموں کو اسلحہ نہیں دینا چاہئے، سازشیوں کی سازشوں کو ناکام بنانا چاہئے، طاغوتی افراد اور حکمرانوں کو وسائل حمل و نقل حتیٰ کہ مکہ جانے کے لئے بھی سواری نہیں دینی چاہئے، کم ظرف لوگوں کو اہم رازوں سے مطلع نہیں کرنا چاہئے۔ اور گناہگار کے منہ پر ہنسنا نہیں چاہئے جس سے اسے گناہ میں تقویت ملے۔

۷ اس میں اہم نکتہ یہ مضمر ہے کہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۷۷ میں اسی "بر" (نیکی) کے مقامات بیان کئے گئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے "ولکن البرمن امن بالله والیوم الاخرو الملٰئکة والکتٰب والنبین و اتی المال علی حبه ذوی القربیٰ والیتٰمی و …واولئک هم المتقون " یعنی بر (نیکی) خدا، قیامت، انبیاء، آسمانی کتابوں اور فرشتوں پر ایمان اور معاشرہ کے محروم طبقوں کی دیکھ بھال اور قول و قرار اور معاہدوں کی پابندی اور تمام امور میں صبر و استقامت اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا نام ہے۔

بہت سی روایات میں نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مظلوم و محروم لوگوں کی امداد کی تاکید کی گئی ہے اور ظالموں کی مدد سے مدد و امداد سے روکا گیا ہے، یہاں پر ہم تبرک کے طور پر چند ایک احادیث کو ذکر کرتے ہیں۔

ایک مسلمان کی اولاد، ایک ماہ کے مستحبی روزوں اور اعتکاف سے افضل ہے (وسائل الشیعہ جلد ۱ ص ۳۴۵)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی کی اولاد کے لئے ایک قدم اٹھاتا ہے اس کا ثواب ایک بہادر مجاہد کے ثواب کے برابر ہے (وسائل الشیعہ جلد ۸ ص ۶۰۲)

ایک اور حدیث میں ہے کہ : جب تک انسان لوگوں کی امداد کرنے کی فکر میں رہتا ہے اس وقت تک اللہ تعالیٰ اس کی امداد کرتا رہتا ہے، (وسائل الشیعہ جلد ۸ ص ۵۸۶)

۸ زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق کسی جانور کو مشروط طریقہ پر خریدتے اور اسے ذبح کیا کرتے تھے، وہ یوں کہ دس تیروں کو ایک ترکش میں رکھتے تھے جن میں سے سات تیروں پر "جیت" کے لفظ اور تین پر "ہار" کے لفظ لکھا کرتے تھے، اس کے بعد قرعہ ڈال کر ہر ایک تیر کو ترکش سے باہر نکالتے تھے چنانچہ مذبوح جانور کا تمام گوشت ان سات آدمیوں کو مل جاتا تھا جن کے نام "جیت" کے تیر نکلتے تھے اور جانور کی قیمت ان تین آدمیوں کو ادا کرنا پڑتی جن کے نام "ہار" کے تیر نکلتے تھے۔ اور انہیں گوشت کا حصہ بھی نہیں ملتا تھا۔ اس قسم کے جانور کو قرآن نے "حرام" قرار دیا ہے، پس "ازلام" کا معنی ہو گا "قرعہ کی خاص قسم کی لکڑیاں"۔

۹ سورہ بقرہ / ۱۰۹ میں ہے کہ کفار اس بات کی طرف مائل تھے کہ مسلمانوں کو سیدھے راستے سے منحرف کیا جائے لیکن خداوند عالم نے حکم دیا ہے کہ: مسلمانو! چشم پوشی اور درگزر سے کام لو تاکہ خدا اپنا فرمان بھیجے، جس کی بنا پر مسلمان اللہ تعالیٰ کے ایک ایسے قطعی فرمان کے منتظر رہے کہ جس سے کفار مایوس ہو جائیں۔

۱۰ قرآن مجید میں ہے "فکفرت بانعم الله " یعنی ان لوگوں نے کفران نعمت کیا اور اللہ نے ان کے اعمال کے باعث انہیں بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا (نحل /۱۱۲)

۱۱ بت تو مجسموں کی شکل میں ہوتے تھے لیکن "نصب" بغیر کسی شکل و صورت کے پتھر ہوتے تھے جو خانہ کعبہ کے اطراف میں گڑھے ہوئے تھے جن کے پاس جانور ذبح کئے جاتے تھے اور ان کا خون ان پتھروں پر مل دیا جاتا تھا۔

۱۲ چونکہ جانور کی موت کے وقت اس کا خون ہی سب سے پہلے فاسد اور خراب ہو جاتا ہے اور ایک قسم کی زہر کو ایجاد کرتا ہے، اسی لئے جو جانور دم گھٹنے سے یا سینگ لگنے سے یا اوپر سے گرنے سے یا تشدد کی وجہ سے یا کسی جانور کے پھاڑ دینے کی وجہ سے مر جاتے ہیں ان کا خون مکمل طور پر باہر نہیں نکلتا لہٰذا اسلام نے ایسے جانوروں کے گوشت کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے (از تفسیر نمونہ)

۱۳ حدیث پاک میں "لاصلوٰة الابطهور " یعنی طہارت (اور وضو) کے بغیر نماز صحیح نہیں ہے۔

۱۴لا یمسه الاالمطهرون "

۱۵ حضرت امام رضا علیہ السلام فلسفہ وضو کے بارے میں فرماتے ہیں:یکون العبد طاهرا اذ اقام بین یدی الجبار " یعنی خدا کے حضور جانے کے لئے ایک قسم کا ادب اور پاکیزگی ہے، "مطیعاله فیما امره " یعنی ایک قسم کی اطاعت اور بندگی ہے۔ "نقیامن الادناس " یعنی پلیدی سے دوری ہے۔ "ذھاب الکسل و النعاس" یعنی سستی اور نیند کو دور کرنا ہے۔ "وتزکیة الغوأ و للقیام " یعنی نماز کے لئے روحانی نشو و نما اور آمادگی ہے۔ (ملاحظہ ہو کتاب وسائل الشیعہ جلد اول ص ۲۵۷، منقول از تفسیر نمونہ)

۱۶ مسند امام احمد بن حنبل جلد اول ص ۳۹۸ اور کئی دوسری کتابیں

۱۷ سورہ توبہ کی ۷۷ ویں آیت میں ہے کہ "عہدشکنی نفاق کے پیدا ہونے کا سبب ہوتی ہے"

۱۸ سورہ صف /۱۴

۱۹ ان کا خدا کا بیٹا اور خاص دوست ہونے کا دعویٰ انجیل یوحنا باب ۸ جملہ ۴۱ میں بھی آیا ہے۔

۲۰ انبیاء کا قتل، پیغمبر اسلام کے تشریف لانے کی خوشخبری کو چھپانا، کئے ہوئے عہد کی خلاف ورزی کرنا، آسمانی کتابوں میں تحریف کرنا، شہر میں جانے سے ڈرنا، گوسالہ پرستی، مختلف قسم کے حیلے بہانے بنانا، شکم پرستی، ایک جیسی غذا پر قانع نہ رہنا، یہ سب ان کے جرائم کی فہرست ہے، اور ان پر خدا کا قہر و غضب، ان کے سروں پر پہاڑ کا مسلط رہنا، چالیس سال تک دربدری، بندروں کی صورت میں ان کا مسخ ہو جانا، ذلت اور خواری وغیرہ کی صورت میں خدا کا ان کو سزا دینا۔

۲۱ نہج البلاغہ حکمت ۱۴۷

۲۲ تاریخ میں اس کی کئی تمثالیں ملتی ہیں ، مثلاً حضرت موسیٰ کا اپنی قوم سے جدا ہونا، انبیاء کا اعتکاف میں جانا، پیغمبر اکرم سے وحی کا رک جانا اور غیبتِ صغریٰ اور غیبت کبریٰ وغیرہ

۲۳ دریائے نیل سے گزر جانے کی نعمت، کوہ طور کے سایہ فگن رہنے کی نعمت، من و سلوٰی کے نزول کی نعمت، بارہ چشموں کے پھوٹنے کی نعمت اور اس کے علاوہ دوسری کئی نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل کو خصوصیت کے ساتھ عطا ہوئیں۔

۲۴ ایک اور مقام پر اس قوم کی زبانی ہم پڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے کہا "لاطقة لنا الیوم " یعنی آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر کے ساتھ مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ (لقرہ / ۲۴۹)

۲۵ فرعون کے طاغوتی نظام پر جان قربان کرنے والوں کو جو موسیٰ کی نہیں جانتے اس دنیا سے چلے جانا چاہئے اور نئی نسل کو وجود میں آنا چائہے جو آزاد فضا اور صحرائی مشکلات میں پروان چڑھے تاکہ اسے شہروں میں اور آسمانی رہبروں کے زیرسایہ زندگی بسر کرنے کی قدر معلوم ہو۔

