یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانیمیں تنظیم ہوئی ہے
کتاب : تفسیرنمونه جلد اول
مصنف : آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی
تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.
تعداد جلد: ۱۵جلد
زبان: اردو
مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)
تعداد صفحات: ۷۱۰
قطع: وزيرى
تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری
گفتار مترجم
اردو میں قرآن حکیم کے بہت سے تراجم اور تفاسیر موجود ہیں ۔ اہل تشیع کے ہاں آج بھی مولانا فرمان علی اور مولانا مقبول احمد کے تراجم و حواشی زیادہ مشہور ہیں ۔ ایک عرصہ تک تفسیر عمدة البیان کو شہرت حاصل رہی ہے۔
اب لے دے کہ تفسیر انوار النجف ہی ہے ۔ دیگر مکاتب فکر کے ہاں بھی متعدد قابل ذکر تفاسیر موجود ہیں لیکن کوئی تو مغربی دنیا کی مادی ترقی کے سامنے دفاعی کوشش معلوم ہوتی ہے اور کوئی اصل معانی و مآخذ ہی سے ہٹی ہوئی ہے اور ناروا جدت پسندی کا شکار ہے۔ ایک آدھ کو اسلامی رنگ دینے کی کوشش تو کی گئی ہے لیکن وہ بھی ذہنی ناپختگی اور مذہبی تعصب کے اثرات سے نہیں بچ سکی۔البتہ آزاد اور رواں ترجمے اور جدید اردو لہجے میں لکھی جانے والی تفاسیر کو کافی شہرت اور مقبولیت حاصل ہے۔
قرآن کے بارے میں کی جانے والی ہر کوشش سے کچھ نہ کچھ فوائد توضرور حاصل ہوئے ہیں لیکن قرآن مجید تمام علوم کی جامع کتاب ہے، اس کے تمام موضوعات کو اس طرح سے بیان کرنا کہ ہر علم کا تشنہ سیراب ہوجائے اس نظر سے دیکھا جائے تو نہ فقط پاکستان میں شیعوں کے پاس کچھ نہیں بلکہ دیگر مکاتب فکر کا بھی یہی حال ہے۔
ایران کے عظیم الشان اسلامی انقلاب نے ہمارے نوجوانوں میں قرآن شناسی کے لئے ایک نئی تڑپ پیدا کردی ہے اور ان دلوں میں ایک تازہ جوت جگادی ہے۔ اکثر نوجوان پوچھتے کہ قرآن فہمی کے لئے ہم کس تفسیر کا مطالعہ کریں تو ہمارے پاس اس کا جواب نہ ہوتا۔ شدت سے احساس ہوا کہ اردو میں کوئی مفید ترین اور جامع تفسیر لکھی جائے جو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور تمام عالمی افکار و نظریات اورعلوم و کمالات کے سامنے اسلامی عظمت اور قرآنی سر بلندی و بالاتری کا حقیقی مظہر ہو اور جس کے ذریعے قرآنی مفاہیم سے آشنائی بھی ہو اور اس الہی و الہامی کتاب سے حقیقی عشق بھی پیدا ہوسکے۔ چند ایک علماء کرام سے اس ضرورت کا تذکرہ کیا لیکن کسی نے حامی نہ بھری۔ خود اپنی کم مائیگی کا احساس جرات نہیں دلاتا تھا۔
اسلامی فکر کو نظر اورعلوم و معارف کا اصل سرمایہ عربی اور فارسی میں موجود ہے۔ تفسیر کابیش بہا خزانہ بھی انہی زبانوں میں ہے لیکن ظاہر ہے کہ وہ یکجا تو نہیں ہے۔ وسیع مطالعے اور اجتماعی کوششوں کے بغیر اس سے بھی خاطر خواہ فائدہ ممکن نہیں ۔
فرمائشیں ، تقاضے اورسوالات بڑھتے رہے۔اس پر سیٹھ نوازش علی صاحب سے تذکرہ ہوا۔ وہ کہنے لگے آپ خود یہ کام کیوں نہیں کرتے۔ میں نے اپنی کم علمی کے علاوہ کچھ مجبوریاں بھی ان کے گوش گزار کیں ، مگر انہوں نے ہمت بڑھائی۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ عربی فارسی میں موجود کسی ایسی تفسیر کو اردو کے قالب میں ڈھالا جائے جو ہماری ضروریات کو پورا کرتی ہو۔ آخر ہم دونوں نے ایران کا سفر اختیار کیا۔ وہاں مختلف علماء کرام سے اس بات پر مشور ہ کیا کہ اس وقت کونسی تفسیر دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور روز مرہ کے سوالات کا آسان اور مناسب جواب مہیا کرتی ہے۔ ہمارے لئے یہ خوشگوار حیرت کی بات تھی کہ سب نے بالاتفاق تفسیرنمونہ کا نام لیا۔ چنانچہ یہ طے پایا کہ اسی تفسیر کا ترجمہ کیا جائے گا۔
ترجمے کے کٹھن مراحل میں بالعموم لفظی ترجمے کا اسلوب اپنایا گیا ہے اگر چہ بعض مقامات پر قارئین کی سہولت اور عبارت کی روانی کے لئے ازاد ترجمے کا طریقہ بھی اختیار کیا گیا ہے ہم مفہوم مفہوم کو منتقل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہے اس سوال کا جواب قارئین ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں ۔
اس تفسیر کے سلسلے میں سب سے زیادہ تعاون کرنے والے اور اس کے لئے ہر طرح کی سہولیات فراہم کرنے والے میرے عزیز دوست سیٹھ نوازش علی ہیں ۔ خدا وند عالم انہیں بھائیوں ، اولاد اور دیگر اعزاء و اقارب کےساتھ خوش و خرم رکھے، ان کے اموال میں برکت دے، انہیں زیادہ سے زیادہ خدمت دین کی توفیق عطاء فرمائے اور ان کی عاقبت بخیر کرے۔ ترجمے کی نوک پلک دیکھنے ، دوبارہ لکھنے اور اشاعت کے مراحل میں عزیز ثاقب نقوی گران قدر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ عزیز محمدامین کی خدمات بھی اس ضمن میں قابل قدر ہیں ۔ پروفیسر مشکور حسین یاد، اور دیگر بہت سے احباب بھی اس کار خیر میں تعاون پر تعریف و تشکر کا حق رکھتے ہیں ۔
خدا یا ! ہمیں توفیق دے کہ ہم صرف تیری رضا کے لئے کام کریں ، جیسے تیرے بندے اصل تفسیر سے استفادہ کررہے ہیں اس کے ترجمے سے بھی صحیح طور پر فائدہ اٹھائیں ۔ اور ہماری کو تاہیوں سے در گزر کرتے ہوئے اپنی راہ میں اس کام کو ہماری آخرت کے لئے بہترین ذخیرہ قرار دے۔
اللهم صل علی محمد و عترته المعصومین و عجل فرجهم
صفدر حسین نجفی
تفسیر کا معنی
لغت میں ”تفسیر“ کا معنی ہے چہرے سے نقاب ہٹانا۔
تو کیا قرآن پر جو نور کلام مبین اور تمام مخلوق کی ہدایت کے لئے حق تعالی کی واضح گفتگو ہے کوئی پردہ اور نقاب پڑا ہوا ہے۔جسے ہم ہٹانا چاہتے ہیں ؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔قرآن کے چہرے پر تو کوئی نقاب نہیں ہے یہ تو ہم جن کے چہرے پر سے نقاب ہٹانا چاہیے اور ہماری عقل و ہوش کی نگاہ سے پردہ اٹھنا چاہیے تاکہ ہم قرآن کے مفاہیم کو سمجھ سکیں اور اس کی روح کا ادراک کر سکیں ۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ قرآن کا صرف ایک چہرہ نہیں ۔اس کا وہ چہرا جو سب کے لئے کھلا ہے وہ نور مبین ہے اور ہدایت خلق کی رمز ہے عمومی چہرا ہے ۔
رہا اس کا دوسرا پہلو تو اس کا ایک چہرا بلکہ کئی چہرے اور ہیں ۔ جو صرف غور و فکر کرنے والوں ،حق کے پیاسوں ،راستے کے متلاشیوں اور زیادہ علم کے طلب گاروں پر آشکار ہوتے ہیں ۔ اس میں سے ہر ایک کو اس کے اپنے ظرف ،خلوص اور کوشش سے حصہ ملتا ہے ۔ان چہروں کو احادیث کی زبان میں ” بطون قرآن “ کہتے ہیں ۔ چونکہ ہر شخص ان کی تجلی نہیں دیکھ پاتا بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہر آنکھ انہیں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی لہذا تفسیر آنکھوں کو توانائی دیتی ہے اور پردوں کو ہٹاتی ہے اور ہمارے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا کرتی ہے ۔ جتنا کہ ہمارے لئے ممکن ہے۔
قرآن کے کئی چہرے ایسے ہیں جن سے زمانہ گزرنے اور انسانی لیاقت و استعداد میں اضافے اور مالیدگی سے پردہ اٹھتا ہے ۔ مکتب علی علیہ السلام کے ہونہار شاگرد ابن عباس اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :القرآن یفسره الزمان زمانہ قرآن کی تفسیر کرتا ہے ۔
ان سب باتوں سے قطع نظر ایک مشہور حدیث ک ے مطابق :
القرآن یفسر بعضه بعضاََ ۔
قرآن خود اپنی تفسیر بیان کرتا ہے اور اس کی آیات ایک دوسرے کے چہرے سے پردہ اٹھاتی ہیں ۔
قرآن کا نور اور کلام مبین ہونا اس با ت کے منافی نہیں ہے کہ یہ ایک اکیلا ہے اس طرح کہ دوسرے سے پیوستہ بھی ہے اور ایک ایسا مجموعہ ہے جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتا اور یہ سارے کا سارا نور اور کلام مبین ہے اگرچہ اس کی بعض آیات کچھ دیگر آیات کے چہرے سے پردہ اٹھاتی ہیں ۔
یہ کوشش کب شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچی
اس میں شک نہیں کہ قرآن کی تفسیر اپنے حقیقی معنی کے لحاظ سے خود پیغمبر کے زمانے سے اور آنحضرت کے پاکیزہ دل پر اس کی اولین آیات کے نازل ہونے سے شروع ہوئی اور پھر اس علم کے بزرگ اور عظیم لوگ اپنی سندوں کا سلسلہ پیغمبر کے شہر ِعلم کے در تک لے جاتے ہیں ۔
تفسیر قرآن کے سلسلے میں اب تک سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں جو مختلف زبانوں میں اور مختلف طرزوطریقہ کی ہیں ۔ بعض ادبی ہیں اور بعض فلسفی،کچھ کی نوعیت اخلاقی ہے اور کچھ احادیث کی بنیاد پر لکھی گئیں ہیں ۔ بعض تاریخ کے حوالے سے رقم کی گئیں اور بعض علوم جدیدہ کی اساس پر لکھی گئی ہیں ۔ اس طرح ہر کسی نے قرآن کو ان علوم کے زاویے سے دیکھا ہے جن میں وہ خود تخصص رکھتا ہے ۔
پھولوں سے لدے ہوئے اس باغ سے کسی نے دل انگیز اور شاعرانہ مناظر حاصل کئے، کسی نے علوم طبیعی کے استاد کی طرح برگ گل ، پھول ،شاخوں اور جڑوں کے اصول تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ،کسی نے غذائی مواد سے استفادہ کیا ہے اور کسی نے دواؤں کے خواص سے ، کسی نے اسرار آفرینش سے یہ سب شگوفے اور رنگا رنگ گل چنے ہیں اور کوئی اس فکر میں ہے کہ کون سے گل سے بہترین عطر کشید کرے اسی طرح کوئی ایسا بھی ہے جس نے فقط شہد کی مکھی کی طرح گل چوسنے اور اس سے انگبین حاصل کرنے کی جستجوکی ہے۔
خلاصہ یہ کہ راہ تفسیر کے راہبوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک مخصوص آئینہ تھا جس سے انہوں نے قرآن کی ان زیبائیوں اور اسرار کو منعکس کیا۔ لیکن یہ واضح ہے کہ یہ سب چیزیں باوجودیکہ قرآن کی تفسیریں ہیں ان میں سے کوئی بھی قرآن کی تفسیر نہیھ کیونکہ ان میں سے ہر ایک قرآن کے ایک رخ سے پردہ ہٹاتی ہے نہ کہ تمام چہروں سے اور اگر ان سب کو ایک جگہ جمع کر لیا جائے تو پھر بھی وہ قرآن کے چند چہروں کی نقاب کشائی ہوگی نہ کہ تمام چہروں کی۔
قرآن حق تعالی کا کلام ہے اور اس کے لامتناہی علم کی تراوش ہے اور اس کا کلام اس کے علم کا رنگ اور اس کا علم اس کی ذات کا رنگ رکھتا ہے ۔ اور وہ سب لا متناہی ہیں ۔ اس بنا پر یہ توقع نہیں رکھنا چاہیےکہ نوع انسانی قرآن کے تمام چہروں کو دیکھ لے۔ کیونکہ دریا کو کوزے میں بند نہیں کیا جا سکتا ۔ تا ہم اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری فکر و نظر کا ظرف جس قدر وسیع ہوگا اتنا ہی زیادہ ہم اس بحر بیکراں کو اپنے اندر سما سکیں گے۔
اس لئے تمام علماء اور دانشوروں کا فرض ہے کہ وہ کسی زمانے میں بھی ناتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھ جائیں ۔ قرآن مجید کے زیادہ سے زیادہ حقائق کے انکشاف کے لئے اپنی پے در پے مخلصانہ سعی و کوشش جاری رکھیں ۔ قدماء اور گذشتہ علماء (خداوند عالم کی رحمتیں ان کی ارواح پاک پر ہوتی رہیں ) کے ارشادات سے فائدہ اٹھائیں لیکن انہی پر قناعت نہ کریں کیونکہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں :لا تحصی عجائبه ولا تبلی غرائبه
قرآن کی خوبیاں کبھی ختم نہیں ہوں گی اور اس کی عجیب و غریب نئی باتیں کبھی پرانی نہ ہوں گی ۔
ایک خطر ناک غلطی
تفسیر قرآن کے سلسلے میں یہ روش بہت زیادہ خطرناک ہے کہ انسان مکتب قرآن میں شاگردی اختیار کرنے کی بجائے اس عظیم آسمانی کتاب کے مقابلہ میں استاد بن بیٹھے یعنی قرآن سے استفادہ کرنے کی بجائے اس پر اپنے افکا ر کا بوجھ ڈال دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ انسان اپنے ماحول ،تخصیص علمی،مخصوص مذہب اور اپنی ذاتی رائے کو قرآن کے نام پر اور قرآن کی صورت میں پیش کرنے لگے اور یوں قرآن ہمارا امام پیشوا ، رہبر، قاضی اور فیصلہ کرنے والا نہ رہے بلکہ الٹا وہ ہمارے اپنے نظریات کی مسند نشینی اور ہمارے اپنے افکار و نظریات کی جلوہ نمائی کا ذریعہ بن جائے۔
قرآن کی تفسیر کا یہ طریقہ بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں قرآن کے ذریعہ اپنے افکار کی تفسیر کا یہ ڈھنگ اگرچہ ایک گروہ میں رائج ہے جو کچھ بھی ہے خطرناک ہے اور ایک دردناک مصیبت ہے جس کا نتیجہ راہ حق کی طرف ہدایت کے حصول کی بجائے صراط مستقیم سے دوری اور غلطیوں اور شبہات کو پختہ کرنے والی بات ہے۔
قرآن سے اس طرح فائدہ اٹھانا تفسیر نہیں ہے بلکہ تحمیل ہے۔ ای سے فیصلہ لینا نہیں بلکہ اس کے اوپر حکم چلانا ہے ۔یہ ہدایت نہیں بلکہ ضلالت و گمراہی ہے۔ اس طرح تو ہر چیزدگرگوں ہو جاتی ہے۔
ہماری کوشش ہے کہ اس تفسیر میں ہم انشاء اللہ یہ روش اختیار نہ کریں اور واقعاَ قرآن کے سامنے دل و جان سے زانوئے تلمذ تہ کریں اور بس۔
هر زمانے کی احتیاج اور تقاضے
ہر زمانے کی کچھ خصوصیات ، ضرورتیں اور تقاضے ہوتے ہیں جو زمانے کی بدلتی ہوئی کیفیت ، تازہ مسائل اور منشاء مشہود پر آنے والے نئے معانی و مفاہیم سے ابھرتے ہیں ۔ اسی طرح ہر دور کی اپنی کچھ مشکلات اور پیچیدگیاں ہوتی ہیں اور یہ سب معاشرتی اور تہذیبی و تمدنی تبدیلیوں کا لازمہ ہوتا ہے ۔
کامیاب افراداور صاحبان توفیق وہ ہیں جو ان ضروریات اور تقاضوں کو سمجھ سکیں جنہیں ” عصری مسائل “ کہا جاتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو ان مسائل کے ادراک سے عاری ہیں یا ادراک تو رکھتے ہیں لیکن وہ خود کسی دوسرے ماحول اور زمانے کی پیداوار ہیں جس میں یہ مسائل نہ تھے اس لئے وہ سرد مہری اور لا پرواہی سے ان مسائل کے سامنے سے گذرجاتے ہیں ۔ وہ ان مسائل کو بے کار کاغذوں کی طرح ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو پے در پے شکستوں کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
ایسے افراد ہمیشہ زمانے کی وضع و کیفیت کا شکوہ کرتے رہتے ہیں ، زمین و آسمان کو برا کہتے ہیں اور گزرے ہوئے سنہرے اور خواب و خیال کے زمانے کی یاد میں غمزدہ ، افسردہ اور پر حسرت رہتے ہیں ۔ ایسے لوگ روز بروز زیادہ بد ظن ، بد بیں اور مایوس ہوتے رہتے ہیں اور آخر کار معاشرے سے دوری اور گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ وہ زمانے کے تقاضوں اور مشکلات کو سمجھ نہیں پاتے یا وہ ایسا چاہتے ہی نہیں ۔ ایسے لوگ ایک تاریکی میں زندگی بسر کرتے ہیں اور چونکہ حوادث کے علل و اسباب اور ان کے نتائج کی تشخیص نہیں کر پاتے اس لئے ان کے مقابلہ میں گھبراتے ہوئے وحشت زدہ ، بے دماغ اور بغیرکسی منصوبہ بندی کے رہتے ہیں ایسے لوگ چونکہ تاریکی میں محو گردش ہوتے ہیں اس لئے ہر قدم پر ٹھوکر کھا تے ہیں اور کیا خوب کہا ہے سچے پیشوا نے :
جو شخص اپنے زمانے کے حالات و کوائف سے آگاہ ہے وہ اشتباہات او رغلطیوں سے بچار ہتا ہے
۱ ۔ مام صادق علیہ السلام سے ایک مشہور حدیث میں یہ مضمون یوں منقول ہے:العالم بزمانه لا تحجم علیه اللوابس ۔
ہر زمانے کے علماء اور دانشوروں کے لئے یہ پیغام ہے کہ ان کا فریضہ ہے کہ وہ پوری چابکدستی سے ان مسائل، تقاضوں ، احتیاجات اور روحانی کمزوری اور اجتماعی خالی نقاط کا ادراک کریں اور انہیں صحیح شکل و صورت میں پر کریں تاکہ وہ دوسرے امور سے پر نہ ہوجائیں کیونکہ ہماری زندگی کے محیط محال میں خلاء ممکن نہیں ہے۔
مایوس اور منفی فکر حضرات کے گمان کے برخلاف جن مسائل کو میں نے اپنی سمجھ کے مطابق واضح طور پر معلوم کیا ہے اور سمجھا ہے ان میں سے ایک نسل نوکی مفاہیم اسلام اور مسائل دینی جاننے کی پیاس ہے بلکہ یہ پیاس فقط سمجھنے کے لئے نہیں بلکہ انہیں چکھنے، چھونے اور آخر کار ان پر عمل کرنے کی ہے۔
ان مسائل نے نسل نوکی روح اور وجود کو بے قرار رکررکھا ہے لیکن یہ فطری امر ہے کہ یہ سب استفہام کی صورت میں ہے۔ ان خواہشات اور تقاضوں کا جواب دینے کے لئے پہلا قدم میراث علمی اور اسلامی تہذیب و تمدن کو عصر حاضرکی زبان میں ڈھالنا اور عالی مفاہیم کو موجودہ دور کی زبان میں موجودہ نسل کی روح، جان اور عقل میں منتقل کرنا ہے اور دوسرا قدم یہ ہے کہ اس زمانے کی مخصوص ضرورتوں اور تقاضوں کو اسلام کے اصولوں سے استنباط کرکے پورا کیاجائے۔
یہ تفسیر انہی دو اہداف و مقاصد کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔
کس تفسیر کا مطالعه کرنا بهتر ہے
یہ ایسا سوال ہے جو بارہا مختلف طبقوں خصوصا نوجوان طبقے کی طرف سے ہمیں کیا گیا ہے ۔ یہ وہ ہیں جو خلوص سے ملی ہوئی پیاس کے ساتھ قرآن کے صاف و شفاف چشمے کے جویا ہیں اور اس محفوظ آسمانی وحی سے سیراب ہونا چاہتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ان سب کے سوال میں یہ جملہ پوشیدہ ہے کہ ہمیں ایسی تفسیر چاہئے جو تقلید کے حوالے سے نہیں بلکہ تحقیق کے حوالے سے ہمیں عظمت قرآن سے روشناس کراسکے اور دورحاضر میں ہماری ضرورتوں ، دکھوں اور مشکلوں میں راہنمائی کرسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر طبقے کے لوگوں کے لئے مفید بھی ہو اور جس میں پیچیدہ علمی اصطلاحات اس کی صاف و شفاف راہوں اور شاہراوں میں ناہمواریاں پیدا نہ کریں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ فارسی زبان میں آج ہمارے پاس کئی ایک تفاسیر موجود ہیں ۔ ا س میں شک نہیں کہ یہ وہ تفاسیر ہیں جو ہمارے قدماء بزرگوں کی میراث میں یا بعد میں عصر حاضر کے علماء نے انہیں تحریر کیا ہے اور کچھ ایسی ہیں جو چند صدیاں پہلے لکھی گئی تھیں اور ان کی مخصوص نثر علماء و ادباء سے مخصوص ہے۔
موجود تفاسیر میں بعض اس سطح پر ہیں کہ صرف خواص کے طبقے کا حصہ ہیں اور دیگر طبقات ان سے استفادہ نہیں کرسکتے اور بعض قرآن کے خاص گوشوں کو بیان کرتی ہیں ۔ ان کی مثال ایک گلدستہ کی سی ہے جسے کسی تروتازہ باغ سے چنا گیا ہو جس میں باغ کی نشانیاں توہیں لیکن باغ نہیں ہے۔
اس طرح اس بار بار کے سوال کا کوئی ایسا جواب نہ مل سکا یا بہت کم ملا کہ جو قانع ہو، وجدان کو مطمئن کرے اور پیاسے متلاشی کی تشنگی روح کو سیراب کرسکے۔
اس پر ہم نے فیصلہ کیا کہ اس سوال کا جواب عمل سے دینا چاہئے کیونکہ اس وقت اس کا صرف زبانی جواب ممکن نہیں ہے لیکن مشکلات اور روز افزوں مشاغل کے ہوتے ہوئے اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن ایک ایسا بیکراں سمندرہے جس میں آسانی سے اور ساز و سامان، تیاری وقت اور کافی غور و فکر کے بغیر داخل نہیں ہوا جاسکتا اور یہ وہ بحر ناپیدا کنار ہے جس میں بہت سے لوگ غرق ہوئے اور ڈوب چکے ہیں ۔ حسرت و اندوہ کے عالم میں اس دریا کے کنارے کھڑا میں اس کی امواج فروشاں کا نظارہ کررہا تھا کہ ایسے میں اچانک ایک بجلی سی فکر میں کوند گئی۔ امید کا دریچہ کھلا اور مسئلے کی راہ حل سمجھائی دینے لگی اور وہ تھی گروپ سسٹم میں کام کرنے کی سوچ اور پھر دس فاضل، مخلص، محقق، آگاہ اور باخبر نوجوان جو ”عشرہ کاملہ“ کے مصداق میں میرے رفیق راہ بن گئے۔ ان کی شبانہ روز پرخلوص کوششوں سے مختصر سی مدت میں یہ پوداثمر آور ہوگیا اور توقع سے بھی جلدی اس کی پہلی جلد چھپ گئی۔
اس بناء پر کہ کوئی نکتہ عزیز قارئین کے لئے مبہم نہ رہنے پائے ہم اپنے طریقہ کار کی بھی اجمالا تشریح کئے دیتے ہیں ۔
پہلے آیات قرآنی مختلف، حصوں میں ان محترم علماء میں تقسیم کردی جاتی تھیں ( ابتداء میں دودو افراد کے پانچ گروپ تھے)۔ ضروری ہدایات وراہنمائی کی روشنی میں وہ ان مختلف تفاسیر کا مطالعہ کرتے جو اس تفسیر کا منبع اور اصلی کتب ہیں جنہیں اس فن کے عظیم محققین نے سپرد قلم کیا ہے۔ چاہے وہ محققین سنی ہوں یا شیعہ سب کا مطالعہ کیا جاتا ۔ ہمارے زیر نظر رہنے والی تفاسیر میں سے بعض یہ ہیں :
تفسیر مجمع البیان ، تالیف شیخ المفسرین محقق عالی قدر جناب طبرسی
تفسیر انوار التنزیل ، تالیف قاضی بیضاوی۔
تفسیر الدر منثور ، تالیف جلال الدین سیوطی۔
تفسیر برہان ، تالیف محدث بحرانی۔
تفسیر المیزان ، تالیف استاد علامہ طباطبائی۔
تفسیر المنار ، محمد عبدہ مصری۔
تفسیر فی ظلال ، تالیف مصنف معروف سید قطب
اور تفسیر مراغی ، تالیف احمد مصطفی مراغی۔
اس کے بعد وہ معلومات اور ماحصل جو موجودہ زمانے کے احتیاجات اور تقاضوں پر منطبق ہوتے انہیں رشتہ تحریر میں لایا جاتا۔بعدازاں اس گروپ کی اجتماعی نشستیں ہفتے کے مختلف دنوں میں منعقد ہوتیں اور یہ تحریریں پڑھی جاتیں اور ان کی اصلاح کی جاتی۔ ان نشستوں میں ہی قرآن کے بارے میں جن نئی معلومات کا اضافہ ضروری ہوتا وہ کیاجاتا۔ پھر اصلاح شدہ تحریروں کو صاف کرکے لکھاجاتا۔ صاف کرکے لکھنے کے بعد ان سب تحریروں کو ان میں سے چندمنتخب علماء پھر سے پڑھتے اور انہیں منضبط کرتے۔ آخری شکل دینے کے لئے آخری میں میں خود پورے اطمینان سے اس کا مطالعہ کرتا اور بعض اوقات اسی حالت میں محسوس ہوتا کہ اس میں چند پہلوؤں کامزید اضافہ کیاجانا چاہئے اور پھر یہ کام انجام دیا جاتا۔ ضمنی طور پر آیات کارواں ترجمہ بھی میں اسی موقع پر کردیتاتھا۔
عام مطالب(آیات کے ذیلی ترجمہ اور بعض پہلوؤں کے علاوہ جن کا یہ حقیر اضافہ کرتا)چونکہ ان محترم حضرات کے قلم سے ہوتے تھے اورفطری طور پر مختلف ہوتے تھے اس لئے میں ان تحریروں کو ہم آہنگ کرنے کے لئے بھی ضروری کاوش انجام دیتا تھا اور ان تمام زحمات و مشقات کا ثمر یہ کتاب ہے جو عزیز قاری کی نظر سے گزر رہی ہے۔ امید ہے کہ یہ تمام لوگوں کے لئے عمدہ، مفید اور سود مند ثابت ہوگی۔
اس تفسیر کی خصوصیات
اس بناء پر کہ عزیز و محترم قارئین زیادہ بینش و آگہی کے ساتھ اس تفسیر کا مطالعہ کرسکیں اس تفسیر کے مطالب کا ذکر یہاں ضروری ہے شاید ان میں سے کچھ ان کے گمشدہ مطالب ہوں :
۱ ۔ قرآن چونکہ کتاب زندگی ہے۔ اس لئے آیات کی ادبی و عرفانی وغیرہ تفسیر کے زندگی کے مادی، معنوی، تعمیر نو کرنے والے، اصلاح کنندہ، زندگی سنوارنے والے اور بالخصوص اجتماعی مسائل کی طرف توجہ دی گئی ہے۔ اور زیادہ تر انہی مسائل کا تذکرہ کیا گیا ہے جو فرد اور معاشرے کی زندگی سے نزدیک تعلق رکھتے ہیں ۔
۲ ۔ آیات میں بیان کئے گئے عنوانات کو ہر آیت کے ذیل میں جچی تلی اورمستقل بحث کے ساتھ پیش کیاگیا ہے۔مثلاسود، غلامی، عورتوں کے حقوق، حج کا فلسفہ، قمار بازی کی حرمت کے اسرار، شراب، سور کا گوشت، جہاد اسلامی کے ارکان و اہداف وغیرہ کے موضوعات پر بحث کی گئی ہے تاکہ قارئین اس ایک اجمالی مطالعے کے لئے دوسری کتب کی طرح رجوع کرنے سے بے نیاز ہوجائیں ۔
۳ ۔ کوشش کی گئی ہے کہ آیات ذیل میں ترجمہ رواں ، سلیس منہ بولتا لیکن گہرا اور اپنی نوع کے لحاظ سے پر کشش اور قابل فہم ہو۔
۴ ۔ لا حاصل ادبی بحثوں میں پڑنے کے بجائے خصوصی توجہ اصلی لغوی معانی اور آیات کے شان نزول کی طرف توجہ دی گئی ہے کیونکہ قرآن کے دقیق معانی سمجھنے کے لئے یہ دونوں چیزیں زیادہ موثر ہیں ۔
۵ ۔ مختلف اشکالات ، اعتراضات اور سوالات جو بعض اوقات اسلام کے اصول و فروع کے بارے میں کئے جاتے ہیں ہر آیت کی مناسبت سے ان کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کا جچا تلا اور مختصر ساجواب دیدیا گیا ہے ۔ مثلا شبہ اکل و ماکول (وہ جانور جو دوسرے جانوروں کو کھاجاتے ہیں )، معراج تعداد ازواج، عورت اور مرد کی میراث کا فرق، عورت اور مرد کے خون بہامیں اختلاف ، قرآن کے حروف مقطعات ، احکام کی منسوخی، اسلامی جنگیں اور غزوات، مختلف الہی آزمائشیں اور ایسے ہی بیسیوں سوالوں کے جوابات اس طرح دئیے گئے ہیں کہ آیات کا مطالعہ کرتے وقت محترم قاری کے ذہن میں کوئی استفہامی علامت باقی نہ رہے۔
۶ ۔ ایسی پیچیدہ علمی اصطلاحات جن کے نتیجہ میں کتاب ایک خاص صنف سے مخصوص ہوجائے، سے دوری اختیارکی گئی ہے۔ البتہ ضرورت کے وقت علمی اصطلاح کا ذکر کرنے کے بعد اس کی واضح تفسیر و تشریح کردی گئی ہے۔
ہم توقع رکھتے ہیں کہ اس راہ میں ہماری مخلصانہ کوشش نتیجہ بخش ثابت ہوں گی اور تمام طبقوں کے لوگ اس تفسیر کے ذریعہ اس عظیم آسمانی کتاب سے زیادہ سے زیادہ آشناہوں گے جس کا نام بعض دوستوں کی تجویز پر تفسیرنمونہ رکھا گیا ہے۔
ناصر مکارم شیرازی
حوزہ علمیہ، قم
تیر ماہ، ۱۳۵۲ بمطابق جمادی الثانی ۱۳۹۳ ۔
سوره حمد (فاتحه الکتاب)
سوره حمد : مکی سورت ہے اور اس کی سات آیات ہیں
سورہ حمد کی خصوصیات
یہ سورت قرآن مجید کی دیگر سورتوں کی نسبت بہت سی خصوصیات یک حامل ہے۔ ان امتیازات کا سر چشمہ مندرجہ ذیل خوبیان ہیں :
لب و لہجہ اور اسلوب بیان :
یہ سورت دیگر سورتوں سے اس لحاظ سے واضح امتیاز رکھتی ہے کہ وہ خدا کی گفتگو کے عنوان کی حامل ہیں اور یہ بندوں کی زبان کے طورپر نازل ہوئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس میں خداوندعالم نے بندوں کو خداسے گفتگو اور مناجات کا طریقہ سکھایا ہے۔
سورة کی ابتداء خداوندعالم کی حمد وثنا سے گی گئی ہے۔ خدا شناسی اور قیامت پر ایمان کے اظہار کے ساتھ ساتھ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے بندوں کے تقاضوں ، حاجات اور ضروریات پر کلام کو ختم کیا گیا ہے۔
بیدار مغز اور ذی فہم انسان جب اس سورہ کو پڑھتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ فرشتوں کے پروں پر سوار ہو کر عالم بالا کی طرف محو پرواز ہے اور عالم روحانیت و معنویت میں لمحہ بہ لمحہ خدا سے زیادہ سے زیادہ قریب ہوتا جارہا ہے۔
یہ نکتہ بڑا جاذب نظر ہے کہ خود ساختہ یاتحریف شدہ مذاہب جو خالق و مخلوق کے درمیان معاملہ میں واسطہ کے قائل ہیں ان کے برخلاف اسلام انسانوں کو یہ دستور دیتا ہے کہ وہ کسی بھئی واسطہ کے بغیر خدا سے اپنا رابطہ برقرار رکھیں ۔
خدا و انسان اور خالق و مخلوق کے درمیان اس نزدیکی اور بے واسطہ تعلق کے سلسلے میں یہ سورہ آئینہ کا کام دیتی ہے۔ یہاں انسان صرف خدا کو دیکھتا ہے۔ اسی سے گفتگو کرتا ہے اور فقط اس کا پیغام اپنے کانوں سے سنتا ہے۔ یہاں تک کہ کوئی مرسل یا ملک مقرب بھی درمیان میں واسطہ نہیں بنتا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہی پیوند و ربط جو براہ راست خالق و مخلوق کے درمیان ہے۔ قرآن مجید کا آغاز ہے۔
۲ ۔ اسا س قرآن :
نبی اکرم (ص) کے ارشاد کے مطابق سورہ حمد ام الکتاب ہے۔ ایک مرتبہ جابر بن عبداللہ انصاری آنحضرت(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ(ص) نے فرمایا :
الا اعلمک افضل سورة انزلها الله فی کتابه قال فقال له جابر بلی بابی انت و امی یا رسول الله علمنیها فعلمه الحمد ام الکتاب ۔
کیا تمہیں سب سے فضیلت والی سورت کی تعلیم دوں جو خدا نے اپنی کتاب میں نازل فرمائی ہے؟ جابر نے عرض کیا جی ہاں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھےاس کی تعلیم دیجئے۔ آنحضرت نے سورہ حمد جو ام الکتاب ہے انہیں تعلیم فرمائی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ سورہ حمد موت کے علاوہ ہر بیماری کے لئے شفاء ہے
آپ کا یہ بھی ارشاد ہے :والذی نفسی بیده ما انزل الله فی التوراة ولا فی الزبور و لا فی القرآن مثلها هی ام الکتاب ۔
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے خدا وند عالم نے تورات، انجیل، زبور یہاں تک کہ قرآن میں بھی اسی کوئی سورة نازل نیہں فرمائی اور یہ ام الکتاب ہے اس سورت میں غور و فکر کرنے سے اس کی وجہ معلوم ہوتی ہے ۔ حقیقت میں یہ سورہ پورے قرآن کے مضامین کی فہرست ہے۔ اس کا ایک حصہ توحید اور صفات خدا وندی سے متعلق ہے دوسر ا حصہ قیامت و معاد سے گفتگو کرتا ہے اور تیسرا حصہ ہدایت و گمراہی کو بیان کرتا ہے جو مومنین و کفار میں حد فاصل ہے۔
اس سورہ میں پروردگار عالم کی حاکمیت مطلقہ او رمقام ربوبیت کا بیان ہے نیز اس کی لامتناہی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جن کے دو حصے ہیں ایک عمومی اور دوسرا خصوصی (رحمانیت اور رحیمیت) اس میں عبادت و بندگی کی طرف بھی اشارہ ہے جو اسی ذات پاک کے لئے مخصوص ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سورہ میں توحید ذات، توحید صفات، توحید افعال اور توحید عبادت سب کو بیان کیاگیا ہے۔
دوسرے لفظوں میں یہ سورت ایمان کے تینوں مراحل کا احاطہ کرتی ہے :
۱ ۔ دل سے اعتقاد رکھنا۔
۲ ۔ زبان سے اقرار کرنا۔
۳ ۔ اعضاء و جوارح سے عمل کرنا۔
ہم جانتے ہیں کہ ام کا مطلب ہے بنیاد اور جڑ۔ شاید اسی بناء پر عالم اسلام کے مشہور مفسرابن عباس کہتے ہیں :
ان لکل شیء اساسا و اساس القرآن الفاتحه ۔
ہر چیز کی کوئی اساس و بنیاد ہوتی ہے اور قرآن کی اساس سورہ فاتحہ ہے۔
انہی وجود کی بنا پر اس سورہ کی فضیلت کے سلسلے میں رسول اللہ سے منقول ہے:
ایما مسلم قرء فاتحة الکتاب اعطی من الاجر کانما قرء ثلثی القرآن و اعطی من الاجر کانما تصدق علی کل مومن و مومنة ۔جو مسلمان سورہ حمد پڑھے اس کا اجر و ثواب اس شخص کے برابر ہے جس نے دو تہائی قرآن کی تلاوت کی ہو (ایک اور حدیث میں پورے قرآن کی تلاوت کے برابر ثواب مذکور ہے) اور اسے اتنا ثواب ملے گا گویا اس نے ہر مومن اور مومنہ کو ہدیہ پیش کیا ہو۔
سورہ فاتحہ کے ثواب کو دو تہائی قرآن کے تلاوت کے برابر قرار دینے کی وجہ شاید یہ ہو کہ قرآن کے ایک حصے کا تعلق خدا سے ہے، دوسرے کاقیامت سے اور تیسرے کا احکام و قوانین شرعی سے ان میں سے پہلا اور دوسرا حصہ سورہ حمد میں مذکور ہے ۔ دوسری حدیث میں پورے قرآن کے برابر فرمایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا خلاصہ ایمان اور عمل ہے اور یہ دونوں چیزیں سورہ حمد میں جمع ہیں ۔
۳ ۔ پیغمبر اکرم(ص) کے لئے اعزاز :
یہ بات قابل غور ہے کہ قرآنی آیات میں سورہ حمد کا تعارف آنحضرت(ص) کے لئے ایک عظیم انعام کے طور پر کرایا گیا ہے اور اسے پورے قرآن کے مقابلے میں پیش فرمایا گیا ہے جیسےکہ ارشاد الہی ہے :( ولقد اتیناک سبعا من المثانی والقرآن العظیم ) (۱)
ہم نے آپ کو سات ایتوں پر مشتمل سورہ حمد عطا کیا جودو مرتبہ نازل کیا گیا اور قرآن عظیم بھی عنایت فرمایا گیا
قرآن مجید اپنی تمام تر عظمت کے باوجود یہاں سورہ حمد کے برابر قرار پایا۔ اس سورہ کا دو مرتبہ نزول بھی اس کی بہت زیادہ اہمیت کی بناء پر ہے(۲) ۔
اسی مضمون کی ایک روایت رسول اللہ سے حضرت امیرالمومنین(ع) نے بیان فرمائی ہے:
ان الله تعالی افرد الامتنان علی بفاتحة الکتاب و جعلها بازاء القرآن العظیم و ان فاتحة الکتاب اشرف ما فی کنوز العرش ۔
خدا وند عالم نے مجھے سورہ حمد دے کر خصوصی احسان جتایا ہے اور اسے قرآن کے مقابل قرار دیا ہے عرض کے خزانوں میں سے اشرف ترین سورہ حمد ہے۔
____________________
۱-- (حجر آیہ ۸۷)۔
۲۔ سبعا من المثانی،قرار دینے کی وجہ اور سورہ حمد کی کچھ مزید خوبیاں اسی تفسیر(نمونہ) میں سورہ حجر کی آیت ۸۷ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیے۔
۴ ۔ تلاوت کی تاکید :
۴ ۔ تلاوت کی تاکید : سورہ حمد کی فضیلتوں کے بیانات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ احادیث اسلامی میں جو شیعہ و سنی کتب میں موجود ہیں ۔ اس کی تلاوت کے متعلق اتنی تاکید کیوں کی گئی ہے۔اس کی تلاوت انسان کو روح ایمان بخشتی ہے اور اسے خدا کے نزدیک کرتی ہے۔ اس سے دل کو جلا ملتی ہے اور روحاینت پیدا ہوتی ہے۔ اس سے انسانی ارادے کو کامیابی میسر آتی ہے۔ اس سورہ کی تلاوت سے خالق و مخلوق کے ما بین انسانی جستجو فزوں تر ہوتی ہے۔ نیز انسان اور گناہ و انحراف کے درمیان رکاوٹ بنتی ہے۔ اسی بناء پر حضرت صادق (ع) نے ارشاد فرمایا ہے :
ان الابلیس اربع رفات اولهن یوم لعن وحین اهبط الی الارض و حین بعث محمد علی حین فتره من الرسل و حین انزلت ام الکتاب ۔
شیطان نے چار دفعہ نالہ و فریاد کیا۔ پہلا وہ موقع تھا جب اسے راندئہ درگاہ کیا گیا۔ دوسرا وہ وقت تھا جب اسے بہشت سے زمین کی طرف اتارا گیا۔ تیسرا وہ لمحہ تھا جب حضرت محمد(ص) کو مبعوث برسالت کیا گیا اور آخری وہ مقام تھا جب سورہ حمد کو نازل کیا گیا(۱) ۔
____________________
۱۔ نور الثقلین جلد اول ص۴۔
سورہ حمد کے موضوعات
اس سورہ کی سات آیات میں سے ہر ایک، ایک اہم مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہے
( ”بسم الله“ ) ہر کام کی ابتداء کا سرنامہ ہے اور ہر کام کے شروع کرتے وقت ہمیں خدا کی ذات پاک سے مدد طلب کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔
( ”الحمد لله رب العالمین“ ) یہ اس بات کا درس ہے کہ تمام نعمتوں کی برگشت او رتمام موجودات کی پرورش و تربیت کا تعلق صرف اللہ کے ساتھ ہے۔ یہ امر اس حقیقت سے مربوط ہے کہ تمام عنایات کا سر چشمہ اسی کی ذات پاک ہے۔
( ” الرحمن الرحیم“ ) یہ اس بات کا تکرار ہے کہ خدا کی خلقت، تربیت او رحاکمیت کی بنیاد رحمت و عطوفت پر ہے اور دنیا کا نظام تربیت اسی قانون پر قائم ہے۔
( ”مالک یوم الدین“ ) یہ آیت معاد، اعمال کی جزا و سزا اور اس عظیم عدالت میں خدا وند عالم کی حاکمیت کی جانب توجہ دلاتی ہے۔
( ” ایاک نعبد و ایاک نستعین“ ) یہ توحید عبادی کا بیان ہے اور انسانوں کے لئے اس اکیلے مرکز کا تذکرہ ہے جو سب کا آسرا او رسہارا ہے۔
( ”اهدنا الصراط المستقیم“ ) یہ آیت بندوں کی احتیاج ہدایت اور اشتیاق ہدایت کو بیان کرتی ہے۔ یہ آیت اس طرف بھی توجہ دلاتی ہے کہ ہر قسم کی ہدایت اسی کی طرف سے ہے۔
سورہ کی آخری آیت اس بات کی واضح اور روشن نشانی ہے کہ صراط مستقیم سے مراد ان لوگوں کی راہ ہے جو نعمات الہیہ سے نوازے گئے ہیں اور یہ راستہ مغضوب اور گمراہوں کے راستے سے جدا ہے۔
ایک لحاظ سے یہ سورہ دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔ ایک حصہ خدا کی حمد وثناء ہے اور دوسرا بندے کی ضروریات وحاجات۔ عیون اخبار الرضا، میں سرکار رسالت(ص) سے اس سلسلے میں ایک حدیث بھی منقول ہے۔ آپ(ص) نے فرمایا :
خدا وندعالم کا ارشاد ہے کہ میں نے سورہ حمد کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کردیا ہے ، لہذا میرا بندہ حق رکھتا ہے کہ وہ جو چاہے مجھ سے مانگے۔ جب بندہ کہتا ہے( ”بسم الله الرحمن الرحیم“ ) تو خدائے بزرگ و برتر ارشاد فرماتا ہے میرے بندے نے میرے نام سے ابتداء کی ہے مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کے کاموں کو آخر تک پہنچادوں اور اسے ہر حالت میں برکت عطا کروں ۔ جب و ہ کہتا( ”الحمد لله رب العالمین“ ) تو خدا وند تعالی فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد وثنا کی ہے۔ اس نے سمجھا ہے کہ جو نعمتیں اس کے پاس ہیں وہ میری عطا کردہ ہیں لہذا میں مصائب کو اس سے دور کئے دیتا ہوں ۔ گواہ رہو کہ میں دنیا کی نعمتوں کے علاوہ اسے دار آخرت میں بھی نعمات سے نوازوں گا اور اس جہان کے مصائب سے بھی اسے نجات عطا کروں گا۔ جیسے اس دنیا کی مصیبتوں سے اسے رہائی دی ہے۔ جب وہ کہتا ہے( ”الرحمن الرحیم“ ) تو خدا وند عالم فرماتا ہے میرا بندہ گواہی دے رہا ہے کہ میں رحمن و رحیم ہوں ۔ گواہ رہو کہ میں اس کے حصے میں اپنی رحمت و عطیات زیادہ کئے دیتا ہوں ۔ جب وہ کہتا ہے( ”مالک یوم الدین“ ) تو خدافرماتا ہے کہ گواہ رہو جس طرح اس نے روز قیامت میری حاکمیت و مالکیت کا اعتراف کیا ہے حساب و کتاب کے دن میں اس کے حساب و کتاب کو آسان کردوں گا۔ اس کی نکیوں کو قبول کرلوں گااور اس کی برائیوں سے در گذر کروں گا۔ جب وہ کہتا ہے( ”ایاک نعبد“ ) تو خداتعالی فرماتا ہے میرا بندہ سچ کہہ رہا ہے وہ صرف میری عبادت کرتاہے۔ میں تمہیں گواہ قرار دیتا ہوں کہ اس خالص عبادت پر میں اسے ایسا ثواب دوں گا کہ وہ لوگ جو اس کے مخالف تھے اس پر رشک کریں گے جب وہ کہتا ہے( ”ایاک نستعین“ ) تو خدا فرماتا ہے میرے بندے نے مجھ سے مدد چاہی ہے اور صرف مجھے سے پناہ مانگی ہے گواہ رہو اس کے کاموں میں ، میں اس کی مددکروں گا۔ سختیوں اور تنگیوں میں اس کی فریاد پہنچوں گا اور پریشانی کے دن اس کی دستگیری کروں گا جب وہ کہتا ہے( ” اهدنا الصراط المستقیم“ ولا الضالین“ ) تو خدا وند عالم فرماتا ہے میرے بندے کی یہ خواہش پوری ہوگئی ہے اب جو کچھ وہ چاہتا ہے مجھ سے مانگے میں اس کی دعا قبول کروں گا۔ جس چیز کی امید لگائے بیٹھا ہے وہ اسے عطا کروں گا، اور جس چیز سے خائف ہے اس سے مامون قرار دوں گا(۱) ۔
____________________
۱۔ المیزان ج اول ص۳۷ بحوالہ عیون اخبار الرضا۔
اس سورہ کا نام فاتحة الکتاب کیوں ہے؟
فاتحة الکتاب کا معنی ہے آغاز کتاب(قرآن) کرنے والی۔ مختلف روایات جو نبی اکر سے نقل ہوئی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سورت آنحضرت کے زمانے میں بھی اسی نام سے پہچانی جاتی تھی۔ یہیں سے دنیائے اسلام کے ایک اہم ترین مسئلے کی طرف فکر کا دریچہ کھلتا ہے اور وہ ہے جمع قرآن کے بارے میں ۔ ایک گروہ میں یہ بات مشہور ہے کہ قرآن مجید نبی اکرم(ص) کے زمانے میں منتشر و پراگندہ صورت میں تھا اور آپ(ص) کے بعد حضرت ابوبکر،حضرت عمر یا حضرت عثمان کے زمانے میں جمع ہوا لیکن ”فاتحة الکتاب “ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن مجید پیغمب اکرم کے زمانے میں اسی موجودہ صورت مین جمع ہوچکا تھا اور اسی سورہ حمد سے اس کی ابتداء ہوئی تھی۔ ورنہ یہ کوئی سب سے پہلے نازل ہونے والی سورہ تو نہیں جو یہ نام رکھا جائے اور وہ ہی اس سورة کے لئے فاتحة الکتاب نام کے انتخاب کے لئے کوئی دوسری دلیل موجود ہے بہت سے دیگر مدارک بھی ہمارے پیش نظر ہیں جو اس حقیقت کے موید ہیں کہ قرآن مجید بصورت مجموعہ جس طرح ہمارے زمانے میں موجود ہے اسی طر پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں آپ کے حکم کے مطابق جمع ہوچکا تھا۔ ان میں سے چند ایک ہم پیش کرتے ہیں :
۱ ۔ علی بن ابراہیم نے حضرت امام صادق (ع) سے روایت کیا ہے :
رسول اکرم(ص) نے حضرت علی سے فرمایا کہ قرآں ریشم کے ٹکڑوں ، کاغذ کے پرزوں اور ایسی دوسری چیزوں میں منتشر ہے اسے جمع کردو۔ اس پر حضرت علی(ع) مجلس سے اٹھ کھڑے ہوئے اور قرآن کو زرد رنگ کے پارچے میں جمع کیا اور پھر اس پر مہر لگادی۔
انطلق علی فجمعه فی ثوب اصفر ثم ختم علیه (۱)
۲ ۔ اہل سنت کے مشہور مولف حاکم نے کتاب مستدرک میں زید بن ثابت سے نقل کیا ہے :
ہم پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں قرآن کے پراکندہ ٹکڑوں کوجمع کرتے تھے اور ہر ایک کو نبی اکرم کی راہنمائی کے مطابق اس کے مناسب محل و مقام پر رکھتے تھے لیکن پھر بھی یہ تحریریں متفرق تھیں چنانچہ پیغمبراکرم نے علی کو حکم دیا کہ وہ انہیں ایک جگہ جمع کریں (اس جمع آوری کے بعد) اب آپ ہمیں اسے ضائع کرنے سے ڈراتے تھے۔
۳ ۔ اہل تشیع کے بہت بڑے عالم سید مرتضی کہتے ہیں :
قرآن رسول اللہ کے زمانے میں اسی حالت مین اسی موجودہ صورت میں جمع ہوچکا تھا( ۲) ۔
۴ ۔طبرانی اورابن عساکر نے شعبی سے یوں نقل کیا ہے :
انصار میں سے چھ افراد نے قرآن کو پیغمبر(ص) کے زمانے میں جمع کیا تھا( ۳) ۔
۵ ۔ قتادہ، ناقل ہیں :
میں نے انس سے سوال کیا کہ پیغمبر کے زمانے میں کس شخص نے قرآن جمع کیا تھا۔ اس نے کہا چار فرا د نے جو سب کے سب انصار میں سے تھے۔ ابی بن کعب، معاذ ، زید بن ثابت اور ابوزید( ۴) ۔
ان کے علاوہ بھی روایات ہیں جن کا ذکر کرنا طول کا باعث ہوگا۔ بہرحال یہ احادیث جو شیعہ وسنی کتب میں موجود ہیں ان سے قطع نظر اس سورہ کے لئے فاتحة الکتاب نام کا انتخاب اس موضوع کے اثبات کا زندہ ثبوت ہے۔
____________________
۱۔ تاریخ القرآن، ابوعبداللہ زنجانی ص۴۴۔
۲۔ مجمع البیان، جلد اول ص۱۵۔
۳ ۔ منتخب کنزالعمال جلد دوم ص۵۲۔
۴۔ صحیح بخاری جلد۶ ص۱۰
ایک اہم سوال :
یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ اس بات کوکیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ قرآن رسول اللہ کے زمانے میں جمع ہوا جب کہ علماء کے ایک گروہ میں مشہور ہے کہ قرآن پیغمبر اکرم(ص) کے بعد جمع ہوا ہے (حضرت علی کے ذریعے یا دیگر اشخاص کے ذریعے)۔
جواب : جو قرآن حضرت علی نے جمع کیا تھا وہ قرآن، تفسیر شان نزول آیات وغیرہ کا مجموعہ تھا باقی رہا حضرت عثمان کا معاملہ تو ہمارے پاس ایسے قرائن موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اختلاف قرات کو روکنے کے لئے اسے ایک قرآت اور نقطہ گذاری کے ساتھ معین کیا کیونکہ اس وقت تک نقطے لگانا معمولات میں داخل نہیں تھا۔
رہا بعض لوگوں کا یہ اصرار کہ قرآن کسی طرح بھی رسول اللہ کے زمانے میں جمع نہیں ہوا اور یہ اعزاز حضرت عثمان خلیفہ اول یا خلیفہ دوم کو حاصل ہوا ہے۔ شاید اس سے زیادہ تر مقصود فضیلت سازی ہے یہی وجہ ہے کہ ہر گروہ اس فضیلت کی نسبت خاص شخصیت کیطرف دیتا ہے اوراسی سے متعلق روایت پیش کرتا ہے۔ اصولی اور بنیادی طور پر یہ کس طرح باور کیا جاسکتا ہے کہ نبی اکرم نے اس اہم ترین کام کو نظر انداز کردیا ہو حالانکہ آپ(ص) تو چھوٹے چھوٹے کاموں کی طرف بھی توجہ دیتے تھے جب کہ قرآن اسلام کا اصول اساسی ہے، تعلیم و تربیت کی عظیم کتاب ہے اور تمام اسلامی پروگراموں اور عقاید کی بنیاد ہے۔ کیا نبی اکرم(ص) کے زمانے میں جمع نہ ہونے سے یہ خطرہ پیدا نہیں ہوسکتا تھا کہ قرآن کا کچھ حصہ ضائع ہو جائے یا مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہوجائیں ؟
علاوہ از یں حدیث ثقلین جسے شیعہ و سنی دونوں نے نقل کیا ہے گواہی دیتی ہے کہ قرآن کتابی صورت میں رسول اللہ(ص) کے زمانے میں جمع ہوچکا تھا۔
پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا :
میں تم سے رخصت ہو رہا ہوں اور تم میں دو چیزیں بطور یادگار چھوڑے جارہا ہوں خدا کی کتاب اور میرا خاندان۔
وہ روایات جودلالت کرتی ہیں کہ آنحضرت کی زیر نگرانی صحابہ نے قران جمع کیا تھا ان میں صحابہ کی تعداد مختلف بیان ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہر روایت نے چند ایک کی نشاندہی کی ہے اس سے کام فقط ان شخصیتوں میں منحصر نہیں ہو جاتا لہذا یہ پہلو باعث اختلاف نظر نہیں ہونا چاہئے۔
۱ ۔( بسم الله الرحمن الرحیم )
۲ ۔( الحمد لله رب العالمین ) ۔
۳ ۔( الرحمن الرحیم ) ۔
۴۔( مالک یوم الدین )
۵ ۔( ایاک نعبد و ایاک نستعین )
۶ ۔( اهدنا الصراط المستقیم )
۷ ۔( صراط الذین انعمت علیهم غیرالمغضوب علیهم ولا الضالین ) ۔
ترجمہ
۱ ۔ شروع اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
۲ ۔ حمد مخصوص اس خدا کے لئے جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔
۳ ۔ وہ خدا جو مہربان اور بخشنے والا ہے( جس کی رحمت عام و خاص سب پر محیط ہے)۔
۴ ۔ وہ خدا جو روز جزا کا مالک ہے۔
۵ ۔ پروردگار! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں او رتجھی سے مدد چاہتے ہیں ۔
۶ ۔ ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت فرما۔
۷ ۔ ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا ان کی راہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ وہ کہ جو گمراہ ہوگئے۔
تفسیر
۱ ۔( بسم الله الرحمن الرحیم )
تمام لوگوں میں یہ رسم ہے کہ ہراہم اور اچھے کام کا آغاز کسی بزرگ کے نام سے کرتے ہیں ۔ کسی عظیم عمارت کی پہلی اینٹ اس شخص کے نام پر رکھی جاتی ہے جس ےس بہت زیادہ قلبی لگاؤ ہو یعنی اس کام کو اپنی پسندیدہ شخصیت کے نام منسوب کردیتے ہیں ۔ مگر کیا یہ بہتر نہیں کہ کسی پروگرام کودوام بخشنے اور کسی مشن کو برقرار رکھنے کے لئے ایسی ہستی سے منسوب کیا جائے جو پائیدار، ہمیشہ رہنے والی ہو اورجس کی ذات میں فنا کا گزر نہ ہو۔ اس جہاں کی تمام موجودات کہنگی پذیر ہیں اور زوال کی طرف رواں دواں ہیں ۔ صرف وہی چیز باقی رہ جائےگی، جو اس ذات لایزال سے وابستہ ہوگی۔
انبیاء و مرسلین کے نام باقی ہیں تو پروردگار عالم سے رشتہ جوڑنے اور عدالت و حقیقت پر قائم رہنے کی وجہ سے اور یہ وہ رشتہ ہے جو زوال آشنا نہیں ۔ اگر حاتم کا نام باقی ہے تو سخاوت کے باعث جو زوال پذیر نہیں ۔ تمام موجودات میں سے فقط ذات خدا ازلی وابدی ہے ۔ اس لئے چاہئے کہ تمام امور کو سا کے نام سے شروع کیا جائے۔ اس کے سائے میں تمام چیزوں کو قرار دیاجائے اوراسی سے مدد طلب کی جائے۔
اسی لئے قرآن کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ہوتا ہے۔ اپنے امورک و برائے نام خدا سے وابستہ نہیں کرنا چاہئے۔ بلکہ حقیقتا اور واقعتا خدا سے رشتہ جوڑنا چاہئے۔ کیونکہ یہ ربط انسان کو صحیح راستہ پر چلائے گا اور ہر قسم کی کجروی سے باز رکھے گا۔ ایسا کام یقینا تکمیل کو پہنچے گا اور باعث برکت ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ کی مشہور حدیث میں ہم پڑھتے ہیں :
کل امر ذی بال لم یذکر فیه اسم الله فهو ابرت
جو بھی اہم کام خدا کے نام کے بغیرشروع ہوگا ناکامی سے ہمکنار ہوگا(۱) ۔
انسان جس کام کو انجام دینا چاہے چاہئے کہ بسم اللہ کہے اور جو عمل خدا کے نام سے شروع ہو وہ مبارک ہے۔
امام باقر(ع) فرماتے ہیں :
جب کوئی کام شروع کرنے لگو، بڑاہو یا چھوٹا بسم للہ کہو، تاکہ وہ بابرکت بھی ہو اور پرا ز امن و سلامتی بھی۔
خلاصہ یہ کہ کسی عمل کی پائیداری و بقا سا کے ربط خدا سے وابستہ ہے۔ اسی مناسبت سے جب خدا وند تعالی نے پیغمبر اکرم(ص) پر پہلی وحی نازل فرمائی تو انہیں حکم دیا کہ تبلیغ اسلام کی عظیم ذمہ داری کو خدا کے نام سے شروع کریں ۔اقرا باسم ربک الذی خلق
ہم دیکھتے ہیں کہ جب تعجب خیز اور نہایت سخت طوفان کے عالم میں حضرت نوح کشتی پر سوار ہوئے۔ پانی کی موجیں پہاڑوں کی طرح بلند تھیں اور ہر لحظہ بے شمار خطرات کا سامنا تھا۔ ایسے میں منزل مقصود تک پہنچنے اور مشکلات پر قابو پانے کے لئے آپ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ کشتی کے چلتے اور رکتے بسم اللہ کہو۔( و قال ارکبوا فیها بسم الله مجرئها و مرسها ) ( ہود آیت ۴۱) ۔
چنانچہ ان لوگوں نے اس پر خطر سفر کو توفیق الہی کے ساتھ کامیابی سے طے کرلیا اور امن و سلامتی کے ساتھ کشتی سے اترے۔ جیسا کہ ارشاد الہی ہے :
( قیل یا نوح اهبط بسلام منا و برکات علیک و علی امم ممن معک )
حکم ہوا اے نوح (کشتی سے) ہماری طرف سے سلامتی او ربرکات کے ساتھ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اتریے (ہود آیت ۴۸ ) ۔
جناب سلیمان نے جب ملکہ سبا کو خط لکھا تو اس کا سرنامہ بسم اللہ ہی کو قرار دیا۔
( انه من سلیمان و انه بسم الله الرحمن ) ( الرحیم )
یہ (مراسلہ) ہے سلیمان کی طرف سے اور بے شک یہ ہےبسم الله الرحمن الرحیم (نمل آیت ۳۰) ۔
اسی بناء پر قرآن حکیم کی تمام سورتوں کی ابتدا بسم اللہ سے ہوتی ہے تاکہ نوع بشر کی ہدایت و سعادت کا اصلی مقصد کامیابی سے ہمکنار ہو اور بغیر کسی نقصان کے انجام پذیر ہو۔ صرف سورہ توبہ ایسی سورت ہے جس کی ابتداء میں ہمیں بسم اللہ نظر نہیں آتی کیونکہ اس کا آغاز مکہ کے مجرموں او رمعاہدہ شکنوں سے اعلان جنگ کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ لہذا ایسے موقع پر خدا کی صفات رحمان و رحیم کا ذکر مناسب نہیں ۔
یہاں ایک نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے وہ یہ کہ ہر جگہ بسم اللہ کہا جاتا ہےبسم الخالق یابسم الرزاق وغیرہ نہیں کہا جاتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ اللہ خدا کے تمام اسمآاور صفات کا جامع ہے۔ اس کی تفصیل عنقریب آئے گی۔ اللہ کے علاوہ دوسرے نام بعض کمالات کی طرف اشارہ کرتے ہیں مثلا خالقیت، رحمت وغیرہ۔ اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ہر کام کی ابتداء میں بسم اللہ کہنا جہاں خدا سے طلب مدد کے لئے ہے وہاں اس کے نام سے شروع کرنے کے لئے بھی ہے۔ اگر چہ ہمارے بزرگ مفسرین نے طلب مدد اور شروع کرنے کو ایک دوسرے سے جدا قرار دیا ہے خلاصہ یہ کہ آغاز کرنا او رمدد چاہنا ہر دو مفہوم یہاں پر لازم و ملزوم ہیں ۔
بہرحال جب تمام کام خدا کی قدرت کے بھروسہ پر شروع کئے جائیں تو چونکہ خدا کی قدرت تمام قدرتوں سے بالا تر ہےاس لئے ہم اپنے میں زیادہ قوت و طاقت محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ زیاد مطمئن ہو کر کوشش کرتے ہیں ۔ بڑی سے بڑی مشکلات کا خوف نہیں رہتا اور مایوسی پیدا نہیں ہوتی اور اس کے ساتھ ساتھ اس سے انسان کی نیت او رعمل زیادہ پاک اور زیادہ خالص رہتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں جتنی گفتگو کی جائے کم ہے کیونکہ مشہور ہے کہ حضرت علی(ع) ابتدائے شب سے صبح تک ابن عباس کے سامنے بسم اللہ کی تفسیر بیان فرماتے رہے صبح ہوئی تو آپ بسم کی ”ب“ سے آگے نہیں بڑھے تھے۔ آنحضرت (ع) ہی کے ایک ارشاد سے ہم یہاں اس بحث کو ختم کرتے ہیں ۔ آئندہ مباحث میں اس سلسلے کے دیگر مسائل پرگفتگو ہوگی۔
عبداللہ بن یحیی امیرالمومنین کے محبوں میں سے تھے ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بسم اللہ کہے بغیر اس چارپائی پر بیٹھ گئے جو وہاں پڑی تھی اچانک وہ جھکے اور زمین پر آگرے۔ ان کا سر پھٹ گیا۔ حضرت علی(ع) نے سر پر ہاتھ پھیرا تو ان کا زخم مندمل ہوگیا، آپ نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی اکرم نے خدا کی طرف سے یہ حدیث مجھ سے بیان فرمائی ہے کہ جو کام نام خدا کے بغیر شروع کیا جائے بے انجام رہتا ہے (عبداللہ کہتے ہیں ) میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان میں یہ جانتا ہوں او راب کے بعد پھر اسے ترک نہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا پھر تو تم سعادتوں سے بہرہ ور ہوگئے۔
امام صادق(ع) نے اسی حدیث کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے بعض شیعہ کام کی ابتداء میں بسم اللہ ترک کردیتے ہیں اور خدا انہیں کسی تکلیف میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ بیدار ہوں اور ساتھ ساتھ یہ غلطی بھی ان کے نامہ عمل سے دھو ڈالی جائے( ۲) ۔
____________________
۱۔ تفسیر البیان جلد اول ص۴۶۱ بحوالہ بحار جلد ۶ باب ۵۸۔
۲۔ سفینة البحار، جلد اول ص۶۳۳۔
کیا بسم اللہ سورہ حمد کا جزء ہے؟
شیعہ علماء و محققین میں اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں کہ بسم اللہ سورہ حمد اور دیگر سورقرآن کا جزء ہیں ۔
بسم اللہ کا متن تمام سورتوں کی ابتداء میں ثبت ہونا اصولی طور پر اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ یہ جزو قرآن ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ متن قرآن میں کوئی اضافی چیز نہیں لکھی گئی او ربسم اللہ زمانہ پیغمبر سے لے کر اب تک سورتوں کی ابتداء میں موجوج ہے۔ باقی رہے علمائے اہل سنت توصاحب تفسیر المنار نے ان کے اقوال درج کئے ہیں جن کی تفصیل کچھ یوں ہے :
گذشتہ علمائے اہل مکہ، فقہا قاری حضرات جن میں ابن کثیر بھی شامل ہیں ، اہل کوفہ کے قراء میں سے عاصم اور کسائب اور اہل مدینہ میں سے بعض صحابہ اور تابعین اسی طرح شافعی اپنی کتاب جدید میں اور اس کے پیرو کار نیز ثوری اور احمد اپنے قول میں اس بات کے معتقد ہیں کہ بسم اللہ جز سورہ ہے۔ اسی طرح علماء امامیہ اور ن کے اقوال کے مطابق صحابہ میں سے علی، ابن عباس، عبداللہ بن عمر اور ابوہریرہ، تابعین میں سے سعید بن جبیر، عطا، زہری اور ابن مبارک بھی اسی نظرئیے کے حامل تھے۔
اس کے بعد مزید لکھتے ہیں کہ ان کی اہم ترین دلیل یہ ہے کہ صحابہ اور ان کے بعد برسر کار لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ سورہ برآت کے سوا تمام سورتوں کے آغاز میں بسم اللہ مذکور ہے جب کہ وہ بالاتفاق ایک دوسرے کو وصیت کرتے تھے کہ ہر اس چیز سے جو جزو قرآن نہیں قرآن کو پاک رکھا جائے اسی لئے تو آمین، کو انہوں نے سورہ فاتحہ کے آخر میں ذکر نہیں کیا۔
اس کے بعد انہوں نے مالک او رابوحنیفہ کے پیروکاروں اور بعض دوسرے لوگوں کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ وہ بسم اللہ کو مستقل آیت سمجھے تھے جو سورتوں ک ی ابتداء کے بیان اور ان کے درمیان حد فاصل کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے اہل سنت کے معروف فقیہ اور بعض قارئین کوفہ سے نقل کیا ہے کہ وہ بسم اللہ کو سورہ حمد کاتو جزء سمجھتے تھے لیکن باقی سورتوں کو جزء نہیں سمجھتے تھے(۱) ۔
اس گفتگو سے معلوم ہو اکہ اہل سنت کی یقینی اکثریت بھی بسم اللہ کو سورت کا جزء سمجھتی ہے۔
اب ہم بعض روایات پیش کرتے ہیں جو شیعہ و سنی طرق سے اس سلسلے میں نقل ہوئی ہیں (ہمیں اعتراف ہے کہ اس ضمن کی تمام احادیث کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں اور ان کا تعلق فقہی بحث سے ہے)۔
۱ ۔ معاویہ بن عمار(جوامام صادق(ع) کے محب و ہوالی تھے) کہتے ہیں میں نے امام سے پوچھا کہ جب میں نماز پڑھنے لگوں تو کیا الحمد کی ابتداء میں بسم اللہ پڑھوں ؟ ” آپ نے فرمایا ہاں “(۲) ۔
۲ ۔ دار قطنی نے جو علماء اہل سنت میں سے ہیں سند صحیح کے ساتھ حضرت علی سے نقل کیا ہے :
ایک شخص نے آپ سے پوچھا ”سبع مثانی کیا ہے“ ؟ فرمایا : سورہ حمد۔ اس نے عرض کیا سورہ حمد کی تو چھ آیتیں ہیں ، آپ نے فرمایا :بسم الله الرحمن الرحیم بھی اس کی ایک آیت ہے(۳) ۔
۳ ۔ اہل سنت کے مشہور محدث بہیقی سند صحیح کے ساتھ ابن جبیر کے طریق سے اس طرح نقل کرتے ہیں :
استرق الشیطان من الناس اعظم آیة من القرآن بسم الله الرحمن الرحیم ۔
شیطان صفت اشخاص نے قرآن کی بہت بڑی آیت بسم اللہ الرحمن الرحیم کو چرا لیا ہے (یہ اس طرف اشارہ ہے کہ سورتوں کے شروع میں اسے نہیں پڑھا جاتا(۴) ۔
ان سب کے علاوہ ہمیشہ مسلمانوں کو یہ سیرت رہی ہے کہ وہ قرآن مجید کی تلاوت کے وقت بسم اللہ ہر سورت کی ابتداء میں پڑھتے رہے ہیں تواتر سے ثابت ہے کہ پیغمبر اکرم بھی اس کی تلاوت فرماتے تھے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو چیز جزو قرآن نہ ہو اسے پیغمبر اور مسلمان ہمیشہ قرآن کے ضمن پڑھتے رہے ہوں اور سدا اس عمل کوجاری رکھا ہو۔
باقی رہابعض کا یہ احتمال کہ بسم اللہ مستقل آیت ہے جو جزو قرآن تو ہے لیکن سورتوں کا حصہ نہیں تو یہ احتمال نہایت ضعیف اور کمزور دکھائی دیتا ہے کیونکہ بسم اللہ کا مفہوم او رمعنی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ ابتداء اور آغاز کے لئے ہے نہ کہ یہ ایک علیحدہ اور مستقل اہمیت کی حامل ہے۔ در اصل یہ فکر جمود اور سخت تعصب کی غماز ہے اور یوں لگتا ہے گویا اپنی بات کو برقرار رکھنے کے لئے ہر احتمال پیش کیا جارہا ہے او ربسم اللہ جیسی آیت کو مستقل اور سابق و لاحق سے الگ ایک آیت قرار دیاجارہا ہے جس کا مضمون پکار پکار کر اپنے سرنامہ اور بعد والی ابحاث کے لئے ابتداء ہونے کا اعلان کر رہا ہے۔
ایک اعتراض البتہ قابل غور ہے جسے مخالفین اس مقام پر پیش کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں جب قرآن کی سورتوں کی آیات شمار کرتے ہیں (سوائے سورہ حمد کے)تو بسم اللہ کو ایک آیت شمار نہیں کیا جاتا بلکہ پہلی آیت بسم اللہ سے بعد والی آیت کو قرار دیاجاتاہے۔ اس اعتراض کا جواب فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں وضاحت کے ساتھ دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں :
کوئی حرج نہیں کہ بسم اللہ سورہ حمد میں تو الگ ایک آیت ہو اور دوسری سورتوں میں پہلی آیت کا جزء قرار پائے(اس طرح مثلا سورہ کوثر میں( بسم الله الرحمن الرحیم انا اعطیناک الکوثر ) سب ایک آیت شمار ہو)
بہرحال مسئلہ اس قدر واضح ہے کہ کہتے ہیں :
ایک دن معاویہ نے اپنی حکومت کے زمانے میں نماز با جماعت میں بسم اللہ نہ پڑھی تو نماز کے بعد مہاجرین و انصار کے ایک گروہ نے پکار کرکہا ” اسرقت ام نسیت“ یعنی کیا معاویہ نے بسم اللہ کو چرا لیا ہے یا بھول گیا ہے؟(۵)
____________________
۱۔ تفسیر المنار جلد اول ص ۳۹، ۴۰۔
۲۔ کافی جلد ۳ ص ۳۱۲۔
۳ ۔ الاتفاق جلد اول ص ۱۳۶۔
۴۔ بیہقی جلد ۲ ص۵۰۔
۵- بیہقی جزء دوم ص۴۹۔ حاکم نے مستدرک جزء اول ص ۲۳۳ میں اس روایت کو درج کرکے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
خدا کے ناموں میں سے اللہ، جامع ترین نام ہے
بسم اللہ کی ادائیگی میں ہمارا سامنا سب سے پہلے لفظ اسم سے ہوتا ہے۔ عربی ادب کے علماء کے بقول اس کی اصلی ”سمو“ بر وزن علو ہے جس کے معنی ہیں ارتفاع اور بلندی۔ تمام ناموں کو اسم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے ہر چیزکا مفہوم اخفاء سے ظہور و ارتفاع کے مرحلے میں داخل ہوجاتا ہے یا اس کی وجہ یہ ہے کہ لفظ، نام ہوجانے کے بعد معنی پیدا کرلیتا ہے۔ مہمل اور بے معنی کی منزل سے نکل آتا ہے اور اس طرح ارتفاع و بلندی حاصل کرلتیا ہے۔
بہرحال کلمہ ”اسم“ کے بعد، ہم کلمہ اللہ تک پہنچتے ہیں جو خدا کے ناموں میں سب سے زیادہ جامع ہے۔ خدا کے ان ناموں کو جو قرآن مجید یا دیگر مصادر اسلامی میں آئے ہیں اگر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ خدا کی کسی ایک صفت کو منعکس کرتے ہیں لیکن وہ نام جو تمام صفات و کمالات الہی کی طرف اشارہ کرتا ہے دوسرے لفظوں میں جو صفات جلال و جمال کا جامع ہے و ہ صرف اللہ ہے یہی وجہ ہے کہ خدا کے دوسرے نام عموما کلمہ اللہ کی صفت کی حیثیت سے کہے جاتے ہیں مثال کے طور پر چند ایک کا ذکر کیا جاتا ہے :
( غفور و رحیم : فان الله غفور رحیم ) (بقرہ ۲۲۶) ۔ یہ صفت خدا کی صفت بخشش کی طرف اشارہ ہے :
سمیع وعلیم : سمیع اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ خدا تمام سنی جانے والی چیزوں سے آگاہی رکھتا ہے اور علیم اشارہ ہے کہ وہ تمام چیزوں سے باخبر ہے۔
فان اللہ سمیع علیم (بقرہ ، ۲۲۷) ۔
بصیر : یہ لفط بتاتا ہے کہ خدا تمام دیکھی جانے والی چیزوں سے آگاہ ہے :( والله بصیر بما تعملون ) (حجرات، ۱۸) ۔
رزاق : یہ صفت اس کے تمام موجودات کو روزی دینے کے پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے اور ذوالقوة اس کی قدرت کو ظاہر کرتی ہے اور متین، اس کے افعال اور پروگرام کی پختگی کا تعارف ہے :( ان الله هو الرزاق ذو القوة المتین ) (زاریات ، ۵۸)
خالق اور باری : اس کی آفرینش اور پیدا کرنے کی صفت کی طرف اشارہ ہے اور مصور اس کی تصویر کشی کی حکایت کرتا ہے :( هو الله الخالق الباری المصور له الاسماء الحسنی ) (حشر، ۲۴)
ظاہر ہوا کہ ”اللہ “ ہی خدا کے تمام ناموں میں سے جامع ترین ہے یہی وجہ ہے کہ ایک ہی آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے نام ”اللہ“ قرار پائے ہیں :
( هو الله الذی لا اله الا هو الملک القدوس السلام المومن المهیمن العزیز الجبار المتکبر ) ۔
اللہ وہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ حاکم مطلق ہے، منزا ہے، ہر ظلم و ستم سے پاک ہے، امن بخشنے والا ہے، سب کا نگہبان ہے، توانا ہے کسی سے شکست کھانے والا نہیں اور تمام موجودات پرقاہر وغالب اور باعظمت ہے۔ (حشر ۲۳) ۔
نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ دیگر مذاہب کے لوگ جب مسلمانوں کے معبود کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں تو لفظ اللہ کا ذکر کرتے ہیں کیونکہ خدا وندعالم کی تعریف و توصیف لفظ اللہ سے مسلمانوں کے ساتھ مخصوص ہے۔
اس نام کی جامعیت کا ایک وضح شاہد یہ ہے کہ ایمان و توحید کا اظہار صرف ”لا اله الا الله “ کے جملے سے ہوسکتا ہے اور جملہ”لا اله الا العلیم.. الا الخالق.... لا الرزاق اور دیگر اس قسم کے جملے خود سے توحید و اسلام کی دلیل
خدا کی رحمت عام او ررحمت خاص
مفسرین کے ایک طبقے میں مشہور ہے کہ صفت، رحمان رحمت عالم کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ رحمت ہے جو دوست و دشمن ، مومن و کافر، نیک و بد ، غرض سب کے لئے ہے۔ کیونکہ اس کی بے حساب رحمت کی بارش سب کو پہنچتی ہے، اور اس کا خوان نعمت ہر کہیں بچھا ہوا ہے۔اس کے بندے زندگی کی گوناگوں رعنائیوں سے بہرہ ور ہیں اپنی روزی اس کے دسترخوان سے حاصل کرتے ہیں جس پربے شمار نعمتیں رکھی ہیں ۔ یہ وہی رحمت عمومی ہے جس نے عالم ہستی کا احاطہ کر رکھا ہے اور سب کے سب اس دریائے رحمت میں غوطہ زن ہیں ۔
رحیم خداوند عالم کی رحمت خاص کی طرف اشارہ ہے۔ یہ وہ رحمت ہے جو اس کے مطیع، صالح، اور فرمانبردار بندوں کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ انہوں نے ایمان او رعمل صالح کی بناء پر یہ شائستگی حاصل کرلی ہے کہ وہ اس رحمت و احسان خصوصی سے بہرہ مند ہوں جو گنہگاروں اورغارت گروں کے حصے میں نہیں ہے۔
ایک چیز جو ممکن ہے اسی مطلب کی طرف اشارہ ہو یہ ہے کہ لفظ ”رحمان“ قرآن میں ہر جگہ مطلق آیا ہے جو عمومیت کی نشانی ہے جب کہ رحیم کبھی مقید ذکر ہوا ہے مثلا وکان بالمومنین رحیما (خدا، مومنین کے لئے رحیم ہے) ۔ (احزاب ۴۳) ۔ اور کبھی مطلق جیسے کہ سورہ حمد میں ہے ۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت صادق (ع) نے فرمایا :
والله اله کل شیئی الرحمان بجمیع خلقه الرحیم بالمومنین خاصة (۱) ۔
خدا ہر چیز کا معبود ہے۔ وہ تمام مخلوقات کے لئے رحمان او رمومنین پر خصوصیت کے ساتھ رحیم ہے۔
ایک پہلو یہ بھی ہے کہ رحمان صیغہ مبالغہ ہے جوا سکی رحمت کی عمومیت کے لئے خود ایک مستقل دلیل ہے اور رحیم صفت مشبہ ہے جو ثبات و دوام کی علامت ہے اور یہ چیز مومنین کے لئے ہی خاص ہوسکتی ہے۔
ایک اور شاہد یہ ہے کہ رحمان خدا کے مخصوص ناموں میں سے ہے اور اس کے علاوہ کسی کے لئے یہ لفظ استعمال نہیں کیا جاتا جب کہ رحیم ایسی صفت ہے جو خدا اور بندوں کےلئے استعمال ہوتی ہے جیسے نبی اکرم(ص) کے لئے ارشاد الہی ہے :
( عزیز علیه ما عنتم حریص علیکم باالمومنین روف رحیم ) ۔
تمہاری تکلیف و مشقت نبی پر گراں ہے، تمہاری ہدایت اسے بہت پسندیدہ ہے اور وہ مومنین کے لئے مہربان اور رحیم ہے (توبہ ، ۱۲۸) ۔
ایک دوسری حدیث میں امام صادق (ع) سے منقول ہے :
الرحمن اسم خاص بصفة عامة والرحیم اسم عام بصفة خاصة
رحمن اسم خاص ہے لیکن صفت عام اور رحیم اسم عام ہے لیکن صفت خاص ہے( ۲) ۔
یعنی رحمن ایسا نام ہے جو خدا کے لئے مخصوص ہے لیکن اس میں اس کی رحمت کا مفہوم سب پر محیط ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ رحیم ایک صفت عام کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے البتہ اس میں (صفت خاص کے طور پر استعمال ہونے میں ) کوئی مانع نہیں جو فرق بتایا گیا ہے وہ تو اصل لغت کے لحاظ سے ہے لیکن اس میں استثنائی صورت پائی جاتی ہے۔ امام حسین (ع) کی ایک بہترین اور مشہور دعا جو دعائے عرفہ کے نام س معروف ہے کے الفاظ ہیں :
یا رحمان الدنیا والآخرة و رحیما
اے وہ خدا جو دنیا و آخرت کا رحمان اور دونوں ہی کا رحیم ہے۔
اس بحث کو ہم نبی اکرم(ص) کی ایک پرمعنی اور واضح حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں ۔ آپ کا ارشاد ہے :
ان الله عزوجل مآة رحمة و انه انزل منها واحدة الی الارض فقسها بین خلقه بها یتعاطفون و یتراجعون واخر تسع و تسعین لنفسه یرحم بها عباده یوم القیامة ۔
خدا وندتعالی کی رحمت کے سو باب ہیں جن میں سے اس نے ایک کو زمین پر نازل کیا ہے اور (اس رحمت) کو اپنی مخلوق میں تقسیم کیا ہے۔ لوگوں کے درمیان جو عطوفت، مہربانی اور محبت ہے وہ اسی کا پر تو ہے لیکن نناوے حصے رحمت اس نے اپنے لئے مخصوص رکھی ہے اور قیامت کے دن اپنے بندوں کو اس سے نوازے گا( ۳) ۔
____________________
۱۔ المیزان بسند کافی، توحید صدوق اور معانی الاخبار۔
۲۔ مجمع البیان جلد ۱، ص ۲۱۔
۳۔ مجمع البیان ج۱۔
خدا کی دیگر صفات بسم اللہ میں کیوں مذکور نہیں ؟
یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن کی تمام سورتیں (سوائے سورہ برات کے جس کی وجہ بیان ہوچکی ہے)بسم اللہ سے شروع ہوتی ہیں اوربسم اللہ میں مخصوص نام ”اللہ“ کے بعد صرف صفت رحمانیت کا ذکر ہے اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں پر باقی صفات کا ذکر کیوں نہیں ۔
اگر ہم ایک نکتے کی طرف توجہ کریں تو اس سوال کاجواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ ہر کام کی ابتداء میں ضروری ہے کہ ایسی صفت سے مدد لی جس کے آثار تمام جہان پر سایہ فگن ہوں ، جو تمام موجودات کا احاطہ کئے ہو اورعالم بحران میں مصیبت زدوں کونجات بخشنے والی ہو۔ مناسب ہے کہ اس حقیقت کوقرآن کی زبان سے سنا جائے۔ ارشاد الہی ہے :( و رحمتی وسعت کل شئی ) میری رحمت تمام چیزوں پر محیط ہے (اعراف ، ۱۵۶)
ایک اور جگہ ہے حاملان عرش کی ایک دعاء خدا وند کریم نے یوں بیان فرمایا ہے :( ربنا وسعت کل شئی رحمة ) پروردگار! تو نے اپنا دامن رحمت ہر چیز تک پھیلا رکھا ہے (المومن، ۷) ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء کرام نہایت سخت اور طاقت فرسا حوادث اور خطرناک دشمنوں کے چنگل سے نجات کے لئے رحمت خدا کے دامن میں پناہ لیتے ہیں قوم موسی فرعونیوں کے ظلم سے نجات کے لئے پکارتی ہے :( و نجنا برحمتک ) ۔ خدایا ہمیں (ظلم سے) نجات دلا اور اپنی رحمت (کا سایہ) عطا فرما۔ (یونس ، ۸۶) ۔
حضرت ہود (ع) اوران کے پیروکاروں کے سلسلے میں ارشاد ہے :( فانجیناه والذین معه برحمة منا ) ۔ ہود(ع) اور ان کے ہمراہیوں کو ہم نے اپنی رحمت کے وسیلے سے نجات دی (اعراف ، ۷۲) ۔
اصول یہ ہے جب ہم خداسے کوئی حاجت طلب کریں تو مناسب ہے کہ اسے ایسی صفات سے یاد کریں جو اس حاجت سے میل اور ربط رکھتی ہوں ۔ مثلا حضرت عیسی مائدہ آسمانی (مخصوص غذا) طلب کرتے ہیں تو کہتے ہیں :( اللهم ربنا انزل علینا مائدة من السماء و ارزقنا و انت خیر الرازقین ) ۔
بار الہا ! ہم پر آسمان سے مائدہ نازل فرما اورہمیں روزی عطا فرما اور توبہترین روزی رساں ہے۔(مائدہ، ۱۱۴) ۔
خدا کے عظیم پیغمبر حضرت نوح(ع) بھی ہمیں یہی درس دیتے ہیں ۔ وہ جب ایک مناسب جگہ کشتی سے اترنا چاہتے ہیں تو یوں دعا کرتے ہیں :
( رب انزلنی منزلا مبارکا و انت خیرالمنزلین ) ۔ پروردگار ! ہمیں منزل مبارک پر اتارکہ تو بہترین اتارنے والا ہے (مومنین، ۲۹) ۔
حضرت زکریا (ع) خدا سے ایسے فرزند کے لئے دعا کرتے ہیں جو ان کاجانشین و وارث ہو اس کی خیر الوارثین سے توصیف کرتے ہیں :
( رب لا تذرنی فردا و انت خیر الوارثین ) ۔ خداوند ! تنہا نہ چھوڑ تو توبہترین وارث ہے (انبیاء ، ۸۹) ۔
کسی کام کو شروع کرتے وقت جب خدا کے نام سے شروع کریں تو خدا کی وسیع رحمت کے دامن سے وابستگی ضروری ہے ایسی رحمت جو عام بھی ہو اور خاص بھی۔ کاموں کی پیش رفت او رمشکلات میں کامیابی کے لئے کیا ان صفات سے بہتر کوئی اور صفت ہے؟ قابل توجہ امر یہ ہے کہ و ہ توانائی جو قوت جاذبہ کی طرح عمومیت کی حامل ہے جو دلوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیتی ہے وہ یہی صفت رحمت ہے لہذا مخلوق کااپنے خالق سے رشتہ استوار کرنے کے لئے بھی اسی صفت رحمت سے استفادہ کرنا چاہئے۔ سچے مومن اپنے کاموں کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر تمام جگہوں سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اپنےدل کو صرف خدا سے وابستہ کرتے ہیں اور اسی سے مدد و نصرت طلب کرتے ہیں وہ خدا جس کی رحمت سب پر چھائی ہوئی ہے اور کوئی موجود ایسا نہیں جو اس سے بہرہ ور نہ ہو۔
بسم اللہ سے واضح طور پر یہ درس حاصل کیا جا سکتا ہے کہ خدا وند عالم کے ہر کام کی بنیاد رحمت پر ہے اور بدلہ یا سزا تو استثنائی صورت ہے جب تک قطعی عوامل پیدا نہ ہوں سزا متحقق نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ ہم دعا میں پڑھتے ہیں : ۔ اے وہ خدا کہ جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت لے گئی ہے(۱) ۔
انسان کو چاہئے کہ وہ زندگی کے پروگرام پر یوں عمل پیرا ہو کہ ہر کام کی بنیاد رحمت و محبت کو قرار دے اور سختی و درشتی کو فقط بوقت ضرورت اختیار کرے۔ قرآن مجید کی ۱۱۴ سورتوں میں سے ۱۱۳ کی ابتداء رحمت سے ہوتی ہے اور فقط ایک سورہ توبہ ہے جس کا آغاز بسم اللہ کی بجائے اعلان جنگ اور سختی سے ہوتا ہے۔
____________________
۱۔ دعائے جوشن کبیر۔
۲ ۔( الحمد لله رب العالمین )
حمد وثنا اس خدا کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار و مالک ہے
سارا جہاں اس کی رحمت میں ڈوبا ہو ا ہے۔
بسم اللہ جو سورت کی ابتداء ہے اس کے بعد بندوں کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ عالم وجود کے عظیم مبداء اور اس کی غیر متناہی نعمتوں کو یاد کریں ۔ وہ بے شمار نعمتیں جنہوں نے ہمارے پورے وجود کو گھیر رکھا ہے۔ پروردگار عالم کی معرفت کی طرف راہنمائی کرتی ہیں ۔ بلکہ اس راستے کا سبب ہی یہی ہے کیونکہ کسی انسان کو جب کوئی نعمت حاصل ہوتی ہے تو وہ فورا چاہتا ہے کہ اس نعمت کے بخشنے والے کو پہچانے اور فرمان فطرت کے مطابق اس کی سپاس گزاری کے لئے کھڑا ہو اور اس کے شکریے کا حق ادا کرے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء علم کلام (عقاید) اس علم کی پہلی بحث میں جب گفتگو معرفت خدا کی علت و سبب کے متعلق ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ فطری و عقلی حکم کے مطابق معرفت خدا اس لئے واجب ہے چونکہ محسن کے احسان کا شکریہ واجب ہے۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ معرفت کی رہنمائی اس کی نعمتوں سے حاصل ہوتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ (مبداء) خدا کو پہچاننے کا بہترین اور جامع ترین راستہ اسرار آفرینش و خلقت کا مطالعہ کرنا ہے ان میں خاص طور پر ان نعمتوں کا وجود ہے جو نوع انسانی کی زندگی کو ایک دوسرے سے مربوط کرتی ہیں ۔ ان دو وجوہ کی بناء پر سورہ فاتحہ کتاب( ”الحمد لله رب العالمین ) “ سے شروع ہوتی ہے، اس جملے کی گہرائی اورعظمت تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ حمد، مدح اور شکر کے درمیان فرق اور اس کے نتائج کی طرف توجہ کی جائے۔
حمد : نیک اختیاری کام یا نیک صفت کی تعریف کو عربی زبان میں حمد کہتے ہیں یعنی جب کوئی سوچ سمجھ کر کوئی اچھا کام انجام دے یا کسی اچھی صفت کو انتخاب کرے جو نیک اختیاری اعمال کاسر چشمہ ہو تو اس پر کی گئی تعریف و توصیف کو حمد و ستائش کہتے ہیں ۔
مدح : مدح کا معنی ہے ہر قسم کی تعریف کرنا چاہے وہ کسی اختیاری کام کے مقابلے میں ہو یا غیر اختیاری کام کے مثلا اگر ہم کسی قیمتی موتی کی تعریف کریں تو عرب اسے مدح کہیں گے۔
دوسرے لفظوں میں مدح کا مفہوم عام ہے جب کہ حمد کا مفہوم خاص ہے۔
شکر : شکر کا مفہوم حمد اور مدح دونوں سے زیادہ محدود ہے ۔ شکر فقط انعام و احسان کے مقابلے میں تعریف کو کہتے ہیں انعام و احسان بھی وہ جو کسی دوسرے سے اس کی رضا و رغبت سے ہم تک پہنچے(۱) ۔
اب اگر ہم اس نکتے کی طرف توجہ کریں کہ اصطلاحی مفہوم میں ”الحمد“ کا الف اور لام جنس ہے اور یہاں عمومیت کا معنی دیتا ہے تو نتیجہ نکلے گا کہ ہر قسم کی حمد و ثنا مخصوص ہے اس خدا کے لئے جو تمام جہانوں کا مالک و پروردگار ہے یہاں تک کہ جو انسان بھی خیر و برکت کا سرچشمہ ہے، وہ پیغمبر او رخدائی راہنما نور ہدایت سے دلوں کو منور کرتا ہے اور درس دیتا ہے ، جو سخی بھی سخاوت کرتا ہے اور جو کوئی طبیب جان لیوا زخم پر مرہم پٹی لگاتا ہے ان کی تعریف کا مبداء بھی خدا کی تعریف ہے اور ان کی ثنا در اصل اسی کی ثناء ہے بلکہ اگر خورشید نور افشانی کرتا ہے، بادل بارش برساتا ہے اور زمین اپنی برکتیں ہمیں دیتی ہے تو یہ سب کچھ بھی اس کی جانب سے ہے لہذا تمام تعریفوں کی بازگشت اسی ذات با برکات کی طرف ہے دوسرے لفظوں میں ”الحمد للہ رب العالمین“ ، توحید ذات، توحید صفات اور توحید افعال کی طرف اشارہ ہے (اس بات پر خصوص غور کیجئے)۔
یہاں اللہ کی توصیف”رب العالمین“ سے کی گئی ہے اصولی طور پر یہ مدعی کے ساتھ دلیل پیش کی گئی ہے۔ گویا کوئی سوال کر رہا ہو کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے کیوں مخصوص ہیں تو جواب دیا جارہا ہے کہ چونکہ وہ رب العالمین ہے یعنی تمام جہانوں میں رہنے والوں کا پروردگار ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے : الذی احسن کل شئی خلقہ ۔ یعنی خدا وہ ہے جس نے ہر چیز کی خلقت کو بہترین صورت میں انجام دیا (سجدہ، ۷) ۔
نیز فرمایا :( وما من دابة فی الارض الا علی الله رزقها ) ۔ زمین میں چلنے والے ہر کسی کی روزی خدا کے ذمے ہے (ہود، ۶) ۔
کلمہ حمد سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ خدا وند عالم نے یہ تمام عطیات اور نیکیاں اپنے ارادہ و اختیار سے ایجاد کی ہیں اور یہ بات ان لوگوں کے نقطہ نظر کے خلاف ہے جو یہ کہتے ہیں کہ خدا بھی سورج کی طرح ایک مبداء مجبور فیض بخش ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حمد صرف ابتدائے کار میں ضروری نہیں بلکہ اختتام کار پر بھی لازم ہے جیسا کہ قرآن ہمیں تعلیم دیتا ہے۔
اہل بہشت کے بارے میں ہے۔( دعواهم فیها سبحانک اللهم و تحیتهم فیها سلام و آخر دعواهم ان الحمد لله رب العالمین ) ۔
پہلے تو وہ کہیں گے کہ اللہ تو ہر عیب و نقص سے منزہ ہے، ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت سلام کہیں گے او رہر بات کے خاتمے پر کہیں گے( ”الحمد لله رب العالمین“ ) (سورہ یونس ، ۱۰) ۔
کلمہ ”رب “ کے اصلی معنی ہیں کسی چیز کا مالک یا صاحب جو اس کی تربیت و اصلاح کرتا ہو۔ کلمہ ”ربیبہ“ کسی شخص کی بیوی کی اس بیٹی کو کہتے ہیں جو اس کے کسی پہلے شوہر سے ہو، لڑکی اگر چہ دوسرے شوہر سے ہوتی ہے لیکن منہ بولے باپ کی نگرانی میں پرورش پاتی ہے۔
لفظ ”رب“ مطلق اور اکیلا تو صرف خدا کے لئے بولا جاتا ہے ۔ اگر غیر خدا کے لئے استعمال ہو تو ضروری ہے کہ اضافت بھی ساتھ ہو مثلا ہم کہتے ہیں رب الدار (صاحب خانہ) یا رب السفینة (کشتی والا)( ۲) ۔
تفسیر مجمع البیان میں ایک اور معنی بھی ہیں : بڑا شخص جس کے حکم کی اطاعت کی جاتی ہو۔ بعید نہیں کے دونوں معانی کی بازگشت ایک ہی اصل کی طرف ہو( ۳) ۔
لفظ ”عالمین“ عالم کی جمع ہے اور عالم کے معنی ہیں مختلف موجودات کا وہ مجموعہ جو مشترکہ صفات کا حامل ہو یاجن کا زمان و مکان مشترک ہو، مثلا ہم کہتے ہیں عالم انسان، عالم حیوان یا عالم گیاہ یا پھر ہم کہتے ہیں عالم مشرق، عالم مغرب، عالم امروز یا عالم دیروز۔ لہذا عالم اکیلا جمعیت کا معنی رکھتا ہے اورجب عالمین کی شکل میں جمع کا صیغہ ہو تو پھر اس سے اس جہان کے تمام مجموعوں کی طرف اشارہ ہوگا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ ” ی اور ن“ والی جمع عموما ذی العقول کے لئے آتی ہے جب کہ اس جہان کے سب عالم تو صاحب عقل نہیں ہیں اسی لئے بعض مفسرین یہاں لفظ عالمین سے صاحبان عقل کے گروہوں اور مجموعوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔ مثلا فرشتے، انسان اورجن۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ جمع تغلیبی ہو(جس کا مقصد مختلف صفات کے حامل مجموعے کو بلند تر صنف کی صفت سے متصف کیا جانا ہے)۔
صاحب تفسیر المنار کہتے ہیں ہمارے جد امام صادق(ان پر اللہ کا رضوان ہو) سے منقول ہے کہ عالمین سے مراد صرف انسان ہیں ۔ مزید لکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں بھی عالمین اسی معنی کے لئے آیا ہے جیسا کہ لیکون للعالمین نذیرا۔ یعنی خدا وند عالم نے قرآن اپنے بندے پر اتارا تاکہ وہ عالمین کو ڈرائے۔ (فرقان، ۱) ۔
لیکن اگر عالمین کے موارد استعمال قرآن میں دیکھے جائیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ اگر چہ بہت سے مقامات پر لفظ عالمین انسانوں کے معنی میں آیا ہے تاہم بعض موارد میں اس سے وسیع تر مفہوم کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جہاں اس سے انسانوں کے علاوہ دیگر موجودات بھی مراد ہیں ۔ مثلا :فلله الحمد رب السموات و رب الارض رب العالمین ۔تعریف و ستائش مخصوص ہے اس خدا کے لئے جو آسمانوں اور زمین کا مالک و پروردگار ہے، جو مالک و پروردگار ہے عالمین کا۔ (الجاثیہ، ۳۶) ۔ایک اور مقام پر ارشاد ہے :( قال فرعون و مارب العالمین قال رب السموات والارض و ما بینهما ) ۔
فرعون نے کہا عالمین کا پروردگار کون ہے۔ موسی نے جواب دیا آسمانوں ، زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان کا پروردگار۔ (شعراء، ۲۴ ، ۲۳) ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایک روایت میں جو شیخ صدوق نے عیون الاخبار میں حضرت علی(ع) سے نقل کی ہے اس میں ہے کہ امام نے الحمد للہ رب العالمین کی تفسیر کے ضمن میں فرمایا :رب العالمین هم الجماعات من کل مخلوق من الجمادات والحیوانات ۔رب العالمین سے مراد تمام مخلوقات کا مجموعہ ہے چاہے وہ بے جان ہوں یا جاندار( ۴) ۔
یہاں یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہئے کہ شاید ان روایات میں کوئی تضاد ہے کیونکہ لفظ عالمین کا مفہوم اگر چہ وسیع ہے لیکن تمام موجودات عالم کا سہرا مہرہ انسان ہے لہذا بعض اوقات اس پر انگشت رکھ دی جاتی ہے اور باقی کائنات کو اس کا تابع اور اس کے زیر سایہ سمجھا جاتا ہے اس لئے اگر امام سجاد(ع) کی روایت میں اس کی تفسیر انسان کی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مجموعہ کائنات کا اصلی ہدف و مقصد انسان ہی ہے۔یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ بعض نے عالم کی دو حصوں میں تقسیم کی ہے عالم کبیر اور عالم صغیر۔ عالم صغیر سے ان کی مراد انسان کا وجود ہے کیونکہ ایک انسان کا وجود مختلف توانائیوں اور قوی کا مجموعہ ہے اور اس بڑے عالم پر حاکم ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ انسان تمام کائنات میں ایک نمونہ اور ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ہم نے عالم سے یہ جو وسیع مفہوم مراد لیا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ لفظ عالمین جملہ الحمد للہ کے بعد آیا ہے ۔ اس جملہ میں تمام تعریف و ستائش کو خدا کے ساتھ مختص قرار دیاگیا ہے اس کے بعد رب العالمین کو بطور دلیل ذکر کیا گیا ہے گویا ہم کہتے ہیں کہ تمام تعریفیں مخصوص ہیں خدا کے لئے کیونکہ ہر کمال، ہر نعمت اور ہر بخشش جو عالم میں وجود رکھتی ہے اس کا مالک و صاحب اور پروردگار وہی ہے۔
____________________
۱۔ البتہ ایک جہت سے شکر میں عمومیت بھی کیونکہ شکریہ زبان و عمل دونوں سے ہوتا ہے۔ جب کہ حمد ومدح عموما فقط زبان سے ہوتی ہے۔
۲۔ قاموس اللغات، مفردات راغب، تفسیر مجمع البیان، تفسیر البیان۔
۳۔ یاد رہے کہ رب کا مادہ ”رب ب“ ہے نہ کہ ”رب“ یعنی یہ مضاعف ہے ناقص نہیں لیکن رب کے اصلی معنی میں پرورش اور تربیت ہے اسی لئے فارسی میں عموما اس کا ترجمہ پروردگار کرتے ہیں ۔
۴۔ تفسیر الثقلین، جلد ۱ ص ۱۷۔
۱ ۔ تمام ارباب انواع کی نفی :
تاریخ ادیان و مذاہب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحیح توحید سے منحرف لوگ ہمیشہ اس جہان کے لئے ارباب انواع کے قائل تھے۔ اس غلط فکر کی بنیاد یہ تھی کہ ان کے گمان کے مطابق موجودات کی ہر نوع ایک مستقل رب نوع کی محتاج ہے جو اس نوع کی تربیت و رہبری کرتا ہے گویا وہ خدا کو ان انواع کی تربیت کے لئے کافی نہیں سمجھتے تھے یہاں تک کہ وہ عشق، عقل، تجارت اور جنگ جیسے امور کے لئے بھی رب نوعی کے قائل تھے۔ یونانی بارہ بڑے خداؤں کی عبادت کرتے تھے(جن میں سے ہر کوئی رب النوع تھا)۔ یونانیوں کے بقول وہ المپ کی چوٹی، بزم خدائی سجائے بیٹھے تھے ان میں سے ہر ایک انسان کی ایک صفت کا مظہر تھا(۱) _
ملک آشور کے پایہ تخت کلاہ میں لوگ پانی کے رب نوع، چاند کے رب نوع، سورج کے رب نوع اور زہرہ کے رب نوع کے قائل تھے۔ انہوں نے ہر ایک کیلئے الگ الگ نام رکھ رکھا تھا اور ان سب کے اوپر ماردوک کو رب الارباب سمجھتے تھے روم میں بھی بہت سے خدا مروج تھے۔ شرک تعدد خدا اور ارباب انواع کا بازار شاید وہاں سب سے زیادہ گرم تھا۔
اہل روم تمام خداؤں کو دو حصوں میں تقسیم کرتے تھے : گھریلو خدا اور حکومتی خدا۔ خدایان حکومت سے لوگوں کو زیادہ لگاؤ نہ تھا (کیونکہ وہ ان کی حکومت سے خوش نہ تھے)۔ ان خداؤں کی تعداد بہت زیادہ تھی کیونکہ ہر خدا کی ایک خاص پوسٹ( post ) تھی اور وہ محدود معاملات میں دخیل ہوتا تھا۔عالم یہ تھا کہ گھر کے دروازے کا ایک مخصوص خدا تھا بلکہ ڈیوڑھی اور صحن خانہ کا بھی الگ الگ رب النوع تھا۔
ایک مورخ کے بقول اس میں تعجب کی بات نہیں کہ رومیوں کے ۳۰ ہزار خدا ہوں ۔ جیسا کہ ان کے ایک بزرگ نے کہا تھا کہ ہمارے ملک کے خداؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ گذر گاہوں اور محافل میں وہ افراد قوم سے زیادہ ہیں ۔ ان خداؤں میں سے زراعت، باورچی خانہ، غلہ خانہ، گھر، گیس، آگ، میوہ جات، دروازہ، درخت، تاک، جنگل، حریق، شہر روم کے بڑے دروازے اور قومی آتشکدہ کے رب نوع شمار کئے جاسکتے ہیں(۲)
خلاصہ یہ کہ گذشتہ زمانے میں انسان قسم قسم کے خرافات سے دست و گریباں تھا جیسا کہ اب بھی اس زمانے کی یادگار بعض خرافات باقی رہ گئے ہیں ۔
نزول قرآن کے زمانے میں بھی بہت سے بتوں کی پوجا اور تعظیم کی جاتی تھی اور شاید وہ سب یا ان میں سے بعض پہلے ارباب انواع کے جانشین بھی ہوں ۔
علاوہ از ایں بعض اوقات تو خود انسان کو بھی عملی طور پر رب قرار دیاجاتا رہا ہے ۔ جیسا کہ ان لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے جو احبار(علماء یہود) اور رہبانیوں (تارک الدنیا مرد اور عورتیں ) کو اپنا رب سمجھتے تھے قرآن کہتا ہے :اتخذوا احبارهم و رهبانهم اربابا من دون الله ۔
انہوں نے خدا کو چھوڑ کر علماء اور راہبوں کو خدا بنا رکھا تھا۔ (توبہ، ۳۱) ۔
بہرحال علاوہ اس کے کہ یہ خرافات انسان کو عقلی پستی کی طرف لے گئے تھے۔ تفرقہ پسندی، گروہ بندی، اور اختلافات کاسبب بھی تھے ۔ پیغمبران خدا بڑی پامردی سے ان کے مقابلے میں کھڑے ہوئے یہاں تک کہ بسم اللہ کے بعد پہلی آیت جو قرآن میں آئی ہے وہ سی سلسلے سے تعلق رکھتی ہےالحمد لله رب العالمین یعنی تمام تعریفیں مخصوص ہیں اس خدا کے لئے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اس طرح قرآن نے تمام ارباب انواع پر خط تنیسیخ کھینچ دیا اور انہیں ان کی اصلی جگہ وادی عدم میں بھیج دیا اور ان کی جگہ توحید و یگانگی اور ہمبستگی و اتحاد کے پھول کھلائے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کی ذمہ ہے کہ وہ روزانہ اپنی شب وروز کی زنمازوں میں کم از کم دس مرتبہ یہ جملہ پڑھیں اور اس اللہ کے سایہ رحمت میں پناہ لیں جو ایک اکیلا خدا ہے جو تمام موجودات کا مالک، رب، سرپرست اور پرورش کرنے والا ہے تاکہ کبھی توحید کو فراموش نہ کریں اور شرک کی پر پیچ راہوں میں سرگرداں نہ ہوں ۔
____________________
۱) اعلام القرآن، ص ۲۰۲۔
۲)تاریخ آلبر مالہ، ج۱ فصل ۴، تاریخ زم۔
۲ ۔ خدائی پرورش،
خدا شناسی کا راستہ : کلمہ ”رب“ در اصل مالک و صاحب کے معنی میں ہے لیکن ہر مالک و صاحب کے لئے نہیں بلکہ وہ جو تربیت و پرورش بھی اپنے ذمہ لے اسی لئے فارسی میں اس کا ترجمہ پروردگار کیاجاتاہے ۔
زندہ موجودات کی سیر تکامل اور بے جان موجودات کا تحول و تغیر نیز موجودات کی پرورش کے لئے حالات کی سازگاری و اہتمام جو ان میں نہاں ہے اس پر غور و فکر کرنا خدا شناسی کے راستوں میں سے ایک بہترین راستہ ہے۔
ہمارے اعضائے بدن میں ایک ہم آہنگی ہے جوزیادہ تر ہماری آگاہی کے بغیر قائم ہے یہ بھی ہماری بات پر ایک زندہ دلیل ہے۔ ہماری زندگی میں جب کوئی اہم حادثہ پیش آتا ہے اور ضروری ہوتا ہے کہ ہم پوری توانائی کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں تو ایک مختصر سے لحظے میں ہمارے تمام اعضاء و ارکان بدن کو ہم آہنگی کا حکم ملتا ہے تو فورادل دھڑکنے لگ جاتا ہے۔ سانس میں شدت پیدا ہوجاتی ہے، بدن کے تمام قوی مجتمع ہوجاتے ہیں ،غذا اور آکسیجن خون کے راستے فراوانی سے تمام اعضاء تک پہنچ جاتی ہے، اعصاب آمادہ کار، عضلات اور پٹھے زیادہ حرکت کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ، انسان میں قوت تحمل بڑھ جاتی ہے۔ درد کااحساس کم ہوجاتا ہے، نیند آنکھوں سے اڑ جاتی ہے اور اعضاء میں سے تکان اور بھوک کا احساس بالکل ختم ہو جاتا ہے۔
کون ہے جو یہ عجیب و غریب ہم آہنگی اس حساس موقع پر اس تیزی کے ساتھ وجود انسانی کے تمام ذرات میں پیدا کردیتا ہے؟ کیایہ پرورش خدائے عالم و قادر کے سوا ممکن ہے۔ اس پرورش و تربیت کے سلسلے میں بہت سی قرآنی آیات ہیں جو انشاء اللہ اپنی اپنی جگہ پر آئیں گی اور ان میں سے ہر ایک معرفت خدا کی واضح دلیل ہے۔
۳ ۔( الرحمن الرحیم )
وہ خدا جو مہربان اور بخشنے والا ہے (اس کی عام وخاص رحمت نے سب کو گھیر رکھا ہے)۔
تفسیر
رحمان و رحیم کے معنی و مفہوم کی وسعت اور ان کا فرق ہم اللہ کی تفسیر میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں ۔اب تکرار کی ضرورت نہیں ۔
جس نکتے کا یہاں اضافہ ہونا چاہئے وہ یہ ہے کہ دونوں صفات جو اہم ترین اوصاف خدا وندی ہیں ہر روز کی نمازوں میں کم ازکم ۳۰ مرتبہ ذکر ہوتی ہیں (دو مرتبہ سورہ حمد میں اور ایک مرتبہ بعد والی سورت میں )اس طرح ۶۰ مرتبہ ہم خدا کی تعریف صفت رحمت کے ساتھ کرتے ہیں ۔در حقیقت یہ تمام انسانوں کے لئے ایک درس ہے کہ وہ اپنے آپ کو زندگی میں ہر چیز سے زیادہ اس اخلاق خدا وندی کے ساتھ متصف کریں ۔ علاوہ ازیں واقعیت کی طرف بھی اشارہ ہے ۔ اگر ہم اپنے آپ کو خدا کا بندہ سمجھتے ہیں تو ایسانہ ہو کہ بے رحم مالک اپنے غلاموں سے جوسلکوک روا رکھتے ہیں ہماری نگاہ میں جچنے لگے۔
غلاموں کی تاریخ میں ہے کہ ان کے مالک ان سے عجیب قساوت و بے رحمی سے پیش آتے تھے۔ کہتے ہیں کہ اگر کوئی غلام ان کی خدمات کی انجام دہی میں معمول سی کوتاہی کرتا تو اسے سخت سزا سے دوچار ہونا پڑتا، اسے کوڑے مارے جاتے، بیڑیوں میں جکڑا جاتا، چکی سے باندھا جاتا، کان کنی پر لگایا جاتا، زیر زمین او رتاریک و ہولناک قید خانوں میں رکھا جاتا اور اس کا جرم زیادہ ہوتا تو سولی پر لٹکا دیا جاتا(۱) ۔
ایک اور جگہ رکھا ہے کہ محکوم غلاموں کو درندوں کے پنجروں میں پھینک دیا جاتا اگر وہ جان بچا لیتے تو دوسرے درندہ کے پنجرہ میں داخل کردیا جاتا۔یہ تو تھا نمونہ، مالکوں کے اپنے غلاموں سے سلوک کا لیکن خدا وند عالم بار بار قرآن میں انسانوں کو یہ فکر دیتا ہے کہ اگر میرے بندوں نے میرے قانون کو خلاف عمل کیا ہو اور وہ پشیمان ہوجائیں تو میں انہیں بخش دوں گا، انہیں معاف کردوں گا کہ میں رحیم اور مہربان ہوں ۔ ارشاد الہی ہے :
( قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله ان الله یغفرالذنوب جمعیا ) ۔
کہئے کہ اے میرے وہ بندوں جنہوں نے (قانون الہی سے سرکشی کرکے)خود اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ خدا تمام گناہوں سے در گذر فرمائےگا(یعنی توبہ کرو رحمت خدا کے بے پایاں دریا سے بہرہ مند ہوجاؤ)۔ (زمر، ۵۳) ۔لہذا( رب العالمین ) کے بعد( ”الرحمن الرحیم“ ) کو لانا اس نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہم قدرت کے باوجود جو کہ ہماری عین ذات ہے، اپنے بندوں پر مہربانی اور لطف وکرم کرتے ہیں ۔ یہ بندہ نوازی اور لطف بندے کو خدا کا ایسا شیفتہ و فریفتہ بنا دیتا ہے کہ وہ انتہائی شغف سے کہتا ہے( ”الرحمن الرحیم“ ) ۔
یہاں سے انسان اس بات کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ خدا وند عالم کے اپنے بندوں سے اور مالکوں کے اپنے ماتحتوں سے سلوک میں کس قدر فرق ہے۔ خصوصا غلامی کے بد قسمت دور میں ۔
____________________
۱۔ تاریخ آلبر مالہ تاریخ رم جلد ۱ ص۱۵۔
۴ ۔( مالک یوم الدین )
وہ خدا جو روز جزا کا مالک ہے۔
قیامت پر ایمان دوسری اصل ہے۔
یہاں اسلام کی دوسری اہم اصل یعنی قیامت اور دوبارہ قبروں سے اٹھنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اورفرمایا گیا ہے وہ خدا جوجزا کے دن کا مالک ہے( مالک یوم الدین ) اس طرح محور اور مبداء و معاد جوہر قسم کی اخلاقی اور معاشرتی اصلاح کی بنیاد ہے، وجود انسانی میں اس کی تکمیل ہوتی ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ یہاں قیامت خدا کی ملکیت سے تعبیر کی گئی ہے اور یہ بات اس دن کے لئے خدا کے انتہائی تسلط اور اشیاء و اشخاص پر اس کے نفوذکو مشخص کرتی ہے وہ دن کہ جب تمام انسان اس بڑے دربار میں حساب کے لئے حاضر ہوں گے۔ لوگ اپنے مالک حقیقی کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اپنی تمام کہی ہوئی باتیں ، کیے ہوئے کام یہاں تک کہ سوچے ہوئے افکار کو اپنے موجود پائیں گے۔ حتی کہ سوئی کی نوک کے برابر بھی کوئی بات نابود نہ ہوگی۔اور فراموش نہ کی گئی ہوگی ۔ اب وہ انسان حاضر ہے جسے اپنے تمام اعمال و افعال کی جواب دہی کا بوجھ اپنے کندھے پر اٹھا نا ہوگا۔ نوبت یہ ہوگی کہ جن امور کو وہ خود بجا نہیں لایا بلکہ کسی طریقہ یا پروگرام کا بانی تھا اس میں بھی اسے اپنے حصے کی جواب دہی کا سامنا ہوگا۔
اس میں شک و شبہ نہیں کہ خدا وند عالم کی یہ مالکیت اس طرح سے اعتباری نہیں جس طرح اس دنیا میں چیزیں ہماری ملک ہیں ، کیونکہ ہماری مالکیت تو ایک قرار داد کی بناء پر ہے یا اعزازی و اسنادی ہے۔ دوسرے اسناد و اعزاز کے ساتھ یہ مالکیت ختم بھی ہوسکتی ہے لیکن جہان ہستی کے لئے خدا کی مالکیت حقیقی ہے اور موجودات کا خدا کے ساتھ ایک ربط ہے جوایک لحظہ کیلئے منقطع ہوجائے تو نابود ہوجائیں جیسے بجلی کے قمقموں کا رابطہ اپنے بجلی گھر سے ٹوٹ جائے تو اسی لمحہ روشنی ختم ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی مالکیت خالقیت اورربوبیت کا نتیجہ ہے وہ ذات جس نے موجودات کو خلق کیا، اپنی رحمت کے زیر نظر ان کی پرورش کی اور لمحہ بہ لمحہ انہیں فیض وجود ہستی بخشا وہی موجودات کا حقیقی مالک ہے۔
ایک حقیر سا نمونہ مالکیت حقیقی کا ہم اپنی ذات میں اپنے اعضاء بدن کے بارے میں ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔ ہم آنکھ، کان، دل اور اپنے اعصاب کے مالک ہیں ، اس سے مراد اعتبار ی مالکیت نہیں بلکہ ایک قسم کی حقیقی مالکیت ہے جس کا سرچشمہ ربط، تعلق اور احاطہ ہے۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خدا اس جہان کا مالک نہیں ؟ اگر ہے تو پھر کیوں ہم اسے مالک روز جزا کہتے ہیں ؟ اس سوال کا جواب ایک نکتے کی طرف متوجہ ہونے سے واضح ہوجاتا ہے وہ یہ ہے کہ خدا کی مالکیت اگر چہ دونوں جہانوں پر محیط ہے لیکن اس مالکیت کا ظہور قیامت کے دن بہت زیادہ ہوگا۔ کیونکہ اس دن تمام مادی رشتے اوراعتباری ملکیتیں ختم ہوجائیں گی۔ اس دن کسی شخص کی کوئی چیز نہیں ہوکی۔ یہاں تک کہ شفاعت بھی فرمان خدا سے ہوگی۔
یوم لا تملک نفس لنفس شیئا والامر یومئذ للہ۔
وہ دن کے جب کوئی شخص کسی چیز کا مالک نہ ہوگا کہ اس کے ذریہ کسی کی مدد کرسکے اور تمام معاملات خدا کے ہاتھ میں ہوں گے۔ (الانفطار، ۱۹) ۔
دوسرے الفاظ میں اس دنیا میں انسان دوسرے کی مدد کے لئے اٹھ کھڑا ہوتاہے۔ کبھی زبان سے کبھی مال سے، کبھی افرادی قوت سے اور کبھی مختلف کاموں سے دوسرے کو اپنی حمایت و مدد فراہم کرتا ہے لیکن اس دن ان امور میں سے کوئی چیز بھی نہ ہوگی اسی لئے تو جب لوگوں سے سوال ہوگا:
لمن الملک الیوم ؟ آج کس کی حکومت ہے، تو جواب آئے گا :لله الواحد القهار ۔
(صرف خدائے یگانہ، کامیاب و کامران کی حکمرانی ہے) المومن ، ۱۶ ۔قیامت کے دن پر اور اس بڑی عدالت گاہ پر ایمان کہ جس میں تمام چیزوں کا بڑی باریک بینی سے حساب لیا جائے گا انسان کو غلط اور ناشائستہ اعمال سے روکنے کے لئے بہت موثر ہے۔ نماز کے قبیح اور برے اعمال سے روکنے کی ایک وجہ یہی ہے کہ ایک تو یہ انسان کون مبداء کی یاد دلاتی ہے جو اس کے تمام کاموں سے واقف ہے اوردوسرے عدل خدا کی بڑی عدالت کو بھی یاد دلاتی ہے۔روز قیامت خدا کی مالکیت پر ایمان کا فائدہ یہ بھی ہے کہ قیامت کا اعتقاد رکھنے والا مشرکین او رمنکرین قیامت کے مقابل قرار پاتا ہے کیونکہ آیات قرآنی سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پر ایمان ایک عمومی عقیدہ تھا یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت کے مشرکین بھی یہ عقیدہ رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ان سے سوال ہوتا تھا کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا کون ہے تو کہتے تھے ” خدا“۔ولئن سالتهم من خلق السموات والارض لیقولن الله ۔
اور اگر آپ ان سے دریافت کریں آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے تو ضرور کہیں گے ”اللہ“۔(لقمان، ۲۵) ۔
جب کہ وہ لوگ پیغمبر اکرم(ص) سے قیامت کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ایک عجیب و غریب انکار کرتے اور اسے تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوتے۔ قرآن حکیم میں ہے :( وقال الذین کفروا هل ندلکم علی رجل ینبئکم اذا مزقتم کل ممزق انکم لفی خلق جدید افتری علی الله کذبا ام به جنة ) ۔
کافر کہتے ہیں کیا تمہیں ایسے شخص سے متعارف کرائیں جو یہ کہتا ہے کہ جب تم خاک ہو کر ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تو تمہارے ان منتشر اجزاء کو (سمیٹ کر) پھر سے زندہ کیا جائے گا۔ جانے وہ خدا پر جھوٹ باندھتا ہے یا دیوانہ ہے۔ (سبا ، ۸ ، ۷) ۔
ایک حدیث میں امام سجاد(ع) کے بارے میں ہے کہ آپ جب آیت مالک یوم الدین تک پہنچتے تو اس کا اس کرح سے تکرار کرتے کہ یوں لگتا جیسے آپ کی روح ، بدن سے پرواز کرجائےگی۔ حدیث کے الفاظ ہیں:” کان علی بن الحسین اذا قرء مالک یوم الدین یکودها حتی یکاد ان یموت“ (۱) ۔
باقی رہالفظ یوم الدین یہ تعبیر قرآن میں جہاں جہاں استعمال ہوئی اس سے مراد قیامت ہے جیسا کہ قرآن مجید میں سورہ انفطار کی آیات ۱۷ ، ۱۸ اور ۱۹ میں وضاحت کے ساتھ اس مفہوم کی طرف اشارہ ہوا ہے(یہ تعبیر قرآن مجید میں دس سے زیادہ مرتبہ اسی معنی میں استعمال ہوئی ہے)۔اب رہی یہ گفتگو کہ اس دن کو یوم الدین کیوں کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دن جزا کا دن ہے اوردین لغت میں جزا کے معنی میں ہے اور قیامت کا واضح ترین پروگرام جزا و سزا اور عوض و ثواب ہے۔ اس دن پردے ہٹ جائیں گے اور تمام اعمال کاتمام تر باریک تفصیلات کے ساتھ محاسبہ ہوگا اور ہر شخص اپنے اچھے برے اعمال کی جزا و سزا پالے گا۔ایک حدیث میں امام صادق (ع) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :” یوم الدین سے مراد روز حساب ہے“(۲)
اس روایت کے مطابق تو یہاں دین حساب کے ہم معنی ہے۔ شاید یہ تعبیر ذکر علت اور ارادہ معلول کے قبیل میں سے ہو کیونکہ ہمیشہ صاحب جزا کی تمہید اور مقدمہ ہوتا ہے۔
بعض مفسرین کا یہ نظریہ بھی ہے کہ قیامت کے دن کو یوم الدین اس لئے کہا گیا ہے کہ اس دن ہر شخص اپنے دین و آئین کے مطابق جزا و سزا پائےگا لیکن پہلا معنی (حساب و جزا)زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔
____________________
۱ ۔تفسیر نور الثقلین ج ۱ ص ۱۹۔۲۔ مجمع البیان ، ذیل آیہ مذکور۔
۵ ۔( ایاک نعبد و ایاک نستعین ) ۔
پروردگار ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مددچاہتے ہیں ۔
انسان کے دربار خدا میں
یہاں سے ابتداء ہوتی ہے انسان کے دربار خدا میں پیش ہو کر حاجات اور تقاضوں کو بیان کرنے کی۔ حقیقت میں گفتگو کا لب و لہجہ یہاں سے بدل جاتا ہے کیونکہ گذشتہ آیات میں خدا کی حمد وثنا اور اس کی ذات پاک پر ایمان کا اظہار نیز قیامت کا اعتراف تھا۔ لیکن یہاں سے گویا بندہ اس محکم عقیدہ اور معرفت پروردگار کی وجہ سے اپنے آپ کو اس کے حضور اور اس کی ذات پاک کے روبرو دیکھنے لگ جاتا ہے۔ اسے مخاطب کرکے پہلے اپنی عبدیت کا اظہار کرتا ہے اور پھر اس سے طلب امداد کے لئے گفتگو کرتے ہوء کہتا ہے کہ میں صرف تیری پرستش کرتاہو اور تجھی سے مدد چاہتا ہوں( ایاک نعبد و ایاک نستعین ) ۔
دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ جب گذشتہ آیات کے مفاہیم انسان کی روح میں سرایت کرجاتا ہیں ، اس کے وجود کی گہرائیاں اس اللہ کے نور سے روشن ہوجاتی ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور اس کی عمومی و خصوصی رحمت اور روز جزا کی مالکیت کو جان لیتا ہے تو اب عقیدے کے لحاظ سے فرد کامل نظر آنے لگتا ہے۔ توحید کے اس گہرے عقیدے کا پہلا ثمرہ اور نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف انسان خدا کا خالص بندہ بن جاتا ہے، بتوں جباروں اور شہوات و خواہشات کی عبادت کے دائرے سے نکل آتا ہے اور دوسری طرف طلب امداد کے لئے اس کی ذات پاک کی طرف ہاتھ پھیلانے کے قابل ہوجاتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ گذشتہ آیات توحید ذات وصفات بیان کررہی ہیں اور یہاں توحید عبادت اور توحید افعال سے متعلق گفتگو ہے۔
توحید عبادت یہ ہے کہ کسی شخص یا چیز کو ذات خدا کے علاوہ پرستش کے لائق نہ سمجھا جائے،صرف اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے۔ صرف اس کے قوانین و احکام کو قبول کیاجائے اور اس کی ذات پاک کے علاوہ کسی کی کسی قسم کی عبادت و بندگی کرنے اور کسی اور کے سامنے سر افکندہ ہونے سے پرہیز کیا جائے۔
توحید افعال یہ ہے کہ سارے جہاں میں موثر حقیقی اسی کو سمجھا جائے (لاموثر فی الوجود الا الله ، یعنی اللہ کے علاوہ کوئی موثر وجود نہیں رکھتا)۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالم اسباب کا انکار کردیا جائے اور سبب کی تلاش نہ کی جائے بلکہ ہمیں یہ اعتقاد رکھنا چاہئے کہ ہر سبب کی یہ تاثیر حکم خدا کے تابع ہے وہی ہے جس نے آگ کو جلانے، سورج کو روشنی دینے اور پانی کو حیات بخشنے کی تاثیر دی ہے۔
اس عقیدے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان صرف اللہ پر بھروسہ کرے گا اور قدرت و عظمت کو اسی سے مربوط سمجھے گا اور اس کا غیر اس کی نظر میں فانی، زوال پذیر اور فاقد قدرت ہوگا۔
صرف خدا کی ذات قابل اعتماد و ستائش ہے اور یہ لیاقت رکھتی ہے کہ انسان اسے تمام چیزوں میں اپنا سہارا قرار دے یہ فکر اور اعتماد انسان کا ناطہ تمام موجودات سے توڑ کر صرف خدا سے جوڑ دے گا۔ یہاں تک کہ اب وہ عالم اسباب کی تلاش بھی حکم خدا کے تحت کرتا ہے یعنی اسباب میں بھی وہ قدرت خدا کا مشاہدہ کرتا ہے کیونکہ خدا ہی مسبب الاسباب ہے۔
۱ ۔ آیت میں حصر کا مفہوم :
عربی ادبیات کے قوعد کے مطابق جب مفعول، فاعل پر مقدم ہوجائے تو اس سے حصر کے معنی پیدا ہوجاتے ہیں ۔ یہاں بھی ایاک ، کا نعبد اورنستعین پر مقدم ہونا دلیل حصر ہے۔ اور اس کا نتیجہ وہی توحید عبادت اور توحید افعال ہے جسے ہم پہلے بیان کرآئے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بندگی اورعبودیت میں بھی ہم اس کی مدد کے محتاج ہیں اور اس کے لئے بھی ہم اسی سے طلب اعانت کرتے ہیں تاکہ کہیں انحراف، خود پسندی، ریاکاری اور ایسے دیگر امور میں گرفتار نہ ہوجائیں کیونکہ یہ چیزیں عبودیت کوریزہ ریزہ کردیتی ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہاجاسکتا ہے کہ ہم پہلے جملے میں کہتے ہیں کہ ہم صرف تیری پرستش کرتے ہیں اس میں کچھ نہ کچھ استقلال کی بو آتی ہے لہذا فورا ایاک نستعین سے ہم اس کی اصلاح کرلیتے ہیں اس طرح بین الامرین(نہ جبر نہ تفویض) کو اپنی عبادت میں جمع کرلیتے۔ یہ حالت ہمارے تمام کاموں کے لئے ایک نمونہ ہے۔
۲ ۔( نعبد و نستعین ) اور اسی طرح بعد کی آیات میں جمع کے صیغے آئے ہیں ۔
یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عبادت اور خصوصا نماز کی اساس جمع و جماعت پر رکھی گئی ہے یہاں تک کہ جب بندہ خدا کے سامنے راز و نیاز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اسے چاہئے کہ اپنے آپ کو جماعت و اجتماع کے ساتھ شمار کرے چہ جائے کہ اس کی زندگی کے دیگر کام۔ اس بناء پر ہر قسم کی انفرادیت علیحدگی، گوشہ نشینی اور اس قسم کی چیزیں قرآن اور اسلام کی نظر میں مردود قرار پاتی ہیں ۔
نماز میں اذان و اقامت (جو نماز کے لئے اجتماع کی دعوت ہے)سے لے کرحی علی خیرالصلواة (نماز کی طرف جلدی آو)سے گزرتے ہوئے سورہ الحمد تک جو نماز کی ابتداء اورالسلام علیکم تک جو نماز کااختتام ہے، سب اس امر کی دلیل ہے کہ یہ عبادت در اصل اجتماعی پہلو رکھتی ہے یعنی اسے صورت جماعت میں انجام پذیر ہونا چاہئے اگر چہ یہ صحیح ہے کہ نماز فرادی بھی اسلام میں صحیح ہے لیکن عبادت فرادی جنبہ فرعی کی حامل ہے اور ایسی عبادت دوسرے درجے کی عبادت قرار پاتی ہے۔
۳ ۔ طاقتوں کے ٹکراؤ کے وقت استعانت خدا کی طلب :
انسان اس جہاں کئی ایک طاقتوں سے نبرد آزما ہے۔ چاہے وہ طاقتیں طبیعی و مادی ہوں یا انسان کے اندر کی طاقتیں ۔ تباہ و برباد اور منحرف کرنے والی چیزوں کا مقابلہ کرنے کےلئے انسان کو یارو مددگار کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے جہاں انسان اپنے تئیں پروردگار کے سایہ رحمت کے سپرد کرتا ہے۔ ہر روز انسان بستر خواب سے اٹھتا ہے اور ایاک نعبد و ایاک نستعین کی تکرار سے پروردگار کی عبودیت کا اعتراف کرکے اس کی ذت پاک سے اس بڑے مقابلے میں مدد حاصل کرتا ہے اور شام کے وقت بھی اسی جملے کی تکرار سے سر اپنے بستر پر رکھتا ہے گویا اس کی یاد سے اٹھتا ہے۔ اور اسی کو یاد کرتے ہوئے طلب استعانت کے بعد سوتا ہے۔ ایسا شخص کتنا خوش نصیب ہے ۔ یہی شخص ایمان کے اس درجے پر پہنچ جاتا ہے کہ پھر کسی سرکش و طاقت ور کے سامنے سر نہیں جھکاتا اور مادیات کی کشمش کے مقابلے میں اپنے آپ کو دھوکا نہیں دیتا اور وہ پیغمبر اسلام(ص) کی پیروی میں کہتا ہے :( ان صلاتی و نسکی و محیای و مماتی لله رب العالمین ) ۔
یقینا میری نماز، میری عبادت، میری زندگی اور میری موت سب کچھ اس خدا کے لئے ہے جو عالمین کا پروردگار ہے۔ (الانعام، ۱۶۲) ۔
۶ ۔( اهدنا الصراط المستقیم )
ہمیں سیدھی راہ کی ہدایت فرما۔
تفسیر
صراط مستقیم پر چلنا
پرور دگار کے سامنے اظہار تسلیم، اس کی ذات کی عبودیت ، اس سے طلب استعانت کے مرحلے تک پہنچ جانے کے بعد بندے کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اسے سیدھی راہ، پاکیزگی و نیکی کی راہ، عدل و داد کی راہ اور ایمان و عمل صالح کی ہدایت نصیب ہو۔ تاکہ خداجس نے اسے تمام نعمتوں سے نوازا ہے ہدایت سے بھی سرفراز فرمائے۔
اگر چہ یہ انسان ان حالات میں مومن ہے اور اپنے خدا کی معرفت رکھتا ہے لیکن یہ امکان ہے کہ کسی لحظے یہ نعمت کچھ عوامل کے باعث اس سے چھن جائے اور یہ صراط مستقیم سے منحرف اور گمراہ ہوجائے لہذا چاہئے کہ شب و روز میں دس مرتبہ اپنے خدا سے خواہش کرے کہ اسے کوئی لغزش و انحراف در پیش نہ ہو۔
یہ صراط مستقیم جو باالفاظ دیگر آئین و دستور حق ہے کے کئی مراتب و درجات ہں تمام افراد ان مدارج کو برابر طے نہیں کرتے انسان جس قدر ان درجات کو طے کرے اس سے بلند تر درجات موجود ہیں ۔ پس صاحب ایمان کو چاہئے کہ وہ خدا سے خواہش و دعا کرے کہ وہ اسے ان درجات کی ہدایت کرے۔
یہاں یہ مشہور سوال سامنے آتا ہے کہ ہم ہمیشہ خدا سے صراط مستقیم کی ہدایت کی درخواست کرتے رہتے ہیں ، کیا ہم گمراہ ہیں ؟
اور اگر بالفرض یہ بات ہمارے لئے درست ہے تو پیغمبر اکرم(ص) اور ائمہ اہل بیت جو انسان کامل کا نمونہ ہیں ان کے لئے کیونکر صحیح ہے؟؟
اس سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں :
جیسے پہلے اشارہ کیا جاچکا ہے کہ انسان کے لئے راہ ہدایت میں ہر لمحہ لغزش و کجروی کا خوف ہے لہذا چاہئے کہ اپنے آپ کو پروردگار کے اختیار میں دیدے اور اس سے تقاضا کرے کہ وہ اسے سیدھی راہ پر ثابت قدم رکھے۔ ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ وجود ہستی اور دیگر تمام نعمات لمحہ بہ لمحہ اس مبداء عظیم ہی سے ہم تک پہنچی ہیں ۔ اس سے قبل بھی کہا جا چکا ہے کہ ہماری اور تمام موجودات کی مثال بجلی کے بلب کی سی ہے اگر ہم دیکھیں کہ بلب کی روشنی مسلسل پھیل رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر لحظہ بجلی کے مرکز سے قوت حاصل کر رہی ہے کیونکہ بجلی کے مرکز سے ہر لحظہ نئی روشنی کی تولید جاری ہے اور یہ مربوط تاروں کے ذریعہ اسے بلب تک پہنچاتا ہے ہمارا وجود بھی بلب کی روشنی کی طرح جو بظاہر ایک مستقل پھیلے ہوئے وجود کی طرح ہے لیکن حقیقت میں ہمیں مرکز ہستی، آفریدگار فیاض سے ہر لحظہ ایک نیا وجود ملتا رہتا ہے۔ چونکہ ہمیں ہر لمحہ ایک تازہ وجود میسر آتا ہے اس لئے ہر لمحہ ہم نئی ہدایت کے محتاج ہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ خدا اور ہمارے درمیان رابطے کی معنوی تاروں میں اگر کوئی مانع پیدا ہوجائے مثلا بے راہ روی، ظلم، ناپاکی وغیرہ تو اس سے منبع ہدایت کے ساتھ ہمارا رابطہ منقطع ہوجائے گا اور یوں ہم صراط مستقیم سے منحرف ہوجائیں گے۔ ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں یہ موانع پیش نہ آئیں اور ہم صراط مستقیم پر ثابت قدم رہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہدایت کے معنی ہیں طریق تکامل کو طے کرنا یعنی انسان تدریجا مراحل نقص پیچھے چھوڑتا جائے اور مراحل بلند تک پہنچتا جائے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ راہ کمال، یعنی ایک کمال سے دوسرے کمال تک پہنچنے کا راستہ نامحدود ہے گویا یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔
اس بنا پر کوئی تعجب نہیں کہ انبیاء و آئمہ علیہم السلام بھی خدا سے صراط مستقیم کی ہدایت کا تقاضہ کریں کیونکہ کمال مطلق تو صرف ذات خدا ہے اور باقی سب بلا استثناء سیرتکامل میں ہیں لہذا کیا حرج ہے کہ وہ بھی خدا سے بالاتر درجات کی تمنا کریں ۔
کیا ہم نبی اکرم (ص( پر درود و سلام نہیں بھیجتے؟ اور کیا درود در اصل محمد و آل محمد پر پروردگار عالم سے نئی رحمت کا تقاضا نہیں ؟ ؟ کیارسول اللہ نہیں فرماتے ؟
رب زدنی علما (خدایا میرے علم(اور ہدایت)کو زیادہ فرما۔
کیا قرآن یہ نہیں کہتا :( ویزید الله الذین اهتدوا هدی ) ۔ یعنی خدا ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے۔ (مریم، ۷۶) ۔
یہ بھی قرآن میں ہے :( والذین اهتدوا ازادهم هدی و اتاهم تقواهم ) یعنی جو ہدایت یافتہ ہیں خدا ان کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے اور انہیں تقوی عطا کرتا ہے(محمد، ۱۷) ۔
اسی سے نبی اکرم اور آئمہ علیہم السلام پر درود بھیجنے کے متعلق سوال کا جواب مل جاتا ہے۔
ہم نے جو کچھ کہا ہے اس کی وضاحت کے لئے ذیل کی دو حدیثوں کی طرف توجہ فرمائیں :
۱ ۔ حضرت امیرالمومنین علی(ع) جملہاهدنا الصراط المستقیم کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں :
یعنی آدم لنا توفیقک الذی اطعناک به فی ماضی ایامنا حتی نطیعک کذلک فی مستقبل اعمادنا ۔
خدا وند ا جو توفیقات تونے ماضی میں ہمیں عنایت کی ہیں ۔ جن کی برکت سے ہم نے تیری اطاعت کی ہے انہیں اسی طرح برقرار رکھ تاکہ ہم آئندہ بھی تیری اطاعت کرتے رہیں(۱) ۔
۲ ۔ حضرت امام صادق (ع) فرماتے ہیں :یعنی ارشدنا للزوم الطریق المودی الی محبتک والمبلغ الی جنتک والمانع من ان نتبع اهوائنا فنعطب او ان ناخذ بآرائنا فنهلک
خدا وندا ہمیں اس راستہ پر جو تیری محبت اور جنت تک ہے ثابت قدم رکھ کہ یہی راستہ ہلاک کرنے والی خواہشات اورانحرافی و تباہ کرنے والی آراء سے مانع ہے(۲) ۔
____________________
۱۔ تفسیر صافی (آیہ مذکورہ) بحوالہ معانی الاخبار و تفسیر امام حسن عسکری۔
۲۔ ایضا۔
صراط مستقیم کیا ہے ؟
آیات قرآن مجید کے مطالعے سے معلوم ہوتاہے کہ صراط مستقیم آئین خدا پرستی، دین حق اور احکام خدا وندی کی پابندی کا نام ہے۔ جیسے سورہ انعام کی آیت ۱۶۱ میں ہے :( قل اننی هدانی ربی الی صراط مستقیم دینا قیما ملة ابراهیم حنیفا و ماکان من المشرکین ) ۔
یعنی کہہ دیجئے کہ میرے پروردگار نے مجھے صراط مستقیم کی ہدایت کی ہے جو سیدھا دین ہے وہ کہ جو اس ابراہیم کا آئین ہے جس نے کبھی خدا سے شرک نہیں کیا۔
دین ثابت یعنی وہ دین جو اپنی جگہ قائم رہے ، ابراہیم کے آئین توحیدی اور ہرقسم کے شرک کی نفی کا تعارف یہاں پر صراط مستقیم کے عنوان سے ہوا ہے اور یہی بات اس اعتقادی پہلو کو مشخص کرتی ہے۔
سورہ یسن آیت ۶۰ ، ۶۱ میں ہے :( الم اعهد الیکم یبنی آدم ان لا تعبدوا الشیطان، انه لکم عدو مبین، و ان اعبدونی هذا صراط مستقیم ) ۔
اے اولاد آدم! کیا میں نے تم سے یہ عہد و پیمان نہیں لا تھا کہ شیطان کی پرستش نہ کرنا(اس کے احکام پر عمل نہ کرنا)کیونکہ یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی صراط مستقیم ہے۔
یہاں دین حق کے عمل پہلوؤں کیطرف اشارہ ہے جوہر قسم کے شیطانی فعل اور عملی انحراف کی نفی ہے سورہ آل عمراں آیت ۱۰۱ میں قرآن کے مطابق صراط مستقیم تک پہنچنے کا طریقہ خدا سے تعلق اور ربط پیدا کرنا ہے۔
ومن یعتصم باللہ فقد ھدی الی صراط مستقیم۔ جنہوں نے اللہ کے دامن رحمت کو تھامے رکھا انہی نے صراط مستقیم کی ہدایت پائی۔
اس نکتہ کی طرف بھی نظر ضروری ہے کہ صراط مستقیم صرف ایک ہی راستہ ہے کیونکہ دو نقطوں کے درمیان خط مستقیم صرف ایک ہی ہوسکتا ہے جو نزدیک ترین راستے کو تشکیل دیتا ہے۔
لہذا اگر قرآن کہتا ہے کہ صراط مستقیم در اصل اعتقادی و عملی پہلوؤں سے دین و آئین الہی ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ دین ہی نزدیک ترین راستہ ہے خدا سے ربط پیدا کرنے کا اور یہی وجہ ہے کہ دین حقیقی و واقعی ہے بھی فقط ایک۔( ان الدین عندالله الاسلام ) ۔ دین خدا کے نزدیک اسلام (ہی) ہے۔ (آل عمران ، ، ۱۹) ۔
انشاء اللہ ہم بعد میں بیان کریں گے کہ اسلام ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور اس میں ہر وہ آئین توحید شامل ہے جو کسی بھی زمانے میں جاری تھا اور کسی نئے آئین سے منسوخ نہیں ہوا۔
یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ مفسرین نے صراط مستقیم کی جو مختلف تفاسیر بیان کی ہیں ان سب کی برگشت ایک ہی حقیقت کی طرف ہے۔
بعض نے اس کے معنی اسلام کئے ہیں بعض نے قرآن، کچھ مفسرین نے اس سے رسول و آئمہ برحق مراد لئے ہیں اور کچھ نے اللہ کا آئین کہ جس کے علاوہ خدا کو کوئی چیز قبول نہیں ۔ ان تمام معانی کی برگشت اسی دین و آئین الہی کی طرف ہے تمام تر اعتقادی و عملی پہلوؤں کے ساتھ۔
جو روایات مصادر اسلامی میں اس سلسلے میں وارد ہوئی ہں ان میں سے ہر ایک اس مسئلے کے ایک زاویے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سب کی بازگشت ایک ہی اصل کی طرف ہے۔ رسول اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا :الصراط المستقیم صراط الانبیاء وهم الذین انعم الله علیهم
صراط مستقیم انبیاء کا راستہ ہے اور انبیاء وہ ہستیاں ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا۔
امام صادق (ع) کا ارشاداهدنا الصراط المستقیم کی تفسیر میں یوں ہے :
الطریق و معرفة الامام ۔ اس سے مراد امام کا راستہ اور اس کی معرفت ہے(۱) ۔
ایک اور حدیث میں امام صادق ہی سے منقول ہے :والله نحن صراط المستقیم ۔ بخدا ہم صراط مستقیم ہیں(۲)
ایک اور حدیث میں امام صادق (ع) نے فرمایا : صراط مستقیم امیرالمومنین علی(ع) ہیں(۳) ۔
یہ مسلم ہے کہ رسول اکرم، امیرالمومنین اور دیگر آئمہ اہل بیت سب کے سب اسی آئین توحید کی دعوت دیتے رہتے ہیں وہ دعوت جس میں اعتقاد بھی ہے اور عمل بھی۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ راغب نے کتاب مفردات میں صراط کے معنی میں کہا ہے کحہ صراط کے معنی ہیں سیدھا راستہ لہذا مستقیم ہونے کا مفہوم خود صراط میں مضمر ہے گویا مستقیم ساتھ بطور صفت ہے جو اس مسئلے پر تاکید کے مفہوم میں ہے۔
____________________
۱۔ تفسیر نور الثقلین، ج ۱ ص ۲۱، ۲۰۔
۲۔ ایضا۔۳۔ ایضا۔
۷ ۔( صراط الذین انعمت علیهم غیر المغضوب علیهم والا الضالین ) ۔
ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا۔ ان کی راہ نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ وہ کہ جو گمراہ ہوگئے۔
تفسیر
دو انحرافی خطوط
یہ آیت حقیقت میں صراط مستقیم کی واضح تفسیر ہے جسے ہم گذشتہ آیت کے ذیل میں پڑھ چکے ہیں ۔ دعا ہے کہ مجھے ان لوگوں کے راستے کی ہدایت فرما جنہیں قسم قسم کی نعمتوں سے نوازا ہے (نعمت ہدایت و نعمت توفیق، مردان حق کی رہبری کی نعمت، نعمت علم وعمل اور نعمت جہاد و شہادت)۔ ان لوگوں کی راہ نہیں جن کے برے اعمال اور ٹیڑھے عقائد کے باعث تیرا غضب انہیں دامن گیر ہوا اور نہ ہی ان لوگوں کی راہ جو شاہراہ حق کو چھوڑ کر بے راہ روی کے عالم میں ہیں ، گمراہ و سرگرداں ہیں( صراط الذین انعمت علیهم غیر المغضوب علیهم ولاالضالین ) ۔
حقیقت یہ ہے کہ چونکہ ہم راہ و رسم ہدایت سے پورے طور سے آشنا نہیں لہذا خدا ہمیں دستور ہدایت دے رہا ہے کہ ہم انبیاء ، صالحین اور دیگر وہ لوگ جو نعمت و الطاف الہی سے نوازے گئے ہیں ان کے راستے کی خواہش کریں ۔ نیز ہمیں خبردار کیا گیا ہے کہ تمہارے سامنے دو ٹیڑھے خطوط موجود ہیں ، خط مغضوب علیھم اور خط ضالین ان دونوں کی تفسیر ہم بہت جلد ذکر کریں گے۔
۱ ۔( الذین انعمت علیهم ) کون ہیں :
سورہ نساء آیت ۶۹ میں اس گروہ کی نشاندہی یوں کی گئی ہے :
( ومن یطع الله والرسول فاولئک مع الذین انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین والشهداء والصالحین، وحسن اولئک رفیقا ) ۔
جو لوگ خدا و رسول کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں خداانہیں ان لوگوں کے ساتھ قرار دے گا جنہیں نعمات سے نوازا گیا ہے اور وہ ہیں انبیاء، صدیقین، شہدائے راہ حق اور صالح انسان اور یہ لوگ بہترین ساتھی ہیں ۔
جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں اس آیت میں شاید اس معنی کی طرف اشارہ ہو کہ ایک صحیح وسالم، ترقی یافتہ اور مومن معاشرے کی تشکیل کے لئے پہلے انبیاء اور رہبران حق کو میدان عمل میں آنا چاہئے، ان کے بعد سچے اور راست باز مبلغ ہوں جن کی گفتار اور کردار میں ہم آہنگی ہو تاکہ وہ اس راستے سے انبیاء کے مقاصد کو تمام اطراف میں پھیلادیں ۔ فکری تربیت کے اس پروگرام پر عمل در آمد کے دوران میں بعض گمراہ عناصر راہ حق میں حائل ہونے کی کوشش کریں گے۔ ان کے مقابل ایک گروہ کو قیام کرنا چاہئے۔ ان میں سے کچھ لوگ شہید ہوں گے او راپنے خون مقدس سے شجر توحید کی آبیاری کریں گے۔ چوتھے مرحلے میں ان کوششوں کے نتیجے میں صالح لوگ وجود میں آئیں گے اور یوں ایک پاک و پاکیزہ،شائستہ اور معنویت و روحانیت سے پر معاشرہ وجود میں آجائے گا۔
اس لئے ہم روزانہ صبح وشام سورہ حمد میں پے بہ پے خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہم بھی ان چار گروہوں کے طریق حق کے راہی قرار پائیں حق کا راستہ، انبیاء کا راستہ، صدیقین کا راستہ، شہداء کا راستہ اور صالحین کا راستہ ہے۔
واضح ہے کہ ہر زمانے کو انجام تک پہنچانے کے لئے ہمیں ان میں سے کسی خط کی پیروی میں اپنی ذمہ داری کو انجام دینا ہوگا۔
۲ ۔( مغضوب علیهم ) اور( ضالین ) کو ن ہیں :
ان دونوں کو آیت میں الگ الگ بیان کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کسی خالص گروہ کی طرف اشارہ ہے۔
دونوں میں فرق کے سلسلے میں تین تفسیریں موجود ہیں :
۱ ۔ قرآن مجید میں دونوں الفاظ کے استعمال کے مواقع سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغضوب علیھم کا مرحلہ ضالین سے سخت تر اور بدتر ہے۔ بالفاظ دیگر ضالین سے مراد عام گمراہ لوگ ہیں اور مغضوب علیھم سے مراد لجوج (گمراہی پر مصر) یا منافق ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایک موقعوں پر ایسے لوگوں کے لئے خدا کے غضب اور لعنت کا ذکر ہوا ہے۔
سورہ نحل آیت ۱۰۶ میں آیا ہے :( ولکن من شرح بالکفر صدرا فعلیهم غضب من الله ) ۔
جنہوں نے کفر کے لئے اپنے سینوں کو کھول رکھا ہے ان پر اللہ کا غضب ہے۔
سورہ فتح آیت ۶ میں ہے:( و یعذب المنافقین و المنافقات والمشرکین والمشرکات الظانین بالله ظن السوء علیهم دائرة السوء وغضب الله علیهم و لعنهم و اعدلهم جهنم )
منافقین مرد اور عورتیں اور مشرک مرد اور عورتین جو خدا کے بارے میں برے گمان کرتے ہیں خدا ان سب پر عذاب نازل کرے گا۔ ان سب پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے وہ انہیں اپنی رحمت سے دور رکھتا ہے اور انہی کے لئے اس نے جہنم تیار کررکھی ہے۔
بہرحال مغضوب علیھم وہ ہیں جو راہ کفر میں لجاجت و عناد اورحق سے دشمنی رکھنے کے علاوہ رہبران الہی اور انبیاء مرسلین کو ہر ممکن اذیت و آزار پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
سورہ آل عمران آیت ۱۱۲ میں ہے :( وباء و بغضب من الله و ضربت علیهم المسکنة ذلک بانهم کانو یکفرون بایت الله و یقتلون الانبیاء بغیر حق ذلک بما عصوا وکان یعتدون ) ۔
ان (یہودیوں ) پر خدا کا غضب ہو ا اور انہیں رسوائی نصیب ہوئی کیونکہ وہ انبیاء الہی کو ناحق قتل کرتے تھے اور حدود و شریعت سے تجاوز کے مرتکب ہوتے تھے۔
۲ ۔ مفسرین کا ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ ضالین سے منحرف عیسائی اور مغضوب علیھم سے منحرف یہودی مراد ہیں یہ نظریہ ان دونوں گروہوں کے دعوت اسلام کے مقابلے میں ردعمل کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ قرآن جس طرح مختلف آیات میں صراحت کے ساتھ یاد دہانی کراتا ہے کہ یہودی دعوت اسلام کے بارے میں مخصوص کینہ و عداوت کا مظاہرہ کرتے تھے اگر چہ ابتداء میں انہی کے علماء لوگوں کو اسلام کی بشارت دیا کرتے تھے لیکن تھوڑا ہی عرصہ گذرا کہ کئی ایک وجوہ(جن کی تفصیل کا یہ مقام نہیں ) کی بناء پر وہ اسلام کے سخت ترین دشمن ہوگئے ان وجوہ میں ایک ان کے مادہی مفادات کا خطرے میں پڑ جانا بھی تھا۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کی پیش رفت روکنے کے لئے ہر ممکن رکاوٹیں کھڑی کرت( آج بھی صیہونیوں کا مسلمانوں کے بارے میں وہی طریق کار ہے)۔
ان حالات میں انہیں مغضوب علیھم سے تعبیر کرنا درست معلوم ہوتا ہے لیکن یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ یہ تعبیر حقیقت میں ان کے عمل کے باعث تطبیق کی صورت ہے نہ کہ مغضوب علیھم سے صرف یہودی مراد ہیں ۔ رہے نصاری تو اسلام کے بارے میں ان کا موقف اس قدر سخت نہ تھا بلکہ وہ فقط آئین حق کی پہچان میں گمراہ تھے لہذا لفظ ضالین سے عیسائی مراد لئے گئے ہیں اور یہ بھی ایک تطبیق ہے۔
احادیث اسلامی میں بارہا مغضوب علیھم سے یہودی اور ضالین سے عیسائی مراد لئے گئے ہیں ۔ اس کی وجہ پہلے ہی بیان کی جا چکی ہے(۱) ۔
۳ ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ضالین سے وہ گمراہ لوگ مراد ہیں جو دوسروں کو گمراہ کرنے پر مصر نہیں جب کہ مغضوب علیھم وہ لوگ ہیں جو خود تو گمراہ ہیں ہی دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اور دوسروں کو اپنا ہم رنگ بنانے کے لئے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہیں ۔
اس بات کی دلیل وہ آیات ہیں جو ایسے اشخاص کے بارے میں ہیں جو راہ راست کی ہدایت حاصل کرنے کے لئے کوشاں دوسرے لوگوں کے درمیان میں حائل ہوجاتے ہیں ۔ ان کے بارے میں کہا گیا ہے :
یصدون عن سبیل اللہ“ ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو راہ خدا سے روکتے ہیں ۔ (اعراف، ۴۵) ۔
سورہ شوری آیت ۱۶ کے الفاظ ہیں :( والذین یحاجون فی الله من بعد ما استجیب له حجتهم داحضة عند ربهم و علیهم غضب ولهم عذاب شدید ) ۔
وہ لوگ جو مومنین کی طرف سے دعوت اسلام قبول ہونے کے بعد نبی اکرم(ص) سے جھگڑتے اور کج بحثی کرتے ہیں ۔ خدا کے ہاں ان کی دلیل وحجت بے اساس ہے۔ ان پر اللہ کا غضب ہے اور سخت عذاب ان کا منتظر ہے۔
باوجود اس کے یوں نظر آتا ہے کہ ان تفاسیر میں جامع تر وہی پہلی تفسیر ہے اور وہ ایسی تفسیر ہے جس میں باقی تفسریں بھی مجتمع ہیں ۔ حقیقت میں باقی تفاسیر اس کے مصادیق میں شمار ہوتی ہیں لہذا کوئی وجہ نہیں کہ ہم آیت کے وسیع مفہوم کو محدود کردیں ۔
والحمد لله رب العالمین
(تفسیر سورہ حمد اختتام کو پہنچی)
سورہ بقرہ کے موضوعات
یہ سوره جو قرآن مجیدکی طویل ترین سورتوں میں سے ہے مسلما تمام کی تمام ایک دم نازل نہیں ہوئی بلکہ مختلف وقفوں سے مدینہ میں اسلامی معاشرے کی گوناگوں ضروریات کے مطابق نازل ہوئی ۔
اس کے باوجود اسلام کے اصول اعتقاد اور بہت سے عملی مسائل کی رو سے (جن میں عبادتی، اجتماعی سیاسی اور اقتصادی مسائل شامل ہیں ) اس کی جامعیت ناقابل انکار ہے۔ اس کے موضوعات ایک نظر میں یہ ہیں :
۱ ۔ توحید اور خدا شناسی کے متعلق بحثیں خصوصا وہ جو اسرار افرینش کے موضوع سے متعلق ہیں ۔
۲ ۔ قیامت اور موت کے بعد سے متعلق بحثیں بالخصوص حسی مثالیں ، جیسے حضرت ابراھیم کا واقعہ، پرندوں کا مرنے کے بعد زندہ ہونا اور حضرت عزیر کا واقعہ۔
۳ ۔ قران کے معجزہ ہونے کی بحثیں اور اس آسمانی کتاب کی اہمیت ۔
۴ ۔ یہودیوں اور منافقین کے بارے میں مفصل اور طویل بحثی۔ اسلام اور قرآن کے بارے میں ان کے مخصوص اعتراضات اوراس سلسلے میں ان کی کارستانیں اور رکاوٹیں ۔
۵ ۔ بڑے بڑے انبیاء خصوصا حضرت ابراہیم(ع) اور حضرت موسی(ع) کی تاریخ کے سلسلے کی بحثیں ۔
۶ ۔ اسلام کے مختلف احکام سے متعلق ابحاث۔ جن میں نماز، روزہ، جہاد فی سبیل اللہ، حج،تغیر قبلہ، نکاح، طلاق، احکام، تجارت وقرض، سود کے بعض اہم احکام اور بہت سی دیگر مخصوص بحثیں شامل ہیں ۔
راہ خدا میں خرچ، مسئلہ قصاص، کئی ایک حرام گوشت، قمار، حرمت شراب، بعض احکام وصیت وغیرہ بھی اس کے موضوعات میں سے ہیں ۔
اس کے نام۔ البقرة۔ کی بناء ایک واقعہ ہے جو بنی اسرائیل میں ایک گائے کے سلسلے میں ہے جس کی تفصیل آیت ۶۷ تا ۷۳ میں انشاء اللہ آئے گی۔
فضیلت سوره بقره
اس سورت کی فضیلت سے متعلق کتب اسلامی میں بہت سی روایات موجود ہیں اس سلسلے میں مرحوم طبرسی نے ایک روایت رسول اکرم(ص) سے مجمع البیان میں نقل کی ہے۔
آپ سے پوچھا گیا :
ای سورة القرآن افضل؟ ۔ قرآن کی کونساسورہ افضل ہے
قال البقرة (فرمایا : سورہ بقرہ)۔
(قرآن کی کونسی آیت افضل ہے؟)
قال آیة الکرسی ۔ (فرمایا : آیة الکرسی)
ظاہرا اس سورت کی افضلیت اس کی جامعیت کی وجہ سے ہے اور آیة الکرسی کی افضلیت اس بناء پر ہے کہ اس میں توحید کے بارے میں بعض اہم امور بیان ہوئے ہیں جس کی تفصیل انشاء اللہ اس کی تفسیر میں آئے گی۔
یہ بات اس سے اختلاف نہیں رکھتی کہ قرآن کی بعض دیگر سورتوں کی کئی ایک جہات کی وجہ سے برتری بیان ہوئی ہے کیونکہ ان کی یہ فضیلت دیگر وجوہ کے پیش نظر ہے۔
حضرت علی بن الحسین کی وساطت سے رسول اکرم (ص) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :
جو شخص سورہ بقرہ کی پہلی چار آیات، آیة الکرسی اور اس کے بعد کی دو آیتیں اور اس سورہ کی آخری تین آیات پڑھے وہ کبھی بھی اپنی جان و مال میں ناخوشگواری نہ پائے گا۔ شیطان اس کے نزیک نہیں آئے گا اور وہ قرآن کو نہیں بھولے گا( ۱) ۔
ہم یہاں اس اہم حقیقت کا تکرار ضروری سمجھتے ہیں کہ تلاوت قرآن یا سورتوں اور مخصوص آیات کے لئے جو ثواب، فضیلتیں اور ہم فائدے بیان ہوئے ہیں ان کا یہ مفہوم ہرگزنہیں کہ انسان انہیں بطور ورد پڑھے اور صرف زبان چلانے پر اکتفاء کرے بلکہ قرآن کا پڑھنا سمجھنے کے لئے اور سمجھنا غور و فکر کے لئے ہے اور غور و فکر عمل کرنے کے لئے ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ جو فضیلت کسی سورت یا آیت کے متعلق ذکر ہوئی ہے وہ اس سورت یا آیت کے موضوع سے بہت زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔
مثلا ہم سورة نور کی فضیلت کے بارے میں پڑھتے ہیں کہ جو اسے پڑھے گا خدا وند عالم اسے اور اس کی اولاد کو زنا کی آلودگی سے محفوظ رکھے گا۔ تو یہ اس بناء پر ہے کہ سورہ نور کے مضامین میں جنسی کجرویوں سے مقابلے کے لئے اہم رہنمائی موجود ہے۔ مجرد اشخاص کو جلد شادی کرنے کا حکم ہے، پردے کا حکم ہے، بری نگاہ اور ہوس رانی کی نگاہ ترک کرنے کا حکم ہے، نارو اور غلط نسبتوں کی ممانعت ہے اور آخر میں زنا کار مردوں اور عورتوں کے لئے حد شرعی کے اجراء کا حکم دیا گیا ہے۔
واضح ہے کہ سورہ نور کے مفاہیم و موضوعات کسی معاشرے یا خاندان میں عملی جامہ پہن لیں تو وہ زنا سے آلودہ نہیں ہوگا۔
اسی طرح سورہ بقرة کی وہ آیات جن کی طرف اوپر اشارہ ہوچکا ہے سب توحید، ایمان بالغیب، خدا شناسی اور شیطانی وسوسوں سے پرہیز کے بارے میں ہیں ۔ اب اگر کوئی شخص دل و جان سے ان پر عمل پیرا ہو تو یقینا سب فضائل مذکور اسے حاصل ہوں گے۔
یہ درست ہے کہ قرآن کا پڑھنا بہرحال باعث ثواب ہے لیکن اصلی، اساسی اور آثار چھوڑنے والا ثواب اسی وقت ملے گا جب تلاوت غور و فکر او رعمل کے لئے مقدمہ و تمہید ہو۔
____________________
۱۔ نورالثقلین، ج ۱ ص ۲۶ بحوالہ کتاب، ثواب الاعمال۔
سورہ بقرہ
آیات ۱، ۲
( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم )
( الم ) ( ۱)( ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَرَیْبَ فِیهِ هُدًی لِلْمُتَّقِینَ ) ( ۲)
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے۔
۱ ۔ ا ل م
۲ ۔ یہ وہ با عظمت کتاب ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ پرہیزگاروں کی ہدایت کی بنیاد ہے۔
تفسیر
قرآن کے جروف مقطعات کے متعلق تحقیق
انیس سورتوں کی ابتداء میں ہمیں حروف مقطعات دکھائی دیتے ہیں ۔ جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے یہ حروف ایک دوسرے سے منقطع اور الگ الگ ہیں اور ان سے کوئی ایسا لفظ نہیں بنتا جو سمجھ میں نہ آسکے۔ قرآن کے حروف مقطعات ہمیشہ قرآن کے اسرار آمیز کلمات میں شمار ہوتے رہے ہیں ۔ مفسرین نے ان کی کئی ایک تفاسیر بیان کی ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اور علماء کی جدید تحقیقات سے ان کی نئی تفسیریں سامنے آئیں گی۔
قابل غور بات یہ ہے کہ ہم نے کسی تاریخ میں نہیں دیکھا کہ جہاں عرب اور مشرکین نے قرآن کی کئی ایک سورتوں کی ابتداء میں موجود ان حروف مقطعات کی وجہ سے رسول اکرم پر اعتراض کیا ہو یا ان کے باعث استہزاء و تمسخر کیا ہو۔ یہ امر اس بات کی خبر دیتا ہے کہ گویا وہ لوگ بھی حروف مقطعات کے وجود کے اسرار سے بالکل بے خبر نہ تھے۔
بہرحال تفاسیر مذکورہ میں سے چند ایک ایسی ہیں جو زیادہ اہم اور معتبر لگتی ہیں اور وہ اس سلسلے کی آخری تحقیقات سے ہم آہنگ ہیں ہم چند ایک کو تدریجا اس سورت، آل عمران اور سورہ اعراف کے آغاز میں انشاء اللہ بیان کریں گے۔
اس وقت ان میں سے اہم ترین کا ذکر کیا جا رہا ہے :
یہ حروف اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ یہ آسمانی کتاب اس عظمت و اہمیت کے باوجود کہ اس نے عرب و عجم کے تمام سخنوروں کو حیران کر دیا ہے ۔ اور علماء و محققین کو عاجز کر دیا ہے انہی حروف کا مجموعہ و نمونہ ہے جن کا استعمال سب کے اختیار میں ہے۔
باوجودیکہ قرآن انہی حروف الف با اور عام کلمات سے مرکب ہے لیکن یہ ایسے موزوں کلمات اور عظیم معانی کا حامل ہے جو انسان کے دل وجان کی گہرائیوں میں اترجاتے ہیں انسان کی روح تحیر اور تحسین کی کیفیات سے دوچار ہوجاتی ہے اور ان کے مطالعے سے افکار و عقول ان کی تعظیم و تکریم پر مجبور ہوجاتی ہیں ۔ قرآن کی جملہ بندی مرتب ہے، اس کے کلمات بلند ترین بنیادوں کے حامل ہیں اور اس میں بلند معانی زیبا ترین الفاظ کے قالب میں اس طرح سے ڈھلے ہوئے ہیں جس کی کوئی مثل و نظیر نہیں ملتی۔
قرآن کی فصاحت و بلاغت کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ یہ بات صرف دعوی نہیں کیونکہ خالق کائنات، جس نے اس کتاب کو اپنے رسول پرنازل کیا ہے اس نے تمام نسانوں کو اس کی مثل پیش کرنے کی دعوت دی ہے اور ان سے کہا ہے کہ اس جیساقرآن یا اس جیسی ایک سورت ہی لے آو۔ اس نے دعوت دی ہے کہ تمام جہانوں کے باسی(جن و انس)ہم گام و ہم فکر ہو کراس کی نظیر پیش کریں ۔ لیکن سب کے سب عاجز و ناتواں رہ گئے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قرآن فکر انسانی کی تخلیق نہیں ۔
بالکل اسی طرح جیسے خدا وند عظیم نے اس مٹی سے انسان کو اس تعجب خیز جسم کے ساتھ تخلیق کیا، قسم قسم کے خوبصورت پرندے اورجانور پیدا کئے، طرح طرح کی چیزیں بناتے ہیں ۔ ایسے ہی خدا وند تعالی حروف الف باء اور معمولی کلمات سے بلند ترین مطالب و معانی کو خوبصورت الفاظ اور موزوں کلمات کے سانچے میں ڈھالتا ہے اور انہیں ایسا اسلوب دیتا ہے جس سے تمام انگشت بدنداں ہیں ۔ بیشک یہی حروف انسانوں کے اختیار میں بھی ہیں لیکن ان میں یہ طاقت نہیں کہ قرآن جیسی تراکیب اور جملہ بندی ایجاد کرسکیں ۔
ادبیات عرب کا عہد زریں
یہ بات قابل غور ہے کہ زمانہ جاہلیت اور ادبیات کے لحاظ سےایک عہد زریں تھا۔ وہی پا برہنہ اور نیم وحشی بادیہ نشین بدو تمام تر اقتصادی و معاشرتی محرو میوں کے باوجود ادبی ذوق اور سخن سنجی سے سرشار تھے۔یہاں تک کہ آج بھی ان کے اشعار ان کے سنہری زمانے کی یاد دلاتے ہیں ۔ ان کے بہترین اور قیمتی اشعار ادبیات عرب کا سرمایہ ہیں اور حقیقی عربی ادب کے متلاشیوں کے لئے ایک گراں بہا ذخیرہ ہیں ۔ یہ بات اس وقت کے عربوں کے تفوق ادبی اور ذوق سخن پروری کی بہترین دلیل ہے۔
عربوں کے زمانہ جاہلیت میں ایک سالانہ میلہ لگتا تھا جو بازار عکاظ کے نام سے مشہور تھا۔ یہ ایک ادبی اجتماع کے ساتھ ساتھ سیاسی و عدالتی کانفرنس بھی تھی۔ اسی بازار میں بڑے بڑے اقتصادی سودے بھی ہوتے، شعراء اور سخنور اپنی اپنی تخلیقات اس کانفرنس میں پیش کرتے ان میں سے بہترین کا انتخاب ہوتا۔ جسے شعر سال کا اعزاز حاصل ہوتا۔ ان میں سے سات یا دس قصیدے سبعہ یا عشرہ معلقہ کے نام سے مشہور ہیں ۔ اس عظیم الشان ادبی مقابلے میں کامیابی شاعر اور اس کے قبیلے کے لئے ایک بہت بڑا اعزاز تصور کی جاتی تھی۔
ایسے زمانے میں قرآن نے اپنی مثل لانے کی دعوت انہی لوگوں کو دی اور سب نے اظہار عجز کیا اور اس کے سامنے سرجھکالئے ۔ اس کی مزید تشریح، اس سورہ کی آیت ۲۳ کے ذیل میں آئے گی جہاں قرآن کے چیلنج اور عرب سخنوروں کے عجز کا تذکرہ ہے۔
واضح گواہ
حروف مقطعہ کی اس تفسیر کا زندہ ثبوت وہ حدیث ہے جو امام سجاد علی بن الحسین علیہما السلام سے منقول ہے ۔ آپ فرماتے ہیں :
کذب قریش والیهود بالقرآن و قالوا هذا سحر مبین تقوله فقال تعالی الله : الم ذلک الکتاب ای یا محمد هذا الکتاب الذی انزلته الیک الحروف المقطعة التی منها الف و لام و م وهو بلغتکم تاتوا بمثله ان کنتم صادقین
قریش اور یہودیوں نے یہ کہہ کر قرآن کی طرف غلط نسبت دی کہ قرآن جادو ہے یہ خود ساختہ ہے اور اسے خدا سے منسوب کردیا گیا ہے۔ خدا نے انہیں خبردار کیا اور فرمایا الم ذلک الکتاب“ یعنی اے محمد جو کتاب ہم نے آپ پر نازل کی ہے وہ انہی حروف مقطعہ (الف، لام، م) وغیرہ پر مشتمل ہے جو تمہارے زیر استعمال ہے اور اگر تم سچے ہو تو اس کی مثل پیش کرو(۱) ۔
دوسری شہادت وہ حدیث ہے جو امام علی بن موسی الرضا سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں :
ثم قال : ان الله تبارک و تعالی انزل هذا القرآن بهذه الحروف التی تید اولها جمیع العرب ثم قال : قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل هذا القرآن ۔
خدا وند تعالی نے قرآن کو انہی حروف میں نازل فرمایا جنہیں تمام اہل عرب بولتے ہیں ۔ پھر فرمایا : ان سے کہئے کہ اگر انس و جن قرآن کی مثل لانے کے لئے مجتمع ہوجائیں تب بھی وہ اس کی مثل نہیں لا سکتے(۲) ۔
ایک اور نکتہ جو قرآن کے حروف مقطعہ کے بارے میں اس نظریے کی تائید کرتا ہے یہ ہے کہ قرآن میں ۲۴ مقامات ایسے ہیں جہاں سورتوں کی ابتداء جب ان حروف سے ہوتی ہے تو بلا فاصلہ قرآن اور اس کی عظمت سے متعلق گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔ یہ بات خود نشاندہی کرتی ہے کہ حروف مقطعہ اور قرآن میں ربط موجود ہے۔
ایسے چند ایک مقامات یہ ہیں :
۱ ۔( الر، کتاب احکمت آیاته ثم فصلت من لدن حکیم خبیر ) ۔
۲ ۔( طس، تلک آیات القرآن و کتاب مبین ) ۔
۳ ۔( الم ، تلک آیات الکتاب الحکیم ) ۔
۴ ۔( المص، کتاب انزل الیک )
ان موارد میں قرآن کی دیگر سورتوں کے آغاز میں بہت سے مواقع پر حروف مقطعہ کے ذکر کے بعد قرآن سے متعلق بات کی گئی ہے اور اس کی عظمت بیان ہوئی ہے۔
اس سورہ (بقرہ) کے آغاز میں بھی حروق مقطعہ کو بیان کرنے کے بعد آسمانی کتب کی عظمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ یہ وہی با عظمت کتاب ہے جس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ۔( ذالک الکتاب لا ریب فیه ) ۔
یہ تعبیر ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ خد انے اپنے رسول سے وعدہ کیا ہو کہ وہ انسانوں کی رہنمائی کے لئے اس پر ایسی کتاب نازل کرے گا جو تمام طالبان حق کے لئے باعث ہدایت ہوگی اور حقیقت کے متلاشیوں کے لئے اس میں کوئی شک و شبہ نہ ہوگا۔ اور اب اس نے اپنے اس وعدے کو ایفاء کیا ہو۔
یہ جو فرمایا گیا ہے کہ اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں صرف ایک دعوی نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ جو کچھ اس قرآن میں ہے وہ خود اپنی حقانیت پر گواہی دیتا ہے۔ گویا عطار کے صندوقچہ کی طرح ہے،خاموش ہے مگر اپنا کمال دکھا رہا ہے۔
دوسرے لفظوں میں اس طرح سے آثار صدق و عظمت، نظم و استحکام، معانی کی گہرائی، الفاظ و تعبیرات کی مٹھاس اور فصاحت اس میں نمایاں ہے کہ ہر قسم کا وسوسہ اور شک دور ہوتا چلا جاتا ہے اور آنجا کہ عیاں است چہ حاجت بیان است“ کا مصداق ہے۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ رفتار زمانہ نہ فقط اس شگفتگی و تازگی کو کم نہیں کرسکی بلکہ علوم کی پیش رفت اور اسرار کائنات کے آشکارا ہونے سے اس کے حقایق روشن تر ہوتے جارہے ہیں اور علم جتنا مائل بہ کمال ہے اس کی آیات زیادہ واضح ہوتی جارہی ہیں یہ دعوی ہی نہیں بلکہ ایسی حقیقت ہے جس سے ہم انشاء اللہ اسی تفسیر میں آگا ہو ہوں گے۔
____________________
۱۔ تفسیر برہان ، جلد اول، ص ۵۴۔
۲۔ توحید صدوق، ص۱۶۲، طبع ۱۳۷۵ھ۔
دور کا اشارہ کیوں
ہمیں معلوم ہے کہ فقط ”ذلک “لغت عرب میں دور کے لئے اسم اشارہ ہے۔ اس بناء پر ”ذلک الکتاب“ کا مفہوم ہے وہ کتاب۔ حالانکہ یہاں نزدیک کے اسم اشارہ سے استفادہ کیا جانا چاہئے تھا اور” ھذا الکتاب“ ہونا چاہئے تھاکیونکہ قرآن لوگوں کی دسترس میں تھا۔ یہ اس لئے ہوا کہ کبھی بعید کا اسم اشارہ کسی چیز یا شخص کی عظمت کے پیش نظر استعمال کیا جاتا ہے گویا اس کا مقام اتنا بلند ہے کہ آسمانوں کی بلندی کا حامل ہے۔ فارسی میں بھی ایسی تعبیرات موجود ہیں ۔ مثلا کسی عظیم شخصیت کے حضور میں ہم کہتے ہیں :
”اگر آن سرور اجازہ دھند“
یعنی ” اگر وہ سردار اجازت دیں “۔
حالانکہ یہاں ”این سرور“ یعنی یہ سردار کہنا چاہئے۔ یہ صرف بیان عظمت اور مقام بلند کے باعث ہے۔ کئی ایک دوسری آیات میں بھی تلک کا استعمال ہوا ہے اور یہ بھی اشارہ بعید ہے مثلا :( تلک آیات الکتاب الحکیم ) (۱)
____________________
۱. (لقمان، ۲)۔
۲ ۔ معنی ”کتاب“
۲ ۔ معنی ”کتاب“ : کتاب بمعنی مکتوب ہے یعنی لکھی ہوئی ۔ ا س میں کوئی شک نہیں کہ اس آیت میں کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔
اب یہاں یہ سوال سامنے آئے گا کہ کیا اس وقت تمام قرآن لکھا ہوا تھا۔ اس سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ تمام قرآن کا لکھا ہونا ضروری نہیں کیونکہ قرآن جس طرح اس پوری کتاب کو کہا جاتا ہے اس کے اجزاء کو بھی کہا جاتا ہے۔ علاوہ از یں لفظ کتاب بعض اوقات اس سے زیادہ وسیع معنی میں بولا جاتا ہے ۔و ہ مطالب جو لکھنے کے قابل ہیں اور جنہیں لکھا جاتا ہے چاہے اس وقت نہ لکھے گئے ہوں ۔ سورہ ص آیہ ۲۹ میں ہے :
( کتاب انزلناه الیک مبارک لیدبروا ) ۔
یعنی یہ کتاب جسے ہم نے آپ پر نازل کیا با برکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں تدبر و تفکر کریں ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ کتاب سے تعبیر کرنا قرآن کے لوح محفوظ میں لکھے ہونے کی طرف اشارہ ہو(لوح محفوظ کے بارے میں بحث (ہم اس کی جگہ پر کریں گے(۱) ۔
____________________
۱۔ ذیل آیت۳۹، سورہ رعد، تفسیر نمونہ۔
۳ ۔ ہدایت کیا ہے ؟
۳ ۔ ہدایت کیا ہے ؟ : لفظ ہدایت قرآن میں کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ اس کی بنیاد دو معانی ہیں :
الف ۔ ہدایت تکوینی۔ جو تمام موجودات عالم میں پائی جاتی ہے( اس سے مراد وہ ہدایت ہے جو تمام موجودات نظام خلقت کے تحت عالم ہستی کے قوانین کی پابندی کے ساتھ پروردگار عالم سے حاصل کرتی ہیں )۔
قرآن مجید اس ضمن میں حضرت موسی(ع) کا قول بیان کرتا ہے :قال ربنا الذی اعطی کل شئی خلقه ثم هدا ۔
حضرت موسی نے کہا : ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور پھر اس کی ہدایت کی۔(طہ، ۵۰) ۔
ب ۔ ہدایت تشریعی : جو انبیاء اور کتب آسمانی کے ذریعے انجام پذیر ہوتی ہے اور نوع انسانی کی تعلیم و تربیت سے ترقی کی راہیں طے کرتی ہے۔ اس کے شواہد بھی قرآن میں بہت سے ہیں ۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے :
( و جعلناهم ائمة یهدون بامرنا ) ۔ انہیں ہم نے رہنما قرار دیا تاکہ ہمارے فرمان کے مطابق لوگوں کو ہدایت کریں ۔ (انبیاء ۷۳) ۔
۴ ۔ قرآنی ہدایت پرہیزگاروں کے ساتھ کیوں مخصوص ہے؟
یہ مسلم ہے کہ قرآن تمام دنیا کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے۔ لیکن مندرجہ بالا آیت میں اس کی ہدایت کو پرہیزگاروں کے ساتھ کیوں مخصوص قرار دیا گیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک تقوی کا کچھ حصہ انسان میں موجود نہ ہو اس کے لئے آسمانی کتابوں اورانبیاء کی دعوت سے ہدایت کا حصول محال ہے(تقوی کے کچھ حصے سے مراد یہ ہے کہ انسان عقل و فطرت کی روشنی میں حق کو پہچان سکے اور پھر اس کے سامنے سر تسلیم خم بھی کردے۔
با الفاظ دیگر جن لوگوں کے پاس ایمان نہیں ، انہیں دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ ایک وہ جو حق کی تلاش میں ہیں اور اس قدر تقوی ان میں موجود ہے کہ جاں کہیں حق کوپائیں گے اسے قبول کرلیں گے اور دوسرا حصہ وہ جو لجوج، متعصب اور ہوا پرست لوگوں پر مشتمل ہے جو نہ صرف یہ کہ تلاش حق نہیں کرتے بلکہ جہاں کہیں اسے دیکھیں گے اسے ختم کردینے کے در پے ہوں گے اب یہ مسلم ہے کہ قرآن اوردوسر ی کتب صرف پہلے گروہ کے لئے مفید تھیں اور ہیں اور دوسرا گروہ ان کی ہدایت سے بہرہ ور نہیں ہوسکتا۔ گویا فاعل کی فاعلیت کے علاوہ قبول کرنے والے میں قبولیت کی شرط بھی ہے۔ فرق نہیں کہ ہدایت تکوینی ہو یا ہدایت تشریعی۔
زمین شورہ زار ہرگز سنبل بر نیارد
اگر چہ ہزاران مرتبہ باران بر آن بیارد
یعنی۔ شوردار زمین سے فصل نہیں آگتی چاہے ہزاروں مرتبہ اس پر بارش برسے۔
بلکہ ضروری ہے کہ زمین آمادہو تاکہ وہ بارش کے حیات بخش قطروں سے بہرہ ور ہوسکے۔
وجود انسانی کی سرزمین بھی جب تک ہٹ دھرمی، عناد اور تعصب سے پاک نہ ہو ہدایت کے بیج کو قبول نہیں کرے گی۔ اسی بناء پر ارشاد الہی ہے کہ ۔ قرآن متقی لوگوں کے لئے ہادی و رہنما ہے۔
آیات ۳،۴،۵
( الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیمُونَ الصَّلاَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ یُنفِقُونَ ) ( ۳)
( وَالَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِمَا آنْزِلَ إِلَیْکَ وَمَا آنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ یُوقِنُونَ ) ( ۴)
( آوْلَئِکَ عَلَی هُدًی مِنْ رَبِّهِمْ وَآوْلَئِکَ هُمْ الْمُفْلِحُونَ ) ( ۵)
ترجمہ
۳ ۔ پرہیزگار وہ ہیں جو غیب(جس کا حواس ادارک نہیں کرسکتے) پر ایمان رکھتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں اور ان نعمتوں اور عطیوں میں سے جو ہم نے انیہں بطور روزی دیے ہیں خرچ کرتے ہیں ۔
۴ ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو کچھ آپ(ص) سے قبل (انبیاء گذشتہ پر) نازل ہوچکا ایمان رکھتے ہیں ۔
۵ ۔ انہیں خدا نے ہدایت کی ہے اور یہی لوگ کامیاب ہیں ۔
روح و جسم انسانی میں آثار تقوی
قرآن اس سورہ کی ابتداء میں اسلامی آئین اور پروگرام سے مربوط ہونے کے لحاظ سے لوگوں کو تین مختلف گروہوں میں تقسیم کرتا ہے۔
۱ ۔ متقین(پرہیزگار)۔ جو اسلام کو مکمل طور پر قبول کرتے ہیں ۔
۲ ۔ کافرین۔ جو پہلے گروہ کے مد مقابل کھڑے ہیں ، اپنے کفر کے معترف ہیں اور اسلام کے مقابلے میں دشمنی کی گفتار و رفتار سے انکاری نہیں ہیں ۔
۳ ۔ منافقین۔ جو دو رخ اور دو چہرے رکھتے ہیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ ظاہرا مسلمان ہیں اور گروہ مخالف کے ساتھ ہوں تو مخالف اسلام۔ البتہ ان کا اصلی چہرہ وہی کفر والا ہے تاہم اسلام کی ظاہری چیزیں بھی اپناتے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ گروہ اسلام کے لئے دوسرے گروہ کی نسبت زیادہ خطرناک ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ اسی بناء پر قرآن ان پر بہت زیادہ نکتہ چینی کرتاہے۔
البتہ یہ موضوع اسلام ہی سے مخصوص نہیں بلکہ تمام مکاتب و مذاہب عالم ان تین گروہ سے واسطہ رکھتے ہیں کیونکہ کوئی شخص کسی مکتب کا مومن ہے یا واضح طور پر اس کا مخالف یا پھر منافق جسے اپنے کام سے کام ہے۔ نیز یہ مسئلہ کسی خاص زمانے سے بھی تعلق نہیں رکھتا بلکہ تمام ادوار عالم میں ایسا ہی رہا ہے۔
زیر بحث آیات میں پہلے گروہ کے متعلق گفتگو ہے۔ ان کی خصوصیات کو ایمان و عمل کے لحاظ سے پانچ عنواناتن کے ساتھ بیان کیا گیاہے۔
۱ ۔ غیب پر ایمان
سب سے پہلے قرآن کہتا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں (الذین یومنون بالغیب) ۔ غیب و شہود ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں ۔ عالم شہود عالم محسوسات ہے اور عالم غیب ماورائے حس ہے۔ کیونکہ غیب کے معنی اصل میں پوشیدہ و پنہاں چیز کے ہیں ۔ کیونکہ محسوسات سے ماوراء کی دنیا ہماری حس سے پوشیدہ ہے لہذا اسے غیب کہا جاتا ہے۔ قرآن حکیم میں ہے :عالم الغیب والشهادة، هو الرحمن الرحیم
وہ خدا جو غیب و شہود سے واقف ہے وہی مہربان (اور ) رحیم ہے۔
غیب پر ایمان رکھنا در اصل وہ پہلا نقطہ ہے جو مومنین کو دوسروں سے جدا کرتاہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جو آسمانی ادیان کے پیروکاروں کو خدا، وحی اور قیامت کے منکروں کے مقابلے میں کھڑا کرتاہے۔ اسی بناء پر پرہیزگاروں کی پہلی خصوصیت کے طور پر ایمان بالغیب کا ذکر کیا گیاہے۔
مومنین سرحد مادہ کو توڑ کر، اس محدود چاردیواری سے نکال لئے گئے ہیں اور وہ اس وسعت فکر و نظر کے باعث ایک بہت بڑے فوق العادہ جہان سے مربوط ہوگئے ہیں جبکہ ان کے مخالف مصر ہیں کہ انسان کو مادہ کی چار دیواری میں جانوروں کی طرح محدود رکھیں اور اس الٹی چال کو وہ تمدن کی پیش رفت اور ترقی کا نام دیتے ہیں ۔
ان دونوں نقطہ ہائے نظر کے ادراک و فکر کا مقابلہ کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ غیب پر ایمان رکھنے والے۔ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جہان ہستی اس دنیا سے کہیں وسیع تر ہے جسے ہمارے حواس درک کرتے ہیں ۔ اس جہان کے پیدا کرنے والے کا علم اور قدرت بے انتہا ہے اور اس کی عظمت و ادراک کی کوئی حد نہیں ۔ وہ ازلی و ابدی ہے ۔ اس نے عالم ایک بہت بڑے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنایا ہے۔
روح انسانی اور باقی حیوانات میں بہت بڑا فرق ہے ۔ موت کے معنی نابود ہونا اور فنا ہونا نہیں بلکہ یہ انسان کی تکمیل کا ایک مرحلہ و منزل ہے۔ یہ ایک وسیع تر جہان دیکھنے کے لئے ایک دریچہ ہے جب کہ ایک مادی شخص اعتقاد رکھتا ہے کہ جہان ہستی اسی میں محدود ہے جسے ہم دیکھ رہے ہیں ۔ جتنا علوم طبیعی نے ہمارے لئے ثابت کیا ہے وہی کچھ کائنات ہے۔ قوانین طبیعت جبری قوانین کا ایک سلسلہ ہے جو بغیر کسی پروگرام یا منصوبے کے ظاہر ہوگیا۔ اس عالم کے پیدا کرنے والی قوت و طاقت ایک چھوٹے سے بچے جتنی عقل و شعور بھی نہیں رکھتی۔ انسان بھی اس طبیعت کا ایک جزء ہے اور موت کے بعد اس کی ہر چیز ختم ہوجائے گی۔اس کا بدن منتشر ہوجائے گا اور اس کے اجزاء دوبارہ طبیعی مواد سے مل جائیں گے۔ انسان کے لئے بقاء نہیں ہے۔ اس کے اور عام حیوانات کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں(۱) ۔
