یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
تفسیر نمونہ جلد نہم
تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.
تعداد جلد: ۱۵جلد
زبان: اردو
مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)
تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری
سورہ هود
مضامین اور فضیلت
مفسرین میں مشہور ہے کہ تمام سورہ مکّہ میں نازل ہوئی ۔”تاریخ القرآن“ کے مطابق یہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم پر نازل ہونے والی انچاسویں سورت ہے ۔ بعض مفسّرین کی تصریح کے مطابق یہ سورة ان آخری سالوں میں نازل ہوئی جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم مکّہ میں تھے ۔ یعنی حضرت ابوطالبعليهالسلام اور حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد لہٰذا فطرتاً پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی زندگی کا ایک سخت ترین دور تھا اس بنا پر اس کہ اس زمانے میں دشمن کا دباؤ اور اس کا زہریلا پروپیگنڈا ہر دور سے زیادہ محسوس ہوتا تھا ۔ اس سورة کی ابتدا میں ایسی تعبیریں نظر آتی ہیں جو پیغمبر اکرمصلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور مومنین کی دل جوئی اور تسلّی کا پہلو رکھتی ہیں ۔
اس سورة کی آیات کا اہم اور بیشتر حصّہ گزشتہ انبیاء خصوصاً حضرت نوح علیہ السلام کی سرگزشت جہاں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور مومنین کے لیے تسلی اور سکون قلب کا باعث تھا وہاں ان کے طاقتور دشمنوں کے لیے درسِ عبرت بھی تھا ۔
اس سورة کی آیات باقی مکی سورتوں کی طرح معارف اسلامی کے اصولوں خصوصاً شرک و بت پرستی سے مبارزہ، بعد از موت کے معاملات اور دعوتِ پیغمبر اسلام کی صداقت کی تشریح پر مبنی ہیں ۔ ان مباحث میں دشمنوں کو شدید انجام سے ڈرایا گیا ہے اور مومنین کو استقامت و پامردی کی تاکید کی گئی ہے ۔
حضرت نوح علیہ السلام کے حالات اور دشمنوں سے نبرد آزمائی کی تفاصیل کے علاوہ حضرت ہود (علیه السلام)، حضرت صالح(علیه السلام)، حضرت ابراہیم (علیه السلام)، حضرت لوطعليهالسلام اور حضرت موسیٰعليهالسلام کی سرگزشت نیز شرک و کفر اور انحراف و ستم گری کے خلاف وسیع و طویل جنگ کی بابت اشارات بھی اس سورة میں موجود ہیں ۔
اس سورة نے مجھے بوڑھا کردیا
اس سورة کی آیات وضاحت کے ساتھ اس امر کو ثابت کرتی ہیں کہ مسلمانوں کو کبھی دشمنوں کی کثرت اور ان کے شدید حملوں کی وجہ سے میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہیئے بلکہ ہر لمحہ ان کی استقامت و پامردی میں اضافہ ہونا چاہیئے ۔
اسی بناپر ایک مشہور حدیث میں مذکور ہے کہ حضورِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:شیبتنی سورة هود
سورہ ہود نے مجھے بوڑھا کردیا ۔(۱) یا جس وقت آپ کے صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ کے چہرہ انور پر بڑھاپے کے آثار زیادہ جلدی نمودار ہوگئے ہیں ، تو فرمایا:شیبتنی هود والواقعه
سورہ ہود اور سورہ واقعہ نے مجھے بوڑھا کردیا ۔(۲)
اور بعض روایات میں سورہ ”مرسلات، عمّ یتساء لون اور تکویر“ وغیرہ کا اضافہ بھی ہوا ہے ۔(۳)
ابن عباس سے اس حدیث کی تشریح میں منقول ہے:
رسول اللہ پر اس آیت سے زیادہ سخت اور دشوار کوئی اور آیت نازل نہیں ہوئی جس میں فرمایا گیا ہے:
( فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ وَ مَن تَابَ مَعَکَ )
یعنی تم اور تمھارے ساتھی اس طرح ثابت قدم رہیں جیسا کہ حکم دیا گیا ۔(۴)
بعض مفسرین سے منقول ہے کہ ایک عالم دین نے رسول اللہ کو خواب میں دیکھا تو آپ سے سوال کیا کہ یہ جو آپ سے مروی ہے کہ ”سورہ ہود نے مجھے بوڑھا کردیا“ کیا اس کا سبب و علت گزشتہ امتوں کی سرگزشت اور ہلاکت بیان کرنا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ اس سبب ”( فَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ ) “ والی آیت تھی ۔(۴)
بہر حال اس سورة میں عالاوہ اس آیت کے، قیامت اور عدالتِ خدواندی میں باز پرس سے مربوط گزشتہ امتوں کی ہلادینے والی سزاؤں سے متعلق اور فتنہ و فساد کے خلاف جنگ کے بارے میں احکام ہیں ۔ یہ سب امور احساسِ مسئولیت پیدا کرتے ہیں ۔ تعجب کی بات نہیں کہ ان ذمہ داریوں کے بارے میں غور و فکر انسان کو بوڑھا کردے ۔
ایک نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا ضروری ہےن یہ ہے کہ اس سورة کی بہت سی آیات ان مطالب کی تاکید کرتی ہیں ، جو گزشتہ سورة یونس میں آچکے ہیں ۔ خصوصاً اس کا آغاز بعینہ اس کے آغاز جیسا ہے اور بہت سے مواقع پر اس کا مقصد اور ماحول بھی انہی مسائل کی تاکید ہے ۔
____________________
۱۔ نور الثقلین جلد دوم، ص۲۳۴.۲۔مجمع البیان اسی سورة کے آیة ۱۱۸ کے ذیل میں ۔
۳۔روح المعانی جلد ۱۱ ، ص ۱۷۹۔۴۔مجمع البیان اسی سورة کی آیت ۱۱۲ کے ذیل میں ۔
۵۔روح المعانی جلد ۱۱، ص ۱۷۹۔
اس سورة کی معنوی تاثیر
اس سورة کی فضیلت کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ایک حدیث مروی ہے آپ نے فرمایا:
من قرء هذه السوره اعطی من الاجر والثواب بعد من صدق هوداً والانبیاء علیهم السلام، ومن کذب بهم، و کان یوم القیامة فی درجة الشهداءٰ وحوسب حساباً یسیراً
جو شخص اس سورہ کی تلاوت کرے اس کی جزا اور ثواب ان اشخاص جیسا ہے جو حضرت ہودعليهالسلام اور باقی انبیاء پر ان کے جھٹلانے والوں اور منکرین کے مقابلے میں ایمان لائے ۔ ایسا شخص قیامت کے دن شہداء میں سے قرار پائے گا اور اس کا حساب آسان وسہل ہوگا ۔(۱)
واضح ہے کہ خالی اور خشک تلاوت یہ اثر نہیں رکھتی بلکہ غور و فکر کے ساتھ کی گئی تلاوت ہی عمل کی جانب گامزن کرتی ہے اور یہ بات انسان کو مومنین ماسلف کے نزدیک اور منکرین انبیاء سے دور کردیتی ہے ۔ اسی بناء پر اسے ان میں سے ہر ایک کی تعداد کے برابر جزا ملے گی ۔ فکر و معرفت کے ساتھ اس سورة کی تلاوت کرنے والا قاری چونکہ گزشتہ امتوں کے شہداء کے ساتھ ہم مقصد و یک ہدف ہوگا لہٰذا تعجب نہیں کہ وہ ان جیسا قرار پائے اور اس کا حساب کتاب (روزِ آخرت میں ) آسان و سہل ہوجائے ۔امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے، آپعليهالسلام نے فرمایا:
جو شخص یہ سورة اپنے پاس لکھ کر رکھے خدا اسے بے حد قوت و طاقت عطا فرمائے گا اور جس کے پاس یہ سورة تحریراً موجود ہو تو وہ جنگ میں دشمن پر غالب آئے گا یہاں تک کہ جو بھی اسے دیکھے گا اس سے خوف کھائے گا ۔(۲)
اگر چہ راحت طلب اور ظاہری مقاصد اخذ کرنے والے افراد اس قسم کی احادیث سے یہ مطلب نکالتے ہیں کہ صرف قرآن کی تحریر اور نقش کا ہمراہ ہونا ان مقاصد کے حصول کے لیے کافی ہے مگر در حقیقت ان کو اپنے پاس رکھنے سے مراد انھیں ایک دستور العمل اور زندگی کے پروگرام کے طور پر اپنے پاس رکھنا، اسے ہمیشہ پڑھتے رہنا اور ہُوبہُو اس کا اجرا کرنا ہے ۔ لہٰذا یہ بات مسلّم ہے کہ ایسا کرنے سے ہی نصرت و کامیابی کے آثار ظاہر ہوں گے، کیونکہ اس سورة میں استقامت و پامردی، فساد سے نفرت اور ہدف و مقصد سے ہم بستگی کا حکم اور گزشتہ اقوام کی تاریخ و تجربات کا بیشتر حصّہ بیان کیا گیا ہے، ان میں سے ایک مذکورہ واقعہ دشمن پر کامیابی و کامرانی حاصل کرنے کا درس دیتا ہے ۔
____________________
۱۔ تفسیر برہان جلد ۲، ص۲۰۶.۲۔ تفسیر برہان جلد ۲، ص۲۰۶.
آیات ۱،۲،۳،۴
( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )
۱( الٓرٰ کِتَابٌ اٴُحْکِمَتْ آیَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَکِیمٍ خَبِیرٍ ) ۔
۲( اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ اللهَ إِنَّنِی لَکُمْ مِنْهُ نَذِیرٌ وَبَشِیرٌ ) ۔
۳( وَاٴَنْ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْهِ یُمَتِّعْکُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلیٰ اٴَجَلٍ مُسَمًّی وَیُؤْتِ کُلَّ ذِی فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّی اٴَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیرٍ ) ۔
۴( إِلَی اللهِ مَرْجِعُکُمْ وَهُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ۔
ترجمہ
” بخشنے والے مہربان خدا کے نام سے “
۱ ۔ یہ کتاب ہے کہ جس کی آیات مستحکم کی گئی ہیں پھر ان کی تشریح و تفصیل بیان کی گئی ہے، حکیم و آگاہ خدا کی طرف سے (یہ نازل ہوئی ہے) ۔
۲ ۔ (میری دعوت یہ ہے کہ) خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو میں اس کی طرف سے تمھیں ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں ۔
۳ ۔ اور یہ کہ اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو پھر اس کی طرف پلٹو تاکہ وہ اچھے طریقے سے تمھیں مدت معین تک (اس جہان کی نعمتوں سے) بہرہ مند کرے اور ہر صاحبِ فضیلت کو اس کی فضیلت کے مطابق عطا کرے اور اگر (اس فرمان سے) تم نے منہ موڑلیا تو مجھے تمھارے لیے بہت بُرے دن کے عذاب کا خوف ہے ۔
۴ ۔ (جان لو) تمھاری بازگشت اللہ کی طرف ہے اور وہ چیز پر قادر ہے ۔
دعوت انبیاء کے چار اہم اصول
یہ سورة بھی گزشتہ سورة اور قرآن کی دیگر بہت سی سورتوں کی مانند اس عظیم آسمانی کتاب کی اہمیت کے بیان سے شروع ہورہی ہے تاکہ لوگ اس کے مضامین کی طرف سے زیادہ متوجہ ہوں اور اسے زیادہ باریک بینی سے دیکھیں ۔
حروف مقطعات ”( آلرٰ ) “ کا ذکر خود اس عظیم آسمانی کتاب کی اہمیت کی دلیل ہے، یہ کتاب باوجود اپنے اعجاز وعظمت کے معمولی حروف مقطعات جو کہ سب کے سامنے ہیں یعنی الف، لام، راء، سے تشکیل پائی ہے( الٓرٰ ) ۔(۱)
حروف مقطعات کے بعد قرآن مجید کی ایک خصوصیت دو جملوں میں بیان کی گئی ہے، پہلی یہ کہ یہ ایسی کتاب ہے جس کی تمام آیات مستحکم ہیں( کِتَابٌ اٴُحْکِمَتْ آیَاتُهُ ) ۔ دوسری یہ کہ اس میں انسانی زندگی کی تمام انفرادی، اجتماعی، مساوی اور معنوی ضروریات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے( ثُمَّ فُصِّلَتْ ) ۔
یہ عظیم کتاب ان خصوصیات کے ساتھ اس خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو حکیم بھی ہے اور آگاہ بھی( مِنْ لَدُنْ حَکِیمٍ خَبِیرٍ ) ۔
اپنے حکیم ہونے کے تقاضے بناپر اس نے آیاتِ قرآن کو محکم بیان کیا ہے اور خبیر وآگاہ ہونے کے تقاضے کے پیشِ نظر آیاتِ قرآنی کو انسانی ضروریات کے مطابق مختلف حصّوں میں بیان فرمایا ہے ۔اس لئے کہ جب تک کوئی انسان کی تمام روحانی وجسمانی کی جزئیات سے باخبر نہ ہو وہ تکامل آفرین اور ارتقائی اہلیّت کے حامل احکام صادر نہیں کرسکتا ۔
درحقیقت صفاتِ قرآن میں سے ایک، جو اس آیت میں آئی ہے، کا سرچشمہ خدا کی کوئی ایک صفت ہے، قرآن کا مستحکم ہونا خدا کی حکمت سے ہے اور اس کی تشریح وتفصیل اس کے باخبر ہونے کے باعث ہے ۔
”اٴُحْکِمَتْ “اور ”فُصِّلَتْ “میں فرق مفسّرین قرآن نے ”( اٴُحْکِمَتْ ) “ اور ”( فُصِّلَتْ ) “کے فرق میں بہت سی بحثیں کی ہیں اور کئی ایک احتمالات پیش کئے ہیں ، لیکن مذکورہ آیت کے مفہوم سے نزدیک تر جو بحث سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے لفظ میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ قرآن ایک واحد مجموعہ ہے جو آپس میں پیوست ہے اور ایک محکم واستوار عمارت کی مانند ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ خدا واحد ویکتا کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اس بناپر اس کی آیات میں کسی قسم کا تضاد واختلاف نظر نہیں آتا ۔
دوسرا لفظ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس کتاب میں باوجود وحدت واکائی کے بہت سے شعبے اور شاخیں ہیں جو انسان کی تمام تر جسمانی وروحانی ضروریات کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے اسی بناپر وحدت کے باوجود کثیر ہے اور کثرت کے باوصف واحد ہے ۔
بعد والی آیت میں قرآن کا اہم ترین اور سب سے بنیادی موضوع یعنی توحید کا بیان اور شرک کا مقابلہ ان الفاظ میں میں کیا گیا ہے”( اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ اللهَ ) “، یعنی میری پہلی دعوت یہ ہے کہ یکتا ویگانہ خدا کے کسی کی پرستش نہ کرو(۲) یہ دراصل اس عظیم کتاب کے احکام کی پہلی تفسیر ہے ۔
میری دعوت کا دوسرا پروگرام یہ ہے کہ: ”( إِنَّنِی لَکُمْ مِنْهُ نَذِیرٌ وَبَشِیرٌ ) “ یعنی میں تمھارے لئے اسی خدا کی طرف نذیر (ڈرانے والا) اور بشیر (خوشخبری دینے والا) ہوں ، مَیں تمھیں نافرمانیوں ، ظلم وفساد اور شرک وکفر کے بارے میں ڈراتا ہوں اور تمھارے کرکوتوں کے عکس العمل اور خدائی عذاب وسزا سے خبردار کرتا ہوں ، اطاعت وپاکیزگی اور تقویٰ کے بدلے میں تمھیں سعادت بخش زندگی کی بشارت دیت ہوں( إِنَّنِی لَکُمْ مِنْهُ نَذِیرٌ وَبَشِیرٌ ) ۔
میری تیسری دعوت یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے استغفار کرو اور اپنے کو آلودگیوں سے پاک و صاف رکھو( وَاٴَنْ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ) ۔
میری چوتھی دعوت یہ ہے کہ اس کی طرف پلٹ آؤ اور استغفار کے نتیجہ میں گناہوں سے پاک ہو جانے کے بعد اپنے کو خدائی صفات سے آراستہ کرو کیونکہ اس کی جانب بازگشت اس کی صفات سے اپنے آپ کو مزین کرنے کے علاوہ کچھ نہیں( ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْهِ ) ۔
درحقیقت حق کی جانب دعوت دینے کے چار مراحل ان چار جملوں کے ذریعے بیان ہوئے ہیں کہ جن میں دو عقیدہ اور بنیاد سے تعلق رکھتے ہیں اور دوسرے دو کا تعلق بنیاد کے اوپر والے حصّے اور عمل سے ہے، حقیقی توحید قبول کرنا، شرک سے مبارزہ اور پیغمبر اکرم کی ر سالت کو قبول کرنا اعتقادی اصول ہیں ، اسی طرح اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کرنا اور صفات الٰہی کو اپنانا یعنی عملی لحاظ سے اپنی مکمل اصلاح کرلینا قرآن کے دو عملی احکام ہیں لہٰذا اگر صحیح معنوں میں غور وفکر کریں تو قرآن کے تمام موضوعات کا خلاصہ یہی چار اقسام وامور ہیں ، یہی اس سورة اور سارے قرآن کے موضوعات کی فہرست ہے، ان چار احکام کا ”موافقت“ یا مخالفت“ کی صورت میں عملی نتیجہ اس طرح بیان کیا گیا ہے:
جس وقت اس پرگرام کو عملی جامہ پہناوگے تو خدا تمھیں تمھاری عمر کے آخری لمحات تک اس دنیا کی سعادت بخش زندگی سے بہرہ ور کرے گا( یُمَتِّعْکُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلیٰ اٴَجَلٍ مُسَمًّی ) ۔
اس سے بڑھ کر یہ کہ ہر شخص کو اس کے عمل کے برابر بہرہ مند کرے گا اور ان چار اصولوں پر عمل کرنے کی کیفیت میں لوگوں کے فرق اور تفاوت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرے گا بلکہ ہر صاحبِ فضیلت کو اس کی فضیلت کے مطابق عطا کرے گا( وَیُؤْتِ کُلَّ ذِی فَضْلٍ فَضْلَهُ ) ۔
لیکن اگر انسان نے راہِ مخالفت اختیار کی اور عقیدہ وعمل سے متعلق ان چار احکام کی نافرمانی کے راستے پر چلے تو مَیں تم پر اس عظیم دن (قیامت) کے عذاب سے ڈرتا ہوں ، وہ دن کہ جس میں تم عدلِ الٰہی کی عظیم عدالت میں حاضر ہوگے( وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّی اٴَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیرٍ ) ۔ بہرحال جان لیجئے کہ تم جو کچھ بھی ہو اور جس مقام ومنزلت پر فائز ہوں آخرکار تم سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے( إِلَی اللهِ مَرْجِعُکُمْ ) ۔ یہ جملہ قرآن کے تفصیلی اصولوں میں سے یعنی مسئلہ معاد وقیامت کی طرف اشارہ ہے ۔
لہٰذا یہ کبھی نہ سوچنا کہ تمھاری قوت خدا کی قوت وقدرت کے مقابلہ میں کوئی اہمیت رکھتی ہے یا سمجھنے لگو کہ تم اس کے فرمان اور اس کی عدالت کے کٹہرے سے فرار حاصل کرسکو گے، نیز یہ تصوّر بھی نہ کرنا کہ وہ تمھاری بوسیدہ ہڈیوں کو موت کے بعد جمع نہیں کرسکتا اور نئی حیات کا لباس پہناسکتا، اس لئے کہ وہ تو ہر چیز پر قادر وتوانا ہے( وَهُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ )
____________________
۱۔ اس معنی کی تفصیل اور قرآن کے حروف مقطعات کی دیگر تفاسیر سورة بقرہ، آلِ عمران اور اعراف کی ابتداء میں مذکورہ وچکی ہیں ۔
۲۔ ”اَلَّا تَعْبدُوا الا اللّٰه “ کے بارے میں دو احتمال پیش کیے گئے ہیں پہلا یہ کہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے یہ زبان پیغمبر سے ہے اور اس کی ترکیب یہ ہوگی: ”دعوتی وامری الاتعبدو الا اللّٰه“- دوسرا یہ کہ یہ خدا کا کلام ہے اور اس کی تقدیر یہ ہے :امرکم الا تعبدوا الاللّه - لیکن جملہ ”اننی لکم منه نذیر و بشیر “(میں تمھیں ڈرانے اور خوشخبری سنائے والا ہوں ) پہلے معنی سے زیاد مطابقت رکھتا ہے ۔
دین ودُنیا کا رشتہ
ابھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جوگمان کرتے ہیں کہ دینداری فقط آخرت کا گھر آباد کرنے اور بعد از موت راحت وسکون حاصل کرنے کے معنی میں ہے اسی طرح اعمال نیک آخرت کا ثمر اور زادِراہ ہیں ، ایسے لوگ اس جہان کی اصل زندگی میں ایک پاکیزہ اور حقیقی مذہب کے اثر سے بے اعتنا ہیں یا اس کے لئے کم اہمیت کے قائل ہیں حالانکہ مذہب آخرت کا گھر آباد کرنے سے پہلے دنیاوی گھر آباد کرنے والا ہے اور اصولاً جب تک مذہب اِس زندگی میں اثر انداز نہ ہو اُس زندگی کے لئے اس کی کوئی تاثیر نہ ہوگی ۔
قرآن صراحت کے ساتھ بہت سی آیات میں اس موضوع کو اپنا عنوان قرار دیا ہے، یہاں تک کہ بعض جزوی مسال کو بھی اہمیت دی ہے جیسا کہ سورہ نوح میں ہے کہ اس عظیم پیغمبر نے اپنی قوم سے یوں فرمایا:
( اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ إِنَّهُ کَانَ غَفَّارًا، یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا، وَیُمْدِدْکُمْ بِاٴَمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ اٴَنْهَارًا )
اور اپنے گناہوں سے اتسغفار کرو اور توبہ کے پانی سے انھیں دھو ڈالو کہ خدا بخشنے والا ہے تاکہ وہ پے درپے تم پر آسمان کی برکتیں نازل کرے اور مال واولاد سے تمھاری مدد کرے اور سرسبز باغات کی اور پانی کی نہریں تمھارے قبضہ دے دے (نوح/ ۱۰،۱۱،۱۲)
بعض لوگ دینا کی ان مادی نعمات اور استغفار وگناہ سے پاک ہونے کے درمیان صرف ایک معنوی رتہ سمجھتے ہیں جو سمجھ نہیں آسکتا ، حالانکہ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ ان امور کی ایسی تفسیر کی جائے جو سمجھ میں آنے والی نہ ہو، کون شخص اس حقیقت میں شک رکھتا ہے کہ حقیقی توحید کوقبول کرنے، انبیاء کی رہبری میں الٰہی معاشرے کا قیام، ماحول کو گناہوں سے پاک کرنے اور انسان قدروں سے آراستہ کرنے، (یعنی وہ چار اصول جن کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہوا ہے) ان پر عمل پیرا ہونے سے معاشرہ تکامل اور ارتقاء کی جانب بڑھتا ہے اور امن وسلامتی اور صلح وصفا سے معمور ایک آباد وآزاد معاشرہ وجود میں آتا ہے ۔اسی بناء پر مذکورہ بابا آیات میں ان چار اصولوں کے تذکرے کے بعد ہم پڑھتے ہیں :( یُمَتِّعْکُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلیٰ اٴَجَلٍ مُسَمًّی ) اگر ان اصولوں پر کاربند ہوجاو تو آخری عمر تک شائستہ اور نیک طرزِ زندگی سے بہرہ مند رہوگے ۔
آیت ۵
۵( اٴَلَاإِنَّهُمْ یَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِیَسْتَخْفُوا مِنْهُ اٴَلَاحِینَ یَسْتَغْشُونَ ثِیَابَهُمْ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ )
ترجمہ
۵ ۔ آگاہ رہو کہ جب وہ (اپنے سروں کو ایک دوسرے کے نزدیک اور )سینوں کو ایک دوسرے کے قریب کرتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو (اور اپنی باتوں کو) اس (پیغمبر) سے پوشیدہ رکھیں ، آگاہ رہو کہ جب وہ اپنے لباس کو اپنے اوپر لپیٹ لیتے ہیں اور اپنے آپ کو اس میں چھپُ لیتے ہیں (خدا) ان کے ظاہر اور باطن سے باخبر ہے کیونکہ وہ سینوں کے اندر کے رازوں سے آگاہ ہے ۔
شان نزول
بعض مفسّرین نے اس آیت کے لئے کئی شانِ نزول ذکر کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق منافق کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو نہایت شیرین زبان تھا اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے سامنے دوستی اور محبّت کا اظہار کرتا مگر باطن میں دشمنی اور عداوت رکھتا تھا ۔
نیز جابر بن عبد الله نے امام باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ مشرکین کا ایک گروہ جب پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے سامنے سے گزرتا تو اپنے سروں کو نیچے کرلیتا یہاں تک کہ اپنے سر کو لباس سے چھپالیتا تاکہ پیغمبر انھیں دیکھ نہ لیں ، یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ۔
تفسیر
یہ آیت بطور کلی اسلام اور پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے دشمنوں کے احمقانہ فعل کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اپنی نفاق آمیز اور حق سے گریزاں روش سے چاہتے تھے کہ اپنی ذات کو دوسرےں کے نظروں سے پنہاں رکھیں تاکہ کہیں حق کی آواز نہ سُن لیں ، لہٰذا فرمایا گیا ہے: آگاہ رہو کہ وہ پیغمبر کی دشمنی کو دلوں میں پوشیدہ رکھتے ہیں اور سروں کو نیچے کئے ہوئے سینوں کو آگے سے خم کرتے ہیں تاکہ خود کو آنحضرت کی نظر سے پوشیدہ رکھیں( اٴَلَاإِنَّهُمْ یَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِیَسْتَخْفُوا مِنْهُ ) ۔
اس آیت کے معنی کوطور پر سمجنے کے لئے ضروری ہے کہ لفظ ”یَثْنُون“کا مفہوم پورے طور پر واضح ہو، ”یَثْنُون“کا مادہ ”ثنی“ (بروزنِ سنگ) ہے جو در اصل کسی چیز کے مختلف حصّوں کو ایک دوسرے کے نزدیک کرنے کے معنی میں آیا ہے مثلاً لباس تہ کرنے کے لئے ”ثنی ثوبہ“کہا جاتا ہے اور یہ افراد کو ”اثنان“کہا جاتا ہے اس بناء پر ہے کہ ہم ان میں سے ایک کو دوسرے کے پہلو میں قرار دیتے ہیں ، مداحی اور قصیدہ گوئی کو ”ثناخوانی“ بھی اس بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ممدوح کی صفاتِ برجستہ یکے بعد دیگرے شمار کی جاتی ہیں ، نیز یہ مادّہ خم ہونے اور جھکنے کے معنی میں بھی آیا ہے اس کے انسان اس کام سے اپنے بدن کے کچھ حصّوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیتا ہے، اسی طرح کینہ وعداوت رکھنے کے معنی میں بھی بیان کیا گیا ہے کیونکہ اس طرح انسان کبھی کسی شخص یا چیز کی دشمنی کو دل کے نزدیک کرلیتا ہے، یہ تعبیر بھی عربی ادب میں ملتی ہے ۔
”اثنونی صدره علی البغضاء “اس نے میرا کینہ دل میں رکھا ۔
جو کچھ ذکر کیا گیا ہے اس پر توجہ دینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ممکن ہے مندرجہ بالا تفسیر دشمنانِ پیغمبر کی ظاہری وباطنی مخالفت اور ہر قسم کی خفیہ یاسازشوں کی طرف اشارہ ہو، اس لئے کہ ایک طرف تو دل میں بغض وکینہ اور دشمنی رکھنے کے باوجود ظاہراٍ شیرین زبان سے اظہارِ دوستی کرتے تھے اور دوسری جانب گفتگو کرتے وقت سروں کو ایک دوسرے کے قریب اور سینوں کو پیچھے کی طرف کئے ہوئے یہاں تک کہ اپنے لباسوں کو بھی سر پر لے لیتے ہیں ، تاکہ اشارہ وکنایہ میں بدگوئیاں اور سازشیں کرسکیں اور کوئی شخص ان کے رازوں سے آگاہ نہ ہو، لہٰذا قرآن بلافاصلہ آگاہ کرتا ہے کہ ”آگاہ رہو جس وقت وہ اپنے آپ کو اپنے لباسوں میں چھپالیتے ہیں( اٴَلَاحِینَ یَسْتَغْشُونَ ثِیَابَهُمْ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ ) ۔ پروردگار ان کے ظاہر وپنہان سب کو جانتا ہے اس لئے کہ وہ ان کے سینوں (اندر) کے بھیدوں سے واقف ہے( إِنَّهُ عَلِیمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ) ۔
آیت ۶
۶( وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ إِلاَّ عَلَی اللهِ رِزْقُهَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا کُلٌّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ )
ترجمہ
۶ ۔ اور زمین میں حرکت کرنے والی چیز نہیں مگر یہ کہ اس کی روزی خدا کے ذمہ ہے اور وہ اس کی جائے قیام اور نقل وحرکت کے مقام کو جانتا ہے یہ سب کچھ واضح کتاب (علمِ خدا کی لوح محفوظ) میں ثبت شدہ ہے ۔
سب اسی کے مہمان ہیں
گزشتہ آیت میں پروردگار کے علم کی وسعت اور ہر آشکار وپنہان چیز پر اس کے احاطہ کی طرف اشارہ کیا گیا تھا، زیرِ بحث آیت در حقیقت اس امر کی دلیل ہے کیونکہ اس میں تمام موجوداتِ عالم کو خدا کی طرف سےروزی دینے کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور یہ ایسا کام ہے جو تمام موجوداتِ عالم کے کامل احاطہ علمی کے بغیر ممکن نہیں ، اسی لئے خداوندعالم فرماتا ہے: رُورئے زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کی روزی اس کے ذمہ نہ ہو وہ انسان کی جائے قرار کو جانتا ہے اور اپنی قار گاہ سے جن نقاط کی طرف منتقل ہوتا ہے اس سے بھی باخبر ہے، نیز ایک جاندار جہاں کہیں بھی ہو اس تک روزی پہنچاتا ہے( وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ إِلاَّ عَلَی اللهِ رِزْقُهَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا ) ۔ یہ تمام حقائق اپنی تمام حدود وقیود کے ساتھ کتابِ مبین اور علمِ خدا کی لوح محفوظ میں ثبت ہیں( کُلٌّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ ) ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ ”دابہ“ لفظ دبیب سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں آہستہ آہستہ چلنا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانا لیکن لغوی مفہوم کے لحاظ سے ہر قسم کی حرکت اس میں شامل ہوتی ہے، کبھی کبھار ان معانی کا اطلاق گھوڑے یا سواری کے دیگر جانوروں پر بھی کیا جاتا ہے، چنانچہ واضح ہے کہ زیرِ بحث ایت میں تمام زندہ موجودات کو شامل کیا گیا ہے ۔
۲ ۔ ”رزق“ مسلسل عطا کے معنی میں آیا ہے اور چونکہ موجودات عالم کے لئے خدا کی دی ہوئی روزی اس کی طرف سے پائیدار اور مسلسل عطا ہے لہٰذا اسے ”رزق“کہا جاتا ہے، اس نقطہ کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ عطا وبخشش کا مفہوم صرف مادی ضروریات پورا ہوجانے کے معنی میں مقید نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی مادّی ومعنوی عطا اس میں شامل ہے اسی لئے تو ہم کہتے ہیں :”( اللّٰهم ارزقنی علماً تاماً ) “خدایا! مجھے کامل علم عطا فرما ۔
یا کہتے ہیں :”( اللّٰهم ارزقنی شهادة فی سبیلک ) “
خدایا! اپنی راہ مجھے شہادت نصیب فرما ۔
البتہ ممکن ہے کہ زیرِ بحث آیت میں مادّی رزق کو مدّنظر رکھا گیا ہو اگرچہ اس کا عمومی مفہوم بھی زیادہ بعید نہیں ہے ۔
۳ ۔ ”مستقر“ در اصل قرار گاہ کے معنی میں ہے، کیونکہ اس لفظ کی بنیاد مادہ ”قر“ (بروزنِ حر) ہے جس کا مطلب ہے سخت سردی جو انسان اور دیگر موجودات زندہ کو خانہ نشین بنادیتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ لفظ سکون اور توقف کے معنی میں بھی آیا ہے ۔
”مستودع“ اور ”ودیعہ“ ایک ہی مادّہ سے ہیں جو درحقیقت کسی کو چھوڑ دینے کے معنی میں ہے، وہ تمام امور جو اپنی ناپائیداری سے اصلی اور پائیدار حالت کی طرف پلٹ جاتے ہیں ان کو ”مستودع“ کہا جاتا ہے اور ”ودیعت“ بھی اسی لئے کہا جاتا ہے کہ آخرکار اسے اپنے موجودہ محل ومقام کو چھوڑکر اپنے اصلی مالک کی طرف پلٹ جانا ہے ۔
حقیقت میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ تصور ہرگز نہ کیا جائے کہ خدا صرف ان حرکت کرنے والوں کو روزی دیتا ہے جو اپنی اصل پر برقرار ہیں اور اصطلاح کے مطابق ان کا حصّہ ان کے گھروں میں لے آتے ہیں ، بلکہ جہاں کہیں بھی ہوں اور جس کیفیت وحالت میں ہوں ان کی روزی اور رزق کا حصّہ انھیں عطا کرتا ہے، اس لئے کہ وہ ان (موجودات) کی اصلی قرار گاہ کو بھی جانتا ہے اور جہاں جہاں وہ نقل مکانی کرتے ہیں ان تمام خطوں سے باخبر ہے اس نے غول پیکر دریائی جلانوروں سے لے کر بہت ہی باریک اور آنکھ سے نظر نہ آنے والے جانداروں کے لئے بھی ان کے مناسب رزق مقرر کردیا ہے ۔
یہ رزق اس قدر حساب شدہ اور موجودات کے مناسبِ حال ہے کہ ”مقدار“ اور ”کیفیت“ کے لحاظ سے کاملاً ان کی خواہشات وضروریات کو پورا کرتا ہے یہاں تک کہ اس بچہ کی کی غذا کو شکمِ مادر میں ہے ہر ماہ ہر دن دوسرے مہینوں اور دنوں سے مختلف ہے اگرچہ ظاہری طور پر ای قسم کے خون سے زیادہ نہیں نیز بچّہ شِیرخواری کے زمانے میں باوجودیکہ ظاہراً پے ردپے کئی ماہ تک اس کی ایک قسم کی غذا (دودھ) ہوتی ہے مگر اس دودھ کی ترکیب بھی پہلے دن سے مختلف ہوتی ہے ۔
۴ ۔ ”کتاب مبین“ کا مطلب ہے کہ واضح وآشکار تحریر اور یہ اشارہ ہے پروردگار کے وسیع علم کے ایک مرحلہ کی جانب کہ جسے کبھی کبھی اپنی روزی حاصل کرنے کے سلسلے میں معمولی سے معمولی پریشانی بھی نہیں ہونی چاہیے اور وہ یہ تصور نہ کرے کہ اپنی روزی کا حصّہ لینے میں کبھی اس کا نام درج ہونے سے رہ جائے گا، اس لئے کہ تمام موجوداتِ اراضی وسماوی کے نام اس کتاب میں درج ہیں کہ جس میں اس کا نام سب کو شمار اور ضریحاً بیان کیا گیا ہے، اسی طرح جیسا کہ اگر ایک ادارہ میں کام کرنے والے تمام ملازمین کا نام ایک رجسٹر میں واضح طور پر درج کیا گیا ہو تو کیا ان کا قلم سے رہ جانے کا احتمال ہوسکتا ہے؟۔
تقسیمِ رزق اور زندگی کے لئے سعی وکوشش
رزق کے بارے میں بہت سی اہم بحثیں موجود ہیں جن میں سے ایک کا تذکرہ کیا جاتا ہے:
۱ ۔ جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے” رزق کے لغوی معنی استمراری اور دائمی بخشش کے ہیں قطع نظر اس کے کہ وہ مادّی یا روحانی ومعنوی، بنابریں ہر وہ منفعت جو خدا اپنے بندوں کو نصیب کرے، غذائی مواد، مکان اور لباس میں سے یا علم وعقل ، فہم وایمان اور اخلاص میں سے، ان سب کو رزق کہا جاتا ہے، جو لوگ اس مفہوم کو صرف مادّ ی پہلو میں محدود کرتے ہیں انھوں نے اس کے استعمال کے مواقع کی طرف دقیق توجہ نہیں کی، قرآن مجید راہِ حق میں شہید ہونے والوں کے بارے میں کہتا ہے:( بَلْ اٴَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ )
وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار سے رزق حاصل کرتے ہیں (آل عمران/ ۱۶۹)
واضح رہے کہ شہداء کی روزی اور وہ بھی عالمِ برزخ میں مادّی نعمتیں نہیں بلکہ وہی روحانی ومعنوی عنایات ہیں جن کا تصور کرنا ہمارے لئے اس مادی زندگی میں مشکل ہے ۔
۲ ۔ زدنہ موجودات کی ضروریات یا دوسرے لفظوں میں ان کا رزق مہیا کرنے کا معاملہ سب سے زیادہ توجہ طلب مسائل میں سے ہے اس کے اسرار سے وقت گزرنے اور سائنسی پیش رفت کے ساتھ ساتھ پردہ اٹھ رہا ہے، سائنس اس سلسلے میں تعجب انگیز امور منکشف کررہی ہے ۔
گزشتہ زمانے میں تمام سائنسدان اس فکر میں تھے کہ اگر سمندروں اور دریاوں کی تہوں میں زندہ موجودات موجود ہیں تو ان کی غذا کس راستے سے ان تک پہنچتی ہوگی کیونکہ غذاوں کی اصلی بنیاد تو نباتات ہیں جنھیں سورج کی روشنی کی ضرورت ہے جبکہ دریاوں کی گہرائیوں میں ۷۰۰ میٹر سے آگے مطلقاً روشنی کا وجود نہیں اور اس سے آگے تو گویا ایک ابدی تاریک رات ہے لیکن بہت جلد معلوم ہوگیا کہ سورج کی روشنی نباتات اور سبزے کے باریک ذرّات کی سطح آب اور موجوں کے بستر پر پرورش کرتی ہے اور جب وہ اپنے تکامل وارتقاء کا مرحلہ طے کرلیتے ہیں تو پکے ہوئے پھل کی مانند دریاوں کی گہرائیوں اور تہوں میں چلے جاتے ہیں اور وہاں زندہ موجودات کے لئے خوانِ نعمت ثابت ہوتے ہیں ۔
دوسری طرف بہت سے پرندے دریائی مچھلیوں کو اپنی غذا بناتے ہیں حتّیٰ کہ کئی قسم کے رات کو پرواز کرنے والے پرندے موجود ہیں جو رات کی تاریکی میں ایک ماہر غوطہ خور کی طرح اپنے شکار کو، جسے مخصوص امواج ریڈار کی طرح پہنچانتی ہیں اور اس کی نشاندہی کرتی ہیں ، باہر لے آتے ہیں ۔
بعض پرندوں کی روزی عظیم الجثّہ دریائی جانوروں کے دانتوں کے اندر چھپی ہوتی ہے، یہ حیوانات دوسرے دریائی جانوروں کے بطور غذا کھانے کے بعد اپنے دانتوں میں ”طبیعی خلال“ کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے ساحل کی طرف آتے ہیں اور اپنے منھ کو جو ایک چھوٹی غار سے مشابہت رکھتا ہے کھلا چھوڑدیتے ہیں وہ پرندے جن کی روزی خدا نے یہاں رکھی ہے بغیر کسی ڈر خوف کے اس غارنمار منھ میں داخل ہوجاتے ہیں ، اور اس دیو پیکر جانور کے منھ سے اپنی روزی تلاش کرلیتے ہیں ، اس تیار غذا سے جہاں پرندے شکم سیر ہوتے ہیں وہاں اس جانور کو بھس ضرر رساں مادّوں سے نجات دلاتے ہیں ، چنانچہ جب دونوں فریقوں کا مقصد پورا ہوجاتا ہے تو پرندے باہر پرواز کرجاتے ہیں اور وہ حیوان آرام وسکون کا احساس کرتے ہوئے اپنا منھ بند کرلیتا ہے اور واپس دریا کی گہرائیوں میں چلا جاتا ہے ۔
مختلف موجودات کو روزی بہم پہنچانے کے لئے خداوندعالم کا طریقہ وتدبیر واقعاً حیرت انگیز ہے وہ نطفہ جو شکم مادرمیں برقرار ہے، سے لے کر قسم قسم کے حشرات الارض تک، جو زمین کی تاریک گہرائیوں ، پُرپیچ راستوں ، درختوں کی چھالوں ، پہاڑوں کی چوٹیوں اور درّوں کی پہنائیوں میں زندگی بسر کرتے ہیں اس خداوندعظیم کے علم و بینش سے ہرگز مخفی نہیں ہیں ، جیسا کہ قرآن فرماتا ہے کہ خداوند ان کی قرار گاہ اور حقیقی مسکن سے بھی آگاہ ہے وہ ان کے چلنے پھرنے کی جگہ کو بھی جانتا ہے اور جہاں کہیں بھی ہوں ان کی روزی ان تک پہنچاتا ہے ۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ زیرِ نظر آیت میں روزی حاصل کرنے والوں کے بارے میں بحث کے دروان انھیں ”دابة“ (پھرنے والے) اور ”جنیدہ“ (حرکت کرنے والے) سے تعبیر کیا گیا ہے جو ”توانائی“( ENERGY ) اور ”حرکت“ ( MOTION ) میں رابطہ کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ جہاں کہیں بھی حرکت وجود میں آتی ہے وہ توانائی پیدا کرنے والے مادّہ کی محتاج ہوتی ہے یعنی وہ مادّہ جو حرکت کا منشاء ہے، اسی لئے قرآن بھی زیرِ بحث آیات میں کہتا ہے کہ خدا تمام متحرک موجوات کوروزی دیتا ہے ۔
اگر حرکت کی اس وسیع تر معنی میں تفسیر کریں تو پھر نباتات بھی اس میں شامل ہوں گے کیونکہ وہ بھی نشو ونما میں ایک دقیق وباریک حرکت رکھتے ہیں اسی بناء پر فلسفہ میں حرکت کی ایک قسم ”نمو“ بھی شمار کی گئی ہے ۔
۳ ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہر شخص کی روزی اس کی ابتداء سے لے کر آخر عمر تک مقرر ومعین ہے اور چاہتے نہ چاہتے اس تک پہنچے گی؟ یا یہ کہ اس کے پیچھے نکلنا چاہیے، بقولِ شاعرشرط عقل است جستن از درھایعنی عقل کے لئے شرط ہے کہ اس سے کے دروازوں سے ڈھونڈا جائے ۔
بعض سُست بے حال لوگ اس آیت کی مذکورہ تعبیر ان روایات کا سہارا لیتے ہوئے جو روزی کی مقدار اور اس کے تعیّن کے بارے میں کچھ بیان کرتی ہیں ، یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ انسان تلاشِ معاش اور روزی مہیّا کرنے کے لئے زیادہ سعی وکوشش کرے یا اس کی تلاش میں نکلے کیونکہ روزی انسان کا مقدر ہے اور وہ ہر حالت میں اس تک پہنچے گی اور کوئی بھی شخص روزی سے محروم نہیں رہے گا ۔
اس طرح کے نادان افراد جن کو دین ومذہب کے بارے میں بہت کم معرفت ہوتی ہے، دشمنوں کو بہانہ پیدا کرنے کا موقع دیتےں ہیں کہ مذہب اقتصادی کساد کا حامل ہے، جو زندگی میں شامل ہوتی تو بے چون وچرا مجھے مل جاتی، استثمار گروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھ یہ ایک اچھا بہانہ لگا کہ جتنا ہوسکے محروم طبقوں کا خون چوشیں اور انھیں زندگی کی ابتدائی ضروریات سے بھی محروم رکھیں ۔
حالانکہ قرآن اور احادیثِ اسلامی سے معمولی سی آشنائی بھی اس حقیقت تک پہنچنے کے لئے کافی ہے کہ اسلام ہر قسم کی مادّی ومعنوی منفعت کے حصول کے لئے کی جانے والی کوششوں کو مثبت شمار کرتا ہے، یہاں تک کہ قرآن کہتا ہے:
’‘( لَیسَ لِلاِنْسَانِ الَّا مَا سَعیٰ ) “انسان کے لئے کچھ نہیں ماسوا اس کے جتنی اس نے کوشش کی ۔
اس فرمان میں انسان کے فائدہ ومنفعت کو اس کی کوشش اور کام میں قرار دیا گیا ہے، ہادیان اسلام دوسروں کے لئے نمونہ عمل مہیا کرنے کے لئے سخت محنت سے کام کرتے تھے، انبیاء ماسلف بھی اس کام سے مستثنیٰ نہ تھے انھوں نے چرواہوں کا کام کیا، کپڑے سیئے ، نیزہ زِرہ بنانے اور ہل چلانے تک کے طاقت آزما کام سرانجام دیئے، پس اگر خدا کی طرف سے رزق بہم پہنچانے کا ضامن ہونے سے مراد گھر بیٹھے رہنا اور روزی پہنچنے کا انتظار کرنا ہوتا تو انبیاء(علیه السلام)، آئمہعليهالسلام جو تمام انسانوں سے زیادہ عالم اور مفاہیمِ دین سے آشنا تھے تلاشِ رزق میں کوشش وجستجو نہ کرتے ۔
بنابریں ہم یہ تو کہتے ہیں کہ ہر خص کی روزی مقدر اور مسلّم ہے لیکن مشروط ہے اس کی تلاش وکوشش سے لہٰذا جہاں کہیں یہ شرط پوری نہیں ہوگی مشروط بھی دستیاب نہیں ہوگا، یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم کہیں کہ ہر شخص کی ایک اجل ہے اور اس کی عمر کی مقدار معیّن ہے، واضح طور پر اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بدن ایک مناسب مدّت تک باقی رہنے کی استعداد رکھتا ہے بشرطیکہ حفظانِ صحت کے اصولوں کا لحاظ رکھا جائے اور ضرررساں اشیاء سے پرہیز کیا جائے نیز جو چیزیں موت کی جلدی کا سبب بنتی ہیں ان سے دور رہے ۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ وہ آیات وروایات جو روزی کے معیّن ہونے سے مربوط ہیں دراصل ایک ”بریک“ اور حد ہیں ، ان حریص اور دنیا پرست لوگوں کے لئے جو زندگی گزارنے کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹاتے پھرتے ہیں اور ہر ظلم وستم وبد دیانتی کا ارتکاب کرتے ہیں اس گمان پر کہ اگر انھوں نے ایسا کیا تو ان کی زندگی اچھی نہیں گزرسکتی، آیاتِ قرآنی اور احادیثِ اسلامی ایسے افراد کو خبردار کرتی ہیں کہ بے کار ہاتھ پاوں نہ ماریں اور روزی کمانے کے لئے غیر شرعی اور غیر معقول ذرائع استعمال نہ کریں ، بلکہ شرعی طریقے سے سعی وکوشش کرتے ہوئے مطمئن رہیں کہ خدا اس راستے سے ان کی تمام حاجات پوری کردے گا، وہ خدا کہ جس نے انھیں ظلمت کدہ رحم میں فراموش نہیں کیا اور وہ خدا کہ جس نے بچپن میں جب انسان اس دنیا کے موادِ غذائیہ کی تغذیہ کی توانائی نہیں رکھتا تھا ااس کی مہربان ماں کے پستانوں میں اس کی روزی مہیّا کی، وہ خدا جس نے شِیر خواری کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی جبکہ انسان ناتواں تھا اس کی روزی اس کے مہربان باپ کے ہاتھ میں رکھی جو صبح وشام اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بھی خوش ہو کہ مَیں اپنی اولاد کو غذا مہیا کرنے کے لئے زحمت ومشقت اٹھاتا رہا ۔
لہٰذا کس طرح ممکن ہے کہ جب انسان بڑا ہوجائے اور ہر قسم کے کام کی توانائی اور قدرت حاصل کرلے خدا اسے بھلادے، کیا عقل وایمان اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ انسان اس گمان پر کہ ممکن ہے اس روزی فراہم نہ ہو، گناہ، ظلم وستم اور دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرے اور حریص بن کر مستضعفین اور کمزوروں کا حق غصب کرے ۔
البتہ اس چیز کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ رزق ایسے ہیں کہ انسان ان کے آگے پیچھے بھاگے یا نہ وہ اس کے پیچھے آتے ہیں مثلاً سورج کی روشنی جو ہماری تلاش وکوشش کے بغیر ہمیں میسّر ہے اور ہمارے گھر روشن کرتی ہے، کیا اس کا انکار ممکن ہے کہ بارش اور ہَوا بغیر ہماری جدوجہد اور کوشش کی ہماری تلاش میں آتی ہے کیا اس بات کا انکار کیا جاسکتا ہے کہ وہ عقل وہوش اور قوّت واستعداد جو روزِ اوّل سے ہمارے وجود میں رکھ دی گئی تھی ہمیں اس کے لئے جستجو نہیں کرنا پڑی ۔
لیکن اس طرح کی نعمتیں جو ہَوا کے جھونکے کے ساتھ مل گئیں یا یہ کہ وہ نعمتیں جو کہ کوشش کے بغیر ہاتھ سے نکل جائیں گی یا بے اثر ہوکر رہ جائیں گی ۔
حضرت علی علیہ السلام سے ایک مشہور حدیث نقل ہوئی ہے آپعليهالسلام نے فرمایا:
”واعلموا یا بنی! انّ الرزق ورزقان تطلبه ورزق یطلبک “
اے فرزند جان لو! رزق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ کہ تو جس کی جستجو میں نکلے اور ایک وہ جو تجھے تلاش کرتے ہوئے تیرے پیچھے آئے ۔(۱)
امام علیہ السلام کا یہ فرمان بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اکثر اوقات انسان کسی نعمت یا ضرورت کی تلاش میں سرگرداں نہیں ہوتا مگر حادثات واتفاقات کے ایک وسیع سلسلہ کے باعث کوئی نعمت اسے نصیب ہوجاتی ہے یہ حوادث اگرچہ ہماری نظر میں اچانک اور اتفاقیہ ہیں لیکن درحقیقت وہ صاحبِ تجلیق کے حساب وکتاب کے عین مطابق ہیں ، بلاشبہ اس قسم کی روزی کا حساب اس روزی کی طرف اشارہ ہو۔
بہرحال نکتہ اساسی یہ ہے کہ تمام تعلیماتِ اسلامی میں ہمیں متوجہ کرتی ہیں کہ بہترین زندگی گزارنے کے لئے چاہے وہ مادّی ہو یا معنوی زیادہ سے زیادہ کوشش وجستجو کرنی چاہیے اس لئے کہ کام سے فرار کا یہ جواز غلط ہے کہ روزی تو مقسوم میں لکھی ہے اور مل کر رہے گی ۔
۴ ۔ زیرِ بحث آیات میں فقط ”رزق وروزی“ کی طرف اشارہ ہُوا ہے حالانکہ بعد کی چند آیات میں جہاں پر توبہ کرنے والے باایمان افراد کا ذکر ہے ”متاع حَسن“ یعنی شائستہ ومناسب منفعت اور فائدہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ان دونوں کا مدِّمقابل ہونا ہمیں یہ بات سمجھاتا ہے کہ تمام حرکت کرنے والوں کے لئے وہ انسان ہوں یہ حیوان، حشرات الارض ہوں یا درندے، نیک ہوں یا بَد سب کے لئے رزق کا حصّہ معیّن ہے، لیکن متاع حَسن اور شائستہ وگرانبہا نعمتیں صرف صاحبان ایمان کے ساتھ مخصوص ہیں جنھوں نے خود کو آبِ توبہ سے ہر قسم کے گناہ اور آلودگی سے پاک کرلیا ہے اور جو خدائی نعمتوں کو اس کے احکامات کی اطاعت کے تابع رہ کر استعمال کرتے ہیں نہ کہ ہَوا وہوس اور سرکشی کی راہ میں ۔
____________________
۱۔ نہج البلاغہ، امامعليهالسلام کی اپنے فرزند امام حسنعليهالسلام کے نام وصیت۔
آیت ۷
۷( وَهُوَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ فِی سِتَّةِ اٴَیَّامٍ وَکَانَ عَرْشُهُ عَلَی الْمَاءِ لِیَبْلُوَکُمْ اٴَیُّکُمْ اٴَحْسَنُ عَمَلًا وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّکُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُولَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ هٰذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُبِینٌ )
ترجمہ
۷ ۔ وہ ایسی ذات ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دِنوں (چھ ادوار) میں خلق کئے اور اس کا عرش (قدرت) پانی پر ہے (اور یہ اس لئے پیدا کیا) تاکہ تمھاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کس کا عمل بہتر ہے اور اگر تم کہو کہ موت کے بعد دوبارہ مبعوث ہوگے (اور قبروں سے اٹھوگے) تو یقیناً کافر کہیں گے کہ یہ کھُلا جادو ہے ۔
مقصدِ خلقت
اس آیت میں تین اساسی نکات پر بحث کی گئی ہے، اوّل جہانِ ہستی کی آفرینش، خصوصاً آغاز آفرینش کہ جو پروردگار کی قدرت کی نشانی اور اس کی عظمت کی دلیل ہے، ”وہ ایسی ذات ہے جس نے آسمان اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا“( وَهُوَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ فِی سِتَّةِ اٴَیَّامٍ ) ۔
اس وضاحت کی ضرورت نہیں کہ یہاں دن سے مراد چوبیس گھنٹے والا دن ہے اس لئے کہ جس زمانے کی بات ہورہی ہے اس وقت زمین وآسمان وجود میں آئے تھے نہ کرہ ارض تھا اور نہ ہی اس کی اپنے گرد چوبیس گھنٹوں کی گردش، بلکہ جیسا کہ پہلے کہاجاچکا ہے اس سے مراد ایک ”دورانیہ“ ہے اب خواہ یہ دورانیہ چھوٹا ہو یا بہت طویل اور کروڑوں سالوں پر مشتمل ہو، سورہ اعراف کی آیت ۵۴ کے ذیل میں اس بات کی جامع اور مفصل تشریح بیان کی جاچکی ہے لہٰذا تکرار کی ضرورت نہیں ہے ۔(۱)
نیز وہاں ہم نے یاددہانی کروائی تھی کہ خدا قدرت وطاقت رکھتا تھا کہ تمام عالم کو ایک ہی لحظہ میں پیدا کرے لیکن متواتر اور پے درپے چھ ادوار میں اس لئے پیدا کیا ہے کہ یہ تدریجی خلقت جو ہر وقت رنگِ نو اور چہرہ تازہ دکھاتی ہے ، قدرت وعظمتِ خداوندی کو بیشتر اور بہتر انداز میں متعارف کرواتی ہے ۔
خدا چاہتا تھا کہ اپنی قدرت کو ہزراوں رُخ میں نمایاں کرے ایک ہی رُخ میں نہیں اور اپنی قدرت وحکمت کی پہچان آسان تر اور زیادہ واضح ہو اور اس کی معرفت کے دلائل ماہ و سال صدیوں اور زمانوں کی تعداد کے برابر ہمارے پاس موجود ہیں ۔
پھر فرمایا کہ ”اس (خدا) کا عرش پانی پر تھا“( وَکَانَ عَرْشُهُ عَلَی الْمَاءِ ) ۔ اس جملے کی تفسیر سمجھنے کے لئے ان دو الفاظ ”عرش“ اور ”ماء‘’‘ کے مفہوم سے آشنا ہونا چاہیے ۔
”عرش“ دراصل ”چھت“ یا ”چھت نما“ چیز کے معنی میں آیا ہے سلاطینِ گزشتہ کے بلند تختوں کو بھی عرش کہا جاتا ہے، اسی طرح ان بلند دیواروں اور مقامات کو بھی عرش کہتے ہیں جن پر بیل دار پودوں کو چڑھایا جاتا ہے، نیز بعد میں یہ کلمہ ”قدرت“ کے مفہوم میں بھی استعمال ہونے لگا جیسا کہ لفظ تخت فارسی زبان میں اسی استعمال ہواہے ۔
عربی میں کہتے میں :”فلان استویٰ علیٰ عرشه، اٴو، تُلّ عرشه “یعنی فلان آدمی تخت پر بیٹھا یا اس کا تخت گرگیا ۔
عربی زبان کا یہ کنایہ کہ اسے اقتدار مل گیا یا اس کا اقتدار ختم ہوگیا فارسی زبان میں استعمال ہوتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلان شخص کو لوگوں نے تخت پر بٹھادیا ہے یا فلاں کو تخت سے اتاردیا ہے ۔(۲)
اس نکتہ کی جانب توجہ رکھنا چاہیے کہ بعض اوقات عرش مجموعہ عالمِ ہستی کے معنی میں بھی آیا ہے کیونکہ قدرت کا تخت اس پورے جہاں پر محیط ہے ۔
باقی رہا لفظ ”ماء“ اس کا عام معنی تو پانی ہے لیکن بعض اوقات مائع اور بہنے والی اشیاء مثلاً بہنے والی دھاتوں کو بھی ”ماء“ کہا جاتا ہے ۔
ان دو الفاظ کے تفسیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء خلقت میں جہانِ ہستی پگھلے ہوئے مادّہ یا تہ بہ تہ بہنے والی گیس کی شکل میں تھا جس کے بعد اس مانندِ آب ٹکڑے میں سخت مدّ وجزر اورشکست وریخت پیدا ہوئی اور اس کے بعض حصّے سطح سے باہر آپڑے، اتصال، پیوستگی اور جدائی کا عمل شروع ہوا اور یکے بعد دیگرے سیّارے، ستارے اور منظومے ( SILAR SYSTEMS ) تشکیل پانے لگے، اس لئے جہانِ ہستی اور قدرت کا تخت سب سے پہلے پانی کی مانند (مثل آبگینہ) اس عظیم مادّہ پر قرار پایا ۔
سورہ انبیاء کی آیت ۳۰ میں بھی اسی طرف اشارہ ہوا ہے:
( اٴَوَلَمْ یَرَی الَّذِینَ کَفَرُوا اٴَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ )
”کیا وہ جو خدا کا انکار کرتے ہیں علم ودانش کی آنکھ سے اس حقیقت کو نہیں دیکھتے کہ آسمان وزمین ابتدا میں ایک دوسرے سے پیوست تھے پھر ہم نے انھیں جدا کیا اور ہر زندہ موجود کو ہم نے پانی سے خلق کیا“
نہج البلاغہ کے خطبہ اوّل میں بھی اسی معنی کی طرف واضح اشارے ملتے ہیں ۔
دوسرا مطلب جس کی طرف مندرجہ بالا آیت اشارہ کرتی ہے، وہ جہانِ ہستی اور عالمِ وجود کی خلقت کا ہدف ومقصد ہے، وہی ہدف کہ جس کا اہم ترین حصّہ اس جہان کا گل سرسبد یعنی انسان ہے، وہ انسان کہ جسے تعلیم وتربیت کی راہ اپنانا اور تکامل وارتقاء کی طرف بڑھنا چاہیے تاکہ وہ ہر لمحہ خدا کے قریب ہوتا جائے ۔
خداوندعالم فرماتا ہے، باعظمت خلقت اس لئے معرضِ وجود میں آئی تاکہ تمھاری آزمائش کرے اور دیکھے کہ تم میں سے کون اعمالِ حسنہ انجام دیتا ہے( لِیَبْلُوَکُمْ اٴَیُّکُمْ اٴَحْسَنُ عَمَلًا ) ۔
( ”لِیَبْلُوَکُمْ“ ) مادہ ”بلاء وابتلاء“ سے آزمائش کے معنی میں ہے، جیسا کہ قبل ازیں اشارہ کیا گیا ہے کہ خدا کی طرف سے آزمائش کشفِ ا ۔حوال اور لوگوں کی داخلی، روحانی اور فکری وضعیت وکیفیت معلوم کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ پرورش اور تربیت کرنے کے لئے ہے (اس موضوع کی تفصیل تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہ بقرہ کی آیت ۱۵۵ کے ذیل میں بیان ہوچکی ہے)
توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں انسان کی قدر وقیمت کو اس کے ”حسنِ عمل“ سے مربوط کیا گیا ہے نہ کہ اس کے کثرتِ عمل سے، یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ اسلام ہر جگہ کیفیتِ عمل پر نظر رکھتا ہے کثرت وکمیّت اور مقدار پر نہیں ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اسی سلسلہ میں ایک حدث نقل ہوئی ہے، آپعليهالسلام نے فرمایا:
لیس یعنی اکثر عملاً ولٰکن اٴصوبکم عملا، وانّما الاصابة خشیة الله، والنیة الصادقة، ثمّ قال الابقاء علی العمل حتّی یخلص اشد من العمل، والعمل الخالص، الذی لاترید اٴن یحمدک علیه اٴحد الّا الله عزّوجل .
خدا کثرتِ عمل نہیں چاہتا بلکہ عمل کی درستی چاہتا ہے اور درستی عمل خدا ترسی اور نیک نیّتی سے مربوط ہے ۔
اس کے بعد فرمایا:
عمل کو ریاکاری اور بد نیّتی کی آلودگیوں سے پاک رکھنا خود عمل سے کہیں زیادہ مشکل تر ہے اور عملِ خالص خالص یہ ہے کہ تُو نہ چاہے کہ خدا کے سوا کوئی اور تیری (اس عمل پر) ستائش کرے ۔
تیسرا موضوع جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے ”معاد“ ہے جو آفرینش جہاں کے مسئلہ اور ہدف خلقت سے نہ ٹوٹنے والا رشتہ رکھتا ہے کیونکہ خلقتِ عالم کا مقصد انسانوں کا تکامل وارتقاء ہے اور انسانوں کا ارتقاء انھیں ایک وسیع تر اور کامل تر جہاں میں زندگی گزارنے کے لئے تیار کرتا ہے، اسی لئے فرمایا: اگر ان سے کہا جائے کہ تم مرنے کے بعد اٹھائے جاوگے تو کافر از روئے تعجب کہتے ہیں کہ اسے باور نہیں کیا جاسکتا اور اس میں کوئی حقیقت وواقعیت نہیں ہے بلکہ یہ ایک واضح جادو ہے( وَلَئِنْ قُلْتَ إِنَّکُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَیَقُولَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ هٰذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُبِینٌ ) ۔
”کلمہ ”ھذا“ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی معاد وقیامت کے بارے میں گفتگو کی طرف اشارہ ہے یعنی کافروں کے نزدیک پیغمبر کا معاد کے بارے میں یہ دعویٰ جادو ہے اس بناء پر لفظ ”سحر“ یہاں حقیقت سے عاری بے بنیاد گفتگو اور سادہ وعام تعبیر کے مطابق فریب وشعبدہ بازی کے مترادف ہے کیونکہ جادوگر عموماً حقیقت وواقعیت سے عاری چیزیں دکھاتے ہیں لہٰذا لفظ ”سحر“ حقیقت سے خالی چیز کے معنی میں استعمال ہوسکتا ہے ۔
رہا یہ مسئلہ کہ بعض لوگوں کے نردیک ”ھذا“ قرآن مجید کی طرف اشارہ ہے اس لئے کہ قرآن اپنے سننے والوں میں ایک سحر انگیز نفوذ وجذب رکھتا ہے صحیح نظر نہیں آتا، کیونکہ آیت میں بحث معاد وقیامت کے بارے میں ہے نہ کہ قرآن کے متعلق اگرچہ قرآن کی غیر معمولی قوتِ جذب سے انکار نہیں ۔
____________________
۱۔ تفسیر نمونہ، ج۶.