حدیث شریف میں ہے کہ "وہ لوگ سرزمین "تیہ" ہی میں انتقال کر گئے اور ان کی اولاد سرزمین مقدس میں داخل ہوئی"

۲۶ سورہ انفال/۳۴ میں حضرت پیغمبر خدا کی دعوت کو معاشرے کی زندگی قرار دیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے "دعاکم لما یحییکم "

۲۷ ہاتھ اور پاؤں کے کاٹنے کی مقدار وہی ہے جو چور کے کاٹنے کی ہے، (یعنی ہاتھ کی انگلیاں) اور "مخالف طریقہ" سے مراد جو کہ آیت میں مذکور ہے یہ ہے کہ بالترتیب دائیں ہاتھ کی انگلیاں اور بایاں پاؤں یا بائیں ہاتھ کی انگلیاں اور دایاں پاؤں۔

۲۸ تفسیرالمیزان میں ہے کہ مذکورہ چار سزاؤں میں سے کسی کا انتخاب امام مسلمین کی صوابدید پر ہے اور اگر مقتول کے وارث معاف بھی کر دیں تب بھی ان میں سے کوئی ایک سزا ضرور ملے گی۔

۲۹ حضرات معصومین علیہم السلام کی روایات میں "وسیلہ" کا معنی "امام" کیا گیا ہے، اور کہا گیا ہے کہ "تقربوا بالامام" یعنی امام کے ذریعہ خدا کا قرب حاصل کرو، (ملاحظہ ہو تفسیر صافی) اور روایات میں ہے کہ "هم العروة الوئقی والوسیلة الی الله " یعنی ائمہ اطہار خدا کی طرف سے مضبوط سہارا اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں، (تفسیر صافی) "توسل" ایک ایسا موضوع ہے جس کے متعلق اہلنست کی بہت سی کتب مثلاً ضواعق محرقہ، سنن بیہقی اور صحیح دارمی وغیرہ میں روایات کو نقل کیا گیا ہے، نیز وفاء الوفاء جلد ۳ ص ۱۳۷۱ میں بھی نیز سورہ نسأ کی آیت ۶۴۔ سورہ یوسف کی آیت ۹۷ سورہ توبہ کی آیت ۱۱۴ میں بھی توسل کا ذکر موجود ہے۔

۳۰ سورہ حج /۲۲ میں بھی ہم پڑھتے ہیں: "کلما ارادوا ان غیرجوا منها من غم اعددوا منها " یعنی جب بھی وہ دوزخ کے غم سے نجات پانے کی خواہش کریں گے دوبارہ اسی میں پلٹا دیئے جائیں گے۔

۳۱ حدیث میں ہے کہ ایک چور نے جس کا ہاتھ چوری کے جرم میں کاٹ دیا گیا تھا پیغمبر خدا سے سوال کیا کہ آیا میرے لئے توبہ کا دروازہ بند تو نہیں ہو گیا؟ تو آنحضرت نے فرمایا: نہیں! بلکہ تو آج اس دن کی مانند ہے جس دن اپنی ماں کے پیٹ سے باہر آیا تھا۔ (تفسیرالمیزان)

۳۲ بعض لوگ ایسے مرجع کی تقلید کرتے ہیں جو ان کی مرضی کے مطابق فتوی دے یا ایسے عالم کے پاس جاتے ہیں یا عدالتوں کا رخ کرتے ہیں جو ان کی مرضی کی بات کریں یا فیصلہ دیں، آیت اس سے بھی روک رہی ہے،

۳۳ حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: "انا ربانی هذا الامة " یعنی میں اس امت کا ربانی ہوں (ملاحظہ ہو تفسیر مراغی) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "ربانیون، ائمہ اہل بیت ہیں" (تفسیر صافی) اور حضرت عبداللہ بن عباس کو " جرالامة" کا لقب دیا گیا ہے۔

۳۴ حضرت رسول خدا فرماتے ہیں، "جو شخص دو درہم کی مقدار تک میں بھی ناحق فیصلہ کرے گا وہ اسی آیت کے آخری جملہ "هم الکافرون " کے مصداق میں شامل ہو گا" (تفسیر صافی)

۳۵ البتہ مرد اور عورت کے، غلام اور آزاد کے، مسلمان اور کافر کے درمیان قصاص کے حکم میں فرق ہے جو فقہی کتابوں میں بیان ہوا ہے۔

۳۶ تورات سفر خروج فصل ۲۱, ۲۳, ۲۶

۳۷ انجیل متی فصل پنجم آیت ۱۷ میں ہے: "یہ گمان نہ کرو کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ توریت یا انبیأ کے صحیفوں کو باطل کروں بلکہ اس لئے آیا ہوں تاکہ ان کی تکمیل کروں"

۳۸ اسی سورت ۱۵ ویں آیت میں خدا فرماتا ہے کہ "قرآن نور ہے" اور ۴۴ویں آیت میں فرمایا ہے کہ "توریت نور ہے" اور زیرنظر آیت میں انجیل کو نور کہا ہے،

۳۹ قرآن مجید میں سترہ مرتبہ آسمانی کتابوں کی تصدیق کا ذکر ہوا ہے،

۴۰ یہود اور نصار ہی کا ذکر تو صرف نمونہ کے طور پر ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ کسی بھی قسم کے کافر کا تسلط قبول نہ کرو۔

۴۱ البتہ دوسری آیات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کفار کی غذا جو گوشت کے علاوہ ہے، یا کتابیہ عورت سے ازدواج موقت (متعہ) یا لین دین اور ان کے ساتھ صلح صفائی کے ساتھ رہن سہن جائز ہے، اور یہ مسائل کفار کے تسلط قبول کرنے کے معنی میں نہیں ہیں۔

۴۲ شیعہ اور سنی روایات میں ہے کہ: جنگ خیبر میں جب بھی کوئی مسلمان کمانڈر پرچم اسلام لے جاتا تھا وہ ناکام واپس آ جاتا تھا۔ آخرکار پیغمبر اسلام نے فرمایا: "میں کل اس شخص کو علم دوں گا جو خدا اور رسول کو دوست رکھتا ہو گا اور خدا اور رسول اسے دوست رکھتے ہوں گے، اور وہ فتح و کامرانی کے ساتھ واپس لوٹے گا" (احقاق الحق جلد ۳ ص ۲۰۰ ) اور علم علی بن ابی طالب کو عطا کیا۔

ملاحظہ ہو کتاب "الغدیر" جلد دوم اور احقاق الحق جلد ۲ ص ۴۰۰ اور کنزالعمال جلد ۶ ص ۳۹۱ اور دوسری بہت سی کتابیں،

۴۳ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: "غدیرخم میں حضرت علی علیہ السلام کے ۱۲ ہزار شاہد تھے، لیکن وہ اپنا حق نہ لے سکے جبکہ اگر کسی مسلمان کے صرف دو گواہ ہوں تو وہ بھی اپنا حق لے سکتا ہے" (تفسیر نورالثقلین)

۴۴ سابقہ آیت میں "ماکانوا یعملون " تھا اور اس آیت میں "ماکانوالیصنعون " ہے، علامہ محسن فیض کاشانی فرماتے ہیں: "صانع" اور ہوتا ہے اور "عامل" اور ہوتا ہے، "صانع" اسے کہتے ہیں جس نے تجربہ اور قدرت کے ساتھ کام سیکھا ہو اور کام اس کے لئے ایک خصلت اور ملکہ کی صورت اختیار کر چکا ہو۔"

۴۴- B سورہ اعراف آیت ۹۶ میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے

۴۵ اس آیت کا مفہوم آیت ۶۶ میں گزر چکا ہے

۴۶ اسی سے ملتی جلتی آیت سورہ بقرہ میں گزر چکی ہے یعنی آیت ۶۲۔

۴۷ سورہ یٰسین کی آیت ہے "وما لی لا اعبدالذی فطرنی " یعنی مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں اس ذات کی عبادت نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے

۴۸ حدیث شریف میں ہے "شارب الخمر کعابدالوئن" یعنی شراب خور انسان بت پرست کی مانند ہے۔

۴۹ شراب کے سلسلہ میں ہر طرح کا تعاون خواہ وہ پیداوار کی صورت میں وہ یا اس کے تقسیم کرنے اور استعمال کی صورت میں، حرام ہے، حضرت امام محمد باقر علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آنحضرت نے دس قسم کے لوگوں پر لعنت کی ہے جو کسی بھی طرح شراب خوری میں موثر واقع ہوتے ہیں، آپ فرماتے ہیں: نمازسها، حارسها، عاصرها، شاربها، ساقیها، حاملها، المحمول الیه، با یعها ومشتریها و آکل ثمرها " یعنی جو پودا لگاتا ہے، جو اس کی حفاظت کرتا ہے، جو اسے تیار کرتا ہے، جو اسے پیتا ہے، جو اسے پلاتا ہے، جو اسے اٹھاتا ہے، جو اسے وصول کرتا ہے، جو اسے خریدتا ہے جو کسی بھی طریقے سے اس کی آمدنی سے بہرہ مند ہوتا ہے ملعون ہے۔ (تفسیر نورالثقلین اس آیت کے ذیل میں)