کیا انسانوں کا ان دو متضاد طرز فکر ہوتے ہوئے ایک دوسرے پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ آیا معاشرے میں ان کا طرز زندگی اور طریق کار ایک جیسا ہوسکتا ہے۔
پہلا شخص(مومن) حق و عدالت، خیرخواہی اور دوسروں کی مدد سے چشم پوشی نہیں کرسکتا لیکن دوسرے (مادی) شخص کے پاس ان امور کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں مگر جتنا اس کی آج یا کل کی مادی زندگی کا تقاضا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ مومنین کے درمیان سچا بھائی چارہ، پاکیزہ افہام و تفہیم اور تعاون ہوتا ہے جب کہ جہاں پرمادی فکر کے حامل شخص کی حکمرانی ہے وہاں استعمار، استشمار، خونریزی، غارت گری اور تاراجی ہے۔
واضح ہوا کہ قرآن نے تقوی کا پہلا نقطہ ایمان بالغیب کو قرار دیا ہے تو اس کی یہی وجہ ہے جو بیان کی گئی ہے۔
کیا ایمان بالغیب سے مراد صرف ذات پاک پروردگار پر ایمان لانا ہے یا غیب یہاں ایک وسیع معنی رکھتا ہے یعنی وحی، قیامت، فرشتے اور عالم حس سے ماوراء سب کچھ اس کے مفہوم میں شامل ہیں ۔ مفسرین کے درمیان اس سلسلے میں اختلاف ہے لیکن ہم نے ابھی کہا ہے کہ جہاں ماورائے جس پر ایمان رکھنا مومنین اور کافرین میں نقطہ اختلاف اور علیہدگی کا سبب ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ غیب یہاں ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں آیت کی تعبیر بھی مطلق ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی قید موجود نہیں جو اسے کسی خاص معنی میں محدود کردے۔
اب اگر ہم اہلبیت (ع) کی بعض روایات میں دیکھتے ہیں کہ اس آیت میں غیب سے مراد امام غائب حضرت مہدی سلام اللہ علیہ لئے گئے ہیں( ۲) ۔
تو یہ بات ہماری گذشتہ گفتگو سے اختلاف نہیں رکھتی۔ امام مہدی علیہ السلام ہمارے عقیدے کی بناء پر زندہ و سلامت ہیں اور نگاہوں سے پوشیدہ ہیں ۔ آیات کی تفسیر کے سلسلے کی روایات جن کے بہت سے نمونے آپ ملاحظہ کریں گے زیادہ تر مخصوص مصادیق کے لئے بیان ہوئی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہیں ان مصادیق میں محدود کردیا گیا ہے بلکہ مذکورہ روایات حقیقت میں ایمان بالغیب کی وسعت اور اس کے امام غائب تک کے شمول کو بیان کرتی ہے یہاں تک کہ کہا جاسکتا ہے کہ ایمان بالغیب ممکن ہے زمانے کے گذرنے کے ساتھ ساتھ نئے مصداق بھی پیدا کرے۔
____________________
۱۔ اقتباس از قرآن و آخرین پیامبر۔
۲۔ نور الثقلین جلد اول ص
۲ ۔ خدا سے رابطہ
پرہیز گاروں کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں( ویقیمون الصلواة ) ۔ نماز، خدا سے رابطے کی ایک رمز ہے۔
مومنین جو جہان ماورائے طبیعت تک رسائی حاصل کرچکے ہیں نماز ان کا دائمی و ہمیشگی رابطہ مبداء عظیم آفرینش سے برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے۔ وہ صرف خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں ۔وہ فقط جہان ہستی کے خالق کے سامنے جھکتے ہیں لہذا بتوں کے سامنے خضوع کرنا یا جباروں اورستم گروں کے سامنے جھکنا ان کی زندگی میں کیسے حائل ہوسکتا ہے۔
ایسا انسان احساس کرتا ہے کہ میں تمام مخلوقات سے آگے بڑھ کیا ہوں اور مجھے اس مقام تک رسائی حاصل ہوگئی ہے کہ خدا سے گفتگو کروں ۔ یہ احساس اس کی تربیت کےلئے بہترین عامل ہے۔
جو شخص روزانہ کم از کم پانچ مرتبہ خدا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور اس سے راز و نیاز کی باتیں کرتا ہے اس کی کفر ، اس کا عمل اور اس کی گفتار سب خدائی ہوجاتی ہیں ، کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس کی خواہش کے برخلاف قدم اٹھائے(لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ درگاہ حق میں اس کاراز و نیاز دل و جان کے ساتھ ہو اور مکمل دلجمعی کے ساتھ اس کی بارگاہ کا رخ کرے(۱) ۔
____________________
۱۔ اہمیت نماز اور اس کے بے شمار تربیتی آثار کے متعلق اسی تفسیر میں سورہ ہود کی آیة ۱۱۴ کے ذیل میں بحث کی گئی ہے۔
۳ ۔ انسانوں سے رابطہ:
مومنین وہ لوگ ہیں جو پروردگار کے ساتھ دائمی رابطے کے علاوہ خلق خدا سے بھی مسلسل رابطہ رکھتے ہیں ۔ اسی لئے قرآن ان کی تیسری خصوصیت یہ بیان کرتا ہے کہ ہم نے جو نعمتیں انہیں روزی کے طور پر عطا کی ہیں انہیں خرچ کرتے ہیں( و مما رزقناهم ینفقون ) ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن یہ نہیں کہتا کہ ”من اموالهم ینفقون “ ( اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہیں ) بلکہ کہتا ہے مما رزقناھم ۔ جو ہم نے انہیں رزق دیا ہے۔ اس طرح مسئلہ انفاق اور خرچ کرنے کو عمومیت دےدی گئی ہے گویا اس میں خدا کا مادی اور معنوی سب عنایتیں شامل ہیں ۔ اس بناء پر پرہیزگار وہ ہیں جو نہ صرف اپنا مال بلکہ علم ، عقل، دانش، جسمانی قوتیں ، مقام اور منصب اجتماعی غرض اپنا ہر قسم کا سرمایہ صاحبان حاجت پر خرچ کرتے ہیں اور اس خواہش کے بغیر کہ ان لوگوں سے اس کا کچھ عوض ملے گا۔
ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ انفاق اور خرچ کرنا جہان آفرینش کا ایک عمومی قانون ہے یہ قانون خاص طور پر موجودات زندہ میں نظر آتا ہے۔ مثلا انسان کا دل صرف اپنے لئے کام نہیں کرتا بلکہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ بدن کے تمام خلیوں پر خرچ کرتا ہے۔ مغز، جگر اور بدن انسانی کے کارخانے کا ہر جزء اپنے کام کے ماحصل کو ہمیشہ خرچ کرتا ہے۔ اصولی طور پر جو مل جل کر رہتے ہیں ، انفاق کے بغیر ان کی زندگی کا کوئی مفہوم نہیں(۱) ۔
دوسرے انسانوں سے رابطہ در حقیقت خدا سے ربط و تعلق کا نتیجہ ہے جس انسان کا خدا سے تعلق ہے اور جو و مما رزقناھم کے مطابق روزی کو خدا کی عطا سمجھتا ہے، اسے اپنی پیدا کردہ نہیں سمجھتا بلکہ خدا تعالی کا عطیہ سمجھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ سب کچھ چند دن کے لئے اس کے پاس بطور امانت ہے۔ وہ انفاق و بخشش سے تکلیف نہیں بلکہ راحت محسوس کرے گا کیونکہ اس نے خدا کی عطا خدا کے بندوں کو دی ہے البتہ اس کے مادی و معنوی نتائج و برکات خود حاصل کئے ہیں ، یہ طرز فکر روح انسانی کو بخل و حسد سے پاک کردیتا ہے اور تنازعہ کی دنیا کو تعاون کی دنیا میں بدل دیتا ہے۔ ایسی دنیا کہ جس میں ہر شخص اپنے آپ کو مقروض سمجھتے ہوئے وہ نعمات جو اس کے پاس ہیں حاجت مندوں کے سپرد کردیتاہے۔ وہ آفتاب کی طرف نور افشانی کرتا ہے اور کسی عوض کا خواہاں نہیں ہوتا۔
یہ امر قابل غور ہے کہ امام صادق (ع) نے مما رزقناھم کی تفسیر میں ارشاد فرمایا :ان معناه و مما علمناهم یبثون
یعنی جن علوم و احکام کی ہم نے انہیں تعلیم دی ہے وہ ان کی نشر واشاعت کرتے ہیں اور جو ان کی احتیاج رکھتے ہیں انہیں تعلیم دیتے ہیں(۲) ۔
واضح ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انفاق اور خرچ کرنا علم کے ساتھ مخصوص ہے بلکہ مسئلہ انفاق میں نگاہیں چونکہ مالی انفاق کی طرف متوجہ تھیں لہذا امام نے معنوی انفاق کا ذکر فرماکر اس مفہوم کی وسعت کو روشن کردیا۔
ضمنی طور پر یہاں یہ بھی پورے طور پر واضح ہوگیا کہ زیر بحث آیت میں انفاق اورخرچ کرنے سے مراد فقط زکواة واجب یا واجب و مستحب دونوں نہیں بلکہ اس کا مفہوم وسیع تر ہے جو ہر قسم کی بلا عوض مدد پر محیط ہے۔
____________________
۱۔ نور الثقلین و مجمع البیان ذیل آیہ مذکورہ۔
۲۔ انفاق، اس کی اہمیت اور اس کے اثرات کی بحث اسی تفسیر کی جلد۲ ص ۱۸۱ تا ۲۰۸ آیات ۲۶۱ تا ۲۷۴ پر ملاحظہ فرمائیں ۔
۴۔ ایمان و عمل کی راہ میں تسلسل
: گذشتہ آیات میں تمام جگہوں پر فعل مضارع سے استفادہ کیا گیا ہے جو عموما استمرار و تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے ۔ یومنون با لغیب، یقیمون الصلواة، ینفقون، و بالآخرة ھم یوقنون۔ یہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پرہیز گار اور سچے مومن وہ ہیں جو اپنے پروگرام میں ثبات و استمرار رکھتے ہیں ۔ زندگی کے نشیب و فراز ان کی روح فکر پر اثر انداز نہیں ہوتے اور ان سے ان کے انسان ساز پروردگراموں میں خلل پیدا نہیں ہوتا۔
وہ ابتداء ہی سے حق طلبی کی روح رکھتے ہیں جو اس کا باعث بنتی ہے کہ وہ دعوت قرآن کے پیچھے جائیں اور پھر دعوت قرآن ان میں یہ پانچ صفات پیدا کردیتی ہے۔
۵ ۔ قیامت پر ایمان
یہ وہ آخری صفت ہے جو پرہیزگاروں کی صفات کے سلسلے میں بیان ہوئی ہے فرمایا گیا ہے کہ وہ آخرت پر یقینا ایمان رکھتے ہیں( و با الآخرة هم یوقنون ) ۔
وہ یقین رکھتے ہیں کہ انسان مہمل، عبث اور بے مقصد پیدا نہیں ہوا ۔ اس کی تخلیق اس کے آگے بڑھنے کے لئے ہے اور اس کا سفر موت کے بعد ختم نہیں ہوجاتا کیونکہ اگر معاملہ یہیں پر ختم ہوجاتا تو یقینا چند دن کی زندگی کے لئے یہ شور و غل فضول اور بیکار تھا۔ وہ اقرار کرتا ہے کہ پروردگار کی عدالت مطلقہ سب کے انتظار میں ہے اور یہ نہیں کہ اس دنیا میں ہمارے اعمال بے حساب اور بغیر جزا و سزا کے رہ جائیں ۔
جب وہ اپنی ذمہ داریوں کو انجام دے رہا ہوتا ہے تو قیامت کا اعتقاد اس میں اطمینان کی کیفیت پیدا کردیتا ہے اور کام کا بوجھ اس کے لئے باعث تکلیف نہیں رہتا بلکہ وہ ان ذمہ داریوں کا استقبال کر تا ہے۔ حوادث کے مقابلے میں کوہ گراں کی مانند کھڑا ہوجاتا ہے۔ غیر عادلانہ سلوک کے مقابلے میں سر نہیں جھکاتا ۔ وہ مطمئن ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے نیک و بد کام کی جزا و سزا ہے، موت کے بعد ایک زیادہ وسیع جہان کی طرف منتقل ہونا ہے اور رحمت وسیع اور الطاف پروردگار سے بہرہ ور ہونا ہے۔
آخرت پر ایمان کا مطلب ہے عالم مادہ کی سرحد سے باہر نکل آنا اور ایک بلند تر عالم میں قدم رکھناجو ایسا جہان ہے کہ ہماری دنیا اس کے لئے کھیتی ہے وہاں کی زندگی کے لئے زیادہ آمادہ ہونے کے لئے یہ ایک تربیت گاہ ہے۔ ا س دنیا کی زندگی آخری ہدف اور مقصد نہیں بلکہ یہ حقیقی زندگی کے لئے تمہید کی حیثیت رکھتی ہے ۔ دوسرے جہان کی زندگی کو سازگار بنانے کے لئے اس جہان کی زندگی رحم مادر میں بچے کی زندگی کی طرح ہے۔ انسان کی خلقت کا مقصد کبھی بھی یہ زندگی نہیں رہابلکہ یہ ایک زندگی کے لئے دور تکامل ہے جب تک انسان جنین سے صحیح و سالم اور ہر قسم کے عیب سے پاک متولد نہ ہو بعد والی زندگی میں خوش بخت اور سعادت مند نہیں ہوسکتا۔
قیامت کا عقیدہ رکھنا انسان کی زندگی پر گہرا اثر پیدا کرتا ہے۔ یہ عقیدہ انسان کو شہامت و شجاعت بخشتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد پر انسان اس جہان کی زندگی میں افتخار کی بلندیوں تک پہنچتا ہے جو اسے خدا وند عالم کی مقدس راہ میں ”شہادت“ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ شہادت ایک صاحب ایمان انسان کے لئے محبوب ترین چیز ہے کیونکہ یہ در اصل ایک ابدی و جاودانی زندگی کی ابتداء ہے۔
قیامت پر ایمان انسان کو گناہ سے روکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہمارے گناہ خدا اور آخرت پر ایمان سے نسبت معکوسی رکھتے ہیں ۔ یہ ایمان جتنا قوی ہوگا گناہ اتنے کم ہوں گے ۔ سورہ ص آیة ۲۶ میں حضرت داؤد سے خطاب الہی ہے :
( ولایتبع الهوی فیضلک عن سبیل الله ، ان الذین یضلون عن سبیل الله لهم عذاب شدید بما نسوا یوم الحساب ) ۔
خواہشات نفس کی پیروی نہ کرنا کیونکہ وہ تمہیں خدائی راستے سے گمراہ کردیں گی وہ لوگ جو راہ خدا سے گمراہ ہوجاتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے کیونکہ انہوں نے روز قیامت کو فراموش کردیا ہے۔
گویا روز جزا کو بھول جانا قسم قسم کی سرکشی ظلم وستم اور گناہوں کا پیش خیمہ ہے اور یہی چیزیں عذاب شدید کا سرچشمہ ہیں ۔
زیر نظر آیات میں سے آخری ان لوگوں کے نتیجے اور انجام کار کی خبر دیتی ہے جن کی صفات گذشتہ پانچ آیات میں بیان کی گئی ہیں ۔ قرآن کہتا ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں( اولئک علی هدی من ربهم ) اور یہی کامیاب ہیں( و اولئک هم المفلحون ) ۔
حقیقت میں ان کی ہدایت اور کامیابی کی ضمانت خدا کی طرف سے ہے۔ ” من ربھم “ کی تعبیر اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔
یہ امر قابل غور ہے کہ قرآن کہتا ہے( ” علی هدی من ربهم“ ) یہ ایسے ہے گویا ہدایت خدا وندی ایک رہوار ہے جس پر وہ سوار ہیں اور اس سواری کی مدد سے وہ کامیابی اور سعادت کی طرف رواں دواں ہیں ۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ لفظ ” علی“ عموما تسلط علو او رغلبہ کے مفہوم میں استعمال کیاجاتا ہے۔
”ھدی“( بصورت نکرہ)ضمنا اس ہدایت کی عظمت کی طرف اشارہ ہے جو خدا کی طرف سے ان کے شامل حال ہے یعنی وہ بہت عظیم ہدایت پر فائز ہیں ۔
ھم المفلحون کی تعبیر علم معانی و بیان کے اصول کے پیش نظر دلیل حصر ہے یعنی کامیابی کا راستہ صرف انہی لوگوں کا راستہ ہے کیونکہ یہ لوگ پانچ مخصوص صفات اپنا کر ہدایت الہی سے سرفراز ہوئے ہیں(۱) ۔
____________________
۱۔ صاحب تفسیر المنار مصر ہیں کہ اولئک دو گروہوں کی طرف اشارہ ہے۔ پہلا وہ جس میں ایمان بالغیب،قیام نماز اور انفاق کی صفات پائی جاتی ہیں اور دوسراوہ جو آسمانی وحی اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے۔ لیکن یہ تفسیر بہت بعید نظر آتی ہے کیونکہ یہ پانچ صفات ایک گروہ سے مخصوص ہیں اور ایک دوسرے سے متصل ہیں اور اس کے دو حصے کرنا درست نہیں ۔
۶۔ حقیقت تقوی کیا ہے :
تقوی کا مادہ ہے ”وقایة“ جس کے معنی ہیں نگہداری یا خود داری(۱) ۔
دوسرے لفظوں میں نظم و ضبط کی ایک ایسی اندرونی طاقت کا نام تقوی ہے جو سر کشی و شہوت کے مقابلے میں انسان کی حفاظت کرتی ہے حقیقت میں یہ قوت ایک ایسے مضبوط ہینڈل کا کام دیتی ہے جو وجود انسانی کی مسینری کو الٹ جانے کی جگہوں پر محفوظ رکھتا ہے اور خطرناک تیزیوں سے روکتا ہے۔
اسی لئے امیرالمومنین علی(ع) تقوی کو خطرات گناہ کے مقابلے میں ایک مضبوط قلعے کا عنوان دیتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں :
اعلموا عبادالله ان التقوی دار حصن عزیز
اے اللہ کے بندو! جان لو کہ تقوی ایسا مضبوط قلعہ ہے جسے تسخیر نہیں کیا جاسکتا(۲) ۔
اسلامی احادیث اور علماء اسلام کے کلمات میں حالت تقوی کے لئے بہت سی تشبیہات بیان ہوئی ہیں ۔
امیرالمومنین حضرت علی (ع) فرماتے ہیں :الا و ان التقوی مطایا ذلل حمل علیها اهلها و اعطوا ارمتها فاوردتهم الجنة ۔
تقوی ایسے راہوار کی مانند ہے جس پر اس کا مالک سوار ہو، اس کی باگ ڈور بھی اس کے ہاتھ میں ہو اور وہ اسے بہشت کے اندر پہنچادے(۳)
بعض نے تقوی کو اس شخص کی حالت سے تشبیہ دی ہے جو کانٹوں بھری زمین سے گذر رہا ہو اور اس کی کوشش میں ہو کہ اپنادامن بھی سنبھالے رکھے اور قدم بھی احتیاط سے اٹھائے تاکہ کوئی کانٹا اس کے دامن سے نہ الجھ جائے اور نہ ہی کوئی خار اس کے پاؤں میں چبھے۔
عبداللہ معتز نے اس کیفیت کو اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے :
۱ ۔خل الذنوب صغیرها و کبیر ها فهو التقی
۲ ۔واضع کماش فوق ار ض الشوک یحذر ما یری
۳ ۔لا تحقرون صغیرة ان الجبال من الحصی
۱ ۔ سب چھوٹے بڑے گناہوں کو چھوڑ دے کہ حقیقت تقوی یہی ہے۔
۲ ۔ اس شخص کی طرح ہوجا جو خار دار زمین پر انتہائی احتیاط سے قدم اٹھاتا ہے۔
۳ ۔ چھوٹے گناہوں کو چھوٹا نہ سمجھ کہ پہاڑ سنگریزوں ہی سے بنتا ہے
ضمنا اس تشبیہ سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ تقوی یہ نہیں کہ انسان گوشہ نشین ہوجائے اور لوگوں سے میل جول ترک کردے بلکہ معاشرے میں رہتے ہوئے اگر چہ وہ غلیظ معاشرہ ہی کیوں نہ ہو اپنی حفاظت کرے۔
اسلام میں کسی کی شخصیت کے لئے معیار فضیلت و افتخار یہی تقوی ہے اور اسلام کا شعار زندہ ہے :( ان اکرمکم عندالله اتقاکم ) ۔
یعنی یقینا خدا کے یہاں تم میں سے زیادہ صاحب عزت و تکریم وہی ہے جو تقوی میں سب سے بڑھ کر ہے (حجرات، ۱۳) ۔
حضرت علی فرماتے ہیں :( ان تقوی الله مفتاح سداد و ذخیرة معاد و عتق من کل ملکة ونجاة من کل هلکة )
تقوی او رخوف خدا ہر بند دروازے کی کلید ہے، قیامت کے لئے ذخیرہ ہے، شیطان کی بندگی سے آزادی کا سبب ہے اور ہر ہلاکت سے باعث نجات ہے( ۴) ۔
ضمنا متوجہ رہئے گا کہ تقوی کی کئی ایک شاخیں اورشعبے ہیں مثلا تقوی مالی، تقوی اقتصادی، تقوی جنسی، تقوی اجتماعی اور تقوی سیاسی وغیرہ۔
____________________
۱۔ راغب نے ”مفردات“ میں لکھا ہے ”وقایہ“ کے معنی ہیں چیزوں کو ان امور سے محفوظ کرنا جو انہیں نقصان یا تکلیف پہنچائیں اور تقوی کے معنی ہیں ”خطرات سے بچا کر روح کو ایک حفاظتی پردے میں رکھنا“ تقوی کے معنی کبھی خوف بھی کئے جاتے ہیں حالانکہ خوف تو تقوی کا سبب ہے۔ عرف شریعت میں تقوی کا مطلب ہے اپنے آپ کو گناہوں سے بچا کر رکھنا اور کمال تقوی یہ ہے کہ مشتبہ چیزوں سے بھی اجتناب کیا جائے۔
۲۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۷۔
۳۔ نہج البلاغہ ، خبطہ ۱۶۔ تفسیر ابوالفتوح رازی، جلد اول ص ۶۲۔
۴۔ نہج البلاغہ، خطبہ ۲۳۰۔
آیات ۶،۷
( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَیْهِمْ آآنذَرْتَهُمْ آمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لاَیُؤْمِنُونَ ) ( ۶)
( خَتَمَ اللهُ عَلَی قُلُوبِهِمْ وَعَلَی سَمْعِهِمْ وَعَلَی آبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ ) ( ۷) ۔
ترجمہ
۶ ۔ جو لوگ کافر ہوگئے ہیں ان کے لئے برابر ہے کہ آپ انیہں (عذاب خدا سے) ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ، وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
۷ ۔ خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اوران کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اور ایک بڑا عذاب ان کے انتظار میں ہے۔
دوسراگروہ سر کش کفار کا ہے
یہ گروہ ان پرہیزگار انسانوں کے بالکل برعکس ہے جن کی صفات گذشتہ دو آیات میں پوری و ضاحت سے بیان ہوئی ہیں ۔
ان دو آیات میں سے پہلی میں ہے کہ جو کافر ہں (اور ساتھ اپنے کفر و بے ایمانی پر مصر ہیں ) ان کے لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ انہیں عذاب الہی سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں کیونکہ وہ تو ایمان لانے کے نہیں( ان الذین کفروا سواء علیهم ء انذرتهم ام لم تنذرهم لا یومنون ) ۔
پہلا گروہ حواس و ادراک کے ساتھ پوری طرح تیار تھا کہ وہ حق کوپہچانے اور پھر اسے قبول کرکے اس کی پیروی کرے۔
لیکن اس گروہ کے افراد اپنی گمراہی میں اتنے کٹر ہیں کہ حق جتنا بھی ان کے سامنے واضح ہوجائے وہ اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں وہ قرآن جو متقین کے لئے ہادی اور راہنما ہے ان کے لئے بالکل بے اثر ہے۔ کچھ کہیں نہ کہیں ، ڈرائیں یا نہ ڈرائیں کوئی بشارت دیں یا نہ دیں ان پر کسی چیز کا کچھ اثر نہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ حق کی پیروی اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لئے روحانی طور پر آمادہ ہی نہیں ۔
دوسری آیت میں اس تعصب و ڈھٹائی کی دلیل پیش کی گئی ہے اور وہ یہ کہ یہ کفر و عناد میں اس طرح ڈوبے ہوئے ہیں کہ حس شناخت کھو بیٹھے ہیں ”خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا گیا ہے“( خَتَمَ اللهُ عَلَی قُلُوبِهِمْ وَعَلَی سَمْعِهِمْ وَعَلَی آبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ) اسی بناء پر ان کا انجام یہ ہے کہ ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے( وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیمٌ )
اس لحاظ سے وہ آنکھ پرہیزگار جس سے آیات خدا کو دیکھتے تھے، وہ کان پرہیزگار جس سے حق کی باتیں سنتے تھے اور وہ دل پرہیزگار جس سے حقائق کا ادراک کرتے تھے کفار کے لئے بے کار ہیں ۔ عقل ، آنکھ اور کان ان کے پاس ہیں لیکن سمجھنے، دیکھنے اور سننے کی قوت ان میں نہیں رہی کیونکہ ان کے برے اعمال، ان کا عناد اور ہٹ دھرمی ان کی شناخت کی قوت کے سامنے پردہ بن گئے ہیں ۔
یہ مسلم ہے کہ جب تک انسان اس مرحلے تک نہ پہنچے، کتنا ہی گمراہ کیوں نہ ہو قابل ہدایت ہوتا ہے لیکن جب وہ اعمال بد کی وجہ سے حس تشخیص ہی کھو بیٹھتا ہے تو پھر اس کے لئے راہ نجات نہیں ہے کیونکہ اس کے پاس پہچان کی قوت ہی نہیں لہذا یقینی طور پر عذاب عظیم اس کے انتظار میں ہے۔
۱ ۔ تشخیص کی قدرت کا چھن جانا دلیل جبر نہیں :
پہلا سوال جو یہاں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ گذشتہ آیت کے مطابق اگر خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے تو پھر وہ مجبور ہیں کہ کفر پر باقی رہ جائیں تو کیا یہ جبر نہیں ؟ قرآن میں اس آیت کی طرح اور بھی ایسی ہی آیات موجود ہیں ان حالات میں انہیں سزا دنے کے کیا معنی ہیں ؟
اس سوال کا جواب خود قرآن نے دیا ہے اور وہ یہ کہ حق کے مقابلے میں ان لوگوں کا اصرار اور ہٹ دھرمی، ان کی طرف سے ظلم و ستم اور کفر کا استمرار و دوام ان کی حس شناخت پر پردہ پڑ جانے کا باعث بنتا ہے۔ سورہ نساء آیت ۱۵۵ میں ہے :( بل طبع الله علیها بکفرهم )
خدا وند عالم نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔
سورہ مومن، آیت ۳۵ میں ہے :( کذلک یطبع الله علی کل قلب متکبر جبار ) ۔
اس طرح خدا ہر متکبر اور ستم گر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
اسی طرح سورہ جاثیہ، آیت ۲۳ میں ہے :( افرایت من اتخذ الهه هواه و اضله الله علی علم و ختم علی سمعه و قلبه و جعل علی بصره غشاوة ) ۔
کیاآپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے ہوائے نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہے لہذا وہ گمراہ ہوگیا ہے اور خدا نے اس کے گوش و دل پر مہر لگادی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے۔
آپ دیکھ رہے ہیں کہ انسان کی حس تشخیص کا سلب ہو جانا اور آلات تمیز و معرفت کا بے کار جانا ان آیات میں چند ایک علل کا معلول شمار ہوا ہے۔ کفر ، تکبر، ستم، پیروی ہوا و ہوس سرکش، تعصب اور حق کے مقابلے میں اصرار، حقیقت میں یہ حالت انسان کے اعمال کا عکس العمل اور بازگشت ہے کوئی اور چیز نہیں ۔
اصولا یہ ایک فطری امر ہے کہ اگر انسان ایک غلط کام کو مسلسل کرتا رہے تو آہستہ آہستہ اس سے مانوس ہوجاتا ہے پہلے ایک حالت ہے پھر وہ ایک عادت بن جاتی ہے گویا وہ روح انسانی کا جزو ہوجاتی ہے اور کبھی معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ انسان کا پلٹ آنا ممکن نہیں رہتا لیکن اس نے جان بوجھ کر یہ راستہ اختیار کیا تھا لہذا عواقب و انجام کا بھی خود ذمہ داری ہے۔اوراس میں جبر کی کوئی بات نہیں بالکل اس شخص کی طرح جو خود اپنی آنکھ پھوڑے اور کان ضائع کردے کہ دیکھ سکے نہ سن سکے۔
اب اگر آپ دیکھیں کہ ان افعال کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے اس قسم کے افعال میں ایسی خاصیت رکھی ہے (یہ بات خاص طور پر غور طلب ہے)۔
قوانین آفرینش سے اسی مفہوم کی پورے طور پرعکاسی ہوتی ہے۔ جو شخص صحیح اور سچے تقوی اور پاکیزگی کو اپنا پیشہ بنالے خدا وند عالم اس کی حس تمیز کو زیادہ قوی کردیتا ہے اور اسے خاص ادارک نظر اور روشن فکری عطا کرتا ہے۔ جیسے سورہ انفال آیة ۲۹ میں ہے :( یایها الذین آمنوا ان تتقوالله یجعل لکم فرقانا ) ۔
اے ایمان والو ! اکر تم تقوی کو اپنا پیشہ قرار دو تو خدا وند عالم تمہیں فرقان (یعنی وسیلہ ادراک حق و باطل) عطا کرے گا۔
اس حقیقت کو ہم نے روز مرہ کی زندکی میں بھی آزمایا ہے۔ بعض ایسے اشخاص ہیں جو غلط کام شروع کرتے ہیں اور ابتداء میں خود معترف بھی ہوتے ہیں کہ سو فی صد غلط کاری او ربرائی کا ارتکاب کر رہے ہیں اور اسی بناء پر وہ اس کام سے دکھی ہیں ۔ لیکن آہستہ آہستہ اس سے مانوس ہوجاتے ہیں تو وہ دکھ ان سے دور ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچتا ہے کہ نہ صرف انہیں اس کام سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی بلکہ وہ اس پر خوش ہوتے ہیں حتی کہ اسے انسانی یا دینی ذمہ داری سمجھنے لگتے ہیں ۔
حجاج ابن یوسف جودنیا کا سب سے بڑا سفاک اور ظالم انسان تھااس کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ اپنے ہولناک مظالم اور سفاکیوں کی توجیہہ میں کہتا تھا :
” یہ لوگ گناہگار ہیں لہذا مجھ جیسا شخص ان پر مسلط رہنا چاہئے تاکہ ان پر ظلم کرے کیونکہ یہ اس کے مستحق ہیں “۔
گویا وہ جس قدر قتل، خونریزی اور ظلم کرتا تھا اس کے لئے اپنے آپ کو خدا کی طرف سے مامور سمجھتا تھا۔
کہتے ہیں چنگیز خاں کے ایک سپاہی نے ایران کے ایک سرحدی شہر میں تقریر کی اور کہنے لگا :
” کیا تمہارا یہ اعتقاد نہیں کہ خدا گنہگاروں پر عذاب نازل کرتا ہے ۔ ہم وہی عذاب الہی ہیں لہذا کسی قسم کے مقابلے کی کوشش نہ کرنا“۔
۲ ۔ ایسے لوگ قابل ہدایت نہیں تو انبیاء کا تقاضا کیوں :
یہ دوسرا سوال ہے جو زیر نظر آیات کے سلسلے میں سامنے آتا ہے ۔ اگر ہم ایک نکتے کی طرف توجہ دیں تو جواب واضح ہوجائے گا۔ وہ یہ کہ سزا اور عذاب الہی ہمیشہ انسان کے اعمال و کردار سے مربوط ہے۔ صرف اس بناء پر کسی شخص کو سزا نہیں دی جاسکتی کہ وہ دلی طور پر برا شخص ہے بلکہ ضروری ہے کہ پہلے اسے حق کی دعوت دی جائے۔ اگر اس نے پیروی نہ کی اور اپنے اندرونی خبائث کو اپنے اعمال و کردار سے ظاہر کیا تو اس وقت وہ سزا و عذاب کا مستحق ہے ورنہ وہ ظلم سے پہلے قصاص کا مصداقر ار پائے گا۔ یہ وہی چیز ہے جسے ہم اتمام حجت کا نام دیتے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ جزا اور عمل کا بدلہ یقینا انجام عمل کے بعد ہونا چاہئے صرف ارادہ یا روحانی و فکری آمادگی اس کے لئے کافی نہیں ۔ علاوہ ازیں انبیاء صرف ان کی ہدایت کے لئے نہیں آتے رہے۔ ایسے لوگ اقلیت میں ہیں زیادہ تعداد تو ان گمراہ لوگوں کی ہے جو صحیح تعلیم و تربیت کے تحت قابل ہدایت ہیں ۔
۳-دلوں پر مہر لگانا :
زیر بحث آیات اور دیگر بہت سی آیات قرآن مجید میں بعض اشخاص سے حس تمیز اور ادراک واقعی کے چھن جانے کو ”ختم“ سے تعبیر کیا گیا ہے اور بعض اوقات ”طبع“ یا ”رین“ قرار دیا گیا ہے۔ یہ معنی یہاں سے لئے گئے کہ لوگوں میں رسم تھی کہ وہ جب کچھ چیزیں تھیلوں یا مخصوص برتنوں میں رکھتے یاکسی اہم خط کو کسی لفافے میں رکھتے تو اس بناء پر کہ کوئی اسے کھولے نہیں اور اسے ہاتھ نہ لگائے اسے باندھ دیتے اور گرہ لگا دیتے پھر گرہ کے اوپر مہر لگاتے تھے۔ آج بھی یہی معمول ہے۔ جائیدادوں کی رجسٹریوں کو اسی بناء پر خاص قسم کی رسی سے باندھتے ہیں ۔ اس کے اوپر لاک (خاص قسم کی دھات) ڈال دی جاتی ہے اور اس کے اوپر مہر لگادیتے ہیں تاکہ اگر اس کے صفحوں میں کوئی کمی بیشی کی جائے تو معلوم ہوجائے۔
تاریخ میں بہت سے شواہد ملتے ہیں کہ سر براہان حکومت درہم و دینار کے توڑوں پر اپنی مہر لگا دیتے تھے اور خاص خاص اشخاص کی طرف بھیجتے تھے۔ یہ اس لئے ہوتا تھا کہ اس میں کسی قسم کا تصرف نہ ہونے پائے اور یونہی اس خاص شخص تک پہنچ جائے کیونکہ اس میں تصرف مہر توڑے بغیر ممکن نہ تھا۔ آج کل بھی ڈاک کے تھیلوں پر مہر کا طریقہ رائج ہے۔
عربی زبان میں اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے لفظ ”ختم“ استعمال کیا جاتا ہے۔ البتہ یہ تعبیر صرف ان اشخاص کے لئے ہے جو بے ایمان اورہٹ دھرم ہیں جو کثرت گناہ کے باعث عوامل ہدایت کا اثر قبول نہیں کرتے اوراہل حق کے مقابلے میں ان کے دلوں میں بغض و عناد اتنا راسخ ہوتا ہے کہ گویااس تھیلے کی طرح ان پر مہر لگ چکی ہے اور اب ان میں کسی قسم کا تصرف نہیں ہوسکتا۔
”طبع“ بھی لغت میں اسی معنی کے لئے آیا ہے اور طابع و خاتم ہر دو کے ایک ہی معنی ہیں یعنی وہ ں چیز جس سے مہر لگاتے ہیں ۔
باقی رہا ” رین“ یعنی زنگ، غبار یا سخت قسم کی مٹی جو قیمتی چیزوں سے چپک جائے۔ یہ تعبیر بھی قرآن میں ان اشخاص کے لئے آئی ہے جو کثرت گناہ کی وجہ سے اس عالم کو پہنچ چکے ہیں کہ ان کے دل نفوذ حق کے قابل نہیں رہے۔( کلا بل ران علی قلوبهم ما کانوا یکسبون ) ۔
ایسا ہرگز نہیں بلکہ جرائم پیشہ ہونے اور مسلسل برے اعمال کرتے رہنے کی وجہ سے ان کے دل زنگ آلود ہوگئے ہیں (مطففین، ۱۴) ۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ انسان ہمیشہ متوجہ رہے اگر خدانخواستہ اس سے کوئی گناہ سر زد ہوجائے تو بہت جلد اسے توبہ کے پانی اور نیک عمل سے دھو ڈالنا چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دل پر زنگ کی شکل اختیار کرجائے اور اس پر مہر لگا دے۔
امام باقر (ع) سے ایک روایت ہے :ما من عبد مومن الا وفی قلبه نکتة بضاء فاذا اذنب ذنبا خرج فی تلک النکتة سودا فان تاب ذهب ذلک السواد فان تماری فی الذنوب زادذلک السواد حتی یغطی البیاض فاذا غطی البیاض لم یرجع صاحبه الی خیر ابدا و هو قول الله عزوجل : کلا بل ران علی قلوبهم ما کانوا یکسبون ۔
کوئی بندہ مومن ایسا نہیں ہے جس کے دل میں ایک وسیع سفید اور چمکدار نقطہ نہ ہو۔ جب اس سے گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو اس نقطہ سفید کے درمیان ایک سیاہ نقطہ پیدا ہوجاتا ہے۔ اب اگر توبہ کرلے تو وہ سیاہی برطرف ہوجاتی ہے اوراگر مسلسل گناہ کرتا رہے تو سیاہی پھیلتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ تمام سفیدی پر محیط ہوجاتی ہے اور جب سفیدی بالکل ختم ہوجائے تو پھر ایسے دل والا کبھی بھی خیر وبرکت کی طرف نہیں پلٹ سکتا اور اس ارشاد الہی کا یہی مفہوم ہے جب فرماتا ہے( کلا بل ران علی قلوبهم ما کانوا یکسبون ) ۔(۱) ۔
____________________
۱۔ اصول کافی ، جلد ۲، باب الذنوب، حدیث ۲۰، ص ۲۰۹۔
۴ ۔ قرآن میں قلب سے مراد کیا ہے :
قرآن مجید میں ادراک حقائق کی نسبت دل کی طرف کیوں دی گئی ہے جب کہ یہ بات واضح ہے کہ دل ادراکات کا مرکز نہیں وہ تو بدن میں گردش خون کا ایک آلہ ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ لفط قلب قرآن میں کئی معانی کے لئے ہے جن میں سے بعض یہ ہیں :
الف : ادراک وعقل ۔ جیسا کہ سورہ ق، آیہ ۳۷ میں ہے :( ان فی ذلک لذکری لمن کان له قلب ) ۔ ان مطالب میں تذکر و یاد دھانی ان لوگوں کے لئے ہے جو عقل و ادراک کی قوت رکھتے ہیں ۔
ب : روح و جان۔ جیسا کہ سورہ احزاب،آیہ ۱۰ میں ہے :( و اذ زاغت الابصار و بلغت القلوب الحناجر ) ۔ جب آنکھیں دھنس گئیں او رمارے دہشت کے روح و جان لبوں تک آپہنچی۔
ج : مرکز عواطف و مہربانی ۔ سورہ انفال، آیہ ۱۲ میں ہے :( سالقی فی قلوب الذین کفرون الرعب ) ۔ بہت جلد کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے۔
ایک اور جگہ سورہ آل عمراں ، آیة ۱۵۹ میں ہے :( فبما رحمة من الله لنت لهم، و لوکنت فظا غلیظ القلب لا نفضوا من حولک ) ۔
یہ رحمت الہی ہے کہ آپ لوگوں کے لئے نرم خو ہیں اور اگر آپ تند خو اور سنگدل ہوتے تو آپ کے گرد و پیش سے منتشر ہوجاتے۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ انسانی وجود میں دو قوی مرکز ہیں جو یہ ہیں :
الف : مرکز عواطف۔ جس سے مراد وہی چلغوزہ نما دل ہے جو سینے کے بائیں حصے میں ہے او رمسائل عواطف (مہربانی و رحم) پہلے پہل اسی مرکز پر اثرا نداز ہوتے ہیں اور پہلی چنگاری دل سے شروع ہوتی ہے۔
ہم وجدانی طور پر جب کسی مصیبت سے دو چار ہوتے ہیں تو اس کا بوجھ اسی دل پر محسوس کرتے ہیں ۔ اسی طرح جب کسی سرور انگیز اور مسرت آراء امر کا سامنا کرتے ہیں تو اسی مرکز میں فرحت و انبساط کا احساس کرتے ہیں (یہ بات غورطلب ہے)۔
یہ صحیح ہے کہ سب ادراکات و عواطف کا اصلی مرکز انسان کی روح رواں ہے لیکن ان کا مظاہرہ اور جسمی عکس العمل مختلف ہوتا رہتا ہے۔ ادراک و فہم کا عکس العمل پہلی دفعہ کا ر خانہ مغز میں ظاہر ہوتا ہے لیکن مسائل عواطف مثلا محبت، عداوت، خوف، اطمینان خوشی او رغمی کا عکس العمل انسان کے دل میں ظاہر ہوتا ہے۔ ان امور کے پیدا ہوتے ہی واضح طور پر ان کا اثر ہم اپنے د ل میں محسوس کرتے ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ اگر قرآن میں مسائل عواطف کو اسی دل پر کی طرف اور مسائل عقلی کو قلب بمعنی عقل یا مغز کی طرف نسبت دی گئی ہے تو توقف بھی تباہی اور نابودی کا سبب ہے۔ اس بناء پر کیا مضائقہ ہے کہ فکری و عاطفی تحریکوں اور فعالیتوں کو نسبت اس کی طرف دی جائے۔
۵ ۔ قلب و بصر صیغہ جمع اور سمع مفرد میں کیوں :
۵ ۔ قلب و بصر صیغہ جمع اور سمع مفرد میں کیوں : زیر مطالعہ آیت میں اور بہت سی آیات قرآنی کی طرح قلب و بصر صورت جمع(قلوب و ابصار) آئے ہیں جب کہ سمع قرآن میں ہر جگہ مفرد کی صورت میں ذکر ہوا ہے تو اس فرق میں کوئی نکتہ ہونا چاہئے۔
بات یہ ہے کہ لفظ سمع قرآن مجید میں ہر جگہ مفرد آیا ہے اور کہیں بھی جمع (اسماع نہیں آیا لیکن قلب و بصر کبھی جمع کی صورت میں جیسا کہ زیر نظر آیت میں اور کبھی بصورت مفرد جیسے سورہ جاثیہ آیہ ۲۲ اور سورہ اعراف آیہ ۴۳ میں آی ہے :( و ختم علی سمعه و قلبه و جعل علی بصره غشاوة ) (جاثیہ، ۲۳) ۔
عالم بزرگوار مرحوم شیخ طوسی تفسیر تبیان میں ایک مشہور ادیب کے حوالے سے رقمطراز ہیں :
ممکن ہے اسمع کے مفرد آنے کی ان دو میں سے ایک وجہ ہو :
۱ ۔ سمع کبھی تو اسم جمع کے عنوان سے استعمال ہوتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسم جمع میں جمع کے معنی ہوتے ہیں لہذا صیغہ جمع لانے کی ضرورت نہیں ۔
۲ ۔ سمع میں یہ گنجائش ہے کہ وہ مصدری معنی رکھتا ہو اور ہم جانتے ہیں کہ مصدر کم یازیادہ ہو دو پر دلالت ہے لہذا جمع لانے کی ضرورت نہیں ۔اس کے علاوہ ایک وجہ ذوق و علم کے اختیار سے بھی بیان کی جاسکتی ہے اور وہ یہ کہ ادراکات قلبی اور مشاہدات چشم ان امور کی نسبت زیادہ ہیں جو سماعت میں آتے ہیں اس اختلاف کی بناء پر قلوب و ابصار جمع کی شکل میں آیا ہے لیکن سمع مفرد کی صورت میں ۔
ماڈرن فزکس کے مطابق امواج صوتی جو قابل سماعت ہیں نسبتا تعداد میں محدود ہیں اور وہ چند ہزار سے زیادہ نہیں جبکہ امواج نور و رنگ جو قابل روئت ہیں کئی ملین سے زیادہ ہیں ( یہ بات غور طلب ہے)۔
آیات ۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶
( وَمِنْ النَّاسِ مَنْ یَقُولُ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالْیَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِینَ ) ( ۸)
( یُخَادِعُونَ اللهَ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَمَا یَخْدَعُونَ إِلاَّ آنفُسَهُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ ) ( ۹)
( فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمْ اللهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ آلِیمٌ بِمَا کَانُوا یَکْذِبُونَ ) ( ۱۰)
( وَإِذَا قِیلَ لَهُمْ لاَتُفْسِدُوا فِی الْآرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ ) ( ۱۱)
( آلاَإِنَّهُمْ هُمْ الْمُفْسِدُونَ وَلَکِنْ لاَیَشْعُرُونَ ) ( ۱۲)
( وَإِذَا قِیلَ لَهُمْ آمِنُوا کَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا آنُؤْمِنُ کَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ آلاَإِنَّهُمْ هُمْ السُّفَهَاءُ وَلَکِنْ لاَیَعْلَمُونَ ) ( ۱۳)
( وَإِذَا لَقُوا الَّذِینَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَی شَیَاطِینِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَکُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ ) ( ۱۴)
( اللهُ یَسْتَهْزِءُ بِهِمْ وَیَمُدُّهُمْ فِی طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُونَ ) ( ۱۵)
( آوْلَئِکَ الَّذِینَ اشْتَرَوْا الضَّلاَلَةَ بِالْهُدَی فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا کَانُوا مُهْتَدِینَ ) ( ۱۶)
ترجمہ
۸ ۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم خدا اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں ۔
۹ ۔ وہ چاہتے ہیں کہ خدا اور مومنین کو دھوکہ دیں مگر وہ اس طرح اپنے سوا کسی کو فریب نہیں دیتے لیکن وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔
۱۰ ۔ ان کے دلوں میں ایک میں ایک طرح کی بیماری ہے اور خدا کی طرف سے اس بیمار کو بڑھا دیا جاتا ہے اور ان کی کذب بیانیوں کی وجہ سے درد ناک عذاب ان کے انتظار میں ہے۔
۱۱ ۔ جب ان سے کہا جائے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ۔
۱۲ ۔ آگاہ رہو یہ سب مفسدین ہیں لیکن اپنے آپ کو مفسدنہیں سمجھتے۔
۱۳ ۔ اور جب ان سے کہا جائے کہ دوسرے لوگوں کی طرح ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں کیاہم بے وقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں ۔جان لو کہ یہ یہی لوگ بیوقوف ہیں لیکن جانتے ہیں ۔
۱۴ ۔ اور جب ایماندار لوگوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لا چکے ہیں لیکن جب اپنے شیطانوں سے تنہائی میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں (ان سے تو) ہم تمسخر کرتے ہیں ۔
۱۵ ۔ خدا وند عالم ان سے استہزا کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی میں رکھے ہوئے ہے تاکہ وہ سرگرداں رہیں ۔
۱۶ ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول لی ہے حالانکہ یہ تجارت ان کے لئے نفع مند نہیں ہے اور نہ ہی وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
تیسرا گروہ ۔ منافقین
زیر نظر آیات منافقین کے سلسلے میں مکمل اور بہت پر مغز تشریح کی حامل ہیں ۔ ان میں ان کی روحانی شخصیات اور اعمال کو بیان کیاگیاہے۔ اس کی کچھ وضاحت پیش کی جاتی ہے۔
تاریخ کے ایک خاص موڑ پر اسلام کو ایک ایسے گروہ کا سامنا کرنا پڑا جو ایمان لانے کے لئے جذبہ و خلوص رکھتے تھے نہ صریح مخالفت کی جرآت کرتے تھے۔ قرآن اس گروہ کو ”منافقین“ کے نام سے یاد کرتا ہے ۔ فارسی میں ہم دو رو یا دو چہرہ کہتے ہیں ۔ یہ لوگ حقیقی مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہو چکے تھے۔ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے لئے بہت بڑا خطرہ شمار ہوتے تھے۔ چونکہ ان کا ظاہر اسلامی تھا لہذا ان کی شناخت مشکل تھی لیکن قرآن ان کی باریک اور زندہ علامت بیان کرتا ہے تاکہ ان کی باطنی کیفیت کو مشخص کردے۔ اس سلسلے میں قرآن ہرزمانے اور قرن کے مسلمانوں کو ایک نمونہ دے رہا ہے۔
پہلے تو نفاق کی تفسیر بیان کی گئی ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدااور قیامت پر ایمان لائے ہیں حالانکہ ان میں ایمان نہیں ہے۔( ومن الناس من یقول آمنا بالله و بالیوم الآخر و ماهم بمومنین ) ۔
وہ اپنے اس عمل کو ایک قسم کی چالاکی او رعمدہ تکنیک سمجھتے ہیں او رچاہتے ہیں کہ اپنے اس عمل سے خدا اور مومنین کو دھوکہ دیں( یخدعون الله والذین آمنوا ) ۔
حالانکہ وہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں( و مایخدعون الا انفسهم و ما یشعرون ) ۔
وہ صحیح راستے اور صراط مستقیم سے ہٹ کر عمر کا ایک حصہ بے راہ و روی میں گذار دیتے ہیں ، اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کو برباد کردیتے ہیں اور ناکامی و بدنامی اور عذاب الہی کے علاوہ انہیں کچھ نہیں ملتا۔
اس کے بعد اگلی آیت میں قرآن اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نفاق در حقیقت ایک قسم کی بیمار ی ہے کیونکہ صحیح و سالم انسان کا صرف ایک چہرہ ہوتا ہے۔ اس کے جسم و روح میں ہم آہنگی ہوتی ہے کیونکہ ظاہر و باطن، جسم وروح ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں ۔ اگر کوئی مومن ہے تو اس کا پورا و جود ایمان کی صدا بلند کرتاہے اور اگر ایمان سے منحرف ہے تب بھی اس کا ظاہر و باطن انحراف کی نشاندہی کرتا ہے ۔یہ جسم و روح میں دوئی ایک درد نو اور اضافی بیماری ہے یہ ایک طرح کا تضاد، ناہم آہنگی اور ایک دوسرے سے دوری ہے جو وجود انسانی پر حکمران ہے۔
قرآن کہتا ہے ان کے دلوں میں ایک خاص بیماری ہے( فی قلوبهم مرض ) ۔
نظام آفرینش میں جوشخص کسی راستے پر چلتا ہے اور اس کے لئے زاد راہ فراہم کئے رکھتا ہے تو وہ یقینا آگے بڑھتا رہتا ہے یا بہ الفاظ دیگر ایک ہی راستے پر چلنے والے انسان کے اعمال و افکار کا ہجوم اس میں زیادہ رنگ بھرتا ہے اور اسے زیادہ راسخ کرتا ہے۔ قرآن مزید کہتا ہے : خدا وند عالم ان کی بیماری میں اضافہ کرتا ہے ( و فزادھم اللہ مرضا)۔
چونکہ منافقین کا اصل سرمایہ جھوٹ ہے لہذا ان کی زندگی میں جو تناقضات رونما ہوتے ہیں وہ ان کی توجیہہ کرتے رہتے ہیں ۔ آیت کے آخر میں بتایا گیا ہے : ان کی ان دروغ گوئیوں کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے( ولهم عذاب الیم بما کانوا یکذبون ) ۔
ا س کے بعد ان کی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن میں سے پہلی اصلاح طلبی کا دعوی کرنا ہے حالانکہ حقیقی فسادی وہی ہیں ”جب ان سے کہا جائے کہ روئے زمین پر فساد نہ کرو تو وہ اپنے تئیں مصلح بتاتے ہیں (و اذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالوا انما نحن مصلحون) اور وہ دعوی کرتے ہیں کہ ہمارا تو زندگی میں اصلاح کے علاوہ کوئی مقصد رہا ہے نہ اب ہے۔
اگلی آیت میں قرآن کہتا ہے : جان لو کہ یہ سب مفسد ہیں اور ان کا پروگرام فساد کے سوا کچھ نہیں ۔ لیکن وہ خود بھی شعور سے تہی دامن ہیں( الا انهم هم المفسدون ولکن لا یشعرون ) ۔
ان کے اصرار نفاق میں پختگی اور اس باعث ننگ و عار کام کی عادت کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ رفتہ رفتہ وہ گمان کرنے لگے ہیں کہ یہی پروگرام تربیت و اصلاح کے لئے مفید ہے جیسے پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے کہ اگر گناہ ایک حد سے بڑھ جائے تو پھر انسان سے حس تشخیص چھن جاتی ہے بلکہ اس کی تشخیص برعکس ہوجاتی ہے اور ناپاکی و آلودگی اس کی طبیعت ثانوی بن جاتی ہے۔
ایسے لوگوں کی دوسری نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو عاقل و ہوشیار او رمومنین کو بیوقوف ،سادہ لوح اورجلد دھوکہ کھانے والے سمجھتے ہیں ۔ جیسے قرآن کہتا ہے کہ جب ان سے کہا جائے کہ ایمان لے آو جس طرح باقی لوگ ایمان لائے ہیں تو وہ کہتے ہیں کیا ہم ان بے وقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں( و اذا قیل لهم آمنوا کما آمن الناس قالوا انو من کما آمن السفهاء ) ۔
اس طرح وہ ان پاک دل ، حق طلب اور حقیقت کے متلاشی افراد کو حماقت و بیوقوفی سے متہم کرتے ہیں جو دعوت پیغمبر اور ان کی تعلیمات میں آثار حقانیت کامشاہدہ کرکے سرتسلیم خم کرچکے ہیں ۔ اپنی شیطنت، دو رخی اور نفاق کو ہوش و عقل اور درایت کی دلیل سمجھتے ہیں گویا ان کی منطق میں عقل نے بے عقلی کی جگہ لے لی ہے اسی لئے قرآن کے جواب میں کہتا ہے : جان لو کہ واقعی بیوقوف یہی لوگ ہیں وہ جانتے نہیں( الا انهم هم السفهاء ولکن لا یعلمون ) ۔
کیا یہ بیوقوفی نہیں کہ انسان اپنی زندگی کے مقصد کا تعین نہ کرسکے اور ہر گروہ میں اس گروہ کا رنگ اختیار کرکے داخل ہو اور یکسانیت و شخصی وحدت کی بجائے دو گانگی یاکئی ایک بہروپ قبول کرکے اپنی استعداد اور قوت کو شیطنت ، سازش اور تخریب کا ری کی راہ میں صرف کرے اور اس کے باوجود اپنے آپ کو عقلمند سمجھے۔
ان کی تیسری نشانی یہ ہے کہ ہر روز کسی نئے رنگ میں نکلتے ہیں او رہر گروہ کے ساتھ ہم صدا ہوتے ہیں جس طرح قرآن کہتا ہے : جب وہ اہل ایمان سے ملاقات کرتے ہین تو کہتے ہیں ہم ایمان قبول کرچکے ہیں اور تمہیں غیر نہیں سمجھتے۔
لیکن جب اپنے شیطان صفت دوستوں کی خلوت گاہ میں جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو آپ کے ساتھ ہیں( وا ذا دخلوا الی شیاطینهم قالوا انا معکم ) ) اور یہ جو ہم مومنین سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں یہ تو تمسخر و استہزاء ہے( انما نحن مستهزون ) ان کے افکار و اعمال پر دل میں تو ہم ہنستے ہیں یہ سب ان سے مذاق ہے ورنہ ہمارے دوست، ہمارے محرم راز اور ہمارا سب کچھ تو آپ لوگ ہیں ۔
اس کے بعد قرآن ایک سخت اور دو ٹوک لب ولہجہ کے ساتھ کہتا ہے : خدا ان سے تمسخر کرتا ہے( الله یستهزی بهم ) اور خدا انہیں ان کے طغیان و سرکش میں رکھے گاتاکہ وہ کاملا سرگرداں رہیں( و یمدهم فی طغیانهم یعمهون ) (۱) ۔
____________________
۱۔ یعمھون مادہ ”عمہ“ سے ہے (بروزن ہمہ) جو تردد یا کسی کام میں متحیر ہونے کے لئے استعمال ہوتا ہے او رکور دلی، تاریکی بصیرت کے معنی میں بھی مستعمل ہے جس کا اثر سرگردانی ہے۔ مفردات راغب، تفسیر منار اور قاموس اللغة کیطرف رجوع کیا جائے۔
مورد بحث آیات میں سے آخری ان کی آخری سر نوشت ہے جو بہت غم انگیز اور تاریک ہے اس میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس تجارت خانہ عالم میں ہدایت کے لئے گمراہی کو خریدلیا ہے۔ (اولئک الذین اشتروا الضلالة بالهدی )۔ اسی وجہ سے ان کی تجارت نفع مند نہیں بلکہ سرمایہ بھی ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں (فما ربحت تجارتهم ) اور کبھی بھی انہوں نے ہدایت کا چہرہ نہیں دیکھا( وما کانوا مهتدین )۔
۱ ۔ نفاق کی پیدائش اور اس کی جڑیں :
جب کسی علاقے میں کوئی انقلاب آتاہے خصوصا اسلام جیسا انقلاب جس کی بنیاد حق وعدالت پر ہے تو مسلما غارت گروں ، ظالموں او رخود سروں کے منافع کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے تو وہ پہلے تمسخر سے پھر مسلح قوت، اقتصادی دباؤ اور مسلسل اجتماعی پرا پیگنڈہ سے کام لیتے ہوئے کوشش کرتے ہیں کہ انقلاب کو درہم و برہم کردیں ۔
جب انقلاب کی کامیابی کا پرچم علاقے کی قوتوں کو سربلند نظر آتا ہے تو مخالفین کا ایک گروہ اپنی تکنیک اور روش ظاہری کو بدل دیتا ہے اور ظاہرا انقلاب کے سامنے جھک جاتا ہے لیکن وہ زیر زمین مخالفت کا پروگرام تشکیل دیتا ہے۔
یہ لوگ جو دومختلف چہروں کی وجہ سے منافق کہلاتے ہیں انقلاب کے خطرناک ترین دشمن ہیں (منافق کا مادہ نفق ہے یہ بروزن شفق ہے جس کے معنی زیر زمین نقب او رسرنگ کے ہیں جس سے چھپنے یابھاگنے کا کام لیا جاتا ہے)۔ ان کا موقف پورے طور پر مشخص نہیں ہوتا لہذا انقلابی انہیں پہچان نہیں پاتے کہ خود سے انہیں دور کردیں وہ لوگ پاک باز اور سچے لوگوں میں گھس جاتے ہین یہاں تک کہ کبھی کبھی اہم ترین پوسٹ پر جا پہنچتے ہیں ۔
جب تک پیغمبر اسلام (ص) نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی اور مسلمانوں کی حکومت تشکیل نہیں پائی تھی۔ ایسا گروہ سرگرم عمل نہیں ہوا لیکن نبی اکرم (ص) جب مدینہ میں آگئے تو حکومت اسلامی کی بنیاد رکھی گئی اور جنگ بدر کی کامیابی کے بعد یہ معاملہ زیادہ واضح ہوگیایعنی رسمی طور پر ایک چھوٹی سی حکومت جوقابل رشد تھی، قائم ہوگئی۔
یہ وہ موقع تھا کہ مدینہ کے گدی نشینوں خصوصایہودیوں کے (جو اس زمانے میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے) بہت سے منافع خطرے میں پڑگئے۔
اس زمانے میں یہودیوں کازیادہ احترام اس وجہ سے تھا کہ وہ اہل کتاب او رنسبتا پڑھے لکھے لوگ تھے اورو ہ اقتصادی طور پر بھی آگے تھے حالانکہ یہی لوگ ظہور پیغمبر (ص) سے پہلے اس قسم کے امور کی خوش خبری دیتے تھے۔ مدینہ میں کچھ اور لوگ بھی تھے جن کے سر میں لوگوں کی سرداری کا سودا سمایا ہوا تھا۔ لیکن رسول خدا کی ہجرتسے ان کے خواب دھرے کے دھرے رہ گئے۔
ظالم سرداروں ، سرکشوں اور ان غارت گروں کے حمایتیوں نے دیکھا کہ عوام تیزی سے نبی اکرم (ص) پر ایمان لا رہے ہیں ۔ ان کے عزیز و اقارب بھی ایک عرصے تک مقابلہ کرتے رہے لیکن آخر کار انہیں بھی اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ ظاہرا مسلمان ہوجائیں ، کیونکہ علم مخالفت بلند کرنے میں جنگی مشکلات اوراقتصادی صدمات کے علاوہ ان کی نابودی کا خطرہ تھا خصوصاعرب کی پوری قوت بھی آپ(ص) کے ساتھ تھی اور ان لوگوں کے قبیلے بھی ان سے جدا ہوچکے تھے۔
اس بناء پر انہوں نے تیسرا راستہ اختیار کیا اور وہیہ کہ ظاہرا مسلمان ہوجائیں اور مخفی طور پر اسلام کو برباد کرنے کا منصوبہ بنائیں ، خلاصہ یہ کہ کسی معاشرے میں نفاق کے ظہور کی ان دو وجوہ میں سے ایک ہوتی ہے :
الف : کسی انقلاب کی کامیابی اور معاشرے پر اس کا تسلط
ب : نفسیاتی کمزوری اور سخت حوادث کے مقابلے میں جرآت و ہمت کا فقدان
۲ ۔ ہر معاشرے میں منافقین کی پہچان ضروری ہے :
۔ ہر معاشرے میں منافقین کی پہچان ضروری ہے : اس میں شک و شبہ نہیں کہ نفاق اور منافق زمانہ پیغمبر(ص) سے مخصوص نہ تھے بلکہ ہر معاشرے میں اس گروہ کا وجود ہوتا ہے البتہ ضروری ہے کہ قرآن کے دئیے ہوئے معیار کی بنیاد پر ان کی پہچان کی جائے تاکہ وہ کوئی نقصان یاخطرہ پیدا نہ کرسکیں ۔ زیر مطالعہ آیات کے علاوہ سورہ منافقین اور روایات اسلامی میں ان کی مختلف نشانیاں بیان ہوئی ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں :
الف : زیادہ شور شرابہ اور بڑے بڑے دعوے۔ باتیں بہت ،عمل کم اور قول و فعل میں تضاد ہونا۔
ب : ہر جگہ کے رنگ کو اپنا لینا اور ہر گروہ کے ساتھ ان کے ذوق کے مطابق گفتگو کرنا۔ مومنین سے ”آمنا“ کہنا اور مخالفین سے ”انامعکم“۔
ج : عوام سے اپنے آپ کو الگ رکھنا ،خفیہ انجمنیں قائم کرنا اور پوشیدہ منصوبے بنانا۔
د : دھوکہ دہی مکرو فریب ، جھوٹ، تملق ، چاپلوسی، پیمان شکنی اور خیانت کی راہ چلنا۔
ھ : اپنے تئیں بڑا سمجھدار گرداننا اور دوسروں کو ناسمجھ، بیوقوف اور نادان قرار دینا۔
خلاصہ یہ کہ دو رخی اور اندرونی تضاد منافقین کی واضح صفت ہے، ان کا انفرادی و اجتماعی چال چلن ایسا ہوتا ہے جس سے انہیں واضح طور پر پہچانا جا سکتا ہے۔
قرآن حکیم کی یہ تعبیر کتنی عمدہ ہے کہ ”ان کے دل بیمار ہیں “ ( فی قلوبھم مرض)۔ کون سی بیماری ظاہر و باطن کے تضاد سے بدتر ہے او رکون سی بیماری اپنے آپ کو بڑا سمجھنے اور سخت حوادث کے مقابلے سے فرار سے بڑھ کرہے۔
جیسے دل کی بیماری جتنی بھی پوشیدہ ہو اسے کاملا مخفی نہیں رکھا جاسکتا بلکہ اس کی علامت انسان کے چہرے اور تمام اعضاء بدن سے آشکار ہوتی ہیں ۔ نفاق کی بیماری بھی اسی طرح ہے جو مختلف مظاہر کے ساتھ قابل شناخت ہے اور اندرونی نفاق کی بیماری کو معلوم کیا جاسکتا ہے۔
تفسیرنمونہ سورہ نساء آیت ۱۴۱ تا ۳۴۱ میں بھی صفات منافقین کے بارے میں بحث کی گئی ہے نیز سورہ توبہ آیت ۴۹ تا ۵۷ کے ذیل میں بھی اس سلسلے میں کافی بحث ہے اور سورہ توبہ آیت ۶۲ تا ۸۵ کے ذیل میں بھی ایسی ابحاث موجود ہیں ۔
۳ ۔ معنی نفاق کی وسعت :
۳ ۔ معنی نفاق کی وسعت : اگر چہ نفاق اپنے خاص مفہوم کے لحاظ سے ان بے ایمان لوگوں کے لئے ہے جو ظاہرا مسلمانوں کی صف میں داخل ہوں لیکن باطنی طور پر کفر کے دلدادہ ہوں لیکن نفاق کا ایک وسیع مفہوم ہے جو ہر قسم کے ظاہر و باطن اور گفتار و کردار کے تضاد پر محیط ہے چاہے یہ چیز مومن افراد میں پائی جائے جنہیں ہم ” دور گہ ہائے نفاق“ (یعنی ۔ ایسے انسان یا حیوان جن کے ماں باپ مختلف نسل سے ہوں ) کہتے ہیں ۔
مثلا حدیث میں ہے :ثلاث من کن فیه کان منافقا و ان صام و صلی و زعم انه مسلم من اذا ائتمن خان و اذا حدث کذب و اذا وعدا خلف ۔
تین صفات ایسی ہیں کہ جس شخص میں پائی جائیں وہ منافق ہے چاہے وہ روزے رکھے، نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے ( اور وہ صفات یہ ہیں ) جب امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے، بات کرتے وقت جھوٹ بولتا ہے اور وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے(۱) ۔
مسلم ہے کہ ایسے اشخاص اس خاص معنی کے لحاظ سے منافق نہیں تاہم نفاق کی جڑیں ان میں پائی جاتی ہیں ، خصوصا ریا کاروں کے بارے میں امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے :الریاء شجرة لا تثمر الا الشرک الخفی و اصلها النفاق ۔
یعنی ریا کاری و دکھاوا ایسا (تلخ) درخت ہے جس کا پھل شرک خفی کے علاوہ کچھ نہیں اوراس کی اصل اور جڑ نفاق ہے( ۲) ۔
یہاں پر ہم آپ کی توجہ امیرالمومنین علی(ع) کے ایک ارشاد کی طرف دلاتے ہیں جو منافقین کے متعلق ہے۔ آپ نے فرمایا :
اے خدا کے بندو ! تمہیں تقوی و پرہیزگاری کی وصیت کرتا ہوں اور منافقین سے ڈراتا ہوں کیونکہ وہ خود گمراہ ہیں اور دوسروں گو گمراہ کرتے ہیں ، خود خطا کار ہیں اور دوسروں کو خطا ؤں میں ڈالتے ہیں ، مختلف رنگ اختیار کرتے ہیں ، مختلف چہروں اور زبانوں سے خود نمائی کرتے ہیں ، ہر طریقے سے تمہیں پھانسنے اور برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہر کمین گاہ میں تمہارے شکار کے لئے بیٹھے رہتے ہیں ۔ ان کا ظاہر اچھا اور باطن خراب ہے۔ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے خفیہ چال چلتے ہیں ۔ ان کی گفتگو ظاہرا تو شفا بخش ہے لیکن ان کا کردا ایسی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں ۔ لوگوں کی خوش حالی اور آسائش پر حسد کرتے ہیں اور اگر کسی پر مصیبت آن پڑے تو خوش ہوتے ہیں ۔ امید رکھنے والوں کو مایوس کردیتے ہیں ۔ ہر راستے میں ان کا کوئی نہ کوئی مقتول ہے۔ ہردل میں ان کی راہ ہے اور ہر مصیبت پر ٹسوے بہاتے ہیں ۔ مدح و ثنا ایک دوسرے کو بطور قرض دیتے ہیں اور جزا و عوض کے منتظر رہتے ہیں اگر کوئی چیز لینی ہو تو اصرار کرتے ہیں اور اگر کسی کو ملامت کریں تو اس کی پردہ دری کرتے ہیں( ۳) ۔ ۔
____________________
۱۔ سفینة البحار، جلد ۲ ص ۶۰۵۔
۲۔ سفینة البحار جلد۱ مادہ رئی۔
۳۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۴
۴ ۔ منافقین کی حوصلہ شکنیاں :
۔ منافقین کی حوصلہ شکنیاں : نہ صرف اسلام بلکہ ہر انقلابی اور ارتقاء پسند آئین و دین کے لئے منافقین خطرناک ترین گروہ ہے۔ وہ مسلمانوں کی صفوں میں گھس جاتے ہین اور حوصلہ شکنی کےلئے ہر موقع غنیمت سمجھتے ہیں ۔ کبھی سچے مومنین کا اس پر بھی تمسخر اڑاتے ہیں کہ انہوں نے اپنا مختصر سرمایہ راہ خدا میں خرچ کیا ہے جیسے قرآں کہتے ہے :( الذین یلمزون المطوعین من الومنین فی الصدقات والذین لا یجدون الا جهدهم فیسخرون منهم سخر الله منهم و لهم عذاب الیم ) ۔
وہ مخلصین مومنین کا تمسخر اڑاتے ہیں کہ انہوں نے (اپنے مختصر سرمایہ کو بے ریا راہ خدا میں ) خرچ کیا ۔ خدا ان سے استہزاء کرتاہے اور درد ناک عذاب ان کے انتظار میں ہے (توبہ ۷۹) ۔
کبھی وہ اپنی خفیہ میٹنگوں میں فیصلہ کرتے کہ رسول خدا (ص) کے اصحاب سے مالی امداد کلی طور پر منقطع کردیں اور آپ سے الگ ہوجائیں جیسے سورہ منافقون میں ہے :( هم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول الله حتی ینفضوا والله خزائن السموات والارض و لکن المنافقین لا یفقهون ) ۔
وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھ جو لوگ ہیں ان سے مالی امداد منقطع کر لو تاکہ وہ آپ کے گردو پیش سے منتشر ہوجائیں ۔ جان لو کہ آسمان و زمین کے خزانے خدا کے لئے ہیں لیکن منافق نہیں جانتے (منافقون ۷) ۔
کبھی یہ فیصلہ کرتے تھے کہ جنگ سے مدینہ واپس پہنچنے پر متحد ہو کر مناسب موقع پر مومنین کو مدینہ سے نکال دیں گے اور کہتے تھے :
( لئن رجعنا الی المدینة لیخرجن الاعز منها الاذل ) ۔
اگر ہم مدینہ کی طرف پلٹ گئے تو عزت والے ذلیلوں کو باہر نکال دیں گے۔(منافقون ۸) ۔
کبھی مختلف بہانے بنا کر (مثلا فصل کے محصولات کی جمع آوری کابہانہ) جہاد کے پروگرام میں شریک نہ ہوتے تھے اور سخت مشکلات کے وقت نبی اکرم (ص) کو تنہا چھوڑ دیتے تھے اور ساتھ ساتھ انہیں یہ بھی ڈر رہتا تھا کہ کہیں ان کا راز فاش نہ ہوجائے مبادا اس طرح انہیں رسوائی کا سامناکرنا پڑے۔
ان کی معاندانہ حوصلہ شکنیوں کی وجہ سے قرآن مجید نے ان پر سخت وار کئے ہیں اور قرآن مجید کی ایک سورت (منافقون) ان کے طور طریقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، توبہ،حشر اوربعض دوسری سورتوں میں بھی انہیں ملامت کی گئی ہے اور اسی سورہ بقرہ کی تیرہ آیات انہی کی صفات اور انجام بد سے متعلق ہیں ۔
۵ ۔ وجدان کو دھوکا دینا :
۵ ۔ وجدان کو دھوکا دینا : مسلمانوں کے لئے سب سے بڑی مشکل منافقین سے رابطے کے سلسلے میں تھی کیونکہ ایک طرف تو وہ مامور تھے کہ جو شخص اظہار اسلام کرے کشادہ روئی سے استقبال کیا جائے اور ان کے عقائد کے سلسلے میں جستجو اور تفتیش نہ کی جائے اور دوسری طرف منافقین کے منصوبوں کی نگرانی کا کام تھا۔ منافق اپنے تئیں جب حق کا ساتھی اور ایک فرد مسلمان کی حیثیت سے متعارف کرواتا تو ا س کی بات قبول کرنا پڑتی جب کہ باطنی طور پر وہ اسلام کے لئے سد راہ ہوتا اور اس کے خلاف سوگند کھائے ہوئے دشمنوں میں سے ہوتا۔ یہ گروہ اس راہ کو اپنا کر اس زعم میں تھا کہ خدا اور مومنین کو ہمیشہ دھوکہ دے سکے گا۔ حالانکہ یہ لوگ لا شعوری طور پر اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے تھے۔
یخادعون اللہ والذین آمنوا کی تعبیر دقیق معنی دیتی ہے (مخدوعہ کے معنی ہیں دونوں طرف سے دھوکہ دینا)یہ لوک ایک طرف تو کور باطنی کی وجہ سے اعتقاد رکھتے تھے کہ نبی اکرم(ص) دھوکہ باز ہیں اور انہوں نے حکومت کے لئے دین و نبوت کا ڈھونگ رچا رکھا ہے اور سادہ لوح لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے ہیں لہذا ان کا مقابلے میں دھوکا ہی کرنا چاہئے۔ اس بناء پر ان منافقین کا کام ایک طرف تو دھوکا وفریب تھا دوسری طرف نبی اکرم(ص) کے بارے میں اس قسم کا غلط اعتقاد رکھتے تھے لیکن جملہ ”( و ما یخدعون الا انفسهم و مایشعرون ) “ ان کے دونوں ارادوں کو خاک میں ملاتا ہوا نظر آتا ہے یہ جملہ ایک طرف تویہ ثابت کرتا ہے کہ دھوکہ و فریب صرف انہی کی طرف سے ہے ۔ دوسری طرف کہتا ہے کہ اس فریب کی باز گشت بھی انہی کی طرف ہے لیکن وہ سمجھتے نہیں ان کا اصلی سرمایہ جو حصول سعادت کے لئے خدا نے ان کے وجود میں پیداکیا ہے وہ اسے دھوکہ و فریب کی راہ میں برباد کر رہے ہیں اور ہر خیر و نیکی سے تہی دامن اور گناہوں کا بھاری بوجھ اٹھائے دنیا سے جارہے ہیں ۔
کوئی شخص بھی خدا کو دھوکہ نہیں دے سکتا کیونکہ وہ ظاہر وباطن سے باخبر ہے اس بناء پر یخادعون اللہ سے تعبیر کرنا اس لحاظ سے ہے کہ رسول خدا (ص) اور مومنین کو دھوکا دینا خدا کو دھوکہ دینے کی طرح ہے (دوسرے مواقع پر بھی قرآن میں ہے کہ خدا وند عالم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مومنین کی تعظیم کے لئے خود ان کی صف میں بیان کرتا ہے) یاپھر یہ لوگ صفات خدا کو نہ پہچاننے کی وجہ سے اپنی کوتاہ و ناقص فکر سے واقعا یہ سمجھتے تھے کہ ہوسکتا ہے کوئی چیز خدا سے پوشیدہ ہو ایسی نظیر قرآن مجید کی دیگر آیات میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
بہرحال زیر نظر آیت وجدان کو دھوکا دینے کی طرف واضح اشارہ ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گمراہ اور گناہ سے آلودہ انسان برے اور غلط اعمال کے مقابلے میں وجدان کی سزا و سرزنش سے بچنے کے لئے اسے دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنے تئیں مطمئن کر لیتا ہے کہ نہ صرف اس کا عمل برا اور قبیح نہیں بلکہ باعث اصلاح ہے اور فساد کے مقابلے میں( انما نحن مصلحون ) یہ اس لئے کہ وجدان کو دھوکہ دے کرا طمینان سے غلط کام کو جاری رکھ سکے۔
امریکہ کےایک صدر کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب اس سے سوال کیا گیا کہ اس نے جاپان کے دو بڑے شہروں ( ہیرو شیما اور ناگا ساکی) کو ایٹم بم سے تباہ کرنے کا حکم کیوں دیا تھا جب کہ اس سے دو لاکھ افراد بچے، بوڑھے اور جوان ہلاک یا ناقص الاعضاء ہوگئے تو اس نے جواب دیا تھا کہ اگر ہم یہ کام نہ کرتے تو جنگ طویل ہوجاتی اور پھر زیادہ افراد کو قتل کرنا پڑتا۔
گویا ہمارے زمانے کے منافق بھی اپنے وجدان یا لوگوں کو دھوکادینے کے لئے ایسی باتیں اور ایسے بہت سے کام کرتے ہیں حالانکہ جنگ جاری رکھنے یا شہر کو ایٹم بم سے اڑانے کے علاوہ تیسری واضح راہ بھی تھی وہ یہ کہ توسیع پسندی سے ہاتھ اٹھالیں اور قوموں کو ان کے ملکوں کے سرمائے کے ساتھ آزادانہ رہنے دیں ۔
نفاق حقیقت میں وجدان کو فریب دینے کا وسیلہ ہے کس قدر دکھ کی بات ہے کہ انسان اس اندرونی واعظ ، ہمیشہ بیدار و پہریدار اور خدا کے باطنی نمائندے کا گلا گھونٹ دے یا اس کے چہرے پر اس طرح پردہ ڈال دے کہ اس کی آواز کان تک نہ پہنچے
۶ ۔ نقصان زدہ تجارت :
۔ نقصان زدہ تجارت : اس دنیا میں انسان کی کار گزاریوں کو قرآن مجید میں بار ہا ایک قسم کی تجارت سے تشبیہ دی گئی ہے اور حقیقت میں ہم سب اس جہان میں تاجر ہیں اور خدا نے ہمیں عقل،فطرت، احساسات، مختلف جسمانی قوی، نعمات دنیا طبیعت اور سب سے آخر میں انبیاء کی رہبری کا عظیم سرمایہ عطا فرما کر تجارت کی منڈی میں بھیجا ہے۔ ایک گروہ نفع اٹھاتا ہے اور کامیاب و سعادت مند ہوجاتا ہے جب کہ دوسرا گروہ نہ صرف یہ کہ نفع حاصل نہیں کرتا بلکہ اصل سرمایہ بھی ہاتھ سے دے بیٹھتا ہے اور مکمل دیوالیہ ہوجاتا ہے ۔ پہلے گروہ کا کامل نمونہ مجاہدین راہ خدا ہیں جیسا کہ قرآن ان کے بارے میں کہت ہے :
( یا ایها الذین آمنوا هل ادلکم علی تجارة تنجیکم من عذاب الیم، تومنون بالله و رسوله و تجاهدون فی سبیل الله باموالکم و انفسکم ) ۔
اے ایمان والو ! کیا تمہیں ایسی تجارت کی راہنمائی نہ کروں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے اور سعادت ابدی کا ذریعہ ہو) خدا اور اس کے سول پر ایمان لے آؤ اور اس کی راہ میں مال وجان سے جہاد کرو۔ (صف ، ۱۰،۱۱) ۔
دوسرے گروہ کا واضح نمونہ منافقین ہیں ۔ منافقین جو مخرب اور مفسد کام اصلاح و عقل کے لباس میں انجام دیتے تھے۔
قرآن گذشتہ آیات میں ان کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے ” وہ ایسے لوگ جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو خرید لیا ہے اور یہ تجارت ان کے لئے نفع بخش ہے نہ ہی باعث ہدایت۔ وہ لوگ ایسی پوزیشن میں تھے کہ بہترین راہ انتخاب کرتے۔ وہ وحی کے خوشگوار او رمیٹھے چشمے کے کنارے موجود تھے اور ایسے ماحول میں رہتے تھے جو صدق و صفا اورایمان سے لبریز تھا۔
بجائے اس کے کہ وہ ا س خاص موقع سے بڑا فائدہ اٹھاتے جو طویل صدیوں میں ایک چھوٹے سے گروہ کو نصیب ہوا، انہوں نے ایسی ہدایت کھو کر گمراہی خرید لی جو ان کی فطرت میں تھی اور وہ ہدایت جو وحی کے ماحول میں موجزن تھی۔ ان تمام سہولتوں کو وہ اس گمان میں ہاتھ سے دے بیٹھے کہ اس سے وہ مسلمانوں کوشکست دے سکیں گے اور خود ان کے گندے دماغوں میں پرورش پانے والے برے خواب شرمندہ تعبیر ہوسکیں گے جبکہ اس معاملے اور غلط انتخاب میں اہیں دو بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا :
الف : ایک یہ کہ ان کا مادی اور معنوی دونوں قسم کا سرمایہ تباہ ہوگیا اور اس سے انہیں کوئی فائدہ بھی نہ پہنچا۔
ب : دوسرا یہ کہ وہ اپنے غلط مطمع نظر کو پا بھی نہ سکے کیونکہ اسلام تیزی کے ساتھ آگے بڑھ گیا اور صفحہ ہستی پر محیط ہوگیا اور یہ منافقین بھی رسوا ہوگئے۔
ـآیات ۱۷،۱۸،۱۹،۲۰
( مَثَلُهُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا آضَائَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَکَهُمْ فِی ظُلُمَاتٍ لاَیُبْصِرُونَ ) ( ۱۷)
( صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لاَیَرْجِعُونَ ) ( ۱۸)
( آوْ کَصَیِّبٍ مِنْ السَّمَاءِ فِیهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ یَجْعَلُونَ آصَابِعَهُمْ فِی آذَانِهِمْ مِنْ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللهُ مُحِیطٌ بِالْکَافِرِینَ ) ( ۱۹)
( یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ آبْصَارَهُمْ کُلَّمَا آضَاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِیهِ وَإِذَا آظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوا وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَآبْصَارِهِمْ إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر ) ( ۲۰) ۔
ترجمہ :
۱۷ ۔ وہ (منافقین) اس شخص کی مثل ہیں جس نے آگ روشن کی ہو (تاکہ تاریک بیابان میں اسے راستہ مل جائے) مگر جب آگ سے سب اطراف روشن ہوگئیں تو خدا وند عالم نے (طوفان بھیج کر) اسے خاموش کردیا اورایسی وحشتناک تاریکی مسلط کی جس میں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔
۱۸ ۔ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں لہذا خطا کاری کے راستے سے پلٹیں گے نہیں ۔
۱۹ ۔ یا پھر ان کی مثال ایسی ہے کہ بارش شب تاریک میں گھن گرچ، چمک اور بجلیوں کے ساتھ (رہگذروں کے سروں پر ) برس رہی ہور اور وہ موت کے خوف سے اپنے کانون میں انگلیاں ٹھونس لیں تاکہ بجلی کی آواز سے بچیں اور یہ سب کافر خدا کے احاطہ قدرت میں ہیں ۔
۲۰ ۔ قریب ہے کہ بجلی کی خیرہ کرنے والی روشنی آنکھوں کو چندھیا دے۔ جب بھی بجلی چمکتی ہے اور(صفحہ بیابان کو) ان کے لئے روشن کردیتی ہے تو وہ (چند گام) چل پڑتے ہیں اور جب وہ خاموش ہوجاتی ہے تورک جاتے ہیں اور اگر خدا چاہے تو ان کے کان اور آنکھیں تلف کردے (کیونکہ) یقینا ہر چیز خدا کے قبضہ اقتدار میں ہے۔
منافقین کے حالات واضح کرنے کے لئے دو مثالیں :
منافقین کی صفات و خصوصیات بیان کرنے کے بعد قرآن مجید کی کیفیت کی تصویر کشی کے لئے زیر نظر آیات میں دو واضح مثالیں اور تشبہیں بیان کرتا ہے :
۱ ۔ پہلی مثال میں ہے کہ وہ اس شخص کی مانند ہیں جس نے (سخت تاریک رات میں ) آگ روشن کی ہو (تاکہ اس کی روشنی میں سیدھے اور ٹیڑھے راستے کی پہچان کرسکے اور منزل مقصود تک پہنچ جائے)( مثلهم کمثل الذین استوقد نارا ) مگر جب آگ کے شعلوں نے گردوں پیش کو روشن کردیا تو خدا وند عالم نے اسے بجھا دیا اور انہیں تاریکیوں میں چھوڑ دیا اس عالم میں کہ وہ کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتے( فَلَمَّا آضَائَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَکَهُمْ فِی ظُلُمَاتٍ لاَیُبْصِرُونَ ) وہ سمجھتے تھے کہ اس تھوڑی سی آگ اور اس کی روشنی سے تاریکیوں کے ساتھ بر سرپیکار رہ سکیں گے مگر اچانک آندھی اٹھی یا سخت بارش برسی یا ایندھن ختم ہو گیا اور آگ سردی اور خاموشی میں بدل گئی یوں وہ دوبارہ وحشت ناک تاریکی میں سر گرداں ہوگئے اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں اور چونکہ ادراک حقائق کا کوئی وسیلہ ان کے پاس نہیں رہا لہذا وہ اپنے راستے سے پلٹیں گے نہیں( صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لاَیَرْجِعُونَ ) یہ کس قدر باریک اور واضح مثال ہے۔ انسانی زندگی میں ٹیڑھے راستے تو بہت ہیں لیکن خط مستقیم جو منزل مقصود تک پہنچتا ہے وہ ایک سے زیادہ نہیں ۔ لیکن ٹیڑھے خط تو بہت ہیں علاوہ از ایں اس راستے میں تاریکیوں کے پردے، وحشتناک طوفان اور قسم قسم کے حوادث ہیں لہذا ایک ایسے روشن چراغ کی ضرورت ہے جو ان حوادث سے محفوظ رہ سکے وہ تاریکی کے پردوں کو چاک کرسکے اور طوفانوں کا مقابلہ کرسکے اور ایسا چراغ سوائے چراغ عقل و ایمان اور خورشید وحی کے کوئی اور نہیں ۔
مختصر شعلہ جو انسان وقتی طور پر روشن کرتا ہے وہ اس طویل مسافت میں جس میں طوفان ہی طوفان ہیں کیا کردار ادا کرسکتا ہے۔
منافقین نفاق کی راہ انتخاب کرکے یہ سمجھتے تھے کہ وہ ہر حال میں اپنی حیثیت و وجاہت کی حفاظت کرسکیں گے اور ہر احتمالی خطرے سے محفوظ رہ سکیں گے اور دونوں طرف سے منافع سمیٹ لیں گے اور جو گروہ بھی غالب ہوگا ہمیں اپنے میں سے سمجھے گا اگر مومن کامیاب ہوئے تو مومنین کی صف میں او راگر کافر غالب رہے تو ان کے ساتھ۔
وہ اپنے آپ کو چالاک اور ہوشیار سمجھتے تھے اور اس کمزور و ناپائیدار شعلے کی روشنی میں اپنی رہ حیات پر ہمیشہ کے لئے چلنا چاہتے تھے تاکہ خوشحالی تک جاپہنچیں لیکن قرآن نے انہیں بے نقاب کردیا اور ان کے جھوٹ کو آشکار کردیا۔ جیسا کہ قرآن میں ہے :
( اذا جائک المنافقون قالوا نشهد انک لرسول الله و الله یعلم انک لرسوله و الله یشهد ان المنافقین لکاذبون ) ۔
جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں ۔ خدا جانتا ہے کہ آپ اسی کے بھیجے ہوئے ہیں مگر خدا جانتا ہے کہ منافق اپنے اظہارات میں جھوٹے ہیں (منافقون ۱) ۔
یہاں تک کہ قرآن کفار کو بھی واضح کرتا ہے کہ یہ لوگ تمہارے ساتھ بھی نہیں ہیں وہ جو بھی وعدے کرتے ہیں اس پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔
( آلَمْ تَری إِلَی الَّذِینَ نَافَقُوا یَقُولُونَ لِإِخْوَانِهِمْ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ آهْلِ الْکِتَابِ لَئِنْ آخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ وَلاَنُطِیعُ فِیکُمْ آحَدًا آبَدًا وَإِنْ قُوتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّکُمْ وَاللهُ یَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَکَاذِبُونَ ) ( ۱۱)( لَئِنْ آخْرِجُوا لاَیَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِنْ قُوتِلُوا لاَیَنْصُرُونَهُمْ وَلَئِنْ نَصَرُوهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْآدْبَارَ ثُمَّ لاَیُنْصَرُونَ ) ۔
منافق اہل کتاب میں سے اپنے کافر بھائیوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تمہیں مدینہ سے باہر نکالا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے ۔ لیکن اور تمہارے بارے میں کسی بات پر کان نہیں دھریں گے او راگر تمہارے ساتھ جنگ ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے لیکن خدا گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹ بولتے ہیں اگر انہیں باہر کیا گیا تو یہ ان کے ساتھ باہر نہیں جائیں گے۔ اور اگر ان (کافروں ) سے جنگ ہوئی تو یہ ان کی مدد نہیں کریں گے یہ تو (محاذ جنگ سے) بھاگ جائیں گے اور ثابت قدم نہیں رہیں گے (حشر ۱۱ ، ۱۲) ۔
قابل غور بات یہ ہے کہ قرآن نے جملہ ” استوقد نارا“ سے استفادہ کیا ہے یعنی وہ نور تک پہنچنے کے لئے نار کا سہارا لیں گے و ہ آگ کہ جس میں دھواں ، خاکستراور سوزش ہے جب کہ مومنین خالص نور اور ایمان کے روشن و پرفروغ چراغ سے بہرہ ور ہیں ۔
منافقین اگر چہ نور ایمان کا اظہار کرتے ہیں لیکن ان کا باطن نار سے پر ہے او راگر نور ہو بھی تو کمزور او رٹھوڑی مدت کا ہے یہ مختصر نور وجدان و فطرت توحیدی کی روشنی کی طرف اشارہ ہے یا ان کے ابتدائی ایمان کی طرف جو بعد میں کورانہ تقلید ، غلط تعصب، ڈھٹائی اور عدوات کے نتیجے میں تاریک پردوں کی اوٹ میں چھپ گیا قرآن کی نظروں میں یہ سیاہ پردے ظلمت نہیں بلکہ ظلمات ہیں ۔
یہی چیزیں ہیں جو بالآخر ان سے دیکھنے والی آنکھ، سننے والا کان اور بولنے والی زبان چھین لیتی ہیں کیونکہ (جیسا پہلے بھی کہا جا چکا ہے) غلط راستے پر چلتے رہنا رفتہ رفتہ قوت تشخیص اور ادراک انسانی کو کمزور کردیتا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات اسے حقائق الٹ نظر آتے ہیں اس کی نگاہ میں نیک بد ہوجاتا ہے۔ فرشتہ اسے جن نظر آنے لگتا ہے بہرحال یہ تشبیہ در حقیقت نفاق کے سلسلے میں ایک واقعیت کو واضح کرتی ہے اور وہ یہ کہ نفاق و دو رخی طویل مدت کے لئے موثر نہیں ہوسکتی۔ منافق تھوڑی مدت تک اسلام کی خوبیوں اور مومنین کی معنویت و حفاظت سے سرفراز رہیں اور کفار سے پوشیدہ دوستی بھی بہرہ مند ہوں لیکن یہ ایک شعلہ ضعیف کی طرح ہے جو بیابان تاریک اور ظلمانی طوفانوں کی رد میں ہے۔ زیادہ دیر نہیں لگتی کہ ان کا حقیقی چہرہ آشکار ہوجاتا ہے اور کسب مقام و محبوبیت کی بجائے لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں اور انہیں دور پھینک دیتے ہیں اور ان کی حالت اس شخص کی سی ہوتی ہے جو سرگرداں ہو جس نے بیابان میں راستہ کھودیا ہو اور چراغ بھی اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا ہو۔
یہ نکتبہ بھی قابل توجہ ہے کہ آیہ( هو الذی جعل الشمس ضیاء والقمر نورا ) ( وہ خدا ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کو نور بخشا ہے) کی تفسیر میں امام باقر(ع) سے اس طرح منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
اضاء ت الارض بنور محمد کما تضیئی الشمس فضرب الله مثل محمد الشمس و مثل الوصی القمر ۔
خدا وند عالم نے روئے زمین کو محمد (ص) کے وجود سے روشنی بخشی جس طرح آفتار سے ۔ لہذا محمد(ص) کو آفتاب سے اور ان کے وصی (علی) کو چاند سے تشبیہ دی(۱) ۔
یعنی نور ایمان وحی عالمگیر ہے جب کہ نفاق کا کوئی پرتو ہو بھی تو وہ اپنے گرد کے ایک چھوٹے سے دائرے میں اور بہت تھوڑی مدت کے لئے روشنی دیتا ہے (ماحولہ)۔
۲ ۔ دوسری مثال میں قرآن ان کی زندگی کو ایک دوسری شکل میں پیش کرتا ہے :
تاریک و سیاہ اور پرخوف و خطر رات ہے جس میں شدید بارش ہورہی ہے۔ افق کے کناروں سے پرنور بجلی چمکتی ہے بادلوں کی گرج اور بجلی کی کڑک اتنی وحشت ناک او رمہیب ہے کہ کانوں کے پردے چاک کئے دیتی ہے۔ وہ انسان جس کی کوئی پناہ گاہ نہیں وسیع و تاریک او رخطرناک دشت و بیابان کے وسط میں حیران و سرگرداں کھڑا ہے موسلا دھار بارش نے اس کی پشت کو تر کردیا ہے نہ کوئی جائے امان ہے اور نہ تاریکی چھٹتی ہے کہ قدم اٹھائے۔
مختصر سی عبارت میں قرآن یسے مسافر کی نقشہ کشی کرتا ہے اور کہتا ہے کہ منافقین کی حالت یا ایسی ہے جیسے تاریک رات میں سخت باش گرج چمک اور بجلیوں کے ساتھ (رہگذروں کے سروں پر) برس رہی ہو( او کصیب من السماء فیه ظلمات و رعد و برق ) اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ وہ اپنے کانوں میں انگلیاں رکھ لیتے ہیں تاکہ وحشت ناک بجلیوں کی آواز نہ سنیں (یجعلون اصابعھم فی آذانھم من الصواعق حذر الموت)۔
اور آخر میں فرماتا ہے : خدا وند عالم کی قدرت کافروں پر محیط ہے وہ جہاں جائیں اس کے قبضہ قدرت میں ہیں( والله محیط بالکافرین ) ۔
پے در پے بجلیاں صفحہ آسمان پر کوندتی ہیں ۔ بجلیوں کی روشنی آنکھوں کو یوں خیرہ کئے دیتی ہے کہ قریب ہے کہ آنکھوں کو اچک لے( یکاد البرق یخطف ابصارهم ) ۔
جب بجلی چمکتی ہے اور صفحہ بیابان روشن ہوجاتا ہے تو مسافر چند قدم چل لیتے ہیں لیکن فورا تاریکی ان پر مسلط ہوجاتی اور وہ اپنی جگہ پر رک جاتے ہیں( کُلَّمَا آضَاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِیهِ وَإِذَا آظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوا ) ۔
وہ ہر لحظہ خطرہ محسوس کرتے ہیں کیونکہ اس وسط بیابان میں کوئی پہاڑ دکھائی دیتا ہے نہ درخت نظر پڑتا ہے جو رعد اور برق و صاعقہ کے خطرے کو روک سکے۔ ہر وقت یہ خطرہ ہے کہ بجلی ان پر گرے اور وہ فورا خاکستر ہو جائیں ۔
ہم جانتے ہیں کہ صواعق (آسمانی بجلیاں )زمین سے ابھر ی ہوئی چیز پر جملہ کرتی ہیں لیکن وسط بیابان میں سوائے ان اشخاص کے کوئی ابھری ہوئی چیز بھی نہیں کہ بجلی اس طرف متوجہ ہو لہذا خطرہ یقینی اور حتمی ہے یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ کوہستانی علاقوں کی نسبت حجاز کے بیابانوں میں آسمانی بجلی کے انسانوں پر گرنے کا خطرہ نسبتا کئی گنا زیادہ ہے اس مثال کی اہمیت اس علاقے کے لوگوں کے لئے زیادہ روشن ہوجاتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ وہ ونہیں جانتے کہ کیا کریں مضطرب و پریشان اور حیران و سرگرداں اپنی جگہ کھرے ہیں ۔ بیابان و ریگستان میں نہ راہ سمجھائی دیتی ہے نہ کوئی راہنما نظر آتاہے۔ جس کی راہنمائی میں قدم آگے بڑھا سکیں ۔ یہ خطرہ بھی کہ بادلوں کی گرج ان کے کانوں کے پردے پھاڑ دے او رآنکھوں کو خیرہ کردینے والی بجلی بصارت چھین لے جائے او رہاں خدا چاہے تو ان کے کان اور آنکھ کو ختم کردے کیونکہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے( وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَآبْصَارِهِمْ إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر ) ۔
منافقین بعینہ ان مسافروں کی طرح ہیں ۔ مومنین کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے اور وہ سخت سیلاب او رموسلا دھار بارش کی طرح ہر طرف سے آگے بڑھ رہے ہیں ان کے درمیان منافق موجود ہیں افسوس کہ انہوں نے قابل اطمینان پناہ گاہ ، ایمان، سے پناہ نہیں لی تاکہ عذاب الہی کی فنا کردینے والی بجلیوں سے نجات پاسکیں ۔
مسلمانوں کا مسلح جہاد دشمنوں کے مقابلے میں رعد وصاعقہ کی سخت آواز کی طرح ان کی سر پر آپڑتا ہے کبھی کبھی راہ حق پیدا کرنے کے مواقع انہیں نصیب ہوتے ہیں کہ کچھ افکار بیدار ہوں مگر افسوس کہ یہ بیداری آسمانی بجلی کی طرح دیر پانہ رہتی چند ہی قدم چلتے تو بجھ جاتی اور غفلت کی تاریکی پھر توقف و سر گردانی کی جگہ لے لیتی۔
اسلام کی تیز پیش رفت آسمانی بجلی کی طرح ان کی آنکھوں کو خیرہ کر چکی تھی اور آیات قرآنی ان کے پوشیدرازوں سے پردہ اٹھا دیتی تھیں اور بجلیوں کی طرح انہیں اپنا ہدف بناتی تھیں ۔ انہیں ہر وقت احتمال ہوتا کہ کہیں کوئی آیت نازل ہو کر ان کے کسی اور راز سے پردہ نہ اٹھا دے اور وہ زیادہ سوا نہ ہوجائیں ۔
جیسا کہ قرآن سورہ توبہ، آیت ۶۴ میں فرماتا ہے :
( یحذر المنافقون ان تنزل علیهم سورة تنبئهم بما فی قلوبهم قل استهزء و ا ان الله مخرج ما تحذرون ) ۔
منافق اس سے ڈرتے ہیں کہ مبادہ کوئی سورہ ان کے برخلاف نازل ہو او رجو کچھ وہ اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں وہ فاش ہوجائے۔ کہیے جتنا چاہتے ہو استہزاء کرلو جس سے ڈرتے ہو خدا اسے ظاہر کر کے رہے گا۔
منافق اس سے بھی ترساں تھے کہ ان کے اسرار ظاہر ہوجانے کے بعد کہیں خدا کی طرف سے ان اندرونی خائن دشمنوں کے خلاف فرمان جنگ جاری نہ ہو جائے اور مسلمان جو اس وقت قوی اور طاقت ور ہو چکے ہیں ان پر حملہ نہ کردیں ۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے :
( لَئِنْ لَمْ یَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِینَ فِی قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِی الْمَدِینَةِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِهِمْ ثُمَّ لاَیُجَاوِرُونَکَ فِیهَا إِلاَّ قَلِیلًا ) ( مَلْعُونِینَ آیْنَمَا ثُقِفُوا آخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِیلًا )
اگر منافقین اور وہ جن کے دل بیمار ہیں ہیں اور جھوٹی خبریں اڑا کر خوف، دہشت اور مایوسی پیدا کرتے ہیں اپنے برے کردار سے باز نہ آئے تو ہم ضرور ان کے خلاف تمہیں قیام کا حکم دیں گے تاکہ وہ تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں اور وہ جہاں مل جائیں انہیں قابل نفرت افراد کی طرح گرفتار کر کے قتل کردیا جائے۔(احزاب ۶۰ ، ۶۱) ۔
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ منافق مدینہ میں انتہائی وحشت و سرگردانی میں مبتلا تھے۔ سخت لہجہ اور دو ٹوک آیات پے در پے رعد و برق آسمانی کی طرح ان کے خلاف نازل ہوتی تھیں اور انہیں ہر وقت احتمال رہتا تھا کہ ان کی سرکوبی یا کم از کم انہیں مدینہ سے نکل جانے کا حکم صادر نہ ہوجائے۔ اگر چہ ان آیات کی شان نزول زمانہ پیغمبر کے منافقین سے متعلق ہے لیکن چونکہ منافقین ہر عہد کے سچے اور حقیقی انقلابوں کے مقابلے میں موجود رہتے ہیں اس لئے ہر عصر و قرن کے منافقین کے لئے یہ آیات وسعت رکھتی ہیں ۔ ہم اپنی آنکھوں سے ایک ایک کرے یہ تمام نشانیاں سر مو فرق کے بغیر اپنے زمانے کے منافقین میں دیکھ رہے ہیں ۔ ان کی سرگردانی ان کا اضطراب غرضیکہ ان کی بیچارگی، بدبختی اور رسوائی بالکل اس مسافر کی طرح نظر آتی ہے جس کی قرآن نے نہایت وضاحت اور خوبصورتی سے تصویر کشی کی ہے۔
دونوں مثالوں کا فرق : زیر نظر آیات میں پہلی او ردوسری مثال ایک دوسرے سے کیا فرق رکھتی ہے اس سلسلے میں دو تفسیریں موجو د ہیں :
الف : پہلی یہ کہ پہلی آیت( مثلهم کمثل الذی ) ان منافقین کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ابتداء میں سچے مومنین کی صف میں داخل ہوئے اور حقیقتا ایمان لائے تھے لیکن یہ ایمان مستقر اور مستحکم نہ تھا لہذا وہ نفاق کی طرف جھک گئے۔
باقی رہی دوسری مثال (او کصیب من السماء ) تو وہ ان منافقین کی حالت بیان کرتی ہے جو ابتداء ہی سے منافقین کی صف میں تھے او رایک لحظہ کے لئے بھی ایمان نہیں لا ئے۔
ب : دوسری تفسیر یہ ہے کہ پہلی مثال افراد کی حالت کو واضح کرتی ہے اور دوسری مثال معاشرے کی کیفیت بیان کرتی ہے لہذا پہلی مثال میں ہے ”( مثلهم کمثل الذی“ ) ان لوگوں کی مثال اس شخص جیسی ہے اور دوسری مثال میں ہے ”( او کصیب من السماء فیه ظلمت و رعد و برق ) “ یا ان کی مثال ایسی ہے کہ موسلا دھار بارش جو آسمان سے برستی ہے اور اس میں تاریکیاں ، رعد اور برق ہے جو وحشت نا ک ہے اور خوف و خطر سے بھر پور ہے کہ جس میں منافق زندگی گذارتے ہیں ۔
____________________
۱۔ نور الثقلین، جلد اول ص۳۶۔
آیات ۱۲،۲۲
( یَااٴَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّکُمْ الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ ) ( ۲۱)
( الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ الْاٴَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَاٴَنْزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجَ بِهِ مِنْ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَکُمْ فَلاَتَجْعَلُوا لِلَّهِ اٴَندَادًا وَاٴَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ) ( ۲۲)
ترجمہ : ۱۲ ۔ اے لوگو ! اپنے پروردگار کی پرستش و عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ اور اللہ کے لئے شریک قرار نہ دو او رتم جانتے ہی ہو۔
۲۲ ۔ وہ ذات جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان (فضائے زمین) کو تمہارے سروں پر چھت کی طرح قائم کیا، آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ میوہ جات کی پرورش کی تاکہ وہ تمہاری روزی بن جائیں جیسا کہ تم جانتے ہو(ان شرکاء اور بتوں میں سے نہ کسی نے تمہیں پیدا کیا اور نہ تمہیں روزی دی لہذا بس اس خدا کی عبادت کرو)۔
اس خدا کی عبادت کرو
گذشتہ آیات میں خدا وند عالم نے تین گروہوں (پرہیز گار، کفار اور منافقین) کی تفصیل بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ پرہیز گار ہدایت الہی سے نوازے گئے ہیں اور قرآن ان کا راہنما ہے جب کہ کفار کے دلوں پر جہل و نادانی کی مہر لگادی ہے اور ان کے برے اعمال کی وجہ سے ان کی آنکھوں پرغفلت کا پردہ ڈال دیا ہے اور ان سے حس تمیز چھین لی ہے اور منافق ایسے بیمار دل ہیں کہ ان کے برے عمل کے نتیجے میں ان کی بیماری بڑھادی ہے۔
زیر بحث آیات میں تقابل کے بعد سعادت و نجات کی راہ جو پہلے گروہ کے لئے ہے واضح طور پر مشخص کرتے ہوئے فرماتا ہے : اے لوگو ! اپنے پروردگار کی پرستش و عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔( یَااٴَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّکُمْ الَّذِی خَلَقَکُمْ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون )
چند اہم نکات
۱ ۔ یایھا الناس کا خطاب :
اس کا مطلب ہے ”اے لوگو“ اس خطاب کی قرآن میں تقریبا بیس مرتبہ تکرارہے یہ جامع اور عمومی خطاب ہے جو نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن کسی قبیلے یا گروہ سے مخصوص نہیں بلکہ اس کی دعوت عام ہے اور یہ سب کو ایک یگانہ خدا کی دعوت دیتا ہے اور ہر قسم کے شرک اور راہ توحید سے انحراف کا مقابلہ کرتا ہے۔
۲ ۔ خلقت انسان نعمت خدا وندی ہے :
انسان کے جذبہ تفکر کو ابھارنے کے لئے اور اسے عبادت پروردگار کی طرف مائل کرنے کے لئے قرآن اپنی گفتگو کا آغاز انسانوں کی خلقت و آفرینش سے کرتا ہے جو ایک اہم ترین نعمت ہے۔ یہ وہ نعمت ہے جو خدا کی قدرت، علم و حکمت اور رحمت خاص و عام کی نشانی ہے کیونکہ انسان جو عالم ہستی کا مکمل نمونہ ہے اس کی خلقت میں خدا کے غیر متناہی علم و قدرت اور اس کی وسیع نعمتیں مکمل طور پر نظر آتی ہیں ۔
جو لوگ خدا کے سامنے نہیں جھکتے اور اس کی عبادت نہیں کرتے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی اور اپنے سے پہلے لوگوں کی خلقت میں غور نہیں کرتے وہ نکتے کی طرف متوجہ نہیں ہیں کہ اس عظیم خلقت کو گونگی اور بہری طبیعت کے عوامل سے منسوب نہیں کیا جاسکتا اور ان بے حساب و بینظیر نعمتوں کو جو انسانی جسم و جان میں نمایاں ہیں سوائے اس مبداء کے نہیں سمجھا جاسکتا جس کا علم اور قدرت لامتناہی ہے۔
اس بناء پر ذکر نعمت ایک تو خدا شناسی کے لئے دلیل ہے اور دوسرا شکر گزاری اور عبادت کے لئے محرک ہے۔
۳ ۔ عبادت کا نتیجہ :
تقوی و پرہیزگاری( لعلکم تتقون ) : ہماری عبادتیں اور تسلیمات خدا کے جاہ وجلال میں اضافے کا باعث نہیں اسی طرح ان کا ترک کرنا اس کے مقام کی عظمت میں کمی کا باعث نہیں ۔ یہ عبادت تو ”تقوی“ کا سبق حاصل کرنے کے لئے تربیتی کلاسیں ہیں اور تقوی وہی احساس ذمہ داری اور انسان کے جذبہ باطن کا نام ہے جو انسان کی قیمت کی قیمت کا معیار اور مقام شخصیت کا میزان و ترازو ہے۔
۳ ۔ الذین من قبلکم :
یہ شاید اس طرف اشارہ ہے کہ اگر تم بتوں کی پرستش میں اپنے آباؤ و اجداد کی سنت سے استدلال کرو تو خدا جو تمہیں پیدا کرنے والا ہے وہی تمہارے آباؤ اجداد کا مالک و پروردگار ہے۔ اس بناء پر بتوں کی پرستش تمہاری طرف سے ہو چاہے ان کی طرف سے کجروی کے سوا کچھ نہیں ۔
نعمت آسمان و زمین
زیر نظر دوسری آیت میں خدا کی عظیم نعمتوں کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ ہے جو ہمارے لئے شکر گزاری کا سبب ہوسکتاہے۔
پہلے زمین کی پیدائش کے بارے میں گفتگو ہے کہتا ہے ”وہی خدا جس نے زمین کو تمہارے لئے آرام دہ بچھونا قرار دیا“ ۔ الذی جعل لکم الارض فراشا۔ یہ رہوار جس نے تمہیں اپنی پشت پر سوار کر رکھا ہے،اس فضا میں بڑی تیزی کے ساتھ اپنی مختلف حرکات جاری رکھے ہوئے ہے جب کہ اس سے تمہارے وجود میں کوئی حرکت و لرزش پیدا نہیں ہوتی۔ یہ اس کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے اس زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے تمہیں حرکت اور استراحت، گھر اور آشیانہ،باغ اور کھیتی اور قسم قسم کے وسائل زندگی میسر ہیں ۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ زمین کی کشش ثقل بھی ایک نعمت ہے اگر یہ نہ ہو تو چشم زدن میں ہم سب اور ہماری زندگی کے سب وسائل زمین کی دورانی حرکت کے نتیجے میں فضا میں جا پڑیں اور سر گرداں پھرتے رہیں ۔
زمین بچھونا ہے : زمین کو بستر استراحت سے تعبیر کیا گیا ہے یہ کس قدر خوبصورت تعبیر ہے۔ بستر میں نہ صرف اطمینان، آسودگی خاطر اور استراحت کا مفہوم پنہاں ہے بلکہ گرم و نرم ہونا اور حداعتدال میں زہنے کے معنی بھی اس میں پوشیدہ ہیں ۔
یہ بات قابل غور ہے کہ عالم تشیع کے چوتھے پیشوا امام سجاد علی بن الحسین نے اپنے ایک بہترین بیان میں اس آیت کی تفسیر میں اس حقیقت کی تشریح فرمائی ہے۔
جعلها ملائمةلطباعکم موافقة لاجساکم و لم یجعلها شدید الحمی و الحرارة فتحرقکم ولا شدیدة البرد فتحمدکم و لا شدیدة طیب الریح فتصک ها ما تکم و لا شدیدة النتن فتعتبکم و لا شدیدة اللین کالماء فتغرقکم و لا شدیدة الصلابة فتمنح علیکم فی دورکم و ابنیتکم و قبور موتاکم فلذا جعل الارض فراشا لکم ۔
خدا نے زمین کو تمہاری طبیعت اور مزاج کے مطابق بنایا اور تمہارے جسم کی موافقت کے لئے اسے گرم اور جلانے والی نہیں بنایا کہ اس کی حرارت سے تم جل جاؤ اور اسے زیادہ ٹھنڈا بھی پیدا نہیں کیا کہ کہیں تم منجد ہوجاؤ۔ اسے اس قدر معطر اور خوشبو دار پیدا نہیں کیا کہ اس کی تیز خوشبو تمہارے دماغ کو تکلیف پہنچائے اور اسے بد بو دار بھی پیدا نہیں کیا کہ کہیں تمہار ہلاکت کا ہی سبب بن جائے۔ ایسے پانی کی طرح نہیں بنایا کہ تم اس میں غرق ہوجاؤ اور اتنا سخت بھی نہیں بنایا تاکہ تم اس میں گھر اور مکانات بنا سکو اور مردوں کو (جن سطح زمین پر رہ جانا گونا گوں پریشانیوں کا باعث ہوتا) اس میں دفن کرسکو۔ ہاں خدا ہی نے زمین کو تمہارے لئے ایسا بستر استراحت قرار دیا ہے(۱) ۔
پھر نعمت آسمان کو ایک بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : آسمان کو تمہارے سروں پر چھت جیسا بنایا ہے( والسماء بناء ) ۔ لفظ ”بناء“ اور لفظ علیکم کی طرف توجہ کریں تو یہ بیان ہوتا ہے کہ آسمان تمہارے سر کے اوپر بالکل چھت کی طرح بنا ہوا ہے یہی معنی زیادہ صراحت کے ساتھ قرآن میں ایک اورجگہ بھی ہے:
( و جعلنا السماء سقفا محفوظا ) اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا ہے (انبیاء ۳۲) ۔
شاید تعبیر بعض ایسے افراد کے لئے عجیب و غریب ہو جو آسمان و زمین کی عمارت کی کیفیت کو آج کے علم ہئیت کی نظر سے جانتے ہیں یعنی یہ چھت کیونکر ہے اور کہاں ہے۔ بطلیموس کی فرضی ہئیت جس کے مطابق افلاک ایک دوسرے پر پیاز کے چھلکوں کی طرح ہیں کیا یہ تعبیر اس مفہوم کو تو ہمارے دلوں میں بٹھانا نہیں چاہتی ؟
مندرجہ ذیل توضیح کی طرف توجہ کرنے سے مطلب پورے طور پر واضح ہوجاتا ہے :
لفظ ”سما“ قرآن میں مختلف معانی کے لئے آیا ہے جس میں مشترک قدر وہ چیز ہے جو مندرجہ بالا جہت میں ہے ان میں سے ایک معنی جس کی طرف اس آیت میں ارشاد ہوا ہے وہ وہی فضائے زمین ہے یعنی ہوائے متراکم کا چھلکا اور چمڑا جس نے ہر طرف سے کرہ ارض کو چھپایا ہو اہے اور علماء و دانشوروں کے نظریے کے مطابق اس کی ضخامت کئی سو کلو میٹر ہے۔
اب اگر ہم اس ہوا کے قشر ضخیم کے اساسی اور حیاتی نقش کے بارے میں جس نے زمین کو ہر طرف سے گھیرا او راحاطہ کیا ہوا ہے غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ چھت انسانوں کی حفاظت کے لئے کس قدر محکم اور موثر ہے۔ یہ مخصوص ہوائی جلد جو بلوریں چھت کی طرح ہمارے گرد احاطہ کئے ہوئے ہے۔ سورج کی حیات بخش شعاعوں کے پہنچنے سے مانع بھی نہیں اور محکم و مضبوط بھی ہے بلکہ کئی میٹر ضخیم فولادی تہوں سے زیادہ مضبوط ہے۔
اگر یہ چھت نہ ہوتی تو زمین ہمیشہ پراکندہ آسمانی پتھروں کی بارش کی زد میں رہتی اور عملی طور پر لوگوں سے راحت و اطمینان چھن جاتا لیکن یہ سخت جلد جو کئی سو کلو میٹر ہے(۲) ۔
تمام آسمانی پتھروں کو زمین کی سطح تک پہنچنے سے پہلے جلا کر نابود کردیتی ہے اور بہت کم مقدار میں ایسے پتھر ہیں جو اس جلد کو عبور کرکے خطرے کی گھنٹی کے عنوان سے گوشہ و کنار میں آگرتے ہیں لیکن یہ قلیل تعداد اہل زمین کے اطمینان میں رخنہ انداز نہیں ہوسکتی۔
منجملہ شواہد کے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آسمان کے ایک معنی فضائے زمین ہے وہ حدیث ہے جو ہمارے بزرگ پیشوا امام صادق (ع) سے آسمان کے رنگ کے بارے میں منقول ہے ۔ آپ (ع) فرماتے ہیں :
اے مفضل ! آسمان کے رنگ میں غور و فکر کرو کہ خدا نے اسے نیلے رنگ کا پیدا کیا ہے جو انسانی آنکھ کے لئے سب سے زیادہ موافق ہے یہاں تک کہ اسے دیکھنا بینائی کو تقویت پہنچا تا ہے(۳) ۔
آج اس چیز کو ہم سب جانتے ہیں کہ آسمان کا نیلا رنگ در اصل اس متراکم ہوا کا رنگ ہے جو زمین کو گھیرے ہوئے ہے اس بناء پر اس حدیث میں آسمان سے مراد یہی فضائے زمینی ہے۔
سورہ نحل کی آیة ۷۹ میں ہے :( الم یروا الی الطیر مسخرات فی جو ا لسمائ )
آیا وہ ان پرندوں کو نہیں دیکھتے جو وسط آسمان میں تسخیر شدہ ہیں ۔
آسمان کے دوسرے معانی کے سلسلے میں اس سورت کی آیت ۲۹ میں آپ مزید صراحت سے مطالعہ کریں گے۔
اس کے بعد بارش کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے ” اور آسمان سے پانی نازل کیا (وانزل من السماء ما)۔
کیسا پانی۔ جو حیات بخش، تمام آبادیوں کا سبب اور تمام مادی نعمتوں کا جامع ہے، جملہ ”انزلنا من السماء“ دوبار اس حقیقت کی تاکید کرتا ہے کہ سماء سے مراد یہاں وہی فضائے آسمانی ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بارش بادلوں سے برستی ہے اور بادل فضائے زمین میں موجود بخارات سے پیدا ہوتے ہیں ۔
امام سجاد علی بن الحسین اس آیة کے ذیل میں بارش کے آسمان سے نازل ہونے کے بارے میں ایک جاذب نظر بیان میں ارشاد فرماتے ہیں :
” خدا وند عالم بارش کو آسمان سے نازل کرتا ہے تاکہ وہ پہاڑوں کی تمام چوٹیوں ، ٹیلوں اورگڑھوں غرض تمام بلند و ہموار جگہوں تک پہنچ جائے(اور سب بغیر استثناء کے سیراب ہوں )اور یہ نرم زمین کے اندر چلی جائے۔ اور زمین اس سے سیراب ہو ۔ اسے سیلاب کی صورت میں نہیں بھیجا کہ مبادا زمینوں ، درختوں کھیتوں اور تمہارے پھلوں کو بہا لے جائے اور انہیں ویران کردے(۴) ۔
اس کے بعد قرآن بارش کی برکت سے پیدا ہونے والے قسم قسم کے پھلوں اور ان روزیوں کی طرف جو انسانوں کا نصیب ہیں اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے ”خدا وند عالم نے بارش کے سبب میوہ جات کو تمہاری روزی کے عنوان سے نکالا (فاخرج به من الثمرات رزقا لکم )۔
یہ خدائی پروگرام ایک طرف خدا کی وسیع اور پھیلی ہوئی رحمت کو جو اس کے بندوں پر ہے مشخص کرتا ہے اور دوسری طرف اس کی قدرت کو بیان کرتا ہے اس نے کس طرح بے رنگ پانی سے ہزاروں رنگوں کے میوے جو انسانی غذا کے لئے مختلف خصوصیات کے حامل ہیں اور اسی طرح دوسرے جاندار پیدا کئے جو اس کے وجود کے زندہ ترین دلائل میں سے ہیں لہذابلا فاصلہ مزید کہتا ہے ” جب ایسا ہی ہے تو پھر خدا کے شریک نہ بناؤ، جب کہ تمہیں معلوم ہے( فلا تجعلوا لله اندادا وانتم تعلمون ) ۔ تم سب جانتے ہو کہ ان بتوں اور خود ساختہ شرکاء نے تمہیں پیدا نہیں کیا اور نہ یہ روزی دیتے ہیں ۔ تمہارے پاس کوئی کم ترین نعمت بھی ان کی طرف سے نہیں پس کس طرح انہیں خدا کا شبیہ و نظیر قرار دیتے ہو۔
”انداد“ جمع ہے ”ند“(بروزن ضد) کی۔ اس کے معنی ہیں
____________________
۱۔ نور الثقلین، ج ۱ ص۴۱۔
۲۔ بہت سی کتب میں اس ہوائی جلد کی ضخامت ایک سو کلو میٹر لکھی ہوئی ہے لیکن بظاہر ان کا مقصود وہ جگہ ہے جہاں ہوا کے سالمے( Molecules ) نسبتا زیادہ نزدیک ہیں لیکن موجودہ سائنس نے ثابت کیا ہے کہ چند سو کلو میٹر کی ضخامت میں ہوا کے سالمے پراکندہ حالت میں موجود ہیں ۔
۳۔ توحید مفضل۔
۱۔ تفسیر نور الثقلین جلد اول ص ۲۱ کے مطابق حدیث کی عبارت اس طرح ہے :ینزله من اعلی لیبلغ قلل جبالکم و تلالکم و هضابکم و اوهادکم ثم فرقة رذاذا و ابلا وهطلا لتنسشفه ارضوکم و لم یجعل ذلک المطرتازلا قطعة و احدة نیفسد ارضیکم و اشجارکم و زروعکم و ثمارکم ۔
بت پرستی مختلف شکلوں میں
یہاں اس حقیقت کی طرف متوجہ ہو نا ضرور ی ہے کہ خدا کا شریک قرار دینا یہی نہیں کہ پتھر اورلکڑی کے بت بنالئے جائیں یا اس سے بڑھ کر انسان کو مثلاََمسیح کو تین میں سے ایک خدا سمجھا جائے بلکہ اس کے وسیع تر معنی ہیں جو زیادہ اور پنہاں صورتوں پر بھی مشتمل ہیں کلی قاعدہ یہ ہے کہ زندگی میں جس چیز کوبھی خداکے ساتھ ساتھ سمجھا جائے۔۔وہ ایک قسم کا شرک ہے ۔
اس مو قع پرابن عباس کی ایک عجیب تفسیر ہے وہ کہتے ہیں :
لانداد هوالشرک الخفی من دبیب النمل علی صفاةسوداء فی ظلمةاللیل وهوان یقول والله حیاتک یافلان ِوحیاتی -ویقولولا کلیه هذالاتاناللصوص ا لبارحةوقول الرجل لصاحبةماشاء الله وشئت هذا کله به شرک یعنی ۔۔۔۔انداد وہی شرک ہے کبھی تاریک رات میں سیاہ پتھر پر ایک چیونٹی کی حرکت سے زیادہ مخفی ہوتا ہے ۔انسان کا یہ کہناکہ کی خدا کی قسم اور تیر ی جا ن کی قسم ،یاخداکی قسم اور مجھے میری جان کی قسم (یعنی خدا اور دوست کی جان یا خدااور اپنی جان کو ایک ہی لائن میں قرار دینا)یایو ں کہنا کہ اگر یہ کتیا کل رات نہ ہوتی تو چور آگئے تھے (لہذاچوروں سے نجات دلانے والی یہ کتیا ہے )یاپھر اپنے دوست سے کہے جو کچھ خدا چاہے اور تم پسند کرو ۔۔۔۔ان سب میں شرک کی بو ہے(۱)
ایک حدیث میں ہے :ایک شخص نے نبی اکرم کے سامنے یہ جملہ کہا :( ماشاء اللّه وشئت ) جو کچھ خدا اور اآپ چاہتے ہیں )آنحضرت نے فرمایا :( اجعلنی للّه نداََ )ِ (کیا تونے مجھے اللہ کا شریک وردیف قرار دیا )۔
عام لوگ روزانہ ایسی بہت سی باتیں کرتے رہتے ہیں مثلاً( پہلے خدا پھرتم) باور کیجیے کہ ایک کامل موحد انسان کے لئے یہ تعبیرات بھی مناسب نہیں ہیں ۔سورہ یوسف آیت ۱۰۶
( وما یومن اکثرهم باالله الاوهم مشرکون ) کی تفسیرکے ذیل میں امام صادق سے ایک روایت ہے ،آپ نے (شرک ِخفی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )فرمایا :جیسے ایک انسان دوسرے سے کہتا ہے اگرتونہ ہوتاتو میں نابود ہو جاتا یا میری زندگی تباہ ہوجاتی(۲)
اس کی مزید وضاحت اسی تفسیر میں سورہ یوسف ،آیت ۱۰۶ کے ذیل میں ملاحظہ کیجئے
____________________
(۱) فی ضلال سید قطب ،جلد اول ص۵۳۔
(۲) سفینةالبحار ،جلد اول ،ص۶۹۷
آیات ۲۳،۲۴
( وان کنتم فی ریب ممانزلناعلی عبدنافاتوابسورةمن مثله ص وادعوا شهداء کم من دون الله ان کنتم صدقین )
( فان لم تفعلو ولن تفعلو فاتقو النار التی وقودها الناس والحجارة ج اعدت للکافرین )
ترجمہ
۲۳- اگر تمہیں اس چیز کے بارے میں جو ہم نے اپنے بندے (پیغمبر ) پر نازل کی ہے کوئی شک و شبہ ہے تو (کم از کم ) ایک سورہ اس کی مثل لے آؤ اور خدا کو چھوڑ کر اپنے گواہوں کو بھی اس کام کی دعوت دو ،اگر تم سچے ہو ۔
۲۴- اگر یہ کام تم نے نہ کیا اور کبھی کر بھی نہ سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسانوں کے بدن اور پتھر ہیں یہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔
قرآن ہمیشہ رہنے والا معجزہ ہے
گزشتہ آیات کا موضوع سخن کفر ونفاق کبھی نبوت اور اعجاز پیغمبر کے عدم ادراک کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ لہذا زیر بحث آیات میں اسے بیان کیا گیا ہے ، خصوصیت کے ساتھ انگشت قرآن پر رکھ دی گئی ہے جو ہمیشہ رہنے والا معجزہ ہے ،یہ اس لئے کہ رسول اسلام کی رسالت کے بارے میں ہر قسم کا شک و شبہ دور ہوسکے ۔
قرآن کہتا ہے :--؛؛اگر تمہیں اس چیز کے بارے میں جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے کوئی شک و شبہ ہے تو ایک سورت ہی اس جیسی لے آو ؛؛( ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتو ا بسورة من مثله ) ( ۱) مقابلے کی دعوت اور چیلنج کو قطعی ہونا چاہئے اور دشمن کو پوری طرح تحریک پیدا کرنی چا ہیے اور اصطلاحاََ غیرت دلانی چاہیے تاکہ وہ پوری طاقت استعمال کرسکے،اس طرح جب عجز وناتوانی ثابت ہوجائے گی تو وہ مسلم طور پر جان لے گا کہ جس چیز کے وہ مد مقابل ہے وہ کار بشر نہیں بلکہ خدائی کام ہے لہذا بعد والی آیت میں مختلف تعبیروں سے اسے بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے ؛؛ اگر تم اس کام کو انجام نہ دے سکے اور ہرگز نہ دے سکو گے لہذا اس آگ سے ڈرو کہ جس کا ایندھن بے ایمان آدمیوں کے بدن اور پتھر ہیں( فان لم تفعلو و لن تفعلو فاتقو النار التی وقودها الناس والحجارة ) یعنی آگ ابھی سے کافروں کے لئے تیار ہے اور اس میں تاخیر نہ ہوگی( اعدت للکافرین ) ۔
”وقود “کے معنی ہیں وہ چیز جسے آگ پکڑ لے یعنی وہ مادہ جو جلنے کے قابل ہے جیسے لکڑیا ں ۔اس سے مراد وہ چیز نہیں جس سے آگ نکلے مثلا ماچس یا وہ خاص پتھر جن سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں ۔
مفسرین کا ایک گروہ کہتا ہے کہ”حجارة“سے وہ بت مراد ہیں جنہیں پتھر سے بنایا گیا تھا اور سورہ انبیا ء کی آیت ۹۸ کو اس کا شاہد قرار دیتا ہے:( انکم وما تعبدون من دون الله حصب جهنم )
تم اور جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے جہنم کا ایندھن ہیں ۔
ایک اور گروہ کہتا ہے کہ ”حجارة“سے مراد گندک کے پتھر ہیں جن کی حرارت دوسرے پتھروں سے زیادہے ۔لیکن بعض مفسرین کا نظر یہ ہے کہ اس تعبیر کا مقصد جہنم کی شدت حرارت کی طرف متوجہ کرنا ہے یعنی اس میں ایسی حرارت و تپش ہو گی جو پتھرو ں اور انسانوں کو بھی شعلہ ور کر دے گی ۔
گذشتہ آیات کے پیش ِنظر جو بات زیا دہ مناسب معلوم ہو تی ہے یہ ہے کہ جہنم کی آگ خود انسانوں اور پتھروں کے اندر سے نکلے گی اور یہ حقیقت آج ثابت ہو چکی ہے کہ جسموں کے اندر ایک عظیم آگ چھپی ہو ئی ہے (دوسرے لفظوں میں ایسی قوتیں موجود ہیں جوآگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں )یہ مفہوم سمجھنا مشکل نہیں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ا س جلانے والی آگ کو اس دنیا کی عمومی آگ کی طرح سمجھاجائے ۔
سورہ ہمزہ آیہ ۶‘۷ میں ہے :( نارلله الموقدة التی تطلع علی الافٴدة )
خداکی جلا نے والی ا ٓگ جس کا سرچشمہ دل ہیں اور جو اندر سے باہر کی طرف سرایت کر تی ہے (اس جہان کی آگ کے بر عکس جو باہر سے اندر تک پہنچتی ہے )۔
____________________
(۱)بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ ضمیر ”مثلہ “رسول اکرمکے بارے میں ہے جنہیں قبل کے جملے میں( عبدنا ) سے یاد کیا گیایعنی اگر اس وحی آسمانی کے حقیقی ہونے میں تمہیں شک ہے تو کوئی شخص محمد جیسا پیش کرو جس نے بالکل تعلم حا صل نہ کی ہو اور نہ خط و کتابت سیکھی ہو جو ایسا کلام پیش کرسکے ۔لیکن یہ بعید نظر آتا ہے کیونکہ قرآن میں دوسری جگہ یوں آیا ہے :فلیاتو بحدیث مثله (طور-۳۴)
ایک اور مقام پر ہےفاتو بسورةمثله (یونس ۳۸) اس سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ ”مثلہ “قرآن کے لئے ہے پیغمبر کے لئے نہیں ۔
( ۱) انبیاء کے لئے معجزے کی ضرورت :
ہم جانتے ہیں کہ نبوت ورسالت ایک عظیم تر ین منصب ہے جو پاک لوگوں کے ایک گروہ کو عطا ہواہے کیونکہ دوسرے منصب ومقام جسموں پر حکمرانی کرتے ہیں لیکن نبوت وہ منصب ہے جومعاشرے کی روح اور دل پر حکومت کرتا ہے جھوٹے مدعی اوربہت سے برے افراد ا س کی رفعت وسر بلندی کے ہی پیش نظر اس منصب کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس سے غلط مفاد اٹھاتے ہیں ۔
لوگ یا تو ہر مدعی کے دعوی کو قبول کرلیں یا سب کی دعوت کو رد کر دیں ۔سب کو قبول کرلیں تو واضح ہے کہ کس قدر ہرج ومرج لازم آئے گا اور دین خدا کی کیا صورت بنے گی اور اگر کسی کو بھی قبول نہ کریں تو اس کا نتیجہ بھی گمراہی اور پسماندگی ہے اس بناء پر جس دلیل کی رو سے انبیاء کا وجود ضروری ہے اسی دلیل کی روشنی میں سچے انبیاء کے پاس ایسی نشانی ہونی چاہیے جو جھوٹے دعویدار وں سے انہیں ممتاز قرار دے اور وہ ان کی حقانیت کی سند ہو ۔
اس ا صل کی بناء پر ضروری ہے کہ نبی معجزہ لے کر آئے جو اسکی رسالت کی صداقت کا شاہد ہو سکے اور جیساکہ لفظ معجزہ سے واضح ہے نبی خارق العادہ اعمال (و ہ کام جو عموماَ نہ ہو ئے ہوں )انجام دینے کی قدرت رکھتاہو جن کی انجام دہی سے دوسرے لوگ عاجز ہوں ۔
نبی جو صاحب معجزہ ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو مقابلہ بمثل دعوت دے (یعنی کہے کہ ایسا کام تم بھی کردکھاو)اور اپنی گفتار کی سچائی کی علامت ونشانی کو اپنا معجزہ قرار دے تاکہ اگر دوسرے بھی ویسا کام کرسکتے ہیں تو بجالائیں اس کام کو اصطلاح میں تحدی (چیلنج)کہتے ہیں
قرآن رسول اسلام کا دائمی ومعجزہ
جو معجزات اور خار ق عادات پیغمبر اسلام سے صادر ہوئے قرآن ان میں سے آپکی حقانیت کی بلند ترین اورزندہ ترین سند ہے قرآن افکار بشرسے بلند تر کتاب ہے کوئی اب تک ایسی کتاب نہیں لاسکا ۔یہ ایک ایسا عظیم ا ٓ سما نی معجزہ ہے ۔
گزشتہ انبیاء کے لئے ضروری تھا کہ وہ اپنے معجزات کے ساتھ ہوں اور ان کے ا عجاز کو ثابت کر نے کے لئے مخالفین کو مقابلہ بمثل کی دعوت دیں ۔در حقیقت ان کے معجزات کی اپنی کوئی زبان نہ تھی بلکہ انبیاے کی گفتاران کی تکمیل کرتی تھی ۔یہی بات قرآن کے علاوہ پیغمبر اسلام کے د یگر معجزات پر بھی صادق آتی ہے۔
لیکن قرآن ایک بولنے والا معجزہ ہے و ہ تعار ف کرانے والے کا محتاج نہیں وہ خود اپنی طرف دعوت دیتا ہے اور مخالفین کو مقابلے کے لئے پکارتا ہے -، انہیں مغلوب کرتاہے اور خود میدان مقابلہ سے کامیابی کے ساتھ نکلتا ہے لہذاوفات نبی کو صدیاں بیت گئیں مگر قرآن آپ کے زمانہ حیات کی طرح آج بھی اپنا دعوی پیش کررہاہے ۔قرآن خود دین بھی ہے اور معجزہ بھی ،قانون بھی اور سند قانون بھی ،قرآن زمان ومکان کی سرحد سے مافوق ہے ۔
گذشتہ انبیاء کے معجزات
گذشتہ انبیاء کے معجزات بلکہ قرآن کے علاوہ آنحضرت کے دیگر معجزات بھی معین ومشخص زمان ومکان اور مخصوص افراد کے سامنے ظہور پذیر ہو تے تھے ۔مثلاََ حضرت مریم کے نو مولود بچے کی گفتگو ،مردوں کو زندہ کرنا اور حضرت مسیح کے ایسے دوسرے معجزات مخصوص زمان ومکان اور معین اشخاص کے لئے تھے ۔ہم جانتے ہیں کہ جو امو ر زمان ومکان کے رنگ سے ہم آہنگ ہوں گے وہ اس زمان ومکان سے جتنا دور ہونگے ان کے رنگ روپ میں کمی واقع ہوگی اور یہ چیز امور زمانی کے خواص میں سے ہے
لیکن قرآن کسی خاص زمان ومکان سے وابستہ نہیں ۔یہ جس طرح جس حالت میں چودہ سو سال قبل حجازکے تاریک ماحول میں جلوہ گر تھا اسی طرح آج بھی ہم پر ضوفشاں ہے بلکہ رفتار زمانہ اور دانش کی پیش رفت کی وجہ سے ہم میں اس کی استعداد بڑھ گئی ہے کہ دور حاضر کے لوگوں کے لئے اس سے زیادہ استفادہ کرسکیں ۔یہ واضح ہے کہ جس پر اپنے زمان ومکان کا رنگ نہ ہو وہ بعد تک اور سارے جہان تک رسائی حاصل کر سکے گا اور یہ ہے بھی واضح کہ ایک عالمی دین کےلئے ضروری ہے کہ وہ عالمی وابدی سند حقانیت رکھتا ہو ۔
قرآن روحانی کیوں ہے ؟
گذشتہ انبیاء سے جو خارق عادت امور ان کی گفتارکے سچے گواہ کے طور پر دیکھنے میں آتے ہیں وہ عموما جسمانی پہلو رکھتے تھے ۔ ناقابل علاج بیماروں کو شفا دینا ، مردوں کو زندہ کرنا ،نوزائیدہ بچے کا گہوارے میں باتیں کرنا وغیرہ سب جسمانی پہلو رکھتے تھے اور انسان کی آنکھ اور کان کو مسخر کرتے تھے لیکن قرآنی الفاظ جو انہی عام حروف و کلمات سے مرکب ہیں انسان کے دل و جان کی گہرایئوں میں اتر جاتے ہیں ، انسان کی روح انہیں عجیب و غریب سمجھتے ہوئے ان کےلئے احساسات تحسین سے معمور ہوجاتی ہے اور افکار وعقول کی تعظیم پر مجبور نظر آتی ہیں ۔یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو صرف اذہان ،افکار اور روح سے سروکار رکھتا ہے جسمانی معجزات پر ایسے معجزے کی برتری کسی وضاحت کی محتا ج نہیں ۔
کیا قرآن نے مقابلے کے لئے چیلنج کیا ہے ؟
قرآن نے چند ایک سورتوں میں اپنی مثال لانے کے لئے چیلنج کیا ہے ۔اس کی کچھ مثالیں حسب ذیل ہیں :
( ۱) سورہ اسراء آیہ ۸۸( یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی ) ہے:
( قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتو ا بمثل هذا القرآن لا یا تون بمثله ولو کان بعضهم لبعض ظهیرا )
کہیے کہ اگر تمام انسان اور جن جمع ہوجائیں تاکہ قرآن جیسی کتاب لے آئیں تو وہ ایسا نہیں کرسکتے اگرچہ خوب ہم فکر و ہم کا ر بھی ہوجائیں ۔
(!!) سورہ ہود (یہ بھی مکہ میں نازل ہوئی ) کی آیات ۱۳ اور ۱۴ میں یوں ہے:
( ام یقولون افتراته قل فاتوبعشر سور مثله مفتریت ودعوا من استطعتم من دون الله ان کنتم صدقین فالم یستجیبو لکم فاعلموا انما انزل بعلم الله )
کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ آیات خدا پر افتراء ہیں کہ دے کہ اگر تم سچے ہو تو ایسی دس سورتیں گڑھ کے لے آؤ اور بدون خدا جسے مدد کی دعوت دے سکتے ہو دے لو --اور اگر انہوں نے اس دعوت کو قبول نہ کیا تو جان لو کہ یہ آیات خدا کی طرف سے ہیں ۔
(!!!) سورہ یونس ( جو مکہ میں نازل ہوئی ) کی آیت ۳۸ میں اس طرح ہے :
( ام یقولون افترانه قل فاتو بسورة مثله و ادعوا من استطعتم من دون الله ان کنتم صدقین )
کیا وہ کہتے ہیں کہ خدا پر افتراء باندھا گیا ہے آپ کہئے کہ اس جیسی ایک سورت لادکھاؤ اور خدا کے علاوہ ہر کسی کی مدد کے لئے طلب کرلو اگر تم سچے ہو۔
( ۴) چوتھی مثال یہی زیر بحث آیت ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی۔
جیسا کہ واضح ہے کہ قرآن صراحت اور بے نظیر قاطعیت اور یقین کے ساتھ مقابلے کی دعوت دے رہا ہے ایسی صراحت و قاطعیت جو حقانیت کی زندہ نشانی ہے۔
قرآن نے بہت قاطع اور صریح بیان کے ساتھ تمام جہانوں اور تمام انسانوں کو مقابلہ بمثل کی دعوت دی ہے جو قرآن کے مبداء جہان آفرینش کے ساتھ ربط میں شک رکھتے ہیں ۔صرف دعوت ہی نہیں دی بلکہ مقابلہ کا شوق بھی دلایا ہے اور اس کے لئے تحریک پیدا کی ہے اور ان آیات میں ایسے الفاظ صرف کئے ہیں جو ان کی غیرت کو ابھارتے ہیں ۔مثلا،
( ان کنتم صادقین ) “اگر تم سچے ہو ۔
( فاتو بعشر سور مثله مفتریت ) “ایسی دس سورتیں گڑھ لاؤ۔
( قل فاتوبسورة مثله ان کنتم صادقین ) “اگر تم سچے ہو تو ایسی ایک سورت ہی بنا لاؤ۔
( ودعوامن استطعتم من دون الله ) “بدون خداجسے چاہودعوت دو
( قل لئن اجتمعت الانس والجن ) “اگر تم جن و انس بھی ایکا کرلو ۔
( لا یاتون بمثله ) “اس کی مثل نہیں لا سکتے۔
( فاتقوالنار التی وقودها الناس والحجارة ) “اس آگ سے ڈروجس کا ایندھن (گنہگار)لوگوں کے بدن اور پتھر ہیں ۔
( فان لم تفعلوا ولن تفعلو ) “اگر اس کی مثل نہ لائے اور نہ ہی تم لاسکتے ہو ۔
ہم جانتے ہیں کہ یہ صرف ادبی یا مذہبی مقابلہ نہ تھا بلکہ ایک سیاسی اقتصادی اور اجتماعی مقابلہ تھا تمام چیزیں یہاں تک کہ خود ان کے وجود کی بقا کا انحصار بھی اس مقابلے میں کامیابی پر نہ تھا بہ الفاظ دیگر ایک مکمل مقابلہ تھا جو ان کی زندگی اور موت کی راہ اور سرنوشت کو روشن کر دیتا۔ اگر کامیاب ہوجاتے تو سب کچھ ان کے پاس ہوتا اور اگر مغلوب ہوجاتے تو اپنی بھی ہر چیز سے ہاتھ دھو بیٹھتے اس سب کے باوجود تحریک و تشویق کا یہ عالم ہے۔
اس کے باوصف اگر ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے قرآن کے مقابلے میں گھٹنے ٹیک د یئے اور اس کا مثل نہ لاسکے تو قرآن کا معجزہ ہونا زیادہ واضح اور روشن تر ہوجاتا ہے۔
قابل توجہ امر یہ ہے کہ یہ آیات کسی خاص زمانے یا جگہ سے مخصوص نہیں بلکہ تمام جہانوں اور تمام علمی مراکز کو مقابلے کی دعوت دے رہی ہیں اور کسی قسم کا استثناء نہیں ہے اور یہ چیلنج آج بھی برقرار ہے۔
یہ کیسے معلوم ہوا کہ قرآن کی مثل نہ لائی جاسکی؟
تاریخ اسلام پر غور کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کیونکہ اسلامی ممالک کے اندر رسول اکرم کے زمانے میں اور آپ کے بعد یہاں تک کہ خود مکہ اور مدینہ میں کٹر اور متعصب عیسائی اور یہودی بستے تھے جو مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لئے ہر موقع کو غنیمت جانتے تھے ۔خود مسلمانوں میں بھی ایک ”مسلمان نما “ گروہ موجود تھا قرآن نے ان کا نام منافق رکھا ہے ان کے ذمہ مسلمانوں کے جاسوس کا رول ادا کرتا تھا جیسے ابو عامر راہب اور مدینہ میں اس کے منافق ساتھی جن کے بادشاہ روم سے مخصوص روابط کا تاریخ میں تذکرہ موجود ہے ۔ مدینہ میں مسجد ضرار انہی لوگوں نے بنائی تھی جہاں سے وہ عجیب سازش وجود پذیر ہوئی جس کا قرآن نے سورہ توبہ میں ذکر کیا ہے یہ طے شدہ بات ہے کہ منافقین کا یہ گروہ اور وہ متعصب اور کٹر دشمن گہری نظر سے مسلمانوں کے حالات کی تاک میں رہتے تھے اور وہ ہر چیز جو مسلمانوں کے نقصان کا باعث ہوتی اسے خوش آمدید کہتے تھے۔
اگر ان لوگوں کو اس قسم کی کتاب مل جاتی تو مسلمانوں کو تباہ وبرباد کرنے کے لئے اس کی ہر ممکن نشر واشاعت کرتے یا کم از کم اسکی حفاظت و نگہداشت کی کوشش کرتے ۔
یہی وجہ ہے کہ وہ ا فراد جن کے متعلق نہایت کم احتمال بھی ہے کہ وہ قرآن کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے ۔تاریخ نے ان کے نام ریکارڑ کئے ہیں ۔ان میں سے بعض یہ ہیں :
عبداللہ بن مفقع:
اس نے اسی مقصد کے لئے کتاب الدرةالیتیمة“ تصنیف کی۔ کتاب ابھی موجود ہے اور کئی مرتبہ طبع ہو چکی ہے اس کتاب میں اس بات کا چھوٹے سے چھوٹا بھی اشارہ نہیں کہ یہ قرآن کے مقابلہ میں لکھی گئی ہے ا سکے باوجود ہم نہیں جانتے کہ اس کی طرف نسبت کیوں دی گئی ہے۔
متنبی احمد بن حسین کوفی : یہ شاعر تھا ۔ اس کا نام بھی اس زمرے میں آتا ہے کہ اس نے دعویٰ نبوت کیا تھا جب کہ بہت سے قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ گھریلو ناکامیوں اور جاہ طلبی کی خواہش کے پیش نظر اس نے بلند پردازی کا یہ پروگرام بنایا تھا۔
ابوالعلای معری :
اس کا نام بھی اس امر میں داخل ہے اگرچہ اسلام کے بارے میں اس سے منسوب سخت باتیں بیا ن کی گئی ہیں ، لیکن وہ قرآن کے مقابلہ کا ارادہ کبھی بھی نہ رکھتا تھا بلکہ اس نے قرآن کی عظمت کے متعلق بہت عمدہ جملے کہے ہیں جن میں بعض کی طرف اشارہ کیا جائے گا ۔
مسلیمہ کذاب :
یہ یمامہ کا رہنے والا تھا اور یقینا ان اشخاص میں سے ہے جو قرآن کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے اور بقول اس کے کچھ آیات لایا جن میں تفریع طبع کا پہلو زیادہ ہے حرج نہیں کہ ان میں سے چند جملے ہم یہاں نقل کردیں :
( ۱) سورہ الذاریات کے مقابلہ میں اس نے یہ جملے پیش کیے:
والمبذرات بذرا والحاصدات حصدا والذاریات تمحاََوالطاحنات طحنا والعجنات عجنا والخابذات والثاردات ثردا والاقمات لقما اها لة وسمنا (۱)
یعنی -- قسم ہے کسانوں کی-- قسم ہے بیج ڈالنے والوں کی اور قسم ہے گھاس کو گندم سے جدا کرنے والوں کی اور قسم ہے گندم کو گھاس سے الگ کرنے والوں کی قسم ہے آٹاگوندھنے والیوں کی اور قسم ہے روٹی پکانے والوں کی اور قسم ہے ثرید بنانے والوں کی اور قسم ہے ان کی جو چرب و نرم لقمہ اٹھاتے ہےں ،
(۲)یاضفدع بنت ضفدع نقی ماتنقین نصفک فی الما ء ونصفک فی الطین لا لماء مکدرین ولاالشاربین تمنعین (۲)
یعنی ای مینڈک!مینڈک کی بیٹی !جتنا چاہتی ہے آواز نکال تیرا آدھا حصہ پانی میں ہے اور آدھا کیچڑمیں ۔پانی کو گدلا کرتی ہے اور نہ کسی کو پینے سے روکتی ہے ۔
____________________
(۱) اعجازلقرآن رافعی
(۲)قرآن و آخرین پیامبر
یہاں ضروری ہے چند جملے بڑے لوگوں کے
یہاں تک کہ جوقرآن کامقابلہ کرنے میں متہم ہیں نقل کئے جائیں تاکہ عظمت قرآن ظاہر ہو :
ابوالعلای مصری :
یہ قرآن کا مقابلہ کرنے میں متہم ہے ،کہتا ہے :”یہ بات تمام لوگوں میں چاہے مسلمان ہویا غیر مسلم مورد اتفاق ہے کہ وہ کتاب جو محمد لے کر آیاہے اس نے اپنے مقابلے میں عقلوں کو مغلوب کردیاہے اور آج تک کوئی ایسی کتاب نہیں لاسکا ۔اس کا طرز اسلو ب عربو ں کے معمول کے اسلوبو ں خطابہ ،رجز ،شعر اور کاہنوں کے مسجع کسی سے بھی مشابہت نہیں رکھتا ۔ کتاب میں اس قدر امتیازاورکشش ہے کہ اگر اس کی ایک آیت کسی دوسرے کلمات میں موجود ہو تو شب تاریک میں چمکے ہوئے ستاروں کی طر ح ر وشن ہو گی “
ولید بن مغیرہ مخزومی :
یہ ایسا شخص ہے جو حسن تدبیر کے باعث عربو ں میں شہرت رکھتا تھا زمانہ جاہلیت میں حل مشکلا ت کے لئے اس کے فکروتدبر سے استفادہ کیا جاتا تھا ۔اسی لئے اسے ”ریحانہ قریش “(قریش کا گلدستہ )کہا جاتا تھا ۔کہتے ہیں جب اس نے نبی کریم سے سورہ غافر کی چند ابتدائی آیات سنیں تو بنی مخزوم کی ایک محفل میں آیا اورکہنے لگا :
”خدا کی قسم میں نے محمد سے ایسی گفتگو سنی ہے جو کلام انسان سے شباہت رکھتی ہے نہ جنوں کی گفتگو ہے ۔“
اس نے مزید کہا:وان له لحلاوة ،ان علیه لطلاوة وان اعلاه لمثمروان اسفله لمغدق ،وانه یعلو ولایعلٰی علیه ۔
اس کی گفتگو میں خاص مٹھا س اور حسن ہے ۔اس کا اوپر کا حصہ (بارآور درختوں کی طرح)پھلدار ہے اور نیچے کا حصہ (پرانے درختو ں کی جڑوں کی طر ح)بنیاد پر استوار ہے ۔یہ ایسی گفتگو ہے جو ہر ایک پر غالب ہے اور کوئی اس پر غالب نہیں آسکتا ۔(۱)
کارلائلی:
یہ انگلستان کامشہور مورخ ا ورمحقق ہے جوقرآن کے بارے میں کہتا ہے :
”اگر اس مقدس کتاب پرنظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ برجستہ حقائق اور وجود کے اسرار وخصائص نے اس کے جوہر دار مضامین میں ایسے پرورش پائی ہے جس سے قرآن کی عظمت وحقیقت وضاحت سے نمایاں ہوتی ہے یہ خود ایک ایسی خوبی ہے جو صرف قرآن سے مخصوص ہے اور کسی دوسری علمی ،سیاسی اور اقتصادی کتاب میں نہیں دیکھی جاسکتی ۔یقینابعض کتابیں ایسی ہیں جن کامطالعہ ذہن انسانی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے لیکن ان کا قرآن سے کبھی موازنہ نہیں کیا جاسکتا اس بناء پر کہنا چاہیئے کہ قرآن کی ابتدائی خوبیاں اور بنیادی دستاویزات جن کا تعلق حقیقت ،پاکیزہ احساسا ت ، برجستہ عنوانات اور اس مضامین سے ہے ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہے ۔وہ فضائل جو تکمیل انسانیت اورسعادت بشر میں ہیں اس میں ان کی انتہا ہے اور قرآن سے وضاحت ان فضائل کی نشان دہی کر تا ہے “(۲)
جاینڈیون پورٹ:یہ کتاب ” عذرتقصیربہ پیش گاہ محمد ی وقرآن “کا مصنف ہے ۔قرآن کے بارے میں لکھتا ہے :
”قرآن نقائص سے اس قدر مبرا ومنزہ ہے کہ چھوٹی سی چھوٹی تصحیح اور اصلاح کا بھی محتاج نہیں ۔ممکن ہے کہ انسان اسے اول سے آخر تک پڑھتا جائے اور معمولی سی ملامت وافسرد گی بھی محسوس نہ کرے “
اس کے بعد مزید لکھتا ہے :سب اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ قرآن سب سے زیادہ فصیح و بلیغ زبان اور عرب کے سب سے زیادہ نجیب اور ادیب قبیلے قریش کے لب و لہجے میں نازل ہوا اور یہ روشن ترین صورتوں اور محکم ترین تشبیہات سے معمورہے ؛؛(۳)
گوئٹے : یہ المانی شاعر اور عالم ہے ،کہتا ہے :”قرآن ایسی کتاب ہے کہ ابتدا میں قاری اس کی وزنی عبارت کی وجہ سے رو گردانی کرنے لگتا ہے لیکن اس کے بعد اس کی کشش کا فریفتہ ہو جاتا ہے اور پھر بے اختیار اس کی متعدد خوبیوں کا عاشق ہوجاتا ہے ”۔یہی گوئٹے ایک جگہ اور لکھتا ہے :سالہا سال تک خدا سے ناآشنا پوپ ہمیں قرآن اور اس کے لانے والے محمد کی عظمت سے دور رکھے رہے مگر علم و دانش کی شاہراہ پر جتنا ہم نے قدم آگے بڑھایا جہالت و تعصب کے ناروا پردے ہٹتے گئے اور بہت جلد اس کتاب نے جس کی تعریف و توصیف نہیں ہوسکتی دنیا کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور اس نے دنیا کے علم ودانش پر گہرا اثر کیا ہے اور آخر کار یہ کتاب دنیا بھر کے لوگوں کے افکار کا محورقرار پائے گی”۔
مزید لکھتا ہے:”ہم ابتدا میں قرآن سے روگردان تھے لیکن زیادہ وقت نہیں گزرا کہ اس کتاب نے ہماری توجہ اپنی طرف کھینچ لی اور ہمیں حیران کردیا یہاں تک کہ اس کے اصول اور عظیم علمی قوانین کے سامنے ہم نے سر تسلیم خم کردیا(۴)
ول ڈیوران :
یہ ایک مشہور مور خ ہے ، لکھتا ہے:”قرآن نے مسلمانوں میں اس طرح کی عزت نفس ،عدالت اور تقوی پیدا کیا ہے جس کی نظیر و مثال دنیا کے دوسرے ممالک میں نہیں ملتی “۔
ز ول لابوم :
یہ ایک فرانسیسی مفکر ہے ۔ اپنی کتاب ”تفصیل الآیات “میں کہتا ہے :
”دنیا نے علم و دانش مسلمانون سے لی ہے اور مسلمانوں نے یہ علوم اس قرآن سے لئے ہےں جو علم دانش کا دریا ہے اور اس سے عالم بشریت کے لئے کئی نہریں جاری ہوئی ہیں :“
دینورٹ :
یہ ایک اور مستشرق ہے ، لکھتا ہے :
ضروری ہے کہ ہم اعتراف کرلیں کہ علوم طبیعی و فلکی اور فلسفہ و ریاضیات جو یورپ میں رواج پذیر ہیں زیادہ تر تعلیمات قرآن کی برکت سے ہیں ۔ اور ہم مسلمانوں کے مقروض ہیں بلکہ اس لحاظ سے یورپ ایک اسلامی شہر ہے “(۵)
ڈاکٹر مسز لوراواکیسا گلیری:
یہ ناٹل یونیورسٹی کی پروفیسر ہیں ۔”پیش رفت سریع اسلام “میں لکھتی ہیں :
”اسلام کی کتاب اسمانی اعجاز کا ایک نمونہ ہے قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی ، قرآن کے اسلوب اور طرز کا نمونہ گزشتہ ادبیات میں نہیں پایا جاتا اور یہ طرز روح انسانی میں جو تاثیر پیدا کرتی ہے وہ اس کے امتیاز ات اور بلند یوں سے پیدا ہوتی ہے کس طرح ممکن ہے کہ یہ اعجاز آمیز کتاب محمد خود ساختہ ہو جب کہ وہ ایک ایسا عرب تھا جس نے تعلیم حاصل نہیں کی ۔ ہمیں اس کتاب میں علوم کے خزینے اور ذخیرے نظر آتے ہیں جو نہایت ہوش مند اشخاص ، بزرگ ترین فلاسفہ اور قوی ترین سیاست دان اور قانون دان لوگوں کی استعداد اور ظرفیت سے بلند ہیں اسی بنا ء پر قرآن کسی تعلیم یافتہ مفکر وعالم کا کلام ہوسکتا “(۶)
____________________
(۱)مجمع البیان ،جلد ۱۰،سورہ مدثر(۲) --”سازمانہائے تمدن امپرطوری ا سلام “
(۳)مقدمہ کتاب”عذرتقصیربہ پیش گاہمحمد و قرآن --“(یہ اصل کتاب کے فارسی ترجمہ کا حوالہ ہے ۔مترجم)
(۴)” عذر تقصیر بہ پیش گاہ محمد و قرآن“
(۵) ۔قرآن برفراز اعصار بحوالہ المعجزہ الخالدة۔
(۶) پیش رفت سریع اسلام ۔( یہ بھی اصل کتاب کے فارسی ترجمے کا حوالہ ہے ۔مترجم)
آیت ۲۵
( وبشر الذین آمنو وعملوا الصالحت ان لهم جنت تجری من تحتها الانهٰر ط کلما رزقوا منها من ثمرةرزقا قالو هذا الذی رزقنا من قبل و اتوا به متشابها ط ولهم فیها ازواج مطهرة وهم فیها خالدون ) ( ۲۵)
ترجمہ
ایمان لانے والوں اور نیک عمل بجالانے والوں کو خوشخبری دیجیے کہ ان کے لئے بہشت کے باغات ہیں جہاں درختو ں کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ جب انہیں ان میں سے پھل دیا جائے گا تو کہیں گے یہ وہی ہے جو پہلے بھی ہمیں دیا گیا تھا ( لیکن یہ اس سے کس قدر بہتر ہے) اور جو پھل ان کو پیش کئے جا ئیں گے (خوبی وزیبائی میں ) یکساں ہیں اور ان کے لئے اس میں پاکیزہ بیویاں ہیں اور وہ ہمیشہ رہیں گے۔
بہشت کی نعمات کی خصوصیات
چونکہ گذشتہ بحث کی آخری آیت میں کفار اور منکرین قرآن کو دردناک عذاب کی تہدید کی گئی ہے لہذا زیر نظر آیت میں مومنین کی سر نوشت کا تذکرہ ہے تاکہ قرآن کے روش اور طریقہ کے مطابق دونوں کے مدمقابل ہونے سے حقیقت زیادہ روشن ہو تی رہے۔
پہلے کہتا ہے کہ ان افراد کو جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے اعمال صالح انجام دیئے ہیں بشارت دے دو کہ ان کے لئے بہشت کے باغ ہیں جن کے درختون کے نیچے نہریں جاری ہیں( وبشر الذین امنو اوعملوا الصالحات ان لهم جنات تجری من تحتها الانهار ) ۔
ہم جا نتے ہیں کہ و ہ باغا ت جہاں ہمیشہ پانی نہیں ہوتا بلکہ باہر سے پانی لاکر انہیں سیراب کیا جاتا ہے ان میں زیادہ طراوت نہیں ہوتی ۔ ترو تازگی تو اس باغ میں ہو تی ہے جس کے لئے پانی کا اپنا انتظام ہو اور پانی اس سے کبھی منقطع نہ ہوتا ہو ،ایسے باغ کو خشک سالی اور پانی کی کمی کاخطرہ نہیں ہو تا اور بہشت کے باغات اسی طرح کے ہیں ۔
اس کے بعد باغوں کے گوناگوں پھلوں کے بارے میں کہا ہے ہر زمانے میں ان باغوں کے پھل انہیں دیئے جائیں گے تو وہ کہیں گے یہ تو و ہی ہے جو اس سے پہلے دیا گیا ہے (کلما رزقوا منھامن ثمرةرزقاََقالواھذاالذی رزقنامن قبل )۔
مفسرین نے اس جملہ کی کئی تفسیریں بیان کی ہیں ۔بعض کہتے ہیں اس کامقصد یہ ہے کہ نعمات ان اعمال کی جزاہیں جنہیں ہم پہلے دنیا میں انجام دیئے چکے ہیں اور موضوع پہلے سے فراہم شدہ ہے ۔
بعض کہتے ہیں کہ جس وقت جنت کے پھل دوبارہ ان کے لیئے لائیں جائیں گے تو وہ کہیں گے کہ یہ تو وہی میوہ ہیں جو ہم پہلے کھاچکے ہیں لیکن جب ا سے کھائیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ ان کا ذائقہ نیا اور لذت تازہ ہے ۔مثلاََ سیب اور انگور جو اس دنیا میں کھاتے ہیں ہر دفعہ وہی پہلے والا ذائقہ محسو س کرتے ہیں لیکن جنت کے میوے جس قدربھی ظاہراََ ایک قسم کے ہو ں ہر دفعہ ایک نیا ذائقہ دیں گے اور یہ جہاں کی خصوصیات میں سے ہے ۔
کچھ اور حضرات کے نزدیک اسکا مقصد یہ ہے کہ جنت کے میووں کو دیکھیں گے تو انہیں دنیا کے میووں سے مشابہ پائیں گے تاکہ نامانوسی کا احساس نہ ہو لیکن جب کھائیں گے تو ان میں تازگی اور بہتر ین ذائقہ محسوس کریں گے ۔
بعید نہیں کہ آیت میں ان تمام مفاہیم تفاسیر کی طرف اشارہ ہو کیونکہ قرآ ن کے الفاظ بعض اوقات کئی معنی کے حامل ہو تے ہیں(۱)
اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے ان کے لئے ایسے پھل پیش کئے جائیں گے جو ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہو گے( واتوابه متاشابهاََ ) یعنی وہ سب خوبی اور زیبا ئی میں ایک جیسے ہو ں گے وہ ایسے اعلی درجہ کے ہو ں گے کہ انہیں ایک دوسرے پر ترجیح نہ دی جاسکے گی ۔یہ اس دنیا کے میووں سے بر عکس بات ہوگی جہاں بعض کچے ہوتے ہیں اور بعض زیادہ پک جاتے ہیں ۔بعض کم رنگ اور کم خو شبو ہو تے ہیں اور بعض خشبو رنگ ،خوشبو دار اور معطر ہو تے ہیں ۔لیکن جنت کے باغات کے میوے ایک سے بڑھ کر ایک خشبو دار ،ایک سے ایک میٹھا اور ایک سے ایک بڑھ کرجاذب نظر اورزیبا ہوگا ۔اور آخر میں جنت کی جس نعمت کا ذکر کیا گیا ہے وہ پاک پاکیزہ بیویاں ہیں ۔فرمایا :ان کے لئے جنت میں مطہر وپاک بیویاں ہیں( ولهم فیها ازواج مطهره ) یہ ان تمام آلا ئشوں سے پاک ہو ں گی جو اس جہان میں ممکن ہے ان میں ہوں ۔گویا روح و دل پر نگاہ کریں تو پاک اور جسم وبدن پر نگاہ ڈالیں تو پاک ۔دنیا کی نعمات جو مشکلا ت ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جس وقت انسان کسی نعمت سے سر فراز ہوتا ہے اس وقت اس کے زوال کی فکر بھی لاحق رہتی ہے اور اس کا دل پریشان ہو جاتا ہے ،اسی بناء پر یہ نعمتیں کبھی بھی اطمینان بخش نہیں رہتیں ۔لیکن جنت کی نعمتیں چونکہ ابدی اور جاودانی ہیں ان کے لئے فنا اور زوال نہیں ہے ۔لھٰذا وہ ہر جہت سے کامل اور اطمینان بخش ہیں اس کے آخر میں فرمایا ؛مومنین ہمیشہ ہمیشہ ان باغات بہشت میں رہیں گے ۔( وهم فیها خلدون ) ۔
____________________
(۱) لفظ کے ایک سے زیادہ معانی میں استعمال کی بحث میں ہم نے ثابت کیا ہے
( ۱) ایمان وعمل :
قرآن کی بہت سی آیات میں ایمان اور عمل ِصالح ایک ساتھ بیان کئے گئے ہیں یہ ایک طرح کی اس بات کی نشان دہی ہے کہ ان میں جدائی نہیں ہوسکتی اور حقیقتاَ ایسا ہی ہے کیونکہ ایمان وعمل صالح ایک دوسر ے کی تکمیل کرتے ہیں اگر ایمان روح کی گہرائیو میں اتر جائے تو یقینا اس کی شعاع انسان کے اعمال کو بھی روشن کرے گی اور اسکے عمل کو عمل ِصالح بنادے گی جیسے کوئی چراغ پر نور کسی کمرے میں جلادیں توروشندان اور دریچو ں سے باہر بھی اس کی کرنیں دکھائی دیتی ہیں سورہ طلاق آیت ۱۱ میں ہے( ومن یومن باالله ویعمل صالحایدخله جنت تجری من تحتهاالانهارخلدین فیهاابدا ) جو خدا پر ایمان لے آئے اور عمل صالح انجام دے اسے خدا باغات بہشت میں داخل کرے گا جہاں درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اورجہا ں جا نے والے ہمیشہ اس میں رہیں گے سورہ نور آیت ۵۵ میں ہے( وعدالله الذین آمنوامنکم وعملوالصالحات لیستخفنهم فی الارض ) جو افراد ایمان لے آئیں اوراعمال صالح انجام دیں خدا کا انسے وعدہ ہے کہ وہ انہیں روئے زمین کا خلیفہ بنائے گا اصلی طور پر ایمان جڑ ہے اورعمل صالح اس کا پھل اور میٹھے پھل کا وجود جڑکی سلامتی کی دلیل ہے اور جڑ کی سلامتی مفید پھل کی پرورش کا سبب ہے ممکن ہے بے ایمان لوگ کبھی کبھی عمل صالح انجام دیں لیکن یہ مسلم ہے کہ اس میں دوام اور ہمیشگی نہیں ہو گی ایمان جو عمل صالح کا ضامن ہے ایسا ایمان ہے جس کی جڑیں وجود انسانی کی گہرائیوں میں پہنچی ہوئی ہوں اور ان کی وجہ سے انسان میں احساس مسولیت پیداہو
( ۲) پاکیزہ بیویاں :
یہ امر قابل غور ہے کہ جنت کی بیویوں کی اس آیت سے صرف ایک صفت ”مطھرة“ بیان کی گئی ہے ۔ صفت مطہرة (یعنی پاک وپاکیزہ ) کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بیوی کے لئے سب سے پہلی اور اہم ترین شرط پاکیزگی ہے باقی صفات سب اس کے ماتحت ہیں ۔پیغمبر اکرم کی ایک مشہور حدیث اس حقیقت کو روشن کرتی ہے ۔آپ نے فرمایا :
ایاکم وخضراء الدمن ،قیل :یا رسول الله وماخضراء الدمن ،قال المرئة الحسناء فی منبت السوء ۔ان سبز یوں سے پرہیز کرو جو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر اگیں ۔عر ض کیا گیااے اللہ کے رسول آپ کا مقصد اس سبزی سے کیا ہے ۔آپ نے فرمایا : خوبصورت عورت جس نے گندے خاندان میں پرورش پائی ہو(۱)
____________________
(۱) وسائل الشیعہ ، جلد ۱ ،ص۱۹ ۔
جنت کی مادی و معنوی نعمات :
اگر چہ بہت سی آیات قرآنی میں مادی نعمتوں سے متعلق گفتگو ہوئی ہے مثلا باغات جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ، قصر ومحلات پاکیزہ بیویاں ،رنگ برنگے پھل اور میوے اور ہم مزاج دوست وغیرہ مگر ان کے ساتھ ساتھ اہم ترین معنوی نعمات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جن کی عظمت و رفعت کو ہمارے پیمانوں سے ناپنا ممکن نہیں ۔ مثلا سورہ توبہ آیہ ۷۲ میں ہے:( وعد الله المومنین والمومنٰت جنٰت تجری من تحتها الانهٰر خالدین فیها ومسٰکن طیبةفی جنٰت عدن ورضوان من الله اکبر ذلک هوالفوز العظیم )
خدا وند عالم نے ایماندار مردوں اور عورتوں سے باغات جنت کا وعدہ کیا ہے جن کے درختوں تلے نہریں جاری ہیں اور وہ ہمیشہ وہیں رہیں گے اور ان کے لئے دائمی بہشتوں میں پاکیزہ مکانات ہیں اور اسی طرح پروردگار کی خوشنودی بھی جو ان سب سے بالا تر ہے اور یہ عظیم کامیابی ہے :
سورہ بینہ کی آیہ ۸ میں جنت کی مادی نعمتوں کے تذکرے کے بعد فرمایا گیا ہے؛( رضی الله عنهم و رضوا عنه )
خدا وند عالم ان سے خوش ہے اور وہ بھی خدا سے خوش ہیں ۔
سچ تو یہ ہے کہ اگر کو ئی شخص اس مقام پرپہنچ جائے کہ اسے احساس ہوکہ خدااس سے راضی ہے اور وہ بھی خدا سے راضی ہے تووہ تمام لذات کو بھلا دیتا ہے صرف اسی سے دل لگالیتا ہے اس کے علاوہ اپنی فکر میں کچھ نہیں لاتا اور یہ ایسی روحانی لذت ہے ۔کسی طرح بھی زبان وبیاں سے ادا نہیں کی جاسکتی ۔
خلاصہ کلام یہ کہ چو نکہ قیامت ومعاد میں روحانی پہلو بھی ہے اور جسمانی بھی لہذاجنت کی نعما ت بھی دونوں پہلو رکھتی ہیں تاکہ انہیں جامعیت حاصل ہواورہر شخص اپنی استعداد اور شائستگی کے مطابق بہرور ہوسکے ۔
آیت ۲۶
( ان الله لایستحی ان یضرب مثلاََما بعوضةفما فوقها فاماالذین آمنوا فیعلمون انه الحق من ربهم واما الذین کفروا فیقولون ماذاارادالله بهذا مثلا ً یضل به کثیرا لاویهدی به کثیرا طوما یضل به الاافاسقین ) (۲۶)
ترجمہ
۶۲ ۔خدا وندعالم مچھر یا اس سے بڑھ کر کو ئی مثال دینے میں جھجھکتا نہیں (اسلئے کہ ) جو لوگ ایمان لاچکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پرودگار کی طرف سے حقیقت ہے لیکن جنہوں نے راہ کفر اختیار کی ہے(ا س موضوع کوبہانہ بناکر۔)
کہتے ہیں کہ خدا کا مقصد اس مثال سے کیا تھاخدااس سے بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدیت کر تا ہے لیکن گمراہ صرف فاسقو کو کر تا ہے ۔
کیا خدا بھی مثال دیتا ہے؟
مندر جہ میں سے پہلی آیت کہتی ہے کہ خداوند عالم اس سے نہیں شرماتا کہ وہ اپنی موجودات میں سے جسے چاہے ظاہراًوہ چھوٹی سی ہوجیسے مچھر یا اس سے بھی بڑھ کر کسی چیز کی مثال دے( انالله لایستحی ان یضرب مثلا ًبعوضةفمافوقها ) کیونکہ مثال کے لئے ضروری ہے کہ وہ مقصد کے مطابق ہو بہ الفاظ دیگر مثال حقیقت کی تصویر کشی کاذریعہ ہے ۔
بعض اوقات کہنے والا ہد عیان کی تحقیر اور ان کے کمزور پہلو کو بیان کررہا ہو تو کسی کمزور چیز کو مثال کے لئے منتخب کر تا ہے مثلا ًسورہ حج آیت ۷۳ میں ہے :( ان الذین تدعون من دون الله لن یخلقوا ذبابا ولواجتمعو له ط و ان یسلبهم الذباب شیئا لا یستنقذوه منه ط ضعف الطالب والمطلوب )
خدا کو چھوڑکر جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے چاہے وہ سب مل کر اس کی کوشش کریں بلکہ اگر مکھی کوئی چیز ان سے چھین کر لے جائے تو وہ اس سے واپس لینے کی قدرت نہیں رکھتے ۔ طلب کرنے والا اور جس سے طلب کی جارہی ہے دونوں کمزور ہیں ۔
آپ نے دیکھا کہ یہاں مکھی یا اس جیسی کسی چیز کی مثال سے بہتر کسی چیز کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی جو ان کی کمزوری اور ناتوانی کی تصویر کشی کرے۔
سور ہ عنکبوت میں جب اس نے چاہا کہ بت پرستوں کے سہاروں کی کمزوری کی تصویر کشی کرے تو انہیں مکڑی سے تشبیہ دی جس نے اپنے لئے کمزور سے گھر کا انتخاب کیا ہے کیونکہ دنیا میں کمزور ترین گھر عنکبوت ہی کا ہے :
( مثل الذ ی ا تخذومن دون الله اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا ط وان اوهن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون ) (عنکبوت ۴۱)
یہ بات مسلم ہے کہ اگر ان مواقع پر ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی مثال کے بجائے عالم خلقت کی بڑی سے بڑی چیزوں مثلاََ ستاروں اور وسیع آسمانوں کی مثال پیش کی جائے تو بہت ہی نامناسب ہوگا اور اصول فصاحت وبلاغت کے بل کل مطابق نہ ہوگا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں خداوند عالم فرماتا ہے کہ ہمیں انکار نہیں کہ ہم مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کی مثال دیں تاکہ حقائق عقلی کو حسی مثالوں کے لباس میں پیش کیا جاسکے اور پھر انہیں بندوں کے اختیار میں دیں ۔
خلاصہ یہ کہ غرض تو مقصد پہنچانا ہے مثالیں ایسی قبا کی مانند ہونا چاہئے جو قامت مطالب پر فٹ آسکیں ۔
”فما فوقها “ کا مقصود کیا ہے اس کی مفسرین نے دو قسم کی تفسیریں کی ہیں :
ایک گروہ کے مطابق اس سے مراد ”چھوٹے ہونے میں بڑھ کر “ ہے کیونکہ مثال چھوٹے ہونے کا بیان کررہی ہے لہذا اس سے بڑھ کر یا اس سے اوپر ہونا بھی اسی نظر سے ہے ۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہم کسی سے کہیں کہ ایک روپیہ کے لئے کیوں اتنی زحمت اٹھا رہے ہو تمہیں شرم نہیں آتی اور وہ جواب دے کہ میں تو اس سے اوپر کے لئے بھی تکلیف اٹھاتا ہوں یہاں تک کہ ایک آنے کے لئے بھی ۔
بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد اوپر سے بڑے ہونے کے لحاظ سے ہے “یعنی خدا وند عالم چھوٹی چیزوں کی مثالیں بھی دیتا ہے اور بڑی کی بھی ،مقتضائے حا ل کے مطابق ۔
پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ۔
اس گفتگو کے بعد فرماتا ہے :رہے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ بات ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے( فاما الذین آمنوا فیعلمون انه الحق من ربهم ) وہ ایمان اور تقوی کی روشنی میں تعصب ، عناد اور حق سے کینہ پروری سے دور ہیں اور وہ حق کے چہرے کو پوری طور سے دیکھ سکتے ہیں اور خدا کی دی ہوئی مثالوں کی منطق کا ادراک کرسکتے ہیں ۔
لیکن جو لوگ کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا کا اس مثال سے کیا مقصد تھا جو تفرقہ اور اختلاف کا سبب بن گئی ایک گروہ کی اس وجہ سے ہدایت کی ہے اور دوسرے کے گمراہ کیا ہے( و اما الذین کفروا فیقولون ماذا اراد الله بهٰذا مثلا یضل به کثیرا و یهدی به کثیرا ) ان کے نزدیک یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ مثالیں خدا کی طرف سے نہیں ہیں کیونکہ خدا کی طرف سے ہوتیں تو سب لوگ اسے قبول کرلیتے ۔
مگر خدا انہیں ایک مختصر اور دو ٹو ک جواب دیتا کہ وہ اس کے ذریعہ صرف فاسقوں اور گنہگاروں کو جو حق کے دشمن ہیں گمراہ کرتا ہے( وما یضل به الاالفاسقین )
اس بناء پر یہ ساری گفتگوخدا کی ہے اور نور وہدایت ہے البتہ چشم بینا کی ضرورت ہے جو استفتاء کرے اب اگر یہ دلوں کے اندھے مخالفت اور ڈھٹائی پر اتر آئے ہیں تو اس میں ان کا اپنا ہی نقصان اور خسارہ ہے ورنہ ان آیات الہی میں کوئی نقص نہیں(۱)
____________________
۱ ) بعض مفسرین کہتے ہیں کہ جملہ یضل بہ کثیراخدا کا کلام ہے نہ کہ کفار کا ۔اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ان مثالوں کا کیا مقصد ہے ان کے جواب میں خدا فرماتا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو ہدایت کرے اور بہت سوں کو گمراہ کردے فاسقین کے علاوہ کوئی گمراہ نہیں ہوتا (لیکن پہلی تفسیر صحیح معلوم ہوتی ہے)
( ۱) حقائق کے بیان کرنے میں مثال کی اہمیت:
حقائق واضح کرنے اور مطالب کو دل نشیں بنانے کےلئے مختلف مثالیں پیش کی جاتی ہیں اور ان کی اثر آفرینی ناقابل انکار ہے۔
بعض اوقات ایک مثال کا تذکرہ راستے کو اتنا کم کردیتا ہے کہ زیادہ فلسفیانہ استدلال کی زحمت وتکلیف سے کہنے اور سننے والے دونوں کو نجات مل جاتی ہے۔
زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پیچیدہ علمی مطالب کو عمومی سطح تک عام اور وسیع کرنے کے لئے مناسب مثالوں سے استفادہ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں ہے ۔
ڈھٹائی پسند اور حیلہ ساز لوگوں کو خاموش کرنے کے لئے مثال کی تاثیر کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا ۔
بہرحال معقول کو محسوس سے تشبیہ دینا مسائل علمی عقلی کو سمجھانے کے لئے ایک مو ثر طریقہ ہے ( البتہ جیسا کہ ہم کہ چکے ہیں مثال مناسب ہونی چا ہیے ورنہ گمراہ کن ،اتنی ہی خطرناک اور مقصد سے دور کرنے والی ہوگی ) اسی بنا ء پر قرآن میں ہمیں بہت سی مثالیں ملتی ہیں جن میں سے ہر ایک بہت پر کشش ، بہت میٹھی اور بہت تاثیر ہے کیونکہ تمام انسانوں ، ہر سطح کے افراد اور فکر ومعلومات کے لحاظ سے ہر درجہ کے لوگوں کے لئے یہ کتاب انتہائی فصیح و بلیغ ہے۔(۱)
____________________
(۱)انسانی زندگی میں مثال کی تاثیر کس قدر ہے اس سلسلے میں سورہ رعد کی اایہ ۱۷ میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے جسے تفسیر نمونہ کی جلد دہم میں ماحظہ کیجیئے ۔
( ۲) مچھر کی مثال کیوں :
بہانہ سازوں نے اگر چہ مچھر اور مکھی کے چھوٹے پن کو آیات قرآن سے استہزا اور اعتراضات کا ذریعہ بنا لیا ہے لیکن اگر ان میں انصاف ،ادراک اور شعور ہوتااور اس چھوٹے سے جانور کی ساخت اور بناوٹ پر غور وفکر کرتے تو سمجھ لیتے کہ اس کے بنانے میں باریک بینی اور عمدگی کی ایک دنیا صرف ہوئی ہے کہ جس سے عقل حیران رہ جاتی ہے ۔امام جعفر صادق اس چھوٹے سے حیوان کی خلقت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :
خداوند عالم نے مچھر کی مثال دی ہے حالانکہ وہ جسامت کے لحاظ سے بہت چھوٹا ہے لیکن اس کے جسم میں وہ تمام آلات اور اعضاء وجوارح ہیں جو خشکی کے سب سے بڑے جانور کے جسم میں ہیں ۔ یعنی ہاتھی اور اس کے علاوہ بھی اس کے دو عضو( سینگ اور پر ) ہیں جو ہاتھی کے پاس نہیں ہیں ۔ خدا وند عالم یہ چاہتا ہے کہ مومنین کو اس مثال سے خلقت و آفرینش کی خوبی اور عمدگی بیان کرے ، یہ ظاہر َا ِا کمزور سا جانور جسے خدا نے ہاتھی کی طرح پیدا کیا ہے اس میں غور وفکر انسان کو پیدا کرنے والے کی عظمت کی طرف متوجہ کرتا ہے ۔
خصوصا اس کی سونڈجو ہاتھی کی سونڈ کی طرح ہے اندر سے خالی ہے اور وہ مخصوص قوت سے خون کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔اس کی یہ ٹونٹی دنیا کی عمدہ ترین سرنگ ہے اور اس کے اندرونی سوراخ بہت باریک ہے ۔
خدا نے مچھر کو قوت جذب ودفع اور ہاضمے کی قوت دی ہے ۔ اسی طرح اسے مناسب طور پر ہاتھ، پاؤں اور کان دیئے ہیں ،اسے پر دیئے ہیں تاکہ غذا کی تلاش کرسکے اور پر اس تیزی سے اوپر نیچے حرکت کرتے ہیں کہ آنکھ سے ان کی یہ حرکت دیکھی نہیں جاسکتی ۔ یہ جانور اتنا حساس ہے کہ صرف کسی چیز کے اٹھنے سے خطرہ محسوس کرلیتا ہے اور بڑی تیزی سے اپنے آپ کو خطرے کی جگہ سے دور لے جاتا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ انتہائی کمزور ہونے کے باوجود بڑے سے بڑے جانور کو عاجز کردیتا ہے ۔حضرت امیر المومنین علی کا اس سلسلہ میں ایک عجیب وغریب خطبہ نہج البلاغہ میں ہے۔آپ نے فرمایا :اگر دنیا جہاں کے سب زندہ موجودات جمع ہوجائیں اور باہم مل کے کوشش کریں کہ ایک مچھر بنالیں تو وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکتے بلکہ اس جاندار کی خلقت کے اسرار پر ان کی عقلیں دنگ ر ہ جا ئیں گی۔ ان کے قویٰ عاجز آجائیں گے اور وہ تھک کر انجام کو پہنچ جائیں گے ۔ تلاش بسیار کے بعد با لا ٓخر شکست خوردہ ہوکر اعتراف کریں گے کہ وہ مچھر کی خلقت کے معاملے میں عاجز ہیں اور اپنے عجز کا اقرار کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسے نابود کرنے سے بھی عاجز ہے ۔(۱)
____________________
(۱) نہج البلاغہ۱۸۶
( ۳) خداکی طرف سے ہدایت وگمراہی :
گذشتہ آیت کا ظاہری مفہوم ممکن ہے یہ شک پیدا کرے کہ ہدیت اور گمراہی میں جبر کا پہلو ہے اور اس کا دارومدار خدا کی چاہت پر ہے جب کہ اس آیت کا آخری جملہ اس حقیقت کو آشکا ر کرتا ہے کہ ہدا یت وضلالت کا سرچشمہ ا نسان کے اپنے اعمال ہیں ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ انسان کے اعمال وکردار کے ہمیشہ خاص نتا ئج وثمرات ہو تے ہیں ان میں سے اگر عمل نیک ہو تو اس کا نتیجہ روشن ضمیری ،توفیق الہی،خداکی طرف سے ہدایت اور بہترانجام کارہے ۔
سورہ انفال کی آیت ۲۹ اس بات کی گواہ ہے ۔ارشاد ہے:( یاایهاالذین امنوا ان تتقواالله یجعل لکم فرقاناََ )
اے ایمان والو !اگر پرہیز گاری کو اپنا لو تو خدا تمہیں تمیز حق وباطل اور روشن ضمیر ی عطاکرے گا۔
اور اگر انسان برے کاموں کے پیچھے لگا رہے تو اس کے دل کی تیر گی اور بڑھ جائے گی اور وہ گناہ کی طرف اس کارجحان زیادہ ہو گا بلکہ بعض اوقات انکار خدا تک پہنچ جائے گا ۔
اس کی شاہد سورہ رو م کی آیت ۱۰ ہے جس میں فرمایا ہے:( ثم کان عاقبةالذین اساٰء والسوایٰ ان اکذب بٰایٰات الله وکانوا بها یستهزؤن )
برے انجام دینے والے اس مقام پر جا پہنچے ہیں کہ اب آیات الہی کا مذاق اڑانے لگے ہیں ۔
ایک اور آیت میں ہے۔( فلما زاغو ازاغ الله قلوبهم )
جب حق سے پھر گئے تو خدا نے بھی ان کے دلوں کو پھیر دیا (صف ۵۰)
زیر بحث آیت بھی اسی مفہوم کی شاہد ہے کہ جب وہ فرماتا ہے( وما یضل به الاالفٰسقین ) یعنی خدا فاسقین ہی کو گمراہ کرتا ہے ۔
اس بنا ء پراچھے یا برے راستے کا انتخاب پہلے ہی سے خود ہمارے اختیار میں ہے ا س حقیقت کو ہر شخص کا وجدان قبول کرتا ہے ۔انتخا ب کے بعد اس کے قہری نتائج کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مختصر یہ کہ قرآن کے مطابق ہدایت وضلالت اچھے یا برے راستے کے جبری اختیار کا نام نہیں بلکہ قرآن کی متعدد آیات شہادت دیتی ہیں کہ ہدایت کے معنی ہیں سعادت کے وسائل فراہم ہونا اور ضلالت کا مطلب ہے مساعد حالات کا ختم ہو جانا ،لیکن اس میں جبر کا پہلونہیں ہے اور یہ اسباب کا فراہم کرنا ( جس کا نام ہمارے نزدیک توفیق ہے ) یا اسباب ختم کردینا (جسے ہم سلب توفیق کہتے ہیں ) انسان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے ۔
اس حقیقت کو ہم ایک سادہ سی مثال سے پیش کر سکتے ہےں ۔ جب انسان کسی گرنے کی جگہ یا کسی خطرناک بڑی نہر سے گذرتا ہے تو وہ جتنا اپنے آپ کو نہر سے قریب تر کرتا ہے اس کے پاؤں کی جگہ زیادہ پھسلنے والی ہوتی ہے ایسے میں گرنے کا احتما ل زیادہ اور نجات پانے کا کم ہو جاتا ہے اور انسان جتنا اپنے آپ کو اس سے دور رکھے گا اس کے پاؤں رکھنے کی جگہ زیادہ محکم اور اطمینان بخش ہوگی اور گرنے کا احتمال کم ہوگا ، ان میں سے ایک کا نام ہدایت اور دوسرے کا ضلالت ہے ۔ اس گفتگو سے ان لوگوں کی بات کا جواب پورے طور پر واضح ہو جائے گا جو آیات ہدایت و ضلالت پر اعتراض کرتے ہیں ۔
( ۴) فاسقین
:فاسقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو عبودیت وبندگی کے دستور سے پاؤں باہر نکالیں کیونکہ اصل لغت میں فسق گٹھلی کے کھجور سے باہر نکلنے کو کہتے ہیں ۔اس کے معنی کو وسعت دے کر ان لوگوں کے لئے یہ لفظ بولا گیا ہے جو خدا کی بندگی کی شاہراہ سے الگ ہوجاتے ہو جائیں ۔