۲۔ البتہ بعض اوقات تخت کرسی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اس کا ایک دوسرا مفہوم ہے جسے ہم نے تفسیر نمونہ جلد۲، سورہ بقرہ میں آیت الکرسی کے ذیل میں ذکر کیا ہے ۔
آیات ۸،۹،۱۰،۱۱
۸( وَلَئِنْ اٴَخَّرْنَا عَنْهُمَ الْعَذَابَ إِلیٰ اٴُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَیَقُولُنَّ مَا یَحْبِسُهُ اٴَلَایَوْمَ یَاٴْتِیهِمْ لَیْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَا کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُون )
۹( وَلَئِنْ اٴَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَیَئُوسٌ کَفُورٌ )
۱۰( وَلَئِنْ اٴَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَیَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّیِّئَاتُ عَنِّی إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ
) ۱۱( إِلاَّ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلٰئِکَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَاٴَجْرٌ کَبِیرٌ )
ترجمہ
۸ ۔ اور اگر عذاب کو ایک محدود وقت کے لئے ان سے ٹال دیں (تو بطور استہزا) کہتے ہیں کہ اس میں کون سی رکاوٹ ہے؟ آگاہ رہو جس دن اس کی طرف سے عذاب آئے گا تو کوئی چیز اس کے آگے رکاوٹ نہیں بنے گی اور جس کا مذاق اڑاتے تھے وہی انھیں دامنگیر ہوجائے گا ۔
۹ ۔ اور اگر انسان کو ہم نعمت شکر کا مزہ چکھانے کے بعد وہ (نعمت) اس سے واپس لے لیں تو بہت ہی ناشکر اور ناامید ہوجاتا ہے ۔
۱۰ ۔ اور اگر شّدتِ ناراحتی کے بعد اس تک نعمتیں پہنچائیں تو کہتا ہے کہ مشکلات مجھ سے برطرف ہوگئی ہیں جو دوبارہ نہیں آئیں گی اور خوشی، غفلت اور فخر میں مستغرق ہوجاتا ہے ۔
۱۱ ۔ مگر وہ لوگ جنھوں نے (سچّے ایمان کے سائے میں ) صبرو استقامت دکھائی اور عملِ صالح انجام دیئے ہیں ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے ۔
مومن عالی ظرف اور بے ایمان کم ظرف ہوتے ہیں
ان آیات میں اس بحث کی مناسبت سے کہ جو بے ایمان افراد کے بارے میں گزرچکی ہے، ایسے افراد کے نفسیاتی حالات اور اخلاقی کمزوریوں کے بعض نکات کی تشریح ہوئی ہے، وہی کمزور گوشے جو انسان کو تاریکیوں اور فساد کی راہوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں ۔
ایسے افراد کی پہلی صفت جو ذکر کی گئی ہے وہ حقائق کا مذاق اڑانا اور حیات ساز مسائل کے بارے میں تمسخر کرنا ہے وہ جہالت ونادانی اور غرور وتکبر کی وجہ سے جس وقت خدائی نمائندوں کو، بدکاروں کی سزا کے بارے میں ڈراتے دھمکاتے ہیں ، جبکہ چند روز گزرنے کے باوجود خدا اپنے لطف وکرم سے ان کے عذاب اور سزا کو تاخیر میں ڈال دیتا ہے تو بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے کہتے ہیں ، کس چیز نے اس خدائی عذاب اور سزا کو تاخیر میں ڈال دیا ہے؟ کیا ہُوا اس سزا کا اور کہاں گیا وہ عذاب؟( وَلَئِنْ اٴَخَّرْنَا عَنْهُمَ الْعَذَابَ إِلیٰ اٴُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَیَقُولُنَّ مَا یَحْبِسُهُ ) ۔
”امت“ مادہ ”ام“ (بروزن قم) سے ماں کے معنی میں آیا ہے جس کا معنی در اصل مختلف اشیاء کا ایک دوسرے میں ضم ہوجانا ہے، اسی بناء پر ہر اس گروہ کو جو اپنے ہدف یا ایک ہی زمان ومکان میں جمع ہو، امت کہا جاتا ہے ۔
البتہ یہ لفظ وقت اور زمانے کے معنی میں بھی آیا ہے، کیونکہ زمانے کے اجزاء باہم پیوست ہوتے ہیں یا اس بناء پر کہ ہر جماعت یا گروہ کسی نہ کسی زمانے میں زندگی گزارتا ہے، سورہ یوسف کی آیت ۴۵ میں ہے:( وَادَّکَرَ بَعْدَ اٴُمَّةٍ )
آزاد شدہ قیدی ایک مدت کے بعد یوسف کو یاد کرنے لگا ۔
زیرِ بحث آیت میں لفظ ”امت“ انھیں معنی میں آیا ہے ، لہٰذا لفظ ”معدودہ“ سے توصیف کیا گیا ہے یعنی اگر تھوڑی مدت کے لئے ان سے عذاب مؤخر کردیا جائے تو کہتے ہیں کہ کونسی چیز اس سے مانع ہوئی ہے ۔
پس یہ شیوہ اور طریقہ تمام مغرور اور جاہلوں کا ہے جو چیز ان کے میلانات سے مطابقت نہ رکھے وہ ان کی نگاہ میں مذاق ہے، اسی لئے وہ مردانِ حق کی ہلادینے اور بیدار کرنے والی دھمکیوں کوشوخی اور مذاق سمجھتے ہیں لیکن قرآن مجید ان کو صراحت کے ساتھ جواب دیتا ہے: ”آگاہ رہو جس دن خدائی عذاب آن پہنچا کوئی اسے روک نہیں سکے گی اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ (عذاب) ان پر نازل ہوگا اور انھیں تباہ کردے( اٴَلَایَوْمَ یَاٴْتِیهِمْ لَیْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَا کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُون ) ۔
یہ درست ہے کہ اس وقت ان کا نالہ وفریاد آسمان تک بلند ہوگا اور اپنی شرم انگیز گفتگو سے پشیمان ہوں گے لیکن نہ وہ نالہ وفریاد کہیں پہنچے کا اور نہ وہ پشیمانی انھیں کوئی فائدہ پہنچائے دے گی ۔
ان کمزوری کا ایک اور نکتہ، مشکلات وناراحتیوں اور برکات الٰہی کے منقطہ ہونے پر ان کی کم ظرفی ہے جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے : اور جس وقت کسی نعت اور رحمت کا مزہ ہم انسان کو چکھائیں گے اور پھر وہ اس سے واپس لے لیں تو وہ مایوس اور ناامید ہوجاتا ہے اور کفرانِ نعمت اور ناشکری پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے( وَلَئِنْ اٴَذَقْنَا الْإِنسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَیَئُوسٌ کَفُورٌ ) ۔
اگرچہ اس آیت میں گفتگو انسان کے بارے میں بطور کلی آئی ہے لیکن جیسا کہ ہم نے پہلی بھی اشارہ کیا ہے کہ لفظِ ”انسان“ سے اس قسم کی آیات میں غیر ترتیب یافتہ، خود غرض اور ناکارہ انسانوں کی طرف اشارہ ہے، اس بناء پر یہ بحث گزشتہ آیات میں بے ایمان افراد کے متعلق بحث پر منطبق ہوتی ہے ۔
بے ایان افراد کی کمزوری کا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جس وقت نازونعمت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں تو ان پر تکبّر اور غرور اور نفس پرستی اس قدر چھائی ہوتی ہے کہ سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔
جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: اور مشکلات وتکالیف اب مجھ سے دور ہوگئی ہیں جو کبھی دوبارہ نہ آئیں گی ۔ اور یوں وہ پروردگار کی نعمتوں کے شکرانے سے غافل ہوجاتا ہے( وَلَئِنْ اٴَذَقْنَاهُ نَعْمَاءَ بَعْدَ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُ لَیَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّیِّئَاتُ عَنِّی إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ ) ۔
اس آیت کے جملہ ”ذَھَبَ السَّیِّئَاتُ عَنِّی“ میں ایک دوسرا احتمال بھی پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ جب اس طرح کے لوگ شدائد ومشکلات کو نعمتوں سے بدل دیتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ گزشتہ مصائب ہمارے گناہوں کا گفارہ تھے ۔ اب ہمارے گناہ ان کی وجہ سے دھل گئے ہیں اور ہم پاک وپاکیزہ ہوگئے ہیں اور یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ مقربان درگاہِ خدا ہوچکے ہیں توبہ اور اس خدا کی بارگاہ میں بازگشت کے تصوّر سے عاری ہوجاتے ہیں ۔
پس فرمایا: صرف صاحبان ایمان کہ جنھوں نے زندگی کے شدائد اورسخت حوادث کے مقابلے میں صبر واستقامت کا اختیار کیا اور جو ہر حال میں اعمالِ صالح بجالانے میں کوتاہی نہیں کرتے، تنگ نظری، ناشکرگزاری اور غرور وتکبر سے کنارہ کش ہیں جو نہ تو وفورِ نعمت کے وقت مغرور ہوتے اور خدا کو فراموش کرتے ہیں اور نہ ہی شدِّت ِ مصائب کے وقت مایوسی اور کفرانِ نعمت کرتے ہیں بلکہ ان کی عظیم روح اور بلند فکر نعمت وبلا دونوں کو برداشت کرتی ہے، وہ یاد خدا اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہوتے، یہی لوگ خدا کے مقرب بندے ہیں اور انہی کے لئے بخشش اور بہت بڑا اجر ہے( إِلاَّ الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ اٴُوْلٰئِکَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَاٴَجْرٌ کَبِیرٌ ) ۔
چند توجّہ طلب نکات
۱ ۔ امتِ معدودہ اور یارانِ مہدی علیہ السلام:
وہ متعدد روایات جو طریق اہلِ بیتعليهالسلام سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں ”امت معدودہ“ سے مراد بہت تھوڑے افراد اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے یار وانصار کی طرف اشارہ سمجھا گیا ہے، لہٰذا اس ترتیب سے پہلی آیت کا مطلب اس طرح ہوگا: اگر ہم ستمگروں اور بدکاروں کی سزا وعذاب حضرت مہدیعليهالسلام اور ان کے یاروانصار کے قیام تک ملتوی کردیں تو وہ (منکرین) کہتے ہیں کہ کس چیز نے عذابِ خدا کو روک رکھا ہے ۔
لیکن جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں آیت کے ظاہری معنی میں ”امتِ معدودہ“ محدود ومعیّن زمانہ کے معنی میں آتا ہے اور امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے بھی اس آیت کی تفسیر میں جو روایت نقل ہوئی ہے اس میں ”امت معدودہ“ کی یہی تفسیر بیان ہوئی ہے ۔
بنابریں ممکن ہے منقولہ روایت آیت کے دوسرے معنی یا بطن آیت کی طرف اشارہ ہو، البتہ اس صورت میں ظالموں اور ستمگروں کے بارے میں ایک قانون کلّی کا بیان ہوگا نہ کہ زمانہ پیغمبر اکرم کے مشرکین اور مجرموں سے مربوط مسئلہ ہوگا، نیز ہم جانتے ہیں کہ قرآن کی آیات مختلف معانی رکھتی ہیں ، ممکن ہے اس کا پہلا اور ظاہری مطلب کسی خاص مسئلہ یا گروہ سے متعلق ہو، لیکن اس کا دوسرا معنی ایک عام معنی ہو جو کسی زمانہ یا گروہ میں منحصر نہ ہو۔
۲ ۔ کوتاہ فکری کے چار مظاہر
مندرجہ بالا آیت نے مشرکین اور گنہگاروں کے روحانی وباطنی حالات کی تین صورتوں میں تصویر کشی کی ہے اور ان میں ان کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں ۔
اوّلین یہ کہ وہ نعمتوں کے منقطع ہونے کی صورت میں ”یَئُوس“ یعنی بہت ہی ناامید ہوجاتے ہیں اور دوسرے یہ کہ ”کفور“ یعنی بہت ہی ناشکرے ہیں ۔
اس کے بر عکس جب وہ نعمت میں مستغرق ہوتے ہیں یہاں تک کہ اگر چھوٹی سی نعمت بھی ان تک پہنچتی ہے تو وہ خوشی میں اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں اور لذّت ونشاط میں غرق ہوکر ہر چیز سے غافل ہوجاتے ہیں ، بادہ لذّت وغرور کی یہ سرمستی انھیں فتنہ وفساد اور حدود الله سے تجاوز کی طرف کھینچ لے جاتی ہے ۔
مزید برآں ایسے لوگ ”فخور“ یعنی نعمت کے حصول پر بہت متکبر اور مباہات کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
بہر کیف یہ چار صفات کوتاہ فکری اور کم ظرفی کی بناپر معرض وجود میں آتی ہیں اور یہ بے ایمان اور گناہگار افراد کے کسی ایک گروہ سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ سب کے لئے عمومی اوصاف کے ایک سلسلہ میں سے ہیں ۔
البتہ صاحبِ ایمان لوگ جو بلند فکر، اعلیٰ ظرف، کشادہ دل اور عظیم روح کے حامل ہوتے ہیں انھیں نہ زمانہ کی دگرگونیاں لرزاتی ہیں نہ نعمتوں کا چھن جانا انھیں شکری ومایوسی کی طرف کھینچ لے جاتا ہے اور نہ ہی نعمتوں کا ان کی طرف رُخ کرنا انھیں غرور وغفلت میں مبتلا کرتا ہے ۔
اسی لئے آیت میں استثنائی صورتِ حال کے پیش نظر لفظ ایمان کے بجائے صبر واستقامت استعمال کیا گیا ہے (غور طلب نکتہ ہے) ۔
۳ ۔ کم ظرفی کی انتہا
ایک اورنکتہ جو توجہ طلب ہے یہ ہے کہ دونوں مواقع (عطا کے بعد نعمت کے سلب ہونے اور سلب کے بعد عطا ہونے) کے لئے ”اذقنا“ جو مادہ ”اذاقة“ سے چکھنے کے معنی میں آیا ہے، کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ اس قدر کم ظرف ہیں کہ اگر تھوڑی سی نعمت انھیں دی جائے اور پھر اسے ان سے لے لیا جائے تو ان کی داد وفریاد اور ناشکری کی صدا بلند ہوتی ہے اور اگر تکلیف وناراحتی کے بعد ذرا سی نعمت انھیں مل جائے تو فرط وانبساط میں سرکے بل دوڑتے ہیں ۔
۴ ۔ تمام نعمات عطیہ وبخشش ہیں
یہ امر توجہ طلب ہے کہ پہلی آیت میں نعمت کو لفظ ”رحمت“ سے بیان کیا گیا ہے اور دوسری آیت میں لفظ ”نعمت“ استعمال ہوا ہے، ممکن ہے اس سے یہ اشارہ ہو کہ خدا کی تمام نعمتیں اس کے فضل ورحمت کے ذریعے انسان تک پہنچتی ہیں نہ کہ استحقاق کی بنیاد پر اور اگر نعمتیں استحقاق کی بنیاد پر میسّر ہوتیں تو بہت ہی تھوڑے لوگوں کو میسّر ہوتیں نہ کہ کسی شخص کو میسر آتیں ۔
۵ ۔ اعمالِ نیک کے اثرات
اعمالِ نیک کے دو اثرات ذکر ہوئے ہیں ، زیرِ نظر آخری آیت میں باایمان، صاحب استقامت اور صالح افراد سے ”مغفرت“ اور بخشش گناہ کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور ”اجرِ کبیر“ کا بھی، یہ اس جانب اشارہ ہے کہ نیک اعمال کے دو اثر ہیں ایک گناہوں کا دھل جانا اور دوسرا بڑی جزا کا حاصل ہونا ۔
آیات ۱۲،۱۳،۱۴
۱۲( فَلَعَلَّکَ تَارِکٌ بَعْضَ مَا یُوحیٰ إِلَیْکَ وَضَائِقٌ بِهِ صَدْرُکَ اٴَنْ یَقُولُوا لَوْلَااٴُنزِلَ عَلَیْهِ کَنزٌ اٴَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَکٌ إِنَّمَا اٴَنْتَ نَذِیرٌ وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ )
۱۳( اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَاٴْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَیَاتٍ وَادْعُوا مَنْ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ )
۱۴( فَإِلَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا اٴُنزِلَ بِعِلْمِ اللهِ وَاٴَنْ لَاإِلَهَ إِلاَّ هُوَ فَهَلْ اٴَنْتُمْ مُسْلِمُونَ )
ترجمہ
۱۲ ۔ شاید بعض آیات کی تبلیغ کو جن کی تجھ پر وحی ہوئی ہے تو تاخیر میں ڈال دیتا ہے اور تیرا دل اس بناپر تنگ (اور ناراحت ) ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ کیوں اس پر خزانہ نازل نہیں ہوتا یا کیوں فرشتہ اس کے ہمراہ نہیں آیا (تبلیغ کرو اور پریشان نہ ہو کیونکہ) تم صرف ڈرانے والے (اور خدائی خطرات سے آگاہ کرنے والے) ہو اور خدا ہر چیز پر نگہبان ودیکھنے والا ہے (اور وہ ان کا حساب کتاب رکھتا ہے) ۔
۱۳ ۔ بلکہ وہ کہتے ہیں یہ (قرآن کی) جھوتی نسبت (خدا کی طرف دیتا ہے، ان سے کہدو اگر سچ کہتے ہو توتم بھی ان جیسی جھوٹی مُوٹی ہی دس سورتیں لے او اور (بجز خدا) اپنی حسبِ استطاعت (اس کام کے لئے) تمام لوگوں کودعوت دو۔
۱۴ ۔ اور اگر وہ تمھاری دعوت قول نہ کریں تو جان لو کہ (یہ کلام) علمِ الٰہی کے ساتھ نازل ہوا ہے اور اس کے سوا کوئی معبور نہیں ، کیا ان حالات میں سرِتسلیم خم کروگے؟۔
شان نزول
ان آیات کے لئے دوسانِ نزول مذکور ہیں جو ممکن ہے دونوں صحیح ہوں ۔
پہلا یہ کہ کفار مکّہ کا ایک گروہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے پاس آیا، وہ کہنے لگے: اگر سچ کہتے ہو کہ تم خدا کے پیغمبر ہو تو مکہ کے پہاڑ ہمارے لئے سونے کے کردو یا فرشتے لے او جو تمھاری نبوت کی تصدیق کریں ، چنانچہ انکے جواب میں مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں ۔
دوسریشان نزول حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے، وہ یہ کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: مَیں نے خدا سے درخواست کی ہے کہ وہ میرے اور تمھارے درمیان برادری اور اخوّت قائم کرے اور یہ درخواست قبول ہوگئی ہے، نیز مَیں نے یہ درخواست کی ہے کہ تمھیں میرا وصی قرار دے اور یہ درخواست بھی مستجاب ہوگئی ہے ۔
جس وقت یہ گفتگو بعض مخالفین کے کانوں تک پہنچی تو عداوت ودشمنی کی بناء پر کہنے لگے خدا کی قسم ایک خشک مشک میں ایک من خرما بہتر ہے اس سے جو محمد نے اپنے خدا سے درخواست کی ہے، (اگر وہ سچ کہتا ہے تو) اسے کیوں خدا سے درخواست نہیں کی کہ دشمنوں کے خلاف مددکرنے کے لئے کوئی فرشتہ نازل فرمائے یا کوئی خزانہ جو فقر وفاقہ سے نجات دلائے ۔
لہٰذا مندرجہ بالا آیات نازل ہوئی تاکہ دشمنوں کو جواب دیا جاسکے ۔
قرآن ایک معجزہ جادواں
ان آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم بعض اوقات دشمنوں کی شدید مخالفت اور ہٹ دھرمی کی بناء پر بعض آیات کی تبلیغ کسی موقع کے لئے ملتوی رکھتے تھے ۔
لہٰذا زیرِ بحث پہلی آیت میں خداوندِعالم اس بیان کے ساتھ اپنے پیغمبر کو اس کام سے منع فرماتا ہے: گویا بعض آیات کی تبلیغ کہ جن کی وحی ہوتی ہے، ترک کردیتے ہو اور اس لحاظ سے تمھارا دل تنگ اور مضطرب ہوجاتا ہے (فَلَعَلَّکَ تَارِکٌ بَعْضَ مَا یُوحیٰ إِلَیْکَ وَضَائِقٌ بِہِ صَدْرُکَ) ۔
اور اس بات سے ناراحت ہوجاتے ہو کہ شاید وہ تجھ سے من پسند معجزات کی خواہش کریں اور ”کہتے ہیں کیوں اس پر خزانہ نازل نہیں ہوا یا کیوں اس کے ہمراہ فرشتہ نہیں آیا( اٴَنْ یَقُولُوا لَوْلَااٴُنزِلَ عَلَیْهِ کَنزٌ اٴَوْ جَاءَ مَعَهُ مَلَکٌ )
البتہ جیسا کہ قرآن کی دوسری آیات سے مثلاً سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۹۰ تا ۹۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تقاضا اس بناء پر نہ تھا کہ وہ قبولِ حق کے لئے اور دعوت کی صداقت کے لئے معجزہ دیکھیں بلکہ وہ یہ تقاضا بہانہ جوئی، ہٹ دھرمی اور عناد کے باعث کرتے تھے لہٰذا قرآن بلافاصلہ کہتا ہے: تو صرف خوف دلانے اور ڈرانے والا ہے( إِنَّمَا اٴَنْتَ نَذِیرٌ ) ۔یعنی چاہے قبول کریں یا نہ کریں ، تمسخر اڑائیں اور ہٹ دھرمی سے کام لیں ۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: خدا ہر چیز ا حافظ، نگہبان اور ناظر ہے( وَاللهُ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ وَکِیلٌ ) یعنی ان کے ایمان وکفر کی پرواہ نہ کرو اور یہ معاملہ تمھارے ساتھ مربوط نہیں ہے ، تمھاری ذمہ داری ابلاغ اور پیغام پہنچانا ہے، خدا خود جانتا ہے کہ ان کے کس طرح سلوک کرے اور وہی ان کے ہر کام کا حساب کتاب رکھنے والا ہے ۔
یہ بہانہ جوئی اور اعتراض تراشی چونکہ اس بناء پر تھی کہ وہ اصولی طور پر وحی الٰہی کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ یہ آیات خدا کی طرف سے نہیں ہیں ، یہ جملے محمد نے خود جھوٹ موٹ خداپر باندھے ہیں ، اسی لئے بعد والی آیت اس بات کا جواب جتنی صراحت سے ہوسکتا تھا دیتے ہوئے کہتی ہے: وہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ (آیات) خدا پر افتراء باندھی ہیں( اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاهُ ) ۔”ان سے کہہ دو اگر سچ کہتے ہو کہ یہ انسانی دماغ کی تخلیق ہیں تو تم بھی اس قسم کی دس جھوٹی سورتیں بناکر لاو اور خدا کو چھوڑکر جس سے ہوسکتا ہے اس میں مدد کی دعوت دو( قُلْ فَاٴْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِثْلِهِ مُفْتَرَیَاتٍ وَادْعُوا مَنْ اسْتَطَعْتُمْ مِنْ دُونِ اللهِ إِنْ کُنتُمْ صَادِقِینَ ) ۔ لیکن اگر انھوں نے تم مسلمانوں کی دعوت قبول نہ کی اور کم از کم ایسی دس سورتیں بھی نہ لانے تو پھر جان لو کہ یہ کمزوری اور ناتوانی اس بات کی نشانی ہے کہ ان آیات کا سرچشمہ علمِ الٰہی ہے ورنہ اگر یہ فکر بشر ہی ہیں( فَإِلَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ فَاعْلَمُوا اٴَنَّمَا اٴُنزِلَ بِعِلْمِ اللهِ ) ۔
نیز جان لو کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور ان آیاتِ پُر اعجاز کا نزول اس حقیقت کی دلیل ہے( وَاٴَنْ لَاإِلَهَ إِلاَّ هُوَ ) ۔
اے مخالفین! کیا اس حالت میں تم فرمانِ الٰہی کے سامنے سرتسلیم خم کروگے( فَهَلْ اٴَنْتُمْ مُسْلِمُون َ) ۔ باوجودیکہ ہم نے تمھیں مقابلے کی دعوت دی ہے اور اس دعوت پر تمھارا عجز ثابت ہوگیا ہے کیا اس کے باوجود کوئی شک کی کی گنجائش باقی ہے کہ یہ آیات خدا کی طرف سے ہیں ، اس واضح معجزہ کے ہوتے ہوئے کیا پھر بھی تم ان کی راہ پر چلوگے یا سرِ تسلیم خم کرلوگے ۔
چند اہم نکات
۱۔ آیت ”لعلّ“ کا مفہوم:
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ”لعلّ“ عام طور پر کسی چیز کے بارے میں توقع کا اظہار کے لئے آتا ہے، البتہ یہاں یہ لفظ نہیں کے معنی میں آیا ہے، یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ایک باپ اپنے بیٹے کو کسی چیز سے روکنا چاہے تو کہے: شاید تیری دوستی اس شخص سے جو اپنے کاموں میں زیادہ پختہ کار نہیں ہے، یعنی اس سے دوستی نہ رکھ کیونکہ اس کی دوستی تجھے سُست اور بیکار بنادے گی، لہٰذا ایسے مواقع پر ”لعلّ“ اگرچہ ”شاید“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تاہم اس کا التزامی مفہوم کسی کام کے کرنے سے روکنا ہے ۔
زیرِ بحث آیات میں بھی خداتعالیٰ اپنے پیغمبر کو تاکید کرتا ہے کہ آیات الٰہی کی تبلیغ مخالفین کی تکذیب کے ڈرسے یا دل خواہ معجزات کے تقاضے کی وجہ سے تاخیر میں نہ ڈالیں ۔
۲ ۔ آیات الٰہی کی تبلیغ میں تاخیر؟
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیونکر ممکن ہے کہ پیغمبر آیات الٰہی کی تبلیغ میں تاخیر کریں یا ان کی تبلیغ سے بالکل ہی رُک جائیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ نبی سے کوئی گناہ یا خطا سرزد نہیں ہوسکتی ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ جس وقت پیغمبر کسی حکم کی فوری تبلیغ پر مامور ہوں تو یقیناً بغیر کسی شک وشبہ کے وہ اس کی تبلیغ کریں گے لیکن کبھی ایسا ہوسکتا ہے کہ تبلیغ کا وقت وسیع ہوتا ہے اور پیغمبر بعض وجوہات کے پیش نظر جو خود ا ن کی اپنی طرف سے نہیں ہوتیں بلکہ مکتب کے دفاع کی اور حمایت ہی کے حوالے سے ہوتی ہیں ان کی تبلیغ میں تاخیر کردیتے ہیں ، مسلّم ہے کہ یہ گناہ نہیں جیسا کہ اس کی نظیر سورہ مائدہ کی آیت ۶۷ میں ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کو تاکید کرتا ہے کہ آیاتِ الٰہی کی تبلیغ کریں اور لوگوں کو دھمکیوں سے نہ ڈریں اور خدا ان کی حفاظت کرے گا، قرآن کے الفاظ ہیں :
( یَااٴَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ )
درحقیقت یہاں تبلیغ میں تاخیر ممنوع نہ تھی، تاہم قاطعیت کے اظہار کے طور پر اس میں جلدی کرنا بہتر تھا، اس طریقے سے خدا اپنے پیغمبر کی نفسیاتی حوالے سے تقویت چاہتا ہے اور مخالفین کے سامنے ان کی قاطعیت اور اٹل فیصلے کو استقامت دینا چاہتا ہے تاکہ وہ ان کے شور وشرابے، بے بنیاد تقاضوں ، بہانہ سازیوں اور تمسخر سے پریشان نہ ہوں ۔
۳ ۔ آیت میں ”اَم“ کا معنی:
زیرِ نظر دوسری آیت ”اَم یقولون افتراہ....“ کی ابتداء میں لفظ ”اَم“ کے بارے میں دواحتمالات ذکر کئے ہی، ایک یہ کہ یہ ”او“ (یا) کے معنی میں ہے اور دوسرا یہ کہ یہ ”بل“ کے معنی میں ہے ۔
پہلی صورت میں آیت کا معنیٰ یہ ہوگا: شاید تو نے ہماری آیات کو مخالفین کی بہانہ سازیوں کے خوف سے انھیں نہیں سنایا ”یا یہ کہ“ تُونے تو آیات الٰہی پڑھی ہیں لیکن انھوں نے انھیں خداپر افتراء سمجھا ہے ۔
دوسری صورت میں آیت کا معنی اس طرح ہوگا: آیات الٰہی کی تبلیغ میں ان کی بہانہ سازیوں کی وجہ سے تاخیر نہ کرو۔
اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ یہ لوگ تو بنیادی طور پر وحی اور نبوت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر افتراء باندھا ہے ۔
درحقیقت اس بیان کے ذریعے خدا اپنے پیغمبر کو خبر دیتا ہے کہ من پسند کے معجزات کے بارے میں ان کے تقاضے تلاشِ حقیقت کی بناپر نہیں بلکہ اس لئے ہیں کہ وہ اصولی طور پر نبوّت کے منکر ہیں اور یہ سب ان کے بہانے ہیں ۔
بہرحال مندرجہ بالا آیات کے مفہوم میں غور وخوض سے اور خصوصاًادبی لحاظ سے ان کے الفاظ دقتِ نظر سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوسرا معنی آیات کے مفہوم سے زیادہ نزدیک ہے (غور کیجئے گا) ۔
۴ ۔ معجزہ طلبی کا جواب:
اس میں شک نہیں کہ پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ متلاشیانِ حق کے لئے اپنی حقانیت کے سند کے طور پر معجزہ پیش کرے اور کوئی پیغمبر بھی ضرف اپنے دعویٰ کو کافی نہیں سمجھ سکتا لیکن اس میں شک نہیں کہ جن مخالفین کا مندرجہ بالا آیات میں ذکر آیا ہے وہ حقیقت کی تلاش میں نہیں تھے وہ جن معجزات کا مطالبہ کرتے تھے وہ ان کے من پسند کے معجزات تھے ۔ مسلّم ہے کہ ایسے لوگ بہانہ جو ہوتے ہیں نہ کہ حقیقت کے متلاشی، کیا حتماً ضروری ہے کہ پیغمبر کے پاس بڑا خزانہ ہو جیسا کہ مشرکین کا خیال تھا یا کیا ضروری ہے کہ فرشتہ اس کے ہمراہ تبلیغِ رسالت کرے علاوہ ازیں کیا خود قرآن معجزہ سے برتر اور بالاتر نہیں تھا، اگر واقعاً ان کا مقصود بہانہ تراشی نہ تھاتوپھر قرآن کی اس بات پر کان کیوں نہیں دھرتے کہ اگر تمھارا خیال ہے کہ یہ آیات پیغمبر اپنی طرف سے لے آتا ہے تو جاو اس کے مثل لے او اور دنیا کے تمام لوگوں کی مدد بھی حاصل کرلو۔
۵ ۔ قرآن کا چیلنج
مندرجہ بالا آیات میں دوبارہ اعجازِ قرآن کے بارے میں تاکید کی گئی ہے کہ یہ کوئی عام سی گفتگو نہیں ہے اور نہ یہ انسانی ذہن کی اختراع ہے بلکہ آسمانی وحی ہے جس کا سرچشمہ خدا کا بے پایاں اور لامتناہی علم اور قدرت ہے اسی بناپر پوری دنیا کوچیلنج کیا گیا ہے جس اور مقابلے کی دعوت دی گئی ہے اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ رسول الله کے ہمعصر بلکہ وہ قومیں جو آج تک اس کام میں لگی ہوئی ہیں ایسا کرنے سے عاجز ہیں ، یہ قومیں دیگر تمام تر مشکلات تو جھیلنے کو تیار ہیں لیکن آیاتِ قرآن کامقابلہ کرنے کی طرف نہیں آتیں ، اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایسا کام انسان کے بس میں نہ تھا ور نہ ہوسکتا ہے، تو کیا معجزہ اس کے علاوہ کسی چیز کا نام ہے ۔
قرآن میں یہ آواز آج بھی ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے، یہ معجزہ جاوید آج بھی اسی طرح عالمین اور ساری کائنات کو اپنی طرف دعوت دے رہا ہے اور دنیا کے تمام علمی مراکز کو چیلنج کررہا ہے، اس کا یہ چیلنج نہ صرف فضاحت وبلاغت یعنی عبارات کی شیرینی وجاذیب اور مفاہیم کی رسائی کے لحاظ سے ہے بلکہ :
، اس کے مضامین کے اعتبار سے بھی,
، ان علوم کے لحاظ بھی جو اُس زمانے کے انسانوں سے پنہاں تھے،
، قوانین واحکام کے حوالے سے بھی جو بشریت کی سعادت ونجات کے ضامن ہیں ،
، بیانات کے حوالے سے بھی جو ہر قسم کے تناقض اور پراگندگی سے پاک ہیں ،
، تواریخ کے اعتبار سے سے جو خرافات سے مبرّا ہیں اور
، اسی طرح تمام حوالوں سے اس کا یہ چیلنج ہے ۔
تفسیر نمونہ جلد اوّل سورہ بقرہ کی آیات ۲۳ اور ۲۴ کی تفسیر کے ذیل میں ہم اعجاز قرآن کے بارے میں تفصیل سے بحث کرچکے ہیں ۔
۶ ۔ پورا قرآن، دس سورتیں یا ایک سورت :
جیسا کہ ہم جانتے ہیں ، قرآن مجید نے ایک جگہ مخالفین کو قرآن کی مثلا لانے کی دعوت دی ہے (بنی اسرائیل/ ۸۸) اور دوسری جگہ قران جیسی سورتیں لانے کے لئے کہا ہے (مثلاً محلِ بحث آیات ) اور ایک اور جگہ قرآن کی ایک سورت جیسی سورت لانے کا کہا ہے (بقرہ/ ۲۳) اس بناء پر بعض مفسّرین نے یہ بحث کی ہے کہ چیلنج اور مقابلے کی اس دعوت میں اتنا فرق کیوں ہے؟
اس سوال کا جواب میں مختلف راستے اختیار کئے گئے ہیں :
الف) بعض کا نظریہ ہے کہ یہ فرق اوپر کے مرحلہ سے نیچے کی طرف تنزل کی مانند ہ، جیسے ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے کہ تم بھی اگر میری طرح فنِ تحریر اور شعر گوئی میں مہارت رکھتے ہو تو میری کتاب جیسی کتاب لکھ کر دکھاو، پھر کہتا ہے اس کے ایک باب جیسی تحریر پیش کردو حتّی کہ ایک صفحہ ہی لکھ کر دکھا دو ۔
البتہ یہ جواب اس صورت میں صحیح ہے کہ سورہ بنی اسرائیل ، سورہ ہود، سورہ یونس اور سورہ بقرہ اسی ترتیب سے نازل ہوئی ہوں اور ”تاریخ القرآن“ میں فہرست ”ابنِ ندیم “ سے جو ترتیب نقل ہوئی ہے یہ بات اس سے مناسبت رکھتی ہے کیونکہ اس کے مطابق رسول الله پر نزول کے اعتبار سے سورہ بنی اسرائیل کا نمبر ۴۸ ہے ، ہود کا نمبر ۵۹ ، یونس کا نمبر ۵۱ اور بقرہ کا نمبر ۹۹ ہے ۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ بات مشہور ترتیب سے مناسبت نہیں رکھتی جو مندرجہ بالا سورتوں کے متعلق اسلامی تفاسیر میں بیان کی گئی ہے
ب) بعض نے کہا ہے کہ اگرچہ یہ سورتیں ترتیبِ نزول کے اعتبار سے نیچے کی طرف تنزل کے معاملے پر منطبق نہیں ہوتیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایک سورت کی تمام آیتیں ایک ہی مرتبہ نازل نہیں ہوجاتی تھیں ، بلکہ بہت سی آیات ایسی ہوتیں جو بعد میں نازل ہوتیں اور رسول الله کے حکم سے پانی مناسبات کی وجہ سے قبل کی سورت میں قرار پاتیں ، زیرِ بحث معاملے میں بھی ممکن ہے ایسا ہی ہُوا ہو لہٰذا مندرجہ بالا سورتوں کی تاریخِ نزول اس بات کے منافی نہیں ہے کہ یہاں اوپر سے نیچے کی طرف تنزل کا معاملہ ہو۔
ج) اس سوال کے جواب میں ایک اور احتمال بھی ہے اور وہ یہ کہ اصولاً ”قرآن“ ایک ایسا لفظ ہے جو پورے قرآن کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور قرآن کے کچھ حصّے پر بھی، مثلاً سورہ جن کی ابتدا میں ہے:
( اِنَّا سَمعْنَا قُرْآناً عَجَباً ) ہم نے عجیب قرآن سنا ہے ۔
واضح رہے انھوں نے قرآن کا کچھ حصّہ ہی سنا تا ۔
اصول طور پر قرآن مادہ ”قرائت“ سے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ قرائت وتلاوت پور ے قرآن پر بھی صادق آتی ہے اور جزوِ قرآن پر بھی لہٰذا مثلِ قرآن لانے کے چیلنج کا مفہوم تمام قرآن نہیں ہے بلکہ یہ دس سورتوں کے لئے بھی ٹھیک ہے اور ایک سورت کے لئے بھی درست ہے ۔
دوسری طرف ”سورہ“ بھی ”مجموعہ“ اور ”محدودہ“ کے معنی میں ہے اور یہ لفظ آیات کے کسی بھی مجموعہ پر منطبق ہوجاتا ہے اگر عام اصطلاح میں جسے مکمل سورہ کہتے ہی یہ اس کے برابر بھی نہ ہو۔
دوسرے لفظوں میں ”سورہ“ دومعنوں میں استعمال ہوتاہے ، ایک معنی آیات کاوہ مجموعہ ہے جس کا ایک معیّن مقصد ہو اور دوسرا معنی ایک مکمل سورہ ہے جو بسم الله سے شروع ہوکر بعد والی سورت کی بسم الله سے پہلے ختم ہوجائے، اس بات کی شاہد ”توبہ “ کی آیت ۸۶ ہے جس میں فرمایا گیا ہے:
( وَإِذَا اٴُنزِلَتْ سُورَةٌ اٴَنْ آمِنُوا بِاللهِ وَجَاهِدُوا مَعَ رَسُولِهِ )
جس وقت کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاو اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو....
واضح ہے کہ یہاں سورہ سے مراد وہ آیات ہیں جو خدا پر ایمان اور جہادکے مذکورہ مقصد کے بارے میں ہیں اگرچہ وہ ایک مکمل سورت کا ایک حصّہ ہی ہوں ۔
مفردات میں راغب نے بھی سورہ نور کی پہلی آیت ”سورة انزلناھ...“ کی تفسیر میں کہا ہے:
اٴیّ جملة من الاحکام والحکم ....
جیسا کہ ہم دیکھ رہے یہاں سورت کو احکام کا ایک مجموعہ قرار دیا گیا ہے ۔
اس گفتگو کے پیش نظر قرآن، سورت اور دس سورتوں میں لغوی مفہوم کے لحاظ سے کوئی خاص فرق نہیں رہتا یعنی ان تمام الفاظ کا اطلاق قرآن مجیدکی چند آیتوں پر ہوسکتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن چیلنج ایک لفظ اور ایک جملے کے لئے نہیں کہ کوئی دعویٰ کرے کہ مَیں آیہ ”والضحیٰ“ اور آیہ ”مدھامتان“ یا قرآن کے کسی سادہ جملے کی مثل لاسکتا ہوں بلکہ تمام جگہوں پر آیات کے ایک ایسے مجموعے کے بارے میں جس کا ایک خاص ہدف اور مقصد ہو (غور کیجئے گا)
۷ ۔ ”( إِنْ لَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ ) “ کے مخاطب:
اس سلسلے میں مفسّرین میں اختلاف ہے کہ ”( إِنْ لَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ ) “ میں مخاطب کون ہیں ۔
بعض کہتے ہیں کہ مخاطب مسلمان ہیں ، یعنی اگر منکرین نے تمھاری دعوت پر لبیک نہ کہا اور قرآن کی دس سورتوں کی مثل نہ لائے تو جان لو کہ یہ قرآن کی طرف سے ہے اور یہی خود اعجاز قرآن کی دلیل ہے ۔
بعض دوسروں نے کہا کہ مخاطب منکرین ہیں یعنی اے منکرین! اگر باقی انسان اور جو کچھ غیر از خدا ہے انھوں نے مثلِ قرآن لانے میں مدد کے لئے تمھاری دعوت پر لبیک نہ کہا اور وہ عاجز وناتواں رہ گئے تو پھر جان لو کہ یہ قرآن خدا کی طرف سے ہے ۔
نتیجہ کے لحاظ سے دونوں تفاسیر میں کوئی فرق نہیں ہے تاہم پہلا احتمال زیادہ نزدیک معلوم ہوتا ہے ۔
آیات ۱۵،۱۶
۱۵( مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا وَزِینَتَهَا نُوَفِّ إِلَیْهِمْ اٴَعْمَالَهُمْ فِیهَا وَهُمْ فِیهَا لَایُبْخَسُونَ )
۱۶( اٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْآخِرَةِ إِلاَّ النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِیهَا وَبَاطِلٌ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ )
ترجمہ
۱۵ ۔ جو لوگ دُنیا اور اس کی زینت کو چاہتے ہیں ہم ان کے اعمال انھیں بے کم وکاست اسی جہان میں دے دیں گے ۔
۱۶ ۔ (لیکن) آخرت میں (جہنم کی) آگ سے سوا ان کا (کچھ حصّہ) نہیں ہوگا اور جو کچھ انھوں نے دنیا میں (مادّی مقاصد اور غیرخدا کے لئے) انجام دیا ہے وہ برباد ہوگا اور ان کے اعمال باطل ہوجائیں گے ۔
تفسیر
گزشتہ آیات نے اعجاز قرآن کے دلائل پیش کرکے مشرکین اور منکرین پر حجت تمام کردی ہے اور چونکہ حق واضح ہوجانے کے باوجود ایک گروہ نے صرف اپنے مادی منافع کی خاطر سرِتسلیم خم نہیں کیا لہٰذا محلِ بحث آیات میں ایسے دنیا پرست افراد کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ”جس کا مقصد صرف دنیاوی زندگی کی رنگینیاں اور اس کی زنیت ہو وہ اس جہان میں اپنے اعمال کا نتیجہ پالے گا بغیر اس کے کہ کوئی چیز اس میں کم ہے“( مَنْ کَانَ یُرِیدُ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا وَزِینَتَهَا نُوَفِّ إِلَیْهِمْ اٴَعْمَالَهُمْ فِیهَا وَهُمْ فِیهَا لَایُبْخَسُونَ ) ۔
”بخس“لغت میں حق کے نقصان کے معنی میں آیا ہے اور ”( وَهُمْ فِیهَا لَایُبْخَسُونَ ) “ اس طرح اشارہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ بغیر تھوڑے سے بھی نقصان کے پالیں گے ۔
یہ آیت خداتعالیٰ کی ایک دائمی سنّت کو بیان کررہی ہے اور وہ یہ کہ مثبت اعمال اور مؤثر نتائج ختم نہیں ہوتے، فرق یہ ہے کہ اگر اعمال کا اصلی مقصد اس جہاں کی مادّی زندگی کا حصول ہے تو نتیجہ بھی مادّی ہی ہوگا لیکن اگر مقصد خدا اور اس کی رضا کا حصول ہو تو وہ اس جہان میں بھی ثمر بخش ہوں گے اور دوسرے جہاں میں بھی پُربار نتائج پیدا کریں گے ۔
درحقیقت پہلی قسم کے اعمال ایسی غیر مستقل اور کم عمر عمارت کی طرح ہیں جسے وقتی ضرورت کے لئے بنایا جاتا ہے اور اس سے استفادہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد وہ ویران ہوجاتی ہے لیکن دوسری قسم کی مثال ایسی محکم اور مضبوط بنیادوں والی عمارت کی سی ہے جو صدیوں تک برقرار رہتی ہے اور قالِ استفادہ ہوتی ہے، اس امر کا نمونہ آج کل ہم اپنے گردو پیش دیکھتے ہیں ، مغربی دنیا نے اپنی مسلسل اور منظم کوشش سے بہت سے علوم کے اسرار معلوم کئے ہیں نیز مغربی دنیا نے مادہ کی مختلف طاقتوں پر تصرف حاصل کرلیا ہے اور مسلسل کوشش اور مشکلات کے مقابلے میں استقامت، اتحاد اور ہم بستگی ہے انھوں نے بہت سی نعمات حاصل ہیں ۔
اس بناء پر اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنے اعمال اور کوشش کے نتائج حاصل کریں گے اور درخشاں اور واضح کامیابیوں سے ہمکنار ہوں گے لیکن دوسری طرف سے چونکہ ان کا مقصد صرف دنیاوی زندگی ہے لہٰذا ان اعمال کا طبعی وفطری اثر سوائے ان کے لئے مادی وسائل فراہم ہونے کے اور کوئی نہیں ہوگیا یہاں تک کہ ان کے انسانی اور بڑے کام مثلاً ہسپتال بنانا، شفاخانے قائم کرنا، علمی مراکز قائم کرنا، غریب اقوام کی مدد کرنا اور اس قسم کے دیگر فلاحی کام، اگر ان کے استعمار واستثمار کی قیمت نہ ہو تو چونکہ بہرحال مادّی ہدف کے تحت اور مادّی منافع کے لئے ہوتے ہیں لہٰذا ان کا صرف مادی اثر ہوگا ، اسی طرح وہ لوگ جو ریاکارانہ کام کرتے ہیں ان کے علاوہ جو انسانی حوالوں سے ہوتے ہیں ان کے صرف مادی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
اسی لئے بعد والی آیت میں صراحت سے فرمایا گیا ہے: ایسے افراد کے لئے آخرت میں (جہنم کی) آگ کے سوا کوئی فائدہ نہیں ہے( اٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْآخِرَةِ إِلاَّ النَّارُ ) ۔ ”اور جو کچھ انھوں نے اس جہان میں انجام دیا ہے وہ دوسرے جہاں میں محو ونابود ہوجائے گا اور اس کے بدلے میں انھیں کوئی جزا نہیں ملے گی“( وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِیهَا ) ۔ ”اور وہ تمام اعمال جو انھوں نے غیر خدا کے لئے انجام دیئے ہیں باطل ونابود ہوجائیں گے( وَبَاطِلٌ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ ) ۔
”حبط“ (بروزن ”وقت“) کا معنی در اصل ایسا حیوان ہے جو نامناسب گھاس پھوس میں اتنا زیادہ کھالے کہ اس کے پیٹ ہَوا بھرجائے اور اس کا اوجھڑی بیمار اور ضائع ہوجائے، اس عالم میں یہ جانور ظاہراً تو چاق وچوبند نظر آتا ہے حالانکہ باطناً مریض ہوتات ہے ۔
یہ ایسے اعمال کے لئے نہایت موثر اور عمدہ تعبیر ہے جو ظاہراً مفید اور نسانی ہیں لیکن باطن میں آلودہ اور پست نیّت سے انجام دیئے گئے ہیں ۔
۱ ۔ ایک اشکال کی وضاحت:
ہوسکتا ہے پہلی نظر میں یوں معلوم ہو کہ مندرجہ بالا دوآیتیں آپس میں تعارض رکھتی ہیں اس بناء پر کہ پہلی آیت کہتی ہے : ”وہ اشخاص جن کا ہدف فقط اس دنیا کی زندگی ہے ان کے اعمال کا نتیجہ ہم انھیں بے کم وکاست دیں گے“ لیکن دوسری آیت کہتی ہے: ان کے اعمال حبط اور باطل ہوجائیں گے ۔
البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ایک آیت دنیاوی زندگی کے بارے میں اور دوسری اشارہ دارِ آخرت کی طرف ہے ، اس اشکال کی وضاحت ہوجاتی ہے، یعنی وہ اپنے اعمال کے نتائج اسی دنیا میں پورے طور پر حاصل کرلیں گے ، لیکن اس کا کیا فائدہ کہ یہ اعمال جو اگرچہ نہایت زیادہ تھے مگر آخرت کے لئے بے اثر ہیں کیونکہ ان کا ہدف پاک اور نیّت خالص نہیں تھی، ان کا ہدف مادی مفادات کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ جس تک وہ پہنچ گئے ۔
۲ ۔ دنیا کی زینتیں
حیاتِ دنیا کے بعد لفظ ”زینت“ دنسا پرستی اور دنیا پرستی کی زرق وبرق کی مذمت کے لئے ہے نہ کہ اس کا مقصد دنیا کی نعمتوں سے مناسب اور معتدل فائدہ اٹھانے کی نفی کرنا ہے ۔
لفظ ”زینت“ جو یہاں سربستہ طور پر آیا ہے دوسری آیات میں خوبصورت عورتوں ، عظیم خزانوں اور قیمتی سورایوں ، رزعی زمینوں اور فراوان دولت کے معنی میں استعمال ہواہے، مثلاً:
( زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِینَ وَالْقَنَاطِیرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاٴَنْعَامِ وَالْحَرْثِ )
مادّی چیزوں میں سے عورتیں ، اولاد اور مال جو سونے اور چاندی کے ڈھیروں پر مشتمل ہے، منتخب گھوڑے، جانور اور زراعت لوگوں کی نظر میں پسندیدہ بنادیئے گئے ہیں ۔
۳ ۔ ”حبط“ کے بعد لفظ ”باطل“
لفظ ”حبط“ کے بعد لفظ ”باطل“ ہوسکتا ہے اس طرف اشارہ ہو کہ ان کے اعمال کا ایک ظاہر ہے اور باطن کوئی نہیں ہے، اسی بناء پر ان کا نتیجہ کچھ بھی نہیں ، اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ ان کے اعمال اصولی طور پر ابتداء ہی سے باطل اور بے خاصیّت ہیں ، زیادہ سے زیادہ یہ کہ بہت سی اشیاء کے حقائق چونکہ اس دنیا میں پہچانے نہیں جاتے اور دوسرے جہان میں جس میں تمام اسرار کھل جائیں گے، ان کی حقیقت ظاہر ہوجائے گی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے اعمال شروع ہی سے کچھ نہ تھے ۔
۴ ۔ ایک حدیث:
مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں کتاب ”درّالمنثور“ میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے جس سے ان کا مفہوم واضح ہوتا ہے، حدیث یہ ہے:
قال رسول اللّٰه صل اللّٰه علیه و آله : اذا کان یوم القیامة صارت امت ثلاث فرق : فرقة یعبدون اللّٰه خالصاً و فرقة یعبدون اللّٰه ریاءً و فرق یعبدون اللّٰه یعیون به دنیا.
فیقول للذی کان یعبد اللّٰه للدنیا: بعزتی و جلالی ما اردت بعبادتی ؟ فیقول الدنیا، فیقول لاجرم لا ینفعک ما جمعت و لا ترجع الیه انطلقوا به الی النار.
و یقول للذی یعبد اللّٰه ریاء: بعزتی و جلالی ما اردت بعبادتی ؟ قال الریاء، فیقول انما کانت عبادتک التی کنت ترائی بها لا یصعد الی منها شییء و لا ینفعک الیوم ، انطلقوا به الی النار.
و یقول للذی کان یعبد اللّٰه خالصاً: بعزتی و جلالی ما اردت بعبادتی ؟ فیقول بعزتک و جلالک لانت اعلم منی کنت اعبدک لوجهک و لدارک قال : صدق عبدی انطلقوا به الی الجنة :
رسول الله نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو، میرے پیروکار تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں :
ایک وہ گروہ جو خدا کی خلوص کے ساتھ عبادت کرتا تھا، دوسرا گروہ جو دکھاوے کے لئے عبادت کرتا تھا اور تیسرا وہ گروہ جو دنیا تک رسائی کے لئے عبادت کرتا تھا ۔
اس وقت خدا اس گروہ کو جو دنیا کی خاطر اس کی عبادت کرتا تھا کہے گا: میری عزت وجلال کی قسم بتاو میری عبادت میں تمھارا کیا مقصد تھا، وہ جواب میں کہے گا: دنیا ، خدافرمائے گا: اس بناء پر جو کچھ تم نے جمع کیا ہے وہ تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا اور تم اس کی طرف پلٹ کر نہیں جاوگے، پھر فرمائے گا: اسے آتش جہنم کی طرف لے جاو ۔
اور جو شخص ریاء کے طور پر خدا کی عبادت کرتا تھا الله اس سے کہے گا: میری عزت وجلال کی قسم بتاو میری عبادت سے تمھارا کیا مقصد تھا؟ وہ جواب دے گا: دکھاوا ۔ تو الله فرمائے گا: وہ عبادت جو تم نے ریاء کے طور پر انجام دی تھی اس میں کچھ بھی میرے پاس نہیں پہنچا تھا اور آج تمھیں اس کا کوئی فائدہ نہیں دوں گا، پھر حکم دے گا: اسے آتش جہنم کی طرف لے جاو۔
اور وہ شخص جو خدا کی عبادت خلوص سے کرتا تھا، اس سے کہا جائے گا: میری عزت وجلال کی قسم، بتاو تم عبادت کس مقصد سے کرتے تھے، وہ کہے تیری عزت وجلال کی قسم تو اس بات سے زیادہ باخبر ہے کہ مَیں نے تیری عبادت صرف تیرے لئے اور دارِ آخرت کے لئے کی تھی، خدا فرمائے گا: میرا بندہ سچ کہتا ہے اسے جنّت لے جاو۔(۲)
____________________
۱۔ مزید وضاحت کے لئے آل عمران کی آیت ۱۴ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں (تفسیر نمونہ جلد دوم صفحہ۲۶۶ ، اردو ترجمہ)
۲۔ تفسیر المیزان: ج۱، ص۱۸۶ (بحوالہ تفسیر.
آیت ۷
۱۷( اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَیَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَمِنْ قَبْلِهِ کِتَابُ مُوسیٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً اٴُوْلٰئِکَ یُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَنْ یَکْفُرْ بِهِ مِنَ الْاٴَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُونَ )
ترجمہ
۱۷ ۔ کیاوہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہے اس کے پیچھے اس کی طرف شاہد ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب کہ جو پیشوا اور ح۔رحمت تھی (اس پر گواہی دیتی ہے، اس شخص کی طرح ہے جو ایسا نہ ہو) وہ (حق طلب اور حقیقت کی متلاشی) اس پر (جو یہ خصوصیات رکھتا ہے) ایمان لاتے ہیں اور مختلف گروہوں میں سے جو شخص اس کا منکر ہو آگ اس کی وعدہ گاہ ہے، لہٰذا اس میں شک نہ کرو کہ وہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے ۔
تفسیر
زیرِ نظر آیت کی تفسیر کے بارے میں مفسّرین کے درمیان بہت اختلاف ہے، آیت کے الفاظ کی جزئیات، ضمائر، موصول اور اسم اشارہ کے بارے میں مختلف نظریے ہیں ، اس تفسیر میں ان سب کا ذکر ہماری روش کے خلاف ہے، دوتفاسیر جو زیادہ واضح معلوم ہوتی ہیں اہمیت ترتیبی کے اعتبار سے یہاں ذکر کی جاتی ہیں ۔
۱ ۔ آیت کی ابتداء میں فرمایا گیا ہے: کیا وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہے اور اس کے پیچھے خدا کی طرف سے شاہد آیا ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (توریت) پیشوا، رحمت اور ان کی عظمت کو واضح کرنے والی کتاب کی حیثیت سے آئی ہے، اس شخص کی طرح ہے جو ان صفات، نشانیوں اور واضح دلائل کا حامل نہیں ہے( اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَیَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَمِنْ قَبْلِهِ کِتَابُ مُوسیٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً ) ۔
یہ شخص پیغمبر اکرم ہیں ، ان کی واضح دلیل قرآن مجید ہے، ان کی نبوت کی صداقت کے شاہد علیعليهالسلام جیسے مومن صادق ہیں اور قبل ازیں ان کی نشانیاں اور صفات تورات میں آچکی ہیں ، اسی طرح تین واضح طریقوں سے آپ کی دعوت کی حقانیت ثابت ہوگئی ہے ۔
پہلا راستہ قرآن ہے، جو ان کے ہاتھ میں ایک واضح دلیل ہے ۔
دوسرا راستہ گزشتہ آسمانی کتب ہیں ، جن میں آنحضرت کی نشانیاں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں اور رسول الله کے زمانے کے ان کتب کے پیروکار انھیں اچھی طرح سے پہچانتے ہیں اور اسی بناء پر ان کے انتظار میں تھے ۔
تیسرا راستہ آپ کے فدا کار پیروکار اور مخلص مومنین ہیں کہ جو آپ کی دعوت اور گفتار کی صداقت کو واضح کرتے تھے کیونکہ کسی مکتب کی حقانیت کی ایک نشانی اس مکتب کے پیروکاروں سے پہچانا جاتا ہے ۔
کیا ان زندہ دلائل وبراہین کے باوجود انھیں دوسرے مدعیانِ نبوت پر قیاس کیا جاسکتا ہے یا ان کی دعوت کی صداقت میں شک وشبہ کیا جاسکتا ہے ۔(۱)
اس گفتگو کے بعد قرآن متلاشیانِ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھیں ضمنی طور پر ایمان کی دعوت دیتا ہے: ایسے پیغمبر پر کہ جو روشن دلیل رکھتا ہے ایمان لائیں گے( اٴُوْلٰئِکَ یُؤْمِنُونَ ) ۔
لفظ”( اٴُوْلٰئِکَ ) “ میں جن افراد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اگرچہ ان کا ذکر نہیں ہے لیکن اگر گزشتہ آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس آیت میں ان کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور ان کی طرف اشارے کو محسوس کیا جاسکتا ہے ۔
اس کے بعد منکرین کی گہانی یوں بیان کی گئی ہے: مختلف گروہوں میں سے جو کوئی اس سے کفر کرے گا تو اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے( بِهِ وَمَنْ یَکْفُرْ بِهِ مِنَ الْاٴَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ ) ۔
پورا جملہ مبتداء، اس کی خبر محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہوگی:
”کمن لیس کذلک “ یا ”کمن یرید الحیاة الدنیا “
آیت کے آخر میں قرآن کے دیگر بہت سے مواقع کی طرف سیرتِ قرآن کے روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے تمام لوگوں کے لئے ایک عمومی درس بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: اب جبکہ ایسا ہے اور تیری دعوت کی صداقت کے لئے یہ تمام شاہد موجود ہیں جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے اس کے بارے میں ہرگز شک وشبہ کو راہ نہ دے( فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِنْهُ ) ۔ ”کیونکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے کلامِ حق ہے“ (ا( ِٕنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ ) ۔ ”لیکن بہت سے لوگ جہالت، تعصّب اور خود پسندی کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے( وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُونَ ) ۔
۲ ۔ دوسری تفسیر جو آیت کے لئے ذکر ہوئی ہے یہ ہے کہ اصل مقصد سچّے مومنین کی حالت بیان کرنا ہے کہ وہ ان واضح دلائل وشواہد اور گزشتہ کتب میں موحود شہادتوں کی بنیاد پر دعوتِ پیغمبر کی صداقت پر ایمان لائے ہیں ، لہٰذا ”من کان علیٰ بیّنة من ربّہ“ کے جملے سے مراد وہ تمام لوگ ہیں کہ جو کھلی آنکھوں سے اور اطمینان بخش دلائل کے ذریعے اور اس کے لانے والے پیروی کررہے ہیں اور اس سے مراد خود پیغمبر اکرم نہیں ہیں ۔
یہ تفسیر گزشتہ تفسیر پر یہ ترجیح رکھتی ہے کہ مبتداء کی خبر آیت میں صراحت سے آئی ہے، اس میں کوئی محذوف نہیں اور ”اولئک“ کا مشارالیہ خود آیت میں مذکور ہے، نیز آیت کا پہلا حصّہ کہ جو ”( اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ ) “ شروع ہوتا ہے ”اٴُوْلٰئِکَ یُؤْمِنُونَ “تک ایک مکمل جملہ ہے اور اس میں کوئی حذف وتقدیر نہیں ہے ۔
بلاشبہ آیت کی دوسری تعبیریں اس تفسیر سے مناسبت نہیں رکھتیں ، اس لئے ہم نے اس تفسیر کو دوسرے مرحلے میں قرار دیا ہے (غور کیجئے گا) ۔
بہرحال آیت اسلام اور سچّے مسلمانوں کے امتیازات اور اس مکتب کے انتخاب میں محکم دلائل پر ان کے اعتماد کرنے کی طرف اشارہ ہے جبکہ دوسری طرف سے آیت متکبر منکرین کا انجامِ بد بیان کررہی ہے ۔
۱ ۔ آیت میں ”شاھد“ سے مراد
بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ زیرِ بحث آیت میں ”شاھد“ سے مراد وحیِ خدا کے قاصد جبرئیلعليهالسلام ہیں ، بعض نے اس سے مراد پیغمبر اسلام لئے ہیں ، بعض دوسرے مفسّرین نے اس کی تفسیر زبانِ پیغمبر کی ہے (جبکہ ”یتلوہ“ کو ”تلاوت“ کے مادہ سے ’قرائت“کے معنی میں لیا ہے، نہ کہ پیچھے آنے والے کے معنی میں ) لیکن بہت سے بزرگ مفسرین نے اسے حضرت علی علیہ السلام سے تعبیر کیا ہے، اس ضمن میں آئمہ معصومینعليهالسلام سے بھی کئی روایات سے اس تفسیر کی تاکید ہوئی ہے کہ ”شاھد“ سے مراد حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام ہیں ، جو پیغمبر اسلام اور قرآن پر ایمان لانے والے پہلے شخص ہیں ، جو تمام مراحل میں رسول الله کے ساتھ رہے اور ایک لمحہ کے لئے فداکاری سے دریغ نہیں کیا اور آخری دم تک ان کی حمایت میں کوشاں رہے ۔(۲)
ایک حدیث میں ہے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: قریش کے مشہور افراد کے میں ایک یا ایک سے زیادہ آیت نازل ہوئیں ۔
کسی نے عرض کیا: اے امیرالمومنین(علیه السلام)! آپعليهالسلام کے بارے میں کونسی آیت نازل ہوئی؟
امامعليهالسلام نے فرمایا: کیا تُونے سورہ ہود کی یہ آیت نہیں پڑھی ”( اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَیَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ ) “ ، رسول الله خدائی ”بیّنہ“ اور ”شاہد“ مَیں تھا ۔(۳)
سورہ رعد کی آخری آیت میں بھی ایک تعبیر دکھائی دیتی ہے کہ جو اس معنی کی تاکید کرتی ہے ۔وہا ں فرمایا گیا ہے:
( وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ کَفیٰ بِاللهِ شَهِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْکِتَابِ )
کفار کہتے ہیں کہ تُو پیغمبر نہیں ہے، کہہ دو یہی کافی ہے کہ خدا میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے اور وہ کہ جس کے پاس علمِ کتاب (قرآن) ہے ۔
سُنّی اور شیعہ طرق کی بہت سی روایات میں ہے کہ ”ومن عندہ علم الکتاب“ سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں ۔
جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے پھر اس نکتے کی طرف یاد دہانی ضروری ہے کہ کسی مکتب کی حقانیت کی پہچان کا ایک بہترین طریقہ اس کے پیروکار، مددکاروں اور حامیوں کی کیفیت کا مطالعہہے، مشہور ضرب المثل ہے کہ امامزادے کو اس کے زائرین سے پہچاننا چاہیے، جب دیکھیں کہ پاکباز، باشعور، صاحب ایمان، مخلص اور باتقویٰ افراد کسی رہبر اور مکتب کے گرد جمع ہیں تو اچھی طرح پہچانا جاسکتا ہے کہ یہ مکتب اور یہ رہبر صداقت کی حدّبلند پر ہے، لیکن اگر دیکھیں کہ موقع پرست، دھوکے باز، بے ایمان اور بے تقویٰ افراد کسی مکتب یا رہبر کے گرد جمع ہیں تو بہت کم یقین کیا جاسکتا ہے کہ یہ مکتب اور یہ رہبر حق پر ہے ۔
اس مطلب کی طرف اشارہ بھی ہم سمجھتے ہیں کہ لفظ ”شاہد“ سے حضرت علی علیہ السلام مراد لینا اس حقیقت کے منافی نہیں کہ ابوذر، سلمان، عماریاسر جیسے تمام افراد اس کے مفہوم میں شامل ہیں کیونکہ ایسی تفاسیر اکمل وبرتر کی طرف اشارہ ہوتی ہیں یعنی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ارائس ورئیس یہ فرد اکمل ہے، اس امر کی شاہد وہ روایت ہے جو امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے، آپعليهالسلام نے فرمایا:
”شاہد سے مراد امیرالمومیننعليهالسلام ہیں اور پھر یکے بعد دیگرے ان کے جانشین“۔(۴)
اس حدیث میں اگرچہ معصوم ہستیوں کا ذکر ہے لیکن یہ امر خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ روایات جن میں ”شاہد“ کو منحصراً حضرت علیعليهالسلام سے تفسیر کیا گیا ہے ان سے مراد فقط آپعليهالسلام نہیں بلکہ مراد افضل وبرتر کاا مصداق ہے ۔
____________________
۱۔ اس تفسیر کے مطابق ”مَن“ سے مراد پیغمبر اکرم ہیں ، ”بیّنة“ سے مراد قرآن ہے اور ”شاھد“ سے کہ جو جنس کے معنی میں ہے سے مراد سچّے مومنین ہیں جن کے راس ورئیس حضرت علی علیہ السلام ہیں ، نیز ”منہ“ کی ضمیر خداتعالیٰ کی طرف اور ”قبلہ“ کی ضمیر قرآن یا پیغمبر اسلام کی طرف لوٹتی ہے ۔
۲۔ برہان، نور الثقلین، مجمع البیان اور دیگر تفاسیر کی طرف رجوع فرمائیں ۔۳۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۲۱۳.۴۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۲۱۳.