۵۰ حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہو جائیں گے لیکن اس میں میرا کوئی قصور نہیں، ایک تو حد سے زیادہ محبت کرنے والے اور دوسرے بے مقصد دشمنی رکھنے والے۔ (تفسیر نورالثقلین اسی آیت کے ذیل میں)

۵۱ دوسری آیات میں ہے "قالا اتخذالرحمن ولدا سبحانه " (انبیاء /۲۶) "ویجعلون لله البنات سبحانه " (نحل /۵۷) ان آیات میں مشرکین کے عقیدہ کے مطابق خدا کو بیٹے اور بیٹیوں سے پاک و منزہ قرار دیا گیا ہے۔

۵۲ سورہ نسأکی آیت ۷۲ میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کی بندگی سے کسی قسم کا انکار ہرگز نہیں ہے۔

۵۳ خدا کے کاموں کے بارے میں اس سے سوال نہیں کیا جا سکتا، "لا یسئل عما یفعل" (انبیاء /۲۳)


فہرست

سورہ انعام ۴

آیت ۱ ۴

ایک نکتہ: ۴

نکات و پیام: ۵

آیت ۲ ۵

چند نکات: ۵

پیام: ۶

آیت ۳ ۷

ایک نکتہ: ۷

پیام: ۷

آیت ۴ ۔ ۵ ۸

دو نکتے: ۸

پیام: ۸

آیت ۶ ۹

ایک نکتہ ۹

پیام ۱۰

آیت ۷ ۱۱

چند نکات: ۱۱

پیام: ۱۱


آیت ۸ ۱۱

ایک نکتہ: ۱۲

پیام: ۱۲

آیت ۹ ۱۳

دو نکتے: ۱۳

پیام ۱۳

آیت ۱۰ ۱۳

ایک نکتہ: ۱۴

پیام ۱۴

آیت ۱۱ ۱۵

ایک نکتہ ۱۵

پیام: ۱۵

آیت ۱۲ ۱۵

چند نکات: ۱۶

پیام: ۱۶

آیت ۱۳ ۱۷

ایک نکتہ: ۱۷

پیام: ۱۷

آیت ۱۴ ۱۷

دو نکتے: ۱۸


پیام: ۱۸

آیت ۱۵ ۱۹

ایک نکتہ: ۱۹

پیام: ۱۹

آیت ۱۶ ۲۰

ایک نکتہ: ۲۰

پیام: ۲۰

آیت ۱۷ ۲۰

پیام ۲۱

آیت ۱۸ ۲۱

دو نکات ۲۱

پیام ۲۲

آیت ۱۹ ۲۲

چند نکات ۲۲

پیام ۲۳

آیت ۲۰ ۲۴

چند نکات: ۲۴

پیام ۲۴

آیت ۲۱ ۲۶

دو نکات: ۲۶


پیام: ۲۶

آیت ۲۲ ۲۶

چند نکات: ۲۷

پیام: ۲۷

آیت ۲۳ ۔ ۲۴ ۲۸

دو نکات: ۲۸

پیام: ۲۸

آیت ۲۵ ۲۹

چند نکات: ۲۹

پیام: ۳۰

آیت ۲۶ ۳۰

دو نکات: ۳۰

پیام ۳۱

آیت ۲۷ ۳۱

ایک نکتہ ۳۱

پیام ۳۲

آیت ۲۸ ۳۲

ایک نکتہ: ۳۲

پیام: ۳۲

آیت ۲۹ ، ۳۰ ۳۳


چند نکات: ۳۳

پیام: ۳۴

آیت ۳۱ ۔ ۳۲ ۳۵

چند نکات: ۳۵

پیام: ۳۶

آیت ۳۳ ۳۶

ایک نکتہ: ۳۶

پیام: ۳۷

آیت ۳۴ ۳۷

ایک نکتہ: ۳۷

پیام ۳۸

آیت ۳۵ ۳۸

ایک نکتہ: ۳۹

پیام: ۳۹

آیت ۳۶ ۴۰

ایک نکتہ: ۴۰

پیام: ۴۰

آیت ۳۷ ۴۰

دو نکات: ۴۱

پیام: ۴۱


آیت ۳۸ ۴۲

دو نکات: ۴۲

پیام: ۴۲

حیوانات کا شعور: ۴۳

آیت ۳۹ ۴۵

ایک نکتہ: ۴۵

پیام: ۴۵

آیت ۴۰ ۴۶

ایک نکتہ: ۴۶

پیام: ۴۶

آیت ۴۱ ۴۷

پیام: ۴۷

آیت ۴۲ ۴۷

ایک نکتہ: ۴۸

پیام: ۴۸

آیت ۴۳ ۴۸

پیام: ۴۹

آیت ۴۴ ۴۹

ایک نکتہ: ۴۹

پیام: ۴۹


آیت ۴۵ ۵۰

پیام: ۵۰

آیت ۴۶ ۵۱

ایک نکتہ: ۵۱

پیام: ۵۱

آیت ۴۷ ۵۲

دو نکات: ۵۲

پیام: ۵۳

آیت ۴۸ ، ۴۹ ۵۳

ایک نکتہ: ۵۴

پیام: ۵۴

آیت ۵۰ ۵۴

ایک نکتہ: ۵۵

پیام: ۵۵

آیت ۵۱ ۵۷

ایک نکتہ: ۵۷

پیام: ۵۷

آیت ۵۲ ۵۷

چند نکات: ۵۸

پیام: ۵۸


آیت ۵۳ ۵۹

دو نکات: ۵۹

پیام: ۶۰

آیت ۵۴ ۔ ۵۵ ۶۰

دو نکات: ۶۱

پیام ۶۱

آیت ۵۶ ۶۲

پیام: ۶۲

آیت ۵۷ ۶۲

چند نکات: ۶۳

پیام: ۶۳

آیت ۵۸ ۶۴

پیام: ۶۴

آیت ۵۹ ۶۵

دو نکات: ۶۵

پیام: ۶۵

آیت ۶۰ ۶۶

ایک نکتہ: ۶۶

پیام: ۶۶

آیت ۶۱ ۶۷


دو نکات: ۶۷

پیام: ۶۷

آیت ۶۲ ۶۸

ایک نکتہ: ۶۸

پیام: ۶۸

آیت ۶۳ ۔ ۶۴ ۶۹

دو نکات: ۶۹

پیام: ۶۹

آیت ۶۵ ۔ ۶۶ ۷۰

چند نکات: ۷۰

پیام: ۷۱

آیت ۶۷ ۷۱

پیام: ۷۲

آیت ۶۸ ۷۲

چند نکات: ۷۲

پیام: ۷۳

آیت ۶۹ ۷۳

دو نکات: ۷۴

پیام: ۷۴

آیت ۷۰ ۷۴


دو نکات: ۷۵

پیام: ۷۵

آیت ۸۱ ۷۷

ایک نکتہ: ۷۷

پیام: ۷۷

آیت ۸۲ ، ۸۳ ۷۷

چند نکات: ۷۸

پیام: ۷۸

آیت ۸۴ ۷۹

دو نکات: ۷۹

پیام: ۷۹

آیت ۸۵ تا ۸۷ ۸۰

چند نکات: ۸۰

آیت ۸۸ ۸۱

پیام: ۸۱

آیت ۸۹ ۸۲

دو نکات: ۸۲

پیام: ۸۳

آیت ۹۰ ۸۳

ایک نکتہ: ۸۳


پیام: ۸۳

آیت ۹۱ ۸۵

ایک نکتہ: ۸۵

پیام: ۸۵

آیت ۹۲ ۸۶

ایک نکتہ: ۸۶

پیام: ۸۶