آیت ۲۷
( الذین ینقضون عهد الله من بعد میثاقه و یقطعو ن ما امر الله بهٰ ان یو صل و یفسدون فی الارض اولٰئک هم الخٰسرون ) ( ۲۷ )
ترجمہ
۲۷ ۔ فاسق وہ ہیں جو خدا سے محکم عہد وپیمان کرنے کے بعد اسے توڑ دیتے ہیں وہ تعلق جنہیں خدا نے برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں توڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ۔ یہی لوگ خسارے میں ہیں
حقیقی زیاں کار
گذشتہ آیت کے آخر میں چونکہ فاسقین کے گمراہ ہونے سے متعلق گفتگو تھی لہذا اس آیت مین ان کی تین صفات بیان کرکے انہیں مکمل طور پر مشخص کردیا گیا ہے ۔ ذیل میں ان علامات وصفات کا جائزہ پیش کیا جاتا ہے ۔
( ۱) فاسق وہ ہیں جوخدا سے محکم عہد وپیمان باند ھ کر توڑ دیتے ہیں( الذین ینقضون عهد الله من بعد میثاقه ) ۔
حقیقت یہ ہے کہ ا نسانوں نے خدا سے مختلف پیمان باند ھ رکھے ہےں ۔ توحید و خدا شناسی کا پیغام اور شیطان اور نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے کا پیمان ۔فاسق ان تمام پیمانوں کو توڑ دیتا ہے وہ فرمان حق سے سرتابی کرتا ہے اور شیطان اور خواہشات نفسانی کی پیروی کرتا ہے۔
یہ پیمان کہاں اور کس طرح باندھا گیا تھا :یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ پیمان تو دو طرفہ معاملہ ہے ہمیں بل کل یاد نہیں کہ ہم نے گذشتہ زمانے میں اس سلسلہ میں اپنے پروردگارسے کوئی عہد وپیمان کیا ہو۔
ایک نکتہ کی طرف متوجہ ہونے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ روح کی گہرائی اور سرشت انسا ن کے باطن میں ایک مخصوس شعور اور کچھ خاص قسم کی قوتیں پا ئی جاتیں ہیں جنکی ہدایت کے ذریعہ انسان سیدھی راہ اختیار کرسکتا ہے اور اسی ذریعہ سے وہ خواہش نفس کی پیروی سے بچتے ہوئے رہبران الہی کی دعوت کا مثبت جواب دے سکتا ہے اور خود کو اس دعوت سے ہم آہنگ کرسکتا ہے ۔
قرآن اس مخصوص فطرت کو عہد وپیمان الہی قرار دیتا ہے حقیقت میں یہ ایک تکوینی پیغام ہے نہ کہ تشریعی و قانونی ۔ قرآن کہتا ہے :( الم عهد الیکم یا بنی آدم ان لا تعبدوا الشیطان ج انه لکم عدو مبین و ان اعبدونی هذا صراط مستقیم )
اے اولاد آدم ---- کیا ہم نے تم سے یہ عہد و پیمان نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا جو تمہارا واضح دشمن ہے اور میری ہی عبادت کرنا جو سیدھا راستہ ہے (یسین ، ۶۱۰۶۰)
واضح ہے کہ یہ اسی فطرت توحید و خدا شناسی کی طرف اشارہ ہے اور انسان میں راہ تکامل طے کرنے کا جو عشق ہے اس کی نشاندہی ہے ۔
اس بات کے لئے دوسرا شاہد وہ جملہ ہے جو نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں موجود ہے :
وبعث فیهم رسله وواتر الیه ا نبیائه یستادوه میثاق فطرته :
خدا وند عالم نے یکے بعد دیگرے لوگوں کی طر ف ا پنے رسول بھیجے تاکہ ان سے یہ خواہش کریں کہ وہ اپنے فطری پیمان پر عمل کریں ۔
مزید واضح الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ خدا نے انسان کو ہر نعمت وافر دی ہے اور اس کے ساتھ عملی طور پر اس سے زبان آفرینش میں عہد وپیمان لیا ہے ۔ اسے آنکھ دی ہے تاکہ اس سے حقائق کو دیکھ سکیں کان دیا تاکہ حق کی آواز سن سکے اور اسی طرح دیگر نعمات ہیں ۔
جب انسان اپنی فطرت کے مطابق عمل پیرا نہ ہو یا خدا داد قوتوں کا غلط استعمال کرے تو گویا اس نے عہد وپیمان خدا کو توڑ دیا ۔فاسق تمام کے تمام یا ان میں سے بعض فطری پیمانوں کو پاؤں تلے روند ڈالتے ہیں ۔
( ۲) اس کے بعد قرآن فاسقین کی دوسری علامت کی نشاندہی یوں فرماتا ہے : جو تعلق خدا سے قائم رکھنے کو کہا ہے وہ انہیں منقطع کردیتے ہیں ( ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل )۔
بہت سے مفسرین نے اگرچہ اس آیت کو قطع رحمی اور عزیزداری کے رشتے کو منقطع کرنے سے مخصو ص سمجھا ہے لیکن مفہوم آیت پر گہرا غور نشاندہی کرتا ہے کہ اس کے معنی زیادہ وسعت اور زیادہ عمومیت رکھتے ہےں جس کی بنا پر قطع رحم اس کا ایک مصداق ہے کیونکہ آیت کہتی ہے کہ فاسقین ان رشتوں اور تعلقات کو منقطع کردیتے ہیں جنہیں خدا نے برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے اب یہ پیوند ، رشتہ داری کے ناتے اور دوستی کے ناتے ، معاشرے کے ناتے ، خدائی رہبروں سے ربط و پیوند اور خدا سے رابطہ سب پر محیط ہیں لہذا آیت کو قطع رحمی اور رشتہ داری کے رابطوں کو روند نے کے معنی میں منحصر نہیں کرنا چاہیئے۔
یہی وجہ ہے کہ مفسرین کے نزدیک اس آیت سے مراد انبیاء ومومنین سے رابطہ منقطع کرنا ہے،بعض کے نزدیک اس کامفہو م انبیا ء اور اآسمانی کتابوں سے رابطہ قطع کر نا ہے کیونکہ خدانے ان سے رابطہ استوار رکھنے کا حکم دیا ہے واضح ہے کہ یہ تفسیریں بھی آیت کے مفہوم کا جز ہیں
بعض روایت میں ”( ماامرالله به ان یوصل ) “کی تفسیر امیرالمومنین اور اہلبیت سے مربوط کی گئی ہے ۔(۱)
( ۳) فاسقین کی ایک اورعلامت زمین میں فساد پیدا کرنا ہے جس کی آخری مرحلے میں نشان دہی کی گئی ہے ۔وہ زمین میں فساد پیدا کر تے ہیں( ویفسدون فی الارض ) ۔
یہ واضح ہے کہ جنہوں نے خداکو بھلادیا ہے ،اس کی اطاعت سے رخ موڑلیا ہے اور اپنے رشتہ داروں سے رحم اور شفقت کا برتاو نہیں کرتے وہ دوسروں سے کیسا معاملہ کریں گے۔وہ اپنے مقصد براری ،اپنی لذتوں اورذاتی فائدوں کی فکرمیں رہیں گے ۔معاشرے کی حالت کچھ بھی ہو انہیں کوئی فرق ن نہیں پڑتا ان کا ہدف تو یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے اور اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی جائے ۔اس ہدف وغرض تک پہونچنے کے لئے وہ کسی بھی غلطی کی پرواہ نہیں کرتے ۔ واضح ہے کہ اس طرز فکروعمل سے معاشرے میں کیسے کیسے فسادات پیدا ہوتے ہیں ہیں ۔
زیرے بحث آیت کے آخر میں ہے کہ یہی لوگ زیاں کار اور خسارہ اٹھانے والے ہیں( اولئک هم ا لخاسرون ) ۔واقعاَایسا ہی ہے ۔اس سے تدبیر کیا خسارہ ہو گاکہ وہ تمام مادی اور روحانی سرمایہ جس سے انسان بڑے بڑے اعزاز اور سعادتیں حاصل کرسکتا ہے ۔اسے اپنی فناونابودی ،بدبختی اورسیاہ کاری کی راہ میں خرچ کر دے اور جو لوگ مفہوم فسق کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اطاعت کے مرکز سے خارج ہوگئے ہیں ان کی قسمت میں اس کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے ۔
____________________
(۱) نورالثقلین ،جلد ،۵۴(مزید توضیح کے سلسلے میں نیز انروایات کے لئے جو ان ہیوندوں کے مفہوم کی وسعت سے متعلق ہیں اسی تفسیر (نمونہ)میں سورہرعد کی آیہ۲۱ کے ذیل میں ملاحظہ کیجئے)
( ۱) اسلام میں صلہ رحمی کی اہمیت :
گذ شتہ آیت اگرچہ تمام خدائی ناتوں کے احترام کے متعلق گفتگو کرتی ہے لیکن بلا شک وتردد رشتہ داری کاناتا اور تعلق اس کا واضح اور روشن مصداق ہے ۔
اسلام صلہ رحمی ، عزیزوں کی مددو حمایت اور ان سے محبت کر نے کی بہت زیادہ احمیت کا قا ئل ہے او ر قطع رحمی اور رشتہ داروں اور عزیزوں سے رابطہ منقطع کر نے کو سختی سے منع کر تا ہے ۔
صلہ رحمی کی اتنی اہمیت ہے کہ رسول اکرم فرماتے ہیں ۔صلةالرحم تعمرالدیار وتزیدفی الاعماروان کان اهلهاغیراخیار
رشتہ داروں سے صلہ رحمی شہروں کی آبادی کاباعث ہے اور زندگیاں اس سے بڑھتی ہیں اگر چہ صلہ رحمی کرنے والے لوگ اچھے نہ ہوں ۔(۱)
امام صادق کے ارشاد میں سے ہے ؛صل رحمک ولوبشربةمن ماء وافضل مایوصل به الرحم کف الاذی عنها
رشتہ داری کی گرہ اور نا تے کو مضبوط کرو چاہے پانی کے ایک گھونٹ سے ہوسکے اور ان کی خدمت کابہترین طریقہ یہ ہے کہ (کم ازکم )تم سے انہیں کوئی تکلیف واذیت نہ پہنچے۔(۲)
قطع رحمی کی قباحت اور گناہ اس قدر ہے کہ امام سجاد نے اپنے فرزندکو نصیحت کی کہ وہ پانچ گروہوں کی صحبت سے پرہیز کریں اور ان پانچ گروہوں میں سے ایک قطع رحمی کرنے والے ہیں :وایاک ومصاحبةالقاطع لرحمه فانی وجدته ملعونافی کتاباالله
قطع رحمی کر نے والے کی معاشرے سے پر ہیزکرو کیونکہ قرآن نے ا سے ملعون اور خدا کی رحمت سے دور قرار دیا ہے(۳)
سورہ محمدآیہ ۲۲،۲۳ میں ارشاد ہے:فهل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوافی الارض وتقطعواارحامکم اولئک الذین لعنهم الله ۔
پس اسکے سوا تم سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ اگر اقتدار تمہا ر ے ہاتھ آجائے تو زمین میں فساد برپا کردو اور قطع رحمی کرو ۔ایسے ہی لوگ خداکی لعنت کے سزاوار ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ قر آن میں قطع رحمی کرنے والو ں اور رشتے داری کے پیوندکوتوڑنے والوں کے لئے سخت احکامات ہیں اور احادیث اسلامی بھی ان کی شدید مزمت کر تی ہیں ۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ سے پوچھا گیا کہ خدا کی بارگاہ میں سب سے زیادہ مغضو ب کون ساعمل ہے تو آپ نے جواب میں فرمایا خداسے شرک کرناپوچھا ا س کے بعد کون سا عمل زیادہ باعث غضب الہی ہے تو فرمایا:قطع رحمی۔(۴)
اسلام نے جو رشتہ داری کی اس قدر حفاظت ونگہداری کی تاکید کی ہے اس کی وجہ یہ ہے ایک عظیم معاشر ے کا استحکام ترقی ، تکامل اور اسے عظیم تر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کام چھوٹی اکائیوں سے شروع کیا جائے یہ عظمت اقتصادی اور فوجی لحاظ سے درکار ہویا روحانی و اخلاق لحاظ سے ،جب چھوٹی سے چھوٹی اکائیوں میں پیش رفت اورخود بخود اصلاح پزیر ہو جا ئیگا۔
اسلام نے مسلمانو ں کی عظمت کے لئے اس روش سے پورے طور پر فائدہ اٹھایا ہے ۔اس نے اکائیو ں کی اصلاح کاحکم دیا ہے اور عموماََ لوگ ان کی مدد ،اعانت اور انہیں عظمت بخشنے سے روگردانی نہیں کرتے کیونکہ ایسے افراد کی بنیادوں کو تقویت پہنچانے کی نصیحت کرتا ہے جن کا خون ان کے رگ وریشہ میں گردش کررہا ہے اور جو ایک خاندان کے ارکان ہیں ۔واضح ہے کہ جب رشتہ داری کے چھوٹے گروپ کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو بڑا گروپ بھی عظمت حاصل کر ے گا اور ہر لحاظ سے قوی ہو گا ،وہ حدیث جس میں ہے کہ ”صلہ رحمی شہروں کی آباد ی کا باعث ہے “غالباََ اسی طرف اشارہ کرتی ہے
( ۲) جوڑنے کے بجائے توڑنا :
یہ قابل غور ہے کہ آیت کی تعبیر میں اس طرح ہے کہ خدانے جس چیز کو جوڑ نے کا حکم دیا ہے فاسق اسے توڑتے ہیں ۔یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا قطع کرنا وصل سے پہلے ممکن ہے ؟جواب میں ہم کہتے ہیں کہ وصل سے مقصد ان رو ا بط کو جاری رکھناہے جو خد ا وند عالم نے اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان یا بندوں میں سے ایک دوسرے کے درمیان طبعی طور پرا ور فطری طور پر قائم کئے ہیں ۔دوسرے لفظوں میں خدا نے حکم دیا ہے کہ ان فطری اور طبعی رابطوں کی محافظت وپاسداری کی جائے لیکن گنہ گار انہیں قطع کردیتے ہیں (اس پر خصوصی غور کیجئے )
____________________
۱- سفینةالبحار،جلد ۱،ص۵۱۴۲- سفینة البحار ،جلد ۱ ،ص۵۱۴
(۳)سفینة البحار ،جلد ۱ ص۵۱۶ (مادہ رحم )
(۴)سفینة البحار (مادہ رحم )
آیات ۲۸،۲۹
( کیف تکفرون بالله وکنتم اموتاََ فاحیاکم ج ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم الیه ترجعون ) ۲۸ ۔
( هوالذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاََ ق چم استویٰ الی السماء فسوهن سبع سموت وهو بکل شیءِِ علیم ) ۲۹ ۔
ترجمہ :
۲۸ ۔ تم خداسے کیونکر کفر کرتے ہو حالانکہ تم بے روح جسم تھے اس نے تمہیں زندگی دی پھر وہ تمہیں مارے گا اور دوبارہ تمہیں زندہ کرے گا اس کے بعد اسی کی طرف لوٹ جاوگے (اس بناء پر نہ تمہاری زندگی تمہاری طرف سے ہے اور نہ موت جوکچھ تمہارے پاس ہے خداہی کی طرف سے ہے )
۲۹ ۔ وہ خدا جس نے زمین کی تمام نعمتوں کو تمہارے لئے پیدا کیا ہے ۔پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں سات آسمانو ں کی صورت میں مرتب کیا اور وہ ہر چیز سے
زندگی ایک اسرار آمیز نعمت ہے
مندر جہ بالا دو آیا ت میں قر آن نے نعمات الہی کے ایک سلسلے اورتعجب انگیز خلقت کا ذکر کے انسان کوپروردگار اور اس کی عظمت کی طرف متوجہ کر دیا ہے اور خدا شناسی کے سلسلے میں جو دلائل گذشتہ آیات ( ۲۱ و ۲۲) میں بیان کئے گئے ہیں ان کی تکمیل کر رہاہے ۔
قرآن یہاں وجودخداکے اثبات کو ایسے نکتے سے شروع کر رہا ہے جس کاکو ئی انکار نہیں کرسکتااور وہ ہے زندگی کا پر اسرار مسئلہ ۔
پہلے کہتا ہے تم خداکا کس طرح انکار کرتے ہو حالا نکہ تم بے روح جسم تھے اس نے تمہیں زندہ کیا اور تمہارے بد ن پر زندگی کا لباس پہنایا( کیف تکفرون باالله وکنتم امواتاََفاحیاکم ) ۔
قرآن ہم سب کو یاددہانی کرواتا ہے کہ اس سے پہلے تم پتھروں ،لکڑیوں اور بے جا ن موجودات کی طرح مردہ تھے اور نسیم زندگی کاتمہارے کو چے سے گذر نہ تھا لیکن اب تم نعمت حیات وہستی کے مالک ہو ۔تمہیں اعضاء حواس اور ادراک کے کارخا نہ عطا کئے گئے ہیں ۔ یہ وجود حیات تمہیں کس نے عطا کیاہے کیا یہ سب کچھ خود تم نے اپنے آپ کو دیا ہے ۔واضح ہے کہ ہر مصنف مزاج انسان بغیر کسی ترددکے اعتراف کر تا ہے کہ یہ نعمت خود اس کی اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ ایک مبداء اعالم وقادر کی طرف سے اسے ملی ہے جو زندگی کے تمام رموزاور پیچیدہ قوانین سے واقف تھا ، انہیں منظم کرنے کی قدرت رکھتا تھا یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر کیوں حیات وہستی بخشنے والے خداکاانکاکرتے ہیں ۔
آج کے زمانے میں تمام علماء ومحققین پر یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے پاس اس دنیا میں حیات وہستی سے زیادہ پیچیدہ کو ئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ تمام تر عجیب وغریب ترقی کے باوجودجو طبعی علوم فنون کے سلسلے میں انسان کو نصیب ہوئی ہے ابھی تک حیات کا معمہ حل نہیں ہوسکا۔یہ مسئلہ اس قدر اسرار آمیز ہے کہ لاکھو ں علماء افکار اور کوششیں اب تک اس مسئلے کے ادراک سے عاجز ہوچکی ہیں ۔ہوسکتا ہے کہ انتھک کوششوں کے سائے میں آئندہ تدریجاََانسان رموز حیات سے آگاہ ہوسکے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کیاکوئی شخص اس معاملے کو جو بہت گہرے غوروفکر کا نتیجہ ہے ،اسرارانگیز ہے اور بہت زیادہ علم وقدرت کا محتاج ہے بے شعور طبیعت کی طرف نسبت دے سکتا ہے ،وہ طبیعت جو خود حیات وزندگی سے عاری ہے ۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ہم کہتے ہیں کہ اس جہان طبیعت میں حیات وزندگی کا ظہو ر وجو دخدا کے اثبات کی سب سے بڑی سند ہے اور اس مو ضوع پربہت سی کتابیں لکھی جاچکی ہیں ۔
قرآن اوپر والی آیت میں خصوصیت کے ساتھ اسی مسئلے کاسہارا لیتا ہے ہم سر دست اسی مختصر اشارے سے گذرجاتے ہیں ۔قرآن اس نعمت کی یاد دہانی کے بعد ایک واضح دلیل پیش کرتا ہے اور وہ ہے مسئلہ موت ،قرآن کہتا ہے :پھر خدا تمہیں مارے گا( ثم یحییکم )
ا نسان دیکھتاہے کہ اس کے اعزاء واقربااور دوست و احباب یکے بعد دیگرے مرتے رہتے ہیں اور ان کا بے جان جسم مٹی کے نیچے دفن ہوجاتا ہے ۔یہ مقام بھی غوروفکر کا ہے کہ آخر کس نے ان سے وجود کو چھین لیا ہے اگر ان کی زندگی اپنی طرف سے تھی توہمیشہ رہتی یہ جو لے لی گئی ہے اس کی دلیل ہے کہ کسی دوسرے نے انہیں د ی تھی ۔
زندگی پیدا کرنے والا وہی موت پیدا کرنے والا ہے چنانچہ سورہ ملک کی آیت ۲ میں ہے :
( الذین خلق الموت والحیٰوة لیبکوکم احسن عملاََ )
خداوہ ہے جس نے موت وحیات کو پیدا کیاتاکہ تمہیں حسن عمل کے میدان میں آزمائے ۔
قرآن نے وجود خدا پر ان دو و اضح دلیلوں کو پیش کیا ہے دوسرے مسائل کے لئے روح انسانی کو آمادہ کیا ہے اور بحث سے مسئلہ معاداور موت کے بعد زندگی کو بیان کیا ہے ۔پھر کہتا ہے :اس کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا( ثم یحییکم ) ۔البتہ موت کے بعد یہ زندگی کسی طرح تعجب خیز نہیں کیونکہ پہلے بھی انسان اسی طرح تھا پہلی دلیل (یعنی بے جان کو زندگی عطا کرنا)کی طرف متوجہ ہونے کے بعد دوسری مرتبہ اجزاء بدن کے منتشر ہونے کے بعد زندگی ملنے کے مسئلے کو قبو ل کر نامشکل نہیں بلکہ پہلی دفعہ کی نسبت آسان ہے اگر چہ جس ذات کی قدرت لامتناہی ہو اس کے لئے تسہیل ومشکل کو ئی مفہوم نہیں رکھتا)۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں انسانوں کی زندگی میں شک اور تردد تھا حالانکہ پہلی زندگی جو بے جان مو جو دات سے صورت پذیر ہو ئی ہے اسے جانتے ہیں ۔
یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن آغاز سے اختتام تک دفتر حیات کو انسان کے سامنے کھولتاہے اورایک مختصرسے بیان میں زندگی کی ابتداء وانتہا ا ورمسئلہ معاد وقیامت کی اس کے سامنے تصویر کشی کرتا ہے ۔
اس آیت کے آخر میں کہتاہے :پھر اس کی طرف تمہاری باز گشت ہوگی (ثم الیه ترجعون )۔خداکی طرف رجوع کرنے کے معنی وہی خدا کی نعمتو ں کی طرف رجوع کرناہیں یعنی قیامت اور دوبارہ قبروں سے اٹھنے والے دن کی نعمتوں کی طرف رجوع کروگے ۔اسکی شاہد سورہ انعام کی آیت ۳۶ ہے جہاں فرماتاہے ۔( والموتی یبعثهم الله ثم الیه یرجعون )
خدامردو ں کو قبروں سے اٹھائے گا اوراسی کی طرف ان کی بازگشت ہوگی ۔
ممکن ہے خداکی طرف رجوع کرنے سے مقصود کو ئی ایسی حقیقت ہو جو اس سے زیادہ دقیق وباریک ہواور وہ یہ کہ تما م مو جودات نے اپنا سفر نقطہ عدم جو نقطہ صفر ہے سے شروع کیاہے اور تمام موجودات سیرتکامل میں ہیں اور لامتناہی کیطر ف بڑھ رہے ہیں جوذات پروردگار ہے لہذا مرنے سے سیر تکامل کا سلسلہ معطل نہیں ہوتا اوردوسری مرتبہ قیامت میں زندگی کی زیادہ بلند سطح کی طرف یہ تکامل جاری وساری رہے گی۔
نعمت حیات اور مسئلہ مبداء و معاد کے ذکر کے بعد خدا ایک وسیع نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے :خدا وہ ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے تمہارے لئے پیدا کیا ہے( هو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعا ) اس تربیت سے انسانوں کی وجودی قدروقیمت اور زمین کے تمام موجودارت پر ان کی سرداری کو مشخص کیا گیا ہے۔اسی سے ہم سمجھتے ہیں کہ خدا نے انسان کو بہت بڑے قیمتی اور عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا ہے ۔ تمام چیزوں کو تو اس کے لئے پیدا کیا ہے ۔اب اسے کس لئے پیدا کیا ہے۔انسان اس صحن عالم میں عالی ترین وجود ہے اور صحن عالم میں سب سے زیادہ قدر وقیمت رکھتا ہے۔
صرف یہی آیت نہیں جس مین انسان بلند ترین مقام کے بیان کیا گیا ہے بلکہ قرآن میں بہت سی ایسی آیات ملتی ہیں جو انسان کا تعارف تمامتر مو جودات کا مقصود ہ اصلی کی حیثیت سے کراتی ہیں جیسا کہ سورہ جاثیہ کی آیہ ۱۳ میں آیا ہے :
( وسخرلکم ما فی السمٰوات وما فی الارض )
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو تمہارے لئے مسخر قرار دیا ہے۔
دوسری جگہ اس سے زیادہ تفصیل بیان ہوئی ہے :
( وسخرلکم الفلک و سخر لکم الانهار ) (۱) ( وسخر لکم اللیل والنهار ) (۲) ( وسخر البحر ) (۳) ( و سخر الشمس والقمر ) (۴)
کشتیوں کو تمہارے لئے مسخر کیا گیا اور دریاؤں کو تمہارے لئے مسخر کیا دن اور رات کو تمہارے لئے مسخر کیا اور سمندروں کو مسخر کیا اور آفتاب و ماہتاب کو بھی تمہارا فرماں بردار اور خدمت گذار قرار دیا ۔(۵)
دوبارہ توحید کے دلائل کی طرف لوٹتے ہوئے کہتا ہے :پھر خدا وند عالم آسمانوں ن کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں سات آسمانون کی صورت میں مرتب کیا اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے( ثم استوی الی السماء فسواهن سبع سمٰوٰت و هو بکل شیء علیم ) ۔
لفظ” استوی “مادہ “استواء“سے لیا گیا ہے لغت میں اس کے معنی ہیں احاطہ کامل ، تسلط اور خلقت وتدبیر پر مکمل قدرت۔لفظ”ثم“جملہ ”( ثم استوی الی السماء ) “ میں ضروری نہیں کہ تاخیر زمانی کے معنی میں ہو بلکہ ہوسکتا ہے اس کے معنی تاخیر بیان اور حقائق کو ایک دوسرئے کے بعد لانا ہو ۔
____________________
(۱)ابراہیم ، آیہ ۳۲
(۲)و ۴ ، ابراہیم ، آیہ ۳۳
(۳) نحل ، آیہ ۱۴
اس سلسلہ میں زیادہ تر بحث اسی تفسیر میں سورہ رعد آیہ ۲ اور سورہ ابراہیم آیات ۳۲ اور۳۳،میں کی گئی ہے ۔
( ۱) تناسخ ا ور ارواح کا پلٹ آنا
اوپر والی آیت ان میں سے ہے جو عقیدہ تناسخ کی صریحا نفی کرتی ہیں کیونکہ تناسخ کا عقیدہ رکھنے والوں کا خیال ہے کہ انسان مرنے کے بعد دوسری دفعہ اسی زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے البتہ ہوتا یہ ہے کہ اس کی روح دوسرے جسم اور دوسرے نطفے میں حلول کرکے نئے سرے سے اسی دنیا میں زندگی کا آگاز کرتی ہے اور ممکن ہے اسی سلسلہ کا بارہا تکرار ہو ۔اس جہان میں اس مکرر زندگی کو تناسخ یا عود ارواح کہتے ہیں ۔ مندرجہ بالا آیت صراحت سے بیان کرتی ہے کہ موت کے بعد ایک سے زیادہ زندگی نہیں ہے معلوم ہے کہ یہ حیات وہی معاد و قیامت کی حیات ہے ۔بہ الفاظ دیگر آیت کہتی ہے کہ مجموعی طور پر تمہاری دو زندگیاں اور دو اموات تھیں اور ہیں پہلے مردہ تھے ( بے جان عالم موجودات میں تھے ) خدا وندے عالم نے تمہیں زندہ کیا پھر وہ مارے گا اور دو بارہ زندہ کرے گا ۔ اگر تناسخ صحیح ہوتا تو انسان کی حیات اور موت کی تعداد دودو سے زیادہ ہوتی
یہی مضمون قرآن کی اور متعدد آیات میں بھی نظر آتا ہے جن کی طرف اپنی اپنی جگہ اشارہ ہوگا۔(۱)
اس بنا ء پر تناسخ کا عقیدہ جسے عود ارواح بھی کہا جاتا ہے قرآن کی نظر میں باطل اور بے اساس ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس روشن عقلی دلیلیں بھی موجود ہیں جو اس عقیدہ کی نفی کرتی ہیں جن سے یہ ایک قسم کا دقیانوسی اور قانون تکامل کی رجعت قہقری کا عقیدہ ثابت ہوتا ہے ۔ اس کے متعلق اس کی اپنی جگہ گفتگو کی گئی ہے(۲)
اس نکتے کا ذکر کرنابھی ضروری ہے کہ شاید بعض لوگ مندرجہ بالاآیت کوبرزخ کی زندگی کی طرف اشارہ قرار دیں حالانکہ آیت اس پرکسی طرح دلالت نہیں کرتی صرف اتنا کہتی ہے کہ پہلے تم بے جا ن جسم تھے خداوندعالم نے تمہیں پیدا کیادوبارہ وہ تمہیں مارے گا جو اشارہ ہے اس دنیا کی زندگی کے اختتام کی طرف پھر تمہیں زندہ کرے گا (یہ حیات آخرت کی طرف اشارہ ہے ) اور اسی کی طرف تم اپنی سیر تکامل جاری رکھوگے۔
____________________
(۱) موضوع رجعت کی وجہ سے اس مسئلے پر کو ئی اعتر ا ض نہیں ہو سکتا رجعت اول تو ایک مخصوص طبقہ کے لئے ہے اس میں عمومیت نہیں ہے جب کہ زیر نظرآیت ایک حکم کلی بیان کررہی ہے پھر نتائج میں اجسام اور ان کے اجزاء الگ الگ ہوتے ہیں جب کہ رجعت میں ایسا نہیں ہے ۔
(۲) کتاب ”عود ارواح و ارتباط ارواح“کیطرف رجوع فرمائیں
( ۲ ) سات آسمان:
لفظ”سما“لغت میں ”اوپر“کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور ایک جامع مفہوم جس کے مختلف مصادیق ہیں لہذاہم دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ قرآن میں گوناگوں موقعوں پر صرف ہوا ہے
( ۱) کبھی زمین کے پڑوس میں ”اوپر “والی جہت پر بولا جاتا ہے جیسے کہ ارشاد ہے :
( الم ترکیف ضرب الله مثلاََکلمة طیبةکشجرةطیبة اصلها ثابت وفرعها فی السمائ )
کیا تو نے دیکھانہیں کہ خد اوندعالم نے پاک گفتگوکوکس طرح ایک ایسے پاکیزہ درخت سے تشبیہ دی ہے
جس کی جڑیں مضبوط وثابت ہے اور شاخیں آسمان میں ہیں ۔ ( ابراہیم ۔ ۲۴)
(اا) کبھی لفظ”سماء “سطح زمین سے بہت دور (بادلو ں کی جگہ )کے لئے بولاجاتا ہے ۔جیسے کہ فرمایا:
( ونزلنامن السمآء مآء مبارکا )
ہم آسمان سے برکتوں والاپانی ناز ل کر تے ہیں (ق۔ ۹)
(ااا) کبھی اطراف زمین کی ہوا ئے متراکم کی جلد کو آسمان کہا جاتا ہے ۔جیسا کہ ارشاد ہے :
( وجعلناالسماء سقفا محفوضا ) ہم نے آسمان کو محکم ومضبوط چھت قرار دیاہے (انبیاء ۳۲)
یہ اس لئے کہ ہم جانتے ہیں کہ زمین کی فضا جو چھت کی طرح ہمارے سروں پر بر قرار ہے وہ اتنی مضبو ط ہے کہ کرہ ارض کو آسمانی پتھروں کے گرنے سے محفوظ رکھتی ہے ۔یہ پتھر جو مسلسل شب وروز کششِ زمین کے مرکزمیں آتے ہیں اور اس کی طرف کھچے آتے ہیں اگر ہوائے متراکم کی جلدنہ ہوتوہمیشہ ان خطرناک پتھروں کی زدمیں رہیں لیکن اس جلدکاوجود اس بات کاسبب بنتاہے کہ یہ پتھر فضائے زمین ہی میں جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں ۔
اور کبھی اوپر کے کروں کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتاہے :( ثم استوی الی السماء وهی دخان )
پھروہ آسمان کی طرف متوجہ ہو اجب کہ وہ دھواں اوربخارات تھے پہلی گیس سے کرات کو پیدا کیا ۔(فصلت ،اا)(حم سجدہ)اب ا صل بات کی طرف لوٹے ہیں کہ سات آسمانوں سے کیا مراد ہے ۔اس سلسلے میں مفسرین اور علماء اسلام کے گوناگوں بیانات اور مختلف تفاسیر ہیں ۔
( ۱) بعض سات آسمانوں سے وہی سبع سیارات (سات ستارے (یعنی عطارد،زہرہ ،مریخ ،مشتری ،زحل ،چاند اور سورج ) مراد لے تے ہیں ۔علماء ہئیت قدیم کے نزدیک چاند اور سورج بھی سیارات میں داخل تھے۔(۱)
(۲)بعض علماء نے نظام شمسی کے دس کرات (نو سیارے مشہور ہیں ایک اورسیارہ بھی ہے جو مریخ اور مشتری کے درمیان تھا لیکن وہ منتشر ہوگیا اس کا کچھ حصہ اسی طرح اسی مدار زمیں محو گر دش ہے)کو دو حصوں تقسیم کیا ہے ایک گروہ وہ ہے جو مدار زمین میں گردش کر ر ہے ہیں (جن میں عطارد اور زہرہ شامل ہیں )اور ایک گروہ مدار زمین سے باہر اور اس کے اوپر کی طرف ہے ۔شاید اسی تفسیر سے یہی باہر کے سات سیارے مراد ہیں ۔
(ب)بعض کا نظریہ ہے کہ اس سے مراد زمین کے گرد ہو ائے متراکم کے طبقات ہیں اوروہ مختلف تہیں جو ایک دوسرے کے ا و پر ہیں ۔
(ج)بعض کہتے ہیں یہاں سات کا عدد تعدادی عدد(عدد مخصوص )کے معنی میں نہیں بلکہ عدد تکثیری ہے جس کے معنیٰ ہیں زیادہ اور تعداد فراواں ،کلام عرب اور خود قرآن میں کئی جگہ اس کی نظیریں موجودہیں مثلاََ سورہ لقمان آیت ۲۷ میں ہے :( ولوان ما فی الارض من شجرةاقلام والبحر یمده من بعده سبعةابحر ما نفدت کلمت الله )
اگر زمین کے درخت قلمیں بن جائیں اور سمندر سیاہی بن جائیں اور سات سمندر مزید مل جائیں تو بھی کلمات خدا کو لکھا نہیں جاسکتا ۔بالکل واضح ہے کہ سات آیت میں سات سے مراد عدد مخصوص سات نہیں بلکہ اگر ہزار سمندر بھی سیاہی بن جائیں تو اس سے خدا کے لاماتناہی علم کو نہیں لکھا جاسکتا ۔اس بناء پر کہا جاسکتا ہے کہ سات آسمانوں سے متعدد آسمان اور عالم بالاکے بہت سے کرات مراد ہیں اوراس سے کو ئی عدد مخصوص مراد نہیں ۔
(د) جو بات زیادہ صحیح دکھا ئی دیتی ہے وہ یہ کہ”سمو ات سبع “سے مرادآسمان ہی ہے جواس کے حقیقی معنی ہیں ۔مختلف آیات ِقرآن میں اس عبارت کاتکرار ظاہر کرتا ہے کہ سات کاعدد یہاں کثرت کے معنی میں نہیں بلکہ کسی خاص عدد کی طرف اشارہ ہے البتہ آیات ِ قرآن سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ تمام کرات ،ثوابت اور سیارات جو ہم دیکھ رہے ہیں پہلے آسمان کا جزء ہیں اور چھ عالم اس کے علاوہ موجود ہیں جو ہماری نگاہ اور آج کے علمی آلات کی دسترس سے باہر ہیں اور مجموعی طور پرسات آسمانوں سے سات عالم تشکیل پذیر ہیں قرآن اس گفتگوکا شاہدہے :( وزیناالسماء الدنیابمصابیح ) ہم نے نچلے آسمان کو ستاروں کے چراغوں سے سجایا۔(فصلت ، ۱۲)
دوسری جگہ پر یوں ہے۔( انا زیناالسماء الدنیابزینة ن الکواکب )
یقناََ ہم نے نچلے آسما ن کو ستاروں سے زینت بخشی(الصفت ۔ ۶) ان آیات سے واضح ہو تا ہے کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں ۔جسے ستاروں کی دنیا کہتے ہیں سب آسمان اول ہے اسکے علاوہ چھ آسمان اور موجود ہیں جن کی جزئیات کے متعلق ہمیں کوئی اطلاع نہیں ۔یہ جو کچھ ہم نے کہاہے کہ چھ اور آسمان ہیں جو ہمارے لئے مجہول ہیں اور ممکن ہے کہ آئند ہ علوم ان سے پر دہ اٹھائیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے ناقص علوم جتنے آ گے بڑھتے ہیں خلقت کے نئے عجائبات تک دسترس حاصل کر تے ہیں مثلاََ علم ہیئت ابھی وہاں تک پہنچا ہے جہاں سے آگے ٹیلی سکوپ telescope) دیکھنے کی قدرت نہیں رکھتا ۔بڑی بڑی رصد گاہو ں کے انکشافات ایک عرب نوری سال کے فاصلے تک پہنچ چکے ہیں اور سائنس دان معترف ہیں کہ یہ تو آغاز عالم ہے اختتام نہیں لہذا اس میں کیا مانع ہے کہ آئندہ علم ہیئت کی ترقی سے مزید آسمان ،کہکشاں ئیں اور دوسرے عوالم کا انکشاف ہوجائے ۔بہتر ہے کہ گفتگودنیا کی بہت بڑی رصد گا ہ سے سنی جائے ۔
( ۳) عظمت کا ئنات:
پالو مار کی رصدگاہ نے جہانِ بالا کی اس طرح تو صیف کی ہے :
”جب تک پالو مار کی رصد گاہ کی دور بین نہیں بنی تھی دنیا کی وسعت جو ہمیں نظر آتی تھی پانچ سو نوری سال سے زیادہ نہیں تھی لیکن اب اس دوربین نے ہماری دنیا کی وسعت ایک عرب نوری سال تک پہنچا دی ہے اس کے نتیجے میں کئی ملین نئی کہکشاؤں کا انکشاف ہوا ہے جن میں سے بعض ہم سے ایک عرب نوری سال کے فاصلہ پرواقع ہیں لیکن ایک عرب نوری سال کے فاصلہ کے بعد ایک عظیم مہیب اور تاریک فضا نظر آتی ہے جس کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی یعنی روشنی وہاں سے عبور نہیں کرسکتی کہ رصدگاہ کی دوربین کے صفحہ عکاسی کو متاثر کرے لیکن بلاشک اس مہیب و تاریک فضا میں کئی سو ملین کہکشائیں موجود ہیں لیکن ہماری دنیا ان کہکشاؤں کی کشش سے محفوظ ہے۔
یہ عظیم دنیا جو نظر آرہی ہے جس میں کئی سو ملین کہکشائیں موجود ہیں ایک عظیم تر جہان کا چھوٹا سا ذرہ بے مقدار ہے اور ابھی ہم یقین سے نہیں کہ سکتے کہ اس دوسری دنیا کے اوپر بھی کوئی اور دنیا ہے “(۱)
اس گفتگو سے واضح طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ دنیائے علم آسمانوں کے بارے میں اپنی حیرت انگیز ترقی کے باوجود اپنے انکشافات کو آغاز جہاں سمجھتی ہے نہ کہ اس کا اختتام بلکہ ایک عظیم جہان کے مقابلے میں اسے ایک چھوٹا سا ذرہ خیال کرتی ہے۔
____________________
(۱)مجلہ فضا ”شمارہ فروردین ۲۳۵۱ہجریشمسی
آیات ۳۰،۳۱،۳۲،۳۳
( واذ قال ربک للملائکة انی جاعل فی الار خلیفة ط قا لوااتجعل فیها ویفسد فیها ویسفک الدماء ج ونحن نسبح بحمدک و نقدس لک ط قال انی اعلم مالا تعلمون ) ۳۰ ۔
( وعلم آدم الاسماء کلها ثم عرضهم علی الملائکة فقالا انبئونی باسماء هٰولاء ان کنتم صٰدقین ) ۳۱ ۔(
قالو ا سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا ط انک انت العلیم الحکیم ) ۳۲
( قال یاٰدم انبئهم باسمائهم ج فلما انبائهم باسمائهم قال الم اقل لکم انی اعلم غیب السماوات والارض واعلم ما تبدو ن وماکنتم تکتمون ) ۳ ۳۔
ترجمہ
۳۰ ۔جب آپ کے پروردگار نے فرشتو ں سے کہا کہ میں روئے زمین پرایک جانشین اور حاکم مقرر کر نے لگا ہوں تو فرشتوں نے کہا (پروردگارا ) کیا ایسے شخص کو مقرر کرے گا جو زمین پر فساد اور خونریزی کرے گا ( کیوں آدم سے پہلے زمین کے دوسرے موجودات جو عالم وجود میں آچکے ہیں ان کی طبیعت اور مزاج جہان مادہ کے حکم کا پابند ہے لہذا وہ فساد اور خونریزی کے گناہ ہی میں مبتلا تھے لیکن خلقت انسان کا مقصد اگر عبادت ہے تو ) ہم تیری تسبیح اور حمد بجالا تے ہیں ( اس پر پروردگار عالم نے فرمایا : میں حق کو جانتا ہوں تم نہیں جانتے ۔
۳۱ ۔ پھر علم اسماء ( علم اسرار خلقت اور موجودات کے نام رکھنے کا علم )سب کا سب آدم کو سکھایا پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا : اگر سچ کہتے ہو تو بتاؤ ان کے نام کیا ہیں ۔
۳۲ ۔ فرشتوں نے کہا تو پاک و منزہ ہے جو تو نے ہمیں تعلیم دی ہے ہم اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتے تو حکیم ودانا ہے ۔
۳۳ ۔ فرمایا : اے آدم -انہیں ان ( موجودات ) کے ناموں اور اسرار ) سے آگاہ کردے جب اس نے انہیں آگاہ کردیا تو خدا نے فرمایا : میں نہ کہتا تھا کہ میں آسمان اور زمین کا غیب جانتا ہوں اور تم جن چیزوں کو ظاہر کرتے اور چھپاتے ہو انہیں بھی جانتا ہوں ۔
انسان زمین میں خدا کا نمائندہ
گذشتہ آیات میں پڑھ چکے ہیں کہ خدا نے زمین کی تمام نعمتیں انسان کے لئے پیدا کی ہیں اور ان آیات میں رسمی طور پر انسان کی رہبری اور خلا فت کی تشریع کی گئی ہے اور اس روحانی حیثیت کو واضح کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ ان تمام احسانات کے لائق تھا
ان آیات میں آدم ( پہلے انسان ) کی خلقت کی کیفیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ،اور آیات کے اس سلسلہ میں جو آیہ ۳۰ سے شروع ہو کر ۳۹ تک پہنچتا ہے تین بنیادی مسائل کو بیان کیا گیا ہے ؛
( ۱) پروردگار عالم کا فرشتوں کو زمین میں انسان کی خلافت و سرپرستی کے بارے میں خبر دینا اور وہ گفتگو جو فرشتوں نے اس سلسلے میں خدا سے کی ۔
( ۲) پہلے انسان کے لئے فرشتوں کو خضوع و تعظیم کا حکم جس کا ذکر مختلف مناسبات سے قرآن کی مختلف آیات میں کیا گیا ہے ۔
( ۳) بہشت میں آدم کی کیفیت اور رہنے کی تشریع ، وہ حوادث جو جنت سے ان کے نکلنے کا سبب بنے ، آدم کا توبہ کرنا اور پھر آدم اور اولاد آدم کا زمین میں آکر آباد ہونا ۔
زیر بحث آیات ان میں سے پہلی منزل کی بات کرتی ہیں ۔ خدا کی خواہش یہ تھی کہ روئے زمین پر ایک ایسا موجود خلق فرمائے جو اس کا نمائندہ ہو، اس کی صفات صفات خداوندی کاپرتو ہوں اور اس کا مرتبہ و مقام فرشتوں سے بالا تر ہو ،۔ خدا کی خو اہش اور ارادہ یہ تھا کہ ساری زمین اور اس کی نعمتیں ، تمام قوتیں سب خزانے ، تمام کانیں اور سارے وسائل بھی اس کے سپرد کردیئے جائیں ۔ ضروری ہے کہ ایسا شخص عقل وشعور ، ادراک کے وافر حصے استعداد کا حامل ہو جس کی بناء پر موجودات ارضی کی رہبری اور پیشوائی کا منصب سنبھال سکے۔
یہ وجہ ہے کہ پہلی آیت کہتی ہے یاد کریں اس وقت کو جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں روئے زمین پر جانشین مقرر کرنے والا ہوں( واذ قال ربک للملٰکة انی جاعل فی الارض خلیفة ) ۔
”خلیفة کے معنی ہیں جانشین ۔ لیکن یہاں اس سے کس کا جانشین مراد ہے اور کس چیز میں جانشین ہے ، مفسرین نے اس کی مختلف تفسیریں کی ہیں :
بعض کہتے ہیں انسان یا اور موجودات کا جانشین جو زمین میں پہلے زندگی گذارتے تھے ۔
بعض نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ انسان کی دوسری نسلیں ایک دوسرے کا جانشین ہوں گی ۔
لیکن انصاف یہ ہے جسے بہت سے محققین نے بھی قبول کیا ہے کہ اس سے مراد خلافت الہی اور زمین میں خدا کی نمائندگی ہے کیونکہ اس کے بعد فرشتوں کا سوال اور ان کا کہنا کہ ممکن ہے نسل آدم مبداء فساد و خونریزی ہو جب کہ ہم تیری تسبیح و تقدیس کرتے ہیں اسی معنی سے مناسبت رکھتا ہے کیونکہ زمیں میں خداکی نمائندگی ان کاموں کے ساتھ سازگار نہیں ۔
اسی طرح آدم کو ”اسماء“ کی تعلیم دینا جس کی تفصیل بعد میں آئے گی اس دعوے پر ایک او رواضح قرینہ ہے اور آدم کے سامنے سجدہ بھی اسی مقصد کا شاہد ہے۔
بہر حال خد ا چاہتا تھا کہ ایسے وجود کو پیدا کرے جو عالم وجود کا گلدستہ ہو اور خلافت الہی کے مقام کی اہلیت رکھتا ہو اور زمین میں اللہ کا نمائندہ ہو ۔
ان آیات کی تفسیر میں ایک حدیث جو امام صادق سے مروی ہے وہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فرشتے مقام آدم پہچاننے کے بعد سمجھ گئے کہ آدم اور ان کی اولاد زیادہ حقدار ہیں کہ وہ روئے زمین میں خلفاء الہی ہوں اور مخلوق پر ان کی حجت ہوں ۔(۱)
زیر بحث آیت مزید بیان کرتی ہے کہ فرشتوں نے حقیقت کا ادراک کرنے کے لئے نہ کہ اعتراض کی غرض سے عرض کیا : کیا زمین میں اسے (جانشین ) قرار دے گا جو فساد کرے گا اور خون بہائے گا( قالو اتجعل فیها من یفسد فیها ویسفک الدماء ) جبکہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں ، تیری تسبیح و حمد کرتے ہیں اور جس چیز کی تیری ذات لائق نہیں اس سے تجھے پاک سمجھتے ہیں( ونحن نسبح بحمدک ونقدس لک ) ۔
مگر یہاں خدا نے انہیں سربستہ و مجمل جواب دیا جس کی وضاحت کے بعد کے مراحل میں آشکار ہوئی فرمایا : میں ایسی چیزوں کو جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے( قال انی اعلم مالا تعلمون ) ۔
جیسے کہ ان کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے سمجھ گئے تھے کہ یہ انسان سربراہی نہیں بلکہ فساد کرے گا ، خون بہائے گا اور خرابیاں کرے گا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آخر وہ کس طرح سمجھے تھے۔
بعض کہتے ہیں خدا نے انسان کے آئندہ حالات بطور اجمال انہیں بتائے تھے جب کہ بعض کا احتمال ہے کہ ملائکہ اس مطلب کو لفظ فی الارض (زمین میں ) سے سمجھ گئے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے انسان مٹی سے پیدا ہوگا اور مادہ اپنی محدودیت کی وجہ سے طبعا مرکز نزاع و تزاحم ہے کیونکہ محدود مادی زمانہ انسانوں کی طبعیت کو سیر و سیراب نہیں کرسکتا جو زیادہ کی طلب رکھتی ہے یہاں تک کہ اگر ساری دنیا ایک فرد کو دے دی جائے تو ممکن ہے وہ پھر بھی سیر نہ ہو اگر کافی احساس ذمہ داری نہ ہو تو یہ کیفیت فساد اور خونریزی کا سبب بنتی ہے۔
بعض دوسر ے مفسرین معتقد ہیں کہ فرشتوں کی پیشین گوئی اس وجہ سے تھی ک آدم روئے زمین کی پہلی مخلوق نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی دیگر مخلوقات تھیں جنہوں نے نزاع ، جھگڑا اور خونریزی کی تھی ۔ان سے پہلے کی مخلوق کی بری فائل نسل آدم کے بارے میں فرشتوں کی بد گمانی کا باعث بنی۔
یہ تین تفاسیر ایک دوسرے سے کچھ ز یاد ہ اختلاف نہیں رکھتیں یعنی ممکن ہے یہ تمام امور فرشتوں کی اس توجہ کا سبب بنے ہوں اور در اصل یہ ایک حقیقت بھی تھی جسے انہوں نے بیان کیا تھا یہ وجہ ہے کہ خدا نے جواب میں کہیں بھی اس کا انکار نہیں کیا بلکہ اس حقیقت کے ساتھ ساتھ ایسی مزید حقیقتیں انسان اوراس کے مقام کے بارے میں موجود ہیں جن سے فرشتے آگاہ نہیں تھے
۔فرشتے سمھتے تھے اگر مقصد عبودیت اوربندگی ہے تو ہم اس کے مصداق کامل ہیں ہمیشہ عبادت میں ڈوبے رہتے ہیں لہٰذاسب سے زیادہ ہم خلافت کے لائق ہیں لیکن وہ اس سے بے خبر تھے کہ ان کے وجود میں شہوت و غضب اور قسم قسم کی خواہشات موجود نہیں جب کہ انسان کو میلانات و شہوات نے گھیر رکھا ہے اور شیطان ہر طرف سے اسے وسوسے ڈالتا رہتا ہے لہذا ان کی عبادت انسان کی عبادت سے بہت زیادہ تفاوت رکھتی ہے ۔ کہاں اطاعت اور فرمانبرداری ایک طوفان زدہ کی اور کہاں عبادت ان ساحل نشینوں کی جو مطمئن ، خالی ہاتھ اور سبک بار ہیں ۔
انہیں کب معلوم تھا کہ آدم کی نسل سے محمد ، ابراہیم ،نوح ، موسیٰ اور عیسی ٰ علیھم السلام جیسے انبیاء اور ائمہ اہل بیت جیسے امام اور صالح بندے اور جانباز شہید مرد اور عورتیں عرصہ وجود میں قدم رکھیں گے جو پروانہ وار اپنے آپ کو خدا کی راہ میں پیش کریں گے ۔ ایسے افراد جن کے غور و فکر کی ایک گھڑی فرشتون کی سالہا سال کی عبادت کے برابر ہے۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ فرشتوں نے اپنی صفات کے بارے میں تین چیزوں کا سہارا لیا تسبیح ، حمد اور تقدیس ۔ اس میں شک نہیں کہ تسبیح اور حمد کے معنی ہیں خدا کو ہر قسم کے نقس سے پاک اور ہر قسم کے کمال کا اہل سمجھنا لیکن کہ تقدیس سے کیا مقصود ہے۔
بعض نے تقدیس کے معنی ” پروردگار کو ہر قسم کے نقصان سے پاک شمار کرنا “ بیان کئے ہیں جو کہ در اصل تسبیح کے معنی کی تاکید ہے ۔
لیکن بعض معتقد ہیں کہ تقدیس مادہ ” قدس “ سے ہے جس کے معنی ہیں روئے زمین کو فاسد اور مفسد لوگوں سے پاک کرنا یا اپنے آپ کو ہر قسم کی بری اور مزموم صفات سے پاک کرنا اور جسم وجان کو خدا کے لئے پاک کرنا لفظ” لک “کو جملہ”نقدس لک “ میں اس مقصود کے لئے شاہد قرار دیتے ہیں کیونکہ فرشتوں نے یہ نہیں کہا کہ ”نقدسک “ یعنی ہم تجھے پاک سمجھیں گے بلکہ انہوں نے کہا ”نقدس لک “ یعنی تیرے لئے معاشرے کو پاک کریں گے ۔
در حقیقت وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر ہدف اور غرض ، اطاعت اور بندگی ہے تو ہم فرمانبردار ہیں اور اگر عبادت ہے تو ہم ہر وقت اس میں مشغول ہیں اور اگر اپنے آپ کو پاک رکھنا یا صفحہ ارضی کو پاک رکھنا ہے تو ہم ایسا کریں گے جب کہ یہ مادی انسان خود بھی فاسد ہے اور روئے زمین کو بھی فاسد کردے گا ۔
حقائق کو تفصیل سے ان کے سامنے واضح کرنے کے لئے خدا وندے عالم نے ان کی آزمائش کے لئے اقدام کیا تاکہ وہ خود اعتراف کریں کہ ان کے اور اولاد آدم کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے ۔
____________________
۱معانی الاخبار بحوالہ المیزان ، جلد ۱ ، ص ۱۲۱ ۔ اس حدیث سے اگرچہ زیادہ تر انبیاء اور ائمہ کا مقام ظاہر ہوتا ہے لیکن معلوم ہے کہ یہ انہی میں منحصر نہیں وہ تو اس موضوع کے اتم و اکمل مصداق ہیں ۔
فرشتے امتحان کے سانچے میں
پروردگار کے لطف و کرم سے آدم حقائق عالم کے ادراک کی کافی استعداد رکھتے تھے خدا نے ان کی اس استعداد کو فعلیت کے درجہ تک پہنچایا اور قرآن کے ارشاد کے مطابق آدم کو تمام اسماء ( عالم وجود کے حقائق و اسرار ) کی تعلیم دی( وعلم اٰدم الاسماء کلها ) ۔
مفسرین نے اگر چہ --”علم اسماء “کی تفسیر میں قسم قسم کے بیانات دیئے ہیں لیکن مسلم ہے کہ آدم کو کلمات و اسماء کی تعلیم بغیر معنی کے نہیں دی تھی کیونکہ یہ کوئی قابل فخر بات نہیں بلکہ مقصد یہ تھاکہ ان اسماء کے معنی و مفاہیم اور جن چیزوں کے وہ نام تھے ان سب کی تعلیم ہو ۔ البتہ جہان خلقت اور عالم ہستی کے مختلف موجودات کے اسماء وخواص سے مربوط علوم سے باخبر وآگاہ کیا جانا حضرت آدم کے لئے بہت بڑا اعزاز تھا ۔
ایک حدیث میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق سے اس آیت کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا :
( الارضین والجبال والشعاب والاودیه ثم نظر الی بساط تحته فقال وهذا ابساط مماعلمه ) ۔
اسماء سے مراد زمینیں ، پہاڑ ،درے ،وادیاں (غرض یہ کہ تمام موجودات )تھے اس کے بعد امام نے اس فرش کی طرف نگاہ کی جو آپ کے نیچے بچھا ہو تھا اور فر ما یا یہا ں تک کہ یہ فرش بھی ان امو ر میں سے ہے کہ خد انے جن کی آدم کو تعلیم دی(۱)
اس سے ظاہر ہو کہ علم اسما ء علم لغت کے مشابہ نہ تھا بلکہ اس کا تعلق فلسفہ ،اسرار اور کیفیا ت وخو اص کا تھا ۔خداوند عالم نے آدم کو اس علم کی تعلیم دی تاکہ وہ اپنی سیر تکامل میں اس جہان کی مادی اور روحانی نعمتوں سے بہرہ ور ہو سکیں ۔اسی طرح چیزوں کے نام رکھنے کی استعداد بھی انہیں دی تاکہ و ہ چیزوں کے نام رکھ سکیں اور ضرورت کے وقت ان کا نام لے کر انہیں بلا سکیں یا منگوا سکیں اور یہ ضروری نہ ہو کہ اس کے لئے ویسی چیز دکھا نی پڑے ۔یہ خود ایک بہت بڑ ی نعمت ہے ۔اس مو ضو ع کی اہمیت ہم اس وقت سمجھتے ہیں جب دیکھتے ہیں کہ انسان کے پاس اس وقت جو کچھ ہے کتاب اور لکھنے کی وجہ سے ہے اور گذ رے ہوئے لوگو ں کے سب علمی ذخائر ان کی تحریروں میں جمع ہیں اور یہ سب کچھ چیزوں کے نام رکھنے کے اور ان کے خواص کی وجہ سے ہے و ر نہ کبھی بھی ممکن نہ تھا کہ ہم گذشتہ لوگو ں کے علوم آنے والوں تک منتقل کر سکتے ۔
پھر خداوند عالم نے فرشتوں سے فرمایا ۔اگر سچ کہتے ہوتو ان اشیاء اورموجودات کے نام بتاوجنہیں دیکھ رہے ہو اور ان کے اسرار وکیفیات کو بیان کرو( ثم عرضهم علی الملائکةفقال انبئو نی باسماء هولاء ان کنتم صدقین ) لیکن فرشتے جو اتنا علم نہ رکھتے تھے اس امتحا ن میں رہ گئے ؛لہذا جواب میں کہنے لگے خداوندا!تو منزہ ہے تونے ہمیں جو تعلیم دی ہے ہم ا س کے علاوہ کچھ نہیں جانتے( قالو اسبحنک لاعلم لناالاما علمتنا ) توخود ہی علیم وحکیم ہے( انک انت العلیم الحکیم ) ۔اگر ہم نے اس سلسلے میں سوال کیا ہے تو یہ، ہماری نا آگاہی کی بناء پر تھا ہم نے یہ مطلب نہیں پڑھاتھااور آدم کی اس عجیب استعداداور قدرت سے بے خبر تھے جو ہمارے مقابلے میں اسکا بہت بڑا امتیاز ہے۔بے شک وہ تیری خلافت وجانشینی کی اہلیت رکھتا ہے جہان ہستی کی سر زمین اس کے وجود کے بغیر نا قص تھی۔
اب آدم کی باری آ ئی کہ ملائکہ کے سامنے موجودات کا نام لیں اور ان کے اسرار بیان کریں ۔ خدا وندے عالم نے فرمایا : اے آدم !فرشتوں کو ان موجودات کے ناموں سے آگاہ کرو( قال یا آدم انبئهم باسمائهم قال الم اقل لکم انی اعلم غیب السماوات والارض واعلم ماتبدون وماکنتم تکتمون )
اس مقام پر ملائکہ نے اس انسان کی وسیع معلومات اور فراواں حکمت ودانائی کے سامنے سر تسلیم خم کردیا اور ان پر واضح ہوگیا کہ صرف یہی زمین پر خلافت کی اہلیت رکھتا ہے۔
جملہ ”ماکنتم تکتمون “ ( جو کچھ تم اپنے اندر چھپائے ہوئے ہو ) اس بات کی نشاندہی ہے کہ فرشتوں نے جو کچھ ظاہر کیا تھا اس کے علاوہ کچھ دل میں چھپائے ہوئے تھے ۔ بعض کہتے ہیں یہ ابلیس کے غرور و تکبر کی طرف اشارہ ہے جو ان دنوں ملائکہ کی صف میں رہتا رہتا تھا لہذا وہ بھی ساتھ ہی مخاطب تھا ۔اس نے دل میں پختہ ارادہ کر رکھا تھا کہ وہ آدم کے سامنے ہر گز نہیں جھکے گا ۔
یہ بھی احتمال ہے فرشتے در حقیقت اپنے آپ کو روئے زمین پر خلافت الہی کے لئے ہرکس وناکس سے زیادہ اہل سمجھتے تھے اگرچہ اس مطلب کی طرف اشارہ تو کرچکے تھے لیکن صراحت سے یہ بیان نہ کیا تھا۔
____________________
(۱) مجمع البیان ،زیر نظر آیات کے ضمن میں ۔
دوسوال اور ان کا جواب
دوسوال اس موقع پر باقی رہ جاتے ہیں پہلا یہ کہ خدا وند عالم نے حضرت آدم کو کس طرح ان علوم کی تعلیم دی تھی اور دوسرا یہ کہ اگر ان علوم کی فرشتوں کو بھی تعلیم دے دیتا تو وہ بھی آدم والی فضیلت حاصل کرلیتے یہ آدم کے لئے کون سا افتخار و اعزاز ہے جو فرشتوں کے لئے نہیں ۔
پہلے سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف توجہ کرنی چاہیئے کہ یہاں تعلیم جنبئہ تکوینی رکھتی ہے یعنی خدا نے یہ آگاہی آدم کی طبیعت و سرشت میں قرار دی تھی اور تھوڑی سی مدت میں اسے بار آور کردیا تھا ۔
لفظ تعلیم کا اطلاق تعلیم تکوینی پر قرآن میں ایک جگہ اور بھی آیا ہے ۔ سورہ رحمٰن آیہ ۴ میں ہے:
( علمه البیان ) خدا وندے عالم نے انسان کو بیان کی تعلیم دی ہے
واضح ہے کہ یہ تعلیم خدا وند عالم نے انسان کو مکتب آفرینش و خلقت میں دی ہے اور اس سے مراد وہی استعداد و خصوصیت فطری ہے جو انسانوں کے مزاج میں رکھ دی گئی ہے تاکہ وہ بات کرسکیں ۔
دوسرے سوال کے جواب میں اس طرف توجہ رکھنی چا ہئیے کہ ملائکہ کی خلقت ایک خاص قسم کی ہے جس میں یہ تمام علو م حاصل کر نے کی اس تعداد نہیں ہے وہ ایک اور مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اس مقصد کے لئے ان کی تخلیق نہیں ہو ئی ۔یہی وجہ ہے کہ اس امتحان کے بعد ملائکہ حقیقت حال سمجھ گئے اور انہوں نے قبول کرلیا ۔پہلے شاید وہ سو نچتے تھے کہ اس مقصد کی اہلیت بھی ان میں ہے مگر خدا نے علم اسماء کے امتحان سے آدم اوران کی استعداد کا فرق واضح کر دیا ۔
یہاں ایک اور سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اگرمقصود علم اسرار خلقت اور تمام موجودات کے خواص جاننا تھا تو پھر ضمیر ”ھم “ لفظ ”اسمائھم اور لفظ ھٰؤلاء “ کیوں استعمال ہوئے جو عموما افراد عاقل کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں کہ ضمیر ”ھم اور لفظ ھٰولاء صرف ذوی العقول کے لئے استعمال ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات عاقل اور غیر عاقل کے مجموعے پر یا یہاں تک کہ افراد غیر عاقل کے مجموعے کے لئے بھی بولے جاتے ہیں جیسے حضرت یوسف ستاروں ، سورج اور چاند کے بارے میں کہتے ہیں ۔ قرآن میں :( رئیتهم لی ساجدین )
میں نے خواب میں دیکھا یہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔(یوسف ۔ ۴)
آیات ۳۴،۳۵،۳۶
( واذقلنا للملائکة اسجدو لاٰدم فسجدو الا ابلیس ط ابی واستکبر وکان من الکافرین ) ۳۴ ۔
( وقلنا یا ٰدم اسکن انت وزوجک الجنة و کلا منها رغدا حیث شئتما ص ولا تقربا هذه الشجرة فتکونا من الظالمین ) ۳۵ ۔
( فازلهما الشیطان عنها فاخرجهما مما کانا فیه و قلنا اهبطو بعضکم لبعض عدو ج ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین ) ۳۶ ۔
ترجمہ
۳۴ ۔ اور جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کے لئے سجدہ وخضوع کرو تو شیطان کے علاوہ سب نے سجدہ کیا ۔ اس نے انکار کر دیا اور تکبر کر کے ( نافرمانی کی وجہ سے ) کافروں میں سے ہو گیا ۔
۳۵ ۔ اور ہم نے کہا اے آدم ! تم اپنی بیوی کے ساتھ جنت میں سکونت اختیار کرلو اور ( اس کی نعمتوں میں سے ) جو چاہو کھاؤ (لیکن ) اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ ستمگاروں میں سے ہوجاؤ گے ۔
۳۶ ۔ پس شیطان ان کی لغزش کا سبب بنا اور جس (بہشت ) میں وہ رہتے تھے انہیں وہاں سے نکال دیا اور ( اس وقت ) ہم نے ان سے کہا سب کے سب ( زمین کی طرف ) چلے جاؤ اس حالت میں کہ تم میں سے بعض دوسروں کے دشمن ہو گے زمین تمہاری ایک مدت معین کے لئے قرار گاہ ہے اور فائدہ اٹھانے کا وسیلہ ہے
آدم جنت میں
گذشتہ بحثیں جو انسان کے مقام و عظمت کے بارے میں تھیں ان کے ساتھ قرآن نے ایک اور فصل بیان کی ہے ۔ پہلے کہتا ہے : یاد کرو وہ وقت جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کے لئے سجدہ وخضوع کرو( و اذ قلنا للمائکة اسجدو الادم ) ان سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جس نے انکار کیا اور تکبر اختیار کیا( فسجدو الا ابلیس ابی واستکبر ) اس نے تکبر کیا اور اسی تکبر ونافرمانی کی وجہ سے کافروں میں داخل ہو گیا( وکان من الکافرین )
پہلے پہل یوں لگتا ہے کہ آدم کو سجدہ کرنے کا مرحلہ فرشتوں کے امتحان اور تعلیم اسماء کے بعد آیا لیکن قرآن کی دوسری آیات میں غور کرنے سے یہ موضوع آفرینش انسان اور اس کی خلقت کی تکمیل کے ساتھ ہے اور ملائکہ کے امتحان سے پہلے در پیش ہوا۔
سورہ حجریہ ۲۹ میں ہے :( فاذاسویته ونفخت فیه من روحی فقعو اله سجدین )
جب خلقت آدم کو منظم کرلوں اور اپنی روح میں سے (ایک شائستہ روح جومیری مخلو ق ہے )اس میں پھونک دوں تو اس کے لئے سجدہ کرو
یہی مفہوم سورہ ص آیہ ۷۲ میں بھی ہے(۱)
اس موضوع کی شاہد یہ بات بھی ہے کہ اگرسجدہ کا حکم مقام ِآدم کے واضح ہونے کے بعد ہوتاتو ملائکہ کے لئے زیادہ افتخار کاباعث نہ ہوتا چو نکہ اس وقت تو آ دم کاافتخار سب پر واضح ہوچکاتھا ۔
بہر حال مندرجہ بالاآیت انسانی شرافت اور ا سکی عظمت مقام کی زندہ اور واضح گواہ ہے کہ اسکی تکمیل خلقت کے بعدتمام ملائکہ کوحکم ملتا ہے کہ اس عظیم مخلولق کے سامنے سر تسلیم خم کرو ۔ واقعا وہ شخص جو مقام خلافت الہٰی اور زمین پر خدا کی نمائندگی کا منصب حاصل کرے ،تمام تر تکامل وکمال پر فائز ہو اور بلند مرتبہ فرزندوں کی پرورش کاذمہ دار ہو جن میں انبیاء اور خصوصاََپیامبر اسلام اور ان کے جانشین شامل ہوں ،ایسا انسان ہر قسم کے احترام کے لائق ہے ۔
ہم اس انسان کا کتنا احترام کر تے ہیں اور اس کے سامنے جھکتے ہیں جو علم کے چند فارمولے جانتا ہو ۔تو پھر وہ پہلا انسان جو جہان ہستی کی بھر پور معلومات رکھتا تھا اس کے ساتھ کیا کچھ ہونا چا ہیے تھا ۔
____________________
(۱)آلوسی نے روح العانی میں اور رازی نے تفسیر کبیر میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
( ۱) ابلیس نے مخالفت کیوں کی :
ہم جانتے ہیں کہ لفظ ”شیطان “ اسم جنس ہے جس میں پہلا شیطان اور دیگر تمام شیطان شامل ہیں لیکن ابلیس مخصوص نام ہے اور یہ اسی شیطان کی طرف اشارہ ہے جس نے آدم کو ورغلایا تھا وہ صریح آیات قرآن کے مطابق ملائکہ کی نوع سے نہیں تھا صرف ان کی صفوں میں رہتا تھا وہ گروہ جن میں سے تھا جو ایک مادی مخلوق ہے
سورہ کہف آیہ ۵۰ میں ہے :( فسجدو الا ابلیس ط کان من الجن )
ابلیس کے سوا سب سجدے میں گرپڑے (اور ) یہ گروہ جن میں سے تھا ۔
اس مخالفت کا سبب کبر وغرور اور خاص تعصب تھا جو اس کی فکر پر مسلط تھا ۔وہ یہ سوچتا تھا کہ میں آدم سے بہتر ہوں لہٰذا اسے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم نہیں دیا جانا چاہیئے بلکہ آدم کو سجدہ کرنا چاہیئے او ر اسے مسجود ہونا چاہیئے تھا ۔ اس تفصیل سورہ اعراف کی آیہ ۱۲ کے ذیل میں آئے گی(۱)
شیطان کے کفر کی علت بھی یہی تھی کہ اس نے خدا وندے عالم کے حکیمانہ حکم کو نارواسمجھا ۔ نہ صرف یہ کہ عملی طور پر اس نے نافرمانی کی بلکہ اعتقادکی نظر سے بھی معترض ہوا اور خود بینی و خود خواہی نے یوں ایک عمر کے ایمان و عبادت کے ماحصل کو برباد کردیا اور اس کے خرمن ہستی میں آگ لگا دی ۔ کبر و غرور کے آثار بداس سے بھی زیادہ ہیں ۔
کان من الکافرین کی تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ وہ پہلے ہی میرِ ملائکہ اور فرمان خدا کی اطاعت سے اپنا حساب الگ کرچکا تھا اور اس کے سر میں استکبار کی فکر پرورش پارہی تھی اور شاید وہ خود سے کہتا تھا کہ اگر مجھے آدم کو سجدہ اور خضوع کرنے کا حکم دیا گیا تو میں قطعاََ اطاعت نہیں کروں گا ۔ ممکن ہے جملہ ماکنتم تکتمون (جو کچھ تم چھپاتے تھے ) اسی طرف اشارہ ہو ۔ تفسیر قمی میں جو حدیث امام حسن عسکری سے روایت کی گئی ہے اس میں بھی یہی معنی بیان ہوا ہے(۲)
____________________
(۱) تفسیر نمونہ ،سورہاعراف کیآیہ ۱۲کی تفسیر سے رجوع کیجئے
(۲) تفسیرالمیزان ، ج ۱ ، ص ۱۲۶۔
( ۲) سجدہ خدا کے لئے تھا یا آدم کے لئے :
اس میں کوئی شک نہیں کہ ”سجدہ “ جس کا معنی عبادت وپرستش ہے صرف خدا کے لئے ہے کیونکہ عالم میں خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور توحید عبادت کے معنی یہی ہیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں لہذا اس میں شک و شبہ نہیں کہ ملائکہ نے آدم کے لئے سجدہ عبادت نہیں کیا بلکہ یہ سجدہ خدا کے لئے تھا لیکن اس عجیب وغریب مخلوق کی وجہ سے یا یہ کہ سجدہ آدم کے لئے تھا لیکن وہ خضوع و تعظیم کا سجدہ تھا نہ کہ عبادت و پرستش کا ۔
کتاب عیون الاخبار میں امام علی بن موسیٰ الرضا سے اسی طرح روایت ہے :
کان سجودهم لله تعالی عبودیة ولادم اکرام و طاعة لکوننا فی صلبه ۔
فرشتوں کا سجدہ ایک طرف سے خدا کی عبادت تھا اور دوسری طرف آدم کا اکرام و احترام ۔ کیونکہ ہم صلب آدم میں موجود تھے( ۱)
بہر حال اس واقعہ اور فرشتوں کے امتحا ن کے بعد آدم اور اس کی بیوی کو حکم دیا گیا کہ وہ بہشت میں سکونت اختیار کریں ۔
چنانچہ قرآن کہتا ہے : ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور اس کی فراواں نعمتون میں سے جو چاہو کھاؤ( وقلنا یا آ ٰدم اسکن انت وزوجک الجنة وکلا منها رغدا َحیث شئتما ) ( ۲)
لیکن اس مخصوص درخت کے نزدیک نہ جانا ۔ ورنہ ظالمون میں سے ہو جاؤ گی ( ولا تقربا ھٰذہ الشجرة فتکونا من الظالمین )
آیات قرآنی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدم زندگی گزارنے کے لئے اسی عام زمین پر پیدا ہوئے تھے لیکن ابتدا میں خدا وندے عالم نے انہیں بہشت میں سکونت دی جو اسی جہان کا ایک سر سبز وشاداب اور نعمتوں سے مالا مال باغ تھا ۔ وہ ایسی جگہ تھی جہاں آدم نے کسی قسم کی تکلیف نہیں دیکھی ۔ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ آدم زمین میں زندگی گزارنے سے آشنائی نہیں رکھتے تھے اور بغیر کسی تمہید کے زحمات و تکالیف اٹھانا ان کے لئے مشکل تھا اور زمین میں زندگی گزارنے کے لئے یہاں کے کردار رفتار کی کیفیت سے آگاہی ضروری تھی لہذا مختصر مدت کے لئے بہشت کے اندر ضروری تعلیمات حاصل کرلیں کیونکہ زمین کی زندگی پروگراموں تکلیفوں اور ذمہ داریوں سے معمور ہے جس کا انجام صحیح سعادت ،تکامل اور بقائے نعمت کا سبب ہے اور ان سے رو گردانی کرنا رنج و مصیبت کا باعث ہے اور یہ پہچان لیں کہ اگر چہ انہیں آزاد پیدا کیا گیا ہے لیکن یہ مطلق و لا محدود آزادی نہیں ہے کہ جو کچھ چاہیں انجام دیں بلکہ انہیں چاہئے کہ زمین کی کچھ چیزوں سے چشم پوشی کریں ۔ نیز یہ جان لینا بھی تھا کہ اگر خطا و لغزش دامن گیر ہو تو ایسا نہیں کہ سعادت و خوش بختی کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں گے بلکہ انہیں پلٹ کر دوبارہ عہد وپیمان کرنا چاہیئے کہ وہ حکم خدا کے خلاف کوئی کام انجام نہیں دیں گے تاکہ دوبارہ نعمات الہٰی سے مستفید ہو سکیں ۔ یہ بھی تھا کہ وہ اس ماحول میں رہ کر کچھ پختہ ہوجائیں اور اپنے دوست اور دشمن کو پہچان لیں اور زمین میں زندگی گزارنے کی کیفیت سے آشنا ہوجائیں ۔ یقینایہ سلسلہء تعلیمات ضروری تھا تاکہ وہ اسے یاد رکھیں اور اس تیاری کے ساتھ روئے زمین پر قدم رکھیں ۔
یہ ایسے مطالب تھے کہ حضرت آدم اور ان کی اولاد آئندہ زندگی میں ان کی محتاج تھی لہذا باوجودیکہ آدم کو زمین کی خلافت کے لئے پیدا کیا گیا تھا ایک مدت تک بہشت میں قیام کرتے رہے اور انہیں کئی ایک حکم دیے جاتے ہیں شاید یہ سب تمرین و تعلیم کے پہلو سے تھا ۔
اس مقام پر آدم نے اس فرمان الٰہی کو دیکھا جس میں آپ کو ایک درخت کے بارے میں منع کیا گیا تھا ۔ ادھر شیطان نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ آدم اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے سے باز نہ آئے گا ۔ وہ وسوسے پیدا کرنے میں مشغول ہوگیا۔ جیسا کہ باقی آیات قرآنی سے ظاہر ہوتا ہے اس نے آدم کو اطمینان دلایا کہ اگر اس درخت سے کچھ کھالیں تو وہ اور ان کی بیوی فرشتے بن جائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں رہیں گے یہاں تک کہ اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں(۳)
بالآ خر شیطان نے ان دونوں کو پھسلا دیا اور جس بہشت میں وہ رہتے تھے اس سے باہر نکال دیا ۔ قرآن کے الفاظ میں :
( فازلهما الشیطٰن عنها فاخرجهما مما کانا فیه ) (۴)
اس بہشت سے جو اطمینان و آسائش کا مرکز تھی اور رنج و غم سے دور تھی شیطان کے دھوکے میں آکر نکالے گئے ۔
جیسا کہ قرآن کہتا ہے :( وقلنا اهبطو بعضکم لبعض عدو )
اور ہم نے انہیں حکم دیا کہ زمین پر اتر آؤ جہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہوجاؤ گے ( آدم و حوا ایک طرف اور شیطان ایک طرف )۔
مزید فرمایا گیا کہ تمہارے لئے ایک مدت معین تک زمین میں قرار گاہ ہے جہاں سے تم نفع اندوز ہوسکتے ہو( ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین ) یہ وہ مقام تھا کہ آدم متوجہ ہوئے کہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور بہشت کے آرام دہ اور نعمتوں سے مالا مال ماحول سے وسوسے کے سامنے سر جھکانے کے نتیجے میں باہر نکالے جا رہے ہیں اور اب زحمت و مشقت کے ماحول میں جا کر رہیں گے ۔یہ صحیح ہے کہ آدم نبی تھے اور گناہ سے معصوم تھے لیکن جیسا کہ ہم آئندہ چل کر بتائیں گے کہ کسی پیغمبر سے جب ترک اولی سرزد ہوجاتا ہے تو خدا وندے عالم اس سے اس طرح سخت گیری کرتا ہے جیسے کسی عام انسان سے گناہ سرزد ہو ۔
____________________
(۱) نور الثقلین ، جلد ۱، ص ۵۸
(۲) رغد ”بروزن ”صمد“ ہے جس کے معنی ہیں فراواں ، وسیع اور گوارا ”حیث شئتما “اشارہ ہے ہر جگہ اور ہر قسم کے میوے کی طرف۔
(۳) سورہ اعراف آیہ ۲۰ ،۲۱
(۴)ضمیر” عنہا“ کے مرجع میں دو احتمال ہیں ! یہ جنت کے لئے ہو اس صورت میں ”مما کانا فیہ “ کا جملہ و مرتبہ کے لئے ہو تو معنی یہ ہوگا کہ شیطان نے ان کے دلوں کو جنت میں پھسلایا اور جس مقام کے وہ حامل تھے اس سے باہر نکالا ۲ یہ مرجع ” شجرہ “ ہو یعنی شیطان نے اس درخت ممنوع کی وجہ سے انہیں پھسلایا اور جس بہشت میں وہ تھے اس سے باہر نکالا ۔
( ۱) آدم کس جنت میں تھے :
اس سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف متوجہ رہنا چاہیئے کہ اگر چہ بعض نے کہا ہے کہ یہ وہی جنت تھی جو نیک اور پاک لوگوں کی وعدہ گاہ ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ وہ بہشت نہ تھی بلکہ زمین سر سبز علاقوں میں نعمات سے مالا مال ایک روح پرور مقام تھا ۔
اول تو وہ بہشت جس کا وعدہ قیامت کے ساتھ ہے وہ ہمیشگی اور جاودانی نعمت ہے جس کے دوام کی نشاندہی بہت سی آیات میں کی گئی ہے اور اس سے باہر نکلنا ممکن نہیں ۔
دوم یہ کہ غلط اور بے ایمان ابلیس کے لئے اس بہشت میں جانے کی کوئی راہ نہ تھی ۔ وہاں نہ وسوسہ شیطانی ہے اور نہ خدا کی نافرمانی ۔
سوم یہ کہ اہل بیت سے منقول روایات میں یہ موضوع صراحت سے نقل ہوا ہے ۔
ایک راوی کہتا ہے : میں نے امام صادق سے آدم کی بہشت کے متعلق سوال کیا ۔ امام نے جواب میں فرمایا :
جنة من جنات الدنیا یطلع فیها الشمس والقمر ولو کان من جنان ا لاٰخرة ماخرج منها ابداََ
دنیا کے باغوں میں سے ایک باغ تھا جس پر آفتاب و ماہتاب کی روشنی پڑتی تھی اگر آخرت کی جنتوں میں سے ہوتی تو کبھی بھی اس سے باہر نہ نکالے جاتے(۱)
یہاں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آدم کے ہبوط و نزول سے مراد نزول مقام ہے نہ کہ نزول مکان یعنی اپنے اس بلند مقام اور سر سبز جنت سے نیچے آئے ۔
بعض لوگوں کے نزدیک یہ احتمال بھی ہے کہ یہ جنت کسی آسمانی کرہ میں تھی اگرچہ وہ ابدی جنت نہ تھی بعض اسلامی رو ایات میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ یہ جنت آسمان میں تھی لیکن ممکن ہے لفظ ”سماء “ (آسمان ) ان روایات میں مقام بلند کی طرف اشارہ ہو ۔
تاہم بے شمار شواہد نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنت آخرت والی جنت نہ تھی کیو نکہ وہ تو انسان کی سیر تکامل کی آخری منزل ہے اور یہ اس کے سفر کی ابتدا تھی اور اس کے اعمال اور پروگرام کی ابتدا تھی اور وہ جنتا ا س کے اعمال اور پروگرام کا نتیجہ ہے ۔
____________________
(۱) نور الثقلین جلد ۱ ، ص ۶۲ بحوالہ کتاب کافی
( ۲) آدم کا گناہ کیا تھا :
واضح ہے کہ آدم اس مقام کے علاوہ جو خدا نے گذشتہ آیات میں ان کے لئے بیان کیا ہے معرفت و تقوی کے لحاظ سے بھی بلند مقام پر فائز تھے ۔ وہ زمین میں خدا کے نمائندہ تھے ، وہ فرشتوں کے معلم تھے وہ عظیم ملائکہ الٰہی کے مسجود تھے اوریہ مسلم ہے کہ آدم ان امتیازات و خصوصیات کے ہوتے ہوئے گناہ نہیں کر سکتے تھے علاوہ ازیں ہمیں معلوم ہے کہ وہ پیغمبر تھے اور ہر پیغمبر معصوم ہوتا ہے ۔ لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدم سے جو کچھ سرزد ہوا وہ کیا تھا ۔ یہاں تین تفاسیر موجود ہیں ۔
( ۱) آدم سے جو کچھ سرزد ہوا ترک اولی تھا ۔ دوسرے لفظوں میں ان کی حیثیت اور نسبت سے وہ گناہ تھا لیکن گناہ مطلق نہ تھا ۔ گناہ مطلق وہ گناہ ہوتا ہے جو کسی سے سرزد ہو اور اس کے لئے سزا ہے ( مثلا َشرک، کفر ،ظلم اور تجاوز وغیرہ ) اور نسبت کے اعتبار سے گناہ کا مفہوم یہ ہے کہ بعض اوقات بعض مباح اعمال بلکہ مستحب بھی بڑے لوگوں کے مقام کے لحاظ سے مناسب نہیں ۔ انہیں چاہیئے کہ وہ ان اعمال سے گریز کریں اور اہم کام بجالائیں ورنہ کہا جائے گا کہ کہ انہوں نے ترک اولی کیا ہے ۔ مثلاَ ہم جو نماز پڑھتے ہیں اس کا کچھ حصہ حضور قلب سے ہوتا ہے اور کچھ بغیر اس کے ۔ یہ امر ہمارے مقام کے لئے تو مناسب ہے لیکن حضرت رسولخدا اور حضرت علی کے شایان شان نہیں ان کی ساری نمازخدا کے حضور میں ہونی چاہیئے اور اگر اس کے علاوہ کچھ ہو تو کسی فعل حرام کا ارتکاب تو نہیں تاہم ترک اولی ہے ۔
(!!)خدا کی نہی یہاں ”نہی ارشاد ی “ ہے جیسے ڈاکٹر کہتا ہے فلاں غذا کھاؤ ۔ورنہ بیمار پڑجاؤ گے ۔ خدا نے بھی آدم سے فرمایا کہ اگر اس درخت ممنوع سے کچھ کھالیا تو بہشت سے باہر جانا پڑے گا اور رنج و تکالیف میں مبتلا ہونا پڑے گا لہذا آدم نے حکم خدا کی مخالفت نہیں کی بلکہ ”نہی ارشادی “ کی مخالفت کی ہے ۔
(!!!) جنت بنیادی طور پر جائے تکلیف نہ تھی بلکہ وہ آدم کے زمین کی طرف آنے کے لئے ایک آزمائش اور تیاری کا زمانہ تھا اور نہی صرف آزمائش کا پہلو رکھتی تھی(۱)
____________________
(۱) مزید وضاحت کے لئے جلد ۴ ،سورہ اعراف ۱۹ تا ۲۲ اور جلد ۷ آیات ۱۲۱ اور اس کے بعد کی طرف رجوع کریں ۔
( ۳) تورات سے معارف قرآن کا مقابلہ :
مندرجہ بالا آیات کے مطابق وجود آدم میں سب سے بڑا افتخار اور نقطہ قوت جس کی وجہ سے وہ مخلوق میں منتخب ہے اور جس کی وجہ سے وہ مسجود ملائکہ ہے وہی ” علم الاسماء “ سے آگاہی اور حقائق اسرار خلقت و جہان ہستی سے واقفیت ہے ۔ یہ واضح ہے کہ آدم انہی علوم کے لئے پیدا کیے گئے تھے اور اولاد آدم اگر کمال حاصل کرنا چاہے تو اسے چاہیئے کہ وہ علوم سے زیادہ استفادہ کرے ۔ اولاد آدم میں سے ہر ایک کا کمال و تکامل اسرار خلقت کی آگاہی سے سیدھی نسبت رکھتا ہے ۔ قرآن پوری صراحت سے آدم کے مقام کی عظمت ان چیزوں میں سمجھتا ہے لیکن توریت میں آدم کے بہشت سے باہر نکالے جانے کا جواز اور بہت بڑا گناہ بیان کیا گیا ہے وہ ان کی علم ودانش کی طرف توجہ اور نیک و بد جاننے کی خواہش ہے۔
تورات فصل دوم سفر تکوین میں ہے :
” پس خدا وندے عالم نے آدم کو خاک ِ زمین سے صورت دی اور تسلیم حیات اس کے دماغ میں پھونکی اور آدم زندہ جان ہوگیا اور خدا وند خدا نے ہر خوشنما درخت اور جو کھانے کے لئے اچھا تھا زمین سے اُگایا نیز شجر حیات کو وسط ِ باغ میں لگایا اور نیک و بد جاننے کے درخت کو اور خدا وند نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ باگ کے تمام درختوں سے تمہیں کھانے کا اختیار ہے لیکن” نیک و بد جاننے “کے درخت سے نہ کھانا جس دن تو اسے کھائے گا موت کا مستحق ہو جائے گا “
فصل سوم میں یوں آیا ہے:
”اور خدا وندکی آواز کو سناجو دن کو نسیم کے وقت باغ میں خراماں خر اماں چلتا تھا آدم اور اس کی بیوی اپنے آپ کو خداوند کے حضور سے باغ کے درختوں کے در میان چھپاتے تھے “
”اور خدا وند نے آدم کو آواز دی ۔اُسے کہا کہ تو کہا ں ہے ۔“
”اس نے جواب میں کہاکہ میں نے تیری آواز سنی اور میں ڈر گیا کیونکہ میں برہنہ ہوں اس وجہ سے چھپا بیٹھا ہو ں “
”خدا نے اس سے کہا :تجھے کس نے کہا کہ تو برہنہ ہے کیا جس درخت سے تمہیں نہ کھانے کے لئے کہا تھا تم نے کچھ کھایا “
”آدم نے کہا جو عورت تو نے مجھے میرے ساتھ رہنے کے لئے دی ہے اس نے اس د رخت سے مجھے دیا ہے جسے میں نے کھالیا ہے “۔
”اور خدا وند نے کہا آ دم تم تو ”نیک وبد جاننے “کی وجہ سے چونکہ ہم میں سے ایک ہوگیا ہے لہٰذا اب ایسا نہ ہو کہ اپنا ہاتھ دراز کرے اور ” درخت حیات “سے بھی کچھ لے لے اور کھا لے اور کھا کر ہمیشہ کے لئے زندہ رہے “۔
پس اس سبب سے خداوند نے با غ عدن سے نکال دیاتاکہ اس زمین میں جواس سے لے لی گئے تھی زراعت کرے “
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا یہ تکلیف وہ افسانہ جو آج تورات میں ایک تاریخی حیثیت سے موجود ہے اس کے مطابق آدم کو بہشت سے نکلنے اور ان کے عظیم گناہ کی اصلی علت وسبب علم دانش کی طرف ان کی توجہ اور نیک وبد سے آگاہی کے لئے ا ن کی تمنا ہے۔ چنانچہ ’ ’ شجرہ نیک وبد “کی طرف ہاتھ نہ پھیلاتے تو ابد تک جہالت میں باقی رہ جاتے یہاں تک وہ یہ بھی نہ جا نتے کہ برہنہ ہو ناقبیح اور ناپسندیدہ فعل ہے اور ہمیشہ کے لئے بہشت میں باقی ر ہ جاتی ۔
اس لحاظ سے تو آدم کو اپنے کام پر پشیمان نہیں ہونا چاہیئے تھا کیونکہ ایسی جنت کو ہاتھ سے دینا جہاں رہنے کی شرط نیک وبد سے عدم آگاہی ہو ،اس کے مقابلے میں علم ودانش حاصل کرنا نفع مند تجارت ہے اس تجارت کے بعد آدم کیو ں حیران وپریشان ہوں ۔
اس بنا ء پر تورا ت کایہ افسانہ ٹھیک قرآن کے مد مقابل قر ار پایا ہے جس کے نزدیک انسان کا مقام عظمت اور اس کی خلقت کا راز علم الاسماء سے آگاہ ہے ۔
اس کے علاوہ مذکورہ افسانے میں خداوند عالم اور مخلوقات کے بارے میں عجیب وغریب باتیں بیان کی گئیں ہیں ۔مثلاََ
( ۱) خداکی طرف جھوٹ کی نسبت ۔۔۔ جیسے فصل دوم کا جملہ ۱۷:
”خدا وندخدانے کہا کہ اس درخت سے مت کھانا ورنہ مرجاوگے-۔“
حالانکہ انہوں نے مرنا نہیں تھا بلکہ داناوعقلمند ہوناتھا۔
( ۱۱) خداوندعالم کی طرف بخل کی نسبت۔ جیسے فصل سوم کاجملہ ۲۲ جس کے مطابق خدانہیں چاہتا تھاکہ آدم وحواعلم وحیات کے درخت سے کھائیں اور داناوعقل مند ہوجائیں نیز ابدی زندگی حاصل کریں ۔
( ۱۱) خدا وند عالم کے لئے شریک کے وجود کا امکان ۔۔۔۔جیسے یہ جملہ :
آدم شجرِنیک وبد کھا نے کے بعد ہم(خداوں )میں سے ایک کی طرح ہوگیا ہے۔“
خدا کی طرف حسد کی نسبت ۔۔جیسے اس جملہ سے ظاہر ہے :
”خدا وند عالم نے ا س و علم ودانش کی وجہ سے جو آدم میں پیدا ہو گئی تھی اس پر رشک وحسد کیا ۔“
خد ا وند عالم کی طرف جسم کی نسبت ۔۔جیسے فصل سوم میں ہے ۔
”خدا وند صبح کے وقت بہشت کی سڑکوں پر خراماں خراماں چل رہاتھا “
خداوند عالم کی ان حوادث سے بے خبری جو اس کے قریب واقع ہوتے ہیں ۔۔جیسے جملہ ۹ میں ہے :
آواز دی اے آدم!کہاں ہو۔انہوں نے درختوں کے درمیان اپنے آپ کوخداوند کی آنکھ سے چھپارکھاتھا۔“(۱)
یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ یہ جھوٹے افسانے پہلے تورات میں نہ تھے بعد میں ملادیئے گئے )
____________________
(۱)کتاب“قرآنوآخرین پیامبر“ ص ۱۲۷تا۱۳۲
( ۴) قرآن میں شیطان سے کیا مراد ہے :
لفط ”شیطان “مادہ ”شطن “سے ہے اور” شاطن “کے معنی ہیں ”خبیث وپست “اور شیطا ن وجود سرکش و متمرد کو کہاجاتا ہے چاہے وہ انسان ہو یاجن یاکوئی اور حرکت کر نے والی چیز۔رو ح شریر اور حق سے دور کو بھی شیطان کہتے ہیں جو حقیقت میں ایک قدر مشترک رکھتے ہیں یہ بھی جاننا چاہیئے کہ شیطان اسم عام (اسم جنس )ہے جب کہ ابلیس اسم خاص (علم )ہے
دوسرے لفظوں میں شیطان ہر موذی ،گمراہ ،باغی اور سرکش کو کہتے ہیں وہ ا نسان ہو یاغیر انسان لیکن ابلیس اس شیطان کانام ہے جس نے آدم کو ورغلایاتھا اور اس وقت بھی وہ اپنے لاو لشکرکے ساتھ اولاد آدم کے شکار کے لئے کمین گاہ میں ہے ۔
قرآن میں اس لفظ کے استعمال کے مواقع سے معلو م ہو جاتا ہے کہ شیطان موذی و مضر چیز کو کہتے ہیں ۔جو راہ راست سے ہٹ چکاہو،جو دوسروں کو آزار پہنچانے کے درپے ہو ،اختلا ف اور تفرقہ پیدا کرنا جس کی کو شش ہو اور جو اختلاف وفساد کو ہوا دیتا ہو ،جیسا قرآن میں ہے :( انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوةوالبغضائ )
شیطا ن چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی ، بغض اورکینہ پیدا کرے ۔ (مائدہ، ۹۱)
اگر ہم دیکھیں گے کہ لفظ ”یرید “فعل مضارع کا صیغہ ہے اور استمرار اورتسلسل پر دلالت کرتا ہے تواس سے یہ معنی بھی پیدا ہوتے ہیں کہ یہ شیطان کاہمیشہ کاارادہ ہے۔
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن میں لفظ شیطان کسی خاص موجود کے لئے نہیں بولا گیا بلکہ مفسد اور شریر انسانوں تک کو شیطان کہا گیا ہے جیسے :( وکذٰلک جعلنا لکل نبی ِِعدواََشیٰطین الانس والجن )
اسی طرح ہر نبی کےلئے ہم نے انسانو ں اور جنوں میں سے شیطانوں کو دشمن قرار دیا ہے ۔(انعام ، ۱۱۲)
یہ جو ابلیس کو بھی شیطان کہا گیا ہے وہ اس کی شرارت اورفساد کے با عث ہے ۔
اس کے علاوہ بعض اوقات لفظ شیطان جراثیم کے لئے بھی استعمال کیا جا تا ہے مثلاَ۔ حضر ت امیرالمومنین فرماتے ہیںلاتشرب الماء من ثلمةالاناء ولامن عروته فان الشیطان یعقد علی العروةوالثلمة ۔
برتن کے ٹوٹے ہوئے حصے اور دستے کی جگہ سے پانی نہ پیو کیونکہ دستے کی جگہ اور ٹوٹے ہوئے حصے پر شیطان بیٹھا ہوتا ہے(۱)
نیز امام صادق فرماتے ہیں :ولایشرب من اذن الکوزولامن کسره فان کان فیه فانه مشرب الشیاطین ۔
دستے اور کوزے کے ٹوٹے ہو ئے مقام سے پانی نہ پیو کیو نکہ یہ شیطان کے پینے کی جگہ ہے ۔( ۲)
رسول اسلام کا ارشاد ہے :
مونچھو ں کے بال بڑے نہ رکھو کیونکہ شیطان اسے اپنی زندگی کے لئے جائے امن سمجھتا ہے اور اس میں چھپ کر بیٹھتا ہے۔(۳)
اس سے ظاہر ہوا کہ شیطان کے ایک معنی نقصان دہ اور مضر جراثیم بھی ہیں لیکن واضح ہے کہ مقصد یہ نہیں لفظ شیطان تمام مقامات پر اس معنی میں ہو بلکہ غرض یہ ہے کہ شیطان کے مختلف معانی ہیں ۔ان روشن وواضح مصادیق میں سے ایک ابلیس ،اس کا لشکر اور اس کے اعوان ومددگا ر بھی ہیں اور اس کا دوسرا مصداق مفسد ،حق سے منحر ف کر نے و الے انسا ن ہیں اور بعض اوقات اذیت دینے والے جراثیم کے لئے بھی یہ لفظ آیا ہے (اس میں خوب غور کیجئے )
____________________
(۱) و (۲) و (۳)کافی جلد ۶ ،کتاب الاطعمہ والاشربہ با ب لاولی۔
( ۵) خدا نے شیطان کو کیو ں پیدا کیا ہے :
بہت سے لوگ پو چھتے ہیں کہ شیطان جس کا کا م ہی گمرا ہی کر نا ہے آخر اسے کیو ں پیدا کیا گیا اور اس کے وجود کا فلسفہ کیاہے ۔اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں ۔
اول تو خدانے شیطان کو شیطان نہیں پیدا کیا یہی وجہ ہے سالہاسال تک وہ ملائکہ کا ہم نشین رہا اور پاک فطرت پر رہا لیکن پھر اس نے اپنی آز اد ی سے غلط فائد ہ اٹھا یااور بغاوت وسرکشی کی بنیا د ر کھی لہٰذ ا وہ ابتداء میں پاک وپاکیزہ پیدا کیاگیا اس کی کجروی اس کی اپنی خواہش پر ہوئی ۔
دوم یہ کہ نظام خلقت کو دیکھتے ہوئے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صاحبان ایمان اور وہ لوگ جو راہ حق پر گامزن رہنا چاہتے ہیں ان کے لئے نہ صرف یہ کہ شیطان کا وجود مضر اور نقصان دہ نہیں بلکہ ان کی پیش رفت اور تکامل کاذریعہ ہے ۔کیو نکہ ترقی اور کمال ہمیشہ متضاد چیزوں کے درمیان ہی صورت پذیر ہو تے ہیں ۔
زیادہ واضح الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جب تک انسا ن طاقت ور دشمن کے مقابلے میں کھڑا نہ ہوکبھی بھی اپنی قوت واستعداد اور مہارت کو پیش نہیں کرسکتا اور نہ اسے کا م میں لا سکتا ہے یہی طا قت ور دشمن کا وجود انسان کے زیادہ تحرک اور جنبش کا سبب بنتا ہے اوراس کے نتیجے میں اسے ترقی اور کمال نصیب ہو تا ہے
معاصرین میں سے ایک بہت بڑا فلسفی “ٹو آئن بی “کہتاہے
”دنیا میں کو ئی رو شن تمدن اس وقت تک پیدانہیں ہوا جب تک کو ئی ملت کسی خارجی طاقت کے حملے کا شکار نہیں ہوئی ۔اس حملے اور یلغا ر کے مقابلے میں وہ اپنی مہارت اور ااستعداد کو بروئے کار لائی اور پھر کسی درخشاں تمدن کی د ا غ بیل پڑی ۔“
آیات ۳۷،۳۸،۳۹
( فتلقی یاٰآدم من ربه کلمٰت فتاب علیه ط انه هواتواب الرحیم ) ۳۷ ۔
( قلنااهبطوامنهاجمیعاََ فاما یا تینکم منی هدی فمن تبع هدای فلا خوف علیهم ولاهم یحزنون ) ۳۶ ۔
( والذین کفرو اوکذبواباٰیاٰتنااولٰئک اصحٰب النار جهم فیها خٰلدون ) ۳۹ ۔
ترجمہ
۳۷ ۔پھر آدم نے اپنے پر ودگا ر سے کچھ کلمات حا صل کئے اور (ان کے ذریعہ)توبہ کی اور خدا وندعالم نے ان توبہ قبو ل کرلی ،خداوند عالم تواب اور رحیم ہے ۔
۳۸ ۔ہم نے کہا سب کے سب(زمین کی طرف )اتر جاو ۔جس وقت میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے گی اس وقت جولوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے لئے نہ خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہونگے ۔
۳۹ ۔اورجو لوگ کافر ہو جائیں گے اور ہمار ی آیات کی تکذیب کریں وہ اہل دوزخ ہیں اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔
خدا کی طرف آدم کی بازگشت
وسوسہ ابلیس اور آدم کے جنت سے نکلنے کے حکم جیسے و اقعات کے بعدآدم متوجہ ہوئے کہ واقعاََ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اس اطمینان بخش اور نعمتوں سے مالامال جنت سے شیطانی فریب کی وجہ سے نکلنا پڑ ااور اب زحمت اور مشقت سے بھری ہوئی زمین میں رہیں گے ۔اس وقت آدم اپنی غلطی کی تلافی کی فکر میں پڑے اور مکمل جا ن ودل سے پروردگار کی طرف متوجہ ہوئے ا یسی توجہ جو ندامت وحسرت کاایک پہاڑ ساتھ لئے ہوئے تھی ۔اس وقت خداکا لطف وکرم بھی ان کی مدد کے لئے آگے بڑھا اور جیسا کہ قرآن مندرجہ بالا آیات میں کہتا ہے : آدم نے اپنے پرور دگار سے کچھ کلمات حاصل کئے جو بہت مو ثر اور انقلاب خیز ان کے ساتھ توبہ کی اور خدا نے بھی ان کی توبہ قبول کرلی( فتلقیٰ آدم من ربه کلمات فتاب علیه ) کیونکہ وہ تواب اور رحیم ہے
” توبہ“کے اصلی معنی ہیں ”باز گشت “اور قر آن کی زبان میں گناہ سے واپسی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔یہ اس صورت میں ہے جب توبہ کا لفظ کسی شخص گنہگار کے لئے استعمال کیا جائے لیکن کبھی کبھی یہ لفظ اللہ کی طرف بھی منسوب ہوتاہے وہاں اس کا مفہو م ہے رحمت کی طرف بازگشت ،یعنی وہ رحمت جو ارتکاب گناہ کی وجہ سے بندے سے سلب کرلی گئی تھی ۔اب اطاعت وبندگی کے راستے کی طرف اس کی واپسی کی وجہ سے اسے لوٹا دی جاتی ہے ا سی لئے خدا کے لئے تواب (بہت زیادہ رحمت کی طرف لوٹنے والا )کا لفظ استعمال کیا جا تا ہے ۔
بہ الفاط دیگر توبہ خدا اور بندے کے درمیان ایک لفظ مشترک ہے ۔جب یہ صفت بندوں کے لئے ہو تو اس کامفہو م ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف پلٹتے ہیں کیونکہ ہر گنا ہ کرنے والا در اصل اپنے پر وردگار سے بھا گتا ہے اور پھر جب وہ توبہ کرتا ہے تو اس کی طرف لوٹ آتا ہے ۔گناہ کے وقت خدا بھی ان سے منہ موڑ لیتا ہے اور جب یہ صفت خد اکے لئے استعمال ہو تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ وہ ا پنے لطف ، ورحمت اور محبت کی نظر ان کی طرف لوٹادیتا ہے(۱)
یہ صحیح ہے کہ حضرت آدم نے حقیقت میں کوئی فعل حرا انجام نہیں دیاتھا لیکن یہی ترک ِاولی ٰان کے لئے نافرمانی شمار ہوتا ہے ۔وہ حضرت فوراََاپنی کیفیت وحالت کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے پروردگار کی طرف پلٹے ۔
”کلمات“سے کیا مراد ہے ،اس کے بارے میں اس بحث کے اختتام پر گفتگو کریں گے۔
بہر حال جو کچھ نہیں ہونا چاہیئے تھا وہ ہوا اور با وجودیکہ آدم کی تو بہ قبو ل ہوگئی لیکن اس کا اثر وضعی یعنی زمین کی طرف اتر نایہ متغیر نہ ہوا ۔جیسا کہ مندر جہ بالا آیا ت کہتی ہیں :ہم نے ان سے کہا کہ تم سب (آدم وحوا )زمین کی طرف اتر جاو ۔جب تمہیں ہماری طرف سے ہدایت پہنچے اس وقت جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے لئے خوف ہے نہ وہ غمگین ہو ں گے( وقلنا اهبطوامنها جمیعاِِ فاما یا تینکم منی هدی فمن اتبع هدای ولا خوف علیهم فلا هم یحزنون ) ۔
لیکن جو لوگ کافر ہو گئے اور انہونے ہماری آیات کی تکذیب کی وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ میں رہیں گے( والذین کفرواوکذبوا باٰیاٰتنااولٰئک اصحاب النارهم فیها خٰلدون )
____________________
(۱) یہی وجہ ہے کہ لفظ توبہ جب بندے کی طرف منسوب ہوتو لفظ ”الی “آتا ہے اور خدا کی طرف منسو ب ہو تو ”علی “آتا ہے ۔پہلی صورت میں ” تاب الیہ“اور دوسری صورت میں ”تاب علیہ “کہا جا تا ہے (تفسیر کبیر اور تفسیر صافی زیر نظر آیت کے ذیل میں )
( ۱) خدانے جو کلما ت آدم پر القا کئے وہ کیا تھے :
توبہ کے لئے جو کلمات خدا نے آدم کو تعلیم فرمائے تھے اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان ا ختلا ف ہے
مشہور ہے کہ وہ جملے یہ تھے جو سورہ اعراف آیہ ۲۳ میں ہیں :
( قالا ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنالنکونن من الخاسرین )
ان دونو ں نے کہا خدایا!ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ا گر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم زیاکاروں اور خسارے میں رہنے والو ں میں سے ہو جائیں گے ۔
بعض کہتے ہیں کلمات سے مراد یہ دعا وزاری تھی :
اللهم لاالٰه الا انت سبحٰنک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فاغفر لی انک خیر الغافرین
اللهم لاالٰه الا انت سبحٰنک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فارحمنی انک خیرالراحمین
اللهم لاالٰه الا انت سبحنک وبحمدک رب انی ظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم ۔
پرور دگارا !تیرے سوا کوئی معبود نہیں ،تو پاک ومنزہ ہے میں تیری تعریف کرتا ہوں میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے مجھے بخش دے کہ تو بہترین بخشنے والا ہے
خدایا !تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ، توپاک ومنزہ ہے ،میں تیری تعریف کر تا ہوں ،میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ،تو مجھ پر رحم فرما کہ تو بہترین رحم کر نے والاہے
بارالٰہا !تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ومنزہ ہے میں تیری حمد کرتا ہوں ،میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اپنی رحمت کو میرے شامل حال قرار دے اور میری توبہ قبول کرلے کہ تواب ورحیم ہے ۔
امام محمد باقر سے منقول ایک روایت میں بھی یہ موضوع اسی طر ح وارد ہو اہے، ۱
اسی قسم کی تعبیرات قرآن کی دوسری آیات میں حضرت یونس وموسی کے بارے میں بھی ہیں :
حضرت یونس خدا سے بخشش کی درخواست کرتے ہوئے کہتے ہیںسبحٰنک انی کنت من الظالمین
خدایا !تو پاک ہے ،میں ان میں سے ہوں جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ۔(انبیاء ۔ ۸۷)
حضرت موسٰی کے بارے میں ہے :قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی فغفرله
انہو ں (حضرت موسٰی) نے عرض کیا :پروردگارا!میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے مجھے بخش دے اور خدا نے انہیں بخش دیا (القصص۔ ۱۶)
کئی ایک روایا ت جو طرق اہل بیت سے منقول ہیں میں ہے کہ کلمات سے مراد خداکی بہترین مخلوق کے ناموں کی تعلیم تھی (یعنی محمد ،علی فاطمہ ،حسن ،حسین علیھم السلام اور آدم نے ان کلمات کے وسیلے سے درسگاہ الٰہی سے بخشش چاہی اور خدانے انہیں بخش دیا ۔
یہ تین قسم کی تفاسیر ایک دوسرے سے اختلاف نہیں رکھتیں کیونکہ ممکن ہے کہ حضرت آدم کو ان سب کلمات کی تعلیم دی گئی ہو تاکہ ان کلمات کی حقیقت اور باطنی گہر ائی پر غو ر کر نے سے آدم میں مکمل طور پر انقلاب روحانی پیدا ہو اور خدا انہیں اپنے لطف وہدایت سے نوازے ۔
( ۲) لفظ اھبتوا کاتکرار کیوں :
زیر بحث اور ان سے پہلی آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ توبہ سے پہلے اوربعد بھی حضرت آدم اور ان کی زوجہ حوا کو خطاب ہوا کہ زمین کی طرف اتر جاو ۔یہ تکرار آیا تا کید کے لئے ہے یا کسی اور مقصد کی طرف اشارہ ہے ۔اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے
لیکن ظاہر ہے کہ دوسری مرتبہ یہ لفظ اس واقعیت وحقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ کہیں آدم یہ گمان نہ کریں کہ ان کی توبہ قبول ہو جانے کے بعد زمین کی طرف اتر نے کا حکم بھی واپس لے لیا گیا ہے بلکہ انہیں اس راستے کی طرف ہر حال میں جانا ہے یا اس لحاظ سے کہ در اصل وہ پیدا ہی اس مقصد کے لئے ہوئے تھے یاپھر اس نظر سے کہ یہ اترنااس عمل کا وضعی ہے اور یہ توبہ سے نہیں بدلا۔
( ۳)” اھبتوا“ میں کون مخاطب ہیں
”اھبتوا“صیغہ جمع کے ساتھ آیا ہے جب کہ آدم وحوا جو اس گفتگو کے اصلی مخاطب ہیں وہ دو سے زیادہ نہیں ہیں لہٰذا انکے لئے تثنیہ کا صیغہ آنا چاہیئے تھا لیکن اس بناء پر جمع کا صیغہ آیا کہ آدم وحواکے زمین پر اتر نے کا نتیجہ یہ تھا کہ ان کی نسل کو بھی زمین میں رہنا تھا لہٰذا جمع کا صیغہ لایا گیا ہے۔
____________________
۱مجمع البیان ،آیات زیر بحث کے ذیل میں ۔
آیت ۴۰
( یٰبنی اسرائیل اذکروانعمتی التی انعمت علیکم واوفوابعهدی اوف بعهدکم وایای فارهبون ) ۴۰ ۔
ترجمہ
۴۰ ۔اے اولاد اسرئیل !جو نعمتیں میں نے تمہیں عطا کی ہیں انہیں یا درکھو اور میرے ساتھ جو تم نے عہد وپیما ن با ندھا ہے ۔اسے پورا کرو تاکہ میں بھی تمہارے ساتھ کئے ہو ئے عہد و پیما ن کو پو را کروں (اور ذمہ داری کی انجام دہی نیز عہد وپیمان کی پابندی میں )صرف مجھ سے ڈراکرو۔
خدا کی نعمتوں کو یاد کرو
زمین پر خلافت آدم کی داستان ۔ملائکہ کی طرف سے ان کی تعظیم کا واقعہ ،آدم کا عہدوپیما ن الٰہی کو بھول جانے کا ذکر اور پھر ان کی توبہ کا تذکرہ یہ سب کچھ ہم گذشتہ آیا ت میں پڑھ چکے ہیں ۔
اس و اقعے سے یہ حقیقت و اضح ہوئی کہ اس دنیا میں ہمیشہ دو مختلف طاقتیں ،حق و باطل ایک دوسرے سے بر سر پیکا ر ہیں جس شخص نے شیطان کی پیروی کی اس نے باطل کی راہ کو انتخاب کیا جس کا انجام ہے جنت اور جہنم سے دوری اور رنج وتکلیف میں مبتلا ہو نااوراس کے بعد پشیمانی ہے ۔اس کے خلاف جو فرمان خداوندی کی راہ پر چلتا رہا اور اس نے شیاطین اور باطل پرستوں کے وسوسوں کی پرواہ نہ کی وہ پا ک وپاکیزہ اور رنج وغم سے آسودہ زندگی بسرکرے گا ۔ بنی اسرئیل نے فر عونیوں کے چنگل سے نجات پائی ، زمین میں خلیفہ ہوئے پھر پیمان الٰہی کو بھو ل گئے اور دوبارہ رنج وبد بختی میں پھنس گئے چونکہ یہ واقعہ حضر ت آدم کے واقعے سے بہت زیادہ مشابہت رکھتا ہے اسی اصل کی ایک فرع شمار ہو تا ہے لہٰذ اخداوند عالم زیر بحث اور اسکے بعد دسویں آیت میں بنی اسرائل کے مختلف نشیب وفراز اور ان کی سر نوشت بیان کرتا ہے تاکہ وہ ترتیبی درس جو سر نوشت آدم سے شروع ہو اتھاان مباحث میں مکمل ہوجائے ۔ بنی اسرایل کی طرف ا س طرح ر وئے سخن ہے :اے بنی اسرائیل !ہماری ان نعمتون کو یاد کروجو ہم نے تمہیں بخشی ہیں اورمجھ سے کیا ہوا عہد پورا کرو تاکہ میں بھی تم سے کئے ہوئے عہد سے وفا کروں اور صرف مجھ سے ڈرو( یابنی اسرائیل اذکروانعمتی التی انعمت علیکم واوفوبعهدی اوف بعهدکم وایای فارهبون ) ۔
در حقیقت یہ تین دستور او راحکا م کی (خداکی عظیم نعمتوں کو یاد کرنا ،عہد پرور دگار کو پورا کرنااور اس کی نافرمانی سے ڈرنا )خدا کے تمام پروگر ا موں کی تشکیل کرتے ہیں ۔
اس کی نعمتوں کو یاد کرنا ۔انسا ن کو اس کی معرفت کی دعوت دیتا ہے اور انسان میں شکر گزاری کا احساس ابھار تا ہے اس کے بعد اس نکتے کی طرف توجہ کی یہ نعمتیں بغیر کسی شر ط و قید کے نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ خدانے عہد وپیمان لیا ہے یہ انسا ن اس کی الٰہی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتاہے اور اس کا انجام یہ ہے کہ انسان ذمہ داری کی راہ میں کسی شخص یا ہستی سے نہ ڈرے ۔یہ سبب بنتا ہے کہ انسان اس راستے کی تمام رکا وٹوں کو دور کر دے اور اپنی ذمہ داریوں اور عہد وپیمان کو پوراکرے کیونکہ اس راستے کی اہم رکاوٹوں میں سے ایک بلا وجہ اِس سے اور اس سے ڈرنا ہے خصوصا بنی سرئیل جو سالہاسال تک فرعون کے زیر تسلط رہے تھے ۔خوف ان کے بدن کا جزء بن چکا تھا۔
( ۱) یہودی مدینہ میں :
یہ بات قابل غور ہے کہ بعض مئورخین ِ قرآن کی تصریح یہ ہے کہ سورہ بقرہ پہلی سورت ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی ۔ اس کا اہم حصہ یہودیوں کے بارے میں ہے کیونکہ اہل کتا ب کے پیروکاروں کی زیادہ مشہور جماعت وہاں پر یہودیوں ہی کی تھی ۔ وہ ظہور پیغمبر سے پہلے اپنی مذہبی کتب کی روشنی میں اس قسم کے ظہور کے منتظر تھے اور دوسرں کو بھی اس کی بشارت دیتے تھے ۔ اقتصادی حالت بھی ان کی بہت ااچھی تھی خلاصہ یہ کہ مدینہ میں ان کا گہرا اثر ورسوخ تھا ۔
جب اسلام کا ظہور ہوا تو اسلام ان کے غیر شرعی منافع کے راستون کو بند کرتا تھا اور ان کے غلط رویوں او ر خود سری کو روکتا تھا ۔ان میں اکثر نے نہ صرف یہ اکہ اسلا م کی دعوت کو قبول کیا بلکہ علی الاعلان اور پوشیدہ طور پر اس کے خلا ف صف آراء ہوگئے ۔چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اسلام سے ان کا یہ مقابلہ ابھی تک جاری ہے
مندرجہ بالا اور اس کے بعد کی آیات نازل ہوئیں اورسخت ترین سر زنشوں کے تیر یہودیو ں پر چلائے گئے اور ان کی تاریخ کے حساس حصو ں کو اس باریکی کے ساتھ ذکر کیا گیا کہ جس نے ان کو ہلاکررکھ دیا ان میں سے جو بھی تھو ڑی سی حق جوئی کی روح رکھتا تھا وہ بیدار ہو کر اسلام کی طرف آگیا علاوہ ازیں مسلمانوں کے لئے بھی یہ ایک ترتیبی درس تھا ۔
انشاء اللہ آنے والی آیات میں آپ بنی اسرائیل کے نشیب وفرازپڑھیں گے جس میں ان کافرعون کے چنگل سے نجات پانا ،دریا کا شق ہونا،فرعون اور فرعونیون کا غرق ہو نا ،کوہِ طور حضرت موسی ٰکی وعدہ گاہ ،حضرت موسیٰ کی غیبت کے زمانے میں بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی ،خونی توبہ کاحکم ،خداکی مخصوص نعمتو ں کاان پر نزول اور اس کے دیگر واقعات جن میں سے ہرایک واقعہ اپنے اندر ایک یا کئی عبر تناک درس لئے ہو ئے ہے ۔
( ۲) یہودیوں سے خدا کے بارہ معاہدے:
جس طرح آیات قر آنی سے ظاہرہوتا ہے :وہ معاہد ے یہ تھے :ایک اکیلئے خدا کی عبادت کرنا،ماں باپ ،عزیز واقارب ،یتیموں اور مدد طلب کرنے والوں سے نیکی کر نا ،لوگو ں سے اچھا سلوک کرنا ،نماز قائم کرنا ،زکوٰةدینا اور اذ یت وآزاری اور خون ریزی سے دور رہنا ۔
اس با ت کی شاہد اسی سورہ کی آیت ۸۳ اور ۸۴ ہے ۔
( واذاخذنامیثاق بنی اسرائیل لاتعبدون الاالله وباالٰولدین احسان وذی القربی ٰوالیتٰمی ٰوالمساکین وقولوا للناس حسناواقیموالصلٰوة واٰتوالزکٰوةواذااخذنامیثا قکم لا تسفکون دماء کم ولاتخرجون انفسکم من دیارکم ثم اقرتم وانتم تشهدون )
در اصل یہ دو آیات د س معاہدو ں کی نشان دہی کرتی ہیں جو خدا نے یہودیوں سے کئے تھے اورسو رہ مائدہ کی آیت ۱۲ جو یہ ہے :
( ولقد اخذالله میثاق بنی اسرائیل وقال الله انی معکم لئن اقمتم الصلٰوة واٰتیتم الزکٰوةواٰمنتم برسلی وعزرتموهم ) ۔
اس میں سے دوسرے عہد وپیمان جن میں انبیاء پر ایمان لانا اور انہیں تقویت پہنچانا شامل ہیں ظاہر ہو تے ہیں ۔
اس سے واضح ہو تا ہے کہ انہو ں نے خدا کی بڑی بڑ ی نعمتیں کچھ معاہدو ں کی بنیا د پر حاصل کی تھیں اور ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر ان معاہدوں کے وفادار ہوگے تو تمہیں جنت کے با غوں میں بھی جگہ دی جا ئے گی جس کی نہریں اس کے قصروں اور درختوں کے نیچے جا ری ہوں گی :( لادخلنکم جنا ت تجری من تحتها الانهٰر )
بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے آخر کار یہ عہد وپیمان پاؤں تلے روند ڈالے اور اب اس زمانے میں بھی اپنی پیمان شکنی جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں وہ منتشر و پرو گندہ ہیں اور در در کی ٹھوکریں کھا تے پھرتے ہیں اور جب تک ان کی یہ پیمان شکنیاں جاری رہیں گی ، ان کی یہ کیفیت بھی جاری رہے گی یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ دوسروں کی پناہ میں نشو نما پارہے ہیں تو یہ ہرگز ان کی کامیابی کی دلیل نہیں اور ہم اچھی طرح سے دیکھ رہے ہیں کہ جس دن اسلام کے غیور بیٹے اور قومی رجحانات و میلانات سے دور ہو کر صرف قرآن کے سائے میں اٹھ کھڑاے ہوئے وہ اس شور اور ہنگامے کو ختم کرکے رکھ دیں گے۔
( ۴) خدا بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا :
خدا کی نعمتیں کبھی قید اور شرط کے بغیر نہیں ہوتیں اور ہر نعمت کے پہلو میں ایک ذمہ دار ی اور شرط پنہاں ہے ۔ حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں :
( اوف بعهدکم ) سے مراد یہ ہے کہ اپنے عہد کو پورا کروں گا اور تمہیں جنت میں لے جاؤں گا ۔ ۱
اس حدیث کے ایک حصے میں ولایت علی پر ایمان لانا بھی اس عہد کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ بنی اسرائیل کے عہد وپیمان کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ وہ انبیاء خدا کی رسالت پر ایمان لائیں گے اور ان کو تقویت پہنچائیں گے ۔
ہم جانتے ہیں کہ ان کے جانشینوں کو بھی ماننا اسی مسئلہ رہبری و ولایت کا ضمیمہ ہے جو ہر زمانے میں اس کی مناسبت سے تحقیق پذیر ہوتا رہا ہے ۔ حضرت مو سیٰ کے زمانے میں اس منصب پر فائز خود حضرت موسیٰ تھے ۔ اور نبی اکرم کے زمانے میں خود آنحضرت ہی تھے اور بعد والے زمانے میں حضرت علی ۔
ضمنی طور پر جملہ ایای فارھبون ( صرف میری سزا سے ڈرو ) اس امر کی تاکید ہے کہ خدا سے ایفائے عہد اور اطاعت ِ احکام کی راہ میں میں کسی چیز اور کسی شخص سے خوف و وحشت نہیں ہونی چاہیئے ۔ لفظ ایای فارھبون سے مقدم ہے سے یہ مطلب حاصل ہوتا ہے۔
____________________
۱ نورالثقلین ج ،۱ ص۷۲
( ۵) حضرت یعقوب کی اولاد کو بنی اسرائیل کیوں کہتے ہیں :
حضرت یعقوب جو حضرت یوسف کے والد تھے ان کا ایک نام ” اسرائیل “ بھی ہے ۔حضرت یعقوب نے اپنا یہ نام کیوں رکھا تھا ۔ اس سلسلہ میں غیر مسلم مئورخین نے ایسی باتیں لکھی ہیں جو خرافات کا پلندہ ہیں جیسے ” کتاب مقدس “ میں لکھا ہے :
”اسرائیل کا معنی وہ شخص ہے جو خدا پر غالب اور کامیاب ہو گیا ہو “
وہ مزید لکھتا ہے :
” یہ لفط یعقوب بن اسحاق کا لقب ہے جنہیں خدا کے فرشتوں نے کشتی لڑتے وقت یہ لقب ملا تھا “
اسی کتاب میں یہ لفظ یعقوب کے نیچے لکھا ہے :
” جب انہوں نے اپنے اثبات و استقا مت ایمان کو ظاہر کیا تو خدا وند نے اس کا نام بدل کر اسرائیل رکھ دیا اور وعدہ کیا کہ وہ عوام کے گروہوں کے باپ ہوں گے ۔ خلاصہ یہ کہ وہ انتہائی کمال کے ساتھ اس دنیا سے گئے اور دنیا کے کسی بادشاہ کی طرح دفن نہ ہوئے اور اسم یعقوب و اسرائیل ان کی پوری قوم کے لئے بولا جاتا ہے “
لفظ ”اسرائیل “ کے ذیل میں لکھتاہے :
اس نام کے بہت سے موارد ہیں چنانچہ کبھی اس سے مراد نسل اسرائیل و نسل یعقوب بھی ہوتی ہے۔(۱)
علماء اسلام اس سلسلے میں اختلاف رکھتے ہیں مثلاََ مشہور طبرسی مجمع البیان میں لکھتے ہیں :
”اسرائیل وہی فرزند اسحاق بن ابراہیم ہیں “
وہ لکھتے ہیں :’
’اس ، کے معنی عبد ، اور ئیل ، کے معنی ، اللہ ، لہذا ، اسرائیل ، کے معنی ، عبداللہ ، یعنی اللہ کا بندہ “
واضح ہے کہ اسرائیل کی فرشتوں سے کشتی لڑنے کی داستان جیسے کہ تحر یف شدہ تورات میں اب بھی موجود ہے ایک خود ساختہ اور بچگانہ کہانی ہے جو آسمانی کتاب کی شان سے بعید ہے اور یہی داستان موجودہ تورات کے تحریف شدہ ہونے کی دلیل و مدرک ہے۔
____________________
(۱) قاموس کتاب مقدس ص ۵۳، و ۹۵۷
آیات ۴۱،۴۲،۴۳
( وآمنو ابما انزلت مصد قا لما معکم ولاتکو نوآاول کافر به ولاتشترواباٰیٰتی ثمناقلیلاوایای فاتقون ) ۴۱ ۔
( ولاتلبسواالحق باالباطل وتکتمواالحق وانتم تعلمون ) ۴۲ ۔
( واقیموا الصلاةواتوالزکٰوةوارکعوا مع الرٰکعین ) ۴۳ ۔
ترجمہ
۴۱ ۔جو کچھ میں نے نازل کیا ہے (قرآن)اس پر ایما ن لے آو جب کہ اس کی پیش کر دہ نشانیاں جو کچھ تمہاری کتابوں میں ہے اس سے مکمل مطابقت رکھتی ہیں اور اب تم اس کے پہلے منکر نہ بنو اور میری آیا ت کو کم قیمت پر فروخت نہ کرو ،تھوڑ ی سی آمدنی کے لئے ان نشانیوں کو مت چھپاو(جو قرآن اور پیغمبر اسلام کے متعلق تمہاری کتابوں میں مو جود ہیں ) اور (لوگوں سے ڈرنے کے بجائے )صرف مجھ سے (میرے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے )ڈرو ۔
۴۲ ۔اور حق کو باطل سے نہ ملاو اور حقیقت جاننے کے باجود نہ چھپاو۔
۴۳ ۔اور نماز قائم کرو زکٰوة ادا کرو اور رکوع کرنے والوں ساتھ رکوع کرو( یعنی نماز جماعت کے ساتھ پڑھو )۔
شان نزول
زیرنظرآیات میں سے شروع کی آیتوں کے بارے میں بعض بزرگ مفسرین نے امام محمدباقرسے یوں نقل کیا ہے:
حی بن احطب ، کعب بن اشرف اوور یہودیوں کی ایک جماعت کے لئے یہودیوں کی طرف سے ہر سال ایک زرق برق دعوت کا احتمام کیا جاتا تھا ۔ یہ لوگ خوف زدہ تھے کہ کہیں رسول اسلام کے قیام کی وجہ سے یہ چھوٹا سا فائدہ جاتا نہ رہے اس وجہ سے او ر کچھ دیگر وجوہ کی بنا ء پر ) انہوں نے تورات کی ان آیات میں تحریف کردی جو اوصاف پیغمبر کے بارے میں تھیں یہ وہی ”ثمن قلیل “ اور کم قیمت ہے جس کی طرف قرآن نے اس آیت میں اشارہ کیا ہے
یہودیوں کی دولت پرستی
خدا نے یہودیوں سے جو پیمان لئے تھے ان میں انبیاء الٰہی پر ایمان لانا اور ان کے فرامین کی اطاعت کرنا بھی شامل تھا ۔
زیر نظر تین آیات میں ان احکام و قوانین کے نو حصوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو یہودیوں کو دیئے گئے تھے ۔
پہلا یہ کہ ان آیات پر ایمان لاؤ جو پیغمبر اسلام پر نازل ہوئی ہیں جب کہ یہ آیات ان اوصاف سے ہم آہنگ ہیں جو تمہاری توریت میں موجود ہیں( وآمنو بما انذلت مصدقالما معکم )
قرآن اس کتاب کی تصدیق کرتا ہے جو تمہارے پاس موجود ہے یعنی وہی بشارتیں جو تورات اور گذشتہ انبیاء نے اپنے پیروکار کو دی ہیں اور بتایا ہے کہ ان اوصاف کا نبی ظہور کرے گا اور اس کی آسمانی کتاب ان خصوصیات کی حامل ہوگی ۔ اب تم دیکھ رہے ہو کہ اس پیغمبر کی صفات اور قرآن پاک کی خصوصیات ان بشارتوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں جو تمہاری کتب میں موجود ہیں ۔ اس ہر قسم کی مطابقت کے بعد اب تم کیوں اس پر ایمان نہیں لاتے ۔
پھر کہا گیا ہے کہ تم آسمانی کتاب کا انکار کرنے والوں میں پہل نہ کرو( ولا تکونو اول کافر به ) ۔
اگر مشرک اور عرب کے بت پرست کافر ہوجائیں تو زیادہ تعجب کی بات نہیں تعجب تو تمہارے کفر و انکار پر ہے اور مخالفت میں پہل کے لحاظ سے تم پیش پیش بھی ہو جب کہ تم ان کی زیادہ اطلاعات رکھتے ہو اور اہل کتاب بھی ہو ۔اس قسم کے پیغمبر کے بارے میں تمہاری آسمانی کتب میں سب بشار تیں دی جاچکی ہیں ۔ اسی بناء پر تو تم ان کے ظہور سے پہلے ان کے بارے میں منادی کیا کرتے تھے ۔ اب کیا ہو گیا ہے کہ بجائے اس کے کہ ان کے ظہور کے بعد تم ان پر ایمان لانے والوں میں پہل کرتے تم نے کفر میں پہل کی ہے ۔ بہت سے یہودی اصولی طور پر لیچڑ قسم کے تھے اور اگر ان میں یہ ضدی پن نہ ہوتا تو بظاہر انہیں دوسروں کی نسبت پہلے ایمان لانا چاہیئے تھا ۔
تیسری بات یہ ہے کہ تم میری آیات کو کم قیمت پر فروخت نہ کرو اور ایک سالانہ دعوت سے اس کا تقابل نہ کرو( ولا تشتروا با ٰیتیٰ ثمنا قلیلا ) ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کی آیات کو کسی قیمت پر بھی نہیں بیچنا چاہیئے چاہے کم ہو یا زیادہ لیکن یہ جملہ حقیقت میں ان یہودیوں کی کم ظرفی کی نشاندہی کرتا ہے جنہوں نے چھوٹے چھوٹ منافع کے لئے ہر چیز کو بھلا دیا اور وہ لوگ جو پیغمبر اسلام کے قیام اور ان کی آسمانی کتا ب کے بارے میں بشارت دیا کرتا تھے جب اپنے منافع کو خطرے میں دیکھا تو سب بشارتوں کا انکار کرنے لگے اور آیات تورات میں تحریف کردی کیونکہ وہ سمجھنے لگے تھے کہ اگر لوگوں کو حقیقت حال کا علم ہوگیا تو ان کی سرداری کا محل زمین بوس ہوجائے گا ۔
اصولا یہ پوری دنیا بھی اگر کسی کو ایک آیت الہٰی کے انکار کے بدلے دے دی جائے تو واقعا یہ قیمت بہت تھوڑی ہے ۔
کیونکہ یہ زندگی تو بہر حال نابود ہونے والی ہے اور آخرت ابدی اور دائمی ہے لہذا ایک انسان کس طرح ان آیات الہٰی کو حقیر فوائد پر قربان کردے۔
چوتھا حکم ہے کہ صرف مجھ سے ڈرو( و ایای فاتقون ) ۔
اس بات سے نہ ڈرو کہ تمہاری روزی منقطع ہوجائے گی اور اس سے بھی نہ ڈرو کہ یہودیوں کی متعصب جماعت تم سرداروں کے خلاف قیام کرے گی بلکہ صرف مجھ سے یعنی میرے حکم کی مخالفت سے ڈرو ۔
پانچواں حکم ہے کہ حق کو باطل سے مخلوط نہ کرو تاکہ کہیں لوگ اشتباہ میں نہ پڑ جائیں( ولاتلبسو الحق بالباطل ) ۔
چھٹے فرمان میں حق کو چھپانے سے منع کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حق کو نہ چھپاؤ جب کہ تم اسے جانتے اور اس سے آگاہ ہو( وتکتمو ا الحق و انتم تعلمون ) ۔
جس طرح حق کو چھپانا جرم اور گناہ ہے اسی طرح حق کو باطل سے ملانا اور ایک دوسرے سے مخلوط کرنا بھی حرام اور گناہ ہے کیونکہ نتیجے کے اعتبار سے دونوں عمل برابر ہیں ۔ حق بات کرو چاہے تمہارے لئے نقصان دہ ہو اور باطل کو حق سے نہ ملاؤ چاہے تمہارے جلد ضائع ہوجانے والے منافع خطرے میں پڑ جائیں ۔
آخر میں ساتویں ، آٹھویں اور نویں حکم کو اس طرح سے بیان کیا گیا ہے : نماز قائم کرو ، زکوٰة ادا کرو اور خصوصاََ اجتماعی عبادت کو فراموش نہ کرتے ہوئے رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو( وا اقیمو ا الصلوٰة و آتو الذکوٰة وارکعو ا مع الراکعین ) ۔
آخری حکم اگرچہ با جماعت نماز کے بارے میں ہے لیکن نماز کے تمام افعال میں سے صرف رکوع کو بیان کرتے ہوئے کہنا کہ رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ ، شاید اس بناء پر کہ یہودیوں کی نماز میں رکوع بالکل نہیں یہ صرف مسلمانوں کی نماز ہے جس کے بنیادی ارکان میں رکوع شامل ہے ۔
یہ بات قابل غور ہے کہ یہ نہیں کہا گیا کہ نماز پڑھو بلکہ :( اقیموا لصلوٰة ) ( نماز قائم کرو ) یعنی فقط یہ نہ ہو کہ تم نماز پڑھتے رہو بلکہ ایسا کرو کہ آئین نماز معاشرے میں قائم ہوجائے اور لوگ عشق و وارفتگی کے ساتھ اس کی طرف جائیں ۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ” اقیموا “اس طرف اشارہ ہے کہ تمہاری نماز صرف اذکار و اوراد ہی نہ ہو بلکہ اسے پورے طور پر قائم کرو جس میں سے سب سے اہم قلبی توجہ ، دل کا بارگاہ خدا میں حاضر ہونا اور نماز کا انسان کی روح اور جان پر اثر انداز ہونا ہے(۱)
در حقیقت ان آخری تین احکام کی ترتیب کچھ یوں ہے کہ پہلا فرد کا خالق سے رشتہ بیان کرتا ہے ، ( یعنی نماز ) دوسرا مخلوق کا مخلوق سے ناتا قائم کرتا ہے ( یعنی زکٰوة )اور تیسرا سب لوگوں کا خدا سے تعلق ظاہر کرتا ہے ۔
____________________
۱ المنار ج، ۲ ص ۲۹۳ و مفردات ِ راغب ، مادہ ” قوم “
( ۱) کیا قرآن تورات اور انجیل کے مندرجات کی تصدیق کرتا ہے :
قرآن مجید کی متعدد آیات میں یہ بات نظر سے گزرتی ہے کہ قرآن گذشتہ کتب کے مندرجات کی تصدیق کرتا ہے محل بحث آیات میں ہے ”مصدقا لما معکم “اور سورہ کی آیات ۸۹ اور ۱۰۱ میں ہے :( مصدق لما معهم )
نیز سورہ مائدہ کی آیت ۴۸ میں ہے :( و انزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا لما بین یدیه من الکتاب )
ہم نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی یہ کتاب اپنے سے پہلے والی آسمانی کتب کی تصدیق کرتی ہے ۔
ان آیات کو علماء یہود و نصاریٰ کی ایک جماعت تورات اور انجیل کے عدم تحریف کی سند قرار دیتی ہے ۔ وہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے زمانے کی تورات اور انجیل میں اور موجودہ تورات اور انجیل میں مسلماََ کوئی فرق نہیں اگر تورات اور انجیل میں تحریف ہوئی ہوتی تو یہ زمانہ پیغمبر سے پہلے کی بات ہوتی لیکن قرآن نے چونکہ اس تورات اور انجیل کے صحیح ہونے کی تصدیق کی ہے جو آنحضرت کے زمانے میں موجود تھی لہذا ہمیں چاہیئے کہ ان کتب کو غیر محرف آسمانی کتب کی حیثیت سے رسمی طور پر قبول کر لیں ۔
اس کا جواب یہ ہے
کہ قرآن مجید کی مختلف آیات گواہی دیتی ہیں کہ انہی تحریف شدہ کتابوں میں جو اس وقت یہود و نصاریٰ کے پاس تھیں پیغمبر اسلام اور ان کے دین کے متعلق نشانیاں موجود تھیں ۔ یہ مسلم ہے کہ ان آسمانی کتب میں تحریف کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ کتب پوری کی پوری باطل اور خلاف واقع ہیں بلکہ یقینی طور پر ان سب میں حقیقی تورات اور انجیل کاکچھ حصہ موجود تھا اور موجود ہے اور پیغمبر اسلام کے بارے میں انہی یا دیگر مذہبی کتب میں نشانیاں موجود تھیں جو یہود و نصاریٰ کے پاس تھیں ( آج بھی ان میں کچھ ایسے ارشادات موجود ہیں ) اس لحاظ سے پیغمبر کا قیام ، آپ کی دعوت اور آپ کی آسمانی کتاب عملی طور ان تمام نشانیوں کی تصدیق کرتے تھے کیونکہ ان کے مطابق تھے ۔
لہذا قرآن کی تورات اور انجیل کی تصدیق کرنا ان معنی میں ہے کہ نبی اکرم کی نشانیاں ، آپ کی دعوت اور آپ کا قیام جو قرآن میں موجود ہے ان نشانیوں کے مطابق ہے جو تورات اور انجیل میں ہیں ۔
تصدیق مطابقت کے معنی میں قرآن مجید کے دیگر مقامات پر بھی استعمال ہوا ہے ۔
مثلاََ سورہ الصٰفٰت ، آیہ ۱۰۵ میں ابراہیم سے فرمایا گیا ہے :( قدصدقت الرء یا ) آپ نے خواب کی تصدیق کردی
یعنی آپ کا عمل اس خواب کے مطابق ہے جو آپ نے دیکھا تھا ۔
سورہ اعراف ، آیہ ۱۵۷ میں ہے :( الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونه مکتوبا عند هم فی التوراة والانجییل ) یہاں یہ حقیقت صراحت سے بیان ہوئی ہے یعنی ”جو اوصاف وہ دیکھ رہے ہیں وہ اس کے مطابق ہیں جو انہوں نے تورات انجیل میں پائے ہیں “دوسری آیات میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت کی نشانیاں ان گذشتہ کتب میں دیکھی گئی ہیں اور زیر بحث آیت جس کی تفسیر ہم پڑھ چکے ہیں یہ بھی اس حقیقت کی شاہد ہے اور وہاں ہم بتا چکے ہیں کہ تھوڑی سی چیز کی خاطر یہاں تک کہ ایک دعوت کے لئے انہوں نے صفات پیغمبر کے بارے میں تحریف کردی ۔
بہر حال مندرجہ بالا آیات میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ قرآن اور رسول نے عملی طور پر اپنی حقانیت کی ان نشانیوں کی تصدیق کی جو گذشتہ کتب میں موجود تھیں اور اس کے لئے کوئی معمولی سی دلیل بھی موجود نہیں کہ ان آیات نے تورات اور انجیل کے تمام مندرجات کی تصدیق کر دی ہے جبکہ اس کے بر خلاف قرآن مجید کی کئی آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ان لوگوں نے تورات اور انجیل میں تحریف کردی تھی اور یہ خود ہماری گذشتہ گفتگو کا ایک زندہ شاہد ہے ۔
( ۱) فخر الاسلام جو کتاب انیس الاعلام کے مولف ہیں علماء نصاریٰ میں سے تھے ۔ انہوں نے اپنی تعلیم عیسائی پادریوں اور علماء ہی میں مکمل کی تھی اور ان کے ہاں ایک بلند مقام پیدا کیا تھا وہ اس کتا ب کے مقدمے میں اپنے مسلمان ہونے کے عجیب و غریب واقعے کو اس طرح بیان کرتے ہیں :بڑی جستجو ، زحمتوں اور کئی ایک شہر وں میں گردش کے بعد میں ایک عظیم پادری کے پاس پہنچا جو زہد و تقویٰ میں ممتاز تھا ۔ کیتھولک فرقے کے بادشاہ وغیرہ اپنے مسائل کے لئے اس سے رجوع کرتے تھے ۔ ایک مدت تک میں اس کے پاس نصاری کے مختلف مذاہب کی تعلیم حاصل کرتا رہا ۔ اس کے بہت سے شاگرد تھے لیکن اتفاقا مجھ سے اسے خاص ہی لگاؤ تھا ۔ اس کے گھر کی سب چابیاں میرے ہاتھ میں تھیں صرف ایک صندوق خانے کی چابی اس کے اپنے پاس ہوا کرتی تھی اس دوران میں ایک دن اس پادری کو کوئی بیماری پیش آئی تو مجھ سے کہا کہ شاگردوں سے جاکر کہدو کہ آج میں درس نہیں دے سکتا ۔ جب میں طالب علموں کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ بحث مباحثہ میں مصروف ہیں یہ بحث سریانی کے لفظ ” فار قلیطا “ اور یونانی زبان کے لفظ ” ہریکلتوس “ کے معنی تک جا پہنچی اور وہ کافی دیر تک جھگڑتے رہے ۔ ہر کسی کی الگ رائے تھی ۔ واپس آنے پر استاد نے مجھ سے پوچھا آج کیا مباحثہ کرتے رہے ہو تو میں نے لفظ فارقلیطا کا اختلاف اس کے سامنے بیان کیا وہ کہنے لگا : تو نے ان میں کس قول کا انتخاب کیا ہے ۔ مین نے کہا فلاں مفسر کے قول کا جس نے اس کا معنی ” مختار “ بیان کیا ہے میں نے پسند کیا ۔استاد پادری کہنے لگا تو نے کوتاہی تو نہیں کی لیکن حق اور واقعہ ان تمام کے خلاف ہے کیونکہ اس کی حقیقت کو راسخون فی العلم کے علاوہ دوسرے لوگ نہیں جانتے اور ان میں سے بھی بہت کم اس حقیقت سے آشنا ہیں ۔ میں نے اصرار کیا کہ اس کے معنی مجھے بتلائیے ۔ وہ بہت رویا اور کہنے لگا : میں کوئی چیز تم سے نہیں چھپاتا ۔لیکن اس نام کے معنی معلوم ہونے کا نتیجہ تو بہت سخت ہوگا کیونکہ اس کے معلوم ہونے کے ساتھ ہی مجھے اور تمہیں قتل کردیا جائے گا ۔ اب اگر تم وعدہ کرو کہ کسی سے نہیں کہو گے تو میں اسے ظاہر کردیتا ہوں ۔ میں نے تمام مقدسات مذہبی کی قسم کھائی کہ اسے فاش نہیں کروں گا تو اس نے کہا کہ مسلمانوں کے پیغمبر کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کے معنی ”احمد “اور محمد “ ہیں اس کے بعد اس نے اس چھوٹے کمرے کی چابی مجھے دے دی اور کہا کہ فلاں کا دروازہ کھولو اور فلاں فلاں کتاب لے آؤ ۔ میں کتابیں اس کے پاس لے آیا ۔ یہ دونوں کتابیں رسول اسلام کے ظہور سے پہلے کی تھیں اور چمڑے پر لکھی ہوئی تھیں ۔دونوں کتب میں ”فارقلیطا “ کا ترجمہ ”احمد “ اور محمد “ کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد استاد نے مزید کہا کہ آنحضرت کے ظہور سے پہلے علماء نصاریٰ میں کوئی اختلاف نہ تھا کہ فارقلیطا کے معنی احمد اور محمد ہیں لیکن ظہورمحمد کے بعد اپنی سرداری اور مادی فوائد کی بقا کے لئے اس کی تاویل کردی اور اس کے لئے دوسرے معنی گھڑ لئے حالانکہ وہ معنی یقینا صاحب انجیل کی مراد نہیں ۔ میں نے سوال کیا کہ دین نصاریٰ کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں ۔ اس نے کہا دین اسلام کے آ نے سے منسوخ ہو گیا ہے اس جملے کا اس نے تین مرتبہ تکرار کیا ۔
پس میں نے کہا کہ اس زمانے میں طریق نجات اور صراط مستقیم کون سا ہے ۔ اس نے کہا منحصر ہے محمد کی پیروی و اتباع میں ۔ میں نے کہا کیا اس کی پیروی کرنے والے اہل نجات ہیں ۔ اس نے کہا ہاں خدا کی قسم ( اور تین مرتبہ قسم کھائی ) پھر استاد نے گریہ کیا اور میں بھی بہت رویا اور اس نے کہا آخرت اور نجات چاہتے ہو تو ضرور دین حق قبول کر لو میں ہمیشہ تمہارے لئے دعا کروں گا اس شرط کے ساتھ کہ قیامت کے دن گواہی دو کہ کہ میں باطن میں مسلمان اور حضرت محمد کا پیرو کار ہوں اور علماء نصاریٰ کے ایک گروہ کی باطن میں مجھ جیسی حالت ہے اور میری طرح ظاہراََ اپنے دنیاوی مقام سے دست کش نہیں ہو سکتے ورنہ کوئی شک وشبہ نہیں کہ اس وقت روئے زمین پر دین خدا دین اسلام ہی ہے(۱)
آپ دیکھیں گے کہ علماء اہل کتاب نے پیغمبر اسلام کے ظہور کے بعد اپنے شخصی منافع کی خاطر آنحضرت کے نام اور نشانیوں کی اور توجیہات کر دی ہیں ۔“
____________________
(۱)۔اقتباس و اختصار از ہدایت ِ دوم مقدمہ ”انیس الاعلام “
آیات ۴۴،۴۵،۴۶
( اتامرون الناس بالبر و تنسون انفسکم و انتم تتلون الکتا ب افلا تعقلون ) ( ۴۴) ۔
( واستعینو ا بالصبر والصلوٰة ط و انها لکبیرة الا علی الخاشعین ) ( ۴۵) ۔
( الذین یظنون انهم ملقو ا ربهم و انهم الیه راجعون ) ( ۴۶) ۔
( ۴۴) ۔کیا تم لوگوں کو نیکی کی اور اس پیغمبر پر جس کی صفات واضح طور پر تورات میں آئی ہیں ایمان لانے کی دعوت دیتے ہو لیکن اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ ( آسمانی کتاب پڑھتے ہو ۔ کیا تم عقل و فکر سے کام نہیں لیتے۔
( ۴۵) ۔ صبر اور نماز سے استعانت حاصل کرو ( استقامت اور اندرونی خواہشات پر کنٹرول کرکے پروردگار کی طرف توجہ سے قوت حاصل کرو اور خشوع کرنے والوں کے علاوہ دوسروں پر یہ کام گراں ہے ۔
( ۴۶) ۔ وہ جو ایمان رکھتے ہیں کہ خدا سے ملاقات کریں گے اور اسی کی جانب لوٹ جائیں گے ۔
دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت
اگرچہ مندرجہ بالا آیات اسی طرح گذشتہ اور آئندہ آیات میں روئے سخن بن اسرائیل کی طرف ہے لیکن مسلماََ اس کا مفہوم وسعت کے اعتبار سے دوسروں کے بھی شامل حال ہے۔
مشہور مفسر ۔ صاحب مجمع البیان ، طبرسی کے بقول یہود کے علماء و فضلاء حضرت محمد کی بعثت سے پہلے آپ پر ایمان لانے کی دعوت اور آپ کے ظہور کی بشارت دیا کرتے تھے لیکن خود انہی نے آنحضرت کے ظہور کے وقت ایمان لانے سے انکار کردیا ۔یہی عظیم مفسر نقل کرتے ہیں کہ علماء یہود اپنے ان وابستگان کو جو اسلام لاچکے تھے نصیحت کیا کرتے تھے کہ اپنے ایمان پر باقی اور ثابت قدم رہنا لیکن خود ایمان نہ لاتے تھے ۔
یہ وجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں سے پہلی آیت میں ان کے اس طرز عمل کی مذمت کی گئی ہے کہا گیا ہے :کیا تم لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے ہو اور اپنے نفسوں کو بھول جاتے ہو( اتا مرون الناس بالبر وتنسون انفسکم )
باوجود یکہ آسمانی کتاب ( تورات ) کا مطالعہ کرتے ہو لیکن کیا کچھ بھی عقل و فکر سے کام نہیں لیتے ہو( و انتم تتلون الکتاب افلا تعقلون ) ۔
اسی طرح قرآن انہیں سرزنش کرتا ہے دوسروں کو ایمان کی وصیت کیوں کرتے ہو جب خود ایمان نہیں لاتے ہو حالانکہ پیغمبر کی نشانیاں اور خوصوصیات توریت میں پڑھ چکے ہو ۔
علماء مبلغین اور راہ حق کی طرف دعوت دینے والون کے لئے خاص طور پر یہ بنیادی بات ہے کہ وہ باقی لوگوں کی نسبت زیادہ تر اپنے عمل سے تبلیغ کریں جیسے کہ حضرت ا،مام صادق سے ایک مشہور روایت ہے :
کونو ا دعاة الناس باعمالکم ولا تکونو ا دعاة بالسنتکم
لوگوں کو عمل سے دعوت دو نہ کہ زبان سے ۔(۱)
عملی دعوت کی گہری تاثیر کا سر چشمہ یہ ہے کہ اگر سننے والے کو معلوم ہوجائے کہ کہنے والا دل سے بات کر رہا ہے اور خود اپنے قول پر سو فی صد ایمان رکھتا ہے ، اس کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ خود اس پر دوسروں سے پہلے عمل کرتا ہے جیسے کہ حضرت علی فرماتے ہیں :
ایها الناس انی والله ما احثکم علی طاعة الا و اسبقکم الیها ولا انها کم عن معصیته الا و اتنها ها قبلکم عنها ۔
اے لوگوں ----!خدا کی قسم میں تمہیں کسی اطاعت کا شوق نہیں دلاتا جب تک پہلے خود اسے انجام نہ دے لوں اور کسی غلط کام سے تمہیں منع نہیں کرتا مگر یہ کہ پہلے خود اس سے روکتا ہوں ۔
امام صادق سے ایک روایت میں ہے :من اشد الناس عذابا یوم القیامة من وصف عدلا و عمل بغیره
وہ لوگ جن پر قیامت کے دن سخت عذاب ہوگا ان میں سے ایک وہ ہوگا جو حق اور عدل کی بات کرتا ہے لیکن خود اس کے خلاف عمل کرتا ہے ۔(۲)
یہودی علماء اس بات سے ڈرتے تھے کہ اگر پیغمبر اسلام کی رسالت کا اعتراف کرلیں گے تو ان کی مادی امداد منقطع ہو جائے گی اور یہودی عوام ان کی پرواہ نہیں کریں گے لہذا تورات میں پیغمبر اسلام کی جو صفات آئی تھیں انہوں نے ان میں رد و بدل کردیا اس مقصد کے لئے کہ وہ اپنے دلی میلان کی طرف قدم بڑھا ئیں اور سر براہی و سرداری کو دماغ سے نکال دیں قرآن کہتا ہے :
صبر اور نماز سے استعانت حاصل کرو یعنی استقامت اور اپنی نفسانی خواہشات پر کنٹرول کے ذریعہ کامیابی حاصل کرو( واستعینو بالصبر والصلوٰة ) ۔
اس کے بعد کہتا ہے کہ یہ کام خاشعین کے علاوہ دوسروں پر گراں ہے( و انها لکبیرة الا علی الخاشعین ) ۔
زیر بحث آیات میں سے آخری آیت خاشعین کا یوں تعارف کراتا ہے( الذین یظنون انهم ملٰقو ا ربهم و انهم الیه را جعون ) (۳)
یظنون “جس کا مادہ ” ظن “ ہے کبھی ”گمان “اور کبھی یقین کے معنی میں آتا ہے ۔اس مقام پر یقینا ایمان اور قطعی یقین کے معنی میں ہے کیونکہ لقاء اللہ اور اس کی طرف باز گشت پر ایمان رکھناانسان کے دل میں خشوع ، خدا ترسی اور ذمہ داری کا احساس زندہ کردیتا ہے اور یہ ایک ایسے معاد پر ایمان رکھنے کا نتیجہ ہے جو تربیت اور نشو ونما کا باعث ہے جو ہر جگہ انسان کے سامنے اس بڑی عدالت کے دربار کی تصویر کشی کرتا ہے اور یہ ذ مہ داریوں کو ادا کرنے اور حق و عدالت کی راہ اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔
یہ بھی احتمال ہے کہ یہاں ”ظن “ گمان کے معنی میں ہو اور در حقیقت ایک قسم کا مبالغہ اور تاکید ہو کہ اگر بالفرض انسان اس عدالت عظمٰی پر ایمان نہیں رکھتا اور صرف اس کے ہونے کا گمان رکھتا ہے تو بھی اس کے لئے کافی ہے کہ ہر قسم کی غلط کاری سے پرہیز کرے ۔ در حقیقت یہ علماء یہود کو ایک قسم کی سرزنش ہے کہ تمہارا ایمان صرف ظن و گمان کے درجہ تک بھی ہو پھر بھی تمہیں ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس قسم کی تحریف سے دست کش ہوجانا چاہیئے ۔
____________________
۱ سفینہ ، مادہ ” عمل “ ۔(۲)نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۵۷
(۲ ) تفسیر نور الثقلین ، ج۱، ص ۷۵
(۳) راغب نے مفردات میں کہا ہے ”ظن “ نام ہے اس اعتقاد کا جو دلیل اور قرینہ سے حاصل ہو یہ اعتقاد کبھی قوی ہوتا ہے اور درجہ یقین تک پہنچ جاتا ہے اور کبھی کمزور ہوتا ہے جو گمان کی حد سے آگے نہیں بڑھتا۔’
( ۱) لقاء اللہ سے کیا مراد ہے
:لقاء اللہ کی تعبیر قرآن میں متعدد بار آئی ہے اور ہر بار اس سے مراد صحن ِقیامت کی حاضری ہے یہ تو واضح ہے کہ خدا سے ملاقات اس طرح سے حسی تو نہیں جیسے افراد بشر ایک دوسرے سے ملتے ہیں کیونکہ خدا جسم ہے نہ رنگ و مکان رکھتا ہے کہ ظاہری آنکھ سے اسے دیکھا جا سکے بلکہ مقصود میدان ِ قیامت میں آثار قدرت ، جزا و سزا ، نعمات اور عذاب الٰہی کا مشاہدہ ہے جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت نے کہا ہے یا اس کا معنی ایک قسم کا شہود باطنی و قلبی ہے کیونکہ انسان بعض اوقات ایسے مقام و مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ خدا کو دل کی آنکھ سے اپنے سا منے دیکھتا ہے ا س طرح کہ کوئی شک و تردد باقی نہیں رہتا(۱) ۔
دوسری آیت میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ ہے مثلاََ
( فمن کان یرجو لقاء ربه فلیعمل عملاََ صالحاََ ) ۔کہف ۔ ۱۱۰ ، البلاغہ ، خطبہ ۱۷۹
پاکیزگی ، تقویٰ ، عبادت اور تہذیب نفس کے نتیجے میں یہ حالت اس دنیا میں بھی بعض لوگوں کے لئے ممکن ہے جیسا کہ نہج البلاغہ میں ہے کہ ذعلب یمانی نے جو حضرت علی کے دوستوں میں سے ایک دانشمند تھے آپ سے پوچھا :
هل رائیت ربک
کیا آپ نے اپنے خدا کو دیکھا ہے ۔
امام نے فرمایا :افاعبد مالا اری
کیا میں اس کی عبادت کروں گا جسے میں نے دیکھا ہی نہیں ۔اس نے وضاحت چاہی تو امام نے مزید فرمایا :لا تدرکه العیون بمشاهده ولکن تدرکه القلوب بحقائق الایمان ۔
ظاہری آنکھیں تو اسے دیکھ نہیں سکتیں البتہ دل نور ِ ایمان کے وسیلے سے اس کو ادراک کرسکتے ہیں ۔(۲)
باطنی شہود کی طاقت قیامت کے دن سب کو میسر ہوگی کیونکہ خدا کی عظمت و قدرت کے آثار اور نشانیاں اس وقت اس قدر عیاں ہوں گی کہ دل کا اندھا بھی اس پر قطعی ایمان لے آئے گا ۔
____________________
(۱) المنار ، جلد ۱، ص ۳۰۲۔ المیزان جلد ۱، ص ۱۵۴ ۔روح المعانی ، جلد ۱، ص ۲۲۸
مشکلات میں کامیابی کا راستہ :
ترقی کرنے اور مشکلات پر قابو پانے کے لئے دو بنیادی ارکان کی ضرورت ہے ایک طاقت ور اور مضبوط اندرونی قلعہ اور دوسرا بیرونی محکم سہارا ، مندرجہ بالا آیات میں ان دونوں اساسی ارکان کو صبر اور صلوٰة سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
صبر ، استقامت اور بردباری کے ساتھ مشکلات کے محاظ پر ڈٹ جانے کا نام ہے اور نماز خدا سے رابطے اور تعلق کا وسیلہ ہے جو ا یک محکم اور مضبوط سہارا ہے ۔
بہت سے مفسرین نے اگرچہ صبر سے روزہ مراد لیا ہے لیکن مسلم ہے کہ صبر روزے ہی میں منحصر نہیں بلکہ یہاں روزے کا ذکر ایک واضح اور روشن مصداق کی حیثیت سے ہے کیونکہ یہ وہ عبادت ہے جس کے نتیجے میں انسان کے اندر قوی ارادہ اور پختہ ایمان پیدا ہوتا ہے اور ہو سرانیوں پر اس کی عقل کی حاکمیت مسلم ہو جاتی ہے۔لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ مفسرین اس آیت کے ذیل میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اسلام جب کسی ایسی مشکل سے دو چار ہوتے جو آپ کو بے آرام کردے تو آپ رونے سے مدد لیتے ۔
امام صادق سے ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا :
جب دنیا کے غموں میں سے کسی کا سامنا کرو تو وضو کرو اور مسجد میں جاکر نماز پڑھو اور پھر دعا کرو کیونکہ خدا نے خود ہی حکم دیا ہے :( واستعینو بالصبر والصلوٰة ) (۱)
نماز کی طرف توجہ اور پروردگار سے راز و نیاز انسان میں نئی قوت پیدا کردیتا ہے ۔
کتاب کافی میں امام صادق سے روایت ہے:
کان علی اذا اهاله امر فزع قام الی الصلوٰةثم تلامذه الآیةواستعینو بالصبر والصلوٰة ۔
جب حضرت علی کو کوئی سخت مشکل در پیش ہوتی تو نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور پھر اس آیت کی تلاوت فرماتے : واستعینو بالصبر والصلوٰة۔
واقعاََ نماز انسان کو قدرت لایزال سے مر بوط کردیتی ہے جس کے ہاں مشکلات سہل و آسان ہیں اور یہی احساس باعث بنتا ہے کہ انسان حوادث کے مقابلے میں طاقتور اور مضبوط ہوجاتا ہے۔
____________________
(۱) مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
آیات ۴۷،۴۸
( یٰبنی اسرائیل اذکر و ا نعمتی التی انعمت علیکم و انی فضلتکم علی الالمین ) ۴۷ ۔
( واتقوا یوماََ لا تجزی نفس عن شئاََ ولا یقبل منها شفاعة ولا یوخذ منها عدل و لا هم ینصرون ) ۴۸ ۔
ترجمہ
۴۷ ۔اے بنی اسرائیل ! جن نعمتون سے میں نے تمہیں نوازا ہے انہیں یاد کرو اور یہ بھی یاد کرو کہ میں نے تمہیں عالمین پر فضیلت بخشی ہے۔
۴۸ ۔اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص دوسرے کی جگہ جواب دہ نہ ہوگا نہ سفارش قبول کی جائے گی ، نہ ہی تادان و بدلہ قبول ہوگا اور نہ ہی ان کی مدد کی جاسکے گی ۔
یہودیوں کے باطل خیالات
یہودیوں کے باطل خیالات ان آیات میں خدا نے دوبارہ روئے سخن بنی اسرائیل کی طرف کیا ہے ۔ انہیں اپنی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے کہتا ہے : اے بنی اسرائیل ! جو نعمتیں میں نے تمہیں عطا کی ہیں ان کے بارے میں سوچو ( یا بنی اسرائیل اذکر وا نعمتی التی انعمت علیکم ) ان نعمتوں کا دامن بڑا وسیع ہے ۔ ہدایت و ایمان سے لے کر فرعونیوں کے چنگل سے رہائی اور عظمت و استقلال کے دو بارہ حصوں تک سب نعمتیں اس میں شامل ہیں ۔
پھر یہ نعمت بھی کہ انہوں نے اپنے زمانے کے لوگوں پر فضیلت حا صل کی جو در اصل مختلف نعمتوں کا مرکب ہے ۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :میں نے تمہیں جہانوں پر فضیلت عطا کی ( و انی فضلتکم علی العالمین )۔
شاید بعض لوگوں کا احتمال ہو کہ ’فضلنکم علی العالمین ‘ کا مقصود یہ ہے کہ انہیں تمام جہانوں اور تمام ادوار میں برتری اور فضیلت دی گئی ہے لیکن قرآن کی دیگر آیات کی طرف توجہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں ان سر زمین اور ان کے زمانے کے لوگوں پر فضیلت و برتری مراد ہے کیونکہ قرآن میں ہے:( کنتم خیر امة اخرجت للناس )
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لئے پیدا کیے گیے ہو ۔ آل عمران ، ۱۱۰)
اس آیت کے مطابق پیامبر اسلام کی ا مت بہترین اور افضل ترین ہے ۔ ایک اور جگہ بنی اسرائیل کے بارے میں ہے:( و اورثنا القوم الذین کانو ا یستضعفون مشارق الارض و مغاربها )
بنی اسرائیل جو کمزور سمجھے جاتے تھے انہیں ہم نے مشرق و مغرب کا وارث بنادیا ( اعراف ۔ ۱۳۷)
واضح ہے کہ اس زمانے میں بنی اسرائیل پوری دنیا کے وارث نہ تھے لہذا مقصود یہ ہے کہ اپنے علاقے میں مشرق و مغرب کے وارث ہوئے لہذا عالمین پر ان کی فضیلت بھی اسی علاقہ کے افراد کی مناسبت سے ہے ۔
اگلی آیت میں قرآن نے یہودیوں کے باطل خیالات پر خط بطلان کھینچا ہے۔ ان کا اعتقاد تھا کہ ہمارے آباؤ اجداد چونکہ پیغمبر تھے لہذا وہ ہماری شفاعت کریں گے یا یہ گمان کرتے تھے کہ گناہوں کا معاوضہ ادا کریں گے جیسے اس دنیا کا طریق کار ہے ۔ قرآن کہتا ہے اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص دوسرے کی جگہ جزا نہیں پائے گا( و اتقو ا یوما لا تجزی نفس عن نفس شیئا ) اور نہ ہی اذن پروردگار کے بغیر ) کوئی سفارش و شفاعت قبول ہوگی( ولا یقبل منها شفاعة ) نہ ہی تادان و بدل قبول ہوگا ( ولا یوخذ منھا عدل ) اور نہ ہی کوئی شخص ان کی مدد کے لئے کھڑا ہوگا( و لا هم ینصرون ) ۔ خلاصہ یہ کہ اس عدالت کا قاضی و حاکم وہ ہوگا جو پاک علم کے سوا کچھ قبول نہیں کرے گا ۔ سورہ شعراء آیت ۸۸ اور ۸۹ میں ہے ۔
( یوم لا ینفع مال و لا بنون الا من اتی الله بقلب سلیم )
وہ دن جب نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد ہاں مگر وہ لوگ جو قلب سلیم لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوں گے ۔
در حقیقت زیر بحث آیت اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس دنیا میں اس طرح معمول ہے کہ مجرم سزا سے نجات پانے کے لئے مختلف طریقہ استعمال کرتے ہیں ۔ کبھی ایک شخص دوسرے کا جرمانہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے اور اسے ادا کردیتا ہے کبھی سفارش کو وسیلہ بنایا جاتا ہے اور ایسے شخص کو تیار کیا جاتا ہے جو اس کے گناہ کے سلسلہ میں سفارش کریں اور اگر ایسا بھی نہ ہو سکے تو مجرم کوشش کرتا ہے کہ تادان ادا کر کے اپنے آپ کو سزا سے بچالے کچھ بھی نہ ہو سکے تو دوستوں کی مدد سے دفاع کے لئے تیار ہو جاتا ہے تاکہ سزا کے چنگل سے چھٹکارا حاصل کر سکے ۔
دنیا میں سزا سے بچنے کے لئے یہ مختلف طریقہ ہیں لیکن قرآن کہتا ہے کہ عالم قیامت میں سزاؤں کے اصول دنیا سے بالکل مختلف ہیں اور ان میں سے کوئی چیز بھی وہاں کار آمد نہیں ہوگی ۔راہ نجات صرف یہ ہے کہ انسان تقوی کے سایہ میں پناہ لے اور پھر لطف ِ پروردگار ہے۔بت پرستوں اور اہل کتاب میں سے کجرو لوگوں کے عقاید دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے خرافاتی عقاید ان کے درمیان کم نہیں تھے ۔مثلاََ تفسیر المنار کے مولف نقل کرتے ہیں :
مصر کے بعض علاقوں کے فضول لوگ میت کو غسل دینے والے کو کچھ رقم دیتے تھے اور اسے بہشت میں نقل و انتقال کی اجرت کہتے تھے۔(۱)
یہودیوں کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے کفارے کے لئے قربانی کرتے تھے اور اگر قربانی میسر نہ ہوتی تو کبوتروں کے ایک جوڑے کی قربانی کر دیتے تھے ۔ ۲
گذشتہ قوموں ( احتمالا َ ما قبل تاریخ کی ) کے حالات میں ہے کہ وہ زبور ، آلات اور میت کا اسلحہ اس کے ساتھ دفن کر دیتے تھے تاکہ وہ آیندہ زندگی میں ان سے فائدہ اٹھا سکے ۔ ۳
____________________
(۲)۱ ، و ۲ المنار ،ج ۱ ،ص ۳۰۶۔
(۳)المیزان ،ج ۱، ص ۱۵۶
قرآن اور مسئلہ شفاعت
اس میں شک نہیں کہ خدائی سزائیں اس جہان میں ہوں یا قیامت میں ، ان میں انتقال کا پہلو نہیں ہے ۔ وہ سب در حقیقت قوانین کے اجراء اور اطاعت کی ضمانت ہیں اور نتیجے کے طور پر تمام پہلوؤں میں ترقی اور تکامل ہے ۔لہذا جو چیز اس ضامن اجراء کو کمزور کرے اس سے احتراز و اجتناب ضروری ہے تاکہ لوگوں میں گناہ کی جرات پیدا نہ ہو ۔ لیکن دوسری طرف واپس لوٹنے اور اصلاح کرنے کے راستے ، گناہگاروں کے لئے کلی طور پر بند نہیں ہونے چاہئیں شفاعت صحیح معنی کے لحاظ سے تعمیر اور اصلاح کے لئے ہے اور گناہگاروں اور ناپاکیوں سے آلودہ افراد کی واپسی کا وسیلہ ہے لیکن غلط مفہوم کے اعتبار سے گناہ کا شوق پیدا کرنے اور جرات دلانے کا سبب بنتی ہے ۔
جو لوگ شفاعت کے مختلف پہلوؤں اور اس کے صحیح مفاہیم کو ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھ سکے وہ بعض اوقات مسئلہ شفاعت کے سرے سے منکر ہوگئے ہیں اور شفاعت کو سلاطین اور ظالم حکام کے سامنے ایک دوسرے کی سفارش اور پارٹی بازی کے برابر سمجھتے ہیں اور بعض اوقات وہابیوں کی طرح مندرجہ بالا آیت کے الفاظ ”لا یقبل منها شفاعة “ سے مراد لیتے ہیں کہ قیامت میں کسی کی سفارش قبول نہ ہوگی ۔ دوسری آیات کی طرف توجہ کیے بغیر اسے دستاویز قرار دے کر شفاعت کا مکمل انکار کردیتے ہیں ۔
مخالفین شفاعت کے اعتراضات کا خلاصہ یہ ہے :
( ۱) شفاعت کا عقیدہ کوشش اور جستجو کی روح کو کمزور کر دیتا ہے ۔
( ۲) شفاعت کا عقیدہ پسماندہ اور طوائف الملوک کے شکار معاشرے کی عکاسی کرتا ہے ۔
( ۳) شفاعت کا عقیدہ ایک قسم کا شرک ہے اور چند اشخاص کی پرستش کے مترادف ہے۔
( ۴) شفاعت کا عقیدہ گناہ کا شوق دلاتا ہے اور ذمہ د اریوں سے غفلت کا سبب بنتا ہے۔
( ۵) شفاعت کے عقیدہ کا مفہو م یہ ہے کہ خدا کے احکا م بدل جائیں اور خداکا ارادہ وفرمان متغیر ہو جائے ۔
لیکن جیسا کہ ہم بتائیں گے کہ یہ اعتراضات اس لئے پیدا ہو ئے ہیں کہ شفاعت کے قر آنی مفہو م کو عوام میں رائج کجرو سفارشوں کی طرح سمجھ لیاگیا ہے ۔
یہ مسئلہ چونکہ منفی اورمثبت جہات کے لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے لہذا ضروری ہے کہ مفہوم شفاعت ، فلسفہ ء شفاعت ، عالم تکوین میں شفاعت ، قرآن و حدیث میں شفاعت اور شفاعت اور توحید و شرک کے متعلق بحث کی جائے تاکہ ہر قسم کا ابہام جو مندرجہ بالا اور دیگر آیات میں اس سلسلے میں دکھائی دیتا ہے دور ہوسکے ۔
( ۱) شفاعت کا حقیقی مفہوم :
لفظ شفاعت ”شفع “ سے ہے جس کے معنی ہیں جفت اور ضم الشی الی مثلہ “ ایک چیز کو اس جیسی دوسری چیز سے ملحق کرنا ،اس کے مقابل ہے” وتر“جس کے معنی تاک اور تنہاہیں کسی برتر و قوی فرد کے ضعیف فرد کے ساتھ مدد کی خاطر مل جانے کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ یہ لفظ عرف اور شرع میں دو مختلف معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔
الف۔ عرف عام میں شفاعت کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ شفاعت کرنے والا اپنی ، شخصیت اور اثر و رسوخ سے سے فائدہ اٹھا تے ہوئے اپنے ماتحت لوگوں کی سزا کے بارے میں صاحب قدرت شخص کا نظریہ بدل دے اسی طرح اپنے اثر ورسوخ سے کام لینا جب کہ اس کا لحاظ رکھا جاتا ہو یا جب لوگ اس سے خوف زدہ ہوں یا پھر کسی پر نوازشات کے ذریعہ سے اثر ڈالنا یا کبھی مجرم کے گناہ اور استحقاق ِ سزا سے متعلق فکری بنیادوں کو بدل دینا وغیرہ خلاصہ یہ ہے کہ اس شفاعت سے مجرم یا ملزم کی روح یا فکر میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی بلکہ سب اثرات اور تبدیلیوں کا تعلق اس شخص سے ہوتا ہے جس کے پاس شفاعت و سفارش کی جاتی ہے( غورکیجیے گا ) ۔
مذہبی نقطہ نظر سے ایسی شفاعت کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ خدا کو تو اشتباہ نہیں ہوتا کہ اس کے نظریئے کو بدلا جاسکے نہ ہی وہ انسان جیسے میلانات رکھتا ہے کہ انہیں ابھارا جاسکے نہ کسی کے اثر ورسوخ سے وہ خوف زدہ ہوتا ہے اور نہ ہی اس کی سزا اور عذاب عدالت کے علاوہ کسی محور پر گردش کرتی ہے ۔
ب۔ شفاعت کا دوسرا مفہوم وہ ہے جو مذہبی منابع اور مصادر میں موجود ہے جس کا مقصد اس شخص میں تبدیلی پیدا کرنا ہے جس کی سفارش کی جارہی ہے ۔ یعنی جس شخص کی شفاعت ہو رہی ہے اس نے ایسے اسباب فراہم کئے ہیں کہ وہ اس ناپسندیدہ کیفیت سے باہر نکل آیا ہے جس کی وجہ سے وہ سزا کا مستحق ہو گیا ہے کہ اسے بخش دیا جائے ۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ ایسی شفاعت پر ایمان رکھنا ایک مکتب ِ تربیت ہے گناہگاروں اور آلودہ افراد کی اصلاح ، بیداری اور آگاہی کا وسیلہ ہے۔
ہم دیکھیں گے کہ تمام اعتراضات ، نکتہ چینیاں اور حملے شفاعت کی پہلی تفسیر پر ہوتے ہیں دوسری پر نہیں جو کہ ایک منطقی ، معقول اور تربیت کرنے والا مفہوم ہے ۔
شفاعت کی دو شکلوں کی یہ جمالی تفسیر تھی جن میں سے ایک گناہ پر پردہ ڈالنا اور دوسری انسان کی اصلاح و تربیت کرنا ہے ۔
( ۱۱) عالم تکوین میں شفاعت :
جو کچھ ہم نے صحیح اور منطقی شفاعت کے بارے میں کہا ہے اس کا مشاہدہ عالم تشریع کے علاوہ تکوین وخلقت کی دنیا میں بہت کیا جاسکتا ہے ۔ اس دنیا کی طاقت ور قوتیں ضعیف قوتوں سے مل جاتی ہیں اور انہیں اصلاحی اغراض کے راستوں پر آگے لے چلتی ہیں ۔ سورج چمکتا ہے ۔ بارش برستی ہے ، بیج زمین کے دل میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی اندرونی استعداد کو بروئے کار لائے اور پہلی زندگی کی کونپلوں کو زمین سے باہر بھیجے ، اس طرح کہ دانے کے چھلکے کا زندان چاک کیا جائے ۔ظلمت کدہ خاک سے سر باہر نکالا جائے اور آسمان کی طرف آگے بڑھا جائے جس سے اس نے قو ت حاصل کی تھی ۔
زندگی کی اٹھان میں یہ سب بہاریں در حقیقت ، شفاعت تکوینی کی ایک قسم ہیں اگر اس قسم کی شفاعت کے مشاہدے سے ہم عالم تشریع میں بھی اس کے قائل ہوجائیں تو ہم نے راہ مستقیم اختیار کی ہے جس کی وضاحت ہم عنقریب کریں گے ۔
مدارک شفاعت :
اب ہم مسئلہ شفاعت کے اصلی مدارک اور اولین دلائل کا ذکر کرتے ہیں ۔
قرآن مجید میں مسئلہ شفاعت کے بارے میں اس عنوان سے تقریبا تیس مقامات پر گفتگو ہوئی ہے البتہ اس عنوان کے بغیر بھی اس کی بحثیں اور اس طرف ارشارات موجود ہیں ۔
وہ آیات جو قرآن میں اس مسئلے کے بارے میں ہیں چند شعبوں میں تقسیم ہوتی ہیں ۔۔
(وہ آیات جو بطور مطلق شفاعت کی نفی کرتی ہیں مثلا َ( انفقوا مما رزقنٰکم من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیه ولا خلة و لا شفاعة ) اور( ولا یقبل منها شفاعة )
ان آیات میں مجرمین کے لئے ایمان و عمل صالح کے بغیر راہ نجات کی نفی کی گئی ہے وہ چاہے مادی عوض سے ہو یا تعلق کی بنیاد پر سابقہ دوستی کی وجہ سے ہو یا مسئلہ شفاعت کے حوالے سے بلکہ بعض مجرمین کے بارے میں تو ہے کہ :
( فما تنفعهم شفاعة الشافعین )
شفاعت کرنے والوں کی شفاعت انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گی ۔( مدثر ۔ ۴۸)
ب۔ وہ آیات جو شفیع کو صرف خدا میں منحصر قرار دیتی ہیں ۔مثلاََ( مالکم من دونه من ولی ولا شفیع )
اس (خدا) کے سوا تمہارا کوئی ولی اور شفیع نہیں ہے۔( سجدہ ۔ ۴) اور( قل لله الشفاعة جمیعاََ )
کہئے کہ تمام شفاعتیں اللہ کے لئے مخصوص ہیں ۔ زمر ۔ ۴۴)
ج ۔وہ آیات جو شفاعت کو اذن و فرمان خدا کے ساتھ مشروط قرار دیتی ہیں ۔ مثلاََ من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ
کون ہے جو خدا کے حضور اس کے اذن کے بغیر شفاعت کرے ۔ بقرہ ۔ ۲۵۵)
اور( ولا تنفع الشفاعة عنده الا لمن اذن له )
اس کی بارگاہ میں کسی کو شفاعت سے فائدہ نہیں پہنچے گا مگر اسے جس کے لئے اجازت دی جائے گی۔ ( سبا ، ۲۳)
د۔ وہ آیات ہیں جن میں اس شخص کے لئے شرائط بیان کی گئی ہیں جس کی شفاعت کی جانا ہے ۔ بعض اوقات رضا و خوشنودی خدا کو شرط قرار دیا گیا ہے :( ولا یشفعون الا لمن ارتضی ) ۔ ( انبیاء ، ۲۸ )
اس آیت کے مطابق شفاعت کرنے والے صرف ان کی شفاعت کر سکتے ہیں جو مقام ارتضی کے حامل ہوں ۔ یعنی درگاہ خدا وندی میں قبولیت کے درجے کو پہنچے ہوئے ہوں ۔
کبھی خدا کے ہاں عہد وپیمان کو شرط قرار دیا گیا ہے ( یعنی توحید پر ایمان اور انبیا ء کو صحیح طور پر پہچاننا )۔مثلا
( لا یملکون الشفاعة الا من اتخذ عند الرحمٰن عهداََ م ) ( مریم ۔ ۸۷ )
بعض اوقات شفاعت کے حصول کی صلاحیت کو بعض مجرمین سے سلب کر لینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔مثلاََ ذیل کی آیت میں ظالمین سے شفاعت سلب کئے جانے کا اعلان ہے :( ماللظالمین من حمیم و لا شفیع یطاع ) ( مو من ، ۱۸ )
اس لحاظ سے عہد وپیمان الہٰی کا حامل ہونا یعنی ایمان اور مقام خوشنودی خدا تک پہنچنا ، اس کے نزدیک قابل قبول ہونا اور گناہوں مثلاََ ظلم و ستم سے بچنا یہ شفاعت کی حتمی شرائط ہیں ۔
شرائط شفاعت :
خلاصہ یہ ہے کہ آیات شفاعت وضاحت سے نشان دہی کرتی ہیں کہ اسلام کی نظرمیں مسئلہ شفاعت کوئی بے ضابطہ اور بلا شرط موضوع نہیں ہے بلکہ اس کی قیود وشرئط ہیں ایک طرف یہ اس کے جرم کے لحاظ سے ہیں جس کے بارے میں شفاعت ہو نی ہے اور دوسری طرف اس شخص کے بارے میں جس کی شفاعت کی جانی ہے تیسر ے اس شخص کے بارے میں شرائط ہیں جس نے شفاعت کرنی ہے یہ سب چیزیں مل کر شفاعت کے اصلی رخ اور اس کے فلسفہ کو واضح کرتی ہیں ۔مثلاََ ظلم وستم جیسے گناہ شفاعت کے دائر ے سے بالکل خارج کر دیئے گئے ہیں ۔اور قر آن کہتا ہے کہ ظالمو ں کے لئے کو ئی شفیع مطاع نہیں ہے اب اگر ظلم اس کے وسیع معنی ٰکے لحاظ سے تفسیر کی جائے تو پھر شفاعت ان مجرمین کے لئے منحصر ہوگی جو اپنے جرم پر نادم وپشیمان ہوں اور اس کے ازالے اور اصلاح کی راہ پر گامزن ہوں جیسا کہ بعض احادیث کے حوالے سے بیان ہوگا ۔اس صورت میں شفاعت توبہ اور گناہ پر ندامت کے عمل میں ایک مدد گار کا کردار ادا کرے گی (اور یہ جو بعض تصور کر تے ہیں کہ ندا مت اور توبہ کے ہوتے ہو ئے شفاعت کی ضرورت نہیں یہ ان کا اشتبا ہ ہے جس کی وضاحت ہم عنقریب کریں گے )۔ایک سورہ انبیا ء آیہ ۲۸ کے مطابق صرف وہ لوگ شفاعت کے ذریعہ بخشے جا ئیں گے جو مقام ارتضی تک پہنچے ہو ں گےاور دوسری طرف سورہ مریم آیہ ۸۷ کے مطابق جو عہد الٰہی کے حامل ہوں گے۔یہ دوعناوین جیسا کہ ان کے لغوی مفہوم سے ا جما لاََاوراس سلسلے کی رو ا یت سے تفصیلاََظاہرہو تاہے یہ معنیٰ رکھتے ہیں کہ انسان کا خدا ، حساب ومیزان اور سزاوعذاب پر ایمان ہو ، نیک اعمال کو اچھااور برے اعمال کو برا سمجھتا ہو اور تمام کے درست یعنی من اللہ ہو نے کی گواہی دیتا ہو اگر ایسا ایمان انسان کی فکر ونظر اور زندگی سے ظاہر ہوتاہوجس کی نشانی یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ان ظالمین اور سرکش لوگو ں سے ممتاز کرے جواسلام کی کسی مقدس اصل پرایمان نہیں رکھتے اور اپنے پروگراموں پر تجدید نظر کرے تو پھر وہ شفاعت کا اہل ہوتاہے
سورہ نساء کی ۶۴ میں شفاعت کرنے کے زیر سایہ گناہوں کی بخشش کے بارے میں یوں ارشاد ہوتا ہے:
( ولو انهم اذظلمواانفسهم جاء وک فاستغفراالله واستغفرلهم الرسول لوجدوالله توابارحیما )
اور اگر وہ اپنے آپ پر ظلم کر بیٹھے تھے تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ،بارگاہ الٰہی میں توبہ واستغفار کرتے اورپھر ہمارا رسول بھی ان کے لئے عفو ودرگزرکی سفارش کرتا توو ہ دیکھتے کہ اللہ توبہ قبول کرکے رحم فرمانے والاہے
اس آیت میں خود مجرمین کی توبہ استغفار کو پیغمبرکی طرف سے مغفرت کی سفارش کا مقدمہ قراردیا گیاہے ۔
سورہ یوسف کی آیت ۹۷ و ۹۸ میں ہے( قالویاابانااستغفرلناذنوبنااناکنا خاطئین قال سوف استغفرلکم ربی ط انه هو الغفورالرحیم )
انہوں نے اپنے باپ کی خدمت میں عر ض کی کہ اللہ کے حضور ہماری مغفرت کی دعا کریں اور ہم اپنے خطاکار ہو نے کے معترف ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میں جلدی ہی اپنے پروردگار سے تمہاری مغفرت طلب کروں گا بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ان آیات میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ برادران یوسف نے باپ سے سفارش کے تقاضے سے قبل گناہ پر ندامت و پشیمانی کا اظہار کیا ۔
سورہ مومن ، آیہ ۷ فرشتوں کی شفاعت کے بارے میں ہے کہ ان کی استغفار اور شفاعت صرف با ایمان راہ خدا کے پیرو کار اور حق کی اتباع کرنے والے لوگوں کے لئے ہے:
( و یستغفرون للذین آمنو ا ربنا وسعت کل شیء رحمة و علما فاغفر للذین تابو ا و اتبعوا سبیلک وقهم عذاب الجحیم )
اب پھر یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ توبہ کرنے ، سبیل الٰہی کی اتباع کرنے اور اس راہ پر قدم رکھنے کے باوجود شفاعت کی کیا ضرورت ہے ۔اس سوال کا جواب ہم حقیقت ِ شفاعت کی بحث میں دیں گے ۔
شفاعت کرنے والوں کے لئے بھی اس شرط کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ حق کے گواہ ہونے چاہیئیں :
( الا من شهد بالحق ) (زخرف۔ ۸۶)
اس لحاظ سے ضروری ہے کہ جن کی شفاعت ہونا ہے وہ شفاعت کرنے والے سے ربط اور تعلق بر قرار رکھیں اور وہ ربط ہے قول و فعل سے حق کی طرف متوجہ ہونا جو خود اصلا َ اور راہ حق میں تمام صلاحیتیں صرف کرنے کے لئے ایک عامل ہے
احادیث اسلامی اور شفاعت :
روایات اسلامی میں شفاعت کے سلسلے میں بہت سی تعبیرات موجود ہیں جو مندرجہ بالا آیات قرآنی کے مفہوم کی تکمیل کرتی ہیں اور بعض اوقات بہت صریح ہیں ۔ ان میں سے بعض یہ ہیں :
ا۔ تفسیر برہان میں امام کاظم کے واسطے سے حضرت علی سے منقول ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی اکرم سے سنا ہے :شفاعتی لاهل الکبائر من امتی
میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لئے ہے۔
ابن عمیر جو راوی حدیث ہے کہتا ہے :
میں نے امام کاظم سے پوچھا کہ گناہان کبیرہ کا ارتکاب کرنے والوں کی شفاعت کیسے ممکن ہے حالانکہ خدا وند عالم فر ماتا ہے ”( ولا یشفعون الا لمن ارتضی ) “ مسلم ہے کہ جو شخص کبائر کا مرتکب ہوتا ہے ۔وہ ارتضی اور خوشنودی خدا سے دور ہوجاتا ہے ۔
اما م نے جواب دیا :جو با ایمان شخص گناہ کا مرتکب ہوتا ہے وہ طبعا پشیمان ہوتا ہے اور نبی اکرم نے فرمایا ہے کہ گناہ سے پشیمانی توبہ ہے اور جو شخص پشیمان نہ ہو وہ حقیقی مومن نہیں اور اس کے لئے شفاعت بھی نہیں ہے اور ایک گناہ ایک ظلم ہے ۔ خدا وند عالم فرماتا ہے : ظالموں کے لئے دوست اور شفاعت کرنے والے نہیں ہیں(۱)
صدر حدیث کا مضمون یہ ہے کہ شفاعت کبائر کے مرتکب لوگوں کے لئے ہے حدیث کا ذیل یہ واضح کرتا ہے کہ شفاعت کے قبول ہونے کی اصلی شرط یہ ہے کہ جس کی شفاعت کی جارہی ہے اس میں ایسا ایمان ہو جو مجرم کو ندامت خود سازی ، ازالہ ء گناہ اور اصلاح کے مرحلے تک پہنچادے اور ظلم ، طغیان اور قانون شکنی سے اپنے آپ کو نکال لے اور اس کے بغیر شفاعت ممکن ہی نہیں ہے ( غور کیجیے گا )
ب ۔ کتاب کافی میں امام صادق سے اس خط میں جو آپ نے متحد المال کی صورت میں اپنے اصحاب کو لکھا ہے ، منقول ہے :من سره ا ن ینفعه شفاعة الشافعین عند الله فلیطلب الی اللله ان یر ضی عنه (۲)
اس روایت کا لب ولہجہ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ اشتباہات کے ازالے کے لئے ہے جو شفاعت کے سلسلے میں حضرت صادق کے بعض اصحاب کو خصوصاََ اور مسلمانوں کی ایک جماعت کو عموما ہوگئے تھے ۔ اس میں صراحت کے ساتھ گناہ کا شوق دلانے والی شفاعتون کی نفی کی گئی ہے ۔ روایت کے مطابق ” جو شخص پسند کرتا ہے کہ اسے شفاعت نصیب ہو اسے چاہیئے کہ خدا کی خو شنودی حاصل کرے “۔
ج۔ ایک اور پر معنی حدیث حضر ت صادق سے یوں مروی ہے :
اذا کان یوم القیامة بعث الله العالم والعابد فاذا وقفا بین ید ی الله عز وجل قیل اللعابد انطق الی الجنةو قیل اللعالم قف تشفع للناس بحسن تادیبک لهم ۔
قیامت کے دن خدا وندے تعالیٰ عالم اور عابد کو قبر سے اٹھائے گا ، عابد سے کہے گا اکیلے بہشت میں چلے جاؤ لیکن عالم سے کہے گا جن لوگوں کی اچھی تربیت کی ہے ان کی شفاعت کرو(۳)
اس حدیث میں عالم نے جو ادب و اخلاق کی تعلیم دی ہے اور اس کے شاگرد جہنوں نے اس سے سبق حاصل کیا ہے کی شفاعت کے درمیان ایک ربط و تعلق نظر آ تا ہے ۔ اس سے اس بحث کے تاریک پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے ۔
علاوہ از ایں شفاعت کا عالم سے مخصوص ہونا اور عابد سے اس کی نفی اس بات کی نشاندہی ہے کہ منطق اسلا م کی رو سے شفاعت کسی عہد و پیمان اور پا رٹی بازی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکتب تربیت ہے اور اس جہان میں تربیت کی تصو یر کشی ہے ۔
____________________
۱ تفسیر برہان ، ج ۳ ، ص ، ۵۳
۲ نقل از بحار ، ج ۳ ،ص ۳۰۴ ( قدیم اشاعت )
۳ بحار ، ج ۳ ، ص ۳۰۵ بحوالہ اختصاص مفید
۷۱ ۔ شفاعت کی معنوی تا ثیر :
اس مقام پر شفاعت سے متعلق جو روایات ہم نے بیان کی ہیں وہ اس سلسلے کی روایات کا ایک تھوڑا سا حصہ ہے جنہیں ہم نے اپنی بحث کی مناسبت سے انتخاب کیا ہے ورنہ شفاعت سے متعلق روایات تو حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں ۔
نووی شافعی ۱ شرح صحیح مسلم میں قاضی عیاض جو اہل سنت کے مشہور عالم ہیں کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ شفاعت متواترات میں سے ہے(۲) ۔
یہاں تک کہ ابن تیمیہ ( متوفی ۷۲۸ ھ) اور محمد بن عبد الوہاب ( متوفی ۱۲۰۶ ھ ) کے پیرو جو اس سلسلے میں سخت رویہ اختیار کرتے ہیں اور بہت متعصب ہیں ان روایات کے تواتر کے معترف ہیں ۔
کتاب ”فتح المجید “ شیخ عبد الرحمٰن بن حسن کی تالیف ہے وہابیوں کی ایک مشہور کتاب ہے اور ابھی حجاز کے بہت سے دینی مدارسو ں میں درسی کتب کی حیثیت سے موجود ہے ۔ اس میں ابن قیم سے اس طرح منقول ہے :
شفاعت ِ مجرمین کے بارے میں نبی اکرم سے احادیث متواتر ہیں آپ کے اصحاب اور اہل سنت کا عموما اس پر اجماع ہے اور وہ اس کے منکر کو بدعتی سمجھتے ہیں اس پر تنقید کرتے ہیں اور اسے گمراہ شمار کرتے ہیں(۳) ۔
اس سے قبل کہ اب ہم شفاعت کے اجتماعی اور روحانی اثرات پر بحث کریں اور چاروں اعتراضات کو فلسفہ ء شفاعت کی روشنی میں حل کریں خدا پرستوں اور معتقدین شفاعت کی منطق کی نظر سے اس کے معنوی آثار دیکھتے ہیں کیونکہ یہ نظراس مسئلے کے اجتماعی اور معنوی عکس العمل کے سلسلے میں آئندہ آنے والی بحث کو زیادہ واضح کردیتی ہے(۴) ۔
عقائد اسلامی کے علماء کے درمیان شفاعت کی تاثیر معنوی کے سلسلے میں کچھ یوں ہے :
ایک گروہ ” وعیدیہ “ کے نام سے مشہور ہے جن کا عقیدہ ہے کہ گناہان کبیرہ کے مرتکب افراد ہمیشہ جہنم میں رہیں گے )۔
ان کا اعتقاد ہے کہ گناہ کے آثار کو کم کرنے میں شفاعت اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ اس کی تاثیر پیش رفت ، تکامل معنوی اور جزاء و ثواب کی زیادتی ہے ۔