۲ ۔ صرف تورات کی طرف اشارہ کیوں ؟
جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ پیغمبر کی حقانیت کی ایک دلیل زیرِ بحث آیت میں گزشتہ کتب بیان کی گئی ہیں ، لیکن تذکرہ صرف حضرت موسیٰ کی کتاب کا ہُوا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے ظہور کی بشارتیں انجیل میں بھی ہیں ۔
شاید یہ اس بناء پر ہو کہ نزولِ قرآن اور ظہور اسلام کے علاقے یعنی مکّہ اور مدینہ میں زیادہ تر اہلِ کتاب میں سے یہودیوں کے افکار ونظریات پھیلے ہوئے تھے اور عیسائی نسبتاً دُور کے علاقوں میں رہتے تھے مثلاً یمن، شامات اور نجران (جو شمالی یمن کے پہاڑی علاقوں میں صنعاء سے دس منزل کے فاصلے پر واقع تھا) ۔
یا ہوسکتا ہے یہ اس بناء پر ہو کہ اوصاف پیغمبر کا تذکرہ تورات میں زیادہ جامع اور زیادہ وسیع طور پر آیا تھا ۔
بہرحال تورات کے بارے میں ”امام“ کی تعبیر ہوسکتا ہے اس بناء پر ہو کہ شریعتِ موسیٰعليهالسلام کے احکام پورے طور پر اس میں موجود تھے یہاں تک کہ عیسائی بھی اپنی بہت سی تعلیمات تورات سے لیتے ہیں ۔
۳ ۔ ”( فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ ) “میں مخاطب:
”( فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ ) “میں مخاطب کون ہے، اس بارے میں دو احتمال ذکر کئے گئے ہیں :
پہلا احتمال یہ کہ پیغمبر ارکم ہیں یعنی قرآن یا آئین اسلام کی حقانیت میں ذرہ بھر شک کوراہ نہ دیجئے ۔ البتہ اس حکم کی رُو سے کہ وہ وی کو بطورِ شہود دیکھتے تھے اور خدا کی طرف سے نزولِ قرآن ان کے لئے محسوس طور پر بلکہ حِس سے بھی بالا تھا، آپ کو اس دعوت کی حقانیت میں کسی قسم کا کوئی شک نہ تھا لیکن یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ قرآن میں خطاب تو پیغمبر اکرم سے ہے جبکہ مراد تمام لوگ ہیں اور عربوں کی مشہور تعبیر کے مطابق ایسے خطاب ” ”ایّاک اعنی واسمعی یا جارة“ (میری مراد تو تم ہو اور پڑوسن تم بھی سُن لو)کی طرح کے ہیں ۔
فارسی میں کہتے ہیں :
در بہ توگویم دیوار تو گوش کن یا تو بشنو
اے دروازہ! مَیں تجھے کہہ رہا ہوں ، دیوار! تُو سن لے ۔
یہ فنونِ لاغت میں سے ہے کہ کئی مواقع پر تاکید اور اہمیّت کے لئے یا دیگر مقاصد کے لئے حقیقی مخاطب کے بجائے دوسرے شخص سے خطاب کیا جاتا ہے ۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہر مکلف عاقل مخاطب ہے یعنی ”فلا تک ایھا المکلف العاقل فی مریة“ یعنی اے عاقل ومکلف انسان! ان واضح دلائل کے ہوتے ہوئے اس قرآن کی حقانیت میں شک نہ کر“ اور یہ احتمال اس بناء پر ہے کہ ”من کان علی بیّنة من ربّہ“ سے مراد پیغمبر نہ ہوں بلکہ تمام سچّے مومنین ہوں (غور کیجئے گا)
لیکن بہرحال پہلی تفسیر آیت سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے ۔
آیات ۱۸،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲
۱۸( وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا اٴُوْلٰئِکَ یُعْرَضُونَ عَلیٰ رَبِّهِمْ وَیَقُولُ الْاٴَشْهَادُ هٰؤُلَاءِ الَّذِینَ کَذَبُوا عَلیٰ رَبِّهِمْ اٴَلَالَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ )
۱۹( الَّذِینَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَیَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ کَافِرُونَ )
۲۰( اٴُوْلٰئِکَ لَمْ یَکُونُوا مُعْجِزِینَ فِی الْاٴَرْضِ وَمَا کَانَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اٴَوْلِیَاءَ یُضَاعَفُ لَهُمَ الْعَذَابُ مَا کَانُوا یَسْتَطِیعُونَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوا یُبْصِرُونَ )
۲۱( اٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ )
۲۲( لَاجَرَمَ اٴَنَّهُمْ فِی الْآخِرَةِ هُمَ الْاٴَخْسَرُونَ )
ترجمہ
۱۸ ۔ ان لوگوں سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا پر افتراء باندھتے ہیں وہ (روز قیامت) اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوں گے اور شاہد (انبیاء اور فرشتے) کہیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا، خدا کی لعنت ہو ظالموں پر۔
۱۹ ۔ وہی لوگوں کو راہِ خدا سے روکتے تھے اور راہِ حق میں کجی دکھانا چاہتے تھے اور آخرت کا کفر کرتے تھے ۔
۲۰ ۔وہ زمین میں کبھی بھی فرار کی طاقت نہیں رکھتے اور خدا کے سوا کوئی دوست اور سرپرست نہیں پائیں گے ان کے لئے کئی گُنا عذاب الٰہی ہوگا (کیونکہ وہ خود بھی گمراہ تھے اور دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف کھینچتے تھے) اور کبھی کبھی (حق بات) سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور (حقائق کو) نہیں دیکھتے تھے ۔
۲۱ ۔ وہ ایسے لوگ جو اپنا سرمایہ ہستی گنوا بیٹھے ہیں اور جھوٹے معبود ان کی نظر سے کھوگئے ہیں ۔
۲۲ ۔ (اسی بناء پر)یقیناً وہ آخرت میں سب سے زیادہ زیاں کار ہیں ۔
سب سے زیادہ زیاں کار
گزشتہ آیت قرآن اور رسالتِ پیغمبر کے بارے میں گفتگو کررہی تھی، اس کے بعد زیرِ بحث آیات کی نشانیوں اور ان کے انجامِ کار کے متعلق تفصیلی بحث کررہی ہیں ، پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے کہ جو خدا پر جھوٹ باندھے( وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا ) ۔
یعنی سچّے پیغمبر کی دعوت کی نفی کلماتِ الٰہی کی نفی ہے اور اس کی طرف جھوٹ کی نسبت دیتا ہے ۔ اصولی طور پر تکذیبِ پیغمبر تکذیبِ خدا ہے، اس شخص پر جھوٹ باندھنا کہ جو صرف خدا کی طرف سے بات کرتاہے خدا کی ذاتِ پاک پر جھوٹ باندھنا شمار ہوگا ۔(۱)
جیسا کہ ہم نے متعدد بار کہا ہے قرآن مجید کی مختلف آیات میں لوگوں کو سب سے بڑھ کر ظالم (”اظلم“) قرار دیا گیا ہے حالانکہ ظاہراً ان کے کام آپس میں مختلف ہیں اور ممکن نہیں ہے کہ مختلف کام کرنے والے مختلف گروہوں میں سے ہر ایک کو سب سے بڑھ کر ظالم شمار کیا جائے بلکہ چاہیے کہ ایگ گروہ ستمگر یا ستمگر تر ہوا اور دوسرا ستمگر ترین ہو لیکن جیسا کہ اس سوال کے جواب میں ہم نے بارہا کہا ہے کہ ان تمام اعمال کی بنیاد ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے شرک اور آیات الٰہی کی تکذیب جو کہ سب سے بڑی تہمت ہے ۔
مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد پنجم صفحہ ۱۶۰ ( اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔
اس کے بعد قیامت ان کے بُرے مستقبل کو اس طرح بیا ن کیا گیا ہے: اس روز وہ بارگاہِ پروردگار میں اپنے تمام اعمال اور کردار کے ساتھ پیش ہوں گے اور اس کی عدالت میں حاضر ہوں گے( اٴُوْلٰئِکَ یُعْرَضُونَ عَلیٰ رَبِّهِمْ ) ۔
”اس وقت اعمال کے شاہد گواہی دیں اور کہیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے عظیم مہربان اور ولی نعمت پروردگار جھوٹ باندھتا تھا( وَیَقُولُ الْاٴَشْهَادُ هٰؤُلَاءِ الَّذِینَ کَذَبُوا عَلیٰ رَبِّهِمْ ) ۔
اس کے بعد کھلے بندوں کہیں گے: ظالموں پر خدا کی لعنت ہو( اٴَلَالَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ ) ۔
اس بارے میں کہ شاہد خدائی فرشتے ہیں کہ یا اعمال لکھنے پر مامور مَلک ہیں یا انبیاء ہیں ، مفسّرین نے مختلف احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے قرآن کی دوسری آیات میں انبیاء الٰہی کا تعارف اعمال کے شاہدین کے طور پر کروایا گیا ہے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں بھی وہی مراد ہیں یا اس سے وسیع تر مفہوم مراد ہے جس میں دیگر گواہ بھی شامل ہیں ۔
سورہ نساء کی آیت ۴۱ میں ہے:( فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اٴُمَّةٍ بِشَهِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلیٰ هٰؤُلَاءِ شَهِیدًا )
ان کا کیا حال ہوگا جب اس دن ہم ہر امّت کے لئے ان کے اعمال کے گواہ بلائیں گے اور تجھے ان پر گواہ قرار دیں گے ۔
حضرت مسیحعليهالسلام کے بارے میں سورہ مائدہ کی آیت ۱۱۷ میں ہے:
( وَکُنتُ عَلَیْهِمْ شَهِیدًا مَا دُمْتُ فِیهِمْ )
”مَیں جب تک اپنے پیروکاروں کے درمیان تھا ان کے اعمال پر گواہ تھا ۔
نیز اس سلسلے میں کہ ”( اٴَلَالَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ ) “ کہنے والا خدا ہے یا گواہ ہیں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ظاہر آیت یہ ہے کہ بات گواہوں کی گفتگو کے تسلسل میں ہے ۔
بعد والی آیت ظالموں کی صفات تین ظالموں کی صفات تین جملوں میں بیان کی گئی ہیں ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسے افراد ہیں جو لوگوں کو مختلف ذریعوں سے راہِ خدا سے روکتے ہیں( الَّذِینَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ ) ۔ ایسا وہ کبھی شک وشبہ پیدا کرکے کرتے ہیں ، کبھی دھمکی سے کام لیتے ہیں اور کبھی لالچ دے کر مقصد حاصل کرتے ہیں اور ان سب کا امور کا ہدف ایک ہی ہے اور وہ راہِ خدا سے روکنا ۔
دوسرا یہ کہ وہ خاص طور پر کوشش کرتے ہیں کہ خدا کی راہِ مستقیم کو ٹیڑھا کرکے دکھائیں (وَیَبْغُونَھَا عِوَجًا) ۔ یعنی طرح طرح کی تحریفیں کرے، کمی بیشی کرکے، تفسر بالرائے کرکے اور حقائق کو مخفی رکھ کر ایسا کرتے ہیں کہ یہ سیدھا راستہ اپنی اصلی صورت میں لوگوں کے سامنے نہ آئے تاکہ لوگ اس راستے پر نہ جاسکیں اور حق طلب افراد جادہ حقیقی کو نہ پہچان سکیں ۔(۲)
نیز یہ کہ وہ قیامت اور روزِ جزا پر ایمان نہیں رکھتے( وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ کَافِرُونَ ) ۔ اور معاد پر ان کا ایمان نہ رکھنا ان کے سب انحرافات اور تباہ کاریوں کا سرچشمہ ہے کیونکہ موت کے بعد اس بڑی عدلات اور وسیع عالم پر ایمان لانے سے قلب وروح کی تربیت ہوتی ہے ۔
یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ یہ تمام امور ”ظلم“ کے مفہوم میں جمع ہیں کیونکہ اس لفظ کے وسیع مفہوم میں ہر قسم کا انحراف اور اشیاء، اعمال، ثفات اور عقائد کو ان کی حقیقی جگہ سے تبدیل کردینا شامل ہے ۔
لیکن بعد والی آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ ان سب چیزوں کے باوجود ”ایسا نہیں ہے کہ وہ روئے زمین پر خدا کی سزا اور عذاب سے فرار حاصل کرسکیں اور اس کی قدرت کی قلمرو سے نکل سکیں گے“( اٴُوْلٰئِکَ لَمْ یَکُونُوا مُعْجِزِینَ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔
”اسی طرح وہ خدا کے علاوہ اپنے لئے کوئی حامی ومددگار نہیں پاسکتے“( وَمَا کَانَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اٴَوْلِیَاءَ ) ۔
آخر میں ان کی سنگین سزا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے: ان کا عذاب کئی گُنا ہوجائے گا (یُضَاعَفُ لَھُمَ الْعَذَابُ) ۔ کیونکہ وہ خود بھی گمراہ، گناہگار اور تباہکار تھے اور دوسرے کو بھی انہی راہوں کی طرف کھینچتے تھے، اس بناء پر وہ اپنے گناہ کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائیں گے اور دوسرں کے گناہوں کا بھی (جبکہ ان دوسرے گناہ کرنے والوں کی سزا میں بھی کمی نہیں ہوگی) ۔
اس مفہوم پر قرآن کی دوسری آیات شاہد ہیں ، مثلاً :( وَلَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَاَثْقَالاً مَعَ اَثْقَالِهِمْ )
روزِ قیامت وہ اپنے گناہوں کا بوجھ اور ان کے ساتھ دوسرے بوجھ اور گناہ اپنے دوش پر اٹھائیں گے ۔ (عنکبوت/ ۱۳)
نیز بہت سی روایا ت میں ہے کہ جو شخص کسی بُری سنت کی بنیاد رکھے گا اس بُری سنت پر عمل کرنے والے تمام لوگوں کا ”عذر“ اورگناہ اس کے کھاتے میں لکھا جائے اور اسی طرح جو شخص کسی اچھی نیت سنت کی بنیاد رکھے گا اس پر عمل کرنے والے لوگوں کی جزا کے برابر ثواب اس کے لئے لکھا جائے گا ۔
آیت کے آخر میں ان کی بدبختی کی اصل بنیاد کا ذکر یوں کیا گیا ہے: ان کے پاس سننے والا کان ہے نہ دیکھنے والی آنکھ( مَا کَانُوا یَسْتَطِیعُونَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوا یُبْصِرُونَ ) ۔ در حقیقت جب یہ دونوں وسائل حقائق کو سمجھنے سے قاصر ہوجاتے ہیں تو وہ خود بھی گمراہی میں گرجاتے ہیں اور دوسروں کوبھی گمراہی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں کیونکہ کھلی آنکھ اور گوشِ شنوا کے بغیر حق وحقیقت کو نہیں سمجھا جاسکتا ۔
یہ امر توجہ طلب ہے کہ اس جملے میں ہے کہ وہ (حق بات) سننے کی طاقت نہیں رکھتے، یہ تعبیر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے لئے حق باتوں کا سننا اس قدر بوجھل ہے کہ گویا وہ اسے سننے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، یہ تعبیر بعینہ ایسے ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ عاشق اپنے معشوق کی برائی نہیں سن سکتا ۔
واضح ہے کہ حقائق فہمی کی اس طرح سے طاقت نہ ہونا، اس کی سخت ہٹ دھرمی اور حق دشمنی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب ان کی مسئولیت ختم ہوگئی ہے، اصطلاح میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ وہی چیز ہے جس کے اسباب انھوں نے خود مہیّاکیے ہیں جبکہ و ہ طاقت رکھتے تھے کہ اس حالت کو اپنے سے دُور رکھیں کیونکہ سبب پر قدرت رکھنا مسبب پر قدرت رکھنے کے مترادف ہے ۔
بعد والی آیت میں ان کی غلط مساعی کو ایک ہی جملہ میں بیان کیا گیا ہے: یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے وجود کا سرمایہ گنوا بیٹھے اور خسارے میں رہے( اٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَهُمْ ) ۔ اور یہ عظیم ترین گھاٹا ہے جو انسان کو دامن گیر ہوسکتا ہے وہ اپنی ہستی ہی گنوا بیٹھے ۔
اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: ”انھوں نے جھوٹے معبودوں سے دل لگالیا ہے ’لیکن آخر کا ریہ سب بناوٹی معبود گم ہوگئے اور ان کی نظر سے محو ہوگئے“( وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ )
زیر بحث آخری آیت میں ان کے انجام کے بارے میں یقینی اور آخری حکم کو قطعی صورت میں اس طرح سے بیان کیا گیا ہے: ناچار وہ آخرت کے گھر میں سب سے زیادہ نقصان میں ہوں گے( لَاجَرَمَ اٴَنَّهُمْ فِی الْآخِرَةِ هُمَ الْاٴَخْسَرُونَ ) ۔ کیونکہ وہ دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان سے بھی محروم ہوگئے ہیں ۔ اپنے انسانی وجود کا تمام سرمایہ گنوا بیٹھے ہیں اور اس حالت میں اپنا بارِ مسئولیت بھی اٹھائے ہوئے ہیں اور دوسروں کی ذمہ داری بھی اٹھائے ہوئے ہیں ۔
”جرم“ (بروزن ”حرم“) اصل میں درخت سے پھل چننے کے معنی میں ہے (جیسا کہ مفردات میں راغب نے ذکر کیا ہے) بعد ازاں یہ لفظ ہر قسم کے اکتساب اور تحصیل امر کے لئے استعمال ہونے لگا اور نامناسب کسب کا مفہوم پیدا ہوگیا، اسی لئے گناہ کو جرم کہا جاتا ہے لیکن جب یہ لفظ ”لا“ کے ساتھ کسی جملے کی ابتداء میں ”لاجرم“ کی صورت میں آئے تو پھر یہ معنی دیتا ہے کہ ”کوئی چیز اس امر کی نہیں روک سکتی“ اسی لئے ”لاجرم“ ناچار ”یقیناً“ اور ”مسلماً کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (غور کیجئے گا) ۔
____________________
۱۔ یہ جو بعض مفسّرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ اس جملے سے مراد اُن لوگوں کو جواب دینا ہے جو کہتے ہیں کہ پیغمبر الله تعالیٰ پر افتراء باندھتا ہے، بہت بعید ہے کیونکہ پہلے والے اور بعد کی آیات اس ترتیب سے مناسبت رکھتیں بلکہ مناسب یہی ہے کہ یہ کفار کی طرف اشارہ ہے ۔
۲۔ ”عوج“ کا معنی کجی اور ٹیڑھ پن ہے، اس سلسلے میں جلد۶ صفحہ۱۶۱ (اردو ترجمہ) پر ہم تشریح کرچکے ہیں ، ضمنی طور پر توجہ رہے کہ ”یبعغونھا“ کی ضمیر سبیل کی طرف لوٹتی ہے جو مؤنث مجازی ہے یا یہ طریقہ اور جادہ کے معنی میں ہے جو مؤنث لفظی ہیں سورہ یوسف کی آیت ۱۰۸ میں ہے:قُل هٰذِهِ سَبِیلِیْ اَدْعُو اِلَی اللهِ
آیات ۲۳،۲۴
۲۳( إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَاٴَخْبَتُوا إِلیٰ رَبِّهِمْ اٴُوْلٰئِکَ اٴَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ )
۲۴( مَثَلُ الْفَرِیقَیْنِ کَالْاٴَعْمَی وَالْاٴَصَمِّ وَالْبَصِیرِ وَالسَّمِیعِ هَلْ یَسْتَوِیَانِ مَثَلًا اٴَفَلَاتَذَکَّرُونَ )
ترجمہ
۲۳ ۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے اورجو خدا کے سامنے خاضع اور تسلیم تھے اصحابِ جنت ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔
۲۴ ۔ ان دو گروہوں (منکرین اور مومنین) کی حالت ”اندھوں اور بہروں “ اور ”دیکھنے اور سننے والوں “ کی سی ہے ۔ کیا یہ دونوں گروہ ایک جیسے ہوسکتے ہیں ، کیا تم فکر نہیں کرتے ہو۔
تفسیر
گزشتہ آیات میں وحی الٰہی کے ایک گروہ کی حالت بیان کی گئی تھی، یہ دو آیات ان کے مقابل سچّے مومنین کی حالت بیان کررہی ہیں ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال انجام دیئے اور خدا کے سامنے خاضع اور تسلیم رہے اور اس کے عدول پر مطمئن رہے وہ اصحابِ جنت ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے( إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَاٴَخْبَتُوا إِلیٰ رَبِّهِمْ اٴُوْلٰئِکَ اٴَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِیهَا خَالِدُونَ ) ۔
دو قابلِ توجہ نکات
۱ ۔ تین مربوط حقائق:
ایمان، عملِ صالح اور دعوتِ حق کے سامنے سرتسلیم خم، در اصل تین ایسے حقائق ہیں جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں کیونکہ عملِ صالح شجر ایمان کا ثمر ہے، وہ ایمان جس کا ثمرہ عمل صالح نہ ہو ایسا کمزور اور بے وقعت ہوتا ہے کہ جو کسی شمار میں نہیں لایا جاسکتا، اسی طرح سرِتسلیم خم اور پروردگار کے وعدوں پر اطمینان ایسا مسئلہ ہے جو ایمان اور عملِ صالح کے آثار میں سے نہیں ہے کیونکہ صحیح اعتقاد اور پاک عمل ہی انسان کی جان اور روح ہیں ان بلند صفات وملکات کے پیدا ہونے کا سرچشمہ ہے ۔
۲۔ ”( اٴَخْبَتُوا ) “ کا مفہوم :
”( اٴَخْبَتُوا ) “ ”اخبات“ کے مادہ سے ہے اس کی اصل ”خبت“ (بروزن ”ثبت“ )ہے جس کے معنی ہیں صاف اور وسیع زمین جس میں آرام و اطمینان سے چل پھر سکتا ہے، اسی بناء پر یہ مادہ اطمینان کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور خضوع وتسلیم کے معنی میں بھی آیا ہے کیونکہ ایسی زمین چلنے پھرنے کے لئے بھی اطمینان بخش ہے اور خود چلنے والوں کے سامنے خاضع اور تسلیم بھی ہے ۔
اسی بناء پر جملہ ”( اٴَخْبَتُوا إِلیٰ رَبِّهِمْ ) “ ہوسکتا ہے مندرجہ ذیل متن میں سے کسی ایک معنی میں ہو اگرچہ تینوں معانی ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں ہے:۔
۱ ۔ سچّے مومنین خدا کے سامنے خاضع ہیں ۔
۲ ۔ وہ اپنے پروردگار کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں ۔
۳ ۔ وہ خدا کے وعدوں پر اطمینان رکھتے ہیں ۔
ہر صورت میں مومنین کی ایک عالی ترین صفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس کا اثر ان کی تمام زندگی میں منعکس ہوتا ہے ۔
یہ امر جاذب نظر ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں ہے کہ آپعليهالسلام کے اصحاب میں سے ایک شخص نے عرض کیا کہ ہمارے درمیان کلیب نامی ایک شخص ہے، آپعليهالسلام سے مروی جو بھی حدیث اس تک پہنچے وہ فوراً کہتاہے کہ مَیں اس کے سامنے تسلیم ہوں ، اس لئے کہ اس کانام ”کلیب تسلیم“ رکھ دیا ہے ۔
امامعليهالسلام نے فرمایا: اس پر خدا کی رحمت ہو، پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ تسلیم کسے کہتے ہیں ، ہم خاموش رہے تو فرمایا: خدا کی قسم یہ وہی ”اخبات“ ہے جو خدا کے کلام ”الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَاٴَخْبَتُوا إِلیٰ رَبِّهِمْ “ میں آیا ہے ۔(۱)
بعد والی آیت میں خدا اس گروہ کی حالت کو ایک واضح اور زندہ مثال کے ساتھ یان کرتے ہوئے کہتا ہے: ان دو گروہوں کی حالت، نابینا اور بہرے اور بینا اور سننے والے“ کی سی ہے( مَثَلُ الْفَرِیقَیْنِ کَالْاٴَعْمَی وَالْاٴَصَمِّ وَالْبَصِیرِ وَالسَّمِیعِ ) ۔
کیا یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے مساوی ہیں( هَلْ یَسْتَوِیَانِ مَثَلًا ) کیا تم تذکر نہیں کرتے اور غور وفکر نہیں کرتے( اٴَفَلَاتَذَکَّرُونَ ) ۔
جیسا کہ علم معانی میں آیا ہے کہ ہمیشہ حقائق عقلی کو مجسم کرنے اور عمومی سطح پر ان کی وضاحت وصراحت کے لئے معقولات کو محسوسات سے تشبیہ دیتے ہیں ، قرآن نے اس طریقہ کا زیادہ استعمال کیا ہے اور بہت سے حساس اور پُر اہمیت مسائل کو واضح اور خوبصورت مثالوں سے استفادہ کرتے ہوئے حقائق کو عالی ترین صورت میں بیان کیا ہے، مندرجہ بالا بیان بھی اس قسم کا ہے کیونکہ مؤثر ترین وسیلہ حِسّی حقائق کی شناخت کے لئے مادہ وطبیعت میں آنکھ اور کان ہیں ، اسی بناء پر یہ باور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ افراد جو آنکھ اور کان سے مکمل طور پر مثلاً مادر زاد صورت میں بے بہرہ ہوں کسی چیز کا اس جہانِ طبیعت میں صحیح طور پر ادراک حاصل کرلیں ، وہ مسلماً ایک مکمل بے خبری کے عالم میں زندی بسر کریں گے ، اسی طرح وہ افراد جو ہٹ دھرمی، حق دشمنی، تعصب، خود خواہی اور خود پرستی کے چنگل میں گرفتار ہونے کی وجہ سے حقیقت میں آنکھ اور کان گنوا بیٹھے ہیں وہ ہرگز عالم غیب سے مربوط حقائق، ایمان کے اثرات، لذّتِ عبادتِ خداوندی اور اس کے فرمان کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کی عظمت کا ادراک نہیں کرسکتے، ایسے افراد اندھوں ، بہروں کی مانند ہیں جو گھٹا ٹوپ اندھیرے اور موت کی خاموشی میں زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ مومن دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان سے ہر حرکت کو دیکھتے ہیں اور ہر صدا کوسنتے ہیں اور اس کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اپنا راستہ سعادت آفرین راہ کی طرف اختیار کرلیتے ہیں ۔
____________________
۱۔ تفسیر برہان: ج۲، ص۱۱۶.
آیات ۲۵،۲۶،۲۷،۲۸
۲۵( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا نُوحًا إِلیٰ قَوْمِهِ إِنِّی لَکُمْ نَذِیرٌ مُبِینٌ )
۲۶( اٴَنْ لَاتَعْبُدُوا إِلاَّ اللهَ إِنِّی اٴَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اٴَلِیمٍ )
۲۷( فَقَالَ الْمَلَاٴُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرَاکَ إِلاَّ بَشَرًا مِثْلَنَا وَمَا نَرَاکَ اتَّبَعَکَ إِلاَّ الَّذِینَ هُمْ اٴَرَاذِلُنَا بَادِی الرَّاٴْیِ وَمَا نَریٰ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّکُمْ کَاذِبِینَ )
۲۸( قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَآتَانِی رَحْمَةً مِنْ عِنْدِهِ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ اٴَنُلْزِمُکُمُوهَا وَاٴَنْتُمْ لَهَا کَارِهُونَ )
رجمہ
۲۵ ۔ ہم نے نوح کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا (پہلی مرتبہ اس نے اُن سے کہا) مَیں تمھارے لئے واضح ڈرانے والا ہوں
۲۶ ۔ (میری دعوت یہ ہے کہ) سوائے الله کے (جو واحد یکتا خدا ہے ) کسی کی عبادت نہ کرو مَیں تم پر دردناک دن والے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔
۲۷ ۔ اس کی قوم کے کافر سرداروں نے (جواب میں ) کہا: ہم تو تجھے صرف اپنے جیسا بشر پاتے ہیں اور وہ لوگ جنھوں نے تیری پیروی کی ہے انھیں ہم سوائے سادہ لوح پست لوگوں کے نہیں پاتے اور تمھارے لئے کوئی فضیلت اپنی نسبت نہیں دیکھتے بلکہ تمھیں دروغ گو خیال کرتے ہیں ۔
۲۸ ۔ (نوح نے) کہا: میں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہوں اور اس نے اپنی طرف سے مجھے رحمت عطا کی ہے جو تم پر مخفی ہو (پھر بھی تم میری رسالت کا انکار کروگے) کیا مَیں تمھیں واضح امر قبول کرنے پر مجبور کرسکتا ہوں جبکہ تم آمادہ نہیں ہو۔
حضرت نوحعليهالسلام کی قوم کی ہلا دینے والی سرگزشت
جیسا کہ ہم نے سورہ کی ابتداء میں بیان کیا ہے اس سورہ میں افکار کو بیدار کرنے اور زندگی کے حقائق کی طرف متوجہ کرنے اور تبہکاریوں کی بُری سرنوشت کیطرف توجہ دلانے اور کامیابی اور موفقیت کی راہ بیان کرنے کے لئے گزشتہ انبیاء کے تاریخ کے اہم حصّے بیان ہوئے ۔
سب سے پہلے اولوالعزم پیغمبر حضرت نوحعليهالسلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور ۲۶ آیات میں ان کی تاریخ کے اساسی اور بنیادی نکات کی ہلادینے والی شکل میں تشریح کی گئی ہے، اس میں شک نہیں کہ حضرت نوحعليهالسلام کا قیام اور ان کے اپنے زمانے کے متکبروں کے ساتھ شدید اور مسلسل جہاد اور ان کے بُرے انجام کی داتسان تاریخِ بشر کے فراز میں ایک نہایت اور بہت عبرت انگیز درس کی حامل ہے ۔
مندرجہ بالا آیات پہلے مرحلے میں اس عظیم دعوت کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں : ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، اس نے انھیں بتایا کہ میں واضح ڈرانے والا ہوں( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا نُوحًا إِلیٰ قَوْمِهِ إِنِّی لَکُمْ نَذِیرٌ مُبِینٌ ) ۔
انبیاء کے لفظ ”نذیر“
انبیاء ڈرانے والے بھی تھے اور خوش خبری دینے والے بھی پھر ”انذار“ (ڈرانے) کے مسئلہ پر انحصار صرف اس بناء پر کیا گیا ہے چونکہ انقلاب کی پہلی ضرب جو خطرے کے اعلان اور ڈرانے سے شروع کیا جائے کیونکہ اس کی تاثیر سوئے ہوئے اور غافل لوگوں کو بیدار کرنے میں بشارت کی نسبت زیادہ ہے، اصولی طور پر جب تک انسان کوئی بڑا خطرہ محسوس نہ کرے اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتا اور اسی بناء پر انبیاء کے انذار اور خطرے کے اعالان کو تازیانہ کی شکل میں گمراہیوں کی بے درد روحوں پر پڑتے تھے کہ جو شخص بھی حرکت کی طاقت رکھتا وہ حرکت میں آجاتا تھا نیز اسی بناء پر قرآن کی بہت سی آیات میں (مثلاً سورہ حج ۴۹ ، شعراء ۱۱۵ ، عنکبوت ۵۰ ، فاطر ۴۲ ، ص ۷۰ ، احقاف ۹ ، ذاریات ۵۰ ، اور دیگر آیات میں ) ہر جگہ دعوتِ انبیاء کو بیان کرتے وقت لفظ ”نذیر“ (ڈرانے والے) استعمال کیا گیا ہے ۔
بعدوالی آیات پہلی ضرب کے بعد اپنی رسالت کے مضمون کو صرف ایک جملہ میں بطور خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: میرا پیغام یہ ہے کہ ”الله“ کے علاوہ کسی دوسرے کی پرستش نہ کرو( اٴَنْ لَاتَعْبُدُوا إِلاَّ اللهَ ) ۔ پھر بلافاصلہ اس کے پیچھے اسی مسئلہ انذار اور اعلامِ خطر کا تکرار کرتے ہوئے کہتا ہے: مَیں تم پر دردناک دن سے ڈرتا ہوں (ا( ِٕنِّی اٴَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اٴَلِیمٍ ) ۔(۱)
اصل میں الله (خدائے یکتا ویگانہ) کی توحید اور عبادت ہی تمام انبیاء کی دعوت کی بنیاد ہے اور اسی بناء پر تمام انبیاء کے حالات میں جیسا کہ اس سورہ کی دوسری آیت اور سورہ یوسف کی آیت ۴۰ اور سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۲۳ میں بھی آیا ہے یہی تعبیر نظر آتی ہے کہ وہ اپنی دعوت کا خلاصہ توحید کو قرار دیتے تھے ۔
سچ مچ اگر تمام افراد اور معاشرہ الله کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کریں اور طرح طرح کے بنائے ہوئے بتوں کے سامنے چاہے بیرونی بت ہوں یا اندرونی، خود خواہی، ہَوا وہوس، شہوت وثروت، مقام ومنزلت، جاہ وجلال، عورت واولاد ہوں سرِتسلیم خم نہ کریں تو کسی قسم کی خرابی اور فساد معاشروں میں پیدا نہ ہو۔ اگر انسان خود کاسہ توانانی کو ایک بت کی صورت میں نہ لائے اور اس کے سامنے سجدہ نہ کرے اور اس کی فرمانبرداری نہ کرے تو استبداد اور استعمار وجود میں نہ آئے اور نہ ہی اس کے بُرے آثار، ذلّت اور اسارت پیش آئیں اور نہ ہی وابستگی اور طفیلی ہونے کی بنیاد پڑے، تمام بدبختیاں جو افراد اور معاشروں کودامنگیر ہوں اسی الله کی پرستش سے انحراف اور بتوں اور طاغوتوں کی پرستش کی طرف رخ کرنے کی وجہ سے ہیں ۔
اب ہم دیکھیں گے کہ پہلا درِّعمل اس زمانے کے طاغوتوں ، خود سروں اور صاحبان زروزور کا اس عظیم دعوت اور واضع اعلام کے مقابلے میں کیا تھا، مسلماً سوائے کچھ بیہودہ اور جھوٹے عذر بہانوں اور بے بنیاد استدلالوں کے جو کہ ہر زمانے کے جابروں کا طریقہ کار ہے ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا ۔
انھوں نے حضرتنوحعليهالسلام کی دعوت کے تین جواب دیئے:
۱ ۔ قومِ نوحعليهالسلام کے سردار اور سرمایہ دار کافر تھے، انھوں نے کہا ہم تو تجھے صرف اپنے جیسا انسان دیکھتے ہیں( فَقَالَ الْمَلَاٴُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرَاکَ إِلاَّ بَشَرًا مِثْلَنَا ) ۔ حالانکہ الله کی رسالت اور پیغام توفرشتوں کو اپنے کاندھوں پر لینا چاہیے، نہ کہ ہم جیسے انسانوں کو، اس گمان کے ساتھ کہ انسان کا مقام فرشتوں سے نیچے ہے یا انسان کی ضرورت کو فرشتہ انسان سے بہتر جانتا ہے، پھر ہم یہاں لفظ ”ملاء“ کاسامنا کررہے ہیں یعنی صاحبانِ اقتدار، سرمایہ دار اور ایسے افراد جن پر لوگوں کی نظریں جمتی ہیں لیکن وہ اندر سے خالی ہوتے ہیں ، یہ لوگ ہر معاشرے میں فساد اور تباہی کا اصلی سرچشمہ ہوتے ہیں اور انبیاء کے مقابلے میں مخالفت کا پرچم بلند کرتے ہیں ۔
۲ ۔ انھوں نے کہا: اے نوح! ہم تیرے گرد وپیش اور ان کے درمیان کہ جنھوں نے تیری پیروی کی ہے سوائے چند پست، ناآگاہ اور بے خبر تھوڑے سن وسال کے نوجوانوں کے کہ جنھوں نے مسائل کی دیکھ بھال نہیں کی کسی کو نہیں دیکھتے( وَمَا نَرَاکَ اتَّبَعَکَ إِلاَّ الَّذِینَ هُمْ اٴَرَاذِلُنَا بَادِی الرَّاٴْیِ ) ۔
”باراذل“ ”ارذل“ (بروزن اھرم“) کی جمع ہے اور وہ خود ”رذل“ کی جمع ہے جو پست وحقیر موجود کے معنی میں ہے چاہے وہ انسان ہے یا کوئی اور چیز۔
البتہ اس میں شک نہیں کہ حضرت نوحعليهالسلام کی طرف مائل ہونے والے اور ان پر ایمان لانے والے لوگ نہ اراذل تھے اور نہ ہی حقیر وپست، تاہم اس بناء پر چونکہ انبیاء ہر چیز سے پہلے مستضعفین کے حمایت اور مستکبرین سے مبارزہ اور جہاد کرتے تھے لہٰذا پہلا گروہ جو انبیاء کی دعوت پر لبیک کہتا وہی محروم، فقیر اور کم آمدنی والے لوگ ہوتے تھے، جو مستکبرین کی نگاہ میں جو کہ شخصیت کامعیار دولت اور اقتدار کو سمجھتے تھے پست اور حقیر افراد شمار ہوتے تھے اور یہ جو انھیں ”بادی الراٴی “ (ظاہر بین بے مطالعہ اوروہ شخص جو پہلی نظر میں کسی چیز کا عاشق اور خواہاں ہوتا ہے) کا نام دیا ہے حقیقت میں اس بناء پر ہے کہ وہ ہٹ دھرمی اور غیرمناسب تعصبات جو دوسروں میں تھے وہ نہیں رکھتے تھے، بلکہ زیادہ تر پاک دل نوجوان تھے جو حقیقت کی پہلی کرن کو جو اُن کے دل پر پڑتی جلدی محسوس کرلیتے تھے، وہ اس بیداری کے ساتھ جو کہ حق کی تلاش سے تلاش سے حاصل ہوتی ہے صداقت کی نشانیاں انبیاء کے اقوال وافعال کا ادراک کرلیتے تھے ۔
۳ ۔ اُن کا آخری اعتراض یہ تھا کہ قطع نظر اس سے کہ تُو انسان ہے نہ کہ فرشتہ، علاوہ ازیں تجھ پر ایمان لانے والے نشاندہی کرتے ہیں کہ تیری دعوت کے مشتملات صحیح نہیں ہیں ، اصولی طور پر تم ہم پر کسی قسم کی برتری نہیں رکھتے کہ ہم اس بناء پر تیری پیروی کریں( وَمَا نَریٰ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ ) ۔ لہٰذا ہم گمان کرتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو( بَلْ نَظُنُّکُمْ کَاذِبِینَ ) ۔
____________________
۱۔ باوجودیکہ دردناک عذاب ک صفت ہے لیکن زیرِ نظر آیت میں یوم کی صفت قرار دی گئی ہے یہ ایک قسم کی لطیف اسنادحجازی ہے جو مختلف زبانوں کی ادبیات میں آتی ہے فارسی میں بھی ہم کہتے ہیں ”فلاں دن بڑا دردناک تھا“ حالانکہ خود دن دردناک نہیں تھا بلکہ اس کے حوادث دردناک تھے ۔
حضرت نوح کے جوابات
بعد والی آیات میں ان بہانہ جُو اور فسانہ ساز افراد کو حضرت نوحعليهالسلام کی طرف سے دیئے گئے جوابات ذکر کئے گئے ہیں ، پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے قوم! مَیں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل اور معجزہ کا حامل ہوں اور اس نے اس رسالت وپیغام کی انجام دہی کی وجہ سے اپنی رحمت میرے شامل حال کی ہے اور یہ امر عدم توجہ کی وجہ سے تم سے مخفی رہ گیا توکیا پھر بھی تم میری رسالت کا انکار کرسکتے ہو اور میری پیروی سے دست بردار ہوسکتے ہو( قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَآتَانِی رَحْمَةً مِنْ عِنْدِهِ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ ) ۔
اس بارے میں کہ یہ جواب قوم نوحعليهالسلام کے مستکبرین کے تین سوالوں میں سے کس کے ساتھ مربوط ہے مفسرین کا بہت اختلاف ہے لیک غور وخوض سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ جامع جواب تینوں اعتراضات کا جواب بن سکتا ہے کیونکہ ان کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ تم انسان ہو، آپعليهالسلام نے فرمایا: یہ بجا ہے کہ میں تمھاری طرح کا ہی انسان ہوں لیکن الله تعالیٰ کی رحمت میرے شامل حال ہوئی ہے اور اس نے مجھے کھلی اور واضح نشانیاں دی ہیں اس بناء پر میری انسانیت اس عظیم رسالت سے مانع نہیں ہوسکتی اور یہ ضروری نہیں کہ میں فرشتہ ہوتا ۔
ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ تمھارے پیروکار بے فکر اور ظاہر بین افراد ہیں ، آپعليهالسلام نے فرمایا: تم بے فکر اور سمجھ ہو جو اس واضح حقیقت کا انکار کرتے ہو حالانکہ میرے پاس ایسے دلائل موجود ہیں جو ہر حقیقت کے متلاشی انسان کے لئے کافی ہیں اور اسے قائل کرسکتے ہیں مگر تم جیسے افراد جو غرور، خود خواہی، تکبر اور جاہ طلبی کا پردہ اوڑھے ہوئے ہیں ان کی حقیقت بین آنکھ بیکار ہوچکی ہے ۔
ان کا تیسرا اعتراض یہ تھا کہ وہ کہتے تھے: ہم کوئی برتری اور فضیلت تمھارے لئے اور اپنی نسبت نہیں پاتے، آپعليهالسلام نے فرمایا اس سے بالاتر کونسی برتری ہے کہ خدا نے اپنی رحمت میرے شاملِ حال کی ہے اور واضح مدارک ودلائل میرے اختیار میں دیئے ہیں ، اس بناء پر ایسی کوئی وجہ نہیں کہ تم مجھے جھوٹا خیال کرو کیونکہ میری گفتگو کی نشانیاں ظاہر ہیں ۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: کیا مَیں تمھیں اس ظاہر بظاہر بینہ کے قبول کرنے پر مجبور کرسکتا ہوں جبکہ تم خود اس پر آمادہ نہیں ہو اور اسے قبول کرنا بلکہ اس کے بارے میں غوروفکر کرنا بھی پسند نہیں کرتے ہو( اٴَنُلْزِمُکُمُوهَا وَاٴَنْتُمْ لَهَا کَارِهُونَ )
آیات ۲۹،۳۰،۳۱
۲۹( وَیَاقَوْمِ لَااٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ مَالًا إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی اللهِ وَمَا اٴَنَا بِطَارِدِ الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ وَلَکِنِّی اٴَرَاکُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ
) ۳۰( وَیَاقَوْمِ مَنْ یَنصُرُنِی مِنْ اللهِ إِنْ طَرَدْتُهُمْ اٴَفَلَاتَذَکَّرُونَ )
۳۱( وَلَااٴَقُولُ لَکُمْ عِندِی خَزَائِنُ اللهِ وَلَااٴَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَااٴَقُولُ إِنِّی مَلَکٌ وَلَااٴَقُولُ لِلَّذِینَ تَزْدَرِی اٴَعْیُنُکُمْ لَنْ یُؤْتِیَهُمْ اللهُ خَیْرًا اللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا فِی اٴَنفُسِهِمْ إِنِّی إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِینَ )
ترجمہ
۲۹ ۔اے قوم نوح! مَیں اس دعوت کے بدلے تم سے کچھ نہیں چاہتا میرا اجر صرف الله پر ہے اور مَیں ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں (تمھاری وجہ سے) دھتکارتا نہیں ہوں کیونکہ وہ اپنے پروردگار کی ملاقات کریں گے (اور قیامت کی عدالت میں میرے مقابل تمھیں پائیں گے) لیکن تمھیں میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جاہل ہو۔
۳۰ ۔اے قوم! اگر میں انھیں دھتکار دوں تو خدا (کے عذاب) کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا، کیا تم سوچتے نہیں ہو۔
۳۱ ۔ میں تمھیں کبھی نہیں کہوں گا کہ خدائی خزانے میرے پاس ہیں ، نہ مَیں کہتا ہوں کہ مَیں غیب کا علم رکھتا ہوں ، نہ یہ کہ میں فرشتہ ہوں اور مَیں یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ لوگ جو تمھاری نگاہ میں ذلیل وخوار نظر آتے ہیں خدا انھیں خیر نہیں دے گا، خدا ان کے دلوں سے زیادہ آگاہ ہے (مَیں اگر اس کے باوجود دُور کردوں ) تو اس صورت میں مَیں ظالموں میں سے ہوں گا ۔
صاحبِ ایمان افراد کودھتکارا نہیں جاسکتا
ہم نے گزشتہ آیات میں دیکھا ہے کہ خود غرض اور بہانہ جُو قوم حضرت نوحعليهالسلام پر مختلف اعتراضات کرتی تھی جن کا انھوں نے نہایت عمدہ اور واضح جواب دیا، زیرِ بحث آیات میں بھی ان کی بہانہ تراشیوں کا جواب دیا گیا ہے ۔
پہلی آیت میں نبوّت کی ایک دلیل بیان کی گئی ہے جو حضرت نوحعليهالسلام نے تاریک دل قوم کو روشنی بخشنے کے لئے پیش کی تھی، ارشاد ہوتا ہے: اے قوم! مَیں اس دعوت کے بدلے تم سے مال وثروت اور اجر وجزاء کا مطالبہ نہیں کرتا( وَیَاقَوْمِ لَااٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ مَالًا ) ۔ میرا اجر وجزاء صرف الله پر ہے وہ خدا کہ جس نے مجھ نبوّت کے ساتھ مبعوث کیا ہے اور مخلوق کو دعوت دینے پر مامور کیا ہے( إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی اللهِ ) ۔
یہ امر اچھی طرح سے نشاندہی کرتا ہے کہ اس پروگرام سے میرا کوئی مادی ہدف نہیں ، مَیں سوائے خدا کے معنوی وروحانی اجر کے کچھ بھی نہیں دیکھتا ہوں اور کوئی جھوٹا مدعی ایسا نہیں ہوسکتا جو اس قسم کے سردرد، ناراحتی اور بے آرامی کو یوں ہی اپنے لئے خرید لے اور یہ سچّے رہبروں کی پہچان کے لئے ایک میزان ہے، اُن جھوٹے موقع پرستوں کے مقابلے میں جو کہ جب بھی قدم اٹھاتے ہیں بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس سے ان کا کوئی نہ کوئی مادی ہدف اور مقصد ہوتا ہے ۔
اس کے بعد ان کے جواب میں جنھیں اصرار تھا کہ حضرت نوحعليهالسلام غریب وحقیر اور کم افراد کو جو آپ پر ایمان لائے تھے خود سے دُور کردیں حضرت نوحعليهالسلام حتمی طور پر (فیصلہ سناتے ہوئے) کہتے ہیں : مَیں ہرگز ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں نہیں دھتکاروں گا( وَمَا اٴَنَا بِطَارِدِ الَّذِینَ آمَنُوا ) ۔ کیونکہ وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کریں گے اور دوسرے جہان میں اس کے سامنے میرے ساتھ ہوں گے( إِنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ ) ۔(۱)
آیت کے آخر میں انھیں بتاگیا ہے: مَیں سمجھتا ہوں کہ تم جاہل ہو( وَلَکِنِّی اٴَرَاکُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ ) ۔
اس سے بڑھ کر جہالت کیا ہوگی کہ فضیلت کو پرکھنے کی میزان تم گنوا بیٹھے ہو، آج تمھاری نظر دولت، مالی وجاہت، ظاہری مقام ومنصب اور سن وسال معیارِ فضیلت بن چکے ہیں اور صاحبان ایمان افراد جو تہی دست اور برہنہ پا ہیں وہ تمھارے گمان میں بارگاہ خداوندی سے دُور ہیں ، یہ تمھاری بڑی غلط فہمی ہے اور یہ تمھاری جہالت کی نشانی ہے ۔
علاوہ ازیں تم اپنی جہالت ونادانی کی بناء پر سمجھتے ہو کہ پیغمبر کوفرشتہ ہونا چاہیے حالانکہ انسانوں کا رہبر انہی کی نوع سے ہونا چاہیے تاکہ وہ ان کی ضروریات ، مشکلات اور تکالیف کو محسوس کرسکے اور سمجھ سکے ۔
بعد والی آیت میں مزید وضاحت کے لئے ان سے کہا گیا: اے قوم! اگر مَیں ان باایمان لوگوں کو دھتکاردوں تو خدا کے سامنے (اس عظیم عدالت میں بلکہ اُس جہان میں ) کون میری مدد کرے گا( وَیَاقَوْمِ مَنْ یَنصُرُنِی مِنْ اللهِ إِنْ طَرَدْتُهُمْ ) ۔
صالح اورمومن افراد کو دھتکارنا کوئی معمولی کام نہیں ہے، وہ کل قیامت کے دن میرے خلاف ہوں گے اور وہاں کوئی شخص میرا دفاع نہیں کرسکے گا، نیز ممکن ہے عذابِ الٰہی اس جہان میں بھی مجھے دامن گیر ہو، کیا تم کچھ سوچتے سمجھتے نہیں ہو کہ تمھیں ہو کہ مَیں جو کچھ کررہا ہوں عین حقیقت ہے( اٴَفَلَاتَذَکَّرُونَ ) ۔
”تفکر“ اور ”نذکر“ میں یہ فرق ہے کہ تفکر در حقیقت کسی چیز کی شناخت کے لئے ہوتا ہے چاہے اس کے بارے میں ہمیں پہلے سے کچھ پتہ نہ ہو لیکن ”تذکر“ (یادآوری) اس موقع پر بولا جاتا ہے جب انسان اس امر کے بارے میں زیرِ بحث مسائل بھی اسی نوعیت کے تھے کہ انسان اپنی فطرت اور وجدان کی طرف توجہ کرنے سے انھیں سمجھ سکتا ہے لیکن ان غرور، تعصب، خود پرستی اور غفلت نے ان کے چہروں پر پردہ ڈال دیا تھا ۔
اپنی قوم کے مہمل اعتراضات کے جواب میں حضرت نوحعليهالسلام آخری بات یہ کہتے ہیں کہ اگر تم خیال کرتے ہو اور توقع رکھتے ہو کہ وحی اور اعجاز کے سوا مَیں تم پر کوئی امتیاز یا برتری رکھوں تو یہ غلط ہے ، مَیں صراحت سے کہنا چاہتا ہوں کہ ”میں نہ تم سے کہتا ہوں کہ خدائی خزانے میرے قبضے میں ہیں اور نہ ہر کام جب چاہوں انجام دے سکتا ہوں “( وَلَااٴَقُولُ لَکُمْ عِندِی خَزَائِنُ اللهِ ) ۔ ”نہ میں غیب سے آگاہی کا دعویٰ کرتا ہوں “( وَلَااٴَعْلَمُ الْغَیْبَ ) ۔ ”اور نہ مَیں کہتا ہوں کہ مَیں فرشتہ ہوں( وَلَااٴَقُولُ إِنِّی مَلَکٌ ) ۔
ایسے بڑے اور جُھوٹے دعوے جُھوٹے مدعیوں کے ساتھ مخصوص ہیں اور ایک سچا پیغمبر کبھی ایسے دعوے نہیں کرے گا کیونکہ خدائی خزانے اور علمِ غیب صرف خدا کی پاک ذات کے اختیار میں ہیں اورفرشتہ ہونا بھی ان بشری احساسات سے مناسب نہیں رکھتا، لہٰذا جو شخص ان تین میں سے کوئی ایک دعویٰ کرے یا یہ سب دعوے کرے تو یہ اس کے جُھوٹے ہونے کی دلیل ہے ۔
پیغمبر اسلام کے بارے میں سورہ انعام کی آیت ۵۰ میں ایسی تعبیر ملتی ہے جہاں فرمایا گیا ہے:
( قُلْ لَااٴَقُولُ لَکُمْ عِندِی خَزَائِنُ اللهِ وَلَااٴَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَااٴَقُولُ لَکُمْ إِنِّی مَلَکٌ إِنْ اٴَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحیٰ إِلَیَّ )
مَیں نہیں کہتا کہ خدا کے خزانے میرے پاس ہیں ، نہ یہ کہتا ہوں کہ مَیں علم غیب رکھتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ مَیں فرشتہ ہوں ، مَیں صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی ہوتی ہے ۔
اس آیت میں امتیازِ پیغمبر کو وحی میں منحصر کرنا اور مندرجہ بالا تینوں امور کی نفی کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت نوحعليهالسلام سے مربوط آیات میں بھی ایسای امتیاز مفہوم کلام میں مخفی ہے اگرچہ صراحت سے بیان نہیں ہوا ۔
آیت کے آخر میں دوبارہ مستضعفین کا ذکر کرتے ہوئے تاکیداً کہا گیا ہے ”میں ہرگز ان افراد کے بارے میں جو تمھاری نگاہ میں حقیر ہیں ، نہیں کہہ سکتا کہ خدا انھیں کوئی جزائے خیر نہیں دے گا( وَلَااٴَقُولُ لِلَّذِینَ تَزْدَرِی اٴَعْیُنُکُمْ لَنْ یُؤْتِیَهُمْ اللهُ خَیْرًا ) ۔ بلکہ اس کے برعکس اس جہان کی خیر انہی کے لئے اگرچہ ان کا ہاتھ مال ودولت سے خالی ہے، یہ تو تم ہو جنھوں نے خام خیالی کی وجہ سے خیر کو مال ومقام یا سن وسال میں منحصر سمجھ رکھا ہے اور تم حقیقت سے بالکل بے خبر ہو۔
اور بالفرض اگر تمھاری بات سچی ہو اور وہ پشت اور اوباش ہوں تو خدا ان کے باطن اور نیتوں سے آگاہ ہے( اللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا فِی اٴَنفُسِهِمْ ) ۔
مَیں تو ان میں ایمان وصداقت کے سوا کچھ نہیں پاتا، لہٰذا میری ذمہ داری ہے کہ مَیں انھیں قبول کرلوں ، مَیں تو ظاہر پر مامور ہوں اور بندہ شناس خدا ہے ۔
اور اگر مَیں اس کے علاوہ کچھ کروں تو یقیناً ظالموں میں سے ہوجاوں گا( إِنِّی إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِینَ ) ۔
آخری جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ وہ آیت کے سارے مضمون سے مربوط ہو یعنی اگر میں علمِ غیب جاننے، فرشتہ ہونے یا خزائن کا مالک ہونے کا دعویٰ کروں یا ایمان لانے والوں کو دھتکاردوں تو خدا کی بارگاہ میں اور وجدان کی نظر میں مَیں ظالموں کی صف میں داخل ہوں گا ۔
چند قابل توجہ نکات
۱ ۔ علمِ غیب اور خدا کے خاص بندے
جیسا کہ ہم نے بارہا اشارہ کیا ہے غیب سے مطلق آگاہی اور بغیر کسی قید وشرط سے واقفیت خدا کے ساتھ مخصوص ہے لیکن وہ جس قدر مصلحت سمجھتا ہے یہ علم وآگہی انبیاء اور اولیاء کے اختیار میں دے دیتا ہے، جیساکہ سورہ جن کی آیت ۲۶ اور ۲۷ میں ہے:( عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَایُظْهِرُ عَلیٰ غَیْبِهِ اٴَحَدًا، إِلاَّ مَنْ ارْتَضَی مِنْ رَسُولٍ )
خدا تمام پوشیدہ امور سے آگاہ ہے اور کسی کو اپنے علمِ غیب سے آگانہ نہیں کرتا مگر اس رسول کو جسے وہ چاہتا ہے ۔
اس بناء پر زیرِ بحث آیات میں جو انبیاء سے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے اور دیگر آیات وروایات جن میں انبیاء(علیه السلام)، یا آئمہعليهالسلام کی طرف بعض غیوب کی نسبت دی گئی ہے کوئی تضاد نہیں ہے، اسرارِ غیب سے بالذات گواہی خدا کے ساتھ مخصوص ہے اور دوسروں کے پاس جو کچھ ہے وہ تعلیمِ خداوندی کے ذریعہ ہے، لہٰذا وہ ارادہ الٰہی کے مطابق اور اسی حد تک ہے ۔(۲)
____________________
۱۔ یہ احتمال بھی اس جملہ کی تفسیر میں ہے کہ حضرت نوحعليهالسلام کی مراد یہ ہو کہ اگر مجھ پر ایمان لانے والے باطن میں دروغ گو اور جھوٹے ہوئے تو خدا قیامت تک ان سے حساب کرے گا، لیکن پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے ۔
۲۔ مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی پانچویں جلد صفحہ۲۰۶ (اردو ترجمہ) اور ساتویں جلد صفحہ۵۲ (اردو ترجمہ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔
۲ ۔ معیارِ فضیلت
ان آیات میں ہم دوبارہ اس حقیقت کو دیکھ رہے ہیں کہ اہلِ اقتدار، سرمایہ دار اور دنیا پرست مادی لوگ جو تمام چیزوں کو اپنے افکار کے دریچے سے اسی مادی حوالے سے دیکھتے ہیں ان کی نظر کسی مقام و احترام دولت ومنصب کے حوالے سے ہوتا ہے لہٰذا یہ بات کوئی باعثِ تعجب نہیں کہ وہ تہی دست سچّے مومنین کو ”اراذل“ (پست) قرار دیں اور ان کی طرف حقارت سے دیکھیں ۔یہ امر قومِ نوح ہی میں منحصر نہیں کہ وہ مستضعفین مومنین خصوصاً انقلابی نوجوانوں کو جو آپ کے گرد وپیش تھے بے وقوف، کوتاہ فکر اور بے وقعت سمجھتے تھے بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ یہی منطق دوسرے انبیاء، خصوصاً پیغمبر اسلام اور پہلے مومنین کے بارے میں موجود تھی، آج بھی ہم یہی صورت دیکھتے ہیں ، فرعون صفت مستکبرین اپنی شیطانی طاقت کا سہارا لیتے ہوئے سچّے مومنین کو ایسے ہی متہم کرتے ہیں ، وہ تاریخ کو دُہراتے ہوئے اپنے مخالفین کو ایسے القابات ہی سے یاد کرتے ہیں ۔
لیکن ایک بُرا ماحول ایک خدائی انقلاب کے ذریعے پاک ہوجائے تو شخصیت شناسی کے ایسے معیار بھی دیگر موہوم چیزوں کے ساتھ تاریخ کے کوڑادان میں پھینک دیئے جاتے ہیں اور ان کی جگہ اصلی اور انسانی معیار لے لیتے ہیں ، وہ معیار کہ جن پر زندگی کا متن برقرار ہے، جن پر عینی حقائق استوار ہیں اور جن سے ایک پاک، آباد اور آزاد معاشرہ استفادہ کرتا ہے مثلاً ایمان، علم، آگہی، ایثار، تقویٰ، پاکدامنی، شہادت، شجاعت، تجربہ، بیداری، مدیریت اور نظم ونسق کی صلاحیت وغیرہ۔
۳ ۔ ایک اشکال کی وضاحت
صاحب المنار کی طرح بعض مفسّرین اس آیت تک پہنچے ہیں تو وہ ان لوگوں کی طرف جو غیر خدا کے لئے علمِ غیب کے قائل ہیں یا ان سے اپنی مشکلات کا حل چاہتے ہیں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مختصراً کہتے ہیں کہ یہ دو چیزیں (علمِ غیب اور خزائنِ الٰہی) ایسی ہیں جن کی قرآن نے انبیاء سے نفی کی ہے لیکن مسلمانوں اور اہلِ کتاب میں سے بدعتی اولیاء اور قدیسین کے لئے ان امور کے قائل ہیں ۔(۱)
____________________
۱-اگر موصوف کی مراد یہ ہے کہ وہ ان سے ہر قسم کے علمِ غیب کی نفی کرے چاہے وہ تعلیمِ الٰہی سے ہو تو یہ بات قرآن مجید کی صرح نصوص کے خلاف ہے اور اگر مقصود انبیاء اور اولیاء سے توسل کی اس معنی میں نفی ہے کہ وہ خدا سے ہماری مشکلات کے حل کے لئے دعا اور خواہش کریں تو یہ بات آیا قرآن اور شیعہ سنّی مسلمہ احادیث کے خلاف ہے ۔
آیات ۳۲،۳۳،۳۴،۳۵،
۳۲( قَالُوا یَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَاٴَکْثَرْتَ جِدَالَنَا فَاٴْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ کُنتَ مِنَ الصَّادِقِینَ )
۳۳( قَالَ إِنَّمَا یَاٴْتِیکُمْ بِهِ اللهُ إِنْ شَاءَ وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ )
۳۴( وَلَایَنفَعُکُمْ نُصْحِی إِنْ اٴَرَدْتُ اٴَنْ اٴَنصَحَ لَکُمْ إِنْ کَانَ اللهُ یُرِیدُ اٴَنْ یُغْوِیَکُمْ هُوَ رَبُّکُمْ وَإِلَیْهِ تُرْجَعُونَ )
۳۵( اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ إِنْ افْتَرَیْتُهُ فَعَلَیَّ إِجْرَامِی وَاٴَنَا بَرِیءٌ مِمَّا تُجْرِمُونَ )
ترجمہ
۳۲ ۔ انھوں نے کہا: اے نوح! تُو نے ہم سے بہت بحث وتکرار کی اور بڑی باتیں کیں اب (بس کرو) اگر سچ کہتے ہو تو جس (عذابِ الٰہی) کا ہم سے وعدہ کرتے ہو اسے لے او۔
۳۳ ۔ (نوح نے جواباً کہا: اگر خدا نے ارادہ کرلیا تو لے آئے گا پھر تم میں فرار کی طاقت نہ ہوگی ۔
۳۴ ۔ (لیکن کیا فائدہ کہ) جب خدا چاہے تمھیں (تمھارے گناہوں کی وجہ سے) گمراہ کردے اور مَیں تمھیں نصیحت کروں تو پھر تمھیں کوئی فائدہ نہ دے گی، وہ تمھارا پروردگار ہے اس کی طرف لوٹ کر جاوگے ۔
۳۵ ۔ (مشرکین) کہتے ہیں : وہ (محمد) خدا کی طرف ان باتوں کی غلط نسبت دیتا ہے ۔کہہ دو: اگر میں نے تمھیں اپنی طرف سے گھڑا ہے اور اس کی طرف نسبت دیتا ہوں تو اس کا گناہ میرے ذمہ ہے لیکن میں تمھارے گناہوں سے بیزار ہوں ۔
کہاں ہے عذاب؟
