یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
کتاب:تفسیر نمونہ جلد پنجم
تالیف : آیۃ اللہ مکارم شیرازی
آیت ۶۷
۶۷( یَااٴَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ إِنَّ اللهَ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ )
ترجمہ:
شروع الله کے نام سے جو رحمن ورحیم ہے ۔
۶۷ ۔ اے پیغمبر! جو کچھ تیرے پروردگار کی طرف سے تجھ پر نازل ہوا ہے اسے کامل طور سے (لوگوں تک) پہنچادو اور اگر تم نے (ایسا) نہ کیا تو گویا تم نے اس کا (کوئی) کار رسالت سرانجام ہی نہیں دیا اور خداوندتعالیٰ تمھیں لوگوں کے (ان تمام) خطرات سے (جن کا احتمال ہے)محفوظ رکھے گا اور خداوندتعالیٰ (ہٹ دھرم) کفار کی ہدایت نہیں کرتا ۔
انتخابِ جانشین پیغمبر ہی آخری کار سالت تھا
اس آیت کا ایک مخصوص لب ولہجہ ہے جو اسے اس سے پہلی آیات اور اس کے بعد کی آیات سے ممتاز کرتا ہے ۔ اس آیت میں روئے سخن صرف پیغمبر کی طرف ہے اور یہ آیت صرف انہی کی ذمہ داری کو بیان کرتی ہے ۔( یَااٴَیُّهَا الرَّسُولُ ) اے پیغمبر! سے اس آیت کی ابتدا ہورہی ہے اور یہ آیت صراحت اور تاکید کے ساتھ پیغمبر کو حکم دے رہی ہے کہ جو کچھ اُ ن پر اُن کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے اُسے لوگوں تک پہنچادیں( بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّک ) (۱) اس کے بعد (اس حکم کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے) تاکید مزید کے طور پر اس خطرے سے متنبّہ کرتا ہے کہ اگر تم نے یہ کام نہ کیا (حالانکہ وہ ہرگز اس کام کی سرانجام دہی کو ترک نہ کرتے ) تویہ ایسا ہوگا گویا تم نے (کوئی) کار رسالت سرانجام ہی نہیں دیا( وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ) ۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم کے اضطراب وپریشانی کو دور کرنے کے لئے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے: اس رسالت اور پیغام کی ادائیگی کے بارے میں تجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خدا تمھیں اُن خطرات سے محفوظ رکھے گا( وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاس ) ۔
اور آیت کے آخر میں اُن لوگوں سے جو اس مخصوص پیغام کا انکار کریں اور اس کے خلاف ہٹ دھرمی کرتے ہوئے کفر اختیار کرلیں ایک تہدید اور سزا کے عنوان سے یوں کہتا ہے: خدا ہٹ دھرمی کرنے والے کافروں کو ہدایت نہیں کرتا( إِنَّ اللهَ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ ) ۔
آیت کے جملوں کی بندش، اس کا مخصوص لب ولہجہ اور اس میں پے در پے تاکیدوں پر تاکیدیں اور آیت کا ”یا ایہا الرسل“ سے شروع ہونا جو تمام قرآن مجید میں صرف دو مقام پر ہے اور اس حکم کی تعمیل اور اس رسالت کی تبلیغ نہ کرنے کی صورت میں پیغمبر کو یہ تہدید کہ اگر تم نے اس حکم کے پہنچانے میں کوتاہی کی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے کوئی رسالت سرانجام ہی نہیں دیا جو قرآن میں صرف اسی آیت میں ہے، اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ گفتگو کسی ایسے اہم امر کے متعلق ہورہی ہے کہ جس کی تبلیغ نہ کرنا کوئی بھی کارِ رسالت سرانجام نہ دینے کے برابر ہے ۔
اس کے علاوہ اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ یہ موضوع ایسا تھا جس پر شدّت کے ساتھ مخالفت پیدا ہوچکی تھی اور اس موضوع کے مخالفین اتنے سخت تھے کہ اُن کی مخالفت کے پیش نظر پیغمبر بہت ہی پریشان تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس اعلان کو سن کر اسلام اور مسلمانوں کے لئے مشکلات پیدا کردیں اسی لئے خداوندتعالیٰ انھیں تسلی دیتا ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کونسا ایسا اہم مقصد ومطلب تھا جس کے پہنچانے کے لئے خداوندتعالیٰ اپنے پیغمبر کو اتنی تاکید کے ساتھ حکم دے رہا ہے؟ در آں حالیکہ جب ہم اس سورہ کے نزول کی تاریخ پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورہ مسلّماً پیغمبر کی عمر کے آخری دنوں میں نازل ہوئی ہے ۔
کیا یہ توحید اور شرک وبت پرستی سے مربوط مسائل تھے جو برسوں پہلے پیغمبر اور مسلمانوں کے لئے حل ہوچکے تھے؟
یا یہ مسائل احکام شرع اور قوانین اسلام سے متعلق تھے؛ جبکہ اس وقت تک اُن کے اہم ترین مسائل بیان ہوچکے تھے ۔
یا یہ مسائل اہلِ کتاب ویہود ونصاریٰ سے مربوط تھے؛ حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ بنی النضیر، بنی قریضہ اور بنی قینقاع نیز خیبر وفدک اور نصارائے نجران کے واقعہ کے بعد اہلِ کتاب کا کوئی مسئلہ مسلمانوں کے لئے مشکل نہیں سمجھا جاتا تھا ۔
یا اس کا رابطہ منافقین کے ساتھ تھا ؟ در آنحالیکہ ہمیں معلوم ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب اسلام کا پورے جزیرے نمائے عرب پر تسلط اور نفوذ ہوگیا تھا تو منافقین کا معاشرے میں کوئی مقام ہی نہیں رہا تھا اور ان کی قوت بالکل ٹوٹ چکی تھی اور ان کے پاس جو کچھ تھا وہ ان کے باطن میں تھا ۔
حقیقتاًاب وہ کونسا اہم مسئلہ تھا جو پیغمبر کی زندگی کے آخری دنوں میں باقی رہ گیا تھا کہ مذکورہ بالا آیات جس کے بارے میں اس قسم کی تاکید کررہی ہے ۔
اس حقیقت میں بھی تردید کی گنجائش نہیں ہے کہ پیغمبر کا اضطراب اور پریشانی اپنی ذات اور اپنے نفس کے لئے نہیں تھی بلکہ مخالفین کی طرف سے ان احتمالی کارشکنیوں اور مخالفین کے بارے میں تھی جن کا نتیجہ مسلمانوں کے لئے خطرات اور نقصانات کی صورت میں نکلتا ۔
تو کیا پیغمبر کے جانشین کے تعین اور اسلام ومسلمین کی آئندہ سرنوشت کے سوا کوئی مسئلہ ایسا ہوسکتا ہے جس میں یہ صفات پائی جاتی ہوں ۔
اب ہم اُن مختلف روایات کی طرف لوٹتے ہیں جو اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کی متعدد کتابوں میں آیتِ مذکور بالا کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ان روایات سے مذکورہ احتمال کے ثابت کرنے میں کہاں تک استفادہ ہوتا ہے ۔ اس کے بعد ہم اُن اعتراضات اور سوالات پر بحث کریں گے جو اس تفسیر کے بارے میں اہل سنت کے بہت سے مفسّرین کی طرف سے ظاہر کئے گئے ہیں ۔
آیت کی شان نزول
اگرچہ انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس آیت سے مربوط حقائق کسی قسم کی پردہ پوشی کے بغیر تمام مسلمانوں کے ہاتھوں تک نہیں پہنچائے گئے اور پہلے سے کئے گئے اور مذہبی تعصّبات اس کے اظہار سے مانع ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود اہلِ سنت کے علماء کی تحریر کردہ مختلف کتابوں میں خواہ وہ تفسیر کی کتابیں ہوں یاحدیث وتاریخ کی، اُن میں بہت زیادہ روایات ایسی ملتی ہیں جو صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ آیت مذکورہ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ ان روایات کو بہت سے اصحاب پیغمبر نے نقل کیا ہے ۔ مثلاًز ید ابن ارقم، ابوسعید خُدری، ابن عباس، جابر ابن عبد الله انصاری، ابوہریرہ، برآء ابن عازب، حذیفہ، عامر بن لیلی بن ضرہ اور ابن مسعود۔ یہ سب کے سب اصحاب پیغمبر اس بات پر متفق ہیں کہ آیت مذکور حضرت علی علیہ السلام اور واقعہ غدیر کے متعلق ہی نازل ہوئی ہے ۔
یہ احادیث مذکورہ اصحاب پیغمبر سے مختلف طرق سے،
ابوسعید خدری کی بیان کردہ حدیث گیارہ طرق سے،
ابن عباس کی بیان کردہ حدیث گیارہ طرق سے اور برآء بن عازب کی بیان کردہ حدیث تین طرق سے نقل کی گئی ہے ۔
جن علماء نے اپنی کتابوں میں ان احادیث کو تصریح کے ساتھ بیان کیا ہے وہ بہت زیادہ ہیں جن میں سے بعض کے نام نمونہ کے طور پر ذکر کررہے ہیں :
۱ ۔ حافظ ابو نعیم اصفہانی نے اپنی کتاب ”مانزل من القرآن فی علی“ میں بحوا لہ خصائص ص/ ۲۹ یہ روایت درج کی ہے ۔
۲ ۔ ابوالحسن واحدی نیشاپوری نے ”اسباب النزول“ ص/ ۱۵۰ میں ۔
۳ ۔ حافظ ابو سعید سجستانی نے کتاب ”الولایہ“ میں کتاب ”طرائف“ کے حوالے سے ۔
۴ ابن عساکر شافعی نے ”درمنثور“ ج ۲/ ص ۲۹۰ کے حوالے سے ۔
۵ ۔ فخر الدین رازی نے ”تفسیر کبیر“ ،ج ۳ ، ص ۶۳۶ میں ۔
۶ ۔ ابو اسحاق حموینی نے ”فرائد السمطین“ میں ۔
۷ ۔ ابن صباغ مالکی نے ”فصول المہمہ“، ص ۲۷ پر ۔
۸ ۔ جلال الدین سیوطی نے ”درّ منثور“، ج ۲ ، ص ۲۹۸ میں ۔
۹ ۔ قاضی شوکانی نے ”فتح القدیر“، ج ۳ ، ص ۵۷ میں ۔
۱۰ ۔ شہاب الدین آلوسی نے ”روح المعانی“ ج ۶ ، ص ۱۷۲ پر ۔
۱۱ ۔ شیخ سلیمان قندوزی حنفی نے”بیابیع المودة“ میں ص ۱۲۰ پر ۔
۱۲ ۔ بدرالدین حنفی نے ”عمدة القاری فی شرح البخاری“ ج ۸ ، ص ۵۸۶ پر ۔
۱۳ ۔ شیخ محمد عبدہ مصری نے تفسیر المنار، ج ۶ ، ص ۴۶۳ پر ۔
۱۴ ۔ حافظ ابن مردویہ (متوفی ۴۱۶) نے سیوطی کے حوالے سے ۔
ان کے علاوہ اور بھی بہت سے علماء اہل سنت نے آیت مذکورہ کی یہی شان نزول بیان کی ہے اس سے یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ مذکورہ علماء ومفسّرین نے آیت کے حضرت علی علیہ السلام کی شان نزول کو قبول بھی کرلیا ہے بلکہ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ اُنھوں نے اس مطلب سے مربوط روایات کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ۔
اگرچہ اس معاشرے کے مخصوص حالات کے خوف سے یا پہلے سے کئے ہوئے غلط فیصلے کی بناپر صحیح فیصلہ کرنے میں حائل ہوتی ہے، بعض نے تو یہ کوشش کی ہے کہ جتنا بھی ہوسکے اس کی اہمیت کو گھٹاکر پیش کیا جائے ۔ مثلاً فخرالدین رازی نے جس کا تعصّب مخصوص مذہبی مسائل میں مشہور ومعروف ہے، اس شان نزول کی اہمیت کم کرنے کے لئے اسے آیت کا دسواں احتمال قرار دیا ہے اور دوسرے نو احتمال جو انتہائی کمزور اور بہت ہی بے ہودہ اور بے وقعت ہیں انھیں پہلے بیان کیا ہے ۔
فخرالدین رازی پر زیادہ تعجب نہیں کیونکہ اس کی تو ہر جگہ یہی روش ہے لیکن تعجب تو اُن روشن فکرلکھنے والوں پر ہوتا ہے جنہوں نے اس آیت کی شان نزول کے بارے میں کہ جس سے مختلف قسم کی کتابیں بھری پڑی ہیں مطقاً کوئی گفتگو ہی نہیں کی یا اِس کو اتنی کم اہمیت دی ہے کہ کسی کی اس طرف توجہ ہی نہ جائے، جیسا کہ سید قطب نے ”فی ظلال“ میں اور رشید رضا نے ”المنار“ میں اس کی شان نزول کو بالکل بیان ہی نہیں کیا ۔
ہمیں نہیں معلوم کہ آیا ان کا ماحول اس حقیقت کو بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا یا تعصب آمیز فکری حجاب اتنا زیادہ تھے کہ روشن فکری کی بجلی کی چمک اُن پَردوں کو ہٹاکر اس حقیقت کی گہرائی تک نہ پہنچ سکی ۔
البتہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنھوں نے اس آیت کی شان نزول کو حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں برملا طور پر تسلیم کیا ہے ۔ لیکن انھوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ یہ آیت مسئلہ ولایت و خلافت پر ولایت کرتی ہے ہم ان کے اعتراضات اور جوابات انشاء اللہ آگے چل کر بیان کریں گے ۔
بہر حال جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں کہ وہ روایات جو اس بارے میں شیعہ کتب ہی میں نہیں بلکہ اہل سنت کی معروف کتابوں میں بھی ہیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا انکار کیا ہی نہیں جاسکتا اور نہ ہی انھیں آسانی کے ساتھ نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔
ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ قرآن مجید کی دوسری آیات کی شان نزول میں تو ایک دو احادیث پر ہی اِکتفا کر لیا جاتا ہے لیکن اِس آیت کی شان نزول کے بارے میں اتنی کثیر روایات کو بھی کیوں کافی نہیں سمجھا جاتا؟ کیا یہ آیت ایسی خصوصیت رکھتی ہے جو دوسری آیات نہیں رکھتیں ؟ اور کیا اس آیت کے سلسلے میں اس سخت رویّے کے متعلق کوئی منطقی دلیل مل سکتی ہے؟
دوسری بات جس کی یاد دہانی اس مقام پر ضروری ہے یہ ہے کہ جو روایات ہم نے اوپر بیان کی ہیں وہ تو صرف وہ تھیں جو اس آیت کے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہونے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں (یعنی وہ روایات تھیں جو اس آیت کی شانِ نزول کے متعلق تھیں ) ورنہ وہ روایات جو غدیر خم کے مقام پر پیغمبر اکرم (ص) کے خطبہ پڑھنے اور حضرت علی علیہ السلام کا بطور وصی و ولی کے تعارف کرانے کے بارے میں منقول ہیں وہ تو اُن سے کئی گنا زیادہ ہیں ۔ چنانچہ علامہ امینی نے اپنی کتاب ”الغدیر“کو ۱۱۰ اصحاب پیغمبر سے اور ۸۴ تابعین سے اور ۳۶۰ علماء سے اور مشہور کتب اسلامی سے اسناد و مدارک کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ یہ صورتِ حال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مذکورہ حدیث قطعی ترین متواتر احادیث میں سے ہے اور اگر کوئی شخص ایسی حدیث و روایت کے قطعی و یقینی ہونے میں بھی شک و شبہ کرے تو پھر یہ کہنا پڑے گا کہ وہ کسی بھی متواتر حدیث کو قبول نہیں کرسکتا ۔ ان تمام روایات کے متعلق بحث کرنا جو آیت کی شانِ نزول کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور اسی طرح اُن تمام روایات کے سلسلہ میں گفتگو کرنا جو حدیث غدیر کے متعلق نقل ہوئی ہیں ایک ضخیم کتاب کا محتاج ہے ۔ ان کا تفصیلی بیان ہمیں تفسیر کے دائرے سے خارج کردے گا لہٰذا ہم اسی مقدار پر قناعت کرتے ہیں اور ان اشخاص کو جو اس سلسلہ میں مزید مطالعہ کرنا چاہتے ہیں یہ دعوت دیتے ہیں کہ وہ سیوطی کی ”درمنثور“، علامہ کی ”الغدیر“، نور اللہ شوستری کی ”احقاق الحق“، شرف الدین کی ”المراجعات“ اور محمد حسن مظفر کی ”دلائل الصدق“ جیسی کتابوں کی طرف رجوع کرے ۔
____________________
۱۔ لفظ ”بلّغ“ جیسا کہ راغب اصفہانی نے مفردات میں لکھا ہے ”ابلغ“ کی نسبت زیادہ تاکید ظاہر کرتا ہے ۔
واقعہ غدیر کا خلاصہ
بہت سی روایات جو اس سلسلے میں وارد ہوئی ہیں باوجودیکہ سب کی سب ایک ہی واقعہ کے گرد گھومتی ہیں پھر بھی طرح طرح کی تعبیرات کی حامل ہیں ۔ بعض روایات بہت مفصل اور طویل ہیں ، بعض مختصر لیکن نپی تلی ہیں ، بعض روایات اس واقعہ کا ایک گوشہ بیان کرتی ہیں تو دوسری روایات اس واقعہ کے دوسرے پہلو پروشنی ڈالتی ہوئی نظر آتی ہیں لیکن ان تمام روایات کے مجموعے اور اسلامی تواریخ، قرائن وحالات اور ماحول ومقامِ واقعہ کے مطالعہ سے یہ واقعہ سامنے آتا ہے:
پیغمبر اکرم کی زندگی کا آخری سال تھا ۔ حجة الوداع کے مراسم جس قدر باوقار وپرشکوہ ہوسکتے اُس قدر پیغمبر اکرم کی ہمراہی میں اختتام پذیر ہوئے ۔ سب کے دل روحانیت سے شرسار تھے ابھی اُن کی روح اس عظیم عبادت کی معنوی لذّت کا ذائقہ محسوس کررہی تھی ۔ اصحاب پیغمبر جن کی تعداد بہت زیادہ تھی اس عظیم نعمت سے فیضیاب ہونے اور اس سعادت کے حاصل ہونے پر جامے میں پھولے نہیں سماتے تھے(۱)
نہ صرف مدینے کے لوگ اس سفر میں پیغمبر کے ساتھ تھے بلکہ جزیرہ نمائے عرب کے دیگر مختلف حصّوں کے مسلمان بھی یہ تاریخی اعزاز وافتخار حاصل کرنے کے لئے آپ کے ہمراہ تھے ۔
سرزمین حجازکا سورج درّوں اور پہاڑوں پر آگ بر سار ہا تھا لیکن اس سفر کی بے نظیر روحانی مٹھاس تمام تکلیفوں کو آسان بنارہی تھی ۔ زوال کا وقت نزدیک تھا ۔ آہستہ آہستہ جحفہ کی سرزمین اور اس کے بعد خشک اور جلانے والے ”غدیر خم“ کے بیابان نظر آنے لگے ۔
در اصل یہاں پر ایک چوراہا ہے جو حجاز کے لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے ۔ شمالی راستہ مدینہ کی طرف، دوسرا مشرقی راستہ عراق کی طرف، تیسرا راستہ مغربی ممالک اور مصر کی طرف اور چوتھا جنوبی راستہ سرزمین یمن کو جاتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں پر آخری مقصد اور اس عظیم سفر کا اہم ترین کام انجام پذیر ہونا تھا تاکہ مسلمان پیغمبر کی اہم ذمہ داریوں میں سے اُن کا آخری حکم جان کر ایک دوسرے سے جدا ہوں ۔
جمعرات کا دن تھا اور ہجرت کا دسواں سال۔ آٹھ دن عید قربان کو گزرے تھے کہ اچانک پیغمبر کی طرف سے ان کے ہمراہیوں کو ٹھہرجانے کا حکم دیا گیا ۔ مسلمانوں نے بلند آواز سے اُن لوگوں کو جو قافلہ کے آگے آگے چل رہے تھے واپس لوٹنے کے لئے پکارا اور اتنی دیر کے لئے ٹھہر گئے کہ پیچھے آنے والے لوگ بھی پہنچ جائیں ۔ آفتاب خط نصف النہار سے گزر گیا تو پیغمبر کے موذّن نے الله اکبر کی صدا کے ساتھ لوگوں کو نمازِظہر پڑھنے کی دعوت دی ۔ مسلمان جلدی جلدی نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ لیکن فضا اتنی گرم تھی کہ بعض لوگ مجبور تھے کہ وہ اپنی عبا کا کچھ حصّہ پاؤں کے نیچے اور باقی سر کے اوپر لے لیں ۔ ورنہ بیابان کی گرم ریت اور سورج کی شعاعیں ان کے سر اور پاؤں کو تکلیف دے رہے تھے ۔ اس صحرا میں نہ کوئی سائبان نظر آتا تھا اور نہ ہی کوئی سبزہ یا گھاس صرف چند بے برگ وباربیابانی درخت تھے جو گرمی کا سختی کے ساتھ مقابلہ کررہے تھے کچھ لوگ اُنہی چند درختوں کاسہارا لئے ہوئے تھے اور انھوں نے اُن برہنہ درختوں پر ایک کپڑا ڈال رکھا تھا اور پیغمبر کے لئے ایک سائبان سا بنارکھا تھا لیکن گرم ہوا اس سائبان کے نیچے سے گزرتی ہوئی سورج کی جلانے والی گرمی کو اُس سائبان کے نیچے بھی پھیلا رہی تھی ۔ بہرحال ظہر کی نماز پڑھ لی گئی ۔
مسلمان ارادہ کررہے تھے کہ فوراً اپنے چھوٹے چھوٹے خیموں میں جاکر پناہ لیں جو اُنھوں نے اپنے ساتھ اٹھارکھے تھے لیکن رسول اللہ نے انھیں آگاہ کیا کہ وہ سب کے سب خداوند تعالیٰ کا ایک نیا پیغام سننے کے لئے تیار ہوں جسے ایک مفصل خطبے کے ساتھ بیان کیا جائے گا ۔
جو لوگ رسول اللہ سے دور تھے وہ پیغمبر کا ملکوتی چہرہ اس عظیم اجتماع میں دور سے نہیں دیکھ پارہے تھے لہٰذا اونٹوں کے پالانوں کا منبر بنایا گیا ۔ پیغمبر اس کے اوپر تشریف لے گئے ۔ پہلے پروردگار عالم کی حمد و ثنا بجالائے اور خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے یوں خطاب فرمایا: میں عنقریب خداوندتعالیٰ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے تمھارے درمیان سے جارہا ہوں میں بھی جوابدہ ہوں اور تم بھی جوابدہ ہو تم میرے بارے میں کیا گواہی دوگے؟ لوگوں نے بلند آواز میں کہا: ”نشہد انک قد بلغت ونصحت وجہدت فجزاک الله خیراً“ یعنی ہم گواہی دیں گے آپ نے فریضہ رسالت انجام دیا اور خیر خواہی کی ذمہ داری کو انجام دیا اور ہماری ہدایت کی راہ میں سعی وکوشش کی، خدا آپ کو جزائے خیر دے ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ خدا کی وحدانیت، میری رسالت اور روز قیامت کی حقانیت اور اُ س دن مردوں کے قبروں سے مبعوث ہونے کی گواہی نہیں دیتے؟
سب نے کہا: کیوں نہیں ہم سب گواہی دیتے ہیں ۔
آپ نے فرمایا: خداوندا گواہ رہنا ۔
آپ نے مزید فرمایا: لوگو! کیا تم میری آواز سن رہے ہو؟
انھوں نے کہا: جی ہاں ۔
اس کے بعد سارے بیابان پر سکوت کا عالم طاری ہوگیا ۔ سوائے ہوا کی سنسناہٹ کے کوئی چیز سنائی نہیں دیتی تھی ۔
پیغمبر نے فرمایا: دیکھو! میں تمھارے درمیان دو گرانمایہ اور گرانقدر چیزیں بطور یادگار کے چھوڑے جارہا ہوں تم اُن کے ساتھ کیا سلوک کروگے؟
حاضرین میں سے ایک شخص نے پکار کر کہا: یا رسول الله! وہ دو گرانمایہ چیزیں کونسی ہیں ؟
تو پیغمبر اکرم نے فرمایا: پہلی چیز تو الله تعالیٰ کی کتاب ہے جو ثقل اکبر ہے ۔ اس کا ایک سرا تو پروردگار عالم کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمھارے ہاتھ میں ہے، اس سے ہاتھ نہ چھڑانا ورنہ تم گمراہ ہوجاؤگے اور دوسری گرانقدر یادگار میرے اہلِ بیت ہیں اور مجھے خدائے لطیف وخبیر نے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ بہشت میں مجھ سے آملیں گے ۔
ان دونوں سے آگے بڑھنے( اور ان سے تجاوز کرنے) کی کوشش نہ کرنا اور نہ ہی اُن سے پیچھے رہنا کہ اس صورت میں تم ہلاک ہوجاؤگے ۔
اچانک لوگوں نے دیکھا کہ رسول الله اپنے اردگرد نگاہیں دوڑا رہے ہیں گویا کسی کو تلاش کررہے ہیں جو نہی آپ کی نظر حضرت علی علیہ السلام پر پڑی فوراً اُن کا ہاتھ پکڑ لیا اور اتنا بلند کیا کہ دونوں کی بغلوں کے نیچے کی سفیدی نظر آنے لگی اور سب لوگوں نے انھیں دیکھ کر پہچان لیا کہ یہ تو اسلام کا وہی سپہ سالار ہے کہ جس نے کبھی شکست کا منھ نہیں دیکھا ۔
اس موقع پر پیغمبر کی آواز زیادہ نمایاں اور بلند ہوگئی اور آپ نے ارشاد فرمایا:
”ایها الناس من اولی الناس بالمومنین من انفسهم “
یعنی ۔ اے لوگو! بتاؤ وہ کون ہے جو تمام لوگوں کی نسبت مومنین پر خود اُن سے زیادہ اولویت رکھتا ہے؟ اس پر سب حاضرین نے بہ یک آواز جواب دیا کہ خدا اور اس کا پیغمبر بہتر جانتے ہیں ۔
تو پیغمبر نے فرمایا: خدا میرا مولا ورہبر ہے اور میں مومنین کا مولا ورہبر ہوں اور ان کے اوپر ان کی نسبت خود اُن سے زیاد حق رکھتا ہوں (اور میرا ارادہ ان کے ارادے سے مقدم ہے)۔
اس کے بعد فرمایا:
”فمن کنت مولاہ فعلی مولاہ“ یعنی جس جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس اس کا مولا ورہبر ہے ۔
پیغمبر اکرم نے اس جملے کی تین مرتبہ تکرار کی اور بعض روایوں کے قول کے مطابق پیغمبر نے یہ جملہ چار مرتبہ دہرایا اور اُس کے بعد آسمان کی طرف سر بلند کرکے بارگاہ خداوندی میں عرض کی:
”اللهم وال من والاه وعاد من عاداه واحب من احبه وابغض من ابغضه وانصر من نصره واخذل من خذله وادر الحق معه حیث دار“
یعنی ”بارالٰہا! جو اس کو دوست رکھے تو اس کو دوست رکھ اور جو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی رکھ۔ جو اس سے محبت کرے تو اُس سے محبت کر اور اس سے بغض رکھے تو اس سے بغض رکھ ، جو اس کی مدد کرے تو اُس کی مدد کر، جو اس کی مدد سے کنارہ کشی کرے تو اسے اپنی مدد سے محروم رکھ اور حق کو ادھر پھیر دے جدھر وہ رُخ کرے“۔
اس کے بعد فرمایا:” الا فلیبلغ الشاهد الغائب “ یعنی : تمام حاضرین آگاہ ہوجائیں اس بات پر کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو اُن لوگوں تک پہنچائیں جو یہاں پر اور اس وقت موجود نہیں ہیں ۔ پیغمبر کا خطبہ ختم ہوگیا ۔ پیغمبر پسینے میں شرابور تھے حضرت علی علیہ السلام بھی پسینے میں نہائے ہوئے تھے ۔ دوسرے تمام حاضرین کے بھی سر سے پاؤں تک پسینہ بہ رہا تھا ۔ ابھی اس جمعیت کی صفیں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئی تھیں کہ جبرئیل امین وحی لے کر نازل ہوئے اور تکمیل دین کی پیغمبر کو بایں الفاظ بشارت دی :
”الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی الخ.“
”آج کے دن میں نے تمہارے دین اور آئین کو کامل کردیا اور اپنی نعمت کو تم پر تمام کردیا“۔
اتمام نعمت کا پیغام سن کر پیغمبر نے فرمایا:
”الله اکبرالله اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمة ورضی الرب برسالتی و الولایة لعلی من بعدی“
ہر طرح کی بزرگی و بڑائی خداہی کے لئے ہے کہ جس نے اپنے دین کو کامل فرمایا اور اپنی نعمت کو ہم پر تمام کیا اور میری نبوت و رسالت اور میرے بعد کے لئے علی کی ولایت کے لئے خوش ہوا ۔
امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کا پیغمبر کی زبان مبارک سے اعلان سُن کر حاضرین میں مبارک باد کا شور برپا ہوا، لوگ بڑھ چڑھ کر اُس اعزاز و منصب پر حضرت علی علیہ السلام کو اپنی طرف سے مبارک مباد پیش کررہے تھے ۔ معروف شخصیتوں میں سے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی طرف سے مبارک باد کے یہ الفاظ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں کہ انھوں نے کہا:
”بِخٍّ بِخٍّ لک یا بن ابی طالب اصبحت وامسیت مولای ومولا کل مومن ومومنة“
مبارک ہو! مبارک ہو! اسے فرزند ابی طالب کہ آپ میرے اور تمام صاحبان ایمان مردوں اور عورتوں کے مولا ورہبر ہوگئے ۔
اس وقت ابن عباس نے کہا: بخدا یہ عہد وپیمان سب کی گردنوں میں باقی رہے گا ۔ عرب کے مشہور شاعر مدّاح رسول ”حسان بن ثابت“ نے پیغمبر سے اجازت لے کر اس موقع کی مناسبت سے ایک قصیدہ پڑھا جس کے ابتدائی اشعار یہ ہیں :
ینادیهمِ یَومَ الغدیرِ نبیهّم
بِخُمٍّ وَاسمَعْ بالرّسولِ مُنادیاً
فقال: فمن مولاکم و نبیّکم
فقالوا ولم یَبْدُوا هناک التّعامیا
الٰهک مولنا وانت نَبِیُّنَا
لَم تلق منّا فی الولایةِ عاصیا
فقال له: قُم یا علیُّ فاننّی
رضیتُکَ من یعدی اماماً و هادیا
فمن کنتُ مولاه فهذاولیّه
فکونوا لهُ اتباع صِدقِ موالیاً
هناک دعا: اللهُمّ و ال ولیّه
و کُن لِلّذی عادا علیًا معادیاً
”یعنی پیغمبر نے غدیر کے دن خم کے مقام پر اُنھیں ندا دی اور پکارا اور یہ پکارنے والا کس قدر گرامی قدر تھا“۔
”فرمایا: تمھارا مولا اور تمھارا نبی کون ہے؟ تو انھوں نے بلاتردّد صراحت کے ساتھ جواب دیا“
”کہ آپ کا خدا ہمارا مولا اور آپ ہمارے پیغمبر ہیں اور ہم آپ کی ولایت کے قبول کرنے سے روگردانی نہیں کریں گے“
”اس پر پیغمبر اکرم نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا: کھڑے ہوجاؤ کیونکہ میں نے تمھیں اپنے بعد امام اور رہبر منتخب کیا ہے“
”اس کے بعد فرمایا: جس شخص کا میں مولا ورہبر ہوں یہ علی اس کے مولا ورہبر ہیں پس تم سچے دل سے ان کی پیروی کرنا“
”اس وقت پیغمبر نے عرض کیا: بارالٰہا! اس کے دوست کو دوست اور اس کے دشمن کو دشمن رکھ نا“(۲)
یہ تھا مشہور حدیث غدیر کا خلاصہ جو اہل سنت اور شیعہ کتب میں موجود ہے ۔
____________________
۱۔ پیغمبر اکرم کے ہمراہ جانے والوں کی تعداد بعض نے ۹۰ ہزار،بعض نے ۱۱۴ ہزار، بعض نے ۱۲۰ ہزار اور بعض نے ۱۲۴ ہزار لکھی ہے ۔
۲۔ یہ اشعار اہل سنت کے بہت سے علماء نے نقل کئے ہیں ان میں حافظ ابونعیم اصفہانی، حافظ ابو سعید سجستانی، خوارزمی مالکی، حافظ ابو عبدالله مرزبانی گنجی شافعی، جلال الدین سیوطی، سبط ابن جوزی اور صدر الدین حموی کے نام لئے جاسکتے ہیں ۔
جرح وتنقید اور اعتراضات
اس میں شک نہیں کہ اگر یہ آیت خلافتِ علی کے علاوہ کسی دوسرے موضوع سے متعلق ہوتی تو جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ ان روایات اور خود آیت میں موجود قرائن سے کم مقدار پر بھی قناعت کرلی جاتی جیسا کہ دنیائے اسلام کے بڑے بڑے مفسّرین نے قرآن کریم کی باقی تمام آیات کی تعبیر میں بعض اوقات زیر نظر آیت کے موجود مدارک کے دسویں حصّہ بلکہ اس سے بھی کم تر پر قناعت کرلی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس مقام پر تعصّب کے پردے بہت سے حقائق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بن گئے ہیں ۔
جن لوگوں نے اس آیت کی تفسیر اور اُن متعدد روایات کے متعلق جو اس آیت کی شان نزول کے بارے میں بیان ہوئی ہیں اختلاف کیا ہے اور حدِّ تواتر سے بڑھی ہوئی اُن روایات کے مقابلے میں علم مخالفت بلند کیا ہے جو دراصل واقعہ غدیر کے متعلق ہیں دوقسم کے ہیں :
پہلی قسم ان لوگوں کی ہے کہ جو شروع ہی سے نہ صرف دشمنی اور ہٹ دھرمی سے اس پر بحث کرتے ہیں بلکہ انھوں نے شیعوں کی ہتک وتوہین، بدگوی اور دشنام طرازی کا راستہ اختیار کیا ہے ۔
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جنھوں نے روح تحقیق کی حفاظت کی ہے اور وہ کسی حد تک حقیقت کی تہ تک پہنچ گئے ہیں لہٰذا انھوں نے استدلال کی راہ اپنائی ہے اسی بناپر انھوں نے حقائق کے ایک حصّے کا اعتراف کرلیا ہے ۔ لیکن انھوں نے اس آیت اور اس سے مربوط روایات بیان کرنے سے پہلے کچھ اشکالات بیان کئے ہیں اور وہ اشکالات جو شاید اُن حالات کا نتیجہ تھے جو اُن کے فکری ماحول پر محیط تھا، بیان کرنے کے بعد اس آیت اور اس آیت سے مربوط روایات ذکر کی ہیں ۔
پہلے گروہ کا واضح نمونہ ابن تیمیہ ہے اس نے اپنا موقف کتاب ”منہاج السنة“ میں بیان کیا ہے اس میں اس کی حالت بالکل اس شخص کی طرح ہے جو روز روشن میں اپنی آنکھیں بند کرلے اور اپنی انگلیاں زور سے کانوں میں ٹھونس لے اور چلّانا شروع کردے کہ سورج کہاں ہے ۔ نہ تو وہ اپنی آنکھوں کو کھولنے کے لئے تیار ہوتا ہے کہ کچھ حقائق کو دیکھ لے، نہ کانوں سے انگلیاں نکالنے پر آمادہ ہوتا ہے کہ کچھ اسلامی محدثین ومفسّرین کی داد وفریاد سن سکے، بس مسلسل اور پے درپے گالیاں دیئے چلے جارہا ہے اور ہتک حرمت پر کمربستہ ہے ۔ ایسے افراد جہالت، بے خبری، ہٹ دھرمی اور خشونت آمیز تعصّب کے ہاتھوں اتنے مجبور ہیں کہ ایسے واضح اور بدیہی مسائل کا بھی انکار کردیتے ہیں جن کا ہر آدمی آسانی کے ساتھ اِدراک کرسکتا ہے ۔ لہٰذا ایسے شخص کی باتیں نقل کرنے کی ہم اپنے آپ کو زحمت دیتے ہیں اور نہ ہی ان کے جوابات پڑھنے کی تکلیف قارئین کو دیتے ہیں کیونکہ عظیم اسلامی علماء ومفسرین جن کی اکثریت علماء اہل سنت میں سے ہے جنھوں نے نے تصریح کی ہے کہ یہ آیت حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور جو شخص ان کے خلاف ڈھٹائی سے کہے کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی ایسی کوئی چیز اپنی کتاب میں نقل نہیں کی، ایسے شخص کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں اور ایسے آدمی کی بات کیا وزن رکھتی ہے کہ جس پر ہم بحث کریں ۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ”ابن تیمیہ“ نے اُن بہت سی معتبر کتابوں کے مقابلے میں کہ جن میں اس آیت کے حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہونے کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اپنی برائت کے لئے اس مضحکہ خیز جملہ پر اکتفا کیا ہے:
”اُن علماء میں سے جویہ جانتے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں کوئی بھی اس آیت کوحضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہونے کو نہیں جانتا“
گویا صرف وہ علماء جو ابن تیمیہ کے عناد آلود ہٹ دھرمی کے افراط زدہ میلانات کے ساتھ ہم آواز ہیں صرف وہی ”سمجھتے ہیں کہ کیا کہہ رہے“ ورنہ جو شخص اس کا ہم آواز نہیں ہے وہ ایسا دانشمند ہے کہ جسے یہ پتہ ہی نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔ یہ ایسے شخص کی منطق ہے کہ جس کی فکر خود خواہی اور ہٹ دھرمی سایہ فگن ہے ۔ ہم اس گروہ کا ذکر یہیں پر چھوڑتے ہیں ۔
البتہ ان اعتراضات میں سے جو دوسرے گروہ نے کئے ہیں اُن میں چند قابل بحث ہیں جنھیں ہم ذیل میں آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں ۔
۱ ۔ کیا مولیٰ کا معنی اولیٰ بالتصرف ہے؟
اہم ترین اعتراض جو حدیث غدیر کے سلسلہ میں کیا جاتا ہے یہ ہے کہ ”مولیٰ“ کے معانی میں سے ایک معنی دوست اور یاور ومددگار بھی ہے اور یہ معلوم نہیں ہے کہ یہاں یہ معنی مراد نہ ہو!
اس بات کا جواب کوئی مشکل یا پیجیدہ نہیں ہے کیونکہ ہر غیر جانبدار دیکھنے والا شخص جانتا ہے کہ علی کی دوستی کے ذکر اور یاددہانی کے لئے ان مقدمات وتشکیلات اور خشک جلادینے والے بیابان کے وسط میں خطبہ پڑھنے اور لوگوں کو وہاں ٹھہرانے اور اُن سے پے درپے اقرار لینے اور اعتراف کرانے کی ضرورت نہیں تھی ۔ کیونکہ مسلمانوں کا ایک دوسرے سے دوستی رکھنا مسائل اسلامی میں سے ایک بدیہی ترین مسئلہ تھا جو آغاز اسلام سے ہی موجود تھا، علاوہ از ایں یہ کوئی ایسا مطلب نہیں تھا کہ جس کی پیغمبر نے اُس وقت تک تبلیغ نہ کی ہو بلکہ آپ تو بارہا اس کی تبلیغ کرچکے تھے ۔
یہ کوئی چیز بھی نہیں تھی کہ جس کے اظہار سے آپ پریشان ہوں اور خدا کو اس کے لئے تسلی اور حفاظت کی ضمانت دینی پڑے ۔
یہ کوئی ایسا مسئلہ بھی نہیں تھا کہ خداوندعالم اس لب ولہجہ کے ساتھ اپنے پیغمبر سے گفتگو کرتا ”اگر اس کی تبلیغ نہ کی تو رسالت کی تبلیغ بھی نہ کی“ یہ سب چیزیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہ مسئلہ ایک عام دوستی سے کہیں اونچا تھا، وہ دوستی جو اسلام کے پہلے ہی دن سے اخوّت اسلامی کی الف کا حصّہ شمار ہوتی تھی ۔
علاوہ از ایں اگر اس سے ایک عام اور سادہ دوستی کا بیان کرنا ہی منظور ہوتا تو پیغمبر پہلے یہ اقرار لوگوں سے کیوں لیتے کہ ”الست اولیٰ بکم مِن انفسکم “ یعنی کیا میں تمھاری نسبت تمھارے نفوس پر خود تم سے زیادہ حقدار اور صاحب اختیار نہیں ہوں(۱)
کیا یہ جملہ ایک عام دوستی کے بیان کے ساتھ کسی خاص قسم کی مناسبت رکھتا ہے؟ نیز ایک عام دوستی تو یہ مقام نہیں رکھتی کہ لوگ یہاں تک کہ حضرت عمر جیسی شخصیت بھی حضرت علی - کو اس طرح سے مبارکباد اور تہنیت پیش کریں !( اصبحت مولای ومولا کل مومن ومومنة )
”اے علی ! آپ میرے اور ہر مومن مرد اور ہر مومن عورت کے مولا ہوگئے“
اور اِسے ایک نیا منصب اور اعزاز شمار کریں(۲)
کیا حضرت علی - اس دن تک ایک عام مسلمان کی حیثیت سے بھی پہچانےنہیں گئے تھے؛ کیونکہ ایک مسلمان کی دوستی تو تمام مسلمانوں پر لازم وضروری ہے ۔ کیا مسلمانوں کے لئے آپس میں ایک دوسرے سے دوستی کرنا کوئی نئی بات تھی کہ جس کے لئے مبارکباد دینے کی ضرورت ہو اور وہ بھی رسول الله کی عمر کے آخری سال میں ۔
علاوہ از ایں کیا حدیث ثقلین اور وداعِ پیغمبر سے تعلق رکھنے والی تعبیرات کا حضرت علی - کی دوستی کے مسئلہ سے بھی کوئی ربط ہوسکتا ہے؟ حضرت علی علیہ السلام کی مومنین کے ساتھ ایک عام دوستی کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ پیغمبر اکرم اُسے قرآن کے ہم پلّہ اور برابر قرار دے دیں(۳)
کیا ہر غیر جانبدار دیکھنے والا شخص اس تعبیر سے یہ نہیں سمجھتا کہ یہاں پر مسئلہ رہبری وامامت سے متعلق گفتگو ہورہی ہے؛ کیونکہ پیغمبر کی رحلت کے بعد قرآن مسلمانوں کا پہلا رہبر ہے لہٰذا اسی بنیاد پر اہلِ بیت علیہم السلام مسلمانوں کے دوسرے رہبر ہیں ۔
____________________
۱۔یہ جملہ متعدد روایات میں وارد ہوا ہے ۔
۲۔ اس واقعہ کے اس حصہ کو کہ جو حدیث تہنیت کے نام سے مشہور ہے، اہل سنت کے بہت سے عظیم علماء حدیث وتفسیر وتاریخ نے متعدد طریقوں سے بہت سے صحابہ سے نقل کیا ہے مثلاً: ابن عباس، ابوہریرہ، برآء ابن عازب اور زید ابن ارقم، مرحوم علامہ امینی نے ”الغدیر“ کی پہلی جلد میں اس حدیث کو اہل سنت کے ساٹھ علماء سے نقل کیا ہے ۔
۳۔حدیث ثقلین ان متواتر احادیث میں سے ہے جسے اہل سنت کی بہت سی کتابوں میں متعدد صحابہ سے نقل کیا گیا ہے مثلاً: ابوسعید خدری، زید ابن ارقم، زید بن ثابت، ابوہریرہ، حذیفہ بن اسید، جابر بن عبدالله انصاری، عبدالله بن خطب، عبد بن حمید، جبیر بن مطعم، ضمر واسلمی، ابوذر غفاری، ابورافع اور امّ سلمہ نے پیغمبر سے نقل کیا ہے ۔
۲ ۔ آیات کا ایک دوسرے کے ساتھ ربط
بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے قبل وبعد کی آیات اہل کتاب اور ان کی غلط کاریوں کے بارے میں ہیں ۔ خاص طور پر تفسیر المنار کے مولف نے جلد ۶ صفحہ ۴۶۶ پر اس مسئلہ پر زیادہ زور دیا ہے ۔ لیکن جیسا کہ ہم خود اس آیت کی تفسیر میں کہہ چکے ہیں کہ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے ؛ کیونکہ اوّل تو اس آیت کا لب ولہجہ اور اس کا قبل وبعد کی آیات سے فرق مکمل طور پر یہ نشاندہی کرتا ہے کہ اس آیت میں موضوع سخن کوئی ایسی چیز ہے جو قبل وبعد کی آیات سے مختلف ہے، دوسری بات یہ ہے کہ جیسا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ قرآن ایک کلاسیکی کتاب نہیں ہے کہ جس کے مطالب کو خاص حصّوں اور ابواب میں ترتیب کے ساتھ بیان گیا ہو، بلکہ جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی اور مختلف حادثات وواقعات رونما ہوتے گئے اُن کے مطابق نازل ہوتا رہا، لہٰذا ہم دیکھتے ہیں قرآن ایک جنگ کے متعلق بحث کرتے کرتے یکایک ایک فرعی حکم کا ذکر چھیڑ دیتا ہے ۔ یا جب وہ یہود ونصاریٰ کے بارے میں گفتگو کررہا ہوتا ہے تو اچانک ہی مسلمانوں کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے ایک اسلامی حکم اُن کے لئے بیان کردیتا ہے ۔
مزید وضاحت کے لئے ایک دفعہ اس بحث کی طرف رجوع فرمائیں جو ہم نے اس آیت کی تفسیر کے ابتدا میں کی ہے ۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض متعصب قسم کے لوگوں کو اس بات پر اصرار ہے کہ یہ آیت ابتدائے بعثت میں نازل ہوئی ۔ حالانکہ سورہ مائدہ پیغمبر کی زندگی کے آخری ایام میں نازل ہوا ہے اور اگر وہ یہ کہیں کہ صرف یہ ایک آیت مکہ میں ابتدائے بعثت میں نازل ہوئی ہے جسے آپ منوانا چاہتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ابتدائے بعثت میں نہ تو پیغمبر یہودیوں کے ساتھ برسرجنگ تھے اور نہ ہی عیسائیوں کے ساتھ ، اس بنیاد پر تو اس آیت کا قبل وبعد کی آیت سے کوئی تعلق ہی نہ رہے گا(غور کیجئے)۔
یہ سب چیزیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ آیت تعصب کے طوفان کی زد میں آگئی ہے اور اسی بناپر اس میں کئی طرح کے احتمالات پیدا کئے جاتے ہیں جبکہ اس جیسی دوسری آیات میں اُس قسم کی کوئی بات نہیں ہوتی ۔ ہر ایک اسی کوشش میں لگا ہوا ہے کہ کسی حیلہ وبہانہ سے یا کسی بے بنیاد ودستاویز کے ذریعہ اس کے مفہوم کو اس کے صحیح راستہ سے منحرف کردے ۔
۳ ۔ کیا یہ حدیث تمام کتبِ صحاح میں نقل ہوئی ہے؟
بعض کہتے ہیں کہ ہم کس طرح اس حدیث کو قبول کرسکتے ہیں جبکہ بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی کتاب میں اسے نقل کیا ہے، یہ اعتراض بھی عجائبات میں سے ہے کیونکہ اوّل تو بہت سی معتبر احادیث ایسی ہیں جنھیں علمائے اہل سنت نے قبول کیا ہے ۔ حالانکہ وہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نہیں ہیں اور یہ کوئی پہلی حدیث بھی نہیں کہ جس کی یہ وضع وکیفیت ہو۔
دوسری بات قابل غور یہ ہے کہ کیا ان کے نزدیک صرف یہی دو کتابیں معتبر ہیں ؛ حالانکہ یہ حدیث ان کے قابل اعتماد منابع اور کتب میں موجود ہے، یہاں تک کہ صحاح ستّہ( اہل سنت کی چھ مشہور کتابیں جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں )مثلاً سنن ابن ماجہ(۱) میں یہ حدیث موجود ہے اسی طرح مسند احمد حنبل(۲) میں یہ حدیث آئی ہے اور حاکم ذہبی اور ابن حجر جیسے علماء نے بھی اپنے شہرہ آفاق تعصب کے باوجود اس حدیث کے بہت سے طرق کے صحیح ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔
بنابر یں بعید نہیں کہ بخاری ومسلم اس مخصوص فضا اور گھُٹے ماحول میں صریحاً اپنی کتاب میں ایسی چیز نہ لکھ سکے ہوں یا نہ لکھنا چاہتے ہوں جو اُن کے وقت کے صاحبانِ اقتدار کے مزاج کے خلاف تھی ۔
____________________
۱۔جلد اوّل، ص۵۵ و۵۸.
۲۔مسند احمد حنبل، ج۱، ص۸۴۔۸۸، ۱۱۸۔۱۱۹، ۱۵۲، ۳۳۱، ۳۸۱، ۳۷۱.
۴ ۔ حضرت علی - نے اور اہلِ بیت نے اِس حدیث سے استدلال کیوں نہیں کیا؟
بعض حضرات کہتے ہیں کہ اگر حدیث غدیر اس عظمت کے ساتھ موجود تھی تو خود حضرت علی -نے اور ان کے اہل بیت اور یار وانصاراور ان سے تعلق رکھنے والوں نے ضروری مقامات پر اس سے استدلال کیوں نہیں کیا، آیا یہ بہتر نہ تھا کہ وہ حضرت علی - کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے اس قسم کے اہم مدرک کو سند کے طور پر پیش کرتے ۔
یہ اعتراض بھی اسلامی کتابوں سے خواہ حدیث سے متعلق ہوں یا تاریخ وتفسیر سے، عدم واقفیت کا نتیجہ ہے، کیونکہ اہل سنت کے علماء کی کتابوں میں ایسے بہت سے مواقع کا ذکر کیا گیا ہے کہ جہاں پر خود حضرت علی - نے یا ائمہ اہل بیت نے یا اس مسلک سے تعلق رکھنے والوں نے حدیثِ غدیر سے استدلال کیا ہے ان میں سے ایک واقعہ خود حضرت علی - سے متعلق ہے جسے خطیب خوارزمی نے عامر بن واصلہ کے حوالے سے نقل کیا ہے، عامر کہتا ہے:
”میں شوریٰ کے روز حضرت علی - کے ساتھ اس گھر میں موجود تھا میں نے خود سنا کہ آپ ارکان شوریٰ سے اس طرح کہہ رہے تھے کہ میں ایک ایسی محکم دلیل تمھارے سامنے قائم کررہا ہوں جسے عرب وعجم مل کر بھی تبدیل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تمھیں خدا کی قسم! بتلاؤ کیا تمھارے درمیان کوئی ایسا شخص ہے کہ جس نے مجھ سے پہلے خدا کو اس کی توحید ویکتائی کے ساتھ پکارا ہو؟ اس کے بعد آپ نے خاندانِ رسالت کی معنوی عظمتیں بیان کی یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: تمھیں خدا کی قسم دیتا ہوں بتلاؤ تمھارے درمیان میرے علاوہ اور کوئی شخص ایسا ہے جس کے حق میں پیغمبر نے یہ کہا ہو:”من کنت مولاه فعلی مولاه اللهم وال من والاه وانصر من نصره لیبلغ الشاهد الغائب“
سب نے کہا: نہیں(۱)
یہ روایت حموینی نے فرائد السمطین باب ۵۸ میں اور اسی طرح ”ابن حاتم“ نے ”دارالنظیم“ میں ، دار قطنی نے اپنی کتاب میں ، ابن عقدہ نے اپنی کتاب میں اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں نقل کیا ہے ۔
فرائد السمطین کے باب ۵۸ میں منقول ہے کہ حضرت علی - نے حضرت عثمان کے زمانے میں مسجد کے اندر چند لوگوں کی موجود گی میں بھی واقعہ غدیر سے استدلال کیا تھا، اسی طرح کوفہ میں اُن لوگوں کے سامنے جو پیغمبر کی طرف سے ان کی خلافت بلافصل کے لئے نص ہونے کا انکار کررہے تھے صراحت کے ساتھ اس حدیث سے استدلال کیا ہے ۔الغدیر کے مطابق اس حدیث (یعنی کوفہ میں واقعہ غدیر سے آپ کے استدلال) کو اہلِ سنت کی مشہور کتابوں اور معروف ماخذوں میں چار صحابہ اور چودہ تابعین سے روایت کیا گیا ہے ۔
جنگِ ”جمل“ کے دن بھی ”حاکم“ کی کتاب مستدرک جلد سوم، صفحہ ۲۷۱ کی روایت کے مطابق طلحہ کے سامنے حدیث غدیر سے استدلال فرمایا ۔
نیز جنگ صفین کے دن ”سلیم بن قیس ہلالی“ کی روایت کے مطابق حضرت علی - نے اپنی لشکر گاہ میں مہاجرین وانصار اور اطراف وجوانب سے آنے والے لوگوں کے سامنے اس حدیث سے استدلال کیا ۔ اور بدر مبین (جو جنگ بدر میں پیغمبر کے ساتھ تھے) میں سے بارہ افراد نے کھڑے ہوکر گواہی دی کہ انھوں نے یہ حدیث پیغمبر سے سنی ہے ۔
حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ بانوئے اسلام حضرت فاطمہ زہر، امام حسن ، امام حسین ، عبداللہ بن جعفر، عمار یاسر، قیس بن سعد، عمر بن عبدالعزیز اور عباسی خلیفہ مامون نے بھی اس حدیث کو سند کے طور پر پیش کیا ہے ۔ یہاں تک کہ عمروبن عاص نے اس خط میں جو اُس نے معاویہ کو اس لئے لکھا تھا تاکہ وہ اس پر اچھی طرح سے یہ بات ثابت کردے کہ وہ حضرت علی کے مرتبہ و مقام اور معاویہ کی وضع سے متعلق حقائق سے خوب آگاہ ہے، اس خط میں اس نے صراحت کے ساتھ مسئلہ غدیر کا ذکر کیا تھا اور اسے خطیب خوارزمی حنفی نے اپنی کتاب مناقب کے صفحہ ۱۲۴ پر نقل کیا ہے ۔
وہ لوگ جو اس سے زیادہ توضیحات کے خواہاں ہیں اور حضرت علی ، اہلبیت ، صحابہ اور غیر صحابہ کی طرف سے حدیث غدیر سے استدلال کرنے کے بارے میں ان روایات کے مختلف ماخذوں میں بیان سے آگاہ ہونا چاہیں تو وہ کتاب الغدیر جلد اوّل صفحات ۵۹ تا ۲۱۳ کی طرف رجوع کریں ۔ علامہ امینی نے صحابہ وغیر صحابہ میں سے ۲۲ حضرات سے مختلف مواقع پر اس حدیث سے استدلال کرنے کی روایات پیش کی ہیں ۔
____________________
۱۔ مناقب ،ص ۲۱۷.
۵ ۔ روایت کے آخری جملہ کا مفہوم کیا ہے؟
بعض کہتے ہیں کہ اگر یہ آیت حضرت علی کو خلافت وولایت کا منصب عطا کرنے اور واقعہ غدیر سے مربوط ہے تو پھر یہ آخری جملہ کہ: ”ان الله لایھدی القوم الکافرین“ یعنی ”خدا کافر قوم کو ہدایت نہیں کرتا“ اس مسئلے سے کیا ربط رکھتا ہے ۔
اس اعتراض کا جواب دینے کے لئے بس اتنا جان لینا کافی ہے کہ لفظ ”کفر“ لغت میں بھی اور اسی طرح قرآن کی زبان میں بھی انکار، مخالفت اور ترک کے معنی میں ہے ۔ کبھی انکار خدا یا انکار نبوت پیغمبر کے لئے بولا جاتا ہے ہے اور کبھی دوسرے احکام کے مقابلے میں انکار یا مخالفت پر اس کا اطلاق ہوتا ہے، سورہ آل عمران آیت ۹۷ میں حج کے بارے میں ہے:( وَمَن کَفَرَ فَاِنّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِینَ )
”جو لوگ حج کے حکم کو پائمال کرتے ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں تو وہ خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے خدا تمام جہانوں سے بے نیاز ہے“
سورہ بقرہ کی آیت ۱۰۲ میں جادوگروں کے لئے بھی اور ان کے بارے میں بھی کہ جو جادو میں آلودہ نہیں لفظ ”کفر“ بولا گیا ہے:( وَمَا یُعَلِّمَانِ مِنْ اٴَحَدٍ حَتَّی یَقُولاَإِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلاَتَکْفُرْ )
سورہ ابراہیم آیت ۲۲ میں بھی ہے کہ شیطان اُن لوگوں کے مقابلے میں کہ جنھوں نے اس کی پیروی اور اطاعت کی، قیامت کے دن صریحاً اظہار نفرت کرتے ہوئے اُن سے کہے گا کہ تم نے احکام الٰہی کی اطاعت میں مجھے اس کا شریک قرار دیا تھا اور میں آج تمھارے اس کام سے کفر کرتا ہوں :( إَنِّیْ کَفَرْتُ بِمَا اٴَشْرَکْتُمُونِ مِنْ قَبْلُ ) (ابراہیم/ ۲۲)
اس بناپر کفر کا اطلاق مسئلہ ولایت ورہبری کے مخالفین پر ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔
۶ ۔ ایک ہی زمانہ میں دو ولی ہوسکتے ہیں ؟
ایک اور بہانہ جو اس متواتر حدیث اور اسی طرح زیر بحث آیت سے روگردانی کے لئے کیا گیا ہے یہ ہے کہ اگر پیغمبر نے حضرت علی کو غدیر خم میں ولایت ورہبری وخلافت کے لئے مقرر کردیا ہوتو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک ہی زمانہ میں دو رہبر اور دو پیشوا ہوجائیں گے ۔
لیکن اس آیت کے نزول اور حدیث کے ورود کے زمانے کے خاص اوضاع وشرائط اور مخصوص حالات و کوائف کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اسی طرح اُن قرائن پر توجہ کرتے ہوئے کہ جو پیغمبر اسلام کی زندگی کے آخری مہینوں میں واقع ہوا ہے جبکہ آپ آخری احکام کو لوگوں تک پہنچا رہے تھے ۔ خصوصاً جب کہ آپ نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ میں بہت جلد تمھارے درمیان سے جارہا ہوں اور دو گرانمایہ چیزیں تمھارے درمیان چھوڑے جارہا ہوں ۔
جو شخص یہ گفتگو کررہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اپنے جانشین کے مقرر کرنے کا انتظام میں مصروف ہے اور وہ آئندہ کے لئے پروگرام دے رہا ہے، نہ کہ اپنے زمانے کے لئے ۔ لہٰذا اس سے صاف واضح اور روشن ہے کہ اس سے دو امیروں اور دو پیشواؤں کا ایک ہی زمانے میں وجود مقصود نہیں ہے ۔
وہ بات جو خاص طور پرلائق توجہ ہے یہ ہے کہ ایک طرف تو بعض علمائے اہل سنت یہ اعتراض پیش کررہے ہیں تو بعض دوسرے ایسے ہیں جنھوں نے اس کے مقابلے میں ایک اور اعتراض پیش کردیا ہے اور وہ یہ کہ پیغمبر نے حضرت علی کی ولایت وخلافت کے منصب پر تقرری تو کی ہے لیکن اس کی تاریخ صاف اور واضح طور پر بیان نہیں فرمائی، تو اس صورت میں کیا رکاوٹ ہے کہ یہ ولایت وخلافتِ علی کا بیان دوسرے تین خلفاء کے بعد کے لئے ہو۔
حقیقتاً کتنی حیرت کی بات ہے کہ کوئی چھت کے اُس طرف گررہا ہے اور کوئی اس طرف، لیکن متن واقعہ کو مان لینے میں تعصبات حائل ہوگئے ہیں ۔ ذرا کوئی اُن سے یہ تو پوچھے کہ اگر پیغمبر اکرم یہ چاہتے تھے کہ اپنے چوتھے خلیفہ کو معین کریں اور مسلمانوں کے آئندہ کی فکر تھی تو کیوں اپنے پہلے، دوسرے اور تیسرے خلیفہ کا ذکر جس کا تعین چوتھے پر مقدم ولازم تھا غدیرِ خم کے خطبہ میں نہ فرمایا ۔
ہم یہاں پر اپنا سابقہ بیان دہراتے ہیں اور اس بحث کو ختم کرتے ہیں کہ اگر مخصوص نظریات درمیان میں نہ ہوتے یہ تمام اعتراضات اس آیت اور اس حدیث کے سلسلے میں نہ کئے جاتے جس طرح کہ دوسرے مواقع اس قسم کا کوئی اعتراض نہیں ہوا ہے ۔
آیات ۶۸،۶۹
۶۸( قُلْ یَااٴَهْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلیٰ شَیْءٍ حَتَّی تُقِیمُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِیلَ وَمَا اٴُنزِلَ إِلَیْکُمْ مِنْ رَبِّکُمْ وَلَیَزِیدَنَّ کَثِیرًا مِنْهُمْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ طُغْیَانًا وَکُفْرًا فَلاَتَاٴْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِینَ )
۶۹( إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ هَادُوا وَالصَّابِئُونَ وَالنَّصَارَی مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلاَخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَهُمْ یَحْزَنُونَ )
ترجمہ:
۶۸ ۔ اے اہلِ کتاب تم کچھ وقت کچھ وقعت نہیں رکھتے جب تک کہ تم تورات و انجیل اور اس کو جو تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے قائم اور برپانہ کرو لیکن جو کچھ تجھ پر تیرے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے (نہ صرف ان کی بیداری کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ)اُن میں سے بہت سوں کے طغیان اور کفر کو زیادہ کرتا ہے ۔ اس بناپر اس کافر قوم (اور ان کی مخالفت)سے غمگین نہ ہو۔
۶۹ ۔ وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور یہودی، صائبین اور عیسائی جو بھی خدائے یگانہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے گا اور عمل صالح بجالائے گا تو نہ ایسے لوگوں پر کوئی خوف طاری ہوگا اور نہ ہی وہ محزون و مغموم ہوں گے ۔
شان نزول
تفسیر ”مجمع البیان“ اور تفسیر قرطبی میں ابن عباس سے اس طرح منقول ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت پیغمبر کی خدمت میں آئی اور پہلا سوال یہ کیا کہ کیا آپ یہ اقرار کرتے ہیں کہ تورات خدا کی طرف سے ہے ۔ پیغمبر نے اثبات میں جواب دیا: انھوں نے کہا کہ ہم بھی تورات کو قبول کرتے ہیں ۔ لیکن اس کے علاوہ اور کسی چیز پر ایمان نہیں رکھتے (در حقیقت تورات ہمارے اور آپ کے درمیان قدر مشترک ہے لیکن قرآن ایسی کتاب ہے کہ جس پر صرف آپ ہی عقیدہ رکھتے ہیں ، تو کیا ہی اچھا ہو کہ ہم تورات کو قبول کرلیں اور اس کے علاوہ کی نفی کردیں ) اس پر پہلی آیت نازل ہوئی اور انھیں جواب دیا گیا ۔
جیسا کہ ہم اس سورہ کی آیات کی تفسیر میں اب تک پڑھ چکے ہیں ہیں کہ اُن میں قابلِ لحاظ حصہ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ )کی وعدہ شکنیوں بحثوں ، سوالات اور اعتراضات سے ہی متعلق تھا ۔ یہ آیت بھی اُن بحثوں کے ایک اور رُخ کی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور ان کی اس کمزور منطق کا جواب دے رہی کہ جو یہ چاہتے تھے کہ تورات کو تو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ایک متفق علیہ کتاب ہونے کی حیثیت سے قبول کرلیا جائے اور قرآن کو ایسی کتاب ہونے کی حیثیت سے کہ جس میں اختلاف پایا جاتا ہے چھوڑدیا جائے ۔ یہ آیت انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہی ہے: اہل کتاب تمہاری کوئی بھی وقعت نہیں ہوگی جب تک کہ تم تورات و انجیل اور تمام آسمانی کتابوں کو جو تم پر نازل ہوئی ہیں بلااستثنا اور بغیر کسی تفاوت کے تسلیم نہ کرو گے ۔
”( قل یا اهل الکتب لستم علی شیءٍ حتی تقیموا التوراة و الانجیل و ما انزل الیکم من ربکم ) “
کیونکہ جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں کہ یہ تمام کتابیں ایک ہی مبدا سے صادر ہوئی ہیں اور اِن سب کی اساس اور اصول بھی ایک سے ہیں اگر چہ اُن میں سے آخری کتاب کامل ترین اور جامع ترین ہے ۔ اسی بناپر لازم العمل ہے اُن کے علاوہ پہلی کتابوں میں آخری کتاب یعنی قرآن کے بارے میں متعدد بشارتیں بھی آئی ہیں ۔ وہ مدعی ہیں اس بات کے کہ وہ تورات و انجیل کو قبول کرتے ہیں پس اگر وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ ان بشارتوں کو بھی قبول کریں اور جب کہ انھوں نے ان نشانیوں کو قرآن میں پالیا ہے تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیں ۔
مذکورہ بالا آیت یہ بھی کہتی ہے کہ صرف دعویٰ ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان آسمانی کتابوں پر عملاً قائم ہونا چاہیے ۔ علاوہ ازیں ”ہماری“ اور ”تمہاری“کتاب کی بات نہیں ہے ۔ معاملہ تو آسمانی کتابوں کا ہے اور جو کچھ خدا کی طرف سے آیا ہے، اُس کا ہے ۔ پس تم کس طرح اس کمزور منطق کے ذریعے آخری کتاب کو نظر انداز کرسکتے ہو۔ قرآن پھر ایک مرتبہ ان کی اکثریت کی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے اُن میں سے بہت سے لوگ نہ صرف ان آیات سے پند و نصیحت نہیں لیتے اور ہدایت حاصل نہیں کرتے بلکہ ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کا کفر و طغیان بڑھتاہی جاتا ہے ۔
”( ولیزیدن کثیراً منهم ما انزل الیک من ربک طغیاناً و کفرًا ) “
اور آیات حق اور صحیح باتوں کی بیمار افکار اور ہٹ دھرمی سے بھرے ہوئے دلوں پر ایسی ہی اُلٹی تاثیر پیدا ہوا کرتی ہے ۔
آیت کے آخر میں اپنے پیغمبر کو اس منحرف اکثریت کی انتہائی سختی کے مقابلہ میں تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے: اس کافر جمیعت کی مخالفتوں سے غمگین نہ ہو کیونکہ اس کا نقصان خود اُن ہی کی طرف لوٹ جائے گا اور تجھے اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا( فلا تاٴس علی القوم الکافرین ) .(۱)
یہ بات بھی صاف ظاہر ہے کہ اس آیت کے مفاہیم قوم یہود کے ساتھ ہی مخصوص نہیں بلکہ مسلمان بھی اگر صرف اسلام کے دعویٰ پر ہی قناعت کریں اور تعلیمات انبیاء کے اصول اور خاص طور پر اپنی آسمانی کتاب قرآن کو عملاً برپا نہ کریں تو ان کی کسی قسم کی کوئی حیثیت اور قدر و قیمت بارگاہ خدا میں ہوگی نہ انفرادی و اجتماعی زندگی میں اور وہ ہمیشہ زبوں حال، زیر دست اور شکست خوردہ رہیں گے ۔
بعد والی آیت میں پھرنئے سرے سے اس حقیقت کو محلِ تاکید قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ تمام اقوام و ملل اور تمام مذاہب کے پیروکار بلا استثنا خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی، صائبین ہوں یا نصاریٰ صرف اسی صورت میں اہلِ نجات ہوں گے اور اپنے آئندہ سے خوف زدہ اور گذشتہ سے محزون و غمگین نہ ہوں گے جب کہ وہ خدا اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہوں گے اور نیک اعمال انجام دیں گے ۔
( ان الذین اٰمنوا و الذین هادوا و الصابون و النصریٰ من آمن باللّٰه و الیوم الاٰخر و عمل صالحاً فلا خوف علیهم ولا هم یحزنون ) .
یہ آیت حقیقت میں ان لوگوں کے لئے دندان شکن جواب ہے جو نجات کو کسی خاص ملت اور قوم میں منحصر سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انبیاء کے احکام میں تبعیض (بعض کو ماننا اور بعض کو نہ ماننا) کے قائل ہوجائیں اور مذہبی دعوتوں کو قومی تعصبات سے ملادیں ۔ آیت کہتی ہے کہ راہِ نجات ایسی باتوں کو برکنار رکھنے میں منحصر ہے ۔
جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۶۲ کے ذیل میں کہ جس کا مضمون مذکورہ بالا آیت کے ساتھ تقریباً یکساں ہے ہم واضح کرچکے ہیں کہ بعض لوگ ایک سفسطہ آمیز بیان کے ذریعہ چاہتے ہیں کہ مذکورہ بالا آیت کو ”صلح کل “ کے مسلک پر دلیل قراردیں اور تمام مذاہب کے پیردکاروں کو اہلِ نجات فرض کرلیں اور اسے نظر انداز کردیں کہ در حقیقت آسمانی کتابوں کے یکے بعد دیگر سے نازل ہونا جہانِ انسانیت کے بتدریج درجہ کمال تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے ۔
لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ آیت ”عمل صالحا“ کی تعبیر کے ذریعے اس حقیقت کو مشخص و ممتاز کرتی ہے کہ مذاہب کے اختلاف کی صورت میں آخری قانون پر عمل کریں ۔ کیونکہ منسوخ شدہ قوانین پر عمل کرنا عمل صالح نہیں ہے ۔ بلکہ عمل صالح تو موجودہ قوانین اور آخری قانون پر عمل کرنا ہے(۲)
علاوہ ازیں اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی قابلِ قبول ہے کہ( من آمن باللّٰه و الیوم الاٴخرو عمل صالحاً ) کا جملہ صرف یہود و نصاریٰ اور صائبین کی طرف لوٹتا ہو کیونکہ ”( الذین آمنوا ) “ جو آیت کی ابتداء میں ذکر ہوا ہے وہ اس قید کا محتاج نہیں ہے ۔ تو اس طرح سے اس آیت کا معنی یوں ہوگا کہ صاحبان ایمان اور مسلمان افراد اور اسی طرح یہود و نصاریٰ اور صائبین بشرطیکہ وہ بھی ایمان لے آئیں اور اسلام قبول کرلیں اور عمل صالح بجالائیں تو سب کے سب اہلِ نجات اور رستگار ہوں گے اور کسی بھی قسم کے لوگوں کے سابقہ مذہبی اعتقادات کا اس صورت میں ان پر کوئی اثر نہ ہوگا اگر وہ ایمان لے آئیں اور راستہ سب کے سامنے کھلا ہوا ہے (غور کیجئے )
____________________
۱۔ ”تاس“ کا مادہ ”آس “ ہے جس کا معنی ہے ”غم و اندوہ“.
۲۔ اس کی مزید توضیح کے لئے تفسیر نمونہ اُردو ترجمہ جلد اوّل، ص ۲۲۷ کی طرف رجوع فرمائیں ۔
آیات ۷۰،۷۱
(۷۰)( لَقَدْ اٴَخَذْنَا مِیثَاقَ بَنِی إِسْرَائِیلَ وَاٴَرْسَلْنَا إِلَیْهِمْ رُسُلًا کُلَّمَا جَائَهُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَتَهْوَی اٴَنفُسُهُمْ فَرِیقًا کَذَّبُوا وَفَرِیقًا یَقْتُلُونَ. )
(۷۱)( وَحَسِبُوا اٴَلاَّ تَکُونَ فِتْنَةٌ فَعَمُوا وَصَمُّوا ثُمَّ تَابَ اللهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوا وَصَمُّوا کَثِیرٌ مِنْهُمْ وَاللهُ بَصِیرٌ بِمَا یَعْمَلُونَ )
ترجمہ:
۷۰ ۔ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے لیکن جب بھی کوئی پیغمبران کی خواہشات نفسانی اور میلانات کے خلاف آتا تو بعض کی تکذیب کرتے اور بعض کو قتل کردیتے ۔
۷۱ ۔ اور انھوں نے یہ گمان لیا تھا کہ اس کا کوئی بدلہ اور سزا نہ ہوگی لہٰذا (وہ حقائق کو دیکھنے اور سچی باتوں کو سننے سے) اندھے اور بہرے ہوگئے اس کے بعد پھر (وہ بیدار ہوئے اور) خدانے ان کی توبہ قبول کرلی اس کے بعد دوبارہ (خواب غفلت میں جا پڑے اور )ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے اور خدا ان کی کار گزاریوں پر خوب اچھی طرح مطلع ہے ۔
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا
سورہ بقرہ میں جو آیات گزرچکی ہیں اُن میں اور اِس سورہ کے شروع میں جو آیات گزری ہیں اُن میں اُس تاکیدی عہد و پیمان کی طرف جو خداوند تعالیٰ نے نبی اسرائیل سے لیا تھا اشارہ ہوچکا ہے ۔ اس آیت میں دوبارہ اس عہد و پیمان کی یاد دہانی کراتے ہوئے فرماتا ہے: ہم نے بنی اسرائیل سے پیمان کو وفا کرنے کا مطالبہ کرنے کے لئے ان کی طرف پیغمبر بھیجے( لقد اخذنا میثاق بنی اسرائیل و ارسلنا الیهم رسلاً )
جیسا کہ جلد اوّل میں بیان ہوچکا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیمان وہی ہے جس کی طرف سورہ بقرہ کی آیت ۹۳ میں اشارہ ہوا ہے یعنی اس پر عمل کرنے کا پیمان جو خدانے ان پر نازل کیا تھا ۔(۱)
پھر مزید کہتا ہے: انھوں نے نہ صرف یہ کہ اُس پیمان پر عمل نہیں کیا بلکہ جب بھی کوئی پیغمبران کے میلانات اور ہوا و ہوس کے خلاف کوئی حکم لاتا تو وہ اس کی مخالفت میں سخت ترین مقابلے اور جھگڑنے پر اتر آتے تھے ۔ اُن کے اثرات کو روکنے پر قادر نہ ہوتے تھے انھیں قتل کردیتے تھے ۔( کلما جاء هم رسول بما لا تهوی انفسهم فریقاً کذبوا و فریقاً یقتلون ) ۔
یہ ہیں طریقے منحرف اور خودخواہ افراد کے کہ بجائے اپنے رہبروں کی پیروی کرنے کے وہ اس بات پر مصر ہیں کہ رہبران کے میلانات اور خواہشات کے تابع ہوں اور اگر وہ ان کے میلانات اور خواہشات کے خلاف ہوں تو اس صورت میں نہ صرف ان کی رہبری قبول نہیں کرتے بلکہ انھیں زندہ رہنے کا حق دینے کو بھی تیار نہیں ہوتے ۔
مندرجہ بالا جملے میں ”کذبوا“ ماضی کی شکل میں اور ”یقتلون“ مضارع کی صورت میں آیا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ اس کا سبب قبل و بعد کی آیات کی لفظی مناسبت کا لحاظ رکھنے کے علاوہ کہ جو سب کے سب مضارع کی صورت میں آئے ہیں یہ ہو کہ چونکہ فعل مضارع استمرار پر دلالت کرتا ہے لہٰذا خدا یہ چاہتا ہے کہ وہ اس روح اور فکر کے اُن میں ہمیشہ جاری رہنے کو بیان کرے کہ پیغمبروں کو جھٹلانا اور انھیں قتل کرنا ان کی زندگی کا کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ ان کا یہ عمل ایک مستقل پروگرام اور مکتب کی صورت اختیار کرگیا تھا ۔(۲)
بعد والی آیت میں ان سرکشیوں اور جرائم کے با وجود ان کی بے جا خود فریبی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: ان حالات کے با وصف وہ یہ کمان کرتے تھے کہ کوئی عذاب و سزا دامن گیرنہ ہوگی ۔
جیسا کہ دوسری آیات میں تصریح ہوچکی ہے وہ خود کو ایک برتر قوم و قبیلہ سمجھتے تھے اور خود کو خدا کا بیٹا کہتے تھے( وحسبوا ان لا تکون فتنة ) ۔
آخر کار اس خطرناک فریب خوردگی نے اور اپنے آپ کو برتر سمجھنے نے ایک قسم کا پردہ ان کی آنکھوں اور کانوں پر ڈال دیا تھا جس کی وجہ سے وہ آیات خدا دیکھنے سے اندھے اور کلماتِ حق سننے سے بہرے ہوگئے( فعمّوا وصمّوا ) ۔
لیکن جب انھوں نے اللہ کے عذاب کے نمونے اور اپنے بُرے اعمال کے انجام کا مشاہدہ کیا تو پشیمان ہوئے اور توبہ کرلی اور اس حقیقت کی طرف متوجہ ہوئے کہ خداوند تعالیٰ کی دھمکیاں یقینی اور سچ ہونے والی ہیں نیز وہ قطعاً کوئی برتر خاندان نہیں ہیں تو خدانے بھی اُن کی توبہ کو قبول کرلیا( ثم تاب اللّٰه علیهم ) ۔
مگر یہ بیداری اور ندامت و پشیمانی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی اور انھوں نے دوبارہ طغیان دسر کشی اختیار کرلی اور حق و عدالت کو ٹھکرانا شروع کردیا اور ایک دفعہ پھر غفلت کے پردے کہ جو گناہ کے اندر ڈوب جانے کے آثار ہیں اُن کی آنکھوں اور کانوں پر پڑگئے اور پھر وہ آیات ِ حق دیکھنے سے اندھے اور حق کی باتیں سننے سے بہرے ہوگئے اور اُن میں سے بہت سوں کی یہ حالت ہوگئی( ثمّ عمّوا و صمّوا کثیر منهم ) ۔
شاید ”عموا“(اندھے ہوگئے)کو ”صموا“(بہرے ہوگئے) پر مقدم رکھنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہوکہ پہلی دفعہ انھیں آیات خدا اور پیغمبر کے معجزات کو دیکھنا چاہیے اور پھر ان کے احکام کو سننا چاہیے ۔ ”کثیر منھم“(ان میں سے بہت سے)کا ذکر ”عموا و صموا“ کے الفاظ کی تکرار کے بعد در حقیقت دونوں الفاظ کی توضیح کے طور پر ہے یعنی غفلت و بے خبری اور اندھے اور بہرے ہونے کی حالت حقائق کے مقابلے میں کوئی عمومی حیثیت نہیں رکھتی تھی بلکہ ہمیشہ ایک صالح اور نیک اقلیت بھی ان کے درمیان موجود رہی تھی اور یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ قرآن کے یہودیوں پر حملے کسی طرح بھی نسلی اور قبائلی پہلو نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ صرف ان کے اعمال کی وجہ سے تھے ۔
کیا ”عموا و صموا“کے الفاظ کی تکرار کلیت اور تاکید کا پہلو رکھتی ہے یا یہ دو مختلف واقعات کی طرف اشارہ ہے جو بنی اسرائیل میں ہوئے تھے ۔ بعض مفسرّین کا خیال ہے کہ یہ دو مختلف واقعات کی طرف اشارہ ہیں ایک بابل کے لوگوں کے حملے کے وقت اور دوسرے ایرانیوں اور رومیوں کے حملے کے زمانے میں کہ جس کی طرف قرآن نے سورہ بنی اسرائیل کی ابتداء میں ایک مختصر سا اشارہ کیا ہے ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ وہ بارہا اس حالت میں گرفتار ہوتے رہے ہیں اور جب بھی وہ اپنے بُرے اعمال کے منحوس نتائج دیکھتے تو توبہ کرلیتے اور پھر توبہ کو توڑ دلیتے نہ یہ کہ صرف دو ہی مرتبہ ایسا ہوا ۔ آیت کے آخر میں ایک مختصر اور پُر معنی جملے کے ساتھ فرمایا گیا ہے کہ خدا کسی وقت بھی ان کے اعمال سے غافل نہیں تھا اور تمام کام جو انجام دیتے ہیں انھیں وہ دیکھتا ہے ۔( واللّٰه بصیر بما یعلمون )
____________________
۱۔ تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہ بقرہ آیت ۹۳ کے ذیل میں ۔
۲۔ حقیقت میں ”فریقاً کذبوا و فریقاً یقتلون “کا جملہ جیسا کہ مجمع البیان اور دیگر تفاسیر میں آیا ہے در اصل ”کذبوا و قتلوا “ اور ”یکذبون و یقلون “ تھا ۔
آیات ۷۲،۷۳،۷۴
(۷۲)( لَقَدْ کَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا إِنَّ اللهَ هُوَ الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَقَالَ الْمَسِیحُ یَابَنِی إِسْرَائِیلَ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّی وَرَبَّکُمْ إِنَّهُ مَنْ یُشْرِکْ بِاللهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَمَاٴْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِینَ مِنْ اٴَنصَارٍ )
(۷۳)( لَقَدْ کَفَرَ الَّذِینَ قَالُوا إِنَّ اللهَ ثَالِثُ ثَلاَثَةٍ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلاَّ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنْ لَمْ یَنتَهُوا عَمَّا یَقُولُونَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ )
(۷۴)( اٴَفَلاَیَتُوبُونَ إِلَی اللهِ وَیَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔
ترجمہ:
۷۲ ۔ جنہوں نے یہ کہا کہ خدا مسیح ابن مریم ہی ہے وہ یقینا کافر ہیں (جبکہ خود) مسیح نے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل تم خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی کیونکہ جو شخص کسی کو خدا کا شریک قرار دے گا خدانے اس پر جنت کو حرام کردیا ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی یاور و انصار نہیں ہے ۔
۷۳ ۔ جنہوں نے یہ کہا کہ خدا تین میں سے ایک ہے وہ بھی یقینا کافر ہوگئے ہیں کیونکہ معبود یگانہ کے سوا اور کوئی خدا نہیں ہے اور اگر وہ اپنے اس قول سے دستبردار نہ ہوئے تو اُن میں سے (اس عقیدہ پر قائم رہنے والے) کافروں کو دردناک عذاب پہنچے گا ۔
۷۴ ۔ کیا وہ خدا کے حضور توبہ نہیں کرتے، اُس کی طرف نہیں پلٹتے اور اُس سے طلب بخشش نہیں کرتے جبکہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
مسیح اور تثلیت
ان مباحث کے بعد کہ جو گذشتہ آیات میں یہودیوں کے انحرافات سے متعلق گزری ہیں ، یہ آیات اور ان سے بعد والی آیات عیسائیوں کے انحرافات کے متعلق بحث کرتی ہیں ۔ سب سے پہلے تو خدا اس آیت میں مسیحیت کے اہم ترین انحراف یعنی مسئلہ الو ہیتِ مسیح اور تثلیت معبود سے بحث کرتے ہوئے کہتا ہے: یقینا جنہوں نے یہ کہا کہ خدا مسیح ابن مریم ہی ہے وہ کافر ہوگئے ہیں ۔( لقد کفر الذین قالوا ان اللّٰه هو المسیح ابن مریم )
اس سے بڑھ کر اور کیا کفر ہوگا کہ ہر جہت سے لامحدود خدا کو ایسی مخلوق کے ساتھ کہ جوہر جہت سے محدود ہے ایک اور متحد سمجھ لیا جائے اور مخلوق کی صفات کو خالق میں قرار دے لیا جائے جبکہ خود مسیح نے صراحت کے ساتھ بنی اسرائیل سے کہا کہ تم خدائے یگانہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی ۔
( و قال المسیح یا بنی اسرائیل اعبدو اللّٰه ربی و ربکم )
اور اس طرح سے اپنے متعلق ہر قسم کے غلو اور شرک سے نفی کرتے ہوئے اس سے اپنی بیزاری کا اظہار کیا اور خود کو خدائے تعالیٰ کی دوسری مخلوقات کی طرح ہی ایک مخلوق کی حیثیت سے متعارف کرایا ۔ ساتھ ہی اس مطلب کی تاکید مزید اور ہر قسم کا شک و شبہ دور کرنے کے لئے مسیح نے مزید کہا کہ ”جو خدا کے لئے کوئی شریک قرار دے اس پر خدانے جنت حرام کردی ہے اور اس کا ٹھکانا جہنم کی آگ ہے“۔( انه من یشرک باللّٰه فقد حرم اللّٰه علیه الجنة و ماٴوٰئه النار )
پھر مزید تاکید اور اس حقیقت کے اثبات کے لئے کہ شرک و غلو ایک قسم کا کھلم کھلا ظلم ہے اُن سے کہتا ہے کہ ستمگروں اور ظالموں کے لئے کوئی بھی مددگار نہ ہوگا ۔( وما للظٰلمین من انصار )
جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ تاریخ مسیحیت یہ کہتی ہے کہ تثلیث کا قرن اوّل میں اور خصوصاً حضرت مسیح کے زمانے میں کوئی وجود نہ تھا ۔ یہاں تک کہ موجودہ انجیلوں میں بھی اپنی تمام تر تحریفات کے باوجود تثلیث کے بارے میں ذراسی بات بھی دکھائی نہیں دیتی اور خود مسیحی محققین بھی اس امر کا اعتراف کرتے ہیں ۔
بنابرین مذکورہ بالا آیت میں حضرت مسیح کی ثابت قدمی و پافشاری اور مسئلہ توحید کے بارے میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ مسیحیت کے موجودہ منابع اور کتب سے بھی ہم آہنگ ہے اور یہ بات قرآن کی عظمت کے دلائل میں سے شمار ہوتی ہے ۔(۱)
ضمنی طور پر اس بات کی طرف بھی توجہ رہے کہ اس آیت میں جو موضوع زیر بحث ہے وہ مسئلہ غلو اور جناب مسیح کی خدا کے ساتھ وحدت ہے دوسرے لفظوں میں ”توحید در تثلیث“ کا معاملہ زیر نظر ہے لیکن بعد کی آیت میں مسیحیوں کے نقطہ نظر سے ”خداؤں کے تعدّد“ یعنی تثلیث در توحید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے”جنہوں نے یہ کہا کہ خدا تین اقانیم میں سے تیسرا اقنوم(۲) ہے وہ مسلماً کافر ہیں “( لقد کفر الذین قالوا ان اللّٰه ثالثة ) ۔
بہت سے مفسّرین نے مثلاً طبرسی نے” مجمع البیان“ میں شیخ طوسی نے ”تبیان“ میں اور رازی و قرطبی نے اپنی اپنی تفسیروں میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ پہلی آیت تو عیسائیوں کے یعقوبیہ نامی فرقے کے بارے میں ہے جو خدا کو حضرت مسیح کے ساتھ متحد جانتے ہیں لیکن یہ آیت ملکانیہ اور فسطوریہ نامی فرقوں کے بارے میں ہے ۔ یہ لوگ تین خداؤں کے قائل ہیں ۔
لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ اسے مسیحیوں کے بعض فرقوں سے غیر متعلق کہنا حقیقت کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا چونکہ تثلیث کا کا عقیدہ تو تمام عیسائیوں میں عمومیت رکھتا ہے جیسا کہ خدا کی توحید اور یکتائی کا مسئلہ ہم مسلمانوں کے درمیان قطعی اور مسلم ہے ۔
زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ جہاں وہ خداؤں کو تین مانتے ہیں وہاں وہ اسے یگانہ حقیقی بھی مانتے ہیں اور ان کے اعتماد کے مطابق تین حقیقی واحد مل کر ایک حقیقی واحد کو تشکیل دیتے ہیں ۔
مذکورہ بالا دونوں آیات ظاہراً ان دونوں قضیوں کے دو مختلف پہلوؤں کی طرف ہی اشارہ کرتی ہیں ۔
پہلی آیت میں تین خداؤں کی وحدت کے عقیدے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری آیت میں اُن کے تعدد کے عقیدے کی طرف اشارہ ہے اور ان دونوں بیانات کا ایک دوسرے کے ساتھ آگے پیچھے آنا در حقیقت اُن کے عقیدے کے بطلان کے روشن و واضح دلائل میں سے ہے کہ کس طرح ان کے زخم میں خداوند تعالیٰ کبھی مسیح اور روح القدس کے ساتھ مل کر حقیقتاً ایک ہو جاتاہے اور کبھی حقیقتاً تین چیزیں بن جاتا ہے کیا تین کا ایک کے ساتھ مساوی ہوجانا کوئی معقول بات ہے ۔
جو بات اس حقیقت کی تائید کرتی ہے یہ ہے کہ عیسائیوں میں ایک گروہ بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا جو تین خداؤں کا قائل نہ ہو۔(۳)
پھر قرآن قطعی طور پر ان کے جواب میں کہتا ہے: خدائے یکتا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے”و ما من الٰہ الا الٰہ “ خصوصاً لفظ ”من“کا لفظ ”الہ“ سے پہلے آنا دوسرے معبودوں کی نفی کرتا ہے ۔
دوسری مرتبہ پھر انتہائی سخت اور تاکیدی لب و لہجہ میں اُن کو اس خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے: اگر دواس عقیدے سے دستبردار نہ ہوں گے تو اُن لوگوں کو جو اس کفر پر باقی رہیں گے ضرور دردناک عذاب پہنچے گا( و ان لّم ینتهوا عما یقولون لیمسن الذین کفروا منهم عذاب الیم ) ۔
”منھم“میں کلمہ ”من“بعض کی نظر میں بیانیہ ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ اسے ”بعض“ کے مفہوم میں ہونا چاہیے اورحقیقت میں یہ ایسے اشخاص کی طرف اشارہ ہے جو اپنے کفر و شرک پر اڑے رہے اور قرآن کی دعوت توحید کے بعد بھی صحیح عقیدے کی طرف نہیں پلٹے نہ کہ وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی اور صحیح عقیدہ کی طرف پلٹ آئے ۔
تفسیر” المنار“ میں کتاب ”اظہار الحق“ سے ایک داستان نقل ہوئی ہے کہ جس کا یہاں پر ذکر کرنا غیر مناسب نہیں ہے ۔ اس سے اس بات کی نشاندہی ہوجاتی ہے کہ عیسائیوں کی تثلیث و توحید کتنی نا قابلِ فہم ہے ۔
اس کتاب کا مولف کہتا ہے: تین آدمی عیسائی ہوگئے ۔ پادری نے عیسائیت کے ضروری عقائد کہ جن میں سے ایک عقیدہ تثلیث بھی تھاانھیں تعلیم کردیا ۔ ایک دن ایک کٹّر عیسائی عقیدہ رکھنے والا اُس پادری کے پاس آیا اور اُس نے اُن لوگوں کے بارے میں جو نئے نئے عیسائی ہوئے تھے سوال کیا ۔ پادری نے انتہائی خوشی کے عالم میں ان تین افراد کی طرف اشارہ کیا تو اس نے فوراً پوچھا کہ کیا انھوں نے ہمارے ضروری عقائد میں سے کچھ یاد کرلیا ہے ۔ پادری نے بڑی دلیری اور تاکید کے ساتھ کہا: ہاں !ہاں !۔ اس کے بعدنمونے کے طور پر اُن میں سے ایک کو آواز دی تاکہ مہمان کے سامنے اس کی آزمایش کرے ۔ پادری نے کہا تم تثلیث کے بارے میں کیا جانتے ہو؟۔
اس نے جواب میں کہا: آپ نے مجھے یہ بتلایا ہے کہ خداتین ہیں ۔ ایک آسمان میں ہے، دوسرا زمین میں ہے کہ جو مریم کے شکم سے پیدا ہوا ہے ۔ تیسرا خدا کبوتر کی شکل میں دوسرے خدا پر تیس سال کی عمر میں نازل ہوا ۔ پادری کو غصّہ آگیا اور اُس کو باہر نکال دیا ۔ کہنے لگا: اسے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا ۔ پھر دوسرے شخص کو آوازدی تو اُس نے اس سوال کے جواب میں تثلیث کے بارے میں بتلا یا کہ آپ نے مجھے اس طرح تعلیم دی ہے کہ خدا تین تھے ۔ لیکن اُن میں سے ایک سولی پر چڑھا دیا گیا لہٰذا اب ہمارے پاس صرف دو خدا باقی رہ گئے ہیں ۔ پادری کو اس پر اس سے بھی زیادہ غصّہ آیا اور اسے بھی باہر نکال دیا ۔ اس کے بعد تیسرے آدمی کو جو سب سے زیادہ سمجھدار اور دینی عقائد کو یاد کرنے میں زیادہ کوشش کرنے والا تھا، آوازدی اور وہی مسئلہ اُس نے بڑے ادب اور احترام سے کہا: اے میرے پیشوا جو کچھ آپ نے مجھے تعلیم دی ہے میں نے اسے مکمل طور پر یاد کر لیا ہے اور حضرت مسیح کی برکت سے میں نے اُسے اچھی طرح سے سمجھ لیا ہے ۔ آپ نے کہا ہے کہ خدائے یگانہ سہ گانہ ہے (ایک خداتین ہیں ) اور تین خدا ایک ہیں ۔ اُن میں سے ایک کو انھوں نے سولی پر لٹکا دیا اور وہ مرگیا اس بناپر وہ سب کے سب مرگئے کیونکہ وہ باقیوں کے ساتھ متحد اور ایک ہی تھا لہٰذا اس طرح سے اب کوئی خدا باقی نہیں رہا ۔
ان آیات میں سے تیسری آیت میں دعوت دی گئی ہے کہ اس کفر آمیز عقیدے سے توبہ کرو، یہ دعوت اس لئے ہے تاکہ خدا اپنی عفو و بخشش ان کے شامل حال کردے ۔ لہٰذا کہا گیا ہے: کیا وہ ان تمام باتوں کے بعد خدائے یکتا کی طرف نہیں پلٹتے اور اس شرک اور کفر سے مغفرت نہیں چاہتے حالانکہ خدا غفور و رحیم ہے ۔
____________________
۱۔ اس موضوع کی مزید و ضاحت اور مسئلہ تثلیث اور وحدت در تثلیث کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد چہارم ، ص ۱۷۶ کی طرف رجوع کریں (اُردو ترجمہ)۔
۲۔ ”اقنوم“ کا معنی ہے اصل اور ذات اور اس کی جمع ”اقانیم“ہے ۔
۳۔ بعض روایات و تواریخ میں نقل ہوا ہے کہ عیسائیوں میں ایک ایسی اقلیت بھی وجود رکھتی ہے جو تین خداؤں کے قائل نہیں ہیں بلکہ صرف عیسیٰ کی خدا سے وحدت کے قائل ہیں لیکن آج ایسے لوگ بہت کم یاب ہیں ۔
آیات ۷۵،۷۶،۷۷
(۷۵)( مَا الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَاٴُمُّهُ صِدِّیقَةٌ کَانَا یَاٴْکُلاَنِ الطَّعَامَ انظُرْ کَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمْ الْآیَاتِ ثُمَّ انظُرْ اٴَنَّی یُؤْفَکُونَ ) ۔
(۷۶)( قُلْ اٴَتَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَلاَنَفْعًا وَاللهُ هُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) ۔
(۷۷)( قُلْ یَااٴَهْلَ الْکِتَابِ لاَتَغْلُوا فِی دِینِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَلاَتَتَّبِعُوا اٴَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَاٴَضَلُّوا کَثِیرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِیلِ ) ۔
ترجمہ:
۷۵ ۔ مسیح ابن مریم فقط فرستادئہ خدا تھے اُن سے پہلے اور دوسرے بھی فرستارگان الٰہی ہی تھے ان کی ماں بھی بہت سچی خاتون تھیں ۔ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے (لہٰذا تم کس طرح سے مسیح کی الوہیت کا دعویٰ اور اس کی ماں کی عبادت کرتے ہو)غور کرو کہ ہم کس کس طرح سے نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ۔ اس کے بعد یہ دیکھو کہ وہ حق سے کس طرح باز رکھے جاتے ہیں ۔
۷۶ ۔ کہہ دو کیا تم خدا کے سوا ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمھیں نقصان ہی پہنچاسکتی ہے اور نہ ہی تمہارے نفع کی مالک ہے اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے ۔
۷۷ ۔ کہہ دواے اہلِ کتاب! تم اپنے دین میں غلو (اور تجاوز) نہ کرو اور حق کے سوا کچھ نہ کہو اور ایسے لوگوں کی ہوا و ہوس کی پیروی نہ کرو جو اس سے پہلے خود بھی گمراہ ہوگئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کردیا اور سیدھے راستے سے منحرف ہوگئے ۔
حضرت عیسیٰ کو فقط ایک فرستادئہ خدا (رسول) جانیں
اس بحث کے بعد جو گذشتہ آیات میں حضرت مسیح کے بارے میں عیسائیوں کے غلو اور ان کی الوہیت کے اعتقاد سے متعلق گزری ہیں ان آیات میں واضح دلائل سے چند مختصر جملوں میں ان کے اس عقیدے کو باطل کرتا ہے ۔
پہلے کہتا ہے کہ مسیح اور باقی انبیاء کے درمیان کیا فرق ہے کہ جس کی وجہ سے تم مسیح کی الو ہیت کا عقیدہ رکھتے ہو۔ مسیح ابن مریم بھی خدا کے ایک رسول ہی تھے اور اُن سے پہلے بھی خدا کی طرف سے رسول اور اس کے دیگر فرستادگان آتے رہے ہیں( ما المسیح ابن مریم الارسول قد خلت من قبله الرسل ) ۔
اگر خدا کی طرف سے رسول ہونا الوہیت اور شرک کی دلیل ہے تو پھر باقی انبیاء کے متعلق بھی اسی چیز کے قائل کیوں نہیں ہوتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ کجرو و عیسائی ہر گز اس بات پر قانع نہیں ہیں کہ حضرت عیسیٰ کو فقط ایک فرستادئہ خدا (رسول) جانیں بلکہ ان کا عام عقیدہ کہ جس پر وہ فعلاً قائم ہیں یہ ہے کہ وہ انھیں خدا کا بیٹا اور ایک معنی میں خود خدا سمجھتے ہیں کہ جو بشریت کے گناہوں کو خرید نے کے لئے (نہ کہ ان کی ہدایت و رہبری کے لیے) آیا ہے ۔ اسی لئے وہ اس کو ”فادی“ (نوع بشر کے گناہوں کا فدیہ ہونے والا) کا لقب دیتے ہیں ۔
اس کے بعد اس بات کی تائید کے لئے ارشاد ہوتا ہے: اس کی ماں بہت ہی سچی خاتون تھیں (وَاُمّہ صدیقة)۔
بہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اولاً تو وہ شخص کہ جس کی کوئی ماں ہے اور وہ ایک عورت کے شکم میں پرورش پاتا ہے اور بہت سی حوائج و ضروریات رکھتا ہے وہ کس طرح خدا ہوسکتا ہے؛ اور دوسرے یہ کہ اگر اس کی ماں قابلِ احترام ہے تو وہ اس بناپر ہے کہ وہ بھی مسیح کی رسالت کے دوران اُن سے ہم آہنگ تھیں اور کار رسالت میں ان کی مددگار تھیں تو اس طرح سے وہ بھی خدا کی ایک خاص بندہ ہی تھیں لہٰذا ان کی ایک معبود کی طرح سے عبادت و پرستش نہیں کرنی چاہیے جیسا کہ عیسائیوں میں رائج ہے کہ وہ اُن کے مجسمہ کے سامنے عبادت و پرستش کی حد تک خضوع کرتے ہیں ۔
اس کے بعد عیسیٰ کی ربوبیت کی نفی کی ایک اور دلیل کی طرف اشارہ کرتے فرمایا: وہ اور ان کی ماں دونوں کھانا کھاتے تھے( کانا یاٴ کلان الطعام ) تو جو شخص اتنا محتاج ہے کہ اگر چند دن اُسے کھانا نہ ملے تو اُس میں چلنے پھر نے کی بھی طاقت نہ رہے وہ کس طرح سے پروردگار یا خدا کے ہم پلہ ہوسکتا ہے ۔
آیت کے آخر میں ایک طرف تو اُن دلائل کے واضح ہونے کی طرف اشارہ ہے اور دوسری طرف ان واضح و آشکار دلائل کے مقابلہ میں ان کی ہٹ دھرمی ، سختی اور نادانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ذرا دیکھو تو سہی کہ ہم کس طرح ان دلائل کو وضاحت کے ساتھ کھول کھول کر بیان کرتے ہیں( انظر کیف نبین لهم الاٰیات ثم انظرانّٰی یوفکون ) ۔(۱)
بنابرین ان دوجملوں میں ”انظر“کی تکرار اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک طرف تو ان روشن و واضح دلائل پر غور کرو کہ جو ہر شخص کی توجہ کے لئے کافی ہیں اور دوسری طرف اُن کے حیرت انگیز اور منفی عکس العمل پر نظر کرو کہ جوہر شخص کے لئے تعجب خیز ہے ۔
بعد والی آیت میں گذشتہ استدلال کی تکمیل کے لئے فرمایا گیا ہے: تمھیں معلوم ہے کہ مسیح خود سرتا پا احتیاجاتِ بشری رکھتے اور خود اپنے نفع و نقصان پر قادر نہیں تھے چہ جائیکہ وہ تمہارے نفع و نقصان پر قادر نہیں تھے چہ جائیکہ وہ تمہارے نفع و نقصان پر قادر ہوں( قل اتعبد ون من دون مالا یملک لکم ضرًا ولا نفعاً ) ۔
اسی بناپر وہ بارہا دشمنوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہوئے ۔ یا ان کے دوست گرفتار ہوئے ۔ اگر لطف خدا ان کے شامل حال نہ ہوتا تو وہ ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے تھے ۔
آخرین اُنہیں اس خطرے سے آگاہ کرتا ہے کہ خبردار کہیں یہ گمان نہ کرلینا کہ خدا تمہاری ناروا باتوں کو سنتا نہیں ہے یا وہ تمہارے باطن سے آگاہ نہیں ہے، خدا سننے والا بھی ہے اور عالم و دانا بھی( و اللّٰه هو السمیع العلیم ) ۔
یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ مسیح کے بشر ہونے اور ان کی مادّی اور جسمانی ضروریات اور احتیاجات کا مسئلہ کہ جس کا قرآن نے ان آیات اور دوسری آیات میں تذکرہ کیا ہے حضرت عیسیٰ کی خدائی کا دعویٰ کرنے والے عیسائیوں کے لئے بہت بڑی مشکلات میں سے ایک ہے کہ جس کی توجیہ کے لئے وہ بہت ہی ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور بعض اوقات وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ مشکلات میں سے ایک ہے کہ جس کی توجیہ کے لئے وہ بہت ہی ہاتھ پاؤں مارتے ہیں اور بعض اوقات وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کے لئے جنبوں کے قائل ہوں جنبہ لاہوت اور دوسرے جنبہ ناسوت ۔ جنبہ لاہوت کی نظر سے وہ خدا کے بیٹے ہیں اور خود خدا ہیں اور ناسوت کی نظر سے جسم اور مخلوقِ خدا ہیں اور اسی قسم کی دوسری توجیہات کہ جوان کی منطق کے ضعف اور نادرستی کی بہترین مظہر ہیں ۔
اس نکتہ کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے کہ آیت میں لفظ ”من“ کے بجائے ”ما“ استعمال ہوا ہے جو عام طور پر غیر ذوی العقول موجودات کے لئے ذکر ہوتا ہے یہ تعبیر شاید اسی بناپر ہو کہ باقی معبودوں اور بتوں کو بھی جو پتھر اور لکڑی سے بنے ہوئے ہوتے ہیں اس جملہ کی عمومیت میں داخل کرتے ہوئے یہ کہا جائے کہ اگر مخلوق کی پرستش جائز ہو تو پھر بت پرستوں کی بت پرستی بھی جائز شمار کی جائے ۔ کیونکہ مخلوق ہونے میں سب برابر ہیں اور مساوی ہیں اور حقیقت میں حضرت مسیح کی الوہیت پر ایمان ایک طرح کی بت پرستی ہیں ہے نہ کہ خدا پرستی ۔
انبیاء کے بارے میں غلو کے سلسلے میں روشن دلائل سے اہلِ کتاب کا اشتباہ واضح ہوجانے کے بعد پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے کہ اُنہیں دعوت دو کہ وہ اس راستے سے عملی طور پر پلٹ آئیں ۔ فرمایا گیا ہے: کہہ دو کہ اے اہلِ کتاب! اپنے دین میں غلونہ کرو اور حد سے تجاوز نہ کرو اور حق کے علاوہ کوئی بات نہ کہو( قل یا اهن الکتاب لا تفلوافی دینکم غیر الحق ) ۔(۲)
البتہ عیسائیوں کا غلو تو واضح ہے باقی رہا یہودیوں کا غلو کہ اہلِ کتاب کا خطاب ان کے بارے میں بھی ہے، تو بعید نہیں ہے کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو جو وہ عزیر کے بارے میں کہتے تھے اور اُسے خدا کا بیٹا سمجھتے تھے ۔ چونکہ غلو کا سر چشمہ عموماً گمراہ لوگوں کی ہوا وہوس کی پیروی کرنا ہے اس لئے اس گفتگو کی تکمل کے لئے فرمایا گیا ہے کہ اس قوم کی خواہشات کی پیروی نہ کرو کہ جو تم سے پہلے گمراہ ہوئی اور انھوں نے بہت سے لوگوں کو بھی گمراہ کیا اور جو راہ مستقیم سے منحرف ہوگئے( ولا تتبعوا اهوا قوم قد ضلوا من قبل و اضلوا کثیرًا و ضلوا عن سواء السبیل ) ۔
یہ جملہ حقیقت میں ایک ایسی چیز کی طرف اشارہ ہے جو مسیحیت کی تاریخ میں بھی منعکس ہے کہ مسئلہ تثلیث اور حضرت عیسیٰ کے بارے میں غلو مسیحیت کی ابتدائی صدیوں میں ان کے درمیان وجود نہیں رکھتا تھا بلکہ جب ہندوستان کے بت پر ست اور ان کی مانند دوسرے لوگوں نے دین مسیحیت اختیار کیا تو انھوں نے اپنے سابقہ دین میں سے باقی ماندہ ایک چیز یعنی تثلیثِ شرک کو مسیحیت میں شامل کردیا ۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ ثابوث ہندی (تین خداؤں ، بر ہما فیشنو، سیفا پر ایمان) تاریخی لحاظ سے تثلیث مسیحیت سے پہلے تھا اور در حقیقت یہ اسی کی عکاسی ہے ۔ سورئہ توبہ کی آیت ۳۰ میں بھی یہود و نصاریٰ کے عزیر و عیسیٰ کے بارے میں غلو کے ذکر کے بعد ہے کہ:
”( یضَاهِنُوْنَ قَولَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا مِنْ قَبْلُ ) “
”ان کی باتیں گذشتہ کفار کی باتوں سے مشابہت رکھتی ہیں ۔
اس عبارت میں لفظ ”ضلوا“ اُن کفار کے بارے میں ہے کہ جن سے اہلِ کتال نے غلو کا قتباس کیا تھا اور یہ لفظ دو مرتبہ آیا ہے ۔
ممکن ہے کہ یہ تکرار تاکید کے لئے ہو یا اس بناپر ہو کہ وہ پہلے سے گمراہ تھے ہی لیکن بعد میں اپنی تبلیغات کے ذریعہ انھوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کردیا تو وہ ایک نئی گمراہی میں جاگرے ۔ کیونکہ جو شخص یہ کوشش کرتا ہے کہ دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف کھینچ لے جائے در حقیقت وہ سب سے زیادہ گمراہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ اُس نے اپنی قوتوں کو خود اپنی اور دوسرے لوگوں کی بدبختی میں تلف کردیا ہے اور دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے دوش پر اٹھالیا ہے ۔ آیا وہ شخص کہ جو سیدھے راستے پر قرار پاچکا ہو کبھی اس بات کے لئے تیار ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے بوچھ کے ساتھ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے کندھوں پر اٹھائے ۔
____________________
۱۔ ”یوفکون“ کا مادہ ”افک “ ہے اور یہ در اصل کسی چیز سے منحرف کرنے کے معنی دیتا ہے اور ”ما فوک “ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے کہ جسے حق سے روک دیا گیا ہو، اگر چہ خود اس کی کوتاہی کی بناپر ایسا ہوا ہو۔ اور چونکہ جھوٹ انسان کو حق سے روک دیتا ہے اس لئے اس کو ”افک “کہا جاتا ہے ۔
۲۔ ”لا تغلوا“ کا مادہ ”غلو“ ہے جس کے معنی ہیں حق سے تجاوزکرنا ۔ فرق یہ ہے کہ جب یہ کسی کے مقام و منزلت سے متعلق تجاوز ہو تو غلو کہا جاتا ہے، اگر کسی چیز کے زخ اور قیمت کے بارے میں ہو تو غلاء کہا جاتا ہے اور اگر تیرکے بارہ میں ہو تو غلو بروزن دلو کہتے ہیں جوش مارنے کو غلیان کہتے ہیں اور جو جانور بہت ہی سرکش ہو اُسے غلواء کہتے ہیں ، یہ سب اسی مادہ سے ہیں ۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ غلو افراط کی طرف بھی بولا جاتا ہے اور تفریط کی طرف بھی جبکہ بعض اسے تفریط میں منحصر سمجھتے ہیں اور اس کے نقطہ مقابل کو تقصیر کہتے ہیں ۔
آیات ۷۸،۷۹،۸۰
۷۸( لُعِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ عَلَی لِسَانِ دَاوُودَ وَعِیسَی ابْنِ مَرْیَمَ ذَلِکَ بِمَا عَصَوْا وَکَانُوا یَعْتَدُونَ ) .
۷۹( کَانُوا لاَیَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنکَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا کَانُوا یَفْعَلُونَ ) ۔
۸۰( تَرَی کَثِیرًا مِنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِینَ کَفَرُوا لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اٴَنفُسُهُمْ اٴَنْ سَخِطَ اللهُ عَلَیْهِمْ وَفِی الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُونَ ) ۔
ترجمہ:
۷۸ ۔ جو لوگ بنی اسرائیل میں سے کافر ہوگئے ہیں انھیں حضرت داؤد و عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی ۔ یہ اس بناپر ہوا کہ وہ گناہ اور تجاوز کرتے تھے ۔
۷۹ ۔ وہ ان برے اعمال سے جنہیں وہ خود انجام دیتے تھے ایک دوسرے کو منع نہیں کیا کرتے تھے ۔
۸۰ ۔ تم اُن میں سے بہت سے لوگوں کو دیکھو گے کہ کافروں (اور بت پرستوں ) کو دوست رکھتے ہیں (اور اُن سے راہ ورسم بڑھاتے ہیں ) انھوں نے کتنے بُرے اعمال اپنے (انجام اور آخرت) کے لئے آگے بھیجے ہیں کہ جن کا نتیجہ خدا کی ناراضگی تھی اور وہ ہمیشہ عذاب (الٰہی) میں رہیں گے ۔
( لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داود و عیسی ابن مریم ) ۔
ان آیات میں اس بناپر کہ اہلِ کتاب کو اُن سے پہلے لوگوں کی اندھی تقلید سے روکا جائے اُن کی بدبختی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے؟ بنی اسرائیل کے کافروں پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی ہے اور ان دو بزرگ انبیاء نے خدا سے درخواست کی ہے کہ وہ انھیں اپنی رحمت سے دور رکھے (لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داود و عیسی ابن مریم)۔
اس سلسلے میں کہ صرف ان دو ہی پیغمبروں کا نام کیوں لیا گیا کئی احتمال پیش کیے گئے ہیں ۔ کبھی تو یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا سبب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے بعد زیادہ معروف نبی یہی دونوں تھے ۔ کبھی یہ کہا جات ہے اہلِ کتاب اس بات پر فخر کرتے تھے کہ وہ داؤد کی اولاد ہیں ۔ لہٰذا قرآن اس جملے کے ذریعہ اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ حضرت داؤد ان لوگوں سے کہ جنہوں نے کفر و طغیان اختیار کیا تھا متنفر تھے ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں دو تاریخی واقعات کی طرف اشارہ ہے کہ جس پر یہ دونوں عظیم پیغمبر غضب ناک ہوئے اور انھوں نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر لعنت کی ۔ حضرت داؤد نے ساحلی شہر ایلہ کے ساکنین پر کہ جو اصحاب سبت کے نام سے مشہور تھے ۔ ان کا قصہ سورہ اعراف میں آئے گا اور حضرت عیسیٰ نے اپنے پیروکاروں میں سے اس گروہ پر لعنت ونفرین کی کہ جنھوں نے آسمائی مائدہ کے نازل ہونے کے بعد بھی انکار ومخالفت کی راہ کئے رکھے تھی ۔
بہرحال اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ نسل بنی اسرائیل سے ہونا یا حضرت عیسی کے ماننے والوں میں سے ہونا کسی کی نجات کا باعث نہیں ہوگا، جب تک اُن کے اعمال کے ساتھ ہم آہنگی نہ پیدا کی جائے ۔ بلکہ خود ان انبیاء نے ایسے افراد سے نفرت کی ہے ۔
آیت کا آخری جملہ بھی اس مطلب کی تائید کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ نفرت وبیزاری کا یہ اعلان اس بناپر تھا کہ وہ گنہگار اور تجاوز کرنے والے تھے( ذٰلک بما عصوا وکانوا یعتدون ) ۔
اس کے علاوہ وہ لوگ کسی طرح بھی اپنے لئے کسی اجتماعی ذمہ داری کے قائل نہ تھے اور ایک دوسرے کو غلط کاری سے منع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اُن میں سے نیک لوگوں کا ایک گروہ خاموشی سے اور سازشی انداز میں گنہگار لوگوں میں عملی طور پر شوق پیدا کرتا تھا( کانوا لایتناهون عن منکر فعلوه ) ۔
اس طرح ان کی زندگی کا لائحہ عمل بہت ہی پست اور ناپسندیدہ تھا( لبئس ماکانوا یفعلون ) ۔
اس آیت کی تفسیر میں پیغمبر اکرم اور ائمہ اہلبیت سے ایسی روایات نقل ہوئی ہیں جو بہت ہی سبق آموز ہیں ۔
ایک حدیث میں جو پیغمبر سے روایت ہوئی ہے منقول ہے:
”لتاٴمرن بالمعروف ولتنهون عن المنکر ولتاٴخذن علی ید السفیه ولتاطرنه علی الحق اطرا، اٴو لیضربن اللّٰه قلوب بعضکم علیٰ بعض ویلعنکم کما لعنهم “
”تم ضرور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو، نادان اور جاہل لوگوں کا ہاتھ پکڑو اور حق کی طرف دعوت دو ورنہ خدا تمھارے دلوں کو ایک دوسرے کی مانند کردے گا اور تمھیں اپنی وصیت سے اسی طرح دور کرے گا جس طرح سے اس نے انھیں اپنی رحمت سے دور کردیا تھا ۔(۱)
ایک دوسری حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے (کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ) کی تفسیر میں منقول ہے:
”اما انّهم لم یکونوا یدخلون مداخلهم ولایجلسون مجالسهم ولکن کانوا اذا لقوهم ضحکوا فی وجوههم وانسو بهم “(۲)
”یہ گروہ جن کی خدا مدمت کررہا ہے ہرگز گنہگاروں کے کاموں اور ان کی محفلوں میں شریک نہیں ہوا کرتے تھے بلکہ فقط اُس وقت جبکہ اُن سے ملاقات کرتے تھے تو اپن کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے اور ان سے مانوس تھے“
بعد والی آیت میں ان کے ایک اور غلط عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم اُن میں سے بہت سوں کو دیکھوگے کہ وہ کافروں کے ساتھ محبت اور دوستی کی بنایادیں استوار کرتے ہیں (تریٰ کثیراً منھم یتولون الذین کفروا)۔
یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ان کی دوستی ایک عام دوستی کی طرح نہ تھی بلکہ وہ طرح طرح کے گناہوں سے مخلوط اور غلط اعمال وافکار کا شوق پیدا کرنے والی دوستی تھی لہٰذا آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: اُنھوں نے کیسے بُرے ااعمال اپنی آخرت کے لئے آگے بھیجے ہیں کہ جن کا نتیجہ خدا خشم وغضب تھا اور وہ ہمیشہ کے لئے غذابِ الٰہی میں مبتلا رہیں گے ۔( لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اٴَنفُسُهُمْ اٴَنْ سَخِطَ اللهُ عَلَیْهِمْ وَفِی الْعَذَابِ هُمْ خَالِدُون )
اس بارے میں کہ ”الذین کفروا“ سے اس آیت میں کون سے افراد مراد ہیں بعض نے تو یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ اس سے منظور مشرکین مکّہ ہیں کہ جن کے ساتھ یہودیوں نے دوستی کی پینگیں بڑھا رکھی تھیں اور بعض نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس سے منظور وہ ظالم وستمگر ہیں جن کے ساتھ یہودیوں نے گذشتہ زمانے میں دوستی کررکھی تھی ۔
وہ حدیث جو امام باقر علیہ السلام سے اس سلسلہ میں وارد ہوئی وہ بھی اس معنی کی تاکید کرتی ہے، آپ فرماتے ہیں :
”یتولون الملوک الجبارین ویزینون هوائهم لیصیبوا من دنیاهم “(۳)
”یہ گروہ ایسے لوگوں پر مشتمل تھا جو جابر بادشاہوں کو دوست رکھتے تھے اور ان کے ہوس آلود گناہوں کو ان کی نظر میں اچھا کرکے پیش کرتے تھے تاکہ انھیں اُن کا تقرب حاصل ہو اور ان کی دنیا سے بہرہ ور ہوں “
اس امر میں کوئی مانع نہیں ہے کہ آیت دونوں ہی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہو بلکہ ان معنی سے بھی بڑھ کر عام ہو۔
____________________
۱۔تفسیر مجمع البیان میں زیر بحث آیت کے ذیل میں اور تفسیر قطبی جلد چہارم صفحہ ۲۲۵۰ میں اسی مضمون کی ایک حدیث ترمذی سے نقل کی گئی ہے
۲۔تفسیر برہان، ج۱، ص ۴۹۲؛ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۶۶۱.
۳۔مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں
آیت ۸۱
۸۱( وَلَوْ کَانُوا یُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالنَّبِیِّ وَمَا اٴُنزِلَ إِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ اٴَوْلِیَاءَ وَلَکِنَّ کَثِیرًا مِنْهُمْ فَاسِقُونَ )
ترجمہ:
”اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کچھ اس کے اوپر نازل ہوا ہے اُس پر ایمان لے آتے تو (ہرگز) انھیں اپنا دوست نہ بناتے لیکن ان میں بہت سے فاسق ہیں “
خدا نے انھیں ان ہی باتوں کی وجہ سے
اس آیت میں الله تعالیٰ انھیں اس غلط اور نادرست طریقہ عمل سے راہ نجات کی طرف رہنمائی کررہا ہے کہ اگر واقعاً وہ خدا اور پیغمبر اور کچھ اس پر نازل ہوا ہے اس پر ایمان رکھتے تھے تو کبھی بیگانوں اور خدا کے دشمنوں سے دوستی نہ کرتے اور نہ ہی انھیں اپنے لئے سہارے کے طور پر منتخب کرتے
( ولو کانوا یومنون باللّٰه والنبی ومااٴنزل الیه وماتخذهوهم اولیاء ) لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اُن میں اطاعت خدا کرنے والے لوگبہت ہی کم ہیں اور اُن میں سے زیادہ تر فرمان خدا کے دائرہ سے خارج ہوچکے ہیں اور فسق کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں( ولٰکن کثیراً منهم فاسقون )
یہ بات صاف ظاہر ہے کہ اس مقام پر ”النبی“ سے مراد پیغمبر اسلام (ص) ہیں کیونکہ قرآن مجید کی مختلف آیات میں یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے اور یہ امر قرآن کی دسیوں آیات میں دکھائی دیتا ہے ۔
آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ہے کہ ”کانوا“ کی ضمیر مشرکین اور بت پرستوں کی طرف لوٹتی ہو کہ اگر یہ مشرک جو یہودیوں کے دوست اور ان کے لئے قابل اعتماد ہیں پیغمبر اکرم (ص) اور قرآن پر ایمان لاتے تو یہودی کبھی انھیں اپنا دوست نہ بناتے اور یہ اُن کی گمراہی اور فسق وفجور کی واضح نشانی ہے کیونکہ وہ کتب آسمانی کی پیروی کے دعوے کے ساتھ بت پرستوں سے اس وقت تک دوستی نہ کرتے جب تک وہ مشرک ہیں جبکہ ہوتا یہ ہے کہ جب وہ خدا اور آسمانی کتابوں کی طرف آجاتے ہیں تویہ اُن سے دوری اختیار کرلیتے ہیں ۔ لیکن پہلی تفسیر آیات کے ظاہری مفہوم سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے اور اس کے مطابق تمام ضمیریں ایک ہی مرجع (یعنی یہودیوں ) کی طرف لوٹتی ہیں ۔
آیات ۸۲،۸۳،۸۴،،۸۵،۸۶
۸۲( لَتَجِدَنَّ اٴَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِینَ آمَنُوا الْیَهُودَ وَالَّذِینَ اٴَشْرَکُوا وَلَتَجِدَنَّ اٴَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً لِلَّذِینَ آمَنُوا الَّذِینَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَی ذَلِکَ بِاٴَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیسِینَ وَرُهْبَانًا وَاٴَنَّهُمْ لاَیَسْتَکْبِرُونَ )
۸۳( وَإِذَا سَمِعُوا مَا اٴُنزِلَ إِلَی الرَّسُولِ تَرَی اٴَعْیُنَهُمْ تَفِیضُ مِنْ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنْ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِینَ )
۸۴( وَمَا لَنَا لاَنُؤْمِنُ بِاللهِ وَمَا جَائَنَا مِنْ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ اٴَنْ یُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِینَ )
۸۵( فَاٴَثَابَهُمْ اللهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا وَذَلِکَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِینَ )
۸۶( وَالَّذِینَ کَفَرُوا وَکَذَّبُوا بِآیَاتِنَا اٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ الْجَحِیمِ )
ترجمہ:
۸۲ ۔ یقینی طور پر تم یہود اور مشرکین کو مومنین کی دشمنی میں سب لوگوں سے بڑھا ہوا پاؤگے لیکن وہ لوگ کہ جو خود کو مسیحی کہتے ہیں انھیں تم مومنین کے ساتھ دوستی میں قریب تر پاؤ گے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن میں کچھ دانشمند اور دنیا سے دور افراد موجود ہیں اور وہ حق کے مقابلے میں تکبّر نہیں کرتے ۔(۱)
۸۳ ۔ اور وہ جس وقت پیغمبر پر نازل ہونے والی آیات سنتے ہیں توتم دیکھوگے کہ ان کی آنکھوں سے (فرط شوق میں ) آنسو جاری ہوجاتے ہیں کیونکہ انھوں نے حق کو پہچان لیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں اے پروردگار! ہم ایمان لے آئے ہیں پس تو ہمیں حق کی گواہی دینے والوں میں لکھ دے ۔
۸۴ ۔ ہم خدا پر اور اُس حق پر جو ہم تک پہنچا ہے کیوں ایمان نہ لے آئیں جبکہ ہماری آرزو ہے کہ وہ ہمیں صالحین کے گروہ میں سے قرار دے ۔
۸۵ ۔ خدا نے انھیں ان ہی باتوں کی وجہ سے جنت کے ایسے باغات ثواب وجزا کے طور پر دیئے کہ جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے اور یہ نیکوکار لوگوں کی جزا ہے ۔
۸۶ ۔ اور وہ لوگ جو کافر ہوگئے ہیں اور انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ اہلِ دوزخ ہیں ۔
اسلام کے پہلے مہاجرین
بہت سے مفسرین نے منجملہ طبرسی نے ”مجمع البیان“ میں اور فخر الدین رازی اور ”المنار“ کے مولف نے اپنی اپنی تفسیروں میں اپنے سے پہلے مفسرین کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیات پیغمبر اکرم کے زمانے کے حبشہ کے بادشاہ نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نال ہوئی ہیں ، نیز جو حدیث تفسیر ”برہان“ میں نقل ہوئی ہے اس میں بھی یہی بات شرح وبسط سے بیان کی گئی ہے ۔
اس سلسلے میں اسلامی روایات وتواریخ اور مفسرین کے اقوال سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ اس طرح ہے کہ پیغمبر اکرم کی بعثت اور عمومی دعوت کے ابتدائی سالوں میں مسلمان بہت ہی کم تعداد میں تھے ۔ قریش نے قبائل عرب کو یہ نصیحت کر رکھی تھی کہ ہر قبیلہ اپنے قبیلہ کے ان لوگوں پر کہ جو پیغمبر اکرم پر ایمان لاچکے ہیں انتہائی سخت دباؤ ڈالیں اور اس طرح مسلمانوں میں سے ہر کوئی اپنی قوم وقبیلہ کی طرف سے انتہائی سختی اور دباؤ میں مبتلا تھا، اس وقت مسلمانوں کی تعداد جہادِ آزادی شروع شروع کرنے کے لئے کافی نہیں تھی، پیغمبر اکرم نے اس چھوٹے سے گروہ کی حفاظت اور مسلمانوں کے لئے حجاز سے باہر قیام گاہ مہیّا کرنے کے لئے انھیں ہجرت کا کا حکم دے دیا اور اس مقصد کے لئے حبشہ کو منتخب فرمایا اور کہا کہ وہاں ایک نیک دل بادشاہ ہے جو ظلم وستم کرنے سے اجتناب کرتا ہے ۔ تم وہاں چلے جاؤ۔ یہاں تک کہ خداوندتعالیٰ کوئی مناسب موقع ہمیں عطا فرمائے ۔
پیغمبر اکرم کی مراد نجاشی سے تھی (نجاشی ایک عام نام تھا جسے ”کسریٰ“ جو حبشہ کے تمام بادشاہوں کا خاص لقب تھا لیکن اس نجاشی کا اصل نام جو پیغمبر کا ہم عصر تھا اصحمہ تھا جو کہ حبشہ کی زبان میں عطیہ وبخشش کے معنی میں ہے)مسلمانوں میں سے گیارہ مرد اور چار عورتیں حبشہ جانے کے لئے تیار ہوئے اور ایک چھوٹی سی کشتی کرایہ پر لے کر بحری راستے سے حبشہ جانے کے لئے روانہ ہوگئے، یہ بعثت کے پانچویں سال ماہ رجب کا واقعہ ہے ۔ کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ جناب جعفر بن ابوطالب بھس مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ حبشہ چلے گئے ۔ اب اس اسلامی جمعیت میں ۸۲ مردوں کے علاوہ کافی تعداد میں عورتیں اور بچے بھی تھے ۔
اس ہجرت کی بنیاد بت پرستوں کے لئے سخت تکلیف دہ تھی کیونکہ وہ اچھی طرح سے دیکھ رہے تھے کہ کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ وہ لوگ جو تدریجاً اسلام قبول کرچکے ہیں اور حبشہ کی سرزمین امن وامان کی طرف چلے گئے ہیں ، مسلمانوں کی طاقتور جماعت کی صورت اختیار کرلیں گے ۔ یہ حیثیت ختم کرنے کے لئے انھوں نے کام کرنا شروع کردیا ، اس مقصد کے لئے انھوں نے جوانوں میں سے دو ہوشیار، فعّال، حیلہ ساز اور عیّار جوانوں یعنی عمروبن عاص اور عمارہ بن ولید کا انتخاب کیا، بہت سے ہدیے دے کر اُن کو حبشہ کی طرف روانہ کیا گیا ۔ ان دونوں نے کشتی میں بیٹھ کر شراب پی اور ایک دوسرے سے لڑپڑے، لیکن آخر کار وہ اپنی سازش کو روبہ عمل لانے کے لئے سرزمین حبشہ میں داخل ہوگئے، ابتدائی مراحل طے کرنے کے بعد وہ نجاشی کے دربار میں پہنچ گئے، دربار میں باریاب ہونے سے پہلے انھوں نے نجاشی کے درباریوں کو بہت قیمتی ہدیے دے کر اُن کو اپنا موافق بنالیا تھا اور اُن سے اپنی طرفداری اور تائید کرنے کا وعدہ لے لیا تھا ۔
عمروعاص نے اپنی گفتگو شروع کی اور نجاشی سے اس طرح ہمکلام ہوا:
”ہم سرداران مکہ کے بھیجے ہوئے ہیں ، ہمارے درمیان کچھ کم عقل جوانوں نے مخالفت کا علم بلند کیا اور وہ اپنے بزرگوں کے دین سے پھر گئے ہیں اور ہمارے خداؤں کو بُرا بھلا کہتے ہیں ، انھوں نے فتنہ وفساد برپا کردیا ہے، لوگوں میں نفاق کا بیج بودیا ہے؛ آپ کی سرزمین کی آزادی سے انھوں نے غلط اُٹھایا ہے اور انھوں نے یہاں آکر پناہ لی ہے، ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ وہ یہاں بھی خلل اندازی نہ کریں ، بہتر یہ ہے کہ آپ انھیں ہمارے سُپرد کردیں تاکہ ہم انھیں اپنی جگہ واپس لے جائیں ۔
یہ کہہ کر ان لوگوں نے وہ ہدیے جو اپنے ساتھ لائے تھے پیش کئے ۔
نجاشی نے کہا: جب تک میں اپنی حکومت میں پناہ لینے والوں کے نمائندوں سے نہ مل لوں اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کرسکتا اور چونکہ یہ ایک مذہبی بحث ہے لہٰذا ضروری ہے کہ مذہبی نمائندوں ہی کو ایک جلسہ میں تمھاری موجودگی میں دعوت دی جائے ۔
دوسرے دن ایک اہم جلسہ منعقد ہوا، اس میں نجاشی کے مصاحبین اور عیسائی علماء کی ایک جماعت شریک تھی، جعفر بن ابی طالب مسلمانوں کے نمائندوں کی حیثیت سے موجود تھے اور قریش کے نمائندے بھی حاضر تھے، نجاشی نے قریش کے نمائندوں کی باتیں سننے کے بعد جناب جعفر کی طرف رخ کیا اور اُن سے خواہش کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنا نقطہ نظر بیان کریں ۔
جناب جعفر ادائے احترام کے بعد اس طرح گویا ہوئے: پہلے ان سے پوچھئے کہ کیا ہم ان کے بھاگے ہوئے غلاموں میں سے ہیں ؟
عمرو نے کہا: نہیں بلکہ آپ آزاد ہیں ۔
جعفر: ان سے یہ بھی پوچھئے کہ کیا ان کا کوئی قرض ہمارے ذمّے ہے کہ جس کا وہ ہم سے مطالبہ کرتے ہیں ؟
عمرو: نہیں ہمارا آپ سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں ہے ۔
جعفر: کیا ہم نے تمھارا کوئی خون بہایا ہے کہ جس کا ہم سے بدلہ لینا چاہتے ہو؟
عمرو: نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔
جعفر: تو پھر تم ہم سے کیا چاہتے ہو؟ تم نے ہم پر اتنی سختیاں کیں اور اتنی تکلیفیں پہنچائیں اور ہم تمھاری سرزمین سے جو سراسر مرکز ظلم وجور تھی باہر نکل آئے ہیں ۔
اس کے بعد جناب جعفر نے نجاشی کی طرف رخ کیا اور کہا :ہم جاہل اور نادان تھے، بت پرستی کرتے تھے، مردار کا گوشت کھاتے تھے، طرح طرح کے برے اور شرمناک کام انجام دیتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے، اپنے ہمسایوں سے برا سلوک کرتے تھے اور ہمارے طاقتور کمزوروں کے حقوق ہڑپ کرجاتے تھے ۔
لیکن خداوند تعالیٰ نے ہمارے درمیان ایک پیغمبر کو مبعوث فرمایا، جس نے ہمیں حکم دیا کہ ہم خدا کا کوئی مثل اور شریک زبنائیں اور فحشاء و منکر، ظلم و ستم اور قمار بازی ترک کردیں ۔ ہمیں حکم دیا کہ ہم نماز پرھیں ، زکوٰة ادا کریں ، عدل و احسان سے کام لیں اور اپنے وابستگان کی مدد کریں ۔
نجاشی نے کہا: عیسیٰ مسیح بھی انہی چیزوں کے لئے مبعوث ہوئے تھے ۔ اس کے بعد اس نے جناب جعفر سے پوچھا: ان آیات میں سے جو تمہارے پیغمبر پر نازل ہوئی ہیں کچھ تمھیں یاد ہیں ۔
جعفر نے کہا: جی ہاں :
اور پھر انھوں نے سورئہ مریم کی تلاوت شروع کردی ۔ اس سورہ کی ایسی ہلا دینے والی آیات کے ذریعہ جو مسیح اور اُن کی ماں کو ہر قسم کی ناروا تہمتوں سے پاک قرار دیتی ہیں ، جناب جعفر کے حسن انتخاب نے عجیب و غریب اثر کیا یہاں تک کہ مسیحی علماء کی آنکھوں سے فرط شوق میں آنسو بہنے لگے اور نجاسی نے پکار کر کہا: خدا کی قسم! ان آیات میں حقیقت کی نشانیان نمایاں ہیں ۔
جب عمرونے چاہا کہ اب یہاں کوئی بات کرے اور مسلمانوں کو اس کے سُپرد کرنے کی در خواست کرے، نجاشی نے ہاتھ بلند کیا اور زور سے عمرو کے منہ پر مارا اور کہا: خاموش رہو، خدا کی قسم! اگر ان لوگوں کی مذمت میں اس سے زیادہ کوئی بات کی تو میں تجھے سزادوں گا ۔ یہ کہہ کر مامورینِ حکومت کی طرف رُخ کیا اور پکار کر کہا: ان کے ہدیے ان کو واپس کردو اور انھیں حبشہ کی سرزمین سے باہر نکال دو۔ جناب جعفر اور اُن کے ساتھیوں سے کہا: تم آرام سے میرے ملک میں زندگی بسر کرو۔
اِس واقعہ نے جہاں حبشہ کے کچھ لوگوں پر اسلام شناسی کے سلسلے میں گہرا تبلیغی اثر کیا وہاں یہ واقعہ اس بات کا بھی سبب بنا کہ مکے کے مسلمان اس کو ایک اطمینان بخش جائے پناہ شمار کریں اور نئے مسلمان ہونے والوں کو اُس دن کے انتظار میں کہ جب وہ کافی قدرت و طاقت حاصل کریں وہاں پر بھیجتے رہیں ۔
کئی سال گزرگئے ۔ پیغمبر بھی ہجرت فرماگئے اور اسلام روز بروز ترقی کی منزلیں طے کرنے لگا، عہد نامہ حدیبیہ لکھا گیا اور پیغمبر اکرم فتح خیبر کی طرف متوجہ ہوئے ۔
اس وقت جبکہ مسلمان یہودیوں کے سب سے بڑے اور خطرناک مرکز کے ٹوٹنے کی وجہ سے اتنے خوش تھے کہ پھولے نہیں سماتے تھے، دور سے انھوں نے ایک مجمع کو لشکر اسلام کی طرف آتے ہوئے دیکھا ۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ معلوم ہوا کہ یہ وہی مہاجرین حبشہ ہیں ، جو آخوش وطن میں پلٹ کر آرہے ہیں ، جب کہ دشمنوں کی بڑی بڑی طاقتین دم توڑچکی ہیں اور اسلام کا پودا اپنی جڑیں کافی پھیلا چکا ہے ۔
پیغمبر اکرم نے جناب جعفر اور مہاجرین حبشہ کو دیکھ کر یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:
”لا ادری انا بفتح خبیر اسرام بقدوم جعفر ؟“
”میں نہیں جانتا کہ مجھے خیبر کے فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہے یا جعفر کے پلٹ آنے کی“
کہتے ہیں کہمسلمانوں کے علاوہ شامیوں میں سے آٹھ افراد کہ جن میں ایک مسیحی راہب بھی تھا اور ان کا اسلام کی طرف شدید میلان پیدا ہوگیا تھا، پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھو ں نے سورہ یٰسین کی کچھ آیات سننے کے بعد رونا شروع کردیا اور مسلمان ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ آیات مسیح کی سچّی تعلیمات سے کس قدر مشابہت رکھتی ہیں ۔
اُ س روایت کے مطابق جو تفسیر ”المنار“ میں سعید ابن جبیر سے منقول ہے نجاشی نے اپنے یاور وانصار میں سے تیس بہترین افراد کو پیغمبر اکرم اور دین اسلام کے ساتھ اظہارِ عقیدت کے لئے مدینہ بھیجا اور یہ وہی تھے جو سورہ یٰسین کی آیات سُن کر رو پڑے تھے اور اسلام قبول کرلیا تھا ۔ اس پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں اور ان مومنین کی عزت افزائی کی گئی ۔ (یہ شان نزول اس بات کے خلاف نہیں کہ سورئہ مائدہ پیغمبر اکرم کی عمر کے اواخر میں نازل ہوئی ہو۔ کیونکہ یہ بات اس سورہ کی اکثر آیات کے ساتھ مربوط ہے لہٰذا اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اُن میں سے کچھ آیات قبل کے واقعات کے شلشلے میں نازل ہوئی ہوں اور پیغمبر کی ہدایت کے مطابق اس سورہ میں بہت سی مناسبات کی وجہ سے شامل کردی گئی ہوں )۔
یہودیوں کی کینہ پروری اور عیسائیوں کی نرم دلی
ان آیت میں اُن یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان موازنہ کیا گیا ہے پیغمبر کے ہم عصر تھے ۔ پہلی آیت میں یہودیوں اور مشرکین کی ایک ہی صف میں قرار دیاگیا ہے اور عیسائیوں کو دوسری صف میں ، ابتدا میں فرمایا گیا ہے: مومنین کے سخت ترین دشمن یہودی اور مشرکین ہیں لیکن عیسائی مومنین سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں (لتجدن اشد الناس عداوة للذین اٰمنوا الیهود و الذین اشرکوا ولتجدن اقربهم مودة للذین اٰمنو الذین قالوا انا نصری )۔
تاریخ اسلام اس حقیقت کی اچھی طرح گواہ ہے کیونکہ اسلام کے خلاف لڑی جانے والی بہت سی جنگوں کے میدان میں یہودی بلا واسطہ یا بالواسطہ طریقہ سے دخیل رہے ہیں اور کسی عہد شکنی اور دشمنی سے باز نہیں آتے تھے ۔ اُن میں سے بہت ہی کم افراد ایسے ہیں جو حلقہ بگوش اسلام ہوئے جبکہ ہم اسلام ہوئے جبکہ ہم اسلامی جنگوں میں بہت کم مسلمانوں کو عیسائیوں سے آمنا سامنا کرتے دیکھتے ہیں اور ہم یہ بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ اُن میں سے بہت سے افراد مسلمانوں کی صفوں میں آملے ۔
اس کے بعد قرآن اس روحانی فرق کی دلیل اور رہن سہن کے اجتماعی طریقوں کو چند جملوں میں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پیغمبر کے ہم عصر عیسائی کچھ ایسے امتیازات رکھتے تھے کہ جو یہودیوں میں نہیں تھے ۔
پہلا امتیاز تو یہ ہے کہ ان میں علماء اور دانشمندوں کی ایک ایسی جماعت موجود تھی جو دنیا پرست یہودی علماء کی طرح حقیقت کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے تھے( ذلک بان منهم قسیسین ) ۔(۲)
نیز اُن کے درمیان کچھ لوگ تارک دنیا بھی تھے کہ جواز روئے عمل لالچی یہودوں کے بالکل بر خلاف تھے اگر چہ وہ بھی کئی طرح کے انحرافات کے مرتکب تھے لیکن پھر بھی وہ ایک ایسی سطح پر تھے جو یہودیوں سے بالاتر تھی( ورهباناً ) ۔
اُن میں سے بہت سے ایسے بھی تھے جو حق کے قبول کرنے میں خاضع تھے اور اپنی طرف سے تکبر کا اظہار نہیں کرتے تھے جبکہ یہودیوں کی اکثریت دین اسلام کو قبول کرنے سے اس وجہ سے سرتابی کرتی تھی کیونکہ وہ خود کو ایک برتر نسل سمجھتے تھے اور دین اسلام یہودیوں کی نسل میں قائم نہیں ہوا تھا( وانهم لا یستکبرون ) ۔
علاوہ ازین ان میں سے ایک جماعت (جیسے جناب جعفر کے ساتھی اور حبشہ کے عیسائیوں میں سے کچھ لوگ) ایسے تھے کہ وہ جس وقت قرآن کی آیات کو سنتے تھے تو حق کے حاصل ہوجانے کی خوشی میں ان کی آنکھوں سے شوق کے آنسو جاری ہو جاتے تھے( واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تری اعینهم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق ) ۔
اور وہ صراحت کے ساتھ علی الاعلان بغیر کسی لاگ لپیٹ کے پکار اُٹھتے تھے پروردگارا ! ہم ایمان لے آئے ہیں ہمیں حق کے گواہوں اور محمد کے ساتھیوں اور یا و انصار میں سے قرار دے( یقولون ربنا اٰمنا فاکتبنا مع الشَّاهدین ) ۔
وہ اس آسمانی کتاب کی ہلادینے والی آیات سے اس قدر متاثر ہوتے تھے کہ پکار اُٹھتے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ہم خدائے یکتا پر اور ان حقائق پر جو اُس کی طرف سے آئے ہیں ایمان نہ لائیں جبکہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں صالحین کے زمرے میں قرار دے( و مالنا لا نومن باللّٰه و ماجاء نا من الحق و نطمع ان ید خلنا ربنا مع القوم الصَّالحین ) ۔
البتہ جیسا ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں یہ موازنہ زیادہ تر پیغمبر اسلام کے ہم عصر یہود و نصاریٰ کے بارے میں ہے کیونکہ یہودی آسمانی کتاب کے حامل ہونے کے باوجود مادیت سے بے اندازہ لگاو کی وجہ سے مشرکین کی صف میں جاکھڑے ہوتے تھے ۔ جب کہ مذہبی نقطہ نظر سے اُن دونوں میں کوئی وجہ مشترک نہیں تھی ۔ حالانکہ ابتدا میں یہودی اسلام کی بشارت دینے والوں میں شمار ہوتے تھے اور اُن میں عیسائیوں کی طرح تثلیث اور غلو جیسے انحرافات موجود نہیں تھے ۔
لیکن ان کی شدید دنیا پرستی نے انہیں حق سے بالکل بیگانہ کردیا جبکہ اُس زمانے کے عیسائی ایسے نہیں تھے ۔
لیکن گذشتہ اور موجودہ زمانے کی تاریخ ہمیں یہ بتلاتی ہے کہ بعد کے زمانوں کے عیسائی، اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں ایسے جرائم کے مرتکب ہوئے جو یہودیوں کے جرائم سے کسی طرح کم تھے ۔ گذشتہ زمانے میں طویل اور خونین صلیبی جنگیں اور اِس زمانے کی ایسی بے شمار تحریکیں جو مسیحی سامراجی ممالک کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہو رہی ہیں ہیں کسی پرڈھکی چھُپی نہیں ۔ لہٰذا اُوپر والی آیات کو تمام عیسائیوں کے بارے میں ایک قانون کلی کے طور پر نہیں جاننا چاہیے ۔ و اذا سمعوا ما انزل الی الرسول ۔ اور اس کے بعد کے جملے اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ آیات صرف پیغمبر اکرم کے ہم عصر عیسائیوں کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔
اس کے بعد کی دو آیات میں ان ہی دونوں گرہوں کے انجام اور جزا و سزا کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: جن لوگوں نے صاحبِ ایمان افراد کے سامنے محبت کا اظہار کیا اور آیات الٰہی کے مقابلہ میں سر تسلیم خم کیا اور صراحت کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا خداوند تعالیٰ اس کے بدلے میں بطورِ جزا و ثواب انہیں جنت کے ایسے باغات عطا فرمائے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے اور نیکو کار لوگوں کی یہی جزا ہے( فاثا بهم اللّٰه بما قالوا جنات تجری من تحتها الانهار خالدین فیها و ذٰلک جزاء المحسنین ) ۔(۳)
اور ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے دشمنی کا راستہ اختیار کیا اور کافر ہوگئے( والّذین کفروا و کذّبوا بِاٰیٰاتنا اولٰئک اصحاب الجحیم ) ۔
____________________
۱۔ساتواں پارہ، آیت۸۳ سے شروع ہوتا ہے لیکن ۸۳ آیت کو مضمون کی مناسبت سے یہاں درج کیا گیا ہے (مترجم)
۲۔ کشیش اصل میں سریانی زبان کا لفظ کہ جس کا معنی عیسائیوں کا مذہبی پیشوا اور رہنما ہے جس کو عربی میں قسیس کہا جاتا ہے اس کی جمع قسیسین ہے ۔
۲۔ ”ثابھم“ ثواب کے مادے سے لیا گیا ہے کہ جو اصل میں ”لوٹ آنے “ ”نیکی کرنے“ اور کسی کو نفع پہنچانے کے معنی میں ہے ۔
آیات ۸۷،۸۸،۸۹،
۸۷( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتُحَرِّمُوا طَیِّبَاتِ مَا اٴَحَلَّ اللهُ لَکُمْ وَلاَتَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لاَیُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ ) ۔
۸۸( وَکُلُوا مِمَّا رَزَقَکُمْ اللهُ حَلاَلًا طَیِّبًا وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِی اٴَنْتُمْ بِهِ مُؤْمِنُونَ ) ۔
۸۹( لاَیُؤَاخِذُکُمْ اللهُ بِاللَّغْوِ فِی اٴَیْمَانِکُمْ وَلَکِنْ یُؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُمْ الْاٴَیْمَانَ فَکَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاکِینَ مِنْ اٴَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ اٴَهْلِیکُمْ اٴَوْ کِسْوَتُهُمْ اٴَوْ تَحْرِیرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَةِ اٴَیَّامٍ ذَلِکَ کَفَّارَةُ اٴَیْمَانِکُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا اٴَیْمَانَکُمْ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ آیَاتِهِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ) ۔
ترجمہ:
۸۷ ۔ اے ایمان والو! اُن پاکیزہ چیزوں کو جو خدانے تم پر حلال کردی ہیں اپنے اُوپر حرام نہ کرو اور حد سے تجاوز نہ کرو کیونکہ خداوند سے تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔
۸۸ ۔ اور خداوند تعالیٰ نے حلال اور پاکیزہ نعمات میں سے جو رزق تمہیں دے رکھا ہے اُنہیں کھاؤ اور اس خدا (کی مخالفت) سے پرہیز کرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔
۸۹ ۔ خداوند تعالیٰ تمہیں بے ہودہ (اور بے ارادہ) قسموں کی وجہ سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن وہ قسمیں کہ جنہیں (ارادہ کے سات) تم نے محکم کیا ہو ان کے بارے میں مواخذہ کرے گا ۔ اس قسم کی قسموں کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے (اور وہ کھانا ایسا ہونا چاہیے) جو تم عام پر اپنے گھروالوں کو کھلاتے ہو۔ یادس مسکینوں کو لباس پہنانا ہے یا ایک غلام آزاد کرنا ہے اور جسے ان میں سے کچھ میسّر نہ ہووہ تین دن روزے رکھے ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے ۔ جب تم قسمیں کھاتے ہو (اور پھر ان کی مخالفت کرتے ہو) اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو اور انہیں نہ توڑو۔ خداوند تعالیٰ اسی صرح سے اپنی آیات کو تمہارے لیے بیان کرتا ہے تاکہ تم اس کا شکر بجالاؤ۔
حد سے تجاوز نہ کرو
درج بالا آیات کے بارے میں متعدد روایات نقل ہوئی، ہیں منجملہ اُن کے ایک یہ ہے کہ ایک دن پیغمبر نے روز قیامت خداوند تعالیٰ کی عظیم عدالت میں لوگوں کی حالت و کیفیت سے متعلق کچھ بیان فرمایا ۔ اِن بیانات نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا اور کچھ لوگ رونے لگے اُس کے بعد اصحاب پیغمبر میں سے ایک گروہ نے پختہ ارادہ کر لیا وہ کچھ لذائذ اور راحتوں کو اپنے اوپر حرام کرکے ان کی جگہ عبادت میں مشغول رہیں ۔ امیرالمومنین حضرت علی نے قسم کھائی کہ رات کو بہت کم سویا کریں گے اور عبادت میں مشغول رہیں گے ۔ بلال نے قسم کھائی کہ ہمیشہ روزہ رکھیں گے ۔ عثمان بن مظعون نے قسم کھائی کہ اپنی بیوی سے مباشرت ترک کرکے عبادت کرتے رہیں گے ۔ ایک دن عثمان بن مظعون کی بیوی عائشہ کے پاس آئی ۔ وہ ایک جوان عورت تھی اور بڑی ہی حسین و جمیل تھی ۔ عائشہ کو اس کی حالت پر تعجب ہوا اور کہنے لگی کہ تم اپنا بناؤ سنگھار کیوں نہیں کرتی ۔ اس نے کہا کہ بناؤ سنگھار کس کے لیے کروں میرے شوہر نے تو ایک عرصہ ہوا مجھے چھوڑ کر رہبانیت اختیار کر رکھی ہے ۔ یہ باتیں پیغمبر کے گوش گزار ہوئیں تو آپ منبر پر تشریف لے گئے اور پروردگار کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:
تم میں سے بعض لوگوں نے پاکیزہ چیزوں کو کیوں اپنے اوپر حرام کرلیا ہے میں اپنی سنت تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ، جو اُس سے روگردانی کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ میں رات کے ایک حصّہ میں سوتا ہوں اور اپنی بیویوں سے مباشرت کرتا ہوں اور ہر روز روزہ بھی نہیں رکھتا ۔
آگاہ ہو میں ہرگز تمہیں یہ حکم نہیں دیتا کہ عیسائیوں کے پادریوں اور راہبوں کی طرح دنیا ترک کردو کیونکہ اس قسم کے مسائل اور اس طرح کی رہبانیت میرے دین میں نہیں ہے ۔ میری اُمت کی رہبانیت جہاد میں ہے (اگر تم دنیا کو ترک کرنا چاہتے ہوتو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ وہ جہاد جیسے تعمیری راستے پر چلتے ہوئے ہو) تم اپنے آپ کو سختی میں نہ ڈالو کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے ہو گزرے ہیں اُن میں سے ایک گروہ اپنے آپ کو سختی میں ڈالنے کے نتیجے میں ہی ہلاک ہوا تھا ۔
جن لوگوں نے یہ قسم کھارکھی تھی کہ وہ ان چیزوں کو چھوڑدیں گے وہ کھڑے ہوگئے اور انہوں نے کہا: اے رسولِ خدا! اس سلسلے میں ہم نے قسم کھائی تھی اب اس قسم کے سلسلے میں ہماری ذمہ داری کیا ہے تو مندرجہ آیات نازل ہوئیں جن کے ذریعہ انہیں جواب دیا گیا ۔(۱)
اس مقام پر یہ یاد و ہانی ضروری ہے کہ مذکورہ قسموں میں سے بعض مثلاً وہ قسم جو عثمان بن مظعون سے نقل کی گئی ہے چونکہ وہ ان کی بیوی کے حقوق کے منافی تھی لہٰذا وہ قسم شرعاً جائز نہیں تھی ۔ لیکن حضرت علی علیہ السلام کی قسم جو کہ رات کو بیدار رہنے اور عبادت میں مشغول رہنے کے سلسلے میں ہے ایک امر مباح اور جائز تھی اگر چہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیٰ اور بہتریہی تھا کہ مسلسل ایسا نہ ہو لیکن یہ امر حضرت علی علیہ السلام کے مقامِ عصمت کے منافی نہیں ہے ۔ جیسا کہ اس کی نظیر پیغمبر کے بارے میں بھی سورہ تحریم کی پہلی آیت میں ہے:
( یٰا ایّها النّبی لم تحرم ما احلّ اللّٰه لک تبتغی مرضات ازواجک )
اے پیغمبر! وہ امور جو تیرے لیے اللہ نے حلال قرار دیے ہیں اپنی بیویوں کو خوش کرنے کے لیے اپنے اُوپر کیوں حرام کرتے ہو (یا اپنے آپ کو ان سے کیوں محروم کرتے ہو)۔
قسم اور اس کا کفارہ
اس آیت میں اور اس سے بعد کی آیات میں اہم اسلامی احکام کا ایک سلسلہ بیان ہوا ہے ۔ اُن میں سے بعض تو ایسے ہیں جو پہلی مرتبہ بیان ہوئے ہیں ۔ لیکن زیادہ اہم حصّہ ان اَحکام کی توضیح و تاکید کے طور پر بھی بیان ہوا ہے جو قرآن کی دیگر آیات میں پہلے بیان ہوچکے ہیں ۔
جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ سورہ پیغمبر کی عمر کے آخر میں نازل ہوئی ہے لہٰذا ضروری تھا کہ اس میں مختلف اسلامی احکام کے بارے میں زیادہ تاکید کی جائے ۔ پہلی آیت میں بعض مسلمانوں کی طرف سے کچھ نعمات الٰہی کی تحریم کی طرف اشارہ ہوا ہے اور انہیں اس کام کی تکرار سے منع کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:
”اے ایمان لانے والو! طیبات اور ایسے پاکیزہ امور جنہیں خدانے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے اپنے اوپر حرام نہ کرو“۔( یٰا ایّها الذین اٰمنوا لاتحرموا طیبات ما احل اللّٰه لکم ) ۔(۲)
اس حکم کا تذکرہ شان نزول کے مفہوم کے علاوہ ممکن ہے اس بارے میں بھی ہوکہ اگر گذشتہ آیات میں کچھ عیسائی علماء اور رہبانوں کی مدح و ستائش کی گئی ہے تو وہ ان کے حق کی طرف مائل ہونے اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی وجہ سے تھی نہ کہ اُن کے ترک ترکِ دنیا کے عمل اور تحریم طیبات کی خاطر تھی اور اس مسلمان اس بارے میں اُن کی پیروی کرسکتے ۔ یہ حکم بیان کرکے اسلام نے صراحت کے ساتھ رہبانیت اور ترکِ دنیا سے جیسے عیسائی پادری اور ر اہب کرتے ہیں اپنی بیگانگی کا اعلان کیا ہے ۔ اس امر کے بارے میں مزید نشریح سورہ حدید کی آیت ۲۷ ” و رھبانیة ابتدعوہا“ کے ذیل میں آئے گی اس کے بعد اس امر کی تاکید کے لیے کہتا ہے: سرحدوں اور حدبندیوں سے آگے نہ بڑھو گیونکہ خدا تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔( ولا تعتدوا ان اللّٰه لا یحب المعتدین ) ۔
بعد والی آیت میں نئے سرے سے اس مطلب کی تاکید کرتا ہے البتہ فرق یہ ہے کہ گذشتہ آیت میں تحریم سے نہی کی گئی تھی اور اس آیت میں نعمات الٰہی سے جائز طور پر بہرہ ور ہونے کا حکم دیتے ہوئے فرمایاگیا ہے: ان چیزوں میں سے جو خداوند تعالیٰ نے تمہیں بطور روزی دی ہیں حلال و پاکیزہ چیزیں کھاؤ( و کلوا مما رزقکم اللّٰه حلا لاً طیباً ) ۔
ان مواہب و نعمات سے بہرہ ور اور مستفید ہونے کی شرط یہ ہے کہ اعتدال، تقویٰ اور پرہیزگاری کو فراموش نہ کرو اسی لیے فرمایا:( واتقوا اللّٰه الذی انتم به مومنون ) ۔
یعنی خدا پر تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس کے تمام احکام کا احترام کرو ان سے نفع بھی اٹھاؤ اور اعتدال و تقویٰ کو بھی ملحوظ نظر رکھو۔
اس جملے کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ حکم تقویٰ سے مرادیہ ہے کہ مباحات و طیبات کو حرام قرار دینا تقویٰ کے عالی اور کامل درجے سے مناسبت نہیں رکھتا ۔ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کسی طرف بھی حدِّ اعتدال سے نہ نکلے ۔
قسموں کی دوقسمیں
قرآن بعد والی آیت میں اُن قسموں کے بارے میں کہ جو حلال کی تحریم یا اور چیزوں کے متعلق کھائی جائیں بطور کلی بحث کرتےہوئے قسموں کو دوحصّوں میں تقسیم کرتا ہے، پہلا کہتا ہے: خداوند تعالیٰ تمہیں لغو اور فضول قسموں کے بارے میں نہ کوئی مواخذہ کرے گا اور نہ ہی سزا دے گا( لا یواخدکم اللّٰه باللغو فی ایمانکم ) ۔
جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۵ کی تفسیر میں بھی لغو قسموں کے مقابلے میں سزا نہ ہونے کے بارے میں بحث ہوئی تھی تو وہاں ہم نے کہا تھا کہ لغو قسم سے مراد جیسا کہ مفسرّین اور فقہانے کہا ہے، وہ قسمیں ہیں کہ جن کا ہدف و مقصد مشخص و معین نہ ہو اور جو قصد اور ارادہ مصمم سے سرزدنہ ہوئی ہوں ۔ بلکہ بغیر توجہ کیے واللہ ۔ باللہ ۔ یا لا و اللہ یا بلیٰ و اللہ کہہ دیا ہویا شدت ہیجان و غضب کے وقت بغیر قصد و ارادہ کے قسم کھائی جائے ۔
بعض کہتے ہیں کہ اگر انسان کسی چیز کا یقین رکھتا ہو اور وہ اس کی بنیاد پر قسم کھائے لیکن بعد میں معلوم ہوکہ اُسے اشتباہ ہوا ہے تو ایسی قسم بھی لغو قسموں میں ہی شمار ہوگی ۔ مثلاً یہ کہ کوئی شخص چغل خور، افراد کی چغلی کی وجہ سے اپنی بیوی کی کجروی کا یقین کرلے اور وہ اس کو طلاق دینے کی قسم کھالے لیکن بعد میں معلوم ہوکہ وہ بات جھوٹی تھی تو اس قسم کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ حتمی قسموں میں قصد و آمادہ و تصمیم کے لازم ہونے کے علاوہ یہ بات بھی ضروری ہے کہ قسم کا مضمون کوئی غیر مشروع اور مکروہ فعل بھی نہ ہو۔ لہٰذا اگر انسان حالت اختیار میں قصد و ارادہ سے قسم کھائے کہ کسی فعل حرام یا مکروہ کو انجام دے گا، ایسی قسم کی بھی کوئی قیمت نہیں ہے اور اس کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے ۔
احتمال یہ ہے کہ زیر نظر آیت میں لفظ لغو کا ایک وسیع مفہوم ہے یہاں تک کہ اس طرح کی قسم بھی اس میں شامل ہے ۔
دوسری قسم کی قسمیں وہ ہیں جو قصد و ارادہ اور عزم مصمم سے کھائی جائیں ۔ اس قِسم کی قسموں کے بارے میں قرآن زیر بحث آیت میں کہتا ہے: ”خدا تمہارا ایسی قسموں کے بارے میں کہ جنگی گرہ کو تم نے محکم کررھا ہے مواخذہ کرے گا اور تمھیں اس پر عمل کرنے کا پابندا اور ذمہ دار ٹھہرائے گا“۔( ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان )
لفظ ”عقد“ جیسا کہ ہم سورہ مائدہ کی ابتدا میں کہہ چکے ہیں ، اصل میں ایک محکم چیز کے اطراف کو جمع کرنے کے معنی میں ہے ۔اسی وجہ سے رسی کے دونوں سروں میں گرہ لگانے کو ”عقد“ کہتے ہیں اور اسی مناسبت سے یہ لفظ معنوی امور میں بھی استعمال ہوتا ہے اور ہر قسم کے عہد و پیمان کو بھی ”عقد“ کہتے ہیں ۔
زیر نظر آیت میں ”عقد ایمان“ یعنی قسمیں باندھنے سے مراد کسی کام کا عزم مصمم ہے جو قسم کے مطابق انجام دیا جاتا ہے ۔ البتہ قسم کا حتمی ہونا اس کی درستی کے لیے اکیلا کافی نہیں ہے بلکہ جس طرح اُوپر اشارہ ہوا ہے کہ قسم کا مضمون کم از کم کوئی امر مباح ہونا چاہیے اور یہ بھی جاننا چاہیے کہ خدا کے نام کے بغیر قسم معتبر نہیں ہے ۔ اسی بناپر اگر کوئی شخص خدا کے نام کی قسم کھاتا ہے کہ وہ کوئی نیک عمل یا کم از کم کوئی مباح کام انجام دے گا تو واجب ہے کہ وہ اپنی قسم پر عمل کرے اور اگر اس نے قسم توڑلی تو اس کا کفارہ دینا پڑے گا ۔ قسم کا کفارہ وہی ہے جو محلِ بحث آیت کے ذیل میں بیان ہوا ہے ۔اس قِسم کی قَسم کا کفارہ تین چیزوں میں سے ایک چیز ہے:
پہلی چیز ہے دس مسکینوں کو کھانا کھلانا( فکفارته اطعام عشرة مشاکین ) ۔
البتہ اس بناپر کہ کہیں اس حکم سے بعض لوگ یہ استفادہ نہ کریں کہ پست و بے قیمت غذا کفارے کے طور پر کھانے لگیں ، تصریح کی گئی ہے کہ یہ کھانا کم از کم ایک متوسط غذا ہونا چاہیے جو عام طور پر اپنے گھر میں کھاتے ہیں( من اوسط ما تطعمون اهلیکم ) ۔
البتہ اس تعبیر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک روایت میں امام صادق سے حدوسط کیفیت کے لحاظ سے اور ایک روایت میں امام باقر سے حد وسط کمیت کے لحاظ سے نقل ہوا ہے کہ جن کا خلاصہ دونوں لحاظ سے شہروں ، آبادیوں اور زمانوں کے اختلاف کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مختلف ہوگا ۔
آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ واسط اچھے اور عالی کے معنی میں ہے کیونکہ ”اوسط“ کا ایک معنی ”عالی “بھی ہے جیسا کہ پورہ قلم کی آیت ۲۸ میں ہے:( قَالَ اَوسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَکُمْ لَو لَا تُسَبِّحُوْنَ )
”ان میں سے بہترین شخص نے یہ کہا کہ کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ تم خدا کی تسبیح کیوں نہیں کرتے“۔
دوسری چیز ہے دس محتاج لوگوں کو لباس پہنانا( او کسوتهم )
البتہ آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ایسا لباس ہونا چاہیے کہ جو عام طور پر ان کو ڈھانپ لے اسی لیے بعض روایات میں ہے کہ امام صادق نے فرمایا کہ اس آیت میں (کسوہ) سے مراد دو قطعہ لباس (یعنی قمیص و شلوار) ہیں اور اگر ہم بعض روایت میں جیسے وہ روایت جو امام باقر سے نقل ہوئی ہے یہ پڑھتے ہیں کہ ایک کپڑے پر بھی قناعت کی جاسکتی ہے تو شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عربی قسم کے بڑے قمیص اکیلے ہی سارے بدن کو ڈھانپ سکتے ہیں ۔ البتہ عورتوں کے لیے ایک قمیص چاہے وہ کتنا ہی بڑاکیوں نہ ہو کافی نہیں ہے بلکہ سر اور گردن کو ڈھانپنے کے لیے دوپٹہ بھی ضروری ہے ۔ کیونکہ عورت کو کم ا زکم جتنے لباس کی ضرورت ہوسکتی ہے وہ اس سے کم نہیں ہے ۔ تو اس احتمال کے ہوتے ہوئے بعید نہیں ہے کہ وہ لباس کہ جو کفارہ کے طور پر دیا جاتا ہے اس میں فصول(۴) ، مکان اور زبان کے لحاظ سے تفاوت ہوجائے ۔
اس سلسلے میں کہ کیا کیفیت کے لحاظ سے کم از کم کافی ہے یا یہاں بھی حدِ وسط کو ملحوظ رکھا جائے ۔ مفسرّین میں دو نظرئیے پائے جاتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ آیت کے اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ہر قسم کا لباس کافی ہے ۔ اور دوسرا یہ کہ اس شرط کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو کھانا کھلانے میں تھی یہاں بھی حد وسط کو ملحوظ رکھا جانا چاہیے ۔ البتہ پہلا احتمال آیت کے اطلاق کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ۔
تیسری چیز ہے ایک غلام کو آزاد کرنا (او تحریر رقبة)۔
اس سلسلے میں کہ جو غلام آزاد ہوگا کیا اُسے مسلمان اور مومن ہونا چاہیے یا کسی بھی غلام کو آزاد کرنا کافی ہے، فقہا کے درمیان اختلاف ہے اور اس کی وضاحت کتب فقہ میں پڑھنا چاہیے ۔
اگر چہ آیت کا ظاہری مفہوم مطلق ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے اسلام مختلف ذارئع سے غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے استفادہ کرتا ہے اور ہمارے جیسے زمانے میں جبکہ غلام نہیں ہیں دیگر کفاروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ۔
اس میں شک نہیں کہ تینوں چیزیں قیمت کے لحاظ سے بہت مختلف ہیں اور شاید یہ تفاوت اس بناپر ہو کہ ہر شخص آزاد ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق ان میں سے ایک کو منتخب کرسکے ۔
لیکن چونکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں جو اُن میں سے کسی پر بھی قدرت نہ رکھتے ہوں لہٰذا اس حکم کے بعد فرماتا ہے: اور وہ لوگ جو ان میں سے میں سے تک دسترس نہیں رکھتے انہیں تین دن کے روزے رکھنا چاہئیں( فمن لم یجد فصیام ثلاثة ایّام )
اس بناپر تین دن روزے رکھنا صرف اُن لوگوں سے مربوط ہے جو ان اُوپر والے تین امور میں سے کسی کی بھی انجام وہی کی قدرت نہیں رکھتے ۔ اس کے بعد تاکید کے طور پر قرآن کہتا ہے: تماری قسموں کا کفارہ یہ ہے جو بیان کیا گیا ہے( ذٰلک کفارة ایمانکم اذاحلفتم ) ۔
لیکن اس بناپر کہ کوئی شخص یہ تصور نہ کرے کہ کفارہ دینے سے صحیح قسم کو توڑنا حرام نہیں ہے کہتا ہے: اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو (و احفظوا ایمانکم)دوسرے لفظوں میں قسم پر عمل کرنا شرعاً واجب ہے اور اس کا توڑنا حرام ہے لیکن اگر توڑا ہے تو اس کا کفارہ دینا پڑے گا، قرآن آیت کے آخر میں فرماتا ہے: اس طرح خدا تمہارے لیے اپنی آیات بیان کرتا ہے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو اور ان احکام کے بارے میں کہ جو فرد و اجتماع کی سعادت و سلامتی کے ضامن ہیں اس کی حمد و سپاس کرو( کذٰلک یبین اللّٰه لکم اٰیاته لعلکم تشکرون ) ۔
____________________
۱۔ مذکورہ بالاشان نزول کا کچھ حصّہ تفسیر علی بن ابراہیم سے اور کچھ حصّہ مجمع البیان اور دوسری تفاسیرے لیا گیا ہے ۔ اس روایت میں جناب امیر کا ذکر درست نہیں معلوم ہوتا کیونکہ آپ اُن ذوات مقدسہ میں سے ہیں کہ جن سے ترک اولیٰ کا صدور بھی نہیں ہوتا ۔ (مترجم)
۲۔ حلال و ”طیب“ کے معنی کے بارے میں پہلی جلد میں بحث ہوچکی ہے ۔
۳۔نور الثقلین جلد اوّل صفحہ ۶۶۶ اور تفسیر برہان جلد اوّل صفحہ ۴۹۶۔
۴۔اس سلسلے میں ایک حدیث بھی امام باقر یا امام صادق سے نقل ہوئی ہے:۔ تفسیر برہان جلد اول صفحہ ۴۹۶۔
آیات ۹۰،۹۱،۹۲
۹۰( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاٴَنصَابُ وَالْاٴَزْلاَمُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ ) ۔
۹۱( إِنَّمَا یُرِیدُ الشَّیْطَانُ اٴَنْ یُوقِعَ بَیْنَکُمْ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللهِ وَعَنْ الصَّلاَةِ فَهَلْ اٴَنْتُمْ مُنتَهُونَ )
۹۲( وَاٴَطِیعُوا اللهَ وَاٴَطِیعُوا الرَّسُولَ وَاحْذَرُوا فَإِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِینُ )
ترجمہ:
۹۰ ۔ اے ایمان لانے والو شراب، قمار بازی، بت اور ازلام (جو ایک قسم لاٹری تھی) پلید اور عمل شیطان ہیں ، ان سے سے اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
۹۱ ۔ شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور قمار بازی کے ذریعہ تمہارے درمیان دشمنی ڈال دے اور تمہیں ذکر خدا اور نماز سے باز رکھے تو کیا تم (ان تمام نقصانات اور اس تاکیدی نہی کے بعد) اس سے رکوے گے؟
۹۲ ۔ اور خدا و پیغمبر کی اطاعت کرو اور (اس کے فرمان کی مخالفت سے) ڈرو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو (سزا کے مستحق ہوگے اور) جان لو کہ پیغمبر کے ذمہ واضح ابلاغ کے سوا اور کچھ نہیں ہے (اور اس نے یہ فریضہ تمہارے سامنے انجام دے دیا ہے )۔
شان نزول
پہلی آیت کے بارے میں شیعہ وسُنّی تفاسیر میں مختلف شان نزول ذکر ہوئی ہیں ، جو تقریباً ایک دوسرے سے مشابہت رکھتی ہیں ۔ منجملہ اُن کے تفسیر در منشور میں سعد بن ابی و قاص سے اس طرح منقول ہے: وہ کہتا ہے یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی ۔ انصار میں سے ایک شخص نے کھانا تیار کیا ہوا تھا اور اُس نے ہمیں دعوت دی اور چند افراد نے اس کی مجلس مہمانی میں شرکت کی اور کھانا کھانے کے علاوہ انہوں نے شراب بھی پی اور یہ اسلام میں شراب کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے اور جب اُن کے دماغ شراب سے گرم ہوئے تو انہوں نے اپنے افتخارات بیان کرنا شروع کردئیے ۔ آہستہ آہستہ معاملہ بڑھتا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اُن میں سے ایک نے اونٹ کی ہڈی اُٹھا کہ میری ناک پر ماردی اور اُسے چیردیا ۔ میں پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ماجرا عرض کیا تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
مسند احمد، سنن ابی داؤد، نسائی اور ترمذی سے اس طرح منقول ہے: حضرت عمر (جو تفسیر فی ضلال جلد سوم ص ۳۳ کے مطابق شراب بڑے رسیا تھے) دعا کرتے تھے خدایا! کوئی واضح بیان شراب کے بارے میں ہم پر نازل فرما ۔ جب سورہ بقرہ کی آیت ۲۱۹( ویسئلونک عن الخمر والمیسر ) نازل ہوئی تو پیغمبر نے ان کے سامنے اس آیت کی تلاوت فرمائی لیکن وہ پھر بھی یہی دعا کرتے رہے اور کہتے رہے کہ خدایا اس بارے میں کوئی واضح تر بیان ہم پر نازل فرما یہاں تک کہ سورہ نساء کی آیت ۴۳ نازل ہوئی جو یہ ہے:”( یٰایّها الذین اٰمنوا لا تقربوا الصلٰوة و انتم سکاریٰ )
پیغمبر نے وہ بھی ان کے سامنے پڑھی ۔ انہوں نے پھر بھی اپنی اسی دعا کو جاری رکھا یہاں تک کہ سورئہ مائدہ کی (آیہ زیر بحث) کہ جس میں اس موضوع پر ایک غیر معمولی صراحت موجود تھی نازل ہوئی ۔ جب پیغمبر اکرم نے یہ آیت حضرت عمر کے سامنے پڑھی تو انہوں نے کہا:”انتهینا انتهینا“
”ہم اب شراب پینے سے رک گئے ۔ اب ہم شراب خواری سے رک گئے“(۱)
شراب کے بارے میں قطعی حکم اور اس کے تدریجی مراحل
جیسا کے ہم نے اس تفسیر کی جلد سوم میں سورہ نساء کی آیہ ۴۳ کے ذیل میں اشارہ کیا ہے کہ ظہور اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں شراب خواری اور مے نوشی کا بہت زیادہ رواج تھا اور یہ ایک عمومی و باکی صورت اختیار کر گئی تھی یہاں تک کہ بعض مورخین کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت کے عربوں کے عشق کا خلاصہ تین چیزیں تھیں شعر و شراب اور جنگ!
روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شراب کے حرام ہونے کے بعد تک بھی بعض مسلمانوں کے لیے اس کی ممانعت کا مسئلہ حد سے زیادہ سخت اور مشکل تھا ۔ یہاں تک کہ وہ یہ کہتے تھے کہ ”ما حرّم علینا شی اشدّ من الخمر “۔
”شراب کے حرام ہونے سے زیادہ اور کوئی حکم ہم پر سخت تر نہیں تھا“۔(۲)
یہ بات واضح ہے کہ اگر اسلام چاہتا کہ اس عظیم عمومی وبا کے خلاف نفسیات اور معاشرے کے اجتماعی اصول کو مد نظر رکھے بغیر بر سر بیکار ہوجائے تو کامیابی ممکن نہ تھی لہٰذا اس نے مے نوشی کی بیخ کنی کے لیے تدریجی طریقہ اختیار کیا ۔ پہلے ان کے اذہان و افکار کو آمادہ کیا گیا پھر حرمت کا حکم ناقذ کیا گیا ۔ کیونکہ مے نوشی کی عادت ان کی ایک فطرت ثانیہ بن چکی تھی پہلے مکی سورتوں میں بعض آیات میں اس کام کی برائی کی طرف کچھ اشارے کئے گئے ۔ جیسا کہ سورہ نحل کی آیت ۶۷ میں ہے:”( و من ثمرات النخیل و الاعناب تتخذون منه سکراً و رزقا حسناً ) “
”تم انگور اور کھجور کے ردخت کے پھلوں سے مسکرات (نشہ آور چیزیں ) اور پاکیزہ روزی فراہم کرتے ہو“۔
اس مقام پر لفظ ”مسکر“ یعنی مسکر اور اس شراب کو جو وہ انگور اور خرما سے حاصل کرتے تھے رزقِ حسن کے مد مقابل بیان کیا گیا ہے اور اُسے ایک ناپاک اور آلودہ مشروب شمار کیا گیا ہے ۔
لیکن شراب خواری کی بُری عادت نے اس سے کہیں زیادہ جڑیں پکڑی ہوئی تھیں کہ اُس کی ان اشاروں سے بیخ کنی ہوجائے ۔ اس کے علاوہ شراب اُن کی اقتصادی در آمدات کے ایک حصّہ کی ضامن بھی تھی لہٰذا جب مسلمان مدینے میں منتقل ہوگئے اور پہلی اسلامی حکومت کی تشکیل ہوئی تو شراب خواری کی ممانعت کے بارے میں دوسرا حکم قاطع تر صورت میں نازل ہوا تا کہ افکار کو (شراب کی) حرمت کے انتہائی حکم کے لیے اور زیادہ آمادہ کیا جاسکے ۔ یہ موقع تھا جبکہ سورہ بقرہ کی آیت ۲۱۹ نازل ہوئی:”( یسئلونک عن الخمر و المیسر قل فیهما اثم کبیر و منافع للنّاس و اثمهما اکبر من نفعهما ) “
اس آیت میں بعض معاشروں مثلاً دورِ جاہلیت کے لیے شراب کے اقتصادی منافع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کے خطرات اور عظیم نقصانات کی جانب توجہ مبذول کروائی گئی ہے جو کہ اُس کے اقصادی منافع سے کئی درجہ بڑھ کر ہیں ۔
اس کے بعد سورہ نساء کی آیت ۴۳ ہے:”( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَقْرَبُوا الصَّلاَةَ وَاٴَنْتُمْ سُکَارَی حَتَّی تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ ) “
اس مسلمانوں کو صراحت سے حکم دیا گیا ہے کہ وہ مستی کی حالت میں ہرگز نماز نہ پڑھیں جب تک کہ یہ نہ جانیں کہ وہ اپنے خدا سے کیا باتیں کرتے ہیں ۔
البتہ اس آیت کا مفہوم یہ نہیں تھا کہ نماز کی حالت کے علاوہ شراب پینا جائز ہے بلکہ مقصد وہی تدریجی طور پر اس کی حرمت کا حکم نافذ کرنا تھا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ آیت نماز کی حالت کے علاوہ دوسری حالتوں کے سلسے میں خاموش ہے اور صراحت سے کچھ نہیں کہتی ۔
مسلمانوں کی احکام اسلام سے شناسائی اور اس عظیم معاشرتی روگ کو جو اُن کے وجود کی گہرائیوں میں اُتر چکا تھا جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے اُن کی فکری آمادگی اس بات کا سبب بنی کہ آخری حکم مکمل صراحت اور قاطعیت سے نازل ہوا کہ جس کے بعد بہانہ سازی کرنے والے بھی اعتراض نہ کرسکیں اور وہ یہی زیر بحث آیت ہے ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں مختلف تعبیرات کے ذریعہ اس کام کی ممنوعیت پر تاکید کی گئی ہے:
۱ ۔ آیت ”( یا ایها الذین آمنوا ) “ کے خطاب سے شروع ہوئی ہے، یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس حکم کی مخالفت روح ایمان کے منافی ہے ۔
اس کے بعد لفظ ”انّما“ جو استعمال ہوا ہے حر وتاکید کے لئے ہے ۔
۳ ۔ شراب اور قمار بازی کو انصاب(۳) (وہ بت کہ جن کی کوئی مخصوص شکل وصورت نہیں تھی صرف پتھر کے ٹکڑے سے بنے ہوئے تھے) کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ شراب اور قمار بازی کا خطرہ اس قدر زیادہ ہے کہ وہ بت پرستی کے ہم پلہ قرار پایا ہے، اسی بناپر پیغمبر اکرم سے ایک روایت میں ہے:
”شراب الخمر کعابد الوثن “”شراب خوار بت پرست کی مانند ہے(۴)
۴ ۔ شراب، قمار بازی اور اسی طرح بت پرستی اور ازلام (جو ایک قسم کی لاٹری ہے)(۵) یہ سب رجس وپلیدی کے طور پر شمار کیے گئے ہیں( انّمَا الخمر وَالْمیسر وَالانصاب وَالازلام رِجسٌ )
۵ ۔ یہ سب شیطانی اعمال میں سے قرار دیئے گئے ہیں( من عمل الشیطان )
۶ ۔ آخر کار ان سے اجتناب کرنے کے بارے میں قطعی حکم صادر کرنے کرتے ہوئے فرماتا ہے:( فاجتنبوه )
ضمنی طور پر توجہ رہے کہ اجتناب، نہی کی نسبت زیادہ رسا مفہوم رکھتا ہے کیونکہ اجتناب کا معنی فاصلہ پر رہنا ، دوری اختیار کرنا اور نزدیک نہ جانا ہے جو کہ ”نہ پیو“ سے کہیں بہتر اور رساتر ہے ۔
۷ ۔اس آیت کے آخر میں قرآن کہتا ہے کہ یہ حکم اس بنا پر دیا گیا ہے تا کہ تم کا میابی اور فلاح حاصل کر لو( لعلّکم تلحون ) یعنی اس کے بغیر کامیابی اور نجات ممکن نہیں ہے ۔
۸ ۔ بعد والی ایت میں شراب اور قمار بازی کے بعض واضح نقصان ذکر کیے گئے ہیں ، پہلے کہتا ہے کہ شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور قمار بازی کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت ودوشمنی کی تخم ریزی کرے اور تمھیں نماز اور ذکر خدا سے بازرکھے( إِنَّمَا یُرِیدُ الشَّیْطَانُ اٴَنْ یُوقِعَ بَیْنَکُمْ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِی الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللهِ وَعَنْ الصَّلاَةِ ) ۔
۹ ۔ اس آیت کے آخر میں استفہام تقریری کے طور پر کہتا ہے: ”کیا تم اس سے بچوگے اور رک جاؤگے“( فَهَلْ اٴَنتُمْ مُنتَهُون ) ۔
یعنی کیا ان تمام تاکیدوں کے باوجود ان دو عظیم گناہوں کو ترک کرنے کے بارے میں کوئی بہانہ جوئی یا شک وتردّد کی گنجائش رہ گئی ہے ۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر تک بھی گذشتہ آیات کی تصریحات کو اس لگاؤ کی وجہ سے جو (سنّی مفسّرین کی تصریح کے مطابق) انھیں شراب سے کافی نہیں سمجھتے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد کہنے لگے کہ یہ حکم کافی دوانی اور قناعت کنندہ ہے ۔
۱۰ ۔ تیسری میں اس حکم کی تاکید کے طور پر پہلے تو مسلمان کو حکم دیتا ہے کہ خدا اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کریں اور اس کی مخالفت سے پرہیز کریں ۔”( اَطِیعُوا اللّٰهَ وَاَطِیعُو الرَّسُول وَاحْذَرُوا ) “
اس کے بعد مخالفین کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر انھوں نے پروردگار کے فرمان کی اطاعت سے روگردانی کی کیفر کردار اور سزا کے مستحق ہوں گے اور پیغمبر کی ذمہ داری اور فریضہ سوائے واضح ابلاغ اور تبلیغ کے اور کچھ نہیں ہے( فَإِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِینُ ) ۔
____________________
۱۔ تفسیر المینار جلد ۷ صفحہ ۵۰.
۲۔ المنار جلد۷ صفحہ ۵۱.
۳۔انصاب، نصیب کے بارے میں ہم اس تفسیر کی جلد چہارم میں بحث کرچکے ہیں ۔
۴۔حاشیہ تفسیر طبری، ج۷، ص۳۱۔ یہی حدیث تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۶۶۹ میں امام صادق علیہ السلام سے بھی منقول ہے ۔
۵۔”ازلام“ کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ چلد چہارم میں بحث کرچکے ہیں (دیکھئے صفحہ۲۰۵ اُردو ترجمہ)
شراب اور قمار باطی کے مہلک اثرات
تفسیر نمونہ کی دوسری جلد میں سورہ بقرہ کی آیت ۲۱۹ کے ذیل میں ان دو اجتماعی اور معاشرتی باؤں کے سلسلے میں تفصیلی بحث کی جاچکی ہے لیکن یہاں پر تاکید مطلب کے لیے قرآن مجید کی اقتدا کے طور پر ضروری ہے کہ کچھ اور نکات کا تذکرہ کیا جائے ۔ یہ نکات اُن مختلف اعداد وشمار کا مجموعہ ہیں جن میں علیحدہ علیحدہ اُن نقصانات کی گہرائی اور وسعت ظاہر ہوتی ہے جن کا تعلق ان دونوں سے ہے ۔
۱ ۔ ان اعداد وشمار کے مطابق جو انگلستان میں الکحل کے جنون کے بارے میں شائع ہوئے ہیں کہ جن میں دیوانگی کا دوسری چیزوں سے ہونے سے والی دیوانگی اور جنون سے موازنہ کیا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ۲۲۴۹ الکحل کے دیوانوں کے مقابلہ میں صرف ۵۳ دیوانے دوسرے اسباب کی وجہ سے ہوئے تھے(۱)
۲ ۔ دوسرے اعداد وشمار میں جو امریکہ کے اسپتالوں سے ہاتھ لگے ہیں ان کے نفسیاتی مریضوں میں سے ۸۵ فیصد الکحل سے مریض تھے(۲)
۳ ۔ ایک انگریزی دانشور جس کا نام ”بنٹام“ ہے لکھتا ہے: مشروباتِ الکحل شمالی ممالک میں انسان کو احمق وبے وقوف بناتے ہیں اور جنوبی ممالک میں دیوانہ بنادیتے ہیں ۔ پھر مزید کہتا ہے : دین اسلام نے تمام قسم کے مشروبات ِ الکحل کو حرام قرار دیا ہے اور یہ اسلام کی خصوصیات میں سے ہے(۳)
۴ ۔ جن لوگوں نے مستی اور نشہ کی حالت میں کوئی قتل یا کسی اور جرم کا ارتکاب کیا ہے اور گھروں کے گھر ویران کردیئے اور خاندان تباہ کردیئے ہیں اگر ان کے اعداد وشمار جمع کیے جائیں تو وہ ہوش ربا حد تک بہت زیادہ ہوں گے(۴)
۵ ۔فرانس میں ہر روز ۴۴۰ افراد اپنی جان الکحل کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں(۵)
۶ ۔ایک اور اعداد وشمار کے مطابق امریکہ میں ایک سال میں نفسیاتی بیماریوں سے تلف ہونے والی جانیں دوسری عالمی جنگ امریکیوں کی تلف ہونے والی جانوں سے دوگنی تھیں اور محققین کے نظریہ کے مطابق امریکہ میں نفسیاتی بیماریوں میں مشروباتِ الکحل اور سگرٹ نوشی کا بنیادی حصّہ ہے(۶)
۷ ۔ان اعداد وشمار کے مطابق جو ایک دانشور ”ہوگر“ کے ذریعے مجلّہ علوم کی بیسویں سالگرہ کی مناسبت سے شائع ہوئے تھے ۶۰ فیصد قتل عمر، ۵ فیصد مارپیٹ اور زخمی کرنے کے جرائم، ۳۰ فیصد اخلاقی جرائم (جن میں محارم سے زنا کے جرائم بھی شامل ہیں ) اور ۲۰ فیصد چوری چکاری کے جرائم شراب اور مشروبات الکحل کے ساتھ مربوط تھے ۔ اسی دانشور کے اعداد وشمار کے مطابق ۴۰ فیصد مجرم بچے الکحل کے ساتھ اثر کے حامل ہیں(۷)
۸ ۔اقتصادی نقطہ نظر سے صرف انگلستان میں وہ نقصانات جو کاریگروں کے کارخانوں سے مے نوشی کی وجہ سے غیر حاضر رہنے سے پیدا ہوتے ہیں سال میں ۵۰ ملین ڈالر (تقریباً اسی کروڑ روپئے موجودہ حساب سے) ہیں ۔ یہ وہ رقم جو ہزراوں نرسری، پرائمری اور ہائی اسلوکوں کے اخراجات پورے کرسکتی ہے(۸)
۹ ۔ان اعداد وشمار کے مطابق جو مے نوشی کے نقصانات کے سلسلے میں فرانس میں شائع ہوئے ہیں ۱۳۷ ارب فرانک سالانہ انفرادی نقصانات کے علاوہ حکومت فرانس کے مخارج میں الکحل سے مدرجہ ذیل تفاصیل کے مطابق نقصان ہوتا ہیں :
۶۰ ارب فرانک عدالت اور قید خانے کے اخراجات ۔
۴۰ ارب فرانک تعاون عمومی اور خیرات کے اخراجات ۔
۱۰ ارب فرانک شراب خواری کے ہسپتالوں کے اخراجات ۔
۷۰ ارب فرانک معاشرے کے امن وامان کو برقرار رکھنے کے اخراجات ۔
تو اس طرح واضح ہوجاتا ہے کہ نفسیاتی بیماریوں ہسپتالوں ، قتلوں ، خونی فسادات، چوریوں ، زیادتیوں اور حادثوں کی تعداد میخانوں کی تعداد کے ساتھ براہِ راست منسلک ہے(۹)
۱۰ ۔ امریکہ میں اعداد وشمار کے سب سے بڑے مرکز نے ثابت کردیا ہے کہ قمار بازی کا ۳۰ فیصد جرائم میں براہِ راست حصّہ ہے ۔
دوسرے اعداد وشمار کے مطابق جو قماربازوں کے سلسلے میں شائع ہوئے ہیں ، بڑے افسوس کے ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ ۹۰ فیصد جیب تراشی، ۵۰ فیصد اخلاقی خرابیاں ، ۳۰ فیصد طلاقیں ، ۴۰ فیصد مارپٹائی اور زخمی کرنے کے واقعات اور ۵ فیصد خودکشیاں قماربازی کی وجہ سے ہوتی ہیں(۱۰)
____________________
۱۔ سمپوزیوم الکحل، ص۶۵.
۲۔کتاب سمپوزیوم الکحل، ص۶۵.
۳۔تفسیر طنطاوی، ج۱، ص۱۶۵.
۴۔دائرة المعارف، فرید وحیدی، ج۳، ص۷۹۰.
۵۔بلاہائے اجتماعی قرن ما، ص۲۰۵.
۶۔ مجموعہ انتشارات نسل نو.
۷۔ سمپوزیوم الکحل، ص۶۶.
۸۔مجموعہ انتشارات نسلِ جوان، سال دوم، ص۳۳۰.
۹۔نشریہ مرکز مطالعہ پیشرفتہائے ایران (الکحل اور قمار بازی کے بارے میں )
۱۰۔نشریہ مرکز مطالعہ پیشرفتہائے ایران (برائے الکحل و قمار بازی)
آیت ۹۳
۹۳( لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَاٴَحْسَنُوا وَاللهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ )
ترجمہ:
جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انھوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی بشرطیکہ وہ آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں ، پھر جس چیز سے روکا جائے اُس سے رکیں اور جو فرمان الٰہی ہ اسے مانیں ۔ پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویّہ رکھیں ، الله نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے ۔
شان نزول
تفسیر مجمع البیان، تفسیرطبری، تفسیر قرطبی اور بعض دوسری تفاسیر میں اس طرح آیا ہے کہ شراب وقماربازی کی حرمت کی آیت کے نزول کے بعد بعض اصحاب پیغمبر نے کہا کہ اگر ان دونوں کاموں کے یہ سب گناہ ہیں تو پھر ہمارے اُن مسلمان بھائیوں کا کیا بنے گا جو اس آیت کے نزول پہلے کرچکے ہیں اور انھوں نے اس وقت تک ان دونوں کاموں کو ترک نہیں کیا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اُنہیں جواب دیا گیا ۔
وہ تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لے آئیں اور عمل صالح بجالائیں
اس آیت میں اُن لوگوں کے بارے میں جواب دیتے ہوئے جو شراب ار قمار بازی کی حرمت کے نزول سے پہلے مرچکے تھے اُن لوگوں کے بارے میں کہ جن کے کانوں تک ابھی تک یہ حکم نہیں پہنچا تھا اور وہ دور دراز کے علاقوں میں زندگی بسر کررہے تھے فرمایا گیا ہے: وہ لوگ جو ایمان رکھتے تھے اور عمل صالح انجام دیتے تھے اور یہ حکم اُن تک نہیں پہنچا تھا، اگر اُنھوں نے شراب پی ہے یاقماربازی کی کمائی سے کھاتے رہے تو اُن پر کوئی گناہ نہیں ہے( لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیمَا طَعِمُوا ) (۱)
اس کے بعد اس حکم کو اس بات کے ساتھ مشروط کرتا ہے کہ وہ تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لے آئیں اور عمل صالح بجالائیں( إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ) ۔
پھر اس امر کی تکرار کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: پھر تقویٰ اختیار کرو اور ایمان لے آؤ( ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ) ۔
اس کے بعد تیسری مرتبہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ اسی حکم کی تکرار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: پھر تقویٰ اختیار کرو اور نیکی کرو( ثُمَّ اتَّقَوْا وَاٴَحْسَنُوا )
آیت کے آخر میں فرمایا: خدا نیک لوگوں کو دوست رکھتا ہے( وَاللهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ ) ۔
ان تین جملوں کی تکرار کے سلسلے میں قدیم وجدید مفسّرین کےدرمیان زیادہ اختلاف ہے، بعض انھیں تاکید پر محمول کرتے ہیں ، کیونکہ تقویٰ، ایمان اور عمل صالح کے موضوعات کی اہمیت کا تقاضا یہ ہے کہ انھیں پختگی کے ساتھ باربار بیان کیا جائے اور تاکید کی جائے ۔
لیکن بعض مفسّرین کا یہ نظریہ ہے کہ اِن تینوں جملوں میں سے ہر ایک میں علیحدہ اور جئاگانہ حقیقت بیان ہوئی ہے، انھوں نے ان کے اخلاف کے سلسلے میں کئی احتمال پیش کیے ہیں کہ جن میں بہت سے ایسے ہیں کہ جن کی کوئی دلیل اور شاہد نہیں ہے ۔
شاید اس سلسلے میں بہترین بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ ذکر ہونے والے ”تقویٰ“ سے مراد اندرونی تقویٰ اور باطنی احساسِ ذمہ داری ہے جو انسان کو دین کے بارے میں تحقیق وجستجو کرنے، پیغمبر کے معجزے میں غوروفکر کرنے اور حق کے بارے میں جستجو کرنے پر اُبھارتی ہے جس کا نتیجہ ایمان اور عمل صالح ہے، دوسرے لفظوں میں جب تک تقویٰ کا ایک مرحلہ وجود انسانی میں پیدا نہیں ہوتا اُس وقت تک اُسے تحقیق کی جستجو کی فکر لاحق نہیں ہوتی، اس بناپر پہلی مرتبہ اُوپر والی آیت میں تقویٰ کے بارے میں جو گفتگو ہوئی ہے وہ تقویٰ کے اسی مرحلہ کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ چیز آیت کے ابتدا کے اس حصّے کے منافی نہیں ہے:( لَیْسَ عَلَی الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ) کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آیت کی ابتدا میں ایمان ظاہری تسلیم کے معنی میں ہو لیکن جو ایمان تقویٰ کے بعد پیدا ہوتا ہے وہ حقیقی ایمان ہے ۔
دوسری دفعہ جو تقویٰ کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے وہ اُس تقویٰ کی طرف اشارہ ہے جو انسان کے اندر اور باطن میں نفوذ کرجائے کہ جس کا اثر زیادہ گہرا ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ ایمان متسقر وثابت ہے، کہ عمل صالح جس کا ایک حصّہ اور جز ہے، اسی لیے دوسرے مرحلے ایمان کے ذکر کے بعد عمل صالح کے ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔
تیسری مرتبہ ”تقویٰ“ سے متعلق جو گفتگو ہے اس سے مراد وہ تقویٰ ہے جو اپنے بلند ترین مرحلے تک پہنچ جاتا ہے اس طور پر کہ اب اُسے حتمی فرائض کی انجام دہی کی دعوت کے علاوہ احسان یعنی نیک کاموں کی دعوت بھی دی گئی ہے، یہاں تک کہ اُن کاموں کے لیے بھی کہ جو داخل نہیں ہیں ۔
خلاصہ یہ ہے کہ تقویٰ کے بار ے میں تین مرتبہ کا یہ تذکرہ احساسِ ذمہ داری اور پرہیزگاری کے ایک ایک مرحلہ کی طرف اشارہ ہے، ”ابتدائی مرحلہ“، ”درمیانہ مرحلہ“ اور ”آخری مرحلہ“ اور ان میں سے ہر ایک خود آیت میں ایک قرینہ رکھتا ہے کہ جس کا سہارا لے کر مقصد معلوم کیا جاسکتا ہے، بخلاف ان احتمالات کے جو بعض مفسّرین نے ان تین قسم کے تقویٰ اور ایمان کے فرق کے بارے میں پیش کیے ہیں کہ جن کے لیے کوئی قرینہ اور شاہد موجود نہیں ہے ۔
____________________
۱۔ یہ بات قابل توجہ رہے کہ ”طعام“ زیادہ تر کھانے کی چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ پینے کی چیزوں کے لیے لیکن بعض اوقات پینے کی چیزوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً سورہ بقرہ کی آیت۲۴۹ میں ہے :فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّی وَمَنْ لَمْ یَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّی
آیات ۹۴،۹۵،۹۶
۹۴( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَیَبْلُوَنَّکُمْ اللهُ بِشَیْءٍ مِنْ الصَّیْدِ تَنَالُهُ اٴَیْدِیکُمْ وَرِمَاحُکُمْ لِیَعْلَمَ اللهُ مَنْ یَخَافُهُ بِالْغَیْبِ فَمَنْ اعْتَدَی بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَهُ عَذَابٌ اٴَلِیم ٌ ) ۔
۹۵( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَاٴَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْکُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنْ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ هَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَةِ اٴَوْ کَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاکِینَ اٴَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا لِیَذُوقَ وَبَالَ اٴَمْرِهِ عَفَا اللهُ عَمَّا سَلَفَ وَمَنْ عَادَ فَیَنتَقِمُ اللهُ مِنْهُ وَاللهُ عَزِیزٌ ذُو انتِقَامٍ ) ۔
۹۶( اٴُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَکُمْ وَلِلسَّیَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِی إِلَیْهِ تُحْشَرُونَ ) ۔
ترجمہ
۹۴ ۔ اے ایمان والو! خدا تمھیں شکار کی اس مقدار کے ساتھ کہ (جو تمھارے قریب آجائیں اور) تمھارے ہاتھ اور نیزے اُن تک پہنچ جاتے ہیں ، آزمائے گا، تاکہ معلوم ہوجائے کہ کون شخص غیب پر ایمان رکھتے ہوئے خدا سے ڈرتا ہے اور جو شخص اُس کے بعد تجاوز کرے تو اُس کے لئے دردناک عذاب ہوگا ۔
۹۵ ۔ اے ایمان والو! حالت احرام میں شکار کو قتل نہ کرو اور جو شخص تم میں سے جان بوجھ کر اُسے قتل کرے گا تو اُسے چاہیے کہ اُس کا معادل کفارہ چو پاؤں میں سے دے ۔ ایسا کفارہ کہ جس کے معادل ہونے کی دو آدمی تصدیق کریں اور وہ قربانی کی شکل میں (حریم) کعبہ میں پہنچے یا (قربانی کے بجائے) مساکین و فقرا کو کھانا کھلائے یا اس کے معادل روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا کا مزہ چکھے جو کچھ گذشتہ زمانے میں ہوچکا ہے خدا نے وہ معاف کیا اور جو شخص تکرار کرے خدا اُس سے انتقام لے گا اور خدا توانا اور صاحبِ انتقام ہے ۔
۹۶ ۔ دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمھارے لئے حلال ہے تاکہ تم اور مسافرین اس سے فائدہ اٹھائیں لیکن جب تک تم حالت احرام میں ہو تو صحرا کا شکار تم پر حرام ہے اور خدا (کی نافرمانی) سے کہ جس کی طرف تم محشور ہوں گے ڈ رتے رہو ۔
شانِ نزول
جیسا کہ کتاب کافی اور بہت سی تفاسیر میں منقول ہے کہ جس وقت پیغمبر اسلام اور مسلمان حدیبیہ والے سال عمرہ کے لئے احرام باندھ کر چل پڑے تو اُنھیں راستے میں بہت سے وحشی جانوروں کا اس طرح سے سامنا ہوا کہ اُن کے لئے آسان تھا کہ ہاتھ یا نیزے سے اُنھیں شکار کرلیں ۔ یہ شکار اس قدر زیادہ تھے کہ بعض نے لکھا ہے کہ سواریوں کے دوش بدوش اور خیموں کے نزدیک آتے جاتے تھے تو اُوپر والی آیات میں سے پہلی آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو شکار کرنے سے ڈرایا اور انھیں اس خطرے سے آگاہ کیا کہ یہ امر ان کے لئے ایک طرح کا امتحان ہے ۔
حالت احرام میں شکار کرنے کے احکام
یہ آیات عمرہ اور حج کے احکام میں سے ایک حکم یعنی حالت احرام میں صحرائی اور دریائی جانوروں کے شکار کا مسئلہ بیان کرتی ہیں ، پہلے تو اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جس کا ”حدیبیہ“ والے سال مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑا تھا ارشاد ہوتا ہے: ”اے ایمان والو! خدا تمھیں شکار میں سے ایک چیز کے ساتھ آزمائے گا، ایسے شکار جو تمھارے اس قدر نزدیک ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ تم نیزہ اور ہاتھ کے ساتھ انھیں شکار کرسکتے ہو( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لَیَبْلُوَنَّکُمْ اللهُ بِشَیْءٍ مِنْ الصَّیْدِ تَنَالُهُ اٴَیْدِیکُمْ وَرِمَاحُکُمْ ) ۔
آیت کی تعبیر سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا یہ چاہتا ہے کہ پیش بینی کے طور پر لوگوں کو ایک ایسے واقعہ سے جو انھیں پیش آنے والا تھا آگاہ کرے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس تمام شکار کا وہاں کے لوگوں کے ہاتھوں کی پہنچ میں آجانا ایک ایسا امر تھا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا اور یہ مسلمانوں کے لئے ایک قسم کی آزمائش تھی خصوصاً یہ دیکھتے ہوئے جانوروں کے گوشت سے غذا مہیا کرنے کی اُنھیں ضرورت بھی تھی۔
اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ یہ جانور وسوسہ انگیزی کی صورت میں خیموں کے اطراف میں اور ان کے گرداگرد آتے جاتے تھے، اس قسم کی میسّر غذا سے محروم رہنا، وہ بھی اس زمانے اور وقت میں ایسے لوگوں کے لئے ایک بہت بڑی آزمائش تھی ۔
بعض نے کہا ہے کہ اس جملہ سے مراد کہ ”تمھارے ہاتھ سے شکار کے قابل ہوں گے“ یہ ہے کہ وہ انھیں جال وغیرہ سے پکڑ سکتے تھے لیکن آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ حقیقتاً ان کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ خود ہاتھ سے انھیں پکڑسکتے تھے ۔
اس کے بعد تاکید کے طور پر فرمایا ہے: یہ ماجرا اس لئے ہوا تھا کہ وہ لوگ جو ایمان بالغیب کی بناپر خدا سے ڈرتے ہیں دوسرے لوگوں سے ممتاز ہوجائیں( لیعلم اللّٰه من یخافه بالغیب ) ۔
جیسا کہ ہم جلد اوّل میں سورئہ بقرہ کی آیت ۱۴۳ کے ذیل میں کہہ چکے ہیں کہ ”لنعلم“تاکہ ہم جان لیں یا”لیعلم“ ”تاکہ خدا جان لے“وغیرہ جیسی تعبیرات سے مراد یہ نہیں ہے کہ خدا کسی چیز کو جانتا نہیں اس لئے وہ چاہتا ہے کہ آزمائش اور امتحان وغیرہ کے ذریعہ سے جان لے ۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم چاہتے کہ اپنی واقعیتِ علمی کو عملی جامہ اور متحققِ خارجی کا لباس پہنائیں کیونکہ باطنی نیتیں اور لوگوں کی آمادگیاں ، تکامل وار تقا، اور جزا و سزا کے لئے اکیلی ہی کافی نہیں ہیں بلکہ انھیں خارجی افعال کی شکل میں ظہور پذیر ہونا چاہیے تاکہ وہ ان آثار کے حامل ہوسکیں (مزید وضاحت کے لئے مذکورہ آیت کی تفسیر کی طرف رجوع کیجئے) ۔
آیت کے آخر میں اُن اشخاص کو کہ جو اس خدائی حکم کی مخالفت کرتے ہیں درناک عذاب کی تہدید کی گئی ہے( فَمَنْ اعْتَدیٰ بَعْدَ ذٰلِکَ فَلَهُ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) اگر چہ آیت کا آخری جملہ اجمالی طور پر حالت احرام میں شکار کی حرمت پر دلالت کرتا ہے لیکن بعد والی آیت میں مزید صراحت اور قطعیت کے ساتھ اور بطور عموم حالت احرام میں شکار کے حرام ہونے کا حکم صادر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: ”اے ایمان لانے والو! حالت احرام میں شکار نہ کرو“( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَاٴَنْتُمْ حُرُمٌ ) ۔
کیا شکار کی حرمت (جو بعد والی آیت کے قرینہ کے ساتھ صحرائی شکار ہے) صحرا کی تمام اقسامِ شکار پر محیط ہے چاہے وہ حلال گوشت ہوں یا حرام گوشت یا حلال گوشت شکار سے مخصوص ہے ۔
مفسّرین اور فقہا کے درمیان اس سلسلے میں کوئی ایک نظریہ نہیں ہے ۔
تا ہم فقہا و مفسّرین امامیہ میں مشہور یہ ہے کہ حکم عام ہے اور جو روایات اہلِ بیت علیہم السلام کے طریق سے وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہیں بعض فقہائے اہل سنت مثلاً ابوحنیفہ ہمارے ساتھ اس سلسلے میں متفق ہیں مگر دوسرے بعض مثلاً شافعی اسے حلال گوشت جانوروں کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں بہرحال یہ حکم گھریلو جانوروں کے بارے میں نہیں ہے کیونکہ گھریلو جانوروں کو صیدو شکار نہیں کہا جاتا ۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ہماری روایات میں نہ صرف یہ کہ حالت احرام میں شکار کرنا حرام ہے بلکہ اس میں مددکرنا، اشارہ کرنا اور شکار کی نشاندہی کرنا بھی حالت احرام میں حرام قرار دیا گیا ہے ۔
ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ یہ تصور کریں کہ صید وشکار کا مفہوم حرام گوشت جانوروں پر محیط نہیں ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ کیونکہ جانوروں کا شکار مختلف مقاصد کے لئے انجام پاتا ہے ۔ بعض اوقات مقصود اُن کے گوشت سے فائدہ اٹھاناہوتا ہے، بعض اوقات ان کی کھال سے نفع حاصل کر نے لئے ہو تا ہے اور بعض اوقات ان کی مزاحمت کو دور کرنے لئے ہوتاہے ۔وہ مشہور شعر جو حضرت علی علیہ اسلام سے منقول ہے وہ بھی عمومیت کا مشاہدہ بن سکتا ہے، آپ فرماتے ہیں :صید الملوک ارانب و ثعالب و اذا رکبت فصیدی الا بطال
بادشاہوں کے شکار خرگوش اور لومڑیاں ہیں لیکن میرا شکار، جب میں میدان جنگ میں وارد ہوتا ہوں تو شجاع اور بہادر ہوتے ہیں ۔
(مزید وضاحت کے لئے فقہی کتب کی طرف رجوع کیا جائے) ۔
اس کے بعد حالت احرام میں شکار کرنے کے کفارہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: جو شخص جان بوجھ کر شکار کو قتل کردے تو اُسے چاہیے کہ چوپاؤں میں سے اُن جیسے جانور کفارہ میں دے یعنی انھیں قربانی کرکے ان کا گوشت فقراء ومساکین کو دے( وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْکُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنْ النَّعَمِ )
یہاں مثل سے مراد کیا ہے؟ کیا شکل وصورت اور مقدار میں ایک جیسا ہونا، اس معنی میں کہ مثلاً اگر کوئی شخص کسی بڑے وحشی جانور مثلاً شتر مرغ کو شکار کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس کا کفارہ اونٹ کی صورت میں دے؟ یا اگر ہرن کا شکار کرتا ہے تو کفارہ کے لئے بھیڑ بکری کی قربانی دے جو تقریباً جیسی ہے؟ یا یہ کہ مثل سے مراد قیمت میں ایک جیسا ہونا ہے؟
فقہا اور مفسّرین میں پہلا معنی ہی مشہور ہے اور آیت کا ظاہری مفہوم بھی اسی کے مطابق ہے، کیونکہ حلال گوشت اور حرام گوشت کے حکمِ عمومی کو مدنظر رکھتے ہوئے دیکھیں تو بہت سے جانور ایسے ہیں جن کی قیمت ثابت ومشخص نہیں ہے کہ جس کے ذریعہ اُن جیسے گھریلو جانوروں کا انتخاب کیا جاسکے اور اس کا مثل شکل وصورت اور مقدار کے مطابق ہی مل سکے ورنہ دوسری صورت میں تو اس کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں کہ کسی طرح سے اس شکار کی قیمت معیّن کی جائے اور اُس کا مثل قیمت کے لحاظ سے حلال گوشت گھریلو جانوروں میں سے انتخاب کریں ، ممکن ہے کہ بعض اوقات مثل کے معاملے میں کوئی شک وتردید ہوجائے لہٰذا قرآن نے حکم دیا ہے کہ یہ کام دو باخبر اور عادل افراد کے زیرِنظر انجام پذیر ہو( یَحْکُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ ) ۔
اس سلسلے میں کہ یہ قربانی کہاں ذبح ہو، حکم دیتا ہے کہ وہ قربانی اور ”ھدی“ کی صورت میں کعبہ کا ہدیہ بنایا جائے اور سرزمین کعبہ میں پہنچے
( هَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَةِ ) ۔ ضمنی طور توجہ رہے کہ ہمارے فقہا کے درمیان مشہور ہے کہ احرام عمرہ کی حالت میں شکار کا کفارہ مکہ میں ذبح ہونا چاہیے اور احرام عمرہ کی حالت میں منیٰ اور قربان گاہ میں اور یہ بات اُوپر والی آیت کے منافی نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ آیت، احرام عمرہ کی حالت میں نازل ہوئی ہے، اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ ضروری نہیں ہے حتماً کفارہ قربانی کی صورت میں ہو بلکہ دو اور چیزوں میں سے بھی ہر ایک اُس کی جانشین ہوسکتی ہے، پہلا یہ کہ اُ س کے برابر رقم مساکین کو کھانا کھلانے میں صرف کی جائے( اٴَوْ کَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاکِینَ ) یا اُس کے مساوی روزے رکھے
( اٴَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا ) ۔
اگرچہ آیت میں اُن مساکین کی تعداد جنھیں کھانا کھلایا ہے بیان نہیں ہوئی اور نہ ہی روزوں کے دنوں کی تعداد بتائی گئی ہے لیکن ایک طرف سے ان دونوں کا ایک دوسرے سے ساتھ ہونا اور دوسری طرف یہ صراحت کہ روزوں کے درمیان موازنہ ضروری ہے، نشاندہی کرتا ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ جتنے مسکینوں کو وہ کھانا کھلانا چاہے کھلادے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ قربانی کی قیمت کے برابر ہونا چاہیے، باقی رہا یہ کہ روزہ اور مسکین کو کھانا کھلانے کے درمیان تعادل وبرابری کس طرح قائم ہو تو بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک ”مد“ طعام کے مقابلہ میں ایک روزہ رکھے ۔ یہ حقیقت میں اس بناپر ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں جو اشخاص روزہ پر قدرت نہیں رکھتے تو وہ ہر دن کے بدلے میں ایک یا دو مد کھانا مساکین کوکھلائیں (اس امر کے بارے میں مزید وضاحت فقہی کتب میں ملاحظہ فرمائیں ) ۔
اس بارے میں کہ وہ شخص جو حالت احرام میں شکار کا مرتکب ہوا ہے کیاوہ ان تین چیزوں میں سے جس کو چاہے کرلے یا اُسے ترتیب کو پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ پہلے تو اُسے قربانی کرنا چاہیے اور اگر ایسا نہیں کرسکتا تو مساکین کو کھانا کھلائے اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو پھر روزہ رکھے ۔ اس سلسلہ میں مفسّرین اور فقہا کے درمیان اختلاف ہے لیکن آیت کا ظاہر اختیار کا معنی دیتا ہے ۔ یہ کفارے تو اس بناپر ہیں کہ وہ اپنے غلط کام کی سزا اور انجام دیکھ لےں( لِیَذُوقَ وَبَالَ اٴَمْرِهِ ) (۱) ۔
اور اس بناپر کہ عموماً کوئی حکم بھی گذشتہ امور کو شامل نہیں ہوتا صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ خدا نے اُن غلط کاریوں کو جو اس سلسلے میں گذشتہ زمانے میں تم نے انجام دی ہیں معاف کردیتا ہے( عَفَا اللهُ عَمَّا سَلَف ) ۔
اور جو شخص ان بار بار کے اظہار کے خطر اور کفارہ کے حکم کی پروا نہ کرے اور پھر بھی حالت احرام میں شکار کا مرتکب ہو تو خدا ایسے شخص سے انتقام لے گا اور خدا توانا وصاحب قدرت ہے اور برمحل انتقام لیتا ہے( وَمَنْ عَادَ فَیَنتَقِمُ اللهُ مِنْهُ وَاللهُ عَزِیزٌ ذُو انتِقَامٍ ) ۔
مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا شکارکا کفارہ دوبارہ شکار کرنے سے دوگناہ ہوتا ہے یا نہیں ؟تو آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ تکرار کی صورت میں صرف انتقال الٰہی کی تہدید اور دھمکی ہی دی گئی ہے اور اگر کفارہ کا تکرار بھی ہوتا تو صرف انتقال الٰہی کے ذکر پر اکتفانہ کی جاتی اور تکرار کفارہ کی تصریح بھی ہوتی ۔ ان روایات میں جواہل بیت علیہم السلام کے طریق سے ہم تک پہنچی ہیں یہی بات بیان کی گئی ہے ۔
بعد والی آیت میں دریائی شکار کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے:(حالت احرام میں ) دریائی شکار اور اسے کھانا تمھارے لئے حلال ہے
( اٴُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ ) ۔
اس بارے میں کہ طعام اور کھانے سے کیا مراد ہے؟
مفسّرین نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس سے مراد وہ مچھلیاں ہیں جو شکار کیے بغیر مرجاتی ہیں اور پانی کے اُوپر رہ جاتی ہیں ، جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ بات ٹھیک نہیں ہے کیونکہ مردہ مچھلی کا کھانا حرام ہے، اگرچہ اہلِ سنت کی بعض روایات میں ان کے حلال ہونے کی صراحت موجود ہے ۔
آیت کے ظاہری مفہوم سے جو بات زیادہ معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ طعام سے مراد وہی خوراک ہے کہ جو شکار شدہ مچھلیوں سے تیار کی جاتی ہے کیونکہ آیت دو امور کو جائز قرار دے رہی ہے پہلے شکار کرنا اور دوسرے شکار شدہ کھانا کھانا ۔
ضمناً اس تعبیر سے اس معروف فتویٰ کے لئے بھی اجمالی طور پر استفادہ ہوتا ہے جو ہمارے فقہا کے درمیان موجود ہے اور جو برّی (وصحرائی) جانوروں کے بارے میں ہے اور وہ یہ کہ نہ صرف انھیں شکار کرنے کا اقدام حرام ہے بلکہ شکار شدہ جانور کا گوشت کھانا بھی جائز نہیں ہے ۔
اس کے بعد اس حکم کے فلسفہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ اس بناپر ہے کہ تم اور مسافر اس سے فائدہ اٹھاسکیں( مَتَاعًا لَکُمْ وَلِلسَّیَّارَةِ ) ۔
یعنی اس غرض سے کہ تم حالت احرام میں کھانے کے لئے زحمت ومشقت میں نہ پڑو اور ایک قسم کے شکار سے فائدہ اٹھا سکو یہ اجازت تمھیں دریائی شکار کے بارے میں دی جاتی ہے ۔
اور چونکہ عموماً اگر مسافر یہ چاہیں کہ شکار شدہ مچھلی اپنے ساتھ لے جائیں تو اس میں نمک ملاکر اُسے ”ماہی شور“ کی صورت میں تیار کرلیتے ہیں ۔ بعض مفسّرین نے مندرجہ بالا جملے کی اس طرح کی تفسیر کی ہے کہ مقیم افراد تازہ مچھلی سے اور مسافر نمک لگی مچھلی سے استفادہ کریں ۔
ہم نے درج بالا آیت میں یہ پڑھا ہے کہ دریائی شکار تمھارے لئے حلال ہے ۔ یہاں اشتباہ نہیں ہونا چاہیے ، اس کا مفہوم دریائی شکاروں کے بارے میں ایک عمومی حکم نہیں ہے، جیسا کہ بعض نے خیال کرلیا ہے ۔ آیت یہاں پر دریائی شکاروں کا اصل حکم بیان کرنا نہیں چاہتی، بلکہ آیت کا مقصد وہدف یہ ہے کہ وہ احرام باندھے ہوئے شخص کو اس بات کی اجازت دے کہ دریا کے دو شکار جو احرام سے پہلے حلال تھے احرام کی حالت میں بھی وہ اُس سے استفادہ رکرسکتا ہے ۔ دوسرے الفاظ میں آیت یہاں اصل تشریعِ قانون بیان نہیں کررہی بلکہ اِس کی نظر اُن قانونی خصوصیات کی طرف ہے جو پہلے سے تشریع ہوچکا ہے ۔ اصطلاح میں یہ بیان حکمِ عمومی کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ آیت صرف محرم کے احکام بیان کررہی ہے ۔
مگر دوسری مرتبہ تاکید کے طور پر حکم سابق کی طرف لوٹتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جب تک تم حالت احرام میں ہو صحرائی اور وحشی جانوروں کا شکار تم پر حرام ہے( وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ) ۔
آیت کے آخر میں اُن تمام احکام کی تاکید کے لئے جو ذکر ہوچکے ہیں فرماتا ہے: اس خدا سے ڈرو جس کی بارگاہ میں تمھیں قیامت کے دن محشور ہونا ہے( وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِی إِلَیْهِ تُحْشَرُون ) ۔
____________________
۱۔وبال جیسا کہ راغب اصفہانی نے مفردات میں لکھا ہے: اصل میں ”وبل“ اور ”وابل“ سے سخت بارش کے معنی میں ہے ۔ اس کے مشکل، شاق اور سخت کام پر بھی بولا جانے لگا اور چونکہ سزا وعذاب میں بھی شدت اور سختی ہوتی ہے اسے وبال کہتے ہیں ۔
حالتِ احرام میں شکار کی حرمت کا فلسفہ
ہمیں معلوم ہے کہ حج و عمرہ ان عبادات میں سے ہے جو انسان کو عالم مادہ سے جدا کرکے ایک ایسے ماحول میں جو روعانیت و معنویت سے معمور ہیں مستغرق کردیتی ہیں ۔ مادّی زندگی کے مقررات، جنگ و جدال، جھگڑے فساد، جنسی ہوس رانیاں اور مادی لذات حج و عمرہ کے مراسم میں کلی طور پر چھوڑنا پڑتی ہیں اور انسان ایک قسم کی شرعی الٰہی ریاضت میں مشغول ہوجاتاہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ حالت احرام میں حرمت شکار بھی اسی مقصد کے ماتحت ہے ۔
علاوہ ازیں اگر خانہ خدا کے زائر کے لئے شکار کرنا ایک مشروع اور جائز کام ہوتا تو اس آمدورفت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ جو ہر سال اس مقدس سرزمین میں ہوتی ہے، اس علاقہ کے بہت سے جانوروں کی نسل کہ جو خشکی اور پانی کی کمی کی وجہ سے پہلے ہی کم ہے، ختم ہوجاتی لہٰذا یہ حکم اس علاقے کے جانوروں کی نسل کی بقا کے لئے ایک قسم کی حفاظت و ضمانت ہے ۔
خصوصاً اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ حالت احرام کے علاوہ بھی حرم میں شکار اور اسی طرح اس کے درختوں اور گھاس پھونس کا اکھاڑنا ممنوع ہے، اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ حکم زندگی کے ماحول کی حفاظت اور اس علاقے کے سبزہ زاروں اور جانوروں کو فنا و نابودی سے بچانے کے مسئلہ سے نزدیکی ربط رکھتا ہے ۔
یہ حکم اس قدر دقیق تشریع ہوا ہے کہ نہ صرف جانوروں کا شکار کرنا بلکہ اس سلسلہ میں مدد کرنا، یہاں تک کہ شکاریوں کو شکار کی نشاندہی کرنا اور انھیں شکار کرنے کی رائے دینا بھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔ جیسا کہ اہلِ بیت(علیه السلام) کے طریق سے وارد شدہ روایات میں ہے کہ امام صادق (علیه السلام) نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا:
”لا تستحلن شیئاً من الصید واٴنت حرام ولا وانت حلال فی الحرم ولاتدلن علیه محلا ولامحرما فیصطاده ولاتشر الیه فیستحل من اجلک فان فیه فداء لمن تعمده “”ہرگز شکار میں سے کسی چیز کو حالت احرام میں حلال شمار نہ کرنا اور اسی طرح حرم کا شکار غیر حالت احرام میں بھی حلال نہیں ۔ محرم و غیر محرم کو شکار کی نشاندہی بھی نہ کرنا کہ وہ شکار کرلے، یہاں تک کہ اس کی طرف اشارہ بھی نہ کرنا (اور اُسے کوئی حکم نہ دینا) کہ وہ تیری وجہ سے شکار کو حلال سمجھے کیونکہ یہ کام اس شخص کا شمار ہوگا جس نے شکار کا حکم دیا ہے یا اشارہ کیا ہے اور کفارہ بھی اس پر واجب ہوگا“۔(۱)
____________________
۱۔ وسائل الشیعہ جلد ۵ صفحہ ۷۵ -
آیات ۹۷،۹۸،۹۹
۹۷( جَعَلَ اللهُ الْکَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیَامًا لِلنَّاسِ وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ وَالْهَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذٰلِکَ لِتَعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ وَاٴَنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ ) -
۹۸( اعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ وَاٴَنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) -
۹۹( مَا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ ) -
ترجمہ:
۹۷ ۔ خدانے کعبہ، بیت الحرام کو لوگوں کے کام کے لئے سامان مہیا کرنے کا ایک وسیلہ قرار دیا ہے اور اس طرح حرمت والا مہینہ اور بے نشان قربانیان اور نشاندار قربانیاں ، اس قسم کے (حساب شدہ اور دقیق) احکام اس لئے ہیں کہ تمھیں معلوم ہوکہ خدا جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے، جانتا ہے ۔
۹۸ ۔ جان لو کہ خدا شدید سزا دینے والا ہے (اور اس کے باوجود) وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے ۔
۹۹ ۔ پیغمبر کی ذمہ داری ابلاغِ رسالت (اور احکام الٰہی پہنچانے) کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے (اور وہ تمھارے اعمال کا جواب دہ نہیں ہے) اور خدا جانتا ہے کہ تم کن چیزوں کو آشکار اور کن چیزوں کو مخفی رکھتے ہو ۔
خدا نے بیت الحرام کو لوگوں کے امر کے قیام کا ذریعہ قرار دیا
گذشتہ آیات میں حالتِ احرام میں شکار کی حرمت کے بارے میں بحث تھی ۔ اس آیت میں ”مکہ“ کی اہمیت اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کی اصلاح و ترتیب میں اس کے اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پہلے فرماتا ہے: خدا نے بیت الحرام کو لوگوں کے امر کے قیام کا ذریعہ قرار دیا( جَعَلَ اللهُ الْکَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیَامًا لِلنَّاس ) ۔
یہ مقدس گھر لوگوں کے اتحاد کی علامت، دلوں کے مجتمع ہونے کا ایک وسیلہ اور مختلف رشتوں اور گرہوں کے استحکام کے لئے ایک عظیم مرکز ہے ۔ اس مقدس گھر اور اس کی مرکزیت و معنویت کے سائے میں کہ جو گہری تاریخی بنیادوں پر استوار ہے، وہ اپنی بہت سی بے سامانیوں کا سامان (اور بہت سی خرابیوں اور کمزوریوں کی اصلاح) کرسکتے ہیں اور اپنی سعادت کا محل اس کی بنیادوں پر کھڑا کرسکتے ہیں ۔ اس لئے سورہ آلِ عمران میں خانہ کعبہ کو وہ پہلا گھر بتایا گیا ہے جو لوگوں کے فائدے کے لئے بنایا گیا ہے ۔(۱)
حقیقت یہ ہے کہ ”( قِیَاماً لِلنَّاسِ ) “ کے معنی کی وسعت کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمان اس گھر کی پناہ میں اور حج کے اسلامی حکم کے سائے میں اپنے تمام معاملات کی اصلاح کرسکتے ہیں ۔
چونکہ ضروری تھا کہ یہ مراسم جنگ، کشمکش اور نزاع سے ہٹ کر امن و امان کے ماحول میں صورت پذیر ہوں ، حرام مہینوں (وہ مہینے کہ جن میں جنگ مطلقاً حرام ہے) کے اثر کی طرف اس موضوع میں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے( وَالشَّهْرُ الْحَرَامَ ) ۔(۲)
علاوہ ازیں اس نظر سے کہ بے نشان قربانیوں (صدی) اور نشاندار قربانیوں (قلائد) کا وجود، کہ جو مراسم حج و عمرہ میں مشغول ہونے کے دونوں میں لوگوں کو غذا مہیا کرتا ہے اور ان کی سوچ کو اس جہت سے آسودہ خاطر کرتا ہے، اس پروگرام کی تکمیل میں مخصوص اثر رکھتا ہے ۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے( وَالْهَدْیَ وَ الْقَلَائِدَ ) ۔۔
اور چونکہ یہ تمام پروگرام، قوانین اور مقرر شدہ احکامِ شکار، اور اسی طرح حرم مکہ و ماہ حرام وغیرہ ایک قانون ساز کی وسعتِ علم اور تدبیر کی گہرائی کا پتہ دیتے ہیں لہٰذا آیت کے آخر میں اس طرح کہتا ہے کہ: خدانے یہ منظم پروگرام اس لئے مقرر کیے ہیں تاکہ تمھیں معلوم ہوجائے کہ اس کا علم اس قدر وسیع ہے کہ جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے اور تمام چیزوں سے خصوصاً اپنے بندوں کی روحانی اور جسمانی ضروریات سے باخبر ہے( ذٰلِکَ لِتَعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ وَاٴَنَّ اللهَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ ) ۔
ہم جو کچھ سطور بالا میں کہہ آئے ہیں اسے مد نظر رکھتے ہوئے آیت کی ابتدا ور انتہا کا با ہمی تعلق واضع ہو جاتا ہے ۔کیونکہ ان گہرے تشریع احکام کو وہی ذات منظم کرسکتی ہے جو قوامین تکوینی کی گہرائی سے آگاہ اورباخبر ہو ۔ جب تک کوئی زمین اور آسمان کے تمام جزئیات اور روح وجسم کے تخلیقی رموز سے آگاہ نہ ہو، وہ ایسے احکام کی پیش بینی نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ وہی قانون درست اور اصلاح کنندہ ہوسکتا ہے جو قانونِ خلقت و فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو ۔
پھر بعد والی آیت میں گذشتہ احکام کی تاکید، لوگوں کو ان کے انجام دینے کی تشویق اور مخالفین اور نافرمانوں کی تہدید کے طور پر فرماتا ہے: جان لو کہ خدا شدید العقاب (ہونے کے ساتھ) غفور رحیم بھی ہے( اعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ وَاٴَنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔
نیز یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ مندرجہ بالا آیت میں ”شدید العقاب“کو ”غفور رحیم“ پر مقدم رکھا گیا ہے، تو شاید یہ امن بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدائی سزاکو اس کی پوری شدت کے باوجود توبہ کہ پانی سے دھویا جاسکتا ہے اور خداکی مغفرت و رحمت شامل حال ہوسکتی ہے ۔
پھر مزید تاکید کے لئے فرماتا ہے: اپنے اعمال کے جواب دہ خود تمہی ہو، اور پیغمبر کی ذمہ داری تبلیغِ رسالت اور احکام خدا تم تک پہنچانے کے سوا کچھ نہیں( مَا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ ) ۔
اس کے باوجود خدا تمھاری نیتوں سے اور تمھارے سب آشکار وپنہاں اعمال سے باخبر آگاہ ہے( وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُون ) ۔
____________________
۱۔سورہ آل عمران، آیت۹۶-
۲۔حرام مہینوں کے بارے میں جلد دوم میں سورہ بقرہ کی آیت۱۹۴ کے ذیل میں بحث ہوچکی ہے-
کعبہ کی اہمیت
کعبہ جس کا ان آیات اور گذشتہ آیات میں دومرتبہ ذکر کیا گیا ہے اصل میں مادہ ”کعب “ سے مشقق ہے، جس کا معنی ہے ”پاوں کے اُوپر کی ابھری ہوئی جگہ“، بعد از اں یہ لفظ ہر قسم کی بلندی اور اُبھری ہوئی چیز کے لئے استعمال ہونے لگا اور ”مکعب“ کو بھی اس لئے مکعب کہتے کہا جاتاہے کہ وہ چاروں اطراف سے ابھرا ہوا ہوتا ہے، اُن عورتوں کو جن کے سینے تازہ تازہ ابھر رہے ہوتے ہیں ”کاعب“ کہا جاتا ہے جس کی جمع ”کواعب“ ہے اس کی بھی یہی وجہ ہے بہرحال یہ لفظ (کعبہ) خانہ خدا کی ظاہری بلندی کی طرف اشارہ بھی ہے اور اس کے مقام کی عزت وبلندی کی علامت بھی ہے ۔
کعبہ ایک طویل اور پُرحوادث تاریخ کا حامل ہے، یہ تمام حوادث بہرحال اس کی عظمت واہمیت ہی کے باعث ظہور پذیر ہوئے ہیں ۔
کعبہ کی اہمیت اس قدر ہے کہ روایات اسلامی میں اسے خراب ویران کرنے کو پیغمبر اور امام(علیه السلام) کے قتل کرنے کے برابر قرار دیا گیا ہے ۔ اس کی طرف دیکھنا عبادت او ر اس کے گرد طواف کرنا بہترین اعمال میں سے ہے، یہاں تک کہ ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
”لاینبغی لِاَحدٍ اٴن یرفع بنائه فوق الکعبة “”مناسب نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنا گھر کعبہ سے اونچا بنائے“(۱)
لیکن اس طرف توجہ رکھنا چاہیے کہ کعبہ کی اہمیت اور احترام قطعاً اس کی عمارت کی وجہ سے نہیں ہے؛ کیونکہ نہج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ میں حضرت امیرالمومنین(علیه السلام) کے ارشاد کے مطابق:
”خدا نے اپنے گھر کو ایک خشک جلی ہوئی اور سخت پہاڑوں کے درمیان والی زمین میں قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ اسے بہت ہی سادہ مصالحہ سے بنایا جائے، عام اور معمولی پتھر سے“(۲)
لیکن چونکہ خانہ کعبہ ایک قدیم ترین اور بہت ہی سابق ترین توحید اور خدا پرستی کا مرکز ہے اور مختلف ملل واقوام کی توجہ کی مرکزیت کا نقطہ ہے لہٰذا اسے درگاہ خداوندی سے ایسی اہمیت میسّر آئی ہے ۔ -
____________________
۱۔سفینة البحار، ج۲، ص۴۸۲-
۲۔نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲، خطبہ قاصعہ
آیت ۱۰۰
۱۰۰( قُلْ لاَیَسْتَوِی الْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ اٴَعْجَبَکَ کَثْرَةُ الْخَبِیثِ فَاتَّقُوا اللهَ یَااٴُولِی الْاٴَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ )
ترجمہ:
۱۰۰ ۔ کہہ دو کہ پاک وناپاک (کبھی) برابر نہیں ہوسکتے اگرچہ ناپاکوں کی کثرت تجھے بھلی معلوم ہو، خدا (کی مخالفت) سے پرہیز کرو اے صاحبان عقل وخرد! تاکہ تم فلاح ونجات حاصل کرسکو ۔
اکثریت پاکیزگی کی دلیل نہیں
گذشتہ آیات میں مشروبات الکحل ، قمار بازی، انصاب وازلام اور حالت احرام میں شکار کرنے کی حرمت کے سلسلے میں گفتگو تھی، چونکہ ہوسکتا ہے بعض لوگ ایسے گناہوں کے ارتکاب کے لئے کچھ معاشروں اور علاقوں میں اکثریت کے عمل کو دستاویز قرار دیں اور اس بہانے سے کہ مثلاً شہر کی اکثریت شراب پیتی ہے یا قمار بازی کرتی ہے یا یہ کہ لوگوں کی اکثریت فلاں قسم کے حالات میں حرمتِ شکار وغیرہ کی پرواہ نہیں کرتی لہٰذا وہ ان احکام پر عمل در آمد سے روگردانی کریں اور انھیں طاق نسیاں کردیں تو اس بناپر کہ یہ بہانہ اس مقام پر اور اس قسم کے افراد سے دیگر مواقع میں کلی طور پر چھپن لیا جائے، خدا ایک بنیادی کلیہ قاعدہ مختصر سی عبارت میں بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: اے پیغمبر! پاک و ناپاک کبھی برابر نہیں ہوسکتے اگر چہ ناپاک لوگوں کی زیادتی اور آلودہ لوگوں کی کثرت تجھے تعجب میں ڈال دے اور بھلی معلوم ہو( قُلْ لاَیَسْتَوِی الْخَبِیثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ اٴَعْجَبَکَ کَثْرَةُ الْخَبِیثِ َ ) ۔
اس بناپر درج بالا آیت میں خبیث و طیب ہر قسم کے پاک و ناپاک وجود کے معنی میں ہے چاہے وہ پاک و ناپاک کھانے کی چیزیں ہوں یا پاک و ناپاک افکار و نظریات ہوں ۔
آیت کے آخر میں صاحبان فکر اور ارباب عقل و ہوش کو مخاطب کرتے ہوئے تاکید کرتا ہے کہ خدا سے ڈرو تاکہ کامران و کامیاب ہوجاؤ( فَاتَّقُوا اللهَ یَااٴُولِی الْاٴَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ )
لیکن یہ جو آیت میں ایک واضح چیز کی توضیح کی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کوئی یہ خیال کرے کہ کچھ عوارض مثلاً پلید و ناپاک کے طرفداروں کی زیادتی جسے اصطلاح میں ”اکثریت“ کہتے ہیں اس چیز کی باعث بنے کہ ناپاک کی ہم پلہ قرار پاجائے ۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض اوقات کچھ لوگ انبوہ کثیر اور کثریت کے میلانات کے زیر اثر آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اگر اکثریت کسی مطلب کی طرف مائل ہوجائے تو یہ اس مطلب کے بے چون و چرا درست ہونے کی قطعی نشانی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ ایسے مواقع بہت سے ہو گزرے ہیں جن میں معاشروں کی اکثریت واضع اشتباہات اور غلطیوں میں گرفتار ہوئی ہے اور مواقع اور حقیقت میں جو چیز اچھی چیز کی بُری چیز سے (اور خبیث کی طیب سے) پہچان کے لئے لازمی ہے ”وہ اکثریت کیفی“ ہے نہ کہ”اکثریت کمی“ یعنی قوی تر، والاتر اور اعلیٰ ترین افکار اور توانا تر اور پاکترین نظریات کی ضرورت ہے، نہ کہ طرفداروں کی کثرت۔ یہ مسئلہ شاید اس زمانہ کے بعض لوگوں کے ذوق کے مطابق نہ ہو کیونکہ تلقین و تبلیغ کے ذریعے بہت کوشش کی گئی ہے کہ لوگ اکثریت کے رجحانات ومیلانات کو نیک و بد کے پرکھنے کی ترازو کے طور پر قبول کرلیں ۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے باور کرلیا ہے کہ”حق“ وہ چیز ہے جس کو اکثریت پسند کرتی ہو اور اچھی چیز وہ ہے جس کی طرف اکثریت مائل ہو ۔ حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ہے ۔ دنیا کے بہت سے مصائب و آلام اسی طرز فکر کی وجہ سے ہیں ۔ ہاں اگر اکثریت صحیح رہبری اور درست تعلیمات سے بہرہ مند ہوجائے اور اصطلاحی طور پر عام معنی کے لحاظ سے ایک رشید اکثریت ہو تو پھر ممکن ہے کہ اس کے میلانات نیک و بد کی پہچان کا مقیاس و میزان بن سکیں ، نہ کہ وہ اکثریتیں جن کی رہنمائی نہیں ہوئی اور جو غیر رشید ہیں ۔
بہر حال قرآن محل بحث آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: کبھی تمھیں بُروں اور نا پاک چیزوں کی زیادتی تعجب میں نہ ڈالے ۔ دیکر مقامات پر بھی متعدد مرتبہ فرمایا ہے:”( وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاس لَا یَعْلَمُون ) “
اکثر لوگوں کے کام علم و دانش کے ماتحت نہیں ہوتے ۔
ضمنی طور پر توجہ کرنا چاہیے کہ اگر آیت میں لفظ ”خبیث“، ”طیب“ پر مقدم رکھا گیا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ محل بحث آیت میں روئے سخن، ان لوگوں کی طرف ہے جو خبیث کی زیادتی کو اس کی اہمیت کی دلیل سمجھتے ہیں ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ انھیں جواب دیا جائے، اس لئے قرآن اُن کے گوش گزار کرتا ہے کہ نیکی و بدی اور اچھائی و بُرائی کا معیار کسی بھی موقع پر کثرت و قلت اور اکثریت و اقلیت نہیں ہے، بلکہ ہر جگہ اور ہر وقت ”پاکی“ ”ناپاکی“ سے بہتر ہے اور صاحبانِ عقل و فکر کبھی کثرت سے دھوکا نہیں کھاتے ۔ وہ ہمیشہ پلیدی سے دوری اختیار کرتے ہیں اگر چہ اُن کے ماحول کے تمام افراد آلودہ ہوں ۔ وہ پاکیزگیوں کی تلاش میں لگے رہتے ہیں اگر چہ ان کے معاشرے کے تمام افراد اس کے خلاف ہوں ۔
آیات ۱۰۱،۱۰۲
۱۰۱( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَسْاٴَلُوا عَنْ اٴَشْیَاءَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَإِنْ تَسْاٴَلُوا عَنْهَا حِینَ یُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللهُ عَنْهَا وَاللهُ غَفُورٌ حَلِیمٌ ) -
۱۰۲( قَدْ سَاٴَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِکُمْ ثُمَّ اٴَصْبَحُوا بِهَا کَافِرِینَ ) -
ترجمہ:
۱۰۱ ۔ اسے ایمان والوں !تم ایسے مسائل کے متعلق سوال نہ کرو کہ وہ تمھارے سامنے واضح ہوجائیں تو تمھیں بُرے لگیں اور اگر قرآن کے نزول کے وقت ان کے متعلق سوال کرو تو وہ تمھارے لئے آشکار ہوجائیں گے، خدا نے تمھیں معاف کردیا ہے( اور ان سے صرفِ نظر کرلیا ہے ) اور خدا بخشنے والا اور حلیم ہے ۔
۱۰۲ ۔ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں سے ایک گروہ نے ان چیزوں کے متعلق سوال کیا تھا اور پھر ان کی مخالفت کے لئے کھڑے ہوگئے تھے (ہو سکتا ہے کہ تم بھی ایسے ہی ہوجاو) ۔
شانِ نزول
اُوپر والی آیت کے شان نزول کے سلسلے میں کتبِ حدیث و تفسیر میں مختلف اقوال نظر آتے ہیں لیکن جو اُوپر والی آیت اور ان کی تعبیرات کے ساتھ زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے وہ، وہ شانِ نزول ہے جو تفسیر مجمع البیان میں علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے منقول ہے ۔ اور وہ یہ ہے:
ایک دن پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم نے خطبہ دیا اور حج کے بارے میں خدا کا حکم بیان کیا تو ایک شخص جس کا نام ”عکاشہ “تھا (اور ایک روایت کے مطابق ”سراقہ) نے کہا: کیا یہ حکم ہر سال کے لئے ہے اور ہر سال ہمیں حج بجالانا ہوگا؟ پیغمبر نے اس کے سوال کا جواب نہ دیا، لیکن اس نے اصرار کیا اور دو مرتبہ یا تین مرتبہ اپنے سوال کا تکرار کیا، پیغمبر نے فرمایا: وائے ہو تم پر، کیوں اس قدر اصرار کررہے ہو، اگر تمھارے جواب میں میں ہاں کہدوں تو ہر سال تم پر حج واجب ہوجائے گا اور اگر ہر سال واجب ہوگیا تو اس کی انجام دہی کی تم میں طاقت نہیں ہوگی اور اگر اس کی مخالفت کی تو گنہگار ہوگے، لہٰذا جب تک میں تم سے کوئی چیز بیان نہ کروں تم اس پر اصرار نہ کیا کرو کیونکہ (ایک چیز) اُن امور میں سے جو (بعض) گذشتہ اقوام کی ہلاکت کا سبب بنی یہ تھی کہ وہ ہٹ دھرمی کرتے تھے اور بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے تھے اور اپنے پیغمبر سے زیادہ سوال کرتے تھے، اس بناپر جب میں تمھیں کوئی حکم دوں تواپنی توانائی کے مطابق اُسے انجام دو ۔
”( اِذَا اَمَرتکُم مِن شَیء فَاٴتُو مِنهُ مَا اسْتَطَعتُم ) “
اور جب تمھیں کسی چیز سے منع کروں تو اجتناب کرو، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں اس کام سے روکا گیا(۱)
کہیں اس سے اشتباہ نہ ہو کہ اس شان نزول سے مراد۔ جیسا کہ ہم آیت کی تفسیر میں بیان کریں گے ۔ یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے لئے راہ پرسش وسوال اور مطالب علمی سمجھنا بند کردیا جائے، کیونکہ قرآن تو خود اپنی آیات میں صراحت کے ساتھ حکم دیتا ہے کہ لوگ جو کچھ نہیں جانتے اس کااہلِ علم سے سوال کریں ۔
”( فَاسْئَلُوا اٴَهْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُم لَا تَعْلَمُونَ ) “
بلکہ اس سے مراد بے جا سوال،بہانہ سازیاں اور ہٹ دھرمیاں ہیں ، یہ طریقہ کار زیادہ تر لوگوں کے ذہنوں کی خرابی، گفتگو کرنے کی مزاحمت اور اس کے سلسلہ گفتگو اور پروگرام کی پراکندگی کا سبب بنتا ہے ۔
تفسیر
غیر مناسب سوالات
اس میں شک نہیں کہ سوال کرنا حقائق کو سمجھنے کی کلید ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو کم پوچھتے ہیں کم جانتے ہیں ۔آیات وروایاتِ اسلامی میں بھی مسلمان کو تاکیدی حکم دیاگیا ہے کہ جو کچھ وہ نہیں جانتے پوچھیں ، لیکن چونکہ ہر قانون کا کوئی استثنائی پہلو ہوتا ہے لہٰذاتعلیم وتربیت کی یہ بنیاد بھی استثنا سے خالی نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض اوقات کچھ مسائل کا مخفی رہنا اجتمائی نظام کی حفاظت اور لوگوں کی مصلحتوں کے پیش نظر بہتر ہوتا ہے ۔ ایسے مواقع پر واقعیت اور حقیقت کے چہرے سے پردہ اُٹھانے کے لئے جستجو کرنا اور پے در پے سوال کرنا نہ صرف یہ کہ فضیلت نہیں رکھتا، بلکہ مذموم و ناپسندیدہ بھی ہے ۔ مثلاً زیادہ تر ڈاکٹراسی میں مصلحت جانتے ہیں کہ سخت اور وحشت ناک بیماریوں کو بیمار سے مخفی رکھیں ۔ بعض اوقات صرف ساتھ والے لوگوں کو اصل ماجرا کی خبر دیتے ہیں ، اس شرط کے ساتھ کہ بیمار سے چھپائے رکھیں ۔ کیونکہ تجربہ نشاندہی کرتا ہے کہ بہت سے لوگ اگر اپنی بیماری کے گہرے پن سے باخبر ہوجائیں تو وحشت و سرگردانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں یہ وحشت اُنھیں مارنہ ڈالے تو کم از کم بیماری سے صحت یابی میں تاخیر کا سبب ضرور بن جاتی ہے ۔
لہٰذا ایسے مواقع پر بیمار کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنے ہمدرد و طبیب کے سامنے سوال و اصرار کرنے لگے کیونکہ اس کا بار بار اصرار بعض اوقات طبیب پر میدان کو اس طرح تنگ کردیتا ہے کہ وہ اپنی آسودگی اور دوسرے بیماروں کی خبر گیری کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں دیکھتا کہ اس ”ہٹ دھرم“بیمار کے لئے حقیقت واضع کردے، اگر چہ اسے اس سے بہت نقصانات اٹھانا پڑیں ۔
اسی طرح لوگ اپنے ساتھیوں کے بارے میں خوش گمانی کے محتاج ہیں اور اس عظیم سرمائے کی حفاظت کے لئے بہتر ہی ہے کہ ایک دوسرے کے حالات کی تمام تفصیلات سے باخبر ہوں ، کیونکہ آخر کام ہر شخص میں کوئی نہ کوئی کمزوری ضرور ہوتی ہے، اور تمام کمزوریوں کا فاش ہوجانا، لوگوں کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مشکلات پیدا کردے گا ۔مثلاً ہوسکتا ہے کہ ایک فرد جو موثر شخصیت کامالک ہے، اتفاق سے کسی پست اور نچلے خاندان میں پیدا ہوا ہے اب اگر اس کا سابقہ حال فاش ہوجائے تو ہوسکتا ہے کہ اس کے وجود کی تاثیر معاشرے میں متزلزل ہوجائے ۔ اس لئے اس قسم کے مواقع پر لوگوں کو کسی طرح بھی اصرار نہیں کرنا چاہیے اور کسی جستجو میں نہیں پڑنا چاہیے ۔
یا یہ کہ مبارزات اجتماعی کے بہت سے منصوبے ایسے ہوتے ہیں جنھیں عملی شکل دینے تک پوشیدہ رہنا چاہیے اور ان کے افشا پر اصرار کرنا معاشرے کی کامیابی پر منفی طور پر اثر انداز ہوگا ۔
یہ اور ان جیسے کئی ایک مواقع ایسے ہیں جن میں سوال کرنا صحیح نہیں ہے اور رہبر اور قائدین کو جب تک وہ بہت زیادہ دباؤ اور فشار میں نہ ہوں ان کا جواب نہیں دینا چاہیے ۔
قرآن زیر نظر آیت میں اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہتا ہے: اے ایمان لانے والو! ایسے امور کے افشا کے متعلق سوال نہ کرو کہ جو موجب رنج و تکلیف ہوں( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَسْاٴَلُوا عَنْ اٴَشْیَاءَ إِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ ) ۔
لیکن اس سبب سے کہ بعض افراد کی طرف سے پے در پے سوالات کا ہونا اور ان کا جواب نہ دینا ممکن ہے دوسروں کے لئے شک و شبہ کا باعث بن جائے اور بہت سے مفاسد پیدا کرد ے تو مزید کہتا ہے: اگر ایسے مواقع پر زیادہ اصرار کرو گے تو آیاتِ قرآن کے ذریعے تمھارے لئے افشاء ہوجائیں گے اور تم زحمت و تکلیف میں پڑ جاؤ گے( وَإِنْ تَسْاٴَلُوا عَنْهَا حِینَ یُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَکُم ) ۔
یہ جوان کے افشاء کرنے کو نزول قرآن کے زمانے کے ساتھ مخصوص کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سوالات ایسے مسائل سے مربوط تھے جنھیں وحی کے ذریعے ہی واضح اور روشن ہونا تھا ۔
مزید ارشاد ہوتا ہے: یہ خیال نہ کرو کہ اگر خدا کچھ مسائل بیان کرنے سے سکوت اختیار کرتا ہے تو اُن سے غافل تھا بلکہ وہ تمھارے لئے وسعت چاہتا ہے اور انھیں معاف کردیا ہے اور خدا بخشنے والا حلیم و بردبار ہے( عَفَا اللهُ عَنْھَا وَاللهُ غَفُورٌ حَلِیم) ۔
ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :”ان اللّٰه افترض علیکم فرائض فلا تضیعوها وحد لکم حدوداً فلا تعتدوها و نهی عن اشیاء فلا تنتهکوها و سکت لکم عن اشیاء ولم یدعها نسیانا فلا تتکلفوها “
خدا نے کچھ واجبات تمھارے لئے مقرر کیے ہیں ، انھیں ضائع نہ کرو اور کچھ حدود تمھارے لئے نافذ کی ہیں اُن سے تجاوز نہ کرو اور کچھ چیزوں سے منع کیا ہے اُن کی پردہ دری نہ کرو اور کچھ امور سے خاموش رہا ہے اور ان کے پوشیدہ رکھنے کو اس نے بہتر سمجھا ہے اور یہ پوشیدہ رکھنا نسیان اور بھول چوک کی وجہ سے ہرگز نہیں تھا ۔ ایسے امور کے افشاء اور ظاہر کرنے پر اصرار نہ کرنا ۔(۱)
____________________
۱۔ مجمع البیان آیہ محل بحث کے ذیل میں ۔
ایک سوال اوراس کا جواب
ممکن ہے کہا جائے کہ اگر ان امور کا افشا کرنا لوگوں کی مصلحت کے خلاف ہے تو پھر اصرار کی صورت میں اُسے کیوں افشاء کیا جاتا ہے؟
اس کی دلیل وہی ہے جس کی طرف اُوپر اشارہ ہوچکا ہے کہ بعض اوقات اگر پے در پے سوالات کے مقابلے میں سکوت اور خاموشی اختیار کرلی جائے تو اُس سے کئی دوسرے مفاسد پیدا ہوجاتے ہیں ، بدگمانیاں سر اٹھالیتی ہیں ، اور لوگوں کے اذہان خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ جیساکہ اگر طبیب بیمار کے پے در پے سوالات کے جواب میں سکوت اختیار کرے تو بعض اوقات ہوسکتا ہے یہ امر بیمار کو طبیب کے بارے میں بیماری کی اصل تشخیص کے سلسلے میں شک میں ڈال دے اور وہ یہ خیال کرے کہ اصولی طور پر اس کی بیماری کی شناخت نہیں ہوسکی ۔ لہٰذا وہ طبیب کی ہدایات پر عمل نہ کرے تو اس صورت میں طبیب کے پاس بیماری کے افشاء کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا ۔ اگر چہ بیمار اس طریقے سے کئی ایک مشکلات اور دشواریاں پیدا کرے گا ۔
بعد والی آیت میں اِس آیت کی تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: گذشتہ اقوام میں سے بھی بعض لوگ اسی قسم کے سوالات کیا کرتے تھے اور جب انھیں جواب دیا گیا تو مخالفت اور نافرمانی کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے( قَدْ سَاٴَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِکُمْ ثُمَّ اٴَصْبَحُوا بِهَا کَافِرِینَ ) ۔
اس سلسلے میں کہ یہ اشارہ گذشتہ اقوام میں سے کس قوم سے مربوط ہے، مفسّرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض کا تو یہ خیال ہے کہ اس کا تعلق حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے اپنے شاگردوں کے ذریعہ مائدہ آسمانی کی درخواست سے مربوط ہے کہ جس کے صورت پذیر ہوجانے کے بعد بعض مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے ۔
بعض نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس کا ربط حضرت صالح(علیه السلام) سے معجزہ طلب کرنے کے ساتھ ہے لیکن ظاہراً یہ تمام احتمالات صحیح نہیں ہیں کیونکہ آیت ایسے سوال کے بارے میں گفتگو کررہی ہے جس کا معنی ”پوچھنا“ اور کشفِ مجہول کرنا ہے نہ کہ وہ سوال جس کا معنی تقاضا کرنا اور کسی چیز کی درخواست کرنا ہے ۔ گویا لفظ ”سوال“ کا دونوں معنی میں استعمال ہونا اس قسم کے اشتباہ کا سبب بنا ہے ۔
البتہ ممکن ہے کہ جماعت بنی اسرائیل مراد ہو کہ جب وہ ایک جرم (قتل) کی تحقیق کے سلسلے میں ایک گائے کے ذبح کرنے پر مامور ہوئے تھے (جس کی توضیح جلد اول میں گزرچکی ہے) تو اُنہوں نے موسیٰ سے ٹیڑھے سوال کیے اور گائے کی جزئیات کے بارے میں ایسے پے در پے سوالات کیے جن کے بارے میں کوئی خاص حکم اُنھیں نہیں دیا گیا تھا ۔ اسی بناء پر انہوں نے کام اپنے اُوپر اتنا سخت کرلیا تھا کہ ایسی گائے کا ہاتھ آنا اس قدر مشکل اور قیمتی ہوگیا کہ قریب تھا کہ اس سے صرف نظر کرلیں ۔
”( اٴَصْبَحُوا بِهَا کَافِرِینَ ) “۔ اس جملے کے بارے میں دو احتمال پائے جاتے ہیں : پہلا یہ کہ ”کفر“ سے مراد نافرمانی اور مخالفت ہو جیسا کہ اوپر اشارہ کرچکے ہیں اور دوسرا یہ کہ ”کفر“ اپنے مشہور معنیٰ میں ہو، کیونکہ بعض اوقات ایسے تکلیف دہ جوابات سُننا جو سُننے والے کے ذہن پر بوجھ بن جاتے ہیں کہ وہ اصل موضوع اور کہنے والے کی صلاحیت کا ہی انکار کرنے پر آمادہ ہوجائے، مثلاً یہ کہ بعض اوقات طبیب کی طرف سے ایک تکلیف دہ جواب کا سننا اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ بیمار اپنی طرف سے مخالفت کا اظہار کرے اور اس کی صلاحیت کا ہی انکار کردے اور اس تشخیص کو بڑھاپے کا نتیجہ قرار دے یا یہ کہے کہ طیب مخبوط الحواس ہے ۔
اس بحث کے آخر میں ہم یہ نکتہ دُہرانا ضروری سمجھتے ہیں کہ زیر بحث آیات کسی صورت میں بھی، منطقی، علمی، تہذیبی اور تربیتی سوالات کی راہ لوگوں بند نہیں کرتیں بلکہ یہ پابندی منحصر طور پر صرف بے جا اور نامناسب سوالات اور ایسے امور کے متعلق جستجو سے مربوط ہے جس کے پوچھنے کی نہ صرف یہ کہ ضرورت واحتیاج نہیں ہے بلکہ ان کا چُھپا رہنا ہی بہتر بلکہ بعض اوقات تو لازمی اور ضروری ہوتا ہے
آیات ۱۰۳،۱۰۴
۱۰۳( مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِیرَةٍ وَلاَسَائِبَةٍ وَلاَوَصِیلَةٍ وَلاَحَامٍ وَلَکِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ وَاٴَکْثَرُهُمْ لاَیَعْقِلُونَ )
۱۰۴( وَإِذَا قِیلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَی مَا اٴَنزَلَ اللهُ وَإِلَی الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ آبَائَنَا اٴَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُهُمْ لاَیَعْلَمُونَ شَیْئًا وَلاَیَهْتَدُونَ )
ترجمہ:
۱۰۳ ۔ خدا نے کوئی ”بحیرہ“، ”سائبہ“، ”وصیلہ“، ”حام“ قرار نہیں دیا(۱) لیکن جو لوگ کافر ہوگئے انھوں نے خدا پر جھوٹ باندھا اور اُن میں سے زیادہ تر تو سمجھتے نہیں ہیں ۔
۱۰۴ ۔ اور جس وقت ان سے کہا جائے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے اس کی طرف اور پیغمبر کی طرف آؤ۔ تو وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے اپنے آباؤاجداد سے پایا ہے وہ ہمارے لئے کافی ہے ۔ کیا ایسا نہیں ہے کہ ان کے آباؤاجداد کچھ نہیں جانتے اور انھوں نے ہدایت حاصل نہیں کی تھی ۔
چار غیر مناسب ”بدعات“
آیت میں پہلے تو چار غیر مناسب ”بدعات“ کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ جو زمانہ جاہلیت کے عربوں میں موجود تھیں ، اُنھوں نے کچھ جانوروں کے بارے میں کسی جہت سے علامت اور نشانی مقرر کررکھی تھی اور ان کا گوشت کھانا ممنوع قرار دے رکھا تھا یہاں تک کہ اُن کا دودھ کا پینا، اُون کاٹنا اور اُن پر سواری کرنا جائز شمار نہیں کرتے تھے ۔ بعض اوقات ان جانوروں کو آزاد چھوڑدیتے تھے کہ جہاں چاہیں چلے جائیں اور کوئی شخص اُن سے متعرض نہ ہوتا ۔ یعنی کلی طور پر اس جانور کو بے کار اور فضول چھوڑ دیتے تھے ۔
لہٰذا قرآن مجید کہتا ہے: خدا ان احکام میں سے کسی کو بھی قانونی طور پر قبول نہیں کرتا نہ اس نے بحیرہ قرار دیا نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام
( مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِیرَةٍ وَلاَسَائِبَةٍ وَلاَوَصِیلَةٍ وَلاَحَامٍ ) ۔
باقی رہی ان چار قسم کے جانوروں کی تشریح اور وضاحت تو وہ یہ ہے:
۱ ۔ بحیرہ: اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس نے پانچ مرتبہ بچہ جنا ہو کہ جن میں پانچواں بچہ مادہ یا ایک روایت کے مطابق نر ہو ۔ ایسے جانور کے کان میں ایک وسیع سوراخ کردیتے تھے اور اُسے اس کے حال پر چھوڑدیتے تھے اور اسے ذبح یا قتل نہیں کرتے تھے ۔
”بحیرہ“ بحر کے مادہ سے وسعت اور پھیلاؤ کے معنی میں ہے ۔ عرب سمندر کو بحر اس کی وسعت کی بناپر ہی کہتے ہیں اور بحیرہ کو جو اس نام سے پکارتے تھے تو یہ اُس وسیع شگاف کی وجہ سے تھا جو اُس کے کان میں وہ کردیتے تھے ۔
۲ ۔ سائبہ وہ اونٹنی جس نے بارہ یا ایک روایت کے مطابق دس بچے جنے ہوں اُسے آزاد چھوڑ دیتے تھے ۔ یہاں تک کہ کوئی اس پر سوار نہیں ہوتا تھا اور وہ جس چراگاہ میں جاتی آزاد تھی اور جس گھاٹ اور چشمے سے چاہتی پانی پیتی ۔ کوئی اُس سے مزاحمت کا حق نہیں رکھتا تھا ۔ کبھی کبھار صرف اس کا دودھ دوہ لیتے اور مہمان کو پلاتے (سائبہ سیب کے مادہ سے، پانی جاری ہونے، اور چلنے میں آزادی کے معنی میں ہے) ۔
۳ ۔ وصیلہ اس گوسفند کو کہتے تھے جس نے سات دفعہ بچہ جنا ہو اور ایک روایت کے مطابق اس گوسفند کو کہتے تھے جو دو بچوں کو ایک ہی مرتبہ جنم دے (وصیلہ وصل کے مادہ سے ہے جس کا معنی ہے باہم بستگی) ایسے جانور کو قتل کرنا بھی حرام سمجھتے تھے ۔
۴ ۔ حام: ”مادہ حمایت“ کا اسم فاعل ہے، جو حمایت کرنے والے کے معنی میں ہے ۔ حام اُس نر جانور کو کہتے ہیں جس سے مادہ جانوروں کی تلقیح اور جفتی میں استفادہ کیا جاتا ہے ۔ جب عرب دس مرتبہ اس جانور سے جفتی میں استفادہ کرلیتے اور ہر دفعہ اس کے نطفہ سے بچے پیدا ہوجاتا تو کہتے کہ اس جانور نے اپنی پشت کی حمایت کی ہے یعنی اب کوئی شخص اس پر سوار ہونے کا حق نہیں رکھتا (ایک معنی اس کا ”حمی“ نگہداری، رکاوٹ اور ممنوعیت بھی ہے) ۔
اُوپر والے چار عناوین کے معنی میں مفسّرین کے درمیان او راحادیث کے اندر دوسرے احتمال بھی نظر آتے ہیں لیکن سب کی قدر مشترک یہ ہے کہ مراد ایسے جانور تھے جنہوں نے حقیقت میں اپنے مالکوں کی زیادہ بار بار نتیجہ بخش طور پر خدمت کی ہو ۔ وہ بھی ان کی اس خدمت کے صلے میں ان جانوروں کے لئے ایک قسم کے احترام اور آزادی کے قائل ہوجاتے تھے ۔
یہ صحیح ہے کہ ان تمام مواقع پر جانوروں کی خدمات کے بدلے میں شکر گزاری اور قدر دانی کی روح کار فرما نظر آتی ہے اور اس لحاظ سے ان کا عمل قابل احترام تھا چونکہ ان جانوروں کے بارے میں ان سے استفادہ نہ کرنا ایک ایسا احترام تھا جس کا کوئی مفہوم نہ تھا علاوہ ازیں ایک قسم کا مال کا اتلاف، نعمات الٰہی کا ضیاع اور انھیں معطل کرنا بھی شمار ہوتا تھا سب چیزوں کو چھوڑتے ہوئے یہ جانور اس احترام کی وجہ سے جانکاہ تکالیف اور مصائب میں گرفتار ہوجاتے تھے کیونکہ عملی طور پر بہت کم افراد اس کے لئے تیار ہوتے تھے کہ انھیں صحیح غذا مہیا کریں اور ان کی حفاظت اور نگہداری کریں اور اگر اس چیز کو مد نظر رکھا جائے کہ یہ جانور بہت زیادہ سِن کے ہوتے تھے تو مزید اندازہ ہوگا کہ وہ تکلیف دہ حالت میں بے پناہ محرومیوں میں زندگی بسر کرتے تھے یہاں تک کہ مرجاتے، انہی وجوہ کی بناپر اسلام نے سختی سے ان امور سے منع کیا ۔
ان سب باتوں کو چھوڑتے ہوئے کئی ایک روایات اور تفاسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ ان سب چیزوں کو یا ان میں سے بعض کو بتوں کے لئے انجام دیتے تھے اور درحقیقت انھیں بت کی نذر کرتے تھے، لہٰذا اس صورت میں اسلام کا اس کام سے مبارزہ بت پرستی سے مقابلہ بھی تھا ۔
تعجب کی بات یہ ہے بعض روایات کے مطابق جب اُن میں سے بعض جانور طبعی موت مرجاتے تو بعض اوقات اُن کے گوشت سے گویا بطور تبرک وتیمن استفادہ کرتے جو بذاتِ خود ایک قبیح فعل تھا(۲)
اس کے بعد فرماتا ہے: کافر لوگ اور بت پرست ان چیزوں کی طرف نسبت دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ قانونِ الٰہی ہے (وَلَکِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا یَفْتَرُونَ عَلَی اللهِ الْکَذِبَ) اُن میں سے اکثر اس بارے میں تھوڑاسا بھی غور وفکر نہیں کرتے تھے اور اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے تھے، بلکہ دوسروں کی اندھی تقلید کرتے تھے( وَاٴَکْثَرُهُمْ لاَیَعْقِلُونَ )
بعد والی آیت میں ان کی بے تکی اور غیر مناسب تحریکوں کی دلیل ومنطق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: جب اُن سے یہ کہا جائے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے اس کی طرف اور پیغمبر کی طرف آؤ، تو وہ اس کام سے روگردانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمارے بڑوں کے رسم ورواج اور ان کے طریقے اور دستور کافی ہیں( وَإِذَا قِیلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلیٰ مَا اٴَنزَلَ اللهُ وَإِلَی الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ آبَائَنَا ) ۔
حقیقت میں ان کی غلط کاریاں اور بُت پرستیاں ایک دوسری قسم کی بت پرستی سے پھوٹتی تھیں ، وہ اپنے بزرگوں اور بڑے بوڑھوں کے بیہودہ رسم ورواج اور طور طریقوں کوبلاقید وشرط اختیارکرتے تھے، گویا وہ صرف ”بوڑھوں “ اور ”آباؤاجداد“ سے نسبت کو اپنے عقیدہ اور عادت ورسوم کی صحت ودرستی کے لئے کافی سمجھتے تھے ۔
قرآن صراحت سے انھیں جواب دیتا ہے: کیا ایسا نہیں کہ اُن کے آباؤاجداد صاحب علم ودانش نہیں تھے اور انھیں ہدایت حاصل نہیں ہوئی تھی( اٴَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُهُمْ لاَیَعْلَمُونَ شَیْئًا وَلاَیَهْتَدُونَ ) ۔
یعنی اگر تمھارے وہ بڑے بوڑھے اور بزرگ جن پر تم اپنے عقیدہ اور اعمال کے لئے تکیہ ہوئے ہو، ارباب علم ودانش اور ہدایت یافتہ ہوتے تو تمھارا ان کی پیروی کرنا جاہل کا عالم کی تقلید کرنے کے زمرے میں شمار ہوتا، لیکن اس صورت میں جبکہ تم خود بھی جانتے ہو کہ وہ کوئی چیز تم سے زیادہ نہیں جانتے تھے بلکہ شاید تم سے بھی پیچھے تھے تواس حالت میں تو تمھارا معاملہ جاہل کا جاہل کی تقلید کرنے کا واضح مصداق ہے، جوکہ عقل وخرد کے ترازو میں بہت ہی ناپسندیدہ فعل ہے ۔
چونکہ اُوپر والے جملے میں قرآن نے لفظ ”اکثر“ استعمال کیا ہے اس لئے اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس جہالت وتاریکی کے ماحول میں بھی ایک سمجھدار اقلیت اگرچہ وہ کمزور تھی، موجود تھی، جو ایسے اعمال کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔
____________________
۱۔ یہ چار قسم کے گھریلو جانور وں کی طرف اشارہ ہے، زمانہ جاہلیت میں ان سے استفادہ ممنوع سمجھا جاتا تھا، اسلام نے اس بدعت کا خاتمہ کردی-
۲۔تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۴۸۶-
اپنے بزرگوں اور بڑوں کے نام کا بت
منجملہ اُن امور کے جو زمانہ جاہلیت بڑی شدّت کے ساتھ رائج تھے ایک اپنے بزرگوں اور بڑوں پر فخر کرنا اور پرستش کی حد تک بلاقید وشرط ان کی شخصیات، افکار، عادات اور رسوم کا احترام کرنا تھا، قرآن نے بھی اس امر کا مختلف آیات میں ذکر کیا ہے، نیز یہ امر زمانہ جاہلیت سے مخصوص نہیں تھا بلکہ بہت سی اقوام وملل میں موجود ہے اور شاید یہ ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف خرافات اور بیہودہ چیزیں پھیلنے اور منتقل ہونے کے اصلی عوامل میں سے ایک ہے، گویا ”موت“ گزرے ہوئے لوگوں کے لئے ایک قسم کی مصئونیت اور تقدّس پیدا کردیتی ہے اور انھیں احترام وتقویٰ کے حالے میں لے لیتی ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ قدردانی کی روح اور اصول انسانی کے احترام کا تقاضا یہی ہے کہ آباؤاجداد اور اپنے بزرگوں کو محترم سمجھا جائے لیکن اس معنی میں نہیں کہ معصوم عن الخطاء جان لیا جائے اور ان کے افکار وآداب پر تنقید، تحقیق اور تجسس چھوڑ ہی دیا جائے اور ان کی بیہودہ باتوں کی بھی اندھی پیروی اور تقلید اختیار کرلی جائے ۔
یہ عمل حقیقت میں ایک قسم کی بت پرستی اور جاہلانہ منطق ہے، بلکہ ضروری یہ ہے ان کے حقوق اور مفید افکار وسنن کے احترام کے باوجود، ان کے غلط مراسم اور طور طریقوں کو سختی سے کچلا جائے، خاص طور پر جبکہ آئندہ نسلیں زمانہ گزرنے کے ساتھ علم ودانش کی ترقی اور زیادہ تجربات کی بناپر عام طور سے گذشتہ نسلوں کی نسبت زیادہ دانا اور ہوشمند ہیں اور کوئی عقل وخرد گذشتہ لوگوں کی اندھی تقلید کی اجازت نہیں دیتی۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض علماء یہاں تک کہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بھی اس کمزور منطق سے کنارہ کش نہیں ہوئے اور بعض اوقات بڑے ہی حیرت انگیز طریقے سے مضحکہ خیز خرافات کو عملاً قبول کرلیتے ہیں مثلاً بعض اپنے آباؤ اجداد کی تقلید میں سال کے آخر میں آگ کے اوپر کودتے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح اپنے بڑوں کی آتش پرستی کو زندہ رکھ سکیں اور درحقیقت ان کی یہ منطق زمانہ جاہلیت کے بدووں کی سی منطق کے سوا اور کچھ نہیں ۔
بے دلیل تضاد
تفسیر المیزان میں تفسیر درّمنثور سے اہلِ سنت کے علماء کے ایک گروہ سے منقول ہے کہ ابوالاحوص نامی ایک شخص سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں پیغمبر اسلام صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے پُرانا اور بوسیدہ لباس پہن رکھا تھا، پیغمبر نے فرمایا: کیا تمھارے پاس مال ودولت ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں ! پیغمبر نے فرمایا: کس قسم کا مال ہے؟ میں نے کہا: ہر قسم کا مال میرے پاس موجود ہے؛ اونٹ، گوسفند، گھوڑے وغیرہ، پیغمبر نے فرمایا: جب خدا تجھے کوئی چیز دے تو ضروری ہے کہ اُس کے آثار بھی تم میں دکھائی دیں (نہ یہ کہ اپنی ثروت کو ایک طرف رکھ دو اور غریبوں مسکینوں کی طرح زندگی بسر کرو) ۔
اس کے بعد فرمایا: کیا تمھارے اونٹوں کے بچے پھٹے ہوئے کانوں کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں یا سالم کانوں کے ساتھ، میں نے کہا: یقینا صحیح وسالم کانوں کے ساتھ، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ اوٹنی کٹے ہوئے کان والا بچہ جنے؟ تو آپ نے فرمایا:پھر تو لازماً خود تم ہی تلوار ہاتھ میں لے کر اُن میں سے بعض کے کانوں کو چیرتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ ”بحر “ ہے اور کچھ دوسرں کے کانوں کو کاٹ کر کہتے ہو کہ یہ”صرم “ ہے ۔میں نے کہا: جی ہاں ایسا ہی کرتا ہوں ۔ فرمایا: ہرگز ایسا کام نہ کرو، جو کچھ خدا نے تجھے دیا ہے، وہ تیرے لئے حلال ہے، اس کے بعد آپ نے (اس آیت کی) تلاوت کی:( مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِیرَةٍ وَلاَسَائِبَةٍ وَلاَوَصِیلَةٍ وَلاَحَامٍ ) (المیزان، ج ۶ ، ص ۱۷۲) ۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے مال کے ایک حصے کو معطل اور بے مصرف چھوڑ دیتے تھے اور کنجوسی کرکے پھٹے پُرانے کپڑے پہنتے ۔در اصل یہ ایک بے دلیل تضاد تھا ۔
آیت ۱۰۵
۱۰۵( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ اٴَنفُسَکُمْ لاَیَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَیْتُمْ إِلَی اللهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ِ
ترجمہ:
۱۰۵ ۔اسے ایمان والو!اپنے اُوپر نظررکھو،جب تمھیں ہدایت حاصل ہوجائے تو ان لوگوں کی گمراہی جو گمراہ ہوچکے ہیں تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا نہیں سکے گی، تمام چیزوں کی بازگشت خدا کی طرف ہے اور وہ تمھیں اس عمل سے جو تم کیا کرتے تھے آگاہ کرے گا ۔
تفسیر
ہر شخص اپنے کام کا جواب دہ ہے
گذشتہ آیت میں زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی اپنے بڑوں کی اندھی تقلید کے متعلق گفتگو تھی ۔ قرآن نے واضح طور پر انھیں ڈرایا کہ اس قسم کی تقلید عقل و منطق کی رو سے درست نہیں ہے ۔ اس کے بعد فطری طور پر یہ سوال ان کے ذہن میں آتا تھا کہ اگر ہم ایسے مسائل میں اپنا معاملہ اپنے بزرگوں سے الگ کرلیں تو پھر ان کی سرنوشت کیا ہوگی، علاوہ ازین اگر ہم اس قسم کی تقلید سے دست بردار ہوجائیں تو ایسی ہی تقلید کرنے والے دیگر بہت سوں کے بارے میں کیا صورت ہوگی ۔ زیر نظر آیت اس قسم کے سوالات کے جواب میں کہتی ہے: اے ایمان لانے والو! تم اپنے ہی جوابدہ ہو، اگر تم ہدایت یافتہ ہوگئے تو دوسروں کی گمراہی (چاہے، وہ تمھارے اپنے بڑے ہوں یا ہم عصر دوست واحبات) تمھیں کوئی ضرر نہیں پہنچائے گی( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ اٴَنفُسَکُمْ لاَیَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَیْتُم ) ۔اس کے بعد قیامت، حساب کتاب اور ہر کسی کے اعمال کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور تم میں سے ہر ایک کا حساب الگ ہوگا اور جو کچھ تم نے انجام دیا اس سے تمھیں آگاہ کیا جائے گا( إِلَی اللهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔
ایک سوال کا جواب
اس آیت کے بارے میں بہت زیادہ آوازیں بلند ہوئی ہیں ، بعض نے یہ خیال کرلیا ہے کہ اس آیت کے درمیان اور ”امربمعروف“، ”و نہی از منکر“ کے حکم کے درمیان کہ جو اسلام کا ایک قطعی اور مسلّم حکم ہے ایک قسم کا تضاد پایا جاتا ہے، کیونکہ یہ آیت کہتی ہے کہ تم اپنے حالات کی طرف توجہ کرو (اور اپنے ہی متعلق سوچ بچار کرو اور اپنی حالت میں مگن رہو) دوسروں کا انحراف اور کجروی تمھاری حالت پر اثر انداز نہیں ہوسکتی ۔
اتفاقاًروایات سے پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کا اشتباہ آیت کے نزول کے زمانے میں بھی بعض کم علم لوگوں میں پایا جاتا تھا ۔
”جبیر ابن نفیل“ کہتے ہیں :
میں چند اصحاب پیغمبر کے حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا اور میں اُن میں سب سے زیادہ کم سن تھا ۔ اُنہوں نے امربمعروف اور نہی از منکر کے متعلق گفتگو شروع کردی، میں ان کی باتوں کے درمیان بول پڑا اور میں نے کہا کہ کیا خدا قرآن میں یہ نہیں کہتا:( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا عَلَیْکُمْ اٴَنفُسَکُمْ لاَیَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَیْتُم ) اس بناپر امر بمعروف اور نہی از منکر کی کیا ضرورت رہ جاتی ہے ۔ اچانک اُن سب نے مجھے سرزنش کی اور کہنے لگے: تم قرآن کی ایک آیت کو اس کا معنی سمجھے بغیر الگ کررہے ہو ۔ میں اپنی گفتگو سے بہت ہی شرمندہ ہوااور انھوں نے اپنا مباحثہ جاری رکھا، جب وہ وہاں سے مجلس برخاست کرکے اُٹھنے لگے تومیری طرف رخ کرکے کہنے لگے: تُو کمسن جوان ہے اور تم نے قرآن کی ایک آیت کو اس کا معنی سمجھے بغیر اُسے باقی سے الگ کرلیا ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ تم ایسے زمانے کوپاؤ کہ تم یہ دیکھو کہ بخل لوگوں پر چھایا ہوا ہے اور ان پر اس کی فرمانروائی ہے، ہواہوس لوگوں کا پیشوا ہے اور ہر شخص صرف اپنی ہی رائے پسند کرتا ہے، ایسے زمانے میں تم صرف اپنی ہی خیر مناؤ، دوسروں کی گمراہی تمھیں کوئی نقصان نہیں پہچائے گی (یعنی آیت ایسے زمانے کے ساتھ مربوط ہے) ۔
ہمارے زمانے کے بعض آرام پرست بھی جب دو عظیم خدائی فرائض امر بمعروف اور نہی از منکر کی انجام دہی کی گفتگوہوتی ہے تو جوابدہی سے اپنے کندھوں کو خالی رکھنے کے لئے اس آیت کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے معنی میں تحریف کرتے ہیں حالانکہ تھوڑے غور وفکر کے بعد یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ان دو احکام کے درمیان کسی قسم کا تضاد نہیں ہے؛
کیونکہ:
پہلی بات تو یہ ہے کہ محل بحث آیت کہتی ہے کہ ہر شخض کا حساب کتاب الگ الگ ہے اور دوسروں کی گمراہی، مثلاً اپنے گزرے ہوئے بزرگوں یا غیروں کی گمراہی ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت پر کوئی ضرب نہیں لگاتی، یہاں تک کہ اگر وہ بھائی بھائی بھی ہوں ، یا باپ بیٹا ہوں لہٰذا تم ان لوگوں کی پیروی نہ کرو اور خود اپنے آپ کو بچاؤ(غور کیجئے) ۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ آیت اس موقع کی طرف اشارہ کرتی ہے جس وقت امربمعروف اور نہی از منکر کارگر نہ ہوں ، یا ان کی تاثیر کے حالات موجود نہ ہوں ، بعض اوقات کچھ لوگ ایسے موقع پر پریشان ہوجاتے ہیں کہ ان حالات میں ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ قرآن انھیں جواب دیتا ہے کہ تمھارے لئے کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے کیونکہ تم نے اپنے فرض کی انجام دہی کردی ہے اور انھوں نے قبول نہیں کیا، یا ان میں قبول کرنے والوں کی اہلیت اور اسباب موجود نہیں تھے، اس بناپر کوئی نقصان تمھیں نہیں پہنچے گا ۔
یہی مفہوم اُس حدیث میں جو ہم اُوپر نقل کرچکے ہیں موجود ہے، اسی طرح بعض دوسری احادیث میں نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم سے اس آیت کے متعلق سوال ہوا تو آپ نے فرمایا:
”اٴ یتمروا بالمعروف وتناهو عن المنکر فاذا راٴیت دنیاً موثرة وشحاً مطاعاً وهوی متبعاً واعجاب کل راٴی برایه فعلیک بخویصة نفسک وذر عوامهم “
”امر بمعروف ونہی از منکر کرو، لیکن جب دیکھو کہ لوگ دنیا پسند کو ترجیح دیتے اور مقدم سمجھتے ہیں ، بخل اور ہواوہوس ان پر حکمران ہے اور ہر شخص صرف اپنی ہی رائے پسند کرتا ہے(اور ا س کے کان کسی دوسرے کی بات سننے کے لئے تیار نہیں ہیں ) تو اپنے آپ میں لگ جاؤ اور لوگوں کو چھوڑدو“(۱)
بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ امر بمعروف اور نہی از منکر ارکانِ اسلام میں سے اہم ترین مسئلہ ہے، جس کی جوابدہی سے کسی طرح بھی سبکدوشی ممکن نہیں ، صرف ان مواقع پر یہ دونوں فرائض ساقط ہوجاتے ہیں جب ان کے اثرانداز ہونے کی اُمید نہ ہو اور لازمی وضروری شرائط ان میں موجود نہ ہوں(۲)
____________________
۱۔تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۶۸۴-
۲۔اس سلسلے میں تفصیلی اسلامی احکام جاننے کے لئے امام خمینی کی توضیح المسائل کے امربالمعروف ونہی عن المنکر کے باب کی طرف رجوع فرمائیں ، نیز دیگر متعلق اسلامی کتب کا مطالعہ کریں (مترجم) ۔
آیات ۱۰۶،۱۰۷،۱۰۸
۱۰۶( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَیْنِکُمْ إِذَا حَضَرَ اٴَحَدَکُمْ الْمَوْتُ حِینَ الْوَصِیَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ اٴَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ إِنْ اٴَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَاٴَصَابَتْکُمْ مُصِیبَةُ الْمَوْتِ تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلاَةِ فَیُقْسِمَانِ بِاللهِ إِنْ ارْتَبْتُمْ لاَنَشْتَرِی بِهِ ثَمَنًا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبیٰ وَلاَنَکْتُمُ شَهَادَةَ اللهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِینَ )
۱۰۷( فَإِنْ عُثِرَ عَلیٰ اٴَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا فَآخَرَانِ یَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنْ الَّذِینَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمْ الْاٴَوْلَیَانِ فَیُقْسِمَانِ بِاللهِ لَشَهَادَتُنَا اٴَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَیْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِینَ )
۱۰۸( ذٰلِکَ اٴَدْنَی اٴَنْ یَاٴْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلیٰ وَجْهِهَا اٴَوْ یَخَافُوا اٴَنْ تُرَدَّ اٴَیْمَانٌ بَعْدَ اٴَیْمَانِهِمْ وَاتَّقُوا اللهَ وَاسْمَعُوا وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ )
ترجمہ:
۱۰۶ ۔اے ایمان لانے والو! جب تم سے کسی کی موت کا وقت آجائے تو وصیت کرتے وقت اپنے میں سے دوعادل افرادکو بلالو، اگر تم سفرمیں ہو اور تمھیں موت آپہنچے(اور راستے میں تمھیں کوئی مسلمان نہ ملے)تو اغیار میں سے دوفرد، اور اگر شہادت ادا کرتے وقت ان کے سچے ہونے میں شک کرو تو انھیں نماز کے بعد روک رکھو تاکہ وہ یہ قسم کھائیں کہ ہم حق کو کسی چیز کے بدلے فروخت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ، اگر چہ ہمارے رشتہ داروں کے بارے میں ہو اور ہم خدائی شہادت کو نہیں چھپاتے کہ مبادا ہم گنہگاروں میں سے ہوجائیں ۔
۱۰۷ ۔اور اگر اطلاع حاصل ہوجائے کہ وہ دونوں گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں ( اور انہوں نے حق کو چھپایا ہے) تو دو اور افراد کہ جن پر پہلے گواہوں نے ظلم کیا ہے ان کی جگہ قرار پائیں گے اور خدا کی قسم کھائیں گے کہ ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی کی نسبت حق کے زیادہ قریب ہے اور ہم تجاوز و زیارتی کے مرتکب نہیں ہوئے اور اگر ہم نے ایسا کیا ہو تو ہم ظالمین میں سے ہوں گے ۔
۱۰۸ ۔یہ کام زیادہ سبب بنے گا کہ وہ حق کی گواہی دیں ( اور خدا سے ڈریں ) اور یا( لوگوں سے )ڈریں کہ (ان کا جھوٹ فاش ہوجائے گا اور) ان کی قسموں کی جگہ دوسروں قسمیں لے لیں گی اور خدا (کی مخالفت) سے ڈرو اور کان دھر کر بات سنو اور خدا فاسقین کی ہدایت نہیں کرتا ۔
شان نزول
مجمع البیان اور بعض دوسری تفاسیر میں درج بالا آیات کی شان نزول کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ مسلمانوں میں سے ”ابن ابی ماریہ“ نامی ایک شخص دو عرب عیسائیوں کی ہمراہی میں جن کے نام ”تمیم“ اور ”عدی“ تھے اور وہ دونوں بھائی تھے، تجارت کے ارادے سے مدینہ سے نکلا ۔ اثنائے راہ میں ”ابن ابی ماریہ“ جو مسلمان تھا بیمار ہوگیا اس نے وصیت نامہ لکھا اور اُسے اپنے سامان میں چھپا دیا اور اپنا مال اپنے دو ہمسفر عیسائیوں کے سپرد کرتے ہوئے وصیت کی کہ وہ اسے اس کے رشتہ داروں تک پہنچادیں وہ مرگیا ۔ اُس کے ہمسفر دونوں افراد نے اس کا مال و اسباب کھولا اور اس میں سے گراں قیمت اور زیادہ اہم چیزیں اٹھالیں اور باقی مال وارثوں کو پہنچادیا ۔ وارثوں نے جب سامان کھولا تو انھیں اس میں اُن چیزوں میں سے جو ”ابن ابی ماریہ“ اپنے ساتھ لے گیا تھا، کچھ چیزیں نہ ملیں ۔ اچانک اُن کی نظر وصیت نامے پر پڑی ۔ انہوں نے دیکھا کہ تمام چوری شدہ مال کی تفصیل اس میں درج ہے ۔ انہوں نے اُن دو ہمسفر عیسائیوں کے سامنے ماجرا پیش کیا ۔ انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ اُس نے ہمیں دیا وہ ہم نے تمھارے سپرد کردیا ۔ مجبوراً انہوں نے پیغمبر سے شکایت کی توزیر نظر آیات نازل ہوئیں جن میں اس سلسلے میں حکم بیان کیا گیا ۔
لیکن اس شان نزول سے کہ جو کتاب کافی میں بیان ہوئی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پہلے تو دوسرے مال و متاع کا انکار کیا اور معاملہ پیغمبر کی خدمت میں لایا گیا ۔ پیغمبر کے پاس چونکہ ان دو افراد کے خلاف کوئی دلیل موجود نہیں تھی تو اُنھیں قسم کھانے پر آمادہ کیا اور اُن سے قسم لینے کے بعد اُنھیں بَری کردیا، لیکن کچھ وقت نہیں گزرا تھا کہ اُن دونوں آدمیوں کے پاس سے مالِ متنازعہ میں سے کچھ مال مل گیا اور اس طرح سے اُن کا جھوٹ ثابت ہوگیا، ماجرا پیغمبر کی خدمت میں عرض کیا گیا، پیغمبر انتظار میں ہی تھے کہ درج بالا آیات نازل ہوئیں ۔ اس کے بعد آپ نے حکم دیا کہ مرنے والے کے ورثا قسم کھائیں اور پھر آپ نے مال لے کر ان کے سپُرد کردیا ۔
اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ایک حفظِ حقوق
اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ایک حفظِ حقوق اور لوگوں کے اموال اور مکمل عدالت اجتماعی کے اجراء کرنے کا مسئلہ ہے ۔ اُوپر والی آیات اس حصہ سے مربوط احکام کا ایک گوشہ ہیں ۔
پہلے اس بناپر کہ وارثوں کے حقوق مرنے والے کے مال میں سے ضائع نہ ہوں اور پسماندگان، یتیم اور چھوٹے بچوں کا حق پائمال نہ ہو، صاحب ایمان افراد کو حکم دیتا ہے اور اُن سے یہ کہتا ہے: اے ایمان لانے والو! جب تم میں سے کسی کو موت آگھیرے تو وصیت کرتے وقت دو عادل افراد کو گواہی کے لئے بلاؤ اور اپنا مال امانت کے طور پر ورثا کے حوالے کرنے کے لئے ان کے سپرد کردو( یَااٴَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَیْنِکُمْ إِذَا حَضَرَ اٴَحَدَکُمْ الْمَوْتُ حِینَ الْوَصِیَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْکُمْ ) ۔
یہاں عدل سے مراد وہی عدالت ہے جو گناہِ کبیرہ وغیرہ سے پرہیز کرنے کے معنی میں ہے ۔ البتہ آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی ہے کہ عدالت سے مراد ”امور مالی میں امانت“ اور ”عدم خیانت“ ہو مگر یہ کہ دوسرے دلائل سے ثابت ہو کہ اس سے مزید شرائط بھی اس سلسلے میں ضروری ہیں ۔
”منکم“ سے مراد یعنی تم مسلمانوں میں سے، غیر مسلم افراد کے مقابلے میں ہے کہ جس کی طرف بعد والے جملے میں اشارہ ہوگا ۔
البتہ اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ یہاں عام شہادت کے متعلق بحث نہیں ہے، بلکہ یہ وہ شہادت ہے جو وصیت کے ساتھ وابستہ ہے، یعنی یہ دونوں افراد وصی بھی ہیں اور گواہ بھی ۔ باقی رہا یہ احتمال کہ یہاں پر دو گواہوں کے علاوہ ایک تیسرے شخص کا وصی کے طور پر انتخاب بھی ضروری ہے تو وہ ظاہر آیت کے خلاف اور شانِ نزول کے مخالف ہے، کیونکہ ہم شان نزول میں پڑھ چکے ہیں کہ ابن ماریہ کے ہمسفر صرف دو افراد تھے کہ جنھیں اُس نے اپنی میراث پر وصی اور گواہ اٹھہرایا تھا ۔
اس کے بعد مزید کہتا ہے: اگر تم مسافرت میں ہو اور تم پر موت کی مصیت آپڑے (اور مسلمانوں میں سے کوئی وصی اور شاہد تمھیں نہ مل سکے) تو اس مقصد کے لئے غیر مسلمانوں میں سے دو افراد کا انتخاب کرلو( اٴَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْرِکُمْ إِنْ اٴَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَاٴَصَابَتْکُمْ مُصِیبَةُ الْمَوْتِ ) ۔
اگرچہ اس آیت میں اس موضوع سے متعلق کوئی بات دکھائی نہیں دیتی کہ غیر مسلموں میں سے وصی وشاہد کا انتخاب مسلمانوں میں سے کسی مسلمان کے نہ ملنے کے ساتھ مشروط ہے البتہ یہ بات واضح ہے کہ مراد ایسی صورت میں ہی ہے جب مسلمان تک رسائی نہ ہو اور مسافرت کی قید کا ذکر بھی اسی وجہ سے ہوا ہے ۔ اسی طرح کلمہ ”او“ اگرچہ عام طور پر اختیار کے لئے آتا ہے لیکن یہاں بھی بہت سے دوسرے مواقع کی طرح ”ترتیب“ ہی منظور ہے، یعنی پہلے تومسلمانوں میں سے انتخاب ہونا چاہیے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر غیر مسلموں میں سے انتخاب کرو ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ غیر مسلموں سے یہاں صرف اہل کتاب یعنی یہود ونصاریٰ ہی مراد ہیں کیونکہ اسلام مشرکوں اور بت پرستوں کی اہمیت کا کبھی قائل نہیں ہوا ۔
پھر حکم دیتا ہے کہ اگر گواہی دینے کے وقت، رفعِ شک کی غرض سے، ان دونوں افراد کو نماز کے بعد اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ الله کی قسم کھائیں( تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلاَةِ فَیُقْسِمَانِ بِاللهِ إِنْ ارْتَبْتُمْ ) اور ان کی شہادت اس طرح سے ہونا چاہیے کہ وہ کہیں کہ: ہم اس بات پر آمادہ نہیں ہیں کہ حق کو مادی منافع کی خاطر بیچ ڈالیں اور ناحق گواہی دیں اگرچہ ہمارے رشتہ داروں اور عزیزوں کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو( لاَنَشْتَرِی بِهِ ثَمَنًا وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبیٰ ) اور ہم کبھی خدائی گواہی کو نہیں چھپائیں گے کیونکہ اس طرح تو تم گنہگاروں میں سے ہوجائیں گے( وَلاَنَکْتُمُ شَهَادَةَ اللهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِینَ ) ۔
اس حقیقت پر بھی توجہ رکھنی چاہیے کہ:
اوّلاً یہ تمام لوازمات شک وشبہ اور اتہام کی صورت میں ادائے شہادت کے سلسے میں ہیں ۔
دوسرا یہ کہ حفاظت کے لئے ایک طرح کی محکم ضمانت ہے اور یہ بات شہادت عدلین کو بغیر قسم کے قبول کرلینے کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ حکم عدم اتہام کے مواقع کے ساتھ مربوط ہے، لہٰذا اس بناپر نہ تو اس آیت کا حکم منسوخ ہوا ہے اور نہ ہی یہ غیرمسلموں کے ساتھ مخصوص ہے (غور کیجیے) ۔
تیسرا یہ کہ نماز سے مراد غیر مسلموں کی صورت میں از روئے اصول وقاعدہ خود ان کی ہی نماز ہونا چاہیے جو اُن میں توجّہ اور خوف خدا پیدا کرتی ہے، باقی رہا مسلمانوں کے بارے میں تو ایک گروہ کا نظریہ تو یہ ہے کہ اس سے مراد خاص طور پر نماز عصر ہے اور اہل بیت علیہم السلام کی بعض روایات میں بھی اس بارے میں اشارہ ہوا ہے لیکن آیت کا ظاہر مطلق ہے اور وہ ہر نماز کے لئے ہے، ہوسکتا ہے کہ ہماری روایات میں خصوصیت کے ساتھ نماز عصر کا ذکر استحبابی پہلو رکھتا ہو کیونکہ نماز عصر میں لوگ زیادہ تعداد میں جمع ہوجاتے تھے ۔ علاوہ ازیں فیصلہ اور قضاوت کا وقت بھی مسلمانوں کے نزدیک زیادہ تر یہی ہوتا تھا ۔
چوتھا یہ کہ شہادت کے لئے نماز کے وقت کا انتخاب اس بناپر تھا ہ کیونکہ اس موقع پر انسان میں خدا خوفی کی روح بیدار ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے:”( اِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهیٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ ) “(۱)
زمان ومکان کی حالت انسان کو حق کی طرف متوجہ کرتی ہے، یہاں تک کہ بعض فقہا نے کہا ہے کہ اگر گواہی کے لئے مکہ میں ہوں تو بہتر ہے خصوصاًکعبہ کے پاس ”رکن“ و ”مقام“ کے درمیان کہ جو بہت ہی مقدس جگہ ہے اور اگر مدینہ میں ہوں تو پیغمبر کے منبر کے پاس یہ شہادت ادا ہو ۔
بعد والی آیت میں ایسے مواقع کے متعلق گفتگو ہورہی ہے جب یہ ثابت ہوجائے کہ دونوں گواہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے حق کے خلاف گواہی دی ہے جیسا کہ آیت کی شان نزول میں بیان ہوا ہے ۔ ایسے موقع کے لئے حکم یہ ہے کہ: اگر یہ معلوم ہوجائے کہ دونوں گواہ گناہ، جرم اور تعدی کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے حق کو پامال کردیا ہے تو دوسرے دو آدمی اُن لوگوں میں سے لئے جائیں جب پر پہلے گواہوں نے ظلم کیا ہے یعنی مرنے والے کے ورثا میں سے اور وہ اپنا حق ثابت کرنے کے لئے گواہی دیں گے( فَإِنْ عُثِرَ عَلیٰ اٴَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا فَآخَرَانِ یَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنْ الَّذِینَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمْ الْاٴَوْلَیَانِ ) ۔
مرحوم طبرسی نے ”مجمع البیان“ میں کہا ہے کہ یہ آیت معنی اور اعراب کے لحاظ سے پیچیدہ ترین اور مشکل ترین آیات قرآن میں سے ہے، لیکن دونکات کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ آیت اس قدر پیچیدہ بھی نہیں ہے ۔
پہلا نکتہ ہے کہ لفظ ”اثم“ (گناہ) کے قرینہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہاں ”اسْتَحَقَّ “سے مراد جرم اور دوسرے کے حق پر تجاوز ہے اور دوسرے یہ کہ ”اولیان“ یہاں ”اولان“ کے معنی میں ہے یعنی دو گواہ کہ جنھیں پہلے گواہی دینا چاہیے تھی اور اب وہ راہ راست سے منحرف ہوگئے ہیں ، بنابر یں آیت کا معنی اس طرح ہوگا کہ اگر کوئی ایسی اطلاع مل جائے کہ پہلے والے دو گواہ غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں تو دوافراد ان کی جگہ لے لیں گے یہ دو گواہ ان لوگوں میں ہوں گے کہ جن پر پہلے دو گواہوں نے زیادتی اور تجاوز کیا ہے(۲)
آیت کے ذیل میں دوسرے دو گواہوں کی ذمہ داری یوں بیان کی گئی ہے: خدا کی قسم کھائیں کہ ہماری گواہی پہلے دوافراد کی گواہی کی نسبت زیادہ صحیح اور حق کے زیادہ قریب ہے اور تجاوز اور کسی ظلم وستم کے مرتکب نہیں ہوں گے اور اگر ہم ایسا کریں گے تو ظالموں میں سے قرار پائیں گے( فَیُقْسِمَانِ بِاللهِ لَشَهَادَتُنَا اٴَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَیْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِینَ ) ۔
حقیقت میں مرنے والے کے اولیاء پہلے سے اس کے مال ومتاع کے بارے میں مسافرت کے وقت یا مسافرت کے علاوہ جو کچھ جانتے ہیں اس کی بنیاد پر گواہی دیں گے کہ پہلے دو گواہ ظلم وخیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور یہ گواہی مشاہدہ وحس کی بناپر ہے نہ کہ حدس وقرائن کی رو سے ۔
زیر بحث آیت کے آخر میں در حقیقت ان احکام کا فلسفہ بیان ہورہا ہے جو شہادت کے سلسلے میں پہلی آیات میں گزر چکے ہیں کہ اگر اُوپر والے حکم کے مطابق عمل ہو یعنی دونوں گواہوں کو نماز کے بعد جماعت کی موجودگی میں گواہی کے لئے طلب کریں اور ان کی خیانت ظاہر ہونے کی صورت میں دوسرے افراد ورثاء میں سے ان کی جگہ لے لیں اور حق کو واضح کریں تو یہ لائحہ عمل اس بات کا سبب بنے گا وہ گواہ گواہی کے معاملے میں غور وخوض سے کام لیں گے اور خدا کے خوف یا خلق خدا کے ڈر سے واقع کے مطابق گواہی دیں گے( ذٰلِکَ اٴَدْنَی اٴَنْ یَاٴْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلیٰ وَجْهِهَا اٴَوْ یَخَافُوا اٴَنْ تُرَدَّ اٴَیْمَانٌ بَعْدَ اٴَیْمَانِهِمْ ) ۔
در حقیقت یہ کام اس بات کا سبب بنے گا کہ اُن میں خدا کے سامنے یا بندگانِ خدا کے سامنے زیادہ سے زیادہ بازپُرس کا خوف پیدا ہوجائے گا اور وہ حق کے مرکز سے روگرداں نہ ہوں ۔
آیت کے آخر میں تمام گذشتہ احکام کی تاکید کے لئے ایک حکم دیا گیا ہے:
پرہیزگاری اختیار کرو اور فرمان خدا کان لگا کر سنو اور یہ جان لو کہ خدا فاسق گروہ کو ہدایت نہیں کرتا( وَاتَّقُوا اللهَ وَاسْمَعُوا وَاللهُ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِینَ ) ۔
____________________
۱۔سورہ عنکبوت، آیت۴۵-
۲۔اس بناپر اعراب کے لحاظ سے ”آخران“ مبتدا ہے اور ”یَقُومَانِ مَقَامَهُمَا “ خبر ہے اور ”اولیان“ ”استحق“ کا فاعل ہے ”الَّذِینَ“ ورثاء کے معنی میں ہے جن پر ظلم ہوا ہے اور جارومجرور ”مِنَ الَّذِینَ “کا ”اخران“ کی صفت ہوگا (غور کیجیے)
آیت ۱۰۹
۱۰۹( یَوْمَ یَجْمَعُ اللهُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا اٴُجِبْتُمْ قَالُوا لاَعِلْمَ لَنَا إِنَّکَ اٴَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ )
ترجمہ:
۱۰۹ ۔ اُس دن سے ڈرو جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا اور انھیں کہے گا کہ لوگوں نے تمھاری دعوت کا کیا جواب دیا تھا تو وہ کہیں گے ہمیں تو پتہ نہیں تُو خود تمام پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے ۔
اس دن سے ڈرو جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا
یہ آیت حقیقت میں گذشتہ آیات کی تکمیل کرتی ہے کیونکہ گذشتہ آیات کے ذیل میں جو حق وباطل کی شہادت کے مسئلہ کے ساتھ مربوط تھیں ، تقویٰ اور حکم خدا کی مخالفت سے ڈرنے کا حکم دیا گیا تھا، اس آیت میں کہتا ہے کہ اس دن سے ڈرو جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا اور اُن سے رسالت اور ان کی ماموریت کے بارے میں سوال کرے گا اور اُن سے کہے گا کہ لوگوں نے تمھاری دعوت کا کیا جواب دیا تھا( یَوْمَ یَجْمَعُ اللهُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا اٴُجِبْتُمْ ) ۔
وہ اپنے کسی بھی قسم کے ذاتی علم کی نفی کرتے ہوئے تمام حقائق کو علم پروردگار کے ساتھ وابستہ کرکے کہیں گے: خداوندا! ہمیں کوئی علم نہیں ہے تو ہی تمام پوشیدہ اور چھپی ہوئی چیزوں سے آگاہ ہے( قَالُوا لاَعِلْمَ لَنَا إِنَّکَ اٴَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ ) ۔اسی طرح تمھارا ایسے علام الغیوب خدا اور ایسی عدالت سے سامنا ہوگا، اسی لئے تم اپنی گواہیوں میں حق وانصاف کو ملحوظ نظر رکھو(۱) یہاں پر دو سوال سامنے آتے ہیں :
پہلا: یہ کہ قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء ومرسلین(علیه السلام) اپنی اُمت کے گواہ اور شاہد ہیں جب کہ اُوپر والی آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ سے علم کی نفی کرتے ہیں اور تمام چیزوں کو خدا کے سپُرد کررہے ہیں ۔لیکن ان دونوں باتوں کے درمیان کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے، بلکہ یہ دونوں باتیں علیحدہ علیحدہ مرحلوں کے ساتھ مربوط ہیں ، پہلے مرحلہ میں جس کی طرف زیرِ بحث آیت میں اشارہ ہے انبیاء علیہم السلام نے پروردگار کے سوال کے جواب میں اظہارِ ادب کیا اور اپنے آپ سے علم کینفی کی ہے اور تمام چیزوں کو خدا کے علم سے وابستہ کیا ہے، لیکن بعد کے مرحلوں میں اپنی اُمت کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں اس کو واضح کریں گے اور اس کی گواہی دیں کے، یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح سے کہ بعض استاد اپنے شاگرد سے کہتا ہے کہ فلاں شخص کے سوال کا جواب دو اور شاگرد پہلے تو اظہار ادب کے طور پر اپنے استاد کے علم کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر قرار دیتا ہے اور پھر جو کچھ وہ جانتا ہے اسے بیان کرتا ہے ۔
دوسرا: یہ کہ انبیاء علیہم السلام اپنے سے علم کی نفی کیسے کریں گے حالانکہ وہ عام عادی علم کے علاوہ بہت سے مخفی پروردگار کی تعلیم کے ذریعے جانتے ہیں ۔اگرچہ اس سوال کے جواب میں مفسّرین نے طرح طرح کی بحثیں کی ہیں لیکن ہمارے عقیدے کے مطابق یہ بات بالکل واضح وروشن ہے کہ یہاں پر انبیاء علیہم السلام کی مراد یہ ہے کہ وہ اپنے علم کو خدا کے علم کے مقابلے میں ہیچ سمجھتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے، ہماری ہستی اس کی بے پایاں ہستی کے سامنے کوئی چیز ہی نہیں ہے اور ہمارا علم اس کے علم کے سامنے کوئی علم ہی شمار نہیں ہوتا اور خلاصہ یہ ہے کہ ”ممکن“ جو کچھ بھی ہو ”واجب“ کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں ہے، دوسرے لفظوں میں اگرچہ انبیاء علیہم السلام کا علم ودانش اپنے مقام پر بہت زیادہ ہے لیکن جب اس کا قیاس علم پروردگار کے ساتھ کیا جائے گا تو وہ کوئی شمار نہیں ہوگا ۔
حقیقت میں عالمِ واقعی وہ ذات ہے کہ جو ہر جگہ اور ہر وقت حاضر وناظر ہو اور تمام ذرّات عالم کے ایک دوسرے سے وصل وپیوند سے باخبر ہو اور جہان کی تمام خصوصیات سے کہ جو ایک وحدت کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ ملا ہوا ہے اور یہ صفت صرف خداوندتعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے ۔
ہم نے اب تک جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ آیت پیغمبروں اور اماموں سے ہر قسم کے علمِ غیب کی نفی کی دلیل نہیں ہوسکتی، جیسا کہ بعض لوگوں نے خیال کررکھا ہے کیونکہ علم غیب ذاتی طور پر تو اُسے علم غیب دیا اتنا ہی وہ جانتا ہے، قرآن کی متعدد آیات اس چیز کی گواہ ہیں کہ جن میں سے سورہ جن کی آیت ۲۶ میں ہے:
”( عَالِمُ الْغَیْبِ فَلاَیُظْهِرُ عَلَی غَیْبِهِ اٴَحَدًا، إِلاَّ مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَسُول ) “
”خداوند تعالیٰ عالم الغیب ہے اور سوائے ان رسولوں کے کہ جنھیں اس نے برگزیدہ کیا اور کسی کو اپنے علم غیب سے آگاہ نہیں کرتا“نیز سورہ ہود کی آیت ۴۹ میں ہے:”( تِلْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیهَا إِلَیْک ) “
”یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تجھ پر وحی کرتے ہیں “
ان آیات اور ان جیسی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ علم غیب ذات خدا کے ساتھ مخصوص نہیں ہے لیکن جس شخص کے لئے وہ جتنا مصلحت سمجھتا ہے اسے تعلیم دیتا ہے اور اس کی کمیت وکیفیت اس کی خواہش اور مشیّت سے مربوط ہے ۔
آیت ۱۱۰
۱۱۰( إِذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِی عَلَیْکَ وَعَلی وَالِدَتِکَ إِذْ اٴَیَّدتُّکَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَکَهْلًا وَإِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِیلَ وَإِذْ تَخْلُقُ مِنْ الطِّینِ کَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِإِذْنِی فَتَنفُخُ فِیهَا فَتَکُونُ طَیْرًا بِإِذْنِی وَتُبْرِءُ الْاٴَکْمَهَ وَالْاٴَبْرَصَ بِإِذْنِی وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَی بِإِذْنِی وَإِذْ کَفَفْتُ بَنِی إِسْرَائِیلَ عَنْکَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُبِینٌ )
ترجمہ:
۱۱۰ ۔ وہ وقت یاد کرو جب خدا ن عیسیٰ بن مریم سے کہا کہ اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمھاری والدہ پر کی ہے جب میں نے روح القدس کے ذریعے تیری تقویت کی کہ تو گہوارے میں اور بڑے ہوکر لوگوں سے گفتگو کرتا تھا، اور جب میں نے تجھے کتاب وحکمت اور توریت وانجیل کی تعلیم دی اور جب کہ تو میرے حکم سے مٹی سے پرندے کی شکل بناتا اور اُس میں پھونکتا تھا اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا اور مادر زاد اندھے اور برص کی بیماری والے کو تو میرے حکم سے شفا دیتا تھا اور مُردوں کو (بھی) تو میرے حکم سے زندہ کرتا تھا اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھے اذیت وتکلیف پہنچانے سے بازرکھا جب تو ان کے پاس واضح دلائل لے کر آیا تھا لیکن اُن میں سے کافروں کی ایک جماعت نے کہا کہ یہ تو کھلے ہوئے جادو کے سوا کچھ نہیں ۔
تفسیر
۱ ۔ جو کچھ اوپر کہا جاچکا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعراب کے لحاظ سے ”یوم“ تقوا کا مفعول ہے کہ جو اس کی تقدیر ہے اور پہلی آیت سے ظاہر ہوتا ہے ۔
مسیح(علیه السلام) پر انعاماتِ الٰہی
یہ آیت اور سورہ مائدہ کے آخر تک بعد والی آیات حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کی سرگذشت اور ان انعامات سے مربوط ہیں جو آنجناب(علیه السلام) اور ان کی اُمت کو بخشی گئیں اور وہ یہاں پرمسلمانوں کی بیداری اور آگاہی کے لئے بیان ہوئی ہیں پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ وقت یاد کرو جب خدا نے عیسیٰ (علیه السلام) ابن مریم سے فرمایا کہ تم اُس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمھاری والدہ پر کی( إِذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ اذْکُرْ نِعْمَتِی عَلَیْکَ وَعَلی وَالِدَتِکَ ) ۔
اس تفسیر کے مطابق اوپر والی آیات ایک مستقل بحث شروع کررہی ہیں جو مسلمانوں کے لئے تربیتی پہلو رکھتی ہے اور اس کا اسی دنیا کے ساتھ ربط ہے، لیکن بعض مفسرین مثلاً طبرسی، بیضاوی اور ابوالفتوح رازی نے یہ احتمال دیا ہے کہ یہ آیت پہلی آیت کا ضمیمہ ہے اور اس کا ربط ان سوالات اور باتوں سے ہے جو خداوند تعالیٰ قیامت کے دن پیغمبروں سے کرے گا اور اس بناپر ”قَالَ “ جو فعل ماضی ہے یہاں ”یقول“ یعنی فعل مضارع کے معنی میں ہوگا، لیکن یہ احتمال ظاہرِ آیت کے خلاف ہے، خاص طور پر جبکہ معمول یہ ہے کہ کسی کے لئے نعمتوں کا شمار کرنا اس میں روحِ شکرگزاری زندہ کرنے کی غرض سے ہوتا ہے، جبکہ قیامت میں یہ مسئلہ زیر بحث نہیں آئے گا ۔ اس کے بعد اپنی نعمات کا ذکر شروع کردیا ہے، پہلے کہتا ہے: میں نے تجھے روح القدس کے ذریعے تقویت دی ہے( إِذْ اٴَیَّدتُّکَ بِرُوحِ الْقُدُسِ ) ۔
روح قدس کے معنی کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد اوّل میں تفصیل سے بحث ہوچکی ہے(۱)
خلاصہ یہ کہ ایک احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد وحی لانے والا فرشتہ یعنی جبرئیل ہو، اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ اس سے مراد وہی غیبی طاقت ہو جو حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کو معجزے دکھانے اور رسالت کے کام سرانجام دینے کے لئے تقویت دیتی تھی اور یہ چیز انبیاء(علیه السلام) کے علاوہ دوسروں میں بھی ضعیف تر درجہ موجود ہوتی ہے ۔ نعمات الٰہی میں سے دوسری نعمت تجھ پر یہ ہے کہ روح القدس کی تائید کے ذریعے تو گہوراے میں اور پختہ کار ہوکر گفتگو کرتا تھا (تُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلًا ) ۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ تیری گہوارہ کی باتیں بھی بڑے ہونے کے بعد کی باتوں کی مانند پختہ اور جچی تلی ہوتی تھیں اور وہ بچوں کی طرح بے وزن نہیں ہوتی تھیں ۔
تیسری نعمت یہ کہ میں نے تجھے کتاب وحکمت اور تورات وانجیل کی تعلیم دی( وَإِذْ عَلَّمْتُکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِیلَ ) ۔ کتاب کے ذکر کے بعد تورات وانجیل کا تذکرہ ہے جبکہ وہ بھی آسمانی کتابوں میں سے ہیں حقیقت میں اجمال کے بعد تفصیل کی صورت میں ہے ۔
چوتھی نعمت یہ ہے کہ تُو میرے حکم سے پرندے کی شکل کی ایک چیز مٹی سے بناتا تھا اس کے بعد اس میں پھونکتا تھا تو وہ میرے حکم سے ایک زندہ پرندہ ہوجاتی تھی( وَإِذْ تَخْلُقُ مِنْ الطِّینِ کَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِإِذْنِی فَتَنفُخُ فِیهَا فَتَکُونُ طَیْرًا بِإِذْنِی ) ۔
پانچویں نعمت یہ ہے کہ تو میرے اذن سے مادر زاد واندھے اور برص کی بیماری میں مبتلا شخص کو شفا دیتا تھا( وَتُبْرِءُ الْاٴَکْمَهَ وَالْاٴَبْرَصَ بِإِذْنِی ) ۔ اور بالآخر میری نعمتوں میں سے ایک اور نعمت تجھ پر یہ تھی کہ میں نے بنی اسرائیل کو تجھے پہنچانے سے اس وقت باز رکھا جبکہ ان کے کافر تیرے واضح اور روشن دلائل کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے اور انھیں کھلا جادو کہنے لگے، میں نے اس تمام شور وغل اور سخت اور ہٹ دھرم دشمنوں کے مقابلے میں تیری حفاظت کی تاکہ تو اپنی دعوت کو آگے بڑھاسکے( وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَی بِإِذْنِی وَإِذْ کَفَفْتُ بَنِی إِسْرَائِیلَ عَنْکَ إِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْهُمْ إِنْ هَذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُبِینٌ ) ۔
یہاں پر ایک بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں چار مرتبہ لفظ ”باذنی“ (میرے حکم سے)دُہرایا گیا ہے تاکہ حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کے لئے غلو اور دعائے الوہیت کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے، یعنی جو کچھ وہ انجام دیتے تھے اگرچہ بہت عجیب وغریب اور حیرت انگیز تھا اور خدائی کاموں کے ساتھ شباہت رکھتا تھا لیکن اُن میں سے کام خود عیسی(علیه السلام)ٰ کی طرف سے نہیں تھا کہ بلکہ یہ سب کام خدا کی طرف سے انجام پذیر ہوتے تھے، وہ ایک بندہ خدا تھے اور خداوندتعالیٰ کے تابع فرمان تھے اور ان کے پاس جو کچھ بھی تھا وہ خدائے لایزال کی قدرت سے تھا ۔
ہوسکتا ہے یہ کہا جائے کہ یہ تمام نعمتیں حضرت عیسی(علیه السلام)ٰ کے ساتھ مربوط تھیں تو اس آیت میں ان نعمتوں کو ان کی والدہ جناب مریم(علیه السلام) کے لئے بھی نعمت کیوں شمار کیا گیا ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات مسلم ہے کہ جو نعمت بیٹے تک پہنچتی ہے وہ حقیقت میں اس کی ماں کو بھی پہنچتی ہے کیونکہ دونوں ایک اصل سے ہیں اور ایک ہی درخت کی شاخ اور جڑ ہیں ۔
ضمنی طور پر جیسا کہ ہم سورہ آلِ عمران کی آیہ ۴۹ کے ذیل میں بیان کرچکے ہیں یہ آیت اور اسی قسم کی آیات اولیاء خدا کی ولایت تکوینی کے واضح دلائل میں سے ہیں کیونکہ مسیح(علیه السلام) کے قصّے میں مُردوں کو زندہ کرنے، مادر زاد اندھوں اور لاعلاج بیماروں کو شفا دینے کو مسیح(علیه السلام) کی ذات کی طرف منسوب کیا گیا ہے البتہ اذن و فرمانِ خدا کے ساتھ۔
اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات عین ممکن ہے کہ خداوند تعالیٰ عالم تکوین میں تصرف کرنے کے لیے اس قسم کی قدرت کسی شخص کے اختیار میں دے دے کہ وہ کبھی اس قسم کے اعمال انجام دے لیا کرے اور اس آیت کی تفسیر انبیاء کے دعا کرنے اور خدا کی طرف سے ان کی دعا قبول ہونے کے ساتھ کرنا مکمل طور پر ظواہر آیات کے خلاف ہے ۔ البتہ اولیاء خدا کی ولایت تکوینی سے ہماری مراد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے جسے ہم اُوپر بیان کرچکے ہیں ۔ کیونکہ اس مقدار سے زیادہ کے لیے ہمارے پاس کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔ مزید و ضاحت کے لیے جلد دوم کی طرف رجوع کریں ۔
____________________
۱۔ تفسیر نمونہ،( اردو ترجمہ) ج۱، ص۳۶۰-
آیات ۱۱۱،۱۱۲،۱۱۳،۱۱۴،۱۱۵
۱۱۱( وَإِذْ اٴَوْحَیْتُ إِلَی الْحَوَارِیِّینَ اٴَنْ آمِنُوا بِی وَبِرَسُولِی قَالُوا آمَنَّا وَاشْهَدْ بِاٴَنَّنَا مُسْلِمُونَ )
۱۱۲( إِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیعُ رَبُّکَ اٴَنْ یُنَزِّلَ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَاءِ قَالَ اتَّقُوا اللهَ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) -
۱۱۳( قَالُوا نُرِیدُ اٴَنْ نَاٴْکُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ اٴَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَکُونَ عَلَیْهَا مِنْ الشَّاهِدِینَ ) -
۱۱۴( قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللهُمَّ رَبَّنَا اٴَنزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَاءِ تَکُونُ لَنَا عِیدًا لِاٴَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَةً مِنْکَ وَارْزُقْنَا وَاٴَنْتَ خَیرُ الرَّازِقِینَ ) -
۱۱۵( قَالَ اللهُ إِنِّی مُنَزِّلُهَا عَلَیْکُمْ فَمَنْ یَکْفُرْ بَعْدُ مِنْکُمْ فَإِنِّی اٴُعَذِّبُهُ عَذَابًا لاَاٴُعَذِّبُهُ اٴَحَدًا مِنْ الْعَالَمِینَ ) -
ترجمہ:
۱۱۱ ۔اور وہ وقت یاد کرو جب میں نے حواریون کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے بھیجے ہوئے پر ایمان لاؤ۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لے آئے اور تو گواہ رہ کہ ہم مسلمان ہیں ۔
۱۱۲ ۔وہ وقت کہ جب حواریون نے یہ کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تیرا پروردگار آسمان سے مائدہ نازل کرسکتا ہے تو اُس نے (جواب میں ) کہا اگر تم صاحبان ایمان ہو تو اللہ سے ڈرو ۔