تفضیلہ ( جو اعتقاد رکھتے ہیں کہ کبیرہ گناہ کرنے والے لوگ جہنم میں نہیں رہیں گے ) معتقد ہیں کہ شفاعت گناہگاروں کے لئے ہے اور نتیجے میں سزا اور عذاب ختم ہو جاتا ہے ۔
نہایت مشہور محقق نصیر الدین طوسی کتاب تجرید الاعتقاد ات میں دونوں کو بر حق سمجھتے ہیں اور وہ دونوں آثار کے معتقد ہیں ۔
علامہ حلی بھی محقق طوسی کی عبارت کی شرح میں کتاب کشف المراد میں اس عقیدے کا انکار نہیں کرتے بلکہ اس کے لئے شواہد پیش کرتے ہیں ۔
شفاعت کے معنی اصل لغت کے اعتبار سے بیان کیے گئے ہیں اور اسی طرح شفاعت تکوینی کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ ان دونون کی طرف توجہ کرتے ہوئے اب کسی تردید و شک کی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ محقق طوسی کا عقیدہ حقیقت وواقعیت سے نزدیک ہے۔
کیونکہ ایک طرف امام صادق سے منقول مشہور روایت ہے ؛
ما من احد من الاولین والاًخرین الا هو محتاج الی شفاعة محمد یوم القیامه (۵)
اولین و آخرین میں کوئی بھی نہیں جو آنحضرت کی شفاعت کا محتاج نہ ہو ۔
اس حدیث کی رو سے تو وہ اشخاص بھی جو گناہ سے توبہ کرچکے ہیں اور ان کا جرم بخشا گیا ہے ۔ شفاعت کے محتاج ہیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب شفاعت کی تاثیر ہر دو پہلوؤں کے لئے ہو اور مقام و مرتبے کی بلندی کے لئے بھی کار آمد ہو ۔
لہذا اگر بعض روایات میں ہے کہ نیک لوگوں کی شفاعت کی ضرورت نہیں تو اس سے مقصود ویسی شفاعت کی نفی ہے جو مجرمین اور گناہگاروں کے لئے ہے ۔
دوسری طرف ہم کہ چکے ہیں کہ شفاعت کی حقیقت یہ ہے کہ قوی تر موجود کی مدد کے لئے اس سے مربوط و منظم ہوجائے ممکن ہے یہ مدد نقاط قوت کی زیادتی یا نقاط ضعف کی کمی کے لئے ہو ۔
جیسا کہ شفاعت تکوینی اور وہ موجودات جو سیر تکامل و پرورش میں ہیں ، میں یہ دو جنبے دیکھے جاسکتے ہیں ، بعض ا وقات پست تر موجودات کو قوی تر موجودات کی ضرورت اس لئے ہوتی ہے کہ وہ عوامل تخریب کو دور کریں جیسے( گھاس کو آفتاب کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس کی آفات و بلیات دور کرے ) کبھی ان کی ضرورت قوت کی زیادتی اور پیش رفت کے لئے ہوتی ہے جیسے گھاس کو رشد و نمود کے لئے بھی سورج کی روشنی درکار ہوتی ہے ) اسی طرح درس پڑھنے والا شاگرد اپنے اشتباہات کی اصلاح کے لئے بھی استاد کی احتیاج رکھتا ہے اور اپنی معلومات بڑھانے کے لئے بھی ۔ لہذا مختلف دلائل کے پیش نظر شفاعت دونوں قسم کے آثار رکھتی ہے اور صرف گناہ و جرم کے آثار کرنے میں منحصر نہیں ہے ( غور کیجئے گا )۔
____________________
۱ ان کا نام یحیی بن شرف ہے ۔ سات سو ہجری کے علماء میں سے ہیں چونکہ نوی شہر جو دمشق کے پاس ہے میں پیدا ہوئے اس لئے نوی مشہور ہوئے۔
۲ بحار ، ج ۳ ص۳۰۷
۳ فتح المجید ص ۲۱۱
۴ توجہ رہے کہ یہاں پر ہم خاص طور پر علماء عقائد کی منطق سے بحث کر رہے ہیں ۔
۵- بحار اور دیگر کتب ۔
توبہ کرنے والوں کو شفاعت کی ضرورت
جو کچھ کہا گیا ہے اس پر غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ توبہ کرنے والوں کو شفاعت کی ضرورت کیوں ہے جب کہ مسلم مذہبی عقائد کے مطابق گناہ سے ندامت اور توبہ تنہا گناہ کی بخشش کا موجب ہے ۔
اس موضوع کی دو دلیلیں ہیں :
۱ توبہ کرنے والے بھی معنوی مقامات کی بلندی ، پرورش اور ارتقاء کے لئے شفاعت کے محتاج ہیں ۔
۲ بہت سے علماء کو ایک بہت بڑا اشتباہ تاثیر توبہ کے مسئلے میں پیش آتا ہے جو ایسے اشکالات کا سبب بنتا ہے وہ یہ کہ ان کا تصور یہ ہے کہ توبہ ندامت اور گناہ پر سے پشیمانی ، انسان کو گناہ سے قبل والی حالت کی طرف پلٹا دیتی ہے حالانکہ ہم اپنے مقام پر کہ چکے ہیں کہ کئے ہوئے گناہ پر ندامت اور آئندہ کے لئے گناہ نہ کرنے کا عزم مصمم ، توبہ کا صرف پہلا مرحلہ ہے اور وہ بالکل اس دوا کی طرح ہے جو بیماری کو ختم کردیتی ہے ۔ واضح ہے بخار دور ہوجانے اور بیماری کے جڑ سے ختم ہوجانے سے اگرچہ بیمار اچھا ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ ایک عام آدمی کی حالت میں ہر گز نہیں آتا بلکہ اسے اپنے جسم کو پھر سے توانا بنانے کے لئے ایک مدت تک کوشش درکار ہے پھر کہیں وہ بیمار ی سے پہلے والی حالت پر پہنچ پائے گا ۔
یہ الفاظ دیگر توبہ کے کئی مرحلے ہیں گناہ پر نادم ہونا اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا یہ تو صرف پہلا مرحلہ ہے ۔ اس کا آخری مرحلہ یہ ہے کہ توبہ کرنے والا ہر لحاظ سے گناہ سے پہلے کی روحانی حالت میں لوٹ آئے ۔ یہ وہ مرحلہ ہے کہ جہاں شفاعت کرنے والوں کی شفاعت اور ان سے ربط و تعلق اثر بخش ہو سکتا ہے ۔ اس کے لئے زندہ شاہد استغفار سے متعلق وہی آیات ہیں جن کی ہم پہلے ہی نشاندہی کر چکے ہیں کہ مجرم کی توبہ کے علاوہ پیامبر کی استغفار بھی قبولیت توبہ کی شرط قرار دی گئی ہے اسی طرح برادران یوسف کی توبہ کے ضمن میں حضرت یعقوب کا ان کے لئے استغفار کرنا ، سب سے واضح تو ملائکہ کا ان لوگوں کے لئے استغفار کرنا ہے جو صالح اور مصلح ہیں اور توبہ کرنے میں جن کے متعلق آیات پیش کی جا چکی ہیں
فلسفہ شفاعت :
مدارک شفاعت اور شفاعت کے سلسلے کی بحث سے ہم پر اس کا مفہوم واضح ہو چکا ہے۔
اب اس کے اجتماعی اور نفسیاتی فلسفوں کا سمجھنا مشکل نہیں رہا ۔
شفاعت کی حقیقت کی طرف مکمل توجہ سے اس کے معتقدین پر مندرجہ ذیل اثرات کے مرتب ہونے کا امکان ہے۔
۱ مایوسی کی روح سے مقابلہ:
جو لوگ سخت جرئم کے مرتکب ہو تے ہیں وہ ایک طرف تو وجدانی تکلیف میں مبتلا ء ہو تے ہیں اور دوسری طرف درگاہ خداسے بخشش سے مایو س ہوجاتے ہیں کیونکہ اس طرح گناہوں کی زندگی سے واپسی کا راستہ نہیں پاتے لہٰذاعملی طور پر کسی تجدیدنظرکے لئے تیا ر نہیں ہو تے اور مستقبل کے افق کی تیرگی کو دیکھ کر وہ طغیان وسرکشی میں زیادہ ہاتھ پاوں مارنے لگتے ہیں اسی طرح اسی عملی زندگی کے عنوان سے مقررات الٰہی کے بے سود ہونے کے قائل ہو جاتے ہیں با لکل اس بیمار کی طرح جو تندرستی سے مایو س ہوکر ہر چیز کی بندشو ں سے بے پر واہ ہوجائے چونکہ اب وہ بے دلیل اور بے اثر سمجھتاہے ۔
بعض اوقات وجدانی دردوتکلیف جو ایسے جرائم سے پیدا ہوتی ہے نفسیاتی خلل یامعاشرے سے دوری کی تحریک کا سبب بن جاتی ہے کیو نکہ اسی معاشرے نے اسے اس طرح آلودہ کیا ہے اس طرح گنہ گار ایک خطر ناک عنصر میں تبدیل ہو کر معاشرے کے لئے دکھ اور تکلیف کامرکز بن جاتا ہے ۔
ایسے عالم میں شفاعت پر ایمان اس کے سامنے روشنی کا ایک دریچہ کھو ل دیتا ہے اور بخشے جانے کی امید دلا کر اس اپنے کنٹرول میں لے لیتا ہے تجدید نظر اور گذشتہ کردار کے ازالئے اوراصلاح لے لئے اس شوق دلا تا ہے ا س طرح معاشرے سے قطع تعلق کی تحریک پیدا نہیں ہوتی اور نفسیاتی اطمیانا ن اسے ایک سالم اور صالح عنصر میں تبدیل ہونے کا امکان مہیا کرتا ہے ۔
اس بناء پر اگر ہم یہ کہیں کہ صحیح معنیٰ والی شفاعت لی طرف توجہ ایک اصلاح کنندہ وعامل ہے اوربرائی سے روکنے کا سبب ہے اور ایک مجرم گنہ گار فرد کو صالح بنا دیتا ہے تو یہ فضول بات نہیں ہو گی یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں عمر قید کے قیدیوں کے لئے بھی سفارش اور بخشش کا دریچہ دنیا کے مختلف قوانین میں کھلاہے تاکہ کہیں یاس وناامیدی انہیں قید خانوں میں کسی خطرناک اقدام کی طرف نہ لے جائے یا نفساتی خلل میں مبتلا نہ کرے
شفاعت کی شرئط تعمیری اور اصلاح کنندہ ہیں :
ا س طر ف متوجہ رکھتے ہوئے کہ شفاعت اپنے حقیقی اعتبار سے کئی پہلووں سے متعددوقیود وشرائط کی حامل ہے ،جو اصل وبنیا د کا عقیدہ رکھتے ہیں وہ مجبور ہیں کہ ان شرائط پر عملدرآمد کریں اور ظلم جیسے گناہوں سے جن کی وجہ سے شفاعت کی امیدختم ہوجاتی ہے پرہیز کریں اور اپنے پرو گرام کو تبدیل کر کے اور جامع تر بناکر شروع کریں ۔ایسے لوگ مقام ارتضی تک رسائی اور عہد الٰہی کی پاسداری کے لئے (جس کی تفسیر بیان کی جاچکی ہے )اپنے گناہوں سے باقاعدہ توبہ کرتے ہیں یا کم از کم توبہ کی منزل پر قیام کرتے ہوئے غلط کاری اور قوانین الٰہی کی بندشوں کو توڑنے سے باز رہتے ہیں یاکم ا ز کم ایسے افعال میں کمی کردےتے ہیں اوراپنے اندر خدا اور بڑی عدالت پر ایمان کو زندہ رکھتے ہیں اور اس کے قوانین اورمقررات کا احترام کر تے ہیں ۔
ایسے افراد اپنے اور شفاعت کرنے والے کے درمیان ا پنے رشتے اور تعلق کو برقرار رکھنے کے لئے ا س کی صفات اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک قسم کا رابطہ چاہے کمزور ہی کیوں نہ ہو اپنے اور ان کے درمیا ن بر قرار رکھتے ہیں یعنی جس طرح شفاعت تکوینی میں تا ثیر تکامل کے لئے آمادگی ،ربط اور تسلیم ضروری ہے شفاعت تشریعی میں نتیجے تک پہنچنے کے لئے بھی اس قسم کی آمادگی اور تیاری ضروری ہے (غور کیجئے )
اس طرح کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کہ شفاعت اپنے صحیح مفہوم کے اعتبار سے مجرمین کے حالات کی تبدیلی اور اصلاح کے لئے نقش مو ثر ہے
اعتراضات کے جوابات :
جیسے کہ پہلے کہا جاچکا ہے کہ عرف عام کی شفاعت اور منطق اسلام کی شفاعت میں بہت فرق ہے ایک کی بنیاد اس کی فکر کو تبدیل کرنا ہے جس کے پاس شفاعت ہونی ہے اور دوسرے کی بنیاد اس شخص میں گوناگوں تبدیلیاں پیدا کر نا ہیں جس کی شفاعت ہورہی ہے
واضح ہے کہ پہلے معنٰی والی شفاعت تمام تر ا عتر ا ضات کا مو جب ہے۔ اسی سے سعی وطلب کی رو ح مضمحل ہو تی ہے اور وہی گناہ کی طرف رغبت کا با عث بنتی ہے پسماندہ اور طوائف الملوکی شکار معاشرے کی انعکاسی کرتی ہے نیز ایک قسم کے شرک یاانحراف کاشکار پاتی ہے کیونکہ اگر ہمارااعتقاد ہو کہ خد ا کے علم میں تغیرآسکتاہے اورجس کی شفاعت کی جارہی ہے اس کی کسی ایسی بات کو خداکے سامنے واضح کیا جا سکتا ہے جسے وہ نہیں جانتا اور اس کے علاوہ کو ئی اور ایسا مبداء ہے جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے اور اس کے وسیلے سے خد اکے غضب کو ٹھنڈ اکیا جایاسکتا ہے یا اس کی محبت کو اس کے ذریعہ اپنی طرف جذب کیا جاسکتا ہے یا پھر یہ اعتقاد رکھیں کہ خدا کے لئے ممکن ہے وہ ا پنے بعض بندوں کے مقام و اہمیت کا محتاج ہو اور اس اختیار کی وجہ سے کسی مجرم کے بارے میں ان کی شفاعت قبو ل کرے یا پھر ہمارا اعتقاد ہو کہ ممکن ہے و ہ وسائط کے اثر ورسوخ سے ڈر جائے اور ان کی شفاعت قبو ل کر ے تو یہ تمام امو ر ہمیں اصل توحیداور صفات خدا سے دور کر دیتے ہیں اور شرک وبت پرستی کے گڑھے میں پھینک دیتے ہیں ۔یہ سب عرف عام والی شفاعت کی خصوصیات ہیں جو در اصل اس کے غلط معانی ہیں ۔
مگر صحیح شفاعت کہ جس وہ شرائط ،کو ا ئف اور خصوصیات موجود ہیں جن کی طرف ابھی ہم نے اشارہ کیاہے تو اس میں ان عیوب میں سے کسی کی بھی کو ئی گنجائش نہیں ہے وہ شفاعت گناہ کی تر غیب نہیں دلاتی بلکہ تر کہ گناہ کا وسیلہ ہے ۔وہ سستی اور کاہلی کی دعوت نہیں دیتی بلکہ روح امید پیدا کرکے انسانی قویٰ کو گذ شتہ غلطیو ں اور خطاوں کی تلافی کے لئے مجتمع کردیتی ہے ،و ہ گذ شتہ کردار سے کسی قسم کا رابطہ نہیں رکھنے دیتی بلکہ مجرموں ،گناہگاروں اور زیادتی کرنے والوں کی اصلاح کا ایک تربیتی وسیلہ ہے ۔نہ صرف یہ کہ ایسی شفاعت شرک نہیں ہے بلکہ عین توحید ہے اور خدا کی طرف اور اس کی صفات کی طرف توجہ کا باعث ہے کیو نکہ یہ در اصل اس کے اذن اور فرمان سے مدد طلب کرنا ہے (پھر بھی غور کیجئے )
شفاعت اور مسئلہ توحید
مسئلہ شفاعت کی غلط تفسیروں کی وجہ سے دو گروہ اس کی مخالفت میں نمایاں ہو ئے اور دونو ں ایک دوسرے سے متضاد رخ پر ہیں
ایک گروہ وہ ہے جو مادیین جیسی فکر رکھتاہے ۔ان لوگو ں کے نزدیک مسئلہ شفاعت پردہ پوشی کا عامل ہے اور طلب وسعی کو ختم کر دیتا ہے ۔ان کا جواب تفصیل سے گذر چکاہے ۔
دوسرا گروہ افراط کے شکار کوتاہ نظر مذہبی لوگوں کا ہے (جیسے وہابی حضرات )اور ان کے کچھ اور ہم فکر لوگ بھی ہیں یہ لوگ شفاعت کے اعتقاد کو ایک قسم کا شرک اور آیین توحید سے انحراف سمجھتے ہیں ۔ باوجودیکہ اس اشکال کو پیش کرنا موضو ع بحث سے خارج ہے (اور اس سے مذ ہبی اشتعال کا اندیشہ ہو سکتا ہے )تا ہم اس بحث کی تکمیل کے لئے ہم اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔
پہلے اس موضو ع کی طرف توجہ ضروری ہے کہ وہابی حضرات جنہوں نے آخری دو صدیو ں میں محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان کی رہبری میں سر زمین حجاز کو اپنے افکار کے زیر تسلط کر لیا ہے وہ اپنے تند وتیز عقائد میں جو زیادہ تر توحید کے سلسلہ میں ہیں نہ صرف یہ کہ شیعوں کے مخالف ہیں بلکہ اکثر اہل تسنن مسلمانوں کے بھی سخت مخالف ہیں ۔
محمد بن عبدالوہاب نے ا پنے نظریات بن تیمیہ(احمد بن عبدالحلیم دمشقی متوفی ۷۲۸ ھ،جواس سے تقریبا چارسوسال ہو گزرے)سے لئے ہیں ۔وہ حقیقت میں بن تیمیہ کے افکا ر وعقائد کااجرا کرنے والاتھا ۔
محمد بن عبدالوہاب ۱۱۶۰ سے اپنے سن وفات ۱۲۰۶ تک وہا ں کے حاکموں کا ساتھ دےتے ہو ئے حجاز کے بدوں اور بیابانوں میں گھومنے والی اقوام میں ساکت تعصب کی آگ بڑ کاتارہا ۔توحید کے دفاع اور شرک کے مقابلے کے نام پراپنے مخالفین کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتارہا اور اس طرح کاروبار حکومت اور سیاسی قیادت پر الٹے سید ھے طریقے سے تسلط جمانے میں کامیاب ہوگیا ۔اور اس سلسلے میں حجاز اور حجاز سے باہر بہت سے مسلمانوں کا خون بہایا گیا ۔
محمدبن عبدالوہاب کے مریدوں کی کشمکش علاقہ حجاز تک محدود نہ تھی بلکہ ۱۲۱۶( یعنی ٹھیک محمد بن عبدالوہاب کے انتقال کے د س سال کے بعد اس کے مرید اور پیروکارحجاز کے بیابانوں کے راستے نکلے اور بے خبری میں اچانک کربلا پر حملہ کردیا عید غدیر کی مناسبت سے شہر میں چھٹی تھی اور کربلا کے اکثر لوگ عید غدیر کے سلسلے میں نجف اشرف گئے ہو ئے تھے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے شہر کی دیوار توڑدی اور شہر میں لوٹ مار مچادی ۔حرم امام حسین اور دوسرے مقدس اسلامی مقامات کوتباہ وبرباد کردیا ۔ان مقامات سے تمام ہیرے جوہرات ،منقش پردے ،نفیس ہدیے اور زینت کی چیزیں (لشکر یزید کی اتباع میں )لوٹ کر لے گئے ۔پچاس مسلما ن ضریح کے قریب ،پانچ سو صحن میں اورکثیر تعداد میں شہر کے دیگر مقامات پر شہید کردیے جب کہ بعض لوگ اس موقع پر شہدائے کربلا کی پچا س ہزار سے زیادہ کی تعداد بیان کرتے ہیں بہت سے گھروں میں غا رت گری کی گئی۔یہاں تک کہ بوڑ ھے بچے اور عورتیں بھی اس ظلم سے محفوظ نہ رہ سکے ۔
۱۳۴۴ میں فقہائے مد ینہ نے جو کاروبار حکومت میں دخل رکھتے تھے فتویٰ دیا کہ حجاز میں تمام بزرگان دین کی قبریں مسمار کردی جائیں اور آٹھ شوال کو(متو کل عباسی کی پیروی میں )یہ حکم نافذ کردیا گیا ۔قبر رسول تو تمام مسلمانوں کی ناراضگی کے خوف سے محفوظ رہ گئی۔
خلاصہ یہ کہ اس مذہب کے پیروکار خود محمد بن عبدالوہاب کی طرف سخت مزاج ، رحمدلی سے عاری ،خود سر ، لکیر کے فقیر اور متعصب ہیں عقل ومنطق کے بجائے شدت وسختی پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔دانستہ یا ندانستہ وہ تمام اسلام چند ایک مسائل کے لئے مقابلہ اور جنگ ہی کر نا سمجھتے ہیں ۔مثلا شفاعت ، زیارت اور توسل ۔عملی طور پر اسلام کے اہم اجتماعی ااور معاشرتی مسائل خصوصا جن کا تعلق عدالت اجتماعی ااور سامراجی آثا ر کو ختم کرنے اور مادہ پرستی اور مذاہب الحادی کے عقل ومنطق کے ساتھ مقابلہ سے لوگوں کو دور رکھے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے فکری دائرہ کار میں ان مسائل کے بارے میں گفتگونہیں ہوتی اور دور حاضر کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے ایک وحشت ناک جہالت اور لاعلمی میں زندگی بسر کررہے ہیں ۔
بہرحال یہلوگ مسئلہ شفاعت کے بارے میں یوں کہتے ہیں :
کو ئی شخص حق نہیں رکھتا کہ وہ رسول اسلام سے شفاعت طلب کرے ۔مثلاوہ کہے یامحمد اشفع لی عنداللہ(اے محمد !اللہ کے ہاں میری شفاعت کیجئے )”( وان المساجد لله فلاتدعوامع الله احدا ) (جن ، ۱۸)
رسالہ کشف الشہاب ،تالیف محمد بن عبدالوہاب میں یوں ہے :
اگر کوئی کہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ خدانے پیغمبر کو مقام ِشفاعت بخشا ہے اورآپ خدا کے اذن وفرمان سے شفاعت کر سکتے ہیں تو کیا حرج ہے کہ جو کچھ خدا نے انہیں بخشا ہے ہم اس کا تقاضا کریں ۔
تو ہم جواب میں کہیں گے کہ یہ درست ہے کہ خدا نے انہیں مقام شفاعت عطاکیا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے نہی کی ہے کہ ہم ان سے شفاعت طلب کریں ۔ خدانے کہا ہے --”فلاتدعوامع اللہ احدا“ ( اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو)۔
علاوہ ازیں مقام شفاعت نبی کریم سے مخصوص نہیں ہے فرشتے اور دوستان خدا بھی اس مقام کے حامل ہیں تو کیا ہم ان سے بھی شفاعت طلب کر سکتے ہیں ۔اگر کوئی اس طرح کہے تو اس نے خدا کے صالح بندوں کی پرستش اور عبادت کی ہے ۔ ۱
شرک سے نجات صرف چار قواعد جاننے سے ممکن ہے :
( ۱) وہ کفار جن سے نبی اکرم بر سرے پیکار تھے یہ اقرار کرتے تھے کہ خدا ہی خالق و رازق اور وہی جہان کی تدبیر کرنے والا ہے ”۔( قل من یرزقکم من السماء والارض و من یدبر الامر ط فسیقولون الله ) یعنی ان سے پوچھو کہ آسمان و زمین سے تمہیں رزق کون دیتا ہے اور کون تدبیر امر کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں اللہ ،( یونس ، ۳۱ )
لیکن یہ اقرار ا نہیں ہرگز مسلمانوں کے زمرے میں داخل نہ کرسکا ۔
( ۲) وہ کہتے تھے بتوں کی طرف ہماری توجہ اور ان کی عبادت صرف قرب خدا اور شفاعت کے لئے ہے --” ۔( ویقولون هولاء شفعائنا عندالله ) “یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے شفیع ہیں ۔
( ۳) پیغمبر نے ا ن تمام لوگوں کی جو غیر خدا کی عبادت کرتے ہیں نفی کردی اور ان کے خلاف حکم دیا چاہے وہ فرشتوں اور انبیاء اور صالحین کی عبادت کرتے تھے یا درختوں ، پتھروں ، سورج اور چاند کی ، آپ ان کے درمیان کسی قسم کے فرق کے قائل نہ تھے ۔
( ۴) ہمارے زمانے کے مشرکین زمانہ جاہلیت کے مشرکوں سے بد تر ہیں کیونکہ وہ اطمینان و راحت کے وقت بتوں کی عبادت کرتے تھے لیکن تنگی و سختی میں وہ صرف خدا کو پکارتے تھے ، جیسا کہ قرآن میں ہے:
( فاذا رکبو فی الفلک دعوالله مخلصین له الدین )
( لہذا جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالصتاَ خدا ہی کو پکارتے ہیں ) عنکبوت ۔ ۶۵)
لیکن ہمارے زمانے کے مشرکین راحت و اطمینان اور تنگی و سختی دونون میں غیر خدا سے متوسل ہوتے ہیں ۔
____________________
۱البراہین الجمیلہ،ص ۱۷ ، بحوالہ کشف الشبہات ۔
تعجب کی بات یہ ہے
تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ باقی تمام مسلمانوں کو جو ان کے نظریات سے ہم آہنگ نہیں مشرک قرار دیتے ہیں وہ سنی ہوں یا شیعہ ۔ یہ لوگ اس قدر جبر اور جسارت کے عادی ہیں کہ دوسرے مسلمانوں کا خون اور مال اپنے لئے مباح اور حلال سمجھتے ہیں ۔ انہیں قتل کرنا بغیر چوں چرا کے جائز سمجھتے ہیں جیسے پیدائش ِ وہابیت سے اب تک انہوں نے بارہا اس کا عملی مظاہرہ کر دکھایا ہے ۔ شیخ سلیمان بن لحمان کتاب ” الہدایہ السنیة “ میں کہتا ہے :
جو شخص فرشتوں ، انبیاء یا مثلا ابن عباس اور ابو طالب یا ان جیسے اشخاص کو اپنے اور خد ا کے درمیان وسیلہ قرار دے کہ وہ خدا کی بارگاہ میں اس کی شفاعت کریں کیونکہ یہ لوگ مقرب بارگاہ خدا ہیں جیسے کہ ( بعض مقربین ) بادشاہوں کے پاس شفاعت کرتے ہیں تو ایسے لوگ کافر اور مشرک ہیں اور ان کا خون اور مال مباح ہے اگرچہ وہ یہ کہتے ہیں ”اشهد ان لا اله الا الله و اشهد ان محمد اََ رسول الله “ اگر چہ وہ نماز پڑھیں اور روزہ رکھیں(۱)
جو سختی ، سرکشی اور ڈھٹائی اس گفتگو سے برس رہی ہے وہ کسی شخص پر مخفی نہیں ۔
____________________
(۱) البراہین الجلیلہ ص ،۸۳ بحوالہ الہدایة السنیة ص، ۶۶
مسئلہ شفاعت کے بارے میں وہابیوں کی
مسئلہ شفاعت کے بارے میں وہابیوں کی جو منطق ان کے مذہب کے بانی محمد بن عبد الوہاب کے اقوال کے حوالے سے پیش کی گئی ہے اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ وہ شفاعت کے طرفدار مسلمانوں کو مشرک قرار دیتے ہوئے دو چیزوں کا سہارا لیتے ہیں ۔
۱ انبیاء اور صلحا کی شفاعت پر یقین رکھنے والے مسلمانوں کا قیاس زمانہ جہالت کے مشرکین پر کرتے ہیں ۔
۲ قرآن نے غیر خدا کی عبادت و پرستش کی صریح نفی کی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ خدا کے ساتھ کسی کا نام نہ لیں ”( فلا تدعو مع الله احدا ) “ (سورہ جن ) اور یہ کہ تقاضائے شفاعت ایک قسم کی عبادت ہے ۔
پہلی بات کے بارے میں کہنا چاہئیے کہ اس قیاس میں وہ بہت بڑے اشتباہ کے مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ قرآن سے نیک اور صالح انبیاء وملائکہ کے لئے مقام شفاعت ثابت ہے جیسا کہ گذشتہ بحثوں میں گذر چکاہے ۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ اسے اذن الٰہی پر موقوف قرار دیا ہے ۔یہ بات انتہائی غیر منطقی اور مضحکہ خیز ہے کہ خدا نے انہیں یہ مقام تو دیا ہے لیکن ہمیں منع کیا ہے کہ اس حیثیت و مقام کوعمل میں لانے کا مطالبہ کریں وہ اذن خدا ہی سے کیوں نہ ہو ۔
علاوہ از ایں قرآن میں برادران یوسف کا باپ سے رجوع کرنا یا اسی طرح اصحاب پیغمبر کا رجوع اور آپ سے اپنے حق میں استغفار کا مطالبہ کرنا شمار کئے جاچکے ہیں ۔
کیا پیغمبر سے یہ تقاضا کرنا کہ ” اشفع لنا عنداللہ “ اللہ کے حضور ہماری شفاعت کیجئے ) شفاعت کے روشن و واضح مصادیق میں سے نہیں ہے جیسے حضرت یوسف کے بھائیوں نے کہا تھا ۔( یا ابانا استغفرلنا )
اے والد بزرگوار ! ہمارے لئے مغفرت کیجئے) یوسف ۔ ۹۷)
جس چیز کو قرآن صراحت سے جائز سمجھتا ہے یہ لوگ اسے کیونکر شرک شمار کرتے ہیں اور اس کے معتقد کو نیز اس کے خون اور مال کو مباح سمجھتے ہیں اگر یہ چیز شرک ہے تو حضرت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو کیوں منع نہیں کیا ۔
دوسری بات یہ ہے کہ بت پرستوں اور ان خدا پرستوں میں جو شفاعت باذن اللہ کا اعتقاد رکھتے ہیں کوئی شباہت موجود نہیں ہے کیونکہ بت پرست بتوں کی عبادت کرتے تھے اور انہیں شفیع قرار دیتے تھے جب کہ شفاعت کا عقیدہ رکھنے والے مسلمانوں میں مسئلہ عبادت کا تعلق شفعاءء سے بالکل نہیں بلکہ وہ فقط ان سے خدا کے بارے میں شفاعت کی د ر خواست کرتے ہیں ۔ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے کہ شفاعت کی درخواست کا مسئلہ عبادت سے کوئی ربط نہیں ۔
بت پرست خدائے یگانہ کی پرستش سے وحشت میں تھے اور کہتے تھے :
( اجعل الالهة الها واحد ان هذا لشییء عجاب )
کیا اس نے کئی خداؤں کو ایک خدا قرار دیا یہ تو بڑی عجیب بات ہے ۔( ص، ۵
بت پرست عبادت کے لحا ظ سے بتوں کو خدا کے برار سمجھتے تھے :
( تالله ان کنا لفی ضلٰل مبین اذیریکم برب العالمین )
خدا کی قسم ہم واضح گمراہی میں تھے جب کہ تمہیں رب العالمین کے مساوی سمجھتے تھے (شعراء ۹۷ ، ۹۸)
جیسے کہ تاریخ واضح گواہی دیتی ہے پت پرست اپنی خلقت اور تقدیر میں بتوں کے عمل دخل کا عقیدہ رکھتے تھے اور اس عمل دخل کی مبدائیت کے قائل تھے جب کہ شفاعت کا اعتقاد رکھنے والے مسلمان یہ امور صرف خدا کی طرف سے سمجھتے ہیں اور کسی موجود کے لئے بھی تاثیر میں استقلال کے قائل نہیں ہیں ۔
اب مسلمانو ں کو بت جیسا قراردینا بہت ہی ظالمانہ اور بعید از عقل ومنطق کام ہے
باقی رہا ددوسرا مطلب تو ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ ”عبادت“کیا ہے ۔اگر عبادت کا مفہوم ”ہر قسم کاخضو ع واحترام کر نا “لیا جا ئے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کو ئی شخص کسی دوسرے کے لئے کسی قسم کا خشوع واحترا م نہ کرے ۔ظاہرہے کہ یہ مفہوم کسی کے لئے قابل قبو ل نہیں ہوسکتا ۔
اسی طرح اگر عبادت کی تفسیر ”ہرقسم کی درخواست وتقاضا کرنا “کی جائے تو ہر شخص سے درخواست وتقاضا کر نا شرک وبت پرستی قرار پاجائے حالانکہ یہ بھی عقل ودین کی واضح راہنمائی کے خلاف ہے ۔
لہذا عبادت کا مفہوم ان تمام امور سے الگ اورجدا ہے اور وہ آخری حد کا خضوع اور تواضع ہے جو مطلق تعلق اور وابستگی کے ساتھ ،بغیر کسی قیداور شرط کے۔تسلیم کے عنوان سے ”عابد“کی طرف سے معبو د کے سامنے انجام پذیر ہوتا ہے ۔
اس لفظ کی اصل ” عبد“ہے اورا س کا مفہوم لفظ عبد (بندہ )کی طرف توجہ کرنے سے ہو تا ہے ۔در اصل عبا دت کرنے والااپنی عبادت کے ساتھ نشاندہی کر تا ہے کہ معبود کے سامنے تسلیم محض کے لئے حاضر ہے اور اپنی تقدیر اس کے ساتھ میں سمجھتا ہے ۔یہ وہی مفہو م ہے جو عبادت سے عرف اور شرع میں مراد لیا گیا ہے ۔تو کیا شفعاء سے شفاعت کے سوال میں اس مفہوم ِ عبادت کا کوئی اثر موجو د ہے؟
باقی رہا دعا ا ور غیر خدا کو پکار نا ،جس سے کئی ایک بات میں روکا گیاہے ۔اس میں شک نہیں کہ اسکا مفہوم نہیں کہ کسی کو آوا ز دینے سے منع کیا گیا ہے اور کسی کو اس کے نام سے پکارنا ”یاحسن “یامحمد “کہنا ممنوع ہے یا شرک ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ کسی کو پکارنا اور اس سے اس کام کی انجام دہی کی درخواست کرنا جو اس کی قد رت وطاقت میں ہو گناہ اور شرک نہیں کیو نکہ تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کرنا اجتماعی زندگی کا حصہ ہے ۔تمام انبیاء اور آئمہ بھی یہی کچھ کیا کرتے تھے ( یہا ں تک کے خود وہابی بھی اسے ممنوع نہیں جانتے)۔
قابل اعتراض صورت ممکن ہے وہی جس پر ابن تیمیہ نے رسالہ ”زیارة القبو ر میں اعتراض کیا ہے :
مطلوب العبد ان کان لا یقد رعلیه الاالله فسائله من المخلوق مشرک من جنس عباد اللملائکةوالتماثیل ومن اتخذالمسیح وامه الهین مثل ان یقول لمخلوق حی او میت اغفر ذنبی اوانصر نی علی عدو ی او اشف مریضی وان کا مما یقدر علیه العبد فیجوز طلبه منه فی حا ل دون حال فانه مسئلة المخلوق قد تکون جائزه وقد تکون منهیا عنها قال الله تعال :فاذافرغت فانصب والٰی ربک فارغب واوصی النبی (ص)ابن عباس اذا سئلت فاسئل الله اذااستعنت فاستعن باالله و اوصی طائفة من اصحابه ان لا یسئل الناس شیئاََوکان سوط احدهم یسقط من کفه فلا یقول لاحدنا ولنی ایاه فهٰذاالمنهی عنها والجائزةطلب دعاالمومن لاخیه ۔(۱)
بندے کی اگر خواہش ایسی ہے جس پر خدا کے علا وہ کو ئی قدرت نہیں رکھتا تو ایسی حا جت کومخلوق سے سوال کرنے والامشرک ہے اور وہ ملائکہ ،تماثیل ،حضرت مسیح اور ان کی والد کو خدا سمجھنے والوں میں سے ہے ۔مثلا کسی زند ہ یامردہ مخلوق سے کہنا کہ میرا گناہ بخش دو یا میرے دشمن کے خلاف میری مدد کرو ۔۔۔۔۔اور وہ اگر حاجت ایسی ہے جس پر بندہ قد رت رکھتا ہے تو بعض اواقات اس سے طلب کرنا جائز ہو تا ہے اور بعض اوقا ت ناجائز کیونکہ مخلوق سے کبھی سوال جائز ہوتا ہے ا ور کبھی اس سے روکا گیا ہوتا ہے خد اوندعالم فرماتا ہے :جب آپ فارغ ہو جائیں تو نصب کریں اور اپنے رب کی ہی طرف رغبت کریں ۔نبی اکرم نے ابن عباس کو وصیت کی کہ جب تمہیں سوال کرنا ہو تو خدا سے سوال کرو یاجب اعانت طلب کرنی ہو تو تو خدا سے اعانت طلب کرو اور آپ نے اپنے ایک اصحاب کو وصیت کی تھی کہ وہ لوگوں سے کسی بھی چیز کا سوال نہ کریں ۔لہٰذاان میں سے کسی کا کوڑااس کے ہاتھ سے گرجاتا توکسی سے نہ کہتا کہ مجھے اٹھا کر دے دو تویہ منہی عنہ (وہ ہے جس سے روکاگیا )ہے اور جائز یہ ہے کہ ایک مومن اپنے مومن بھائی سے دعاکی خواہش کرے۔
اس بناء پر اگر واقعا کوئی خدا کا کام غیر خدا سے چاہے اور اسے اس کی انجام دہی میں مستقل سمجھے تو وہ مشرک ہے لیکن اگر اس سے شفاعت چاہے جو اس بندے ہی کا کام ہے اور خدا نے اسے یہ حق دیا ہے تو اس میں کسی قسم کا کو ئی شرک نہیں ہے بلکہ عین ایمان اور تو حید ہے ۔آیت :”( فلا تدعوا معالله احدا ) “میں لفظ ”مع “بھی اس کی واضح گواہی دے رہا ہے کہ یہا ں مقصود ہے کسی کو خدا کے ہم پلہ سمجھ کرموثر مستقل خیال کرنا ۔
خلا صہ یہ کہ اس بحث پراصرار وتاکید کا مقصد یہ ہے کہ مفہوم شفاعت میں تحریف اور اسے مسخ کرنا نہ صرف مذہب پر اعتراض کرنے والوں کو مذہب پرتنقید کا بہانہ فراہم کرتا ہے بلکہ دوعظیم مذہبی گروہ میں تفرقہ اور اختلاف کا سبب بھی بناہو اہے،
____________________
۱ کشف ارتباب ص۲۶۸بحوالہ زیارةقبور ص۱۵۲
آیت ۴۹
( واذنجیناکم من اٰل فرعو ن یسو مونکم سوء العذاب یذبحون ابناء کم ویستحیون نسائکم ط وفی ذٰلکم بلاء من ربکم عظیم ) ۴۹ ۔
۴۹ نیز ( یاد کرو اس وقت کو) جب ہم نے تمہیں فرعونیو ں کے چنگل سے رہائی بخشی جو مسلسل تمہیں سخت ترین طریقے سے تکلیف وآزار پہنچاتے تھے تمہارے بیٹوں کے سر کاٹ لیتے اور تمہاری عورتوں کو (کنیزی کے لئے )زندہ رہنے دیتے اور اس میں تمہارے پرور دگار کی طرف سے تمہاری سخت آزمائش تھی ۔
عظیم نعمت کی طرف اشارہ
قرآن ا س آیت میں ایک اور عظیم نعمت کی طرف اشارہ کرتا ہے جس سے اللہ نے قوم بنی اسرائل کو نوازاتھا وہ ہے ستمگاروں کے چنگل سے آزادی جو خداکی عظیم نعمتوں میں ہے ۔
انہیں یاد لاتاہے :وہ زمانہ یاد کرو جب تمہیں ہم نے فرعونیوں سے آزادی دلائی تھی( واذنجیناکم من اٰل فرعون ) جو ہمیشہ شدید ترین طریقہ سے تمہیں آزار دیتے تھے( یسومونکم سوء العذاب ) ۔
تمہارے بیٹوں کا گلا کاٹ دیتے تھے ا ور تمہاری عورتوں کو کنیزی اور خدمت کے لئے زندہ رکھتے تھے (یذبحو ن ابنائکم ویستحیون نسائکم)اور یہ صور ت حال تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری آزمائش تھی( وفی ذٰلکم بلاء من ربکم عظیم ) ۔قرآن نے خصوصیت سے بنی اسرئیل پر فرعونیوں کے ظلم کی تصویر کشی کر تے ہوئے ”یسومونکم “کالفظ استعمال کیا ہے ،
یسومون فعل مضارع ہے اور مادہ سوم سے ہے جس کا اصلی مقصد کسی چیز کے پیچھے جانا ہے
ہم جانتے ہیں فعل مضارع عموما دوام اوراسمرارہی کے معنی دیتا ہے ۔اس گوسفند اور اونٹ کو ”سائمہ “کہتے ہیں جو ہمیشہ جنگل میں چرتے ہیں اور مالک کے گھر سے کبھی گھاس نہیں کھاتے ۔
یہا ں سے ہم دیکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل مسلسل فرعونیوں کے شکنجے میں مبتلا تھے وہ اپنی آنکھ سے دیکھتے کہ ان کے بے گناہ بیٹیو ں کو قتل کیا جارہا ہے ۔اس سے بھی بڑھ کر وہ خود ہمشہ ان کے ظلم میں گرفتا ر رہتے ۔وہ قبتیوں کے غلام ،خدمت گار ،خادم اور ساز ساما ن کا حصہ شمار ہوتے تھے ۔
یہ بات اہم ہے کہ قرآ ن اس کار روائی کو بنی اسرائیل کے لئے ایک سخت اور عظیم آزمائش قرار دیا ہے (بلاء کا ایک معنی آزمائش اور امتحان ہے )اور یہ حقیقت ہے کہ ان نامناسب اورخلاف فطرت امور کو برداشت کرناایک سخت آزمائش تھی
یہ احتما ل بھی ہے لفظ ”بلاء “یہاں مجازات اور سزا کے معنی میں ہو کیو نکہ بنی اسرائیل اس سے پہلے بہت قدرت ونعمت کے حامل تھے اور انہوں نے کفران نعمت کیا لہٰذا خدا نے انہیں سزادی ۔
بعض مفسرین کی طرف سے ایک تیسر ااحتمال بھی ذکرہو ا ہے ۔وہ یہ کہ ”بلا“نعمت کے معنی میں ہے یعنی فرعو نیوں کے چنگل سے نجات تمہارے لئے ایک بہت بڑی نعمت تھی ۔ ۱
بہر حال فرعونیوں کے چنگل سے بنی اسرائیل کی آزادی کا دن ایک اہم تاریخی دن تھا جس کا قرآن نے بارہا تذکرہ کیا ہے ۲
____________________
۱”بلا “ کے اصلی معنی ہیں کہنگی اور قدرت آزمانے کو بھی ”بلا“ کہا گیا ہے ۔ کیونکہ جس چیز کی کئی مرتبہ آزمائش کی جائے اس میں کہنگی آجاتی ہے ۔ غم واندوہ کو بھی ”بلا“ کہتے ہیں کیونکہ یہ انسانی جسم و روح کو کہنہ و فرسودہ کردیتا ہے ۔ تکالیف اور مصائب کو بھی بلاء کہتے ہیں کیونکہ یہ انسانی جسم و روح کو کہنہ و فرسودہ کردیتا ہے شرعی اور ذمہ داریوں کو بھی بلاء کہتے ہیں کیونکہ وہ انسان کے جسم وجان پر سنگین اثرات پیدا کرتی ہیں ۔ آزمائش بعض اوقا ت نعمت کے ساتھ ہوتی ہے اور کبھی مصیبت کے ساتھ لہذا لفظ بلاء بھی کبھی اس معنی میں اور کبھی اس معنی میں استعمال کیا جاتا ہے۔
۲ مزید توضیح تفسیر نمونہ کی جلد ۵ میں مطالعہ کیجئے ۔
قرآن نے بیٹیوں کو زندہ رکھنے اور بیٹوں کے سر کاٹنے کو عذاب قرار دیا ہے
اور اس ظلم سے آزادی کو اپنی نعمت شمار کیا ہے ۔ گویا وہ انسانوں کو ابھار رہا ہے کہ وہ کوشش کریں کہ ہر قیمت پر اپنی صحیح آزادی حاصل کریں اور اس کی حفاظت کر یں جیسا کہ حضرت علی اس مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔الموت فی حیاتکم مقهورین والحیاة فی موتکم قاهرین (۱)
زندہ رہنا اور زیر سرپرست ومغلوب رہنا موت ہے اور آزاد ی حاصل کرنے کے لئے موت انسان کی زندگی ہے ۔
آج کی دنیا کا گز شتہ زمانے سے فرق یہ ہے کہ اس زمانے میں فرعون ایک خاص استبداد کے ساتھ مخالف گروہ کے بیٹوں اور مردوں کو قتل کر دیتا تھا اور ان کی بیٹیوں کو چھوڑ دیتا تھا ۔
لیکن آج کی دنیا میں دوسرے طریقوں سے افراد ِ انسانی کی روح ِ مردانگی کو قتل کردیا جاتا ہے اور لڑکیوں کو گنا ہوں کی میں غرق لوگوں کی شہوات کی قید میں دھکیل دیا جاتا ہے ۔
آخر کیوں فرعون بنی اسراعیل کے بیٹون کو قتل کرتا اور بیٹیوں کو زندہ رکھتا تھا ؟
یہ ایسا سوال ہے جس کے جواب میں بعض مفسرین اس جرم اور ظلم کا سبب ایک خواب کو قرار دیتے ہیں جو فرعون نے دیکھا تھا لیکن اس کا مفصل جواب سورہ قصص کی آیت ۴ کے تحت پڑھیں گے اور آپ کو پتہ چلے گا کہ بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کرنے کا سبب فقط ایک خواب نہ تھا جو فرعون نے دیکھا تھا بلکہ بنی اسرائیل کے طاقت ور ہونے اور حکومت چھین لینے کی وحشت و خوف بھی اس کا م کا مددگار عنصر تھا ۔
____________________
۱- نہج البلاغہ ، خطبہ ۵۱
آیت ۵۰
( و اذ فرقنا بکم البحر فانجیناکم واغرقنا اٰل فرعون و انتم تنظرون ) ۵۰
ترجمہ
اور( اس وقت کو یاد کرو )جب ہم نے تمہارے لئے دریا شگافتہ کیا اور تمہیں تو نجات دے دی لیکن فرعونیوں کو غرق کر دیا جب کہ تم دیکھ رہے تھے
فرعونیوں کے چنگل سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کا ایک اجمالی اشارہ
گذشتہ آیت میں فرعونیوں کے چنگل سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کا ایک اجمالی اشارہ موجود تھا اور محل بحث آیت در اصل اس کی وضاحت کرتی ہے کہ یہ نجات انہیں کس طرح ملی تھی جو خود ایک نشانی ہے اور پروردگا ر کی بنی اسرائیل پر عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔
فرمایا گیا ہے : یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے تمہارے لئے دریا کو شق کیا( واذ فرقنا بکم البحر ) تمہیں نجات دی اور فرعونیوں کو غرق کیا جب کہ تم دیکھ رہے تھے( فانجیناکم و اغرقنا اٰل فرعون وانتم تنظرون ) ۔
فرعونیوں کی دریا میں غرقابی اور بنی ا سرائیل کی ان کے چنگل سے نجات کا ماجرا قرآن کی متعدد سورتوں میں ہے منجملہ ان کے اعراف آیہ ۱۳۶ ، انفال آیہ ۵۴ ، اسراء آیہ ۱۰۳ ، شعراء آیہ ۶۶ ، زخرف آیہ ۵۵ اور دخان آیہ ۱۷ سے بعد تک ۔
ان سورتوں میں اس واقعے کی تقریباََ تمام جزئیات کی تشریح کی گئی ہے لیکن مورد بحث آیت میں بنی اسرائیل پر خدا کی نظر رحمت و لطف کے لئے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینے کے لئے جو نیا نجات بخش آئین ہے صرف اشارہ کیا گیا ہے(۱) ۔
جیسا کہ تفصیل کے ساتھ اس واقعہ کو آپ ان سورتوں میں پڑھیں گے کہ حضرت مو سٰی ایک مدت سے تبلیغ کرنے ، فرعون اور فرعونیوں کو دعوت دینے ، قسم قسم کے معجزات دکھانے اور ان کے قبول نہ کرنے پر مامور ہوئے کہ آدھی رات کے وقت بنی اسرائیل کو لے کر کوچ کر جائیں جب وہ عظیم دریائے نیل کے کنارے پہنچے تو اچانک دیکھا کہ فرعون اور اس کا لشکر ان کے پیچھے آرہا ہے ، بنی اسرائیل اضطراب و وحشت میں گھر گئے ۔ ان کے سامنے دریا اور غرقابی تھی اور پشت پر فرعون کا طاقت ور لشکر جس کے مقابلے کی ان میں طاقت نہ تھی ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت موسٰی کو حکم ہوتا ہے کہ وہ عصا دریا پر ماریں ۔ دریا میں مختلف راستے پیدا ہوجاتے ہیں اور بنی اسرائیل کی جمعیت دریا کی دوسری طرف پہنچ جاتی ہے ۔ ادھر سے لشکر مخالف جو ان کا مسلسل پیچھا کر رہا تھا سارے کا سارا دریا میں داخل ہوجاتا ہے دریا کا پا نی مل جاتا ہے اور وہ سب کے سب ہلاک ہوجاتے ہیں لشکر فرعون کے مردوں کے بدن پانی پر تیرنے لگتے ہیں اور بنی اسرائیل اپنی آنکھون سے دیکھتے ہیں کہ دشمن پانی میں غرق ہوگیا
۔ وہ حالت اضطراب و وحشت وہی یہ نجات ہر دو غور و طلب امور ہیں کہ انسان اس راحت و آرام کو جب اضطراب کے بعد دیکھے تو خدا کا شکر ادا کرے ۔
قرآن کہتا ہے کہ یہودیوں سے کہے کہ ہم نے جو تم پر اس قدر لطف وکرم کیا ہے اور تم کو اس وحشت و اضطراب سے رہائی بخشی ہے تو کیوں تم رسول اسلام اور ہمارے دستور احکام کی مخالفت کرتے ہو ۔
اس آیت میں انسانوں کے لئے درس ہے کہ وہ زندگی میں خد ا پر بھروسہ کریں اور اس قوت لازوال پر اعتماد رکھیں اور صراط مستقیم میں کسی سعی و جستجو سے پیچھے نہ رہیں تو سخت ترین مواقع اور مشکلات میں خدا وند عالم ان کا یارومددگار ہوگا اور انہیں نجات دے گا ۔
____________________
۱ مزید شرح تفسیر نمونہ کی جلد ۷ ، سورہ طٰہ اایت ۷۷ کے ذیل میں مطالعہ کریں ۔
آیات ۵۱،۵۲،۵۳،۵۴
( و اذ وٰعدنا موسٰی ا ربعین لیلة ثم اتخذ تم العجل من بعد ه و انتم ظٰلمون ) ۵۱ ۔
( ثم عفونا عنکم من بعد ذٰلک لعلکم تشکرون ) ۵۲ ۔
( و اذاٰتینا موسی الکتاب والفرقان لعلکم تهتدون ) ۵۳ ۔
( و اذ قال موسی لقومه یٰقوم انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل فتوبو ا الی بارئکم فاقتلو ا انفسکم ط ذٰلکم خیر لکم عند بارئکم ط فتاب علیکم ط انه هو التواب الرحیم ) ۵۴ ۔
ترجمہ
۵۱ ۔اور (یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے موسٰی سے چالیس را توں کا وعدہ کیا ( اور وہ تم سے جدا ہوکر چالیس راتوں کے لئے وعدہ گاہ پر احکام لینے کے لئے آیا ) پس تم نے بچھڑے کو اپنے معبود کی حیثیت سے ) منتخب کرلیا ۔ حالانکہ اس کام سے تم اپنے ہی اوپر ظلم کر رہے تھے ۔
۵۲ ۔ پھر ہم نے اس کام کے بعد تمہیں بخش دیا کہ شاید تم اس نعمت کا شکر کرو ۔
۵۳ ۔ نیز ( یاد کرو اس وقت کو ) جب ہم نے موسٰی کو کتاب دی جو حق و باطل کی تشخیص کا ذریعہ تھی کہ شاید تم ہدایت حاصل کرو ۔
۵۴ ۔ اور( وہ وقت بھی جب ) موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے قوم تم نے بچھڑے کا انتخاب کرکے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ۔
توبہ کرو اور اپنے پیدا کرنے والے کی طرف لوٹ آؤ اور اپنے نفسوں کو قتل کرو ۔تمہارے پروردگار کی بارگاہ میں یہ کام تمہارے لئے بہتر ہے پھر خدا نے تمہاری توبہ قبول کرلی ۔ کیونکہ وہ تواب و رحیم ہے۔
تاریخ بنی اسرائیل کے ایک بھر پور واقعے کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
ان چار آیات میں تاریخ بنی اسرائیل کے ایک بھر پور واقعے کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہودیوں کو اس کی یاد دہانی کرائی گئی ہے یہ آیت یہودیوں کی طویل تاریخ میں ان کی بہت بڑی کجروی کے متعلق گفتگو کرتی ہیں اور وہ ہے اصل توحید سے شرک اور بچھڑا پرستی کے ٹیڑھے راستے کی طرف ان کا سفر ۔
انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ تم تاریک میں ایک مرتبہ فاسدین کے گمراہ کرنے کے باعث ایسی سخت سر نوشت سے دوچار ہوئے تھے ، اب بیدار اور خالص توحید کا راستہ اسلام اور قرآن کے ذریعہ تمہارے سامنے کھولا گیا ہے اسے فراموش نہ کرو ۔
یہ آ یا ت حضرت موسٰی کے کوہ طور کی طرف جانے کے واقعے کی جانب اشارہ کرتی ہے جو چالیس شب وروز میں انجام پزیر ہوا اور یہ آیات بتاتی ہیں کہ ان کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کیسے گاؤ پرستی میں پڑ گئے ۔ نیز حضرت موسٰی کی کتاب ہدایت کے ساتھ واپسی ، بنی اسرائیل کی نئے رنگ کی توبہ کا مسئلہ اور خدا کی طرف سے اس کی قبولیت کو بیان کرتی ہیں ۔
پہلے کہتا ہے کہ یاد کرو اس زمانے کو جب ہم نے موسٰی کے ساتھ چالیس راتون کا وعدہ کیا( و اذ وٰعدنا موسی ٰ اربعین لیلة ) ۔
جب وہ تم سے جدا ہوئے اور اور تئیس راتوں کی میعاد چالیس ہوگئی تو ان کے جانے کے بعد تم نے بچھڑے کو اپنے معبود کی حیثیت سے منتخب کرلیا حالانکہ اس علم سے تم اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے( ثم اتخذ تم العجل من بعد ه و انتم ظٰالمون ) اس ماجرے کی تفصیل سورہ اعراف کی آیت ۱۴۲ سے بعد تک اور سورہ طٰہ کی آیت ۸۶ سے بعد تک آپ پڑھیں گے جس کا خلاصہ یہ ہے۔
اس کے بعد کہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے چنگل سے نجات پاچکے اور فرعون اور اس کے پیرو کار غرق ہوگئے تو حضرت موسٰی کو حکم ہوا کہ تورات کی تختیا ں لینے تئیس راتوں کے لئے کوہ طور پر جائیں لیکن بعد میں لوگوں کی آزمائش کے لئے دس راتوں کا اضافہ کر دیا گیا ۔ سامری جو ایک مکار اور فریب کار آدمی تھا اس نے اس موقعہ کو غنیمت جانا اور بنی اسرائیل کے پاس جو سونا اور جواہرات فرعونیوں کی یادگار کے طور پر موجود تھے ۔ ان سے ایک بچھڑا بنایا جس سے ایک خاص قسم کی آواز سنائی دیتی تھی ۔ وہ بنی اسرائیل کو اس کی عبادت وپرستش کی دعوت دیتا تھا ۔بنی اسرائیل کی ایک بڑی اکثریت اس سے مل گئی حضرت ہا رون جو حضرت موسٰی کے جانشین اور بھائی تھے ایک اقلیت کے ساتھ آئین توحید پر باقی رہے انہو ں نے جس قدر کوشش کی کہ انہیں اس غلط راستے سے روکیں وہ نہ رک سکے بلکہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حضرت ہارون کو ختم کرنے پر تیار ہوگئے۔
حضرت موسی جب کوہ طور سے واپس آئے اور اس عجیب صورت حا ل کو دیکھا تو انہیں سخت تکلیف اور دکھ پہنچا ۔ انہوں نے ان لوگوں پر بہت لعنت ملامت کی چنانچہ وہ اپنے برے کام کی برائی کی طرف متوجہ ہوئے اور توبہ کرنے لگے۔ حضرت موسٰی نے خدا کی طرف سے ایک نئے رنگ کی توبہ ان کے سامنے پیش کی جس کی تفصیل بعد کی اایات میں آئے گی ۔
اگلی آیت میں خدا کہتا ہے کہ اس بڑے گناہ کے باوجود ہ نے تمہیں معاف کردیا کہ شاید ہماری نعمتوں کا شکر ادا کرو( ثم عفونا عنکم من بعد ذٰلک لعلکم تشکرون )
اس بحث کو جاری رکھتے ہوئے کہتاہے :نیز یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے موسٰی کو کتاب اور حق وباطل کی پہچان کا وسیلہ عطا کیا تاکہ تمہاری ہدایت ہوجائے( و اذاٰتینا موس الکتاب والفرقان لعلک م تهتدون ) ۔
ممکن ہے کتاب وفرقان دونوں سے مراد تورات ہی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ کتاب تورات کی طرف اشارہ ہو اور فرقان ان معجزات کی طرف اشارہ ہو جو اللہ تعالی نے حضرت موسٰی کے اختیار میں دیئے تھے ( کیونکہ فرقان کا اصلی معنی ہے وہ چیز جو حق کو باطل سے انسان کے لئے ممتاز کردے)۔
اس کے بعد اس گناہ سے توبہ کے سلسلہ میں کہتا ہے : اور یاد کرو اس وقت کو جب موسی نے اپنی قوم سے کہا اے قوم تم نے بچھڑے کو منتخب کرکے اپنے اوپر ظلم کیا ہے( و اذ قال موسٰی لقومه یا قوم انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل ) اب جو ایسا ہو گیا ہے تو توبہ کرو اور اپنے پیدا کرنے والے کی طرف پلٹ جاآؤ( فتوبو الی بارئکم ) باری کے معنی ہیں خالق در اصل اس کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز سے جدا کرنا ۔ خالق چونکہ مخلوق کو مواد اصلی اور ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے لہذا اس کی طرف اشارہ ہے کہ اس سخت توبہ کا حکم وہی ذات دے رہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ تمہاری توبہ اس طرح ہونی چاہئے کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو( فاقتلو انفسکم ) ۔ یہ کام تمہارے لئے تمہارے خالق کی بارگاہ میں بہتر ہے( ذٰلکم خیر لکم عند بارئکم ) اس ماجرے کے بعد خدا نے تمہاری توبہ قبول کرلی جو تو ا ب و رحیم ہے( فتاب علیکم ط انه هو التوب الرحیم ) ۔
عظیم گناہ اور سخت سزا
اس میں شک نہیں کہ سامری کے بچھڑی کی پرستش و عبادت کوئی معمولی بات نہ تھی وہ قوم جو خدا کی یہ تمام آیات دیکھ چکی تھی اور اپنے عظیم پیغمبر کے معجزات کا مشاہدہ کرچکی تھی ان سب کو بھول کر پیغمبر کی ایک مختصر سی غیبت میں اصل توحید اور آئین خدا وندی کو پورے طور پر پاؤں تلے روندے اور بت پرست ہوجائے اب اگر یہ بات ان کے دماغ سے ہمیشہ کے لئے جڑ سے نہ نکالی جاتی تو خطرناک حالت پیدا ہونے کا اندیشہ تھا اور ہر موقعہ کے بعد اور خصوصاَ حضرت موسٰی کی زندگی کے بعد ممکن تھا ان کی دعوت کی تمام آیات ختم کردی جاتیں اور عظیم قوم کی تقدیر مکمل طور پر خطرے سے دو چار ہوجاتی ۔
لہذا یہاں شدت عمل سے کام لیا گیا اور صرف پشیمانی اور زبان سے اظہار توبہ پر ہرگز قناعت نہ کی گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کی طرف سے ایسا سخت حکم صادر ہوا جس کی مثال تمام انبیاء کی طویل تاتریخ میں کہیں نہیں ملتی اور وہ یہ کہ توبہ اور توحید کی طرف باز گشت کے سلسلہ میں گناہگاروں کے کثیر گروہ کے لئے اکھٹا قتل کرنے کا حکم دیا گیا ۔ یہ فرمان بھی ایک خاص طریقہ سے جاری ہونا چاہیے تھا اور وہ یہ ہو ا کہ وہ لوگ خود تلواریں لیکر ایک د وسرے کو قتل کریں کہ ایک اس کا اپنا مارا جانا عذاب ہے اور دوسرادوستوں اور شناساؤں کا قتل کرنا ۔
بعض روایات کے مطابق حضرت موسٰی نے حکم دیا کہ ایک تاریک رات میں وہ تمام لوگ جنہوں نے بچھڑ ے کی عبادت کی تھی غسل کریں ۔ کفن پہنیں اور صفیں باندھ کر ایک دوسرے پر تلوار چلائیں ۔
ممکن ہے یہ تصور کیا جائے کہ یہ توبہ کیوں اس سختی سے انجام پزیر ہوئی ۔ کیا یہ ممکن نہ تھا کہ خدا ان کی توبہ کو بغیراس خونریزی کے قبول کر لیتا ۔
اس سوال کا جواب گذشتہ گفتگو سے واضح ہوجاتا ہے کیونکہ اصل توحید سے انحراف اور بت پرستی کی طرف جھکاؤ کا مسئلہ اتنا سادہ اور آسان نہ تھا کہ اتنی آسانی سے در گذر کردیا جاتا اور وہ بھی ان معجزات اور خدا کی بڑی بڑی نعمتوں کے مشاہدے کے بعد ۔
در حقیقت ادیان آسمانی کے تمام اصولوں کو توحید اور یگانہ پرستی میں جمع کیا جاسکتا ہے ۔ اس اصل کا متزلزل ہونا دین کی تمام بنیادوں کے خاتمے کے برابر ہے اگر گاؤ پرستی کے مسئلے کو آسان سمجھ لیا جاتا تو شاید آنے والے لوگوں کے لئے سنت بن جاتا ۔خصوصاَ بنی اسرائیل کےلئے جن کے بارے میں تاریخ شاہد ہے کہ ضدی اور بہانہ ساز لوگ تھے لہذا چاہیئے کہ ان کی ایسی گوشمالی کی جائے کہ اس کی چبھن تمام صدیوں اور زمانوں تک باقی رہ جائے کہ اس کے بعد کوئی شخص بت پرستی کی فکر میں نہ پڑے اور شاید یہ جملہ ”( ذالکم خیر لکم عند بارئکم ) “ یعنی یہ قتل و کشتار تمہارے خالق کے یہاں تمہاری بہتری کے لئے ہے ۔ اسی طرف اشارہ ہو۔
آیات ۵۵،۵۶
( و اذ قلتم یٰموسٰی لن نومن لک حتی نری الله جهرة فاخذتکم الصٰعقة وانتم تنظرون ) ۵۵ ۔
( ثم بعثنٰکم من بعد موتکم لعلکم تشکرون ) ۵۶ ۔
ترجمہ
۵۵ ۔ اور یا د کرو وہ وقت ) جب تم نے کہا اے موسٰی ! ہم خدا کو آشکار ( اپنی آنکھوں سے ) دیکھے بغیر تم پر ہر گز ایمان نہیں لائیں گے ۔ اسی حالت میں تمہیں بجلی نے آن لیا جب کہ تم دیکھ رہے تھے ۔
۵۶ ۔ پھر ہم نے تمہیں موت کے بعد زندگی بخشی کہ شاید خدا کی نعمت کا شکر بجالاؤ
یہ دو آیات خدا کی ایک بہت بڑی نعمت کی یاد دلاتی ہیں ۔
یہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ وہ لوگ کس قدر ہٹ دھرم اور بہانہ ساز تھے اور کیسے خدا کے سخت عذاب نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا لیکن پھر خد ا کا لطف وکرم ان کے شامل حال ہوا ۔
فرماتاہے : نیز یاد کرو اس وقت کو جب تم نے کہا : اے موسٰی ہم اس وقت تک تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو اپنی آنکھ سے ظاہر بظاہر دیکھ نہ لیں( و اذ قلتم یٰموسی ٰ لن نو من لک حتی نر ی الله جهرة ) ۔
ممکن ہے یہ خواہش ان کی جہالت کی وجہ سے ہو کیونکہ نادان لوگ اپنے محسوسات سے زیادہ کسی چیز کا شعور نہیں رکھتے یہاں تک کہ وہ چاہتے ہیں کہ خدا کو آنکھ سے دیکھیں یا پھر وہ ہٹ دھرمی اور بہانہ جوئی کی خاطر ایسا کرتے تھے جو اس قوم کی خصوصیت تھی اور اب بھی ہے ۔بہر حال انہوں نے صراحت سے حضرت موسی سے کہا کہ جب تک خدا کوظاہری آنکھ سے دیکھ نہ لیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے ۔ یہاں اس کے علاوہ چارہ کا ر نہ تھا کہ خدا کی ایسی مخلوق انہیں دکھا ئی جاتی جسے دیکھنے کی ان میں تاب نہ ہو اور وہ جان لیں کہ ظاہری آنکھ تواس سے بھی ناتواں ہے کہ خد اکی تمام مخلوقات کو دیکھ سکے ۔ چہ جائیکہ ذات پاک پرور دگار کو دیکھے ۔چنانچہ چند ھیا دینے والی چمک ،رعب دار آواز اور زلزلے کے ساتھ بجلی آئی اور پہاڑ پر گری ۔اس نے سب کواس طرح وحشت زدہ کردیا کہ وہ بے جان ہوکر زمین گر پڑے جیساکہ قرآن مندرجہ بالاجملہ کے بعد کہتا ہے پھر اس حالت میں صاعقہ نے تمہیں آلیاکہ تم دیکھ ر ہے تھے( فاخذتکم الصا عقة و انتم تنظرون )
حضرت موسی اس واقعے سے بہت پریشان ہوئے کیونکہ بنی اسرئیل کے بہانہ جو لوگوں کے لئے تو ستر افراد کا ختم ہوجاناایک بڑابہانہ تھا جس کی بنیاد پرحضرت موسی کی زندگی تیرہ وتار کرسکتے تھے ۔لہذا آپ نے خداسے دوبارہ زندگی کی درخواست کی جسے اس نے قبو ل کرلیا جیسا کہ قرآن کی بعد والی آیت میں کہتا ہے :پھر تمہاری مو ت کے بعد ہم نے تمہیں نئی زندگی بخشی کہ شاید تم خدا کی نعمت کا شکریہ اداکرو( ثم بعثناکم من بعد موتکم لعلکم تشکرون ) ۔اجمالی طور پر ان دو آیات میں جو کچھ بیان ہواہے سورہ اعراف آ یہ ۵۵ اور سورہ نساء ۵۳ میں تفصٰل سے بیان ہوا ہے(۱)
بہر حال یہ داستان نشاندہی کرتی ہے کہ خدا کے عظیم انبیا ء جاہل اور بے خبر لوگوں کو دعوت دینے کی راہ میں کن عظیم مشکلات سے دوچار ہوتے تھے ۔کبھی تو وہ لوگ قسم قسم کے معجزات کا مطالبہ کرتے تھے اورکبھی اسے بھی آگے قدم رکھتے تھے اور اس ظاہری آنکھ سے خداکو دیکھنے کی خواہش کرتے اور قطعاََکہتے کہ جب تک ہماری یہ تمنا انجام پذیر نہ ہو ہمارا ایمان لانا محا ل ہے اور جب خداکی طرف سے کسی شدید رد عمل سے دوچار ہوتے پھر بھی ایک نئی مشکل در پیش ہوتی ۔اگر لطف خدا شامل حال نہ ہوتا تو ان بہانہ سازیوں کا مقابلہ ممکن نہ تھا ۔
ضمنی طور پر آیت امکان رجعت اور اس دنیا میں دوبارہ زندگی گذارنے پردلالت کرتی ہے کیونکہ ایک مقام پراس کا واقع ہونا دوسرے مواقع پر بھی اس کے ممکن اورواقع ہونے کے لئے دلیل ہے ۔بعض اہل سنت مفسرین جو یہ چاہتے ہیں رجعت اور دوبارہ زندگی کو قبول نہ کیاجائے انہوں نے مندرجہ بالاآیت کی توجیہ کی ہے اور کہا ہے کہ تم میں سے ایک گروہ کے واقعہ ”صاعقہ “میں مرجانے کے بعد خدا نے تمہیں بہت سی اولاد اور افزائش نسل دی ہے تاکہ تمہارا خاندان ختم نہ ہو ۔(۲)
لیکن یہ توکہے بغیر بھی واضح ہے کہ یہ تفسیر مندرجہ بالا آیت کے ظاہری مفہوم کے بالکل بر خلاف ہے کیونکہ خداتو فرما تا ہے وبعثناکم من بعد موتکم ( تمہیں تمہاری موت کے بعد ہم نے اٹھایا(۳)
____________________
۱ زیادہ وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۴کی طرف رجوع فرمایئے ۔
۲- تفسیرالمنارج ۱،ص۳۲۲
۳ - بعض مفسرین مثلا آلوسی نے روح المعانی میں نقل کیا ہے کہ موت سے یہاں مراد بے ہوشی ہے یعنی بنی اسرائیل صاعقہ عظیم دیکھنے سے بے ہوش ہوگئے تھے پھر حکم خد ا سے ہوش میں آئے بعض مفسرین نے توجیہ کرنے میں قدم کچھ اور آگے بڑھا یا ہے اور ” موت “کے معنی جہالت اور ” بعث “ کے معنی تعلیم کئے ہیں لیکن یہ آیات اور ان کے مثل دیگر آیات جو سورہ اعراف میں ہیں ان پر غوروفکر کرنے سے واضح نشاندہی ہوتی ہے کہ ان میں سے کوئی توجیہ بھی پسند مفسر کو زیب نہیں دیتی ۔
آیت ۵۷
( وظللنا علیکم الغمام وانزلناعلیکم المن والسلوٰی ط کلوامن طیبٰت مارزقنٰکم ط وماظلموناولٰکن کانوا انفسکم یظلمون ) ۵۷ ۔
ترجمہ
۵۷ ۔ اور ہم نے بادل کے ذریعہ تم پر سایہ ڈالااور من(درختوں کا لذیذشیرہ )وسلوی (کبوتر کی طرح کے مخصوص مرغ )کے ساتھ تمہاری تواضع کی ۔ (اور ہم نے کہا )ان پاکیزہ نعمتوں سے جو ہم نے دیں ہیں کھاو۔انہوں نے ہم پر تو کوئی ظلم نہیں کیابلکہ اپنے نفسوں پرہی ظلم کیاہے ۔
بنی اسرائیل جب فرعونیوں کے چنگل سے نجات پاچکے تو خداو ند عا لم کا حکم
سورہ مائدہ کی ۲۰ تا ۲۲ آیات سے ظاہرہوتا ہے بنی اسرائیل جب فرعونیوں کے چنگل سے نجات پاچکے تو خداو ند عا لم نے انہیں حکم دیاکہ وہ فلسطین کی تقدس سر زمین کی طرف جائیں اوراس میں داخل ہو جائیں لیکن بنی اسرائیل اس فر مان کے مطابق نہ گئے اور کہنے لگے جب تک ستمگار (قوم عمالقہ )وہا ں سے باہر نہ چلے جائیں ہم اس زمین میں داخل نہیں ہوں گے ۔انہوں نے اسی پر اکتفانہ کی بلکہ وہ حضرت موسی سے کہنے لگے کہ تواور تیر ا خدا ان سے جنگ کرنے جاو جب تم کامیاب ہو جاو گے توہم ا س میں دا خل ہو جائیں گے ۔
حضرت مو سی ان کی اس بات سے بہت رنجیدہ خاطر ہو ئے اورانہوں نے درگاہ الٰہی میں شکایت کی ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ چالیس سال تک بیاباں (صحرائے سینا ) میں اسی طرح سر گرداں رہے
اان میں سے ایک گروہ اپنے کئے پر سخت پشیمان ہو ۔انہوں نے بارگاہ خداکا رخ کیا۔ خدا نے دوسری مرتبہ بنی اسرایئل کو اپنی نعمتوں سے نوازا ۔جن میں بعض کی طرف زیر بحث آیت میں اشارہ کیاگیاہے ۔
ہم نے تمہارے سر پر بادل سے سایہ کیا( ظللناعلیکم الغمام ) واضح ہے کہ وہ مسافر جو روزانہ صبح سے غروب تک سورج کی گرمی میں بیابان میں چلتاہے اور وہ ایک لطیف سایہ سے کیسی راحت پائے گا (وہ سا یہ جو بادل کاہوجس سے انسان کے لئے نہ توفضا محدود ہوتی ہو اور نہ جو ہوا چلنے سے مانع ہو )یہ صحیح ہے کہ بادل کے سایہ فگن ٹکڑوں کا احتمال ہمیشہ بیابان میں ہوتا ہے لیکن آیت واضح طور پر کہ رہی ہے کہ بنی اسرائیل کے ساتھ ایسا عام حالات کی طرح نہ تھا بلکہ وہ لطف خدا سے اکثر اس عظیم نعمت سے بہرہ ورہوتے تھے
دوسری طرف اس خشک اور جلادینے والے بیابان میں چاالیس سال کی طویل مدت سر گر داں رہنے والوں کے لئے غذا کی کافی ووافی ضرورت تھی ۔اس مشکل کو بھی خدا وند عالم نے ان کے لئے حل کردیا جیسا کہ اس آیت کے آخر میں کہتاہے :کہ ہم نے من وسلوی ٰجو لذیذ اورطاقت بخش غذا ہے تم پر نازل کیا( وانزلنا علیکم المن والسلویٰ ) ان پاکیزہ غذاوں سے جو تمہیں روزی کے طور پر دی گئی ہیں کھاو(اور حکم خدا کی نافرمانی نہ کرو اور اس کی نعمت کا شکریہ ادا کرو )( کلوامن طیبٰت مارزقنٰکم ) لیکن وہ پھر بھی شکر گزاری کے دروازہ میں داخل نہ ہوئے (تا ہم ) نہوں نے ہم پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ اپنے اوپر ہی ظلم کیا ہے( وما ظلمانا ولٰکن کانوا انفسهم یظلمون )
من وسلویٰ کی تفسیر مندرجہ ذیل نکات میں تفصیل سے بیا ن کی جائے گی-
آزاد ماحو ل کی زندگی:
اس سے قطع نظر کہ بادل ان پر کیسے سایہ کرتا تھا اور من وسلو ی کیا تھا اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ایک بہت بڑی قوم کے لوگ سالہاسال سے کمزوری ،ذلت ا ور زبوں حالی میں بغیر اراد ہ وخواہش کے مجبورا فرعونیوں کے محلات میں خدمت کرتے تھے یا ان کے کھیتو ں اور باغ وں میں زحمت اور تکلیف اٹھاتے تھے طبعی بات ہے کہ وہ اس قابل نہ تھے کہ فورا تمام گذشتہ اخلاق وعادات سے آزاد ہوکر انقلابی بنیاد پر ایک مستقل خدائی حکومت قائم کریں ۔بہر صورت اس قوم کے لئے ضروری تھا کہ گذشتہ رسومات کے خاتمے ا ور قابل افتخار زند گی گذارنے کی تیاری کے لئے برزخ کا ایک زمانہ گذارے چاہے یہ زمانہ چالیس سال یااس سے کم وبیش ہو ۔اگر قرآن اس کا سزا کے طور پر تعارف کراتا ہے تو بھی یہ اصلاح کرنے والی اور بیدار کروالی سزاہے کیو نکہ خداکی طرف سے جتنی بھی سزائیں ہیں ان میں انتقا م کا جذبہ کارفرما نہیں ہوتا ۔
چاہئیے تھاکہ و ہ سالہاسال اس بیابان جسے ان کی سر گردانی کی وجہ سے ”قید “ کہاجانے لگا تھامیں رہیں تاکہ ستمگروں کے ہرقسم کے تسلط سے دور رہیں اور ان کی نئی نسل توحیدی وانقلابی خصوصیات کے ساتھ پرورش پائے اور مقدس سر زمینون پرحکومت کرنے کے لئے تیار ہوجائے ۔
من وسلوی ٰکیاہے :
مفسرین نے ان دو الفاظ کی تفسیر میں بہت سی باتیں کہی ہیں جن سب کے ذکر کر نے کی یہاں ضرورت نہیں ہے بہتر یہ ہے کہ پہلے ان کے لغوی معنی اور وہ تفسیر جو زیادہ فصیح نظر آتی ہے اور آیات کے قرئن سے زیادہ ہم آہنگ ہے بیان کریں ۔بعض کے بقول لغت میں ”من “شبنم کی طرح کے ان چھوٹے چھوٹے قطرات کو کہتے ہیں جو درختوں پر گرتے ہیں اورمیٹھا ذائقہ رکھتے ہیں ۱ یابعض کے بقول ایک قسم کا صمغ (درخت کا شیرہ )ہے جس کاذائقہ میٹھا ہوتا ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کاذائقہ میٹھا لیکن ترشی سے ملا ہو تا ہے
(سلویٰ)کے اصل معنی تو ہیں اطمینا ن اورتسلی ۔بعض ارباب لغت اور بہت سے مفسرین نے اسے ایک قسم کا پرندہ (بٹیر یاتیتر )قراردیاہے ۔
لیکن نبی اکرم سے منقول ایک روایت کے مطابق ، آپ نے فرمایا:”الکماةمن المن “
کھمبی کی ایک قسم کی ایک چیز تھی جو اس زمین میں اگتی تھی
بعض نے کہاہے کہ من سے مراد ہے وہ تمام نعمتیں جوخدا نے بنی ا سرائیل کو عطا فرمائی تھیں اور سلوی وہ تمام عطیات ہیں جو ان کی راحت وآرام اور اطمینان کاسبب تھے
تورات میں ہے کہ ”من“دھنیے کے د انوں جیسی کوئی چیزہے جو رات کو اس زمین پر آگر تی ہے ۔بنی اسرا ئیل اسے اکٹھا کرکے پیس لیتے اور اس سے روٹی پکا تے تھے جس کا ذائقہ روغنی روٹی جیسا ہو تا تھا ۔
ایک احتما ل اور بھی ہے کہ بنی اسرایئل کی سر گر د انی کے زمانے میں خدا کے لطف وکرم سے جو نفع بخش بارشیں برستی تھیں ان کے نتیجے میں درختوں سے کوئی خاص قسم کا صمغ اور شیرہ نکلتاتھااور بنی اسرایئل اس سے مستفید ہوتے تھے ۔
بعض دیگرگ حضرات کے نزدیک ”من“ایک قسم کا طبعی شہد ہے اور بنی اسرائیل اس بیابان میں اس طویل مدت تک چلتے پھرتے رہنے سے شہد کے مخزنوں تک پہنچ جاتے تھے کیونکہ بیابان تیہ کے کناروں پرپہاڑ اورسنگلاخ علاقہ تھا جس میں کافی طبعی شہد نظر آجاتا تھا ۔
عہدین (توریت اور انجیل ) پرلکھی گئی تفسیر سے اس تفسیر کی تائید ہو تی ہے جس میں ہے کہ مقدس سر زمین قسم قسم کے پھولوں اور شگوفوں کی وجہ سے مشہور ہے اسی لئے شہد کی مکھیو ں کے جتھے ہمیشہ پتھروں کے سوراخوں ، درختوں کی شاخوں اور لوگو ں کے گھر وں پر جا بیٹھے ہیں اس طرح سے بہت فقیر ومسکین لوگ بھی شہد کھا سکتے ہیں ۔(۲)
اب ہم سلویٰ کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں ۔
اگرچہ مفسرین نے اسے شہد کے ہم معنی لیا ہے لیکن دوسر ے تقریبا مفسرین نے اسے پرندہ کی ایک قسم قرا ر دیاہے ۔ یہ پرندہ اطراف اور مختلف علاقو ں سے کثرت سے اس علاقے میں آتا ہے اور بنی اسرائیل اس کے گوشت سے استفادہ کرتے ہیں عہدین پرلکھی گئی تفسیر میں بھی اس نظریئے کی تائید دکھائی دیتی ہے اس میں لکھاہے ۔
معلوم ہونا چاہیئے کہ بہت بڑی تعداد میں سلو ی افریقہ سے چل کر شمال کو جاتے ہیں ۔جزیرہ کاپری میں ایک فصل میں ۱۶ ہزار کی تعداد میں انکا شکار کیا گیا ۔یہ پرند ہ بحیرہ قلزم کے راستے سے آتاہے خلیج عقبہ اورسویز کو عبو رکرتا ہے ۔ ہفتے کو جزیرہ سینا میں داخل ہو تا ہے ا ور راستے میں اس قدر تکان وتکلیف جھیلنے کی و جہ سے آسانی سے ہاتھ پکڑا جاسکتا ہے اور جب پرواز کرتا ہے توزیادہ تر زمین کے قریب ہوتاہے اس حصے کے متعلق ( تورات کے)سفرا خروج اور سفراعداد میں گفتگو ہو ئی ہے(۳)
اس تحریر سے بھی واضح ہوتا ہے کہ سلوی سے مراد وہی پرگوشت پرندہ ہے جو کبو تر کے مشابہ اور اس کے ہم وزن ہوتاہے اوریہ پرند ہ اس سرزمین میں مشہور ہے ۔البتہ بنی اسرائیل کی سرگردانی کے دنو ں میں ان پر یہ خداکا خاص لطف وکرم تھا کہ یہ پرند ہ وہا ں کثرت سے ہو تا تھا تا کہ و ہ اس سے استفادہ کرسکیں
____________________
۱مفرد ات را غب مادہ من
۲-قامو س کتاب مقدس ص ،۶۱۲
۳- قاموس کتاب مقدس ،ص۴۸۳
”انزلنا“کیوں کہا گیا :
کہ انزلنا سے مراد ہمیشہ اوپر سے نازل کرنا نہیں ہوتا جیسا کہ سورہ زمر کی آیت ۶ میں ہے ۔
( انزل لکم من الانعام ثمٰنیةازواجِِ )
چوپایوں کے آٹھ جوڑے تمہارے لئے نازل کئے ۔“
ہم جانتے ہیں کہ چوپائے آسمان سے نہیں اترتے ۔اس بناء پر ایسے موقع پریہ نزول مقامی کے معنی میں ہے یعنی وہ نعمت جو ایک برترمقام سے پست مقام کو دی جائے اورچونکہ یہ تمام نعمتیں خدا کی طرف سے ہیں لہذا انہیں نزول سے تعبیر کیاگیاہے اور یاپھر مادہ انزال سے مہمان نوازی کے معنی میں لیا گیاہے کیونکہ بعض اوقات انزال ونزول (بروزن رسل )پذیرا ئی کر نے کے لئے بھی آتا ہے جیسا کہ سورہ واقعہ آیت ۹۳ میں درختوں کے دوگروہوں میں سے ایک کے بارے میں ہے :( فنزل من حمیم ) لہذا حمیم ( دوزخ کا جلانے والا مشروب )ان کی پذیرائی کے لئے پیش کیاجائے گا:
نیز سورہ آل عمران آیہ ۱۹۸ میں اہل بہشت کے بارے میں ہے :( خلدین فیها نزلا من عندالله )
وہ ہمیشہ بہشت میں خداکے مہمان ہوں گے ۔بنی اسرائیل در حقیقت اس سر زمین میں خداکے مہمان تھے لہذا من وسلوی کے لئے نزول کی تعبیر ہی ان کے بارے میں منطبق ہو تی ہے یہ احتمال بھی ہے کہ یہا ں نزول اپنے اسی مشہور معنی میں ہو کیونکہ یہ نعمتیں خصوصاَ (سلوی )پرندہ اوپر ہی سے ان کی طرف آتے تھے ۔
غمام کیا ہے
بعض غمام اور سحاب دونوں کو بادل کے ہم معنی سمجھتے ہیں اوران کے درمیان کسی قسم کے فرق کے قائل نہیں لیکن بعض کا نقطہ نظریہ ہے کہ غما م سفید رنگ کے بادل کو کہا جاتا ہے اور بعض اس کی تعریف میں کہتے ہیں کہ غمام وہ بادل ہے جو ز یاد ہ سرد اورنازک ہوتا ہے جبکہ سحاب بادل کے ایسے اکٹھ کو کہتے ہیں جو غمام کے مد مقابل ہے ۔غمام اصل میں مادہ سے ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کوچھپانا ۔بادل کوغمام کہنے کہ وجہ یہی ہے کہ وہ صفحہ آ سمان کو چھپا دیتا ہے اندوہ کو بھی غم کہنے کی وجہ یہی ہے کہ ا نسان کے دل کو پردہ میں چھپا لیتا ہے(۱)
بہر حال ممکن ہے یہ تعبیر اس لئے ہو کہ بنی اسرائیل بادل کے سائے میں مستفیدہورہے تھے اورساتھ ہی ساتھ بادلوں کی سفیدی کی و جہ سے روشنی بھی ان تک چھن چھن کرپہنچ رہی تھی ۔
____________________
۱روح المعانی ،زیر نظر آیات کے ذیل میں ومفردات ِراغب مادہ”غم “
من وسلوی کی ایک اور تفسیر :
بعض مفسرین نے من و سلوی کی معروف تفسیر کی بجائے ا یک ا ور تفسیر کی ہے وہ کہتے ہیں ”من “سے مراد ناشکرگزاروں پر احسان مطلق اور بے شمار خدائی نعمت ہے اورسلوی سے مراد دل کاوہ اطمینان ہے جوخداوندعالم نے بنی اسرائیل کے چنگل سے نجات عطاکرکے مر حمت فرمایاہے(۱)
یہ تفسیر تقریبا تمام مفسرین ، اسلامی روایات اورکتب عہدین کے خلاف ہونے کے علاوہ
آیت کے متن سے بھی میل نہیں کھاتی کیونکہ قرآن من سلوی کے ذکر کے فورابعد بلا فاصلہ کہتا ہے ”کلوامن طیباتمارزقناکم“یہ چیزنشان دہی کرتی ہے کہ من وسلوی کھانے والی چیزوں میں ہے یہ تعبیر نہ صرف اس آیت میں ہے بلکہ بعینہ سورہ اعراف آیہ ۱۶۰ میں بھی ہے ۔
____________________
۱- پرتوی ازقرآن،ج،۱ص۱۶۵
آیات ۵۸،۵۹
( وازقلن ا دخلوا هٰذ ه القریةفکلوامنها حیث شئتم رغداوادخلواالباب سجداوقو لو ا حطةنغفر لکم خطٰیٰکم وسنزیدالمحسنین ) ۵۸ ۔
( فبدل الذین ظلملواقولاغیر الذی قیل لهم فانزلناعلی الذین ظلموارجزامن السماء بماکانوایفسقون ) ۵۹ ۔
ترجمہ
۵۸ ۔اور (یاد کرو اس و قت کو )جب ہم نے کہا :اس بستی( بیت المقدس )میں داخل ہوجاو اور اس کی فراواں نعتو ں سے جتنا چاہو کھا واور ( معبد بیت المقدس کے)دروازے سے خضوع وخشوع کے ساتھ داخل ہو جا واو رکہو :خدایا !ہمارے گناہوں کوبخش دے ۔تاکہ ہم تمہیں بخش دیں اورہم نیک لو گو ں کو زیادہ بدلہ دیں گے۔
۵۹ ۔ظالم لوگوں نے اس قول کو بدل دیا اور اس کی جگہ ایک اور (استہزاء آمیز )جملہ کہنے لگے لہذا ہم نے ستمگروں پر اس نافرمانی کے باعث آسمان سے عذاب بھیجا۔
اس مقام پر ہمارا سابقہ بنی اسرائیل
اس مقام پر ہمارا سابقہ بنی اسرائیل کی زندگی کے ایک اور مرحلے سے پڑتا ہے جوسر زمین مقد س میں ان کے داخلے سے مربوط ہے
پہلی آ یت کہتی ہے کہ اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے ان سے کہا کہ اس بستی (سر زمین قدس )میں داخل ہو جاو( واذقلناادخلواهٰذه ا لقریه ) ۔
لفظ قریہ اگرچہ روز مرہ میں بستی کے معنی میں ہے لیکن قرآن اور لغت ِ عرب میں ہر اس محل و مقام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جہاں لوگ جمع ہوں چاہے وہ بڑے شہر ہوں یا بستیان یہاں مراد بیت المقدس اور قدس کی سر زمین ہے۔قرآن مزید کہتا ہے : اس کی فراوان نعمتوں میں سے جتنا چاہو کھاؤ( فکلوا منها حیث شئتم رغدا ) اور بیت المقدس کے دروازے سے خضوع و خشوع کے ساتھ گزر جاؤ ( وادخلو الباب سجدا ) اور کہو: خدایا ہمارے گناہوں کو بخش دے( و قولو احطة ) تاکہ ہم تمہاری خطاؤں کو بخش دیں اور ہم نیک لوگوں کو زیا دہ بدلہ دیں گے( نغفر لکم خطٰیٰکم و سنزید المحسنین ) ۔
متوجہ رہنا چاہیئے کہ لفظ حطہ لغوی لحاظ سے جھاڑنے اور نیچے گرانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ یہاں اس کا معنی یہ ہوگا کہ خدایا ہم تجھ سے اپنے گناہوں کے گرنے کی خواہش کرتے ہیں ۔
خدا نے انہیں حکم دیا کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے لئے یہ جملہ سچے دل سے زبان پر جاری کریں اور ان سے وعدہ کیا کہ اس حکم پر عمل در آمد کی صورت میں ان کی غلطیوں سے صرف ِ نظر کیا جائے گا ۔ شاید اسی مناسبت سے بیت المقدس کے ایک درواذے کا نام باب الحطہ رکھا گیا ہے جیسا کہ ابو حیان اندلسی نے بیان کیا ہے :
باب سے مراد بیت المقدس کا ایک دروازہ ہے جو باب حطہ کے نام سے مشہور ہے(۱)
ٓ آ یت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے کہ نیک لوگوں کے لئے مغفرت اور گناہوں کی بخشش کے ساتھ ساتھ ہم اجر میں مزید اضافہ کریں گے و سنز ید المحسنین)۔
بہر حال خدا وند عالم نے انہیں حکم دیا تھا کہ وہ گناہوں سے توبہ کے لئے خدا کی بارگاہ میں خضوع کے طور پر یہ جملہ بھی سچے دل سے زبان پر جاری کریں جو توبہ اور تقاضائے عفو کی دلیل ہے اور ان سے وعدہ کیا کہ اس حکم پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں ان کے گناہوں کو بخش دے گا بلکہ یہاں تک کہ ان کے پاک اور نیک کارلوگوں کو گناہوں کی بخشش کے علاوہ دوسرا اجر بھی دے گا ۔
لیکن جیسا کہ ہم بنی اسرائیل کی ہٹ دھر می اور سر کشی کو جانتے ہیں ، ان میں سے ایک گروہ نے یہ لفظ ادا کرنے کے حکم کی خلاف ورزی کی اور اس کے بجائے استہزا کے طور پر ایک مناسب لفظ کہنے لگے لہذا قرآن کہتا ہے : رہے وہ لوگ جو ظالم و ستمگار تھے انہوں نے اس لفط کو کسی اور لفط سے بدل دیا ۔( فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لهم ) ہم نے بھی ستمگروں پر ان کے فسق و گناہ کی وجہ سے آسمان سے عذاب اتارا( فانز لنا علی الذین ظلموا رجزاََ من السماء بما کانوا یفسقون )
جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے ”رجز “ در اصل ا ضطراب ، انحراف اور بد نظمی کے معنی میں ہے ۔ یہ تعبیر خصوصاََ اونٹ کے لئے اس وقت استعمال ہوتی ہے جب وہ اپنے پاؤں کمزور اور ناتوانی کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب نامنظم طور پر رکھے ۔
مرحوم طبرسی مجمع البیان میں کہتے ہیں :
” رجز “در اصل حجاز کی لغت میں عذاب کے معنی میں ہے ۔
وہ نبی اکرم سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں جو طاعون کے موقع پر آپ نے ارشاد فرمائی :
( انه رجز عذب به بعض الامم من قبلکم )
یہ ایک قسم کا عذاب ہے جو تم سے پہلے کی بعض امتو ں پر نازل ہوا(۲)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ بعض رویات میں زیر بحث آیت میں لفظ رجز کو ایک قسم کا طاعون کیوں قرار دیا گیا ہے ، جو تیزی سے بنی اسرائیل میں پھیلا اور اس نے ایک گروہ کو ختم کردیا ۔
ممکن ہے کہا جائے کہ طاعون کی بیماری ایسی چیز نہیں ہے جو آسمان سے نازل ہوسکتا ہے بنی اسرائیل کی طرف طاعون کے جراثیم ان کے گرد چلنے والی ہوا میں موجود غلیظ گرد و غبار میں شامل ہوں ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ طاعون کے درد ناک عوارض میں سے یہ بھی ہے کہ اس بیماری کے عالم میں لوگ گفتگو اور چلنے پھر نے میں بد نظمی اور اضطراب کا شکار ہو جاتے ہیں جو اس لفط کے اصلی معنی کے ساتھ پوری مناسبت رکھتا ہے ۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن مندرجہ بالا آیات میں ” فانزلنا علیھم “ کی بجائے ” فانزلنا علی الذین ظلموا “ جنہوں نے ظلم کیا ہم نے ان پر عذاب نازل کیا ) کہ کر یہ واضح کرتا ہے کہ اس عذاب اور خدا ئی سزا نے صرف بنی اسرائیل کے ستمگاروں کو ہی اپنی گرفت میں لیا اور سب خشک و تر اس میں نہیں جکڑے گئے ۔ اس کے علاوہ آخرآیت میں جملہ ” بما کانو ا یفسقون “ آیا ہے تاکہ اس موضوع کی مزید تاکید ہوجائے کہ ان کا ظلم و فسق ہی ان پر سزا اور عذاب کی علت اور سبب ہے ۔
اس طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہ اس جملہ کے مذکورہ حصے نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ برے اعمال میں مصرو ف تھے اور ہمیشہ کے لئے ان پر کار بند تھے ۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہ جب عادت کی شکل اختیار کرلیں اور حالت و کیفیت کے طور پر معاشرے میں مرتکز ہوجائے تو اس وقت عذاب الہی نازل ہونے کا احتمال بہت زیادہ ہوتا ہے ۔
____________________
۱ صاحب تفسیر الکاشف نے زیر نظر آیت کے ذیل میں ابو حیان کی یہ عبارت نقل کی ہے ۔
۲ تفسیر نمونہ جلد ۴ میں بھی لفظ رجز کے معنی میں بحث کی گئی ہے ۔
آیت ۶۰
( و اذاستسقٰی موسٰی لقومه فقلنا اضرب بعصاک الحجر ط فانفجرت منه اثنتا عشرة عینا ط قد علم کل اناس مشربهم کلو ا و اشربو ا من رزق الله ولا تعثو ا فی الارض مفسدین ) ۶۰ ۔
ترجمہ
۶۰ ۔ اور وہ زمانہ ) جب موسی ٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب کیا تو ہم نے اسے حکم دیا کہ اپنے عصا کو مخصوص پتھر پر مارو اچانک اس سے بارہ چشمے ابلنے لگے ( اس طرح کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے ) سب لوگ اپنے اپنے مخصوچشمے کو پہچانتے تھے ، ( اور ہم نے کہا خدا کی روزی میں سے کھاؤ پیو اور زمین پر فساد نہ کرو اور نہ ہی فساد پھیلاؤ ۔
بنی اسرائیل کے قبائیل کی تعداد کے عین مطابق جب یہ چشمے جاری ہوئے
اس آیت میں بنی اسرائیل پر کی گئی ایک اور نعمت کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے : یاد کرو اس وقت کو جب موسیٰ نے ( اس خشک اورجلانے والے بیابان میں جس وقت بنی اسرائیل پانی کی وجہ سے سخت تنگی میں مبتلا تھے ) پانی کی درخواست کی و اذ استسقیٰ موسی ٰ لقومہ ) تو خدا نے اس درخواست کو قبول کیا جیسا کہ قرآن کہتا ہے : ہم نے اسے حکم دیا کہ اپنا عصا مخصوص پتھر پر مارو (فقلنا اضرب بعصاک الحجر ) اس پر اچانک پانی ابلنے لگا اور پانی کے بارہ چشمے زور و شور سے جاری ہوگئے فانفجرت منہ اثنتا عشرة عینا )۔
بنی اسرائیل کے قبائیل کی تعداد کے عین مطابق جب یہ چشمے جاری ہوئے تو ایک چشمہ ایک قبیلہ کی طرف جھک جاتا تھا جس پر بنی اسرائیل کے لوگوں اور قبیلوں میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے چشمے کو پہچان لیا ، قد علم کل اناس مشربھم )۔
یہ پتھر کس قسم کا تھا حضرت موسیٰ کس طرح اس پر عصا مارتے تھے اور پانی اس میں سے کیسے جاری ہوجاتا تھا ۔ اس سلسلے میں بہت کچھ گفتگو کی گئی ہے جوکچھ قرآن اس بارے میں کہتا ہے وہ اس سے زیادہ نہیں کہ موسیٰ نے اس پر عصا مارا تو اس سے بارہ چشمے جاری ہو گئے ۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ پتھر ایک کو ہستانی علاقہ کے ایک حصے میں واقع تھا جو اس بیابا ن کی طرف جھکا ہوا تھا سورہ اعراف آیہ ۱۶۰ کی تعبیر ” انجست “ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ابتداء میں اس پتھر سے تھوڑا تھوڑا پانی نکلا اور بعد میں زیادہ ہو گیا ۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کا ہر قبیلہ ، ان کے جانور جو ان کے ساتھ تھے اور وہ کھیتی جو انہوں نے احتما لاَ اس بیابا ن کے ایک حصے میں تیار کی تھی سب اس سے سیراب ہوگئے ، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ کوہستانی علاقہ میں پتھر کے ایک حصہ سے پانی جاری ہوا البتہ یہ مسلم ہے کہ یہ سب معجزے سے رونما ہوا ۔
خدا نے موسیٰ سے کہا : قوم کے آگے آگے رہو اور اسرائیل کے بعض بزرگوں کو ساتھ لے لو اور وہ عصا جسے نہر پر مارا تھا ہاتھ میں لے کر روانہ ہوجاؤ میں وہاں تمہارے سامنے کوہ حوریب پر کھڑا ہو جاؤں گا اور اسے پتھر پر مارو اس سے پانی جاری ہوجائے گا ۔ تاکہ قوم پی لے اور موسیٰ نے اسرائیل کے مشائخ اور بزرگوں کے سامنے ایسا ی کیا(۱)
بہر حال ایک طرف خدا وندعا لم نے ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور دوسری طرف ان پر فراواں پانی عطا کیا اور ان سے فرمایا :
خدا کی دی ہوئی روزی سے کھاؤ پیو لیکن زمین میں خرابی اور فساد نہ کرو( کلو و اشربو من رزق الله ولا تعثوا فی الارض مفسدین ) ۔
گویا یہ آیت انہیں متوجہ کرتی ہے کہ کم از کم ان عظیم نعمتوں کی شکر گزاری کے طور پرضدی پن ، ستمگری انبیاء کو ایذا رسانی اور بہانہ سازی ترک کردو ۔
____________________
۱ فصل ۱۷ سفر خروج ، جملہ ۵ و ۶ ۔
تعثوا“اور مفسدین میں فرق :
تعثوا “کا مادہ ” عثی “ ( بروزن ) مسی ہے ) جس کے معنی ہیں شدید فساد ۔ البتہ یہ لفظ زیادہ تر اخلاقی اور روحانی مفاسد کے لئے استعمال ہوتا ہے جب کہ مادہ ”عیث “ جو معنی کے طور پر اس کے مشابہ ہے زیاد ہ تر حسی مفاسد کے لئے بولا جاتا ہے ۔ لہذا ” لاتعثوا “ کے معنی بھی ” مفسدین“ کے ہیں لیکن تاکید اور زیادہ شدت کے ساتھ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ پورا جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہو کہ فساد ابتدا میں ایک چھوٹے سے نقطے سے شروع ہوتا ہے پھر اس میں وسعت اور پھیلاؤ آجاتا ہے اور اس میں شدت پیدا ہوجاتی ہے ۔ یہ ٹھیک وہی چیز ہے جو لفظ ” تعثو ا “ سے معلوم ہوتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ” مفسدین“ فساد انگیز پرو گرام کے آغاز کی طرف اور ” تعثو ا“ اس کے دوام اور استمرار اور اسے وسعت دینے کی طرف اشارہ ہے ۔
بنی اسرائیل کی زندگی میں خلاف معمول واقعات :
بعض لوگ جو منطق اعجاز سے واقف نہیں وہ اتنے پانی اور اتنے چشموں کے ایک پتھر سے ابلنے اور جاری ہونے کو بعید شمار کرتے ہیں حالانکہ اس قسم کے مسائل جن کا اہم تر حصہ معجزات انبیاء پر مشتمل ہے جیسا کہ ہم ا سے اپنے مقام پر بیان کر چکے ہیں ۔ کوئی امر محال یا علت و معلول کے قانون میں کوئی استثناء نہیں ہے بلکہ یہ صرف خارق عادت چیز ہے یعنی اس علت و معلول کے خلاف ہے جس کے ہم عادی ہو چکے ہیں ۔خلاصہ یہ کہ عالم ہستی اور نظام علت ومعلول کو پیدا کرنے والا اس پر حاکم ہے نہ کہ اس کا محکوم ۔ خود ہماری روز مرہ کی زندگی میں موجودہ علت و معلول کے نظام کے استثنائی واقعا ت تھو ڑ ے نہیں ہیں(۱) ۔
انفجرت اور انبجست میں فرق:
زیر بحث آیت میں ” انفجرت “ استعمال ہوا ہے جب کہ سورہ اعراف آیہ ۱۶ میں اس کی جگہ ” انبجست “ آیا ہے پہلے کا معنی ہے پانی کا سخت بہاؤ اور دوسرے کا معنی ہیں تھوڑا تھوڑا اور آرام سے جاری ہونا ۔، ممکن ہے دوسری آیت اس پانی کے جاری ہونے کے ابتدائی مرحلہ کی طرف اشارہ ہو تاکہ پریشانی کا سبب نہ بنے اور بنی اسرائیل اسے اپنے کنٹرول میں کر سکیں اور ” انفجرت “ اس کے آخری مرحلہ کی طرف اشارہ ہو جس سے مراد تیز بہاؤ ہے ۔کتاب مفردات راغب میں آیا ہے کہ ” انبجاس “ وہاں بولا جاتا ہے جہاں پانی چھوٹے سے سوراخ سے نکل رہا ہو اور انفجار اس وقت کہتے ہیں جب پانی وسیع جگہ سے باہر آرہا ہو جو کچھ ہم کہ چکے ہیں یہ تعبیر اس سے پوری طرح ساز گا ر ہے ۔
____________________
۱ زیادہ وضاحت کے لئے کتاب ” رہبران بزرگ “ کی طرف رجوع فرمائیں ۔
آیت ۶۱
( و اذ قلتم یٰموسٰی ٰلن نصبر علی طعام و احد فادع لنا ربک یخرج لنا مما تنبت الارض من بقلها و قثائها و فومها وعدسها و بصلها ط قال اتستبدلون الذی هو ادنیٰ بالذی هو خیر ج اهبطو مصرا فان لکم ما سالتم ط و ضربت علیهم الذلة والمسکنة وباء و بغضب من الله ط ذٰلک بانهم کانو ا یکفرون باٰیٰت الله ویقتلون النبیین بغیر الحق ذٰلک بما عصو ا و کانو یعتدون ) ۶۱ ۔
۶۱ ۔ اور یاد کرو اس وقت کو جب تم نے کہا : اے موسٰی ! ہم اس کے لئے ہر گز تیار نہیں کہ ایک ہی قسم کی غذا پر اکتفا ء کریں اپنے خدا سے دعاء کرو کہ ہمارے لئے زمین سے اگنے والی سبزیوں میں سے اور ککڑی ، لہسن مسور اور پیاز اگائے ۔ موسٰی نے کہا : کیا بہتر غذا کے بدلے پست ا نتخاب کرتے ہو ( اب اگر ایسا ہی ہے تو کوشش کرو اور اس بیابان سے نکل کر ) کسی شہر میں داخل ہوجاؤ کیونکہ جو کچھ تم چاہتے ہو وہ تو وہیں ہے ۔ خدا وندے عالم نے ذلت و محتاجی ( کی مہر) ان کی پیشانی پر لگا دی اور نئے سرے سے وہ غضب پروردگار میں مبتلا ہو گئے کیونکہ وہ آیات الہی سے کفر کرتے اور انبیاء کا قتل کرتے تھے اور یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ وہ گنہگار ،سرکش اور تجاوز کرنے والے تھے ۔
ان نعمات فراواں کی تفصیل کے بعد
ان نعمات فراواں کی تفصیل کے بعد جن سے خدا نے بنی اسرائیل کو نوازا تھا ۔ زیر نظر آیت میں ان عظیم نعمتوں پر ان کے کفران اور ناشکر گزاری کی حالت کو منعکس کیا گیا ہے ۔ اس میں اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہ کس قسم کے ہٹ دھرم لوگ تھے ۔ شاید تاریک دنیا میں ایسی کوئی مثال نہ ملے گی کہ کچھ لوگوں پر اس طرح سے الطاف الہٰی ہو لیکن انہون نے اس طرح سے اس مقابلے میں ناشکر گزاری اور نافرمانی کی ہو ۔
پہلے فرمایا گیا ہے : یاد کرو اس وقت کو جب تم نے کہا اے موسٰی ہم سے ہر گز یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی غذا پر قناعت کرلیں ( من و سلویٰ کتنی ہی اچھی اور لذیز غذا ہو ہم مختلف قسم کی غذا چاہتے ہیں )( و اذ قلتم یٰموسٰی لن نصبر علی طعام واحد ) لہذا خدا سے خواہش کرو کہ وہ زمین سے جو کچھ اگایا کرتا ہے ہمارے لئے بھی اگائے سبزیوں میں سے ، ککڑی ، لہسن ، مسور اور پیاز( فادع لنا ربک یخرج لنا مما تنبت الارض من بقلها و قثائها و فومها و عدسها وبصلها ) لیکن موسٰی نے ان سے کہا : کیا تم بہتر کے بجائے پست غذا پسند کرتے ہو( قال اتستبدلون الذی هو ادنیٰ با الذی هو خیر ) جب معاملہ ایسا ہی ہے تو پھر اس بیابان سے نکلو اور کسی شہر میں داخل ہونے کی کوشش کرو کیونکہ جو کچھ تم چاہتے ہو وہ وہاں ہے( اهبطو امصرا فان لکم ما سئالتم )
اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے کہ خد انے ان کی پیشانی پر ذلت و فقر کی مہر لگا دی( و ضربت علیهم الذلة و المسکنة ) اور وہ دوبارہ غضب الہٰی میں گرفتارہوگئے( و با ؤا بغضب من الله ) ۔
یہ اس لئے ہوا کہ وہ آیات الٰہی کا انکار کرتے تھے اور ناحق انبیاء کو قتل کرتے تھے( ذٰلک بانهم کانوا یکفرون بایات الله ویقتلون النبیین بغیر الحق ) یہ سب اس لئے تھا کہ وہ گناہ ، سر کشی اور تجاوز کے مرتکب ہوتے تھے( ذٰلک بما عصوا و کانو ا یعتدون ) ۔
یہاں مصری سے کون سی جگہ مراد ہے
بعض مفسرین کا نظریہ ہے لفظ مصر اس آیت میں اپنے کلی مفہوم کی طرف اشارہ ہے یعنی تم ا س و قت بیابان میں ایک خودسازی کے اور آزمائشی پروگرام میں شریک تھے ۔یہا ں قسم قسم کی غذائیں نہیں ہیں لہذا شہروں میں جاو ،وہا ں چلو پھرو وہا ں ہر چیز موجو د ہے لیکن یہ خود سازی اور اصلاحی پروگرام وہا ں نہیں ہے ۔وہ اس کی دلیل پیش کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے کبھی شہر مصر کی طرف جا نے کا تقاضا کیااور نہ کبھی اس کی طرف واپش گئے ۔(۱)
بعض دوسر ے مفسرین نے بھی یہی تفسیر کی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ تمہارا اس بیا بان میں رہنا اور ا س ایک قسم کی غذا سے استفادہ کرنا تمہا ری کمزوری ،ناتوانی اور زبوں حالی کی وجہ سے ہے ۔تم طاقتور بنو ،دشمنو ں کے ساتھ جنگ کرو ،شام کے شہر اور سر زمین مقدس ان سے چھین لوتاکہ تمہیں تمام چیز یں میسر آسکیں(۲)
اس آیت کی تیسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ مراد وہی ملک مصر ہے یعنی اگر تم ایک قسم کی غذا سے اس بیا با ن میں تم فائد ہ اٹھاتے ہو تو اس کے بدلے تمہا رے پاس ایمان ہے اور تم خود آزاد اورمختار ہو اور اگر یہ چیزیں نہیں چاہتے تو پلٹ جا و اور دوبارہ فرعونیوں یا ان جیسے لوگوں کے غلام اور قیدی بن جاوتاکہ ان کے دستر خوان سے بچی ہو ئی قسم قسم کی غذ ائیں کھا سکو تم شکم سیری اور کھا نے کے پیچھے لگے ہوئے ہو یہ نہیں سوچتے کہ اس وقت تم غلام اور قیدی تھے اورآج آزاد اور سر بلند ہو۔اب اگر حقیقت میں تم کچھ چیزوں سے محروم بھی ہو تو یہ آزادی کی قیمت ہے جو ادا کررہے ہو(۳)
لیکن اس سلسلے میں پہلی تفسیرہی سب سے زیادہ مناسب ہے ۔اس دلیل کی بناء پر جو ہم اوپر بیان کر چکے ہیں
____________________
۱ علاوہ ازیں لفظ ”مصر “کی تنوین اس کے نکرہ ہو نے کی دلیل ہے لہذا اس دسے شہر مصر مراد نہیں ہو سکتا
۲ تفسیر المنار ،آیہ مذکورہ کے ذیل میں ۔
۳ تفسیر فی ضلال
کیا نت نئی چیز کی خواہش انسانی مزاج کا خاصہ نہیں :
اس میں شک نہیں کہ نت نئی چیز کی خواہش انسان کی زندگی کے لوازمات اور خصوصیات میں سے ہے یہ بات انسانی زندگی کا حصہ ہے وہا ں ا یک قسم کی غذا سے اکتاجاتا ہے لہذا یہ کوئی غلط نہیں پھر آخر بنی اسرائیل کیوں تنو ع کی درخواست پر لائق سر زنش قرار پائے
اس سوال کا جواب ایک نکتے کے ذکر سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ انسانی زندگی میں کھانا ،سونا ،شہوت اورطرح طرح کی لذتیں بنیادی چیز نہیں ہیں ایسے اوقات بھی آتے ہیں کہ ان امو ر کی طرف توجہ انسان کو اس کی اصل غرض اور اولین مقصد سے دور کر دیتی ہے جو در اصل ایمان ، پاکیزگی ، تقوی اور اصلاح ذات ہے یہ وہ مقام ہے جہا ں پر انسان ان تمام چیزوں کو ٹھوکر مار دیتا ہے ۔نت نئی چیز کی خواہش در حقیقت کل کے اور آج کے استعمار گر وں کا ایک بہت بڑا جال ہے اورخصوصا آج کے زمانے میں اس تنوع طلبی سے استفادہ کیا جارتا ہے اورانسان کو قسم قسم کی غذاوں ،لباس ،سواری اورمکان کی خواہش کا اسیر بنا دیا جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو بالکل بھو ل جاتا ہے اور ان چیزوں کی قید کا طوق اپنی گردن میں ڈال لیتا ہے ۔
کیامن وسلوی ٰہر غذاسے بہتر وبر تر تھا:
اس میں شک نہیں مختلف سبز یوں کی غذا جس کا بنی اسرائیل حضرت موسی ٰ سے تقاضا کرتے تھے انتہائی قیمتی تھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ زندگی کو صرف ایک پہلو سے نہیں دیکھنا چاہیئے کیا یہ درست ہے کہ ا نسا ن مختلف قسم کی غذاوں کو حا صل کر نے کے لئے اپنے آپ کو قیدی بنالے ۔جب کہ ایک قول کے مطابق ”من “ایک پہا ڑ ی شہد ہے یا شہد کی طرح کی ایک طاقت بخش اور مفید میٹھی چیز ہے یہ ایک مفید ترین اور طاقت سے بھر پور غذا ہے ۔اس میں تازہ گوشت میں موجو د پروٹین کے اجزا ء بھی ایک خاص پرندے سلویٰ کی صورت میں موجود تھے بلکہ وہ کئی جہت سے عام طور پر موجود پروٹین کے اجزاء سے بہترتھے کیو نکہ” من“کا ہضم ہونا بہت آسا ن ہے جب کہ سلویٰ کے ہضم کے لئے معدے کو تھکا دینے والی فعالیت کی ضرورت ہے۔(۱)
اس ضمن میں متوجہ رہنا چاہیئے کہ لفظ ”فوم “جو بنی ا سرائیل کے تقاضوں میں سے ہے بعض نے اس کے معنی گندم اور بعض نے لہسن بیان کئے ہیں البتہ ا ن میں سے ہر ایک خصوصی امتیا ز رکھتا تھا لیکن بعض کا نظریہ ہے کہ گندم زیادہ صحیح ہے کیونکہ بعید ہے کہ انہوں نے ایسی غذا طلب کی ہو جس میں گندم نہ ہو ۔(۲)
____________________
۱قرآن بر فراز قرون واعصار ، ص۱۱۲
۲تفسیر قرطبی ،زیر بحث ،آیت کے ذیل میں ۔
ذلت کی مہر بنی اسرائیل کی پیشانی پر
ذلت کی مہر بنی اسرائیل کی پیشانی پر کیوں ثبت کی گئی مندر جہ بالا آیت سے ظاہر ہوتاہے کہ وہ دو لحاظ سے ذلت وخواری میں گرفتا ر ہوئے ۔ایک تو ہے ان کاکفر اختیار کرنا ۔ احکام خدا کی خلاف ورزی کرنا اور توحید سے شر ک کی طرف منحرف ہونا اور دوسرا یہ کہ وہ حق والوں اور خدا کے بھیجے ہوئے نمائند وں کو قتل کرتے تھے یہ سنگدلی ،قساوت اورقوانین الٰہی بلکہ نوع انسانی میں موجود تمام قوانین سے بے ا عتنائی د لیل ہے جب کہ آج بھی یہودیوں کے ایک گروہ کے پاس وہ قوانین وضاحت کے ساتھ موجود ہیں ۔ یہی ان کی ذلت اور بدبختی کا سبب ہے ۔(۱)
یہودیو ں کی سرنوشت اور ان کی زلت آمیز زندگی کے بارے میں اورہ آل عمران آیہ ۱۱۲ کے ذیل میں ہم تفصیلی بحث کریں گے(۲)
____________________
۱ - اس وقت جب کہ ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں لبنان کی اسلامی سرزمین یہودیو ں کی ووحشت انگیزیوں اور برباد کن مظالم کی ضد میں ہے ،ہزاروں عورتیں ، بچے ،بوڑھے اور جوان یہا ں تک کہ ہسپتالوں بیما ر درد انگیز طریقے سے جا م شہادت نوسش کرچکے ہیں اوران کی لاشیں زمین پر پڑیں ہیں البتہ اس سنگدلی کاکفارہ انہیں عنقریب اسی دنیا میں ادا کرنا پڑے گا
۲- تفسیر نمونہ ، ج ۳۔
آیت ۶۲
( ان الذین آمنوا والذین هادو اوالنصٰر والصٰبئین من آمن باالله والیوم الآ خر وعمل صالحا فلهم اجرهم عند ربهم ولاخوف علیهم ولا هم یحزنون ) ۶۲ ۔
ترجمہ
جو ایمان لائے ہیں (مسلمان)اوریہود نصاری اور صائبین (حضرت یحی ،حضرت نوح یا حضرت ابراہیم کے پیرو کا ر )جو بھی خدا اور آخرت کے دن پرایمان لائے اور عمل صالح بجالائے ان کی جزا واجر ان کے پرور دگار کے ہاں مسلم ہے اور ان کے لئے آئند ہ یاگزشتہ کسی قسم کا خوف وغم نہیں ہے اور ہر دن کے پیروکا ر جو اپنے عہد میں اپنی ذمہ د اریا ں ادا کرتے ہیں ان کے لئے اجر ہے ۔
ایک کلی اصول اور عمومی قانون
بنی اسرائیل سے مربو ط ابحاث میں دراصل قرآن ایک کلی اصول اور عمومی قانون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ قدرو قیمت حقیقت وواقعیت کی ہے نہ کہ ظاہر یت کہ ۔خداوند عالم کی بارگاہ میں ایمان خالص اور عمل صالح قابل قبول ہے جولوگ ایمان لے آئے ہیں (مسلمان )اسی طرح یہودی ، عیسائی اور صائبین حضرت یحیٰ،حضرت نوح حضرت ابراہیم کے پیرو کا ر )جو بھی خدا اور قیامت کے دن پر ایمان لے آئیں اور نیک عمل انجام دیں ان کا اجر وعوض پرور دگار کے پاس مسلم ہے( ان الذین آمنوا والذین هادوا والنصٰر والصٰبئین من آمن باالله والیوم الآخر وعمل صالحا فلهم اجرهم عند ربهم ) لہذا انہیں آئندہ کا خوف ہے نہ گزشتہ کا غم( ولا خوف علیهم ولا هم یحزنون )
یہ آیت تقریبااسی عبارت کے ساتھ سورہ مائدہ کی آیہ ۶۹ میں آئی ہے ا ور کافی فرق کے ساتھ سورہ حج آیہ ۱۷ میں اس مفہوم کا ذکر ہوا ہے ۔سورہ مائدہ کی مذکورہ آیت کے بعد کی آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ یہودی وعیسائی اتراتے تھے کہ ہمارا دین دیگر ادیان سے بہتر ہے اور وہ جنت کو بلا شرکت غیراپنے لئے مخصوص سمجھتے تھے اورشاید یہی فخر مسلمانوں کی ایک جماعت میں بھی تھا ۔زیر بحث آیت کہتی ہے کہ ظاہری ایمان (اسلام )عمل صالح کے بغیر چاہے مسلمانوں کا ہو یایہود ونصاری یاکسی اور دین کے پیروکاروں کا کوئی قدر وقیمت نہیں رکھتا ۔خدااور قیامت کے دن کی بڑی عدالت پر حقیقت ااورخالص ایمان جو نیکی اور عمل صالح کے ساتھ ہو وہی خدا کی بارگاہ میں قدروقیمت کا حامل ہے ۔صرف یہی پروگرام جزااور اطمینان کاباعث ہے ۔
ایک اہم سوال
بعض بہانہ سازند کورہ بالا آیت کو غلط افکار لے لئے دستاویز کے طور پرپیش کرتے ہیں وہ اسے صلح کل کے عنوان سے پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر مذہب کے پیرو کو اپنے ہی مذہب پر عمل کرناچاہیئے لہذا ان کے نزدیک ضروری نہیں کہ یہودی ،عیسائی یادوسرے مذہب کے پیروکار آج مسلما ن ہوجائیں بلکہ اگر وہ خدااور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ااورعمل صالح انجام دیں توکافی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے :
ہم واضح طور پر جانتے ہیں کہ قرآنی آیات ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں ۔ قرآن سورہ آل عمران آیہ ۸۵ میں کہتا ہے :
( و من یبتغ غیرالاسلام دینا فلن یقبل منه )
اگر کوئی شخص اسلام کے علاوہ کوئی دین اپنے لئے انتخاب کرے تو وہ ہرگز قابل قبول نہ ہوگا ۔
علاوہ از ایں قرآن یہود و نصاریٰ اور باقی ادیان کے ماننے والوں کو دعوت اسلام دےنے والی آیات سے بھرا پڑا ہے اگر مندرجہ بالا تفسیر صحیح ہو تو یہ قرآن کی بہت سی آیات سے صرےح تضاد ہو گا لہذا ضروری ہے کہ اس آیت کے واقعی اور حقیقی معنی تلاش کئے جائیں ۔
اس مقام پر دو تفسیر یں سب سے زیادہ واضح اور مناسب نظر آتی ہے ۔
( ۱) پہلی یہ کہ اگر یہود و نصاریٰ اور ان جیسے گروہ اپنی کتب کے مضامین پر عمل کریں تو مسلماََ رسول اسلام پر ایمان لے آئیں ، کیونکہ ان کتب ِ آسمانی میں مختلف صفات و علامات کے ساتھ آپ کے ظہور کی بشارت موجود ہے جس کی تفصیل سورہ بقرہ کی آیت ۱۴۶ کے ذیل میں آئے گی ۔
سورہ مائدہ اایہ ۶۸ میں ہے :( قل یا اهل الکتاب لستم علی شیء حتی ٰ تقیمو ا التوراة و الانجیل وما انزل الیکم )
کہیے کہ اے اہل کتاب ! تمہاری اس وقت تک کوئی قد ر وقیمت نہیں جب تک تم تورات ، انجیل اور جو کچھ پروردگار کی طرف سے تمہاری طرف نازل ہوا ہے اسے قائم اور برقرار نہ رکھو ( اور اس میں سے ایک رسول اسلام پر ایمان لانا ہے جن کے ظہور کی بشارت تمہاری کتب میں آچکی ہے )۔
( ۲) دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت کی نظر ایک سوال کی طرف ہے جو ابتد ائے اسلام میں بہت سے مسلمانوں کو مدینہ میں در پیش تھا وہ اس فکر میں رہتے تھے کہ اگر راہ حق و نجات فقط اسلام ہے تو ہمارے آباؤ اجداد کا کیا بنے گا ۔ کیا پیغمبر اسلام کو نہ پہچاننے اور ان پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے انہیں سزا و عذاب کا سامنا ہوگا ۔
اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور اس نے خبر دی کہ جو شخص اپنے زمانے میں اس وقت کے برحق نبی اور کتاب آسمانی پر ایمان لے آیا ہو اور اس نے عمل صالح انجام دیا ہو وہ نجات یافتہ لوگوں میں ہے اور اس کے لئے فکر و تردد کی کوئی بات نہیں ۔
لہذا ظہو ر مسیح سے پہلے کے مومنین اورعمل صالح انجام دینے والے یہودی نجات یافتہ ہیں اور یہی صورت ظہور رسول اسلام سے پہلے کے عیسائی مومنین کی ہے ۔
یہی مفہوم مذکورہ آیت کی شان نزول سے ظاہر ہوتا ہے جس کی طرف ہم بعد میں اشارہ کریں گے ۔
چند اہم نکات
(۱) حضرت سلمان کی عجیب وغریب سر گذشت : اس آیت کی تفسیر میں جو شان نزول بیان ہوا ہے اسے یہاں ذکر کیا جائے تو مناسب نہ ہوگا ۔
تفسیر جامع البیان ( طبری ) جلد اول میں منقول ہے :
سلمان اہل جندیشا پور میں سے تھے ۔ حاکم وقت کے بیٹے سے ان کی پکی اور نہ ٹوٹنے والی دوستی تھی ۔ایک دن اکٹھے شکار کے لئے جنگل کی طرف گئے ۔ اچانک ان کی نگاہ ایک شخص پر پڑی جو کتاب پڑھنے میں مشغول تھا ۔ انہوں نے اس شخص سے اس کتاب کے متعلق کچھ سوالات کئے تو راہب نے ان کے جواب میں کہا : یہ کتاب خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اس کتاب میں زنا ، چوری اور لوگوں کا مال ناحق کھانے سے روکا گیا ہے ۔ یہ وہی انجیل ہے جو عیسیٰ مسیح پر نازل ہوئی ہے ۔راہب کی گفتگو نے ان کے دل پر اثر کیا اور بہت تحقیق کے بعد وہ دونوں اس کے دین کے پیرو ہوگئے ۔ اس نے انہیں حکم دیا کہ اس سر زمین کے لوگوں کی ذبح کی ہوئی بھیڑ بکریوں کا گوشت حرام ہے ۔
سلمان اور حاکم وقت کا بیٹا روزانہ اس سے مذہبی مسائل سیکھتے تھے ۔ عید کا دن آگیا ۔حاکم نے ایک دعوت کا احتمام کیا جس میں اشرا ف اور بزرگان شہر کو دعوت دی گئی اور اس سلسلے میں اس نے اپنے بیٹے سے بھی خواہش کی کہ وہ اس دعوت میں شرکت کرے لیکن اس نے قبول نہ کی ۔ اس نے بہت اصرار کیا تو لڑکے نے بتایا کہ یہ غذا میرے لئے حرام ہے ۔ اس نے پوچھا تمہیں یہ حکم کس نے دیا ہے اس پر اس نے راہب کا تعارف کرایا ۔ حاکم نے راہب کو بلوایا اور اس سے کہا : چونکہ قتل ہماری نگاہ میں ایک بہت بڑا اور برا کام ہے لہذا ہم تمہیں قتل نہیں کرتے لیکن تم ہمارے علاقہ سے نکل جاؤ ۔
سلمان اور ان کے دوست نے اس موقع پر اس راہب سے ملاقات کی اور دوسری ملاقات کا پروگرام ” دیر موصل “ میں طے پایا ۔
راہب کے چلے جانے کے بعد سلمان چند روز تو اپنے با وفا دوست کے منتظر رہے اور وہ بھی سفر کی تیاری میں سرگرم تھا لیکن سلمان آخر کار زیادہ صبر نہ کر سکے اور چل پڑے
موصل کے گرجے میں سلمان بہت زیادہ عبادت کرتے تھے راہب مذکور جو اس گرجے کا مالک تھا اس نے سلمان کو زیادہ عبادت سے روکنا چاہا اور کہا : تم ناکارہ ہی نہ ہوجاؤ ، لیکن سلمان نے اس سے سوال کیا کہ زیادہ عبادت کی فضیلت زیادہ ہے یا کم عبادت کی ؟ تو اس نے کہا فضیلت تو زیادہ عبادت ہی کی زیادہ ہے ۔
اس کے بعد وہ راہب جو گرجے کا مالک تھا اور وہاں پر موجود دوسرے راہبوں جتنی عبادت نہیں کر سکتا تھااس گرجے سے دوسری جگہ چلا گیا اور گرجے کے عالم کو سلمان کے بارے میں سفارش کر گیا ۔
کچھ عرصہ بعدگرجے کا وہ عالم بیت المقدس کی زیارت کے ارادے سے چلا اور سلمان کو بھی اپنے ہمراہ لے گیا ۔ وہاں اس نے سلمان کو حکم دیا کہ دن میں علمائے نصاریٰ کے درس میں جائیں اور تحصیل علم و دانش کریں ۔ وہ درس وہیں مسجد میں منعقد ہوتے تھے ۔
ایک دن اس عالم نے سلمان کو رنجیدہ پایا تو اس کا سبب دریافت کرنے لگا ۔ سلمان نے جواب میں کہا: نیکیاں تو گذشتہ لوگوں کے نصیب میں تھیں جو پیغمبر ان خدا کی خدمت میں رہتے تھے ۔ عالم دیر نے اسے بشارت دی کہ انہی دنوں ملت عرب میں ایک پیغمبر ظہور کرنے والا ہے جو تمام انبیاء سے برتر و بالا ہے ۔ عالم مذکور نے مزید کہا : میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، مجھے امید نہیں کہ میں انہیں مل سکوں لیکن تم جوان ہو تم انہیں پاسکو گے ۔
مزید کہنے لگا : اس پیغمبر کی کئی ایک نشانیاں ہیں ۔ ان میں سے خاص نشانی اس کے کندھے پر ہے وہ صدقہ نہیں لیتا ہدیہ قبول کرتا ہے ۔
موصل کی طرف واپسی کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کے نتیجے میں سلمان سے عالم دیر کہیں بیابان میں کھو گیا ۔
حلب کے دو عرب قبیلے وہاں پہنچے ۔ انہوں نے سلمان کو قید کر لیا اور اونٹ پر سوار کرکے مدینہ لے آئے اور انہیں قبیلہ ” جرینہ “ کی ایک عورت کے ہاتھ بیچ دیا ۔
سلمان اور اس عورت کا ایک غلا م باری باری اس عورت کا گلہ روزانہ چرانے کے لئے جاتے تھے سلمان نے اس مدت میں کچھ رقم جمع کرلی اور پیغمبر اسلام کی بعثت کا انتظار کرنے لگا ۔ ایک روز وہ ریوڑ چرانے میں مشغول تھے کہ ان کا ساتھی آیا اور کہنے لگا َ: تمہیں معلوم ہے آج ایک شخص مدینہ میں آیا ہے جس کا خیال ہے کہ وہ پیغمبر ہے اور خدا کا بھیجا ہوا ہے ۔
سلمان نے اپنے ساتھی سے کہا : تم یہاں رہو ، میں ہو کر آتا ہوں ، سلمان شہر میں داخل ہوئے ۔ پیغمبر اکرم کی مجلس میں حاضر ہوئے ،۔ آنحضرت کے گرد چکر لگا رہے تھے اور منتظر تھے کہ پیغمبر کا کرتہ آپ کے کندھے سے کس طرح ہٹے اور آپ کے کندھے کے درمیان مخصوص نشان دیکھ سکیں پیغمبر ان کی خوہش کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے کرتا اٹھایا تو سلمان نے وہ نشان ( مہر نبوت ) دیکھا ۔ یعنی پہلی نشانی دیکھ لی ۔
پھر وہ بازار چلے گئے ۔ کچھ گوشت اور روٹی خریدی اور رسول اللہ کی خدمت میں لے آئے ۔ پیغمبر نے پوچھا کیا ہے ۔ سلمان نے جواب دیا صدقہ ہے ۔ آنحضرت نے فرمایا مجھے اس کی ضرورت نہیں غریب مسلمان کو دے دو تاکہ وہ اسے استعمال کرلیں ۔
سلمان دوبارہ بازار گئے پھر کچھ گوشت اور روٹی خریدی اور پیغمبر اکرم کی خدمت میں لے آئے رسول اللہ نے پوچھا کیا ہے ۔ سلمان نے جواب دیا ہدیہ ہے ۔
آنحضرت نے فرمایا : بیٹھ جاؤ ۔ آنحضرت اور حاضرین نے اس ہدیہ میں سے کھایا ۔
سلمان پر مقصد واضح ہو گیا کیونکہ اسے اپنی تینوں نشانیاں مل گئیں ۔ دوران گفتگو سلمان نے اپنے دوستوں اور، ساتھیوں اور دیر موصل کے راہبوں کے متعلق باتیں کیں ۔ ان کی نماز ، روزہ ، پیغمبر پر ایمان اور آپ کی بعثت کے بارے میں ان کے انتظار کا حال سنایا ۔ کسی نے سلمان سے کہا کہ اگر وہ پیغمبر کو پالیتے تو آپ کی پیروی کرتے ۔
یہ وہ مقام ہے جہاں نبی کریم پرزیر بحث آیت نازل ہوئی جس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ ادیان حق پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ پیغمبر اسلام کو نہیں پاسکے انہیں کیا اجر ملے گا ۔
( ۲) صائبین کون ہیں ؟ :
مشہور عالم را غب مفردات میں لکھتا ہے :یہ ایک گروہ ہے جو حضرت نوح کا پیرو کار تھا ۔ان کا ذکر یہود و نصاری ٰ کے ساتھ ساتھ کرنا بھی اس امر کی دلیل ہے کہ یہ لوگ کسی آسمانی دین کے پیرو تھے اور خداو قیامت پر ایمان رکھتے تھے ۔رہا کہ بعض لوگ ! انہیں مشرک اور ستارہ پرست کہتے ہیں یا بعض اور لوگ انہیں مجوسی کہتے ہیں تو یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ سورہ حج کی آیت ۱۷ مشرکین اور مجوسیوں کو صائبین کے مد مقابل قرار دیتی ہے ۔ قرآن کے الفاظ یوں ہیں ۔( ان الذین آمنو ا والذین هادو والصٰبئین والنصٰری والمجوس والذین اشرکو ا ) لہذا یہ مجوس اور مشرکین کے علاوہ ایک مستقل گروہ ہے ۔صائبین کون لوگ ہیں
اس بارے میں مفسرین اور ادیان شناس لوگوں کے مختلف اقوال ہیں اور اس لفط( صائبین ) کا اصلی مادہ کیا ہے ۔ اس بارے میں بھی بحث ہے ۔
شہرستانی نے کتاب ”ملل ونحل “ میں لکھا ہے کہ صائبہ ” صباء “ سے لیا گیا ہے کیونکہ یہ گروہ حق سے ٹیڑھا ہو گیا تھا اور یہ لوگ راہ انبیاء سے منحرف ہوگئے تھے ۔
اس بناء پر انہیں ” صائبہ “ کہا گیا ہے ۔
فیومی کی مصباح المنیر میں ہے کہ کہ صباء کا معنی ہے : وہ شخص جو ایک دین سے نکل کر دوسرے دین کی طرف مائل ہوجائے ۔
” فرہنگ دہخدامیں اس بات کی تائید کی گئی ہے کہ کلمہ عبری ہے اس کے بعد لکھا ہے کہ ”صائبین “ جمع ہے ” صابی “ عبری کی اور اصل عبری ( ص ب ع ) سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی ہیں پانی میں ڈوب جانا یعنی تعمید کرنے والے ۱
جب اس لفظ کو عربی بنایا گیا تو اس کی ” ع “ ساقط ہوگئی اور ”مفتسلہ “ جو ایک عرصے سے اس آئین کے پیرو کار وں کے ایک مقام کا نام تھا جو خوزستان میں ہے وہ کلمہ” صابی“ کاجامع اور صحیح ترجمہ ہے ۔
جدید اور معاصر محققین بھی اسے عبری لفظ سمجھتے ہیں ۔
” دائرة المعارف “ فرانسیسی ، جلد چھارم صفحہ ۲۳ میں اس لفظ کو عبری قرار دیا گیا ہے اور اس میں اس لفظ کے معنی پانی کے اندر جانا یا تعمید بیان کئے گئے ہیں ۔
ژسینوس سلمانی کہتا ہے : یہ لفط اگر چہ عبری ہے تاہم احتمال ہے کہ ایسی اصل سے مشتق ہو جس کا معنی ستارہ ہے ۔
” کشاف اصطلاح الفنون “ کا مولف کہتا ہے صائبین ایک گروہ ہے جس کے لوگ فرشتوں کی عبادت کرتے تھے ، زبور پڑھتے تھے اور قبلہ کی طرف منھ کرتے تھے ۔
کتاب ” التنبیہ والاشراف “ ص ۱۶۶۶ پر امثال و حکم کا تذکرہ کرتے ہوئے ابتدا میں کہا گیا ہے کہ زرتشت نے جب مجوس آئین و دین گشتاسب کے سامنے پیش کیا اور اس نے قبول کیا ، اس سے قبل اس ملک کے لوگ ” صفا “ مذہب کے پیرو تھے ۔
اور وہ صائبین تھے ۔ یہ وہ مذہب ہے جسے ” بو ذاسب “ نے ” طہورس “ کے زمانے میں پیش کیا تھا ۔
اس گروہ کے بارے میں اختلافات اور ایسی گفتگو کی وجہ یہ ہے کہ ان کی جمعیت تھوڑی تھی اور وہ اپنے مذہب کو پوشیدہ رکھنے پر مصر تھے اور اس کی دعوت و تبلیغ سے منع کرتے تھے ان کا اعتقاد تھا کہ ان کا مذہب خصوصی ہے عمومی نہیں اور ان کا پیغمبر انہی کی نجات کے لئے مبعوث ہوا ہے اور بس ۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی حالت ایک بھیدہی رہی اور ان کی جمعیت بھی روز بروز ختم ہوتی گئی اور یہ بھی کہ ان کے ہاں مفصل غسل اور طولانی تعمیدوں جیسے خاص احکام تھے یہ انہیں سردیوں اور گرمیوں میں انجام دینا پڑتے تھے ۔ وہ اپنے مذہب کے علاوہ کسی سے شادی حرام سمجھتے تھے ۔ ان کے ہاں حتی الامکان رہبانیت اور عورتوں سے ترک ِمباشرت کا تاکیدی حکم تھا اور مسلمانوں سے زیادہ میل جول کی وجہ سے اپنے مذہب کو بدل دیتے تھے ۔
____________________
۱ غسل تعمید عیسائیوں کے ہاں بچوں اور نئے عیسائی ہونے والے کو دیتے ہیں ۔ مترجم
( ۳) صائبین کے عقائد: ان کے مندرجہ ذیل عقائد تھے :
ان کا اعتقاد تھا کہ پہلی مقدس آسمانی کتاب حضرت آدم پر نازل ہوئی ، پھر حضرت نوح پر ، ان کے بعد سام پر ، پھر رام پر ، اس کے بعد ابراہیم خلیل اللہ پر ، پھر حضرت موسی ٰ اور اس کے بعد یحییٰ بن زکریا پر نازل ہوئی ۔ وہ مقدس کتابیں جو ان کی نگاہ میں اہمیت رکھتی ہیں یہ ہیں :
۱ ۔”کنیزاربا “ اس کتاب کو ” سدرہ “ یا ” صحف آدم بھی کہتے ہیں ۔ یہ کتا ب خلقت کی کیفیت اور موجودات کی پیدائش کے بارے میں بحث کرتی ہے ۔
( ۲) ۔ کتاب ”۔ اور افشادہی ”یا ”سدرادہی “ یہ حضرت یحی ٰکی زندگی ۔ ان کے احکامات اور تعلیمات کے بارے میں ہے ۔ان کا اعتقاد ہے کہ یہ کتاب جبریل کے ذریعہ حضرت یحی پر وحی وا لہام ہوئی ۔
۳ ۔ کتاب ” قلستا “ یہ شادی بیاہ کے مراسم کے بارے میں ہے ۔
ان کے پاس اور بھی بہت سی کتابیں ہیں اختصار کے لئے ان سے صرِ ف نظر کیا جا رہا ہے ۔
محققین کے نزدیک اس دین کے پیرو کار وں کی کیفیت دیکھ کر یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ یہ لوگ حضرت یحی ٰ بن ذکریا کے پیرو ہیں ۔اس وقت اس مذہب کے پیرو تقریباََ پانچ ہزار افراد خوزستان ( دریائے کارون کے کنارے ) اہواز ، خرم شہر ، ابادان اور شادگان وغیرہ میں رہتے ہیں ۔
یہ لوگ اپنے مذہب کو حضرت یحی بن زکریا سے منسوب کرتے ہیں ۔ مسیحی جنہیں ” یحیی تعمید دہندہ “ یا ”یو حنا ی معمد “ کہتے ہیں(۱)
کتاب بلوغ الادب کا مولف کہتا ہے ۔صائبین ایک بہت بڑی قوم ہے ان کے بارے میں اختلاف اس مذہب کے افراد کی معرفت کے لحاظ سے ہے ۔
سورہ بقرہ کی زیر بحث آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جمعیت دو گروہوں مومن اور کافر میں تقسیم ہوتی ہے ۔
یہ حضرت ابراہیم خلیل کی وہی قوم ہے جس کی دعوت پر آپ مامور تھے ۔ یہ لوگ ” حران “ میں جو صائبین کی سر زمین ہے زندگی گزارتے تھے اور دو طرح کے تھے صائبین حنیف اور صائبین مشرک ۔
مشرک ، ستاروں ، آفتاب ، ماہتاب کا احترام کرتے تھے ۔ ان میں سے کچھ لوگ نماز روزہ کو بھی انجام دیتے تھے ، کعبہ کو محترم سمجھتے تھے اور حج بھی بجا لاتے تھے ۔ یہ لوگ مردار ، خون اور خنزیر کے گوشت نیز محارم سے نکاح کو مسلمانوں کی طرح حرام سمجھتے تھے ۔ اس مذہب کے پیرو کاروں میں سے کچھ لوگ بغداد میں حکومت کے اہم مناصب پر فائز تھے جن میں ایک ہلال بن محسن صابی بھی تھا ۔
ان لوگوں نے اپنے گمان کے مطابق اپنے دین کی بنیاد اس پر رکھی ہے کہ دنیا کے ہر مذہب کی اچھائی لے لو اور اس کی برائی سے دور رہو ۔ انہیں اسی بناء پر صائبین کہتے ہیں یعنی وہ لوگ جو کسی دین کے تمام احکام کی انجام دہی کی قید سے سرکشی کرتے ہیں ۔
لہذا یہ لوگ ایک لحاظ سے تما م ادیان کے موافق اور تمام ادیان کے مخالف ہیں ۔
صائبین حنیف کا ایک گروہ مسلمانوں سے ہم آہنگ ہوگیا ہے اور ان کے مشرک بت پرستوں کے ساتھ ہوگئے ہیں ۔
آخر بحث میں ہم دوبارہ ذکر کر دیں کہ اس گروہ کی دو قسمیں ہیں ۔ صائبین مشرک اور صائبین حنیف ۔ ان دونوں کے درمیان بہت مناظرے اور مباحثے ہوتے رہیں ہیں(۱)
مندرجہ بالا بحث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ بنیادی طور پر کسی پیغمبر خدا کے پیرو تھے اگرچہ جس سے وہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں اس پیغمبر کے تعین میں اختلاف ہے ۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہوا کہ وہ بہت کم لوگ ہیں جو ختم ہونے کے قریب ہیں ۔
____________________
۱ مزید تفصیلات کے لئے کتاب ” آراء و عقائد بشری کی طرف رجوع کریں ۔
۲۔ اقتباس از بلوغ الادب ج ۲ ، ص ۲۲۸ و ۲۳۳ ۔
آیات ۶۳،۶۴
( و اذ اخذ نا میثاقکم و رفعنا فوق کم الطور ط خذو ا ما اٰتینٰکم بقوة واذکروا ما فیه لعلکم تتقون ) ۶۳ ۔
( ثم تولیتم من بعد ذلک ج فلولا فضل الله علیکم و رحمته لکنتم من الخٰسرین ) ۶۴ ۔
ترجمہ
۶۳ ۔اور ( وہ وقت کہ )جب ہم نے تم سے عہد لیا اور کوہ طور کو تمہارے سروں کے اوپر مسلط کردیا اور (تمہیں کہا کہ ) جو کچھ آیات و احکام کی صورت میں ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے تھامو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد رکھو اور ( اس پر عمل کرو ) شاید اس طرح تم پرہیزگار بن جاؤ ۔
۶۴ اس کے بعد پھر تم نے روگردانی کی اور اگر تم پر خد ا کا فضل و رحمت نہ ہوتا تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوتے ۔
ان آیات میں بنی اسرائیل سے تورات میں شامل احکامات پر
ان آیات میں بنی اسرائیل سے تورات میں شامل احکامات پر عمل کرنے کے عہد و پیمان اور پھر ان کی طرف سے اس پیمان کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔
کہا گیا ہے : یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے تم سے عہد وپیمان لیا ۔( و اذ اخذنا میثاقکم ) اور کوہ طور کو تمہارے سروں پر مسلط کردیا ہے( ورفعنا فوقکم الطور ) اور تمہیں کہا گیا ہے کہ جو آیات الہٰی تمہیں دی گئی ہیں انہیں قدرت و قوت سے تھامو( خذ و ا ما اٰتینٰکم بقوة ) اور اس میں جو کچھ ہے اسے غور و فکر سے دل میں یاد رکھو اور اس پر عمل کرو ) تاکہ پرہیزگار ہوجاؤ( و اذ کرو ا مافیه لعلکم تتقون ) ۔
لیکن تم نے اپنے عہد وپیمان کو طاق نسیاں کردیا اور اس واقعے کے بعد روگرداں ہوگئے( ثم تولیتم من بعد ذٰلک ) اور اگر خدا کا فضل و رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتا و تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوتے ۔
( ۱) عہد و پیمان سے مراد :
یہاں عہد اپیمان سے مراد مقصود وہی ہے جس پر اس سورہ کی چالیسویں آیت میں بحث ہوچکی ہے اور آیت ۸۳ اور ۸۴ میں بھی شامل ہوگی ۔
اس عہد و پیمان میں یہ چیز یں شامل تھیں : پروردگار کی توحید پر ایمان رکھنا ، ماں باپ ، عزیز و اقارب ، یتیم اور حاجتمند وں سے نیکی کرنا اور خونریزی سے پرہیز کرنا ۔یہ کلی طور پر ان صحیح عقائد اور خدا ئی پروگراموں کے بارے میں عہد وپیمان تھا جن کا تورات میں ذکر کیا گیا تھا ۔
سورہ مائدہ کی آیت ۱۲ سے استفادہ ہوتا ہے کہ خدا نے یہودیوں سے عہد وپیمان لیا کہ وہ تمام انبیاء پر ایمان رکھیں گے اور ان کی کمک کریں گے اور راہ خدا میں صدقہ اور خرچ کریں گے نیز اس آیت کے آخر میں ضمانت دی گئی ہے کہ اس عہد پر عمل کریں گے تو اہل بہشت میں سے ہوجائیں گے ۔
( ۲) کوہ طور ان کے سروں پر مسلط کرنے سے کیا مقصود تھا :
عظیم اسلامی مفسر مرحوم طبرسی ، ابن زید کا قول اس طرح نقل کرتے ہیں :
جس وقت حضرت موسی کوہ طور سے واپس آئے اور اپنے ساتھ تورات لائے تو اپنی قوم کو بتایا کہ میں آسمانی کتاب لے کر آیا ہوں جو دینی احکام اور حلال و حرام پر مشتمل ہے ۔ یہ وہ احکام ہیں جنہیں خدا نے تمہارے لئے عملی پروگرام قطع قر دیا ہے ۔ اسے لے کر اس کے احکام پر عمل کرو ۔ اس بہانے سے کہ یہ ان کے لئے مشکل احکام ہیں ۔ یہودی نافرمانی اور سر کشی پر تل گئے۔ خدا نے بھی فرشتوں کو مامور کیا کہ وہ کوہ طور کا ایک بہت بڑا ٹکڑا ان کے سروں پر لاکر کھڑا کر دیں ۔ اسی اثناء میں حضرت موسٰی نے انہیں خبر دی کہ عہد وپیمان باندھ لو ، احکام خدا پر عمل کرو ، سرکشی و بغاوت سے توبہ کرو تو تم سے عذاب ٹل جائے گا ورنہ سب ہلاک ہوجاؤ گے ۔ اس پر انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا ۔ تو رات کو قبول کیا اور خدا کے حضور سجدہ کیا ۔ جب کہ ہر لحظہ وہ کوہ طور کے اپنے سروں پر گرنے کے منتطر تھے لیکن با لآ خر ان کی توبہ کی وجہ سے عذاب الٰہی ٹل گیا ۔
یہی مضمون سورہ بقرہ آیة ۹۳ میں سورہ نساء آیہ ۱۵۴ میں اور سورہ اعراف آیہ ۱۷۱ میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ بیان ہوا ہے ۔
” یہ نکتہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ کوہ طور کے بنی اسرائیل کے سروں پر مسلط ہونے کی کیفیت کے سلسلے میں مفسرین کی ایک جماعت کا اعتقاد ہے کہ حکم خداسے کوہ طور اپنی جگہ سے اکھڑ گیا اور سائبان کی طرح ان کے سروں پر مسلط ہوگیا ۔( اعراف ۔ ۱۷۱(۱)
جب کہ بعض دوسرے مفسرین یہ کہتے ہیں کہ پہاڑ میں سخت قسم کا زلزلہ آ یا ، پہاڑ اس طرح لرزنے اور حرکت کرنے لگا کہ جو لوگ پہاڑ کے دامن میں تھے انہوں نے پہاڑ کے ایک حصے کا سایہ اپنے سروں پر واضح طور پر دیکھا ، ایسا لگتا تھا کہ کسی بھی وقت وہ ان کے سروں پر آگرے گا لیکن خدا کے لطف وکرم سے زلزلہ رک گیا اور پہار اپنی جگہ پو قائم ہوگیا ۔(۲)
یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ پہاڑ کا ایک بہت بڑا ٹکڑا زلزلے اور شدید بجلی کے زیر اثر اپنی جگہ سے اکھڑ کر ان کے سروں کے اوپر سے بحکم خدا اس طرح گزرا ہو کہ چند لحظے انہوں نے اسے اپنے سروں پر دیکھا ہو اور یہ خیال کیا ہو کہ وہ ان پر گرنا چاہتا ہے لیکن یہ عذاب ان سے ٹل گیا اور وہ ٹکڑا کہیں دور جاکر گرا-
____________________
۱ ۔ مجمع البیان اور بعض دیگر تفاسیر ۔
۲ -ا لمنار زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
( ۳) کیا اس عہد وپیمان میں جبر کا پہلو ہے :
اس سوال کے جواب میں بعض کہتے ہیں کہ ان کے سروں پر پہاڑ کا مسلط ہونا ڈرانے اور دھمکانے کے طور پر تھا نہ کہ جبر واضطرار کے طور پر ورنہ جبر عہد وپیمان کی تو کوئی قدر وقیمت نہیں ہے ۔
لیکن زیادہ صحیح یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ سرکش اور باغی افراد کو تہدید و سزا کے ذریعہ حق کے سامنے جھکایا جائے ۔ یہ تہدید اور سختی وقتی طور پر ہے ان کے غرور کو توڑدے گی ۔ انہیں صحیح غور وفکر پر ابھارے گی اور اس راستے پر چلتے چلتے وہ اپنے ارادہ و اختیار سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے لگے ۔
بہر حال یہ پیمان زیادہ تر عملی پہلوؤں سے مربوط تھا ورنہ عقائد کو تو جبر واکراہ سے نہیں بدلا جاسکتا ۔
( ۴) کوہ طور :
طور سے مراد یہاں اسم ِ جنس ہے یا یہ مخصوص پہاڑ ہے ۔ اس سلسلے میں دو تفسیریں موجود ہیں ۔
بعض کہتے ہیں کہ طور اسی مشہور پہاڑ کی طرف اشارہ ہے جہاں حضرت موسیٰ پر وحی نازل ہوئی ۔
لیکن بعض کے نزدیک یہ احتمال بھی ہے کہ طورلغوی معنی کے لحاظ سے مطلق پہاڑ ہے ۔ یہ وہی چیز ہے جسے سورہ اعراف کی آیہ ۱۷۱ میں ” جبل “ سے تعبیر کیا گیا ہے :( و اذ نتقنا الجبل فوقهم )
( ۵) خذوا ما اتیناکم بقوة کا مفہوم : اس جملے کی تفسیر میں امام صادق سے منقول ہے کہ آنجناب سے لوگوں نے پوچھا :
قوة الابدان او قوة القلب
قوت و طاقت آیات الہٰی تھامنے سے مراد قوت جسمانی ہے یا قوت معنوی ۔
امام نے جواب دیا :فیها جمیعا
جسمانی و معنوی سب طاقتیں مراد ہیں ۱ ۔
یہ حکم تمام آسمانی ادیان کے پیرو کاروں کے لئے ہے کہ ہر زمانے میں ان تعلیمات کی حفاظت و اجراء کے لئے مادی و روحانی دونوں قوتوں اور توانائیوں کے ساتھ تیار رہیں ۔
____________________
۱ تفسیر المیزان زیر بحث آیت کے ذیل میں بحوالہ محاسن برقی ۔
آیات ۶۵،۶۶
( ولقد علمتم الذین اعتدو ا منکم فی السبت فقلنا لهم کونو ا قردة خٰسئین ) ۶۵ ۔
( فجعلنٰها نکالا لما بین یدیها و ما خلفها وموعظة للمتقین ) ۶۶
ترجمہ
۶۵ ۔ جنہوں نے ہفتہ کے دن کے بارے میں حکم کی نافرمانی اور گناہ کیا ۔ تمہیں ان کی حالت کا علم ہے کہ انہیں ہم نے دھتکار ے ہوئے بندروں کی شکل میں کر دیا ۔
۶۶ ۔ ہم نے عذاب کے اس واقعہ کو اس زمانے کے لوگوں کے لئے اور بعد میں آنے والوں کے لئے درس عبرت قرار دیا ہے اور پرہیز گاروں کے لئے اسے نصیحت بنایا ہے ۔
یہ دو آیات بھی گذشتہ آیات کی طرح
یہودیوں کی عصیان ونافرمانی کی روح اور مادی امور کی طرف ان کی شدید رغبت اور وابستگی کی طرف ا شارہ کرتی ہیں
پہلے کہا گیا ہے :تم ان کی حالت کو تو جانتے ہو جنہو ں نے تم میں سے ہفتہ کے دن کے بارے میں نافرمانی اور گناہ کیا تھا( ولقد علمتم الذین اعتدو ا منکم فی السبت )
نیز تمہیں یہ بھی علم ہے کہ ہم نے انکو کہا کہ دھتکارے ہوئے بندروں کی طرح ہو جاؤ( فقلنا لھم کونو ا قردة خٰسئین)
ہم نے اس واقعہ کو اس زمانہ کے لوگوں کے لئے اور بعد کے زمانے کے لوگوں کے لئے بھی درس عبرت قرار دیا ہے( فجعلنٰها نکالا لما بین یدیها و ما خلفها )
اور اسی طرح پرہیزگاروں کے لئے بھی پند ونصیحت قرار دیا ہے( وموعظة للمتقین )
اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا نے یہودیوں کو یہ حکم دے رکھا تھاکہ وہ ہفتہ کے دن تعطیل کیا کریں ۔ان میں سے کچھ لوگ دریا کے کنارے رہتے تھے اور آزمائش وامتحان کے طور پر انہیں حکم ملا کہ اس دن مچھلیاں نہ پکڑا کریں لیکن دوسرے دنوں کے برعکس ہفتہ کے دن مچھلیاں بڑی کثرت سے پانی کی اوپر والی سطح پر ظاہر ہو جاتی تھیں لہٰذا وہ کوئی حیلہ سوچنے لگے اور ایک قسم کے شرعی بہانے سے انہوں نے ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑ لیں ۔ خدا تعالی نے اس جرم کی سزا دی اور ان کے انسانی چہرے حیوانی شکل میں بدل گئے ۔
ان کے چہرے مسخ اور تبدیل ہونا جسمانی طور پر تھا یا نفسیاتی و اخلاقی طور پر ، نیز یہ کہ لوگ کہاں رہتے تھے اور کون سے بہانے کے ذریعہ انہوں نے مچھلیاں پکڑ ی تھیں ۔ ان تمام سوالات کے جوابات اور اس سلسلے کے دوسرے مسائل اسی تفسیر کی چھٹی جلد میں سورہ اعراف کی آیات ۱۶۳ سے ۱۶۶ تک کے ذیل میں آئیں گے۔
جملہ( کونو اقردة خاسئین ) (۱) سرعت عمل سے کنایہ ہے یعنی ایک اشارے اور فرمان سے تمام نافرمانوں کے چہرے بدل گئے ۔
یہ بات قابل غور ہے کہ امام باقر اور امام صادق سے اس آیت کے مفہوم کے بارے میں یوں منقول ہے :
ما بین یدیھا سے اس زمانے کی نسل اور ماخلفھا سے مراد ہم مسلمان ہیں یعنی یہ درس عبرت بنی اسرائیل سے مخصوص نہیں بلکہ یہ تمام انسانوں کے لئے ہے۔(۲)
____________________
۱ -خاسی ” خسارہ “ مادہ سے ہے جس کے معنی ذلت کے ساتھ دھکیلنا ہے ۔ یہ لفظ اصل میں کتے کو دور کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے یہاں اس سے دھتکارنے کا وسیع تر معنی لیا گیا ہے جس میں حقارت شامل ہے لہذا یہ لفظ دوسرے مواقع پر بھی استعمال ہو نے لگا
۲- تفسیر مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
آیات ۶۷، ۶۸، ۶۹،۷۰،۷۱،۷۲،۷۳،۷۴
۶۷ ۔( و اذ قال موسی ٰ لقومه ان الله یامر کم ان تذبحوا بقرة ط قالو ا اتتخذنا هزوا ط قال اعوذ بالله ان اکون من الجٰهلین )
۶۸ ۔( قالو ادع لنا ربک یبین لنا ماهی ط قال انه یقول انها بقرة لا فارض و لا بکر ط عوان بین ذٰلک ط فافعلو ا ما تومرون )
۶۹ ۔( قالوا ادع لنا ربک یبین لنا مالونها ط قال انه یقول انها بقرة صفراء فاقع لو نها تسر النٰظرین )
۷۰ ۔( قالو ادع لنا ربک یبین لنا ماهی ان البقرة تشٰبه علینا ط و انا ان شاء الله ) ( لمهتدون )
۷۱( قال انه یقول انها بقرة لا ذلول تثیر الارض ولا تسقی الحرث ج مسلمة لاشیة فیها ط قالو االئٰن جت بالحق فذبحو ها وما کادوا یفعلون )
۷۲ ۔( و اذ قتلتم نفسا فادٰرئتم فیها ط والله مخرج ما کنتم تکتمون )
۷۳ ۔( فقلنا اضربوه ببعضها ط کذٰلک یحی الله الموت و یریکم اٰیٰته لعلکم تعقلون )
۷۴ ۔( ثم قست قلوبکم من بعد ذٰلک فهی کاالحجارة او اشد قسوة ط و ان من الحجارة لما یتفجر منه الانهٰر ط و ان منها لما یشقق فیخرج منه الماء ط و ان منها لما یهبط من خشیة الله ط و ما الله بغافل عما تعملون )
ترجمہ
۶۷ ۔ اور ( اس وقت کو یاد کرو ) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو ( اور اس کے بدن کا ایک ٹکڑا اس مقتول کے ساتھ لگاؤ جس کا قاتل نہیں پہچانا جارہا تاکہ وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا تعارف کرائے اور یہ شور و غو غا ختم ہو ) وہ کہنے لگے تم ہم سے مذاق کرتے ہو ۔ ( موسیٰ نے کہا میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں میں سے ہوجاؤ ( اور کسی سے مذاق و استہزا کروں )
۶۸ ۔ وہ کہنے لگے ( تو پھر ) اپنے خدا سے یہ کہو کہ ہمیں واضح کرے کہ یہ کس قسم کی گائے ہونا چاہیے ۔ اس نے کہا : خدا فرماتا ہے کہ گائے نہ بوڑھی ہو کہ جو کام سے رہ گئی ہو اور نہ بالکل جوان ہو بلکہ ان کے درمیان ہو جو کچھ تمہیں حکم دیا گیا ہے ( جتنی جلدی ہوسکے ) اسے انجام دو ۔
۶۹ ۔ وہ کہنے لگے ! اپنے خدا سے کہو ہمارے لئے واضح کرے کہ اس کا رنگ کیسا ہو ۔ وہ کہنے لگا :خدا فرماتا ہے کہ وی زرد رنگ کی ہو ، ایسے رنگ کی جو دیکھنے والوں کو اچھا لگے ۔
۷۰ ۔ وہ کہنے لگے اپنے خدا سے کہیئے وہ واضح کرے کہ وہ کس قسم کی گائے ہو کیونکہ یہ گائے تو ہمارئے لئے مبہم ہوگئی ہے اور اگر خدا نے چاہا تو ہم ہدایت پالیں گے ۔
۷۱ ۔ اس نے کہا : خدا فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ تو اتنی سدھائی ہوئی ہوکہ زمین جوتے اور نہ ہی کھیتی سینچے ، بھلی چنگی اور ایک رنگ کی ہو جس میں کوئی دھبہ تک نہ ہو ۔ وہ کہنے لگے اب ( جاکے ) ٹھیک ٹھیک بیان کیا اور پھر انہون نے ( ایسی گائے تلاش کی ) اور اسے ذبح کیا حالانکہ وہ مائل نہ تھے کہ اس کام کو انجام دیں ۔
۷۲ ۔ اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا ، پھر ( اس کے قاتل کے بارے میں ) تم میں پھوٹ پڑگئی اور خدا نے ( اس حکم کے ذریعہ جو مندرجہ بالا آیات میں آیا ہے ) اسے آشکار کردیا جسے تم چھپا رہے تھے ۔
۷۳ ۔ پھر ہم نے کہا کہ اس گائے کا ایک ٹکرا مقتول کے ساتھ لگا دو ( تاکہ وہ زندہ ہوکر قاتل کی نشاندہی کردے ) ، اس طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمہیں اپنی آیات دکھاتا ہے کہ شاید تم سمجھ سکو ۔
۷۴ ۔ پھر اس واقعے کے بعد تمہارے دل پتھر کی طرح سخت ہوگئے بلکہ اس سے بھی زیادہ کیونکہ کچھ پتھر تو وہ ہیں جنسے نہریں جاری ہوتی ہیں اور بعض وہ ہیں جن میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں اور ان میں سے پانی کے قطرات ٹپکتے ہیں اور ان میں سے بعض خوف خدا سے ( پہاڑ کی بلندی سے ) نیچے گر جاتے ہیں ( لیکن تمہارے د ل نہ خوف ِ خدا سے دھڑکتے ہیں اور نہ ہی وہ علم و دانش اور انسانی احساسات کو سر چشمہ ہیں ) اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے ۔
بنی اسرائیل کی گائے کا واقعہ
سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل کے بارے میں ہم مختصر طور پر جو دیگر واقعات پڑھ چکے ہیں ان کے برعکس ان آیات میں یہ واقعہ تفصیل سے بیان ہوا ہے ۔ شاید اس کی یہ وجہ ہو کہ یہ واقعہ قرآن میں صرف ایک ہی دفعہ ذکر ہوا ہے ۔ علاوہ از ایں اس میں ایسے بہت سے نکات بھی نظر آتے ہیں جو بہت کچھ سکھاتے ہیں ۔ ان میں سے بنی اسرائیل کی بہانہ سازی اس ساری داستان میں واضح ہے نیز حضرت موسیٰ کی گفتگو سے ان کے ایمان کے درجات بھی ظاہر ہوتے ہیں ۔ یہ تمام چیزوں سے قطع نظر یہ واقعہ مسئلہ معاد وقیامت کی زندہ سند اور گواہ ہے ۔
پہلے ہم اس واقعے کی تشریح اور آیات کی تفسیر بیان کرتے ہیں بعد ازاں اس کے نکات کی طرف جائیں گے ۔
جیسا کہ اایات قرآن اور اقوال مفسرین سے ظاہر ہوتا ہے بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نامعلوم طور پر قتل ہوجاتا ہے اس کے قاتل کا کسی طرح پتہ نہیں چلتا بنی اسرائیل کے قبائل کے درمیان جھگرا اور نزاع شروع ہوجاتا ہے ۔ ان مین سے ہر ایک دوسرے قبیلے اور دیگر لوگون کو اس کاذمہ دار گردانتا ہے اور اپنے تئیں بری الذمہ قرار دیتا ہے ، جھگڑا ختم کرنے کے لئے مقدمہ حضرت موسیٰ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے اور لوگ آپ سے اس موقع پر مشکل کشائی کی درخواست کرتے ہیں اور اس کا حل چاہتے ہیں ۔ چونکہ عام اور معروف طریقوں سے اس فیصلے کا فیصلہ ممکن نہ تھا اور دوسری طرف اس کشمکش کے جاری رہنے سے ممکن تھا بنی اسرائیل میں ایک عطیم فتنہ کھڑا ہوجاتا لہذا جیسا کہ آپ ان آیات کی تفسیر میں پڑھیں گے حضرت موسیٰ پروردگار سے مدد لے کر اعجاز کے راستے اس مشکل کو حل کرتے ہیں(۱)
قرآن نے فرمایا : یاد کرو اس وقت کو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا ( قاتل کو تلاش کرنے کے لئے ) پہلی گائے ( جو تمہیں مل جائے اس کو ذبح کرو( و اذ قال موسیٰ لقومه ان الله یا مرکم ان تذبحو ا بقرة )
انہوں نے بطورتعجب کہا : میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں( قال اعوذ با الله ان اکون من الجٰهلین ) ۔ یعنی استہزاء اور تمسخر کرنا نادان اور جاہل افراد کا کام ہے اور خدا کا رسول یقینا ایسا نہیں ہے ۔
اس کے بعد انہیں اطمینان ہوگیا کہ استہزاء و مذاق نہیں بلکہ سنجیدہ گفتگو ہے تو کہنے لگے : اب اگر ایسا ہی ہے تو اپنے پروردگار سے کہیے کہ ہمارے لیے مشخص و معین کردے کہ وہ گائے کس قسم کی ہو( قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماهی ) ”اپنے خدا سے کہو “ ان کے سوالات میں یہ جملہ بتکرار آیا ہے ۔ اس میں ایک طرح کا سوئے ادب یا سربستہ استہزاء و مذاق پایا جاتا ہے ۔یہ کیوں نہیں کہتے تھے ” ہمارے خدا سے دعا کیجئے “ کیا وہ حضرت موسیٰ کے خدا کو اپنے خدا سے جدا سمجھتے تھے ۔
بہر حال حضرت موسیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا : خدا فرماتا ہے ایسی گائے ہو جو نہ بوڑھی ہو او بے کار ہوچکی ہو اور نہ ہی جو ان بلکہ ان کے درمیان ہو( قال انه یقول انها بقرة لا فارض ولا بکر عوان بین ذٰلک ) ۔(۲)
اس مقصد کے لئے کہ وہ اس سے زیادہ اس مسئلے کو طول نہ دیں اور بہانہ تراشی سے حکم ِ خدا میں تاخیر نہ کریں اپنے کلام کے آخر میں مزید کہا : جو تمہیں حکم دیا گیا ہے ( جتنی جلدی ہوسکے ) اسے انجام دو فافعلو ا ما توء مرون )۔لیکن انہوں نے پھر بھی زیادہ باتیں بنانے اور ڈھٹائی دکھانے سے ہاتھ نہیں اٹھایا اور کہنے لگے : اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ہمارے لئے واضح کرے کہ اس کا رنگ کیسا ہو( قالو ا ادع لنا ربک یبین لنا ما لونها ) ۔
موسیٰ نے جواب میں کہا : وہ گائے ساری کی ساری زرد رنگ کی ہو جس کارنگ دیکھنے والوں کو بھلا لگے ( و قال انہ یقول انھا بقرة صفراء فاقع لونھا تسر النٰظرین ّ ۔(۳)
خلاصہ یہ کہ وہ گائے مکمل طور پر خوش رنگ اور چمکیلی ہو ۔ ایسی دیدہ زیب کہ دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈال دے ۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ انہوں نے اس پر اکتفاء نہ کیا اور اسی طرح ہر مرتبہ بہانہ جوئی سے کام لے کر اپنے آپ کو اور مشکل میں ڈالتے گئے۔ پھر کہنے لگے اپنے پروردگار سے کہیے کہ ہمیں واضح کرے کہ یہ گائے ( کام کرنے کے لحاظ سے ) کیسی ہونی چاہیئے،
( قالوا ادع لنا یبین لنا ماهی ) ۔ کیونکہ یہ گائے ہمارے لئے مبہم ہوگئی ہے ( ان البقرہ تشابہ علینا ) اور اگر خدا نے چاہا تو ہم ہدایت پالیں گے( و انا ان شاء الله لمهتدون ) ۔
حضرت موسیٰ نے پھر سے کہا : خدا فرماتا ہے وہ ایسی گائے ہو جو اتنی سدھائی ہوئی نہ ہو کہ زمین جوتے اور کھیتی سینچے( قال انه یقول انها بقرة لا ذلول تثیر الارض ولا تسقی الحرث ) ہر عیب سے پاک ہو( مسلمة ) حتی کہ اس میں کسی قسم کا دوسرا رنگ نہ ہو( لاشیة فیها ) ۔
اب کہ بہانہ سازی کے لئے ان کے پاس کوئی سوال باقی نہ تھا ، جتنے سوالات وہ کر سکتے تھے سب ختم ہو گئے تو کہنے لگے : اب تو نے حق بات کہی ہے( قالوا الان جئت بالحق )
پھر جس طرح ہوسکا انہوں نے وہ گائے مہیا کی اور اسے ذبح کیا لیکن در اصل وہ یہ کام کرنا نہ چاہتے تھے( فذبحوها و ما کادو یفعلون )
اس واقعے کی جزئیات بیان کرنے کے بعد قرآن دوبارہ یہ تمام واقعہ بعد کی دو آیات میں مختصراََ بیان کرتا ہے :
یاد کرو اس وقت کو جب تم نے ایک آدمی کو قتل کردیا پھر اس کے قاتل کے بارے میں جھگڑ نے لگے اور خدا نے ایک حکم کے ذریعہ جو مندرجہ بالا آیات میں آیاہے ) جس چیز کو تم چھپائے ہوئے تھے آشکار کردیا( و اذقتلتم نفساََ فاد ارئتم فیها والله مخرج ماکنتم تکتمون ) ۔پھر ہم نے کہا اس گائے کا ایک حصہ مقتول پر مارو ( تاکہ وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا تعارف کرائے ( فقلنا اضربوہ ببعضھا ) ۴ بیشک خدا اسی طرح مردون کو زندہ کرتا ہے( کذٰلک یحی الله موتیٰ ) ۔
اور وہ تمہیں اپنی اس قسم کی آیات دکھاتا ہے تاکہ تم حقیقت کو پاسکو( و یریکم آیاته لعلکم تعقلون ) ۔
زیر بحث آیات میں سے آخری میں بنی اسرائیل کی قساوت اور سنگدلی کو بیان کیا گیا ہے : ان تمام واقعات کے بعد اور اس قسم کے آیا ت و معجزات دیکھنے کے باوجود تمہارے دل پتھر کی طرح سخت ہیں اور اس سے بھی زیادہ( ثم قست قلوبکم من بعد ذٰلک فهی کا لحجارة او اشد قسوة ) کیونکہ کچھ پتھر تو ایسے ہیں جن میں دراڑ پڑ جاتی ہے اور ان سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں( و ان من الحجارة لما یتفجر منه الانهار ) یا پھر بعض وہ ہیں جن میں شگاف پڑ جاتا ہے اور ان میں سے پانی کے قطرات ٹپکنے لگتے ہیں( و ان منها لما یشقق فیخرج منه الماء ) اور کبھی ان میں سے کچھ پتھر ( پہاڑ کی بلندی سے ) خوفِ خدا کے باعث گر پڑتے ہیں( و ان منها لما یهبط من خشیة الله ) لیکن تمہارے دل تو ان پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں ۔ ان سے علم و عواطف کا سر چشمہ مارتا ہے نہ محبت کے قطرات ٹپکتے ہیں اور نہ ہی یہ کبھی خوف ِ خدا سے دھڑکتے ہیں ۔
آخر ی جملے میں ہے : جو کچھ تم انجام دے رہے ہو خدا اس سے غافل نہیں ہے( و ما الله بغافل عما تعملون ) ۔
یہ در اصل اس گروہ بنی اسرائیل اور ان کے خطوط پر چلنے والے تمام لوگوں کے لئے تہدید ہے ۔
____________________
۱ ۔ اس طرف توجہ ضروری ہے کہ موجودہ تورات کی فصل ۲۱ سفر تثنیہ میں بھی اس واقعے کی طرف اشارہ موجود ہے البتہ موجودہ تورات میں جو کچھ ہے وہ ایک حکم کی صورت میں ہے جب کہ قرآن میں جو کچھ ہے وہ ایک واقعے کی صورت میں ہے ۔ بہر حال فصل ۲۱ میں پہلے جملے سے لے کر نویں جملے تک کی عبادت کچھ یوں ہے : اگر کسی مقتول کو ایسی زمین میں جو خدا وندے عالم نے تجھے میراث دی ہے۔ صحرا میں پڑا دیکھو اور معلوم نہ ہوسکے کہ اس کا قاتل کون ہے ۔ اس وقت تیرے مشائخ اور قاضی باہر جاکر ان شہروں کے فاصلے کی پیمائش کریں جو مقتول کے ارد گرد ہیں اور وہی شہر مقرر ہے جو مقتول کے زیادہ قریب ہے ۔
اس شہر کے مشائخ ہی اس گائے کو درہ ناہموار میں ایسی جگہ لے جائیں جہاں کوئی کھیتی باڑی نہ ہوئی ہو ۔ وہی درہ کے دروازے پر گائے کی گردن کاٹ دیں ۔ بنی لیوی کے کاہن حضرات نزدیک آئیں ۔ خدا وند تیرے خدا نے انہیں منتخب کیا ہے تاکہ وہ اس کی خدمت کریں اور خدا کے نام کے ساتھ دعائے خیر کریں اور نزاع اور جھگڑے کا فییصلہ ان کے حکم کے مطابق ہو اور وہ شہر جو قتل کے نزدیک ہے اس کے تمام مشائخ اپنے ہاتھ اس گائے پر دھو ئیں جو درہ کے دروازے پر ذبح ہوئی ہے اور بآواز کہیں کہ یہ خون ہمارے ہاتھوں نے نہیں بہایا اور ہماری آنکھوں نے نہیں دیکھا ۔ اے خدا وند ! : اپنی قوم اسرائیل کو کہ جسے دوبارہ تو نے خرید کیا ہے بخش دے اور اپنی قوم اسرائیل کو ناحق سے منسوب نہ کر اور وہ خون ان کے لئے معاف ہوجائے ۔ اس طریقہ سے خون ناحق اپنے درمیان سے رفع کرے گا ۔ کیونکہ خدا وند کی نظر میں وہی درست ہے جسے تو عمل میں لائے گا ( عہد قدیم مطبوعہ ۱۸۷۸
۲۔ ” فارض “ کے متعلق راغب مفردات میں کہتا ہے کہ یہ سن رسید ہ گائے کے معنی میں ہے ۔ لیکن بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ایسی بوڑھی جس سے بچہ نہ ہو سکے اور ”عوان “ کا معنی ہے درمیانی ۔
۳ ”فاقع “ کا معنی ہے خالص ، ایک جیسا زرد رنگ ۔
۴ ۔ بقرة آیہ ۶۹ تا ۷۳ ،
( ۱) زیادہ اور غیر مناسب سوالات :
اس میں شک نہیں کہ سوالات مشکلات کے حل کی کلید ہیں اور جہل و نادانی کو دور کرنے کا نسخہ ہیں لیکن ہر چیز کی طرح اگر یہ بھی حد سے تجاوز کر جائیں یا بے موقع کئے جائیں تو کجروی کی علامت ہیں اور نقصان دہ ہیں جیسے اس داستان میں ہم اس کو نمونہ دیکھ رہے ہیں ۔بنی اسرائیل کو حکم تھا کہ وہ ایک گائے ذبح کریں ۔ اس میں شک نہیں کہ اگر اس گائے کی قید یا خاص شرط ہوتی توخدا ئے حکیم و دانا جب انہیں حکم دے رہا تھا اسی وقت بیان کردیتا لہذا معلوم ہوا کہ اس حکم کو بجالانے کےلئے اور شرط نہ تھی اسی لئے لفظ ” بقرة “ اس مقام پر نکرہ کی شکل میں ہے لیکن وہ اس مسلمہ بنیاد سے بے پرواہ ہوکر طرح طرح کے سوالات کرنے لگے ۔ شاید وہ یہ چاہتے ہوں کہ حقیقت مشتبہ ہوجائے اورقا تل کا پتہ نہ چل سکے اور یہ اختلاف اسی طرح بنی ا سرائیل میں رہے ، اور قرآن کا یہ جملہ ”( فذبحوها وما کادو یفعلون ) “ بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی ” انہوں نے گائے ذبح کر تو دی لیکن وہ چاہتے نہ تھے کہ یہ کام انجام پائے “۔
اس داستان کے سلسلے کی آیت ۷۲ سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے کم از کم ایک گروہ قاتل کو جانتا تھا اور اصل واقعے سے مطلع تھا ۔ شاید یہ قتل ان کے سوچنے سمجھنے منصوبے کے مطابق کیا گیا تھا کیونکہ اس آیت میں ہے ” واللہ مخرج ما کنتم تکتنون “ یعنی تم جسے چھپاتے ہو خدا اسے آشکار کردے گا “۔ان سب سے قطع نظر ہٹ دھرم اور خواد پسند قسم کے لوگ باتیں بنایا کرتے ہیں اور زیادہ سولات کرتے ہیں اور ہر چیز کے لئے بہانہ سازی کیا کرتے ہیں ۔ قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ اصولی طور پر وہ خدا کے متعلق معرفت رکھتے تھے اور نہ ہی حضرت موسی ٰ کے مقام کو سمجھتے تھے اسی لئے تو ان سب سوالوں کے بعد یہ کہنے لگے ”( اٰلان جئت بالحق ) “ یعنی اب تم حق بات لائے ہو گویا اس سے پہلے جو کچھ تھا باطل تھا ۔بہر حال انہوں نے جتنے سوالات کئے خدا نے ان کی ذمہ داری کو اتنا ہی سخت تر کر دیا کیونکہ ایسے لوگ اسی قسم کے بدلے کے مستحق ہوتے ہیں ۔ اسی لئے روایات میں ہے کہ جس مقام پرخدا نے خاموشی اختیار کی ہے وہاں پوچھ گچھ اور سوال نہ کرو کیونکہ اس میں ضرو ر کوئی حکمت ہوگی ۔ اسی بناء امام علی بن موسی ٰ الرضا سے روایت ہے: اگر انہوں نے ابتداء ہی میں کوئی گائے منتخب کرلی ہوتی اور اسے ذبح کردیتے تو کافی تھا ۔ولکن شدداوفشد الله علیهم لیکن انہوں نے سختی کی تو خدا نے بھی سخت رویہ اختیار کیا ۔(۱)
____________________
۱ المیزان زیر بحث آیت کے ذیل میں بحوالہ تفسیر عیاشی ۔
( ۲) یہ تمام اوصاف کس لئے تھے :
جیسا کہ ہم کہ چکے ہیں ابتداء میں بنی اسرائیل کی ذمہ داری مطلق تھی اور اس میں کوئی قید و شرط نہ تھی لیکن ان کی شدت اور ذمہ داری ادا کرنے میں پس و پیش نے ان کے لئے حکم کو بدل دیا اور زیادہ سخت ہوگیا(۱)
لیکن اس کے باوجود یہ بھی ممکن ہے کہ بعد میں جو شرائط اور قیود لگائی گئیں وہ انسانی برادری کی اجتماعی زندگی کی کسی حقیقت کی طرف اشارہ ہوں ۔ گویا قرآن اس نکتے کو بیان کرنا چاہتا ہے کہ کہ ایک ایسی حیات بخش صورت کی ضرورت ہے جو ذلول نہ ہو یعنی بلا شرط تسلیم ہو اور قید و شرط کی وجہ سے بوجھل ، اسیر اور زبردست نہ ہو اور یو نہی اس میں مختلف رنگ بھی نظر نہیں آنے چاہئیں بلکہ یک رنگ اور خالص ہو ۔
جو لوگ رہبری اور معاشرے کو زندہ کرنے کے لئے اٹھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ مردہ افکار کو زندہ کیا جائے انہیں دوسروں کا مطیع نہیں ہونا چاہئے ۔ مال و ثروت ، فقر و تونگری ، طاقت اور افرادی قوت یہ چیز یں ان کے مقصد پر اثر انداز نہ ہوں ۔ خدا کے علاوہ کوئی چیز ان کے دل میں جاگزیں نہ ہو ۔ وہ صرف حق کے لئے سرتسلیم خم کریں ۔ وہ دین و آئین کے پا بند ہوں ۔ ان کے وجود پر خدائی رنگ کے علا وہ کوئی رنگ اثر پزیر نہ ہو ۔ ایسے ہی لوگ اضطراب اور تشویش کے بغیر لوگوں کے کام آسکتے ہیں لیکن اگر دل دنیا کی طرف مائل ہو اور دنیا کا غلام ہو ۔ اس پر مادیت رنگ چڑھ گیا ہو اور اس رنگ کی وجہ سے وہ عیب دار ہوجائے تو ایسا شخص اس عیب اور نقص کی وجہ سے مردہ دلوں کو زندہ نہیں کرسکتا اور نہ حیات بخش صورت پیدا کرسکتا ہے۔
____________________
۱۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمل سے پہلے نسخ حکم مصالح کے پیش نظر جائز ہے اور شریعت موسیٰ میں نسخ احکام ہوتا تھا ۔ یہ بات اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ کبھی سخت حکم سزا کے لئے بھی ہوتا ہے ۔اس سلسلے کی دیگر بحثیں اپنے اپنے مقام پر موجود ہیں ۔
قتل کا سبب کیا تھا :
تواریخ ا ور تفاسیرسے جو کچھ ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ قتل کا سبب مال تھا یا شادی ۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک ثروت مند شخص تھا ۔ جس کے پاس بے پناہ دولت تھی ۔ اس د ولت کا وارث اس کے چچا زاد بھائی کے علاوہ کوئی نہ تھا ۔وہ دولت مند کافی عمر رسید ہ ہوچکا تھا ۔ اس کے چچا زاد بھائی نے بہت انتظار کیا کہ دنیا سے چلا جائے تاکہ اس کا وارث بن سکے لیکن اس کا انتظار بے نتیجہ رہا لہذا اس نے اسے ختم کردینے کا تہیہ کرلیا اور بالآخر اسے تنہائی میں پاکر قتل کردیا اور اس کی لاش سڑک پر رکھ دی اور گریہ و زاری کرنے لگا اور حضرت موسیٰ کی بارگاہ میں مقدمہ پیش کیا کہ بعض لوگوں نے میرے چچا زاد بھائی کو قتل کردیا ہے ۔
بعض دیگر مفسرین کہتے ہیں کہ قتل کا سبب یہ تھا کہ اپنے چچا زاد بھائی کو قتل کرنے والے نے اس سے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا لیکن اس نے یہ درخواست رد کردی اور لڑکی کو بنی اسرائیل کے ایک پاکباز جوان سے بیاہ دیا ۔ شکست خوردہ چچا زاد نے لڑکی کے باپ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا اور چھپ کر اسے قتل کردیا ۔ اور حضرت موسی ٰ کے پاس شکایت لے کر آیا کہ اس کا چچا زاد بھائی قتل ہوگیا اور اس کے قاتل کو تلاش کیا جائے ۔
چونکہ قرآن کا طریق کار ہے کہ گذشتہ واقعات کو ہمہ گیر حیثیت سے اور قاعدہ کلیہ کے طور پر تربیتی نقطہ نظر سے بیان کرے لہذا ضمناََ یہ بھی ممکن ہے اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ مفاسدہ کا سر چشمہ اور قتل و غارت کی وجہ دو موضوعات ہوتے ہیں ایک ثروت و دولت اور دوسرا بے قید جنسی خواہشات ۔
( ۴) اس داستان کے عبرت خیز نکات :
یہ عجیب داستان خدا کی ہر چیز پر لامتناہی قدرت کی دلیل کے علاوہ مسئلہ معاد پر بھی دلالت کرتی ہے ۔ اسی لئے آیہ ۷۳ میں ہے : ”( کذٰلک یحی الله الموتیٰ ) “یعنی اسی طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے ۔ یہ مسئلہ معاد کی طرف اشارہ ہے ۔ ” ویریکم آیاتہ “ وہ اپنی آیات تمہیں دکھاتا ہے “ پروردگار کی قدرت و عظمت کی طرف اشارہ ہے ۔ اس کے علاوہ یہ آیت اس بات کی نشاندہی بھی کرتی ہے کہ اگر خدا کسی گروہ پر غضبناک ہوتا ہے تو ایسا بغیر وجہ اور دلیل کے نہیں ہوتا کیونکہ اس واقعے میں بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کے سامنے جو باتیں کرتے تھے وہ نہ صرف حضرت کے ساتھ انتہائی جسارت آمیز سلوک تھا بلکہ خداتعالی کی مقدس بارگاہ کے لحاظ سے بھی بے ادبی اور جسارت تھی ۔
ابتداء میں کہتے ہیں ” کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو “ گویا خدا کے عظیم پیغمبر کو مذاق کا الزام دے رہے تھے ۔ بعض اوقات کہتے ” اپنے خدا سے خواہش کرو “ تو کیا موسیٰ کا خدا ان کے خدا کے علاوہ کوئی اور تھا ۔ جب کہ حضرت موسیٰ انہیں صراحت سے کہ چکے تھے کہ ” خدا نے تمہیں حکم دیا ہے “ ایک جگہ کہتے ہیں ” اگر اس سوال کا جواب دے دو تو ہم ہدایت حاصل کرلیں گے “ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارا بیان نا مکمل اور گمراہی کا سبب ہے اور آخر میں کہتے ہیں ” اب حق بات لے آئے ہو ۔
یہ سب باتیں ان کی جہالت ، نادانی ، خود خواہی اور ہٹ دھرمی پر دلالت کرتی ہیں ۔
علاوہ از ایں یہ داستان ہمیں درس دیتی ہے کہ ہمیں سخت گیر نہیں ہونا چاہیئے تاکہ خدا بھی ہم پر سختی نہ کرے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ شاید گائے کو ذبح کرنے کے لئے اس سے منتخب کیا گیا ہو کہ بچی کھچی گاؤ پرستی اور بت پرستی کی فکر ان کے دماغ سے نکل جائے ۔
باپ سے نیکی
اس موقع پر مفسرین بیان کرتے ہیں کہ( اس قسم کی گائے اس علاقے میں ایک ہی تھی ۔ بنی اسرائیل نے اسے بہت مہنگے داموں خریدا ۔ کہتے ہیں اس گائے کا مالک ایک انتہائی نیک آدمی تھا جو اپنے باپ کا بہت احترام کرتا تھا ۔ ایک دن جب اس کا باپ سویا ہوا تھا اسے ایک نہایت نفع بخش معاملہ پیش آیا ، صنداق کی چابی اس کے باپ کے پاس تھی لیکن اس خیال سے کہ تکلیف اور بے آرامی نہ ہو اس نے اسے بیدار نہ کیا لہذا اس معاملے سے صرف نظر کرلیا ۔ بعض مفسرین کے نزدیک بیچنے والا ایک جنس ستر ہزار میں اس شرط پر بیچنے کو تیار تھا کہ قیمت فوراََ ادا کی جائے اور قیمت کی ادائیگی اس بات پر موقوف تھی کہ خریدنے کے لئے اپنے باپ کو بیدار کرکے صندوقوں کی چابیاں اس سے حاصل کرے ۔وہ ستر ہزار میں خریدنے کو تیار رتھا لیکن کہتا تھا کہ قیمت باپ کے بیدار ہونے پر ہی دوں گا ۔خلاصہ یہ کہ سودا نہ ہوسکا ۔ خدا وند عالم نے اس نقصان اور کمی کو اس طرح پورا کیا کہ اس جوان کے لئے گائے کی فروخت کا یہ نفع بخش موقع فراہم کیا ۔بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ باپ بیدار ہوا تو اسے واقعے سے آگاہی ہوئی ۔ اس نیکی کی وجہ سے اس نے وہ گائے اپنے بیٹے کو بخش دی اس طرح اسے وہ بے پناہ نفع میسر آیا(۱) رسول اسلام اس موقع پر فرماتے ہیں ۔انظرو الی البر ما بلغ باهله نیکی کو دیکھو وہ نیکو کاروں سے کیا کرتی ہے
____________________
۱) تفسیر الثقلین ، ج اول ، ص ۸۸
آیات ۷۵، ۷۶،۷۷
۷۵ ۔( افتطمعون ان یو منو ا لکم و قد کان فریق منهم یسمعون کلٰم الله ثم یحرفونه من بعد ما عقلوه وهم یعلمون )
۷۶-( و اذا لقو ا الذین آمنو اقالو ا آمنا ج و اذا خلا بعضهم الی بعض قالوا اتحدثونهم بما فتح الله علیکم لیحاجوکم به عند ربکم ط افلا تعقلون )
۷۷( اولا یعلمون ان الله یعلم ما یسرون وما یعلنون )
ترجمہ
۷۵ ۔ کیا تم یہ توقع رکھتے ہو کہ وہ تم پر ( یعنی تمہارے آئین کے احکامات پر ) ایمان لے آئیں گے حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کلام خدا کو سنتا تھا اور سمجھنے کے بعد اس میں تحریف کردیتا تھا جب کہ وہ لوگ علم و اطلاع بھی رکھتے تھے ۔
۷۶ ۔ جب مومنین سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب ایک دوسرے سے خلوت کرتے ہیں تو ان میں سے بعض دوسروں اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ان مطالب کو مسلمانوں کے سامنے کیوں دہراتے ہو جو خدا نے ( رسول ِ اسلام کی صفات کے بارے میں تم سے بیان کئے ہیں کہ کہیں ( قیامت کے دن ) بارگاہ الہٰی میں تمہارے خلاف وہ ان سے استدلال کریں ،کیا تم سمجھتے نہیں ہو ۔
۷۷ ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ان کے اندرونی اور بیرونی اسرار سے واقف ہے ۔
تفسیر
شان ِنزول
بعض مفسرین مندرجہ بالا آخری دو آیات کے شان ِ نزول کے سلسلے میں امام باقر سے اس طرح نقل کرتے ہیں :
یہودیوں کے ایک گروہ کے لوگ جو حقیقت کے دشمن نہ تھے ۔ جب مسلمانوں سے ملاقات کرتے تو جو تورات میں پیغمبر اسلام کی صفات کے متعلق آیا تھا انہیں سنادیتے تھے ۔ یہودیوں کے بڑے لوگ اس سے آگاہ ہوئے اور انہیں منع کیااور کہا کہ محمد کی وہ صفات جو تورات میں آئی ہیں تم انہیں ان کے سامنے بیان نہ کرو کہ کہیں خدا کے سامنے ان کے پاس تمہارے خلاف کوئی دلیل نہ بن جائیں ۔ یہ آیات نازل ہوئیں اور انہیں جواب دیا گیا
____________________
۱ ۔ تفسیر ابن کثیر ، ج اول
انتظار بیجا
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ان آیات میں خدا بنی اسرائیل کا واقعہ چھوڑ کر مسلمانوں سے خطاب کر رہا ہے اور ایک سبق آموز نتیجہ پیش کرتا ہے ۔
کہتا ہے : تم کس طرح یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ قوم تم پر ( یعنی تمہارے دین کے احکامات پر ) ایمان لے آئے گی ۔ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ خدا کی باتیں سننے ، سمجھنے اور ادراک کرنے کے بعد ان میں تحریف کردیتا ہے ۔ جب کہ ان لوگوں کو علم و اطلاع بھی ہے( افتطمعون ان یومنو ا لکم وقد کان فریق منهم یسمعون کلٰم الله ثم یحرفونه من بعد ما عقلوه هم یعلمون ) ۔
اگر تم دیکھتے ہو کہ یہ قرآن کے زندہ بیانات اور پیغمبر اسلام کے اعجاز کے سامنے سرنگوں نہیں ہوتے تو اسے اہمیت نہ دو کیونکہ یہ انہی لوگوں کی اولاد ہیں جو قوم کے منتخب افراد کی حیثیت سے موسیٰ بن عمران کے ساتھ کوہ طور پر گئے تھے ، انہوں نے خدا کی باتیں سنی تھیں اور اس کے احکام کو سمجھا تھا لیکن ان میں سے بعض جب لوٹ کر آئے تو کلام ِ خدا میں تحریف کردی ۔
”( قد کان فریق منهم ) “ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سب تحریف کرنے والے نہ تھے ۔ پھر بھی یہ اس بات کے لئے کافی تعداد تھی کہ پیغمبر اسلام کے ہم عصر یہودیوں کے عناد و دشمنی پر تعجب نہ کیا جائے ۔
اسباب النزول میں ہے کہ یہودیوں کا ایک گروہ جب کوہ طور سے واپس آیا تو لوگوں سے کہنے لگا کہ ہم نے خود سنا ہے کہ خدا نے موسیٰ کو یہ حکم دیا ہے کہ ہمارے فرامین کو جتنا بجالاسکتے ہو انجام دو اور جنہیں بجا نہیں لاسکتے انہیں چھوڑ دو ۔
بہر حال ابتداء میں یہ توقع بجا تھی کہ قوم یہود دوسرے سے پہلے اسلام کی آواز پر لبیک کہے گی کیونکہ ( مشرکین کے برخلاف ) وہ لوگ اہل کتاب تھے ۔ علاوہ از ایں انہوں نے رسول اسلام کی صفات بھی اپنی کتاب میں پڑھی تھیں لیکن قرآن کہتا ہے ان کے ماضی پر نظر کرتے ہوئے ان سے توقع کا محل نہیں کیونکہ بعض اوقات کسی گروہ کی صفات اور مزاج کی کجروی اس بات کا سبب بنتی ہے کہ حق سے انتہائی قرب کے باوجود اس سے دور رہے ۔
بعد کی اایت اس حیلہ گر اور منافق گروہ کے متعلق ایک اور حقیقت کی نقاب کشائی کرتی ہے ۔ قرآن کہتا ہے : ان میں سے پاک دل لوگ جب مومنین سے ملاقات کرتے ہیں تو اظہار ایمان کرتے ہیں ( اور پیغمبر کی وہ صفات جو ان کی کتب میں موجود ہیں ان کی خبر دیتے ہیں )( و اذا لقوا لذین اٰمنوا قالوا اٰمنا ) لیکن علیحدگی اور خلوت میں ان سے ایک گروہ کہتا ہے تم ان مطالب کو جو خدا نے تورات میں تمہارے لئے بیان کئے ہیں مسلمانوں کو کیوں بتاتے ہو( و اذا خلا بعضهم الی بعض قالوا اتحدثونهم بما فتح الله علیکم ) کہ کہیں قیامت کے دن خدا کے سامنے تمہارے خلاف ان سے استدلال کریں ، کیا تم یہ سمجھتے نہیں( لیحاجوکم به عند ربکم ط افلا تعقلون ) ۔
اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ آیت کی ابتداء یہودی منافقین کے سلسلے میں گفتگو کر رہی ہو ، جو مسلمانوں کے سامنے ایمان کا دم بھرتے ہیں اور تنہائی میں انکا ر کردیتے ہیں یہاں تک کہ یہودیوں میں سے پاک دل لوگوں کو بھی سر زنش کرتے ہیں کہ تم نے کتب مقدس کے اسرار سے مسلمانوں کو کیوں آگاہ کیا ہے ۔
بہر حال یہ پہلی آیت کے بیان کی تائید کرتی ہے یعنی جس گروہ کے ذہنوں پر ایسے خیالات کا قبضہ ہے ان سے ایمان کی اتنی توقع نہ رکھا کرو۔
”فتح اللہ علیکم “ سے مراد ممکن ہے خدا کا وہ فرمان و حکم ہو جو بنی اسرائیل کے پاس تھا اوریہ بھی ممکن ہے کہ یہ ان کے لئے نئی شریعت سے متعلق خبروں کے دروازں کے کھلنے کی طرف اشارہ ہو ۔