آیت ۹۳ ۸۷

چند نکات: ۸۸

پیام: ۸۸

آیت ۹۴ ۸۹

دو نکات: ۸۹

پیام: ۸۹

آیت ۹۵ ۹۰

دو نکات: ۹۰

پیام: ۹۱

آیت ۹۶ ۹۱

دو نکات: ۹۱

پیام: ۹۲

آیت ۹۷ ۹۲


دو نکات: ۹۲

پیام: ۹۳

آیت ۹۸ ۹۳

دو نکات: ۹۳

پیام: ۹۴

آیت ۹۹ ۹۴

چند نکات: ۹۵

پیام: ۹۵

آیت ۱۰۰ ۹۶

دونکات: ۹۶

پیام: ۹۷

آیت ۱۰۱ ۔ ۱۰۲ ۹۸

ایک نکتہ: ۹۸

پیام: ۹۸

آیت ۱۰۳ ۹۹

دو نکات: ۹۹

پیام: ۱۰۰

آیت ۱۰۴ ۱۰۰

چند نکات: ۱۰۰

پیام: ۱۰۱


آیت ۱۰۵ ۱۰۲

پیام: ۱۰۲

آیت ۱۰۶ ۱۰۳

ایک نکتہ: ۱۰۳

پیام: ۱۰۳

آیت ۱۰۷ ۱۰۳

پیام: ۱۰۴

آیت ۱۰۸ ۱۰۴

ایک نکتہ: ۱۰۵

پیام: ۱۰۵

آیت ۱۰۹ ۱۰۶

ایک نکتہ: ۱۰۶

پیام: ۱۰۶

آیت ۱۱۰ ۱۰۷

پیام: ۱۰۷

آیت ۱۱۱ ۱۰۷

چند نکات: ۱۰۸

پیام: ۱۰۸

آیت ۱۱۲ ۱۰۸

ٓایک نکتہ: ۱۰۹


پیام: ۱۰۹

آیت ۱۱۳ ۱۱۰

دو نکات: ۱۱۰

پیام: ۱۱۱

آیت ۱۱۴ ۱۱۱

چند نکات: ۱۱۱

پیام: ۱۱۲

آیت ۱۱۵ ۱۱۲

ایک نکتہ: ۱۱۲

پیام: ۱۱۳

آیت ۱۱۶ ۱۱۳

ایک نکتہ: ۱۱۳

پیام: ۱۱۴

آیت ۱۱۷ ۱۱۴

ایک نکتہ: ۱۱۴

پیام: ۱۱۵

آیت ۱۱۸ ۱۱۵

دو نکات: ۱۱۵

پیام: ۱۱۶

آیت ۱۱۹ ۱۱۶


ایک نکتہ: ۱۱۷

پیام: ۱۱۷

آیت ۱۲۰ ۱۱۷

دو نکات: ۱۱۷

پیام: ۱۱۷

آیت ۱۲۱ ۱۱۹

چند نکات: ۱۱۹

پیام: ۱۱۹

آیت ۱۲۲ ۱۲۰

ایک نکتہ: ۱۲۰

پیام: ۱۲۱

آیت ۱۲۳ ۱۲۱

دو نکات: ۱۲۲

پیام: ۱۲۲

آیت ۱۲۴ ۱۲۲

ایک نکتہ: ۱۲۳

پیام: ۱۲۳

آیت ۱۲۵ ۱۲۳

دو نکات: ۱۲۴

پیام: ۱۲۴


آیت ۱۲۶ ۱۲۵

دو نکات: ۱۲۵

پیام: ۱۲۵

آیت ۱۲۷ ۱۲۶

پیام: ۱۲۶

آیت ۱۲۸ ۱۲۶

ایک نکتہ: ۱۲۶

پیام: ۱۲۷

آیت ۱۲۹ ۱۲۷

ایک نکتہ: ۱۲۸

پیام: ۱۲۸

آیت نمبر ۱۳۰ ۱۲۸

چند نکات: ۱۲۹

پیام: ۱۲۹

آیت ۱۳۱ ۱۳۰

ایک نکتہ: ۱۳۰

پیام: ۱۳۰

آیت ۱۳۲ ۱۳۱

ایک نکتہ: ۱۳۱

پیام: ۱۳۱


آیت ۱۳۳ ، ۱۳۴ ۱۳۱

ایک نکتہ: ۱۳۲

پیام: ۱۳۲

آیت نمبر ۱۳۵ ۱۳۲

پیام: ۱۳۳

آیت ۱۳۶ ۱۳۳

ایک نکتہ: ۱۳۴

پیام: ۱۳۴

آیت ۱۳۷ ۱۳۴

دو نکات: ۱۳۵

پیام: ۱۳۵

آیت ۱۳۸ ۱۳۶

چند نکات: ۱۳۶

پیام: ۱۳۷

آیت ۱۳۹ ۱۳۷

پیام: ۱۳۷

آیت نمبر ۱۴۰ ۱۳۸

چند نکات: ۱۳۸

پیام: ۱۳۹

آیت ۱۴۱ ۱۴۰


دو نکات: ۱۴۰

پیام: ۱۴۰

آیت نمبر ۱۴۲ ۱۴۱

چند نکات: ۱۴۱

پیام: ۱۴۲

آیت ۱۴۳ ۱۴۳

چند نکات: ۱۴۳

پیام: ۱۴۴

آیت ۱۴۴ ۱۴۴

ایک نکتہ: ۱۴۴

پیام: ۱۴۴

آیت ۱۴۵ ۱۴۵

چند نکات: ۱۴۵

پیام: ۱۴۶

آیت ۱۴۶ ۱۴۷

چند نکات: ۱۴۷

پیام: ۱۴۸

آیت ۱۴۷ ۱۴۸

پیام: ۱۴۸

آیت ۱۴۸ ۱۴۹


دو نکات: ۱۴۹

پیام ۔ ۱۴۹

آیت ۱۴۹ ۱۵۰

چند نکات: ۱۵۱

پیام: ۱۵۱

آیت ۱۵۰ ۱۵۲

چند نکات: ۱۵۲

پیام: ۱۵۲

آیت ۱۵۱ ۱۵۴

ایک نکتہ: ۱۵۴

پیام: ۱۵۴

آیت ۱۵۲ ۱۵۵

ایک نکتہ: ۱۵۶

پیام: ۱۵۶

آیت ۱۵۳ ۱۵۷

چند نکات: ۱۵۷

پیام: ۱۵۸

آیت ۱۵۴ ۱۵۸

ایک نکتہ: ۱۵۸

پیام: ۱۵۹


آیت ۱۵۶ ، ۱۵۶ ۱۵۹

چند نکات: ۱۶۰

پیام: ۱۶۰

آیت ۱۵۷ ۱۶۰

ایک نکتہ: ۱۶۱

پیام: ۱۶۱

آیت ۱۵۸ ۱۶۱

ایک نکتہ: ۱۶۲

پیام: ۱۶۲

آیت ۱۵۹ ۱۶۲

پیام: ۱۶۲

آیت ۱۶۰ ۱۶۳

چند نکات: ۱۶۳

پیام: ۱۶۴

آیت ۱۶۱ ۱۶۴

چند نکات: ۱۶۵

پیام: ۱۶۵

آیت ۱۶۲ ، ۱۶۳ ۱۶۶

دو نکات: ۱۶۶

پیام: ۱۶۶


آیت ۱۶۴ ۱۶۷

چند نکات: ۱۶۷

پیام: ۱۶۸

آیت ۱۶۵ ۱۶۹

دونکات: ۱۶۹

پیام: ۱۶۹

سورہ انفال ۱۷۰

آیت ۱ ۱۷۰

چند نکات: ۱۷۰

پیام: ۱۷۱

آیت ۲ ، ۳ ۱۷۲

ایک نکتہ: ۱۷۲

پیام: ۱۷۲

آیت ۴ ۱۷۳

ایک نکتہ: ۱۷۳

پیام: ۱۷۳

آیت ۵ ۱۷۴

ایک نکتہ: ۱۷۴

پیام: ۱۷۴

آیت ۶ ۱۷۵


ایک نکتہ: ۱۷۵

پیام: ۱۷۶

آیت ۷ ۱۷۶

چند نکات: ۱۷۶

پیام: ۱۷۷

آیت ۸ ۱۷۸

ایک نکتہ: ۱۷۸

پیام: ۱۷۸

آیت ۹ ۱۷۸

چند نکات: ۱۷۸

پیام: ۱۷۹

آیت ۱۰ ۱۸۰

چند نکات: ۱۸۰

پیام: ۱۸۰

آیت ۱۱ ۱۸۱

ایک نکتہ: ۱۸۱

پیام: ۱۸۲

آیت ۱۲ ۱۸۲

دو نکات: ۱۸۲

پیام: ۱۸۳


آیت ۱۳ ، ۱۴ ۱۸۳

پیام: ۱۸۴

آیت ۱۵ ۱۸۴