۱۱۳ ۔وہ کہنے لگے (ہم یہ بات بُری نیت سے نہیں کہتے بلکہ) ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل (آپ کی رسالت پر) مطمئن ہوجائیں اور ہم جان لیں کہ تونے ہم سے سچی بات کہی ہے اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں ۔
۱۱۴ ۔عیسیٰ (علیه السلام) نے عرض کیا: اے خدا! اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے مائدہ نازل فرما،تا کہ وہ ہمارے اوّل و آخر کے لیے عید قرار پائے اور تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں روزی عطا فرما، تو بہترین روزی دینے والا ہے ۔
۱۱۵ ۔خداوند تعالیٰ نے (اس کی دعا قبول فرمالی اور) کہا: میں اُسے تم پر نازل کروں گا، لیکن جو شخص تم میں سے اس کے بعد کافر ہوجائے گا (اور وہ انکار کی راہ اختیار کرے گا) اُسے میں ایسی سزادوں گا کہ عالمین میں سے ویسی سزا کسی کو نہ دی ہوگی۔
حواریوں پر مائدہ کے نزول کا واقعہ
اس بحث کے بعد جو مسیح(علیه السلام) اور ان کی والدہ کے بارے میں نعمات الٰہی کے سلسلہ میں گذشتہ آیات میں بیان ہوچکی ہے ان آیات میں اُن نعمات کی طرف اشارہ کرتا ہے جو حواریوں یعنی حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے نزدیکی اصحاب و انصار کو بخشی گئی ہیں ۔
پہلے فرماتا ہے، اُس وقت کو یاد کرو جب ہم نے حواریوں کی طرف وحی بھیجی کہ مجھ پر اور میرے بھیجے ہوئے مسیح(علیه السلام) پر ایمان لے آؤ تو انہوں نے میری دعوت کو قبول کرلیا اور کہا کہ ہم ایمان لے آئے، خدایا! گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہیں اور تیرے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں
( وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَی الْحَوَارِیِّیْنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ قَالُوْا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ ) ۔
البتہ یہ بات ہم اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ لفظ وحی قرآن کریم میں ایک وسیع معنی کا حامل ہے اور ان وحیوں میں منحصر نہیں ہے کہ جو پیغمبروں پر نازل ہوتی ہیں بلکہ وہ الہام بھی جو مختلف افراد کے دلوں پر ہوتے ہیں اس کے مصداق ہیں اور اسی لیے مادر موسیٰ(علیه السلام) کے بارے میں (سورہ قصص آیت ۷ میں ) وحی کا لفظ آیا ہے ۔(۱) یہاں تک کہ حیوانات کے طبعی و فطری الہامات کے لیے بھی قرآن میں لفظ وحی استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ شہد کی مکھیوں کے لیے ہے ۔
یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے وہ وحی مراد ہو جو حضرت مسیح(علیه السلام) کے ذریعے اور معجزات کی شکل میں ان کی طرف بھیجی جاتی تھی، ہم نے حواریوں کے بارے میں یعنی حضرت عیسیٰ کے اصحاب اور شاگردانِ خاص کے لیے جلد دوم صفحہ ۳۳۷ پر بحث کی ہے ۔(۲)
اس کے بعد مائدہ آسمانی کے نزول کے مشہور واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: مسیح کے اصحابِ خاص نے حضرت عیسیٰ(علیه السلام) سے کہا کیا تیرا پروردگار ہمارے لیے آسمان سے غذا بھیج سکتا ہے( إِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیعُ رَبُّکَ اٴَنْ یُنَزِّلَ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَاءِ ) ۔
”مائدہ“ لغت میں خوان، دستر خوان اور طبق کو بھی کہا جاتا ہے اور اُس غذا کو بھی کہتے ہیں جو اُس میں رکھی ہوئی ہو، اصل میں یہ ”مید“ کے مادہ سے بنایا گیا ہے جس کے معنی حرکت دینے اور ہلانے کے ہیں اور شاید دستر خوان اور غذا پر مائدہ کا اطلاق اس نقل وانتقال کی وجہ سے ہی جو اُن میں صورت پذیر ہوتا رہتا ہے ۔
حضرت مسیح(علیه السلام) نے اس مطالبہ پر کہ جس میں ایسے معجزات وآیات دکھانے کے باوجود شک اور تردّد کی بو آرہی تھی، غور کیا اور انھیں تنبیہ کی اور کہا کہ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو( قَالَ اتَّقُوا اللهَ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) ۔
لیکن انھوں نے جلد ہی حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کو بتادیا کہ ہمارا اس مطالبہ سے کوئی غلط مقصد نہیں ہے اور نہ ہی اس میں ہماری کسی ہٹ دھرمی کی غرض پوشیدہ ہے بلکہ ہماری تمنا یہ ہے کہ ہم اس مائدہ میں سے کھائیں (اور آسمانی غذا کے کھانے سے نورانیت ہمارے دل میں پیدا ہوگی، کیونکہ غذا مسلمہ طور پر روح انسانی پر اثر انداز ہوتی ہے، اس کے علاوہ) ہمارے دلوں میں راحت پیدا ہوگی اور اطمینان حاصل ہوگا اور یہ عظیم معجزہ دیکھنے سے ہم علم الیقین کی سرحد تک پہنچ جائیں گے اور یہ جان لیں گے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے تاکہ ہم اس پر گواہی دے سکیں
( قَالُوا نُرِیدُ اٴَنْ نَاٴْکُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ اٴَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَکُونَ عَلَیْهَا مِنْ الشَّاهِدِینَ ) ۔
جب حضرت عیسیٰ(علیه السلام) ان کے اس مطالبہ میں ان کی حُسنِ نیت سے آگاہ ہوئے تو ان کی درخواست کو بارگاہ خداوندی میں اس طرح سے بیان فرمایا کہ خداوندا ہمارے لیے آسمان سے مائدہ بھیج جو ہمارے اوّل وآخر کے لئے عید ہو اور تیری طرف سے ایک نشانی شمار ہو اور ہمیں رزق عطا فرما کہ تو ہی بہترین رزی رساں ہے( قَالَ عِیسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللهُمَّ رَبَّنَا اٴَنزِلْ عَلَیْنَا مَائِدَةً مِنْ السَّمَاءِ تَکُونُ لَنَا عِیدًا لِاٴَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَةً مِنْکَ وَارْزُقْنَا وَاٴَنْتَ خَیرُ الرَّازِقِینَ ) ۔
اس میں یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ(علیه السلام) نے ان کی درخواست کو بہت ہی عمدہ طریقے سے بارگاہ خداوندی میں پیش کیا، جس میں حق طلبی کی روح کا اظہار بھی پایا جاتا ہے اور اجتماعی وعمومی مصالح کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے ۔
خداوند تعالیٰ نے اس دعا کو کہ جو حسنِ نیت اور خلوص کے ساتھ دل سے نکلی تھی قبول کرلیا اور اُن سے فرمایا کہ: میں اس قسم کا مائدہ تم پر نازل کروں گالیکن اس بات پر بھی توجہ رہنی چاہیے کہ اس مائدہ کے اتر نے کے بعد تمھاری ذمہ داری بہت سخت ہوجائے گی اور اس قسم کا واضح معجزہ دیکھنے کے بعد جس شخص نے راہ کفر اختیار کی تو اُسے ایسی سزادوں گا کہ عالمین میں سے کسی کو ایسی سزا نہیں دی ہوگی( قَالَ اللهُ إِنِّی مُنَزِّلُهَا عَلَیْکُمْ فَمَنْ یَکْفُرْ بَعْدُ مِنْکُمْ فَإِنِّی اٴُعَذِّبُهُ عَذَابًا لاَاٴُعَذِّبُهُ اٴَحَدًا مِنْ الْعَالَمِینَ ) ۔
چند ضروری نکات کی یاد دہانی
ان آیات میں چند ایسے نکات ہیں کہ جن کا مطالعہ کرنا ضروری ہے:
۱ ۔ مائدہ کے مطالبہ سے کیا مراد تھی؟
اس میں توشک نہیں ہے کہ حوارئین اس درخواست میں کوئی بُرا ارادہ نہیں رکھتے تھے اور ان کا مقصد حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کے مقابلے میں ہٹ دھرمی کرنا نہیں تھا بلکہ مزید اطمینان کی جستجو تھا تاکہ ان کے دلوں کی گہرائیوں میں جو شکوک و شبہات اور دسو سے باقی ہیں وہ بھی دور ہوجائیں ۔ کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی مطلب کو استدلال کے ذریعے یہاں تک کہ کبھی کبھی تجربہ کی بنیاد پر بھی ثابت کرلیتا ہے لیکن جب مسئلہ زیادہ اہم ہوتا ہے تو بہت سے دسو سے اور شکوک و شبہات اس کے دل کے گوشوں میں باقی رہ جاتے ہیں لہٰذا اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ یا تو بار بار کے تجربے اور آزمائش کے ذریعے اور یا استدلال علمی کو عینی مشاہدات کے ساتھ بدل کر شکوک و شبہات اور دسوسوں کو اپنے دل کی گہرائیوں سے اکھاڑ کر پھینک دے ۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) باوجود اس کے کہ وہ ایمان و یقین کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے پھر بھی خداوند تعالیٰ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ مسئلہ معاد کا اپنی آنکھوں کے ساتھ مشاہدہ کریں تاکہ ان کا وہ ایمان جو آز روئے علم تھا ”عین الیقین“ اور شہود سے بدل جائے ۔
لیکن اس سبب سے کہ حواریوں کے مطالبہ کا ظاہری طور پر جو مطلب نکلتا تھا وہ چھبتا ہوا معلوم ہوتا تھا لہٰذا حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے اسے بہانہ جوئی پر محلول کیا اور ان پر اعتراض کیا، لیکن جب انہوں نے کافی وضاحت کے ساتھ اپنا مقصد روشن کردیا تو حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نے بھی ان کی بات کو تسلیم کرلیا ۔
۲ ۔ ”( هَلْ ییَسْتَطِیْعُ رَبُُکَ ) “ سے کیا مراد ہے؟
مسلمہ طور پر ابتدا میں یہ جملہ یہی معنی دیتا ہے کہ حوارئین نزول مائدہ کے سلسلے میں قدرت خدا میں شک رکھتے تھے لیکن اس کی تفسیر میں اسلامی مفسّرین کے بعض بیانات جالب نظر ہیں ، پہلا یہ کہ یہ درخواست انھوں نے ابتدائے کار میں کی تھی، جبکہ وہ مکمل طور پر صفات خداوندی سے آشنا نہیں ہوئے تھے، دوسرا یہ کہ ان کی مراد یہ تھی کہ کیا خداوند تعالیٰ کے نزدیک اس میں مصلحت ہے کہ وہ اس قسم کا مائدہ ہم پر نازل کردے، جیسا کہ مثال کے طور پر ایک شخص دوسرے سے یہ کہے کہ میں اپنی ساری دولت فلاں شخص کے ہاتھ میں نہیں دے سکتا، یعنی میں اس میں مصلحت نہیں سمجھتا ، نہ یہ کہ میں قدرت نہیں رکھتا، تیسرا یہ کہ ”یستطیع“ کا معنی ”یستجیب“ ہو، کیونکہ مادہ طوع کا معنی انقیاد ومطیع ہونا ہے اور جب وہ باب (استفعال) میں چلا جائے تو پھر اس سے یہ مطلب لیا جاسکتا ہے ۔ اس بناپر اس جملے کا یہ معنی ہوگا کہ کیا تیرا پروردگار ہماری اس بات کو قبول کرے گا کہ آسمانی مائدہ ہم پر نال کرے ۔
۳ ۔ یہ آسمانی مائدہ کیا تھا؟
یہ آسمانی مائدہ جن چیزوں پر مشتمل تھا ان کے بارے میں قرآن میں کوئی تذکرہ نہیں ہے لیکن احادیث میں کہ جن میں سے ایک حدیث امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ وہ کھانا چند روٹیاں اور چند مچھلیاں تھیں ۔ شایداس قسم کے معجزے کے مطالبے کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے سُن رکھا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ سے بنی اسرائیل پر مائدہ آسمانی اُترا تھا ۔ لہٰذا انھوں نے بھی حضرت عیسی(علیه السلام)ٰ سے اسی قسم کا تقاضا کیا ۔
۴ ۔ کیا ان پر کوئی مائدہ نازل ہوا؟
باوجود اس کے کہ مذکورہ بالا آیات نزول مائدہ کو تقریباً صراحت کے ساتھ بیان کررہی ہیں کیونکہ خداوندتعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض مفسّرین نے نزول مائدہ کی تردید کی ہے اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ جب حوارئین نے نزول مائدہ کے بعد سخت ذمہ داری کا احساس کیا تو انھوں نے اپنا مطالبہ ترک کردیا لیکن حق بات یہ ہے کہ مائدہ ان پر نازل ہوا ۔
۵ ۔ عید کسے کہتے ہیں ؟
عید لغت میں مادہ عود سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی بازگشت (لوٹ آنا) کے ہیں ، اسی لئے اُن دنوں کو جن میں کسی قوم وملّت کی مشکلات برطرف ہوجاتی ہیں اور وہ پہلے جیسی کامیابیوں اور راحتوں کی طرف پلٹ آتی ہے، عید کہا جاتا ہے، اسلامی عیدوں کو اس مناسب سے عید کہا جاتا ہے کہ ماہِ مبارک رمضان میں ایک مہینے کی اطاعت کے بعد یا حج کا عظیم فریضہ انجام دینے کی وجہ سے روح میں پہلی سی فطری صفائی اور پاکیزگی لوٹ آتی ہے اور وہ آلودگیاں جو خلاف فطرت ہیں ختم ہوجاتی ہیں ، چونکہ نزول مائدہ کا دن کامیابی، پاکیزگی اور خدا پر ایمان لانے کی طرف بازگشت کا دن تھا لہٰذا حضرت عیسیٰ(علیه السلام) نے اس کا نام عید رکھا، جیسا کہ روایات میں آیا ہے مائدہ کا نزول اتوار کے دن ہوا تھا لہٰذا شاید عیسائیوں کے نزدیک اتوار کے احترام کی علتوں میں سے ایک علت یہ بھی ہو ۔
حضرت علی علیہ السلام سے نقل شدہ ایک روایت میں ہے کہ:
”وکل یوم لایعصی الله فیه فهو یوم عید “
”یعنی ہر وہ دن کہ جس میں خداوند تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے وہ عید کا دن ہے“(۳)
یہ بھی اس امر کی طرف اشارہ ہے کیونکہ گناہ کو چھوڑنے کا دن کامیابی، پاکیزگی اور فطرت اوّلیہ کی طرف لوٹنے کا دن ہے ۔
۶ ۔ عذاب شدید کس بناپر تھا؟
یہاں پر ایک اہم نکتہ ہے جس کی طرف توجہ کرنا چاہیے اور وہ یہ کہ جب ایمان مرحلہ شہود اور عین الیقین کو پہنچ جائے یعنی حقیقت کو آنکھ سے دیکھ لے اور کسی قسم کے تردّد اور وسوسے کی گنجائش باقی نہ رہے تو پھر ایسے شخص کی ذمہ داری اور مسئولیت بہت زیادہ سخت ہوجاتی ہے، کیونکہ اب یہ وہ سابق انسان نہیں ہے کہ جس کا ایمان پایہ شہود پر نہیں تھا اور کبھی کبھار اس میں وسوسے پیدا ہوجاتے تھے، وہ ایمان اور ذمہ داری کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، اب اس کی تھوڑی تقصیر اور کوتاہی بھی مجازات شدید اور سخت سزا کا سبب بنے گی، اسی لیے تو انبیاء اور اولیائے خدا کی مسئولیت بہت سخت تھی اسی طرح کہ وہ ہمیشہ اُس سے وحشت وپریشانی میں رہتے تھے، ہم اپنی روزمرّہ کی زندگی میں بھی اس قسم کی باتوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں ، مثلاً اصولی طور پر ہر کسی کو معلوم ہے کہ اُس کے شہر اور علاقے میں کئی بھوکے ایسے موجود ہیں جن کے بارے میں اُس سے بازپُرس ہوگی، لیکن جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ ایک بے گناہ انسان بھوک کی شدّت سے فریاد کررہا ہے تو اب اس کی جوابدہی کی صورت مل جائے گی اور سخت تر ہوجائے گی۔
۷ ۔ عہد جدید اور مائدہ: موجودہ چاروں انجیلوں میں مائدہ کے بارے میں اس طرح گفتگو نہیں ہے جس طرح کہ ہم قرآن مجید میں دیکھتے ہیں ، اگرچہ انجیل یوجنا باب ۲۱ میں ایک بیان ایسا موجود ہے کہ جس میں حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کی طرف سے لوگوں کو کھانا کھلانے اور اُن کی طرف سے روٹی اور مچھلی کے ساتھ معجزانہ طور پر دعوت کا ذکر کیا گیا ہے لیکن تھوڑی سی توجہ سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا مائدہ آسمانی اور حواریوں کے مسئلے سے کوئی ربط نہیں ہے(۴)
کتاب ”اعمالِ رسولان“ میں بھی جو ”عہد جدید“ کی ایک کتاب ہے، پطرس نامی ایک حواری پر نزول مائدہ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ بھی اُس بحث سے الگ چیز ہے کہ جس کے بارے میں ہم گفتگو کررہے ہیں ، لیکن کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ بہت سے ایسے حقائق ہیں کہ جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل نہیں ہوئے تھے لہٰذا اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے نزول مائدہ کے واقعہ کے سلسلے میں کوئی مشکل پیدا نہیں ہوگی(۵)
____________________
۱۔وَاٴَوْحَیْنَا إِلَی اٴُمِّ مُوسَی اٴَنْ اٴَرْضِعِیهِ فَإِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاٴَلْقِیهِ فِی الْیَمِّ ---- ”ہم نے موسیٰ کی والدہ پر وحی کی کہ اُسے دودھ پلاؤ اور جب اس کے بارے میں تمھیں ڈر ہو تو اُسے دریا میں پھینک دو“
۲۔اردو ترجمہ میں دیکھئے-
۳۔ نہج البلاغہ، کلمات قصار، ۴۲۸-
۴۔ الہدیٰ الیٰ دین المصطفیٰ، ج۲، ص۲۴۹-
۵۔ حوالہ سابقہ-
آیات ۱۱۶،۱۱۷،۱۱۸
۱۱۶( وَإِذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ اٴَاٴَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِی وَاٴُمِّی إِلَهَیْنِ مِنْ دُونِ اللهِ قَالَ سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِی اٴَنْ اٴَقُولَ مَا لَیْسَ لِی بِحَقٍّ إِنْ کُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَلاَاٴَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِکَ إِنَّکَ اٴَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ ) -
۱۱۷( مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلاَّ مَا اٴَمَرْتَنِی بِهِ اٴَنْ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّی وَرَبَّکُمْ وَکُنتُ عَلَیْهِمْ شَهِیدًا مَا دُمْتُ فِیهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی کُنتَ اٴَنْتَ الرَّقِیبَ عَلَیْهِمْ وَاٴَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَهِیدٌ ) -
۱۱۸( إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ) -
ترجمہ:
۱۱۶ ۔وہ وقت یاد کرو جب خداوندتعالیٰ عیسیٰ ابن مریم سے کہے گا کہ (اے عیسیٰ) کیا تونے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو الله کے علاوہ دو خدا بنالو، وہ جواب دیں گے کہ تیری ذات پاک ہے، مجھے کوئی حق نہیں ہے کہ ایسی بات کہوں جو میرے لائق نہیں ہے، اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی ہوگی تو اس کا تجھے ضرور علم ہوگا ۔ تُو ان سب باتوں کو جاننا ہے کہ جو میرے نفس وروح میں ہیں ، لیکن میں جو کچھ تیری ذات پاک میں ہے اُسے نہیں جانتا کیونکہ تو تمام اسرار اور پوشیدہ چیزوں سے باخبر ہے ۔
۱۱۷ ۔مجھے تو نے جس کام پر مامور کیا تھا اُس کے سوا اُن سے اور کوئی بات نہیں کہی تھی ۔ میں نے تو اُن سے یہی کہا تھا کہ اُس خدا کی پرستش کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھار بھی پروردگار ہے اور میں تو اس وقت تک ہی اُن کا نگران اور گواہ تھا جب تک کہ اُن کے درمیان تھا اور جب تونے مجھے ان کے درمیان سے اٹھالیا تو پھر تُو ہی اُن کا نگران تھا اور تو ہی ہر چیز پر گواہ ہے ۔
۱۱۸ ۔ (اس صورت میں )اگر تُو انھیں سزا دے تو وہ تیرے بندے ہیں (اور وہ تیری عدم حکمت کی نشانی ہے اور نہ ہی تیری بخشش کمزوری کی علامت ہے) ۔
حضرت مسیح(علیه السلام) کی اپنے پیروکاروں کے شرک سے بیزاری
یہ آیات قیامت کے دن حضرت مسیح(علیه السلام) سے گفتگو کے بارے میں ہیں اور دلیل اس کی یہ ہے کہ بعد کی چند آیات میں ہے کہ:”( هَذَا یَوْمُ یَنفَعُ الصَّادِقِینَ صِدْقُهُمْ ) “
”آج کا دن وہ دن ہے کہ جس میں سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی“
اور یہ بات مسلّم ہے کہ اس سے مراد قیامت کا دن ہے ۔
اس کے علاوہ( فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی کُنتَ اٴَنْتَ الرَّقِیبَ عَلَیْهِمْ ) کا جملہ اس پر دوسری دلیل ہے کہ یہ گفتگو مسیح(علیه السلام) کی نبوت ورسالت کا زمانہ گزرنے کے بعد کی ہے اور آیت کی ابتدا ”قال“کے جملے ساتھ کرنا کہ جو فعل ماضی کے لیے ہے کوئی مشکل پیدا نہیں کرتا، کیونکہ قرآن مجید میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ قیامت سے مربوط مسائل زمان ماضی کی شکل میں بیان کیے گئے ہیں اور یہ چیز قیامت کے قطعی ویقینی ہونے کی دلیل ہے یعنی اس کا زمانہ آئندہ میں واقع ہونا ایسا مسلّم ہے گویا کہ وہ زمانہ ماضی میں واقع ہوچکا ہے لہٰذا اسے فعل ماضی کے صیغہ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے ۔
بہر حال پہلی آیت یہ کہتی ہے کہ خداوند تعالیٰ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ(علیه السلام) سے کہے گا کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو الله کے علاوہ اپنا معبود قرار دو اور ہماری پرستش کرو( وَإِذْ قَالَ اللهُ یَاعِیسَی ابْنَ مَرْیَمَ اٴَاٴَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِی وَاٴُمِّی إِلَهَیْنِ مِنْ دُونِ اللهِ ) ۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ(علیه السلام) نے کوئی ایسی بات نہیں کہی ہے بلکہ صرف توحید اور عبادت خدا کی دعوت دی ہے، لیکن اس استفہام کا مطلب یہ ہے کہ اُن سے اُن کی اُمت کے سامنے اقرار لے کر اُن کی اُمت کا جرم ثابت کیا جائے ۔
مسیح علیہ السلام اس سوال کے جواب میں انتہائی احترام کے ساتھ چند جملے کہیں گے:
۱ ۔ پہلے خداوندتعالیٰ کو ہر قسم کے شریک وشبیہ سے پاک کرتے ہوئے کہیں گے: اے خدا! تو ہر قسم کے شریک سے پاک ہے( قَالَ سُبْحَانَکَ ) ۔
۲ ۔ کس طرح ممکن ہے کہ میں ایسی بات کہوں جو میرے لیے شائستہ اور مناسب نہیں ہے( مَا یَکُونُ لِی اٴَنْ اٴَقُولَ مَا لَیْسَ لِی بِحَقٍّ ) ۔
حقیقت میں نہ صرف اس بات کے کہنے کی وہ اپنے سے نفی کرتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر میں اس قسم کا کوئی حق ہی نہیں رکھتا اور اس قسم کی گفتگو میں مرتبہ ومقام کے ساتھ ہرگز سازگار ہی نہیں ۔
۳ ۔ اس کے بعد پروردگار عالم کے علم بے پایاں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : میری گواہ یہ حقیقت ہے کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو تجھے اس کا علم ضرور ہوتا کیونکہ تو اس سے بھی آگاہ ہے جو میری روح کے اندر ہے جبکہ میں اُس سے بے خبر ہوں جو تیری ذات پاک میں ہے، کیونکہ علام الغیوب ہے اور تمام رازوں اور پوشیدہ چیزوں سے باخبر ہے( إِنْ کُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِی وَلاَاٴَعْلَمُ مَا فِی نَفْسِکَ إِنَّکَ اٴَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ ) ۔(۱)
۴ ۔ میں نے جو بات ان سے کہی ہے وہ صرف وہی تھی جس کے لئے تو نے مجھے مامور کیا تھا اور وہ یہ کہ میں انھیں تیری عبادت کی طرف دعوت دوں اور اُن سے کہوں کہ اس خدائے یگانہ کی پرستش کرو کہ جو میرا اور تمھارا پروردگار ہے( مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلاَّ مَا اٴَمَرْتَنِی بِهِ اٴَنْ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّی وَرَبَّکُمْ ) ۔
۵ ۔ اور جس وقت تک میں اُن کے درمیان رہا ان کا نگران وگواہ تھا اور میں نے انھیں راہِ شرک اختیار نہیں کرنے دیا، لیکن جب تونے مجھے اُن کے درمیان سے اٹھالیا تو پھر تُو ہی اُن کا نگران ونگہبان تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے( وَکُنتُ عَلَیْهِمْ شَهِیدًا مَا دُمْتُ فِیهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِی کُنتَ اٴَنْتَ الرَّقِیبَ عَلَیْهِمْ وَاٴَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ شَهِیدٌ ) ۔(۲)
۶ ۔ ان تمام باتوں کے باوجود پھر بھی حکم تو تیرا چلے گا ہی اور جو تو چاہے گا وہی ہوگا، اب اگر تو انھیں ان کے اس عظیم انحراف پر سزا دے گا تو وہ تیرے بندے ہیں اور وہ تیری سزا سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکیں گے اور تیرا یہ حق تیرے نافرمان بندوں کے لیے ثابت ہے اور اگر تو انھیں بخش دے اور ان کے گناہوں کی طرف سے چشم پوشی کرے تو توانا وحکیم ہے نہ تو تیری بخشش ہی کمزوری کی علامت ہے اور نہ ہی تیری سزا حکمت وحساب سے خالی ہے( إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ) ۔
____________________
۱۔ یہاں پر لفظ نفس کا اطلاق روح اور جان کے معنی میں نہیں ہے بلکہ نفس کا ایک معنی ذات ہے (جیسے کہتے ہیں وہ نفس بنفیس آئے) ۔
۲۔ ”توفی“ کے معنی کے بارے میں اور یہ کہ اس سے مراد مرنا نہیں ہے، سورہ آل عمران کی آیت ۵۵ کے ذیل میں صفحہ ۲۴۱ پر تفصیلی بحث ہوچکی ہے (جلد۲، اردو ترجمہ)
دوسوال اور ان کا جواب
۱ ۔ کیا عیسائیوں کی تاریخ میں کہیں دیکھا گیا ہے کہ وہ مریم کو اپنا معبود قرار دیتے ہوں ۔ یا یہ کہ وہ صرف تثلیث یعنی تین خداؤں ”باپ خدا“، ”بیٹا خدا“ اور ”روح القدس“ کے قائل تھے اور اس میں شک نہیں ہے کہ ان کے نظریہ کے مطابق ”روح القدس“ ”باپ خدا“ اور ”بیٹا خدا“ کے درمیان واسطہ ہے اور وہ مریم کے علاوہ ہے ۔
اس سوال کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ تو صحیح ہے کہ عیسائی حضرت مریم کو خدا تو نہیں جانتے تھے لیکن اس کے باوجود اُن کے اور اُن کے مجسمے کے سامنے مراسم عبادت سرانجام دیتے رہے تھے جیسا کہ بت پرست بتوں کو خدا نہیں سمجھتے تھے پھر بھی انھیں عبادت میں خدا کا شریک سمجھتے تھے اور زیادہ واضح الفاظ میں ”الله“ بمعنی خدا اور ”الٰہ“ بمعنی معبود میں فرق ہے، عیسائی جناب مریم کو الٰہ یعنی معبود جانتے تھے نہ کہ خدا ۔
ایک مفسّر کی تعبیرکے مطابق اگرچہ کوئی عیسائی فرقہ ”اِلٰہ“ اور ”معبود“ کا اطلاق جناب مریم پر نہیں کرتا بلکہ انھیں صرف خدا کی ماں سمجھتے ہیں ، لیکن عملی طور پر اس کے سامنے خصوع خشوع اور مراسم عبادت بجالاتے ہیں ، چاہے یہ نام ان کے لیے رکھیں یا نہ رکھیں ۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ بیروت میں عیسائیوں کے مجلہ ’مشرق“ کے ساتویں سال کے نویں شمارے میں پاپ بیوس نہم کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر حضرت مریم کی شخصیت کے بارے میں چند قابلِ ملاحظہ مطالب منتشر ہوئے تھے اس شمارہ میں پوری صراحت کے ساتھ لکھا تھا کہ مشرقی گرجوں میں بھی مغربی گرجوں کی طرح حضرت میرم کی عبادت کی جاتی ہے ۔ اسی مجلہ کے پانچویں سال کے چودھویں شمارے میں ایک مقالہ انستاس کرملی کے قلم سے لکھا ہوا درج تھا جس میں یہ کوشش کی گئی تھی کہ حضرت مریم کی عبادت کے مسئلہ کے سلسلہ میں عہد عتیق اور تورات سے بھی کوئی دلیل پیدا کی جائے ۔ چنانچہ وہ سانپ (شیطان) اور عورت (حوّا) کی دشمنی کی داستان کو مریم کے عنوان سے تفسیر کرتا ہے ۔ اس بناپر حضرت مریم(علیه السلام) کی پرستش اور عبادت ان میں موجود ہے ۔
۲ ۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ حضرت مسیح(علیه السلام) ایسے الفاظ میں جس سے شفاعت کی بو آتی ہے اپنی اُمت کے مشرکین کے بارے میں کیوں گفتگو کرتے ہیں اور یہ کیوں عرض کرتے ہیں کہ اگر تو انھیں بخش دے تو تُو عزیز وحکیم ہے ۔
اس کے جواب میں اس نکتے کی طرف توجہ رکھنی چاہیے کہ اگر حضرت عیسیٰ(علیه السلام) کا ہدف شفاعت ہوتا تو آپ یوں فرماتے کہ( اِنَّکَ اَنتَ الغَفُورُ الرَّحِیم ) کیونکہ خدا کا غفور ورحیم ہونا مقام شفاعت کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ خدا کی عزیز وحکیم کے ساتھ توصیف کررہے ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لیے شفاعت اور بخشش کی درخواست منظور نہیں ہے بلکہ اس میں اصلیہدف اپنی ذات سے ہر قسم کے اختیار کی نفی کرنا اور معاملہ کو پروردگار کے سپُرد کرنا ہے یعنی یہ کام تیرے ہی ہاتھ میں ہے اگر چاہے تو بخش دے اور اگر چاہے تو سزا دے اگرچہ نہ تیری سزا بغیر دلیل کے ہے اور نہ ہی تیری بخشش بغیر علّت وسبب کے ہے اور ہر حالت میں تیری قدرت وتوانائی سے تو باہر ہی ہے ۔
علاوہ ازیں یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے درمیان کسی گروہ نے اپنے اشتباہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے توبہ کی راہ اختیار کرلی ہو اور یہ جملہ اُس گروہ کے بارے میں ہو ۔
____________________
۱۔ تفسیر المنار، ج۷، ص۲۶۳-
آیات ۱۱۹،۱۲۰
۱۱۹( قَالَ اللهُ هَذَا یَوْمُ یَنفَعُ الصَّادِقِینَ صِدْقُهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا اٴَبَدًا رَضِیَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) -
۱۲۰( لِلَّهِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا فِیهِنَّ وَهُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) -
ترجمہ:
۱۱۹ ۔ خدا کہتا ہے کہ یہ وہ دن ہے جس میں سچّوں کو ان کی سچائی فائدہ بخشے گی ۔ ان کے لیے جنت کے باغات ہیں جن کے (درختوں ) کے نیچے پانی کی نہریں جاری ہیں ، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، خدا اُن سے راضی وخوشنود ہوگا اور وہ خدا سے راضی اور خوشنود ہوں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔
۱۲۰ ۔ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان تمام چیزوں کی حکومت الله ہی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔
تفسیر
عظیم کامیابی
روز قیامت خداوند تعالیٰ کی حضرت عیسیٰ(علیه السلام) سے گفتگو جس کی تشریح گذشتہ آیات میں ہوچکی ہے کے ذکر کے بعد اس آیت میں ہم پڑھتے ہیں کہ خداوند تعالیٰ اس گفتگو کے بعد یوں فرماتا ہے: آج کا دن وہ دن ہے جس میں سچوں کو اُن کی سچائی فائدہ دے گی( قَالَ اللهُ هَذَا یَوْمُ یَنفَعُ الصَّادِقِینَ صِدْقُهُمْ ) ۔
یقینا اس جملے میں صدق وراستی سے مراد دنیا میں گفتار وکردار اور راستی وسچائی ہے جو آخرت میں مفید ہوگی ورنہ آخرت کی سچائی اور راستی جو کہ محل تکلیف ہی نہیں ہے وہ کوئی فائدہ بھی نہیں دے گی اس کے علاوہ اس دن کی تو حالت وکیفیت ہی ایسی ہوگی کہ کوئی شخص سچائی کے سوا کچھ اور کہہ ہی نہ سکے گا ۔ یہاں تک کہ سب ہی گنہگار وخطاکار اپنے اپنے اعمالِ بد کا اعتراف کرلیں گے اور یوں اس دن جھوٹ بولنے کا کوئی وجود ہی نہ ہوگا ۔
اس بناپر وہ لوگ جنھوں نے اپنی ذمہ داری کو پورا کیا اور اپنی رسالت کا کام انجام دیا اور سچائی اور درستی کے سوا انھوں نے اور کوئی راستہ اختیار نہیں کیا، جیسے حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کے سچے پیرو یا باقی تمام انبیاء علیہم السلام کے سچے پیروکار کہ جو اس دنیا میں سچائی کی راہ پر گامزن ہوئے ۔ وہ اپنے اعمال سے پوری طرح بہرہ مند ہوں گے ۔
ضمناً اس جملے سے اجمالی طور پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صدق وراستی میں تمام نیکیوں کا خلاصہ آجاتا ہے ۔ گفتار میں صداقت وراستی اور عمل میں صداقت وراستی اور قیامت کے دن صرف صداقت وراستی ہی وہ سرمایہ ہے کہ جو کام آئے گا اس کے علاوہ اور کچھ کام نہیں آئے گا ۔
اس کے بعد سچوں کو ملنے والی جزا کے بارے میں یوں بیان کرتا ہے: ان کے لیے بہشت کے باغات ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اُسی میں رہیں گے( لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنهَارُ خَالِدِینَ فِیهَا اٴَبَدًا ) ۔
اور اس مادی نعمت سے زیادہ اہم یہ ہے کہ خدا بھی ان سے راضی ہے اور وہ خدا سے راضی ہیں( رَضِیَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ) ۔
یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں بہشت کے باغوں کا اس کی تمام نعمتوں کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد خدا کی اپنے بندوں سے خوشنودی اور بندوں کی خدا سے خوشنودی کی نعمت کا ذکر ہے اور اس کے بعد( ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ ) کا جملہ ہے اس سے اس حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ طرفین کی یہ رضایت وخوشنودی کس قدر اہمیت کی حامل ہے (خدا کی بندوں سے خوشنودی اور بندوں کی خدا سے خوشنودی) ۔
کیونکہ عین ممکن ہے کہ انسان اعلیٰ سے اعلیٰ نعمتوں میں غرق ہو لیکن جب وہ یہ احساس کرے گا کہ اس کا مولیٰ اور اس کا معبود ومحبوب اس سے ناراض ہے تو وہ تمام نعمتیں اس کی روح کے لئے تلخی اور اذیت کا سبب بن جائے گی۔
یہ بھی ممکن ہے کہ انسان کو ہر چیز میسر ہو لیکن جو کچھ اُس کے پاس ہے وہ اُس پر راضی وقانع نہ ہو ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ تمام نعمتیں اس کیفیت کے ساتھ سب سے اس کو خوش بخت نہیں رکھ سکتیں اور اُسے اندرونی تکلیف ہمیشہ آزار میں رکھے گی اور روحانی اطمینان جو کہ سب سے بڑی نعمت الٰہی اُس سے چھین لے گی۔
علاوہ ازیں جب خدا کسی سے خوش ہوگا تو جو کچھ وہ چاہے گا خدا اُسے دے گا اور جب یہ اُس کو وہ کچھ دے دے، جو وہ چاہتا ہے تو وہ بھی اُس سے خوش ہوگا ۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ خدا نسان سے خوش ہو اور وہ بھی اپنے خدا سے راضی ہو ۔
آخری آیت میں آسمانوں ، زمین اور جوکچھ اُن کے درمیان ہے پر خدا کی حاکمیت ومالکیت کی طرف اشارہ ہوا ہے اور اس کی قدرت کی عمومیت تمام چیزوں پر بیان ہوئی ہے( لِلّٰهِ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا فِیهِنَّ وَهُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ۔
یہ تذکرہ حقیقت میں خدا سے بندوں کی رضا وخوشنودی کی دلیل اور علت کے عنوان سے آیا ہے کیونکہ جو ہستی تمام چیزوں پر قدرت رکھتی ہو اور جو سراسر عالم ہستی پر حکومت رکھتی ہو وہ قدرت رکھتی ہے کہ جو کچھ اس کے بندے اس سے چاہیں وہ انھیں بخش دے اور اُنھیں خوشنود وراضی کرے ۔
ضمنی طور پر یہ بھی ہوسکتا ہے یہاں مریم کی پرستش کے سلسلے میں عیسائیوں کے عمل کے غلط ہونے کی طرف اشارہ ہو کیونکہ عبادت کے لائق تو صرف وہ ذات ہے جو سراسر عالم آفرینش پر حکمران ہو نہ کہ مریم جو کہ مخلوق ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ۔
یہاں پر سورہ مائدہ کی تفسیر اختتام کو پہنچتی ہے
سوره انعام
فضیلت تلاوت سوره انعام
شرک کی مختلف اقسام اور بت پرستی کے خلاف جہاد
کہا جاتا ہے کہ یہ انہترواں ( ۶۹) سورہ ہے جو مکہ میں پیغمبر پر نازل ہوا، البتہ اس کی چند آیات کے بارے میں اختلاف ہے ، بعض کا نظریہ ہے کہ یہ چند آیات مدینہ میں نازل ہوئی ہیں ، لیکن ان روایات سے جو اہلبیت (علیه السلام) کے طریقہ سے ہم تک پہنچی ہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سورہ کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی تمام آیات ایک جگہ نازل ہوئی ہیں ، اس بنا پر وہ سب کی سب -”مکی“ ہوں گی ۔
اس سورہ کا بنیادی ہدف اور مقصد دوسری مکی سورتوں کی طرح ہی تین اصولوں ”توحید“ ”نبوت“ اور ”قیامت“ کی طرف دعوت دینا ہے،لیکن سب سے پڑھ کر اس میں مسئلہ توحید اور شرک وبت پرستی کے خلاف مبارزہ کیا گیا ہے اور وہ اس طور پر کہ اس سورہ کی آیات کے اہم حصہ میں روئے سخن مشرکین اور بت پرستوں کی طرف ہی ہے اور اسی مناسبت سے بعض اوقات بحث کا سلسلہ مشرکین کے اعمال وکردار اور بد عت تک پہنچ جاتا ہے ۔
بہر حال اس سورہ کی آیات میں تدبر وتفکر جو انتہائی جاندار اور واضح اور روشن دلائل پر مشتمل ہے، انسان کے اندر روئے توحید وخدا پرستی کو زندہ کرتا ہے اور شرک کی بنیادوں کو اکھاڑ کر رکھ دیتا ہے، شاید اسی معنوی وابستگی اور مسئلہ توحید کی باقی سب مسائل اولویت کی بنیاد پر ہی اس سورہ کی تمام آیات یکجائی طور پر ایک ہی دفعہ نازل ہوئی ہے ۔
اور وہ روایات جو اس سورہ کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس امر کے سبب سے ہی ہیں ہم بارہا پڑھتے ہیں کہ سورہ انعام کے نزول کے وقت ستر ہزار فرشتہ اسے لے کر نازل ہوئے تھے اور جو شخص اس سورہ پڑھے (اور اس کے سایہ میں اس کی روح سرچشمہ توحید سے سیراب ہو) تو وہ تمام فرشتوں کے لئے طلب مغفرت کرتا ہے، ہو سکتاہے کہ اس سورہ کی آیات میں غور فکر کرنا مسلمانوں میں سے روح نفاق وپراکندگی کو نکال باہر کرے اور کانوں کو سننے والا ،آنکھوں کو دیکھنے والااور دلوں کو دانا بنا دے ۔
لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اس سورہ سے صرف اس کے الفاظ کے پڑھنے پر قناعت کرتے ہیں اور اپنی ذات اور خاص مشکلات کے حل کے لئے طویل و عریض تقریبات اور نشستیں منعقد کرتے ہیں جنھیں ”ختم انعام “ کے نام سے یاد کرتے ہیں ، مثال کے طور پر اگر ان تقریبات مین سورہ کے مضامین میں غور فکر کیا جائے تو نہ صرف مسلمانوں کی شخصی وذاتی مشکلات حل ہوں گی بلکہ ان کی عمومی مشکلات بھی حل ہوجائے گی ۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ قرآن کو ایک ایسا سلسلہ اور اد کے طور سے دیکھتے ہیں کہ جس میں ایسی خاصیتیں پائی جاتی ہیں جو راز ہی راز ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہے اور اس کے الفاظ کو پڑھنے کے علاوہ کچھ بھی غور نہیں کرتے ، حالانکہ قرآن سارے کا سارا سبق ہے اور مدرسہ ، ایک پرواگرام ہے اور بیداری ،ایک رسالت ہے اور علم وآگاہی۔
آیات ۱،۲
( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )
۱( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُونَ ) -
۲( هُوَ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ طِینٍ ثُمَّ قَضَی اٴَجَلًا وَاٴَجَلٌ مُسَمًّی عِنْدَهُ ثُمَّ اٴَنْتُمْ تَمْتَرُونَ ) -
ترجمہ:
شروع اللہ کے نام سے جو رحمن ورحیم ہے
۱ ۔ حمد وستائش اس خدا کے لیے ہے جس نے آسمانو--ں اور زمین کو پیدا کیااور تاریکیوں اور نور کو ایجاد کیا لیکن کافر خدا کے لیے شریک و شبیہ قرار دیتے ہیں حالانکہ اس کی توحید اور یکتائی کی دلیلیں تخلیق کائنات میں ظاہر وعیاں ہیں ۔
۲ ۔ وہ وہی ذات ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اس نے ایک مدت مقرر کی(تاکہ انسان درجہ کمال کو پہنچ جائے) اورحتمی اجل اس کے پاس ہے (اور وہ اس سے آگاہ ہے)اس کے باوجود تم(مشرک لوگ اس کی یکتائی یا اس کی قدرت میں )شک وشبہ رکھتے ہو اور اس کا انکار کرتے ہو ۔
وہ خدا جو نور وظلمت دونوں کا مبدا ہے،
اس سورہ میں خدا وندتعالیٰ کی حمدوستائش کے ساتھ آغاز ہوا ہے ۔
پہلے عالم کبیر(آسمان وزمین)اور ان کے نظاموں کی پیدائش کے طرےق سے اور اس کے بعد ”عالم منعیر یعنی انسان“کی آفرینش کے راستہ سے لوگوں کو اصل توحید کی طرف متوجہ کیا گیا،پہلے کہتا ہے:حمد ستائش اس خدا کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا( الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْض )
وہ خدا جو نور وظلمت دونوں کا مبدا ہے، دو خداؤں کی پرستش کا عقیدہ رکھنے والوں نظرےے کے بر خلاف وہی تنہا تمام چیزوں کے پیدا کرنے والا ہے ۔
( وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ) لیکن مشرکین وکفار بجائے اس کے کہ اس نظام واحد سے توحید کا سبق حاصل کریں اپنے پروردگار کے لئے شریک وشبیہ قرار دیتے ہیں( ثُمَّ الَّذِینَ کَفَرُوا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُونَ ) (۱)
یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ مشرکین کے عقیدہ کو لفظ”ثمّ“ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے و کہ لغت عرب میں (ترتیب بافاصلہ کے لئے )بولا جاتا ہے اور اس سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہابتدا میں تمام نوع بشر میں توحید ایک اصل فطری اور عقیدہ عمومی کی حیثیت سے موجود تھی اور شرک بعد میں اس اصل فطری سے ایک انحراف کی صورت میں پیدا ہوا ہے ۔
اس بارے میں کہ آسمان و زمین کی پیدائش کے سلسلہ میں لفظ” خلق“ اور نور وظلمت کے بارے میں لفظ ”جعل“ کیوں استعمال کیا گیا ہے ، مفسرین نے طرح طرح کے خیالات ظاہر کئے ہیں ، لیکن وہ بات جو ذہن سے زیادہ قریب معلوم تر ہوتی ہے یہ ہے کہ خلقت کسی چیز کے اصل وجود کے بارے میں اور جعل ان خواص وآثار کے بارے میں و کیفیات کے بارے میں ہوتا ہے جو اس کے بعد وجود پیدا کرتے ہیں ۔ کیوں کہ نور وظلمت تبعی پہلو رکھتے ہیں اس لئے انھیں جعل سے تعبیر کیا گیا ہے ۔
یہ آیت حقیقت میں تین قسم کے انحراف کرنے والے گروہوں کو جواب دے رہی ہے، پہلا گروہ مادہ پرستوں کا ہے جو دنیا کو ازلی”قدیمی“ سمجھتے تھے اور خلق وآفرینش کے منکر تھے ،دوسرا گروہ دو خداؤں کی پرستش کرنے والوں کا ہے جو نور و ظلمت کو دو مستقل مبدا قرار دیتے تھے، تیسرا گرویہ مشرکین عرب کا ہے جو خدا کے لئے شریک وشبیہ کے قائل تھے یہ ان کا رد بھی ہے ۔
۱ ۔ یعدلون ،مادہ عدل (بروزن حفظ) سے ہے جس کے معنی مساوی اور ہم وزن کے ہیں اور یہاں شریک وشبیہ کا قائل ہونے کے معنی میں ہے ۔۔
کیا تاریکی بھی مخلوقات میں سے ہے
اوپر والی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح نور خدا کی مخلوق ہے اسی طرح ظلمت بھی اس کی مخلوق ہے، حالانکہ فلسفہ اور علم طبیعات کے علماء میں یہ مشہور ہے کہ ”ظلمت“ عدم نور کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے اور ہم یہ جانتے ہیں کہ معدوم کو مخلوق کا نام نہیں دیا جا سکتا اس بنا پر زیر بحث آیت میں ظلمت کو کس طرح خدا کی مخلوق شمار کیا گیا ہے ۔
اس سوال کے جواب میں پہلی بات تو یہ ہے کہ ظلمت ہمیشہ ظلمت مطلقہ کے معنی میں نہیں ہوتی، بلکہ زیادہ تر فراوان وقوی نور کے مقابل میں بہت کم اور ضعیف نور کے لئے بھی ظلمت کا لفظ بولا جاتا ہے، مثلا ہم سب کہتے ہیں ”تاریکی رات “ حالانکہ کہ یہ بات مسلم ہے کہ رات میں ظلمت مطلقہ نہیں ہوتی، بلکہ رات کی تاریکی ہمیشہ کم رنگ ستاروں کے نور کی آمیزش رکھتی ہے یا دوسرے منابع نور سے ملی ہوئی ہوتی ہے اس بنا پر آیت کا معنی و مفہوم یہ ہوگا کہ خدا نے تمہارے لئے دن کی روشنی اور رات کی تاریکی قراردی ہے کہ جن میں سے ایک کا نور بہت قوی ہے اور دوسرا کا نور بہت کمزور ہے اور یہ بات واضح وبدیھی ہے کہ ا س قسم کی ظلمت مخلوق خدا میں سے ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ تو صحیح ہے کہ ظلمت مطلقہ ایک ایسا امر ہے جسے عدم کہا جا تا ہے لیکن کوئی بھی امر معدوم جب مخصوص حالات میں واقع ہوتو حتما اور یقینا اس عدم کا سر چشمہ ایک ایک وجودی بھی ہوتا ہے، یعنی وہ چیز جو ظلمت مطلقہ کو مخصوص حالت میں معین اہداف ومقاصد کے لئے وجود میں لاتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ وسائل وجودی سے استفادہ کرے، مثلا ہم چاہتے ہیں کہ ایک مخصوص وقت کے لئے کمرے کو ایک عکس ظاہر کرنے کے لئے تاریک کریں ، تو اس کے لئے ہم مجبور ہیں کہ کسی تدبیر سے نور کو روکیں تاکہ اس معین وقت میں تاریکی پیدا ہوجائے تو ایسی ظلمت مخلوق ہے(مخلوق بالتبع)اور اصطلاحی طور پر اگر چہ عدم متعلق مخلوق نہیں لیکن عدم خاص وجود ہی ایک حصہ ہے اور وہ مخلوق ہے ۔
نور رمز وحدت ہے اور ظلمت رمز پراکندگی
ایک دوسرا نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہئے یہ ہے کہ یہ آیات قرآن میں نور صیغہ مفرد کے ساتھ ہے اور ظلمت جمع کی صورت میں (ظلمات ) ۔
ممکن ہے کہ یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ ظلمت (خواہ حسی ہو یا معنوی) ہمیشہ پراکندگیوں ، جدائیوں اور دوریوں کا سرچشمہ ہوتی ہے جب کہ نور رمز وحدت واجتماع ہے ۔
ہم نے اکثر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ہم گرمی کی کسی رات صحن کے درمیان یا بیابان کے ابدر ایک چراغ روشن کرتے ہیں تو ہر قسم کے جانور تھوڑی سی دیر میں اس کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اور باقی زندگی مختلف صورتوں میں دکھائی دیتی ہے، لیکن جب اس ”چراغ“ کو بجھادیتے ہیں تو ان میں سے ہر ایک کسی طرف چل دیتا ہے اور سب پراکندہ اورمنتشر ہوجاتے ہیں ، اجتماعی اور معنوی مسائل میں بھی یہی صورت ہے، علم ، قرآن اور ایمان کا نور سرمایہ وحدت ہے اور جہل ، کفر اور نفاق کی تاریکی پراکندگی کا سبب ہے ۔
اس سے پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ سورہ خدا پرستی اور توحید کی بنیادوں کو دلوں میں مستحکم کرنے کے لئے پہلے انسان کو عالم کبیر کی طرف متوجہ کرتی ہے اور بعد والی آیت میں عالم صغیر یعنی انسان کی طرف توجہ دلاتی ہے، اس سلسلہ میں انتہائی حیرےت انگیز مسئلہ یعنی اس کی خاک اور گیلی مٹی سے پیدائش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ وہی خدا ہے جس نے تمھیں گیلی مٹی سے پیدا کیا ہے( هُوَ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ طِینٍ )
یہ صحیح ہے کہ ہماری خلقت ہمارے ماں باپ سے ہوئی ہے نہ کہ خاک سے لیکن چونکہ سب سے پہلے انسان کی پیدائش خاک اور گیلی مٹی سے ہوئی تھی لہٰذا ہمیں اسی طرح خطاب کرنا درست ہے ۔
اس کے بعد انسان کی عمر کے کمال کو پہنچنے کے مراحل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : اس کے بعد ایک مدت مقرر کی کہ جس میں انسان روئے زمیں میں پرورش پاکر کمال کو پہنچے( ثُمَّ قَضَی اٴَجَلًا )
”اجل“ اصل میں ”مدت معین“ کے معنی میں ہے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آخری وقت یا موقع کو بھی اجل کہا جاتا ہے، مثلا کہتے ہیں کہ اجل دین آپہنچا یعنی قرض کی ادائیگی کا وقت آخر آپہنچا ہے، یہ جو موت کے آجانے کو اجل کہتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ انسان کا عمر کا آخری لمحہ اس وقت پر ہوتا ہے ۔
اس کے بعد اس بحث کی تکمیل کے لئے قرآن کہتا ہے :اجل مسمیٰ خدا کے پاس ہے( وَاٴَجَلٌ مُسَمًّی عِنْدَهُ ) ۔
اس کے بعد کہتا ہے:تم مشرک لوگ اس پیدا کرنے والے کے بارے میں کہ جس نے انسان کر بے قدر وقیمت اور حقیر چیز یعنی گیلی مٹی سے پیدا کیاہے اور تمھیں ایسے ایسے حیرت انگیز مرحلوں سے گزارا ہے، شک کرتے ہو اورانکار کا راستہ اختیار کرتے ہو، تم نے بتوں جیسی حقیر مخلوق کو خدا کہا ہم پلہ قرار دیا ہے یا تم مردوں کے زندہ کرنے اور قیامت کے برپا کرنے کے بارے میں خدا وند تعالیٰ کی قدرت میں شک وشبہ رکھتے ہو( ثُمَّ اٴَنْتُمْ تَمْتَرُونَ ) ۔
اجل مسمیٰ کیا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ ”اجل مسمیٰ“”اجلا “ آیت میں دو الگ الگ معنی کے لئے ہیں اور یہ جو بعض نے دونوں کو ایک ہی معنی میں لیا ہے تو یہ لفظ ”اجل“ کے تکرار کے ساتھ ، خصوصا دوسری مرتبہ ”مسمی“ کے ہوتے ہوئے کسی طرح بھی درست نہیں ہے ۔
اسی لئے مفسرین نے ان دونوں کے فرق کے بارے میں کتنی بحثیں کیں ہیں لیکن جو کچھ قرآن کریم کی دوسری تمام آیت کے قرینہ سے اور اسی ان روایات سے جو اہل بیت پیغمبر کے وسیلہ سے ہم تک پہنچی ہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کا فرق اس بات میں ہے ”اجل“ اکیلا ہو تو یہ غیر حتمی عمر ، مدت اور وقت کے معنی میں ہوتا ہے اور ”اجل مسمی“ حتمی عمر اور معین مدت کے معنی می؟ں ہوتا ہے، دوسرے لفظوں میں ”اجل مسمی“ طبیعی موت کو کہتے ہیں اور ”اجل“ وقت سے پہلے آنے والی موت ہے ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ بہت سی موجودات اپنی طبعی وفطری ساخت اور ذاتی استعداد وقابلیت کے مطابق ایک طولانی مدت تک باقی رہ سکتی ہے لیکن یہ بات بھی ممکن ہے کہ اس مدت کے دوران کچھ ایسی رکاوٹیں پیدا ہوجائےں جو انھیں ان کی آخری عمر طبیعی تک پہنچ دے، مثلا ایک تیل سے جلنے والا چراغ ، اس کے تیل کی مقدار کے پیش نظر ممکن ہے کہ بیس گھنٹے روشنی دینے کی استعداد رکھتا ہو، لیکن ایک آندھی کا جھونکا یا بارش کا چھینٹا یا اس کی یا اس کی نگہداشت نہ کرنا اس کی کوتاہ عمری کا سبب بن جائے ۔
اگر چراغ کو کسی ایسی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو اور تیل کے آخری قطرے تک جلتا ہوا خاموش ہوجائے تو وہ اپنی حتمی اجل کو پہنچ گیا ہے اور اگر اس سے پہلے ہی کچھ رکاوٹیں چراغ کی خاموشی کا سبب بن جائےں تو اس کی عمر کی مدت”اجل غیر حتمی“ کہیں گے ۔
ایک انسان کے بارے میں بھی معاملہ اسی طرح ہے، اگر اس کی بقا کے لئے تمام شرائط جمع ہوں اور موانع بر طرف ہوں تو اس کی ساخت اور استعداد اس بات کی مقتضی ہو گی کہ وہ ایک طولانی مدت تک زندگی بسر کرے، اگر چہ اس مدت میں آخرکار ختم ہوجانا ہے اور اس کی ایک حد ضرور ہے لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ غذا کی بد پرہیزی کے اثر سے یا مختلف چیزوں کی عادت میں مبتلا ہونے یا خودکشی کرنے یا کچھ گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے اس مدت سے بہت پہلے ہی مرجائے موت کی کی پہلی صورت کو ”اجل مسمی“ اور دوسری صورت کواجل غیر حتمی کہتے ہیں ۔
دوسرے لفظوں میں حتمی اجل اس صورت میں ہے جب ہم تمام علل اسباب پر نظر رکھیں اور اجل غیر حتمی اس صورت میں ہے جب صرف مقتضیات کی طرف دیکھیں ، ان دونوں طرح کے اجل کو مد نظر رکھتے ہوئے بہت سے مطالب واضح ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم روایات میں پڑھتے ہیں کہ صلہ رحمی عمر کو زیادہ اور قطع رحمی عمر کو کم کردیتی ہے
( یہاں عمر اور اجل سے مراد غیر حتمی اجل مراد ہے ) ۔
ایک آیت میں ہے کہ:”( فَاِذَا جَاءَ اَجَلهُم لَایَسْتَاٴخِرُونَ سَاعَةً وَلَا یَسْتَقْدِمُون ) “۔
جب ان کی(موت) اجل آتی ہے تو نہ ایک گھڑی پیچھے ہوسکتی ہے اور نہ آگے(۱) ۔
____________________
۱۔ اعراف ،۳۶۔
تو یہاں اجل سے مراد وہی حتمی موت ہے ۔
اس بنا پر یہ آیت اس موقع سے مربوط ہے جب انسان اپنی آخری عمر کو پہنچ گیا ہو لیکن وہ موتیں جو قبل ازوقت واقع ہوجائےں ان پر اس آیت کا اطلاق نہیں ہوسکتا ۔
اور ہر صورت میں اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ دونوں اجلیں خدا ہی کی طرف سے معین ہوتی ہیں ، ایک مطلق طور پر اور دوسری مشروط اور معلق طریقہ سے، بالکل اسی طرح جیسے کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ چراغ بیس گھنٹوں کے بعد بلاشرط خاموش ہوجائے گا، اور یہ بھی ہم کہہ دیتے ہیں کہ اگر آندھی چل پڑی تو دوہی گھنٹوں کے بعد بجھ جائے گا، یہ بات انسان ، قوموں اور ملتوں کے بارے میں بھی اسی طرح ہے، ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص یا فلاں قوم،فلاں مقدار عمر کے کے بعد قطعی ویقینی طور پر ختم ہوجائی گی اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر وہ ظلم وستم ،نفاق واختلاف اور سہل انگاری وسستی اختیار کریں گے تو اس مدت کے ایک تہائی حصہ میں ہی ختم ہوجائے گی، دونوں اجلیں خدا کی طرف سے ہیں ایک مطلق ہے اور دوسری مشروط۔
امام صادق علیہ السلام سے اوپر والی آیت کے ذیل میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا:
”همااجلان ،اجل محتوم واجل موقوف “
یہ دو قسم کی اجلوں کی طرف اشارہ ہے، اجل حتمی اور اجل مشروط۔
دوسری احادیث میں جو اس بارے میں وارد ہوئی ہیں اس بات کی تصریح ہوگئی ہے کہ اجل غیر حتمی(مشروط) آگے پیچھے ہوسکتی ہے لیکن اجل حتمی قابل تغیر نہیں ہے(۱) ۔
____________________
۱۔نورالثقلین،جلد۱،صفحہ۵۰۴۔
آیت ۳
۳( وَهُوَ اللّٰهُ فِی السَّمَاوَاتِ وَفِی الْاٴَرْضِ یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَجَهْرَکُمْ وَیَعْلَمُ مَا تَکْسِبُونَ )
ترجمہ:
۳ ۔ اور آسمانوں اور زمینوں میں خدا تو وہی ہے جو تمہاری پوشیدہ باتوں کا بھی جانتا ہے اور آشکار بھی اور جو کچھ تم( انجام دیتے ہو اور )کسب کرتے ہو اس سے بھی باخبر ہے ۔
تمام چیزوں کا خالق وہی ہے
اس آیت میں توحید اور خدا وند تعالیٰ کی یگانگی کے سلسلہ میں گذشتہ بحث کی تکمیل کی گئی ہے اور ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو موجودات کی ہر نوع کے لئے علیحدہ علیحدہ خداؤں کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ بارش کا خدا، جنگ کا خدا ،صلح خدا ، آسمان کا خدا وغیرہ وغیرہ، کہتا ہے : وہی ہے وہ خدا کہ جس کی الوہیت تمام آسمانوں اور زمین پر حکومت کرتی ہے ۔( وَهُوَ اللّٰهُ فِی السَّمَاوَاتِ وَفِی الْاٴَرْضِ ) (۱)
یعنی اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ تمام چیزوں کا خالق وہی ہے تو ان سب کا مدبر ومدیر بھی وہی ہوگا ، کیوں کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین بھی خالق اور آفریدگار اللہ ہی کو جانتے تھے لیکن تدبیر وتصرف بتوں کے ہاتھ سمجھتے تھے ۔
آیت انھیں جواب دیتی ہے کہ جو ذات خالق ہے تمام چیزوں میں تدبیر وتصرف بھی اسی کے ہاتھ میں ہے ۔
آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ خدا وند تعالیٰ ہرجگہ حاضر ہے، آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور کوئی جگہ اس سے خالی نہیں ہے یہ بات بھی نہیں کہ وہ جسم ہے یا اس کا کوئی مکان ہے بلکہ وہ تمام جگھوں پر احاطہ رکھتاہے ۔
یہ بات ضروری ہے کہ جو ہر جگہ حکومت کرتا ہوں اور ہر چیز کی تدبیر اسی کے ہاتھ میں ہوں اور وہ ہر جگہ حاضر ہو، وہ تمام اور اسرار اور پوشیدہ باتوں کو بھی جانتا ہے لہٰذا بعد والے جملہ میں کہتا ہے کہ: اےسا خدا وہی ہے جو تمھارے پوشیدہ اور آشکار امور کو جانتا ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو اس سے بھی باخبر ہے( یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَجَھْرَکُمْ وَیَعْلَمُ مَا تَکْسِبُون) ۔
ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ ”سر“ وجھر“ آیت میں انسانوں کے اعمال اور ان کی نیتوں پر بھی محیط ہے اس بنا پر”ما تکسبون“ (جو کچھ انجام دیتے ہو)کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ ”کسب“ عمل کے نیتوں اور روحانی حالت کے معنی میں اچھے اور برے اعمال کا حاصل ہے ، یعنی وہ تمہارے اعمال اور نیتوں سے بھی باخبر ہے اور ان کے اثرات سے بھی جو یہ اعمال تمہاری روح میں پیدا کرتے ہیں ، بہر حال اس جملہ کا ذکر انسانوں کے اعمال کے سلسلہ میں تاکید کے لئے ہوا ہے ۔
____________________
۱۔ اس جملہ کی ترکیب کے سلسلہ مین مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن ظاہر یہ ہے کہ”ہو“ مبتدا ہے اور ”اللّٰہ“ خبر ہے اور فی السموات۔۔۔کا جار مجرور اس فعل سے متعلق ہے جو لفظ اللہ سے سمجھا جاتا ہے اور حقیقت میں جملہ کا معنی اس طرح ہے”ھوالمنفرد فی السموات بالالوھیة“۔
آیات ۴،۵
۴( وَمَا تَاٴْتِیهِمْ مِنْ آیَةٍ مِنْ آیَاتِ رَبِّهِمْ إِلاَّ کَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِینَ ) -
۵( فَقَدْ کَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَائَهُمْ فَسَوْفَ یَاٴْتِیهِمْ اٴَنْبَاءُ مَا کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُون ) -
ترجمہ:
۴ ۔کوئی نشانی اور آیات خدا میں سے کوئی آیت ان تک نہیں پہنچی مگر یہ کہ وہ ان سے منھ پھیر لیتے ہیں ۔
۵ ۔ انہوں نے حق کا انکار کردیا جب کہ وہ ان کی طرف آیا، لیکن جس بات کا وہ مزاق اڑایا کرتے تھے بہت جلد انھیں اس کی اطلاع مل جائے گی اور وہ اپنے اعمال کے نتائج سے آگاہ ہوجائیں گے ۔
مشرکین کی تکبر ،لاپرواہی اور ہٹ دھرمی کی طرف اشارہ کرتے
ہم بیان کرچکے ہیں کہ سورہ انعام میں زیادہ تر روئے سخن مشرکین کی طرف ہے اور قرآن مجید ان کی بیداری اور آگاہی کے لئے طرح طرح کے وسائل وذرائع سے کام لیتا ہے، یہ آیت اور بہت سی دوسری آیات جو اس کے بعد آئیں گی اسی موضوع سے متعلق ہے ۔
اس آیت میں حق اور خدائی نشانیوں کے مقابلہ میں مشرکین کی تکبر ،لاپرواہی اور ہٹ دھرمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: وہ اےسے ہٹ دھرم اور لاپرواہ ہے کہ وہ پروردگار کی نشانیوں میں سے جس نشانی کو بھی دیکھتے ہیں فورا اس سے منہ پھیر لیتے ہیں( وَمَا تَاٴْتِیهِمْ مِنْ آیَةٍ مِنْ آیَاتِ رَبِّهِمْ إِلاَّ کَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِینَ ) (۱)
یعنی ہدایت اور راہ یابی کی سب سے پہلی شرط ہی جو کہ تحقیق وجستجو ہے ان میں موجود نہیں ہے، نہ صرف یہ کہ حق کو حاصل کرنے کا جوش وولولہ اور عشق ان میں موجود نہیں ہے، کہ وہ ان پیاسوں کی طرح جو پانی کے پیچھے دوڑتے ہیں ، حق کی تلاش میں ہوں ، بلکہ اگر صاف وشفاف پانی کا چشمہ بھی ان کے گھر کے سامنے جوش مارنے لگے ، تو وہ اس کی کی طرف سے منہ پھیر لیں اور بالکل اس کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھے، خواہ یہ آیات ان کے پروردگار کی طرف سے ہی کیوں نہ ہو ”ربہم“اور ان کی تربیت وتکامل کے لئے ہی کیوں نہ نازل ہوئی ہو ۔
یہ صورت زمانہ جاہلیت اور مشرکین عرب میں ہی منحصر نہیں ، اب بھی ہم ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ جو صرف ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ گئے ہیں لیکن وہ خدا اورمذہب کے بارے میں تحقیق وجستجو کرنے کی ایک لمحہ کے لئے بھی زحمت اٹھا نے کے لئے تیار نہیں ہیں ، یہ تو معمولی بات اگر اتفاق سے کوئی کتاب یا رتحریر اس سلسلے کی ان کے ہاتھ میں آجائے تو اس کی طرف نگاہ تک نہیں کرتے، اور اگر کوئی شخص اس کے بارے میں ان سے گفتگو کرے تو وہ سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے یہ ہٹ دھرم جاہل اور بے خبر لوگ ہیں جو ممکن ہے بعض اوقات عالم کے لباس میں ملبوس ہیں ۔
اس کے بعد ان کے اس عمل کے نتیجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب حق ان کے پاس آیا تو انھوں نے اس کی تکذیب کی حالانکہ اگر وہ پرور دگار کی آیات اور نشانیوں میں غور وفکر کرتے تو حق کو اچھی طرح دیکھ لیتے اور پہچان لیتے اور اس کو یاد کرلیتے( فَقَدْ کَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَائَهُمْ ) اور اس تکذیب اور جھٹلانے کا نتیجہ وہ بہت جلدی پالیں گے اوراس کی خبر کے جس کا انھوں نے مذاق اڑاتھا ان تک پہنچ جائے گی
( فَسَوْفَ یَاٴْتِیهِمْ اٴَنْبَاءُ مَا کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُون ) ۔
اوپر والی آیات میں درحقیقت کفر کے تین مراحل کی طرف اشارہ ہوا ہے جس میں مرحلہ با مرحلہ شدت پیدا ہوتی جاتی ہے ۔
پہلا مرحلہ اعراض وروگردانی کا ہے، اس کے بعد تکذیب اور جھٹلانے کا مرحلہ ہے اور بعد میں حقائق اور آیات خدا کے استھزاء تمسخر اور مذاق اڑا نے کا مرحلہ ہے ۔
یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسان کفر کی راہ میں کسی ایک مرحلہ پر رکتا نہیں ہے، بلکہ جس قدر وہ آگے بڑھتا جاتا ہے اسی قدر اس کی شدت انکار، عداوت، حق سے دشمنی اور خدا سے بےگانگی میں زیادتی ہوتی جاتی ہے ۔
آیت کے آخر میں جو تھدید کی گئی اس سے منظور یہ ہے کہ آئندہ چل کر یا جلدی یا بدیر بے ایمانی کا برا انجام دنیا وہ آخرت میں ان کا دامن پکڑے گا ۔ بعد کی آیات بھی اس تفسیر کی گواہ اور شاہد ہیں ۔
____________________
۱۔یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ لفظ”آیة “ نکرہ سیاق نفی ہے، لہٰذا عمومیت کا فائدہ دے گایعنی وہ کسی بھی آیت اور کسی بھی نشانی کے مقابلے میں نہیں ٹھہرتے اور اس کامطالعہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔
آیت ۶
۶( اٴَلَمْ یَرَوْا کَمْ اٴَهْلَکْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ مَکَّنَّاهُمْ فِی الْاٴَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنْ لَکُمْ وَاٴَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَیْهِمْ مِدْرَارًا وَجَعَلْنَا الْاٴَنْهَارَ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهِمْ فَاٴَهْلَکْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ وَاٴَنشَاٴْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِینَ ) -
ترجمہ:
۶ ۔کیا انھوں نے دیکھا نہیں ہے کہ ہم نے کتنی گذشتہ اقوام کو ہلاک کیا ہے وہ قومیں کہ (جو تم سے کیں زیادہ طاقتور تھیں اور )جنھیں ہم نے ایسی توانائیاں عطا کی تھیں جو تمھیں ہیں دی ہیں ، ہم نے ان کی طرف پے در پے بارشیں بھیجیں اور ان کی (آبادیوں ) کے نیچے نہریں جاری تھیں (لیکن جب انھوں نے سرکشی اور طغیانی کی تو ) ہم نے ان کے گنا ہوں کی وجہ سے ہلاک کردیا ، اور ان کے بعد ہم دوسری قوم کو وجود میں لے آئے ۔
سرکشی کرنے والوں کو سرگذشت
اس آیت کے بعد قرآن بت پرستوں اور مشرکین کو بیدار کرنے کے لئے شرک و بت پرستی کے مختلف محرکات کی مناسبت سے ایک مرحلہ دار ترتیبی پروگرام پیش کرتا ہے، پہلے تو عامل غرور کو ختم کرنے کے لئے کہ جو عامل طغیان وسرکشی کے اہم عوامل میں سے ایک عامل ہے کام کا آغاز رتا ہے اور اقوام گذشتہ کی کیفیت اور ان کے دردناک انجام کی یاد دہانی کرانے کے ساتھ ان افراد کو کہ جن کی انکھوں کے اوپر غرور کا پردہ پڑا ہوا ہے تنبیہ کرتے ہوئے کہتا ہے:کیا انھوں نے مشاہدہ نہیں کیا کہ ہم نے کیسی کیسی قومیں ان سے پہلے ہلاک کردی وہ ایسی قومیں تھیں جنھیں ہم نے روئے زمین وہ توانائیاں دے رکھی تھی جو تمھارے اختیار میں نہیں دیں( اٴَلَمْ یَرَوْا کَمْ اٴَهْلَکْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِنْ قَرْنٍ مَکَّنَّاهُمْ فِی الْاٴَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّنْ لَکُمْ ) ان میں سے ایک یہ ہے کہ: ہم ان کے لئے یکے بعد دیگر برکت والی بارشیں بھیجیں( وَاٴَرْسَلْنَا السَّمَاءَ عَلَیْهِمْ مِدْرَارًا ) (۱)
اور دوسرا یہ ہے کہ جاری پانی نہریں ان کی آبادیوں کے نیچے جاری کی ہیں اور ان کے اختار میں دیں ہیں( وَجَعَلْنَا الْاٴَنْهَارَ تَجْرِی مِنْ تَحْتِهِم ) ۔
لیکن جب انھوں نے سرکشی کا راستہ اختیار کرلیا تو اان امکانات میں سے کوئی چیز بھی انھیں خدائی سزا سے نہ بچا سکی اور ہم نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے نیست ونابود کردیا ”( فاٴَهْلَکْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ ) “
ان کے بعد ہم دوسری قوموں کو ان کی جگہ لے آئے( وَاٴَنشَاٴْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ قَرْنًا آخَرِینَ )
کیا گذشتہ لوگوں کے حالات کا مطالعہ ان کے لئے باعث عبرت نہیں ہونا چاہیے اور انھیں خواب وغفلت سے بیدار اور سستی ،غرور سے ہوشیار نہیں ہوجانا چاہئے، کیا وہ خدا جس نے گذشتہ لوگوں کے لئے یہ عمل کیا ہے، یہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہی ان کے ساتھ بھی کرے ۔
____________________
۱۔ مدرار، اصل میں ”در“ کے مادہ سے ہے جس کا معنی دودھ ہے، بعد میں دوسری بہنے والی چیزوں مثلا بارش کے برسنے پر بھی بولا جانے لگا، اور مدرار مبالغہ کا صیغہ ہے اور ”ارسلنا السماء“ حقیقت میں زیادہ مبالغے کے لئے ہے ۔
چند اہم نکات
۱ ۔” قرن“ اگر چہ عموما طویل زمانہ کے معنی میں (مثلا سو سال، ستر سال یا تیس سال کے لئے) آیا ہے لیکن کبھی کبھی جیسا کہ اہل لغت نے تحریر کی ہے ایسی جمعیت اور قوم کو بھی کہا جاتا ہے کہ جو ایک ہی زمانے میں موجود رہی ہو ، اصولی طور پر قرن مادہ اقتران سے ہے اور نزدیکی کے معنی دیتا ہے اور چونکہ عصر واحد اور قریب والے زمانے کے لوگ ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں لہٰذا انھیں بھی اور ان کے زمانے کو بھی قرن کہا جاتا ہے ۔
۲ ۔ قرآن کریم کی آیات میں بارہا اس امر کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ مادی وسائل کی فروانی کم ظرف افراد کے غرورو غفلت کا باعث بن جاتی ہے، کیونکہ وہ ان چیزوں کی اپنے پاس موجودگی کی صورت میں اپنے آپ کو پروردگار عالم کی طرف سے بے نیاز سمجھنے لگ جاتے ہیں ، وہ اس بات کی طرف سے غافل ہوتے ہیں کہ اگر ہر ہر لحظے کے لئے اور ہر ہر ثانیہ کے لئے خداوند تعالیٰ کی کمک اور امداد ان تک نہ پہنچے تو وہ نابود ہوجائےں اور بالکل ختم ہوجائےں جیسا کہ ارشادالٰہی ہے :”( ان الانسان لیطغی ان راه استغنی ) “ ۔
انسان طغیان وسرکشی کرتا ہے جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے(۱) ۔
۳ ۔ یہ تنبیہ صرف بت پرستوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ قرآن آج بھی اس مشینی دور کی سرمایہ دار دنیا کو بھی کہ جو وسائل زندگی فراہم ہونے کی وجہ سے بادہ غرور سے سرمست ہوچکی ہے تنبیہ کرتا ہے کہ وہ گزرے ہوئے لوگوں کی حالت کو فراموش نہ کرے کہ وہ گناہوں کے اثر سے کس طرح تمام چیزوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، ہو سکتا ہے کہ تم بھی ایک اور عالمی جنگ کی ایک چنگاری سے سب کچھ ہاتھ سے دے بیٹھو اور اپنے صنعتی تمدن سے پہلے والے زمانے کی طرف پلٹ جاؤ ، تمھیں اس بات پر توجہ رکھنی چاہئےے کہ ان کی بد بختی کا سبب گناہ، ظلم وستم، ناانصافی اور عدم ایمان کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں تھی یہی کچھ تمھارے معاشرے میں بھی آشکار ہوچکا ہے ۔
حقیقتا فراعنہ مصر ، ملوک سبا، سلاطین کلدہ آشور اور قیصران روم کی تاریخ اور ان کے بے حساب ناز ونعمت اور اس افسانوی زندگی کا مطالعہ اور اس کے بعداس دردناک انجام کا مطالعہ کہ کس طرح ان کے ظلم اور کفر نے ان کی زندگی کے دفتر کو لپیٹ کر رکھ دیا اور ہم سب کے لئے ایک عظیم اور واضح درس عبرت ہے ۔
____________________
۱۔ علق، آیہ ۶و۷۔
آیت ۷
۷( وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتَابًا فِی قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِاٴَیْدِیهِمْ لَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُبِینٌ ) -
ترجمہ:
۷ ۔اگر ہم کاغذ پر(لکھی ہوئی کوئی)کتاب تجھ پر نازل کرتے اور وہ(دیکھنے کے علاوہ) اسے اپنے ہاتھوں سے چھوتے بھی تو پھر بھی کفار یہی کہتے کہ یہ تو کھلے جادو کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔
ہٹ دھرمی کا آخری درجہ
ان کے انحراف کے اسباب میں سے دوسری چیز تکبر اور ہٹ دھرمی ہے کہ جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے، کیونکہ عام طور پر متکبر لوگ ہی ہٹ دھرم ہوتے ہیں ،کیونکہ تکبر انھیں حق سے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی اجازت نہیں دیت، یہی بات ان کی ہٹ دھرمی کا سبب بن جاتی ہے اور وہ ہر واضح دلیل اور روشن برہان کا اسی طرح سے انکار کرتے ہیں خواہ ان کا وہ انکار بدیہیات کے انکار تک پہنچ جائے جیسا کہ ہم نے بارہا خود اپنی ٍٍٍٍٍٍآنکھوں سے متکبر اور خود خواہ افراد میں اس بات کا مشاہدہ کیا ہے ۔
قرآن اس مقام پر بعض بت پرستوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نصر بن حارث، عبداللہ بن ابی امیہ اور نوفل بن خویلد تھے انھوں نے پیغمبر سے یہ کہا تھا کہ ہم صرف اس صورت میں ایمان لائےں گے جب خدا کی طرف سے ہم پر چار فرشتوں کے ساتھ ہم پر خط نازل ہوگا، قرآن کہتا ہے: اگر اسی طرح جیسا کہ ان کا مطالبہ ہے کسی کاغذ کے صفحہ پر ہی کوئی تحریر یا اس کی مانند کوئی اورچیز کوئی تم پر نازل کردے اور مشاہدہ کرنے کے علاوہ اسے اپنے ہاتھ چھوئیں بھی پھر بھی وہ یہی کہیں گے کہ یہ تو ایک کھلا ہوا جادو ہے( وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتَابًا فِی قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوهُ بِاٴَیْدِیهِمْ لَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُبِینٌ ) ۔
یعنی ان کی ہٹ دھرمی کا دائرہ اتنا وسیع ہوگیا ہے کہ وہ روشن ترین محسوسات کا بھی یعنی ان باتوں کا بھی جو دیکھنے اور چھو نے سے معلوم ہوسکتی ہے انکار کردیتے ہیں اور جادو کا بہانہ کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے روگرداں ہوجاتے ہیں ۔
حالانکہ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں حقائق کے ثبوت کے لئے ان نشانیوں کے دسویں حصہ پر ہی قناعت کرلیتے ہیں اور اسے ہی قطعی اور مسلم جان لیتے ہیں ، یہ بات صرف اس وجہ سے ہے کہ خود خواہی، تکبر وشدید ہٹ دھر می نے ان کی روح پر سایہ ڈال رکھا ہے ۔
ظنی طور پر اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہئے کہ ”قرطاس“ کا معنی ہر وہ چیز ہے کہ جس پر لکھتے ہیں خواہ وہ چیز کاغذ ہو یا چمڑا یا تختیاں آج قرطاس صرف کاغذ کا کہتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جن چیزوں پر لکھا جاتا ہے ان میں سے کاغذ کا ہی سب سے زیادہ رواج ہے ۔
آیات ۸،۹،۱۰
۸( وَقَالُوا لَوْلاَاٴُنزِلَ عَلَیْهِ مَلَکٌ وَلَوْ اٴَنزَلْنَا مَلَکًا لَقُضِیَ الْاٴَمْرُ ثُمَّ لاَیُنظَرُونَ )
۹( وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَکًا لَجَعَلْنَاهُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَا یَلْبِسُونَ
) ۱۰( وَلَقَدْ اسْتُهْزِءَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِینَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُون ) ۔
ترجمہ:
۸ ۔ انھوں نے کہا کہ اس کے اوپر فرشتہ کیوں نہ نازل (تاکہ لوگوں کو خدا کی طرف دعوت دینے میں اس ک مدد کرتا) لیکن اگر ہم کوئی فرشتہ بھیج دیتے (اور اصل امر محسوس طور پر مشاہدہ میں آجاتا) تو پھرتو معاملہ صاف ہوجاتا (اور ایسی صورت میں اگر وہ مخالفت کریں گے)تو پھر انھیں مہلت نہیں دی جائے گی ( اور وہ سب کے سب ہلاک ہوجائیں گے)
۹ ۔اور اگر اسے فرشتہ قرار دیتے تو یقینا سے بھی ایک مرد کی صورت میں ہی لاتے پھر بھی (ان کے خیال کے مطابق تو) ہم معاملہ کو ان پر مشتبہ ہی چھوڑ دیتے جیسے وہ دوسروں پر معاملہ مشتبہ بناتے ہیں ۔
۱۰ ۔ (اس حالت سے پریشان نہ ہو )تجھ سے پہلے بھی بہت سے پیغمبروں کا مذاق اڑا گیا تھا، لیکن آخر کار جس چیز کا وہ مذاق اڑا تے تھے اسی نے ان کا دامن پکڑ لیا( اور ان پر عذاب الٰہی نازل ہوگیا) ۔
بہانہ تراشیاں
کفر اور انکار کے اسباب میں سے ایک اور سبب بہانہ جوئی ہے ، اگر چہ بہانہ جوئی کی علامت بھی دوسرے عوامل مثلا تکبر وخود خواہی وغیرہ ہی ہے، لیکن یہ آہستہ آہستہ ایک منفی فکر کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور یہ خود حق کے مقابلہ میں سرتسلیم خم نہ کرنے کا سبب بن جاتی ہے ۔
ان بہانہ تراشیوں میں سے کہ جو مشرکین پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے مقابلہ میں کیا کرتے تھے اور قرآن مجید کی کئی آیات میں ان کی طرف اشارہ بھی ہوا ہے اور زیر بحث آیت میں بھی ان کا بیان ہوا ہے ،ایک یہ ہے کہ وہ کہتے تھے کہ پیغمبر اتنے عظیم کام کو اکیلے ہی اپنے ہاتھ میں کیوں لے لیا ہے ،اس ماموریت میں کوئی اور موجود ،جو نوع بشر میں سے نہ ہو بلکہ فرشتوں کی جنس سے ہو، ان کی ہمراہی کیوں نہیں کرتا، کیا ایسا نسان کہ جو ہماری ہی جنس سے ہو تنہا بار رسالت کا اپنے کندھے پر اٹھا سکتا ہے؟( وَقَالُوا لَوْلاَاٴُنزِلَ عَلَیْهِ مَلَکٌ وَلَوْ اٴَنزَلْنَا مَلَکًا ) ۔
حالانکہ آپ کی نبوت کے ثبوت میں واضح نشانیوں اور روشن دلائل کے ہوتے ہوئے ان بہانہ تراشیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے، علاوہ ازیں نہ تو فرشتہ انسان سے زیادہ قدرت رکھتا ہے اور نہ ہی اس سے زیادہ رسالت کے لئے استعداد بلکہ انسان اس سے کئی درجے زیادہ اہل ہے، قرآن دو جملوں کے ساتھ کہ جن میں سے ہرایک اپنے اندر ایک استدلال رکھتا ہے انھیں جواب دیتا ہے ۔
پہلا یہ کہ اگر فرشتہ نازل ہوجائے اور پھر وہ ایمان نہ لائےں ،تو ان سب کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا( وَلَوْ اٴَنزَلْنَا مَلَکًا لَقُضِیَ الْاٴَمْرُ ثُمَّ لاَیُنظَرُون ) ۔
لیکن یہ بات کہ فرشتے کے آنے اور اس کی پیغمبر کی ہمراہی سے منکرین کیوں موت اور ہلاکت میں گرفتار ہوں گے، اس کی دلیل وہی ہے کہ جس کی طرف قبل کی چند آیات میں اشارہ ہوچکا ہے کہ اگر نبوت کا محسوس طور پر مشاہدہ ہوجائے، یعنی فرشتے کے آنے سے غیب شہود میں بدل جائے اور تمام چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں تو پھر تو اتمام حجت کا آخری مرحلہ بھی پورا ہوجائے گا کیوں کہ اس سے بڑھ کر اور کسی دلیل کا تصور ہو ہی نہیں سکتا، تو ان حالات میں اگر کوئی مخالفت کرے گا تو اس کی سزا اور عذاب یقینی ہوجائے گا ۔لیکن خدوند تعالیٰ انپے لطف مرحمت کی وجہ سے اور اس غرض سے ان کے پاس نظر ثانی کے لئے موقع باقی رہے یہ کام نہیں کرتا، مگر خاص موقع پر کہ جہاں وہ یہ جانتا ہے کہ مدمقابل اسے قبول کرنے کی مکمل استعداد رکھتا ہے یا ایسے موقع پر جہاں جانب مخالف نابود ہونے کا مستحق ہے، یعنی اس نے ایسے عمل انجام دئے ہوں کہ وہ خدائی سزا کا مستحق بن گیا ہو، تو اس موقع پر اس کے تقاضے کے مطابق ترتیب اثر دیا جاتا ہے، اور جب وہ قبول نہیں کرتا تو اس کی نابودی کا حکم صادر ہوجاتا ہے ۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے مقام رہبری اور لوگوں کی تربیت کے ذمہ دار ہونے اور ان کے لئے عملی نمونہ پیش کرنے کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ لازما نوع بشر میں سے ہوں اور ان کے ہمرنگ اور ہم صفات ہوں اور تمام غرائض وصفات انسانی ان میں موجود ہوں کیوں کہ فرشتہ، علاوہ اس کے کہ وہ انسان کے لئے دیکھنے کے قابل نہیں ہے، اس کے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ انسان کے لئے نمونہ عمل بن سکے کیونکہ نہ وہ انسان کی ضروریات اور تکالیف سے آگاہ ہے اور نہ ہی وہ اس کے غرائض وخواہشات سے آشنا ہے ، اسی دلیل سے اس کی رہبری ایسے موجود کے لئے کہ جو ہر لحاظ سے اس سے مختلف ہے بالکل ناکارہ ہوگی۔
لہٰذا قرآن دوسرے جواب میں کہتا ہے: اگر ہم اسے فرشتہ قرار دیتے اور ان کے مطالبے پر عمل کرتے تو پھر بھی ہمارے لئے یہ لازم تھا کہ ہم انسان کی تمام صفات کو اس میں پیدا کرتے اور اسے صورت و سیرت میں مرد بناتے( وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَکًا لَجَعَلْنَاهُ رَجُلًا ) (۱) جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ” لجعلناہ رجلا“ سے ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ ہم اسے صرف انسانی شکل دیں گے، جیسا کہ بعض مفسرین نے خیال کرلیا ہے، بلکہ اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ اسے ظاہر وباطن کے لحاظ سے صفت انسانی سے متصف کریں گے ۔اس کے بعد اس کا نتیجہ پیش کرتا ہے کہ اس حالت میں وہ ہم پر پھر انھیں سابقہ اعتراضات کو دہراتے کہ کسی انسان کو رہبر کے طور پر کیوں مامور کیا گیا اور حقیقت کو ہم پر پوشیدہ رکھا ہے( وَلَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَا یَلْبِسُونَ ) ۔”لبس“ (بروزن ”درس) پردہ پوشی اور اشتباہ کاری کے معنی میں ہے اور”لبس“(بروزن قفل) لباس پہننے کے معنی میں ہے پہلے کے ماضی لبس (بروزن ضرب )ہے اور دوسرے کی ماضی لبس(بروزن حسب ہے) اور یہ بات واضح ہے کہ پہلا والا مفہوم یعنی اگر ہم فرشتہ کو بھیجتے تو ضروری تھا کہ وہ انسانی صورت وسیرت میں ہو، اس حالت میں ان کے عقیدے کے مطابق ہم نے لوگوں کو اشتباہ اور خطا میں ڈالا ہوتا اور پھر وہ ہمارے لئے انھیں سابقہ نسبتوں کو دہراتے جس طرح کہ وہ خود نادان اور بے خبر لوگوں کو اشتباہ اور خطا میں ڈالتے ہیں اور حقیقت کا چہرہ ان سے چھپاتے ہیں ، اس بنا پر ”لبس“اور پردہ پوشی کی خدا کی طرف نسبت ان کے زاویہ نگاہ سے ہے ۔آخر میں خداوند تعالیٰ پیغمبر کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے: ان کی مخالفت، ہٹ دھرمی اور سخت گیری سے پریشان نہ ہو کیوں کہ آپ سے پہلے کہ پیغبروں میں سے بھی بہت سے پیغمبر وں کا مذاق اڑایا گیا، لیکن آخر کا رجس چیز کا وہ تمسخر کیا کرتے تھے اسی نے ان کے دامن کو پکڑ لیا اور ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا( وَلَقَدْ اسْتُهْزِءَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِینَ سَخِرُوا مِنْهُمْ مَا کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُون ) در حقیقت یہ آیت پیغمبر کے دل کی تسلی کا سبب بھی ہے کہ اس کی راہ میں ذرا سا تزلزل بھی ان کے ارادہ میں نہ آئے اور ہٹ دھرم مخالفین کے لئے دھمکی بھی ہے کہ وہ اپنے کام کے برے اور دردناک انجام کا سوچ لیں(۲)
____________________
۱۔ ”جعلناہ“ کی ضمیر پیغمبر کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے، اور اس کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے کہ جو پیغمبر کے ساتھ اس کی نبوت کو مستحکم کرنے کے لئے مبعوث ہو، دوسری صورت میں تو ان کے مطالبے پر عمل ہوگا اور پہلی صورت میں ان کے مطالبے سے بھی بڑھ کر صورت ہوگی۔۲۔ اس بات پر توجہ رکھنی چاہےے کہ لفظ”حاق“ کا معنی نازل ہو اور ”وارد ہوا“ ہے اورمَا کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُون سے مراد انبیاء کا عذاب الٰہی کی خبر دینا ہے، کہ جنھیں ہٹ دھرم ،دشمن ٹھٹھے میں اڑا دیا کرتے تھے مثلا حضرت نوح (علیه السلام) کا بار بار طوفان کی دھمکی دینا کہ جو بت پرست قوم کے لئے ایک مذاق کا ذریعہ بن گی تھا، اس بنا پر آیت میں کلمہ ”جزاء“ مقدر ماننے کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ بعض نے کہا ہے، بلکہ اس کا معنی اس طرح ہے جن سزا ؤں کا وہ مذاق اڑا تے تھے وہ ان پر نازل ہوگئیں ۔
آیت ۱۱
۱۱( قُلْ سِیرُوا فِی الْاٴَرْضِ ثُمَّ انظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِینَ ) ۔
ترجمہ:
۱۱ ۔ (اے رسول ) کہہ دو کہ تم زمین میں چلو پھرو، اس کے بعد (دیکھو اور) غور کرو جو لوگ آیات خدا وندی کو جھٹلاتے تھے ان کا انجام کیا ہوا؟۔
وہ چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہے کس کی ہیں ،
قرآن مجید نے اس مقام پر ان ہٹ دھرم اور خود خواہ لوگوں کو بیدار کرنے کے لئے ایک دوسرا راستہ اختیار کیا ہے اس نے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ وہ انھیں کہیں کہ زمین پر چلیں ،پھریں اورجولوگ حقائق کو جھٹلاتے تھے ان کا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ، شاید وہ بیدار ہوجائیں
( قُلْ سِیرُوا فِی الْاٴَرْضِ ثُمَّ انظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِین ) ۔
اس میں شک نہیں ہے کہ گذشتہ لوگوں اور ان قوموں کے آثار کودیکھنا کہ جنھوں نے حقائق کو ٹھکرانے کی وجہ سے فنا اور نابودی کا راستہ اختیار کرلیا تھا، تاریخ کی کتابوں میں ان کے حالات کے پڑھنے سے کہیں بڑھ کر پر اثر ہیں کیونکہ یہ آثار حقیقت کو محسوس اور قابل لمس بناتے ہیں ، شاید یہی وجہ ہے کہ لفظ ”انظروا“(دیکھو) استعمال کیا گیا ہے نہ کہ ”تفکروا“(غوروفکر) ۔
ضمنا لفظ”ثم“ کا ذکر جو عام طور عطف با فاصلہ زمانی کے لئے آتا ہے ممکن ہے اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ہو کر اپنی سیر اور فیصلہ میں جلدی نہ کرے بلکہ جب گذرے ہوئے لوگوں کے آثار کا مشاہدہ کرے تو حوصلہ اور وقت کے ساتھ غور وفکر کرے پھر اس سے نتیجہ اخذ کرکے ان کے کام کا انجام آنکھوں سے دیکھے ۔
زمین میں سیر وسیاحت کرنے اور افکار کو بیدار کرنے میں اس کی غیر معمولی تاثیر کے بارے میں ہم جلد سوم ،آل عمران کی آیت ۱۳۷ کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بحث کرچکے ہیں ۔
آیات ۱۲،۱۳
۱۲( قُلْ لِمَنْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ قُلْ لِلَّهِ کَتَبَ عَلَی نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ لاَرَیْبَ فِیهِ الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَهُمْ فَهُمْ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔
۱۳( وَلَهُ مَا سَکَنَ فِی اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) ۔
ترجمہ:
۱۲ ۔کہہ دو کہ وہ چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہے کس کی ہیں ، کہہ دو کہ وہ سب خد کی ہیں جس نے رحمت (اور بخشش) کو اپنے اوپر ضروری قرار دے لیا ہے(اور اسی دلیل سے ) تم سب کو قطعی طور پر قیامت کے دن کہ جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے جمع کرے گا صرف وہی لوگ ایمان نہیں لائیں گے جنھوں نے اپنا سرمایہ حیات ضائع کردیاہے اور خسارہ کا شکار ہے ۔
۱۳ ۔اور جو کچھ رات اور دن میں ہے وہ بھی سب اسی کے لئے ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔
معاد پر استدلال
اس آیت میں پہلے کی طرح مشرکین سے بحث ہورہی ہے، گذشتہ آیات میں مسئلہ توحید کو موضوع بحث بنایا گیا تھا، اس آیت میں مسئلہ معاد پر بحث ہورہی ہے، توحید کی طرف اشارہ کرنے کے ساتھ ہی اس کے بعد مسئلہ قیامت اور معاد کو بڑے عمدہ طریقہ سے بیان کیا جارہا ہے،آیت سوال وجواب کی صورت میں ہے، سوال کرنے والا اور جواب دینے والا دونوں ایک ہی ہے جوابیات میں ایک خوبصورت طریقہ ہے ۔
معاد پر استدلال
معاد پر استدلال کے لئے مقدمہ کے طور پر دو باتیں کہی گئی ہیں :
۱ ۔ پہلے کہتا ہے: کہہ دو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے لئے ہے( قُلْ لِمَنْ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔
پھر اس کے بعد فورا بلا فاصلہ کہتا ہے کہ تم خود زبان فطرت اور ان کی روح کا جواب دے دو کہ خدا کے لئے ۔ (قُلْ للّٰہ)، اس مقدمہ کے مطابق تمام جہان خدا کی ملکیت ہے اور اس کی تدبیر اس کے ہاتھ میں ہے ۔
۲ ۔پروردگار عالم تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے، وہی ہے وہ ذات کہ جس نے رحمت کو اپنے ذمہ لے لیا ہے اور بے شمار نعمتیں سب کے لئے عام کردی ہیں
( کَتَبَ عَلَی نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ) ۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ایس خدا اجازت دے کہ انسانوں کا رشتہ حیات موت کے ذریعہ کلی طور پر منقطع ہوجائے اور کمال کی جانب اس کا سفر ختم ہوجائے، کیا یہ بات اس کے اصلا فیاض ہونے اوراس کی رحمت واسعہ کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے ، کیا وہ اپنے بندوں کے بارے میں کہ جن کا وہ مالک ومدبر ہے اس قسم کی بے مہری کرسکتا ہے کہ وہ ایک مدت کے بعد بالکل فنا ہوجائے اور ان کا کوئی وجود ہی باقی نہ رہے ۔
مسلمہ طور پر ایسا نہیں ہوسکتا، بلکہ اس کی رحمت واسعہ کا تقاضا یہ ہے کہ وہ موجودات کو خاص طور پر انسان کو درجہ کمال تک پہنچانے کے لئے اور آگے بڑھائے جس طرح اپنی رحمت کے سائے میں ایک بے قدروقیمت چھوٹے سے بیج کو تناور اور پھلدار درخت میں یا گل زیبا کی شاخ میں بدل دیتا ہے ۔ جیسا کہ اپنے فیض وکرم کے سایہ میں بے قدروقیمت نطفہ کو انسان کامل میں بدل دیتا ہے، اسی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسان کو کہ جو بقا اور حیات جاودانی کی استعداد رکھتا ہے موت کے بعد نئی زندگی کے لباس میں اور زیادہ وسیع عالم میں لے آئے اور تکامل کی سیرابدی میں اس کی رحمت کا ہاتھ اس کے سر پر ہے ۔
لہذ ان دونوں مقدمات کے بعد کہتا ہے مسلمہ طور پر تم سب کو قیامت کے دن جس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے جمع کرے گا( لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَةِ لاَرَیْبَ فِیه ) ۔
یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ آیت سوال سے شروع ہورہی ہے جیسے اصطلاح میں استفہام تقریری کہتے ہیں جس میں صرف مقابل سے اقرار لینا مطلوب ہوتا ہے اور چونکہ یہ مطلب فطرت کی نگاہ سے بھی مسلم تھا اور خود مشرکین بھی اس کے معترف تھے کہ عالم ہستی کی ملکیت بتوں سے متعلق نہیں ہے بلکہ خدا سے مربوط ہے، لہٰذا وہ خود ہی بلا فاصلہ سوال کا جواب دیتا ہے اور مختلف مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں یہ ایک اچھا شمار ہوتا ہے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ معاد کے لئے دوسرے مقامات پر مختلف طریقوں سے مثلا قانون عدالت، قانون تکامل اور حکمت پروردگار کے طریقہ سے استدلال ہوا ہے، لیکن رحمت کے ساتھ استدلال ایک نیا استدلال ہے، جو اوپر والی آیت میں موضوع بحث قرار پایا ہے ۔
آیت کے آخر میں ہٹ دھرم مشرکین کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے:وہ خدا جو زندگی کے بازار تجارت میں اپنے وجود کا سرمایہ ضائع کرچکے ہیں وہ ان حقائق پر ایمان نہیں لائیں گے( الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَهُمْ فَهُمْ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔
اس قدر عجیب وغریب تعبیر ہے بعض اوقات انسان مال یا مقام یا اپنے سرمایہ میں سے کوئی اور چیز ہاتھ کھو بیٹھتا ہے، ان چیزوں میں اگرچہ اس نے نقصان کیا ہوتا ہے لیکن پھر اس نے ایسی چیزیں اپنے ہاتھ سے دی ہے جو اس کے وجود کا جزء نہیں ہے، یعنی یہ چیزیں اس کے وجود سے باہر ہیں ، لیکن سب سے بڑا خسارہ جسے حقیقی خسارے کا نام دیا جاسکتا ہے اس وقت ہوگا جب انسان خود اپنے اصل ہستی ہی کو ہاتھ سے دے بیٹھے اور خود اپنے وجود کو ہی داوء پر لگا دے ۔
حق کے دشمن اور ہٹ دھرم لوگ اپنی عمر کی پونجی اور اپنی فکر، عقل، فطرت اور تمام روحانی اور جسمانی نعمات کو جنھیں راہ حق میں کام آنا چاہئے تھا تاکہ وہ اپنے کمال کو پہنچ سکے ، کلی طور پر ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں نہ سرمایہ باقی رہتا ہے نہ سرمایہ دار یہ تعبیر قرآن مجید کی متعدد آیات میں آئی ہے اور یہ وہ ہلا دینے والی تعبیرات ہے کہ جو منکرین حق اور گناہگاروں کا دردناک انجام واضح کردیتی ہے ۔
ایک سوال اور اس کا جواب
ممکن ہے یہ کہا جائے کہ ابدی زندگی مومنین کے لئے تو مصداق”رحمت“ ہے لیکن ان کے غیر لئے ہے تو سوائے ” زحمت وبد بختی“ کے اور کوئی چیز نہ ہوگی۔
اس میں شک نہیں کہ خدا کا کام اسباب رحمت فراہم کرنا ہے ، اس نے انسان کو پیدا کیا اوراسے عقل دی اور اس کی رہبری اور راہنمائی کے لئے پیغمبر بھیجے اور طرح طرح کی نعمتوں کو اس کے اختیار میں دے دیا اور حیات جاوداں کی طرف سب کے لئے راہیں کھول دیں ، یہ سب چیزیں بغیر استثناء کے رحمت ہیں ۔
اب اگر راستے میں ان رحمتوں کے نتیجہ اور ثمر تک پہنچنے سے پہلے انسان خود راستے کو ٹیڑھا کرے اور تمام اسباب رحمت کو اپنے لئے زحمت میں تبدیل کردے تویہ بات ان اسباب کے رحمت ہونے کی نفی نہیں کرتی اور ملامت کا حقدار وہ انسان ہے کہ جس نے اسباب رحمت کو عذاب میں بدل لیا ہے ۔
بعد والی آیت اصل میں گذشتہ آیت کی تکمیل کرتی ہے کیوں کہ پہلی آیت میں خدا وندتعالیٰ کی تمام موجودات کے بارے میں مالکیت کی طرف اشارہ تھا اس طریق سے کہ وہ سب ایک افق مکان میں واقع ہیں لہٰذا فرمایا کہ خدا ان تمام چیزوں کا مالک ہے کہ جو آسمانوں اور زمین میں ہیں ۔
اب یہ آیت اس کے افق ووسعت زمان میں واقع ہونے کے طریق سے اس کی مالکیت کی طرف اشارہ ہے ، لہٰذا کہتا ہے : اور اس کے لئے ہے جو کچھ رات اور دن میں ہے( وَلَهُ مَا سَکَنَ فِی اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ ) ۔
حقیقت میں جہان مادہ اس سے یعنی زمان ومکان سے خالی نہیں ہے، اور تمام موجودات جو ظرف زمان ومکان میں آتے ہیں یعنی تمام جہاں مادہ اس کی ملکیت ہے اور یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ رات اور دن اس نظام شمسی کے ساتھ ہی مخصوص ہے بلکہ تمام موجودات آسمان وزمین شب وروز رکھتے ہیں اور بعض میں ہمیشہ دن ہوتا ہے رات نہیں ہوتی اور بعض میں ہمیشہ رات ہوتی ہے دن نہیں ہوتا، مثلا سورج میں ہمیشہ دن ہے کیونکہ وہاں روشنی ہی روشنی ہے اور تاریکی کا کوئی وجود نہیں ہے جب کہ بعض ستارے بجھے ہوئے اور بے نور ہیں وہ آسمان کہ جو ستاروں سے بہت دور ہیں وہاں ہمیشہ رات کی تاریکی چھائی رہتی ہے اور اوپر والی آیت ان سب پر صادق آتی ہے ۔
ضمنی طورپر اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ ”سکن“ کسی موجود کا کسی چیز میں سکونت ،توقف اور قرار پانے کے معنی میں ہے، چاہے وہ موجود حالت حرکت میں ہو یا سکون میں مثلا ہم کہتے ہیں کہ ہم فلاں شہر میں ساکن ہیں یعنی ہم وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں اور مقیم ہیں چاہے ہم اس شہر کی سڑکوں پر حالت حرکت میں ہوں یا کہیں حالت سکون میں ہوں ۔
آیت میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ یہاں ”سکون“ صرف حرکت کے مقابلے میں ہو اور چونکہ یہ دونوں امور نسبتی ہیں لہٰذا ایک کا ذکر ہمیں دوسرے سے بے نیز کردیتا ہے اس بنا پر آیت کا مطلب یوں ہوجاتا ہے کہ جوکچھ روز وشب اور افق زمان میں سکون وحرکت کی حالت میں ہے وہ سب خدا کی ملکیت ہے ۔
اور اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ آیت توحید کے استدلالات میں سے ایک استدلال کی طرف اشارہ ہو، کیوں کہ ”حرکت“ و”سکون“ دوعارضی حالتیں ہیں ، جو حتمی طور پر حادث ہیں اور وہ قدیم وازلی نہیں ہوسکتیں کیونکہ حرکت عبارت ایک چیز کا دومختلف اوقات دومختلف مکانوں میں ہونے سے اور سکون ہے ایک چیز کا دو زمانوں میں ایک معین مکان میں رہنا، اس بنا پر حرکت وسکون کی ذات میں سابقہ حالت کی طرف توجہ پوشیدہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ چیز کہ جو اس حالت سے پہلے دوسری حالت میں ہو وہ ازلی نہیں ہو سکتی۔
اس گفتگو سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ”اجسام حرکت وسکون سے خالی نہیں ہیں “ اور جو حرکت وسکون سے خالی نہ ہو وہ ازلی نہیں ہو سکتا ۔
لہٰذا تمام اجسام حادث ہیں اور چونکہ وہ حادث ہیں لہٰذا وہ پیدا کرنے ولے کے محتاج ہے (غور کیجئے گا) ۔
لیکن چونکہ خدا جسم نہیں ہے وہ نہ حرکت رکھتا ہے اور نہ سکون، نہ زمان رکھتا ہے نہ مکان ،اسی لئے وہ ازلی وابدی ہے اور آیت کے آخر میں توحید کا ذکر کرنے کے بعد خدا وندتعالیٰ کی دو نمایاں صفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے: اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے( وهو سمیع العلیم ) ۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جہان ہستی کی وسعت اور وہ موجودات کہ جو زمان ومکان کے افق میں قرار رکھتے ہیں کبھی بھی اس بات میں منع نہیں ہے کہ خدا ان کے اسرار سے آگاہ ہو، بلکہ وہ ان کی گفتگو سنتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک کمزور چیونٹی کی حرکت کو بھی جانتا ہے جو تاریک رات میں سیاہ پتھر کے اوپر ایک خاموش دور دراز کے درے کی گہرائی میں ہوں اور اس کی ضروریات اور باقی تمام موجودات کی حاجات سے آگاہ ہے اور سب کے اعمال اور کاموں سے مطلع ہے ۔
آیات ۱۴،۱۵،۱۶
۱۴( قُلْ اٴَغَیْرَ اللّٰهِ اٴَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَهُوَ یُطْعِمُ وَلاَیُطْعَمُ قُلْ إِنِّی اٴُمِرْتُ اٴَنْ اٴَکُونَ اٴَوَّلَ مَنْ اٴَسْلَمَ وَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْمُشْرِکِینَ ) ۔
۱۵( قُلْ إِنِّی اٴَخَافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّی عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیمٍ ) ۔
۱۶( مَنْ یُصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِینُ ) ،
ترجمہ:
۱۴ ۔کہہ دوکیا میں غیر خدا کو اپنا ولی بنالوں جب کہ وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ، وہ ہے کہ جو روزی دیتا ہے اور کسی سے روزی نہیں لیتا، تم کہہ دو کہ میں اس بات پر مامور ہوں کہ میں سب سے پہلے ”اس کے حکم کو تسلیم کرنے والا“(مسلمان) ہوں (اور خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ ) مشرکین میں سے نہ ہونا ۔
۱۵ ۔ کہہ دو کہ میں بھی اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو بڑے دن (قیامت کے) عذاب سے ڈر تا ہوں ۔
۱۶ ۔ اس دن جس شخص کے اوپر سے عذاب الٰہی اٹھ جائے (تو یوں سمجھو کہ) خدا نے اپنی رحمت اس کے شامل حال کر دی ہے اور یہ واضح کامیابی ہے ۔
خدا کے سوا اور کوئی پناہ گاہ نہیں ہے
بعض نے ان آیات کے لئے ایک شان نزول نقل کی ہے، وہ یہ ہے کہ اہل مکہ سے کچھ لوگ پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے محمد! تونے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اس کام کا عمل سوائے فقر کے اور کوئی نہیں ہے، ہم اس بات کے لئے حاضر ہیں کہ اپنا مال تیرے ساتھ بانٹ لیں اور تجھے بہت ثروت مند کردیں تاکہ تم ہمارے خداؤں سے دستبردار ہوجاؤ اور ہمارے اصلی دین کی طرف پلٹ آؤ تو اوپر والی آیات نازل ہوئی اور انھیں جواب دیا گیا(۱) البتہ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے واردشدہ روایات کے مطابق اس سورہ کی آیات مکہ میں یکجا طور پر نازل ہوئی ہے اس بنا پر ہر ایک آیت کے لئے خاص اور علحیدہ شان نزول نہیں ہوسکتا، لیکن اس سورہ کے نازل ہونے سے پہلے پیغمبراور مشرکین کے درمیان گفتگو اور بحثیں ہوتی رہتی تھیں لہٰذا اس سورہ کی بعض آیات میں ان بحثوں کو ملحوظ نظر رکھا گیا ہے،اس بنا پر کوئی منع نہیں ہے کہ رسول اللہ اور مشرکین کے درمیان اس قسم کی باتیں ہوئی ہوں اور خدا وند تعالیٰ ان آیات میں ان باتو ں کی طرف اشارہ دے رہا ہو ۔
بہر حال ان آیات میں بھی ہدف ومقصد اثبات توحید اور شرک وبت پرستی کے خلاف مبارزہ ہی ہے، مشرکین باوجود اس کے کہ وہ خلقت عالم کو خدا وند تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہی مخصوص سمجھتے تھے لیکن انھوں نے بتوں کو اپنی پناہ گاہ سمجھ رکھا تھا اور بعض اوقات اپنی ہر ایک حاجت کے لئے سی ایک بت کا سہارا لیتے تھے اور متعدد خداؤں (بارش کا خدا، نور کا خدا، ظلمت کا خدا، جنگ وصلح کا خدا رزق وروزی کا خدا) کے قائل تھے اور یہ وہی ارباب انواع کا عقیدہ ہے کہ جو قدیم یونان میں بھی وجود رکھتا تھا ۔
قرآن اس قسم کے غلط نظریے کو ختم کرنے کے لئے پیغمبر اس طرح حکم دیتا ہے: انھیں کہہ دو کہ کیا میں غیر خدا کو اپنا ولی وسرپرست اور پناہ گاہ قرار دے لوں حالانکہ وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا اور تمام موجودات کو رزق دینے والا ہے بغیر اس کے کہ خود اسے روزی کی ضرورت ہو( قُلْ اٴَغَیْرَ اللّٰهِ اٴَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَهُوَ یُطْعِمُ وَلاَیُطْعَمُ ) ۔
اس بنا پر جب تمام چیزوں پیدا کرنے والا وہی ہے اور کسی دوسرے کی قدرت کا سہارا لئے بغیر اس نے سارے جہان کو پیدا کیا ہے اور سب کی روزی اسی کے ہاتھ میں ہے تو پھر کون سی دلیل ہے کہ انسان اس کے غیر کو اپنا ولی، سرپرست اور پناہ گاہ قرار دے،۔اصولی طور پر باقی سب مخلوق ہیں اور اپنے وجود کے تمام لمحات میں اس کے محتاج ہیں ، لہٰذا وہ کس طرح دوسروں کی ضرورتوں کو پورا کرسکتے ہیں ۔
یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اوپر والی آیت میں جب آسمان وزمین کی خلقت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو خدا کا ”فاطر“ کے عنوان سے تعارف کراتا ہے ”فاطر“ ”فطور“ کے مادہ سے ہے کہ جس کے معنی شگافتہ کرنے (پھاڑ نے)کے ہیں ، ابن عباس سے منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے ”فاطرالسماوات والارض“ کے معنی اس وقت سمجھ میں آئے جب دو عربوں کو ایک کنویں کے بارے میں جھگڑتے ہوئے دیکھا ، ان میں سے ایک اپنی ملکیت کے ثبوت میں یہ کہتا تھا کہ ”انا فطرتھا“میں نے اس کنویں کو شگافتہ کیا اور بنایا ہے ۔
لیکن ہم فاطر کے معنی آج موجودہ علوم کی مدد سے ابن عباس کی نسبت زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں کیونکہ یہ آج کے دقیق ترین علمی نظریات کے مطابق انتہائی پسندیدہ تعبیر ہے جو پیدائش جہان کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہے کیوں کہ سائنس والوں اور محققین کی تحقیقات کے مطابق عالم بزرگ(مجموعہ جہان) اور عالم کوچک(نظام شمسی) سب کے سب ابتداء میں ایک ہے تودہ تھے جو پے در پے تھپیڑوں کے اثر سے ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور اس کے کہکشاں اور نظام ہائے شمسی اور مختلف گرے وجود میں آگئے ۔سورہ انبیاء کی آیت ۳۰ میں یہ مطلب زیادہ صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، جہاں پر فرمایا گیا ہے :
”( اٴَوَلَمْ یَرَی الَّذِینَ کَفَرُوا اٴَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا ) “
کیا کافر یہ نہیں جانتے کہ آسمان و زمین آپس میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے تھے ہم انے انھیں ایک دوسرے سے جدا کیا ۔
ایک اور نکتہ کی طرف سے بھی غفلت نہیں کرنقا چاہےے اور وہ یہ کی صفات خدا میں سے یہاں صرف بندوں کو روزی دینے کا ذکر کیا گیا ہے ، یہ تعبیر شاید اس بنا پر ہے کہ انسان کی مادی زندگی میں زیادہ تر وابستگیاں انھیں مادی ضروریات کے زیر اثرہیں ، یہی بات جسے اصطلاح میں روٹی کا ایک لقمہ کھا نا کہتے ہیں انسان کو طاقتوروں اور ارباب دولت کے سامنے جھکنے پر آمادہ کردیتی ہے، بعض اوقات تو لوگ پرستش کی حد تک ان کے سامنے سربسجود ہوجاتے ہیں ، قرآن اس عبارت میں کہتا ہے: تمھاری روزی اس کے ہاتھ میں ہے، نہ تو وہ ایسے افراد کے ہاتھ میں ہے اور نہ ہی بتوں کے ہاتھ میں صاحبان مال واقتدار خود نیاز مند ہیں اور انھیں کھانے کی احتیاج ہوتی ہےب، یہ صرف خدا ہے کہ جو صرف کھلاتا تو ہے مگر خود اسے کھانے کی احتیاج نہیں ہے ۔
قرآن حکیم کی دوسری آیات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کی ملکیت ورزاقیت کے مسئلہ اور بارش برسانے اور سبزہ زاروں کی پرورش کرنے کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ مخلوقات سے وابستگی کا خیال لوگوں کے دماغ سے بالکل نکال دے ۔
اس کے بعد ان لوگوں کی پیش کش کا جواب دینے کے لئے جو پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے یہ دعوت دیتے تھے کہ وہ مشرک کے ساتھ رشتہ جوڑ لیں ، کہتا ہے :علاوہ اس کے کہ عقل مجھے یہ حکم دیتی ہے کہ صرف اس ذات پر بھروسہ کروں کہ جو آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا ہے، وحی الٰہی بھی مجھے حکم دیتی ہے کہ پہلا مسلمان میں بنوں اور کسی طرح بھی مشرکین کی صف میں نہ جاؤں( قُلْ إِنِّی اٴُمِرْتُ اٴَنْ اٴَکُونَ اٴَوَّلَ مَنْ اٴَسْلَمَ وَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْمُشْرِکِین ) (۲)
اس شک نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام سے پہلے دوسرے پیغمبر اور ان کی امتیں بھی مسلمان تھی اور خدا وند تعالیٰ کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کرتی تھیں ، اس بنا پر جب وہ یہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس امت کا سب سے پہلا مسلمان ۔
اور یہ حقیقت میں ایک اہم تربیتی مطلب کی طرف اشارہ بھی ہے کہ ہر رہبر کو اپنے مکتب اور مشن کے احکام کی انجام دہی میں تمام افراد سے زیادہ پیش قدمی کرنا چاہےے، اسے اپنے دین کا سب سے پہلا مومن اور اس پر عمل کرنے والا ہوناچاہئے اور سب سے زیادہ کوشش کرنے والا اور اپنے مکتب کے لئے سب سے زیادہ فداکاری کرنے والا ہونا چاہےے ۔
بعد والی آیت میں اس خدائی حکم پر جو وحی کے ذریعہ پیغمبر پر نازل ہوا ہے تاکید مزید کے لئے کہتا ہے :میں بھی خود اپنے لئے جوابدہی کا احساس کرتا ہوں اور قوانین الٰہی سے کسی طرح مستثنٰی نہیں ہوں ، میں بھی اگر خداوند تعالیٰ کے حکم سے منحرف ہوجاؤں اور مشرکین کی ہاں میں ہاں ملانے لگ جاؤں اور اس کی نافرمانی اور عصیان کروں تو اس عظیم دن۔روز قیامت۔کی سزا سے خائف وترساں ہوں( قُلْ إِنِّی اٴَخَافُ إِنْ عَصَیْتُ رَبِّی عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیم ) (۳)
اس آیت سے بھی اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ پیغمبروں میں جوابدہی کا احساس دوسروں میں جوابدہی کے احساس سے زیادہ ہوتا ہے ۔
آخری آیت میں اس لئے کہ ثابت ہوجائے کہ پیغمبر بھی لطف ورحمت خداوندی پر بھروسہ کےے بغیر کوئی کام نہیں کرسکتے اور تمام اختیارات اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ، یہاں تک کہ خود پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم بھی پرور دگار کی رحمت بے پایاں پر ہی چشم امید لگائیں ہوئے ہیں اور اپنی نجات وکامیابی اسی سے طلب کرتے ہیں ۔فرمایاگیا:کہ رسول کہتے ہیں کہ جو شخص اس عظیم دن پروردگار کی سزا سے نجات پاجائے تا رحمت خدا اس کے شامل حال ہوگئی ہے اور یہ ایک توفیق الٰہی اور کھلی کامیابی ہے ۔( مَنْ یُصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِینُ ) ۔
یہ آیات توحید کا آخری درجہ بیان کرتی ہیں ، یہاں تک کہ ان لوگوں کو کہ جو پیغمبروں کو بھی خدا کے ساتھ مستقل پناہ گاہ مانتے تھے، جیسے عیسائی جو حضرت عیسیٰ (علیه السلام) نجات دہندہ سمجھتے تھے، صراحت کے ساتھ جواب دیا گیا ہے کہ پیغمبر تک بھی اس کی رحمت کے محتاج ہیں ۔
____________________
۱۔ تفسیر ابوالفتوح رازی وتفسیر مجمع البیان زیر نظر آیات کے ذیل میں ۔۲۔ انی امرت ------ غیر مستقیم خطاب ہے اور جملہ ولاتکونن--- خطاب مستقیم ہے شاید یہ تفاوت اس سبب سے ہے کہ شرک سے دوری اور نفرت پہلا مسلمان ہونے کی نسبت کئی درجہ زیادہ اہم ہے، اسی لئے شرک سے دوری کا مسئلہ خطاب مستقیم کی صورت میں ”نون تاکید ثقیلہ“ کے ساتھ بیان ہوا ہے ۔
۳۔یہ بات قابل توجہ ہے کہ جملہ بندی کی ترتیب کا تقاضا یہ ہے کہ لفظ”اخاف“ جملہ”ان عصیت ربی“ کے بعد ذکر ہو ۔کیونکہ وہ شرط کی جزا کے طور پر استعمال ہوا ہے لیکن پیغمبر کا خوف اور جوابدہی کا احساس اس بات کا سبب بنا کہ پروردگار کے حکم کے سامنے”اخاف“ (میں ڈرتا ہوں ) کا لفظ تاکید کے لئے مقدم رکھا جائے ۔
آیات ۱۷،۱۸
۱۷( وَإِنْ یَمْسَسْکَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلاَکَاشِفَ لَهُ إِلاّهُوَ وَإِنْ یَمْسَسْکَ بِخَیْرهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ۔
۱۸( وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَهُوَ الْحَکِیمُ الْخَبِیرُ ) ۔
ترجمہ:
۱۷ ۔ اگر تجھے کوئی نقصان پہنچائے تو اس کے علاوہ کوئی بھی اسے برطرف نہیں کرسکتا اوراگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے(اور ہر نیکی اسی کی قفرت سے بنی ہے)
۱۸ ۔ وہی ہے جو اپنے تمام بندوں پر قاہر ومسلط ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے ۔
پروردگار کی قدرت قاہرہ
ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سورہ کا سب سے پہلا ہدف شرک وبت پرستی کی بیخ کنی ہے ۔مندرجہ بالادونوں آیات میں بھی اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے
پہلے ارشاد ہوتا ہے: تم لوگ غیر خدا کی طرف کیوں توجہ کرتے ہو؟ مصائب سے نجات، رفع ضرر اور حصول منفعت کے لئے خود ساختہ خداؤں سے کیوں پناہ لیتے ہو؟ حالانکہ اگر تجھے معمولی سے معمولی اور حقیر سے حقیر نقصان بھی ہوجائے تو سوائے خدا کے اسے برطرف کرنے والا اور کوئی نہ ہوگا اور اگر کوئی خیروبرکت اور کامیابی و سعادت تجھے نصیب ہوتو وہ بھی اسی کی قدرت کا پرتو ہے ۔کیونکہ وہی ہے کہ جو تمام چیزوں پر قدرت رکھتا ہے( وَإِنْ یَمْسَسْکَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلاَکَاشِفَ لَهُ إِلاَّ هُوَ وَإِنْ یَمْسَسْکَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیر ) (۱)
حقیقت میں غیر خدا کی طرف توجہ لوگ اس لئے کرتے ہیں کہ یا تو انھیں سرچشمہ خیرات جانتے ہیں یا وہ انھیں مصائب ومشکلات کا بر طرف کرنے والا سمجھتے ہیں جیسا کہ طاقت اور اقتدار رکھنے والوں کے سامنے پرستش کی حد تک خضوع وخشوع بھی ان ہی دو اسباب کی بنا پر ہوتا ہے ۔ مندرجہ بالا آیت کہتی ہے کہ ارادہ خدا وندی تمام چیزوں پر حکومت کرتا ہے، اگر وہ کسی نعمت کو کسی سے سلب کر لے یا کوئی نعمت کسی کو عطا کردے تو دنیا میں کوئی منبع قدرت ایسا نہیں ہے جو اسے پلٹا سکے تو وہ غیر خدا کے سامنے سرتعظیم کیوں جھکاتے ہیں ۔
”خیر“ و”شر“ کے بارے میں ”یمسسک“ کی تعبیر کے باوجود ”مس“ سے ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی خیر وشر تک بھی اس کے ارادہ وقدرت کے غیر ممکن نہیں ہے ۔
یہ ذکر بھی لازمی ہے کہ اوپر والی آیت ثنویین یعنی دو خداؤں کی پرستش کرنے والوں کے عقیدہ کی ،کہ جو خیر وشر کے دو علحیدہ علحیدہ مبدء کے قائل تھے ،صراحت کے ساتھ تردید کرتی ہے اور دونوں کو خدا کی طرف سے سمجھتی ہے ،لیکن ہم اپنے مقام پر یہ عرض کر آئے ہیں کہ”مطلق شر“ کا دنیا میں کوئی وجود نہیں ہے، تو اس بنا پر جب شر کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے تو اس سے ایسے امور مراد ہوتے ہیں کہ جو ظاہر میں سلب نعمت ہوتے ہیں لیکن فی الواقع اپنے مقام پر وہ خیر ہیں اور یا وہ بیدار کرنے کے لئے یا تعلیم وتربیت کے لئے اور یا تکبر، سرکشی اور خود پسندی کو برطرف کرنے کے لئے اور یا دوسری مصلحتوں کے لئے ہوتے ہیں ۔
بعد والی آیت میں اس بحث کی تکمیل کے لئے فرمایا گیا ہے: وہی ہے جو اپنے تمام بندوں پر قاہر ومسلط ہے(و( هو القاهر فوق عباده ) ۔
”قہر“ اور ”غلبہ“ کا اگر چہ ایک ہی معنی ہے، لیکن لغوی بنیادکی نظر سے ان دونوں کے معنی میں تفاوت ہے قہر وقاہریت اس قسم کے غلبہ وکامیابی کو کہا جاتا ہے کہ جس میں مد مقابل کسی بھی قسم کا غلبہ اپنی طرف سے ظاہر نہیں کرسکتا لیکن لفظ غلبہ میں یہ مفہوم موجود نہیں ہے اور یہ ممکن ہے کہ غلبہ پانے کے بعد مد مقابل اس پر کامیابی حاصل کرلے،دوسرے لفظوں میں قاہر اسے کہتے ہیں جو مد مقابل پر اس طرح تسلط اور برتری رکھتا ہو کہ اس میں مقابلے کی مجال ہی نہ ہو بالکل اس پانی کے برتن کی طرح جسے آگ کے ایک چھوٹے سے شعلہ پر ڈالاجائے تو وہ اسے فورا خاموش کردے ۔
بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ قاہریت عام طور پر ایسے موقع پر استعمال ہوتی ہے کہ جب طرف مقابل کوئی عاقل موجود ہو، لیکن غلبہ عام ہے اور غیر عاقل موجودات پر کامیابیوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے(۲)
اس بنا پر پہلی آیت میں ،خود ساختہ خداؤں اور صاحبان اقتدار کے مقابلہ میں اگر خدا کی قدرت کی عمومیت کی طرف اشارہ ہوا ہے تو وہ اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ مجبور ہے کہ وہ ایک مدت تک دوسری قدرتوں کے ساتھ دست وگریبان ہو یہاں تک وہ انھیں چت کردے، بلکہ اس کی قدرت، قدرت قاہرہ ہے اور”فوق عبادہ“ کی تعبیر بھی اسی معنی کی تکمیل کے لئے ہے ۔
اس حالت میں کس طرح ممکن ہے کہ ایک باخبر انسان اسے چھوڑ دے اور ایسے موجودات واشخاص کے پیچھے جائے کہ جو اپنی طرف سے کسی قسم کی قدرت نہیں رکھتے ، یہاں تک کہ ان میں جو معمولی اور حقیر سی قدرت موجود ہے وہ بھی خدا ہی کی عطا کردہ ہے ۔
لیکن اس مقصد کے پیش نظر کہ کہیں یہ وہم نہ ہوجائے کہ ممکن ہے خدا بھی بعض صاحبان قدرت کی طرح اپنی نامحدود قدرت سے تھوڑا بہت غلط فائدہ اٹھا لیتا ہو، آیت کے آخر میں فرماتا ہے کہ اس کے باوجود وہ حکیم اور اس کے تمام کام حساب کے مطابق ہیں اور وہ خبیر وآگاہ ہے اور معمولی سے معمولی اشتباہ اور خطا بھی اپنی قدرت کو عمل میں لانے میں نہیں کرتا( هوالحکیم الخبیر ) ۔
فرعون کے حالات میں ہے کہ وہ بنی اسرائیل کو ان کی اولاد کے قتل کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہتا ہے:
”( وانافوقهم قاهرون ) “(۳) یعنی میں ان لوگوں کے اوپر کامل طور پر مسلط ہوں ۔یعنی وہ اپنی اس قدرت قاہرہ کو ۔کہ جو واقع میں ایک حقیر قدرت سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں ظلم وستم اور دوسروں کے حقوق کے پرواہ نہ کرنے کی دلیل قرار دیتاتھا، لیکن خداوند حکیم وخبیر اس قدرت قاہرہ کے باوجود اس سے بہت منزہ ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا ظلم اور غلطی سے معمولی سے معمولی بندے کے حق میں روا ررکھے ۔
یہ بات بھی کہے بغیر واضح ہے کہ (فوق عبادہ) کے لفظ سے مراد مرتبہ ومقام کی برتری ہے، کیوں کہ یہ بات واضح ہے کہ خدا کوئی مکان نہیں رکھتا ۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض بد دماغوں نے اوپر والی آیت کی تعبیر کو خدا کے جسم ہونے کی دلیل قرار دیا ہے، حالانکہ اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ فوق (اوپر) کی تعبیر خدا کی اپنے بندوں پر قدرت کے لحاظ سے معنوی برتری کے بیان کے لئے ہے، یہاں تک کہ فرعون کے بارے میں بھی حالانکہ وہ ایک انسان تھا اور جسم رکھتا تھا یہی لفظ مقام کی برتری کے لئے استعمال ہوا ہے نہ کہ مکانی برتری کے لئے(غور کیجئے گا) ۔
____________________
۱۔ ”ضر“ ایسے نقصانات کے لئے استعمال ہوتا ہے جو انسان کو پیش آتے ہیں ، خواہ وہ جسمانی پہلو رکھتے ہوں جیسے کسی عضو کا نقصان اور مختلف بیماریاں یا وہ روحانی پہلو رکھتے ہوں جیسے جہالت، حماقت، دیوانگی یا دوسرے پہلو جیسے مال، اولاد و یا عزت کا چلا جا نا ۔
۲۔المیزان ،جلد ۷،صفحہ ۳۴۔
۳۔اعراف ،۱۲۷۔
آیات ۱۹،۲۰
۱۹( قُلْ اٴَیُّ شَیْءٍ اٴَکْبَرُ شَهَادَةً قُلْ اللّٰهُ شَهِیدٌ بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَاٴُوحِیَ إِلَیَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِاٴُنذِرَکُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ اٴَئِنَّکُمْ لَتَشْهَدُونَ اٴَنَّ مَعَ اللّٰهِ آلِهَةً اٴُخْرَی قُلْ لاَاٴَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِی بَرِیءٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ ) ۔
۲۰( الَّذِینَ آتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ اٴَبْنَائَهُمْ الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَهُمْ فَهُمْ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔
ترجمہ:
۱۹ ۔کہہ دو کہ سب سے بڑی گواہی کس کی ہے ،کہہ دو کہ خدا وند تعالیٰ تمھارے درمیان گواہ ہے ، (اس کی بہترین دلیل یہ ہے کہ) اس نے یہ قرآن میرے اوپر وحی کیاہے تاکہ تمھیں اور ان تمام افراد کو ڈراؤں کہ جن تک یہ قرآن پہنچے(اور حکم خدا کی مخالفت کا خوف دلاؤں ) کیا سچ مچ تم یہ گواہی دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہیں ، کہہ دو میں ہر گز اس قسم کی گواہی نہیں دیتا، کہہ دو کہ خدا یگانہ ویکتا ہے اور میں اس سے جو اس کا شریک قرار دے بری و بے زار ہوں ۔
۲۰ ۔ وہ لوگ کہ جنھیں ہم نے آسمانی کتاب دی ہے، اس (پیغمبر کو) اچھی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ،صرف وہ اشخاص ہیں کہ جو اپنا سرمایہ وجود کھو بیٹھتے ہیں ایمان نہیں لاتے ۔
سب سے بڑا گواہ
جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت نے بیان کیا ہے کہ مشرکین مکہ کا ایک گروہ پیغمبر اکرم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تو کیسا پیغمبر ہے کہ تیرا کوئی بھی موافق اور حامی نہیں ،یہاں تک کہ ہم نے یہود ونصاریٰ سے بھی تیرے بارے میں تحقیق کی ہے، وہ بھی توریت وانجیل کی بنیاد پر تیری حقانیت کی گواہی نہیں دیتے کم از کم کوئی تم ہمیں کہ جو تمھاری ررسالت کی گواہی دے ۔مندرجہ بالا آیت اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔
پیغمبر کو حکم دیا گیا کہ ان سب ہٹ دھرم مخالفین کے مقابلے میں کہ جنھوں نے آنکھیں بند کررکھی ہیں اور آپ کی حقانیت کی ان کی سب نشانیوں کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں اور پھر بھی گواہ اور شاہد کا مطالبہ کرتے ہیں ،کہہ دیجئے ،تمھارے عقیدہ اور نظریہ کے مطابق سب سے بڑا گواہ کون ہے
( قُلْ اٴَیُّ شَیْءٍ اٴَکْبَرُ شَهَادَةً ) ۔
کیا اس کے سوا بھی کچھ ہے کہ سب سے بڑی شہادت پروردگار کی شہادت ہے؟ تو کہہ دو کہ خدائے بزرگ وبرتر میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے( قُلْ اللّٰهُ شَهِیدٌ بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ ) ۔
اور اس کی بہترین دلیل یہ ہے کہ اس نے اس قرآن کو مجھ پر وحی کیاہے( وَاٴُوحِیَ إِلَیَّ هَذَا الْقُرْآنُ )
وہ قرآن جو ممکن نہیں ہے کہ فکر انسانی کا گھڑا ہوا ہو، وہ بھی اس زمانے اور اس ماحول میں اور مقام میں ، وہ قرآن کہ جو کئے قسم کے شواہد اعجاز پر مشتمل ہے، اس کے الفاظ اعجاز آمیز ہیں اور اس کے معانی اس سے بھی زیادہ اعجاز آمیز ہیں ، کیا یہی ایک عظیم شاہدخدا وند عالم کی طرف سے میری دعوت کی حقانیت کی گواہی کی دلیل نہیں ہے؟۔
ضمنی طور پر اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سب سے بڑا معجزہ ہے اور پیغمبر اکرم کے دعوے کی صداقت کا سب سے بڑا گواہ ہے ۔
اس کے بعد نزول قرآن کا ہدف ومقصد بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: یہ قرآن اس مقصد کے لئے مجھ پر نازل ہوا ہے کہ میں تمھیں اور ان تمام لوگوں کو جن کے کانوں تک پوری تاریخ بشر میں اور وسعت زمانے میں اور تمام نقاط جہان میں ،میری باتیں پہنچیں انھیں خدا کے حکم کی مخالفت سے ڈراؤں اور اس کی مخالفت کے دردناک عواقب وانجام کی طرف متوجہ کروں( لِاٴُنذِرَکُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغ ) ۔
اگر ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں گفتگو صرف ”انذار“ اورڈرانے کے بارے میں ہے حالانکہ عام طور پر ہر جگہ بشارت بھی ساتھ ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ گفتگو ایسے ہٹ دھرم لوگوں کے مقابلہ میں تھی جو مخالفت پر اصرار کرتے رہے ہیں ۔
ضمنی طور پر ”ومن بلغ “ (وہ تمام لوگ کہ جن تک یہ بات پہنچ جائے) کے الفاظ کا ذکر قرآن کی رسالت جہانی اور دعوت عمومی اور پیام عالمی کا پتہ دیتا ہے
حقیقت میں اس سے زیادہ مختصر اور اس سے زیادہ جامع تعبیر اس مقصد کے ادا کرنے کے لئے اور متصور ہو یہ نہیں سکتی، اس کی وسعت میں غور کرنے سے قرآن کی دعوت کے نسل عرب یا خاص زمانے یا علاقے سے مخصوص نہ ہونے کے بارے میں ہر قسم کا ابہام اور شک وشبہ دور ہوجاتا ہے علماء کے ایک گروہ نے ایسی تعبیرات سے مسئلہ ختم نبوت کے لئے بھی استفادہ کیا ہے، کیوں کہ اوپروالی تعبیر کے مطابق پیغمبر ان تمام لوگوں پر مبعوث تھے کہ جن تک آپ کی باتیں پہنچتی ہیں اور یہ ان تمام افراد کے لئے ہے کہ جو اس جہاں کے آخر تک اس دنیا می قدم رکھیں گے ۔
اہل بیت علیہم السلام کے طریق سے منقول احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابلاغ و تبلیغ قرآن سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ ان کامتعین دوسری اقوام تک پہنچے حتی کہ اس کے ترجموں اور مفاہیم کا دوسری زبانوں میں پہنچانا بھی آیت کے معنی میں داخل ہے ۔
ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ (علیه السلام) سے اوپر والی آیت کے بارے میں سوال ہوا تو حضرت (علیه السلام) نے فرمایا:”بکل لسان “(۱)
یعنی ہر زبان میں ہو ۔
ضمنی طور پر مسئلہ اصول فقہ کے قوانین میں سے ایک قاعدہ ”قبح عقاب بلا بیان“ ہے وہ بھی اوپر والی آیت سے معلوم ہوتا ہے ۔
اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ اصول فقہ میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جب تک کوئی حکم کسی شخص تک نہ پہنچے وہ شخص اس حکم کے لئے جواب دہ نہیں ہوسکتا( مگر یہ کہ حکم حاصل کرنے میں اس نے خود کوتاہی کی ہو) مندرجہ بالا آیت بھی یہی کہتی ہے کہ وہ لوگ کہ جن تک میری بات پہنچ جائے وہ اس کے لئے جوابدہ ہے اور اس طرح سے وہ لوگ کہ جنھیں احکام کے اصول میں کوتاہی نہ کرنے کے باوجود اصل حکم نہ پہنچا ہو کوئی مسولیت نہیں رکھتے ۔
تفسیر”المنار“ میں پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے اس طرح نقل ہوا ہے :
قیدیوں کا ایک گروہ آپ کے پاس لایا گیا، حضرت نے ان سے پوچھا کہ کیا انھوں نے تمھیں اسلام کی دعوت دی تھی؟ انھوں نے کہا کہ نہیں ! آپ نے حکم دیا کہ انھیں رہاکردو، اس کے بعد آپ نے اوپر والی آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ انھیں چھوڑ دو کہ یہ اپنی جگہ پر واپس چلے جائیں انھیں حقیقت اسلام کی تبلیغ نہیں ہوئی اور اس کی طرف انھیں دعوت نہیں دی گئی(۲)
نیز اس اایت سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ”شی“ کا اطلاق کے جو فارسی کے لفظ ”چیز“ کا ہم معنی ہے، خدا پر کرنا جائز ہے لیکن وہ ایسی چیز ہے کہ دوسری چیزوں کے مانند نہیں ہے کہ جو مخلوق محدودہیں بلکہ وہ خالق ونامحدود ہے ۔
پھر اس کے بعد پیغمبر کو حکم دیا گیا کہ ان سے پوچھو”کیا واقعا تم گواہی دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور خدا بھی ہیں ؟( اٴَئِنَّکُمْ لَتَشْهَدُونَ اٴَنَّ مَعَ اللّٰهِ آلِهَةً اٴُخْرَی ) اس کے بعد کہتا ہے کہ انھیں صراحت کے ساتھ کہہ دو کہ میں کبھی ایسی گواہی نہیں دیتا، کہہ دو کہ وہ خدا یکتا ویگانہ ہے اور جنھیں تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے بری وبیزار ہوں( قُلْ لاَاٴَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِی بَرِیءٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ ) ۔
در حقیقت آیت کے آخر میں ان چند جملوں کا ذکر ایک نفسیاتی نکتے کے لئے کیا گیا ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ ممکن ہے کہ مشرکین اس قسم کا تصور کرلیں کہ شاید ان کی گفتگو نے روح پیغمبر میں کچھ تزلزل پیدا کردیا ہواور وہ یہ امید لئے ہوئے مجلس سے جدا ہوں اور اپنے دوستوں کو بشارت دیں کہ شاید محمد اس کے بعد اپنی دعوت میں نظر ثانی کرلیں یہ جملے کہ جو صراحت اور قاطعیت سے سرشار ہیں اس امید کو کلی طور پر نا امیدی میں بدل رہے ہیں اور انھیں نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ بات ان کے خیال وگمان سے بالکل باہر ہے اور معمولی سے معمولی تزلزل بھی آپ کی دعوت میں پیدا نہیں ہوگا اور تجربہ سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ کسی بحث کے آخر میں اس قسم کے قطعی الفاظ کا ذکر آخری نتیجے تک پہنچنے کے لئے گہرا اثر رکھتا ہے ۔
اور اس آیت کے بعد والی آیت میں ان لوگوں کو کہ جو اس بات کے مدعی تھے کہ اہل کتاب کسی قسم کی گواہی پیغمبر اسلام کے بارے میں نہیں دیتے صراحت کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہتا ہے: وہ لوگ کہ جن پر ہم نے کتاب نازل کی ہے وہ پیغمبر کو خوب اچھی طرح پہچانتے ہیں بالکل اسی طرح سے جس طرح سے کہ وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں( الَّذِینَ آتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَهُ کَمَا یَعْرِفُونَ اٴَبْنَائَهُمْ ) ۔
یعنی وہ نہ صرف پیغمبر کے اصل ظہور اور اس کی دعوت سے آگاہ ہیں بلکہ وہ تو اس کی جزئےات و خصوصیات اور دقیق نشانیوں کو بھی جانتے ہیں ،اس بنا پر کچھ اہل مکہ کہتے تھے کہ ہم نے اہل کتاب کی طرف رجوع کیا ہے لیکن انھیں بھی پیغمبر کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے ، تو یا تو واقعا وہ جھوٹ بولتے تھے اور انھوں نے (اہل کتاب سے) تحقیق ہی نہیں کی تھی، اور یا پھر اہل کتاب نے حقائق کو چھپا لیا اور ان کے سامنے بیان نہ کیا، جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات ان کے حق کو پوشیدہ رکھنے کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔
اس بات کی بیشتر وضاحت تفسیر نمونہ کی جلد اول میں سورہ بقرہ کی آیت ۱۴۶ کے ذیل میں گزر چکی ہے( دیکھئے اردو ترجمہ صفحہ ۳۶۰) ۔
آیت کے آخر میں ایک آخری نتیجہ کے طور پر بتا تا ہے ،صرف وہی لوگ اس پیغمبر پر (ان واضح نشانیوں کے باوجود) ایمان نہیں لاتے کہ جو زندگی کے بازار تجارت میں اپنا سب کچھ گوا بیٹھے ہیں اور اپنے وجود کی تمام پونجی ہرا بیٹھے ہیں( الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَهُمْ فَهُمْ لاَیُؤْمِنُونَ )
____________________
۱۔ تفسیر برہان، نورالثقلین جلد ۱، صفحہ ۷۰۷ آیہ ”ہذا“ کے ذیل میں ۔
۲۔المنار ،جلد ۷، صفحہ ۳۴۱۔
آیات ۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،
۲۱( وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَی عَلَی اللّٰهِ کَذِبًا اٴَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِهِ إِنَّهُ لاَیُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ) ۔
۲۲( وَیَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِینَ اٴَشْرَکُوا اٴَیْنَ شُرَکَاؤُکُمْ الَّذِینَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ ) ۔
۲۳( ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ اٴَنْ قَالُوا وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِینَ ) ۔
۲۴( انظُرْ کَیْفَ کَذَبُوا عَلَی اٴَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ ) ۔