اس آیت سے ضمنی طور پر یہ بھی بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ اس منافق گروہ کا اللہ کے بارے میں ایمان اس قدر کمزور تھا کہ وہ اسے ایک مادی انسان کی طرح سمجھتے تھے اور تصور کرتے تھے کہ اگر کوئی حقیقت مسلمانوں سے چھپالیں تو وہ خدا سے بھی چھپی رہے گی لہذا بعد کی اایت صراحت سے کہتی ہے : کیا یہ نہیں جانتے کہ خدا ان کے اندرونی اور بیرونی اسرار سے آگاہ ہے( ولا یعلمون ان الله یعلم مایسرون وما یعلنون ) ۔
آیات ۷۸،۷۹
۷۸ ۔( و منهم امیون لا یعلمون الکتٰب الا امانی وان هم الا یظنون )
۷۹( فویل للذین یکتبون الکتٰب بایدیهم ثم یقولون هذا من عند الله لیشترو ا به ثمناََ قلیلا ط فویل لهم مما کتبت ایدیهم و ویل لهم مما یکسبون )
ترجمہ
۷۸ ۔ اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب خدا کو چند خیالات اور آرزوؤں کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتے اور انہون نے فقط اپنے گمانوں سے وابستگی اختیار کرلی ہے ۔
۷۹ ۔ افسوس اور ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو کچھ مطالب اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے تاکہ اسے تھوڑی سی قیمت پر فروخت کرسکیں ۔ افسوس ہے ، ان پر اس سے جو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں جو کچھ وہ کماتے ہیں ان پر اس کے لئے بھی افسوس ہے ۔
شان نزول
وہ اوصاف پیغمبر جو تورات میں آئے تھے بعض علماء یہود نے انہیں تبدیل کردیا ۔ انہوں نے یہ تبدیلی اپنے مقام و منصب کی حفاظت کی خاطرکی تھی اور ان منافع کی خاطر جو انہوں ہر سال عوام کی طرف سے ملتے تھے ۔ جب پیغمبر اسلام مبعوث ہوئے تو انہوں نے آپ کے اوصاف کو تورات میں بیان کردہ اوصاف کے مطابق پایا ۔ اس پر انہیں ڈر ہوا کہ حقیقت کے واضح ہونے کی صورت میں ان کے منافع خطرے میں پڑ جائیں گے لہذا انہوں نے تورات میں مذکورحقیقی اوصاف کے بجائے ان کے مخالف اوصاف لکھ دیئے ۔ یہود ی عوام نے وہ اوصاف کم و بیش سن رکھے تھے اس لئے وہ اپنے علماء سے پوچھتے کہ کیا یہ وہی پیغمبر ِ موعود نہیں جس کے ظہور کی آپ ہمیں بشارت دیا کرتے تھے ۔ اس پر وہ تورات کی تحریف شدہ آیات پڑھتے تھے تاکہ وہ خاموش ہوجائیں(۱)
____________________
۱۔ مجمع البیان میں زیر نظر آیت کے ذیل میں اجمالی طور پر یہ شان نزول بیان کی گئی ہے اور تفصیلی طور پر دیگر متعلقہ آیات کے ذیل میں بیان کی گئی ہے ۔
عوام کو لوٹنے کی یہودی سازش
گذشتہ آیات کے بعد محل بحث آیات یہودیوں کو واضح گروہوں میں تقسیم کرتی ہیں ۔ عوام اور حیلہ ساز علماء ( البتہ ان میں سے کچھ علماء ایسے بھی تھے جو ایمان لے آئے اور انہوں نے حق کو قبول کرلیا اور مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہوگئے ) ۔
قرآن کہتا ہے :ان میں سے ایک گروہ میں سے ایسے افراد ہیں جو علم نہیں رکھتے اور کتاب خدا میں سے چند ایک خیالات اور آرزوئیں اخذ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں جانتے اور انہوں نے صرف اپنے ظن و گمان سے وابستگی اختیار کرلی ہے( و منهم امیون لا یعلمون الکتاب الا امانی و ان هم الا یظنون ) ۔
امیون ”امی “ کی جمع ہے ۔ یہاں یہ لفظ ان پڑھ اور لا علم کے معنی میں استعمال ہوا یعنی جس حالت میں شکم مادر سے پیدا ہوا اسی طرح رہ گیا اور کسی استاد کے مدرسے کو نہیں دیکھا ۔
ہو سکتا ہے یہ لفظ اس طرف اشارہ کر رہا ہو کہ کچھ مائیں جاہلانہ محبت اور الفت کی وجہ سے اپنی اولاد کو جدا نہیں کرتیں تھیں اور اسے مدرسہ جانے کی اجازت نہیں دیتی تھیں لہذا وہ لوگ بے علم رہ جاتے تھے(۱)
امانی ” امنیہ “کی جمع ہے جس کے معنی ” آرزو “ ہے ممکن ہے یہاں ان موہوم خیالات اور امتیازات کی طرف اشارہ ہو یہودی اپنے بارے میں جن کے قائل تھے ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ کہا کرتے تھے ہم خدا کی اولاد اور اس کے خاص دوست ہیں ۔( نحن ابنٰؤا الله و احباؤه ) ( مائدہ ۔ ۱۸
اور یہ بھی کہ کہا کرتے تھے کہ چند دن کے سوا جہنم کی آگ ہم تک ہرگز نہیں پہنچے گی ( بعد کی آیات میں یہودیوں کی اس گفتگو پر بحث ہوگی)۔
یہ بھی احتمال ہے کہ ” امانی “ سے مقصود وہ تحریف شدہ آ یات ہو ں جو علماء یہود عوام کے ہاتھوں میں دے دیتے تھے اور شاید جملہ ”( لا یعلمون الکتاب ) “ اس مفہوم کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ۔
بہر حال اس آیت کا آخری حصہ ان ھم الا یظنون ، اس بات کی دلیل ہے کہ اساس و اصول دین اور مکتب ِ وحی کو پہچاننے کے لئے ظن و گمان کی پیروی صحیح کام نہیں بلکہ لائق سرزنش ہے چاہیئے کہ ہر شخص اس سلسلے میں تحقیق کے ساتھ کافی قدم اٹھائے ،علمائے یہود کا ایک اور گروہ تھا جو اپنے فائدے کے لئے حقائق میں تحریف کردیتا تھا جیسا کہ قرآن بعد کی آیت میں کہتا ہے :افسوس ہے ان لوگوں پر جو کچھ مطالب اپنے ہاتھ سے لکھ دیتے ہیں پھر کہتے ہیں یہ خدا کے طرف سے ہیں( فویل للذین یکتبون الکتاب بایدیهم ثم یقولون هذا من عند الله ) اور ان کی غرض یہ ہے کہ اس کا م سے تھوڑی سی قیمت وصول کریں( لیشتروا به ثمنا قلیلا ) افسوس ہے ان پر اس سے جو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں( فویل لهم مما کتبت ایدیهم ) اور افسوس ہے ان پر اس سے جسے وہ خیانتوں کے ذریعہ کماتے ہیں( وویل لهم مما یکسبون )
اس آیت کے آخر ی الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے وسیلہ بھی ناپاک اختیار کیا اور اس سے نتیجہ بھی غلط حاصل کرتے تھے بہ الفاظ دیگر جب کام حرام ہے تو کمائی حرام ہوگی :
ان الله اذا حرم شیئا حرم ثمنه یقینا جب اللہ نے کوئی چیز حرام قرار دی ہے تو اس کا مول بھی حرام کیا ہے ۔
بعض مفسرین نے زیر بحث آیت کے ضمن میں حضرت صادق سے ایک حدیث نقل کی ہے جو قابل غور نکات کی حامل ہے ۔حدیث اس طرح ہے :
ایک شخص نے امام صادق کی خدمت میں عرض کیا : یہودی عوام جب اپنے علماء کے بغیر اپنی آسمانی کتاب کے متعلق کوئی اطلاع نہ رکھتے تھے پھر علماء کی تقلید اور ان کے قول کو قبول کرنے پر خدا ان کی مذمت کیوں کرتا ہے اور کیا یہودی عوام اور ہمارے عوام میں جو اپنے علماء کی تقلید کرتے ہیں کوئی فرق ہے ؟
امام نے فرمایا : ہمارے عوام اور یہود ی عوام کے درمیان ایک لحاظ سے فرق ہے اور ایک لحاظ سے مساوات جس لحاظ سے دونوں مساوی ہیں اس جہت سے خدا نے ہمارے عوام کی بھی اسی طرح مذمت کی ہے ۔ رہی وہ جہت جس میں وہ ان سے مختلف ہیں وہ یہ کہ یہودی عوام اپنے علماء کی حالت سے آشنا تھے وہ جانتے تھے کہ ان کے علماء جان بوجھ کر جھوٹ بولتے ہیں ،حرام اور رشوت کھاتے ہیں اور احکام الہٰی میں تغیر و تبدل کرتے ہیں ۔ اپنی فطرت سے وہ یہ حقیقت جانتے تھے کہ ایسے لوگ فاسق ہیں اور یہ جائز نہیں کہ خدا اور اس کے احکام کے بارے میں ان کی باتیں قبول کی جائیں اور یہ بھی جانتے تھے کہ انبیاء و مرسلین کے بارے میں ان کی شہادت قبول کرنا مناسب نہیں ۔ اسی بنا ء پر خدا نے ان کی مذمت کی ہے ۔ اسی طرح اگر ہمارے عوام بھی اپنے علماء سے ظاہر بہ ظاہر فسق و فجور اور سخت تعصب دیکھیں اور انہیں دنیا و مال دنیا حرام پر حریص ہوتا دیکھیں پھر بھی جو شخص ان کی پیروی کرے وہ یہود یوں کی طرح ہے خدا وند عالم نے فاسق علماء کی پیروی کی وجہ سے ان کی مذمت کی ہے ۔
فا ما من کان من الفقها صائنا َ لنفسه حافظا لدینه مخالفا علی هواه مطیعا َ لامر مولاه فللعوام ان یقلدوه ۔
باقی رہے وہ علماء و فقہاء جو اپنی روح کی پاکیزگی کی حفاظت کریں اپنے دین کی نگہداری کریں ، ہوا وہوس کے مخالف ہوں اور اپنے مولا و آقا کے فرمان کے مطیع ہوں عوام کو چاہیئے کہ ان کی تقلید کریں(۲)
واضح ہے کہ حدیث احکام میں اندھی تقلید کی طرف اشارہ نہیں کرتی ہے بلکہ اس کا مقصود یہ ہے کہ عوام علماء کی رہنمائی میں علم و یقین کے حصول کے لئے پیروی کریں کیونکہ یہ حدیث پیغمبر کی پہچان کے ضمن میں ہے جو مسلما اصول دین میں سے ہے اس میں اندھی تقلید جائز نہیں ۔
____________________
۱ ۔ ” امی “ کے معنی جلد ۴ ( تفسیر نمونہ ) میں سورہ اعراف آیہ ۱۵۷ کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ زیر بحث آئے ہیں ۔
۲ - وسائل الشیعہ ، ج ۱۸ ص ۱۹۴ کتاب القضاء ، باب ۱۰ ( اور تفسیر صافی ، زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔
آیات ۸۰،۸۱،۸۲
۸۰ ۔( وقالو لن تمسنا النار الا ایاماََ معدوداة ط قل اتخذ تم عند الله عهدا فلن یخلف الله عهده ام تقولون علی الله مالا تعلمون )
۸۱ ۔( بلی ٰ من کسب سیئة و احاطت به خطیئته فاو لئک اصحٰب النارهم فیها خٰلدو ن )
۸۲ ۔( و الذین اٰمنو ا و عملوا الصالحٰت اولٰئک اصحٰب الجنة ج هم فیها خٰلدون )
ترجمہ
۸۰ ۔ اور انہوں نے کہا : چند دن کے سوا آتش جہنم ہم تک نہیں پہنچے گی ۔ کہیئے کیا تم نے خدا سے عہد وپیمان لیا ہوا ہے کہ خدا اپنے پیمان کی ہرگز خلاف ور زی نہیں کرے گا یا پھر تم خدا کی طرف ایسی بات منسوب کرتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں ۔
۸۱ ۔ ہاں جو لوگ گناہ کمائیں اور گناہ کے اثرات ان کے سارے جسم پر محیط ہوں وہ اہل جہنم ہیں اورہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔
۸۲ ۔ وہ لوگ جو ایمان لاچکے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں وہ اہل جنت ہیں اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔
بلند پردازی اور کھوکھلے دعوے
اس مقام پر قرآن یہودیوں کے بے بنیاد دعووں میں سے ایک کی طرف اشارہ کرتا ہے جس نے مغرور کر رکھا تھا اور جو ان کی کجرویوں کا سر چشمہ تھا ۔ قرآن نے یہاں اس کا جواب دیا ہے ۔
پہلے فرماتا ہے : وہ کہتے ہیں جہنم کی آگ چند روز کے سوا ہمیں ہرگز نہیں چھوئے گی( وقالو ا لن تمسناالنار الا ایاما معدودة ) ۔
کہیئے : کیا خدا نے تم سے کوئی عہد و پیمان کر رکھا ہے کہ خدا جس کی ہرگز خلاف ورزی نہیں کرے گا یا پھر بغیر جانے کسی چیز کی خدا کی طرف نسبت دیتے ہو( قل اتخذتم عند الله عهدا فلن یخلف الله عهده ام تقولون علی الله مالا تعلمون ) ۔ملت یہود کو اپنے بارے میں نسلی برتری کا زعم تھا اور یہ قوم سمجھتی تھی کہ جو وہ ہے وہی ہے ۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ ان میں سے جو گنہگار ہیں انہیں فقط چند دن عذاب ہوگا اس کے بعد انہیں ہمیشہ کی جنت ملے گی ۔ یہ ان کی خود خواہی و خود پرستی کی واضح دلیل ہے ۔
یہ امتیاز طلبی کسی بھی منطق کی رو سے روا نہیں اور بارگاہ الہٰی میں اعمال پر جزا و سزا کے سلسلے میں تما م انسانوں میں کوئی فرق نہیں ۔ یہودیوں نے کون سا کارنامہ انجام دیا تھا جس کی بنا ء پر ان کے لئے جزا وسزا کے کلی قانون میں استثناء ہوجائے ۔بہرحال مندرجہ بالا آیت ایک منطقی بیان کے ذریعہ اس غلط خیال کو باطل کردیتی ہے ۔ فرمایا گیا ہے : تمہاری یہ گفتگو دو صورتوں میں سے ایک کی مظہر ہے یا تو اس سلسلے میں خدا کی طرف سے کوئی خاص عہد وپیمان ہوا ہے جب کہ ایسا پیمان تم سے ہوا نہیں یا پھر تم جھوٹ بولتے ہو اور خدا پر تہمت لگاتے ہو ۔
بعد کی اایت ایک کلی و عمومی قانون بیان کرتی ہے جو ہر لحاظ سے عقلی و منطقی بھی ہے ۔ فرمایا گیا ہے : ہاں وہ لوگ جو کسب گناہ کریں اور آثار گناہ ان کے سارے وجود کو ڈھانپ لیں وہ اہل دوزخ ہیں اور وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے( بلی من کسب سیئة و احاطت به خطیئته فا ٰوٰلئک اصحٰب النار هم فیها خٰلدون ) ۔ یہ ایک کلی قانون ہے کسی قوم وملت اور کسی گروہ و جمعیت کے گنہگار وں میں اور دیگر انسانوں میں موجود گنہ گاروں میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں ۔رہے پرہیز گار مومنین تو ان کے بارے میں بھی ایک کلی قانون ہے جو سب کے لئے یکساں ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے عمل صالح انجام دیا ہے ۔ وہ اہل بہشت ہیں اور اہل بہشت ہمیشہ وہیں رہیں گے( و الذین اٰمنو ا وعملواالصالحات اوٰ لئک اصحٰب الجنة هم فیها خٰلدون ) ۔
( ۱) غلط کمائی :
کسب اور اکتساب کا معنی ہے جان بوجھ کر ، اپنے اختیار سے کوئی چیز حاصل کرنا ۔ اس لحاظ سے” بلی من کسب سیئة “ ایسے اشخاص کی طرف اشارہ ہے جو علم ، ارادہ اور اختیار سے گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور ” کسب “ شاید اس لئے ہے کہ سر سری نظر میں گنہ گار گناہ کو اپنے نفع میں اور اس کے ترک کرنے کو اپنے نقصان میں سمجھتا ہے ۔ ایسے لوگوں ہی کے بارے میں چند آیات کے بعد اشارہ ہوگا جہاں فرمایا گیا ہے :
انہوں نے آخرت کو اس دینا کی زندگی کے لئے بیچ ڈالا اور ان کی سزا میں کسی قسم کی تخفیف نہیں ہے ۔
آثار گناہ نے احاطہ کرلیا ہے ” سے کیا مراد ہے :
لفظ خطیئہ بہت سے مواقع پر ان گناہوں کو کہا جاتا ہے جو جان بوجھ کر سرزد نہ ہوئے ہوں لیکن محل بحث آیت میں گناہ کبیرہ کے معنی میں آیا ۱ ہے یا اس سے مراد ہے اثار گناہ(۲) جو انسان کے دل و جان پر مسلط ہوجاتے ہیں ۔
بہر حال احاطہ گناہ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اس قدر گناہوں میں ڈوب جائے کہ اپنے لئے ایک ایسا قید خانہ بنالے جس کے سوراخ بند ہوں ۔
اس کی توضیح یوں ہے کہ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا ابتدا ء میں ایک عمل ہوتا ہے ۔ پھر وہ ایک حالت و کیفیت میں بدل جاتا ہے اس کا دوام و تسلسل ملکہ و عادت کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور جب وہ شدید ترین ہوجاتا ہے تو انسان کا وجود گناہ کے رنگ میں رنگ جاتا ہے ۔ یہ وہ حالت ہے جب کسی قسم کا پند و نصیحت ، موعظہ اور رہنماؤں کی رہنمائی اس کے وجود پر اثر انداز نہیں ہوتی اور حقیقت میں اپنے ہاتھوں اپنی یہ حالت بناتا ہے ۔ ایسے اشخاص ان کیڑوں کی مانند ہیں جو اپنے گرد جال تن لیتے ہیں جو انہیں قیدی بنا کر بالآخر ان کا گلا گھونٹ دیتا ہے ۔
واضح ہے کہ ایسے لوگوں کا انجام ہمیشہ جہنم میں رہنے کے علاوہ کچھ نہیں ہو سکتا ۔
کچھ آیات ہیں جن کے مطابق خدا صرف مشرکین کو نہیں بخشے گا لیکن غیر مشرک قابل بخشش ہیں مثلاََ :
( ان الله لا یغفران یشرک به و یغفر مادون ذٰلک لمن یشاٰء ) نساء ۔ ۴۸
ایسی آیا ت اور زیر بحث آیات جن میں ہمیشہ جہنم میں رہنے کا تذکرہ ہے اگر ان دونوں طرح کی آیات کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اسطرح کے گنہگار آخر کار گوہر ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور وہ مشرک و بے ایمان ہو کر دنیا سے جاتے ہیں ۔
____________________
۱ ۔ تفسیر کبیر از فخر الدین رازی ، آیہ کے ذیل میں ۔
۲۔ تفسیر المیزان ، آیہ مذکورہ کے زیل میں
نسل پرستی کی ممانعت :
زیر بحث آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسل پرستی کی روح جو آج کی دنیا میں بھی بہت سی بد بختیوں کا سر چشمہ ہے اس زمانے میں یہودیوں میں موجود تھی اور وہ اپنے لئے بہت سے خیالی امتیازات کے قائل تھے ۔ کتنے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کئی سال گذرنے کے باوجود ابھی تک یہ نفسیاتی بیماری ان میں موجود ہے اور در حقیقت غاصب اسرائیلی حکومت کی پیدائش کا سبب بھی یہی نسل پرستی ہے ۔
یہودی نہ صرف دنیا میں اپنی برتری کے قائل ہیں بلکہ ان کا اعتقاد ہے کہ یہ نسل امتیاز آخرت میں بھی ان کی مددکرے گا اور ان کے گنہگار لوگ دوسری قوموں کے گنہ گاروں کے بر عکس صرف تھوڑی سی مدت کے لئے خفیف سی سزا پائیں گے ۔
انہی غلط خیالات نے انہی طرح طرح کے جرائم ، بد بختیوں اور سیہ کاریوں میں مبتلا کیے رکھا ہے ۔(۱)
____________________
۱ سورہ نساء آیہ ۱۳۲ کے ذیل میں بھی چھوٹے امتیا زات کی بحث تفسیر نمونہ جلد ۲ میں آئے گی ۔
آیات ۸۳، ۸۴،۸۵،۸۶
۸۳ ۔( و اذ اخذنا میثا ق بنی اسرائیل لا تعبدون الا الله قف و بالوالدین احسانا وذی القربیٰ والیتٰمیٰ و المسٰکین قوالوا للناس حسنا َ و اقیموا الصلوٰة و اٰتو االزکوٰة ط ثم تولیتم الا قلیلا منکم و انتم معرضون )
۸۴ ۔( و اذ اخذنا میثا قکم لا تسفکون دمائکم ولا تخرجون انفسکم من دیارکم ثم اقررتم و انتم تشهدون )
۸۵ ۔( ثم انتم هٰؤلاء تقتلون انفسکم و تخرجون فریقا منکم من دیارهم تظٰهرون علیهم با لاثم والعدوان ط و ان یا تو کم اسٰریٰ تفٰدوهم وهو محرم علیکم اخراجهم ط افتئو منون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض فما جزاء من یفعل ذٰلک منکم فی الحٰیوة الدنیا ویوم القیامة یردون الی اشد العذاب ط وما الله بغافل عما تعملون )
۸۶ ۔ ا( ٰولئک الذین اشترو الحیٰوة الدنیا با لاٰخرة فلا یخفف عنهم العذاب ولا هم ینصرون )
۸۳ ۔ اور (یاد کرو اس وقت کو ) جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لیا کہ تم خدائے یگانہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرو گے اور ماں باپ ، ذوی القربیٰ ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیکی کرو گے اور لوگوں سے اچھے پیرائے میں بات کرو گے ، نیز نماز قائم کرو گے اور زکوٰة اداکرو گے ۔ لیکن عہد وپیمان کے باوجود چند افراد کے سوا تم سب نے رو گردانی کی اور (ایفاء عہد سے )پھر گئے ۔
۸۴ ۔ اور ( وہ وقت کہ ) جب ہم نے تم سے پیمان لیا کہ ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے اور ایک دوسرے کو اپنی سر زمین سے باہر نہیں نکالو گے ، تم نے اقرار کیا اور تم خود ( اس پیمان پر ) گواہ تھے ۔
۸۵ ۔پھر تم ہو کہ ایک دوسرے کو قتل کرتے ہو اور اپنے میں سے ایک گروہ کو سر زمین سے باہر نکال دیتے ہو اور گناہ و ظلم کا ارتکاب کرتے ہو ان پر تسلط حاصل کرتے ہو ( اور یہ سب اس عہد کی خلاف ورزی ہے جو تم نے خدا سے باندھا ہے ) لیکن اگر ان میں سے بعض قیدیوں کی شکل میں تمہارے پاس آئیں اور فدیہ دے دیں تو انہیں آزاد کردیتے ہیں حالانکہ انہیں باہر نکالنا ہی تم پر حرام ہے ۔ کیا تم آسمانی کتاب کے کچھ حصے پر ایمان لے آتے ہو اور کچھ سے کفر اختیار کرتے ہو ۔ جو شخص احکام و قوانین خدا میں تبعیض کا ) یہ عمل انجام دیتا ہے اس کے لئے اس جہان کی رسوائی اور قیامت میں سخت ترین عذاب کی طرف باز گشت کے سوا کچھ نہیں اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے ۔
۸۶ ۔یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کے لئے آخرت کو بیج دیا ہے لہذا ان کی سزا میں تخفیف نہیں ہوسکتی اور کوئی ان کی مدد نہیں کرے گا ۔
عہد و پیمان کا ذکر
گذشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے عہد و پیمان کا ذکر تو کہیں آیاہے لیکن اس بارے میں تفصیل بیان نہیں ہوئی لیکن محل بحث آیت میں اس عہد و پیمان کی شقوں کا ذکر کیا گیاہے۔ ان میں سے زیادہ تر یا تمام کی تمام ان امور میں سے ہیں جنہیں ادیان الہی کے ثابت شدہ احکام کا نام دینا چاہئے کیونکہ تمام آسمانی ادیان میں یہ پیمان اورا حکام موجود ہیں ۔ ان آیات میں قرآن یہودیوں کو شدید سرزنش کررہاہے کہ تم نے اس پیمان کو کیوں توڑدیا۔ قرآن انہیں یہ پیمان توڑنے کی پاداش میں اس جہان کی رسوائی اور اس جہان کے شدید عذاب سے ڈرا رہاہے۔
یہ پیمان جس کے بنی اسرائیل خود شاہد تھے اور اس کا اقرار کرتے تھے ان امور پر مشتمل ہے۔
۱ ۔ اس وقت کو یاد کر و جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدائے یکتا کے سوا کسی کی عبادت نہیں کروگے اور کسی بت کے سامنے سر تعظیم نہیں جھکاؤگے( و اذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا الله ) ۔
۲ ۔ ماں باپ سے نیکی کروگے( وبالوالدین احسانا ) ۔
۳ ۔ اپنے رشتہ داروں یتیموں اور مدد طلب کرنے والے محتاجوں سے بھی نیکی کروگے( و ذی القربی و الیتمی و المساکین ) ۔
۴ ۔ اجتماعی طور پر لوگوں کے ساتھ تمہارا سلوک اچھا ہوگا اور لوگوں سے اچھے پیرائے میں بات کروگے( و قولوا للناس حسنا ) ۔
۵ ۔ نماز قائم کروگے اور ہر حالت میں خدا کی طرف متوجہ رہوگے( و اقیموا الصلاة ) ۔
۶ ۔ زکوة ادا کرنے اور محروم لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی نہیں کروگے( واتوالزکوة ) ۔
لیکن تم میں سے مختصر سے گروہ کے علاوہ سب نے اپنے عہد سے منہ ہوڑلیا اور اپنے پیمان کو ایفا کرنے سے روگردانی کی( ثم تولیقم الا قلیلا منکم و انتم معرضون ) ۔
۷ ۔ یاد کرو اس وقت کو جب تم سے ہم نے عہد لیا کہ ایک دوسرے کاخون نہیں بہاؤگے( و اخذنا میثاقکم اد تسفکون دماء کم ) ۔
۸ ۔ ایک دوسرے کو اپنی بستیوں سے باہر نہیں نکا لوگے( و لا تخرجون انفسکم من دیارکم ) ۔
۹ ۔ اگر کوئی شخص تم میں سے جنگ کے دوران قید ہوجائے تو سب اس کی آزادی کے لئے مدد کروگے فدیہ دو گے اور اسے آزاد کراؤگے (پیمان کا یہ مفہوم)( افتومنون ببعض الکتاب و تکفرون ببعض ) سے حاصل کیا گیاہے جو بعد میں آئے گا)۔
پھر تم نے ان سب شرائط کا اقرار کیا اور اس پیمان پر خود گواہ ہوئے( ثم اقررتم و انتم تشهدون ) ۔
لیکن تم نے ان میں سے بہت ہی شرائط کو پاؤں تلے روند ڈالا۔ تم وہی تھے جو ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور اپنے میں سے کچھ لوگوں کو ان کی زمین سے نکال دیتے تھے( ثم انتم هولاء تقتلون انفسکم و تخرجون ) اور تعجب کی بات یہ کہ فدیہ دینے اور قیدیوں کو آزاد کرانے میں تم تورات کے حکم اور پیمان الہی سے سند حاصل کرتے تھے۔ کیا کتاب الہی کے بعض احکامات پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر اختیار کرتے ہو( فَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَتَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ ) یہ جو تم احکام الہی میں تبعیض و تفریق ر وا سمجھے ہو اس کی جزا اس جہا ن کی رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں( فَمَا جَزَاءُ ) ( مَنْ یَفْعَلُ ذَلِکَ مِنْکُمْ إِلاَّ خِزْیٌ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا ) (۱) اور قیامت کے دن ایسے لوگ سخت ترین عذاب کی طرف پلٹیں گے (یوم القیامة یردون الی اشد العذاب ) اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے( وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ) ۔ بلکہ اس نے تمہارے اعمال کی کلیات و جزئیات کو بڑی باریکی سے شمار کیا ہے اور اس کے مطابق تمہیں بدلادے گا۔
محل بحث آیت کے آخر میں ان کے ان اعمال کا اصلی سبب بیان کیاہے جو خلاف حقیقت ہیں ۔ فرمایا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی ہے( اولئک الذین اشتروا الحیوه الدنیا بالاخره ) اسی بنا ء پر ان کے عذاب میں تخفیف نہیں ہوگی اور کوئی ان کی مدد کے لئے کھڑا نہیں ہوگا( فَلاَیُخَفَّفُ عَنْهُمْ الْعَذَابُ وَلاَهُمْ یُنصَرُونَ ) (
آیات کا تاریخی پر منظر:
جیسا کہ مفسرین نے نقل کیاہے بنی قریظہ اور بنی نضیر جو یہود یوں کے دو گروہ تھے۔ ان کی آپس میں قریبی رشتہ داری تھی تا ہم دنیاوی منافع کی خاطر ایک دوسرے کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجاتے تھے۔ بنی نضیر، قبیلہ خزرج سے مل گئے تھے۔ جو مدینہ کے مشرکین کا قبیلہ تھا اور بنو قریظہ اوس کے ساتھ مل گئے تھے۔
ان دو قبیلوں کے در میان جو جنگیں ہوتی تھیں ہر گروہ اپنے ہم پیمان قبیلے کی مدد کرتاتھا اور اس طرح دوسرے گروہ کے خلاف لڑتا اور جب جنگ کی آگ سرد پڑجاتی تو تمام یہودی جمع ہوجاتے اور ایک دوسرے سے اتحاد کرتے تا کہ فدیہ ادا کرے اپنے قیدیوں کو آزاد کرا لیں ۔ اس عمل میں وہ تورات کے حکم اور قانون کو سند مانتے حالانکہ اوس و خزرج دونوں مشرک تھے اولا ان کی مدد کرناہی جائز نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ وہی قانون جو فتنہ کا حکم دیتاہے قتل کرنے سے بھی رد کتاہے ۔ یہودی دیگر ہٹ دھرم اور نادان قوموں کی طرح ایسے بہت سے اعمال انجام دیتے تھے جو ایک دوسرے کے ضد تھے۔
____________________
۱۔ جملہ (ما جزا) میں لفظ (ما) ممکن ہے نافیہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ استفہامیہ ہو لیکن نتیجے کے طور پر ہر دو طرح سے کوئی فرق نہیں ۔
قوموں کی زندگی کے لئے بنیادی احکام :
یہ آیات اگرچہ بنی اسرائیل کے بارے میں نازل ہوئی ہیں تو ہم ایسے کلی قوانین کے حامل ہیں جو تمام دنیا کی قوموں کے لئے ہیں ۔ قوموں کی زندگی ، بقا ، کامیابی اور شکست کے عوامل ان سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ ہر ملت کے بقا اور سربلندی اس میں ہے کہ وہ اپنا سہارا خدا کو قرار دے جو سب سے بڑی طاقت و قوت ہے اور ہر حالت میں اس سے مدد لے یہ ایسی قدرت پر بھر و سہ ہوگا جس کے لئے فنا ء و زوال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صرف اسی کے سامنے سر تسلیم خم کریں ۔ اس طرح انہیں کسی کا خوف اور وحشت نہ ہوگی۔ ظاہر ہے ایسی قدرت و طاقت عظیم خالق کائنات کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتی ایسا سہارا فقط خدا ہے( لاَتَعْبُدُونَ إِلاَّ الله )
دوسری طرف قوموں کی بقاء اور ہمیشگی کے لئے افراد ملت کے ما بین خصوصی وابستگی ضروری ہے ، ایسا یوں ممکن ہے کہ ہر شخص اپنے ماں باپ سے جن زیادہ قریب کی وابستگی ہے، عزیز و اقارب سے جو وابستگی کے اعتبار سے ایک فاصلے پرہیں اور پھر معاشرے کے تمام افراد سے نیکی اور اچھائی کے ساتھ پیش آئے تا کہ سب ایک دوسرے کے دست و بازوبنیں( وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا وَذِی الْقُرْبَی وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا ) (
قوم کے کمزور و ناتواں افراد کی تقویت روحانی اور مادی طور پر اس ہمیشگی میں کافی حصہ رکھتی ہے اور اس طرح دشمن کے لئے کوئی کمزور جگہ باقی نہیں رہتی اور قوم میں کوئی فرد مشکلات اور سختی میں نہیں رہتا کہ وہ ان مشکلات کے نتیجے میں اپنے آپ کو دشمن کے دامن میں جا گرائے( وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِین ) (
ہر قوم کے زندہ رہنے کے لئے مالی و اقتصادی بنیاد کا استحکام بھی بڑا حصہ ادا کرتاہے جو زکوة کی ادائیگی سے انجام پذیر ہوتاہے )َ( وَآتُوا الزَّکَاة )
ایک طرف کامیابی کے لئے یہ امور ہیں اور دوسری طرف قوموں کی شکست اور بربادی کا راز اس وابستگی کے ٹوٹ جانے اور کشمکشوں اور اندرونی جنگ شروع ہونے میں ہے۔ وہ قوم جس میں داخلی جنگ شروع ہوجائے اور تفرقہ بازی کا پتھر اس میں پھینک دیاجائے، اس کے افراد ایک دوسرے کی مدد کے بجائے ایک دوسرے کی جان کے دشمن بن جائیں ، ایک دوسرے کے مال اور زمین پر قبضہ جمانے پر تل جائیں ،۔
قرآن کہتاہے:
ان آیات کے مخاطب تو بنی اسرائیل ہیں لیکن یہ اپنے مفاہیم اور معیار کے اعتبار سے عمومیت کی حامل ہیں ۔ اور دوسرے تمام لوگ بھی اس خطاب کا مصداق ہیں ۔
قرآن کہتاہے: ہم نے موسی کو آسمانی کتاب (تورات) دی( و لقد اتینا موسی الکتاب ) اور پھر مسلسل یکے بعد دیگرے انبیاء بھیجے( وَقَفَّیْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُل ) ان پیغمبروں میں داود، سلیمان ، یوشع، زکریا اور یحیی شامل ہیں ۔
اور عیسی بن مریم کو روشن دلائل دئیے اور روح القدس کے ذریعے اس کی تائید کی( وَآتَیْنَا عِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنَاتِ وَاٴَیَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ ) ۔
لیکن ان عظیم مرسلین نے ان اصلاحی پروگراموں کے با وجود جب بھی کوئی بات تمہارے خواہش نفس کے خلاف کہی تو تم نے ان کے مقابلے میں تکبر اختیار کیا اور تم نے ان کی فرمانبرداری نہیں کی( اٴَفَکُلَّمَا جَائَکُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَتَهْوَی اٴَنفُسُکُمْ اسْتَکْبَرْتُم ) (
یہ ہوا و ہوس کی حاکمیت تم پراس قدر غالب تھی کہ ان مرسلین میں سے کچھ کی تم نے تکذیب کی اور کچھ کو تو قتل ہی کردیا( فَفَرِیقًا کَذَّبْتُمْ وَفَرِیقًا تَقْتُلُونَ )
اگر تمہاری طرف سے یہ تکذیب اور جھٹلانا موثر ثابت ہوتا اور تمہارا مقصد اسی سے پورا ہوجاتا تو تم اسی پر اکتفاء کر لیتے اور خدا کے پیغمبروں کے خون سے اپنے ہاتھ نہ رنگتے۔
گذشتہ آیات کی تفسیر میں (احکام الہی میں تبعیض کے ذیل میں ہم یہ حقیقت بیان کرچکے ہیں کہ ایمان کا معیار اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے مواقع تو وہ ہیں جو میلان طبع اور خواہش نفس کے خلاف ہوں ورنہ تو ہر ہوا پرست اور بے ایمان بھی ان احکام کے سامنے ہم آہنگی اور تسلیم کا مظاہرہ کرتاہے جو اس کے میلان طبع اور فائدے کے مطابق ہیں ۔
اس آیت سے ضمنا یہ بھی واضح ہوتاہے کہ رہبران الہی اپنی تبلیغ رسالت کی راہ میں ہوا پرستوں کی مخالفت کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور ایسا ہی ہونا چاہئیے کیونکہ صحیح رہبری اس کے علاوہ کچھ اور ہی نہیں اگر پیغمبر چاہیں کہ خود کو لوگوں کی آزادانہ ہوا و ہوس کے مطابق چلائیں تو پھر ان کا کام کے پیچھے لگنا ہوا نہ کہ رہبری کرنا۔
دل کے اندھے، بے ایمان لوگ ان خدائی رہبروں کی دعوت جس کا مقصد سعادت بشر کے علاوہ کچھ نہ تھا کا استقبال کرنے کہ بجائے اس قدر مزاحمت کرتے تھے کہ ان میں سے بعض کو قتل ہی کردیتے تھے۔
بعد کی آیت کہتی ہے کہ یہ لوگ دعوت انبیاء یا آپ کی دعوت کے جواب میں تمسخر اور مذاق کے طور پر کہتے ہیں ہمارے دل تو غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں ان باتوں میں سے کچھ سمجھ نہیں پاتے( وقالو قلوبنا غلف )
اور ہے ایسا ہی۔ کیونکہ خدانے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کی ہے اور انہیں اپنی رحمت سے دور کردیا ہے ا ور اسی بناء پردہ کسی بات کو سمجھ نہیں پاتے) اور ان میں بہت تھوڑے ایمان لاتے ہیں( بَلْ لَعَنَهُمْ اللهُ بِکُفْرِهِمْ فَقَلِیلًا مَا یُؤْمِنُون ) ۔
ہوسکتاہے کہ اوپر والا جملہ ان یہودیوں کے بارے میں ہوجنہوں نے پیغمبران خدا کی تکذیب کی اانہیں قتل کیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ان یہودیوں کے متعلق ہو جو پیغمبر خدا کے ہم عصر تھے۔
آنحضرت کی گفتگو کے جواب میں وہ انتہائی ڈھٹالی اور عدم توجہی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ تا ہم یہ آیت ہر صورت میں اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ انسان ہوا و ہوس کی پیروی کے زیر اثر اس طرح راندہ درگاہ خدا ہوجاتاہے اور اس کے دل پر ایسے پردے پڑجاتے ہیں کہ اس راستے میں اسے حقیقت بہت کم نظر آتی ہے۔
مختلف زمانوں میں انبیاء کی پے در پے آمد:
جیسا کہ کہا جاچکاہے جب ہواپرست اور بے ایمان لوگ انبیاء کی دعوت کو اپنی ہوا و ہوس اور نا جائز منافع ہم آہنگ نہیں پاتے تھے توان کے مقابلے میں کھڑے ہوجاتے خصوصا لوگ کچھ زمانہ گذرجانے کے بعد ان کی تعلیمات کو طاق نسیاں کردیتے۔ اس بناء پر ضروری تھا کہ یاد ہانی کے لئے خدا کی جانب سے یکے بعد دیگرے مرسلین آتے رہیں تا کہ ان کا مکتب اور پیغام پر انانہ ہونے پائے اور وہ دست فراموشی کے حوالے نہ ہوجائے۔
سورہ مومنوں آیہ ۴۴ میں ہے:( ثُمَّ اٴَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَی کُلَّ مَا جَاءَ اٴُمَّةً رَسُولُهَا کَذَّبُوهُ فَاٴَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا )
پھرہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے۔ جب کوئی رسول کسی امت کے پاس آتا تو لوگ اس کی تکذیب کرتے (لیکن) ہم تو انہیں یکے بعد دیگرے بھیتے ہی رہتے تھے۔
نہج البلاغہ کے پہلے خطبے میں جہاں انبیاء کے بھیجنے کی غرض و غایت کی تشریح کی گئی ہے وہاں اس حقیقت کا تکرار کیا گیاہے:(فبعث فیهم رسله و واتر الیهم انبیائه لیستا دوهم میثاق فطرته و یذکروهم منسی نعمته و یحتجوا علیهم بالتبلیغ و یثیروالهم و فائن العقول )۔
خدانے اپنے رسولوں کو ان کے طرف مبعوث کیا اور اپنے انبیاء کو ان کی طرف بھیجا تا کہ وہ لوگوں سے ان کے فطری عہد و پیمان کی ادائیگی کا مطالبہ کریں اور انہیں خدا کی فراموش شدہ نعمتیں یاد دلائیں اور انبیاء تبلیغات کے ذریعے لوگوں پر اتمام حجت کریں اور تا کہ عقول کے مخفی خزانے ان کی تعلیمات کے ذریعے آشکار ہوں ۔
لہذا مختلف زمانوں اور صدیوں میں انبیاء خدا کے آنے کا مقصد خداکی نعمتوں کی یاددہانی کران پیمان فطرت کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانا اور گذشتہ انبیاء کی تبلیغات اور دعوتوں کی تجدید کرنا تھاتا کہ ان کی دعوتیں اور ان کے اصلاحی پروگرام متروک کے ذریعے آشکار ہوں ۔
لہذا مختلف زمانوں اور صدیوں میں انبیاء خدا کے آنے کا مقصد خداکی نعمتوں کی یاد دہانی کرانا پیمان فطرت کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانا اور گذشتہ انبیاء کی تبلیغات اور دعوتوں کی تجدید کرناتھا تا کہ ان کی دعوتیں اور ان کے اصلاحی پروگرام متروک اور فراموش نہ ہوجائیں ۔
رہا یہ مسئلہ کہ پیغمبر اسلام کیونکہ خاتم انبیاء ہیں اور ان کے بعد نبی کی کیوں ضرورت نہیں تو اس پر انشاء اللہ سورہ احزاب کی آیہ ۴۰ کے ذیل میں بحث ہوگی۔
روح القدس کیاہے؟:
بزرگ مفسرین روح القدس کے بارے میں مختلف تفاسیر بیان کرتے ہیں ۔ ہم یہاں چند ایک درج کرتے ہیں :
۱ ۔ بعض کہتے ہیں کہ روح القدس سے مراد جبرائیل ہے۔ اس تفسیر کی بناء پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ خدانے جبرائیل کے ذریعے حضرت عیسی کی مدد کی۔
اس تفسیر کی شاہد سورہ نحل کی آیہ ۱۰۲ ہے:( قل نزله روح القدس من ربک بالحق )
کہیئے ! روح القدس نے اسے تم پرحقیقت کے ساتھ نازل کیا۔
رہا یہ سوال کہ جبرائیل کو روح القدس کیوں کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ فرشتوں میں روحانیت کا پہلو چونکہ غالب ہے لہذا ان پر روح کا اطلاق بالکل طبیعی اور فطری ہے اور قدس اس فرشتے کے بہت زیادہ تقدس اور پاکیزگی کی طرف اشارہ ہے۔
۲ ۔ کچھ دوسرے مفسرین کا عقیدہ ہے کہ روح القدس وہی ایک غیبی طاقت ہے جو حضرت عیسی کی تائید کرتی تھی اور اس مخفی خدائی طاقت سے وہ مردوں کو حکم خدا سے زندہ کرتے تھے البتہ یہ غیبی طاقت ضعیف تر صورت میں تمام مومنین میں درجات ایمان کے تفاوت کے حساب سے موجود ہے۔ اور یہ وہی خدائی امداد ہے جو انسان کو اطاعات اور مشکل کاموں کی انجام دہی میں مدد دیتی ہے اور گناہوں سے باز رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض احادیث میں ایک شاعر اہلبیت کے بارے میں ہے کہ جب وہ امام کے سامنے اشعار پڑھ چکاتو آپ نے فرمایا:( انما نفث روح القدس علی لسانک )
روح القدس نے تیری زبان پر دم کیاہے اور جو کچھ تونے کہاہے اسی کی مدد سے ہے
۳ ۔ بعض مفسرین نے روح القدس کا معنی انجیل بیان کیاہے۔
ان میں سے پہلی دو تفاسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہیں ۔
روح القدس کے بارے میں عیسائیوں کا عقیدہ :
قاموس کتاب مقدس میں ہے:
روح القدس تیسرا القنوم۔ اقانیم ثلاثہ الہیہ میں سے شمار ہوتا ہے اور اسے روح کہتے ہیں کیونکہ وہ مبدع اور مخترع حیات ہے اور مقدس اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے مخصوص کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ مومنین کے دلوں کی تقدیس کرتاہے۔ حضرت مسیح اور خداسے اسے جو وابستگی ہے اس بناء پر اسے روح اللہ اور روح المسیح بھی کہتے ہیں ۔
اس کتاب میں ایک اور احتمال بھی آیاہے اور وہ یہ ہے:
وہ روح القدس جو ہمیں تسلی دیتاہے ۔ وہ وہی ہے جو ہمیشہ ہمیں سچائی، ایمان اور اطاعت کے قبول و ادراک کی ترغیب دیتاہے اور وہی ہے جو گناہ و خطاء میں مرجانے والے لوگوں کو زندہ کرتاہے اور انہیں پاک و منزہ کرکے حضرت واجب الوجود کی عظمت و بزرگی کے لائق بناتاہے۔
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں اس کتاب مقدس قاموس کی عبارت میں دو معانی کی طرف اشارہ ہواہے:
( ۱) ایک یہ کہ روح القدس تین خداؤں میں سے ایک ہے جو کہ عقیدہ تثلیث کے مطابق ہے اور یہ وہ مشرکانہ عقیدہ ہے جسے ہم ہر لحاظ مردود سمجھتے ہیں ۔
( ۲) دوسرا مفہوم اوپر بیان کی گئیں تین تفاسیر میں سے دوسری سے ملتا جلتاہے۔
( ۳) بے خبر اور غلاف میں لپٹے دل:
مدینہ کے یہودی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تبلیغات کا پوری کوشش سے مقابلہ کرتے اور آپ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کرتے اور جب بھی آپ کے بار دعوت سے بچنے کا کوئی بہا نہ ملتا اس سے پورا فائدہ اٹھاتے اس آیت میں ان کی ایک گفتگو کی طرف اشارہ کیاگیاہے وہ کہتے تھے ہمارے دل پردے اور غلاف میں لپٹے ہیں ۔ آپ جو کچھ پڑھتے ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ بات وہ تمسخر اور استہزاء کے طور پر کہتے لیکن قرآن کہتاہے: بات یہی ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں کیونکہ کفر و نفاق کے باعث ان کے دل بے خبری، ظلمت، گناہ اور کفر کے پردوں میں لپیٹے جاچکے ہیں اور خدانے انہیں اپنی رحمت سے دور کردیاہے یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بہت کم ایمان لاتے ہیں ۔
سورہ نساء آیہ ۱۵۵ میں بھی یہی مفہوم مذکور ہے:
( وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَیْهَا بِکُفْرِهِمْ فَلاَیُؤْمِنُونَ إِلاَّ قَلِیلًا )
اور ان کا کہنا ہے کہ ہمارے دل غلاف میں لپٹے ہیں اس لئے تمہاری بات سمجھ نہیں پاتے لیکن یہ تو اس بناء پرہے کہ خدانے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے لہذا ان میں سے چند ایک کے علاوہ ایمان نہیں لائیں گے۔
آیات ۸۹،۹۰
۸۹ ۔( وَلَمَّا جَائَهُمْ کِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا فَلَمَّا جَائَهُمْ مَا عَرَفُوا کَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَی الْکَافِرِینَ )
۹۰ ۔( بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ اٴَنفُسَهُمْ اٴَنْ یَکْفُرُوا بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ بَغْیًا اٴَنْ یُنَزِّلَ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَائُوا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ مُهِینٌ )
ترجمہ
۸۹ ۔ اور جب خداکی طرف سے ان کے پاس ایک ایسی کتاب آئی ہے جو ان نشانیوں کے مطابق ہے۔ جو ان (یہودیوں ) کے پاس ہیں ۔ اس ماجرے سے پہلے (وہ خود اس پیغمبر اور اس کی کتاب کے ظہور کی بشارت دیتے تھے اس پیغمبر کی مددسے اپنے دشمنوں اور مشرکین پر فتحیاب ہوں گے ان سب امور کے با وجود) جب کتاب اور وہ پیغمبر جسے پہلے پہچان چکے تھے، ان کے پاس آئے تو اس سے کافر ہوگئے۔ پس خدا کی لعنت ہو ان کافروں پر۔
۹۰ ۔ انہوں نے اپنے نفسوں کو بڑی قیمت پر بیچاہے کیونکہ غلط کاری کے مرتکب ہوتے ہوئے وہ ان آیات سے کافر ہوگئے ہیں جو خدا کی بھیجی ہوئی ہیں (چونکہ پیغمبر اسلام بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں ) اور خدا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتاہے اپنے فضل سے اپنی آیات نازل کرتاہے لہذا ان پریکے بعد دیگرے خدا کا غضب نازل ہوا اور کافروں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والی سزا اور بدار ہے۔
شان نزول
زیر نظر آیت کے بارے میں امام صادق(ع) سے روایت ہے:
یہودیوں نے اپنی کتب میں دیکھ رکھاتھا کہ پیغمبر اسلام کا مقام ہجرت (عیر) اور احد کی پہاڑیوں کے در میان ہوگا۔ (یہ دونوں پہاڑ مدینہ کے ا ردگردہیں ) یہودی اپنے علاقے چھوڑ کر رسول کی ہجرت کی سرزمین کی تلاش میں نکلے اس دوران وہ (حداد) نامی پہاڑ تک پہنچے اور کہنے لگے (حداد)یہی احد ہے۔ وہیں سے وہ منتشر ہوگئے۔ ہر گروہ نے ایک جگہ کو اپنا مسکن بنالیا۔ کچھ سرزمین (تیما) ہیں جابسے بعض (فدک) میں قیام پذیر ہوئے اور کچھ (خیبر)میں رہنے لگے۔ (کچھ مدت بعد) تیما کے رہنے والوں نے اپنے دوسرے بھائیوں سے ملنا چاہا۔ اس اثنا میں ایک عرب وہاں سے گذرا۔ اس سے انہوں نے سواریاں کرائے پرلیں ۔ عرب کہنے لگا میں تمہیں (عیر) اور (احد) کی پہاڑیوں میں سے لے جاوں گا۔ اس سے کہنے لگے جب ان دو پہاڑوں کے در میان پہنچو تو ہمیں آگاہ کرنا۔ وہ عرب جب سرزمین مدینہ میں پہنچا تو اس نے انہیں بتایا کہ یہ جگہ ہی کوہ عیر اور کوہ احد کے در میان ہے۔ پھر اس نے اشارے سے بتایا کہ یہ (عیر) ہے اور یہ (احد) ہے۔ یہودی اس کی سواریوں سے اتر پڑے اور کہنے لگے ہم اپنے مقصد تک آپہنچے ہیں ۔ اب ہمیں تیری سواریوں کی ضرورت نہیں ، اب تو جہاں جانا چاہے جاسکتاہے۔
اس کے بعد انہوں نے اپنے بھائیوں کو خط لکھا کہ ہم نے وہ زمین تلاش کرلی ہے تم بھی ہماری طرح کوچ کرو۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ ہم چونکہ یہاں سکونت اختیار کرچکے ہیں ۔ گھربار اور مال و منال کا اہتمام کرچکے ہیں اور یہاں سے اس سرزمین کا کوئی زیادہ فاصلہ بھی نہیں ۔ جس وقت پیغمبر موعود ہجرت کرکے آئیں گے ہم بھی تمہارے پاس آجائیں گے۔
وہ سرزمین مدینہ ہی میں رہے اور بہت مال و دولت جمع کرلی یہ خبر (تبع) نامی ایک بادشاہ کو پہنچی۔ اس نے آکر ان سے جنگ کی یہودی اپنے قلعوں میں قلوبند ہوگئے۔اس نے ان سب کا محاصرہ کرلیا۔ پھر نہیں امان دے دی۔ وہ بادشاہ کے پاس آئے۔ (تبع) نے کہا مجھے یہ سرزمین پسند آئی ہے اور میں یہاں رہنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے جواب میں کہا: ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ سرزمین ایک پیغمبر کا مقام ہجرت ہے۔ اس کے علاوہ کوئی شخص بادشاہ کی حیثیت سے نہیں رہ سکتا۔ تبع کہنے لگا کہ میں اپنے خاندان میں سے کچھ لوگ یہاں چھوڑدیتاہوں تا کہ جب وہ پیغمبر آئے یہ اس کی مدد کریں ۔ لہذا اس نے دو مشہور قبائل (اوس) اور (خزرج) کو یہاں ٹھرا دیا۔ جب ان قبیلوں نے خوب مال و دولت جمع کرلیا۔ تو یہودیوں کے مال پرتجاوز کرنے لگے۔ یہودی ان سے کہا کرتے تھے جب محمد مبعوث ہوں گے تو تمیں ہمارے علاقے سے نکال دیں گے۔
جب حضرت محمد مبعوث ہوئے تو اوس اور خزرج آپ پر ایمان لے آئے جو انصار مشہور ہوئے مگر یہودیوں نے آپ کا انکار کیا۔ آیت( وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا ) کا یہی مفہوم ہے۔
وہی لوگ جو خاص عشق و محبت کی وجہ سے ، رسول اللہ پرایمان لانے کے لئے آئے تھے جو اوس و خزرج کے مقابلے میں فخر کرتے تھے کہ ایک رسول مبعوث ہوگا اور ہم اس کے یار و مددگار ہوں گے۔ جب رسول اللہ کی ہجرت ہوئی اور آپ نے ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی، وہی قرآن جو تورات کی تصدیق کرتاتھا، تو وہ اس سے کفر کرنے لگے-
ان آیات میں بھی یہودیوں اور ان کی زندگی کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے۔ جیسا کہ شان نزول میں ہے یہ لوگ رسول خدا پر ایمان لانے کے شوق اور دل بستگی کے ساتھ مدینہ میں آکر سکونت پذیر ہوئے تھے۔ تورات میں پیغمبر کی نشانیوں کو دیکھتے تھے اور بے چینی سے آپ کے ظہور کا انتظار کرتے تھے۔ لیکن جب خدا کیطرف سے ان کے پاس کتاب (قرآن) آئی جو ان علامتوں کے مطابق تھی جو یہودیوں کے پاس تھیں حالانکہ اس سے پہلے وہ اپنے آپ کو اس پیغمبر کے ظہور کی خوشخبری دیتے تھے اور پیغمبر کے ظہور کے ذریعے دشمنوں پر فتح پانے کے امید لگائے بیٹھے تھے اور جب کہ وہ کتاب اور پیغمبر کو پہلے سے پہچانتے تھے پھر بھی اس سے کفر اختیار کر بیٹھے( وَلَمَّا جَائَهُمْ کِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَکَانُوا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُونَ عَلَی الَّذِینَ کَفَرُوا فَلَمَّا جَائَهُمْ مَا عَرَفُوا کَفَرُوا بِ ) ہ) کافروں پرخدا کی لعنت ہو( فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَی الْکَافِرِینَ )
بعض اوقات انسان کسی حقیقت کے پیچھے دیوانہ وار دوڑتاہے لیکن اس کے قریب پہنچ کر جب اسے اپنے ذاتی فائدے کے خلاف پاتاہے تو ہوا و ہوس کے نتیجے میں اسے ٹھوکر مار دیتاہے اور اسے چھوڑدیتاہے بلکہ کبھی تو اس کی مخالفت میں کھڑا ہوجاتاہے۔
لیکن یہودیوں نے تو انتہائی خسارے کا سودا کیا۔ جو لوگ پیغمبر موعود کی پیروی کے لئے اپنے علاقے کو چھوڑکر، بہت سی مشکلات جھیل کر سرزمین مدینہ میں سکونت پذیرہوئے تھے تا کہ اپنے مقصود تک پہنچ جائیں ، جب موقع آیا تو منکرین اور کافرین کی صف میں کھڑے ہوگئے لہذا اس مقام پر قرآن کہتاہے: کیسی بری قیمت پر انہوں نے اپنے آپ کو فروخت کیا( بئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ اٴَنفُسَهُمْ ) ۔
وہ حسد کی بناء پر اس چیزسے کافر ہوگئے جو خدانے نازل کی تھی ۔ انہیں اعتراض تھا کہ کیوں خدا اپنے فضل سے جس شخص پرچاہتا ہے اپنی آیات نازل کردیتاہے( اٴَنْ یَکْفُرُوا بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ بَغْیًا اٴَنْ یُنَزِّلَ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ )
گویا اس انتظار میں تھے کہ پیغمبر موعود بنی اسرائیل میں سے اور خود انہی میں سے ہوگا لیکن جب کسی اور پر قرآن نازل ہوا تو انہیں تکلیف پہنچی اور وہ سنخ پا ہوگئے۔
آیت کے آخر میں ارشاد ہے : لہذا خدا کے غضب نے یکے بعد دیگر ے انہیں گھیر لیا اور کافروں کے لئے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب ہے( فَبَائُوا بِغَضَبٍ عَلَی غَضَبٍ وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ مُهِین ) ۔
خسارے کا سودا
در حقیقت یہودیوں نے ایک خسارے کا سود کیاتھا۔ کیونکہ ابتدا میں وہ اسلام اور اسلام کے پیغمبر موعود کے داعی تھے۔ یہاں تک کہ تمام مشکلات جھیل کر مدینہ کی زندگی انہوں نے اسی مقصد کے لئے انتخاب کی تھی۔ لیکن پیغمبر خدا کے ظہور کے بعد صرف اس بناء پر کہ آپ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں یا آپ کی وجہ سے ان کے ذاتی منافع خطرے میں پڑگئے تھے، وہ آپ کے کافر و منکر ہوگئے اور یہ بہت زیادہ خسارے اور نقصان کا معاملہ ہے کہ انسان نہ صرف یہ کہ اپنے مقصد کود پہنچے بلکہ اپنی تمام قوتیں اور طاقتیں صرف کرکے اس کے بر عکس حاصل کرے اور خدا کا غضب اور ناراضی بھی الگ اٹھانی پڑی۔
حضرت امیر المومنین کے ارشادات میں ہے:( لیس لانفسکم ثمن الا الجنه فلا تبیعوها الابها ) ۔
تمہارے نفسوں کی قیمت جنت کے علاوہ اور کوئی چیز ہوسکتی لہذا اپنے نفسوں کو اس کے علاوہ کسی چیز کے بدلے نہ بیچومگر یہودی اس گراں بہا سرمائے کو مفت میں گنوا بیٹھے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ سودا ان کے اصل و جود کا بیان کیا گیاہے یعنی جو حق و حقیقت سے منکر و کافر ہیں وہ اپنی حقیقت ہاتھ سے کھو بیٹھے ہیں ۔ کیونکہ کفر کے ساتھ ان کے ساتھ ان کے وجود کی قیمت بالکل گر جاتی ہے گویا اپنی شخصیت گنوا بیٹھے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ان غلاموں کی طرح ہیں جنہوں نے اپنا وجودبیچ کراسے دوسرے کی قید میں دے دیا ہو بیشک وہ ہوا و ہوس کے قیدی اور شیطان کے بندے ہیں ۔
لفظ (اشتروا) اگر چہ عموما خرید نے کے معنی میں استعمال ہوتاہے لیکن کبھی بیچنے کے معنی میں بھی آتا ہی جیسا کہ لغت میں اس کی صراحت موجود ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں یہ لفظ بیچنے ہی کے معنی میں ہے لہذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے اپنا وجود مال و متاع کی طرح بیچاہے اور اس کے بدلے غضب پروردگار یا کفر و حسد خریدا ہے
فباء بغضب علی غضب:
بنی اسرائیل جب صحرائے سینا میں سرگرداں تھے اس عالم کی سرگذشت کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے قرآن کہتاہے:( و با ء و بغضب من الله ) (وہ غضب خدا کی طرف پلٹے) اس کے بعد مزید کہتا ہے : یہ خدا کا غضب ان پر انبیاء کے قتل اور آیات خدا سے کفر کی وجہ سے تھا۔
سورہ آل عمران آیہ ۱۱۲ کا بھی یہی مفہوم ہے کہ یہودی آیات الہی سے کفر اور قتل انبیاء کی وجہ سے غضب الہی کا شکار ہوئے یہ پہلا غضب ہے جو انہیں دامن گیر ہوا۔
ان کے باقی ماندہ افراد نے: پیغمبر اسلام کے ظہور کے بعد ان سے اپنے بڑوں والی روشں ہی جاری رکھی۔ نہ صرف یہ کہ وہ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے آئین کے خلاف تھے بلکہ ان کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے ان کے اسی طرز عمل کی وجہ سے ایک نئے غضب نے انہیں گھیر لیا اسی لئے فرمایا:( فباء و بغضب علی غضب ) ۔
در اصل لفظ (باء و) کا معنی ہے وہ لوٹے اور انہوں نے سکوت اختیار کیا اور یہ کنایہ ہے استحقاق پیدا کرنے سے ۔ یعنی انہوں نے غضب پروردگار کو اپنے لئے منزل و مکان کی طرح انتخاب کیا۔
یہ سرکش و باغی گروہ حضرت موسی کے قیام سے پہلے اور پیغمبر اسلام کے ظہور سے قبل دونوں مواقع پر ایسے قیام کے سختی سے طرفدار تھے لیکن دونوں قیاموں کے رو بہ عمل ہونے کے بعد وہ اپنے عقیدے سے پھر گئے ارو یکے بعد دیگرے اپنی جان کے بدلے غضب خدا خرید لیا۔
آیات ۹۱،۹۲،۹۳
۹۱ ۔( وَإِذَا قِیلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا اٴَنزَلَ اللهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا اٴُنزِلَ عَلَیْنَا وَیَکْفُرُونَ بِمَا وَرَائَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ اٴَنْبِیَاءَ اللهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِین )
۹۲ ۔( وَلَقَدْ جَائَکُمْ مُوسَی بِالْبَیِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَاٴَنْتُمْ ظَالِمُونَ )
۹۳ ۔( وَإِذْ اٴَخَذْنَا مِیثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمْ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَیْنَاکُمْ بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا وَاٴُشْرِبُوا فِی قُلُوبِهِمْ الْعِجْلَ بِکُفْرِهِمْ قُلْ بِئْسَمَا یَاٴْمُرُکُمْ بِهِ إِیمَانُکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ )
۹۱ ۔ اور جب ان سے کہاجائے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیاہے اس پر ایمان لے آؤتو وہ کہتے ہیں ہم تو اس چیز پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل ہوئی (اس پرنہیں جو دوسری قوموں میں سے کسی پر نازل ہو) اور اس کے علاوہ سے کفر اختیار کر لیتے ہیں جب کہ وہ حق ہے اور ان آیات کی تصدیق کرتاہے جو ان پرنازل ہوچکی ہیں ۔کہئے کہ اگرسچ کہتے ہو تو پھر اس سے پہلے انبیاء کو قتل کیوں کیا کرتے تھے۔
۹۲ ۔ نیز موسی تمہارے لئے سب معجزات لے کر آئے (تو پھر کیوں تم نے) بعد ازاں بچھڑے کو منتخب کرلیا اور اس عمل سے تم نے اپنے اور پر ظلم کیا۔
۹۳ ۔ اور تم سے ہم نے وہ پیمان لیا اور تم پر کوہ طور بلند کیا (اور تم سے کہا) یہ قوانین و احکام جو ہم نے تمہیں دیئے ہیں انہیں مضبوطی سے تھا مے رکھوا اور صحیح طرح سے سنو تم نے کہا ہم نے سن لیاہے اور پھر نافرمانی کی ہے اور کفر کے نتیجے میں بچھڑے کی محبت سے تمہارے دلوں کی آبیاری ہوئی اگر تم ایمان رکھتے ہو تو کہہ دو کہ تمہارا ایمان تمہیں کیسا برا حکم دیتاہے۔
یہودیوں نے ان زحمتوں اور مشکلوں کے با وجود
گذشتہ آیات کی تفسیر میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ یہودیوں نے ان زحمتوں اور مشکلوں کے با وجود جو انہوں نے تورات کے پیغمبر موعود تک پہنچنے کے لئے جھیلیں ۔ اب حسد کی وجہ سے یا اس بناء پر کہ یہ پیغمبر بنی اسرائیل میں سے نہیں ہے یا اس لئے کہ ان کے ذاتی فائدے خطرے میں پڑ جائیں گے یا پھر اور وجوہات کے باعث اس کی اطاعت اور اس پر ایمان لانے سے منہ پھیر لیا۔
زیر بحث آیات میں سے پہلی میں یہودیوں کے اس تعصب نسلی کی طرف اشارہ کیا گیاہے جو پوری دنیا میں مشہور ہے۔ فرمایا: جس وقت ان سے کہاجائے کہ جو کچھ خدانے نازل فرمایا ہے اس پر ایمان لے آؤ کہتے ہیں ہم تو اس پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل ہوا ہے (نہ کہ دوسری قوموں پر) اور اس کے علاوہ سے کفر اختیار کریں گے( و اذا قیل لهم امنوا بما انزل الله قالوا نومن بما انزل علینا و یکفرون بما ورا ء ) ۔
وہ انجیل پرایمان لائے ہیں قرآن پر بلکہ وہ فقط نسلی امتیاز اور اپنے ذاتی فائدے نظر میں رکھے ہوئے ہیں جب کہ قرآن جو محمد پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے اور ان نشانیوں اور علامتوں کے مطابق ہے جو پیغمبر موعود کے بار ے میں ہیں وہ اپنی کتاب میں پڑھ چکے ہیں( و هو الحق مصدقا لما معهم ) ۔
اس کے بعد قرآن ان کے جھوٹ سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہتاہے: اگر تمہارے ایمان نہ لانے کا بہا نہ یہ ہے کہ محمد تم میں سے نہیں ہے تو پھر گذشتہ زمانے میں اپنے انبیاء پر ایمان کیوں نہیں لائے ہو اور کیوں انہیں قتل کرتے رہے ہو اگر سچ کہتے ہو اور ایمان دار ہو( قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ اٴَنْبِیَاءَ اللهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِین ) ۔
اگر وہ سچے دل سے ایمان لائے تو خدا کے عظیم انبیاء کو قتل نہ کرتے کیونکہ تورات تو انسانی قتل کو بہت بڑا گناہ قرار دیتی ہے۔
علاوہ از یں خود یہ کہنا کہ ہم تو صرف ان قوانین و احکام پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل ہوتے ہوں ، در اصل اصول توحید اور شرک کا مقابلہ کرنے کے مفہوم سے واضح کجروی ہے۔ یہ ایک طرح کی خود خواہی اور خود پرستی ہے شخصی صورت میں ہو یا نسلی شکل میں ۔ توحید اس لئے ہے کہ ایسے خیالات کو وجود انسانی میں سے جڑسے اکھاڑ پھینکے تا کہ انسان خدا کے قوانین کو صرف اس لئے قبول کرے کہ یہ خدا کی طرف سے ہیں ۔ بہ الفاظ دیگر اگر خدائی احکامات صرف اس شرط پرقبول کئے جائیں کہ وہ خود ہم پر نازل ہوں تو حقیقت میں یہ شرک ہے نہ کہ ایمان اور یہ کفر ہے کہ اسلام اور اس طرح احکامات ، قبول کرنا ہرگز ایمان کی دلیل نہیں ہے۔ اسی لئے تو مندرجہ بالا آیت میں ہے:( وَإِذَا قِیلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا اٴَنزَلَ الله ) ۔ یعنی جب ان سے کہاجاتا ہے کہ جو کچھ خدانے نازل فرمایاہے اس پر ایمان لے آو۔ اس آیت میں نہ محمد کا نام ہے نہ موسی و عیسی کا۔
ان کے کذب کو ظاہر کرنے کیلئے قرآن صرف اسی بات پر اکتفاء نہیں کرتا بلکہ بعد کی آیت میں ان کے خلاف ایک اور سند پیش کرتاہے۔ قرآن کہتاہے: موسی نے تمام معجزات و دلائل تمہارے سامنے پیش کئے لیکن تم نے اس کے بعد بچھڑے کو منتخب کیا اور اس کام کی وجہ سے تم ظالم و ستم گار ٹھہرے( وَلَقَدْ جَائَکُمْ مُوسَی بِالْبَیِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِهِ وَاٴَنْتُمْ ظَالِمُونَ ) ۔
اگر تم سچ کہتے ہو کہ تم اپنے پیغمبر پر ایمان رکھتے ہو تو پھر یہ بچھڑے کی پرستش اور وہ بھی توحید پر واضح دلائل کے بعد کیاہے۔ یہ کیسا ایمان ہے جو صرف موسی کے او جھل ہونے اور کوہ طور پر جانے سے تمہارے دلوں سے زائل ہوگیا اور کفرنے ایمان کی جگہ اور بچھڑے نے توحید کا مقام حاصل کرلیا۔ بے شک اس کام سے تم نے اپنے اوپر، معاشرے پر اور آئندہ نسلوں پر ظلم کیاہے۔
زیر بحث تیسری آیت میں ان کے دعوی کے بطلان پر ایک اور سند پیش کی گئی ہے اس ضمن میں کوہ طور کے عہد و پیمان کا ذکر کیاگیاہے ۔ فرمایا: ہم نے تم سے پیمان لیا اور کوہ طور کو تمہارے سروں پر بلند کیا اور تم سے کہا کہ جو حکم ہم تمہیں دیں اسے مضبوطی سے تھامے رہو اور صحیح طور سے سنو لیکن تم نے کہا ہم نے سن کر اس کی مخالفت کی( وَإِذْ اٴَخَذْنَا مِیثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمْ الطُّورَ خُذُوا مَا آتَیْنَاکُمْ بِقُوَّةٍ وَاسْمَعُوا قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا ) ۔
بے شک ان کے دلوں کی بچھڑے کی محبت سے آبیاری ہوئی اور کفرنے ان پر غلبہ حاصل کرلیا( وَاٴُشْرِبُوا فِی قُلُوبِهِمْ الْعِجْلَ بِکُفْرِهِم ) ۔
شرک اور دنیا پرستی نے جس کی مثال سامری کے بنائے سونے کے بچھڑے سے ان کی محبت ہے، ان کے تار و پود میں اثر و نفوذ پیدا کرلیا تھا اور ان کے سارے وجود میں اس کی جڑیں پہنچ گئی تھیں ۔ اسی بناء پر وہ خدا کو بھول گئے تھے۔
عجیب مسخرہ پن ہے یہ کیسا ایمان ہے جو خدا کے پیغمبروں کو قتل کرنے کی اجازت دیتاہے جو بت پرستی اور بچھڑے کی پرستش کو بھی رواجانتا ہے اور خدا سے باندھے ہوئے محکم میثاقوں کو طاق کردیتاہے۔
اگر تم مومن ہوتو تمہارا ایمان تمہیں کیسے برے احکام دیتاہے( قُلْ بِئْسَمَا یَاٴْمُرُکُمْ بِهِ إِیمَانُکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) ۔
( قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا ) کا مفہوم:
اس کا معنی ہے ہم نے سنا اور معصیت کی ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ زبان سے یہ الفاظ کہتے ہیں بلکہ ظاہرا اس کا مقصود یہ ہے کہ وہ اپنے عمل سے اس واقعیت کی نشاندہی کرتے ہیں اور یہ ایک عمدہ کنایہ ہے جور و زمرہ گفتگو میں دیکھاجاسکتاہے۔
( وَاٴُشْرِبُوا فِی قُلُوبِهِمْ الْعِجْل ) مفہوم:
یہ بھی ایک عمدہ کنایہ ہے جو یہودی قوم کی حالت بیان کرتا ہے۔
جیسا کہ مفردات راغب میں ہے کلمہ (اشراب) کے دو معانی ہیں :
۱ ۔ ایک یہ کہ (اشربت البعیر) کے باب سے ہو یعنی (میں نے اونٹ کی گردن میں رسی باندھی) اس معنی کے لحاظ سے مندرجہ بالا جملہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ (محبت و وابستگی کی مضبوط رسی نے ان کے دلوں کو بچھڑے سی باندھ دیا۔
۲ ۔ دوسرا یہ کہ اس کا مادہ شراب سے ہو جس کا معنی ہے آبیاری کرنا: اور دوسرے کو پانی دینا اس صورت میں لفظ حب مقصود ہوگا۔ یوں مندرجہ بالا جملے کا مفہوم یہ ہوگا بنی اسرائیل نے اپنے دلوں کی بچھڑے کی محبت سے آبیاری کی(
یہ اہل عرب کی عادات کا حصہ ہے کہ جب کسی چیز کے متعلق سخت قسم کا تعلق یا زیادہ کینہ ظاہر کرنا چاہیں تو مندرجہ بالا تعبیر ہی کی طرح کا انداز اختیاز کرتے ہیں ۔
اس سے ضمنا ایک اور نکتہ بھی نکلا کہ بنی اسرائیل کے ان غلط کاموں پر تعجب نہیں کرنا چاہئے ۔ کیونکہ یہ اعمال ان کے دلوں کی اس سرزمین کا حاصل ہیں جس کی شرک کے پانی سے آبیاری کی گئی ہے اور جو زمین ایسے پانی سے سیراب ہو اس سے خیانت ، قتل و ظلم کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔
اس بات کی اہمیت اس وقت اور نمایان ہوجاتی ہے جب دین یہود میں موجود قتل کی قباحت اور انسان کے قتل کی برائی کے احکام پر نظر جاتی ہے جہنیں اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیاہے۔
یہودیوں کا دین اس ظلم کو اس قدر برا سمجھتا تھا کہ قاموس کتاب مقدس صفحہ ۶۸۷ کی تحریر کے مطابق قتل عمد اور اس کی قباحت اسرائیلیوں کے نزدیک اتنی اہمیت رکھتی تھی کہ مدتیں گذرجانے کے بعد اور مدتوں ایسے شہروں میں پناہ لینے کے بعد بھی جنہیں پناہ گاہ کہاجاتا تھا اور مقامات مقدسہ پر التجا کے با وجود بھی قاتل بری الذمہ نہیں سمجھاجاتا تھا بلکہ اس ہے ہر صورت میں قصاص لیاجاتا
یہ تو کئی عام انسان کے قتل کے بارے میں ہے چہ جائیکہ خدا کے انبیاء کا قتل ۔ پس اگر بنی اسرائیل تورات پرایمان رکھتے تو انبیاء کو قتل نہ کرتے۔
آیات ۹۴،۹۵،۹۶
۹۴ ۔( قُلْ إِنْ کَانَتْ لَکُمْ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِنْدَ اللهِ خَالِصَةً مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِین )
۹۵ ۔( وَلَنْ یَتَمَنَّوْهُ اٴَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اٴَیْدِیهِمْ وَاللهُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِینَ )
۹۶ ۔( ولَتَجِدَنَّهُمْ اٴَحْرَصَ النَّاسِ عَلَی حَیَاةٍ وَمِنْ الَّذِینَ اٴَشْرَکُوا یَوَدُّ اٴَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اٴَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنْ الْعَذَابِ اٴَنْ یُعَمَّرَ وَاللهُ بَصِیرٌ بِمَا یَعْمَلُونَ )
ترجمہ
۹۴ ۔ کہہ دو اگر (جیسا کہ تم دعوی کرتے ہو) خدا کے ہاں آخرت کا گھر دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر تمہارے لئے مخصوص ہے تو پھر مرنے کی تمنا کرو اگر تم سچے ہو۔
۹۵ ۔ لیکن وہ برے اعمال کی صورت میں جو آگے بھیج چکے ہیں ان کے باعث کبھی مرنے کی تمنا نہیں کریں گے اور خدا ظالموں سے پوری طرح آگاہ ہے۔
۹۶ ۔ انہیں سب لوگوں سے زیادہ حریص یہاں تک کہ مشرکین سے بھی بڑھ کر لالچی (دولت جمع کرنے اور اس دنیا کی) زندگی پر پاؤگے (یہاں تک کہ) ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ ہزار سال عمر پائے حالانکہ یہ طولانی عمر (بھی) اسے خدا کے عذاب سے نہیں بچاسکے گی اور خدا ان کے اعمال کو دیکھتاہے۔
خود پسند گروہ
قرآن مجید کی مختلف آیات کے علاوہ بھے یہودیوں کی تاریخ سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ اپنے آپ کو بلند نسل سمجھتے تھے اور یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ وہی انسانی معاشرے کے منتخب پھول ہیں اور بہشت انہی کے لئے بنائی گئی ہے اور جہنم کی آگ ان سے زیادہ سر و کار نہیں رکھتی، وہ خدا کے بیٹے اور خاص دوست ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ (آنچہ خوباں ہمہ دارند انہا تنہا دارند یعنی تمام عالم کی اچھائیاں انہی میں جمع ہیں ۔
ان کی یہ (خوشبودار، خود خواہی قرآن کی مختلف آیات میں بیان ہوئی ہے، جن میں یہودیوں کے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔
سورہ مائدہ کی آیت ۱۸ میں ہے:( نَحْنُ اٴَبْنَاءُ اللهِ وَاٴَحِبَّاؤ )
یعنی ۔ ہم خدا کے فرزند اور خاص دوست ہیں ۔
سورہ بقرہ کی آیہ ۱۱۱ میں ہے:( وَقَالُوا لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَنْ کَانَ هُودًا اٴَوْ نَصَارَی )
یعنی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہودی اور عیسائی کے علاوہ کوئی جنت میں نہیں جاسکتا۔
سورہ بقرہ کی آیہ ۸۰ میں ہے:( وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ اٴَیَّامًا مَعْدُودَةً ) َ
چند دنوں کے سوا جہنم کی آگ ہمیں نہیں چھو سکتی۔
یہ موہوم خیالات ایک طرف تو انہیں ظلم و زیادتی اور گناہ و طغیان کی طرف مائل کرتے اور دوسری طرف تکبر، خود پسندی اور خود کو سب سے بلند سمجھنے کی دعوت دیتے۔
مندرجہ بالا آیات میں قرآن مجید انہیں دندان شکن جواب دیتاہے اور کہتا ہے: اگر ایسا ہی ہے جیسا کہ تم سمجھتے ہو کہ ) آخرت کا گھر خدا کے ہاں باقی لوگوں کو چھوڑ کر تمہارے لئے مخصوص ہے تو پھر موت کی تمنا کرو اگر سچ کہتے ہو (۔( قُلْ إِنْ کَانَتْ لَکُمْ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِنْدَ اللهِ خَالِصَةً مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوْا الْمَوْتَ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِین ) ۔ کیاتم مائل نہیں ہوکہ جوار رحمت خدا میں جاکر پناہ لو اور جنت کی بے شمار نعمتیں تمہارے اختیار میں ہوں ۔ کیا تم اپنے محبوب کے دیکھنے کے آرزومند نہیں ہو۔
یہودی چاہتے تھے کہ وہ یہ بات کرکے مسلمانوں کو آزردہ خاطر کریں کہ بہشت تو یہودیوں کے لئے مخصوص ہے یا یہ کہ ہم تو دوزخ میں بس چند دن جلیں گے اور یا کہتے کہ جنت میں صرف وہی جائے گا جو یہودی ہوگا۔ قرآن نے ان کے اس جھوٹ سے پردہ اٹھایاہے۔ کیونکہ جب وہ دنیا کی زندگی کو کسی طرح ترک کرنے کو تیار نہیں تو یہی ان کے جھوٹے ہونے کی محکم دلیل ہے۔
واقعا اگر انسان کا دار آخرت کے بارے میں وہی ایمان ہو جو بزعم خود یہودیوں کا تھا تو وہ اس دنیا سے کیسے لو لگا سکتا ہے اور کیسے اس کے حصول کے لئے ہزاروں گناہوں کا مرتکب ہوسکتا ہے اور وہ موت سے یہاں تک کہ اپنے مقصد کی راہ میں بھی کیسے ڈرسکتاہے۔
بعد والی آیت میں قرآن مزید کہتاہے۔ اپنے آگے بھیجے ہوئے برے اعمال کی وجہ سے وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے( وَلَنْ یَتَمَنَّوْهُ اٴَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ اٴَیْدِیهِمَْ ) ۔اور خدا ستمگاروں سے واقف ہے( وَاللهُ عَلِیمٌ بِالظَّالِمِین ) ۔
جی ہاں ۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے اعمال ناموں میں کیسی سیاہیاں موجود ہیں ۔ وہ اپنے قبیح اور سنگین گناہوں سے مطلع تھے۔ خدا بھی ان ظالموں کے اعمال سے آگاہ ہے۔ اسی لئے ان کے لئے آخرت کا گھر عذاب، سختی اور رسوائی کا گھر ہے اور اسی بناء پر وہ اس کی خواہش نہیں رکھتے۔
محل بحث آیت مادی چیزوں کے متعلق ان کی شدید حرص کا تذکرہ یوں کرتی ہے: انہیں تم اس زندگی پر سب سے زیادہ حریص پاؤگے۔( ولَتَجِدَنَّهُمْ اٴَحْرَصَ النَّاسِ عَلَی حَیَاة ) ۔ یہاں تک کہ مشرکین سے بھی بڑھ کر( وَمِنْ الَّذِینَ اٴَشْرَکُوا ) ۔ مال و دولت کی ذخیرہ اندوزی میں حریص ، دنیا پر قبضہ کرنے میں حریص، سب کچھ اپنے لئے سمجھنے میں حریص یہاں تک یہ مشرکین سے بھی بڑھ کر حریص ہیں حالانکہ مشرکین کو فطری طور پر مال جمع کرنے میں سب سے زیادہ حریص ہوناچاہئیے۔
ان میں سے ہر کوئی چاہتاہے کہ ہزار سال تک زندہ رہے( یَوَدُّ اٴَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اٴَلْفَ سَنَةٍ ) ۔ زیادہ ثروت جمع کرنے کے لئے یا سزا کے خوف سے۔
ہاں ۔ وہ موت سے ڈرتے ہیں اور ہزارسالہ عمر کی تمنا کرتے ہیں لیکن یہ طولانی عمر بھی انہیں عذاب خدا سے نہیں بچاسکے گی( وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنْ الْعَذَابِ اٴَنْ یُعَمر ) ۔
اگر وہ گمان کرتے ہیں کہ خدا ان کے اعمال سے آگاہ نہیں ہے تو وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں ۔ خدا ان کے اعمال کے بارے میں بصیر و بیناہے( وَاللهُ بَصِیرٌ بِمَا یَعْمَلُونَ ) ۔
ہزار سال عمر کی تمنا:
توجہ رہے کہ ہزار سال سے مر اد ہزار سال کا عدد نہیں بلکہ یہ طولانی عمر سے کنایہ ہے دوسرے لفظوں میں یہ عدد تکثیر ہے نہ کہ عدد تعداد۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ہزار کا عدد اس زمانے میں عربوں کے نزدیک سب سے بڑا عدد تھا اور اس سے بڑے عدد کا ان کے پاس کوئی نام نہیں تھا لہذا سب سے بڑا مبالغہ یہی شمار ہوتاتھا۔
( عَلَی حَیَاةٍ ) :
نکرہ کی صورت میں یہ تعبیر کچھ مفسرین کے بقول تحقیر کے لئے ہے یعنی انہوں نے دنیا کی زندگی سے دل وابستہ کر رکھاہے یہاں تک کہ اس جہان کی پست ترین زندگی کو بھی جو بدبختی سے گزرے وہ آخرت کے گھر پر ترجیح دیتے ہیں ۔
یہودیوں کی نسل پرستی:
اس میں شک نہیں کہ بہت سی جنگوں اور خونریزیوں کا سرچشمہ نسل پرستی تھے خصوصا دنیا کی پہلی اور دوسری جنگ عظیم جو تاریخ انسانی میں سب سے زیادہ انسانی جانوں کی بتاہی اور آبادی کی ویرانی کا باعث ہوئیں اس میں آلمانیوں (نازیوں ) کی نسل پرستی کے جنون سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔
اگر طے ہوجائے کہ دنیا کے نسل پرستوں کی صف بندی کی جائے یا فہرست مرتب کی جائے تو یہودی پہلی لائن میں ہوں گے۔
اس وقت بھی انہوں نے جو حکومت اسرائیل کے نام سے تشکیل دی ہے اسی نسلی تفاخر کی بنیاد پرہے اور اس کی تشکیل میں وہ کیسے مظالم کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس کی بقاء کے لئے کیسی کیسی دہشت ناکیوں کے مرتکب ہورہے ہیں ۔
حالت تو یہ ہے کہ دین موسوی کو بھی اپنی نسل میں محصور سمجھتے ہیں اور نسل یہود کے علاوہ کوئی یہودی مذہب قبول کرے تو یہ ان کیلیئے کوئی توجہ طلب بات نہیں اسی لئے تو وہ دیگر اقوام میں اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج نہیں کرتے اسی وجہ سے وہ ساری دنیا میں نفرت کی نگاہوں سے دیکھے جاتے، ہیں کیونکہ دنیا کے لوگ ایسے اشخاص کو ہرگز پسند نہیں کرتے جو دوسروں کے مقابلے میں اپنے نسلی امتیاز کے قائل ہوں ۔
اصولی طور پر نسل پرستی شرک کی ایک قسم ہے اسی لئے تو اسلام سختی سے اس کا مقابلہ کرتاہے اور تمام انسانوں کو ایک ماں باپ کی اولاد قرار دیتاہے جن کا امتیاز فقط تقوی و پرہیزگاری ہے۔
بہانہ ساز قوم:
آیت کی شان نزول دیکھنے سے دوبارہ اس بہانہ ساز قوم کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جس نے پیغمبر معظم حضرت موسی کے زمانے سے لے کر آج تک یہی روش اختیار کر رکھی ہے اور ہر زمانے میں حق کے زیر بار آنے کے بجائے بہانے تلاش کئے ہیں ۔
یہاں جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں بہانہ صرف یہ ہے کہ چونکہ جبرئیل آپ پر وحی لانے والا فرشتہ ہے جو خدا کے سخت احکام لاتاہے لہذا ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ ہم اس کے دشمن ہیں اگر میکائیل ہوتا تو کوئی حرج نہ تھا اور آسان تھا کہ ہم ایمان لے آئیں ۔
ان سے پوچھا جائے کہ کیا خدا کے فرشتے اپنی ڈیوٹی ادا کرنے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ کیا اصولا وہ خواہش کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اپنی طرف سے کچھ کہتے ہیں ؟ وہ تو قرآن کے مطابق ایسے
( لا یعصون الله ما امرهم یعنی ) ۔ جو کچھ خدا حکم دیتاہے وہ وہی انجام دیتے ہیں ۔ (تحریم ۔)
ان بہانہ سازیوں کا جواب زیر نظر آیات میں اس طرح دیتاہے : ان سے کہہ دو جو شخص جبرئیل کا دشمن ہے وہ در حقیقت خدا کا دشمن ہے کیونکہ اس نے تو خدا کے حکم سے آپ کے دل پر قرآن نازل کیاہے (۔( قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِجِبْرِیلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَی قَلْبِکَ بِإِذْنِ الله ) ۔
وہ قرآن جو گذشتہ آسمانی کتب کی تصدیق کرتاہے اور ان کی نشانیوں سے ہم آہنگ ہے( مصدقا لما بین یدیه ) ۔ وہی جو مومنین کے لئے ہدایت و بشارت کا سبب ہے( و هدى و بشری للمومنین ) ۔
اس آیت میں در اصل اس گروہ کو تین واضح جواب دئیے گئے ہیں :
ایک یہ کہ جبرئیل کوئی چیز اپنی طرف سے نہیں لاتا جو کچھ ہے( باذن الله ) ہے۔
دوسرا یہ کہ گذشتہ کتب میں سے صداقت اور روشنی کی نشانیاں اس میں موجود ہیں کیونکہ یہ انہی نشانیوں کے مطابق ہے( مصدق لما بین یدیه ) یعنی اس کا کوئی جواز نہیں کہ تم تورات پر تو ایمان لے آؤلیکن قرآن سے کفر و اختیار کرو جو تورات کی نشانیوں کے مطابق ہے۔
خلاصہ یہ کہ ان کے مضامین ہم آہنگ ہیں اور یہ بات قرآن کی سچائی کی ترجمان ہے اور یہ قرآن مومنین کے لئے ہدایت و بشارت کا سبب ہے۔
اگلی آیت مین یہی مضمون مزید تاکید و تہدید کے ساتھ بیان ہواہے۔ فرماتاہے: جو شخص خدا، فرشتوں ، خدا کے پیغمبروں ، جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہے۔ خدا اس کا دشمن ہے کہ خدا کافروں کا دشمن ہے
( مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِلَّهِ وَمَلاَئِکَتِهِ وَرُسُلِهِ وَجِبْرِیلَ وَمِیکَالَ فَإِنَّ اللهَ عَدُوٌّ لِلْکَافِرِین ) ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سب ایک ہی ہیں اور ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور ان میں تشکیک و تفاوت نہیں ہے جو اللہ، فرشتے، خدا کے رسول، جبرئیل و میکائیل بلکہ کسی فرشتے کا دشمن ہے اور جوان میں تشکیک و تفاوت کا قائل ہے پر وردگار اس کا دشمن ہے۔
بہ الفاظ دیگر احکام الہی جو نوع انسانی کے لئے سودمند اور تکامل بخش ہیں خدا کی طر ف سے فرشتوں کے ذریعے پیغمبروں پر نازل ہوتے ہیں اب اگر ذمہ داریاں مختلف ہوں تو تقسیم کارکے فرق کو تضاد کار تو نہیں کہا جاسکتا۔ یہ سب ایک ہی راہ مستقیم پرہیں لہذا ان میں سے کسی ایک کا دشمن خدا کا دشمن ہے۔ یہودی اور دیگر منکرین قرآن یہ جان لیں کہ انہوں نے جبرئیل، دیگر ملائکہ اور پیغمبروں کی دشمنی اختیار کرکے ایک بڑے طاقت ور کی دشمنی مول لی ہے۔ قرآن کہتاہے جو ان سے دشمنی رکھے خدائے بزرگ اس کا دشمن ہے کہ بے شک خدا کافروں کا دشمن ہے۔
رہی (قلب) کی بحث۔ کہ قرآن میں اس سے کیا مراد ہے تو یہ اسی سورہ کی آیت ، کے ذیل میں آچکے ہے۔
جبرئیل و میکائیل
جبرئیل کا نام تین مرتبہ اور میکائیلل کا نام ایک مرتبہ اسی مقام پر آیاہے۔ انہی آیات سے اجمالا معلوم ہوتاہے کہ دونوں فرشتے بزرگ اور مقرب الہی ہیں ۔ مسلمانوں کی عمومی تحریروں میں جبریل (ہمزہ کے ساتھ اور میکال (ہمزہ) اور (یا) کے ساتھ آتاہے لیکن متن قرآن میں جبریل اور میکال ہے۔
ایک گروہ کا نظریہ سے کہ جبریل عبرانی زبان کا لفظ ہے اور اس کی اصل جبرئیل ہے جس کا معنی ہے مرد خدا یا (قوت خدا) (جبر کا معنی قوت یا مرد ہے اورئیل کا معنی خداہے(
محل بحث آیات کے مطابق جبرئیل پیغمبر کے لئے وحی کا قاصد تھا اور آپ کے قلب مبارک پر قرآن نازل کرنے والاتھا جب کہ سورہ نحل کی آیہ ۱۰۲ کے مطابق روح القدس وحی لا تا تھا اور سورہ شعراء ، آیہ ۱۹۱ میں ہے کہ روح الامین تدریجا قرآن پیغمبر اکرم پر لاتارہا لیکن جیسا کہ مفسرین نے تصریح کی ہے ر وح القدس اور روح الامین سے مراد جبرئیل ہی ہیں ۔ ہمارے پیش نظر ایسی احادیث ہیں جن کے مطابق جبرئیل مختلف شکلوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوتے رہے اور مدینہ میں جبرئیل زیادہ تر وحی قلبی کی شکل میں آنحضرت کے سامنے ظاہر ہوتے تھے جو ایک خوبصورت جوان تھا۔
سورہ نجم سے ظاہر ہوتاہے کہ پیغمبر اکرم نے جبرئیل کو دو مرتبہ (اس کی اصل شکل میں ) دیکھا ہے۔
اسلامی کتب میں جن چار فرشتوں کا عموما مقرب بارگاہ الہی شمار کیاگیاہے وہ جبرئیل، میکائیل، اسرافیل اور عزرائیل ہیں ۔ جن میں سے جبرئیل بلند مرتبہ ہیں ۔
یہودیوں کی کتب میں بھی جبرئیل اور میکائیل کے متعلق گفتگو ہوئی سے۔ منجملہ ان کی کتاب دانیال میں جبرائیل کو شیطانوں کے سر براہ کو مغلوب کرنے والا اور میکائیل کو قوم اسرائیل کا حامی کہا گیا ہے لیکن بعض کے بقول کوئی ایسی چیز جو جبرئیل کی یہودیوں سے دشمنی پر دلالت کرے دسترس میں نہیں آئی اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں یہودیوں کا جبرئیل سے اظہار دشمنی ایک بہانہ تھا تا کہ اس کے ذریعے اسلام قبول کرنے سے بچ جائیں یہا ں تک کہ ان کی مذہبی کتب میں بھی اس کی کوئی بنیاد موجود نہیں ۔
آیات ۹۹،۱۰۰،۱۰۱
۹۹-( وَلَقَدْ اٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِهَا إِلاَّ الْفَاسِقُونَ )
۱۰۰ -( َوَکُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَبَذَهُ فَرِیقٌ مِنْهُمْ بَلْ اٴَکْثَرُهُمْ لاَیُؤْمِنُونَ )
۱۰۱ ۔( وَلَمَّا جَائَهُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیقٌ مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ نَبَذَ فَرِیقٌ مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ کِتَابَ اللهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ کَاٴَنَّهُمْ لاَیَعْلَمُونَ )
ترجمہ
۹۹ ۔ تیرے لئے ہم نے روشن نشانیاں بھیجیں اور سوائے فاسقین کے کوئی ان کا انکار نہیں کرسکتا۔
۱۰۰ ۔ اور کیا جب بھی (یہودی) کوئی پیمان (خدا و رسول سے) باندھتے ان میں سے ایک گروہ اسے پس پشت نہیں ڈال دیتاتھا اور اس کی مخالفت نہیں کرتاتھا) اور ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے۔
۱۰۱ ۔ اور جب بھی خدا کی طرف سے کوئی رسول ان کی طرف آیا جب کہ وہ ان نشانیوں کے مطابق بھی تھا جو ان کے پاس تھیں اور ان میں سے ایک جماعت نے جو عامل کتاب (اور عالم ) لوگوں پر مشتمل تھی خدا کی کتاب کو ایسے پس پشت ڈال دیا گو یا وہ اس سے بالکل بے خبر تھے۔
شان نزول
مندرجہ بالا پہلی آیت کے سلسلے میں ابن عباس سے شان نزول منقول ہے کہ ابن صوریانے ڈھٹائی اور عناد کی بناء پر پیغمبر اسلام سے کہا:
تمہاری لائی ہوئی کوئی چیز ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور خدا نے تم پر کوئی واضح نشانی نازل نہیں کی کہ ہم تمہاری اتباع کریں ۔
اس پر زیر نظر آیت نازل ہوئی اور اسے صراحت سے جواب دیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ شان نزول آیات کے مفاہیم کو کبھی محدود نہیں کرسکتا اور ان کے کلیت و عمومیت میں کمی نہیں ہوتی اگر چہ ان کے آغاز کا سبب وہی ہوتاتھا۔
پیمان شکن یہودی
زیر بحث پہلی آیت میں قرآن اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ کافی دلیلیں ، روشن نشانیاں اور واضح آیات پیغمبر اکرم کے پاس تھیں ۔ جو لوگ انکار کرتے وہ در اصل آپ کی دعوت کی حقانیت کو جان چکتے تھے لیکن مخصوص اغراض کی خاطر مخالفت میں کھڑے ہوجاتے۔ قرآن کہتاہے: ہم نے تم پر آیات بینات نازل کیں اور فاسقین کے سواکوئی ان سے کفر نہیں کرتا( لَقَدْ اٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ آیَاتٍ بَیِّنَاتٍ وَمَا یَکْفُرُ بِهَا إِلاَّ الْفَاسِقُونَ ) ۔
آیات قرآن پر غور و فکر کرنے سے ہر پاک دل اور حق جو انسان کے لئے راستے واضح اور و روشن ہوجاتے ہیں اور ہر کوئی ان آیات کے مطالعے سے پیغمبر اسلام کی صداقت اور قرآن کی عظمت کو پالیتاہے لیکن اس حقیقت کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کا دل گناہ کے اثر سے سیاہ نہ ہوچکا ہو اور تعجب نہیں کہ فاسق لوگ فرمان خدا کی اطاعت سے روگردانی کرتے ہیں اور اپنی صحیح فطرت کو تسلسل گناہ کے باعث گنوا بیٹھتے ہیں ، وہ کبھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔
اس کے بعد یہودیوں کے ایک گروہ کی ایک بہت قبیح صفت یعنی ایفائے عہد کی عدم پاسداری اور پیمان شکنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے: کیا جب کبھی انہوں نے خدا اور پیغمبر سے عہد و پیمان باندھا تو ان میں سے ایک گروہ نے اسے پس پشت نہیں ڈال دیا اور اس کی مخالفت نہیں کی( اوَکُلَّمَا عَاهَدُوا عَهْدًا نَبَذَهُ فَرِیقٌ مِنْهُمْ بَلْ اٴَکْثَرُهُمْ لاَیُؤْمِنُونَ )
) بے شک وہ ایسے ہی ہیں اور ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے( بل اکثرهم لا یومنون ) ۔
خدانے کوہ طور پر ان سے یہ عہد لیاتھا کہ تورات کے احکام پر عمل کریں گے لیکن انہوں نے یہ عہد توڑدیا یا اور اس پر عمل نہیں کیا۔ ان سے یہ عہد بھی لیاگیاتھا کہ پغمبر موعود (پیغمبر اسلام جن کے آنے کی بشارت تورات میں موجود تھی) پر ایمان لے آئیں ، انہوں نے اس عہد پر بھی عمل نہیں کیا۔
جب پیغمبر اسلام مدینہ میں آئے تو بنی نضیر اور بنی قریظہ کے یہودیوں سے عہد و پیمان ہوا کہ وہ آپ کے دشمن کی مدد نہیں کریں گے لیکن آخر کار انہوں نے یہ عہد بھی توڑدیا اور جنگ احزاب (خندق میں اسلام کے خلاف مشرکین مکہ کا ساتھ دیا۔
بنیادی طور پر یہودیوں کی اکثریت کا پرانا طریقہ اور سنت ہے کہ وہ اپنے عہد و پیمان کی پابندی نہیں کرتے۔ ہم آج بھی واضح طور پر دیکھ رہے ہیں کہ صہیونیوں اور اسرائیل کا مفاد جہاں خطرے میں بین الاقوامی معاہدوں کو پاؤں تلے روند ڈالتے ہیں ۔ زیر بحث آیات میں سے آخری اس موضوع کو صراحت سے اور گویا تاکید سے بیان کرتی ہے۔ فرمایا: خدا کا بھیجا ہو اان کے پاس آیا جوان نشانیوں کے مطابق تھا جوان کے ہاں موجود تھیں ، ان میں سے ایک جماعت جو صاحب کتاب لوگوں (علماء) پر مشتمل تھی اس نے کتاب خدا کو ایسے پس پشت ڈال دیا گویا انہیں علم ہی نہ تھا( وَلَمَّا جَائَهُمْ رَسُولٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیقٌ مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ نَبَذَ فَرِیقٌ مِنْ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ کِتَابَ اللهِ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ کَاٴَنَّهُمْ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔
مندرجہ بالا ابحاث میں قرآن نے اپنی دیگر بحثوں کی ایک جمعیت کی اکثریت کے گناہ کی وجہ سے سب کو قابل ملامت قرار نہیں دیا بلکہ (فریق) اور اکثریت کے الفاظ استعمال کرکے اقلیت کے تقوی و ایمان کے حصے کی حفاظت کی ہے اور حق طلبی و حق جوئی کی یہی راہ و رسم ہے۔
آیات ۱۰۲،۱۰۳
۱۰۲ ۔( وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّیَاطِینُ عَلَی مُلْکِ سُلَیْمَانَ وَمَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ وَلَکِنَّ الشَّیَاطِینَ کَفَرُوا یُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا اٴُنزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا یُعَلِّمَانِ مِنْ اٴَحَدٍ حَتَّی یَقُولاَإِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلاَتَکْفُرْ فَیَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُونَ بِهِ بَیْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ وَمَا هُمْ بِضَارِّینَ بِهِ مِنْ اٴَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ وَیَتَعَلَّمُونَ مَا یَضُرُّهُمْ وَلاَیَنفَعُهُمْ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنْ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِی الْآخِرَةِ مِنْ خَلاَقٍ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ اٴَنفُسَهُمْ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ )
۱۰۳ ۔( وَلَوْ اٴَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ خَیْرٌ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ )
ترجمہ
۱۰۲ ۔ (یہودی) اس کی پیروی کرتے ہیں جو سلیمان کے زمانے میں شیاطین لوگوں کے سامنے پڑھتے تھے سلیمان (نے) کبھی بھی جادو سے اپنے ہاتھ نہیں رنگے اور وہ ) کافر نہیں ہوئے۔ لیکن شیاطین نے کفر کیاہے اور لوگوں کو اس جادو کی تعلیم دی۔ جو بابل کے وہ فرشتوں ہاروت اور ماروت پر نازل ہوا وہ دونوں فرشتے جادو کرنے کا طریقہ لوگوں کو اسے باطل کرنے کے طریقے سے آگاہ کرنے کیلئے سکھاتے تھے وہ کسی کو کوئی بھی چیز سکھانے سے پہلے اسے کہتے تھے کہ ہم تیری آزمایش کا ذریعہ ہیں ، کہیں کافر نہ ہوجانا (اور ان تعلیمات سے غلط فائدہ نہ اٹھانا) لیکن وہ ان دو فرشتوں سے وہ مطالب سیکھتے تھے جن کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال سکیں (نہ یہ کہ اس تعلیم سے جادو کے اثر کو باطل کرنے کے لئے استفادہ کریں ) مگر وہ حکم خدا کے بغیر کبھی کسی کو ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ وہ صرف انہی حصوں کو سیکھتے جو ان کے لئے نقصان دہ تھے اور انہیں ان کا کوئی فائدہ نہ تھا اور یقینا وہ یہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسے مال و متاع کا خریدار ہو اسے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ملے گا اور کاش وہ یہ جانتے کہ کس قدر قبیح اور ناپسندیدہ تھی وہ چیز جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو بیچتے تھے۔
۱۰۳ ۔ اگر وہ توجہ کرتے اور ایمان لے آتے اور پرہیزگاری کو اپنا شیوہ بناتے تو خدا کے پاس جو اس کا بدلہ تھا وہ ان کے لئے بہتر تھا۔
سلیمان اور بابل کے جادوگر
احادیث سے ظاہر ہوتاہے کہ پیغمبر حضرت سلیمان کے زمانے میں کچھ لوگ آپ کے ملک میں سحر و جاد و کا عمل کرنے لگے حضرت سلیمان نے حکم دیا کہ تمام تحریریں اور اوراق جمع کرکے ایک مخصوص جگہ پر رکھ دو (انہیں محفوظ رکھنا شاید اس بناء پر تھا کہ ان میں سحر و جادو کو باطل کرنے کے لئے مفید مطالب بھی تھے)۔
حضرت سلیمان کی رحلت کے بعد کچھ لوگوں نے انہی تحریروں کو باہر نکالا اور جادو کی ترویج شروع کردی ۔ بعض نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور کہنے لگے کہ سلیمان بالکل پیغمبر نہ تھے بلکہ وہ اسی سحر اور جادو کی مدد سے ان کے ملک پر قابض تھے اور اسے وہ خارق عادت امور انجام دیتے تھے۔
بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے بھی ان کی پیروی کی اور جادوگری کے بہت زیادہ دلدادہ ہوگئے یہاں تک کہ تورات سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔
جب پیغمبر اسلام نے ظہور فرمایا اور آیات قرآنی کے ذریعے خبردی کہ سلیمان خدا کے پیغمبروں میں سے تھے تو یہودیوں کے بعض احبار و علماء کہنے لگے:
کیا محمد پر حیرت نہیں جو کہتاہے سلیمان پیغمبران خدا میں سے تھا جب کہ وہ تو جادوگر تھا۔
یہودیوں کی یہ گفتگو خدا کے ایک بزرگ پیغمبر پر تہمت و افتراء تھی یہاں تک کہ اس کا لازمی نتیجہ حضرت سلیمان کی تکفیر تھا کیونکہ ان کے کہنے کے مطابق تو سلیمان ایک جادو گر تھے اور غلط طور پر اپنے آپ کو پیغمبر کہتے تھے۔
قرآن انہیں جواب دیتاہے کہ سلیمان ہرگز کافر نہ تھے بلکہ شیاطین اور لوگوں کو جادو سکھانے والے کافر ہوگئے تھے۔
پہلی زیر بحث آیت یہودیوں کی برائیوں کے ایک اور پہلو کا پتہ دیتی ہے۔ وہ یہ کہ انہوں نے خدا کے بزرگ پیغمبر حضرت سلیمان کو جادوگری کا الزام دیاتھا: فرمایا: یہ (یہودی) اس کی پیروی کرتے ہیں جو شیاطین سلیمان کے زمانے میں لوگوں کے سامنے پڑھتے تھے( وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّیَاطِینُ عَلَی مُلْکِ سُلَیْمَانَ ) ۔
ممکن ہے (و اتبعوا) کی ضمیر پیغمبر اسلام کے ہم عصر یہودیوں ، یا حضرت سلیمان کے زمانے کے یہودیوں یا دونوں کے طرف اشارہ ہو لیکن گذشتہ آیات سے مناسبت کے لحاظ سے یہ پیغمبر اسلام کے ہم عصر یہودیوں کی طرف اشارہ ہے۔
شیاطین سے بھی ممکن ہے سرکش انسان یا جن یا دونوں مراد ہوں ۔
بہر حال اس گفتگو کے بعد قرآن مزید کہتاہے: سلیمان کبھی کافر نہیں ہوئے( و ما کفر سلیمان ) ۔ انہوں نے کبھی نہ جادو کو ذریعہ بنایا اور نہ بلا وجہ اپنی رسالت کا دعوی کیا۔
لیکن شیاطین کافر ہوئے ہیں اور انہی نے جادو کی تعلیم دی ہے( وَلَکِنَّ الشَّیَاطِینَ کَفَرُوا یُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْر ) ۔
پھر وہ مزید کہتاہے کہ انہوں نے اس کی پیروی کی جو بابل کے دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر نازل ہوا( وَمَا اٴُنزِلَ عَلَی الْمَلَکَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ) ۔
گویا انہوں نے دو طرف سے جادو کی طرف ہاتھ بڑھا یا ایک تو شیاطین کی تعلیم سے جو حضرت سلیمان کے زمانے میں تھے اور دوسرا خدا کے دو فرشتوں ہاروت اور ماروت کے ذریعے سے جو لوگوں کو جادو باطل کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔
ان دو خدائی فرشتوں کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ وہ لوگوں کو جادو کا اثر زائل کرنے کا طریقہ سکھ ائیں لہذا وہ کسی بھی شخص کو کچھ سکھانے سے پہلے کہہ دیتے تھے کہ ہم تمہاری آزمایش کا ذریعہ ہیں ، کافر نہ ہوجانا (اور ان تعلیمات سے غلط فائدہ نہ اٹھانا)( ومَا یُعَلِّمَانِ مِنْ اٴَحَدٍ حَتَّی یَقُولاَإِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلاَتَکْفُر ) ۔
یہ دو فرشتے اس زمانی میں لوگوں کے پاس آئے جب جادو کا بازار گرم تھا اور لوگ جادو گروں کے چنگل میں پھنسے ہوئے تھے اور ان فرشتوں نے جادو گروں کے جادو کو باطل کرنے کا طریقہ لوگوں کو سکھایا۔
چونکہ کسی چیز (مثلا بم) کو بے کار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان پہلے سے اس چیز (مثلا بم کی ساخت، سے آگاہ ہوپھر ہی اسے بیکار کرنے کا طریقہ سیکھے لیکن یہودیوں میں سے غلط فائدہ اٹھانے والوں نے اسے زیادہ سے زیادہ جادو پھیلانے کا ذریعہ بنالیا اور اتنا آگے بڑھے کہ ایک عظیم پیغمبر حضرت سلیمان کو بھی متہم کیا کہ اگر مادل عوامل ان کے زیر فرمان ہیں اور جن و انس ان کی فرمانبرداری کرتے ہیں تو یہ سب جادو کی وجہ سے ہے۔
بدکار لوگوں کا یہی طریقہ ہے کہ وہ اپنے برے مسلک اور پروگرام کی توجیہ کے لئے بزرگوں کو اسی مسلک کا پیرو ہو نے کا اتہام دیتے ہیں ۔
بہرحال وہ اس خدائی آزمایش میں کامیاب نہ ہوسکے وہ ان دو فرشتوں سے ایسے مطالب سیکھتے تھی جن کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی کے در میان جدائی ڈال سکیں( فَیَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُونَ بِهِ بَیْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِه ) ۔
مگر خدا کی قدرت ان تمام قدرتوں پر حاوی ہے لہذا وہ حکم خدا کے بغیر ہرگز کسی کو نقصان نہیں پہنچاسکتے( وَمَا هُمْ بِضَارِّینَ بِهِ مِنْ اٴَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ ) ۔
انہوں نے اس اصلاحی خدائی پروگرام کی تحریف کردی اور بجائے اس کے کہ وہ اسے اصلاح اور جادو کے مقابلے کا ذریعہ بناتے فساد کا ذریعہ بناڈالا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسے مال و متاع کا خریدار ہو اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا( وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنْ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِی الْآخِرَةِ مِنْ خَلاَقٍ )
بے شک کتنی بری اور قبیح تھی وہ چیز جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو بیچ رہے تھے اے کاش ان میں علم و دانش ہوتی( وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ اٴَنفُسَهُمْ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ) ۔
انہوں نے جان بوجھ کر اپنی اور اپنے معاشرے کی سعادت و نیک بختی کو ٹھکرادیا اور کفرو گناہ کے گرداب میں غوطہ زن ہوگئے حالانکہ اگر وہ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے تو خدا کے ہاں سے جو بدلہ اور ثواب انہیں ملتا وہ ان کے لئے ان تمام امور سے بہتر ہوتا اے کاش وہ متوجہ ہوتے( وَلَوْ اٴَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِنْ عِنْدِ اللهِ خَیْرٌ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ) ۔
ہاروت اور ماروت کا واقعہ:
بابل میں نازل ہونے والے فرشتوں کے بارے میں لکھنے والوں نے کئی قصے کہانیاں اور افسانے تراشے اور خدا کے ان دو بزرگ فرشتوں کے سر تھوپ دیے حتی کہ انہیں خرافات اور انسانوں کا عنوان بنادیا گیا اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ کسی دانشمند کے لئے اس تاریخی واقعہ کی تحقیق اور مطالعہ بہت مشکل ہوگیا لیکن جو کچھ زیادہ صحیح نظر آتاہے اور عقلی و تاریخی لحاظ سے صحیح ہے نیز مصادر حدیث کے مطابق ہے ، ہم یہاں پیش کرتے ہیں ۔
سرزمین بابل پر سحر اور جادوگری اپنے کمال کو پہنچ چکی تھی اور لوگوں کی پریشانی اور تکلیف کا باعث بن چکی تھی خدانے دو فرشتوں کو انسانی صورت میں مامور کیا کہ وہ جادوں کے عوامل اور اسے باطل کرنے کا طریقہ لوگوں کو سکھائیں تا کہ وہ جادوگروں کے فساد اور شر سے محفوظ رہ سکیں ۔
لیکن یہ تعلیمات بہر حال غلط مقاصد کے لئے بھی استعمال ہوسکتی ہیں کیونکہ فرشتے مجبور تھے کہ جادوگروں کا جادو باطل کرنے کے لئے پہلے جادو کے طریقے کی تشریح کریں تا کہ لوگ اس طرح اس کی پیش بندی کرسکیں اس وجہ سے ایک گروہ جادو کا طریقہ سیکھنے کے بعد خود جادو گروں کی صف میں شامل ہوگیا اور لوگوں کے لئے نئی زحمت کا سبب بنا حالانکہ وہ فرشتے لوگوں کو تنبیہ کرتے تھے اور ان کے لئے صراحتا کہتے تھے کہ یہ تمہارے لئے ایک طرح کی آزمایش ہے اور یہاں تک کہا کہ اس سے غلط فائدہ اٹھانا ایک طرح کا کفر ہے لیکن پھر بھی وہ لوگ ایسے کاموں میں پڑگئے جو انسانوں کی لئے ضرر اور نقصان کا باعث تھے۔
جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیاہے وہ بہت سی احادیث اور اسلامی مصادر سے لیاگیاہے اور عقل و منطق سے بھی اس کی ہم آہنگی آشکار ہے۔ منجملہ ان کی ایک حدیث وہ بھی ہے جو عیون اخبار الرضا میں ہے (ایک طریق سے خود امام علی بن موسی رضا سے اور دوسرے طریق سے امام حسن عسکری سے منقول ہے) یہ حدیث واضح طور پر اس مفہوم کی تائید کرتی ہے۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ بعض مورخین اور دائرہ المعارف (انساٹیکلو پیڈیا) لکھنے والے حضرات یہاں تک کہ بعض مفسرین بھی اس ضمن میں جعلی انسانوں کے زیر اثر آگئے ہیں ۔ بعض لوگوں ۔ میں خدا کے ان دو معصوم فرشتوں کے بارے میں جو کچھ مشہور ہے انہوں نے بھی ذکر کردیاہے۔ کہاجاتا ہے کہ وہ دو فرشتے تھے خدانے انہیں زمین پر اس لئے بھےجا تا کہ انہیں معلوم ہوجائے کہ اگروہ انسانوں کی جگہ ہوتے تو وہ بھی گناہ سے نہ بچ پاتے اور خدا کی نافرمانی کرتے لہذا وہ دونوں بھی زمین پر اترنے کے بعد بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی ستارہ زہرہ کے بارے میں بھی افسانہ تر اشاگیاہے۔ یہ تمام چیزیں خرافات اور بے بنیاد بکواس ہیں ۔ قرآن ان امور سے پاک ہے اگر مندرجہ بالا آیات کے متن میں ہی غور کیاجائے تو ہم دیکھیں گے کہ قرآن کا بیان ان باتوں سے کوئی ربط نہیں رکھتا۔
(ہاروت) اور (ماروت) الفاظ کی حیثیت سے:
ایک لکھنے والے کے نظریے کے مطابق ہاروت اور ماروت ایرانی الاصل نام ہیں وہ کہتاہے کہ اس نے ارمنی کتاب میں (ہرروت) کا معنی (زرخیزی) اور (مروت) کا معنی (بے موت) دیکھا ہے۔ اور یہ دونوں لفظ کوہ مازلیں (کوہ آرارات) کے دو خداؤں کے نام ہیں ۔ اس کا نظریہ ہے کہ ہاروت و ماروت انہی دو الفاظ سے ماخوذ ہیں ۔ لیکن اس استنباط کے لئے کوئی واضح علامت و دلیل نہیں ہے۔
اور ستا میں ہے:
ہر ورات جو خرداد ہی ہے اور اسی طرح امردات جس کا معنی بے موت ہے جو کہ مرداد ہے۔
دھخدا نے اپنی لغت میں جو کچھ لکھاہے وہ آخری معنی سے کچھ ملتاہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض کے نزدیک تو ہاروت و ماروت بابل رہنے والے دو مردتھے۔
بعض نے تو انہیں شیاطین قراردے دیاہے حالانکہ مندرجہ بالا آیت واضح طور پر ان مفاہیم کو رد کرتی ہے (مگر یہ کہ آیات کی تفسیر و توجیہ اس کے ظاہری مفہوم کے خلاف کردی جائے)۔
فرشتہ انسان کا معلم کیونکر ہوسکتاہے؟
یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے کہ قرآن کی آیات کے ظاہری مفہوم اور متعدد روایات کے مطابق جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ہاروت و ماروت خدا کے دو فرشتے تھے جو جادو گروں کی اذیت و آزار کا مقابلہ کرنے کے لئے لوگوں کو تعلیم دینے آئے تھے، تو کیا فرشتہ انسان کا معلم ہوسکتاہے؟
اس سوال کا جواب انہی احادیث میں مذکور ہے اور وہ یہ کہ خدا نے انہیں انسانوں کی شکل و صورت میں بھیجاتھا تا کہ وہ یہ کام انجام دے سکیں ۔
یہ حقیقت سورہ انعام کی آیت ۸ سے بھی ظاہر ہوتی ہے جہاں فرمایا گیاہے:( و لو جعلنه ملکا لجعلنه رجلا ) (
اور اگر ہم فرشتے کو اپنا رسول بناتے تو اسے بھی مرد کی صورت میں بھیجتے۔
کوئی شخص اذن خدا کے بغیر کسی چیز پر قادر نہیں :
مندرجہ بالا آیت میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جادوگر اذن پروردگار کے بغیر کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔ اس میں جبر و اجبار کا مفہوم نہیں یہ توحید کے ایک اساسی اصول کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ اس جہان کی تمام قدرتوں کا سرچشمہ قدرت خداہے۔ یہاں تک کہ آگ کا جلانا اور تلوار کا کاٹنا بھی اس کے اذن و فرمان کی بغیر نہیں ۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ جادوگر عالم آفرینش میں خدا کے ارادے کے برعکس دخیل ہوں اور یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ خدا کی سلطنت میں کوئی اسے محدود کردے بلکہ یہ تو خواص و آثار ہیں جو مختلف موجودات میں پیدا کئے گئے ہیں بعض ان سے صحیح فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض غلط اور یہ آزاری و اختیار بھی انسانوں کی آزمایش اور ان کے تکامل کے لئے ایک زمینہ ہے۔
جاد و کیاہے اور کس وقت سے ہے:
جادہ کسے کہتے ہیں اور یہ کس زمانے سے وجود میں آیاہے یہ ایک وسیع بحث ہے۔ اتنا کہاجاسکتاہے کہ جادو بہت قدیم زمانے سے لوگوں مین رائج ہے اس کی بالکل صحیح تاریخ دستیاب نہیں ۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ کس شخص نے پہلی مرتبہ جادوگری کو وجودد یا تھا۔ لیکن سحر کے معنی اور اس کی حقیقت کے بارے میں کہاجاسکتاہے کہ جادو خارق عادت افعال کی ایک قسم ہے یہ اپنی طرف سے انسانی وجود میں کچھ آثار پیدا کرسکتاہے اور بعض اوقات آنکھوں کا دھوکا اور ہاتھ کی صفائی ہے اور صرف نفسیاتی و خیالی پہلو رکھتاہے۔ لغت میں سحر کے دو معانی مذکور ہیں :
۱ ۔ فریب، طلسم، شعبدہ اور ہاتھ کی صفائی۔ قاموس میں سحر کردن کا معنی لکھاہے دھوکادینا۔
۲ ۔ (کل ما لطف دق) یعنی وہ جس کے عوامل نظر نہ آتے ہوں اور پوشیدہ ہوں ۔
مفردات راغب، جو قرآن کے مفرد الفاظ کے لئے مخصوص ہے، میں تین معانی کی طرف اشارہ ہوا ہے:
۱ ۔ فریب اور حقیقت و واقعیت کے بغیر خیالات جیسے شعبدہ بازی اور ہاتھ کی صفائی۔
۲ ۔ بعض نے ایک معنی اور بھی کیاہے اور وہ یہ کہ ممکن ہے کچھ وسائل سے بعض اشخاص و موجودات کی ماہیت اور شکل بدل دینا، مثلا انسان کو جادو کے ذریعے حیوانی شکل میں تبدیل کردینا۔ لیکن یہ بات خواب و خیال سے زیادہ نہیں ہے اور اس کی کوئی حقیقت و واقعیت نہیں ہے۔
قرآن مین لفظ سحر اور اس کے مشتقات مختلف سورتوں مثلا طہ، شعراء یونس اعراف و غیرہ میں آئے ہیں اور یہ خدا کے پیغمبروں حضرت موسی حضرت عیسی اور پیغمبر اسلام کے حالات کے ضمن میں ہیں ۔ ان کے مطالعہ سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قرآن کی نظر میں سحر دو حصوں میں تقسیم ہوتاہے:
۱ ۔ وہ مقام جہاں سحر سے مقصود دھوکا، ہاتھ کی صفائی، شعبدہ بازی اور فریب نظر ہے اور کوئی حقیقت نہیں مثلا:( فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ إِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اٴَنَّهَا تَسْعَی )
یوں لگتا تھا جیسے ان (جادوگروں ) کی رسیاں اور لاٹھیاں اس (موسی) کی طرف دوڑ رہی ہوں ۔ (طہ، ۶۶)
ایک اور آیت یوں ہے:( فَلَمَّا اٴَلْقَوْا سَحَرُوا اٴَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَائُوا بِسِحْرٍ عَظِیم )
جب انہوں نے رسیوں کو پھینکا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا انہیں خو ف زدہ کردیا۔ (اعراف۔ ۱۱۶)
ان آیات سے واضح ہوتاہے کہ جاد و کی کوئی حقیقت و واقعیت نہیں ہے اور یہ نہیں کہ جادوگر چیزوں میں تصرف کرسکیں اور اپنا اثر باقی رکھ سکیں بلکہ یہ تو ان کے ہاتھ کی صفائی اور فریب نظرہے کہ لوگوں کو حقیقت کے برعکس دکھائی دیتاہے
(ب) قرآن کی بعض آیات سے ظاہر ہوتاہے کہ سحر کی بعض اقسام واقعات اثر انداز ہوتے ہیں ۔ مثلا زیر بحث آیت جس میں ہے کہ وہ جادو سیکھتے تھے تا کہ مرد اور اس کی بیوی میں جدائی ڈالیں ۔( فیتعلمون منهما ما یفرقون به بین المرء و زوجه ) ۔
ایک اور بات جو مندرجہ بالا آیات میں تھی کہ وہ ایسی چیزیں سیکھتے جو ان کے لئے مضر ہوتیں اور نفع بخش نہ ہوتیں :( و یتعلمون ما یضرهم و لا ینفعهم )
لیکن یہاں سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا جادو کی تاثیر نفسیاتی پہلو رکھتی ہے یا اس کا جسمانی اور خارجی اثر بھی ممکن ہے۔ زیر بحث آیات میں اس طرف کوئی اشارہ نہیں ۔ اسی لئے بعض کا نظریہ ہے کہ جادو کا اپنا اثر صرف خیالی اور نفسیاتی لحاظ سے ہے۔
ایک اور نکتہ جس کا ذکر یہاں ضروری ہے یہ ہے کہ دیکھنے میں آتاہے کہ جادو کی تمام یا بعض قسمیں ایسی ہیں جن میں چیزوں کے کیمیائی اور طبیعائی خواص سے فائدہ اٹھا کر سادہ لوح عوام کو دھوکا دیاجاتاہے اور انہیں بیوقوف بنایاجاتاہے ۔ مثلا حضرت موسی کے زمانے کے جادو کی تاریخ میں ہے کہ جادو گر اپنی رسیوں اور چھڑیوں میں کسی مخصوص کیمیائی مواد (مثلا احتمال ہے کہ سیماب و غیرہ ہوگا) کا استعمال کیا کرتے تھے اور پھر یہ چیزیں سورج کی تپش یا کسی اور حرارت کے ذریعے حرکت میں آجاتی تھیں اور تماشائی سمجھتے تھے کہ وہ جاندار ہوگئی ہیں ایسا جادو ہمارے زمانے تک میں نایاب نہیں ہے۔
جادو اسلام کی نظر میں
یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا جادو سیکھنا اور اس پر عمل کرنا اسلام کی نگاہ میں کوئی اشکال نہیں رکھتا۔
اس سلسلے میں تمام فقہاء اسلام کہتے ہیں جادو سیکھنا اور جادوگری کرنا حرام ہے۔
اس ضمن میں اسلام کے بزرگ رہنما ؤں سے احادیث بھی وارد ہوئی ہیں جو ہماری معتبر کتب میں منقول ہیں ۔ نمونے کے طور پر ہم یہ حدیث پیش کرتے ہیں :
حضرت علی فرماتے ہیں :
( من تعلم شیئا من السحر قلیلا او کثیرا فقد کفر و کان اخر عهده بربه ) جو شخص کم یا زیادہ جادو سکیھے وہ کافر ہے اور خدا سے اس کا رابطہ اسی وقت بالکل منقطع ہو جائے گا۔
لیکن اگر جادوگر کے جادو کو باطل کرنے کے لئے سیکھنا پڑے تو اس میں کوئی اشکال نہیں بلکہ بعض اوقات کچھ لوگوں پر اس کا سیکھنا واجب کفائی ہوجاتاہے تا کہ اگر کوئی جھوٹا مدعی اس کے ذریعے سے لوگوں کو دھوکادے یا گمراہ کرے تو اس کے جادو کو باطل کیاجاسکے اور اس کا جھوٹ فاش کیاجاسکے۔
جادوگر کا جادو باطل کرنے اور اس کے جھوٹ کی قلعی کھولنے کے لئے جادو سیکھنے میں کوئی حرج نہیں ، اس کی شاہد وہ حدیث ہے جو امام صادق سے منقول ہے جویوں ہے:
ایک جادوگر جادو کے عمل کی اجرت اور مزدوری لیتا تھا۔ وہ امام صادق کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھنے لگا کہ میرا پیشہ جادوگری ہے اور میں اس کے بدلے اجرت لیتاہوں اور میری زندگی کے اخراجات اسی سے پورے ہوتے ہیں ۔ اسی کی آمدنی سے میں نے حج کیاہے لیکن اب میں توبہ کرتاہوں تو کیا میرے لئے راہ نجات ہے۔ امام صادق نے جواب میں ارشاد فرمایا: جادو کی گرہیں کھول دو لیکن گرہیں باندھو نہیں ۔
دشمن کی ہاتھ بہانہ مت دو
شان نزول میں جو بات بیان کی گئی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے۔ اے ایمان والو! جب پیغمبر سے آیات قرآں سمجھنے کے لئے مہلت مانگو تو (راعنا) نہ کہو بلکہ (انظرنا) کہو (کیونکہ اس کا بھی مفہوم وہی ہے لیکن دشمن کے لئے سند نہیں بنتا،( اٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا ) اور جو حکم تمہیں دیاجارہاہے اسے سنو۔ کافروں اور استہزاء کرنے والوں کے لئے دردناک عذاب ہے( وَاسْمَعُوا وَلِلْکَافِرِینَ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔
اس آیت سے واضح ہوتاہے کہ مسلمان اپنے پروگراموں میں دشمن کے ہاتھ کوئی بہانہ نہ آنے دیں یہاں تک کہ ایک چھوٹا سا جملہ غلط مقاصد میں دشمن کے لئے مقارم بحث بن سکے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہئیے۔ قرآن مخالفین کی طرف سے مومنین سے غلط فائدے اٹھانے کی روک تھام کی نصیحت کرتاہے اور چاہتاہے کہ ایک لفظ تک ایسا نہ کہیں جس کے ایسے مشترک معنی ہوں کہ دشمن جس کے دوسرے معنی کو غلط استعمال کرسکے اور مومنین کی نفسیاتی کمزوری کا باعث بنے۔ جب دامن کلام اور تعبیر سخن وسیع ہے تو کیا ضرورت پڑی ہے کہ انسان ایسے جملے استعمال کرے جو قابل تحریف ہوں اور غلط مفاد کا باعث ہوں ۔
جب اسلام اتنی اجازت نہیں دیتا کہ دشمن کے ہاتھ کوئی ایسا بہانہ دیاجائے تو بڑے بڑے مسائل میں مسلمانوں کی ذمہ داری واضح ہوجاتی ہے۔ اب بھی ہم سے کبھی ایسے کام سرزد ہوجاتے ہیں جو داخلی دشمن کے لئے یا بین الاقوامی مجالس میں بری تفسیر کا سبب ہوتے ہیں اور لاوڈ سپیکر پر دشمن کے پرا پیگنڈہ کے لئے سودمند ہوتے ہیں ۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسے کاموں سے پرہیز کریں اور بلاوجہ داخلی اور خارجی دشمنوں کے ہاتھ بہانہ نہ دیں ۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ لفظ (راعنا) مندرجہ بالا پس منظر کے علاوہ ایک غیر مودبانہ انداز کا بھی حامل ہے کیونکہ (راعنا) مراعات کے مادہ (باب مفاعلہ) سے ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم ہماری اعانت کرو، ہم تم سے مراعات کریں چونکہ یہ غیر مودبانہ تعبیر تھی (علاوہ ازیں یہودی بھی اس سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے) قرآن نے مسلمانوں کو اس سے منع کردیا تا کہ ایک تو زیادہ مودبانہ لفظ استعمال کریں اور دوسرا دشمن کے ہاتھ بہانہ نہ دیں ۔
بعد کی آیت مشرکین اور اہل کتاب کی مومنین سے کینہ پروری اور عداوت سے پردہ اٹھاتی ہے۔ فرمایا: اہل کتاب کفار اور اسی طرح مشرکین پسند نہیں کرتے کہ خدا کی طرف سے کوئی خیر و برکت تم پر نازل ہو( مَا یَوَدُّ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ اٴَهْلِ الْکِتَابِ وَلاَالْمُشْرِکِینَ اٴَنْ یُنَزَّلَ عَلَیْکُمْ مِنْ خَیْرٍ مِنْ رَبِّکُمْ )
لیکن یہ تمنا آرزو سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ خداوند عالم اپنی رحمت اور خیر و برکت جس شخص سے چاہتاہے مخصوص کردیتاہے (و اللہ یختص برحمتہ من یشاء) اور خدا بخشش اور فضل عظیم کا مالک ہے (واللہ ذو الفضل العظیم)۔
بے شک دشمن اپنے شدید کینہ اور حسد کے باعث پسند نہ کرتے تھے کہ مسلمانوں پر یہ اعزاز اور عطیہ الہی دیکھیں کہ خدا کی طرف سے ایک عظیم پیغمبر ایک بہت عظیم آسمانی کتاب کے ساتھ ان کے نصیب ہو لیکن کیا کوئی فضل و رحمت خدا کوکسی پر نازل ہونے سے روک سکتاہے۔
یا ایھا الذین امنوا کا دقیق مفہوم:
قرآن مجید میں ۸۹ مقامات پر یہ پر اعجاز اور روح پرور خطاب نظر آتاہے۔ مندرجہ بالا پہلی وہ آیات ہے جس میں اس خطاب سے عزت حاصل ہو رہی ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ یہ تعبیر ان آیات کے ساتھ مخصوص ہے جو مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور مکہ کی آیات میں اس کا نام و نشان تک نہیں ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ پیغمبر اکرم کے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے سے مسلمانوں کی حالت میں ثابت قدمی آگئی تھی، وہ ایک مستقل اور با اثر جمعیت کی صورت میں نظر آنے لگے تھے اور انہیں پراگندگی سے نجات مل گئی تھی لہذا خداوند عالم نے انہیں (یا ایھا الذین امنوا) کے خطاب سے نوازاہے۔
یہ تعبیر ضمنا ایک اور نکتے کی بھی حامل ہے اور وہ یہ کہ اب تم ایمان لے آئے ہو اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرچکے ہو اور اپنے اللہ سے اطاعت کا عہد و پیمان باندھ چکے ہو لہذا اس کے تقاضے کے مطابق اس جملے کے بعد جو حکم آرہاہے اس پر عمل کرو بہ الفاظ دیگر تمہارا ایمان تم پر لازم قرار دیتاہے کہ ان قوانین کے کاربند رہو۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ بہت سی اسلامی کتب میں جن میں اہل سنت کی کتابیں بھی شامل ہیں ، پیغمبر اسلام سے یہ ایک حدیث منقول ہے۔
آپ نے فرمایا:( ما انزل الله آیه فیها یا ایها الذین امنوا الا و علی راسها و امیرها ) ۔
خدانے کسی مقام پر قرآن کی کوئی آیت نازل نہیں کی جس میں یا ایھا الذین امنوا ہو مگر یہ کہ اس کے رئیس و امیر حضرت علی ہیں ۔
آیات ۱۰۶،۱۰۷
۱۰۶ ۔( مَا نَنسَخْ مِنْ آیَةٍ اٴَوْ نُنسِهَا نَاٴْتِ بِخَیْرٍ مِنْهَا اٴَوْ مِثْلِهَا اٴَلَمْ تَعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ )
۱۰۷ ۔( اٴَلَمْ تَعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ لَهُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیر )
ترجمہ
۱۰۶ ۔ ہم کسی آیت کو منسوخ نہیں کرتے یا اس کے نسخ کو تاخیر نہیں ڈالتے مگر یہ کہ اس کی جگہ اس سے بہتر یا اس جیسی کوئی آیت لے آتے ہیں ۔ کیاتم نہیں جانتے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
۱۰۷ ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمینوں کی ملکیت خدا کے لئے ہے (اور وہ حق رکھتاہے کے مطابق احکام میں ہر قسم کا تغیر و تبدل کرسکے) اور خدا کے علاوہ تمہارا کوئی سرپرست اور یار و مددگار نہیں (اور وہی ہے جو تمہارے تمام مصالح کا تعین کرتاہے)۔
تفسیر
هدف از نسخ
ان آیات میں بھی مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کی سازشوں اور وسوسوں سے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ کبھی تو مسلمانوں سے وہ کہتے تھے دین تو یہودیوں کا دین ہے اور کبھی کہتے قبلہ تو یہودیوں ہی کا قبلہ ہے اسی لئے تو تمہارا پیغمبر ہمارے قبلہ (بیت المقدس) کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتا ہے لیکن جب قبلہ کا حکم
بدل دیا گیا اور اس سورہ کی آیت ۱۴۴ کے مطابق مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ اب وہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں ۔ اب یہودیوں کے ہاتھ پہلے والی بات تو نہ رہی لیکن وہ نیاراگ الاپنے لگے اور کہنے لگے: اگر قبلہ اول صحیح تھا تو یہ دوسرا حکم کیاہے اور اگر دوسرا حکم صحیح ہے تو پھر تمہارے پہلے اعمال باطل ہیں ۔ قرآن ان آیات میں ان کے اعتراضات کا جواب دیتاہے اور مومنین کے دلوں کو روشن کرتاہے۔(۱)
قرآن کہتاہے: ہم کسی حکم کو منسوخ نہیں کرتے یا اس کی تنسیخ کو تاخیر میں نہیں ڈالتے مگر اس سے بہتر یا اس جیسے کسی دوسرے حکم کو اس کی جگہ نافذ کردیتے ہیں( ما ننسخ من ایة او ننسها نات بخیر منها او مثلها ) اور خدا کے لئے یہ آسان ہے، کیا تم جانتے نہیں ہو کہ خدا ہر چیز پر قدرت رکھتاہے( اٴَلَمْ تَعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ لَهُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔
وہ حق رکھتا ہے کہ مصالح کے مطابق اپنے احکام میں ہر قسم کا تغیر و تبدل کرے اور وہ اپنے بندوں کے مصالح سے زیادہ آگاہ اور زیادہ بصیر ہے
اور کیا تم جانتے نہیں ہو کہ خدا کے علاوہ تمہارا کوئی سرپرست اور یار و مددگار نہیں ہے( وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیر ) ۔
حقیقت میں اس آیت کا پہلا جملہ احکام میں خدا کی حاکمیت اور بندوں کے تمام مصالح کی تشخیص میں اس کی قدرت کی طرف اشارہ ہے۔ ان حالات میں مومنین کو نہیں چاہئیے کہ وہ ان خود غرض لوگوں کی باتوں کی طرف کان دھریں جو نسخ احکام کے مسئلہ میں شک و تردد کرتے ہیں ۔
دوسرا جملہ ان لوگوں کے لئے تنبیہ ہے جو خدا کے لئے تنبیہ ہے جو خدا کے علاوہ اپنے لئے سہارے کا انتخاب کرگیاس کیونکہ عالم میں اس کے علاوہ کوئی سہارا نہیں ۔
____________________
۱ یہ بھی احتمال ہے کہ مندرجہ بالا آیات کا تعلق قبلہ کی تبدیلی سے نہ ہو بلکہ بعض دیگر احکام اسلام کے تغیر و نسخ سے ہو جیسا کہ فخر رازی نے اپنی تفسیر میں اور سید قطب نے اپنی تفسیر فی ظلال القرآن میں ذکر کیاہے۔
کیا احکام شریعت میں نسخ جائز ہے:
لغت کی نظرسے نسخ کا معنی ہے ختم کرنا اور زائل اور شریعت کی منطق میں نسخ ایک حکم بدل کر اس کی جگہ دوسرا حکم نافذ کرنے کو کہتے ہیں ، مثلا:
۱ ۔ ہجرت کے سولہ ماہ بعد تک مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اس کے بعد قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادر ہوا اور انہیں پابند کیا گیا کہ اب نماز کے وقت کعبہ کی طرف رخ کیاکریں ۔
۲ ۔ سورہ نساء آیہ ۱۵ میں بدکار عورتوں کی سزا کے سلسلے میں حکم دیاگیاتھا کہ چار گواہوں کی شہادت پر انہیں گھر میں بند کردیاجائے یہاں تک کہ وہ مرجائیں یا خدا ان کے لئے کوئی اور راستہ مقرر کردے۔
یہ آیت سورہ نور کی آیت اسے منسوخ ہوگئی اور اس آیت کی روسے ان کی سزا سو تازیانے مقرر ہوئی۔
اس مقام پر یہ اعتراض کیاجاتاہے کہ اگر پہلا حکم مصلحت کا حامل تھا تو پھرا سے منسوخ کیوں کیا گیا اور اگر اس میں مصلحت نہیں تھی تو ابتدا میں نافذ کیوں کیا گیا۔ بہ الفاظ دیگر کیاتھا اگر ابتداء ہی سے ایسا حکم نازل ہوتا کہ تنسیخ اور تغیر کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس سوال کا جواب علماء اسلام بہت پہلے اپنی کتب میں دے چکے ہیں ۔ ہم اس کا خلاصہ کچھ اپنی توضیح کے ساتھ پیش کرتے ہیں ۔
ہم جانتے ہیں کہ زمانے اور علاقے کے لحاظ سے انسان کی ضروریات بدل جاتی ہیں ۔ ایک دن ایک پروگرام اس کی سعادت کا ضامن تھا لیکن دوسرے دن ممکن ہے حالات بدل جانے سے وہی پروگرام اس کے راستے کا کانٹا بن جائے۔
ایک دن ایک دوا بیمار کے لئے بہت مفید ہے اور ڈاکٹر اس کے استعمال کا حکم دیتا ہے جب کہ دوسرے دن بیمار کے کچھ صحت مند ہوجانے کی وجہ سے ممکن ہے یہی دوا اس کے لئے نقصان دہ ہو لہذا ڈاکٹر اس دوا کو ترک کرنے اور اس کے بجائے دوسری دوا استعمال کرنے کا حکم دیتاہے۔
ممکن ہے اس سال طالب علم کے لئے کچھ درس اصلاحی اور مفید ہوں لیکن یہی دروس آئندہ سال یا بعد کے چند سال کے لئے بے فائدہ ہوں ۔ معلم کو چاہئیے کہ ایسا پروگرام اور نصاب مرتب کرے جو ہر سال کی اپنی ضروریات کے مطابق ہو۔اگر ہم تکامل انسان کی روش اور مختلف معاشروں کی طرف توجہ دیں تو یہ بات زیادہ روشن ہوجاتی ہے کہ کبھی ایک پروگرام مفید اور اصلاحی ہوتاہے اور کبھی و ہی نقصان وہ اور لازمی طور پر قابل تغیر ہوتاہے خصوصا اجتماعی، نظریاتی اور عقائد انقلابات کے آغاز میں پروگراموں کی تبدیلی کی ضرورت مختلف اوقات میں زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔
البتہ یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ احکام الہی کے اساسی ارکان کے اصول بالکل تبدیل نہیں ہوتے وہ ہر جگہ ایک جیسے رہتے ہیں ۔ توحید، عدالت اجتماعی کے اصول اور اس قسم کے سینکڑوں احکام ہیں جو تبدیل نہیں ہوتے تغیر تو جزئیات اور دوسرے درجے کے احکام میں ہوتاہے۔
اس نکتے کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ ممکن ہے مذاہب کاتکا مل اس مقام پر پہنچ جائے کہ آخری مذہب خاتم ادیان کے عنوان سے نازل ہو اور اس طرح کہ اب احکام کی تبدیلی کی اس میں کوئی گنجائش نہ ہو۔(۱)
مشہور اگر چہ یہی ہے کہ یہودی نسخ کے کلی طور پر منکر ہیں اور وہ اسی بناء پر مسلمانوں کے قبلہ کی تبدیلی پر معترض تھے لیکن وہ مجبور ہیں کہ اپنے مذہب کی بنیادی کتب کی روشنی میں نسخ کو تسلیم کریں کیونکہ تورات کے مطابق جس وقت نوح کشتی کے نیچے اترے تو خدا نے ان کے لئے تمام جانور حلال کردیے لیکن یہی حکم موسی کی شریعت میں منسوخ ہوگیا اور کچھ حیوانات حرام ہوگئے۔
تورات کے سفر تکوین، فصل ۹ ، شمارہ ۳ میں ہے:
ہر حرکت کرنے والا جو زندہ رہے وہ تمہاری خوراک ہوگا اور یہ سب سبزہ زار کی گھاس کی طرح ہم نے تمہیں دیئے ہیں ۔
لفظ (آیت ) سے کیا مراد ہے:
لغت میں (آیت ) نشانی اور علامت کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں یہ لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلا
۱ ۔ قرآن کے جملے اور فقرے جو خاص علامات کے ساتھ ایک دوسرے سے جدا کئے گئے ہیں وہ آیت کے نام سے مشہور ہیں ۔ جیسا کہ خود قرآن میں ہے:( تِلْکَ آیَاتُ اللهِ نَتْلُوهَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ )
یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم آپ پر تلاوت کرتے ہیں ۔ (بقرہ ۲۵۲)
۲ ۔ معجزات کا ذکر آیت کے عنوان سے ہواہے۔ چنانکہ حضرت موسی کے مشہور معجزہ ید بیضا کے بارے میں ہے:
( وَاضْمُمْ یَدَکَ إِلَی جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیْضَاءَ مِنْ غَیْرِ سُوءٍ آیَةً اٴُخْرَی )
ہاتھ گریبان میں بغل کے نیچے تک لے جاو جب وہ باہر نکلے گا تو سفید چمکنے والا بے عیب و نقص ہوگا اور یہ ایک اور معجزہ ہے۔ (طہ۔ ۲۲)
۳ ۔ خدا شناسی کی دلیل یا قیامت کی نشانی کے لئے بھی لفظ آیات قرآن میں آیاہے۔ ارشاد الہی ہے:
( و جعلنا الیل و النهار ایتین )
رات اور دن کو ہم نے (خدا شناسی کے لئے) دو دلیلیں قرار دیا۔ (بنی اسرائیل۔ ۱۲)
قیامت پر استدلال کے موقع پر فرمایا:
( و من ایته انک تری الارض خاشعة فاذا انزلنا علیها الماء اهتزت و ربت ان الذی احیاها لمحی الموتی انه علی کل شی قدیر )
اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک اور سونی پڑی ہوئی ہے لیکن جب اس پر (بارش کا) پانی برستاہے تو وہ حرکت میں آتی ہے اور اس کے سبزے اگنے لگتے ہیں ۔ وہی ذات جس نے زمین کو زندہ کیاہے۔ مردوں کو بھی زندہ کرے گی۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (حم السجدہ۔ ۳۹)
۴ ۔ آنکھوں کو متاثر کرنے والی چیزوں کے لئے بھی یہ لفظ آیاہے۔ مثلا اس آیت میں بلند و عالی محلات کے بارے میں ہے:( اتبنون بکل ریع ایة تعبثون )
کیا ہر بلند جگہ پر عمارتیں بناتے ہو تا کہ ان میں مصروف لہو و لعب رہ سکو۔ (شعراء۔ ۱۲۸)
واضح ہے کہ ان مختلف معانی میں ایک قدر مشترک ہے اور و ہ ہے (نشانی)۔ البتہ زیر بحث آیات میں قرآن نے کہاہے(ہم اگر ایک آیت منسوخ کرتے ہیں تو اس جیسی یا اس سے بہتر لاتے، ہیں ) یہاں آیت سے مراد حکم سے۔ اگر ایک منسوخ ہوا تو اس سے بہتر نازل ہوگا یا اگر ایک نبی کا معجزہ منسوخ ہوا تو بعد والے نبی کو زیادہ واضح معجزہ دیاجاتاہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ بعض روایات میں مندرجہ بالا آیت کی تفسیر کے ذیل میں ہے کہ نسخ آیت ایک امام کی وفات اور اس کی جگہ دوسرے کی تقرری کی طرف اشارہ ہے۔ تو یہ مفہوم زیر نظر آیت کا ایک مصداق ہے۔
( ننسها ) کی تفسیر:
(ننسھا) کا لفظ محل بحث آیات میں (ننسخ) پر عطف ہے۔ اس کا مادہ (انساء) ہے۔ یہاں یہ لفظ تاخیر کرنے، حذف کرنے اور اذہان سے زائل کرنے کے معنی میں آیاہے
اب یہ سوال پیدا ہوگا کہ (ننسخ) کو سامنے رکھتے ہوئے اس لفظ کا مفہوم کیا ہوگا۔ جواب یہ ہے کہ یہاں مقصد یہ ہے کہ اگر ہم کسی آیت کو منسوخ کریں یا اس کا تنسیخ میں بعض مصالح کے پیش نظر تاخیر کریں تو ہر صورت میں اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آئیں گے۔ اس بناء پر لفظ (ننسخ) تھوڑی مدت کے نسخ کے لئے اور (ننسہا) دراز مدت کے نسخ کے لئے ہے۔
( او مثلها ) کی تفسیر:
مندرجہ بالا بات کو پیش نظر رکھیں تو فورا سوال پیدا ہوگا کہ (او مثلھا ) سے کیا مراد ہے۔ اگر کوئی حکم پہلے جیسے حکم کی طرح کاہے تو فضول نظر آتاہے۔ اس کی کیا ضرورت ہے کہ ایک چیز منسوخ کرکے اس جیسی ہی دوسری چیز لائی جائے ناسخ کو منسوخ سے بہتر ہونا چاہیئے تا کہ نسخ قابل قبول ہو۔
اس سوال کے جواب میں کہنا چاہیئے کہ مثل سے مراد یہ ہے کہ ایسا حکم اور قانون پیش کیاجائے جس کا اثر بھی گذشتہ زمانے میں گذشتہ قانون کا ساہو۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ ہوسکتاہے ایک حکم آج کئی آثار و فوائد کا حامل ہو لیکن اس سے یہ آثار کھو جائیں ۔
اس صورت میں اسے منسوخ ہوجانا چاہئیے اور اس کی جگہ نیا حکم آنا چاہیئے جو اگر اس سے بہتر نہ ہو تو کم از کم اس جیسے آثار کا حامل ہو اور یہ چیز زمانے اور حالات سے وابستہ ہے کہ کبھی گذشتہ حکم کی طرح کا قانون چاہیئے اور کبھی اس سے بہتر۔ اس طرح کسی قسم کا کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔
____________________
۱ اس موضوع کی پوری تفصیل انشاء اللہ آپ سورہ احزاب کی آیہ ۴۰ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں گے۔
آیت ۱۰۸
۱۰۸ ۔( اٴَمْ تُرِیدُونَ اٴَنْ تَسْاٴَلُوا رَسُولَکُمْ کَمَا سُئِلَ مُوسَی مِنْ قَبْلُ وَمَنْ یَتَبَدَّلْ الْکُفْرَ بِالْإِیمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِیلِ )
ترجمہ
۱۰۸ ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اس طرح کے (نا معقول) سوال کرو جو اس سے پہلے موسی سے کئے گئے تھے (اور اس بہانے سے ایمان لانے سے روگردانی کرو) ۔ جو شخص ایمان سے کفر تبادلہ کرے اور ایمان کے بجائے اسے قبول کر لے) وہ (عقل و فطرت کی راہ مستقیم سے گمراہ ہوچکاہے۔
شان نزول
کتب تفاسیر میں اس آیت کی شان نزول کے سلسلہ میں مختلف مطالب نظر آتے ہیں اور نتیجہ کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں ۔
۱ ۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ وہب بن زید اور رافع بن حرملہ رسول خدا کے پاس آئے اور کہنے لگے خدا کی طرف سے کوئی خط ہمارے نام پیش کیجئے تا کہ ہم اسے پڑھ کر ایمان لے آئیں یا ہمارے لئے نہریں جاری کیجئے تا کہ ہم آپ کی پروری کریں ۔
۲ ۔ بعض کہتے ہیں کہ عرب کے ایک گروہ نے پیغمبر اسلام سے اسی طرح کے تقاضے کیئے جیسے یہودیوں نے حضرت موسی سے کئے تھے انہوں نے کہا ہمیں ظاہر بظاہر خدا کی نشاندہی کرو کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ۔ اور ایمان لے آئیں ۔
۳ ۔ بعض نے لکھا ہے کہ ایک گروہ عرب نے پیغمبر اکرم سے تقاضا کیا کہ ان کیلئے ذات افراط سے ایک مخصوص درخت مقرر کردیں ۔ تا کہ وہ اس کی پرستش کرسکیں جیسے بنی اسرائیل کے جاہلوں نے حضرت موسی سے کہاتھا:
اجعل لنا الها کما لهم الهة
ہمارے لئے ایک بت مقرر کردیں جیسے بت پرستوں کے پاس ہیں ۔ (اعراف ۔ ۱۳۸)
مندرجہ بالا آیت ان کے جواب میں نازل ہوئی۔
بے بنیاد بہانے
اس آیت کے مخاطب اگر چہ یہودی نہیں ہیں بلکہ کمزور ایمان والے مسلمان یا مشرکین ہیں لیکن جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ یہ یہودیوں کی سرگذشت سے غیر متعلق بھی نہیں ۔
غالبا قبلہ کی تبدیلی کے بعد کی بات ہے کہ کچھ مسلمانوں اور مشرکین نے یہودیوں کے پرا پیگنڈا کے زیر اثر پیغمبر اسلام سے چند بے محل اور نامعقول تقاضے کئے جن کے نمونے شان نزول میں بیان ہوچکے ہیں ۔ خداوند تعالی انہیں ایسے سوالوں سے منع کرتے ہوئے فرماتاہے: کیاتم چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے وہی نامعقول تقاضے کرو جو اس سے پہلے موسی سے کئے گئے ہیں ، تا کہ ان بہانہ سازیوں سے ایمان سے رخ پھیرسکو( ام تریدون ان تسئلوا رسولکم کما سئل موسی من قبل ) ۔چونکہ ایک طرح سے یہ ایمان سے کفر کا تبادل ہے لہذا مزید فرمایا گیاہے: جو شخص ایمان کی بجائے کفر کو قبول کرے وہ راہ مستقیم سے گمراہ ہوگیاہے( و من یتبدل الکفر بالایمان فقد ضل سواء السبیل ) ۔
یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہیئے کہ اسلام علمی اور منطقی سوالات سے منع کرتاہے یا دعوت نبی کی حقانیت سمجھنے کے لئے معجزہ طلبی سے روکتاہے کیونکہ فہم و ادراک اور ایمان کے یہی ذرائع ہیں ۔ لیکن کچھ لوگ ایسے تھے جو بہانہ سازی اور دعوت پیغمبر سے بچنے کے لئے بے بنیاد سوالات کرتے تھے اور خو د خواہ معجزات کا ذکر کرتے تھے۔ جبکہ پیغمبر کافی دلائل و معجزات ان کے سامنے پیش کرچکے تھے۔ ان میں سے ہر ایک نئے طور سے آتا اور نئی خارق عادت چیز کا تقاضا کرتا۔ حالانکہ معجزہ اور خارق عادت کوئی بازیچہ اطفال تو نہیں ہے اوہ اس قدر ضروری ہے کہ جس سے پیغمبروں کے کلام کی سچائی کا اطمینان ہوسکے ورنہ پیغمبر معجزات کا کار و بار تو نہیں کرتے کہ وہ ایک طرف بیٹھ جائیں اور ہر آنے والا ان سے معجزہ طلب کرتا رہے۔علاوہ ازیں کبھی تو وہ بالکل نامعقول تقاضے کرتے تھے مثلا خدا کو آنکھ سے دیکھنا یا بت بنا کردینا۔ در حقیقت قرآن لوگوں کو یہ تنبیہ کرنا چاہتا ہے کہ اگر تم اسی طرح کے نامعقول تقاضے کرتے رہے تو تمہارے سر پر بھی وہی عذاب آئے گا جو قوم موسی کے سر پر آیاتھا۔
آیات ۱۰۹ ،۱۱۰
۱۰۹ ۔( وَدَّ کَثِیرٌ مِنْ اٴَهْلِ الْکِتَابِ لَوْ یَرُدُّونَکُمْ مِنْ بَعْدِ إِیمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ اٴَنفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّی یَاٴْتِیَ اللهُ بِاٴَمْرِهِ إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ )
۱۱۰ ۔( وَاٴَقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَمَا تُقَدِّمُوا لِاٴَنفُسِکُمْ مِنْ خَیْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللهِ إِنَّ اللهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیر )
ترجمہ
۱۰۹ ۔ بہت سے اہل کتاب اس حسد کی بناء پر جو ان کے وجود میں جڑ پکڑچکاہے یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں اسلام و ایمان کے بعد پہلی حالت کی طرف پھےر لے جائیں ۔ حالانکہ ان پر حق مکمل طور پر واضح ہوچکاہے۔ تم انہیں معاف کردو اور ان سے درگذر کرو یہاں تک کہ خدا اپنا فرمان (جہاد) بھیجے ۔ یقینا خدا پرہیز پر قدرت رکھتاہے۔
۱۱۰ ۔ نماز قائم کرو اور زکوة ادا کرو اور ان دو ذرائع سے اپنے معاشرے کی روح اور جسم کو طاقتور در بنالو اور جان لوکہ) ہر کار خیر جو اپنے لئے (دار آخرت کی طرف) آگے بھیجتے ہو اسے خدا کے ہاں موجود پاؤگے۔ خدا تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔
ہٹ دھرم حاسد
بہت سے اہل کتاب ایسے تھے کہ صرف اس پر بس نہ کرتے تھے کہ خود دین اسلام قبول نہ کریں بلکہ انہیں اصرار تھا کہ مومنین بھی اپنے ایمان سے پلٹ آئیں اور اس سبب حسد کے سوا کچھ نہ تھا۔
قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیات میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔ فرمایا: بہت سے اہل کتاب حسد کی وجہ سے چاہتے ہیں کہ تمہیں اسلام پر ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف پلٹادیں حالانکہ ان پر حق مکمل طور پر واضح ہوچکا ہے (وهو کثیر من اھل الکتاب لو یرد و نکم من بعد ایمانکم کفارا حسدا من عندا انفسہم من بعد ما تبین لھم الحق)۔اس مقام پر قرآن مجید مسلمانوں کو حکم دیتاہے کہ ایسے کجر و اور تباہ کن تقاضوں کے مقابلے میں تم انہیں معاف کر دو اور ان سے درگذر کرو یہاں تک کہ خدا خود اپنا فرمان بھیجے کیونکہ خدا ہرچیز پرقدرت رکھتاہے (فاعفوا وا صفحوا حتی یاتی اللہ بامرہ ان اللہ علی کل شی قدیر)۔
حقیقت میں مسلمانوں کو ایک تکنیکی حکم دیاگیاہے کہ ان مخصوص حالات میں عفو و گذر کے ہتھیارسے استفادہ کریں اور اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح میں لگے رہیں اور فرمان خدا کا انتظار کرتے رہیں ۔
بہت سے مفسرین کے بقول یہاں فرمان خدا سے مراد فرمان جہاد ہے جو اس وقت تک نازل نہیں ہواتھا ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ لوگ ابھی ہر پہلو سے اس کے لئے تیارنہ ہوں ۔ اسی لئے تو بہت سے لوگوں کا نظریہ ہے کہ یہ آیت جہاد کی آیات کی وجہ سے منسوخ ہوگئی۔ جن کی طرف بعد میں اشارہ ہوگا۔لیکن اسے نسخ قرار دینا شاید صحیح نہ ہو کیونکہ نسخ کا معنی ہے کہ ظاہرا تھوڑی مدت کے لئے کوئی حکم جاری ہوتاہے اور شریعت قرار پاتاہے۔ لیکن باطنا موقت ہوتاہے جب کہ یہاں آیت میں عفو و در گذر کا حکم ایک محدود شکل میں آیاہےوہ اس زمانے تک محدود ہے جب تک جہاد کے متعلق فرمان الہی نہیں آیا۔ بعد کی آیت جس میں مومنین کو دو اہم اصلاحی احکام دیئے گئے ہیں ، ایک نماز جو انسان اور خدا کے در میان مضبوط ربط پیدا کرتی ہے اور دوسرا زکوة جو معاشرے کے افراد کے لئے ایک دوسرے سے وابستگی کی رمز ہے اور یہ دونوں امور دشمن پر کامیابی کے لئے ضروری ہیں ۔ فرمایا: نماز قائم کرو اور زکوة ادا کرو اور ان دو ذرائع سے اپنی روح اور جسم کو طاقت بخشو( و اقیموا الصلوة و اتوا الزکوة ) ۔مزید فرمایا: یہ خیال نہ کرو کہ جو نیکی کا تم کرتے ہو اور جو مال راہ خدا میں خرچ کرتے ہو وہ ختم ہوجاتا ہیں ۔
نہیں ایسا بلکہ جو نیکیاں تم آگے بھیجتے ہو انہیں خدا کے ہاں (دار آخرت میں ) موجود پاوگے( و ما تقد هوا الا نفسکم من خیر تجدوه عند الله ) ۔ خدا تمہارے تمام اعمال کو دیکھتا ہے( ان الله بما تعملون بصیر ) وہ پورے طور پر جانتا ہے کہ کون سا عمل تم نے خدا کے لئے انجام دیاہے اور کون سا اس کے غیر کے لیے۔
چند اہم نکات
(!)( فاعفوا ) اور( اصفحوا ) :
اصفحو کا مادہ (صفح ) ہے اس کا معنی ہے دامن کوہ ، تلوار کا عرض اور رخسار اور یہ لفظ عموما پھیرنے اور صرف نظر کرنے کے مفہوم میں استعمال ہوتاہے۔
لفظ: (فاعفوا) کے قرینے سے معلوم ہوتاہے کہ یہ روگردانی، غصہ اور بے اعتنائی کے لئے نہیں بلکہ بزرگانہ در گزر کے طور پرہے۔ یہ دو تعبیریں ضمنا نشاندہی کرتی ہیں کہ مسلمان اس وقت بھی اس قدر قدرت و طاقت رکھتے تھے کہ عفو و گزر نہ کرتے اور دشمن کو ضروری سزا دیتے لیکن خدا وندتعالی نے ان کو پہلے عفو و در گزر کا حکم دیاہے تا کہ وہ ہر لحاظ سے تیاری کرلیں یا اس لئے کہ دشمن اگر قابل اصلاح ہیں تو ان کی اصلاح ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں دشمن کے مقابلے میں شروع میں کبھی خشونت اور سخت گیری نہیں ہونی چاہئیے۔ بلکہ یہ اخلاق اسلامی کا ضروری حصہ ہے کہ پہلے عفو در گزر سے کام لیاجائے اگر وہ موثر نہ ہو تو پھر سختی کو بروئے کار لایاجائے۔
(!!)( ان الله علی کل شیء قدیر ) کا جملہ:
ہوسکتا ہے یہ جملہ اس مقام پر اس طرف اشارہ ہو کہ خدا ایسا کرسکتاہے کہ غیر عادی طریقوں سے تمہیں ان پر کامیابی دیدے لیکن انسانی زندگی کا مزاج اور عالم آفرینش کی طبیعت مقتضی ہیں کہ ہر کام تدریجا اور مقدمات فراہم ہونے پر انجام پذیر ہو۔
(!!!)( حسد من عند انفسهم ) کا مفہوم :
(یعنی اس کا سبب وہ حسد ہے جو ان کی اپنی طرح سے ہے) ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ بعض اوقات حسد کا مقصد تو ذاتی غرض ہوتی ہے لیکن اسے دین کا رنگ دے دیاجاتاہے یہاں جو حسد ہے اس میں تو یہ پہلو بھی نہیں بلکہ فقط ذاتی غرض پرمبنی ہے۔(۱)
____________________
۱ تفسیر المنار ،زیر بحث آیہ کے ذیل میں ۔
آیات ۱۱۱،۱۱۲
۱۱۱ ۔( وَقَالُوا لَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلاَّ مَنْ کَانَ هُودًا اٴَوْ نَصَارَی تِلْکَ اٴَمَانِیُّهُمْ قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَکُمْ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِین )
۱۱۲ ۔( بَلَی مَنْ اٴَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُ اٴَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلاَخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَهُمْ یَحْزَنُونَ )
ترجمہ
۱۱۱ ۔ وہ کہتے ہیں یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ ہرگز کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ یہ تو صرف ان کی تمنا ہے کہیے کہ اگر سچے ہو تو (اس دعوی پر) اپنی دلیل پیش کرو۔
۱۱۲ ۔ جی ہاں ! جو بھی خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرلے اور نیکوکار ہو تو اس کا اجر اس کے پروردگار کے پاس مسلم ہے۔ ان کے لئے کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے (لہذا جنت اور سعادت کسی خاص گروہ سے مخصوص نہیں ہے)۔
یہودی و نصاری کے علاوہ ہرگز کوئی شخص جنت میں داخل
مندرجہ بالا آیات میں قرآن یہودیوں اور عیسائیوں کے ایک اور فضول اور نامعقول دعوی کی طرف اشارہ کرکے انہیں دندان شکن جواب دیتاہے۔ کہتاہے: وہ (یہود و نصاری) کہتے ہیں کہ یہودی و نصاری کے علاوہ ہرگز کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا( و قالوا لن یدخل الجنة الا من کان هودا او نصری ) (۱)
قرآن دونوں گروہوں کے دعوی کا ایک ہی جگہ جواب دیتاہے۔ پہلے فرماتاہے: یہ توان کی فقط آرزو ہے (جو کبھی پوری نہ ہوگی (تلک امانیھم)۔ پھر پیغمبر کو مخالف کرکے فرماتاہے:( قل هاتوا برهانکم ان کنتم صدقین ) ۔ یعنی اگر تم سچے ہو تو اپنے دعوی پر کوئی دلیل پیش کرو۔یہ حقیقت ثابت ہونے کے بعد کہ ان کے پاس ان کے دعوی کی کوئی دلیل نہیں اور ان کے لئے اختصاص جنت کا دعوی صرف خواب و خیال ہے جو ان کے سروں پر سوار ہے جنت میں داخل ہونے کا اصلی و حقیقی قانون کلی بیان کرتاہے۔ فرماتاہے: ہاں تو جو خدا کے سامنے سرتسلیم خم کرلے اور نیکوکار ہو اس کا اجر و ثواب اس کے پروردگار کے ہاں مسلم ہے( بلی من اسلم وجهه الله و هو محسن فله اجر عند ربه ) ۔ اس لئے ایسے اشخاص کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے( و لا خوف علیهم و لا هم یحزنون ) ۔
لہذا جنت، اجر و ثواب الہی اور سعادت دائمی کا حصول کسی گروہ کے لئے مخصوص نہیں بلکہ یہ سب کچھ ان کے لئے ہے جن میں دو شرطیں پائے جائی ہوں ۔
۱ ۔ اول یہ کہ وہ حکم کے سامنے تسلیم محض ہوں ، ایمان و توحید ان کے دل پر سایہ فگن ہو اور احکام الہی میں کسی قسم کی تبعیض اور چون و چرا کے قائل ہوں ۔ ایسا نہ ہو کہ جو احکام ان کے فائدے کے ہوں وہ تو قبول کرلیں اور جو ان کے خلاف ہوں انہیں پس پشت ڈال لیں بلکہ وہ مکمل طور پر تسلیم حق ہوں ۔
۲ ۔ دوسرا یہ کہ ان کے ایمان کے آثار عمل اور کا رخیر کی انجام دہی کی صورت میں ظاہر ہوں ۔ وہ سب سے نیکی کریں اور تمام پروگراموں میں نیک ہوں ۔
اس بیان سے در اصل قرآن یہودیوں کی نسل پرستی اور عیسائیوں کے نامعقول تعصبات کی نفی کرتاہے اور کسی خاص گروہ میں سعادت و خوش بختی کے منحصر ہونے کو باطل قرار دیتاہے۔ نیز ضمنا ایمان اور عمل صالح کو نجات کا معیار قرار دیتاہے۔
چند اہم نکات
(!)( امانیهم ) :
یہ امنیہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ایسی آرزو جس تک انسان رسائی حاصل نہ کرسکے لیکن یہاں تو اہل کتاب میں سے مدعین کی صرف ایک آرزو تھی یعنی جنت کی ان کے لئے تخصیص ۔ چونکہ یہ آرزو کئی آرزؤں کا سرچشمہ تھی اور اصطلاحا کئی شاخیں اور پتے رکھتی تھی اس لئے جمع کی صورت میں ذکر ہوئی ہے۔
(!!)( اسلم وجهه ) :
یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں اسلام کی (وجہ) کی طرف نسبت دی گئی ہے (اپنے چہرے کو خدا کے سامنے خم کرنا)۔ یہ اس سبب سے ہے کہ کسی کے سامنے سپردگی کی واضح ترین دلیل یہ ہے کہ انسان پورے چہرے کے ساتھ اس کے سامنے متوجہ ہو۔ البتہ یہ احتمال بھی ہے کہ (وجہ) کا معنی ذات ہو یعنی اپنے پورے وجود کے ساتھ فرمان پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کریں ۔
(!!!) بے دلیل د عووں سے بے اعتنائی:
مندرجہ بالا آیات میں یہ نکتہ بھی ضمنا مسلمانوں کو سمجھایا جارہا ہے کہ کسی مقام پر بھی بے دلیل باتوں کے پیچھے نہ جائیں اگر کوئی بھی شخص کچھ دعوی کرے تو اس سے دلیل مانگیں اور یوں اندھی تقلید کے سامنے بند باندھ دیں تا کہ ان کے معاشرے میں منطقی فکر کی حکمرانی ہو۔
(!۔)( و هو محسن ) :
مسئلہ تسلیم کے بعد (و هومحسن ) ارشاد فرمایا گیاہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب تک ایمان راسخ نہ ہو نیکی اپنا وسیع مفہوم نہیں پاسکتی۔ یہ جملہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتاہے کہ ایسے انسان کے لئے نیکی ایک جلد گزرجانے والا فعل نہیں بلکہ وہ ان کی صفت بن چکی ہے اورنکی ذات کی گہرائی میں اتر چکی ہے۔
راہ توحید کے راہیوں کے لیے خوف و غم نہیں :
اس کی دلیل واضح ہے کیونکہ وہ صرف خدا سے ڈرتے ہیں اور کسی سے گھبراتے نہیں لیکن بیہودہ مشرک ہر چیز سے ڈرتے رہتے ہیں ۔ اس کی اور اس کی گفتگو، بدحالی، فضول رسم و رواج اور ایسی ہی بہت سی چیزیں ،ہیں جن سے وہ خوفزدہ رہتے ہیں ۔
____________________
۱ اگر چہ لفظ (قالوا) بصورت واحد ہے لیکن معلوم ہے کہ دو گروہوں کی حالت بیان کی گئی ہے جن میں سے ہر ایک کا دعوی الگ ہے ۔ یہودی کہتے ہیں جنت ہمارے لئے مخصوص ہے اور عیسائی کہتے ہیں ہمارے لئے مخصوص ہے۔
آیت ۱۱۳
۱۱۳ ۔( وَقَالَتْ الْیَهُودُ لَیْسَتْ النَّصَارَی عَلَی شَیْءٍ وَقَالَتْ النَّصَارَی لَیْسَتْ الْیَهُودُ عَلَی شَیْءٍ وَهُمْ یَتْلُونَ الْکِتَابَ کَذَلِکَ قَالَ الَّذِینَ لاَیَعْلَمُونَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ فَاللهُ یَحْکُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِیمَا کَانُوا فِیهِ یَخْتَلِفُونَ )
ترجمہ
۱۱۳ ۔ یہودی کہتے ہیں کہ عیسائیوں کی (خدا کی ہاں ) کوئی حیثیت و وقعت نہیں اور عیسائی (بھی) کہتے ہیں کہ یہودیوں کی کوئی حیثیت نہیں (اور وہ باطل پر ہیں ) حالانکہ دونوں گروہ خدا کی کتاب پڑھتے ہیں (اور انہیں ایسے تعصبات اور کینوں سے علیحدہ رہنا چاہیے)۔ نادان (اور مشرک )لوگ بھی ان کی سی باتیں کرتے ہیں ۔ خداوند عالم قیامت کے دن ان کے اختلاف کا فیصلہ کرے گا۔
شان نزول
بعض مفسرین نے ابن عباس سے یوں نقل کیاہے:
جب نجران کے عیسائیوں کا ایک گروہ رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا تو علماء یہود کا ایک گروہ بھی وہاں موجود تھا۔ عیسائیوں اور ان کے در میان آنحضرت کے سامنے ہی جھگڑا شروع ہوگیا۔ رافع بن حرملہ جو ایک یہودی تھا اس نے عیسائیوں کی طرف منہ کرکے کہا: تمہارے دین کی کوئی اساس نہیں ہے نیز اس نے حضرت عیسی کی نبوت اور انجیل کا انکار کیا۔ نجران کے عیسائیوں میں سے ایک شخص نے بعینہ یہی جملہ اس کے جواب میں کہا: کہنے لگا: یہودیوں کے مذہب کی کوئی بنیاد نہیں اور اس نے حضرت موسی کی نبوت اور ان کی کتاب تورات کا انکار کیا۔ اسی اثناء میں مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور دونوں گروہوں کو ان کی غلط اور نادرست گفتگو پر ملامت کی
بے دلیل دعوی نتیجہ تضاد ہوتاہے
گذشتہ آیات میں ہم نے یہود و نصاری کی ایک جماعت کے کچھ بے دلیل دعووں کو ملاحظہ کیا۔ زیر بحث آیت نشاندہی کرتی ہے کہ بے دلیل دعوی نتیجہ تضاد ہوتاہے اور ہر گروہ اپنی اجارہ داری کا خواہشمند ہوتاہے۔ ارشاد ہے: یہودی کہتے ہیں عیسائیوں کی خدا کے ہاں کوئی اہمیت و حیثیت نہیں اور عیسائی کہتے ہیں یہودیوں کی کوئی وقعت نہیں اور وہ باطل پر ہیں (وَقَالَتْ الْیَہُودُ لَیْسَتْ النَّصَارَی عَلَی شَیْءٍ وَقَالَتْ النَّصَارَی لَیْسَتْ الْیَہُودُ عَلَی شَیْء) (لیستعلی شیء ہوسکتا ہے اس طرف اشارہ ہو کہ وہ درگاہ الہی میں کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتے یا ان کے مذہب کی کوئی حیثیت نہیں ۔
مزید فرمایا: یہ ایسی باتیں کرتے ہیں حالانکہ آسمانی کتاب پڑھتے ہیں( و هم یتلون الکتب ) یعنی کتب خدا جن سے وہ حقائق سمجھ سکتے ہیں ، کے حامل ہونے کے با وجود صرف تعصب ، عناد اور ڈھٹائی کی باتیں کرنا تعجب انگیز ہے۔
حضرت موسی نے حضرت مسیح کے آنے کے بارے میں جو بشارتیں دی ہیں ان کی طرف توجہ کریں تو یہودی بغیر تعصب کے ان کی نبوت قبول کرسکتے ہیں اور عیسائی بھی انجیل کی تعلیمات اور حضرت مسیح کی گفتگو سامنے رکھیں تو تورات اور حضرت موسی کی نبوت پر ایمان لائے بغیر نہیں رہ سکتے کیونکہ حضرت مسیح نے فرمایا ہے کہ میں حضرت موسی کی شریعت کی تکمیل کے لئے آیاہوں ۔
قرآن مزید کہتاہے: نادان مشرکین بھی ان کی سی باتیں کہتے تھے (حالانکہ یہ اہل کتاب ہیں اور وہ بت پرست ہیں ،( کذالک قال الذین لا یعلمون مثل قولهم ) ۔
در حقیقت اس آیت میں قرآن نے تعصب کے اصل سرچشمہ کا ذکر کیاہے جو جہل و نادانی ہے کیونکہ نادان انسان ہمیشہ اپنی زندگی کے گروہی محصور رہتے ہیں اس کے علاوہ کسی چیز کو قبول نہیں کرتے اور بچین سے جس مذہب سے آشنا ہوں اپنے دل کو سختی کے ساتھ منسلک رکھتے ہیں چاہے وہ فضول اور بے بنیاد ہو اور اس کے علاوہ ہر چیز کا انکار کردیتے ہیں ۔
آیت کے آخر میں ہے: اس اختلاف کا فیصلہ اللہ آخرت میں خود کرے گا۔( فاالله یحکم بینهم یوم القیمة فیما کانوا فیه یختلفون ) ۔
آخرت وہ مقام ہے جہاں حقائق زیادہ روشن اور واضح ہوجائیں گے۔ ہر چیز کے اسناد و مدارک آشکار ہوجائیں گے اور وہاں کوئی شخص حق کا انکار نہیں کرسکے گا۔ اس وقت تمام اختلافات ختم ہوجائیں گے۔ گویا قیامت کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اختلافات باقی نہ رہیں گے۔
مندرجہ بالا آیت میں ضمنا یہ بھی ہے کہ خدا مسلمانوں کو تسلی دیتاہے کہ اگر ان مذاہب کے پیروکار تمہارے مقابلے میں کھڑے ہوگئے ہیں اور تمارے دین کو جھٹلاتے ہیں تو اس کی ہرگز پرواہ کرو وہ تو خود کو بھی قبول نہیں کرتے ان میں سے ہر ایک دوسرے پر نفی کی لاٹھی چلاتاہے۔ اصولی طور پر تعصب کا سرچشمہ جہل و نادانی ہے اور تعصب اجارہ داری خواہش کا منبع ہے۔
آیت ۱۱۴
۱۱۴ ۔( وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَسَاجِدَ اللهِ اٴَنْ یُذْکَرَ فِیهَا اسْمُهُ وَسَعَی فِی خَرَابِهَا اٴُوْلَئِکَ مَا کَانَ لَهُمْ اٴَنْ یَدْخُلُوهَا إِلاَّ خَائِفِینَ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَلَهُمْ فِی الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیم )
ترجمہ
۱۱۴ ۔ اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو مساجد میں خدا کا نام لینے سے روکتاہے اور ان کی ویرانی و بر بادی میں کو شاں ہے۔ مناسب نہیں ہے کہ خوف و وحشت کے بغیر یہ لوگ ان مقامات میں داخل ہوں (بلکہ مسلمان انہیں ان مقامات مقدسہ سے روک دیں اور انہیں وہاں نہ آنے دیں ) ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب عظیم ہے۔
شان نزول
کتاب (اسباب النزول) میں ابن عباس سے یوں منقول ہے:
یہ آیت مظلوم رومی اور اس کے عیسائی ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ انہوں نے بنی اسرائیل سے جنگ کی، تورات کو آگ لگائی، ان کی اولاد کو قیدکرلیا، بیت المقدس کو ویران کرد یا اور اس میں مردہ چیزیں پھینک دیں ۔
مرحوم طبرسی مجمع البیان میں ابن عباس سے ناقل ہیں :
بیت المقدس کو خراب کرنے اور تباہ و بر باد کرنے کی کوشش مسلسل جاری رہی یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوا۔
امام صادق سے بھی ایک روایت منقول ہے جس میں ہے:
یہ آیت قریش کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب وہ پیغمبر اسلام کو شہر مکہ اور مسجد الحرام میں داخل ہونے سے منع کررہے تھے۔
بعض نے اس آیت کی تیسری شان نزول ذکر کی ہے کہ اس سے مراد وہ جگہیں اور مکانات ہیں جو مکہ میں نماز کے لئے مسلمانوں کے پاس تھے اور مشرکین نے پیغمبر اکرم کی ہجرت کے وقت انہیں ویران کردیاتھا۔(۱)
کوئی مانع نہیں کہ آیت کا نزول ان تمام حوادث و واقعات کے ضمن میں ہو۔ لہذا ان میں سے ہر شان نزول مسئلے کے ایک پہلو کی نشاندہی کرتی ہے۔
____________________
۱ مجمع البیان اور المیزان، زیر نظر آیت کے ذیل میں ۔
آیت کا روئے سخن تین گروہوں یہود، نصاری اور مشرکین
مندرجہ بالا تفسیر شان نزول کے مطالعہ سے ظاہر ہوتاہے کہ اس آیت کا روئے سخن تین گروہوں یہود، نصاری اور مشرکین کی طرف ہے اگرچہ گذشتہ آیات میں زیادہ تر یہودیوں کے بارے میں بحثیں آئی ہیں اور کہیں کہیں نصاری کی طرف بھی اشارہ ہے۔قبلہ کی تبدیلی کے معاملے کے بارے میں یہودی وسوسہ ڈال کر کوشش کرتے تھے کہ مسلمان بیت المقدس کی طرف نماز پڑھیں تا کہ اس سلسلے میں انہیں برتری حاصل رہے اور اس طرح مسجد الحرام اور کعبہ کی رونق بھی کم ہوسکے۔(۱)
مشرکین مکہ بھی پیغمبر اور مسلمانوں کو خانہ کعبہ کی زیارت سے روک کر عملا اس خدائی عمارت کی بربادی کی طرف قدم اٹھارہے تھے۔
عیسائی بھی بیت المقدس پر قبضہ کرکے اس میں وہ ناپسندیدہ اعمال سرانجام دیتے جن کا ذکر ابن عباس کی روایت میں آچکاہے تا کہ اسے برباد کرسکیں ۔
ان تینوں گروہوں اور ایسے تمام اشخاص جو اس راہ پر قدم اٹھاتے ہیں کو مخاطب کرکے قرآن کہتاہے: اس شخص سے بڑھ کے کون ظالم ہوسکتاہے جو اللہ کی مسجدوں میں خدا کام نام لینے سے روکتے ہیں اور انہیں ویران و بر باد کرنے کی کوشش کرتے ہیں( و من اظلم ممن منع مساجد الله ان یذکر فیها اسمه و سعی فی خرابها ) ۔ یوں قرآن ایسی رکاوٹ کو ظلم عظیم اور یہ کام کرنے والوں کو ظالم ترین افراد قرار دیتاہے۔ اور واقعا اس سے بڑا کیا ظلم ہوسکتاہے کہ درگاہ توحید کو بر باد کرنے کی کوشش کی جائے ، لوگوں کو حق تعالی کی یاد سے روکاجائے اور معاشرے میں فساد بر پاکیا جائے۔
آیت مزید کہتی ہے: مناسب نہیں کہ یہ لوگ خوف و وحشت کے بغیر ان مکانات میں داخل ہوں( اولئک ما کان لهم ان یدخلوها الا خائفین )
یعنی۔ دنیا کے مسلمانوں اور توحید پرستوں کو چاہیئے کہ وہ اس مضبوطی سے قیام کرےں کہ ان ستمگروں کے ہاتھ ان مقدس مقامات سے دور ہوجائیں اور ان میں سے کوئی بھی علی الاعلان بلاخوف ان مقامات مقدسہ میں داخل نہ ہوسکے۔مندرجہ بالا جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ یہ ستمگران مراکز عبادت کو اپنے قبضے میں نہیں رکھ سکیں گے۔ بلکہ آخر کاران میں بلاخوف قدم بھی نہیں رکھ سکیں گے جیسا کہ مسجد الحرام کے بارے میں مشرکین مکہ کے ساتھ ہوا۔ٓآخر میں ایسے عظیم ستمگروں کے لئے دنیا و آخرت میں ہلادینے والی سزا کا ذکر کرہے۔ فرمایا: ان کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب عظیم ہے( لهم فی الدنیا خزی و لهم فی الاخرة عذاب عظیم ) ۔ وہ لوگ جو خدا اور خدا کے بندوں میں جدائی ڈالنا چاہتے ہیں ان کا یہی انجام ہے۔
مساجد کی ویرانی کی راہیں :