ایک نکتہ: ۱۸۴

پیام ۱۸۵

آیت ۱۶ ۱۸۵

چند نکات: ۱۸۵

پیام: ۱۸۶

آیت ۱۷ ۱۸۷

پیام: ۱۸۷

آیت ۱۸ ۱۸۸

ایک نکتہ: ۱۸۸

پیام: ۱۸۸

آیت ۱۹ ۱۸۸

ایک نکتہ: ۱۸۹

پیام: ۱۸۹

آیت ۲۰ ، ۲۱ ۱۹۰

ایک نکتہ: ۱۹۰

پیام: ۱۹۰

آیت ۲۲ ۱۹۱


دو نکات: ۱۹۱

پیام: ۱۹۱

آیت ۲۳ ۱۹۱

ایک نکتہ: ۱۹۲

پیام: ۱۹۲

آیت ۲۴ ۱۹۲

چند نکات: ۱۹۳

پیام: ۱۹۳

آیت ۲۵ ۱۹۴

چند نکات: ۱۹۵

پیام: ۱۹۵

آیت ۲۶ ۱۹۶

پیام: ۱۹۶

آیت ۲۷ ۱۹۶

ایک نکتہ: ۱۹۶

پیام: ۱۹۷

آیت ۲۸ ۱۹۸

ایک نکتہ: ۱۹۸

پیام: ۱۹۹

آیت ۲۹ ۱۹۹


چند نکات: ۱۹۹

پیام: ۲۰۰

آیت ۳۰ ۲۰۰

دو نکات: ۲۰۰

پیام: ۲۰۱

آیت ۳۱ ۲۰۲

چند نکات: ۲۰۲

پیام: ۲۰۲

آیت ۳۲ ۲۰۳

چند نکات: ۲۰۳

پیام: ۲۰۳

آیت ۳۳ ۲۰۴

دو نکات: ۲۰۴

پیام: ۲۰۴

آیت ۳۴ ۲۰۴

ایک نکتہ: ۲۰۵

پیام: ۲۰۵

آیت ۳۵ ۲۰۵

ایک نکتہ: ۲۰۶

پیام: ۲۰۶


آیت ۳۶ ۲۰۶

ایک نکتہ: ۲۰۶

پیام: ۲۰۷

آیت ۳۷ ۲۰۸

ایک نکتہ: ۲۰۸

پیام: ۲۰۸

آیت ۳۸ ۲۰۸

پیام: ۲۰۹

آیت ۳۹ ۲۰۹

دونکات: ۲۱۰

پیام: ۲۱۰

آیت ۴۰ ۲۱۰

پیام: ۲۱۱

آیت ۴۱ ۲۱۱

چند نکات : ۲۱۲

پیام: ۲۱۲

آیت ۴۲ ۲۱۴

دو نکات : ۲۱۴

سورت کی ابتدا سے ایک مرتبہ پھر جنگ بدر پر ایک نگاہ ۲۱۴

امدادالٰہی کی بہتر پہچان ۲۱۴


پیام: (آیت ۴۲) ۲۱۵

آیت ۴۳ ۲۱۶

چند نکات: ۲۱۶

پیام: ۲۱۷

آیت ۴۴ ۲۱۷

ایک نکتہ: ۲۱۸

پیام: ۲۱۸

آیت ۴۵ ۲۱۸

ایک نکتہ: ۲۱۸

پیام: ۲۱۹

آیت ۴۶ ۲۱۹

دو نکات: ۲۱۹

پیام: ۲۲۰

آیت ۴۷ ۲۲۰

دو نکات: ۲۲۰

پیام: ۲۲۱

آیت ۴۸ ۲۲۱

دو نکات: ۲۲۲

پیام: ۲۲۲

آیت ۴۹ ۲۲۳


دو نکات: ۲۲۳

پیام: ۲۲۳

آیت ۵۰ ، ۵۱ ۲۲۴

ایک نکتہ: ۲۲۴

پیام: ۲۲۴

آیت ۵۲ ۲۲۵

پیام: ۲۲۵

آیت ۵۳ ۲۲۵

ایک نکتہ: ۲۲۶

پیام: ۲۲۶

آیت ۵۴ ۲۲۷

ایک نکتہ: ۲۲۷

پیام: ۲۲۷

آیت ۵۵ ۲۲۸

چند نکات: ۲۲۸

پیام: ۲۲۸

آیت ۵۶ ۲۲۸

ایک نکتہ: ۲۲۹

پیام: ۲۲۹

آیت ۵۷ ۲۲۹


دو نکات: ۲۳۰

پیام ۲۳۰

آیت ۵۸ ، ۵۹ ۲۳۱

چند نکات: ۲۳۱

پیام: ۲۳۱

آیت ۶۰ ۲۳۲

ایک نکتہ: ۲۳۲

پیام: ۲۳۳

آیت ۶۱ ۲۳۶

پیام: ۲۳۶

آیت ۶۲ ۲۳۶

دو نکات: ۲۳۶

پیام: ۲۳۷

آیت ۶۳ ۲۳۷

پیام: ۲۳۸

آیت ۶۴ ۲۳۹

دو نکات: ۲۳۹

پیام: ۲۳۹

آیت ۶۵ ۲۴۰

دو نکات: ۲۴۰


پیام: ۲۴۰

آیت ۶۶ ۲۴۱

دو نکات: ۲۴۱

پیام: ۲۴۲

آیت ۶۷ ۲۴۲

دو نکات: ۲۴۳

پیام: ۲۴۳

آیت ۶۸ ۔ ۶۹ ۲۴۳

چند نکات: ۲۴۴

پیام: ۲۴۴

آیت ۷۰ ۲۴۴

چند نکات: ۲۴۵

پیام: ۲۴۵

آیت ۷۱ ۲۴۶

پیام: ۲۴۶

آیت ۷۲ ۲۴۶

دو نکات: ۲۴۷

پیام: ۲۴۷

آیت ۷۳ ۲۴۸

ایک نکتہ: ۲۴۸


پیام: ۲۴۹

آیت ۷۴ ۲۴۹

پیام: ۲۴۹

آیت ۷۵ ۲۵۰

دو نکات: ۲۵۰

پیام: ۲۵۰

حوالا جات ۔ فٹ نوٹس ۲۵۱

سورہ اعراف ۲۵۵

آیت ۱ ، ۲ ۲۵۵

الف۔ لام۔ میم۔ صاد ۲۵۵

ایک نکتہ ۲۵۵

پیام: ۲۵۵

آیت ۳ ۲۵۵

پیام: ۲۵۶

آیت ۴ ۔ ۵ ۲۵۶

چند نکات: ۲۵۶

پیام: ۲۵۷

آیت ۶ ۔ ۷ ۲۵۸

ایک نکتہ ۲۵۸

پیام: ۲۵۸


تفسیر: ۲۵۹

آیت ۸ ۲۶۰

پیام: ۲۶۰

آیت ۹ ۲۶۱

پیام: ۲۶۱

آیت ۱۰ ۲۶۱

پیام: ۲۶۲

آیت ۱۱ ۲۶۲

دو نکات: ۲۶۲

پیام: ۲۶۳

آیت ۱۲ ۲۶۳

ایک نکتہ: ۲۶۳

پیام: ۲۶۳

آیت ۱۳ ۲۶۴

پیام: ۲۶۴

آیت ۱۴ ۔ ۱۵ ۲۶۵

دو نکات: ۲۶۵

پیام: ۲۶۵

آیت ۱۶ ۔ ۱۷ ۲۶۶

دو نکات: ۲۶۶


پیام: ۲۶۷

آیت ۱۸ ۲۶۷

دو نکات: ۲۶۸

پیام: ۲۶۸

آیت ۱۹ ۲۶۸

دونکات: ۲۶۹

پیام: ۲۶۹

آیت ۲۰ ۲۶۹

چند نکات: ۲۶۹

پیام: ۲۷۰

آیت ۲۱ ۲۷۱

چند نکات: ۲۷۱

پیام: ۲۷۱

آیت ۲۲ ۲۷۱

چند نکات: ۲۷۲

پیام: ۲۷۲

آیات ۲۳ ۲۷۳

ایک نکتہ: ۲۷۳

پیام: ۲۷۴

آیت ۲۴ ۔ ۲۵ ۲۷۴


دو نکات: ۲۷۴

پیام: ۲۷۵

آیت ۲۶ ۲۷۶

دو نکات: ۲۷۶

پیام: ۲۷۶

آیت ۲۷ ۲۷۷

دونکات: ۲۷۸

پیام: ۲۷۸

آیت ۲۸ ۲۷۹

دونکات: ۲۷۹

پیام: ۲۷۹

آیت ۲۹ ۲۸۰

دو نکات: ۲۸۰

پیام: ۲۸۰

آیت ۳۰ ۲۸۱

پیام: ۲۸۱