ترجمہ:
۲۱ ۔ اس شخص سے زیادہ وہ اور کون ظالم ہوگا کہ جس نے خدا پر جھوٹ باندھا (اور اس کے لئے شریک قائل ہوا) یا اس کی آیات کو جھٹلایا، یقینا ظالم نجات کا منہ نہ دیکھ پائیں گے ۔
۲۲ ۔ وہ دن کہ جس میں ہم ان سب کو محشور کریں گے تو مشرکین سے کہیں گے کہ تمھارے وہ معبود کہاں ہیں کہ جنھیں تم خدا کا شریک خیال کیا کرتے تھے( وہ تمھاری مدد کو کیوں نہیں آتے) ۔
۲۳ ۔ پھر ان کا جواب اور عذر اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ وہ کہیں گے کہ اس خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم مشرک نہیں تھے ۔
۲۴ ۔ دیکھو وہ کس طرح خود اپنے آپ سے بھی جھوٹ بولتے ہیں اور جسے جھوٹ موٹ خدا کا شریک سمجھتے تھے اسے چھوڑ بیٹھیں گے ۔
سب سے بڑا ظلم
شرک وبت پرستی کی ہر طرح سے بیخ کنی کا پروگرام دینے کے بعد اوپر والی آےات میں سے پہلی آیت میں صراحت کے ساتھ استفہام انکاری کی صورت میں کہتا ہے: ان مشرکین سے بڑھ کر اور کون ظالم ہے کہ جنھوں نے خدا پر جھوٹ باندھا اور اس کا شرک قرار دیااس کی آیات کی تکذیب کی ہے
( وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَی عَلَی اللّٰهِ کَذِبًا اٴَوْ کَذَّبَ بِآیَاتِه )
در حقیقت پہلا جملہ انکار توحید کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا جملہ انکار نبوت کی طرف اشارہ ہے اور واقعا اس سے بڑھ کر اور کوئی ظلم نہیں ہوسکتا کہ انسان بے قدر جمادات کو یا ناتواں انسان کو ایک لامحدود وجود کے مساوی قرار دے جو سارے عالم پر حکومت کرتا ہے، یہ کام تین جہت سے ظلم شمار ہوتا ہے ۔
ایک ظلم اس کی ذات پاک کے ساتھ کہ اس کے لئے شریک کا قائل ہوا ۔
دوسرا اپنے اور ظلم کہ اپنی حیثیت کو یہاں تک گرا دیا کہ اسے پتھر کے ایک ٹکڑے اور لکڑی کی پرستش تک نیچے لے لیا ۔
تیسرے ایک معاشرے اور سوسائٹی پر ظلم کہ شرک کے زیر اثر تفرقہ وپراکندگی اور روح وحدت ویگانگی سے دوری میں گرفتار ہوا ۔
مسلمہ طور پر کوئی بھی ظلم خاص طور پر ایسے ظلم کہ جن کاظلم ہر پہلو سے نمایاں ہے ، سعادت ورستگاری اور نجات وفلاح کامنہ نہیں دیکھے گے( إِنَّهُ لاَیُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ) ۔
البتہ اس آیت میں صراحت کے ساتھ لفظ شرک ذکر نہیں ہوا لیکن قبل وبعد کی آیات پر توجہ کرتے ہوئے کہ جو سب کی سب شرک کے بارے میں گفتگو کررہی ہے واضح ہوتا ہے کہ لفظ ”افتری“ سے اس آیت میں مراد وہی ذات الٰہی کے لئے شرک کی تہمت ہے ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں ۱۵ مواقع پر کچھ لوگوں کا ظالم ترین اور ستمگار ترین کے عنوان سے تعارف کرایا گیا ہے اور وہ سب کے سب جملہ استفہامیہ ”ومن اظلم“ یا”فمن اظلم“ (کون زیادہ ظالم ہے) کے ساتھ شروع ہوئے ہیں اگر چہ ان آیات میں سے اکثر شرک وبت پرستی اور آیات الٰہی کے انکار کے بارے میں ہی گفتگو کرتی ہیں یعنی ان میں اصل توحید ہی پیش نظر ہے لیکن ان میں سے بعض دوسرے مسائل کے بارے می بھی ہے مثلا :
”( وَمَن اَظْلَمَ مِمَّن مَنَعَ مَسٰجِدَاللّٰه اَنْ یذکر فِیهَا اسْمه ) “
ان سے زیادہ اور کون شخص ظالم ہے جو مساجد میں ذکر خدا سے روکتے ہیں ؟(سورہ بقرہ، ۱۱۴) ۔
ایک اور مقام پر ہے:”( وَمَن اَظْلَمَ مِمَّن کَتَمَ شَهَادَة عِندَهُ مِنَ اللّٰه ) “
ان سے بڑھ کر اور کون ظالم ہیں جو شہادت کو چھپاتے ہیں (بقرہ ، ۱۴۰) ۔
اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات کیسے ممکن ہے کہ گروہوں میں سے ہر گروہ ہی سب سے بڑھ کر ظالم ہوں جب کہ ”ظالم ترین“ کا لفظ تو ان میں سے صرف ایک گروہ پر ہی صادق آتا ہے ۔
اس کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ ان سب امور کی حقیقت میں ایک ہی جڑ ہے اور وہ ہے شرک ،کفر اور عناد۔ کیوں کہ لوگوں کو مساجد میں ذکر خدا سے منع کرنا اور انھیں ویران وبرباد کرنے کی کوشش کرنا کفر وشرک کی نشانی ہے، اسی طرح شہادت کو چھپا نا ہے کہ ظاہری طور پر اس سے مراد حقائق پر شہادت کو چھپانا ہے جو وادی کفر میں لوگوں کے بھٹکنے کا سبب بنتا ہے لہٰذا یہ بات بھی شرک وکفر اور خدائے یگانہ کے انکار کی مختلف قسموں میں ہے ۔
بعد والی آیت میں مشرکین کے انجام کے سلسلے میں بحث ہوگہ، تاکہ واضح ہوجائے کہ انھوں نے بتوں جیسی کمزور مخلوق پر بھروسہ کرکے نہ اس دنیا میں اطمینان وراحت حاصل کیا ہے اور نہ ہی دوسرے جہاں میں ،ارشاد الٰہی ہے:
اس روز جب ہم ان سب کو ایک ہی جگہ مب(علیه السلام)وث کریں ،اور مشرکین سے کہیں گے کہ تمھارے وہ بناوٹی معبود جنھیں تم خدا کا شریک خیال کرتے تھے کہاں ہیں ؟ اور وہ تمھاری مدد کے لئے کیوں نہیں آتے؟ اور کسی قسم کا اثر ان کی قدرت نمائی کااس وحشتناک عرصہ قیامت میں کیوں نظر نہیں آتا( وَیَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِینَ اٴَشْرَکُوا اٴَیْنَ شُرَکَاؤُکُمْ الَّذِینَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ ) ۔
کیا اصل بنیاد یہی نہ تھی کہ وہ مشکلات میں تمھاری مدد کریں گے ؟ اورکیا تم نے بھی اسی امید پر ان کی پناہ حاصل نہیں کی تھ؟ تو پھر ان کا یہاں پر کوئی معمولی سے معمولی اثر بھی کیوں دکھائی نہیں دیتا؟۔
وہ ہکا بکا رہ جائیں گے اور عجیب وغریب وحشت وحیرت میں ڈوب جائیں گے اور اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا ،سوائے اس کے کہ قسم کھاکر کہنے لگےں کہ: ”خدا کی قسم ہم کبھی مشرک نہیں تھے“ ان کا گمان یہ ہوگاجیسے وہاں بھی حقائق کا انکار کیا جاسکتا ہے( ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ اٴَنْ قَالُوا وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِینَ ) اس بارے میں کہ اوپر والی آیت میں لفظ ”فتنہ“ کس معنی میں ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض اسے فروتنی اور معذرت کے معنی میں لیتے ہیں ،بعض جواب کے معنی میں لےتے ہیں اور بعض نے شرک کے معنی میں لیا ہے(۱) ۔
آیت کی تفسیر میں یہ بھی احتمال پایا جاتا ہے کہ ”فتنہ وافتنان“ سے مراد ان کا وہی دلی میلان ہو،یعنی ان کے شرک وبت پرستی سے ان کے لگاؤ کا نتیجہ کہ جس نے ان کی عقل وفہم پر پردہ ڈال رکھا ہوگا کہ قیامت کے دن جب پردے ہٹ جائیں گے تو اس وقت وہ اپنی بڑی خطا کی طرف متوجہ ہوں گے اور اپنے اعمال سے بیزاری اختیار کریں گے اور ان سے کلی طور پر انکار کردیں گے ۔
لغت میں ” فتنہ “کا اصل معنی جیسا کہ ”راغب“ مفردات“ میں کہتا ہے کہ سونے کو آگ میں ڈال دیں اور اسے تیز آنچ دیں تاکہ اس کا باطن ظاہر ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ وہ کھرا ہے کہ کھوٹا، اس معنی کو اوپر والی آیت میں تفسیر کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے کیوں کہ وہ لوگ جب قیامت کے دن سخت پریشانی اور اس دن کی وحشتوں میں غرق ہوں گے تو پھر انھیں ہوش آئے گا اور وہ اپنی غلطی پر آگاہ ہوں گے اور اپنی نجات کے لئے اپنے گذشتہ اعمال کا انکار کریں گے ۔
بعد والی آیت میں اس مقصد سے کہ لوگ ان کے رسوا کن انجام سے عبرت حاصل کریں کہا گیا کہ: اچھی طرح غور کرو اور دیکھو کہ ان کا معاملہ کہاں تک پہنچ گیا ہے کہ انھوں نے اپنی روش اور مسلک سے کاملا بیزاری اختیار کرلی ہے اور اس کا انکار کرتے ہیں یہاں تک کہ خود اپنی ذات سے جھوٹ بولتے ہیں( انظُرْ کَیْفَ کَذَبُوا عَلَی اٴَنفُسِهِم ) ۔
اور تمام سہارے جو انھوں نے اپنے لئے اختیار کئے ہوئے تھے اور انھیں خدا کا شریک سمجھتے تھے ہاتھ سے دیں بیٹھے گے اور ان کی کہیں بھہ رسائی نہیں ہوگی( وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ ) ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ ”انظر“ سے مراد مسلمہ طور پر عقل کی آنکھوں سے دیکھنا ہے، نہ کہ ظاہری آنکھوں سے دیکھنا، کیوں کہ قیامت کا میدان اس دنیا میں ظاہری نہیں دیکھا جاسکتا ۔
۲ ۔ یہ جو کچھ کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے اوپر جھوٹ باندھا تو اس کا معنی کہ انھوں نے دنیا میں اپنے آپ کو فریب دیا اور راہ حق سے نکل گئے، یا یہ کہ دوسرے جہاں میں جو قسم کھا رہیں ہیں کہ ہم مشرک نہیں تھے تو یہ حقیقت میں وہ اپنے آپ سے جھوٹ بولتے ہیں کیوں کہ مسلمہ طور پر وہ مشرک تھے ۔
۳ ۔یہاں ایک سوال باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اوپر والی آیت سے معلوم ہوتا کہ مشرکین اپنے سابقہ شرک کا قیامت کا دن انکار کردیں گے جب کہ روز قیامت کی کیفیت اور حقائق کا حسی طور پر مشاہدہ اس طرح سے ہوگا کہ کسی شخص کو یہ مجال نہ ہوگی کہ حق کے خلاف کوئی بات کرے، بالکل اس طرح سے جیسے کوئی جھوٹے سے جھوٹا آدمی بھی ہمیں ایسا دیکھائی نہیں دیتا جو روز روشن میں سورج کے سامنے کھڑا ہو کر یہ کہے کہ فضا تاریک ہے، اس کے علاوہ بعض دوسری آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ روز قیامت صراحت کے ساتھ اپنے شرک کا اقرار کرلیں گے اور کسی حقیقت کو نہیں چھپائیں گے مثلا:”( ولایکتمون اللّٰه حدیثا ) “(نساء ۴۲) ۔
اس سوال کے دو جواب دئے جاسکتے ہیں :
پہلا جواب: یہ ہے کہ قیامت کے کئے مراحل ہوں گے، ابتدائی مراحل میں مشرکین خیال کریں گے کہ جھوٹ بول کر بھی خدا کے دردناک عذاب اور سزا سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے لیکن وہ اپنی پرانی عادت کے مطابق جھوٹ بولیں گے لیکن بعد کے مراحل میں جب وہ یہ سمجھ لیں گے کہ اس طریقہ سے بھاگنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو پھر اپنے اعمال کا اعتراف کرلیں گے حقیقت میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن انسان کی آنکھوں کے سامنے رفتہ رفتہ پردے ہٹےں گے، ابتدا میں جب کہ مشرکوں نے اپنے نامہ اعمال کاغور سے مطالعہ نہیں کیا ہوگا تو جھوٹ کا سہارا لیں گے لیکن بعد کے مراحل میں جب پردے پوری طرح اٹھ جائیں گے اور تمام چیزیں نظروں کے سامنے ہوں گی تو پھر انھیں اعتراف کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آئے گا ۔
ٹھیک مجرموں کی طرح جو ابتدائی تفتیش میں تمام باتوں سے، یہاں تک کہ اپنے دوستوں سے شناسائی کا بھی انکار کردیتے ہیں لیکن جب ان کی جرم کی اسناد اور منہ بولتی دستاویزات دیکھائی جاتی ہیں تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ معاملہ اتنا واضح ہے کہ انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں لہٰذا پھر وہ اعتراف بھی کر لیتے ہیں اور سب کچھ اگل دیتے ہیں ۔
یہ جواب امیرالمومنین (علیه السلام) سے ایک حدیث میں نقل ہوا ہے(۲) ۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ اوپر والی آیت ان افراد کے بارے میں ہے جو حقیقت میں اپنے آپ کو مشرک نہیں سمجھے تھے، مثلا عیسائی ، جو تین خداؤں کے قائل ہیں اور پھر بھی اپنے آپ کو موحد خیال کرتے ہیں ، یا یہ آیت ایسے اشخاص کے بارے میں ہے جو تو حید کے نعرے لگاتے تھے، لیکن ان کے عمل سے شرک کی بو آتی تھے کیوں کہ وہ انبیاء کرام کے احکام پائیوں کے نیچے روندتے تھے، غیر خدا پر بھروسہ رکھتے اور خدا کے اولیاء کا انکار کرتے تھے لیکن اس کے باوجود خود کو موحد سمجھتے تھے، یہ لوگ قیامت کے دن قسم کھائیں گے کہ ہم تو موحد تھے لیکن بہت جلدہی انھیں سمجھا دیا جائے گا کہ وہ باطن میں مشرکین میں داخل تھے، یہ جواب بھی کئی ایک روایات میں حضرت علی علیہ اسلام اور حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے(۳)
اور دونوں جواب قابل قبول ہیں ۔
____________________
۱۔ جب یہ لفظ معذرت اورجواب کے معنی میں لیا جائے گا تو اس صورت میں آیت کسی لفظ کے مقدر ہونے کی محتاج نہیں ہوگی ، لیکن اگر شرک کے معنی میں ہوتو ضروری ہے کہ لفظ ”نتیجہ“ کو مقدر مانا جائے یعنی ان کے شرک کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ قسم کھائیں گے کہ وہ مشرک نہیں تھے ۔
۲۔ نور الثقلین، جلد اول، صفحہ ۷۰۸-
۳۔ نور الثقلین ،جلد اول،صفحہ ۷۰۸-
آیات ۲۵،۲۶
۲۵( وَمِنْهُمْ مَنْ یَسْتَمِعُ إِلَیْکَ وَجَعَلْنَا عَلَی قُلُوبِهِمْ اٴَکِنَّةً اٴَنْ یَفْقَهُوهُ وَفِی آذَانِهِمْ وَقْرًا وَإِنْ یَرَوْا کُلَّ آیَةٍ لاَیُؤْمِنُوا بِهَا حَتَّی إِذَا جَائُوکَ یُجَادِلُونَکَ یَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلاَّ اٴَسَاطِیرُ الْاٴَوَّلِینَ ) ۔
۲۶( وَهُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَیَنْاٴَوْنَ عَنْهُ وَإِنْ یُهْلِکُونَ إِلاَّ اٴَنفُسَهُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ ) ۔
ترجمہ:
۲۵ ۔ ان میں سے کچھ لوگ تےری بات تو سنتے ہیں لیکن ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دئےے ہیں تاکہ وہ انھیں نہ سمجھے، اورہم نے کانوں کو بوجھل کردیا ہے اور وہ (اس قدر ہٹ دھرم ہیں ) کہ اگر حق کی تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ وہ جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھ سے جھگڑنے لگتے ہیں اور کافر کہتے ہیں کہ یہ تو پرانے لوگوں کے افسانے ہیں ۔
۲۶ ۔ وہ دوسروں کو اس سے روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دوری اختیار کرتے ہیں ، اپنے سوا وہ کسی کو ہلاک نہیں کرتے لیکن سمجھتے نہیں ۔
حق قبول نہ کرنے والوں کا طرز عمل
اس آیت میں بعض مشرکین کی نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ حقائق سننے کے لئے خود سے ذرہ بھر توجہ بھی نہیں دیتے، یہ تو ایک معمولی سی بات ہے، وہ تو اس سے دشمنی پر بھی اتر آتے ہیں اور تہمتوں کے ذریعہ خود کو اور دوسروں کو بھی اس سے دور رکھتے ہیں ، ان کے بارے میں یوں کہا گیا ہے :ان میں سے بعض تیری بات تو سنتے ہیں لیکن ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دئےے ہیں ، تاکہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں ، اور ان کے کانوں میں ہم نے بوجھل پن پیدا کردیا ہے تاکہ وہ اسے نہ سنے( وَمِنْهُمْ مَنْ یَسْتَمِعُ إِلَیْکَ وَجَعَلْنَا عَلَی قُلُوبِهِمْ اٴَکِنَّةً اٴَنْ یَفْقَهُوهُ وَفِی آذَانِهِمْ وَقْرًا ) (۱)
حقیقت میں زمانہ جاہلیت کے اندھے تعصبات اور مادی منافع میں غرق ہوتے چلے جانا اور ہوا وہوس کی پیروی کرنا ان کے عقل وہوش ہر اس طرح غالب آگیا ہے کہ گویا وہ پردے کے نیچے آگئے ہیں ( جس کی وجہ ) ناتو وہ کسی حقیقت کو سن سکتے ہیں اور نہ ہی مسائل کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں ۔
ہم یہ بات کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ اگر اس قسم کے مسائل کی نسبت خدا کی طرف دی جاتی ہے تو یہ حقیقت میں قانون ”علیت“ اورخاصیت عمل کی طرف اشارہ ہوتا ہے ،کج روی میں تسلسل اور ہٹ دھرمی اور بے دینی پر اصرار کا اثر یہ ہے کہ انسان کی روح بھی اسی سانچے میں ڈھل جاتی ہے اور یہ اعمال انسان کو ٹیڑھے آئینے کی طرح بنا دیتے ہیں کہ (اس ٹیڑھے آئینے میں ) ہر چیز کج اور ٹیڑھی ہی نظر آتی ، تجربے نے اس حقیقت کو ثابت کردیا ہے کہ بدکار اور گناہگار افراد ابتدا میں اپنے برے کام سے پریشان اور بے آرام ہوتے ہیں لیکن پھر تدریجا اس کے عادی ہوجاتے ہیں اور شاید ایسا دن بھی آجائے کہ وہ اپنے برے اعمال کو واجب اور ضروری سمجھنے لگ جاتے ہیں ، دوسرے لفظوں میں یہ ان کی حق سے مخالفت اور کرنے اور گناہ پر ہٹ دھرمی اور اصرار کی سزاؤں میں سے ایک سزا ہے کہ جو ہٹ دھرم گناہگاروں کے دامن سے چمٹ جاتی ہے ۔
اسی لئے ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا معاملہ اس حدکو پہنچ گیا ہے کہ :اگر وہ تمام آیات خدا اور اس کی نشانیوں کو بھی دیکھ لیں تو پھر بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے( وَإِنْ یَرَوْا کُلَّ آیَةٍ لاَیُؤْمِنُوا بِهَا ) ۔
اور اس بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ جب وہ تیرے پاس آتے ہیں تو بجائے اس کے کہ وہ اپنے دل کے کانوں کو تیری باتوں کی طرف متوجہ کریں اور کم اسے کم ایک حق کے متلاشی کی طرح کوئی نہ کوئی حقیقت معلوم ہوجانے کے احتمال میں بھی اس کے بارے میں کچھ غور کریں ، وہ منفی روح اور منفی فکر کے ساتھ تیرے سامنے آتے ہیں اور لڑنے ،جھگڑنے اور اعتراض کرنے کے سوا ان کا اور کوئی مقصد نہیں ہوتا( حَتَّی إِذَا جَائُوکَ یُجَادِلُونَکَ ) ۔
وہ تیری باتوں کو سن کر جو چشم وحی سے وحی سے نکلی ہے اور تیری حق گو زبان پر جاری ہوئی ہے تجھ پر تہمت لگاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بات گذشتہ انسانوں کے گھڑے ہوئے قصوں اور افسانوں کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی( یقولُ الَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلاَّ اٴَسَاطِیرُ الْاٴَوَّلِینَ ) ۔
بعد والی آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ صرف اتنی بات پر ہی قناعت نہیں کرتے اور باوجود اس کے کہ وہ خود گمراہ ہیں ہمیشہ اسی تلاش میں رہتے ہیں کہ حق کے متلاشی لوگوں کو اپنی طرح طرح کی زہر افشانیوں کے ذریعے اس راستے پر چلنے سے روک لیں لہٰذا وہ انھیں پیغمبر کے قریب جانے سے منع کرتے ہیں( وَهُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ )
اور خود بھی اس سے دور دور ہی رہتے ہیں( وَیَنْاٴَوْنَ عَنْهُ ) (۲) ۔
وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ جو شخص حق کے سامنے الجھے اور اس سے بیر رکھے اس نے خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے اور انجام کار قانون آفرینش کے مسلمہ اصول کے مطابق حق کا چہرہ باطل کے بادلوں اوٹ سے نمایا ہوجاتا ہے اور ”حق“ میں جو قوت جاذبہ پائی جاتی ہے اس سے وہ کامیاب ہوکر رہے گا اور باطل اس بے قدروقیمت چھاگ کی طرح جو پانی کے اوپر آجاتا ہے نابود ہوکررہے گا، اس بنا پر ان کی کوشش اورفعالیت ان کی اپنی ہی شکست پر انجام پذیر ہوگی اور وہ خود اپنے سوا اور کسی کو بھی ہلاک نہیں کریں گے لیکن ان میں اس حقیقت کو سمجھنے کی طاقت نہیں ہے( وَإِنْ یُهْلِکُونَ إِلاَّ اٴَنفُسَهُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ ) ۔
____________________
۱۔ اکنہ ”جمع“ ”کنان“بروزن”کتاب“پردہ کے معنی میں ہے،یا ہر وہ چیزجو چھپا دے اور”وقر“ کان کے بوجھل ہونے کے معنی میں ہے ۔
۲۔ ینئون ”ناٴی “ کے مادہ سے ہے جو بروزن ”سعی“ ہے دوری اختیار کرنے کے معنی میں ہے ۔
مومن قریش حضرت ابو طالب (علیه السلام) پر ایک بہت بڑی تہمت
اوپر والی آیت کی تفسیر میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ یہ آیت ان بحثوں سے متعلق ہے جو ہٹ دھر مشرکین اور پیغمبر کے سخت ترین دشمنوں میں ہے ” ھم “کی ضمیر عربی ادب کے قواعد کے مطابق ان لوگوں کی طرف لوٹی ہے جن کے بارے میں اس آیت میں بحث کی گئی ہے یعنی وہ متعصب کافر جو پیغمبر کی دعوت کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے اور آزارپہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دیتے تھے ۔
لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم اہل سنت کے بعض مفسرین میں عربی ادب کے تمام قواعد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دوسری آیت کو پہلی آیت سے علحیدہ کرکے اسے حضرت ابوطالب(علیه السلام) یعنی امیرالمومنین علی (علیه السلام) کے والد کے لئے قرار دے دیا کرتے ہیں ، وہ آیت کا اس طرح معنی کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو پیغمبر اسلام کا دفاع کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود اس سے دور رہتے ہیں( وَهُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَیَنْاٴَوْنَ عَنْهُ ) ۔
اور وہ قرآن کی کچھ اور آیات کہ جن کے بارے میں ان کے اپنے مقام پر اشارہ ہوگا مثلا سورہ توبہ کی آیت ۱۱۴ اور سورہ قصص کی آیت ۵۶ کو بھی اپنے مدعا پر گواہ قرار دیتے ہیں ۔
لیکن تمام علماء شیعہ اور اہل سنت کے بعض بزرگ علما مثلا ابن ابی الحدید شارح نہج البلاغہ نے اور قسطلانی نے ارشاد الساری میں اور زینی دحلان نے سیرة حلبی کے حاشیہ میں حضرت ابو طالب کو مومنین اہل اسلام میں سے بیان کیا ہے، اسلام کی بنیادی کتابوں کے منابع میں بھی ہمیں اس موضوع کے بہت سے شواہد ملتے ہیں کہ جن کے مطالعہ کے بعد ہم گہرے تعجب اورحیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ حضرت ابوطالب ایک گروہ کی طرف سے اس قسم کی بے مہری اور اتہام کا محل کیون قرار پاگئے ہیں ؟
جو شخص اپنے تمام وجود کے ساتھ پیغمبر اسلام کا دفاع کیا کرتا تھا اور بار ہا خود اپنے آپ کو اور اپنے فرزندکو اسلام کے وجود مقدس کو بچانے کے لئے خطرات کے موقع پر ڈھال بنادیا کرتا تھا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس پر ایسی تہمت لگائی جائے ۔
یہی سبب ہے کہ دقت نظر کے ساتھ تحقیق کرنے والوں یہ سمجھا ہے کہ حضرت ابو طالب کے مخالفت کی لہر ایک سیاسی ضرورت کی وجہ ہے جو شجرہ خبیثہ بنی امیہ کی حضرت علی علیہ السلام کے مقام ومرتبہ کی مخالفت سے پیدا ہوئی ہے ۔
کیوں کہ یہ صرف حضرت ابوطالب کی ذات ہی نہیں تھی کہ جو حضرت علی علیہ السلام کے قرب کی وجہ ایسے حملہ کی زد میں آئی ہو بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو تاریخ اسلام میں کسی طرح سے بھی امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے نزدیکی رکھتا ہے ایسے ناجوانمردانہ حملوں سے نہیں بچ سکا، حقیقت میں حضرت ابوطالب کا کوئی گناہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام جیسے عظیم پیشوا اسلام کے باپ تھے ۔
ہم یہا ں پر ان بہت سے دلائل میں سے جو واضح طور پر ایمان ابوطالب کی گواہی دیتے ہیں کچھ دلائل مختصر طور پر فہرست وار بیان کرتے ہیں ، تفصیلات کے لئے ان کتابوں کی طرف رجوع کریں جو اسی موضوع پر لکھی گئی ہیں ۔
۱ ۔ حضرت ابو طالب پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کی بعثت سے پہلے خوب اچھی طرح سے جانتے تھے کہ ان کا بھتیجہ مقام نبوت تک پہنچے گا کیوں کہ مورخین نے لکھا ہے کہ جس سفر میں حضرت ابو طالب قریش کے قافلے کے ساتھ شام گئے تھے تو اپنے بارہ سال کے بھتیجے محمد کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے ، اس سفر میں انھوں نے آپ سے بہت سی کرامات مشاہدہ کیں ، ان میں ایک واقعہ یہ ہے کہ جو نہی قافلہ بحیرا نامی راہب کے قریب سے گزرا جو قدیم عرصے سے ایک گرجے میں مشغول عبادت تھا اور کتب عہدین کا عالم تھا اور تجارتی قافلے اپنے سفر کے دوران اس کی زیارت کے لئے جاتے تھے تو راہب کی نظریں قافلہ والوں میں سے حضرت محمد پر جم کر رہ گئیں ، جن کی عمر اس وقت بارہ سال سے زیادہ نہ تھی۔
بحیرا نے تھوڑی دیر کے لئے حیران وششدررہنے اور گہری اور پر معنی نظروں سے دیکھنے کے بعد کہا: یہ بچہ تم میں سے کس سے تعلق رکھتا ہے؟ لوگوں نے ابو طالب کی طرف اشارہ کیا، انھون نے بتا یا کہ یہ میرا بھتیجہ ہے ۔
”بحیرا“ نے کہا: اس بچہ کا مستقبل بہت درخشاں ہے، یہ وہی پیغمبر ہے کہ جس کی نبوت ورسالت کی آسمانی کتابوں میں خبر دی ہے اور میں نے اس کی تمام خصوصیات کتابوں میں پڑھی ہے(۱) ۔
ابو طالب اس واقعہ اور اس جیسے دوسرے واقعات سے پہلے دوسرے قرائن سے بھی پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کی نبوت اور معنویت کو سمجھ چکے تھے ۔
اہل سنت کے عالم شہرستانی (صاحب ملل ونحل) اور دوسرے علماء کی نقل کے مطابق ایک سال آسمان مکہ نے اپنی برکت اہل مکہ سے روک لی اور سخت قسم کے قحط سالی نے لوگوں کا رخ کیاتو ابو طالب نے حکم دیا کہ ان کے بھتیجے محمد کو جو ابھی شیر خوار ہی تھے لایا جائے، جب بچے کو اس حال میں کہ وہ ابھی پوتڑے میں لپٹا ہوا تھا انھیں دیا گیا تو وہ اسے لینے کے بعد خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور تضرع وزاری کے ساتھ اس طفل شیر خوار کو تین مرتبہ اوپر کی طرف بلند کیا اور ہر مرتبہ کہتے تھے:پروردگارا، اس بچہ کے حق کا واسطہ ہم پر برکت والی بارش نازل فرما، کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ افق کے کنارے سے بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور مکہ کے آسمان پر چھا گیا اور بارش سے ایسا سیلاب آیا کہ یہ خوف پیدا ہونے لگا کہ کہیں مسجدالحرام ہی ویران نہ ہوجائے ، اس کے بعد شہرستانی لکھتا ہے کہ یہی واقعہ جو ابوطالب کے اپنے بھتیجے کے بچپن سے اس کی نبوت ورسالت سے آگاہ ہونے پر دلالت کرتا ہے ان کے پیغمبر پر ایمان رکھنے کا ثبوت بھی ہے اور ابوطالب نے اشعار ذیل اسی واقعہ کی مناسبت سے کہے تھے ۔
وابیض یستقی الغمام بوجھہ ثمال الیتامی عصمة للارامل۔
”وہ ایسا روشن چہرے والا ہے کہ بادل اس کی خاطر سے بارش برستے ہیں وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کے محافظ ہیں “۔یلوذ به الهلاک من آل هاشم فهم عنده فی نعمة وفواضل ۔
”بنی ہاشم میں سے جو چل بسے ہیں وہ اسی سے پناہ لیتے ہیں اور اسی کے صدقے میں نعمتوں اور احسانات سے بہرہ اندوز ہوتے ہیں “۔
ومیزان عدل لا یخیس شعیرة ووزان صدق وزن غیر هائل ۔
”وہ ایک ایسی میزان عدالت ہے کہ جو ایک جو برابر بھی ادھر ادھر نہیں کرتا اور درست کاموں کاایسا وزن کرنے والا ہے کہ جس کے وزن کرنے میں کسی شک وشبہ کا خوف نہیں ہے“۔
قحط سالی کے وقت قریش کا ابوطالب کی طرف متوجہ ہونا اور ابوطالب کا خدا کو آنحضرت کے حق کا واسطہ دینا شہرستانی کے علاوہ اور دوسرے بہت سے عظیم مورخین نے بھی نقل کیا ہے،علامہ امینی نے اسے اپنی کتاب”الغدیر“ میں ”شرح بخاری“ ”المواہب اللدنیہ“ ”الخصائص الکبری“ ”شرح بہجة المحافل“ ”سیرہ حلبی“ ”سیرہ نبوی“ اور”طلبتة الطالب “ سے نقل کیا ہے(۲) ۔
۲ ۔ اس کے علاوہ مشہور اسلامی کتابوں میں ابو طالب کے بہت سے اشعار ایسے ہیں جو ہماری دسترس میں ہیں ، ان میں سے کچھ اشعار ہم ذیل میں پیش کررہے ہیں :۔واللّٰه لن یصلوا الیک بجمعهم حتی اوسد فی التراب دفینا ۔
”اے میرے بھتیجے خدا کی قسم جب تک ابطالب مٹی میں نہ سوجائے اور لحد کو اپنا بستر نہ بنا لے دشمن ہرگز ہر گز تجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے“۔
فاصدع بامرک ما علیک غضا ضة وابشر بذاک وقر منک عیونا ۔
”لہٰذا کسی چیز سے نہڈر اور اپنی ذمہ داری اور ماموریت کا ابلاغ کر، بشارت دے اور آنکھوں کو ٹھنڈا لے“۔
ودعوتنی وعلمت انک ناصحی ولقد دعوت وکنت ثم امینا
”تونے مجھے اپنے مکتب کی دعوت دی اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تیرا ہدف ومقصد صرف پندونصیحت کرنا اور بیدار کرنا ہے، تو اپنی دعوت میں امین اور صحیح ہی“۔
ولقد علمت ان دین محمد (ص) من خیر ادیان البریة دینا (۳) ۔
”میں یہ بھی جانتا ہوں کہ محمد کا دین ومکتب تمام دینوں اورمکتبوں میں سب سے بہتر ہے“۔
اور یہ اشعار بھی انھوں نے ہی ارشاد فرمائے ہیں :الم تعلموا ان وجدنا محمدا رسولا کموسی خط فی اول الکتب
”اے قریش کیا تمھیں معلوم نہیں ہے کہ محمد موسیٰ علیہ السلام کی مثل ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کے مانند خدا کے پیغمبر اور رسول ہیں جن کے آنے کی پیشن گوئی پہلی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے اور ہم نے اسے پالیا ہے“۔
وان علیه فی العباد محبة ولا حیف فی من خصه اللّٰه فی الحب (۴)
”خدا کے بندے اس سے خاص لگاؤ رکھتے ہیں اور جسے خدا وندتعالیٰ نے اپنی محبت کے لئے مخصوص کرلیا ہو اس شخص سے لگاؤ بے موقع نہیں ہے“۔
ابن ابی الحدید نے جناب ابوطالب کے کا فی اشعار نقل کرنے کرنے کے بعد(کہ جن کا مجموعہ کو ابن شہر آشوب نے ”متشابہاة القران“میں تین ہزار اشعار کہا ہے) کہتا ہے :
ان تمام اشعار کے تمام مطالعہ سے ہمارے لئے کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ ابوطالب اپنے بھتیجے کے دین پر ایمان رکھتے تھے ۔
۳ ۔ پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نیت سی ایسی احادیث بھی نقل ہوئی ہیں جو آنحضرت کی ان کے فداکار چچا ابوطالب کے ایمان پر گواہی دیتی ہیں ، منجملہ ان کے کتاب”ابوطالب مومن قریش“ کے مولف کی نقل کے مطابق ایک یہ ہے کہ جب ابو طالب (علیه السلام) کی وفات ہوگئی تو پیغمبر اکرم نے ان کی تشیع جنازہ کے بعد اس سوگواری کے زمن میں جو اپنے چچا کی وفات کی مصیبت میں آپ کررہے تھے آپ یہ بھی کہتے تھے :
”وابتاه! واباطالباه! واحزناه علیک ،کیف اسلو علیک یا من ربیتنی صغیر-واجبتنی کبیرا،وکنت عندک بمنزلة العین من الحدقه والروح من الجسد “(۵)
ہائے میرے بابا! ہائے ابوطالب! میں آپ کی وفات سے کس قدر غمگین ہوں ، کس طرح آپ کی مصیبت کو میں بھول جاؤں ، اے وہ شخص جس نے بچپن میں میری پرورش اور تربیت کی اور بڑے ہونے پر میری دعوت پر لبیک کہی، میں آپ کے نزدیک اس طرح تھا جیسے آنکھ خانہ چشم میں اور روح بدن میں ۔
نیز آپ ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے:”ما نالت منی قریشا شیئا اکرهه حتی مات ابو طالب “(۶)
”اہل قریش اس وقت تک کبھی میرے خلاف نہ پسندیدہ اقدام نہ کرسکے جب تک ابو طالب کی وفات نہ ہوگی“
۴ ۔ ایک طرف سے یہ بات مسلم ہے کہ پیغمبر اکرم کو ابو طالب کی وفات سے کئی سال پہلے یہ حکم مل چکا تھا کہ وہ مشرکین کے ساتھ کسی قسم کا دوستانہ رابطہ نہ رکھیں ، اس کے باوجود ابو طالب کے ساتھ اس قسم کے تعلق اور مہر محبت کا اختیار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم انھیں مکتب توحید کا معتقد جانتے تھے، ورنہ یہ بات کس طرح ممکن ہوسکتی تھی کہ دوسروں کو تو مشرکین کی دوستی سے منع کریں اور خود ابوطالب سے عشق کی حد تک مہر ومحبت رکھیں ۔
۵ ۔ ان احادیث میں بھی کہ جو اہل بیت پیغمبر کے طرق سے ہم تک پہنچی ہیں حضرت ابوطالب کے ایمان واخلاص کے بڑے کثرت سے مدارک نظر آتے ہیں ، کہ جن کا یہاں نقل کرنا طول کا باعث ہوگا، یہ احادیث منطقی اور عقلی استدلال کی حامی ہیں ، ان میں سے ایک حدیث جو چھوتھے امام علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس میں امام علیہ السلام نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ابوطالب مومن تھے؟ جواب دینے کے بعد ارشاد فرمایا:
ان هنا قوما یزعمون انه کافر اس کے بعد فرمایا:۔
واعجبا کل العجب ایطعنون علی ابی طالب او علی رسول اللّٰه (صلّی اللّٰه علیه وآله وسلّم) وقد نهاه اللّٰه ان تقر مومنة مع کافر غیر آیة من القرآن ولا یشک احد ان فاطمة بنت اسد (رضی اللّٰه تعالیٰ عنها) من المومنات الساباقت فانها لم تزل تحت ابی طالب حتی مات ابو طالب رضی اللّٰه عنه “
”یعنی تعجب کی بات ہے کہ بعض لوگ یہ کیوں خیال کرتے ہین کہ ابوطالب کافر تھے، کیا وہ نہیں جانتے کہ وہ کس عقیدہ کے ساتھ پیغمبر اور ابوطالب پر طعن کرتے ہیں ، کیا ایسا نہیں ہے کہ قرآن کی کئی آیا ت میں اس بات سے منع کیا گیا ہے (اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ) مومن عورت ایمان لانے کے بعد کافر کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور یہ بات مسلم ہے کہ فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا سابق ایمان لانے والوں میں سے ہیں اور وہ ابوطالب کی زوجیت میں ابو طالب کی وفات تک رہیں “(۷)
۶ ۔ان تما باتوں کو چھوڑتے ہوئے اگر ہر چیز میں ہی شک کریں تو کم از کم اس حقیقت میں تو کوئی شک نہیں کرسکتا کہ ابوطالب اسلام اور پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے درجہ اول کے حامی ومددگار تھے، ان کی اسلام اور پیغمبر کی حمایت اس درجہ تک پہنچی ہوئی تھی کہ جسے کسی طرح بھی رشتہ داری اور قبائلی تعصبات سے نتھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کا زندہ نمونہ شعب ابوطالب (علیه السلام) کی داستان ہے، تمام مورخین نے لکھا ہے کہ جب قریش نے پیغمبر اکرم اور مسلمانوں کا ایک شدید اقتصادی ،سماجی اور سیاسی بائیکاٹ کرلیا اور اپنے ہر قسم کے روابط ان سے منقطع کرلیے تو آنحضرت کے واحد حامی اور مدافع ابوطالب (علیه السلام) اپنے تمام کاموں سے ہاتھ کھینچ لیا اور برابر تین سال تک ہاتھ کھینچے رکھا اور بنی ہاشم کو ایک درے کی طرف لے گئے جو مکہ کے پہاڑوں کے درمیان تھا اور شعب ابوطالب (علیه السلام) کے نام سے مشہور تھا اور وہاں پر سکونت اختیار کرلی، ان کی فداکاری اس مقام تک جا پہنچی کہ قریش کے حملوں سے بچانے کے لئے کئی ایک مخصوص قسم کے برج تعمیر کرنے کے علاوہ ہر رات پیغمبر اکرم کو ان کے بستر سے اٹھاتے اور دوسری جگہ ان کے آرام کے لئے مہیا کرتے اور اپنے فرزنددلبند علی (علیه السلام) کو ان کی جگہ پر سلادیتے اور جب حضرت علی (علیه السلام) کہتے ، بابا جان ! میں تو اس حالت میں قتل ہوجاؤں گا تو ابوطالب (علیه السلام) جواب میں کہتے: میرے پیارے بچے بردباری اور صبر ہاتھ سے نہ چھوڑو ، ہر زندہ موت کی طرف رواں دواں ہے، میں نے تجھے فرزند عبداللہ (علیه السلام) کا فدیہ قرار دے دیا ہے، یہ بات اور بھی طالب توجہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام باپ کے جواب میں کہتے ہیں کہ بابا جان !میرا یہ کلام اس بنا پر نہیں تھا کہ میں راہ محمد میں قتل ہونے سے ڈرتا ہوں ، بلکہ میرا یہ کلام اس بنا پر تھا کہ میں یہ چاہتا تھا کہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ میں کس طرح سے آپ کا اطاعت گذار اور احمد مجتبیٰ کی نصرت کے و مدد کے لئے آمادہ وتیار ہوں ۔(۸)
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی تعصب کو ایک طرف رکھ کر غیر جانبداری کے ساتھ ابوطالب(علیه السلام) کے بارے میں تاریخ کی سنہری سطروں کو پڑھے
گا تو وہ ابن ابی الحدید شارح نہج البلاغہ کا ہمصدا ہوکر کہے گا:
ولولا ابوطالب وابناه لما مثل الدین شخصا وقاما
فذاک بمکة آوی وحامی وهذا بیثرب جس الحماما(۹)
”اگر اابو طالب اور ان کا بیٹا نہ ہوتے تو ہرگز دین ومکتب اسلام باقی نہ رہتا اور اپنا قد سیدھا نہ کرتا ۔
ابوطالب تو مکہ میں پیغمبر کی مدد کے لئے آگے بڑھے اور علی (علیه السلام) یثرب(مدینہ)میں حمایت اسلام کی راہ گرداب موت میں ڈوب گئے“۔
____________________
۱-تلخیص از سیرہ ابن ہشام جلد ۱، صفحہ ۱۹۱،اور سیرہ حلبی، جلد اول، صفحہ ۱۳۱، اور دیگر کتب۔
۲۔ الغدیر جلد ہفتم،صفحہ ۳۴۶۔
۳۔و۴۔ خزانة الادب، تاریخ ابن کثیر، شرح ابن ابی الحدید، فتح باری، بلوغ الادب، تاریخ ابوالفدا، سیرة نبوی و----(یہ حوالہ جات الغدیر جلد ۸ کے مطابق درج کئے گئے ہیں ) ۔
۵۔ ”شیخ الاباطح“ بنقل از ابوطالب مومن قریش۔
۶۔طبری : مطابق نقل ابوطالب مومن قریش۔
۷۔کتاب الحجہ، درجات الرفیعہ بنقل از الغدیر،جلد ۸۔ ۸۔ الغدیر،جلد ۸۔
۹-الغدیر، جلد ۸۔
آیات ۲۷،۲۸
۲۷( وَلَوْ تَرَی إِذْ وُقِفُوا عَلَی النَّارِ فَقَالُوا یَالَیْتَنَا نُرَدُّ وَلاَنُکَذِّبَ بِآیَاتِ رَبِّنَا وَنَکُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ ) ۔
۲۸۔( بَلْ بَدَا لَهُمْ مَا کَانُوا یُخْفُونَ مِنْ قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَکَاذِبُونَ ) ۔
ترجمہ:
۲۷ ۔اگر تم (ان کی حالت) دیکھو جس وقت وہ آگ کے سامنے کھڑے ہوئے کہتے ہیں کہ کاش ہم (دوبارہ دنیا کی طرف )پلٹ جاتے اور اپنے پرور دگار کی باتوں کی تکذیب نہ کرتے اور مومنین میں سے ہوجاتے ۔
۲۸ ۔ (وہ واقع میں پشیمان نہیں ہیں )بلکہ ان کے وہ اعمال ونیات جنھیں وہ پہلے چھپائے ہوئے تھے ان کے سامنے آشکار ہوں گے (اور وہ وحشت میں پڑ گئے ہیں ) اور اگر وہ پلٹ جائےں تو وہ پھر انھیں اعمال کی طرف پلٹ جائیں گے جن سے انھیں روکا گیا ہے ،اور وہ یقینا جھوٹے ہیں ۔
وقتی اور بے اثر بیداری
گذشتہ دو آیات میں مشرکین کی ہٹ دھرمی کے کچھ اعمال کی طرف اشارہ ہوا تھا اور وہ ان دو آیات میں ان کے اعمال کے نتائج کا منظر مجسم ہوا ہے تاکہ وہ دیکھ لیں کہ انھیں کیسا برا انجام درپیش ہے اور وہ بیدار ہوجائےں یا کم از ک ان کی کیفیت دوسروں کے لئے باعث عبرت۔
پہلے فرمایا گیاہے: اگر تم ان کی حالت جب وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ کے سامنے کھڑے ہوں گے، دیکھو، تو تم تصدیق کرو گے کہ وہ کس دردناک انجام وعاقبت میں گرفتار ہوئے ہیں( وَلَوْ تَرَی إِذْ وُقِفُوا عَلَی النَّارِ ) (۱) ۔
وہ اس حالت سے اس طرح منقلب ہوں گے کہ دادوفریاد کریں گے کاش اس سرنوشت شوم سے نجات اور برے کاموں کی تلافی کے لئے دوبارہ دنیا میں پلٹ جاتے، اور وہاں آیات خدا کی تکذیب نہ کرتے اور مومنین کی صف میں قرار پاتے( فَقَالُوا یَالَیْتَنَا نُرَدُّ وَلاَنُکَذِّبَ بِآیَاتِ رَبِّنَا وَنَکُونَ مِنْ الْمُؤْمِنِینَ ) (۲)
بعد والی آیت میں کہا گیا ہے کہ یہ جھوٹی آرزو ہے بلکہ یہ اس بنا پر ہے کہ اس دنیا میں جو عقائد ،نیتیں اور اعمال انھوں نے چھپا رکھے تھے وہ سب ان کے سامنے آشکار ہوگئے ہیں اور وہ وقتی طور پر بیدار ہوئے ہیں ( بَلْ بَدَا لھُمْ مَا کَانُوا یُخْفُونَ مِنْ قَبْل) ۔
لیکن یہ پائیدار اور محکم اور بیداری نہیں ہے، اور مخصوص حالات میں پیدا ہوئی ہے لہٰذا اگر بغرض محال وہ دوبارہ اس جہاں می پلٹ بھی جائیں تو انھیں کاموں کے پیچھے لپکے گے جن سے انھیں روکا گیا ہے( وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ ) ۔
اس بنا پر وہ اپنی آرزو اورمدعا میں سچے نہیں ہیں اور وہ جھوٹ بولتے ہیں( وَإِنَّهُمْ لَکَاذِبُونَ ) ۔
____________________
۱۔اس بنا پر ”لو“ بمعنی شرط ہے اور اس کی جزاو وضاحت کی وجہ سے محذوف ہے ۔
۲۔اہم نکتہ کہ جس کی طرف توجہ کرنا چاہئے کہ ”مشہور قرائت کے مطابق جو دسترس میں ہے“ ”نرد“ رفع کے ساتھ اور ”لانکذب“ اور ”نکون“ نصب کے ساتھ پڑھا گیا ہے، حالانکہ ظاہرا ایک دوسرے پر معطوف ہیں لہٰذا تمام کو ایک جیسا ہونا چاہےے، اس کی بہترین توجیہ یہ ہے کہ ”نرد“ جزاء تمنی ہے اور ”لانکذب“ حقیقت میں اس کا جواب ہے اور ”واو “ یہاں منزلہ ”فاء “ کے ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ تمنی کا جواب جب ”فاء“ کے بعد ہو تو منصب ہوتا ہے، فخرالدین رازی،مرحوم طبرسی، اور ابوالفتوح رازی جیسے مفسرین نے اس کی اور وجوہ بھی ذکر کی ہیں ، لیکن جو کچھ یہاں بیان کیا گیا ہے وہ سب سے زیادہ واضح ہے اس بنا پر آیت سورہ ”زمر“ کی آیہ ۵۸ کے مثابہ ہے جو ااس طرح ہے: لو ان لی کرة فاکون من المحسنین“۔
چند اہم نکات
۱ ۔ ”بدالهم “(ان کے لئے آشکار ہوا) سے ظاہرا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ حقائق کے ایک سلسلہ کو نہ صرف لوگوں سے بلکہ خود اپنے آپ سے بھی مخفی رکھتے تھے جو قیامت کے دن ان پر آشکار ہوجائیں گے اور یہ مقام تعجب نہیں ہے کہ انسان کسی حقیقت کو خود اپنے آپ تک سے بھی مخفی رکھے اور اپنے وجدان اور فطرت پر پردہ ڈال دے تاکہ وہ جھوٹا اطمینان حاصل کرے ۔
وجدان کو فریب دینے کا مسئلہ اور حقائق کو اپنے آپ سے چھپانا اہم مسائل میں سے ہے کہ جس پر وجدان کی فعالیت سے مربوط بحثوں میں خصوصی غور وفکر کیا گیا ہے، مثلا ہم بہت سے ہوس پرست افراد کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے ہوس آلود اعمال کے شدید نقصان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن اس سبب سے کہ راحت کے خیال سے اپنے اعمال کو جاری رکھیں یہ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اس آگاہی کو اپنے اندر ہی چھپائیں رکھیں ۔
لیکن بہت سے مفسرین نے لفظ ”لہم“ کی تعبیر کی طرف کےے بغیر آیت کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ وہ ایسے اعمال پر منطبق ہو کہ جنھیں وہ لوگوں سے مخفی رکھتے تھے (غور کیجیے) ۔
۲ ۔ ممکن ہے کہا جائے کہ آرزو کرنا کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس میں جھوٹ یا سچ ہو اور وہ اصطلاح میں ”انشاء“ کی ایک قسم اور ”انشاء“ میں جھوٹ یا سچ کا وجود ہی نہیں ہوتا لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کیوں کہ بہت سے”انشاء “ ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ کسی خبر کا مفہوم بھی موجود ہوتا ہے، جن میں صدق یا کذب کی گنجائش ہوتی ہے مثلا بعض اوقات پر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میری تمنا یہ ہے کہ خدا مجھے بہت سا مال دے تو میں تمھاری مدد کروں ، یہ ایک آرزو ہے ، لیکن اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر خدا مجھے ایسا مال دیدے تو مجھے میں تمھاری مدد کروں گا اور یہ ایک خبری مفہوم ہے، جو ہوسکتا ہے جھوٹا ہو، لہٰذا مد مقابل جو اس کی بخل اور تنگ نظری سے آگاہ ہے کہتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اگر خدا تجھے دے بھی دے تو پھر بھی تو ہرگزایسا نہیں کرے گا(ایسی صورت بہت سے انشائی جملوں میں نظر آتی ہے) ۔
۳ ۔ یہ جو ہم آیت میں پڑھتے ہیں کہ اگر وہ دنیا کی طرف پلٹ جائیں تو دوبارہ وہی کام کرنے لگے گے، یہ اس بنا پر ہے کہ بہت سے لوگ جس وقت اپنی آنکھ سے اپنے اعمال کے نتائج دیکھتے ہیں ،یعنی مرحلہ شھود کو پہنچ جاتے ہیں تو وہ وقتی طور پر پریشان اور پشیمان ہوکر یہ آرزو کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنے اعمال کی تلافی کرسیکں ، لیکن یہ ندامت اور پشیمانیاں جو اسی حال شھود اور اعمال کا نتیجہ دیکھنے سے مربوط ہے، ناپائیدارہوتی ہے جو تما لوگوں میں عینی سزاؤں کا سامنا کرتے وقت پیدا ہوتی رہتی ہے لیکن جب مشاہدات عینی برطرف ہوجاتے ہیں تو یہ خاصیت بھی زائل ہوجاتی ہے اور سابقہ کیفیت پلٹ آتی ہے ۔
انھیں بت پرستوں کی طرح کہ جو سمندر کے سخت طوفانوں میں گرفتارہونے پر اور خود کو موت اور فنا کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھ کر خدا کے سوا تمام چیزیں بھوکل جاتے ہیں لیکن جو نہی طوفان رکتا ہے اور وہ امن وامان کے مسائل تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر تمام چیزیں اپنی جگہ پلٹ آتی ہیں(۱) ۔
۴ ۔ اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ مذکورہ بالا حالات بت پرستوں کی ایک خاص جماعت کے ساتھ مخصوص ہے کہ جن کی طرف گذشتہ آیات میں اشارہ ہو چکا ہے، یہ نہیں کہ سب بت پرست ایسے تھے، لہٰذا پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم اس بات پر مامور تھے کہ باقی تمام کو پند ونصیحت کریں ، انھیں بیدار کریں اور ہدایت کریں ۔
____________________
۱۔ یونس، ۲۲-
آیات ۲۹،۳۰،۳۱،۳۲
۲۹( وَقَالُوا إِنْ هِیَ إِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِینَ ) ۔
۳۰( وَلَوْ تَرَی إِذْ وُقِفُوا عَلَی رَبِّهِمْ قَالَ اٴَلَیْسَ هَذَا بِالْحَقِّ قَالُوا بَلَی وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْفُرُونَ ) ۔
۳۱( قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللّٰهِ حَتَّی إِذَا جَائَتْهُمْ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا یَاحَسْرَتَنَا عَلَی مَا فَرَّطْنَا فِیهَا وَهُمْ یَحْمِلُونَ اٴَوْزَارَهُمْ عَلَی ظُهُورِهِمْ اٴَلاَسَاءَ مَا یَزِرُونَ ) ۔
۳۲( وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَیْرٌ لِلَّذِینَ یَتَّقُونَ اٴَفَلاَتَعْقِلُونَ ) ۔
ترجمہ:
۲۹ ۔ انھوں نے کہا : اس دنیاوی زندگی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور ہم ہرگز دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے نہیں جائیں گے ۔
۳۰ ۔اگر تم انہیں اس وقت دیکھو جب وہ اپنے پروردگار (کی عدالت)کے سامنے کھڑے ہوں گے تو انھیں کہا جائے گا:کیا یہ حق نہیں ہے-؟تو وہ اس کے جواب میں کہیں گے:جی ہاں ،ہمارے پروردگار کی قسم(یہ حق ہے)،تو وہ کہے گا:جس بات کا تم انکار کیا کرتے تھے اس کی سزا میں اب عذاب کا مزہ چکھو ۔
۳۱ ۔جنھوں نے لقائے پروردگار کا انکار کیامسلمہ طور پر انہوں نے نقصان اٹھایا(اور یہ انکار ہمیشہ رہے گا)یہاں تک کہ قیامت آجائے گی تو وہ کہیں گے ہائے افسوس کہ ہم نے اس کے بارے میں کوتاہی کی،وہ اپنے گناہوں کا(بھاری بوجھ)اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوں گے اور کیسا برُا بوجھ ہے جو انھوں نے اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہوگا ۔
۳۲ ۔ اور دنیاوی زندگی سوائے کھیل کود کے اور کچھ نہیں ہے اور آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو پرہیزگار ہیں ،کیا تم سوچتے نہیں ہو ۔
تجھ سے پہلے پیغمبروں کی بھی تکذیب کی گئی ہے مگر
پہلی آیت کی تفسیرمیں دو احتمال ہیں ،ایک احتمال تو یہ ہے کہ یہ ہٹ دھرم اور سخت قسم کے مشرکین کی گفتگو کے بعد ہونے والی حالت کی نشاندہی ہے جو قیامت کا منظر دیکھ کر یہ آرزو کریں گے کہ دوبارہ دنیا کی طرف پلٹ جائیں اور تلافی کریں ، لیکن قرآن کہتا ہے کہ اگر یہ لوگ پلٹ بھی جائیں تو نہ صرف یہ کہ تلافی کی فکر نہیں کریں گے اور اپنے کاموں کو جاری رکھیں گے بلکہ اصلا دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جانے اور قیامت ہی کا انکار کردیں گے اور بڑے تعجب کے ساتھ کہیں گے تو زندگی تو صرف یہ دنیاوی زندگی ہی ہے اور اب ہم کبھی دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے نہیں جائیں گئے( وَقَالُوا إِنْ هِیَ إِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِینَ ) (۱)
دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ آیت مشرکین کے ایک ایسے گروہ کے بارے میں جو معاد کا بالکل ہی انکار کرتے تھے اور یہ ایک جدا بحث بیان کر رہی ہے کیوں کہ مشرکین عرب میں ایک ایسی جماعت بھی تھی جو معادکا عقیدہ نہیں رکھتی تھی جب کہ بعض ایسے لوگ بھی تھے جو کسی نہ کسی طرح معاد پر ایمان رکھتے تھے ۔
بعد کی آیت میں قیامت کے دن ان کے انجام کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے قرآن یوں کہتا ہے: اگر تم اس وقت انھیں دیکھو کہ جب وہ اپنے پرور دگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا کیا یہ حق نہیں ہے( وَلَوْ تَرَی إِذْ وُقِفُوا عَلَی رَبِّهِمْ قَالَ اٴَلَیْسَ هَذَا بِالْحَقِّ ) تو وہ جواب میں کہیں گے: جی ہاں ! ہمارے پروردگار کی قسم یہ حق ہے( قَالُوا بَلَی وَرَبِّنَا ) ۔
دوبارہ ان سے کہا جائے گا: پس تم عذاب اور سزا کا مزہ چکھو، کیوں کہ تم اس کا انکار کیا کرتے تھے اور کفر کرتے تھے( قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْفُرُونَ ) ۔
مسلمہ طور پر(پرور دگار کے سامنے کھڑے ہونا ) یہ نہیں ہے کہ خدا کوئی مکان رکھتا ہو بلکہ یہ اس کی سزا کے سامنے کھڑے ہونے کے معنی میں ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے یا یہ عدالت الٰہی میں حاضر ہونے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ نماز کے وقت انسان یہ کہتا ہے کہ میں خدا کے سامنے کھڑا ہوں ۔
بعد والی آیت میں معاد وقیامت کا انکار کرنے والوں کے نقصان اور گھاٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ لوگ جنھوں نے پرور دگار کی ملاقات کا انکار کیا ہے مسلمہ طور پر نقصان میں گرفتار ہے( قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللّٰهِ ) ۔
جیسا کہ پہلے اشارتا بیان کیا جاچکا ہے پروردگار کی ملاقات سے مراد یاتو ملاقات معنوی اور ایمان شہودی(شہود باطنی)یا میدان قیامت اور اس کی جزا وسزا کے مناظر سے ملاقات ہے ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ انکار ہمیشہ کے لئے جاری نہیں رہے گا اور یہ صرف اس وقت تک ہوگا جب اچانک قیامت پربا ہوجائے اور وہ وحشتناک مناظر کا سامنا کریں اور اپنے اعمال کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں ، اس موقع پر ان کی فریاد بلند ہوگی : ہائے افسوس! ہم نے ایسے دن کے لئے کس قدرکوتاہی کی تھی( حَتَّی إِذَا جَائَتْهُمْ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوا یَاحَسْرَتَنَا عَلَی مَا فَرَّطْنَا فِیهَا ) ” ساعة“ سے مراد ہے قیامت کا دن، اور ”بغتة “ کا معنی ہے بطور ناگہانی اور اچانک کہ جس کے وقت کو خدا کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا، واقع ہوجائی گی اور قیامت کے دن کے لئے اس نام”ساعة“ کے انتخاب کا سبب یا تو یہ ہے کہ اس گھڑی لوگوں کا حساب بڑی تیزی کے ساتھ انجام پائے گا اور یا یہ اس کے ناگہانی طور پر وقوع پذیر ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ لوگ عالم برزخ سے عالم قیامت کی طرف منتقل ہوجائیں گے ۔
”حسرت“ کا معنی ”کسی چیز پر افسوس کرنا“ ہے لیکن عرب جب زیادہ متاثر ہوتو خود حسرت کو مخاطب کرکے کہتے ہیں ”یا حسرتنا“ گویا حسرت کی شدت و سختی اس قدر ہے جیسے وہ ایک موجود چیز کی شکل ہے میں اس کے سامنے مجسم کھڑی ہے ۔
اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ وہ گناہوں کا بوجھ اپنے دوش پر لئے ہیں( وَهُمْ یَحْمِلُونَ اٴَوْزَارَهُمْ عَلَی ظُهُورِهِمْ ) ۔
”اوزار “ جمع ہے ”وزر“ کی جس کا معنی ہے سنگین بوجھ ، اور یہاں اس سے مراد گناہ ہے اور یہ آیت تجسم اعمال کی ایک دلیل بن سکتی ہے کیوں کہ فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ذمہ داری اور جوابدہی کے بارکی سنگینی مراد ہو، کیوں کہ ذمہ داریوں کو ہمیشہ بھاری بوجھ سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔
اور آیت کے آخر میں فرمایا ہے کیسا برا بوجھ وہ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوں گے( اٴَلاَسَاءَ مَا یَزِرُونَ ) ۔
مندرجہ بالا آیت میں منکرین معاد کے خسارہ اور نقصان کی کچھ باتیں بیان ہوئی ہیں اس بات کی دلیل واضح ہے کہ ان کے معاد پر ایمان رکھنا علاوہ اس کے کہ انسان کو ہمیشہ کی سعادت بخش زندگی کے لئے آمادہ کرتا ہے او ر اسے کمالات علمی وعملی کی تحصیل کی دعوت دیتا ہے، آلودگیوں اور گناہوں کے مقابلے میں انسان کو کنٹرول کرنے میں بھی گہرا اثر رکھتا ہے، ہم معاد سے مربوط مباحثہ میں انشاء اللہ انفرادی واجتماعی نظر سے اس کی اصلاحی اثر کا وضاحت سے بیان کریں گے ۔
اس کے بعد آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیاوی زندگی کی حیثیت بیان کرنے کے لئے یوں ارشاد ہوتا ہے:دنیاوی زندگی سوائے کھیل کود کے اور کچھ نہیں( وَمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَعِبٌ وَلَهْو ) ۔
اس بنا پر وہ لوگ جنھوں نے صرف دنیا سے دل باندھا ہوا ہے اور اس کے علاوہ اور کسی چیز کے نہ وہ خواہش مند ہی اور نہ ہی طلبگار ہیں درحقیقت یہ ایسے ہوس باز بچے ہیں کہ جنھوں نے عمر کا ایک حصہ کھیل کود میں گذار دیا ہے اور ہر چیزسے بے خبر رہے ہیں ۔
دنیاوی زندگی کو لہو ولعب سے تشبیہ اس وجہ سے دی گئی ہے کیوں کہ عام طور پر کھیل کود کے کام اندر سے خالی اور بے بنیاد ہوتے ہیں ، جو حقیقی زندگی کے تن سے دور ہیں ، نہ تو وہ شکست کھتاتے ہیں ،جنھون نے فی الحقیقت شکست کھائی ہے اور نہ ہی وہ چکست یافتہ ہوتے ہیں جنھوں نے بازی کو جیت لیا ہے کیوں کہ کھیل کے ختم ہونے پر ہر چیز اپنی جگہ لوٹ جاتے ہے ۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچے ایک دوسرے کے گرد بیٹھ جاتے ہیں اور کھیل شروع کردیتے ہیں ایک کو”امیر“ اور دوسرے کو”وزیر“ ایک کو ”چور“ اور ایک کو”قافلہ“ بناتے ہیں ، لیکن تھوڑی سی دیر نہیں گزرتی کہ نہ کوئی امیر رہتا ہے نہ وزیر، نہ چور رہتا اور نہ قافلہ۔
یا نمائش جو کھیل کود کے طور پر انجام پاتی ہے ان میں جنگ، عشق یا دشمنی کے مناظر مجسم ہوتے ہیں لیکن گھڑی بھر کے بعد کسی چیز کا کوئی پتہ نہیں ہوتا ۔
دنیا ایک ڈرامے کی طرح ہی ہے کہ جس کے کردار، اس دنیا کے لوگ ہیں اور کبھی یہ بچکانہ کھیل ہمارے عقلمندوں اور فہمیدہ لوگوں تک کوبھی اپنے میں مشغول رکھتا ہے لیکن بہت جلد ی کھیل اور ڈرامہ ختم ہونے کا اعلان ہوجاتا ہے ۔
”لعب “ (بروزن لزج)اصل میں مادہ لعاب (غبار) لعاب دہن اور رالوں کے معنی میں ہے جو لبوں سے گرتی ہیں اور یہ جو کھیل کو لعب کہتے ہیں اس بنا پر کہ وہ بھی منہ سے رال کے گرنے کی طرح ہے، جو بغیر کسی مقصد انجام پاتا ہے ۔
اس کے بعد آخرت کی زندگی کا اس سے موازنہ کرتے ہوئے فرمایا گیا: آخرت کا گھر متقی لوگوں کے لئے بہتر ہے، کیا تم فکر نہیں کرتے اور عقل سے کام نہیں لیتے ہو( وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَیْرٌ لِلَّذِینَ یَتَّقُونَ اٴَفَلاَتَعْقِلُونَ ) ۔
کیوں کہ وہ فنا نہ ہونے والی اور ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ہے ، جس کا جہاں بہت وسیع ہے، اور جس کی سطح بہت ہی اونچی ہے، وہ ایک ایسے عالم میں ہے جس کا تعلق حقیقت کے ساتھ ہے نہ کہ مجاز کے ساتھ، وہ ایک واقعیت ہے خیال نہیں ہے، وہ ایک اسیا جہان ہے جس کی نعمتیں درد ورنج کے ساتھ ملی ہوئی نہیں ہے اور سراسر خالی نعمتیں ہی نعمتیں ہے جن میں دکھ تکلیف نہیں ہے ۔
چونکہ ان واقعات کو صحیح طور پر سمجھنا، دنیا کے فریب دینے والے مظاہر کو پیش نظر رکھتے ہوئے، غور وفکر کرنے والے لوگوں کے سوا دوسروں کے لئے ممکن نہیں ہے لہٰذا آیت کے آخر میں روئے سخن ایسے ہی افراد کی طرف ہے ۔
ایک حدیث میں جو ہشام بن حکم کے واسطے سے امام موسی کاظم علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے آپ نے یوں فرمایا ہے:
اے ہشام! خدا نے عقلمند لوگوں کو نصیحت کی ہے اور آخرت کے لئے تعلق رکھنے والا بنایا ہے ، اور کہا ہے کہ دنیاوی زندگی سوائے کھیل کود کے اور کچھ نہیں ہے اور دار آخرت متقی اور پرہیزگار لوگوں کے لئے بہتر ہے، کیا تم اپنی عقل اور فکر کو کام میں نہیں لاتے ہو ۔
شاید یہ بات ذکر کرنے کی ضرورت نہ ہو کہ ان آیات کا ہدف اور اصل مقصد مادی دنیا کے مظاہر کے ساتھ دل لگانے اور وابستگی اختیار کرنے اور اس کے آخری مقصد کو بھلا دینے کے خلاف جہاد ہے، ورنہ وہ لوگ جنھوں نے دنیا کوحصول سعادت کا وسیلہ قرار دیا ہے وہ حقیقت میں آخرت کے متلاشی ہیں نہ کہ دنیا کے ۔
____________________
۱۔ اس احتمال کے مطابق ”وقالوا“عطف ہے ”عادوا“ اور اس احتمال کو تفسیر” المنار “کے مولف نے اختیار کیا ہے ۔
۱۔ نور الثقلین،جلد ۱،صفحہ ۷۱۱-
آیات ۳۳،۳۴
۳۳( قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَیَحْزُنُکَ الَّذِی یَقُولُونَ فَإِنَّهُمْ لاَیُکَذِّبُونَکَ وَلَکِنَّ الظَّالِمِینَ بِآیَاتِ اللّٰهِ یَجْحَدُونَ ) ۔
۳۴( وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوا عَلَی مَا کُذِّبُوا وَاٴُوذُوا حَتَّی اٴَتَاهُمْ نَصْرُنَا وَلاَمُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰهِ وَلَقَدْ جَائَکَ مِنْ نَبَإِ الْمُرْسَلِینَ ) ۔
ترجمہ:
۳۳ ۔ہم جانتے ہیں کہ تجھے ان لوگوں کی گفتگو غمگین کردیتی ہے (مگر تم غم نہ کھاؤ اور جان لو) کہ وہ تمھاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ وہ ظالم تو آیات خدا کا انکار کرتے ہیں ۔
۳۴ ۔تجھ سے پہلے پیغمبروں کی بھی تکذیب کی گئی ہے مگر انھوں نے ان تکذیبو ں کے مقابلہ میں صبر کیا ہے او استقامت سے کام لیا ہے اور (اس راہ میں ) انھوں نے رنج وتکلیف اٹھائی ، یہاں تک کہ ہماری مدد ان تک آن پہنچی (تم بھی اسی طرح رہو اور یہ اللہ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے) اور کوئی چیز اللہ کی سنتوں بدل نہیں سکتی اور تمھیں گذشتہ پیغمبروں کی خبریں تو پہنچ ہی گئی ہیں ۔
مصلحین کے راستے میں ہمیشہ مشکلات رہی ہیں
اس میں شک نہی ہے کہ پیغمبر اپنی منطقی گفتگو اور فکری مبارزات میں جو وہ ہٹ دھرم اور سخت مشرکین کے ساتھ رہتے تھے بعض اوقات ان کی ہٹ دھرمی سے اور اپنی باتوں سے ان کی روح میں اثر نہ ہونے سے اور بعض اوقات ان کی ان غیر مناسب نسبتوں سے وہ جو حضرت کی طرف دیتے تھے غمگین اور اندوہناک ہوجاتے تھے، خدا وند تعالیٰ بارہا قرآن مجید میں اپنے پیغمبر کو ایسے موقع پر تسلی اور دلاسا دیا کرتا تھا تاکہ آنحضرت زیادہ گرمجوشی اور صبر واستقامت کے ساتھ اپنے پروگرام میں مشغول رہیں ، انھیں میں سے مندرجہ بالا ٓیات بھی ہیں ، پہلی آیت میں فرماتا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں تجھے محزون ومغموم کردیتی ہیں( قَدْ نَعْلَمُ إِنَّهُ لَیَحْزُنُکَ الّذِی یَقُولُونَ ) ۔
لیکن تمھیں معلوم ہونا چاہےے کہ وہ تمھاری تکذیب نہیں کرتے وہ تو درحقیقت ہماری آیات کا انکار کرتے ہیں ، لہٰذا ان کے اصل مخالف تو حقیقت میں ہم ہیں نہ کہ تم( فَإِنَّهُمْ لاَیُکَذِّبُونَکَ وَلَکِنَّ الظَّالِمِینَ بِآیَاتِ اللّٰهِ یَجْحَدُونَ ) ۔
اور اس بات کی نظیر ہمارے درمیان گفتگو میں بھی نظر آتی ہے جب کہ بعض اوقات بزرگ تر شخصیت اپنے نمائندہ کے ناراحت ہونے کے وقت اس سے کہتی ہے کہ تم کوئی غم نہ کرو یہ اصل میں تو انھوں نے میری مخالفت کی ہے، لہٰذا اگر کوئی مشکل پیدا ہوگی تو وہ میرے لئے ہوگی نہ کہ تمھارے لئے اور اس طرح سے وہ شخصیت اس کی تسلی وتشفی کے اسباب مہیا کرتی ہے ۔
زیر نظر آیت میں مفسرین نے کچھ احتمالات بھی پیش کئے ہیں ، لیکن ظاہر مفہوم وہی ہے جو ہم اوپر بیان کرچکے ہیں ۔
یہ احتمال بھی ایک جہت سے قابل ملاحظہ ہے کہ آیت سے مراد یہ ہے کہ :تیرے مخالفین حقیقت میں تو تیرے صدق ودرستی کے معتقد ہیں اور تیری دعوت کے حق ہونے میں شک نہیں رکھتے اگر چہ ان کے منافع خطرے میں پڑ جانے کا خوف ان کے لئے حق کو تسلیم کرنے میں مانع ہوجاتا ہے یا تعصب اور ہٹ دھر می اسے قبول کرنے کی اجازت نہیں دیتی ۔
تاریخ اسلامی سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے سخت ترین دشمن تک باطنا آپ کی صداقت اور راست بازی سے معتقد تھے، ان میں سے ایک یہ واقعہ ہے کہ ایک دن ابو جہل نے پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ملاقات کی اورآپ سے مصافحہ کیا ، تو کسی نے اس پر اعتراض کیا: تم اس شخص سے مصافحہ کیوں کررہے ہو ، اس نے کہا: خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ وہ پیغمبر ہیں لیکن کیا ہم کسی زمانے میں ”عبد مناف“ کے تابع اور پیرو رہے ہیں ! یعنی اس کی دعوت کو قبول کرنا اس بات کا سبب بن جائے گا کہ ہم ان کے قبیلہ کے تابع ہوجائےں (اور یہ بھی تاریخوں میں لکھا ہے کہ) ایک رات ابو جہل ، ابوسفیان اور اخنس بن شریق، جو مشرکین مکہ کے سردار اور رئیس تھے، میں سے باہر ہر ایک ایسے مخفی طریقے سے کہ کوئی شخص ان کی طرف متوجہ نہ ہو، یہاں تک یہ تینوں افراد بھی ایک دوسرے کی حالت سے باخبر نہیں تھے پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے ارشادات سننے کے لئے ایک گوشے میں چھپ کر بیٹھ گئے اور صبح تک آیت قرآن کی تلاوت سنتے رہے، جب صبح کی سفیدی نمودار ہوئی تو وہاں سے چلتے بنے لیکن لوٹتے وقت راستہ میں ایک دوسرے کا آمناسامنا ہوگیا تو ہر ایک اپنا عذر دوسرے سے بیان کرنے لگا، پھر انھوں نے عہد کیا کہ اب دوبارہ یہ کام نہیں کریں گے کیوں کہ اگر قریش کے جوانوں کو اس بات کی خبر ہوگئی تو یہ بات ان کے محمد کی طرف جھکاؤ کا سبب بن جائے گی۔
دوسر ی رات اس گمان سے کہ اس کے ساتھی اس رات نہیں آئے گے ہر ایک آیت قرآن سننے کی غرض سے پیغمبر کے گھر کے قریب یا مسلمانوں کے مجمع کے قریب آگیا لیکن صبح ہوتے ہیں پھر ان کا رازایک دوسرے پر فاش ہوگیا لیکن اتفاق کی بات ہے کہ یہ کام تیسری رات پھر دہرا یا گیا، جب صبح ہوئی تو اخنس بن شریق اپنا عصا لئے ہوئے ابو سفیان کی تلاش میں نکلا اور اس سے کہنے لگا: مجھے صاف ،صاف بتا کہ تمھارا ان باتوں کے بارے میں جو تم نے محمد سے سنی ہیں کیا عقیدہ ہے، تو وہ کہنے لگا :خدا کی قسم کچھ چیزیں تو میں نے ایسی سنی ہیں جنھیں میں نے اچھی طرح جان لیا ہے اور ان کا مقصود و مضمون اچھی طرح سمجھ لیا ہے لیکن کچھ ایسی آیات بھی سنی ہیں جن کا معنی ومقصد میری سمجھ میں نہیں آیا، اخنس نے کہا خدا کی قسم میں بھی یہی محسوس کرتا ہوں اس کے بعد وہ اٹھا اور ابو جہل کی تلاش میں گیا اور یہی سوال اس سے کیا کہ ان باتوں کے بارے میں جو تم نے محمد سے سنی ہیں تمھاری کیا رائے ہے اس نے کہاتو کیا سننا چاہتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم اور اولاد عبد مناف سرداری کے حصول میں ایک دوسرے کے رقیب ہیں انھوں نے لوگوں کو کھانا کھلایا تو ہم نے بھی اس غرض سے کہ کہیں پیچھے نہ رہ جائیں کھانا کھلایا،انھوں نے سواریاں بخشی تو ہم نے بھی سواریاں بخشی، انھوں نے اور دوسری عنایات کیں تو ہم نے بھی اور دوسری عنایات کیں تو اس طرح سے ہم ایک دوسرے کے دوش بدوش تھے، اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں پیغمبر ہے کہ جس پر آسمانی وحی نازل ہوتی ہے لیکن اب ہم اس امر میں ان کی رقابت کس طرح کرسکتے ہیں( واللّٰه لا نومن به ابدا ولانصدقه ) خدا کی قسم ہم کبھی بھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس کہ تصدیق کریں گے،اخنس کھڑا ہوگیا اور اس کی مجلس سے نکل گیا ۔
ایک اور روایت میں ہے کہ ایک دن”اخنس بن شریق“ کا ابو جہل سے آمنا سامنا ہویگا جب کہ وہاں پر اور کوئی دوسرا آدمی موجود نہیں تھا، تو اخنس نے اس سے کہا: سچ بتا محمد سچا ہے یا جھوٹا، قریش میں سے کوئی شخص سوا میرے وتیرے یہاں موجود نہیں ہے جو ہماری باتوں کو سنے ۔
ابو جہل نے کہا: وائے ہو تجھ پر خدا کی قسم ! وہ میرے عقیدے میں سچ کہتا ہے اور اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا لیکن اگر یہ اس بات کی بنا ہوجائے کہ محمد کا خاندان سب چیزوں کو اپنے قبضہ میں کرلے،حج کا پرچم، حاجیوں کو پانی پلانا، کعبہ کی پردہ داری اورمقام نبوت تو باقی قریش کے لئے کیا رہ جائے گا(۱) ۔
ان روایات اور انھیں جیسی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بہت سے سخت ترین دشمن باطنا آپ کی سچائی کے معترف تھے لیکن قبائلی رقابتیں اور اسی قسم کی دوسری باتیں انھیں اجازت نہیں دیتی تھیں یا وہ اس بات کی جرات نہیں رکھتے تھے کہ باقاعدہ ایمان لے آئیں ۔
البتہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس قسم کا باطنی اعتقاد جب تک روح تسلیم کے ساتھ نہ ملا ہو کسی قسم کا اثر نہیں رکھتا اور انسان کو سچے مومنین کے زمرہ میں قرار نہیں دیتا ۔
بعد والی آیات میں ، اس تسلی کی تکمیل کے لئے گذشتہ انبیاء کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:یہ امر صرف تیری ذات کے ساتھ ہی مختص نہیں ہے بلکہ تجھ سے پہلے جتنے رسول گذرے ہیں ان کی بھی اسی طرح سے تکذیب کی جاتی تھی( وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِکَ ) ۔
لیکن ان انبیاء نے ان تکذیبوں اور تکلیفوں کے مقابلہ میں پامردی او استقامت دکھائی یہاں تک کہ ہماری مدد ونصرت ان کو پہنچی اور آخرکار وہ کامیاب ہوئے
( فَصَبَرُوا عَلَی مَا کُذِّبُوا وَاٴُوذُوا حَتَّی اٴَتَاهُمْ نَصْرُنَا ) ۔
اور یہ ایک سنت الٰہی ہے کہ جسے کوئی چیز دیگرگوں نہیں کرسکتی( وَلاَمُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰهِ ) ۔
اس بنا پر تم بھی ان تکذیبوں اور آزاروں اور سخت اور ہٹ دھرم ودشمنوں کے حملوں کے مقابلے میں صبر واستقامت سے کام لو اور یہ جان لو کہ اسی سنت کے مطابق خدا وند تعالیٰ کی امداد اور پروردگار عالم کے بے انتہا الطاف تمھیں حاصل ہوں گے اور آخر کار تم بھی ان سب پر کامیابی حاصل کروگے اور وہ خبریں جو گذشتہ پیغمبروں کے حالات کی تجھ تک پہنچی ہیں کہ انھوں نے مخالفتوں اور شدائد کے مقابلے میں کس طرح صبر وتحمل کیا اور کامیاب ہوئے، وہ تمھارے لئے ایک واضح وروشن گواہ ہیں( وَلَقَدْ جَائَکَ مِنْ نَبَإِ الْمُرْسَلِینَ ) ۔
در حقیت اوپر والی آیت ایک بنیادی کلیہ کی طرف اشارہ کررہی ہے اور وہ کلیہ یہ ہے کہ ہمیشہ معاشرے کے صالح رہنما جو پست افکار اور معاشرے میں پھیلی ہوئی غلط رسموں اور خرافات کے مقابلے میں اصلاحی پروگرام پیش کرنے اور صحیح راہ دکھانے کے لئے قیام کرتے ہیں ، انھیں ایسے منافع خور اور دروغ گو لوگوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا تھا کہ جن کے منافع اس جدید دین ومذہب کی ترقی سے خطرے میں پڑ جاتے تھے ۔
وہ اپنے برےامقاصد کی پیش رفت کے لئے کسی بھی بات کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور تمام حربے مثلا تکذیب کا حربہ، تہمت کا حربہ، محاصرہ اجتماعی کا حربہ،تکلیفیں اور دکھ پہنچانے کا حربہ، قتل کرنے اور لوٹ ار کرنے کا حربہ غرضیکہ وہ ہر وسیلے کو کام میں لاتے تھے لیکن حقیقت اپنی اس جزب وکشش اور گہرائی کے ذریعہ جو اس کے اندر ہوتی ہے ۔سنت الٰہی کے مطابق ۔ آخر کار اپنا کام کرے گی اور راستے کے یہ تمام کانٹے ایک ایک کر کے سب ختم ہوجائیں گے ، لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ اس کامیابی کی بنیادی شرط بردباری، مقاومت، پامردی اور استقامت ہے ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ مدرجہ بالا آیت میں سنن کو ”کلمات اللّٰہ “ سے تعبیر کیا گیا ہے، کیوں کہ”کلم وکلام“ در اصل ایک ایسی تاثیر کے معنی میں ہے جو آنکھ یا کان سے محسوس ہوسکے ”کلم“ تاثیرات عینی کے معنی میں ہے اور ”کلام“ ان تاثیرا ت کو کہتے ہیں جو کانوں سے محسوس کئے جاتے ہیں ، اس کے بعد اس میں وسعت پیدا ہوگئی اور اب ”الفاظ“ کے علاوہ معانی پر بھی ”کلمہ“ بولا جانے لگا ہے، یہاں تک کہ ”عقیدہ“، ”مکتب“ اور ”روش وسنت“ پر بھی بولا جاتا ہے ۔
____________________
۱۔ مندرجہ بالا روایات تفسیر المنار اور مجمع البیان سے اس آیت کے ذیل میں بیان کردہ تفسیر سے لی گئی ہیں -
آیات ۳۵،۳۶
۳۵ و( إِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ اٴَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاٴَرْضِ اٴَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَاءِ فَتَاٴْتِیَهُمْ بِآیَةٍ وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَی الْهُدَی فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْجَاهِلِینَ ) ۔
۳۶( إِنَّمَا یَسْتَجِیبُ الَّذِینَ یَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَی یَبْعَثُهُمْ اللّٰهُ ثُمَّ إِلَیْهِ یُرْجَعُونَ ) ۔
ترجمہ:
۳۵ ۔ اور اگر تم پر ان کا اعراض(روگردانی) کرنا گراں ہے تو اگر تم سے ہوسکے تو نقب لگا لو یا آسمان میں سیڑھی لگا لو( اور زمین و آسمان کی گہرائیوں میں جستجو کرو) تاکہ کوئی آیت(یا دوسری کوئی اور نشانی ) ان کے لئے لا سکو( لیکن یہ جان لو کہ یہ ہٹ دھرم پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے)لیکن اگر خدا چاہے تو انھیں (جبرا) ہدایت پر جمع کرسکتا ہے( لیکن جبری ہدایت کا کیا فائدہ ہے) پس تم ہرگز جاہلوں میں سے نہ ہونا ۔
۳۶ ۔صرف وہ لوگ (تیری دعوت) قبول کرتے ہیں جو سننے والے کان رکھتے ہیں ،لیکن مردے (اور وہ لوگ جو روح انسانی ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں ایمان نہیں لائیں گے اور ) خدا انھیں (قیامت کے دن) مبعوث کرے گا وہ اس کی طرف پلٹ جائیں گے ۔
زندہ نما مردے
یہ دونوں آیات ان آیات کا بقیہ ہیں جو پیغمبر کو تسلی کے سلسلے میں گذشتہ آیات میں گزرچکی ہیں ، چونکہ فکر وروح پیغمبر مشرکین کی گمراہی اور ہٹ دھرمی سے زیادہ دکھی اور پریشان تھی اور آپ چاہتے تھے کہ جیسے بھی ہو سکے انھیں مومنین کی صف میں کھینچ لائیں ، خدا فرماتا ہے: اگر ان کا اعراض گردانی تیرے لئے زیادہ سخت اور گراں ہے تو اگر تم سے ہو سکے تو زمین کو پھاڑ ڈالو اور اس میں نقب لگالو اور جستجو کرو، یا آسمان پر کوئی سیڑھی لگالو اور اطراف آسمان کی بھی جستجو کرو اور ان کے لئے کوئی اور آیت یا کوئی دوسری نشانی تلاش کرکے لاسکو تو لے آؤ لیکن یہ جان لو کہ وہ اس قدر ہٹ دھرم ہیں کہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے( وَإِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ إِعْرَاضُهُمْ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ اٴَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاٴَرْضِ اٴَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَاءِ فَتَاٴْتِیَهُمْ بِآیَةٍ ) (۱)
”نفق“ اصل میں نقب اور زمین کے نیچے کے راستوں کے معنی میں اور اگر منافق کو منافق کہاجاتا ہے تو وہ بھی اسی مناسبت کی وجہ ہے و کہ وہ ظاہری راہ وروشن کے علاوہ اپنے لئے ایک مخفی راہ وروش بھی رکھتا ہے اور ”سلم“ سیڑھی کے معنی میں ہے ۔
خدا وند عالم اس جملہ کے ذریعہ اپنے پیغمبر کو سمجھا رہا ہے کہ تمھاری تعلیمات ،دعوت اور سعی وکوشش میں کسی قسم کا نقص نہیں ہے بلکہ نقص وعیب ان کی طرف سے ہے انھوں نے یہ پختہ ارادہ کررکھا ہے کہ وہ حق کو قبول نہیں کریں گے ، لہٰذا کسی قسم کی کوئی کوشش ان پر اثر نہیں کرتی تو تن پریشان نہ ہوجاؤ۔
لیکن اس بنا پر کہ کسی کو یہ تو ہم نہ ہوجائے ہ خدا میں یہ قدرت نہیں ہے کہ وہ ان سے اپنی بات کو تسلیم کراسکے بلا فاصلہ فرما تا ہے : اگر خدا چاہے تو وہ ان سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا ہے، یعنی وہ تیری دعوت کے سامنے ان کا سرتسلیم کراکے انھیں حق اور ایمان کا اعتراف کرانے پر آمادہ کر سکتا ہے
( وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَی الْهُدَی ) ۔
لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس قسم کا جبری ایمان بے فائدہ ہے، انسان کی فطرت میں حصول کمال کے لئے اختیار اورآزادی ارادہ، ہی بنیاد ہوتے ہیں ، یہ آزادی ارادہ ہی ہے کہ جس کی وجہ سے مومن کی کافر سے ،نیک کی بد سے ، امانتدار کی خائن سے، سچ کی جھوٹے سے قیمت پہچانی جاتی ہے، ورنہ جبری ایمان وتقوی سے اچھے اور برے کے درمیان کسی قسم کا فرق باقی نہیں رہے گا اور یہ مفاہیم جبر کی صورت میں اپنی قدروقیمت بالکل کھو بیٹھتے ہیں ۔
اس کے بعدہے : یہ بات ہم نے تجھ سے اس لئے کہی ہے کہ کہیں تو جاہلوں میں سے نہ ہوجائے ، یعنی بیتاب نہ ہو، صبر واستقامت کو ہاتھ سے نہ دے اور ان کے کفر وشرک پر اتنا دکھی نہ ہو ،اور یہ جان لو کہ راستہ تو وہی ہے کہ جس پر تم چل رہے ہو( فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْجَاهِلِینَ ) ۔
اس میں شک نہیں ہے کہ پیغمبر ان حقائق کو خوب اچھی طرح جانتے تھے لیکن خدا وند تعالیٰ یاددہانی اور تسلی کے طور پر اپنے پیغمبر کے لئے ان الفاظ کو دہرارہا ہے ، اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کہ ہم کسی ایسے شخص کو جس کا بیٹا مرگیا ہو یوں کہتے ہیں کہ: غم نہ کھاؤ، دنیا فنا کی جگہ ہے، سبھی اسی دنیا سے رخصت ہوجائیں گے، اس کے علاوہ تم تو ابھی جوان ہو ، تمھاری اور بھی اولاد ہوجائے گی، لہٰذا زیادہ بیتاب نہ ہو ۔
مسلمہ طور پر دار دنیا کا فانی ہونا ، یا اس کا جوان ہونا کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو اس پر پوشیدہ ہو، یہ تمام باتیں اس سے صرف یاددہانی کے طور پر کہی جاتی ہے ۔
باوجود اس کے کہ اوپر والی آیت جبر کی نفی کرنے والی دلیلوں میں سے ایک دلیل ہے، بعض مفسرین جیسے فخرالدین رازی نے اسے مسلک جبر کی دلیلوں میں سے ایک دلیل سمجھا ہےاور وہ لفظ( ولو شاء ) کا سہارا لیتے ہوئے کہتا ہے: اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نہیں چاہتا ہے کہ کفار ایمان لائیں ۔
(حالانکہ وہ اس سے ) غافل ہیں کہ مشیت وارادہ اوپر والی آیت میں مشیت وارادہ اجباری ہے یعنی خدا یہ نہیں چاہتا کہ لوگ جبر سے اور زبردستی ایمان لائیں بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی رضا ورغبت اور اپنے ارادہ سے باخوشی ایمان لائیں ، اس بنا پر یہ آیت جبریوں کے عقیدہ کی نفی پر واضح گواہ ہے ۔
بعد والی آیت میں اس موضوع کی تکمیل اور پیغمبر کی مزید دلجوئی اور تسلی کے لئے کہتا ہے کہ جوط لوگ سننے والے کان رکھتے ہیں وہ تیری دعوت کو قبل کرتے ہیں او اس پر لبیک کہتے ہیں( إِنَّمَا یَسْتَجِیبُ الَّذِینَ یَسْمَعُونَ )
لیکن وہ لوگ جو عملا مردوں کی صف میں شامل ہیں وہ ایمان نہیں لاتے یہاں تک کہ وہ خدا انھیں قیامت کے دن اٹھائے اور وہ اس کی بارگاہ میں لوٹیں
( وَالْمَوْتَی یَبْعَثُهُمْ اللّٰهُ ثُمَّ إِلَیْهِ یُرْجَعُونَ ) (۲)
وہ ایسا دن ہے کہ قیامت کے مناظر دیکھ کر وہ ایمان لے آئیں گے لیکن ان کا اس وقت ایمان لانا انھیں کویہ فائدہ نہ دے گا کیوں کہ یہ عظیم منظر دیکھ کر جو لوگ ایامن لائیں گے ان کا یہ ایمان ایک قسم کا اضطرابی ایمان ہوگا ۔
شاید اس بات کی وضاحت کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہو ”موتی“ (مردے) سے مراد اوپو والی آیت میں جسمانی طور پر مردے نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد باطنی ومعنوی مردے ہیں کیوں کہ ہم دو قسم کی موت وحیات رکھتے ہیں ، ایک حیات وموت مادی اور دوسری موت وحیات معنوی ، اسی طرح شنوائی اور بینائی بھی دو قسم کی ہیں ایک مادی اور دوسری معنوی، اسی دلیل سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایسے اشخاص کے بارے میں کہ جو آنکھیں بھی رکھتے ہیں ،کان بھی رکھتے ہیں یا زندہ وسالم تو ہیں لیکن وہ حقائق کو نہیں سمجھتے، کہتے ہیں کہ وہ اندھے بہرے ہیں یا بالکل مردہ ہیں ، کیوں کہ جو ردعمل ایک بینا و شنوا یا ایک زندہ انسان سے ہونا چاہئےے وہ حقائق کے سامنے نہیں دکھاتے، قرآن مجید میں ایسی تعبےرات کثرت سے نظر آتی ہے اور ان میں ایک خاص کشش پائی جاتی ہے بلکہ قرآن حیات مادی اور ظاہری زندگی کو، جس کی نشانی صرف کھانا، سونا اور سانس لینا ہے، کچھ اہمیت نہیں وہ ہمیشہ حیات معنوی وانسانی پر جو ذمہ داری وجوابدہی اور احساس ودرد اور بیداری وآگاہی کے ساتھ ملی ہوئی ہو، انحصار کرتا ہے ۔
اس نکتہ کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ بینائی وشنوائی اور معنوی موت خود ان کی اپنی وجہ سے ہے، وہ خود ہی وہ لوگ ہیں کہ جو بار بار گناہ کرنے اور اس پر اصرار اور ہٹ دھرمی کرنے کے سبب سے اس مرحلہ تک پہنچ جاتے ہیں کیوں کہ بالکل اسی طرح سے ہے جیسا کہ اگر کوئی انسان ایک مدت تک اپنی آنکھ کو بند کئے رکھے تو وہ آہستہ آہستہ اپنی بینائی اور نظر کو گوا بیٹھے گا اور شاید ایک روز بالکل اندھا ہوجائے، جو اشخاص اپنے دل کی آنکھوں کو حقائق کی طرف سے بند کرلے تو وہ تدریجا اپنی معنوی بصارت کی قوت کوزائل کردے گا ۔
____________________
۱۔حقیقت میں ”ان استطعت “ کا جملہ شرطیہ ہے اور اس کی جزا محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہے”ان استطعت ---فافعل ولٰکِنَّهم لایومنون “۔
۲۔ ترکیب کی نظر سے ”الموتی“ مبتدا ہے اور ”یبعثهم اللّٰه “ اس کی خبر ہے اور یہ جو کہتا ہے کہ وہ مردوں کو مبعوث کرے گا اس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی قسم کی تبدیلی ان کے حالات میں پیدا نہیں ہوگی سوائے اس کے کہ وہ قیامت میں مبعوث ہوں گے اور حقائق کو دیکھیں گے ۔
آیت ۳۷
۳۷( وَقَالُوا لَوْلاَنُزِّلَ عَلَیْهِ آیَةٌ مِنْ رَبِّهِ قُلْ إِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلَی اٴَنْ یُنَزِّلَ آیَةً وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَهُمْ لاَیَعْلَمُون ) ۔
ترجمہ:
۳۷ ۔ اور انھوں نے کہا کہ کوئی نشانی( اور معجزہ) اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر کیوں نازل نہیں ہوتا، تم کہہ دو کہ خدا وند تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی نازل کرے لیکن ان میں سے اکثر کو اس کا علم نہیں ہے ۔
بہانہ جوئی
اس آیت میں مشرکین کی بہانہ جوئی میں سے ایک بہانہ جوئی بیان کیا گیا ہے، جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ جب سرداران قریش میں سے کچھ قرآن کا مقابلہ کرنے سے عاجز آگئے تو پیغمبر سے کہنے لگے کہ ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے اگر تم سچ کہتے ہو تو عصا ئے موسیٰ(علیه السلام) اور ناقہ صالح(علیه السلام) جیسے معجزات ہمارے لئے لے آؤ، قرآن اس بارے میں کہتا ہے کہ انھوں نے کہا کہ کوئی نشانی اور معجزہ اس کے پرور دگار کی طرف سے اس پر کیوں نازل نہیں ہوا( وَقَالُوا لَوْلاَنُزِّلَ عَلَیْهِ آیَةٌ مِنْ رَبِّه ) ۔
یہ بات واضح ہے کہ وہ یہ تجویز حقیقت کی تلاش کے لئے پیش نہیں کرتے تھے کیوں کہ پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم ان کے لئے کافی مقدار میں معجزات لاچکے تھے اور اگر قرآن کے علاوہ جو مضامین عالیہ پر مشتمل ہیں ، آپ کے پاس کوئی معجزہ نہ بھی ہوتا تو وہی قرآن جو انھیں کئی آیات میں باقاعدہ مقابلے کی دعوت دے چکا تھا اور اصطلاح کے مطابق انھیں چیلینج کرچکا تھا، وہی آپ کی نبوت کے اثبات کے لئے کا فی تھا لیکن یہ ابوالہوس بہانہ جو ایک طرف سے یہ چاہتے تھے کہ کہ قرآن کی تحقیر کریں اور دوسری طرف سے پیغمبر کی دعوت قبول کرنے سے روگردانہ کرے، لہٰذا پے درپے نئے سے نئے معجزہ کی درخواست کرتے تھے اور مسلمہ طور پر اگر پیغمبر ان کی درخواست کو تسلیم بھی کرلیتے تو ”ھذا سحر مبین“ کہہ کر سب ان کا انکار کردیتے، جیسا کہ قرآن کی دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے ۔
لہٰذا قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے: خداوند تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی ایسی نشانی اور معجزہ (کہ جس کا تم مطالبہ کررہے ہو) اپنے پیغمبر پر نازل کرے( قُلْ إِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلَی اٴَنْ یُنَزِّلَ آیَةً ) لیکن اس میں ایک ایسا اشکال ہے جس سے تم بے خبر ہو اور وہ یہ ہے کہ اگر اس قسم کے تقاضوں پر جو تم ہٹ دھرمی کی بنا پر کرتے ہو تمھاری بات مان لی جائے اور تم پھر بھی ایمان نہ لاؤ تو تم سب کے سب خداوند تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوکر نابود ہوجاؤ گے ، کیوں کہ پروردگار عالم کی بارگاہ اقدس میں اور اس کے بھیجے ہوئے رسول اور اس کی آیات ومعجزات کی انتہائی بے حرمتی ہے لہٰذا آیت کے آخر میں فرما تا ہے: لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں( وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَهُمْ لاَیَعْلَمُون ) ۔
ایک اشکال اور اس کا جواب
جیسا کہ تفسیر مجمع البیان سے معلوم ہوتا ہے کہ صدیوں پہلے بعض مخالفین اسلام نے اس آیت کو دستاویز قرار دیتے ہوئے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ پیغمبر اسلام کے پاس کائی معجزہ نہیں تھا کیوں کہ جس وقت کفار ان سے معجزہ دکھانے کا تقاضا کیا کرت تھے تو ان سے اتنا کہنے پر ہی قناعت کیا کرتے تھے کہ خدا ہی ایسی چیزوں پر قدرت رکھتا ہے لیکن تمھاری اکثریت نہیں جانتی، اتفاق کی بات یہ ہے کہ متاخرین میں سے بعض لکھنے والوں نے بھی یہی پرانا افسانہ دہرایا ہے اور اپنی تحریروں میں اسی پرانے اعتراض کو دوبارہ زندہ کیا ہے ۔
جوابا عرض ہے کہ:
پہلی بات تو یہ کہ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے قبل وبعد کی آیات کا ٹھیک طور پر مطالعہ نہیں کیا ہے، اور یہ غور نہیں کیا کہ یہاں پر ان ہٹ دھرم لوگوں کے متعلق گفتگو ہورہی ہے جو کسی طرح بھی حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لئے تیار نہیں تھے، اب اگر پیغمبر نے ان کے تقاضا کو پورا نہیں کیا تو اس کی وجہ بھی یہی تھی، ورنہ قرآن میں یہ کہاں ہے کہ حق کی جستجو اور حق کو طلب کرنے والے افراد نے پیغمبر سے معجزہ کا تقاضاکیا ہو اور آپ نے ان کی خواہش کو رد کردیا ہو، اسی سورہ انعام کی آیہ ۱۱۱ میں اسی قسم کی ”ہٹ دھرم “افراد کے سلسلے میں ہے:
”( وَلَوْ اٴَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَیهِمْ الْمَلاَئِکَةَ وَکَلَّمَهُمْ الْمَوْتَی وَحَشَرْنَا عَلَیْهِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ وَلَکِناٴَکْثَرَهُمْ یَجْهَلُون ) “(۱)
دوسری بات یہ ہے کہ جیسا کہ اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے یہ مطالبہ سرداران قریش کی ایک جماعت کی طرف سے تھا اور انھوں نے قرآن کریم کی تحقیر اور اس سے بے پرواہی برتتے ہوئے اس قسم کا مطالبہ کیا تھا اور یہ بات مسلم ہے کہ پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم ایسے تقاضوں کے سامنے جن کا سرچشمہ ایسے اسباب ہوں سر نہیں جھکا سکتے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں انھوں نے گویا قرآن کریم کی باقی تمام آیات کو اپنی نگاہ سے دور رکھا ہے کہ کس طرح قرآن نے خود ایک جاودانہ معجزہ کے طور پر اپنا تعارف کروایا ہے اور بارہا مخالفین کو مقابلے کی دعوت دیتا رہا ہے اور ان کے ضعف وناتوانی کو آشکار کرچکا ہے ۔
معترضین نے سورہ اسراء کی پہلی آیت کو بھی بھلا دیا ہے جو صریحا کہتی ہے کہ خداوند تعالیٰ اپنے پیغمبر کو ایک ہی رات میں مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا ۔
چوتھی بات یہ ہے کہ یہ بات باور نہیں کی جاسکتی کہ قرآن انبیاء ومرسلین کے معجزات خارق عادات سے پر ہو اور پیغمبر اسلام کہیں کہ میں تمام انبیاء کا خاتم ہوں ، سب سے افضل وبر تو ہوں اور میرا دین بالاترین دین ہے لیکن حق کے متلاشیوں کے لئے کمترین معجزہ بھی اپنی طرف سے نہ دکھا سکے، کیا اس صورت میں غیر جانبدار حقیقت طلب افراد کے لئے اس کی دعوت میں نقطہ ابہام پیدا نہیں ہوگا ۔
اگر ان کے پاس کوئی معجزہ نہ ہوتا تو ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ دوسرے انبیاء کے معجزات کا بالکل ہی نام تک نہ لیتے تاکہ وہ اپنے پروگرام کی توجیہ کرسکیں اور اپنے اوپر کئے جانے والے اعتراضات کے راستوں کو بند کردیں ، اور یہ باے کہ وہ برملا کھلے دل کے ساتھ پے در پے دوسروں کے معجزات بیان کررہے ہیں اور موسیٰ (علیه السلام) بن عمران (علیه السلام)، عیسیٰ (علیه السلام) بن مریم (علیه السلام) ، ابراہیم (علیه السلام) ،صالح (علیه السلام) او نوح (علیه السلام) کے خارق عادت کام اور معجزات کو ایک ایک کرکے بیان کرتے چلے جارہے ہیں یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ اپنے معجزات کی طرف سے کامل مطمئن تھے، یہی وجہ ہے کہ تاریخ اسلام، معتبر روایات اور نہج البلاغہ میں پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مختلف قسم کے معجزات نقل ہوئے ہیں کہ جن کا مجموعہ حد تواتر کو پہنچا ہوا ہے ۔
____________________
۱۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ: اگر ہم ان کے پاس فرشتے نھی نازل کرتے اور مردے بھی ان سے باتیں کرنے لگتے اور تمام چیزوں کو گروہ در گروہ ان کے پاس لا کھڑا کرتے تو یہ ایمان لانے والے نہ تھے ۔مترجم۔
آیت ۳۸
۳۸( وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ وَلاَطَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْهِ إِلاَّ اٴُمَمٌ اٴَمْثَالُکُمْ مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّهِمْ یُحْشَرُونَ ) ۔
ترجمہ:
۳۸ ۔ کوئی زمین میں چلنے والا جانور اور کوئی دو پروں سے اڑنے والا پرندہ نہیں ہے مگر یہ کہ وہ تمھاری طرح کی امت ہے، ہم نے کسی چیز کو اس کتاب میں فروگذاشت نہیں کیا ہے پھر وہ سب کے سب اپنے پروردگار کی طرف محشور ہوں گے ۔
کیوں کہ یہ آیت وسیع مباحث اپنے پیچھے رکھتی ہے
کیوں کہ یہ آیت وسیع مباحث اپنے پیچھے رکھتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ پہلے آیت کے الفاظ معنی اور پھر اس کے اجمالی تفسیر ذکر کرکے، پھر باقی مباحث کو بیان کرے ۔
”دابة“”دیبب “کے مادہ سے آہستہ چلنے اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے کے معنی میں ہے عام طور پر زمین پر چلنے والے سب جانوروں کو ”دابة“کہا جاتا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ سخن چین اور چغل خور کو ”دیبوب“ کہاجاتا ہے اور حدیث وارد ہوا ہے ۔”لا یدخل الجنة دیبوب “۔
کبھی چغل خور جنت میں نہیں جائے گا ۔
یہ بھی اسی لحاظ سے ہے کہ وہ آہستہ آہستہ دوافراد کے درمیان آمدورفت کرتا ہے تاکہ انھیں ایک دوسرے سے بد بین اور بدظن کردے ۔
”طائر“ ہر قسم کے پرندے کو کہا جاتا ہے، البتہ چونکہ بعض موقع پر ایسے امور معنوی وروحانی پر بھی جو پیشرفت اور پرواز رکھتے ہیں ، یہ لفظ بولا جاتا ہے ، لہٰذا زیر بحث اس آیت میں اس لحاظ سے کہ نگاہ صرف پرندوں پر مرکوز رہے (یطیر بجناحیہ) یعنی اپنے دوپروں کے ساتھ اڑتا ہے، کے جملہ کا اضافہ کیا گیا ہے ۔
”امم“ جمع ہے ”امت“ کی اور امت کا معنی ہے ”وہ جماعت جو ایک قدر مشترک رکھتی ہو“ مثلا ان کا دین ایک ہو یا زبان ایک ہو یا صفات اور افعال ایک جیسے ہوں ۔
”یحشرون “”حشر“ کے مادہ سے جمع کرنے کے معنی میں ہے لیکن قرآن میں عام طور پر روزقیامت کے اجتماع پر یہ لفظ بولا جاتا ہے خصوصا جب اس کے ساتھ ”الی ربھم“ کا ضمیمہ ہو ۔
گذشتہ آیات مشرکین کے بارے میں بحث کر رہی تھی اور انھیں اس انجام کی طرف جو انھیں قیامت میں پیش آئے گا متوجہ کررہی تھی، اب یہ آیت تمام زندہ موجودات اور تمام قسم کے حیوانات کے عام حشر ونشر اور قیامت میں اٹھنے کا بیان کر رہی ہے ، پہلے فرمایا گیا ہے: کوئی زمین پر چلنے والا جانور نہیں اور کوئی دوپروں سے اڑنے والاپرندہ نہیں مگر یہ کہ وہ بھی تمھاری طرح کی امت ہے( وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ وَلاَطَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْهِ إِلاَّ اٴُمَمٌ اٴَمْثَالُکُمْ ) ۔
اور اس طرح سے تمام قسم کے جانور اور ہر قسم کے پرندے انسانوں کی طرح اپنے لئے ایک امت ہے لیکن یہ کہ یہ ایک جیسا ہونا اور یہ شباہت کس جہت سے ہے، اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔
بعض ان کی انسانوں نے شباہت خلقت کے تعجب خیز اسرار کی جہت سے سمجھتے ہیں کیوں کہ دونوں ہی خالق آفریدگار کی عظمت کی نشانیاں اپنے ساتھ لئے ہوئے ہیں ۔بعض سمجھتے ہیں کہ یہ شباہت زندگی کی مختلف ضروریات کہ جہت سے ہے یا ان وسائل کے لحاظ سے کہ جن کے ذریعے وہ اپنی طرح طرح کی حاجتوں کو پورا کرتے ہیں ۔
جب کہ کچھ دوسرے لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کی انسان کے کے ساتھ شباہت سے مراد ادراک اور فہم وشعور میں شباہت ے، یعنی وہ بھی اپنے عالم میں علم ،شعور اور ادراک رکھتے ہیں وہ خدا کی معرفت رکھتے ہیں اور اپنی توانائی کے مطابق اس کی تسبیح وتقدیس کرتے ہیں اگر چہ ان کی فکر، انسانی فکر وفہم سے بہت نچلی سطح پر ہے اور جیسا کہ آگے چل کر بیان ہوگا، آیت کا ذیل آخری نظریہ کو تقویت دیتا ہے ۔
پھر بعد کے جملے میں ہے: ہم نے کتاب میں کسی چیز کو فروگذاشت نہیں کیا ہے( مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتَابِ مِنْ شَیْءٍ ) ۔
ممکن ہے کہ ”کتاب “ سے مرادقرآن مجید ہو کہ تم تمام چیزیں (یعنی وہ تمام امور کہ جو انسان کی تربیت و ہدایت اور تکامل وارتقاء سے مربوط ہیں ) اس میں موجود ہیں ، البتہ بعض اوقات کلی صورت میں بیان ہوئے ہیں جیسے ہر قسم کے علم ودانش کی طرف دعوت اور بعض اوقات جزئےات کو بھی بیان کیا گیا ہے، جیسے بہت سے احکام اسلامی اور مسائل اخلاقی۔
دوسرا احتما ل یہ ہے کہ ” کتاب“ سے مراد ”عالم ہستی“ ہو کیوں کہ عالم آفرینش ایک عظیم کتاب کی مانند ہے کہ جس میں تمام چیزیں آگئی ہیں اور کوئی چیز اس میں فروگذار نہیں ہوئی ۔
اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ آیت میں دونوں تفاسیر ہی مراد ہوں کیوں کہ نہ تو قرآن میں مسائل تربیتی فروگذار ہوئے ہیں اور نہ ہی عالم آفرینش وخلقت میں کوئی نقص ،کمی اور کسر رہ گئی ہے ہے ۔
اور اس آیت کے آخر میں ہے: وہ تام خدا کی طرف قیامت میں جمع ہوں گے( ثُمَّ إِلَی رَبِّهِمْ یُحْشَرُون ) ۔
ظاہر یہ ہے کہ ” ھم “کی ضمیر اس جملے میں تمام چلنے والے جانوروں اور پرندوں کی تمام اصناف اور انواع واقسام کی طرف لوٹتی ہے اور اس طرح سے قرآن ان کے لئے بھی قیامت میں محشور ہونے کا قائل ہوا ہے اور زیادہ تر مفسرین نے اسی مطلب کو قبول کیا ہے کہ تما م قسم کے جاندار اور حشر ونشر اور جزا وسزارکھتے ہیں ، صرف بعض اس کے منکر ہوئے ہیں اور انھوں نے اس ٓیت کی اور دوسری آیت کی ایک اور طرح توجیہ کی ہے، مثلا انھوں نے کہا ہے کہ ”حشرالی اللّٰہ“ سے مراد زندگی کا ختم ہونا اورماوت ہے(۱) ۔
لیکن جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں قرآن مجید میں اس تعبیر کا ظاہر وہی قیامت میں حشر ونشر کا ہونا اور دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانا ہے، اس بنا پر آیت مشرکین کو آگاہ کررہی ہے کہ وہ خدا کہ جس نے تمام قسم کے جانوروں کو پیدا کیا ہے ، ان کی ضروریات کو مہیا کیا اور ان کے تمام افعال کا نگران ہے اور ان سب کے لئے اس نے حشر ونشر قرار دیا ہے کیسے ممکن ہے کہ وہ تمھارے لئے حشرونشر قرار نہ دے اور بعض مشرکین کے قول کے مطابق دنیاوی زندگی اور اس کی حیات و موت کے سوا اور کچھ بھی نہ ہو ۔
____________________
۱۔ یہ احتمال المنار کے مولف نے ابن عباس سے نقل کیا ہے ۔
چند قابل غور باتیں
۱ ۔ کیا جانوروں کے لئے بھی حشر ونشر ہے: اس میں شک نہیں کہ حساب کتاب اور جزا وسزا کی پہلی شرط مسئلہ عقل وشعور ہے اور اس کے بعد فرائض کا وجوب اور جوابدہی کی ذمہ داری ہے، اس عقیدے کے طرفدار کہتے ہیں کہ ایسے ثبوت موجود ہیں کہ جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جانور بھی اپنی مقدار واندازہ کے مطابق فہم وادراک رکھتے ہیں ، منجملہ ان کے یہ ہے کہ بہت سے جانوروں کی زندگی ایسے تعجب انگیز اور پر کشش نظام کے ساتھ ملی ہوئی ہے جو ان کے فہم وشعور کی سطح عالی کو واضح کرتی ہے، کون ایسا شخص ہے کہ جس نے چیونٹیوں اور شہد کی مکھیوں اور ان کے عجیب وغریب تمدن او انک ے چھتے اور بلوں کے تعجب انگیز نظام کی باتیں نہ سنی ہوں اور ان کے تحسین آمیز ادراک و شعور پر آفرین نہ کہی ہو، اگر چہ بعض حضرات اس بات کی طرف مائل ہیں کہ ان تمام باتوں کو ایک فطری اور طبعی الہام جانیں ، حالانکہ اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ ان کے اعمال لاعلمی کی صورت میں (فطری طور پر بغیر عقل کے)انجام پاجاتے ہیں ۔
اس بات میں کونساامر مانع ہے کہ ان کے یہ تمام اعمال جیسا کہ ان کا ظاہر نشاندہی کرتا ہے، عقل وادراک کے ذریعہ ظہور پذیر ہوتے ہیں ، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جانور بغیر گذشتہ تجربہ کے اور پیش بینی نہ ہونے کے حوادثات کے مقابلہ میں نئی راہ تلاش کرلیتے ہیں ، مثلا وہ بھےڑ جس نے عمر میں کسی بھیڑ ئےے کو نہیں دیکھا جب پہلی بار اس کو دیکھتی ہے تو اچھی طرح اس دشمن کے خطرناک ہونے کی تشخیص کرلیتی ہے اور جس ذریعہ سے ہو سکے اپنے دفاع اور خطرے سے نجات کے لئے کوشش کرتی ہے ۔
بہت سے جانور جا اپنے مالکوں کے ساتھ تدریجی طور پر لگاؤ اور محبت پیدا کرلیتے ہیں اس موضوع کا دوسرا گواہ ہےں ، بہت سے درندے اور خطرناک کتے اپنے مالکوں کے ساتھ حتی ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بھی ایک مہربان خدمتگار کی طرح برتاؤ کرتے ہیں ۔
جانوروں کی وفاداری کے بہت سے واقعات اور یہ کہ وہ کس طرح سے انسانی خدمت کا بدلہ اتار تے ہیں کتابوں میں اور لوگوں کے درمیان مشہور ہیں کہ ان تمام کو محض افسانہ نہیں کہا جاسکتا ۔
مسلم ہے کہ ان تمام باتوں کو آسانی کے ساتھ فطرت کی پیداوارنہیں کہا جاسکتا کیوں کہ فطرت عام طور پر ایک ہی قسم کے دائمی کاموں کا سرچشمہ ہوتی ہے لیکن وہ اعمال جو ایسی خاص شرائط میں پیش بینی کے قابل نہ تھے عکس العمل کے عنوان سے انجام پاتے ہیں فطرت کی نسبت فہم وشعور سے زیادہ شباہت رکھتے ہیں ۔
موجودہ زمانے میں بہت سے جانوروں کو اہم مقاصد کے لئے تربیت دی جاتی ہے ، مجرموں کو گرفتار کرنے کے لئے پولیس کے کتے خطوں کو پہچاننے کے لئے کبوتر، دکانوں سے سودا سلف خریدنے کے لئے بعض جانور ،شکار کرنے کے شکاری جانور سدھائے جاتے ہیں اور وہ اپنے اہم اور مشکل فرائض ،عجیب وغریب عمدگی سے انجام دیتے ہیں (آج کل تو بعض جانوروں کے لئے باقاعدہ تربیتی ادارے معرض وجود میں آچکے ہیں ) ۔
ان تمام چیزوں سے قطع نظر قرآ ن کی متعدد آیات میں ایسے مطالب دکھائی دیتے ہیں جو بعض جانوروں کے فہم وشعور کے بارے میں قابل ملاحظہ دلیل شمار ہوتے ہیں ، حضرت سلیمان(علیه السلام) کے لشکر کو دیکھ کر چیونٹی کے فرار کرنے کا واقعہ اور ہد ہد کا سبا اور یمن کے علاقے میں آنا اور وہاں سے ہیجان انگیز خبر وں کو سلیمان کے پاس لانے، اس مدعا پر شاہد ہے ۔
روایات اسلامی میں بھی متعدد احادیث جانوروں کے قیامت میں اٹھنے کے سلسلے میں نظر آتی ہے منجملہ ان کے حضرت ابوذر سے نقل ہوا ہے ، وہ فرماتے ہیں :
ہم پیغمبر کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے سامنے دوبکریوں نے ایک دوسرے کو سینگ مارے، پیغمبر نے فرمایا کہ جانتے ہو کہ انھوں نے ای دوسرے کو سینگ کیوں مارے ہیں ، حاضرین نے عرض کیا کہ نہیں ، پیغمبر نے فرمایا لیکن خدا جانتا ہے کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا اور عنقریب ان کے درمیان فیصلہ کرے گا(۲)
اور ایک روایت میں پیغمبر سے بطریق اہل سنت نقل ہوا ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا:
”ان اللّٰه یحشر هذه الامم یوم القیامة ویقتص من بعضها لبعض حتی یقص للجماء من القرناء “
خدا وند تعالیٰ ان تمام جانور ں کو قیامت کے دن محشور کرے گا اور بعض کا بعض سے قصاص لے گا ، یہاں تک کہ اس جانور کو قصاص کے جس کے سینگ نہیں ہے اور کسی دوسرے نے بلاوجہ اسے سینگ مارا ہے اس سے لے گا(۳) ۔
سورہ تکویر کی آیہ پانچ میں ہے:”( وَاِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ ) “
اور اس وقت جب کہ جانور محشور کئے جائیں گے ۔
اگر اس آیت کا معنی قیامت کے دن کا حشر لیں (نہ کے دنیا کے ختم ہونے کے وقت محشور وجمع ہونا) تو اوپر والی بحث کی منقول دلیلوں میں سے یہ ایک اور دلیل ہوگی۔
۲ ۔ حشر ونشر ہے تو پھر فرائض بھی ہیں : ایک اہم سوال جو یہاں پیش آتا ہے ، اور جب تک وہ حل نہ ہو اوپر والی آیت کی تفسیر واضح نہیں ہوتی اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم یہ قبول کر سکتے ہیں کہ حوانات بھی فرائض وواجبات رکھتے ہیں جب کہ شرعی تکلیف کی مسلم شرائط میں میں ایک عقل ہے اور اسی بنا پر بچہ اور دیوانہ شخص شرعی تکلیف کے دائرے سے خارج ہے تو کیا جانور ایسی عقل رکھتے ہیں کہ ان پر تکلیف عائد ہو، کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ ایک جانور ایک نابالغ بچے اور حتی کے دیوانوں سے زیادہ سمجھ رکھتا ہے؟ اور اگر ہم یہ قبول کرلیں کہ وہ اس قسم کی عقل وادراک نہیں رکھتے تو پھر یہ کس طرح سے ممکن ہے کہ فرائض واجبا ت ان پر لاگو ہوں ۔
اس سوال کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ تکلیف یعنی فرائض وواجبات کے کئی مراحل ہوتے ہیں اور ہر مرحلہ کے لئے اپنی مناسبت سے ادراک و عقل کی ضرورت ہوتی ہے، وہ بہت سی تکالیف اور واجبات وفرائض جو قوانین اسلامی میں ایک انسان کے لئے بنائے گئے ہیں ایسے ہیں کہ جو رعقل وادراک کی ایک سطح عالی کے بغیر انجام دئے ہی نہیں جاسکتے اور ہم ہرگز ایسی تکالیف جانوروں کے لئے قبول نہیں کرسکتے کیوں کہ ان کو بجالابے کی شرط ان جانوروں کو حاصل ہی نہیں ہے ۔
لیکن تکالیف کا ایک آسان اور نچلی سطح کا مرحلہ بھی تصور ہوتا ہے کہ جس کے لئے مختصر فہم وشعور بھی کافی ہے ، ہم اس قسم کے فہم وشعور اور اس قسم کی تکالیف کا جانوروں سے قطعی انکار نہیں کرسکتے ۔
یہاں تک کہ ان بچو ں اور جانوروں کے بارے مین بھی جو کچھ مسائل کو سمجھتے ہیں تمام تکالیف کا انکار کرنا مشکل ہے، مثلا اگر ہم چودہ سال نوخیز بچوں کو جو حدبلوغ کو تو نہیں پہنچے لیکن مکمل طور سے تمام مطالب انھوں نے پڑھے اور سمجھے ہیں ، نظر میں رکھیں اب اگر وہ عمدا قتل نفس کے مرتکب ہوں جب کہ وہ اس عمل کے تمام نقصانات ومضارت کو جانتے ہیں تو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا دنیاوی تعزیراتی قوانین میں غیر بالغ افراد کو بعض گناہوں می سزا دیتے ہیں ، اگر چہ ان کی سزائیں مسلمہ طور پر بہت خفیف ہوتی ہیں ۔
اس بنا پر بلوغ وعقل کامل مرحلہ عالی وکامل میں شرط تکلیف ہے، لیکن نچلے مراحل میں یعنی چند ایسے گناہوں کے بارے میں کہ جن کی قباحت اور برائی نچلی سطح کے انسانوں کے لئے بھی مکمل طور سے قابل فہم ہے ان کے لئے بلوغ اور عقل کامل کو شرط نہیں جانا جاسکتا ۔
مراتب تکلیف کے فرق اور مراتب عقل کے فرق کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ اعتراض جانوروں کے بارے میں بھی حل ہوئے گا ۔
۳ ۔ کیا یہ آیت تناسخ کی دلیل ہے:تعجب کی بات یہ ہے کہ تناسخ کے بےہودہ عقیدہ کے بعض طرفداروں نے اس آیت سے اپنے مسلک کے لئے استدلال کیا ہے اور انھوں نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت یہ کہتی ہے کہ جانور بھی تمھاری طرح امتیں ہیں ، جب کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر ہماری طرح نہیں ہیں تو اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کی روح بدن سے جدا ہونے کے بعد جانوروں کے بدن میں چلی جاتے ہے اور اس ذریعے سے وہ اپنے بعض برے اعمال کی سزا پائے ۔لیکن اس بات کے علاوہ کہ عقیدہ تناسخ قانون ارتقااور عقل ومنطق کے خلاف ہے اور اس سے قیامت ومعاد کا انکار لازم آتا ہے ( جیسا کہ اپنے مقام پر ہم نے اسے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے) اوپر والی آیت کسی طرح بھی اس مسلک پر دلالت نہیں کرتی کیون کہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے مجتعات حیوانی کئی جہات سے انسانی مجتمعات کی طرح ہے اور شباہت صرف بالقوة نہیں بلکہ باالفعل ہے (یعنی عملی طور پر ایسا ہے) کیوں کہ وہ بھی ادراک وشعور کا کچھ حصہ اور اور مسولیت کا کچھ حصہ اور حشر ونشر اور قیامت میں اٹھائے جانے کا کچھ حصہ رکھتے ہیں لہٰذا ان جہات سے انسان کے ساتھ شباہت رکھتے ہیں ۔
لیکن اس بات سے کوئی اشتباہ اور غلط فہمی پیدا نہیں ہونی چاہئے مختلف جانوروں کے لئے ایک خاص مرحلہ میں مسولیت وتکلیف رکھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کے لئے بھی کوئی رہبر وپیشوا (نبی وامام) ہوتا ہے اور وہ بھی کوئی نہ کوئی مذہب اور شریعت رکھتے ہیں ، جیسا کہ بعض صوفیوں سے نقل ہوا ہے بلکہ اس قسم کے موقع پر ان کا رہبر وارہنما صرف ان کا ادراک وشعور باطنی ہوتا ہے یعنی وہ معین مسائل کا فہم رکھتے ہیں اور اپنے شعور کی مقدار اوراندازے کے مطابق اس کے مقابلہ میں مسول وجوابدہ ہے ۔
____________________
۱۔ یہ احتمال المنار کے مولف نے ابن عباس سے نقل کیا ہے ۔۲۔ تفسیر مجمع البیان ونورالثقلین، محل بحث آیت کے ذیل میں ۔
۳۔ تفسیر المنار، محل بحث آیت کے ذیل میں ۔
آیت ۳۹
۳۹( وَالَّذِینَ کَذَّبُوابِآیَاتِنَا صُمٌّ وَبُکْمٌ فِی الظُّلُمَاتِ مَنْ یَشَاٴْ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ وَمَنْ یَشَاٴْ یَجْعَلْهُ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ) ۔
ترجمہ:
۳۹ ۔ اور وہ لوگ جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں تاریکیوں میں بہرے اور گونگے قرار پاتے ہیں ، جیسا خدا چاہتا ہے(اور وہ اسی کا مستحق ہوتا ہے) اسے وہ گمراہ کرتا ہے اور جسے وہ چاہتا ہے (اور اس کو اس بات کے لائق پاتا ہے) اسے سیدھے راتے پر قرار دیتا ہے ۔
بہرے اور گونگے
قرآن ہٹ دھرم منکرین کی بحث کو دوبارہ شروع کررہا ہے اور کہتا ہے: وہ لوگ جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا بہرے اور گونگے ہیں اور ظلمت اور تاریکی میں قرار پاتے ہیں (وَالَّذِینَ کَذَّبُوابِآیَاتِنَا صُمٌّ وَبُکْمٌ فِی الظُّلُمَاتِ ) نہ تو وہ ایسے سننے والے قرآن رکھتے ہیں کہ جو حقائق کو سنیں اور نہ ہی ایسی حق گو زبان رکھتے ہیں کہ اگر انھوں نے کسی حقیقت کو سمجھ لیا ہو تو دوسروں سے بیان کردیں اور چونکہ خود خواہی ،خود پرستی،ہٹ دھرمی اور جہالت کی تاریکی نے انھی ہر طرف سے گھیر رکھا ہے لہٰذا وہ حقائق کا چہرہ نہیں دیکھ سکتے تو اس طرح سے وہ ان تین عظیم نعمتوں (یعنی سننا، دیکھنا اور بولنا) سے جو انھیں خارجی دنیا سے مربوط کرتی ہیں محروم ہیں ۔
بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ بہروں سے مراد وہ مقلد ہیں جو جو بغیر چون و چرا کے اپنے گمراہ رہبروں کی پیروی کرتے ہیں اور انہوں نے اپنے کان بند کر رکھے ہیں اور خدائی رہبروں کی بات نہیں سنتے اور گونگے افاد سے مراد وہی گمراہ رہبر ہیں جو حقائق کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن اپنی حیثیت اور اپنے مادی منافع کی حفاظت کے لئے انھو ں نے اپنے اصول مہرسکوت لگائی ہوئی ہے اور دونوں گروہ جہالت اور خودپرستی کی تاریکی میں گرفتار ہیں(۱)
اور اس کے بعد فرماتا ہے کہ”خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے جادہ مستقیم پربر قرار رکھتا ہے ۔
( مَنْ یَشَاٴْ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ وَمَنْ یَشَاٴْ یَجْعَلْهُ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیم ) ۔
ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ مشیت واراد ہ خدا کی طرف ہدایت وضلالت کی نسبت دینا ایک ایسی بات ہے کہ جس کی قرآن کی دوسری آیات سے اچھی طرح تفسیر ہوجاتی ہے، ایک جگہ ہم پڑھتے ہیں :
”( یضل اللّٰه الظالمین ) “۔۔خدا ظالموں کو گمراہ کرتا ہے ۔
دوسری جگہ ہے:”( وما یضل به الَّاالفاسقین ) “۔صرف فاسقین کو گمراہ کرتا ہے ۔
ایک اور جگہ ہے:”( والذین جاهدوا فینا لنهدیهم سبیلا ) “۔جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم انھیں سیدھی راہوں کی ہدایت کریں گے ۔
ان آیات اور قرآن کریم کی دوسری آیات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہ کہ وہ ہدایتیں اور وہ ضلالتیں کہ جن کی ان موقع پر خدا کے ارادہ کی طرف نسبت دی گئی ہے حقیقت میں وہ جزا ئیں اور وہ سزائیں ہیں جو وہ اپنے بندوں کو اچھے یا برے اعمال کے بدلے دیتا ہے اور زیادہ واضح الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ بعض اوقات انسان سے ایسے برے اعمال سرزد ہوجاتے ہیں کہ جن کے زیر اثر ایک ایسی وحشتناک تاریکی اس کی روح کو گھیر لیتی ہے کہ جس سے حقیقت میں آنکھیں چھین لی جاتی ہیں اور اس کے کان حق کی آواز کو نہیں سنتے، اور اس کی زبان حق بات کہنے سے رک جاتی ہے ۔
اس کے برعکس کبھی انسان سے ایسے بہت سے نیک کام صادر ہوتے ہیں کہ ایک عالم نور وروشنی اس کی روح پر نچھاور ہوتا ہے، اس کی نظروادراک زیادہ وسیع اور اس کی فکر فزوں تر اور اس کی زبان حق بات کہنے گویا تر ہوجاتی ہے، یہ ہے معنی ہدایت وضلالت کا جس کی خدا کے ارادے کی طرف نسبت دی جاتی ہے ۔
____________________
۱۔ المیزان، جلد ہفتم، صفحہ ۸۴-
آیات ۴۰،۴۱
۴۰( قُلْ اٴَرَاٴَیْتَکُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اٴَوْ اٴَتَتْکُمْ السَّاعَةُ اٴَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُونَ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ ) ۔
۴۱( بَلْ إِیَّاهُ تَدْعُونَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیْهِ إِنْ شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِکُونَ ) ۔
ترجمہ:
۴۰ ۔کہہ دو کیا تم نے کبھی سوچا بھی ہے کہ اگر خدا کا عذاب تم پر نازل ہوجائے یا قیامت آجائے تو کیاق تم (اپنی مشکلات کے حل کے لئے) خدا کے سوا کسی اور کو بلاؤ گے اگر تم سچے ہو ۔
۴۱ ۔نہیں بلکہ تم صرف اسی کو بلاؤ گے اور اگر وہ چاہے گا تو اس مشکل کو جس کے لئے تم نے اسے بلایا ہے برطرف کردے گا اور جسے (آج ) تم (خدا کا) شریک قرار دیتے ہو( اسے اس دن)بھول جاؤ گے ۔
فطری توحید
دوبارہ روئے سخن مشرکین کی طرف کرتے ہوئے ایک دوسرے طریقہ سے توحید ویگانہ پرستی کے لئے ان کے سامنے استدلال کرتا ہے، وہ اس طریقہ سے کہ انھیں ان کی زندگی کے بہت ہی سخت اور دردناک لمحات یاد دلاتا ہے اور ان کے وجدان سے مدد چاہتا ہے کہ اس قسم کے لمحات میں جب کہ ہرچیز کو بھول جاتے ہیں تو اس وقت خدا کے علاوہ اور کوئی پناہ گاہ انھیں اپنے لئے سمجھا دیتا ہے، اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ اگر خدا کا دردناک عذاب تمھارے پیچھے آپہنچے یا قیامت اپنی اس ہولناک ،ہیجان اور وحشتناک حادثات کے ساتھ برپا ہوجائے، تو سچ بتاؤ کہ کیا تم خدا کے سوا کسی اور کو اپنے شدائد کو بر طرف کرنے کے لئے پکارو گے( قُلْ اٴَرَاٴَیْتَکُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اٴَوْ اٴَتَتْکُمْ السَّاعَةُ اٴَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُونَ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ ) (۱)
یہ آیت نہ صرف مشرکین کے لئے ہے بلکہ معنی کے اعتبار سے باطنی طور پر تمام افراد کے لئے شدائد اور سخت حوادث کے ظہور کے وقت قابل فہم ہے، ممکن ہے کہ عام حالات میں اور چھوٹے چھوٹے حادثات میں انسان غیر خدا کے ساتھ متوسل ہوجائے لیکن جب حادثہ بہت زیادہ سخت ہو تو انسان تمام چیزوں کو بھول جاتا ہے ، البتہ یہی حالت ہوتی وہ جب کہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں نجات کے لئے ایک قسم کی امید محسوس کرتا ہے کہ جو ایک پوشیدہ اور نامعلوم قدرت سے سرچشمہ حاصل کرتی ہے، یہی وہ توجہ ہوتی ہے جو خدا کی طرف ہوتی ہے اور یہی حقیقت توحید ہے ۔
یہاں تک کہ مشرکین اور بت پرست بھی اس قسم کے لمحات میں بتوں کی بات کو درمیان میں نہیں لاتے اور وہ سب کو بھلا دیتے ہیں ۔
بعد والی آیت میں فرمای گیا ہے :بلکہ تم صرف اسی کو پکارتے ہو اگر وہ چاہے تو تمھاری مشکل کو حل کردے اور شریک جو تم نے خدا کے لئے تیار کررکھے تھے ان سب کو بھلا دیتے ہو( بَلْ إِیَّاهُ تَدْعُونَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیْهِ إِنْ شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِکُونَ )
چند اہم نکات
۱ ۔ جواستدلال اوپر کی دوآیات میں نظر آتا ہے وہی توحید فطری والااستدلال ہے کہ جس سے دو مباحث میں استفادہ کیا جاسکتا ہے ،ایک خدا کے اصل وجود کے اثبات میں اور دوسرا اس کی یگانگت اور توحید ثابت کرنے میں ، اسی لئے اسلامی روایات میں اور اسی طرح علماء کے کلام میں منکرین خدا کے مقابلے میں بھی اور مشرکین کے ،مقابلے میں بھی استدلال کیا گیا ہے ۔
۲ ۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والے استدلال میں قیامت کے برپا ہونے کی بات درمیان میں آئی ہے، حالانکہ ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ وہ تو اس قسم کے دن کو بالکل قبول ہی نہیں کرتے تھے، اس بنا پر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ان کے سامنے اس قسم کا استدلال پیش کیا جائے ۔
لیکن اس حقیقت پر توجہ کرنا چاہئے کہ پہلے تو وہ سب قیامت کے منکر نہیں تھے بلکہ ان میں سے ایک گروہ ایک طرح سے قیامت کا اعتقاد رکھتا تھا، دوسری بات یہ ہے کہ ممکن ہے کہ ”ساعة“ سے مراد ہی موت کی گھڑی یا وحشتناک حوادث کی گھڑی ہو جو انسان کو موت کی چھوکھٹ تک لے جاتی ہے، تیسری بات یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ تعبیر ہولناک حوادث کی طرف اشارہ ہو کیوں کہ قرآنی آیات بار بار کہتی ہے کہ قیامت کی ابتدا بہت ہی ہولناک حوادث کے سلسلہ کے ساتھ شروع ہوگی اور زلزلے، طوفان، بجلیاں او ایسی ہی دوسری ناگہانی آفتیں اس وقت وقوع پذیر ہوں گی ۔
۳ ۔ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ قیامت کا دن اور اس سے قبل کے حوادث حتمی اور یقینی مسائل میں سے ہیں اور کسی طرح بھی قابل تغیر نہیں ہیں تو پھر اوپر والی آیت میں یہ کیوں کہا گیا ہے :اگر خدا چاہے تو اسے برطرف کردے گا، کیا اس سے صرف پروردگار عالم کی قدرت کا بیان کرنا مقصود ہے یا کوئی اور معنی مراد ہے ۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ خدا ان کی دعا سے اصل قیام ساعة اور روز قیامت کو ہی ختم کردے گا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ مشرکین بلکہ غیر مشرکین بھی جب قیامت کے روبرو ہوں گے تو اس کے حوادث ومشکلات اور اس کے سخت تریں عذاب سے جو انھیں درپیش ہوگا، وحشت اور پریشانی میں ہوں گے اور خدا سے درخواست کریں گے کہ وہ اس کیفیت اور حالت کو ان کے لئے آسان کردے اور انھیں خطرات سے رہائی بخشے، تو حقیقت میں یہ دعا دردناک حوادث سے اپنے آپ کی نجات کے لئے ہے نہ کہ قیامت کےختم ہوجانے کی دعا ۔
____________________
۱۔ جیسا کہ عربی ادب کے علماء نے تصریح کی ہے کہ ”ک“ اریتک“ میں اور ”کم“اراٴیتکم“ میں نہ اسم ہے نہ ضمیر بلکہ صرف خطاب ہے، جو حقیقت میں تاکید کے لئے آتا ہے، ایسے موقع پر عام طور پر فعل مفرد کی شکل میں آتا ہے اور اس کا مفرد ، تثنیہ اور جمع ہونا اسی حرف خطاب کی تغیرات سے ظاہر ہوتا ہے، اسی لئے ”اراٴیتکم “ میں باوجود یہ کہ مخاطب جمع ہے فعل ”رئیت“مفرد لا یا گیا ہے اور اس کا جمع ہونا ”کم“ سے جو کہ حرف خطاب ہے سمجھا گیا ہے، ایک گروہ کا نظریہ ہے کہ یہ لفظ معنی کے لحاظ سے مساوی ہے ”اخبرنی“ یا اخبرونی“ کے لیکن حق یہ ہے کہ یہ لفظ اپنے استفہامی معنی کی مکمل حفاظت کرتا ہے اور ”اخبرونی“ اس کے معنی کا لازمہ ہے نہ کہ خود اس کے معنی ہے(غور کیجئے گا)
آیات ۴۲،۴۳،۴۴،۴۵
۴۲( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا إِلَی اٴُمَمٍ مِنْ قَبْلِکَ فَاٴَخَذْنَاهُمْ بِالْبَاٴْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُونَ ) ۔
۴۳( فَلَوْلاَإِذْ جَائَهُمْ بَاٴْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَکِنْ قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَیَّنَ لَهُمْ الشَّیْطَانُ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔
۴۴( فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اٴَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُوا بِمَا اٴُوتُوا اٴَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ ) ۔
۴۵( فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِینَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ) ۔
ترجمہ:
۴۲ ۔ہم نے ان امتوں پر جو تم سے پہلے تھیں (پیغمبر بھیجے اور جب وہ ان کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے) تو ہم نے انھیں شدت وتکلیف اور رنج وبے آرامی میں مبتلا کردیا کہ شاید (وہ بیدار ہوجائیں اور حق کے سامنے ) سرتسلیم خم کردیں ۔
۴۳ ۔جب ہمارا عذاب ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے (خضوع کیوں نہیں کیا ؟) اور سرتسلیم کیوں خم نہ کیا؟، لیکن ان کے دل سخت ہوں گے اور شیطان نے ہر اس کام کو جو وہ کرتے تھے ان کی نظروں میں پسندیدہ کرکے دکھاےا ۔
۴۴ ۔ جب (نصیحتوں نے کوئی فائدہ نہ دیا اور ) جو کچھ یا ددہانی کرائی گئی تھی وہ اسے بھول گئے تو ہم نے (نعمتوں میں سے) تمام چیزوں کے دروازے ان کے لئے کھول دئےے یہاں تک کہ وہ (مکمل طور پر) خوشحال ہوگئے( اور انھوں نے ان کے ساتھ دل لگا لیا ) تو ہم نے یکا یک انھیں دھر پکڑا(اور سخت سزا دی) تو اس وقت وہ سب کے سب مایوس ہوگئے( اور امید کے تمام دروازے ان پر بند ہوگئے) ۔
۴۵ ۔اور (اس طرح سے ) جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا گیا( اور ان کی نسل منقطع ہوگئی) اور حمد مخصوص ہے اس خدا کے لئے جو عالمین کا پروردگار ہے ۔
نصیحت قبول نہ کرنے والوں کا انجام
ان آیا ت میں بھی گمراہوں اور مشرکین کے بارے میں گفتگو جاری ہے اور قرآن ایک دوسرے راستے سے ان کو بیدار کرنے کے لئے اس موضوع کا پیچھا کرتا ہے، یعنی ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں گذشتہ زمانوں اور صدیوں کی طرف لے جاتا ہے اور گمراہ، ستمگر اور مشرک امتوں کی کیفیت ان سے بیان کرتا ہے کہ کس طرح سے تربیت وبیداری کے عوامل ان کے لئے بروئے کا ر لائے گئے لیکن ان میں سے ایک گروہ نے پھر بھی کسی کی طرف توجہ نہ کی اور آخر کار ایسی بدبختی ان کو دامنگیر ہوئی کہ وہ آنے والوں کے لئے عبرت بن گئے ۔
پہلے کہتا ہے کہ ہم نے گذشتہ امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے اور چونکہ انھوں نے کوئی پرواہ نہیں کی لہٰذا ہم نے انھیں بیداری اور تربیت کی خاطر مشکلات اور سخت حوادث مثلا، فقرفاقہ، خشک سالی وبیماری دردورنج اور”باٴساء“ و”ضراء “(۱)
سے دو چار کردیا،کہ شاید وہ متوجہ ہوجائیں اور خدا کی طرف پلٹ آئیں( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا إِلَی اٴُمَمٍ مِنْ قَبْلِکَ فَاٴَخَذْنَاهُمْ بِالْبَاٴْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُونَ ) ۔
بعد والی آیت میں کہتا ہے کہ انھوں نے ان دردناک اور بیدار کرنے والے عوامل سے نصیحت کیوں لی اور بیدار کیوں نہ ہوئے اور خدا کی طرف کیوں نہ لوٹے( فَلَوْلاَإِذْ جَائَهُمْ بَاٴْسُنَا تَضَرَّعُوا ) ۔
اصل میں ان کے بیدار نہ ہونے کی دو وجوہات تھیں ، ان میں سے پہلی وجہ تو یہ تھی کہ گناہ کی زیادتی اور شرک میں ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے دل تاریک اور سخت ہوگئے اور ان کی روح کوئی اثر قبول نہیں کرتی تھی(وَلَکِنْ قَسَتْ قُلُوبُھُم) ۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ شیطان نے (ان کی بت پرستی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے) ان کے اعمال کو ان کی نگاہ میں زینت دے رکھا تھا اور جس برے عمل کو وہ انجام دیتے تھے اسے خوبصورت وزیبااور ہر غلط کام کو درست وصحیح خیال کرتے تھے( وَزَیَّنَ لَهُمْ الشَّیْطَانُ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔
بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے کہ جب سخت گیریاں اور گوشمالیاں ان کے لئے موثر ثابت نہ ہوئیں تو ہم نے ان کے ساتھ محبت اور مہربانی کا راستہ اختیار کیا اورجب انھوں نے پہلے سبق کو بھلا دیا تو ہم نے ان کے لئے دوسر سبق شروع کردیا اور طرح طرح کی نعمتوں کے دروازے ان کے لئے کھول دئےے کہ شاید وہ بیدار ہوجائےں اور اپنے پیدا کرنے والے اور ان نعمتوں کو بخشنے والے کی طرف توجہ کرلیں اور راہ راست کو پالیں
( فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُکِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اٴَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ ) ۔
لیکن یہ سب نعمتیں دوہری خصوصیت رکھتی تھیں ، یہ ان کی بیداری کے لئے اظہار محبت تھیں اور اگر بیدار نہ ہوں تو دردناک عذاب کا مقدمہ بھی تھیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ جب انسان ناز ونعمت میں ڈوبا ہوا ہو اور اچانک وہ سب نعمتیں اس سے چھین لی جائیں تو اس کے لئے انتہائی دردناک ہوتا ہے ، اس کے برخلاف اگر اس سے تدریجا واپس لی جائیں تو اس صورت میں اس پر کوئی اثر نہ ہوگا ۔
اسی لئے کہتا ہے کہ ہم نے انھیں اس قدر نعمتیں دی کہ جس سے وہ مکمل طور پر خوشحال ہوگئے، لیکن وہ بیدار نہ ہوئے، لہٰذا ہم نے ان سے وہ اچانک چھین لی اور ہم نے انھیں عذاب دیا اور امید کے سب دروازے ان پر بند ہوگئے( حَتَّی إِذَا فَرِحُوا بِمَا اٴُوتُوا اٴَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ ) (۲)
اور اس طرح ستمگروں کی نسل منقطع ہوگئی اور ان کی دوسری نسل آگے نہ چل سکی( فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِینَ ظَلَمُوا ) ۔
”دابر“اصل میں کسی چیز کے پچھلے اور آخری حصہ کو کہتے ہیں اورچونکہ خدا وند تعالیٰ نے ان کی تربیت کے لئے تمام ذرائع کو بروئے کار لانے میں کسی قسم کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، لہٰذا آیت کے آخر میں کہتا ہے:حمد مخصوص اس خدا کے لئے ہے کہ جو عالمین کا پروردگار ہے
(وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ) ۔
____________________
۱۔”باٴسا “ اصل می ں شدت ورنج کے معنی می ں ہے اور جنگ کے معنی می ں بھی استعمال ہوتا ہے اسی طرح قحط و خشک سالی اور فقروغیرہ کے لئے بھی لیکن ”ضراء“ روحانی تکلیف مثلا غم واندوہ، جہالت،نادانی یا وہ پریشانیا ں ہو ں بیماری یا مقام ومنصب اور مال ثروت کے ہاتھ سے نکل جانے سے پیدا ہوتی ہے کہ معنی می ں ہے، شاید ان دونو ں می ں فرق اس سبب سے ہے کہ ”باٴسا “ عام طور سے خاجی پہلو رکھتا ہے اور ”ضراء“ روحانی اور معنوی پہلو رکھتا ہے، یعنی روحانی تکالیف کو ”ضراء“ کہتے ہی ں ، تو اس بناپر ”باٴسا “ ”ضراء “کے عوامل کی ایجاد می ں سے ایک عامل ہے(غور کیجئے گا) ۔
۲۔ ”مبلسون“ اصل می ں مادہ ”ابلاس“سے اس غم واندوہ کے معنی می ں ہے جو انسان کو ناگوار حوادث کی شدت سے عارض ہوا اور ابلیس کا نام بھی یہی سے لیا گیا ہے اور اوپر والی تعبیر شدت غم واندوہ کی نشاندہی کرتی ہے جو گنہگارو ں کو گھیر لیتی ہے ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ بعض اوقات یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان آیات اور گذشتہ آیات کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کیوں کہ گذشتہ آیات میں یہ بات صراحت کے ساتھ بیان کی گئی تھی کہ مشرکین ہجوم مشکلات کے وقت خدا کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اور خدا کے سوا ہر کسی کو بھلا دیتے ہیں لیکن ان آیات میں ہے کہ ہجوم مشکلا ت کے وقت بھی وہ بیدار نہیں ہوتے ۔
ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے یہ ظاہری اختلاف ختم ہوجاتا ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ شدائد کے ظہور کے وقت جلدی گزرجانے والی اور وقتی بیداریاں بیداری شمار نہیں ہوتیں کیوں کہ وہ جلد ہی اپنی پہلی حالت کی طرف پلٹ جاتے ہیں ۔
گذشتہ آیات میں چونکہ توحید فطری کا بیان کرنا مقصود تھا، اس کے ثبوت کے لئے وہی بیداریاں اور وقتی توجہات اور غیر خدا کو فراموش کرنا ہی کافی تھا خواہ ایسا حادثہ کے موقع پرہی ہوا ہو لیکن ان آیات میں موضوع سخن ہدایت یابی اور بے راہ روی سے رای راست کی طرف پلٹنے سے مطلق ہے اور مسلمہ طور پر جلد گزرجانے والی اور وقتی بیداری اس میں کوئی اثر نہیں کرتی۔
بعض اوقات خیال ہوتا ہے کہ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ گذشتہ آیات پیغمبر کے ہمعصر مشرکین کے ساتھ مربوط ہے لیکن زیر بحث آیات گذشتہ اقوام سے متعلق ہیں لہٰذا ان دونوں میں آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے(۱) ۔