ان آیات میں حضرت نوحعليهالسلام اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی باقی گفتگو کی طرف اشارہ ہوا ہے، پہلی آیت میں قومِ نوحعليهالسلام کی زبانی نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے کہا: اے نوح! تم نے یہ سب بحث وتکرار اور مجادلہ کیا ہے اب بس کرو تم نے ہم سے بہت باتیں کی ہیں اب بحث مباحثے کی گنجائش نہیں رہی( قَالُوا یَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَاٴَکْثَرْتَ جِدَالَنَا ) ۔
اگر سچّے ہو تو خدائی عذابوں ں کے بارے میں جو سخت وعدے تم نے ہم سے کئے تھے انھیں پورا کر دکھاو اور وہ عذاب لے او( فَاٴْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ کُنتَ مِنَ الصَّادِقِینَ ) ۔
یہ بعینہ اس طرح سے ہے کہ ایک شخص یا کچھ اشخاص کسی مسئلے کے بارے میں ہم سے بات کریں اور ضمناً ہمیں دھمکیاں بھی دیں اور کہیں کہ اب زیادہ باتیں بند کرو اور جو کچھ تم کرسکتے ہو کرلو اور دیر نہ کرو، اس طرف اشارے کرتے ہوئے کہ ہم نہ تو تمھارے دلائل کو کچھ سمجھتے ہیں ، نہ تمھاری دھمکیوں سے ڈرتے ہیں اور نہ اس سے زیادہ ہم تمھاری بات سن سکتے ہیں ۔
انبیاءِ الٰہی کے لطف ومحبت اور ان کی وہ گفتگو جو صاف وشفاف اور خوشگوار پانی کی طرح ہوتی ہے اس طرزِ عمل کا انتخاب انتہائی ہٹ دھرمی، تعصب اور جہالت کی ترجمانی کرتا ہے ۔
قومِ نوح کی اس گفتگو سے ضمناً یہ بھی اچھی طرح سے واضح ہوجاتا ہے کہ آپ نے ان کی ہدایت کے لئے بہت طویل مدت تک کوشش کی اور انھیں ارشاد وہدایت کے لئے آپعليهالسلام نے ہر موقع سے استفادہ کیا، آپعليهالسلام نے اس قدر کوشش کی کہ اس گمراہ قوم نے آپعليهالسلام کی گفتار اور ارشادات پر اکتاہٹ کا اظہار کیا ۔
حضرت نوحعليهالسلام کے بارے میں قرآن کریم میں جو دیگر آیات آئی ہیں ان سے بھی یہ حقیقت اچھی طرح سے واضح ہوتی ہے، سورہ نوح آیات ۵ تا ۱۳ میں یہ مفہوم مبسوط طریقے سے بیان ہوا ہے:
( قَالَ رَبِّ إِنِّی دَعَوْتُ قَوْمِی لَیْلاً وَنَهَارًا فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَائِی إِلاَّ فِرَارًا وَإِنِّی کُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا اٴَصَابِعَهُمْ فِی آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَاٴَصَرُّوا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا ثُمَّ إِنِّی دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ثُمَّ إِنِّی اٴَعْلَنتُ لَهُمْ وَاٴَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا )
پروردگارا! مَیں نے اپنی قوم کو دن رات تیری طرف بلایا لیکن میری اس دعوت پر ایمان میں فرار کے علاوہ کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوا، میں نے جب انھیں پکارا تاکہ تو انھیں بخش دے تو انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے اوپر لپیٹ لئے، انھوں نے مخالفت پر اصرار کیا اور تکبر وخود سری کا مظاہرہ کیا، میں نے پھر انھیں علی الاعلان اور پوشیدہ طور پر تیری طرف دعوت دی، مَیں نے پیہم اصرار کیا مگر انھوں نے کسی بھی طرح میری باتوں کی طرف کان نہ دھرے ۔
زیرِ بحث آیت میں لفظ ”جَادَلْتَنَا “ آیا ہے جو ”مجادلہ“ کے مادہ سے لیا گیا ہے، یہ اصل میں طناب اور رسّی کو مضبوطی سے بٹنے اور پیچ دینے کے معنی میں ہے، اسی بناپر شکاری باز کو ”اجدل“ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام پرندوں سے زیادہ پیچ وخم کھانے والا ہے، بعد ازاں یہ لفظ بحث اور گفتگو میں مدِمقابل کے پیچ وخم کھانے کے لئے استعمال ہُوا ہے ۔
”جدال“ ، ”مراء‘ ‘ اور ”حجاج“ (بروزن ”لجاج“) اگرچہ معنوی طور ایک دوسرے کے مشابہ ہیں لیکن جیسا کہ بعض محققین نے کہا ہے کہ ”مراء‘ ‘ میں ایک طرح کی مذمت پائی جاتی ہے کیونکہ یہ لفظ ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جب انسان کسی باطل مسئلے پر ڈٹ جائے اور استدلال کرے لیکن ”جدال“ اور ”مجادلہ“ میں یہ مفہوم لازمی طور پر نہیں ہوتا ۔ باقی رہا ”جدال“ اور ”حجاج“ کا فرق تو وہ یہ ہے کہ ”جدال“ مدِّمقابل کو اس کے عقیدے کی دعوت دینے اور اس پر استدلال پیش کرنے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے ۔
حضرت نوح نے اس بے اعتنائی، ہٹ دھرمی اور بیہودگی کا یہ مختصر جواب دیا: خدا ہی چاہے تو ان دھمکیوں اور عذاب کے وعدوں کو پورا کرسکتا ہے( قَالَ إِنَّمَا یَاٴْتِیکُمْ بِهِ اللهُ إِنْ شَاءَ ) ۔
بہرحال یہ چیز میرے اختیار سے باہر ہے اور میرے قبضہ قدرت میں نہیں ہے، مَیں تو اس کا فرستادہ ہوں اور اس کے حکم کے سامنے تسلیم ہوں لہٰذا سزا اور عذاب کی خواہش مجھ سے نہ کرو لیکن یہ جان لو کہ جب عذاب کا حکم آپہنچا تو پھر ”تم اس کے احاطہ قدرت سے نکل نہیں سکتے اور کسی پناہ گاہ کی طرف فرار نہیں کرسکتے“( وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ ) ۔
”معجزہ“ ’اعجاز“ مادہ سے دوسرے کو عاجز وناتواں کرنے کے معنی میں ہے، یہ لفظ بعض اوقات ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جب انسان دوسرے کے کام میں رکاوٹ پیدا کردے اور اسے روکے اور اسے عاجز وناتواں کردے اور کبھی آگ بڑھ کر مدِمقابل کو شکست دے دے یا اپنے آپ کو محفوظ کرلے، یہ تمام مدِمقابل کو عاجز وناتواں کرنے کے مختلف طریقے ہیں ، مندرجہ بالا آیت میں ان تمام معانی کا احتمال ہے کیونکہ یہ معانی ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں ۔ یعنی تم کسی صورت میں اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے ۔
اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: اگر خدا تمھارے گناہوں اور جسمانی آلودگیوں کی وجہ سے تمھیں گمراہ کرنا چاہے تو میری نصیحت تمھیں ہرگز کوئی فائدہ نہیں دے گی چاہے مَیں تمھیں جتنی بھی نصیحت کرلوں( وَلَایَنفَعُکُمْ نُصْحِی إِنْ اٴَرَدْتُ اٴَنْ اٴَنصَحَ لَکُمْ إِنْ کَانَ اللهُ یُرِیدُ اٴَنْ یُغْوِیَکُمْ ) ۔ کیونکہ ”وہ تمھارا پردرگار ہے اور تم اس کی طرف پلٹ کر جاوگے“ اور تمھاری تمام تر ہستی اور وجود اس کے قبضہ قدرت میں ہے( هُوَ رَبُّکُمْ وَإِلَیْهِ تُرْجَعُونَ ) ۔
ایک سوال اور اس کا جواب
اس آیت کے مطالعہ سے فوراً یہ سوال سامنے آتا ہے اور بہت سے مفسّرین نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ خدا کسی کے گمراہ کرنے کا ارادہ کرے، کیا ایسا ہو تو یہ جبر واکراہ کی دلیل نہیں ہوگی اور کیا یہ جو بنیاد ہے کہ انسان ارادہ واختیار میں آزاد ہے اسے قبول کرلینے کے بعد ایسی چیز قابلِ قبول ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ مندرجہ بالا مباحث میں واضح ہوچکا ہے اورہم نے بارہا اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بعض اوقات انسان مسلسل کچھ اعمال بجالاتا ہے جس کا نتیجہ دائمی گمراہی اور ہمیشہ کے انحراف اور حق کی طرف لوٹنے کی صورت میں نکلتا ہے، ہمیشہ کی ہٹ دھرمی، گناہوں پر دائمی اصرار اور حق طلب سچے رہبروں کی دشمنی، انسانی فکر پر ایسا ضخیم پردہ ڈال دیتی ہے کہ انسان میں آفتابِ حق وحقیقت کی شعاع دیکھنے کی تھوڑی سی صلاحیت بھی نہیں رہتی، چونکہ یہ حالت ایسے اعمال کا نتیجہ ہے کہ جو انسان خود انجام دیتا ہے لہٰذا یہ کسی طرح بھی جبر واکراہ کی دلیل نہیں ہوسکتی بلکہ یہ عین اختیار ہے جو کچھ خدا سے مربوط ہے یہ ہے کہ اس نے ایسے اعمال میں ایسی تاثیر قرار دی ہے، قرآن مجید کی آیات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں ، اس سلسلے میں ہم نے سورہ بقرہ کی آیت ۷ کے ذیل میں اور دیگر مواقع پر اشارہ کیا ہے ۔
زیرِ بحث آخری آیت میں ایک بات جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہے، یہ ان مباحث کی تاکید کے لئے ہے جو حضرت نوحعليهالسلام کے واقعہ کے سلسلے میں گزشتہ اور آئندہ آیات میں موجود ہیں ، ارشاد ہوتا ہے : دشمن کہتے ہیں کہ یہ بات اس (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلّم) نے خود سے گھڑ کر خدا کی منسوب کردی ہے( اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاهُ ) ۔ ان کے جواب میں کہہ دو کہ اگر مَیں نے یہ اپنی طرف سے گھڑی ہے اور خدا کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے تو اس کا گناہ مجھ پر ہے( قُلْ إِنْ افْتَرَیْتُهُ فَعَلَیَّ إِجْرَامِی ) ۔ لیکن مَیں تمھارے گناہوں سے بیزار ہوں( وَاٴَنَا بَرِیءٌ مِمَّا تُجْرِمُونَ )
۱ ۔ ”( إِجْرَام ) “کا مفہوم:
”( إِجْرَام ) “کا مادہ ”جرم“(بروزن ”جہل“) ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ کچے پھل توڑنے کے معنی میں ہے، بعد ازاں ہر غیر خوش آئندہ کام کے لئے بولا جانے لگا، اسی طرح کسی کو گناہ پر آمادہ کرنے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، چونکہ انسانی ذاتی اور فطری طور پر روحانیت اور پاکیزگی سے رشتہ رکھتا ہے لہٰذا جب وہ گناہ انجام دیتا ہو تو وہ اس خدائی رشتہ سے جدا ہوجاتا ہے ۔
۲ ۔ آخری آیت کس کے بارے میں ہے؟
زیرِ نظر آخری آیت کے بارے میں بعض نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ یہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ خود حضرت نوحعليهالسلام سے مربوط ہے کیونکہ یہ سب آیات انہی سے مربوط ہیں اور بعد میں آنے والی آیات بھی انہی سے متعلق ہیں لہٰذا زیادہ مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت بھی حضرت نوحعليهالسلام سے مربوط ہے اور ان کے نزدیک اس کا جملہ معترضہ ہونا خلاف ظاہر ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ:
اوّلاً: تقریباً اس طرح کی تعبیر انہی الفاظ میں سورہ احقاف کی آیت ۸ میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بارے میں آئی ہے ۔
ثانیاً: ان آیات میں جو کچھ حضرت نوحعليهالسلام کے بارے میں آیا ہے وہ سب صیغہ غائب کی صورت میں ہے جبکہ زیرِ بحث آیت مخاطب کی صورت میں ہے (اور مسئلہ ”التفات“ یعنی غیبت سے خطاب کی طرفانتقال بھی خلاف ظاہر ہے) اب اگر ہم اس آیت کو حضرت نوحعليهالسلام کے بارے میں قرار دیں تو لفظ ”یقولون“جو فعل مضارع کی صورت میں ہے اور اسی طرح ”قل“جو فعل امر کی صورت میں ہے سب تقدیر کے محتاج ہوں گے ۔
ثالثاً: ایک حدیث جو تفسیر برہان میں اس آیت کے ذیل میں حضرت امام باقر علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی گئی ہے میں ہے کہ یہ آیت کفارِمکہ کے مقابلے میں نازل ہوئی تھی ۔
ان تمام دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مربوط ہے، کفار آپ پر ناروا تہمتیں باندھتے تھے یہ آیت آپ کی جانب سے ان کے لئے جواب کے طور پر نازل ہوئی ہے ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ جملہ معترضہ کا یہ معنی نہیں کہ کوئی ایسی بات ذکر ہو جو اصل گفتگو سے کوئی کلام تاکید اور تائید کرتے ہیں ، ان سے وقتی طور پر رشتہ سخن منقطع ہوجاتا ہے، مخاطب کو ایک طرح سے موقع ملتا ہے اور گفتگو کو بھی لطافتِ روح اور تازگی میسّر آتی ہے، یہ بات حتمی ہے کہ جملہ معترضہ کبھی بھی ہر لحاظ سے کلام سے بیگانہ نہیں ہوسکتا ورنہ یہ بات اصولِ فصاحت وبلاغت کے خلاف ہوجائے گی حالانکہ فصیح وبلیغ کلام میں ہمیشہ جملہ ہائے معترضہ پائے جاتے ہیں ۔
۳ ۔ ایک وضاحت:
زیرِ نظر آخری آیت کا مطالعہ کرتے ہوئے ہوسکتا ہے یہ اعتراض سامنے آئے کہ یہ بات کس طرح منطقی وعقلی ہوسکتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم یا حضرت نوح علیہ السلام کفار سے کہیں کہ یہ بات اگر جھوٹ ہے تو اس کا گناہ میری گردن پر ہے، کیا جھوٹ بولنے کا گناہ قبول کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی گفتگو سچی ہے اور واقع کے مطابق ہے اور لوگ ذمہ دار ہیں کہ ان کی اطاعت اور پیروی کریں ؟
اس کی وضاحت یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں غور وفکر کرنے سے ہمیں اس سوال کا جواب مل سکتا ہے، درحقیقت وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہماری یہ باتیں جو بہت سے عقلی دلائل پر مشتمل ہیں بالفرضِ محال ہم خدا کی طرف سے نہ بھی ہوں تو اس کا گناہ ہماری گردن پر ہے لیکن عقلی استدلال اپنی جگہ پر ثابت ہیں اور تم ان کی مخالفت سے ہمیشہ گناہ میں مبتلا ہوگے، ایسا گناہ جو مسلسل اور دائمی ہے (توجہ رہے کہ ”تجرمون“ صیغہ مضارع ہے جو عام طور پر استمرار اور تسلسل پر دلالت کرتا ہے ۔
آیات ۳۶،۳۷،۳۸،۳۹
۳۶( وَاٴُوحِیَ إِلیٰ نُوحٍ اٴَنَّهُ لَنْ یُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ إِلاَّ مَنْ قَدْ آمَنَ فَلَاتَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوا یَفْعَلُونَ ) ۔
۳۷( وَاصْنَعْ الْفُلْکَ بِاٴَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا وَلَاتُخَاطِبْنِی فِی الَّذِینَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ ) ۔
۳۸( وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٴٌ مِنْ قَوْمِهِ سَخِرُوا مِنْهُ قَالَ إِنْ تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُونَ ) ۔
۳۹( فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یَاٴْتِیهِ عَذَابٌ یُخْزِیهِ وَیَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُقِیمٌ ) ۔
ترجمہ
۳۶ ۔ نوح کو وحی ہوئی ہے کہ سوائے ان لوگوں کے کہ جو (اب تک )ایمان لا چکے ہیں اب تمہاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا لہٰذا جو کام وہ کرتے ہیں ان سے غمگین نہ ہو ۔
۳۷ ۔ اور (اب) ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ اور ان کے بارے میں شفاعت نہ کرو جنھوں نے ظلم کیا ہے کیونکہ وہ غرق ہوکرر ہیں گے ۔
۳۸ ۔ وہ کشتی بنانے میں مشغول تھا اور جب اس کی قوم کے بڑوں میں سے کوئی گروہ اس کے قریب سے گزرتا تو اس کا مذاق اڑاتا (لیکن نوح نے )کہا : اگر ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی تمہارا اسی طرح مذاق اڑائیں گے ۔
۳۹ ۔ عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس خوار کرنے والا عذاب آتا ہے اور ہمیشہ کی سزا اسے ملتی ہے ۔
معاشرے کو پاک کرنے کا مرحلہ
ان آیات میں حضرت نوحعليهالسلام کی سرگزشت بیان ہوئی ہے، اس کے درحقیقت مختلف مراحل ہیں ، ان میں سے متکبرین کے خلاف حضرت نوحعليهالسلام کے قیام کے ایک دور سے مربوط ہے، گذشتہ آیات میں حضرت نوح (علیه السلام)کی مسلسل اور پر عزم دعوت کے مرحلے کا تذکرہ تھا، جس کے لئے انھوں نے تمام تر وسائل سے استفادہ کیا، یہ مرحلہ ایک طویل مدت پر مشتمل تھا، اس میں ایک چھوٹا سا گروہ آپعليهالسلام پر ایمان لایا، یہ گروہ ویسے تو مختصر سا تھا لیکن کیفیت اور استقامت کے لحاظ سے بہت عظیم تھا ۔
زیر بحث آیات میں اس قیام کے دوسرے مرحلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یہ مرحلہ دور تبلیغ کے اختتام کا تھا جس میں خدا کی طرف سے معاشرے کو برے لوگوں سے پاک کرنے کی تیاری کی جانا تھی ۔
پہلی آیت میں ہے: نوحعليهالسلام کو وحی ہوئی کہ جو افراد ایمان لاچکے ہیں ان کے علاوہ تیری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا( وَاٴُوحِیَ إِلیٰ نُوحٍ اٴَنَّهُ لَنْ یُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ إِلاَّ مَنْ قَدْ آمَنَ ) ۔
یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ صفیں بالکل جدا ہوچکی ہیں ، اب ایمان اور اور اصلاح کی دعوت کا کوئی فائدہ نہیں اور اب معاشرے کی پاکیزگی اور آخری انقلاب کے لئے تیار ہوجانا چاہیئے ۔
آیت کے آخر میں حضرت نوحعليهالسلام اور دلجوئی کے لئے فرمایاگیا ہے:اب جب معاملہ یوں ہے تو جو کام تم انجام دے رہے ہو اس پر کوئی حزن وملال نہ کرو( فَلَاتَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوا یَفْعَلُونَ ) ۔
اس آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اسرار غیبت کا کچھ حصہ جہاں ضروری ہوتا ہے اپنے پیغمبر کے اختیار میں دے دیتا ہے جیسا کہ حضرت نوحعليهالسلام کو خبر دی گئی کہ آیندہ ان میں سے کوئی اور شخص ایمان نہیں لائے گا ۔
بہرحال ان گنہگار اور ہٹ دھرم لوگوں کو سزا ملنی چاہیئے، ایسی سزا جو عالم ہستی کو ان کے وجود کی گندگی سے پاک کردے اور مومنین کو ہمیشہ کے لئے ان کے چنگل سے نجات دے دے، ان کے غرق ہونے کا حکم صادر ہوچکا ہے لیکن ہر چیز کے لئے کچھ وسائل و اسباب ہوتے ہیں لہٰذا نوحعليهالسلام کو چاہیئے کہ وہ سچے مومنین بچنے کے لئے ایک مناسب کشتی بنائیں تاکہ ایک تو مومنین کشتی بنے کی اس مدت میں اپنے طریق کار میں پختہ تر ہوجائیں اور دوسروں کے لئے بھی کافی اتمام حجت ہوجائے لہٰذا” ہم نے نوح کو حکم دیا کہ وہ ہمارے حضور میں اورہمارے فرمان کے مطابق کشتی بنائیں “( وَاصْنَعْ الْفُلْکَ بِاٴَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا ) ۔
لفظ”اعیننا“ (ہماری آنکھوں کے سامنے) سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس سلسلے میں تمہاری سب جد وجہد، مساعی اور تمام کا وشیں ہمارے حضور میں اور ہمارے سامنے ہے لہٰذا اطمینان اور راحت فکر کے ساتھ اپنا کام جاری رکھو، یہ فطری امر ہے کہ یہ احساس کہ خدا حاضر وناظر ہے اور محافظ و نگران ہے ایک تو انسان کو قوت و توانائی بخشتا ہے اور دوسرے احساس ذمہ داری کو فروغ دیتاہے ۔
لفظ”وحینا“ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت نوحعليهالسلام کشتی بنانے کی کیفیت اور اس کی شکل وصورت کی تشکیل بھی حکم خدا سے سیکھ رہے تھے اور ایسا ہی ہونا چاہیئے تھا کیونکہ حضرت نوحعليهالسلام آنے والے طوفان کی کیفیت ووسعت سے آگاہ نہ تھے کہ وہ کشتی اس مناسبت سے بناتے اور یہ وحی الٰہی ہی تھی جو بہترین کیفیتوں کے انتخاب میں ان کی مدد گار تھی ۔
آیت کے آخرمیں حضرت نوحعليهالسلام کو خبردار کیا گیا ہے کہ آج کے بعد ”ظالم افراد کے لئے شفاعت اور معافی کا تقاضا نہ کرنا کویں کہ انھیں عذاب دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے اور وہ حتماًغرق ہوں گے“( وَلَاتُخَاطِبْنِی فِی الَّذِینَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ ) ۔
اس جملے سے اچھی طرح سے واضح ہوتا ہے کہ سب افراد کے لئے شفاعت ممکن نہیں ہے بلکہ اس کی کچھ شرائط ہیں ، یہ شرائط جس میں موجودنہ ہوں اس کے لئے خدا کا پیغمبر بھی بھی شفاعت اور معافی کے تقاضے کا حق نہی رکھتا، اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد اول (ص ۱۸۷ تا ص ۲۰۴ ، اردوترجمہ)کی طرف رجوع کریں ۔
اب چند جملے قوم نوح کے بارے میں بھی سن لیں ، وہ بجائے اس کے کہ ایک لمحہ کے لئے حضرت نوحعليهالسلام کی دعوت کو غور سے سنتے، اسے سنجیدگی سے لیتے اور کم از کم انھیں یہ احتمال بھی ہوتا کہ ہوسکتا ہے کہ حضرت نوحعليهالسلام کے بار بار اصرار اور تکرار دعوت کا سرچشمہ وحی الٰہی ہی ہواورسکتا ہے طوفان اور عذاب کا معاملہ حتمی اور یقینی ہی ہو الٹا انھوں نے تمام متکبر اور مغرور افراد کی عادت کا مظاہرہ کیا اور تمسخر واستہزاء کا اسلسلہ جاری رکھا، ان کی قوم کا کوئی گروہ جب کبھی ان کے نزدیک سے گزرتا اور حضرت نوحعليهالسلام اور ان کے اصحاب کو لکڑیاں اور میخیں وغیرہ مہیا کرتے دیکھتا اور کشتی بنانے میں انھیں سرگرم عمل پاتا تو تمسخر اڑاتااور پھبتیاں کستے ہوئے گزرجاتا( وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٴٌ مِنْ قَوْمِهِ سَخِرُوا مِنْهُ ) ۔
”ملاء“ ان اشراف اوربڑے لوگوں کو کہتے ہیں جو خود پسند ہوتے ہیں اور ہر مقام پر مستضعفین کا تمسخر اڑاتے ہیں اور انھیں پست و حقیر مخلوق سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس سرمایہ اور اقتدار نہیں ہوتا ، بس یہ نہیں کہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ ان کے افکار کتنے ہی بلندہوں ، ان کا مکتب کتنا ہی پائیدار اور بااصول اور ان کے اعمال کتنے ہی چچے تلے ہوں ان کے خیال میں وہ حقارت کے قابل ہیں اسی بنا پر پند ونصیحت، تنبیہ اور خطرے کی گھنٹیاں ان پر اثر انداز نہیں ہوتی، ان کا علاج فقط دردناک عذاب الٰہی ہے ۔
کہتے ہیں کہ قوم نوح کے اشراف کے مختلف گروہوں کے ہر دستے نے تمسخر اور تفریح وطبع کے لئے اپنا ہی ایک انداز اختیار کررکھا تھا ۔
ایک کہتا: اے نوح! دعوائے پیغمبری کا کاروبار نہیں چل سکا تو بڑھئی ہوگئے ہو ۔
دوسرا کہتا : کشتی بنا رہے ہو؟ بڑا اچھا ہے البتہ اس کے لئے دریا بھی بناؤ ، کبھی کوئی عقلمند دیکھا ہے جو خشکی کے بیچ میں کشتی بنائے؟
شاید ان میں سے کچھ کہتے تھے: اتنی بڑی کشتی کس لئے بنا رہے ہو، اگر کشتی بنانا ہی ہے تو ذرا چھوٹی بنالو جسے ضرورت پڑے تو دریا کی طرف لے جانا تو ممکن ہو۔
ایسی باتیں کرتے تھے اور قہقے لگاکر ہنستے ہوئے گزرجاتے تھے ، یہ باتیں گھروں میں ہوتیں ، کام کاج کے مراکز میں یہ گفتگو ہوتی گویا اب یہ بات بحثوں کا عنوان بن گئی، وہ ایک دوسرے سے حضرت نوحعليهالسلام اور ان کے پیروں کاروں کی کوتاہ فکری کے بارے میں باتیں کرتے اور کہتے: اس بوڑھے کو دیکھو، آخر عمر میں کس حالت کو جا پہنچا ہے، اب ہم سمجھے کہ اگر ہم اس کی باتوں پر ایمان نہیں لائے تو ہم نے ٹھیک ہی کیا اس کی عقل تو بالکل ٹھکانے نہیں ہے ۔
دوسری طرف حضرت نوحعليهالسلام بڑی استقامت اور پامردی سے اپنا کام بے پناہ عزم کے ساتھ جاری رکھے ہوئے تھے اور یہ ان کے ایمان کا نتیجہ تھا، وہ ان کوباطن دل کے اندھوں کی بے بنیاد باتوں سے بے نیاز اپنی پسند کے مطابق تیزی سے پیش رفت کررہے تھے اور دن بدن کشتی کا ڈھانچہ مکمل ہورہا تھا ، کبھی کبھی سر اٹھا کر ان سے یہ پر معنی بات کہتے: اگر آج تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی جلد ہی اسی طرح تمہارا مذاق اڑائیں گے( قَالَ إِنْ تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُونَ ) ، وہ دن کے جب تم طوفان کے درمیان سرگرداں ہوگئے ، سرا سیمہ ہو کر ادھر ادھر بھاگو گے اور تمھیں کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی، موجوں میں گھرے فریاد کرو گے کہ ہمیں بچالو، جی ہاں اس دن مومنین تمھارے افکار غفلت، جہالت اور بے خبری پر ہنسے گے ،”اس دن تمھیں معلوم ہوگا کہ کس کے لئے ذلیل اور رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کسی دائمی سزا دامن گیر ہوتی ہے( فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یَاٴْتِیهِ عَذَابٌ یُخْزِیهِ وَیَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُقِیم ) ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر چہ تمہاری مزاحمتیں ہمارے لئے دردناک عذاب ہیں مگر اولا تو ان مشکلات کو گوارا کرتے ہوئے ہم سربلند اور پر افتخار ہیں ثانیاً یہ مشکلات جو کچھ بھی ہیں جلد ختم ہوجائیں گی لیکن عذاب الٰہی رسوا کن بھی ہے اور ختم ہونے والا بھی نہیں اور ان دونوں کا آپس میں مقابلہ نہیں ہوسکت
چند قابل توجہ نکات
۱ ۔ معاشرے کی پاکیزگی نہ کہ انتقام:
مندرجہ بالا آیات سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ خدائی عذاب انتقامی پہلو نہیں رکھتا بلکہ نوع بشر کی پاکیزگی اور ایسے لوگوں کے خاتمے کے لئے ہے جو زندگی کے اہل نہیں ، اس طرح نیک لوگ باقی رہ جاتے ہیں ، اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک متکبر اور فاسد ومفسد قوم جس کے ایمان لانے کی اب کوئی امید نہیں ، نظام خلقت کے لحاظ سے اب جینے کا حق نہیں رکھتی اور اسے ختم ہوجا نا چاہیئے قوم نوح ایسی ہی تھی کیونکہ مندرجہ بالا آیات کہتی ہیں کہ اب جب کہ باقی لوگوں کے ایمان لانے کی امید نہیں ہے کشتی بنانے کے لئے تیار ہوجاؤ اور ظالموں کے لئے کسی قسم کا کی شفاعت اور معافی کاتقاضا نہ کرو۔
یہی صورت حال اس عظیم پیغمبر کی بد دعا اور نفرین سے بھی معلوم ہوتی ہے جو کہ سورہ نوح میں موجود ہے:
( وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَاتَذَرْ عَلَی الْاٴَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا إِنَّکَ إِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوا عِبَادَکَ وَلَایَلِدُوا إِلاَّ فَاجِرًا کَفَّارًا )
پروردگارا! ان کفار میں سے کسی ایک کو بھی زمین پر نہ رہنے دے کیونکہ اگر وہ رہ جائیں تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے بھی فاسق وفاجر اور بے ایمان کافروں کے سوا کوئی وجود میں نہیں آئے گا، (نوح، ۲۶،۲۷) ۔
اصولی طور پر کارخانہ تخلیق میں ہر موجود کسی مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے، جب کوئی موجود اپنے مقصد سے بالکل منحرف ہوجائے اور اصلاح کے تمام راستے اپنے لئے بند کرلے تو اس کا باقی رہنا بلا وجہ ہے لہٰذا اسے خواہ مخواہ ختم ہوجانا چاہیئے، بقول شاعر:
نہ طراوتی نہ برگی نہ میوہ دارم
متحیرم کہ دھقان بہ چکارہشت مارا
نہ مجھ میں تازگی ہے ، نہ مجھ پر پتے ہیں ، نہ پھول اور نہ پھل ہیں ، حیران ہوں کہ کسان نے مجھے کیوں چھوڑ رکھا ہے ۔
۲متکبرین کی نشانیاں :
خود غرض اور خود سر متکبرین ہمیشہ ان مسائل کا مذاق اڑاتے ہیں جن سے ان کی خواہشات اور ہوا وہوس پوری نہ ہوتی ہو، اسی بنا پر ان مخصوص حقائق کا تمسخر اڑانا جن کاتعلق مستضعفین کی زندگی سے ہے، ان کی زندگی کا ایک حصہ ہے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنی گناہ آلود اجتماعات میں رنگ بھرنے اور انھیں رونق بخشنے کے لئے کسی تہی دست صاحب ایمان کی تلاش میں رہتے تھے جسے تمسخر اور مضحکہ کا عنوان بنا سکیں اور اگر کسی اجتماع یا نششت کے لئے انھیں ایسے افراد نہ مل سکیں تو ان میں ایک یا کئی افراد اکوان کی عدم موجودگی میں موضوع سخن قرار دے کر مذاق اڑاتے ہیں اور ہنستے ہیں ۔
وہ اپنے آپ کو عقل کل خیال کرتے ہیں ، ان کے گمان میں ان کی بے بہا حرام دولت، ان کی لیاقت، شخصیت اور مقام کی نشانی ہے، اسی لئے وہ دوسروں کو نالائق، بے قدر اور بے وقعت سمجھتے ہیں ۔
لیکن قرآن مجید ایسے مغرور اور متکبر افراد پر نہایت سخت حملے کرتا ہے اور خاص طور پر ان کی تمسخرات کی شدید مذمت کرتا ہے ۔
مثلاً تاریخ اسلامی میں ہے :
ابوعقیل انصاری ایک صاحب ایمان شخص تھا، محنت مزدوری کرتا تھا ، غریب آدمی تھا، ایک مرتبہ وہ رات بھر جاگتا رہا اور مدینے کے کنوؤں سے پانی بھر بھر کر لوگوں کے گھروں تک پہنچاتا رہا، اس طرح اس نے مزدوری کرکے کچھ خرمے حاصل کئے، وہ خرمے وہ جنگ تبوک کے لئے تیار ہونے والے لشکر اسلام کے لئے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں لے آیا، کچھ متکبر منافق وہاں موجود تھے، وہ اس پر بہت ہنسے، اس پر یہ قرآنی آیات نازل ہوئیں اور ان پر بجلی بن کر گریں :
( الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِینَ لَایَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ )
جو راہ خدا میں مالی مدد کرنے پر اطاعت گزار مومنین کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں کہ جو تھوڑی سی مقدار سے زیادہ دینے پر دسترس نہیں رکھتے خدا ایسے لوگوں کا مذاق اڑائے گااور ان کے لئے دردناک عذاب ہے (توبہ: ۷۹)
۳ ۔ حضرت نوحعليهالسلام کی کشتی:
اس میں شک نہیں کہ کشتی نوح کوئی عام کشتی نہ تھی کیونکہ اس میں سچے مومنین کے علاوہ ہر نسل کے جانور کوبھی جگہ ملی تھی اور ایک مدت کے لئے ان انسانوں اور جانوروں کو جو خوراک درکار تھی وہ بھی اس میں موجود تھی ، ایسی لمبی چوڑی کشتی یقینا اس زمانے میں بے نظیر تھی یہ ایسی کشتی تھی جو ایسے دریا کی کوہ پیکر موجوں میں صحیح وسالم رہ سکے اور نابود نہ ہو جس کی وسعت اس دنیا جتنی ہو، اسی لئے مفسرین کی بعض روایات میں ہے کہ اس کشتی کا طول یک ہزار دوسو ذراع تھا اور عرض چھ سو ذراع تھا (ایک ذراع کی لمبائی تقریبا آدھا میٹر کے برابر ہوتی ہے) ۔
بعض اسلامی روایات میں ہے کہ ظہور طوفان سے چالیس سال پہلے قوم نوح کی عورتوں میں ایک ایسی بیماری پیدا ہوگئی تھی کہ ان ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا تھا ، یہ دراصل ان کی سزا کی تمہد تھی ۔
آیات ۴۰،۴۱،۴۲،۴۳
۴۰( حَتَّی إِذَا جَاءَ اٴَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِیهَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاٴَهْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلاَّ قَلِیلٌ )
۴۱( وَقَالَ ارْکَبُوا فِیهَا بِاِسْمِ اللهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّی لَغَفُورٌ رَحِیمٌ )
۴۲( وَهِیَ تَجْرِی بِهِمْ فِی مَوْجٍ کَالْجِبَالِ وَنَادیٰ نُوحٌ ابْنَهُ وَکَانَ فِی مَعْزِلٍ یَابُنَیَّ ارْکَبْ مَعَنَا وَلَاتَکُنْ مَعَ الْکَافِرِینَ )
۴۳( قَالَ سَآوِی إِلیٰ جَبَلٍ یَعْصِمُنِی مِنَ الْمَاءِ قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اٴَمْرِ اللهِ إِلاَّ مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِینَ ) ۔
ترجمہ
۴۰ ۔ (یہ کیفیت اسی طرح جاری تھی) یہاں تک کہ ہمارا فرمان آپہنچااور تنور جوش مارنے لگا، ہم نے (نوح سے )کہا: جانوروں کے ہر جفت (نر اورمادہ)میں سے ایک جوڑا اس (کشتی )میں اٹھالو، اسی طرح اپنے اہل کو مگر وہ کہ جن کے ہلاک ہونے کا پہلے سے وعدہ کیا جاچکا ہے (نوح کی بیوی اور ایک بیٹا)اور اسی طرح مومنین کو لیکن مختصر سے گروہ کے سوا اس پر کوئی ایمان نہیں لایا تھا ۔
۴۱ ۔اس نے کہا: اللہ کا نام لے کر اس میں سوار ہوجاؤ اور اس کے چلتے اور ٹھہرتے ہوئے وقت اسے یاد کرو اور میرا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے ۔
۴۲ ۔اور وہ انھیں پہاڑ جیسی موجوں میں گزارتا تھا، (اس وقت) نوح نے اپنے بیٹے کوجو ایک طرف کھڑا تھا پکارا: اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ ۔
۴۳ ۔اس نے کہا : میں پہاڑ کا سہارا لے لوں گا تاکہ پانی سے محفوظ رہوں ، (نوح نے) کہا: فرمان خدا کے سامنے آج کوئی بچنے والانھیں مگر وہی (بچ سکتا ہے)جس پر وہ رحم کرے ، اس وقت ایک موج ان دونوں کے درمیان حائل ہوئی اور وہ غرق ہونے والوں میں سے قرار پاپا ۔
آغاز طوفان
گذشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کس طرح حضرت نوحعليهالسلام اور سچے مومنین نے کشتی نجات بنانا شروع کی اور انھیں کیسی کیسی مشکلات آئیں اور بے ایمان مغرور اکثریت نے ان کا کس طرح ان کا تمسخر اڑایا، اس طرح تمسخراڑانے والوں نے کس طرح اپنے آپ کو اس طوفان کے لئے تیار کیا جو سطح زمین کو بے ایمان مستکبرین کے نجس وجود سے پاک کرنے والا تھا ۔
زیر بحث آیات میں اس سر گزشت کے تیسرے مرحلے کے بارے میں ہیں ، یہ آیات گویا اس ظالم قوم پر نزول عذاب کی بولتی ہوئی تصویریں ہیں ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: یہ صورت حال یونہی تھی یہاں تک کہ ہمارا حکم صادر ہوا اور عذاب کے آثار ظاہر ہونا شروع ہوگئے ، پانی تنور کے اندر سے جوش مارنے لگا( حَتَّی إِذَا جَاءَ اٴَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ ) ۔
”تنور“ (نون کی تشدید کے ساتھ) وہی معنی دیتا ہے جو آج کل فارسی زبان میں مستعمل ہے، یعنی روٹی پکانے کی جگہ۔(۱)
اس بارے میں کہ طوفان کے نزدیک ہونے سے تنور سے پانی کا جوش مارنا کیا مناسبت رکھتا ہے مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے ۔
بعض نے کہا ہے کہ تنور سے پانی کا جوش مارنا خدا کی طرف سے حضرت نوحعليهالسلام کے لئے ایک نشانی تھی تاکہ وہ اصل واقعہ کی طرف متوجہ ہوں اور اس موقع پر وہ اور ان کے اصحاب ضروری اسباب و وسائل لے کر کشتی میں سوار ہوجائیں ۔
بعض نے کہا ہے کہ یہاں ”تنور“ مجازی اور کنائی معنی میں ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ غضب الٰہی کے تنور میں جوش پیدا ہوا اور وہ شعلہ ور ہوا اور یہ تباہ کن خدائی عذاب کے نزدیک ہونے کے معنی میں ہے، ایسی تعبیریں فارسی اور عربی زبان میں استعمال ہوتی ہیں کہ شدت غضب کو آگ کے جوش مارنے اور شعلہ ور ہونے سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔
ان احتمالات میں یہ احتمال زیادہ قوی ہوتا ہے کہ یہاں ”‘تنور“ اپنے حقیقی اور مشہور معنی میں آیا ہے اور ہوسکتا ہے اس سے مراد کوئی خاص تنور بھی ہو بلکہ ممکن ہے کہ اس سے یہ نکتہ بیان کرنا مقصود ہوکہ تنور جو عام طور پر آگ کا مرکز ہے جب اس میں سے پانی جوش مارنے لگا تو حضرت نوحعليهالسلام اور ان کے اصحاب متوجہ ہوئے کہ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اورانقلاب قریب تر ہے ۔یعنی کہاں آگ اور کہاں پانی ۔
بالفاظ دیگر جب انھوں نے یہ دیکھا کہ زیرزمین پانی کی سطح اس قدر اوپر آگئی ہے کہ وہ تنور کے اندر سے جو رعام طور پر خشک، محفوظ اوراونچی جگہ بنایا جاتا ہے، جوش ماررہاہے تو وہ سمجھ گئے کہ کوئی اہم امر درپیش ہے اور قدرت کی طرف سے کسی نئے حادثے کا ظہور ہے ۔ اور یہی امر حضرت نوحعليهالسلام اور ان کے اصحاب کے لئے خطرے کا الارم تھا کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور تیار رہیں ۔
شاید غافل اور جاہل قوم نے بھی اپنے گھروں کے تنور میں پانی کو جوش مارتے دیکھا ہو بہرحال وہ ہمیشہ کی طرح خطرے کے ان پُر معنی خدائی نشانات سے آنکھ کان بند کئے گزرگئے یہاں تک کہ انھوں نے اپنے آپ کو ایک لمحہ کے لئے بھی غور وفکر کی زحمت نہ دی کہ شاید شرف تکوین میں کوئی حادثہ پوشیدہ ہو اور شاید حضرت نوحعليهالسلام جن خطرات کی خبر دیتے تھے ان میں سچائی ہو۔
اس وقت نوح کو” ہم نے حکم دیا کہ جانوروں کی ہر نوع میں سے ایک جفت (نر اور مادہ کا جوڑا) کشتی میں سوار کرلو“ تاکہ غرقاب ہوکر ان کی نسل منقطع نہ ہوجائے( قُلْنَا احْمِلْ فِیهَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ ) ، ”اور اسی طرح اپنے خاندان میں سے جن کی ہلاکت کا پہلے سے وعدہ کیا جاچکا ہے ان کے سوا باقی افراد کو سوار کرلو نیز مومنین کو کشتی میں سوار کرلو“( وَاٴَهْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ) ،” لیکن تھوڑے سے افراد کے سوا لوگ ان پر ایمان نہیں لائے تھے“،( وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلاَّ قَلِیل ) ۔
یہ آیت ایک طرف حضرت نوحعليهالسلام کی بے ایمان بیوی اور ان کے بیٹے کنعان کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کی داستان آئندہ آیات میں آئے گی کہ جنھوں نے راہ ایمان سے انحراف کیا اور گنہگاروں کا ساتھ دینے کی وجہ سے حضرت نوحعليهالسلام اپنا رشتہ توڑ لیا، وہ اس کشتی میں سوار ہونے کا حق نہیں رکھتے تھے کیونکہ اس میں سوار ہونے کی پہلی شرط ایمان تھی ۔
دوسری طرف یہ آیت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ حضرت نوحعليهالسلام نے جو اپنے دین وآئین کی تبلیغ کے لئے سالہاسال بہت طویل اور مسلسل کوشش کی اس نتیجہ بہت تھوڑے سے افراد مومنین کے سوا کچھ نہ تھا بعض روایات کے مطابق ان کی تعداد صرف اسی افراد تھی یہاں تک کہ بعض نے تو اس سے بھی کم تعداد لکھی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس عظیم پیغمبر نے کس حد تک استقامت اور پامردی کا مظاہرہ کیا ہے کہ ان میں سے ایک ایک فرد کے لئے اوسطاً کم از کم دس سال زحمت اٹھائی، اتنی زحمت تو ہم لوگ اپنی اولاد تک کی ہدایت اور نجات کے لئے نہیں اٹھاتے ۔
بہرحال حضرت نوحعليهالسلام نے جلدی سے اپنے وابستہ صاحب ایمان افراد اور اصحاب کوجمع کیا اور چونکہ طوفان اور تباہ کن خدائی عذابوں کا مرحلہ نزدیک آرہا تھا ”انھیں حکم دیا کہ خدا کے نام سے کشتی پر سوار ہوجاؤاور کشتی کے چلتے اور ٹھہرتے وقت خدا کانام زبان پر جاری کرو اور اس کی یاد میں رہو( بِاِسْمِ اللهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا ) ۔(۲)
کیوں کہا گیا کہ ہر حالت میں اس کی یاد میں رہو اور اس کی یاد اور اس کے نام سے مدد لو”اس لئے کہ میرا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے“( إِنَّ رَبِّی لَغَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔
اس نے اپنی رحمت کے تقاضے سے تم اہل ایمان بندوں کو یہ وسیلہ نجات بخشا ہے اور اپنی بخشش کے تقاضے سے تمہاری لغزشوں سے درگزر کرے گا ۔
بالآخر آخری مرحلہ آپہنچا اور اس سرکش قوم کے لئے عذاب اور سزا کا فرمان صادر ہوا تیرہ وتار بادل جو سیاہ رات کے ٹکڑوں کی طرح تھے سارے آسمان پرچھا گئے اور اس طرح ایک دوسرے پر تہ بہ تہ ہوئے کہ جس کی نظیر اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی تھی، پے در پے سخت بادل گرجتے خیرہ کن بجلیاں پورے آسمان پر کوندتیں آسمانی فضا گویا ایک بہت بڑے وحشتناک حادثے کی خبر دے رہی تھی ۔
بارش شروع ہوگئی اور پھر تیز سے تیزتر ہوتی چلی گئی، بارش کے قطرے موٹے سے موٹے ہوتے چلے گئے جیسا کہ قرآن سورہ قمر کی آیہ ۱۱ میں کہتا ہے:
گویا آسمان کے تمام دروازے کھل گئے اور پانی کا سمندر ان کے اندر سے نیچے گرنے لگا ۔
دوسری طرف زیر زمین پانی کی سطح اس قدر بلند ہوگئی کہ ہر طرف سے پرجوش چشمے ابل پڑے، یوں زمین وآسمان کا پانی آپس میں مل گیا اور زمین، پہاڑ، دشت، بیابان اور درہ غرض ہرجگہ پانی جاری ہوگیا، بہت جلد زمین کی سطح ایک سمندر کی صورت اختیار کرگئی، تیز ہوئیں چلنے لگیں جن کی وجہ سے پانی کو کوہ پیکر موجویں امنڈنے لگیں اس عالم میں ” کشتی نوح پیکر موجوں کا سینہ چیرتے ہوئے بڑھ رہی تھی“( وَهِیَ تَجْرِی بِهِمْ فِی مَوْجٍ کَالْجِبَالِ ) ۔
پسر نوح ایک طرف اپنے باپ سے الگ کھڑا تھا، نوح نے پکارا: میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ اور کافروں کے ساتھ نہ رہو ورنہ فنا ہوجاؤ گے( وَنَادیٰ نُوحٌ ابْنَهُ وَکَانَ فِی مَعْزِلٍ یَابُنَیَّ ارْکَبْ مَعَنَا وَلَاتَکُنْ مَعَ الْکَافِرِینَ ) ۔
پیغمبر بزرگوار حضرت نوحعليهالسلام نے نہ صرف پاک کی حیثیت سے بلکہ ایک انتھک پر امید مربی کے طور پر آخری لمحے تک اپنی ذمہ داریوں سے دستبرداری نہ کی، اس امید پر کہ شاید ان کی بات سنگ دل بیٹے پر اثر کرجائے لیکن افسوس کہ بری ساتھی کی بات اس کے لئے زیادہ پر تاثیر تھی لہٰذا دلسوز پاک کی گفتگو اپنا مطلوبہ اثر نہ کر سکی، وہ ہٹ دھرم اورکوتاہ فکر تھا ، اسے گمان تھا کہ غضب خداکا مقابلہ بھی کیا جاسکتا تھا، اس لئے”اس نے پکار کر کہا: ابا! میرے لئے جوش میں نہ آؤ میں عنقریب پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جس تک یہ سیلاب نہیں پہنچ سکتا( قَالَ سَآوِی إِلیٰ جَبَلٍ یَعْصِمُنِی مِنَ الْمَاءِ ) ۔
نوحعليهالسلام پھر بھی مایوس نہ ہوئے، دوبارہ نصیحت کرنے لگے کہ شاید کوتاہ فکر بیٹا غرور اور خود سری کے مرکب سے اتر آئے اور راہ حق پر چلنے لگے ”انھوں نے کہا: میرے بیٹے! آج حکم خدا کے مقابلے میں کوئی طاقت پناہ نہیں دے سکتی“( قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اٴَمْرِ اللهِ ) ،”نجات صرف اس شخص کے لئے ہے رحمت خدا جس کے شامل حال ہو“( إِلاَّ مَنْ رَحِمَ ) ۔
پہاڑ تو معمولی سی چیز ہے، خود کرہ ارض بھی معمولی سی چیز ہے، سورج اور تمام نظام شمسی اپنی خیرہ کن عظمت کے باوجود خدا کی قدرت لایزال کے سامنے ذرہ بے مقدار سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، کیا بڑے سے بڑے پہاڑ کرہ زمین کے مقابلے میں چھوٹے سے ابھار سے زیادہ رکھتے ہیں ان کی حیثیت تو ایسے ہے جیسے ناشپاتی کی بالائی سطح ہوتی ہے جب کہ خود زمین کی حیثیت یہ ہے کہ اسے ایک ملین اور دوہزار گنا بڑا کیا جائے تو پھر جاکر وہ کرہ آفتاب کے برابر ہوتی ہے ، وہ آفتاب آسمان میں جس کی حیثیت ایک معمولی سے ستارہ کی سی ہے جب کہ وسیع عالم خلقت میں اربوں کھربوں سارے موجود ہیں پس کس قدر خام خیالی ہے کہ پہاڑ پانہ دے سکے گا ۔
اسی دوران ایک موج اٹھی اور آگے آئی، مزید آگے بڑھی اور پسر نوح کو ایک تنکے کی طرح اس کی جگہ سے اٹھایا اور اپنے اندر درہم برہم کردیا اور باپ بیٹے کے درمیان جدائی ڈال دی اور اسے غرق ہونے والے میں شامل کردیا( وَحَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِینَ ) ۔
____________________
۱۔اردو میں بھی ”تنور“ کا یہی معنی مستعمل ہے ۔ (مترجم)
۲۔ ”مجرا“ اور”مرسا“ دونوں اسم زمان ہیں اور ان کا معنی”چلتے وقت“ اور ”ٹھہرتے وقت“ ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ کیا طوفان نوح عالمگیر تھا:
بہت سی آیات کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح کسی خاص علاقے کے لئے نہیں تھا بلکہ پوری زمین پر رونماہوا تھا کیونکہ لفظ ”ارض“ (زمین) مطلق طور پر آیا ہے:( رَبِّ لَاتَذَرْ عَلَی الْاٴَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا )
خداوندا! روئے زمین پر ان کافروں میں سے کسی کو زندہ نہ رہنے دے کہ جن کے بارے میں اصلاح کی کوئی امید نہیں ہے ۔ (نوح: ۲۶)
اسی طرح ہود کی آیہ ۴۴ میں یوں ہے:( وَقِیلَ یَااٴَرْضُ ابْلَعِی مَائَکِ ) ۔۔۔۔
اپنے زمین اپنا پانہ نگل لے
بہت سی تواریخ سے بھی طوفان نوح کے عالمگیر ہونے کی خبر ملتی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ موجودہ تمام نسلیں حضرت نوح (علیه السلام)کے تین بیٹوں حام، سام اور یافث کی اولادمیں سے ہیں جو کہ زندہ رہے تھے ۔
طبیعی تاریخ میں سیلابی بارشوں کے نام سے ایک دور کا پتہ چلتا ہے، اس دور کو اگر لازمی طورپر جانداروں کی پیدائش سے قبل سے مربوط نہ سمجھے تو وہ بھی طوفان نوح پر منطبق ہوسکتا ہے ۔
زمین کی طبیعی تاریخ میں یہ نظر بھی ہے کہ کرہ زمین کا محور تدریجی طور پر تغیر پیدا کرتا ہے یعنی قطب شمالی اور قطب جوبی خط استوا میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور خط استوا قطب شمالی اور قطب جنوبی کی جگہ لے لیتا ہے، واضح ہے کہ جب قطب شمالی وجنوبی میں موجود بہت زیادہ برف پگھل پڑے تو دریاؤں اور سمندروں کے پانی کی سطح اس قدر اوپر آجائے گی کہ بہت سی خشکیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور پانی زمین جہاں جہاں اسے گنجائش ملے گی ابلتے ہوئے چشموں کی صورت میں نکلے گا، پانیوں کی یہی وسعت بادلوں کی تخلیق کا سبب بنتی ہے اور پھر زیادہ سے زیاہ بارشیں انھیں بادلوں سے ہوتی ہیں ۔
یہ امر کہ حضرت نوحعليهالسلام زمین کے جانوروں کے نمونے بھی اپنے ساتھ لئے تھے طوفان کے عالمگیر ہونے کا مویدہے ۔
جیسا کہ بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوحعليهالسلام کوفہ میں رہتے تھے دوسری طرف بعض روایات کے مطابق طوفان مکہ اور خانہ کعبہ تک پھیلا ہوا تھا تو یہ صورت بھی اس بات کی موید ہے کہ طوفان عالمگیر تھا ۔
لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود اس امر کی بھی بالکل نفی نہیں کی جاسکتی کہ طوفان نوح ایک منطقے کے ساتھ مخصوص تھا کیوں لفظ”ارض“ (زمین) کا اطلاق قرآن میں کئی مرتبہ زمین کے ایک وسیع قطعے پر بھی ہوا ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل کی سرگزشت میں ہے:( وَاٴَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِینَ کَانُوا یُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْاٴَرْضِ وَمَغَارِبَهَا ) ۔
ہم نے زمین کے مشارق اور مغارب بنی اسرائیل کے مستضعفین کے قبضے میں دئےے ۔ (اعراف: ۱۳۷)
کشتی میں جانوروں کو شاید اس بنا پر رکھا گیا ہو کہ زمین کے اس حصے میں جانوروں کی نسل منقطع نہ ہو خصوصا اس زمانے میں جانوروں کا دور دراز علاقوں سے منتقل ہونا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔ (غور کیجئے گا)
اسی طرح دیگر مذکوہ قرائن اس بات پر منطبق ہوسکتے ہیں کہ طوفان نوح ایک منقطعہ ارض پر آیا ۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ طوفان نوح تواس سرکش قوم کی سزا اور عذاب کے طور تھا اور ہمارے پاس ایسی کوئی دلیل نہیں جس کی بنا پر یہ کہا جاسکے کہ حضرت نوحعليهالسلام کی دعوت تمام روئے زمین پہنچی تھی ۔
اصولی طور پر اس زمانے کے وسائل وذرائع کے ساتھ ایک پیغمبر کی دعوت کا (اس کے اپنے زمانے میں )زمین کے تمام خطوں اور علاقوں تک پہنچنا بعید نظر آتا ہے ۔
بہر حال اس عبرت خیز واقعے کو بیان کرنے سے قرآن کا مقصد یہ ہے کہ اہم تربیتی نکات بیان کئے جائےں جو اس میں چھپے ہوئے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیئے کہ یہ واقعہ عالمی ہویا کسی ایک علاقے تعلق رکھتا ہو۔
۲ ۔ کیا نزول عذاب کے بعد توبہ ممکن ہے؟:
گذشتہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوحعليهالسلام طوفان شروع ہونے کے بعد تک اپنے بیٹے کو تبلیغ کرتے رہے یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اگر وہ ایمان لے آتا تو اس کا ایمان قابل قبول ہوتا، یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ قرآن کی دوسری آیات کی طرف توجہ کرنے سے ، جن کے کچھ نمونے بیان کئے جاچکے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ عذاب نازل ہونے کے بعد توبہ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں کیونکہ ایسے مواقع پر تو اکثر سرکش گنہگار جو اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیتے ہیں بے اختیار ہوتے ہیں اور اضطرار کی حالت میں توبہ کرتے ہیں ، ایسی توبہ جس کی کوئی قدر قیمت، اہمیت اور وقعت نہیں ، ایسی توبہ جس کا کوئی مفہوم نہیں ۔
اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ آیات بالا میں غور فکر کرنے سے اس سوال کا جواب اس طرح سے مل سکتا ہے کہ آغاز طوفان میں عذاب کی کوئی واضح نشانی موجود نہیں تھی بلکہ تیز اور اور غیر معمولی بارش نظر آتی تھی اسی تو نوحعليهالسلام کے بیٹے نے اپنے باپ سے کہا کہ میں پہاڑ کی پناہ لے لوں گاتاکہ غرق ہونے سے بچ جاؤں ، اسے یہ گمان تھا کہ بارش اور طوفان ایک طبیعی چیز ہے، ایسے مواقع پر توبہ کے دروازوں کا کھلا ہونا کوئی عجیب مسئلہ نہیں ۔
دوسرا سوال جو حضرت نوحعليهالسلام کے بیٹے سلسلے میں کیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام)نے اس حساس موقع پر صرف اپنے بیٹے کو کیوں پکارا سب لوگوں کو دعوت کیوں نہ دی، ہوسکتا ہے یہ اس بنا پر ہو کہ وہ عمومی دعوت کا فریضہ سب کے لئے یہان تک کہ بیٹے کے لئے بھی انجام دے چکے تھے لیکن بیٹے کے بارے میں ان کی ذمہ داری زیادہ ہو کیونکہ وہ اس کے لئے نبی ہونے کے علاوہ باپ ہونے ہونے کے حوالے سے بھی مسئولیت رکھتے تھے، اسی بنا پر اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے آخری لمحات میں اپنے فرزند کے لئے مزید تاکید کررہے تھے ۔
بعض مفسرین کے بقول یہاں ایک احتمال اور بھی ہے اور وہ یہ کہ پسر نوح اس وقت نہ کفار کی صف میں تھا اور نہ مومنین کی صف میں ، جملہ”وکان فی معزل“(وہ گوشہ تنہائی میں کھڑا تھا ) کو انھوں نے اس کی دلیل قرار دیا ہے، اگرچہ وہ مومنین کی صف میں شامل نہ ہونے کہ وجہ عذاب کا مستحق تھا لیکن کفار کی صف سے اس کی کنارہ کشی کا تقاضا تھا کہ طریق تبلیغ سے اس کے ساتھ لطف ومحبت کا اظہار کیا جاتا ہے، علاوہ ازیں کفار کی صف سے اس کی علحیدگی نے حضرت نوحعليهالسلام یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید وہ اپنے کام سے پشیمان ہوچکا ہے ۔
آئندہ کی آیات پر توجہ کرنے سے یہ احتمال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پسر نوح صراحت سے اپنے باپ کی مخالفت نہیں کرتا تھا بلکہ ”منافقین“ کی صورت میں تھا اور بعض اوقات آپ کے سامنے اظہار موافقت کرتا تھا، ایسی لئے حضرت نوحعليهالسلام نے کدا سے اس کے لئے نجات کا تقاضا کیا ۔
بہرحال مندرجہ بالا آیت ان آیات کے منافی نہیں ہے جو کہتی ہیں کہ نزول عذاب کے وقت توبہ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔
۳ ۔طوفان نوح میں عبرت کے درس
جیسا کہ ہم جانتے ہیں قرآن گذشتہ لوگوں واقعات درس عبرت دینے کے لئے اور اصلاح وتربیت کے لئے بیان کرتا ہے، ہم نے حضرت نوحعليهالسلام کی داستان کا جتنا حصہ پڑھا ہے اس میں بہت سے درس پوشیدہ ہیں ، ان میں سے ہم بعض کی ذیل میں اشارہ کرتے ہیں ۔
الف۔ روئے زمین کو پاک کرنا:یہ صحیح ہے کہ خدا رحیم اور مہربان ہے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ وہ اس کے باجود حکیم بھی ہے، اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ جب کوئی قوم وملت فاسد ہوجائے اور نصیحت کرنے والوں اور تربیت کرنے والے خدائی نمائندوں کی دعوت ان پر اثر نہ کرے تو انھیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ، ایسے مواقع پر خدائے تعالیٰ بالآخر معاشرتی یا طبیعی اور فطری انقلابات کے ذریعے ان کی زندگی کے کارخانے کو درہم برہم کر کے انھیں نابود کردیتا ہے ۔
یہ بات نہ قوم نوح میں منحصر تھی اور نہ کسی اور زمانے یا معین وقت میں ، یہ ہرزمانے اور ہرقوم کے لئے ایک خدائی سنت ہے یہاں تک کہ ہمارے زمانے کے لئے بھی اور ہوسکتا ہے پہلی اور دوسری عالمی جنگیں اس پاک سازی کی مختلف شکلیں ہوں ۔
ب۔طوفان کے ذریعے انقلاب کیوں ؟: یہ صحیح ہے کہ ایک فاسد اور بری قوم کو نابود ہونا چاہیئے چاہے وہ کسی ذریعے سے نابود ہو اس میں فرق نہیں پڑتا لیکن آیاتِ قرآنی میں غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ عذاب وسزا اور قوموں کی گناہوں میں ایک قسم کی مناسبت تھی اور ہے ۔ (غور کیجئے )
فرعون نے عظیم دریائے نیل اور اس کے پر برکت پانی کو اپنی قوت وطاقت کا ذریعہ بنا رکھا تھا ، یہ بات جاذب نظر ہے کہ وہی اس کی نابودی کا سبب بنا ۔
نمرود کو اپنے عظیم لشکر پر بھروسہ تھا اور ہم جانتے ہیں کہ حشرات الارض کے چھوٹے سے لشکر نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو شکست دی ۔