اس میں شک نہیں کہ مندرجہ بالا آیت کا مفہوم وسیع اور کافی پھیلا ہوا ہے اور کسی زمان و مکان سے مخصوص نہیں ہے جیسے دیگر آیات ہیں جو اگر چہ خاص حالات میں نازل ہوئی ہیں لیکن ان کا حکم تمامی زمانوں کے لئے مسلم ہے۔ اس بناء پرہر شخص اور ہر وہ گروہ جو کسی طرح مساجد الہی تباہی و ویرانی کی کوشش کرے یا اس میں ذکر خدا اور عبادت سے روکے وہ اسی رسوائی اور عذاب عظیم کا مستحق ہوگا۔ جس کی طرف آیت میں اشارہ ہواہے۔
اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ مساجد میں داخل ہونے اور ان میں ذکر پروردگار کو روکنے اور ان کی ویرانی و بر بادی کی کوشش کا صرف یہ مطلب نہیں کہ بیلچے یا ایسے کسی ہتھیاری سے مسجد کو تباہ کیاجائے بلکہ ہر وہ عمل جس کا نتیجہ مسجد کی ویرانی اور اس کی رونق میں کمی ہو اس میں شامل ہے۔
آیت( انما یعمر مساجد الله ) (توبہ۔ ۱۸) کی تفسیر میں تفصیل سے آئے گا کہ بعض روایات کی تصریح کے مطابق تعمیر اور آبادی سے مراد مساجد کی عمارتیں بنانا ہی نہیں بلکہ مساجد میں جانا اور وہاں کی مذہبی محافل و مجالس جو یاد خدا کا باعث ہیں کی طرف توجہ رکھنا بھی تعمیر کے مفہوم میں شامل ہے بلکہ یہی اہم ترین حصہ ہے۔ اس بناء پر جو چیز یاد خدا سے لوگوں کی غفلت کا باعث بنے اور جس سے لوگ مساجد سے دور ہوں وہ بہت بڑا ظلم ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ اس دور میں نادان ، خشک مزاج اور عقل و منطق سے عاری متعصبین کا ایک گروہ پیدا ہو گیاہے جو چاہتاہے کہ احیائے توحید کے بہانے ان مساجد اور عمارات کو بر باد کردے جو آئمہ اہل بیت ، بزرگان اسلام اور صلحائے دین کی قبور پر واقع ہیں اور ہمیشہ سے یاد خدا کا مرکز ہیں ۔ زیادہ تعجب تو اس پرہے کہ یہ بنے منطق ستمگر احیائے توحید اور رد شرک کے نام پر یہ افعال انجام دیتے ہوئے بہت سے گناہان کبیرہ کا ارتکاب کرجاتے ہیں ۔ حالانکہ فرض کریں کہ کسی مرکز مقدس پر کوئی غلط کام سرانجام بارہاہے تو اس کام کورو کاجانا چاہئیے نہ کہ ان مراکز توحید کو بر باد کرنا چاہئیے۔
سب سے بڑا ظلم:
دوسرا نکتہ جو اس آیت میں قابل توجہ ہے یہ ہے کہ خداوند عالم ان اشخاص کو ظالم ترین قرار دیتاہے اور واقعا ایسا ہے کیونکہ مساجد کی بتاہی و بربادی اور مراکز توحید سے لوگوں کو روکنے کی کوشش کا نتیجہ بے دینی کے علاوہ کچھ نہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کام کا نقصان ہر دوسرے عمل سے زیادہ ہے۔ اور اس کا برا اور غلط انجام بہت دردناک ہے۔
قرآن میں دیگر مقامات پر بھی لفظ (اظلم) (یعنی ۔ زیادہ ظالم) استعمال ہواہے۔ ان تمام امور کا نتیجہ شرک ہے اور توحید نفی ہے۔
____________________
۱ ۔ تفسیر فخر رازی، آیہ مذکورہ کے ذیل میں ۔۔
آیت ۱۱۵
۱۱۵ ۔( وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاٴَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ إِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِیمٌ )
ترجمہ
۱۱۵ ۔ مشرق و مغرب اللہ ہی کے لئے ہیں ۔ جد ھر بھی رخ کرو خدا موجود ہے اور خدا بے نیاز و دانا ہے۔
شان نزول
اس آیت کے شان نزول کے سلسلے میں مختلف روایات منقول ہیں ۔
ابن عباس کہتے ہیں :
اس آیت کا تعلق قبلہ کی تبدیلی سے ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ جب بیت المقدس کی بجائے خانہ کعبہ مقرر ہوا تو یہودیوں نے برا منایا اور مسلمانوں پر اعتراض کیا کہ کیا قبلہ بھی بدلا جاسکتاہے۔ اس آیت میں انہیں جواب دیا گیا کہ دنیا کے مشرق و مغرب کا مالک خدا ہے۔
دوسری روایت میں ہے کہ یہ آیت مستحب نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یعنی جب انسان کسی سواری پر سوار ہو تو سواری کا رخ کچھ بھی ہو (چاہے پشت بہ قبلہ ہو) مستحب نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
کچھ اور حضرات نے جابر سے نقل کیاہے:
پیغمبر اکرم نے کچھ مسلمانوں کو ایک جنگ پر بھیجا۔ رات کے وقت جب تاریکی چھاگئی تو وہ سمت قبلہ نہ پہچان سکے اور سب نے مختلف سمتوں کی طرف نماز پڑھ لی۔ طلوع آفتاب پر انہیں معلوم ہوا کہ سب نے سمت قبلہ کے بغیر نماز پڑھی ہے۔ انہوں نے پیغمبر اسلام سے سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ ایسی صورت میں ان کی نماز صحیح ہے (البتہ اس حکم کی کچھ شرائط ہیں جو کتب فقہ میں درج ہیں )۔
کوئی مانع نہیں کہ جتنی شان ہائے نزول اوپر ذکر ہوئی ہیں وہ سب اس آیت کے لئے صحیح ہوں اور یہ آیت قبلہ کی تبدیلی ، سواری پر نماز نافلہ کی ادائیگی اور جب قبلہ کی پہچان نہ ہو رہی ہو تو نماز واجب کی ادائیگی کی طرف اشارہ کرتی ہو۔ علاوہ ازیں کوئی آیت شان نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ اس کے مفہوم کو حکم
کلی کی صورت میں لیا جانا چاہئیے اور بسا اوقات اس سے مختلف قسم کے احکام حاصل ہوسکتے ہیں ۔
جس طرف رخ کر و خدا موجود ہے
گذشتہ آیت میں ان ظالمین سے متعلق گفتگو تھی جو مساجد الہی کی آبادی سے روکتے تھے اور انہیں ویران کرنے میں کوشاں رہتے تھے۔ زیر نظر آیت اس بحث کا تتمہ ہے۔ ارشاد ہوتاہے: مشرق و مغرب خدا کے ہیں اور جس طرف رخ کرو خدا موجود ہے( وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاٴَیْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ ) ۔
ایسا نہیں کہ اگرتمہیں مساجد اور مراکز توحید میں جانے سے روک دیاجائے تو خدا کی بندگی کی راہ بند ہوجائے گی۔ اس جہان کے مشرق و مغرب اس کی ذا ت پاک سے تعلق رکھتے ہیں اور جس طرف رخ کرو وہ موجود ہے۔ اسی طرح قبلہ کی تبدیلی جو بعض خاص وجوہ کے پیش نظر انجام پائی ہے اس سلسلے میں کچھ اثر نہیں رکھتی۔ کیا کوئی جگہ ہے جو خدا سے خالی ہو اصولا تو خدا بے عدیل و بے نیاز اور عالم و دانا ہے( اِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِیمٌ ) ۔
اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ اس آیت میں مشرق و مغرب سے مراد و مخصوص سمتیں نہیں بلکہ یہ تمام اطراف کے لئے کنایہ ہے ۔ جیسے ہم کہا کرتے ہیں کہ دشمنوں نے عداوت سے اور دوستوں نے خوف سے حضرت علی کے فضائل چھپائے لیکن اس کے با وجود مشرق و مغرب آپ کے فضائل سے بھرے پڑے ہیں (یعنی تمام اطراف اور ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ) اور شاید خصوصیت سے مشرق و مغرب کا ذکر اس لحاظ سے ہے کہ انسان سب سے پہلے انہی سمتوں کو پہنچانتاہے اور باقی جہات ان کے ذریعے پہچانی جاتی ہیں ۔
قرآن مجید میں ہے:( وَاٴَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِینَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْاٴَرْضِ وَمَغَارِبَهَا )
جنہیں کمزور کرد یا گیاتھا ہم نے انہیں زمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنادیا ۔ (اعراف۔ ۱۳۷)
فلسفہ قبلہ:
یہاں سب سے پہلے جو سوال سامنے آتاہے یہ ہے کہ جد ھر رخ کریں اگر ادھر خدا ہے تو پھر قبلہ کے تعین کی کیا ضرورت ہے۔
اس ضمن میں بعد میں گفتگو ہوگی کہ قبلہ کی طرف متوجہ ہونے کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ خدا کی ذات پاک کو کسی معین سمت میں محدود سمجھا جائے بلکہ انسان چونکہ مادی وجود ہے اور مجبور ہے کہ کسی ایک ہی طرف نماز پڑھے لہذا حکم دیا گیا کہ سب کے سب (استثنائی مقامات کے علاوہ) ایک ہی طرف نماز پڑھیں تا کہ لوگوں کی صفوں میں وحدت اور ہم آہنگی پیدا ہوسکے اور انتشار و پراکندگی کی روک تھام ہوسکے۔ ضمنا یہ بات بھی ہے کہ قبلہ کے لئے جو سمت معین ہوئی ہے۔ (یعنی کعبہ) وہ ایک مقدس نقطہ ہے اور قدیم ترین مراکز توحید میں سے ہے اور اس کی طرف متوجہ ہونے سے افکار توحید بیدار ہوتے ہیں ۔
وجہ اللہ:
اس سے مراد خدا کا چہرہ نہیں بلکہ لفظ (وجہ) یہاں ذات کے معنی میں استعمال ہواہے۔
مختلف روایات میں اس آیت سے ان لوگوں کی نماز صحیح ہونے کے بارے میں استدلال کیاگیاہے ۔ جنہوں نے اشتباہ یا تحقیق نہ ہوسکنے کی وجہ سے خلاف قبلہ نماز پڑھی ہو مزید بر آں اس سے سواری پر نماز پڑھنے کے جواز کے لئے بھی استدلال کیاگیاہے (مزید توضیح اور تفصیل کے لئے وسائل الشیعہ، کتاب الصلوة، ابواب قبلہ کی طرف رجوع کریں )۔
آیات ۱۱۶ ،۱۱۷
۱۱۶ ۔( وَقَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ لَهُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ کُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ )
۱۱۷ ۔( بدِیعُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَإِذَا قَضَی اٴَمْرًا فَإِنَّمَا یَقُولُ لَهُ کُنْ فَیَکُون )
ترجمہ
۱۱۶ ۔ (یہود، نصاری اور مشرکین) کہتے ہیں خدا کا بیٹا ہے، وہ تو پاک و منزہ ہے بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کاہے اور سب اس کے سامنے
سرنگوں ہے (سب اس کے بندے ہیں اور کوئی بھی اس کا فرزند نہیں )۔
۱۱۷ ۔ آسمانوں اور زمین کو وجود بخشنے والاوہی ہے اور جب کسی چیز کو وجود عطا کرنے کا فرمان جاری کرتاہے تو اس کیلئے کہتاہے ہوجا اور وہ فورا ہوجاتی ہے۔
یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکین کی خرافات
یہودی، عیسائی اور مشرک سب یہ بیہودہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا کا کوئی بیٹاہے۔
سورہ توبہ کی آیت ۳۰ میں ہے:
( َقَالَتْ الْیَهُودُ عُزَیْرٌ ابْنُ اللهِ وَقَالَتْ النَّصَارَی الْمَسِیحُ ابْنُ اللهِ ذَلِکَ قَوْلُهُمْ بِاٴَفْوَاهِهِمْ یُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمْ اللهُ اٴَنَّی یُؤْفَکُون )
یہودی کہتے ہیں عزیر خدا کا بیٹا ہے اور عیسائی کہتے ہیں مسیح خدا کا بیٹا ہے یہ ایسی بات ہے جو وہ اپنی زبان سے کہتے ہیں جو گذشتہ کافروں کی گفتگو جیسی ہے۔ خدا انہیں قتل کرے، کیسے جھوٹ بولتے ہیں ۔
سورہ ی یونس آیہ ۶۸ میں بھی مشرکین کے بارے میں ہے،( قالوا اتخذ الله ولدا سبحنه هو الغنی )
وہ کہتے ہیں خدا کا بیٹا ہے وہ تو پاک و منزہ ہے۔اسی طرح قرآن کی دیگر بہت سی آیات میں بھی اس نار و انسبت کا ذکر موجود ہے۔
زیر نظر پہلی آیت اس بے ہودگی کے خلاف کہتی ہے: وہ کہتے ہیں خدا کا بیٹاہے، وہ تو ان ناروا نسبتوں سے پاک و منزہ ہے (و قالوا اتخذ ولدا سبحانہ)۔ خدا کو کیا ضرورت پڑگئی ہے کہ وہ اپنے لئے بیٹے کا انتخاب کرے۔ کیا وہ محتاج ہے، محدود ہے، اسے مدد کی ضرورت ہے یا اسے بقائے نسل کی احتیاج ہے جب کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کے لئے ہیں( بل له ما فی السموات و الارض ) اور سب کے سب اس کے سامنے سرنگوں ہیں (کل لہ قنتون)۔ وہ نہ صرف عالم ہستی کی موجودات کا مالک ہے بلکہ تمام انسانوں اور زمین کا موجد و خالق بھی وہی ہے (بدیع السموات و الارض)۔ حتی کہ پہلے کی کسی منصوبے کے بغیر اور کسی مادہ کی احتیاج کے بغیر ہے اس نے ان سب کو تخلیق کیاہے۔
اسے بیٹے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ جب کسی چیز کے وجود کا حکم صادر فرماتاہے تو کہتاہے ہوجا اور وہ فورا ہوجاتی ہے( و اذا قضی امرا فانما یقول له کن فیکون ) ۔
عدم فرزند کے دلائل:
خدا کا بیٹا ہونا، بے شک ان لوگوں کے کمزور افکار کی پیداوار ہے جو تمام امور میں خدا کو اپنے محدود وجود پر قیاس کرتے ہیں ۔
مختلف دلائل کی بناء پر انسان بیٹے کا محتاج ہے۔ ایک طرف تو اس کی عمر محدود ہے اور بقائے نسل کے لئے بیٹا ضروری ہے۔ دوسری طرف اس کی قدرت محدود ہے۔ خصوصا بڑھاپے اور ناتوانی کے عالم میں اسے معاون و مددگار کی ضرورت ہے جو بیٹے کے ذریعے پوری ہوسکتی ہے تیسرا یہ کہ انسانی نفسیات میں محبت و انس کی خواہش کے پیش نظر ضروری ہے کہ کوئی اس کا مونس و مددگار ہو۔ یہ مقصد بھی اولاد کے ذریعے پورا ہوجاتاہے۔ واضح ہے کہ خدا کے ہاں ان میں سے کوئی بھی بات کچھ مفہوم نہیں رکھتی کیونکہ وہ تو عالم ہستی کو پیدا کرنے والا، تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا اور ازلی و ابدی ہے۔ علاوہ ازیں جسم صاحب اولاد ہونے کالا زمہ ہے اور خدا اس سے بھی منزہ ہے۔(۱)
____________________
۱۔سورہ انبیا ء آیہ ۲۶، تفسیر نمونہ میں اس ضمن میں مزید بحث کی گئی ہے۔
کن فیکون کی تفسیر:
یہ تعبیر قرآن کی بہت سی آیات مےں آئی ہے۔ ان میں سورہ آل عمران ۴۷ اور ۵۹ ، سورہ انعام آیہ ۷۳ ، سورہ نحل آیہ ۴۰ ، سورہ مریم آیہ ۳۵ اور سورہ یس آیہ ۸۲ و غیرہ شامل ہیں ۔
یہ جملہ خدا کے ارادہ تکوینی اور امر خلقت میں اس کی حاکمیت کے متعلق گفتگو کرتاہے۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ کن فیکون (ہوجا پس وہ فورا ہوجاتاہے) سے مراد یہ نہیں کہ خدا کوئی لفظی فرمان(ہوجا) کی صورت میں صادر فرماتا ہے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ جس وقت وہ کسی چیز کو وجود عطا فرمانے کا ارادہ کرتاہے وہ بڑی ہویا چھوٹی، پیچیدہ ہو یا سادہ، ایک اٹیم کے برابر ہو یا تمام آسمانوں اور زمین کے برابر ہوکسی علت کی احتیاج کے بغیر وہ ارادہ خود بخود عمل جامہ پہن لیتاہے۔ اس ارادہ اور موجود کی پیدائش کے در میان لحظے کا فاصلہ بھی نہیں ہوتا۔
اصولی طور پر کوئی زمانہ اس کے در میان نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے حرف فا (فیکون میں ) جو عموما تاخیر زمانی کے لئے آتاہے البتہ ایسی تاخیر جو اتصال کی قوام ہو یہاں صرف تاخیر رتبہ کے لحاظ سے ہے (جیسا کہ فلسفہ میں ثابت ہوچکا ہے کہ معلول اپنی علت سے رتبے کے لحاظ سے تو متایخر ہے لیکن زمانے کے لحاظ سے نہیں )۔
یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہئیے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ ارادہ الہی آنی الوجود ہے(۱)
بلکہ مراد یہ ہے کہ جیسا وہ ارادہ کرے موجود اسی طرح وجود پاتاہے۔
یا مثلا۔ اگر وہ ارادہ کرے کہ بچہ شکم مادر کی جنین میں نو ماہ اور نودن میں اپنی تکمیل کے مرحلے طے کرے تو لحظہ بھر کی کمی بیشی کے بغیر یونہی انجام پذیر ہوگا اور اگر ارادہ کرے کہ تکامل کا یہ دور ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے بھی کم مقدار میں پورا کرے تو یقینا ایسا ہوگا کیونکہ خلقت کے لئے انکا ارادہ علت تامہ ہے اور علت تامہ و معلول کے در میان کسی قسم کا فاصلہ نہیں ہوسکتا۔
____________________
۱ ۔یعنی ارادہ الہی سے کوئی چیز آنا فانا وجود میں آجاتی ہے۔ (مترجم)
کوئی چیز کیسے عدم سے وجود میں آتی ہے:
لفظ (بدیع) کا مادہ ہے (بدع) جس کا معنی ہے بغیر کسی سابقہ کے کسی چیز کا وجود میں آنا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آسمانوں اور زمین کو خدانے بغیر کسی مادے اور بغیر کسی پہلو نمونے کے وجود بخشاہے۔
اب یہ سوال ہوگا کہ کیا ایسا بھی ہوسکتاہے کہ کوئی چیز عدم سے وجود میں آجائے جب کہ عدم وجود کی ضروت مندہے۔ لہذا یہ کیسے علت اور منشاء وجود ہوسکتاہے۔ کیا واقعا یہ باور کیاجاسکتاہے کہ نیستی سبب ہستی ہو۔ مسئلہ ابداع پر ماد یین کا یہ پرانا اعتراض ہے۔
اس کا جواب پیش خدمت ہے:
پہلے مرحلے میں تو یہ اعترا ض خود مادہ پرستوں پر بھی وارد ہوتاہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ ان کا اعتقاد ہے کہ یہ جہان قدیم اور ازلی ہے اور کوئی چیز بھی آج تک اس میں سے کم نہیں ہوئی اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ کائنات میں کئی تغیرات آئے ہیں جن سے مادے کی یہ صورت بدلی ہے جو ہمیشہ بدلتی رہتی۔ گویا صورت بدلتی ہے نہ کہ مادہ۔
اب ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ مادے کی جو موجودہ صورت ہے یقینا وہ پہلے تو نہ تھی۔ اب یہ صورت کیسے وجود میں آئی کیا عدم سے وجود میں آئی۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر عدم کیسے وجود صورت کا منشاء ہوسکتاہے۔
مثلا ایک نقاش قلم اور سیاہی سے کاغذ پر ایک بہترین منظر بناتا ہے۔ مادہ پرست کہتے ہیں کہ اس کا جوہر اور سیاہی تو پہلے سے موجود تھی۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ یہ منظر (صورت) جو پہلے موجود نہ تھا کس طرح وجود میں آیا۔ جو جواب وہ صورت کے عدم سے پیدا ہوجانے کے متعلق دیں گے وہی جواب ہم مادہ کے سلسلے میں دیں گے
دوسرے مرحلہ میں قابل توجہ امر یہ ہے کہ لفظ (سے) کی وجہ سے اشتباہ ہواہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ عالم نیستی سے ہستی میں آیاہے کا مطلب ایسے ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ میز لکڑی سے بنائی گئی ہے۔ جس میں میز بنانے کے لئے لکڑی کا پہلے موجود ہونا ضروری ہے تا کہ میز بن سکے جب کہ عالم نیستی سے ہستی میں آیاہے کا معنی یوں نہیں بلکہ اس کا معنی ہے کہ عالم پہلے موجود نہ تھا بعد میں وجود پذیر ہوا۔
فلسفے کی زباں میں یوں کہنا چاہئیے کہ ہر موجود ممکن (جو اپنی ذات سے وجود نہ رکھتا ہو) کو اپنی تشکیل کے لئے دو پہلو درکارہیں (ماہیت) اور ( وجود)۔
(ماہیت )ایک اعتباری معنی ہے کہ جس کی نسبت وجود و عدم کے ساتھ مساوی ہے۔ یہ الفاظ دیگر وہ قدر مشترک جو کسی چیز کے وجود اور عدم کو دیکھنے سے دستیاب ہو اس کا نام ماہیت ہے۔ مثلا یہ درخت پہلے نہیں تھا۔ اب وجود رکھتاہے۔ جو چیز وجود و عدم سے ثابت ہو وہ ماہیت ہے لہذا جب ہم کہتے ہیں کہ خدا عالم کو عدم سے وجود میں لایاہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ عالم حالت عدم کے بعد حالت وجود میں آگیاہے دوسرے لفظوں میں ماہیت کو حالت عدم سے حالت وجود میں لایاگیاہے۔(۱)
____________________
۱ ۔ مزید وضاحت کے لئے کتاب آفریدگار جہان کی طرف رجوع کریں ۔
آیات ۱۱۸،۱۱۹
۱۱۸ ۔( وَقَالَ الَّذِینَ لاَیَعْلَمُونَ لَوْلاَیُکَلِّمُنَا اللهُ اٴَوْ تَاٴْتِینَا آیَةٌ کَذَلِکَ قَالَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ قَدْ بَیَّنَّا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ )
۱۱۹ ۔إ( ِنَّا اٴَرْسَلْنَاکَ بِالْحَقِّ بَشِیرًا وَنَذِیرًا وَلاَتُسْاٴَلُ عَنْ اٴَصْحَابِ الْجَحِیم )
ترجمہ
۱۱۸ ۔ بے علم افراد کہتے ہیں خدا ہم سے بات کیوں نہیں کرتا اور کوئی آیت و نشانی خود ہم پر کیوں نہیں نازل کرتا۔ ان سے پہلے بھی لوگ ایسی باتیں کرتے تھے۔ ان کے دل اور افکار ایک دوسرے کے مشابہ ہیں ۔ لیکن ہم (کافی تعداد میں اپنی) آیات اور نشانیاں (حقیقت کے متلاشی) اہل یقین کے لئے روشن اور واضح کرچکے ہیں ۔
۱۱۹ ۔ ہم نے تجھے حق کے ساتھ (اہل دنیا کو اچھائیوں اور برائیوں کے مقابلے میں ) بشارت اور تہدید کے لئے بھیجا اور (اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد) تو اہل جہنم کی گمراہی پر جواب دہ نہیں ہے۔
خدا ہمارے ساتھ باتیں کیوں نہیں کرتا
مندرجہ بالا آیات کی ابتداء میں یہودیوں کی بہانہ سازیوں کی مناسبت سے ایک اور گروہ کی بہانہ سازیوں کا تذکرہ کیا گیاہے۔ ظاہرا یہ مشرکین عرب ہی کے بارے میں ہے
فرمایا: بے علم لوگ کہتے ہیں خدا ہمارے ساتھ باتیں کیوں نہیں کرتا اور کیوں آیت اور نشانی خود ہم پر نازل نہیں ہوتی( و قال الذین لا یعلمون لولا یکلمنا الله او تاتینا ایة ) ۔
در اصل یہ لوگ جنہیں قرآن (الذین لا یعلمون) کے عنوان سے یاد کررہاہے دو غیر منطقی خواہشیں رکھتے تھے:
۱ ۔ خدا ہم سے براہ راست بات کیوں نہیں کرتا۔
۲ ۔ کیوں آیت اور نشانی خود ہم پر نازل نہیں ہوتی۔
غرور، ہٹ دھرمی اور خود پسند ہی پر مبنی ان باتوں کے جواب میں قرآن کہتاہے: ان سے پہلے بھی لوگ اس قسم کی باتیں کرتے تھے، ان کے دل اور افکار ایک دوسرے کے مثابہ ہیں لیکن جو حقیقت کے متلاشی اور اہل یقین ہیں ۔ ان کے لئے ہم نے (کافی مقدار میں ) آیات اور نشانیاں واضح کی ہیں( کَذَلِکَ قَالَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ قَدْ بَیَّنَّا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ )
اگر واقعا ان کا مقصد حقیقت و واقعیت کو سمجھنا ہے تو یہی آیات جو پیغبر اکرم پر ہم نے نازل کی ہیں روشن نشانی ہیں آپ کے صدق کلام کے لئے اس کی کیا ضرورت ہے کہ ایک ایک شخص پربراہ راست اور مستقلا آیات نازل ہوں اور اس کا کیا مطلب ہے کہ خدا بلا واسطہ مجھ سے باتیں کرے۔
ایسی ہی گفتگو سورہ مدثر آیہ ۵۲ میں بھی ہے:( بل یرید کل امری منهم ان یوتی صحفا منشرة )
ان میں سے ہر ایک یہ آرزو لئے بیٹھاہے کہ چند اوراق آیات اس پر نازل ہوں ۔
کیسی نامناسب خواہش ہے؟
اس کے علاوہ کہ اس کی ضرورت نہ تھی بلکہ ان آیات کے ذریعے جو آپ پر نازل ہوئیں پیغمبر اکرم کی صداقت کا اثبات سب لوگوں پر ممکن تھا، یہ خود پسند مشرک
ایک بنیادی نکتے سے بے خبر تھے اور وہ یہ کہ ہر شخص پر آیات و معجزات نازل نہیں ہوسکتے اس کے لئے خاص قسم کی شائستگی ، آمادگی کی پاکیزگی ضروری ہے۔
یہ بالکل ایسے ہے کہ شہر میں بچھے ہوئے سب بجلی کے تار (قوی ہوں یا بہت ہی کمزور) یہ آرزو کریں کہ وہی بجلی جو بہت زیادہ طاقتور ہے اور جو سب سے پہلے مضبوط تاروں میں منتقل ہوئی ان کی طرف منتقل ہوجائے۔ یقینا یہ توقع انتہائی غلط اور ناروا ہوگی۔ وہ اانجینیرجس نے ان تاروں کو مختلف کاموں کی انجام دہی کے لئے تیار کیاہے ان کی صلاحیت معین کی ہے ان میں سے بعض بجلی بننے والے مقام سے بلاواسطہ منسلک ہیں اور بعض بالواسطہ۔
بعد کی آیت کاروئے سخن پیغمبر کی طرف ہے جو بتاتی ہے کہ خواہ مخواہ کی معجز ہ طلبیوں اور دیگر بہانہ سازیوں کے سلسلے میں آپ کی ذمہ داری کیاہے۔ فرمایا: ہم نے تجھے حق کے ساتھ (دنیا کے لوگوں کو) بشارت دینے اور ڈرانے کے لئے بھیجاہے( إِنَّا اٴَرْسَلْنَاکَ بِالْحَقِّ بَشِیرًا وَنَذِیرًا ) ۔ تمہاری ذمہ داری ہے ہمارے احکام تمام لوگوں کے سامنے بیان کرنا ان کے سامنے معجزات پیش کرنا اور عقل و منطق سے حقائق واضح کرنا۔ اس دعوت کے ذریعے نیک لوگوں کو شوق و رغبت دلاؤ اور بدکاروں کو ڈراؤ تمہارے ذمے فقط یہی ہے۔
یہ پیغام پہنچائے جانے کے بعد اگر اب ان میں سے کوئی گروہ ایمان نہ لائے تو تم اہل جہنم کی گمراہی کے ذمے دار نہیں ہو( و لا تسئل عن اصحاب الجحیم ) ۔
ان کے دل ایک جیسے ہیں :
مندرجہ بالا آیات میں قرآن کہتاہے کہ بہانہ سازیاں اور حیلہ گریاں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ پہلی کجرو ، قومیں بھی یہی کچھ کرتی رہی ہیں گویا ان کے دل بھی ان کے دلوں جیسے ہیں ۔ یہ تعبیر اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہے کہ زمانہ گذرنے کا اور انبیاء کی تعلیمات کا یہ اثر تو ہونا چاہئیے کہ آنے والی نسلیں آگاہی اور علم کی زیادہ حصہ دار ہوں اور بہانہ سازیاں اور بے بنیاد باتیں جو انتہائی جہالت و نادانی کی نشانی ہیں انہیں کنارے لگادیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان لوگوں نے اس تکاملی پروگرام سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور اسی طرح کی ڈبھلی بجارہے ہیں ۔
گویا ان سے ان کا ہزاروں سالہ تعلق ہے اور زمانہ بیت جانے سے ان کے افکار و نظریات میں ذراسی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔
خوش خبری دینا اور ڈرانا۔ دواہم تربیتی اصول:
خوش خبری دینا اور ڈرانا دوسرے لفظوں میں تشویق و تہدید تمام تربیتی اور معاشرتی پروگراموں کی بنیاد ہیں ۔ اچھے کام کی انجام دہی پر جزا کی رغبت اور برے کام کی انجام دہی پرسزا کا خوف ضروری ہے تا کہ راہ خیر پر چلنے کا زیادہ و لولہ و جذبہ پیدا ہو اور قدم برے راستے پر اٹھنے سے بازرہ سکیں ۔
صرف شوق دلانا فرد یا معاشرے کے تکامل کے لئے کافی نہیں کیونکہ انسان اگر صرف بشارتوں کا امید وار ہو اور ان پر مطمئن ہوجائے تو ممکن ہے کہ جرائم کی طرف ہاتھ بڑھائے چونکہ اسے اطمینان ہے اور کوئی خطرہ نہیں ہے۔
مثلا ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل عیسائی فدیہ کا عقیدہ رکھتے ہیں یعنی ان کا عقیدہ ہے کہ عیسی ان کے گناہوں کا فدیہ ہو گئے ہیں ۔ ان کے رہبر کبھی انہیں جنت کی سند بیچتے ہیں اور کبھی خدا کی طرف سے ان کے گناہ بخش دیتے ہیں ۔ مسلم ہے کہ ایسے لوگ آسانی سے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں ۔
قاموس کتاب مقدس میں ہے:
خدا نیز اشارہ ہے مسیح کے گراں بہا خون کے کفارہ کی طرف جب کہ ہم سب کے گناہ ان پر رکھ دیئے گئے اور ہمارے گناہوں کے ضمن میں انہوں نے اپنے آپ کو صلیب کے لئے پیش کردیا۔
یہ منطق اس تحریف شدہ مذہب کے پیرو کاروں کے لئے گناہوں میں جسارت و جرات کا سبب بنتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ جو سمجھتے ہیں کہ تشویق ہی انسان کے لئے (چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا) کافی ہے اور تنبیہ و تہدید اور سزا و عذاب کا ذکر بالکل ایک طرف رکھ دینا چاہئیے وہ بڑے اشتباہ کا شکار ہیں جیسا کہ وہ لوگ جو تربیت کی بنیاد صرف خوف و تہدید پر رکھتے ہیں اور تشویق کے پہلوؤں سے غافل ہیں وہ بھی گمراہ اور بے خبر ہیں ۔
یہ دونوں گروہ انسان کو پہچاننے میں اشتباہ اور غلطی کرگئے ہیں وہ متوجہ نہیں کہ انسان خوف اور امید، ذات کی محبت، زندگی سے عشق اور فنا و نابودی سے نفرت کا مجموعہ ہے۔ وہ کشش منفعت اور دفع ضرر کا مرتکب ہے۔ وہ انسان جوان دونوں پہلووں کا حامل ہے کیسے ممکن ہے کہ اس کی تربیت کی بنیاد صرف ایک پہلو پر رکھی جائے۔
ان دونوں میں ایک توازن ضروری ہے۔ اگر تشویق و امید حدسے بڑھ جائے۔ تو جرا ت و غفلت کا باعث ہے اور اگر خوف و اندیشہ حدسے گذرجائے تو اس کا نتیجہ یاس و ناامیدی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیات قرآن میں نذیر و بشیر یا انذار و بشارت کا ایک ساتھ ذکر ہے بلکہ یہ بھی ملحوظ رکھا گیاہے کہ کبھی بشارت کو انذار پر مقدم رکھا گیاہے اور کبھی انذار کو بشارت پر زیر بحث آیت میں ، بشیرا و نذیرا ہے اور سورہ اعراف آیہ ۱۸۸ ہے:
( إِنْ اٴَنَا إِلاَّ نَذِیرٌ وَبَشِیرٌ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ )
میں ایمان لانے والے کے لئے نذیرا ور بشیرہوں ۔
البتہ اکثر آیات قرآن میں بشیر، بشارت یا مبشر کو مقدم رکھا گیاہے اور کم آیات میں نذیر مقدم ہے۔ ممکن ہے یہ اس لئے ہوکہ مجموعی طور پر رحمت خدا اس کے عذاب پر سبقت رکھتی ہے:یا من سبقت رحمته غضبه
اے وہ کہ جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔
آیات ۱۲۰،۱۲۱
۱۲۰ ۔( وَلَنْ تَرْضَی عَنْکَ الْیَهُودُ وَلاَالنَّصَارَی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَی اللهِ هُوَ الْهُدَی وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ اٴَهْوَائَهُمْ بَعْدَ الَّذِی جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنْ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیر )
۱۲۱ ۔( الَّذِینَ آتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ یَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاَوَتِهِ اٴُوْلَئِکَ یُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ یَکْفُرْ بِهِ فَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْخَاسِرُونَ )
ترجمہ
۱۲۰ ۔ یہود و نصاری آپ سے کبھی راضی نہیں ہوں گے جب تک آپ (ان کی غلط خواہشات کے سامنے طرح سرتسلیم خم نہ کریں اور) ان کے (تحریف شدہ) مذہب کی پیروی نہ کریں ۔ کہیے ہدایت کامل صرف خدا کی ہدایت ہے۔ اگر آگاہی کے بعد بھی ان کی ہوا و ہوس کی پیروی کی تو خدا کی طرف سے تمہارے لئے کوئی سرپرست و مددگار نہ ہوگا۔
۱۲۱ ۔ و ہ لوگ (یہود و نصاری) جنہیں ہم نے آسمانی کتاب دی ہے اور وہ اسے غور سے پڑھتے ہیں ۔ پیغمبر اسلام پر ایمان لے آئیں گے اور جوان سے کفر اختیار کریں گے وہ خسارے میں ہیں ۔
شان نزول
پہلی آیت کی شان نزول کے بارے میں ابن عباس سے اس طرح منقول ہے:
مدینہ کے یہودیوں اور نجران کے عیسائیوں کا خیال تھا کہ قبلہ کے بارے میں پیغمبر اسلام ہمیشہ ان سے موافقت رکھیں گے جب خدا نے بیت المقدس کے بجائے کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا۔ تو وہ پیغمبر اکرم سے مایوس ہوگئے (اس دوران شاید مسلمانوں میں سے بعض لوگ بھی معترض تھے کہ ایسا کوئی کام نہ کیا جائے جو یہود و نصاری کی رنجش کا باعث ہو( ۱) ۔
اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ جس میں مسلمانوں کو بتایاگیا کہ قبلہ کی ہم آہنگی کا معاملہ ہو یا کوئی اور مسئلہ یہودیوں اور عیسائیوں کا یہ گروہ تم سے کبھی راضی نہیں ہوگا یہاں تک کے تم ان کے مذہب کو پورے طور پر تسلیم نہ کرلو۔
بعض دوسرے لوگوں نے نقل کیاہے کہ پیغمبر اکرم چاہتے تھے کہ ان دونوں گروہوں کو راضی کیاجائے شاید یہ اسلام قبول کرلیں اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں کہا گیا کہ آپ یہ بات ذہن سے نکال دیں کیونکہ وہ کسی قیمت پر آپ سے راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے مذہب کی پیروی نہ کرنے لگیں ۔(۱)
دوسری آےت کی شان نزول میں مختلف روایات ہیں ۔ مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہ آیات ان افراد کے بارے میں ہے جو جناب جعفر ابن ابوطالب کے ساتھ حبشہ سے آئے تھے اور وہ لوگ وہاں جاکر جناب جعفر سے مل گئے تھے۔ ان کی تعداد چالیس تھی۔ بتیس افراد حبشہ سے تھے اور آٹھ افراد شام کے راہب تھے جن میں مشہور راہب بحیرا بھی شامل تھا۔
بعض کہتے ہیں کہ یہودیوں میں سے چند افراد کے لئے یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ مثلا عبد اللہ بن سلام، سعید بن عمر و اور تمام بن یہودا و غیرہ جنہوں نے اسلام قبول کیاتھا۔(۳)
____________________
۱ تفسیر ابو الفتوح رازی اور تفسیر فخر رازی (کچھ فرق کے ساتھ)
۲! تفسیر ابو الفتوح اور مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۳ مجمع البیان ۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
وہ ہرگز راضی نہ ہوں گے
گذشتہ آیت میں پیغمبر اسلام کی رسالت کا ذکر ہے۔ جس میں بشارت اور تنبیہ شامل ہے اور بتایاگیا ہے کہ ہٹ دھرم گمراہوں کے بارے میں آپ سے کوئی جواب طلبی نہ ہوگی۔ مندرجہ بالا آیات میں یہی بحث جاری ہے۔ پیغمبر اسلام سے فرمایا گیاہے کہ آپ یہودیوں اور عیسائیوں کی رضامندی حاصل کرنے پر زیادہ اصرار نہ کریں کیونکہ وہ ہرگز آپ سے راضی نہ ہوں گے مگر یہ کہ ان کی خواہشات کو مکمل طور پرتسلیم کرلیاجائے اور ان کے مذہب کی پیروی کی جائے( لن ترضی عنک الیهود و لا النصری حتی تتبع ملتهم ) ۔ آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ ان سے کہئے کہ ہدایت صرف ہدایت الہی ہے (قل ان ہدی اللہ ہو الھدی)۔ وہ ہدایت جس میں خرافات اور پست و نادان افراد کے افکار کی آمیزش نہ ہو یقینا ایسی ہی خالص ہدایت کی پیروی کرناچاہئیے۔
مزید فرمایا: اگر آپ ان کے تعصبات ، ہوا و ہوس اور تنگ نظریوں کومان لیں جب کہ وحی الہی کے سائے میں آپ پر حقائق روشن ہوچکے ہیں تو خدا کی طرف سے آپ کا کوئی سرپرست اور یاور و مددگار نہ ہوگا( و لئن اتبعت اهوا الهم بعد الذی جاء ک من العلم من العلم مالک من الله من ولی و لا نصیر ) ۔
ادھر جب یہود و نصاری میں سے کچھ لوگوں نے جو حق کے متلاشی تھے پیغمبر اسلام کی دعوت پر لبیک کہی اور اس آئین و دین کو قبول کرلیا تو سابق گروہ کی مذمت کے بعد قرآن انہیں اچھائی اور نیکی کے حوالے سے یاد کرتاہے اور کہتا ہے: وہ لوگ جنہیں ہم نے آسمانی کتاب دی ہے اور انہوں نے اسے غورسے پڑھاہے اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا ہے (یعنی فکر و نظر کے بعد اس پر عمل کیاہے) وہ پیغمبر اسلام پر ایمان لے آئیں گے( الذین اتینهم الکتاب یتلونه حق تلاوته اولئک یومنون به ) ۔ اور جوان کے کافر و منکر ہوگئے ہیں انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیاہے وہ خسارہ اٹھانے والے ہیں( و من یکفر به فاولئک هم الخاسرون ) ۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی آسمانی کتاب کی تلاوت کا واقعا حق اداکیاہے اور وہی ان کی ہدایت کا سبب ہے کیونکہ پیغمبر موعود کے ظہور کی جو بشارتیں انہوں نے ان کتب میں پڑھی تھیں وہ پیغمبر اسلام پر منطبق دیکھیں اور انہوں نے سر تسلیم خم کرلیا اور خدا نے بھی ان کی قدردانی کی ہے۔
لئن اتبعت اھواء ھم:
اس جملے سے ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ مقام عصمت پر فائز ہونے کے باوجود کیا ممکن ہے کہ پیغمبر اسلام کجرو یہودیوں کی خواہشات کی پیروی کریں ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ قرآنی آیات میں ایسی تعبیریں بار بار نظر آتی ہیں اور یہ کسی طرح سے بھی انبیاء کے مقام عصمت کی نفی نہیں کرتیں کیونکہ ایک طرف تو ان میں جملہ شرطیہ شرط کے وقوع کی دلیل نہیں دوسری طرف عصمت انبیاء کو گناہ سے جبرا تو نہیں روکتی بلکہ پیغمبر و امام گناہ پر قدرت رکھتے ہیں اور ارادہ و اختیار کے حامل ہوتے ہیں اس کے با وجود ان کے دامن گناہ سے کبھی آلودہ نہیں ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ اگر چہ خطاب پیغمبر کو ہے لیکن ہوسکتاہے مراد سب لوگ ہوں ۔
دشمن کی رضا کا حصول:
انسان کو چاہئیے کہ وہ پر کشش اخلاق سے دشمنوں کو بھی حق کی دعوت دے لیکن یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جن میں کچھ لچک اور حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہو۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو کبھی حرف حق قبول کرنے کے لئے تیارنہیں ہوتے ایسے لوگوں کی رضا حاصل کرنے کی فکر نہیں کرنا چاہئیے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کہاجائے کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں تو جہنم میں جائیں اور ان پر فضول وقت ضائع نہ کیاجائے۔
ہدایت صرف ہدایت الہی ہے:
مندرجہ بالا آیت سے ضمنی طور پر یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ قانون جو انسان کی سعادت کا سبب بن سکتاہے فقط قانون و ہدایت الہی ہے( ان هدی الله هو الهدی ) کیونکہ انسان کا علم جتنا بھی ترقی کرے پھر بھی وہ کئی پہلوؤں سے جہالت، شک اور نا پختگی کا حامل ہوگا۔
ایسے ناقص علم کی بنیاد پر جو ہدایت ہوگی وہ کامل نہ ہوسکے گی۔ ہدایت مطلقہ تو اسی کی طرف سے ممکن ہے جو علم مطلق کا حامل ہو اور جہالت و نا پختگی سے ماوراء ہو اور وہ صرف خدا ہے۔
حق تلاوت کیاہے؟:
یہ بہت ہی پر معنی تعبیر ہے جو مندرجہ بالا آیات میں آئی ہے۔ یہ ہمارے لئے قرآن مجید اور دیگر کتب آسمانی کے سلسلے میں واضح راستہ متعین کرتی ہے۔ ان آیات الہی کے مفہوم کے ضمن میں مختلف گروہ ہیں ۔ ایک گروہ کو پورا اصرار ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ الفاظ و حروف کو صحیح مخارج سے ادا کیاجائے یہ گروہ مضمون اور معانی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا چہ جائیکہ اس پر عمل کی طرف توجہ دے۔ قرآن کے مطابق ایسے لوگوں کی مثال اس جانور کی سی ہے جس پر کتا بیں لادی جائیں ۔( کمثل الحمار یحمل اسفارا ) ( جمعہ ۔ ۵)
دوسرا گروہ وہ ہے جو الفاظ کی سطح سے کچھ اوپر گیاہے۔ وہ معانی پر بھی غور کرتاہے، قرآن کی باریکیوں اور نکات میں فکر کرتاہے اور اس کے علوم سے آگاہی حاصل کرتاہے لیکن عمل کے معاملے میں صفر ہے۔
ایک تیسرا گروہ ہے جو حقیقی مومنین پر مشتمل ہے۔ یہ گروہ قرآن کو کتاب عمل اور زندگی عمل اور زندگی کے مکمل پروگرام کے طور پر قبول کرتاہے۔ وہ اس کے الفاظ پڑھنے، اس کے معانی پر فکر کرنے اور اس کے مفاہیم سمجھنے کو عمل کرنے کا مقدمہ اور تمہید سمجھتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایسے لوگ قرآن پڑھتے ہیں تو ان کے بدن میں ایک نئی روح پیدا ہوجاتی ہے۔ ان میں نیا عزم، نیا ارادہ، نئی آمادگی اور نئے اعمال پیدا ہوتے ہیں اور یہ ہے حق تلاوت۔
امام صادق سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں ایک عمدہ حدیث منقول ہے۔ آپ نے فرمایا:
یوتلون ایاته و یتفقهون به و یعملون باحکامه و یرجون و عده و یخافون عیده و یعتبرون بقصصه و یاتمرون باو امره و ینتهون بنو اهیه ما هو و الله حفظ ایاته و درس حروفه و تلاوت بسوره و درس اعشاره و اخماسه حفظوا حروفه و اضا عو حدوده و انما هوت برایاته و العمل بارکانه قال الله تعالی کتاب انزلناه الیک مبارک لید بروا ایاته
مقصود یہ ہے کہ وہ اس کی آیات غور سے پڑھیں ۔ اس کے حقائق کو سمجھیں ، اس کے احکام پر عمل کریں ، اس کے وعدوں کی امید رکھیں اس کی تنبیہوں سے ڈرتے رہیں ۔ اس کی داستانوں سے عبرت حاصل کریں ، اس کے اوامرکی اطاعت کریں ، اس کے نواہی سے بچے رہیں ۔ خدا کی قسم مقصد آیات حفظ کرنا، حروف پڑھنا، سورتوں کی تلاوت کرنا اور اس کے دسویں اور پانچویں حصوں کو یاد کرنا نہیں ۔
ان لوگوں نے حروف قرآن تو یاد رکھے مگر اس کی حدود کو پامال کردیاہے مقصود صرف یہ ہے کہ قرآن کی آیات میں غور و فکر کریں اور اس کے احکام پر عمل کریں جیسا کہ قرآن فرماتاہے: یہ با برکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ پر نازل کیاہے تا کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں ۔
آیات ۱۲۲،۱۲۳
۱۲۲ ۔( یَابَنِی إِسْرَائِیلَ اذْکُرُوا نِعْمَتِی الَّتِی اٴَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاٴَنِّی فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعَالَمِینَ )
۱۲۳ ۔( وَاتَّقُوا یَوْمًا لاَتَجْزِی نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَیْئًا وَلاَیُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلاَتَنفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلاَهُمْ یُنصَرُونَ )
ترجمہ
۱۲۲ ۔ اے بنی اسرائیل میں نے تمہیں جو نعمت دی ہے اسے یاد کرو اور یہ بھی یاد کرو کہ میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی (لیکن تم نے اس مقام سے استفادہ نہیں کیا اور گمراہ ہوگئے)۔
۱۲۳ ۔ اس دن سے ڈر وجب کسی شخص کو دوسرے کی جگہ پر بدلہ نہیں دیاجائے گا۔ اس سے کوئی عوض قبول نہ کیاجائے گا۔ کوئی شفاعت و سفارش اس کے لئے فائدہ مند نہ ہوگی اور نہ ہی (کسی طرف سے) ایسے لوگوں کی مدد کی جائے گی۔
تفسیر
قرآن کاروئے سخن پھر بنی اسرائیل کی طرف ہے۔ ان پر جو نعمتیں نازل ہوئیں قرآن ان کا ذکر کرتاہے خصوصا وہ فضیلت جو خدا نے ان کے زمانے کے لوگوں پر انہیں عطا کی تھی وہ یاد دلائی گئی ہے۔
فرماتاہے: اے بنی اسرائیل! ان نعمتوں کو یاد کرو جومیں نے تمہیں عطا کیں او ر یہ بھی یاد کرو میں نے تمہیں تمام جہان والوں پر (اس زمانے میں موجود سب لوگوں پر) فضیلت بخشی (یبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی نعمت علیکم و انی فضلتکم علی العلمین)۔
لیکن کوئی نعمت جواب دہی اور ذمہ داری کے بغیر نہیں ہوتی بلکہ ہر نعمت عطا کرنے کے بعد خدا کسی ذمہ داری اور کسی عہد و پیمان کا بوجھ انسان کے کندھے پر رکھتاہے لہذا بعد کی آیت میں تنبیہ کرتاہے اور کہتاہے: اس دن سے ڈر وجب کسی شخص کو دوسرے کی بجائے جزا کا سامنا نہ ہوگا( وَاتَّقُوا یَوْمًا لاَتَجْزِی نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَیْئًا ) اور کوئی چیزوہاں فدیہ کے طور پر قبول نہ کی جائے گی( و لا یقبل منها عدل ) اور( اذن خدا کے بغیر) کوئی سفارش سودمند نہ ہوگی( و لا تنفعها شفاعة ) اگر سمجھو کہ خدا کے علاوہ وہاں کوئی انسان کی مدد کرسکتاہے تو یہ غلط فہمی ہے کیونکہ وہاں کسی شخص کی مدد نہیں کی جاسکے گی (و لا ھم ینصرون) لہذا جنہیں تم نجات کی راہیں سمجھتے ہو وہ سب مسدود ہیں اور شاید دنیا میں تم انہی کا سہارا لیتے ہو۔ صرف اور صرف ایک راستہ کھلاہے اور وہ ایمان و عمل صالح نیز گناہوں پر تو بہ اور اپنی اصلاح کا راستہ ہے۔
چونکہ اس سورہ کی آیہ ۴۷ اور ۴۸ میں بھی بعینہ یہی مسائل بیان ہوئے ہیں (تعبیرات کے کچھ اختلاف کے ساتھ) اور وہاں ہم تفصیل سے بحث کرچکے ہیں لہذا یہاں اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔
آیات ۱۲۴
۱۲۴ ۔( وَإِذْ ابْتَلَی إِبْرَاهِیمَ رَبُّهُ بِکَلِمَاتٍ فَاٴَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی قَالَ لاَیَنَالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ )
ترجمہ
۱۲۴ ۔(وہ وقت یاد کرو) جب خدانے ابراہیم کو مختلف طریقوں سے آزمایا اور وہ ان سے عمدگی سے عہدہ برآں ہوئے تو خدا نے ان سے کہا: میں نے تمہیں لوگوں کا امام و رہبر قرار دیا۔ ابراہیم نے کہا: میری نسل اور خاندان میں سے (بھی ائمہ قرار دے)۔ خدا نے فرمایا: میرا عہد (مقام امامت) ظالموں کو نہیں پہنچتا (اور تماری اولاد میں سے جو پاک اور معصوم ہیں وہی اس مقام کے لائق ہیں )۔
ان آیات کے تین مقاصد
اس آیت سے لے کر آگے تک (بیت المقدس سے کعبہ کی طرف قبلہ کی تبدیلی کا موضوع شروع ہونے تک) اٹھارہ آیات ہیں جن میں خدا کے پیغمبر عظیم اور علمبردار توحید حضرت ابراہیم خانہ کعبہ کی تعمیر اور توحید و عبادت کے اس مرکز کا تذکرہ ہے۔
در اصل ان آیات کے تین مقاصد ہیں :
۱ ۔ یہ آیات قبلہ کی تبدیلی کے موضوع کے لئے مقدمہ کا کام دیں ۔ مسلمان جان لیں کہ یہ کعبہ حضرت ابراہیم پیغمبر بت شکن کی یادگارہے۔ اگر مشرکوں اور بت پرستوں نے اسے آج بت خانے میں تبدیل کررکھاہے تو یہ ایک سطحی آلودگی ہے اس سے کعبہ کے مقام و منزلت میں کمی واقع نہیں ہوتی۔
۲ ۔ یہودی او ر عیسائی یہ دعوی کرتے تھے کہ ہم حضرت ابراہیم اور ان کے دین کے وارث ہیں ۔ یہ آیات (دیگر بہت سی آیات سے مل کرجو یہودیوں کے بارے میں گذر چکی ہیں ) واضح کردیتی ہیں کہ وہ لوگ ابراہیمی آئین سے بیگانہ ہیں ۔
۳ ۔ مشرکین عرب بھی اپنے اور حضرت ابراہیم کے در میان اٹوٹ رشتہ بتاتے تھے انہیں بھی یہ سمجھانا مقصود تھا کہ تمہارے اور اس بت شکن پیغمبر کے پروگرام میں کوئی ربط نہیں ۔
زیر بحث آیت میں پہلے فرماتاہے: وہ وقت یاد کرو جب خدا نے ابراہیم کو مختلف طریقوں سے آزمایا اور وہ ان آزمائشوں میں اچھی طرح کامیاب ہوئے( و اذا بتلی ابراهیم ربه بکلمات فاتمهن ) ۔
یہ آیت حضرت ابراہیم کی زندگی کے اہم ترین موڑ یعنی ان کی بڑی بڑی آزمائشوں اور ان میں ان کی کامیابی کے متعلق گفتگو کرتی ہیں ۔ وہ آزما ئشیں جنہوں نے ابراہیم کی عظمت مقام اور شخصیت کو مکمل طور پرنکھاردیا اور ان کی شخصیت کی بلندی کو روشن کردیا اورجب ابراہیم ان امتحانات سے کامیاب ہوگئے تو وہ منزل آئی کہ خدا انہیں انعام دے تو فرمایا: میں نے تمہیں لوگوں کا امام، رہبر اور پیشوا قرار دیا( قال انی جاعلک للناس اماما ) ۔
ابراہیم نے در خواست کی میری اولاد اور خاندان سے بھی آئمہ قرار دے۔ تا کہ یہ رشتہ نبوت و امامت منقطع نہ ہو اور صرف ایک شخص کے ساتھ قائم نہ رہے( قال و من ذریتی ) ۔ خدا نے اس کے جواب میں فرمایا: میرا عہد یعنی مقام امامت ظالموں تک ہرگز نہیں پہنچے گا( قال لا ینال عهد الظلمین ) ۔ یعنی ہم نے تمہاری درخواست قبول کرلی ہے لیکن تمہاری ذریت میں سے صرف وہ لوگ اس مقام کے لائق ہیں جو پاک اور معصوم ہیں ۔
کلمات سے کیا مراد ہے:
آیات قرآن سے اور ابراہیم کے وہ نظر نواز اعمال جن کی خدانے تعریف کی ہے کے مطالعہ سے ظاہر ہوتاہے کہ کلمات (وہ جملے جو خدانے ابراہیم کو سکھائے ) در اصل ذمہ داریوں کا ایک گراں اور مشکل سلسلہ تھا جو خدانے ابراہیم کے ذمے کیا اور اس مخلص پیغمبر نے انہیں بہترین طریقے سے انجام دیا۔
حضرت ابراہیم کے امتحانات میں یہ امور شامل تھے:
۱ ۔ اپنی بیوی اور بیٹے کو مکہ کی خشک اور بے آب و گیاہ سرزمین میں لے جانا جہاں کوئی انسان نہ بستاتھا۔
۲ ۔ بیٹے کو قرہانی گاہ میں لے جانا اور فرمان خدا سے اسے قربان کرنے کے لئے پر عزم آمادگی کا مظاہرہ کرنا۔
۳ ۔ بابل کے بت پرستوں کے مقابلے میں قیام کرنا، بتوں کو توڑنا اور اس تاریخی مقدمے میں پیش ہونا اور نتیجہ آگ میں پھینکا جانا اور ان تمام مراحل میں اطمینان و ایمان کا ثبوت دینا۔
۴ ۔ بت پرستوں کی سرزمین سے ہجرت کرنا اور اپنی زندگی کے سرمائے کو ٹھو کرمارنا اور دیگر علاقوں میں جاکر پیغام حق سنانا۔ایسے اور بھی بہت سے امور ہیں ۔(۱) یہ واقعہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک بہت سخت اور مشکل آزمائش تھی لیکن ابراہیم ایمانی قوت کے ذریعے ان تمام میں پورا اترے اور ثابت کیا کہ وہ مقام امامت کی اہلبیت رکھتے تھے۔
____________________
۱ تفسیر المنار میں ابن عباس کے حوالے سے منقول ہے کہ انہوں نے قرآن کی چار سورتوں کی مختلف آیات میں حضرت ابراہیم کے لئے گئے امتحانات کو شمار کیاہے جو تیس بنتے ہیں ۔ (المنار۔ زیر نظر آیات کے ذیل میں )۔
امام کسے کہتے ہیں :
زیر بحث آیت سے ظاہر ہوتاہے کہ حضرت ابراہیم کو جو مقام امامت بخشا گیا وہ مقام نبوت و رسالت سے بالاتر تھا۔ اس کی توضیح کے لئے امامت کے مختلف معانی بیان کئے جاتے ہیں ۔
۱ ۔ امامت کا معنی ہے صرف دنیا وی امور میں لوگوں کی قیادت و پیشوائی (جیسا کہ اہل سنت کہتے ہیں )۔
۲ ۔ امامت کا معنی ہے امور دین و دنیا میں پیشوائی (اہل سنت ہی میں بعض اس کے قائل ہیں )۔
۳ ۔ امامت کا معنی ہے دینی پروگراموں کا ثابت ہونا جس میں حدود احکام الہی کے اجراء کے لئے حکومت کا وسیع مفہوم شامل ہے اس طرح ظاہری اور باطنی پہلوؤں سے نفوس کی تربیت و پرورش بھی امامت کے مفہوم میں داخل ہے۔
تیسرے معنی کے لحاظ سے یہ مقام رسالت و نبوت سے بلند تر ہے کیونکہ نبوت و رسالت خداکی طرف سے خبر دینا، اس کا فرمان پہنچانا اور خوشخبری دینا اور تنبیہ کرنا ہے لیکن منصب امامت میں ان امور کے ساتھ ساتھ اجرائے احکام اور نفوس کی ظاہری و باطنی تربیت بھی شامل ہے (البتہ واضح ہے کہ بہت سے پیغمبر مقام امامت پر بھی فائز تھے)۔ در حقیقت مقام امامت دینی منصوبوں کو عملی شکل دینے کا نام ہے۔ یعنی ایصال الی المطلوب، مقصود تک پہنچنا، اجرائے قوانین الہی کے لحاظ سے اور تکوینی ہدایت کے اعتبار سے یعنی تاثیر باطنی اور نفوذ روحانی۔ یہ وہ شعاع نور ہے جو انسانی دلوں کو روشنی بخشتے ہے اور انہیں ہدایت کرتی ہے۔
اس لحاظ سے امام بالکل آفتاب کی طرح ہے جو اپنی شعاعوں سے سبزہ زاروں کی پرورش کرتاہے۔ قرآن مجید میں ہے:( هُوَ الَّذِی یُصَلِّی عَلَیْکُمْ وَمَلَائِکَتُهُ لِیُخْرِجَکُمْ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ وَکَانَ بِالْمُؤْمِنِینَ رَحِیمًا )
وہی ہے جو رحمت بھیجتا ہے اور اس کے ملائکہ رحمت بھیجتے ہیں تا کہ تمہیں تاریکیوں سے نور کی طرف نکال لے جائے اور وہ مومنین پر مہربان ہے۔ (احزاب ۔ ۴۳) اس آیت سے واضح ہوتاہے کہ خدا کی خاص رحمتیں اور فرشتوں کی غیبی امداد مومنین کی تاریکیوں سے نور کی طرف رہبری کرتی ہے۔یہ بات امام پر صادق آئی ہے۔ امام اور مقام امامت کے حامل عظیم پیغمبر مستعد و آمادہ افراد کی تربیت کرتے ہیں اور انہیں جہالت و گمراہی سے نکال کر نور و ہدایت کی طرف لے جاتے ہیں ۔اس میں شک نہیں کہ زیر بحث آیت میں امامت کے مذکورہ تیسرے مفہوم ہی کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ قرآن کی متعدد آیات سے ظاہر ہوتاہے کہ امامت کے مفہوم میں ہدایت بھی شامل ہے۔ جیسا کہ سورہ سجدہ کی آیت ۲۴ میں ہے:( وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اٴَئِمَّةً یَهْدُونَ بِاٴَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَکَانُوا بِآیَاتِنَا یُوقِنُون ) (احزاب ۔ ۴۳)
اس آیت سے واضح ہوتاہے کہ خدا کی خاص رحمتیں اور فرشتوں کی غیبی امداد مومنین کی تاریکیوں سے نور کی طرف رہبری کرتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ زیر بحث آیت میں امامت کے مذکور تیسرے مفہوم ہی کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ قرآن کی متعدد آیات سے ظاہر ہوتاہے کہ امامت کے مفہوم میں ہدایت بھی شامل ہے۔ جیسا کہ سورہ سجدہ کی آیت ۲۴ میں ہے:( وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اٴَئِمَّةً یَهْدُونَ بِاٴَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَکَانُوا بِآیَاتِنَا یُوقِنُونَ )
ہم نے انہیں امام بنایا تا کہ ہمارے فرمان کے مطابق ہدایت کریں ۔ اس لئے کہ وہ صبر و استقامت رکھتے ہیں اور ہماری آیات پر ایمان و یقین رکھتے ہیں ۔یہ ہدایت ارائة الطریق۔ راستہ دکھانا۔ کے معنی والی نہیں ہے۔ کیونکہ حضرت ابراہیم مرحلہ امامت سے پہلے مقام نبوت و رسالت اور ارائة الطریق کے مفہوم کی ہدایت کے منصب پر تو قطعا و یقینا فائز تھے۔ اس سے واضح ہوتاہے کہ جو منصب امامت سخت آزمائشوں سے گزرنے اور یقین، شجاعت اور استقامت کے مراحل طے کرنے کے بعد حضرت ابراہیم کو عطاہو ا وہ بشارت، ابلاغ اور انذار کے معنی سے ماوراء مقام ہدایت حامل ہے۔ لہذا وہ ہدایت جو امامت کے مفہوم میں داخل ہے ایصال الی المطلوب، روح مذہب کو عملی شکل دینا اور نفوس آمادہ کی تربیت کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ۔امام صادق فرماتے ہیں :
ان الله اتخذ ابراهیم عبدا قبل ان یتخذه نبیا و ان الله اتخذه نبیا قبل ان یتخذه رسولا و ان الله اتخذه رسولا قبل ان یتخذه خلیلا و ان الله اتخذه خلیلا قبل ان یتخذه اماما فلما جمع الاشیاء قال انی جاعلک للناس اماما فمن عظمها فی عین ابراهیم قال و من ذریتی قال لا ینال عهدی الظلمین قال لا یکون السفیه امام التقی ۔
خداوند عالم نے بنی بنانے سے قبل ابراہیم کو عہد قرار دیا اور اللہ نے انہیں رسول بنانے سے پہلے نبی قرار دیا اور انہیں خلیل بنانے سے قبل اپنی رسالت کے لئے منتخب کیا اور اس سے پہلے کہ امام بناتا انہیں اپنا خلیل بنا یا جب یہ تمام مقامات و مناصب انہیں حاصل ہوچکے تو اللہ نے فرمایا میں تمہیں انسانوں کے لئے امام بناتا ہوں ۔ حضرت ابراہیم کو یہ مقام عظیم دیا تو انہوں نے عرض کیا: خدایا میری اولاد سے بھی امام قرار دے۔ ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں تک نہ پہنچے گا۔ بے وقوف شخص متقی لوگوں کا امام نہیں ہوسکتا(۱ )
____________________
۱ ۔ اصول کافی، ج۱، باب طبقات الانبیاء و الرسل ص ۱۳۳
نبوت، رسالت اور امامت میں فرق:
آیات میں موجود اشارات اور احادیث میں وارد ہونے والی مختلف تعبیرات سے ظاہر ہوتاہے کہ خدا کی طرف سے مامور لوگ مختلف منصبوں پر فائز تھے:
۱ ۔ مقام نبوت۔
یعنی خدا کی طرف سے وحی حاصل کرنا۔ لہذا نبی وہ ہے جس پروحی نازل ہو اور جو کچھ وحی کے ذریعے معلوم ہو لوگ چاہیں تو انہیں بتادے۔
۲ ۔ مقام رسالت۔
یعنی مقام ابلاغ وحی، تبلیغ و نشر احکام الہی اور تعلیم و آگہی سے نفوس کی تربیت۔ لہذا رسول وہ ہے جس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ماموریت کے خطے میں جستجو اور کوشش کے لئے اٹھ کھڑا ہو اور ہر ممکن ذریعے سے لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دے اور لوگوں تک اس کا فرمان پہنچائے۔
۳ ۔ مقام امامت۔
یعنی رہبری و پیشوائی اور امور مخلوق کی باگ ڈور سنبھالنا۔ در حقیقت امام وہ ہے جو حکومت الہی کی تشکیل کے لئے ضروری توانائیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے تا کہ احکام خدا کو عملا جاری اور نافذ کرسکے اور اگر فی الوقت با قاعدہ حکومت کی تشکیل ممکن نہ ہو تو جس قدر ہوسکے اجرائے احکام کی کوشش کرے۔
بہ الفاظ دیگر امام کا کام اور ذمہ داری احکام و قوانین الہی کا اجراء ہے جب کہ رسول کی ذمہ داری احکام الہی کا ابلاغ ہے۔ دو لفظوں میں یوں کہیے کہ رسول کا کام ارائة الطریق ہے اور امام کی ذمہ داری ایصال الی المطلوب ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ رسول اسلام کی طرح بہت سے پیغمبر تینوں عہدوں پر فائز تھے۔ وحی وصول کرتے فرامین خداوندی کی تبلیغ کرتے نیز تشکیل حکومت اور اجرائے احکام کی کوشش کرتے اور باطنی طور پر بھی نفوس کی تربیت کرتے تھے۔مختصر یہ کہ امامت ہر جہت سے مقام رہبری کا نام ہے وہ مادی ہو یا معنوی، جسمانی ہو یا روحانی اور ظاہری یا باطنی ۔امام حکومت کا سر براہ، لوگوں کا پیشوا، مذہبی رہنما، اخلاق کا مربی اور باطنی ہدایت کا ذمہ دار ہوتاہے۔ اپنی مخفی اور معنوی قوت سے امام اہل افراد کی سیر تکامل( ۱)
کے لئے باطنی رہبری کرتاہے، اپنی علمی قدرت کے ذریعے نادان و جاہل افراد کو تعلیم دیتاہے اور اپنی حکومت کی طاقت سے یاد دیگرا جرائی طاقتوں سے اصول عدالت کا اجراء کرتاہے۔
(!) امامت یا حضرت ابراہیم کی آخری سیر تکامل:
امامت کی حقیقت کے بارے میں ہم جو کچھ کہہ چکے ہیں اس سے ظاہر ہوتاہے کہ ممکن ہے کوئی شخصیت مقام تبلیغ و رسالت کی حامل ہو لیکن منصب امامت پر فائز نہ ہو۔ کیونکہ اس منصب کے لئے ہر پہلو سے بہت زیادہ اہلیت و لیاقت کی ضرورت ہے اور یہ وہ مقام ہے جسے ابراہیم تمام امتحانات کے بعد حاصل کرسکے اس سے ضمنا یہ بھی واضح ہوتاہے کہ امامت حضرت ابراہیم کے لئے سیر تکامل کی آخری منزل تھی۔
جو لوگ سمجھتے ہیں کہ امامت کا مطلب ہے کسی شخص کا خود سے اہل اور نمونہ ہونا، تو حضرت ابراہیم مسلما آغاز نبوت سے ایسے ہے تھے اور جو سمجھتے ہیں کہ امامت کا مقصد دوسرے کے لئے نمونہ اور ماڈل ہوناہے تو یہ صفت ابراہیم بلکہ تمام انبیاء و مرسلین میں ابتدائے نبوت سے موجود ہوتی ہے اسی لئے تو سب کہتے ہیں کہ پیغمبر کو معصوم ہونا چاہئیے کیونکہ اس کے اعمال اور کر دار دوسروں کے لئے نمونہ قرار پاتے ہیں ۔
ان سے ظاہر ہوا کہ مقام امامت ان چیزوں سے کہیں بلند ہے یہاں تک کہ نبوت و رسالت سے بھی بالاتر ہے اور یہ وہ مقام و منصب ہے جو حضرت ابراہیم نے اس کی اہلبیت کا امتحان دینے کے بعد بارگاہ الہی سے حاصل کیا۔
زیر بحث آیت کے علاوہ مندرجہ ذیل آیات میں بھی ایسے اشارات موجود ہیں جو ہماری بات پرشاہد ہیں :
۱ ۔( و جعلنهم آئمة یهدون بامرنا ) اور ہم نے انہیں امام قرار دیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں ۔ (انبیا۔ ۷۳)
۲ ۔( و جعلنا منهم ائمة یهدون بامرنا لما صبروا ) جب انہوں نے استقامت دکھائی تو ہم نے انہیں امام قرار دیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے ہیں ۔ (سجدہ۔ ۲۴)
پہلی آیت جو بعض انبیاء مرسلین کی طرف اشارہ کررہی ہے اور دوسری جس میں بنی اسرائیل کے کچھ انبیاء کا ذکر ہے نشاندہی کرتی ہیں کہ امامت کا تعلق ہمیشہ سے ایک خاص قسم کی ہدایت سے رہاہے جو فرمان خدا کے مطابق ہے۔
____________________
۱ ۔ سیر تکامل : ہر چیز کمالی کی طرف گامزن ہے۔ اس سفر کو اصطلاح میں سیر تکامل کہتے ہیں ۔ (مترجم)
ظلم کسے کہتے ہیں ؟:
( لا ینال عهدی الظالمین ) میں جس ظلم کا ذکرہے وہ فقط دوسروں پر ظلم ڈھانا نہیں بلکہ یہاں ظلم کا تذکرہ عدل کے مقابلے میں ہے۔ یہاں یہ لفظ اپنے وسیع معنی میں استعمال ہواہے۔عدالت کا حقیقی معنی ہے ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھنا اس بناپرظلم کا مفہوم یہ ہوگا: کسی شخص یا چیز کو ایسے مقام پر رکھنا جس کے وہ اہل نہیں ہے:
لہذا ذمہ داری اور عظمت کے لحاظ سے امامت اور مخلوق کی ظاہری و باطنی رہبری ایک بہت بڑا مقام ہے۔ ایک لمحہ کا گناہ اور نافرمانی بلکہ سابقہ غلطی بھی اس مقام کی اہلیت چھن جانے کا باعث بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئمہ اہل بیت سے مروی احادیث میں حضرت علی کے لئے رسول اسلام کے خلیفہ بلا فصل ہونے کے ثبوت میں محل بحث آیت سے استدلال کیاگیاہے اور اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ دوسرے لوگ تو زمانہ جاہلیت میں بت پرست تھے مگر وہ شخص جس نے ان واحد کے لئے کسی بت کو سجدہ نہیں کیا وہ صرف حضرت علی تھے۔ مثلا:
۱ ۔ ہشام بن سالم امام صادق سے روایت کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا:
( قد کان ابراهیم نبیا و لیس بامام حتی قال الله انی جاعلک للناس اماما فقال و من ذریتی قال لا ینال عهدی الظالمین من عبد صنما او وثنا لا یکوں اماما ) ۔
منصب امامت پرفائز ہونے سے پہلے حضرت ابراہیم پیغمبر تھے۔ یہاں تک کہ خدا نے فرمایا: میں تجھے انسانوں کا امام بناتا ہوں ۔ انہوں نے کہا: میری اولاد میں سے بھی امام قرار دے۔ فرمایا: میرا عہد ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔ لہذا جنہوں نے بتوں کی پرستش کی ہے وہ امام نہیں ہوسکتے۔(۱)
۲ ۔ ایک اور حدیث عبداللہ بن مسعود کے حوالے سے پیغمبر اکرم سے منقول ہے۔ آپ نے فرمایا:
خداوند عالم نے ابراہیم سے فرمایا:( لا اعطیک عهدا للظالم من ذریتک قال یا رکب و من الظالم من ولدی الذی لا ینال عهدک قال من سجد لصنم من دونی لا اجعله اماما ابدا و لا یصلح ان یکون اماما ) ۔میں امامت کا عہدہ تیری اولاد میں سے ظالموں کو نہیں بخشوں گا۔ ابراہیم نے عرض کیا: وہ ظالم کہ جن تک یہ منصب نہیں پہنچ سکتا کون میں ؟ خدانے فرمایا: وہ شخص ظالم ہے جس نے بت کو سجدہ کیاہو۔ میں ایسے کو ہرگز امام نہیں بناؤں گا۔ اور نہ ہی وہ امام بننے کی صلاحیت رکھتاہے۔(۲)
____________________
۱ ۔ اصول کافی، ج۱، باب طبقات الانبیاء و الرسل حدیث ۱۲ امالی از شیخ مفید و مناقب ابن معازلی (جیسا کہ تفسیر المیزان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں نقل کیاگیاہے)۔
دو سوال اور ان کا جواب:
۱ ۔ امامت کے مفہوم کی وضاحت میں جو کچھ ہم کہہ چکے ہیں اس سے سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر امام کا کام ایصال الی المطلوب اور الہی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہے پھر اس مفہوم نے بہت سے انبیاء یہاں تک کہ سرکار رسالت اور ائمہ طاہرین کے ہاتھوں عملی شکل تو اختیار نہیں کی بلکہ ان کے مقابلے میں ہمیشہ گناہگار اور گمراہ لوگ بر سر اقتدار رہے۔
ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ اس کا یہ مفہوم نہیں کہ امام مجبور کرکے لوگوں کو حق تک پہنچاتاہے بلکہ اپنے اختیار، آمادگی اور اہلیت سے لوگ امام کے ظاہری و باطنی کمالات سے ہدایت حاصل کرتے ہیں یہ بالکل ایسے ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ آفتاب زندہ و موجودات کی نشو و نماکے لئے پیدا کیا گیاہے یا یہ کہ بارش کا کام مردہ زمینوں کو زندہ کرناہے یہ مسلم ہے کہ یہ تاثیر عمومی پہلو رکھتی ہے لیکن صرف ان موجودات کے لئے جو یہ اثرات قبول کرنے کے لئے آمادہ اور نشو و نما حاصل کرنے کے لئے تیارہوں ۔
۲ ۔ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ مندرجہ بالا تفسیر امامت کا لازمی نتیجہ ہے کہ ہر امام پہلے نبی اور رسول ہو اس کے بعد مقام امامت پر فائز ہوجب کہ جناب رسالت ماب کے معصوم جانشین تو ایسے نہ تھے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ضروری نہیں کہ امام پہلے نبوت و رسالت کے منصب پر فائز ہو بلکہ اگر امام سے پہلے کوئی شخصیت نبوت رسالت اور امامت تمام مناصب کی حامل ہو (جیسا کہ پیغمبر اسلام تھے) تو اس کا جانشین منصب امامت میں اس کی ذمہ داریوں کی انجام دہی جاری رکھ سکتاہے اور یہ اس صورت میں ہے کہ جب نئی رسالت کی ضرورت نہ ہو جیسا کہ پیغمبر اسلام کے بعد کیونکہ وہ خاتم انبیاء ہیں ۔ بہ الفاظ دیگر وحی الہی کے مرحلہ اور تمام احکام کا ابلاغ انجام کو پہنچ چکا ہو اور صرف نفاذ کی منزل باقی ہو تو جانشین پیغمبر اجرائے احکام کا کام جاری رکھ سکتاہے اور اس کی ضرورت نہیں کہ وہ خود نبی یا رسول ہو۔(۱)
حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی عظیم شخصیت:
حضرت ابراہیم کا نام قرآن مجید میں ۶۹ مقامات پر آیاہے اور ۲۵ سورتوں میں ان کے متعلق گفتگو ہوئی ہے۔ قرآن میں اس عظیم پیغمبر کی بہت مدح و ثناء کی گئی ہے اور ان کی بلند صفات کا تذکرہ کیاگیاہے۔ ان کی ذات ہر لحاظ سے راہنما اور اسوہ ہے اور وہ ایک کامل انسان کا نمونہ تھے۔
خدا کے بارے میں ان کی معرفت بت پرستوں کے بارے میں ان کی منطق، جابر و قاہر بادشاہوں کے سامنے ان کا انتھک جہاد، حکم خدا کے سامنے ان کا ایثار اور قربانیاں ، طوفان، حوادث اور سخت آزمائشوں میں ان کی بے نظیر استقامت، صبر اور حوصلہ اور ان جیسے دیگر امور۔ ان میں سے ہر ایک مفصل داستان ہے اور ان میں مسلمانوں کے لئے نمونہ عمل ہے۔
قرآنی ارشادات کے مطابق وہ ایک نیک اور صالح، فروتنی کرنے والے، صدیق، بردبار اور ایفائے عہد کرنے والے تھے وہ ایک بے مثال شجاع اور بہادر تھے۔ بہت زیادہ سخی تھے۔ سورہ ابراہیم کی تفسیر میں ، خاص طور پر اس کے آخری حصے میں انشاء اللہ آپ اس سلسلے میں تفصیلی مطالعہ کریں گے۔
____________________
۱ بعض لوگ درجہ بدرجہ مراحل طے کرتے ہیں مثلا پہلے انہیں چھوٹے عہدوں پر لگا یا جاتاہے تا کہ تجربات و امتحانات کے بعد وہ بڑے عہدوں تک پہنچیں لیکن کبھی ایسے ذی استعداد لوگ بھی ہوتے ہیں کہ ان کی صلاحیت و استعداد کو دیکھتے ہوئے انہیں بلندترین منصب پر فائز کردیاجاتاہے۔ (مترجم)
۲ ۔ ۴۴ ۳ نحل۔ ۱۲۰ ص ۵ مریم ۔ ۴۱ ص ۶ توبہ ۔ ۱۱۴ص
آیت ۱۲۵
۱۲۵ ۔( وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَاٴَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِیمَ مُصَلًّی وَعَهِدْنَا إِلَی إِبْرَاهِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ اٴَنْ طَهِّرَا بَیْتِی لِلطَّائِفِینَ وَالْعَاکِفِینَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ )
ترجمہ
۱۲۵ ۔ (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے خانہ کعبہ کو انسانوں کے لوٹ آنے کا مقام ، مرکز اور جائے امن قرار دیا اور (اسی مقصد کی تجدید کے لیے تم) مقام ابراہیم کو اپنے لئے نماز کی حیثیت سے انتخاب کرو۔ نیز ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو حکم دیا کہ میرے گھر کا طواف کرنے والوں ، اس گھرکے خادموں اور اس میں سجدہ کرنے والوں (نماز گزاروں ) کے لئے اسے پاک و پاکیزہ رکھو۔
خانہ کعبہ کی عظمت
گذشتہ آیت میں حضرت ابراہیم کے مقام بلند کا ذکر تھا۔ اب خانہ کعبہ کی عظمت کا تذکرہ ہے جو انہی کے ہاتھوں تعمیر اور تیار ہوا۔ فرمایا: یادرکھو اس وقت کو جب ہم نے خانہ کعبہ کو مثابہ (لوگوں کے پلٹ آنے کا مقام اور توجہ کا مرکز) اور مقام امن و امان قراردیا( و اذ جعلنا البیت مثابة للناس و امنا ) ۔
مثابہ اصل میں ثوب سے ہے جس کا معنی ہے کسی چیز کا اپنی پہلی حالت کی طرف پلٹ آنا۔ چونکہ خانہ کعبہ موحدین کا مرکز تھا۔ جہاں وہ فقط جسمانی طور پرہی نہیں بلکہ روحانی طور پر بھی توحید اور فطرت اول کا مرکز تھا۔ وہ ہر سال اس کی طرف آتے تھے جہاں وہ فقط جسمانی طور پر ہی نہیں بلکہ روحانی طور پر بھی توحید اور فطرت اول کی مرکز تھا۔ وہ ہر سال اس کی طرف آتے تھے جہاں وہ فقط جسمانی طور پرہی نہیں بلکہ روحانی طور پر بھی توحید اور فطرت اول کی طرف پلٹتے تھے اس لئے کعبہ کو مثابہ قراردیا گیاہے۔ نیز انسان کا گھر ہمیشہ اس کی بازگشت کا مرکز اور آرام و آسائش کا مقام ہوتاہے۔ لفظ مثابہ میں ایک قسم کا قلبی آرام و آسائش کا مفہوم بھی داخل ہے۔ لفظ (امنا ) جو اس کے بعد آےاہے اس مفہوم کی تاکید کرتاہے۔ خصوصا لفظ (للناس ) نشاندہی کرتاہے کہ یہ مرکز امن و امان تمام جہانوں کے لئے ایک عمومی پناہ گاہ ہے۔ یہ در حقیقت حضرت ابراہیم کی ایک درخواست کی قبولیت کا مظہر ہے جو انہوں نے بارگاہ الہی میں کی تھی جیسا کہ اگلی آیت میں آئے گا( رب اجعل هذا بلدا امنا ) پروردگار! اس جگہ کو محل امن و امان قرار دے)۔
اس کے بعد فرمایا: مقام ابراہیم کو اپنی نماز کی جگہ کے طور پر انتخاب کرو( و اتخذوا من مقام ابراهیم مصلی ) ۔
اس بارے میں مفسرین کے در میان اختلاف ہے کہ مقام ابراہیم سے کون سی جگہ مراد ہے۔ بعض نے کہاہے تمام حج مقام ابراہیم ہے۔ بعض عرفہ، مشعر الحرام اور تینوں جمرات کو مقام کا نام دیتے ہیں ۔ بعض تمام حرم مکہ کو مقام ابراہیم شمار کرتے ہیں ۔ لیکن ظاہر آیت ، روایات اسلامی اور بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق یہ اس مشہور مقام ابراہیم کی طرف اشارہ ہے جو خانہ کعبہ کے نزدیک ایک جگہ ہے جس کے پاس طواف کے بعد جاکر حجاج نماز طواف بجالاتے ہیں ۔ اس بناء پر مصلی سے مراد بھی یہی مقام نماز ہے۔
اس کے بعد اس عہد و پیمان کی طرف اشارہ فرمایا گیاہے جو حضرت ابراہیم اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل سے خانہ کعبہ کی طہارت کے بارے میں لیاگیاتھا۔ فرمایا: ہم نے ابراہیم اور اسمعیل کو حکم دیا اور انہیں وصیت کی کہ میرے گھر کو اس کا طواف کرنے والوں ، اس کے پڑوس میں رہنے والوں اور رکوع و سجدہ کرنے والوں (نماز گزاروں ) کے لئے پاک رکھو( و عهدنا الی ابراهیم و اسمعیل ان طهرا بیتی للطائفین و العکفین و الرکع السجود ) ۔
یہاں طہارت و پاکیزگی سے کیا مراد ہے۔ اس سوال کے جواب میں بعض کہتے ہیں بتوں کی پلیدگی سے پاک کرنا مقصود ہے۔ بعض کہتے ہیں ظاہری نجاستوں سے پاک رکھنا مراد ہے، خصوصا خون اور قربانی کے جانوروں کی اندرونی غلاظتوں سے کیونکہ بعض جاہل لوگ ایسا کرتے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں طہارت کا معنی خانہ توحید کی تعمیر کے وقت خلوص نیت ہے۔ لیکن چونکہ کوئی دلیل موجود نہیں جس کی بناء پر یہاں طہارت کے مفہوم کو کسی ایک چیز میں محدود کریں لہذا یہاں خانہ توحید کو ہر قسم کی ظاہری و باطنی آلودگیوں سے پاک رکھنا مراد لیا جانا چاہئیے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایات میں اس آیت کے حوالے سے خانہ خدا کو مشرکین سے پاک رکھنے کا حکم ہے اور بعض میں بدن کی صفائی اور اسے آلودگیوں سے پاک رکھنا مراد لیاگیاہے۔
امن و امان کی اس پناہ گاہ کے اجتماعی اور تربیتی اثرات:
مندرجہ بالا آیت کے مطابق خانہ خدا (خانہ کعبہ) کا تعارف خدا کی طرف سے ایک پناہ گاہ اور مرکز امن و امان کی حیثیت سے کرایا گیاہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس سرزمین مقدس میں ہر قسم کے نزاع و کشمکش ، جنگ و جدل اور خونریزی کے بارے میں اسلام میں نہایت سخت احکام موجود ہیں ۔ ان احکام کے مطابق نہ صرف انسان چاہے وہ کسی طبقے سے ہوں اور کسی حالت میں ہوں یہاں امن میں رہیں بلکہ جانور اور پرندے بھی امن و امان میں رہیں اور کوئی بھی ان سے مزاحم نہ ہو۔
وہ دنیا جہاں ہمیشہ نزاع اور کشمکش رہتی ہے وہاں ایک ایسے مرکز کا قیام لوگوں کی مشکلات حل کرنے کے لئے ایک اہم کردار ادا کرنے کی نشاندہی کرتاہے کیونکہ اس خطہ کا جائے امن ہونا اس بات کا سبب بنتاہے کہ لوگ تمام اختلافات کے با وجود اس کے جوار میں ایک دوسرے کے پاس بیٹھ سکیں ، ایک دوسرے سے مذاکرات کرسکیں اور اس طرح اہم ترین مسائل حل کرسکیں ۔ دشمنیوں اور جھگڑوں کو بنٹانے کے لئے اس طرح سے مذاکرات کا دروازہ کھولا گیاہے کیونکہ اکثر ایسا ہوتاہے، کہ جھگڑنے والے طرفین یا ایک دوسرے کی مخالف حکومتیں چاہتی ہیں کہ جھگڑا ختم کریں اور اس مقصد کے لئے مذاکرات کریں لیکن انہیں کوئی ایسا مشترکہ پلیٹ فارم نظر نہیں آتا جو دونوں کے لئے مقدس و محترم ہو اور مرکز امن و امان ہو لیکن اسلام اور بعض گذشتہ آسمانی مذاہب میں اس کی پیش بندی کی گئی ہے۔ اسلام میں مکہ کو ایسے ہی مرکز کی حیثیت حاصل ہے۔
اس وقت مسلمان جن جان لیوا کشمکشوں اور اختلافات میں مبتلا ہیں اس سرزمین کے تقدس اور امنیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذکرات کا دروازہ کھول سکتے ہیں اور یہ مقام مقدس جو دلوں میں خاص قسم کی نورانیت اور روحانیت پیدا کرتاہے، اس سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے اختلافات ختم کرسکتے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہیں کیا جارہا۔(۱)
خانہ خدا کا نام:
مندرجہ بالا آیت میں خانہ کعبہ کو بیتی (میرا گھر) کہا گیاہے ۔ حالانکہ یہ امر واضح ہے کہ خداوند عالم نہ جسم رکھتا ہے اور نہ اسے گھر کی ضرورت ہے۔ اس اضافت اور نسبت سے مراد نسبت اعزازی ہے۔ کسی چیز کی بزرگی اور عظمت کو بیان کرنے کے لئے اسے خدا سے منسوب کیاجاتاہے اسی معنی میں ماہ رمضا ن کو شہر اللہ اور خانہ کعبہ کو بیت اللہ کہا جاتاہے۔
____________________
۱ سرزمین مکہ کے جائے امن ہونے کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد ۶ سورہ ابراہیم، آیہ ۳۵ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی گئی ہے۔
آیت ۱۲۶
۱۲۶ ۔( وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِیمُ رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا آمِنًا وَارْزُقْ اٴَهْلَهُ مِنْ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ قَالَ وَمَنْ کَفَرَ فَاٴُمَتِّعُهُ قَلِیلًا ثُمَّ اٴَضْطَرُّهُ إِلَی عَذَابِ النَّارِ وَبِئْسَ الْمَصِیرُ )
ترجمہ
۱۲۶ ۔ (اور یاد کرو اس وقت کو) جب ابراہیم نے عرض کیا: پروردگارا! اس سرزمین کو شہر امن قرار دے اور اس کے رہنے والوں کو جو خدا اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، انہیں (قسم قسم کے) میووں سے روزی دے۔ (ہم نے ابراہیم کی اس دعا کو قبول کیا۔ اور مومنین کو انواع و اقسام کی برکات سے بہرہ ور کیا) کہا وہ کافر ہوگئے تھے انہیں تھوڑا سا فائدہ دیں گے پھر انھیں آگ کے عذاب کی طرف کھینچ کے لے جائیں گے اور ان کا انجام کتنا براہے۔
بارگاہ خدا میں حضرت ابراہیم کی در خواستیں
اس آیت میں حضرت ابراہیم نے اس مقدس سرزمین کے رہنے والوں کے لئے پروردگار سے دو اہم در خواستیں کی ہیں ۔ ایک کی طرف گذشتہ آیت کے ذیل میں بھی اشارہ کیا جاچکاہے۔
قرآن کہتاہے: اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کیا پروردگار! اس سرزمین کو شہر امن قرار دے( و اذ قال ابراهیم رب اجعل هذا بلدا امنا ) ۔
جیسا کہ گذشتہ آیت میں ہے کہ ابراہیم کی یہ دونوں دعائیں قبول ہوئیں اور خدا نے اس مقدس سرزمین کو امن و امان کا ایک مرکز بنایا اور اسے ظاہری و باطنی طور پرسلامتی بخشی۔
ان کی دوسری درخواست یہ تھی کہ اس سرزمین کے رہنے والوں کو جو خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں طرح طرح کے ثمرات سے نوازا( وَارْزُقْ اٴَهْلَهُ مِنْ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِر ) ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ ابراہیم پہلے امنیت کا تقاضا کرتے ہیں اور اس کے بعد اقتصادی عنایات کی درخواست کرتے ہیں یہ بات اس حقیقت کی طرف اشارہ بھی ہے کہ جب تک کسی شہر یا ملک میں امن و سلامتی کا دور دورہ نہ ہو کسی ستھرے اور صحیح اقتصادی ماحول کا امکان نہیں ہوسکتا۔
ثمرات سے کیا مراد ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن ظاہرا ثمرات ایک وسیع مفہوم کا حامل ہے۔ جس میں ہر قسم کی مادی نعمات شامل ہیں ۔ چاہے ہوں یا دیگر غذائی چیزیں بلکہ کئی ایک روایات کے مطابق تو اس کے مفہوم میں معنوی نعمات بھی شامل ہیں ۔
امام صادق سے مردی ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا:هی ثمرات القلوب
اس سے مراد دلوں کے میوے ہیں ۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پروردگار اس سرزمین کے رہنے والوں کے لئے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرے ۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ ابراہیم نے یہ تقاضا صرف ان کے لئے کیاہے جو توحید اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ جملہ لا ینال عھد الظالمین (جو گذشتہ آیات میں گذر چکاہے) سے شاید وہ یہ حقیقت جان چکے تھے کہ ان کی آنے والی نسلوں میں سے کچھ لوگ شرک اور ظلم و ستم کی راہ اختیار کریں گے لہذا بارگاہ الہی میں ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہوں نے ایسے لوگوں کو اپنی دعاسے مستثنی رکھا۔
لیکن۔ تعجب کی بات ہے کہ ابراہیم کے اس تقاضے کے جواب میں اللہ تعالی نے فرمایا: رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیاہم انہیں ان ثمرات میں سے تھوڑا سا حصہ دیں گے مگر انہیں بالکل محروم نہیں کیاجائے گا( قال و من کفر فامتعه قلیلا ) ۔ آخرت میں انہیں عذاب جہنم کی طرف کھینچ کرلے جایا جائیگا اور یہ کیسا برا انجام ہے( ثم اضطره الی عذاب النار و بئس المصیر ) ۔
حقیقت میں یہ پروردگار کی صفت رحمانیت یعنی رحمت عامہ ہے۔اس کی نعمت کے وسیع دستر خوان اور خزانہ غیب سے یہودی اور عیسائی بھی استفادہ کرتے ہیں لیکن آخرت کا گھر جو رحمت خاص کا گھر ہے وہاں ان کے لئے رحمت اور نجات نہیں ہے۔
آیات ۱۲۷،۱۲۸،۱۲۹
۱۲۷ ۔( وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْرَاهِیمُ الْقَوَاعِدَ مِنْ الْبَیْتِ وَإِسْمَاعِیلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ اٴَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیم )
۱۲۸ ۔( ربَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اٴُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ وَاٴَرِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ اٴَنْتَ التَّوَّابُ الرحیم )
۱۲۹ ۔( ربنَا وَابْعَثْ فِیهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ یَتْلُو عَلَیْهِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُهُمْ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَیُزَکِّیهِمْ إِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ )
ترجمہ
۱۲۷ ۔ اور (یاد کرو اس وقت کو) جب ابراہیم اور اسماعیل خانہ کعبہ کی بنیادیں بلند کررہے تھے (اور کہتے تھے) اے ہمارے پروردگار! تو ہم سے قبول فرما کہ توسننے والاہے۔
۱۲۸ ۔ پروردگار! ہمیں اپنے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والا قرار دے اور ہماری اولاد میں سے ایسی امت بنا جو تیرے حضور سر سلیم خم کرنے والی ہوہمیں اپنی عبادت کا راستہ دکھا اور ہماری تو بہ قبول فرما کہ تو تواب اور رحیم ہے۔
۱۲۹ ۔ پروردگار! ان کے در میان انہی میں سے ایک نبی مبعوث فرماجو انہیں تیری آیات سنائے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کرے۔ کیونکہ تو توانا اور حکیم ہے (اور تو اس کام پر قدرت رکھتاہے)۔
حضرت ابراہیم کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی تعبیر نو
قرآن کی مختلف آیات، احادیث اور تواریخ اسلامی سے واضح ہوتاہے کہ خانہ کعبہ حضرت ابراہیم سے پہلے بلکہ حضرت آدم کے زمانے میں موجود تھا کیونکہ سورہ ابراہیم کی آیہ ۳۷ میں حضرت ابراہیم جیسے عظیم پیغمبر کی زبانی یوں آیاہے:
( رَبَّنَا إِنِّی اٴَسْکَنتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوَادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّم )
پروردگارا! میں اپنی ذریت میں سے (بعض کو) اس بے آب و گیاہ داری میں تیرے محترم گھرکے پاس بسارہاہوں ۔
یہ آیات واضح طور پر گواہی دیتی ہے کہ جب حضرت ابراہیم اپنے شیرخوار بیٹے اسماعیل اور اپنی زوجہ کے ساتھ سرزمین مکہ میں آئے تو خانہ کعبہ کے آثار موجود تھے۔
سورہ آل عمران کی آیہ ۹۶ میں بھی ہے:( إِنَّ اٴَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّةَ مُبَارَکًا ) ۔
پہلا گھر جو عبادت خدا کی خاطر انسانوں کے لئے بنایا گیا وہ سرزمین مکہ میں تھا۔
یہ مسلم ہے کہ عبادت خدا اور مرکز عبادت کی بنیاد حضرت ابراہیم کے زمانے سے نہیں پڑی بلکہ حضرت آدم کے زمانے سے یہ سلسلہ جاری تھا۔
اتفاقا زیر بحث آیت کی تعبیر بھی اسی معنی کو تقویت دیتی ہے۔ فرمایا: یاد کرو اس وقت کو جب ابراہیم اور اسماعیل (جب اسماعیل کچھ بڑے ہوگئے تو) خانہ کعبہ کی بنیادوں کو اونچا کررہے تھے اور کہتے تھے پروردگار! ہم سے قبول فرماتو سننے والا اور جاننے والا ہے( و اذ یرفع ابراهیم القواعد من البیت و اسماعیل ربنا تقبل منا ط انک انت السمیع العلیم ) ۔
آیت کا یہ انداز بتاتاہے کہ خانہ کعبہ کی بنیادیں موجود تھیں اور ابراہیم اور اسمعیل اس کے ستون بلند کررہے تھے۔
نہج البلاغہ کے مشہور خطبہ قاصعہ میں بھی ہے( الا ترون ان الله سبحانه اختبر الاولین من لدن ادم الی الاخرین من هذا العالم باحجار فجعلها بیته الحرام ثم امرادم و ولدان یثنو اعطافهم نحوه )
کیا دیکھتے نہیں ہو کہ خدانے آدم سے لے کر آج تک کچھ پتھروں کے ذریعے امتحان لی (و ہ پتھرکہ) جنہیں اپنا محترم گھر قرار دیا پھر آدم کو حکم دیا کہ گرد طواف کریں ۔(۱)
مختصر یہ کہ آیات قرآن اور روایات تاریخ کی اس مشہور بات کی تائید کرتی ہیں کہ خانہ کعبہ پہلے پہل حضرت آدم علیہ السلام کے ہاتھوں بنا۔ پھر طوفان نوح میں گرگیا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل کے ہاتھوں اس کی تعمیر نو ہوئی۔(۲)
حضرت ابراہیم کی کچھ مزید دعائیں
زیر نظر دیگردو آیات میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل خدا سے پانچ اہم در خواستیں کرتے ہیں ۔ یہ التجائیں جو خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت کی گئیں اس قدر فکر انگیز اور معنوی و مادی زندگی کی ضروریات کی جامع ہیں کہ انسان کو خدا کے ان دو عظیم پیغمبروں کی روحانی عظمت سے آشنا کردیتی ہیں ۔
پہلے عرض کرتے ہیں : پروردگارا! ہمیں ہماری ساری زندگی میں اپنے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والا قرار دے( ربنا و اجعلنا مسلمین لک ) ۔
پھر تقاضا کرتے ہیں : ہماری اولاد میں سے بھی ایک مسلمان امت قرار دے جو تیرے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والی ہو( وَمِنْ ذُرِّیَّتِنَا اٴُمَّةً مُسْلِمَةً لَکَ ) ۔
پھر درخواست کرتے ہیں : اپنی پرستش و عبادت کی را ہ میں دکھا اور ہمیں اس سے آگاہ فرما( وَاٴَرِنَا مَنَاسِکَنَا ) ۔
پھر تقاضا کرتے ہیں : ہماری اولاد میں سے بھی ایک مسلمان امت قرار دے جو تیرے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والی ہو( وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ اٴَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحیم ) ۔
اس کے بعد دعا کرتے ہیں :پروردگارا! انہی میں سے ایک رسول ان میں مبعوث فرما( ربنَا وَابْعَثْ فِیهِمْ رَسُولًا مِنْهُم ) تا کہ وہ تیری آیات ان کے سامنے پڑھے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کرے( یَتْلُو عَلَیْهِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُهُمْ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَیُزَکِّیهِ ) ۔ یقینا تو توانا اور حکیم ہے اور ان تمام کاموں کی قدرت رکھتاہے (إ( ِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ) ۔
____________________
۱ یعنی اسے اپنی تو جہات کا مرکز قرار دیں ۔ (مترجم)
۲ المنار کے مؤلف نے اس بات سے انکار کیاہے ۔ اس کے نزدیک خانہ کعبہ کے بانی حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل ہی ہیں حالانکہ یہ بات نہ فقط یہ کر روایات و تاریخ سے میل نہیں کھاتی بلکہ خود آیات قرآن سے بھی موافقت نہیں رکھتی۔
انبیاء کی غرض بعثت:
مندرجہ بالا آیات میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے پیغمبر اسلام کے ظہور کی دعا کے ساتھ ان کی بعثت کے تین مقاصد بیان کئے ہیں :۔ پہلا مقصد لوگوں کے سامنے آیات خدا کی تلاوت ہے۔ یہ در اصل ان آیات کے ذریعے لوگوں کو بیدار کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یہ آیات عمدہ، جاذب نظر اور دلوں کو بھانے والی ہیں اور وحی کی صورت میں قلب پیغمبر پر نازل ہوئی ہیں ۔
تلاوت کا مقصد یہ ہے کہ پیغمبران آیات کے ذریعے خوابیدہ نفوس کو بیدار کرے۔ آیت میں لفظ (یتلو) استعمال ہواہے جس کا مادہ تلاوت سے ہے۔ اس کا لغوی معنی ہے پے در پے لانا۔ جب عبارتوں کو ایک دوسرے کے بعد اور صحیح نظم و ترتیب سے پڑھیں تو عرب اسے تلاوت کہتے ہیں ۔ لہذا منظم و پے در پے تلاوت در اصل تعلیم و تربیت کے لئے مقدمہ و تمہید کی حیثیت رکھتی ہے۔
۲ ۔ دوسرا مقصد تعلیم کتاب و حکمت شمار کیاگیاہے کیونکہ علم و آگاہی کے بغیر تربیت ممکن نہیں تربیت در اصل تیسرا مرحلہ ہے۔ کتاب و حکمت میں اس لحاظ سے فرق ہوسکتا ہے کہ کتاب سے مراد آسمانی کتاب ہوا در حکمت سے مراد وہ علوم، اسرا و علل اور مقاصد احکام ہوں جن کی پیغمبر کی طرف سے تعلیم دی جاتی ہے۔
۳ ۔ تیسرا مقصد تزکیہ بیان کیا گیاہے۔ تزکیہ کا معنی لغت میں نشو و نما بھی بیان کیاگیاہے۔
یہ نکتہ خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ انسانی علوم محدود ہیں اور ان میں بھی ہزاروں ابہام اور خطائیں موجود ہیں ۔ انسان جو کچھ جانتا ہے اس کی صحت کا کامل یقین نہیں کیاجاسکتا کیونکہ اس سے پیشتر اپنے علوم کی غلطیاں دیکھ چکاہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں اس ضرورت کا احساس ہوتاہے کہ پیغمبران خدا صحیح علوم جو ہر قسم کی غلطی سے مبرا ہو مبداء وحی سے حاصل کرکے لوگوں کے در میان تشریف لائیں تا کہ لوگوں کی غلطیوں کا ازالہ کریں اور جو باتیں انہیں معلوم نہیں ان کی انہیں تعلیم دیں اور جو کچھ وہ جانتے ہیں اس کے بارے میں انہیں اطمینان دلائیں ۔
دوسری بات جس کا ذکر یہاں ضروری ہے یہ ہے کہ ہماری نصف شخصیت کی تشکیل عقل و خرد سے ہوتی ہے اور نصف شخصیت طبائع، میلانات اور خواہشات سے بنتی ہے۔ اس لئے ہمیں جتنی تعلیم کی ضرورت ہے اتنی ہی تربیت کی احتیاج ہے ہماری عقل و خرد کو بھی تکامل و ترقی کی ضرورت ہے اور ہمارے باطنی طبائع کو بھی صحیح تربیت و پرورش کے لئے رہبری کی ضرورت ہے۔ اسی لئے تو پیغمبر معلم بھی ہیں اور مربی بھی۔ تعلیم دینا بھی انہی کا کام ہے اور تربیت کرنا بھی۔
تعلیم مقدم ہے یا تربیت:
یہ بات قابل غور ہے کہ قرآن میں چار مقامات پر انبیاء کی غرض بعثت کا ذکر کرتے ہوئے تعلیم و تربیت کا ذکر آیاہے۔ ان میں سے تین مقامات پر تربیت تعلیم سے مقدم ہے(۱)
اور صرف ایک جگہ (زیر بحث آیت میں ) تعلیم کا ذکر تربیت پر مقدم ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عموما جب تک تعلیم نہ ہو تربیت نہیں ہوتی۔ اس بناء پر جہاں تعلیم تربیت سے مقدم ہے وہاں تو اس کی وضع طبیعی کی طرف اشارہ ہے لیکن زیادہ تر مقامات جہاں تربیت مقدم ہے گویا اس طرف اشارہ ہے کہ غرض و مقصد تربیت ہے اور باقی سب مقدمات ہیں
پیغمبر انہی میں سے ہو:
مندرجہ بالا آیت میں لفظ (منہم) اس طرف اشارہ کرتاہے کہ انواع انسانی کے رہبر اور مربی کے لئے ضروری ہے کہ اسی کی نوع
و جنس سے ہو۔ انہی صفات اور بشری طبائع کا حامل ہو تا کہ وہ عملی پہلوؤں سے ان کے لئے بہترین نمونہ بن سکے کیونکہ واضح ہے کہ اگر ان کے نوع و جنس سے نہ ہو تو نہ وہ ان کی ضروریات ، تکالیف مشکلات اور انسانوں کے مختلف مسائل کو سمجھ پائے گا اور نہ ہی انسان اسے اپنے لئے نمونہ بنا سکیں گے۔
____________________
۱ بقرہ آیہ ۱۵۱، آل عمران آیہ ۱۶۴ ، جمعہ آیہ ۲۔
آیات ۱۳۰،۱۳۱،۱۳۲
۱۳۰ ۔( وَمَنْ یَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِیمَ إِلاَّ مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ وَلَقَدْ اصْطَفَیْنَاهُ فِی الدُّنْیَا وَإِنَّهُ فِی الْآخِرَةِ لَمِنْ الصَّالِحِینَ )
۱۳۱ ۔ ا( ِٕذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ اٴَسْلِمْ قَالَ اٴَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ )
۱۳۲ ۔( وَوَصَّی بِهَا إِبْرَاهِیمُ بَنِیهِ وَیَعْقُوبُ یَابَنِیَّ إِنَّ اللهَ اصْطَفَی لَکُمْ الدِّینَ فَلاَتَمُوتُنَّ إِلاَّ وَاٴَنْتُمْ مُسْلِمُونَ )
ترجمہ
۱۳۰ ۔ نادان و بیوقوف لوگوں کے سوا کون شخص (اس پاکیزگی اور روشنی کے با وجود) دین ابراہیم سے روگردانی کردے گا۔ اس دنیا میں ہم نے انہیں منتخب کیاہے اور دوسرے جہان میں بھی وہ صالحین میں سے ہیں ۔
۱۳۱ ۔ (یاد کرو وہ وقت) جب ان کے پروردگار نے ان سے کہا اسلام لے آؤ (اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرو تو اانہوں نے پروردگار کے فرمان کو دل و جان سے قبول کرلیا اور) کہا میں عالمین کے پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کرتاہوں ۔
۱۳۲ ۔ ابراہیم اور یعقوب نے (اپنی عمر کے آخری اوقات میں ) اپنے بیٹوں کو اس دین کی وصیت کی (اور ہر ایک نے اپنے فرزندوں سے کہا) اے میرے بیٹو! خدانے اس آئین پاک کو تمہارے لئے منتخب کیاہے اور تم دین اسلام کے علاوہ کسی پر نہ مرنا۔
حضرت ابراهیم انسان نمونه
گذشتہ آیات میں حضرت ابراہیم کی شخصیت کا کچھ تعارف کرایا گیاہے ان میں حضرت ابراہیم کی بعض خدمات اور کچھ درخواستیں جو مادی و معنوی پہلوؤں کی جامع تھیں کا ذکر کیاگیاہے۔ ان تمام ابحاث سے واضح طور پر معلوم ہوتاہے کہ حضرت ابراہیم اس قابل ہیں کہ عالمین کے تمام طالبان حق انہیں اپنے لئے اسوہ اور نمونہ قرار دیں ۔ چاہیے کہ ان کے مکتب کو ایک انسان ساز مکتب تسلیم کرکے اس سے استفادہ کیاجائے۔ اسی بنیاد پر زیر نظر آیات میں گفتگو اس طرح سے آگے بڑھتی ہے: احمق و نادان افراد کے سوا کو ن شخص ابراہیم کے آئین پاک سے روگردانی کرے گا( وَمَنْ یَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْرَاهِیمَ إِلاَّ مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ ) ۔
کیا یہ حماقت اور بیوقوفی نہیں کہ انسان اس پاک و روشن دین کو چھوڑ دے اور کفر اور شرک اور فساد کی کجرا ہوں میں جا پڑے ۔ وہ آئین جو انسان کی روح و فطرت سے آشنا سازگار ہو اور عقل و خرد سے ہم آہنگ ہو اور وہ آئین جس میں آخرت بھی ہو اور دنیا بھی اسے چھوڑ کر ایسے منصوبوں کے پیچھے لگنا جو دشمن عقل، مخالف فطرت اور دین و دنیا کی تباہی کا باعث ہوں حماقت نہیں تو اور کیاہے۔
مزید فرمایا: ہم نے دنیا میں ابراہیم کو (ان عظیم خصوصیات و امتیازات کی بناء پر) منتخب کیا اور آخرت میں ان کا شمار صالحین میں ہوگا( و لقد اصطفینه فی الدنیا و انه فی الاخرة لمن الصلحین ) ۔
ابراہیم خدا کے چنے ہوئے اور صالحین کے سردار ہیں ۔ اسی بناء پر انہیں اسوہ و نمونہ قرار دیاجانا چاہئیے ۔ بعد کی آیت میں اسی مفہوم پر تاکید کرتے ہوئے ابراہیم کی برگزیدہ صفات میں سے ایک خصوصیت جو حقیقت میں ان تمام صفات کی بنیاد ہے کا تذکرہ کیا گیاہے: یاد کرو اس وقت کو جب ان کے پروردگار نے ان سے کہا کہ ہمارے فرمان کے سامنے سر تسلیم خم کرو۔ انہوں نے کہا میں عالمین کے پروردگار کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوں( إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ اٴَسْلِمْ قَالَ اٴَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ ) ۔
ہاں وہ ابراہیم جو فداکاری کا سراپا اور ایثار کا پتلا ہے جب اپنے ہی اندر سے آواز فطرت سنتاہے کہ پروردگار اس سے فرمارہاہے کہ سرتسلیم خم کرو تو وہ کاملا سر تسلیم خم کرتاہے۔ ابراہیم اپنی فکر و ادراک سے سمجھتے ہیں کہ ستارے، آفتاب اور ماہتاب سب نکلتے ہیں اور ڈوب جاتے ہیں اور قانون آفرینش کے تابع ہیں لہذا کہتے ہیں کہ یہ میرے خدا نہیں ہیں ۔
( إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ حَنِیفًا وَمَا اٴَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ )
میں نے اپنا رخ خدا کی طرف کرلیاہے ، جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیاہے اور اس عقیدہ کی راہ میں اپنے تئیں خالص کردیاہے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں ۔ (انعام۔ ۷۹)
گذشتہ آیات میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل جب خانہ کعبہ تعمیر کرچکے تو قبولیت اعمال کی دعا کے بعد جو پہلی درخواست کی وہ یہ تھی کہ واقعا وہ فرمان خدا کے سامنے سرتسلیم خم ہوں اور ان کی اولاد میں سے بھی ایک امت مسلمہ اٹھ کھڑی ہو۔ در حقیقت نوع انسانی بلکہ تمام مخلوق میں پہلی بات جو کسی کی قدر و قیمت بڑھاتی ہے وہ خلوص اور پاکیزگی ہے۔ اس لئے جب حضرت ابراہیم نے کاملا اپنے تئیں فرمان حق کے سامنے سرنگوں کرلیا تو محبوب خدا ہوگئے اور خدانے انہیں چن لیا اور اسی عنوان سے ان کا اور ان کے مکتب کا تعارف کرایا۔ حضرت ابراہیم نے آغاز زندگی سے آخر تک ایسے ایسے کام کئے ہیں جو کم نظیر ہیں بلکہ بعض تو بے نظیر ہیں بت پرستوں اور ستارہ پرستوں سے ان کا لا جواب جہاد اور ان کا آگ میں کو دجانا کہ جس سے ان کا سخت ترین دشمن نمرود تک متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور بے اختیار بول اٹھا:( من اتخذ الها فلیتخذ الها مثل اله ابراهیم )
اگر کوئی خدا کا انتخاب کرنا چاہے تو وہ ابراہیم کے خدا جیسا خدا منتخب کرے۔ ۱
اسی طرح بیوی اور شیرخوار بچے کو اس خشک اور جلادینے والے بیابان میں سرزمین مقدس میں لاکر چھوڑ دینا، خانہ کعبہ کی تعمیر اور اپنے جو ان بیٹے کو قربان گاہ پرلے جانا ان میں سے ہر امر حضرت ابراہیم کی راہ و روش کو جاننے کے لئے ایک نمونہ ہے۔
جو وصیت اور نصیحت آپ نے اپنی آخری عمر میں اپنے فرزندان گرامی سے کی وہ بھی نمونہ ہے جس کا ذکر زیر نظر آیات میں سے آخر میں آیاہے۔ جس میں فرمایا گیا ہے کہ ابراہیم اور یعقوب نے عمر کے آخری لمحات میں اپنی اولاد کو توحید کے مکتب مقدس کی وصیت کی( وَوَصَّی بِهَا إِبْرَاهِیمُ بَنِیهِ وَیَعْقُوب ) ۔
ہر ایک نے اپنی اولاد سے کہا: اے میرے فرزند ! خدا نے اس آئین توحید کو تمہارے لئے منتخب کیاہے( یبنی ان الله اصطفی لکم الدین ) ۔
اس وصیت ابراہیمی کا ذکر کرتے ہوئے قرآن گویا اس حقیقت کو بیان کرنا چاہتا کہ اے انسان! تم فقط آج کے لئے اپنی اولاد کے لئے جوا ب دہ نہیں بلکہ اس کے آئندہ کے بھی جواب دہ ہو۔ اس جہان سے آنکھوں کو بند کرتے وقت اپنی اولاد کی مادی زندگی ہی کے لئے فکر نہ کرو بلکہ ان کی معنوی و روحانی زندگی کے لئے بھی فکر کرو۔
یہ وصیت حضرت ابراہیم ہی نے نہیں کی بلکہ ان کے پوتے حضرت یعقوب نے بھی اپنے دادا کی اس روش کو جاری رکھا اور انہوں نے بھی اپنی آخری عمر میں اپنی اولاد کو سمجھایاکہ دیکھو! تمہاری کامیابی و کامرانی اور سعادت ایک چھوٹے سے جملے میں پوشیدہ ہے اور وہ ہے حق کے سامنے سرتسلیم خم کرنا۔
تمام انبیاء میں یہاں حضرت ابراہیم کے ساتھ صرف حضرت یعقوب کا ذکر آیاہے شاید یہ اس مقصد کے لئے ہوکہ یہود و نصاری کہ جن میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی طرح اپنے تئیں حضرت یعقوب سے وابستہ کرتے ہیں انہیں سمجھایا جائے کہ تمہارا یہ شرک آلود طور طریقہ اور حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کی تمہاری ہٹ اس شخصیت کے طریقے سے نہیں ملتی جس سے اپنا ربط جوڑتے ہو۔
آیات ۱۳۳، ۱۳۴
۱۳۳ ۔( اٴَمْ کُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ یَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِیهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِی قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَکَ وَإِلَهَ آبَائِکَ إِبْرَاهِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ )
۱۳۴ ۔( تِلْکَ اٴُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَا کَسَبْتُمْ وَلاَتُسْاٴَلُونَ عَمَّا کَانُوا یَعْمَلُون )
ترجمہ
۱۳۳ ۔ کیا تم موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: میرے بعد کس کی پرستش کروگے۔ انہوں نے کہا: آپ کے خدا کی اور اس اکیلے خدا کی جو آپ کے آباء ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کا خداہے اور ہم اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔
۱۳۴ ۔ (بہر حال) وہ ایک امت تھے کہ گذشتہ زمانے میں ان کے اعمال ان سے مربوط تھے اور تمہارے اعمال بھی خود تم سے مربوط ہیں اور ان کے اعمال کی باز پرس کبھی تم سے نہ ہوگی۔
شان نزول یہودیوں کی ایک جماعت کا عقیدہ تھا کہ حضرت یعقوب نے اپنی وفات کے وقت اپنی اولاد کو اسی دین کی وصیت کی جس کے یہودی معتقد ہیں (اس کی تمام تحریفوں کے ساتھ) خدائے تعالی نے ان کے اس عقیدے کی تردید میں یہ آیات نازل کیں ۔(۲)
____________________
۱ نور الثقلین، ج۳، ص۴۳۹
۲ تفسیر ابو الفتوح رازی
سب اپنے اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں
جیسا کہ شان نزول میں ہے آیت کے ظاہر سے بھی یہ سمجھ میں آتاہے کہ کسی گفتگو کے دوران منکرین اسلام کا ایک گروہ حضرت یعقوب سے کوئی غلط بات منسوب کرتاتھا۔ قرآن ان کے اس بے دلیل دعوی کے متعلق کہتاہے: کیا تم یعقوب کی موت کے وقت موجود تھے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو ایسی وصیت کی تھی ( ام کنتم شھدآء اذا حضر یعقوب الموت)۔
جو بات تم ان سے منسوب کرتے ہو وہ تو نہیں بلکہ جو کچھ انہوں نے اس وقت اپنے بیٹوں سے گفتگو کی یہ تھی کہ انہوں نے پوچھا: میرے بعد کس چیز کی پرستش و عبادت کروگے( اذقال لبنیه ما تعبدون من بعدی ) انہوں نے جواب میں کہا: آپ کے خدا کی اور اس اکیلے خدا کی جو آپ کے آباابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کا خدا ہے( قالوا نعبد الهک و اله ابائک ابراهیم و اسمعیل و اسحق الها واحد ) اور ہم اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں( و نحن له مسلمون )
یعقوب نے توحید اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ کوئی وصیت نہیں کی اور یہی اصول تمام حقائق تسلیم کرنے کی بنیاد ہے۔ زیر بحث آیت سے معلوم ہوتاہے کہ موت کے وقت حضرت یعقوب کو اپنی اولاد کی آئندہ زندگی کے بارے میں کچھ پریشانی تھی اور اس فکر کے آثار ان کی پیشانی سے ہویدا تھے جو بت پرست تھے اور کئی ایک چیزوں کے سامنے سجدہ کرتے تھے۔ یعقوب چاہتے تھے کہ وہ جان لیں کہ کیا اس طور طریقے کی طرف تو کسی کا رحجان اس کے دل کی گہرائیوں میں موجود نہیں ۔ لیکن بیٹوں کے جواب کے بعد انہیں سکون قلب نصیب ہوا۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت اسمعیل ، حضرت یعقوب کے باپ یا دادا نہیں تھے بلکہ ان کے چچا تھے۔ یہاں سے واضح ہوتاہے کہ لغت عرب میں کبھی کبھی لفظ (اب) جس کا معنی باپ ہے چچا کے لئے بھی استعمال ہوتاہے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ قرآن میں اگر یہ لفظ آزر کے لئے استعمال ہوا ہے تو یہ اس مفہوم کے خلاف نہیں کہ آزر ابراہیم کا والد نہ تھا بلکہ چچاتھا۔
زیر نظر دوسری آیت گویا یہودیوں کے ایک اشتباہ کی نفی کرتی ہے کیونکہ وہ اپنے آباء و اجداد، ان کے اعزازات اور خداکے ہاں ان کی عظمت پر بہت بھر و سہ کرتے تھے اور اپنے بارے میں سمجھتے کہ اگر وہ گناہگار ہوں تو بھی ان بزرگوں کی وجہ سے نجات یافتہ ہیں ۔ قرآن کہتاہے: بہرحال وہ ایک امت تھے جو تم
کبھی ان کے اعمال کے جواب دہ نہیں (جیسا کہ وہ تمہارے اعمال کے جواب دہ نہیں ہیں )( و لا تسئلون عما کانوا یعملون ) لہذا بجائے اس کے کہ تم اپنی توانایی اپنے بزرگوں کے متعلق ایسے فخر و مباہات کی تحقیق میں صرف کرو اپنے عقیدہ اور عمل کی اصلاح کرو۔
اگر چہ ظاہرا اس آیت کے مخاطب اہل کتاب اور یہودی ہیں لیکن واضح ہے کہ یہ حکم انہی سے مخصوص نہیں بلکہ ہم مسلمان بھی اس کے حقیقی مفہوم کے مخاطب ہیں ۔(۱)
____________________
۱ سادات کرام اس بات کی طرف خاص طور پر توجہ فرمائیں ۔ (مترجم)
آیات ۱۳۵،۱۳۶،۱۳۷
۱۳۵ ۔( وَقَالُوا کُونُوا هُودًا اٴَوْ نَصَارَی تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِیمَ حَنِیفًا وَمَا کَانَ مِنْ الْمُشْرِکِینَ )
۱۳۶ ۔( قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا اٴُنزِلَ إِلَیْنَا وَمَا اٴُنزِلَ إِلَی إِبْرَاهِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴَسْبَاطِ وَمَا اٴُوتِیَ مُوسَی وَعِیسَی وَمَا اٴُوتِیَ النَّبِیُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لاَنُفَرِّقُ بَیْنَ اٴَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ )
۱۳۷ ۔( فإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُمْ بِهِ فَقَدْ اهْتَدَوا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِی شِقَاقٍ فَسَیَکْفِیکَهُمْ اللهُ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیم )
ترجمہ
۱۳۵ ۔ (اہل کتاب) کہتے ہیں یہودی بن جاؤ یا عیسائی تا کہ ہدایت پالو کہہ دیجئے (یہ تحریف شدہ مذاہب ہرگز ہدایت بشر کا سبب نہیں بن سکتے) بلکہ ابراہیم کے خالص دین کی پیروی کرو وہ ہرگز مشرکین میں سے نہ تھے۔
۱۳۶ ۔ کہیے ہم خدا پر ایمان لائے ہیں اور اس پر جو ہم پر نازل ہواہے اور اس پر بھی جو ابراہیم ، اسمعیل ، اسحاق، یعقوب اور بنی اسرائیل کے دیگر انبیاء اسباط پر نازل ہواہے اور اسی طرح جو کچھ موسی اور عیسی اور دوسرے پیغمبروں کو پروردگار کی طرف سے دیا گیا۔ ہم ان میں کوئی فرق نہیں سمجھتے اور خدا کے حکم کے سامنے سرتسلیم کرتے خم کرتے ہیں (نسلی تعصبات اور ذاتی اغراض ہمارے لئے سبب نہیں بنتیں کہ ہم بعض کو قبول کریں اور بعض کو چھوڑ دیں )
۱۳۷ ۔ اگر وہ بھی اس پر ایمان لے آئیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو ہدایت یافتہ ہوجائیں گے اور اگر روگردانی کریں گے تو وہ حق سے جداہوں گے اور خدا تم سے ان کے شر کو دور کرے گا کہ وہ سننے والا اور داناہے۔
شان نزول
ان آیات کی شان نزول کے بارے میں ابن عباس سے اس طرح منقول ہے:
چند یہودی علماء اور نجران کے کچھ عیسائی علماء مسلمانوں سے بحث مباحثہ کرتے تھے۔ ان میں سے ہر گروہ اپنے تئیں دین حق پر قرار دیتا اور دوسرے کی نفی کرتاتھا۔ یہودی کہتے کہ ہمارے پیغمبر حضرت موسی دیگر انبیاء سے برتر ہیں اور ہماری کتاب بہترین کتاب ہے۔ اسی طرح عیسائی دعوی کرتے تھے کہ مسیح بہترین رہنماہیں اور انجیل بہترین کتاب ہے۔ ان دو مذاہب کے پیرو کاروں میں سے ہر ایک مسلمانوں کو اپنے مذہب کی طرف دعوت دیتاتھا۔ یہ آیات اس موقع پر ان کے جواب میں نازل ہوئیں ۔
صرف ہم حق پر ہیں
خود پرستی اور خود محوری کا اکثر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان حق کو فقط اپنی ذات میں منحصر سمجھتا ہے اور باقی سب کو باطل پرست قرار دیتاہے اور کوشش کرتاہے کہ دوسروں کو بھی اپنے رنگ میں رنگ لے جیسا کہ محل بحث پہلی آیت میں قرآن کہتاہے: اہل کتاب کہتے ہیں یہودی ہوجاؤ یا عیسائی بن جاؤ تو ہدایت یافتہ ہوجاؤگے( و قالوا کونوا هودا او نصاری تهتدوا ) ۔
کہئیے کہ تحریف شدہ مذاہب اس قابل نہیں کہ وہ ہدایت بشر کا سبب بنیں بلکہ حضرت ابراہیم کے خالص دین کے پیروکار بنوتا کہ ہدایت حاصل کرو۔ وہ ہرگز مشرکین میں سے نہ تھے (قل بل ملة ابراہیم حنیفا و ما کان من المشرکین)۔
صحیح دیندار افراد وہ ہیں جو خالص توحید کے پیروکار ہیں وہ توحید جو کسی قسم کے شرک سے آلودہ نہ ہو اور پاک و صاف دین کو کجرو دین سے ممتاز کرنے والی اہم ترین بنیاد توحید خالص ہی ہے۔
اسلام ہمیں تعلیم دیتاہے کہ خدا کے پیغمبروں میں کوئی تفریق نہ کریں اور سب کی تعلیمات کا احترام کریں کیونکہ دین حق کے اصول سب کے ہاں ایک ہی جیسے ہیں ۔ موسی و عیسی بھی ابراہیم کے آئین حق کے پیروکار تھے جو شرک سے پاک تھا، اگرچہ ان کے دین میں نادان پیروکاروں نے تحریف کردی اور اسے شرک آلود کردیا (یہ گفتگو اس بات کے خلاف نہیں کہ آج ہمیں اپنی شرعی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے آخری آسمانی دین کی پیروی کرنا چاہئیے یعنی صرف اسلام کی نہ کہ اس کے علاوہ کسی اور کی جیسا کہ اسی سورہ کی آیہ ۶۲ کے ذیل میں بیان کیا جا چکاہے)۔ اسی لئے بعد کی آیت مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے کہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے ہیں جو اس کی طرف سے ہم پر نازل ہواہے اور اس پر جو ابراہیم ، اسمعیل ، اسحاق، یعقوب اور بنی اسرائیل کے اسباط پیغمبروں پر نازل ہواہے اور اسی طرح جو موسی و عیسی اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے خدا کی طرف سے دیاگیاہے( قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا اٴُنزِلَ إِلَیْنَا وَمَا اٴُنزِلَ إِلَی إِبْرَاهِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴَسْبَاطِ وَمَا اٴُوتِیَ مُوسَی وَعِیسَی وَمَا اٴُوتِیَ النَّبِیُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ ) ۔
خلاصہ یہ کہ ہم ان کے در میان کوئی فرق روا نہیں رکھتے اور فرمان حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے ہیں( لاَنُفَرِّقُ بَیْنَ اٴَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ) ۔
خود محوری ، نسلی تعصبات اور ایسی دیگر چیزیں ہمارے لئے اس بات کا موجب نہیں بنتی کہ ہم کچھ کو مان لیں اور کچھ کا انکار کردیں ۔ وہ سب خدائی معلم ہیں جنہوں نے مختلف تربیتی طریقوں سے انسانوں کی رہنمائی کے لئے قیام کیا۔ لیکن سب کا مقصد ایک ہی تھا اور وہ تھا توحید خالص اور حق و عدالت کے سائے میں نوع بشر کی ہدایت، اگر چہ ان میں سے ہر ایک اپنے خاص زمانے میں بعض مخصوص ذمہ داریوں اور خصوصیات کا حامل تھا۔
اس کے بعد قرآن کہتاہے: اگر یہ لوگ ان امور پر ایمان لے آئیں جن پر تم ایمان لائے ہو تو ہدایت پالیں گے( فإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُمْ بِهِ فَقَدْ اهْتَدَوا ) ۔ اگر روگردانی کریں گے تو حق سے جدا ہیں( وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِی شِقَاق ) ۔
اگر وہ نسلی و خاندانی تعصبات اور ایسی دیگر چیزوں کو مذہب میں داخل کریں اور خدا کے تمام پیغمبروں پر بلا ااستثناء ایمان لے آئیں تو ہدایت یافتہ ہوجائیں اور اگر یہ صورت نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا انہوں نے حق کو چھوڑ دیاہے اور باطل کے پیچھے رواں ہیں ۔
لفظ (شقاق) در اصل شکاف، نزاع اور جنگ کے معنی میں ہے اور اس مقام پر اس سے مراد کفر، گمراہی، حق سے دوری اور باطل کی طرف توجہ لیاگیاہے اور ان سب معانی کا نتیجہ ایک ہی ہے۔
بعض مفسرین نے نقل کیاہے کہ گذشتہ آیت کے نازل ہونے اور حضرت عیسی کا باقی انبیاء کی صف میں ذکر آنے کے بعد عیسائیوں کی ایک جماعت کہنے لگی کہ ہم یہ نہیں مانتے کہ حضرت عیسی دیگر انبیاء کی طرح تھے وہ تو خدا کے بیٹے تھے لہذا زیر نظر آیات میں سے تیسری آیت نازل ہوئی اور انہیں تنبیہ کی گئی کہ وہ گمراہی اور کفر کا شکار ہیں ۔ بہرحال آیت کے آخر میں مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے کہ وہ دشمن کی سازشوں سے ہراساں نہ ہوں فرمایا: خدا ان کے شرک ان سے دور کر ےگا کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ان کی باتیں سنتا ہے اور ان کی سازشوں سے آگاہ ہے( فَسَیَکْفِیکَهُمْ اللهُ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیم ) ۔
دعوت انبیاء کی وحدت:
آیات قرآنی میں بارہا اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ خدا کے تمام پیغمبر ایک ہی ہدف اور غرض رکھتے تھے۔ ان میں کسی قسم کا فرق نہیں ہے کیونکہ سب ایک ہی منبع وحی و الہام سے فیض حاصل کرتے تھے۔
قرآن مسلمانوں کو نصیحت کرتاہے کہ خدا کے تمام پیغمبروں کا ایک جیسا احترام کریں ۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ بات اس کی نفی نہیں کرتی کہ خدا کی طرف سے آنے والی نئی شریعت گذشتہ شریعتوں کی ناسخ ہوتی ہے۔ آئین اسلام آخری آئین ہے کیونکہ خدا کے پیغمبر معلمین کی طرح تھے اور ان میں سے ہر ایک انسانی معاشرے کی علیحدہ جماعتوں میں تربیت کے لئے آئے اور واضح ہے کہ جب ایک جماعت کی تعلیم ختم ہوجاتی ہے تو طلباء دوسرے معلم کے پاس اور اوپر کی جماعت میں چلے جاتے ہیں ۔ اسی طرح انسانی معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ہم آخری پیغمبر کے پروگراموں کو جو دین کے تکامل کا آخری مرحلہ ہے عملی شکل دیں ۔
اسباط کون تھے:
سبط، سبط اور انبساط کا معنی ہے کسی چیز کا آسانی سے پھیلاؤ۔ درخت کو کبھی کبھی سبط (برون سبذ) کہتے ہیں کیونکہ اس کی شاخیں آسانی سے پھیل جاتی ہیں ۔ اولاد اور خاندان کی شاخوں کو سبط اور اسباط کہتے ہیں اور اس کی وجہ وہ پھیلاؤ اور وسعت ہے جو نسل میں پیدا ہوتی ہے۔اسباط سے مراد بنی اسرائیل کے خاندان اور قبائل ہیں یا وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت یعقوب کے بارہ بیٹوں سے پیدا ہوئے چونکہ ان میں سے بھی انبیاء ہوئے
ہیں لہذا مندرجہ بالا آیت میں اسباط کو بھی ان افراد کا ایک حصہ قرار دیا گیاہے جن پرآیات نازل ہوئیں ۔ اس وجہ سے اسباط سے مراد بنی اسرائیل کے قبائل یا اولاد یعقوب یا اولاد یعقوب میں سے وہ قبائل ہیں جن میں انبیاء آئے اس سے مراد خود حضرت یعقوب کے بیٹے نہ تھے کہ جس بناء پر کہا جاسکے کہ وہ سب کے سب نبوت کی اہلیت نہ رکھتے تھے کیونکہ وہ تو اپنے بھائی کے معاملے میں گناہ کے مرتکب ہوئے تھے۔
حنیف کا مادہ ہے حنف (برو زن ہدف)
حنیف کا مادہ ہے حنف (برو زن ہدف) جس کا معنی ہے گمراہی سے درستی اور راستی کی طرف میلان و رجحان پیدا کرنا۔ اس کے برعکس ہے جنف یعنی راستی سے کجی کی طرف جھکنا۔ توحید خالص کے پیروکار چونکہ شرک سے منہ موڑکر اس حقیقی اساس کی طرف مائل ہیں اس لئے انہیں حنیف کہا جاتاہے۔ اس وجہ سے حنیف کا ایک معنی ہے مستقیم اور صاف یہاں سے واضح ہوتاہے کہ مفسرین نے (حنیف) کی جو مختلف تفسیریں کی ہیں مثلا بیت اللہ کا حج ، حق کی پیروی ، حضرت ابراہیم کی پیروی ، خلوص عمل و غیرہ سب کی برگشت اسی جامع مفہوم کی طرف ہوتی ہے۔
آیات ۱۳۸،۱۳۹،۱۴۰،۱۴۱،
۱۳۸ ۔( صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اٴَحْسَنُ مِنْ اللهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ )
۱۳۹ ۔( قُلْ اٴَتُحَاجُّونَنَا فِی اللهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْ وَلَنَا اٴَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اٴَعْمَالُکُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ )
۱۴۰ ۔( اٴَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴَسْبَاطَ کَانُوا هُودًا اٴَوْ نَصَارَی قُلْ اٴَاٴَنْتُمْ اٴَعْلَمُ اٴَمْ اللهُ وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنْ اللهِ وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ )
۱۴۱ ۔( تِلْکَ اٴُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَا کَسَبْتُمْ وَلاَتُسْاٴَلُونَ عَمَّا کَانُوا یَعْمَلُونَ )
ترجمہ
۱۳۸ ۔ خدائی رنگ (ایمان، توحید اور اسلام کا رنگ قبول کریں ) اور خدائی رنگ سے کون سا رنگ بہتر ہے اور ہم صرف اس کی عبادت کرتے ہیں ۔
۱۳۹ ۔ کہیے: کیا تم ہم سے خدا کے بارے میں گفتگو کرتے ہو حالانکہ وہی تمہارا اور ہمارا پروردگار ہے۔ ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور ہم تو خلوص سے اس کی عبادت کرتے ہیں (اور ہم مخلص موحد ہیں )۔
۱۴۰ ۔ کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم، اسمعیل ، اسحاق ، یعقوب اور اسباط یہودی یا عیسائی تھے۔ کہیئے تم بہتر جانتے ہو یا خدا (اور با وجودیکہ تم جانتے ہو کہ وہ یہودی یا عیسائی نہ تھے کیوں حقیقت چھپاتے ہو) اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم و ستمگر ہے جو اپنے پاس موجود خدائی شہادت کو چھپائے اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔
۱۴۱ ۔ (بہرحال) وہ ایک امت تھے جو گزرگئے۔ جو انہوں نے کیاہے وہ ان کے لئے ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ تمہارے لئے ہے۔ تم ان کے اعمال کے جواب دہ نہیں ہو۔
غیر خدائی رنگ دھو ڈالو
گذشتہ آیات میں مختلف پیروکاروں کو تمام انبیا کے پروگراموں کے سلسلے میں جو دعوت دی گئی تھی اس ضمن میں فرماتاہے: صرف خدائی رنگ قبول کرو (جو ایمان اور توحید کا خالص رنگ ہے)( صبغة الله ) (۱) ۔
۱ س کے بعد مزید کہتا ہے: کو نسا رنگ خدائی رنگ سے بہتر ہے اور ہم تو فقط اس کی پرستش و عبادت کرتے ہیں (اور اسی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں )( و من احسن من الله صبغة و نحن له عبدون ) ۔
اس طرح قرآن حکم دیتاہے کہ نسلی ، قبائلی اور ایسے دیگر رنگ جو تفرقہ بازی کا سبب ہیں ختم کردیں اور سب کے سب صرف خدائی رنگ میں رنگ جائیں ۔
مفسرین نے لکھاہے کہ عیسائیوں کا معمول تھا کہ وہ اپنی اولاد کو غسل تعمید دیتے تھے اور کہتے تھے اس خاص رنگ سے غسل دینے سے نو مولود کے وہ ذاتی گناہ دھل جاتے ہیں جو اسے حضرت آدم سے ورثے میں ملے ہیں ۔
قرآن اس بے بنیاد منطق پر خط بطلان کھینچتاہے اور کہتاہے کہ خرافات ، بیہودگی اور تفرقہ اندازی کے ظاہری رنگوں کے بجائے رنگ حقیقت اور رنگ الہی قبول کرو تا کہ تمہاری روح اور نفس ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہو۔ واقعا یہ کیسی خوبصورت اور لطیف تعبیر ہے۔ اگر لوگ خدائی رنگ قبول کرلیں یعنی وحدت، عظمت، پاکیزگی اور پرہیزگاری کا رنگ ، عدالت مساوات برادری اور برابری کا رنگ اور توحید و اخلاص کا رنگ اختیار کرلیں اور اس سے تمام جھگڑے، کشمکش (جو کئی رنگوں میں اسیر ہونے کا سبب ہیں ) ختم کرسکتے ہیں اور شرک ، نفاق اور تفرقہ بازیوں کو دور کرسکتے ہیں ۔
امام صادق(ع) سے مروی د متعدد احادیث میں انہی طرح طرح کے رنگوں کو دور کرنے کے بارے میں فرمایا گیاہے۔ یہ روایات اس آیات کی تفسیر میں منقول ہیں ۔ آپ نے فرمایا:صبغة اللہ سے مراد اسلام کا پاکیزہ آئین ہے۔(۲)
یہودی و غیرہ بعض اوقات مسلمانوں سے حجت بازی کرتے اور کہتے کہ پیغمبر ہماری قوم میں مبعوث ہوتے تھے۔ ہمارا دین قدیم ترین ہے اور ہماری کتاب آسمانی کتابوں میں سے زیادہ پرانی ہے اگر محمد بھی پیغمبر ہوتے تو ہم میں سے مبعوث ہوتے اور کبھی کہتے کہ عربوں کی نسبت ہماری نسل ایمان و وحی قبول کرنے کے لئے زیادہ آمادہ ہے کیونکہ عرب تو بت پرست تھے ۔جب کہ ہم نہ تھے کبھی وہ خود کو خدا کی اولاد کہتے کہ بہشت تو فقط ہمارے لئے ہے۔ قرآن نے مندرجہ بالا آیات میں ان سب خیالات پر خط بطلان کھینچ دیاہے۔ قرآن پہلے پیغمبر سے یوں خطاب کرتاہے: ان سے کہیے کہ خدا کے بارے میں تم ہم سے گفتگو کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا اور ہمارا پروردگار ہے( قل اتحاجوننا فی الله دهو ربنا و ربکم ) ۔
پروردگار کسی نسلی یا قبیلے کے لئے ہی نہیں وہ تو تما م جہانوں اور تمام عالم ہستی کا پروردگار ہے۔ یہ بھی جان لوکہ ہم اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں اور تم اپنے اعمال کے جواب دہ ہو اور اعمال کے علاوہ کسی شخص کے لئے کوئی وجہ امتیاز نہیں( و لنا اعمالنا و لکم اعمالکم ) ۔فرق یہ ہے کہ ہم خلوص سے اس کی پرستش کرتے ہیں اور خالص موحدہیں لیکن تم میں سے بہت سوں نے توحید کو شرک آلود کر رکھاہے( و نحن له مخلصون ) ۔
اس کے بعد کی آیت میں ان بے بنیاد دعووں میں سے کچھ کا جواب دیتے ہوئے فرماتاہے: کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اسباط سب یہودی یا عیسائی تھے( اٴَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴَسْبَاطَ کَانُوا هُودًا اٴَوْ نَصَارَی ) ۔کہیے تم بہتر جانتے ہو یا( قل اعلم ام الله ) خدا بہتر جانتاہے کہ وہ یہودی تھے نہ نصرانی۔ تم بھی کم و بیش جانتے ہو کہ حضرت موسی اور حضرت عیسی سے بہت سے پیغمبر دنیا میں آئے اور اگر نہیں جانتے تو پھر بغیر اطلاع کے ان کی طرف ایسی نسبت دنیا تہمت، گناہ اور حقیقت سے پردہ پوشی ہے اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اپنے پاس موجود خدائی شہادت چھپائے( و من اظلم ممن کتم شهادة عنده من الله ) ۔مگر یہ جان لو کہ خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے( وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ) ۔
تعجب ہے کہ جب انسان ہٹ دھرمی اور تعصب کا شکار ہوجاتاہے تو پھر مسلمات تاریخ تک کا انکار کردیتاہے۔ مثلا یہودی اور عیسائی حضرت ابراہیم، حضرت اسحق اور حضرت یعقوب جیسے پیغمبروں تک کو حضرت موسی اور حضرت عیسی کا پیروکار شمار کرتے ہیں جب کہ وہ ان سے پہلے دنیا میں آئے اور یہاں سے چل بسے۔ وہ بھی واضح حقیقت و واقعیت کو چھپاتے ہیں جس کا تعلق لوگوں کی قسمت اور دین و آئین سے ہے۔ اس لئے قرآن انہیں ظالم ترین افراد قرار دیتاہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر حقائق کو چھپاتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ زیر بحث آیت میں ایسے لوگوں کے نظریات کا ایک اور جواب دیا گیاہے۔ فرمایا: فرض کرو یہ سب دعوے سچے ہیں تو بھی وہ ایسے لوگ تھے جو گزرگئے ہیں ان کا دفتر اعمال بند ہوچکاہے، ا ن کا زمانہ بیت چکاہے اور ان کے اعمال انہی سے تعلق رکھتے ہیں( قلت الله قد خلت نهٓما کسبت ) اور تم اپنے اعمال کے جواب دہ ہو اور ان کے اعمال کی باز پرس تم سے نہ ہوگی( و لکم ما کسبتم و لا تسئلون عما کانوا یعملون ) ۔
مختصر یہ کہ ایک زندہ قوم کو چاہئیے کہ اپنے اعمال کا سہارا لے اور ان پر بھر و سہ کرے نہ کہ اپنے گزرے ہوئے بزرگوں کی تاریخ کا سہارا لے۔ ایک انسان کو صرف اپنی فضیلت و منقبت پر بھر و سہ کرنا چاہیے کیونکہ باپ کی فضیلت سے اسے کیا حاصل چاہے وہ کتنا ہی صاحب فضل کیوں نہ ہو۔
____________________
۱ عرب جس مقام پر(صبغہ اللہ) کہتے ہیں اس سلسلے میں مفسرین نے کئی احتمالات بیان کئے ہیں جن میں سے تین واضح ہیں ۔ پہلا یہ کہ وہ فعل محذوف کامفعول مطلق ہے (طبغو صبغة الله ) دوسرا یہ کہ ملت ابراہیم کی جگہ آیا ہو جو گذشتہ آیات میں گزرچکاہے۔ تیسرا یہ کہ فعل محذوف کا مفعول یہ ہو (اتبعوا صبغة الله )۔
۲ نور الثقلین، ج۱، ص۱۳۲۔
آیت ۱۴۲
۱۴۲ ۔( سَیَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنْ النَّاسِ مَا وَلاَّهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمْ الَّتِی کَانُوا عَلَیْهَا قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ یَهْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ )
ترجمہ عنقریب کم عقل لوگ کہیں گے (مسلمانوں کو) ان ۔ کہ پہلے قبلہ سے کس چیز نے روگردان کیا۔ کہہ دو: مشرق و مغرب اللہ کے لئے ہے۔ وہ جسے چاہتاہے سیدھی راہ کی ہدایت کرناہے۔
قبلہ کی تبدیلی کا واقعہ
اس آیت اور اس کے بعد کی چند آیات میں تاریخ اسلام کی ایک اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کیا گیاہے جس سے لوگوں میں ایک عظیم طوفان بر پا ہوگیاتھا۔ اس کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ بعثت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں اور چند ماہ تک مدینہ میں پیغمبر اسلام حکم خدا سے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے لیکن اس کے بعد قبلہ بدل گیا اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ مکہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں ۔ مدینہ میں کتنے ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جاتی رہی اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ یہ مدت سات ماہ سے لے کہ سترہ ماہ تک بیان کی گئی ہے لیکن یہ جتنا عرصہ بھی تھا اس دوران یہودی مسلمانوں کو طعن زنی کرتے رہے کیونکہ بیت المقدس در اصل یہودیوں کا قبلہ تھا وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ان کا اپنا کوئی قبلہ نہیں بلکہ ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہم حق پرہیں ۔ یہ باتیں پیغمبر اکرم اور مسلمانوں کے لئے ناگوار تھیں ۔ ایک طرف وہ فرمان الہی کے مطیع تھے اور دوسری طرف یہودیوں کے طعنے ختم ہونے کو نہ آتے تھے۔ اسی لئے پیغمبر اکرم آسمان کی طرف دیکھتے تھے گویا وحی الہی کے منتظر تھے۔ اس انتظار میں ایک عرصہ گذر گیا یہاں تک کہ قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادر ہوا۔ ایک روز مسجد بنی سالم میں پیغمبر نماز ظہر پڑھارہے تھے۔ دو رکعتیں پڑھ چکے تھے کہ جبریل کو حکم ہوا کہ پیغمبر کا بازو تھام کر ان کا رخ انور کعبہ کی طرف پھیر دیں ۔(۱) اس واقعے سے یہودی بہت پریشان ہوئے اور اپنے پرانے طریقے کے مطابق ، ڈھٹائی، بہانہ سازی اور طعن بازی کا مظاہرہ کرنے لگے۔ پہلے تو کہتے تھے کہ ہم مسلمانوں سے بہتر ہیں کیونکہ ان کا کوئی اپنا قبلہ نہیں یہ ہمارے پیروکار ہیں ۔ لیکن جب خدا کی طرف سے قبلہ کی تبدیلی کا حکم نازل ہوا تو انہوں نے پھر زبان اعتراض دراز کی۔ چنانکہ محل بحث آیت میں قرآن کہتاہے:۔بہت جلد کم عقل لوگ کہیں گئے ان (مسلمانوں ) کو کس چیز نے اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ پہلے تھے( سَیَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنْ النَّاسِ مَا وَلاَّهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمْ الَّتِی کَانُوا عَلَیْهَا ) مسلمانوں نے اس سے کیوں اعراض کیاہے جو گذشتہ زبانے میں انبیاء ما سلف کا قبلہ رہاہے۔ اگر پہلا قبلہ صحیح تھا تو اس تبدیلی کا کیا مقصد اور اگر دوسرا صحیح ہے تو پھر تیرہ سال اور چند ماہ بیت المقدص کی طرف رخ کرکے کیوں نماز پڑھتے رہے ہیں ۔
خدا اپنے پیغمبر کو حکم دیتاہے: ان سے کہہ دو عالم کے مشرق و مغرب اللہ کے لئے ہیں وہ جسے چاہتاہے سیدھے راستے کی ہدایت کرتاہے( قُلْ لِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ یَهْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ) ۔
ان حیلہ بازوں کے جواب میں یہ ایک قطعی اور واضح دلیل تھی کہ بیت المقدس اور کعبہ سب اللہ کی ملکیت ہیں ۔ خدا کا ذاتی طور پر تو کوئی گھر نہیں ہے۔ اہم بات تو یہ ہے کہ فرمان خدا کا پاس کیاجائے۔ جس طرف خدا حکم دے ادھر نماز پڑھی جائے وہ مقام مقدس و محترم ہے اور کوئی جگہ حکم خدا کے بغیر ذاتی اہمیت نہیں رکھتی۔ حقیقت میں قبلہ کی تبدیلی آزمائش اور تکامل کے مراحل میں سے ہے ان میں سے ہر ایک ہدایت الہی کا مصداق ہے اور وہی ہے جو انسانوں کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتاہے۔
سفہا:
سفہاء جمع ہے سفیہ کی۔ اصل میں اس کا معنی وہ شخص ہے جس کا بدن ہلکا پھلکا ہو اور آسانی سے ادھر ادھر ہوجائے۔ اہل عرب جانوروں کی کم وزن رسیوں کو جو ہر طرف حرکت کرتی رہتی ہیں سفیہ کہتے ہیں ۔ لیکن بعد ازاں یہ لفظ کم ذہن شخص کے معنی میں استعمال ہونے لگا یہ کم عقل امور دین میں ہویا امور دنیا میں ۔
نسخ احکام:
پہلے کہا جا چکاہے کہ مختلف زمانوں میں تنسیخ احکام اور تربیتی پروگراموں کی تبدیلی کوئی نیا مسئلہ یا عجیب و غریب چیز نہیں کہ اس پر اعتراض ہوسکے۔ لیکن اس بات کو یہودیوں نے اسلام سے انکار کرنے کے لئے بڑی بات بنادیا۔ اور اس سلسلے میں بہت پرا پیگنڈاکیا۔
قرآن نے انہیں منطقی اور دندان شکن جواب دیئے
قرآن نے انہیں منطقی اور دندان شکن جواب دیئے اور وہ مجبور خاموش ہوگئے اس سلسلے کی آیات آپ ابھی ملاحظہ کریں گے۔
____________________
۱ مجمع البیان، ج۱، ص۲۲۴
آیت ۱۴۳
۱۴۳ ۔( وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اٴُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُهَدَاءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَهِیدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِی کُنتَ عَلَیْهَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ یَنقَلِبُ عَلَی عَقِبَیْهِ وَإِنْ کَانَتْ لَکَبِیرَةً إِلاَّ عَلَی الَّذِینَ هَدَی اللهُ وَمَا کَانَ اللهُ لِیُضِیعَ إِیمَانَکُمْ إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَئُوفٌ رَحِیم )
ترجمہ
۱۴۳ ۔ (جیسے تمہارا قبلہ در میانی ہے) اسی طرح خود تمہیں بھی ہم نے ایک در میانی امت بنایاہے (جوہر لحاظ سے افراط و تفریط کے در میان حد اعتدال میں ہے) تا کہ لوگوں کے لئے تم ایک نمونے کی امت بن سکو اور پیغمبر تمہارے سامنے نمونہ ہواور ہم نے وہ قبلہ (بیت المقدس) کہ جس پر تم پہلے تھے فقط اس لئے قرار دیا تھا کہ وہ لوگ جو پیغمبر کی پیروی کرتے ہیں جاہلیت کی طرف پلٹ جانے والوں سے ممتاز ہوجائیں اگر چہ یہ کام ان لوگوں کے سوا جنہیں خدانے ہدایت دی ہے دشوار تھا (یہ بھی جان لوکہ کہ تمہاری وہ نماز یں جو پہلے قبلہ کی طرف رخ کرکے ادا کی تھیں صحیح ہیں ) اور خدا ہرگز تمہارے ایمان (نماز) کو ضائع نہیں کرتا کیونکہ خدا لوگوں پر رحیم اور مہربان ہے۔
امت وسط
پہلے فرمایا: (جس طرح تمہارا قبلہ در میانی ہے)اس طرح تمہیں ہم نے در میانی امت قرار دیا ہے( و کذلک جعلنا کم امة وسطا ) ایسی امت جو کندرو ہونہ تندرو، افراط میں ہونہ تفریط میں بلکہ ایک نمونہ ہو۔
رہایہ سوال کہ مسلمانوں کا قبلہ کیسے در میانی قبلہ ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائی تقریبا مشرق کی طرف کھڑے ہوتے ہیں ۔ کیونکہ زیادہ تر عیسائی قومیں مغربی ممالک میں رہتی ہیں اور حضرت عیسی کی جائے ولاد ت (بیت المقدس میں ہے اس لئے وہ مشرق کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہیں اس لحاظ سے مشرقی سمت کلی طور پر ان کا قبلہ شمار ہوتی ہے اور یہودی جو زیادہ تر شامات ، بابل اور دیگر ایسے علاقوں میں رہتے تھے کہ انہیں تقریبا مغرب کی طرف رخ کرنا پڑتاتھا اس لحاظ سے مغربی سمت ان کا قبلہ تھا لیکن اس وقت کے مسلمان جو مدینہ میں رہتے تھے ان کے لئے کعبہ جنوب کی سمت میں اور مشرق و مغرب کے در میان بنتاتھا جو ایک در میانی خط شمار ہوگیا۔
یہ مطالب در اصل لفظ کذلک سے اخذ کئے جاتے ہیں ۔ مفسرین نے اس کی دیگر تفاسیر بھی بیان کی ہیں جو بحث و تمحیص کے قابل ہیں ۔
بہرحال۔ قرآن چاہتاہے کہ اسلام کے تمام پروگراموں کے باہمی تعلق کا ذکر کرے اور وہ یوں کہ نہ صرف مسلمانوں کا قبلہ در میانی ہے بلکہ اس کے تمام پروگرام اس خوبی کے حامل ہیں ۔
اس کے بعد مزید کہتاہے: غرض یہ ہے کہ تم ایک ایسی امت جو گواہ (اور ایک نمونہ کی حامل ہو قرار پاؤ پیغمبر بھی ایک گواہ (اور ایک نمونہ)بن کر تمہارے سامنے موجود ہو (لتکونوا شہدآء علی الناس و علی الناس و یکون الرسول علیکم شہید)۔امت مسلمہ کا ساری دنیا کے لئے گواہ ہونا اور اسی طرح پیغمبر کا مسلمانوں پر گواہ ہونا یہ تعبیر ممکن ہے اسوہ اور نمونہ کی طرف اشارہ ہو کیونکہ گواہوں کا انتخاب ہمیشہ ان لوگوں میں سے کیاجاتاہے جو نمونہ ہوں یعنی ان عقائد، معارف اور تعلیمات کی وجہ سے کے تم حامل ہو ان کے ذریعے ایک ایسی امت بنو جو نمونہ ہو جیسے پیغمبر تمہارے در میان ایک نمونہ، ماڈل اور اسوہ ہیں ۔ یعنی تم اپنے عمل اور پروگرام کے ذریعے گواہی دیتے ہو کہ انسان دیندار بھی ہوسکتا ہے اور دنیا کے ساتھ بھی وابستہ رہ سکتاہے۔ انسان معاشرے کا ، فرد ہوتے ہوئے معنوی اور روحانی پہلوؤں کی مکمل حفاظت کرسکتا ہے اور دین و دنیا ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں ۔ تم ان عقائد اور پروگراموں کے ذریعے گواہی دیتے ہو کہ دین و علم اور دنیا و آخرت نہ صرف یہ کہ متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کا باعث ہیں ۔
اس کے بعد قرآن تبدیلی قبلہ کی ایک اور رمز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے: ہم نے اس قبلہ (بیت المقدس) جس پر تم قبل ازیں تھے صرف اس لئے مقرر کیاتھا کہ پیغمبر کی پیروی کرنے والے جاہلیت کی طرف پلٹ جانے والوں سے ممتاز ہوجائیں( وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِی کُنتَ عَلَیْهَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ یَنقَلِبُ عَلَی عَقِبَیْه ) ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ وہ افراد جو آ پ کی پیروی کرتے ہیں بلکہ فرمایا: وہ لوگ جو رسول خدا کی پیروی کرتے ہیں ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تم رہبر اور فرستادہ خدا ہو اس لئے انہیں بغیر کسی قید و شرط کے تمہارے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کردینا چاہئیے۔ قبلہ کے سلسلے میں پیروی تو آسان سی بات ہے اگر اس سے بڑھ کر بھی کوئی حکم ملے تو اس میں چون و چرا کرنا شرک اور بت پرستی کے دور کے عادات و رسوم کے ترک نہ کئے جانے کی دلیل ہے۔
( مَّنْ یَنقَلِبُ عَلَی عَقِبَیْه ) ۔ اس کا مطلب ہے پاؤں کے پچھلے حصے پر پلٹ جانا۔ یہ رجعت پسندی اور پسماندگی کی طرف اشارہ ہے۔
مزید فرماتاہے: اگر چہ یہ کام ان لوگوں کے سوا جنہیں خدانے ہدایت کی تھی دشوار تھا( وَإِنْ کَانَتْ لَکَبِیرَةً إِلاَّ عَلَی الَّذِینَ هَدَی اللهُ )
واقعا جب تک خدائی ہدایت نہ ہو اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی روح پیداہی نہیں ہوتی۔ یہ بات اہم ہے کہ تسلیم حقیقت اس کا نام ہے کہ ایسے احکام جاری ہوں تو کسی سنگینی و سختی کا احساس تک نہ ہو بلکہ چونکہ حکم اس کی طرف ہے لہذا شہد سے شیریں تر معلوم ہو۔
وسوسہ ڈالنے والے دشمن یا نادان دوست خیال کرتے تھے کہ ہوسکتاہے قبلہ بدل جانے سے پہلے اعمال باطل ہوجائیں اور اجر و ثواب بر باد ہوجائے اس کے لئے آیت کے لئے آیت کے آخر میں مزید کہتاہے: خدا ہرگز تمہارا ایمان (نماز) ضائع نہیں کرے گا۔ کیونکہ خداوند تعالی انسانوں کے لئے رحیم و مہربان ہے( وَمَا کَانَ اللهُ لِیُضِیعَ إِیمَانَکُمْ إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَئُوفٌ رَحِیم ) ۔
اس کے احکام طبیب کے نسخوں کی طرح ہیں ۔ ایک روز ایک نسخہ نجات بخش ہے اور دوسرے دن دوسرا۔ ہر ایک اپنی جگہ درست اور سعادت و تکامل کا ضامن
ہے لہذا قبلہ کی تبدیلی تمہاری گذشتہ یا آئندہ نمازوں کے لئے کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہ بنے کیونکہ وہ سب کی سب صحیح تھیں اور صحیح ہیں ۔
قبلہ کی تبدیلی کے اسرار:
بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ کی تبدیلی ان سب کے لئے اعتراض کا موجب بنی جن کا گمان تھا کہ ہر حکم کو مستقل رہنا چاہئیے۔ وہ کہتے تھے اگر ہمارے لئے ضروری تھا کہ کعبہ کی طرف نماز پڑھیں تو پہلے دن یہ حکم کیوں نہ دیاگیا اور اگر بیت المقدس مقدم ہے جو گذشتہ انبیاء کا بھی قبلہ شمار ہوتاہے تو پھر اسے کیوں بدل دیا گیا۔
دشمنوں کے ہاتھ بھی طعن زنی کا میدان آگیا۔ شاید وہ کہتے تھے کہ پہلے تو انبیاء ما سبق کے قبلہ کی طرف نمازپڑھتے تھے لیکن کامیابیوں کے بعد اس پر قبیلہ پرستی نے غلبہ کرلیا ہے لہذا اپنی قوم اور قبیلے کے قبلہ کی طرف پلٹ گیاہے۔ یا کہتے تھے کہ اس نے دھوکا دینے اور یہود و نصاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے پہلے بیت المقدس کو قبول کرلیا اور جب یہ بات کارگر نہ ہوسکی تو اب کعبہ کی طرف رخ کرلیاہے۔
واضح ہے کہ ایسے وسوسے اور وہ بھی ایسے معاشرے میں جہاں ابھی نور علم نہ پھیلا ہو اور جہاں شرک و بت پرستی کی رسمیں موجود ہوں کیسا تذ بذب و اضطراب پیدا کردیتے ہیں ۔ اسی لئے زیر نظر آیت میں قرآن صراحت سے کہتاہے کہ یہ مومنین اور مشرکین میں امتیاز پیدا کرنے والی ایک عظیم آزمائش تھی۔ خانہ کعبہ اس وقت مشرکین کے بتوں کا مرکز بنا ہو اتھا لہذا حکم دیاگیا کہ مسلمان وقتی طور پربیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھ لیا کریں تا کہ اس طرح مشرکین سے اپنی صفیں الگ کرسکیں لیکن جب مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد اسلامی حکومت و ملت کی تشکیل ہوگئی اور مسلمانوں کی صفیں دوسروں سے مکمل طور پر ممتاز ہوگئیں تواب یہ کیفیت برقرار رکھنا ضروری نہ رہا۔ لہذا اس وقت کعبہ کی طرف رخ کرلیا گیا جو قدیم ترین مرکز توحید اور انبیاء کا بہت پرانا مرکز تھا۔
ایسے میں ظاہر ہے کہ جو کعبہ کو اپنا خاندانی معنوی اور روحانی سرمایہ سمجھتے تھے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا ان کے لئے مشکل تھا اور اسی طرح بیت المقدس کے بعد کعبہ کی طرف پلٹنا لہذا اس میں مسلمانوں کی سخت آزمائش تھی تا کہ شرک کے جتنے آثار ان میں باقی رہ گئے تھے اس کٹھالی میں پڑکرجل جائیں اور ان کے گذشتہ شرک آلود رشتے ناتے ٹوٹ جائیں ۔
جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں اصولی طور پر تو خدا کے لئے مکان نہیں ہے قبلہ تو صرف وحدت اور صفوں میں اتحاد کی ایک رمزہے اور اس کی تبدیلی کسی چیز کودگرگوں نہیں کرسکتی۔ اہم ترین امر تو خدا کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرناہے اور تعصب اور ضد پرستی کے بتوں کو توڑناہے۔
امت اسلامی ایک در میانی امت ہے:
لغت میں وسط کا معنی ہے دو چیزوں کے در میان حد اوسط ۔ اس کا ایک اور معنی ہے جاذب نظر، خوبصورت ، عالی اور شریف۔ ظاہرا ان دونوں معانی کی ایک ہی حقیقت کی طرف بازگشت ہے کیونکہ شرافت، زیبائی اور عظمت عموما اسی چیز میں ہوتی ہے جو افراط و تفریط سے دور ہو اور مقام اعتدال پرہو۔
قرآن نے امت مسلمہ کے لئے اس مقام پر کیسی عمدہ تعبیر بیان کی ہے کہ اسے در میانی اور معتدل امت کا نام دیاہے۔
یہ امت معتدل ہے۔ عقیدہ کے لحاظ سے کہ راہ غلو اپناتی ہے نہ تقصیر و شرک کی راہ لیتی ہے، جبر کی طرفدار ہے نہ تفویض کی ، صفات الہی کے بارے میں تشبیہ کا عقیدہ رکھتی ہے نہ تعطیل کا۔ یہ امت معتدل ہے۔ معنوی و مادی قدروں کے لحاظ سے۔ نہ کلی طور پر دنیا ئے مادہ میں غرق ہے کہ معنویت اور روحانیت کو بھول جائے اور نہ ہی عالم معنویت و روحانیت میں ایسے ڈوبی ہوئی ہے کہ جہان مادہ سے بالکل بے خبر ہوجائے۔ یہ امت معتدل ہے۔ اور۔ یہودیوں کے اکثر گروہوں کی طرح نہیں کہ جو مادی اغراض کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ اور ۔ نہ عیسائی راہبروں کی طرح جو تارک دنیا ہی بنے رہتے ہیں ۔ یہ امت معتدل ہے علم و دانش کی نظر سے۔ اس طرح نہیں کہ اپنی معلومات پر جمود کا شکار ہوجائے اور دوسروں کے علوم کی پذیرائی نہ کرے اور نہ اس طرح احساس کمتری میں مبتلا ہے کہ ہر آواز کے پیچھے لگ جائے۔ یہ امت معتدل ہے۔ روابط اجتماعی کی نظر سے اس طرح سے اپنے گرد حصار بنا کر ساری دنیا سے الگ نہیں ہوجاتی اور نہ اپنی
اصالت و استقلال کو ہاتھ سے جانے دیتی ہے کہ مشرق و مغرب کے فریب خوردہ لوگوں کی طرح ان اقوام ہی میں گم ہوجائے۔ یہ امت معتدل ہے۔ اخلاقی طور طریقوں میں ، عبادت و تفکر کے لحاظ سے۔ غرض یہ امت ہر جہت سے معتدل ہے۔
ایک حقیقی مسلمان صرف ایک جہت کا انسان نہیں ہوتا بلکہ مختلف جہات سے وہ کمال انسانیت کا نمونہ ہوتا ہے گویا۔ صاحب فکر، با ایمان، منصف مزاج، مجاہد، شجاع ، بہادر، مہربان، فعال اور غیر حریص ہوتاہے۔
حد وسط ایسی تعبیر ہے جو ایک طرف امت اسلامی کے گواہ ہونے کا اظہار کرتی ہے کیونکہ خط وسط پر موجود لوگ دائینں بائیں کے تمام منحرف خطوط کو جانتے ہیں اور دوسری طرف اس میں اس مفہوم کی علت و سبب بھی پوشیدہ ہے یعنی فرماتاہے اگر تم پوری دنیا کی مخلوق کے شاہد ہو تو اس کی دلیل تمہارا اعتدال اور امت وسط ہوناہے۔(۱)
____________________
۱ المنار۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
وہ امت جوہر لحاظ سے نمونہ بن سکتی ہے:
وہ تمام چیزیں جو ہم نے اوپر بیان کی ہیں کسی امت میں جمع ہوجائیں تو یقینا وہ حق و حقیقت کاہر اول دستہ بن جائے کیونکہ اس کے پروگرام حق کو باطل سے ممتاز کرنے کے لئے میزان و معیار ہوں گے۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ کئی ایک روایات میں منقول ہے کہ اہل بیت نے فرمایا:
نحن الامة الوسطی و نحن شهدآء الله علی خلقه و حججه نی ارضهنحن الشهدآء علی الناسالینا یرجع الغالی و بنایر یرجع المقصر (۱)
ہم امت وسط ہیں ہم مخلوق پر شاہد الہی ہیں اور زمین پر اس کی حجت ہیں ہم ہیں لوگوں پر گواہ غلو کرنے والوں کو ہماری طرف پلٹنا چاہئیے اور تقصیر کرنے والوں کو چاہئیے کہ یہ راہ چھوڑ کر ہم سے آملیں ۔(۲)
جیسا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں ایسی روایات آیت کے وسیع مفہوم کو محدود نہیں کرتیں بلکہ اس امت میں نمونہ و اسوہ کے اکمل مصادیق کا تعارف کراتی ہیں اور ایسے نمونوں کی نشاندہی کرتی ہیں جو پہلی صف میں موجود ہیں ۔
____________________
۱ ظاہرا یہاں یرجع کی بجائے ویلحق ہونا چاہئیے (مترجم)۔
۲ نور الثقلین، ج۱، ص۱۳۴۔
لنعلم کی تفسیر:
لنعلم (تا کہ ہم جان لیں ) اور ایسے دیگر الفاظ جو قرآن میں خدا کے لئے استعمال ہوئے اس معنی میں نہیں کہ خدا ایک چیز پہلے سے نہیں جانتا اور اس کا عبد اس سے آشنا ہوتاہے بلکہ اس سے مراد اس چیز کا ثابت ہونا اور خارجی شکل میں ظاہر ہوناہے
اس کی توضیح یہ ہے کہ خداوند عالم اول سے تمام حوادث و موجودات سے واقف ہے اگر چہ وہ اشیاء تدریجا عالم وجود میں آتی ہیں لہذا ان حوادث و موجودات کا حدوث اس کے علم و دانش میں کسی قسم کی زیادتی کا باعث نہیں بنتا بلکہ وہ جس چیز کو پہلے سے جانتا تھا اس کے ذریعے سے وہ عملی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ ایک انجنیر ایک بلڈنگ کا نقشہ تیار کرتاہے اور کہتاہے کہ اس کا م کو اس مقصد کے لئے انجام دیتاہوں تا کہ جو نتیجہ میری نظر میں ہے اسے دیکھوں یعنی اپنے علمی نقشے کو عملی جامہ پہناؤں (البتہ خدا کا علم انسانی علم سے بہت مختلف ہے لیکن یہ مثال کسی حد تک مسئلے کو واضح کردیتی ہے)۔
( و ان کانت لکبیرة الا علی الذین هدی الله ) ۔۔۔۔ البتہ خلاف عادت قدم اٹھانا اور بے جا احساسات کے زیر اثر نہ آنا بہت مشکل ہے مگر ان لوگوں کے لئے جو واقعا خدا پر ایمان رکھتے ہیں ۔
قبلہ کا فلسفہ:
یہاں ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ آخر بنیادی طور پر قبلہ کی طرف منہ کرنے کا مقصد کیاہے کیا خدا زمان و مکاں سے مافوق و بالاتر نہیں ۔ کیا قرآن خود نہیں کہتا:فاینما تولوا فثم وجه الله ۔جد ھر رخ کرو خدا کو پالوگے۔
اس بناء پر کسی ایک طرف رخ کرنے کا اثر و نتیجہ کیاہے اور وہ بھی اس اصرار سے کہ جہت قبلہ معلوم نہ ہوسکے تو چاروں طرف نماز پڑھنا چاہئیے تا کہ یہ یقین پیدا ہوجائے کہ ہم اپنی ذمہ داری ادا کرچکے ہیں ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ۔۔۔۔۔
اسلام کے نزدیک اتحاد کی بہت اہمیت ہے اور اسلام ہر ایسے حکم کو واجب یا کم از کم مستحب قرار دیتاہے جو ہم آہنگی اور وحدت کا سبب بنے۔ اب اگر رخ قبلہ معین نہ ہوتا اور ہر شخص کسی ایک طرف منہ کرکے کھڑاہوجاتا تو عجیب نقشہ پیدا ہوجاتاہے۔
بعض مقامات کا پرستش و عبادت سے بہت پرانا تعلق ہے۔ اس لئے کتنی اچھی بات ہے کہ ایک تو وحدت کی حفاظت کے لئے اور دوسرا عبادت کے اصلی مراکز کی طرف زیادہ توجہ کے لئے ایک ہی نقطے کو قبلہ کے طور پر منتخب کرلیاجائے تا کہ تمام اہل جہان عبادت کے وقت اپنے انکار کو ایک ہی نقطے پر مرکز کرلیں اور اس طرح ایسے لا تعداد دائرے کھینچ دیں کہ جن کا ایک ہی مرکز عبادت ہوتا کہ وہ ان کی وحدت کی رمز بن جائے۔
آیت ۱۴۴
۱۴۴ ۔( قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فِی السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَکُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ لَیَعْلَمُونَ اٴَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ )
ترجمہ
۱۴۴ ۔ ہم تمہارے چہرے کو دیکھتے ہیں جسے تم آسمان کی طرف پھیرتے ہو (اور قبلہ نما کے تعیین کے لئے فرمان خدا کے انتظار میں رہتے ہو)۔ اب تمہیں اس قبلہ کی طرف جس سے تم خوش ہو پھیر دیتے ہیں ۔اپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف کرلو اور تم (مسلمان) جہاں کہیں ہو اپنے چہرے اس کی طرف پھیردو۔ جنہیں آسمانی کتاب دی گئی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ حکم جو ان کے پروردگار کی طرف سے صادر ہواہے۔ درست ہے (کیونکہ وہ اپنی کتب میں پڑھ چکے ہیں کہ رسول اسلام دو قبلوں کی طر ف نماز پڑھیں گے) اور (وہ جو ایسی آیات مخفی رکھتے ہیں ) خداوند عالم ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔
جہاں کہیں ہو کعبہ کی طرف رخ کرلو
جیسا کہ پہلے اشارہ ہوچکاہے بیت المقدس مسلمانوں کا عارضی قبلہ تھا لہذا پیغمبر اسلام انتظار میں تھے کہ قبلہ کی تبدیل کا حکم صادر ہو خصوصا اس بناء پر کہ پیغمبر اکرم کے ورود مدینہ کے بعد یہودیوں نے اس بات کو اپنے لئے سند بنالیاتھا اور ہمیشہ مسلمانوں پر اعتراض کرتے تھے کہ ان کا اپنا کوئی قبلہ نہیں اور ہم سے پہلے یہ قبلہ کے متعلق کچھ جانتے بھی نہ تھے ، اب ہمارے قبلہ کو قبول کرلیناہمارا مذہب قبول کرلینے کی دلیل ہے۔ یہ اور ایسے دیگر اعتراضات کرتے رہے۔
محل بحث آیت میں اس مسئلے کی طرف اشارہ ہواہے۔ قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادر کرتے ہوئے فرماتاہے: ہم دیکھتے ہیں کہ تم منتظر نگاہوں سے مرکز نزول وحی، آسمان کی طرف دیکھتے ہو( قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْهِکَ فِی السَّمَاءِ ) اب ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیتے ہیں جس سے تم خوش ہو( فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قبلة ترضها ) ابھی سے اپنا چہرہ مسجد الحرام اور خانہ کعبہ کی طرف پھیر دو( وَحَیْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَکُمْ شَطْرَهُ )
جیساکہ بیان کیا جاچکاہے کہ روایات کے مطابق قبلہ کی یہ تبدیلی نماز ظہر کی حالت میں واقع ہوئی جو ایک حساس اور اہم مقام ہے۔ وحی خدا کے قاصد نے پیغمبر کے بازوؤں کو پکڑ کر آپ کا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھیر دیا اور مسلمانوں نے بھی فورا اپنی صفوں کو پھیر لیا اور مسلمانوں نے بھی فورا اپنی صفوں کو پھیر لیا یہاں تک ایک روایت میں ہے کہ عورتوں نے اپنی جگہ مردوں کو اور مردوں نے اپنی جگہ عورتوں کودے دی (یاد رہے کہ بیت المقدس شمال کی جانب تھا جب کہ کعبہ جنوب میں واقع تھا)۔یہ امر قابل غورہے کہ گذشتہ کتب میں پیغمبر اسلام کی نشانیوں میں سے ایک قبلہ کی تبدیلی بھی تھی ۔ اہل کتاب نے چونکہ پڑھ رکھا تھا کہ وہ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے (یصلی الی القبلتین ) اسی لئے مندرجہ بالا آیت میں اس حکم کے بعد مزید فرمایا: وہ کہ جنہیں آسمانی کتاب دی گئی جانتے ہیں کہ یہ حکم حق ہے اور پروردگار کی طرف سے ہے( وَإِنَّ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ لَیَعْلَمُونَ اٴَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِم ) ۔
علاوہ ازیں یہ امر کہ پیغمبر اسلام اپنے گردو پیش کی عادات سے متاثر نہیں ہوئے اور کعبہ جو بتوں کا مرکز بنا ہواتھا اور اس علاقے کے تمام عربوں کے احترام کا مرکز تھا ابتداء میں نظر انداز کردیا اور ایک محدود اقلیت کا قبلہ اپنا لیا یہ خود ان کی دعوت کی صداقت اور ان کے پروگراموں کے خدا کی طرف سے ہونے کی دلیل تھا۔
آیت کے آخر میں قرآن کہتاہے: خدا ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے( وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ ) ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ بجائے اس کے کہ قبلہ کی تبدیلی کو آپ کی صداقت کی نشانی کے طور پر تسلیم کرلیتے جس کا ذکر گذشتہ کتب میں آچکاتھا، اسے چھپانے لگے اور الٹا پیغمبر اسلام کے خلاف ایک محاذ کھڑا کردیا۔ خدا ان کے اعمال اور نیتوں سے خوب آگاہ ہے۔
نظم آیات:
زیر بحث آیت کے مفاہیم واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ پہلی آیت سے قبل نازل ہوئی لیکن قرآن میں اس کے بعد موجود ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آیات قرآن، تاریخ نزول کے مطابق جمع نہیں کی گئیں ۔ بلکہ بعض اوقات کچھ ایسی مناسبتیں پیدا ہوتی ہیں کہ وہ آیت جو بعد میں نازل ہوئی تھی پہلے آجاتی ہے (ان دجو ہات میں مطالب کی اولیت اور اہمیت بھی شامل ہے)۔
پیغمبر اکرم کا کعبہ سے خاص لگاؤ:
مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر اکرم خصوصیت سے چاہتے تھے کہ قبلہ، کعبہ کی طرف تبدیل ہوجائے اور آپ انتظار میں رہتے تھے کہ خدا کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی حکم نازل ہو۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ آنحضرت کو حضرت ابراہیم اور ان کے آثار سے عشق تھا۔ علاوہ ازیں کعبہ توحید قدیم ترین مرکز تھا۔ آپ جانتے تھے کہ بیت المقدس تو وقتی قبلہ ہے لیکن آپ کی خواہش تھی کہ حقیقی و آخری قبلہ جلد معین ہو جائے۔ آپ چونکہ حکم خدا کے سامنے سر تسلیم خم کئے تھے، یہ تقاضا زبان تک نہ لاتے صرف منتظر نگاہیں آسمان کی طرف لگائے ہوئے تھے جس سے ظاہر ہو تا کہ آپ کو کعبہ سے کس قدر عشق اور لگاؤہے۔
آسمان شاید اس لئے کہاگیاہے کہ وحی کا فرشتہ اوپر سے آپ پر نازل ہوتاتھا ورنہ خدا کے لئے کوئی محل و مقام ہے نہ اس کے وحی کے لئے
شطر کا معنی:
دوسری بات جو اس مقام پر قابل غورہے یہ کہ مندرجہ بالا آیت میں لفظ کعبہ کی بجائے شطر المسجد الحرام آیاہے۔ یہ شاید اس بناء پر ہو کہ دورکے علاقوں میں نماز پڑھنے والوں کے لئے خانہ کعبہ کا حقیقی تعین بہت ہی مشکل ہے، لہذا خانہ کعبہ کی بجائے جو اصلی قبلہ ہے مسجد الحرام کا ذکر کیاگیاہے جو وسیع جگہ ہے۔ خصوصا لفظ شطر کا انتخاب ہوا جس کا معنی ہے جانب یا سمت۔ یہ اس لئے کہ اسلامی حکم پر عملدر آمد سب لوگوں کے لئے آسان ہو ۔ علاوہ ازیں نماز جماعت کی طویل صفیں اکثر اوقات کعبہ کے طول سے بھی لمبی ہوتی ہیں ۔ اس موقع کے لئے بھی شرعی ذمہ داری واضح کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ دور کے رہنے والوں کے لئے صحیح حدود کعبہ یا مسجد الحرام کا تعین بہت مشکل کام ہے لیکن اس سمت منہ کرکے کھڑا ہونا سب کے لئے آسان ہے۔(۱)
____________________
۱ بعض مفسرین نے کہاہے کہ شطر کا ایک معنی نصف ہے اس مفہوم کی بناء پر شطر المسجد الحرام اور وسط المسجد الحرام ہم معنی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خاص خانہ کعبہ مسجد حرام کے وسط میں ہے (تفسیر کبیر فخر رازی، زیر بحث آیت کے ذیل ہیں )۔
ہمہ گیر خطاب:
اس میں شک نہیں کہ قرآن ظاہرا پیغمبر سے خطاب کرتاہے لیکن اس کا مفہوم عام ہے اور سب مسلمانوں کے لئے ہے (سوائے ان چند مواقع کے جن کے پیغمبر سے مخصوص ہونے کی دلیل موجود ہے) اس بات سے یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ مندرجہ بالا آیت میں پیغمبر اکرم کو الگ اور مومنین کو الگ کیوں حکم دیا گیاہے کہ مسجد حرام کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں ۔
ممکن ہے یہ تکرار اس لئے ہوکہ قبلہ کی تبدیلی کا مسئلہ شور و غل کا حامل تھا۔ لہذا مکاں تھا کہ نئے مسلمانوں کے ذہن شور و غل اور زہر یلے اعتراضات کیوجہ سے تشویش کا شکار ہوتے اور وہ عذر کرتے کہ (فول وجھک) تو فقط پیغمبر سے خطاب ہے اور اس طرح خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے سے کتراتے لہذا اس مقام پرایک مخصوص خطاب کے بعد اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں سے ایک عمومی خطاب کیاہے تا کہ انہیں تاکید کرے کہ قبلہ کی تبدیلی کا یہ معاملہ مخصوص نہیں بلکہ یہ حکم سب کے لئے یکساں ہے۔
کیا قبلہ کی تبدیلی پیغمبر کو خوش کرنے کے لئے تھی:
قرآن کہتاہے: قبلة ترضھا (یعنی۔ وہ قبلہ جس سے تو خوش ہے) ممکن ہے اس سے یہ وہم پیدا ہو کہ یہ تبدیلی پیغمبر کو خوش کرنے کے لئے تھی۔ لیکن اگر اس بات کی طرف توجہ کی جائے تو یہ وہم دور ہوجائے گا کہ یہ بیت المقدس تو عارضی قبلہ تھا اور پیغمبر اکرم آخری قبلہ کے اعلام کا انتظار کررہے تھے تا کہ یک طرف تو یہودیوں کی زبان بندی ہوجائے اور دوسری طرف اہل حجازآئیں اسلام کی طرف زیادہ مائل ہوں کیونکہ وہ کعبہ سے خصوصی لگاؤ رکھتے تھے۔ ضمنا یہ بھی کہ یہ پہلا قبلہ تھا لہذا اس طرف رخ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کوئی نسلی دین نہیں ہے ادریہ بھی کہ اس سے خانہ کعبہ میں بت پرستوں کے موجود بتوں کا بطلان بھی ظاہر ہوجاتا۔
کعبہ ایک عظیم دائرے کا مرکز ہے:
اگر کوئی شخص کرہ زمین سے باہر مسلمان نماز گزاروں کی صفوں کو دیکھے جو کعبہ رخ نماز پڑھ رہے ہیں تو اسے کئی دائرے نظر آئیں گے جن میں ایک دائرہ دوسرے کے اندر ہے یہاں تک کہ دائرے سمٹتے اصل مرکز یعنی کعبہ تک جا پہنچتے ہیں اس سے ایک وحدت و مرکزیت کا اظہار ہوتاہے۔