لیکن یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے کہ پیغمبر کے ہمعصر ہٹ دھرم مشرک گذشتہ زمانہ کے گمراہوں سے بہتر ہوں ، اس بنا پر صحیح حل وہی ہے ج اوپر بیان ہوچکا ۔
۲ ۔ زیر نظر آیات میں ہے کہ جب شدائد کے ظہور سے تربیتی اثر نہ ہوتو خدا وند عالم ایسے گناہگاروں پر نعمتوں کے درازے کھو دیتا ہے، تو کیا یہ کام تنبلیہ کے بعد تشویق کے لئے ہے یا عذاب کے دردناک ہونے کا ایک مقدمہ ہے؟ یعنی اصطلاح کے مطابق اس قسم کی نعمتیں نعمت استدراجی ہیں ، جو سرکش بندوں کو بتدریج آہستہ آہستہ نازونعمت، خوشحالی وسروراور ایک قسم کی غفلت میں ڈبو دیتی ہے اور پھر ایک دم ان سے تمام نعمتوں کو چھین لیا جا تا ہے ۔
آیت میں کچھ ایسے قرائن موجود ہیں جن سے دوسرے احتمال کی تقویت ملتی ہے لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ دونوں ہی احتمال مراد ہوں ، یعنی پہلے بیداری کے لئے تشویق ہو اور اگر وہ موثر نہ ہو تو وہ نعمت کے چھیننے اور دردناک عذاب کرنے کے لئے ایک مقدمہ ہو ، ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلّی الله علیہ وآلہ وسلّم سے اس طرح نقل ہوا ہے:
اذا راٴیت اللّٰه یعطی العبد من الدنیا علی معاصیه ما یحب فانما هو استدراج ثم تلا رسول اللّٰه فلما نسو ---
”جب تم یہ دیکھو کہ خدا گناہوں کے مقابلے میں نعمت بخشتا ہے تو تم سمجھ لو کہ یہ سزا کا مقدمہ اور تمہید ہے، پھر آپ نے اوپر والی آیت کی تلاوت کی“ (مجمع البیان ونورالثقلین ذیل آیہ)
حضرت علی علیہ السلام سے ایک حدیث میں اس طرح نقل ہوا ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا:
”یا ابن آدم اذا راٴیت ربک سبحناه یتابع علیک نعمه وانت تعصیه فاحذره “
(نہج البلاغہ ،کلمہ ۲۵)
”اے آدم کے بیٹے! تو یہ دیکھے کہ خدا تجھے پے در پے نعمتیں بخش رہا ہے جب کہ تو گنا ہ کرتا جارہا ہے، تو تو اس کی سزا اور عذاب سے ڈر کیوں کہ یہ عذا ب کا مقدمہ ہے“
کتاب تلخیص الاقوال میں امام حسن عسکری علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوا ہے :
امیر المومنین کے غلام قنبر کو حجاج کے سامنے پیش کیا گیا تو حجاج نے اس سے پوچھا کہ تو علی ابن ابی طالب (علیه السلام) کے لئے کیا کام کیا کرتا تھا، قنبر نے کہا کہ میں آپ(علیه السلام) کے لئے وضو کے اسباب فراہم کرتا تھا، حجاج نے پوچھا کہ علی (علیه السلام) جب وضو سے فارغ ہوتے تھے تو کیا کہا کرتے تھے، قنبر نے کہا کہ وہ یہ آیت پڑھا کرتے تھے:
”فلما هوا ما ذکروا به فتحنا علیهم ابواب کل شی “اور آخر آیت تک تلاوت کی، حجاج نے کہا کہ میرا گمان یہ ہے کہ علی اس آیت کو ہم پر تطبیق کیا کرتے تھے، قنبر نے پوری دلیری کے ساتھ جواب دیا، کہ جی ہاں ! (نورالثقلین، جلد ۱ ،صفحہ ۱۸) ۔
۳ ۔ ان آیات میں ہے کہ بہت سے رنج اور حوادث سے مراد توجہ اور بیداری کی حالت کو ایجاد کرنا ہے اور یہ آفات اور بلاؤں کے فلسفوں میں سے ایک فلسفہ ہے، جس کے متعلق ہم توحید(۲) کی بحث میں گفتگو کرچکے ہیں ۔
لیکن توجہ کے لائق بات یہ ہے کہ اس امر کو پہلے لفظ ”لعل“ (شاید) کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، اس کے ذکر کا سبب یہ ہے کہ مصائب اور بلائیں بیداری کے لئے تنہا کافی نہیں ہے بلکہ یہ توآمادگی رکھنے والے دلوں کے لئے زمین ہموار کرتی ہے، ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے کہ ”لعل“ کلام خدا میں عام طور سے ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جہاں اور دوسری شرائط بھی درمیان میں پائی جاتی ہےں ۔
دوسرا یہ کہ یہاں تضرع کا لفظ استعمال ہوا ہے، جو اصل میں دودھ کے پستان میں آجانے اور دوہنے والے کے سامنے اس کے مطیع ہونے کے معنی میں ہے، پھر اس کے بعد یہ لفظ تواضع اور خضوع کے ساتھ ملی ہوئی اطاعت کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا یعنی ان دردناک حادثات کو ہم اس لئے ایجاد کرتے تھے تاکہ وہ غرور وسرکشی اور خودخواہی کی سواری سے نیچے اترے اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کریں ۔
۴ ۔ یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ آیت کے آخر میں خدا وند تعالیٰ (الحمد رب العالمین ) کہتا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ ظلم فساد کی جڑ کا کاٹنا اور ایسی نسل کا نابود ہوجانا جو اس کام کو جاری رکھ سکے اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ شکر وسپاس کی جگہ ہے ۔
اس حدیث میں جو فضیل بن عیاض نے امام صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا:
من احب بقاء الظالمین فقد احب ان یعصی اللّٰه،ان اللّٰه تبارک وتعالیٰ حمد بنفسه بهلاک الظلمة فقال: فقطع دابرالقوم الذین ظلموا والحمد للّٰه رب العالمین ۔
جو ستمگروں اور ظالموں کی بقا چاہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا کی نافرمانی ہوتی رہے اور یہ فرمایا کہ ستمگر قوم کی نسل منقطع کردی گئی اور حمد وسپاس مخصوص ہے اس خدا کے لئے جو عالمین کا پرور دگار ہے ۔
____________________
۱۔ فخرالدین رازی نے اپنی تفسیر می ں اس فرق کی طرف اشرہ کیا ہے (جلد ۱۲،صفحہ ۲۲۴) ۔
۲۔ کتاب ”آفریدگار جہا ں “اور کتاب ”جستجوئے خدا“ کی طرف رجوع فرمائی ں ۔
آیات ۴۶،۴۷،۴۸،۴۹
۴۶( قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ اٴَخَذَ اللَّهُ سَمْعَکُمْ وَاٴَبْصَارَکُمْ وَخَتَمَ عَلَی قُلُوبِکُمْ مَنْ إِلَهٌ غَیْرُ اللَّهِ یَاٴْتِیکُمْ بِهِ انظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْآیَاتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُونَ ) ۔
۴۷( قُلْ اٴَرَاٴَیْتَکُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً اٴَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَکُ إِلاَّ الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ ) ۔
۴۸( وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِینَ إِلاَّ مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ فَمَنْ آمَنَ وَاٴَصْلَحَ فَلاَخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَهُمْ یَحْزَنُونَ ) ۔
۴۹( وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا یَمَسُّهُمْ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ ) ۔
ترجمہ:
۶۴ ۔کہہ دو کہ کیا تم نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ اگرخدا تمھارے کان اور آنکھیں تم سے لے لے اور تمھارے دلوں پر مہر لگا دے(کہ تم کوئی بات نہ سمجھ سکو)تو خدا کے سوااور کون ہے کہ جو یہ چیزیں تمھیں دیدے، دیکھو ہم آیات کی کس طرح مختلف طریقوں سے تشریح کرتے ہیں اس کے بعد وہ لوگ منہ پھیر لیتے ہیں ۔
۴۷ ۔کہہ دو کہ کیا تم نے یہ بھی غور کیا کہ اگر خدا کا عذاب اچانک (اور پوشیدہ) یا آشکار تمھارے پاس آجائے تو کیا ظالموں کے گروہ کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا ۔
۴۸ ۔ اور ہم پیغمبروں کو نہیں بھیجتے سوائے اس کے کہ وہ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہوتے ہیں ، پس جو لوگ ایمان لے آئےں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان کے لئے نہ تو کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے ۔
۴۹ ۔ وہ لوگ جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ، ان کی نافرمانیوں کے سبب خدا وندتعالیٰ کا عذاب انھیں پہنچے گا ۔
نعمتیں بخشے والے کو پہچانیے
روئے سخن بدستور مشرکین ہی کی طرف ہے
ان آیات میں ایک دوسرے بیان کے ذریعے ان کو بیدار کرنے کے لئے استدلال ہوا ہے اور دفع ضرر کے حوالے سے کہا گیا ہے: اگر خدا آنکھ جیسی اپنی گراں بہا نعمتیں تم سے لے لے اور تمھارے دلوں پر مہر لگا دے اس طرح سے کہ تم اچھے اور برے اور حق وباطل کے درمیان تمیز نہ کرسکو تو خدا کے سوا کون ہے جو نعمتیں تمھیں پلٹا سکے ۔( قُلْ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ اٴَخَذَ اللَّهُ سَمْعَکُمْ وَاٴَبْصَارَکُمْ وَخَتَمَ عَلَی قُلُوبِکُمْ مَنْ إِلَهٌ غَیْرُ اللَّهِ یَاٴْتِیکُمْ بِهِ ) ۔
حقیقت میں مشرکین بھی قبول کرتے تھے کہ خالق ورازق خدا ہی ہے اور بتوں کی بارگاہ خدا میں شفاعت کے عنوان سے پرستش کرتے تھے، قرآن کہتا ہے کہ بجائے اس کے کہ تم ان بے قدر وقیمت بتوں کی پرستش کرو کہ جن کے پاس کچھ بھی نہیں ہے، تم براہ راست خدا کے دروازے پے کیوں نہیں جاتے، وہ خدا جو تمام نیکیوں اور برکات کا سرچشمہ ہے ۔
اس اعتقاد کے علاوہ جو تمام بت پرست خدا کے بارے میں رکھتے تھے ، یہاں پر ان کی عقل کو بھی فیصلہ کی دعوت دی جارہی ہے کہ وہ بت جو نہ دیکھتے ہیں نہ سنتے ہیں اور نہ ہی عقل ہوش رکھتے ہیں ، دوسروں کو یہ چیزیں کیسے عطا کرسکتے ہیں ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے: دیکھو ہم کس طرح مختلف طریقوں سے آیات ودلائل کی تشریح کرتے ہیں لیکن وہ پھر بھی حق سے منہ پھر لیتے ہیں( انظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْآیَاتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُونَ ) ۔
”ختم“ کے معنی اور اس بات کی علت کے ”سمع“ قرآن کی آیت میں عام طور پر مفرد اور ابصار جمع کیوں آتا ہے؟ اس بارے میں ہم نے اسی تفسیر کی پہلی جلد، ص ۱۰۱( اردو ترجمہ) پر بحث کی ہے ۔
”نصرف “تصریف کے مادہ سے تغیر کے معنی میں ہے اور یہاں مختلف شکل کے استدلال کرنا مراد ہے ۔
”یصدفون“ ”صدف“ (بروزن ہدف) کے مادہ سے ہے جو”سمت“ اور ”طرف“ کے معنی میں ہے اور چونکہ انسان اعراض کرنے اور منہ پھیرنے کے وقت دوسری طرف متوجہ ہوجاتا ہے لہٰذا یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے البتہ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے یہ مادہ اعراض کرنے اور شدید روگردانی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
بعد والی آیت میں ان تینوں عظیم الٰہی نعمتوں (آنکھ، کان اور فہم) کے ذکر کے بعد کہ جو دنیا وآخرت کی تمام نعمتوں کا سرچشمہ ہے، تمام نعمتوں کے کلی طور پرسلب ہونے کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: انھیں کہہ دو کہ اگر خدا کا عذاب اچانک بلاکسی اطلاع کے یا آشکار ہانکے پکارے تمھارے پاس آجائے تو کیا ظالموں کے سوا کوئی اورنابود ہوگا( قُلْ اٴَرَاٴَیْتَکُمْ إِنْ اٴَتَاکُمْ عَذَابُ اللَّهِ بَغْتَةً اٴَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَکُ إِلاَّ الْقَوْمُ الظَّالِمُونَ ) (۱) ۔
”بغتة“ کا معنی ناگہانی اور اچانک ہے اور ”جھرتہ “آشکار اور علی الاعلان کے معنی میں ہے،قاعدہ کی رو سے تو اآشکار کے کے مقابلہ میں پنہاں ہونا چاہئے نہ کہ نا گہانی، چونکہ ناگہانی امور کے مقدمات عام طور پر مخفی اور پنہاں ہوتے ہیں ، کیوں کہ اگر وہ پنہاں نہ ہوں تو ناگہانی نہیں بنتے، اس بنا پر ”بغتة“ کے لفظ میں پنہاں کا مفہوم بھی پوشیدہ ہے ۔
اس سے منظور یہ ہے کہ جو ذات طرح طرح کی سزائیں دینے اور نعمتوں کے چھین لینے پر قدرت رکھتی ہے وہ صرف اور صرف ذات خدا ہے اور بتوں کا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔
اس بنا پر کوئی دلیل اور وجہ نہیں ہے کہ ان کی پناہ لولیکن چونکہ خدا حکیم اور رحیم ہے لہٰذا وہی ستمگاروں کی کوہی سزا دیتا ہے ۔
ضمنی طور پر اس تعبیر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ”ظلم“ ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو قسم قسم کے شرک اور گناہوں کو شامل ہے بلکہ قرآن کی آیات میں شرک کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا گیا ہے، جیسا کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا:”( لاتشرک باللّٰه ان الشرک لظلم عظیم )
بیٹا!خدا کا کسی کو شریک نہ بنانا کیوں کہ شرک ظلم عظیم ہے،(لقمان، ۱۳) ۔
بعد والی آیت میں خدائی پیغمبروں کے فرائض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : نہ صرف یہ کہ بے جان بتوں سے کچھ نہیں ہوسکتا بلکہ بزرگ انبیاء اور خدائی رہبر ورہنما بھی سوائے ابلغ رسالت، بشارت ونذارت اور تشویق اور تہدید کے اور کوئی کام نہیں کرتے اور جو بھی نعمت ہے وہ خدا کے حکم سے اور اسی کی طرف سے ہے اور وہ (انبیاء) بھی اپنی حاجات کو اسی سے طلب کرتے ہیں( وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِینَ إِلاَّ مُبَشِّرِینَ وَمُنذِرِینَ ) ۔
اس آیت کے گذشتہ آیات کے ساتھ تعلق کے بارے میں اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ گذشتہ آیات میں کئی قسم کہ تشویق وتہدید سے متعلق گفتگو ہے، اس آیت میں ہے کہ یہ وہی ہدف ہے کہ جس کے لئے پیغمبر مبعوث ہوئے ہیں ، ان کا کام بھی بشارت ونذارت (خوشخبری دینا اور ڈراناہی) تھا ۔
اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ راہ نجات دو چیزوں میں منحصر ہے ۱ ۔وہ لوگ جو ایمان لے آئے، ۲ ۔ اور اپنی اصلاح کرلیں (اور عمل صالح انجام دیں ) انھیں نہ خدائی سزا کا خوف ہے اور نہ ہی اپنے گذشتہ اعمال کا غم واندوہ ہے( فَمَنْ آمَنَ وَاٴَصْلَحَ فَلاَخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلاَهُمْ یَحْزَنُونَ ) ۔
اور ان کے مقابلے می جو لوگ آیات الٰہی کی تکذیب کرتے ہیں وہ اس فسق اور نافرمانی کے بدلے میں خدائی سزا اور عذاب میں گرفتار ہوں گے( وَالَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا یَمَسُّهُمْ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوا یَفْسُقُونَ ) ۔
یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ آیات خدا کی تکذیب کرنے والوں کی سزا کے بارے میں ” یَمَسُّھُمْ الْعَذَاب“ کی تعبیر ہوئی ہے (یعنی پروردگار کا عذاب انھیں لمس کرتا ہے ) ، گویا عذاب ہر جگہ ان کے پیچھے لگا رہتا ہے اور اس کے بعد وہ انھیں بدترین طریقہ سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ۔
اس نکتے کا ذکر بھی لازم ہے کہ ”فسق“ ایک وسیع المعنی لفظ ہے اور ہر طرح کلی نافرمانی، خدا کی اطاعت سے باہر ہوجانا یہاں تک کہ کفر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اوپر والی آیت میں بھی یہی معنی مراد ہے، اس بنا پر ان بحثوں کا جو فخرالدین رازی اور دیگر مفسرین نے فسق کے بارے میں اس مقام پر کی ہے اور اسے گناہوں کے معنی میں بھی شامل سمجھتے ہوئے دفاع کے لئے کھڑے ہوگئے ہیں ، کوئی محل باقی نہیں رہتا ۔
____________________
۱۔ ”ارئیتکم “کے معنی اور اس کے تجزیہ اور ترکیب کے بارے میں اس سورہ کی آیہ ۴۰ کے ذیل میں بحث کر چکے ہیں اور یہ بیان کرچکے ہیں کہ ہمارے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ اسے ”اخبرونی“ کے معنی میں لیں بلکہ اس کامفہوم ہے” ھل علمتم“ کیا تمھیں معلوم ہے ۔
آیت ۵۰
۵۰( قُلْ لاَاٴَقُولُ لَکُمْ عِندِی خَزَائِنُ اللَّهِ وَلاَاٴَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلاَاٴَقُولُ لَکُمْ إِنِّی مَلَکٌ إِنْ اٴَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحَی إِلَیَّ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاٴَعْمَی وَالْبَصِیرُ اٴَفَلاَتَتَفَکَّرُونَ ) ۔
ترجمہ:
۵۰ ۔کہہ دو کہ میں یہ تو نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے میرے پاس ہیں اور نہ میں غیب سے آگاہ ہوں ( سوائے اس کے کہ جو خدا مجھے تعلیم دیتا ہے) اور میں تمھیں یہ بھی نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں ، میں توصرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو خدا کی طرف سے مجھ پر وحی ہوتی ہے، کہہ دو کہ کیا نا بینا اور بینا برابر ہیں تم اس پر غور کیوں نہیں کرتے ؟
غیب سے آگاہی
اوپروالی آیت میں کفار ومشرکین کے مختلف اعترضات پر دئے گئے جوابات کاآخری حصہ بیان ہوا ہے اور ان کے اعتراضات کے تین حصوں کا مختصر جملوں میں جواب دیا گیا ہے ۔
پہلی بات یہ ہے کہ وہ (کفار ومشرکین) پیغمبر سے عجیب وغریب معجزات کے مطالبے کیا کرتے تھے اور ان میں سے ہر ایک کا مطالبہ اس کی اپنی خواہش کے مطابق ہوا کرتا تھا یہاں تک کہ وہ دوسروں کی درخواست پر دکھائے جانے والے معجزات کے مشاہدے پر بھی قناعت نہیں کرتے تھے، وہ پیغمبر سے کبھی سونے کے مکانات کا ، کبھی ملائک کے نزول کا، کبھی مکہ کی خشک اور بے آب وگیاہ زمین کے سرسبزوشاداب باغوں میں بدل جانے کا اور کبھی دوسری قسم کے مطالبات کا تقاضا کیا کرتے تھے، جیسا کہ سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۹۰ کے ذیل میں اس کی تفصیل آئے گی ۔
گویا وہ ایسے عجیب وغریب تقاضے کرکے پیغمبر کے لئے ایک قسم کے مقام الوہیت اور زمین وآسمان کی ملکیت کی توقع رکھتے تھے، لہٰذا ان افراد کے جواب میں پیغمبر کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ یہ کہیں کہ میرا یہ ہر گز دعویٰ نہیں ہے کہ خدائی خزانے میرے ہاتھ میں ہیں( قُلْ لاَاٴَقُولُ لَکُمْ عِندِی خَزَائِنُ اللَّهِ ) ۔
”خزائن“ جمع ہے” خزانہ “ کی اور خزانہ ہر چیز کے منبع و مرکز کو کہتے ہیں کہ جس کی حفاظت کے لئے اور دوسروں کے اس تک دسترس حاصل کرنے کے لئے اسے وہاں جمع کیا گیا ہو ۔( وان من شی الا عندنا خزائنه وما ننزله الا بقدر معلوم ) (سورہ حجر آیہ ۲۱) ۔
اور ہر چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم معلوم انداز ے کے سوا اسے نازل نہیں کرتے ۔
اس آیت کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ ”( خزائن اللّٰه ) “ تمام چیزوں کے منبع اور مرکز کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے اور حقیقت میں یہ منبع اسی ذات لامتناہی کے قبضہ قدرت میں ہے کہ جو تمام کمالات اور قدرتوں کا سرچشمہ ہے ۔
اس کے بعد ان افراد کے مقابلے میں جو یہ توقع رکھتے تھے کہ پیغمبر انھیں تمام گذشتہ اور آئندہ کے اسرار سے آگاہ کریں یہاں تک کہ انھیں یہ بھی بتلائیں کہ ان کی زندگی سے متعلق کون سے حادثات رونما ہونگے تاکہ وہ رفع ضرر اور جلب منفعت کے لئے آمادہ ہوجائیں کہتا ہے: کہئے ! میں ہرگز دعویٰ نہیں کرتا کہ میں تمام پوشیدہ امور اور اسرار غیب سے آگاہ ہوں( وَلاَاٴَعْلَمُ الْغَیْبَ ) ۔
جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ تمام چیزوں صرف وہی ذات باخبر ہوسکتی ہے جو ہر مکان اور ہر زمان میں حاضر وناظر ہو اور وہ صرف خدا ہی کی ذات پاک ہے لیکن اس کے سوا ہر وہ شخص کہ جس کا وجود ایک معین زمان ومکان میں محدود ہو طبعا ہر چیز سے باخبر نہیں ہوسکتا لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ خدا وند عالم غیب کا کچھ حصہ کہ جس کی وہ مصلحت جانتا ہے اور جو خدائی رہبروں کی رہبری کی تکمیل کے لئے ضروری ہے ان کے اختیار میں دیدے، البتہ اس کو بالذات علم غیب نہیں نہیں کہتے بلکہ اس کو بالعرض علم غیب کہتے ہیں اور دوسرے لفظوں میں یہ عالم الغیب سے یاد کیا ہو اور پڑھا ہوا ہوتا ہے ۔
قرآن کی متعدد آیات گواہی دیتی ہے کہ خدا نے اس قسم کا علم نہ صرف یہ کہ انبیاء اور خدائی رہنماؤں کو دیا ہے بلکہ بعض اوقات ان کے غیر کو بھی دیا ہے ،منجملہ ان آیات کے سورہ جن آیہ ۲۶ و ۲۷ میں ہے:
خدا تمام پوشیدہ امور سے آگاہ ہے اور وہ کسی کو اپنے علم غیب سے آگاہ نہیں کرتا مگر ان رسولوں کو جن سے وہ راضی ہو ۔ اصولی طور پر مقام رہبری کی تکمیل کے لئے ۔علی الخصوص ایسی رہبری جو تمام لوگوں کے لئے ہو، بہت سے ایسے مسائل پر مطلع ہونے کی ضرورت ہے جو باقی دوسرے لوگوں کی نگاہ سے پوشیدہ ہیں اور اگر خدا یہ علم غیب اپنے بھیجے ہوئے افراد اور اپنے اولیاء کو نہ دے تو ان کا مقام رہبری تکمیل تک نہیں پہنچتا(غور کیجئے گا) ۔
یہ بات تو اپنے مقام پر مسلم ہے کہ بعض اوقات ایک موجود زندہ بھی اپنی زندگی کو جاری رکھنے کے لئے غیب کے ایک گوشہ کو جاننے کا محتاج ہے اور خدا اسے اس کے اختیار میں دیتا ہے، مثلا ہم نے سنا ہے کہ بعض حشرات اور کیڑے مکوڑے گرمیوں میں سردیوں کے موسمی حالات کی پیش بینی کرتے ہیں ، یعنی خدا وند تعالیٰ نے یہ علم غیب خصوصیت کے ساتھ انھیں دے رکھا ہے کیوں کہ ان کی زندگی اس کے بغیر بسا اوقات فنا کی گود میں چلی جاتی ہے، ہم اس امر کی مذید تفصیل انشاء اللہ سورہ اعراف کی آیہ ۱۸۸ کے ذیل میں بیان کریں گے ۔
تیسرے جملے میں ان لوگوں کے سوال کے جواب میں کہ جو یہ توقع رکھتے تھے کہ خود پیغمبر کو فرشتہ ہونا چاہئے یا کسی فرشتہ کو ان کے ہمراہ ہونا چاہئے اور کسی قسم کے عوارض بشری (مثلا کھانا، کوچہ وبازار میں چلنا پھر نا) ان میں نظر نہ آئےں ارشاد ہوتا ہے: میرا ہر گز دعویٰ نہیں ہے کہ میں فرشتہ ہوں( وَلاَاٴَقُولُ لَکُمْ إِنِّی مَلَک ) ۔
بلکہ میں تو صرف ان احکام وتعلیمات کی پیروی کرتا ہوں کہ جو پرور دگار کی طرف سے بذریعہ وحی مجھ تک پہنچتے ہیں( إِنْ اٴَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحَی إِلَیَّ ) ۔
اس جملے سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ پیغمبر اکرم کے پاس جو کچھ بھی تھا اور آپ جو کچھ بھی کرتے تھے اس کا سرچشمہ وحی الٰہی ہی تھی اور جیسا کہ بعض حضرات نے خیال کیا کہ وہ اپنے اجتہاد پر عمل کرتے تھے، ایسا ہرگز نہیں ہے اور اسی طرح نہ وہ قیاس پر عمل کرتے تھے اور نہ ہی کسی اور بات پر بلکہ دینی امور میں آپ کا پروگرام صرف وحی کی پیروی میں ہوتا تھا(۱) ۔
اور آیات کے آخر میں پیغمبر کو حکم دیا جارہا ہے کہ کہہ دو کہ نابینا اور بینا افراد برابر ہیں اور کیا وہ لوگ کہ جنھوں نے اپنی آنکھوں اور فکر وعقل کو بند کررکھا ہے ان اشخاص کے برابر ہے جو حقائق کو اچھی طرح سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے( قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاٴَعْمَی وَالْبَصِیرُ اٴَفَلاَتَتَفَکَّرُونَ ) ۔
گذشتہ تین جملوں کے بعد اس جملے کا ذکر ممکن ہے اس بنا پر ہو کہ اس سے پہلے جملوں میں پیغمبر نے فرمایا: میں نہ خدائی خزانے رکھتا ہوں ، نہ غیب کا عالم ہو اور نہ ہی میں فرشتہ ہوں میں تو صرف وحی کا پیروکار ہوں ، لیکن یہ گفتگواس معنی میں نہیں ہے کہ تم جیسے ہٹ دھرم بت پرستوں کی طرح ہوں بلکہ میں ایک بینا انسان ہوں جب کہ تم نابیناؤں کی طرح ہو اور یہ دونوں مساوی نہیں ہے ۔
اس جملہ کا پہلے جملوں سے تعلق اور جوڑ کے بارے میں دوسرا احتمال یہ ہے کہ توحید اور پیغمبر کی حقانیت کی دلیلیں بالکل واضح وآشکار ہے لیکن انھیں دیکھنے کے لئے چشم بینا کی ضرورت ہے اور اگر تم قبول نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ بات مبہم اور یا پیچیدہ ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تم بینانہیں ہو، کیا بینا اور نابینا برابر ہیں ؟۔
____________________
۱۔ پیغمبر کے تمام امور دینی تھے وہاں دنیاوی اور دینی امور کا کوئی الگ الگ تصور نہیں ہے(مترجم)
آیت ۵۱
۵۱( وَاٴَنذِرْ بِهِ الَّذِینَ یَخَافُونَ اٴَنْ یُحْشَرُوا إِلَی رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِنْ دُونِهِ وَلِیٌّ وَلاَشَفِیعٌ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُونَ ) ۔
ترجمہ:
۵۱ ۔اس (قرآن) کے ذریعہ ان لوگوں کو ڈراؤ جو حشر ونشر اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں ( وہ دن کہ جس میں ) یارویاور ، سرپرست اور شفاعت کرنے والا سوائے اس (خدا) کے نہ رکھتے ہوں گے، شاید وہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کریں ۔
قرآن کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ڈراؤ
گذشتہ آیت کے آخر میں فرمایا گیا تھا کہ نابینا اور بینا یکساں نہیں ہےں اور اس کے میں بعد اس آیت میں پیغمبر کو حکم دیا جارہا ہے :قرآن کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ڈراؤ اور بیدرا کرو جو قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں ، یعنی کم از کم ان کی آنکھیں انتی ضرور کھلی ہوئی ہیں کہ وہ یہ احتمال رکھتے ہیں کہ حساب وکتاب ہوگا اور اس احتمال کے زیر سایہ اور جوابدہی کے خوف سے قبول کرنے کے لئے آمادگی کریں( وَاٴَنذِرْ بِهِ الَّذِینَ یَخَافُونَ اٴَنْ یُحْشَرُوا إِلَی رَبِّهِمْ ) ۔
شاید ہم کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ افراد کی ہدایت کے لئے صرف ایک لائق رہبر اور ایک جامع تربیتی پروگرام ہی کافی نہیں ہے بلکہ خود افراد میں بھی ایک قسم کی آمادگی ضروری ہے ، جیسا کہ آفتاب کی روشنی چاہ سے راہ کو تلاش کرنے کے لئے کافی نہیں ہے، بلکہ چشم بینا کی بھی ضرورت ہے اور مستعد وآمادہ بیج بھی بار آونہیں ہوسکتا جب تک کہ زمین آمادہ وتیار نہ ہو ۔
ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہوگیا ہے کہ ”بہ“کی ضمیر قرآن کی طرف لوٹتی ہے اگر چہ قبل کی آیات میں قرآن کا صراحت کے ساتھ ذکر نہیں ہو، لیکن یہ بات قرائن سے واضح ہے ۔
اسی طرح ”یخافون“(ڈرتے ہیں ) سے مراد وہی نقصان وضرر کا احتمال ہے کہ جو ہر عقلمند کے ذہن میں اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انبیاء اور رہبران خدا کی دعوت پر غور کرتا ہے کہ شاید ان کی دعوت حق ہو، اور اس کی مخالفت زیان اور خسارے کا سبب بنے لہٰذا کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ان کی دعوت کا مطالعہ کریں اور ان کے دلائل پر غور کریں ؟۔
یہ ہدایت کی اولین شرائط میں سے ایک ہے، اور یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے علماء عقائدلزوم”دفع ضرر محتمل“ کے عنوان سے مدعی نبوت کی دعوت کے مطالعہ کے وجوب اور خدا کی شناسائی کے بارے میں مطالعہ کے لزوم کی دلیل قرار دیتے ہیں ۔
اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ اس قسم کے بیدار دل افراد اس دن سے ڈرتے ہیں کہ جب سوائے خدا کے اور کوئی پناہ گا ہ اور شفاعت کرنے والا نہیں ہوگا( لَیْسَ لَهُمْ مِنْ دُونِهِ وَلِیٌّ وَلاَشَفِیعٌ ) ۔
ہاں ایسے افراد کو ڈراؤ اور انھیں خدا کی طرف دعوت دو کیوں کہ ان کے بارے میں تقوی اور پرہیزگاری کی امید ہے( لَعَلَّهُمْ یَتَّقُون ) ۔
البتہ اس آیت میں غیر خدا کی ولایت و شفاعت کے ساتھ کسی قسم کا تضاد نہیں رکھتی، کیوں کہ جیسا کہ ہم پہلے ارشاد کرچکے ہیں کہ یہاں بالذات شفاعت وولایت کی نفی مراد ہے، یعنی دومقام ذاتی طور پر خدا کے ساتھ مخصوص ہیں ، اب اگر اس کا غیر مقام ولایت وشفاعت رکھتا ہے تو وہ اس کے اذن و اجازت اور فرمان کے ساتھ ہے جیسا کہ قرآن صراحت کے ساتھ کہتا ہے:( من ذاالذی یشفع عنده اِلَّا باذنه )
کون ہے جو اس کی بارگاہ میں اس کے حکم کے بغیر شفاعت کرے(سورہ بقرہ، ۲۵۵) ۔
اس کی مزید توضیح اور شفاعت کی مکمل بحث کے بارے میں تفسیر نمونہ کی جلد اول ،صفحہ ۱۹۸( اردو ترجمہ) اور جلد دوم، صفحہ ۱۵۵( اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔
آیات ۵۲،۵۳
۵۲( وَلاَتَطْرُدْ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَیْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْهِمْ مِنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَکُونَ مِنْ الظَّالِمِینَ ) ۔
۵۳( وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْض لِیَقُولُوا اٴَهَؤُلاَءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَیْهِمْ مِنْ بَیْنِنَا اٴَلَیْسَ اللَّهُ بِاٴَعْلَمَ بِالشَّاکِرِینَ ) ۔
ترجمہ:
۵۲ ۔ ان لوگوں کو جو صبح شام خدا کو پکارتے ہیں اور اس کی ذات پاک کے علاوہ کسی پر نگاہ نہیں رکھتے اپنے سے دور نہ کر ۔نہ ان کا حساب تجھ پر ہے اور نہ تیرا حساب ان پر ہے، اگر تو ان کو دھتکارے گا تو ظالموں میں سے ہوجائے گا ۔
۵۳ ۔ اور اس طرح ہم نے ان میں سے بعض کو دوسرے بعض کے ساتھ آزمایا ہے (تونگروں کو فقیروں کے ذریعے) تاکہ وہ یہ کہیں کہ کیا یہ ہے وہ جنھیں خدا نے ہمارے درمیان سے (چنا ہے اور) ان پر احسان کیا ہے (اور انھیں نعمت ایمان سے نوازا ہے)تو کیا خدا شکر کرنے والوں کو بہتر طور پر پہچانتا نہیں ہے؟۔
شان نزول
اوپر والی آیات کی شان نزول میں بہت سے روایات نقل ہوئی ہیں کہ جو سب کی سب ایک دوسرے سے بہت ملتی جلتی ہیں ، منجملہ ان کے ایک وہ ہے جو تفسیر ”در المنثور “ میں اس طرح نقل ہوئی ہے کہ قریش کی ایک جماعت پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم کے پاس سے گزری جب کہ صہیب ، عمار ،بلال اور خباب اور ان ہی جیسے دوسرے فقیر اور مزدور قسم کے مسلمان پیغمبر کی خدمت میں حاضر تھے ،انھوں نے یہ منظر دیکھ کر تعجب کیا( اور چونکہ وہ شخصیت کو مال وثروت اور مقام ومنصب میں منحصر سمجھتے تھے لہٰذا وہ ان مردان بزرگ کے مقام روحانی کی عظمت اور آئندہ کے عظیم اسلامی اور انسانی معاشرے کی تشکیل کے سلسلے میں ان کے کار ناموں کے نقوش کو سمجھ نہ سکے )اور کہنے لگے کہ اے محمد ! کیا آپ نے ساری جمعیت میں سے بس ان ہی افراد پر قناعت کرلی ہے؟ کیا یہی ہے وہ کہ جنھیں خدا نے ہمارے درمیان میں سے منتخب کیا ہے؟ کیاہم ان کے پیرو ہوجائیں ؟ جتنا جلدی ہو سکے آپ انھیں اپنے سے دور کردیجئے تو شاید ہم آپ کے قرایب آجائیں اور آپ کی پیروی کرلیں ،اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور ان کے اس تقاضے اورمطالبے کو شدت کے ساتھ رد کردیا گیا ۔
بعض مفسرین اہل سنت نے اسی جیسی ایک حدیث نقل کی ہے، مثلا”المنار“ کے مولف نے اسی کے مانند روایت کرتے ہوئے مزید اضافہ کیا ہے کہ عمر بن خطاب وہاں حاضر تھے اور انھوں نے پیغمبر اکرم سے یہ تقاضا کیا کہ اس میں کیا حرج ہے کہ ہم ان کے مطالبہ کو مان لیں اور یہ دیکھیں کہ وہ کیا کرتے ہیں تو ان پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئی اور ان کے اس تقاضے کو بھی رد کردیا گیا ۔
اس بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ اس سورہ کی بعض آیات کی شان نزول کا ذکر کرنا اس بات کے منافی نہیں کہ یہ پوری صورت ایک سورة ایک ہی جگہ نازل ہوئی ہو، کیوں کہ جیسا کہ ہم پہلے بھی ارشا د کرچکے ہیں کہ یہ ہوسکتا ہے کہ اس سورت کے نزول سے پہلے طرح طرح کے حوادث مختلف فاصلوں میں رونما ہوچکے ہوں اور یہ سورت ان سب حوادث کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہو ۔
اس مقام پر اس نکتہ کاذکر کرنا بھی ضروری نظر آتا ہے کہ کچھ روایات میں یہ نقل ہوا ہے کہ جس وقت پیغمبر نے ان کی پیش کش قبول نہ کی تو انھوں نے یہ درخواست کی کہ اشراف قریش اور فقیر صحابہ کے درمیان باری مقرر کرلیں ، یعنی ایک روزان کے لئے اور ایک دن ان کے لئے مقرر کردیں تاکہ وہ اکھٹے میں ایک ہی جلسہ میں نہ بیٹھیں تو پیغمبر اکرم نے (پہلے ) ان کی یہ تجویز قبول کرلی تاکہ شاید یہ بات ان کے ایمان لانے کا ذریعہ بن جائے تو انھوں نے کہا کہ یہ مطلب ایک قرار داد کے عنوان سے تحریر میں لایا جائے پیغمبر نے حضرت علی (علیه السلام) کو مذکورہ قرار داد لکھنے پر مامور ہی کیا تھا کہ اوپر والی آیت نازل ہوئی اور اس کام سے روک دیا گیا ۔
لیکن یہ روایت علاوہ اس کے کہ تعلیمات اسلامی کی روح کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی اور آپ نے کبھی اس قسم کے امتیازی سلوک کی طرف جھکاؤ کا مظاہرنہیں کیا بلکہ ہر جگہ معاشرہ اسلامی کی وحدت کی بات کی ہے، قبل کی آیت ساتھ بھی مطابقت نہیں رکھتی جس میں کہا گیا ہے”( ان اتبع الا مایوحی الی ) “(میں تو صرف وحی الہی کی پیروی کرتا ہوں )، یہ کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر نے وحی کا انتظار کئے بغیر اس تجویز کے سامنے سر تسلیم خم کرلیا ہو ۔ علاوہ ازیں ”لا تطرد“کا جملہ جو زیر بحث آیت کی ابتدا میں ہے اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ان کا مطالبہ اصحاب پیغمبر کے اس گروہ کو مطلقا ہمیشہ کے لئے اپنے سے دور کرنے کے لئے تھا نہ کہ نبوت اور باری مقرر کرنے کا مطالبہ تھا، کیوں کہ”تناوب“ اور ”طرد“ میں بہت فرق ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شان نزول وہی ہے جو ہم ابتدا میں بیان کرچکے ہیں ۔
طبقاتی تقسیم کے خلاف جنگ
اس آیت میں مشرکین کی ایک اور بہانہ جوئی کی طرف اشارہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ انھیں توقع تھی کہ پیغمبر فقیر طبقے کے مقابلے میں ثروت مندوں کے لئے امتیاز کے قائل ہوجائیں گے اور ان کا خیال تھا کہ ان اصحاب پیغمبر کے پاس بیٹھنا اور ان کے لئے عیب اور بہت بڑا نقص ہے حالانکہ وہ اس بات سے غافل تھے کہ اسلام آیا ہی اس لئے ہے کہ وہ اس قسم کے لغو اور بے بنیاد امتیازات کو ختم کردے، اسی لئے وہ اس تجویز پر بہت مصر تھے،کہ پیغمبر اس گروہ کو اپنے قرب سے دور کریں لیکن قرآن صراحت کے ساتھ اور وزنی دلائل پیش کرکے ان کی تجویز کی نفی کرتا ہے، پہلے کہتا ہے :ان اشخاص کو کہ جو صبح شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور سوائے اس کی ذات پاک کے ان کی نظر کسی پر نہیں ہے انھیں ہرگز اپنے سے دور نہ کرنا
( لاَتَطْرُدْ الَّذِینَ یَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیدُونَ وَجْهَهُ ) (۱) ۔
قابل توجہ امر یہ ہے کہ یہاں بجائے اس کے کہ ان اشخاص کا نام یا عنوان ذکر کیا جاتا صرف اس صفت کے ذکر کرنے پر قناعت ہوئی ہے کہ وہ صبح اور شام ۔ اور دوسرے لفظوں میں ہمیشہ۔ خدا کی یاد میں لگے رہتے ہیں اور یہ عبادت وپرستش اور پروردگار کی طرف توجہ نہ تو کسی اورغرض کے لئے ہے اور نہ ریاکاری سے بلکہ (ان کی یہ عبادت) صرف اس کی ذات پاک کے لئے ہے، وہ اسے صرف ، خود اسی کی خاطر چاہتے ہیں اور اس کے پاس ہیں اور کوئی امتیاز اس امتیاز کی برابری نہیں کرسکتا ۔
قرآن کی مختلف آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ثروت مند اور خود پسند مشرکین کی طرف سے یہ پہلی اور آخری بار نہ تھا کہ انھوں نے پیغمبر کو ایسی تجویز پیش ہو بلکہ وہ بار ہا ایسا اعتراض کرچکے تھے کہ پیغمبر نے کچھ بیکس وبینوا افراد کو اپنے گرد کیوں جمع کرلیا ہے اور ان کا یہ اصرا رتھا کہ آپ انھیں اپنے پاس سے چلتا کردیں ۔
حقیقت میں یہ لوگ ایک پرانی غلط روایت کی بنا پر سمجھتے تھے کہ افراد میں امتیاز دولت وثروت کے سبب سے ہوتا ہے اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ معاشرے کے طبقات جو ثروت کی بنیاد پر وجود میں آئے ہیں اہ محفوظ رہنے چاہیئں اور ہر وہ دین اور ہر وہ دعوت جو طبقاتی زندگی کو ختم کرنا چاہے اور ان امتیازات کو نظر انداز کرے اور ان کی نظر میں مطرود اور ناقابل قبول ہے ۔
ہم حضرت نوح علیہ السلام کے حالات میں بھی پڑھتے ہیں کے ان کے زمانے کے ”بڑے آدمی“ ان سے یہ کہتے تھے:
( وما نراک اتبعک الا الذین هم ارازلنا بادی الراٴی )
ہم نہیں دیکھتے کہ کسی نے تمھاری پیروی کی ہو سوائے ان لوگوں کے جو ہم میں سے فرو مایہ اور نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ( ھود آیہ ۲۷) ۔
اور وہ اسے ان کی رسالت کے باطل ہونے کی دلیل سمجھتے تھے ۔
ایک نشانی اسلام اور قرآن کی عظمت کی بلکہ کلی طور پر انبیاء کی عظمت کی یہ ہے کہ ان سے جتنی سختی کے ساتھ ہو سکتا تھا اس قسم کی سوچوں کا مقابلہ کیا اور ایسے معاشروں میں کہ جن میں طبقاتی اختلاف ایک دائمی مسئلہ شمار ہوتا تھا، ایک موہوم امتیاز کو کچلنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ معلوم ہوجائے کہ سلمان، ابو ذر، صہیب، خباب اور بلال جیسے پاک دل غلام، صاحب ایمان اور عقلمند افراد میں مال ودولت نہ رکھنے کے باوجود معمولی سی بھی کمزوری اور نقص نہیں ہے اور بے مغز ، کور دل، خود خواہ اور متکبر ثروت مند اپنی دولت وثروت کی وجہ سے اجتماعی اور معنوی امتیازات سے بہرہ اندوز نہیں ہوسکتے ۔
بعد والے جملے میں فرمایا گیا ہے: کوئی وجہ نہیں کہ اس قسم کے صاحبان ایمان کو تو اپنے سے دور کرے نہ ان کا حساب تیرے اوپر اور نہ تیرا حساب ان کے اوپر ہے (مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِنْ شَیْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْھِمْ مِنْ شَیْءٍ) اس کے با وجود اگر تم ان کو اپنے سے دور کرو گے تو ستمگروں اور ظالموں میں سے ہوجاؤ گے( فَتَطْرُدَھُمْ فَتَکُونَ مِنْ الظَّالِمِینَ ) ۔
اس کے بارے میں کہ یہاں پر حساب سے کونسا حساب مراد ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے بعض کا احتمال ہے کہ اس سے مراد ان کی روزی کا حساب ہے ۔
یعنی اگر ان کا ہاتھ مال دولت سے خالی ہے تو وہ تمھارے کندھے پر کوئی بوجھ نہیں ڈالتے کیوں کہ ان کی روزی کا حساب تو اللہ پر ہے، جیسا کہ تم بھی اپنی زندگی کا بوجھ ان پر نہیں ڈالتے ، اور تمھاری روزی کا حساب ان پر نہیں ہے ۔
ابھی ہم وضاحت کریں گے یہ احتمال بعید نظر آتا ہے بلکہ ظاہر یہ ہے کہ حساب سے مراد عمل کا حساب ہے جیسا کہ بہت سے مفسرین نے کہا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ خدا وند تعالیٰ یہ کس طرح فرماتا ہے کہ ان کے اعمال کا حساب تم پر نہیں ہے حالانکہ ان کا کوئی برا عمل نہیں تھا کہ ایسی بات کرنا ضروری ہوتا، یہ اس بنا پر ہے کہ مشرکین اصحاب پیغمبر میں سے فقراء کو مال ثروت نہ ہونے کی وجہ سے خدا سے دور سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ اگر ان کے اعمال خدا کے ہاں قابل قبول ہوتے تو پھر انھیں زندگی کے لحاظ سے خوش حال کیوں نہیں بنا یا گیا، علاوہ ازایں وہ انھیں اس بات سے متہم کرتے تھے کہ شاید ان کا ایمان لانا زندگی کی اصلاح اور روٹی پانی کے حصول کے لئے تھا ۔
قرآن انھیں جواب دیتا ہے کہ فرض کرو کہ وہ ایسے ہی ہو ں ، لیکن ان کا حساب توخدا کے ساتھ ہے، صرف اس بات پر کہ وہ ایمان لے آئیں اور مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہوگئے ہیں ، کسی قیمت پر انھیں دھتکارا نہیں جا نا چاہئے اور اس طرح سے امراء قریش کی بہانہ جوئیوں پر گرفت کی گئی ہے ۔
شاید یہ تفسیر وہی کہ کہ جو حضرت نوح (علیه السلام) کی داستان میں بیان ہوئی ہے جو اشراف قریش کی داستان کے مشابہ ہے، جہاں قوم نوح آپ سے کہتی ہے:( انو من لک واتبعک الا رذلون )
کیا ہم تجھ پر ایمان لے آئیں ؟ حالانکہ بے وقعت افراد نے تیری پیروی کی ہے ۔
حضرت نوح (علیه السلام) ان کے جواب میں کہتے ہیں :
( وما علمی مماکانوا یعلمون ان حسابهم الاعلی ربی لو تشعرون وما انا بطاردالمومنین )
مجھے ان کے اعمال کی کیا خبر ہے، ان کے اعمال کا حساب تو اللہ پر ہے اگر تم جانو اور جنھوں نے ایمان کا اظہار کیا ہے میں انھیں اپنے سے دور نہیں کرسکتا(۲) ۔
خلاصہ یہ کہ پیغمبر کی ذمہ داری یہ ہے کہ بغیر فرق وامتیاز کے جو شخص بھی ایمان کا اظہار کرے خواہ وہ کسی بھی قوم ، قبیلہ اور طبقہ سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو اسے قبول کر لے چہ جائیکہ وہ پاک دل اور صاحب ایمان افراد ہوں کہ جو خدا کے سوا کسی کے جویا نہیں ہیں اور ان کا گناہ صرف یہ ہے کہ ان کا ہاتھ مال و ثروت سے خالی ہے اوروہ اشراف کی نکبت بار زندگی میں آلودہ نہیں ہیں ۔
____________________
۱۔ ”وجہ“ کا معنی لغت میں چہرہ ہے اور بعض اوقات ذات کے معنی میں استعمال ہوا ہے، زیر نظر آیت اس سے مراد دوسرا معنی ہی ہے اس موضوع کے بارے میں مزید تفصیل تفسیر نمونہ کہ جلد دوم،صفحہ ۲۰۵(اردو ترجمہ) پر مطالعہ کریں ۔
۲۔ شعرا،۱۱۱تا۱۱۴۔
اسلام کا ایک عظیم امتیاز
ہم جانتے ہیں کہ آج کل کی مسیحیت میں مذہبی راہنماؤں کا دائرہ اختیار مضحکہ انگیزحد تک پاچکا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے لئے گناہ بخش دینے کے حق کے قائل ہیں اور اسی بنا پر اگر وہ چاہیں کسی شخص کو معمولی سی بات پر دھتکار دیں اور کافر قرار سے دیں اور چاہیں تو کسی کو قبول کرلیں ۔
قرآن مجید زیر نظر آیت میں اور دیگر آیات میں راحت کے ساتھ یاددہانی کراتا ہے کہ نہ صرف مذہبی علماء بلکہ پیغمبر کی ذات تک بھی اظہار ایمان کرنے والے کو دھتکار نے اور دور کرنے کا حق نہیں رکھتے تھے، جب کہ انھوں نے کوئی ایسا کام بھی انجام نہیں دیا کہ جو ان کے اسلام سے خارج ہونے کا سبب بنے، گناہوں کی بخشش اور بندوں کا حساب وکتاب صرف خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس کے سوا کوئی بھی اس کام میں دخل دینے کا حق نہیں رکھتا ۔
لیکن کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو، آیت میں موضوع بحث ”طردمذہبی“ہے نہ کہ ”طرد حقوقی“ اس معنی میں کہ اگر مثلا ایک مدرسہ خاص قسم کے طالب علموں کے لئے وقف ہو اور کوئی شخص ابتدا سے ان شرائط کا حامل ہو اور بعد ان میں یہ شرائط باقی نہ رہے تو اسے اس مدرسہ سے نکالنا کوئی منع نہیں رکھتا اور اسی طرح اگر مدرسہ کا متولی مدرسہ کی مصلحتوں کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے کچھ اختیارات رکھتا ہو تو اس مدرسے کے نظام اور اس کی حیثیت وموقعیت کی حفاظت کی لئے ان جائز اختیارات سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے( اس بنا پر وہ مطالب جو تفسیر المنار میں اس آیہ کے ذیل میں اس مطالب کے برخلاف نظر آتے ہیں وہ ”طرد مذہبی“کے ”طرد حقوقی“ سے اشتباہ سے پیدا ہوئے ہیں ) ۔
بعد والی آیت میں بے ایمان دولت مند افراد کو تنبیہ کی گئی ہے کہ یہ واقعات ان کے لئے آزمائش ہیں اور اگر وہ ان آزمائشوں کی بھٹی سے صحیح طریقے سے باہر نہ نکل سکے تو وہ دردناک عواقب وانجام کے متحمل ہوں گے فرمایا گیا ہے کہ ہم نے اس طرح سے ان میں سے بعض کو دوسرے بعض کے ذریعے آزمایا( وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْض ) یہاں ”فتنتہ“ آزمائش کے معنی میں ہے(۱) ۔
اس سے سخت آزمائش اور کیا ہوگی کہ وہ اشراف اور دولت مندکہ جنھوں نے سالہا سال سے یہ عادت بنائی ہوئی ہے کہ اپنے تمام معاملات کو نچلے طبقے کے لوگوں سے بالکل الگ رکھیں ، نہ ان کی خوشی میں شریک ہوں اور نہ ہی ان کے رنج وغم میں ، یہاں تک کہ ان کی قبریں بھی ایک دوسرے سے فاصلے پر ہوں ، وہ یکا یک ان تمام آداب ورسوم توڑ ڈالیں اور ان کی عظیم زنجیروں کو اپنے ہاتھ پاؤں سے نکال پھینکےں اور ایسے دین کو اپنالیں کہ جس کی طرف سبقت کرنے والے لوگ اصطلاح کے مطابق نچلے درجے اور طبقہ فقراء کے آدمی شمار ہوتے ہیں ۔
پھر مزید ارشاد ہوتا ہے کہ ان تونگروں کا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ سچے مومنین کی طرف حقارت کی نگاہ ڈال کر کہتے ہیں : کیا یہی لوگ ہیں جنھیں خدا نے ہمارے درمیاں سے چن لیا ہے اور انھیں نعمت ایمان واسلام کے ساتھ نوازا ہے، کیا یہ اس قسم کی باتوں کی قابلیت رکھتے ہیں
( لِیَقُولُوا اٴَهَؤُلاَءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَیْهِمْ مِنْ بَیْنِنَا ) (۲)
بعد میں ان کا جواب دیا گیا ہے کہ یہ صاحبان ایمان ایسے افراد ہیں کہ انھوں نے عمل وتشخیص کی نعمت کا شکر ادا کیا ہے اور اس کو روبہ عمل لائے ہیں ، اسی طرح انھوں نے پیغمبر کی دعوت کی نعمت کا شکرادا کیا ہے اور ان کی دعوت کو قبول کیا ہے، اس سے بڑی نعمت اور کیا ہوگی اور اس سے بڑھ کر شکر اور کیا ہوگا، اسی بنا پر خدانے ایمان کو ان کے دلوں میں راسخ کردیا ہے، کیا خدا شکر گزاروں کو بہتر نہیں پہچانتا( اٴَلَیْسَ اللَّهُ بِاٴَعْلَمَ بِالشَّاکِرِینَ ) ۔
____________________
۱۔مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کہ جلد ۲، سورہ بقرہ کی آیہ ۱۹۱ (صفحہ ۲۶ اردو ترجمہ ) اور آیہ ۱۹۳ (صفحہ ۲۹ اردو ترجمہ) کی طرف روجوع کریں ۔
۲۔ سورہ آل عمران آیہ ۱۶۴ کے ذیل میں اشارہ ہوچکا ہے کہ ”منة“ اصل میں نعمت بخشنے کے معنی میں ہے مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد ۳(صفحہ ۱۲۲ اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع کریں ۔
آیات ۵۴،۵۵
۵۴( وَإِذَا جَائَکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ اٴَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سُوئًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَاٴَصْلَحَ فَاٴَنَّهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔
۵۵( وَکَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ وَلِتَسْتَبِینَ سَبِیلُ الْمُجْرِمِینَ ) ۔
ترجمہ:
۵۴ ۔ جب وہ لوگ ہماری آیات پر ایمان لائے ہیں تمھارے پاس آئیں تو ان سے کہو، تم پر سلام ہو تمھارے پرور دگار نے اپنے اوپر رحمت فرض کرلی ہے، تم میں سے جو آدمی نادانی سے کوئی برا کام کرلے اس کے بعد توبہ اور اصلاح (وتلافی) کرلے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
۵۵ ۔اور ہم اس طرح سے آیات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں (اور واضح کرتے ہیں ) تاکہ گناہگاروں کا راستہ آشکار ہوجائے ۔
سلام بر مؤمنان!
بعض کا نظریہ تو یہ ہے کہ پہلی آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی یے کہ جن کے متعلق گذشتہ آیات میں پیغمبر کو حکم دیا گیا تھا کہ انھیں اپنے پاس سے دھتکارے نہیں اور انھیں اپنے پاس سے جدا نہ کرےں ، اور بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت کچھ گنہگاروں کے بارے میں ہے جو پیغمبر کے پاس آئے تھے اور انھوں نے یہ اظہار کیا تھا کہ ہم نے بہت گناہ کئے ہیں اس پر رسول اللہ نے سکوت اختیار کیا تو زیر نظر آیت نازل ہوئی ۔
بہرحال اس کی شان نزول خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو اس میں شک نہیں کہ آیت کا مفہوم کلی اور وسیع ہے اور سب پر محیط ہے، کیوں کہ پہلے ایک قانون کلی کے طور پر پیغمبر کو حکم دیا گیا کہ تما م اہل ایمان کو خواہ وہ گنہگار ہی کیوں نہ ہو ، نہ صرف یہ کہ اپنے پاس سے دھتکارےں نہیں بلکہ انھیں گلے لگائیں اور قبول کریں ، اور فرمایا گیا کہ : جب وہ لوگ کہ جو ہماری آیات پر ایمان لا چکے ہیں تیرے پاس آئیں تو ان سے کہو تم پر سلام ہو
( وَإِذَا جَائَکَ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ ) ۔
یہ سلام ممکن ہے کہ خدا کی طرف سے اور پیغمبر کے وسیلہ سے ہو اور یا براہ راست خود پیغبر کی طرف سے ہو، اور یہ ہرحال میں ان کی پذیرائی اور استقبال کرنے اور ان سے افہام وتفہیم اور دوستی کرنے کی دلیل ہے ۔
دوسرے جملہ میں مزید فرمایا گیا ہے: تمھارے پروردگار نے رحمت کو اپنے اوپر فرض کرلیا ہے( کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ) ۔
”کتب“ جو مادہ کتابت سے ہے لکھنے کے معنی میں ہیں اور بہت سے موقع پر لازم ہونے، قبول کرنے اور ذمہ لینے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کیوں کہ لکھنے کے آثار میں سے ایک اثر کسی چیز کا مسلم ہونا ااور ثابت رہ جانا ہے ۔
تیسرے جملہ میں جو درحقیقت رحمت الٰہی کی توضیح وتفسیر ہے، ایک محبت آمیز تعبیر کے ساتھ یوں فرمایا گیا ہے : تم میں سے جو شخص کوئی کام ازروئے جہالت انجام دے ، اس کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح اور تلافی کرے تو خدا بخشنے والا اور مہربان ہے
( اٴَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سُوئًا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَاٴَصْلَحَ فَاٴَنَّهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔
جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں(۱) ، ایسے موقع پر ”جہالت“ سے مراد وہی شہوت اور خواہش نفسانی اور غلبہ اور طغیان وسرکشی ہے، جس میں انسان دشمنی اور عداوت کی بنا پر نہیں بلکہ ہویٰ وہوس کے غلبہ کی خاطر اس طرح ہوجاتا ہے کہ فروغ عقل اور خواہش کا کنٹرول ہاتھ سے دے بیٹھتا ہے، ایسا شخص اگرچہ گناہ اور حرام کا علم رکھتا ہے مگرچونکہ اس کا علم ہویٰ وہوس کے پردے میں آگیا ہے اس لئے اس پر ”جہالت“ کا اطلاق ہوا ہے، مسلمہ طور پر ایسا شخص اپنے گناہ کے لئے جوابدہ ہے، لیکن چوں کہ وہ گناہ عداوت اور دشمنی کی بنا پر نہیں تھا لہٰذا وہ سعی وکوشش کرتا ہے کہ اس کی اصلاح اور تلافی ہوجائے ۔
حقیقت میں یہ آیت پیغمبر اسلام کو حکم دے رہی ہے کہ تم کسی بھی صاحب ایمان فرد کو خواہ وہ کسی طبقہ سے ہو، کسی نسل سے ہو اور کیسے ہی حالات سے دوچار ہو نہ صرف یہ کہ اپنے پاس سے نہ دھتکارو بلکہ اپنے دامن کو یکساں طور پر سب کے لئے کھول، یہاں تک کہ اگر کچھ لوگ بہت سے گناہوں میں آلودہ بھی ہو تو انھیں بھی قبول کرلو اور ان کی اصلاح کرو ۔
بعد والی آیت میں اس مطلب کی تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے: ہم اپنی آیات ، نشانیاں اور احکام اس روشن اور مشخص کرتے ہیں کہ حق کے متلاشیوں اور اطاعت گزاروں کا راستہ بھی واضح وآشکار ہوجائے اور ہٹ دھر م گنہگاروں اور حق کے دشمنوں کی راہ بھی معلوم وروشن ہوجائے
( وکَذَلِکَ نُفَصِّلُ الْآیَاتِ وَلِتَسْتَبِینَ سَبِیلُ الْمُجْرِمِینَ ) (۲) ۔
واضح ہے کہ اوپر والی آیت میں ” مجرم“ سے مراد ہر گنہگار نہیں ہے، کیوں کہ اس آیت میں پیغمبر کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب گنہگار ان کے پاس آئیں ،خواہ انھوں نے نادا نی کی بنا پر کتنے ہی غلط اعمال انجام دئے ہوں ، انھیں قبول کرلیں ، اس بنا پر یہاں مجرم سے مراد ہی ہٹ دھرم اور سخت قسم کے گنہگار ہیں جو جو کسی ذریعہ سے بھی حق کے سامنے سرتسلیم کرنے کے لئے تیار نہ ہوتے ہوں ، یعنی حق کی طرف اس عمومی اور ہمہ گیر دعوت کے بعد، یہاں تک کہ ان گنہگاروں کو دعوت دینے کے بعد کہ جو اپنے کام سے پشیمان ہیں ، اب ہٹ دھرم اور ناقابل توجہ ہیں مجرموں کے طرز عمل کو مکمل طور پر واضح کیا جارہا ہے ۔
____________________
۱۔ تفسیر نمونہ جلد ۳، ص۳۲۸(اردو ترجمہ) ۔
۲۔ حقیقت میں جملہ ”وَلِتَسْتَبِینَ “ عطف ہے ایک محزوف جملہ پر جو مقابلہ کے کے قرینہ سے سمجھا جاتا ہے یعنی”وَلِتَسْتَبِینَ سَبِیلُ الْمُجْرِمِین “تاکہ اطاعت کرنے والے مومنین کا راستہ اور گنہگاروں کا راسہ الگ الگ واضح اور روشن ہوجائے ۔
آیات ۵۶،۵۷،۵۸،
۵۶( قُلْ إِنِّی نُهِیتُ اٴَنْ اٴَعْبُدَ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ قُلْ لاَاٴَتَّبِعُ اٴَهْوَائَکُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا اٴَنَا مِنْ الْمُهْتَدِینَ ) ۔
۵۷( قُلْ إِنِّی عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَکَذَّبْتُمْ بِهِ مَا عِندِی مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّهِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَیْرُ الْفَاصِلِین ) ۔
۵۸( قُلْ لَوْ اٴَنَّ عِندِی مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِیَ الْاٴَمْرُ بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَاللَّهُ اٴَعْلَمُ بِالظَّالِمِینَ ) ۔
ترجمہ:
۵۶ ۔ تم کہہ دو کہ مجھے ان کی پرستش سے منع کیا گیا ہے جنھیں تم خدا کے سوا پکارتے ہو، کہہ دو کہ میں تمھاری ہویٰ وہوس کی پیروی نہیں کرتا، اگر میں ایسا کروں گا توگمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت پانے والوں میں سے نہ ہوں گا ۔
۵۷ ۔ تم کہہ دو کہ میں اپنے پرور دگار کی طرف سے ایک واضح اور روشن دلیل رکھتا ہوں اور تم نے اس کی تکذیب کی ہے( اور اسے قبول نہیں کیا) وہ چیز کہ جس کے بارے میں تمھیں زیادہ جلدی ہے وہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے، حکم اور فرمان جاری کرنا صرف خدا ہی کے اختیار میں ہے جو حق کو باطل سے جدا کرتا ہے اور وہ (حق کو باطل سے) بہترین (طریقے پر) جدا کرنے والا ہے ۔
۵۸ ۔ تم کہہ دو کہ اگر وہ چیز جس کے بارے میں تمھیں جلدی میرے پاس ہوتی (اور میں تمھاری درخواست پر عمل کرتا تو عذاب الٰہی تم پر نازل ہوجاتا اور ) میرا اورتمھارا کام انجام کو پہنچ جاتا اور خدا ظالموں کو اچھی طرح سے پہچانتا ہے ۔
بے جا اصرار اور ہٹ دھرمی
ان آیات میں روئے سخن اسی طرح ہٹ دھرم مشرکین اور بت پرستوں کی طرف ہے جیسا کہ اس سورہ کی زیادہ تر آیات اسی بحث کے گرد گھومتی ہے، ان آیات کا لب ولہجہ کچھ اس طرح کا ہے جیسا کہ انھوں نے پیغمبر کو دعوت دی تھی کہ پیغمبر ان کے دین کی طرف جھک جائیں لہٰذا پیغمبر کو حکم ہوتا ہے کہ وہ انھیں صراحت کے ساتھ کہہ دے کہ: مجھے ان کی پرستش سے منع کیا گیا ہے جن کی تم خدا کے علاوہ پرستش کرتے ہو
( قُلْ إِنِّی نُهِیتُ اٴَنْ اٴَعْبُدَ الَّذِینَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّه ) (۱) ۔
لفظ ”نھیت“ (ممنوع قرار دیا گیا ہوں ) جو فعل مجہول کی صورت میں لایا گیا ہے اس طرف اشارہ ہے کہ بتوں کی پرستش کا ممنوع ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا اور ہمیشہ ایسا ہی رہے گا ۔
اس کے بعد ” کہہ دو اے پیغمبر کہ میں تمھاری ہویٰ وہوس کی پیروی نہیں کرتا“( قُلْ لاَاٴَتَّبِعُ اٴَهْوَائَکُمْ ) ، اس جملے کے ذریعہ ان کا مطالبہ کا واضح جواب دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ بت پرستی کوئی منطقی دلیل نہیں رکھتی اور ہرگز عقل وخرد سے مطابقت نہیں رکھتی کیوں کہ عقل اچھی طرح سے سمجھتی ہے کہ انسان جماد سے اشرف ہے تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ انسان دوسری مخلوق کے سامنے یہاں تک کہ ایک پست تر مخلوق کے سامنے سر تعظیم جھکائے، اس کے علاوہ وہ زیادہ تر بت خود انسان کے گھڑے اور بنے ہوئے ہوتے تھے تویہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ چیز کہ جو خود انسان کی مخلوق ہو اس کی معبود اور اس کی حلال مشکلات ہوجائے، اس بنا پر بت پرستی کا سرچشمہ اندھی تقلید، خرافات اور ہوا پرستی کی پیروی کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔
آخر میں میں مزید تاکید کے لئے ارشاد ہوتا ہے: اگر میں ایسا کام کروں تو یقینا گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ ہوں گا
( قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا اٴَنَا مِنْ الْمُهْتَدِینَ ) ۔
بعد والی آیت میں انھیں ایک اور جواب دیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ :میں اپنے پرور دگار کی طرف سے ایک واضح اور روشن دلیل رکھتا ہوں ، اگرچہ تم نے اسے قبول نہیں کیا اور اس کی تکذیب کی ہے ( قُلْ إِنِّی عَلَی بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَکَذَّبْتُمْ بِہِ ) ۔
”بینة“ اصل میں ایسی چیز کو کہتے ہیں کہ جو دو چیزوں کے درمیان اس طرح سے جدائی ڈال دے کہ ان میں کسی طرح سے دوبارہ اتصال اور باہمی تعلق نہ ہوسکے، اس کے بعد روشن اور واضح دلیل کو بھی کہا جانے لگا کیوں کے وہ حق وباطل کو ایک دوسرے سے جدا کردیتی ہے ۔
فقہی اصطلاح میں اگرچہ ”بینة“ دوعادل افراد کی گواہی کو کہا جاتا ہے لیکن اس کا لغوی معنی کا مل طور پر وسیع ہیں اور دو عادلوں کی گواہی اس کا ایک مصداق ہے، اور اگر معجزات کو ”بینة“ کہا جاتا ہے تو وہ بھی اسی بنا پر ہے کہ وہ حق کو باطل سے جدا کرتے ہیں ، اور اگر آیات واحکام الٰہی کو ”بینة“ کہتے ہیں تو وہ بھی اس وسیع مفہوم کے ایک مصداق کے طور پر ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں بھی پیغمبر کویہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کا سہارا لیں کہ خدا پرستی کی راہ میں اور بتوں سے جنگ میں میرا مدرک کامل طور سے روشن اور آشکار ہے اور تمھارا انکار اور تکذیب اس کی اہمیت میں کوئی کمی پیدا نہیں کرسکتے ۔
اس کے بعد ان کی بہانہ سازیوں میں سے ایک اور بہانہ جوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ لوگ کہتے تھے کہ اگر تم حق پر ہو تو وہ عذاب کہ جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اسے جلدی لے آؤ، پیغمبر ان کے جواب میں کہتے ہیں : وہ چیز کہ جس کے بارے میں تم جلدی کررہے ہو وہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے (مَا عِندِی مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ)تمام کام اور تمام احکام سب کے سب خدا کے ہاتھ میں ہیں( إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّهِ ) ۔
اور بعد میں تاکید کے طور پر فرمایا گیا ہے : وہی ہے کہ جو حق کو باطل سے جدا کرتا ہے اور وہ حق کو باطل سے بہتر طور پر جدا کرنے والا ہے( یَقُصُّ الْحَقَّ وَهُوَ خَیْرُ الْفَاصِلِین ) ۔
ظاہر ہے کہ حق کو باطل سے وہی اچھی طرح جدا کرسکتا ہے کہ جس کا علم سب سے زیادہ ہو اور اس کے لئے حق وباطل کی شناخت کامل طور سے روشن ہو، علاوہ ازایں وہ اپنے علم ودانش کو روبہ عمل لانے کے لئے کافی قدرت بھی رکھتا ہو اور یہ دونوں صفات (علم وقدرت) نامحدود اور بے پایاں طور پر صرف خدا وند تعالیٰ کی ذات پاک کے ساتھ مخصوص ہے، لہٰذا وہ حق کو باطل سے سب سے بہتر طور پر جدا کرنے والا ہے ۔
بعد والی آیت میں پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے کہ اس ہٹ دھرم اور نادان گروہ کی جانب سے عذاب وسزا کے مطالبہ پر انھیں کہہ دو کہ وہ چیز جس کے جلدی ہوجانے کا مطالبہ تم اس سے کرتے ہو اگر وہ میرے قبضہ واختیار میں ہوتی اور میں تمھاری درخواست پر عمل کردیتا تو میرا اور تمھارا کام ختم ہوگیا ہوتا
( قُلْ لَوْ اٴَنَّ عِندِی مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِهِ لَقُضِیَ الْاٴَمْرُ بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ ) ۔
لیکن اس غرض سے کہ کہیں وہ یہ خیال نہ کریں کہ ان کی سزا کو بھلا دیا گیا ہے آخر میں قرآن کہتا ہے: خدا وند تعالیٰ ستمگاروں اور ظالموں کو سب سے بہتر طور پر پہچانتا ہے اور موقع پر انھیں سزا دے گا( وَاللَّهُ اٴَعْلَمُ بِالظَّالِمِینَ ) ۔
____________________
۱۔ لفظ ”الذین “ کا استعمال جو ذوی العقول جمع مذکر کے لئے ہوتا ہے بتوں کے لئے اس بنا پرہوا، کیوں کہ ان کی فکر کے دریچہ سے ان سے گفتگو کی جاری ہے ۔
۲۔قاموس کہتا ہے:قص الشعر والظفر قطع منهما بالمقص ای المقراض “ بالوں اور ناخونوں کو مقارض یعنی قینچی سے کاٹنے کو عرب قص اور مقراض کو مقص (کسر میم وفتح قاف کے ساتھ ) کہتے ہیں ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے گذشتہ قومیں اپنے انبیاء سے یہی درخواست کرتی رہی کہ اگر تم سچے ہو تو پھر اس عذاب کو ،جس کے ہمارے اوپر نازل ہونے کی توقع رکھتے ہو ہماری طرف کیوں نہیں بھیجتے ۔
قوم نوح (علیه السلام) نے بھی ان سے یہی درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ اے نوح ! تم ہم سے اتنی باتیں کیوں کرتے ہو اور ہم سے کیوں جھگڑتے ہو ،اگر تم سچ کہتے ہو تو وہ عذاب جس سے ہمیں ڈرا رہے ہو اسے جلدی سے لے آؤ ۔
( قالوا یا نوح قد جادلتنا فاکثرت جدالنا فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصادقین ) (ھود ۳۲)
ایسا ہی تقاضا قوم صالح(علیه السلام) نے بھی ان سے کیا تھا ۔ (اعراف، ۷۷) ۔
قوم عاد نے بھی اپنے پیغمبر ہود (علیه السلام) سے ایسا ہی تقاضا کیا تھا(اعراف ۷۰) ۔
سورہ بنی اسرائیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ درخواست پیغمبر سے بارہا کی گئی یہاں تک کہ انھوں نے یہ کہا کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے مگر اس وقت جب تم چند کاموں میں سے کوئی ایک انجام نہ دو ان میں سے ایک یہ ہے کہ تم آسمانی پتھر ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر پھینکو( او تسقط السماء کما زعمت علینا کسفا ) ( بنی اسرائیل ۹۲) ۔
یہ نامعقول تقاضے یا تو استہزاء اور تمسخر کے طور پر ہوتے تھے ۔اور یا سچ مچ طلب اعجاز کے لئے اور دونوں صورتوں میں یہ احمقانہ فعل تھا کیوں کہ دوسری صورت میں ان کی نابودی کا سبب ہوتا لہٰذا معجزہ سے استفادہ کا محل ہی باقی نہ رہتا اور پہلی صوت میں بھی ان واضح دلائل اور نشانیوں کے ہوتے ہوئے کہ جو تمام پیغمبر اپنے ساتھ رکھتے تھے اور جن سے ہر دیکھنے والے کی نگاہ میں کم از کم ان کی صداقت کا احتمال تو پیدا ہوجاتا تھا تو ایسے احتمال کے ہوتے ہوئے کیسے ممکن ہے کہ انسان اپنی نابودی کا تقاضا کرے یا اس سے مذاق کرے، لیکن تعصب اورہٹ دھرمی ایک ایسی عظیم بلا ہے کہ جو ہر قسم کی فکر ومنطق کے راستے میں حائل ہوجا تی ہے ۔
۲ ۔ ”إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّهِ “ کا جملہ ایک واضح معنی رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر قسم کے فرامین واحکام کا وہ عالم آفرینش وتکوین سے متعلق ہوں یا وہ عالم احکام دین وتشریح سے تعلق رکھتے ہوں ، سب کے سب خدا کے ہاتھ میں ہیں ، اس بنا پر اگرکوئی پیغمبر ان کاموں میں سے کسی کام کو کرکے دیکھتا ہے تو وہ بھی اسی کے فرمان سے کرتا ہے ۔
مثلا اگر حضرت عیسی(علیه السلام) مردہ کو زندہ کرتے ہیں تو بھی اسی کے اذن سے ہے اسی طرح ہر وہ منصب جو کسی کو سپرد ہوا ہے خواہ وہ رہبری الٰہی ہو یا قضاوت وحکمرانی، پروردگار کی طرف سے ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اتنے واضح اور رشن جملہ سے پوری تاریخ میں بارہا غلط استفادہ کیا گیا ہے ۔ کبھی خوارج نے جنگ صفین میں ”حکمین“ کے تعین کے مسئلہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہ جو خود ان کے اور ان جیسے لوگوں کے تقاضے پر صورت پذیر ہوا تھا اس جملے کا سہارا لیا اور حضرت علی (علیه السلام) کے ارشاد کے مطابق وہ ایک کلمہ حق کو ایک باطل معنی میں استعمال کرتے رہے اور رفتہ رفتہ جملہ ”لا حکم الا اللّٰه “ ان کا شعار ہوگیا ۔
وہ اس قدر نادان واحمق تھے کہ خیال کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص خدا کے فرمان اور دستور اسلام کے مطابق بھی کسی موضوع میں حکم مقرر ہوجائے تو وہ ”إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّه “کا مخالف ہے حالانکہ وہ قرآن کو زیادہ پڑھتے تھے لیکن اسے بہت کم سمجھتے تھے کیوں کہ قرآن تو اسلامی خاندانی جھگڑوں کے سلسلے میں بھی عورت اور مرد کی طرف سے حکم کے انتخاب کی تصریح کرتا ہے:( فابعثوا حکما من اهله وحکما من اهلها ) ( ۳۵) ۔
کچھ دوسرے لوگوں نے ۔ جیسا کہ فخرالدین رازی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے ۔ اس جملے کو مسلک جبر کی ایک دلیل قرار دیا ہے، کیوں کہ جب ہم یہ قبول کرلیں کہ جہاں آفرینش کے تمام فرمان خدا کے ہاتھ میں ہیں تو پھر تو کوئی اختیار کسی کے لئے باقی ہی نہیں رہتا ۔حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ بندوں کے ارادہ کی آزادی اور ان کا مختار ہونا بھی پروردگار کے فرمان سے ہے، یہ خدا ہی تو ہے کہ جو یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے کاموں میں مختار اور آزاد ہوں تاکہ ان کے مختار اور آزاد ہونے کی حالت میں ان کے کندھوں پر ذمہ داری کا بوجھ ڈالے اور ان کی تربیت ہو ۔
۳ ۔ ”یقص“ لغت میں ”قطع کرنے “اور ”کسی چیز کو توڑنے“ کے معنی میں آیا ہے،(۲) اور یہ جو زیر نظر آیت میں ”یقص الحق“(خدا حق کو توڑتا ہے ) یعنی مکمل طور پر اسے باطل سے جدا اور الگ کردیتا ہے، تو اس بنا پر بعد والا جملہ ”وھو خیرالفاصلین“ (وہ بہترین طور پر جدا کرنے والا ہے ) اس امر کی تاکید شمار ہوگا اور اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہئے کہ ”یقص“ ”قصہ“ سے نہیں کہ جس کا معنی سرگذشت اور داستان بیان کرنا ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے
____________________
۱۔ لفظ ”الذین “ کا استعمال جو ذوی العقول جمع مذکر کے لئے ہوتا ہے بتوں کے لئے اس بنا پرہوا، کیوں کہ ان کی فکر کے دریچہ سے ان سے گفتگو کی جاری ہے ۔
۲۔قاموس کہتا ہے: قص الشعر والظفر قطع منھما بالمقص ای المقراض “ بالوں اور ناخونوں کو مقارض یعنی قینچی سے کاٹنے کو عرب قص اور مقراض کو مقص (کسر میم وفتح قاف کے ساتھ ) کہتے ہیں ۔
آیات ۵۹،۶۰،۶۱،۶۲
۵۹( وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَیَعْلَمُهَا إِلاَّ هُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلاَّ یَعْلَمُهَاَّةٍ فِی ظُلُمَاتِ الْاٴَرْضِ وَلاَرَطْبٍ وَلاَیَابِسٍ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ ) ۔
۶۰( وَهُوَ الَّذِی یَتَوَفَّاکُمْ بِاللَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیهِ لِیُقْضَی اٴَجَلٌ مُسَمًّی ثُمَّ إِلَیْهِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔
۶۱( وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَةً حَتَّی إِذَا جَاءَ اٴَحَدَکُمْ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لاَیُفَرِّطُونَ ) ۔
۶۲( ثُمَّ رُدُّوا إِلَی اللَّهِ مَوْلاَهُمْ الْحَقِّ اٴَلاَلَهُ الْحُکْمُ وَهُوَ اٴَسْرَعُ الْحَاسِبِینَ ) ۔
ترجمہ:
۵۹ ۔ غیب کی چابیاں صرف اسی کے پاس ہیں اور اس کے علاوہ کوئی اسے نہیں جانتا اور خشکی اور دریا میں جو کچھ ہے وہ اسے جانتا ہے کوئی پتہ (کسی درخت سے ) نہیں گرتا مگر یہ کہ وہ اس سے آگاہ ہے اور زمین کی پوشیدہ وتاریک جگہوں میں کوئی کوئی دانہ ہے اور نہ ہی کوئی خشک وتر چیزوجود رکھتی ہے مگر یہ کہ وہ واضح کتاب ( کتاب علم خدا) میں ثبت ہے ۔
۶۰ ۔وہی وہ ذات ہے کہ جو تمھاری روح کو رات کے وقت (نیند میں ) لے لےتا ہے اور جو کچھ تم نے دن میں کسب کیا (اور انجام دیا) ہے اس سے با خبر ہے پھر وہ دن میں ( نیند سے) تمھیں اٹھاتا ہے( اور یہ کیفیت ہمیشہ جاری رہتی ہے) یہاں تک کہ معین گھڑی آپہنچے، اس کے بعد تمھاری بازگشت اسی کی طرح ہوگی اور جو کچھ عمل تم کرتے ہو وہ اس کی تمھیں خبر دے گا ۔
۶۱ ۔وہ اپنے بندوں پر مکمل تسلط رکھتا ہے ، اور تمھارے اوپر نگہبان بھیجتا ہے، یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچے تو ہمارے بھیجے ہوئے اس کی جان لے لیتے ہیں اوروہ ( بندوں کے اعمال کے حساب کی نگہداری میں ) کوتاہی نہیں کرتے ۔
۶۲ ۔ اس کے بعد (تمام بندے) خدا کی طرف جو ان کا مولا ئے حقیقی ہے پلٹ جائیں گے، جان لو کہ حکم کرنا اسے کے ساتھ مخصوص ہے اور وہ سب سے جلدی حساب کرنے والا ہے ۔
اسرار غیب
گذشتہ آیات میں گفتگو خدا کے علم وقدرت اور اس کے حکم وفرماں کے دائرے کی وسعت کے بارے میں تھی اب ان آیات میں اس بیان کی گذشتہ آیات میں اجمالا ذکر ہوا تھا وضاحت کی کی جارہی ہے ۔
سب سے پہلے علم خدا کے موضوع کو لیتے ہوئے کہتا ہے:
”غیب کے خزانے(یا غیب کی چابیاں ) سب کی سب خدا کے پاس ہیں اور اس کے علاوہ کوئی انھیں نہیں جانتا( وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَیَعْلَمُهَا إِلاَّ هُوَ ) ۔
”مفاتح“ جمع ”مفتح“ (بروزن بہتر“چابی کے معنی میں ہے او یہ بھی ممکن ہے کہ جمع ”مفتح“ (بروزن دفتر) خزانہ اور کسی چیز کی حفاظت کے مرکز کے معنی میں ہو ۔
پہلی صورت میں آیت کا معنی اس طرح ہوگا کہ تمام غیب کی چابیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں اور دوسری صورت میں معنی یہ ہو گا کہ غیب کے تمام خزانے اسے کے قبضے میں ہیں ۔
یہ احتمال بھی موجود ہے کہ دونوں ہی معانی ایک عبارت میں مراد ہوں اور جیسا کہ ہم علم اصول میں ثابت کرچکے ہیں کہ ایک لفظ کا استعمال چند معانی میں کوئی مانع نہیں رکھتا اور دونوں صورتوں میں یہ دونوں ایک دوسرے کے لازم وملزوم ہیں ، کیوں کہ جہاں کہیں خزانہ ہے وہاں چابی بھی موجود ہے ۔
لیکن زیادہ تر یہی نظر میں آتا ہے کہ ”مفاتح“چابیوں کے معنی میں ہے نہ کہ خزائن کے معنی میں ، کیوں کہ مقصد وہدف یہاں علم خدا کو بیان کرنا ہے اور وہ چابی کے مسئلہ کے ساتھ ۔جو مختلف ذخائر سے آگاہی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ دو اور مواقع پر جہان قرآن میں لفظ ”مفاتح“ استعمال ہوا ہے، وہاں بھی چابی ہی مراد ہے(۱) ۔
اس کے بعد مزید توضیح وتاکید کے لئے کہتا ہے: جو کچھ بر وبحر میں ہے خدا اسے جانتا ہے( وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ) ۔
”بر“ وسیع مکان کے معنی میں ہے اور عام طور پر خشک علاقوں کو ”بر“ کہا جاتا ہے اور ”بحر“ بھی اصل میں وسیع جگہ کے معنی میں ہے کہ جس میں زیاد پانی جمع ہو اور عام طور پر یہ لفظ سمندروں پر اور کبھی بڑے بڑے دریاؤں پر بھی بولا جاتا ہے ۔
بہر حال خدا ان کی ان چیزوں سے آگاہی کہ جو خشکیوں اور سمندروں میں ہے اس کے علم کے تمام چیزوں پر احاطے کے معنی میں ہے اور اس جملہ کے معنی کی وسعت کی طرف توجہ سے (جو کچھ خشکیوں اور سمندروں میں ہے خدا اسے جانتا ہے) حقیقت میں اس کے وسیع علم کا ایک گوشہ واضح ہوتا ہے ۔
یعنی وہ سمندروں کی گہرائیوں میں چھوٹے اور بڑے اربوں زندہ موجودات کی جنبش سے ۔
اور تمام جنگلوں اور پہاڑوں میں درختوں کے پتوں کے ہلنے سے ۔
اورہر غنچہ کے چٹخنے اور ہر پھول کے کھلنے کی قطعی تاریخ سے ۔
اور بیابانو ں میں نسیم کی موجوں کے چلنے اور دروں کی خمیدگی سے ۔
اور ہر انسان کے بدن کی رگوں کی صحیح گنتی اورخون کے گلوبیولز( GLOBULES )سے ۔
اور ایٹم کے اندر تمام الیکٹرانوں ( ELECTROLS )کی مخفی حرکتوں سے ۔
اور آخر یہ کہ تمام افکار وتخیلات جو ہمارے دماغوں کے اندر سے گزرتے ہیں ۔
اور ہماری روح کی گہرایوں ۔----ہاں ہاں وہ ان سب سے یکساں طور پر باخبر ہے ۔
پھر بعد والے جملے میں خدا کے علمی احاطہ تاکید کے لئے اس بارے میں خصوصیت کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:کوئی پتہ درخت سے جدا نہیں ہوتا مگر یہ کہ وہ اسے جانتا ہے ( وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلاَّ یَعْلَمُھَاَّ) ۔
یعنی ان پتوں کے تعداد اور شاخوں سے ان کے جدا ہونے کا وقت ، ہوا کے درمیان ان کی گردش،اور ان کے زمین پر آگرنے کا لمحہ۔ یہ سب امور اس کے علم کے سامنے واضح اور روشن ہے اسی طرح کوئی دانہ زمین کی کسی پوشیدہ جگہ میں نہیں ٹھہرتا مگر یہ کہ وہ اس کی تمام خصوصیات کو جاجنتا ہے
( ولا حبة فِی ظُلُمَاتِ الْاٴَرْضِ ) ۔
در حقیقت ( اس آیت میں ) دو حساس نقطوں پر انگشت رکھی گئی ہے، کہ جن کا احاطہ کرنا کسی بھی انسان کے لئے ممکن نہیں ہے،خواہ ہزاروں سال اس کی عمر کے گزر جائیں اور خواہ وہ کتنی بھی صنعتی مہارت اور حیرت انگیز ارتقائی منزلیں کیوں نہ طے کرلے ایسا کونسا انسان ہے جو یہ جانتا ہو کہ ہوائیں ہر شب وروز میں تمام کرہ زمین پر کتنی قسم کے گھاس پھوس کے بیچ ان کے پودوں سے جدا کرکے کہاں کہاں بکھر رہی ہے، ایسے ایسے بیج جو بعض اوقات ممکن ہے کہ سالہا سال تک زمین کی گہرائیوں میں اس وقت تک چھپے ہوئے پڑے رہیں جب کہ ان کی نشو نما کے لئے کافی مقدار میں پانی حاصل نہ ہوجائے ۔
ایسا کونساانسان ہے جو یہ جانتا ہو کہ ہر لمحے کیڑے مکوڑوں کے ذریعے یا انسانوں کے وسیلہ سے، کتنے دانے اور کس کس قسم کے بیج، اور زمین کے کن کن نقاط میں ، بکھیرے جارہے ہیں ۔
کونسا برقی دماغ ہے وہ جو جنگلوں کے درختوں کی شاخوں سے ہر روز جھڑنے والے پتوں کی تعداد کا شمار کرسکے کسی ایک جنگل کے منظر کی طرف نگاہ کرتے ہوئے، خاص طور پر موسم خزاں میں اور خصوصا مسلسل بارش یا تیز ہوا کے بعد،اور اس عجیب وغریب منظر کو دیکھتے ہوئے کہ جو پتوں کے پے درپے گرنے سے پیدا ہوتا ہے ، یہ حقیقت اچھی طرح ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ بات ہرگز ہرگز ممکن نہیں ہے کہ اس قسم کے علوم تک انسان کی دسترس ہوسکے ۔
حقیقتا پتوں کا گرنا ان کی مو ت کا وقت ہے اور تایک زمینوں میں دانوں کا کا گرنا، ان کی حیات وزندگی کی طرف پہلا قدم ہے اور صرف اسی کی ذات ہے کہ جو اس موت وزندگی کے نظام سے خبر ہے، یہاں تک کہ ایک دانہ اپنی کامل زندگی اور پھوٹنے کی طرف جو مختلف قدم اٹھاتا ہے، وہ ہر لمحہ اور ہر گھڑی اس کے علم کی بارگاہ میں واضح وآشکار ہے ۔
اس امر کے بیان کا ایک اثر فلسفی ہے اور اثر تربیتی، اس کا فلسفی اثر تو یہ ہے کہ یہ ان لوگوں کے خیال کی کہ جو خدا کے علم کو کلیات میں منحصر سمجھتے ہیں اور ان کاعقیدہ یہ ہے کہ خدا اس جہان کے جزئیات سے آگاہ نہیں ہے، نفی کرتا ہے اور صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ خدا تمام کلیات وجزئیات سے مکمل آگاہی رکھتا ہے(۲) ۔
باقی رہا اس کا تربیتی اثر تو وہ واضح ہے، کیوں کہ اس وسیع وبے پایاں علم پر ایمان رکھنا انسان سے یہ کہتا ہے کہ تیرے وجود کے تمام اسرار، اعمال، گفتار، نیات، اور افکار سب کے سب اس کی ذات پاک کے لئے واضح وآشکار ہے، اس قسم کے ایمان کے ساتھ کس طرح ممکن ہے کہ انسان اپنے حالات پر نگاہ نہ رکھے اور اپنے اعمال، گفتار اور نیات پر کنٹرول نہ کرے ۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے:کوئی خشک و تر نہیں ہے مگر یہ کہ وہ کتاب مبین میں ثبت ہے( وَلاَرَطْبٍ وَلاَیَابِسٍ إِلاَّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ ) ۔
یہ جملہ ایک مختصر سی عبادت کے ساتھ تمام موجودات کے لئے خدا کے غیر متناہی علم کی وسعت کو بیان کرتا ہے اور کوئی چیز اس سے مستثنی نہیں ہوگی کیوں کہ ”تر“ اور ”خشک“ سے مراد ان کا لغوی معنی نہیں ہے بلکہ یہ تعبیر معمولا عمومیت کے لئے استعمال ہوتی ہے ۔
کتاب مبین کے بارے میں مفسرین نے مختلف احتمال پیش کئے ہیں لیکن ان میں جو بات زیادہ صحیح دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ کتاب مبین سے مراد وہی مقام علم پروردگار ہے یعنی تمام موجودات اس کے بے پایاں علم میں ثبت ہے اور اس کی لوح محفوظ سے تعبیر کرنا بھی اسی معنی کے مطابق قرار دینے کے قابل ہے کیوں کہ یہ بات بعید نہیں ہے کہ لوح محفوظ سے مراد وہی صفحہ علم خدا ہو ۔
کتاب مبین کے معنی میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ علم خلقت اور سلسلہ علت ومعلول ہو کہ جو تمام چیزیں اس میں لکھ دی گئی ہیں ۔
بہت سی روایات میں میں جو اہلبیت علیہم السلام کے طرق سے پہنچی ہیں ان میں ”ورقة “ سقط شدہ جنین کے معنی میں ، ”حبہ“ فرزند کے معنی میں ”ظلمات الارض “ ماؤں کے رحم کے معنی میں اور ”رطب“ ان نطفوں کے معنی میں جو زندہ رہتے ہیں اور ”یابس“ ان کے معنی میں جو ختم ہوجاتے ہیں تفسیر ہوئی ہے(۳) ۔
اس میں شک نہیں کہ یہ تفسیر ان الفاظ کے لغوی معنی جمود کی صورت میں تو تطبیق نہیں کرتی کیوں کہ” ورقہ“ کامعنی ہے پتہ ” حبہ“ کا معنی ہے دانہ اور ”ظلمات الارض “ کا معنی ہے زمین کی تاریکیاں اور ”رطب“ کا معنی تر اور”یابس “ کا معنی ہے خشک، لیکن ائمہ اہل بیت علیہم السلام نے حقیقت میں اس تفسیر سے مسلمانوں کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا چاہا ہے کہ انھیں آیات قرآن میں ایک وسیع اور کشادہ نگاہ کے ساتھ غور کرنا چاہئے اور ان کے معانی سمجھنے میں صرف لفظ پر جمود نہ کریں بلکہ جہاں قرائن معنی کی وسعت پر دلالت کرتے ہوں تو وسعت معنی کی طرف نگاہ رکھیں ۔
اوپر والی روایت میں حقیقت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اوپر والی آیت کا مفہوم صرف گھاس پھوس کے دانوں میں منحصر نہیں ہے بلکہ انسانی نطفوں کے بیج تک اس کے مفہوم میں شامل ہے ۔
بعد والی آیت میں اعمال انسانی پر علم خدا کے احاطہ کی بحث کی گئی ہے کہ جو اس کا ہدف اصلی ہے اور خدا کی قدرت قاہرہ کو بھی مشخص کیا گیا ہے تاکہ لوگ اس مجموعی بحث سے ضروری تربیتی نتائج حاصل کر سکیں ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسی ذات ہے کہ جو تمھاری روح کو رات کے وقت قبض کرلیتی ہے اور جوو کچھ تم دن میں انجام دیتے ہو اور کمائی کرتے ہیں اس سے آگاہ ہے( وَهُوَ الَّذِی یَتَوَفَّاکُمْ بِاللَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ) ۔
”توفی“ لغت میں واپس لے لینے کے معنی میں ہے اور اور یہ جو نیند کو ایک طرح سے روح کو واپس لے لینا کہا گیا ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ نیند ۔جیسا کہ معروف ہے ۔ موت کی بہن ہے، موت انسانی دماغ کے کارخانہ کا مکمل طور سے معطل ہوجانا ہے اور روح وجسم کے تعلق کامطلقا منقطع ہوجانا ہے ، جب کہ نیند صرف دماغی کارخانہ کے ایک حصہ کا تعطل ہے اور اس تعلق کا ضعیف ہوجا نا اس بنا پر نیند موت کا ایک چھوٹا مرحلہ شمار ہوتی ہے(۴) ۔
” جرحتم“ ”جرح“ کے مادہ سے ہے یہاں اکتساب اور کسی چیز کا حاصل کرنے معنی میں ہے یعنی تم رات دن خدا کے علم قدرت کے سائے میں رہتے ہو ، وہ ذات کہ جو مٹی کے اندر نباتات کے دانوں کی پرورش اور ہر زمان ومکان میں پتوں کے گرنے اور ان کی موت سے آگاہ ہے، وہ تمھارے اعمال سے بھی آگاہ ہے ۔
اس کے بعد کہتا ہے کہ یہ نیند اور بیداری کا نظام بار بار دہرایا جارہا ہے رات کو تم سوجاتے ہو اور دن تمھیں بیدار کردیتا ہے ، اور یہ حالت اسی طرح سے جاری رہتی ہے یہاں تک کہ زندگی کے آخری لمحات آجاتے ہیں( ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیهِ لِیُقْضَی اٴَجَلٌ مُسَمًّی ) ۔(۵)
بلا آخر بحث کے آخری نتیجہ کو یوں بیان کیا گیا ہے : پھر سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے، اور وہ تمھیں اس سے جو تم انجام دے چکے ہو آگاہ کرے گا
( ثُمَّ إِلَیْهِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔
(بعد والی آیت میں دوبارہ بندوں کے اعمال کی نسبت خدا کے علمی احاطے کی مزید وضاحت اور قیامت کے دن ان کے حساب کی انتہائی دقیق نگہداشت کے بارے میں قرآن کہتا ہے:وہ اپنے بندوں پر مکمل تسلط رکھتا ہے اور وہی ہے جو تمھارے لئے محافظ ونگہبان بھیجتا ہے تاکہ وہ تمھارے اعمال کا حساب انتہائی احتیاط کے ساتھ محفوظ کریں( وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَةً ) ۔
جیسا کہ ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ ”قاہریت“ کسی چیز پر ایسے غلبہ اور تسلط کامل کے معنی میں ہے کہ جس میں مدمقابل میں ٹھہرنے کی طاقت وسکت ہی نہ ہو اور بعض کے نظریہ کے مطابق یہ لفظ عام طور پر ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے کہ جس میں مد مقابل عقل رکھتا ہو جب کہ لفظ غلبہ ان دونوں باتوں میں سے کوئی سی خصوصیت نہیں رکھتا ، بلکہ اس کامعنی کامل طور سے وسیع ہے ۔
”حفظة“ ”حافظ“ کی جمع ہے اور یہاں ان فرشتوں کے معنی میں ہے کہ جوانسانوں کے اعمال کی حفاظت پر مامور ہیں جیسا کہ سورہ انفطار کی آیہ ۱۰ تا ۱۲ میں ہے:( ان علیکم لحافظین کراما کاتبین یعلمون ما تفعلون )
تمھارے اوپر نگہبانی کرنے والے محافظ (فرشتے) متعین کردئے گئے ہیں دو محترم ومکرم لکھنے والے ہیں جو تمھارے ہر کام سے آگاہ ہیں ۔
بعض مفسرین کانظریہ ہے کہ وہ اعمال انسانی کے محافظ نہیں ہیں بلکہ ان کی ڈیوٹی خود انسان کی اجل معین تک حوادث بلایا سے حفاظت کرنا ہے اور وہ ”حتی اذا جاء احدکم الموت “ کو کہ جو ”حفظة“ کے بعد ذکر ہوا ہے اس کا قرینہ سمجھتے ہیں اور سورہ رعد کی آیہ ۱۱ کو بھی ممکن ہے اس بات پر شاہد قرار دیں(۶) ۔
لیکن پوری زیر بحث آیت پر غور فکر کرنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی کہ ”حفظة“ سے مراد یہاں وہی حفظ اعمال ہیں ، باقی رہے وہ فرشتے جو انسانوں کی حفاظت پر مامور ہیں ان کے بارے میں انشاء اللہ سورہ رعد کی تفسیر میں بحث کریں گے ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اس حساب کی نگہداری زندگی کے ختم ہونے کے آخری لمحے اور موت کے آجانے تک جاری ہے( حَتَّی إِذَا جَاءَ اٴَحَدَکُمْ الْمَوْتُ ) ۔
اس وقت ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جو قبض ارواح پر مامور ہیں اس کی روح کو قبض کرلیتے ہیں( تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا ) ۔(۷)
آخر میں مزید کہتا ہے کہ یہ فرشتے کسی طرح بھی اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی ، قصور اور تفریط نہیں کرتے نہ روح کے لینے کے لمحہ کو مقدم کرتے ہیں اور نہ موخر( وَهُمْ لاَیُفَرِّطُونَ ) یہ احتمال بھی موجود ہے کہ یہ صفت انسانوں کے اعماک ے حسا کی حفاظت کرنے والے فرشتوں سے مربوط ہو کہ وہ اعمال کے حساب کی نگرانی وحفاظت میں کم سے کم کوتاہی اور قصور نہیں کرتے اور زیر بحث آیت میں گفتگو کامدار بھی اسی حصہ پر ہے ۔
بعد والی آیت میں انسان کے آخری مرحلہ کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : افراد بشر اپنے دوران زندگی کو ختم کرنے کے بعد اپنے ان اعمال ناموں کے ساتھ کہ جن میں پوری تنظیم کے ساتھ سب کچھ ثبت و ضبط ہوگا قیامت کے دن اپنے اس پروردگار کی طرف جو ان کا حقیقی مولا ہے پلٹ جائیں گے
( ثُمَّ رُدُّوا إِلَی اللَّهِ مَوْلاَهُمْ الْحَقِّ ) ۔
اور اس کی عدالت میں انصاف کرنا، حکم دینا اور فیصلہ کرنا خدا کی پاک ذات کے ساتھ مخصوص ہے( اٴَلاَلَهُ الْحُکْمُ ) ، اور افراد بشر اپنی پر شور طولانی تاریخ میں میں جو جو عمل کرتے رہے اور ان کے جو اعمال نامے تھے ان کا بڑی تیزی کے ساتھ حساب کرے گا( وَهُوَ اٴَسْرَعُ الْحَاسِبِینَ ) ۔
یہاں تک کہ بعض روایات میں ہے کہ :انه سبحانه یحاسب جمیع عباده مقدار حلب شاة
خدا وند تعالیٰ اپنے تمام بندوں کا حساب اتنے تھوڑے سے وقت میں لے لے گا جتنے وقت میں ایک بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے ۔(۸)
جیسا کہ ہم سورہ بقرہ کی آیہ ۲۰۲ کی تفسیر یں بیان کرچکے ہیں بندوں کا حساب اتنی تیزی کے ساتھ لیا جائے گا کہ لمحہ بھر یں ان سب کا تمام حساب کر لیا جائے گا اور ایک بکری کے دودھ دوہنے کے وقت کا بیان اور اوپر والی روایت کم سے کم وقت کی نشادہی کے لئے ہے اور اسی ایک دوسری روایت میں ہے
ان اللّٰه تعالیٰ یح+اسب الخلائق کلهم فی مقدار لمح البصر ۔(۹)
خدا وند تعالیٰ تمام بندوں کا حساب ایک لحظہ میں کرے گا ۔
اور اس کی دلیل وہی ہے جو اوپر والی آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہے اور وہ یہ کہ انسان کے اعمال خواہ اس کے وجود میں اور اس کے اطراف کے موجودات میں اپنا اثر چھوڑتے ہیں ، یعنی وہ بالکل ان مشینوں کی طرح ہیں کہ جو اپنی حرکت کی مقدار اور اپنی کارکردگی کو نمبروں والے آلات میں ظاہر کر دیتے ہیں زیادہ واضح الفاظ میں ( یوں کہا جاسکتا ہے) اگر اایسے دقیق آلات موجود ہوں تو انسان کی آنکھ ایسی خیانت آمیز نظروں کی تعداد کو جو اس نے کی ، پڑھا جاسکتا ہے اور اانسان کی زبان پر آئے ہوئے جھوٹ، تہمتوں ، زبان کے زخموں او غلط باتوں کی تعداد کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے، خلاصہ یہ کہ انسان کی روح کے علاوہ اس کے بدن کا ہر عضو خود اپنے اندر اعداد وشمار بتلانے والے اور حساب وکتاب ظاہر کرنے والے آلات رکھتا ہے کہ ایک ہی لمحہ میں اس کا سارا حساب وکتاب معلوم ہوجائے گا ۔
اب اگر ہم کچھ روایات میں یہ پڑھتے ہیں کہ زیادہ فرائض رکھنے والے اور بہت زیادہ مال ودولت کے مالک افرادکا حساب اس دن بہت طولانی ہوگا تو وہ حقیقت میں اس بنا پر نہیں ہے کہ ان کے اصل حساب تک رسائی نہیں ہوئی ہے، بلکہ وہ اس بنا پر ہے کہ ان کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ ان سوالات کا جو ان کے اعمال کی نسبت ہو ں گے جواب دیں ، یعنی جوابدہی کے بوجھ کی سنگینی اور جواب دینے کا لازمی وضروری ہونا اور اتمام حجت ان کی پیشی کے وقت کو طولانی کردے گا ۔
یہ آیات بندگان خدا کے لئے مکمل تربیتی درس ہے، خدا کا اس جہان کے کے چھوٹے چھوٹے ذرات سے آگاہ ہونا تمام چیزوں پر اس کا احاطہ علمی، بندوں کی نسبت اس کی قدرت قہاریت اس کا تمام اعمال بشر سے مطلع ہونا، باریک بین لکھنے والوں کے ذریعہ حساب اعمال کی نگہداری وحفاظت، وقت مقرر پر اس کی جان کا لینا، قیامت کے دن اس کا اٹھایاجانا اور پھر اس انسان کے تمام کاموں کی دقت نظر اور سرعت کے ساتھ جانچ پڑتال۔
کون ہے کہ جو ان تمام چیزوں پر ایمان رکھتا ہو اور پھر اپنے اعمال پر نظر نہ رکھے؟بے حساب ظلم ستم کرے، بلا وجہ جھوٹ بولے اور دوسرے پر زیادتی کرے ، کیا یہ اعمال مذکورہ اصول پر ایمان، اعتقاد اور توجہ کے ساتھ کبھی جمع ہوسکتے ہیں ؟ ۔
____________________
۱۔ما ان مفاتحه لتنوء بالعصبة اولی القوة ۔ (قصص ۷۶)،اٴوما ملکتم مفاتحه (نور ۶۱)
۲۔ مزید وضاحت کے لئے کتاب” خدا را چگونہ بشاسیم“ کی طرف رجوع کریں ۔
۳۔ تفسیر برہان جلد اول صفحہ ۵۲۸۔
۴۔تفسیر نمونہ کی جلد ۲ صفحہ ۳۴۱ پر بھی اس سلسلہ میں گفتگو کرچکے ہیں ۔
۵۔ فیھا “ کی ضمیر ”نھار “ کی طرف لوٹتی ہے اور ”بعث“ بھی یہاں نیند سے اٹھنے اور بیدار ہونے کے معنی میں ہے اور ”اجل مسمیٰ“ سے مراد وہ عمر ہے جو کسی شخص کے لئے مقرر ہے ۔
۶۔ تفسیر المیزان جلد ۷ صفحہ ۱۳۴۔
۷۔ قبض ارواح اور آدمی کی جان کے لینے کے بارے میں تفسیر نمونہ کی چوتھی جلد صفحہ ۸۳ کی طرف رجوع کریں ۔
۸۔ مجمع البیان، جلد۳ صفحہ ۳۱۳۔
۹۔ تفسیر مجمع البیان، جلد۱و جلد ۲ ،صفحہ ۲۹۸۔
آیات ۶۳،۶۴،
۶۳( قُلْ مَنْ یُنَجِّیکُمْ مِنْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْیَةً لَئِنْ اٴَنجَانَا مِنْ هَذِهِ لَنَکُونَنَّ مِنْ الشَّاکِرِینَ ) ۔
۶۴( قُلْ اللَّهُ یُنَجِّیکُمْ مِنْهَا وَمِنْ کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ اٴَنْتُمْ تُشْرِکُونَ ) ۔
ترجمہ:
۶۳ ۔ کہہ دو کہ کون ہے وہ کہ جو تمھیں خشکی اور سمندروں کی تاریکیوں سے رہائی بخشتا ہے جب کہ تم اسے آشکار اور پوشیدہ طور پر (دل ہی دل میں )پکارتے ہو(اور کہتے ہو) اگر تونے ہمیں ان (خطرات اور تاریکیوں ) سے رہائی بخش دی، تو ہم شکرگزاروں میں سے ہوجائیں گے ۔
۶۴ ۔ کہہ دو کہ خدا تمھیں ان چیزوں سے اور ہر مشکل وپریشانی سے نجات بخشتا ہے پھر بھی تم اس کے لئے شریک قرار دیتے ہو(اور کفر کی راہ پر چلتے ہو)
تفسیر وہ نور جو تاریکی میں چمکتا ہے
دوبارہ قرآن مشرکین کا ہاتھ پکڑ کر ان کی فطرت کے اندر لے جاتا ہے، اور اس اسرار آمیز نہاں خانہ میں انھیں توحید کے نور اور یکتا پرستی کی نشاندہی کراتا ہے اور پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ وہ انھیں اس طرح کہیں :کون ہے وہ کہ جو تمھیں بر وبحر کی تارکیوں سے نجات دیتا ہے
( قُلْ مَنْ یُنَجِّیکُمْ مِنْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ) ۔
اس بات کی یاددہانی کرادینا بھی ضروری ہے کہ ظلمت وتاریکی کبھی تو جنبہ حسی رکھتی ہے اور کبھی جنبہ معنوی، ظلمت حسی یہ ہے کہ نور کلی طور پر منقطع ہوجائے یا اس قدر کمزور ہوجائے کہ انسان کسی جگہ کو نہ دیکھ سکے یا مشکل سے دیکھ سکے اور ظلمت معنوی مشکلات ،مصیبتیں اور پریشانیاں ہیں کہ جن کا انجام تاریک ونامعلوم ہے، جہالت تاریکی ہے، اجتماعی واقتصادی ہرج مرج اور فکری بے سروسایبانیاں ، انحراف اور اخلاقی آلودگیاں کہ جن کے برے انجام پیش بینی کے قابل نہیں ہیں یا وہ چیز کہ جو بدبختی اور پریشانی کے سواکچھ نہ ہو، یہ سب کی سب ظلمت ہیں ۔
ظلمت وتاریکی اپنی ذات سے ہولناک اور توہم انگیز ہیں کیوں کہ بہت سے خطرناک جانوروں ، چوروں اورمجرموں کا حملہ رات کی تاریکی میں ہی ہوتا ہے اور ہر شخص کو اس سلسلے میں کوئی نہ کوئی خطرہ درپیش رہتا ہے، لہٰذا تاریکی میں پھنس جانے کی صور ت میں اوہام وخیالات انسان کی جان لے لیتے ہیں ، خیالات کے مختلف زاویوں سے مختلف صورتیں اور وحشتناک شکلیں نکل نکل کر بھاگنے لگتی ہیں اور عام افراد کو خوف و ہراس میں پھنسادیتی ہیں ۔
ظلمت وتاریکی عدم کا شعبہ ہے اور انسان ذاتی طور پر عدم سے بھاگتا ہے اور وحشت رکھتا ہے، اسی سبب سے وہ عام طور سے تاریکی سے ڈرتا ہے ۔
اگر یہ تاریکی واقعی وحشتناک حوادث سے مل جائے،مثلا انسان ایک ایس سمندری سفر میں پھنس جائے جس میں اندھیری رات، موجوں کا خوف ہو اور طوفان آیا ہوا ہو، تو اس کی وحشت وپریشانی ان مشکلات سے کئی درجے زیادہ ہوگی جو دن کے وقت ظاہرہوں ، کیوں کہ عام طور سے ایسے حالات میں انسان کے لئے چھٹکارے کی راہیں مسدود ہوجاتی ہیں ۔
اسی طرح اگر اندھیری رات میں کسی جنگل بیابان میں انسان راستہ بھول جائے اور درندوں کی وحشتناک آوازیں ، جو رات کے وقت اپنے شکار کی تلاش میں ہوتے ہیں دور اور نزدیک سے سنائی دے رہی ہوں ، یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جس میں انسان سب کچھ بھول جاتا ہے اور خود اپنے اور اس تابناک نور کے سوا جو اس کی روح کی گہرائی میں چمکتا ہے اور اسے ایک مبدا کی طرف بلاتا ہے کہ صرف وہی ہے کہ جو اس قسم کی مشکلات کو حل کرسکتا ہے، باقی اسے کچھ یاد نہیں رہتا اس قسم کے حالات جہان توحید وخدا شناسائی کا دریچہ ہے، اسی لئے بعد کے جملے میں ارشاد ہوتا ہے: اس قسم کی حالت میں تم اس کے لامتناہی لطف وکرم سے مدد طلب کرتے ہو، بعض اوقات آشکار خضوع وخشوع کے ساتھ اور کبھی پوشیدہ طریقے سے دل ہی دل کے اندر اسے پکارتے ہو( تَدْعُونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفْیَةً ) ۔
اور ایسی حالت میں تم فورا اس عظیم مبداکے ساتھ عہد وپیمان باندھتے ہو کہ اگر ہم اس خطرے سے نجات دے دے تو ہم یقینا اس کی نعمتوں کا شکر اداکریں گے اور اس کے سوا کسی اور سے دل نہیں لگائیں گے( لَئِنْ اٴَنجَانَا مِنْ هَذِهِ لَنَکُونَنَّ مِنْ الشَّاکِرِین )
لیکن اے پیغمبر! تم ان سے کہہ دو کہ خدا تمھیں ان تاریکیوں سے اور ہر قسم کے دوسرے غم واندوہ سے نجات دےتا ہے(اور بارہا تمھیں نجات دی ہے) لیکن تم رہائی پانے کے بعد اسی شرک وکفر کے راستے پر چل پڑتے ہو( قُلْ اللَّهُ یُنَجِّیکُمْ مِنْهَا وَمِنْ کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ اٴَنْتُمْ تُشْرِکُونَ ) ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ ”تضرع“ کا ذکر جو دعائے آشکار کے معنی میں ہے اور ”خفیة“ کا تذکرہ جو کہ پنہانی دعا ہے شاید اس سبب سے ہو کہ مشکلات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں ، بعض اوقات شدت کے مرحلہ تک نہ پہنچنے کی وجہ سے انسان کو پنہانی دعا کی دعوت دیتی ہے اور بعض اوقات وہ شدید مرحلہ تک پہنچ جاتی ہے تو علی الاعلان دست دعا بلند کرتا ہے اور بعض اوقات نالہ وفریاد کی نوبت آجاتی ہے، مقصد یہ ہے کہ خدا تمھاری شدید مشکلات کو بھی حل کرتا ہے اور ضعیف مشکلات کو بھی۔
۲ ۔ بعض کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان کی چار نفسیاتی حالتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جن میں سے ہر ایک مشکلات کے ظہور کے وقت ایک قسم کا عکس العمل ہے حالت دعا ونیاز ،حالت تضرع وخضوع، حالت اخلاص اور مشکلات سے نجات حاصل ہوتے وقت شکر گزاری کے التزام کی حالت۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان افراد میں سے بہت سوں کے لئے قیمتی حالات بجلی کی طرح جلدی سے گزرجانے والے اور شدائد ومشکلات کے مقابلے میں تقریبا اضطراری شکل میں پیدا ہوتے ہیں ، لیکن چوں کہ ان میں علم و آگاہی نہیں ہوتی لہٰذا شدائد ومشکلات کے برطرف ہوتے ہی خاموشی سے ہمکنار ہوجاتے ہیں ۔
اس بنا پر یہ حالات اگر چہ زود گزرہی ہوں پھر بھی دور افتادہ افراد کے لئے خدا شناسی کے سلسلے میں دلیل بن سکتے ہیں ۔
۳ ۔ ”کرب“ (بروزن حرب) در اصل زمین کو نیچے اوپر کرنے اور کھودنے کے معنی میں ہے، نیز وہ محکم گرہ جو کنویں کے ڈول کی طناب میں لگائی جاتی ہے، کے معنی میں بھی آتا ہے، اس کے بعد وہ غم واندو ہ جو انسان کے دل کو زیر وزبرکرتے ہیں اور جو گرہ کی طرح انسان کے دل پر بیٹھ جاتے ہیں کے لئے بھی بولا جانے لگا ۔
اس بنا پر اوپر والی آیت میں لفظ”کرب“ جو ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور ہر قسم کی بڑی سے بڑی مشکلات پر محیط ہے یہ ”بر وبحر کی تاریکیوں “ کا ذکر کرنے کے بعد کہ جو شدائد کے ایک خاص حصہ کا کہا جاتا ہے، ایک خاص مفہوم بیان کرنے کے بعد ایک عام مفہوم کے طور پر آیا ہے(غور کیجئے گا) ۔
یہاں پر وہ حدیث بیان کرنا کہ جو اس آیت کے ذیل میں بعض اسلامی تفاسیر میں نقل ہوئی ہے نامناسب نہ ہوگا، پیغمبر اکرم صلی الله علیه و آله وسلم سے نقل ہواہے کہ آپ نے فرمایا:خیر الدعاء الخفی وخیر الرزق ما یکفی
بہترین دعا وہ ہے کہ جو پنہانی (اور انتہائی خلوص کے ساتھ) صورت پذیر ہو اور بہترین روزی وہ ہے کہ جو بقدر کفایت ہو (نہ کہ اسی ثروت اندوزی کہ جو دوسروں کی محرومیت کا سبب بنے اور انسان کے کندھے پر ایک سنگین بوجھ ہو) ۔
اور اسی حدیث کے ذیل میں ہے :
مر بقوم رفعوا اصواتهم بالدعا فقال انکم لاتدعون الاصم ولا غائبا وانما تدعون سمیعا قریبا ۔(۱)
پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم ایک گروہ کے قریب سے گزرے وہ لوگ بلند آواز سے دعا کررہے تھے تو آپ نے فرمایا: تم کسی بہرے کو تو نہیں پکار ہے اور نہ ہی کسی ایسے شخص کو پکاررہے ہو کہ جو تم سے پوشیدہ اور دور ہو بلکہ تم تو ایک ایسی ہستی کو پکاررہے ہو کہ جو سننے والا بھی ہے اور قریب بھی ہے ۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر دعا آہستہ آہستہ اور توجہ اور اخلاص کے ساتھ کی جائے تو بہتر ہے ۔
____________________
۱۔ تفسیر مجمع البیان ونورالثقلین مندر جہ بالا آیت کے ذیل میں ۔
آیت ۶۵
۶۵( قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَی اٴَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ اٴَوْ مِنْ تَحْتِ اٴَرْجُلِکُمْ اٴَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَکُمْ بَاٴْسَ بَعْضٍ انظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْآیَاتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُونَ ) ۔
ترجمہ:
۶۵ ۔ تم کہہ دو کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی عذاب یا تو اوپر کی طرف سے تم پر نازل کردے یا تمھارے پاؤں کے نیچے کی طرف سے بھیج دے،یا تمھیں مختلف گروہوں کی صورت میں ایک دوسرے کے سامنے بھڑا دے او رجنگ (وناراحتی) کا ذائقہ تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کے ذریعے چکھا دے، دیکھو ہم طرح طرح کی آیات کو کس طرح ان کے لئے واضح کرتے ہیں شاید وہ سمجھ لیں ( اور پلٹ آئیں ) ۔
رنگ رنگ کے عذاب
گذشتہ آیات میں توحید فطری کے بیان کے ضمن میں در حقیقت بندوں کے ساتھ ایک قسم کی تشویق اور اظہار محبت ہوا تھا کہ خدا وند تعالیٰ شدائد ومشکلات کے وقت انھیں کس طرح اپنی پناہ میں لے لیتا ہے اور ان کی خواہشات کو پورا کرتا ہے ۔
اس آیت میں تربیت کے مختلف طرق کی تکمیل کے لئے خدائی عذاب اور سزا سے ڈرانے کے مسئلہ کا سہارا لیا گیا ہے یعنی جس طرح کہ خدا الرحمن الرحیم اور بے سہارا لوگوں کو پناہ دینے والا ہے، اسی طرح طغیانگروں اور سرکشوں کے مقابلے میں قہار ومنتقم بھی ہے، اس آیت میں پیغمبر کو حکم دیا جارہا ہے کہ مجرموں کو تین قسم کی سزاؤں کی دھمکی دو،اوپر کی طرف کے عذابوں کی، نیچے کے طرف کے عذابوں کی اور باہمی اختلاف کے ذریعے جنگ کی آگ کے بھڑک اٹھنے اور خونریزی کی سزائیں ، لہٰذا فرمایا گیا کہ :کہہ دو کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی عذاب یا تو اوپر کی طرف سے تم پر نازل کرے یا تمھارے پاؤں کے نیچے سے بھیج دے( قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَی اٴَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِکُمْ اٴَوْ مِنْ تَحْتِ اٴَرْجُلِکُمْ ) ۔
یا تمھیں مختلف گروہ کی صورت میں ایک دوسرے کے ساتھ بھڑا دے اور جنگ وخونریزی کا ذائقہ تم سے ہر ایک کو دوسرے کے ذریعے چکھا دے( اٴَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَکُمْ بَاٴْسَ بَعْضٍ ) ۔
اور آیت کے آخر میں قرآن مزید کہتا ہے :دیکھو! ہم طرح طرح کی نشانیوں اور دالائل کو کس طرح ان کے لئے بیان کرتے ہیں شاید وہ سمجھ جائیں اور حق کی طرف لوٹ آئیں( انظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْآیَاتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُونَ ) ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ اس بارے میں کہ ”اوپر“ کی طرف سے ”عذاب“ اور ”نیچے“ کی طرف عذاب سے کیا مراد ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ دونوں لفظ (فوق وتحت) بہت ہی وسیع معنی رکھتے ہیں ، ان میں حسی طور پر اوپر اور نیچے کا مفہوم بھی شام ہے یعنی ایسی سزائیں جو اوپر کی طرف سے آتی ہیں ،مثلا بجلیاں ، خطرناک بارشیں اور طوفان اور ایسی سزائیں جو نیچے کی طرف سے آتی ہیں مثلا زلزلے اور زمین کو ویران وبرباد کرنے والے شگاف اور دریاؤں اور سمندروں کے طوفان، سب اس میں داخل ہیں ۔
وہ دردناک عذاب بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں کہ جو حکام کے طبقہ اور معاشرے کے اوپر والے حصے کی طرف سے بعض قوموں کے سروں پر آتے ہیں اور وہ پریشانیاں اور سختیاں جو مزدوروں اور نافہم اور فرض ناشناس افراد کی طرف سے لوگوں کودامنگیرہوجاتی ہیں جو بعض اوقات پہلے گروہ کے عذاب سے کم تر نہیں ہوتی، سبھی اس کے معنی میں داخل ہیں ۔
اور اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے زمانے کے خوفناک جنگی ہتھیار کہ جو فضا اور زمین سے وحشتناک صورت میں انسانی زندگی کو تباہ کردیتے ہیں اور تھوڑی سی دیر میں آباد ترین شہروں کو ہوائی بمباری اور زمینی حملوں سے، میزائیلوں اور آبدوزوں سے خاکستری ٹیلوں میں بدل جاتے ہیں وہ بھی آیت کے وسیع مفہوم میں داخل ہیں ۔
۲ ۔ ”یلبسکم“ ”لبس“ (بروزن حبس) مڈھ بھیڑ کرانے اور ایک دوسرے سے ٹکرانے کے معنی میں ہے نہ کہ مادہ ”لبس“ (بروزن قرض) لباس پہننے کے معنی میں ، اس بنا پر جملہ کے معنی یوں ہوگا کہ وہ تمھیں مختلف گروہ اور دستوں کی شکل میں ایک دوسرے سے ٹکرابھی سکتا ہے ۔(۱)
اور یہ تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی کہ اختلاف کلمہ (تفرقہ بازی یاپھوٹ )اور جمعیت کی پراگندگی کا مسئلہ اس قدر خطرناک ہے کہ وہ آسمانی عذاب اور بجلیوں اور زلزلوں کا ہم پلہ اور ہم پایہ قرار پایا ہے، حقیقتا ہے بھی ایسا ہی بلکہ بعض اوقات اختلاف و پراگندگی سے پیدا ہونے والی ویرانیاں ان ویرانیوں سے کئی درجے زیادہ ہوتی ہے جو بجلیوں اور زلزلوں سے آتی ہے، بارہا دیکھا گیا ہے کہ آباد ملک نفاق اور تفرقہ بازی کے منحوس سائے متعلق تباہی کی نظر ہوجاتے ہیں اور یہ جملہ تمام مسلمانان عالم کے لئے ایک تنبیہ اور صدائے ہوشیار باش ہے ۔
یہ احتمال بھی اس جملہ کی تفسیر میں موجود ہے کہ خدا نے آسمانی اورزمینی عذاب کے مقابلہ میں دو دوسرے عذاب بیان کئے ہیں ، ایک عقیدہ اور فکرونظر میں اختلاف کا عذاب (جو حقیقت میں اوپر کے عذابوں کی مانند ہے) اور دوسرے عمل اور اجتماعی طور طریقوں میں اختلاف کا عذاب جس کا نتیجہ جنگ اور خونریزی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، جو نیچے کی طرف کے عذاب کے مشابہ ہے، اس بنا پر آیت میں چار قسم کے طبیعی عذابوں اور دو قسم کے اجتماعی عذابوں کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔
۳ ۔ اس بات کا اشتباہ نہ ہونے پائے کہ زیر بحث آیت کہتی ہے کہ خدا تمھارے درمیان تفرقہ ڈال دے گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا بلا وجہ لوگوں کو نفاق واختلاف میں گرفتار کردے گا بلکہ یہ لوگوں کے برے اعمال، خودخواہیوں ، خودپرستیوں اور شخصی نفع خوریوں کا نتیجہ ہے کہ جس کا اثر نفاق اور تفرقہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور خدا کی طرف اس کی نسبت اس سبب سے ہے کہ اس نے اس قسم کا اثر ان برے اعمال میں قرار دے دیا ہے ۔
۴ ۔ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ان آیات میں روئے سخن مشرکین اور بت پرستوں کی طرف ہے، ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ایک مشرک معاشرہ جو توحید اور یکتا پرستی کے راستے سے منحرف ہوچکا ہے، وہ طبقات بالا کے ظلم وستم میں بھی گرفتار ہوتا ہے اور نچلے طبقہ کی فرض نا شناسی کی مصیبت میں بھی گرفتار ہوتا ہے، اختلاف عقیدہ کی خرابیون سے بھی دوچار ہوتا ہے اور اجتماعی خونیں کشمکشوں میں ہی گرفتارہوتا ہے، جیسا کہ آج کی مادی دنیا میں معاشرے ، جو صرط صنعت وثروت کے بتوں کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ان تمام عظیم بلاؤں میں مبتلا ہیں اور ان کے درمیان ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں ۔
ہمیں اسے مذاہب کا بھی علم ہے کہ جو توحید وخدا پرستی کا دم بھرتے ہیں لیکن عملی طور پر مشرک اور بت پرست ہیں ، ایسے مذاہب واقوام بھی انھیں مشرکین کے سے انجام میں گرفتار ہوں گے اور یہ جو ہم بعض احادیث میں پڑھتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ :قل هذا فی اهل القبلة ۔
یہ سب سزائیں مسلمانوں میں ہی واقع ہوں گی۔
ممکن ہے کہ یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہو کہ جب مسلمان توحید کے راستے سے منحرف ہوجائیں ، خود خواہی اور خود پرستی اخوت اسلامی کی جگہ لے لے، شخصی مفاد عمومی مفاد پر مقدم سمجھا جانے لگے اور ہر شخص اپنی ہی فکر میں لگ جائے اور خدائی احکام بھلا دئے جائیں ، تو وہ بھی ایسے انجام میں گرفتار ہوجائیں گے ۔
____________________
۱۔” شیعا“ جمع ہے شیعہ کی جس کا معنی گروہ ہے ۔
آیات ۶۶،۶۷
۶۶( وَکَذَّبَ بِهِ قَوْمُکَ وَهُوَ الْحَقُّ قُلْ لَسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیلٍ ) ۔
۶۷( لِکُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ) ۔
ترجمہ:
۶۶ ۔تیری قوم نے اس کی تکذیب اور انکار کیا حالانکہ وہ حق ہیں ( ان سے ) کہہ دو کہ میں تمھارے بارے میں (قبول کرنے اور ایمان لانے کا) جوابدہ ہوں ( میرا فریضہ صرف ابلاغ رسالت ہے نہ کہ تمھیں ایمان پر مجبور کرنا) ۔
۶۷ ۔ہر خبر (جوخدا نے تمھیں دی ہے آخر کار اس) کی ایک قرار گاہ ہے (اور وہ اپنی وعدہ گاہ میں انجام پائی گی) اور تم جلدی ہی جان لوگے ۔
جس وقت تم ان لوگوں کو دیکھو کہ
یہ دونوں آیات حقیقت میں اس بحث کی تکمیل ہے جو خدا ، معاد اورحقائق اسلام کی طرف دعوت دینے اور خدائی سزاؤں سے ڈرانے کے سلسلے میں گذشتہ آیات میں گزرچکی ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے کہ: تیری قوم وجمعیت یعنی قریش اور مکہ کے لوگوں نے تیری تعلیمات کی تکذیب کی حالانکہ کہ وہ سب حق ہے اور مختلف عقلی ، فطری اور حسی دلائل ان کی تائید کرتے ہیں( وَکَذَّبَ بِهِ قَوْمُکَ وَهُوَ الْحَقُّ ) ۔(۱)
اس بنا پر ان کی تکذیب اور انکار سے ان حقائق کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آتی خواہ مخالفت کرنے والے اور منکرین کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہو ۔
اس کے بعد حکم دیا گیا کہ :ان سے کہہ دو کہ میری ذمہ داری تو صرف ابلاغ رسالت ہے اور میں تمھارے قبول کرنے کا ضامن نہیں ہوں( قُلْ لَسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیلٍ )
ان متعدد آیات سے کہ جن میں یہی تعبیر اور اسی کے مانند تعبیر آئی ہے(مثلاانعام۔ ۱۰۷ ، یونس ۔ ۱۰۸ ، زمر۔ ۴۱ اور شوریٰ ۔ ۶) سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مواقع پر ”وکیل“ سے مراد ایسا شخص ہے کہ جو ہدایت عملی کے لئے جوابدہ اوردوسروں کا ضامن ہو، اس طرح پیغمبر انھیں بتاتے ہیں کہ یہ صرف تم ہو کہ جو حقیقت کو قبول کرنے یا روکنے کے سلسلے میں پورا پورا اختیار رکھتے ہو اورہدایت کو قبول کرتے ہو، میں تو صرف ابلاغ رسالت اور دعوت الٰہی پر مامور ہوں ۔
بعد والی آیت میں ایک مختصر اور پر معنی جملہ کے ساتھ انھیں تنبیہ کررہا ہے اور صحیح راستہ انتخاب کرنے کے بارے میں دقت نظر اور باریک بینی کی دعوت دیتا ہے اور کہتا ہے: ہر خبر جو خدا یا پیغمبر تمھیں دیتے ہیں بلاآخر اس جہاں میں یا دوسرے جہاں میں اس کی کوئی نہ کوئی قرار گاہ ہے اور آخر کار وہ اپنی مقررہ میعاد پر انجام پائے گی اور تمھیں بہت جلد اس کی خبر ہوجائے گی( لِکُلِّ نَبَإٍ مُسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ) ۔(۲)
____________________
۱۔ ضمیر ”بہ“ کو بعض نے قرآن کی طرف لوٹایا ہے اور بعض نے اس خاص عذاب کی طرف جو اس سے پہلی آیت میں بیان ہوا تھا لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ ان تمام باتوں کی طرف اور پیغمبر کی تمام تعلیمات کی طرف جن کی دشمنان پیغمبر تکذیب وانکار کیا کرتے تھے ،لوٹتی ہے اور آیت کا آخری جملہ بھی اس معنی پر گواہ ہے ۔
۲۔ ہوسکتا ہے ”مستقر“ مصدر میمی بمعنی اسقرار ہو ، یا یہ اسم زمان ومکان محل استقرار کے معنی میں ہو، پہلی صورت میں خدائی وعدوں کے اصل تحقق کی خبر دے رہا ہے اور دوسری صور میں ان وعدوں کے زمان ومکان کی خبر ہے ۔
آیات ۶۸،۶۹
۶۸( واِذَا رَاٴَیْتَ الَّذِینَ یَخُوضُونَ فِی آیَاتِنَا فَاٴَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّی یَخُوضُوا فِی حَدِیثٍ غَیْرِهِ وَإِمَّا یُنسِیَنَّکَ الشَّیْطَانُ فَلاَتَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرَی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ) ۔
۶۹( وَمَا عَلَی الَّذِینَ یَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَیْءٍ وَلَکِنْ ذِکْرَی لَعَلَّهُمْ یَتَّقُونَ ) ۔
ترجمہ:
۶۸ ۔جس وقت تم ان لوگوں کو دیکھو کہ جو ہماری آیات کا مذاق اڑاتے ہیں تو ان سے منہ پھیر لو، یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں مشغول ہوجائیں اور اگر شیطان تمھیں بھلا دے تو جو نہی (اس ) ستمگر گروہ کی طرف تمھاری توجہ ہوجائے تو ان کے پاس بیٹھنے سے کنارہ کشی کرلو ۔
۶۹ ۔ اور اگر صاحب تقوی افراد (انھیں ہدایت اور پند ونصیحت کرنے کے لئے ان کے پاس بیٹھ جائیں )تو ان کے حساب (وگناہ) میں سے کوئی چیز ان کے اوپر عائد نہیں ہوگی لیکن (یہ کام صرف انھیں ) یاددہانی کرانے کے لئے ہونا چاہئے شاید (وہ سنے اور) پرہیزگاری اختیار کرلیں ۔
شان نزول
تفسیر مجمع البیان میں امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ جب پہلی آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو کفار اور آیات الٰہی کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے منع کیا گیا، تو مسلمانوں کی ایک جماعت کہنے لگی کہ اگر ہم چاہیں کہ اس حکم پر ہر جگہ عمل کریں تو نہ ہمیں مسجدالحرام میں جانا چاہئے اور نہ ہی خانہ کعبہ کا طواف کرنا چاہئے( کیوں کہ وہ مسجد کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اور آیات الٰہی کے بارے میں باطل باتوں میں مشغول ہیں اور ہم مسجد الحرام کے کسی بھی گوشہ میں خواہ کتنا بھی مختصر توقف کریں اس میں ان کی باتیں ہمارے کانوں تک پہنچ سکتی ہیں )، اس موقع پر دوسری آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ایسے مواقع پر انھیں نصیحت کرے اور جتنا ہوسکے ان کی ہدایت اور رہنمائی کریں ۔
اس آیت کے لئے شان نزول کا ذکر جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں تمام سورة کے اکٹھا نازل ہونے کے منافی نہیں کیوں کہ ممکن ہے مسلمانوں کی زندگی میں ایسے مختلف حوادث پیش آئیں ، اس کے بعدا یک سورہ اکٹھی نازل ہو اور اس کی کوئی آیت ان حوادث میں سے کسی حصہ کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی ہو ۔
اہل باطل کی مجالس سے دوری
چونکہ اس سورہ کے زیادہ تر مباحث مشرکین اور بت پرستوں کی کیفیت کے بارے میں ہے لہٰذا ان دو آیات میں ان سے مربوط ایک دوسرے مسئلہ کی طرف اشارہ ہورہا ہے، پہلے پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلمسے ارشاد ہوتا ہے کہ:جس وقت تم ہٹ دھرم اور بے منطق مخالفین کو دیکھو کہ وہ آیات خدا کا استہزاء کررہے ہیں تو ان سے منہ پھیر لوجب تک وہ اس کام سے صرف نظر کرکے دوسری گفتگو کو شروع نہ کرلیں( واِذَا رَاٴَیْتَ الَّذِینَ یَخُوضُونَ فِی آیَاتِنَا فَاٴَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّی یَخُوضُوا فِی حَدِیثٍ غَیْرِهِ ) ۔(۱)
اس جملے میں اگرچہ روئے سخن پیغمبر کی طرف ہے، لیکن یہ بات مسلم ہے کہ یہ حکم آپ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام مومنین کے لئے ہے ۔ اس حکم کا فلسفہ بھی واضح ہے کہ اگر مسلمان ان کی مجالس میں شرکت کرتے تھے تو وہ انتقام لینے اور انھیں تکلیف پہنچانے کے لئے اپنی باطل اور ناروا باتوں کو جاری رکھتے تھے، لیکن جب وہ بے اعتنائی کے ساتھ ان کے قریب سے گزرجائیں تو وہ فطرتا خاموش ہوجائیں گے اور دوسرے مسائل شروع کردیں گے، کیوں کہ ان کا سارا مقصد تو پیغمبر اورمسلمانوں کو تکلیف پہچانا تھا ۔
اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ یہ موضوع اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ ”اگر شیطان تمھیں یہ بات بھلا دے اور اس قسم کے افراد کے ساتھ بھول کر ہم نشین ہوجاؤ تو جب بھی اس موضوع کی طرف توجہ ہوجائے فورا اس مجلس سے کھڑے ہوجاؤ اور ان ظالموں کے پاس نہ بیٹھو( وَإِمَّا یُنسِیَنَّکَ الشَّیْطَانُ فَلاَتَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرَی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ) ۔(۲)
____________________
۱۔ ”خوض“ جیسا کہ ”راغب“ کتاب ”مفردات“ میں کہتا ہے دراصل پانی میں وارد ہونے اور اس میں چلنے(اور نہانے) کے معنی میں ہے لیکن بعد اور امور میں وارد ہونے کے معنی میں بھی بولا جانے لگا، لیکن قرآن میں اس لفظ کا اطلاق زیادہ تر باطل اور بے بنیاد مطلب میں وارد ہونے کے معنی میں ہوا ہے ۔
۲۔ شاید یہ بات یاد دلانے کی ضرورت نہ ہو کہ ”لا تقعد“ (ان کے پاس نہ بیٹھو) سے مراد یہ نہیں ہے کہ صرف ایسے افراد کے پاس بیٹھنا ممنوع ہے، بلکہ مقصد تو ان کی جماعت میں شرکت کرنا ہے، چاہے بیٹھنے کی شکل میں ہو یا قیام کی صورت میں یاچلنے کی حالت میں ۔
دوسوال اور ان کا جواب
پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ شیطان پیغمبر پر تسلط پیدا کرے اور ان کے نسیان کا باعث بنے، دوسرے لفظوں میں کیا مقام عصمت اور خطا مصئونیت کے باوجود حتی کہ موضوعات میں یہ بات ممکن ہے کہ پیغمبر اشتباہ اور نسیان میں گرفتار ہوجائے ۔
اس سوال کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر چہ روئے سخن آیت میں پیغمبر کی طرف سے ہے لیکن حقیقت میں ان کے پیروکار مراد ہیں کہ اگر وہ فراموش کاری میں گرفتار ہوجائیں اور کفار کے گناہ آمیز اجتماعات میں شرک ہوجائی تو جس وقت بھی انھیں یاد آجائے فورا وہاں سے اٹھ کھڑے ہو اور باہر نکل جائیں ، اور قسم کی بحث ہماری روزمرہ کی گفتگو میں اور مختلف زبانوں کے ادبیات میں عام نظر آتی ہے کہ انسان روئے سخن تو کسی اور کی طرف کرتا ہے مگر اس کامقصد یہ ہوتا ہے کہ دوسرے سن لیں ، عربوں کی مشہور ضرب المثل کی طرح، جس میں کہتے ہیں :
ایاک اعنی واسمعی یاجارة
میری مراد تو تم ہو اور اے پڑوسن تو سن لے ۔
بعض مفسرین نے مثلا طبرسی نے مجمع البیان میں اور ابو الفتوح نے اپنی مشہور تفسیر میں ایک دوسرا جواب دیا ہے کہ جس کاماحصل یہ ہے انبیاء کے لئے خدا کی طرف سے احکام کے پہنچانے اور مقام رسالت میں سہو وفراموشی اور بھول چوک کا ہونا تو جائز نہیں ہے لیکن موضوعات خارجی میں اگر لوگوں کی گمراہی کا سبب نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ جواب اس اصول کے ساتھ جو ہمارے متکلمین کے درمیان مشہور ہے کہ انبیاء وائمہ علیہم السلام احکام کے علاوہ عام موضوعات میں بھی غلطی سے معصوم ومصئون ہیں مناسبت نہیں رکھتا ۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ بعض علمائے اہل سنت نے اس آیت کو رہبران دینی کے لئے تقیہ جائز نہ ہونے کی دلیل قرار دیا ہے کیوں کہ آیت صراحت کے ساتھ کہتی ہے:دشمنوں کے سامنے تقیہ نہ کرو یہاں تک کہ اگر تم ان کی مجلس میں بھی موجود ہوتو ان کی مجلس سے کھڑے ہوجاؤ،
اس اعتراض کا جواب بھی بالکل واضح اور روشن ہے، کیوں کہ شیعہ ہرگز یہ نہیں کہتے کہ ہرجگہ تقیہ ضروری ہے بلکہ تقیہ بعض مواقع پر تو قطعا حرام ہے اور اس کا وجوب صرف ایسے مواقع کے لئے ہے کہ جہاں تقیہ کرنے اور اظہار حق نہ کرنے میں کچھ ایسے فوائد ومنافع ہوں کہ جو اس کے اظہار سے زیادہ ہو یا یہ کہ تقیہ دفع ضرر اور خطر کلی کے دور ہونے کا موجب ہو ۔
بعد والی آیت میں ایک موقع کو مستثنیٰ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اگر صاحب تقوی لوگ نہی از منکر کی غرض سے ان کے جلسوں میں شرکت کریں اور پرہزگاری کی امید اور ان کے گناہ سے پلٹ آنے کی امید پر انھیں نصیحت کریں تو کوئی مانع نہیں ہے اور ہم ان کے گناہ کو ایسے افراد کے حسا میں نہیں لکھے گ، کیوں کہ ہر حالت میں ان کا ارادہ تو خدامت اور اپنے فرض کی بجاآوری تھا( وَمَا عَلَی الَّذِینَ یَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَیْءٍ وَلَکِنْ ذِکْرَی لَعَلَّهُمْ یَتَّقُونَ ) ۔
اس آیت کے لئے ایک دوسری تفسیر بھی بیان ہوئی ہے لیکن ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ ظاہر آیت اور اس کی شان نزول کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے ۔
ضمنا اس بات پر بھی توجہ رکھنا چاہئے کہ صرف وہ افراد استثنیٰ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ جو آیت کی تعبیر کے مطابق تقوی اور پرہیزگاری کے مقام کے حامل ہوں اور نہ صرف یہ کہ وہ خود ان سے متاثر ہوں ، بلکہ وہ انھیں خود اپنے سے متاثر کرسکیں ۔
سورہ نساء کی آیت ۱۴۰ کے ذیل میں بھی مذکورہ آیت کے مشابہ ایک مضمون آیاہے اور وہاں پر دوسرے مطالب بیان ہوئے ہیں ۔(۱)
____________________
۱۔تفسیر نمونہ جلد چہارم صفحہ ۱۴۲۔
آیت ۷۰
۷۰( وَذَرِ الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمْ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا وَذَکِّرْ بِهِ اٴَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا کَسَبَتْ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِیٌّ وَلا َشَفِیعٌ وَإِنْ تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لاَیُؤْخَذْ مِنْهَا اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ اٴُبْسِلُوا بِمَا کَسَبُوا لَهُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِیمٍ وَعَذَابٌ اٴَلِیمٌ بِمَا کَانُوا یَکْفُرُونَ ) ۔
ترجمہ:
۷۰ ۔ تم ایسے لوگوں کہ جنھوں نے اپنے فطری دین کو کھیل تماشہ (اور استہزاء) بنا لیا ہے اور دنیاوی زندگی نے انھیں مغرور کردیا ہے، چھوڑ دو اور انھیں نصیحت کرو تاکہ وہ اپنے اعمال کے (برے نتائج ) میں گرفتار نہ ہوں ، (اس دن ) خدا کے سوا نہ ان کا کوئی یارویاور ہوگا اور نہ ہی کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا اور (ایسے شخص سے) خواہ وہ کسی بھی قسم کا عوض کیوں نہ دے اس سے قبول نہیں کیا جائے گا، وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو ان اعمال میں گرفتار ہوئے ہیں کہ جو انھوں نے انجام دئے ہیں ، ان کے پینے کے لئے گرم پانی ہے اور دردناک عذاب ہے، یہ اس سبب سے ہوگا کیوں کہ انھوں نے کفر اختیار کیا ہے ۔
دین حق کو کھیل بنانے والے
یہ آیت اصل میں گذشتہ آیت کی بحث کی تکمیل کررہی ہے اور پیغمبر اکرم کو حکم دے رہی ہے کہ وہ” ایسے اشخاص سے کہ جنھوں نے اپنے دین وآئین کو مذاق بنا لیا ہے اور لہو لعاب کو دین قراد دے لیا ہے اور دنیاوی زندگی اور اس کے وسائل نے انھیں مغرور کردیا ہے، منہ پھیر لیں اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں “( وَذَرِ الَّذِینَ اتَّخَذُوا دِینَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمْ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا ) ۔
یہ بات واضح ہے کہ ایسے اشخاص کو چھوڑ دینے کا حکم مسئلہ جہاد کے ساتھ کسی قسم کا تضاد نہیں رکھتا، کیوں کہ جہاد کی کچھ خاص شرائط ہیں اور کفار کے ساتھ بے احتیاطی برتنے کے شرائط دوسری ہیں ، ان دونوں میں سے ہر ایک اپنی اپنی جگہ پر انجام پذیرہونا چاہئے، بعض اوقات تو بے اعتنائی کے ذریعہ ہی مخالفین کو دبانا لازم ہوتا ہے اور کبھی مبارزہ وجہاد اور مسلح جنگ کے ذریعہ مقابلہ ضروری ہوتا ہے اور بعض حضرات نے جو یہ تصور کرلیا ہے کہ آیات جہاد نے اوپر والی آیت کو منسوخ کردیا ہے، بالکل بے بنیاد ہے ۔
حقیقت میں مندرجہ بالا آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا دیم اپنے مفاہیم کے لحاظ سے بیہودہ اور فضول ہے اور انھوں نے چند ایسے اعمال کا نا م دین رکھ لیا ہے جو بچوں کے کاموں اور بوڑھوں کی لغویات سے زیادہ مشابہ ہے، ایسے لوگ بحث وگفتگو کے قابل نہیں ہے، لہٰذا حکم دیا گیا ہے ک تم ان سے رخ موڑ لو اور ان کی اور ان کے کھوکھلے مذہب کی پرواہ نہ کرو ۔
ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے معلوم ہوگیا کہ ”دینھم“ سے مراد وہی ان کا شرک وبت پرستی والا مذہب ہی ہے، یہ احتمال کہ اس سے مراد ”دین حق “ہوااور ان کی طرف دین کی اضافت ونسبت دین کے فطری ہونے کی وجہ سے ہو، بہت ہی بعید نظر آتا ہے ۔
آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن کفار کی ایک جماعت کی طرف اشارہ کررہاہے کہ وہ خود اپنے دین ومذہب کو ایک لہو لعاب ہی سمجھتے تھے، اور ہرگز اس میں ایک حقیقی مطلب کے طور پر غور نہیں کرتے تھے،یعنی وہ اپنی بے ایمانی میں بھی بے ایمان تھے اور اپنے بے بنیاد مذہب کے اصولوں سے بھی وفادار نہیں تھے ۔
بہر حال آیت کفار کے ساتھ اختصاص نہیں رکھتی اور ان تمام لوگوں کے حالت پر محیط ہے جو مقدسات الٰہی اور احکام خداوندی کو اپنے شخصی اور مادی مقصد کے حصول کا ایک کھیل قرار دیتے ہیں ، دین کو دنیا کا آلہ اورخدا کے حکم کو اعتراض شخصی کا کھلونہ بنا لیتے ہیں ۔
اس کے بعد پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلمکو حکم دیا گیا کہ وہ انھیں ان اعمال پر تنبیہ کریں کیوں کہ ایسا دن آنے والا ہے جس میں ہر شخص اپنے اعمال کے آگے سپرانداختہ ہوگا اور اس کے لئے اس کے چنگل سے فرار کی راہ نہیں ہوگی( وَذَکِّرْ بِهِ اٴَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا کَسَبَتْ ) ۔(۱)
اور اس دن خدا کے سوا نا تو کوئی اس کا حامی ومددگار ہوگا اور نہ ہی کوئی شفاعت کرنے والا ہوگا( لَیْسَ لَهَا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِیٌّ وَلا َشَفِیعٌ ) ۔
اس کا معاملہ اس دن اس قدر سخت اور درد ناک ہوگا اور وہ اپنے اعمال کی زنجیر میں اس طرح گرفتار ہوں گے کہ:خواہ کتنا بھی تاوان اورجرمانہ (بالغرض ان کے پاس ہو اور وہ ) دیں کہ اپنے آپ کو سزاؤں سے نجات دلالیں تو وہ ان سے قبول نہیں کیا جائے گا( وَإِنْ تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لاَیُؤْخَذْ مِنْهَا ) (۲)
کیوں کہ وہ اپنے اعمال میں گرفتار ہوچکے ہیں ، اس دن نہ تو تلافی کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی توبہ کا وقت باقی ہے لہٰذا ان کے لئے نجات کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی( اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ اٴُبْسِلُوا بِمَا کَسَبُوا ) ۔