قوم نوح زراعت پیشہ تھی ان کی کثیر دولت کا دارومدار زراعت پر ہی تھا ہم جانتے ہیں کہ ایسے لوگ اپنا سب کچھ بارش کے حیات بخش قطروں کو سمجھتے ہیں لیکن آخرکاربارش ہی نے انھیں تباہ وبرباد کردیا ۔
یہاں سے اچھی طرح واضح ہوگیا کہ خدائی فیصلوں میں کس قدر تدبیر اور تدبر کارفرما ہوتا ہے، اسی طرح اگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے سرکش انسان پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں اپنے جدید ترین اسلحوں کے ذریعے نیست ونابود ہوتے ہیں تو یہ بات ہمارے لئے باعث تعجب نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ پسے ہوئے محروم انسانوں کے وسائل لوٹنے کے لئے ان کی استعماری طاقتوں نے اپنی اس ٹیکنالوجی اور مصنوعات پر ہی بھروسہ کررکھا تھا ۔
ج۔خدا کا نام۔ہر حالت میں او رہر جگہ: مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت نوحعليهالسلام نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ خدا کا نام کشتی کے رکتے اور چلتے وقت فراموش نہ کریں ، سب کچھ اس کے نام سے، اس کی یاد کے ساتھ اور اس کی پاک ذات سے مدد طلب کرتے ہوئے ہونا چاہیئے، ہر حرکت، ہر سکون میں ، حالت آرام میں اور طوفان میں سب کچھ اسی کے نام سے شروع ہونا چاہیئے کیونکہ جو کام اس کے نام کے بغیر شروع ہوگا وہ ابتر اور دم بریدہ ہوگا، جیسا کہ رسول اللہ کی مشہور حدیث میں ہے:کل امر ذی بال لم یذکر فیه بسم اللّٰه فهوابتر ۔
ہر اہم کام جس میں نام خدا نہ لیا جائے بد انجام اور دم بریدہ ہوگا ۔(۱)
اہم بات یہ ہے کہ نام خدا کا ذکر تکلفات اور تشریفات کے لئے نہ ہو بلکہ مقصد کے طور پر ہو یعنی جو کام خدائی مقصد کے تحت نہیں ہوگا اور اس کا ہدف خدا نہیں ہوگا وہ ابتر اور دم بریدہ ہوگا کیونکہ سارے مقاصد تو ختم ہوجاتے ہیں لیکن الٰہی مقاصد ختم ہونے والے نہیں ہوتے، مادی اہداف جب اپنے کمال کو پہنچ جائیں تو ختم ہوجاتے ہیں لیکن خدائی اہداف اس کی پاک ذات کی طرح دائمی اور جاوداں ہوتے ہیں ۔
د۔ کمزور سہارے: عام طور پر ہر شخص اپنی زندگی کی مشکلات میں کسی چیز کا سہارا لیتا ہے اور پناہ گاہ ڈھونڈتا ہے، کچھ لوگ اپنی دولت وثروت کو سہارا سمجھتے ہیں ، کچھ مقام ومنصب کو، کچھ اپنی جسمانی طاقت کو اور بعض اپنی قوت فکر کو، لیکن جیسا کہ مندرجہ بالا آیات کہتی ہیں اور تاریخ نشاندہی کرتی ہے حکم خدا کے سامنے ان میں سے کسی چیز کی ذرہ برابر حیثیت نہیں ہے، ارادہ الٰہی کے سامنے ان میں سے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی جیسے تار عنکبوت شدیدآندھی میں فوراً درہم برہم ہوجاتی ہے ۔
پیغمبر خدا حضرت نوحعليهالسلام کا نادان اور سرپھرا بیٹا بھی اس غلط فہمی میں مبتلا تھا، اس کا خیال تھا کہ خدا کے طوفان غضب کے مقابلے میں پہاڑ اسے پناہ دے گا لیکن یہ اس کا کتنا بڑا اشتباہ تھا، طوفان کی ایک لہر نے اس کا کام تمام کردیا اور اسے ملک عدم میں پہنچا دیا، یہی وجہ ہے کہ ہم بعض دعاؤں میں پڑھتے ہیں :ها رب منک الیک ۔(۲)
میں تیرے غضب سے تیری طرف بھاگتاہوں ۔
یعنی اگر تیرے غضب کے مقابلے میں کوئی پناہ گا ہے تو وہ بھی تیری ذات پاک ہے اور بازگشت تیری ہی طرف ہے نہ کہ کسی اور کی طرف۔
ر۔کشتئی نجات: کشتئی نجات کے بغیرکسی طوفان سے نہین بچا جاسکتا، ضروری نہیں کہ وہ کشتی لکڑی اور لوہے کی بنی ہو بلکہ بعض اوقات یہ کشتی ایک کارساز، حیات بخش اور مثبت مکتب ومذہب ہوتا ہے جو انحرافی افکار کی طوفانی موجوں سے مقابلہ کرتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو ساحل نجات تک پہنچا دیتا ہے، اسی بنا پر شیعہ اور سنی کتب میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے جو روایات نقل ہوئی ہیں ان میں آپ کے خاندان یعنی ائمہ اہل بیتعليهالسلام اور حاملین مکتب اسلام کا”کشتئی نجات“ کی حیثیت سے تعارف کروایا گیا ہے ۔
حنش بن مغیرہ کہتا ہے:
میں ابوذر کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس آیا ، ابوذر نے بیت اللہ کے دروازے کے حلقہ میں ہاتھ ڈالا اور بلند آواز سے کہا:
میں ابوذر ہوں جو شخص مجھے نہیں پہچانتا پہچان لے، میں وہی جندب ہوں (ابوذر کا اصلی نام جندب تھا)، میں رسول اللہ کا صحابی ہوں ، میں نے اپنے کان سے آپ کو کہتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے:
مثل اھل بیتی مثل سفینة نوح من رکبھا نجیٰ۔
یعنی ۔ میرت اہل بیت کی مثال کشتی نوح کی سی ہے جو اس میں سوار ہوا اس نے نجات پائی ۔(۳)
حدیث کے دوسرے طرق میں اس جملے کا اضافہ ہوا ہے:
فمن تخلف عنھا غرق۔
اور جو اس سے دور رہا اور جس نے تخلف کیا وہ غرق ہوا ۔(۴)
بعض جگہ یہ جملہ بھی ہے:من تخلف عنها هلک ۔(۵)
یعنی ۔ جو اس سے دور رہا وہ ہلاک ہوا ۔
رسول خدا کی یہ حدیث صراحت سے کہتی ہے کہ جس وقت فکری، عقائدی اور معاشرتی طوفان اسلامی معاشرے کا رخ کریں تو ایسے میں واحد راہ نجات اس میں مکتب میں پناہ لینا ہے، اس مسئلے کو ہم نے ملت ایران کے عظیم الشان انقلاب میں اچھی طرح سے آزمایا ہے کہ غیر اسلامی مکاتب کے پیروکاروں نے طاغوت کے مقابلے میں شکست کھائی اور صرف وہی لوگ کامیاب ہوئے جنھوں نے پناہ گاہ اسلام اور اہل بیتعليهالسلام کے مکتب اور ان کے انقلابی پروگراموں کو بنایا ۔
____________________
۱۔ سفینة البحار، ج۱، ص ۶۶۳۔
۲۔ دعائے ابوحمزہ ثمالی ۔
۳۔ ابن قیتبہ دینوری جو مشہور علماء اہل سنت میں سے ہیں انھوں نے یہ حدیث عیون الاخبار ، ج۱، ص ۲۱۱ پر لکھی ہے ۔
۴۔ معجم الکبیر تالیف حافظ طبرانی، ص۱۳۰، (مخطوط)
۵۔ یہ حدیث بہت سے علماء اہل سنت مثلا ًحاکم نیشاپوری نے مستدرک میں ، ابن منازلی نے مناقب امیرالمومنین میں ، علامہ خوارزمی نے مقتل الحسین میں ، حموینی نے فرائد المسلمین۰ میں اور دیگر بہت سے علماء نے اپنی کتب میں نقل کی ہے (مزید وضاحت کے لئے احقاق الحق ، ج۹، ص ۲۸۰، طبع جدید کی طرف رجوع فرمائیں ۔
آیت ۴۴
۴۴( وَقِیلَ یَااٴَرْضُ ابْلَعِی مَائَکِ وَیَاسَمَاءُ اٴَقْلِعِی وَغِیضَ الْمَاءُ وَقُضِیَ الْاٴَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُودِیِّ وَقِیلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ) ۔
ترجمہ
۴۴ ۔اور کہا گیا: اے زمین! اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان رک جا، اور پانی نیچے چلا گیا اور معاملہ ختم ہوگیا اور وہ (کشتی) جودی (پہاڑ کے دامن) میں ٹھہرگئی اور (اس وقت )کہا گیا: دور ہو ظالم قوم۔
ایک داستان کا اختتام
جیسا کہ گزشتہ آیات میں ہم نے اجمالاً سربستہ طور پر پڑھا ہے کہ آخرکار پانی کی ٹھاٹھیں مارتی ہوئی لہروں نے تمام جگہوں کو گھیر لیا ، پانی کی سطح بلند سے بلند تر ہوتی چلی گئی، جاہل گنہگاروں نے یہ گمان کیا کہ یہ ایک معمول کا طوفان ہے، وہ اونچی جگہوں اور پہاڑوں پر پناہ گزیں ہوگئے لین پانی ان کے اوپر سے بھی گزر گیا اور تمام جگہیں پانی کے نیچے چھپ گئیں ، ان طغیان گروں کے جسم، ان کے بچے کھچے گھر اور زندگی کا سازوسامان پانی کی جھاگ میں نظر آرہاتھا ۔
حضرت نوحعليهالسلام نے زمام کشتی خدا کے ہاتھ میں دی، موجیں کشتی کو ادھر سے ادھر لے جاتی تھیں ، روایات میں آیا ہے کہ کشتی پورے چھ ماہ سرگرداں رہی، یہ مدت ابتدائے ماہ رجب سے لے کر ذی الحجہ کے اختتام تک تھی، ایک اور روایت کے مطابق دس رجب سے لے کر روز عاشورہ تک کشتی پانی کی موجوں میں سرگرداں رہی ۔(۱)
اس دوران میں کشتی نے مختلف علاقوں کی سیر کی یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق سرزمین مکہ اور خانہ کعبہ کے اطراف کی بھی سیر کی ۔
آخرکار عذاب کے خاتمے اور زمین کے معمول کی حالت میں لوٹ آنے کا حکم صادر ہوا، مندرجہ بالا آیت میں اس فرمان کی کیفیت ، جزئیات اور نتیجہ بہت مختصر مگر انتہائی عمدہ اور جاذب وخوبصورت عبرت میں چھ جملوں میں بیان کیا گیا ہے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: حکم دیا گیا کہ ات زمین! اپنے پانی نگل جاؤ( وَقِیلَ یَااٴَرْضُ ابْلَعِی مَائَکِ ) ۔
اور آسمان کو حکم ہوا ”اے آسمان ہاتھ روک لے“( وَیَاسَمَاءُ اٴَقْلِعِی وَ ) ۔
”پانی نیچے بیٹھ گیا“( غِیضَ الْمَاءُ ) ۔
”اور کشتی کوہ جودی کے دامن سے آلگی“( وَقُضِیَ الْاٴَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُودِیِّ ) ۔
”اس وقت کہا گیا: دور ہو ظالم قوم “( وَقِیلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ) ۔
مندرجہ بالاآیت کی تعبیرات مختصر ہوتے ہوئے بھی نہایت موثر اور دلنشین ہیں ، یہ بولتی ہوئی زندہ تعبیرات ہیں اورتمام تر زیبائی کے باوجود ہلا دینے والی ہیں ، بعض علماء عرب کے بقول یہ آیات قرآن میں سے فصیح ترین اور بلیغ ترین آیت ہے، روایات اور توریخ اسلام میں اس کی شہادت موجود ہے، لکھا ہے :
کچھ کفار قریش قرآن سے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، انھوں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ قرآنی آیات جیسی کچھ آیات گھڑیں ، ان سے تعلق رکھنے والوں نے انھیں چالیس دن تک بہترین غذائیں مہیا کیں ، مشروبات فراہم کئے اور ان کی ہر فرمائش پوری کی، خالص گندم کا معدہ، بکرے کا گوشت، ایرانی شراب غرض سب کچھ انھیں لاکر دیا تاکہ وہ آرام وراحت کے ساتھ قرآنی آیات جیسے جملوں کی ترکیب بندی کریں ۔
لیکن جب وہ مذکورہ آیت تک پہنچے تو اس نے انھیں اس طرح سے ہلا کر رکھ دیا کہ انھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہا کہ یہ ایسی گفتگو ہے کہ کوئی کلام اس سے مشابہت نہیں رکھتا، یہ کہہ کر انھوں نے اپنا ارادہ ترک کردیا اور مایوس ہوکر ادھر ادھر چلے گئے ۔(۲)
کوہ جُودی کہاں ہے؟
بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ کوہ جودی جس کے کنارے کشتی نوح آکر لگی تھی اور جس کا ذکر مذکورہ آیات میں آیاہے وہی مشہور پہاڑ ہے جو موصل کے قریب ہے ۔(۳)
بعض دوسرے مفسرین نے اسے حدود شام میں یا ”آمد“ کے نزدیک یا عراق کے شمالی پہاڑ سمجھا ہے ۔
کتاب مفردات میں راغب نے کہا ہے کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو موصل اور الجزیرہ کے درمیان ہے (الجزیرہ شمالی عراق میں ایک جگہ ہے اور یہ الجزائر یا الجزیرہ نہیں جو آج کل مشہور ہے) ۔
بعید نہیں کہ ان سب کی بازگشت ایک ہی طرف ہو کیونکہ موصل ، آمداور الجزیرہ سب عراق کے شمالی علاقوں میں ہیں اور شام کے نزدیک ہیں ۔
بعض مفسرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ جودی سے مراد ہر مضبوط پہاڑ اور محکم زمین ہے یعنی کشتی نوح ایک محکم زمین پر لنگر انداز ہوئی جو اس کی سواریوں کے اترنے کے لئے مناسب تھی، لیکن مشہور ومعروف وہی پہلا معنی ہے ۔
کتاب” اعلام قرآن“ میں کوہ جودی کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے، یہ تحقیق ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں :
جودی ایک پہاڑ کا نام ہے جس پر کشتی نوح آکر ٹھہر گئی تھی، اس کا نام سورہ ہود کی آیہ ۴۴ میں آیا ہے کہ جس کا مضمون تورات کے مندرجات کے قریب ہے، کوہ جودی کے محل ومقام کے بارے میں تین قول ہیں :
۱ ۔ اصفہانی کے بقول کوہ جودی عربستان(۴) میں ہے اور ان دو پہاڑوں میں سے ایک ہے جو قبیلہ ”طی“ کی حکومت میں تھے ۔
۲ ۔ کوہ جودی کاردین کا سلسلہ ہے جو جزیرہ ابن عمر کے شمال مشرق اور دجلہ کے مشرق میں موصل کے نزدیک میں واقع ہے، اکراد اسے اپنے لب ولہجہ میں کاردو اور یونانی جوردی اور اعراب جودی کہتے ہیں ۔
ترگوم یعنی تورات کے کلدانی ترجمے میں اور اسی طرح تورات کے سریانی ترجمے میں کشتی نوح کے رکنے کی جگہ کوہ اکراہ کا قلعہ ”کاردین“ معین ہوا ہے، عرب کے جغرافیہ دانوں نے بھی قرآن میں مذکورہ کوہ جودی کو یہی پہاڑ قرار دیاہے اور کہا ہے کہ کشتی نوح کے تختے کے کچھ ٹکڑے بنی عباس کے زمانے تک اس پہاڑ کی چوٹی پر باقی تھے اور مشرکین ان کی زیارت کیا کرتے تھے ۔
بابل کی داستانوں میں طوفان نوح کی داستانوں سے مشابہ ایک داستان موجود ہے ۔
علاوہ از ایں یہ احتمال ہے بھی ہے کہ دجلہ میں طوفان آیا ہو اور اس علاقے لوگوں کو طوفان کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
کوہ جودی پر آشوری کتیبے موجود ہیں ، انھیں کتیبہ ہائے مسیر کہتے ہیں ، ان کتیبوں میں ”ارارتو“ کا نام نظر آتا ہے ۔
۳ ۔موجودہ تورات کے ترجمے میں کشتی نوح کے رکنے کی جگہ آرارات کے پہاڑ قرار دی گئی ہے اور وہ کوہ ماسیس ہے جو ارمنستان میں واقع ہے ۔
قاموس کتاب مقدس کے مولف نے پہلے معنی کو ”ملعون“ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ روایات کے مطابق کشتی نوح اس پہاڑ کے اوپر رکی اور اسے عرب جودی کہتے ہیں ، ایرانی کوہ نوح کہتے ہیں اور ترک”کرداغ“ کہتے ہیں کہ جو ڈھلوان کے معنی میں ہے اور وہ ارس کے قریب واقع ہے ۔
پانچویں صدی تک ارمنستانی ارمنستان میں جودی پہاڑ کو نہیں جانتے تھے، اس صدی سے شاید تورات کے ترجمہ نگاروں کو اشتباہ ہوا ہے اور انھوں نے کوہ اکراد کا ترجمہ کوہ آرارات کردیا جس کی وجہ سے ارمنی علماء کو یہ خیال پیدا ہوگیا ہے ۔
شاید یہ خیال اس وجہ سے پیدا ہوا ہو کہ آشوری لوگ ”وان“ جھیل کے شمال اور جنوب کے پہاڑ کو ”آرارات“ یا”آراراتو“ کہتے تھے ۔
کہتے ہیں کہ طوفان ختم ہونے کے بعد حضرت نوحعليهالسلام نے کوہ جودی کی چوٹی پر ایک مسجد بنائی تھی ۔
ارامنی بھی کہتے ہیں کہ کوہ جادی کے نیچے قریہ ”ثمانین“ یا”ثمان“ وہ پہلی جگہ ہے جہاں حضرت نوحعليهالسلام کے ہمراہی آکر اترے تھے ۔(۵)
____________________
۱۔ تفسیر قرطبی، ج۵، ص ۳۲۶۹ ، تفسیر ابولفتوح رازی، ج۶، ص۲۷۸، تفسیر مجمع البیان، ج۵، ص ۱۶۴، اور طبری، ض ۱۲، ص ۲۹۔
۲۔ مجمع البیان، ج۵، ص ۱۶۵، روح المعانی، ج۱۲، ص ۵۷۔
۳۔ مجمع البیان ، روح المعانی اور قرطبی، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۴۔ جس کا نام آج کل موجودہ حکمرانوں نے اپنے خاندان کے نام پر” سعودی عرب“رکھا ہوا ہے ۔ (مترجم)
۵۔ اعلام قرآن خزائلی، ص ۲۸۱۔
آیات ۴۵،۴۶،۴۷
۴۵( وَنَادیٰ نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِی مِنْ اٴَهْلِی وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَاٴَنْتَ اٴَحْکَمُ الْحَاکِمِینَ ) ۔
۴۶( قَالَ یَانُوحُ إِنَّهُ لَیْسَ مِنْ اٴَهْلِکَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ فَلَاتَسْاٴَلْنِی مَا لَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّی اٴَعِظُکَ اٴَنْ تَکُونَ مِنَ الْجَاهِلِینَ ) ۔
۴۷( قَالَ رَبِّ إِنِّی اٴَعُوذُ بِکَ اٴَنْ اٴَسْاٴَلَکَ مَا لَیْسَ لِی بِهِ عِلْمٌ وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِی وَتَرْحَمْنِی اٴَکُنْ مِنَ الْخَاسِرِین ) ۔
ترجمہ
۴۵ ۔نوح نے اپنے پروردگار سے عرض کیا: پروردگارا! میرا بیٹا میرے خاندان میں سے ہے اور تیرا وعدہ (میرے خاندان کے بارے میں ) حق ہے اور تو تمام حکم کرنے والوں سے برتر ہے ۔
۴۶ ۔ فرمایا: اے نوح ! تیرے اہل سے نہیں ہے، وہ غیر صالح ہے، جس سے تو آگاہ نہیں وہ سوال مجھ سے نہ کر، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں تاکہ جاہلوں میں سے نہ ہو۔
۴۷ ۔عرض کیا: پروردگارا! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں کہ جس سے میں آگاہی نہیں رکھتا اور اگر تو مجھے نہ بخشے تو میں زیاں کاروں میں سے ہوجاؤں گا ۔
پسر نوح کا دردناک انجام
ہم پڑھ چکے ہیں کہ نوح کے بیٹے نے باپ کی نصیحت نہ سنی اور آخری سانس تک اس نے ہٹ دھرمی اور بے ہودگی کو نہ چھوڑا اور آخرکار طوفان کی موجوں میں گرفتار ہوکر غرق ہوگیا ۔
زیر بحث آیات میں اس داستان کا ایک اور حصہ بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ جب حضرت نوحعليهالسلام نے اپنے بیٹے کو موجوں کے درمیان دیکھا تو شفقت پدری نے جوش مارا، انھیں چاپنے بیٹے کی نجات کے بارے میں وعدہ الٰہی یاد آیا، انھوں نے درگاہ الٰہی کا رخ کیا اور کہا: پروردگارا! میرا بیٹا میرے اہل اور میرے خاندان میں سے ہے اور تونے وعدہ فرمایا تھا کہ میرے خاندان کو طوفان اور ہلاکت سے نجات دے گا اور تو تمام حکم کرنے والوں سے برتر ہے اور تو ایفائے عہد کرنے میں محکم تر ہے( وَنَادیٰ نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِی مِنْ اٴَهْلِی وَإِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَاٴَنْتَ اٴَحْکَمُ الْحَاکِمِینَ ) ۔
یہ وعدہ اسی چیزکی طرف اشارہ ہے جو اسی سورہ کی آیہ ۴۰ میں موجود ہے جہاں فرمایا گیا:
( قُلْنَا احْمِلْ فِیهَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاٴَهْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْل ) ۔
ہم نے نوح کو حکم دیا کہ جانوروں کی ہر نوع میں سے ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلو اور اسی طرح اپنے خاندان کو سوائے اس شخص کے جس کی نابودی کے لئے فرمان کدا جاری ہوچکا ہے ۔
حضرت نوحعليهالسلام نے خیال کیا کہ”الا من سبق علیه القول “ سے مراد صرف ان کی بے ایمان اور مشرک بیوی ہے اور ان کا بیٹا کنعان اس میں شامل نہیں ہے لہٰذا انھوں نے بارگاہ خدا وندی میں ایسا تقاضا کیا ۔
لیکن فوراً جواب ملا، ہلا دینے والا جواب اور ایک عظیم حقیقت واضح کرنے والا جواب ، وہ حقیقت جو کہ جو رشتہ مکتب کو نسب اور خاندان کے رشتہ سے مافوق قرار دیتی ہے،”درمایا: اے نوح وہ تیرے اہل اور خاندان میں سے نہیں ہے“( قَالَ یَانُوحُ إِنَّهُ لَیْسَ مِنْ اٴَهْلِکَ ) ،”بلکہ وہ غیر صالح عمل ہے“( ا( ِٕنَّهُ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ ) ، وہ نالائق شخص ہے اور تجھ سے مکتبی اور مذہبی رشتہ ٹوٹنے کی وجہ سے خاندانی رشتے کی کوئی اہمیت نہیں رہی ۔
اب جب ایسا ہے تو مجھ سے ایسی چیز کا تقاضا نہ کر جس کے بارے میں تجھے علم نہیں ”( فَلَاتَسْاٴَلْنِی مَا لَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْمٌ ) ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہوجا“( إِنِّی اٴَعِظُکَ اٴَنْ تَکُونَ مِنَ الْجَاهِلِینَ ) ۔
حضرت نوحعليهالسلام سمجھ گئے کہ یہ تقاضا بارگاہ الٰہی میں صحیح نہ تھا اور ایسے بیٹے کی نجات کو خاندان کی نجات کے بارے میں خدا کے وعدے میں شامل نہیں سمجھنا چاہیئے تھا، لہٰذا آپ نے درگاہ پرورگار کا رخ کیا اور کہا: ”پروردگارا! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس امر سے کہ تجھ کسی ایسی چیز کی خواہش کروں جس کا علم مجھے نہیں “( قَالَ رَبِّ إِنِّی اٴَعُوذُ بِکَ اٴَنْ اٴَسْاٴَلَکَ مَا لَیْسَ لِی بِهِ عِلْمٌ ) ۔
اور اگر تونے مجھے نہ بخشا اور اپنی رحمت میرے شامل حال نہ کی تو میں زیاں کاروں میں سے ہوجاؤں گا( وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِی وَتَرْحَمْنِی اٴَکُنْ مِنَ الْخَاسِرِین ) ۔
چند قابل توجہ نکات
۱ ۔ حضرت نوح (علیه السلام)کا بیٹا کیوں ”عمل غیر صالح “ تھا؟
بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس آیت میں ایک لفظ مقدر ہے اور اصل میں اس کا مفہوم اس طرح ہے: ”انہ ذو عمل غیر صالح“۔ یعنی تیرا بیٹا غیر صالح عمل والاہے ۔
لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بعض اوقات انسان کسی کام میں اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ گویا عین ومل ہوجاتا ہے، مختلف زبانوں کے ادب میں یہ چیز بہت نظر آتی ہے، مثلا ًکہا جاتا ہے: فلاں شخص سراپا ودل وسخاوت ہے یا فلاں شخص سراپا فساد ہے، گویا وہ اس عمل میں اس قدر غوطہ زن ہے کہ اس کی ذات عین وہی عمل ہوچکی ہے، یہ پسر نبی بھی بروں کی صحبت میں اس قدر بیٹھا اور برے اعمال اور ان کے غلط افکار میں اس طرح غوطہ زن ہوا کہ گویا اس وجود ایک غیر صالح عمل میں بدل گیا ۔
لہٰذا مندرجہ بالا تعبیر اگرچہ بہت ہی مختصر ہے لیکن ایک اہم حقیقت کی عکاس ہے، یعنی اے نوح ۱ اگر برائی، ظلم اور فساد اس بیٹے کے وجود میں سطحی طور پر ہوتا تو اس کے بارے میں امکان شفاعت تھا لیکن اب جب کہ یہ سراپا غرق فساد وتباہی ہے تو اہل شفاعت نہیں رہا، اس کی بات ہرگز نہ کرو۔
یہ جو بعض مفسرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ حقیقتاً یہ آپ کا بیٹا نہیں تھا (یا غیر شرعی بیٹا تھا یا آپ کی بیوی کا دوسرا شوہر سے غیر شرعی بیٹا تھا) ۔ یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ”( انه عمل غیر صالح ) “کا جملہ در حقیقت”( انه لیس من اهلک ) “ کے لئے علت وسبب کی طرح ہے، یعنی یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ”تیرے اہل میں سے نہیں ہے“ اس لحاظ پر ہے کہ کردار کے لحاظ سے تجھ سے جدا ہے، گرچہ اس کا نسب تجھ سے متصل ہے ۔
۲ ۔ حضرت نوحعليهالسلام اپنے بیٹے کے بارے میں کیوں کر متوجہ نہ تھے؟
مندرجہ بالا آیت میں حضرت نوحعليهالسلام کی گفتگو اور خدا کی طرف سے انھیں دئےے گئے جواب کی طرف توجہ کرنے سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ حضرت نوحعليهالسلام اس مسئلے کی طرف کیوں کر متوجہ نہ تھے کہ وعدہ الٰہی میں ان کا بیٹا شامل نہیں ۔
اس سوال کا جواب یوں دیا جاسکتا ہے کہ اس بیٹے کی کیفیت پوری طرح سے واضح نہ تھی کبھی وہ مومنین کے ساتھ ہوتا اور کبھی کفار کے ساتھ، اس کی منافقانہ چال ہر شخص کو ظاہراًاشتباہ میں ڈال دیتی تھی ۔
علاوہ ازیں اپنے بیٹے سے متعلق حضرت نوحعليهالسلام کو شدید احساس مسئولیت تھا، پھر فطری اور طبعی لگاؤ بھی تھا جو ہر اباپ کو اپنے بیٹے سے ہوتا ہے اور انبیاء بھی اس قانون سے مستثنیٰ نہیں ہیں یہی سبب ہے کہ آپ نے اس قسم کی درخواست کی لیکن جب آپ حقیقی صورت حال سے آگاہ ہوئے تو فوراً درگاہ خداوندی میں عذرخواہی اور طلب عفو کی اگرچہ آپ سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا تھا لیکن نبوت کے مقام اور حیثیت کا تقاضا تھا کہ آپ اپنی گفتارورفتار میں اس سے زیادہ متوجہ ہوتے، اتنی عظیم شخصیت ہونے کے باعث یہ آپ کا ترک اولیٰ تھا، اسی وجہ سے آپ نے بارگاہ خداوندی میں بخشش کا تقاضا کیا ۔
یہیں سے ایک اور سوال کا جواب بھی واضح ہوگیا اور وہ یہ کہ کیا انبیاء گناہ کرتے ہیں جب کہ وہ بخشش کی دعا کرتے ہیں ۔
۳ ۔ جہاں رشتہ ٹوٹ جاتا ہے
مندرجہ بالا آیات سے حضرت نوحعليهالسلام کی سرگزشت میں سے انسانی تربیت کے حوالے سے ایک اور بلند سبق ہاتھ آتا ہے، ایسا سبق جو مادی مکتبوں میں بالکل کوئی مفہوم نہیں رکھتا لیکن ایک خدائی اور معنوی مکتب میں یہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔
مادی رشتے یعنی نسب، رشتہ داری، دوستی اور رفاقت آسمانی مکاتب میں ہمیشہ روحانی رشتوں کے تحت ہوتے ہیں اس مکتب میں نسبی وخاندانی رشتوں کا مکتبی وروحانی رشتوں کے مقابلے میں کوئی مفہوم نہیں ۔
جہاں مکتبی رابطے موجود ہیں وہاں دور افتادہ سلمان فارسی جو نہ خاندان پیغمبر سے ہے نہ قریشی ہے، مکی بھی نہیں اور اصلا عرب بھی نہیں ، وہ خاندان رسالت کا حصہ شمار ہوتا ہے جیسا کہ مشہور حدیث ہے:
سلمان منا اهل البیت
یعنی ۔ سلمان ہم اہل بیت میں سے ہے ۔
دوسری طرف نوح جیسے پیغمبر کا بلا فصل حقیقی بیٹا باپ سے مکتبی رشتہ ٹوڑنے کی وجہ سے اس طرح دھتکادیا جاتا ہے:
انه لیس من اهلک
یہ تیرے اہل میں سے نہیں ۔
ہوسکتا ہے مادی فکر رکھنے والوں کو یہ بات بہت گراں محسوس ہو لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو تمام ادیان آسمانی میں نظر آتی ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ احادیث بیتعليهالسلام میں ان شیعوں کے بارے میں صریح اور ہلا دینے والی باتیں ہیں جو صرف ام کے شیعہ ہیں لیکن اہل بیت (علیه السلام)کی تعلیمات اور ان کے عملی پروگراموں کا ان کی زندگی میں کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا، یہ امر بھی درحقیقت اسی روش کو واضح کرتا ہے جو قرآن نے زیر نظر آیات میں سامنے رکھی ہے ۔
امام علی بن موسیٰ رضا علیہما السلام سے منقول ہے کہ آپ نے ایک دن اپنے دوستوں اور موالیوں سے یہ پوچھا کہ :یہ لوگ اس آیت کی کس طرح تفسیر کرتے ہیں ”انہ عمل غیر صالح“ (یہ غیر صالح عمل ہے )
حاضرین میں سے ایک نے عرض کیا:بعض کا نظریہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ نوح کا بیٹا کنعان ان کا حقیقی بیٹا نہیں تھا ۔امامعليهالسلام نے فرمایا:
کلا لقد کان ابنه ولکن لما عصی اللّٰه نفاه عین عن ابیه کذا من کان منا لم یطع اللّٰه فلیس منا ۔
یعنی ۔ ایسا نہیں ہے یقینا وہ نوح کا بیٹا تھا لیکن جب اس نے نافرمانی کی اور حکم خدا کے راستے سے منحرف ہوگیا تو خدا نے اس کے فرزند ہونے کی نفی کی، اسی طرح جو لوگ ہم میں سے ہوں لیکن خدا کی اطاعت نہ کرتے ہوں وہ ہم میں سے نہیں ہیں ۔(۱)
۴ ۔دھتکارے ہوئے مسلمان:
نا مناسب نہ ہوگا اگر ہم مندرجہ بالا آیت سے استفادہ کرتے ہوئے کچھ اسلامی احادیث کی طرف اشارہ کریں جن میں سے بہت سے لوگوں کو، جو ظاہراً مسلمانوں کے زمرے میں ہیں یا ظاہراً مکتب اہل بیتعليهالسلام کے پیروکار ہیں ، دھتکار دیا ہے اور انھیں مومنین اور شیعوں کی صف سے نکال دیا گیا ہے ۔
۱ ۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں :من غش مسلما فلیس منا ۔
جو مسلمان بھائیوں سے دھوکی بازی اور خیانت کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔(۲)
۲ ۔ امام صادقعليهالسلام فرماتے ہیں :لیس بولی لی من اکل مال مؤمن حراما ۔
جو مومن کا مال ناجائز طور پر کھائے وہ میرا دوست اور موالی نہیں ہے ۔(۳)
۳ ۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں :اٴلا ومَن اٴکرمه الناس اتقاء فلیس منی ۔
جان لو کہ جس کے شر سے بچنے کے لئے لوگ اس کا احترام کریں وہ مجھ نہیں ہے ۔
۴ ۔امام نے فرمایا:لیس من شیعتنا من یظلم الناس ۔
جو لوگوں پر ظلم کرے وہ ہمارا شیعہ نہیں ۔
۵ ۔ امام کاظم فرماتے ہیں :لیس منا من لم یحاسب نفسه کل یوم ۔
جو شخص ہرروز اپنا محاسبہ نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔(۴)
۶ ۔ رسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں :من سمع رجلا ینادی یا للمسلمین فلم یجبه فلیس بمسلم ۔
جو شخص کسی انسان کی آواز سے سنے جو پکار رہا ہو اے مسلمانو! میری مدد کو پہنچو، میری اعانت کرو اور اس پر لبیک نہ کہے وہ مسلمان نہیں ہے ۔(۵)
۷ ۔ امام باقر علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک شخص جابر تھا، آپ نے اس سے فرمایا:
واعلم یا جابر بانّک لاتکون لنا ولیا حتی لو اجتمع علیک اهل مصرک وقالوا اٴنت رجل سوء لم یحزنک ذٰلک ولوقالوا انّک رجل صالح لم یسرک ذٰلک ولکن اعرض نفسک علی کتاب اللّٰه ۔
اے جابر! جان لو کہ تم اس وقت تک ہمارے دوست نہیں ہوسکتے جب تک کہ تمھارے سارے اہل شہر جمع ہوکر تم سے کہیں کہ تو برا شخص ہے اور تو اس پر غمگین نہ ہو اور سب مل کر کہیں کہ تو اچھا آدمی ہے اور تو خوش نہ ہو بلکہ اپنے آپ کو کتاب خدا قرآن کے سامنے پیش کرو اور اچھائی اور برائی کے بارے میں قوانین وضوابط اس سے لو اور پھر تم دیکھو کہ تم کس گروہ میں سے ہو۔(۶)
یہ احادیث ان لوگوں کے نظریات پر خط بطلان کھینچتی ہے جو صرف نام پر گزارا کرتے ہیں مگر عمل اور مکتبی ارتباط کی ان میں کوئی خبر نہیں ، یہ احادیث وضاحت سے ثابت کرتی ہیں کہ خدائی پیشواؤں کے مکتب ان کی بنیاد مکتب پر ایمان اور اس کے پروگراموں کے مطابق عمل کرنا ہے اور تمام چیزوں کو اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیئے ۔
____________________
۱۔تفسیر صافی مذکرہ آیات کے ذیل میں ۔
۲۔ سفینة البحار، ج۲، ص ۳۱۸۔
۳۔ وسائل، ج ۱۲، ص ۵۳۔
۴۔ بحار، ج۱۵، حصہ اخلاق (طبع قدیم) ۔
۵ اصول کافی، ج۲، ص ۱۶۴۔
۶۔ سفینة البحار، ج۲، ص ۴۹۱۔
آیات ۴۸،۴۹
۴۸( قِیلَ یَانُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَکَاتٍ عَلَیْکَ وَعَلیٰ اٴُمَمٍ مِمَّنْ مَعَکَ وَاٴُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِنَّا عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔
۴۹( تِلْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیهَا إِلَیْکَ مَا کُنتَ تَعْلَمُهَا اٴَنْتَ وَلَاقَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعاقِبَةَ لِلْمُتَّقِینَ ) ۔
ترجمہ
۴۸ ۔ (نوح سے) کہاگیا: اے نوح ! سلامتی اور برکت کے ساتھ جو تجھ پر اور تیرے ساتھ موجود تمام امتوں پر ہے اتر آؤ کچھ ایسی امتیں ہیں جنہیں ہم اپنی نعمتوں سے سرفراز کریں گے اس کے بعد انھیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا ۔
۴۹ ۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جن کی (اے پیغمبر !)ہم تجھ پر وحی کرتے ہیں اور انھیں اس سے پہلے نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم لہٰذا صبر اور استقامت سے کام لو کیونکہ عاقبت پرہیزگاروں کے لئے ہے ۔
حضرت نوحعليهالسلام باسلامت اُتر آئے
حضرت نوحعليهالسلام اور ان کی سبق آموز سرگزشت کے بارے میں اس سورت میں آنے والی یہ آخری آیات ہیں ان میں حضرت نوحعليهالسلام کی کشتی سے اترنے اور نئے سرے سے روئے زمین پر معمول کی زندگی گزانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔
پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے : نوح سے کہا گیا کہ سلامتی اور برکت کے ساتھ جو ہماری طرف سے تم پر اور ان پر ہے جو تیرے ساتھ ہیں اتر آؤ( قِیلَ یَانُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَکَاتٍ عَلَیْکَ وَعَلیٰ اٴُمَمٍ مِمَّنْ مَعَکَ ) ۔
اس میں شک نہیں ”طوفان“ نے زندگی کے تمام آثار کو درہم برہم کردیا تھ، فطری طور پر آباد زمینیں ، لہلہاتی چراگاہیں اور سرسبز باغ سب کے سب ویران ہوچکے تھے، اس موقع ہر شدید خطرہ تھا کہ حضرت نوح (علیه السلام)اور ان کے اصحاب اور ساتھی زندگی گزارنے اور غذا کے سلسلے میں بہت تنگی کا شکار ہوں گے لیکن خدا نے ان مومنین کو اطمینان دلایاکہ برکت الٰہی کے دروازے تم پر کھل جائیں گے اور زندگی اور معاش کے حوالے سے تمھیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہونا چاہیئے ۔
علاوہ ازیں ممکن تھا کہ حضرت نوحعليهالسلام اور ان کے پیروکاروں کو اپنی سلامتی کے حوالے سے یہ پریشانی ہوتی کہ طوفان کے بعد باقی ماندہ ان گندے پانیوں ، جوہڑوں اور دلدلوں کے ہوتے ہوئے زندگی کے خطرے سے دوچار ہوگی لہٰذا خدائے تعالی اس سلسلے میں بھی انھیں اطمینان دلاتا ہے کہ تمھیں کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا اور وہ ذات جس نے ظالموں کی نابود ی کے لئے طوفان بھیجا ہے وہ اہل ایمان کی سلامتی اور برکت کے لئے بھی ماحول فراہم کرسکتی ہے ۔
یہ مختصر سا جملہ ہمیں سمجھا تا ہے کہ قرآن کیسے چھوٹے چھوٹے مسائل کو بھی اہمیت دیتا ہے اور انھیں جچی تلی اور خوبصورت عبارتوں کے ذریعے پیش کرتا ہے ۔
لفظ ”امم“ ”امت“کی جمع ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت نوحعليهالسلام کے ساتھ کئی امتیں تھیں ، یہ لفظ شاید اس بنا پر کہ جو افراد حضرت نوحعليهالسلام کے ساتھ تھے ان میں سے ہر ایک ایک قبیلے اور امت کی پیدائش کاسرچشمہ تھا، یا یہ کہ جولوگ حضرت نوحعليهالسلام کے ساتھ تھے ان میں سے ہرگروہ الگ الگ قوم وقبیلہ سے تھا جس سے مجموعة کئے امتیں بنتی تھیں ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ لفظ”امم“ ان مختلف اصناف حیوانات کے بارے میں ہے کہ جو حضرت نوحعليهالسلام کے ساتھ تھے کیونکہ قرآن مجید میں ان کے بارے میں لفظ امت آیا ہے، جیسا کہ سورہ انعام کی آیہ ۳۸ میں ہے:
( وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ وَلَاطَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْهِ إِلاَّ اٴُمَمٌ اٴَمْثَالُکُمْ ) ۔
کوئی روئے زمین پر چلنے والا اور کوئی پرندہ جو اپنے دو پرو کے ساتھ پرواز کرتا ہے ایسا نہیں جو تمہاری طرح کی امت نہ ہو ۔
اس بنا پر جس طرح حضرت نوحعليهالسلام اور ان کے ساتھی پروردگار کی لامتناہی لطف وکر م کے سائے میں طوفان کے بعد ان تمام مشکلات کے باوجود سلامتی وببرکت کے ساتھ جیتے رہے اسی طرح مختلف قسم کے جانور جو حضرت نوحعليهالسلام کے ساتھ کشتی سے اترے تھے خدا کی طرف سے سلامتی اورحفاظت کے ساتھ اور اس کے لطف کے بسائے میں زندگی بسر کرتے رہے ۔
اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے : اس تمام تر صورت حال کے باوجود آئندہ پھر انھیں مومنین کی نسل سے کئی امتیں وجود میں آئیں گی جنہیں ہم انواع واقسام کی نعتیں بخشیں گے لیکن وہ غرور وغفلت میں ڈوب جائیں گی، اس کے بعد ہمارا دردناک عذاب انھیں پہنچے گا( وَاٴُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِنَّا عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔
لہٰذا ایسا نہیں کہ صالح لوگوں کا یہ انتخاب اور طوفان کے زریعے نوع انسانی کی اصلاح کوئی آخری اصلاح ہے بلکہ رشدو تکامل کے آخری مرحلہ کو پہنچنے تک انسان اپنے ارادے کی آزادی سے سوء استفادہ کی بنا پر کبھی کبھی شر وفساد کی راہ پر قدم رکھے گا اور پھر سزا اور عذاب کا وہی پروگرام اس جہان میں اسے دامنگیر ہوگا ۔
یہ بات جاذب نظر ہے کہ مذکورہ جملے میں لفظ”سنمتعھم“(عنقریب انھیں انواع و اقسام کی نعمتوں سے بہرہور کریں گے)آیا ہے اور پھر بلا فاصلہ ان کے لے عذاب وسزا کی بات کی گئی ہے، یہ اس طرح اشارہ ہے کہ کم ظرف اور ضعیف الایمان لوگوں کو نعمت فراواں میسر آجائے تو ان میں شکر گزاریاور اطاعت کا جذبہ بیدار ہونے کی بجائے اکثر طغیان و غرور کے جذبات ابھر آتے ہےں اور اس کے ساتھ ہی وہ بندگی خدا کے رشتوں کو پارہ پارہ کردیتے ہےں ۔
مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں ایک قول نقل کیا ہے جو بہت جازب ہے ، وہ کہتا ہے:
”هلک المستمتعون فی الدنیا لان الجهل یغلب علیهم والغفلته، فلا یتفکرون الا فی الدنیا و عمارتها وملاذها“ ۔
صاحبان نعمت دنیا میں ہلاک اور گمراہ ہوئے ہیں کیونکہ جہالیت اور غفلت نے ان پر غلبہ کیا ہے اور دنیا اور اس کی لذت کے علاوہ انھیں کوئی فکر نہیں ۔
یہ حقیقت دنیا کے سرمایہ دار اور دولت مند ممالک کی زندگی میں اچھی طرح دیکھی جاسکتی ہے کہ وہ زیادہ تر برائی میں ہی غوطہ زن ہےں نہ صرف یہ کہ وہ دنیا کے مستضعف اور محروم انسانوں کے نارے میں سوچتے نہیں بلکہ الٹا ہر روز ان کا خون چوسنے کے لے نئی نئی سازشیں کرتے رہتے ہےں لہٰذا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خدا انھیں جنگوں اور دیگر المناک حوادث سے دوچار کرتا ہے جو وقتی طور پر ان سے یہ نعمتیں سلب کرلتا ہےں یہ اس لے ہوتا ہے کہ شاید وہ بیدار ہوں ۔
آخری زیرے بحث آیت جس میں اس سورہ میں جاری حضرت نوحعليهالسلام کا وقعہ ختم ہوتا ہے تمام مذکورہ واقعات کی طرف عمومی اشارہ ہوتا ہے : یہ سب غیب کی خبرے ہےں کہ جو (اے پیغمبر) ہم تجھ پر وہی کرتے ہےں( تِلْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیهَا إِلَیْک ) ، قبل ازیں تم اور تمہاری قوم اس سے ہر گز آگاہ نہ تھے( مَا کُنتَ تَعْلَمُهَا اٴَنْتَ وَلَاقَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ هٰذا ) ۔
جو کچھ تم نے سنا اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اور اپنی دعوت کے دوران نوح کو پیش آمدہ تمام مشکلات اور اس کی استقامت دکھاؤ کیونکہ آخرکار کامیابی پرہیزگاروں ہی کےلئے ہے( ا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعاقِبَةَ لِلْمُتَّقِینَ ) ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ انبیاء کے سچے واقعات
قرآن حکیم نے انبیاء کے سچے واقعات پیش فرمائے ہیں ، زیر نظر آخر میں آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان واقعات کو ہر قسم کی تحریف اور انحراف سے پاک بیان کرنا صرف وہی آسمانی کے زریعے ممکن ہے ورنہ گزشتہ لوگوں لوگوں کی کتب تاریخ میں اس قدر افسانے اور خرافات شامل ہیں کہ حق وباطل میں تمیز ممکن نہیں اور جتنی تاریخ قدیم ہوتی جاتی ہے اتنا ہی غلط ملط زیادہ ہوتی جاتی ہے، لہٰذا انبیاء اور گزشتہ اقوام کی انحراف سے پاک سرگزشت بیان کرنا خود حقانیت قرآن اور پیغمبر اسلامعليهالسلام کی صداقت کی نشانی ہے ۔(۱)
____________________
۱۔ اس سلسلے میں تفصیل کے لئے کتاب” قرآن و آخرین پیغمبر‘ ‘ ملاحظہ فرمائیں ۔
۲ ۔انبیاء اور علم غیب
بعض لوگوں کے خیال کے برخلاف آخری زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علم غیب رکھتے تھے البتہ یہ آگاہی وحی الٰہی کے ذریعے ہوتی تھی اور اتنی ہی جتنی خدا چاہتا تھا یہ نہیں کہ وہ اپنی طرف سے کچھ جانتے تھے اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آیات میں علم غیب کی نفی ہوئی ہے تو وہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کا علم ذاتی نہیں ہے بلکہ صرف خدا کی طرف سے ہے ۔
۳ ۔ درس کی ہمہ گیری
زیر بحث آخری آیت ایک اور حقیقت بھی واضح کرتی ہے کہ انبیاء اور گزشتہ اقوام کے واقعات قرآن میں صرف امت اسلامی کو درس دینے کے لئے بیان نہیں گئے بلکہ ایک طرح سے یہ پیغمبر اکرم (ص)کی دلجوئی اور تسلی کے لئے بھی ہیں اور اس آپ کے ارادے اور دل کو تقویت بھی مقصود ہے کیونکہ آپ بھی نوع انسانی میں سے ہیں اور آپ کوبھی خدا کے مدرسے سے اسی طرح درس لینا چاہیئے، اپنے زمانے کے طاغوتوں کے خلاف قیام کے لئے زیادہ تیار ہوناچاہیئے اور راستے میں موجود کثیر مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہیئے یعنی جیسے ان تمام ابتلا اور مشکلوں کے باوجود حضرت نوحعليهالسلام استقامت کا مظاہرہ کرتے تھے اور ان کی مشہور طویل ترین عمر میں بہت ہی کم لوگ ایمان لائے پھر بھی وہ خوشدل تھے اسی طرح آپ بھی کسی حالت میں صبر واستقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔
یہاں حضرت نوحعليهالسلام کی تعجب خیز اور عبرت انگیز داستان کو چھوڑتے ہوئے ہم ایک اور عظیم پیغمبر حضرت ہودعليهالسلام کہ جن کے نام سے یہ سورہ موسوم ہے کی طرف آتے ہیں ۔
آیات ۵۰،۵۱،۵۲
۵۰( وَإِلیٰ عَادٍ اٴَخَاهُمْ هُودًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَهٍ غَیْرُهُ إِنْ اٴَنْتُمْ إِلاَّ مُفْتَرُونَ ) ۔
۵۱( یَاقَوْمِ لَااٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ اٴَجْرًا إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی الَّذِی فَطَرَنِی اٴَفَلَاتَعْقِلُونَ ) ۔
۵۲( وَیَاقَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْهِ یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا وَیَزِدْکُمْ قُوَّةً إِلیٰ قُوَّتِکُمْ وَلَاتَتَوَلَّوْا مُجْرِمِینَ ) ۔
ترجمہ
۵۰ ۔ (ہم نے قوم) عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا، (اس نے ان سے)کہا: اے میری قوم! اللہ کی پرستش کرو کیونکہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں تم صرف تہمت لگاتے ہو۔
۵۱ ۔اے میری قوم! میں تم سے کوئی اُجرت نہیں چاہتا میری اُجرت اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا سمجھتے نہیں ہو؟۔
۵۲ ۔اور اے میری قوم! اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو پھر اس کی طرف رجو ع کرو، تاکہ وہ آسمان سے (بارش) پیہم تمہاری طرف بھیجے اور تمہاری میں مزید قوت کا اضافہ کرے اور (حق سے) منہ نہ پھیرو اور گناہ نہ کرو ۔
بہادر بت شکن
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس سورت میں پانچ عظیم انبیاء کی دعوت، اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات اور دعوت کے نتائج کا تذکرہ ہے گزشتہ آیات میں حضرت نوحعليهالسلام کے بارے میں گفتگو تھی اور اب حضرت ہودعليهالسلام کی باری ہے ۔
یہ تمام انبیاء ایک ہی منطق اور ایک ہی ہدف کے حامل تھے، انھوں نے نوع بشر کو ہر طرح کی قید وبند سے نجات دلانے اور توحید کی طرف، اس کی تمام شرائط کے ساتھ، دعوت دینے کے لئے قیام کیا، ایمان، خلوص، جد وجہد اور راہ خدا میں استقامت ان سب کا شعار تھا، ان سب کے خلاف مختلف اقوام کا رویہ بہت تنگ اور سخت تھا انھوں نے انبیاء کو طرح طرح سے ستایا اور ان کو جبر واستبداد روا رکھا ۔
زیر نظر پہلی آیت میں اس سلسلے میں فرمایا گیا ہے: ہم قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا (وَإِلیٰ عَادٍ اٴَخَاهُمْ هُودًا ) ۔
یہاں حضرت ہود (علیه السلام)کو بھائی کہا گیا تھا، یہ تعبیر یا تو اس بنا پر ہے کہ عرب اپنے تمام اہل قبیلہ کو بھائی کہتے تھے کیونکہ نسب کی اصل میں سب شریک ہوتے ہیں ، مثلا ًبنی اسد کے شخص کو ”اخواسدی“ کہتے ہیں اور مذحج قبیلہ کے شخص کو ”اخومذحج“ کہتے ہیں ، یا ہوسکتا ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ حضرت ہودعليهالسلام کا سلوک اپنی قوم سے دیگر انبیاء کی طرح بالکل برادرانہ تھا نہ کہ حاکم کا سا بلکہ ایسا بھی نہیں جو باپ اپنی اولاد سے کرتا ہے بلکہ آپ کا سلوک ایسا تھا جو ایک بھائی دوسرے بھائیوں سے کرتا ہے کہ جس میں کوئی امتیاز اور برتری کا اظہار نہ ہو۔
حضرت ہودعليهالسلام نے بھی اپنی دعوت کا آغاز دیگر انبیاء کی طررح کیا، آپ کی پہلی دعوت توحید اور ہر قسم کے شرک کی نفی کی دعوت تھی، ہود چنے ان سے کہا: ”اے میری قوم! خدا کی عبادت کرو“( قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ ) ۔
”کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اللہ اور معبود لائق پرستش نہیں “( مَا لَکُمْ مِنْ إِلَهٍ غَیْرُهُ ) ، ”بتوں کے بارے میں تمہارا اعتقاد غلطی اور اشتباہ پر مبنی ہے اور اس میں تم خدا پر افتراء باندھتے ہو“( إِنْ اٴَنْتُمْ إِلاَّ مُفْتَرُونَ ) ۔
یہ بت خدا کے شریک ہیں نہ خیر وشر کے منشاء ومبدا اور ان سے کوئی کام بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بڑھ کر کیا افتراء اور تہمت ہوگی کہ اس قدر بے وقعت موجودات کے لئے تم اتنے بڑے مقام ومنزلت کا اعتقاد رکھو۔
اس کے بعد حضرت ہودعليهالسلام نے منزید کہا:اے میری قوم ! میں اپنی دعوت کے سلسلے میں تم سے کوئی توقع نہیں رکھتا تم سے کسی قسم کی اجرت نہیں چاہتا کہ تم یہ گمان کرو کہ میری یہ دادوفریاد اور جوش وخروش مال ومقام کے حصول کے لئے ہے یاتم خیال کرو کہ تمھیں مجھے کوئی بھاری معاوضہ دینا پڑے گاکہ جس کی وجہ سے تم تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوتے ہو( یَاقَوْمِ لَااٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْهِ اٴَجْرًا ) ، میری اجرت صرف اس ذات پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، جس نے مجھے روح وجسم بخشے ہیں اور تمام چیزیں جس نے مجھے عطا کی ہیں وہی جو میرا خالق ورازق ہے (ا( ِٕنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی الَّذِی فَطَرَنِی ) ، میں اگر تمہاری ہدایت وسعادت کے لئے کوئی قدم اٹھاتا ہوں تو وہ اصولاً اس کے حکم کی اطاعت میں ہوتا ہے لہٰذا اجروجزا بھی میں اسی سے چاہتا ہوں نہ کہ تم سے، علاوہ ازیں کیا تمھارے پاس اپنی طرف سے کچھ ہے جو تم مجھے دو، جو کچھ تمھارے پاس ہے اس کی طرف سے ہے، کیا سمجھتے نہیں ہے( اٴَفَلَاتَعْقِلُونَ ) ۔
آخر میں انھیں شوق دلانے کے لئے اور اس گمراہ قوم میں حق طلبی کاجذبہ بیدار کرنے کے لئے تمام ممکن وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے مشروط طور پر مادی جزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو اس جہان میں خدا مومنین کو عطا فرماتا ہے ، ارشاد ہوتا ہے: اے میری قوم ! اپنے گناہوں پر خدا سے بخشش طلب کرو( وَیَاقَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ) ، پھر توبہ کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ( ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْهِ ) ، اگر تم ایسا کرلو تو وہ آسمان کو حکم دے گاکہ وہ بارش کے حیات بخش قطرے پیہم تمیاری طرف بھیجے( یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا ) (۱) ، تاکہ تمھارے کھیت اور باغات کم آبی یا بے آبی کا شکار نہ ہوں اور ہمیشہ سرسبز وشاداب رہیں ، علاوہ ازیں تمھارے ایمان، تقویٰ، گناہ سے پرہیز اور خدا کی طرف رجوع اور توبہ کی وجہ سے تمہاری قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے گا( وَیَزِدْکُمْ قُوَّةً إِلیٰ قُوَّتِکُمْ ) ۔
یہ کبھی گمان نہ کرو کہ ایمان وتقویٰ سے تمہاری قوت میں کمی واقع ہوگی ایسا ہرگز نہیں بلکہ تمہاری جسمانی و روحانی قوت میں اضافہ ہوگ، اس کمک سے تمہارا معاشرہ آبادتر ہوہوگا، جمعیت کثیر ہوگی، اقتصادی حالات بہتر ہوں گے اور تم طاقتور، آزاد اور خود مختار ملت بن جاؤ گے، لہٰذا راہ حق سے روگردانی نہ کرو اور شاہراہ گناہ پر قدم نہ رکھو( ولَاتَتَوَلَّوْا مُجْرِمِینَ )
____________________
۱۔ ”مدرار“ جیسے کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے ”در“ کے مادہ سے ”پستان سے دودھ گرنے“ کے معنی میں ہے، بعد ازاں بارش برسنے کے معنی میں بھی بولاجانے لگا، یہ بات جاذب نظر ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ آسمان سے تم پر بارش برسائے گا بلکہ فرمایا گیا ہے کہ آسمان کو تم پر برسائے گا یعنی اس قدر بارش برسے گی کی گویا ساراآسمان برس رہا ہے، نیز اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”مدرار“ مبالغہ کا صیغہ ہے اس سے انتہائی تاکید ظاہر ہوتی ہے ۔
۱ ۔ تمام انبیاء کی دعوت کا خمیر توحید ہے
تاریخ انبیاء نشاندہی کرتی ہے کہ ان سب نے اپنی دعوت کا آغاز توحید سے اور ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی نفی سے کیا، درحقیقت انسانی معاشرے کی کسی قسم کی اصلاح اس دعوت کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ معاشرے کی وحدت، ہمکاری، تعاون، ایثار اور فداکاری سب ایسے امور ہیں جو توحید معبود کے سرچشمے سے سیراب ہوتے ہیں ، رہی بات شرک کی تو وہ ہر قسم کی پراگندگی، انتشار، تضاد، اختلاف، خود غرضی، خود پرستی اور انحصار طلبی کا سرچشمہ ہے اور ان مفاہیم کا شرک وبت پرستی کے وسیع مفہوم سے تعلق کوئی پوشیدہ نہیں ہے ۔
جو شخص خود محور اور خود غرض غرض ہو وہ صرف اپنے آپ کو دیکھتا ہے اور اسی بنا پر وہ مشرک ہے، توحید ایک شخص کے قطرہ وجود کو معاشرے کے وسیع سمندر میں شامل کردیتی ہے، موحد ایک عظیم وحدت کے سوا کچھ نہیں دیکھتا یعنی وہ سارے انسانوں اور بندگان خدا کو ایک معاشرے کی صورت میں دیکھتاہے ۔
جو برتری کے خواہشمند ہیں وہ شرک کی ایک اور قسم سے وابستہ ہیں ، اسی طرح جو ہمیشہ اپنے ہم نوع افراد سے جنگ کرتے رہتے ہیں اور اپنے مفادات کو دوسرے کے فائدے سے جدا سمجھتے ہیں تو یہ دوگانگی یا چند گانگی سوائے شرک کے مختلف چہروں کے اور کچھ نہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ اپنے وسیع اصلاحی پروگراموں کو سب انبیاء نے یہیں سے شروع کیا، ان کی پہلی دعوت۔دعوت توحید تھی ۔ توحید یعنی توحید معبودپھر توحید کلمہ، توحید عمل اور توحید معاشرہ۔
۲ ۔سچے رہبر اپنے پیروکاروں سے جزا نہیں چاہتے
ایک حقیقی پیشوا اور رہبر اس صورت میں ہرقسم کے اتہام سے بچ کر انتہائی آزادی سے اپنے مسلک پرکار بند رہ سکتا ہے ، اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے اور اپنے پیروکاروں کی ہر قسم کی کجروی کی اصلاح کرسکتا ہے جب وہ ان سے کوئی مادی وابستگی اور احتیاج نہ رکھتا ہو ورنہ وہی احتیاج ان کے دست وپا کی زنجیر بن جائے گی اور اس کی زبان وفکر کی بندش کا سامان ہوجائے گا ، منحرف اور کج رو لوگ اسی طریقے سے اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے، مادی امداد منقطع کرنے کی دھمکی دےں گے یا امداد بڑھانے کی پیش کش کریں گے، کوئی رہبر کتنا ہی صاف دل اور مخلص کیوں نہ ہو پھر بھی انسان ہوتاہے، اور ہوسکتا ہے اس مرحلہ پر اس کے قدم ڈگمگا جائیں ۔
اسی بنا پر مندرجہ بالا آیات اور قرآن کی دیگر آیات میں ہے کہ انبیاء اپنی دعوت کی ابتدا میں صراحت سے اعلان کرتے اور بتاتے تھے کہ وہ مادی احتیاج اور اجر کی توقع اپنے پیروکاروں سے نہیں رکھتے، انبیاء کا یہ کردار تمام رہبروں کے لئے نمونہ اور ماڈل ہے خصوصا روحانی اور مذہبی رہبروں اور رہنماؤں کے لئے ۔
البتہ چونکہ وہ اپنا تمام وقت اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں صرف کرتے ہیں لہٰذا ان کی ضروریات صحیح طریقے پر پوری ہونا چاہییں ، امدادی وسائل اور اسلامی بیت المال ایسی افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لئے مہیا کیا گیا ہے اور بیت المال کی تشکیل کا ایک فلسفہ اور وجہ یہی ہے ۔
۳ ۔ گناہ ۔معاشرے کی تباہی
مندرجہ بالا آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی نظر میں روحانی اورمادی مسائل میں ایک واضح تعلق موجود ہے، یہاں گناہ سے استغفار، خدا کی طرف رجوع اور توبہ کو آبادی، خوشی، شادابی اور قوت میں اضافے کے ذریعے کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے ۔
یہ حقیقت قرآن کی اور بہت سی آیات میں بھی نظر آتی ہیں ، منجملہ ان کے سورہ نوح میں اس عظیم پیغمبر کی زبانی فرمایا گیا ہے:
( فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ إِنَّهُ کَانَ غَفَّارًا یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا وَیُمْدِدْکُمْ بِاٴَمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ اٴَنْهَارً ) .