آیت ۳۱ ۲۸۲

دو نکات: ۲۸۲

پیام: ۲۸۲

آیت ۳۲ ۲۸۳


چند نکات: ۲۸۴

پیام: ۲۸۵

آیت ۳۳ ۲۸۵

چند نکات: ۲۸۶

ُپیام: ۲۸۶

آیت ۳۴ ۲۸۶

ایک نکتہ: ۲۸۷

پیام: ۲۸۷

آیت ۳۵ ۔ ۳۶ ۲۸۷

پیام: ۲۸۸

آیت ۳۷ ۲۸۸

ایک نکتہ: ۲۸۹

پیام: ۲۸۹

آیت ۳۸ ۲۸۹

ایک نکتہ : ۲۹۰

پیام: ۲۹۰

آیت ۳۹ ۲۹۱

ایک نکتہ: ۲۹۱

پیام: ۲۹۱

آیت ۴۰ ۲۹۲


دو نکات: ۲۹۲

پیام: ۲۹۲

آیت ۴۱ ۲۹۳

چند نکات: ۲۹۳

پیام: ۲۹۴

آیت ۴۲ ۲۹۴

دو نکات: ۲۹۴

پیام: ۲۹۴

آیت ۴۳ ۲۹۵

دو نکات: ۲۹۵

پیام: ۲۹۵

آیت ۴۴ ۲۹۶

ایک نکتہ: ۲۹۷

پیام: ۲۹۷

آیت ۴۵ ۲۹۸

ایک نکتہ: ۲۹۸

پیام: ۲۹۸

آیت ۴۶ ۲۹۹

چند نکات: ۲۹۹

اہل اعراف کون ہیں؟ ۲۹۹


آیت ۴۷ ۳۰۰

دونکات: ۳۰۰

آیت ۴۸ ۳۰۰

پیام: ۳۰۱

آیت ۴۹ ۳۰۱

ایک نکتہ: ۳۰۱

پیام: ۳۰۱

آیت ۵۰ ۳۰۲

ایک نکتہ: ۳۰۲

پیام: ۳۰۲

آیت ۵۱ ۳۰۳

ایک نکتہ: ۳۰۳

پیام: ۳۰۳

آیت ۵۲ ۳۰۳

پیام: ۳۰۴

آیت ۵۳ ۳۰۴

دو نکات ۳۰۵

پیام ۳۰۵

آیت ۵۴ ۳۰۵

پیام ۳۰۶


آیت ۵۵ ۳۰۷

دو نکات ۳۰۷

پیام ۳۰۷

آیت ۵۶ ۳۰۸

چند نکات ۳۰۸

پیام ۳۰۹

آیت ۵۷ ۳۰۹

ایک نکتہ ۳۱۰

پیام ۳۱۰

آیت ۵۸ ۳۱۰

ایک نکتہ ۳۱۱

پیام ۳۱۱

آیت ۵۹ ، ۶۰ ۳۱۱

پیام ۳۱۲

آیت ۶۱ ۔ ۶۲ ۳۱۳

ایک نکتہ ۳۱۳

پیام ۳۱۳

آیت ۶۳ ۳۱۴

پیام ۳۱۴

آیت ۶۴ ۳۱۴


ایک نکتہ ۳۱۴

پیام ۳۱۵

آیت ۶۵ ۳۱۵

چند نکات ۳۱۵

پیام: ۳۱۵

آیت ۶۶ ، ۶۷ ۳۱۶

ایک نکتہ ۳۱۶

پیام ۳۱۶

آیت ۶۸ ۳۱۷

پیام ۳۱۷

آیت ۶۹ ۳۱۸

ایک نکتہ: ۳۱۸

پیام: ۳۱۸

آیت ۷۰ ۳۱۸

پیام: ۳۱۹

آیت ۷۱ ۳۱۹

پیام: ۳۲۰

آیت ۷۲ ۳۲۰

چند نکات: ۳۲۱

پیام: ۳۲۱


آیت ۷۳ ۳۲۱

چند نکات: ۳۲۱

پیام: ۳۲۲

آیت ۷۴ ۳۲۳

ایک نکتہ: ۳۲۳

پیام: ۳۲۳

آیت ۷۵ ۔ ۷۶ ۳۲۵

پیام: ۳۲۵

آیت ۷۷ ۳۲۵

دونکات: ۳۲۶

پیام: ۳۲۶

آیت ۷۸ ۳۲۶

دونکات: ۳۲۷

پیام: ۳۲۷

آیت ۷۹ ۳۲۷

ایک نکتہ: ۳۲۸

پیام: ۳۲۸

آیت ۸۰ ۔ ۸۱ ۳۲۸

چند نکات: ۳۲۹

پیام: ۳۲۹


آیت ۸۲ ۳۳۰

پیام: ۳۳۰

آیت ۸۳ ۳۳۰

پیام: ۳۳۱

آیت ۸۴ ۳۳۱

چند نکات: ۳۳۱

پیام: ۳۳۲

آیت ۸۵ ۳۳۲

چند نکات: ۳۳۳

پیام: ۳۳۳

آیت ۸۶ ۳۳۴

دونکات: ۳۳۴

پیام: ۳۳۴

آیت ۸۷ ۳۳۵

ایک نکتہ: ۳۳۵

پیام: ۳۳۵

آیت ۸۸ ۳۳۶

ایک نکتہ: ۳۳۶

پیام: ۳۳۶

آیت ۸۹ ۳۳۷


چند نکات: ۳۳۷

پیام: ۳۳۸

آیت ۹۰ ۔ ۹۱ ۳۳۸

دو نکات: ۳۳۹

پیام: ۳۳۹

آیت ۹۲ ۳۳۹

دونکات: ۳۴۰

پیام: ۳۴۰

آیت ۹۳ ۳۴۰

پیام: ۳۴۱

آیت ۹۴ ۳۴۱

ایک نکتہ: ۳۴۱

پیام: ۳۴۲

آیت ۹۵ ۳۴۲

ایک نکتہ: ۳۴۲

پیام: ۳۴۳

آیت ۹۶ ۳۴۳

چند نکات: ۳۴۴

پیام: ۳۴۵

آیت ۹۷ ۔ ۹۸ ۳۴۵


پیام: ۳۴۵

آیت ۹۹ ۳۴۶

ایک نکتہ: ۳۴۶

پیام: ۳۴۶

آیت ۱۰۰ ۳۴۷

پیام: ۳۴۷

آیت ۱۰۱ ۳۴۷

ایک نکتہ: ۳۴۷

پیام: ۳۴۸

آیت ۱۰۲ ۳۴۹

دو نکات: ۳۴۹

پیام: ۳۴۹

آیت ۱۰۳ ۳۵۰

چند نکات: ۳۵۰

پیام: ۳۵۰

آیت ۱۰۴ ۳۵۱

پیام: ۳۵۱

آیت ۱۰۵ ۳۵۱

پیام: ۳۵۲

آیت ۱۰۶ ، ۱۰۷ ۳۵۲


ایک نکتہ: ۳۵۲

پیام: ۳۵۳

آیت ۱۰۸ ۔ ۱۰۹ ۳۵۳

پیام: ۳۵۳

آیت ۱۱۰ ۳۵۳

ایک نکتہ: ۳۵۴

پیام: ۳۵۴

آیت ۱۱۱ ، ۱۱۲ ۳۵۴

ایک نکتہ: ۳۵۵

پیام: ۳۵۵

آیت ۱۱۳ ، ۱۱۴ ۳۵۵

پیام: ۳۵۵

آیت ۱۱۵۔۱۱۶ ۳۵۶

پیام: ۳۵۶

آیت ۱۱۷ ۳۵۷

چند نکات: ۳۵۷

پیام: ۳۵۷

آیت ۱۱۸ تا ۱۲۰ ۳۵۸

ایک نکتہ: ۳۵۸

پیام: ۳۵۸


آیت ۱۲۱۔۱۲۲ ۳۵۹

دونکات: ۳۵۹

پیام: ۳۵۹

آیت ۱۲۳ ۳۶۰

پیام: ۳۶۰

آیت ۱۲۴ ۔ ۱۲۵ ۳۶۱

چند نکات: ۳۶۱

پیام: ۳۶۱

آیت ۱۲۶ ۳۶۲

ایک نکتہ: ۳۶۲

پیام: ۳۶۳

آیت ۱۲۷ ۳۶۳

چند نکات: ۳۶۴

پیام: ۳۶۴

آیت ۱۲۸ ۳۶۴

ایک نکتہ: ۳۶۵

پیام: ۳۶۵

آیت ۱۲۹ ۳۶۵

ایک نکتہ: ۳۶۶

پیام: ۳۶۶


آیت ۱۳۰ ۳۶۷

ایک نکتہ: ۳۶۷

پیام: ۳۶۷

آیت ۱۳۱ ۳۶۷

چند نکات: ۳۶۸

پیام: ۳۶۸

آیت ۱۳۲ ۳۶۸

ایک نکتہ: ۳۶۹

پیام: ۳۶۹

آیت ۱۳۳ ۳۶۹

چند نکات: ۳۶۹

پیام: ۳۷۰