اس کے بعد ان کی دردناک سزاؤں کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:کیوں کہ انھوں نے حق اور حقیقت کو ٹھکرا دیا ہے لہٰذا ان کے لئے دردناک عذاب کے ساتھ پینے کے لئے کھولتا ہوا گرم پانی ہوگا ( ل( هُمْ شَرَابٌ مِنْ حَمِیمٍ وَعَذَابٌ اٴَلِیمٌ بِمَا کَانُوا یَکْفُرُونَ ) وہ گرم گرم کھولتے ہوئے پانی کی وجہ سے اندر سے جل رہے ہوں گے اور باہر کی طرف سے آگ میں جل رہے ہوں گے ۔
ایک نکتہ کہ جس کی طرف خاص طورپر توجہ کرنی چاہئے یہ ہے کہ( اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ اٴُبْسِلُوا بِمَا کَسَبُوا ) ،”وہ اپنے اعمال میں گرفتار ہوں گے“ حقیقت میں ان سے تاوان قبول نہ ہونے اور ان کا ولی وشفیع نہ ہونے کی دلیل وعلت کے طور پر ہے، یعنی ان کی سزا کسی خارجی عامل کی وجہ سے نہیں ہے کہ جسے کسی طرح سے دفع کیا جاسکے، بلکہ خود ان کی ذات وصفات اور اعمال کے اندر ہی اس کا سرچشمہ ہے، وہ اپنے برے اعمال کے قیدی ہیں اس لئے ان کی رہائی ممکن نہیں ہے، کیوں کہ اعمال اور ان کے آثار سے الگ ہونا خود اپنے آپ سے جدا ہونے کے مترادف ہے ۔
لیکن اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہئے کہ یہ شدت وسختی اور راہ بازگشت کا مسدود ہونا اور شفاعت کا عدم وجود ایسے لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے کہ جو کفر پر اصرار کرتے ہیں اور ہمیشہ اسی پر کاربند رہے، جیسا کہ (بما کانوا یکفرون) کے جملے سے معلوم ہوتا ہے کیوں کہ فعل مضارع کسی چیز کے استمرار کے بیان کے لئے ہوتا ہے ۔
____________________
۱۔ ”تبسل “ اصل میں مادہ ”بسل“ (بروزن نسل) کسی چیز سے قہر وغلبہ کے ذریعہ بچنے اور منع کرنے کے معنی میں ، اسی لئے کسی کو تسلیم وسپردگی کے لئے ابھارنے کو ابسال کہا جاتا ہے، نیز اسی مناسبت سے سزا دینے اور یرغمال بنانے کے لئے بھی بولا جاتا ہے، اور ”جیش باسل“ لشکر شجاع کے معنی میں بھی اسی مناسبت سے ہے، کیوں کہ وی دوسروں کو قہر وغلبہ سے جھکنے پر مجبور کردیتا ہے، اوپروالی آیت میں بھی کسی شخص کا تسلیم اور گرفتار ہونا اپنے برے اعمال کے چنگل میں کے معنی میں آیا ہے ۔
۲۔ ”عدل“ یہاں معادل اور وہ چیز جو کسی غلط کام کی تلافی کے طور پر دی جائے کے معنی میں ہے تاکہ مدمقابل آزاد ہوجائے، حقیقت میں اس کا معنی غرامت ، جرمانے اور فدیہ سے شباہت رکھتا ہے ۔
آیات ۷۱،۷۲
۷۱( قُلْ اٴَنَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لاَیَنفَعُنَا وَلاَیَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَی اٴَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ کَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیَاطِینُ فِی الْاٴَرْضِ حَیْرَانَ لَهُ اٴَصْحَابٌ یَدْعُونَهُ إِلَی الْهُدَی ائْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَی اللَّهِ هُوَ الْهُدَی وَاٴُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ ) ۔
۷۲( وَاٴَنْ اٴَقِیمُوا الصَّلاَةَ وَاتَّقُوهُ وَهُوَ الَّذِی إِلَیْهِ تُحْشَرُونَ ) ۔
ترجمہ:
۷۱ ۔ تم کہہ دو کہ کیا ہم خدا کے سواکسی اور چیز کو پکاریں کہ جو نہ ہمارے لئے کوئی فائدہ دینے والی ہے اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچانے والی اور (اس طرح سے ) ہم پیچھے کی طرف پلٹ جائیں جب کہ خدا نے ہمیں ہدایت کردی ہے، اس شخص کی مانند کہ جسے شیاطین کے وسوسوں نے گمراہ کردیا ہو اور وہ زمین میں حیراں ہو، حالانکہ اس کے لئے ایسے یارومددگار بھی ہیں کہ جو اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہیں (اور یہ کہتے ہیں ) کہ ہماری طرف آؤ، تم کہہ دو کہ صرف خدا کی ہدایت ہی (اصل ) ہدایت ہے، اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم عالمین کے پروردگار کے سامنے سرتسیلم خم کریں ۔
۷۲ ۔ اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اس سے ڈرو اور وہی ہے وہ ذات کہ جس کی طرف تم محشور ہو گے ۔
کیا ہم سابقہ حالت کی طرف پلٹ جائیں ۔
یہ آیت اس اصرار کے مقابلہ میں ہے جو مشرکین مسلمانوں کو کفروبت پرستی کی دعوت کے لئے کرتے تھے، پیغمبر کو حکم دے رہی ہے کہ ایک دندان شکن دلیل کے ساتھ انھیں جواب دیں اور ایک استفہام انکاری کی صورت میں ان سے پوچھیں کہ : کیا تم یہ کہتے ہو ہم کسی ایسی چیز کو خدا کا شریک قرار دیں کہ جو نہ ہمارے لئے فائدہ رکھتی ہے کہ اس فائدہ کی خاطر ہم اس کی طرف جائیں اور نہ ہی کوئی ضرر رکھتی ہے کہ ہم اس کے نقصان سے ڈریں
( قُلْ اٴَنَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لاَیَنفَعُنَا وَلاَیَضُرُّنَا ) ۔
یہ جملہ حقیقت میں اس جملہ کی طرف اشارہ ہے کہ عام طور سے انسان کے تمام کام انھیں دونوں سرچشموں میں سے کسی ایک سر چشمہ سے پیدا ہوتے ہیں ، یا تو نفع کے حصول کی خاطر ہوتے ہیں ( خواہ وہ مادی نفع ہو یا معنوی) اور یا وہ دفع ضرر کی خاطر ہوتے ہیں (ضرر بھی خواہ معنوی ہو یامادی) ۔
کوئی عاقل کیسے کوئی ایسا کام کرے گا کہ جس میں ان دونوں میں سے کوئی سا عامل بھی موجود نہ ہو؟ ۔
اس کے بعد مشرکین کے مقابلے میں ایک اور استدلال پیش کیا گیا ہے اور یوں ارشاد ہوتا ہے:اگر ہم بت پرستی کی طرف پلٹ جائیں اور ہدایت الٰہی کے بعد شرک کی راہ میں گامزن ہوجائیں ( تو اس طرح) تو ہم پیچھے کی طرف لوٹ جائیں گے اور یہ بات قانون ارتقاء کے خلاف ہے کہ جو عالم حیات کا ایک عمومی قانون ہے( وَنُرَدُّ عَلَی اٴَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللَّهُ ) ۔(۱)
اس کے بعد ایک مثال کے ذریعہ اس مطلب کو اور زیادہ واضح اور روشن کیا گیا ہے اور قرآن یوں کہتا ہے: (توحید سے شرک کی طرف بازگشت) مثل اس کے ہے کہ کوئی شخص شیطانی وسوسوں سے ( یا غولہائے بیابانی سے کہ جو جاہلیت کے عربوں کے خیال کے مطابق راستوں میں گھات لگا کر بیٹھے ہوا کرتے تھے اور مسافروں کو ان کی راہ سے بے راہ کردیا کرتے تھے) راہ مقصد گم کردے اور بیابان میں حیران وسرگرداں رہ گیا ہو
( کَالَّذِی ُ اسْتَهْوَتْهُ الشَّیَاطِینُ فِی الْاٴَرْضِ حَیْرَانَ ) ۔
حالانکہ اس کے ایسے دوست بھی ہیں کہ جو اسے ہدایت اور شاہراہ ( حق) کی طرف بلاتے ہیں اور اسے آوازیں دے رہیں ہیں کہ ہماری طرف آؤ۔ لیکن وہ اس طرح سے حیران وسرگرداں ہیں کہ جیسے وہ ان کی باتوں کو سن ہی نہیں رہا ہے، یا وہ قوت ارادی نہیں رکھتا( لَهُ اٴَصْحَابٌ یَدْعُونَهُ إِلَی الْهُدَی ائْتِنَا ) ۔(۲)
اور آیت کے آخر میں پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے کہ تم صراحت کے ساتھ یہ کہہ دو کہ : ”ہدایت صرف خدا کی ہدایت ہے اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم صرف عالمین کے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کریں “( قُلْ إِنَّ هُدَی اللَّهِ هُوَ الْهُدَی وَاٴُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِینَ ) ۔
یہ جملہ حقیقت میں مشرکین کی مذہب کی نفی پر ایک اور دلیل ہے کیوں کہ صرف ایسی ذات کے سامنے ہی سرتسلیم خم کرنا چاہئے کہ جو مالک خالق اور مربی عالم ہستی ہو ، نہ کہ بتوں کے سامنے کہ جو اس جہاں کی ایجاد وتخلیق میں کوئی نقش و اثر نہیں رکھتے ۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ پیغمبر صلی الله علیه و آله وسلم بعثت سے پہلے مشرکین کے مذہب کے پیرو تھے کہ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ :”رَدُّ عَلَی اٴَعْقَابِنَا ب “
کیا ہم سابقہ حالت کی طرف پلٹ جائیں ۔
حالانکہ کہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ نے کبھی بھی بت سے سامنے سجدہ نہیں کیا اور کسی بھی تاریخ میں اس قسم کی کوئی چیز لکھی ہوئی نہیں ہے پھر اصولی طور پر مقام عصمت بھی ایسے کسی امر کی اجازت نہیں دیتا ۔
یہ لفظ حقیقت میں مسلمانوں کی ایک جماعت کی زبان سے ادا ہوا ہے ناکہ ذات پیغمبر کی زبان سے اسی لئے جمع کے صیغہ اور ضمیروں کے ساتھ اداہوا ہے ۔
بعد والی آیت میں دعوت الٰہی کے بعد عائد ہونے والے فرائض کی یوں تشریح کی گئی ہے کہ ہم نے توحید کے علاوہ یہ حکم دیا ہے کہ ”نماز قائم کرو اور تقوی اختیار کرو“( واقم الصلاة واتقوه ) ۔
اور آخر میں مسئلہ معاد و قیامت کی طرف توجہ کرواتے ہوئے اور یہ کہ تمھارا حشرونشر اور بازگشت خدا کی طرف ہے اس بحث کو ختم کردیا گیا ہے
( وهوالذی الیه تحشرون ) ۔
حقیقت میں ان چند مختصر جملوں وہ پروگرام جس کی طرف پیغمبر دعوت دیا کرتے تھے اور جس کا سرچشمہ عقل اور فرمان خدا تھا، چار اصولوں کے پروگرام کی صورت میں جس کا آغاز توحید اور انجام معادوقیامت تھا اور اس کے درمیانی مراحل خدائی رشتوں کو محکم کرنا اور ہرگناہ سے پرہیز کرنا تھا، پیش کیا گیا ہے ۔
____________________
۱۔” اعقاب“جمع ”عقب“ (بروزن خشم) ایڑی کے معنی میں اور ایڑی پر پھرنے کو پیچھے کی طرف پھرنا کہتے ہیں اور یہ ہدف ومقصد سے انحراف اور پھر نے کی طرف اشارہ ہے اور یہ وہی چیز ہے کہ جسے آجکل ارتجاع (یعنی رجعت پسندی) سے تعبیر کرتے ہیں ۔
۲۔ ”اسْتَھْوَتْہُ“ ”ھوی“ کے مادہ سے ہے اور یہ لفظ کسی کو ہوا وہوس کی پیروی پر آمادہ کرنے کے معنی میں ہے” حیران“ لغت میں آمد ورفت کے معنی میں ہے اور عام طور سے سرگردانی سے کنایہ ہے، کیوں کی لوگ سرگردانی سے کچھ راستہ چلتے ہیں پھر پلٹ آتے ہیں اس بنا پر یہ آیت ان افراد کو جو ایمان سے شرک کی طرف پلٹ جائیں سرگرداں ہوا پرستوں سے تشبیہ دیتی ہے جو اپنا اصل پروگرام شیطانی الہام کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں ۔
آیت ۷۳
۷۳( وَهُوَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ بِالْحَقِّ وَیَوْمَ یَقُولُ کُنْ فَیَکُونُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنفَخُ فِی الصُّورِ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَکِیمُ الْخَبِیرُ ) ۔
ترجمہ:
۷۳ ۔ اور وہی ہے وہ ذات کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، اور اس دن وہ کہے گا’ہوجاتو (جس بات کا ارادہ کیا ہے) وہ ہوجائے گا، اس کاقول حق ہے، اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا اس دن تو حکومت اسی کے ساتھ مخصوص ہوگی، وہ( تمام )پوشیدہ اور ظاہر وآشکار( چیزوں )سے باخبر ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے ۔
صر ف وہی ذات کہ جو مبداء عالم ہستی ہے،
یہ آیت حقیقت میں گذشتہ آیت کے مطالب پر ایک دلیل، اور پروردگار عالم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور اس کی ہدایت کی پیروی کرنے کے لازم ہونے کی بھی ایک دلیل ہے، لہٰذا پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ خدا ہی ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے( وَهُوَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ بِالْحَق ) ۔
صر ف وہی ذات کہ جو مبداء عالم ہستی ہے، اور رہبری کے لئے شائستہ و لائق ہے اور صرف اسی کے فرمان کے سامنے سرتسلیم خم کرنا چاہئے کیوں کہ اس نے تمام چیزوں کو ایک صحیح مقصد کے لئے پیدا کیا ہے ۔
اوپر والے جملے میں ”حق“ سے مراد وہی نتیجہ ، مقصد، ہدف، مصلح اور حکمتیں ہیں ، یعنی اس نے ہر چیز کوکسی مصلحت اور اور ہدف ونتیجہ کے لئے پیدا کیا ہے حقیقت میں یہ جملہ اس مطلب سے مشابہ ہے جو سورہ ص آیہ ۲۷ میں بیان ہوا ہے کہ ہم جہاں پر ہے:( وما خلق السماء والارض ومابینهما باطلا ) ۔
ہم نے آسمان کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے فضول اور بے مقصد پیدا نہیں کیا ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے: نہ صرف مبداء عالم ہستی وہی بلکہ معاد وقیامت بھی اسی کے حکم سے صورت پذیر ہوگی’ اور جس دن وہ حکم دینا کہ قیامت بپا ہوجائے تو وہ فورا بپا ہوجائے گی“( وَیَوْمَ یَقُولُ کُنْ فَیَکُونُ ) ۔(۱)
بعض نے یہ احتمال پیش کیا ہے کہ اس جملہ سے مراد وہی آغازآفرینش اور مبداء جہاں ہستی ہے کہ تمام چیزیں اس کے فرمان سے ایجاد ہوئی ہیں ، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ”یقول“ فعل مضارع ہے، اور یہ کہ اس جملے پہلے اصل آفرینش کی طرف اشارہ ہوا ہے اور اسی طرح بعد کے جملوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ جملہ قیامت اور اس کے بارے میں حکم خدا کے ساتھ ہی مربوط ہے ۔
جیسا کہ ہم ( تفسیر نمونہ کی ) جلد اول (سورہ بقرہ کی آیہ ۱۱۷ کے ذی میں ) میں بیان کرچکے ہیں ، کہ ”کن فیکون“ سے مراد یہ نہیں ہے کہ خدا ایک لفظی فرمان ”ہوجا“ کی طرف صادر فرماتا ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کے خلق کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کسی دوسرے عامل کی احتیاج کے بغیر اس کا ارادہ خودبخود جامہ عمل پہن لیتا ہے، اگر اس نے یہ اراد کیا ہے کہ وہ چیز دفعتا اور ایک ہی مرتبہ موجود ہوجائے تو وہ ایک ہی دفعہ موجود ہوجاتی ہے اور اگر اس نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ چیز تدریجا وجود میں آئے تو اس کا تدریجی پروگرام شروع ہوجا تا ہے ۔
اس کے بعد قرآن مزیدکہتا ہے کہ :خدا کی بات حق ہے، یعنی جس طرح آفرینش کی ابتدا ہدف ونتیجہ اور مصلحت کی بنیاد تھی، قیامت و معاد بھی اسی طرح ہوگی( قَوْلُهُ الْحَقُّ ) ۔
اور اس دن جب صور میں پھونکا جائے گا اور قیامت پرپا ہو جائے گی، تو حکومت وملکیت اسی کی ذات پاک کے ساتھ مخصوص ہوگی( وَلَهُ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنفَخُ فِی الصُّورِ ) ۔
یہ صحیح ہے کہ خدا کی ملکیت اور حکومت تمام عالم ہستی پر ابتدا جہاں سے رہی ہے اور دنیا کے خاتمہ تک اور عالم قیامت میں بھی جاری رہے گی اور قیامت کے ساتھ کوئی اختصاص نہیں رکھتی لیکن چونکہ اس جہان میں اہداف ومقاصد کی تکمیل اور کاموں کے انجام دینے کے لئے عوامل واسباب کا ایک سلسلہ اثر انداز ہوتا ہے لہٰذا بعض اوقات یہ عوامل واسباب خدا سے جو مسبب الاسباب ہے غافل کردیتے ہیں ، مگر وہ دن کہ جس میں تمام اسباب بے کار ہوجائیں گے تو اس کی ملکیت وحکومت ہر زمانے سے زیادہ آشکار وواضح ہوجائی گی، ٹھیک ایک دوسری آیت کی طرح جو یہ کہتی ہے کہ :
( لمن ملک الیوم للّٰه الواحد القهار ) ۔
حکومت اور ملکیت آج(قیامت کے دن) کس کی ہے؟صرف خدائے یگانہ وقہار کے لئے ہے،(سورہ المومن،آیہ ۱۶) ۔اس بارے میں کہ صور ۔ جس میں پھونکا جائے گا ۔ سے مراد کیا ہے اور اسرافیل صور میں کس طرح پھونکے گا کہ اس سے تمام جہاں والے مرجائیں گے اور دوبارہ صور میں پھونکے گا تو سب زندہ ہوجائیں گے اور قیامت برپا ہوجائے گی، انشاء اللہ ہم سورہ زمر کی آیہ ۶۸ کے ذیل میں شرح وبسط کے ساتھ بحث کریں گے کیوں کہ یہ بحث اس آیت کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے ۔
اور آیت کے آخر میں خدا کی صفات میں سے تین صفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ: خدا پنہاں وآشکار سے باخبر ہے( عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ )
اور اس کے تمام کام حکمت کی رو سے ہوتے ہیں او ر وہ تمام چیزوں سے باخبر ہے( وَھُوَ الْحَکِیمُ الْخَبِیرُ)،قیامت سے مربوط آیات میں اکثر خدا کی ان صفات کی طرط اشارہ ہوا ہے کہ وہ آگاہ بھی ہے اور قادر وحکیم بھی، یعنی اپنے علم وآگاہی کے اقتضاء کے مطابق وہ ہر شخص کو مناسب جزا دیتا ہے ۔
____________________
۱۔ اس بارے میں کہ ”یوم“ جو قواعد ادبی کے مطابق ظرف ہے کس سے متعلق ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض اسے ”خلق“ کے جملے سے بعض”اذکروا“ کے جملہ سے جو محذوف ہے متعلق سمجھتے ہیں ، لیکن یہ بات بعید نہیں ہے کہ وہ ”یکن“ سے متعلق ہو، اور پھر جملے کے معنی اس طرح ہوگا:”یکن القیامة یوم یقول اللّٰه کن “۔
آیت ۷۴
۷۴( وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِیمُ لِاٴَبِیهِ آزَرَ اٴَتَتَّخِذُ اٴَصْنَامًا آلِهَةً إِنِّی اٴَرَاکَ وَقَوْمَکَ فِی ضَلاَلٍ مُبِینٍ ) ۔
ترجمہ:
۷۴( اور یاد کرو )جب ابراہیم نے اپنے مربی (چچا) آزر سے یہ کہا کہ کیا تم بتوں کو اپنا خدا بناتے ہو، میں تو تمھیں اور تمھاری قوم کو واضح گمراہی میں پاتا ہوں ۔
یہ سورہ شرک وبت پرستی سے مقابلے کا پہلو رکھتی ہے
کیوں کہ یہ سورہ شرک وبت پرستی سے مقابلے کا پہلو رکھتی ہے اور اس میں روئے سخن زیادہ تر بت پرستوں کی طرف ہے لہٰذا ان کو بیدار کرنے کے لئے مختلف طریقوں سے استفادہ کیا گیا ہے ، یہاں بہادر بت شکن ابرہیم کی سرنوشت کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور بت شکنی کے سلسلہ میں ان کی قومی منطق کو چند آیات میں بیان کیا گیا ہے ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن نے بیان توحید اور بتوں سے مبارزہ کے سلسلہ میں بہت سے مباحث میں اسی سرگذشت کو ذکر کیا ہے، کیوں کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) تمام اقوام کے لئے خصوصا مشرکین عرب کے لئے قابل احترام تھے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے کہ ابرہیم نے اپنے باپ (چچا) کو تنبیہ کی اور اس سے کہا کہ : کیا تم ان بے قیمت اور بے جان بتوں کو اپنا خدا بنا رکھا ہے( وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِیمُ لِاٴَبِیهِ آزَرَ اٴَتَتَّخِذُ اٴَصْنَامًا آلِهَةً ) ۔
اس میں شک نہیں کہ میں تجھے اور تیرے پیروکار اور ہم مسلک گروہ کو واضح گمراہی میں دیکھتا ہو،اس سے زیادہ گمراہی اور کیا ہوگی کہ انسان اپنی مخلوق کو اپنا معبود قرار دے اور بے جان اور بے شعور موجود کو اپنی پناہ گا سمجھ لے اور اپنی مشکلات حل ان سے طلب کرے( إِنِّی اٴَرَاکَ وَقَوْمَکَ فِی ضَلاَلٍ مُبِین ) ۔
کیا آزر حضرت ابرہیم (علیه السلام) کا باپ تھا
لفظ ”اب“ عربی زبان میں عام طور پر باپ کے لئے بولا جاتا ہے، اور جیسا کہ ہم دیکھے گے کہ بعض اوقات چچا ، نانا،مربی ومعلم اور اسی طرح وہ افراد کہ جو انسان کی تربیت میں کچھ نہ کچھ زحمت ومشقت اٹھاتے ہیں ان پر بھی بولا جاتا ہے ، لیکن اس میں شک نہیں کہ جب یہ لفظ بولا جائے اور کوئی قرینہ موجود نہ ہو تو پھر معنی کے لئے پہلے باپ ہی ذہن میں آجاتا ہے ۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سچ مچ اوپر والی آیت یہ کہتی ہے کہ وہ بت پرست شخص(آزر) حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ تھا تو کیا ایک بت پرست اور بت ساز شخص ایک اولوالعزم کا پیغمبر کا باپ ہوسکتا ہے، اس صورت میں کیا انسان کی نفسیات و صفات کی وراثت اس کے بیٹے میں غیر مطلوب اثرات پیدا نہیں کردے گی۔
اہل سنت مفسرین کی ایک جماعت نے پہلے سوال کا مثبت جواب دیا ہے اور آزر کا حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا حقیقی باپ سمجھا ہے، جب کہ تمام مفسرین وعلماء شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ نہیں تھا، بعض اسے آپ کا نانا اور بہت سے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا چچا سمجھتے ہیں ۔
وہ قرائن جو شیعہ علماء کے نقطہ نظر کی تائید کرتے ہیں حسب ذیل ہے:
۱ ۔ کسی تاریخی منبع ومصدر اور کتاب میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے والد کا نام آزر شمار نہیں کیا گیا بلکہ سب نے ”تارخ“ لکھا کتب عھدین میں بھی یہی نام آیا ہے، قابل توجہ بات یہ ہے کہ جو لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ آزر تھا، یہاں انھوں نے ایسی توجیہات کی ہے جو کسی طرح قابل قبول نہیں ہیں ، منجملہ ان کے یہ ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) کے باپ کا نام تارخ اور اس کا لقب آزر تھا، حالانکہ یہ لقب بھی منابع تاریخ میں ذکر نہیں ہوا، یا یہ کہ آزر ایک بت تھا کہ جس کی حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ پوجا کرتا تھا حالانکہ یہ احتمال اوپر والی آیت کے ظاہر کے ساتھ جویہ کہتی ہے کہ آزر ان کا باپ تھا کسی طرح بھی مطابقت نہیں رکھتی، مگر یہ کہ کوئی جملہ یا لفظ مقدر مانیں جو کہ خلاف ظاہر ہو ۔
۲ ۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ مسلمان یہ حق نہیں رکھتے کہ مشرکین کے لئے استغفار کریں اگرچہ وہ ان کے عزیز وقریب ہی ہوں ، اس کے بعد اس غرض سے کہ کوئی آزر کے بارے میں ابراہیم (علیه السلام) کے استغفار کو دستاویز قرار نہ دے اس طرح کہتا ہے:وماکان استغفار ابراهیم لابیه الا عن موعدة وعدهافلما تبین له انه عدو للّٰه تبرا منه (سورہ توبہ: ۱۱۴) ۔
ابراہیم (علیه السلام) کی اپنے باپ آزر کے لئے استغفار صرف اس وعدہ کی بنا پر تھے جو انھوں نے اس سے کیا تھا، چونکہ آپ نے یہ کہا تھا کہ :( ساٴستغفرلک ربی ) (مریم : ۴۷) ۔
یعنی میں عنقریب تیرے لئے استغفار کروں گا ۔
یہ اس امید پر تھا کہ شایدوہ اس وعدہ کی وجہ سے خوش ہوجائے اور بت پرستی سے بعض آجائے لیکن جب اسی بت پرستی کی راہ میں پختہ اور ہٹ دھرم پایا تو اس کے لئے استغفار سے دستبردار ہوگئے ۔
اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے آزر سے مایوس ہوجانے کے بعد پھر کبھی اس کے لئے طلب مغفرت نہیں کی، اور ایسا کرنا مناسب بھی نہیں تھا، تمام قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت ابراہیم(علیه السلام) کی جوانی کے زمانے کا ہے جب کہ آپ شہر بابل میں رہائش پذیر تھے اور بت پرستوں کے ساتھ مبارزہ اور مقابلہ کررہے تھے ۔
لیکن قرآن کی دوسری آیات نشاندہی کرتی ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے اپنی آخری عمر میں خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد اپنے باپ کے لئے طلب مغفرت کی ہے (البتہ ان آیات میں جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا، نشان باپ سے ”اب“ کو تعبیر نہیں کیا بلکہ ”والد“ سے تعبیر کیا ہے جو صراحت کے ساتھ باپ کے مفہوم کو ادا کرتا ہے ) ۔
جیسا کہ قرآن میں ہے:
( اٴَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِی وَهَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ--- رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ ) -
”حمد ثنا اس خدا کے لئے ہے کہ جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا کئے، میرا پروردگار دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے، اے پروردگار مجھے، میرے ماں باپ اور مومنین کو قیامت کے دن بخش دے“۔(۱)
اس آیت کو سورہ توبہ کی آیت کے ساتھ ملانے سے جو مسلمانوں کو مشرکین کے لئے استغفار کرنے سے منع کرتی ہے اور ابراہیم - کو بھی ایسے کام سے، سوائے ایک مدت محدود کے وہ بھی صرف ایک مقدس مقصد وہدف کے لئے، روکتی ہے، اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ زیر بحث آیت میں ”اب“ سے مراد باپ نہیں ہے بلکہ چچا یا نانا یا کوئی اور اسی قسم کا رشتہ ہے۔دوسرے لفظوں میں ” والد“ باپ کے معنی میں صریح ہے جب کہ”اب“ میں صراحت نہیں پائی جاتی ۔
قرآن کی آیات میں لفظ ”اٴب “ ایک مقام پر چچا کی لئے بھی استعمال ہوا ہے مثلا سورہ بقرہ آیہ ۱۳۳:
( قَالُوا نَعْبُدُ إِلَهَکَ وَإِلَهَ آبَائِکَ إِبْرَاهِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِلَهًا )
”یعقوب کے بیٹوں نے اس سے کہا ہم تیرے خدا اور تیرے آباء ابراہیم واسماعیل واسحاق کے خدائے یکتا کی پرستش کرتے ہیں “۔
ہم یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اسماعیل - ،یعقوب- کے چچا تھے باپ نہیں تھے۔
۳ ۔مختلف اسلامی روایات سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے ، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ایک مشہور حدیث میں آنحضرت سے منقول ہے:
”لم یزل ینقلنی اللّٰه من اصلاب الطاهرین الی ارحام المطهرات حتی اخرجنی فی عالمکم هذا لم یدنسنی بدنس الجاهلیه “۔
”خدا وند تعالی مجھے ہمیشہ پاک آباء واجداد کے صلب سے پاک ماؤں کے رحم میں منتقل کرتا رہا اور اس نے مجھے کبھی زمانہ جاہلیت کی آلودگیوں اور گندگیوں میں آلودہ نہیں کیا“۔(۲)
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زمانہ جاہلیت کی واضح ترین آلودگی شرک وبت پرستی ہے اور جنھوں نے اسے آلودگی زنا میں منحصر سمجھا ہے ان کے پاس اپنے قول پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ قرآن کہتا ہے کہ :
”( انَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ ) “”مشرکین گندگی میں آلودہ اور ناپاک ہیں “۔(۳)
طبری جو علمائے اہلِ سنت میں سے ہے اپنی تفسیر ”جامع البیان“ میں مشہور مفسر مجاہد سے نقل کرتا ہے کہ وہ صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ آزر ابراہیم کا باپ نہیں تھا۔(۴)
اہلِ سنت کا ایک دوسرا مفسر آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں اسی آیت کے ذیل میں کہتا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ کہ آزر ابرہیم کا باپ نہیں تھا شیعوں سے مخصوص ہے ان کی کم اطلاعی کی وجہ سے ہے کیونکہ بہت سے علماء (اہلِ سنت) بھی اسی بات کا قیدہ رکھتے ہیں کہ آزر ابرہیم - کا چچا تھا۔(۵)
”سیوطی“ مشہور سنی عالم کتاب ”مسالک الحنفاء“ میں فخر الدین رازی کی کتاب ”اسرار التنزیل“ سے نقل کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام - کے ماں باپ اور اجداد کبھی بھی مشرک نہیں تھے اور اس حدیث سے جو ہم اُوپر پیغمبر اکرم سے نقل کرچکے ہیں استدلال کیا ہے۔ اس کے بعد سیوطی خود اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے:
ہم اس حقیقت کو دو طرح کی اسلامی روایات سے ثابت کرسکتے ہیں ۔ پہلی قسم کی روایات تو وہ ہیں کہ جو یہ کہتی ہیں کہ پیغمبر کے آباؤ اجداد حضرت آدم- تک ہر ایک اپنے زمانے کا بہترین فرد تھا (ان احادیث کو ”صحیح بخاری“اور ”دلائل النبوة“سے بیہقی وغیرہ نے نقل کیا ہے)۔
اور دوسروں قسم کی روایات وہ ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ ہر زمانے میں موحد و خدا پرست افراد موجود رہے ہیں ، ان دونوں قسم کی روایات کو باہم ملانے سے ثابت ہوجاتا ہے کہ اجداد پیغمبر کہ جن میں سے ایک ابرہیم کے باپ بھی ہیں یقینا موحد تھے۔(۶)
جو کچھ کہا جا چکا ہے اس طرف توجہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت کی مذکورہ بالا تفسیر ایک ایسی تفسیر ہے جو خود قرآن اور مختلف اسلامی روایات کے واضح قرائن کی بنیاد پر بیان ہوئی ہے نہ کہ تفسیر بالرائے ہے جیسا کہ بعض متعصب اہلِ سنت مثلاً مولفِ المنار نے کہا ہے۔
____________________
۱۔ سورہ ابراہیم ، آیہ۳۹،۴۱۔
۲۔ اس روایت کو بہت سے شیعہ وسنی مفسرین مثلا طبرسی نے مجمع البیان میں ، نیشاپوری نے تفسیر غرائب القرآن میں ، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں نقل کیا ہے۔
۳۔ سورئہ توبہ آیہ ۲۸-
۴۔ جامع البیان جلد ۷ صفحہ ۱۵۸-
۵۔ تفسیر روح المعانی جلد ۷ صفحہ ۱۶۹-
۶۔ مسالک الحنقاء صفحہ ۷ امطابقِ نقل حاشیہ بحار الانوار طبع جدید جلد ۱۵ صفحہ ۱۱۸ اور بعد۔
آیات ۷۵،۷۶،۷۷،۷۸،۷۹
۷۵( وَکَذٰلِکَ نُرِی إِبْرَاهِیمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَلِیَکُونَ مِنْ الْمُوقِنِینَ-
) ۷۶( فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ اللَّیْلُ رَاٴَی کَوْکَبًا قَالَ هٰذَا رَبِّی فَلَمَّا اٴَفَلَ قَالَ لاَاٴُحِبُّ الْآفِلِینَ ) -
۷۷( فَلَمَّا رَاٴَی الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّی فَلَمَّا اٴَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ یَهْدِنِی رَبِّی لَاٴَکُونَنَّ مِنْ الْقَوْمِ الضَّالِّینَ ) -
۷۸( فَلَمَّا رَاٴَی الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّی هٰذَا اٴَکْبَرُ فَلَمَّا اٴَفَلَتْ قَالَ یَاقَوْمِ إِنِّی بَرِیءٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ ) -
۷۹( إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ حَنِیفًا وَمَا اٴَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ ) -
ترجمہ:
۷۵ ۔اس طرح ہم نے آسمانوں اور زمین کے ملکوت ابراہیم کو دکھائے تاکہ وہ اہلِ یقین میں سے ہوجائے۔
۷۶ ۔جب رات (کی تاریکی) نے اُسے ڈھانپ لیا تو اُس نے ایک ستارے کو دیکھا تو کہا۔ کیا یہ میرا خدا ہے؟ لیکن جب وہ غروب ہوگیا تو کہا کہ میں غروب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
۷۷ ۔اور جب اُس نے چاند کو دیکھا کہ وہ (سینہ افق کو چیر کر) نکلا ہے تو اُس نے کہا کیا یہ میرا خدا ہے؟ لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا کہ اگر میرا پروردگار میری رہنمائی نہ کرے تو میں یقینی طور پر گمراہ جماعت میں سے ہوجاؤں گا۔
۷۸ ۔اور جب اُس نے سورج کو دیکھا کہ وہ (سینہ افق کو چیر کر) نکل رہا ہے تو کہا کہ کیا یہ میرا خدا ہے؟ یہ تو (سب سے) بڑا ہے لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا اے قوم میں اُن شریکوں سے جنھیں تم (خدا کے لیے) قرار دیتے ہو بیزار ہوں ۔
۷۹ ۔میں نے تو اپنا رُخ اس ہستی کی طرف کرلیا ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ میں اپنے ایمان میں مخلص ہوں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں ۔
آسمانوں میں توحید کی دلیلیں
اس سرزنش اور ملامت کے بعد جو ابرہیم - بتوں کی کرتے تھے، اور اُس دعوت کے بعد جو آپ- نے آزر کو بت پرستی کے ترک کرنے کے لیے کی تھی ان آیات میں خدا ابراہیم کے بت پرستوں کے مختلف گرد ہوں کے ساتھ منطقی مقابلوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اُن کے واضح عقلی استدلالات کے طریق سے اصل توحید کو ثابت کرنے کی کیفیت بیان کرتا ہے۔
پہلے کہتا ہے: جس طرح ہم نے ابرہیم کو بت پرستی کے نقصانات سے آگاہ کیا اسی طرح ہم نے اس کے لیے تمام آسمانوں اور زمین پر پروردگار کی مالکیت مطلقہ اور تسلط کی نشاندہی کی( وَکَذٰلِکَ نُرِی إِبْرَاهِیمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔(۱)
”ملکوت“اصل میں ”ملک“ (بروزن حکم) کے مادہ سے ہے جو حکومت و مالکیت کے معنی میں ہے اور”و“ اور ”ت“ کا اضافہ تاکید و مبالغہ کے لیے ہے، اس بناپر یہاں اس سے مراد تمام عالمِ ہستی پر خدا کی حکومت مطلقہ ہے۔
یہ آیت اصل میں اُس تفصیل کا ایک اجمال ہے کہ جو بعد کی آیات میں سورج، چاند اور ستاروں کی کیفیت کا مشاہدہ کرنے کے بارے میں اور اُن کے غروب ہونے سے اُن کے مخلوق ہونے پر دلیل لانے کے سلسلہ میں بیان ہوئی ہے۔
یعنی قرآن نے پہلے ان مجموعی واقعات کا اجمالی بیان کیا ہے اس کے بعد ان کی تشریح شروع کی ہے اور اس طرح سے ابراہیم- کو ملکوتِ آسمان و زمین دکھانے کا مقصد واضح ہوجاتا ہے۔
اور آیت کے آخر میں قرآن فرماتا ہے: ہمارا ہدف و مقصد یہ تھا کہ ابرہیم اہلِ یقین میں سے ہوجائے( وَلِیَکُونَ مِنْ الْمُوقِنِینَ )
اس میں شک نہیں ہے کہ ابراہیم - خدا کی یگانگت کا استدلالی و فطری یقین رکھتے تھے، لیکن اسرار آفرینش کے مطالبہ سے یہ یقین درجہ کمال کو پہنچ گیا، جیسا کہ وہ قیامت اور معاد کا یقین رکھتے تھے، لیکن سر بریدہ پرندوں کے زندہ ہونے کے مشاہدہ سے ان کا ایمان ”عین الیقین“ کے مرحلہ کو پہنچ گیا۔
بعد والی آیات میں اس موضوع کو تفصیلی طور پر بیان کیا ہے جو ستاروں اور آفتاب کے طلوع و غروب سے ابراہیم - کے استدلال کو ان کے خدا نہ ہونے پر واضح کرتا ہے۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: جب رات کے تاریک پردے نے سارے عالم کو چھپالیا تو اُن کی آنکھوں کے سامنے ایک ستارہ ظاہر ہوا۔ ابراہیم نے پکار کر کہا کہ کیا یہ میرا خدا ہے؟ لیکن جب وہ غروب ہوگیا تو اُنہوں نے پورے یقین کے ساتھ کہا کہ میں ہرگز ہرگز غروب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا اور انھیں عبودیت و ربوبیت کے لائق نہیں سمجھتا( فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ اللَّیْلُ رَاٴَی کَوْکَبًا قَالَ هٰذَا رَبِّی فَلَمَّا اٴَفَلَ قَالَ لاَاٴُحِبُّ الْآفِلِینَ ) ۔
انھوں نے دوبارہ اپنی آنکھیں صفحہ آسمان پر گاڑدیں ۔ اس دفعہ چاند کی چاندی جیسی ٹکیہ وسیع اور دل پذیر روشنائی کے ساتھ صفحہ آسمان پر ظاہر ہوئی۔ جب چاند کو دیکھا تو ابراہیم- نے پکار کر کہا کہ کیا یہ ہے میرا پروردگار ؟ لیکن آخر کار چاند کا انجام بھی اُس ستارے جیسا ہی ہوا اور اُس نے بھی اپنا چہرہ پر وہ افق میں چُھپالیا تو حقیقت کے متلاشی ابراہیم - نے کہا کہ اگر میرا پروردگار مجھے اپنی طرف رہنمائی نہ کرے تو میں گمراہوں کی صف میں جاکھڑا ہوں گا( فَلَمَّا رَاٴَی الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّی فَلَمَّا اٴَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ یَهْدِنِی رَبِّی لَاٴَکُونَنَّ مِنْ الْقَوْمِ الضَّالِّینَ ) ۔
اُس وقت رات آخر کو پہنچ چکی تھی اور اپنے تاریک پردوں کو سمیٹ کو آسمان کے منظر سے بھاگ رہی تھی، آفتاب نے افق مشرق سے نکالا اور اپنے زیبا اور لطیف نور کو زربفت کے ایک ٹکڑے کی طرح دشت و کوہ و بیابان پر پھیلا دیا، جس وقت ابراہیم - کی حقیقت بین نظر اُس کے خیرہ کرنے والے نور پر پڑی تو پکار کر کہا: کیا میرا خدا یہ ہے؟ جو سب سے بڑا ہے اور سب سے زیادہ روشن ہے، لیکن سورج کے غروب ہوجانے اور آفتاب کی ٹکیہ کے ہیولائے شب کے منہ میں چلے جانے سے ابراہیم - نے اپنی آخری بات ادا کی، اور کہا: اے گروہِ (قوم) میں ان تمام بناوئی معبودوں سے جنھیں تم نے خدا کا شریک قرار دے لیا ہے بری و بیزار ہوں( فَلَمَّا رَاٴَی الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّی هٰذَا اٴَکْبَرُ فَلَمَّا اٴَفَلَتْ قَالَ یَاقَوْمِ إِنِّی بَرِیءٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ ) ۔
اب جب کہ میں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اس متغیر و محدود اور قوانینِ طبیعت کے چنگل میں اسیر مخلوقات کے ماو اء ایک ایسا خدا ہے کہ جو اس سارے نظامِ کائنات پر قادر حاکم ہے تو میں تو اپنا رڑخ ایسی ذات کی طرف کرتا ہوں کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور اس عقیدے میں کم سے کم شرک کو بھی راہ نہیں دیتا، میں تو موحد خالص ہوں اور مشرکین میں سے نہیں ہوں( إِنِّی وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ حَنِیفًا وَمَا اٴَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ ) ۔
____________________
۱۔ اس بناپر آیت میں ایک حذف اور تقدیر موجود ہے جو آیات قبل سے واضح ہوتی ہے اور حقیقت میں آیت کا مضمون اس طرح ہے: (کما ارینا ابراهیم قبح ما کان علی علیه قومه من عبادة الاصنام کذلک نری ابراهیم ملکوت السمٰوٰت و الارض )۔
یہ گفتگو تحقیق کے طور پر کی تھی
اس آیت کی تفسیر اور بعد والی آیات کی تفسیر میں اور یہ کہ ابراہیم- جیسے موحد و یکتا پرست نے کس طرح آسمان کے ستارے کی طرف اشارہ کیا اور یہ کہا کہ یہ میرا خدا ہے مفسرّین نے بہت بحث کی ہے۔ ان تمام تفاسیر میں سے دو تفسیریں زیادہ قابلِ ملاحظہ ہیں کہ جن میں سے ہر ایک کو بعض بزرگ مفسرین نے اختیار کیا ہے اور ان پر منابعِ حدیث میں بھی شواہد موجود ہیں ۔
پہلی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم - ذاتی طور پر یہ چاہتے تھے کہ خداشناسی کے بارے میں غور و فکر کریں اور اُس معبود کو جسے وہ اپنی پاک فطرت کی بناء پر اپنی روح و جان کی گہرائیوں میں پاتے تھے تلاش کریں ۔ وہ خدا کو نورِ فطرت اور عقلی احمالی دلیل سے تو پہنچان چکے تھے، اور ان کی تمام تعمیرات بتلاتی ہیں کہ انھیں اُس کے وجود میں کسی قسم کا شک و یعبہ نہیں تھا، لیکن وہ اس کے حقیقی مصداق کی تلاش میں تھے، بلکہ اُس کے حقیقی مصداق کو بھی جانتے تھے مگر چاہتے یہ تھے کہ زیادہ واضح عقلی اتدلالات کے ذریعہ ”حق الیقین“ کے مرحلہ تک پہنچ جائیں ۔ اور یہ واقعہ دور ان نبوت سے پہلے کا ہے اور احتمال یہ ہے کہ ابتداء بلوغ یا قبل از بلوغ کا ہے۔
کچھ روایات اور تواریخ میں ہے کہ یہ پہلا موقع تھا کہ ابراہیم - کی نظر آسمان کے ستاروں پر پڑی تھی اور و رات کے نیلگوں صفحہ آسمان کو اس کے روشن اور چمکتے ہوئے ستاروں کو دیکھ رہے تھے۔ کیونکہ آپ کی والدہ اُن کے بچپنے سے ہی نمرود جبار کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے خوف سے ایک غار کے اندر ان کی پرورش کررہی تھیں ۔
لیکن یہ بات بہت ہی بعید نظر آتی ہے کہ کوئی انسان کئی سالوں تک غار کے اندر ہی زندگی گزارتا رہے یہاں تک ایک تاریک رات میں بھی اس سے باہر قدم نہ رکھا ہو۔ شاید بعض کی نظر میں اس احتمال کی تقویت (رای کو کبا) کے جملے کے سبب سے ہو کہ جس کا مفہوم یہ ہے کہ انھوں نے اس وقت تک ستارہ نہیں دیکھا تھا۔
لیکن یہ تعبیر کسی لحاظ سے بھی یہ مفہوم اپنے اندر نہیں رکھتی، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر چہ اُنہوں نے اس وقت تک ستارے، چاند اور سورج کو دیکھا تو بہت دفعہ تھا لیکن ایک محقق توحید کے طور پر یہ پہلی دفعہ تھی کہ اُن پر نظر ڈالی اور ان کے طلوع و غروب کو مقام خدائی کی نفی کمے ساتھ مربوط ہونے پر غور کرنے لگے۔ در حقیقت ابراہیم - نے انھیں بار ہا دیکھا تھا لیکن اس نظر سے نہیں ۔
اس بناپر جب ابراہیم - یہ کہتے ہیں کہ : ہٰذا ربی (یہ میرا خدا ہے) تو یہ ایک قطعی خبر کے عنوان سے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک فرض اور احتمال کے طور پر اور ہے اور غور وفکر کے لئے ہے۔ اس کی صحیح مثال یہ ہے کہ جس طرح ہم کسی حادثہ کی ملت معلوم کرنا چاہتے ہیں تو تمام احتمالات اور فروض کو ایک ایک کرکے مطالعہ کے لیے فرض کرتے چلے ہیں اور ہر ایک کے لوازم کی تحقیق ملت کو پاسکیں اور اس قسم کی بات نہ ہی نفی ایمان پر دلالت کرتی ہے بلکہ یہ زیادہ سے زیادہ تحقیق اور بہتر سے بہتر شناسائی کا ایک طریقہ ہے اور ایمان کے بلند مراتب تک پہنچنے کا ایک راستہ ہے ۔ جیسا کہ” معاد“ کے سلسلہ میں بھی حضرت ابراہی-م مرحلہ شہود اور اس سے پیدا ہونے والے اطمینان تک پہنچنے کے لیے بیشتر تحقیق کے در پے ہوئے تھے۔ تفسیر عیاشی میں محمد بن مسلم کے واسطے سے امام باقر- یا امام صادق سے اس طرح منقول ہے :”اِنَّمَا کَانَ اِبرَاهِیم طَالباً لِرَبِّهِ ولم یبلغ کفرًاو انّه مِن النّاس فِی مِثلِ ذَالِکَ فَاِنَّهُ بِمَنزلته “۔
ابراہی-م نے یہ گفتگو تحقیق کے طور پر کی تھی اور لوگوں میں سے جو شخص بھی تفکرو تحقیق کے لیے یہ بات کہتے تو وہ ابراہیم- کی طرح ہوگا(۱)
اس سلسلے میں دو روایات اور بھی تفسیرنور الثقلین سے نقل ہوئی ہے ۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم - نے یہ بات ستارہ پرستوں اور سورج پرست لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے کی اور احتمال یہ ہے کہ بابل میں بت پرستوں کے ساتھ سخت قسم کے مقابلے اور مبارزات کرنے اور اس زمین سے شام کی طرف نکلنے کے بعد جب ان اقوام سے ان کا آمناسامنا ہوا تو اس وقت یہ گفتگو کی تھی ۔حضرت ابراہیم - بابل میں نادان قوموں کی ہٹ وھرمی کو ان کی غلط راہ و رسم میں آزما چکے تھے لہٰذا اس بناپر کہ آفتاب و مہتاب کے پجاریوں اور ستارہ پرستوں کو اپنی طرف متوجہ کریں ، پہلے ان کے ہم صدا ہوگئے اور ستارہ پرستوں سے کہنے لگے کہ تم یہ کہتے ہو کہ یہ زہرہ ستارہ میرا پروردگار ہے، بہت اچھا چلو اسے دیکھتے ہیں یہاں تک کہ اس عقیدے کا انجام تمہارے سامنے پیش کروں ۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس ستارے کا چمکدار چہرہ افق کے تاریک پردے کے پیچھے چھپ گیا، یہ وہ مقام تھا کہ ابراہیم - کے ہاتھ میں ایک محکم ہتھیار آگیا اور وہ کہنے لگے میں تو کبھی ایسے معبود کو قبول نہیں کرسکتا۔ اس بناپر” ھذا ربی“کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارے عقیدے کے مطابق یہ میرا خدا ہے، یا یہ کہ آپ نے بطور استفہام فرمایا: کیا یہ میرا خدا ہے؟ اس سلسلے میں بھی ایک حدیث تفسیر نور الثقلین اور دیگر تفاسیر میں عیون اخبار
____________________
۱۔ تفسیر نور اثقلین جلد اوّل صفحہ ۷۳۸۔
حضرت ابراہیم - کا توحید پر استدلال
اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ حضرت ابراہیم - نے آفتاب و مہتاب اور ستاروں کے غروب ہونے سے ان کی ربوبیت کی نفی پر کس سے استدلال کیا؟
ممکن ہے کہ یہ استدلال تین طریقوں سے ہو:
۱ ۔ موجودات کا پروردگار اور مربی( جیسا کہ لفظ” رب“سے معلوم ہوتا ہے) ایسا ہونا چاہیے کہ جس کا مخلوقات کے ساتھ ہمیشہ قریبی ربط ہو کہ ایک لحظہ کے لیے بھی اُن سے جدا نہ ہو، اس بناء پر وہ موجود جو غروب ہوجائے اور کئی ساعت تک اپنے نور و برکت کو ختم کیے رکھے اور بہت سے موجودات سے بالکل بیگانہ ہوجائے، ان کا پروردگار اور رب کس طرح ہوسکتا ہے؟
۲ ۔ وہ موجود جو غروب و طلوع کرنے والا ہے وہ قوانین کے چنگل کا اسیر ہے، وہ چیز جو خود ان قوانین کی محکوم ہے وہ ان پر حاکم اور ان کی مالک کس طرح ہوسکتی ہے۔ وہ خود ایک کمزور مخلوق ہے اور ان کے تابع فرمان ہے اور اُن سے انحراف اور تخلف کی کم سے کم توانائی بھی نہیں رکھتی۔
۳ ۔ جو موجود حرکت رکھتا ہے وہ یقینا ایک حادث موجود ہے کیونکہ جیسا کہ فلسفہ میں تفصیل کے ساتھ ثابت ہوچکا ہے کہ حرکت ہر مقام پر حدوث کی دلیل ہے کیونکہ حرکت خود ایک قسم کا وجود حادث ہے اور وہ چیز جو معرض حوادث میں ہے یعنی حرکت رکھتی ہے وہ ایک ازلی و ابدی وجود نہیں ہوسکتی۔(غور کیجئے)۔
”کذالک“سے کیامراد ہے۔ ؟
۱ ۔ زیر بحث آیت میں لفظ ”کذالک“(اسی طرح سے) اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس طرح سے ہم نے ابراہیم کی عقل و خرد کے لیے بت پرستی کے مضراّت و نقائص واضح کیے تھے اِسی طرح سے آسمان و زمین پر خدا کی حکومت و مالکیت کی بھی ہم نے اُسے نشاندہی کرائی، بعض مفّسرین نے کہا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ جس طرح ہم نے تجھے اپنی قدرت و حکومت کے آثار آسمانوں پر دکھائے اسی طرح ابراہیم کو ہم نے دکھائے تھے تاکہ ان کے ذریعے وہ خدا سے زیادہ آشنا ہوجائے۔
”جن“ “سے مراد
۲ ۔ ”جن“ (مادہ ”جن“ بروزن ”فن“سے)کسی چیز کو چھپانے کے معنی میں ہے اور زیر بحث آیت میں جملہ کا معنی یہ ہے کہ ”جب رات نے ابراہیم- سے موجودات کا چہرہ چھپادیا اور“۔ اور یہ جو دیوانہ کو مجنون کہتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ گویا ایک پردہ اس کی عقل پر پڑگیا ہے اور نظر آنے والے موجود کو جو جن کہتے ہیں تو وہ بھی اسی لحاظ سے ہے۔ جنین بھی بچے کے شکم مادر میں پوشیدہ ہونے کی وجہ سے ہے اور جنت کا اطلاق بہشت اور باغ پر بھی اسی بناپر ہے کہ اس کی زمین درختوں کے نیچے چھپی ہوئی ہوتی ہے اور دل کو جنان (بروزن زمان) اسی لیے کہتے ہیں چونکہ وہ سینہ کے اندر پوشیدہ ہے، یا یہ کہ وہ انسان کے اسرار اور رازوں کو چھپائے رکھتا ہے۔
”کوکباً“کونسا ستارہ مراد ہے؟
۳ ۔ یہ کہ ”کوکباً“ (ایک ستارہ )سے کونسا ستارہ مراد ہے؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن زیادہ تر مفسرین نے زہرہ یا مشتری کا ذکر کیا ہے اور کچھ تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم زمانوں میں ستاروں کی پرستش کی جایا کرتی اور ”اٰلھة“ (خداوں )کا حصہّ شمار ہوتی تھے لیکن اس حدیث میں جو امام علی- بن موسیٰ رضا سے ”عیون الاخبار“ میں نقل ہوئی ہے کہ یہ تصریح ہوئی ہے کہ یہ زہرہ ستارہ تھا، تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی امام صادق- سے یہی بات مروی ہے ۔(۱)
بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ کلدہ اور بابل کے لوگوں نے وہاں بت پرستوں کے ساتھ مقابلے اور مبارزے شروع کررکھے تھے اور ہر ایک ستارے کو خالق یا کسی خاص موجودات کا رب النوع سمجھے تھے، ” مریخ “کو رب النوع جنگ اور مشتری کو رب النوع عدل وعلم اور عطارد کو رب النوع وزراء اور آفتاب کو سب کا پادشاہ سمجھے تھے ۔(۲)
____________________
۱۔ تفسیر نور الثقلین جلد اول صفحہ ۷۳۵ و صفحہ ۷۳۷-
۲۔ تفسیر ابوالفتوح جلد چہارم صفحہ ۴۶۷ (حاشیہ )-
” بازغ“ سے مراد
۴ ۔ ” بازغ“ ”بزغ“ کے مادہ سے(بروزن نذر) ہے۔یہ اصل میں شگاف کرنے اور خون جاری کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی لیے جیوانات کی جراحی کو بزغ کہتے ہیں ۔ اس لفظ کا آفتاب یا ماہتاب کے طلوع پر اطلاق حقیقت میں ایک قسم کی خوبصورت تشبیہ ہے کیونکہ آفتاب و ماہتاب اپنے طلوع کے وقت گویا تاریکی کے پردے کو پھاڑ تے ہیں ۔ علاوہ ازیں افق کے کنارے پر ایک ہلکی سی سرخی جو خون کے رنگ سے ملتی جلتی ہوتی ہے اپنے اطراف میں ایجاد کرلیتے ہیں ۔
”فطر“۔سے مراد
۵ ۔ ”فطر“۔”فطور“ کے مادہ سے شگاف کرنے اور پھاڑ نے کے معنی میں ہے اور جیسا کہ اسی سورہ کی آیت ۱۴ کے ذیل میں ہم لکھ چکے ہیں کہ اس لفظ کا آسمان و زمین کی پیدائش پر اطلاق شاید اس سبب سے ہو کہ موجودہ زمانے کے علم کے مطابق ابتداء میں سارا عالم ایک ہی کرّہ تھا اور بعد میں مختلف ٹکڑے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے گئے اور آسمانی کرات یکے بعد دیگرے وجود میں آتے گئے (مزید توضیح کے لیے مذکورہ آیت کی تفسیر کی طرف رجوع کیا جائے)۔
۶ ۔ ”حنیف“ کا معنی
۶ ۔ ”حنیف“ کا معنی خالص ہے جیسا کہ اس کی تفصیل سورہ آلِ عمران آیت ۶۷ کے ذیل میں جلد دوم تفسیر نمونہ ص ۳۲۹ ( اردو ترجمہ) میں بیان ہوچکی ہے۔
آیات ۸۰،۸۱،۸۲،۸۳
۸۰( وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ اٴَتُحَاجُّونِی فِی اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِی وَلاَاٴَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِهِ إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ رَبِّی شَیْئًا وَسِعَ رَبِّی کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا اٴَفَلاَتَتَذَکَّرُونَ ) --
۸۱( وَکَیْفَ اٴَخَافُ مَا اٴَشْرَکْتُمْ وَلاَتَخَافُونَ اٴَنَّکُمْ اٴَشْرَکْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهِ عَلَیْکُمْ سُلْطَانًا فَاٴَیُّ الْفَرِیقَیْنِ اٴَحَقُّ بِالْاٴَمْنِ إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ ) -
۸۲( اَلَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوا إِیمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اٴُوْلَئِکَ لَهُمْ الْاٴَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ) -
۸۳( وَتِلْکَ حُجَّتُنَا آتَیْنَاهَا إِبْرَاهِیمَ عَلیٰ قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ إِنَّ رَبَّکَ حَکِیمٌ عَلِیمٌ ) -
ترجمہ:
۸۰ ۔ اُس (ابراہیم) کی قوم نے اُس سے حجت بازی شروع کی تو اُنہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں حجت بازی کیوں کرتے ہو۔ حالانکہ خدانے مجھے (واضح ولائل کے ساتھ) ہدایت کی ہے اور جسے تم خدا کا شریک قرار دیتے ہو میں اُس سے نہیں ڈرتا۔ (اور مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا) مگر یہ کہ میرا پروردگار کچھ چاہے۔ میرے پروردگار کی آگاہی اور علم اس قدر وسیع ہے کہ وہ تمام چیزوں پر حاوی ہے، کیا تم متذکر (اور بیدار) نہیں ہوتے۔
۸۱ ۔ میں تمہارے بتوں سے کس طرح ڈروں جب کہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے خدا کا ایسا شریک قرار دے لیا ہے کہ جس کے بارے میں اس نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں کی (سچ بتاؤ) ان دونوں گروہوں (بت پرستوں اور خدا پرستوں ) میں سے کونسا گروہ (سزا سے) اَمن میں رہنے کے زیادہ لائق ہے۔ اگر تم جانتے ہو۔
۸۲ ۔ ہاں ہاں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کیا، ان کا انجام امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔
۸۳ ۔ یہ ہمارے دلائل تھے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دیئے تھے۔ ہم جس شخص کے درجات کو چاہتے ہیں (اور اُسے لائق دیکھتے ہیں ) اُوپر لے جاتے ہیں ۔ تیرا پروردگار حکیم اور دانا ہے۔
حضرت ابراہیم - کی بت پرست قوم و جمعیت سےبحث و گفتگو
اس بحث کے بعد جو گذشتہ آیات میں حضرت ابراہیم - کے توحیدی استدلالات کے سلسلہ میں گزرچکی ہے، اِن آیات میں اُسی بحث و گفتگو کی طرف اشارہ ہے جو حضرت ابراہیم - کی بت پرست قوم و جمعیت سے ہوئی تھی۔ پہلے فرمایا گیا ہے: قومِ ابراہیم ان کے ساتھ گفتگو اور کج بحثی کرنے لگی( و حاجه قومه )
ابرہیم - نے ان کے جواب میں کہا: تم مجھ سے خدائے یگانہ کے سلسلہ میں بحث اور مخالفت کیوں کرتے ہو حالانکہ خدانے مجھے منطقی اور واضح دلائل کے ساتھ راہ توحید کی ہدایت کی ہے( قَالَ اٴَتَحَاجونِی فِی اللّٰهِ وَ قَد هَدَان ) ۔
اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت ابراہیم - کی قوم کے بت پرستوں کی جمعیت اس کوشش میں لگی ہوئی تھی کہ جس قیمت پر بھی ممکن ہوسکے ابراہیم - کو اُن کے عقیدے سے پلٹالیں اور بت پرستی کے آئین کی طرف کھینچ لیں ۔ لیکن حضرت ابراہیم - انتہائی شجاعت و شہامت کے ساتھ ان کے مقابلہ کے لیے ڈٹ گئے اور منطقی دلائل کے ساتھ سب کی باتوں کے جواب دیئے۔
یہ بات کہ وہ (بت پرست) کس منطق سے حضرت ابراہیم - کا مقابلہ کرتے تھے ان آیات میں صراحت کے ساتھ کوئی چیز بیان نہیں ہوئی لیکن حضرت ابراہیم - کے جواب سے اجمالی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے آپ کو پانے خداؤں اور بتوں کے غیض و غضب اور سزا کی دھمکی دی اور ان کی مخالفت سے ڈرایا تھا، کیونکہ آیت کے آخر میں ہم حضرت ابراہیم - کی زبانی اس طرح پڑھتے ہیں : میں ہرگز تمہارے بتوں سے نہیں ڈرتا کیونکہ اُن میں یہ قدرت ہی نہیں ہے کہ کسی کو نقصان و ضرر پہنچا سکیں( وَلَا اٴَخَافُ مَا تُشرِکُونَ به ) ۔کوئی شخص اور کوئی چیز مجھے نقصان نہیں پہنچاسکتی مگر یہ کہ خدا چاہے( اِلَّا اٴَنْ یَشَاءَ رَبِّی شَیئاً ) ۔(۱)
گویا ابراہیم - اس جملے کے ذریعے یہ جاہتے ہیں کہ ایک اجتمالی پیش بندی کرلیں اور کہیں کہ اگر اس کشمش کے دوران بالفرض مجھے کوئی حادثہ پیش آجائے، تو اس کا بتوں کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ربط نہیں ہوگا بلکہ اس کا تعلق مشیت الٰہی کے ساتھ ہوگا کیونکہ بے شعور وبے جان بت تو اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں وہ کیا دوسرے کے نفع ونقصان کیا مالک ہوں گے؟
اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: میرے پروردگار کا علم و دانش اس طرح ہمہ گیر و وسیع ہے کہ ہر چیز کو اپنے احاطہ میں لیے ہوئے ہے( وَسِعَ رَبِّی کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا ) ۔
یہ جملہ حقیقت میں سابقہ جملے کی ایک دلیل ہے اور وہ یہ ہے کہ بت ہرگز کوئی نفع یا نقصان پہنچاہی نہیں سکتے کیونکہ وہ کسی قسم کا علم و آگاہی نہیں رکھتے، اور نفع اور نقصان پہنچانے کی پہلی شرط علم و شعور اور آگاہی ہے۔ صرف وہ خدا کہ جس کے علم و دانش نے تمام چیزوں کا احاط کیا ہوا ہے وہی سود و زیاں بھی پہنچا سکتا ہے، تو پھر میں اُس کے غیر کے غیض و غضب سے کیوں ڈروں ۔
آخر میں اُن کے فکر و فہم کو بیدار کرنے کے لیے، اُنہیں مخاطب کرکے فرمایا گیا ہے: کیا ان تما باتوں کے باوجود بھی تم متذکر اور بیدار نہیں ہوتے( اٴَفَلاَتَتَذَکَّرُونَ ) ۔
بعد والی آیت میں حضرت ابراہیم - کی ایک اور منطق و استدلال کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ بت پرست گروہ سے کہتے ہیں : ”یہ کس طرح ممکن ہے کہ میں بتوں سے ڈروں اور تمہاری دھمکیوں کے مقابلہ میں اپنے اندر وحشت اور خوف پیدا کرلوں حالانکہ مجھے تو ان بتوں میں عقل و شعور اور قدرت کی کسی قسم کی کوئی نشانی دکھائی نہیں دیتی، لیکن تم باوجود اس کے کہ خدا کے وجود پر ایمان رکھتے ہو اور اس کی قدرت اور علم کو بھی جانتے ہو اور اُس نے کسی قسم کا کوئی حکم بتوں کی پرستش کے بارے میں تمہاری طرف نازل نہیں کیا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود تم تو اُس سے نہیں ڈرتے، تو میں بتوں کے غضب سے کس طرح ڈروں( وَکَیْفَ اٴَخَافُ مَا اٴَشْرَکْتُمْ وَلاَتَخَافُونَ اٴَنَّکُمْ اٴَشْرَکْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهِ عَلَیْکُمْ سُلْطَانًا ) (۲) - کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بت پرست ایسے خدا کے منکر نہ تھے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے۔ وہ تو صرف بتوں کو عبادت میں شریک کرتے تھے اور انھیں درگاہ خداوندی میں شفیع خیال کرتے تھے۔
اب تم ہی انصاف کرو کہ میں امن و امان کا زیادہ حقدار ہوں یا تم( فَاٴَیُّ الْفَرِیقَیْنِ اٴَحَقُّ بِالْاٴَمْنِ إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ ) ۔
حقیقت میں اس مقام پر ابراہیم - کی منطق ایک عقلی منطق ہے جو اس واقعیت کی بنیاد پر قائم ہے کہ تم مجھے بتوں کے غضب ناک ہونے کی دھمکی دے رہے ہو۔ حالانکہ اِن کے وجود کی تاثیر مو ہوم ہے، لیکن تم اُس عظیم خدا سے بالکل نہیں ڈرتے جسے تم اور میں دونوں قبول کرتے ہیں اور ہمیں اُس کے حکم کا پیرو ہونا چاہیے اور اس کی طرف سے بتوں کی پرستش کا کوئی حکم نہیں پہنچا۔ تم نے ایک قطعی و یقینی امر کو تو چھوڑ رکھا ہے اور ایک موہوم چیز کے ساتھ چمٹے ہوئے ہو۔
بعد والی آیت میں حضرت ابراہیم - کی زبانی اُس سوال کا جواب نقل ہوا ہے جو خود اُنہوں نے قبل کی آیت میں پیش کیا تھا (اور علمی استدلالات میں یہ ایک عمدہ طریقہ ہے کہ بعض اوقات استدلال کنندہ شخص مد مقابل کی طرف سے سوال کرکے پھر خود ہی اس کا جواب دیتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ مطلب اتنا واضح ہے کہ جس کا جواب ہر شخص کو معلوم ہونا چاہیے) ۔
ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم و ستم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا، امن و امان بھی انہی کے لیے ہے اور ہدایت بھی انہی کے ساتھ مخصوص ہے( اَلَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوا إِیمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اٴُوْلَئِکَ لَهُمْ الْاٴَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ ) ۔
اُس روایت میں بھی جو امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے، اس بات کی تاکید ہوتی ہے کہ یہ گفتگو حضرت ابراہیم - کی بت پرستوں کے ساتھ گفتگو کا ضمیمہ ہے۔(۳)
بعض مفسّرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ جملہ خدا کا بیان ہوگا نہ کہ حضرت ابراہیم - کی گفتگو۔ لیکن پہلا احتمال علاوہ اس کے کہ یہ روایت میں وارد ہوا ہے، آیات کی وضع و ترتیب کے ساتھ بھی زیادہ بہتر مطابقت رکھتا ہے لیکن یہ احتمال کہ یہ جملہ بت پرستوں کی گفتگو ہو جو حضررت ابراہیم - کی باتیں سننے کے بعد بیدار ہوئے ہوں بہت ہی بعید نظر آتا ہے۔
____________________
۱۔ حقیقت میں اُوپر والا استثناء، استثناء منقطع سے شباہت رکھتاہے، کیونکہ بتوں سے نفع و نقصان کی قدرت کی کلی طور پر نفی ہوئی ہے اور خدا کے لیے ثابت ہے۔ اگر چہ اس جملے کے معنی میں اور مفسرّین نے اور احتمال بھی ذکر کیے ہیں ، لیک جو کچھ ہم نے اُوپر بیان کیا ہے وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔
۲۔ سلطان کا معنی برتری و کامیابی ہے اور چونکہ دلیل و برہان کامیابی کا سبب ہوتی ہے لہٰذا بعض اوقات اُسے بھی سلطان کہتے ہیں اور اُوپر والی آیت اسی معنی میں ہے۔ یعنی بتوں کی پرستش کی اجازت کے لیے کسی قسم کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے اور حقیقت میں یہ ایسا مطلب ہے جس کا کوئی بت پرست انکار نہیں کرسکتا کیونکہ اس قسم کا حکم عقل یا وحی و نبوت کے ذریعہ سے ہی معلوم ہوسکتا ہے اور ان دونوں باتوں میں سے کوئی سی دلیل موجود نہیں ہے۔
۳۔ تفسیر مجمع البیان ذیل آیہ زیرِ بحث۔
یہاں ظلم سے کیا مراد ہے؟
مفسّرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ یہاں ”ظلم“ شرک کے معنی میں ہے۔ سورہ لقمان (کی آیہ ۱۳) میں جو یہ وارد ہوا ہے کہ ”( اِنَّ الشِّرک لَظُلْمٌ عَظِیمٌ ) “ (شرک ظلم عظیم ہے) کو اس معنی کا شاہد قرار دیا ہے۔
ایک روایت میں بھی ابن مسعود سے یہ نقل ہوا ہے کہ جس وقت یہ (زیر بحث) آیت نازل ہوئی، تو یہ بات لوگوں کو بہت گراں معلوم ہوئی۔ عرض کیا: اے اللہ کے رسول ایسا کون ہے کہ جس نے اپنے اُوپر تھوڑا بہت ظلم نہ کیا ہو (لہٰذا یہ آیت تو سبھی کو شامل کرلیتی ہے)
رسول اللہ نے فرمایا:جو تم نے خیال کیا ہے اس سے وہ مراد نہیں ہے۔ کیا تم نے خدا کے صالح بندے (لقمان کا) قول نہیں سنا (جو اپنے بیٹے سے) کہتا ہے ”میرے بیٹے خدا کا شریک قرار نہ دے کہ شرک، ظلم عظیم ہے“۔(۱)
لیکن چونکہ قرآن کی آیات بہت سے مواقع پر دو یا دو سے زیادہ معانی کی حامل ہوتی ہیں لہٰذا ممکن ہے کہ اُن میں سے ایک معنی دوسرے معنی دوسرے معنی سے زیادہ وسیع اور عمومی ہوتو آیت میں یہ احتمال بھی ہے کہ ”امنیت“ سے مراد عام امنیت ہے خواہ خدا کے عذاب سے امن و امان ہو یا اجتماعی دردناک حوادث سے امن و امان ہو۔
یعنی جنگیں ایک دوسرے پر زیادتیاں ، مفاسد اور جرائم سے امان، یہاں تک کہ روحانی سکون و اطمینان صرف اسی صورت میں حاصل ہوتا ہے جب کہ انسانی معاشرے میں دو اصولوں کی حکمرانی ہو، اوّل ایمان اور دوسرے عدالت اجتماعی، اگر خدا پر ایمان کی بنیادیں ہل جائیں اور پروردگار کے سامنے جواہدہی کا احساس ختم ہوجائے اور عدالت اجتماعی کی جگہ ظلم و ستم کا دَورہ ہو، تو ایسے معاشرے میں ان و امان ختم ہوجائے گا اور یہی سبب ہے کہ دنیا کے بہت سے مفکرین کی طرف سے دنیا میں بدامنی کی مختلف صورتوں کو ختم کرنے کی تمام کوششوں کے باوجود دنیا کے لوگوں کا واقعی امن دامان سے دن بدن فاصلہ بڑھتا جارہا ہے، اس کیفیت کا سبب وہی ہے کہ طرف زیر نظر آیت میں اشارہ ہوا ہے اور وہ یہ کہ ایمان کی بنیادیں ہل رہی ہیں اور عدالت کی جگہ ظلم کا دور دورہ ہے ۔
خاص طور پر روحانی امن و سکون میں ایمان کی تاثیر سے تو کسی کے لیے بھی تردید کی گنجایش نہیں ہے۔ جیسا کہ ارتکاب ظلم سے وجدان کی پریشانی اور روحانی امن وسکون کا چھن جانا کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔
بعض روایات میں بھی حضرت صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ زیر بحث آیت سے مراد یہ ہے کہ:وہ لوگ کہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے حکم کے مطابق اُمت اسلامی کی ولایت و رہبری کے سلسلے میں آپ کے بعد ایمان لے آئیں اور اُسے دوسرے لوگوں کی ولایت و رہبری کے ساتھ مخلوط نہ کریں تو وہ امن و امان میں ہیں ۔(۲)
یہ تفسیر حقیقت میں آیہ شریفہ میں موجود مطلب کی روح اور نچوڑ پپر نظر رکھتے ہوئے بیان ہوئی ہے کیونکہ اس آیت میں خدا کی ولایت و رہبری کے متعلق گفتگو ہے اور اُسے اُس کے غیر کی رہبری کے ساتھ خلط ملط نہ کرنے کے سلسلہ میں ہے اور چونکہ حضرت علی علیہ السلام کی رہبری آیہ ”( اِنَّمَا وَلِیّکُمُ اللّٰه وَ رَسُولَه ) “““کے اقتضا کے مطابق خدا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رہبری کا پرتو ہے اور خدا کی طرف سے معین نہ ہونے والی رہبریاں ایسی نہیں ہیں لہٰذا اُوپر والی آیت ایک وسیع نظر سے ان سب پر محیط ہوگی، اس بناء پر اس حدیث سے مراد یہ نہیں ہے کہ آیت کا مفہوم اسی معنی میں منحصر ہے، بلکہ یہ تفسیر آیت کے اصلی مفہوم کا پرتو ہے۔
اسی لیے ہم حضرت امام صادق علیہ السلام کی ایک دوسری حدیث میں پڑھتے ہیں کہ یہ آیت خوارج جو ولی خدا کی ولایت سے نکل گئے تھے اور شیطان کی ولایت و رہبری میں چلے گئے تھے، کے بارے میں بھی ہے۔(۳)
بعد والی آیت اُن تمام بحثوں کی طرف۔ ایک اجمالی اشارہ کرتے ہوئے کہ جو حضرت ابراہیم- کی طرف سے توحید کے بیان اور شرک کے خلاف مبارزہ و مقابلہ کے سلسلہ میں نقل ہوئی ہیں ایک اجمالی اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے: یہ ہمارے وہ دلائل تھے جو ہم نے ابراہیم - کو اس کی قوم و جمعیت کے مقابلہ میں دیئے تھے( وَتِلْکَ حُجَّتُنَا آتَیْنَاهَا إِبْرَاهِیمَ عَلیٰ قَوْمِهِ ) ۔
یہ صحیح ہے کہ اس استدلال میں منطقی پہلو بھی تھا اور ابراہیم - عقلی قوت اور فطری الہام کی بناپر اُن تک پہنچے تھے لیکن چونکہ یہ قوت عقل اور وہ الہام فطرت سب خدا کی ہی طرف سے تھے، لہٰذا خدا ان تمام استدلالات کو اپنی نعمات میں سے شمار کررہا ہے کہ جو ابراہیم - کے دل جیسے آمادہ دلوں میں منعکس ہوتے ہیں ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ”تلک“ عربی زبان میں بعید کے لیے اسم اشارہ ہے۔ لیکن بعض اوقات موضوع کی اہمیت، اور اس کا بلند پایہ ہونا اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ ایک نزدیک کا موضوع بھی اسم اشارہ بعید سے ذکر ہو، جس کی مثال سورہ بقرہ کی ابتداء میں ہے:”( ذَٰلِکَ الْکِتٰبُ لاَ رَیْبَ فِیْهِ ) “۔
”یہ عظیم کتاب وہ ہے کہ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے“۔
پھر اس بحث کی تکمیل کے لیے فرمایا یا ہے: ہم جس کے درجات کو چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں( نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ ) ۔(۴)
لیکن اس غرض سے کہ کوئی اشتباہ واقع نہ ہو۔ کہ لوگ یہ گمان کرنے لگ جائیں کہ خدا اس درجے کے بلند کرنے میں کسی تبعیض سے کام لیتا ہے، قرآن فرماتا ہے: تیرا پروردگار حکیم اور عالم ہے اور وہ درجات عطا فرماتا ہے وہ ان کی لیاقت و قابلیت سے آگاہی اور میزان حکمت کے مطابق عطا فرماتا ہے اور جب تک کوئی شخص لائق اور قابل نہ ہو اُس سے بہرہ مند نہیں ہوگا( إِنَّ رَبَّکَ حَکِیمٌ عَلِیمٌ ) ۔
____________________
۱۔ تفسیر مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۲۔ تفسیر نور الثقلین جلد اوّل صفحہ ۷۴۰۔
۳۔ تفسیر برہان جلد اوّل صفحہ ۵۳۸۔
۴۔ ”درجہ“ کے بار سے میں اور اس کے اور ”درک“ کے درمیان فرق کے بارے میں ہم سورہ نساء آیہ ۱۴۵ جلد چہارم صفحہ ۱۴۸ میں بحث کرچکے ہیں ۔
آیات ۸۴،۸۵،۸۶،۸۷
۸۴( وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ کُلًّا هَدَیْنَا وَنُوحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ وَاٴَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَهَارُونَ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ) -
۸۵( وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی وَإِلْیَاسَ کُلٌّ مِنْ الصَّالِحِینَ ) -
۸۶( وَإِسْمَاعِیلَ وَالْیَسَعَ وَیُونُسَ وَلُوطًا وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِینَ ) -
۸۷( وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّیَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَیْنَاهُمْ وَهَدَیْنَاهُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ) -
ترجمہ:
۸۴ ۔ور ہم نے اُسے (ابراہیم - کو) اسحاق و یعقوب عطا کیے اور ہم نے ہر ایک کو ہدایت کی، اور نوح کو (بھی) ہم نے (ان سے) پہلے ہدایت کی تھی، اور اس کی ذریت و اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو (ہم نے ہدایت کی) اور ہم نیکوکاروں کو اسی طرح سے جزا دیتے ہیں ۔
۸۵ ۔ اور (اسی طرح) زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس سب صالحین میں سے تھے۔
۸۶ ۔ اور اسماعیل، الیسع، یونس اور ہر ایک کو ہم نے عالمین پر فضیلت دی۔
۸۷ ۔ اور ان کے آباؤ اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے کچھ افراد کو ہم نے برگزیدہ کیا اور اُنہیں راہ راست کی ہدایت کی۔
نعمت ہے صالح اولاد اور آبرومند اور لائق نسل
اِن آیات میں اپنی نعمات میں سے ایک کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جو خداوندتعالیٰ نے حضرت ابراہیم- کو عطا کی تھیں اور وہ نعمت ہے صالح اولاد اور آبرومند اور لائق نسل جو نعمات الٰہی میں سے ایک عظیم ترین نعمت ہے۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے ابراہیم- کو اسحاق اور (فرزند اسحاق) عطا کیے (وَوَہَبْنَا لَہُ إِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ) ۔
اور اگر یہاں ابراہیم- کے دوسرے فرزند اسماعیل کی طرف اشارہ نہیں ہوا، بلکہ بحث کے دوران کہیں ذکر آیا ہے، شاید اس کا سبب یہ ہے کہ اسحاق کا سارہ جیسی بانجھ ماں سے پیدا ہونا، وہ بھی بڑھاپے کی عمر میں ، بہت عجیب وغریب امر اور ایک نعمت غیر مترقبّہ تھی۔
پھر اس چیز کو بیان کرنے کے لئے کہ ان دونوں کا افتخار صرف پیغمبر زادہ ہونے کے پہلو سے نہیں تھا، بلکہ وہ ذاتی طور پر بھی فکر صحیح اور عمل صالح کے سائے میں نور ہدایت کو اپنے دل میں جاگزین کیے ہوئے تھے، قرآن کہتا ہے: ان میں سے ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی( کُلًّا هَدَیْنَا ) ۔
اس کے بعدیہ بتانے کے لئے کہ کہیں یہ تصور نہ ہو کہ ابراہیم- سے قبل کے دور میں کوئی علَم بردارِ توحید نہیں تھا اور یہ کام بس انہی کے زمانے سے شروع ہوا ہے مزید کہتا ہے: اس سے پہلے ہم نے نوح کی بھی ہدایت ورہبری کی تھی( وَنُوحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ ) ۔
اور ہم جانتے ہیں کہ نوح- پہلے اولوالعزم پیغمبر ہیں جو آئین وشریعت کے حامل تھے اور وہ پیغمبران اولوالعزم کے سلسلے کی کڑی تھے۔
حقیقت میں حضرت نوح- کی حیثیت اوران تمام کی طرف اشارہ کرکے کہ جو حضرت ابراہیم- کے اجداد میں سے ہیں ، اور اسی طرح پیغمبروں کے اس گروہ کے مقام کا تذکرہ کرکے کہ جوابراہیم- کی اولاد اور ذریّت میں سے تھے، حضرت ابراہیم- کی ممتاز حیثیت کو دراثت، اصل اور ثمرہ کے حوالے سے مشخص کیا گیا ہے۔
اور اس کے بعد بہت سے انبیاء کے نام گنوائے ہیں جو ذریت ابراہیم- میں سے تھے، پہلے ارشاد ہوتا ہے: ابراہیم کی ذریت میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، موسیٰ اور ہارون تھے( وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ وَاٴَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَهَارُونَ ) اور اس جملے کے ساتھ کہ: ”اس قسم کے نیکوکار لوگوں کو ہم جزا دیں گے“ واضح کرتا ہے کہ ان کا مقام وحیثیت ان کے اعمال وکردار کی بناپر تھا( وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ) ۔
اس سلسلے میں کہ ”( وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِ ) “ (اس کی اولاد میں سے) کی ضمیر کس کی طرف لوٹتی ہے، ابراہیم- کی طرف یا نوح- کی طرف، مفسّرین کے درمیان بہت اختلاف ہے لیکن زیادہ تر مفسّرین ابراہیم- کی طرف لوٹاتے ہیں اور ظاہراً اس بات کی تردید نہیں کرنا چاہیے کہ مرجع ضمیر ابراہیم- ہیں کیونکہ آیت کی بحث ان خدائی نعمات کے بارے میں ہے جو ابراہیم- کی نسبت سے ہوئی تھیں نہ کہ حضرت نوح- کے بارے میں ۔ علاوہ ازیں اُن متعدد روایات میں سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، جنھیں ہم بعد میں نقل کریں گے۔
صرف ایک مطب اس بات کا سبب بنا ہے کہ بعض مفسّرین نے ضمیر کو نوح- کی طرف لوٹایا ہے اور وہ ہے بعد کی آیات میں حضرت یونس- اور حضرت لوط- کا نام، کیونکہ تواریخ میں مشہور یہ ہے کہ یونس- حضرت ابراہیم- کی اولاد میں سے نہیں تھے اور لوط- بھی حضرت ابراہیم- کے بھتیجے یا بھانجے تھے۔
لیکن یونس- کے بارے میں تمام مورخین میں اتفاق نہیں ہے، بعض انھیں بھی اولاد ابراہیم- میں سے سمجھتے ہیں(۱) اور بعض انھیں انبیاء بنی اسرائیل میں سے شمار کرتے ہیں(۲)
علاوہ ازیں عام طور پر مورخین نسب کی باپ کی طرف سے حفاظت کرتے ہیں لیکن اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ حضرت یونس- کا بھی حضرت عیسیٰ - کا بھی حضرت عیسیٰ کی طرح کہ جن کا نام درج بالا آیات میں ہے کا سلسلہ نسب ماں کی طرف سے حضرت ابراہیم - تک پہنچتا ہو۔
باقی رہے لوط تو وہ اگر چہ ابراہیم - کے فرزند نہیں تھے لیکن ان کے خاندان اور رشتہ داروں میں سے تھے، تو جس طرح عربی زبان میں بعض اوقات ”چچا“ کو ”اب“ (باپ) کہا جاتا ہے اسی طرح بھتیجے اور بھانجے پر بھی ”ذریت“ اور فرزند کا اطلاق ہوتا ہے، اس طرح سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ظاہر آیات سے دست بردار ہوجائیں جو کہ ابرہیم - کے بارے میں ہیں اور ضمیر کو نوح - کی طرف پلٹادیں جو یہاں موضوعِ سُخن بھی نہیں ہیں ۔
بعد کی آیت میں زکری-، یحییٰ، عیسیٰ - اور الیاس کا نام لیا گیا ہے اور مزید کہا گیا ہے کہ یہ سب صالحین میں سے تھے۔
یعنی ان کا مقام و منزلت تشرفاتی اور اجباری پہلو نہیں رکھتا تھا بلکہ انھوں نے عمل صالح کے ذریعہ بارگاہ خداوندی میں عظمت و بزرگی حاصل کی تھی( وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی وَإِلْیَاسَ کُلٌّ مِنْ الصَّالِحِینَ ) ۔
بعد والی آیت میں بھی چار اور پیغمبروں اور خدائی رہنماؤں کے نام آئے ہیں اور فرمایا گیا ہے: اور اسماعیل, الیسع، یونس اور لوط بھی، اور سب کو ہم نے عالمین پر فضیلت عطا کی (وَإِسْمَاعِیلَ وَالْیَسَعَ وَیُونُسَ وَلُوطًا وَکُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِینَ)۔اس بارے میں الیسع کس قسم کا نام ہے اور پیغمبروں میں سے کون سے پیغمبر کی طرف اشارہ ہے مفسرّین اور ادباء عرب کے درمیان اختلاف ہے بعض اسے ایک عبرانی نام سمجھتے ہیں جو اصل میں یوشع تھا اس کے بعد اس پر الف لام داخل ہوئے اور شین، سین سے تبدیل ہوگئی اور بعض کا نظریہ ہے کہ یہ ایک عربی نام ہے اور ”یسع“ سے لیا گیا ہے (جو وسعت کا فعل مضارع ہے)۔ یہ احتمال بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اسی صورت میں گذشتہ انبیاء میں سے کسی نبی کا نام تھا بہرحال وہ جناب بھی نسل ابراہیم - میں سے ایک پیغمبر ہیں ۔
اور آخری آیت میں مذکورہ انبیاء کے صالح آباؤ اجداد، اولاد اور بھائیوں کی طرف کہ جن کے نام یہاں پر تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کیے گوے ایک کلی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان کے آباؤ اجداد، ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے کچھ افراد کو ہم نے فضیلت دی، انھیں برگزیدہ کیا اور راہ راست کی ہدایت کی( وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّیَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَیْنَاهُمْ وَهَدَیْنَاهُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ) ۔
____________________
۱۔ تفسیر آلوسی, ج۷، ص۱۸۴-
۲۔ دائرة المعارف فرید وجدی، ج۱۰، ص۱۰۵۵ (ذیل مادہ یونس)
چند قابل توجہ امور
۱ ۔ فرزندانِ پیغمبر۔ اُوپر والی آیات میں حضرت عیسیٰ - کو فرزندان ابراہیم - (اور ایک احتمال کی بناپر فرزندان نوح) میں سے شمار کیا گیا ہے۔ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ جناب صرف ماں کی طرف سے ابراہیم - کی طرف منسوب ہوتے ہیں ۔
یہ بات اس امر کی دلیل سے پوتے اور نواسے دونوں ہی انسان کی ذریت اور فرزند شمار ہوتے ہیں ۔
اسی سبب سے آئمہ اہلِ بیت- کو جو سب کے سب بیٹی کی طرف سے پیغمبر اکرم تک پہنچتے ہیں ”ابناء رسول اللّٰہ“ (فرزندان رسول -) کہا جاتا ہے۔
اگر چہ زمانہ جاہلیت میں جب کہ عورت کی کوئی اہمیت نہیں تھی نسب کو صرف باپ کی طرف سے سمجھتے تھے لیکن اسلام نے اس جاہلانہ فکر پر قلم بطلان پھِیر دیا، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لکھنے والوں میں سے بعض قلم نگار جوائمہ اہل بیت- کے ساتھ صحیح لگاؤ نہیں رکھتے یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ اس امر کا انکار کریں اور ابن رسول الله کہنے سے اجتناب کریں اور سننِ جاہلیت کو زندہ کریں ۔
اتفاق سے یہ موضوع خود ائمہ-کے مانہ میں پیدا ہوچکا تھا اور انھوں نے اسی آیت کے ساتھ کہ جو ایک دندان شکن دلیل ہے، انھیں جواب دیا۔
منجملہ اُن کے کتابِ کافی اور تفسیر عیّاشی میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے، آپ- نے فرمایا:
خداوندعالم نے قرآن میں حضرت عیسی- کا نسب جو کہ ماں کی طرف سے حضرت ابراہیم- تک پہنچتے تھے ذریّت (اولاد کی اولاد) کے عنوان سے بیان کیا ہے۔
پھر آپ- نے آیہ( وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ ) کو آخر تک اور بعد کی آیت کو لفظ عیسی- تک تلاوت فرمایا۔
تفسیر عیّاشی میں بھی ابوالاسود سے مروی ہے وہ کہتا ہے:
ایک دن حجاج نے کسی کو یحییٰ بن معمر کے پاس بھیجا جو خاندان رسالت سے محبت رکھتا تھا (اور اُس سے پوچھا) کہ میں نے سنا ہے کہ تو حسن- وحسین- کو فرزندان رسول سمجھتا ہے اور اس سلسلے میں آیات قرآن سے استدلال کرتا ہے، حالانکہ میں نے قرآن کو اوّل سے آخر تک پڑھا ہے مجھے تو کوئی ایسی آیت نہیں ملی، یحییٰ بن معمر نے اس کے جواب میں کہا کہ کیا تونے سورہ انعام کی وہ آیت پڑھی ہے کہ جو یہ کہتی ہے کہ( وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ----وَیَحْییٰ وَعِیسیٰ ) اس نے کہا کہ ہاں میں نے پڑھی ہے تو اس نے کہا کہ کیا ان آیات میں حضرت عیسی- کو ذریت ابراہیم- میں شمار نہیں کیا گیا ہے حالانکہ وہ باپ کی طرف سے اُن تک نہیں پہنچتے تھے۔
”عیون الاخبار“ میں ایک طویل حدیث ہے جس میں امام موسی- بن جعفر- کی ہارون الرشید اور موسیٰ بن مہدی سے گفتگو منقول ہے جس میں ہے:
اُس (ہارون) نے امام کاظم علیہ السلام سے کہا کہ تم لوگ کس طرح کہتے ہو کہ ہم ذریت پیغمبر ہیں حالانکہ پیغمبر کا کوئی بیٹا تو نہیں تھا اور نسل بیٹے سے چلتی ہے نہ کہ بیٹی سے اور تم اُن کی بیٹی کی اولاد ہو، امام علیہ السلام نے جواب میں اس سے فرمایا کہ اس سوال کو رہنے دے لیکن ہارون نے اصرار کیا اور کہا کہ میں کسی طرح بھی اس سوال سے صرفِ نظر نہیں کروں گا کیونکہ تم لوگ عقیدہ رکھتے ہوکہ سب کچھ قرآن مجید میں موجود ہے لہٰذا اس بارے میں قرآن کی کوئی آیت دکھائیے، امام علیہ السلام نے فرمایا:
”اعوذ باللّٰه من الشیطان الرجیم، بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم ( وَمِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ وَاٴَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَهَارُونَ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ،وَزَکَرِیَّا وَیَحْیَی وَعِیسَی ) -
اس کے بعد آپ- نے سوال کیا: اے ہارون!عیسی- کا باپ کون تھا؟ اُس نے کہا: عیسی- کا تو کوئی باپ نہیں تھا۔ فرمایا: تو اس بناپر اگر وہ انبیاء کی ذریت سے ملحق ہیں تو مریم کی طرف سے ہیں ، ہم بھی رسولِ خدا کی ذریت میں اپنی ماں فاطمہ- کے ذریعہ سے ملحق ہیں(۱)
یہ بات خاص طور پر توجہ ہے کہ بعض متعصب سنّی مفسّرین نے بھی یہ موضوع اپنی تفسیر میں اسی آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے۔ ان میں سے ایک فخر الدین رازی ہیں جنھوں نے اپنی تفسیر کبیر میں لکھا ہے:
”یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسن- وحسین- ذریت پیغمبر ہیں کیونکہ خدا ہے عیسی- کو ذریت ابراہیم- میں شمار کیا ہے حالانکہ وہ صرف ماں کی طرف سے ان (حضرت ابراہیم-) سے تعلق رکھتے ہیں(۲)
تفسیر ”المنار“ کا مولف بھی جو بعض مخصوص مذہبی مباحث میں فخر رازی سے کم متعصب نہیں ہے، فخر رازی کی اس گفتگو کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے:
”اس باب میں ایک حدیث حضرت ابوبکر سے بھی صحیح بخاری میں پیغمبر سے نقل ہوئی ہے کہ آپ نے امام حسن- کی طرف اشارہ کرکے فرمایا:”اِنَّ ابْنِی هٰذا سیّد “”میرا یہ بیٹا سید وسردار ہے“
یعنی آپ نے ”میرا بیٹا“ کے لفظ کا امام پر اطلاق فرمایا حالانکہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کے نزدیک لفظ ابن (بیٹا) کا بیٹی کی اولاد پر اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ اسی بناپر لوگ اولاد فاطمہ- کو اولاد رسول اور عترت واہل بیت- رسول جانتے تھے۔
بہر حال اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اولاد کی اولاد بیٹی کی ہو یا بیٹے کی انسان کی اولاد شمار ہوتی ہے اور اس سلسلے میں دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور نہ ہی یہ تفریق ہمارے پیغمبر کے خصوصیات میں سے ہے اور اس مسئلہ کا مخالفت کا سرچشمہ سوائے تعصب یا زمانہ جاہلیت کے افکار کے اور کچھ نہیں ہے۔ اسی لئے تمام احکام اسلام میں ازدواج، ارث وغیرہ کے قبیل سے ہیں اور دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ مسئلہ خمس ہے، جو سیادت کے ساتھ مخصوص ہے اور ایک خاص جہت سے جو فقہ کی کتابِ خمس میں بیان ہوئی ہے اس موضوع کا استثناء ہوا ہے۔
۲ ۔ ان پیغمبروں کے نام تین حصوں میں کیوں بیان ہوئے؟ بعض مفسّرین نے یہ احتمال بیان کیا ہے کہ پہلا گروہ یعنی داؤد-، سلیمان-، ایوب- موسی- اور ہارون، یہ چھ افراد ان پیغمبروں میں سے تھے جو مقام نبوت ورسالت کے علاوہ حکومت وسلطنت بھی رکھتے تھے، او رشاید جملہ ”وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ“ جو ان کے ناموں کے ذکر کے بعد آیا ہے ان فراواں نیکیوں کی وجہ سے تھا جو انھوں نے اپنی اپنی حکومت کے زمانہ میں لوگوں پر کی تھیں ۔
لیکن دوسرا گروہ یعنی زکری-، یحیی-، حیسی- اور الیاس- اپن انبیاء میں سے ہیں کہ جو مقام نبوت ورسالت کے علاوہ زہد وتقویٰ میں اعلیٰ نمونہ تھے ”کُلٌّ مِنَ الصَّالِحِیْن“ کا جملہ اُن کے اسمائے گرامی کے بعد ہوسکتا ہے کہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہو۔
اور تیسرا گروہ (کے انبیاء) یعنی اسماعیل-، الیسع-، یونس- او لوط- یہ امتیاز رکھتے تھے کہ انھوں نے بڑی بڑی ہجرتیں کیں اور دین خدا کو محکم کرنے لیے ہجرت کے پروگرام کو عملی شکل دی اور جملہ ”کلا فضلنا علی العالمین“ کا ذکر بھی (اس قول کی بناپر کہ اس میں جملہ میں انہی چار افراد کی طرف اشارہ ہے نہ کہ ان تمام پیغمبروں کی طرف کہ جن کا ذکر ان تین آیات میں آیا ہے) ہوسکتا ہے کہ اُن کے مختلف قوموں اور دنیا جہاں کے لوگوں کے درمیان سیر کی طرف اشارہ ہو۔
۳ ۔ انسان کی شخصیت کے تعارف میں صالح اور نیک اولاد کی اہمیت: ایک دو سرا موضوع جو زیر بحث آیات سے معلوم ہوتا ہے یہی مسئلہ ہے کیونکہ خدا شجاع وبت شکن ابراہیم- کے مقامِ والا کے تعارف کے لیے عالم انسانیت کی عظیم شخصیتوں کا جو آپ کی اولاد میں سے مختلف زمانوں میں عالم وجود میں آئی تھیں شرح وبسط اور تفصیل کے ساتھ ذکر کرتا ہے، اس طور پر کہ ان ۲۵ انبیاء میں سے کہ جن کے نام سالم قرآن میں بیان ہوئے ہیں ان آیات میں ۱۶ نام ابراہیم- کے فرزندوں اور وابستگان کے ہیں اور ایک نام اُن کے اجداد میں سے آیا ہے اور یہ حقیقت میں عام مسلمانوں کے لیے ایک عظیم درس ہے تاکہ وہ یہ جان لیں کہ ان کی اولاد اور عزیزوں کی شخصیت ان کی شخصیت کا جزء شمار ہوتی ہے لہٰذا اُن سے مربوط تربیتی اور انسانی مسائل بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔
۴ ۔ ایک اعتراض کا جواب: ممکن ہے کہ کچھ لوگ آخری آیت سے، جو یہ کہتی ہے کہ ہم نے ان کے بعض آباؤ اجداد اور اولاد اور بھائیوں کو برگزیدہ کیا اور انھیں راہ راست کی ہدایت کی، یہ سمجھا کریں کہ انبیاء کے آباؤ اجداد سب کے سب یا ایمان افراد نہیں تھے اور اُن میں غیر موحّد بھی ہیں ، جیسا کہ بعض مفسّرین اہل سنّت نے اس آیت کے ذیل میں کہا ہے لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”اجتبیناھم وہدیناھم“ سے مراد اس تعبیر کے قرینہ سے کہ جو اسی سلسلہ آیات میں موجود ہے، مقامِ نبوت ورسالت ہے، یہ مشکل حل ہوجاتی ہے یعنی آیت کا مفہوم اس طرح ہوگا کہ ہم نے اُن میں سے بعض کو مقامِ نبوت کے لیے برگزیدہ کیا۔ اور یہ باقی دوسروں کے موحّد وخدا پرست ہونے کی نفی نہیں ہے۔ اس سورہ کی آیت ۹۰ میں بھی (جو اس آیت سے چند آیات بعد کی آیت ہے) ہدایت کا اطلاق مقامِ نبوت پر ہوا ہے(۳)
____________________
۱۔ نور الثقلین، ج۱، ص۷۴۳-
۲۔ تفسیر فخر رازی، ج۱۳، ص۶۶-
۳۔ ترکیب کے لحاظ سے ”من آبائہم“ ، ”جارو ومجرور“ ہے کہ جس کا متعلق یا تو لفظ ”فضلنا“ ہے جو قبل کی آیت میں ذکر ہوا ہے، یا محذوف ہے اور بعد کا حصّہ اس محذوف پر دلالت کرتا ہے اور اصل می اس طرح تھا: ”اجتبیناہم من آبائہم“ ضمناً توجہ رکھنا چاہیے کہ اوپر والی آیت میں ”مِن“ تبعیضیہ ہے۔
آیات ۸۸،۸۹،۹۰
۸۸( ذٰلِکَ هُدَی اللَّهِ یَهْدِی بِهِ مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَوْ اٴَشْرَکُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) -
۸۹( اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ آتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّةَ فَإِنْ یَکْفُرْ بِهَا هَؤُلاَءِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَیْسُوا بِهَا بِکَافِرِینَ ) -
۹۰( اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ هَدَی اللَّهُ فَبِهُدَاهُمْ اقْتَدِهِ قُلْ لاَاٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ اٴَجْرًا إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِینَ ) -
ترجمہ:
۸۸ ۔ یہ خدا کی ہدایت ہے کہ جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کی ہدایت کرتا ہے اور اگر وہ مشرک ہوجائیں تو انھوں نے جو کچھ عمل کیا تھا وہ سب کا سب (ضائع اور) نابود ہوجائے گا۔
۸۹ ۔ وہ ایسے لوگ ہیں جنھیں ہم نے کتاب اور حکم ونبوت عطا کی ہے اور اگر وہ اس کا انکار کریں اور کافر ہوجائیں تو (کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ) ہم نے ایسے لوگوں کو اس کا نگہبان بنایا ہے کہ جو اُس کا کفر وانکار کرنے والے نہیں ہیں ۔
۹۰ ۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جنھیں خدا نے ہدایت کی ہے پس تم ان کی ہدایت کی اقتدا (وپیروی) کرو (اور) یہ کہو کہ میں اس (رسالت وتبلیغ) کے بدلے میں تم سے کوئی اجر اور بدلہ نہیں مانگتا یہ رسالت تو عالمین کے لیے ایک یاد دہانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔
تفسیر
تین اہم امتیاز
گذشتہ آیات میں خداوند تعالیٰ پیغمبروں کے مختلف گروہوں کے ناموں کے ذکر کے بعد یہاں ان کی زندگی کے کلی اور اصلی خطوط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پہلے فرماتا ہے: یہ خدا کی ہدایت ہے کہ جس کے ذریعہ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت ورہبری کرتا ہے( ذٰلِکَ هُدَی اللَّهِ یَهْدِی بِهِ مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ) ۔ یعنی اگرچہ وہ صالح اور نیک لوگ تھے اور عقل وفکر کی قوت اور اپنے تمام وجود کے ساتھ ہدایت کی راہ میں قدم اٹھاتے تھے لیکن پھر بھی اگر توفیق الٰہی ان کے شامل حال نہ ہوتی اور اس کی مہربانی کا ہاتھ ان کی دستگیری کرتے ہوئے انھیں سہارا نہ دیتا تو اُن سب کے بارے میں بھی اور ہر شخص کے لیے لغزش کا امکان موجود تھا اور موجود ہے۔ پھر اس بناپر کہ کہیں یہ تصور نہ کیا جائے کہ انھوں نے اس راہ میں مجبوراً قدم اٹھایا ہے اور اسی طرح کوئی یہ تصور بھی نہ کرے کہ خداوندتعالیٰ ان کے بارے میں ایک استثنائی اور بغیر دلیل اور وجہ کے کوئی خاص نظر رکھتا تھا فرماتا ہے: اگر فرض کریں کہ یہ پیغمبر اس مقام وحیثیت کے باوجود جو وہ رکھتے تھے مشرک ہوجاتے تو ان کے تمام اعمال حبط ہوجاتے( وَلَوْ اٴَشْرَکُوا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔
یعنی اُن کے لیے بھی وہی قوانین الٰہی جاری ہیں جو دوسروں کے بارے میں جاری ہوتے ہیں اور کوئی استثناء کسی کے لئے نہیں ہے۔
بعد والی آیت میں تین اہم امتیازات وخصوصیات کی طرف جو انبیاء کے تمام امتیازات کی بنیاد ہیں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: یہ ایسے لوگ تھ کہ جنھیں ہم نے آسمانی کتاب عطا کی اور مقام حکم بھی اور نبوت بھی( اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ آتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّةَ ) ۔
البتہ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ وہ سب صاحب کتاب تھے بلکہ چونکہ گفتگو ان سب کے متعلق ہورہی ہے لہٰذا اجتماعی طور پر سب کی طرف نسبت دی گئی ہے اس کی مثال ٹھیک اس طرح ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ فلاں کتاب میں علماء اور ان کی کتب کا تعارف کرایا گیا ہے، یعنی ان کی کتب کہ جنھوں نے کوئی کتاب لکھی ہے۔
ضمنی طور پر اس بارے میں کہ ”حکم“ سے کیا مراد ہے تین احتمال پائے جاتے ہیں :
۱ ۔ حکم کا مفہوم:
یہ لفظ یہاں عقل وفہم وادراک کے معنی میں ہے یعنی اس کے علاوہ کہ ہم نے انھیں آسمانی کتاب دی ہے اس کو سمجھنے کی قدرت بھی انھیں بخشی ہے کیونکہ کتاب کا وجود قوی وکامل ادراک وفہم کے بغیر کوئی اثر نہیں رکھتا۔
۲ ۔ منصَب قضاوت:
یعنی وہ اُن آسمانی قوانین کے سائے میں جو کتاب الٰہی میں تھے، لوگوں کے درمیان فیصلہ کرسکتے تھے اور اُن سب میں ایک قاضی اور دادرس عادل کی تمام شرائط کامل طور پر موجود تھیں ۔
۳ ۔ حکومت وسلطنت:
کیونکہ وہ مقام نبوت ورسالت کے علاوہ مقام حکومت کے بھی حامل تھے۔
اُوپر والے تمام معانی کا شاہد۔ اس کے علاوہ کہ حکم کا لغوی معنی ان تمام معانی پر منطبق ہوتا ہے۔ یہ ہے کہ قرآن کی مختلف آیات میں بھی حکم ان تمام معانی میں استعمال ہوا ہے(۱)
اور اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ اوپر والی آیت میں لفظ حکم ایک جامع معنی میں کہ جس میں تینوں اُوپر والے مفہوم موجود ہوں ، استعمال ہوا ہو کیونکہ حکم اصل میں جیسا کہ راغب ”مفردات“ میں کہتا ہے منع کرنے اور روکنے کے معنی میں ہے اور چونکہ عقل اشتباہات اور غلط کاریوں سے روکتی ہے، اسی طرح صحیح قضاوت و فیصلہ کرنا ظلم و ستم کرنے سے منع کرتا ہے اور عادل حکومت دوسروں کی ناروا و ناجائز حکومتوں کو روک دیتی ہے (لہٰذا لفظ حکم) ان تینوں (معانی) میں سے ہر ایک معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
البتہ جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ تمام انبیاء ان تمام مقامات کے حامل نہیں تھے۔ لیکن جب ایک گروہ کچھ احکام کی نسبت دی جائے، تو یہ بات ضروری نہیں ہے کہ اس جماعت کے تمام افراد اُن تمام احکام کے حامل ہوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض ان احکام میں سے فقط بعض احکام کے ہی حامل ہوں ۔ لہٰذا کتابِ آسمانی کا موضوع جو صرف مذکورہ و معدودے چند انبیاء کے بارے میں تھا، مندرجہ بالا آیت کے سمجھنے میں ہمارے لیے کوئی مشکل پیدا نہیں کرتا۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اگر یہ گروہ یعنی مشرکین، اہلِ مکہ اور ان جیسے لوگ ان حقائق کو قبول نہ کریں تو تیری دعوت جواب کے بغیر نہیں رہے گی کیونکہ ہم نے ایک گروہ کو اس امر پر مامور کردیا ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ اُسے قبول کریں بلکہ اس کی حفاظت و نگہبانی بھی کریں ۔ وہ ایسا گروہ ہے کہ جو (ایمان لانے کے بعد) کفر کے راستے پر گامزن نہ ہوں گے اور حق کے سامنے سر تسلیم خم رکھیں گے( فَإِنْ یَکْفُرْ بِهَا هَؤُلاَءِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَیْسُوا بِهَا بِکَافِرِینَ ) ۔
تفسیر ”المنار“ اور تفسیر ”روح المعانی“ میں بعض مفسرّین سے نقل ہوا ہے کہ اس جماعت سے مراد ایرانی ہیں (کہ جنہوں نے بہت جلدی اسلام قبول کیا اور اس کی پیش رفت میں اپنی ساری توانائیوں کے ساتھ کو شاں رہے اور ان کے علماء اور دانشمندوں نے مختلف اسلامی فنون میں بہت زیادہ کتابیں لکھی ہیں )۔(۲)
آخری آیت میں ان بزرگ پیغمبروں کے پروگرام (اور کارناموں ) کو ہدایت کے ایک اعلیٰ نمونے کے طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے تعارف کراتے ہوئے قرآن کہتا ہے: یہ ایسے لوگ ہیں کہ ہدایت الٰہی جن کے شاملِ حال تھی لہٰذا تم بھی ان کی ہدایت کی اقتداء کرو( اٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ هَدَی اللَّهُ فَبِهُدَاهُمْ اقْتَدِهِ ) ۔(۳)
یہ آیت دوبارہ تاکید کرتی ہے کہ تمام پیغمبروں کا اصولِ دعوت ایک ہی ہے۔ اگر چہ خصوصیات کے لحاظ سے مختلف زمانوں کی مختلف ضروریات کے تناسب سے احکام فرق رکھتے تھے اور بعد کے دین و آئین قبل کے ادیان سے کامل تر ہوتے رہے اور علمی و ترتیبی کلاسیں اپنے انتہائی درجے تک کہ جو آخری کو رس تھا یعنی اسلام تک پہنچی ہیں ۔
اس بارے میں کہ اس ہدایت سے کونسی ہدایت مراد ہے کہ جو پیغمبر اسلام کے لیے نمونہ قرار پائی ہے۔ بعض مفسرّین نے تویہ احتمال ذکر کیا ہے کہ اس سے مراد مشکلات کے مقابلہ میں صبر و پائداری ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ اس سے مقصود توحید اور تبلیغِ رسالت ہے لیکن ظاہرا ًہدایت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ جو توحید کو بھی اور دوسرے اصول اعتقادی کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور صبر و استقامت اور باقی اخلاق، تعلیم اور تربیت کے اصول بھی اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔
ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ زیر نظر آیت اس بات کے منافی نہیں کہ اسلام تمام گذشتہ ادیان و شرائع کا ناسخ ہے کیونکہ نسخ تو صرف احکام کے ایک حصہ کے لیے ہوتا ہے نہ کہ اُن کی دعوت کے کلی اصول منسوخ ہوجاتے ہیں ۔
اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہہ دیں کہ: میں تم سے اپنی رسالت کے بدلے میں کسی قسم کا کوئی اجرا اور بدلے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ جیسا کہ گذشتہ انبیاء نے بھی کوئی ایسی درخواست نہیں کی تھی میں بھی انبیاء کی ہمیشہ کی اس سنت کی پیروی کرتے ہوئے ان کی اقتدا کرتا ہوں( قُلْ لاَاٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ اٴَجْرًا ) ۔
نہ صرف یہ کہ انبیاء اور ان کی سنتِ جاوید کی اقتداء کا تقاضا یہ ہے کہ میں کسی قسم کی اجرت کا مطالبہ نہ کروں بلکہ اس سبب سے بھی کہ یہ پاک دین جو میں تمہارے لیے لایا ہوں ایک خدائی امانت ہے جو میں تمھیں سپرد کررہا ہوں تو خدائی امانت تم تک پہنچانے کا اجر اور جزاء (مانگتے) کوئی مفہوم ہی نہیں ہے۔
علاوہ ازیں یہ قرآن، رسالت اور ہدایت تمام عالمین کے لیے ایک صدائے بیدار باش اور یاد آوری ہے ( ا( ِٕنْ هُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِینَ ) ۔
اور اس قسم کی عمومی نعمت جو سب کے لیے ہے، نورِ آفتاب، نورِ آفتاب، امواج ہوا اور بارش برسنے کے مانند ہے کہ جو عمومی اورجہانی پہلو رکھتی ہے اور کبھی بھی اس کی خرید و فروخت نہیں ہوتی اور کوئی اس کے بدلے میں اجرو جزا نہیں لیتا۔ یہ ہدایت و رسالت بھی کوئی خصوصی اور اختصاصی پہلو نہیں رکھتی کہ جس کے لیے کسی بدلے کا قائل ہوا جاسکے۔
(اس جملہ کی تفسیر میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے ان کا ایک دوسرے کے ساتھ جوڑاقبل کی آیات کے ساتھ تعلق کامل طور پر واضح ہوجاتاہے)۔
ضمنی طور پر آخری جملے سے یہ اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ دینِ اسلام کوئی علاقائی اور قومی پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ ایک عالمی اور انسانی دین ہے جو ہر جگہ اور ہر شخص کے لیے ہے۔
____________________
۱ ۔ سورہ لقمان کی آیہ ۱۲ میں علم و فہم کے معنی ہیں ، سورہ ص کی آیہ ۲۲ میں قضاوت کے معنی میں اور سورہ کہف کی آیہ ۲۶ میں حکومت کے معنی میں آیا ہے۔
۲ ۔ آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ ”ہٰولاء“ سے مراد خود انبیاء ہوں یعنی بفرض محال اگر یہ بزرگ انبیائے خدا ادائے رسالت سے سرتابی کرلیتے، تو پھر بھی خدائی پیغام زمین پر نہ پڑا رہتا، اور ایک دوسری جماعت اسے عالمین تک پہنچانے پر مامور ہوجاتی۔ قرآن میں ایسی تعبیرات کی نظیر بھی پائی جاتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ہم پڑھتے ہیں : ”لئن اشرکت لیحبطن عملک“- (زمر: ۶۵) ۔
۳۔ اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہیے کہ ” اقتدہ“میں ”‘ِہ‘ ضمیر نہیں ہے بلکہ ”ہاء سکت“ ہے جو وقف کے وقت کلام میں حرف متحرک سے متعلق ہوتی ہے جیسا کہ ہمزہ وصل استعمال ہوتا ہے کہ جو شروع کے حرف کو ساکن کے ساتھ شروع نہ کرنے کی بناپر آغاز کا کلام میں لایا جاتا ہے تو جس طرح ہمزہ وصل اتصال کلام کے وقت ساقط ہوجاتا ہے اسی طرح ”ہائے سکت“ بھی ساقط ہوجانی چاہیے، لیکن چونکہ یہ ”ہاء“ قرآن کے رسم الخط میں لکھی ہوئی ہے، لہٰذا رسم الخط کے ظاہر کی رعایت کرتے ہوئے، احتیاط کو اسی بات میں سمجھتے ہیں کہ یہاں وقف ہوتا کہ ”ہاء“ ظاہر ہوسکے۔
آیت ۹۱
۹۱( وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا اٴَنزَلَ اللَّهُ عَلیٰ بَشَرٍ مِنْ شَیْءٍ قُلْ مَنْ اٴَنزَلَ الْکِتَابَ الَّذِی جَاءَ بِهِ مُوسَی نُورًا وَهُدًی لِلنَّاسِ تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِیسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ کَثِیرًا وَعُلِّمْتُمْ مَا لَمْ تَعْلَمُوا اٴَنْتُمْ وَلاَآبَاؤُکُمْ قُلْ اللَّهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِی خَوْضِهِمْ یَلْعَبُونَ ) -
ترجمہ:
۹۱ ۔ انھوں نے خدا کو جیسا کہ پہچاننا چاہیے تھا، نہیں پہنچانا جب کہ انھوں نے یہ کہا کہ اُس نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی، تم یہ کہہ دو کہ وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے، کس نے نازل کی تھی۔ وہ کتاب جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی۔ (لیکن تم لوگوں نے) اُسے پراگندہ کردیا ہے۔ تم اس کے کچھ حصّے کو تو آشکار کرتے ہو اور کچھ کو پوشیدہ رکھتے ہو اور تمھیں ایسے مطالب کی تعلیم دی گئی ہے کہ جن سے تم اور تمہارے آباؤ اجداد باخبر نہیں تھے۔ کہہ دو کہ خدا نے------ اور پھر انھیں ان کی ہٹ دھرمی میں چھوڑ دو تا کہ وہ کھیل کود میں پڑے رہیں ۔
شان نزول
خدا ناشناس
ابن عباس سے منقول ہے:
یہودیوں کی ایک جماعت نے کہا: اے محمد! کیا واقعاً خدانے تم پر کتاب نازل کی ہے؟
پیغمبر نے فرمایا: ہاں ،
وہ کہنے لگے: خدا کی قسم خدا نے تو کوئی کتاب بھی آسمان سے نازل نہیں کی۔(۱)
اس آیت کی شان نزول میں کچھ اور روایات بھی نقل ہوئی ہیں اور جیسا کہ بعد میں معلوم ہوگا کہ جو کچھ ہم اُوپر بیان کرچکے ہیں وہ سب سے بہتر ہے اور زیادہ مناسب ہے۔
خدانشناسان
اس بارے میں کہ یہ آیت یہودیوں کے متعلق ہے یا مشرکین کے بارے میں ، مفسرّین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن اس لحاظ سے کہ پیغمبر اکرم کی مکہ میں یہود سے گفتگو اور ملاقات نہیں تھی اور جو کچھ اُن کے ساتھ معاملہ رہا وہ مدینہ میں تھا اور دوسری طرف یہ کہ سورہ انعام کہ یہ آیت جس کا جزء ہے مکی ہے، بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیت استثنائی طور پر مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور پیغمبر اکرم کے حکم سے کسی خاص مناسبت کی وجہ سے اس مکی سورہ کے وسط میں رکھی گئی ہے اور قرآن میں اس امر کے کئی نمونے موجود ہیں ۔
حقیقت مطلب واضح ہونے کے لیے پہلے ضروری ہے کہ آیت کی اجمالی تفسیر کو سمجھ لیں اور اس کے بعد اس بارے میں آیت کن لوگوں کے بارے میں گفتگو کررہی ہے اور اس کا ہدف و مقصد کیا ہے بحث کریں ۔
آیت پہلے یہ کہتی ہے کہ: انھوں نے خدا کو جس طرح چاہیے اس طرح نہیں پہنچانا، کیونکہ انھوں نے یہ کہا ہے کہ خدا نے کوئی کتاب کسی انسان پر نازل نہیں کی( وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا اٴَنزَلَ اللَّهُ عَلیٰ بَشَرٍ مِنْ شَیْءٍ ) ۔
خداوند تعالیٰ اپنے پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ تم اُن کے جواب میں یہ کہو کہ وہ کتاب جو موسیٰ لائے تھے اور جو لوگوں کے لیے نور وہدایت تھی وہ کس نے نازل کی تھی( قُلْ مَنْ اٴَنزَلَ الْکِتَابَ الَّذِی جَاءَ بِهِ مُوسَی نُورًا وَهُدًی لِلنَّاسِ ) ۔
وہی کتاب کہ جسے تم نے پرپراکندہ صفحات میں تبدیل کردیا ہے، اس کا کچھ حصّہ جو تمھارے مفاد میں ہے (لوگوں پر) ظاہر کرتے ہو اور اس کا بہت سا حصّہ جسے تم اپنے لیے مضر سمجھتے ہو (لوگوں سے) چھپاتے ہو( تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِیسَ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ کَثِیرًا ) ۔
”اور اس آسمانی کتاب میں تمھیں ایسے مطالب کی تعلیم دی گئی ہے کہ جنھیں تم اور تمھارے آباؤ اجداد جانتے نہیں تھے اور خدائی تعلیم کے بغیر اُسے جان بھی نہیں سکتے تھے“( وَعُلِّمْتُمْ مَا لَمْ تَعْلَمُوا اٴَنْتُمْ وَلاَآبَاؤُکُمْ ) ۔
آیت کے آخر میں پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ: تم صرف خدا کو یاد کرو اور اُنھیں ان کی باطل باتوں ، ہٹ دھرمی اور کھیل کود میں چھوڑدو کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جنھوں نے کتاب الٰہی اور اس کی آیات کو کھیل بنا رکھا ہے( قُلْ اللَّهُ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِی خَوْضِهِمْ یَلْعَبُونَ ) ۔
اب اگر یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہو اور روئے سخن یہودیوں کی طرف ہو تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ یہودیوں کی ایک جماعت تمام انبیاء پر آسمانی کتاب کے نزول کی منکر تھی تو کیا یہ ممکن ہے کہ یہودیوں اور تورات کی پیروی کرنے والے کتاب آسمانی کے نزول کا انکار کریں ۔ جی ہاں ! اگر آپ تعجب نہ کریں تو ایک خاص مطلب توجہ کرنے سے یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اگر ہم کتب عہد جدید (اناجیل) اور کتب قدیم (تورات اور اس کے ساتھ وابستہ کتب) کا دقت نظر سے مطالعہ کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ان کتب میں سے کوئی بھی آسمانی لب ولہجہ نہیں رکھتی۔ یعنی خدا کے انسان سے گفتگو کرنے کا پہلو ان میں نہیں ہے، بلکہ ان سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ کتابیں حضرت موسیٰ- اور حضرت عیسیٰ- کے شاگردوں اور غیر شاگرد پیروکاروں کی زبان سے تاریخ اور سیرت کی صورت میں لکھی گئی ہیں ۔
اور ظاہراً موجودہ وقت کے یہودی اور عیسائی بھی اس مطلب کا انکار نہیں کرتے کیونکہ ان کتابوں میں حضرت موسی- اور حضرت عیسی- کی وفات کی داستان اور بہت سے ایسے واقعات جو ان کے بعد کے زمانے سے مربوط ہیں لکھے ہوئے ہیں یہ (واقعات) پیش گوئی کے طور پر نہیں بلکہ گزرے ہوئے زمانے کی ایک خبر کے طور پر ہیں ۔ کیا یہ بات ممکن ہے کہ ایسی کتاب حضرت موسی- اور حضرت عیسی- پر نازل ہوئی ہو؟
زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ کتابیں چونکہ ایسے انسانوں کے ہاتھ سے لکھی ہوئی ہیں جو وحی آسمانی سے باخبر تھے لہٰذا یہ کتب مقدس، قابل اعتماد اور اشتباہ سے پاک ہیں ۔
تو اس نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے وہ قرآن کے لب ولہجہ سے کہ جو خدا کے پیغمبر سے اور بندوں سے خطاب کی شکل میں ہے کیوں تعجب کرتے تھے؟ اور اُوپر والی شانِ نزول میں بھی ہم نے پڑھا ہے کہ انھوں نے تعجب کے ساتھ آپ سے پوچھا کہ کیا خدا نے آسمانی کتاب نازل کی ہے، اور پھر انھوں نے اس امر کا کلی طور پر انکار کیا ہے کہ کوئی کتاب خدا کی طرف کسی انسان پر حتّیٰ کہ موسی- پر بھی نازل ہوئی ہے۔
لیکن خدا ان کے جواب میں اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تم خود عقیدہ رکھتے ہوکہ الواح اور کچھ مطالب موسیٰ پر نازل ہوئے تھے ۔یعنی جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اگر وہ کتاب آسمانی نہیں ہے تو تم قبول کرتے ہو کہ اس قسم کی کوئی چیز خدا کی طرف سے نازل ہوئی تھی کہ جس کے کچھ حصہّ تو تم آشکار کرتے ہو اور زیادہ تر حصہّ چھپاتے ہو۔
اس طرح سے اس بارے میں کوئی اعتراض باتی نہیں رہتا کہ یہ کہا جائے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہودی کتاب آسمانی کے نزول کے منکر ہوں ۔
اور اگر یہ آیت اس سورہ کی باقی آیات کی طرح مشرکین کے بارے میں ہو تو پھر اس کا معنی یہ ہوگا کہ وہ ہر قسم کی آسمانی کتاب کے نزول کے منکر ہوگئے تھے تا کہ پیغمبر اکرم الله علیہ و آلہ و سلم کی دعوت کا انکار کرسکیں ، لیکن خدا ان کے لیے یہ استدلال پیش کرتا ہے کہ یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس قسم کا دعویٰ کریں حالانکہ خدا نے تورات موسی - پر نازل کی ، اور مشرکین اگر چہ دین یہود قبول نہیں کرتے تھے لیکن وہ گذشتہ انبیاء اور حضرت ابراہیم - کو یہاں تک کہ حضرت موسیٰ کو احتمالاً ایک خاص علاقے اور زمانے کے پیغمبر کے طور پر قبول کرتے تھے اور خود کو دین ابراہیم - کا پیروکار سمجھتے تھے۔ اسی لیے جب پیغمبر اسلام نے ظہور کیا تو وہ ان کی علامات کی جستجو کے لیے اہل کتاب کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنی کتب کا مطالعہ کریں اور تحقیق کریں کہ کیا وہ اس قسم کے پیغمبر کی خبر دیتی ہیں ، تو اگر وہ ان کتب کو بالکل قبول نہ کرتے ہوئے تو کس طرح ممکن تھا کہ وہ اس قسم کی درخواست کریں لہٰذا وہ یہود سے سوال کرنے کے بعد جو کچھ اُن کے فائدے میں تھا اُسے ظاہر کرتے اور جو اُن کے لیے مضر تھا اُسے مخفی رکھتے (مثل پیغمبر کی اُن نشانیوں کے جو گذشتہ کتب میں آئی تھیں ) لیکن پہلی تفسیر آیہ کے لب ولہجہ، شان نزول اور اُن ضمائر کے ساتھ جو آیت میں ہیں زیادہ مطابقت رکھتی ہے۔
چند قابلِ توجہ نکات
۱ ۔ قراطیس:
یہ جمع ہے ”قرطاس“ کی اور اس کی اصل جیسا کہ بعض نے کہا ہے یونانی زبان سے لی گئی ہے۔ اس کا معنی جیسا کہ راغب ”مفردات“ میں کہا ہے ”وہ چیز ہے کہ جس کے اوپر لکھا جائے“ اس بناپر یہ لفظ عام خطکاغذ، جانوروں کے چمڑے، درختوں کی چھال اور اسی قسم کی دوسری چیزوں کے لیے بھی کہ جن پر قدیم ایّام میں خط اور کتابیں لکھتے تھے، استعمال ہوتا ہے۔
۲ ۔ کاغذ پر لکھنے کی مذمت؟
ممکن ہے یہ سوال ہو کہ آیت میں یہودیوں کی مذمت کیوں کی گئی ہے کہ انھوں نے وحی آسمانی کو کاغذ وغیرہ پر لکھا تھا، یہ تو کوئی مذمت کی بات نہیں ہے۔
ہم اس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ مذمت اس لحاظ سے نہیں ہے بلکہ اس لحاظ سے ہے کہ وہ مطالب تورات کو پراکندہ کاغذات اور اسی کی مانند دوسری چیزوں کے اُوپر لکھتے تھے، پھر جو کچھ اُن کے فائدہ میں ہوتا تھا اُس کو تو وہ دوسرے لوگوں کو دکھاتے تھے اور جو اُن کے نقصان میں ہوتا تھا اُسے مخفی رکھتے تھے۔
۳ ۔ ”( وما قدروا الله حق قدره ) “
(خدا کو جس طرح چاہیے انھوں نے نہیں پہچانا اور اس کے اوصاف کو سمجھا نہیں ) حقیقت میں اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص خدا صحیح طریقے سے پہچان لے وہ انکار نہیں کرسکتا کہ اس کی طرف سے رہبر ورہنما کتبِ آسمانی کے ساتھ نوع بشر کے لیے بھیجے گئے کیونکہ حکمتِ خدا کا تقاضا یہ ہے کہ:
اوّل تو اس نے انسان کو جس ہدف ومقصد کے لیے پیدا کیاہے یعنی ہدفِ ارتقا، اس کے لیے جو پُر پیچ وخم راستہ اُس کے سامنے ہے اُس میں اس کی مدد کرے ورنہ بصورت دیگر اُس نے غرض تخلیق کا تقاضا پورا نہیں کیا اور یہ ہدف ومقصد وحی بھیجنے، کتاب آسمانی نازل کرنے اورہر قسم کی خطا واشتباہ سے خالی، پاک اور صحیح دتعلیمات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
دوسرے یہ بات کیسے ممکن ہے کہ خدا کی رحمت عامہ وخاصہ کا مقام ای بات کی اجازت دے دے کہ وہ انسان کو راہِ سعادت میں جہاں پر وہ ہزارہا رکاوٹوں سے دوچار ہے اور بہت سی پھلسنے کی جگہیں اس کی راہ میں موجود ہی، اکیلا چھوڑدے اور اس کی دستگیری اور رہنمائی کے لیے جامع تعلیمات کے ساتھ رہبر ورہنما بھیجے (اس بناپر اس کی حکمت بھی اور اس کی رحمت بھی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ وہ کتب آسمانی بھیجے)۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خداوندتعالیٰ کی کنہ ذات اور کنہ صفات کی معرفت تو کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہے اور زیرِبحث آیت میں ایسا کوئی نظریہ نہیں ہے بلکہ اصل مقصود یہ ہے کہ خدا کی ذات اور صفات کی جتنی مقدار انسان کے لئے ممکن ہے اگر وہ حاصل ہوجائے تو اس بات میں کوئی تردّد باقی نہیں رہے گا کہ اس قسم کا خدا اپنے بندوں کو بغیر سرپرست اور بغیر کتاب آسمانی کے نہیں چھوڑے گا۔
_____________________
۱۔ تفسیر مجمع البیان، ابوالفتوح رازی اور المنار زیر نظر آیت کے ذیل میں ۔
آیت ۹۲
۹۲( وَهٰذَا کِتَابٌ اٴَنزَلْنَاهُ مُبَارَکٌ مُصَدِّقُ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْهِ وَلِتُنذِرَ اٴُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَهَا وَالَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ یُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمْ عَلیٰ صَلاَتِهِمْ یُحَافِظُونَ ) -
ترجمہ:
۹۲ ۔ اور یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے، یہ ایک ایسی بابرکت ہے کہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہیں اُن سب کی تصدیق کرتی ہے (اسے ہم نے اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم لوگوں کو خدائی جزاؤں کی بشارت دو) اور اس لئے بھیجا ہے تاکہ تم امّ القریٰ (مکہ) اور اس کے اِردگِرد کے لوگوں کو ڈارؤ ۔ جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت ونگرانی کرتے ہیں ۔
یہ ایک بہت ہی بابرکت کتاب ہے
اُس بحث کے بعد جو گذشتہ آیت میں یہودیوں کی اسمانی کتاب کے بارے میں تھی، یہاں قرآن کی طرف جو ایک دوسری آسمانی کتاب ہے اشارہ ہوتا ہے اور حقیقت میں تورات کا ذکر قرآن کے ذکر کے لیے ایک مقدمہ کے طور پر ہے، تاکہ ایک بشر پر کتابِ آسمانی کے نزول پر تعجب نہ کریں ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہ وہ کتاب ہے جس ہم نے نازل کیا ہے( وَهٰذَا کِتَابٌ اٴَنزَلْنَاهُ ) ۔
یہ ایک بہت ہی بابرکت کتاب ہے کیونکہ یہ طرح طرح کی خوبیوں ، نیکوں اور کامیابیوں کا سرچشمہ ہے( مُبَارَکٌ ) ۔
اس کے علاوہ ان کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں تصدیق کرتی ہے( مُصَدِّقُ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْهِ ) ۔
اس سے مراد کہ قرآن گذشتہ مقدس کتابوں کی تصدیق کرتاہے یہ ہے کہ وہ تمام علامات (اور نشانیاں ) جو اُن میں آئی ہیں وہ اس سے مطابقت رکھتی ہیں اور اس طرح گذشتہ دو جملوں میں قرآن کی حقانیت کی دو نشانیاں بیان ہوئی ہیں ۔ ایک ان نشانیوں کا موجود ہونا کہ جن کی گذشتہ کتب میں خبر دی گئی تھی اور دوسرے قرآن کریم کے خود اپنے مضامین عالیہ کہ جن میں ہر قسم کی خیرو برکت اور وسیلہ سعادت موجود ہے۔ اس بناپر اس کے مضامین عالیہ کے لحاظ سے بھی اور اسناد وتاریخی مدارک کی نظر سے بھی اس میں حقانیت کی واضح نشانیاں موجود ہیں ۔
اس کے بعد نزول قرآن کے ہدف ومقصد کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے: ہم نے اسے اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم امّ القریٰ (مکہ) اور ان تمام لوگوں کو اس کے اطراف وجوانب میں رہتے ہیں ، ڈراؤ اور ان کی ذمہ داریوں اور فرائض سے انھیں آگاہ کرو( وَلِتُنذِرَ اٴُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَهَا ) ۔(۱)
اور چونکہ ”انذار“ یعنی ذمہ داریوں اور فرائض کی طرف متوجہ کرنا اور ان کے ترک کرنے سے ڈرنا خصوصاً ایسے اشخاص کو جو سرکش وطغیانگر ہوں قرآن کریم کا اہم ترین پورگرام ہے، لہٰذا صرف اسی حصّے کی طرف اشارہ ہوا ہے اور آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے کہ: وہ لوگ جو قیامت کے دن پر، حساب وکتاب اور اعمال کی جزا پر ایمان رکھتے ہیں ، اس کتاب پر بھی ایمان لے آئیں گے اور اپنی نمازوں کی حفاظت بھی کریں گے( وَالَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ یُؤْمِنُونَ بِهِ وَهُمْ عَلیٰ صَلاَتِهِمْ یُحَافِظُونَ ) ۔
____________________
۱ ۔ اس بارے میں کہ ”لتنذر“ کا عطف کس پر ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن زیادہ تر جو بات نظر آتی ہے یہ ہے یہ ایک محذوف لفظ مثلاً ”لتبشر“ وغیرہ پر عطف ہو۔
چند قابلِ توجہ مطالب
۱ ۔ اسلام ایک عالمی دین ہے: قرآن کریم کی مختلف آیات اچھی طرح سے گواہی دیتی ہیں کہ اسلام ایک عالمی دین ہے۔ وتعبیرات جیسے :”( لِاَنْذِرَکُمْ بِهِ وَمَن بَلَغَ ) “
”میرا ہدف یہ ہے کہ تم سب کو اور اُن تمام لوگوں کو جن تک میری بات پہنچے قرآن کے ذریعے ڈراؤں “(انعام/ ۱۹)
”( اِنْ هُوَ اِلَّا ذِکْریٰ لِلْعَالَمِینَ ) “
”یہ قرآن عالمین کے لیے تذکر ویاد دہانی ہے“(انعام/ ۹۰)
”( قُلْ یَا اَیُّهَا النَّاسُ اِنِّی رَسُولُ اللهِ اِلَیکُمْ جَمِیعاً ) “
”کہہ دو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف الله کا بھیجا ہوا رسول ہوں “(اعراف/ ۱۵۸)
اور ایسی بہت سی دوسری آیات کہ جو قرآن میں بکثرت موجود ہیں اس حقیقت پر گواہ ہیں اور خاص طور پر قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سی آیات مکہ میں نازل ہوئی ہیں ، یعنی اس موقع پر جب کہ اسلام ابھی اس شہر کے حد ود اربعہ سے باہر نہیں نکلا تھا۔
لیکن زیر بحث آیت کی طرف توجہ کرتے ہوئے ی سوال سامنے آتا ہے کہ پیغمبر کی بعثت کا ہدف مکہ اور اس کے گردا گرد کے لوگوں کو ڈرانا اور انھیں ہدایت کرنا کیسے بیان کیا گیا ہے؟ کیا یہ اسلام کے عالمی دین ہونے کے منافی نہیں ؟
اتفاق سے یہ اعتراض بعض یہودیوں اور بعض دوسرے مذاہب کے پیروکاروں سے نقل ہوا ہے اور انھوں نے اپنے گمان میں اسلام کے عالمی دین ہونے کے مقابلہ میں اس کو ایک محکم ہتھیار پایا ہے جو اسے ایک خاص علاقہ میں محدود کردیتا ہے (یعنی مکہ اور اطراف مکہ(۱)
جواب دو نکات کی طرف توجہ کرنے سے یہ امر کامل طور پر واضح ہوجاتاہے کہ یہ آیت نہ صرف یہ کہ اسلام کے عالمی ہونے کے منافی نہیں بلکہ کہا جاسکتا ہے یہ اسلام کے عالمی ہونے کی دلیل ہے۔
۱ ۔ قریہ، قرآن کی زبان میں ہر قسم کی آبادی کے معنی میں ہے چاہے وہ بڑا شہر ہویا کوئی گاؤں ، مثلاً ہم سورئہ یوسف میں یوسف کے بھائیوں کی زبان سے ان کے باپ کے سامنے ان کا بیان پڑھتے ہیں کہ:”( وَ اسْئَلِ الْقَرُیَةَ الَّتِی کُنَّا فِیْهَا ) “
”ہم جس قریہ میں تھے اس قریہ سے پوچھ لیجئے“۔ (یوسف ۔ ۸۲)
اور ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ گفتگو انھوں نے مصر کے پایہ تخت سے واپس لوٹنے اور عزیر مصر کی حکومت کی طرف سے اُن کے بھائی ”بنیامین“ کو مصر میں روک لینے کے واقعہ کے بعد کی تھی۔ اسی طرح قرآن میں ہے:
”( وَلَوْ اٴَنَّ اٴَهْلَ الْقُریٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَکَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ ) “
”اگر وہ تمام لوگ جں روئے زمین کی آبادیوں میں زندگی بسر کرتے ہیں ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کریں تو ہم آسمان سے اور زمین سے ان پر (اپنی) برکتوں (کے دروازوں ) کو کھول دیں گے“ ۔(اعراف ۹۶)
یہ بات ظاہر ہے کہ یہاں صرف بستیاں (گاؤں ) مراد نہیں ہیں بلکہ اس سے تمام دنیا کے رہائشی اور آباد علاقے مراد ہیں ۔
دوسری طرف متعدد روایات میں ہے کہ زمین کی خشکی کے علاقے خانہ کعبہ کے نیچے سے بچھائے گئے تھے اور اسی وجہ سے ”دحوالارض“ (زمین کا بچھانا) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ابتداء میں سیلابی بارشوں کے زیرا اثر تمام کرہ زمین پانی سے ڈھکا ہوا تھا، پانی رفتہ رفتہ نیچے چلا گیا، اور زمین کے پست علاقوں میں ٹھہر گیا اور خشکیاں تدریجاً پانی کے نیچے سے سر نکالنے لگیں ۔ اسلامی روایات کے مطابق زمین کا پہلا ٹکڑا جس نے پانی سے سر نکالا وہ سرزمین مکہ تھی۔
اور اگر اس زمین کی بلندی موجودہ وقت میں تمام دنیا کی زمینوں کی بلندیوں سے بندترین نہیں ہے تو یہ امر ہماری اس گفتگو کے منافی نہیں کیونکہ اُس دن سے کئی لاکھ سال گزرچکے ہیں اور اب روئے زمین کے نقاط کی کیفیت بالکل بدل چکی ہے۔ بعض پہاڑ سمندروں کی تہوں میں چلے گئے ہیں اور بعض مقامات سمندروں کی تہوں سے نکل کر پہاڑوں کی چوٹیاں بن چکے ہیں اور یہ امر علم زمین شناسی ( GEOLOGY ) کے مسلمات میں سے ہے۔
۲ ۔ لفظ ”ام“ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں ہر چیز کی اصل و اساس اور ابتدا و آغاز کے معنی میں ہے۔
اب تک جو کچھ بیان کیا جاچکا ہے اس پر توجہ کرتے ہوئے واضح ہوجاتاہے کہ اگر مکہ کو ام القریٰ کہتے ہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ یہ روئے زمین کی تمام خشکیوں کے پیدا ہونے کی اصل و اساس اور ابتدا و آغاز ہے۔ تو اس بناپر ”و من حولہا“ (جو اس کے گردا گرد ہیں ) تمام روئے زمین کے لوگوں کے لیے ہوگا۔
گذشتہ آیات بھی اسلام کے عالمی ہونے کے باے میں اس تفسیر کی تائید کرتی ہیں ۔ اسی طرح پیغمبر اکرم کے ایسے بہت سے مخلوط جو اُنہوں نے دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں مثلاً کسریٰ و قصیر کے نام لکھے تھے جن کی تفصیل تفسیر نمونہ جلد دوم صفحہ ۳۶۰ ( اُردو ترجمہ) پر گزرچکی ہے، اس امر کا ایک اور گواہ ہیں ۔
۲ ۔ قرآن پر ایمان اور آخرت میں ربط: مندرجہ بالا آیت میں ہے کہ: ”جو آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ قرآن پر بھی ایمان لے آئیں گے، یعنی وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ یہ جہاں دوسرے جہاں کے لیے ایک مقدمہ ہے، اور کھیتی یا یونیورسٹی یا تجارت خانہ کی مانند ہے۔ بہر صورت ایک سلسلہ قوانین، لائحہ عمل، اور آئین اور دستور اس کے لیے ناگزیز ہے اور انبیاء کے آئے بغیر یہ ممکن نہیں کہ اس ہدف عالی تک پہنچ سکیں اور اس دن (آخرت) کے لیے تیاری کرسکیں ۔
دوسرے لفظوں میں یہ بات مد نظر رکھتے ہوئے، کہ خدانے انسان کو اس دنیا میں تکامل و ارتقا کے لیے بھیجا ہے، اور اس کی اصلی منزل دوسرا جہان ہے اگر وہ انبیاء اور آسمانی کتب اس کے لیے نہ بھنجے تو اس نے مقصد کو ضائع کردیا ہے اور اِس طرح سے خدا و معاد پر ایمان سے نبوت انبیاء اور کتب آسمانی پر ایمان کا نتیجہ نکالا جاتا ہے (غور کیجئے)۔
۳ ۔ نماز کی اہمیت: مندرجہ بالا آیت میں تمام دینی احکام میں سے صرف نماز کی طرف اشارہ ہوا ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نماز خدا سے رشتہ جوڑنے اور اُس کے ساتھ ربط کا مظہر ہے اور اسی سبب سے تمام عبادات سے برتر و بالاتر ہے۔ بعض کے عقیدہ کے مطابق ان آیات کے نزول کے وقت اسلامی فریضہ فقط نماز ہی تھا۔(۲)
____________________
۱۔ تفسیر المنار، ج۷، ص۶۲۱۔ تفسیر فی ضلال ، ج۳، ص۳۰۵ میں کچھ مستشرقین کی طرف سے یہ اعتراض نقل ہوا ہے۔
۲۔ تفسیر المنار جلد ۷ صفحہ ۶۲۲۔
آیت ۹۳
۹۳( وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَی عَلَی اللَّهِ کَذِبًا اٴَوْ قَالَ اٴُوحِیَ إِلَیَّ وَلَمْ یُوحَ إِلَیْهِ شَیْءٌ وَمَنْ قَالَ سَاٴُنزِلُ مِثْلَ مَا اٴَنزَلَ اللَّهُ وَلَوْ تَرَی إِذْ الظَّالِمُونَ فِی غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلاَئِکَةُ بَاسِطُوا اٴَیْدِیهِمْ اٴَخْرِجُوا اٴَنفُسَکُمْ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللَّهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِهِ تَسْتَکْبِرُونَ ) -
ترجمہ:
۹۳ ۔ اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا کہ جو خدا پر جھوٹ باندھے، یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل کی گئی ہے حالانکہ اس پر وحی نازل نہ ہوئی ہو اور وہ شخص کہ جو یہ کہے کہ میں بھی ایسا ہی (کلام) جیسا کہ اللہ نے نازل کیا ہے نازل کروں گا اور اگر تم ان ظالموں کو اُس وقت دیکھو جب کہ یہ موت کے شدائد میں گھرے ہوں گے اور فرشتے ہاتھ پھیلائے انھیں کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جان (اور روح) کو باہر نکالو۔ آج تم اُن دروغ گوئیوں کے بدلے جو تم نے خدا پر باندھی تھیں اور اس کی آیات کے سامنے جو تکبر تم کیا کرتے تھے اس کے بدلے ذلیل کرنے والے عذاب دیکھو گے (اور اس دن ان کی حالت پر تمھیں افسوس ہوگا)۔
شان نزول
اس آیت کی شان نزول کے سلسلہ میں منابع حدیث اور کتب تفاسیر میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں ۔ منجملہ اُن کے ایک یہ ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن سعد نامی ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جو کا تبِ وحی تھا، پھر اس نے خیانت کی تو پیغمبر نے اُسے دھتکاردیا (اور اپنے پاس سے نکال دیا) اُس نے یہ دعویٰ کیا کہ میں بھی قرآنی آیات جیسی آیات لاسکتا ہوں ۔ مفسرّین کی ایک جماعت نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آیت یا اس کا کچھ حصّہ مسیلمہ کذاب کے بارے میں نازل ہوا ہے کہ جو نبوت کا چھوٹا دعویٰ کرنے واولوں میں سے تھا۔ لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ مسیلمہ کا قصّہ پیغمبر اکرم کی عمر کے آخری زمانے کا ہے اور یہ سورہ مکی سورتوں میں سے ہے، اس شان نزول کے طرفدار یہ نظر یہ رکھتے ہیں کہ یہ آیت اس سورہ کی چند دوسری آیات کی طرح مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و ستم کے حکم سے اس سورہ کی آیت کے درمیان قرار دے دی گئی ہے۔
لیکن ہر صورت میں قرآن کی دوسری تمام آیات کی مانند کہ جو خاص حالات میں نازل ہوئی ہیں اور ان کا مضمون و مطلب کلی اور عمومی ہے اس آیت کا مضمون و مطلب بھی کلی و عمومی ہے، اور ایسے تمام مدعیان نبوت اور ان جیسے تمام لوگوں پر محیط ہے۔
ایسے گنہگاروں کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے
گذشتہ آیات کے بعد کہ جن میں کسی بھی شخص پر کتب آسمانی کے نزول کی نفی کے بارے میں یہود کی گفتگو کی طرف اشارہ کیا گیا تھا، اس آیت میں دوسرے ایسے گنہگاروں کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے جو ان کے نقط مقابل میں ہیں اور اپنے اوپر وحی آسمانی کے نزول کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ وہ بالکل جھوٹ بولتے ہیں ۔
حقیقت میں زیر بحث آیت میں اس قسم کے افراد کے تین کرو ہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