ان سے میں نے کہااپنے گناہوں سے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں استغفار کرو کہ وہ بخشنے والا ہے تاکہ وہ پے در پے تم پر آسمان سے بارش برسائے اور مال واولاد کے ذریعے تمہاری مدد کرے اور تمھارے لئے باغات اور نہریں مہیا کرے ۔ (نوح: ۱۰ ۔ ۱۲)
یہ امر جاذب توجہ ہے کہ اسلامی روایات میں ہے کہ :
ربیع بن صبیح کہتا ہے کہ میں حسن (علیه السلام)کے پاس تھا، ایک شخص دروازے سے داخل ہوا، اس نے اپنی آبادی کی خشک سالی کی شکایت کی ، حسنعليهالسلام نے اس سے کہا: استغفار کرودسراآیا اس نے فقر وفاقہ کی شکایت کی، اس سے بھی کہا: استغفار کرو، تیسرا آیا، اس نے کہا: دعا کریں خدا مجھے بیٹا عطا کرے، اس بھی کہا: استغفار کرو، ربیع کہتا ہے کہ میں (تعجب کیا اور )اس سے کہا : جو شخص آپ کے پاس آتا ہے اور وہ کوئی مشکل پیش کرتا ہے اور نعمت کا تقاضا کرتا ہے اسے یہی حکم دیئے جارہے ہو اور سب سے کہتے ہو کہ استغفار کرو اور خدا سے بخشش طلب کرو، اس نے میرے جواب میں کہا: جو کچھ میں نے کہا ہے اپنی طرف سے نہیں کہا، میں یہ مطلب کلام خدا سے لیا ہے اور یہ وہی بات ہے جو وہ اپنے پیغمبر نوح سے کہتا ہے، اس کے بعد انھوں نے سورہ نوح کی ان (مذکورہ )آیات کی تلاوت کی ۔
جن لوگوں کی عادت ہے وہ ایسے مسائل کو معمولی سمجھتے ہوئے گزرجاتے ہیں وہ ان امور میں موجود ایک روحانی تعلق جانے بغیر ان کے قائل ہوجاتے ہیں اور مزید کوئی تجربہ وتحلیل نہیں کرتے لیکن اگر زیادہ غوروفکرسے کام لیا جائے تو ہمیں ان امور کے درمیان تربیتی رشتے نظرآئیں گے جن کی طرف توجہ کرنے سے مادی اور روحانی مسائل کو آپس میں اس طرح مالایا جاسکتا ہے جیسے ایک کپڑے کے ریشے آپس میں ملے ہوتے ہیں یا جیسے کسی درخت کی جڑ تنااور پھل پھول آپس میں مربوط ہوتے ہیں ۔
کونسا ایسا معاشرہ ہے جو گناہ، خیانت، نفاق، چوری ، ظلم اور تن پروری سے آلودہ ہو اور پھر بھی وہ آباد اور پربرکت رہے ۔
کونسا معاشرہ ہے جو تعاون وہمکاری کی روح گنوا بیٹھے جنگ، نزاع اور خونریزی اس کی جگہ لے لے اور پھر بھی اس کی زمینیں سرسبز وشاداب ہوں اور وہ اقتصادی طور پر خوشحال ہو۔
کونسا معاشرہ ہے جس کے لوگ طرح طرح کی ہواووہوس میں آلودہ ہوں پھر بھی وہ طاقتور ہواور دشمن کے مقابلے میں پامردی سے کھڑا ہوسکے ۔
صراحت سے کہنا چاہیئے کہ کوئی ایسا اخلاقی مسئلہ نہیں مگر یہ کہ وہ لوگوں کی مادی زندگی پر مفید اور اصلاحی اثر کرے، اسی طرح کوئی صحیح اعتقاد اور ایامن ایسا نہیں کہ جو معاشرے کو آباد، آزاد، بااستقلال اور طاقتور بنانے میں موثر ہو۔
جو لوگ اخلاقی مسائل، مذہبی عقیدہ اور توحید پر ایمان کو مادی مسائل سے جدا کرکے دیکھتے ہیں انھوں نے نہ معنوی اور روحانی مسائل کو اچھی طرح سے پہچانا ہے اور نہ مادی مسائل کو، اگر دین لوگوں میں تکلفات اور تشریفات، ظاہری آداب اور مفہوم ومعنی سے خالی شکل میں ہو تو واضح ہے کہ معاشرے کے مادی نظام میں اس کی کوئی تاثیر نہیں ہوگی، لیکن اگر روحانی اعتقادات روح انسانی کی عمیق گہروئیوں میں اس طرح سے اتر جائے کہ اس کے اثرات ہاتھ، پاؤں ، آنکھ، کان، زبان اور جسم کے تمام ذرات میں ظاہر ہوں تو ان اعتقاد کے معاشرے پر اصلاحی آثار کسی سے مخفی نہیں رہیں گے ۔
ہوسکتا ہے مادی برکات کے نزول سے استغفار کے تعلق کے بعض مراحل میں ہم صحیح طورپر نہ سمجھ سکیں لیکن اس میں شک نہیں کہ اس کے بہت سے حصے ہمارے لئے قابل فہم ہیں ۔
دور حاضر میں ہمارے اسلامی ممالک ایران کے اسلامی انقلاب میں ہم نے اچھی طرح مشاہدہ کیا ہے کہ اسلامی اعتقادات اور اخلاقی اوروحانی قوت کس طرح دور حاضر کی طاقتورترین اسلحہ، طاقتور افواج اور استعمار ی سپر طاقتوں پر کامیاب ہوگی یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ دینی عقائد اور مثبت روحانی اخلاق کس حد تک اجتماعی اور سیاسی مسائل میں کارگر ہیں ۔
۴ ۔ ”( یزدکم قوة الیٰ قوتکم ) “ سے کیامراد ہے؟
اس جملے کاظاہری مفہوم یہ ہے کہ خدا وند عالم توبہ اور استغفار کے نتیجے میں تمہاری قوت میں قوت کا اضافہ کرے گا ۔
بعض نے اس جملے کو انسانی قوت میں اضافے کی طرف اشارہ سمجھا ہے (جیسا کہ سورہ نوح کی آیات میں بھی اس طرف اشارہ ہوا ہے) ۔
بعض نے معنوی طاقت میں مادی طاقت کے اضافے کی طرف اشارہ سمجھا ہے ۔
لیکن آیت کی تعبیر مطلق ہے اور ہر قسم کی مادی اور معنوی طاقت میں اضافے کا مفہوم اس میں شامل ہے اور اس میں ان تمام تفاسیر کا مفہوم ہوجود ہے ۔
آیات ۵۳،۵۴،۵۵،۵۶،۵۷
۵۳( قَالُوا یَاهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِکِی آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِکَ وَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِینَ ) ۔
۵۴( إِنْ نَقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاکَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّی اٴُشْهِدُ اللهَ وَاشْهَدُوا اٴَنِّی بَرِیءٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ ) ۔
۵۵( مِنْ دُونِهِ فَکِیدُونِی جَمِیعًا ثُمَّ لَاتُنْظِرُونِی ) ۔
۵۶( إِنِّی تَوَکَّلْتُ عَلَی اللهِ رَبِّی وَرَبِّکُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلاَّ هُوَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِهَا إِنَّ رَبِّی عَلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ) ۔
۵۷( فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اٴَبْلَغْتُکُمْ مَا اٴُرْسِلْتُ بِهِ إِلَیْکُمْ وَیَسْتَخْلِفُ رَبِّی قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلَاتَضُرُّونَهُ شَیْئًا إِنَّ رَبِّی عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ حَفِیظٌ ) ۔
ترجمہ
۵۳ ۔انھوں نے کہا: اے ہود! تو ہمارے لئے کوئی دلیل نہیں لایا، ہم اپنے خداؤں کو تیری بات پر نہیں چھوڑتے اورہم (بالکل) تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے ۔
۵۴ ۔ہم (تیرے بارے میں ) صرف یہ کہتے ہیں ہمارے بعض خداؤں نے تجھے نقصان پہنچایا ہے (اور تیری عقل چھین لی ہے)، (ہود نے)کہا: میں خدا کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جنہیں تم (خدا کا)شریک قرار دیتے ہو ان سے بیزار ہوں ۔
۵۵ ۔وہ جو اس (خدا) کے علاوہ ہیں ( کہ جنہیں تم سوچتے ہو) اب جب کہ ایسا ہے تو تم سب مل کر میرے خلاف سازش کرو (لیکن جان لوکہ تم سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا)
۵۶ ۔ (کیونکہ) میں نے اللہ پر توکل کرلیا ہے جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے کوئی چلنے پھرنے والا ایسا نہیں جس پر وہ تسلط نہیں رکھتا (لیکن ایسا تسلط جو عدالت پر مبنی ہے کیونکہ )میرا پروردگار صراط مستقیم پر ہے ۔
۵۷ ۔اور اگر تم منہ موڈ لو تو جو پیغام میرے ذمہ تھا وہ میں نے تم تک پہنچادیا ہے اور خدا دوسرے گروہ کو تمہارا جانشین کردے گا اور تم اسے ذرہ بھر نقصان بھی نہیں پہنچاسکتے، میرا پروردگار وہر چیز کا محافظ اور نگہبان ہے ۔
حضرت ہودعليهالسلام کی قوی منطق
اب دیکھتے ہےں کہ اس سر کش اور مغرور قوم نے ، یعنی قوم عاد نے اپنے بھائی ہود ، ان کے پند ونصائح اور ہدایت و رہنمائی کے مقابلہ میں کیا رد عمل ظاہر لیا ۔
”انھوں نے کہا: اے ہود ! تو ہمارے لئے کوئی وضح دلیل نہےں لاےا“( قَالُوا یَاهُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ ) ، ہر گزتےری باتو پر اپنے بتوں اور خداؤں کا دامن نہےں چھوڑے گے( وَمَا نَحْنُ بِتَارِکِی آلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِکَ ) اور ہم ہر گز تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے( وَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِینَ ) ۔
ان تین غیر منطقی جملوں کے بعد انھوں نے مزید کہا:”ہمارا خیال ہے کہ تو دےوانہ ہو گیا ہے اور اس کا سبب یہ ہے کہ تو ہمارے خداؤں کے غضب کا شکار ہوا ہے اور انھوں نے تےری عقل کو آسیب پہچایا ہے“( إِنْ نَقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاکَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ ) ۔
اس میں شک نہیں کہ جیسے تمام انبیاء کا طریقہ کار ہوتا ہے اور ان کی ذمہداری ہے حضرت ہود نے انھیں اپنی حقانیت ثابت کرنے کے لے کئی ایک معزے دیکھائے ہو ں گے، لیکن انھوں نے اپنے کبرو غرور کی وجہ دے دیگر ہٹ دھرم قوموں کی طرح معجزات کا انکار کیا اور انھیں جادو قرار دیا اور انھیں اتفاقی حوادث گردانا کی جنہیں کسی معاملے میں دلیل قرار نہیں دےا جا سکتا ۔
ان باتوں سے قطع نظر بت پرستی کی نفی کے لے تو کسی دلےل کی ضرورت ہی نہیں ہوتی اور جو شخص بھی تھوڑی سی عقل شعور رکھتا ہو اور اپنے آپ کو تعصب سے دور کرلے تو وہ اچھی طرح سے اس کا بطلان سمجھ سکتا ہر، فرض کرےں کہ اس کے لے دلیل کی ضرورت ہے تو کیا یہ مسئلہ منطقی و عقلی دلائل کے علاوہ کسی معجزہ کا بھی محتاج ہے ۔
دوسرے لفظوں میں جو کچھ حضرت ہودعليهالسلام کے سلسلے میں گزشتہ آیات میں آیا ہے وہ خدائے یگانہ کی طرف دعوت، اس کی طرف بازگشت، بگناہوں سے استغفار اور ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی نفی ہے، یہ سب ایسے مسائل ہیں جنہیں عقلی دلیل سے بالکل ثابت کیا جاسکتا ہے ۔
لہٰذا اگرچہ”بینة“ سے نفی سے ان کی مراد عقلی دلیل کی نفی تھی، بہرحال انھوں نے یہ جو کہا تھا کہ ہم ہرگز تیری باتوں کی وجہ سے اپنے بتوں کو فراموش نہیں کریں گے ان کی ہٹ دھرمی کی بہترین دلیل ہے کیونکہ عقل مند اور حق جو انسان حق کی بات کسی کی طرف سے ہو اسے قبول کرلیتا ہے، خصوصا یہ جملہ کہ انھوں نے حضرت ہودعليهالسلام کو ”جنون“ کہ تہمت لگائی ۔ اور ”جنون“ بھی وہ جو ان کے زعم میں ان کے خداؤں کے غضب کا نتیجہ تھا، ان کے بیہودہ پن اور خرافات پرستی کی خود ایک بہترین دلیل ہے ۔
بے جان اور بے شعور پتھر اور لکڑیاں جو خود اپنے”بندوں “ کی مدد کی محتاج ہیں وہ ایک عقلمند انسان سے کس طرح اس کا عقل وشعور چھین سکتی ہے ۔
علاوہ ازیں ان کے پاس ہودعليهالسلام کے دیوانہ ہونے کی کونسی دلیل تھی، سوائے اس کے کہ انھوں نے ان کی سنت شکنی کی اور ان کے ماحول کے بیہودہ رسم ورواج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے، اگر یہ دیوانگی کی دلیل ہے تو پھر تمام مصلحین جہان اور انقلابی لوگ جو غلط روش اور طریقوں کے خلاف قیام کرتے ہیں سب دیوانے ہونے چاہیئں ۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، گزشتہ سور اور آج کی تاریخ نیک اندیش اور بدعت شکن مردوں اور عورتوں کی طرف یہ نسبت دئےے جانے سے بھری پڑی ہے، کیونکہ وہ خرافات اور استعمار اور اس کے ہتھکنڈوں اور شکنجوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ۔
بہرحال حضرت ہود(علیه السلام)کی ذمہ دارہ تھی کہ اس گمراہ اور ہٹ دھرم قوم کو دندان شکن جواب دیتے، ایسا جواب جو منطق کی بنیاد پر بھی ہوتا اور طاقت سے بھی ادا ہوتا، قرآن کہتا ہے کہ انھوں نے ان کے جواب میں چند جملے کہے: ”میں خدا کو گواہی کے لئے بلاتا ہوں اور تم سب بھی گواہ رہو کہ میں ان بتوں اور تمھارے خداؤں سے بیزار ہوں “(قَالَ إِنِّی اٴُشْهِدُ اللهَ وَاشْهَدُوا اٴَنِّی بَرِیءٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ من دونه )، یہ اس طرف اشارہ تھا کہ اگر یہ بت طاقت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ مجھے ختم کردیں ، میں جو ان کے خلاف علی الاعلان جنگ کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ہوں اور یہ اعلانیہ ان سے بیزاری اور تنفر کا اعلان کررہا ہوں تو وہ کیوں خاموش اور معطل ہیں ، کس چیز کے منتظر ہیں اور کیوں مجھے نابود اور ختم نہیں کرتے ۔
اس کے بعد مزید فرمایا کہ نہ فقط یہ کہ ان سے کچھ نہیں ہوسکتا بلکہ تم بھی اتنی کثرت کے باوجود کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے”اگر سچ کہتے ہو تو تم سب ہاتھوں میں ہاتھ دے کر میرے خلاف جو سازش کر سکتے ہو کرگزرو اور مجھے لمحہ بھر کی بھی مہلت نہ دو“( فَکِیدُونِی جَمِیعًا ثُمَّ لَاتُنْظِرُون ) ۔
میں تمہاری اتنی کثیر تعداد کو کیوں کچھ نہیں سمجھتا اور کیوں تمہاری طاقت کی کوئی پرواہ نہیں کرتا، تم کہ جو میرے خون کے پیاسے ہو اور ہر قسم کی طاقت رکھتے ہو، اس لئے کہ میرا رکھوالا اللہ ہے، وہ کہ جس کی قدرت سب طاقتوں سے بالا تر ہے، ”میں نے خدا پر توکل کیا ہے جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے“( انِّی تَوَکَّلْتُ عَلَی اللهِ رَبِّی وَرَبِّکُمْ ) ۔
یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ میں جھوٹ نہیں بول رہا ، یہ اس امر کی نشانی ہے کہ میں نے دل کسی اور جگہ نہیں باندھ رکھا، اگر صحیح طور پر سوچو تو یہ خود ایک قسم کا معجزہ ہے کہ ایک انسان تن وتنہا بہت سے لوگوں کے بیہودہ عقائد کے خلاف اٹھ کھڑا ہو جب کہ وہ طاقتور اور متعصب بھی ہوں یہاں تک کہ انھیں اپنے خلاف قیام کی تحریک کرے اس کے باوجود اس میں خوف وخطر کے کوئی آثار نظر نہ آئیں اور پھر نہ اس کے دشمن اس کے خلاف کچھ کرسکتے ہوں ۔
پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ نہ صرف تم بلکہ” عالم وجود میں کوئی چلنے پھرنے والا نہیں کہ جو خدا کے قبضہ قدرت اور فرمان کے ماتحت نہ ہو“ اور جب تک وہ نہ چاہے ان سے کچھ نہیں ہوسکتا( مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلاَّ هُوَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِهَا ) ۔
لیکن یہ بھی جان لوکہ میرے خدا کی قدرت کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کود سری اور خود خواہی کہ بنیاد پر عمل میں آئے اور وہ اسے غیر حق صرف کرے بلکہ ”میرا پروردگار ہمیشہ صراط مستقیم اور جادہ عدل پر ہے”اور وہ کوئی کام حکمت کے برخلاف انجام نہیں دیتا( إِنَّ رَبِّی عَلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ) ۔
دو اہم نکات
۱ ۔ ”ناصیة“ کا مفہوم
”ناصیة“ اصل میں سر کے اگلے حصے کے بالوں کے معنی میں ہے اور ”نصا“(بروزن” نصر “) کے مادہ سے اتصال اور پیوستگی کے مفہوم میں آیا ہے،”اخذ ناصیة“ (سر کے اگلے حصے کے بال پکڑنا) کسی چیز پر تسلط اور قہر وغلبہ کے لئے کنایہ ہے، یہ جو مذکورہ آیت میں خدا فرماتا ہے کہ ”کوئی چلنے پھرنے والا نہیں مگر یہ کہ ہم اس کی ”ناصیة“ پکڑ لیتے ہیں “ ہر چیز پر اس کی قدرت قاہرہ کا اشارہ ہے یعنی کوئی موجود اس کے ارادے کے سامنے ٹھہرنے کی تاب نہیں رکھتا کیونکہ عام طور پر جب کسی انسان یا حیوان کے سر کے اگلے بالوں کو پکڑ لیاجائے تو اس میں مقابلے کی طاقت نہیں رہتی ۔
یہ تعبیر اس لئے ہے کہ مغرور مستکبرین، خود پسند بت پرست اور ظالم حکومت کے خواہاں یہ نہ سوچیں کہ اگر چند دن کے لئے انھیں موقع مل گیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ پروردگار کے خلاف کچھ قیام کرنے لگیں ، انھیں اس حقیقت کی طرف متوجہ ہونا چاہیئے اور مرکب غرور سے نیچے اترنا چاہیئے ۔
۲ ۔” ان ربی علیٰ صراط مستقیم“کا مطلب
یہ جملہ نہایت خوبصورت ہے اور خدا کی ایسی قدرت جو عدالت اامیز ہے اس کے بارے میں یہ زیبا ترین تعبیرات میں سے ہے کیونکہ عموماً طاقتور جھوٹے اور ظالم ہوتے ہیں لیکن اللہ اپنی بے انتہا قدرت کے باوجود ہمیشہ عدالت کی صراط مستقیم پر ہے، اس کا راستہ ہمیشہ حکمت، نظم اور حساب وکتاب کا صاف وشفاف راستہ ہے ۔
اس نکتہ کو بھی نگاہ سے دور نہیں رہنا چاہیئے کہ حضرت ہودعليهالسلام کی باتیں مشرکین کے سامنے یہ حقیقت بیان کر رہی تھیں کہ ہٹ دھرم دشمن جس قدر اپنی ہٹ دھرمی میں اضافہ کریں ایک حقیقی رہبر کو چاہیئے کہ وہ اپنی استقامت وپامردی میں اتنا ہی اضافہ کرے، قوم نے حضرت ہودعليهالسلام کو بتوں سے بہت زیادہ خائف کرنے کی کوشش کی تھی لہٰذا انھوں نے بھی اس کے مقابلے میں انھیں شدید ترین طریقے سے خدا کی قدرت قاہرہ سے ڈرایا ۔
آخرکا حضرت ہودعليهالسلام ان سے کہتے ہیں : اگر تم راہ حق سے روگردانی کرو گے تو اس میں مجھے کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ میں نے اپنا پیغام تم تک پہنچادیا ہے( فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اٴَبْلَغْتُکُمْ مَا اٴُرْسِلْتُ بِهِ إِلَیْکُمْ ) ، یہ جو اس طرف اشارہ ہے کہ گمان نہ کرو کہ اگر میری دعوت قبول نہ کی جائے تو میرے لئے کوئی شکست ہے، میں نے اپنا فریضہ انجام دے دیا ہے اور فریضے کی انجام دہی کامیابی ہے اگرچہ میری دعوت قبول نہ کی جائے ۔
دراصل یہ سچے رہبروں اور راہ حق کے پیشواؤں کے لئے ایک درس ہے کہ انھیں اپنے کام پر کبھی بھی خستگی وپریشانی کا احساس نہیں ہونا چاہیئے چاہے لوگ ان کی دعوت قبول نہ کریں ۔
جیسا کہ بت پرستوں نے آپ کو دھمکی دی تھی، اس کے بعد آپ انھیں شدید طریقے سے عذاب الٰہی کی دھمکی دیتے ہوئے کہتے ہیں : اگر تم نے دعوت حق قبول نہ کی تو خدا عنقریب تمھیں نابود کردے گا اور کسی دوسرے گروہ کو تمہارا جانشین بنا دے گا اور تم اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتے( وَیَسْتَخْلِف رَبِّی قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلَاتَضُرُّونَهُ شَیْئًا ) ۔
یہ قانون خلقت ہے کہ جس وقت لوگ نعمت ہدایت یا خدا کی دوسری نعمتیں قبول کرنے کے اہل نہ ہوں تو وہ انھیں اٹھا لیتا ہے اور ان کی جگہ کسی دوسرے اہل گروہ کو لے آتا ہے ۔
اور یہ بھی جان لو کہ میرا پروردگار ہر چیز کا محافظ ہے اور ہر حساب وکتاب کی نگہداری کرتا ہے ( إِنَّ رَبِّی عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ حَفِیظٌ)، نہ موقع اس کے ہاتھ سے جاتا ہے اور نہ وہ موقع کی مناسبت کو فراموش کرتا ہے، نہ وہ اپنے انبیاء اور دوستوں کو طاق نسیاں کرتا ہے اور نہ کسی شخص کا حساب وکتاب اس کے علم سے اوجھل ہوتا ہے بلکہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہرچیز پرمسلط ہے ۔
آیات ۵۸،۵۹،۶۰
۵۸( وَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُودًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَنَجَّیْنَاهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِیظٍ ) ۔
۵۹( وَتِلْکَ عَادٌ جَحَدُوا بِآیَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا اٴَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ ) ۔
۶۰( وَاٴُتْبِعُوا فِی هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ اٴَلَاإِنَّ عَادًا کَفَرُوا رَبَّهُمْ اٴَلَابُعْدًا لِعَادٍ قَوْمِ هُودٍ ) ۔
ترجمہ
۵۸ ۔اور جس وقت ہمارا فرمان آپہنچا تو ہود اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے انھیں اپنی رحمت سے ہم نے نجات دی اور عذاب شدید سے انھیں بچالیا ۔
۵۹ ۔اور یہ قوم عاد ہی تھی کہ جنھوں نے اپنے پروردگار کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر ستمگر، حق کے دشمن کے حکم کی پیروی کی ۔
۶۰ ۔اس جہان میں ان کے پیچھے لعنت (اور رسوائی رہی) اور قیامت میں (کہا جائے گا کہ) جان لو کہ عاد نے اپنے پروردگار سے کفر وانکار کیا، دُور ہو عاد قوم ہود (خدا کی رحمت اور خیروسعادت سے)
اس ظالم قوم پر ۔ابدی لعنت
قوم عاد اور ان کے پیغمبرحضرت ہودعليهالسلام کی سرگشت سے مربوط آیات کے آخری حصے میں ان سرکشوں کی، دردناک سزا ور عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن پہلے کہتا ہے: جب ان کے عذاب کے بارے میں ہماراحکم آپہنچا تو ہود اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لاچکے تھے ہماری ان پر رحمت اورلطف خاص نے انھیں نجات بخشی( وَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُودًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا ) ، پھر مزید تاکید کے لئے فرمایا گیاہے: اور ہم نے ان صاحب ایمان لوگوں کو شدید اور غلیظ عذاب سے رہائی بخشی( وَنَجَّیْنَاهُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِیظٍ ) ۔
یہ امر جاذب نظر ہے کہ بے ایمان، سرکش اور ظالم افراد کے لئے عذاب وسزا بیان کرنے سے پہلے صاحب ایمان قوم کی نجات کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ یہ خیال پیدا نہ ہو جیسا کہ مشہور ضرب المثل ہے کہ عذاب الٰہی کے موقع پر خشک وتر سب جل جاتے ہیں کیونکہ وہ حکیم وعادل ہے اور محال ہے کہ وہ ایک بھی صاحب ایمان شخص کو بے ایمان اور گنہگارلوگوں کے درمیان عذاب کرے، بلکہ رحمت الٰہی ایسے افراد کو عذاب وسزا کے نفاذ سے پہلے ہی امن وامان کی جگہ پر منتقل کردیتی ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ اس سے پہلے کی طوفان آئے حضرت نوحعليهالسلام کی کشتی تیار تھی اور اس سے پہلے کہ حضرت لوطعليهالسلام کے شہر تباہ وبرباد ہوں حضرت لوطعليهالسلام اور آپ کے انصار راتوں رات حکم الٰہی سے وہاں سے نکل آئے ۔
اس سلسلے میں کہ لفظ”نجینا“ کا اس جملے سے کیوں تکرار کیا گیا مختلف تفسیریں ہیں ۔
بعض کا نظریہ ہے کہ پہلے مرحلے میں ”نجینا“ دنیاوی عذاب سے نجات پانے کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے مرحلے میں آخرت کے عذاب کی طرف کہ جو ”غلیظ“ ہونے کی صفت سے بھی پوری طرح مطابقت رکھتا ہے ۔
بعض دوسرے مفسرین نے ایک لظیف نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ کہ چونکہ رحمت الٰہی کے بارے میں گفتگو ہورہی تھی اگر فوراً لفظ عذاب کا تکرار ہوتا تو مناسب نہ تھا، رحمت کہاں اور عذاب غلیظ کہاں ، لہٰذا ”نجینا“ کا تکرار ہوا تاکہ ان دونوں کے درمیان فاصلہ ہوجائے اور عذاب کی شدت اور تاکید میں بھی کسی قسم کی کمی نہ آئے ۔
اس نکتے کی طرف بھی توجہ رہنا چاہییے کہ آیات قرآن میں چار مواقع پر عذاب کے لئے” غلیظ“ کی صفت استعمال کی گئی ہے(۱) ان آیات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب غلیظ کا ربط جہانِ آخرت کے ساتھ ہے، خصوصا سورہ ابراہیم کی آیات جن میں عذاب غلیظ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے صراحت سے دوزخیوں کی حالت بیان کررہی ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ دنیاوی عذاب کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو پھر بھی عذاب آخرت کے مقابلے میں خفیف ہے کم اہمیت کا حامل ہے ۔
یہ مناسبت بھی قابل ملاحظہ ہے کہ جیسا کہ انشاء اللہ سورہ قمر اور سورہ حاقہ میں آئے گا قوم عاد کے لوگ سخت اور بلند قامت تھے، ان کے قدکو کھجور کے درختوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اسی مناسبت سے ان کی عمارتیں مضبوط، بڑی اور اونچی تھیں یہاں تک کہ قبل اسلام کی تاریخ میں ہے کہ عرب بلند اور مضبوط عمارتوں کی نسبت قوم عادہی کی طرف دیتے ہوئے انھیں ”عادی“ کہتے تھے، اسی لئے ان پر آنے والا عذاب بھی انہی کی طرح غلیظ اور سخت تھا، جیسا کہ مذکورہ سورتوں کی تفسیر میں آئے گا ۔
اس کے بعد قوم عاد کے گناہوں کا خلاصہ تین امور میں بیان کیا گیا ہے:
پہلا: یہ کہ انھوں نے اپنے پروردگار کی آیات کا انکار کیا اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے پیغمبر کی دعوت کے منکر ہوگئے جوکہ واضح دلیل اور مدرک تھا( وَتِلْکَ عَادٌ جَحَدُوا بِآیَاتِ رَبِّهِم ) ۔
دوسرا: یہ کہ وہ عملی لحاظ سے بھی انبیاء کے خلاف عصیان وسرکشی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ( وَعَصَوْا رُسُلَہُ )، یہاں ”رسل“ جمع کی صورت میں بیان ہوا ہے، ایسا یا تو اس بنا پر ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی حقیقت کی طرف تھی ۔یعنی توحید اور اس کی شاخیں ۔ لہٰذا ایک پیغمبر کا انکار تمام پیغمبروں کے انکار کے مترادف ہے، یا اس بنا پر کہ حضرت ہودعليهالسلام انھیں گزشتہ انبیاء پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے اور وہ انکار کرتے تھے ۔
تیسرا: گناہ ان کا یہ تھا کہ وہ حکم خدا کو چھوڑ کر حق دشمن ظالموں کی اطاعت کرتے تھے( وَاتَّبَعُوا اٴَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ ) ۔
ترک ایمان، انبیاء کی مخالفت اور حق دشمن ظالموں کی پیروی سے بڑھ کر کونسا گناہ تھا ۔
”جبار“ اس شخص کو کہتے ہیں جو غضب سے مارتا، قتل کرتا اور نابود کرتا ہے اور حکم عقل کا پیرو نہیں ہوتا، دوسرے لفظوں میں ”جبار“ اسے کہتے ہیں جو دسروں کو اپنی پیروی پرمجبور کرے یا جو اپنی بڑائی اور تکبر کے ذریعے اپنا عیب چھپانا چاہے، اور ”عنید“ وہ ہے جو حق وحقیقت کی بہت زیادہ مخالفت کرے اور کسی صورت میں حق کو قبول نہ کرے ۔
یہ دو صفات ہر زمانے کے طاغوتوں اور متکبرین کی واضح صفات میں سے ہیں ، کبھی بھی ان کے کان حق بات سننے کو تیار نہیں ہوتے اور اپنے مخالف سے قساوت، بے رحمی اور سختی سے پیش آتے ہیں اور اسے ختم کردیتے ہیں ۔
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ اگر جبار کا یہی معنی ہے تو پھر قرآن کی سورہ حشر آیہ ۲۳ میں اوع دیگر مصادر اسلامی میں خدا کی ایک صفت”جبار“ کیوں ذکر ہوئی ہے؟
اس کا جواب یہ ہے کہ اصل لغت میں جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں ”جبار“ یا مادہ”جبر“ سے قہر وغلبہ اور قدرت کے معنی میں ہے اور یا ”جبران“ کے مادہ سے کسی نقص کے برطرف کرنے کے معنی میں ہے ۔
لیکن ”جبار“ چاہے پہلے معنی میں ہویا دوسرے معنی میں ، دونوں صورتوں میں استعمال ہوتا ہے کطھی مذمت کی صورت میں اور وہ اس موقع پر جب کوئی انسان اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرکے، تکبر کے ذریعے اور غلط دعویٰ کرکے اپنے کمی اور نقائص کی تلافی کرنا چاہے یا اپنے خواہش سے دوسرے کو مقہور اور ذلیل کرنا چاہے، یہ معنی قرآن کی بہت سے آیات میں آیا ہے، کبھی اسے دیگر قابل مذمت صفات کے ہمراہ بیان کیا گیا ہ، مثلا ًمندرجہ بالا آیت میں ”عنید“ کے ساتھ مل کر آیا ہے، سورہ مریم آیہ ۳۲ میں پیغمبر خدا حضرت عیسیٰ کی زبانی آئی ہے کہ :( ولم یجعلنی جبارا شقیا ) ۔
اور خدا نے مجھے جبار اور شقی قرار نہیں دیا ۔
یا بنی اسرائیل کے حالات میں بیت المقدس کے ظالم ساکنین کے بارے میں ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا:( ان فیها قوماً جبارین ) ۔
اس سرزمین پر ظالم اور ستم پیشہ قوم رہتی ہے (مائدہ: ۲۲)
کبھی لفظ”جبار“ انھیں دونوں مادوں سے مدح کے معنی میں استعمال ہوتاہے ، اس حوالے سے ”جبار“ اسے کہا جاتا ہے جو لوگوں حاجات اور نقائص کی تلافی کرتا ہو، اسی طرح اس جو جو ہڈیوں کو جوڑتا ہو یا یہ کہ اتنی چبے پناہ قدرت کا مالک ہو کہ اس کا گیر اس کے سامنے خاضع اور ذلیل ہو لیکن وہ کسی پر ظلم نہ کرنا چاہے یا اپنی قدرت سے استفادہ نہ کرنا چاہے، اسی بنا پر جب ”جبار“ اس معنی میں ہوتو دوسری صفات مدح ساتھ ہوتی ہے، جیسا کہ سورہ حشر کی آیہ ۲۳ میں ہے:
( الملک القدوس السلام المومن المهیمن العزیز الجبارالمتکبر ) ۔
وہ پاک ومنزہ فرمانروا ہے کہ جس سے اس کے بندے کبھی ظلم نہیں دیکھتے اور نگہبان ومھافظ ہے ، ناقابل شکست ہے، قدرت مند ہے اور برتر ہے ۔
واضح ہے کہ قدوس، سلام اور مومن جیسے صفات کبھی صورت” جبار “بمعنی ”ظالم“ اور ”متکبر“ بمعنی”اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والا“ سے مناسبت نہیں رکھتیں ، یہ عبارت اچھی طرح سے نشاندہی کرتی ہے کہ یہاں ”جبار“ دوسرے معنی میں ہے ۔
بعض حضرات نے چونکہ ”جبار“ کے صرف کچھ مواقع استعمال نگاہ میں رکھے ہیں اور اس کے لغوی اور متعدد معانی پر غور نہیں کیا لہٰذا ان کا خیال یہ ہے کہ اس لفظ کا خدا کے لئے استعمال صحیح نہیں ہے (یہی صورت ان کے نزدیک لفظ ”متکبر“ کی ہے)لیکن اس کے اصلی لغوی مفہوم کو نظر میں رکھنے سے اعتراض برطرف ہوجاتا ہے(۲)
زیر بحث آخری آیت جہاں حضرت ہودعليهالسلام اور قوم عاد کی داستان ختم ہورہی ہے ان کے برے اور نادرست اعمال کا نتیجہ یوں بیان کیا گیا ہے:وہ ان کے اعمال کی وجہ سے اس دنیا میں ان پر لعنت ونفرین ہوئی اور ان کے مرنے کے بعد ان کے برے نام اور رسوا کن تاریخ کے سوا ان کی کوئی چیز باقی نہ رہی( وَاٴُتْبِعُوا فِی هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً ) ، اور قیامت کے دن کہا جائے گا کہ جان لو! قوم عاد نے اپنے پروردگار کا انکار کیا تھا( وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ اٴَلَاإِنَّ عَادًا کَفَرُوا رَبَّهُمْ ) ، دور ہوجا عاد قوم ہود رحمت پروردگار سے( اٴَلَابُعْدًا لِعَادٍ قَوْمِ هُود ) ۔
باوجود یکہ لفظ”عاد“ اس قوم کے تعارف کے لئے کافی ہے لیکن مندرجہ بالا آیت میں عاد کے ذکر کے بعد ”قوم ہود“ کے الفاظ بھی آئے ہیں جن سے تاکید بھی ظاہر ہوتی ہے اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے دلسوز پیغمبر حضرت ہودعليهالسلام کو یہ سب تکلیفیں پہنچائیں ، انھیں تہمتیں دیں اور اسی بنا پر رحمت الٰہی سے دور ہیں ۔
____________________
۱۔ سورہ ابراہیم:۱۷، لقمان: ۲۴، اور فصلت: ۵۰۔
۲۔ کتاب تاج العروس از زبیدی اور مفردات از راغب، اور تفسیر مجمع البیان اور تفسیر المنار کا زیر بحث آیات اور سورہ حشر کی آخری آیات کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔
۱ ۔ قوم عاد تاریخ کی نگاہ میں
بعض مغربی مورخین جن میں اسپرینگل بھی شامل ہے نے کوشش کی ہے کہ قوم عاد کا تاریخی طور پر انکار ہی کردیں ، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آثار اسلامی کے علاوہ اس کا کہیں ذکر نہیں اور انھیں کتب عہد قدیم (تورات وغیرہ)میں اس کا نام ونشان نہیں ملا، لیکن ایسے ماخذ موجود ہیں جو نشاندہی کرتے ہیں کہ قصہ عاد عرب کے زمانہ جاہلیت میں مشہور تھا اور قبل اسلام کے شعراء نے قوم ہودکے بارے میں گفتگو کی ہے، یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بلند اور مضبوط عمارتوں کی نسبت ”عاد“ کی طرف دیتے ہوئے انھیں ”عادی“ کہتے تھے ۔
بعض مورخین کا خیال ہے کہ لفط”عاد“ کا اطلاق دو قبیلوں پر ہوتا ہے، ایک قبیلہ کا تعلق تاریخ سے ہے، یہ جزیرہ عربستان میں زندگی گزارتا تھا، یہ قبیلہ ختم ہوگیا اور اس کے آثار بھی مٹ گئے، تاریخ بشر میں ان کی زندگی کے چند ناقابل اطمینان افسانوں کے اور کوئی چیز محفوظ نہیں ، ان مورخین نے قرآن میں سورہ نجم آیہ ۵۰ کی تعبیر ”عاد الاولیٰ“کو اسی طرف اشارہ سمجھا ہے ۔
رہے وہ لوگ جن کا تعلق تاریخ انسانی کے دور سے ہے تو احتمال یہ ہے کہ وہ میلاد مسیح سے کوئی ۷۰۰ سال قبل یا اس سے بھی پہلے تھے، اس قوم کو بھی عاد کہتے تھے، یہ قوم سرزمین احقاف یا یمن میں رہتی تھی، یہ طویل القامت، قوی جسم اور طاقتور لوگ تھے، اسی وجہ سے وہ بڑے جنگجو سمجھے جاتے تھے ۔
علاوہ ازیں ان لوگونئے تمدن وثقافت میں بہت ترقی کی، یہ لوگ آباد شہروں ، سرسبز زمینوں اور شاداب باغات کے مالک تھے، جیسا کہ قرآن ان کی توصیف میں کہتا ہے:( التی لم یخلق مثلها فی البلاد ) ۔
ان کی نظیر دنیا کے دیگر شہروں میں پیدا نہیں ہوئی تھی ۔ (فجر: ۸)
اسی بنا پر بعض مستشرقین نے کہا ہے کہ قوم عاد برہوت کے علاقہ میں زندگی بسرتی تھی ( یہ علاقہ حضرموت یمن کے نواح میں ہے) اور آتش نشانیوں کی وجہ سے ان میں سے بہت سے لوگ ختم ہوگئے اور باقی ادھر ادھر منتشر ہوگئے ۔
بہرحال یہ قوم ایک عرصہ تک ناز و نعمت میں زندگی بسر کرتی رہی لیکن جیسا کہ زیادہ تر نازونعمت میں پلنے والے لوگوں کا شیوہ ہے، وہ غرور غفلت میں مست ہوگئے اور دوسروں پر ظلم وستم ڈھاکر اور استعماری ہتھکنڈے اختیار کرکے انھوں نے اپنی طاقت سے غلط فائدہ اٹھایا، مستکبرین اور جبارین عنید کو انھوں نے اپنا پیشوا بنایا، دین بت پرستی کو رائج کیا اور اپنے پیغمبر حضرت ہودعليهالسلام کی پندونصیحت اور ان کے نظریات وافکار واضح کرنے اور ان کے لئے کی گئی اتمام حجت کی سعی وکاوش کو انھوں نے نہ صرف ذرہ بھر کوئی حیثیت نہ دی بلکہ اس عظیم مرد حق طلب کیا آواز خاموش کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔
کبھی انھیں دیوانگی اور حماقت سے نسبت دی اور کبھی اپنے خداؤں کے غضب سے انھیں ڈرایالیکن آپ پہاڑ کی طرح اس مغرور اور طاقتور قوم کے مقابلے میں ڈٹے رہے، آخر کار تقریبا چار ہزار افراد کو آپ نے پاکباز بنایا اور انھیں اپنے دین حق کی طرف لے آئے لیکن دوسرے لوگ اپنی ہٹ دھرمی اور عناد پر باقی رہے ۔
جیسا کہ سورہ ذارعات، حاقہ اور قمر میں آئے گا، آخر کار بہت شدید اور تباہ کن طوفان سات راتیں اور چھ دن ان پر مسلط رہا، اس طوفان نے ان کے محلات برباد کردئے اور ان کی لاشیں خزاں کے پتوں کی طرح ہوا کی تیز لہروں نے ادھر ادھر بکھیر دیں ، سچے مومنین کو پہلے ہی وہاں سے نکال لیا گیا تھا، خدائے تعالی نے انھیں نجات دی اور ان کی زندگی تمام جابروں اور خودسروں کے لئے ایک عظیم درس عبرت قرار پائی ۔(۱)
۲ ۔ قوم عاد پر ابدی لعنت
یہ تعبیر اور ایسی دیگر تعبیرات مختلف اقوام کے لئے قرآن کی کئی ایک آیات میں آئی ہیں ، ان اقوام کے کچھ حالات بیان فرماکر اس طرح سے فرمایا گیا ہے مثلاً:
( اٴَلَابُعْدًا لِثَمُودَ ) (ہود: ۶۸)
( اٴَلَابُعْدًا لِمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ ) (ہود: ۹۵)
( فَبُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ) ۔ (مومنون: ۴۱)
( فَبُعْدًا لِقَوْمٍ لَایُؤْمِنُونَ ) ۔ (مومنون: ۴۴)
اور اسی طرح حضرت نوحعليهالسلام کی داستان میں ان کی قوم کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں :
( وَقِیلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ ) (ہود: ۴۴)
ان تمام آیات میں نفرین ایک طرح سے رحمت خدا سے دوری کی علامت ہے، ان لوگوں کے لئے جنھوں نے بہت بڑے بڑے گناہ انجام دئے ہیں ۔
آج بھی بالکل اسی طرح سرکش، استعمارگر، ستم پیشہ افراد اور گروہوں کے خلاف نعرے لگائے جاتے ہیں البتہ یہ قرآنی شعار اس قدر موثر اور جامع ہے کہ جو صرف ایک پہلو کے حامل نہیں ہے کیونکہ جب ہم کہتے ہیں کہ ”فلاں گروہ دور ہو“ تو اس کی رحمت الٰہی سے دوری بھی شامل ہے، سعادت سے دوری بھی، ہر قسم کی خیروبرکت اور نعمت سے دوری بھی اور بندگان خدا سے دوری بھی، البتہ ان کا خیر وسعادت سے دور ہونا رد عمل ہے ان کے خدا اور خلق خدا سے روحانی، فکری اور عملی طور پر اندرونی اعتبارسے دور ہونے کا، کیونکہ ہر قسم کا نظریہ اورعمل موت کے بعد دوسرے گھر میں اور دوسرے جہان میں اپنا عکس رکھتا ہے جو بالکل اس کے مشابہ ہے، اس بنا پر اس جہان کی دوریاں آخرت میں خدا کی رحمت، عفو، بخشش اور نعمات سے دوری کا سرچشمہ ہے ۔(۲)
____________________
۱۔ تفسیر المیزان، تفسیر مجمع البیان اور کتاب اعلام القرآن۔
۲۔ مندرجہ بالا آیت میں لفظ”بعدا“ ترکیب نحوی کے اعتبار سے جملہ ”ابعدهم الله “ کا مفعول مطلق ہے اور یہ جملہ مقدر ہے، البتہ قاعدتا ”بعدا“کی بجائے ”ابعادا“ہونا چاہیئے کیونکہ”ابعد“ کا مصدر ”ابعاد“ ہے لیکن بعض اوقات مفعول مطلق ذکر کرتے وقت باب افعال کے مصدر کی بجائے ثلاثی مجرد لے آتے ہیں مثلا-:واللّٰه انبتکم من الارض نباتاً (غور کیجئے گا)
آیت ۶۱
۶۱( وَإِلیٰ ثَمُودَ اٴَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَهٍ غَیْرُهُ هُوَ اٴَنشَاٴَکُمْ مِنَ الْاٴَرْضِ وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْهِ إِنَّ رَبِّی قَرِیبٌ مُجِیبٌ ) ۔
ترجمہ
۶۱ ۔ (قوم)ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی پرستش کرو کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، وہی ہے جس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور اس کی آباد کاری تمھارے سپرد کی، اس سے بخشش طلب کرو، پھر اس کی طرف توبہ کرو اور رجوع کرو کہ میرا پروردگار (اپنے بندوں کے)نزدیک اور (ان کے تقاضوں کو) قبول کرنے والا ہے ۔
قوم ثمود کی داستان شروع ہوتی ہے
قوم عاد کے حالات اپنے تمام تر عبرت انگیزدرس کے ساتھ بطور اختصار تمام ہوئے، اب قوم ثمود کی باری ہے، تواریخ کے مطابق یہ قوم مدینہ اور شام کے درمیان وادی القریٰ میں رہتی تھی، یہاں ہم پھر دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید جب ان پیغمبر حضرت صالحعليهالسلام کے بارے میں گفتگو کرتا ہے تو انھیں ”بھائی“ کے طور پر یاد کرتا ہے، یہ کتنی عمدہ، موثر اور خوبصورت تعبیر ہے، اس کے بعض مطالب ہم نے گزشتہ آیات کے ذیل میں اشارہ کیا ہے، دردِ دل رکھنے والا مہربان بھائی کہ جو خیر خواہی کے سوا کچھ نہیں چاہتا، ” ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا “( وَإِلیٰ ثَمُودَ اٴَخَاهُمْ صَالِحًا ) ۔
پھر ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت صالحعليهالسلام کااصولی لائحہ عمل بھی دیگر انبیاء جیساہے، وہ لائحہ عمل جس کا آغاز توحید سے اور ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی نفی سے ہوتا ہے، وہ شرک اور بت پرستی جو انسان کی تمام مشکلات کا خمیر ہے ۔
اس نے کہا: اے میری قوم! خدا کی پرستش کرو کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں( قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَهٍ ) ۔
اس کے بعد ان میں حق شناسی کی تحریک پیدا کرنے کے لئے انھیں پروردگار کی اہم نعمتیں کہ جو ان کے پورے وجود پر محیط ہیں کا ایک پہلو یاد دلایا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے: وہ ایسی ذات ہے جس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا ہے( غَیْرُهُ هُوَ اٴَنشَاٴَکُمْ مِنَ الْاٴَرْضِ ) ۔
بے قدر وقیمت خاک کہاں اور یہ وجود عالی اور بدیع و عمدہ خلقت کہاں ، کیا کوئی عقل اجازت دیتی ہے کہ انسان ایسے خالق وپروردگار کو جو یہ قدرت رکھتا ہے اور جس نے یہ نعمت بخشی ہے اسے چھوڑ کر ان تمسخر آمیز بتوں کے پیچھے جائے ۔
نعمت خلقت کی طرف اشارہ کرنے بعد زمین میں موجود دوسری نعمت سرکش یاد دلائی گئی ہیں وہ ایسی ذات ہے جس نے زمین کی تعمیر اور آباد کاری تمھارے سپرد کی ہے اور اس کے وسائل اور ذرائع تمھیں بخشے ہیں( وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیهَا ) ۔
لفظ”استعمار“ اور ”اعمار“ لغت عرب میں در اصل زمین کی آباد کاری کسی کو سپرد کردینے کے معنی میں ہے اور یہ بات طبیعی و فطری ہے کہ اس کا لازمہ ہے کہ ضروری وسایل بھی اسے مہیا کئے جائیں ، یہ وہ چیز ہے کہ جو ارباب لغت مثلا ًراغب نے مفردات اور دوسرے بہت سے مفسرین نے مندرجہ بالا آیت کی تفسیر میں کہی ہے ۔
آیت کے معنی میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مراد یہ ہے کہ خدا نے نے تمھیں طولانی عمر دی ہے، البتہ متون لغت کی طرف توجہ کرتے ہوئے پہلا معنی زیادہ صحیح نظر آتا ہے ۔
بہرحال یہ امر دونوں معانی کے لحاظ سے قوم ثمود کے بارے میں صادق آتا ہے کیونکہ ان کی آباد اور سرسبز وشاداب زمین اور پر نعمت باغات بھی تھے، یہ لوگ زراعت میں نئی نئی ایجادات کرتے تھے اور بہت محنت صرف کرتے تھے، علاوہ ازیں ان کی عمریں لمبی اور قوی جسم تھے، مضبوط عمارتیں بنانے میں بھی انھوں نے بیت ترقی کی تھی جیسا کہ قرآن کہتا ہے:( وَکَانُوا یَنْحِتُونَ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوتًا آمِنِینَ ) ۔
پہاڑوں کے وسط میں پر امن گھر بناتے تھے ، (حجر: ۸۲)
یہ بات قابل توجہ ہے کہ خدا یہ نہیں کہتا کہ خدا نے زمین کو آباد کیا اور تمھارے اختیار میں دے دیا بلکہ کہتا ہے کہ زمین کی آبادی اور تعمیر تمھارے سپرد کردی، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وسائل وذرائع ہر لحاظ سے مہیا ہے لیکن تمھیں کام اور کوشش کرکے زمین کو آباد کرنا ہے اور اس کے منابع اور ذرائع اپنے ہاتھ میں کرنا ہے اور کوشش کئی بغیر تمھیں اپنا حصہ نہیں مل سکتا ۔
اس حقیقت کے ضمن میں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک قوم اور ملت کو آباد کاری کا موقع ملنا چاہیئے، کام اس کے سپرد کیا جانا چاہیئے اور ضروری وسائل اور سازوسامان اس کے اختیار میں دیا جانا چاہیئے ۔
”اب جب ایسا ہے تو اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور خدا کی طرف رجوع کرو اور پلٹ آؤ کہ میرا پروردگار اپنے بندوں کے قریب ہے اور ان کی درخواست قبول کرتا ہے( فاستغفرُوهُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْهِ إِنَّ رَبِّی قَرِیبٌ مُجِیبٌ ) ۔
قرآن اور ہمارے زمانے کا استعمار
جیسا کہ ہم نے مندرجہ بالا آیات میں دیکھا ہے کہ خدا کے پیغمبرحضرت صالحعليهالسلام اپنی گمراہ قوم کی تربیت مکمل کرنے کے لئے ان سے خاک سے انسان کی عظیم خلقت اور زمین کی آباد کاری کے لئے اس کے وسائل وذخائرا سے سپرد کئے جانے کے بارے میں گفتگو کی ہے، یہ لفظ استعمار اگرچہ مفہوم کے اعتبار سے ایک خاص زیبائی اور کشش رکھتا ہے، اس میں تعمیر وآبادکاری کا مفہوم بھی مضمر ہے، تفویض اختیارات کا بھی اور وسائل و ذرایع مہیا ہونے کا بھی لیکن ہمارے زمانے میں اس لفظ کا مفہوم اس طرح سے مسخ ہوگیا ہے اور قرآنی مفہوم کے بالکل الٹ ہوگیا ہے ۔
لفظ”استعمار“ ہی نہیں جو اس منحوس انجام کو پہنچنا ہے بہت سے کلمات چاہے وہ فارسی کے ہوں یا عربی کے یا دوسری زبانوں کے ہم دیکھتے ہیں کہ اسی طرح مسخ، تحریف اور تضاد کا شکار ہوگئے ہیں ، عربی زبان کے الفاظ ”حضارت “ ،”ثقافت “ اور ”حرےت“ اور فارسی زبان میں ”تمدن“ ”روشن فکری“،” آزادی “ ”آزادگی“ ”ہنر“ اور ”ہنر مندی “ اس قسم کی مثالیں ہیں ، ان تحریفوں کے نتیجے میں خود فراموشی ، مادہ پرستی، فکری غلامی، انکار حقیقت اور ہر قسم کا پھیلاؤ، عجلت پسندی اور بے توجہی جنم لیتی ہے ۔
بہرحال ہمارے زمانے میں استعمار کا حقیقی مفہوم بڑی سیاسی وصنعتی طاقتوں اور سوپر طاقتوں کا مستضعف اور کمزور قوتوں پر غلبہ ہے جس کا ماحول یہ ہے کہ استعماری طاقتیں مستضعف اور کمزور قوتوں کے ہاں لوٹ مار کرتی ہیں ، انھیں غارت کرتی ہیں ، ان کا خون چوستی ہیں اور ان کی زندگی کے وسائل غصب کرتی ہیں ۔
استعمار کی کئی روپ ہیں ، کبھی یہ ثقافت وتہذیب کا روپ دھار لیتا ہے، کبھی فکری ونظری حوالے سے استحصال کرتا ہے، کبھی اقتصادی، کبھی سیاسی اور کبھی فوجی حوالے سے سامنے آتا ہے، یہ استعمار ہی ہے جس نے ہماری آج کی دنیا کا چہرہ تاریک کردیا ہے، آج کی دنیا میں ہر چیز پر اقلیت کا قبضہ ہے اوربہت بڑی اکثریت تمام چیزوں سے محروم ہے، یہ استعمار ہی جنگوں ، ویرانیوں ، تباہ کاریوں اور اسلحہ کی کمر شکن دوڈکا سرچشمہ ہے ۔
جو لفظ قرآن نے اس مفہوم کے لئے استعمال کیا ہے وہ ”استضعاف“ ہے کہ جو ٹھیک اس معنی کا سانچہ ہے یعنی ضعیف کرنا، اس لفظ کے وسیع مفہوم میں فکری، سیاسی، اقتصادی اور دیگر حوالوں سے کمزور اور ضعیف کرنا شامل ہے ۔
ہمارے زمانے میں استعمار کی وسعت کا یہ عالم ہے کہ خود لفظ استعمار بھی استعماری ہوگیا ہے کیونکہ اس کا لغوی مفہوم باکل الٹ گیا ہے ۔
بہرحال استعمار کے حوالے سے ایک غم انگیزطویل داستان وجود میں آئی ہے، کہا جاسکتا ہے کہ اس داستان میں پوری انسانی تاریخ سمائی ہوئی ہے، اگرچہ استعمار ہمیشہ چہرہ بدلتا رہتا ہے لیکن صحیح طور پر معلوم نہیں کہ انسانی معاشرے میں سے کب اس کی ریشہ کنی ہوگی اور کب انسانی زندگی باہمی تعاون واحترام اور اصول امداد باہمی کہ بنیاد پر استوار ہوگی تاکہ تمام میدانوں میں انسانی پیشرفت کا عمل شروع ہوسکے ۔
آیات ۶۲،۶۳،۶۴،۶۵
۶۲( قَالُوا یَاصَالِحُ قَدْ کُنتَ فِینَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَا اٴَتَنْهَانَا اٴَنْ نَعْبُدَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِی شَکٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَیْهِ مُرِیبٍ ) ۔
۶۳( قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَآتَانِی مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَنصُرُنِی مِنْ اللهِ إِنْ عَصَیْتُهُ فَمَا تَزِیدُونَنِی غَیْرَ تَخْسِیرٍ ) ۔
۶۴( وَیَاقَوْمِ هٰذِهِ نَاقَةُ اللهِ لَکُمْ آیَةً فَذَرُوهَا تَاٴْکُلْ فِی اٴَرْضِ اللهِ وَلَاتَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَیَاٴْخُذَکُمْ عَذَابٌ قَرِیبٌ ) ۔
۶۵( فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِی دَارِکُمْ ثَلَاثَةَ اٴَیَّامٍ ذٰلِکَ وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُوبٍ ) ۔
ترجمہ
۶۲ ۔انھوں نے کہا:اے صالح(علیه السلام)! اس سے پہلے تو ہماری امید کا سرمایہ تھا، کیا تو ہمیں ان کی پرستش سے روکتا ہے جن کی ہمارے آباؤ واجداد پرستش کرتے تھے اور ہمیں اس چیز کے بارے میں شک ہے جس کی طرف تو دعوت دیتا ہے ۔
۶۳ ۔اس نے کہا: اے میری قوم! کیا میں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہوں اور اس کی رحمت بھی میرے شامل حال ہو ( تو میں اس کی پیغام رسانی سے روگردانی کرسکتا ہوں )؟ اگر میں اس کی نافرمانی کروں تواس کے مقابلے میں کون میری مدد کرسکتا ہے، لہٰذا تمہاری باتیں سوائے تمھارے زیاں کارہونے کے بارے میں میرے اطمینان کے میرے لئے اور کوئی اضافہ نہیں کرتیں ۔
۶۴ ۔اے میری قوم!، یہ ناقہ خدا جو تمھارے لئے دلیل اور نشانی ہے، اسے چھوڑ دو کہ کدا کی زمین میں چرنے میں مشغول رہے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچاؤ ورنہ بہت جلدی خدا کا عذاب گھیر لے گا ۔
۶۵ ۔ (لیکن)انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں اور اس نے ان سے کہا (تمہاری مہلت کا وقت ختم ہوگیا ہے) تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھالو (اس کے بعد خدائی عذاب آجائے گا)یہ ایسا وعدہ ہے کہ جس میں جھوٹ نہیں ہوگا ۔
تفسیر
اب ہم دیکھیں گے کہ حضرت صالحعليهالسلام کے مخالفین ان کی زندہ اور حقیقت پسندانہ منطق کا کیا جواب دیتے ہیں ۔
انھوں نے حضرت صالحعليهالسلام کو غیر موثر بنانے کے لئے یا کم از کم ان کی باتوں کو بے تاثیر کرنے کے لئے ایک نفسیاتی حربہ استعمال کیا، وہ آپ کو دھوکا دینا چاہتے تھے،” کہنے لگے: اے صالح! اس سے پہلے تو ہماری امیدوں کا سرمایہ تھا“مشکلات میں ہم تیری پناہ لیتے تھے، تجھ سے مشورہ کرتے تھے، تیرے عقل وشعور پر ایمان رکھتے تھے، اور تیری خیر خواہی اور ہمدردی میں ہمیں ہرگز کوئی شک نہ تھا( قَالُوا یَاصَالِحُ قَدْ کُنتَ فِینَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَا ) لیکن افسوس کہ تم نے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا، دین بت پرستی کی اور ہمارے خداؤں کی مخالفت کرکے کہ جو ہمارے بزرگوں کا رسم رواج تھا اور ہماری قوم کے افتخارات میں ست تھا تونے ظاہر کردیا کہ تو بزرگوں کے احترام کا قائل ہے نہ ہماری عقل پر تمھیں کوئی اعتماد ہے اور نہ ہی تو ہمارے طور طریقوں کاحامی ہے، ”کیا سچ مچ تو ہمیں ان کی پرستش سے روکنا دینا چاہتا ہے جن کی عبادت ہمارے آباؤواجداد کرتے تھے“( اٴَتَنْهَانَا اٴَنْ نَعْبُدَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا ) ۔
حقیقت یہ ہے کہ جس یکتا پرستی کے دین کی طرف تو دعوت دیتا ہے ہم اس کے بارے میں شک وتردد میں ہی، نہ سرف ہمیں شک ہے بلکہ اس کے بارے میں ہم بدگمان بھی ہیں( وَإِنَّنَا لَفِی شَکٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَیْهِ مُرِیبٍ ) ۔
یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ گمراہ قوم اپنے غلط اور نادرست افکارواعمال کی توجیہ کے لئے اپنے بڑوں کا سہارا لیتی ہے ان کے تقدس کے ہالہ میں چھپنے کی کوشش کرتی ہے، یہ وہی پرانی منطق ہے جوتمام منحرف قوموں نے قدیم زمانے سے اپنے خرافات کی توجیہ کے لئے اختیار کی، یہی منطق آج بھی ایٹم اور خلاء کے دور میں پوری قوت سے باقی ہے ۔
لیکن خدا کے یہ عظیم پیغمبر ان کی ہدایت سے مایوس نہ ہوئے اور ان کی پرفریب باتوں کا ان کی عظیم روح پر ذرہ برابر اثر نہ ہوا، انھوں نے اپنی مخصوص قناعت کے ساتھ انھیں جواب دیا، ”کہا: اے میری قوم! دیکھو اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہوں اور اس کی رحمت میرے شامل حال ہو، اور اس نے میرے دل کو روشن اور فکر کو بیدار کیا ہو اور میں ایسے حقائق سے آشنا ہوا ہوں جن سے پہلے آشنا نہ تھا تو کیا میں پھر بھی سکوت اختیار کرسکتا ہوں اور کیا اس صورت میں میں پیام الٰہی نہ پہنچاؤں اور انحراف اور برائیوں کے خلاف جنگ نہ کروں “( قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِن کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَآتَانِی مِنْهُ رَحْمَةً ) ، ) اس عالم میں ”اگر میں فرمان خدا کی مخالفت کروں تو کون شخص ہے جو اس کے عذاب وسزا کے مقابلے میں میری مدد کرسکتا ہے“( فَمَنْ یَنصُرُنِی مِنْ اللهِ إِنْ عَصَیْتُهُ ) ، لیکن جان لو کہ تمہاری اس قسم کی باتیں اور بڑوں کی روش سے استدلال وغیرہ کا مجھ پر اس کے سوا اور کوئی اثر نہیں ہوگا کہ تمھارے زیاں کارہونے کے بارے میں میرا ایمان بڑھے گا( فَمَا تَزِیدُونَنِی غَیْرَ تَخْسِیرٍ ) ۔
اس کے بعد آپ نے اپنی دعوت کی حقانیت کے لئے معجزے اور نشانی کے لئے نچاندہی کی، ایسی نشانی جو انسانی قدرت سے ماوراء ہے اور صرف قدرت الٰہی کے سہارے پیش کی گئی ہے ، ان سے کہا: ”اے میری قوم !یہ ناقہ الٰہی تمھارے لئے آیت اور نشانی ہے “( وَیَاقَوْمِ هٰذِهِ نَاقَةُ اللهِ لَکُمْ آیَةً ) ،”اسے چھوڑدو کہ یہ بیابانوں چراگاہوں میں گھاس پھوس کھائے“( فَذَرُوهَا تَاٴْکُلْ فِی اٴَرْضِ اللهِ ) ،”اوراسے ہرگز کوئی تکلیف نہ پہنچانا ، اگر ایسا کرو گے تو فوراً تمھیں دردناک عذاب الٰہی گھیر لے گا “( وَلَاتَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَیَاٴْخُذَکُمْ عَذَابٌ قَرِیبٌ ) ۔
ناقہ صالح
لغت میں ”ناقہ“ اونٹنی کے معنی میں ہے، مندرجہ بالاآیت میں اور قرآن کی بعض دیگر آیات میں اس کی اضافت خدا کی طرف سے کی گئی ہے،(۱) یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ یئہ اونٹنی کچھ خصوصیات رکھتی تھی، اس طر ف توجہ کرتے ہوئے مندرجہ بالا آیت میں اس کا زکر آیات الٰہی اور دلیل حقانیت کے طور پر آیا ہے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ اونٹنی ایک عام اونٹنی نہ تھی اور ایک حوالے سے یا کئی حوالوں سے معجزہ کے طور پر تھی، لیکن آیات میں یہ مسئلہ تفصیل کے ساتھ نہیں آیا کہ اس ناقہ کی خصوصیات کیا تھیں ، اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی عام اونٹنی نہ تھی ۔
بس یہی ایک چیز قرآن میں دو مواقع پر موجود ہے کہ حضرت صالحعليهالسلام نے اس ناقے کے بارے میں اپنی قوم کو بتایا کہ اس علاقے میں پانی کی تقسیم ہونا چاہیئے، ایک دن ناقہ کا حصہ ہے اور ایک دن لوگوں کا، آیت کے الفاظ ہیں :
( هٰذِهِ نَاقَةٌ لَهَا شِرْبٌ وَلَکُمْ شِرْبُ یَوْمٍ مَعْلُومٍ ) ۔ (شعراء: ۱۵۵)
نیز سورہ قمر کی آیہ ۲۸ میں :( وَنَبِّئْهُمْ اٴَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَیْنَهُمْ کُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ ) ۔
سورہ شمس میں بھی اس امر کی طرف اشارہ موجود ہے:( فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ نَاقَةَ اللهِ وَسُقْیَاهَا ) ۔ (شمس: ۱۳)
لیکن یہ بات پوری طرح مشخص نہیں ہوسکی کہ پانی کی یہ تقسیم کس طرح خارق عادت تھی، ایک احتمال یہ ہے کہ وہ اونٹنی بہت زیادہ پانی پیتی تھی اس طرح سے کہ چشمہ کا تمام پانی اس کے لئے مخصوص ہوجاتا، دوسرا احتمال یہ ہے کہ جس وقت وہ پانی پینے کے لئے آتی تو دوسرے جانور پانی پینے کی جگہ پر آنے کی جرات نہ کرتے ۔
ایک سوال یہ ہے کہ یہ جانور تمام پانی سے کس طرح استفادہ کرتا تھا، اس سلسلے میں یہ احتمال ہے کہ اس بستی کا پانی کم مقدار میں ہو، جیسے بعض بستیوں میں ایک ہی چھوٹا سا چشمہ ہوتا ہے اور بستی والے مجبور ہوتے ہیں کہ دن بھر کا پانی ایک گڑھے میں اکٹھا کریں تاکہ کچھ مقدار جمع ہوجائے اور اسے استعمال کیا جاسکے ۔
لیکن دوسری طرف سورہ شعراء کی بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم ثمود تھوڑے پانی والے علاقے میں زندگی بسر نہیں کرتی تھی، بلکہ وہ لوگ تو باغوں ، چشموں ، کھیتوں اور نخلستان کے مالک تھے، قرآن کہتا ہے:
( اٴَتُتْرَکُونَ فِی مَا هَاهُنَا آمِنِینَ، فِی جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ، وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِیمٌ ) . (شعراء: ۱۴۶ ، تا ۱۴۸)
بہرحال جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ ناقہ صالح کے بارے میں اس مسئلے پر قرآن نے اجمالا ذکر کیا ہے لیکن بعض روایات جو شیعہ اور سنی دونوں طرق سے نقل ہوئی ہیں میں ہے کہ اس ناقہ کے عجائب خلقت میں سے تھا کہ وہ پہاڑ کے اندر سے باہرنکلی، اس کے بارے میں کچھ اور خصوصیات بھی منقول ہیں جن کی وضاحت کا یہ موقع نہیں ہے ۔
بہر کیف حضرت صالحعليهالسلام جیسے عظیم نبی نے اس ناقہ کے بارے میں بہت سمجھایا بجھایا مگر انھوں نے آخرکار ناقہ کو ختم کردینے کا مصمم ارادہ کرلیا، کیونکہ اس کی خارق عادت اور غیر معمولی خصوصیات کی وجہ سے لوگوں میں بیدار ی پیدا ہورہی تھی اور حضرت صالحعليهالسلام کی طرف مائل ہورہے تھے لہٰذا قوم ثمود کے کچھ سرکشوں نے جو حضرت صالحعليهالسلام کی دعوت کے اثرات کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے تھے اوروہ ہرگز لوگوں کی بیداری نہیں چاہتے تھے کیونکہ خلق خدا کی بیداری سے ان کے استعماری اور استثماری مفادات کو نقصان پہنچاتا تھا، ناقہ کو ختم کرنے کی سازش تیار کی، کچھ افراد کو اس کام پر مامور کیا گیا، آخر کار ان میں سے ایک نے ناقہ پر حملہ کیا اور اس پر ایک یا کئی وار کئے اور اسے مار ڈالا( فَعَقَرُوهَا ) ۔
”عقروھا“ ”عقر“ (بروزن ”ظلم“)کے مادہ سے ہے، اس کا معنی ہے کسی چیز کی اساس اور جڑ ،”عقرة البعیر“کا معنی ہے ”میں نے اونٹ کا سر قلم کردیا اور اسے نحر کردیا“ اونٹ کو قتل کرنا چونکہ اس کے اصل وجود کو ختم کردینے کا سبب بنتا ہے لہٰذا یہ مادہ اس معنی میں استعمال ہوا ہے، کبھی نحر کرنے کی بجائے اونٹ کی کوچیں کاٹنے یا اس کے ہاتھ پاؤں قطع کرنے کے معنی میں بھی لیا گیا ہے، دراصل ان تمام معانی کی بازگشت ایک ہی چیز کی طرف ہے اور ان سب کا ایک ہی نتیجہ ہے (غور کیجئے گا) ۔
____________________
۱۔ ادبی اصطلاح میں یہ ایک تشریعی اضافت ہے جو کسی چیز کے شرف اور اہمیت کی دلیل ہے، ،مندرجہ بالاآیت میں اس کے دو نمونے نظر آتے ہیں ”ناقة اللّٰه “ اور ”ارض اللّٰه “، دیگر مواقع پر ”شهراللّٰ ہ“ اور ”بیت اللّٰه “ وغیرہ آئے ہیں ۔