آیت ۱۳۴ ۔ ۱۳۵ ۳۷۱

دو نکات: ۳۷۱

پیام: ۳۷۱

آیت ۱۳۶ ۳۷۲

دونکات: ۳۷۲

پیام: ۳۷۲

آیت ۱۳۷ ۳۷۲

دونکات: ۳۷۳


پیام: ۳۷۳

آیت ۱۳۸ ۳۷۴

ایک نکتہ: ۳۷۴

پیام: ۳۷۴

آیت ۱۳۹ ۳۷۵

دونکات: ۳۷۵

پیام: ۳۷۵

آیت ۱۴۰ ۔ ۱۴۱ ۳۷۶

ایک نکتہ: ۳۷۶

پیام: ۳۷۶

آیت ۱۴۲ ۳۷۷

چندنکات: ۳۷۷

پیام: ۳۷۸

آیت ۱۴۳ ۳۸۰

چند نکات: ۳۸۰

پیام: ۳۸۱

آیت ۱۴۴ ۳۸۱

پیام: ۳۸۱

آیت ۱۴۵ ۳۸۲

ایک نکتہ: ۳۸۲


پیام: ۳۸۲

آیت ۱۴۶ ۳۸۳

پیام: ۳۸۳

آیت ۱۴۷ ۳۸۳

دونکات: ۳۸۴

پیام: ۳۸۴

آیت ۱۴۸ ۳۸۴

چند نکات: ۳۸۵

پیام: ۳۸۵

آیت ۱۴۹ ۳۸۶

پیام: ۳۸۶

آیت ۱۵۰ ۳۸۶

پیام: ۳۸۷

آیت ۱۵۱ ۳۸۸

پیام: ۳۸۸

آیت ۱۵۲ ۳۸۹

ایک نکتہ: ۳۸۹

پیام: ۳۸۹

آیت ۱۵۳ ۳۹۰

پیام: ۳۹۰


آیت ۱۵۴ ۳۹۰

چند نکات: ۳۹۰

پیام: ۳۹۱

آیت ۱۵۵ ۳۹۱

چند نکات: ۳۹۱

پیام: ۳۹۲

آیت ۱۵۶ ۳۹۴

چند نکات: ۳۹۴

پیام: ۳۹۴

آیت ۱۵۷ ۳۹۵

چند نکات: ۳۹۵

پیام: ۳۹۶

آیت ۱۵۸ ۳۹۷

چند نکات: ۳۹۸

پیام: ۳۹۸

سورہ اعراف آیت ۱۵۹ ۳۹۹

چند نکات: ۳۹۹

پیام: ۳۹۹

آیت ۱۶۰ ۳۹۹

چند نکات: ۴۰۰


پیام: ۴۰۱

آیت ۱۶۱ ۴۰۲

چند نکات: ۴۰۲

پیام: ۴۰۳

آیت ۱۶۲ ۴۰۳

چند نکات: ۴۰۳

پیام: ۴۰۴

آیت ۱۶۳ ۴۰۴

ایک نکتہ: ۴۰۴

پیام: ۴۰۵

آیت ۱۶۴ ۴۰۶

ایک نکتہ: ۴۰۶

پیام: ۴۰۷

آیت ۱۶۵۔۱۶۶ ۴۰۸

چند نکات: ۴۰۸

پیام: ۴۰۸

آیت ۱۶۷ ۴۰۹

ایک نکتہ: ۴۱۰

پیام: ۴۱۰

آیت ۱۶۸ ۴۱۰


ایک نکتہ: ۴۱۱

پیام: ۴۱۱

آیت ۱۶۹ ۴۱۱

دو نکات: ۴۱۲

پیام: ۴۱۲

آیت ۱۷۰ ۴۱۳

دو نکات: ۴۱۳

پیام: ۴۱۳

آیت ۱۷۱ ۴۱۵

چند نکات: ۴۱۵

پیام: ۴۱۶

آیت ۱۷۲ ۴۱۶

چند نکات: ۴۱۶

پیام: ۴۱۷

آیت ۱۷۳ ، ۱۷۴ ۴۱۷

پیام: ۴۱۸

آیت ۱۷۵ ۴۱۸

ایک نکتہ: ۴۱۸

پیام: ۴۱۹

آیت ۱۷۶ ۴۲۰


پیام: ۴۲۰

آیت ۱۷۷ ۔ ۱۷۸ ۴۲۱

چند نکات: ۴۲۱

پیام: ۴۲۲

آیت ۱۷۹ ۴۲۲

چند نکات: ۴۲۳

پیام: ۴۲۳

آیت ۱۸۰ ۴۲۴

چند نکات: ۴۲۴

پیام: ۴۲۶

آیت ۱۸۱ ۴۲۸

دو نکات: ۴۲۸

پیام: ۴۲۸

چند نکات: ۴۲۹

پیام: ۴۳۰

آیت ۱۸۴ ۴۳۱

ایک نکتہ: ۴۳۱

پیام: ۴۳۱

آیت ۱۸۵ ۴۳۲

ایک نکتہ: ۴۳۲


پیام: ۴۳۲

آیت ۱۸۶ ۴۳۳

پیام: ۴۳۳

آیت ۱۸۷ ۴۳۴

چند نکات: ۴۳۴

پیام: ۴۳۵

آیت ۱۸۸ ۴۳۵

پیام: ۴۳۶

آیت ۱۸۹ ۴۳۶

پیام: ۴۳۶

آیت۱۹۰، ۱۹۱ ۴۳۷

پیام ۴۳۸

آیت۱۹۲۔ ۱۹۳ ۴۳۹

ایک نکتہ ۴۳۹

پیام ۴۳۹

آیت ۱۹۴ ۴۴۰

ایک نکتہ ۴۴۰

پیام ۴۴۰

آیت ۱۹۵ ۴۴۰

دو نکات ۴۴۱


پیام ۴۴۱

آیت ۱۹۶ ۴۴۲

ایک نکتہ ۴۴۲

پیام ۴۴۲

آیت ۱۹۷ ۔ ۱۹۸ ۴۴۳

پیام ۴۴۳

آیت ۱۹۹ ۴۴۴

چند نکات ۴۴۴

پیام ۴۴۴

آیت ۲۰۰ ۴۴۵

دو نکات ۴۴۶

پیام ۴۴۶

آیت ۲۰۱ ۔ ۲۰۲ ۴۴۷

پیام ۴۴۷

آیت ۲۰۳ ۴۴۸

ایک نکتہ ۴۴۹

پیام ۴۴۹

سورہ اعراف آیت ۲۰۴ ۴۵۰

چند نکات ۴۵۰

پیام ۴۵۰


آیت ۲۰۵ ۴۵۱

چند نکات ۴۵۱

پیام ۴۵۱

سورہ اعراف آیت ۲۰۶ ۴۵۲

ایک نکتہ ۴۵۲

پیام ۴۵۲

حوالا جات ۔ فٹ نوٹس ۴۵۳

سورہ مائدہ ۴۶۰

مقدمہ: ۴۶۰

آیت ۱ ۴۶۰

پیام و نکات: ۴۶۱

آیت ۲ ۴۶۱

نکتہ: ۴۶۲

پیام: ۴۶۲

آیت ۳ ۴۶۳

نکتہ: ۴۶۴

پیام: ۴۶۶

قرآن میں رہبر کا مقام ۴۶۶

پیام: ۴۶۸

غذا کا زندگی کے ساتھ تعلق ۴۶۸


آیت میں مذکور گوشت خوری اور غذا کے حصول پر ایک نظر ۴۷۰

کچھ گوشت خوری کے بارے میں ۴۷۰

جواب: ۴۷۰

آیت ۴ ۴۷۱

نکتہ ۴۷۱

پیام ۴۷۱

آیت ۵ ۴۷۲

نکتہ: ۴۷۳

پیام ۴۷۴

آیت ۶ ۴۷۵

پیام ۴۷۶

آیت ۷ ۴۷۷

نکتہ: ۴۷۷

پیام: ۴۷۸

آیت ۸ ۴۷۹

نکتہ: ۴۷۹

پیام: ۴۷۹

آیت ۹ , ۱۰ ۴۸۰

نکتہ: ۴۸۱

پیام: ۴۸۱


آیت ۱۱ ۴۸۱

نکتہ: ۴۸۲

پیام: ۴۸۲

آیت ۱۲ ۴۸۲

نکتہ: ۴۸۳

پیام: ۴۸۳

آیت ۱۳ ۴۸۴

نکتہ: ۴۸۵

پیام: ۴۸۵

آیت ۱۴ ۴۸۵

نکتہ: ۴۸۶

پیام ۴۸۶

آیت ۱۵ ۴۸۷

پیام: ۴۸۷

آیت ۱۶ ۴۸۸

نکتہ ۴۸۸

پیام ۴۸۹

آیت ۱۷ ۴۹۰

نکتہ: ۴۹۰

پیام ۴۹۰


آیت ۱۸ ۴۹۱

نکتہ ۴۹۱