قرآن پہلے کہتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا کہ جو خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں کسی آیت کی تحریف کرتے ہیں ، اور خدا کے کلاموں میں سے کسی کو بدل دیتے ہیں( وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَرَی عَلَی اللّٰهِ کَذِبًا ) ۔
دوسرا گروہ ان کا ہے جو نبوت اور وحی کا دعویٰ کرتے ہیں جب کہ نہ وہ پیغمبر ہیں اور نہ ہی اُن پر وحی نازل ہوتی ہے،( اٴَوْ قَالَ اٴُوحِیَ إِلَیَّ وَلَمْ یُوحَ إِلَیْهِ شَیْءٌ ) ۔
تیسرا گروہ ان کا ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بنوت کے انکار کے طور پر یا تمسخر اور استہزا سے کہتے ہیں کہ: ”ہم بھی اس قسم کی آیات نازل کرسکتے ہیں حالانکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور وہ اس کام کی کوئی قدرت و طاقت نہیں رکھتے( وَمَنْ قَالَ سَاٴُنزِلُ مِثْلَ مَا اٴَنزَلَ اللَّهُ ) “۔
ہاں یہ سب کے سب ستم گر ہیں اور ان سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ہے کیونکہ وہ خدا کے بندوں پر راہ حق کو بند کردیتے ہیں اور انھیں راستے سے ہٹا کر سرگردان کردیتے ہیں ، اور سچے رہبروں کی ہدایت کی مخالفت کرتے ہیں ۔ وہ خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف کھینچ رہے ہیں ۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا کہ ایسے افراد جو رہبری کی کوئی صلاحیت نہیں رکھتے وہ رہبری کا دعویٰ کریں ۔ وہ بھی خدائی اور آسمانی رہبری کا۔
اگر چہ آیت مدعیان نبوت ووحی سے ربط رکھتی ہے، لیکن اس کی روح اُن تمام افراد پر محیط ہے جو جھوٹ طریقہ سے کسی ایسے مقام کا دعویٰ کریں کہ جس کے وہ اہل نہیں ہیں ۔
اس کے بعد اس قسم کے افراد کی دردناک سزایوں بیان کی گئی ہے: اے پیغمبر!اگر تم ان ظالموں کو اس دقت میں دیکھو جب کہ جان کنی کے شدائد میں غرق ہوں گے اور روح قبض کرنے والے فرشتہ ہاتھ پھیلائے ہوئے ان سے کہہ رہے ہوں گے کہ اپنی جان کو باہر نکالو، تو تم دیکھو گے کہ ان کی حالت بہت ہی دردناک اور افسوس ناک ہے( وَلَوْ تَرَی إِذْ الظَّالِمُونَ فِی غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلاَئِکَةُ بَاسِطُوا اٴَیْدِیهِمْ اٴَخْرِجُوا اٴَنفُسَکُمْ ) ۔(۱)
اس حالت میں عذاب کے فرشتے اُن سے کہتے ہیں : آج تم دو کاموں کی وجہ سے ذلیل و خوار کرنے والے عذاب میں گرفتار ہوگے، پہلا یہ کہ تم خدا پر جھوٹ باندھتے تھے اور دوسرا یہ کہ اس کی آیات کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے تھے( الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللَّهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِهِ تَسْتَکْبِرُونَ ) ۔
چند قابلِ توجہ نکات
۱ ۔ نبوت کے جھوٹے دعویداروں اور بناوٹی رہنماؤں اور رہبروں کا جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں آیت میں بدترین ظالم کی حیثیت سے تعارف کرایا گیا ہے اور حقیقت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی ظلم نہیں ہے کہ کسی کی فکر کو چرالیا جائے اور اُس کے عقیدے کو خراب کردیا جائے اور راہ سعادت اس پر بند کردی جائے اور اُسے اپنی فکری نو آبادی بنالیا جائے۔
۲ ۔ ”( باسطوا ایدیهم ) “ کا جملہ ممکن ہے اس معنی میں ہوکہ قبض روح کرنے والے فرشتے ہاتھ پھیلاتے ہی ان کی روح کو قبض کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انھیں سزا دینے کی ابتدا کرنے کے لیے ہاتھ پھیلانے کے معنی میں ہو۔
۳ ۔ ”( اخرجوا انفسکم ) “ (اپنی جان اور روح کو باہر نکالو) حقیقت میں یہ قیض روح کرنے والے فرشتوں کی طرف سے اس قسم کے ظالموں کے لیے ایک قسم کی تحقیر و تذلیل ہے۔ ورنہ روح و جان کا دینا خود ظالموں کا اپنا کام نہیں ہے، بلکہ یہ ان فرشتوں ہی کا کام ہے، جیسا کہ کسی قاتل کو موت کے گھاٹ اُتارتے وقت کہتے ہیں کہ اب موت کا مزہ چکھ۔ بہر حال ان کی یہ تحقیر و تذلیل اُس تحقیر کے مقابلہ میں ہے کہ جو انھوں نے آیات خدا، انبیاء اور بندگان خدا کے بارے میں کی تھی۔
ضمنی طور پر یہ آیت روح کے استقلال اور جسموں سے ایک جدا گانہ شے ہونے پر ایک اور گواہ بھی ہے۔
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس قسم کے گنہگاروں کی سزا جان دینے اور موت کے وقت سے ہی شروع ہوجاتی ہے۔
____________________
۱۔ ”غمرات“ :جمع ہے ”غمرہ“ (بروزن ”ضربہ) کی جو اصل میں کسی چیز کے آثار کو ختم کرنے کے معنی میں ہے، اس کے بعد اس کثیر پانی کو جو کسی چیز کے تمام چہرہ کو چھپادے، نیز ان شداید، مشکلات اور مصائب کو بھی غمرہ کہا جانے لگا جو انسان کو اپنے حلق کی طرف کھینچیں ۔
آیت ۹۴
۹۴( وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَکْتُمْ مَا خَوَّلْنَاکُمْ وَرَاءَ ظُهُورِکُمْ وَمَا نَرَی مَعَکُمْ شُفَعَائَکُمْ الَّذِینَ زَعَمْتُمْ اٴَنَّهُمْ فِیکُمْ شُرَکَاءُ لَقَدْ تَقَطَّعَ بَیْنَکُمْ وَضَلَّ عَنکُمْ مَا کُنتُمْ تَزْعُمُونَ ) -
ترجمہ:
۹۴ ۔ تم سب ہماری بارگاہ میں اکیلے لوٹ کر آئے ہو اسی طرح جیسا کہ پہلے دن ہم نے تمھیں خلق کیا تھا اور جو کچھ ہم نے (دنیا میں ) تمھیں عطا کیا تھا اُسے (وہیں دنیا میں ہی) اپنے پسِ پشت ڈال آئے ہو اور وہ شفاعت کرنے والے کہ جنھیں تم اپنی شفاعت میں شریک سمجھتے تھے انھیں ہم تمہاے ساتھ نہیں دیکھتے۔تمہارے پیوند اور رشتے قطع ہوگئے ہیں اور وہ تمام چیزیں کہ جنھیں کہ جنھیں تم اپنا سہارا خیال کرتے تھے وہ تم سے دور اور گم ہوگئی ہیں ۔
شانِ نزول
تفسیر مجمع البیان، تفسیر طبرسی اور تفسیر آلوسی میں منقول ہے کہ مشرکین میں سے نضر بن حارث نامی ایک شخص نے کہا کہ لات اور عزیٰ (عربوں کے دو مشہوربت) قیامت کے دن میری شفاعت کریں گے، تو اُوپر والی آیت نازل ہوئی اور اُسے اور اُس جیسے لوگوں کو جواب دیا گیا۔
گمشدہ لوگ
گذشتہ آیت میں موت کے آستانے پر ظالموں کے کچھ حالات کی طرف اشارہ ہوا تھا۔ اس آیت میں میں وہ گفتگو جو خدا موت کے وقت یا میدانِ قیامت میں ورود کے وقت اُن سے کرے گا منعکس کی گئی ہے۔
ابتداء میں ارشاد ہوتا ہے: آج سب اکیلے ہی اسی طرح جیسا کہ ہم نے تمھیں پہلے دن پیدا کیا تھا ہماری طرف لوٹ رہے ہو( وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ ) ۔
”اور جو مال ہم نے تمھیں (دنیا میں ) بخشا تھا اور وہ زندگی میں تمہارا سہارا تھا، سب کا سب پس پشت ڈال کر خالی ہاتھ آئے ہو“( وَتَرَکْتُمْ مَا خَوَّلْنَاکُمْ وَرَاءَ ظُهُورِکُمْ ) ۔(۱)
اسی طرح ”وہ بت کہ جنھیں تم اپنے شفیع خیال کرتے تھے، اور انھیں اپنی سرنوشت میں شریک سمجھتے تھے ان میں سے کسی کو ہم تمہارے ساتھ نہیں دیکھ رہے“( وَمَا نَرَی مَعَکُمْ شُفَعَائَکُمْ الَّذِینَ زَعَمْتُمْ اٴَنَّهُمْ فِیکُمْ شُرَکَاءُ ) ۔
حقیقت میں تمہارا اجتماع پر اگندگی سے دوچار ہوگیا اور تمام رشتے تم سے ٹوٹ گئے( لَقَدْ تَقَطَّعَ بَیْنَکُمْ ) اور وہ تمام سہارے جن پر تم بھروسہ کیے ہوئے تھے نابود ہوگئے اور کھوگئے( وَضَلَّ عَنکُمْ مَا کُنتُمْ تَزْعُمُونَ ) ۔
عرب کے مشرک اور بت پرست تین چیزوں پر تکیہ کرتے تھے۔
۱ ۔ وہ قبیلہ وعشیرہ کہ جس کے ساتھ وہ وابستہ ہوتے تھے۔
۲ ۔ وہ مال و دولت کہ جو انھوں نے اپنے لیے اکٹھا کر رکھا تھا اور
۳ ۔ وہ بت کہ جنھیں وہ انسان کی سرنوشت کے تعین میں خدا کی بارگاہ میں شفیع سمجھتے تھے۔ آیت کے تینوں جملوں میں سے ہر ایک میں ان تینوں میں سے ایک ایک بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کہ وہ سب موت کے وقت کس طرح انسان سے الوداع ہوتے ہیں اور اُسے تن تنہا چھوڑ جاتے ہیں ۔
دو اہم نکات
۱ ۔ اِس آیت کا اُس آیت کے بعد کہ جس میں موت کے وقت روح قبض کرنے والے فرشتوں کی گفتگو بیان کی گئی تھی قرار پانا اور اسی طرح ”تم نے اپنے اموال پسِ پشت ڈال دیئے“ کے جملہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب بھی موت کے وقت ان سے ہوگا لیکن یہ خطاب خدا کی طرف سے ہوگا۔ البتہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب میدان قیامت میں وارد ہونے کے بعد ہوگا۔ تاہم (اس سے) آیت کے مقصد اور ہدف اصلی میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔
۲ ۔ یہ آیت اگر چہ مشرکین عرب کے بارے نازل ہوئی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ان کے ساتھ اختصاص نہیں رکھتی۔
اس دن تمام رشتے ، مادی تعلقات، تمام خیالی اور بناوٹی معبود، تمام سہارے جو انسان اس جہاں میں اپنے لیے بنائے ہوئے تھا اور انھیں اپنی بدبختی کے دن کے لیے دوست اور مددگار خیال کرتا تھا کلی طور پر اس سے جدا ہوجائیں گے، وہ خود رہ جائیں گے اور اس کے اعمال، وہ ہوگا اور اس کا خدا، اور باقی سب درمیان سے چلے جائیں گے اور قرآن کی تعبیر کے مطابق وہ سب کے سب گم ہوجائیں گے۔ یعنی وہ اس طرح سے حقیر و پست اور ناشناس ہوجائیں گے کہ نگاہ میں ہی نہیں آئیں گے۔
____________________
۱۔ خولناکم ”خول“ (برزون ”عمل) کے مادہ سے اصل میں ایسی چیز کے معنی میں ہے جو سرپرستی، تدبیر اور ادارت کی محتاج ہو اور عام طور پر اموال اور ایسی مختلف نعمتوں کے لیے لولا جاتا ہے جو خدا انسان کو بخشتا ہے۔
آیات ۹۵،۹۶
۹۵( إِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَی یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنْ الْمَیِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنْ الْحَیِّ ذَلِکُمْ اللَّهُ فَاٴَنَّا تُؤْفَکُونَ ) -
۹۶( فَالِقُ الْإِصْبَاحِ وَجَعَلَ اللَّیْلَ سَکَنًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ذٰلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ ) -
ترجمہ:
۹۵ ۔خدا دانے اور گٹھلی کو چیز نے والا ہے اور زندہ کو مردہ سے پیدا کرتا ہے اور مردے کو زندہ سے نکالتا ہے ۔ یہ ہے تمھارا خدا، پس تم حق سے کیسے منحرف ہوتے ہو۔
۹۶ ۔ وہ صبح کو شگافتہ کرنے والا ہے، اور اُس نے رات کو سکون کا باعث اور آفتاب و ماہتاب کو حساب کا ذریعہ قرار دیا ہے، یہ دانا و توانا خدا کی تقدیر ہے۔
تفسیر
طلوعِ صبح کرنے والا
دوبارہ روئے سخن مشرکین کی طرف کرتے ہوئے قرآن توحید کے دلائل کو اسرا کائنات، نظام آفرینش اور خلقت کی تعجب خیزیوں کے زندہ نمونوں اور پرگشش عبارتوں کے ساتھ تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔
پہلی آیت میں زمین کے تین قسم کے عجیب و غریب شاہکاروں کی طرف اشارہ کیا گیا اور دوسری آیت میں آسمان میں ظاہر ہونے والی تین قسموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پہلے کہتا ہے: خدا دانے اور گٹھلی کا چیزنے والا ہے( إِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَی ) ۔ ”فالق“ ”فلق“ کے مادہ سے (بروزن ”فرق) کسی چیز کو شگاف کرنے اور اس کے ایک حصّے کو دوسرے سے جدا کرنے کے معنی میں ہے۔(۱)
”حب“ ”وحبة“ غذائی دانوں کے معنی میں ہے، مثلاً گندم، جو اور وہ چیزیں جو کاٹنے کے قابل میں ۔(۲) البتہ بعض اوقات دوسرے گھاس پھوس کے دانوں کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔
”نویٰ“ گٹھلی کے معنی میں ہے اور یہ جو بعض کہتے ہیں کہ یہ کھجور کی گٹھلی کے ساتھ مخصوص ہے، شاید اس بناپر ہو کہ عرب اپنے ماحول کے مخصوص حالات کی بناپر جب یہ کلمہ استعمال کرتے تھے تو ان کی توجہ کجھور کی گٹھلی کی طرف ہوتی تھی۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس تعبیر میں کونسا نکتہ پوشیدہ ہے۔
اس بات پر خاص طور سے توجہ رکھنا چاہیے کہ ایک کسی پودے کی زندگی میں اہم ترین لحظہ وہی ہے جب دانہ اور گٹھلی شگافتہ ہو رہی ہو کہ جو ایک بچہ کی پیدائش کی طرح ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقل ہونے کا زمانہ شمار ہوتا ہے اور اس لمحے اس کی زندگی میں ایک اہم ترین انقلاب رونما ہوتا ہے۔
یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ ہری گھاس اور نباتات کے دانے اور گٹھلیاں اکثر بہت ہی زیادہ محکم اور مضبوط ہوتی ہیں ۔
اگر کھجور کی گٹھلی اور دوسرے پھلوں مثلاً آڑو اور بعض حبوبات کی گٹھلیوں پر سرسری نگاہ ڈالی جائے تو یہ نشاندہی ہوتی ہے کہ وہ نطفہ حیاتی کہ جو حقیقت میں ایک پودا اور ایک چھوٹا سا درخت ہے بہت ہی محکم قلعہ میں محصور ہے۔ لیکن کارخانہ آفرینش اس نا قابلِ نفوذ قلعہ کو تسلیم و رضا کی ایسی خاصیت عطا کرتا ہے اور اُس نرم و نازک کو نپل کو جو گٹھلی اور دانے کے اندر پرورش پاتی ہے ایسی خاصیت عطا کرتا ہے اور اُس نرم و نازک کو نپل کو جو گٹھلی اور دانے کے اندر پرورش پاتی ہے ایسی قدرت و طاقت بخشتا ہے کہ وہ اس کی دیواروں کو چیر کر اُس کے اندر سے باہر نکال کر سیدھی کھڑی ہوجاتی ہے۔ واقعاً یہ عالم نباتات میں ایک عجیب و غریب قسم کا حادثہ ہے کہ قرآن جس کی طرف توحید کی ایک نشانی کے طور پر اشارہ کررہا ہے۔
اس کے بعد قرآن کہتا ہے کہ زندہ موجودات کو وہ مردہ سے باہر لاتا ہے اور مردہ موجودات کو زندہ سے( یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنْ الْمَیِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنْ الْحَیِّ ) ۔
حقیقت میں یہ جملہ کہ جس کی نظیر قرآن میں بار ہا نظر سے گزری ہے، موت و حیات کے نظام اور اُن کے ایک سے دوسرے میں تبدیل ہونے کی طرف اشارہ ہے بعض اوقات سمندروں کی تہ میں اور جنگلوں ، صحراؤں اور بیابانوں کی گہرائیوں میں بے جان خشک مواد سے زندگی کے طرح طرح کے چہرے تیار کرکے باہر بھیجتا ہے۔ ایسے ایسے مواد کو جن میں سے ہر ایک زہر قاتل کا کام کرتا ہے ترکیب دے کر حیات بخش مواد تیار کرلیتا ہے اور بعض اوقات اس کے برعکس طاقتور زندہ موجودات کو معمولی سی تبدیلی کے ساتھ ایک بے جان موجود میں تبدیل کردیتا ہے۔ زندہ موجودات کی زندگی کا مسئلہ خواہ وہ موجودات نباتات سے ہوں یا حیوانات میں سے، پیچیدہ ترین مسائل میں سے ہے۔ ابھی تک انسانی علم و دانش اس کے اسرار سے پردہ نہیں اٹھاسکے اور نہ ہی اس کے پوشیدہ رازوں کو معلوم کرسکے کہ کس طرح سے طبیعی عناصر اور خشک مواد ایک عظیم حرکت کے ساتھ زندہ موجود میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔
ہوسکتا ہے کہ کسی دن انسان جیسے کہ ایک مشین کے پرزوں کو جوڑ کر جو پہلے سے بنے ہوئے ہوتے ہیں مشین بنالیتا ہے اسی طرح سے مختلف طبیعی تراکیب سے استفادہ کرتے ہوئے بہت ہی پیچیدہ طریقوں کے ساتھ کوئی زندہ موجود بناڈالے لیکن نہ تو آج بشر کا عجز و ناتوانی اور نہ ہی آئندہ زمانے میں اس کام پر قادر ہونے کا احتمال، زندگی اور اس کے پیچیدہ نظام کے ایک عالم و قادر مبداء کی طرف سے ہونے کی بات کی اہمیت کو کم کرسکتی ہے۔
لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن وجود خدا کے اثبات کے لیے بارہا اسی مسئلہ کو دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ابراہیم- اور موسیٰ جیسے عظیم و بزرگ پیغمبر بھی نمرود اور فرعون جیسے سرکشوں کے مقابلے میں زندگی کے ظہور اور اس کی حکایت کے ذریعہ قادر و حکیم مبداء عالم کے وجود پر استدلال کرتے تھے۔
ابراہیم - نمرود سے کہتے ہیں :”( رَبِّیَ الَّذِی یُحیِیْ وَ یُمیِتُ ) “۔
”میرا خداوہ ہے کہ جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے“۔ (بقرہ۔ ۳۵۸)
حضرت موسیٰ فرعون کے مقابلہ میں کہتے ہیں :”( وَاٴَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجْنَا بِهِ اٴَزْوَاجًا مِنْ نَبَاتٍ شَتَّی ) “
”میرا پروردگار وہ ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا اور نباتات کے طرح طرح کے جوڑے وجود میں لایا“۔ (طٰہٰ۔ ۵۳)
البتہ اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے کہ صرف بے جان مواد سے زندہ موجودات کی پیدائش روئے زمین پر زندگی کی پیدائش کے آغاز میں نہیں تھی۔ بلکہ اب بھی پانی اور دیگر مواد کو زندہ موجودات کے خُلیوں کے ساتھ جذب کرکے حقیقت میں ان بے جان موجودات کے جسم پر لباس حیات پہنایا جاتا ہے۔ اس بناء پر وہ قانون جو آج کے علوم طبیعی کی رو سے مسلّم ہے کہ جو یہ کہتا ہے کہ زمین کے موجودہ حالات وکوائف میں کوئی بے جان موجود جاندار موجود تخم سے ہوگا، یہ نظریہ اُس سے جو کچھ ہے کہا ہے کوئی اختلاف نہیں رکھتا۔(غور کیجئے گا)
ان روایات سے جو اس آیت کی تفسیر میں یا اس کی مشابہ دوسری آیات کی تفسیر میں آئمہ اہل بیت- سے ہم تک پہنچی ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد صرف مادی حیات وموت ہی نہیں ہے بلکہ یہ معنوی موت وحیات کو بھی اپنے دامنِ مفہوم میں لیے ہوئے ہے(۳)
ہم صاحبِ ایمان افراد کو دیکھتے ہیں کہ وہ بے ایمان آباؤ اجداد سے وجود میں آتے ہیں ، اور شریر، آلودہ گناہ اور بے ایمان افراد کو دیکھتے ہیں کہ وہ پاک افراد کی نسل سے ہیں اور وہ قانون وراثت کو اپنے ارادہ واختیار سے توڑ رہے ہیں ، جو کہ خالق کائنات کی عظمت کی ایک اور نشانی ہے کہ اُس نے اس قسم کی قدرت وارادہ انسان کو بخشا ہے۔
ایک اور نکتہ کہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا ضروری ہے یہ ہے کہ ”یخرج“ جو کہ فعل مضارع ہے ”مخرج“ کی طرح جو کہ اسم فاعل ہے استمرار پر دلالت کرتا ہے یعنی مردہ موجودات سے حیات سے پیدائش اور زندہ موجودات سے مُردوں کا پیدا ہونا جہاں آفرینش کا ایک دائمی اور عمومی نظام ہے۔
آیت کے آخر میں تاکید کے طور پر اور مطلب کو محکم بنانے کے لیے کہا گیا ہے: یہ ہے تمھارا خدا، اور یہ ہیں اس کی لامتناہی علم وقدرت کے آثار، تو ان حالات میں تم حق سے کس طرح منحرف ہوتے ہو اور وہ تمھیں باطل کی راہ کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں( ذَلِکُمْ اللّٰهُ فَاٴَنَّا تُؤْفَکُونَ ) ۔
دوسری آیت میں جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں تین جوّی وآسمای نعمتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے، پہلے کہا گیا ہے: خدا صبح کا شگافتہ کرنے والا اور طلوعِ صبح کرنے والا ہے( فَالِقُ الْإِصْبَاحِ ) ۔
”فلق“ (بروزن خلق)اصل میں شگاف ڈالنے کے معنی میں ہے اور یہ جوصبح کو فلق کہتے ہیں تویہ بھی اسی مناسبت سے ہے, ”اصباح“ و ”صبح“ دونوں ایک ہی معنی میں ہیں ۔
مندرجہ بالا تعبیر بہت ہی موزوں اور خوبصورت تعبیر ہے جو یہاں استعمال ہوئی ہے۔ کیونکہ رات کی تاریکی کو ایک موٹے پردے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ جس کو سفید دم کی طرح روشنی چاک کرکے علیحدہ کردیتی ہے اور یہ صورت صبح صادق پر بھی منطبق ہوتی ہے اور صبح کاذب پر صادق آتی ہے کیونکہ صبح کاذب کم روشنی کو کہا جاتا ہے جو رات کے آخری حصّہ میں ایک عمود کی شکل میں مشرق کی جانب آسمان پر پھیل جاتی ہے، اور وہ ایک شگاف سا ہوتا ہے جو مشرق سے مغرب کی طرف رات کے تاریک وسیاہ پردے میں ظاہر ہوتا ہے اور صبح صادق کہ جو اس کے بعد طلوع کرتی ہے ایک سفید ودرخشان اور خوبصورت جھالر کی شکل میں ہوتی ہے جو ابتدا میں اُفق مشرق کے عرض میں آشکار ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے رات کی سیاہ چادر کو نیچے کی طرف شمالاً وجنوباً پھاڑتی ہوئی دور تک بڑھتی چلی جارہی ہے اور اُوپر کی طرف تدریجاً بڑھتے ہوئے سارے آسمان پر پھیل جاتی ہے۔
قرآن کے علاوہ اس کے بارہا نعمتِ نور وظلمت اور نعمت شب وروز کا ذکر کیا ہے یہاں طلوعِ صبح کے مسئلہ کا والہ دیا ہے کہ جو خداوندتعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ یہ آسمان میں ظاہر ہونے والی روشنی زمین کی فضا کے وجود کا نتیجہ ہے (یعنی ہوا کی وہ ضخیم ودبیز تہ کہ جس نے اس کرہ ارض کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے) کیونکہ اگر کرہ زمین کے اطراف میں کرہ ماہ کی طرح یہ فضا موجود نہ ہوتی تو نہ بین الطلوعین وفلق کا وجود ہوتا اور نہ ہی آغاز شب کی سفید اور شفق ہوتی، بلکہ آفتاب ایک ناخواندہ مہمان کی طرح بغیر کسی اطلاع اور تمہید کے افق مشرق سے سرنکالتا اور اپنا خیرہ کرنے والا نور اُن آنکھوں میں جو تاریکی شب کا عادی ہوچکی ہوتیں فوراً اور ایک دم چھڑک دیتا اور غروب کے وقت ایک فراری مجرم کی طرح اچانک نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا اور ایک ہی لمحہ میں تاریکی اور وحشتناک ظلمت تمام جگہوں کو گھیر لیتی۔ لیکن فضائے زمین کا وجود اور وہ فاصلہ جو رات کی تاریکی اور دن کی روشنی کے طلوع وغروب آفتاب کے وقت ہوتا ہے، انسان کو تدریجاً ان دو متضاد ظاہر ہونے والی چیزوں میں سے ہر ایک کو قبول کرنے کے لئے آمادہ کرتا ہے اور نور سے ظلمت میں تبدیلی اور ظلمت سے نور میں تبدیلی تدریجاً اور آہستہ آہستہ بالکل پسندیدہ اور قابل برداشت صورت میں انجام پاتی ہے۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ رات کے وقت ایک روشن اور پرنور کمرے میں جب اچانک بلب بجھ جاتا ہے تو سب کے لیے کیسی تکلیف دہ حالت ہوتی ہے۔
پھر گھنٹہ بھر بجلی نہ آئے اور پھر بغیر کسی تمہید کے بلب روشن ہوجائے تو پھر بھی ایک قسم کی تکلیف سب کو لاحق ہوجاتی ہے۔ بلب کی خیرہ کرنے والی روشنی آنکھوں کو تکلیف دیتی ہے اور ہم اطراف کی چیزوں کو دیکھنے کے لیے زحمت سے دوچار ہوجاتے ہیں اور اگر ایسا بار بار ہوتا رہے تو یقینا آنکھوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا(۴)
لیکن اس بناپر کہ کہیں یہ خیال نہ پیدا ہو کہ طلوعِ صبح اس بات کی دلیل ہے کہ تاریکی وظلمت ایک نامطلوب چیز ہے اور یہ سزا او سلبِ نعمت ہے لہٰذا بلا فاصلہ قرآن فرماتا ہے کہ خداوندتالیٰ نے ”رات کو سکون وآرام کا باعث قرار دیا ہےے( وَجَعَلَ اللَّیْلَ سَکَنًا ) ۔
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ انسان نور اور روشنی میں جستجو اور کوشش کی طرف مائل ہوتا ہے، خون سطح بدن کی طرف رواں دواں ہوتا ہے اور تمام خلیے آمادہ عمل ہوجاتے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ روشنی میں نیند اتنی آرام دہ نہیں ہوتی لیکن ماحول جتنا تاریک ہوگا نیند اتنی ہی گہری اور آرام دہ ہوگی۔ کیونکہ تاریکی میں خون بدن کے اندر کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور خلیے ایک طرح کے آرام واستراحت میں ڈوب جاتے ہیں ۔ اسی سبب سے دنیائے طبیعت میں نہ صرف حیوانات بلکہ نباتات بھی رات کی تاریکی میں سوجاتے ہیں اور صبح کی پہلی شعاع کے ظاہر ہوتے ہی جنبش اور فعّالیت شروع کردیتے ہیں ۔ اس کے برعکس مشینی دنیا کے لوگ آدھی رات کے بعد تک بیدار رہتے ہیں اور دن کو طلوع آفتاب کے بہت دیربعد تک سوئے رہتے ہیں اور بدن کی صحت وسلامتی کو ضائع کردیتے ہیں ۔
اُن احادیث میں جو اہل بیت علیہم السلام کے طریقوں سے وارد ہوئی ہیں ، ہم ایسے دستور العمل پڑھتے ہیں جو سب کے سب یہی مفہوم لیے ہوئے ہیں ، منجملہ ان کے نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ- نے اپنے ایک موالی کو حکم دیا کہ رات کے ابتدائی حصّہ میں اپنا سفر جاری نہ رکھ کیونکہ خدا نے رات کو سکون وارام کے لیے قرار دیا ہے اور اسے قیام کا وقت قرار دیا ہے نہ کہ کوچ کرنے کا۔ رات کے وقت اپنے بدن کو آرام پہچاؤ اور استراحت کرو(۵)
ایک حدیث میں جو کتاب ”کافی“ میں امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے آپ- نے فرمایا:”ت”تزوج باللّیل فاِنّه جعل اللّیل سکناً “
”مراسم ازدواج کو رات کے وقت قرار دے کیونکہ رات باعث سکون وآرام ہے“(۶)
جیسا کہ ازدواج اور صحیح طور پر جنسی آمیزش بھی آرام بخش ہے) اور کتاب کافی ہی میں ہم یہ بھی پڑھتے ہیں کہ امام علی بن الحسین علیہما السلام اپنے غلاموں کو یہ حکم دیا کرتے تھے کہ وہ رات کے وقت اور طلوع فجر سے پہلے کبھی بھی جانوروں کو ذبح نہ کریں اور فرماتے تھے:””انّ الله جعل اللّیل سکناً لکلّ شیء “
”خدا نے رات کو ہر چیز کے لیے راحت وآرام کا سبب قرار دیا ہے“۔(۷)
اس کے بعد خداوندتعالیٰ نے اپنی تیسری نعمت اور اپنی عظمت کی نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ: آفتاب وماہتاب کو تمہاری زندگی میں حساب وکتاب کا ذریعہ قرار دیا ہے( وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْبَانًا ) ۔
”حسبان“ (برورزن لقمان) مصدر ہے، مادّہ ”حساب“ سے اور حساب کرنے کے معنی میں ہے۔ یہاں ممکن ہے یہ مرادہو کہ ان دو آسمانی کرّوں کی منظم گردش اور سیر مرتب (البتہ ان کی حرکت سے مراد وہ حرکت ہے جو ہمیں نظر آتی ہے جو زمین کی حرکت سے پیدا ہوتی ہے) اس بات کا سبب بنتی ہے کہ تم اپنی زندگی کے مختلف پروگراموں کو نظام وحساب کے ما تحت کرلو۔ جیسا کہ ہم اُوپر والی تفسیر یں بیان کرچکے ہیں ۔
اس بناپر پہلی صورت میں خداوندتعالیٰ کی ایک نعمت کی طرف اشارہ ہے جو اُس نے انسانوں کو دی ہے اور دوسری صورت میں توحید کی ایک نشانی اور وجودِ خدا کے اثبات کی ایک دلیل کی طرف اشارہ ہے اور ممکن ہے کہ دونوں معافی کی طرف اشارہ ہو۔
بہر صورت یہ بات ہی جاذب توجہ ہے کہ لاکھوں سال سے کرہ زمین آفتاب کے گرد اور ماہتاب زمین کے گرد گردش کررہا ہے اور اس کے زیر اثر ہم اہلِ زمین کی نظر میں آفتاب کی ٹکیہ فلک کے بارہ برجوں کے سامنے گرد کررہی ہے ، اور چاند کی ٹکیہ اپنے منظم حلال کے ساتھ اور تدریجی تغیّر پذیری کے ساتھ اور ہر دفعہ ایک ترتیب سے ظاہر ہوتی ہے، یہ گردش اس قدر حساب شدہ ہے کہ ایک لمحہ بھر کی کمی بیشی نہیں ہوسکتی۔ اگر ہم سورج کے گِرد گردشِ زمین کی مسافت پر غور کریں جو ایک بیضوی شکل کے مدار میں گردش کرتی ہے جس کی شعاع متوسط ۱۶۰ لاکھ کلو میٹر ہے، حالانکہ آفتاب کی عظیم قوتِ جاذبہ اسے اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور اسی طرح کرہ ماہ کہ جو خود اپنے دائرے جتنی مسافت کو شعاع متوسط کے ۳۸۴ ہزار کلومیٹرکے ساتھ طے کرتا ہے، جب کہ زمین کی عظیم قوتِ جاذبہ اُسے ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی رہتی ہے۔ تو اس وقت ہم اس بات کی طرف متوجہ ہوں گے کہ ایک طرف سے ان کرات کی قوتِ جاذبہ میں اور دوسری طرف سے ان کرات کے درمیان مرکز سے گریز کی قوت میں کس قدر دقیق تعادل اور برابری برقرار ہے کہ جس سے ان کی سیرِ عظیم میں ایک لحظہ کا وقفہ یا کوئی کمی زیادتی پیدا نہیں ہوتی اور ایسا ایک لامتناہی علم وقدرت کے بغیر ممکن نہیں کہ جو اس کی تقشہ کشی بھی کرے اور اُسے باریک بینی کے ساتھ جاری بھی رکھے۔ اسی لئے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: یہ خدا کی اندازہ گیری ہے جو توانا بھی ہے اور دانا بھی ہے( ذٰلِکَ تَقْدِیرُ الْعَزِیزِ الْعَلِیمِ ) ۔
____________________
۱۔ و ۲۔مفردات راغب صفحہ ۳۸۵ اور ۱۰۵۔
۳۔ اصول کافی، ج۲، باب ”طینة المومن والکافر“؛ تفسیر برہان، ج۱، ص۵۴۳-
۴۔ علمائے ہیئت کہتے ہیں کہ طلوع صبح اس وقت شروع ہوتا ہے جب آفتاب مشرق کی طرف ۱۸ درجہ فاصلہ پر افق پر پہنچ جائے اور ات کی تاریکی اُس وقت تمام جگہوں کو گھیر لیتی ہے اور شفق گم ہوجاتی ہے جب سورج مغرب کی طرف ۱۸ درجہ افق میں نیچے کی طرف چلا جاتا ہے۔
۵، و۶، و۷۔ تفسیر صافی، ذیل آیہ بعض مفسّرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ شاید اس جملے سے یہ مراد ہو کہ خود یہ دونوں آسمانی کرّے ایک نظام کے ماتحت اور ایک حساب سے رواں دواں ہیں ۔
آیت ۹۷
۹۷( وَهُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِی ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ قَدْ فَصَّلْنَا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ) -
ترجمہ:
۹۷ ۔ اور وہی ہے وہ ذات کہ جس نے تمھارے لیے ستار قرار دیئے تاکہ خشکی اور دریا کی تاریکی میں اُن کے ذریعہ ہدایت حاصل کرو۔ ہم نے ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں (اور جو اہلِ فکر ونظر میں ) اپنی نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ۔
ہم نے اپنی نشانیاں اور دلائل اہلِ فکر ونظر اور اہل فہم
گذشتہ آیت کے بعد آفتاب وماہتاب کی گردش کی طرف اشارہ ہوا تھا، یہاں پروردگار کی ایک اور نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہی ہے وہ ذات کہ جس نے تمھار ے لیے ستارے قرار دیئے ہیں تاکہ تم ان کے ذریعے صحرا اور دریا کی تاریکی میں اپنے راستوں کو اندھیری راتوں میں پالو:
”( وَهُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِی ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ) “
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: ہم نے اپنی نشانیاں اور دلائل اہلِ فکر ونظر اور اہل فہم وفراست کے لیے کھول کر بیان کردی ہیں( قَدْ فَصَّلْنَا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ) ۔
انسان ہزار سال سے آسمان کے ستاروں اور ان کے نظام سے آشنا ہے۔ اگرچہ جس قدر انسانی علم ودانش بڑھتا جارہا ہے اسی قدر وہ اس نظام کی گہرائی میں زیادہ داخل ہوتا جارہا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ ہر زمانے میں اسی کی وضع وکیفیت سے کم وبیش آشنا تھا۔ لہٰذا دریائی اور خشکی کے سفروں میں سمت کے تعین کا بہترین ذریعہ یہی ستارے تھے۔
خصوصاً وسیع وعریض سمندروں میں جہاں راستے اور منزل کے تعین کی کوئی نشانی اس کے پاس نہ ہوتی تھی، قطب نما بھی اُس زمانے میں ایجاد نہیں ہوا تھا، آسمانی ستاروں کے سوا اور کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ بھی موجود نہیں تھا۔ یہی ستارے تھے جو لاکھوں کروڑوں انسانوں کو گمراہی اور غرقاب سے نجات دیتے تھے اور انھیں منزل مقصود تک پہنچاتے تھے۔
صفحہ آسمان پر چند رات پے درپے متواتر نگاہ کرنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ستاروں کی حالت وکیفیت ہر مقام پر ایک ہی جیسی ہے گویا کہ ستارے موتیوں کے دانوں کی طرح ہیں کہ جو ایک سیاہ کپڑے کے اُوپر ٹکے ہوئے ہیں اور آغاز شب سے ہی اس کپڑے کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف کھینچ دیا جاتا ہے اور وہ سب کے سب اس کے ساتھ حرکت کررہے ہیں اور زمین کے محور کے گرد گھوم رہے ہیں ۔ جب کہ ان کے درمیانی فاصلوں میں بھی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ صرف ایک استثنا جو اس قانون کلی میں دکھائی دیتا ہے یہ ہے کہ کچھ ستارے ایسے بھی ہیں کہ جنھیں سیارہ کہتے ہیں اور ان کی اپنی مستقل اور مخصوص حرکات ہیں اور ان کی تعداد ۸ سے زیادہ نہیں ہے۔ ان میں سے ۶ آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں (عطارد، زہرہ، زحل، مریخ اور مشتری) لیکن باقی تین سیاروں (اورانوس، نپٹون اور پلوٹون) کو صرف دوربین کے ساتھ ہی دیکھا جاسکتا ہے (البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ زمین بھی ایک سیارہ ہی ہے جو آفتاب کے گرد گردش کرتی ہے تو ان کی مجموعی تعداد ۹ تک پہنچ جاتی ہے)۔
شاید قبل از تاریخ کے انسان بھی ”ثوابت“‘ اور ”سیارات“ کی وضع سے آشنا تھے کیونکہ انسان کے لیے تاریک اور ستاروں بھری رات میں آسمان سے زیادہ دل لبھانے والا اور جاذب نظر کوئی منظر نہیں ہے۔ اسی بناپر بعید نہیں ہے کہ وہ بھی اپنے راستوں کو معلوم کرنے کے لیے ستاروں سے استفادہ کرتے ہوں ۔
بعض روایات سے جو اہلِ بیت علیہم السلام کے طریق سے وارد ہوئی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت کی ایک اور تفسیر بھیہے اور وہ یہ ہے ہے کہ ستاروں سے مراد خدائی رہبر اور ہادیانِ راہ سعادت یعنی آئمہ معصومین علیہم السلام کہ جن کے وسیلہ سے لوگ زندگی کی تاریکیوں میں گمراہی سے نجات پاتے ہیں اور جیسا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ اس قسم ی معنوی تفسیر آیت کی ظاہری اور جسمانی تفسیر کے منافی نہیں اور ہوسکتا ہے کہ آیت کی نظر دونوں ہی باتوں کی طرف ہو(۱)
____________________
۱۔ تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۷۵۰-
آیات ۹۸،۹۹
۹۸( وَهُوَ الَّذِی اٴَنشَاٴَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ قَدْ فَصَّلْنَا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَفْقَهُونَ ) -
۹۹( وَهُوَ الَّذِی اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَخْرَجْنَا بِهِ فَاٴَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ فَاٴَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُتَرَاکِبًا وَمِنْ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَجَنَّاتٍ مِنْ اٴَعْنَابٍ وَالزَّیْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَیْرَ مُتَشَابِهٍ انظُرُوا إِلَی ثَمَرِهِ إِذَا اٴَثْمَرَ وَیَنْعِهِ إِنَّ فِی ذَلِکُمْ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ) -
ترجمہ:
۹۸ ۔ اور وہی ہے وہ ذات کہ جس نے تمھیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا حالانکہ بعض انسان پائیدار ہیں (ایمان یا خلقت کامل کے لحاظ سے) اور بعض ناپائیدار ہم نے اپنی آیات اُن لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں بیان کردی ہیں ۔
۹۹ ۔ اور وہی وہ ذات ہے کہ جس نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس کے ذریعے طرح طرح کے نباتات اُگائے ۔ اُن سے سبز تنے اور شاخیں نکالیں اور اُن سے ترتیب کے ساتھ چنے ہوئے دانے اور کجھور کے گچھوں سے باریک دھاگوں کے ساتھ جُڑے ہوئے خوشے باہر نکالے اور طرح طرح کے انگور، زیتون اور انار کے باغ (پیدا کئے) جو ایک دوسرے سے مشابہ بھی ہی اور (بعض) غیر مشابہ (ہیں ) جب اُن میں پھل آتا ہے تو تم اُس میں پھل لگنے اور اُس کے پکنے کی طرف نگاہ کرو کہ اس میں صاحبانِ ایمان کے لیے نشانیاں ہیں ۔
وہی وہ ذات ہے کہ جس نے تمھیں ایک انسان سے پیدا کیا ہے
تفسیر
ان آیات میں بھی توحید اور خدا شناسی کے دلائل ہی بیان ہوئے ہیں ۔ کیونکہ قرآن انسان کو اس ہدف کے لیے کبھی آفاق اور دور رداز کے جہانوں کی سیر کراتا ہے اور کبھی اُسے اپنے وجود کے اندر سیر کرنے کی دعوت دیتا ہے اور اسی کے جسم وجان میں موجود خدا کی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے۔ تاکہ وہ خدا کو ہر جگہ اور ہر چیز میں دیکھ لے۔
پہلے کہتا ہے: وہی وہ ذات ہے کہ جس نے تمھیں ایک انسان سے پیدا کیا ہے( وَهُوَ الَّذِی اٴَنشَاٴَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ) ۔
یعنی تم ان گوناگوں چہروں ، مختلف ذوق وافکار اور تمام جنبہ ہاے وجودی میں وسیع تنوع کے باوجود ایک ہی فرد سے پیدا ہوتے ہو۔ اور اس سے خالق وآفرید گار کی انتہائی عظمت کا اظہار ہوتا ہے کہ اس نے ایک ہی مبداء سے یہ مختلف چہرے کس طرح پیدا کیے ہیں ۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس جملہ میں خلقت انسان کو ”انشاء “ سے تعبیر کیا ہے اور یہ لفظ جیسا کہ متون لغت سے معلوم ہوتا ہے ایسے ایجاد وابداع کے معنی ہیں ہے کہ جس میں ترتیب وپرورش کی آمیزش ہو۔ یعنی نہ صرف یہ کہ خدا وندتعالیٰ نے تمھیں بغیر کسی سابقہ تجربے کے یدا کیا ہے بلکہ اُس نے تمھاری تربیت وپرورش کی ذمہ داری بھی اٹھائی ہے اور یہ بات مسلّّم ہے کہ اگر کوئی پیدا کرنے والا کسی چیز کو پیدا کرکے پھر اُسے (بے سہارا) چھوڑدے تو اُس نے کوئی زیادہ قدرت نمائی نہیں کی۔ لیکن اگر وہ ہمیشہ کے لیے اُسے اپنی حمایت میں لے لے اور ایک لمحہ کے لیے بھی اس کی پرورش وتربیت سے غافل نہ ہو تو اُس نے اپنی عظمت ورحمت کی مکمل نشاندہی کی ہے۔
ضمنی طور پر مندرجہ بالا جملے سے یہ تو ہّم پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ جناب حوّا ہماری پہلی ماں (بھی) آدم- سے پیدا ہوئی ہیں (جیسا کہ تورات کی فصل دوم سفر تکوین میں آیا ہے) لیکن چونکہ آدم- وحوّا روایات اسلامی کے مطابق ایک ہی مٹی سے پیدا ہوئے ہیں اور دونوں ایک ہی جنس اور ایک ہی نوع ہیں لہٰذا نفس واحدہ کے الفاظ اُن پر بولے گئے ہیں (ہم سورہ نساء کی ابتداء میں بھی اس بارے میں بحث کرچکے ہیں )
اس کے بعد فرمایا گیا ہے: افراد بشر کی ایک جماعت مستقر ہے اور ایک جماعت مستودع( فَمُسْتَقَرٌّ وَمُسْتَوْدَعٌ ) ۔
”مستقر“ مادہ ”قر“ (بروزن ”حر) سے سردی کے معنی میں ہے اور چونکہ ایسی سردی کہ جس کی ہوا تیز اور سخت ہو وہ انسان اور دوسرے موجودات کو حانہ نشین کردیتی ہے۔ تو یہ لفظ سکون وتوقف اور کسی جگہ قرار پانے کے معنی میں آیا ہے اور ”مستقر“ ثابت اور پائیدار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
”مستودع“ ، ”دوع“ (بروزن ”منع) کے مادہ سے ترک کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ اس بناپر ناپائیدار امور بہت جلد اپنی جگہ چھوڑ دیتے ہیں لہٰذا یہ لفظ ناپائیدار کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور ودیعہ (امامت) کو اس لیے ودیعہ کہتے ہیں کہ اُسے اپنی جگہ ترک کرنا چاہیے اور اصل مالک کی طرف پلٹ جانا چاہیے۔
مندرجہ بالا گفتگو سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ بعض انسان پائیدار ہیں اور بعض ناپائیدار اور اس بارے میں کہ یہاں ان دونوں تعبیرات سے کیا مراد ہے مفسّرین کے درمیان بہت اختلاف نظر آتا ہے۔ لیکن ان میں سے چند تفاسیر جو اپنی اصل حالت پر رہتے ہوئے بھی آپس میں ایک دوسرے سے کوئی تضاد نہیں رکھتیں اور اُن سب کو ہی آیت کی تفسیر کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے اور وہ حقیقت سے قریب تر ہیں ۔ ان میں سے پہلی یہ ہے کہ ”مستقر“ سے مراد وہ انسان ہیں کہ جن کی خلقت کامل ہوئی ہے اور وہ رحم مادر میں رہے ہیں یا روئے زمین پر قدم رکھا ہے۔ اور مستودع ان افراد کی طرف اشارہ ہے جن کی غفلت ابھی تک پایہ تکمیل کو نہیں پہنچی اور وہ نطفہ کی صورت میں آباؤ اجداد کے صلب میں ہی ہیں ۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”مستقر“ روحِ انسان کی طرف اشارہ ہے کہ جو ایک ناپائیدار وبرقرار چیز ہے اور ”مستودع“جسم انسانی کی طرف اشارہ ہے جو ناپائیدار اور فانی ہے۔
بعض روایات میں ان دونوں تعبیرات کے لیے ایک معنوی تفسیر بھی بیان ہوئی ہے کہ ”مستقر“ ان انسانوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو پائیدار ایمان کے حامل ہیں اور ”مستودع“ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو ناپائیدار ایمان رکھتے ہیں(۱)
یہ احتمال بھی موجود ہے کہ مذکورہ بالا دونوں تعبیریں نطفہ انسان کو تشکیل دینے والے اجزائے اوّلیہ کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نطفہ انسان دو اجزاء ایک نطفہ مادہ ( OVUM ) اور دوسرا نطفہ نر ( SPERM )سے تشکیل پاتا ہے، مادہ کا نطفہ تو رحم میں تقریباً ثابت اور مستقر ہے، لیکن نر کے نطفے متحرک جانداروں کی شکل میں اس کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ حرکت کرتے ہیں ( SPERM ) کا پہلا فرد جو ( OVUM ) تک پہنچتا ہے وہ اُس میں داخل ہوجاتا ہے اور باقی کو پیچھے کی طرف دھکیل دیتا ہے اور یوں انسان کے تخمہ اوّلی کی تشکیل ہوتی ہے۔
آیت کے آخر میں دوبارہ کہا گیا ہے: ہم اپنی نشانیوں کو ایک ایک کرکے تفصیل سے بیان کردیا ہے تاکہ جو لوگ سمجھدار اور صاحب ادراک ہیں وہ سمجھ لیں( قَدْ فَصَّلْنَا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَفْقَهُونَ ) ۔
لغت کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ”فقہ“ ہر قسم کے علم وفہم کو نہیں کہتے بلکہ موجودہ معلومات سے غائب کی معلومات کا کھوج نکالنے کو کہتے ہیں(۲) اس بناپر ان طرح طرح کے چہروں اور مختلف جسمانی وروحانی قیافوں کے ساتھ انسان کی خلقت کی طرف توجہ کرنا اس لائق ہے کہ نکتہ سنج افراد اس میں غور کریں اور اپنے خدا کو پہچانیں ۔
دوسری آیت وہ آخری آیت ہے جو ان بحثوں کے سلسلے میں ہمیں جہانِ خلقت کے عجائبات کے ذریعہ خدا شناسی کی دعوت دیتی ہے۔
شروع میں پروردگارِ عالم کی اہم ترین اور بنیادی ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت کی طرف کہ جسے تمام نعمتوں کی اصل، جڑ، بنیاد اور ماں سمجھا سکتا ہے اشارہ کیا گیا ہے اور وہ نباتات (سرسبز پودے) اور درختوں کا بننا اور رشد ونمو کرنا ہے، چنانچہ یہ آیت کہتی ہے: وہی وہ ذات ہے جس نے تمھارے لیے) آسمان سے پانی نازل کیا( وَهُوَ الَّذِی اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً ) ۔
جو یہ کہتا ہے کہ آسمان کی طرف سے (یعنی اُوپر کی طرف سے، کیونکہ لغت عرب میں آسمان ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو اُوپر کی طرف قرار پاتی ہو) تواس کی وجہ یہ ہے کہ روئے زمین میں پانی کے جتنے بھی منابع ہیں چاہے وہ چشمے ہوں یا دریا، نہریں ہوں یا گہرے کنویں ، سب کے سب آخرکار ربارش کے پانی کے محتاج ہیں ۔ اسی لیے بارش کی کمی اُن سب پر اثرانداز ہوتی ہے اور اگر خشک سالی طول پکڑلے تو وہ سب کے سب خشک ہوجاتے ہیں ۔ اس کے بعد بارش کے ایک واضح اثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ: اسی کے ذریعہ سے تمام اُگنے والی چیزوں کو ہم نے زمین سے نکالا ہے( فَاٴَخْرَجْنَا بِهِ فَاٴَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ ) ۔
مفسّرین نے ”نَبَاتَ کُلِّ شَیْءٍ“ (ہر چیز کی گھاس) کی تفسیر میں دو احتمال کا ذکر کیا ہے۔ پہلا یہ کہ اس سے مراد ہر نوع اور ہر قسم کی ایسی بناتات ہیں جو ایک ہی پانی سے سیراب ہوتی ہی اور ایک ہی زمین اور ایک ہی قسم کی مٹی میں پرورش پاتی ہیں اور یہ چیز آفرینش کے عجائبات میں سے ہے کہ یہ تمام قسم قسم کی نباتات اپنے خواص میں مکمل طور پر مختلف ہونے اور بعض اوقات متضاد ہونے اور مختلف شکلوں میں ہونے کے باوجود سب کی سب ایک ہی زمین میں اور ایک ہی پانی سے کیسے پرورش پاتی ہیں ۔
دوسرا یہ کہ اس سے مراد وہ نباتات ہیں جن کی ہر کسی کو حاجت اور ضرورت ہے۔ یعنی پرندوں ،چوپاؤں ، حشرات اور دریائی وصحرائی جانوروں میں سے ہر ایک ان نباتات سے بہرہ اندوز ہوتا ہے۔ اور یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ خداوندتعالیٰ نے ایک ہی زمین سے اور ایک ہی پانی سے ہر ایک ضرورت کے مطابق غذا مہیّا کی ہے اور یہ قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے کہ فی المثل ایک ہی معین مادے سے ایک باورچی خانہ میں ہزاروں قسم کی مختلف سلیقہ اور مزاجوں کے لوگوں کے لیے مہیّا کرتی ہے۔
اور اس سے بھی بڑھ کر لائق توجہ بات یہ ہے کہ نہ صرف صحراؤں کی اور خشکیوں کی گھاس اور سبزے بارش کے پانی کی برکت سے پرورش پاتے ہیں بلکہ بہت سی ایسی چھوٹی نباتات جو سمندر کے پانی کی موجوں کے درمیان اُگتی ہیں اور سمندر میں رہنے والی مچھلیوں کی عمدہ خوراک بنتی ہیں ، وہ بھی نورِ آفتاب اور بارش کے قطروں کے اثر سے رشد ونمو حاصل کرتی ہیں ۔ میں یہ بات بھولتا نہیں ہوں کہ خلیج فارس کے جزائر کا رہنے والا ایک شخص جو شکار کی کمی کی شکایت اس کی علت وسبب کے بارے میں یہ کہہ رہا تھا کہ مچھلی کے شکار کی کمی خشک سالی کے سبب سے ہے اور وہ اس بات کا معتقد تھا کہ سمندر کے اندر بارش کے قطروں کا خیات بخش اثر خشکیوں میں بارش کے اثر سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
اس کے بعد اس جملے کی شرح کرتے ہوئے قرآن گیہوں اور درختوں کے ایسے اہم مواقع کی نشاندہی کرتا ہے کہ جو بارش کے پانی کے ذریعہ پرورش پاتے ہیں پہلے کہتا ہے: ہم نے اُس (بارش کے پانی) کے ذریعہ گیہوں اور نباتات کے سبز تنوں کو زمین سے نکالا ہے اور چھوٹے سے خشک دانے سے ایسا تروتازہ اور سرسبز پیدا کیا ہے کہ جس کی لطافت (ونزاکت) اور زیبائی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے( فَاٴَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا ) (۳)
”اور اُن سبز ڈنٹھلوں اور تنوں سے ایسے دانے کہ جو ایک دوسرے کے اوپر (موتیوں کی طرح) چنے ہوئے ہوتے ہیں (جیسے مکئی اور گندم کے خوشوں میں ) باہر نکالتے ہیں( نُخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُتَرَاکِبًا ) (۴)
اسی طرح اس کے ذریعے کھجور کے درختوں سے سربستہ خوشے باہر نکالتے ہیں جس کے شگافتہ ہونے کے بعد باریک اور خوبصورت دھاگے جو خرما (کھجور) کے دانوں کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں اور بوجھ کی وجہ سے نیچے کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں ، باہر نکلتے ہیں( وَمِنْ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ ) ۔
”طلع“ کا معنی کھجور کا سربستہ خوشہ ہے جو ایک خوبصورت سبز رنگ کے غلاف میں لپٹا ہوتا ہے اور اس کے شگافتہ ہونے اور پھٹ جانے سے اس کے درمیان سے باریک سے دھاگے باہر نکل آتے ہیں اور وہی دھاگے بعد میں کھجور کے خوشوں کوتشکیل دیتے ہیں ۔ ”قنوان“ جمع ہے اور ”قنو“ (برزون ”صنف) کی جو انہی باریک اور لطیف دھاریوں اور دھاگوں کی طرف اشراہ ہے۔
”دانیہ“ نزدیک کے معنی ہے اور ہوسکتا ہے کہ ان دھاگوں کے ایک دوسرےکے قریب ہونے کی طرف اشارہ ہو، یا زیادہ بوجھ کی وجہ سے ان جھکنا مراد ہو۔
اسی طرح ہم نے انگور ، زیتون اور انار کے باغوں کی پرورش کی ہے( وَجَنَّاتٍ مِنْ اٴَعْنَابٍ وَالزَّیْتُونَ وَالرُّمَّانَ ) ۔
اس کے بعد عالم آفرینش کے ایک اور شاہکار کی طرف جس کا تعلق انہی درختوں کے ساتھ ہے اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے: وہ ایک دوسرے ساتھ شباہت رکھتے ہیں اور نہیں بھی سمجھتے( مُشْتَبِهًا وَغَیْرَ مُتَشَابِهٍ ) ۔
اسی سورہ کی آیت ۱۴۱ کی طرف توجہ کرتے ہوئے جس میں متشابہ اور غیر متشابہ کے وصف کا ذکر زیتون اور انار کے لیے کیا گیا ہے، یہ معلوم ہوتا ہے کہ زیرِ بحث آیت میں بھی مذکورہ صفت انہی دو درختوں کے بارے میں ہے(۵)
یہ دونوں درخت ظاہری شکل نیز شاخوں اور پتوں کی ساخت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بہت زیادہ شباہت رکھتے ہیں ۔ جبکہ پھل ، ذائقہ اور خاصیت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے اِن میں فرق ہے۔ ان میں سے ایک موثر اور قوی روغنی مادہ رکھتا ہے اور دوسرے میں ترش یا میٹھا مادہ ہوتا ہے جو بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، علاوہ ازیں بعض اوقات یہ دونوں درخت ایک ہی زمین میں پرورش پاتے ہیں اور ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں (یعنی ان دونوں صفات میں سے ہر ایک درختوں اور پھلوں کے ایک گروہ کے لئے ہے، لیکن پہلی تفسیر کے مطابق دونوں صفات ایک ہی چیز کے لیے تھیں ۔
اس کے بعد بحث کو پیکرِ درخت کے اعضاء سے موڑتے ہوئے اُن کے پھلوں سے متعلق بحث کرتے ہوئے کہتا ہے: ایک نظر درخت کے پھل کی طرف کرو جب کہ وہ ثمر آور ہوئے، اور اسی طرح اس کے پکنے کی کیفیت کی طرف نگاہ کرو کہ ان میں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں خدا کی قدرت وحکمت کی واضح نشانیاں موجود ہیں( انظُرُوا إِلَی ثَمَرِهِ إِذَا اٴَثْمَرَ وَیَنْعِهِ إِنَّ فِی ذَلِکُمْ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ) ۔
اس بات کی کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو آج کے زمانے میں نباتات کی تحقیق کے بارے میں پھلوں کی پیدائش کی کیفیت اور ان کے پکنے کے سلسلے میں کہا گیا ہے، وہ خاص نکتہ جس کا قرآن پھل کے بارے میں ذکر کرتا ہے واضح ہوجاتا ہے۔ کیونکہ پھلوں کا پیدا ہونا بعینہ جاندارون میں بچہ پیدا ہونے کی طرح ہے۔ نر نطفے مخصوص ذرائع سے (ہوا کے چلنے یا حشرات وغیرہ کے سبب سے) مخصوص تھیلیوں سے جدا ہوتے ہیں اور نباتات کے مادہ حصّہ پر جاپڑتے ہیں ۔ عمل تلقیح انجام پانے اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ ترکیب پانے کے بعد پہلا بیج تشکیل پاتا ہے اور کئی قسم کے مواد غذائی اسے اطراف میں گوشت کی طرح آغوش میں لے لیتے ہیں ۔ یہ مواد غذائی ساخت کے لحاظ سے بہت ہی متنوع اور مختلف ہیں ۔ اسی طرح ذائقہ اور غذائی وطبی خواص کے لحاظ سے بھی بہت مختلف ہیں ، کبھی ایک پھل (مثلاً انار اور انگور) میں سینکڑوں دانے ہوتے ہیں کہ جن میں سے ہر دانہ خود جنین اور ایک درخت کا بیج شمار ہوتا ہے اور اس کی ساخت بہت ہی پیچیدہ اور اندر ہی اندر ہوتی ہے۔
انار کی ساخت
تمام پھلوں کی ساخت اور ان کے غذائی ودوائی مواد اس بحث کی گنجائش سے خارج ہیں ۔ لیکن کوئی حرج نہیں ہے کہ نمونہ کے طور پر انار کے پھل کی ساخت کی طرف اشارہ کیا جائے کہ جس کی طرف قرآن نے مندرجہ بالا آیت میں اشارہ کیا ہے۔
اگر ہم انار کو چیزیں اور اس کا ایک چھوٹا سا دانا ہاتھ میں لے کر اُسے آفتاب یا چراغ کے سامنے رکھیں اور صحیح طور پر اس میں غور وفکر کریں تم ہم دیکھیں گے کہ وہ چھوٹے چھوٹے حصّوں سے بنا ہوا ہے کہ جو انتہائی چھوٹی چھوٹی شیشیوں کا مانند، انار کے پانی کی ایک خاص مقدار لیے، ایک دوسرے کے پاس چن دی گئی ہیں ، انار کے ایک چھوٹے سے دانے میں شاید اس قسم کی سینکڑوں چھوٹی چھوٹی شیشیاں موجود ہیں ۔ پھر ان کے اطراف کو ایک باریک چھلکے کے ساتھ جو انار کے ایک دانے کا چھلکا ہے گھیرا ہوا ہے۔ پھر اس غرض سے کہ یہ بستہ بندی کامل تر، محکم تر اور خطرے سے دور تر رہے، انار کے دانوں کی ایک خاص تعداد کو ایک ستون پر ایک خاص نظام کے ساتھ چن دیا گیا ہے اور ایک سفید رنگ کا پردہ جو نسبتاً موٹا ہے اس کے اطراف میں لپیٹ دیا گیا ہے اور اس کے بعد ایک موٹا اور محکم چھلکا جو دونوں طرف سے خاص قسم کا لعاب رکھتا ہے ان سب کے اُوپر کھینچ دیا گیا ہے تاکہ وہ ہوا اور جراثیم کے نفوذ کو روکے اور ضربات سے بھی ان کی حفاظت کرے اور دانوں کے اندر موجود پانی کے بخارات بننے کے امکانات کو زیادہ سے زیادہ کم کرے۔ یہ نازک اور عمدہ بستہ بندی انار کے دانوں کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے، بلکہ دوسرے پھلوں مثلاً مالٹا اور لیموں وغیرہ میں بھی نظر آتی ہے لیکن انار اور انگور میں زیادہ عمدہ اور جاذب نظر ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نوع بشر نے بھی سیال چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے اسی سے سبق سیکھا ہے کہ وہ پہلے چھوٹی چھوتی شیشیوں کو ایک چھوٹے ڈبوں کو ایک بڑے کارٹون میں رکھ دیتے ہیں اور ان کے مجموعے کو ایک بڑے بنڈل کی صورت میں منزلِ مقصود کی طرف اٹھاکر لے جاتے ہیں ۔
انار کے دانوں کے داخلی ستونوں پر قرار پکڑنے کی طرز اور اپنے حصّہ کا پانی اور مواد غذائی اُن سے حاصل کرنا اس سے بھی زیادہ عجیب اور حیرت انگیز ہے۔ سب سے انوکھی بات یہ ہے کہ یہ وہ چیزیں ہیں کہ جنھیں ہم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ لیتے ہیں ۔ لیکن اگر ہم ان پھلوں کے ذرّات کو (مائیکرو سکوپ) دوربین کے نیچے رکھ کر دیکھیں تواس وقت ایک پُرغوغا جہاں عجیب وغریب اور حیرت انگیز بنیادوں اور تعمیرات کے ساتھ حد سے زیادہ منظم طریقے پر ہماری نظروں کے سامنے مسجم ہوجاتا ہے۔ تو کس طرح ممکن ہے کہ کوئی شخص چشم حقیقت بین کے ساتھ ایک پھل کی طرف نگاہ کرے اور پھر یہ عقیدہ رکھے کہ اس کو بنانے والا علم ودانش نہیں رکھتا؟ اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں قرآن ”انظروا“ (نگاہ کرو) کے لفظ کے ساتھ اس قسم کے نباتات کے بارے میں دقتِ نظر اور غور وفکر کرنے کا حکم دیتا ہے، انہی حقائق کی طرف توجہ کرنے کے لئے ہے۔
ایک طرف سے تو یہ حقائق اور دوسری طرف سے وہ مختلف مراحل جو ایک پھل کچی حالت میں لے پکنے کے موقع تک طے کرتا ہے ، بہت ہی قابلِ ملاحظہ ہے، کیونکہ پھلوں کے اندر کی لیبارٹریاں ہمیشہ کام میں مشغول رہتی ہیں اور ترتیب دار اس کی کمیائی ترکیب میں تبدیلی کرتی رہتی ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری مرحلہ تک جاپہنچے اور اس کی کیمیائی ترکیب صحیح صورت اختیار کرلے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے مقام پر خالق کائنات کی عظمت وقدرت کی ایک نشانی ہے۔
لیکن اس بات کی طرف توجہ رہے رکھنا چاہیے کہ قرآن کی تعبیر کے مطابق صرف صاحبانِ ایمان افراد یعنی حق بین اور حقیقت جُو ہی ان مسائل کو دیکھتے ہیں ، ورنہ چشم عناد اور ہٹ دھرمی یا بے اعتنائی اور سہل انگاری کے ساتھ یہ ممکن نہیں ہے کہ ان حقائق میں سے کسی ایک کو بھی نہ سکیں ۔
____________________
۱۔تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۷۵۰-
۲۔ مفردات راغب، ص۳۸۴-
۳۔ ”خضر“ بمعنی ”اخضر“ یعنی ”سبز رنگ“ ہے اس بناپر تمام سبزوں کو یہاں تک کہ درختوں کی کونپلوں کو بھی شامل ہے لیکن اُوپر والی آیت سے چونکہ اس میں غذائی دانوں کی طرف اشارہ ہوا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ یہاں خصوصیت سے زراعت مراد ہے۔
۴۔ ”متراکب“ ”رکوب“ کے مادہ سے ”سواری“ کے معنی میں یعنی ایسے دانے جو ایک دوسرے پر سوار ہوتے ہیں اور زیادہ تر غذائی دانے ایسے ہیں ۔
۵۔ راغب کتاب ”مفردات“ میں کہتا ہے:”مُشْتَبِهًا وَغَیْرَ مُتَشَابِهٍ“ و” مُتَشَابِهًا وَغَیْرَ مُتَشَابِهٍ“ تقریباً ایک ہی معنی رکھتے ہیں ۔
آیات ۱۰۰،۱۰۱،۱۰۲،۱۰۳
۱۰۰( وَجَعَلُوا لِلّٰهِ شُرَکَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِینَ وَبَنَاتٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا یَصِفُونَ ) -
۱۰۱( بَدِیعُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ اٴَنَّی یَکُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَکُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ وَهُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ ) -
۱۰۲( ذَلِکُمْ اللهُ رَبُّکُمْ لَاإِلَهَ إِلاَّ هُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ ) -
۱۰۳( لَاتُدْرِکُهُ الْاٴَبْصَارُ وَهُوَ یُدْرِکُ الْاٴَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ ) -
ترجمہ:
۱۰۰ ۔ انھوں نے جنوں میں سے خدا کے شریک قرار دیئے ہیں ، حالانکہ خدا نے اُن سب کو پیدا کیا ہے اور انھوں نے خدا کے لئے بیٹے اور بیٹیاں جھوٹ اورجہالت سے بنا رکھے ہیں ، خدا اس بات سے منزہ وبرتر ہے جو یہ اس کی توصیف (میں بیان) کرتے ہیں ۔
۱۰۱ ۔آسمانوں اور زمین کی ابداع کرنے اور (اور انھیں تازہ اورنیا وجود عطا کرنے والا) وہی ہے، کیسے ممکن ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو حالانکہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہے اور سب چیزوں کو اسی نے پیدا کیا ہے اور وہ سب چیزوں کو جانتا ہے ۔
۱۰۲ ۔ہاں ! ایسا ہی ہی تمھارا خدا ، تمھارا پروردگار، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ تمام چیزوں کا خالق ہے (تم صرف )اسی کی عبادت کرو، اور وہ تمام موجودات کا حافظ اور مدبر ہے۔
۱۰۳ ۔آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتی، لیکن وہ سب آنکھوں کا ادراک رکھتا ہے، اور وہ (طرح طرح کی نعمتوں کا) عطا کرنے والا ہے (اور چھوٹے چھوٹے کاموں سے باخبر)اور (تمام چیزوں سے ) آگاہ ہے ۔
تمام چیزوں کا خالق وہی ہے
ان آیات میں مشرکین اور باطل مذہب رکھنے والوں کے کچھ غلط اور بیہودہ عقائد بیان کئے گئے ہیں اور ان کے منطقی جواب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔
پہلے فرمایا گیا ہے:وہ جنوں میں سے خدا کے لئے شرکاء کے قائل ہوگئے ہیں (وَجَعَلُوا لِلّٰہِ شُرَکَاءَ الْجِن)۔
اس بارے میں یہان پر جن سے مراد اس کا لغوی معنی یعنی جنس انسانی سے غائب اور پوشیدہ موجودات ہے یا خاص طور پر وہ جنات مراد ہیں کہ جن کے بارے میں قرآن نے بارہا گفتگو کی ہے اور ہم اس کی طرف عنقریب اشارہ کریں گے، مفسرین نے اس سلسلہ میں دواحتمال بیان کئے ہیں ۔
پہلے احتمال کی بنا پر ممکن ہے کہ آیت ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہو جو فرشتوں اور ہر دکھائی نہ دینے والی چیز کی پرستش کرتے تھے، لیکن دوسرے احتمال کی بنا پر آیت ان لوگوں کی طرف اشارہ کررہی ہے جو گروہ جنات کا خدا کا شریک یا اس کی بیوی سمجھتے تھے۔
”کلبی“ ”الاصنام“ میں نقل کرتے ہیں کہ عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلہ جا کا نام ”بنو طیح“ تھا کہ جو قبیلہ ”خزاعہ“ کی شاخ تھا جن کی پرستش کرتا تھا(۱) کہا جاتا ہے کہ ”جن“ کی عبادت اور اسکی الوہیت کا عقیدہ قدیم یونان اور ہندوستان کے بیہودہ اور فضول مذہب میں بھی پایا جاتا تھا(۲) ۔
جیسا کہ سورہ صافات کی آیہ ۱۵۸ ہے:”( وَجَعَلُوا بَیْنَهُ وَبَیْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا ) “۔
”وہ خدا اور جنات کے درمیان رشتہ داری کے قائل ہوگئے تھے “۔
اس سے معلو م ہوتا ہے کہ عربوں کے درمیان کچھ ایسے لوگ موجود تھے جو جنوں کی خدا کے ساتھ ایک قسم کی رشتہ داری کے قائل تھے۔
اور جیسا کہ بہت سے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ قریش کا یہ عقیدہ تھا کہ خدا نے جنیات کے ساتھ شادی کی ہے اور فرشتے اس شادی کا نتیجہ اور ثمر ہے۔(۳)
اس کے بعد اس فضول اور بیہودہ خیال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے :حالانکہ خدا نے تو انھیں (یعنی جنات کو) پیدا کیا ہے ( وَخَلَقَھم) یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی کی مخلوق اسی کی شریک ہوجائے کیوں کہ شرکت ہم جنس اور ہم رتبہ ہونے کی علامت ہے حالانکہ مخلوق ہرگز خالق کی ہم پلہ نہیں ہوسکتی۔
دوسری بیہودہ بات یہ تھی کہ: وہ خدا کے لئے نادانی سے بیٹوں اور بیٹیوں کے قائل ہوگئے تھے ( وَخَرَقُوا لَہُ بَنِینَ وَبَنَاتٍ بِغَیْرِ عِلْمٍ )۔
حقیقت میں ان بیہودہ عقائد کے باطل ہونے کی بہترین دلیل وہی ہے جو ”بغیر علم “ کے الفاظ سے معلوم ہوتی ہے یعنی کسی قسم کی کوئی دلیل اور نشانی ان خرافات وموہومات کے لئے ان کے پاس موجود نہ تھی۔
لائق توجہ بات یہ ہے کہ” خرقوا“ ”خرق“ (بروزن غرق) کے مادہ سے لیا گیا ہے، جو اصل میں کسی چیز کو بے سوچے سمجھے اور بلاوجہ پارہ پارہ کرنے کو کہتے ہیں ۔یہ لفظ ٹھیک لفظ ”خلق“ کے بالمقابل ہے جو کسی چیز کو سوچ سمجھ کر کسی حساب سے ایجاد کرنے کے معنی میں استعمال ہوتاہے ۔ یہ دونوں لفظ(خلق اور خرق) کبھی کبھار گھڑے ہوئے اور جھوٹے مطالب کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں ، زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ وہ جھوٹ جو سوچ سمجھ کر کسی حساب سے گھڑے گئے ہوں وہ تو خلق واخلاق کہلاتے ہیں اور وہ جھوٹ جو بغیر کسی حساب اور اندازے کے اور اصطلاح کے مطابق شاخدار جھوٹ ہوں انھیں ”خرق واختراق “ کہا جاتا ہے۔
یعنی انھوں نے یہ جھوٹ اس کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کئے بغیر اور اس کے لوازم پر نظر کئے بغیر گھڑا ہے۔
اب رہی یہ بات کہ وہ کونسے گروہ تھے جو خدا کے لئے بیٹوں کے قائل تھے، قرآن نے دوسری آیت میں دو گروہوں کے نام لئے ہیں ۔ایک عیسائی جو حضرت عیسیٰ - کے خدا کا بیٹا ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے اور دوسری یہودی جو عزیر - کا خدا کا بیٹا سمجھتے تھے اور جیسا کہ سورہ توبہ کی آیہ ۳۰ سے اجمالی طور پر معلوم ہوتا ہے اور محققین معاصر کی ایک جماعت نے بھی عیسائیت اور بدھ مذہب کے مشترک اصولوں کو خصوصا مسئلہ تثلیث میں مطالعہ کرنے کے بعد یہ معلوم کیا ہے کہ خدا کا بیٹا عیسائیوں اور یہودیوں میں ہی منحصر نہیں تھا بلکہ ان سے پہلے کے فضول وبیہودہ قسم کے مذاہب میں بھی موجود تھا۔
باقی رہا کہ بیٹیوں کے وجود کا عقیدہ تو خود قرآن نے دوسری آیات میں اس مطلب کو واضح کیا ہے، اور فرمایا ہے کہ:
”( وَجَعَلُوا الْمَلَائِکَةَ الَّذِینَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَانِ إِنَاثًا ) “
”وہ فرشتوں کو جو خدا کے بندے ہیں اس کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں “(زخرف: ۱۹)
جیسا کہ ہم سطور بالا میں بھی اشارہ کرچکے ہیں تفاسیر وتواریخ میں ہے کہ قریش کا ایک گروہ اس بات کا معتقد تھا کہ فرشتے خدا کی وہ اولاد ہیں جو خدا کی جنیات سے شادی کرنے کے نتیجہ میں وجود میں آئے ہیں ۔
لیکن اس آیت کے آخر میں قرآن نے ان بیہودہ مطالب اور موہوم وبے بنیاد خیالات پر قلم سرخ کھینچ دیا ہے اور ایک عمدہ اور بیدار کرنے والے جملے کے ساتھ ان تمام باطل باتوں کی نفی کردی ہے اور فرمایا ہے کہ: خدا (ان خرافات سے ) منزہ ہے اور ان اوصاف سے برتر وبالاتر ہے جو وہ اس کے لئے بیان کرتے ہیں (سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یَصِفُونَ )۔
بعد والی آیت میں ان بیہودہ عقائد کا جواب دیتے ہوئے پہلے کہا گیا ہے:خدا وہ ہستی ہے کہ جس نے آسمان اور زمین کو ایجاد کیا ہے( بَدِیعُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔
آیا کوئی اور بھی ایسا ہے کہ جس نے ایسا کام کیا ہو، یا ایسا کرنے کی قدرت ہی رکھتا ہو۔ جس کی بنا پر وہ عبودیت میں اس کا شریک سمجھا جائے؟ نہیں ! ایسا نہیں ہے، بلکہ سب اس کی مخلوق ہیں اور اسی کے تابع فرمان ہیں اور اسی کی ذات پاک کے سب محتاج ہیں ۔
علاوہ ازایں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو جب کہ اس کہ بیوی ہی نہیں ہے( اٴَنَّی یَکُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَکُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ ) ۔
اصولی طور پر اسے بیوی کی ضرورت ہی کیا ہے اور پھر یہ بات کس کے لئے ممکن ہے کہ وہ اس کی (بیوی یا ) ہمسر ہوسکے جب کہ سب اس کی مخلوق ہیں ۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر اس کی ذات مقدس عوارض جسمانی سے پاک ومنزہ ہے اور بیوی اور اولاد کا ہونا واضح طور پر جسمانی اور مادی عوارض میں سے ہیں ۔
دوسری مرتبہ پھر تمام چیزوں اور تمام افراد کے بارے میں اسی کے خالق ہونے اور ان تمام کے متعلق اس کے احاطہ علمی کو بیان کرتے ہوئے کہا گیاہے : اس نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ، اور وہ ہر چیز کا عالم( وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ وهُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمٌ ) ۔
تیسری زیر بحث آیت میں تمام چیزوں کا خالق ہونے، آسمان اور زمین کو ایجاد کرنے، اور اس عوارض جسم وجسمانی اور بیوی اور اولاد سے منزہ ہونے اور ہر کام اور ہر چیز پر اس کے احاطہ علمی کا ذکر ہونے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ”تمھارا خدا اور پروردگار ایسی ذات ہے اور چونکہ اور کوئی ان صفات کا حامل نہیں ہے لہٰذا اس کے سوا اور کوئی بھی عبودیت کے لائق نہیں ہوسکتا، پروردگار وہی اور خالق وآفریدگار بھی وہی ہے اس بنا پر معبود صرف وہی ہوسکتا ہے لہٰذا اسی کی پرستش وعبادت کرو( ذَلِکُمْ اللهُ رَبُّکُمْ لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوهُ ) ۔
آیت کے آخر میں اس مقصد کے پیش نظر اور اس غرض سے کہ غیر خدا سے ہرقسم کی امید کو قطع کردے اور ہر قسم کے شرک کی جڑ کو اور خدا کے سوا اور کسی پر بھی بھروسہ کرنے کو کلی طور پر ختم کردے قرآن کہتا ہے: اور وہی تمام چیزوں کا حافظ ونگہبان ومدبر ہے( وَهُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ ) ۔
اس بنا پر تمھارے مشکلات کے حل کی جابیاں صرف اسی کے ہاتھ میں اور اس کے سوا کوئی بھی شخص اس کام کی توانائی نہیں رکھتا، کیوں کہ اس کے سوا جو بھی ہیں وہ سب اس کے محتاج اور نیاز مند ہیں اور اس کے احسان کی آس لگائے بیٹھے ہیں تو ان حالات میں کوئی وجہ نہیں کہ کوئی شخص اپنی مشکلات کسی اور کے پاس لے جائے اور اس کا حل اس سے چاہے۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں ”علی کل شیء وکیل“ کہا گیا ہے نہ ”لکل شیء وکیل“ اور ان دونوں کے درمیان فرق واضح ہے کیوں کہ لفظ ”علی“کاذکراس کے تسلط اور نفوذ امر کی دلیل ہے جب کہ لفظ” لام“ کا استعمال تابع ہونے کی نشانی ہے۔
دوسرے لفظوں میں تعبیر اولولایت اور حافظ ہونے کے معنی میں ہے اور دوسری تعبیر نمائندگی کے معنی میں ہے ۔
آخری زیر بحث میں تمام چیزوں پر اس کی حاکمیت اور نگہبانی کو ثابت کرنے کے لئے اور اسی طرح تمام موجودات سے اس کے فرق کو ثابت کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے:آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں لیکن وہ تمام آنکھوں کا ادراک کرتا ہے وہ طرح طرح کی نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے اور ہر چھوٹے سے چھوٹے کام سے باخبر اور آگاہ ہے، وہ بندوں کے مصالح کو جانتا ہے اور ان کی حاجات وضروریات سے باخبر ہے اور اپنے لطف کرم کے مطابق ان کے ساتھ برتاؤ کرتا ہے( لاَتُدْرِکُهُ الْاٴَبْصَارُ وَهُوَ یُدْرِکُ الْاٴَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِیفُ الْخَبِیر ) ۔
حقیقت جو یہ چاہتا ہو کہ وہ تمام چیزوں کا محافط ومربی اور سہارا ہو اسے ان صفات کا حامل ہونا چاہیے۔
علاوہ از ایں یہ جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ تمام موجودات جہاں سے مختلف ومتفاوت ہے کیوں کہ ان میں سے کچھ چیزیں تو ایسی ہیں کہ جو دیکھتی بھی ہیں اور خود بھی دیکھی جاتی ہیں ، جیسے انسان ہے اورکچھ ایسی ہیں جو نہ خود دیکھتی ہیں اور نہ ہی دیکھی جاتی ہیں ، جیسے ہمارے اندرونی صفات، اور بعض ایسی ہیں کہ جنھیں دیکھا تو جاسکتا ہے لیکن وہ کسی کو نہیں دیکھتیں ، جیسے جمادات، تنہا وہ ہستی ہے کہ جسے دیکھا تو نہیں جاسکتا لیکن وہ ہر چیز اور ہر شخص کو دیکھتی ہے صرف اسی کی ذات پاک ہے ۔
____________________
۱۔تفسیرفی ظلال، جلد سوم ، صفحہ ۳۲۶(پاورقی)(حاشیہ)-
۲۔ تفسیر المنار، جلدہشتم صفحہ ۶۴۸-
۳۔ تفسیر مجمع البیان اور دیگر تفاسیر زیر نظر آیہ کے ذیل میں -
چند قابل توجہ نکات
۱ ۔ آنکھیں خدا کو نہیں دیکھ سکتیں :عقلی دلائل گواہی دیتے ہیں کہ خدا کو آنکھوں کے ساتھ ہرگز نہیں دیکھا جاسکتا، کیون کہ آنکھیں صرف اجسام کو یا زیادہ صحیح طور یہ کہ وہ ان کی بعض کیفیات کو ہی دیکھ سکتی ہے اور وہ چیز کہ جو نہ جسم ہے اور نہ ہی جسم کی کوئی کیفیت، ہرگز آنکھ سے نظر نہیں آسکتی، دوسرے الفاظ میں اگر کوئی چیز آنکھ سے دیکھی جاسکے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی مکان میں ہو اور کسی جہت میں ہو اور ماسدہ رکھتی ہو جب کہ وہ ان تمام باتوں سے(پاک اور ) برتر ہے، وہ ایک ایسا وجودہے کہ جا نامحدود ہے اور وہ اسی دلیل سے جہاں مادہ سے بالاتر ہے، کیوں کہ جہاں مادہ میں تمام چیزیں محدود ہیں ۔
قرآن کی بہت سی آیات میں جن سے وہ آیات ہیں کہ جو بنی اسرائیل کے بارے میں ہیں ، اور ان کی طرف سے خدا وند تعالی کی رویت کا تقاضا کرنے کے متعلق گفتگو کرتی ہے، وہ کامل صراح کے ساتھ خدا کی رویت کے امکان کی نفی کرتی ہیں ( جیسا کہ انشااللہ اس کی تفصیل سورہ اعراف کی آیہ ۱۴۳ کی تفسیر میں آئے گی ۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ بہت سے اہل سنت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا اگر اس جہاں میں نظر نہ آئے تو عالم قیامت میں اس کا دیدار ہوسکے گا، تفسیر المنار کے مولف کے بقول :
”هذا مذاهب اهل السنة والعالم بالحدیث “
”یہ عقیدہ اہل سنت اور علماء حدیث کا ہے“۔(۱)
اور اس کے بھی بڑھ کر تعجب کی بات یہ ہے کہ محققین معاصرتک بھی یعنی ان کے روشن فکر حضرات بھی اسی نظریہ کی طرف مائل نظر آتے ہیں ، یہاں تک کہ بعض اوقات تو وہ بڑی سختی کے اس عقیدہ پر جم جاتے ہیں ۔
حالانکہ اس عقیدہ کا باطل ہونا اس قدر واضح ہے کہ بحث کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیوں کہ دنیا وآخرت میں (معاد جسمانی کی طرف توجہ کرتے ہوئے) اس مسئلہ میں کوئی فرق نہیں ، کیا وہ خدا جو ایک مافوق مادہ وجود ہے قیامت کے دن ایک مادی وجود میں تبدیل ہوجائے گا؟اور اس نامحدود مقام سے محدود مقام میں تبدیل ہوجائے گا؟ کیا وہ اس دن جسم یا عوارض جسم میں بدل جائے گا؟ کیا خدا کی رویت کے عدم امکان کے بارے میں دلائل عقلی دنیا وآخرت کے درمیان کسی قسم کا کوئی فرق ظاہر کرتے ہیں ؟درانحالیکہ عقل کا فیصلہ اس بارے میں ناقابل تبدیل ہے۔
اور یہ عذر جو ان میں سے بعض نے اختیار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ انسان دوسرے جہان میں ایک دوسرا ادراک اور نظر پیدا کرلے، ایک ایسا عذر ہے کہ جو کامل طور پر بلا دلیل ہے کیوں کہ اگر اس ادراک ونظر سے مراد فکری وعقلی نظر ہے ، تو وہ تو اس جہان میں وجود رکھتی ہے اور دل کی آنکھ اور عقل کی قوت سے خدا کے جمال کا مشاہدہ کرتے ہیں ، اور اگر اس سے مراد کوئی ایسی چیز ہے کہ جس سے جسم کو دیکھا جاسکتا ہے تو ایسی چیز خدا کے بارے میں محال ہے چاہے وہ اس دنیا میں ہو یا دوسرے جہان میں ، اس بنا ہر مذکورہ گفتگو کہ انسان اس جہان میں تو خدا کو نہیں دیکھتا ، لیکن مومنین قامت کے دن خدا کو دیکھیں گے، ایک غیر منطقی اور ناقابل قبول گفتگو ہے،غالبا تنہا ایک چیز جو اس بات کا سبب بنی ہے کہ جو اس عقیدہ کا دفاع کرے، یہ ہے کہ کچھ احادیث میں ان کی معروف کتابوں میں نقل ہوئی ہیں ، قیامت میں خدا کی رویت کا امکان بیان ہوا ہےم لیکن کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ عقل کے فیصلہ کی رو سے اس موضوع کے باطل ہونے کو ان روایات کے جعلی ہونے اور ان کتابوں کے غیر معتبر ہونے کی دلیل سمجھیں کہ جن میں اس قسم کی روایات بیان کی نقل کی گئی ہیں ، سوائے اس صورت کہ ان روایات کا معنی دل کی آنکھ سے مشاہدہ کرنا ہو ؟کیا یہ صحیح ہے کہ اس قسم کی احادیث کی وجہ سے عقل وخرد کے فیصلہ کو چھوڑ دیں اور اگر قرآن کی بعض آیات میں ایسی تعبیرات موجود ہیں جن سے ابتدائی نظر میں رویت خدا کے مسئلہ کا اظہار ہوتا ہے جیسے :”( وُجُوهٌ یَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ ، إِلَی رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ) “
”اس دن کچھ چہرے پر تراوت اور پررونق ہوں گے اور وہ اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے“(۲)
یہ تعبیرات ایسی ہے جیسے :”( یَدُ اللّٰه فَوقَ اَیدِیْهِمْ ) “”خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے“۔(۳)
یہ تعبیرات کنایہ کا پہلو رکھتی ہیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی کوئی آیت کبھی بھی عقل خرد کے حکم وفرمان کے خلاف نہیں ہوسکتی ۔
قابل وجہ بات یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں اس فضول عقیدہ کی شدت کے ساتھ نفی کی گئی ہے اور ایسے عقائد رکھنے والوں پر دنداں شکن تعبیرات کے ساتھ تنقید کی گئی ہے، منجملہ ان کے امام صادق علیہ السلام کے مشہور اصحاب میں سے ایک صحابی جن کانام ہشام ہے، فرماتے ہیں :
میں امام صادق - کے پاس موجود تھا کی معاویہ بن وہاب (آپ کے ایک اور صحابی) وارد ہوئے اور کہنے لگے :اے فرزند رسول! آپ اس حدیث کے متعلق کیا فرماتے ہیں کہ جو رسول خدا کے بارے میں وارد ہوئی ہے کہ انھوں نے خدا کودیکھا؟ تو آپ نے خداکو کس طرح دیکھا؟ اور اسی طرح ایک دوسری حدیث کے بارے میں کہ جو آنحضرت سے نقل ہوئی ہے کہ مومنین بہشت اپنے پروردگار کو دیکھیں گے، تو وہ کس طرح دیکھے گے؟۔
امام صادق علیہ السلام نے ایک (تلخ) تبسم کیا اور فرمایا: اے معاویہ بن وہاب! یہ بات کتنی بری ہے کہ انسان ستر اسی سال عمر گزرے خدا کے ملک میں زندگی بسر کرے اور اس کی نعمت کھاتا رہے اور اس کو صحیح طرح سے نہ پہچانے، اے معاویہ ! پیغمبر نے ہرگز خدا کو اس آنکھ سے نہیں دیکھا، مشاہدہ دو قسم کا ہوتا ہے ایک دل کی آنکھ سے دیکھنا اور (دوسرے) ظاہری آنکھوں سے دیکھنا، جو شخص دل کی آنکھ سے مشاہدہ کی بات کہتا ہے وہ تو صحیح کہتا ہے اور جو شخص ظاہری آنکھ سے خدا کے مشاہدہ کی بات کرتا وہ جھوٹ بولتا ہے اور خدا اوراس کی آیات کا کافر ومنکر ہے، کیوں کہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا ہے کہ جو شخص خدا کو مخلوق کے مشابہ سمجھے وہ کافر ہے۔(۴)
ایک اور روایت توحید صدوق میں اسماعیل بن فضل سے منقول ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا خدا قیامت کے دن نظر آئے گا؟ آپ - نے فرمایا:
خداوندا ایسی چیز سے منزہ ہے ، اور بہت ہی منزہ ہے ---( انّ الابصار لاتدرک الامالون ولکیفیة واللّٰه خالق الالوان والکیفیات ) آنکھیں نہیں دیکھتی مگر ایسی چیزوں کو کہ جو رنگ وکیفیت رکھتی ہیں جب کہ خدا رنگوں اور کیفیتوں کا خالق ہے۔(۵)
توجہ طلب بات یہ ہے کہ اس حدیث میں خصوصیت کے ساتھ ”لون“(رنگ) کا ذکر کیا گیا ہے اور آج کی دنیا میں ہم پر یہ مطلب واضح ہوچکا ہے کہ خود جسم نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کا رنگ دیکھا جاتا ہے، اور اگر کوئی جسم کسی قسم کارنگ نہیں رکھتا ہو تو وہ ہرگز دیکھا نہیں جائے گا(تفسیر نمونہ کی پہلی جلد میں سورہ بقرہ کی آیہ ۴۶ کے ذیل میں بھی ہم اس سلسلہ میں ایک بحث کرچکے ہیں ۔(۶)
۱۲ ۲--- ۔ خدا ہی تمام چیزوں کا خالق ہے:بعض مفسرین اہل سنت نے جو عقیدہ کے لحاظ مذہب جبر کے قائل ہیں اوپروالی آیت کے ساتھ جو خدا نے تمام چیزوں کے خالق ہونے کو بیان کرتی ہے مسلک جبر پر استدلال کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال وافعال بھی اس جہاں کی اشیاء میں سے ہیں ، کیوں کہ” شیء“ (چیز) ہر قسم کے وجود کو کہاجاتا ہے خواہ وہ مادی ہو یا غیر مادی، خواہ ذات ہو یا صفت، اس بنا پر جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا ہر چیز کا خالق ہے تو ہمیں قبول کرنا چاہیے کہ وہ ہمارے افعال کا بھی خالق اور یہ جبر کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔
لیکن آزادی ارادہ واختیار کے طرفدار اس قسم کے استدلال کا روشن اور واضح جواب رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا وند تعالی کی خالقیت ہمارے افعال کے بارے میں بھی ہمارے مختار ہونے کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں رکھتی، کیوں کہ ہمارے افعال کو ہماری طرف بھی منسوب کیا جاسکتا ہے اور خدا کی طرف بھی ، اگر ہم ان کی خدا کی طرف نسبت دیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اس کام کے تمام مقدمات ہمارے اختیار میں دے دئے ہیں ، وہی ذات ہے جس نے ہمیں قدرت وطاقت اور ارادہ واختیار دیا ہے، اس بنا پر چونکہ تمام مقدمات اسی کی طرف سے ہیں لہٰذا ہمارے اعمال اس کی طرف بھی منسوب کئے جاسکتے ہیں اور اسے ان کا خالق جان سکتے ہیں ، لیکن اس نظر سے کہ آخری ارادہ ہماری ہی طرف سے ہے ، وہ ہم ہی ہیں کہ جو خدا کی دی ہوئی قدرت واختیار سے استفادہ کرتے ہیں اور فعل یا ترک میں سے کسی ایک کا انتخاب ہم ہی کرتے ہیں تو اس سبب سے افعال کی نسبت ہماری طرف دی جاتی ہے اور ہم ان کے لئے جوابدہ ہیں ۔
فلسفی تعبیر کے مطابق یہاں دوخالق اور دوعلتیں ایک دوسرے کے عرض میں نہیں ہیں ، بلکہ ایک دوسرے کے طول میں ہیں ، دوعلت تامہ کا ایک ہی عرض میں ہوناکوئی مفہوم نہیں رکھتا، لیکن اگر طولی ہوں تو کوئی مانع نہیں ہے ، چونکہ ہمارے افعال ان مقدمات کا لازمہ ہیں جو خدا نے ہمیں دئے ہیں ، تو ان لوازم کی اس کی طرف بھی نسبت دی جاسکتی ہے اور اس شخص کی طرف بھی کہ جس نے افعا ل کو انجام دیا ہے ۔
اس گفتگو کی مثال ٹھیک اس طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنے کارندوں کو آزمانے کے لئے انھیں اپنے کام میں آزاد چھوڑ دے، اور انھیں مکمل اختیار دیدے اور کام کے تمام مقدمات انھیں مہیا کردے، اب یہ بات ظاہر ہے کہ جو کام وہ انجام دیں گے اہک لحاظ سے ان کے سربراہ کا کام شمار ہوگا لیکن یہ امرکارندوں سے آزادی واختیار کو سلب نہیں کرتا، بلکہ وہ اپنے کام کے بارے میں جوابدہ ہیں ، عقیدہ جبر واختیار کے بارے میں ہم انشاء اللہ متعلقہ آیات کے ذیل میں بحث کریں گے۔(۷)
یہاں بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ کوئی چیز عدم سے وجود میں آجائے، ہم سورہ بقرہ کی آیت ۱۱۷ کے ذیل میں (جلد اول تفسیر نمونہ صفحہ ۱۱۲ ، اردوترجمہ پر) تفصیل سے اس سوال کے جواب میں بحث کرچکے ہیں ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ جو ہم یہ کہتے ہیں کہ تمام موجودات کوخداسے عدم سے وجود میں لایا ہے اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ”عدم“ وہ مادہ ہے کہ جو موجودات عالم کو تشکیل دینے والاہے، جس طرح سے ہم یہ کہتے ہیں کہ بڑھئی نے میز کو لکڑی سے بنایا ہے، ایسی چیز یقینا محال ہے، کیوں کہ عدم وجود کا مادہ نہیں ہوسکتا، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس جہان کی یہ تمام موجودات پہلے موجود نہیں تھیں اس کے بعد وجود میں آئی ہیں ، یہ امر کسی قسم کا کوئی اشکال نہیں رکھتا، اور سلسلے میں ہم نے جلد اول میں بھی کچھ مثالیں بیان کی ہیں اور یہاں پر مزید بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنے فکروذہن میں کچھ ایسی موجودات کو پیدا کرسکتے ہیں جو پہلے کسی صورت میں بھی ہمارے ذہن میں نہیں تھیں ، اس میں شک نہیں کہ یہ ذہنی موجودات اپنے لئے ایک قس، کا وجود وہستی رکھتی ہے ، اگر وہ وجود خارجی کی طرح نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ ہمارے افق میں موجود نہیں ہوتی ہے، اگر کسی چیز کا وجود عدم کے بعد محال ہوتو وجود ذہنی اور وجود خارجی کے درمیان کیا فرق ہے اس بنا پر جس طرح ہم اپنے ذہن میں ایجاد وخلق کرلیتے ہیں جو پہلے موجود نہیں تھیں ، خدا وند تعالی بھی عالم خارج میں ایسا ہی کام کرتا ہے، اس مثال اور ان مثالوں میں جو ہم جلد اول میں بیان کرچکے ہیں تھوڑا سا غور کرنے سے یہ مشکل حل ہوجاتی ہے۔
۴ ۔ لطیف کا معنی کیا ہے: اوپر والی آیات میں خدا وند تعالی کی صفات میں سے ایک صفت ”لطیف“ کا ذکر ہواہے اور وہ مادہ لطف سے ہے، جب وہ اجسام کے بارے میں استعمال ہوتووہ ہلکاہونے کے معنی میں ہے ، جو بوجھل کے مقابلہ میں ہے، اور جس وقت حرکات کے بارے میں (حرکت لطیفہ) استعمال ہوتو ایک چھوٹی سی جلد گزرجانے والی حرکت مراد ہوتی ہے، اور کبھی ایسے موجودات اور کاموں پر بھی جو بہت دقیق اور باریک ہوتے ہیں اور جو قوت حس سے قابل ادراک نہیں ہوتے یہ لفظ بولاجاتا ہے، اور اگر ہم خدا کی لطیف کے نام توصیف کرتے ہیں تو وہ بھی اسی معنی میں ہے یعنی وہ ایسی نظر نہ آنے والی اشیاء کا خالق اور ایسے افعال کا موجد ہے کہ جو قوت سماعت کے دائرے سے باہر ہے، بہت ہی باریک ہے اور حد سے زیادہ دقیق ہے۔
اس سلسلے میں ایک قابل توجہ حدیث فتح بن یزید جرجانی کے واسطے سے امام علی بن موسیٰ رضا - سے نقل ہوئی ہے جو ایک علمی معجزہ شمار ہوتی ہے حدیث اس طرح ہے کہ امام - فرماتے ہیں :
یہ جو ہم کہتے ہیں کہ خدا لطیف ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے لطیف مخلوقات کو پیدا کیا اور اس سبب سے ہے کہ وہ لطیف وظریف اور نظر نہ آنے والی اشیاء سے آگاہ ہے، کیا تم اس کی صنعت کے آثار کو لطیف وغیر لطیف نباتات میں دیکھتے نہیں ہو؟ اور اسی طرح چھوٹی چھوٹی مخلوقات وحیوانات اور باریک باریک حشرات اور ان چیزوں میں جوان سے بھی چھوٹی ہیں ، ایسی موجودات کو کہ جو ہرگز آنکھوں سے دیکھی نہیں جاسکتی، اور اس قدر چھوٹی ہیں کہ ان کے نر مادہ اور نئے اور پرانے بھی پہچانے نہیں جاتے، جب ہم اس قسم کے موضوعات کا مشاہدہ کرتے ہیں ----اور جو کچھ گہرے سمندروں میں ، اور درختوں کی چھال کے نیچے اور بیابانوں اور صحراؤں میں موجود ہے ان پر نظر کرتے ہیں ----اور یہ کہ ایسی ایسی موجودات بھی ہیں کہ جنھیں ہرگز ہماری آنکھیں نہیں دیکھتی اور اپنے ہاتھوں سے انھیں ہم چھو بھی نہیں سکتے تو ان تمام چیزوں سے ہم سمجھتے ہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا لطیف ہے۔(۸)
اوپر والی حدیث جو جراثیم اور خردبینی حیوانات کی طرف اشارہ ہے اور پاسٹور کی پیدائش سے کئی ْسدیون پہلے بیان ہوئی ہے لطیف کی تفسیر کو واضح کرتی ہے۔
اس لفظ کی تفسیر میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ خدا کے لطیف ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کی ذات پاک ایسی ہے جو ہرگز کسی کے بھی حس سے ادراک نہیں ہوسکتی اس بنا پر وہ لطیف ہے کیوں کہ کوئی شخص بھی اس کی ذات سے آگاہ نہیں ہے اور خبیر ہے چونکہ وہ تمام چیزوں سے آگاہ ہے، اس معنی کی طرف بھی بعض روایات اہل بیت علیہم السلام میں اشارہ ہوا ہے،(۹) اور اس بات پر بھی توجہ رکھنی چاہئے کہ اس لفظ کے دونوں ہی معنی مراد لینے میں بھی کوئی امرمانع نہیں ہے۔
____________________
۱۔ تفسیر المنار، جلد۷، صفحہ ۶۵۳۔
۲۔ قیامت:۲۳و ۲۴۔
۳۔فتح:۱۰۔
۴۔ معانی الاخباربنابہ نقل المیزان جلد۸ ، صفحہ ۲۶۸۔
۵۔ نورالثقلین جلداول، صفحہ ۷۵۳۔
۶۔ دیکھئے اردوترجمہ صفحہ ۱۸۳۔
۷۔ کتاب” خدا راچگونہ بشاسیم“کی فصل جبر واختیار کی طرف بھی رجوع فرماسکتے ہیں ۔
۸۔ بدیع کا کیا معنی ہے: جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ لفظ”بدیع“ کا معنی کسی چیز کو بغیر سابقہ کے وجود میں لانے والے کے ہیں ، یعنی خدا وندتعالی نے آسمان وزمین کو کسی پہلے سے موجود مادہ یا بنیاد یا نقشہ ومنصوبہ کے بغیر ایجاد کیا ہے۔
۹۔اصول کافی، جلد اول صفحہ ۹۳-
۱۰۔تفسیر برہان، جلد اول ، صفحہ۵۴۸-
آیات ۱۰۴،۱۰۵،۱۰۶،۱۰۷
۱۰۴( قَدْ جَائَکُمْ بَصَائِرُ مِنْ رَبِّکُمْ فَمَنْ اٴَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا وَمَا اٴَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیظٍ )
۱۰۵( وَکَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْآیَاتِ وَلِیَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَیِّنَهُ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ )
۱۰۶( اتَّبِعْ مَا اٴُوحِیَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ وَاٴَعْرِضْ عَنْ الْمُشْرِکِینَ )
۱۰۷( وَلَوْ شَاءَ اللهُ مَا اٴَشْرَکُوا وَمَا جَعَلْنَاکَ عَلَیْهِمْ حَفِیظًا وَمَا اٴَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَکِیلٍ )
ترجمہ:
۱۰۴ ۔تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھارے لئے واضح دلیلیں آئی ہیں ، جو شخص (اس کے ذریعہ سے حق کو) دیکھے تو یہ اسی کے فائدہ میں ہے اور جو شخص ان کو دیکھنے سے آنکھیں بند کرلے تو خوداسی کا نقصان ہے اور میں تمھیں مجبور نہیں کرتا۔
۱۰۵ ۔اور ہم آیات کو اس طرح مختلف شکلوں میں بیان کرتے ہیں ، اور انھیں کہنے دو کہ تونے سبق پڑھا ہے(اور تونے ان کو کسی دوسرے سے سیکھا ہے) ہمارا ہدف یہ ہے کہ ہم علم آگاہی رکھنے والوں کے لئے اسے واضح کردیں ۔
۱۰۶ ۔ جو کچھ تیرے پروردگار کی طرف سے تجھ پر وہی ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے، اور مشرکین سے منہ پھیرلو۔
۱۰۷ ۔اگر خدا چاہتا (تو سب جبری طور پر ایمان لے آتے اور کوئی بھی) مشرک نہ ہوتا ، اور ہم نے تجھے ان کے اعمال کا جوابدہ قرار نہیں دیا، اور تیری یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ انھیں (ایمان لانے پر) مجبور کرتے۔
تفسیر
پیغمبر مجبور نہیں کرتے
درحقیقت ان آیات میں گذشتہ آیات کا ایک طرح سے خلاصہ اور نتیجہ پیش کیا گیا ہے، پہلے کہا گیا ہے:تمھارے پاس توحید، خدا شناسی اور ہر قسم کے شرک کی نفی کے بارے میں ایسی واضح و روشن دلائل اور نشانیاں آچکی ہیں جو بصیرت وبینائی کا سبب ہے( قَدْ جَائَکُمْ بَصَائِرُ مِنْ رَبِّکُمْ ) ۔
”بصائر“ جمع ہے ”بصیرت“ کی ”بصر“ کے مادہ سے دیکھنے کے معنی میں لیکن عام طور پر یہ لفظ فکری وعقلی بصیرت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، بعض اوقات ان تمام امور پر اس کا اطلاق ہوتا کہ جو کسی مطلب کے ادراک وفہم کا باعث ہو، زیر نظر آیت میں یہ لفظ دلیل، شاہد اور گواہ کے معنی میں آیا ہے، اور ان تمام دلائل کو جو گذشتہ آیات میں خدا شناسی کے سلسلہ میں بیان کی جاچکی ہیں اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے بلکہ سارا قرآن اس کے مفہوم میں موجود ہے۔
اس کے بعد یہ حقیقت واضح کرنے کے لئے یہ دلائل حقیقت کوآشکار کرنے کے لئے کافی ہیں اور منطقی پہلو رکھتے ہیں ، کہا گیا ہے: اور لوگ جو ان دلائل کے ذریعہ حقیقت کے چہرے کو دیکھ لےں تو انھوں نے خود اپنے ہی نفع کی طرف قدم بڑھایا ہے اور وہ لوگ جو اندھوں کی طرح ان کے مشاہدہ سے اپنے آپ کو محروم رکھے انھوں نے اپنے ہی نقصان میں کام کیا ہے( مَنْ اٴَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا ) ۔
اور آیت کے آخر میں پیغمبر کی زبانی کہا گیا ہے :میں تمھارا نگہبان اور محافظ نہیں ہوں( وَمَا اٴَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیظٍ ) ۔
اس بارے میں کہ اس جملے سے مراد کیا ہے، مفسرین نے دواحتمال ظاہر کئے ہیں ۔
پہلا یہ کہ میں تمھارے کاموں کا محافظ ونگہبان اورجوابدہ نہیں ہوں ، بلکہ خدا ہی سب کی نگہداری کرنے والا ہے اور وہی ہر شخص کو جزا وسزا دے گا، میرافریضہ تو صرف رسالت کو پہنچانا اور لوگوں کی ہدایت کے لئے جتنی زیادہ سے زیادہ سعی وکوشش ہوسکتی ہے ، کرنا ہے۔
دوسرا یہ کہ میں اس بات پر مامور اور تمھارا ذمہ دار نہیں ہوں کہ میں تمھیں جبر واکراہ سے طاقت سے اور زبردستی ایمان کی دعوت دوں ، بلکہ میرا فریضہ تو صرف منطقی حقائق بیان کرنا ہے اور آخری تصمیم وارادہ خودتمھارا اپنا کام ہے، اس امر میں کوئی بات مانع نہیں ہے کہ اس لفظ سے دونوں ہی معانی مراد لئے گئے ہوں ۔
بعد والی آیت میں اس امر کی تاکید کے لئے کہ حق وباطل کے انتخاب کی راہ میں آخری ارادہ خود لوگوں کے اپنے اختیار میں ہے فرمای گیا: ہم آیات ودلائل کو اس طرح سے مختلف شکلوں ، مختلف قیافوں اور مختلف صورتوں میں بیان کرتے ہیں( وَکَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْآیَاتِ ) ۔(۱)
لیکن ایک جماعت مخالفت پر کھڑی ہوگی، اور بغیر مطالعہ اور بغیر کسی قسم کی دلیل کے کہنے لگی:تونے یہ درس دوسروں (یہودونصاری اور ان کی کتب ) سے لئے ہیں( وَلِیَقُولُوا دَرَسْتَ ) ۔(۲)
پیغمبر پر اس نظر سے تہمت کہ آپ نے اپنی تعلیمات یہودونصاری سے حاصل کی ہے، ایک ایسی بات ہے جو مشرکین کی طرف سے بارہا کہی گئی ہے اور ہٹ دھرم مخالفین اب بھی ایسا کہتے رہتے ہیں حالانکہ اصولا پورے جزیرہ نمائے عرب میں کوئی درس مکتب اور علم تھا ہی نہیں کہ پیغمبر اسے حاصل کرتے اور جزیرہ نمائے عرب سے باہر پیغمبر کے سفر اس قدر کم تھے کہ جن میں اس قسم کے احتمال کی گنجائش ہی نہیں ہے، پورے حجاز کے اندر رہنے والے یہودیوں اور عیسائیوں کی معلومات بھی اس قدر کم اور خرافات سے مخلوط تھی کہ وہ اصلا اس قابل ہی نہ تھی کہ ان کا قرآن اور تعلیمات پیغمبر سے موازنہ کیا جائے، اس موضوع کے بارے میں ہم انشاء للہ مزید وضاحت سورہ نحل کی آیت ۱۰۳ میں بیان کریں گے۔
اس کے بعد مخالفین کی ہٹ دھرمیوں ، کینہ پروریوں اور تہمتوں کے مقابلے میں پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا فریضہ بیان کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے:تیرا فریضہ یہ ہے کہ تیرے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تجھ پر وحی ہوتی ہے اس کی پیروی کر ،وہ خدا کے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے( اتَّبِعْ مَا اٴُوحِیَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ لاَإِلَهَ إِلاَّ هُوَ ) ۔
نیز تیرا فریضہ یہ ہے کہ ”مشرکین اور ان کی ناروا تہمتوں اور بے بنیاد باتوں کی پرواہ نہ کر“( وَاٴَعْرِضْ عَنْ الْمُشْرِکِینَ ) ۔
حقیقت میں یہ آیت پیغمبراکرم کے لئے ایک قسم کی تسلی اور روحانی تقویت ہے تاکہ اس قسم کے مخالفین کے مقابلہ میں آپ کے عزم راسخ اور آہنی ارادہ میں ذراسی بھی کمزوری واقع نہ ہو۔
ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے اچھی طرح واضح اور روشن ہوجاتا ہے کہ ”واعرض عن المشرکین“ (مشرکین سے منہ پھر لو اور ان کی پروہ نہ کرو)کاجملہ انھیں اسلام کی طرف دعوت دینے کے حکم اور ان کے مقابلے میں جہاد کرنے سے کسی قسم کا اختلاف نہیں رکھتا، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی بے بنیادباتوں اور تہمتوں کی پرواہ نہ کرواور اپنی راہ حق پر ثابت قدم رہو۔
آخری زیر بحث آیت مین اس حقیقت کی دوباری تاکید کی گئی ہے کہ خدا وند تعالی یہ نہیں چاہتا کہ انھیں جبرا ایمان پر آمادہ کرے اور اگر وہ یہ چاہتا تو سب کے سب ایمان لے آتے اور کوئی مشرک نہ ہوتا( وَلَوْ شَاءَ اللهُ مَا اٴَشْرَکُوا ) ۔
اور یہ بھی تاکید کرتا ہے کہ تم ان کے اعمال کے لئے جوابدہ نہیں ہو اور تم انھیں ایمان پر مجبور کرنے کے لئے بھی مبعوث نہیں ہوئے ہو( وَمَا جَعَلْنَاکَ عَلَیْهِمْ حَفِیظًا ) ۔
جیسا کہ تمھارا یہ فرض بھی نہیں کہ تم انھیں کار خیر پر مجبور کرو( وَمَا اٴَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَکِیلٍ ) ۔
”حفیظ“ اور” وکیل“ میں فرق یہ ہے کہ حفیظ تو اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو کسی شخص یا چیز کی نگہبانی کرے اور اسے زیان وضرر پہنچنے سے محفوظ رکھے،لیکن وکیل اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کے لئے منافع ےا حصول کے لئے جستجو اور کوشش کرے۔
شاید یہ بات یاد دلانے کی ضرور ت نہ ہو کہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ان دو صفات (حفیظ ووکیل) نفی دفع ضرر اور جلب منفعت پر مجبور کرنے کی نفی کے معنی میں ہے، اور نہ پیغمبر تبلیغ کے طریقے سے اور نیک کاموں کے بجالانے اور برے کاموں کے ترک کرنے کی دعوت کے ذریعہ ان دونوں فرائض کو ان کے موقع ومحل پر اختیاری صورت میں انجام دیتے ہیں ۔
ان آیات کا لب لہجہ اس نظر سے بہت ہی قابل ملاحظہ ہے کہ خدا پر اور مبانی اسلام پر ایمان لاناکسی قسم کا بھی جبری پہلو نہیں رکھ سکتا، بلکہ ان امور کو منطق واستدلال اور افراد بشر کی فکروررح میں نفوذ کے طریق سے پیش رفت کرنا چاہئے، کیوں کہ جبری ایمان کی تو کوئی بھی قدروقیمت نہیں ہے، اہم بات یہ ہے کہ لوگ حقائق کو سمجھیں اور اپنے ارادہ واختیار کے ساتھ انھیں قبول کریں ۔
قرآن نے بارہا مختلف آیات میں اس حقیقت پر تاکید کی ہے اور وہ ایسے سخت گیر اعمال سے جیسے کہ قرون وسطیٰ(۳) میں کلیہ کے اعمال اور محکمہ تفتیش عقائد وغیرہ کے اعمال تھے اسلام کی بیگانگی کا اعلان کررہا ہے، اور انشاء للہ سورہ برائت کی ابتدا میں مشرکین کے مقابلہ میں اسلام کی سخت گیری کے علل واسباب کو زیر بحث لایا جائے گا۔
____________________
۱۔ ”نصرف“ ،”تصریف“ کے مادہ سے دگر گوں کرنے اور مختلف شکلوں میں لانے کے معنی میں ہے، یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کی آیات، مختلف لب ولہجہ، اور دل میں اترجانے والے تمام وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے، ایسے اشخاص کے لئے جو فکرعقیدہ اور تمام معاشرتی اور نفسیاتی پہلو سے مختلف سطح پر ہوتے ہیں ، نازل ہوئی ہے۔
۲۔ لام”لیقولوا“، اصطلاح کے مطابق(لام عاقبت) ہے، جو کسی کے سرانجام اور عاقبت کے بیان کے لئے لایا جاتاہے، لیکن وہ اس کا اصلی ہدف نہیں ہوتا اور ”درست“ مادہ ”درس“ سے ، حاصل کرنے اور قبضے میں لینے کے معنی میں ہے، اور یہ ایک تہمت تھی جو مشرک پیغمبر اکرم پر لگایا کرتے تھے۔
لیکن ایک اور دوسرا گروہ کہ جو حق کو قبول کرنے کی آمادگی رکھتا ہے اور جس کے افراد صاحب بصیرت، عالم وآگاہ ہیں ، وہ اس کے ذریعہ حقیقت کے چہرے کو دیکھ لیتے ہیں اور اسے قبول کرلیتے ہیں (وَلِنُبَیِّنَهُ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ )۔
۳۔ قرون وسطیٰ: ایک ہزار سالہ دور کو کہتے ہیں جو چھٹی صدی عیسوی سے شروع ہوکر پندرہویں صدی عیسوی پر ختم ہوتا ہے، یہ زمانہ مغرب اور عیسائیت کا ایک تاریک ترین دور تھا، اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ اسلام کا سنہری دور ٹھیک قرون وسطیٰ کے وسط میں ہوا ہے۔
آیت ۱۰۸
۱۰۸( وَلاَتَسُبُّوا الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَیَسُبُّوا اللهَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اٴُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَی رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔
ترجمہ:
۱۰۸ ۔ایسے لوگوں (کے معبود) کو جو خدا کے علاوہ کسی کو پکارتے ہیں گالیاں نہ دو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ (بھی) ظلم وجہالت کی وجہ خدا کو گالیاں دےنے لگ جائیں ، ہم نے ہر امت کے لئے ان کے عمل کو اسی طرح زینت دی اس کے بعد ان کی بازگشت تو ان کے پروردگار کی طرف ہی ہے، اور وہ انھیں ان کے اس عمل سے جو وہ کیا کرتے تھے آگاہ کرے گا(اور اس کی جزا یا سزا دے گا) ۔
تم مشرکین کے بتوں اور معبودوں کو کبھی گالیاں نہ دو
اس بحث کے بعد جو تعلیمات اسلامی کے منطقی ہونے، اور دعوت کے استدلال کے ذریعہ لازم ہونے اور جبری طریقہ سے نہ ہونے کے بارے میں گذشتہ آیات میں گزری ہے، ان آیات میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیاہے: تم مشرکین کے بتوں اور معبودوں کو کبھی گالیاں نہ دو کیوں کہ عمل سبب بن جائے گا کہ وہ بھی یہی کام خدا وند تعالی کی شان اقدس میں ظلم وستم اور جہل ونادانی کی وجہ سے دینے لگیں( وَلاَتَسُبُّوا الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ فَیَسُبُّوا اللهَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ )
جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مومنین کا ایک گروہ مسئلہ بت پرستی وسخت برہمی کی بنا پر بعض اوقات مشرکین کے بتوں کو برا بھلا کہتے ہوئے انھیں گالیاں دیتا تھا ، قرآن نے صراحت سے انھیں اس بات سے منع کیا، اور اصول ادب وعفت اور شیریں بیان کو بیہودہ ترین اور بدترین مذہب وادیان کے مقابلہ میں بھی لازم وضروری قرار دیا۔
اس موضوع کی دلیل واضح ہے کیوں کہ گالی دینے اور برا بھلا کہنے سے کسی کو غلط راستے سے نہیں پھرایاجاسکتا ، بلکہ اس کے برعکس جہالت آمیز شدید تعصب جو اس قسم کے افراد میں ہوتا ہے اس بات بات کا سبب بن جاتا ہے کہ بقول :”روی دندئہ لجاحت افتادہ“(یعنی اپنی ہٹ دھرمی پر اڑ جانا) کے مطابق اپنے باطل دین اور زیادہ راسخ ہوجائے، اس صورت میں یہ بات آسان ہوجائے گی کہ خدا وند تعالی کی شان اقدس میں بدگوئی اور توہین کے لئے زبان کھولیں کیوں کہ ہر گروہ اور ہر مذہب کے لوگ اپنے عقائد واعمال میں متعصب ہوتے، جیسا کہ قرآن بعدوالے جملے میں کہتا ہے: ہم نے اس طرح ہر گروہ کے لئے ان کے عمل کو زینت دے دی ہے( کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اٴُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ) ۔
اور آیت کے آخر میں کہتا ہے کہ: ان سب کی بازگشت خدا ہی کی طرف ہے اور وہ انھیں خبر دے گا کہ انھوں نے کون سے عمل انجام دئے ہیں( ثُمَّ إِلَی رَبِّهِمْ مَرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔
قابل توجہ نکات
۱ ۔ خدا زینت دیتا ہے؟
اوپر والی آیت میں ہر شخص کے اچھے اور برے اعمال کو اس کی نظر میں زینت دینے کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ، ہوسکتا ہے کہ یہ بات بعض لوگوں کے لئے تعجب کا باعث ہو کہ کیا یہ بات ممکن ہے کہ خدا وندتعالی کسی کے عمل بد کو اس کی نظر میں زینت دے۔
اس سوال کا جواب وہی ہے جو ہم بارہا بیان کرچکے ہیں کہ اس قسم کی تعبیرات عمل کی خاصیت اور اثر کی طرف اشارہ ہوتی ہے، یعنی جس وقت انسان کسی کام کو بار بار انجام دے تو آہستہ آہستہ اس کی قباحت اور بدی اس کی نگاہ میں ختم ہوجاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس کی نظر میں ایک عمدہ صورت اختیار کرلیتا ہے اورچونکہ علت العلل اور مسبب الاسباب اور ہر چیز کا خالق خدا ہے اور تمام تاثیرات خدا ہی کی طرف منتہی ہوتی ہیں لہٰذا قرآن کی زبان میں اس قسم کے آثار کی بعض اوقات اس کی طرف نسبت دے دی جاتی ہے(غور کیجئے گا)۔
زیادہ واضح تعبیر میں ” زین لکل امةعملھم “ کا معنی یہ ہے کہ ہم نے انھیں ان کے برے اعمال کے نتیجے میں گرفتار کردیا ہے یہاں تک کہ برائیاں ان کی نظر میں اچھائیاں معلوم ہونے لگی۔
اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جو بعض آیات قرآن میں عمل کو زینت دینے کی نسبت شیطان کی طرف دی گئی ہے وہ بھی اس بات سے اختلاف نہیں رکھتی کیوں کہ شیطان انھیں برے عمل کے انجام دینے کا وسوسہ کرتا ہے اور وہ شیطان کے وسوسے کے سامنے جھک جاتے ہیں آخر کار وہ اپنے عمل کے نتائج بد میں گرفتار ہوجاتے ہیں ،علمی تعبیر کے لحاظ سے سببیت توخدا کی طرف سے ہے لیکن ایجاد سبب ان افراد اور شیطانی وسوسوں کے ذریعے ہوتا ہے ۔(۱)
۲ ۔ گالیاں نہ دینے کا حکم:
اسلامی روایات میں بھی گمراہ اور منحرف لوگوں کو گالیاں نہ دینے کی قرآنی منطق کی پیروی کی گئی ہے اس لام کے بزرگ پیشوا ؤں اور رہنماؤں نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ ہمیشہ منطق واستدلال کا سہارا لیں اور مخالفین کے اعتقادات کے بارے میں گالی دینے کے لاحاصل حربے کو وسیلہ نہ بنائیں ، ہم نہج البلاغہ میں پڑھتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام اپنے اصحاب کی ایک جماعت کو جو جنگ صفین کے دنوں میں معاویہ کے پیروکار کو گالیاں دے رہی تھی، فرماتے ہیں :انی اکره ان تکونواسبابین ولاکنکم لو وصفتم اعمالهم وذکرتم حالهم کان اصوب فی القول وابلغ فی العذر ۔
مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تم فحش گوئی کرنے والے اور گالیاں دینے والے بنو، اگر تم گالیاں دینے کے بجائے، ان کی کارگزاریوں کو بیان کرو اور ان کے حالات کا تذکرہ کرے(اور ان کے اعمال کا تجزیہ وتحلیل کرو) تو یہ بات حق وراستی کے زیادہ قریب ہے اور اتمام حجت کے لئے بہتر ہے۔(۲)
۳ ۔بت پرست اور خدا کے بارے میں بدگوئی؟ بعض اوقات یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بت پرست خدا کے بارے میں بدگوئی کریں جب کہ ان کی اکثریت اللہ کا اعتقاد رکھتی تھی اور بتوں کا اس کی بارگاہ میں شفیع قرار دیتی تھی۔
لیکن اگر ہم ہٹ دھرم اور متعصب عوام کی وضع و کیفیت میں غور وفکر کریں تو ہم دیکھے گے کہ یہ بات کوئی زیادہ تعجب کا باعث نہیں ہے اس قسم کے لوگ جب غصہ میں آجاتے ہیں تو پھر کوشش کرتے ہیں کہ وہ مد مقابل کو جس طرح بھی ممکن ہو تکلیف اور دکھ پہنچائیں ، چاہے اس کے لئے طرفین کے مشترک عقائد کی ہی بدگوئی کرنی پڑے، مشہور سنی عالم آلوسی تفیر روح المعانی میں نقل کرتے ہیں کہ جاہل عوام میں سے بعض نے جب یہ دیکھا کہ شیعہ شیخین کو برا بھلا کہتے ہیں تو انھیں غصہ آگیا اور انھوں نے حضرت علی - کی شان میں گستاخی اور اہانت شروع کردی، ایسے ایک شخص سے جب یہ پوچھا گیا کہ تو حضرت علی - کی جو تیری نزدیک بھی قابل احترام ہے کیوں اہانت کرتا ہے؟ تو وہ یہ کہنے لگا کہ میں یہ چاہتا تھا کہ شیعوں کو اس طرح سے تکلیف اور دکھ پہنچاؤں ، کیوں کہ میں نے انھیں اس چیز سے زیادہ اور کسی چیز کو دکھ دینے والا نہیں دیکھا اور بعد میں اسے اس عمل سے توبہ کرنے پر آمادہ کیا۔(۳)
____________________
۱۔ آیات قرآن میں ۸ مقامات پر برے اعمال کے زینت دینے کی نسبت شیطان کی طرف دی گئی ہے اور دس ۱۰ مقامات پر فعل مجہول کی شکل میں (زین) آیا ہے اور دو مقامات پر خدا کی طرف نشبت دی گئی ہے، اوپر جو کچھ بیان ہوا ہے اس پر توجہ کرتے ہوئے تینوں مقامات کا معنی واضح ہوجاتا ہے۔
۲۔نہج البلاغہ، کلام ۲۰۶صبحی صالح۔
۳۔ تفسیر روح المعانی آلوسی جلد۷ صفحہ ۲۱۸۔
آیات ۱۰۹،۱۱۰
۱۰۹( وَاٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ اٴَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَائَتْهُمْ آیَةٌ لَیُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الْآیَاتُ عِنْدَ اللهِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ اٴَنَّهَا إِذَا جَائَتْ لاَیُؤْمِنُونَ )
۱۱۰( وَنُقَلِّبُ اٴَفْئِدَتَهُمْ وَاٴَبْصَارَهُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوا بِهِ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُمْ فِی طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُونَ )
ترجمہ:
۱۰۹ ۔انھوں نے بہت ہی اصرارسے اللہ کی قسم کھائی کہ اگر کوئی نشانی(معجزہ) ان کے لئے آجائے تو وہ یقینی طور پر اس پر ایمان لے آئیں گے (اے رسول تم یہ) کہہ دو کہ معجزات خدا کی طرف سے ہوتے ہیں ( اور یہ بات میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں تمھاری خواہش پر معجزہ لے آؤں ) اور تم نہیں جانتے کہ وہ معجزات کے آجانے کے باوجود ایمان نہیں لائےں گے۔
۱۱۰ ۔ اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو اوندھا کردیں گے کیوں کہ وہ ابتدا میں ایمان لائے تھے اور انھیں طغیان وسرکشی کے عالم میں خود ان کی حالت مین چھوڑ دےں گے تاکہ وہ سرگرداں ہوجائیں ۔
شان نزول
مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کی شان نزول کے بارے میں یہ نقل کیا ہے کہ قریش کا ایک گروہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ تم موسیٰ- اور عیسیٰ - کے بڑے بڑے معجزات بیان کرتے ہو اوراسی طرح دوسرے انبیاء کے بھی، تم بھی ہمیں کوئی ایسا ہی کام کرکے دکھاؤ تاکہ ہم ایمان لائیں ، پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ تم کونسا کام چاہتے ہو کہ میں اسے تمھارے لئے انجام دوں ، انھوں نے کہا کہ تم خدا سے درخواست کرو کہ وہ کوہ صفا کو سونے میں تبدیل کردے اور ہمارے بعض پہلے کے مرے ہوئے مردے زندہ ہوجائیں اور ہم ان سے تیری حقانیت کے بارے میں سوال کریں اور ہمیں فرشتے بھی دکھا جو تیرے بارے میں گواہی دیں یا خدا اور فرشتوں کا اکھٹا اپنے ساتھ لے آ۔
پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا کہ میں اگر ان میں سے بعض کام انجام دے دوں تو کیا تم ایمان لے آؤ گے؟ انھوں نے کہا کہ خدا کی قسم ہم ایسا کریں گے( یعنی ایمان لے آئیں گے) مسلمانوں نے جب مشرکین کا اس سلسلہ میں اصرار دیکھا تو پیغمبر سے تقاضا کیا کہ آپ ایسا کریں شاید یہ ایمان لے آئیں ، جونہی پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم دعا کرنے کے لئے آمادہ ہوئے کہ ان میں سے بعض مطالبات کے لئے خدا سے دعا کریں ( کیوں کہ ان میں سے بعض تو نامعقول اور محال تھے) کہ امین وحی خدا نازل ہوئے اور یہ پیغام لائے کہ اگر آپ چاہیں تو آپ کی دعا قبول ہوجائے گی لیکن اس صورت میں (چونکہ ہر لحاظ سے اتمام حجت ہوجائے گا اور یہ حسی طور پر ظاہر بظاہر کھل کر سامنے آجائے گا) اگر پھر بھی یہ ایمان نہ لائے تو سب کو سخت عذاب ہوگا( اور نیست ونابود ہوجائیں گے) لیکن اگر ان کے تقاضوں کو پورا نہ کیا جائے اور تم انھیں ان کی اپنی اسی حالت پر چھوڑ تو ممکن ہے کہ ان میں سے بعض آئندہ توبہ کرلیں اور راہ حق اختیار کرلیں ، پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے اسے قبول کرلیا اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں ۔
انھوں نے انتہائی اصرار کے ساتھ یہ قسم کھائی
گذشتہ آیات میں توحید کے بارے میں متعدد منطقی دلیلیں بیان ہوئی ہیں کہ جو خدا کی وحدانیت اور اثبات اور شرک وبت پرستی کی نفی کے لئے کافی تھیں لیکن اس کے باوجود ہٹ دھرم اور متعصب مشرکین کی ایک جماعت نے سرتسلیم خم نہ کیا اور وہ بہانے تراشنے لگے اور منجملہ ان کے، پیغمبر ﷺسے عجیب غریب خارق العادات کے لئے کہ جن میں سے بعض تو بنیادی طور پر محال تھے، مطالبہ کرنے لگے اور دروغ بیانی کے ساتھ یہ دعوا کرنے لگے کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کے معجزات دیکھ کر ایمان لے آئیں ، قرآن پہلی آیت میں ان کی کیفیت اور وضع کو اس طرح بیان کرتا ہے : انھوں نے انتہائی اصرار کے ساتھ یہ قسم کھائی کہ اگر ان کے لئے معجزہ آجائے تو وہ ایمان لے آئیں گے( وَاٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَهْدَ اٴَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَائَتْهُمْ آیَةٌ لَیُؤْمِنُنَّ بِهَا ) ۔(۱)
قرآن ان کے جواب میں دو حقیقتوں کو بیان کرتا ہے: پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ تو ان سے یہ کہہ دے کہ یہ کام میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں تمھارے ہر مطالبے اور ہر تقاضے کو پورا کردوں ، بلکہ معجزات تو صرف خدا ہی کی طرف سے (ہوتے) ہیں اور اسی کے فرمان سے ظہور پذیر ہوتے ہیں( قُلْ إِنَّمَا الْآیَاتُ عِنْدَ اللهِ ) ۔
اس کے بعد روئے سخن ان سادہ لوح مسلمانوں کی طرف کرتے ہوئے کہ جو ان کی سخت اور شدید قسموں سے متاثر ہوگئے تھے کہتا ہے: تم نہیں جانتے کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں اوراگر یہ معجزات اور ان کی درخواستوں کے مطابق مطلوبہ نشانیاں دکھا بھی دی جائیں تب بھی یہ لوگ ایمان نہیں لایئں گے( وَمَا یُشْعِرُکُمْ اٴَنَّهَا إِذَا جَائَتْ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔(۲)
پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے ان کے ساتھ ٹکراؤ کے مختلف مناظر اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ یہ گروہ حق کی جستجو میں نہیں تھا بلکہ ان کا ہدف اور مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو بہانہ تراشیوں میں لگائے رکھیں اور شک وشبہ کے بیج ان کے دلوں بکھیرتے رہیں ۔
بعد والی آیت میں ان کی ہٹ دھرمی کی علت کی اس طرح وضاحت کی گئی ہے کہ وہ کجروی، جاہلانہ تعصبات اور حق کے مقابلہ میں سرتسلیم خم نہ کرنے پر اصرار کی وجہ سے قوت ادراک اور صحیح نظر کھو بیٹھے ہیں ، اور حیران وپریشان اور گمراہ ہوکر سرگردانی کے عالم میں پھر رہے ہیں چنانچہ قرآن اس طرح کہتا ہے: ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو دگرگوں کردےں گے جیسا کہ وہ آغاز میں اور دعوت کی ابتدا میں ایمان نہیں لاتے تھے( وَنُقَلِّبُ اٴَفْئِدَتَهُمْ وَاٴَبْصَارَهُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوا بِهِ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ ) ۔
یہاں بھی اس کام کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے جس کی ایک نظیر قبل کی آیات میں گزرچکی ہے، یہ حقیقت میں خود ان ہی کے اعمال کا نتیجہ اور عکس العمل ہے، اس کی خدا کی طرف نسبت اس عنوان سے ہے کہ وہ علت العلل اور عالم ہستی کا سرچشمہ ہے اور ہر چیز میں جو بھی خاصیت ہے وہ اسی کے ارادہ سے ہے، دوسرے لفظوں میں خداوند تعالی نے ہٹ دھرمی، کجروی اور اندھے تعصبات میں یہ اثر پیدا کیا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ انسان کے ادراک اور فکرونظر کو بے کار کردیتے ہیں ۔آیت کے آخر میں کہتا ہے: ہم انھیں طغیان وسرکشی کی حالت میں ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں تاکہ وہ سرگرداں پھرتے رہیں( وَنَذَرُهُمْ فِی طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُون ) ۔(۳)
____________________
۱۔ ”جھد“ کسی بھی کام کام کرنے کے لئے سعی وکوشش کو کہتے ہیں اور یہاں تاکیدی قسموں کے لئے کوشش کرنا مراد ہے۔
۲۔اس بارے میں کہ اوپر والے جملے میں ”ما“ استفہامیہ ہے یا نافیہ اور اسی طرح جملے کی ترکیب کی کیفیت میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے، بعض نے ”ما“ استفہام انکاری قرار دیا ہے، حالانکہ اگر ایسا ہوتو جملہ کا معنی یہ ہوگا کہ :تم کہاں سے جانتے ہو کہ اگر معجزہ آگیا تو یہ ایمان نہیں لائیں گے، یعنی ہوسکتا ہے کہ وہ ایمان لے آئیں اور یہ مفہوم مقصود آیت کے بالکل برخلاف ہے، لہٰذا بعض نے ”ما“ کو نافیہ قرار دیا ہے (اور ذہن سے زیادہ نزدیک بھی یہی ہے) تو اس بنا پر جملے کا معنی اس طرح ہوگا: تم نہیں جانتے کہ اگر یہ معجزات دکھا بھی دئے جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے، اس صورت میں ”یشعر“ کا فاعل لفظ”شیء“ ہے جو مقدر ہے اور ”یشعر“ کے دومفعول ہیں پہلا مفعول”کم“ اور دوسرا ”انھا‘۔(غور کیجئے گا)
۳۔ ”یعمھون“،”عمہ“(بروزن”قدح) کے مادہ سے سرگردانی اور تحیر کے معنی میں ۔
خدا وند تعالی ہم سب کو اس قسم کی سرگردانی سے جو ہمارے بے سوچے سمجھے اعمال کا نتیجہ ہے محفوظ رکھے اور ہمیں قوت ادراک اور ایسی کامل نظر مرحمت فرمائے کہ ہم حقیقت کے چہرے کو اس کی اصلی ہیئت وصورت میں دیکھ لیں ۔
آیت ۱۱۱
۱۱۱( وَلَوْ اٴَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَیْهِمْ الْمَلاَئِکَةَ وَکَلَّمَهُمْ الْمَوْتَی وَحَشَرْنَا عَلَیْهِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ وَلَکِنَّاٴَکْثَرَهُمْ یَجْهَلُونَ ) ۔
ترجمہ:
۱۱۱ ۔ اور اگر ہم ان پر فرشتوں کو نازل کردیتے اور مردے ان سے باتیں کرتے اورتمام چیزوں کو ان کے سامنے جمع کردیتے تو بھی وہ ہرگز ایمان نہ لاتے، مگر یہ کہ خدا چاہے ، لیکن ان میں سے اکثر نہیں اجانتے۔
تفسیر
ہٹ دھرم لوگ راہ راست پر کیوں نہیں آتے؟۔
یہ آیت گذشتہ آیات کے ساتھ مربوط ہے ، یہ سب آیات ایک ہین حقیقت کو بیان کرتی ہیں ، ان چندآیات کا مفہوم یہ ہے کہ ان عجیب وغریب معجزات کا تقاضا کرنے والوں میں سے بہت سے اپنے تقاضوں میں سچے نہیں ہیں اور کا ہدف حق کو قبول کرنا نہیں ہے لہٰذا ان کے مطالبات میں میں سے بعض (مثلا خدا کا ان کے سامنے آنا) اصولا محال ہے۔
وہ اپنے گمان کے مطابق چاہتے یہ ہےں کہ ان عجیب وغریب معجزات کا تقاضا کرکے مومنین کے افکار کو متزلزل کردیں اور حق طلب لوگوں کے نظریے خلط ملط ہوں اور یہ انھیں اپنی طرف مشغول کرنا چاہتے ہیں ۔
قرآن زیر نظر آیت میں صراحت کے ساتھ کہتا ہے:اگر ہم (جس طرح انھوں نے درخواست کی تھی) فرشتوں کو ان پر نازل کردیتے، اور مردے بھی آجاتے اور ان سے باتیں کرتے اور خلاصہ یہ کہ جو جومطالبات اور تقاضے وہ کررہے تھے ان سب کو جمع کردیتے تو پھر بھی وہ ایمان نہ لاتے( وَلَوْ اٴَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَیْهِمْ الْمَلاَئِکَةَ وَکَلَّمَهُمْ الْمَوْتَی وَحَشَرْنَا عَلَیْهِمْ کُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَا کَانُوا لِیُؤْمِنُوا ) ۔(۱)
اس کے بعد تائید مطلب کے لئے فرماتا ہے: صرف ایک ہی صورت میں ممکن ہے کہ وہ ایمان لے آئیں اور وہ یہ ہے کہ خدا وند تعالی اپنی جبری مشیت کے ذریعہ انھیں ایمان کے قبول کرنے پر آمادہ کردے اور یہ بات ظاہر ہے کہ اس قسم کا ایمان کوئی تربیتی فائدہ اور تکاملی اور ارتقائی اثر نہینں رکھتا( إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ اللهُ ) ۔
آیت کے آخر میں مزید کہتا ہے کہ ان میں سے اکثر جاہل اور بے خبر ہیں( وَلَکِنَّاٴَکْثَرَهُمْ یَجْهَلُون ) ۔
اس بارے میں کہ اس جملے میں ضمیر ”ھم“ سے کون سے اشخاص مراد ہیں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ممکن ہے یہ اشارہ ان مومنین کی طرف ہو جو یہ اصرار کررہے تھے کہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کفار کے اس گروہ مطالبات پورا کردیں اور جس جس معجزہ کے لئے وہ تقاضا کررہے ہیں وہ لے آئیں ۔
ان مومنین میں سے کیوں بہت سے اس واقعیت سے بے خبر تھے اور اس بات کی طرف متوجہ نہیں تھے کہ وہ اپنے تقاضے میں سچے نہیں ہیں ، لیکن خدا جانتا تھا کہ یہ مدعی جھوٹ بول رہے ہیں ، اسی بنا پر ان کے مطالبات کو پورا نہ کیا، لیکن اس بنا پر کہ دعوت پیغمبر معجزہ کے بغیر نہیں ہوسکتی لہٰذا خاص مواقع پر ان کے ہاتھ پر مختلف معجزات ظاہر کئے۔
یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر”ھم“ کا مرجع اور بازگشت تقاضا کرنے والے کفار ہوں ، یعنی ان میں سے بیشتر اس واقعیت سے بے خبر ہیں کہ خدا ہر قسم کے خارق العادات فعل پر قدرت رکھتا ہے، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی قدرت کو محدود جانتے ہیں ، لہٰذا جب بھی پیغمبر کوئی معجزہ دکھاتے تھے تو وہ اسے جادو یا نظر فریبی پر محمول کرتے تھے جیسا کہ ہم دوسری آیت میں پڑھتے ہیں :
”( وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا مِنَ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِیهِ یَعْرُجُونَ لَقَالُوا إِنَّمَا سُکِّرَتْ اٴَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ ) “
”اگر ہم آسمان سے کوئی دروازہ ان کے اوپر کھول دیتے اور وہ اس کے ذریعے اوپر جڑھ جاتے تو کہتے کہ ہماری تو نظروں کو دھوکہ دیا گیا ہے اور ہمارے اوپر جادو کردیا گیا ہے“۔(حجر: ۱۴ ۔ ۱۵)
اس بنا پر وہ نادان اور ہٹ دھرم گروہ ہے، لہٰذا ان کی اور ان کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرنا چاہئے۔
____________________
۱۔حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ کُلَّ شَیْء “سے مراد یہ ہے کہ تمام چیزیں او ان کے تمام مطالبات پورے کردئے جائیں ، کیوں کہ”حشر“ اصل میں جمع کرنے اور ایک دوسرے کے گرد لانے کے معنی میں ہے، اور” قبلا“ کا معنی روبرو اور مدمقابل ہونا ہے ، یہ احتمال بھی ہے کہ” قبلا“ قبیل کی جمع ہو، یعنی گروہ در گروہ فرشتے اور مردے اور ----ان کے سامنے حاضر ہوں ۔
آیات ۱۱۲،۱۱۳
۱۱۲( وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیَاطِینَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ یُوحِی بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ ) ۔
۱۱۳( وَلِتَصْغَی إِلَیْهِ اٴَفْئِدَةُ الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَلِیَرْضَوْهُ وَلِیَقْتَرِفُوا مَا هُمْ مُقْتَرِفُونَ ) ۔
ترجمہ:
۱۱۲ ۔ اس طرح ہم نے ہر نبی کے مقابلے میں شیاطین جن وانس سے کچھ دشمن قرار دئے ہیں کہ جوپر فریب اور بے بنیاد باتیں (لوگوں کو غافل رکھنے کے لئے) مخفی طور (اور کانوں میں ) ایک دوسرے سے کہتے تھے اور اگر تیرا پرور دگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے (اور وہ انھیں جبری طور پر روک سکتا تھا لیکن اجبار واکراہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے) اس بنا پر انھیں اوران کی تہمتوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دو۔
۱۱۳ ۔ اور(شیطانی وسوسوں اور شیطان صفت افراد کی تبلیغات کا ) نتیجہ یہ ہوگا کہ ان لوگوں کے دل جو روز قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی طرف مائل ہوجائیں گےاور وہ اس پر راضی وجائیں گے اور جو گناہ بھی وہ انجام دینا چاہیں گے، دیں گے۔
تفسیر
اس آیت میں اس بات کی وضاحت کی جارہی ہے کہ اس قسم کے سخت اور ہٹ دھرم دشمنوں کا پیغمبر اسلام (ص)کے مقابلہ میں وجود کہ جس کی طرف گذشتہ آیات میں اشارہ ہوا ہے صرف آنحضرت کی ذات کے لئے ہی منحصر نہیں تھا بلکہ تمام انبیاء ہی کے مقابلہ میں شیاطین جن وانس میں سے دشمن موجود تھے( وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیَاطِینَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ ) اور ان کاکام یہ ہوتا تھا کہ ”وہ پر فریب باتیں اور ایک دوسرے کو غافل کرنے کے لئے پر اسرار طریقے پر بھی اور ظاہر بظاہر بھی ایک دوسرے کے کان میں کہتے تھے( یُوحِی بَعْضُهُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ) ۔
لیکن اشتباہ نہیں ہونا چاہئے کہ ”اگر خدا چاہتا تو وہ جبرا سب کو روک سکتا تھا“تاکہ کوئی شیطان یا شیطان صفت انبیاء اور ان کی دعوت کے راستے میں کوئی معمولی سے معمولی رکاوٹ بھی نہ ڈال سکے( وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوهُ ) ۔
لیکن خدا وند تعالی نے یہ کام نہیں کیا کیوں کہ وہ یہ چاہتا تھا کہ لوگ آزاد رہیں تاکہ ان کی آزمائش اور ارتقاو پرورش کے لئے میدان موجود ہیں ، جب کہ جبرا ور سلب آزادی اس ہدف کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتے، اس کے علاوہ اس قسم کے سخت اور ہٹ دھرم دشمنوں کاوجود ( اگر چہ ان کے اعمال خود ان کی خواہش وارادہ کے ماتحت تھے ) نہ صرف یہ کہ وہ سچے مومنین کے لئے کوئی ضرر نہیں رکھتا، بلکہ غیر مستقیم طریقہ سے ان کے ان کے تکامل میں مدد کرتا ہے چونکہ ہمیشہ تکامل وارتقا تضادات میں پنہاں ہوتا ہے اورایک طاقتور دشمن کا ہونا انسان کی قوتوں کے اجتماع اور اس کے ارادوں کی تقویت کے لئے موثر ہے ۔
لہٰذا آیت کے آخر میں خدائے تعالیٰ پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ تم اس کی شیطانیتوں کی کسی طرح بھی پرواہ نہ کرو اور انھیں اور ان کی تہمتوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دو( فَذَرْهُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ ) ۔
چند قابل توجہ نکات
۱ ۔ مندرجہ بالا آیت میں خدا وند تعالی شیاطین جن وانس کے وجود کی نسبت اپنی طرف دے رہا ہے اور کہتا ہے: ”وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا“ (ہم نے ایسا قرار دیا)ن اس جملے کے معنی کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ انسانوں کے تمام اعمال ایک لحاظ سے خدا کی طرف بھی منسوب کئے جاسکتے ہیں ، کیوں کہ ہر شخص جو کچھ بھی رکھتا ہے وہ خدا ہی کی طرف سے ہے ، اس کی قدرت اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ اس کا اختیار اور اس کی آزادی بھی اسی کی طرف سے ہے، لیکن ایسی تعبیرات کا مفہوم ہرگز جبر اور سلب اختیار نہیں ہے کہ خدا نے کچھ لوگوں کو اس طرح سے پیدا کیا ہو کہ وہ انبیاء کے مقابلے میں دشمنی کے لئے کھڑے ہوجائیں ۔
کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو ضروری تھا کہ وہ اپنی عداوت ودشمنی میں کسی قسم کی کوئی مسئولیت اور جوابدہی نہ رکھتے ہوتے بلکہ ان کا کام ایک رسالت کی انجام دہی شمار ہوتا، حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔
البتہ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس قسم کے دشمنوں کا وجود چاہے وہ خود ان کے اپنے اختیار سے ہی ہو، مومنین کے لئے بلا واسطہ طور پر اصلاح کنندہ اثر رکھتا ہے، اور بہتر لفظوں میں سچے مومنین ہرقسم کے دشمن کے وجود سے مثبت اثر لے سکتے ہیں اور اسے اپنی آگاہی و آمادگی اور مقاومت کی سطح بلند کرنے کا وسیلہ بناسکتے ہیں کیوں کہ دشمن کا وجود انسان کی قوتوں کے اجتماع کا سبب اور باعث ہوتا ہے۔
۲ ۔ لفظ”شیاطین“ ”شیطان“ کی جمع ہے اور یہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور وہ ہر سرکش باغی اور موزی موجود کے معنی میں ، لہٰذا قرآم میں پست ، خبیس اور سرکش انسانوں پر بھی لفظ شیطان بولا گیا ہے، جیسا کہ اوپر والی آیت میں لفظ شیطان کا انسانی شیطانوں پر بھی اور ایسے غیر انسانی شیطانوں پر بھی جو ہماری نظروں سے اوجھل ہیں ، اطلاق میں وہ تمام شیاطین کا رئیس وسردار ہے، اس بنا پرشیطان کا اسم خاص ہے کہ جوحضرت آدم علیہ السلام کے مقابل میں آیا تھا اور حقیقت میں وہ تمام شیاطین کا رئیس وسردار ہے، اس بنا پر شیطان اسم جنس ہے اور ابلیس اسم خاص ہے۔(۱)