اسلامی قبلے کا تصور بلا شبہ عیسائیوں کے اس طریقہ کا رسے کہیں معیاری ہے جس کے مطابق تمام عیسائیوں کو حکم ہے کہ وہ جہاں کہیں ہوں مشرق کی طرف رخ کرکے عبادت بجالائیں ۔
یہی وجہ ہے کہ علم ہیئت اور علم جغرافیہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں میں تیزی سے ترقی کی کیونکہ زمین کے مختلف حصوں میں قبلہ کا تعین اس علم کے بغیر ممکن نہ تھا۔
آیت ۱۴۵
۱۴۵ ۔( وَلَئِنْ اٴَتَیْتَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الکِتَابَ بِکُلِّ آیَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَکَ وَمَا اٴَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ اٴَهْوَائَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ إِنَّکَ إِذًا لَمِنْ الظَّالِمِین )
ترجمہ
۱۴۵ ۔ قسم ہے کہ اگر تم ہر قسم کی آیت (دلیل اور نشانی) ان اہل کتاب کے لئے لے آؤ تو یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور تم بھی اب کبھی ان کے قبلہ کی پیروی نہیں کروگے (اور وہ اب یہ تصور نہ کریں دوبارہ قبلہ کی تبدیلی کا امکان ہے) اور ان میں سے بھی کوئی دوسرے کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتا اور اگر تم علم و آگاہی کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کرو تو مسلما ستمگروں اور ظالموں میں سے ہوجاؤگے۔
وہ کسی قیمت پر سرتسلیم خم نہیں کریں گے
آپ گذشتہ آیت کی تفسیر میں پڑھ چکے ہیں کہ اہل کتاب جانتے تھے کہ بیت المقدس سے خانہ کعبہ تبدیلی سے نہ صرف یہ کہ پیغمبر اسلام پر کوئی اعتراض نہیں کیاجاسکتا بلکہ یہ آپ کی حقانیت کی دلیل ہے کیونکہ وہ اپنی کتب میں پڑھ چکے تھے کہ پیغمبر موعود د و قبلوں کی طرف نماز پڑھے گا لیکن بے جا تعصب اور سرکشی کے بھوت نے انہیں حق قبول کرنے نہ دیا۔
اصولی طورپر اگر انسان مسائل پر پہلے سے حتمی فیصلہ نہ کرچکا ہو وہ افہام و تفہیم کے قابل ہوتاہے اور دلیل ، منطق یا معجزات کے ذریعے اس کے نظریات میں تبدیلی آسکتی ہے اور اس کے سامنے حقیقت کو ثابت کیاجاسکتاہے لیکن اگر وہ پہلے سے اپنا موقف حتمی طور پرطے کرلے۔ خصوصا لیچڑ متعصب اور نادان لوگوں کو کسی قیمت پر نہیں بدلا جاسکتا۔ اسی لئے قرآن محل بحث آیت میں قطعی طور پر کہہ رہاہے ! قسم ہے کہ اگر تم کوئی آیت اور نشانی ان اہل کتاب کے لئے لے آؤ، یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے( وَلَئِنْ اٴَتَیْتَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الکِتَابَ بِکُلِّ آیَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَک ) ۔ لہذا تم اس کام کے لیے اپنے آپ کو نہ تھکاؤ اور ان کی ہدایت کے در پے نہ رہو کیونکہ یہ کسی قیمت پر حق کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے اور ان میں اصلا تلاش حقیقت کی روح ہی مردہ ہوچکی ہے۔
افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ تمام انبیاء کو کم و بیش ایسے افراد کا سامنا کرنا پڑا جو یا اہل ثروت اور با اثر تھے یا پڑھے لکھے منحرف یا کجرو یا جاہل و متصب عوام تھے۔
اس کے بعد مزید فرمایا: تم بھی ہرگز ان کے قبلہ کی پیروی نہیں کروگے( و ما انت بتابع قبلتهم ) ۔ یعنی اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے شعور و غوغا، قیل و قال اور طعن و تشنیع سے دوبارہ مسلمانوں کا قبلہ بدل جائے گا تو یہ ان کی جہالت ہے بلکہ یہ قبلہ اب ہمیشہ کے لئے ہے۔
در حقیقت مخالفین کا شور دغل ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انسان پختہ ارادے سے کھڑا ہوجائے اور واضح کردے کہ وہ راہ حق میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرے گا۔
مزید فرمایا: وہ بھی اپنے معاملے میں ایسے متعصب ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کے قبلہ کا پیرو اور تابع نہیں( وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ )
یعنی۔ یہودی عیسائیوں کے قبلہ کی پیروی کرتے ہیں نہ عیسائی یہودیوں کے قبلہ کی
پھر بطور تاکید اور زیادہ قطعیت سے پیغمبر سے کہتاہے: اگر علم و آگہی کے بعد، جو خدا کی طرف سے تمہیں پہنچ چکی ہے تم ان کی خواہشات کے سامنے سرنگوں ہوگئے اور ان کی پیروی کرنے لگے تو مسلما ستمگروں اور ظالموں میں سے ہوجاؤگے( وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ اٴَهْوَائَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ إِنَّکَ إِذًا لَمِنْ الظَّالِمِین ) ۔
قضیہ و شرطیہ صورت میں پیغمبر سے خطاب، قرآن میں بارہا دیکھنے میں آیاہے۔ در حقیقت ان کے تین مقاصد ہیں :
۱ ۔ سب لوگ جان لیں کہ قوانین الہی میں کسی قسم کی تبعیض اور فرق و اختلاف قبول نہیں کیاجائے گا۔ عام لوگ تو ایک طرف خود انبیاء بھی ان سے ماوراء نہیں ہیں ۔ اس بناء پر اگر بفرض محال پیغمبر بھی حق سے انحراف کرے تو وہ بھی عذاب الہی کا مستحق ہوگا۔ اگر چہ انبیاء کے بارے میں ایسا مفروضہ ان کے ایمان، بے پناہ علم اور مقام تقوی و پرہیزگاری کے پیش نظر ممکن العمل نہیں اور اصطلاح میں اسے یوں کہتے ہیں کہ قضیہ شرطیہ وجود شرط پر دلالت نہیں کرتا۔
۲ ۔ تمام لوگ اپنا احتساب کرلیں اور جان لیں کہ جب پیغمبر کے بارے میں یہ معاملہ ہے تو انہیں پوری کوشش سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا چاہئیں اور دشمن کے انحرافی میلانات اور شور و غوغا کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالنا چاہئیں اور شکست تسلیم نہیں کرنا چاہئیے۔
۳ ۔ یہ واضح ہوجائے کہ پیغمبر بھی اپنی طرف سے کسی تبدیلی اور الٹ پھیر کا اختیار نہیں رکھتا اور ایسا نہیں کہ وہ جو چاہے کرے بلکہ وہ بھی اللہ کا بندہ ہے اور اس کے فرمان کے تابع ہے۔
آیات ۱۴۶،۱۴۷
۱۴۶ ۔( الَّذِینَ آتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ اٴَبْنَائَهُمْ وَإِنَّ فَرِیقًا مِنْهُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ یَعْلَمُونَ )
۱۴۷ ۔( الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِینَ )
ترجمہ
۱۴۶ ۔ وہ لوگ جنہیں ہم نے آسمانی کتب دی ہیں وہ اس (پیغمبر ) کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو اگر چہ ان میں سے ایک گروہ حق کو پہچاننے کے با وجود اسے چھپاتاہے۔
۱۴۷ ۔(قبلہ کی تبدیلی کا یہ فرمان) تمہارے پروردگار کا حکم حق ہے لہذا ہرگز تردد و شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ۔
وہ پیغمبر اکرم کو پوری طور پر پہچانتے ہیں :
گذشتہ ابحاث کے بعد اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی ہٹ دھرمی اور تعصب کے بارے میں زیر نظر آیات میں گفتگو فرمائی گئی ہے۔ ارشاد ہوتاہے: اہل کتاب کے علما پیغمبر کو اپنی اولاد کی مانند اچھی طرح پہچانتے ہیں( الَّذِینَ آتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ اٴَبْنَاء َهُم ) اس پیغمبر کا نام، نشانیاں اور خصوصیات یہ اپنی مذہبی کتب میں پڑھ چکے ہیں لیکن اس کے با وجود ان میں سے بعض کوشش کرتے ہیں کہ جان بوجھ کر حق کو چھپائے رکھیں( وَإِنَّ فَرِیقًا مِنْهُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ یَعْلَمُونَ ) ۔ان میں سے ایک گر وہ تو اسلام کی واضح نشانیوں کو دیکھ کر اسے قبول کرچکاہے جیسا کہ عبداللہ بن سلام جو علما یہود میں سے تھا اور بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا۔ منقول ہے کہ وہ کہتاتھا:
انا اعلم به منی بابنی میں پیغمبر اسلام کو اپنے فرزند سے بھی بہتر پہچانتا ہوں ۔(۱)
یہ آیت ایک عجیب و غریب حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ یہ کہ پیغمبر اسلام کی جسمانی و روحانی صفات اور ان کے علاقے کی نشانیاں گشتہ کتب میں اس قدر زندہ، روشن اور واضح تھیں کہ جن سے آپ کی پوری تصویر ان لوگوں کے ذہنوں میں موجود تھی جو ان کتب سے وابستہ تھے۔ کیا کسی کو یہ احتمال ہوسکتاہے کہ ان کتب میں پیغمبر اسلام کا کوئی نام و نشان نہ ہو اور پھر بھی پیغمبر اس صراحت سے ان کے سامنے کہیں کہ میری تمام صفات تمہاری کتب میں موجود ہیں ، اگر ایسا ہوتا تو کیا اہل کتاب کے تمام علماء پیغمبر سے شدید اور صریح مقابلے پر نہ آتے اور انہیں یہ نہ کہتے کہ یہ تم ہو اور یہ ہیں ہماری کتابیں ، کہاں ہیں تمہارے وہ نام و صفات ۔ کیا یہ ممکن تھا کہ ان کا ایک عالم فقط اس بناء پر آپ کے سامنے سر تسلیم خم کرے ۔ اس لئے ایسی آیات صرف آپ کی سچائی اور حقانیت کی دلیل ہیں ۔
اس کے بعد گذشتہ ابحاث کی تاکید کے طور پر قبلہ کی تبدیلی کے متعلق فرمایا: یہ فرمان تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے، پس تم کبھی بھی تردد و شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا( الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِین ) ۔ اس طرح اس جملے میں پیغمبر کی دلجوئی کی گئی ہے اور انہیں تاکید کی گئی ہے کہ وہ دشمن کے زہر یلے پرا پیگنڈا کے سامنے ذرہ برابر بھی تردد و شک کو راہ نہ دیں ۔ چاہے قبلہ کی تبدیلی کا مسئلہ ہو یا کوئی اور چاہے دشمن اس کے خلاف اپنی تمام قوتیں جمع کرلیں ۔
اس گفتگو میں اگر چہ مخاطب پیغمبر اکر م ہیں لیکن جیسا کہ کہا جاچکاہے کہ واقع میں تمام لوگ مرا د ہیں ۔ ور نہ مسلم ہے کہ و ہ پیغمبر جس کا وحی سے دائمی تعلق ہو کبھی کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیں ہوتا کیونکہ وحی اس کے لئے شہود، حس اور یقین کا درجہ رکھتی ہے۔
____________________
۱ المنار، ج ۲ اور تفسیر کبیر از فخر الدین رازی (ذیل آیت زیر بحث)
آیت ۱۴۸
۱۴۸ ۔( وَلِکُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ اٴَیْنَ مَا تَکُونُوا یَاٴْتِ بِکُمْ اللهُ جَمِیعًا إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ )
ترجمہ
۱۴۸ ۔ ہر گروہ کا ایک قبلہ ہے جسے خدا نے اس کے لئے معین کیاہے (اس بنا پر اب قبلہ کے بارے میں زیادہ گفتگو نہ کرو اور اس کی بجائے ) نیکیوں اور اعمال خیر میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے، خد ا تمہیں (اچھے اور برے اعمال کی جزا یا سزا کے لئے قیامت کے دن) حاضر کرے گا، کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتاہے۔
یہ آیت در حقیقت یہودیوں کے جواب میں ہے
ہر گروہ کا ایک قبلہ ہے جسے خدانے معین کیاہے (اور وہ اس کی طرف رخ کرتاہے( وَلِکُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیهَا ) ۔
انبیاء کی طویل تاریخ میں کئی ایک قبلہ تھے اور ان کی تبدیلی کوئی عجیب و غریب چیز نہیں ۔ قبلہ کوئی اصولی دین نہیں کہ جس میں تبدیلی و تغیر نہیں ہوسکتا اور نہ یہ کہ امور تکوینی کی طرح ہے کہ آگے پیچھے نہ ہوسکے لہذا قبلہ کے بارے میں زیادہ گفتگو نہ کرو اور اس کی بجائے اعمال خیر اور نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ( فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ ) ۔ بجائے اس کے کہ اس انفرادی مسئلے میں دقت صرف کرتے رہو خوبیوں اور پاکیزگیوں کی تلاش میں نکلو اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرو کیونکہ تمہارے وجود کی قدر و قیمت نیک اور پاک اعمال ہیں ۔یہ مضمون بعینہ اس سورہ کی آیہ ۱۷۷ کی طرح ہے جس میں فرمایا گیاہے۔
( لَیْسَ الْبِرَّ اٴَنْ تُوَلُّواوُجُوهَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالْکِتَابِ ) ( وَالنَّبِیِّین )
نیکی یہ نہیں اپنے چہرے مشرق و مغرب کی طرف کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ خدا، روز جزا، ملائکہ، کتاب اور انبیاء پر ایمان لے آؤ (اور نیک اعمال بجالاؤ)۔
اب اگر تم اسلام یا مسلمانوں کو آزمانا چاہتے ہو تو ان پروگراموں میں آزماؤ نہ قبلہ کی تبدیلی کے مسئلہ میں ۔
اس کے بعد اعتراض کرنے والوں کو تنبیہ کرنے اور نیک لوگوں کو شوق دلانے کے لئے فرمایا: تم جہاں کہیں ہوگے خدا تم سب کو حاضر کرے گا (اینما تکونوا یات بکم اللہ جمیعا) تا کہ نیک لوگوں کو عمل خیر کی جزا اور برے لوگوں کو عمل بدکی سزادی جاسکے۔ایسا نہیں کہ ایک گروہ تو بہترین کام انجام دیتاہو اور دوسرا زہرا گلنے ، تخریب کا ری کرنے اور دوسروں کے کاموں کو خراب کرنے کے علاوہ کوئی کام نہ کرتاہو اور پھر دونوں ایک جیسے ہوں اور ان کے لئے کوئی حساب و کتاب اور جزا سزا نہ ہو۔ چونکہ ممکن ہے بعض لوگوں کے لئے یہ جملہ عجیب ہو کہ خدا خاک کے منتشر ذرات کو، وہ جہاں کہیں ہوں جمع کرے گا اور دوبارہ و ہی انسان عرصہ وجود میں قدم رکھے لہذا بلا فاصلہ فرمایا: اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتاہے( ان الله علی کل شیی قدیر ) در حقیقت آیت کے آخر میں یہ جملہ اس سے پہلے والے جملے( اینما تکونوا یاب بکم الله جمیعاء ) کی دلیل ہے۔
امام مہدی کے یار و انصار جمع ہوں گے:
آئمہ اہل بیت سے مروی ہے کئی ایک روایات میں (اینما تکونوا یات بکم اللہ جمیعا) سے اصحاب حضرت مہدی مراد لئے گئے ہیں ۔ منجملہ ان روایات کے کتاب روضہ کافی میں امام محمد باقر سے روایت ہے کہ آپ نے اس جملہ کا ذکر فرمانے کے بعد ارشاد کیا:یعنی۔اصحاب القائم الثلاثماة و البضعة عشر رجلاهم و الله الامة المعدودة قال یجتمعون و الله فی ساعة واحدة قزع کقزع الخریف ۔اس سے مقصود اصحاب امام قائم ہیں جوتین سو تیرہ افراد ہیں ۔ خدا کی قسم (الامة المعدودة ) سے وہی مراد ہیں ۔ بخدا موسم خریف کے بادلوں کی طرح سب ایک لحظے میں جمع ہوجائیں گے۔ جیسے وہ بادل تیز ہوا کے نتیجے میں جمع ہوکر ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں ۔(۱) اما م علی بن موسی رضا سے منقول ہے:و ذلک و الله ان لوتام قائمنا یجمع الله الیه جمیع شیعتنا من جمیع البلدان ۔بخدا جب حضرت مہدی قیام کریں گے خدا سب شہروں سے ہمارے تمام شیعوں کو ان کے پاس جمع کردے گا۔(۲) اگر قبل اور بعد کے قرائن نہ ہوتے تو یہ تفسیر قابل قبول تھی لیکن ان قرائن کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ظاہری مفہوم وہی ہے جو ہم بیان کرچکے ہیں ۔(۳)
آیت میں( هُوَ مُوَلِّیهَا ) کی شباہت
( فلنولینک قبلة ترضها ) سے ہے لیکن فرض کریں کہ یہ آیت اسی تفسیر کی طرف اشارہ ہے تو یہ جبری قضاء قدر کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ وہ قضا و قدر ہے جو آزادی کے مفہوم سے موافقت رکھتی ہو۔(۴)
____________________
۱ نور الثقلین، ج۱، ص۱۳۹۔۲ تفسیر المیزان، ج۱، ص۳۳۱
۳ یعنی یہ روایات آیت کی باطنی تفسیرہیں (مترجم)۴ مزید وضاحت کے لئے کتاب انگیزہ ی پیدایش مذہب ، فصل قضا و قدر سے رجوع کریں ۔
آیات ۱۴۹،۱۵۰
۱۴۹ ۔( وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ )
۱۵۰ ۔( وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَکُمْ شَطْرَهُ لِئَلاَّ یَکُونَ لِلنَّاسِ عَلَیْکُمْ حُجَّةٌ إِلاَّ الَّذِینَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلاَتَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِی وَلِاٴُتِمَّ نِعْمَتِی عَلَیْکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَهْتَدُونَ )
ترجمہ
۱۴۹ ۔ تم جس بھی جگہ (شہر اور مقام) سے نکلو (جب وقت نماز ہوتو) اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف کرلو، یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حکم حق ہے اور خدا تمہارے کردار سے غافل نہیں ہے۔
۱۵۰ ۔ اور تم جہاں سے بھی نکلو اپنا رخ مسجد الحرام کی طرف کرلو اور تم (مسلمان) جہاں کہیں ہو اپنا رخ اس کی طرف کرو تا کہ لوگوں کے پاس تمہارے خلاف کوئی دلیل و حجت نہ ہو۔ (کیونکہ گذشتہ کتب میں پیغمبر کی جو نشانیاں آئی ہیں ان میں یہ بھی تھی کہ وہ پیغمبر دو قبلوں کی طرف نماز پڑھے گا)۔ ان لوگوں کے سوا جو ظالم ہیں (جو ہر صورت میں ہٹ دھرمی اور زہر اگلنے سے باز نہیں آتے لیکن) ان سے نہ ڈرو اور (صرف) مجھ سے ڈرو (یہ قبلہ کی تبدیلی اس لئے تھی کہ میں تمہاری تربیت کروں ، تمہیں تعصب کی قید سے نکالوں اور تمہیں استقلال عطا کروں ) اور اپنی نعمت تم پر مکمل کروں تا کہ تم ہدایت حاصل کرلو۔
برنامه های رسول لله
گذشتہ آیت کے آخری حصے میں خداوند عالم نے قبلہ کی تبدیلی کی ایک دلیل تکمیل نعمت اور ہدایت مخلوق بیان کی ہے۔ زیر بحث آیت میں لفظ ”کما“ اسی طرف اشارہ ہے کہ صرف قبلہ کی تبدیلی تمہارے لئے نعمت خدا نہیں بلکہ خدانے تمہیں اور بھی بہت سی نعمتیں دی ہیں ۔ جیسا کہ میں نے تمہاری نوع میں سے تمہارے لئے رسول بھیجاہے۔ لفظ ”منکم“ (یعنی تمہاری جنس سے) ممکن ہے اس طرف اشارہ ہو کہ وہ نوع بشر میں سے ہے اور صرف بشر ہی بشر کے لئے مربی، رہبر اور نمونہ ہو سکتاہے اور وہی اپنی نوع کی تکالیف ، ضروریات ،اور مسائل سے آگاہ ہوتاہے اور یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے یا یہ مقصد ہے کہ وہ تمہارے قبیلہ و خاندان میں سے ہے اور تمہارا ہم وطن ہے کیونکہ شدید نسلی تعصب کی وجہ سے ممکن نہ تھا کہ عرب کسی ایسے پیغمبر کے زیر بار ہوتے جو ان کی نسل وقوم میں سے نہ ہوتا جیسا کہ سورہ شعراء کی آیت ۱۹۸ اور ۱۹۹ میں ہے:۔
( و لو نزلناه علی بعض الاعجمین فقراه علیهم ما کانوا به مؤمنین )
اگر ہم قرآ ن ایسے شخص پر نازل کرتے جو عرب نہ ہو تا اور وہ ان کے سامنے اسے پڑھتا تو یہ ہرگز ایمان نہ لاتے۔
یہ ان کے لئے بہت اہم نعمت شمار ہوتی تھی کہ پیغمبر خود انہی میں سے تھے البتہ یہ تو ابتدائے کار کی بات تھی لیکن آخر میں قوم، قبیلہ، وطن اور جغرافیائی سرحدوں کا معاملہ اسلامی پروگراموں سے حذف کردیاگیا اور اسلام کے حقیقی اور دائمی قانون کا اعلان کیا گیا جو وطن ، مذہب اور نسل کی بجائے انسانیت کو متعارف کراتاہے۔
اس نعمت کے تذکرے کے بعد چار دوسری نعمتوں کی طرف اشارہ کیاگیاہے جو انہیں پیغمبر کی برکت سے حاصل ہوئی تھیں ۔
۱ ۔ وہ ہماری آیا ت تمہارے سامنے تلاوت کرتاہے:( یتلوا علیکم ایتنا ) ۔ لفظ (یتلوا ) لغت میں تلاوت کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے پے در پے لے آنا۔ اسی لئے جب عمارتیں کسی مسلسل صحیح نظام کے تحت بن رہی ہوں تو عرب اسے تلاوت سے تعبیر کرتے ہیں ۔ یعنی پیغمبر خدا کی باتیں ایک صحیح اور مناسب نظام کے تحت پے در پے ۔ تمہارے سامنے پڑھتا ہے تا کہ تمہارے دلوں کو تیار کرے کہ وہ انہیں قبول کریں اور ان کے معانی سمجھیں ۔ یہ منظم اور مناسب تلاوت تعلیم و تربیت کے لئے آمادگی پیدا کرتی ہے۔ جس کی طرف بعد کے جملوں میں اشارہ ہوگا۔
۲ ۔ وہ تمہاری تربیت و پرورش کرتاہے: (و یزکیکم )۔ راغب مفردات میں کہتاہے کہ تزکیہ کا معنی ہے بڑھا نا اور نشو و نما دینا۔ یعنی پیغمبر آیات خدا کے ذریعے تمہارے معنوی و مادی اور انفرادی و اجتماعی کمالات کو بڑھاتاہے اور تمہیں نمو بخشتاہے۔ تمہارے وجود کی شاخوں پر فضیلت کے پھول کھلاتا ہے اور زمانہ جاہلیت کی بری صفات جو تمہارے معاشرے کو آلودہ کئے ہوئے ہیں ان کے زنگ سے تمہارے وجود کو پاک کرتاہے۔
۳ ۔ تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتاہے:( و یعلمکم الکتاب و الحکمة ) ۔اگر چہ تعلیم، تربیت پر مقدم ہے لیکن جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ اس مقصد کو ثابت کرنے کے لئے کو اصل مقصد تربیت ہے اسے تعلیم سے پہلے بیان فرمایا چونکہ تعلیم تو مقصد کے لئے وسیلہ ہے۔
باقی رہا کتاب و حکمت کا فرق یہ ممکن ہے کہ کتاب قرآن کی آیات اور وحی الہی کی طرف اشارہ ہو جو بصورت اعجاز پیغمبر پر نازل ہوئی اور حکمت سے مراد ہو پیغمبر صلی اللہ و آلہ و سلم کی گفتگو اور تعلیمات جو حقائق قرآن کی وضاحت اور تفسیر کے لئے ہیں اور اس کے قوانین و احکام کو عملی شکل دینے کے لئے بیان فرمائی جاتی رہی ہیں ۔ انہی تعلیمات کو سنت کہتے ہیں جن کا سرچشمہ وحی الہی ہی ہے۔
یہ بھی ہوسکتاہے کہ کتاب احکام و قوانین کی طرف اور حکمت اسرار، فلسفہ، عدل اور اس کے نتائج کی طرف اشارہ ہو۔
بعض مفسرین کا خیالی ہے کہ حکمت سے مراد وہ حالت اور استعداد ہے جو تعلیمات قرآن سے پیدا ہوتی ہے اور اس کے ہوتے ہوئے انسان تمام امور کا حساب و کتاب رکھتاہے اور ہر ایک کو اس کے مقام پر بجالاتاہے۔(۱)
تفسیر المنار کا مؤلف یہ تفسیر ذکر کرکے کہ حکمت سے مراد سنت ہے اسے غیر صحیح قرار دیتاہے اور اس کے لئے سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۳۹ سے استدلال کرتاہے۔ جس میں فرمایا گیاہے:ذلک مما اوحی الیک ربک من الحکمة
یہ ایسے امور ہیں جنہیں تمہارا پروردگار حکمت میں سے تم پر وحی کرتاہے۔
ہمارے نزدیک اس اعتراض کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ حکمت کا مفہوم وسیع ہے لہذا ہوسکتاہے یہاں آیات قرآن اور وہ اسرار مراد ہوں جو وحی کے ذریعے پیغمبر پر نازل ہوئے جہاں حکمت کا ذکر کتاب (قرآن) کے ساتھ آیاہے (جیسے زیر نظر اور ایسی دیگر آیات ) وہاں مسلما ًحکمت سے مراد کتاب کے علاوہ کچھ اور ہے اور وہ سنت کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہوسکتی۔
۴ ۔ تم جو نہیں جانتے وہ تمہیں اس کی تعلیم دیتاہے:( و یعلمکم مالم تکونوا تعلمون ) ۔ یہ مفہوم اگرچہ گذشتہ جملے میں موجود ہے جس میں کتاب و حکمت کی تعلیم کا ذکر ہے لیکن قرآن اسے خصوصیت سے الگ بیان کررہاہے تا کہ انہیں سمجھائے کہ اگر انبیاء و رسل نہ ہوتے تو بہت سے علوم ہمیشہ کے لئے مخفی رہتے۔ وہ فقط اخلاقی و اجتماعی رہبر نہیں ہیں ۔ بلکہ علمی رہنما بھی ہیں ان کی رہنمائی کے بغیر انسانی علوم کے کسی پہلو میں پختگی ممکن نہ تھی۔
جو کچھ بیان کیاگیاہے اس سے ظاہر ہوتاہے کہ زیر نظر آیت میں خدانے اپنی پانچ نعمتوں کی طرف اشارہ کیاہے جو یہ ہیں :
پہلی۔ پیغمبر کا نوع بشر میں سے ہونا۔
دوسری۔ لوگوں کے سامنے آیات الہی کی تلاوت کرنا۔
تیسری اور چوتھی۔ تعلیم و تربیت کرنا۔ اورپانچویں ۔ لوگوں کو ان امور کی تعلیم دینا جو پیغمبر کے بغیر وہ نہیں جانتے تھے۔
خدا کی نعمتوں کے ذکر کے بعد اگلی آیت میں لوگوں کو بتایاجارہاہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے اور ہر نعمت سے صحیح طور پر استفادہ کیاجائے جو سپاس گزاری کا طریقہ ہے اور کفران نعمت نہ کیاجائے۔ فرماتاہے: مجھے یاد رکھو تا کہ میں تمہیں یاد رکھوں اور میرا شکر بجالاؤ اور کفران نعمت نہ کرو (فاذکرونی اذکرکم و شکروالی و لا تکفرون)۔
واضح ہے کہ (مجھے یاد کرو تا کہ میں تمہیں یاد کروں ) یہ جملہ خدا اور بندوں کے در میان کسی ایسے رابطے کی طرف اشارہ نہیں جیسے انسانوں کے در میان ہوتاہے کہ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں : تم ہمیں یاد کیاکرو ہم تمیں یاد کیاکریں گے بلکہ یہ ایک تربیتی و تکوینی بنیاد کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی مجھے یاد رکھو۔ ایسی پاک ذات کی یاد جو تمام خوبیوں اور نیکیوں کا سرچشمہ ہے اور اس طرح اپنی روح اور جان کو پاکیزہ اور روشن رکھو اور رحمت پروردگار کی قبولیت کے لئے آمادہ رہو۔ اس ذات کی طرف متوجہ رہنا اور اسے یاد رکھنا ہر قسم کی فعالیتوں میں زیادہ مصمم ، زیادہ قوی اور زیادہ متحد کردے گا۔
اسی طرح شکر گزاری اور کفران نعمت نہ کرنا کوئی تکلفا نہیں اور یہ فقط کلمات کی زبان سے ادائیگی تھی۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہر نعمت کو ٹھیک اس کی جگہ پر صرف کرنا اور اسی مقصد کی راہ میں خرچ کرنا جس کے لئے وہ پیدا کی گئی ہے تا کہ یہ امر خدا تعالی کی نعمت و رحمت میں اضافے کا باعث ہو۔
____________________
۱۔ تفسیر فی ظلال، ج۱، ص۱۹۴۔
( فاذکرونی اذکرکم ) “کی تفسیر
(!) ”فاذکرونی اذکرکم“کی تفسیر میں مفسرین کی موشگافیاں : مفسرین نے اس جملے کی تشریح میں بہت سی باتیں کی ہیں ۔ بندوں کے یاد کرنے اور خدا کے یاد کرنے سے کیا مراد اس سلسلے میں بہت سے مفاہیم بیان کئے گئے ہیں ۔ جنہیں تفسیر کبیر میں فخر الدین رازی نے دس موضوعات کے تحت جمع کیاہے:
۱ ۔ مجھے اطاعت کے ذریعے یاد کرو تا کہ میں اپنی رحمت کے ذریعے تمہیں یاد کروں ۔ اس مفہوم کی شاہد سورہ اآل عمران کی آیت ۱۳۲ ہے:( اطیعوا الله و الرسول لعلکم ترحمون ) ۔
اللہ اور رسول کی اطاعت کردتا کہ تم پر رحم کیا جائے۔
۲ ۔ مجھے دعا کے ساتھ یاد کرو تا کہ میں تمہیں اجابت کے ساتھ یاد کروں ۔ اس کی شاہد سورہ مومن کی آیت ۶۰ ہے۔
جس میں فرمایا گیاہے:( ادعونی استجب لکم )
مجھ سے دعا کرو تو میں قبول کروں گا۔
۳ ۔ مجھے ثناء و طاعت کے ذریعے یاد کرو تا کہ میں تمہیں ثناء و نعمت سے یاد کروں ۔
۴ ۔ مجھے دنیا میں یاد کرو تا کہ میں تمہیں آخرت میں یادکروں ۔
۵ ۔ مجھے خلوتوں میں یاد کرو تا کہ میں تمہیں اجتماعات میں یاد کروں ۔
۶ ۔ مجھے نعمتوں کی فراوانی کے وقت یاد کرو میں تمہیں سختیوں میں یاد کروں گا۔
۷ ۔ مجھے عبادت کے ذریعے یاد کرو تا کہ میں تمہاری مدد کروں ۔ اس کا شاہد سورہ الحمد کا یہ جملہ ہے:
ایاک نعبد و ایاک نستعین
۸ ۔ مجھے مجاہدت و کوشش کے ذریعے یاد کرو تا کہ میں تمہیں ہدایت کے ذریعے یاد کروں ۔ اس کی شاہد سورہ عنکبوت کی آیہ ۶۹ ہے جس میں فرمایا گیاہے:( و الذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا )
جو ہماری راہ میں میں کوشش کرتے میں تمہیں نجات اور مزید خصوصیت سے یادکروں گا۔
۱۰ ۔ میری ربوبیت کا تذکرہ کرو میں رحمت کے ساتھ یاد کروں گا (ساری سورہ حمد اس معنی کی شاہد بن سکتی ہے)۔(۱)
ان میں سے ہر مفہوم آیت کے وسیع جلووں میں سے ایک جلوہ ہے اور زیر نظر آیت میں یہ تمام مفاہیم بلکہ ان کے علاوہ بھی مطالب شامل ہیں مثلا:
مجھے شکر کے ساتھ یاد کرو تا کہ میں تمہیں فراوانی نعمت سے یاد کروں ۔ سورہ ابراہیم کی آیہ ۷ میں ہے:
( لئن شکر تم لا زیدنکم )
اگر تم شکر کرو تو میں تمہیں زیادہ دوں گا۔
جیسا کہ ہم کہہ چکے، بے شک خدا کی طرف ہر قسم کی توجہ تکوینی و تربیتی اثر رکھتی ہے۔یاد خدا سے یہ اثر انسان تک پہنچتاہے اور ان توجہات کے نتیجہ میں روح و جان ان برکات کے نزول کی استعداد پیدا کرلیتی ہے جن کا تعلق یاد خدا سے ہے۔
____________________
۱- تفسیر کبیر از فخر رازی، ج۴، ص۱۴۴( مختصر تفسیر اور کچھ اضافے کے ساتھ)۔
ذکر خدا کیاہے:
یہ مسلم ہے کہ ذکر خدا سے مراد صرف زبان سے یاد کرنا نہیں بلکہ زبان تو دل کی ترجمان ہے یعنی دل و جان سے اس کی ذات پاک کی طرف توجہ رکھا کرو۔ وہ توجہ جو انسان کو گناہ سے باز رکھے اور اس کے حکم کی اطاعت کے لئے آمادہ کرے۔ اسی بناء پر متعدد و احادیث میں پیشوایان اسلام سے منقول ہے کہ ذکر خد ا سے مرا دعملی یادآوری ہے۔ جیسا کہ پیغمبر اکرم سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے حضرت علی کو وصیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:
ثلاث لا تطیقها هذه الامة: الموساة للحق فی ماله و انصاف الناس من نفسه و ذکر الله علی کل حال و لیس هو سبحان الله و الحمد لله و لا اله الا الله و الله اکبر و لکن اذا ورد علی ما یحرم الله علیه خاف الله تعالی عنده و ترکه ۔
تین کام ایسے ہیں جو یہ امت (مکمل طور پر) انجام دینے کی توانائی نہیں رکھتی: اپنے مال میں دینی بھائی کے ساتھ مواسات و برابری، اور اپنے اور دوسروں کے حقوق کے بارے میں عادلانہ فیصلہ اور خدا کو ہر حالت میں یاد رکھنا اور اس سے مراد سبحان اللہ و الحمد اللہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر کہنا نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی فعل حرام اس کے سامنے آئے تو خدا سے ڈرے اور اسے ترک کردے۔(۱)
____________________
۱- تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۱۴۰ بحوالہ کتاب خصال۔
آیات ۱۵۳،۱۵۴
۱۵۳ ۔( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِینَ )
۱۵۴ ۔( وَلاَتَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتٌ بَلْ اٴَحْیَاءٌ وَلَکِنْ لاَتَشْعُرُونَ )
ترجمہ
۱۵۳ ۔ اے ایمان والو! زندگی کے سخت ترین کے موقع پر) صبر و استقامت اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ (کیونکہ ) خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
۱۵۴ ۔ جو راہ خدا میں قتل ہوجاتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو، وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے۔
شان نزول
زیر نظر دوسری آیت کی شان نزول کے بارے میں بعض مفسرین نے ابن عباس سے اس طرح نقل کیاہے: یہ آیت جنگ بدر میں قتل ہونے والوں کے سلسلے میں نازل ہوئی۔ ان کی تعداد چودہ تھی۔ چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے تھے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد بعض لوگ اس طرح گفتگو کرتے کہ فلاں مرگیا۔ اس پریہ آیت نازل ہوئی جس نے بتایا کہ شہداء کے لئے مردہ (میت) کہنا صحیح نہیں
(شہداء)
گذشتہ آیات میں تعلیم و تربیت اور ذکر و شکر کے متعلق گفتگو تھی۔ ان کے وسیع تر مفہوم جس میں اکثر دینی احکام شامل ہیں کو سامنے رکھتے ہوئے محل بحث پہلی آیت میں صبر و استقامت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے جس کے بغیر گذشتہ مفاہیم کبھی عملی شکل اختیار نہیں کرسکتے۔
پہلے فرمایا: اے ایمان والو! صبر و استقامت اور نماز سے مدد حاصل کرو( یا یها الذین امنوا استعینوا بالصبر و الصلوة ) اور ان دو قوتوں (استقامت اور خدا کی طرف توجہ ) کے ساتھ مشکلات و سخت حوادث سے جنگ کے لئے آگے بڑھو تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی کیونکہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے( ان الله مع الصبرین ) ۔
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صبر کا معنی ہے بدبختیوں کو گوارا کرنا۔ اپنے آپ کو ناگوار حوادث کے سپر کرنا اور عوامل شکست کے سامنے ہتھیار ڈال دینا لیکن صبر کا مفہوم اس کے برعکس ہے۔ صبر و شکیبائی کا معنی ہے ہر مشکل اور حادثے کے سامنے استقامت ۔ اسی لئے بعض علماء اخلاق نے صبر کے تین پہلو بیان کئے ہیں ۔
۱ ۔ اطاعت پر صبر (ان مشکلات کے مقابلے میں صبر کرنا جو اطاعت کی راہ میں پیش آئیں )۔
۲ ۔ گناہ پر صبر (سرکش و طغیان خیز گناہ اور شہوات پر ابھارنے والے اسباب کے مقابلے میں قیام کرنا)۔
۳ ۔ مصیبت پر صبر (ناگوار حوادث کے مقابلے میں ڈٹے رہنا، پریشان نہ ہونا اور حوصلہ نہ ہارنا)۔
ایسے موضوعات بہت کم ہیں جن کی صبر و استقامت کی طرح قرآن مجید مین تکرار و تاکید ہے۔ قرآن مجید میں تقریبا ستر مرتبہ صبر کے متعلق گفتگو ہوئی جن میں دس مقامات خود پیغمبر اکرم کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں ۔
بڑے بڑے جوانمردوں کے حالات زندگی گواہ ہیں کہ ان کی کامیابی کا اہم ترین یا واحد عامل صبر تھا جو لوگ اس خوبی سے بے بہرہ ہیں وہ بہت سے مصائب و آلام میں شکست کھاجاتے ہیں بلکہ کہاجاسکتا ہے کہ انسان کی پیش رفت اور ترقی میں جس قدر کردار صبر ادا کرتاہے۔ اتنا اسباب، استعداد اور ہوشیاری کا عمل دخل نہیں ۔
اسی بناء پرقرآن مجید میں نہایت تاکیدی انداز سے اس کا ذکر آیاہے۔ قرآن ایک مقام پر کہتاہے:
( انما یوفی الصبرون اجرهم بغیر حساب )
صابرین بے حساب اجر و جزا حاصل کریں گے۔ (زمر۔ ۱۰)
ایک اور مقام پر حوادث پر صبر کرنے کے بارے میں ہے:( ان ذلک من عزم الامور )
یہ محکم ترین امور میں سے ہے۔
در اصل استقامت اور پامردی انسان کے بلند ترین فضائل میں سے ہے اور اس کے بغیر باقی فضائل کی کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ اسی لئے نہج البلاغہ میں ہے:
علیکم بالصبر فان الصبر من الایمان کا الراس من الجسد و لا خیر فی جسد لا راس معه و لا فی ایمان لا صبر معه ۔
صبر و استقامت تمہارے لئے لازمی ہے کیونکہ ایما ن کے لئے صبر کی وہی اہمیت ہے جو بدن کے لئے سرکی، جیسے سرکے بغیر بدن کا کوئی فائدہ نہیں ایسے ہی صبر کے بغیر ایمان میں کوئی پائیداری نہیں اور نہ اس کا کوئی نتیجہ ہے۔(۱)
اسلامی روایات میں صبر کو اس لئے اعلی ترین قرار دیا گیاہے تا کہ انسان گناہ کے وسائل مہیا ہونے کے با وجود استقامت دکھائے اور لذت گناہ سے آنکھیں بند کرلے ۔
ابتدائی انقلابی مسلمان چاروں طرف سے طاقت ور، خونخوار اور بے رحم دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے لہذا محل بحث آیت میں انہیں خصوصیت سے حکم دیاگیا کہ مختلف حوادث کے مقابلے میں صبر و استقامت سے کام لیں ۔ خدا پر ایمان کی صورت میں نتیجہ شخصی استقلال، اعتماد اور اپنی مدد آپ کی صورت میں برآمد ہوتاہے۔ تاریخ اسلام نے اس حقیقت کی بڑی وضاحت سے نشاندہی کی ہے کہ یہی تمام کامیابیوں کی حقیقی بنیاد تھی۔
دوسری چیز جو مندرجہ بالا آیت میں صبر کے ساتھ خصوصی اہمیت سے متعارف کرائی گئی ہے نماز ہے ۔ اسی لئے اسلامی احادیث میں ہے:کان علی اذا اهاله امر فزع قام الی الصلوة ثم تلی هذه الایة و استعینوا بالصبر و الصلوة ۔
حضرت علی کو جب کوئی مشکل در پیش ہوتی تو نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے اور نماز کے بعد اس مشکل کو حل کرنے کے لئے نکلتے اور اس آیت کی تلاوت کرتے( و استعینوا بالصبر و الصلوة ) –(۲)
اس بات پر بالکل تعجب نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ جب انسان ایسے سخت حوادث اور ناقابل برداشت مشکلات سے دوچار ہوتو وہ ان کے سامنے اپنی طاقت اور استطاعت کو نا چیز سمجھتاہے اور قہرا وہ ایک ایسے سہارے کا محتاج ہوتاہے جوہر جہت سے غیر محدود اور لا متناہی ہو۔ نماز انسان کو ایسے ہی مبداء سے مربوط کردیتی ہے اور اس کا سہارا پاکر انسان مطمئن دل سے آسانی کے ساتھ مشکلات کی خوفناک موجوں کو توڑ کر نکل جاتاہے۔
اسی لئے مندرجہ بالا آیت میں در اصل دو اصول سکھائے گئے ہیں ایک خدا پر بھر و سہ کرنا جس کی طرف نماز اشارہ کرتی ہے اور دوسرا اپنی مدد آپ اور اپنے آپ پر اعتماد جسے صبر کے عنوان سے یاد کیاگیاہے۔
پا مردی ، صبر اور استقامت کے مسئلے کے بعد دوسری آیت میں شہداء کی ابدی اور ہمیشہ کی زندگی کے متعلق گفتگو کی گئی ہے جس کا صبر و استقامت سے قریبی ربط ہے۔
پہلے ان لوگوں (شہداء) کو مردہ کہنے سے منع کیاگیاہے فرمایا: جو را ہ خدا میں قتل ہوں اور شربت شہادت نوش کریں انہیں کبھی مردہ نہ کہو( و لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل الله اموات ) اس کے بعد مزید تاکید سے فرمایا: بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور و ادراک نہیں رکھتے( بل احیاء و لکن لا تشعرون ) ۔
عموما ہر تحریک میں ایک گروہ بز دل اور راحت طلب لوگوں کا ہوتاہے جو اپنے آپ کو ایک طرف لے جاتاہے اور کنارہ کش رہتاہے۔ یہ لوگ اتنا ہی نہیں کرتے کہ خود کام نہ کریں بلکہ دوسروں کو بھی بددل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ جب بھی کوئی ناخوشگوار حادثہ رونما ہوتاہے تو یہ لوگ اس پراظہار افسوس کرتے ہیں اور اسے اس تحریک اور قیام کیلئے بے فائدہ اور بے مصر ف ہونے کی دلیل قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ اس سے غافل ہیں کہ آج تک کوئی مقدس مقصد اور گراں قدر مشن قربانی یا قربانیوں کے بغیر حاصل نہیں ہوا اور یہ اس دنیا کی ایک سنت رہی ہے۔ قرآن کریم بار ہا ایسے لوگوں کے متعلق بات کرتاہے اور انہیں سخت سرزنش اور ملامت کرتاہے۔
اس قسم کی لوگوں کا ایک گروہ ابتدائے اسلام میں بھی تھا۔ جب کوئی شخص میدان جہاد میں شہادت کی سعادت حاصل کرتا تو یہ لوگ کہتے فلاں مرگیا اور اس کے مرنے پر اظہار افسوس کرکے دوسروں کے اضطراب کا سامان کرتے۔ خداوند عالم ایسی زہریلی گفتگو کے جواب میں ایک عظیم حقیقت سے پردہ اٹھاتاہے اور صراحت سے کہتاہے کہ تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ راہ خدا میں جان دینے والوں کو مردہ کہو۔ وہ زندہ ہیں ۔ وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں اور بارگاہ خدا سے معنوی غذا اور روزی حاصل کرتے ہیں ، ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں اور وہ اپنی کامیاب سرنوشت سے مکمل طور پر خوش و خرم ہیں لیکن تم لوگ جو عالم مادہ کی محدود چار دیواری میں محبوس و مقید ہو ان حقائق کا ادراک نہیں کرسکتے۔
____________________
۱- نہج البلاغہ ، کلمات قصار۸۲۔
۲- المیزان ، ج۱، ص۱۵۳، بحوالہ کتاب کافی
شہداء کی ابدی زندگی:
شہداء کی زندگی کیسی ہے، اس بارے میں مفسرین کے در میان اختلاف ہے۔ اس میں اختلاف یہ ہے کہ شہداء ایک طرح کی برزخی اور روحانی زندگی رکھتے ہیں کیونکہ ان کا جسم تو عموما منتشر ہوجاتاہے۔
امام صادق کے ارشاد کے مطابق ان کی زندگی ایک مثالی جسم کے ساتھ ہے (وہ بدن جو عام مادے سے ماوراء ہے لیکن اس بدن کے مشابہ ہے جس کی تفصیل سورہ مومنون کی آیہ ۱۰۰ کے ذیل میں آئے گی جس میں فرمایا گیاہے:( و من وراعهم برزخ الی یوم یبعثون ) ۔(۱)
بعض مفسرین اسے شہداء کے ساتھ مخصوص ایک غیبی زندگی قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس زندگی کی کیفیت اور انداز کا زیادہ علم نہیں رکھتے۔
کچھ مفسرین اس مقام پر حیات کو ہدایت اور موت کو جہالت کے معنی میں لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آیت کا معنی ہے کہ جو شخص راہ خدا میں قتل ہوجائے اسے گمراہ نہ کہو بلکہ وہ ہدایت یافتہ ہے۔
بعض شہداء کی دائمی زندگی کا مفہوم یہ قرار دیتے ہیں کہ ان کا نام اور مقصد زندہ رہے گا۔
جو تفسیر ہم بیان کرچکے ہیں اس کی طرف نظر کرنے سے واضح ہوجاتاہے کہ ان میں سے کوئی احتمال بھی قابل قبول نہیں نہ اس کی ضرورت ہے کہ مجازی معنی میں آیت کی تفسیر کی جائے اور نہ برزخ کی زندگی کو شہداء سے مخصوص قرار دینے کی ضرورت ہے بلکہ شہداء ایک خاص قسم کی برزخی اور روحانی زندگی کے حامل ہیں انہیں رحمت پروردگار کی قربت کا امتیاز حاصل ہے اور وہ طرح طرح کی نعمات سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔
مکتب شہید پرور:
مسئلہ شہادت کی زیر نظر آیت اور قرآن کی دیگر آیات کے ذریعے اسلام نے ایک نہایت اہم اور تازہ عامل کے لئے میدان تیار کیاہے ۔ یہ وہ عامل ہے جس سے حق کے لئے باطل کے مقابلے میں جنگ کی سکت پیدا ہوتی ہے ۔ یہ ایسا عامل ہے جس کی کار کردگی ہر قسم کے ہتھیار سے بڑھ کرہے اور یہ ہر چیز سے زیادہ اثر انگیز ہے۔ یہ عامل ہر دور کے خطرناک ترین اور وحشت ناک ترین ہتھیاروں کو شکست سے دوچار کردیتاہے ۔ یہی حقیقت ہم نے اپنی آنکھوں سے اپنے ملک ایران میں انقلاب اسلامی کی پوری تاریخ میں بڑی وضاحت سے دیکھی ہے کہ عشق شہادت ہر قسم کے ظاہری اسباب کی کمی کے باوجود مجاہدین اسلام کی کامیابی کا عامل بنا۔
اگر ہم تاریخ اسلام اور ہمیشہ رہنے والے انقلابات میں اسلامی جہاد اور مجاہدین کے ایثار و قربانی کی تفصیلات پر غور کریں جنہوں نے اپنے پورے وجود سے اس دین پاک کی سربلندی کے لئے جانفشانی دکھائی ہے، تو ہمیں نظر آئے گا کہ ان تمام کامیابیوں کی ایک اہم وجہ اسلام کا یہ عظیم درس ہے کہ راہ خدا اور طریق حق و عدالت میں شہادت کا معنی فنا، نابودی اور مرنا نہیں بلکہ اس کا مطلب ہمیشہ کی زندگی اور ابدی افتخار و اعزاز ہے۔
جن مجاہدین نے اس مکتب عظیم سے ایسا درس یاد کیاہے ان کا مقابلہ کبھی عام جنگجوؤں سے نہیں کیاجاسکتا۔ عام سپاہی اپنی جان کی حفاظت کی فکر میں رہتاہے لیکن حقیقی مجاہد کا منشا ء اپنے مکتب کی حفاظت ہوتاہے اور وہ پروانہ دار جان دیتا، قربان ہوتا اور فخر کرتاہے۔
برزخ کی زندگی اور روح کی بقاء:
س آیت سے انسان کی حیات برزخ (موت کے بعد اور قیامت سے پہلے کی زندگی) کا بھی واضح ثبوت ملتاہے اور یہ ان لوگوں کے لئے جواب ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن نے روح کی بقاء اور برزخ کی زندگی کے متعلق کوئی گفتگو نہیں کی۔
اس موضوع کی مزید تشریح، شہدا کی حیات جاوداں ، خدا کے ہاں اس کا بدلہ اور راہ خدا میں قتل ہونے والوں کا عظیم مرتبہ تفسیر نمونہ جلد سوم (سورہ آل عمران آیہ ۱۶۹ کے ذیل) میں پڑھیئے گا۔
____________________
۱ تفسیر نور الثقلین، ج۳، ص۵۵۹، سورہ مومنون آیہ ۱۰۰ کے ذیل میں ۔
آیات ۱۵۵،۱۵۶،۱۵۷
۱۵۵ ۔( وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِنْ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنْ الْاٴَمْوَالِ وَالْاٴَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرْ الصَّابِرِینَ )
۵۶ ا ۔( الَّذِینَ إِذَا اٴَصَابَتْهُمْ مُصِیبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَیْهِ رَاجِعُونَ )
۱۵۷ ۔( اٴُوْلَئِکَ عَلَیْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْمُهْتَدُونَ )
ترجمہ
۱۵۵ ۔ یقینا ہم تم سب کی خوف، بھوک، مالی و جانی نقصان اور پھلوں کی کمی جیسے امور سے آزمائش کریں گے اور صبر واستقامت دکھانے والوں کو بشارت دیجئے۔
۱۵۶ ۔ وہ جنہیں جب کوئی مصیبت آپہنچے تو کہتے ہیں ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ جائیں گے۔
۱۵۷ ۔ یہ وہی لوگ ہیں کہ الطاف و رحمت الہی جن کے شامل حال ہے اور یہی ہدایت یافتہ ہیں ۔
طرح طرح کی خدائی آزمائش
راہ خدا میں شہادت، شہداء کی ابدی زندگی اورصبر و شکر جن میں سے ہر ایک خدائی آزمائش کے مختلف رخ ہیں کے ذکر کے بعد اس آیت میں بطور کلی آزمائش اور اس کی مختلف صورتوں کی طرف اشارہ کیاگیاہے اور اس کے یقینی اور غیر مبدل ہونے کا تذکرہ فرمایا گیاہے۔ ارشاد ہوتاہے: یہ امر مسلم ہے کہ ہم تمہیں چند ایک امور مثلا خوف، بھوک، مالی و جانی نقصان اور پھلوں کی کمی کے ذریعے آزمائیں گے( وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِنْ الْخَوْفِ و الجوع و نقص من الاموال و الانفس و الثمرات ) ۔
چونکہ ان امتحانات میں کامیابی صبر و پائیداری کے بغیر ممکن نہیں لہذا آیت کے آخر میں فرمایا: اور بشارت دیجئے صبر و استقامت دکھانے والوں کو( و بشر الصابرین ) ۔
اور یہ ایسے افراد ہیں جو ان سخت آزمائشوں سے خوبصورتی سے عہدہ برآ ہوتے ہیں ۔ انہیں بشارت دینا چاہئیے باقی رہے سست مزاج اور بے استقامت لوگ تو وہ آزمائشوں کے مقامات سے روسیاہ ہوکر واپس آتے ہیں ۔ بعد کی آیت صابرین کے بارے میں زیادہ تشریح کرتی ہے۔ ارشاد ہوتاہے: وہ ایسے اشخاص ہیں کہ جب کسی مصیبت کا سامنا کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم خدا کی لئے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کرجائیں گے( الذین اذآ اصابتهم مصیبة قالوا انا لله و انا الیه راجعون ) ۔
اس حقیقت کی طرف دیکھتے ہوئے کہ ہم اس کے لئے ہیں ہمیں یہ درس ملتاہے کہ نعمات زائل ہونے سے ہمیں کوئی دکھ نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ یہ تمام نعمتیں بلکہ خود ہمارا وجود اس سے تعلق رکھتاہے۔ آج وہ ہمیں کوئی چیز بخشتاہے اور کل واپس لے لیتاہے ، ان دونوں میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہے۔
اس واقعیت کی طرف توجہ رکھتے ہوئے کہ ہم سب اسی کی بارگاہ میں لوٹ کر جائیں گے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ یہ ہمیشہ رہنے کا گھر نہیں ہے۔ ان نعمتوں کا زوال اور ان عطیات کی کمی بیشی سب کچھ بہت جلد گذرجانے والی چیزیں ہیں اور یہ تکامل کا ذریعہ ہیں لہذا ان دو بنیادی اصولوں کی طرف توجہ کرنا۔ صبر و استقامت کے جذبے کو بہت تقویت بخشتا ہے۔
واضح ہے انا للہ و انا الیہ راجعون سے مراد زبانی ذکر نہیں ذکر نہیں بلکہ اس کی حقیقت اور روح کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ اس کے مفہوم میں توحید و ایمان کی ایک دنیا آباد ہے۔
زیر بحث آخری آیت میں عظیم امتحانات میں صبر کرنے والوں اور پامردی دکھانے والوں کے لئے خدا تعالی کے عظیم لطف و کرم کو بیان کیاگیاہے۔ ارشاد ہوتاہے: یہ وہ لوگ ہیں جن پر خدا کا لطف و کرم اور درود و صلوت ہے( اٴُوْلَئِکَ عَلَیْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ قف ) ۔(۱)
یہ الطاف اور رحمتیں انہیں قوت بخشتی ہیں کہ وہ اس پر خوف و خطر راستے میں اشتباہ اور انحراف میں گرفتار نہ ہوں ۔ لہذا آیت کے آخر میں فرمایا: اور وہی ہدایت یافتہ ہیں( اٴُوْلَئِکَ هُمْ الْمُهْتَدُونَ ) ۔
ان چند آیات میں خدا کی طرف سے عظیم امتحان اور اس کے مختلف رخ نیز کامیابی کے عوامل اور امتحان کے نتائج کو واضح طور پر بیان کیاگیاہے
____________________
۱- المنار کا مؤلف لکھتاہے کہ صلوت سے مراد بہت زیادہ تکریم، کامیابیاں ، خدا کے یہاں مقام بلند اور نبدگان خدا میں سربلندی ہے اور ابن عباس سے منقول ہے کہ اس سے مراد گناہوں کی بخشش ہے (المنار، ج۲، ص۴۰) لیکن واضح ہے کہ صلوت کا مفہوم وسیع ہے اس میں یہ تمام امور، رحمت کا سایہ اور نعمات الہی بھی شامل ہیں ۔
خدا لوگوں کی آزمائش کیوں کرتاہے:
آزمائش اور امتحان کے مسئلے پر بہت گفتگو کی گئی ہے۔ پہلے پہل جو سوال ذہن میں ابھر تا ہے یہ ہے کہ کیا آزمائش اور امتحان کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ جو چیزیں غیر واضح ہیں وہ واضح ہو جائیں اور ہماری جہالت و نادانی کے پلڑے میں کمی ہوسکے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر خداوند عالم جس کا علم تمام چیزوں پر محیط ہے اور جو ہر شخص اور ہر شے کے اندرونی اور بیرونی اسرار سے آگاہ ہے اور زمین و آسمان کے غیوب کو اپنے بے پایاں علم سے جانتاہے، کیوں امتحان لیتاہے۔ کیا کوئی چیز اس سے مخفی ہے جو امتحان کے ذریعے آشکار ہوجائے گی۔
اس اہم سوال کا جواب تلاش کرناچاہئیے۔
آزمائش اور امتحان کا مفہوم خدا کے بارے میں اس مفہوم سے بہت مختلف ہے جو ہمارے در میان مروج ہے۔ ہماری آزمائشوں کا مقصود وہی ہے جو اوپر بیان کیاجاچکاہے یعنی مزید معلومات حاصل کرنا اور ابہام و جہل کو دور کرنا لیکن خدا کی آزمائش در حقیقت پرورش و تربیت ہی کا دوسرا نام ہے جس کی وضاحت یوں ہے کہ قرآن میں بیس سے زیادہ مقامات پر امتحان کی نسبت خدا تعالی کی طرف دی گئی ہے۔ یہ ایک قانون کلی ہے اور پروردگار کی دائمی سنت ہے کہ وہ پوشیدہ صلاحیتوں کو ظاہر کرتاہے (جسے قوت سے فعل تک پہنچنے کا عمل کہتے ہیں )۔ وہ بندوں کو تربیت دینے کے لئے آزماتاہے جیسے فولاد کو زیادہ مضبوط بنانے کے لئے بھٹی میں ڈالا جاتاہے۔ اصطلاح میں اسے آب دینا کہتے ہیں اسی طرح خدا تعالی آدمی کو شدید حوادث کی بھٹی میں پرورش و تربیت کے لئے ڈالتاہے اور اسے مشکلات کا مقابلہ کرنے لئے تیار کرتاہے۔
در اصل خدا کا امتحان اس تجربہ کا باغبان کی مانند ہے جو مستعد دانوں کو تیار زمینوں میں ڈالتاہے۔ یہ دانے طبیعی عطیات سے استفادہ کرتے ہوئے نشو و نما پاتے ہیں اور آہستہ آہستہ مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں ، حوادث سے بر سر پیکار رہتے ہیں اور سخت طوفان، کمر توڑ سردی اور جلادینے والی گرمی کے سامنے کھڑے رہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کی شاخوں پر خوبصورت پھول کھلتے ہیں یا وہ تنومند اور پر ثمر درخت بن جاتے ہیں ۔
فوجی جوانوں کو جنگی نقطہ نظر سے طاقت و ربنا نے کے لئے مصنوعی جنگی مشقیں کرائی جاتی ہیں اور انہیں طرح طرح کی مشکلات بھوک، پیاس ، گرمی، سردی، دشوار حوادث اور سخت مسائل سے گزاراجاتاہے تاکہ وہ قومی اور پختہ کار ہوجائیں ۔ خدا کی آزمائشوں کی رمز بھی یہی ہے۔
قرآن مجید ایک مقام پراس حقیقت کی تصریح کرتے ہوئے کہتاہے:
( وَلِیَبْتَلِیَ اللهُ مَا فِی صُدُورِکُمْ وَلِیُمَحِّصَ مَا فِی قُلُوبِکُمْ وَاللهُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِة )
جو تمہارے سینوں میں ہے خدا اس کی آزمائش کرتاہے تا کہ تمہارے دل مکمل طور پر خالص ہوجائیں اور وہ تمہارے سب اندرونی رازوں سے واقف ہے۔ (آل عمران۔ ۱۵۴)
حضرت امیر المؤمنین علی نے امتحانات الہی کی بڑی پر مغز تعریف فرمائی ہے۔ آپ فرماتے ہیں :
و ان کان سبحانه اعلم بهم من انفسهم و لکن لتظهر الافعال التی بها یستحق الثواب و العقاب
اگر چہ بندوں کی نفسیات خود ان سے زیادہ جانتاہے۔ پھر بھی انہیں آزماتاہے تا کہ اچھے اور برے کا م ظاہر ہوں جو جزا و سزا کا معیار ہیں ۔(۱)
یعنی انسان کی اندرونی صفات ہی ثواب و عقاب کا معیار نہیں جب تک کہ وہ انسان کے عمل و کردار سے ظاہر نہ ہوں ۔ خدا اپنے بندوں کو آزماتاہے تا کہ جو کچھ ان کی ذات میں پنہاں ہے وہ عمل میں آجائے اور استعداد، قوت سے فعل تک پہنچ جائے اور یوں وہ جزا یا سزا کا مستحق ہوجائے۔ اگر خدا کی آزمائش نہ ہوتی تو یہ استعدادیں ظاہر نہ ہوتیں اور انسانی شجر کی شاخوں پر اعمال کے پھل نہ اُگتے۔ اسلامی منطق میں یہی خدائی آزمائش کا فلسفہ ہے۔
____________________
۱- نہج البلاغہ، کلمات قصار، جملہ ۹۳
خدا کی آزمائش ہمہ گیر ہے:
جہان ہستی کا نظام چونکہ تکامل، پرورش اور تربیت کا نظام ہے اور تمام موجودات تکامل کے سفر میں ہیں ۔ درخت اپنی مخفی استعداد پھل کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں ۔ طوفان آتے ہیں تو سمندر کی لہریں طرح طرح کی معدنیات کو ظاہر کرتی ہیں جس سے سمندر کی استعداد کا پتہ چلتاہے۔
اس عمومی قانون کے مطابق انبیاء سے لے کر عامة الناس تک تمام لوگوں کی آزمائش ہونا چاہئیے تا کہ وہ اپنی استعداد ظاہر کریں ۔ خدا کے امتحانات کی مختلف صورتیں ہیں بعض مشکل ہیں اور بعض آسان ہیں لہذا ان کے نتائج بھی مختلف ہوتے ہیں ۔ بہرحال آزمائش اور امتحان سب کے لئے ہے۔
قرآن مجید انسانوں کے عمومی امتحان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے:
( اٴَحَسِبَ النَّاسُ اٴَنْ یُتْرَکُوا اٴَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لاَیُفْتَنُون )
کیا لوگوں کا گمان ہے کہ وہ کہیں گے کہ ہم ایمان لائے اور انہیں یوں ہی چھوڑ دیاجائے گا اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا۔(عنکبوت۔ ۲)
قرآن نے انبیاء کے امتحانات کا بھی ذکر کیاہے، فرماتاہے:( وَإِذْ ابْتَلَی إِبْرَاهِیمَ رَبُّهُ )
خدا نے ابراہیم کا امتحان لیا۔ (بقرہ۔ ۱۲۴)
ایک اور مقام پر ہے:( فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهُ قَالَ هَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّی لِیَبْلُوَنِی اٴَاٴَشْکُرُ اٴَمْ اٴَکْفُرُ )
جب سلیمان کے پیروکار نے پلک جھپکنے میں دور کی مسافت سے تخت بلقیس حاضر کردیا تو سلیمان نے کہا یہ لطف خدا ہے تا کہ میرا امتحان کرے کہ کیامیں اس کا شکر ادا کرتاہوں کہ کفران نعمت کرتاہوں ۔ (سورہ نمل۔ ۴۰)
آزمائش کے طریقے:
مندرجہ بالا آیت میں ان امور کے چند نمونے بیان ہوئے ہیں جن سے انسان کا امتحان ہوتاہے۔ ان میں خوف ، بھوک، مالی نقصان جان دینا شامل ہیں لیکن آزمائش انہی طریقوں میں منحصر نہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی قرآن میں الہی آزمائش کے کچھ طریقے بیان کئے گئے ہیں ۔ مثلا اولاد، انبیاء، احکام الہی حتی کہ بعض خواب بھی آزمائش ہی کا ذریعہ ہیں ۔ اسی طرح تمام نیکیاں اور برائیاں بھی خدائی آزمائشوں میں شمار ہوتی ہیں :( و نبلوکم بالشر و الخیر ) ۔ (انبیاء۔ ۳۵)
اس بناء پر زیر نظر آیت میں امتحانات کے جو طریقے بیان کئے گئے ہیں ۔ انہی پر بس نہیں بلکہ یہ خدائی آزمائشوں کے واضح نمونے ہیں ۔
ظاہر ہے کہ امتحانا ت کے نتیجے میں لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوجائیں گے ایک جو امتحانات میں کامیاب ہوجائے گا اور دوسرا جورہ جائے گا۔ مثلا اگر کہیں مرحلہ خوف در پیش ہوتو ایک گروہ اپنے تئیں اس سے دور رکھتاہے تا کہ اسے کوئی تھوڑا سا ضرر بھی نہ پہنچے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مسئولیت اور جواب دہی سے بچتے ہیں ۔ دوستی کے وسیلے نکال کریا بہانے بناکر جنگوں سے بھاگ جاتے ہیں ۔ مثلا قرآن میں ان کی بات نقل کی گئی ہے:( نخشی ان تصیبنا دآئرة )
ہم ڈرتے ہیں کہ ہمیں کوئی ضرر نہ پہنچے۔ (مائدہ۔ ۵۲)
یہ کہہ کر و ہ خدائی ذمہ داری سے روگردانی کرلیتے ہیں ۔
کامیاب ہونے والے وہ لوگ ہیں جو خوف کے عالم میں ڈٹے رہتے ہیں اور ایمان و توکل کے ساتھ بڑھ چڑھ کر اپنے آپ کو جان نثاری کے لئے پیش کرتے ہیں ۔ قرآن میں آیا ہے:
( الَّذِینَ قَالَ لَهُمْ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَکُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِیمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَکِیل )
جب لوگ اہل ایمان سے کہتے تھے کہ حالات خطرناک ہیں اور تمہارے دشمن تیارہیں تم عقب نشین ہوجاؤ تو ان کے ایمان و توکل میں اضافہ ہوجاتا اور وہ کہتے ہمارے لئے خدا کافی ہے اور وہ کیسا اچھا کارسازہے۔ (آل عمران۔ ۱۷۳)
مشکلات اور آزمائشی عوامل جن کا ذکر زیر بحث آیت میں آیاہے مثلا بھوک اور مالی و جانی نقصان، ان میں بھی سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اس سلسلے کے کچھ نمونے متن قرآن میں آئے ہیں جنہیں اپنے مقام پر بیان کیاجائے گا۔
آزمائشوں میں کامیابی کا راز:
یہاں ایک اور سوال سامنے آتاہے اور وہ یہ کہ جب تمام انسان ایک وسیع خدائی امتحان میں شریک ہیں تو ان میں کامیابی کا راستہ کو نساہے۔
محل بحث آیت اس سوال کا جواب دیتی ہی اور قرآن کی کئی ایک دیگر آیات بھی اس مسئلے کو واضح کرتی ہےں ۔ اس سلسلے میں چند باتیں اہم ہیں جو ذیل میں بیان کی جاتی ہیں ۔
۱ ۔ امتحانات میں کامیابی کے لئے پہلا قدم وہی ہے جو اس چھوٹے سے پر معنی جملے میں بیان کیاگیاہے: و بشر الصبرین۔یہ جملہ صراحت کرتاہے کہ اس راہ میں صبر و استقامت کامیابی کی رمز ہے اسی لئے صابرین اور با استقامت لوگوں کو کامیابی کی بشارت دی جارہی ہے۔
۲ ۔ اس جہان کے حوادث، سختیاں اور مشکلیں گزرجانے والی ہیں اور یہ دنیا گزرگاہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ اس امر کی طرف توجہ کامیابی کا دوسرا عامل ہے۔ جسے اس جملہ میں بیان کیاگیاہے:( انا الله و انا الیه راجعون )
ہم خدا کے لئے ہیں اور ہماری بازگشت اسی کی طرف ہے۔
اصولی طور پر بہ جملہ جسے کلمہ( استرجاع) کے نام سے یاد کیاجاتاہے انقطاع الی اللہ یعنی تمام چیزوں اور تمام اوقات میں اس کی ذات پاک پر بھر و سہ کرنا، کے عالی ترین دروس کانچوڑہے۔ اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بزرگان دین بڑے بڑے مصائب کے وقت قرآن سے الہام لیتے ہوئے یہ جملہ زبان پر جاری کرتے تھے تو یہ اس لئے ہوتاتھا کہ مصائب کی شدت انہیں ہلانہ سکے اور خدا کی مالکیت اور تمام موجودات کی اس کی طرف بازگشت پر ایمان کے نتیجے میں وہ ان تمام حوادث کو گوارا کرلیں اور با استقامت رہیں ۔
امیر المؤمنین علی اس جملے کی تفسیر میں فرماتے ہیں :ان قولنا انا الله اقرار علی انفسنا بالملک و قولنا و انا الیه راجعون اقرار علی انفسنا بالهلک ۔
یہ جو ہم کہتے ہیں انا اللہ تو یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ ہم اس کی ملکیت ہیں اور یہ جو کہتے ہیں انا الیہ راجعون تو یہ اس کا اقرار ہے کہ ہم فنا اور ہلاک ہوجائیں گے۔
۳ ۔ قوت الہی اور الطاف الہی سے مدد طلب کرنا ایک اور اہم عامل ہے کیونکہ عام لوگ جب حوادث سے دوچار ہوتے ہیں تو توازن بر قرار نہیں رکھ پاتے اور اضطراب میں گرفتار ہوجاتے ہیں لیکن خدا کے دوستوں کا چونکہ واضح پروگرام اور ہدف ہوتاہے لہذا وہ متحیر اور سرگرداں ہونے کی بجائے اطمینان و آرام سے اپنی راہ چلتے رہتے ہیں اور خدا بھی انہیں زیادہ روشن بینی عطا فرماتاہے تا کہ انہیں صحیح راستے کے انتخاب میں اشتباہ نہ ہو جیسا کہ قرآن کہتاہے:
( و الذین جاهدوا فینا لنهدینهم سبلنا )
جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کرتے ہیں ۔
(عنکبوت۔ ۶۹)
۴ ۔ گذشتہ لوگوں کی تاریخ پر نظر رکھنا اور ان کے حالات کو سمجھنا خدائی آزمائشوں میں روح انسانی کی آمادگی اور ان امتحانوں میں کامیابی کے لئے بہت مؤثر ہے۔
انسان در پیش آنے والے مسائل میں اپنے آپ کو تنہا محسوس کرے تو ان سے مقابلے کی قوت کمزور پڑجاتی ہے لیکن اگر اس حقیقت کی طرف توجہ دی جائے کہ تاریخ کے طویل دور میں سب اقوام کے لئے تمام طاقت فرسا مشکلات اور خداکی سخت آزمائشیں موجود رہی ہیں تو ہر قوم و ملت کے امتحانات کا نتیجہ انسان کی استقامت میں اضافے کا باعث بن سکتاہے۔
اسی بناء پر قرآن مجید پیغمبر کو رغبت دلانے نیز ان کی اور مؤمنین کی روحانی تقویت کے لئے گذشتہ لوگوں کی تاریخ اور ان کی زندگی کے دردناک حوادث کی طرف اشارہ کرتاہے۔ مثلا کہتاہے:( و لقد استهزی برسل من قبلک )
اگر آپ سے طنز و استہزاء کیاجاتاہے تو گھبرائیے نہیں گذشتہ پیغمبروں سے بھی جاہل لوگ ایسا کرتے رہے ہیں ۔ (انعام ۔ ۱۰)
ایک اور مقام پر فرماتاہے:( و لقد کذبت رسل من قبلک فصبروا علی ما کذبوا و اوذوا حتی آتهم نصرنا )
اگر آپ کی تکذیب کی جاتی ہے تو تعجب کی بات نہیں ۔ گذشتہ انبیاء کی بھی تکذیب کی گئی ہے لیکن انہوں نے مخالفین کی اس تکذیب کے مقابلے میں اور جب انہیں آزار و تکلیف پہنچائی گئی پامردی و استقامت دکھائی۔ آخر کار ہماری نصرت و مدد ان تک آپہنچی۔ (انعام ۔ ۳۴)
۵ ۔ اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونا کہ یہ تمام حوادث خدا کے سامنے رونما ہورہے ہیں اور وہ تمام امور سے آگاہ ہے پائیداری کے لئے ایک اور عامل ہے۔ جو لوگ کسی سخت مقابلے میں شریک ہوں جب انہیں احساس ہو کہ ہمارے کچھ دوست میدان مقابلہ کے اطراف میں موجود ہیں ، مشکلات برداشت کرنا ان کے لئے آسان ہوجاتاہے اور وہ زیادہ شوق و ذوق سے مشکلات کے مقابلہ کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ۔
جب چند تماشائیوں کا وجود روح انسانی کو اتنا متاثر کرسکتاہے تو اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونا کہ خداوند عالم میدان آزمائش میں میری کاوشوں کو دیکھ رہاہے، اس جہاد کو جاری رکھنے کے لئے کس قدر عشق و لولہ پیدا کرے گا۔
قرآن کہتاہے : جب حضرت نوح کو اپنی قوم کی طرف سے نہایت سخت رد عمل کا سامنا ہوا تو انہیں کشتی بنانے کا حکم دیاگیا۔ قرآن کے الفاظ میں :( و اصنع الفلک باعیننا )
ہمارے سامنے کشتی بناؤ۔ (ہود۔ ۳۷)
باعیننا(ہمارے علم کی آنکھوں کے سامنے) اس لفظ نے حضرت نوح کو اس قدر قلبی قوت عطاکی کہ دشمنوں کا سخت رو یہ اور استہزاء ان کے پائے استقلال میں ذراسی بھی لرزش پیدا نہ کرسکا۔
سید الشہداء مجاہدین راہ خدا کے سردار حضرت امام حسین سے یہی مفہوم منقول ہے میدان کربلا میں جب آپ کے کچھ عزیز دردناک طریقے سے جام شہادت نوش کرچکے تو آپ نے فرمایا:
ہون علی ما نزل بی انہ بعین اللہ
میں جانتاہوں کہ یہ سب کچھ علم خدا کی نگاہوں کے سامنے انجام پارہاہے لہذا انہیں برداشت کرنا میرے لئے آسان ہے۔(۱)
____________________
۱- بحار الانوار ، ج۴۵ ص۴۶
نعمت و بلاکے ذریعے امتحان:
یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہئیے کہ خدا کے امتحانات ہمیشہ سخت اور ناگوار حوادث کے ذریعے ہی ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات خدا فراواں نعمتوں اور زیادہ کامیابیوں کے ذریعے بھی اپنے بندوں کو آزماتاہے جیسا کہ قرآن کہتاہے:
( و نبلوکم بالشر و الخیر فتنة )
اور ہم تمہارا امتحان برائیوں اور اچھائیوں کے ذریعے لیں گے۔ (انبیاء۔ ۳۵)
ایک اور مقام پر حضرت سلیمان کا قول ہے:( هذا من فضل ربی لیبلونی ء اشکر ام اکفر ) ۔
یہ میرے پروردگار کا فضل ہے۔ وہ چاہتاہے مجھے آزمائے کہ میں اس نعمت پر اس کا شکر بجالاتا ہوں کہ کفران نعمت کرتاہوں ۔ (نمل۔ ۴۰)
چند دیگر نکات بھی اس مقام پرقابل توجہ ہیں :
(!) یہ ضروری نہیں کہ سب لوگوں کو سب طریقوں سے آزمایاجائے بلکہ ممکن ہے ہر گروہ کا ایک چیز سے امتحان ہو کیونکہ انفرادی اور اجتماعی طور پر حالات اور طبائع کا لحاظ ضروری ہے۔
(ب) ہوسکتاہے کہ ایک انسان کچھ امتحانات سے تو احسن طور پر کامیاب ہو جب کہ کچھ امتحانات میں سخت ناکامی سے دوچار ہو۔
(ج) یہ بھی ہوسکتاہے کہ ایک شخص کا امتحان دوسرے شخص کے امتحان کا ذریعہ ہو۔ مثلا خداوند عالم کسی کو اس کے فرزندد لبند کی مصیبت میں ڈال کر آزماتا ہے اور یہی آزمائش دوسروں کو بھی میدان امتحان میں لے آتی ہے کہ وہ اس سے ہمدری کے تقاضے پورے کرتے ہیں یا نہیں اور مصیبت زدہ کے درد و الم میں اس کی کمک کی کوشش کرتے ہیں یا نہیں
(د) جیسا کہ اشارہ کیا جاچکاہے خدائی امتحانات ہمہ گیر ہوتے ہیں یہاں تک کہ انبیاء بھی ان سے مستثنی نہیں بلکہ ان کی آزمائش ، ان کی مسئولیت اور جواب دہی کی سنگینی کے پیش نظردوسروں سے کئی گنا سخت ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی کئی سورتوں کی آیات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ انبیاء میں سے ہر کوئی اپنے حصے کے مطابق آزمائشوں کی گرم بھٹی میں ڈالا کیا۔ یہاں تک کہ ان میں بعض تو مقام رسالت پر فائز ہونے سے پہلے ایک طویل عرصہ تک مختلف آزمائشوں میں مبتلا رہے تا کہ مکمل طور پر قوی ہوجائیں اور لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے اپنی تیاری مکمل کرلیں ۔(۱)
مکتب انبیاء کے پیروکاروں میں بھی میدان امتحان میں صبر و استقامت کی ایسی درخشاں مثالیں موجود ہیں جو دوسروں کے لئے نمونہ اور اسوہ بن سکتی ہیں ۔
ام عقیل ایک دیہاتی مسلمان عورت تھی۔ اس کے پاس دو مہمان آئے۔ اس وقت اس کا بیٹااونٹوں کے ساتھ صحرا کی طرف گیا ہواتھا۔ اسے وقت اسی اطلاع ملی کہ ایک غضب ناک اونٹ نے اس کے بیٹے کو کنویں میں پھینک دیاہے اور وہ مرگیاہے۔ بیٹے کی موت کی خبر لانے والے شخص کو مومنہ نے کہا سواری سے اتر آؤ اور مہمانوں کی پذیرائی میں میری مدد کرو۔ اس کے پاس ایک بھیڑ تھی۔ اس نے وہ اس شخص کو ذبح کرنے کے لئے دی۔ کھانا تیار ہوگیا اور مہمانوں کے پاس رکھ دیاگیا۔ وہ کھانا کھاتے اور اس کے صبر و استقامت پر تعجب کرتے۔ حاضرین میں سے ایک شخص کہتاہے جب ہم کھانا کھانے سے فارغ ہولئے تو وہ مومنہ ہمارے پاس آئی ارو پوچھنے لگی تم میں سے کوئی شخص ہے جو قرآن سے اچھی طرح واقف ہو۔ ایک شخص کہنے لگا! جی ہاں ، میں علم رکھتاہوں ۔ وہ کہنے لگی: قرآن کی کچھ ایسی آیات تلاوت کرو جو میرے بیٹے کی موت پر میرے دل کی تسلی کا باعث بنیں ۔ وہ کہتاہے: میں نے ان آیات کی تلاوت کی:
( و بشر الصبرین الذین اصابتهم مصیبة قالوآ انا الله و انا الیه راجعون اولئک علیهم صلوات من ربهم رحمة و اولئک هم المهتدون )
اس عورت نے ان سے رخصت چاہی اور پھر قبلہ رخ کھڑی ہوگئی اور چند رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد بارگاہ الہی میں یوں گویا ہوئی۔( اللهم انی فعلت ما امرتنی فانجزلی ما وعد تنی )
خدایا! میں نے وہ کچھ کیا جس کا تونے حکم دیاہے اور صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور تونے جس رحمت و صلوات کا وعدہ کیا ہے وہ مجھے عطا فرما۔
اس کے بعد اس نے مزید کہا: اگر ایسا ہوتا کہ کوئی اس جہاں میں کسی کے لئے زندہ رہ سکتا۔
حاضرین میں سے ایک کہتاہے : ہیں نے سوچا کہے گی: میرا بیٹا میرے لئے رہ جاتا۔ لیکن میں نے دیکھا کہ وہ کہہ رہی ہے : پیغمبر اسلام اپنی امت کے لئے باقی رہ جاتے۔(۲)
____________________
۱- مقام رسالت پر فائز ہونے سے پہلے سے یہاں مراد (اعلان رسالت سے قبل) ہے۔ (مترجم)
۲- سفینة البحار، ج۲، ص۷ (مادہ صبر)
آیت ۱۵۸
۱۵۸ ۔إ( ِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اٴَوْ اعْتَمَرَ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْهِ اٴَنْ یَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَإِنَّ اللهَ شَاکِرٌ عَلِیم )
ترجمہ
۱۵۸ ۔ صفا و مروہ خدا کے شعائر اور نشانیوں میں سے ہیں لہذا جولوگ خانہ خدا کا حج کریں یا عمرہ بجالائیں ان کے لئے کوئی ہرج نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کا طواف کریں (اور سعی کریں اور مشرکین نے غیر مناسب طور پر ان پر جو بت نصب کررکھے ہیں ان سے دونوں مقامات مقدسہ کی عظمت و حیثیت میں ہرگز کوئی کمی نہیں ہوئی) اور جو لوگ حکم خدا کی بجاآوری کے لئے اعمال خیر بجالائیں خدا ن کا قدردان ہے اور ان کے کردار سے آگاہ ہے۔
شان نزول
ظہور اسلام سے قبل اور اسی طرح بعد تک بت پرست مشرکین مناسک حج ادا کرنے مکہ آتے تھے اور وہ مراسم جن کی بنیاد حضرت ابراہیم نے رکھی تھی، ان کے ساتھ کچھ خرافات اور شرک آلود افعال بھی بجالاتے تھے۔ مراسم حج میں عرفات میں قیام، قربانی، طواف اور صفا و مروہ کے در میان سعی کرنا شامل تھا لیکن ان اعمال کی صورت کافی بگڑچکی تھی۔ اسلام نے پھر سے اس پروگرام کی اصلاح کی۔ صحیح اور شرک سے پاک مراسم کو تو باقی رکھا لیکن خرافات پر خط بطلان کھینچ دیا۔
ان اعمال و مناسک میں جو انجام دیے جاتے تھے دو مشہور پہاڑیوں صفا و مروہ کے در میان سعی کرنا، یعنی چلنا بھی شامل تھا۔
شیعہ اور اہل تسنن دونوں کی بہت سی روایات میں ہے کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین نے کوہ صفا پر ایک بہت بڑا بت نصب کررکھا تھا جس کا نام اساف تھا۔ کو مروہ پر ایک اور بت گاڑاگیاتھا۔ جس کا نام نائلہ تھا۔ سعی کرتے وقت وہ ان دونوں پہاڑیوں پر چڑھتے اور ان بتوں کو متبرک سمجھتے ہوئے مس کرتے ۔ مسلمان اس وجہ سے صفاء و مروہ کے در میان سعی کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ موجودہ حالات میں صفا و مروہ کے در میان سعی کرنا کوئی ٹھیک بات نہیں ۔
اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس نے بتایا کہ صفا و مروہ اللہ کے شعائر اور نشانیوں میں اگر کچھ نادان اور بیوقوف لوگوں نے انہیں بتوں کی نجاست سے آلودہ کررکھاہے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ مسلمان سعی جیسے فریضہ کو ترک کردیں ۔اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ آیت کب نازل ہوئی۔ کچھ روایات کی بناء پر عمرة القضا (سات ہجری) کے وقت نازل ہوئی۔ اس سفر میں پیغمبر کی مشرکین کے ساتھ ایک شرط یہ تھی کہ وہ ان دونوں بتوں کو صفا و مروہ سے اٹھالیں گے انہوں نے اس شرط پر عمل کیا لیکن دوبارہ اسی جگہ نصب کردیا۔ اس وجہ سے بعض مسلمان صفا و مروہ کے در میان سعی کرنے سے اجتناب کرتے تھے۔ اس آیہ شریفہ نے انہیں منع کیا۔
بعض کا خیال ہے کہ یہ آیت حجة الوداع (پیغمبر اکرم کے آخری حج سہ ۱۰ ھ) کے موقع پر نازل ہوئی۔ اگر یہ احتمال تسلیم کرلیا جائے۔ تو دوسری طرف یہ بھی مسلم ہے کہ اس وقت نہ صرف یہ کہ صفا و مروہ پرکوئی بت تھا بلکہ مکہ کے گردو پیش کہیں بھی بتوں کا نام و نشان تک باقی نہیں رہاتھا۔
لہذا۔ قابل تسلیم بات یہ ہے کہ صفا و مروہ کے در میان سعی کرنے میں مسلمانوں کی یہ ناراضی پہلے کی بات ہے جب ۱ ساف اور نائلہ بت ان پر رکھے ہوئے تھے۔
جاہلوں کے اعمال تمہارے مثبت اعمال میں حائل نہ ہوں
مخصوص نفسیاتی حالات میں یہ آیت نازل ہوئی، جن کا ذکر کیا جاچکاہے پہلے تو مسلمانوں کو خبر دی گئی کہ صفا و مروہ خدا کے شعائر اور نشانیوں میں سے ہیں( ان الصفا و المروة من شعائر الله ) ۔
اس مقدمہ اور تمہید کے بعد نتیجہ یوں بیان فرمایا گیاہے: جو لوگ خانہ خدا کا حج یا عمرہ بجالائیں ان کیلئے کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دو پہاڑیوں کے در میان طواف اور سعی کریں( فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیه ان یطوف بهما ) مشرکین نے غلط طور پر ان خدائی شعائر کو جو بتوں سے آلودہ کر ر کھاہے ان سے ان دو مقدس مقامات کی اہمیت میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ آیت کے آخر میں فرمایاگیاہے: جو لوگ اطاعت خدا کے لئے نیک کام انجام دیں تو خدا بھی شاکر و علیم ہے( و من تطوع خیر فان الله شاکر علیم )
اللہ تعالی اطاعت اور نیک کاموں کی انجام دہی کے بدلے اچھے عوض کے ذریعے بندوں کے اعمال کی قدردانی کرتاہے اور شکر یہ ادا کرتاہے اور ان کی نیتوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون لوگ بتوں سے وابستگی رکھتے ہیں اور کون ان سے بیزار ہیں ۔
صفا و مروہ:
صفا و مروہ مکہ کی دو چھوٹی سی پہاڑیوں کے نام ہیں ۔ مسجد الحرام کی توسیع کے باعث آج کل یہ مسجد کے مشرقی حصے میں حجر الاسود اور مقام ابراہیم کی سمت میں واقع ہیں ۔
یہ دونوں پہاڑیاں ایک دوسرے سے تقریبا ۴۲۰ میڑ کے فاصلے پرہیں ۔ اس وقت یہ فاصلہ ایک چھتے ہوئے بڑے ہال کی شکل میں ہے اور حجاج کرام اس چھت کے نیچے سعی کرتے ہیں ۔ صفا پہاڑی کی بلندی پندرہ میڑہے۔اور مرواکی بلندی آٹھ میٹر ہے۔
صفا اور مردہ اس وقت دو پہاڑیوں کے نام ہیں (اصطلاح میں علم کو کہتے ہیں ) لیکن لغت میں صفا کا معنی ہے مضبوط اور صاف پتھر، جس میں مٹی، ریت اور سنگریزے نہ ہوں ۔ اور مردہ کا معنی ہے مضبوط اور درشت پتھر۔
شعائر جمع ہے شعیرہ کی جس کا معنی علامت اور نشانی ہے ۔ شعائر اللہ وہ علامات ہیں جو انسان کو خدا کی یاد دلائیں اور کسی مقدس چیز کو نظروں میں نئے سرے سے اجاگر کردیں ۔
اعتمر، عمرہ کے مادہ سے ہے، جس کا معنی ہے کسی عمارت کے وہ اضافی حصے جو اس کے ساتھ ملائے جائیں تو اس کی تکمیل کا سبب بنیں ، لیکن اصطلاح شریعت میں عمرہ ان مخصوص اعمال کو کہاجاتاہے جو حج کے موقع پراضافے کے طور پر اور کبھی جداگانہ طور پر عمرہ مفردہ کے نام پرانجام دیئے جاتے ہیں ۔ عمرہ کئی ایک پہلوؤں سے حج سے مشابہت رکھتاہے۔
صفا و مروہ کے کچھ اسرار و رموز:
یہ صحیح ہے کہ عظیم لوگوں کی زندگی کے حالات پڑھنا اور سننا انسان کو کمال کی طرف لے جاتاہے لیکن اس سے زیادہ صحیح، زیادہ عمیق اور گہرا طریقہ بھی موجود ہے اور وہ ہے ان مقامات کا مشاہدہ کرنا اور دیکھنا جہاں مردان خدا نے راہ خدا میں قیام کیا اور وہ مراکز جہاں ایسے واقعات عملا رونما ہوئے۔
یہ مقامات و مراکز بذات خود زندہ اور جاندار تاریخ کی کتابیں تو خاموش اور بے جان ہیں ۔ ایسے مقاما ت پر انسان کے لئے زمانی فاصلے سمٹ جاتے ہیں اور وہ خود کو اصل واقعہ میں شریک محسوس کرتاہے اور اسے یوں لگتاہے کہ وہ واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہاہے۔
ایسے مشاہدات کا تربیتی اثر گفتگو اور مطالعہ کتب سے کہیں بڑھ کرہے ۔ یہ مقام احساس ہے منزل ادراک نہیں ۔ یہ مرحلہ تصدیق ہے مقام تصور نہیں اور یہ عینیت ہے ذہنیت نہیں ۔
دوسری طرف ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ عظیم پیغمبروں میں سے بہت کم ایسے ہیں جو حضرت ابراہیم کی طرح جہاد کے مختلف میدانوں اور شدید آزمائشوں سے گزرے ہوں یہاں تک کہ قرآن نے ان کے بارے میں فرمایا:
ا( ِٕنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلاَءُ الْمُبِینُ )
یقینا یہ بہت واضح اور عظیم امتحان اور آزمائش ہے۔ (الصفت۔ ۱۰۶)
یہی مبارزات اور سخت آزمائشیں تھیں کہ جنہوں نے حضرت ابراہیم کی ایسے تربیت و پرورش کی کہ (امامت) کا تاج افتخار ان کے سر پر رکھاگیا۔
مراسم حج در حقیقت حضرت ابراہیم کے مبارزات کے میدانوں ،توحید، بندگی، فداکاری اور اخلاص کی منازل کی دلوں پر پوری منظر کشی کرتے ہیں ۔
ان مناسک کی ادائیگی کے وقت اگر مسلمان ان کی روح اور اسرار سے واقف ہوں اور ان کے مختلف پہلوؤں پر توجہ دیں تو یہ تربیت کی ایک بڑی درس گاہ اور خداشناسی ، پیغمبر شناسی اور انسان شناسی کا ایک مکمل دورہ ہے۔
اب ہم حضرت ابراہیم کے واقعے اور صفا و مروہ کے تاریخی پہلوؤں کی طرف لوٹتے ہیں ۔
ابراہیم بڑھاپے کی منزل کو جا پہنچے تھے مگر ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ انہوں نے خداسے اولاد کی درخواست کی۔ عالم پیری ہی میں ان کی کنیز ہاجرہ کے بطن سے انہیں فرزند عطا ہوا جس کا نام انہوں نے اسماعیل رکھا۔
آپ کی پہلی بیوی سارہ کو یہ پسند نہ تھا کہ ان کے علاوہ کسی خاتون کے بطن سے ابراہیم کو فرزند ملے۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ وہ ماں بیٹے کو مکہ میں جاکر ٹھہرائیں جو اس وقت ایک بے آب و گیاہ بیابان تھا۔
ابراہیم نے حکم خدا کی اطاعت کی اور انہیں سرزمین مکہ میں لے گئے جو ایسی خشک اور بے آب و گیاہ تھی کہ وہاں کسی پرندے کا بھی نام و نشان نہ تھا۔ جب ابراہیم انہیں چھوڑ کر تنہا واپس ہولئے توان کی اہلیت رونے لگیں کہ ایک عورت اور ایک شیر خوار بچہ اس بے آب و گیاہ بیابان میں کیا کریں گے
اس خاتون کے گرم آنسو اور ادھر بچے کا نالہ وزاری۔ اس منظر نے ابراہیم کا دل ہلا کے رکھ دیا۔ انہوں نے بارگاہ الہی میں ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا۔
خداوندا! میں تیرے حکم پر اپنی بیوی اور بچے کو اس جلادینے والے بے آب و گیاہ بیابان میں تنہا چھوڑ رہاہوں ، تا کہ تیرا نام بلند اور تیرا گھر آباد ہو۔
یہ کہہ کہ غم و اندوہ اور شدید محبت کے عالم میں الوداع ہوئے۔
زیادہ وقت نہیں گزراتھا کہ ماں کے پاس آب و غذا کا جو توشہ ختم ہوگیا اور اس کی چھاتی کا دودھ بھی خشک ہوگیا۔ شیرخوار بچے کی بے تابی اور تضرع و زاری نے ماں کو ایسا مضطرب کردیا کہ وہ اپنی پیاس بھول گئی۔ وہ پانی کی تلاش میں اٹھ کھڑی ہوئی پہلے کو ہ صفا کے قریب گئی تو پانی کا کوئی نام و نشان نظر نہ آیا۔ سراب کی چمک نے اسے کوہ مروہ کی طرف کھینچا تو وہ اس کی طرف دوڑی لیکن وہاں بھی پانی نہ ملا۔ وہاں ویسی چمک صفا پر دکھائی دی تو پلٹ کرآئی۔
زندگی کی بقاء اور موت سے مقابلے کے لئے اس نے ایسے سات چکر لگائے ۔ آخر شیرخوار بچہ زندگی کی آخری سانسیں لینے لگا کہ اچانک اس کے پاؤں کے پاس انتہائی تعجب خیز طریقے سے زمزم کا چشمہ ابلنے لگا۔ ماں اور بچے نے پانی پیا اور موت جو یقینی ہوگئی تھی اس سے بچ نکلے۔
زمزم کا پانی گویا آب حیات تھا۔ ہر طرف سے پرندے اس چشمے کی طرف آنے لگے۔ قافلوں نے پرندوں کی پرواز دیکھی تو اپنے رخ اس طرف موڑدیے اور ظاہرا ایک چھوٹے سے خاندان کی فداکاری کے صلے میں ایک عظیم مرکز وجود میں آگیا۔
آج خانہ خدا کے پاس اس خاتون اور اس کے فرزند اسماعیل کا مسکن ہے۔ ہر سال تقریبا ڈیڑھ کروڑ افراد اطراف عالم سے آتے ہیں ۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ اس مسکن کو جسے مقام اسماعیل کہتے ہیں اپنے طواف میں شامل کریں گویا اس خاتون اور اس کے بیٹے کے مدفن کو کعبہ کا جزئی سمجھیں ۔
صفا و مروہ کی سعی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق کا نام زندہ کرنے اور عظمت، استقلال اور آبادی کے لئے شیرخوار بچے تک کو جان کی بازی لگا دینا چاہئیے ۔ صفا و مروہ کی سعی میں یہ سبق بھی پنہاں ہے کہ نا امیدیوں کے بعد بھی کئی امیدیں ہیں اسماعیل کی والدہ جناب ہاجرہ نے وہاں پانی کی تلاش جاری رکھی جہاں وہ دکھائی نہ دیتاتھا تو خدانے بھی ایسے راستے سے انہیں سیراب کیا جس کا تصور نہیں ہوسکتا۔
صفا ومروہ ہم سے کہتے ہیں کہ ایک زمانہ تھا جب ہمارے اوپر بت نصب تھے لیکن آج پیغمبر اسلام کی مسلسل کوششوں اور جد و جہد سے شب و روز ہمارے پہلو میں لا الہ الا اللہ کی صدا گو رنج رہی ہے۔
صفا و مروہ کی پہاڑیاں حق رکھتی ہیں کہ وہ فخر کریں کہ ہم پیغمبر اسلام کی تبلیغات کی پہلی منزل ہیں ۔ جب مکہ شرک کی تاریکی میں ڈوبا ہواتھا تو آفتاب ہدایت یہیں سے طلوع ہوا۔ اے صفا و مروہ کی سعی کرنے والو تمہارے دل میں یہ بات رہے کہ اگر آج ہزاروں افراد اس پہاڑی کے قریب پیغمبر کی دعوت پرلبیک کہہ رہیے ہیں تو ایک وقت وہ بھی تھا کہ نبی اکرم اس پہاڑی کے اوپرکھڑے ہو کر لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دے رہے تھے اور کوئی قبول نہیں کرتا تھا۔ تم بھی حق کی راہ میں قدم اٹھاؤ اور اگر ان لوگوں کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہ ملے جن سے مستقبل میں امید کی جاسکتی ہے تو مایوس نہ ہوجاؤ اور اپنے کام کو اسی طرح جاری رکھو۔
صفا ومروہ کی سعی ہمیں درس دیتی ہے کہ توحید کے اس مرکز اور آئین کی قدر و منزلت پہچانو کہ کتنوں نے اپنے آپ کو موت سے ہم کنار کرکے آج اس مرکز توحید کو تمہارے لئے محفوظ رکھا۔
اسی لئے خداوند عالم نے سب زائرین خانہ کعبہ پر واجب قرار دیا کہ مخصوص لباس اور مخصوص وضع قطع کے ساتھ جوہر قسم کے امتیاز اور تشخص سے پاک ہو سات مرتبہ ان امور کی تجدید کے لئے ان دو پہاڑیوں کے در میان چلیں ۔ جو لوگ کبر و غرور کی وجہ سے عام لوگوں کے گزرنے کی جگہ پر ایک قدم اٹھانے کو تیار نہیں اور جو سڑکوں پر تیز رفتاری سے چلنا پسند نہیں کرتے وہی فرمان خدا کی اطاعت کے لئے کبھی آہستہ اور کبھی تیزی سے دوڑتے ہیں روایات کے مطابق یہ وہ جگہ ہے جہاں کے بارے میں دیے گئے احکامات متکبرین کو بیدار کرنے کے لئے ہیں ۔
فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بہما ولغت میں حج کا معنی قصد بیان کیاگیاہے لیکن قرآن اور احادیث میں اس کا مفہوم وہ مخصوص اعمال اور مناسک ہیں جو مسلمان مکہ میں انجام دیتے ہیں ۔
جب قرآن یہ بتاچکا کا صفا و مروہ دو عظیم نشانیاں ہیں ، لوگوں کی بندگی کا مرکز اور شعائر الہی ہیں ۔ مزید کہتاہے: جو شخص خانہ خدا کا حج کرے یا عمرہ انجام دے اس کے لئے کوئی حرج نہیں کہ ان دو پہاڑیوں کے در میان چکر لگائے یہ عمل طواف کے لغوی معنی کے خلاف نہیں کیونکہ کسی طرح کا بھی چلنا ہو اگر انسان واپس وہیں آجائے جہاں سے ابتداء کی تھی تو یہ طواف ہے چاہے وہ حرکت دائرہ کی صورت میں ہو جیسے خانہ کعبہ کے گرد طواف یا دائرہ کی صورت میں نہ ہو جیسے صفاو مروہ کے در میان۔
ایک سوال کا جواب:
یہاں ایک سوال سامنے آتاہے کہ فقہ اسلامی کے نقطہ نظر سے صفا و مروہ کے در میان سعی کرنا واجب ہے چاہے حج کے اعمال بجالانا ہوں یا عمرہ کے ۔ لیکن (لا جناح) کے لفظ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ صفا و مروہ کے در میان سعی کرنے میں کوئی حرج نہیں اور یہ وجوب پردلالت نہیں کرتا۔
اس سوال کا جواب ان روایات سے واضح طور پر مل جاتاہے جو شان نزول کے ضمن میں بیان کی جاچکی ہیں ۔ مسلمان یہ گمان کرتے تھے کہ ان دو پہاڑیوں پر ایک عرصہ تک اساف اور نائلہ بت گڑے رہے ہیں اور کفار سعی کرتے وقت انہیں مس کرتے تھے لہذا یہ اس قابل نہیں کہ مسلمان ان کے در میان سعی کریں ۔ اس آیت میں ان سے کہا گیاہے کہ کوئی حرج نہیں تم سعی کرو چونکہ یہ پہاڑیاں شعائر اللہ میں سے ہیں ۔ لا جناح ۱
در اصل اس کراہت اور ناپسندیدگی کو واضح طور پر دور کرنے کے لئے آیاہے تا کہ اس کی اصل شرعی حیثیت واضح کرے ، علاوہ ازیں قرآن میں بہت سے واجب احکام اس انداز سے بیان ہوئے ہیں ۔ مثلا نماز مسافر کے بارے میں ہے:( وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اٴَنْ تَقْصُرُوا مِنْ الصَّلاَةِ )
اگر سفر میں ہوتو کوئی حرج نہیں کہ نماز قصر کرلو۔ (نساء ۔ ۱۰۱)
حالانکہ یہ واضح ہے کہ مسافر پر نماز قصر واجب ہے نہ یہ کہ قصر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ قاعدة لفظ (لا جناح) ان مواقع پر بولاجاتاہے جہاں سننے والے کا ذہن پہلے سے اس چیز کے بارے میں پریشان ہو اور وہ منفی احساسات رکھتاہو لہذا قرآن کی یہ روش بعض واجب احکام بیان کرنے کے بارے میں بھی ہے۔
امام باقر نے بھی ایک حدیث میں اس روش کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو کتاب من لا یحضر میں منقول ہے۔
تطوع کسے کہتے ہیں :
لغت میں تطوع کا معنی ہے اطاعت قبول کرنا اور احکام ماننا۔ عرف فقہاء میں تطوع مستحب اعمال کو کہاجاتاہے اسی بناء پر اکثر مفسرین اسے مستحب حج، عمرہ یا طواف اور ہر قسم کے نیک مستحب عمل کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔ یعنی جو شخص فرمان خدا کے تحت نیک عمل انجام دے تو خدا تعالی اس کے کام سے آگاہ ہے اور اس کے بدلے میں اسے ضرور جزادے گا۔
احتمال ہے کہ یہ لفظ گذشتہ جملوں کی تکمیل اور تاکید ہو اور تطوع سے مراد ہو وہاں اطاعت کرنا جہاں انسان کے لئے مشکل ہو۔
اس بناء پر اس جملے کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ لوگ جو حج یا عمرہ واجب میں صفا و مروہ کی سعی اس کی پوری زحمت کے ساتھ انجام دیں اور عربوں کے جاہلانہ اعمال کی وجہ سے پیدا شدہ باطنی میلان کے برخلاف اپنا حج مکمل کریں تو خداانہیں ضرور جزادے گا۔
خدا شاکر ہے کا مفہوم:
ضمنا اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئیے کہ شاکر کا لفظ پروردگار کے لئے لطیف تعبیر ہے جو خدا کی طرف سے انسان کے نیک اعمال کے انتہائی احترام کی مظہر ہے اور جب خدا بندوں کے اعمال کے پیش نظر شکرگزار ہوتاہے تو اس سے بندوں کی ایک دوسرے کے بارے میں اور خدا کے بارے میں ذمہ داری کا اندازہ کیا جاسکتاہے۔
____________________
۱- (جناح، کا اصل معنی ہے ایک طرف میلان، چونکہ گناہ انسان کو حق سے منحرف اور باطل کی طرف مائل کردیتاہے اسی لئے اسے جناح کہاجاتاہے
آیت ۱۵۹
۱۵۹ ۔( إِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا اٴَنزَلْنَا مِنْ الْبَیِّنَاتِ وَالْهُدَی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتَابِ اٴُوْلَئِکَ یَلْعَنُهُمْ اللهُ وَیَلْعَنُهُمْ اللاَّعِنُونَ ۱۶۰ إِلاَّ الَّذِینَ تَابُوا وَاٴَصْلَحُوا وَبَیَّنُوا فَاٴُوْلَئِکَ اٴَتُوبُ عَلَیْهِمْ وَاٴَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیمُ )
ترجمہ
۱۵۹ ۔ جو لوگ ان واضح دلائل اور ذرائع ہدایت کو چھپاتے ہیں جنہیں ہم نے نازل کیا جب کہ ان لوگوں کے لئے ہم نے کتاب میں بیان کردیاہے، ان پر خدا لعنت کرتاہے اور سب لعنت کرنے والے ان پر لعنت بھیجتے ہیں اور نفرین کرتے ہیں ۔
۱۶۰ ۔ مگر وہ جو توبہ کرتے ہیں اور لوٹ آتے ہیں اپنے برے اعمال کی اصلاح کرکے نیک اعمال انجام دیتے ہیں اور جو کچھ چھپاتے تھے اسے آشکار کرتے ہیں تو میں ان کی توبہ قبول کرتاہوں کہ میں تواب و رحیم ہوں ۔
شان نزول
جلال الدین سیوطی نے اسباب النزول میں ابن عباس سے نقل کیاہے کہ مسلمانوں میں سے کچھ افراد جن میں معاذ بن جبل، سعد بن معاذ اور خارجہ بن زید شامل تھے نے علماء یہود سے تورات کے چند مطالب کے متعلق سوالات کئے جو پیغمبر کے ظہور سے مربوط تھے۔ انہوں نے اصل واقعے کو چھپایا اور وضاحت کرنے سے احتراز کیا۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔(۱)
____________________
۱- لباب النقول فی اسباب النزول ص ۲۲
حقائق چھپانے والوں کی شدید مذمت
ویسے تو روئے سخن علمائے یہود کی طرف ہے لیکن اس سے آیت کاکلی اور عمومی مفہوم محدود نہیں ہوتا اور یہ سب حقائق چھپانے والوں کے لئے عام ہے۔
یہ آیت شریفہ حقائق چھپانے والوں کی شدید مذمت اور سرزنش کرتی ہے۔ ارشاد ہوتاہے: جو لوگ واضح دلائل اور ذرائع ہدایت کو چھپاتے ہیں جنہیں ہم نے کتاب الہی کے ذریعے نازل کیاہے اور جو ان لوگوں کے سامنے ہیں ان پر خدا لعنت بھیجتاہے اور خدا ہی نہیں بلکہ تمام لعنت کرنے والے انہیں لعنت کرتے ہیں (إ( ِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا اٴَنزَلْنَا مِنْ الْبَیِّنَاتِ وَالْهُدَی مِنْ بَعْدِ مَا بَیَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتَابِ اٴُوْلَئِکَ یَلْعَنُهُمْ اللهُ وَیَلْعَنُهُمْ اللاَّعِنُونَ ) ۔
یہ آیت بڑی عمدگی سے واضح کرتی ہے کہ خدا کے تمام بندے اور فرشتے اس کام سے بیزار ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں حق کو چھپانا ایسا عمل ہے جو حق کے تمام طرف داروں کے غم و غصے کو ابھارتا ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کیا خیانت ہوگی کہ علماء آیات خدا کو اپنے شخصی منافع کے لئے چھپائیں اور لوگوں کو گمراہ کریں جب کہ یہ ان کے پاس خدا کی امانت ہیں ۔
( من بعد ما بیناه للناس فی الکتاب ) اس طرف اشارہ ہے کہ ایسے افراد در حقیقت زحمات انبیاء اور مردان خدا کی فداکاریوں کو برباد کرتے ہیں جو وہ آیات الہی کی نشر و اشاعت اور تبلیغ کے لئے انجام دیتے ہیں اور یہ بہت بڑا گناہ ہے جس سے صرف نظر نہیں کیاجاسکتا۔
لفظ (یلعن ) آیت میں دو مرتبہ آیاہے۔ یہ فعل مضارع ہے اور جیسا کہ ہمیں معلوم ہے فعل مضارع میں استمرار کا معنی شامل ہے۔ اس بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ خدا اور مقام لعنت کرنے والے ہمیشہ ایسے لوگوں پر لعنت اور نفرین کرتے رہتے ہیں جو حقائق کو چھپاتے ہیں اور یہ شدیدترین سزاہے جو کسی انسان کو دی جاسکتی ہے۔
(بینات ) اور (هدی ) کا ایک وسیع مفہوم ہے جس سے مراد وہ تمام روشن دلائل اور ہدایت کے وسائل ہیں جو لوگوں کی آگاہی ، بیداری اور نجات کا سبب ہیں ۔
قرآن کتاب ہدایت ہے لہذا یہ کبھی لوگوں کے لئے امید اوربازگشت کا دریچہ بند نہیں کرتی۔ اس لئے بعد کی آیت میں راہ نجات اور گناہوں کی تلافی کا بھی ذکر کیاگیاہے اور اسے شدید سزا کے مقابلے میں یوں بیان کیاگیاہے: مگر وہ جو توبہ کریں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں ، اپنی برائیوں کی تلافی اور اعمال کی اصلاح کریں اور جو حقائق انہوں نے چھپا رکھے تھے لوگوں کے سامنے آشکار کردیں بے شک میں ایسے لوگوں کو بخش دوں گا اور ان کے لئے اپنی اس رحمت کی تجدید کردوں گا جو ان سے منقطع کی جاچکی ہے کیونکہ میں بازگشت کنندہ اور مہربان ہوں( الا الذین تابوا و اصلحوا و بینوا فاولئک اتوب علیهم و انا التواب الرحیم ) ۔(۳)
اگر دیکھا جائے (فاولئک اتوب علیہم) کے بعد( انا التواب الرحیم ) کا آنا توبہ کرنے والوں کے لئے پروردگار عالم کی انتہائی محبت اور کمال مہربانی پر دلالت کرتاہے۔ یعنی فرماتاہے: اگر وہ پلٹ آئیں تو میں بھی رحمت کی طرف پلٹ آؤں گا اور اپنی عنایات و نعمات جو ان سے منقطع کرچکاہوں پھر سے انہیں عطا کروں گا۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ یوں نہیں کہتا کہ تم توبہ کرو تو میں تمہاری تو بہ قبول کرلوں گا بلکہ کہتاہے: تم توبہ کرو اور پلٹ آو تو میں بھی پلٹ آؤں گا۔ ان دونوں جملوں میں جو فرق ہے واضح ہے۔
علاوہ ازیں( و انا التواب الرحیم ) کے ہر لفظ اور انداز میں اتنی مہربانی اور شفقت پائی جاتی ہے کہ یہ مفہوم کسی اور عبادت میں سماہی نہیں سکتاتھا۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ (انا)واحد متکلم کی ضمیر ہے جس کا معنی ہے (میں خود) یہ ایسے مقامات پر آتاہے جہاں کہنے والا براہ راست سننے والے سے ربط رکھتاہو۔ خصوصا اگر کوئی بزرگ ہستی یہ کہے کہ (میں خود یہ کام تمہارے لئے کروں گا) بجائے اس کے کہ وہ کہے (ہم اس طرح کریں گے ) تو اس میں بہت فرق ہے۔ پہلے انداز میں جو لطف و کرم ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ۔ لفظ (تواب) بھی مبالغے کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے بہت زیادہ پلٹ کرآنے والا۔ یہ انداز اس طرح امید کی روح انسان میں پھونک دیتاہے کہ اس کی زندگی کے آسمان سے یاس و ناامیدی کے سارے پردے ہٹ جاتے ہیں اور جب لفظ (رحیم) بھی ساتھ ہو جو پروردگار کی خصوصی رحمت کی طرف اشارہ ہے۔
حق کو چھپانے کے نقصانات:
وہ بات جو قدیم زمانے سے بہت مفاسد اور حق کشی کا باعث بنتی آرہی ہے اور جس کے مہلک اثرات آج تک جاری و ساری ہیں وہ ہے حق کو چھپانا۔ زیر بحث آیت اگر چہ ایک خاص واقعے کے متعلق نازل ہوئی لیکن جیسا کہ کہا جاچکاہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس کا مفہوم ان سب پر محیط ہے جو ایسا کچھ بھی کردار ادا کرتے ہیں ۔
جیسی منحصر بفرد تشدید و تہدید اور مذمت زیر نظر آیت میں حق کو چھپانے والوں کے لئے آئی ہے کسی اور کے لئے نہیں آئی اور کیوں نہ ہو ، کیا ایسا نہیں کہ یہ قبیح عمل قوموں اور نسلوں کو گمراہی میں مبتلا کئے رکھتاہے جیسا کہ اظہار حق امتوں کی نجات کا باعث بن سکتاہے۔
انسان فطری طور پر حق کو چاہتاہے اور جو حق کو چھپاتے ہیں وہ در حقیقت انسانی معاشرے کو فطری کمال تک پہنچنے سے سے بازرکھتے ہیں ۔ ظہور اسلام کے وقت اور اس کے بعد اگر علماء یہود و نصاری دونوں عہدوں (تورات، انجیل اور دیگر کتب مقدسہ) کی بشارتوں کو اظہار حقیقت کے طور پر افشاء کردیتے اور اس سلسلے میں وہ جو کچھ جانتے تھے لوگوں تک پہنچادیتے تو ہوسکتا تھا کہ تھوڑی سی مدت میں تینوں ملتیں ایک ہی پرچم تلے جمع ہوجاتیں اور اس وحدت کی برکات حاصل کرتیں اور یہی کام پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد اہل اسلام کے بعض علماء نے انجام دیا۔ وہ حق کو چھپاتے رہے ان کی وجہ ہے ملت اختلاف کا شکار ہوئی اور اس میں شگاف پڑگئے ۔ آج تک ہم اسی کے نتیجے میں مصیبتوں میں مبتلا ہیں ۔ یقینا حق پوشی صرف اسی کا نام نہیں کہ آیات الہی اور علانات نبوت کو چھپایاجائے بلکہ اس سے مراد ہر وہ چیز چھپانا ہے جس سے لوگ حقیقت و واقعیت تک پہنچ سکتے ہیں ۔ لہذا اس کا مفہوم وسیع ہے۔
یہاں تک کہ کبھی وہاں بھی حق پوشی کا اطلاق ہوتاہے جہاں بات کرنے کی ضرورت ہو اور خاموش رہاجائے۔ یہ اس مقام کے لئے ہے جہاں لوگوں کو سخت ضرورت ہو کہ انہیں حقیقت حال سے با خبر کیاجائے اور علماء اور آگاہ دانشور اس یقینی ضرورت کو پورا کرسکتے ہوں ۔
خلاصہ یہ کہ لوگوں کو در پیش مسائل کے بارے میں حقائق کو مخفی رکھنا اس لئے کہ لوگ سوال کریں درست نہیں ۔ تفسیر المنار کے مؤلف نے بعض لوگوں کے حوالے سے یہ جو لکھاہے کہ سوال کی خاطر حقائق کو چھپایا جاسکتا ہے درست نظر نہیں آتا۔
خصوصا یہ اس بناء پر بھی صحیح نہیں ہے کہ قرآن فقط حق کو چھپانے کے مسئلے کے بارے میں گفتگو نہیں کرتا بلکہ وہ حقائق کے بیان اور اظہار کو ضروری شمار کرتاہے۔
شاید اسی اشتباہ کی وجہ سے بعض علماء نے حقائق بیان کرنے سے منہ بندکررکھے ہیں ۔ ان کا عذرہے کہ ان سے تو کسی نے سوال نہیں کیا۔ حالانکہ قرآن کہتاہے:( وَإِذْ اٴَخَذَ اللهُ مِیثَاقَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلاَتَکْتُمُونَه )
خدانے جنہیں کتاب عطا کی ہے ان سے عہد و میثاق لیاہے کہ وہ اسے ضرور لوگوں کے سامنے بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں ۔ (آل عمران۔ ۱۸۷)
ُیہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ بعض اوقات فرعی مسائل میں سرگرم رہنا جس سے لوگ زندگی کے حقیقی مسائل کو فراموش کر بیٹھیں یہ بھی ایک قسم کی حق پوشی ہے۔ اگرچہ حق پوشی کا معنی یہ نہیں لیکن حقائق کو مخفی رکھنے کا فلسفہ اس پربھی محیط ہے۔
پیغمبر اسلام فرماتے ہیں :
حادیث اسلامی میں بھی ان علماء پر شدیدترین حملے کئے گئے ہیں جو حقائق کو چھپاتے ہیں ۔ پیغمبر اسلام فرماتے ہیں :
من سئل عن علم یعلمه فکتم لجم یوم القیامه یلجام من النار
اگر کسی شخص سے ایسی چیز کے بارے میں پوچھا جائے جسے وہ جانتاہے اور وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن آتش جہنم کی ایک لگام اس کے منہ میں دی جائے گی۔(۱)
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ بعض اوقات ضرورت اور لوگوں کا کسی مسئلے میں مبتلا ہونا بذات خود سوال بن جاتاہے۔
ایک اور حدیث جو امیرالمؤمنین علی سے مروی ہے بیان کی جاتی ہے۔
لوگوں نے آپ سے پوچھا:من شر خلق الله بعد ابلیس و فرعون
ابلیس اور فرعون کے بعد بدترین خلائق کون ہے۔
امام نے جواب میں فرمایا:
العلماء اذ افسدوا هم المظهرون للا باطیل الکاتمون للحقائق و فیهم قال الله عزوجل اولئک یلعنهم الله و یلعنهم اللعنون ۔
وہ بگڑے ہوئے علماء ہیں جو باطل کا اظہار اور حق کا اخفاء کرتے ہیں یہ وہی لو گ ہیں جن کے متعلق خدا فرماتاہے : ان پر خدا کی لعنت اور تمام لعنت کرنے والوں کی نفرین ہوگی۔(۲)
____________________
۱ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۲ نور الثقلین ج۳ ص۱۳۹ بحوالہ احتجاج طبرسی۔
لعنت کیا چیزہے:
لعن کا اصلی معنی ہے غصے سے دھتکارنا اور دور کرنا۔ اس بناء پر خدا کی لعنت کا یہ مطلب ہے کہ وہ بندوں سے اپنی وہ رحمت اور تمام عنایات و برکات دور کردے جو اس کی جانب سے انہیں پہنچتی ہیں ۔
”لاعنون“یعنی لعنت کرنے والے اس کا ایک وسیع معنی ہے۔ اس میں نہ صرف فرشتے اور مومنین شامل ہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی ہر وہ موجود جو زبان حال یا مقال سے کلام کرتاہے اس میں داخل ہے۔ اس سلسلے کی چند روایات میں تویہاں تک ہے کہ زمین و آسمان کی تمام موجودات حتی کہ دریا کی مچھلیاں بھی طالبان علم و علماء کے لئے دعائے خیر اور استغفار کرتی ہیں :و انه یستغفر لطالب العلم من فی السماء و من فی الارض حق الحوت فی البحر ۔(۱)
تو جہاں وہ موجودات طالب علموں کے لئے استغفار کرتے ہیں وہاں علم کو چھپانے والوں کے لئے یقینا لعنت بھی کرتے ہیں ۔
تواب:
اس لفظ کے بارے میں ہم بتاچکے ہیں کہ یہ مبالغے کا صیغہ ہے۔ یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر انسان شیطانی وسوسوں سے فریب کھا کر توبہ توڑدے تو بھی اس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں کردیاجاتا۔ چاہئیے کہ وہ پھر توبہ کرے اور خدا کی طرف پئے اور حق کو ظاہر کرے۔ کیونکہ خدا بہت زیادہ بازگشت کرنے والاہے۔ اس کی رحمت و بخشش سے کبھی مایوس نہیں ہوناچاہئیے۔
مگر لعنت خدا کافی نهیں
____________________
۱- اصول کافی، ج۱، باب ”ثواب العالم و المتعلم“ حدیث اول۔
آیات ۱۶۱،۱۶۲،۱۶۳
۱۶۱ ۔ إ( ِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ کُفَّارٌ اٴُوْلَئِکَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالنَّاسِ اٴَجْمَعِینَ )
۱۶۲ ۔( خَالِدِینَ فِیهَا لاَیُخَفَّفُ عَنْهُمْ الْعَذَابُ وَلاَهُمْ یُنظَرُونَ )
۱۶۳ ۔( وَإِلَهُکُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ الرَّحْمَانُ الرَّحِیمُ )
ترجمہ
۱۶۱ ۔ جو لوگ کافر ہوجائیں اور حالت کفر ہی میں مرجائیں ان پر خدا، فرشتے اور تمام انسان لعنت کرتے ہیں ۔
۱۶۲ ۔ وہ ہمیشہ کے لئے زیر لعنت اور رحمت خدا سے دور رہیں گے۔ ان کے عذاب میں تخفیف کی جائے گی نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔
۱۶۳ ۔ تمہارا خدا اور معبود اکیلا خدا ہے جس کے علاوہ کوئی معبود اور لائق پرستش نہیں کیونکہ وہی بخشنے والا اور مہربان ہے و رحمت عام اور رحمت خاص کا مالک وہی ہے)
وہ لوگ جو کافر ہوگئے ہیں
گذشتہ آیات میں حق کو چھپانے کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں ۔ زیر نظر آیات میں بھی انہی کفار کی طرف اشارہ ہے جو ہٹ دھرمی، حق پوشی، کفر اور تکذیب حق کا سلسلہ موت آنے تک جاری رکھتے ہیں ۔
فرمایا: وہ لوگ جو کافر ہوگئے ہیں اور حالت کفر میں دنیا سے چل بسے ہیں ان پرخدا، فرشتوں اور سب انسانوں کی لعنت ہوگی (إ( ِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ کُفَّارٌ اٴُوْلَئِکَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالنَّاسِ اٴَجْمَعِینَ ) ۔
یہ گروہ بھی حق کو چھپانے والوں کی طرح خدا، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت میں گرفتار ہوجائے گا۔ فرق یہ ہے کہ ان لوگوں کے لئے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا کیونکہ یہ آخر عمرتک کفر پر مصر رہے۔
مزید فرمایا: یہ ہمیشہ خدا اور بندگان خدا کی لعنت کے زیر سایہ رہیں گے۔ ان پر عذاب الہی کی تخفیف نہ ہوگی، نہ انہیں کوئی مہلت دی جائے گی( خَالِدِینَ فِیهَا لاَیُخَفَّفُ عَنْهُمْ الْعَذَابُ وَلاَهُمْ یُنظَرُون ) ۔
ان بدبختیوں کی وجہ سے چونکہ اصل توحید ختم ہوجاتی ہے۔ زیر نظر آخری آیت میں فرمایا: تمہارا معبود اکیلا خدا ہے۔
( و الهکم اله واحد ) مزید تاکید کے لئے ارشاد ہوتاہے : اس کے علاوہ کوئی معبود اور لائق پرستش نہیں( لا اله الا هو ) ۔
آیت کے آخر میں دلیل و علت کے طور پر فرماتاہے: وہ خدا بخشنے والا مہربان ہے (الرحمن الرحیم) بے شک وہ جس کی عام و خاص رحمت سب پرمحیط ہے۔ جس نے مومنین کے لئے خصوصی امتیازات قرار دیئے ہیں یقینا وہی لائق عبادت ہے نہ کوئی اور جو سرتا پا احتیاج ہے۔
چند اہم نکات
(!) حالت کفر میں مرنا:
قرآن مجید کی بہت سی آیات سے یہ نکتہ ظاہر ہوتاہے کہ جو لوگ حالت کفر اور حق سے دشمنی کرتے ہوئے دنیا سے جائیں ان کے لئے کوئی راہ نجا ت نہیں ہے اور ایسا ہی ہونا چاہئیے ، کیونکہ آخرت کی سعادت یا بدبختی تو براہ راست ان دخائر اور وسائل کا نتیجہ ہے جو ہم اس دنیا سے اپنے ساتھ لے کرجاتے ہیں ۔ جس شخص نے اپنے پروبال کفر اور حق دشمنی میں جلادیے ہیں وہ یقینا اس جہان میں طاقت پرواز نہیں رکھتا اور دوزخ کے گڑھوں میں اس کا گزنا یقینی ہے کیونکہ دوسرے جہاں میں اعمال بجالانے کا کوئی موقع نہ ہوگا لہذا ایسا شخص ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی شخص شہوت رانیوں اور ہوس بازیوں کی وجہ سے جان بوجھ کر اپنی آنکھیں کھو بیٹھے اور آخری عمر تک نابینا رہے۔
واضح ہے کہ یہ بات ان کفار سے مخصوص ہے جو جان بوجھ کر کفر اور حق دشمنی کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔ مسئلہ خلود کے بارے میں مزید توضیح سورہ ہود کی آیت ۱۰۷ اور ۱۰۸ ، جلد ۹ کے ذیل میں پڑھیے گا۔
(!!) خدا اپنی یکتائی میں یکتاہے:
مندرجہ بالا تیسری آیت میں خدا کی ایسی یکتائی بیان کی گئی ہے جوہر قسم کے انحراف اور شرک کی نفی کرتی ہے۔ کبھی ایسے موجودات بھی نظر آتے ہیں جو ایسی صفات کے حامل ہیں جو منحصر بفرد ہیں اور اصطلاح کے مطابق یکتا ہیں ۔ لیکن کہے بغیر واضح ہے کہ وہ سب موجودات ایک یا چند صفات مخصوصہ میں تو ممکن ہے منحصر بفرد اور یکتاہوں جب کہ خدا ذات و صفات اور افعال میں یکتا و اکیلا ہے۔ عقلی طور پر خدا کی یکتائی قابل تعدد نہیں ۔ وہ ازلی و ابدی یکتاہے۔ وہ ایسا یکتاہے کہ اس پر حوادث اثر انداز نہیں ہوتے۔ اس کی یکتائی ذہن میں بھی ہے اور خارج از ذہن بھی۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی یکتائی میں بھی یکتاہے۔
(!!) خدا اپنی یکتائی میں یکتاہے:
مندرجہ بالا تیسری آیت میں خدا کی ایسی یکتائی بیان کی گئی ہے جو ہر قسم کے انحراف اور شرک کی نفی کرتی ہے۔ کبھی ایسے موجودات بھی نظر آتے ہیں جو ایسی صفات کے حامل ہیں جو منحصر بفردہیں اور اصطلاح کے مطابق یکتا ہیں ۔ لیکن کہے بغیر واضح ہے کہ وہ سب موجودات ایک یا چند صفات مخصوصہ میں تو ممکن ہے منحصر بفرد اور یکتا ہوں جب کہ خدا ذات و صفات اور افعال میں یکتا و اکیلاہے۔ عقل طور پر خدا کی یکتائی قابل تعدد نہیں ۔ وہ ازلی و ابدی یکتاہے۔ وہ ایسا یکتاہے کہ اس پر حوادث اثر انداز نہیں ہوتے۔ اس کی یکتائی ذہن میں بھی ہے اور خارج از ذہن بھی۔ مختصر یہ کہ وہ اپنی یکتائی میں بھی یکتاہے۔
(!!!) کیا خدا کی لعنت کافی نہیں ہے:
مندرجہ بالا آیات کے مطابق خدا کے علاوہ حق پوشی کرنے والوں پر سب لعنت کرنے والوں کی لعنت پڑتی ہے۔ یہاں یہ سوال سامنے آتاہے کہ کیا خدا کی لعنت کافی نہیں ہے۔
اس سوال کا جواب واضح ہے کہ در حقیقت یہ ایک طرح کی تاکید ہے اور ایسے قبیح اور برے افعال انجام دینے والوں کے لئے تمام جہانوں کی طرف سے تنفر و بیزاری کا اظہار ہے۔
اگر یہ کہاجائے کہ یہاں لفظ (ناس) بطور عموم کیوں استعمال ہواہے جب کہ جرم میں شریک لوگ تو کم از کم ایسے ایسے مجرموں پر لعنت نہیں کرتے۔
ہم کہیں گے۔۔۔۔حالت تو یہ ہے کہ وہ خود بھی اپنے اس عمل قبیح سے متنفر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص خود ان کے بارے میں حق پوشی کرے تو یقینا انہیں تکلیف ہوگی اور وہ اس پر نفرین کریں گے لیکن جہاں ان کے اپنے منافع کا معاملہ ہو وہاں یہ لوگ استثنائی طور پرچشم پوشی کرتے ہیں ۔
آیت ۱۶۴
۱۶۴ ۔( إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِی تَجْرِی فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنفَعُ النَّاسَ وَمَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاٴَحْیَا بِهِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِیهَا مِنْ کُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِیفِ الرِّیَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ )
ترجمہ
۱۶۴ ۔ آسمانوں اور زمین کی خلقت میں رات دن کے آنے جانے میں ، انسانوں کے فائدے کے لئے دریا میں چلنے والی کشتیوں میں ، خدا کی طرف سے آسمان سے نازل ہونے والے اس پانی میں جس نے زمین کو موت کے بعد زندگی دی ہے اور ہر طرح کے چلنے والے اس میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ ہواؤں کے چلنے میں اور بادلوں میں جو زمین و آسمان کے در میان معلق ہیں (خدا کی ذات پاک اور اس کی یکتائی کی) ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل و فکر رکھتے ہیں ۔
آسمان و زمین میں اس کی ذات پاک کے جلوے ہیں
گذشتہ آیت سے توحید پروردگار کی بحث شروع ہوتی ہے۔ زیر نظر آیت در حقیقت خدا کی توحید کے مسئلے اور اس کی ذات پاک کی یکتائی پر ایک دلیل ہے۔
مقدمہ اور تمہید کے طور پراس بات کی طرف توجہ رہے کہ نظم و ضبط، علم، دانش اور عقل کے وجود کی دلیل ہے۔
خداشناسی کی کتب میں ہم اس بنیاد کی تشریح کرچکے ہیں کہ عالم ہستی میں جب نظم و ضبط کے مظاہر نظر پڑتے ہیں اور نظام قدرت کی ہم آہنگی اور وحدت عمل پر نگاہ جاتی ہے تو فورا توجہ ایک اکیلے مبداء علم و قدرت کی مائل ہوجاتی ہے کہ یہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہے۔
مثلا جب ہم آنکھ کے سات پردوں میں سے کسی ایک بناوٹ پر بھی غور کرتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ امر کسی بے شعور ، اندھی اور بہری فطرت سے محال ہے کہ وہ ایسے اثر کا مبدا ء بن سکے اور جب ان سات پردوں کے باہمی ربط اور ہم آہنگی پھر آنکھ کی ساری مشینسری کی انسانی بدن سے ہم آہنگی اور پھر ایک انسان کی دیگر انسانوں سے ہم آہنگی اور پھر پوری انسانی برادری کی پورے نظام ہستی سے ہم آہنگی دیکھتے ہیں تو جان لیتے ہیں کہ ان سب کا ایک ہی سرچشمہ ہے اور یہ سب ایک ہی ذات پاک کے آثار قدرت ہیں ۔
ایک عمدہ اور اچھا اور پر معنی شعر کیا ہمیں شاعر کے اعلی ذوق اور سرشار طبیعت کا پتہ نہیں دیتا اور کیا ایک دیوان میں موجود چند قطعات کی کامل ہم آہنگی اس امر کی دلیل نہیں کہ یہ سب ایک قادر الکلام شاعر کی طبیعت اور ذوق کے آثار ہیں ۔
اس تمہید کو نظر میں رکھتے ہوئے اب ہم آیت کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں اس آیت میں جہان ہستی کے نظم و ضبط کے چھ قسم کے آثار کی طرف اشارہ کیاگیاہے۔ ان میں سے ہر ایک اس عظیم مبداء کے وجو د کی نشانی ہے۔
۱ ۔ آسمانوں اور زمین کی خلقت میں( ان فی خلق السموات و الارض ) جی ہاں ۔ اس پر شکوہ اور ستاروں بھرے آسمان کی خلقت ، یہ عالم بالا کے کرات جن میں کرو ڑوں آفتاب درخشاں ،کرو ڑوں ثابت و سیار ستارے جو تاریک رات میں پر معنی اشاروں سے ہم سے بات کرتے ہیں اور وہ جنہیں بڑی بڑی دو بینوں سے دیکھاجائے تو ایک دقیق اور عجیب نظام دکھائی دیتاہے ایسا نظام جس نے ایک زنجیر کے حلقوں کی طرف انہیں ایک دوسرے سے پیوست کررکھاہے۔
اسی طرح زمین کی خلقت۔۔۔ جہاں قسم قسم کے مظاہر حیات ہیں ۔ جہاں مختلف انواع اور صورتوں میں لاکھوں نباتات اور جانور موجود ہیں ۔ یہ سب اس ذات پاک کی نشانیاں اور اس کے علم ، قدرت اور یکتائی کے واضح دلائل ہیں ۔
تعجب کی بات ہے کہ انسان کا علم و ادراک جتنا بڑھتا جارہاہے اتنی ہی اس عالم کی عظمت و وسعت اس کی نظر میں زیادہ ہوتی جارہی ہے اور معلوم نہیں یہ وسعت علم کب تک جاری رہے گی۔
اس وقت کے علماء کہتے ہیں کہ عالم بالا میں ہزاروں کہکشائیں موجود ہیں ۔ ہمارا نظام شمسی ایک کہکشاں کا حصہ ہے۔ صرف ہماری کہکشاں میں کروڑوں آفتاب اور چمکتے ستارے موجود ہیں ۔ علماء عصر کے اندازے کے مطابق ان میں لاکھوں مسکونی سیارے ہیں جن میں اربوں موجودات ہیں ۔ کیاہی عظمت و قدرت ہے۔
۲ ۔ رات دن کے آنے جانے میں (و اختلاف اللیل و النهار )۔
جی ہاں ۔ یہ رات دن کا اختلاف(۱)
اور ایک مخصوص تدریجی نظام کے ساتھ یہ روشنی اور تاریکی کی آمد و شد۔ اس سے پھر چار موسم وجود پاتے ہیں ۔ نباتات اور دیگر زندہ موجودات اسی نظام کی وجہ سے تدریجی طور پر مراحل تکامل طے کرتے ہیں ۔ اس ذات پاک اور اس کی بلند صفات کے لئے یہ ایک اور نشانی ہے۔
۳ ۔ انسانوں کے نفع کی چیزیں لے کر کشتیاں دریا میں چلتی ہیں( و الفلک التی تجری فی البحر بما ینفع الناس ) ۔
چھوٹی بڑی کشتیوں کے ذریعے انسان وسیع سمندروں میں چلتاہے اور اپنے مقاصد کے لئے ان کے ذریعے زمین کے مختلف حصوں میں جاتاہے یہ سفر خصوصا بادبانی کشتیوں کا سفر چند نظاموں کی وجہ سے ہے۔
۱ ۔ وہ ہوائیں جو ہمیشہ سطح سمندر پر رہتی ہیں ۔ یہ ہوائیں عموما زمین کے قطب شمالی اور قطب جنوبی سے خط استوا ء کی طرف اور خط استوار سے قطب شمالی اور جنوبی کی طرف چلتی ہیں انہیں آلیزہ اور کاؤنٹر آلیزہ کہتے ہیں ۔
ب۔ کچھ ہوائیں علاقوں کے لحاظ سے ایک معین پروگرام کے تحت چلتی ہیں ارو کشتیوں کو یہ سہولت بہم پہنچاتی ہیں کہ وہ اس فراواں طبیعی دولت سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھیں و اسی طرح لکڑی کی خاص طبیعی خاصیت ہے جس کی وجہ سے وہ پانی میں نہیں ڈوبتی یہ بھی پانی پر اجسام کے تیر نے کا سبب بنتی ہے)۔
زمین کے دونوں قطبوں میں غیر مبدل مقناطیسی خاصیت ہے جن کے حساب سے قطب نما کی سوئیاں حرکت کرتی ہیں ۔ یہ بھی پانی پر چیزوں کی آمد و رفت میں مددگار ہوتی ہے۔
ان سب کو دیکھ کر اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ جب تک یہ سب نظام ایک دوسرے سے متحد نہ ہوں کشتیوں کی حرکت سے وہ بھر پور فوائد حاصل نہیں کئے جاسکتے جو کئے جارہے ہیں ۔ ۲
یہ بات حیران کن ہے کہ دور حاضر میں مشینی کشتیوں کے بننے سے ان امور کی عظمت نہ فقط یہ کہ کم نہیں ہوئی بلکہ ان کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔
آج کی دنیا میں دیو ہیکل سمندری جہاز اہم ترین ذریعہ نقل و حمل شمار ہوتے ہیں ۔ بعض جہاز تو شہروں کی طرح و سیع ہیں ۔ ان میں میدان، سیر و تفریح کے مراکز یہاں تک کہ بازار بھی موجود ہیں ۔ ان کے عرشہ پر ہوائی جہازوں کے اترنے کے لئے بڑے بڑے ایر پورٹ تک موجود ہیں ۔
۴ ۔پانی جسے خدا آسمان سے نازل کرتاہے، اس کے ذریعے مردہ زمینوں کو زندہ کرتاہے اور اسی نے ان میں طرح طرح کے جانور پھیلا رکھے ہیں( وَمَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَاٴَحْیَا بِهِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِیهَا مِنْ کُلِّ دَابَّة ص ) ۔
بارش کے حیات بخش، تازہ اور با برکت موتی اور اس طبیعی صاف و شفاف پانی کے قطرے ہر جگہ گرتے ہیں اور گویا زندگی کا چھڑ کاؤ کرتے ہیں اور اپنے ساتھ حرکت و برکت، آبادی اور نعمتوں کی فراوانی لاتے ہیں ۔ یہ پانی جو ایک خاص نظام کے تحت گرتاہے، تمام موجودات اور جاندار اس بے جان سے جان پاتے ہیں ۔
یہ سب اس کی عظمت و قدرت کے پیغام بر ہیں ۔
۵ ۔ ہواؤں کا ایک منظم طریقے سے چلنا (و تصریف الریاح)۔
ہوائیں نہ صرف سمندروں پرچلتی اور کشتیوں کو چلاتی ہیں بلکہ خشک زمینوں ، پہاڑوں ، دروں اور جنگلوں کو بھی اپنی جولان گاہ بناتی ہیں ۔ کبھی یہ ہوائیں نرگھاس کے چھوٹے چھوٹے دانوں کو مادہ سبزہ زاروں پر چھڑ کتی ہیں اور پیوند کاری و بارآوری میں ان کی مدد کرتے ہیں ۔ ہمارے لئے پھلوں کا قتحفہ لاتی ہیں اور طرح طرح کے بیجوں کو وجود دیتی ہیں ۔
بعض اوقات یہ ہوائیں سمندروں کی موجوں کو حرکت دے کر پانیوں کو ایک دوسرے سے اس طرح ملاتی ہیں کہ سمندری موجودات کو حیات نومل جاتی ہے۔
کبھی ہوائیں گرم علاقوں کی تپش سرد علاقوں میں کھینچ لاتی ہیں اور کبھی سرد علاقوں کی خنکی گرم علاقوں میں منتقل کر دیتی ہیں اور یوں زمین کی حرارت کو معتدل کرنے میں مؤثر مدد کرتی ہیں ۔
گویا ہواؤں کا چلنا جس میں یہ تمام فوائد و برکات ہیں ، اس کے بے انتہا لطف و حکمت کی ایک اور نشانی ہے۔
۶ ۔ وہ بادل جو زمین و آسمان کے در میان معلق و مسخر ہیں( وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔
ایک دوسرے سے ٹکرانے والے یہ بادل جو ہمارے سروں کے اوپر گردش میں ہیں ۔اربوں ٹن پانی اٹھائے، کشش ثقل کے قانون کے برعکس آسمان و زمین کے در میان معلق ہیں اور اس پانی کو بغیر کوئی خطرہ پیدا کئے ادھر ادھرلے جاتے ہیں ۔
یہ اس کی عظمت کی ایک اور نشانی ہے۔
علاوہ ازیں پانی کا یہ خزانہ اگر پانی نہ برساتا تو زمین خشک ہوتی، پینے کو ایک قطرہ پانی نہ ہوتا، سبزہ زاروں کے اگنے کے لئے کوئی چشمہ اور نہر نہ ہوتی ہر جگہ ویران ہوتی اور ہر مقام پر مردہ خاک پھیلی ہوئی ہوتی۔
یہ بھی اس کے علم و قدرت کا ایک اور جلوہ ہے۔
جی ہاں ۔۔۔ یہ سب اس کی ذات پاک کی نشانیاں اور علامتیں ہیں لیکن ایسے لوگوں کے لئے جو عقل و ہوش رکھتے ہیں اور غور و فکر کرتے ہیں (لایت لقوم یعقلون) ان کے لئے نہیں جو بے خبر اور کم ذہن ہیں ، نہ ان کے لئے جو آنکھیں رکھتے ہوئے بے بصیرت ہیں اور کان رکھتے ہوئے بہرے ہیں ۔
____________________
۱ لفظ اختلاف ممکن ہے آمد و شد (آنے جانے ) کے معنی میں استعمال ہوا ہو کیونکہ یہ (خلف) اور (خلافت) کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے ایک دوسرے کا جانشین ہونا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اختلاف رات اور دن کی کمی بیشی کی طرف اشارہ ہو اور دونوں معانی بھی مراد ہوسکتے ہیں ، بہر حال یہ خاص نظام جو بہت سے واضح آثار کا حامل ہے اتفاقا اور بغیر کسی عالم و قادر ذات کے وجود پذیر نہیں ہوسکتا۔
۲- لفظ(فلک) کا معنی ہے کشتی، اس کا واحد اور جمع ایک ہی وزن پر ہے۔
آیات ۱۶۵،۱۶۶،۱۶۷
۱۶۵ ۔( وَمِنْ النَّاسِ مَنْ یَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللهِ اٴَندَادًا یُحِبُّونَهُمْ کَحُبِّ اللهِ وَالَّذِینَ آمَنُوا اٴَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ وَلَوْ یَرَی الَّذِینَ ظَلَمُوا إِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ اٴَنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِیعًا وَاٴَنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعَذَابِ )
۱۶۶ ۔( إِذْ تَبَرَّاٴَ الَّذِینَ اتُّبِعُوا مِنْ الَّذِینَ اتَّبَعُوا وَرَاٴَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمْ الْاٴَسْبَابُ )
۱۶۷( وَقَالَ الَّذِینَ اتَّبَعُوا لَوْ اٴَنَّ لَنَا کَرَّةً فَنَتَبَرَّاٴَ مِنْهُمْ کَمَا تَبَرَّئُوا مِنَّا کَذَلِکَ یُرِیهِمْ اللهُ اٴَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَیْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِینَ مِنْ النَّارِ )
ترجمہ
۱۶۵ ۔ بعض لوگ خدا کو چھوڑ کر اپنے لئے کسی اور معبود کا انتخاب کرتے ہیں انہیں اس طرح دوست رکھتے ہیں جیسے خدا کو رکھنا چاہئے اور ان سے محبت کرتے ہیں لیکن وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں انہیں (اس محبت کی نسبت جو مشرکین کو اپنے معبودوں سے ہے) خدا سے شدید عشق و محبت ہے اور جنہوں نے ظلم کیاہے (اور خدا کے علاوہ کسی اور کو معبود قرار دے لیاہے) جب وہ عذاب خدا کو دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ تمام قدرت خدا کے ہاتھ ہے (نہ کہ ان خیالی معبودوں کے ہاتھ جن سے وہ ڈرتے ہیں ) اور خدا کا عذاب اور سزا شدید ہے۔
۱۶۶ ۔ اس وقت (انسانی و شیطانی معبود اور) رہبر اپنے پیروکاروں سے بیزار ہوں گے۔ وہ عذاب خدا کا مشاہدہ کریں گے اور ان کے باہمی تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔
۱۶۷ ۔ تب پیروکار کہیں گے کاش ہم دوبارہ دنیا کی طرف پلٹ جائیں تا کہ ہم بھی ان سے اسی طرح بے بیزاری اختیار کریں جس طرح آج یہ ہم سے بیزار ہیں ۔ (ہاں ) یونہی خدا انہیں ان کے اعمال حسرت دکھائے گا (اور انہیں اپنے اعمال سراپا یاس دکھائی دیں گے) اور وہ ہرگز (جہنم کی) آگ سے خارج نہیں ہوں گے۔
بیزاری پیشوایان
پہلے کی دو آیات میں وجود خدا اور اس کی توحید و یگانگت کو نظام خلقت اور اس کی ہم آہنگی کے دلائل سے ثابت کیاگیاہے۔ اسی وجہ سے محل بحث آیات میں روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جنہوں نے ان واضح اور قطعی براہین سے چشم پوشی کی، شرک و بت پرستی اختیار کی اور متعدد خدا قرار دے لئے۔ یہ گفتگو ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے خشک لکڑی کے زوال پذیر معبودوں کے سامنے سر تعظیم خم کیاہے ان سے ایسا عشق کرتے ہیں جیسا عشق صرف خدا تعالی کے لائق ہے جو تمام کمالات کا منبع و مرکز ہے اور تمام نعمات بخشنے والا ہے۔
ارشاد ہوتاہے: بعض لوگ اپنے لئے خدا کے علاوہ معبود انتخاب کرتے ہیں( و من الناس من یتخذ من دون الله اندادا ) (۱)
انہوں نے نہ صرف بتوں کو اپنا معبود قرار دے لیاتھا بلکہ ان کے اس طرح عاشق ہوگئے تھے جیسے خدا سے محبت کی جاتی ہے( یحبونهم کحب الله ) ۔لیکن جو لوگ خدا پر ایمان لاچکے ہیں وہ اللہ سے زیادہ محبت رکھتے ہیں( و الذین امنوا اشد حبا لله ) کیونکہ وہ فکر و نظر اور علم و دانش کے حامل ہیں اور وہ اس کی ذات پاک کو ہرگز نہیں چھوڑتے جو تمام کمالات کا منبع و محزن ہے وہ اس کے اور اس کے پیچھے نہیں جاتے۔ ان کے نزدیک خدا کی محبت، عشق اور لگاؤکے مقابلے میں ہر چیز بے قیمت، ناچیز اور حقیر ہے وہ غیر خدا کو اس محبت کے بالکل لائق نہیں سمجھتے مگر یہ کہ یہ محبت اس کے لئے اور اسی کی راہ میں ہو لہذا وہ عشق کے بحر بیکراں میں اس طرح غوطہ زن ہیں کہ بقول حضرت علی:فهبنی صبرت علی هذا بک فکیف اصبر علی فواتک
پس فرض کیا کہ تیرے عذاب پر صبر کرلوں گا مگر تیرا فراق و جدائی کیسے برداشت کروں گا۔(۲)
اصولی طور پر حقیقی عشق و محبت ہمیشہ کسی کمال سے ہوتاہے ۔ انسان کبھی عدم اور ناقص کا عاشق نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ وجود اور کمال کی جستجو میں رہتاہے۔ اس لئے وہ ذات جس کا وجود اور کمال سب سے برتر، وسیع اور بے انتہائے عشق ومحبت کے لئے سب سے زیادہ سزاوار ہے۔
خلاصہ یہ کہ جیسے مندرجہ بالا آیت کہتی ہے صاحبان ایمان کی خدا سے محبت، عشق اور وابستگی بت پرستوں کی اپنے خیالی معبووں کی نسبت زیادہ حقیقی، گہری اور شدید ہے۔ اور ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ جس نے حقیقت کو پالیا ہے اور اس سے محبت کی ہے وہ ہرگز اس کے برابر نہیں ہوسکتا جو خرافات و تخیلات میں گرفتار ہو۔ مومنین کے عشق کا سرچشمہ عقل، علم اور معرفت ہے اور کفار کے عشق کی بنیاد جہالت ، خرافات اور خواب و خیال ہے۔ اسی لئے پہلی قسم کی محبت کبھی متزلزل نہیں ہوسکتی لیکن مشرکین کے عشق میں ثبات، وام نہیں ۔ لہذا آیت کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا گیاہے ، یہ ظالم جب عذاب خدا کو دیکھیں گے اور جان لیں گے کہ تمام قدرتیں خدا کے ہاتھ میں ہیں اور وہی عذاب شدید کا مالک ہے اس وقت اپنے اعمال کی پستی و حقارت اور اپنے کرتو توں کے برے انجام کی طرف متوجہ ہوں گے اور اعتراف و اقرار کریں گے کہ ہم کجرو اور منحرف لوگ تھے( و لو یری الذین ظلموا اذ یرون العذاب ان القوة لله جمیعا و ان الله شدید العذاب ) (۳)
بہرحال اس وقت جہالت، غرور اور غفلت کا پردہ ان کی آنکھوں سے ا’ٹھ جائے گا اور وہ اپنے اشتباہ اور غلطی کو جان لیں گے لیکن چونکہ ان کے لئے کو ئی پناہ گاہ اور سہارا نہ ہوگا لہذا سخت بے چارگی میں وہ بے اختیار اپنے معبودوں اور رہبروں کے دامن تھامنے کو لپکیں گے مگر اس وقت ان کے گمراہ رہبران کو پیچھے دھکیل دیں گے اور وہ اپنے پیرو کاروں سے اظہار بیزاری کریں گے (إ( ِذْ تَبَرَّاٴَ الَّذِینَ اتُّبِعُوا مِنْ الَّذِینَ اتَّبَعُوا )
اسی حالت میں وہ اپنی آنکھوں سے عذاب الہی دیکھیں گے اور ان کے باہمی تعلقات ٹوٹ جائیں گے( وَرَاٴَوْا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمْ الْاٴَسْبَابُ ) ۔
واضح ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد پتھر اور لکڑی کے بت نہیں بلکہ وہ جابر و قاہر انسان اور شیاطین ہیں کہ مشرکین اپنے تئیں دست بستہ جن کے اختیار میں دے چکے ہیں لیکن وہ بھی اپنے پیروکاروں کا دھتکار دیں گے۔
ایسے میں جب یہ گمراہ پیروکار اپنے معبودوں کی یہ کھلی بے وفائی دیکھیں گے تو اپنے آپ کو تسلی دینے کے لئے کہیں گے: کاش ہم دنیا میں پلٹ جائیں تو ان سے بیزاری اختیار کریں گے جیسے وہ آج ہم سے بیزار ہیں( و قال الذین اتبعوا لو ان لنا کرة فسبرا منهم کما تبراء و امنا ) ۔
لیکن اب کیا فائدہ معاملہ تو ختم ہوچکاہے ۔ اب دنیا کی طرف پلٹنا ممکن نہیں رہا۔ ایسی ہی گفتگو سورہ زخرف آیہ ۳۸ میں ہے:( حتی اذا جاء ناقال یالیت بینی و بینک بعد المشرقین فبئس القرین )
قیامت کے دن جب وہ ہماری بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو گمراہ کرنے والے رہبر سے کہیں گے:
اے کاش تیرے میرے در میان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا۔
آیت کے آخر میں فرماتاہے: ہاں اسی طرح ان کے اعمال ان سب کے لئے سبب حسرت و یاس بناکر پیش کرے گا( کذلک یریهم الله اعمالهم حسرات علیهم ) اور وہ کبھی جہنم کی آگ سے نہیں نکلیں گے( و ما هو بخارجین من النار ) ۔
واقعا وہ حسرت و یاس میں گرفتار ہونے کے علاوہ کیا کرسکتے ہیں ۔ ان اموال پر حسرت جو انہوں نے جمع کئے اور فائدہ دوسروں نے اٹھایا، ان بے پناہ وسائل پر حسرت جو نجات و کامیابی کیلئے ان کے ہاھ میں تھے مگر انہوں نے ضائع کردیے اور ان معبووں کی عبادت پر حسرت خدائے قادر و متعال کی عبادت کے مقابلے میں جن کی کوئی قدر و قیمت نہ تھی لیکن یہ حسرت کس کام کی کیونکہ اب نہ عمل کا موقع ہوگا اور نہ یہ کمی کو پورا کرسکے گی بلکہ وہ تو سزا اور اعمال کا نتیجہ و ثمرہ دیکھنے کا وقت ہوگا۔
____________________
۱- انداد (جمع ہے(ند) کی جس کا معنی ہے (مثل) لیکن بعض اہل لغت کے بقول اس مثل کوند کہتے ہیں جو دوسری چیز سے جو ہری و اصلی شباہت رکھتی ہو جبکہ مثل کا مفہوم عمومی ہے۔ لہذا آیت کا معنی یوں ہوگا کہ مشرکین کا اعتقاد تھا کہ بت جو بر ذات میں خدا سے شباہت رکھتے ہیں یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ جہالت و نادانی کی وجہ سے ان کے لئے خدائی صفات کے قائل تھے۔
۲- دعائی کمیل میں سے۔
۳- بعض مفسرین نے لفظ (لو) کو تمنائی سمجھاہے لیکن بہت سے اسے شرطیہ سمجھتے ہیں اس صورت میں اس کی جزا محذوف ہوگی اور جملہ یوں ہوگا۔ ”لراوا سوء فعلهم و سوء عاقبتهم “۔
آیات ۱۶۸،۱۶۹
۱۶۸ ۔( یَااٴَیُّهَا النَّاسُ کُلُوا مِمَّا فِی الْاٴَرْضِ حَلاَلًا طَیِّبًا وَلاَتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إِنَّهُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُبِینٌ )
۱۶۹ ۔( إِنَّمَا یَاٴْمُرُکُمْ بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَاٴَنْ تَقُولُوا عَلَی اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ )
ترجمہ
۱۶۸ ۔اے لوگو! زمین میں جو کچھ حلال اور پاکیزہ ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے نشان پاکی پیروی نہ کرو بلکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
۱۶۹ ۔ وہ تمہیں فقط برائیوں اور انحرافات کا حکم دیتاہے۔ نیز (کہتاہے کہ ) جن امور کو تم نہیں جانتے انہیں خدا کی طرف منسوب کردو۔
شان نزول
ابن عباس سے منقول ہے کہ عرب کے بعض قبیلوں مثلا ثقیف، خزاعہ و غیرہ نے بعض زرعی اجناس اور جانوروں کو بغیر کسی دلیل کے اپنے اوپر حرام قرار دے رکھا تھا (یہاں تک کہ ان کی تحریم کی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے) اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں جن میں انہیں اس ناروا عمل سے روکا گیاہے۔
شرک و بت پرستی کی سخت مذمت کی گئی تھی۔
شرک کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انسان خدا کے علاوہ کسی کو قانون ساز سمجھ لے اور نظام تشریع اور حلال و حرام اس کے اختیار میں قرار دیدے۔ محل بحث آیات میں ایسے عمل کو شیطانی فعل قرار دیاگیاہے۔ پہلے ارشاد ہوتاہے: اے لوگو! جو کچھ زمین میں حلال اور پاکیزہ ہے اسے کھاؤ( یا ایها الناس کلو مما فی الارض حللا طیبا ) ۔
اور شیطان کے نقوش قدم پر نہ چلو کیونکہ وہ تمہارا واضح دشمن ہے (و لا تتبعوا خطوات الشیطان انہ لکم عدو مبین)۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ مختلف غذاؤں سے فائدہ اٹھانے سے مربوط آیات قرآن میں کئی مقام پر ہیں اور عموما ان میں دو قیود کا ذکر ہے حلال اور طیب۔ حلال وہ ہے جس سے روکا نہ گیا ہو اور طیب ان چیزوں کو کہتے ہیں جو پاک و پاکیزہ اور انسان کی طبع سلیم کے مطابق ہوں ۔ طیب کے مد مقابل خبیث ہے جس سے مزاج انسانی نفرت کرتاہے۔
خطوات جمع ہے خطوہ (بر وزن (قربہ) کی ۔ اس کا معنی ہے قدم۔ خطوات الشیطان سے مراد وہ قدم ہیں جو شیطان اپنے مقصد تک پہنچنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے اٹھاتاہے۔
( لا تتبعوا خطوات الشیطان ) قرآن میں پانچ مقامات پر دکھائی دیتاہے۔ دو مقامات پرغذا اور خدائی رزق سے استفادہ کرنے کے ضمن میں ہے۔ در اصل انسانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ حلال نعمتوں کو بے محل استعمال نہ کریں اور نعمات الہی کو خدا کی اطاعت و بندگی کا ذریعہ قراردیں نہ کہ طغیان سرکشی اور فساد کا۔
شیطان کے نقوش پاکی پیروی حقیقت میں وہی بات ہے جو دیگر آیات میں حلال غذاؤں سے استفادہ کرنے کہ حکم کے بعد ذکر ہوئی ہے۔ مثلا( کُلُوا وَاشْرَبُوا مِنْ رِزْقِ اللهِ وَلاَتَعْثَوْا فِی الْاٴَرْضِ مُفْسِدِینَ )
رزق الہی میں سے کھاؤ پیو مگر زمین میں فتنہ و فساد برپا نہ کرو۔ (بقرہ۔ ۶۰)
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:( کلوا من طیبت ما رزقنکم و لا تطغوا فیه )
وہ پاکیزہ رزق جو ہم نے تمہیں عطا کیاہے اس میں سے کھاؤ مگر اس میں طغیان و سرکشی نہ کرو۔
(طہ۔ ۸۱)
خلاصہ یہ کہ یہ عطیات اور اسباب اطاعت کے لئے تقویت بخش ہونے چاہئیں گناہ کا ذریعہ نہیں ۔
”انہ لکم عدو مبین“قرآن حکیم میں دس سے زیادہ مرتبہ شیطان کے ذکر کے ساتھ آیاہے۔ یہ اس لئے ہے تا کہ انسان اس واضح دشمن کے مقابلے میں اپنی تمام قوتیں اور صلاحیتیں یکجا کرے۔
شیطان جس کا مقصد انسان کی بدبختی اور شقاوت کے سوا کچھ نہیں اگلی آیت اس کی انسان سے شدیدترین دشمنی کو بیان کرتی ہے۔ فرمایا: وہ صرف تمہیں طرح طرح کی برائیوں اور قباحتوں کا حکم دیتاہے( انما یامرکم بالسوء و الفحشا )
نیز تمہیں آمادہ کرتاہے کہ خدا پر افتراء باند ھو اور جو چیز تم نہیں جانتے ہو اس کی خدا کی طرف نسبت دو( و ان تقولوا علی الله مالا تعلمون ) ۔
ان آیات سے ظاہر ہوا کہ شیطان کے پروگراموں کا خلاصہ یہی تین امور ہیں ۔ برائیاں ، قباحتیں اور ذات پروردگار سے بے بنیاد باتیں منسوب کرنا۔
(فحشا) کا مادہ ہے (فحش) جس کا مطلب ہر وہ چیز ہے جو حد اعتدال سے خارج ہوکر فاحش کی شکل اختیار کرلے اس لحاظ سے تمام منکرات اور واضح قباحتیں اس کے مفہوم میں شامل ہیں ۔
یہ جو آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ یہ لفظ عفت و پاکدامنی کے منافی افعال کے لئے استعمال ہوتاہے یا ان گناہوں پر بولاجاتاہے جو حد شرعی رکھتے ہیں تو یہ لفظ کے کلی مفہوم کے بعض واضح مصادیق ہیں ۔
( ان تقولوا علی الله ما لا تعلمون ) ۔ ممکن ہے یہ ان حلال غذاؤں کی طرف اشارہ ہو جنہیں زمانہ جاہلیت کے عربوں نے حرام قرار دے رکھا تھا اور اس کی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے بلکہ بعض بزرگ مفسرین کے بقول اس طرز فکر کی رسومات تازہ مسلمانوں کے بعض گروہوں میں بھی باقی رہ گئی تھیں(۱)
خدا کی طرف شریک شبیہ کی نسبت دینا اس آیت کا زیادہ وسیع معنی ہے اور یہ بھی آیت کے مفاہیم میں شامل ہے
بہرحال یہ جملہ اس طر ف اشارہ ہے کہ ایسے امور کا مطلب علم کے بغیر بات کرناہے اور وہ بھی خدا کے مقابلے میں جب کہ یہ کام کسی منطق اور عقل و خرد کی روسے صحیح نہیں ۔
اگر لوگ اصولی طور پر اس بات کے پابند ہوں کہ وہ وہی بات کریں گے جس کا کوئی قطعی اور یقینی مدرک ہے تو انسانی معاشرے سے بہت سی بدبختیاں اور تکالیف دور ہوسکتی ہیں در حقیقت خدائی مذاہب میں جو خرافات شامل ہوگئے ہیں وہ اسی طرح بے منطق افراد کے ذریعے ہوئے ہیں ۔ بگڑے ہوئے اعتقادات اور اعمال اسی بنیادکو اہمیت نہ دینے کے وجہ سے ہیں لہذا خطوات شیطان کی مستقل عنوان کے تحت مندرجہ بالا آیت میں برائیوں اور قباحتوں کے ساتھ اس عمل کا بھی ذکر کیاگیاہے۔
____________________
۱ تفسیر المیزان، ج۱ ص۴۲۵
اصل حلیت:
یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ روئے زمین پر موجود تمام غذائیں بنیادی طور پر حلال ہیں اور حرام غذائیں صرف استثنائی پہلو رکھتی ہیں لہذا کسی چیز کا حرام ہونا دلیل کا محتاج ہے نہ کہ حلال ہونا۔ دوسری طرف قوانین تشریعی کو چونکہ قوانین سے ہم آہنگ ہونا چاہئیے لہذا آفرینش و خلقت کا تقاضا بھی یہی ہے۔ زیادہ وضاحت سے یوں کہا جاسکتاہے کہ جو کچھ خدانے پیدا کیاہے یقینا اس میں کوئی فائدہ ہے اور وہ بندوں کے استفادہ کے لئے ہے لہذا اس کی کوئی وجہ نہیں کہ کوئی چیز بنیادی طور پر حرام ہو۔ لہذا ہر وہ غذا جس کی حرمت پر کوئی صحیح دلیل موجود نہ ہو جب تک وہ انفرادی یا اجتماعی طور پر باعث فساد اور ضرر رساں نہ ہو اس آیت شریفہ کی روشنی میں حلال ہے
تدریجی انحرافات:
خطوات الشیطان (شیطان کی نقوش پا)۔ یہ الفاظ ایک دقیق تربیتی مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ یہ کہ کجرویاں اور تباہ کاریاں آہستہ آہستہ انسان میں نفوذ کرتی ہیں نہ کہ دفعتا۔ مثلا جب کوئی نوجوانوں منشیات، قمار اور شراب سے آلودہ ہوتاہے تو یہ مقام کئی مراحل کے بعد آتاہے۔ پہلے وہ ایک تماشائی کے طور پرایسے لوگوں میں شریک ہوتاہے اور اس کے انجام کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔
دوسرے مرحلے پر وہ قمار بازی میں بغیر نفع یا نقصان کے شریک ہوتاہے اور اسی طرح منشیات سے تکان دور ہونے یا علاج کے بہانے استفادہ کرتاہے۔
تیسرے مرحلے میں وہ ان امور سے تھوڑا بہت فائدہ حاصل کرنے لگتاہے اور سوچتاہے کہ بہت جلد ان سے صرف نظر کرلوں گا۔ اسی طرح یکے بعد دیگرے قدم اٹھتے ہیں ۔
اور بالآخر وہ شخص ایک قمار باز اور نشے کا خطرناک عادی مجرم بن جاتاہے۔ یہ شیطانی وسوسے عموما آہستہ آہستہ، تدریجا ہلاکت کے گڑھے کی طرف لے جاتے ہیں ۔ یہ کام فقط ایک مشہور شیطان نہیں کرتا بلکہ شیطانی قوتیں اپنے غلط منصوبوں کو اسی طرح عملی جامہ پہناتی ہیں اسی لئے قرآن کہتاہے کہ پہلے قدم پرہی ہوش میں آکر شیطان کی ہمراہی سے کنارہ کش ہوجانا چاہئیے۔
احادیث اسلامی میں بے ہودہ خرافات اور بے منطق کاموں کو خطوات شیطان قرار دیا لیاہے مثلا ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے قسم کھائی کہ وہ اپنے بیٹے کو خد ا کے لئے ذبح کرے گا۔ امام صادق نے فرمایا:
( ذلک من خطوات الشیطان )
یہ شیطانی اقدامات میں سے ہے۔(۱)
ایک اور روایت میں امام صادق سے مردی ہے، آپ نے فرمایا:
جو شخص کسی ایسی چیز کو ترک کرنے کی قسم کھائے کہ جس کا انجام دینا بہتر ہے تو وہ ایسی قسم کی پرواہ نہ کرے اور اس کار خیر کو بجالائے۔ اس کا کفارہ بھی نہیں ہے اور وہ خطوات شیطان میں سے ہے۔(۲)
ایک اور حدیث امام باقر سے مروی ہے، آپ نے فرمایا:
کل یمین بغیر الله فهو من خطوت الشیطان
جو قسم غیر خدا کی کھائی جائے وہ خطوات شیطان میں سے ہے۔(۳)
____________________
۱،۲، ۳ المیزان، ج۱، ص۴۶۸
شیطان پرانا دشمن ہے:
آیت کے آخر میں شیطان کو واضح دشمن قرار دیا گیاہے۔ یہ یا تو اس دشمنی کی بناپر ہے جو اسے پہلے دن سے حضرت آدم سے تھی جب کہ وہ حضرت آدم کو سجدہ کرنے کے حکم نافرمانی کرکے ہر چیز سے ہاتھ دھو بیٹھا یا اس لئے ہے کہ قتل، جارحیت اور تباہ کاری پر مبنی اس کے دعوتیں ، کرتوت اور طریقے سب پر واضح ہیں اور سب جانتے ہیں کہ ایسے کام کسی دوست کی طرف سے نہیں ہوسکتے۔ ایسے کام جن کا نتیجہ بدبختی اور پشیمانی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ان کی دعوت ایک خطرناک دشمن کی طرف سے ہی ہوسکتی ہے۔یہ اس طرف بھی اشارہ ہوسکتاہے کہ اس نے انسا ن سے اپنی دشمنی کا صراحت سے اعلان کیاہے اور اس نے انسان کی دشمنی پر کمر باندھ رکھی ہی اور اس نے کہہ رکھاہے کہ:لاغوینہم اجمعین
مجھ سے ہوسکا تو سب کو گمراہ کردوں گا۔(حجر۔ ۳۹)
شیطانی وسوسوں کی کیفیت:
یہاں ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ آیت کہتی ہے شیطان تمہیں حکم دیتا ہے کہ برائیوں اور قباحتوں کی طرف جاؤ اور یہ بھی مسلم ہے کہ ”امر“ سے مراد شیطانی وسوسہ ہی ہے۔ حالانکہ برائی انجام دیتے وقت ہمیں اپنے وجود سے باہر سے کسی امراور تحریک کا احساس نہیں ہوتا اور ہمیں شیطان کے گمراہ کرنے کی کسی کوشش کا داخلی احساس نہیں ہوتا۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جیسے لفظ وسوسہ سے ظاہر ہوتاہے یہ ایک طرح کی وجود انسانی میں شیطانی تاثیر ہے۔جو مخفی اور نا معلوم قسم کی ہے۔ بعض آیات میں اسے ”وحی“ اور ”ایماء“ سے تعبیر کیاگیاہے۔ جیسا کہ سورہ انعام کی آیت ۱۲۱ میں ہے:( و ان الشیطین لیرحون الی اولیئهم ) شیاطین اپنے دوستوں اور ان لوگوں کو جو ان کے احکام قبول کرنے پر آمادہ کرتے ہیں وحی کرتے ہیں ۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ وحی مخفی اور مرموز آواز ہے جس کی تاثیرات اکثر نامعلوم طرح کی ہیں ۔
البتہ انسان خدائی الہامات اور شیطانی وسوسوں میں واضح تمیز کرسکتاہے کیونکہ خدائی الہامات کی پہچان کی واضح علامت موجود ہے۔ اور وہ یہ کہ خدائی الہامات چونکہ انسان کی پاک فطرف اور اس کے جسم و روح کی ساخت سے آشناہیں اس لئے جب وہ دل میں پیدا ہوتے ہیں تو انبساط و نشاط کی کیفیت بخشتے ہیں جب کہ شیطانی وسوسے انسانی فطرت سے ہم آہنگ نہیں ہیں اس لئے جب وہ دل میں پیدا ہوتے ہیں اس وقت ایک طرح کی گھٹن، تکلیف اور سنگینی کا احساس پیدا ہوتاہے اگر انسان کے رجحا نات یہاں تک جا پہنچیں کہ برا کام انجام دیتے وقت اس میں یہ احساس پیدا نہ ہو تب بھی کام انجام دینے کے فورا بعد یہ احساس پیدا ہوجاتاہے۔ یہ ہے فرق شیطانی اور رحمانی الہامات کے در میان۔
آیات ۱۷۰،۱۷۱
۱۷۰ ۔( وَإِذَا قِیلَ لَهُمْ اتَّبِعُوا مَا اٴَنزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا اٴَلْفَیْنَا عَلَیْهِ آبَائَنَا اٴَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُهُمْ لاَیَعْقِلُونَ شَیْئًا وَلاَیَهْتَدُونَ )
۱۷۱ ۔( وَمَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا کَمَثَلِ الَّذِی یَنْعِقُ بِمَا لاَیَسْمَعُ إِلاَّ دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لاَیَعْقِلُونَ )
ترجمہ
۱۷۰ ۔ جب انہیں کہاجاتاہے کہ جو کچھ خدا کی طرف سے نازل ہواہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں : ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پرہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایاہے۔ کیا ایسا نہیں کہ ان کے آباء و اجداد نہ کسی چیز کو سمجھتے ہیں اور نہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
۱۷۱ ۔ کافروں کو دعوت دینے میں (تمہاری) مثال اس شخص کی سی ہے جو (بھیڑوں اور دیگر جانوروں کو خطرات سے بچانے کے لئے)آواز دیتاہے لیکن وہ صدا اور پکارکے سوا کچھ نہیں سنتے (اور اس کی بات کی حقیقت اور مفہوم کو نہیں سمجھ پاتے) وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں ، اس لئے کچھ نہیں سمجھ سکتے۔
آباء و اجداد کی اندھی تقلید
یہاں مشرکین کی کمزور منطق، حلال غذاؤں کی بلا جواز تحریم یا بطور کلی بت پرستی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیاہے: جب ان سے کہاجاتاہے کہ جو کچھ خدانے نازل کیاہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہم نے جس طریقے پر اپنے آباؤ اجداد کو پایاہے اسی کی پیروی کریں گے( وَإِذَا قِیلَ لَهُمْ اتَّبِعُوا مَا اٴَنزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا اٴَلْفَیْنَا عَلَیْهِ آبَائَنَا ) (۱) ۔
قرآن اس بیہودہ اور خرافاتی منطق کی فورا اخبر لیتاہے جو آباؤ اجداد کی اندھی تقلید ہے۔ ارشاد ہوتاہے: کیا ایسا نہیں کہ ان کے آباؤ اجداد کچھ نہیں سمجھتے تھے اور وہ ہدایت یافتہ نہیں تھے( اٴَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُهُمْ لاَیَعْقِلُونَ شَیْئًا وَلاَیَهْتَدُون ) ۔یعنی اگر وہ پڑھے لکھے اور ہدایت یافتہ لوگ ہوتے تو گنجائش تھی کہ ان کی پیروی کی جاتی لیکن یہ جاننے کے با وجود کہ وہ ان پڑھ، نادان اور تو ہم پرست تھے کیا تک ہے کہ ان کی پیروی کی جائے کیا یہ جاہل کی تقلید کا مصداق نہیں ؟
قومیت اور قومی تعصبات کا مسئلہ بالخصوص جو آباؤ اجداد سے مربوط ہو مشرکین میں خصوصا اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں عموما پہلے دن سے موجود تھا اور آج تک جاری و ساری ہے لیکن خدا پرست اور صاحبان ایمان اس منطق کو ردکردیتے ہیں ۔ قرآن مجید نے بہت سے مواقع پر آباؤ اجداد کی اندھی تقلید اور تعصب کی شدید مذمت کی ہے اور اس نے آنکھ کان بند کرکے آباؤ اجداد کی تقلید کوردکردیاہے۔
اصولی طرو پر اپنی عقل و فکر کو دست بستہ بڑوں کے سپرد کردینے کا نتیجہ و قیانوسی رجعت پسندی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ عموما بعد والی نسلیں گذشتہ نسلوں سے زیادہ علم و آگہی رکھتی ہیں ۔
افسوس کی بات ہے کہ یہ جاہلانہ طرز فکر آج بھی بہت سے افراد اور ملل پر حکمرانی کرتی ہے اور وہ لوگ اپنے بڑوں کی بتوں کی طرح پرستش کرتے، ہیں اور بعض خرافاتی آداب و رسوم کو فقط اس لئے بے چون و چرا مان لیتے ہیں کہ یہ بزرگوں کے آثار ہیں اور انہیں دلفریب لباس پہنا دیتے ہیں ۔ مثلا قومیت کی حفاظت، تاریخی اسناد کا تحفظ و غیرہ ۔ یہ طرز فکر ایک نسل کی خرافات دوسری نسل میں منتقل ہونے کا ایک ذریعہ ہے۔
البتہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ آنے والی نسلیں گذرجانے والوں کے آداب و سنن کا تجزیہ کریں اور ان میں سے جو عقل و منطق کے مطابق ہوں ان کی بڑے احترام سے حفاظت کریں اور جوبے بنیاد خرافات وموہومات ہوں انہیں دور پھینک دیں ۔ اس سے بہتر کو ن سا کام ہوسکتاہے اور ایسی تنقید گذشتہ لوگوں کے آداب و سنن میں ملی و تاریخی اہمیت کی حامل چیزوں کی حفاظت کہلانے کی اہل ہے لیکن ہر پہلو سے انہیں قبول کرلینا اور اندھی تقلید کرنا سوائے خرافات پرستی اور رجعت پسندی کے کچھ نہیں ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کے متعلق مندرجہ بالا آیت میں خدا فرماتاہے: وہ نہ کسی چیز کو سمجھ سکتے تھے اور نہ ہدایت یافتہ تھے۔ یعنی دو قسم کے افراد کی پیروی کی جاسکتی ہے ایک وہ شخص جو علم اور عقل و دانش رکھتاہو، دوسرا وہ جو خود صاحب علم نہیں تا ہم اس نے کسی عالم کے علم و دانش کو قبول کرلیاہے۔ لیکن ان :کے آباؤ اجداد خود صاحبان علم و دانش تھے نہ ان کا کوئی ہادی و رہبر تھا اور یہ واضح ہے کہ نادان و جاہل جب نادان و جاہل کی تقلید کرتاہے تو یہی تقلید مخلوق کی بربادی کا باعث بنتی ہے۔ ایسی تقلید پر ہزار لعنت ہے۔
بعد کی آیت کہتی ہے کہ یہ گروہ ان واضح دلائل کے ہوتے ہوئے کیوں حق کی طرف نہیں پلٹتا اور کیوں گمراہی و کفر پر اصرار کرتاہے۔ فرمایا: اس کافر قوم کو ایمان لانے اور اندھی تقلید چھوڑنے کی دعوت دیتے ہوئے تمہاری مثال اس شخص کی طرح ہے جو بھیڑوں اور دیگر جانوروں کو (خطرے سے نجات دلانے کہ لئے) آواز دیتاہے لیکن وہ ایک پکار اور صدا کے سوا کچھ نہیں سمجھ پاتے( وَمَثَلُ الَّذِینَ کَفَرُوا کَمَثَلِ الَّذِی یَنْعِقُ بِمَا لاَیَسْمَعُ إِلاَّ دُعَاءً وَنِدَاءً ) ۔
واقعا وہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں جو خیرخواہ اور دلسوز چرواہے کہ دادو فریاد کو ایک نوائے سرد کے علاوہ نہیں سمجھتے جو ان کے لئے ایک وقتی تحریک ہی ہوسکتی ہے۔ آیت کے آخر میں تاکید اور مزید وضاحت کے لئے فرماتا ہے: وہ بہرے ، گونگے اور اندھے ہیں کسی چیز کا ادراک نہیں کرسکتے( صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لاَیَعْقِلُونَ )
جبھی تو وہ اپنے آباؤ اجداد کی غلط رسموں اور خرافاتی طریقوں سے چمٹے ہوئے ہیں اور ہر اصلاحی دعوت سے انہوں نے منہ موڑ رکھاہے۔(۲)
بعض مفسرین نے اس آیت کی ایک اور تفسیر بیان کی ہے۔ ان کے مطابق یہ اس طرح ہے: ان لوگوں کی مثال جو بتوں اور مصنوعی خدا کو پکارتے ہیں اس شخص کی سی ہے جو بے شعور جانوروں کو آواز دیتاہے۔ نہ وہ جانور چرواہے کی کسی بات کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ یہ مصنوعی معبود اپنے عبادت گذاروں کی باتیں سمجھتے ہیں کیونکہ یہ بت بہرے، گونگے اور اندھے ہیں ۔
لیکن اکثر مفسرین نے پہلی تفسیر کو منتخب کیاہے اور روایات اسلامی بھی اسی کی موید ہیں ۔
____________________
۱ -”الفینا“ کا معنی ہے ”ہم نے پایا اور پیروی کی۔
۲- اس تفسیر کے مطابق آیت تقدیر کی محتاج ہے۔ گویا اصل میں یوں ہے ”مثل الراعی للذین کفروا “ ۔ یعنی کافروں کو ایمان کی دعوت دینے والے کی مثال اس چرواہے کی سی ہے۔ اس بناء پر صم بکم عمی فہم لا یعقلون ایسے لوگوں کی توصیف ہے جنہوں نے ادراک کے تمام آل
پہچان کے آلات:
اس میں شک نہیں کہ باہر کی دنیا سے انسان کا رابطہ آلات کا محتاج ہے جنہیں پہچان کے آلات کہتے ہیں ۔ ان میں سے زیادہ اہم آنکھ، کان اور زبان ہیں جو دیکھنے، سننے اور بولنے کے کام آتے ہیں ۔ اس لئے مندرجہ بالا آیت میں آلات تمیز سے استفادہ نہ کرنے والوں کو بہرا، گونگا اور اندھا قرار دینے کے بعد فاء تفریح کا استعمال نتیجہ اخذ کرنے کے لئے کیاگیاہے اور بلافاصلہ ارشاد ہوتاہے: اسی لئے وہ کسی چیز کو نہیں سمجھتے۔ اس طرح قرآن گواہی دیتاہے کہ بنیادی طور پر علم و دانش کے اسباب آنکھ، کان اور زبان ہیں ۔ آنکھ اور کان براہ راست ادراک کے لئے اور زبان دوسروں سے استفادہ کے لئے ہے۔
فلسفے میں بھی یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے کہ غیر حسی علوم کا سرچشمہ بھی ابتدا علوم حسی ہیں ۔ یہ ایک وسیع بحث ہے اور یہ مقام اس کی تشریح کا نہیں ہے۔
آلات تمیز کی نعمت کے بارے میں زیادہ وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی گیارھویں جلد میں سورہ نحل آیہ ۷۸ کے تفسیر کی طرف رجوع فرمائیں ۔
ینعق کا مفہوم:
اس کا مادہ ”نعق“ ہے۔ اصل میں یہ کوے کی اس آواز کو کہتے ہیں جس میں شعور نہ ہو۔ جب کہ ”نغق“ کوے کی اس آواز کو کہتے ہیں جس میں شور و غل ہو اور کوا گردن بھی بلند کئے ہو۔(۱)
بعد ازاں ”نعق“ کے معنی میں وسعت پیدا ہوگئی۔ اب اس کے معنی وہ آوازیں ہیں جو جانوروں کے سامنے نکالی جائیں ۔ واضح ہے کہ وہ تو کلمات کے مفاہیم سے آگاہ نہیں ہوتے اور اگر ان پر کبھی کچھ اثر ہوتاہے تو آواز اور الفاظ کی ادائیگی کے طرز طریقہ سے ہوتاہے۔
____________________
۱- مجمع البیان، آیت محل بحث کے ذیل میں ۔
آیات ۱۷۲،۱۷۳
۱۷۲ ۔( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ وَاشْکُرُوا لِلَّهِ إِنْ کُنتُمْ إِیَّاهُ تَعْبُدُونَ )
۱۷۳ ۔( إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ الْمَیْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِیرِ وَمَا اٴُهِلَّ بِهِ لِغَیْرِ اللهِ فَمَنْ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَلاَعَادٍ فَلاَإِثْمَ عَلَیْهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیم )
ترجمہ
۱۷۲ ۔ اے ایمان والو! جو رزق ہم نے تمہیں دیاہے اس میں سے پاک و پاکیزہ چیزیں (شوق سے) کھاؤ اور اگر خداہی کی عبادت کرتے ہو تو اس کا شکر بجالاؤ۔
۱۷۳ ۔ اس نے تم پر مردہ جانور، خون، سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر (ذبح کرتے وقت) غیر خدا کا نام لیاگیا ہو حرام کیا ہے۔ پس جو شخص مجبور ہوکر، اگر وہ سرکشی و زیادتی کرنے والا نہ ہو ان میں سے کچھ کھالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔
بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
تفسیر
طیبات وخبائث
وہ کجرویاں جو جڑ پکڑچکی ہیں ان کی اصلاح کے لئے قرآن کا اسلوب ہے کہ وہ مختلف طرزوں اور طریقوں کی تاکید و تکرار سے استفادہ کرتاہے۔ ان آیات میں زمانہ جاہلیت میں مشرکین کی حرام کر دہ حلال غذاؤں کے بارے میں دوبارہ گفتگو کرتا ہے ۔ فرق یہ ہے کہ اب روئے سخن مومنین کی طرف ہے جب کہ گذشتہ آیات میں تمام لوگ( یا ایها الناس ) مخاطب تھے۔ فرماتا ہے: اے ایمان والو! ان پاکیزہ نعمتوں میں سے میں نے تمہیں جو روزی دی ہے اسے کھاؤ( یا ایها الذین امنوا کلوا من طیبت ما رزقنکم ) ۔اگر خدا ہی کی عبادت کرتے ہو تو پھر اس کا شکر ادا کرو( و اشکروا لله ان کنتم ایاه تعبدون ) یہ پاک و حلال نعمتیں جو ممنوع نہیں ہیں ، انسان کی فطرت سلیم کے موافق ہیں اور تمہارے لئے پیدا کی گئی ہیں تم ان سے کیوں استفادہ نہیں کرتے۔ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے یہ تمہیں قوت بخشتی ہیں ۔ علاوہ ازیں یہ تمہیں شکر و عبادت کے لئے پروردگار کی یاد دلاتی ہیں ۔
اسی سورہ کی آیت ۱۶۸ ۔ یا ایھا الناس کلوا مما فی الارض۔ کا اگر اس آیت سے تقابل کیا جائے تو وہ لطیف نکتے سمجھ میں آتے ہیں ۔
۱ ۔ یہاں فرماتاہے:( من طیبت ما رزقنکم ) (پاک غذاؤں میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے) جب کہ وہاں فرماتا سے:( مما فی الارض ) (جو کچھ زمین میں ہے) یہ فرق گویا اس طرف اشارہ ہے کہ پاکیزہ نعمتیں اصل میں ایماندار افراد کے لئے پیدا کی گئی ہیں اور بے ایمان لوگ ان کے صدقے میں روزی حاصل کرتے ہیں ۔ جیسے باغبان پانی تو پھلوں اور پھولوں کے لئے دیتاہے لیکن کانٹے اور فضول گھاس پھوس بھی اس سے فائدہ اٹھالیتی ہے۔
۲: عام لوگوں سے کہتاہے: کھاؤ و لیکن شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ جب کہ مومنین سے زیر نظر آیت میں کہتاہے: کھاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو۔ یعنی صرف نعمتوں سے سوء استفادہ سے نہیں روکتا بلکہ حسن استفادہ کی شرط عاید کرتاہے۔
در حقیقت عام لوگوں سے صرف یہ خواہش کی جاتی ہے کہ وہ گناہ نہ کریں لیکن صاحبان ایمان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان نعمتوں کا بہترین استعمال کریں ۔
ممکن ہے پاکیزہ غذاؤں سے استفادہ کرنے کے بارے میں متعدد آیات میں بار بارکی کی تائید بعض لوگوں کے لئے تعجب کا باعث ہو لیکن اگر زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر نظر کی جائے تو یہ حیرت نہیں رہتی۔ ان لوگوں نے بیہودہ رسومات و آداب اختیار کررکھے تھے۔ بغیر کسی دلیل کے جائز نعمتوں کو اپنے اوپر حرام قرار دے رکھا تھا اور یہ بات ان میں اس طرح راسخ تھی کہ وہ ان امور کو وحی آسمانی کی طرح سمجھتے تھے بلکہ بعض اوقات تو بالصراحت ایسی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے۔ اس لئے قرآن نے اتنی تاکید و تکرار کی ہے کیونکہ قرآن یہ بے بنیاد اور بے ہودہ افکار ان کے ذہنوں سے پوری طرح نکال دینا چاہتاہے۔
طیب غذاؤں کا ذکر سب کو اس اسلامی حکم کی اہمیت کی طرف متوجہ کرتاہے تاکہ وہ آلودہ اور نا پاک غذاؤں سے پرہیز کریں جن میں سور کا گوشت ،درندے، حشرات الارض اور نشہ آور چیزیں شامل ہیں اور یہ چیزیں اس زمانے کے لوگوں میں شدت و کثرت سے مروج تھیں ۔
اس تفسیر کی چھٹی جلد میں سورہ اعراف کی آیہ ۲۲ کے ضمن میں مومنین کے لئے پاکیزہ غذاؤں اور معقول زینتوں سے استفادہ کرنے کے متعلق تفصیلی بحث آئے گی۔