مکتب کا رشتہ
یہ امر توجہ طلب ہے کہ اسلامی روایات میں ہے جس نے ناقہ کو مارا تھا وہ صرف ایک شخص تھا لیکن اس کے باوجود قرآن اس کام کی نسبت حضرت صالحعليهالسلام کے تمام مخالفین کی طرف دیتا ہے اورجمع کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے کہتا ہے :”( فعقروها ) “ ۔
یہ اس بنا پر ہے کہ قرآن کسی امر پر باطنی طور پر راضی ہونے اور اس کے مکتبی رشتے کو اس میں شرکت سمجھتا ہے، در حقیقت اس کام کی سازش انفرادی نہ تھی، یہاں تک کہ جس نے اس پر عمل کیا تھا اس نے فقط اپنی قوت کے سہارے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ اس کے پیچھے جمعیت کی طاقت تھی اور وہی اسے حوصلہ دے رہی تھی، یقینا ایسے کام کو انفرادی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ ایک گروہی اور جماعتی کام شمار ہوگا ۔
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :( وانما عقر ناقة ثمود رجل واحد فعمهم اللّٰه بالعذاب لما عموه بالرضا ) ۔
ناقہ صالح کو ایک شخص نے قتل کیا تھا، خدا نے تمام سرکش قوم کو عذاب کیا کیونکہ وہ سب اس پر راضی تھے ۱) ۔
اسی مضمون کی یا اس کی مانند متعدد دیگر روایات پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے منقول ہیں ، ان سے اسلام کے نزدیک مکتبی رشتے اورفکری ہم آہنگی کی بنیاد پر بننے والے پروگراموں کی بہت زیادہ اہمیت واضح ہوتی ہے، نمونہ کے طور پر ان روایات کا کچھ حصہ ہم ذیل میں پیش کرتے ہیں :
( قال رسول اللّٰه صلی الله علیه وآله وسلّم من شهد امراً فکرهه کان کمن غاب عنه، ومن غاب عن امرفرضیه کان کمن شهده ) ۔
جو شخص کسی کام کو دیکھے لیکن اس سے متنفر ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس سے غائب ہو اور جو کسی کام سے غائب ہو لیکن دلی طور پر اس پر راضی ہو تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس وقت حاضر تھا اور اس میں شریک تھا ۔(۲)
امام علی ابن موسیٰ رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :لو ان رجلا قتل فی المشرق فرضی بقتله رجل بالمغرب لکان الرضی عند اللّٰه عز وجل شریک القاتل ۔
جب کوئی شخص مشرق میں قتل ہو اورایک شخص مغرب میں رہتے ہوئے اس کے قتل پر راضی ہو تو خداکے ہاں وہ قاتل کا شریک ہے ۔(۳)
حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے، آپ نے فرمایا:
الراض بفعل قوم کالداخل معهم فیه وعلی کل داخل فی باطل اثمان اثم العمل به واثم الرضا به ۔
جو شخص کسی گروہ کے فعل پر راضی ہو وہ اس شخص کی طرح ہے جو اس کام میں ان کا شریک ہو لیکن جس نے عملا شرکت کی ہے اس کے دو گناہ ہیں ، ایک عمل گناہ کا اور دوسرااس عمل پر راضی ہونے کا گناہ ہے ۔(۴)
مکتبی اور فکری رشتے کی گہرائی کو جاننے کے لئے اور سمجھنے کے لئے اس میں زمان ومکان کی کوئی قید نہیں ، نہج البلاغہ میں موجود حضرت علی علیہ السلام کے اس پر معنی اور ہلا دینے والے کلام کی طرف توجہ کرنا کافی ہے:
جب حضرت امیرالمومنینعليهالسلام نے میدان جمل میں جنگ کی آگ بھڑکانے والے باغیوں پر فتح پالی اور آپ کے اصحاب وانصار شرک وجاہلیت کے خلاف اسلام کی اس کامیابی پر خوش ہوئے تو ان میں سے ایک شخص عرض کرنے لگا:
میری کتنی خواہش تھی کہ میرا بھائی اس میدان میں موجود ہوتا اور وہ بھی دشمن پر آپ کی کامیابی کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ۔
امامعليهالسلام نے اس کی طرف رخ کیا اورفرمایا:اهوی اخیک معنا؟
یہ بتاؤ کہ تمھارے بھائی کا دل اور آرزو ہمارے ساتھ تھی؟فقال نعم ۔
اس نے عرض کیا: جی ہاں ۔
تو امامعليهالسلام نے فرمایا:فقدشهدنا
(فکر مت کرو) وہ بھی اس میدان میں شریک تھا ۔
اس کے بعد آپعليهالسلام نے فرمایا:ولقد شهدنا فی عسکرنا هذا اقوام فی اصلاب الرجال وارحام النساء سیرعف بهم الزمان ویقوی بهم الایمان ۔
تجھے اس سے بھی بڑھ کر بتاؤں ، آج ہمارے لشکر میں ان گروہوں نے بھی شرکت کی ہے جو ابھی اپنے باپوں کے صلب اور ماؤں کے رحم میں ہیں (اور ابھی انھوں نے اس دنیا میں قدم نہیں رکھا)لیکن وقت گزرنے کے ساتھ عنقریب وہ دنیا میں آئیں گے اور ان کی قوت وطاقت سے قوت ایمان میں اضافہ ہوگا ۔(۵)
اس میں شک نہیں کہ جو لوگ کسی کام میں شریک ہوتے ہیں اور اس کی تمام مشکلات و زحمات کو برداشت کرتے ہیں وہ ایک خاص امتیاز کے حامل ہیں لیکن اس کامعنی یہ نہیں کہ دوسرے بالکل اس میں شریک نہیں ہوتے بلکہ کیا اس زمانے میں اور کیا آئندہ زمانوں میں جو اشخاص بھی فکر ونظر اور مکتب ومذہب کے اعتبار سے اس کام سے منسلک ہیں وہ ایک لحاظ سے اس میں شریک ہیں ۔
یہ مسئلہ شاید کسی عالمی مکتب میں اپنی نظیر ومثیل نہ رکھتا ہو، جو کہ ایک اہم اجتماعی حقیقت کی بنیاد پر استوار ہے اور وہ یہ ے کہ جو لوگ طرزِ فکر میں دوسروں سے مشابہت رکھتے ہیں اگرچہ ان کے انجام دئےے ہوئے کسی معین کام میں شریک نہ ہوں تاکہ ہم یقینی طور اپنے ماحول اور زمانے میں اس سے ملتے جلتے کام انجام دیں گے کیون کہ انسان کے اعمال ہمیشہ اس کے افکار کا پرتو ہوتے ہیں ، ممکن نہیں کہ انسان کسی مکتب کا پابند ہواور وہ اس کے عمل میں واضح نہ ہو۔
اسلام پہلے قدم پر ہی روح انسانی میں اصلاحات جاری کرتاہے تاکہ مرحلہ عمل کی خودبخود اصلاح ہوجائے، جو دستور ہم نے ستور بالا میں ذکر کیا ہے اس کے مطابق جب ایک مسلمان کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں نیک کام یا بد کام انجام پارہا ہے تو اس کے بارے میں فوراً ایک صحیح موقف اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اپنے قلب وروح کو نیکیوں کا ہمنوا بناتا ہے اور برائیوں سے نفرت کرتا ہے، یہ اندرونی کاوش یقینا اس کے اعمال پر اثرانداز ہوگی اور اس کا فکری تعلق ایک عملی رشتے کی صورت میں نمودار ہوجائے گا ۔
آیت کے آخر میں حضرت صالحعليهالسلام نے قوم کی سرکشی، نافرمانی اور اس کے ہاتھوں قتل ناقہ کے بعد اسے خطرے سے آگاہ کیا اور “کہا کہ پورے تین دن تک اپنے گھروں میں جس نعمت سے چاہو استفادہ کرو اور جان لو کہ ان تین دنوں کے بعد عذاب الٰہی آکے رہے گا“( فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِی دَارِکُمْ ثَلَاثَةَ اٴَیَّامٍ ) ،” اس بات کو حتمی سمجھو، میں جھوٹ نہیں کہہ رہا یہ ایک سچا اورحقیقی وعدہ ہے“( ذٰلِکَ وَعْدٌ غَیْرُ مَکْذُوب ) ۔
____________________
۱۔ نہج البلاغہ، کلام ۲۰۱۔۲۔ وسائل االشیعہ، ج۱۱، ص ۴۰۹۔۳۔ وسائل االشیعہ، ج۱۱، ص ۴۱۰۔۴۔ وسائل االشیعہ، ج۱۱، ص ۴۱۱۔
۵۔ نہج لبلاغہ، کلام ۱۲۔
آیات ۶۶،۶۷،۶۸
۶۶( فَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا نَجَّیْنَا صَالِحًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَمِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ إِنَّ رَبَّکَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیزُ ) ۔
۶۷( وَاٴَخَذَ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاٴَصْبَحُوا فِی دِیَارِهِمْ جَاثِمِین ) ۔
۶۸( کَاٴَنْ لَمْ یَغْنَوْا فِیهَا اٴَلَاإِنَّ ثَمُودَ کَفَرُوا رَبَّهُمْ اٴَلَابُعْدًا لِثَمُودَ ) ۔
ترجمہ
۶۶ ۔جب (اس قوم کی سزا کے بارے میں ) ہمارا حکم آپہنچا تو صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو ہم نے اپنی رحمت کے ذریعے ( اس دن کی رسوائی سے نجات بخشی) کیونکہ تیرا پروردگار قوی اور ناقابل شکست ہے ۔
۶۷ ۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں ( آسمانی) صیحہ نے آلیا اور وہ اپنی ہی گھروں میں منہ کے بل گرکر مرگئے ۔
۶۸ ۔اس طرح سے کہ گویا وہ ان گھروں کے باسی ہی نہ تھے، جان لو کہ قوم ثمود نے اپنے پروردگار کا انکار کیا تھا، دور ہو قوم ثمود (رحمت پروردگار سے) ۔
قوم ثمود کا انجام
ان آیت میں اس سرکش قوم (قوم ثمود) پر تین دن کی مدت ختم ہونے پر نزول عذاب کی کیفیت بیان کی گئی ہے: اس گروہ پر عذاب کے بارے میں جب ہمارا حکم آپہنچاتو صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو ہم نے اپنی رحمت کے زیر سایہ نجات بخشی( فَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا نَجَّیْنَا صَالِحًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا ) ۔
انھیں نہ صرف جسمانی ومادی عذاب سے نجات بخشی بلکہ ”رسوائی، خواری اور بے آبروئی سے بھی انھیں نجات عطا کی کہ جو اس روز اس سرکش قوم کو دامنگیر تھی“( وَمِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ ) ۔(۱)
کیونکہ تیرا پروردگار ہر چیز پر قادر اور ہرکام پر تسلط رکھتا ہے، اس کے لئے کچھ محال نہیں ہے اور اس کے ارادے کے سامنے کوئی طاقت کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی( إِنَّ رَبَّکَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیزُ ) ، لہٰذا کثیر جمعیت کے عذاب الٰہی میں مبتلا ہونے سے صاحب ایمان گروہ کو کسی قسم کی کوئی مشکل اور زحمت پیش نہیں ہوگی، یہ رحمت الٰہی ہے جس کا تقاضا ہے کہ بے گناہ گنہگاروں کی آگ میں نہ جلیں اور بے ایمان افراد کی وجہ سے مومنین گرفتارِ بلا نہ ہوں ۔
لیکن ظالموں کو صیحہ آسمانی نے گھیر لیا، اس طرح سے کہ یہ چیخ نہایت سخت اور وحشتناک تھی، اس کے اثر سے وہ سب کے سب گھروں ہی میں زمین پر گر کر مر گئے،( وَاٴَخَذَ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاٴَصْبَحُوا فِی دِیَارِهِمْ جَاثِمِین ) ۔
وہ اس طرح مرے اور نابود ہوئے اور ان کے آثار مٹے کہ گویا وہ اس سرزمین میں کبھی رہتے ہی نہ تھے،( کَاٴَنْ لَمْ یَغْنَوْا فِیهَا ) ۔
جان لو کہ قوم ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا تھا اور انھوں نے احکام الٰہی کو پس پشت ڈال دیا تھا( اٴَلَاإِنَّ ثَمُودَ کَفَرُوا رَبَّهُمْ ) ۔
دُور ہو قوم ثمود، اللہ کے لطف ورحمت سے اور ان پر لعنت ہو( اٴَلَابُعْدًا لِثَمُود ) ۔
____________________
۱۔ ”خزی“ لغت میں شکست کے معنی میں ہے کہ جو انسان پر آتی ہے، چاہے خود اس کے اپنے ذریعہ ہو یا کسی دوسرے کی وجہ سے نیز ہر قسم کی رسوائی اور بہت زیادہ ذلت بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ مومنین کے لئے رحمت الٰہی
ان آیات میں ہم پھر دیکھتے ہیں کہ رحمت الٰہی مومنین پر اس قدر مہربان ہے کہ نزول عذاب سے پہلے خدا تعالیٰ انھیں امن وامان کی جگہ منتقل کردیتا ہے اور ہر خشک وتر کو عذاب اور سزا میں مبتلا نہیں کرتا ۔
البتہ ممکن ہے کہ حوادث ناگوار مثلا ًسیلاب، وبائی بیماریاں اور زلزلے وغیرہ ایسا رخ اختیار کرلیں کہ ہر چھوٹے بڑے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں لیکن یہ حوادث یقینی طور پر عذاب الٰہی کے حوالے سے نہیں ہوتے ورنہ عدالت الٰہی کی منطق میں محال ہے کہ ایک بھی بے گناہ شخص لاکھوں گنہگاروں کے ساتھ جرم میں گرفتار ہو۔
یہ بات البتہ پورے طور پر ممکن ہے کہ کچھ افراد ایک گنہگار جماعت میں رہتے ہوئے خاموش رہیں اور وہ برائی کے خلاف مقابلے کے بارے میں اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں اور وہ بھی اسی انجام سے دوچارہوں لیکن اگر وہ اپنی ذمہ داری پر عمل کریں توپھر محال ہے کہ وہ حادثہ جو عذاب کے طورپرنازل ہو انھیں دامنگیر ہو، (خدا شناسی سے مربوط مباحث میں نزول بلا اور حوادث کے مابین رابطے کے حوالے سے ہم نے اس موضوع سے متعلق کتب میں تفصیلی بحث کی ہے) ۔(۱)
۲ ۔ ”صیحہ“ سے کیا مراد ہے
”صیحة“ لغت میں میں ” بہت بلند آواز“ کو کہتے ہیں جو عام طور پر کسی انسان یا جانور کے منہ سے نکلتی ہے لیکن اس کامفہوم اسی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی ”نہایت بلند آواز“ اس کے مفہوم میں شامل ہے ۔
آیات قرآنی کے مطابق چند ایک گنہگار قوموں کو صیحہ آسمانی کے ذریعے سزا ہوئی، ان میں سے ایک یہی قوم ثمود تھی، دوسری قوم لوط (حجر: ۷۳) اور تیسری قوم شعیب (ہود: ۹۴) ۔
قرآن کی دوسری آیات سے قوم ثمود کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ اسے صاعقہ کے ذریعے سزا ہوئی، ارشاد الٰہی ہے:
( فَإِنْ اٴَعْرَضُوا فَقُلْ اٴَنذَرْتُکُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ ) (فصلت: ۱۳)
یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ”صیحة“ سے مراد”صاعقة“ کی وحشتناک آواز ہے ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صاعقہ کی وحشتناک آواز کسی جمعیت کو نابود کرسکتی ہے؟ اس کا جواب مسلما مثبت ہے کویں کہ ہم جانتے ہیں کہ آواز کی لہریں جب ایک معین حد سے گزرجائیں تو شیشے کو توڑ دیتی ہیں ، یہاں تک کہ بعض عمارتوں کو تباہ کردیتی ہیں اورانسانی بدن کے اندر کے آرگانزم کو بے کار کردیتی ہیں ۔
ہم نے سناکہ جب ہوائی جہاز صوتی دیوار توڑ دیتے ہیں (اور آواز کی لہروں سے تیز رفتار سے چلتے ہیں )تو کچھ لوگ بے ہوش ہوکر گرجاتے ہیں یا عورتو ں کے حمل ساقط ہوجاتے ہیں یا ان علاقوں میں موجود عمارتوں کے تمام شیشے ٹوٹ جاتے ہیں ۔
فطری اور طبیعی ہے کہ اگر ااواز کی لہروں کی شدت اس سے بھی زیادہ ہوجائے تو آسانی سے ممکن ہے کہ اعصاب میں ، دماغ کی رگوں میں اور دل کی ڈھڑکن میں تباہ کن اختلال پیدا ہوجائے جو انسانوں کی موت کا سبب بن جائے ۔
آیات قرآنی کے مطابق اس دنیا کا اختتام بھی ایک عمومی صیحہ کے ذریعے ہوگا، ارشاد الٰہی ہے :
( مَا یَنظُرُونَ إِلاَّ صَیْحَةً وَاحِدَةً تَاٴْخُذُهُمْ وَهُمْ یَخِصِّمُونَ ) (یٰسین: ۴۹)
جیسا کہ قیامت بھی ایک بیدار کرنے والی صیحہ سے شروع ہوگی، قرآن کہتا ہے:
( إِنْ کَانَتْ إِلاَّ صَیْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا هُمْ جَمِیعٌ لَدَیْنَا مُحْضَرُونَ ) ۔ (یٰسین: ۵۳)
۳ ۔ سزا صرف مادی پہلو سے نہیں
زیر بحث آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ سرکشوں اور طغیان گروں کی سزا نہ سرف مادی پہلو نہیں رکھتی بلکہ معنوی پہلو کی بھی حامل ہے کیونکہ ان کا رسوا کن انجام اور مرگبار سرنوشت کا تذکرہ تاریخ کا رسوا کردینے والا باب بن جائے گا جب کہ اہل ایمان کا ذکر تاریخ میں سنہری حروف میں رقم ہوگا ۔
۴ ۔” جاثمین“کا مفہوم
”جاثم“ مادہ ”جثم“ (بروزن خشم)سے گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے معنی میں ہے، اسی طرح منہ کے بل گرنے کے معنی میں بھی آیا ہے ۔
”جاثمین“ کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ صیحہ آسمانی ان کی موت کا سبب بنی لیکن ان کے بے جان جسم زمین پر گرے پڑے تھے، البتہ چند ایک روایات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ صاعقہ کی آگ نے انھیں جلا کر خاکستر کر دیا لیکن یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ صدائے صاعقہ کا وحشتناک اثر فوراً ظاہر ہوجاتا ہے جب کہ اس کے جلانے کے آثار خصوصا ان لوگوں کے لئے جو عمارتوں کے اندر ہوں ، بعد میں ظاہر ہوتے ہیں ۔
۵ ۔ ”یغنوا“ کا مطلب
”یغنوا“ ”غنی“ کے مادہ سے، کسی مکان میں اقامت کے معنی میں ہے اور بعید نہیں کہ” غنا“ کا اصلی مفہوم بے نیازی کے معنی سے لیا گیا ہو کیونکہ بے نیاز شخص مستقل گھر رہتا ہے اور وہ مجبور نہیں ہوتا کہ ایک گھر سے دوسرے میں منتقل ہوتا رہے ۔
جملہ” کان لم یغنوا فیھا“ قوم ثمود اور اسی طرح قوم شعیب کے لئے آیا ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی زندگی کا دفتر اس طرح سے لپیٹ دیا گیا کہ گویا وہ اس سرزمین میں رہتے ہی نہ تھے ۔(۲)
____________________
۱۔ تفسیر نمونہ، ج ۷، ص ۱۱۳(اردوترجمہ) پر بھی کچھ توضیحات آئی ہیں جو ایسی آیات سے فہم مقصود کے لئے موثر ہیں ، قارئین کرام! اس سلسلے میں کتاب ”آفریدگارِ جہان“اور ”در جستجوی خدا “ کی طرف رجوع کریں ۔
۲۔ اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ، ج۶، ص ۲۱۰، (اردوترجمہ) کی طرف رجوع کریں ۔
آیات ۶۹،۷۰،۷۱،۷۲،۷۳
۶۹( وَلَقَدْ جَائَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِیمَ بِالْبُشْریٰ قَالُوا سَلَامًا قَالَ سَلَامٌ فَمَا لَبِثَ اٴَنْ جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِیذٍ )
۷۰( فَلَمَّا رَاٴَی اٴَیْدِیَهُمْ لَاتَصِلُ إِلَیْهِ نَکِرَهُمْ وَاٴَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیفَةً قَالُوا لَاتَخَفْ إِنَّا اٴُرْسِلْنَا إِلیٰ قَوْمِ لُوطٍ )
۷۱( وَامْرَاٴَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ یَعْقُوبَ )
۷۲( قَالَتْ یَاوَیْلَتَا اٴَاٴَلِدُ وَاٴَنَا عَجُوزٌ وَهٰذَا بَعْلِی شَیْخًا إِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیبٌ )
۷۳( قَالُوا اٴَتَعْجَبِینَ مِنْ اٴَمْرِ اللهِ رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهُ عَلَیْکُمْ اٴَهْلَ الْبَیْتِ إِنَّهُ حَمِیدٌ مَجِید )
ترجمہ
۶۹ ۔ہمارے بھیجے ہوئے بشارت لے کر ابراہیم کے پاس آئے، کہا: سلام، (اس نے بھی )کہا: سلام اور زیادہ دیر نہ لگی کہ (ان کے لئے بھنا ہوا گوسالہ لے آیا) ۔
۷۰ ۔ (لیکن ) جب اس نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھتے (اور وہ اسے نہیں کھاتے) توانھیں بڑا سمجھا اور دل میں احساس خوف کیا (مگر) انھوں نے اس سے (جلد ہی )کہا: ڈرئےے نہیں ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔
۷۱ ۔اور اس کی بیوی کھڑی تھی وہ ہنسی تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اس کے بعد یعقوب کی بشارت دی ۔
۷۲ ۔اس نے کہا: وائے ہو مجھ پر، کیا میں بچہ جنوں گی جب کہ میں بوڑھی عورت ہوں اور میرا یہ شوہر بھی بوڑھا ہے، یہ تو واقعاً عجیب بات ہے ۔
۷۳ ۔انھوں نے کہا کیا حکم خدا پرتعجب کرتی ہو، یہ خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں جو تم اہل بیت پر کیونکہ خدا حمید اور مجید ہے ۔
ابراہیم بت شکن کی زندگی کے کچھ حالات
اب ابراہیم جیسے بہادر بت شکن کی زندگی کے کچھ حالات کی باری ہے ۔
البتہ اس عظیم پیغمبر کی بھر پور زندگی کے بارے میں زیادہ تفصیل قرآن کی دوسری سورتوں میں آئی ہے، مثلا ًسورہ بقرہ، آل عمران، نساء،انعام اور انبیاء وغیرہ، یہاں ان کی زندگی کا صرف ایک حصہ ذکر ہوا ہے جو قوم لوط کے واقعہ سے اور اس سرکش گناہ آلود گروہ کے عذاب دئے جانے سے مربوط ہے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس ایک بشارت لے کرآئے (وَلَقَدْ جَائَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاھِیمَ بِالْبُشْریٰ ) ۔
جیسا کہ بعد کی آیات سے معلوم ہوگا یہ کدا کے بھیجے ہوئے وہی فرشتے تھے جو قوم لوط کو تباہ وبرباد کرنے پر مامور تھے لیکن پہلے وہ حضرت ابراہمعليهالسلام کے پاس ایک پیغام دینے آئے تھے ۔
اس بارے میں کہ وہ کونسی بشارت لے کر آئے تھے، دو احتمالات ہیں اور ان دونوں کو جمع کرنے میں کوئی مانع نہیں ہے ۔
پہلا احتمال یہ ہے کہ وہ حضرت اسماعیلعليهالسلام اور حضرت اسحاقعليهالسلام کی پیدائش کی بشارت تھی کیوں کہ حضرت ابراہمعليهالسلام کی ایک طویل عمر گزر چکی تھی، ابھی تک ان کی کوئی اولاد نہ تھی، ان کی آرزو تھی کہ ان کا ایک یا کئی بیٹے ہوں جو صاحب نبوت ہوں ، اس لئے حضرت اسماعیلعليهالسلام اور حضرت اسحاقعليهالسلام کی پیدائش کی خبر ان کے لئے ایک عظیم بشارت تھی ۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت ابراہمعليهالسلام قوم لوط کے فساد اور سرکشی سے بہت ناراحت تھے جب انھیں معلوم ہوا کہ فرشتے ان کے بارے میں یہ ھکم لائے ہیں تو انھیں راحت ملی ۔
بہرحال جب بھیجے ہوئے (رسولان) ان کے پاس آئے تو انھوں نے سلام کیا( قَالُوا سَلَامًا ) ، اس نے بھی ان کے جواب میں سلام کہا (قالَ سَلَام) ۔
زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ان کے لئے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے( فَمَا لَبِثَ اٴَنْ جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِیذٍ ) ۔
”عجل“ کا معنی ”بچھڑا“ اور ”گوسالہ“ اور ”حنید“ کا معنی ہے”بھنا ہوا“ بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ ”عنید“ ہر قسم کے بھنے ہوئے کو نہیں کہتے بلکہ صرف اسی گوشت کو کہتے ہیں جو پتھروں کے اوپر رکھا جائے اور اس کے اطراف میں آگ روشن کی جائے لیکن آگ اس تک نہ پہنچے اور وہ خستہ اور بھنا ہوا ہوجائے ۔
اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہمان نوازی کے آداب میں سے ایک یہ ہے کہ جتنا جلدی ہوسکے مہمان کے لئے کھانا تیار کیا جائے کیوں کہ مہمان جب کہیں سے آتا ہے خصوصا اگر مسافر ہوتو عموما تھکا ماندا اور بھوکا ہوتا ہے، اسے کھانے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور آرام کی بھی لہٰذا جلدی سے اس کے لئے کھانا تیار کیا جانا چاہیئے تاکہ وہ پھر آرام کرسکے ۔
ہوسکتا ہے کہ بعض تنقید کریں کہ چند مہمانوں کے لئے ایک بچھڑا زیادہ ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے اول تو مہمانوں کی تعداد قرآن نے صراحت سے بیان نہیں کی اور ان کی تعداد میں اختلاف ہے بعض نے تین، بعض چار،بعض نے نو اور بعض نے گیارہ افراد لکھے ہیں اور اس سے زیادہ کا بھی احتمال ہے، دوسرا یہ ہے کہ حضرت ابراہمعليهالسلام کے پیروکار اور دوست احباب بھی تھے اور کن اور جان پہچان والے بھیاور یہ معمول ہے کہ بعض اوقات مہمان کے آنے پر مہمان کی ضرورت سے کئی گناہ زیادہ کھانا تیار کیا جاتا ہے اور سب اس سے استفادہ کرتے ہیں ۔
لیکن اس موقع پر ایک عجیب واقعہ پیش آیا اور وہ یہ کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام)نے دیکھا کہ نو وارد کھانے کی طرف سے ہاتھ ہی نہیں بڑھاتے، یہ صورت ان کے لئے بالکل نئی تھی ، اس بنا پر آپ کو ان سے اجنبیت کا احساس ہوا، اور یہ معاملہ ان کی وحشت وپریشانی کا باعث بنا( فَلَمَّا رَاٴَی اٴَیْدِیَهُمْ لَاتَصِلُ إِلَیْهِ نَکِرَهُمْ وَاٴَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیفَةً ) ۔
اس امر کا سرچشمہ ایک دیرینہ روایت ہے جو آج تک ان موقعوں میں پائی جاتی ہے جو گزشتہ اچھی روایات کی پابند رہتی ہیں اور وہ یہ کہ اگر کوئی شخص دوسرے کا کھانا کھا لے یعنی اس کا نان ونمک کھالے تو اس کے بارے میں کوئی برا ارادہ نہیں کرتا، لہٰذا اگر کوئی واقعاً کسی کے بارے میں برا ارادہ رکھتا ہو تو کوشش کرتا ہے کہ اس کا نان ونمک نہ کھائے، اس لئے حضرت ابراہیمعليهالسلام کو ان مہمانوں کے بارے میں شک ہوا اور سوچا کہ ہوسکتا ہے یہ کوئی برا ارادہ رکھے ہوں ۔
ان”رسولوں “کو یہ مسئلہ معلوم ہوگیا تو انھوں نے جلدی سے حضرت ابراہیمعليهالسلام کا شک دور کردیا اور ”اس سے کہا: مت ڈریں ہم خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں “اور ایک ظالم قوم کو عذاب کرنے پر مامور ہیں اور فرشتے غذا نہیں کھاتے( قَالُوا لَاتَخَفْ إِنَّا اٴُرْسِلْنَا إِلیٰ قَوْمِ لُوطٍ ) ۔
اس موقع پر ابراہیم کی بیوی (سارہ) جو وہاں کھڑی تھی ہنسی( وَامْرَاٴَتُهُ قَائِمَةٌ فَضَحِکَتْ ) ۔
شاید وہ اس لئے ہنسی ہوں کہ وہ بھی قوم لوط کے کرتوتوں سے سخت ناراحت اور پریشان تھیں اور ان کی سزا نزدی ک ہونے کا سن کر خوش ہوئیں ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ وہ تعجب بلکہ وحشت کے باعث ہنسی ہوں کیوں کہ ہنسی صرف مسرت کے لمحات کے لئے مخصوص نہیں بلکہ گاہے ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان شدت وحشت و تکلیف پر ہنستا ہے، عربوں کی مشہور ضرب المثل ہے :شر الشدائد ما یضحک ۔
بدترین مشکلات وہ ہیں جو انسان کو ہنسا دیں ۔
یا ہوسکتا ہے کہ وہ اس بنا پر ہنسی ہوں کہ کھانا موجود ہے لیکن نووارد مہمان ہاتھ کیوں نہیں بڑھاتے ۔
یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ وہ بیٹے کی خوشخبری پر ہنسی تھیں اگر چہ ظاہر آیت اس تفسیر کی نفی کرتی ہے کیوں کہ اسحاق کی بشارت انھیں اس ہنسنے کے بعد دی گئی ہے ہاں البتہ اگر یہ کہا جائے کہ پہلے انھوں نے ابراہیم کو بشارت دی ہو، سارا نے یہ بات سن لی ہو اور وہ اس احتمال پر خوش ہوئی ہوں کہ ان سے ابراہیمعليهالسلام کا فرزند ہوگا ۔
لیکن انھوں نے تعجب کیا کہ کیا اس سن وسال میں ممکن ہے کہ ایک بوڑھی عورت اپنے بوڑھے شوہر کے بچے کو جنم دے، لہٰذا انہویں نے تعجب سے ان سے سوال کیا اور انھوں نے صراحت سے کہا: جی ہاں ! یہ بچہ تجھی سے ہوگا، سورہ ذارعات کی آیات میں غور کرنے سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ بعض مفسرین کا اصرار ہے کہ یہاں پر ” ضحکت“ ”ضحک“(بروزن ”درک“) کے مادہ سے عورتوں کے ماہواری کے معنی میں ہے، وہ کہتے ہیں کہ اسی وقت سارا کو دوبارہ ماہواری شروع ہوگئی جب کہ پہلے ختم ہوچکی تھی اور وہ حد یاس تک پہنچ چکی تھیں اور یہ ماہواری بچہ کی پیدائش کے امکان کی نشانی ہے، لہٰذا انھوں نے سارا کو اسحاق کے پیدا ہونے کی بشارت دی تو پھر انھوں نے مسئلہ کو پوری طرح باور کیا، مفسرین نے اس بات سے استدلال کیا ہے کہ لغت عرب میں کہا جاتا ہے :
ضحک الارانب ۔
یعنی ۔ خرگوش کی ماہواری شروع ہوگئی ۔
لیکن مختصر پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ احتمال بعید معلوم ہوتا ہے کیوں کہ:
اوّلاً یہ نہیں سنا گیا کہ مادہ لغت عرب میں انسان کے بارے میں استعمال ہوا ہے، اسی لئے راغب نے مفرادات میں جب یہ معنی ذکر کیا ہے تو صراحت سے کہا ہے کہ یہ لفظ ”ضحکت “ کی تفسیر نہیں ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے خیال کیا ہے بلکہ اس لفظ کا معنی ہنسنا ہی ہے لیکن ہنستے ہوئے اسے ماہواری بھی شروع ہوگئی اور یہ دونوں چیزیں آپس میں خلط ملط ہوگئیں ۔
ثانیاً اگر یہ لفظ ایام ماہواری شروع ہونے کے بارے میں ہوتو پھر سارا کو اس کے بعد اسحاق کی بشارت پر تعجب نہیں کرنا چاہیئے تھا کیوں کہ اس حالت میں بچہ جننا کوئی عجیب بات نہیں ہے، حالانکہ اسی آیت کے بعد والے جملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے نہ صرف تعجب کیا بلکہ پکار کر کہا کہ وائے ہو مجھ پر کیا ممکن ہے کہ میں بوڑھی عورت بچہ جنوں ؟
بہرحال یہ احتمال آیت کی تفسیر سے بہت بعید نظر آتا ہے ۔
قرآن مزید کہتا ہے:اس کے بعد ہم نے اسے بشارت دی کہ اس سے اسحاق پیدا ہوگا اور اسحاق کے بعد اسحاق سے یعقوب ہوگا( فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ یَعْقُوبَ ) ۔
در حقیقت انھیں بیٹے کی بشارت بھی دی گئی اور پوتے کی بھی، ایک اسحاق اور دوسرایعقوب،جو دونوں انبیاء خدا میں سے تھے ۔
ابراہیم کی بیوی سارا جو اپنی اور اپنے شوہر کی زیادہ عمر کی وجہ سے بچے کی پیدائش سے بہت مایوس اورر ناامید ہوچکی تھیں ”بڑے تعجب آمیز لہجے میں پکاری: اے وائے ہو مجھ پر میں بچہ جنوں گی جب کہ میں بوڑھی ہوں اور میرا شوہر بھی بوڑھا ہے، یہ بہت ہی عجیب معاملہ ہے( قَالَتْ یَاوَیْلَتَا اٴَاٴَلِدُ وَاٴَنَا عَجُوزٌ وَهٰذَا بَعْلِی شَیْخًا إِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیبٌ ) ۔
وہ حق بجانب تھی کہ تعجب کرتی کیوں کہ اول تو سورہ ذارعات کی آیہ ۲۹ کے مطابق وہ جوانی میں ہی بانجھ تھی اور ثانیا جس روز اسے یہ خوشخبری دی گئی مفسرین کے بقول اور تورات کے سفر تکوین کے مطابق وہ نوے سال یا اس سے بھی زیادہ عمر کی تھی اور اس کے شوہر ابراہیمعليهالسلام اس وقت تقریبا سو سال یا اس سے بھی زیادہ عمر کے تھے ۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سارا نے اپنے بڑھاپے سے بھی استدلال کیا اور اپنے شوہر کے بڑھاپے سے بھی حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عورتوں کو عام طور پر پچاس سال کی عمر سے خون حیض بند ہوجاتا ہے کہ جوکہ بچہ جننے کے قابل نہ ہونے کی نشانی ہے ، یہ عادت منقطع ہوجاتی ہے تو پھر اس کے بعد ان سے بچہ پیدا ہونے کا احتمال بہت کم رہ جاتا ہے لیکن طبی تجربات نشان دہی کرتے ہیں کہ مردوں میں باپ ہونے کے لئے لطفے کی صلاحیت زیادہ عمر میں بھی باقی رہتی ہے لیکن اس سوال کا جواب واضح ہے کہ اگر چہ مردوں میں اس کا امکان باقی رہتا ہے لیکن بہرصورت اس کے بارے میں بھی بہت زیادہ سن میں یہ احتمال کمزور پڑ جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سورہ حجر کی آیہ ۵۴ کے مطابق اس بشارت پر خود حضرت ابراہیمعليهالسلام نے اپنے بڑھاپے کی وجہ سے تعجب کیا ۔
علاوہ ازیں نفسیاتی طور پر بھی شاید سارا نہیں چاہتی تھی کہ جرم ضعیفی صرف اپنی گردن پر لے لے ۔
بہرحال خدا نے بھیجے ہوؤں نے فوراً اسے اس تعجب سے نکالا اور اس خاندان پر خدا تعالیٰ کی جو پہلے سے بہت زیادہ نعمتیں رہی ہیں اور جس طرح سے خدا انھیں حوادث کے چنگل سے معجزانہ طور پر نجات دلاتا رہا ہے اسے یاد دلایا اور اس سے کہا: کیا فرمان خدا پر تعجب کرتی ہو( قَالُوا اٴَتَعْجَبِینَ مِنْ اٴَمْرِ اللهِ ) ،حالانکہ خدا کی رحمت اور اس کی برکات تم اہل بیت پر تھیں اور ہیں( رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُهُ عَلَیْکُمْ اٴَهْلَ الْبَیْتِ ) ،وہی خدا جس نے ابراہیم کو نمرود جیسے ظالم کے چنگل سے نجات بخشی اور آگ میں صحیح وسالم رکھا، وہ خدا جس نے بہادر بت شکن ابراہیم کو جب کہ اس نے تن تنہا طاغوتوں پر حملہ کیا ہمت، طاقت، استقامت اور عقل ودانائی عطا کی(۳) یہ رحمت وفیضان الٰہی صرف اس روز اور اس دور کے لئے نہ تھا بلکہ اس خاندان پر اسی طرح جاری وساری تھا اور ہے، پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله وسلم) اور ائمہ اہل بیتعليهالسلام سے بڑھ کر کیا برکت ہوگی جو کہ اس خاندان میں ظہور پذیر ہوئے ۔
یہاں مفسرین نے استدلال کیا ہے کہ انسان کی بیوی بھی ”اہل بیت“ کے مفہوم میں داخل ہے، اور یہ لفظ اولاد اور ماں باپ کے لئے مخصوص نہیں ہے، یہ استدلال صحیح ہے بلکہ اگر یہ آیت نہ بھی ہوتی تو لفظ ”اہل“ کے مفہوم کے لحاظ سے یہ معنی درست ہے لیکن کوئی مانع نہیں کہ کچھ لوگ اہل بیت پیغمبر کا حصہ ہوں لیکن الگ مکتب ومذہب پر کاربند ہونے کی وجہ سے روحانی اعتبار سے اور معنوی لحاظ سے اہل بیت سے خارج ہوجائیں ۔
( اس کی مزید تشریح انشاء اللہ سورہ احزاب کی آیہ ۳۳ میں آئے گی)
آیت کے آخر میں ۔فرشتوں نے زیادہ تاکید کے لئے کہا: ”وہ ایسا خدا ہے جو حمید اور مجید ہے“( إِنَّهُ حَمِیدٌ مَجِید ) ۔
در اصل پروردگار کی ان دو صفات کا ذکر گزشتہ جملے کی دلیل ہے کیونکہ”حمید“اسے کہتے ہیں جس کے اعمال قابل تعریف ہوں ، خدا کا یہ نام اس کی فراواں نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ اپنے بندوں پر روا رکھتا ہے کہ جن کے جواب میں وہ اس کی حمد وثنا کرتے ہیں ، نیز ”مجید“ اسے کہتے ہیں جو استحقاق سے پہلے بھی نعمت بخشتا ہے، کیا وہ خدا جو ان صفات کا حامل ہے اس سے عجیب معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کے خاندان کو ایسی نعمت(یعنی آبرومند اولاد) عطافرمائے ۔
____________________
۱۔ تفسیر نمونہ، ج ۷، ص ۱۱۳(اردوترجمہ) پر بھی کچھ توضیحات آئی ہیں جو ایسی آیات سے فہم مقصود کے لئے موثر ہیں ، قارئین کرام! اس سلسلے میں کتاب ”آفریدگارِ جہان“اور ”در جستجوی خدا “ کی طرف رجوع کریں ۔۲۔ اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ، ج۶، ص ۲۱۰، (اردوترجمہ) کی طرف رجوع کریں ۔
۳۔ممکن ہے ”رحمة اللّٰه وبرکاته علیکم “جملہ خریہ ہو اور اس مقام پر یہ بھی امکان ہے کہ یہ دعا ئیہ پہلو رکھتا ہو لیکن پہلا احتمال زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ۔
آیات ۷۴،۷۵،۷۶
۷۴( فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِیمَ الرَّوْعُ وَجَائَتْهُ الْبُشْریٰ یُجَادِلُنَا فِی قَوْمِ لُوطٍ ) ۔
۷۵( إِنَّ إِبْرَاهِیمَ لَحَلِیمٌ اٴَوَّاهٌ مُنِیبٌ ) ۔
۷۶( یَاإِبْرَاهِیمُ اٴَعْرِضْ عَنْ هٰذَا إِنَّهُ قَدْ جَاءَ اٴَمْرُ رَبِّکَ وَإِنَّهُمْ آتِیهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُودٍ ) ۔
ترجمہ
۷۴ ۔جب ابراہیم کا خوف جاتا رہا اور اسے بشارت مل گئی تو ہمارے ساتھ قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا ۔
۷۵ ۔کیونکہ ابراہیم بردبار، ہمدرد اور (خدا کی طرف)بازگشت کرنے والا تھا ۔
۷۶ ۔اے ابراہیم! اس سے صرف نظر کرلے کہ تیرے پروردگار کا فرمان آپہنچا اور (خدا کا)عذاب قطعی طور پر ان پر آئے گا اور وہ پلٹ نہیں سکتا ۔
تفسیر
گزشتہ آیات میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ ابراہیمعليهالسلام بہت جلد نووارد مہمانوں کے بارے میں جان گئے کہ وہ خطرناک دشمن نہیں بلکہ پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں اور کود انہی کے بقول ایک ذمہ داری کی انجام دہی کے لئے قوم ِ لوط کی طرف جارہے ہیں ۔
ان کی طرف سے جب ابراہیمعليهالسلام کی پریشانی ختم ہوگئی اور ساتھ ہی انھیں صاحبِ شرف فرزند اور جانشین کی بشارت مل گئی تو فورا وہ قوم لوط کی فکر میں پڑ گئے جن کی نابودی پر وہ فرستادگان مامور تھے، وہ اس سلسلے میں ان سے جھگڑنے لگے اور بات چیت کرنے لگے( فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِیمَ الرَّوْعُ وَجَائَتْهُ الْبُشْریٰ یُجَادِلُنَا فِی قَوْمِ لُوطٍ ) ۔(۱)
ممکن ہے یہاں یہ سوال پیدا ہو کہ حضرت ابراہیمعليهالسلام ایک آلودہ گناہ قوم کے بارے میں کیوں گفتگو کے لئے کھڑے ہوگئے اور پروردگار کے اس رسولوں کے ساتھ کہ جو فرمان خدا سے مامور تھے جھگڑنے لگے (یہی وجہ ہے کہ ”یجادلنا“ کی تعبیر استعمال ہوئی یعنی ہم سے مجادلہ کرتے تھے) حالانکہ ایسا ایک پیغمبر کی شان سے اور وہ بھی ابراہیم (علیه السلام)جیسے باعظمت پیغمبر سے بعید ہے ۔
اسی لئے قرآن فوراً بعد والی آیت میں کہتا ہے: ابراہیم بردبار، بہت مہربان،خدا پر توکل کرنے والا اور اس کی طرف بازگشت کرنے والا ہے( إِنَّ إِبْرَاهِیمَ لَحَلِیمٌ اٴَوَّاهٌ مُنِیبٌ ) ۔(۲)
دواصل ان تین لفظوں میں مذکورہ سوال کا جواب دیا گیا ہے، اس کی وضاحت یہ ہے کہ ابراہیمعليهالسلام کے لئے ان صفات کا ذکر نشاندہی کرتا ہے کہ ان کا مجادلہ اور جھگڑنا ممدوح اور قابل تعریف ہے، یہ اس لئے کہ ابراہیمعليهالسلام پر یہ واضح نہیں تھا کہ خدا کی طرف سے عذاب کا قطعی فرمان صادر ہوچکا ہے، انھیں احتمال تھا کہ قوم کی نجات کے لئے ابھی امید کی کرن باقی ہے اور ابھی احتمال ہے کہ وہ بیدار ہوجائے لہٰذا ابھی شفاعت کاموقع باقی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ سزا اور عذاب میں تاخیر کے خواستگار ہوئے کیونکہ وہ حلیم، اور بردبار تھے، وہ بہت مہربان بھی تھے اور ہرموقع پر خدا کی طرف رجوع کرنے والے بھی تھے ۔
لہٰذا یہ جو بعض نے کہا کہ اگر ابراہیمعليهالسلام کا مجادلہ خدا کے ساتھ تھا تو اس کا کوئی معنی نہیں ہے اور اگر اس کے بھیجے ہوئے فرشتوں کے ساتھ تھا تو وہ بھی اپنی طرف سے کوئی کام انجام نہیں دے سکتے تھے اس لئے یہ مجادلہ کسی صورت میں صحیح نہیں ہوسکتا، اس کا جواب یہ ہے کہ ایک قطعی حکم کے مقابلے میں تو بات نہیں ہوسکتی لیکن غیر قطعی فرامین، شرائط وکوائف میں تبدیلی کی سورت میں بدلے جاسکتے ہیں کیونکہ ان میں بازگشت اور رجوع کی راہ بند نہیں ہوتی، دوسرے لفظوں میں ایسے فرامین مشروط ہوتے ہیں ناکہ مطلق ۔
باقی رہا یہ احتمال کہ یہاں مجادلہ مومنین کی نجات کے لئے تھا تو یہاں سورہ عنکبوت کی آیہ ۳۱ ،اور ۳۲ سے اشتباہ ہوا ہے جہاں فرمایا گیا ہے:
( وَلَمَّا جَائَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِیمَ بِالْبُشْریٰ قَالُوا إِنَّا مُهْلِکُو اٴَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ إِنَّ اٴَهْلَهَا کَانُوا ظَالِمِینَ قَالَ إِنَّ فِیهَا لُوطًا قَالُوا نَحْنُ اٴَعْلَمُ بِمَنْ فِیهَا لَنُنَجِّیَنَّهُ وَاٴَهْلَهُ إِلاَّ امْرَاٴَتَهُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِینَ )
جب ہمارے رسول بشارت لے کر ابراہیم کے پاس آئے تو کہا: ہم اس بستی (قوم لوط کا شہر) والوں کو ہلاک کردیں گے کیونکہ اس کے باسی ظالم ہیں ، ابراہیم نے کہا: وہاں تو لوط رہتا ہے، انھوں نے کہا: ہم وہاں رہنے والوں سے بہت آگاہ ہیں ، اسے اور اس کے خاندان کو ہم نجات دیں گے سوائے اس کی بیوی کے کہ جو قوم میں ہی رہے گی ۔
یہ احتمال صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ بعد والی آیت سے کسی طرح مناسبت نہیں رکھتا، جس کے بارے میں ابھی ہم بحث کریں گے ۔
بعد والی آیت میں ہے: رسولوں نے فوراً-ابراہیمعليهالسلام سے کہا: اے ابراہیم! اس تجویز سے صرفِ نظر کرو اور شفاعت رہنے دو کیونکہ یہ اس کا موقع نہیں ہے( یَاإِبْرَاهِیمُ اٴَعْرِضْ عَنْ هٰذَا ) ، کیونکہ تیرے پروردگار کا حتمی اور یقینی فرمان آپہنچا ہے( إِنَّهُ قَدْ جَاءَ اٴَمْرُ رَبِّکَ ) ،اور خدا کا عذاب بلاکلام ان پر آکررہے گا( وَإِنَّهُمْ آتِیهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُود ) ۔
”ربک“ (تیرا رب) ۔یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ یہ عذاب نہ سرف یہ کہ انتقامی حوالے سے نہیں تھا بلکہ اس کا سرچشمہ پروردگار کی صفتِ ربوبیت ہے جو بندوں کی تربیت وپرورش اور اجتماعِ انسانی کی اصلاح کی نشانی ہے ۔
یہ بعض روایات میں ہے کہ ابراہیمعليهالسلام نے خدا کے رسولوں سے کہا: اگر قوم میں سو مومن افراد ہوئے تو پھر بھی ہلاک نہیں کرو گے؟ اس پر انھوں نے کہا: نہیں ، ابراہیمعليهالسلام نے پوچھا: اگر پچاس افراد ہوئے ؟ تو وہ کہنے لگے: نہیں ، پوچھا: اگر تیس ہوئے؟ وہ بولے: نہیں ، کہا اگر دس ہوئے؟ وہ کہنے لگے : نہیں ، پوچھا: اگر پانچ ہوئے؟ انھوں کہا: نہیں ، یہاں تک کہ پوچھا کہ: اگر ایک شخص بھی ان میں صاحب ایمان ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں ، اس پر حضرت ابراہیمعليهالسلام نے کہا: یقینا لوط تو ان کے درمیان ہیں ، انھوں نے جواب دیا: ہم خوب جانتے ہیں اسے اور اس کی بیوی کے سوا اس کے خاندان کو ہم نجات دیں گے ۔(۳)
یہ روایت کسی طرح اس بات کی دلیل نہیں کہ مجادلہ سے مراد یہ گفتگو تھی بلکہ یہ گفتگو تو مومنین کے بارے میں تھی، حضرت ابراہیمعليهالسلام نے جو گفتگوکفار کے بارے میں کی وہ اس سے جدا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ سورہ عنکبوت کی مذکورہ آیات بھی اس تفسیر کے منافی نہیں ہے (غور کیجئے گا)
____________________
۱۔ ”روع“(بروزن”نوع“)خوف ووحشت کے معنی میں ہے اور ”روع“(بروزن ”نوح“)روح یا لوح کے ایک حصے کے معنی میں ہے جو خوف ووحشت کے نزول کا مرکز ہے (قاموس اللغت کی رجوع کریں ) ۔
۲۔ ”حلیم“،”حلم“ سے ہے، اس کا معنی ایک مقدس ہدف تک پہنچنے کے لئے بردباری اختیار کرنا اور ”آواہ“ اصل میں اس شخص کے معنی میں ہے جو بہت آہیں بھرتا ہو چاہے اپنی ذمہ داریوں کے خوف سے یالوگوں کو گھیرے ہوئے مشکلات ومصائب کی وجہ سے اور ”منیب“ ”انابہ“ کے مادہ سے رجوع اور بازگشت کرنے کے معنی میں ہے ۔
۳۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۲۲۶۔
آیات ۷۷،۷۸،۷۹،۸۰
۷۷( وَلَمَّا جَائَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِیءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیبٌ ) ۔
۷۸( وَجَائَهُ قَوْمُهُ یُهْرَعُونَ إِلَیْهِ وَمِنْ قَبْلُ کَانُوا یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ قَالَ یَاقَوْمِ هٰؤُلَاءِ بَنَاتِی هُنَّ اٴَطْهَرُ لَکُمْ فَاتَّقُوا اللهَ وَلَاتُخْزُونِی فِی ضَیْفِی اٴَلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَشِیدٌ ) ۔
۷۹( قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِی بَنَاتِکَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّکَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیدُ ) ۔
۸۰( قَالَ لَوْ اٴَنَّ لِی بِکُمْ قُوَّةً اٴَوْ آوِی إِلَی رُکْنٍ شَدِیدٍ ) ۔
ترجمہ
۷۷ ۔جب ہمارے رسول لُوط کے پاس آئے تو وہ ان کے آنے سے ناراحت ہوا اور اس کا دل پریشان ہوا اور کہا کہ آج کا دن سخت ہے ۔
۷۸ ۔اور اس کی قوم جلدی سے اس کے پاس آئی اور وہ پہلے سے برے کام انجام دیتی تھی، اس نے کہا: اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں جو تمھارے لئے زیادہ پاکیزہ ہیں (ان سے ازدواج کرو اور برے اعمال چھوڑ دو) خدا سے ڈرو اور مجھے میری مہمانوں کے بارے میں رسوا نہ کرو، کیا تمھارے درمیان جوکوئی مرد رشید نہیں ؟۔
۷۹ ۔وہ کہنے لگے: تو جانتا ہے کہ ہم تیری بیٹیوں کے لئے حق(اور میلان)نہیں رکھتے اور تو اچھی طرح جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں ۔
۸۰ ۔کہا (افسوس) اے کاش! میں تمھارے مقابلے میں کوئی طاقت رکھتا یا کوئی محکم سہارا اورمدد گار مجھے میسّر ہوتا (تو اس وقت میں دیکھتا کہ تم جیسے برے لوگون سے کیا سلوک کروں ) ۔
قوم لوط کی شرمناک زندگی
سورہ اعراف کی آیات میں قوم لوط کی سرنوشت کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کی تفسیر ہم وہاں پیش کرچکے ہیں ، یہاں انبیاء اور ان کی قوموں کی داستانوں کا سلسلہ جاری ہے، اسی مناسبت سے گزشتہ کچھ آیات حضرت لوطعليهالسلام اور ان کی قوم کی سرگزشت سے تعلق رکھتی تھیں ، زیر نظر آیات میں اس گمراہ اور منحرف قوم کی زندگی کے ایک اور حصے سے پردہ اٹھایا گیا ہے تاکہ سارے انسانی معاشرے کی نجات وسعادت کے اصلی مقصد کو ایک اور زاوےے سے پیش کیا جائے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: جب ہمارت رسول لوط کے پاس آئے تو وہ ان کے آنے پر بہت ہی ناراحت اور پریشان ہوئے ، ان کی فکر اور روح مضطرب ہوئی اور غم وانداہ نے انھیں گھیر لیا( وَلَمَّا جَائَتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِیءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا ) ۔
اسلامی روایات اور تفاسیر میں آیا ہے کہ حضرت لوطعليهالسلام اس وقت اپنے کھیت میں کام کررہے تھے اچانک انھوں نے خوبصورت نوجوانوں کو دیکھا جو ان کی طرف آرہے تھے، وہ ان کی ہاں مہمان ہونا چاہتے تھے، اب حضرت لوطعليهالسلام مہمانوں کی پذیرائی بھی چاہتے تھے لیکن اس حقیقت کی طرف بھی ان کی توجہ تھی کہ ایسے شہر میں جو انحراف جنسی کی آلودگی میں غرق ہے ان خوبصورت نوجوانوں کا آنا طرح طرح کے مسائل کا موجب ہے اور ان کی آبرو ریزی کا بھی احتمال ہے، اس وجہ سے حضرت لوطعليهالسلام سخت مشکل سے دوچار ہوگئے، یہ مسائل روح فرسا افکار کی صورت میں ان کے دماغ میں ابھرے اور انھوں نے آہستہ آہستہ اپنے آپ سے کہنا شروع کیا: آج بہت سخت اور وحشتناک دن ہے( وَقَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیبٌ ) ۔
”سِیء“ مادہ”ساء“سے ناراحت وپریشان ہونے کے معنی میں ہے ۔
”ذرع“ کو بعض نے دل اور بعض نے خُلق کے معنی میں لیا ہے، اس بنا پر ”ضاق بھم ذرعا“ کا مفہوم ہے: ان کا دل یا خُلق ان کے بِن بلائے مہمانوں کے باعث ان سخت حالات میں بہت پریشان ہوا ۔
لیکن فخررازی نے اپنی تفسیر میں ازہری سے نقل کیاہے کہ ایسے موقع پر ”ذرع“ طاقت کے معنی میں ہے، اور اصل میں اس کا مطلب ہے” چلتے وقت اونٹ کے اگلے قدموں کے درمیان کا فاصلہ“۔
فطری اور طبیعی امر ہے جب اونٹ کی پشت پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ لاددیں تو وہ مجبورا اپنے اگلے پاؤں کو زیادہ نزدیک کر کے رکھے گا اور چلتے وقت ان کے درمیان فاصلہ کم ہوگا، اسی مناسبت سے یہ تعبیر تدریجا کسی حادثے کی سنگینی کی وجہ سے ہونے والی ناراحتی اور پریشانی کے معنی میں استعمال ہونے لگی ۔
بعض کتبِ لغت مثلا ”قاموس“ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تعبیر ایسے مواقع پر استعمال ہوتی ہے جہاں حادثے کی شدت اتنی ہو کہ انسان کو کوئی چارہ کار سجھائی نہ دے ۔
”عصیب“ ”عصب“ (بروزن ”اسپ“) کے مادہ سے ہے، اس کا معنی ہے کسی چیز کو ایک دوسرے سے باندھنا، سخت ناراحت کرنے والے حوادث چونکہ انسان کو ایک طرح سے لپیٹ دیتے ہیں اور گویا ناراحتی سے باندھ دیتے ہیں لہٰذا اس صورت حال پر ”عصیب“ کا اطلاق ہوتا ہے، نیز عرب گرم اور جلانے والے دن کو بھی ”یوم العصیب“ کہتے ہیں ۔
بہرحال حضرت لوطعليهالسلام کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ کارنہ تھا کہ وہ اپنے نووارد مہمانوں کے گھر لے جاتے لیکن اس بنا ء پر کہ وہ غفلت میں نہ رہیں راستے میں چند مرتبہ ان کے گوش گزار کردیا کہ اس شہر میں شریر اور منحرف لوگ رہتے ہیں تاکہ اگر مہمان ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو صورتِ حال کا اندازہ کرلیں ۔
ایک روایت میں ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ جب تک یہ پیغمبر تین مرتبہ اس قوم کی برائی اور انحراف کی گواہی نہ دے انھیں عذاب نہ دیا جائے (یعنی ۔ یہاں تک کہ ایک گنہگار قوم سے متعلق بھی حکم خدا عدالت کے ایک عادلانہ فیصلے کی روشنی میں انجام پائے) اور ان رسولوں نے راستے میں تین مرتبہ لوط کی گوہی سُن لی ۔(۱)
کئی ایک روایات میں آیا ہے کہ حضرت لوطعليهالسلام نے مہمانون کو اتنی دیر تک (کھیت میں )ٹھہرائے رکھا کہ رات ہوگئی تاکہ شاید اس طرح اس شریر اور آلودہ قوم کی آنکھ سے بچ کر حفظِ آبرو کے ساتھ ان کی پذیرائی کرسکیں ، لیکن جب ان کا دشمن خود اس کے گھر کے اندر موجود ہوتو پھر کیا کیا جاسکتا، لوطعليهالسلام کی بیوی کو جو ایک بے ایمان عورت تھی اور اس گنہگار قوم کی مدد کرتی تھی جب اسے ان نوجوانوں اور خوبصورت مہمانوں کے آنے کی خبر ہوئی تو چھت پر چڑھ گئی، پہلے اس نے تالی بجائی پھر آگ روشن کرکے اس کے دھوئیں کے ذریعے ان نے منحرف قوم کے بعض لوگوں کو آگاہ کیا کہ لقمہ ترجال میں پھنس چکا ہے ۔(۲)
یہاں قرآن کہتا ہے کہ وہ قوم حرص اور شوق کے عالم میں اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے بڑی تیزی سے لوطعليهالسلام کی طرف آئی( وَجَائَهُ قَوْمُهُ یُهْرَعُونَ إِلَیْهِ ) ۔
وہی قوم کہ جس کی زندگی کے صفحات سیاہ اور ننگ وعار سے آلودہ تھے”اور جو پہلے ہی سے برے اور قبیح اعمال انجام دی رہی تھی“( وَمِنْ قَبْلُ کَانُوا یَعْمَلُونَ السَّیِّئَاتِ )
حضرت لوطعليهالسلام اس وقت حق رکھتے تھے کہ لرزنے لگیں اور ناراحتی و پریشانی کی شدت سے چیخ وپکار کریں ، انھوں نے کہا: مَیں یہاں تک تیار ہوں کہ اپنی بیٹیاں تمھارے نکاح میں دے دوں ، یہ تمھارے لئے زیادہ پاکیزہ ہیں( قَالَ یَاقَوْمِ هٰؤُلَاءِ بَنَاتِی هُنَّ اٴَطْهَرُ لَکُمْ )
آؤ”اورخدا سے ڈرو، میری عزت وآبرو خاک میں نہ ملاؤ اور میرے مہمانوں کے بارے میں برا ارادہ کرکے مجھے رسوا نہ کرو“( فَاتَّقُوا اللهَ وَلَاتُخْزُونِی فِی ضَیْفِی ) ۔
اے وائے” کیا تم میں کوئی رشید، عقلمد اور شائستہ انسان موجود نہیں ہے “ کہ جو اس ننگین اور شرمناک عمل سے روکے (َلَیْسَ مِنْکُمْ رَجُلٌ رَشِیدٌ) ۔
مگر تباہ کار قوم نے نبی خدا حضرت لوطعليهالسلام کو بڑی بے شرمی سے جواب دیا: ”تو خود اچھی طرح جانتا ہے کہ ہمارا تیری بیٹیوں میں کوئی حق نہیں “( قَالُوا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِی بَنَاتِکَ مِنْ حَقٍّ ) ”اور یقینا تو جانتا ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں “۔(۳) ۔
یہ وہ مقام تھا کہ اس بزرگوار پیغمبر نے اپنے آپ کو ایک محاصرے میں گھِرا ہوا پایا اور انھوں نے ناراحتی وپریشانی کے عالم میں فریاد کی: اے کاش! مجھ میں اتنی طاقت ہوتی کہ مَیں اپنے مہمانوں کا دفاع کرسکتا اور تم جیسے سرپھروں کی سرکوبی کرسکتا( قَالَ لَوْ اٴَنَّ لِی بِکُمْ قُوَّةً ) ، یا کوئی مستحکم سہارا ہوتا، کوئی قوم وقبیلہ میرے پیروکاروں میں سے ہوتا اور میرے کوئی طاقتور ہم پیمان ہوتے کہ جن کی مدد سے تم منحرف لوگوں کا مقابلہ کرتا( اٴَوْ آوِی إِلَی رُکْنٍ شَدِید )
____________________
۱۔مجمع البیان، مزکورہ آیت کے ذیل میں ۔
۲۔المیزان، ج۱۰،ص ۳۶۲۔
۳۔ ”یُهْرَعُونَ“ ”اھراع“ کے مادہ سے دھکیلنے کے معنی میں ہے، گویا سرکش جنسی خواہش اس گمراہ قوم کو بٹی شدت سے حضرت لوطعليهالسلام کے مہمانوں کی طرف دھکیل رہی تھی ۔
چند قابل توجہ نکات
۱ ۔ حضرت لوطعليهالسلام کی بیٹیاں :
جس وقت قوم لوط نے حضرت لوطعليهالسلام کے گھر پر ہجوم کیا اور وہ ان کے مہمانوں پر تجاوز کرنا چاہتے تھے اس وقت آپ نے کہا: میری بیٹیاں تمھارے لئے پاک اور حلال ہیں ، ان سے استفادہ کرو اور گناہ کے گرد چکر نہ لگاؤ۔
اس جملے نے مفسرین کے درمیان بہت سے سوالات اٹھا دئےے ہیں ۔
پہلا یہ کہ بیٹیوں سے مراد کیا لوطعليهالسلام کی نسبی اور حقیقی بیٹیاں تھیں جب کہ تاریخ کے مطابق ان کی دو یا تین سے زیادہ بیٹیاں نہیں تھیں ، لہٰذا انھوں نے اتنی کثیر جمعیت کے سامنے یہ تجویز کس طرح سے پیش کی، یا یہ کہ مراد تمام قوم اور شہر کی بیٹیاں تھیں کیونکہ معمول یہ ہے کہ قبیلہ کا بزرگ قبیلے کی بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں ہی قرار دیتا ہے ۔
دوسرا احتمال ضعیف نظر آتا ہے کیونکہ خلافِ ظاہر ہے اور صحیح وہی پہلا احتمال ہے اور حضرت لوطعليهالسلام کی یہ تجویز اس بنا پر تھی کہ ہجوم کرنے والے بستی کے چند افراد تھے نہ کہ سب کے سب، علاوہ ازیں وہ یہاں انتہائی قربانی کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے کہ مَیں یہاں تک تیار ہوں کہ گناہ کو روکنے اور اپنے مہمانوں کی عزت اور مرتبے کی حفاطت کے لئے اپنی بیٹیاں تمھارے نکاح میں دے دوں کہ شاید اس بے نظیر قربانی پر ان کے سوئے ہوئے ضمیر بیدار ہوجائیں اور وہ راہ حق کی طرف پلٹ آئیں ۔
دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت لوطعليهالسلام کی بیٹیوں جیسی باایمان لڑکیوں کی شادی بے ایمان کفار سے جائز تھی کہ آپ نے یہ تجویز پیش کی ۔
اس سوال کا جواب دو طرح سے دیا گیا ہے :
ایک یہ کہ اسلام کی حضرت لوطعليهالسلام کے دین میں بھی آغاز میں اس قسم کا ازدواج حرام نہیں تھا ۔
دوسرا یہ کہ حضرت لوطعليهالسلام کی مراد مشروط ازدواج تھی (یعنی ۔ مشروط باایمان)یعنی یہ میری بیٹیاں ہیں ، آؤ ایمان لے آؤ تاکہ مَیں انھیں تمھارے نکاح میں دے دوں ۔
یہاں پر معلوم ہوتا ہے کہ نبی خدا حضرت لوطعليهالسلام پر یہ اعتراض کہ انھوں نے اپنی پاکیزہ بیٹیوں کے نکاح کی اوباش لوگوں سے تجویز کیونکر کی، درست نہیں ہے کیونکہ ان کی پیش کش مشروط تھی اور اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انھیں ان کی ہدایت سے کس قدر لگاؤ تھا ۔
۲ ۔ ”اطھر“ کا مفہوم:
توجہ رہے کہ لفظ ”اطھر“ (پاکیزہ تر) کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ان کا وہ برا اور شرمناک عمل پاک تھا اور ازدواج کرنا اس سے زیادہ پاک تھا بلکہ عربی زبان میں اور دیگر زبانوں میں ایسی تعبیر موازنے کے وقت استعمال میں کی جاتی ہے، مثلاً اگر کوئی شخص تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا ہو تو اسے کہتے ہیں :دیر سے پہنچنا بہتر ہے بالکل نہ پہنچے سے ”یا “ مشکوک غذا نہ کھانا بہتر ہے اس سے کہ انسان اپنی جان خطرے میں ڈال دے ۔
ایک روایت میں بھی ہے کہ امامعليهالسلام نے خلفاء بنی عباس کی طرف سے احساس خطر اور شدتِ تقیہ کے موقع پر فرمایا:واللّٰه افطریوما من شهر رمضان احب الیٰ من ان یضرب عنقی ۔
ماہِ رمضان کا ایک دن کہ جب خلیفہ وقت نے عید کا اعلان کیا ہوا تھا حالانکہ اس روز عید نہیں ، اس دن افطار کروں (اور پھر اس دن کی قضا کروں ) اس سے بہتر ہے کہ مارا جاؤں ۔(۱)
حالانکہ نہ مارا جانا اچھا ہے اور نہ مقصد تک بالکل نہ پہنچنا، لیکن ایسے مقامات پر اس طرح کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے ۔
۳ ۔ایک مرد رشید، کی نصیحت:
حضرت لوطعليهالسلام کا آخرِ کلام میں یہ کہنا کہ ”کیا تمھارے درمیان کوئی مرد رشید نہیں ہے“ سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ایک رشید انسان کا کسی قوم یا قبیلے میں ہونا بھی اس کے شرمناک اعمال سے اسے روکنے کے لئے کافی ہوتا ہے، یعنی ایک شخص بھی اگر عاقل اور رشدِ فکر رکھنے والا تمھارے درمیان ہوتا تو تم میرے گھر کی طرف میرے مہمانوں پر تجاوز کرنے کے ارادے سے اور بدنیتی سے ہرگزنہ آتے ۔
اس سے انسانی معاشرے کی رہبری کے لئے ”رجل رشید“ کا اثرواضح ہوتا ہے، یہ وہ حقیقت ہے جس کے بہت سے نمونے ہم نے پوری تاریخِ بشر میں دیکھی ہے ۔
۴ ۔ انحراف کی انتہا:
تعجب کی بات یہ ہے کہ اس گمراہ قوم نے حضرت لوطعليهالسلام سے کہا: ہم تیری بیٹیوں پر حق نہیں رکھتے یہ امر اس گروہ کی انتہائی انحراف کو ظاہر کرتا ہے یعنی گناہ میں ڈوبا ہوا ایک معاشرہ اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھنے لگتا ہے، انھوں نے پاک وپاکیزہ صاحبِ ایمان لڑکیوں سے ازدواج کو بالکل قلمروِ حق میں شمار نہیں کیا لیکن اس کے برعکس جنسی انحراف کو اپنا حق شمار کیا ۔
گناہ کی عادت اور خو ہوجائے تو یہ مرحلہ اس قدر خطرناک مراحل میں سے ہے کہ یہاں پہنچ کر افراد شرمناک ترین اور قبیح ترین اعمال کو اپنا حق شمار کرتے ہیں اور پاکیزہ ترین طریقے سے جنسی تقاضوں کی تسکین کو ناحق سمجھتے ہیں ۔
۵ ۔ ”قوة“ اور ”رکن شدید“ کا مفہوم:
ایک حدیث میں امام صادقعليهالسلام سے مروی ہے کہ آپعليهالسلام نے مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں فرمایا:
”قوة“ سے مراد وہی ”قائم“ہے اور ”رکن شدید“ ان کے ۳۱۳ یار وانصار ہیں ۔(۲)
ہوسکتا ہے یہ روایت عجیب معلوم ہوکہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس زمانے میں حضرت لوطعليهالسلام ایسی شخصیت کی ایسے یاروانصار کے ساتھ ظہور کی آرزو کریں ، لیکن جو روایات آیاتِ قرآن کی تفسیر کے ذیل میں اب تک آئیں ہیں انھوں نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ عام طور پر ایک کلی قانون کو اس کے واضح مصداق کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے، دراصل حضرت لوطعليهالسلام یہ آرزو کرتے ہیں کہ اے کاش! مصمم ارادوں والے، جسمانی اور روحانی طور پر طاقتور کافی تعداد میں مرد ہوتے ان کے مرد وں کی طرح جو قیام مہدیعليهالسلام کے زمانے میں عالمی حکومت تشکیل دیں گے تو مَیں بھی حکومتِ الٰہی کی تشکیل کے لئے کام کرتا اور ان کی مدد سے فساد وانحراف کے خلاف جہاد کرتا اور اس قسم کے سرپھرے اور بے شرم افراد کی سرکوبی کرتا ۔
____________________
۱۔ وسائل، ج۷،ص ۹۵.