پیام ۴۹۲

آیت ۱۹ ۴۹۲

نکتہ ۴۹۲

پیام ۴۹۳

آیت ۲۰ ۴۹۳

پیام ۴۹۴

آیت ۲۱ ۴۹۴

نکتہ: ۴۹۴

پیام ۴۹۵

سورہ مائدہ آیت ۲۲ ۴۹۵

نکتہ ۴۹۵

پیام ۴۹۶

سورہ مائدہ آیت ۲۳ ۴۹۶

نکتہ ۴۹۶

پیام ۴۹۷

سورہ مائدہ آیت ۲۴ ۴۹۸

نکتہ: ۴۹۸

پیام: ۴۹۸


سورہ مائدہ آیت ۲۵ ۴۹۹

نکتہ: ۴۹۹

پیام: ۵۰۰

سورہ مائدہ آیت ۲۶ ۵۰۰

نکتہ: ۵۰۰

پیام: ۵۰۱

سورہ مائدہ آیت ۲۷ ۵۰۲

نکتہ ۵۰۲

پیام ۵۰۲

آیت ۲۸ ۵۰۴

پیام ۵۰۴

آیت ۲۹ ، ۳۰ ۵۰۴

نکتہ ۵۰۵

پیام : ۵۰۵

آیت ۳۱ ۵۰۶

نکتہ ۵۰۶

پیام ۵۰۶

آیت ۳۲ ۵۰۷

پیام: ۵۰۸

آیت ۳۳ ۵۰۹


نکتہ: ۵۱۰

پیام ۵۱۰

آیت ۳۴ ۵۱۱

نکتہ ۵۱۲

پیام ۵۱۲

آیت ۳۵ ۵۱۲

نکتہ ۵۱۲

پیام ۵۱۳

آیت ۳۶ ، ۳۷ ۵۱۳

پیام: ۵۱۴

آیت ۳۸ ۵۱۴

نکتہ: ۵۱۵

پیام و نکات: ۵۱۶

آیت ۳۹ ۵۱۷

نکتہ: ۵۱۸

پیام: ۵۱۸

آیت ۴۰ ۵۱۸

پیام: ۵۱۹

آیت ۴۱ ۵۱۹

پیام: ۵۲۰


آیت ۴۲ ۵۲۱

نکتہ: ۵۲۱

پیام: ۵۲۲

آیت ۴۳ ۵۲۲

پیام: ۵۲۲

آیت ۴۴ ۵۲۳

نکتہ: ۵۲۳

پیام: ۵۲۴

آیت ۴۵ ۵۲۵

نکتہ: ۵۲۵

پیام: ۵۲۵

آیت ۴۶ ۵۲۶

نکتہ: ۵۲۷

پیام: ۵۲۷

آیت ۴۷ ۵۲۷

نکتہ: ۵۲۷

آیت ۴۸ ۵۲۸

نکتہ: ۵۲۹

پیام: ۵۲۹

آیت ۴۹ ۵۳۰


نکتہ: ۵۳۰

پیام: ۵۳۰

آیت ۵۰ ۵۳۱

نکتہ: ۵۳۱

پیام: ۵۳۲

آیت ۵۲ ، ۵۳ ۵۳۲

پیام: ۵۳۳

آیت ۵۴ ۵۳۴

نکتہ: ۵۳۴

پیام: ۵۳۵

آیت ۵۵ ۵۳۵

نکتہ: ۵۳۶

پیام: ۵۳۷

آیت ۵۶ ۵۳۸

نکتہ: ۵۳۸

پیام: ۵۳۸

آیت ۵۷ ۵۳۹

پیام: ۵۳۹

آیت ۵۸ ۵۳۹

پیام: ۵۴۰


آیت ۵۹ ۵۴۰

پیام: ۵۴۰

آیت ۶۰ ۵۴۱

نکتہ: ۵۴۱

پیام: ۵۴۱

سورہ مائدہ آیت ۶۱ ۵۴۲

پیام: ۵۴۲

سورہ مائدہ آیت ۶۲ ۵۴۳

نکتہ: ۵۴۳

پیام: ۵۴۳

آیت ۶۳ ۵۴۳

نکتہ: ۵۴۴

پیام: ۵۴۴

آیت ۶۴ ۵۴۵

نکتہ: ۵۴۵

پیام: ۵۴۶

آیت ۶۵ ۵۴۸

پیام: ۵۴۸

آیت ۶۶ ۵۴۸

نکتہ: ۵۴۹


پیام: ۵۴۹

آیت ۶۷ ۵۵۰

نکتہ: ۵۵۰

پیام: ۵۵۳

آیت ۶۸ ۵۵۴

پیام: ۵۵۴

آیت ۶۹ ۵۵۵

نکتہ: ۵۵۵

آیت ۷۰ ۵۵۵

نکتہ: ۵۵۶

پیام: ۵۵۶

آیت ۷۱ ۵۵۶

نکتہ: ۵۵۷

پیام: ۵۵۷

سورہ مائدہ آیت ۷۲ ۵۵۸

نکتہ: ۵۵۸

پیام: ۵۵۸

آیت ۷۳ ۵۵۹

نکتہ: ۵۵۹

پیام: ۵۵۹


آیت ۷۴ ۵۶۰

پیام: ۵۶۰

آیت ۷۵ ۵۶۰

نکتہ: ۵۶۰

پیام: ۵۶۱

آیت ۷۶ ۵۶۱

پیام: ۵۶۲

آیت ۷۷ ۵۶۲

نکتہ: ۵۶۲

پیام: ۵۶۳

آیت ۷۸ ۵۶۳

نکتہ: ۵۶۳

پیام: ۵۶۴

سورہ مائدہ آیت ۷۹ ۵۶۴

نکتہ: ۵۶۴

پیام: ۵۶۵

سورہ مائدہ آیت ۸۰ ۵۶۵

نکتہ: ۵۶۵

پیام: ۵۶۶

آیت ۸۱ ۵۶۷


نکتہ: ۵۶۷

پیام: ۵۶۷

آیت ۸۲ ۵۶۸

نکتہ: ۵۶۸

پیام: ۵۶۹

آیت ۸۳ ۵۶۹

نکتہ: ۵۶۹

پیام: ۵۷۰

آیات ۸۴ تا ۸۶ ۵۷۰

نکتہ: ۵۷۱

پیام: ۵۷۱

آیت ۸۷ ۵۷۱

نکتہ: ۵۷۲

پیام: ۵۷۲

آیت ۸۸ ۵۷۲

نکتہ: ۵۷۳

پیام: ۵۷۳

آیت ۸۹ ۵۷۳

نکتہ: ۵۷۴

پیام ۵۷۴


آیت ۹۰ ۵۷۵

نکتہ ۵۷۶

پیام ۵۷۶

آیت ۹۱ ۵۷۷

نکتہ ۵۷۷

پیام و نکات ۵۷۷

آیت ۹۲ ۵۷۸

پیام و نکات ۵۷۸

آیت ۹۳ ۵۷۸

دو نکات: ۵۷۹

پیام ۵۷۹

آیت ۹۴ ۵۸۰

نکات: ۵۸۰

پیام ۵۸۱

آیت ۹۵ ۵۸۲

پیام ۵۸۲

آیت ۹۶ ۵۸۳

ایک نقطہ : ۵۸۳

پیام ۵۸۳

آیت ۹۷ ۵۸۴


نکات: ۵۸۴

پیام ۵۸۵

آیت ۹۸ ، ۹۹ ۵۸۵

پیام ۵۸۶

آیت ۱۰۶ ۵۸۷

ایک نقطہ ۵۸۷

پیام ۵۸۸

آیت ۱۰۷ ۵۸۹

ایک نقطہ ۵۸۹

پیام ۵۸۹

آیت ۱۰۸ ۵۸۹

ایک نقطہ ۵۹۰

پیام ۵۹۰

آیت ۱۰۹ ۵۹۰

ایک نقطہ ۵۹۱

پیام ۵۹۱

آیت ۱۱۰ ۵۹۱

نکات ۵۹۲

پیام ۵۹۲

آیت ۱۱۱ ۵۹۳


نکتہ ۵۹۴

پیام ۵۹۴

آیت ۱۱۲ ، ۱۱۳ ۵۹۴

چند نکات ۵۹۵

پیام ۵۹۵

آیت ۱۱۴ ۵۹۶

ایک نکتہ ۵۹۶

پیام ۵۹۶

آیت ۱۱۵ ۵۹۷

چند نکات ۵۹۷

پیام ۵۹۸

آیت ۱۱۶ ۵۹۸

چند نکات ۵۹۹

پیام ۵۹۹

آیت ۱۱۷ ۶۰۰

پیام ۶۰۰

آیت ۱۱۸ ۶۰۰

ایک نکتہ ۶۰۰

پیام ۶۰۱

آیت ۱۱۹ ، ۱۲۰ ۶۰۱


پیام ۶۰۱

حوالا جات ۔ فٹ نوٹس ۶۰۲

تفسیرنور

تفسیرنور

مؤلف: شیخ محسن قرائتی
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 105