اگلی آیت میں حرام اور ممنوع غذاؤں کو واضح کیاگیاہے اور اس سلسلے میں ہر طرح کے بہانوں کو ختم کردیاگیاہے۔ ارشاد ہوتاہے : خدانے مردار کا گوشت، خون، سورکا گوشت اور اس جانور کا گوشت جسے ذبح کرتے ہوئے غیر خدا کا نام لیاجائے حرام گیاہے( انما حرم علیکم المیتة و الدم و لحم الخنزیر و ما اهل به لغیر الله ) ۔
یہاں پر چار طرح کے گوشت اور خون کی حرمت کا حکم ہے۔ یاد ہے کہ خون ان لوگوں کو بہت مرغوب تھا۔ ان میں سے بعض چیزوں میں تو ظاہری نجاست ہے جیسے مردار، خون اور سور کا گوشت اور بعض میں معنوی نجاست ہے جیسے وہ قربانیاں جو وہ بتوں کے لئے کیاکرتے تھے۔
آیت سے بالعموم اور لفظ ”انما“ جو کلمہ حصر ہے اور اصطلاحی طور پر حصر اضافی ہے سے بالخصوص ظاہر ہوتاہے کہ مقصد تمام محرمات کو بیان کرنا نہیں بلکہ اصل غرض بدعات کی نفی ہے جو بعض حلال غذاؤں کو حرام قرار دے کر انہوں نے جاری کی ہوئی تھیں ۔ بہ الفاظ دیگر انہوں نے کچھ پاکیزہ اور حلال گوشت خرافات اور توہمات کے نتیجے میں اپنے اوپر حرام قرار دیئے ہوئے تھے۔ لیکن غذا کی کمی کے وقت وہ مردار، سور کا گوشت اور خون تک استعمال کرلیتے تھے۔ قرآن انہیں بتاتاہے کہ یہ تمہارے لئے حرام ہیں نہ کہ وہ اور یہی حصر اضافی کا مطلب ہے)۔
بعض اوقات ایسی ضروریات پیش آتی ہیں کہ انسان بعض حرام چیزوں کے استعمال پر بھی مجبور ہوجاتاہے لہذا قرآن اس استثنائی پہلو کے بارے میں کہتاہے: لیکن جو شخص (اپنی جان کے تحفظ کے لئے) مجبور ہوکر انہیں کھالے تو اس پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ و ہ ظالم و متجاوز نہ ہو( فمن اضطر غیر باغ و لا عاد فلا اثم علیه ) ۔ اس بناء پر کہ کہیں اضطرار کو بہانہ ہی نہ بنالیاجائے ان حرام غذاؤں کے کھانے میں زیادتی اور تجاوز روکنے کے لئے ”غیر باغ و لا عاد“ فرمایا گیاہے۔
یعنی یہ اجازت صرف، ان افراد کے لئے ہے جو ان محرمات کو لذت کے لئے نہ کھانا چاہیں اور اتناہی کھائیں جتنا حفظ جان کے لئے ضروری ہو اس سے تجاوز نہ کریں ۔ باغ ٍاور عادٍ اصل میں باغی اور عادی ہیں ۔ باغی کا مادہ ہے ”بغی“جس کا معنی ہے طلب کرنا یہاں مقصود طلب لذت ہے اور عادی متجاوز کے معنی میں ہے۔
”غیر باغ و لا عاد“ کی ایک اور تفسیر بھی مذکور ہے جو پیش کر دہ مفہوم سے متضاد نہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دونوں معانی آیت کے مفہوم میں شامل ہوں ۔ وہ تفسیر یہ ہے کہ ”بغی“ کا ایک معنی ظلم و ستم بھی ہے۔ لہذا مقصد یہ ہوا کہ حرام گوشت کھانے کی اجازت فقط ان لوگوں کے لئے ہے جو ظلم و ستم اور گناہ کا سفر نہ کررہے ہوں (سفر کا ذکر اس لئے ہے کہ عموما اضطراری کیفیت اور مجبوری کی حالت سفر میں ہی در پیش ہوتی ہے) لہذا اگر سفر گناہ کے لئے ہو اور مسافر حالت مجبوری کو پہنچ جائے کہ حفظ جان کے لئے اسے حرام غذا کھانی پڑے تو اس کا گناہ اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں اگر چہ ان ستمگروں کے لئے بحکم عقل واجب ہے کہ جان کی حفاظت کے لئے ایسے حرام گوشت کھائیں لیکن یہ وجوب ان کی مسئولیت اور ذمہ داری میں کمی نہیں کرسکے گا۔
وہ روایات جو یہ کہتی ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو امام مسلمین کے خلاف اقدام نہ کریں در اصل ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں جیسے نماز مسافر کے احکام میں آیاہے کہ نماز قصر صرف ان مسافروں کے لئے ہے جن کا سفر حرام نہ ہو۔ اسی لئے ”غیر باغ و لا عاد“ سے روایات میں دونوں احکام کے لئے استدلال کیاگیاہے (یعنی نماز مسافر اور حالت اضطرار میں گوشت کھانے کے احکام)۔(۱)
____________________
۱- امام صادق سے ایک روایت ہے کہ آپ نے مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں فرمایا:
باغی سے مراد وہ ہے جوشکار کے پیچھے سیر و تفریح کے طور پر (نہ کہ ضرورت و احتیاج کے لئے جائے اور عادی سے مراد چورہے۔ یہ دونوں حق نہیں کھتے کہ مردار کا گوشت کھائیں وہ ان کے لئے حرام ہے اور یہ نماز قصر بھی نہیں پڑھ سکتے۔ (وسائل الشیعہ، ج۵، ص۵۰۹)
آیت کے آخر میں فرمایا: خدا غفور و رحیم ہے( ان الله غفور رحیم ) وہی خدا جس نے یہ گوشت حرام قرار دیے ہیں اسی نے اپنی رحمت خاص سے شدید ضرورت کے وقت ان سے استفادہ کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔
حرام گوشت کی تحریم کا فلسفہ:
اس میں شک نہیں کہ زیر نظر آیت میں جو غذائیں حرام قرار دی گئی ہیں ۔ وہ دیگر خدائی محرمات کی طرح ایک خاص فلسفے کی حامل ہیں ۔ انسانی جسم و جان اور اس کی کیفیت اور وضع کی تمام تر خصوصیات کو پیش نظر رکھ کر انہیں حرام قرار دیاگیاہے۔ روایات اسلامی میں ان میں سے ہر ایک کے نقصانات اور حرمت کے مضرات کو بھی تفصیل سے بیان کیاگیاہے نیز علوم انسانی کی پیش رفت نے بھی ان سے پردہ اٹھایاہے۔
کتاب کافی میں مردار کے گوشت کے متعلق امام صادق سے مروی ہے:
اما المیتة فانه لم ینل منها احد الاضعف بدنه و ذهبت قوته و انقطع نسله و لا یموت اکل المیتة الافجاة
(یہ فرمانے کے بعد کہ یہ تمام احکام مصالح بشر کے ما تحت ہیں امام فرماتے ہیں ) باقی رہا مردار کا گوشت تو جو کوئی بھی اسے کھائے گا اس کا بدن کمزور ہوگا اور تکالیف میں مبتلا ہوگا۔ اس کی قوت و طاقت ختم ہوجائے گی اور نسل منقطع ہوجائے گی اور جو ہمیشہ مردار کا گوشت کھاتارہے گا سکتے کے عالم میں مرے گا۔(۱)
ممکن ہے یہ نقصانات اس لئے ہوں کہ مردار سے غذا ہضم کرنے کا نظام صحیح خون نہیں بنا سکتا۔ علاوہ ازیں مردار طرح طرح کے جراثیم کا مرکز ہوتاہے اسلام نے نہ صرف مردار گوشت کو حرام کہاہے بلکہ اسے نجس بھی قرار دیا ہے تا کہ مسلمان مکمل طور پراس سے دوررہیں ۔
دوسری چیز جو آیت میں حرام قرار دی گئی ہے خون ہے (والدم)۔ خون کو استعمال کرنا جسم کے لئے بھی نقصان دہ اور اخلاقی طور پر بھی بد اثر ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ ایسے مختلف جراثیم کی پرورش کرتاہے جو پورے بدن میں داخل ہوکر انسانی خون پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اسے ہی اپنی کارگزاری کا مرکز بناتے ہیں ۔ سفید رنگ کے گلبول(۲)
جو ملک بدن کے محافظ ہیں ہمیشہ اس کے خون کے علاقے کی حفاظت کرتے رہتے ہیں تا کہ جراثیم اس حساس علاقے میں نہ پہنچنے پائیں کیونکہ یہ بدن کے تمام حصوں سے قریبی رابطہ رکھتاہے۔ خصوصا جب جریان خون رک جائے اور اصطلاح کے مطابق مرجائے تو سفید گلبول بھی ختم ہوجاتے ہیں ۔ اس وجہ سے جب جراثیم میدان خالی دیکھتے ہیں تو بڑی تیزی سے انڈے دیتے ہیں بچے پیدا ہوتے ہیں ۔
اس طرح ان کی تعداد میں بہت اضافہ ہوجاتاہے۔ لہذا اگر یہ کہاجائے کہ خون کا جریان رک جائے تو یہ انسان اور حیوان کے بدن کا غلیظ ترین حصہ ہوتاہے تو غلط نہ ہوگا۔
دوسری طرف آج علم غذا شناسی نے یہ ثابت کردیاہے کہ غذائیں غدودوں پر اثر انداز ہونے کے علاوہ انسانی نفسیات اور اخلاق پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں جب کہ خون انسان میں ہارمون پر اثر انداز ہوکر سنگدلی پیدا کرتاہے۔ یہ بات تو قدیم زمانے سے مسلمہ ہے کہ خونخواری انسان میں قساوت و سنگدلی پیدا کرتی ہے۔ یہاں تک کہ یہ بات ضرب المثل ہوگئی ہے کہ سنگدل کو خونخوار کہتے ہیں اسی لئے ایک حدیث میں ہے۔
جو لوگ خون پیتے ہیں وہ اس قدر سنگدل ہوجاتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ اور اولاد تک کو قتل کرڈالیں ۔(۳)
تیسری چیز جس کا کھانا آیت میں حرام قرار دیا گیاہے سور کا گوشت (و لحم الخنزیر ) ہے۔
اہل یو رپ زیادہ تر خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں ۔ ان کے لئے یہ گوشت بے غیرتی کا نشان بن گیاہے۔ یہ ایسا گھٹیا جانور ہے کہ علم جدید کی روشنی میں یہ ثابت ہوچکاہے کہ اس کا کھانا جنسی امور میں بے حیائی اور لا ابالی کا باعث ہے اور یہی اس کی نفسیاتی تاثیر ہے جو مشاہدے میں آچکی ہے۔
شریعت حضرت موسی میں بھی سوکر کا گوشت حرام تھا۔ موجودہ اناحیل میں گناہگاروں کو سور سے تشبیہ دی گئی ہے۔ داستانوں میں سوکر کو مظہر شیطان کے عنوان سے متعارف کرایاگیاہے۔
بڑے تعجب کی بات ہے کہ انسان اپنی آنکھوں سے دیکھتاہے کہ سور غلیظ چیزیں کھاتاہے اور کبھی کبھی تو وہ اپنا ہی پاخانہ کھاجاتاہے۔ دوسری طرف یہ بھی سب پرواضح ہوچکاہے کہ اس پلید جانور میں دو قسم کے خطرناک جراثیم پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک کو تریشین ( trichin ) اور دوسرے کو کرم کدو کہتے ہیں ۔ اس کے با وجود وہ اس کا گوشت کھانے پر مصر ہیں ۔
صرف ایک تریشین ( trichin ) ہر ماہ پندرہ ہزار انڈے دیتاہے اور انسان میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بنتاہے مثلا خون کی کمی، سردرد، ایک مخصوص بخار، اسہال، دردرماتیسمی، اعصاب کا تناؤ، جسم میں خارش، بدن میں چربی کی کثرت، تھکن کا احساس، غذا چبانے اور نگلنے میں دشواری ، سانس کا رکنا و غیرہ۔
ایک کلو گوشت میں چالیس کروڑ تک نوزائیدہ تریشین ( trichin ) ہوسکتے ہیں ۔
انہی وجوہ کے پیش نظر چند سال پیشتر حکومت روس نے اپنے ایک علاقے میں سور کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کردی ہے۔
جی ہاں ۔ روشن بینی کے یہ احکام کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جن کے تازہ جلوے نمایاں ہوتے ہیں ہمیشہ رہنے والے دین اسلام ہی کا حصہ ہیں ۔
بعض کہتے ہیں کہ آج کے جدید وسائل کے ذریعے ان تمام جراثیم کو مارا جاسکتاہے اور سور کا گوشت ان سے پاک کیا جاسکتاہے۔ لیکن صحت کے جدید وسائل کے ذریعے یا سور کے گوشت کو زیادہ حرارت دے کرپکانے کے ذریعے یہ کیڑے کاملا ختم بھی کردیئے جائیں تو بھی سور کے گوشت کا نقصان دہ اور مضر ہونا قابل انکار نہیں ہے کیونکہ بنیادی طور پریہ تو مسلم ہے کہ ہر جانور کا گوشت اس کی صفات کا حامل ہوتاہے اور غدودوں ( glands ) ار ہا رمونز ( hormones )کے ذریعے کھانے والے اشخاص کے اخلاق پر اثر انداز ہوتاہے۔ لہذا ممکن ہے سورکھانے والے پر سور کی بے لگام جنسی صفات اور بے حیائی جو اس کے واضح خصوصیات میں سے ہے اثر انداز ہوجائے۔ مغربی ممالک میں جو شدید جنسی بے راہ روی پائی جاتی ہے اس کا ایک اہم سبب اس گندے جانور کے گوشت کا استعمال بھی ہوسکتاہے۔
چو تھی چیز جسے زیر نظر آیت میں حرام قراردیا گیاہے وہ گوشت ہیں جن پر ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام لیاجائے (و ما اہل بہ لغیر اللہ)۔وہ گوشت جنہیں کھانے سے منع کیاگیاہے ان میں ان جانوروں کا گوشت بھی شامل ہے جو زمانہ جاہلیت کی طرح غیر خدا و بتوں کے نام پر ذبح ہوتے ہیں ۔
سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا ذبح کے وقت خدا یا غیر خدا کا نام لینا بھی صحت و سلامتی کے نقطہ نظر سے جانور کے گوشت پر اثر انداز ہوتاہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ ضروری نہیں کہ خدا یا غیر خدا کا نام صحت کے نقطہ نظر سے گوشت پر اثر انداز ہو کیونکہ اسلام میں جن چیزوں کو حرام قرار دیا گیاہے اس کے مختلف پہلو ہیں ۔ بعض اوقات کسی چیز کو صحت اور بدن کی حفاظت کے لئے کبھی تہذیب روح کے لئے اور کبھی نظام اجتماعی کے تحفظ کے لئے حرام قرار دیاجاتاہے۔ اسی طرح بتوں کے نام پر ذبح کیے جانے والے جانوروں کے گوشت کی حرمت در حقیقت معنوی، اخلاقی اور تربیتی پہلو سے ہے۔
تکرار و تاکید:
جن چار چیزوں کی حرمت کا ذکر یہاں کیاگیاہے قرآن میں چار مقامات پر اسی طرح آیا ہے۔ دو مرتبہ مکہ میں (انعام ۔ ۱۴۵ اور نحل ۔ ۱۱۵) اور دو مرتبہ مدینہ میں (بقرہ ۱۷۳ اور مائدہ ۳) یہ حکم نازل ہوا۔
یوں لگتاہے کہ پہلی مرتبہ اوائل بعثت کا زمانہ تھا جب ان کی حرمت کی خبردی گئی۔ دوسری مرتبہ پیغمبر کے مکہ میں قیام کے آخری دن تھے۔ تیسرے مرتبہ ہجرت مدینہ کے ابتدائی ایام تھے اور چوتھی دفعہ پیغمبر کی عمر کے آخری دن تھے کہ سورہ مائدہ میں اسے بیان کیاگیا جو قرآن کی آخری سورتوں میں سے ہے۔
نزول آیات کا یہ انداز جو بے نظیر یا کم نظیر ہے اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر ہے اور ان چیزوں میں موجود بہت زیادہ بدنی اور روحانی خطرات کی وجہ سے ہے اور اس بناء پر بھی کہ لوگ ان کے کھانے میں زیادہ مبتلا تھے۔
بیمار کو خون دینا:
شاید وضاحت کی ضرورت نہ ہو کہ مندرجہ بالا آیت میں خون کو حرام قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ خون پینا حرام ہے لہذا اس سے مناسب فائدہ حاصل کرنے میں کوئی اشکال نہیں مثلا کسی مجروح یا بیمار کو موت سے بچانے کے لئے خون دینے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ان مقاصد کے لئے تو خو ن کی خرید و فروخت کی حرمت کے لئے بھی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کیونکہ یہ تو عقلی طور پر صحیح ہے اور عمومی احتیاج کے موقع پر فائدہ اٹھانے کے ضمن میں آتاہے۔
____________________
۱ وسائل الشیعہ، ج۱۶، ص۳۱
۲ خون کے خیلے ( Whiteblood cells )جو جراثیم کو بدن میں داخل ہونیے رکتے ہیں ۔ (مترجم)
۳ وسائل شیعہ، ج۱۶، ص۳۱۰
آیات ۱۷۴،۱۷۵،۱۷۶
( إِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ الْکِتَابِ وَیَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِیلًا اٴُوْلَئِکَ مَا یَاٴْکُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ إِلاَّ النَّارَ وَلاَیُکَلِّمُهُمْ اللهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلاَیُزَکِّیهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیم ) ( ۱۷۴)
( اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ اشْتَرَوْا الضَّلاَلَةَ بِالْهُدَی وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ فَمَا اٴَصْبَرَهُمْ عَلَی النَّارِ ) ( ۱۷۵)
( ذَلِکَ بِاٴَنَّ اللهَ نَزَّلَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ الَّذِینَ اخْتَلَفُوا فِی الْکِتَابِ لَفِی شِقَاقٍ بَعِیدٍ ) (۱۷۶)
ترجمہ
۱۷۴ ۔ وہ لوگ جو اسے چھپاتے ہیں جسے خدانے کتاب میں نازل کیاہے اور وہ اسے تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیتے ہیں ۔ سوائے آگ کے کچھ نہیں کماتے (یہ تحفے اور اموال جو وہ اس ذریعے سے حاصل کرتے ہیں در حقیقت ایک جلانے والی آگ ہے) اور قیامت کے دن خدا ان سے بات نہیں کرے گا۔ نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
۱۷۵ ۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت اور عذاب کو بخشش کی بجائے خرید لیاہے۔ عذاب الہی کے مقابلے میں واقعا یہ کتنے بے پروا ہی اور سرد مہری کا شکار ہیں ۔
۱۷۶ ۔یہ (سب کچھ) اس لئے ہے کہ خدانے (آسمانی) کتاب کو حق (کی نشانیوں اور واضح دلائل ) کے ساتھ نازل کیا ہے اور جو اس میں اختلاف کرتے ہیں (اور حق کو چھپاتے ہیں اور اس میں تحریف کرکے اختلاف پیدا کرتے ہیں ) گہرےشگاف (اور پراگندگی) میں پڑے ہیں ۔
شان نزول
تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیات اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔ بیشتر مفسرین کا کہناہے کہ یہ آیات خاص طور پر ان علماء یہود کے بارے میں ہیں جو پیغمبر اسلام کے ظہور سے پیشتر لوگوں کو اپنی کتابوں میں سے آپ کی صفات اور نشانیاں بیان کرتے تھے لیکن ظہور پیغمبر کے بعد جب انہوں نے لوگوں کو آپ کی طرف مائل و راغب ہوتے ہوئے دیکھا تو خود فزوہ ہوگئے کہ اگر انہوں نے اپنی روش کو برقرار رکھا تو ان کے منافع خطرے میں پڑجائیں گے اور وہ تحفے اور دعوتیں جو انہیں مہیا ہیں ختم ہوجائیں گی تو وہ پیغمبر کے وہ اوصاف جو تورات میں نازل ہوچکے تھے چھپانے لگے۔ اس پرمندرجہ بالا آیت نازل ہوئیں اور ان کی سخت مذمت کی گئی۔
دوبارہ حق پوشی کی مذمت
حق کو چھپانے کے بارے میں جو موضوع اسی سورہ کی آیہ ۱۵۹ میں گزرچکاہے۔ زیر نظر آیات اس کی تاکید میں ہیں اگرچہ ان میں روئے سخن علمائے یہود کی طرف ہے لیکن جیسا بارہا یاد دھانی کرائی جاچکی ہے کہ آیات کا مفہوم کسی مقام پر بھی شان نزول سے مخصوص نہیں ہے۔ شان نزول تو حقیقت میں کلی اور عمومی مفہوم بیان کرنے کا ذریعہ ہے اور آیات کا ایک مصداق ہے۔ لہذا وہ تمام افراد جو احکام خدا اور لوگوں کی ضرورت کے حقائق کو چھپاتے ہیں اور مقام و مرتبہ یا دولت و ثروت کے حصول کے لئے اس عظیم خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں انہیں جان لینا چاہئیے کہ انہوں نے گراں بہا حقیقت ناچیز قیمت کے بدلے بیچ دی ہے کیونکہ حق پوشی کا ساری دنیا سے بھی مقابلہ کیاجائے تو سود اخسارے کا ہی ہوگا۔
زیر نظر پہلی آیت میں ارشاد ہوتاہے: وہ لوگ جو خدا کی نازل کردہ کتاب کو چھپاتے ہیں اور اسے معمولی قیمت پر بیچ دیتے ہیں آگ کے علاوہ کچھ نہیں کماتے (إ( ِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ الْکِتَابِ وَیَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِیلًا اٴُوْلَئِکَ مَا یَاٴْکُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ إِلاَّ النَّارَ ) ۔واقعا اس طرح سے جو ہدیے وہ حاصل کرتے ہیں اور مال دمنال کماتے وہ جلانے والی آگ ہے جو ان کے اندر داخل ہوتی ہے۔
ضمنا یہ تعبیر آخرت میں تجسم اعمال کے مسئلے کو دوبارہ واضح کرتی ہے اور نشاندہی کرتی ہے کہ وہ مال حرام جو اس طرح ہاتھ آتاہے آگ ہے جو ان کے دلوں میں داخل ہوتی ہے اور قیامت میں و ہ حقیقی شکل میں مجسم ہوگی۔
اس کے بعد ان کی ایک معنوی سزا کو بیان کیا گیاہے جو مادی سزاسے کہیں زیادہ دردناک ہے۔ ارشاد ہوتاہے: خدا قیامت کے دن ان سے بات نہیں کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے( وَلاَیُکَلِّمُهُمْ اللهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلاَیُزَکِّیهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) إِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا اٴَنزَلَ اللهُ مِنْ الْکِتَابِ وَیَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِیلًا اٴُوْلَئِکَ مَا یَاٴْکُلُونَ فِی بُطُونِهِمْ إِلاَّ النَّارَ وَلاَیُکَلِّمُهُمْ اللهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلاَیُزَکِّیهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ )
جن لوگوں نے عہد الہی اور اپنی قسموں کو تھوڑے سے فائدے کی خاطر توڑ ڈالا ہے۔ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں قیامت کے دن اللہ ان سے بات کرے گا نہ ان پرنگاہ لطف ڈالے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے تو دردناک عذاب ہے۔
اس آیت اور محل بحث آیت سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ یہ بڑی روحانی لذت او رعطائے الہی ہے کہ آخرت میں خدا اہل ایمان سے اپنے لطف و کرم سے بات کرے گا۔ یہ وہ مقام ہے جو اس دنیا میں خدا کے پیغمبروں کوحاصل تھا۔ وہ پروردگار سے ہمکلام ہونے کی لذت سے بہرہ مندتھے۔ اہل ایمان اس جہان میں اس نعمت سے سرفراز ہوں گے۔ علاوہ ازیں خدا ان پر نظر الطاف فرمائے گا اور عفو و رحمت کے پانی سے ان کے گناہ دھو ڈالے گا اور انہیں پاک و پاکیزہ بنادے گا۔ اس سے بڑھ کر کیا نعمت ہوسکتی ہے۔ واضح ہے کہ خدا کی گفتگو یہ مفہوم نہیں کہ خدا زبان رکھتاہے اور اس کا جسم ہے بلکہ وہ اپنی بے پایاں قدرت کے ذریعے فضامیں آواز کی لہریں پیدا کردے گا جو سمجھنے اور سننے کے قابل ہوں گی (جیسے وادی طور میں حضرت موسی سے گفتگو ہوئی تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ الہام کے ذریعے ، دل کی زبان سے وہ اپنے مخصوص بندوں سے بات کرے گا۔
بہرحال پروردگار کا یہ عظیم لطف و کرم اور اہم معنوی او روحانی لذت ان پاکیزہ بندوں کے لئے ہے جو زبان حق گو رکھتے ہیں اور لوگوں کو حقائق سے آگاہ کرتے ہیں ۔ اپنے عہد و پیمان کی پاسداری کرتے ہیں اور وہ ان چیزوں کو حقیر مادی فوائد پر قربان نہیں کرتے۔
یہاں ایک سوال سامنے آتاہے کہ قرآن کی بعض آیات سے ظاہر ہوتاہے کہ قیامت کے دن خدا کچھ مجرمین اور کفار سے باتیں کرے گا۔( مثلا قال احسنوا فیها و لا تکلمون )
دور ہوجاؤ، جہنم کی آگ میں دفع ہوجاؤ اور اب مجھ سے بات نہ کرو۔ (مومنون ۔ ۱۰۸)
یہ گفتگو خدا ان لوگوں سے کرے گا جو آتش جہنم سے چھٹکارے کی درخواست کریں گے اور کہیں خداوندا! ہمیں اس سے نکال دے اور اگر ہم دوبارہ پلٹ گئے تو ہم ظالم و ستمگار ہیں (جاثیہ۔ ۳۰،۳۱) ۔ اسی طرح مجرمین کے ساتھ بھی خدا کی گفتگو نظر آتی ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ محل بحث آیات میں گفتگو کرنے سے مراد وہ گفتگو جو محبت اور خاص لطف و کرم سے ہوگی۔ اس سے حقارت سے ٹھکرانے اور راندہ درگاہ کرنے اور سزا کے طور پر خطاب مراد نہیں جو بذات خو د ایک دردناک عذاب ہے۔
یہ نکتہ بھی زیادہ وضاحت کا محتاج نہیں کہ یہ جو فرمایا گیاہے کہ آیات الہی کو کم قیمت پر نہ بیچو تو اس سے یہ مراد نہیں کہ زیاد ہ قیمت پر بیچو بلکہ مقصد یہ ہے کہ حق پوشی کے مقابلے میں جو چیز بھی لی جائے وہ بے قدر و قیمت ، ناچیز اور حقیر ہے۔
بعد کی آیت اس گروہ کی کیفیت کو زیادہ واضح طور پر بیان کرتی ہے اور اس کے نقصان دہ انجام اور نتیجہ کا کی خبر دیتی ہے۔ ارشاد ہے: یہ ایسے لوگ ہیں جو گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور عذاب کو بخشش کے عوض خرید لیتے ہیں( اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ اشْتَرَوْا الضَّلاَلَةَ بِالْهُدَی وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ) ۔
اس طرح وہ دو طرفہ نقصان اور خسارے میں گرفتار ہوئے ہیں ۔ ایک طرف ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی انتخاب کرنا اور دوسری طرف رحمت و بخشش الہی کو ہاتھ سے دے کر اس کی جگہ دردناک عذاب خدا کو حاصل کرنا اور یہ ایسا سوداہے کہ کوئی عقلمند آدمی اس کے پیچھے نہیں جاتا۔
اسی لئے آیت کے آخر میں مزید فرماتاہے: واقعا تعجب کی بات ہے کہ (وہ عذاب خدا کے سامنے کتنی بیباکی اور) سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہیں( فما اصبرهم علی النار ) ۔
زیر بحث آخری آیت میں فرمایا گیاہے: یہدھمکیاں اور عذاب کی و عیدیں جو حق کو چھپانے والوں کے لئے بیان کی گئی ہیں اس لئے ہیں کہ خدانے آسمانی کتاب قرآن کو حقیقت اور واضح دلائل کے ساتھ نازل کیاہے تا کہ ان خیانت کاروں کے لئے کسی شک اور ابہام کی گنجائش باقی نہ رہے( ذالک بان الله نزل الکتب بالحق ) ۔
اس کے با وجود لوگ نہیں چاہتے کہ اپنے مادی فوائد کی خاطر اس برے عمل سے دست بردار ہوں وہ تو جیہ و تحریف میں مشغول رہتے ہیں اور اپنی آسمانی کتب میں اختلاف پیدا کرتے ہیں تا کہ بزعم خود پانی کو گدلا کرکے اس میں سے مچھلیاں پکڑ سکیں ۔ اور ایسے لوگ جو کتاب آسمانی میں اختلاف پیدا کرتے ہیں حقیقت سے کافی دور ہیں( و ان الذین اختلفوا فی الکتاب لفی شقاق بعید ) ۔
لفظ شقاق کا معنی ہے شگاف اور جدائی۔ یہ تعبیر شاید اس طرف اشارہ ہوکہ ایمان و تقوی اور اظہار حق انسانی معاشرے میں وحدت و اتحاد کی رمز ہے جب کہ کفر و خیانت اور اخفائے حقائق پراگندگی ، جدائی اور شگافتگی کا سبب ہے اور اس سے مراد سطحی جدائی اور شگاف نہیں کہ جس سے صرف نظر کیاجاسکے بلکہ ایسی جدائی، پراگندگی اور شگاف ہے جس میں گہرائی ہو۔
آیت ۱۷۷
( لَیْسَ الْبِرَّ اٴَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَکمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّینَ وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّهِ ذَوِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَالسَّائِلِینَ وَفِی الرِّقَابِ وَاٴَقَامَ الصَّلاَةَ وَآتَی الزَّکَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا وَالصَّابِرِینَ فِی الْبَاٴْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِینَ الْبَاٴْسِ اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَاٴُوْلَئِکَ هُمْ الْمُتَّقُون )
ترجمہ
۱۷۷ ۔ نیکی یہی نہیں کہ (نماز کے وقت) اپنا منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلو اور تمام گفتگو قبلہ اور اس کی تبدیلی کے بارے میں کرتے رہو اور اپنا سارا وقت اسی میں صرف کردو) بلکہ نیکی (اور نیکوکار) وہ لوگ ہیں جو خدا، روز قیامت، ملائکہ، آسمانی کتاب اور انبیاء پر ایمان لے آئیں اور (اپنا) مال اس سے پوری محبت کے با وجود رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں ، ضروتمند مسافروں ، سوال کرنے والوں اور غلاموں پرخرچ کریں ، نماز قائم کریں ، زکوة اداکریں ، جب عہد و پیمان باندھیں تو اسے پورا کریں اور بے کسی، محرومی، بیماری اور میدان جنگ غر ض ہر عالم میں استقامت و صبر کا مظاہرہ کریں یہ وہ لوگ ہیں جو سچ بولتے ہیں (اور ان کی گفتار، کردار اور اعتقاد میں ہم آہنگی ہے) اور یہی پرہیزگار ہیں ۔
شان نزول
قبلہ کی تبدیلی سے عام لوگوں میں بالعموم اور یہود و نصاری میں بالخصوص شور و غوغا بپا ہوگیا تھا ارو یہودیوں کے نزدیک یہ بڑی سند افتخار تھی ( کہ مسلمان ان کے قبلہ کی پیروی کرتے ہیں ) اور اب یہ ہاتھ سے جاتی رہی تھی لہذا انہوں نے زبان اعتراض دراز کی ۔ قرآن نے اس سورہ کی آیت ۱۴۲ ۔ سیقول السفھاء۔ میں اسی طرف اشارہ کیاہے۔ مندرجہ بالا آیت اس کی تائید میں نازل ہوئی جس میں کہاگیاہے کہ قبلہ کے مسئلے پر اتنی باتیں بنانا صحیح نہیں ہے بلکہ اس سے اہم تر مسائل ہیں جن کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس آیت میں ان مسائل کی تشریح بھی کی گئی ہے۔
تمام نیکیوں کی اساس
جیسا کہ قبلہ کی تبدیلی سے متعلق آیات کے ذیل میں گذر چکاہے عیسائی عبادت کے وقت مشرق کی طرف اور یہودی مغرب کی طرف منہ کیا کرتے تھے لیکن مسلمانوں کے لئے اللہ تعالی نے کعبہ کو قبلہ قرار دیا۔ جو ان دونوں کے دمیان واقع ہے اور اس علاقے میں جنوب کی طرف تھا۔ ہم نے یہ بھی ملاحظہ کیا کہ مخالفین اسلام ایک طرف سے شور بلند کرتے تھے اور نو وارد مسلمان دوسری طرف متحیر تھے۔ مندرجہ بالا آیت کاروئے سخن ان دونوں کی طرف ہے فرمایا: نیکی صرف یہ نہیں کہ نماز کے وقت منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلو اور اپنا سارا وقت اسی مسئلے پر بحث کرتے گزار دو (لیس البر ان تولوا وجوھکم قبل المشرق و المغرب)۔
بر (بروزن ضد) ۔ اس کا اصل معنی وسعت ہے۔ بعد ازاں نیکیوں ، خوبیوں اور احسان کے معنی میں استعمال ہونے لگا کیونکہ یہ امور وجود انسانی میں محدود نہیں رہتے بلکہ وسعت پیدا کرکے دوسروں تک پہنچ جاتے ہیں اور دوسرے لوگ بھی ان سے بہرہ مند ہوتے ہیں ۔لفظ بر (بر وزن نر) وصفی پہلو رکھتاہے۔ اس کا معنی ہے وہ شخص جو نیکوکار ہو۔ اصل میں اس کا معنی ہے بیابان اور وسیع مکان چونکہ نیکوکار روحانی وسعت اور کھلے دل کا حامل ہوتاہے۔ اس لئے اس خصوصیت کا اس پر اطلاق ہوتاہے۔
اس کے بعد ایمان، اخلاق اور عمل کے لحاظ سے نیکیوں کے اہم ترین اصول چھ عنوانات کے ضمن میں بیان کئے گئے ہیں ۔ فرمایا: لیکن نیکی (اور نیک افراد) وہ لوگ ہیں جو خدا،روز قیامت، ملائکہ، آسمانی کتب اور انبیاء پر ایمان لے آئے ہیں( و لکن البر امن باالله و الیوم الاخر و الملائکة و الکتب و النبیین ) ۔
نیکیوں اور خوبیوں کی پہلی بنیاد یہ ہے کہ انسان ایمان لائے مبداء و معاد پر، تمام خدائی پروگراہوں پر، پیغمبروں پر (جو ان پروگراموں کی تبلیغ و اجراء پر مامور تھے) اور فرشتوں پر (جو اس دعوت کی تبلیغ کا واسطہ شمار ہوتے ہیں ) یہ وہ اصول ہیں جن پر ایمان لانے سے انسان کا سارا وجود روشن ہوجاتاہے اور یہی ایمان تمام اصلاحی پروگراموں اور اعمال صالح کی طرف تحریک پیدا کرنے کے لئے قوی عامل ہے۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ نیکوکار وہ لوگ ہیں بلکہ فرمایا: نیکی۔ وہ لوگ ہیں ، یہ اس لئے کہ او بیات عرب میں جب کسی چیز میں مبالغے اور تاکید کے آخری ورجے کو بیان کرنا ہوتو اسے مصدر کی شکل میں لاتے ہیں نہ کہ صفت کے طور پر کہتے ہیں ۔ مثلا کہاجاتاہے کہ حضرت علی عالم، انسانیت کا عدل ہیں ۔ یعنی آپ ایسے عدالت پیشہ تھے کہ گویا سراپا عدل تھے اور سر سے پاؤں تک عدالت میں ڈوبے ہوئے تھے اس طرح کہ اگر آپ کی طرف نگاہ کی جائے تو عدل کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ اسی طرح ان کے مقابل میں کہاجاتاہے کہ بنی امیہ ذلت اسلام ہیں گویا ان کا پورا وجود ذلت و خواری میں ڈھل چکاتھا۔ اس لئے زیر نظر تعبیر سے ایمان محکم اور ایمان کی بلندتر قوت و طاقت مراد ہے۔ایمان کے بعد انفاق، ایثار اور مالی بخششوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: چاہت و محبت کے با وجود اپنا مال رشتہ داروں یتیموں ، مسکینوں ، مسافروں ، سائلوں اور غلاموں کو دیدیتے ہیں( و اتی المال علی حبه ذوی القربی و الیتمی و المسکین و ابن السبیل و السائلین و فی الرقاب ) ۔
اس میں شک نہیں کہ مال و دولت کی پرواہ نہ کرنا سب کے لئے آسان کام نہیں خصوصا جب مقام ایثار ہو۔ کیونکہ اس کی محبت سب دلوں میں ہے۔ ”علی حبہ“ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اس دلی خواہش کے با وجود استقامت دکھاتے ہیں اور خدا کے لئے اس خواہش سے صرف نظر کرلیتے ہیں ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہاں حاجت مندوں کے چھ طبقے بیان کئے گئے ہیں ۔ پہلے درجے میں وابستگان اور آبرومند رشتہ دار ہیں ، دوسرے طبقے میں یتیم اور مسکین ہیں ۔ اس کے بعد وہ ہیں جن کی ضرورت وقتی ہے۔ مثلا جن کا خرچ سفر میں ختم ہوجائے۔ اس کے بعد سائلین کا تذکرہ ہے۔ اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ تمام ضرورت مند سوال نہیں کیا کرتے بلکہ بعض ایسے غیرت مند ہیں جو ظاہرا اغنیاء کی طرح ہیں جب کہ باطنی طور پر بہت ضرورت مند ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن ایک اور مقام پر کہتاہے:( یَحْسَبُهُمْ الْجَاهِلُ اٴَغْنِیَاءَ مِنْ التَّعَفُّفِ ) نا واقف لوگ ان کی عفت و پاکدامنی کی وجہ سے انہیں اغنیاء اور تونگر خیال کرتے ہیں ۔(بقرہ۔ ۲۷۳)
آخر میں غلاموں کا ذکر ہے کہ اگر چہ ظاہرا ان کی مادی ضروریات ان کے مالک کے ذریعے پوری ہورہی ہوتی ہیں لیکن وہ آزادی و استقلال کے محتاج ہیں ۔
نیکیوں کی تیسری بنیاد قیام نماز شمار کی گئی ہے( و اقام الصلوة ) نماز تمام شرائط اور اخلاص و خضوع سے ادا کی جائے تو انسان کو ہر قسم کے گناہ سے باز رکھتی ہے اور خیر و سعادت کا شوق پیدا کرتی ہے۔
چوتھا پروگرام زکوة اور دیگر واجب مالی حقوق کی ادائیگی ہے (و اتی الزکوة) ۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو کئی مقامات پر ضرورت مندوں کی مدد کے لئے تیار ہوجاتے ہیں لیکن واجب حقوق کی ادائیگی میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں ۔ ان کے برعکس کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو واجب حقوق کے علاوہ اور کسی قسم کی مدد کو تیار نہیں ہوتے اور وہ ایک پیسہ بھی کسی ضرورت مند کو دینے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے۔ زیر بحث ، آیت میں ایک طرف مستحب امور پر خرچ کرنے والوں اور دوسری طرف واجب حقوق اداکرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے دونوں کو نیک لوگوں کی صف سے نکال دیتی ہے اور حقیقی نیک اسے قرار دیتی ہے جو اپنی ذمہ داری دونوں میدانوں میں اداکرے۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ مستحب خرچ کے سلسلے میں علی حبہ (با وجود یکہ مال و ثروت سے محبت رکھتے ہیں ) کا ذکر ہے لیکن واجب زکوة کے ضمن میں یہ بات نہیں کیونکہ واجب مالی حقوق کی ادائیگی ایک الہی و اجتماعی ذمہ داری ہے اور منطق اسلام کے روسے اصولی طور پر حاجت مند زکوة اور دیگر واجبات کی مقدار کے مطابق دولت مندوں کے اموال میں شریک ہیں اور شریک کو اس کے مال کی ادائیگی کے لئے ایسی تعبیر کی ضرورت نہیں ۔
پانچویں خصوصیت ایفائے عہد و پیمان گردانی گئی ہے۔ فرمایا: وہ لوگ جو وعدہ کرلیں تو اپنے عہد و پیمان کو بنھاتے ہیں (و الموفون بعہد ہم اذا اعہدوا) کیونکہ باہمی اعتماد اجتماعی زندگی کا سرمایہ ہے۔ وہ گناہ جو اطمینان اور اعتماد کے رشتے کو توڑ پھوڑدیتے ہیں اور اجتماعی روابط کی بنیاد کو نیچے سے کمزور کردیتے ہیں ان میں وعدے کی عدم پاسداری ہے۔ اسی لئے اسلامی روایات میں مسلمانوں کی ذمہ داری بتائی گئی ہے کہ وہ تین امور سب لوگوں کے بارے میں انجام دیں چاہے ان کے سامنے مسلمان ہو یا کافر اور نیک ہو یا بد، وہ تین چیزیں یہ ہیں ۔
۱ ۔ ایفائے عہد
۲ ادائے امانت اور
۳ ۔ ماں باپ کا احترام
ان نیک لوگوں کی چھٹی بات یہ بتائی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو محرومیت ، فقر و فاقہ، بیماری اور رنج و مصیبت کے وقت اور اسی طرح جنگ میں دشمن کے مقابلے میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان سخت حوادث کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتے( و الصابرین فی الباساء و الضراء و حین الباس ) (۱) ۔
آیت کے آخر میں بات کو مجتمع کرتے ہوئے اور ان چھ بلند صفات پر تاکید کے طور پر فرماتاہے: یہ وہ لوگ ہیں جو سچ بات کرتے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں( اولئک الذین صدقوا و اولئک هم المتقون ) ۔
ان کی راست گوئی تو یہاں سے واضح ہوتی ہے کہ ان کے اعمال اور ان کا کردار ہر طرح سے ان کے اعتماد اور ان کے ایمان سے ہم آہنگ ہے۔ ان کا تقوی و پرہیزگاری اس بات سے عیاں ہے کہ وہ ضرورتمندوں ، محروموں ، انسانی معاشرہ اور اپنی ذات کے بارے میں اپنی الہی ذمہ داریوں سے عہدہ برآہوتے ہیں ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا چھ برجستہ صفات اصول اعتقاد و اخلاق اور عملی پروگراموں پر مشتمل ہیں ۔ اصول اعتقاد کے سلسلے میں تمام بنیادی امور کا تذکرہ ہے اور عملی پروگراموں میں سے انفاق ، نماز اور زکوة کا ذکر ہے جو مخلوق کے خالق ہے اور مخلوق کے مخلوق سے رابطے کا نمونہ ہے۔ اخلاقی امور میں سے ایفائے عہد اور استقامت و پائداری کا تذکرہ ہے جو تمام تر اعلی اخلاق کی بنیاد ہے۔
____________________
۱ باساء کا مادہ ہے بوس، اس کا معنی ہے فقر و فاقہ، فقراء کا معنی ہے درد و بیماری اور حین الباس کا معنی ہے وقت جنگ ( البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں )۔
آیات ۱۷۸،۱۷۹
۱۷۸ ۔( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمْ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْاٴُنثَی بِالْاٴُنثَی فَمَنْ عُفِیَ لَهُ مِنْ اٴَخِیهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَاٴَدَاءٌ إِلَیْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِکَ تَخْفِیفٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَی بَعْدَ ذَلِکَ فَلَهُ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ )
۱۷۹ ۔( وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاةٌ یَااٴُوْلِی الْاٴَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ )
ترجمہ
۱۷۸ ۔اے ایمان والو! مقتولین کے بارے میں حکم قصاص تمہارے لئے لکھ دیاگیاہے۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت ، پس اگر کوئی اپنے (دینی) بھائی کی طرف سے معاف کردیاجائے (اور حکم قصاص خونبہا سے بدل جائے) تو اسے چاہئیے کہ پسندیدہ طریقے کی پیروی کرے (اور دیت کی وصولی میں دیت دینے والے کی حالت کو پیش نظر رکھے) اور قاتل بھی ولی مقتول کو اچھے طریقے سے دیت ادا کرے (اور اس کی ادائیگی میں حیل و حجت سے کام نہ لے) تمہارے پروردگار کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے اور اس کے بعد بھی جو تجاوز کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔
۱۷۹ ۔اور قصاص میں تمہارے لئے زندگی ہے، اے صاحبان عقل و خرد! تمہیں تقوی و پرہیزگاری کی راہ اختیار کرنا چاہئیے۔
شان نزول
زمانہ جاہلیت کے عربوں کی عادت تھی کہ ان کے قبیلے کا ایک آدمی قتل ہوجاتا تو وہ پختہ ارادہ کرلیتے کہ حق المقدور اس کا انتقام لیں گے اور یہ فکر یہاں تک آگے بڑھ چکی تھی کہ وہ تیار رہتے کہ ایک شخص کے بدلے قاتل کا سارا قبیلہ قتل کرڈالیں مندرجہ بالا آیت کے ذریعے قصاص کا عادلانہ حکم بیان کیاگیا۔
اس زمانے کے دو مختلف دستوروں میں اسلام کا یہ حکم حد وسط تھا۔ اس دور میں بعض لوگ قصاص کو ضروری سمجھتے تھے اور اس کے علاوہ کسی چیز کو جائز اور درست نہ جانتے تھے جب کہ بعض لوگ صرف دیت اور خونبہا کو ضروری خیال کرتے تھے۔ اسلام نے مقتول کے اولیاء کے راضی نہ ہونے کی صورت میں قصاص کا حکم دیا اور طرفین کی رضا اور قصاص کی معانی پردیت کو ضروری قرار دیا۔
قصاص تمہاری حیات کا سبب ہے
ان آیات سے لے کر آگے کی کچھ آیات تک احکام اسلام کے ایک سلسلے کو واضح کیاگیاہے ۔ گذشتہ آیات نیکی کے بارے میں تھیں اور ان میں کچھ اسلامی پروگراموں کی وضاحت بھی کی گئی تھی۔ زیر نظر آیات اس سلسلہ بیان کی تکمیل کرتی ہیں ۔
سب سے پہلے احترام خون کی حفاظت کا مسئلہ بیان کیاگیاہے جو ربط معاشرہ کے ضمن میں بہت اہمیت رکھتاہے۔
اسلام کا یہ حکم جاہلیت کے رسم و رواج پر خط بطلان کھینچتاہے۔ مومنین کو مخاطب کرکے فرمایاگیاہے: اے ایمان والو! مقتولین کے بارے میں قصاص کا حکم تمہارے لئیے لکھ دیاگیاہے (یا ایہا الذین امنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی)۔
قرآن کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وہ کبھی کبھی لازم الاجراء قوانین کو ”کتب علیکم“ (تم پر لکھ دیا گیاہے) کے الفاظ سے بیان کرتاہے۔ مندرجہ بالا آیت بھی انہی میں سے ہے۔ آئندہ کی آیات جو وصیت اور روزہ کے بارے میں ہیں ، میں بھی یہی تعبیر نظر آتی ہے۔ بہرحال یہ الفاظ اہمیت اور تاکید مطلب کو پورے طور پر اداکرتے ہیں کیونکہ ہمیشہ ان الفاظ کو رقم کیا جاتاہے جو نگاہ قدر و قیمت میں قطعیت رکھتے ہوں ۔
قصاس مادہ قص (برو زن سد) سے ہے۔ اس کا معنی ہے جستجو اور کسی چیز کے آثار کی تلاش کرنا اور جو چیز پے در پے اور یکے بعد دیگرے آئے اسے قصہ کہتے ہیں چونکہ قصاص ایسا قتل ہے جو پہلے قتل کے بعد قرار پاتاہے اس لئے یہاں یہ لفظ استعمال کیاگیاہے۔
جیسا کہ شان نزول میں اشارہ ہوچکاہے یہ احکام افراط و تفریط کے ان رویوں کے اعتدال پر لانے کے لئے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں کسی قتل کے بعد رونما ہوتے تھے۔ لفظ قصاص اس بات کی نشاندہی کرتاہے کہ اولیاء مقتول حق رکھتے ہیں کہ وہ قاتل سے وہی سلوک کریں جس کا وہ ارتکاب کرچکاہے لیکن آیت یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ آیت کا آخری حصہ مساوات کے مسئلہ کو زیادہ واضح کرتاہے۔ ارشاد ہوتاہے: آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت( الحر و العبد بالعبد و الانثی بالانثی ) ۔
بعد میں ہم واضح کریں گے کہ یہ مسئلہ مرد کے خون کی عورت کے خون پر برتری کی دلیل نہیں ہے بلکہ قاتل مردے بھی (خاص شرائط کے ساتھ) مقتول عورت کے بدلے قصاص لیاجاسکتاہے۔
اس کے بعد یہ واضح کرنے کے لئے کہ قصاص اولیاء مقتول کا ایک حق ہے مگر یہ کوئی الزامی حکم نہیں ہے بلکہ اگر اولیاء مائل ہوں تو قاتل کو بخش سکتے ہیں اور خون بہالے سکتے ہیں یا چاہیں تو خون بہا بھی نہ لیں ۔ مزید فرمایا کہ اگر کوئی اپنے دینی بھائی کی طرف سے معاف کردیاجائے (اور قصاص کا حکم طرفین کی رضا سے خون بہامیں بدل جائے) تو اسے چاہئیے کہ پسندیدہ طریقے کی پیروی کرے (اور اس خون بہاکے لینے میں دوسرے پر سختی و تنگی روانہ رکھے) اور ادا کرنے دالا بھی دیت کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے( فمن عفی له من اخیه شیئ فاتباع بالمعروف و اداء الیه باحسان ) ۔
ایک طرف اولیاء مقتول کو وصیت کی گئی ہے کہ اب اگر اپنے بھائی سے قصاص لینے سے صرف نظر کرچکے ہو تو خونبہا لینے میں زیادتی سے کام نہ لو شائستہ اور اچھے طریقے سے اور عدل کو پیش نظر رکھتے ہوئے جسے اسلام نے ضروری قرار دیا ہے ایسی اقساط میں جن میں وہ ادائیگی کی قدرت رکھتاہے وصول کرو۔
دوسری طرف ”اداء الیہ باحسان“ کے جملے میں قاتل کو بھی وصیت کی گئی ہے کہ وہ خونبہا کی ادائیگی میں نیکی اور اچھائی کی روش اختیار کرے اور بغیر کسی غفلت کے کامل اور بر محل ادا کرے۔ اس طرح دونوں کے لئے ذمہ داری اور راستے کا تعین کردیاگیاہے۔
آیت کے آخر میں بطور تاکید اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جس کسی کی طرف سے حدسے تجاوز کیاجائے گا وہ شدید سزا کا مستحق ہوگا۔ فرمایا: تمہارے پروردگار کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے اور اس کے بعد بھی جو شخص حدسے تجاوز کرے، تو دردناک عذاب اس کے انتظار میں ہے( ذالک تخفف من ربکم و رحمة ”فمن اعتدی بعد ذالک فله عذاب الیم ) ۔
انسانی اور منطقی نقطہ نظر سے قصاص اور عفو کا یہ ایک عادلانہ دستور ہے۔ ایک طرف اس حکم سے زمانہ جاہلیت کی فاسد روش کو غلط قرار دیاگیاہے۔ اس دور میں لوگ قصاص کے لحاظ سے کسی قسم کی برابری کے قائل نہ تھے اور ہمارے زمانے کے جلادوں کی طرح ایک شخص کے بدلے سینکڑوں افراد کو خاک و خون میں لوٹا دیتے تھے۔ دوسری طرف لوگوں کے لئے عفو و بخشش کا راستہ کھول دیاہے۔ اس حکم میں احترام خون میں کمی نہیں آنے دی گئی اور قاتلوں میں جسارت و بے باکی پیدا نہیں ہونے دی گئی اور اس آیت کا چوتھا پہلو یہ ہے کہ کہ معاف کرنے اور خون بہا لینے کے بعد طرفین میں سے کوئی بھی تجاوز کا حق نہیں رکھتا جب کہ زمانہ جاہلیت میں اولیاء مقتول معاف کردینے اور خونبہا لینے کے با وجود بعض اوقات قاتل کو قتل کردیتے تھے
بعد کی آیت مختصر اور پر معنی عبارت سے مسئلہ قصاص سے متعلق بہت سے سوالوں کا جواب دیتی ہے۔ ارشاد ہوتاہے: اے صاحبان عقل و خرد ! قصاص تمہارے لئے حیات بخش ہے ، ہوسکتا ہے تم تقوی و پرہیزگاری اختیار کرلو( و لکم فی القصاص حیاة یا اولی الالباب لعلکم تتقون ) ۔
دس الفاظ پر مشتمل یہ آیت انتہائی فصیح و بلیغ ہے یہ ایک شعار اسلامی کی صورت میں ذہنوں پر نقش ہوجاتی ہے ۔ یہ بڑی عمدگی سے نشاندہی کرتی ہے کہ اسلامی قصاص میں کسی قسم کا انتقامی پہلو نہیں بلکہ یہ حیات و زندگی کی طرف کھلنے والا ایک دریچہ ہے۔
ایک طرف تو یہ معاشرے کی حیات ہے کیونکہ اگر قصاص کا حکم کسی طور پر بھی موجود نہ ہوتا اور سنگدل لوگ بے پرواہ ہوتے تو بے گناہ لوگوں کی جان خطرے میں رہتی۔ جن ملکوں میں قصاص کا حکم ختم کردیا گیاہے وہاں قتل کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ ہوگیاہے۔ دوسری طرف یہ حکم قاتل کی زندگی کا سبب ہے کیونکہ قصاص کا تصور اسے قتل انسانی کے ارادے سے کافی حد تک بازرکھے گا اور اسے کنٹرول کرے گا۔ تیسری طرف برابری کا لزوم پے در پے کئی افراد کے قتل کو روکے گا۔ اور زمانہ جاہلیت کے ان طور طریقوں کو ختم کردے گا جن میں ایک قتل کے بدلے کئی افراد کو قتل کردیا جاتاتھا اور پھر اس کے نتیجے میں آگے بہت سے افراد قتل ہوتے تھے اور اس طرح سے یہ حکم معاشرے کی زندگی کا سبب ہے۔
اس بات کو پیش نظر رکھا جائے کہ قصاص کا مطلب ہے معاف نہ کرنا۔ یہ خود ایک دریچہ حیات کھلنے کے مترادف ہے نیز لعلکم تتقون ہر قسم کے تجاوز و تعدی سے پرہیز کرنے کے کئے تنبیہ ہے جس سے اسلام کے اس حکیمانہ حکم کی تکمیل ہوتی ہے۔
قصاص عفو ایک عادلانہ نظام ہے:
ہر مقام و محل پر اسلام مسائل کی واقعیت اور ان کی ہر پہلو کے جاچ و پڑتال کرتاہے۔ اس نے بے گناہوں کا خون بہانے کے مسئلے میں ہر طرح سے افراط و تفریط سے بالاتر ہو کر حق مطلب اداکیا ہے ۔ اس نے یہودیوں کے تحریف شدہ دین کی طرح صرف قصاص کا سہارا نہیں لیا اور نہ ہی ایسی عیسائیت کی طرح صرف عفو دیت کی راہ دکھائی ہے کیونکہ پہلا حکم انتقام جوئی کا باعث ہے اور دوسرا قاتلوں کی جرات کا سبب ہے۔
فرض کریں قاتل و مقتول ایک دوسرے کے بھائی ہوں یا ان میں دوستی و اجتماعی تعلقات رہے ہوں تو اس صورت میں قصاص پر مجبور کرنا اولیاء مقتول کے لئے ایک نئے زخم کا باعث ہوگا۔ خصوصا ایسے لوگ جو انسانی جذبات سے سرشار ہوں انہیں قصاص کرنا ایک اور سختی شمار ہوگا جب کہ اس حکم کو عفوودیت میں محدود و محصور کردینا بھی ظالموں کو مزید جری و بیباک بنانے کا باعث ہوگا۔
لہذا اسلام نے قصاص کو اصلی حکم قرار دیاہے اور اسے معتدل بنانے کے لئے اس کے ساتھ عفو کا ذکر بھی کردیاہے۔
زیادہ واضح الفاظ میں مقتول کے اولیاکو ان تین راستوں میں سے ایک اختیار کرنے کا حق ہے۔
۱ ۔ قصاص لے لیں ۔
۲ ۔ خونبہا لئے بغیر معاف کردیں ۔
۳ ۔ خونبہا لے کر معاف کردیں (البتہ اس صورت میں ضروری ہے کہ قاتل بھی راضی ہو)۔
کیا قصاص عقل اور انسانیت کے خلاف ہے:
بعض لوگوں نے غور و فکر کئے بغیر اسلام کے جزا و سزا کے کچھ قوانین پر تنقید کی ہے۔ قصاص کے مسئلے پر خصوصا بہت شور و غل ہے۔ مسئلہ قصاص پر مخالفین کے اعتراضات مندرجہ ذیل ہیں :
(!!) کیا قصاص عقل اور انسانیت کے خلاف ہے:
بعض لوگوں نے غور و فکر کئے بغیر اسلام کے جزا و سزا کے کچھ قوانین پرتنقید کی ہے۔ قصاص کے مسئلے پر خصوصا بہت شور و غل ہے۔ مسئلہ قصاص پر مخالفین کے اعتراضات مندرجہ ذیل ہیں :
۱ ۔ قاتل کا یہی جرم ہے کہ اس نے ایک انسان کو ختم کردیا۔ قصاص لیتے وقت اسی عمل کا تکرار کیاجاتاہے۔
۲ ۔ قصاص ایک انتقامی کارروائی اور سنگدلی کے علاوہ کچھ نہیں ۔ یہ صفت لوگوں میں سے ختم کی جانا چاہئیے جبکہ قصاص کے طرف دار انتقام جوئی کے اس نا پسندیدہ صفت میں نئی روح پھو نکتے ہیں ۔
۳ ۔ انسان کشی ایسا گناہ نہیں جسے عام اور صحیح و سالم لوگ انجام دیتے ہیں ۔ لہذا قاتل نفسیاتی طور پر کسی بیماری میں مبتلا ہوتاہے۔ اس لئے چاہئیے کہ اس کا علاج کیاجائے۔ قصاص ایسے مریضوں کا علاج نہیں ہوسکتا۔
۴ ۔ وہ مسائل جن کا تعلق اجتماعی نظام سے ہے ان کا رشد اور نشو و نما انسانی معاشرے کے ساتھ۔ ساتھ ضروری ہے۔ وہ قانون جو آج سے چو دہ سو سال پہلے جاری ہو ااسے آج کے ترقی یافتہ معاشرے میں جاری نہیں ہونا چاہئیے۔
۵ ۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ قصاص لینے کی بجائے قاتلوں کو قید کردیاجائے۔ اور قید خانے میں ان کے وجود سے جبرا معاشرے کے فائدے کے لئے کام لیاجائے۔ اس طرح ایک طرف معاشرہ ان کے شر سے محفوظ رہے گا اور دوسری طرف ان سے حتمی المقدور فائدہ اٹھایا جائے گا۔
یہ ان اعتراضات کا خلاصہ ہے جو مسئلہ قصاص پر کئے جاتے ہیں ۔ ذیل میں ان کا جواب پیش کیاجاتاہے۔
جواب
آیات قصاص میں غور و خوض کرنے سے یہ اشکالات دور ہوجاتے ہیں (و لکم فی القصاص حیاة یآ اولی الالباب)۔
۱ ۔ بعض اوقات خطرناک افراد کو ختم کردینا معاشرے کے رشد و تکامل کا ذریعہ ہوتاہے۔ ایسے مواقع پر مسئلہ قصاص حیات اور بقائے موجودات کا ضامن ہے۔ اس لئے قصاص کا جذبہ انسان اور حیوان کے مزاج اور طبیعت میں رکھ دیا گیاہے۔
نظام طب ہو یا زراعت سب اسی عقلی اصول پر مبنی ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بدن کی حفاظت کے لئے بعض اوقات فاسد اور خراب عضو کو کاٹ دیتے ہیں ۔ اسی طرح درخت کی نشو و نما میں مزاحک شاخوں کو بھی قطع کردیتے ہیں ۔
جو قاتل کے قتل کو ایک شخص کا فقدان سمجھتے ہیں ان کی نظر انفرادی ہے اگر وہ اجتماعی نظر رکھتے اور یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ قانون قصاص باقی افراد کی حفاظت اور تربیت کا باعث ہے تو وہ اپنی گفتگو میں تجدید نظر کرتے ۔ معاشرے میں سے ایسے خونخوار افراد کا خاتمہ مضر عضو اور شاخ کو کاٹنے کی طرح ہے جسے حکم عقل کے مطابق لازما قطع کرنا چاہئیے ۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ آج تک مضر اعضا اور شاخوں کو کاٹنے کی طرح ہے جسے حکم عقل کے مطابق لازما قطع کرنا چاہئیے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ آج تک مضر اعضا اور شاخوں کو کاٹنے پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
۲ ۔ اصولی طور پر تشریع قصاص کا جذبہ انتقام سے کوئی ربط نہیں کیونکہ انتقام کا معنی ہے غضب کی آگ کو کسی شخصی مسئلے کی خاطر ٹھنڈا کرنا جب کہ قصاص کا مقصد معاشرے پرظلم و ستم کے تکرار کو روکنا ہے اور اس کا ہدف اور غرض طلب عدل اور باقی بے گناہ افراد کی حمایت ہے۔
۳ ۔ تیسرا اعتراض ہے کہ قاتل یقینا کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے اور عام لوگ ایسا ظلم نہیں کرسکتے۔ اس بارے میں کہنا چاہئیے کہ بعض اوقات تو یہ بات بالکل صحیح ہے ایسی صورت میں اسلام نے بھی دیوانہ اور ایسے افراد کے لئے قصاص کا حکم نہیں دیا لیکن قاتل کو ہمیشہ بیمار قرار دینا بہت خطرناک ہے کیونکہ ایسے فساد کو ایسی بنیاد فراہم کرنا معاشرے کے ظالموں کو ایسی جرات دلاتاہے جس کی تردید نہیں کی جاسکتی۔ اگر یہ استدلال کسی صحیح قاتل کے بارے میں ہے تو پھر یہی استدلال سب تجاوز کرنے والوں اور دوسروں کے حقوق چھیننے والوں کے لئے بھی صحیح ہونا چاہئیے کیونکہ عقل کامل رکھنے والا شخص کبھی دوسروں پرتجاوز نہیں کرتا۔ اس طرح تو سزا کے تمام قوانین کو ختم کردینا چاہئیے اور تجاوز و تعدی کرنے والے سب افرا د کو قید خانوں اور مقامات سزا سے نکال کر نفسیاتی امراض کے ہسپتالوں میں داخل کردینا چاہیئے۔
۴ ۔ رہا یہ سوال کہ معاشرے کی ترقی قانون قصاص کو قبول نہیں کرتی اور قصاص صرف قدیم معاشرے میں اثر رکھتا تھا لیکن اس ترقی کے زمانے میں اقوام عالم قصاص کو خلاف وجدان سمجھتی ہیں ۔
اس کا جواب صرف ایک جملے میں یوں دیاجاسکتاہے کہ یہ دعوی ان وسیع وحشت ناک جرائم اور میدان جنگ و غیرہ کے مقتولین کی تعداد کے مقابلے میں بہت بے وزن ہے اور خیالی پلاؤکی طرح ہے۔ فرض کیا کہ ایسی دنیا وجود میں آجائے تو اسلام نے بھی قانون عفو کو قصاص کے ساتھ ہی صراحت سے بیان کردیاہے اور قصاص ہی کو اس سلسلے میں آخری طریقہ کار قرار نہیں دیا۔ مسلم ہے کہ ترقی یافتہ معاشرے میں لوگ قاتل کو معاف کردینے کو ہی ترجیح دیں گے لیکن موجودہ دنیا میں جس کے کئی تہوں میں چھپے ہوئے جرائم گذشتہ زمانوں سے زیادہ اور انتہائی وحشیانہ ہیں اس میں قانون قصاص کے خاتمہ کا مطلب جرائم و مظالم کے دامن کو وسعت دینے کے اور کچھ نہ ہوگا۔
۵ ۔ جیسا کہ قرآن کی تصریح موجود ہے۔ قصاص کی غرض و غایت صرف حیات عمومی و اجتماعی اور قتل و فساد کے تکرار سے بچنا اور اسے روکنا ہے۔ یہ مسلم ہے کہ قید خانہ اس سلسلے میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کرسکتا (خصوصا موجودہ زمانے کے قید خانے جن میں سے بعض کی کیفیت تو مجرموں کے گھروں سے کہیں بہتر ہے)۔ یہی وجہ ہے کہ جن ممالک میں مجرم کے قتل کا حکم ختم کردیا گیاہے وہاں تھوڑی ہی مدت میں جرائم اور قتل کی وارداتوں میں بہت اضافہ ہوگیاہے اور قیدیوں کو بخش ہی دیاجائے تو جرائم پیشہ لوگ بڑے اطمینان اور آرام سے اپنے ہاتھ قتل اور ظلم سے رنگین کرتے رہیں ۔
کیا مردکا خون عورت کے خون سے زیادہ قیمتی ہے:
ممکن ہے بعض لوگ اعتراض کریں کہ آیات قصاص میں حکم دیا گیاہے کہ عورت کے قتل کے بدلے مرد سے قصاص نہیں لینا چاہئیے تو کیا مرد کا خو ن عورت کے خون سے گراں تر اور زیادہ قیمتی ہے۔ آخر ایک ظالم مرد سے عورت کے قتل پر قصاص کیوں نہ لیاجائے جب کہ دنیا کی نصف سے زیادہ انسانی آبادی عورتوں پرہی مشتمل ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ آیت کا مفہوم یہ نہیں کہ مرد سے عورت کے قتل کے بدلے قصاص نہ لیاجائے بلکہ جیسا کہ فقہ اسلامی میں تفصیل و تشریح سے موجود ہے عورت کے اولیاء عورت کے قتل کی صورت میں قصاص لے سکتے ہیں بشرطیکہ دیت کی آدھی مقدار ادا کردیں ۔ دوسرے لفظوں میں عورت کے قتل کی صورت میں قصاص نہ لینے سے مراد وہ قصاص ہے جو بلا کسی شرط کی ہو لیکن آدھی دیت ادا کرنے کی صورت میں مرد سے قصاص لینا اور اسے قتل کرنا جائز ہے۔ اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ یہ حکم اس لئے نہیں کہ عورت مرتبہ انسانیت پرفائز نہیں یا اس کا خون کم قیمت ہے۔ یہ ایک بیجا اور غیر منطقی تو ہم ہے اور شاید یہ مفہوم خون بہا (خون کی قیمت) سے پیدا ہوا ہے۔ آدھی دیت تو صرف اس نقصان کو پورا کرنے کے لئے ہے جو مرد سے قصاص لینے کی صورت میں مرد کے خاندان کو پہنچاہے (غور کیجئے گا)
تشویق به عفو
اس کی وضاحت یہ ہے کہ زیادہ تر مرد ہی خاندان کا اقتصادی عضو مؤثر ہوتاہے اور مرد ہی خاندان کے اخراجات اٹھاتاہے اور مرد ہی اپنی اقتصاد ی کار کردگی سے خاندان کی زندگی کا کارخانہ چلاتاہے۔ اس بناء پر مرد اور عورت کے ختم ہونے میں اقتصادی پہلو کا جو فرق ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ اگر اس فرق کو ملحوظ نہ رکھاجائے تو مقتول مرد کے بیگناہ پسماندگان اور آل اولاد آخر کس جرم میں خسارہ اٹھائیں گے۔ اسلام نے مرد سے عورت کے قتل کا قصاص لینے کی صورت میں آدھی دیت دینے کا قانون معین کرکے سب لوگوں کے حقوق کا لحاظ رکھاہے اور اس طرح ایک خاندان کو جو نا قابل تلافی نقصان ہورہاتھا اس کا ازالہ کیاگیاہے۔ اسلام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ لفظ مساوات کے بہانے دوسرے کے حقوق پائمال ہوں جیسے اس شخص کی اولاد کے حقوق جس سے قصاص لیا جارہاہے۔
( iv ) اس مقام پرلفظ ”اخیہ“ کا استعمال:
ایک اور نکتہ جو یہاں اپنی طرف متوجہ کرتاہے وہ یہاں لفظ اخیہ کا استعمال ہے ۔ قرآن برادری کے رشتے کو انسانی معاشرے میں اتنا محکم سمجھتاہے کہ اس کے نزدیک خون نا حق بہانے کے با وجود یہ برقرار رہتاہے لہذا اولیاء مقتول کی انسانی جذبات کو ابھارنے کے لئے انہیں قاتل کو بھائے کہہ کر متعارف کراتاہے اور اس طرح انہیں عفو و مدارات کا شوق دلاتاہے۔ البتہ یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو ہیجان اور غضب و غصے کی حالت میں ایسے عظیم گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد اس پر پشیمان ہوں لیکن وہ مجرم جو اپنے کا م پر فخر کریں اور نادم نہ ہوں ، بھائی کہلانے کے لائق نہیں اور نہ ہی عفو و درگذر کے مستحق ہیں ۔
آیات ۱۸۰،۱۸۱،۱۸۲
۱۸۰ ۔( کُتِبَ عَلَیْکُمْ إِذَا حَضَرَ اٴَحَدَکُمْ الْمَوْتُ إِنْ تَرَکَ خَیْرًان الْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالْاٴَقْرَبِینَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِین )
۱۸۱ ۔( فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَمَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَی الَّذِینَ یُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللهَ سَمِیعٌ عَلِیمٌ )
۱۸۲ ۔( فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا اٴَوْ إِثْمًا فَاٴَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلاَإِثْمَ عَلَیْهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ )
ترجمہ
۱۸۰ ۔ جب تم میں سے کسی کی موت کا دقت قریب آئے تو چاہئیے کہ وہ ماں اور رشتہ داروں کے لئے شائستہ طور پر وصیت کرے۔ یہ حق ہے پرہیزگاروں پر۔
۱۸۱ ۔ پھر جس نے وصیت سن کراسے بدل ڈالا اس کا گناہ (وصیت) بدلنے والے پرہے۔ خدا تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔
۱۸۲ ۔ جس شخص کو خوف ہو کہ وصیت کرنے والے نے انحراف (بعض ورثہ کی طرف ایک طرفہ میلان) یا گناہ (کسی غلط چیز کے لئے وصیت ) سے کام لیاہے اور وہ ورثہ کے در میان صلح کرادے تو اس پر کچھ گناہ نہیں (اور اس پروصیت کے تبدیلی کا قانون لاگونہ ہوگا) خدا بخشنے والا مہربان ہے۔
شائستہ اور مناسب وصیتیں
گذشتہ آیات میں مجرمین کے بارے میں بعض مسائل بیان کرنے کے بعد ان آیات میں ایک لازمی حکم کے طور پر مالی معاملات میں وصیت کے کچھ احکام بیان کئے گئے ہیں ۔ فرمایا: تم پر لکھ دیاگیاہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت قریب آجائے تو اپنے مال و منال کے سلسلے میں والدین اور رشتہ داروں کے بارے میں مناسب اور شائستہ وصیت کرے( کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیران الوصیة للوالدین و الاقربین بالمعروف ) ۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا: یہ پرہیزگاروں کے ذمے ایک حق ہے( حقا علی المتقین ) ۔
جیسا کہ پہلے اشارہ کیا جا چکاہے ”کتب علیکم“ ظاہرا وجوب پر دلالت کرتاہے۔ اس لئے وصیت کے بارے میں مختلف تفاسیر بیان کی گئی ہیں ۔
بعض اوقات کہاجاتاہے کہ اگر چہ قوانین اسلام کی روسے وصیت ایک عمل مستحب ہے لیکن چونکہ ایسا مستحب ہے جس کی تائید بہت زیادہ ہے لہذا۔”( کتب علیکم ) “کے جملہ سے اس کا حکم بیان کیاگیاہے اس لئے آیت کے آخر میں ”حقا علی المتقین“ آیاہے اگر یہ وجوبی حکم ہوتا تو فرمایا جاتا ”( حقا علی المومنین ) “۔
کچھ دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت میراث کے احکام نازل ہونے سے پہلے کی ہے۔ اس وقت اموال کے بارے میں وصیت کرنا واجب تھا۔ تا کہ ورثہ میں اختلاف و نزاع نہ ہو لیکن آیات میراث نازل ہونے کے بعد یہ وجوب منسوخ ہوکر ایک مستحبی حکم کی صورت میں باقی رہ گیا۔
حدیث جو تفسیر عیاشی میں اس آیت کی ذیل میں آئی ہے اسی معنی کی تائید کرتی ہے۔
یہ بھی احتمال ہے کہ آیت کا یہ حکم ضرورت کے ان مواقع کے لئے ہو جہاں وصیت کرنا ضروری ہے۔
لیکن ان تمام تفاسیر میں پہلی تفسیر حق و حقیقت کے زیادہ قریب نظر آتی ہے۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہاں مال کی جگہ لفظ خیرا استعمال کیاگیاہے ۔ فرمایا کہ اگر کوئی اچھی چیز اپنے ترکے میں چھوڑے تو وصیت کرے۔ یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام کی نظر میں وہ دولت و ثروت جو شرعی طریقے سے حاصل کی جائے اور معاشرے کے فائدے کے لئے اچھی راہ پر صرف کی جائے خیر و برکت ہے۔ یہ بات ان لوگوں کے غلط افکار پر خط بطلان کھینچتی ہے جو مال و دولت ہی کو بری چیز سمجھتے ہیں ۔ اسلام ان کجرو زاہدوں سے بیزار ہے جو روح اسلام کو نہیں سمجھ سکے اور وہ زہد کو فقر و فاقہ کا دوسرا نام سمجھے ہوئے ہیں اور ان کے افکار اسلامی معاشرے میں جمود اور ذخیرہ اندوزوں کے سر اٹھا نے کا سبب بنتے ہیں ۔
ضمنی طور پر یہ تعبیر اس ثروت و دولت کے مشروع اور جائز ہونے کی طرف لطیف اشارہ ہے جس کے بارے میں وصیت کا حکم دیاگیاہے ورنہ انسان کا چھوڑا ہوا غیر مشروع ناجائز مال تو خیر نہیں بلکہ شر ہی شر ہے۔
بعض روایات سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ وہ اموال کافی تعداد میں ہوں ورنہ مختصر مال تو وصیت کا محتاج نہیں ۔ دوسرے لفظوں میں مختصر مال تو کوئی ایسی چیز نہیں کہ انسان چاہے کہ اس کا تیسرا حصہ وصیت کے ذریعے الگ کردیاجائے۔(۱)
ضمنا ”( اذا حضر احدکم الموت ) “(جب تم میں سے کسی کے پاس موت آ پہنچے) وصیت کے لئے فرصت کے آخری لمحات کو بیان کرتاہے اگر تاخیر ہوجائے تو موقع جاتارہے گا ورنہ کوئی مضائقہ نہیں کہ انسان پہلے سے احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا وصیت نامہ تیار کرے بلکہ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ یہ عمل انتہائی مستحسن ہے۔
یہ انتہائی کوتاہ فکری ہے کہ انسان خیالی کرے کہ وصیت کرنا فال بدہے اور اپنی موت کو سامنے لانے کے مترادف ہے بلکہ وصیت تو ایک دور اندیشی اور ناقابل انکار حقیقت کی پہچان ہے اور اگر یہ طول عمر کا سبب نہ بنے تو عمر میں کمی کا تو ہرگز سبب نہیں ہے۔
زیر نظر آیت میں وصیت کو ”بالمعروف“ سے مقید کرنا اس طرف اشارہ ہے کہ وصیت ہر لحاظ سے عقل مندانہ ہو، لیکن معروف کا معنی ہے عقل و خرد کی پہچانی ہوئی (عرف عقلا)۔
جس شخص کے لئے وصیت کی جارہی ہو اس کے لئے مقدار رکے لحاظ سے اور دیگر جہات سے ایسی ہو کہ عقلا اسے مدبرانہ سمجھیں نہ یہ کہ وہ تفریق اور نزاع کا باعث بن جائے۔
جب وصیت تمام مذکورہ صفات کی جامع ہو تو وہ ہر لحاظ سے محترم اور مقدس ہوگی اور اس میں کسی طرح کا تغیر و تبدل حرام ہے۔ اسی لئے بعد والی آیت میں فرمایا گیاہے: جو کوئی وصیت سننے کے بعد اس میں تبدیلی کرے اس کا گناہ تبدیلی کرنے والے کے سر ہے (فمن بدلہ بعد ما سمعہ فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ) اور اگر ان کا گمان ہے کہ خدا ان کی سازشوں اور مخفی کارروائیوں سے بے خبر ہے تو وہ سخت اشتباہ میں ہیں کیونکہ خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔( ان الله سمیع علیم ) ۔ ممکن ہے یہ آیت اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ وصی (وہ شخص جووصیت کرنے والے کی موت کے بعد وصیتوں پر عملدر آمد کے لئے ذمے دارہے) کی خلاف ورزی کبھی وصیت کرنے والے کے اجر و ثواب کو ختم نہیں کرسکتی۔ وہ اپنا اجر پاچکا ہے ۔ گناہ کا طوق فقط وصی کی گردن کے لئے ہے جس نے وصیت کی مقدار ، کیفیت یا اصلی وصیت میں تبدیلی کی ہے۔
یہ احتمال بھی ہے کہ مقصدیہ ہو کہ اگر وصی کی خلاف ورزی کی وجہ سے میت کا مال ایسے افراد کودے دیاجائے جو اس کے مستحق نہیں اور وہ اس سے بے خبر بھی ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ۔ گناہ صرف وصی کو ہوگا جس نے دانستہ طور پر یہ غلط کام انجام دیاہے۔ توجہ رہے کہ یہ دونوں تفاسیر ایک دوسرے سے متضاد نہیں اور ممکن ہے آیت ان دونوں مفاہیم کے لئے ہو۔
اب یہ حکم اسلامی واضح ہوگیا کہ وصیتوں میں ہر طرح کا تغیر و تبدل جس صورت میں ہو اور جس قدر ہو گناہ ہے۔ لیکن ہر قانون میں کچھ استثنائی پہلو ہوتے ہیں ۔ لہذا زیر نظر آخری آیت میں فرمایاگیاہے: جب وصی کو وصیت کرنے والے میں انحراف اور کجروی کا اندیشہ ہو، یہ انحراف چاہے بے خبری سے ہو یا جان بوجھ کر آگاہی کے با وصف ہو اور وہ اس کی اصلاح کرے تو وہ گنہ گار نہ ہوگا اور وصیت کی تبدیلی کا قانون اس پر لا گونہ ہوگا۔ خدا بخشنے والا مہربان ہے( فمن خاف من قوص جنفا او اثما فاصلح بینهم فلا اثم علیه ان الله غفور رحیم ) ۔
اس بناء پر استثناء صرف ان مواقع کے لئے ہے جہاں وصیت شائستہ و مناسب نہ ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وصی تغیر کا حق رکھتاہے۔ اگر وصیت کرنے والا زندہ ہے تو اپنا نقطہ نظر اس کے گوش گزار کرے تا کہ وہ خود تبدیلی کردے اور اگر وہ مرگیا ہو تو خود یہ تبدیلی کرے اور تبدیلی کا یہ اختیار مندرجہ ذیل مواقع کے لئے منحصر ہے۔
۱ ۔ اگر وصیت کل ترکے کے ایک تہائی سے زیادہ ہو کیونکہ رسول اکرم اور اہل بیت سے بہت سی روایات میں منقول ہے کہ انسان ایک تہائی تک کے مال کی وصیت کرنے کا مجاز ہے اور اس سے زیادہ ممنوع ہے۔ ہمارے فقہا نے بھی فقہی کتب میں یہی فتوی دیاہے۔(۲)
اس بناء پر جن ناواقف لوگوں کا یہ معمول ہے کہ وہ تمام اموال وصیت کے ذریعے تقسیم کردیتے ہیں کسی طرح بھی قوانین اسلام کے روسے صحیح نہیں اور وصی پر لازم ہے کہ وہ اس کی اصلاح کرے اور ایک تہائی سے زیادہ اس طرح سے تقسیم نہ کرے۔
۲ ۔ اگر وصیت ظلم، گناہ اور غلط کام سے متعلق ہو۔ مثلا کوئی وصیت کرے کہ اس کے مال کا کچھ حصہ مراکز فساد کو وسیع کرنے میں صرف کیاجائے اور اسی طرح اگر وہ وصیت کسی ترک واجب کا سبب بنے۔
۳ ۔ اگر وصیت پر عمل درآمد، نزاع، فساد اور خون ریزی کا سبب ہو تو یہاں حاکم شرع کے حکم سے اصلاح ہوسکتی ہے۔جنف (بروزن کنف) کا معنی ہے حق سے انحراف اور باطل کے طرف میلان۔ یہ وصیت کرنے والے کے جاہلانہ انحرافات اور کجرویوں کی طرف اشارہ ہے۔ اور ”اثم“ گناہ عمد کی طرف اشارہ ہے۔
جملہ ”ان اللہ غفور رحیم“ جو اس آیت کے آخر میں آیاہے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر وصی وصیت کرنے والے کے غلط کام کی اصلاح کے لئے اقدام کرے اور راہ حق کو کھول دے تو خدا اس کی خطاسے صرف نظر کرے گا۔
____________________
۱ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۱۵۹۲- وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۲۶۱ (کتاب احکام الوصایا، باب ۱۰
و صیت کا فلسفہ:
قانون میراث سے صرف کچھ معین رشتے دار بہرہ مند ہوتے ہیں جب کہ ممکن ہے خاندان کے اور افراد یا بعض اوقات قریبی دوست احباب مالی امداد کی سخت احتیاج رکھتے ہوں اسی طرح ورثہ میں سے بھی کبھی وراثت کا حصہ کی ضروریات کی کفالت نہیں کرسکتا لہذا قانون اسلام کی جامعیت اس کی اجازت نہیں دیتی کہ یہ خلا پر نہ ہو، اسی لئے اس نے قانون میراث کے ساتھ ساتھ قانون وصیت بھی رکھاہے اور مسلمانوں کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے مال کے تیسرے حصے کے متعلق اپنے بعد کے لئے کوئی مستحکم پروگرام بنائیں اور اسے اپنے مقصد میں صرف کریں ۔
علاوہ ازیں بعض اوقا ت انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کوئی اچھا کام انجام دے۔ لیکن وہ اپنی زندگی میں اپنی مالی ضروریات کے پیش نظر ایسا نہیں کرپاتا تو عقلی منطق واجب قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے ان اموال سے جن کے حصول کے لئے اس نے زحمت اٹھائی ہے کار خیر کے انجام دینے سے بالکل محروم نہ ہو۔
ان سب امور کی وجہ سے اسلام میں قانون وصیت رکھا گیاہے اور اس کی اس حد تک تاکید کی گئی ہے کہ اسے ایک وجوبی اور ضروری حکم کی حد تک پہنچا دیاگیاہے اور ”حقا علی المتقین“ کے جملے سے اس کی تاکید فرمائی گئی ہے۔
وصیت صرف مندرجہ بالا امور میں منحصر نہیں بلکہ انسان کو چاہئیے کہ وہ اپنے قرض اور ان امانتوں کے متعلق جو اسے سپرد کی گئی ہیں اور دیگر امور کے بارے میں اپنی وصیت کو واضح طور پر بیان کرے۔ اس طرح سے کہ حقوق الناس اور حقوق اللہ میں سے اس کی کوئی ذمہ داری مبہم نہ رہ جائے۔
روایات اسلامی میں وصیت کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک روایت میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے آپ نے فرمایا: ما ینبغی لامرء مسلم ان یبیت لیلة الا وصیتہ تحت راسہ
کسی مسلمان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ رات سوئے مگر اس کا وصیت نامہ اس کے سرکے نیچے نہ ہو۔ ۱
سرکے نیچے ہونا، یہاں تاکید کے لئے ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وصیت نامہ تیار رکھنا چاہئیے۔
ایک اور روایت میں ہے:من مات بغیر وصیة مات میتته جاهلیة
جو شخص بغیر وصیت کے مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرا۔ ۲
____________________
۱ وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۳۵۲
۲ وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۳۵۲
وصیت میں عدالت:
مندرجہ بالا آیت میں وصیت میں تعدی و تجاوز نہ کرنے کا حکم آپ نے ملاحظہ کیا۔ اس سلسلے میں اسلامی روایات میں بھی ظلم و جور اور ضرر نہ پہنچانے کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے۔ ان روایات کے اجتماعی مطالعے سے ظاہر ہوتاہے کہ جیسے وصیت کرنے کی بہت اہمیت ہے اسی طرح وصیت میں ظلم روا رکھنا بہت برا عمل ہے اور گناہان کبیرہ میں سے ہے۔
ایک حدیث میں امام محمد باقر کا ارشاد ہے:
من عدل فی وصیة کان کمن تصدق بها فی حیاته و من جار فی وصیته لقی الله عزوجل یوم القیامة و هو عنه معرض ۔
جو شخص اپنی وصیت میں عدل کرے وہ ایسے ہے جیسے اس نے اپنی زندگی میں یہ مال راہ خدا میں صدقہ کردیا ہو اور جو اپنی وصیت میں ظلم و تعدی کرے قیامت کے دن پروردگار کی طرف سے نگاہ لطف و کرم اس سے اٹھالی جائے گی(۱)
وصیت میں ظلم و جور اور ضرر رسانی یہ ہے کہ انسان اپنے ترکے کے تیسرے حصے سے زیادہ وصیت کرے اور ورثہ کو ان کے جائز حق سے محروم کردے یا بلا وجہ محبت و دشمنی کی بناء پر ایک کو دوسرے پرترجیح دے۔ اسی لئے اگر ورثہ زیادہ ضرورتمند ہوں تو حکم دیا گیاہے کہ تیسرے حصے کی بھی وصیت نہ کی جائے اور ایسے مقام پر وصیت میں چوتھے یا پانچویں حصے تک کمی کی جاسکتی ہے۔(۲)
وصیت میں عدالت کے بارے میں اسلام کے پیشواؤں نے اپنے ارشادات میں اس حد تک تاکید کی ہے کہ ایک حدیث میں ہے:انصار میں سے ایک شخص فوت ہوگیا اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے باقی رہ گئے لیکن وہ مرتے وقت سارا مال راہ خدا میں صرف کرگیا یہاں تک کہ کچھ باقی نہ رکھا۔پیغمبر اسلام اس واقعے سے آگاہ ہوئے تو فرمایا:اس شخص سے تم نے کیا سلوک کیا۔لوگوں نے عرض کیا:ہم نے (اس کی نماز جنازہ پڑھ کر) اسے دفن کردیاہے۔
آپ نے فرمایا:مجھے پہلے معلوم ہوجاتا تو میں اجازت نہ دیتا کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیاجائے کیونکہ اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ دیے ہیں تا کہ وہ گدائی کرتے پھریں ۔(۳)
____________________
۱ وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۳۵۹ ۲ وسائل الشیعہ، ج۱۳، ص۳۶۰
۳ سفینة البحار، ج۲، ص۶۵۹، مادہ وصیت
واجب اور مستحب وصیت:
وصیت ذاتی طور پر مستحب ہے لیکن جیسا کہ پہلے اشارہ کیاگیاہے ممکن ہے بعض اوقات وجوب کی شکل اختیار کرلے مثلا کسی نے واجب حقوق اللہ (زکوة و خمس و غیرہ) کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہویا لوگوں کی کچھ امانتیں اس کے پاس پڑی ہوں اور عدم وصیت کی صورت میں احتمال ہو کہ ان کا حق ضائع ہوجائے گا اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک شخص کا معاشرے میں ایسا مقام ہے کہ اگر وہ وصیت نہ کرے تو ممکن ہے نا قابل تلافی نقصان ہو اور صحیح اجتماعی یا دینی نظام میں سخت نقصان و ضرر کا اندیشہ ہو۔ ایسی تمام صورتوں میں وصیت کرنا واجب ہوجائیگا۔
زندگی میں وصیت کو بدلا جاسکتاہے:
قوانین اسلام کی روسے وصیت کرنے والا اپنی پہلے سے کی گئی وصیت کا پابند نہیں بلکہ اپنی زندگی میں وہ اسے بدل بھی سکتاہے ۔ وہ وصیت کی مقدار اور کیفیت اور اپنے وصی کے سلسلے میں نظر ثانی کرسکتاہے کیونکہ ممکن ہے وقت گزرنے کے ساتھ اس بارے میں مصلحتیں بدل گئی ہوں ۔
وصیت۔ اصلاح کا ذریعہ:
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ انسان کو چاہئیے کہ وہ اپنی وصیت کو اپنی گذشتہ کو تاہیوں کے اصلاح اور ان کے ازالے کا ذریعہ قرار دے۔ یہاں تک کہ اس کے عزیز اقارب اور وابستگان میں سے اگر کچھ اس کی طرف سے سرد مہری اور بے رغبتی کا شکار تھے تو وصیت کے ذریعے ان سے اظہار محبت کرے۔
روایات میں ہے کہ ہادیان دین اپنے ان رشتہ داروں کے بارے میں خاص طور پر وصیت کرتے تھے جو ان سے سرد مہری سے پیش آتے تھے اور مال کی کچھ مقدار وصیت کے ذریعے ان کے لئے مختص کردلیتے تھے تا کہ ٹوٹے ہوئے رشتے محبت کے ذریعے پھر سے جوڑدیں ۔ اسی طرح اپنے غلاموں کو آزاد کردیتے یا انہیں آزاد کرنے کی وصیت کردیتے تھے۔
آیات ۱۸۳،۱۸۴،۱۸۵
۱۸۳ ۔( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمْ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ )
۱۸۴ ۔( اٴَیَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیضًا اٴَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ اٴَیَّامٍ اٴُخَرَ وَعَلَی الَّذِینَ یُطِیقُونَهُ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْکِینٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَهُ وَاٴَنْ تَصُومُوا خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ )
۱۸۵ ۔( شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اٴُنزِلَ فِیهِ الْقُرْآنُ هُدًی لِلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِنْ الْهُدَی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمْ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ وَمَنْ کَانَ مَرِیضًا اٴَوْ عَلَی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ اٴَیَّامٍ اٴُخَرَ یُرِیدُ اللهُ بِکُمْ الْیُسْرَ وَلاَیُرِیدُ بِکُمْ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُکَبِّرُوا اللهَ عَلَی مَا هَدَاکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ )
ترجمہ
۱۸۳ ۔اے ایمان والو! روزہ تمہارے لئے لکھ دیا گیاہے جیسے تم سے پہلے لوگوں کے لئے لکھا گیاتھا، تا کہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
۱۸۴ ۔چند گنے چنے دن (روزہ رکھو) اور تم میں سے جو لوگ بیمار ہوں یا مسافر ہوں وہ ان کی بجائے دوسرے دنوں میں (روزوں کی) گنتی پوری کرلیں اور جولوگ یہ کام انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتے (مثلا دائمی مریض اور بوڑھے مرد و عورتیں ) ضروری ہے کہ وہ کفارہ ادا کریں اور مسکین کو کھانا کھلائیں اور جو لوگ کار خیر بجالائیں تو وہ ان کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔
۱۸۵ ۔ (وہ چند گنے چنے دن) ماہ رمضان کے ہیں ، اس میں قرآن نازل ہوا جس میں لوگوں کے لئے راہنمائی اور ہدایت کی نشانیاں ہیں اور جو حق و باطل کے در میان فرق کرنے دالاہے۔ پس جو شخص ماہ رمضان میں حضر میں ہو وہ روزہ رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو وہ دوسرے دنوں میں بجالائے ۔ خدا تمہارے لئے راحت و آرام چاہتاہے ، زحمت و تکلیف نہیں ، تم یہ دن پورے کرو اور خدا کی اس لئے بزرگی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت کی ہے ۔ ہوسکتاہے تم شکرگزار ہوجاؤ۔
روزہ تقوی کا سرچشمہ ہے:
چند اہم اسلامی احکام کے بیان کے بعد زیر نظر آیات میں ایک اور حکم بیان کیاگیاہے جو چند اہم ترین اسلامی عبادات میں شمار ہوتاہے اور وہ روزہ ہے۔ اسی تاکید سے ارشاد ہوتاہے: اے ایمان والو! روزہ تمہارے لئے اس طرح سے لکھ دیا گیاہے جس طرح تم سے پہلے کی امتوں کے لئے لکھا گیاتھا( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمْ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِنْ قَبْلِکُمْ )
ساتھ ہی اس انسان ساز اور تربیت آفرین عبادت کا فلسفہ چھوٹے سے پر معنی جملے میں یوں بیان کرتاہے: ہوسکتا ہے تم پرہیزگار بن جاؤ( لعلکم تتقون ) ۔
جی ہاں ۔ جیسا کہ اس کی تشریح میں آگے بیان کیاجائے گا کہ روزہ روح تقوی اور پرہیزگاروں کی تربیت کے لئے تمام جہات سے ایک مؤثر عامل ہے۔
اس عبادت کی انجام دہی چونکہ مادی لذائد سے محرومیت اور مشکلات سے وابستہ ہے۔ خصوصا گرمیوں میں یہ زیادہ مشکل ہے اس لئے روح انسانی کو مائل کرنے اور اس حکم کی انجام دہی پرآمادہ کرنے کے لئے مندرجہ بالا آیات میں مختلف تعبیرات کو استعمال کیاگیاہے۔
پہلے ”یا ایہا الذین امنوا“ سے خطاب کیاگیاہے۔ اس کے بعد یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ روزہ تم ہی سے مخصوص نہیں بلکہ گذشتہ امتوں میں بھی تھا اور آخر میں اس کا فلسفہ بیان کیاگیا ہے جس کے مطابق اس پرمنفعت خدائی فریضہ کے اثرات سو فیصد خود انسان کے فائدے میں ہیں اس طرح اسے ایک پسندیدہ اور خوشگوار موضوع بنادیاگیاہے۔ ایک حدیث میں امام صادق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:لذة ما فی النداء ازال تعب العبادة و العناء ۔
یعنی۔یا ایہا الذین امنوا کے خطاب کی لذت نے اس عبادت کی تکان ، سختی اور مشقت کو ختم کردیاہے۔(۱)
روزے کی سنگینی اور مشکل میں کمی کے لئے بعد کی آیت میں چند احکام اور بیان کئے گئے ہیں ۔
ارشاد فرمایا: چند گنے چن روزہ رکھو (ایاما معدوداة ) ایسا نہیں کہ تم پورا سال روزہ رکھنے پر مجبور ہو یا یہ سال کا کوئی بڑا حصہ ہے بلکہ یہ تو سال کے ایک مختصر سے حصے میں تمہیں مشغول رکھتاہے۔
دوسری بات جو اس آیت میں ہے یہ ہے کہ تم میں سے جو افراد بیمار ہیں یا مسافر ہیں کہ جن کے لئے روزہ باعث مشقت و زحمت ہے انہیں اس حکم میں رعایت دی گئی ہے کہ وہ ان دنوں کے علاوہ دوسرے دنوں میں روزہ رکھیں (سفر ختم ہوجانے اور بیماری سے صحت یابی کے بعد)( فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر ) ۔
تیسری بات یہ کہ جنہیں روزہ رکھنے میں انتہائی زحمت و تکلیف ہوتی ہے (مثلا بوڑھے مرد ، بوڑھی عورتیں اور دائمی مریض جن کے تندرست ہونے کی امید نہیں ) ان کے لئے ضروری نہیں کہ وہ روزہ رکھیں ، بلکہ اس کے بجائے کفارہ ادا کرنے کے لئے مسکین کو کھانا کھلادیں( و علی الذین یطیقونه فدیة طعام مسکین ) (۲)
جو شخص اس زیادہ راہ خدا میں کھانا کھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے (فمن تطوع خیرا فہو خیر لہ)۔(۳)
آیت کے آخر میں اس حقیقت کو واضح کیاگیاہے کہ روزے کا تمہیں ہی فائدہ پہنچے گا: اور روزہ رکھنا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو( و ان تصوموا خیروه لکم ان کنتم تعلمون ) ۔
بعض چاہتے ہیں کہ اس جملے کو اس امر کی دلیل قرار دیں کہ روزہ ابتداء میں واجبتخییر تھا۔ مسلمانوں کہ یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ روزہ رکھیں یا اس کی بجائے فدیہ دے دیں تا کہ آہستہ آہستہ روزے کی عادت پڑجائے۔ بعد ازاں یہ حکم منسوخ ہوگیا اور روزے نے وجوب عینی کی شکل اختیار کرلی۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ آیت روزے کے فلسفے کی تاکید کے طور پرآئی ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ عبادت بھی دوسری عبادات کی طرح خدا کے جاہ و جلال میں کوئی اضافہ نہیں کرتی بلکہ اس کا تمام فائدہ خود انسانوں کو ہے۔ اس کی شاہد وہ تعبیرات ہیں جو قرآن کی دیگر آیات میں نظر آتی ہیں ۔ مثلا:
( ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون )
یہ تمہارے لئے ہی بہتر ہے اگر تم جان سکو۔ (جمعہ ۔ ۶)
یہ آیت نماز جمعہ کے وجوب عینی حکم کے بعد (اجتماع شرائط کی صورت میں ) آئی ہے۔
سورہ عنکبوت کی آیت ۱۶ میں ہے:( وَإِبْرَاهِیمَ إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللهَ وَاتَّقُوهُ ذَلِکُمْ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُون )
اور جب ابراہیم نے بت پرستوں کی طرف رخ کرکے کہا کہ خدا کی عبادت کرو اور اسی سے ڈرو۔
یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جان لو۔
اس سے واضح ہوجاتاہے کہ ”ان تصوموا خیر لکم“ سب روزہ داروں کے لئے خطاب ہے نہ کہ کسی خاص طبقے کے لئے ۔
زیر نظر آخری آیت روزے کے زمانے، اس کے کچھ احکام اور فلسفے کو بیان کرتی ہے۔ فرمایا: وہ چند گنے چنے دن جن میں روزہ رکھنا ہے ماہ رمضان کے ہیں (شہر رمضان) وہی مہینہ جس میں قرآن نازل ہواہے (الذی انزل فیہ القرآن)۔
وہی قرآن جو لوگوں کی ہدایت کا سبب ہے جو ہدایت کی نشانیاں اور واضح دلیلیں لئے ہوئے ہے اور جو حق و باطل کے امتیاز اور ان کے ایک دوسرے سے الگ ہونے کا معیار رکھتاہے( هدی للناس و بینات من الهدی و الفرقان ) ۔
اس کے بعد مسافروں اور بیماروں کے بارے میں روزے کے حکم کو دوبارہ تاکیدا بیان کیاگیاہے: جو لوگ ماہ رمضان میں حاضر ہوں انہیں تو روزہ رکھنا ہوگا مگر جو مسافر یا بیمار ہوں وہ اس کے بدلے بعد کے دنوں میں روزہ رکھیں( فمن شهد منکم الشهر فلیصمه و من کان مریضا او علی سفر فعدة من ایام اخر ) ۔(۴)
مسافر اور بیمار کے حکم کا تکرار اس سے پہلی اور اس آیت میں ممکن ہے اس وجہ سے ہو کہ بعض لوگوں کا گمان ہے کہ مطلقا روزہ نہ رکھنا کوئی اچھا کام نہیں اور ان کا اصرار ہے کہ بیماری اور سفر میں بھی روزہ رکھاجائے لہذا قرآن اس حکم کے تکرار سے لوگوں کہ یہ سمجھانا چاہتاہے کہ جیسے صحیح و سالم افراد کے لئے روزہ رکھنا ایک فریضہ الہی ہے ایسے ہے بیماروں اور مسافروں کے لئے افطار کرنا بھی فرمان الہی ہے جس کی مخالفت گناہ ہے۔
آیت کے آخر میں دوبارہ روزے کی تشریح اور فلسفے کا بیان ہے۔ فرمایا: خدا تمہارے لئے راحت و آرا م اور آسانی چاہتا ہے وہ تمہارے لئے زحمت و تکلیف اور تنگی نہیں چاہتا:( یرید الله بکم الیسر و لا یرید بکم العسر ) یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ روزہ رکھنا اگرچہ ظاہرا سختی و پابندی ہے لیکن انجام کار انسان کے لئے راحت و آسائش اور آرام کا باعث ہے۔
ممکن ہے یہ جملہ اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہو کہ احکام الہی ستمگر اور ظالم حاکموں کے سے نہیں جنہیں بلا مشروط بجالانے کے لئے کہاجاتاہے لیکن جہاں انسان کے لئے کوئی حکم بجالانا سخت مشقت کا باعث ہو وہاں حکم الہی کے تحت انسانی ذمہ داری کو سہل تر کردیاجاتاہے اسی لئے روزے کا حکم اپنی پوری اہمیت کے با وجود بیماروں اور مسافروں کے لئے اٹھادیا گیاہے۔
مزید ارشاد ہوتاہے: غرض اور مقصد یہ ہے کہ تم ان روزوں کی تعداد کو مکمل کرو( و لتکملو العدة ) یعنی ہر صحیح و سالم انسان پر لازم ہے کہ وہ سال میں ایک ماہ کے روزے رکھے کیونکہ روزہ اس کے جسم و روح کی پرورش کے لئے ضروری ہے۔ اسی بناء پر ماہ رمضان میں اگر تم بیمار تھے یا سفر میں تھے تو ضروری ہے کہ اتنے ہی دنوں کی بعد میں قضا کرو تا کہ وہ تعداد مکمل ہوجائے یہاں تک کہ عورتوں پرایام حیض کی نماز کی قضا تو معاف ہے لیکن روزے کی قضا معاف نہیں ہے۔
آخری جملے میں ارشاد ہوتاہے: تا کہ اس بناء پر کہ خدانے تمہاری ہدایت کی ہے تم اس کی بزرگی بیان کرو اورشاید اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو( و التکبر و الله علی ما هدکم و لعلکم تشکرون ) ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ خدا کی بزرگی بیان کرنے کے مسئلے کا ذکر بطور قاطع ہے( لتکبروا الله علی ما هدکم ) جب کہ شکرگذاری کے لئے لعل (شاید) کہا گیاہے۔
تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے اس لیے ہو کہ اس عبادت کی انجام دہی بہرحال مقام پروردگار کی تعظیم ہے لیکن شکر کا مفہوم ہے نعمات الہی کو ان کی جگہ پر صرف کرنا اور روزے کے عملی آثار اور فلسفوں سے فائدہ حاصل کرنا۔ اس کی کئی ایک شرایط ہیں جب تک وہ پوری نہ ہوں شکر انجام نہیں پاتا اور ان میں سے زیادہ اہم حقیقت روزہ کی پہچان ، اس کے فلسفوں سے آگاہی اور خلوص کامل ہے۔
____________________
۱ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۲ ”یطیقونہ“ کا مادہ ہے”طوق“ جس کا اصلی معنی ہے وہ حلقہ جو گلے میں ڈالتے ہیں یا جو طبعی طور پر گردن میں ہوتاہے (جیسے رنگدار حلقہ جو بعض پرندوں کے گلے میں ہوتاہے) بعد ازاں یہ لفظ انتہائی توانائی اور قوت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ یطیقونہ کی آخری ضمیر روزے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس طرح اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ جنہیں روزے کے لئے انتہائی قوت اور توانائی خرچ کرنا پڑے اور روزہ رکھنے میں انہیں سخت زحمت اٹھانا پڑے جیسا کہ بڑے بوڑھے اور نا قابل علاج بیمار ہیں ، روزہ ان کے لئے معاف ہے اور وہ اس کی جگہ صرف فدیہ ادا کریں ۔لیکن بیمار اگر تندرست ہوجائیں تو ان کی ذمہ داری ہے کہ قضا روزہ رکھیں ۔
بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یطیقونہ کا معنی ہے کہ جو گذشتہ زمانے میں قوت و توانائی رکھتے تھے (کا نوا یطیقونه ) اور اب طاقت نہیں رکھتے (بعض روایات میں بھی یہ معنی کیاگیاہے)۔بہر حال مندرجہ بالا حکم منسوخ نہیں ہو اور آج بھی پوری طاقت سے باقی ہے اور یہ جو بعض کہتے ہیں کہ پہلے روزہ واجب تخییری تھا اور لوگوں کو اختیار دیا گیاتھا کہ وہ روزہ رکھیں یا فدیہ اور کریں ، آیت میں موجود قرائن اس کی تائید نہیں کرتے اور اس پر کوئی واضح دلیل بھی موجود نہیں ہے۔
۳- ”من تطوع خیرا“ کہ بعض نے مستحبی روزوں کی طرف اشارہ قرار دیا ہے۔ بعض دوسرے کہتے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ روزے کی اہمیت اور فلسفے کی طرف توجہ رکھتے ہوئے چاہئیے کہ رغبت کے ساتھ روزہ رکھاجائے نہ کہ اکراہ و جبر سے روزہ رکھاجائے۔
۴- بعض نے ”فمن شہد منکم الشہر“ کی رویت ہلال کے ساتھ تفسیر کی ہے یعنی جو چاند دیکھے اس پر روزہ واجب ہے لیکن یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے حق وہی ہے جو مندرجہ بالا سطور میں کہاگیاہے اور جو قبل و بعد کے جملوں سے بھی ہم آہنگ ہے اور روایات اسلامی کے بھی مطابق ہے
روزے کے تربیتی و اجتماعی اثرات:
روزے کے کئی جہات سے گوناگون مادی اور روحانی آثار ہیں ۔
جو اس کے ذریعے وجود انسانی میں پیدا ہوتے ہیں ۔ ان میں سے سب سے اہم اس کا اخلاقی پہلو اور تربیتی فلسفہ ہے۔
روح انسانی کو لطیف تر بنانا ارادہ انسانی کو قوی کرنا اور مزاج انسانی میں اعتدال پیدا کرنا روزے کے اہم فوائد ہیں سے ہے۔
رازے دار کے لئے ضروری ہے کہ حالت روزہ میں آب و غذا کی دستیابی کے باوجود اس کے قریب نہ جائے اور اسی طرح جنسی لذات سے چشم پوشی کرے اور عملی طور پر ثابت کرے کہ وہ جانوروں کی طرح کسی چراگاہ اور گھاس پھوس کی قید میں نہیں ہے۔
روح انسانی کو لطیف تر بنانا ارادہ انسانی کو قوی کرنا اور مزاج انسانی میں اعتدال پیدا کرنا روزے کہ اہم فوائد ہیں سے ہے۔
روزے دار کے لئے ضروری ہے کہ حالت روزہ میں اب و غذا لی دستیابی کے باوجود اس کے قریب نہ جائے اور اسی طرح جنسی لذات سے چشم پوشی کرے اور عملی پر ثابت کرے کہ وہ جانوروں کی طرح کسی چراگاہ اور گھاس پھوس کی قید میں نہیں ہے۔
سرکش نفس کی لگام اس کے قبضے میں ہے اور ہوا و ہوس اور شہوات و خواہشات اس کے کنڑول میں ہیں ۔
حقیقت میں روزے کا سب سے بڑا فلسفہ یہی روحانی اور معنوی اثر ہے۔ وہ انسان کہ جس کے قبضے میں طرح طرح کی غذائیں اور مشروبات ہیں ۔ جب اسے بھوک یا پیاس لگتی ہے وہ ان کے پیچھے جاتاہے۔ وہ درخت جو باغ کی دیوار کی پناہ میں نہر کے کنارے اگے ہوتے ہیں ناز پروردہ ہوتے ہیں ۔ یہ حوادث کا مقابلہ بہت کم کرسکتے ہیں ۔ ان میں باقی رہنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ اگر انہیں چند دن پانی نہ ملے تو پژمردہ ہوکر خشک ہوجائیں جب کہ وہ درخت جو پتھروں کے در میان پہاڑوں اور بیابانوں میں اگتے ہیں ۔ ان کی شاخیں شروع سے سخت طوفانوں ، تمازت آفتاب اور کڑاکے کی سردی کا مقابلہ کرنے کی عادی ہوتی ہیں اور طرح طرح کی محرومیت سے دست و گریباں رہتی ہیں ۔ ایسے درخت ہمیشہ مضبوط ، سخت کوش اور سخت جان ہوتے ہیں ۔
روزہ بھی انسان کی روح اور جان کے ساتھ یہی عمل کرتاہے۔ یہ وقتی پابندیوں کے ذریعے انسان میں قوت مدافعت اور قوت ارادی پیدا کرتاہے اور اسے سخت حوادث کے مقابلے کی طاقت بخشتاہے۔ چونکہ روزہ سرکش طبائع و جذبات پر کنڑول کرتاہے لہذا اس کے ذریعے انسان کے دل پر نور ضباء کی بارش ہوتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ روزہ انسان کو عالم حیوانیت سے بلند کرکے فرشتوں کی صف میں لے جا کھڑا کرتاہے۔ لعلکم تتقون (ہوسکتا ہے تم پرہیزگار بن جاؤ) ان تمام مطالب کی طرف اشارہ ہے۔
مشہور حدیث ہے:الصوم جنة من النار
روزہ جہنم آگ سے بچانے کے لئے ڈھال ہے۔ ۱
ایک اور حدیث حضرت علی سے مردی ہے کہ پیغمبر اسلام سے پوچھا گیا کہ ہم کون سا کام کریں جس کی وجہ سے شیطان ہم سے دور رہے ۔ آپ نے فرمایا:الصوم یود وجهه و الصدقه تکسر ظهره و الحب فی الله و المواظبة علی العمل الصالح یقطع دابره و الاستغفار یقطع و تینه
روزہ شیطان کا منہ کالا کردیتاہے۔ راہ خدا میں خرچ کرنے سے اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے۔ خدا کے لئے محبت اور دوستی نیز عمل صالح کی پابندی سے اس کی دم کٹ جاتی ہے اور استغفار سے اس کی رگ دل قطع ہوجاتی ہے۔(۱)
نہج البلاغہ میں عبادات کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے حضرت امیر المؤمنین روزے کے بارے میں فرماتے ہیں :
و الصیام ابتلاء لا خلاص الخلق
اللہ تعالی نے روزے کو شریعت میں اس لئے شامل کیاتا کہ لوگوں میں روح اخلاص کی پرورش ہو۔(۲)
پیغمبر اکرم سے ایک اور حدیث مردی ہے ۔ آپ نے فرمایا:ان للجنة بابا یدعی الریان لا یدخل منها الا الصائمون
بہشت کا ایک دروازہ ہے جس کا نام ہے ریان (یعنی۔ سیراب کرنے والا) اس میں سے صرف روزہ دار ہی داخل جنت ہوں گے۔
حضرت صدوق مرحوم نے معافی الاخبار میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھاہے کہ بہشت میں داخل ہونے کے لئے اس دروازے کا انتخاب اس بناء پرہے کہ روزہ دار کو چونکہ زیادہ تکلیف پیاس کی وجہ سے ہوتی ہے جب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوگا تو وہ ایسا سیراب ہوگا کہ اسے پھر کبھی بھی تشنگی کا احساس نہ ہوگا۔(۳)
(!!) روزے کے معاشرتی اثرات:
باقی رہا روزے کا اجتماعی اور معاشرتی اثر تو وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ روزہ انسانی معاشرے کے لئے ایک درس مساوات
ہے۔ کیونکہ اس مذہبی فریضے کی انجام دہی سے صاحب ثروت لوگ بھوکوں اور معاشرے کی محروم افراد کی کیفیت کا احساس کرسکیں گے اور دوسری طرف شب و روز کی غذا میں بحث کرکے ان کی مدد کے لئے جلدی کریں گے ۔
البتہ ممکن ہے بھوکے اور محروم لوگوں کی توصیف کرکے خداوند عالم صاحب قدرت لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہو اور اگر یہ معاملہ حسی اور عینی پہلو اختیار کرلے تو اس کا دوسرا اثر ہو۔ روزہ اس اہم اجتماعی موضوع کو حسی رنگ دیتاہے۔ ایک مشہور حدیث میں امام صادق سے منقول ہے کہ ہشام بن حکم نے روزے کی علت اور سبب کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا:
انما فرض الله الصیام یستوی به الغنی و الفقیر ذلک ان الغنی لم یکن لیجد مس الجوع فریحم الفقیر و ان الغنی کلما اراد شیئا قدر علیه فاراد الله تعالی ان یسوی بین خلقه و ان یذیق الغنی مس الجوع و الالم لیرق علی الضعیف و یرحم الجائع ۔
روزہ اس لئے واجب ہواہے کہ فقیر اور غنی کے در میان مساوات قائم ہوجائے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ غنی بھی بھوک کا مزہ چکھ لے اور فقیر کا حق ادا کرے کیونکہ مالدار عموما جو کچھ چاہتے ہیں ان کے لئے فراہم ہوتاہے۔ خدا چاہتاہے کہ اس کے بندوں کے در میان مساوات ہو اور مالداروں کو بھی بھوک او درد ورنج کا ذائقہ چکھائے تاکہ وہ کمزور اور بھوکے افراد پر رحم کریں ۔(۴)
(!!!) روزے کے طبی اثرات:
طب کی جدید اور قدیم تحقیقات کی روشنی میں امساک دکھانے پینے سے پرہیز ) بہت سی بیماریوں کے علاج کے لئے معجزانہ اثر رکھتاہے جو قابل انکار نہیں ۔ شاید ہی کوئی حکیم ہو جس نے اپنی مشروح تالیفات اور تصنیفات میں اس حقیقت کی طرف اشارہ نہ کیا ہو کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بہت سی بیماریاں زیادہ کھانے سے پیدا ہوتی ہیں ۔
چونکہ مواد اضافی بدن میں جذب نہیں ہوتا جس سے مزاحم اور مجتمع چربیاں پیدا ہوتی ہیں یا یہ چربی اور خون میں اضافی شو گرکا باعث بنتی ہے۔ عضلات کا یہ اضافی مواد در حقیقت بدن میں ایک متعفن بیماری کے جراثیم کی پرورش کے لئے گندگی کا ڈھیر بن جاتاہے۔
ایسے میں ان بیماریوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین حل یہ ہے کہ گندگی کے ان ڈھیروں کو امساک اور روزے کے ذریعے ختم کیاجائے۔ روزہ ان اضافی غلاظتوں اور بدن میں جذب نہ ہونے والے مواد کو جلادیتاہے۔ در حقیقت روزہ بدن کو صفائی شدہ مکان بنادیتاہے۔
علاوہ ازیں روزے سے معدے کو ایک نمایاں آرام ملتاہے اور اس سے ہا ضمے کی مشینری کی سروس ہوجاتی ہے ۔ چونکہ یہ بدن انسانی کی حساس ترین مشینری ہے جو سارا سال کام کرتی رہتی ہے۔ لہذا اس کے لئے ایسا آرام بہت ضروری ہے۔
یہ واضح ہے کہ حکم اسلامی کی روسے روزہ دار کو اجازت نہیں کہ وہ سحری اور افطاری کی غذا میں افراط اور زیادتی سے کام لے ۔ یہ اس لئے ہے تاکہ اس حفظان صحت اور علاج سے مکمل نتیجہ حاصل کیاجاسکے ورنہ ممکن ہے کہ مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ کیا جاسکے۔
ایک روسی دانشور الکسی سوفرین لکھتاہے:
روزہ ان بیماریوں کے علاج کے لئے خاص طور پر مفید ہے:
خون کی کمی، انتڑیوں کی کمزوری، التہاب زائدہ(۵)
( appendicitis ) خارجی و داخلی قدیم پھوڑے ، تپ دق ( t.b )، اسکلیر وز، نقرس ۲ ، استسقار، ۳ جوڑوں کا درد ۴ ، نورا ستنی، عرق النسار ۵ ، خراز (جلد کا گرنا) امراض چشم، شوگر، امراض جلد، امراض گروہ، امراض جگر اور دیگر بیماریاں ۔
امساک اور روزے کے ذریعے علاج صرف مندرجہ بالا بیماریوں سے مخصوص نہیں بلکہ وہ بیماریاں جو بدن انسانی کے اصول سے مربوط ہیں اور جسم کے خلیوں سے چمٹی ہوئی ہیں مثلا سرطان، سفلین اور طاعون کے لئے بھی یہ شفا بخش ہے۔
ایک مشہور حدیث پیغمبر اکرم سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا:
صوموا تصحوا (روزہ رکھو تا کہ صحت مند رہو
پیغمبر اکرم سے ایک اور حدیث مردی ہے جس میں آپ نے فرمایا:
المعدة بیت کل داء و الحمیة راس کل دوائ
معدہ ہر بیماری کا گھر ہے اور امساک وفاقہ اعلی ترین دوا ہے۔
____________________
۱ بحار الانوار، ج۹۶، ص۲۵۶
۲ نہج البلاغہ، کلمات قصار، نمبر ۲۵۲
۳ بحار الانوار، ج۹۶، ص۲۵۲
۴- وسائل الشیعہ، ج۷، باب اول، کتاب سوم، ص۳
۵- ایک مرض جس میں اندھی آنت سوج جاتی ہے اور اس میں سوزش ہوتی ہے۔ (مترجم)
روزہ گذشتہ امتوں میں :
موجود تورات اور انجیل سے بھی معلوم ہوتاہے کہ روزہ یہود و نصاری میں بھی تھا جیسا کہ ”قاموس کتاب مقدس“ میں ہے:
روزہ کلیتہ تمام اوقات اور تمام زمانوں میں ہر گروہ، امت اور مذہب میں اندوہ و غم اور اچانک مصیبت کے موقع پر معمول تھا۔(۱)
تورات سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسی نے چالیس دن تک روزہ رکھا۔ جیسا کہ لکھاہے:
جب میں پہاڑ پر گیا تا کہ پتھر کی تختیاں یعنی وہ عہد والی تختیاں جو خدا نے تمہارے ساتھ منسلک کر دی ہیں حاصل کروں اس وقت میں پہاڑ میں چالیس راتیں رہا۔ وہاں میں نے نہ روٹی کھائی نہ پانی پیا۔(۲)
یہودی جب تو بہ کرتے اور رضائے الہی طلب کرتے تو روزہ رکھتے تھے:
اکثر اوقات یہودی جب موقع پاتے کہ خدا کی بارگاہ میں عجز و انکساری اور تواضع کا اظہار کریں تو روزہ رکھتے تاکہ اپنے گناہوں کا اعتراف کرکے روزہ اور توبہ کے ذریعے حضرت اقدس الہی کی رضا و خوشنودی حاصل کریں ۔(۳)
احتمال ہے کہ روزہ ”اعظم با کفارہ“ سال میں مخصوص ایک دن کے لئے ہو جس کا یہودیوں میں رواج تھا۔ البتہ وہ دوسرے موقتی روزے بھی تھے مثلا اور تسلیم کی بربادی کے وقت رکھا گیا روزہ و غیرہ۔(۴)
جیسا کہ انجیل سے ظاہر ہوتاہے حضرت عیسی نے بھی چالیس دن روزے رکھے:
اس وقت عیسی قوت رو ح کے ساتھ بیابان میں لے جائے گئے تاکہ ابلیس انہیں آزمالے پس انہوں نے چالیس شب و روز روزہ رکھا اور وہ بھوکے رہے۔(۵)
انجیل سےیہ بھی معلوم ہوتاہے کہ حضرت عیسی کے بعد حواریینروزہ رکھتے تھے جیسا کہ انجیل میں ہے:
انہوں نے اس سے کہا کہ کیا بات ہے کہ یحیی کے شاگرد ہمیشہ روزہ رکھتے ہیں اور دعاء کرتے رہتے ہیں جب کہ تہارے شاگرد ہمیشہ کھاتے پیتے رہتے ہیں لیکن ایک زمانہ آئے گا جب داماد ان میں سے اٹھا لیا جائے گا اور وہ اس وقت روزہ رکھیں گے۔(۶)
کتاب مقدس میں یہ بھی ہے:
اس بناء پر حواریین اور گذشتہ زمانے کے مومنین کی زندگی انکار لذات ، بے شمار زحمات اور روزہ داری سے بھری پڑی تھی۔(۷)
____________________
۱- قاموس کتاب مقدس، ص۴۲۷
۲- تورات، سفر تشینہ، فصل ۹، شمارہ ۹
۳- قاموس کتاب مقدس ص۴۲۸
۴- قاموس کتاب مقدس ، ص۴۲۸
۵- انجیل متی، باب ۴، شمارہ ۱و۲
۶- انجیل لوقا، باب ۵، شمارہ ۳۳۔۳۵
۷- قاموس کتاب مقدس ص ۴۲۸
رمضان مبارک کی خصوصیت اور امتیاز:
کیا سبب ہے کہ ماہ رمضان روزے رکھنے کے لئے منتخب کیا گیاہے بلکہ اسی بناء پر اسے دوسرے مہینوں پر برتری حاصل ہے۔ زیر نظر آیت میں اس کی برتری کی وجہ بیان کی گئی ہے
وہ یہ کہ قرآن جو ہدایت اور انسانی رہبری کی کتاب ہے جس نے اپنے احکام اور قوانین کی صحیح روش کو غیر صحیح راستے سے جدا کردیاہے اور جو انسانی سعادت کا دستور لے کرآئی ہے اسی مہینے میں نازل ہوئی ہے۔
اسلامی روایات میں ہے کہ تمام عظیم آسمانی کتب تورات ، انجیل ، زبور، صحیفے اور قرآن، اسی مہینے میں نازل ہوئیں ۔
امام صادق فرماتے ہیں :
تورات چھ رمضان، انجیل بارہ رمضان، زبور اٹھار، رمضان اور قرآن شب قدر میں نازل ہواہے۔(۱)
اس طرح ماہ رمضان عظیم آسمانی کتب کے نزول اور تعلیم و تدریس کا مہینہ ہے کیونکہ صحیح تربیت تعلیم اور کچھ سیکھے بغیر ممکن نہیں ہے۔
روزے کا تربیتی پروگرام زیادہ سے زیادہ اور گہری آگاہی کے ساتھ آسمانی تعلیمات سے ہم آہنگ ہونا چاہئیے تاکہ اس سے انسانی روح و بدن کی آلودگی گناہ دھل جائے۔
ماہ شعبان کے ایک آخری جمعہ کو پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو اس ماہ کے استقبال کے لئے آمادہ کرنے کی خاطر خطبہ دیا۔ اور اس کی اہمیت اس طرح ان کے گوش گزار کی:
اے لوگو! خدا کی برکت، بخشش اور رحمت کا مہینہ تمہاری جانب آرہاہے۔ یہ مہینہ تمام مہینوں سے بہتر ہے۔ اس کے دن دوسرے مہینوں کے دنوں سے اور اس کی راتیں دوسرے مہینوں کی راتوں سے بہتر ہیں ۔ اس ماہ کے لحظے اور گھڑیاں دوسرے مہینوں کے لحظوں اور گھڑیوں سے برتر ہیں ۔
یہ ایسا مہینہ ہے جس میں تمہیں خدا نے مہمان بننے کی دعوت دی ہے اور تمہیں ان لوگوں میں سے قرار دیا گیاہے جو خدا کے اکرام و احترام کے زیر نظر ہیں ۔ لہذا خالص نیتوں اور پاک دلوں کے ساتھ خدا سے دعاء کرو تاکہ وہ تمہیں روزہ رکھنے اور تلاوت قرآن کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ بدبخت ہے وہ شخص جو اس مہینے میں خدا کی بخشش سے محروم رہ جائے۔ اس ماہ میں اپنی بھوک اور پیاس کے ذریعے قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو۔ اپنے فقراء اور مساکین پر احسان کرو۔ اپنے بڑے بوڑھوں کا احترام کرو اور چھوٹوں پر مہربانی کرو۔ رشتہ داری کے ناتوں کو جوڑدو۔ اپنی زبانیں گناہ سے روکے رکھو۔ اپنی آنکھیں ان چیزوں کو دیکھنے سے بند رکھو جن کا دیکھنا حلال نہیں ۔ اپنے کانوں کو ان چیزوں کے سننے سے روکے رکھو جن کا سننا حرام ہے اور لوگوں کے یتیموں پر شفقت و مہربانی کرو تا کہ وہ بھی تمہارے یتیموں سے یہی سلوک کریں ۔(۲)
____________________
۱ وسائل الشیعہ، ج۷، ابواب احکام شہر رمضان باب ۱۸، حدیث ۱۶
۲- یہ وسائل الشیعہ جلد ۷ ابواب احکام شہر رمضان کے باب ۱۸ کی بیسویں حدیث ہے اس کا عربی متن یہ ہے:
فقال ایها الناس انه قد اقبل الیکم شهر الله بالبرکة و الرحمة و المغفرة شهر هو عند الله افضل الشهور ، و ایامه افضل الایام و لیالیه افضل اللیالی، و ساعاته افضل الساعات، هو شهر دعیتم فیه الی ضیافة الله، و جعلتم فی من اهل کرامة الله، انفاسکم فیه تسبیح ، و نومکم فیه عبادة، و عملکم فیه مقبول، و دعائکم فیه مستجاب ، فاسئلوا الله ربکم بنیات صادقة و قلوب طاهرة: ان یوفقکم لصیامه و تلاوة کتابه، فان الشقی من حرم غفر ان الله فی هذا الشهر العظیم، و اذکر و ابجوعکم و عطشکم فیه جوع القیمة و عطشه و تصدقوا علی فقرائکم و مساکینکم، و وقروا کبارکم و راحموا اصفارکم، و صلوا ارحامکم، و احفظوا السنتکم، و غضوا عما لا یحل النظر الیه ابصارکم، و عما لا یحل الاستماع الیه اسماعکم و تحفظوا علی ایتام الناس یتحنن علی ایتامکم ۔
دعا او ر تضرع و زاری
خدا کے ساتھ بندوں کے ارتباط کا ایک وسیلہ دعا اور تضرع و زاری ہے لہذا گذشتہ آیات میں چند اہم اسلامی احکام بیان کر نے کے بعد زیر بحث آ یت میں اس کے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ دعا خدا سے مناجات کر نے وا لے سب لوگوں کے لئے اپنے اندر ایک عمومی پردگرام لئے ہو ئے ہے لیکن روزے سے آیات کے در میان اس کا ذکر اسے ایک نیا مفہوم عطا کر تا ہے۔
روزہ داروں کی ذمہ داریاں بیان کر نے سے قبل اس آیت کے ذریعے قرآ ن روزے کے ایک اور راز کی طرف اشارہ کرتا ہے جو و ہی قرب الہی ہے اور اس سے راز و نیاز کرناہے ۔
اس آیت کار و ئے سخن پیغمبر کی طرف ہے فرمایا: جس وقت میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو کہد و کہ میں نزدیک ہوں( وَإِذَا سَاٴَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیب ) ۔
اس سے زیادہ قریب کہ جس کا تم تصور کر سکتے ہو، تم سے تمہاری نسبت بھی زیاد ہ نزدیک اور تمہاری رگ حیات سے بھی زیادہ قریب( وَنَحْنُ اٴَقْرَبُ إِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِید ) (ِ اور ہم انسان سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں ۔ (قٓ۔ ۱۶) اس کے بعد مزید فرمایا: جب دعا کر نے والا مجھے پکار تا ہے تو میں اس کا جوا ب دیتا ہوں( اجیب دعوة الداع اذا دعان ) ۔ اس لئے میرے بندوں کو چاہیئے کہ وہ میری دعوت قبول کریں( فلیستجیبوالی ) اور مجھ پر ایمان لے آئیں( وَلْیُؤْمِنُوا بِی ) ۔ ہو سکتا ہے وہ اپنی راہ پالیں اور مقصد تک جا پہنچیں( لعلهم یرشدون ) ۔یہ امر قابل توجہ ہے کہ خدا نے اس مختصر سی آیت میں سات مرتبہ ذات پاک کی طرف اور سات، ہی مرتبہ بندوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس طرح اللہ نے بندوں سے اپنی انتہائی وابستگی، قربت، ارتباط اور ان سے اپنی محبت کی عکاسی کی ہے عبداللہ بن سنان کہتا ہے میں نے امام صادق (ع )سے سنا آپ نے فرمایا:
دعا کیا کرو کیو نکہ دہ خدا کی بخشش کی چابی ہے ۔ اور ہر حاجت تک پہنچنے کے لیے وسیلہ کی قوت ہے سب نعمتیں اور رحمتیں پروردگار کے پاس ہیں جن تک دعا کے بغیر نہیں پہنچا جا سکتا۔ کسی در وازے کو کھٹکھٹا تے ہو تو بالآخرہ کھل جا ئے گا۔(۱)
جی ہاں ۔۔۔۔وہ ہم سے نزدیک ہے ۔ کیسے ممکن ہے کہ وہ ہم سے دور ہو حالا نکہ اس کا مقام ہمارے اور ہمارے دل کے در میان ہے۔
( و اعملوا ان الله یحول بین المرء و قلبه )
او ر جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے در میان حائل ہوتا ہے۔ (انفال۔ ۲۴)
____________________
۱ اصول کافی ، ج۲، ۴۶۸
دعا اور زاری کا فلسفہ:
جولوگ دعا کی حقیقت، اس کی روح، اس کے تربیتی و نفسیاتی اثرات کو نہیں سمجھتے وہ اس پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں ۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ یہ اعصاب کو کمزور اور بے حس کردیتی ہے کیونکہ ان کی نظر میں دعا لوگوں کو فعالیت، کوشش، پیش رفت او رکامیابی کے وسائل کے بجا ئے اسی راہ پرلگا دیتی ہے اور انہیں سبق دیتی ہے کہ کوششوں کے بدلے اسی پر اکتفا کرو۔
معترضین کبھی کہتے ہیں کہ دعا اصولی طور پر خدا کی معاملات میں بے کار دخل اندازی ہے۔ خدا جیسی مصلحت دیکھے گا اسے انجام د ے گا ۔ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے مصالح کو جانتا ہے پھر کیوں ہر وقت ہم اپنی مرضی اور پسندکے مطابق اس سے سوال کرتے رہےں ۔
کبھی کہتے ہیں کہ ان تمام امور کے علاوہ دعا، ارادہ الہی پر راضی رہنے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے منافی ہے۔ جولوگ ایسے سوالات کرتے ہیں وہ دعا اور تضرع و زاری کے نفسیاتی، اجتماعی، تربیتی او ر معنوی و روحانی آثار سے غافل ہیں ۔ انسان ارادے کی تقویت اور د کھ در د کے دور ہونے کے لئے کسی سہارے کا محتاج ہے اور دعا انسان کے دل میں چراغ وامید روشن کردیتی ہے۔ جولوگ دعا کو فراموش کئے ہوئے ہیں وہ نفسیاتی اور اجتماعی طور پر ناپسندیدہ عکس العمل سے دوچا رہوتے ہیں ۔
ایک مشہور ما ہر نفسیات کا قول ہے کہ کسی قوم میں دعا و زاری کا فقدان ا س ملت کے تباہی کے برابر ہے۔
وہ قوم جو احتیاج دعا کا گلا گھونٹ دے وہ عموما فساد اور زوال سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔
البتہ یہ بات بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ صبح کے وقت دعا و زاری کرنا اور باقی ساردان ایک وحشی جانور کی طرح گزارنا بے ہودہ او رفضول ہے ۔ دعا کو مسلسل جاری رہنا چا ہیئے ۔ تا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ انسان اس کے گہر ے اثر سے ہاتھ دھو میٹھے۔(۱)
جولو گ سمجھتے ہیں کہ دعا کاہلی و سستی کا سبب بنتی ہے وہ دعا کا معنی ہی نہیں سمجھے کیو نکہ دعا کا یہ مطلب نہیں کہ طبیعی وسائل و اسباب سے ہاتھ کھیچ لیا جائے اور ان کے بجا ئے بس دست دعا، بلند رکھا جائے بلکہ مقصو دیہ ہے کہ تمام موجود وسائل کے ذریعہ اپنی پوری کوشش بروئے کار لائی جائے اور جب معاملہ انسان کے بس میں نہ رہے اور وہ مقصدتک نہ بہنچ پا رہا ہو تو دعا کا سہارالے توجہ کے ساتھ خدا پر بھر وسہ کرتے ہوئے اپنے اندر امید اور حرکت کی روح کو بیدار کرے اور اس مبداء عظمی کی بے پناہ نصر توں میں سے اپنے لئے مدد حاصل کرے ۔ لہذا دعا مقصد تک نہ پہنچ پانے اور رکا وٹوں کی صورت میں ہے نہ کہ یہ طبیعی عوامل کے مقابلے میں کوئی عامل ہے۔ مذکور ہ ما ہرنفسیات، مزید لکھتاہے :
اس کے علاوہ کہ دعا اطمینان پیدا کرتی ہے یہ انسان کی فکر میں ایک طرح کی شگفتگی پیدا کرتی ہے اور باطنی انبساط کا باعث بنتی ہے۔ بعض اوقات یہ انسان کے لئے بہادری اور دلاوری کی روح بیداری کے لئے تحریک کا کام بھی دیتی ہے دعا کے ذریعے انسان پر بہت سے علامات ظاہر ہوتے ہیں ۔ نگاہ کی پاکیزگی،کردار کی متانت ، باطنی انبساط و مسرت ، پر اعتماد چہرہ ، استعداد ہدایت اور استقبال حوادث سب دعا کے مظاہر ہیں ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو دعا کرنے والے کی روح کی گہرائی اور اس کے جسم میں چھپے ہو ئے ایک خزائے کی ہمیں خبر دیتی ہیں ۔ دعا کی قدرت سے پسماندہ اور کم استعداد لوگ بھی اپنی عقلی اور اخلاقی قوت کو بہتر طریقے سے کا رآمد بنا لیتے ہیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ تاہے کہ ہماری دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو دعا کے حقیقی رخ کو پہچان سکیں ۔(۲)
جو کچھ ہم نے بیان کیاہے اس سے اعتراض کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ دعا تسلیم و رضا کے منانی ہے کیونکہ جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں ہم تشریح کرچکے ہیں دعا پروردگار کے فیض بے پایاں سے زیادہ سے زیادہ کسب کمال کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان دعا کے ذریعے پروردگار کی زیادہ سے زیادہ توجہ اور فیض کے حصول کی اہلیت پیدا کرلیتا ہے اور واضح ہے کہ تکامل کی کوشش اور زیادہ سے زیادہ کسب کمال کی سعی قوانین آفرینش کے سامنے تسلیم و رضا ہے نہ کہ اس کے منافی۔
علاوہ از ین دعا ایک طرح کی عبادت، خضوع اور بندگی ہے ۔ انسان دعا کے ذریعہ ذات الہی کے ساتھ ایک وابستگی پیدا کر لیتا ہے اور جیسے تمام عبادات تربیتی اثر رکھتی ہیں دعا بھی ایسے اثر کی حامل ہوتی ہے۔ چاہے قبولیت تک پہنچے یا نہ پہنچے۔
جولوگ یہ کہتے ہیں کہ دعا امور الہی میں مداخلت ہے اور جو کچھ مصلحت کے مطابق ہو خدا د یتا ہے وہ اس طرف متوجہ نہیں کہ عطیات خداوندی استعداد اور لیاقت کے مطابق تقسیم ہو تے ہیں ، جتنی استعداد و لیاقت زیادہ ہو گی انسان کوعطیات بھی اسی قدر نصیب ہو نگے۔ امام صادق فرماتے ہیں :
ان عند الله عزوجل منزلة لا تنال الا بمسالة )(۳)
خدا کے ہاں ایسے مقامات و منازل ہیں جومانگے بغیر نہیں مل سکتے ۔
ایک صاحب علم ،کا قول ہے :
جب ہم دعا کر تے ہیں تو ہم اپنے آپ کو ایک ایسی لا متناہی قوت سے متصل و مربوط کر لیتے ہیں جس نے ساری کا ئنات کی اشیاء کو ایک دو سر ے سے پیوست کر رکھا ہے۔(۴)
اسی صاحب علم کا کہنا ہے:
ٓآج کا جدید ترین علم یعنی علم نفسیات ( psychology ) بھی یہی تعلیم دیتاہے جو انبیا دیا کر تے تھے چنانچہ نفسیات کے ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دعااور نماز اور دین پر محکم ایمان ۔۔۔۔اضطراب ، تشویش ہیجان اور خوف کو دور کردیتا ہے جوہمار ے دکھ درد کا آدھے سے زیادہ، حصہ ہے(۵)
____________________
۱ نیائش الکیس کارل
۲ نیائش الکیس کارل
۳- اصول کافی ، ج۲، ص۳۴۸
۴- آئین زندگی، ص۱۵۶
۵- آئین زندگی، ص۱۵۶
دعا کا حقیقی مفہوم:
ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ دعا کا مقام وہ ہے جہاں قدرت و طاقت جواب دے جائے نہ وہ کہ جہاں طاقت و توانائی کی رسائی ہو۔ دو سر ے لفظوں میں اجابت و قبولیت کے قابل وہ دعا ہے( اٴَمَّنْ یُجِیبُ الْمُضطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَیَکْشِفُ السُّوءَ ) (نمل۔ ۶۲) اس آیت کامفہوم یہ ہے: کون ہے جو کسی مصیبت زدہ اور بے قرار کی دعا سنتاہے اور اس کی فریاد رسی کرکے اسے مصیبت سے نجات دلاتاہے: مترجم)
کے مطابق اضطرار اور تمام کوششوں اور مساعی کے بے کار ہو جا نے پر ہو۔ اس سے واضح ہوا کہ دعا ان اسباب و عوامل کی فراہمی کے لئے کی جاقی ہے جو انسانی بساط سے با ہر ہوں اور ان کا تقاضا اس کی بارگاہ میں کیا جا تا ہے جس کی قدرت لا متناہی ہے اور جس کے لئے ہر فعل ممکن، آسان ہے۔ لیکن چاہیئے کہ یہ درخواست فقط انسان کی زبان سے نہ نکلے بلکہ اس کے تمام وجود سے نکلے اور زبان اس سلسلے میں تمام ذرات ہستی اور اعضا و جوارح کی نمائند گی کرے اور قلب و روح دعا کے ذریعے اس سے قریبی تعلقات پیدا کر لے ۔ اس قطر ے کی طرح جو بے کنار سمند رسے مل جاتا ہے قدرت اس عظیم مبدا کے ساتھ اتصال معنوی حاصل کرلے۔ ہم جلد ہی اس ارتباط اور تعلق کے روحانی اثرات پر بحث کریں گے۔
البتہ متوجہ رہنا چا ہیئے کہ دعا کی ایک قسم وہ بھی ہے جو قدرت و توانائی کے ہو تے ہوئے انجام پاتی ہے تا ہم وہ دعا بھی اسباب ممکنہ کی قائم مقام نہیں ہو سکتی اور وہ دعا وہ ہے جو اس بات کی نشاند ہی کرتی ہے کہ اس جہان کی تمام قدرتیں اور توانائیاں پرودگار عالم کی قدرت کے مقابلے میں استقلال نہیں رکھتیں دو سر ے لفظو ں میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس حقیقت کی طرف متوجہ رہا جائے کہ طبیعی عوامل اور اسباب کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اس ذات با برکت کی طرف سے ہے اور اس کے حکم و فرمان سے ہے۔ اگر کوئی دوا کے ذریعے شفاء کا خواہاں ہوتا ہے تو وہ بھی اس لئے کہ اس نے دوا کو یہ تاثیر بخشی ہے یہ یھی ایک قسم کی دعا ہے جس کی طرف احادیث اسلامی میں اشارہ ہوا ہے مختصر یہ کہ یہ دعا کی وہ قسم ہے جسے خودآگاہی او ر فکر و نظر اور ول و دماغ کی بیداری کہا جاسکتا ہے یہ اس ذات سے ایک باطنی رشتہ ہے جوتمام نیکیوں اور خو بیوں کا مبدا و مصد رہے۔ اسی لئے حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات میں ہے۔
لا یقبل الله عزوجل دعاء قلب لاه
خدا غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔(۱)
ایک اور حدیث میں امام صادق سے یہی مضمون مروی ہے:
ان الله عزوجل لا یستجیب دعا بظهر قلب ساه )(۲)
یہ خود دعا کے فلسفوں کی ایک اساس ہے جن کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔
____________________
۱- اصول کافی، ج۲، ص ۷۴۳
۲- اصول کافی، ج۲، ص ۷۴۳
دعا کی قبولیت کی شرائط:
دعا کی قبولیت کی شرائط کی طرف توجہ کرنے سے بھی بظاہر دعا کے پیچیدہ مسئلے کے سلسلے میں نئے حقائق آشکار ہوتے ہیں اور اس کے اصلاحی اثرات واضح ہوتے ہیں ۔ اس ضمن میں چند احادیث پیش خدمت ہیں :
۱: دعا کی قبولیت کے لئے ہر چیز سے پہلے دل اور روح کی پاکیزگی کی کوشش ، گناہ سے توبہ اور اصلاح نفس ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں خدا کے بھیجے ہوئے رہنما ؤں اور رہبر وں کی زندگی سے الہام و ہدایات حاصل کرنا چاہیں امام صادق سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا:
ایاکم ان یسئل احدکم ربه شیئا من حوائج الدنیا و الاخرة حتی یبدء بالثناء علی الله و المدحة و الصلوة علی النبی و اله ثم الاعتراف بالذنب ثم المسالة ۔
جب تم میں سے کوئی اپنے رب سے دنیا و آخرت کی کوئی حاجت طلب کرنا چاہے تو پہلے خدا کی حمد و ثنا اور مدح کرے ، پیغمبر اور ان کی آل پردرو د بھیجے پھر گناہوں کا اعتراف اور اس کے بعد سوال کرے۔(۱)
۲: اپنی زندگی کی پاکیزگی کے لئے غصبی مال اور ظلم و ستم سے بچنے کی کوشش کرے اور حرام غذا نہ کھائے ۔ پیغمبر اکرم سے منقول ہے :من احب ان یستجاب دعائه فلیطلب مطعمه و مکسبه
جو چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو اس کے لیے ضروری ہے اس کی غذا و ر کسب و کار پاک و پاکیزہ ہو۔(۲)
لتامرون بالمروف و ولتنهن عن المنکر ا و یسلطن الله شرار کم علی خیارکم و یدعو اخیارکم فلا یستجاب لهم ۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضرور کرو ورنہ خدا تم سے بروں کو تمہارے اچھے لوگوں پر مسلط کردے گا پھر تمہارے اچھے لوگ دعا کریں گے تو وہ ان کی دعا قبول نہیں کرے گا ۔(۳)
حقیقت میں یہ عظیم ذمہ داری جو ملت کی نگہبانی ہے اسے ترک کرنے سے معاشر ے میں بد نظمی پیدا ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں بد کاروں کے لئے میدان خالی رہ جاتا ہے ۔ اس صورت میں دعا اس کے نتائج کو زائل کرنے کے لئے بے اثر ہے کیونکہ یہ کیفیت ان اعمال کا قطعی اور حتمی نتیجہ ہے۔
۴: خدائی عہد و پیمان کو وفا کرنا بھی دعا کی قبولیت کی شرائط میں شامل ہے ایمان ، عمل صالح ، امانت او ر صحیح کام اس عہد و پیمان کا حصہ ہیں ۔ جو شخص اپنے پروردگار سے کئے گئے عہد کی پاسداری نہیں کرتا اسے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئیے کہ پروردگار کی طرف سے اجابت دعا کا وعدہ اس کے شامل حال ہو گا۔
کسی شخص نے امیرالمؤمنین کے سامنے دعا قبول نہ ہو نے کی شکایت کی ۔وہ کہنے لگا : خدا کہتا ہے کہ دعا کرو تو میں قبول کرتا ہو ں ۔ لیکن اس کے با وجود کیا وجہ ہے کہ ہم دعا کرتے ہیں اور وہ قبول نہیں ہوتی ۔ اس کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا:
ان قلوبکم خان بثمان خصال :
اولها انکم عرفتم الله فلم تؤدو احقه کما اوجب علیکم فما اغنت عنکم معرفتکم شیئا
و الثانیه انکم امنتم برسوله ثم خالفتم بسنته و امنتم شریعته فاین ثمرة ایمانکم
و الثالثه انکم قراتم کتابه المنزل علیکم تعملو ا به و قلتم سمعنا و اطعنا ثم خالفتم
و الرابعه انکم قلتم تخافون من النار و انتم فی کل وقت تقدمون الیهابمعاصیکم فاین خوفکم
و الخامسة انکم قلتم ترغبون فی الجنة و انتم فی کل وقت تفعلون ما یبا عد کم منها فاین رغبتکم فیها
و السادسة انکم اکلتم نعمة المولی فلم تشکروا علیها
و السابعة ان الله امرکم بعد اوة الشیطان و قال ان الشیطان لکم عدد فاتخذوه عدوا فعاد تیموه بلا تول و والیتموه بلا مخالفته
و الثامنة انکم جعلتم عیوب الناس نصب اعینکم و عیوبکم و راء ظهور کم تلومون من انتم احق باللوم منه فای دعا یستجاب لکم مع هذا و قد سدد تم ابوابه و طرقه فتقوا الله و اصلحوا اعمالکم و اخلصوا سرائکم و امروا بالمعروف و انهوا عن المنکر فیستجیب لکم دعا ئکم
تمہارے دل و دماغ نے آٹھ چیزوں میں خیانت کی ہے جس کی وجہ سے تمہاری دعا قبول نہیں ہوتی:
پہلی : تم نے خدا کو پیہچان کر اس کا حق ادا نہیں کیا ۔ اس لئے تمہاری معرفت نے تمہیں کو ئی فائدہ نہیں پہنچایا۔
دوسری: تم اس کے بھیجے ہو ئے پیغمبر پر ایمان تو لے آئے ہو مگر اس کی سنت کی مخالفت کرتے ہو ۔ ایسے میں تمہارے ایمان کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے ۔
تیسری: تم اس کی کتاب کو تو پڑ ھتے ہو مگر اس پر عمل نہیں کرتے ۔ زبانی تو کہتے ہو کہ ہم نے سنا او ر اطاعت کی مگر عملا اس کی مخالفت کرتے ہو ۔
چوتھی: تم کہتے ہو کہ ہم خدا کے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔ اس کے با وجود اس کی نافرمانیوں کی طرف قدم بر ھاتے ہو ۔ تو پھر خوف کہاں رہا۔
پانجویں : تم کہتے ہو کہ ہم جنت کے شائق ہیں حالانکہ کام ایسے کرتے ہو جو تمہیں اس سے دور لے جاتے ہیں تو پھر رغبت و شوق کہاں رہا۔
چھٹی: خدا کی نعمتیں تو کھاتے ہو مگر شکر کا حق ادا نہیں کرتے ہو ۔
ساتویں : اس نے تمہیں حکم دیا کہ شیطان سے دشمنی رکھو ۔۔۔۔۔۔اور تم اس سے دوستی کی طرح ڈالتے ہو۔
آٹھویں : تم نے لوگوں کے عیوب کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہے اور اپنے عیوب پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔
ان حالات میں تم کیسے امید رکھتے ہو کہ تمہاری دعا قبول ہو جب کہ تم نے خو د قبولیت کے دروازے بند کر رکھے ہیں ۔
تقوی و پرہیزگاری اختیار کرو ۔ اپنے اعمال کی اصلاح کرو ۔ امر المعروف اور نہی عن المنکر کرو ، تا کہ تمہاری دعا قبول ہو سکے ۔(۴)
اس سے ظاہر ہے کہ قبولیت دعا کا وعدہ خدا کی طرف سے مشروط ہے نہ کہ مطلق ۔شرط ہے کہ تم اپنے عہد و پیمان کو پورا کرو حالانکہ تم آٹھ طرح سے پیمان شکنی کر چکے ہو ۔
مندرجہ بالا آٹھ احکام جواجابت دعا کی شرائط ہیں انسان کی تربیت ، اس کی توانا ئیوں کو اصلاح یافتہ بنانے اور ثمر بخش راہ پر ڈالنے کے لئے کافی ہیں ۔
۵ ۔ دعا کی قبولیت کی ایک شرط یہ ہے کہ دعا عمل اور کوشش کے ہمراہ ہو ۔ امیرالمؤمنین کے کلمات قصار میں ہے :الداعی بلا عمل کالرامی بلا وتر
عمل کے بغیر دعا کرنے والا بغیر کمان کے تیر چلانے والے کی مانند ہے ۔(۵)
اس طرف توجہ رکھی جائے کہ چلہ کمان تیر کے لئے عامل حرکت اور ہدف کی طرف پھینکنے کا وسیلہ ہے تو اس سے تاثیر دعا کے لئے عمل کی اہمیت و اضح ہو جاتی ہے ۔
نتیجه
مندرجہ بالا پانچو ں شرائط یہ واضح کردیتی ہیں کہ نہ صرف یہ کہ طبیعی علل واسباب کی بجائے دعا نہیں ہو تی بلکہ قبولیت دعا کے لئے دعا کرنے والے کی زندگی میں ایک مکمل تبدیلی بھی ضروری ہے ۔اس کی فکر کو نئے سانچے میں ڈاھلنا چاہیئے اور اسے اپنے گذشتہ اعمال میں تجدید نظر کرنا چاہیئے ۔
ان سب کی روشنی میں کیا دعا کو اعصاب کمزور کرنے والی اور کا ہلی کا سبب قرار دینا بے خبری نہیں اور کیا یہ بعض مخصوص مقاصد کو بروئے کارلا نے کی دلیل نہیں ۔
____________________
۱ سفینة البحار، ج ۱، ۴۴۸ و ص۴۸۹
۲ سفینة البحار، ج ۱،۴۴۸ و ص۴۴۹
۳ سفینة البحار، ج ۱ ص۴۸۹
۴- سفینة البحار، ج ۱ ص۴۸۸و ۴۴۹
۵- نہج البلاغہ، کلمات قصار نمبر ۳۳۷
آیت ۱۸۷
۸۷ ۱ ۔( اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلَی نِسَائِکُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَکُمْ وَاٴَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللهُ اٴَنَّکُمْ کُنتُمْ تَخْتَانُونَ اٴَنفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا کَتَبَ اللهُ لَکُمْ وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمْ الْخَیْطُ الْاٴَبْیَضُ مِنْ الْخَیْطِ الْاٴَسْوَدِ مِنْ الْفَجْرِ ثُمَّ اٴَتِمُّوا الصِّیَامَ إِلَی اللَّیْلِ وَلاَتُبَاشِرُوهُنَّ وَاٴَنْتُمْ عَاکِفُونَ فِی الْمَسَاجِدِ تِلْکَ حُدُودُ اللهِ فَلاَتَقْرَبُوهَا کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ آیَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُونَ )
ترجمہ
۱۸۷ ۔ تمہارے لئے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلا ل کردیا گیاہے ۔ وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو (دونوں ایک دوسرے کی زینت اور ایک دوسرے کی حفاظت کا باعث ہو ) خدا کے علم میں تھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کرتے تھے ( اور اس ممنوع کام کو تم میں سے انجام دیتے تھے) پس خدا نے تمہاری توبہ قبول کرلی اور تمہیں بخش دیا ۔ اب ان سے ہمبستری کرو اور تمہارے لئے جو کچھ مقرر کیا گیا ہے اسے طلب کرو او ر کھا ؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے نمایان ہو جائے اس کے بعد روزے کورات تک مکمل کرو اور جب تم مساجد میں اعتکاف کے لئے بیٹھو توان سے مباشرت نہ کرو ۔ یہ حدود الہی ہیں ان کے نزدیک نہ جا نا خدا اس طرح اپنی آیات کو لوگو ں کے لئے و اضح کرتا ہے ہو سکتاہے کہ وہ پرہیزگار ہو جائیں ۔
شان نزول
روایات اسلامی سے پتہ چلتا ہے کہ جب شروع میں روزے کا حکم نازل ہو اتو مسلمان صرف یہ حق رکھتے تھے کہ رات کو سونے سے پہلے کھانا کھا لیں چنانچہ اگر کوئی شخص کھانا کھائے بغیر سوجا تا اور پھر بیدار ہو تا اس کے لئے کھانا پینا حرام تھا ۔ان دنو ں ماہ رمضان کی راتوں میں ان کے لئے اپنی بیو یوں سے ہم بستری کرنا مطلقا حرام تھا ۔ اصحاب پیغمبر میں سے ایک شخص جس کا نام مطعم بن جبیر تھا ایک کمزور انسان تھا ۔ ایک مرتبہ افطار کے وقت گھر گیا ۔ اس کی بیوی اس کے افطار کے لئے کھانا لینے لگی تو تھکان کی وجہ سے وہ سو گیا ۔ جب بیدار ہوا تو کہنے لگا اب افطار کرنے کا مجھے کوئی حق نہیں ۔وہ اسی حالت میں رات کو سوگیا ۔ صبح کو روزے کی حالت میں اطراف مدینہ خندق کھودنے کے لئے (جنگ احزاب کے میدان میں ) حاضر ہو گیا ۔ کام کے دوران میں کمزوری اور بھوک کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا ۔ پیغمبر اکرم اس کے سرہا نے تشریف لائے اور اس کی حالت دیکھ متاثر ہو ئے ۔
نیز بعض جوان مسلمان جواپنے آپ پر ضبط نہیں کرسکتے تھے ماہ رمضان کی راتو ں کو اپنی بیو یو ں سے ہم بستری کر لیتے تھے ۔
ان حالات میں یہ آیت نازل ہو ئی اور مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی کہ رات بھر کھانا بھی کھا سکتے ہیں اور اپنی بیو یوں سے ہم بستری بھی کرسکتے ہیں ۔
۱. حدود الهی
جیسا کہ مندر جہ بالا آیت میں ہم نے پڑ ھاہے روزے اور اعتکاف کے کچھ احکام بیان کرنے کے بعد انہیں خدائی سر حدیں قرار دیا گیا ہے۔ حلال و حرام کے در میان سر حد، مجاز و ممنوع کے در میان سر حد۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں کہا گیا کہ سر حدوں کو عبور نہ کرنا بلکہ کہا گیا ہے ان کے قریب نہ جانا کیونکہ سرحد کے قریب ہونے سے کبھی شہوت کی زیادتی کے باعث اور کبھی شک میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انسان ان سے آگے گز رجاتا ہے۔ لہذا فرمایا گیا ہے( فلا تقربوها ) اور شاید اسی بناء پر قوانین اسلامی میں ایسی جگہوں میں قدم رکھنے سے منع کیا گیا ہے جو انسان کی لغرش اور گناہ کا موجب اور سبب ہیں مثلا مجالس گناہ میں شرکت حرام ہے چا ہے خود انسان ظاہرا آلودہ گناہ نہ ہو ۔ اسی طرح اجنبی عورت سے خلوت کو حرام قرار دیا گیا ہے (کسی اجنبی خاتون کے ساتھ ایسی تنہائی جو مکمل طور پر علیحدہ ہو اور جہاں دو سرے لوگ آجانہ سکتے ہوں )۔
یہی مفہوم دو سری احادیث میں حمایت کمی (ممنوعہ علاقے کی چار دیواری کی حفاظت) کے عنوان سے بیان ہوا ہے پیغمبر اسلام فرماتے ہیں :ان حمی الله محارمه فمن وقع حود الحمی یوشک ان یقع فیه
محرمات الہی اس کی چار دیواریاں میں اگر کوئی شخص ان حدود خانہ کے گرد اپنی بھیڑ بکریاں لے جائے تو اس کا ڈر ہے کہ وہ ممنوعہ علاقے میں چلی جائیں ۔(۱)
اسی لئے اصول تقوی کی پا بند اور پرہیزگار لوگ نہ صرف یہ محرمات کہ کے مرتکب نہیں ہو تے بلکہ حرام کے نزدیک بھی قدم نہیں رکھتے۔
____________________
۱۔ تفسیر صافی، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۲. اعتکاف
اعتکاف کا اصل معنی ہے محبوس ہو نا اور کسی چیز کے پاس لمبی مدت تک رہنا شریعت کی اصطلاح میں مساجد میں عبادت کے لئے تھہرے نے کو اعتکاف کہتے میں جس کی کم از کم مدت تین دن ہے اور اس کی شرط روزہ دار ہونا اور بعض لذائذ کو ترک کرناہے یہ عبادت روح کی پاکیزگی اور پروردگار کی طرف خصوصی توجہ کے لئے گہرا اثر رکھتی ہے۔ اس کے آداب و شرائط فقہی کتب میں مذکور میں ۔ یہ عبادت ذاتی طور پر تو مستحب ہے لیکن چند ایک استثنائی مواقع پر و جوب کی شرط اختیار کر لیتی ہے۔ بہر حال زیر بحث آیت میں اس کی صرف ایک شرط کی طرف اشارہ ہوا ہے یعنی عورتوں سے مجامعت نہ کر نا۔
(دن اور رات دو نوں میں منع) اور وہ بھی اس لئے کہ اعتکاف کا تعلق بھی روزے کے مسائل سے ہے۔
۳. طلوع فجر
فجر کا اصل معنی ہے شگاف کرنا۔ طلوع صبح کو فجر اس لئے کہتے ،میں کہ گویا رات کا سیاہ پردہ پہلی صبح کی سفیدی سے چاک ہو جا تا ہے۔
زیر بحث آیات میں علاوہ از یں( حتی یتبین لکم الخیط الا بیض من الخیط الاسود ) کی تعبیر بھی استعمال ہوئی ہے۔
ایک حدیث میں ہے :
عدی بن حاتم نے پیغمبر ﷺاکرم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے سیاہ اور سفید دھا گے رکھے ہوئے تھے اور انہیں دیکھتا تھا تا کہ پہچان کر روزے کے اول دقت کا اندازہ کر سکوں ۔پیغمبر اکرم ﷺاس گفتگو سے اتنے ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک دکھائی دیئے ۔
آپ نے فرمایا: فرزند حاتم! اس سے مراد ہے صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے نمایاں ہو جا ئے جو کہ وجوب روزہ کی ابتداء ہے۔(۱) ۔
ضمنا توجہ کرنی چا ہیئے کہ اس تعبیر سے ایک اور نکتہ بھی واضح ہو تا ہے اور وہ ہے صبح صادق کو صبح کاذب سے پہچاننا۔ رات کے آخری حصے میں پہلے ایک بہت کم رنگ کی سفیدی آسمان پر عمودی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ جسے لومڑی کی دم سے تشبیہ وی جاتی ہے۔ اسی کو صبح کاذب کہتے میں ۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ایک صاف و شفاف سفیدی افق کے طور پر اور وہ بھی طول افق میں ظاہر ہوتی ہے جو سفید دھاری کی طرح ہوتی ہے۔ یہی صبح صادق ہے جو روزے کے وقت کا آغاز اور ابتدا ئے نماز صبح کا وقت ہے۔
____________________
۱۔مجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں ۔
۴. ابتداء و انتهاء تقوی هی تقوی ہے
یہ بات قابل توجہ ہے کہ احکام روزہ سے مربوط پہلی آیت میں بھی ہم نے اس کا آخری مقصد تقوی پڑھا ہے اور بعینہ یہی بات آخری آیت کے آخر میں بھی آئی ہے (لعلہم یتقون) یہ بات نشاند ہی کرتی ہے کہ سا پروگرام روح تقوی کی پرورش اپنے آپ کو گناہ سے بچانے اور ملکہ پرہیزگاری پیدا کرنے کے لئے ہے اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ نوع انسانی میں شرعی ذمہ دار یوں کی ادائیگی کا احساس اجاگر کیا جامرئے ۔
اختتامیہ
پروردگارا! ہم تیری بارگاہ میں سپاس گزاری اور نذرانہ شکر پیش کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں اس تفسیر کی جلد اول پر تجدید نظر کی توفیق بخشی تا کہ ہم اس کے نقائص کو امکانی حد تک دور کر سکیں ۔ شاید ہم تیری اس عظیم آسمانی کتاب کو جتنا ہو سکے اپنے مسلمان بہن بھایئوں تک پہنچا سکیں ۔
خداواندا! تیرا شکر ہے کہ تو نے اپنی عنایت ہمارے شامل حال کی کہ ہم نے تیرے عظیم اور بہت ہی قدر و منزلت والے ارشادات کی تفسیر لئے قدم اٹھایا۔
بارالہا! ہم سے یہ اعزاز و افتخار نہ چھین لینا تا کہ ہم ممکنہ حد تک اس کتاب کے باقی حصے کی تکمیل کر سکیں ۔
خداوندا! تو نے اپنے مخصوص بندوں کے دل اس کتاب کی طرف مائل کردئے میں اور نہوں نے اس کاو الہا نہ استقبال کیا ہے اور شاید ہمارے لئے وہ را توں کی تاریکی میں یاد نوں میں دعا ئے خیر کرتے ، میں ۔۔۔ہم اس کے لئے تیرے سپاس گزار میں ۔ اور تیرا شکر ادا کرتے میں ۔
۱۳ مرداد ۱۳۶۱ ہجری شمسی
مطابق
۱۵ شوال ۱۳۰۲ ہجری قمری
اختتام جلد اول تفسیر نمونہ
فہرست
گفتار مترجم ۵
تفسیر کا معنی ۷
یہ کوشش کب شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچی ۸
ایک خطر ناک غلطی ۹
هر زمانے کی احتیاج اور تقاضے ۹
کس تفسیر کا مطالعه کرنا بهتر ہے ۱۱
اس تفسیر کی خصوصیات ۱۳
سوره حمد (فاتحه الکتاب) ۱۵
سورہ حمد کی خصوصیات ۱۵
لب و لہجہ اور اسلوب بیان : ۱۵
۲ ۔ اسا س قرآن : ۱۶
۳ ۔ پیغمبر اکرم(ص) کے لئے اعزاز : ۱۸
۴ ۔ تلاوت کی تاکید : ۱۹
سورہ حمد کے موضوعات ۲۰
اس سورہ کا نام فاتحة الکتاب کیوں ہے؟ ۲۲
ایک اہم سوال : ۲۴
تفسیر ۲۶
۱ ۔ ( بسم الله الرحمن الرحیم ) ۲۶
کیا بسم اللہ سورہ حمد کا جزء ہے؟ ۲۹
خدا کے ناموں میں سے اللہ، جامع ترین نام ہے ۳۲
خدا کی رحمت عام او ررحمت خاص ۳۴
خدا کی دیگر صفات بسم اللہ میں کیوں مذکور نہیں ؟ ۳۶
۲ ۔ ( الحمد لله رب العالمین ) ۳۸
سارا جہاں اس کی رحمت میں ڈوبا ہو ا ہے۔ ۳۸
۱ ۔ تمام ارباب انواع کی نفی : ۴۲
۲ ۔ خدائی پرورش، ۴۴
۳ ۔ ( الرحمن الرحیم ) ۴۴
تفسیر ۴۴
۴ ۔ ( مالک یوم الدین ) ۴۶
قیامت پر ایمان دوسری اصل ہے۔ ۴۶
۵ ۔ ( ایاک نعبد و ایاک نستعین ) ۔ ۴۹
انسان کے دربار خدا میں ۴۹
۱ ۔ آیت میں حصر کا مفہوم : ۵۰
۲ ۔ ( نعبد و نستعین ) اور اسی طرح بعد کی آیات میں جمع کے صیغے آئے ہیں ۔ ۵۱
۳ ۔ طاقتوں کے ٹکراؤ کے وقت استعانت خدا کی طلب : ۵۱
۶ ۔ ( اهدنا الصراط المستقیم ) ۵۲
تفسیر ۵۲
صراط مستقیم پر چلنا ۵۲
صراط مستقیم کیا ہے ؟ ۵۵
۷ ۔ ( صراط الذین انعمت علیهم غیر المغضوب علیهم والا الضالین ) ۔ ۵۷
تفسیر ۵۷
دو انحرافی خطوط ۵۷
۱ ۔ ( الذین انعمت علیهم ) کون ہیں : ۵۷
۲ ۔ ( مغضوب علیهم ) اور ( ضالین ) کو ن ہیں : ۵۸
سورہ بقرہ کے موضوعات ۶۱
فضیلت سوره بقره ۶۱
سورہ بقرہ ۶۴
آیات ۱، ۲ ۶۴
تفسیر ۶۴
قرآن کے جروف مقطعات کے متعلق تحقیق ۶۴
ادبیات عرب کا عہد زریں ۶۵
واضح گواہ ۶۶
دور کا اشارہ کیوں ۶۹
۲ ۔ معنی ”کتاب“ ۷۰
۳ ۔ ہدایت کیا ہے ؟ ۷۱
۴ ۔ قرآنی ہدایت پرہیزگاروں کے ساتھ کیوں مخصوص ہے؟ ۷۱
آیات ۳،۴،۵ ۷۳
روح و جسم انسانی میں آثار تقوی ۷۳
۱ ۔ غیب پر ایمان ۷۴
۲ ۔ خدا سے رابطہ ۷۷
۳ ۔ انسانوں سے رابطہ: ۷۸
۴۔ ایمان و عمل کی راہ میں تسلسل ۸۰
۵ ۔ قیامت پر ایمان ۸۰
۶۔ حقیقت تقوی کیا ہے : ۸۳
آیات ۶،۷ ۸۵
دوسراگروہ سر کش کفار کا ہے ۸۵
۱ ۔ تشخیص کی قدرت کا چھن جانا دلیل جبر نہیں : ۸۶
۲ ۔ ایسے لوگ قابل ہدایت نہیں تو انبیاء کا تقاضا کیوں : ۸۸
۳-دلوں پر مہر لگانا : ۸۸
۴ ۔ قرآن میں قلب سے مراد کیا ہے : ۹۱
۵ ۔ قلب و بصر صیغہ جمع اور سمع مفرد میں کیوں : ۹۲
آیات ۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶ ۹۳
تیسرا گروہ ۔ منافقین ۹۴
۱ ۔ نفاق کی پیدائش اور اس کی جڑیں : ۹۷
۲ ۔ ہر معاشرے میں منافقین کی پہچان ضروری ہے : ۹۸
۳ ۔ معنی نفاق کی وسعت : ۹۹
۴ ۔ منافقین کی حوصلہ شکنیاں : ۱۰۱
۵ ۔ وجدان کو دھوکا دینا : ۱۰۲
۶ ۔ نقصان زدہ تجارت : ۱۰۳
ـآیات ۱۷،۱۸،۱۹،۲۰ ۱۰۵
منافقین کے حالات واضح کرنے کے لئے دو مثالیں : ۱۰۵
آیات ۱۲،۲۲ ۱۱۲
اس خدا کی عبادت کرو ۱۱۲
چند اہم نکات ۱۱۲
۱ ۔ یایھا الناس کا خطاب : ۱۱۲
۲ ۔ خلقت انسان نعمت خدا وندی ہے : ۱۱۳
۳ ۔ عبادت کا نتیجہ : ۱۱۳
۳ ۔ الذین من قبلکم : ۱۱۳
نعمت آسمان و زمین ۱۱۳
بت پرستی مختلف شکلوں میں ۱۱۸
آیات ۲۳،۲۴ ۱۱۹
قرآن ہمیشہ رہنے والا معجزہ ہے ۱۱۹
( ۱) انبیاء کے لئے معجزے کی ضرورت : ۱۲۱
قرآن رسول اسلام کا دائمی ومعجزہ ۱۲۱
گذشتہ انبیاء کے معجزات ۱۲۲
قرآن روحانی کیوں ہے ؟ ۱۲۲
کیا قرآن نے مقابلے کے لئے چیلنج کیا ہے ؟ ۱۲۳
یہ کیسے معلوم ہوا کہ قرآن کی مثل نہ لائی جاسکی؟ ۱۲۴
عبداللہ بن مفقع: ۱۲۵
ابوالعلای معری : ۱۲۵
مسلیمہ کذاب : ۱۲۵
ابوالعلای مصری : ۱۲۷
ولید بن مغیرہ مخزومی : ۱۲۷
کارلائلی: ۱۲۷
ول ڈیوران : ۱۲۸
ز ول لابوم : ۱۲۹
دینورٹ : ۱۲۹
ڈاکٹر مسز لوراواکیسا گلیری: ۱۲۹
آیت ۲۵ ۱۳۰
بہشت کی نعمات کی خصوصیات ۱۳۰
( ۱) ایمان وعمل : ۱۳۲
( ۲) پاکیزہ بیویاں : ۱۳۲
جنت کی مادی و معنوی نعمات : ۱۳۳
آیت ۲۶ ۱۳۴
کیا خدا بھی مثال دیتا ہے؟ ۱۳۴
( ۱) حقائق کے بیان کرنے میں مثال کی اہمیت: ۱۳۷
( ۲) مچھر کی مثال کیوں : ۱۳۸
( ۳) خداکی طرف سے ہدایت وگمراہی : ۱۳۹
( ۴) فاسقین ۱۴۰
آیت ۲۷ ۱۴۱
حقیقی زیاں کار ۱۴۱
( ۱) اسلام میں صلہ رحمی کی اہمیت : ۱۴۴
( ۲) جوڑنے کے بجائے توڑنا : ۱۴۵
آیات ۲۸،۲۹ ۱۴۶
زندگی ایک اسرار آمیز نعمت ہے ۱۴۶
( ۱) تناسخ ا ور ارواح کا پلٹ آنا ۱۵۰
( ۲ ) سات آسمان: ۱۵۱
( ۳) عظمت کا ئنات: ۱۵۳
آیات ۳۰،۳۱،۳۲،۳۳ ۱۵۴
انسان زمین میں خدا کا نمائندہ ۱۵۴
فرشتے امتحان کے سانچے میں ۱۵۹
دوسوال اور ان کا جواب ۱۶۱
آیات ۳۴،۳۵،۳۶ ۱۶۲
آدم جنت میں ۱۶۲
( ۱) ابلیس نے مخالفت کیوں کی : ۱۶۴
( ۲) سجدہ خدا کے لئے تھا یا آدم کے لئے : ۱۶۵
( ۱) آدم کس جنت میں تھے : ۱۶۸
( ۲) آدم کا گناہ کیا تھا : ۱۶۹
( ۳) تورات سے معارف قرآن کا مقابلہ : ۱۷۰
( ۴) قرآن میں شیطان سے کیا مراد ہے : ۱۷۳
( ۵) خدا نے شیطان کو کیو ں پیدا کیا ہے : ۱۷۵
آیات ۳۷،۳۸،۳۹ ۱۷۶
خدا کی طرف آدم کی بازگشت ۱۷۶
( ۱) خدانے جو کلما ت آدم پر القا کئے وہ کیا تھے : ۱۷۸
( ۲) لفظ اھبتوا کاتکرار کیوں : ۱۷۹
( ۳)” اھبتوا“ میں کون مخاطب ہیں ۱۷۹
آیت ۴۰ ۱۸۰
خدا کی نعمتوں کو یاد کرو ۱۸۰
( ۱) یہودی مدینہ میں : ۱۸۱
( ۲) یہودیوں سے خدا کے بارہ معاہدے: ۱۸۱
( ۴) خدا بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا : ۱۸۲
( ۵) حضرت یعقوب کی اولاد کو بنی اسرائیل کیوں کہتے ہیں : ۱۸۴
آیات ۴۱،۴۲،۴۳ ۱۸۵
شان نزول ۱۸۵
یہودیوں کی دولت پرستی ۱۸۶
( ۱) کیا قرآن تورات اور انجیل کے مندرجات کی تصدیق کرتا ہے : ۱۸۹
اس کا جواب یہ ہے ۱۸۹
آیات ۴۴،۴۵،۴۶ ۱۹۲
دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت ۱۹۲
( ۱) لقاء اللہ سے کیا مراد ہے ۱۹۵
مشکلات میں کامیابی کا راستہ : ۱۹۶
آیات ۴۷،۴۸ ۱۹۷
یہودیوں کے باطل خیالات ۱۹۷
قرآن اور مسئلہ شفاعت ۲۰۰
( ۱) شفاعت کا حقیقی مفہوم : ۲۰۱
( ۱۱) عالم تکوین میں شفاعت : ۲۰۲
مدارک شفاعت : ۲۰۲
شرائط شفاعت : ۲۰۴
احادیث اسلامی اور شفاعت : ۲۰۶
۷۱ ۔ شفاعت کی معنوی تا ثیر : ۲۰۸
توبہ کرنے والوں کو شفاعت کی ضرورت ۲۱۱
فلسفہ شفاعت : ۲۱۱
۱ مایوسی کی روح سے مقابلہ: ۲۱۲
شفاعت کی شرئط تعمیری اور اصلاح کنندہ ہیں : ۲۱۳
اعتراضات کے جوابات : ۲۱۳
شفاعت اور مسئلہ توحید ۲۱۴
تعجب کی بات یہ ہے ۲۱۸
مسئلہ شفاعت کے بارے میں وہابیوں کی ۲۱۹
آیت ۴۹ ۲۲۳
عظیم نعمت کی طرف اشارہ ۲۲۳
قرآن نے بیٹیوں کو زندہ رکھنے اور بیٹوں کے سر کاٹنے کو عذاب قرار دیا ہے ۲۲۵
آیت ۵۰ ۲۲۶
فرعونیوں کے چنگل سے بنی اسرائیل کے نجات پانے کا ایک اجمالی اشارہ ۲۲۶
آیات ۵۱،۵۲،۵۳،۵۴ ۲۲۸
تاریخ بنی اسرائیل کے ایک بھر پور واقعے کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۲۲۸
عظیم گناہ اور سخت سزا ۲۳۰
آیات ۵۵،۵۶ ۲۳۲
یہ دو آیات خدا کی ایک بہت بڑی نعمت کی یاد دلاتی ہیں ۔ ۲۳۲
آیت ۵۷ ۲۳۴
بنی اسرائیل جب فرعونیوں کے چنگل سے نجات پاچکے تو خداو ند عا لم کا حکم ۲۳۴
آزاد ماحو ل کی زندگی: ۲۳۵
من وسلوی ٰکیاہے : ۲۳۵
”انزلنا“کیوں کہا گیا : ۲۳۸
غمام کیا ہے ۲۳۸
من وسلوی کی ایک اور تفسیر : ۲۳۹
آیات ۵۸،۵۹ ۲۴۰
اس مقام پر ہمارا سابقہ بنی اسرائیل ۲۴۰
آیت ۶۰ ۲۴۳
بنی اسرائیل کے قبائیل کی تعداد کے عین مطابق جب یہ چشمے جاری ہوئے ۲۴۳
تعثوا“اور مفسدین میں فرق : ۲۴۵
بنی اسرائیل کی زندگی میں خلاف معمول واقعات : ۲۴۵
انفجرت اور انبجست میں فرق: ۲۴۵
آیت ۶۱ ۲۴۷
ان نعمات فراواں کی تفصیل کے بعد ۲۴۷
یہاں مصری سے کون سی جگہ مراد ہے ۲۴۸
کیا نت نئی چیز کی خواہش انسانی مزاج کا خاصہ نہیں : ۲۵۰
کیامن وسلوی ٰہر غذاسے بہتر وبر تر تھا: ۲۵۰
ذلت کی مہر بنی اسرائیل کی پیشانی پر ۲۵۲
آیت ۶۲ ۲۵۳
ایک کلی اصول اور عمومی قانون ۲۵۳
ایک اہم سوال ۲۵۴
چند اہم نکات ۲۵۵
( ۲) صائبین کون ہیں ؟ : ۲۵۸
( ۳) صائبین کے عقائد: ان کے مندرجہ ذیل عقائد تھے : ۲۶۰
آیات ۶۳،۶۴ ۲۶۲
ان آیات میں بنی اسرائیل سے تورات میں شامل احکامات پر ۲۶۲
( ۱) عہد و پیمان سے مراد : ۲۶۲
( ۲) کوہ طور ان کے سروں پر مسلط کرنے سے کیا مقصود تھا : ۲۶۳
( ۳) کیا اس عہد وپیمان میں جبر کا پہلو ہے : ۲۶۵
( ۴) کوہ طور : ۲۶۵
آیات ۶۵،۶۶ ۲۶۶
یہ دو آیات بھی گذشتہ آیات کی طرح ۲۶۶
آیات ۶۷، ۶۸، ۶۹،۷۰،۷۱،۷۲،۷۳،۷۴ ۲۶۸
بنی اسرائیل کی گائے کا واقعہ ۲۶۹
( ۱) زیادہ اور غیر مناسب سوالات : ۲۷۳
( ۲) یہ تمام اوصاف کس لئے تھے : ۲۷۴
قتل کا سبب کیا تھا : ۲۷۵
( ۴) اس داستان کے عبرت خیز نکات : ۲۷۵
باپ سے نیکی ۲۷۶
آیات ۷۵، ۷۶،۷۷ ۲۷۷
تفسیر ۲۷۷
شان ِنزول ۲۷۷
انتظار بیجا ۲۷۸
آیات ۷۸،۷۹ ۲۸۰
شان نزول ۲۸۰
عوام کو لوٹنے کی یہودی سازش ۲۸۱
آیات ۸۰،۸۱،۸۲ ۲۸۴
بلند پردازی اور کھوکھلے دعوے ۲۸۴
( ۱) غلط کمائی : ۲۸۵
آثار گناہ نے احاطہ کرلیا ہے ” سے کیا مراد ہے : ۲۸۵
نسل پرستی کی ممانعت : ۲۸۷
آیات ۸۳، ۸۴،۸۵،۸۶ ۲۸۸
عہد و پیمان کا ذکر ۲۸۹
آیات کا تاریخی پر منظر: ۲۹۰
قوموں کی زندگی کے لئے بنیادی احکام : ۲۹۲
مختلف زمانوں میں انبیاء کی پے در پے آمد: ۲۹۴
روح القدس کیاہے؟: ۲۹۵
روح القدس کے بارے میں عیسائیوں کا عقیدہ : ۲۹۶
( ۳) بے خبر اور غلاف میں لپٹے دل: ۲۹۶
آیات ۸۹،۹۰ ۲۹۸
شان نزول ۲۹۸
خسارے کا سودا ۳۰۱
فباء بغضب علی غضب: ۳۰۱
آیات ۹۱،۹۲،۹۳ ۳۰۳
یہودیوں نے ان زحمتوں اور مشکلوں کے با وجود ۳۰۳
( قَالُوا سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا ) کا مفہوم: ۳۰۵
( وَاٴُشْرِبُوا فِی قُلُوبِهِمْ الْعِجْل ) مفہوم: ۳۰۶
آیات ۹۴،۹۵،۹۶ ۳۰۷
خود پسند گروہ ۳۰۷
ہزار سال عمر کی تمنا: ۳۰۹
( عَلَی حَیَاةٍ ) : ۳۰۹
یہودیوں کی نسل پرستی: ۳۰۹
بہانہ ساز قوم: ۳۱۰
جبرئیل و میکائیل ۳۱۲
آیات ۹۹،۱۰۰،۱۰۱ ۳۱۴
شان نزول ۳۱۴
پیمان شکن یہودی ۳۱۴
آیات ۱۰۲،۱۰۳ ۳۱۷
سلیمان اور بابل کے جادوگر ۳۱۷
ہاروت اور ماروت کا واقعہ: ۳۲۰
(ہاروت) اور (ماروت) الفاظ کی حیثیت سے: ۳۲۱
فرشتہ انسان کا معلم کیونکر ہوسکتاہے؟ ۳۲۲
کوئی شخص اذن خدا کے بغیر کسی چیز پر قادر نہیں : ۳۲۲
جاد و کیاہے اور کس وقت سے ہے: ۳۲۲
جادو اسلام کی نظر میں ۳۲۴
دشمن کی ہاتھ بہانہ مت دو ۳۲۶
یا ایھا الذین امنوا کا دقیق مفہوم: ۳۲۷
آیات ۱۰۶،۱۰۷ ۳۲۸
تفسیر ۳۲۸
هدف از نسخ ۳۲۸
کیا احکام شریعت میں نسخ جائز ہے: ۳۳۰
لفظ (آیت ) سے کیا مراد ہے: ۳۳۱
( ننسها ) کی تفسیر: ۳۳۲
( او مثلها ) کی تفسیر: ۳۳۳
آیت ۱۰۸ ۳۳۴
شان نزول ۳۳۴
بے بنیاد بہانے ۳۳۵
آیات ۱۰۹ ،۱۱۰ ۳۳۶
ہٹ دھرم حاسد ۳۳۶
چند اہم نکات ۳۳۷
(!) ( فاعفوا ) اور ( اصفحوا ) : ۳۳۷
(!!) ( ان الله علی کل شیء قدیر ) کا جملہ: ۳۳۸
(!!!) ( حسد من عند انفسهم ) کا مفہوم : ۳۳۸
آیات ۱۱۱،۱۱۲ ۳۳۹
یہودی و نصاری کے علاوہ ہرگز کوئی شخص جنت میں داخل ۳۳۹
چند اہم نکات ۳۴۰
(!) ( امانیهم ) : ۳۴۰
(!!) ( اسلم وجهه ) : ۳۴۰
(!!!) بے دلیل د عووں سے بے اعتنائی: ۳۴۰
(!۔) ( و هو محسن ) : ۳۴۱
آیت ۱۱۳ ۳۴۲
شان نزول ۳۴۲
بے دلیل دعوی نتیجہ تضاد ہوتاہے ۳۴۲
آیت ۱۱۴ ۳۴۴
شان نزول ۳۴۴
آیت کا روئے سخن تین گروہوں یہود، نصاری اور مشرکین ۳۴۵
مساجد کی ویرانی کی راہیں : ۳۴۶
سب سے بڑا ظلم: ۳۴۶
آیت ۱۱۵ ۳۴۸
شان نزول ۳۴۸
جس طرف رخ کر و خدا موجود ہے ۳۴۸
فلسفہ قبلہ: ۳۴۹
وجہ اللہ: ۳۵۰
آیات ۱۱۶ ،۱۱۷ ۳۵۱
یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکین کی خرافات ۳۵۱
عدم فرزند کے دلائل: ۳۵۲
کن فیکون کی تفسیر: ۳۵۳
کوئی چیز کیسے عدم سے وجود میں آتی ہے: ۳۵۴
آیات ۱۱۸،۱۱۹ ۳۵۶
خدا ہمارے ساتھ باتیں کیوں نہیں کرتا ۳۵۶
کیسی نامناسب خواہش ہے؟ ۳۵۷
ان کے دل ایک جیسے ہیں : ۳۵۷
خوش خبری دینا اور ڈرانا۔ دواہم تربیتی اصول: ۳۵۸
آیات ۱۲۰،۱۲۱ ۳۶۰
شان نزول ۳۶۰
وہ ہرگز راضی نہ ہوں گے ۳۶۲
لئن اتبعت اھواء ھم: ۳۶۲
دشمن کی رضا کا حصول: ۳۶۳
ہدایت صرف ہدایت الہی ہے: ۳۶۳
حق تلاوت کیاہے؟: ۳۶۳
آیات ۱۲۲،۱۲۳ ۳۶۵
تفسیر ۳۶۵
آیات ۱۲۴ ۳۶۷
ان آیات کے تین مقاصد ۳۶۷
کلمات سے کیا مراد ہے: ۳۶۸
نبوت، رسالت اور امامت میں فرق: ۳۷۱
۱ ۔ مقام نبوت۔ ۳۷۱
۲ ۔ مقام رسالت۔ ۳۷۱
۳ ۔ مقام امامت۔ ۳۷۱
(!) امامت یا حضرت ابراہیم کی آخری سیر تکامل: ۳۷۲
ظلم کسے کہتے ہیں ؟: ۳۷۳
دو سوال اور ان کا جواب: ۳۷۴
حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی عظیم شخصیت: ۳۷۴
آیت ۱۲۵ ۳۷۶
خانہ کعبہ کی عظمت ۳۷۶
امن و امان کی اس پناہ گاہ کے اجتماعی اور تربیتی اثرات: ۳۷۷
خانہ خدا کا نام: ۳۷۸
آیت ۱۲۶ ۳۷۹
بارگاہ خدا میں حضرت ابراہیم کی در خواستیں ۳۷۹
آیات ۱۲۷،۱۲۸،۱۲۹ ۳۸۱
حضرت ابراہیم کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی تعبیر نو ۳۸۱
حضرت ابراہیم کی کچھ مزید دعائیں ۳۸۲
انبیاء کی غرض بعثت: ۳۸۴
تعلیم مقدم ہے یا تربیت: ۳۸۵
پیغمبر انہی میں سے ہو: ۳۸۵
آیات ۱۳۰،۱۳۱،۱۳۲ ۳۸۶
حضرت ابراهیم انسان نمونه ۳۸۶
آیات ۱۳۳، ۱۳۴ ۳۸۹
سب اپنے اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں ۳۹۰
آیات ۱۳۵،۱۳۶،۱۳۷ ۳۹۲
شان نزول ۳۹۲
صرف ہم حق پر ہیں ۳۹۳
دعوت انبیاء کی وحدت: ۳۹۴
اسباط کون تھے: ۳۹۵
حنیف کا مادہ ہے حنف (برو زن ہدف) ۳۹۵
آیات ۱۳۸،۱۳۹،۱۴۰،۱۴۱، ۳۹۶
غیر خدائی رنگ دھو ڈالو ۳۹۶
آیت ۱۴۲ ۳۹۹
قبلہ کی تبدیلی کا واقعہ ۳۹۹
سفہا: ۴۰۰
نسخ احکام: ۴۰۰
قرآن نے انہیں منطقی اور دندان شکن جواب دیئے ۴۰۰
آیت ۱۴۳ ۴۰۱
امت وسط ۴۰۱
قبلہ کی تبدیلی کے اسرار: ۴۰۳
امت اسلامی ایک در میانی امت ہے: ۴۰۴
وہ امت جوہر لحاظ سے نمونہ بن سکتی ہے: ۴۰۶
لنعلم کی تفسیر: ۴۰۷
قبلہ کا فلسفہ: ۴۰۷
آیت ۱۴۴ ۴۰۹
جہاں کہیں ہو کعبہ کی طرف رخ کرلو ۴۰۹
نظم آیات: ۴۱۰
پیغمبر اکرم کا کعبہ سے خاص لگاؤ: ۴۱۰
شطر کا معنی: ۴۱۱
ہمہ گیر خطاب: ۴۱۲
کیا قبلہ کی تبدیلی پیغمبر کو خوش کرنے کے لئے تھی: ۴۱۲
کعبہ ایک عظیم دائرے کا مرکز ہے: ۴۱۲
آیت ۱۴۵ ۴۱۴
وہ کسی قیمت پر سرتسلیم خم نہیں کریں گے ۴۱۴
آیات ۱۴۶،۱۴۷ ۴۱۶
وہ پیغمبر اکرم کو پوری طور پر پہچانتے ہیں : ۴۱۶
آیت ۱۴۸ ۴۱۸
یہ آیت در حقیقت یہودیوں کے جواب میں ہے ۴۱۸
امام مہدی کے یار و انصار جمع ہوں گے: ۴۱۹
آیت میں ( هُوَ مُوَلِّیهَا ) کی شباہت ۴۱۹
آیات ۱۴۹،۱۵۰ ۴۲۰
برنامه های رسول لله ۴۲۰
( فاذکرونی اذکرکم ) “کی تفسیر ۴۲۴
ذکر خدا کیاہے: ۴۲۶
آیات ۱۵۳،۱۵۴ ۴۲۷
شان نزول ۴۲۷
(شہداء) ۴۲۷
شہداء کی ابدی زندگی: ۴۳۱
مکتب شہید پرور: ۴۳۱
برزخ کی زندگی اور روح کی بقاء: ۴۳۲
آیات ۱۵۵،۱۵۶،۱۵۷ ۴۳۳
طرح طرح کی خدائی آزمائش ۴۳۳
خدا لوگوں کی آزمائش کیوں کرتاہے: ۴۳۵
خدا کی آزمائش ہمہ گیر ہے: ۴۳۷
آزمائش کے طریقے: ۴۳۷
آزمائشوں میں کامیابی کا راز: ۴۳۸
نعمت و بلاکے ذریعے امتحان: ۴۴۲
آیت ۱۵۸ ۴۴۴
شان نزول ۴۴۴
جاہلوں کے اعمال تمہارے مثبت اعمال میں حائل نہ ہوں ۴۴۵
صفا و مروہ: ۴۴۶
صفا و مروہ کے کچھ اسرار و رموز: ۴۴۶
ایک سوال کا جواب: ۴۴۹
تطوع کسے کہتے ہیں : ۴۵۰
خدا شاکر ہے کا مفہوم: ۴۵۱
آیت ۱۵۹ ۴۵۲
شان نزول ۴۵۲
حقائق چھپانے والوں کی شدید مذمت ۴۵۳
حق کو چھپانے کے نقصانات: ۴۵۴
لعنت کیا چیزہے: ۴۵۷
تواب: ۴۵۷
آیات ۱۶۱،۱۶۲،۱۶۳ ۴۵۸
وہ لوگ جو کافر ہوگئے ہیں ۴۵۸
چند اہم نکات ۴۵۹
(!) حالت کفر میں مرنا: ۴۵۹
(!!) خدا اپنی یکتائی میں یکتاہے: ۴۵۹
(!!) خدا اپنی یکتائی میں یکتاہے: ۴۵۹
(!!!) کیا خدا کی لعنت کافی نہیں ہے: ۴۶۰
آیت ۱۶۴ ۴۶۱
آسمان و زمین میں اس کی ذات پاک کے جلوے ہیں ۴۶۱
آیات ۱۶۵،۱۶۶،۱۶۷ ۴۶۶
بیزاری پیشوایان ۴۶۶
آیات ۱۶۸،۱۶۹ ۴۷۰
شان نزول ۴۷۰
شرک و بت پرستی کی سخت مذمت کی گئی تھی۔ ۴۷۰
اصل حلیت: ۴۷۳
تدریجی انحرافات: ۴۷۳
شیطان پرانا دشمن ہے: ۴۷۵
شیطانی وسوسوں کی کیفیت: ۴۷۵
آیات ۱۷۰،۱۷۱ ۴۷۶
آباء و اجداد کی اندھی تقلید ۴۷۶
پہچان کے آلات: ۴۷۹
ینعق کا مفہوم: ۴۷۹
آیات ۱۷۲،۱۷۳ ۴۸۰
تفسیر ۴۸۰
طیبات وخبائث ۴۸۰
حرام گوشت کی تحریم کا فلسفہ: ۴۸۴
تکرار و تاکید: ۴۸۷
بیمار کو خون دینا: ۴۸۷
آیات ۱۷۴،۱۷۵،۱۷۶ ۴۸۸
شان نزول ۴۸۸
دوبارہ حق پوشی کی مذمت ۴۸۹
آیت ۱۷۷ ۴۹۲
شان نزول ۴۹۲
تمام نیکیوں کی اساس ۴۹۲
آیات ۱۷۸،۱۷۹ ۴۹۷
شان نزول ۴۹۷
قصاص تمہاری حیات کا سبب ہے ۴۹۸
قصاص عفو ایک عادلانہ نظام ہے: ۵۰۰
کیا قصاص عقل اور انسانیت کے خلاف ہے: ۵۰۱
(!!) کیا قصاص عقل اور انسانیت کے خلاف ہے: ۵۰۱
جواب ۵۰۲
کیا مردکا خون عورت کے خون سے زیادہ قیمتی ہے: ۵۰۴
تشویق به عفو ۵۰۴
( iv ) اس مقام پرلفظ ”اخیہ“ کا استعمال: ۵۰۴
آیات ۱۸۰،۱۸۱،۱۸۲ ۵۰۶
شائستہ اور مناسب وصیتیں ۵۰۶
و صیت کا فلسفہ: ۵۱۰
وصیت میں عدالت: ۵۱۱
واجب اور مستحب وصیت: ۵۱۲
زندگی میں وصیت کو بدلا جاسکتاہے: ۵۱۲
وصیت۔ اصلاح کا ذریعہ: ۵۱۲
آیات ۱۸۳،۱۸۴،۱۸۵ ۵۱۳
روزہ تقوی کا سرچشمہ ہے: ۵۱۳
روزے کے تربیتی و اجتماعی اثرات: ۵۱۸
(!!) روزے کے معاشرتی اثرات: ۵۱۹
(!!!) روزے کے طبی اثرات: ۵۲۰
روزہ گذشتہ امتوں میں : ۵۲۳
رمضان مبارک کی خصوصیت اور امتیاز: ۵۲۵
دعا او ر تضرع و زاری ۵۲۷
دعا اور زاری کا فلسفہ: ۵۲۹
دعا کا حقیقی مفہوم: ۵۳۲
دعا کی قبولیت کی شرائط: ۵۳۴
نتیجه ۵۳۶
آیت ۱۸۷ ۵۳۸
شان نزول ۵۳۸
۱. حدود الهی ۵۳۹
۲. اعتکاف ۵۴۰
۳. طلوع فجر ۵۴۰
4. ابتداء و انتهاء تقوی هی تقوی ہے 542
اختتامیہ ۵۴۲