۳ ۔ ”زخرف القول“ پر فریب باتوں کو کہتے ہیں ، جن کا ظاہر خوشنما اور باطن قبیح اور برا ہوتا ہے اور غرور کا معنی غفلت میں رکھنا ہے۔(۲)
۴ ۔ زیر نظر آیت میں وحی کی تعبیر اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ اپنے شیطانی گفتار واعمال میں ایسے اسرار آمیز پروگرام رکھتے ہیں کہ جن کو وہ رازدارانہ طریقے سے ایک دوسرے کی طرف ارتقا کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگ ان کے کاموں سے آگاہ نہ ہوں اور ان کی سازشیں کامل طور پر کامیابی سے ہمکنار ہوجائیں ، کیوں کہ ”وحی“ کے معانی میں سے ایک معنی لغت میں آہستہ اور کان میں بات کرنا بھی ہے ۔
بعد والی آیت میں شیاطین کی پر فریب تلقینات وتبلیغات کے نتیجے کو اس طرح بیان کیا گیا ہے : ان کے کام کا سر انجام یہ ہوگا کہ بے ایمان افراد یعنی وہ کہ جو قیامت پر ایمان نہیں رکھتے، ان کی باتوں کو کان لگا کر سنیں گے اور ان کے دل ان کی طرف مائل ہوں گے( وَلِتَصْغَی إِلَیْهِ اٴَفْئِدَةُ الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ) ۔
آیت کی ترتیب کے بارے میں اوریہ کہ لفظ ”وَلِتَصْغَی“ کا عطف کس پر ہے مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، آیت کے مفہوم کے ساتھ جو بات زیادہ مناسب ہے وہ یہ ہے کہ اس کا عطف ”یوحیٰ“ پر ہونا چاہئے اور اس کی ”لام“ عاقبت کی لام ہے، یعنی شیاطین کے کام کا انجام یہ ہوگا کہ وہ پر فریب باتیں ایک دوسرے سے کہیں گے، اور بے ایمان افراد ان کی طرف مائل ہوجائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ”غرورا“ کے اوپر عطف ہو جو ”مفعول لاجلہ “ ہے، یعنی ”لیفترو اولتصغیٰ“ کیوں کہ انسان مرحلہ اول میں فریب کھاتا ہے اور پھر میلان پیدا رکرتا ہے(غور کیجئے گا)۔
”لتصغی“ ،”صغو“ (بروزن سرو) کے مادہ سے کسی چیز کی طرف میلان پیدا کرنے کے معنی میں ہے لیکن زیادہ تر اس میلان ورغبت پر بولا جاتا ہے کہ جو سماعت اور کان کے وسیلہ سے حاصل ہو اور اگر کوئی شخص کسی کی بات پر موافقت کی نظر سے کان دھرے تو اس کو ”صغو“ اور ”اصغاء“ کہتے ہیں ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اس میلان کا انجام شیطانی پروگراموں پر کامل طور پر راضی ہونے کی صورت میں نکلے گا( وَلِیَرْضَوْه ) ۔
اور ان سب کا نتیجہ مختل قسم کے گنہاہوں کے ارتکاب اور برے اور ناپسندیدہ اعمال کی صورت میں رونما ہوگا( وَلِیَقْتَرِفُوا مَا هُمْ مُقْتَرِفُون ) ۔
____________________
۱۔ اس سلسلہ میں ہم تفسیر نمونہ کی پہلی جلد صفحہ ۱۶۶ پر بھی بحث کرچکے ہیں ۔
۲۔اس طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ ”زخرف“ اصل میں ”زینت“ کے معنی میں اور اسی طرح ”سونے“ کے معنی میں بھی کہ جو زینت کا ایک ذریعہ ہے، بعد ازاں دھوکہ اور فریب دینے والی باتوں پر بھی کہ جن کا ظاہر زیبا اور خوبصورت ہو”زخرف“ اور ”مزخرف“ بولاجانے لگا۔
آیات ۱۱۴،۱۱۵
۱۱۴( اٴَفَغَیْرَ اللهِ اٴَبْتَغِی حَکَمًا وَهُوَ الَّذِی اٴَنزَلَ إِلَیْکُمْ الْکِتَابَ مُفَصَّلًا وَالَّذِینَ آتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ یَعْلَمُونَ اٴَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِنْ رَبِّکَ بِالْحَقِّ فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِینَ ) ۔
۱۱۵( وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لاَمُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) ۔
ترجمہ:
۱۱۴ ۔ کیا میں ( اس حال میں ) غیر خدا کو منصف کے طور پر اپناؤں حالانکہ وہی وہ ہستی ہے کہ جس نے اس آسمانی کتاب کو جس میں ہر چیز کا تفصیلی بیان ہے نازل کیا ہے، اور وہ لوگ کہ جنھیں ہم ااسمانی کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تیرے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے، اس بنا پر تم ہرگز شک تردد کرنے والوں میں سے نہ ہونا ۔
۱۱۵ ۔ اور تیرے پروردگار کا کلام صدق وعدل ساتھ انجام کو پہنچا، کوئی شخص اس کے کمالات کو دیگر گوں نہیں کرسکتا اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
کیا میں غیر خدا کو منصف اور حکم کے طور پر قبول کرلوں
یہ آیت حقیقت میں گذشتہ آیات کا نتیجہ ہے اور یہ آیت کہتی ہے کہ ان واضح آیات کے باوجود جو توحید کے سلسلے میں گزرچکی ہے کیا کسی شخص کو منصف اور حکم کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے، کیا میں غیر خدا کو منصف اور حکم کے طور پر قبول کرلوں( اٴَفَغَیْرَ اللهِ اٴَبْتَغِی حَکَمًا ) ۔(۱)
جب کہ وہی ذات ہے کہ جس نے یہ عظیم آسمانی کتاب نازل کی ہے جس میں انسان کی تمام تربیتی ضروریات آچکی ہیں اور جس نے حق و باطل، نور وظلمت اور کفر وایمان کے درمیان فرق ظاہر کردیاہے( وَهُوَ الَّذِی اٴَنزَلَ إِلَیْکُمْ الْکِتَابَ مُفَصَّلاً ) ۔
اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے نہ صرف تم اور تمام مسلمان اس بات کو جانتے ہیں کہ یہ کتاب خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے، بلکہ اہل کتاب(یہود ونصاری) جنھوں نے آسمانی کتاب کی نشانیان اپنی کتابوں میں دیکھی ہیں وہ بھی جانتے ہیں ، کہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے
( وَالَّذِینَ آتَیْنَاهُمْ الْکِتَابَ یَعْلَمُونَ اٴَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِنْ رَبِّکَ بِالْحَقِّ ) اس بنا پر اس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے ، اور اے پیغمبر تم ہرگز اس بارے میں تردد کرنے والوں میں سے نہ ہونا( فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِینَ ) ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو بھی اس بارے میں کوئی شک تھا کہ اس قسم کا خطاب آپ سے ہورہا ہے؟
اس سوال کا جواب وہی ہے جو ہم نے اس کے مشابہ اور اس سے ملتے جلتے مواقع پر دیا اور وہ یہ کہ اس میں درحقیقت مخاطب تو عام لوگ ہیں لیکن خدا وند تعالی تاکید اور تحکیم مطلب کے لئے اپنے پیغمبر مخاطب کرتا ہے تاکہ دوسرے لوگ اپنے بارے میں جان لیں ۔
بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے:تیرے پروردگار کا کلام صدق، عدل کے ساتھ مکمل ہوگا اور کوئی بھی شخص اس بات پر قادر نہین ہے کہ اس کے کلمات کو دگر گوں کردے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے( وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلًا لاَمُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِهِ وَهُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ ) ”کلمة“ لغت عرب گفتگو اور ہر قسم کے جملے کے معنی میں ہے یہاں تک کہ مفصل اور طولانی گفتگو بھی کہا جاتا ہے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ بعض اور وعدہ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے مثلا:
”( وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ الْحُسْنَی عَلیٰ بَنِی إِسْرَائِیلَ بِمَا صَبَرُوا ) “
”تیرے پروردگار کا وعدہ بنی اسرائیل کے بارے میں اس صبر استقامت کے مقابلے جو انھوں کیا انجام پاگیا“ (سورہ اعراف: ۱۳۷) ۔
یہ بھی اسی لحاظ سے ہے کیوں کہ انسان وعدہ کرتے وقت ایسا جملہ کہتا ہے جو وعدہ کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہوتا ہے۔
بعض اوقات ”کلمہ“ دین وآئین اور حکم ودستور کے معنی بھی آتا ہے اوروہ اسی اصل کی طرف لوٹتا ہے۔
اس بارے میں کہ زیر بحث آیت میں لفظ ”کلمہ“ سے مراد قرآن ہے یا خدا کا دین وآئین ہے یا کامیابی کے وہ وعدے جو پیغمبر سے کئے گئے تھے، یہ مختلف احتمالات ہیں کہ جن میں مختلف ہونے کے باوجود کوئی تضاد نہیں ہے،یہ بھی ممکن ہے کہ آیت میں تمام احتمالات کو مد نظر رکھا گیا ہو لیکن اس لحاظ سے کہ گذشتہ آیات میں گفتگو قرآن کے بارے میں بھی تھی لہٰذا یہ معنی زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔
حقیقت میں آیت یہ بیان کررہی ہے کہ کسی طرح سے بھی قرآن میں کوئی شک اور تردد کی گنجائش نہیں ہے، کیوں کہ یہ ہر لحاظ سے کامل اور بے عیب ہے، اس کی تواریخ اور اخبار سب کے سب صدق ہیں اور اس کے احکام و قوانین سب کے سب عدل ہیں ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ ”کلمہ“ سے مراد وہی ”وعدہ“ ہو جو بعد والے جملہ میں یعنی ”لا مبدل لکَلِمَاتِہ“(کوئی شخص کلمات خدا میں تغیر اور تبدیل نہیں کرسکتا کے جملہ میں آیا ہے کیوں کہ اس جملہ کی نظر ودوسری آیات قرآنی میں بھی نظر آتی ہے مثلا :
”( وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ لَاٴَمْلَاٴَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اٴَجْمَعِینَ ) “(ہود ۱۱۹) ۔
یا دوسری آیات میں ہم پڑھتے ہیں :( وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ إِنَّهُمْ لَهُمَ الْمَنصُورُونَ ) ” پیغمبروں کے بارے میں ہمارا پہلے سے یہ وعدہ تھا کہ مظفر ومنصور تو وہی ہوں گے“ (سورہ صافات آیہ ۱۷۱ و ۱۷۲) ۔
اس قسم کی آیت میں بعد کا جملہ اس وعدہ کی وضاحت ہے کہ جس کی طرف قبل کے جملہ میں لفظ ”کلمہ“ کے ذکر سے اشارہ ہوا ہے، اس بنا پر آیت کی تفسیر اس طرح ہوگی ، ہمارا وعدہ صدق وعدالت کے ساتھ انجام پذیر ہوا کہ کوئی شخص پروردگار کے احکام اور فرامین میں تبدیلی کی طاقت نہیں رکھتا۔
اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے یہ ہوسکتا ہے کہ یہ آیت ان تمام معانی کی طرف اشارہ کرتی ہو۔
اس بات لا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ آیت اگر قرآن کی طرف اشارہ کررہی ہو تو یہ بات اس امر سے کسی قسم کا اختلاف نہیں رکھتی کہ اس وقت تک سارا قرآن نازل نہیں ہوا تھا کیوں کہ آیات قرآن کے کامل ہونے سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ نازل ہوچکا تھا اس میں کوئی عیب اور نقص نہیں اور وہ ہر لحاظ سے کامل ہے۔
بعض مفسرین نے اس آیت سے قرآن میں تحریف کے بارے میں عدم امکان پر استدلال کیا ہے، کیوں کہ ”لا مبد ل لکلماتہ“ کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی شخص لفظ کے لحاظ سے، اخبار کے لحاظ سے اور احکام کے لحاظ سے قرآن میں تغیر وتبدل نہیں کرسکتا اور یہ آسمانی کتاب جسے آخر دنیا تک عالمین کا رہنما ہونا چاہئے خیانت کرنے والوں اور تحریف کرنے والوں کی دستبرد سے مصئون ومحفوظ رہے گی۔
____________________
۱۔ ”حکم“ (بروزن قلم) کا معنی فیصلہ کرنے والا، قاضی اور حاکم ہے اور بعض نے اسے معنی کے لحاظ سے حاکم کے مساوی جانا ہے لیکن مفسرین کی ایک جماعت کہ جن میں ایک شیخ طوسی بھی ہیں ، کتاب” تبیان “میں انھوں نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ ”حکم“ اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو حق کے علاوہ فیصلہ نہ کرتا ہو لیکن دونوں کے لئے بولا جاتا ہے، بعض دوسرے کہ جن میں ”المنار“ کا مولف بھی ہے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ” حکم“ وہ شخص ہے جسے طرفین دعوی نے انتخاب کیا ہو، جب کہ حاکم ہر قسم کے فیصلہ کرنے والے کو کہا جاتا ہے ۔
آیات ۱۱۶،۱۱۷
۱۱۶( وَإِنْ تُطِعْ اٴَکْثَرَ مَنْ فِی الْاٴَرْضِ یُضِلُّوکَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ ) ۔
۱۱۷( إِنَّ رَبَّکَ هُوَ اٴَعْلَمُ مَنْ یَضِلُّ عَنْ سَبِیلِهِ وَهُوَ اٴَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِینَ ) ۔
ترجمہ:
۱۱۶ ۔اور اگر تم زمین پر رہنے والے لوگوں میں سے اکثر لوگوں کی اطاعت کرو گے تووہ تمھیں راہ خدا سے گمراہ کردیں گے، وہ تو صرف ظن اور گمان کی پیروی کرتے ہیں اور وہ اٹکل پچو لڑاتے رہتے ہیں ۔
۱۱۷ ۔ تیرا پروردگار ان لوگوں سے بھی خوب اچھی طرح آگاہ ہے جو اس کی راہ سے گمراہ ہوگئے ہیں اور ان لوگوں سے بھی کہ جو ہدایت یافتہ ہیں ۔
اگر تم زمین میں رہنے والے اکثر لوگوں کی پیروی کرو گے
ہم جانتے ہیں کہ اس سورہ کی آیات مکہ میں نازل ہوئی ہے اور اس زمانے میں مسلمان انتہائی اقلیت میں تھے، یہ ممکن تھا کہ ان کی اقلیت اور بت پرستوں اور مخالفین اسلام کی قطعی اکثریت بعض لوگوں کے لئے تو ہم پیدا کردے کہ اگرکہ اگر ان کا دین وآئین باطل اور بے اساس ہے تو ان کی پیروی کرنے والے اتنی اکثریت میں کیوں اور اگر ہم حق پر ہیں تو اس قدر کم تعداد میں کیوں ہیں ۔
اس آیت میں اس توہم کو دفع کرنے کے لئے کہ جو ممکن تھا کہ قبل کی آیات میں قرآن کی حقانیت کے زکر کے بعد پیدا ہوجائے، اپنے پیغمبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: اگر تم زمین میں رہنے والے اکثر لوگوں کی پیروی کرو گے تو وہ تمھیں راہ حق سے گمراہ اور منحرف کردیں گے( وَإِنْ تُطِعْ اٴَکْثَرَ مَنْ فِی الْاٴَرْضِ یُضِلُّوکَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ ) ۔
بعد والے جملے میں اس امر کی دلیل بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: اس کی علت اور سبب یہ ہے کہ وہ منطق اور فکر صحیح کی بنیاد پر کام نہیں کرتے، ان کے رہنماہوا وہوس سے آلودہ گمان ہیں اور کچھ جھوٹ ، فریباور تخمینے ہیں( إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ هُمْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ ) ۔(۱)
چونکہ قبل والی آیت کا مفہوم یہ ہے کہ محض اکثریت تنہا راہ حق کی نشاندہی نہیں کرسکتی، تو اس کا یہ نتیجہ نکلتا ہ کہ راہ حق صرف خدا سے حاصل کرنا چاہئے چاہے حق کے طرفدار اقلیت میں ہی کیوں نہ ہوں ، لہٰذا دوسری آیت میں اس امر کی دلیل واضح کرتا ہے کہ تیرا پروردگار کہ جو تمام چیزوں سے باخبر اور آگاہ ہے اوراس کے علم غیر متناہی میں ذرہ بھربھی اشتباہ نہیں ہے وہ بہتر طور پر جانتا ہے کہ راہ ضلالت کونسی ہے اور راہ ہدایت کون سی، اور وہ گمراہوں اور ہدایت یافتہ لوگوں کو بھی بہتر طور پر پہچانتا ہے( إِنَّ رَبَّکَ هُوَ اٴَعْلَمُ مَنْ یَضِلُّ عَنْ سَبِیلِهِ وَهُوَ اٴَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِینَ ) ۔(۲)
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دوسرے لوگ راہ ہدایت وضلالت کو خدا کی رہنمائی کے بغیر بھی پہچان لیتا ہے، کہ آیت یہ کہہ رہی ہے کہ خدا دوسروں سے بہتر طور پر پہچانتا اور بہتر طور پر جانتا ہے۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ انسان اپنی عقل کے ذریعے حقائق کا ادراک کرتا ہے اور راہ ہدایت وضلالت کو کسی حد تک سمجھ لیتا ہے لیکن یہ بات مسلم ہے کہ چراغ عقل کی روشنی اور اس کی شعاع محدود ہے ، اور ممکن ہے کہ بہت سے مطالب نگاہ عقل سے مخفی رہ جائیں ، علاوہ ازیں انسان اپنی معلومات میں اشتباہ میں بھی گرفتار ہوجا ہے اور اسی بنا پر وہ خدائی رہبروں اور رہنماؤں کا محتاج ہے اسی لئے یہ جملہ کہ”خدا زیادہ جانتا ہے “ صحیح ہے، اگر چہ انسان کا علم خدا کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے ۔
عددی اکثریت کچھ اہمیت نہیں رکھتی
بعض لوگوں کی نظر میں یہ بات مسلم ہے کہ عددی اکثریتیں ہمیشہ صحیح راستہ پر گامزن ہوتی ہیں لیکن قرآن کے برخلاف متعدد اایات میں اس کی نفی کرتا ہے اور وہ عددی اکثریت کے لئے کسی اہمیت کا قائل نہیں ہے اور حقیقت میں وہ اکثریت ”کیفی“ کو معیار سمجھتا ہے نہ کہ اکثریت ”کمی“ کو، اس امر کی دلیل واضح ہے، کیون کہ آج کے معاشروں میں اگر چہ معاشرے کے امور میں لوگوں کو اکثریت پر بھروسہ کرنے کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں سوجھا لیکن یہ بات بھولنا نہیں چاہئے کہ یہ بات جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں ایک طرح سے مجبوری کے باعث قبول کرنا پڑتی ہے، کیوں کہ ایک مادی معاشرے میں اصلاحات کرنے اور درست قوانین بنانے کا کوئی ایسا ضابطہ موجود نہیں جو اشکال اور عیب سے خالی ہو، لہٰذا بہت سے علماء اور ماہرین اس حقیقت کا اعتراف کرنے کے ساتھ کہ افراد معاشرہ کی اکثریت کی نظر اکثر اوقات اشتباہ آمیز ہوتی ہے اس بات کو قبول کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کیوں کہ دوسرے راستوں کے عیوب اس سے زیادہ ہیں ۔
لیکن ایک ایسا معاشرہ جو انبیاء علیہم السلام کی رسالت پر ایمان رکھتا ہو وہ قوانین کے نفاذاورپرپا کرنے کے لئے اکثریت کی پیروی کی کوئی مجبوری نہیں رکھتا، کیون کے سچے انبیاء کے پروگرام اور قوانین ہر قسم کے نقص، عیب اور اشتباہ سے خالی ہوتے ہیں اور جن قوانین کی جائز الخطا اکثریت تصویب وتصدیق کرتی ہے ان کا ان پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ۔
آج کی دنیا کے چہرے پر ایک نظر ڈالنے اور ان حکومتوں پر جو اکثریت کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے نظر کرنے اور ان نادرست اور ہوس آمیز قوانین کو جو بعض اوقات اکثریتوں کی طرف تائید وتصویب شدہ ہوتے ہیں دیکھنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اکثریت عددی نے کسی درد کی دوا نہیں کی ہے، بہت سی جنگوں کی اکثریت نے ہی تصویب کی تھی اور بہت سے مفاسد کو اکثریت نے ہی چاہاتھا۔
استعمار واستثمار، جنگیں اور خونریزیاں ، شراب نوشی کی آزادی، خمار بازی، اسقاط حمل، فحشاء ومنکر یہاں تک کہ بعض ایسے قبیح وشنیع افعال کے جن کا ذکر باعث شرم ہے بہت سے ایسے ممالک جو اصطلاح میں ترقی یافتہ کہلاتے ہیں کے نمائندوں کی اکثریت کی طرف سے ہے جو ان ممالک کے عوام کی اکثریت کے نظریہ کو منعکس کرتے تھے اس حقیقت پر گواہ ہیں ۔
علمی نکتہ نظر سے کیا عوام کی اکثریت سچ ہی بولتی ہے ؟کیا اکثریت امین ہوتی ہے؟کیا اکثریت دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرنے سے اگر وہ کرسکے تو اجتناب کرتی ہے؟کیا اکثریت اپنے اور دوسروں کے منافع کو ایک ہی نظر سے دیکھتی ہے؟ ۔
ان سوالات کے جواب بغیر کہے ظاہر ہیں ، اس بنا پر اس حقیقت کا اعتراف کرلینا چاہئے کہ آج کی دنیا کا اکثریت پر اعتبار اور بھروسہ کرنا حقیقت میں ایک قسم کی مجبوری اور ماحول کی ضرورت ہے اور ایک ایسی ہڈی ہے جو معاشروں کے گلے میں پھنسی ہوئی ہے۔
ہاں انسانی معاشروں کے صاحبان فکرو نظر اور دلسوز مصلحین اور بامقصد سوچ رکھنے والے جو ہمیشہ اقلیت میں ہوتے ہیں اگر عوام الناس کو روشنی بخشنے کے لئے ہمہ جہتی تلاش وکوشش کریں اور انسانی معاشرے کافی حد تک فکری ، اخلاقی اور اجتماعی رشد پالیں تو مسلمہ طور پر اس قسم کی اکثریت کی نظریات حقیقت کے بہت قریب ہوں گے، لیکن غیر رشیداور نا آگاہ یا فاسد ، منحرف اور گمراہ اکثریت کون سی مشکل اپنے اور دوسروں کے راستوں سے ہٹا سکے گی ، اس بنا پر محض اکثریت اکیلی کافی نہیں ہے بلکہ صرف وہی اکثریت کہ جو ہدایت یافتہ ہو اپنے معاشرے کی مشکلات کو اس حد تک کہ جو امکان بشر میں ہے حل کرسکتی ۔
اگر قرآن مختلف آیات میں اکثریت کے بارے میں اعتراض کرتا ہے تو اس میں شک نہیں ہے کہ اس کی مراد ایسی اکثریت ہے کہ جو غیر رشید ہو اور ہدایت یافتہ نہ ہو۔
____________________
۱۔ ”خرص“ (بروزن ترس) اصل میں تخمین کے معنی میں ہے، پہلے پہل تو باغ وغیرہ کرایہ پر دینے کے وقت درختوں پر پھلوں کی مقدار کے تخمینے اور اندازے کے لئے استعمال ہوتا تھا، بعد از اں ہر قسم کے حدس وتخمین کے لئے یہ لفظ بولے جانے لگا اور چونکہ تخمینہ اور اندازہ بعض اوقات واقع کے مطابق اور بعض اوقات اس کے خلاف ہوتا ہے لہٰذا یہ لفظ جھوٹ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے اور مندرجہ بالا آیت میں ہوسکتا ہے دونوں معانی کے لئے ہو۔
۲۔ عموما”افعل تفضیل“،” با“ کے ذریعہ متعدی ہوجاتا ہے لہٰذا یہاں یہ کہنا چاہئے”اعلم بمن“لیکن با محزوف ہے اور ”ومن یضل “ اصطلاح کے مطابق منصوب بنزع خافض ہے۔
آیات ۱۱۸،۱۱۹،۱۲۰
۱۱۸( فَکُلُوا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللهِ عَلَیْهِ إِنْ کُنتُمْ بِآیَاتِهِ مُؤْمِنِینَ ) ۔
۱۱۹( وَمَا لَکُمْ اٴَلاَّ تَاٴْکُلُوا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللهِ عَلَیْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْهِ وَإِنَّ کَثِیرًا لَیُضِلُّونَ بِاٴَهْوَائِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّکَ هُوَ اٴَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِینَ ) ۔
۱۲۰( وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ إِنَّ الَّذِینَ یَکْسِبُونَ الْإِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُوا یَقْتَرِفُونَ ) ۔
ترجمہ:
۱۱۸ ۔ اور جس (ذبیح) پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اس سے کھاؤ، (لیکن ان جانوروں کے گوشت سے کہ جن کو ذبح کرتے وقت ان پر خدا کا نام نہیں لیا گیا نہ کھاؤ)اگر تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو ۔
۱۱۹ ۔تم ان چیزوں میں سے کیوں نہیں کھاتے کہ جن پر خدا کا نام لیا گیا ہے، حالانکہ (خدا وند تعالی نے) جو کچھ تم پر حرام تھا اسے بیان کردیا ہے مگر یہ کہ تم مجبور ہوجاؤ( کہ اس صورت میں اس قسم کے جانور کا گوشت کھانا جائز ہے ) اور بہت سے لوگ (دوسروں کو ) ہوا وہوس اور بے علمی کی وجہ سے گمراہ کردیتے ہیں اور تیرا پرور دگار تجاوز کرنے والوں کو بہتر طور پر پہچانتا ہے۔
۱۲۰ ۔ آشکار اور مخفی گناہوں کو چھوڑ دو کیوں کہ جو لوگ گناہ کماتے ہیں انھیں ان کے بدلے میں سزا دی جائے گی۔
تفسیر
شرک کے تمام آثار مٹ جانے چاہئیں
یہ آیات حقیقت میں توحید وشرک بارے میں گذشتہ مباحث کے نتائج میں سے ایک ، لہذاپہلی آیت”فاء“ تفریح کے ساتھ آئی ہے جو عام طور پر نتیجہ کے بیان کے لئے ہوتی ہے۔
اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ گذشتہ آیاتے میں مختلف بیانات کے ساتھ حقیقت توحید کا اثبات اور شرک وبت پرستی کا بطلان واضح ہوا ہے، اس مسئلہ کے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ گوشت کھانے سے جو ”بتوں “ کے نام پر ذبح ہوتے احتراز کریں اور صرف ان جانوروں کے گوشت سے استفادہ کریں کہ جو خدا کے نام پرذبح ہوتے ہیں ، کیوں کہ مشرکین عرب کی ایک عبادت یہ تھی کہ وہ بتوں کے لئے قربانی کرتے تھے اور ان کے گوشت سے تبرک کے طور پر کھاتے تھے اور یہ کام ایل قس، کی بت پرستی ہی تھا ۔
لہٰذا پہلے کہا گیا ہے: ان چیزوں میں سے کھاااؤ کہ جن پر اللہ کانام لیا جاتا ہے، اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو( فَکُلُوا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللهِ عَلَیْهِ إِنْ کُنتُمْ بِآیَاتِهِ مُؤْمِنِین ) ۔
یعنی ایمان محض دعوے ، گفتار اور عقیدہ کے نام نہیں ہے، بلکہ اس کا اظہار عمل سے بھی ہونا چاہئے، جو شخص خدائے یکتا پر ایمان رکھتا ہے وہ صرف اسی قسم کے گوشت میں سے کھاتا ہے البتہ امر ”کلوا“(کھاؤ) یہاں اس قسم کے گوشت کے کھانے کے وجو ب کے لئے نہیں بلکہ حقیقت میں اس سے مراد اس کا مباح اور اس کے غیر کا حرام ہونا ہے ۔
ضمنی طور پر یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اس گوشت کا حرام ہونا کہ جس کے ذبح کے وقت اس پر خدا کا نام نہیں لیا جاتا، اس نکتہ نظر سے نہیں ہے کہ یہ بات صحت عامہ کے پہلو سے ہے کہ یہ کہاجائے کہ نام لینے سے کیا اثر ہوتا ہے، بلکہ اس کا ربط معنوی واخلاقی پہلوؤں اور توحید پرستی کی بنیادوں کو محکم کرنے کے ساتھ ہے۔
بعد والی آیت میں یہی بات دوسری عبارت سے بیان کی گئی جو اور زیادہ استدلال کے ساتھ ہے، فرمایا ہے:تم ان جانوروں سے کیوں میں کھاتے کہ جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہے؟ حالانکہ جو کچھ تم پر حرام ہے خدا نے اس کی تشریح کردی ہے( وَمَا لَکُمْ اٴَلاَّ تَاٴْکُلُوا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللهِ عَلَیْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُمْ مَا حَرَّمَ عَلَیْکُمْ ) ۔
ہم یہ بات دوبارہ دلنشین کراتے ہیں کہ یہ توبیخ وتاکید حلال گوشت کے کھانے کو ترک کرنے کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ سرف ان گوشتوں سے کھانا چاہئے اور ان کے سوا دوسرے گوشتوں سے استفادہ نہیں کرناچاہیے اور دوسرے لفظوں میں نظر نکتہ مقابل اور مفہوم جملہ پر ہے ، اسی لئے ”قد فصل لکم ما حرم علیکم“ (خدانے نے اس کی تشریح کردی ہے جو تم پر حرام ہے) کے جملہ سے استدلال کیا گیاہے۔
اس بارے میں کہ یہ بات کس سورہ اور کس آیت میں آئی ہے کہ جس میں حلال وحرام گوشت کی وضاحت کی گئی ہے، ممکن ہے کہ یہ تصور کیا جائے کہ اس سے مراد سورہ مائدہ ہے یا اسے سورہ کی بعض آیات ہیں جو آئندہ آئیں گی(مثلا آیہ ۱۴۵) لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی ہے اور سورہ مائدہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے اور اس سورت کی آئندہ آنے والی آیات بھی ان آیات کے نزول کے وقت ابھی تک نازل نہیں ہوئی تھی، یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ان دونوں احتمالات میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے ، بلکہ اس سے مراد یا تو سورہ نحل کی آیہ ۱۱۵ ہے کہ جس میں صراحت کے ساتھ حرام گوشتوں کی بعض اقسام کا بیان آیا ہے اور خصوصا وہ جانور جو غیر خدا کے لئے ذبح ہوئے ہوں اور یا اس سے مراد ان گوشتوں کے بارے میں حکم ہے جو پیغمبر کے وسیلہ سے دئے گئے ہیں ، کیوں کہ وہ کوئی حکم وحی الٰہی کے بغیر نہیں دیتے تھے ۔
پھر ایک صورت مستثنیٰ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: مگر اس صورت کہ تم مجبور ہوجاؤ( إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْهِ ) ۔
چاہے یہ اضطرار بیابان میں گرفتار ہوجانے اور شدید بھو کی وجہ سے ہو یا مشرکین کے چنگل میں گرفتار ہونے اورکے اس امر پر مجبور کرنے کی وجہ سے ہو۔
اس کے بعد مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے: بہت سے لوگ دوسروں کو جہل ونادانی اور ہواوہوس کی بنا پر گمراہ کرتے ہیں( وَإِنَّ کَثِیرًا لَیُضِلُّونَ بِاٴَهْوَائِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ ) ۔
اگرچہ ہوا پرستی اور جہل ونادانی اکثر ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ان دونوں کا ذکر زیادہ تاکید کے لئے اکٹھا کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے ”باہوائھم بغیر علم“۔
ضمنی طور پر تعبیر سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ عالم حقیقی ہرگز ہوا پرستی اور خیال آرئی کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا اور جہاں یہ ان سے جاملا وہ جہالت ہے نا کہ علم ودانش۔
اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ ہوسکتا ہے مندرجہ بالا جملہ اس خیال وتصور کی طرف اشارہ ہوو مشرکین عرب میں موجود تھا تاکہ وہ مردہ جانوروں کاگوشت کھانے کے لئے اس طرح استدلال کیاکرتے تھے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ جانور جنھیں ہم خود زبح کریں انھیں تو ہم حلال سمجھ لیں جنھی ہمارے خدا مارا اسے ہم حرام شمار کریں ؟۔
یہ بات ظاہر ہے یہ سفسطہ ایک بیہودہ خیال سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، کیوں خدا نے مردہ جانور کو ذبح نہیں کیا اوراس کا سر نہین کاٹا کہ ان جانوروں کے ساتھ قیاس کریں جنھیں ہم نے ذبح کیا ہے اور اسی دلیل سے وہ قسم قسم کی بیماریوں کا مرکز ہیں اوراس کا گوشت فاسد اور خراب ہے، لہٰذا خدا وند تعالی نے اس کے کھانے کی اجازت نہیں دے ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے :تیرا پروردگار ان لوگوں کے بارے کہ جو تجاوز کار اور زیادرتی کرنے والے ہیں زیادہ آگاہ ہے( إِنَّ رَبَّکَ هُوَ اٴَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِینَ ) ۔
ایسے ہی لوگ فضول اور بودی دلیلوں کے زریعے نہ سرف یہ کہ راہ حق سے منحرف ہوجاتے بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کو بھیک منحرف کردیں ۔
چونکہ ممکن ہے کہ بعض لوگ اس فعل حرام کا چھپ کر اور پوشیدہ طور پر انجام دیں لہذااس کے ساتھ ہی اگلی آیت میں ایک قانون کلی کے طور کہا گیا ہے: آشکار اور پنہاں گناہ چھوڑدو( وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَهُ ) ۔
کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ منافی عفت عمل (زنا) اگر چھپ کر کیا جائے تو کوئی عیب نہیں ہے وہ صرف اس صورت میں گناہ ہے کہ اگر اسے آشکار اور ظاہر بظاہر کیا جائے ، آج بھی کچھ لوگوں نے عملی طور پر اسی جاہلانہ منطق کو اپنایا ہوا ہے اور صرف آشکار اور ظاہر بظاہر گناہوں سے پریشان اور وحشت زدہ ہوتے ہیں لیکن چھپ کر گناہ کا ارتکاب کسی پریشانی کے بغیر کرتے ہیں ۔
مندرجہ بالا آیت نہ صرف مذکورہ بالا منطق کی مذمت کرتی ہے بلکہ یہ ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے کہ جو اس کے علاوہ کہ جو بیان کیا جاچکا ہے دوسرے مفاہیم وتفاسیر کوبھی ، جو ”ظاہر“اور ”باطن“گناہ کے سلسلے میں بیان ہوئے ہیں ، اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہیں ، منجملہ ان کے یہ ہے کہ ظاہری گناہوں سے مراد وہ گناہ ہے جو اعضائے بدن کے ساتھ انجام پاتے ہیں اور باطنی گناہ سے مراد وہ گناہ ہیں جو دل ،نیت اور تصمیم وارادہ کے ذریعہ صورت پذیر ہوتے ہیں ۔
اس کے بعد یاددہانی اور گناہگاروں کو تہدید کے طور پر اس بدبختی کے بارے میں جس کا وہ انتظار کررہے ہیں قرآن یوں کہتا ہے :وہ لوگ کہ جو گناہوں کا ارتکاب کررہے ہیں بہت جلدی اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھ لےں گے( إِنَّ الَّذِینَ یَکْسِبُونَ الْإِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُوا یَقْتَرِفُونَ ) ۔
”کسب گناہ“ کی تعبیر (یکسبون الاثم) ایک عمدہ اور جالب نظر تعبیر ہے جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ افراد انسانی جہان میں اس سرمایہ داروں کی طرح ہیں جو ایک بہت بڑے بازار میں قدم رکھتے ہیں اور کا سرمایہ ہوش ،عقل،عمر اور جوانی اور قسم قسم کی خدا داد قوتیں ہیں وہ لوگ کتنے بدبخت ہیں جو سعادت، افتخار، مقام، تقوی اور قر ب خدا کے حصول کے بجائے گناہ کمانے میں لگے رہیں ۔
( سیجزون ) (عنقریب اپنی جزا دیکھےں گے) کی تعبیر ممکن ہے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اگرچہ بعض کی نظر میں قیامت دور ہے لیکن حقیقت وہ بہت قریب ہے اور یہ جہاں بہت تیزی کے ساتھ ختم ہوجائے گا اور قیامت آجائے گی، یا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ زیادہ تر افراد اس دنیاوی زندگی میں ہی اپنے برے اعمال کے نتائج انفرادی اور اجتماعی رد عمل کے طور پر دیکھیں گے۔
آیت ۱۲۱
۱۲۱( وَلاَتَاٴْکُلُوا مِمَّا لَمْ یُذْکَرْ اسْمُ اللهِ عَلَیْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّیَاطِینَ لَیُوحُونَ إِلَی اٴَوْلِیَائِهِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ وَإِنْ اٴَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُون ) ۔
ترجمہ:
۱۲۱ ۔ اور اس (ذبیحہ) سے کہ جس پر خدا کا نام نہیں لیا گیا، نہ کھاؤاور یہ فعل گناہ ہے اور شیاطین اپنے دوستوں کومخفی طور پر کچھ مطالب القاکرتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے مجادلے اور جھگڑے کے لئے کھڑے ہوجائیں او راگر تم ان کی اطاعت کرو گے تو تم بھی مشرک ہوجاؤ گے۔
تفسیر
گذشتہ آیات میں مسئلہ کے مثبت پہلو یعنی حلال گوشت کھانے کا ذکر کیا گیا تھا لیکن اس آیت میں زیادہ سے زیادہ تاکید کے لئے منفی پہلو اور اس کے مفہوم کا سہارا لیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ان گوشتوں میں سے کہ جن پر خدا نام ان کے ذبح کے وقت نہیں لیا گیا نہ کھاؤ( وَلاَتَاٴْکُلُوا مِمَّا لَمْ یُذْکَرْ اسْمُ اللهِ عَلَیْهِ ) ۔
اس کے بعد نئے سرے سے ایک مختصر سے جملے کے ساتھ اس عمل کو جرم قرار دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ کام فسق وگناہ ہے اور راہ ورسم بندگی اور فرمان خدا کی اطاعت سے خروج ہے( وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ ) ۔
نیز اس غرض سے کے بعض سادہ لومسلمان ان کے شیطانی وسوسوں کا اثر قبول نہ کر لیں یہ اضافی کیا گیا ہے کہ شیاطین وسوسہ انگیز مطالب مخفی طور پراپنے دوستوں کو القا کرتے ہیں تاکہ ہمارے ساتھ مجادلہ کرنے کے لئے کھڑے ہوجائیں( وَإِنَّ الشَّیَاطِینَ لَیُوحُونَ إِلَی اٴَوْلِیَائِهِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ ) ۔
لیکن تم ہوش وہواس کے ساتھ رہو کیوں کہ ، اگر تم ان کے وسوسوں کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تو تم بھی مشرکین صف میں شامل ہوجاؤ گے
( وَإِنْ اٴَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُون ) ۔
یہ مجادلہ اور وسوسہ شاید اسی منطق کی طرف اشارہ ہو جو مشرکین ایک دوسرے کی طرف القا کیا کرتے تھے (اور بعض نے کہا ہے کہ مشرکین عرب نے اسے مجوسیوں سیکھا تھا ) کہ اگر ہم مردہ جانور کا گوشت کھاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے خدا نے مارا ہے لہٰذا وہ اس جانور سے بہتر ہے جسے ہم مارت ہیں ، یعنی مردار نہ کھانا خدا کے کام سے ایک قسم کی بے اعتنائی ہے ۔
وہ اس ( حقیقت ) سے غافل ہیں کہ جو اپنی طبیعی موت مرتا ہے وہ اس بات کے علاوہ کہ اکثر بیمار ہوتے ہیں ، اس کا سر نہیں کاٹا جاتا اور گندہ اور گاڑھا خون اس کے گوشت کے اندر ہی رہ جاتا ہے اور وہ مر جاتا ہے اور فاسد اور خراب ہوجاتا اور وہ گوشت بھی آلودہ اور فاسد کردیتا ہے، اسی بنا پر خدا نے یہ حکم دیا ہے کہ صرف اس جانور کا گوشت کھاؤ جو مخصوص شرائط کے ساتھ ذبح ہوا ہے اور اس کا خون باہر گرا ہے۔
ضمنی طور ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ غیر اسلامی ذبیحہ حرام ہے کیوں دیگر جہات کے علاوہ اس کے ذبح کے وقت غیر مسلم خدا کا نام لینے کے پابند نہیں ہوتے ۔
آیات ۱۲۲،۱۲۳،
۱۲۲( اٴَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَاٴَحْیَیْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا یَمْشِی بِهِ فِی النَّاسِ کَمَنْ مَثَلُهُ فِی الظُّلُمَاتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْکَافِرِینَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ )
۱۲۳( وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا فِی کُلِّ قَرْیَةٍ اٴَکَابِرَ مُجْرِمِیهَا لِیَمْکُرُوا فِیهَا وَمَا یَمْکُرُونَ إِلاَّ بِاٴَنفُسِهِمْ وَمَا یَشْعُرُونَ ) ۔
ترجمہ:
۱۲۲ ۔ وہ جو کہ مردہ تھا، پھر ہم نے اسے زندہ کیا اور اس کے لئے ایک نور قرار دیا کہ جس کے ذریعے وہ لوگوں کے درمیان چلتا پھرتاہے، کیا اس شخص کی مانند ہے کہ جو تاریکیوں میں ہو اور اس سے باہر نہ نکلے، اس طرح کفار کے لئے وہ(برے ) اعمال جو وہ انجام دیتے تھے زینت دئے گئے ہیں (او رخوبصورت دکھائی دیتے ہیں )۔
۱۲۳ ۔اور ہم نے اسی طرح سے ہر ہر شہر اور ہر ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم قرار دئے ہیں ، (ایسے افراد کہ ہم نے جن کے اختیار میں ہر قسم کی قدرت دے دی تھی لیکن انھوں نے اس سے غلط فائدہ اٹھایا اور غلط راستے پر چل پڑے)اور آخر کار ان کا معاملہ اس حد کو پہنچ گیا کہ وہ مکر(کرنے اور لوگوں کو دھوکہ دینے) میں مشغول ہوگئے، لیکن (فی الحقیقت ) وہ صرف اپنے آپ کو ہی (دھوکہ اور) فریب دیتے ہیں اور سمجھتے نہیں ۔
شان نزول
پہلی آیت کی شان نزول کے بارے میں یوں نقل ہوا ہے :
ابوجہل جو اسلام اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بہت ہی سخت دشمنوں میں سے تھا، ایک دن اس نے آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو سخت تکلیف پہنچائی پیغمبر کے بہادر چچا حضرت حمزہ جو اس دن ایمان نہیں لائے تھے اور اسی طرح آپ کے دین کے بارے میں مطالعہ اور سوج بچار کررہے تھے اور اس دن اپنے معمول کے مطابق شکار کے لئے بیابان میں گئے ہوئے تھے، جب بیابان سے واپس آئے تو ابوجہل اور اپنے بھتیجے کے مابین ہونے والے ماجرے سے باخبرہوئے، انھیں بہت غصہ آیا، وہ فورا ابوجہل کی تلاش میں نکل پڑے، وہ ملا تو اس کے سر یا ناک پر اس طرح مارا کہ خون جاری ہوگیا، ابوجہل نے اس تمام نفوذ واقتدار کے باوجود جو وہ اپنی قوم وقبیلہ بلکہ مکہ کے لوگوں کے درمیان رکھتا تھا حضرت حمزہ کی بہت زیادہ شجاعت کو دیکھتے ہوئے کسی رد عمل کا اظہار نہ کیا ۔
اس کے بعد حمزہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی تلاش میں نکلے اور اسلام قبول کرلیا، اس دن سے باقاعدہ اسلام کے ایک افسر رشید کے طور پر آخر عمر تک اس آسمانی دین کا دفاع اور اس کی حفاظت کرتے رہے۔
اوپر والی آیت اسی واقع کے متعلق نازل ہوئی ہے اور اس میں حمزہ کے ایمان اور ابوجہل کے کفروفساد میں پائیداری کو مشخص کیا گیا ہے۔
بعض رویات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت عمار یاسر کے ایمان لانے اور ابوجہل کے کفر پر اصرار کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
بہرحال یہ آیت بھی قرآن کی دوسری آیات کی طرح ہی اپنے محل نزول کے ساتھ ہی اختصاص نہیں رکھتی اور ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جو ہر سچے مومن اور ہر بے ایمان اور ہٹ دھرم پر صادق آتی ہے ۔
ایمان اور نور نظر
ان کا قبل کی آیات کے ساتھ ربط اس لحاظ سے ہے کہ گذشتہ آیات میں دو گرہوں کی اشارہ ہے۔ مومن خالص اور ہٹ دھرم کافر جو صرف یہ کہ خود ایمان نہیں لاتا بلکہ دوسروں کوگمراہ کرنے کی سختی سے کوشش بھی کرتا ہے، یہاں بھی دوجالب اور عمدہ مثالیں ذکر کرکے ان دونوں گروہوں کی کیفیت کو مجسم کیا گیا ہے۔
پہلے ان افراد کو جو گمراہی میں تھے پھر انھون نے حق اور ایمان کو قبول کرکے اپنے راستے کو بدل لیا انھیں اس مردہ سے تشبیہ دی ہے کہ جو خدا کے ارادہ اور فرمان سے زندہ ہوگیا ہو( اٴَوَمَنْ کَانَ مَیْتًا فَاٴَحْیَیْنَاهُ ) ۔
قرآن میں بارہا ”موت“اور ”حیات“ معنوی موت وحیات اور کفر ایمان کے معنی میں آئی ہے، اور تعبیر اس بات کی طرف اچھی طرح نشاندہی کرتی ہے کہ ایمان ایک خشک اور خالی عقیدہ یا کوئی تکلفاتی الفاظ نہیں ہیں ، بلکہ وہ ایک ایسی روح کی مانند کہ جو بے ایمان افراد کے بے جان جسم میں پھونکی جاتی ہے اور وہ ان کے تمام وجود میں اثر کرتی ہے ، ان کی آنکھوں میں بینائی اور وشنی آجاتی ہے، ان کے کانوں میں سننے کی طاقت پیدا ہوجاتی ہے ، زبان میں طاقر گویائی اور ہاتھ پاؤں میں ہر قسم کے مثبت کام انجام دینے کی قدرت پیدا ہوجاتی ہے، ایمان افراد کو دگرگوں کردیتا ہے اور ان کی ساری زندگی میں اثر انداز ہوتا ہے اورزندگی کے آثار کو ان کے تمام حالات زندگی میں آشکار وواضح کرتا ہے۔
”فاحییناہ“ (ہم نے اسے زندہ کیاہے ) کے حصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اگر چہ خود انسان کی اپنی سعی وکوشش سے صورت پذیر ہونا چاہئے لیکن جب تک خدا کی طرف سے کشش نہ ہو یہ کوششیں انجام کو نہیں پہنچتی۔
اس کے بعد قرآن کہتا ہے: ہم نے ایسے افراد کے لئے نور قرار دیا ہے کہ جس کی روشنی میں وہ لوگوں کے درمیان چلیں پھریں( وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا یَمْشِی بِهِ فِی النَّاسِ ) ۔
اگر چہ مفسرین نے اس بارے میں کئی احتمال ذکر کئے ہیں کہ اس ”نور“ سے کیا مراد ہے لیکن ظاہری طور پر اس سے صرف قرآن اور تعلیمات پیغمبر ہی مراد نہیں ہیں بلکہ اس کے علاوہ خدا پر ایمان انسان کو نور بصیرت اور ایک نیا ادراک بخشتا ہے اور ایک خاص قسم کا نور بصیرت اس کا عطا کرتا ہے، اس کی نگاہ کے افق کق مادی محدود زندگی اور عالم مادی کی چہار دیواری سے نکال کر ایک بہت ہی وسیع عالم میں لے جاتا ہے۔
اور چونکہ وہ انسان کو خود سازی کی دعوت دیتا ہے تو خودخواہی، خود بینی، تعصب، ہٹ دھرمی اور ہوا ہوس کے پردے اس کی روح کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹا دیتا ہے اور وہ ایسے حقائق دیکھنے لگ جاتا ہے کہ جن کے ادراک کی اس سے قبل ہرگز قدرت نہیں رکھتا تھا۔
اس نور کے پرتو میں وہ لوگوں کے درمیان اپنی زندگی کی راہ تلاش کرسکتا ہے اور وہ بہت سے ایسے اشتباہات سے کہ جن میں دوسرے لوگ طمع اور لالچ کی خاطر اور مادی محدود ففکر کی وجہ سے یا خود خواہی اور ہوا وہوس کے غلبہ کے باعث گرفتار ہوجاتے ہیں مامون ومحفوظ رہ جاتا ہے ۔ نیز یہ جو اسلامی رویات میں ہے کہ:”اٴلْمُومِنُ یَنْظُرُ بِنُورِاللّٰهِ “
”مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے“۔
یہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔اگرچہ ان تمام باتوں کے باوجود اس خاص نور کی کہ جو صاحب ایمان انسان میں پیدا ہوجاتا ہے بیان وقلم سے پھر بھی توصیف نہیں کرسکتے۔ بلکہ اس کا ذائقہ چکھنا چاہئے اور اس کے وجود کو محسوس کرنا چاہئے ۔
اس کے بعد ایسے زندہ، فعال، نورانی اور موثر افرا د کا ہٹ دھرم بے ایمان افراد کے ساتھ مقابلہ وموازنہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: کیا ایسا شخص اس شخص کی مانند ہے کہ جو ظلمتوں اور تاریکیوں کی امواج میں ڈوبا ہوا ہے اور ہر گز اس سے باہر نہیں نکل سکتا( کَمَنْ مَثَلُهُ فِی الظُّلُمَاتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا ) ۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ نہیں کہتا کہ ”کمن فی الظلمات“ (اس شخص کی طرح جو ظلمات میں ہے) بلکہ یوں کہتا ہے”کمن مثلہ فی الظلمات“ اس شخص کی طرح کہ جس مثل ظلمات ہیں ۔ بعض نے کہا کہ اس تعبیر سے ہدف ومقصد یہ تھا کہ یہ ثابت کیا جائے کہ اس قسم کے افراد اس قدر تاریکی اور بد بختی میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ ان کی وضع وکیفیت ایک ضرب المثل بن گئی ہے کہ جس سے تمام باسمجھ افراد آگاہ ہیں ۔
لیکن ممکن ہے یہ تعبیر ایک لطیف تر معنی کی طرف اشارہ ہو اور وہ یہ کہ: ایسے افراد کی ہستی اور وجود سے حقیقت میں ایک قالب اور ایک مجسمہ کے سو کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے، وہ ایک ایسا ہیکل رکھتے ہیں کہ جو روح کے بغیر ہے اور ایسا دماغ اور فکر رکھتے ہیں جو بیکار ہوچکی ہے۔
اس نکتہ کی یاددہانی بھی لازمی ہے کہ مومن کا راہنما”نور“ (صیغہ مفرد کے ساتھ) اور کفار کا محیط”ظلمات“( صیغہ جمع کے ساتھ) بیان کیا گیا ہے ، کیوں کہ ایمان صرف ایک ہی حقیقت ہے اور وحدت وویگانگی کی رمز ہے اور کفر وبے ایمانی ، پراگندگی وتفرقہ اور پھوٹ کا سرچشمہ ہے۔
آیت کے آخر میں اس بد بختی کی علت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: کفار کے اعمال کوان کی نظروں میں اسی طرح زینت دے دی گئی ہے( کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْکَافِرِینَ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔
جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں یہ برے عمل کے تکرار کی خاصیت ہے کہ آہستہ آہستہ اس کی برائی نظر میں کم ہوتی چلی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اس کی نظروں میں ایک اچھا کام معلوم ہونے لگتا ہے او ر ایک زنجیر کی مانند اس کے ہاتھ پاؤں میں پڑ جاتا ہے اور اپنے جال سے نکلنے کی اسے اجازت نہیں دیتا، تباہ کاروں کے حالات کا ایک سرسری مطالعہ اس حقیقت کو اچھی طرح واضح کردیتا ہے۔
اور چونکہ منفی جہت سے ایک ماجرے کاہیرو ابوجہل تھا اور وہ مشرکین مکہ اور قریش کے سرداروں میں شمار ہوتا تھا لہٰذا دوسری آیت میں ان گمراہ رہبروں اور کفر وفساد کے زعما کی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا: ہم نے ہر شہر اور آبادی میں اسی طرح سے ایسے بڑے بڑے لوگ قراردئے ہیں کہ جنھوں نے گناہ کا راستہ اختیار کرلیا اور مکروفریب اور دھوکا بازی کے ذریعے لوگوں کو راستے سے منحرف کردیا( وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا فِی کُلِّ قَرْیَةٍ اٴَکَابِرَ مُجْرِمِیهَا لِیَمْکُرُوا فِیهَا ) ۔
ہم نے بارہا یہ کہا ہے اس قسم کے افعال کی خدا کی طرف نسبت اس بنا پر ہے کہ وہ مسبب الاسباب اور تمام قدرتوں کا سرچشمہ ہے اور جو شخص جس کام کو سر انجام دیتا ہے وہ ان امکانات ووسائل کے ساتھ سرانجام دیتا ہے کہ جو خدا نے اس کے اختیار میں دئے ہیں ۔ اگرچہ کچھ لوگ اس سے اچھا فائدہ اٹھاتے ہیں اور بعض لوگ ان ہی وسائل سے برے کام انجام دیتے ہیں ۔
”لیمکروا“ (تاکہ وہ مکروفریب کو کام میں لائیں ) کا معنی ان کے سرانجام کے معنی میں ہے۔ یہ ان کی خلقت کا ہدف نہیں ہے(۱) یعنی نافرمانی اور بکثرت گناہوں کا انجام یہ ہوا کہ وہ راہ حق کے رہزن بن گئے اور بندگان خدا کو راہ سے منحرف کردیا۔ کیوں کہ ”مکر“ اصل میں گرم کرنے اور مروڑنے کے معنی مین بعد ازاں ہر اس انحرافی کام کے لئے جو مخفیانہ اور چھپ کر کیا جائے استعمال ہونے لگا۔
آیت کے آخر میں کہا گیا ہے: وہ اپنے سوا کسی کو بھی فریب اور دھوکا نہیں دیتے، لیکن وہ سمجھتے نہیں ہیں اور متوجہ نہیں ہیں( وَمَا یَمْکُرُونَ إِلاَّ بِاٴَنفُسِهِمْ وَمَا یَشْعُرُونََ ) ۔
اس سے بڑھ کر اور کیا مکروفریب ہوگا کہ وہ اپنے وجود کا تمام سرمایہ چاہے وہ فکر ،ہوش، عقل، عمر اور وقت ہو یا مال دولت ایسی راہ میں استعمال کرتے ہیں کہ جو نہ صرف یہ کہ ان کے لئے سود مند نہیں بلکہ ان کی پشت کو بار مسئولیت اور گناہ سے بھی بوجھل کردیتا ہے جب کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کامیابیوں سے ہمکنار ہوئے ہیں ۔
ضمنی طور پر اس آیت سے بھی اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ مفاسد اور بد بختیاں جو معاشرے کو دامن گیر ہوتی ہیں ان کا سر چشمہ قوموں کے بڑے اور سردار ہی ہوتے ہیں اور وہی لوگ ہوتے ہیں جو قسم قسم کے حیلوں اور فریب کاریوں کے ذریعہ راہ حق کو دگرگوں کر کے حق کے چہرے کولوگوں پر پوشیدہ کردیتے ہیں ۔
____________________
۱۔ اصطلاح کے مطابق ”لام“ غایت کا”لام“ ہے بلکہ عاقبت کا لام ہے کہ جس کے قرآن میں متعدد نمونے موجود ہیں ۔
آیت ۱۲۴
۱۲۴( وَإِذَا جَائَتْهُمْ آیَةٌ قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّی نُؤْتَی مِثْلَ مَا اٴُوتِیَ رُسُلُ اللهِ اللهُ اٴَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَیُصِیبُ الَّذِینَ اٴَجْرَمُوا صَغَارٌ عِنْدَ اللهِ وَعَذَابٌ شَدِیدٌ بِمَا کَانُوا یَمْکُرُونَ ) ۔
ترجمہ:
۱۲۴ ۔ اور جس وقت کوئی آیت ان کے لئے آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہمیں بھی ویسی ہی چیز نہ دکھائی جائے جیسی کہ خدا کے پیغمبروں کو دی گئی ہے،۔خدا ہی بہتر طور پر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کو کہاں قرار دے، وہ لوگ جو گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں (اور انھوں نے اپنی حیثیت ومقام کو بچانے کے لئے لوگوں کو راہ حق سے منحرف کیا ہے ) وہ بہت جلدی اپنے مکر( اور فریب اور چالبازی) کے بدلے میں جو وہ کیا کرتے تھے، بارگاہ خدا وندی میں ذلیل ہوں گے اور عذاب شدید میں گرفتار ہوں گے۔
شان نزول
مرحوم طبرسی مجمع البیان میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں (کہ جو بت پرستوں کے مشہور سرداروں میں سے تھااور اصطلاح کے مطابق ان کا دماغ سمجھا جاتا تھا) نازل ہوئی ہے۔ وہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے کہتا تھا کہ اگر نبوت سچی بات ہے تو میں یہ مقام حاصل کرنے کا آپ سے زیادہ حقدار ہون ، کیون کہ ایک تو میرا سن آپ سے زیادہ ہے اور دوسرے میرے پاس مال ودولت بھی آپ سے زیادہ ہے۔
بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ کیوں کہ وہ خیال کرتا تھا کہ مسئلہ نبو ت بھی رقابتوں کا مرکز بنے ، وہ کہتا تھا کہ ہم اور قبیلہ بنی عبد مناف (پیغمبر کا قبیلہ) ہر چیز میں ایک دوسرے کے رقیب تھے اور گھوڑ دوڑکے دو گھوڑوں کی طرح ایک دوسروں کے دوش بدوش جارہے تھے یہاں تک کہ انھوں نے یہ دعوی کردیا کہ ہمارے درمیان میں سے ایک پیغمبر مبعوث ہوا ہے جس پر وحی نازل ہوتی ہے لیکن یہ بات ممکن نہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئےں مگر یہ کہ ہم پر بھی وحی اترے جس طرح اس پر وحی نازل ہوتی ہے۔
خدا سب بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کوکہاں قراردے
اس آیت میں ان باطل گدی نشینوں اور سرداروں اور ”اکابر مجرمیہا“ کے طرز فکر اور مضحکہ خیز دعوے کی طرف ایک مختصر اور پر معنی اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے : جب خدا کی طرف سے کوئی آیت ان کے لئے بھیجی گئی تو انھوں نے کہا: ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے مگر یہ کہ ہمیں بھی وہی مقامات اور آیات جو خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کو عطا ہوئی ہے دی جائیں( وَإِذَا جَائَتْهُمْ آیَةٌ قَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ حَتَّی نُؤْتَی مِثْلَ مَا اٴُوتِیَ رُسُلُ اللهِ ) ۔
ان کے خیال میں جیسے مقام رسالت اور خلق کی رہبری کا حصول سن وسال ومال ودولت پر موقوف ہے یا قبائل کی بچہ گانہ رقابتوں پر اور گویا خدا بھی اس بات کا پابند ہے کہ وہ ان بے بنیاد اور مضحکہ خیز رقابتوں کا خیال کرے اور انھیں صحیح قرار دے ۔ایسای رقابتیں کہ جن کا سرچشمہ انحطاط فکری ہو، جو مفہوم نبوت اور انسانوں کی رہبری کی فکر سے دور ہوں ۔
قرآن انھیں واضح جواب دیتا ہے اور کہتا ہے: اس کی ضرورت نہیں کہ تم خدا کو سبق دو کہ وہ اپنے پیغمبروں اور رسولوں کو کس طرح بنائے اور کن لوگوں میں ان کا انتخاب کرے کیوں کہ” خدا سب بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کوکہاں قراردے“( اللهُ اٴَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ) ۔
یہ بات صاف ظاہر او بالکل واضح ہے کہ رسالت نہ تو سن وسال اور مال دولت سے کوئی ربط رکھتی ہے اور نہ ہی قبائل کی حیثیت سے ۔ بلکہ ہر چیز سے پہلے اس کی شرط روح کی آمادگی، ضمیر کی پاکیزگی، اصل انسانی خصائل وصفات، فکر بلند، قوت نظر اور آخری طور پر غیر معمولی تقوی وپرہیزگاری کا مرحلہ عصمت میں ہونا ہے اور ان صفات کا موجود ہونا خصوصا مقام عصمت کے لئے آمادگی ایسی چیز ہے جسے خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ ان شرائط اور ان کی سوچ کے درمیان کس قدر فرق ہے۔
جانشین پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم بھی سوائے وحی وتشریع بنی کے تمام صفات اور پروگراموں کا حامل ہوتا ہے ، یعنی وہ محافظ شرع وشریعت بھی ہے ، اس کے مکتب وقوانین کا پاسدار بھی ہے اورلوگوں کا روحانی اور دنیا کا رہبر بھی ہے، لہٰذا اسے بھی مقام عصمت پر فائز اور خطا وگناہ سے مامون ومحفوظ ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنی پیغام رسانی کو باور کرسکے اور رہبرمطاع اور قابل اعتماد نمونہ ہو۔ اسی دلیل سے اس کا انتخاب بھی خدا ہی کے اختیار میں ہے اور خدا ہی جانتا ہے کہ اس مقام کو وہ کہاں قرار دے نہ کہ خلق خدا۔ نہ ہی لوگوں کے انتخاب اور شوری سے یہ ہوتا ہے۔
آیت کے آخر میں اس قسم کے مجرموں اور باطل دعوے کرنے والے رہبروں کے اس انجام کا ذکر کیا گیا ہے جو ان کے انتظار میں ہے ارشاد ہوتا ہے: عنقریب یہ گنہگار لوگ اس مکروفریب کی وجہ سے جو وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے کرتے تھے ذلت وحقارت اور عذاب شدید میں گرفتار ہوں گے( سَیُصِیبُ الَّذِینَ اٴَجْرَمُوا صَغَارٌ عِنْدَ اللهِ وَعَذَابٌ شَدِیدٌ بِمَا کَانُوا یَمْکُرُونَ ) ۔(۱)
یہ خود خواہ لوگ چاہتے تھے کہ اپنے غلط کاموں کے ذریعہ اپنی حیثیت ، مقام اور مرتبہ کی حفاظت کریں لیکن خدا انھیں اس طرح حقیر کرے گا کہ وہ درد ناک روحانی گرفت کا احساس کریں گے ، علاوہ ازایں چونکہ راہ باطل میں ان کہ ہاؤہو زیادہ اور ان کی سعی وکوشش سخت تھی لہٰذا ان کی سزا اور عذاب بھی ”شدید“ اور پر سرصدا ہوگا۔
____________________
۱۔ ”اجرام“ مادہ”جرم“ سے اصل میں قطع کرنے کے معنی میں ہے اور چونکہ گنہگار افراد رشتوں اور ناتوں کو قطع کردیتے ہیں اور اپنے آپ کو فرمان خدا کی اطاعت سے الگ کرلیتے ہیں لہٰذا یہ لفظ گناہ کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور اس میں اس حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے ہر شخص اپنی ذات میں حق وپاکیزگی اور عدالت کے ساتھ رشتہ رکھتا ہے اور گناہ سے آلودگی فی الواقع فطرت الٰہیہ سے علحیدگی ہے۔
آیات ۱۲۵،۱۲۶،۱۲۷
۱۲۵( فَمَنْ یُرِدْ اللهُ اٴَنْ یَهدِیَهُ یَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلاَمِ وَمَنْ یُرِدْ اٴَنْ یُضِلَّهُ یَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاٴَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَاءِ کَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللهُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ ) ۔
۱۲۶( وَهَذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسْتَقِیمًا قَدْ فَصَّلْنَا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَذَّکَّرُونَ ) ۔
۱۲۷( لَهُمْ دَارُ السَّلاَمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔
ترجمہ:
۱۲۵ ۔ جس شخص کے لئے خدا چاہتا ہے کہ ہدایت کرے اس کے سینہ کو(قبول کرنے کے لئے) کشادہ کردیتا ہے اور جس شخص کو( اس کے برے اعمال کی وجہ سے) گمراہ کرنا چاہے اس کے سینہ کو اس طرح تنگ کردیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے، اس طرح خدا پلیدی ایسے افراد کے لئے قرار دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔
۱۲۶ ۔اور یہ صراط مستقیم (اور ہمیشہ کی سنت) تیرے پروردگار کی ہے ہم ایسے افراد کے لئے جو پندونصیحت حاصل کرتے ہیں اپنی آیات کو کھول کر بیان کردیتے ہیں ۔
۱۲۷ ۔ ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس امن وامان کا گھر ہوگا او ران کا ولی، دوست اور مددگار ہے ان (نیک)اعمال کی وجہ سے جو وہ انجام دیتے ہیں ۔
تفسیر
خدائی امداد
گذشتہ آیات کہ جو سچے مومنین اور ہٹ دھرم کفار کے بارے میں بحث کررہی تھیں ، کے بعد ان آیات میں ان عظیم نعمتوں کو جو پہلے گروہ کے لئے ہیں اور بے توفیقیاں جو دوسرے گروہ کے دامن گیر ہوں گی تفصیل ک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
پہلے فرمایا گیاہے: جس شخص کو خدا ہدایت کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ حق کو قبول کرنے کے لئے کشادہ کردیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ اس کے لئے اسے تنگ کردیتا ہے گویا وہ چاہتا ہے کہ آسمان کی طرف چڑھ جائے( فَمَنْ یُرِدْ اللهُ اٴَنْ یَهدِیَهُ یَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلاَمِ وَمَنْ یُرِدْ اٴَنْ یُضِلَّهُ یَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَیِّقًا حَرَجًا کَاٴَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَاءِ ) ۔
اس امر کی تاکید کے لئے مزید کہا گیا ہے : خدا اس طرح سے پلیدی اور رجس کو بے ایمان افراد کے لئے قرار دیتا ہے اور ان کے سرا پا کو نحوست اور سلب توفیق گھیر لے گی (کَذٰلِکَ یَجْعَلُ اللهُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ)۔
قابل توجہ نکات
۱ ۔ ہم بارہا بیان کرچکے ہیں کہ خدائی ”ہدایت“ اور ”ضلالت“ سے مراد ایسے اشخاص کے لئے کہ جنھوں نے حق قبول کرنے کے لئے اپنے اعمال وکردار سے آمادگی یا عدم آمادگی کو ثابت کردیا ہے ، ہدایت کی بنیادیں فراہم کرنا یا فراہم شدہ ہدایت کی بنیادوں کو برطرف کرنا ہے۔
وہ لوگ کہ جو راہ حق پر رواں دواں ہین اور ایمان کے اور ایمان کے آب زلال کے متلاشی اور پیاسے ہیں ، خدا ان کے راستوں میں ایسے ضیا بخش چراغ روشن کردیتا ، تاکہ وہ اس آب حیات کو حاصل کرنے کے لئے تاریکیوں میں گم نہ ہوجائےں لیکن وہ لوگ کہ جنھوں نے ان حقائق ک بارے میں اپنی بے اعتنائی ثابت کردی ہے وہ اس خدائی امداد سے محروم اور اپنی راہ میں انبوہ مشکلات سے دوچار ہوجاتے ہیں اور ان سے توفیق ہدایت سلب ہوجاتی ہے۔
۲ ۔یہاں ”صدر“ (سینہ) سے مراد روح اور فکر ہے اور یہ کنایہ بہت سے مواقع پر استعمال ہوتا ہے ۔نیز ”یشرح“ (کشادہ کرنا) سے مراد وہی وسعت روح، بلندی فکر اور انسان کی عقل کے افق کا پھیلاؤ ہے ۔ کیوں کہ حق کو قبول کرنے کے لئے بہت سے ذاتی منافع چھوڑنے پڑتے ہیں کہ جس کے لئے وسعت روح رکھنے والے اور بلند افکار افراد کے سوا اور کوئی آمادہ نہیں ہوگا۔
۳ ۔ ”حرج“ (بروزن حرم) حد سے زیادہ تنگی اور شدید محدویت کے معنی میں ہے ۔ یہ ہٹ دھرم اور بے ایمان افرا د کا حال ہے ، کہ جن کی فکر بہت کوتاہ اور ان کی روح حد سے زیادہ چھوٹی اور ناتواں ہے اور جو معمولی سی گنجائش بھی زندگی میں نہیں رکھتے۔۔
۴ ۔ قرآن کا ایک علمی معجزہ: اس قسم کے افراد کو ایسے شخص کے ساتھ تشبیہ کہ جو یہ چاہتا ہے کہ آسمان پر چڑھ جائے اس لحاظ سے ہے کہ آسمان کی طرف صعود کرنا (چڑھنا) حد سے زیادہ مشکل کام ہے اور ان کے لئے حق کو قبول کرنا بھی اسی طرح ہے۔
جیسا کہ ہم روزمرہ کی گفتگو میں کہتے ہیں کہ یہ کام فلاں شخص کے لئے اتنا مشکل ہے کہ گویا وہ یہ چاہتا ہے کہ میں آسمان کی طرف چڑھ جاؤں ، یا جیسا کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ کام کرنے کے بجائے آسمان پر چڑھ جاؤ تو زیادہ آسان ہے ۔
البتہ اس زمانے میں آسمان کی طرف پرواز کرنا انسان کے لئے ایک تصور سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا تھا، لیکن آج بھی جب کہ فضا میں سیر کرنا ایک عملی شکل اختیار کرچکا ہے پھر بھی وہ ایک طاقت فرسا اور مشکل کاموں میں سے ہے اور فضا نوردوں کو ہمیشہ شدید مشکلات کا سامنہ رہتا ہے۔
لیکن اس آیت کے لئے ایک لطیف تر معنی بھی نظر میں آتا ہے جو گذشتہ بحث کی تکمیل کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آج یہ ثابت ہوچکا ہے کہ کرہ زمین کے اطراف کی ہوا اس زمین کے قرب جوار میں تو بالکل نتھری ہوئی اور انسانی تنفس کے لئے آمادہ ہے، لیکن ہم جتنا اوپر کی طرف چڑھتے چلے جائیں ہوا اتنی ہی زیادہ رقیق اور کم ہوجاتی ہے اور اس کی آکسیجن کی مقدار کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے، اس حد تک کہ اگر ہم( آکسیجن کے ماسک کے بغیر) زمین کی سطح سے چند کلو میٹر اوپر کی طرف چلے جائیں تو ہمارے لئے سانس لینا ہر لحظہ مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائے گا اور اگر ہم برابر اوپر کی طرف بڑھتے رہیں تو تنگی نفس اور آکسیجن کی کمی ہماری بے ہوشی کا سبب بن جائے گی ، اس دن جب یہ واقعیت علمی ثابت نہیں ہوئی تھی اس تشبیہ کا بیان کرنا حقیقت میں قرآن کے علمی معجزات میں شمار ہوگا۔
۵ ۔ شرح صدر کیا ہے آیت میں شرح صدر(سینہ کی کشادگی) ایک عظیم نعمت اور ضیق صدر(سینہ کی تنگی) ایک خدائی سزا شمار کی گئی ہے ۔ جیسا کہ خدا وند تعالی اپنے پیغمبر سے ایک عظیم نعمت کابیان کرتے ہوئے کہتا ہے:
”( اٴَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ) “
”کیا ہم نے تیرے سینہ کو وسیع اور کشادہ نہیں کیا“۔(۱)
یہ ایک ایسا امر ہے کہ جو افرادکے حالات کا مشاہدہ کرنے سے اچھی طرح معلوم ہوسکتا ہے۔ بعض کی روح تو اس قدر بلند وکشادہ ہوتی ہے جو ہر حقیقت کو قبول کرنے کے لئے ۔چاہے وہ کتنی بڑی کیوں نہ ہو۔ آمادہ اور تیار ہوتی ہے لیکن اس کے برعکس بعض کی روھ اتنی تنگ اور محدود ہوتی ہے جیسے کسی بھی حقیقت کے نفوذ کے لئے اس میں کوئی راہ اور جگہ نہیں ہے ان کی فکری نگاہ کی حد روزمرہ کی زندگی اور کھانے پینے تک ہی محدود ہوتی ہے، اگر وہ انھیں مل جائے تو ہر چیزچھی ہے اور اگر اس میں تھوڑا سا بھی تغیر پیدا ہوجائے تو گویا سب کچھ ختم ہوگیا ہے اور دنیا خراب ہوگئی ہے۔
جس وقت اوپر والی آیت نازل ہوئی پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے لوگوں نے پوچھاکہ شرح صدر کیا ہے تو آپ نے فرمایا:”نور یقذفه اللّٰه فی قلب من یشاء فینشرح له صدره وینفسح “
”ایک نور ہے کہ جسے خدا جس شخص کے دل میں چاہے ڈال دے تواس کے سائے میں اس کی روح وسیع اور کشادہ ہوجاتی ہے“۔
لوگوں نے پوچھا کہ کیا اس کی کوئی نشانی بھی ہے جس سے اسے پہچانا جائے تو آپ نے فرمایا:
”نعم الانابة الی دار الخلود والتجافی عن دارالغرور والاستعداد للموت قبل نزول الموت “۔(۲)
”ہاں ! اس کی نشانی ہمیشہ گھر کی طرف توجہ کرنا ، اور دنیا کے زرق برق سے دامن سمیٹنا، اور موت کے لئے آمادہ ہونا (ایمان وعمل صالح اور راہ حق میں کوشش کرنے کے ساتھ ) قبل اس کے کہ موت آجائے “۔
بعد والی آیت میں گذشتہ بحث کی تاکید کے عنوان سے کہتا ہے: یہ مطلب کہ خدائی مدد حق طلب لوگوں کے شامل حال ہوتی ہے اور سلب توفیق دشمنان حق کی تلاش میں جاتی ، ایک مستقیم وثابت اور ناقابل تغیر سنت الٰہی ہے( وَهَذَا صِرَاطُ رَبِّکَ مُسْتَقِیمًا ) ۔
اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ ”ھذا“ کا اشارہ اسلام اور قرآن کی طرف ہو، کیو ں کہ وہی صراط مستقیم اور راست ومعتدل راستہ ہے۔
آیت کے آخر میں دوبارہ تاکید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ہم نے اپنی نشانیوں اور آیات کو ان لوگوں کے لئے جو قبول کرنے والا دل اور سننے والا کان رکھتے ہیں تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے( قَدْ فَصَّلْنَا الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَذَّکَّرُونَ ) ۔
بعد والی آیت میں خدا وند تعالی اپنی نعمتوں کے ان دو عظیم حصوں کو جو وہ بےدار افراد اور حق طلب لوگوں کو عطا کرتا ہے بیان کرتا ہے: پہلی یہ کہ ان کے پروردگار کے پاس ان کے لئے امن وامان کا گھر ہے( لَهُمْ دَارُ السَّلاَمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ ) ۔
اور دوسری یہ کہ : ان کا ولی وسرپرست اور حافظ ناصر خدا ہے( وهُوَ وَلِیُّهُمْ ) ۔
”اور یہ سب کچھ ان نیک اعمال کی وجہ سے ہے جو وہ انجام دیتے تھے“( بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔
اس سے بڑھ کر اور کونسی چیز باعث افتخار ہوگی کہ انسان کی سرپرستی اور کفالت امورخدا وند تعالی اپنے ذمہ لے لے، اور وہ اس کا حافظ، دوست اور یارویاور ہوجائے۔
اور کون سی نعمت اس سے عظیم تر ہے کہ ”دارالسلام“ یعنی امن امان کا گھر وہ جگہ کہ جس میں نہ جنگل ہے نہ خونریزی،نہ نزاع ہے نہ جھگڑا، نہ خشونت وسختی ہے نہ زمانے والی اور طاقت صرف کرنے والی رقابتیں ، نہ مفادات کا تصادم ہے نہ جھوٹااور افتراء نہ تہمت، حسد اور کنہ ہے اور نہ غم واندوہ ، ایسا گھر جو ہرلحاظ سے راحت وآرام کی جگہ ہے، انسان کے انتظار میں ہے۔
لیکن آیت یہ کہتی ہے کہ یہ چیزیں وہ زبانی جمع خرچ سے کسی کو نہیں دیتا بلکہ عمل کے بدلے میں دیتا ہے، ہاں ! ہاں ! عمل ہی کے بدلے میں ۔
____________________
۱۔ سورہ الم نشرح، آیہ :۱۔
۲۔ مجمع البیان، جلد ۴، صفحہ ۳۶۳۔
آیات ۱۲۸،۱۲۹
۱۲۸( وَیَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیعًا یَامَعْشَرَ الْجِنِّ قَدْ اسْتَکْثَرْتُمْ مِنْ الْإِنسِ وَقَالَ اٴَوْلِیَاؤُهُمْ مِنْ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا اٴَجَلَنَا الَّذِی اٴَجَّلْتَ لَنَا قَالَ النَّارُ مَثْوَاکُمْ خَالِدِینَ فِیهَا إِلاَّ مَا شَاءَ اللهُ إِنَّ رَبَّکَ حَکِیمٌ عَلِیمٌ ) ۔
۱۲۹( وَکَذٰلِکَ نُوَلِّی بَعْضَ الظَّالِمِینَ بَعْضًا بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ) ۔
ترجمہ:
۱۲۸ ۔ اور اس دن کہ جس میں ان سب کو جمع اور محشور کرے گا تو ان سے کہے گا کہ اے گروہ شیاطین وجن تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا ہے ، تو انسانوں میں سے ان کے دوست اور پیروھار کہیں گے اے ہمارے پروردگا ر ہم دونوں (گمراہ پیشواؤں اور گمراہ پیروکاروں ) میں سے ہر ایک نے دوسرے سے فائدہ اٹھایا ہے( ہم ہوس آلودہ اور زود گزر لذات تک پہنچے اور انھوں نے ہم پر حکومت کی) اور جو اجل تونے ہمارے لئے مقرر کردی تھی ہم اس تک پہنچ گئے،(خدا) کہے گا:تمھارے رہنے کی جگہ آگ ہے تم ہمیشہ کے لئے اسی میں رہوگے، مگر جو کچھ خدا چاہے ، تیرا پروردگار حکیم اور داناہے۔
۱۲۹ ۔ اور اس طرح سے ہم بعض ستمگروں کو بعض (دوسرے ظالموں ) کے سپرد کردیتے ہیں یہ ان اعمال کی وجہ سے ہے جو وہ انجام دیتے ہیں ۔
اس دن کہ جس میں ان سب کو جمع ومحشور کرے گا
ان آیات میں قرآن نئے سرے گمراہ اور گمراہ کرنے والے مجرمین کی سرنوشت کی طرف لوٹتا ہے، اور گذشتہ آیات کے مباحث کی اس سے تکمیل کرتا ہے۔
انھیں اس دن کی یاد دلاتاہے کہ جس دن وہ ان شیاطین کے آمنے سامنے کھڑے ہوں گے کہ جن سے انھوں نے الہام لیا ہے، اور ان پیروکاروں اور ان پیشواؤں سے سوال ہوگا ، ایسا سوال کہ جس کا وہ کوئی جواب نہ دے سکے گے اور حسرت واندوہ کے سواکوئی نتیجہ حاصل نہ کرے گے، یہ تنبیہیں اس مقصد کے لئے ہیں کہ صرف اس چند روزہ زندگی پر نگاہ نہ رکھیں اور انجام کار کی بھی فکر کریں ۔
قرآن پہلے کہتا ہے: اس دن کہ جس میں ان سب کو جمع ومحشور کرے گا تو ابتدا میں کہے گا کہ اے گمراہ کرنے والے جن وشیاطین تم نے بہت سے افراد انسانی کو گمراہ کیا ہے( وَیَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیعًا یَامَعْشَرَ الْجِنِّ قَدْ اسْتَکْثَرْتُمْ مِنْ الْإِنسِ ) ۔(۱)
لفظ ”جن“ سے مراد یہاں وہی شیاطین ہیں ، کیوں کہ جن اصل لغت میں ، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں ، ہر مخفی مخلوق کے معنی میں ، سورہ کہف کی آیہ ۵۰ میں ہم شیاطین کے سردار ابلیس کے بارے میں پڑھے گے۔
”( کان من الجن ) “یعنی وہ جنوں میں سے تھا۔
آیات گذشتہ کہ جن میں شیاطین کے رمزی وسوسوں کے بارے میں گفتگو تھی اور فرمایاگیا تھا ”ان الشیاطین لیوحون الی اولیائھم “ اسی طرح بعد والی آیت کچھ اور لوگوں کے بارے میں بعض ستمگروں کی رہبری کی بات کررہی ہے ہوسکتا ہے کہ وہ اسی امر کی طرف اشارہ ہ۔
لیکن گمراہ کرنے والے شیاطین کے پاس اس گفتگو کا کوئی جواب نہیں ہے اور وہ خاموش ہوجاتے ہیں لیکن ”انسانوں میں سے ان کی پیروی کرنے والے اس طرح کہے گے کہ پروردگارا ، انھوں نے ہم سے فائدہ اٹھایا او ر ہم نے ان سے فائدہ اٹھایا یہاں تک کہ ہماری اجل آگئی“( وَقَالَ اٴَوْلِیَاؤُهُمْ مِنْ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا اٴَجَلَنَا الَّذِی اٴَجَّلْتَ لَنَا ) ۔
وہ اسی بات پر خوش تھے کہ انھوں نے فرمانبردار پیروکار مل گئے ہیں اور ان پر حکومت کررہے ہیں ، اور ہم بھی دنیا کے زرق وبرق اور اس کی بے لگام وقتی لذات کہ جو شیاطین کے وسوسوں کی وجہ سے دلفریب اور دلچسپ دکھائی دیتی تھی ، خوش تھے۔
اس بارے میں کہ اس آیت میں اجل سے کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد زندگی کا اختتا م ہے یا قیامت کادن ہے ؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ظاہر زندگی کا اختتام مراد ہے، کیوں کہ لفظ ”اجل“ اس معنی میں قرآن کی بہت سے آیات میں استعمال ہوا ہے ۔
لیکن خدا ان سب فاسد ومفسد پیشواؤں اور پیروکاروں کو مخاطب کرکے کہتا ہے: تم سب کے رہنے کی جگہ آگ ہے اور تم ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہوں گے، مگر جو کچھ خدا چاہے( قَالَ النَّارُ مَثْوَاکُمْ خَالِدِینَ فِیهَا إِلاَّ مَا شَاءَ الله ) ۔
جملہ”الا ماشاء الله “ (مگر جو خدا چاہے) کے ساتھ استثنا یا تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے مواقع پر عذاب وسزا کا ابدی ہونا پروردگار عالم سے اس کی قدرت کو سلب نہیں کرتا، بلکہ جب وہ چاہے اسے بدل سکتا ہے، اگر چہ ایک گروہ کے لئے قائم رہنے دیتا ہے۔
یا یہ ان افراد کی طرف اشارہ ہے کہ جو ابدی عذاب کے مستحق نہیں ہیں ، یا یہ وہ عفو الٰہی کے شامل حال ہونے کی قابلیت رکھتے ہیں کہ جنھیں سزا کے جاودانی ہونے اور ہمیشگی کے حکم سے مستثنی ہونا چاہئے۔
اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : تیرا پروردگار حکیم ودانا ہے( إِنَّ رَبَّکَ حَکِیمٌ عَلِیمٌ ) ۔
اس کی سزا بھی حساب وکتاب کے ماتحت ہے اور اس کی بخشش بھی حساب وکتاب کی رو سے ہے اوروہ اس کے مواقع کو اچھی طرح جانتا ہے۔
اگلی آیت میں اس قسم کے افراد کے بارے میں ایک دائمی قانون الٰہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جس طرح ستمگر اور طاغی لوگ اس دنیا میں ایک دوسرے کے حامی اور معاون تھے، وہ آپس میں رہبر ورہنما بھی تھے، اور غلط راستوں پر چلنے میں ایک دوسرے کے قریبی ہمکار بھی تھے، ”دوسرے جہان میں بھی ہم انھیں ایک دوسرے کے ساتھ چھوڑ دیں گے، اور یہ ان اعمال کی وجہ سے ہے کہ جنھیں وہ اس جہان میں انجام دیتے تھے”( وَکَذٰلِکَ نُوَلِّی بَعْضَ الظَّالِمِینَ بَعْضًا بِمَا کَانُوا یَکْسِبُون ) ۔
کیوں کہ جیس کہ ہم نے معاد سے مربوط مباحث میں بیان کیا ہے قیامت کا منظر بہت بڑے پیمانے پر عکس العمل اور ردعمل کا منظر ہے اور وہاں پر جو کچھ ہوگا وہ ہمارے اعمال کا پرتواور انعکاس ہے۔(۲)
تفسیر علی بن ابراہیم قمی میں بھی امام علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:
”نولی کل من تولی اولیائهم فیکونون معهم یوم القیٰمة “
”قیامت کے دن ہر شخص اپنے اولیاء کے ساتھ ہوگا“۔
قابل توجہ بات یہ ہے آیت میں تمام گروہوں کا ”ظالم“ کے عنوان تعارف کرایا گیا ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ ”ظلم“ اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے ان سب پر محیط ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا کہ انسان اپنے جیسے شیطان صفت لوگوں کی رہبری کو قبول کرکے اپنے آپ کو خدا کی ولایت سے خارج کرلے، اور دوسرے جہاں میں بھی ان ہی کی ولایت کے ماتحت قرار پائے۔
نیز یہ تعبیر اور”( بما کانوا یکسبون ) “ سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ یہ سیاہ روزی اور بدبختی خود ان کے اعمال کی وجہ ہے اور یہ ایک سنت الٰہی اور قانون فطرت ہے کہ تاریک راستوں کے راہی بدبختی کے کنویں اور درے میں گرنے کے سوا اور کوئی انجام وعاقبت نہیں پائیں گے۔
____________________
۱۔ ”یوم“ ظرف ہے اور ”یقول“ سے متعلق ہے جو کہ محذوف ہے اور اصل میں جملہ یوں تھا” یوم یحشرھم جمیعا یقول“۔
۲۔ مزید وضاحت کے لئے ”معادو جہان پس از مرگ “ نامی قیمتی کتاب کی طرف رجوع کریں ۔
آیات ۱۳۰،۱۳۱،۱۳۲
۱۳۰( یَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ اٴَلَمْ یَاٴْتِکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ هَذَا قَالُوا شَهِدْنَا عَلیٰ اٴَنفُسِنَا وَغَرَّتْهُمْ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا وَشَهِدُوا عَلیٰ اٴَنفُسِهِمْ اٴَنَّهُمْ کَانُوا کَافِرِینَ ) ۔۔
۱۳۱( ذٰلِکَ اٴَنْ لَمْ یَکُنْ رَبُّکَ مُهْلِکَ الْقُرَی بِظُلْمٍ وَاٴَهْلُهَا غَافِلُونَ ) ۔
۱۳۲( وَلِکُلٍّ دَرَجَاتٌ مِمَّا عَمِلُوا وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ ) ۔
ترجمہ:
۱۳۰ ۔ (اس دن ان سے کہے گا) اے گروہ جن وانس ! کیا تم ہی میں سے (ہمارے بھیجے ہوئے) رسول تمھارے پاس نہیں آئے تھے، جو ہمارے آیات تمھارے سامنے بیان کیا کرتے تھے، اور اس قسم کے دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے، وہ کہیں گے کہ ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں (ہاں ہم نے برا کیا) اور انھیں دنیا کی (زرق وبرق) زندگی نے فریب دیا، اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر تھے۔
۱۳۱ ۔ یہ اس بنا پر ہے کہ تیرا پروردگار کبھی بھی شہر اور آبادیوں (کے لوگوں ) کو ان کے ظلم وستم کی وجہ سے غفلت اور بے خبری کی حالت میں ہلاک نہیں کرتا(بلکہ پہلے کچھ رسولوں کو ان کے پاس بھیجتا ہے)۔
۱۳۲ ۔ اور (ان دونوں گروہوں میں سے ) ہر ایک کے لئے درجات (اور مراتب) ہیں ہر اس عمل کے بدلے میں جو انھوں نے انجام دیا ہے اور تیرا پروردگار ان اعما ل سے جو انھوں نے انجام دئیے ہیں غافل نہیں ہے۔
تفسیر
اتمام حجت
گذشتہ آیات میں شیطان صفت ستمگروں کی قیامت کے دن سرنوشت بیان ہوئی ہے، اس غرض سے کہیں یہ تصور نہ کرلیا جائے کہ انھوں نے غفلت کی حالت میں یہ کام انجام دئے ہوں گے اب ان آیات میں واضح کرتا ہے کہ انھیں کافی تنبیہ کی گئی ہے اوران پر اتمام حجت کی گئی ہے ، لہٰذا قیامت کے دن وہ ان سے کہے گا: اے گروہ جن وانس! کیا تم ہی میں سے رسول تمھارے پاس نہیں آئے تھے اوت ہماری آیات بیان نہیں کی تھی اور قسم کے دن کی ملاقات سے تمھیں ڈرایا نہیں تھا( یَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ اٴَلَمْ یَاٴْتِکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ هَذَا ) ۔
”معشر“ اصل میں ” عشرة “سے جودس کے عدد کے معنی میں ہے، لیا گیا ہے اور چونکہ دس کا عدد ایک اکمل عدد ہے، لہٰذا معاشرہ کا لفظ ایک کامل جماعت پر جو مختلف اصناف اور طوتفوں پر مشتمل ہو ، بولا جاتا ہے، اس بارے میں کہ آیا جنوں کی طرف بھیجے گئے رہنما خود ان ہی کی جنس ونوع سے تھے یا نوع بشر میں سے مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن سورہ جن کی آیات سے جو کچھ اچھی طرح سے استفادہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ :قرآن اور اسلام سب کے لئے ہے حتی کہ جنوں کے لئے بھی نازل ہوا ہے، اور پیغمبر اسلام سب کی طرف مبعوث ہوئے تھے ، زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس بات میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی جانب سے ان کو دعوت دینے کے لئے خود ان ہی میں سے پیغام دینے والے اور نمائندے مامور ہوں اس بارے میں مزید تشریح اور ”جن“ کے علمی معنی کے بارے میں بھی انشاء للہ قرآن مجید کے پارہ ۲۹ میں سورہ جن کی تفسیر میں آئے گی۔
لیکن اس بات پر توجہ رکھنا چاہئے کہ لفظ” منکم“ (تم میں سے) اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہرگروہ کے رسول ایک ہی گروہ سے ہوں یا تمام گروہوں میں ے ہوں ۔
اس کے بعد کہتا ہے کہ قیامت کے دن کچھ چھپایا نہیں جاسکے گا او ر اس روز سب چیزوں کی نشانیاں آشکار ہوں گی اور کوئی شخص کسی چیز کو چھپا نہیں سکے گا، سب کے سب خدا کی اس پرسش کے سامنے اظہار کرتے ہوئے، کہیں گے ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں اور اس بات کا عتراف کرتے ہیں کہ ایسے رسول آئے تھے اور انھوں نے تیرے پیغام ہمیں پہنچایا تھا، مگر ہم نے ان کی مخالفت کی تھی( قَالُوا شَهِدْنَا عَلیٰ اٴَنفُسِنَا ) ۔
ہاں ! ان کے پاس پروردگار کی طرف سے کافی دلائل موجود تھے اور وہ راہ اور چاہ تمیز کرتے تھے ،”لیکن دنیا کی پرفریب زندگی اور اس کے وسوسہ انگیز زرق وبرق نے انھیں دھوکا دیا“( وَغَرَّتْهُمْ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا ) ۔
یہ جملہ اچھی طرح سے واضح کررہا ہے کہ انسانوں کے لئے راہ سعادت میں سب سے بڑی رکاوٹ ، جہاں مادہ کے مظاہر کے سامنے بے لگام ہوکرسرتسلیم خم کرنا اور بے حد وحساب دلبستگی ہے ایسی دلبستگیاں کہ جو انسان کو زنجیر غلامی کی طر ف کھینچ لے جاتی ہے اور اسے ہر قسم کے ظلم وستم ، تعدی وانحراف اور خود کواہی وطغیان کی دعوت دیتی ہے۔
قرآن دوبارہ تاکید کرتا ہے: وہ صراحت کے ساتھ اپنے ضرر میں اور اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کفر کی راہ پر چلے تھے اور منکرین حق کی صف میں شامل ہوئے تھے( وَشَهِدُوا عَلیٰ اٴَنفُسِهِمْ اٴَنَّهُمْ کَانُوا کَافِرِینَ ) ۔
بعد والی آیت میں گذشتہ آیت کے اسی مضمون کو دہرایا گیا ہے لیکن ایک قانون کلی اور دائمی سنت الٰہیہ سے کی صورت میں بیان کیا گیا ہے ”یہ اس بنا پر کہ تیرا پروردگار کبھی بھی شہروں اور بستیوں کے لوگوں کو ان کے ظلم وستم کی وجہ سے غفلت کی حالت میں ہلاک نہیں کیا کرتا )مگر یہ کہ ان کی طرف انبیاء ورسل کو بھیجے اور انھیں ان کے برے اعمال کی برائی طی طرف متوجہ کرے اور جو کہنے کی باتیں ہیں وہ ان سے کہے( ذٰلِکَ اٴَنْ لَمْ یَکُنْ رَبُّکَ مُهْلِکَ الْقُرَی بِظُلْمٍ وَاٴَهْلُهَا غَافِلُونَ ) ۔
لفظ ”بظلم“ اس معنی میں بھی ہوسکتا ہے کہ خدا کسی کو اس کے مظالم کی بنا پر غفلت کی حالت میں پیغمبروں کو بھیجنے سے پہلے عذاب اور سزا نہیں دیتا اور اس معنی میں بھ ہوسکتا ہے کہ خدا افراد غافل کو ظلم وستم سے عذاب سزا نہیں دیتا، کیوں ک انھیں اس حالت میں سزا دینا ظلم وستم ہے اور خدا نود تعالی اس سے بالا وبرتر ہے وہ کسی پر ظلم وستم کرے ۔(۱)
اس کے سر انجام کا بعد کی آیت میں خلاصہ کرتے ہوئے یوں فرمایا گیا ہے: ان گروہوں میں سے ہر ایک نیکو کاروں وبدکار، فرمانبردار وقانون شکن، حق طلب وستمگر وہاں پر اپنے اعمال کے مطابق درجات ومراتب کے حامل ہوں گے اور تیرا پروردگار کبھی بھی ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے، بلکہ وہ سب کو جانتا ہے اور وہ ہر شخص کو اس کی لیاقت کے مطابق دے گا( وَلِکُلٍّ دَرَجَاتٌ مِمَّا عَمِلُوا وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ ) ۔
یہ آیت دوبارہ اس حقیقت کو تاکید کے ساتھ بیان کررہی ہے کہ تمام مراتب اور درجات اور درکات خود انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے نہ کہ کسی اور چیز کا۔
____________________
۱۔ پہلی صورت میں ”ظلم“ کا غافل ہے کافر ہے
آیات ۱۳۳،۱۳۴،۱۳۵
۱۳۳( وَرَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ إِنْ یَشَاٴْ یُذْهِبْکُمْ وَیَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِکُمْ مَا یَشَاءُ کَمَا اٴَنشَاٴَکُمْ مِنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ آخَرِینَ )
۱۳۴( إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ )
۱۳۵( قُلْ یَاقَوْمِ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ إِنِّی عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ تَکُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ إِنَّهُ لاَیُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ) ۔
ترجمہ:
۱۳۳ ۔ اور تیرا پروردگار بے نیاز اور مہربان ہے(لہٰذا وہ کسی کے بارے میں ظلم وستم نہیں کرتا بلکہ یہ اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتتے ہیں ) اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے اور تمھارے بعد تمھاری بجائے جو کچھ چاہے (اور جسے چاہے) تمھارا جانشین بنا دے جیسا کہ تمھیں دوسری اقوام کی نسل سے وجود میں لایا ہے۔
۱۳۴ ۔ جو کچھ تم سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ آکر رہے گااورتم (خدا کو ) عاجز ونوتواں نہیں کرسکتے( کہ اس کی عدلات وسزا سے بچ کر بھاگ جاؤ)
۱۳۵ ۔ کہہ دو اے قوم !جو کام( تم سے ہوسکتا ہے اور) تمھاری قدرت میں ہے کر گزرو۔ میں (بھی اپنے فریضہ پر) عمل کروں گا، لیکن بہت جلد تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ کونسا شخس نیک انجام رکھتا ہے (اور کامیابی کس کے لئے ہے لین) یہ بات مسلم ہے کہ ظالم فلاح ونجات حاصل نہیں کریں گے۔
تیرا پروردگار بے نیاز بھی اور رحیم ومہربان بھی ہے
پہلی آیت درحقیقت اس پر ایک استدلال ہے جو گذشتہ آیات میں پروردگار کے ظلم نہ کرنے کے بارے میں بیان ہوا ہے۔ آیت کہتی ہے: تیرا پروردگار بے نیاز بھی ہ اور رحیم ومہربان بھی ہے ، اس بنا پر کوئی وجہ نہیں کہ کسی پر چھوٹے سے چھوٹا ظلم بھی روا رکھے کیوں کہ ظلم تو وہ کرتا ہے کہ جو نیازمند ہو یا سخت مزاج اور سنگدل ہو( وَرَبُّکَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ ) ۔
علاوہ ازایں اسے نہ تو تمھاری اطاعت کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسے تمھارے گناہوں کا خوف ہے کیوں کہ” اگر وہ چاہے تو تم سب کو لے جائے اور تمھاری جگہ پر دوسرے لوگوں کو جنھیں وہ چاہے تمھارا جانشین بنادے جیسا کہ اس نے تمھیں ایسے انسانوں کی نسل میں پیدا کیا ہے جو تم سے بہت سی صفات میں مختلف تھے( إِنْ یَشَاٴْ یُذْهِبْکُمْ وَیَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِکُمْ مَا یَشَاءُ کَمَا اٴَنشَاٴَکُمْ مِنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ آخَرِینَ ) ۔
اس بنا پر وہ بے نیاز بھی ہے اور مہربان بھی اور ہر چیز پر قدرت بھی رکھتا ہے، اس حالت میں اس کے بارے میں ظلم کا تصور ممکن نہیں ہے۔
اور اس کی لامتناہی قدرت پر توجہ رکھتے ہوئے یہ بات واضح اور روشن ہے کہ” اس نے تم سے جو قیامت اور جزا وسزا کے بارے مین وعدہ کیا ہے وہ ہوکے رہے گا اور اس کی تھوڑی سی بھی خلاف ورزی نہیں ہو گی“ (إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَآتٍ )۔
”اورتم اس کی حکومت سے ہرگز باہر نہیں نکل سکتے اور اس کے پنجہ عدالت سے فرار نہیں کرسکتے“( وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ ) ۔(۱)
اس کے بعد پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے: انھیں تہدید کرتے اور دھمکی دیتے ہوئے کہو کہ اے قوم! تم سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ کرگزرو، میں بھی وہ کام جس کا خدانے مجھے حکم دیاہے انجام دوں گا۔ مگر تمھیں بہت ہی جلد معلوم ہوجائے گا کہ نیک انجام اور آخری کامیابی کسے نصیب ہوتی ہے لیکن یہ مسلم ہے کہ ظالم وستمگار کامیاب نہیں ہوں گے اور سعادت ونیک بختی کا منہ نہیں دیکھیں گے( قُلْ یَاقَوْمِ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ إِنِّی عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ تَکُونُ لَهُ عَاقِبَةُ الدَّارِ إِنَّهُ لاَیُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ) ۔
یہاں ہم دوبارہ دیکھ رہے ہیں کہ ”کفر“ کی بجائے”ظلم“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کفر اور انکار حق ایک قسم کا واضح وآشکار ظلم ہے، اپنے اوپر بھی ظلم ہے اور معاشرے پر بھی ظلم ہے اور چونکہ ظلم جہان آفرینش کی عمومی عدالت کے برخلاف ہے لہٰذا آخر کار اسے شکست ہو گی۔
____________________
۱۔ ”معجزین“ ”اعجاز“ کے مادہ سے ہے ، یعنی دوسرے کو ناتوان اور عاجز کردینا ۔ آیت کہتی ہے کہ تم خدا کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرکے اٹھانے اور عدالت کے جاری کرنے سے عاجز نہیں کرسکتے۔ دوسرے لفظوں میں تم اس کی قدرت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
آیت ۱۳۶
۱۳۶( وَجَعَلُوا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاٴَ مِنْ الْحَرْثِ وَالْاٴَنْعَامِ نَصِیبًا فَقَالُوا هَذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَکَائِنَا فَمَا کَانَ لِشُرَکَائِهِمْ فَلاَیَصِلُ إِلَی اللهِ وَمَا کَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ إِلَی شُرَکَائِهِمْ سَاءَ مَا یَحْکُمُونَ ) ۔
ترجمہ:
۱۳۶ ۔ اور (مشرکین نے ) ان چیزوں میں سے جو خدان پیدا کی ہیں ( یعنی ) زراعت اور چوپایوں میں سے کچھ حصہ خدا کے لئے( بھی ) قرار دیا ہے اور انھوں نے یہ کہا کہ (ان کے گمان کے مطابق) یہ خدا کا مال ہے اور یہ ہمارے شرکاء (یعنی بتوں ) کا مال ہے، جو ان کے شرکاء کا مال تھا وہ تو خدا تک نہیں پہنچتا تھا لیکن جو خداکا مال تھا وہ ان کے شرکاء تک پہنچ جاتا تھا، (اور اگر بتوں کا حصہ کم ہوجاتا تھا تو خدا کامال انھیں دے دیتے تھے لیکن اس کے برعکس کو جائز نہیں سمجھتے تھے، یعنی خدا کا حصہ کم ہوجانے کی صورت میں بتوں کے مال میں سے خدا کو نہیں دیتے تھے)وہ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں (کہ شرک کے علاوہ خدا کو بتوں سے بھی کم تر سمجھتے تھے)۔
ان کے شرکاء (یعنی بتوں ) نے ان کی اولاد کے قتل کو
ان کے دماغوں سے بت پرستی کے افکار کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے مشرکین کے بیہودہ عقائد ورسموں اور آداب وعبادات کادوبارہ ذکر شروع کیا گیا ہے اور بیان رسا کے ذریعے ان کے بیہودہ ہونے کو واضح کیا گیا ہے۔
قرآن پہلے کہتا ہے: کفار مکہ اور تمام مشرکین اپنی زراعت اور چوپایوں میں سے ایک حصہ تو خدا کے لئے اور ایک حصہ اپنے بتوں کے لئے قرار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ حصہ تو خدا کا ہے اور یہ ہمارے شرکاء یعنی بتوں کا مال ہے( وَجَعَلُوا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاٴَ مِنْ الْحَرْثِ وَالْاٴَنْعَامِ نَصِیبًا فَقَالُوا هَذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا لِشُرَکَائِنَا ) ۔
اگرچہ آیت میں صرف خدا کے حصہ کی طرف اشارہ ہوا ہے لیکن بعد کے جملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک حصہ خدا کا اور ایک حصہ بتوں کا قرار دیتے تھے، روایات میں آیاہے کہ اس حصہ کو تو جسے وہ خدا کے لئے قرار دیتے تھے بچوں اور مہمانوں میں صرف کرتے اور اس سے اس کام کے لئے استفادہ کرتے تھے لیکن زراعت اور چوپایوں کاوہ حصہ جو وہ بتوں کے لئے قرار دیتے تھے بتوں اور بت خانہ کے خادموں اور متولیوں اور مراسم قربانی اور خود ان کے اپنے لئے مخصوص تھا۔(۱)
”شرکائنا“ (ہمارے شریک) کی تعبیر بتوں کے لئے اس بنا پر تھی کہ وہ انھیں اپنے اموال ، سرمائے اور زندگی میں شریک سمجھتے تھے۔
”مما ذراء“(اس میں سے جو خدا نے خلق کیا ہے) کی تعبیر درحقیقت ان کے عقیدہ کے ابطال کی طرف اشارہ ہے کیوں کہ یہ تمام اموال سب کے سب خدا کی مخلوق تھے تو پھر ان میں سے ایک حصہ خدا کے لئے اور ایک حصہ بتوں کے لئے کیسے مقرر کرتے تھے۔
اس کے بعد اس بارے میں ان کے ایک عجیب وغریب فیصلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ حصہ جو انھوں نے بتوں کے لئے مقرر کیا تھا وہ تو ہر گز خدا کو نہیں مل سکتا تھا (اور خدا کے نام پر کسی کو نہیں دیا جاسکتا تھا) لیکن وہ حصہ جو انھوں نے خدا کے لئے قرار دیا تھا وہ بتوں کو پہنچ جاتا تھا
( فَمَا کَانَ لِشُرَکَائِهِمْ فَلاَیَصِلُ إِلَی اللهِ وَمَا کَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ إِلَی شُرَکَائِهِمْ ) ۔
اس بارے میں کہ اس جملے سے کیا مراد ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن تقریباً وہ سب کے سب ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب کسی حادثہ کی وجہ سے زراعت یا چوپایوں میں سے مقرر کئے ہوئے خدا کے سہم کا کچھ حصہ خراب ہوجاتا تھا اور نابود ہوجاتا تھاتو وہ کہتے تھے کہ یہ کوئی اہم بات نہیں ہے خدا بے نیاز ہے لیکن اگر بتوں کے حصہ مین سے کچھ ضائع ہوجاتا تو سہم خدا کو اس کی جگہ قرار دے لیتے تھے اور کہتے تھے کہ بتوں کو اس کی زیادہ ضرورت ہے۔
اسی طرح اگر اس کھیت کا پانی جو خدا کے حصہ میں تھا بتوں کے حصہ والے میں چلاجاتا تھا تو کہتے تھے کہ کوئی حرج نہیں ہے، خدا تو بے نیاز ہے، لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہوجاتاتو اس کو روک دیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ بتوں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔
آیت کے آخر میں خداتعالی ایک مختصر سے جملے کے ذریعے سے اس بیہودہ عقیدے کو جرم قرار دے کر اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے اور کہتا ہے:یہ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں( سَاءَ مَا یَحْکُمُون ) ۔
اس بات کے علاوہ کہ بت پرستی خود ایک فاسد اور بے اساس چیزہے ان کے فعل کی برائی کے کچھ اور پہلو بھی ہیں :
۱ ۔باوجود اس کے کہ تمام چیزیں خدا کی مخلوق ہیں اور اس کی مسلم ملکیت ہے او تمام موجوات کا حاکم ومدبر ومحافظ وہی ہے ، وہ اس میں سے صرف ایک ہی حصہ کو خدا کے ساتھ مخصوص قرار دیتے تھے، گویا اصلی مالک وہ خود تھے، لہٰذا تقسیم کا حق بھی صرف ان ہی کو حاصل تھا(جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ ”مما ذراء“ کا جملہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے) ۔
۲ ۔ وہ اس تقسیم میں بتوں کی طرف داری کو مقدم رکھتے تھے لہٰذا ہر وہ نقصان جو خدا کے حصہ میں واقع ہوتا تھا اسے کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے لیکن جو نقصان بتوں کے حصہ میں ہوجاتا اس کی خدا کے حصہ سے تلافی کرلیا کرتے تھے اور خدا کے حصہ میں سے لے کر بتوں کو دے دیتے ، آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہوا ہے، اور یہ بتوں ک لئے خدا کی نسبت ایک قسم کی برتری اور امتیاز کا اظہار تھا۔
۳ ۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بتوں کے حصہ کے لئے ایک خاص اہمیت کے قائل تھے ، لہٰذا ان کے حصہ میں سے متولیان، بتوں کے خادم اور خود بت پرست کھاتے تھے اور خدا کے حصہ کو صرف بچوں اورمہمانوں کو دیتے تھے، قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موٹے تازے گوسفند اور اچھے قسم کا اناج بتوں کا مال تھا تاکہ بقولے ”حاتم کے بعد پیٹ بھر کر کھاسکیں “۔
یہ سب چیزیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ تقسیم کے سلسلے میں خدا کے لئے بتوں جتنی قدرت وقیمت کے بھی قائل نہیں تھے، اس سے بڑھ کر قبیح اور زیادہ سنگین اور کیا فیصلہ ہوسکتا ہے کہ انسان پتھر یا لکڑی کے ایک بے قدروقیمت ٹکڑے کو عالم ہستی کے خالق ومالک سے بلند تر خیال کرے، کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی انحطاط فکری تصور کیا جاسکتا ہے۔
____________________
۱۔ تفسیر المنار، جلد ہشتم ، صفحہ ۱۲۲۔
آیت ۱۳۷
۱۳۷( وَکَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیرٍ مِنْ الْمُشْرِکِینَ قَتْلَ اٴَوْلاَدِهِمْ شُرَکَاؤُهُمْ لِیُرْدُوهُمْ وَلِیَلْبِسُوا عَلَیْهِمْ دِینَهُمْ وَلَوْ شَاءَ اللهُ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ )
ترجمہ:
۱۳۷ ۔اور اسی طرح ان کے شرکاء (یعنی بتوں ) نے ان کی اولاد کے قتل کو ان کی نظروں میں پسندیدہ رکھا تھا (وہ اپنے بچوں کو بتوں پر قربان کرتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے) اور اس کام کا انجام یہ ہوا کہ بتوں نے انھیں ہلاکت میں ڈال دیا اور ان کے دین کو دگرگوں کردیا اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے( کیوں کہ خدا انھیں جبرا ایسا کرنے سے روک سکتا تھا لیکن جبر کا کوئی فائدہ نہیں ہے) اس بناپر انھیں اور ان کی تہمتوں کو بھی چھوڑ دو(اور ان کے اعمال کی پرواہ نہ کرو)۔
بت پرستوں کی ایک بدکاری اور ان کے شرم ناک جرائم کی طرف اشارہ
قرآن اس آیت میں بت پرستوں کی ایک بدکاری اور ان کے شرم ناک جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: جس طرح خدا اور بتوں کے بارے میں ان کی تقسیم ان کی نظروں میں جچتی تھی اور اس برے، بیہودہ اور مضحکہ خیز عمل کو وہ پسندیدہ خیال کرتے تھے، اسی طرح ان کے شرکاء نے اولاد کے قتل کو بہت سے بت پرستوں کی نگاہ میں پسندیدہ بنا رکھا تھا یہان تک کہ وہ اپنے بچوں کو قتل کرنا ایک قسم کا افتخار یا عبادت شمار کرت تھے( وَکَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیرٍ مِنْ الْمُشْرِکِینَ قَتْلَ اٴَوْلاَدِهِمْ شُرَکَاؤُهُمْ ) ۔
یہاں ”شرکاء “سے مراد بت ہیں کہ جن کی خاطر وہ بعض اوقات اپنے بیٹوں کو بھی قربان کردیتے تھے یا نذرکرتے تھے کہ اگر انھیں بیٹا نصیب ہوگا تو وہ اسے بت کے لئے قربان کریں گے ۔ جیسا کہ قدیم بت پرستوں کی تاریخ میں بیان کیا گیا ہے اور اس بنا پر بتوں کی طرف ”زینت دینے“ کی نسبت اس سبب سے ہے کیوں کہ بتوں کے ساتھ تعلق اور عشق انھیں اس مجرمانہ عمل پر آمادہ کرتا تھا۔ اس تفسیر کی رو سے مذکورہ بالا آیت میں قتل کرنے کا بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کا یا فقر وفاقہ کے خوف سے بیٹوں کو قتل کرنے کے مسئلہ کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے۔
یہ احتمال بھی موجود ہے کہ بتوں کے وسیلہ سے اس جرم کی تزئین سے مراد یہ ہو کہ بت کدوں کے خدام اور متولی لوگوں کو یہ کام کرنے کا شوق دلاتے تھے اور خود کو بتوں کی زبان سمجھتے تھے کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب اہم سفروں اور دوسروے کاموں کے انجام دینے کے لئے ”ھبل“ (ان کا بڑا بت تھا) سے اجازت لیتے تھے ، ان کے اجازت لینے کا طریقہ یہ تھا کہ تیر کی وہ لکڑیاں جو ایک مخصوص تھیلے میں ”ھبل“ کے پہلو میں ہوا کرتی تھیں او ان میں سے بعض کے اوپر ”افعل“ (یہ کام انجام دو) اور بعض کے اوپر ”لاتفعل“ (یہ کام انجام نہ دو) لکھا ہوا ہوتا تھا، وہ تھیلے کو ہلاتے تھے اور ان میں سے ایک تیر کی لکڑی نکال لیتے تھے اور جو کچھ اس کے اوپر لکھا ہوا ہوتا تھا، اسے وہ ”ھبل“ کا پیغام سمجھتے تھے اور یہ چیزاس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اس طریقے سے بتوں کا منشاء معلوم کرنا چاہتے تھے اور کچھ بعید نہیں کہ بت کے لئے قربانی کا مسئلہ بھی خدام کے ذریعہ بت کے ایک پیغام کے طور پر متعارف ہوا ہو۔
یہ احتمال بھی ہے کہ بیٹیوں کا زندہ درگور کرنا ان لوگوں کے درمیان کہ جو تواریخ کے بیان کے مطابق بدنامی اور ننگ عار کا داغ مٹانے کے نام پر قبیلہ بنی تمیم کے درمیان رائج تھا، وہ بت کے پیغام کے طور پر ہی متعارف ہوا ہے ، کیوں کہ تاریخ میں ہے کہ نعمان بن منذر نے عرب کی ایک جماعت پر حملہ کیا او ر ان کی عورتوں کو اسیر کرلیا اور ان کے درمیان ”قیس بن عاصم“ کی بیٹی بھی تھی، اس کے بعد ان کے درمیان صلح ہوگئی اور ہر عورت اپنے قبیلہ کی طرف پلٹ آئی سوائے قیس کی بیٹی کے کہ ا س نے اس بات کو ترجیح دی کہ وہ دشمن کی قوم کے درمیان رہ جائے اور شاید ان کے کسی جوان سے شادی کرلے، یہ مطلب قیس پر گراں گزرا اور اس نے بتوں کے نام کی قسم کھائی کہ جب میری دوسری لڑکی پیدا ہوگی تو میں اسے زندہ درگور کردوں گا،کچھ زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ یہ عمل بطور سنت ان کے درمیان رائج ہوگیا کہ انھوں ناموس کے دفاع کے نام پر ایک بہت بڑے جرم یعنی بے گناہ اولاد کو قت کرنے کا ارتکاب کرنا شروع کردیا۔(۱)
اس بنا پر ممکن ہے کہ بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا بھی زیر نظر آیت میں داخل ہو ۔
ایک اور احتمال بھی زیر بحث آیت کی تفسیر میں نظر آتا ہے، اگرچہ مفسرین نے اسے ذکر نہیں کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب بتوں کے لئے اس قسم کی اہمیت کے قائل تھے کہ اپنے نفیس اور عمدہ اموال تو بتوں اور ان کے طاقتور اور مالدار متولیوں اور خدام پر خرچ کردیا کرتے تھے، اور خود فقیر اور تنگ دست ہوجاتے تھے، یہاں تک کہ بعض اوقات بھوک اور فقر وفاقہ کی وجہ سے اپنے بچوں کو ذبح کردیتے تھے، بتوں کے ساتھ ان کے اس عشق نے ایسے برے عمل ان کی نظروں میں مزین کردیا تھا ۔
لیکن پہلی تفسیر یعنی بتوں کے لئے اولاد کو قربان کرنا آیت کے متن کے ساتھ سب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔
اس بعد قرآن کہتا ہے: اس قسم کے قبیح اور بداعمال کا نتیجہ یہ تھا کہ بتوں کے خدام ، مشرکین کو ہلاکت میں ڈال دیں ، اور دین وآئین حق کو ان پر مشتبہ کردے اور انھیں ایک پاک وپاکیزہ دین تک پہنچنے سے محروم کردے( لِیُرْدُوهُمْ وَلِیَلْبِسُوا عَلَیْهِمْ دِینَهُمْ ) ۔
قرآن کہتا ہے :ان تمام باتوں کے باوجود اگر خدا چاہتا تو جبرا انھیں اس کام سے روک دیتا، مگر جبر کرنا سنت الٰہی کے برخلاف ہے، خدا چاہتا ہے کہ بندے آزاد رہیں ، تاکہ تربیت اور تکامل وارتقا کی راہ ہموار ہو، کیوں کہ جبر میں نہ تربیت ہے نہ تکامل وارتقا( وَلَوْ شَاءَ اللهُ مَا فَعَلُوهُ )
اور آخر میں فرماتا ہے: اب جب کہ یہ حال ہے کہ وہ اس قسم کے کے بیہودہ ، پست اور شرم ناک اعمال میں غوطہ زن ہیں یہاں تک کہ اس کی قباحت کو بھی نہیں سمجھتے اور سب سے بد تر یہ کہ وہ کبھی ایسے خدا کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں لہٰذا تم انھیں اور ان کی تہمتوں کو چھوڑ دو اور آمادہ ومستعد دلوں کی تربیت کرو( فَذَرْهُمْ وَمَا یَفْتَرُون ) ۔
آیات ۱۳۸،۱۳۹
۱۳۸( وَقَالُوا هَذِهِ اٴَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لاَیَطْعَمُهَا إِلاَّ مَنْ نَشَاءُ بِزَعْمِهِمْ لاَیَطْعَمُهَا إِلاَّ مَنْ نَشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَاٴَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَاٴَنْعَامٌ لاَیَذْکُرُونَ اسْمَ اللهِ عَلَیْهَا افْتِرَاءً عَلَیْهِ سَیَجْزِیهِمْ بِمَا کَانُوا یَفْتَرُونَ ) ۔
۱۳۹( وَقَالُوا مَا فِی بُطُونِ هَذِهِ الْاٴَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِذُکُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلیٰ اٴَزْوَاجِنَا وَإِنْ یَکُنْ مَیْتَةً فَهُمْ فِیهِ شُرَکَاءُ سَیَجْزِیهِمْ وَصْفَهُمْ إِنَّهُ حَکِیمٌ عَلِیمٌ ) ۔
ترجمہ:
۱۳۸ ۔ اور انھوں نے کہا کہ چوپایوں اور زراعت کا یہ حصہ (جو بتوں کے ساتھ مخصوص ہے یہ سب کے لئے) ممنوع ہے اور سوائے ان لوگوں کے کہ جنھیں ہم چاہیں ۔ان کے گمان کے مطابق۔ اس سے کسی کو نہیں کھانا چاہئے ۔اور(وہ یہ کہتے تھے کہ یہ) ایسے چوپائے ہیں کہ جن پر سوار ہونا حرام قرار دیا گیا ہے اور وہ چوپائے کہ جن پر خدا کا نام نہیں لیتے تھے اور خدا پر جھوٹ بولتے تھے (اور یہ کہتے تھے کہ یہ احکام خدا کی طرف سے ہیں ) عنقریب ان کے افتراء انھیں دے گا۔
۱۳۹ ۔ اور انھوں نے کہا کہ جو کچھ ان حیوانات کے شکم میں (جنین اور بچہ میں سے) موجود ہے وہ تو ہمارے مردوں کے ساتھ مخصوص ہے اور وہ ہماری بیویوں پر حرام ہے لیکن اگر وہ مردہ ہوں (یعنی مردہ پیدا ہوں ) تو پھر سب اس میں شریک ہیں اور عنقریب (خدا) اس توصیف (اور جھوٹے احکام) کی سزا انھیں دے گا، وہ حکیم ودانا ہے۔
۱ ۔ بعض خیال کرتے ہیں کہ لفظ اولاد زیر نظر آیت میں اس تفسیر کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہئے کہ لفظ اولاد ایک وسیع مععنی رکھتی ہے جو بیٹا اور بیٹی دونوں پر بولا جاتا ہے، جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۳ میں ہے:( وَالْوَالِدَاتُ یُرضِعْنَ اَولَادَهُنَّ حَولَینِ کَامِلَینِ ) (مائیں اپنی اولا کو مکمل دو سال دودھ پلائیں گی)۔
بت پرستوں کے بیہودہ احکام
ان آیات میں بت پرستوں کے بیہودہ احکام کے کچھ حصوں کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جو ان کی کوتاہ فکری کی حکایت وترجمانی کرتے ہیں اور گذشتہ آیات کی تکمیل کرتے ہیں ۔
قرآن کہتا ہے کہ بت پرست کہتے تھے کہ چوپایوں اور زراعت کا یہ حصہ جو بتوں کے ساتھ مخصوص ہے اور خاص انھیں کا حصہ ہے کلی طور پ سب کے لئے ممنوع ہے سوائے ان لوگوں کے جن کو ہم چاہیں ، ان کے خیال کے مطابق اسی گروہ کے لئے حلال تھا دوسروں کے لئے نہیں( وَقَالُوا هَذِهِ اٴَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لاَیَطْعَمُهَا إِلاَّ مَنْ نَشَاءُ بِزَعْمِهِمْ لاَیَطْعَمُهَا إِلاَّ مَنْ نَشَاءُ بِزَعْمِهِمْ ) ۔
ان کی اس سے مراد وہی بت اور بت خانہ کے متولی اورخدام تھے، صرف وہ یہی گروہ تھا جو ان کے خیال کے مطابق بتوں کے حصہ میں سے کھانے کا حق رکھتے تھے ۔
اس بیان سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ آیت کا یہ حصہ حقیقت میں اس حصہ کے مصرف کی کیفیت کی طرف اشارہ ہے ، جو انھوں نے زراعت اور چوپایوں میں سے بتوں کے لئے مقرر کیا تھا جس کی تفسیر گذشتہ آیات میں گزرچکی ہے۔
لفظ” حجر“ (بروزن”شعر) اصل میں ممنوع قرار دینے کے معنی میں ہے اور جیسا کہ راغب نے کتاب مفردات میں کہا ہے بعید نہیں کہ” حجارة “
کے مادہ سے پتھر کے معنی میں لیا گیا ہو کیوں کہ جب وہ یہ چاہتے تھے کہ کسی احاطے میں داخلہ ممنوع قرا ردیں تو اس کے گرد پتھر چن دیتے تھے اور یہ جو ”حجر اسماعیل“ پر اس لفظ کا اطلاق ہوا ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ ایک مخصوص پتھر کی دیوار کے ذریعے اسے مسجد الحرام کے دوسرے حصوں سے الگ کیا گیا ہے، اسی مناسبت سے عقل کو بھی کبھی کبھی ”حجر“ کہا جاتا ہے ، کیوں کہ وہ انسان کو برے کاموں سے روکتی ہے، اور اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی نگرانی اور حمایت میں آجائے تو کہتے ہیں کہ یہ اس کی حجر (حفاظت) میں ہے ، اور ”محجور“ اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو اپنے اموال میں تصرف کرنے سے رکاہوا ہے ۔(۱)
اس کے بعد دوسری چیز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جسے انھوں نے حرام کررکھا تھا اور فرمایا گیا ہے: وہ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ کچھ جانور ایسے ہیں کہ جن پر سوار ہونا حرام ہے( وَاٴَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا ) ۔
اور ظاہرا یہ وہی جانور تھے کہ جن کی تفسیر سورہ مائدہ کی آیہ ۱۰۳ میں ”سائبہ“ ”بحیرہ“ اور” حام“کے عنوان سے گزر چکی ہے( مزید معلومات کے لئے مذکورہ آیت کے ذیل میں بیان کردہ تفسیر کا مطالعہ کریں ) ۔
اس کے بعد ان کے ناروا حکام کے تیسرے حصے کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کچھ جانوروں پر خدا کا نام نہیں لیتے تھے( وَاٴَنْعَامٌ لاَیَذْکُرُونَ اسْمَ اللهِ عَلَیْهَا ) ۔
یہ جملہ ہوسکتا ہے ایسے جانوروں کی طرف اشارہ ہو جن کو ذبح کرتے وقت صرف بت کا نام لیتے تھے یا اس سے مراد وہ جانور ہوں کہ جن پر حج کے لئے سوار ہونا انھوں نے حرام قرار دیاتھا، جیسا کہ تفسیر مجمع البیان، تفسیر کبیر المنار اور قرطبی میں بعض مفسرین سے نقل ہوا ہے ان دونوں صورتوں میں یہ ایک بے دلیل اور بیہودہ حکم تھا۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ ان بیہودہ احکام پر قناعت نہیں کرتے تے تھے بلکہ خدا پر افتراء باندھتے تھے اور ان کی خدا کی طرف نسبت دیتے تھے( افْتِرَاءً عَلَیْهِ ) ۔
آیت کے آخر میں ان بناوٹی احکام کے ذکر کے بعد قرآن کہتا ہے: خدا عنقریب ان افترات کے بدلے میں سزا اور عذاب دے گا( سَیَجْزِیهِمْ بِمَا کَانُوا یَفْتَرُونَ ) ۔
ہاں ! جب ایک انسان یہ چاہے کہ وہ اپنی ناقص فکر وعقل ذریعے کوئی قانوں بنالے تو عین ممکن ہے کہ ہرگروہ اپنی ہواوہوس سے کچھ احکام وقوانین بناڈالے اور خدا کی نعمتوں کو بلا وجہ اپنے اوپر حرام قرار دے لے یا قبےح اور غلط کاموں کو اپنے لئے حلال قرار دے لے، یہی وجہ ہے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ قانوں ن کا واضح کرنا صرف خدا کا کام ہے جو سب کچھ جانتا ہے اور ہر کام کی مصلحت سے آگاہ ہے اور ہر قسم کی ہواوہوس سے دور ہے۔
بعد والی آیت میں ان کے ایک اور بیہودہ حکم کی طرف جو جانوروں کے گوشت کے بارے میں ہے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: انھوں کہا ہے کہ وہ جنین (اور بچے) جو ان جانوروں کے شکم میں ہے وہ ہمارے مردوں کے ساتھ مخصوص ہےں اور ہماری بیویوں پر حرام ہے البتہ اگر وہ مردہ پیدا ہوں تو پھر سب اس میں شریک ہیں( وَقَالُوا مَا فِی بُطُونِ هَذِهِ الْاٴَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِذُکُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلیٰ اٴَزْوَاجِنَا وَإِنْ یَکُنْ مَیْتَةً فَهُمْ فِیهِ شُرَکَاءُ ) ۔
اس بات پر توجہ رہے کہ ”ھذہ الانعام“ سے مراد وہی جانور ہیں جن کی طف گذشتہ آیت میں ازرہ ہوا ہے ۔
بعض مفسرین نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ ”( ما فی بطون هذه الانعام ) “ ( جو کچھ ان جانوروں کے شکم میں ہے) کی عبارت ان جانوروں کے دودھ کے بارے میں بھی ہے لیکن ”وان یکن میتة“(اگر مردہ ہوں ) کے جملے پر توجہ کرتے ہوئے واضح ہوجاتا ہے کہ آیت جنین (شکم مادر میں بچہ) سے بحث کررہی ہے کہ اگر وہ زندہ پیدا ہو تو اسے صرف مردوں کے ساتھ مخصوص جانتے تھے اور اگر مردہ پیدا ہوجاتا تھا کہ جو ان کے لئے زیادہ باعث رغبت ومیل نہ ہوتا تھا تو پھر سب کو اس میں مساوی جانتے تھے ۔
اس حکم کا اول تو فلسفہ اور منطقی دلیل ہی نہیں اور دوسرے مردہ پیدا ہونے والے جنین کے بارے میں بہت ہی برا اور چبھنے والا تھا کیوں کہ اس قسم کے جانور کا گوشت تو اکثر اوقات خراب اور مضر ہوتا ہے اور تیسرے یہ کہ ایک قسم کی مردوں اور عورتوں میں واضح تفریق تھی کیوں کہ جو چیز اچھی تھی وہ تو صرف مردوں کے ساتھ مخصوص تھی اور جو چیز بری تھی اس میں سے عورتوں کو بھی حصہ دیا جاتا تھا۔
قرآن اس جاہلانہ ذکر کرنے کے بعد مطلب کو اس جملے کے ساتھ ختم کرتا ہے:عنقریب خدا نے انھیں ان کی اس قسم کی توصیفات کی سزا دے گا
( سَیَجْزِیهِمْ وَصْفَهُمْ ) ۔
”وصف“ کی تعبیر ایسی توصیف کی طرف اشارہ ہے کہ جو وہ خدا کے لئے کرتے تھے اور اس قسم کی غذاؤں کی حرمت کی نسبت خدا کی طرف دیتے تھے، اگرچہ اس سے مرا د ووہ صفت اور حالت ہے کہ جو تکرار گناہ کے اثر اسے گنہگار شخص کو عارض ہوتی ہے اور اسے سزا وعذاب کا مستحق بنادیتی ہے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے ہے: وہ حکیم اور دانا ہے ( إِنَّہُ حَکِیمٌ عَلِیمٌ)۔
ان کے اعمال وگفتار اور ناروا تہمتوں سے بھی باخبر ہے، اور حساب ہی ساتھ انھیں سزا بھی دے گا۔
____________________
۱۔ اس بات کی طرف توجہ رکھنا چاہئے کہ اوپر والی آیت میں ”حجر“ وصفی معنی رکھت
آیت ۱۴۰
۱۴۰( قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ قَتَلُوا اٴَوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمْ اللهُ افْتِرَاءً عَلَی اللهِ قَدْ ضَلُّوا وَمَا کَانُوا مُهْتَدِینَ ) ۔
ترجمہ:
۱۴۰ ۔ یقینا جنھوں نے اپنی اولاد کو حماقت ونادانی کی بنا پر قتل کردیا انھوں نے نقصان اٹھایا ہے، اور جو کچھ خدا نے انھیں رزق دے رکھا تھا اسے اپنے اوپر حرام قرار دے لیا اور خدا پر انھوں نے افتراء باندھا ہے اور وہ گمراہ ہوگئے ہیں اور (وہ ہرگز ) ہدایت نہیں پائیں گے۔
زمانہ جاہلیت کے عربوں کی فضول احکام
گذشتہ چند آیات میں زمانہ جاہلیت کے عربوں کی فضول احکام اور قبیح اور شرمناک رسموں سے متعلق گفتگو تھی منجملہ ان کے اپنی اولاد کو بتوں کی قربانی کے طور پر قتل کرنا ، اپنے قبیلہ اور خاندان کی حیثیت و عزت کو محفوظ رکھنے کے نام پر اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا اور اسی طرح کچھ حلال نعمتوں کے حرام کرلینا تھا، اس آیت میں بڑی سختی کے ساتھ ان تمام اعمال وہ احکام کو جرم قرار دیتے ہوئے سات مختلف تعبیروں کے ساتھ جو مختصر جملوں میں ہے لیکن وہ بہت ہی رسا اور جاذب توجہ ہے ، ان کی وضع وکیفیت کو واضح وروشن کیا گیا ۔
پہلے فرمایا گیا ہے: وہ لوگ کہ جنھوں نے اپنی اولاد کو حماقت ، بیوقوفی اور جہالت کی بنا پر قتل کیا ہے ، انھوں نے نقصان اور خسارہ اٹھایا ہے وہ انسانی اور اخلاقی نظر سے بھی اور احساس کی نظر سے بھی اور اجتماعی ومعاشرتی لحاظ سے بھی خسارہ اور نقصان میں گرفتار ہوئے ہیں اور سب سے زیادہ اور سب سے بڑھ کر انھوں نے دوسرے جہان میں روحانی نقصان اٹھایا ہے( قَدْ خَسِرَ الَّذِینَ قَتَلُوا اٴَوْلاَدَهُمْ سَفَهًا بِغَیْرِ عِلْمٍ ) ۔
اس جملے میں ان کا یہ عمل اولا ایک قسم کا خسارہ اور نقصان اور اس کے بعد حماقت کم عقلی اور بعد میں جاہلانہ کام کے طور پر متعارف ہوا ہے ان تینوں تعبیرات میں سے ہر ایک تنہا ان کے عمل کی برائی کے تعارف کے لئے کافی ہے ، کونسی عقل اجازت دیتی ہے کہ انسان اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے قتل کردے اور کیا یہ حماقت اور بے وقوفی کی انتہا نہیں ہے کہ وہ اپنے اس عمل پر شرم نہ کریں بلکہ اس پر ایک قسم کا فخر کرے اور اسے عبادت شمار کرے، کونسا علم ودانش اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ انسان ایسا عمل ایک سنت کے طور پر یا اپنے معاشرے میں ایک قانون کے طور پر قبول کرے۔
یہ وہ مقام ہے کہ جہاں ابن عباس کی گفتگو یاد آرہی ہے کہ جو کہا کرتے تھے :
جو شخص زمانہ جاہلیت کی قوموں کی پسماندگی کی میزان کو جاننا چاہے تو وہ سورہ انعام کی آیات (یعنی زیر بحث آیات ) کو پڑھے۔
اس کے بعد قرآن کہتا ہے: انھوں نے اس چیز جو خدا نے انھیں روزی کے طور پر دی ہوئی تھی اور ان کے لئے اسے مباح وحلال قرار دیا تھا اپنے اوپر حرام قرار دے لیااور خدا پر انھوں نے یہ افتراء باندھا کہ خدا نے انھیں حرام کیا ہے( وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمْ اللهُ افْتِرَاءً عَلَی اللهِ ) ۔
اس جملہ میں دو اور تعبیروں کے ذریعے ان کے اعمال کو جرم قرار دیا گیا ہے کیون اول تو انھوں نے اس نعمت کو جو خدا نے انھیں بطور روزی دے رکھے تھی یہاں تک کہ وہ ان کی حیات کی بقا اور زندگی کے برقرار رہنے کے لئے بھی ضروری تھی، اسے اپنے اوپر حرام کرلیا اور خدا کے قانون کو پاؤں تلے روند ڈالا اور دوسرے خدا پر افتراء باندھا کہ اس نے یہ حکم دیا ہے، حالانکہ ہرگز ہرگز ایسا نہیں تھا آیت کے آخر میں دو اور تعبیرات کے ذریعے انھیں مجرم قرار دیا گیا ہے پہلے کہا گیا ہے :وہ یقینا گمراہ ہوگئے( قَدْ ضَلُّوا ) ۔
اس کے بعد مزید کہا گیا ہے:وہ کبھی بھی راہ ہدایت پر نہیں تھے( وَمَا کَانُوا مُهْتَدِین ) ۔
فہرست
آیت ۶۷ ۴
انتخابِ جانشین پیغمبر ہی آخری کار سالت تھا ۴
آیت کی شان نزول ۶
واقعہ غدیر کا خلاصہ ۱۰
جرح وتنقید اور اعتراضات ۱۶
۱ ۔ کیا مولیٰ کا معنی اولیٰ بالتصرف ہے؟ ۱۷
۲ ۔ آیات کا ایک دوسرے کے ساتھ ربط ۲۰
۳ ۔ کیا یہ حدیث تمام کتبِ صحاح میں نقل ہوئی ہے؟ ۲۱
۴ ۔ حضرت علی - نے اور اہلِ بیت نے اِس حدیث سے استدلال کیوں نہیں کیا؟ ۲۲
۵ ۔ روایت کے آخری جملہ کا مفہوم کیا ہے؟ ۲۴
۶ ۔ ایک ہی زمانہ میں دو ولی ہوسکتے ہیں ؟ ۲۴
آیات ۶۸،۶۹ ۲۶
شان نزول ۲۶
آیات ۷۰،۷۱ ۳۰
ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا ۳۰
آیات ۷۲،۷۳،۷۴ ۳۳
مسیح اور تثلیت ۳۳
آیات ۷۵،۷۶،۷۷ ۳۸
حضرت عیسیٰ کو فقط ایک فرستادئہ خدا (رسول) جانیں ۳۸
آیات ۷۸،۷۹،۸۰ ۴۳
آیت ۸۱ ۴۶
آیات ۸۲،۸۳،۸۴،،۸۵،۸۶ ۴۷
اسلام کے پہلے مہاجرین ۴۷
یہودیوں کی کینہ پروری اور عیسائیوں کی نرم دلی ۵۲
آیات ۸۷،۸۸،۸۹، ۵۵
حد سے تجاوز نہ کرو ۵۵
قسم اور اس کا کفارہ ۵۷
قسموں کی دوقسمیں ۵۸
پہلی چیز ہے دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ( فکفارته اطعام عشرة مشاکین ) ۔ ۵۹
دوسری چیز ہے دس محتاج لوگوں کو لباس پہنانا ( او کسوتهم ) ۶۰
تیسری چیز ہے ایک غلام کو آزاد کرنا (او تحریر رقبة)۔ ۶۰
آیات ۹۰،۹۱،۹۲ ۶۲
شان نزول ۶۲
شراب کے بارے میں قطعی حکم اور اس کے تدریجی مراحل ۶۳
شراب اور قمار باطی کے مہلک اثرات ۶۷
آیت ۹۳ ۷۰
شان نزول ۷۰
وہ تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لے آئیں اور عمل صالح بجالائیں ۷۰
آیات ۹۴،۹۵،۹۶ ۷۳
شانِ نزول ۷۳
حالت احرام میں شکار کرنے کے احکام ۷۴
( اٴُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ ) ۔ ۷۸
اس بارے میں کہ طعام اور کھانے سے کیا مراد ہے؟ ۷۸
حالتِ احرام میں شکار کی حرمت کا فلسفہ ۸۰
آیات ۹۷،۹۸،۹۹ ۸۱
خدا نے بیت الحرام کو لوگوں کے امر کے قیام کا ذریعہ قرار دیا ۸۱
کعبہ کی اہمیت ۸۴
آیت ۱۰۰ ۸۵
اکثریت پاکیزگی کی دلیل نہیں ۸۵
آیات ۱۰۱،۱۰۲ ۸۷
شانِ نزول ۸۷
تفسیر ۸۸
غیر مناسب سوالات ۸۸
ایک سوال اوراس کا جواب ۹۱
آیات ۱۰۳،۱۰۴ ۹۳
چار غیر مناسب ”بدعات“ ۹۳
اپنے بزرگوں اور بڑوں کے نام کا بت ۹۷
بے دلیل تضاد ۹۷
آیت ۱۰۵ ۹۹
تفسیر ۹۹
ہر شخص اپنے کام کا جواب دہ ہے ۹۹
ایک سوال کا جواب ۹۹
آیات ۱۰۶،۱۰۷،۱۰۸ ۱۰۲
شان نزول ۱۰۲
اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ایک حفظِ حقوق ۱۰۳
آیت ۱۰۹ ۱۰۸
اس دن سے ڈرو جس دن خدا پیغمبروں کو جمع کرے گا ۱۰۸
آیت ۱۱۰ ۱۱۰
تفسیر ۱۱۰
مسیح(علیه السلام) پر انعاماتِ الٰہی ۱۱۰
آیات ۱۱۱،۱۱۲،۱۱۳،۱۱۴،۱۱۵ ۱۱۳
حواریوں پر مائدہ کے نزول کا واقعہ ۱۱۳
چند ضروری نکات کی یاد دہانی ۱۱۵
۱ ۔ مائدہ کے مطالبہ سے کیا مراد تھی؟ ۱۱۶
۲ ۔ ” ( هَلْ ییَسْتَطِیْعُ رَبُُکَ ) “ سے کیا مراد ہے؟ ۱۱۶
۳ ۔ یہ آسمانی مائدہ کیا تھا؟ ۱۱۷
۴ ۔ کیا ان پر کوئی مائدہ نازل ہوا؟ ۱۱۷
۵ ۔ عید کسے کہتے ہیں ؟ ۱۱۷
۶ ۔ عذاب شدید کس بناپر تھا؟ ۱۱۸
آیات ۱۱۶،۱۱۷،۱۱۸ ۱۲۰
حضرت مسیح(علیه السلام) کی اپنے پیروکاروں کے شرک سے بیزاری ۱۲۰
دوسوال اور ان کا جواب ۱۲۳
آیات ۱۱۹،۱۲۰ ۱۲۵
تفسیر ۱۲۵
عظیم کامیابی ۱۲۵
سوره انعام ۱۲۸
فضیلت تلاوت سوره انعام ۱۲۸
شرک کی مختلف اقسام اور بت پرستی کے خلاف جہاد ۱۲۸
آیات ۱،۲ ۱۲۹
وہ خدا جو نور وظلمت دونوں کا مبدا ہے، ۱۲۹
کیا تاریکی بھی مخلوقات میں سے ہے ۱۳۰
نور رمز وحدت ہے اور ظلمت رمز پراکندگی ۱۳۱
اجل مسمیٰ کیا ہے؟ ۱۳۲
تو یہاں اجل سے مراد وہی حتمی موت ہے ۔ ۱۳۵
آیت ۳ ۱۳۶
تمام چیزوں کا خالق وہی ہے ۱۳۶
آیات ۴،۵ ۱۳۸
آیت ۶ ۱۴۰
سرکشی کرنے والوں کو سرگذشت ۱۴۰
چند اہم نکات ۱۴۲
آیت ۷ ۱۴۳
ہٹ دھرمی کا آخری درجہ ۱۴۳
آیات ۸،۹،۱۰ ۱۴۵
بہانہ تراشیاں ۱۴۵
آیت ۱۱ ۱۴۸
وہ چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہے کس کی ہیں ، ۱۴۸
آیات ۱۲،۱۳ ۱۴۹
معاد پر استدلال ۱۴۹
معاد پر استدلال ۱۴۹
ایک سوال اور اس کا جواب ۱۵۱
آیات ۱۴،۱۵،۱۶ ۱۵۴
خدا کے سوا اور کوئی پناہ گاہ نہیں ہے ۱۵۴
آیات ۱۷،۱۸ ۱۵۸
پروردگار کی قدرت قاہرہ ۱۵۸
آیات ۱۹،۲۰ ۱۶۱
سب سے بڑا گواہ ۱۶۱
آیات ۲۱،۲۲،۲۳،۲۴، ۱۶۶
سب سے بڑا ظلم ۱۶۶
چند اہم نکات ۱۶۹
آیات ۲۵،۲۶ ۱۷۱
حق قبول نہ کرنے والوں کا طرز عمل ۱۷۱
مومن قریش حضرت ابو طالب (علیه السلام) پر ایک بہت بڑی تہمت ۱۷۴
آیات ۲۷،۲۸ ۱۸۱
وقتی اور بے اثر بیداری ۱۸۱
چند اہم نکات ۱۸۳
آیات ۲۹،۳۰،۳۱،۳۲ ۱۸۵
تجھ سے پہلے پیغمبروں کی بھی تکذیب کی گئی ہے مگر ۱۸۵
آیات ۳۳،۳۴ ۱۹۰
مصلحین کے راستے میں ہمیشہ مشکلات رہی ہیں ۱۹۰
آیات ۳۵،۳۶ ۱۹۵
زندہ نما مردے ۱۹۵
آیت ۳۷ ۱۹۹
بہانہ جوئی ۱۹۹
ایک اشکال اور اس کا جواب ۲۰۰
آیت ۳۸ ۲۰۲
کیوں کہ یہ آیت وسیع مباحث اپنے پیچھے رکھتی ہے ۲۰۲
چند قابل غور باتیں ۲۰۵
آیت ۳۹ ۲۰۹
بہرے اور گونگے ۲۰۹
آیات ۴۰،۴۱ ۲۱۱
فطری توحید ۲۱۱
چند اہم نکات ۲۱۲
آیات ۴۲،۴۳،۴۴،۴۵ ۲۱۴
نصیحت قبول نہ کرنے والوں کا انجام ۲۱۴
چند اہم نکات ۲۱۷
آیات ۴۶،۴۷،۴۸،۴۹ ۲۲۰
روئے سخن بدستور مشرکین ہی کی طرف ہے ۲۲۰
آیت ۵۰ ۲۲۴
غیب سے آگاہی ۲۲۴
آیت ۵۱ ۲۲۷
قرآن کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ڈراؤ ۲۲۷
آیات ۵۲،۵۳ ۲۲۹
شان نزول ۲۲۹
طبقاتی تقسیم کے خلاف جنگ ۲۳۱
اور وہ اسے ان کی رسالت کے باطل ہونے کی دلیل سمجھتے تھے ۔ ۲۳۲
اسلام کا ایک عظیم امتیاز ۲۳۴
آیات ۵۴،۵۵ ۲۳۶
سلام بر مؤمنان! ۲۳۶
آیات ۵۶،۵۷،۵۸، ۲۳۹
چند اہم نکات ۲۴۲
آیات ۵۹،۶۰،۶۱،۶۲ ۲۴۴
اسرار غیب ۲۴۴
آیات ۶۳،۶۴، ۲۵۳
تفسیر وہ نور جو تاریکی میں چمکتا ہے ۲۵۳
چند اہم نکات ۲۵۴
آیت ۶۵ ۲۵۷
رنگ رنگ کے عذاب ۲۵۷
چند اہم نکات ۲۵۸
آیات ۶۶،۶۷ ۲۶۱
جس وقت تم ان لوگوں کو دیکھو کہ ۲۶۱
آیات ۶۸،۶۹ ۲۶۳
شان نزول ۲۶۳
اہل باطل کی مجالس سے دوری ۲۶۴
دوسوال اور ان کا جواب ۲۶۵
آیت ۷۰ ۲۶۷
دین حق کو کھیل بنانے والے ۲۶۷
آیات ۷۱،۷۲ ۲۷۰
کیا ہم سابقہ حالت کی طرف پلٹ جائیں ۔ ۲۷۰
ایک سوال اور اس کا جواب ۲۷۱
آیت ۷۳ ۲۷۳
آیت ۷۴ ۲۷۶
یہ سورہ شرک وبت پرستی سے مقابلے کا پہلو رکھتی ہے ۲۷۶
کیا آزر حضرت ابرہیم (علیه السلام) کا باپ تھا ۲۷۶
آیات ۷۵،۷۶،۷۷،۷۸،۷۹ ۲۸۱
آسمانوں میں توحید کی دلیلیں ۲۸۱
یہ گفتگو تحقیق کے طور پر کی تھی ۲۸۴
حضرت ابراہیم - کا توحید پر استدلال ۲۸۶
”کذالک“سے کیامراد ہے۔ ؟ ۲۸۶
”جن“ “سے مراد ۲۸۶
”کوکباً“کونسا ستارہ مراد ہے؟ ۲۸۷
” بازغ“ سے مراد ۲۸۸
”فطر“۔سے مراد ۲۸۸
۶ ۔ ”حنیف“ کا معنی ۲۸۸
آیات ۸۰،۸۱،۸۲،۸۳ ۲۸۹
حضرت ابراہیم - کی بت پرست قوم و جمعیت سےبحث و گفتگو ۲۸۹
یہاں ظلم سے کیا مراد ہے؟ ۲۹۳
آیات ۸۴،۸۵،۸۶،۸۷ ۲۹۶
نعمت ہے صالح اولاد اور آبرومند اور لائق نسل ۲۹۶
چند قابل توجہ امور ۳۰۰
آیات ۸۸،۸۹،۹۰ ۳۰۴
تفسیر ۳۰۴
تین اہم امتیاز ۳۰۴
۱ ۔ حکم کا مفہوم: ۳۰۵
۲ ۔ منصَب قضاوت: ۳۰۵
۳ ۔ حکومت وسلطنت: ۳۰۵
آیت ۹۱ ۳۰۹
شان نزول ۳۰۹
خدا ناشناس ۳۰۹
خدانشناسان ۳۰۹
چند قابلِ توجہ نکات ۳۱۲
۱ ۔ قراطیس: ۳۱۲
۲ ۔ کاغذ پر لکھنے کی مذمت؟ ۳۱۲
۳ ۔ ” ( وما قدروا الله حق قدره ) “ ۳۱۲
آیت ۹۲ ۳۱۴
یہ ایک بہت ہی بابرکت کتاب ہے ۳۱۴
چند قابلِ توجہ مطالب ۳۱۶
آیت ۹۳ ۳۱۹
شان نزول ۳۱۹
ایسے گنہگاروں کے بارے میں گفتگو ہو رہی ہے ۳۲۰
چند قابلِ توجہ نکات ۳۲۱
آیت ۹۴ ۳۲۳
شانِ نزول ۳۲۳
گمشدہ لوگ ۳۲۳
دو اہم نکات ۳۲۴
آیات ۹۵،۹۶ ۳۲۵
تفسیر ۳۲۵
طلوعِ صبح کرنے والا ۳۲۵
آیت ۹۷ ۳۳۲
ہم نے اپنی نشانیاں اور دلائل اہلِ فکر ونظر اور اہل فہم ۳۳۲
آیات ۹۸،۹۹ ۳۳۴
تفسیر ۳۳۴
انار کی ساخت ۳۳۹
آیات ۱۰۰،۱۰۱،۱۰۲،۱۰۳ ۳۴۲
چند قابل توجہ نکات ۳۴۷
آیات ۱۰۴،۱۰۵،۱۰۶،۱۰۷ ۳۵۳
تفسیر ۳۵۳
پیغمبر مجبور نہیں کرتے ۳۵۳
آیت ۱۰۸ ۳۵۷
تم مشرکین کے بتوں اور معبودوں کو کبھی گالیاں نہ دو ۳۵۷
قابل توجہ نکات ۳۵۸
۱ ۔ خدا زینت دیتا ہے؟ ۳۵۸
۲ ۔ گالیاں نہ دینے کا حکم: ۳۵۸
آیات ۱۰۹،۱۱۰ ۳۶۰
شان نزول ۳۶۰
انھوں نے انتہائی اصرار کے ساتھ یہ قسم کھائی ۳۶۱
آیت ۱۱۱ ۳۶۳
تفسیر ۳۶۳
ہٹ دھرم لوگ راہ راست پر کیوں نہیں آتے؟۔ ۳۶۳
آیات ۱۱۲،۱۱۳ ۳۶۵
تفسیر ۳۶۵
چند قابل توجہ نکات ۳۶۶
آیات ۱۱۴،۱۱۵ ۳۶۹
کیا میں غیر خدا کو منصف اور حکم کے طور پر قبول کرلوں ۳۶۹
آیات ۱۱۶،۱۱۷ ۳۷۲
اگر تم زمین میں رہنے والے اکثر لوگوں کی پیروی کرو گے ۳۷۲
عددی اکثریت کچھ اہمیت نہیں رکھتی ۳۷۳
آیات ۱۱۸،۱۱۹،۱۲۰ ۳۷۶
تفسیر ۳۷۶
شرک کے تمام آثار مٹ جانے چاہئیں ۳۷۶
آیت ۱۲۱ ۳۸۰
تفسیر ۳۸۰
آیات ۱۲۲،۱۲۳، ۳۸۱
شان نزول ۳۸۱
ایمان اور نور نظر ۳۸۲
آیت ۱۲۴ ۳۸۶
شان نزول ۳۸۶
آیات ۱۲۵،۱۲۶،۱۲۷ ۳۸۹
تفسیر ۳۸۹
خدائی امداد ۳۸۹
قابل توجہ نکات ۳۹۰
آیات ۱۲۸،۱۲۹ ۳۹۴
اس دن کہ جس میں ان سب کو جمع ومحشور کرے گا ۳۹۴
آیات ۱۳۰،۱۳۱،۱۳۲ ۳۹۸
تفسیر ۳۹۸
اتمام حجت ۳۹۸
آیات ۱۳۳،۱۳۴،۱۳۵ ۴۰۱
تیرا پروردگار بے نیاز بھی اور رحیم ومہربان بھی ہے ۴۰۱
آیت ۱۳۶ ۴۰۳
ان کے شرکاء (یعنی بتوں ) نے ان کی اولاد کے قتل کو ۴۰۳
آیت ۱۳۷ ۴۰۶
بت پرستوں کی ایک بدکاری اور ان کے شرم ناک جرائم کی طرف اشارہ ۴۰۶
آیات ۱۳۸،۱۳۹ ۴۰۹
بت پرستوں کے بیہودہ احکام ۴۰۹
آیت ۱۴۰ ۴۱۳
زمانہ جاہلیت کے عربوں کی فضول احکام ۴۱۳