۲۔ تفیسر برہان، ج۲،ص۲۲۸۔
آیات ۸۱،۸۲،۸۳
۸۱( قَالُوا یَالُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَصِلُوا إِلَیْکَ فَاٴَسْرِ بِاٴَهْلِکَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّیْلِ وَلَایَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اٴَحَدٌ إِلاَّ امْرَاٴَتَکَ إِنَّهُ مُصِیبُهَا مَا اٴَصَابَهُمْ إِنَّ مَوْعِدَهُمْ الصُّبْحُ اٴَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیبٍ ) ۔
۸۲( فَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَاٴَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّیلٍ مَنْضُودٍ ) ۔
۸۳( مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ وَمَا هِیَ مِنَ الظَّالِمِینَ بِبَعِیدٍ ) ۔
ترجمہ
۸۱ ۔انھوں نے کہا: اے لوط! ہم تیرے پروردگار کے رسول ہیں ، وہ ہرگز تجھ پر دسترس حاصل نہیں کرسکیں گے، وسطِ شب اپنے خاندان کے ساتھ (اس شہر سے)چلا جااورتم میں سے کوئی بھی اپنی پشت کی طرف نگاہ نہ کرے، مگر تیری بیوی کہ وہ اسی بلا میں گرفتار ہوگی کہ جس میں لوگ گرفتار ہوں گے، ان کی وعدہ گاہ صبح ہے، کیا صبح نزدیک نہیں ہے ۔
۸۲ ۔جب ہمارا فرمان آپہنچا تو اس (شہر اور علاقے) کو ہم نے تہ وبالا کردیا اور ان پر ہم نے مٹیلے پتھروں کی بارش کی ۔
۸۳ ۔ (وہ پتھر کہ)جو تیرے پروردگار کے ہاں مخصوص تھے اور ایسا ہونا ستمگروں کے لئے بعید نہیں ہے ۔
ظالموں کی زندگی کا اختتام
آخرکار پرورگار کے رسولوں نے حضرت لوطعليهالسلام کی شدید پریشانی دیکھی اور دیکھا کہ وہ روحانی طور پر کس اضطراب کا شکار ہیں تو انھوں نے اپنے اسرارِ کار سے پردہ اٹھایا اور ان سے ”کہا:اے لوط! ہم تیرے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہیں ، پریشان نہ ہو، مطمئن رہو کہ وہ ہرگز تجھ پر دسترس حاصل نہیں کرسکیں گے“
( قَالُوا یَالُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّکَ لَنْ یَصِلُوا إِلَیْکَ ) ۔
یہ امر جاذبِ توجہ ہے کہ خدا کے فرشتے یہ نہیں کہتے کہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا بلکہ کہتے ہیں کہ اے لوط! یہ تجھ پر دسترس حاصل نہیں کر سکیں گے کہ تجھے کوئی نقصان پہنچے ۔
یہ تعبیر یا تو اس بنا پر ہے کہ اپنے آپ کو لوطعليهالسلام سے جدا نہیں سمجھتے تھے کیونکہ بہرحال وہ انہی کے مہمان تھے اور ان کی ہتکِ حرمت حضرت لوطعليهالسلام کی ہتکِ حرمت تھی یا یہ اس بنا پر کہ وہ حضرت لوطعليهالسلام پر یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ ہم خدا کے فرستادہ ہیں اور ہم تک ان کی دسترس نہ ہونا تو مسلم ہے یہاں تک کہ تُو جو اِن کا ہم نوع ہے تجھ تک بھی یہ نہیں پہنچ سکیں گے ۔
سورہ قمر کی آیہ ۳۷ میں ہے:( وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَنْ ضَیْفِهِ فَطَمَسْنَا اٴَعْیُنَهُمْ )
وہ لوط کے مہمانوں کے بارے میں تجاوز کا ارادہ رکھتے تھے لیکن ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں ۔
یہ آیت نشاندہی کرتی ہے کہ اس وقت حملہ آور قوم پروردگار کے ارادے سے اپنی بینائی کھو بیٹھی تھی اور حملے کی طاقت نہیں رکھتی تھی، بعض روایات میں بھی ہے کہ ایک فرشتے نے مٹھی بھر مٹی ان کے چہروں پر پھینکی، جس سے وہ نابینا ہوگئے ۔
بہرحال حضرت لوطعليهالسلام اپنے مہمانوں کے بارے میں ان کی ماموریت کے بارے میں آگاہ ہوئے تو یہ بات اس عظیم پیغمبر کے جلتے ہوئے دل کے لئے ٹھندک کے مانند تھی، ایک دم انھوں نے محسوس کیا کہ ان کے دل سے گم کا بارِ گراں ختم ہوگیا اور ان کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھی، ایسا ہوا جیسے ایک شدید بیمار کی نظر مسیح پر جاپرے، انھوں نے سُکھ کا سانس لیا اور سمجھ گئے کہ غم واندوہ کا زمانہ ختم ہورہا ہے اور بے شرم حیوان صفت قوم کے چنگل سے نجات پانے کا اور خوشی کا وقت آپہنچا ہے ۔
مہمانوں نے فوراًحضرت لوطعليهالسلام کو حکم دیا: تم اسی رات تاریکی شب میں اپنے خاندان کو اپنے ساتھ لے لو اور سرزمین سے نکل جاؤ( فَاٴَسْرِ بِاٴَهْلِکَ بِقِطْعٍ مِنَ اللَّیْلِ ) ۔(۱)
لیکن یہ پاپندی ہے کہ ”تم میں سے کوئی شخص پسِ پشت نہ دیکھے “( وَلَایَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اٴَحَدٌ ) ، اس حکم کی خلاف ورزی فقط تمھاری معصیت کار بیوی کرے گی کہ جو تمھاری گنہگار قوم کو پہنچنے والے مصیبت میں گرفتار ہوگی( إِلاَّ امْرَاٴَتَکَ إِنَّهُ مُصِیبُهَا مَا اٴَصَابَهُمْ ) ۔”( وَلَایَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اٴَحَدٌ ) “ کی تفسیر میں مفسرین نے چند احتمال ذکر کئے ہیں :
پہلا یہ کہ کوئی شخص پسِ پشت نہ دیکھے ۔
دوسرا یہ کہ شہر میں مال اور وسائل لے جانے کی فکر نہ کرے بلکہ صرف اپنے آپ کو اس ہلاکت سے نکال لے جائے ۔
تیسرا یہ کہ اس خاندان کے اس چھوٹے سے قافلے میں سے کوئی شخص پیچھے نہ رہ جائے ۔
چوتھے یہ کہ تمھارے نکلنے کے وقت زمین ہلنے لگے گی اور عذاب کے آثار نمایاں ہوجائیں گے لہٰذا اپنے پسِ پشت نگاہ نہ کرنا اورجلدی سے دور نکل جانا ۔
البتہ کوئی مانع نہیں کہ یہ سب احتمالات اس آیت کے مفہوم میں جمع ہو ں ۔(۲)
پہلا یہ کہ ”( وَلَایَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اٴَحَدٌ ) “ سے استثناء ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت لوطعليهالسلام ان کا خاندان، یہاں تک کہ ان کی بیوی بھی سب شہر سے باہر کی طرف نکلے اور کسی نے بھی رسولوں کے فرمان کے مطابق پس پشت نگاہ نہ کی سوائے حضرت لوطعليهالسلام کی بیوی کے کیونکہ اسے اپنی قوم سے بڑا لگاؤ اور دلی وابستگی تھی اور وہ ان کے انجام سے پریشان تھی، وہ لحظہ بھر کے لئے رکی اور پسِ پشت دیکھا، ایک روایت کے مطابق شہر پر برسنے والے پتھروں میں سے ایک پتھر اسے لگا اور اسے وہیں ڈھیر کردیا ۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ ”فاسرباھلک“سے استثناء ہے یعنی اپنی بیوی کے سوا تمام خاندان کو ساتھ لے جاؤ، اس صورت میں لوطعليهالسلام کی بیوی شہر ہی میں رہ گئی تھی، البتہ پہلا احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
بالآخر انھوں نے لوطعليهالسلام سے آخری بات کہی: نزولِ عذاب کا لمحہ اور وعدہ کی تکمیل کا موقع صبح ہے اور صبح کی پہلی شعاع کے ساتھ ہی اس قوم کی زندگی تباہ ہوجائے گی( إِنَّ مَوْعِدَهُمْ الصُّبْحُ ) ۔
ابھی اٹھ کھڑے ہو اور جتنا جلدی ممکن ہو شہر سے نکل جاؤ ”کیا صبح نزدیک نہیں ہے“( اٴَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیبٍ ) ۔
بعض روایات میں ہے کہ جب ملائکہ نے کہا کہ عذاب کے وعدہ پر عملدار آمد صبح کے وقت تو حضرت لوط (علیه السلام)کو جو اس آلودہ قوم سے سخت ناراحت اور پریشان تھے، وہی قوم کہ جس نے اپنے شرمناک اعمال سے ان کا دل مجروح کر رکھا تھا اور ان کی روح کو غم وانداہ سے بھردیا تھا ، فرشتوں سے خواہش کی کہ اب جب کہ انھوں نے نابود ہی ہونا ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ جلدی ایسا ہو لیکن انھوں نے حضرت لوطعليهالسلام کی دلجوئی اور تسلی کے لئے کہا: کیا صبح نزدیک نہیں ہے؟
آخرکار عذاب کا لمحہ آن پہنچا اور لوط پیغمبرعليهالسلام کا انتظار ختم ہوا جیسا کہ قرآن کہتا ہے:جس وقت ہمارا فرمان آن پہنچا تو ہم نے اس زمین کو زیر وزبر کردیا اور ان کے سروں پر مٹیلے پتھروں کی پیہم بارش برسائی( فَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَاٴَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّیلٍ مَنْضُودٍ ) ۔
”سجیل“ اصل میں فارسی لفظ ہے کہ جو ”سنگ وگِل“ سے لیا گیا ہے، لہٰذا اس کا مطلب ہے ایسی چیز جو پتھر کی طرح بالکل سخت ہو اور ناہی گیلی مٹی ڈھیلی مٹی کی طرح بالکل ان دونوں کے درمیان ہو۔
”منضود“ کا مادہ ”نضد“ ہے اس کا معنی ہے یکے بعد دیگرے اور پے در پے آنا، یعنی پتھروں کی یہ بارش اس قدر تیز اور پے در پے تھی کہ گویا پتھر ایک دوسرے پر سوار تھے ۔
لیکن یہ معمولی پتھر نہ تھے بلکہ تیرے پروردگار کے ہاں معتین اور مخصوص تھے( مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّکَ ) ، البتہ یہ تصور نہ کریں کہ یہ پتھر قوم لوط کے ساتھ ہی مخصوص تھے بلکہ ”یہ کسی ظالم قوم اور جمعیت سے دور نہیں ہیں “( وَمَا هِیَ مِنَ الظَّالِمِینَ بِبَعِیدٍ ) ۔
اس بے راہ رو اور منحرف قوم نے اپنے اوپر بھی ظلم کیا اور اپنے معاشرے پر بھی، وہ اپنی قوم کی تقدیر سے بھی کھیلے اور انسانی ایمان واخلاق کا بھی مذاق اڑایا، جب ان کے ہمدرد رہبر نے داد وفریاد کی تو انھوں نے کان نہ دھرے اورتمسخر اڑایا، اعلیٰ ڈھٹائی ، بے شرمی اور بے حیائی یہاں تک آن پہنچی کہ وہ اپنے رہبر کے مہمانوں کی حرمت وعزت پر تجاوز کے لئے بھی اٹھ کھڑے ہوئے ۔
یہ وہ لوگ تھے کہ جنھوں نے ہر چیز کو الٹ کر رکھ دیا، ان کے شہروں کو بھی الٹ جانا چاہیئے تھا، فقط یہی نہیں کہ ان کے شہر تہ وبالا ہوجاتے بلکہ ان پر پتھروں کی بارش بھی ہونا چاہیئے تھی تاکہ ان کے آخری آثارِ حیات بھی درہم برہم ہوجائیں ، اور وہ ان پتھروں میں دفن ہوجائیں اس طرح سے کہ ان کا نام ونشان اس سرزمین میں نظر نہ آئے صرف وحشتناک، تباہ وبرباد بیابان، خاموش قبرستان اور پتھروں میں دبے ہوئے مردوں کے علاوہ ان میں کچھ باقی نہ رہے ۔
کیا صرف قوم لوط کو یہ سزا ملنی چاہیئے، نہیں ، یقینا ہرگز نہیں بلکہ ہر منحرف گروہ اور ستم پیشہ قوم کے لئے ایسا ہی انجام انتظار میں ہے، کبھی سنگریزوں کی بارش کے نیچے، کبھی آگ اگلتے بموں کے نیچے اور کبھی معاشرے کے لئے تباہ کن اختلافات کے تحت ،خلاصہ یہ کہ ہر ستمگر کو کسی نہ کسی صورت میں ایسے عذاب سے دوچارہونا پڑے گا ۔
____________________
۱۔ ”اسر“ ”اسراء“ کے مادہ سے رات کو چلنے کے معنی میں ہے لہٰذا لفظ”لیل“(رات) اس آیت میں زیادہ تاکید کے لئے اور ”قطع“ رات کی تاریکی کے معنی میں ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ رات کے سیاہ پردوں نے تمام جگہوں کو گھیر رکھا ہے اور یہ غافل قوم خوابیدہ یا مستِ شراب ہوس بازی ہے ، چپکے سے ان میں سے نکل جاؤ۔
۲۔ اس بارے میں کہ”الا امراتک “ میں استثناء کس جملے سے ہے، ،مفسرین نے دو احتمال ذکر کئے ہیں :
چند قابل توجہ نکات
۱ ۔ صبح کے وقت نزولِ عذاب کیوں ؟:
مندرجہ بالا آیات میں غور کرنے سے قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نزولِ عذاب کے لئے صبح کا وقت کیوں منتخب کیا گیا، رات کے وقت ہی عذاب کیوں نازل نہیں ہوا ؟
ایسا اس لئے تھا کہ جب حضرت لوطعليهالسلام کے گھر پر چڑھ آنے والے افراد اندھے ہوگئے اور قوم کے پاس لوٹ کر گئے اور واقعہ بیان کیا تو وہ کچھ غوروفکر کرنے لگے کہ معاملہ کیا ہے، خدا نے صبح تک انھیں مہلت دی کہ شاید بیدار ہوجائیں اور اس کی بارگاہ کی طرف رجوع کریں اور توبہ کریں یا یہ کہ خدا انھیں چاہتا تھا کہ رات کی تاریکی میں ان پر شب خون مارا جائے اسی بنا پرحکم دیا کہ صبح تک مامور عذاب سے ہاتھ روکے رکھیں ۔
تفاسیر میں اس کے بارے میں تقریبا کچھ نہیں لکھا گیا لیکن جو کچھ ہم اوپر ذکر کیا ہے وہ اس سلسلے میں چند قابلِ مطالعہ احتمالات ہیں ۔
۲ ۔ زیر وزبر کیوں کیا گیا:
ہم کہہ چکے ہیں کہ عذاب کی گناہ سے کچھ نہ کچھ مناسبت ہونا چاہیئے، اس قوم نے انحراف جنسی کے ذریعے چونکہ ہرچیز کو الٹ پلٹ کردیا تھا لہٰذا خدا نے بھی ان کے شہروں کو بھی زیر وزبر کردیا، اور چونکہ روایات کے مطابق ان کے منہ سے ہمیشہ رکیک اور گندی گندگی کی بارش ہوتی رہتی تھی لہٰذا خدا نے بھی ان پر پتھروں کی بارش برسائی ۔
۳ ۔پتھروں کی بارش کیوں ؟:
کیا پتھروں کی بارش ان کے شہر زیر وزبر ہونے سے پہلے تھی یا اس کے ساتھ ساتھ یا اس کے بعد، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے اور آیاتِ الٰہی میں بھی اس سلسلے میں صراحت نہیں ہے کیونکہ یہ جملہ واؤ کے ساتھ عطف ہوا ہے کہ جس ست ترتیب معلوم نہیں ہوتی ۔
لیکن بعض مفسرین مثلا المنار کا مولف معتقد ہے کہ پتھروں کی بارش یا زیر وزبر ہونے سے پہلے تھی یا ساتھ ساتھ اور اس کا فلسفہ یہ تھا کہ وہ افراد جو اِدھر اُدھر گوشہ وکنار میں تھے اور ملبے میں دفن نہیں ہوئے تھے وہ صحیح وسالم نہ رہیں اور وہ بھی اپنے برے اعمال کی سزا تک پہنچ جائیں ۔
وہ روایت کہ جس میں ہے کہ حضرت لوطعليهالسلام کی بیوی نے آواز سنی تو سر پیچھے کی طرف پھیرا اور اسی عالم میں اسے پتھر آلگااور اسے مارڈالا، نشاندہی کرتی ہے کہ یہ دونوں امور (زیروزبر ہونا اور پتھروں کی بارش) اکٹھے صورت پذیر ہوئے ۔
اگر ان چیزوں سے صرف نظر لیں تو کوئی مانع نہیں کہ تشدیدِ عذاب اور ان کے آثار محو کرنے کے لئے سنگریزے ان کے زیروزبر ہونے کے بعد ہی ان پر نازل ہوئے ہوں اس طرح سے کہ ان کا علاقہ ان کے نیچے چھپ جائے اور اس کے آثار مٹ جائیں ۔
۴ ۔پتھر نشاندارکیوں تھے؟
ہم نے کہا کہ: ” مسومة عند ربک“ کے جملے سے بات واضح ہوتی ہے کہ یہ پتھر خدا کے نزدیک مخصوص اور نشاندار تھے لیکن یہ کس طرح نشاندار تھے، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔
بعض نے کہا ہے کہ ان پتھروں میں کچھ ایسی علامتیں تھیں جو نشاندہی کرتی تھیں کہ یہ عام پتھر نہیں ہیں بلکہ خصوصیت سے عذابِ الیہی کے لئے نازل ہوئے ہیں تاکہ دوسرے پتھر گرنے سے اشتباہ نہ ہو، اسی لئے بعض دوسروں نے کہا کہ پتھر زمینی پتھروں جیسے نہیں تھے بلکہ وہ ایک طرح کے آسمانی پتھر تھے جو کرّہ زمین کے باہر سے زمین کی طرف بھیجے گئے تھے ۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ علمِ پروردگار میں ان کی کچھ علامتیں تھیں کہ ان میں سے ہر ایک ٹھیک معین شخص اور معین مقام پر جاگرتا تھا، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدائی سزا اور عذاب اس قدر حساب شدہ ہے کہ یہ تک معین ہے کہ کس شخص کو کون سے پتھر کے ساتھ سزا دی جائے گی اور اس کا کوئی کام حساب اور ضابطے کے بغیر انجام نہیں پاتا ۔
۵ ۔ہم جنس کی طرف میلان کی حُرمت۔
ہم جنس سے آمیزش، چاہے مردوں میں ہویا عورتوں میں ، اسلام میں بہت بڑے گناہوں میں سے شمار کی گئی ہے اور دونوں کے لئے حدّ شرعی معیّن ہے ۔
مردوں میں ہم جنسی کا گناہ ہو تو فاعل ہو یا مفعول اسلام میں اس کی سزا قتل ہے اور فقہ میں اس اغلام اور قتل کے کئی طریقے بیان ہوئے ہیں ، البتہ اس کی سزا کے لئے ضروری ہے کہ یہ گناہ معتبر اور قطعی ذرائع سے ثابت ہو کہ جو فقہ اسلامی میں اور معصومین کی روایات میں ذکر ہوئے ہیں ، یہاں تک کہ سرف تین مرتبہ اقرار کرنا بھی کافی نہیں ہے کم از کم چار مرتبہ اس عمل کا اقرار ضروری ہے ۔
باقی رہا عورتوں میں ہم جنسی گناہ کی سزا تو اس کے لئے چار مرتبہ اقرار کرنے یا چار عادل گواہوں کی گواہی سے ثابت ہونے کے بعد (فقہ میں مذکورہ شرائط کی روشنی میں )سوتازیانے ہیں ، بعض فقہاء نے کہا ہے کہ شوہردار عورت یہ گناہ کرے تو اس کی حدّ قتل ہے ۔
ان حدود کے اجراء کے لئے دقیق اور نپی تلی شرائط ہیں کہ جو فقہ اسلامی کی کتب میں موجود ہیں ، وہ رویات کہ جو ہم جنسی کے گناہ کی مذمت میں پیشوایانِ اسلام کی طعف سے منقول ہیں اس قدر زیادہ اور ہلا دینے والی ہیں کہ ان کے مطالعے سے ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ اس گناہ کی قباہت اور برائی اس قدر ہے کہ بہت کم گناہ اس کے برابر شمار کئے گئے ہیں ۔
ان میں سے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے ایک روایت میں منقول ہے کہ :
لما عمل قوم لوط ما عملوا بکت الارض الیٰ ربها حتیٰ بلغ ودعها الی السماء ،بکت السماء حتیٰ بلغ ودعها العرش، فاوحی اللّٰه الی السماء ان احصبیهم،واوحی الی الارض ان اخفی بهم ۔
جب قوم لوط نے یہ قبیح ومل انجام دیا تو زمین نے اس قدر گریہ وبکا کیا کہ اس کے آنسو آسمان تک پہنچے اور آسمان نے اس قدر گریہ وبکا کیا کہ اس آنسو عرش تک پہنچے، اس وقت اللہ نے آسمان کو وحی کی کہ ان پر پتھر برسا اور زمین پر وحی کی کہ انھیں نیچے کی طرف لے جا ۔(۱)
ظاہر ہے کہ یہاں آنسو بہانا تشبیہ اور کنایہ کے طور پر ہے ۔
ایک اور حدیث امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
من جامع غلاما جاء یوم القیامة جنبا لا ینقیه ماء الدنیا وغضب اللّٰه علیه ولعنه واعدله جهنم وساء ت مصیرا ثم قال ان الذکر فیهتزالعرش لذلک ۔
جوشخص کسی لڑکے کے ساتھ جنسی ملاپ کرے گا قیامت کے دن ناپاک اور مجنب عرصئہ محشر میں پیش آئے گا یہاں تک کہ عالمِ دنیا کے تمام پانی اسے پاک نہیں کرسکیں گے اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اسے اپنی رحمت سے دور کرے گا اور اس پر لعنت کرے گا اور جہنم اس کے لئے تیار رکھی گئی ہے اور جہنم کس قدر بری جگہ ہے، اس کے بعد فرمایا:جب مذکر مذکر سے جنسی ملاپ کرے تو عرش خداہلنے لگتا ہے ۔(۲)
ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
جو لوگ یہ کام کرتے کرواتے ہیں وہ سدوم(قوم لوط) کے باقی ماندہ لوگ ہیں ۔
سوال ہوا: وہی شہر سدوم جو زیر وزبر ہوا ۔
فرمایا:ہاں ، وہ چار شہر تھے سدوم، صریم، لانا اور غمیرا (عمورا) ۔(۳)
ایک اور روایت میں حضرت امیر المومنینعليهالسلام سے منقول ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایا:
میں نے پیغمبر سے سنا ہے کہ آپ کہہ رہے تھے:
لعن اللّٰه المتشبهین من الرجال بالنساء والمتشبهات من النساء بالرجال ۔
خدا کی لعنت ہو ان مَردوں پر جو اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہ کرتے ہیں (مَردوں سے جنسی ملاپ کرواتے ہیں ) اور خدا کی لعنت ہو ان عورتوں پر کہ جو اپنے آپ کو مَردوں کی شبیہ بناتی ہیں ۔(۴)
____________________
۱۔تفسیر بریان، ج۲، ص۲۳۱۔
۲۔وسائل الشیعہ، ج۱۴،ص ۲۴۹۔
۳۔وسائل الشیعہ، ج۱۴،ص ۲۵۳۔
۴-وسائل الشیعہ، ج۱۴،ص ۲۵۵۔
ہم جنس پرستی کی حرمت کا فلسفہ
اگرچہ مغربی دنیا میں جہاں جنسی بے راہ روی بیت زیادہ ہے ایسی برائیوں سے نفرت نہیں کی جاتی یہاں تک کہ سننے میں آیا ہے کہ بعض ممالک مثلا برطانیہ میں پارلمیٹ نے اس کام کو انتہائی بے شرمی سے قانونی جواز دے دیا ہے لیکن ان برائیوں کے عام ہونے سے ان کی برائی اور قباحت میں ہرگز کوئی کمی نہیں آتی اور اس کے اخلاقی، نفسیاتی اور اجتماعی مفاسد اپنی جگہ پر موجود ہیں ۔
بعض اوقات مادی مکتب کے بعض پیروکار جو اس قسم کی آلودگیوں میں مبتلا ہیں اپنے عمل کی توجیہ کے لئے کہتے ہیں کہ اس میں طبی نکتہ نظر سے کوئی خرابی نہیں ہے لیکن وہ یہ بات بھول چکے ہیں کہ اصولی طور پر ہر قسم کا جنسی انحراف انسانی وجود کے تمام ڈھانچے پر اثرانداز ہوتا ہے اور اس کا اعتدال درہم برہم کردیتا ہے ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ انسانی فطری اور طبعی طور پر اپنے صفِ مخالف کی میلان رکھتا اور یہ میلان انسانی فطرت میں بہت مضبوط جڑیں رکھتا ہے اور انسانی نسل کی بقا کا ضامن ہے، ہر وہ کام جو طبعی میلان سے انحراف کی راہ پر ہو انسان میں ایک قسم کی بیماری اور نفسیاتی انحراف پیدا کرتا ہے ۔
وہ مرد جو جنس مواقف کی طرف میلان رکھتا ہے اور وہ مرد کہ جو اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کرتا ہے ایک کامل مرد نہیں ہے جنسی امور کی کتب میں ہم جنس پرستی ( HOMOSEXUALISM ) کو ایک اہم ترین انحراف قرار دیا ہے ۔
اگر یہ کام جاری رہے تو جنس مخالف کے لئے انسان میں میلان آہستہ آہستہ ختم ہوجاتا ہے اور جو یہ کام کرواتا ہے ان میں رفتہ رفتہ زنانہ احساسات پیدا ہونے لگتے ہیں اور دونوں بیت زیادہ جنسی ضعف اور اصطلاح کے مطابق سردمزاجی میں گرفتار ہوجاتے ہیں ، اس طرح سے کہ ایک مدت کے بعد وہ طبیعی اور فطری (جنس مخالف سے ملاپ)پر اقدر نہیں رہتے ۔
اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ مرد اور عورت کے جنسی احساسات جہاں ان کے بدن کے آرگنزم میں موثر ہیں وہاں ان کے روحانی اور مخصوص اخلاقی پہلوؤں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں ، یہ بات واضح ہے کہ طبیعی اور فطری احساسات سے محروم ہوکر انسان کے جسم اور روح پر کس قدر ضرب پڑتی ہے ، یہاں تک کہ ممکن ہے کہ اس طرح کے انحراف میں مبتلا افراد اس قدر ضعفِ جنسی کا شکار ہوں کہ پھر اولاد پیدا کرنے کی طاقت سے بھی محروم ہوجائیں ۔
اس قسم کے افراد عموماً نفسیاتی طور پر صحیح وسالم نہیں ہوتے اور اپنی ذات میں اپنے آپ سے ایک طرح کی بیگانگی محسوس کرتے ہیں اور جس معاشرے میں رہتے سہتے ہیں اس سے خود کو لاتعلق سا محسوس کرنے لگتے ہیں ، ایسے افراد قوت ِارادی کہ جو ہر قسم کی کامیابی کی شرط ہے آہستہ آہستہ کھو بیٹھتے ہیں اور ایک قسم کی سرگردانی اور پریشانی ان کی روح میں آشیانہ بنالیتی ہے ۔
ایسے افراد اگر جلدی اپنی اصلاح کا ارادہ نہ کریں بلکہ لازمی طور پر جسمانی اور روحانی طبیب سے مدد نہ لیں اور یہ عمل ان کی عادت کی شکل اختیار کرلے تو اس کا ترک کرنا مشکل ہوجائے گا ۔
بہرحال اگر مصمم ارادہ کرلیا جائے تو کسی حالت میں بھی یہ عادت ترک کرنے میں دیر نہیں لگتی، ارادہ بہرصورت قوی ہونا ضروری ہے ۔
بہرکیف نفسیاتی سرگردانی انھیں تدریجاً منشیات اورشراب کی طرف لے جاتی ہے اور وہ مزید اخلاقی انحرافات کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ ایک اوربڑی بدبختی ہے ۔
یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ اسلامی روایات میں مختصر اور پرمعنی عبارات کے ذریعے ان مفاسد کی طرف اشاری کیا گیاہے، ان میں سے ایک روایت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے، کسی نے آپ سے سوال کیا:
لم حرم اللّٰه اللواط ۔
خدانے لواطت کو کیوں حرام کیا ہے؟
آپ نے فرمایا:من اجل انه لوکان اتیان الغلام حلالا لاستغنی الرجال عن النساء وکان فیه قطع النسل وتعطیل الفروج وکان فی اجازة ذلک فساد کثیر ۔
اگر لڑکوں سے ملاپ حلال ہوتا تو مرد عورتوں سے بے نیاز ہوجاتے (اور ان کی طرف مائل نہ رہتے ) اور یہ چیز نسلِ انسانی کے منقطع ہونے کا باعث بنتی اور جنسِ مخالف سے فطری ملاپ کے ختم ہونے کا باعث بنتی اور یہ کام بہت سی اخلاقی اور اجتماعی خرابیوں کا سبب بنتا ہے ۔(۱)
اس نکتے کا ذکر بھی قابل توجہ ہے کہ اسلام ایسے افراد کے لئے جن سزاؤں کا قائل ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ فاعل پر مفعول کی بہن، ماں اور بیٹی سے نکاح حرام ہے یعنی اگر یہ کام ازدواج سے پہلے صورت پذیر ہوتو یہ عورتیں اس کے لئے ابدی طور پر حرام ہیں ۔
جس نکتے کا ہم آخر میں ذکر ضروری سمجھتے ہیں یہ ہے کہ جنسی انحراف کی طرف افراد کے میلان کے بہت سے علل واسباب ہیں ، یہاں تک کہ بعض اوقات ماں باپ کا اپنی اولاد سے سلوک یاہم جنس اولاد کی نگرانی نہ کرنا، ان کے طرزِ معاشرت اور ایک ہی جگہ پر سونا وغیرہ بھی ہوسکتا ہے اس آلودگی کا ایک عامل بن جائے ۔
بعض اوقات ممکن ہے کہ اس انحراف سے اےک اور اخلاقی انحراف جنم لے لے ۔
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ قومِ لوط کے حالات میں ہے کہ ان کے اس گناہ میں آلودہ ہونے کا ایک سبب یہ تھا کہ وہ بخیل اور کنجوس لوگ تھے چونکہ ان کے شہر شام جانے والے قافلوں کے راستے میں پڑتے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ مہمانوں اور مسافروں کی پذیرائی کریں لہٰذا ابتدا ء میں وہ اس طرح ظاہر کرتے تھے کہ وہ ان پر جنسی تجاوز کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ مہمانوں اور مسافروں کو اپنے سے دور بھگائےں لیکن تدریجاً یہ عمل ان کی عادت بن گیا اور انحراف جنسی کے میلانات آہستہ آہستہ ان کے وجود میں بےدار ہوگئے اور معاملہ یہاں تک جاپہنچا کہ وہ سر سے لے کر پاؤں تک اس میں آلودہ ہوگئے ۔(۲)
یہاں تک کے فضول قسم کا مذاق جو کبھی کبھی لڑکوں یا لڑکیوں کے درمیان اپنے ہم جنسوں کے بارے میں ہوتا ہے بعض اوقات ان انحرفات کی طرف کھینچ لے جانے کا سبب بن جاتا ہے ۔
بہرحال پوری توجہ سے ان امور کا خیال رکھنا چاہیئے اور جو اس گناہ میں آلودہ ہوں انھیں جلدی نجات حاصل کرنا چاہیئے اور اس بارے میں خدا سے توفیق طلب کرنا چاہیئے ۔
____________________
۱۔ وسائل الشیعہ ،ج ۱۴،ص ۲۵۲۔
۲۔ بحار، ج۱۲،ص ۱۴۷۔
قومِ لُوط کا اخلاق
اسلامی روایات وتواریخ میں جنسی انحرفات کے ساتھ قومِ لوط کے برے اور شرمناک اعمال اور گھٹیا کردار بھی بیان ہوا ہے، اس سلسلے میں سفینة البحار میں ہے:
قیل کانت مجالسهم تشتمل علی انواع المناکیر مثل الشتم والسخف والصفح والقمار وضرب المخراق وخذف الاحجار علی من مر بهم وضرب المعازف والمزامیر وکشف العورات ۔
کہا گیا ہے کہ ان کی مجالس اور بیٹھکیں طرح طرح کے منکرات اور برے اعمال سے آلودہ تھیں ، وہ آپس میں رکیک جملوں ، فحش کلامی اور پھبتیوں کا تبادلہ کرتے تھے، ایک دوسرے کی پشت پر مُکّے مارتے تھے طرح طرح کی آلاتِ موسیقی استعمال کرتے تھے اور لوگوں کے سامنے اپنی شرم گاہوں کا ننگا کرتے تھے ۔(۱)
واضح ہے کہ اس قسم کے گندے ماحول میں ہرروز انحراف اور بدی نئی شکل میں رونما ہوتی ہے اور وسیع سے وسیع ہوتی چلی جاتی ہے، ایسے موحول میں اصولی طور پر بُرائی کا تصور ختم ہوجاتا ہے اور لوگ اس طرح سے اس راہ پر چلتے ہیں کہ کوئی کام ان کی نظر میں برا اور قبیح نہیں رہتا، اس سے زیادہ بد بخت وہ قومیں ہیں جو وعلمِ کی پیش رفت کے زمانے میں انھیں راہوں پر گامزن ہیں ، بعض اوقات تو ان کے اعمال اس قدر شرمناک اور رسوا کن ہوتے ہیں کہ قومِ لوط کے اعمال بھو ل جاتے ہیں ۔
____________________
۱۔ سفینة البحار، ص ۵۱۷۔
آیات ۸۴،۸۵،۸۶
۸۴( وَإِلیٰ مَدْیَنَ اٴَخَاهُمْ شُعَیْبًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَهٍ غَیْرُهُ وَلَاتَنقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ إِنِّی اٴَرَاکُمْ بِخَیْرٍ وَإِنِّی اٴَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُحِیطٍ ) ۔
۸۵( وَیَاقَوْمِ اٴَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَاتَبْخَسُوا النَّاسَ اٴَشْیَائَهُمْ وَلَاتَعْثَوْا فِی الْاٴَرْضِ مُفْسِدِینَ ) ۔
۸۶( بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ وَمَا اٴَنَا عَلَیْکُمْ بِحَفِیظ ) ۔
ترجمہ
۸۴ ۔اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کراو، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں اور پیمانہ اور وازن کم نہ کرو (کم فروشی نہ کرو)مَیں تمہارا خیر خواہ ہوں اور مِیں تمھارے لئے محیط ہوجانے والے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔
۸۵ ۔اے میری قوم! پیمانہ اور وززن عدالت سے پورا کرو اور لوگوں کی اشیاء (اجناس)پر قابو نہ رکھو اور ان کے حق میں کمی نہ کرو اور زمین میں فساد نہ کرو۔
۸۶ ۔خدا نے تمھارے لئے جو حلال سرمایہ باقی رکھا ہے وہ تمھارے لئے بہتر ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو اور میں تمہارا پاسدار (اور تمھیں ایمان پر مجبور کرنے والا)نہیں ہوں ۔
حضرت شعیبعليهالسلام کی سرزمین۔ مدین
قوم لوط کی عبرت انگیز داستان ختم ہونے پر قومِ شعیب اور اہلِ مدین کی نوبت آئی ہے، یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے توحید کا راستہ چھوڑ دیا تھا اور شرک وبت پرستی کی سنگلاخ زمین میں سرگرداں ہوگئے تھے، یہ لوگ نہ صرف بُتوں کو پوجتے تھے بلکہ درہم ودینار اور اپنے مال وثروت کی بھی پرستش کرتے تھے اور اسی لئے وہ اپنے کاروبار اور بارونق تجارت کو نادرستی ، کم فروشی اور غلط طریقوں سے آلودہ کرتے تھے ۔
ابتدا میں فرمایا گیا ہے: مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا( وَإِلیٰ مَدْیَنَ اٴَخَاهُمْ شُعَیْبًا ) ۔
جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں لفظ ”اخاھم“ (ان کا بھائی) اس بنا پر ہے کہ اپنی قوم سے پیغمبروں کی انتہائی محبت کو بیان کیا جائے، نہ صرف اس بناء پر کہ وہ افراد ان کے گروہ اور قبیلے سے تھے بلکہ اس لئے کہ وہ ان کے خیرخواہ اور ہمدرد بھائی کی طرح تھے ۔
مدین (بروزن” مَریَم“) حضرت شعیبعليهالسلام اور ان کے قبیلے کی آبادی کا نام ہے، یہ شہر خلیج عقبہ کے مشرق میں واقع ہے، اس کے لوگ ااولادِ اسماعیل میں سے تھے، مصر، لبنان اور فلسطین سے تجارت کرتے تھے ۔
آج کل شہر مدین کا نام ”معان“ ہے، بعض جغرافیہ دانوں نے خلیج عقبی کے درمیان سے کوہ سینا تک زندگی بسر کرنے والوں پر مدین کے نام کا اطلاق کیا ہے ۔
تورات میں بھی لفظ ”مدیان“ آیا ہے لیکن بعض قبائل کے لئے (البتہ ایک ہی لفظ شہر اور اہل شہر پر عام طور پر استعمال ہوجاتا ہے) ۔(۱)
اس پیغمبر اور ہمدرد ومہربان بھائی نے جیسا کہ تمام انبیاء کا آغازِ دعوت میں طریقہ ہے پہلے انھیں مذہب کے اساسی ترین رکن ”توحید“ کی طرف دعوت دی اور کہا:اے قوم! یکتا ویگانہ خدا کی پرستش کروکہ جس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں( قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَهٍ غَیْرُه ) ، کیونکہ دعوتِ توحید تمام طاغوتوں اور جہالت کی تمام سنتوں کو توڑنے کی دعوت ہے اور اس کے بغیر کسی قسم کی اجتماعی اور اخلاقی اصلاح ممکن نہیں ہے ۔
اس وقت اہل مدین میں ایک اقتصادی خرابی شدید طور پر رائج تھی جس کا سرچشمہ شرک اور بت پرستی کی روح ہے، اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:خرید وفروخت کرتے وقت چیزوں کا پیمانہ اور وازن کم نہ کرو( وَلَاتَنقُصُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَان ) ۔
”مکیال“اور ”میزان“ پیمانہ اور ترازو کے معنی میں ہے اور انھیں کرنا اور کم فروشی لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنے کے معنی میں ہے ۔
ان دونوں کے کاموں کا ان کے درمیان رواج نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے کاموں میں نظم ونسق، حساب وکتاب اور میزان وترازو نہیں تھا اور ان کے سرمایہ دار معاشرے میں غارت گری، استثماری اور ظلم وستم کا نمونہ تھا ۔
یہ عظیم پیغمبر اس حکم کے بعد فوراً اس کے وہ علل واسباب کی طرف اشارہ کرتے ہیں :
پہلے کہتے ہیں :اس نصیحت کو قبول کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اچھائیوں کے دروازے تمھارے لئے کھُل جائیں گے، تجارت کو فروغ حاصل ہوگا، چیزوں کی قیمتیں گر جائیں گی، معاشرے کو سُکھ چین نصیب ہوگا، خلاصہ یہ کہ ”مَیں تمہارا خیر خواہ ہوں “ اور مجھے اعتماد ہے کہ یہ نصیحت تمھارے معاشرے کے لئے خیروبرکت کا سرچشمہ بنے گی( إِنِّی اٴَرَاکُمْ بِخَیْر ) ۔
اس جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ حضرت شعیبعليهالسلام کا مقصود یہ تھا کہ” مَیں دیکھ رہا ہوں کہ تم نعمتِ فراواں اور خیرِ کثیر کے حامل ہو “ اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ تم پستی کی طرف مائل ہوکر لوگوں کے حقوق ضائع کرو اورشکرِ نعمت کی بجائے کفرانِ نعمت کرو۔
دوسرا یہ کہ اس سے ڈرتا ہوں کہ شرک، کفرانِ نعمت اور کم فروشی پر اصرار کے نتیجے میں تمھیں محیط ہوجانے والے دن کا عذاب نہ آلے( وَإِنِّی اٴَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُحِیطٍ ) ۔
یہاں ”محیط“ ”یوم“ کی صفت ہے یعنی ایک گھیر لینے والادن، البتہ گھیر لینے والے دن سے مراد اس دن کا گھیر لینے والاعذاب ہے، ہوسکتا ہے یہ عذابِ آکرت کی طرف اشارہ ہو اور اسی طرح دنیا کے گھیر لینے والے عذاب اور سزا کی بھی نشاندہی ہو۔
لہٰذا تمھیں بھی ایسے کاموں کی ضرورت نہیں اور ان کاموں کے باعث عذابِ خدا بھی تمھاری گھات میں ہے اس لئے جس قدر جلد ممکن ہو اپنی حالت ٹھیک کرلو۔
بعد والی آیت پھر ان کے اقتصادی نظام کے بارے میں تاکید کررہی ہے، اگر پہلے شعیب اپنی قوم کو کم فروشی سے منع کرچکے تھے تو آیت کے اس حصے میں لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی دعوت دی جارہی ہے، فرمایا: اے قوم! پیمانہ اور میزان کو عدل سے پورا کرو( وَیَاقَوْمِ اٴَوْفُوا الْمِکْیَالَ وَالْمِیزَانَ بِالْقِسْط ) ، قسط وعدل کا یہ قانون اور ہر شخص کو اس کے حق کی ادائیگی کا یہ ضابطہ تمھارے پورے معاشرے پر حکمران ہوناچاہیئے ۔
پھر اس کے آگے بڑھ کر فرمایا: لوگوں کی چیزوں اوراجناس پرعیب نہ رکھو اور ان میں سے کسی چیز کو کم نہ کرو( وَلَاتَبْخَسُوا النَّاسَ اٴَشْیَائَهُم ) ۔
”بخس “(بروزن”نحس“) اصل میں ظلم کرتے ہوئے کم کرنے کے معنی میں ہے اور یہ جو ان زمینوں کو ”بخس“ کہا جاتا ہے کہ جو آبیاری کے بغیر کاشت ہوتی ہیں اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ ان کا پانی کم ہے (اور وہ صرف بارش سے استفادہ کرتی ہیں ) یا اس لئے کہ ان کی پیداوار پانی والی زمینوں سے کم ہے ۔
اس جملے کے مفہوم کی وسعت پر نگاہ ڈالیں تو یہ سب اقوام وملل کے لئے تمام انفرادی اور اجتماعی حقوق کے احترام کی دعوت ہے، ”بخس حق“ ہر ماحول اور ہر زمانے میں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات بلا معاوضہ مدد یا کسی اور صورت میں تعاون اور قرض کے نام پر بھی حقوق غصب کئے جاتے ہیں (جیسا کہ آج کل استعماری اور سامراجی طاقتوں کا طرزِ عمل ہے) ۔
آیت کے آخر میں اس سے بھی آگے بڑھ کر فرمایا گیا ہے: روئے زمین پر فساد نہ کرو( وَلَاتَعْثَوْا فِی الْاٴَرْضِ مُفْسِدِین ) ۔
کم فروشی کے ذریعے فساد اور برائی، لوگوں کے حقوق کو غصب کرنے کا فساد اور حقوق پر تجاوز کا فساد، معاشرتی میزان اور اعتدال کو درہم برہم کرنے کا فساد، اموال اور اشخاص پر عیب لگانے کا فساد۔ خلاصہ یہ کہ لوگوں کی حیثیت، آبرو، ناموس اور جان کے حریم پر تجاوز کرنے کا فساد۔
”لا تعثوا“ ”فساد نہ کرو“ کے معنی میں ہے، اس بناء پر اس کے بعد ”مفسدین“ کا ذکر زیادہ سے زیادہ تاکید کی خاطر ہے ۔
مندرجہ بالا دو آیات سے یہ حقیقت اچھی طرح سے واضح ہوتی ہے کہ توحید کا اعقاد اور آئیڈیالوجی کا معاملہ ایک صحیح وسالم اقتصاد کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے، نیز یہ آیات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اقتصادی نظام کا درہم برہم ہونا معاشرے کی وسیع تباہی اور فساد کا سرچشمہ ہے ۔
آخر میں انھیں یہ گوش گزار کیا گیا ہے کہ ظلم وستم کے ذریعے اور استعماری ہتھکنڈوں سے بڑھنے والی دولت تمھاری بے نیازی اور استغنا کا سبب نہیں بن سکتی بلکہ حلال طریقے سے حاصل کیا ہوا جو سرمایہ تمھارے پاس باقی رہ جائے چاہے وہ تھوڑا ہی ہو اگر خدا اور اس کے رسول پر ایمان کے ساتھ ہو تو بہتر ہے( بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) ۔
” بَقِیَّةُ اللهِ“کی تعبیر اس بنا پر ہے کہ تھوڑا حلال چونکہ خدا کے فرمان کے مطابق ہے لہٰذا ” بَقِیَّةُ اللهِ“ ہے اور یااس لئے ہے کہ حلال کی کمائی نعمتِ الٰہی دوام اور برکات کی بقا کا باعث ہے یا پھر یہ معنوی جزا اور ثواب کی طرف اشارہ ہے کہ جو ابد تک باقی رہتا ہے اگرچہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے فنا ہوجائے گا، سورہ کہف کی آیہ ۴۶ میں ہے:
( وَالْبَاقِیَاتُ الصَّالِحَاتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّکَ ثَوَابًا وَخَیْرٌ اٴَمَلًا )
اور باقی رہنے والی نیکیاں تمھارے رب کے نزدیک انجام کی حیثیت سے بھی بہتر ہے اور امید وآرزو کے لحاظ سے بھی ۔
یہ بھی اسی طرف اشارہ ہے ۔”( إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) “(اگر تم ایمان رکھتے ہو)، یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ یہ حقیقت صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو خدا، اس کی حکمت اور اس کے فرامین کے فلسفہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔
متعدد روایات میں ہے کہ ”بقیة اللہ“ صرف مہدیعليهالسلام یا بعض دوسرے ائمہ کے وجود کی طرف اشارہ ہے، ان روایات میں سے ایک کتاب ”اکمال الدین“ میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے، آپعليهالسلام نے فرمایا:
( اول ما ینطق به القائم علیه السلام حین خرج هٰذه الایة ”بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) “ ۔
( ثم یقال:انا بقیةاللّٰه و حجته وخلیفته علیکم فلا یسلم علیه مسلم الا قال علیک یا بقیةاللّٰه فی ارضه ) ۔
پہلی بات جو حضرت مہدیعليهالسلام اپنے قیام کے بعد کریں گے وہ یہ آیت ہوگی”( بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ ) “۔اس کے بعد کہیں گے:مَیں بقیةاللہ ہوں اور تم میں اس کی حجت اور خلیفہ ہوں ، لہٰذا اس کے بعد کوئی شخص ایسا نہ ہوگا کہ جو اس طرح سے آپعليهالسلام پر سلام نہ کرے گا:( السلام علیک یا بقیة اللّٰه فی ارضه ) ۔
یعنی ۔اے خدا کی زمین میں بقیةاللہ! آپ پر سلام ہو۔(۲)
ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ آیاتِ قرآن اگرچہ خاص مواقع کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ان کا مفہوم جامع ہے اور یہ ممکن ہے کہ بعد کے زمانوں میں وہ زیادہ اور وسیع مصداق پر منطبق ہوں ۔
یہ صحیح ہے کہ زیرِ بحث آیت میں قومِ شعیب مخاطب ہے اور”( بَقِیَّةُ اللهِ ) “ سے مراد حلال سرمایہ اور منافع اور جزائے الٰہی ہے لیکن ہر نفع بخش موجود کہ جو خدا تعالی کی طرف سے بشر کے لئے باقی ہے اور خیروسعادت کا باعث ہے اسے ” بَقِیَّةُ اللهِ“ شمار کیا جاسکتا ہے ۔تمام انبیائے الٰہی اور بزرگ ہادی ”( بَقِیَّةُ اللهِ ) “ ہیں ، اسی طرح جو مجاہد سپاہی کامیابی کے بعد میدان جنگ سے پلٹ آتے ہیں وہ بھی ”( بَقِیَّةُ اللهِ ) “ ہیں ۔حضرت مہدی موعود چونکہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بعد آخری پیشوا اور عظیم ترین انقلابی قائد ہیں ” بَقِیَّةُ اللهِ“ کے مصادیق میں سے ایک روشن ترین مصداق ہیں اور ہر کسی سے بڑھ کر اس لقب کے اہل ہیں خصوصا جب کہ آپعليهالسلام انبیاء اور ائمہ کے واحد باقی ماندہ ہیں ۔
زیرِ بحث آیت کے آخر میں حضرت شعیبعليهالسلام کی زبانی بیان کیا گیاہے کہ وہ کہتے ہیں :میری ذمہ داری تو فقط ابلاغ، انذار اور کبردار کرنا ہے ”اور مَیں تمھارے اعمال کا جواب دہ نہیں اور نہ میری یہ ذمہ داری ہے کہ تمھیں یہ راہ اختیار کرنے پر مجبور کروں “تم ہو ، یہ تمھاری راہ ہے اور یہ چاہ ہے( وما انا عليکم بحفیظ )
____________________
۱۔ اعلام قرآن،ص ۵۷۳۔
۲ -تفسیر صافی میں مذکورہ آیت کے ذیل میں یہ روایت نقل ہے ۔
آیات ۸۷،۸۸،۸۹،۹۰
۸۷( قَالُوا یَاشُعَیْبُ اٴَصَلَاتُکَ تَاٴْمُرُکَ اٴَنْ نَتْرُکَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا اٴَوْ اٴَنْ نَفْعَلَ فِی اٴَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ إِنَّکَ لَاٴَنْتَ الْحَلِیمُ الرَّشِیدُ ) ۔
۸۸( قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَرَزَقَنِی مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَا اٴُرِیدُ اٴَنْ اٴُخَالِفَکُمْ إِلیٰ مَا اٴَنْهَاکُمْ عَنْهُ إِنْ اٴُرِیدُ إِلاَّ الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیقِی إِلاَّ بِاللهِ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْهِ اٴُنِیبُ ) ۔
۸۹ و( یَاقَوْمِ لَایَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِی اٴَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا اٴَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ اٴَوْ قَوْمَ هُودٍ اٴَوْ قَوْمَ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ ) ۔
۹۰( وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْهِ إِنَّ رَبِّی رَحِیمٌ وَدُودٌ ) ۔
ترجمہ
۸۷ ۔انھوں نے کہا: اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم انھیں چھوڑ دیں کی جن کی ہمارے اباؤ اجداد پرستش کرتے تھے اور جو کچھ ہم اپنے اموال کے لئے چاہتے ہیں اسے انجام نہ دیں ، تُو بُرد بار اور رشید مرد ہے ۔
۸۸ ۔اس نے کہا-: اے میری قوم! اگر میرے پاس پروردگار کی طرف سے واضح دلیل ہو اور اس نے مجھے اچھا رزق دیا ہو (تو کیا مَیں اس کے فرمان کے خلاف عمل کرسکتا ہوں ؟)مَیں ہرگز نہیں چاہتا کہ جس چیز سے تمھیں روکتا ہوں اس کا خود ارتکاب کروں مَیں سوائے اصلاح کے ۔ جتنی کہ مجھ میں توانائی ہے ۔ اور کچھ نہیں چاہتا اور مجھے اللہ کے علاوہ توفیق نہیں ہے مَیں نے اس پر توکل کیا ہے اور میری اسی کی طرف بازگشت ہے ۔
۸۹ ۔اور اے میری قوم ! مبادا میری دشمنی اور مخالفت کے نتیجے میں تم اس انجام میں گرفتار ہوجاؤ کہ جس میں قومِ نوح یا قومِ ہود یا قومِ صالح گرفتار ہوئی ہے اور قومِ لوط تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے ۔
۹۰ ۔اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو اور اس کی طرف رجوع اور توبہ کرو اور میرا پروردگار مہربان ہے اور (توبہ کرنے والوں بندوں کو )دوست رکھتا ہے ۔
ہٹ دھرموں کی بے بنیاد منطق
اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس ہٹ دھرم قوم نے اس آسمانی مصلح کی دعوت کے جواب میں کیا ردِ عمل ظاہر کیا ۔
وہ جو بتوں کو اپنے بزرگوں کے آثار اور اپنے اصلی تمدن کی نشانی خیال کرتے تھے اور کم فروشی اور دھوکا بازی سے معاملات میں بڑے بڑے فائدے اور مفادات اٹھاتے تھے حضرت شعیبعليهالسلام کے جواب میں کہا: اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم انھیں چھوڑ دیں کی جن کی ہمارے آباؤ اجداد پرستش کرتے تھے( قَالُوا یَاشُعَیْبُ اٴَصَلَاتُکَ تَاٴْمُرُکَ اٴَنْ نَتْرُکَ مَا یَعْبُدُ آبَاؤُنَا ) ، اور یا اپنے اموال کے بارے میں اپنی آزادی سے ہاتھ دھو بیٹھیں( اٴَوْ اٴَنْ نَفْعَلَ فِی اٴَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ ) ، تُوتوایک بُرد بار، حوصلہ مند سمجھدار آدمی ہے تجھ سے یہ باتیں بعید ہیں( إِنَّکَ لَاٴَنْتَ الْحَلِیمُ الرَّشِید ) ۔
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ انھوں نے حضرت شعیبعليهالسلام کی نماز کا ذکر کیوں کیا؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ اس بنا پر تھا کہ حضرت شعیبعليهالسلام زیادہ نماز پڑھتے تھے اور لوگوں سے کہتے تھے کہ نماز انسان کو بُرے اور قبیح اعمال سے روکتی ہے لیکن وہ نادان لوگ کہ جو نماز اور ترکِ منکرات کے رابطے کو نہ سمجھ سکے انھوں نے اس بات کا تمسخراڑایا اور کہا کہ کیا یہ ذکر و اذکار اور حرکات تجھے حکم دیتی ہیں کہ ہم اپنے بزرگوں کے طور طریقے اور مذہبی ثقافت کو پاؤں تلے روند دیں یا اپنے اموال کے بارے میں اپنا اختیار گنوا بیٹھیں ۔
بعض نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ”صلوٰة“ دین ومذہب کی طرف اشارہ ہے کیوں کہ دین کا واضح ترین سمبل نماز ہے ۔
بہرحال اگر وہ صحیح طور پر غور وفکر کرتے توحقیقت پالیتے کہ نماز انسان میں احساسِ مسئولیت، تقویٰ، پرہیزگاری، خداترسی اور حق شناسی زندہ کرتی ہے ، اسے خدا کی اور اس کی عدالتِ عدل کی یاد دلاتی ہے، خود پسندی اور خودپرستی کا غبار اس کے صفحہ دل سے صاف کردیتی ہے، اسے جہانِ محدود وآلودہ سے دنیائے ماورا ء طبیعت، پاکیزیوں اور نیکیوں کی طرف متوجہ کرتی ہے اور اسی بنا پر اسے شرک، بت پرستی، بڑوں کی اندھی تقلید، کم فروشی اور طرح طرح کی دھوکہ بازی سے باز رکھتی ہے ۔
دوسرا سوال جو سامنے آتا ہے یہ ہے کہ کیا انھوں نے جملہ”( إِنَّکَ لَاٴَنْتَ الْحَلِیمُ الرَّشِید ) “،(تو عاقل، فہمیدہ اور بردبار شخص ہے) اعترافِ حقیقت وایمان کے طور پر کہا یا تمسخر واستہزاء کے طور پر؟
مفسرین نے دونوں احتمال ذکر کئے ہیں لیکن اگر پہلے آنے والے تمسخر آمیز جملے ”اٴَصَلَاتُکَ تَاٴْمُرُک “ کی طرف توجہ کریں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے یہ جملہ بھی استہزاء کے طور پر کہا ، ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ ایک حلیم وبردبار شخص وہ ہے کو کسی چیز کا جب تک کافی مطالعہ نہ کرلے اور اس کے صحیح ہونے کا اسے اطمینان نہ ہوجائے اس پر اظہارِ رائے نہیں کرتا اور ایک رشید وعاقل شخص وہ ہے کہ جو ایک قوم کے رسم ورواج کو پامال نہ کرے اور سرمایہ داروں سے عمل کی آزادی سلب نہ کرے، پس معلوم ہوتا ہے کہ نہ تمہارا کافی مطالعہ ہے، نہ تمھاری عقل وفہم درست ہے اور نہ تمھاری سوچ گہری ہے، کیونکہ درست عقل اور گہری سوچ تقاضا کرتی ہے کہ انسان اپنے بڑوں کی سنت سے دستبردار نہ ہو اور کسی کی آزادی عمل سلب نہ کرے ۔
لیکن جنھوں نے ان کی باتوں کو حماقت پر محمول کیا تھا اور ان کی بے عقلی کی دلیل قرار دیا تھا انھیں حضرت شعیبعليهالسلام نے کہا: اے میری قوم!(اے وہ لوگو! کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور جو کچھ میں اپنے لئے پسند کرتا ہوں وہی تمھارے لئے بھی پسند کرتا ہوں ) اگرخدا نے مجھے واضح دلیل وحی اور نبوت دی ہو اوراس کے علاوہ مجھے پاکیزہ روزی اور حسبِ ضرورت مال دیا ہو تو کیا اس صورت میں صحیح ہے کہ مَیں اس کے فرمان کی مخالفت کروں یا تمھارے بارے میں کوئی غرض رکھوں اور تمھاری خیر خواہ نہ بنوں( قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَرَزَقَنِی مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا ) ۔(۱)
اس جملے سے حضرت شعیبعليهالسلام یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس کام میں میرا مقصد صرف روحانی، انسانی اور تربیتی ہے، مَیں ایسے حقائق کو جانتا ہوں جنھیں تم نہیں جانتے اور انسان ہمیشہ اس چیز کا دشمن ہوتا ہے جسے نہیں جانتا ۔
یہ بات جاذبِ توجہ ہے کہ ان آیات میں ”یاقوم“(اے میری قوم) کا تکرار ہوا ہے تاکہ قبولِ حق کے لئے ان کے جذبات اور میلانات کو نرم کیا جاسکے، حضرت شعیبعليهالسلام اس طرح سے انھیں سمجھانا چاہتے تھے کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں (چاہے یہاں ”قوم“ قبیلہ کے معنی میں ہو ، طائفہ اور خاندان کے معنی میں ہو یا اس گروہ کے معنی میں ہو کس کے درمیان وہ زندگی گزارتے تھے اور انہی کا حصہ شمار ہوتے تھے) ۔
اس کے بعد یہ عظیم پیغمبر مزید کہتے ہیں : یہ گمان نہ کرنا کہ مَیں تمھیں کسی چیز سے منع کروں اور پھر خود اسی کی جستجو میں لگ جاؤں( وَمَا اٴُرِیدُ اٴَنْ اٴُخَالِفَکُمْ إِلیٰ مَا اٴَنْهَاکُمْ عَنْه ) ۔
تمھیں کہوں کہ کم فروشی نہ کرو اور دھوکہ بازی اور ملاوٹ نہ کرو لیکن مَیں کود یہ اعمال انجام دوں کہ دولت وثروت اکٹھی کرنے لگوں یا تمھیں تو بتوں کی پرستش سے منع کرون مگر خود ان کے سامنے سرِتعظیم خم کروں ، نہیں ایسا ہر گز نہیں ۔
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت شعیبعليهالسلام پر الزام لگاتے تھے کہ کود یہ فائدہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے لہٰذا وہ صراحت سے اس امر کی نفی کرتے ہیں ۔
آخر میں ان سے کہتے ہیں : میرا صرف ایک ہدف اور مقصد ہے اور وہ ہے اپنی قدرت واستطاعت کے مطابق تمھاری اور تمھارے معاشرے کی اصلاح( إِنْ اٴُرِیدُ إِلاَّ الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْت ) ۔
یہ وہی ہدف ہے جو تمام پیغمبرون کی پیشِ نظر رہا ہے ۔ یعنی عقیدے کی اصلاح، اخلاق کی اصلاح، عمل کی اصلاح، روابط اور اجتماعی نظاموں کی اصلاح۔
اور اس ہدف تک پہنچنے کے لئے صرف خدا سے توفیق طلب کرتا ہوں( وَمَا تَوْفِیقِی إِلاَّ بِالله ) ۔
اسی بنا پر اپنی ذمہ داری کی انجام دہی اور پیغام پہنچانے اور اس عظیم ہدف تک پہنچنے کے لئے ”صرف اس پر بھروسہ کرتا ہوں اور تمام چیزوں میں میری بازگشت اسی کی طرف ہے( عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْهِ اٴُنِیبُ ) ، مشکلات کے حل کے لئے اس کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے کوشش کرتا ہوں اور اس راہ میں سختیاں گوارا کرنے کے لئے اس کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔
اس کے بعدا نہیں ایک اخلاقی نکتے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی بغض وعداوت کی بنا پر یا تعصب اورر ہٹ دھرمی سے اپنے تمام مصالح نظر انداز کردیتا ہے اور انجام کو فراموش کردیتاہے، حضرت شعیبعليهالسلام نے ان سے فرمایا: اے میری قوم ! ایسا نہ ہو کہ میری دشمنی اورعداوت تمھیں گناہ، عصیان اور سر کشی پر ابھارے( وَیَاقَوْمِ لَایَجْرِمَنَّکُمْ شِقَاقِی ) ، اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہی بلائیں ، مصیبتیں ، تکلیفیں ، عذاب اور سزائیں جو میں قومِ نوح، قومِ ہود یا قومِ صالح کو پہنچیں وہ تمھیں بھی آلیں( اٴَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا اٴَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ اٴَوْ قَوْمَ هُودٍ اٴَوْ قَوْمَ صَالِح ) ، یہاں تک کہ قومِ لوط کے شہروں کا زیروزبر ہونا اور ان پر سنگباری کاواقعہ تم سے کوئی دور نہیں ہے( وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ ) ، نہ ان کا زمانہ ان سے کوئی دور ہے اور نہ ان کے علاقے تم سے دور ہیں اور نہ ہی تمھارے اعمال اور گناہ ان سے کچھ کم ہیں ۔
”مدین“ کہ جوقومِ شعیبعليهالسلام کا مرکز تھا وہ قومِ لوط کے علاقے سے کوئی زیادہ فاصلے پر نہیں تھا، کیونکہ دونوں شامات کے علاقوں میں سے تھے، زمانے کے لحاظ سے اگرچہ کچھ فاصلہ تھا تاہم اتنا نہیں کہ ان کی تاریخ فراموش ہوچکی ہوتی، باقی رہا عمل کے لحاظ سے تو اگرچہ قومِ لوط کے جنسی انحرافات نمایاں تھے اور قومِ شعیبعليهالسلام کے اقتصادی انحرفات زیادی تھے اور ظاہراً بہت مختلف تھے لیکن دونوں معاشرے میں فساد پیدا کرنے، اجتماعی نظام خراب کرنے، اخلاقی فضائل کو نابود کرنے اور برائی پھیلانے میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ کبھی ہم روایات میں دیکھتے ہیں کہ ایک درہم سُود کہ جس کا تعلق اقتصادی مسائل سے ہے کو ،زنا کہ جو ایک جنسی آلودگی کے برابر قرار دیا گیا ہے ۔(۲)
آخر میں حضرت شعیبعليهالسلام انھیں دو حکم اور دیتے ہیں کہ جو در اصل ان تمام تبلیغات کا نتیجہ ہیں کہ جو اس گمراہ قوم میں وہ انجام دے چکے تھے ۔
پہلا یہ کہ” خدا سے مغفرت طلب کرو تاکہ گناہ سے پاک ہوجاؤ اور شرک وبت پرستی اور معاملات میں خیانت سے کنارہ کش ہوجاؤ( وَاسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ) ۔
ادوسرا یہ کہ گناہ سے پاک ہونے کے بعد اس کی طرف پلٹ آؤ کیونکہ وہ پاک ہے اور تم بھی پاک ہوکر اس کی خدمت میں آؤ( ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْهِ ) ۔
دراصل استغفار، راہ ِ گناہ سے کنارہ کشی، خود کو پاک کرنا اور توبہ اس ذات کی طرف بازگشت ہے کہ جو لامتناہی وجود ہے ۔اور جان لو کہ تمہارا گناہ کتنا ہی عظیم اور سنگین کیوں نہ ہو بازگشت کی راہ تمھارے سامنے کھلی ہوئی ہے کیونکہ میرا پروردگاررحیم بھی ہے اوربندوں کودوست بھی رکھتا ہے( إِنَّ رَبِّی رَحِیمٌ وَدُود ) ۔
”ودود“ ”ود“ کا صیغہ مبالغہ ہے جس کا معنی ہے” محبت“ ،لفظ”رحیم“ کے بعد اس لفظ کاذکراس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالی نہ فقط اپنی رحیمیت کی بناء پر توبہ کرنے والے گنہ گار بندوں پر توجہ رکھتا ہے بلکہ اس سے قطع نظر انھیں بہت دوست رکھتا ہے، کیونکہ یہ دونوں (یعنی ۔ رحم اور محبت) خود بندوں کی استغفار اور توبہ قبول کرنے کا باعث ہیں ۔
____________________
۱۔ توجہ رکھئے گا مندرجہ بالا آیت میں جملہ شرطیہ کی جزا محذوف ہے اور اس کی جزا یہ ہے :افاعدل مع ذلک عما انا علیه من عبادته وتبلیغ دینه ۔
۲۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ”لا یجر منکم“ دو معنی میں آیاہے، ایک ”لایحملنکم “(یعنی ۔ تمھیں نہ ابھارے)، اس صورت میں آیت ترکیب کے لحاظ سے اس طرح ہوگی”لایجر من “فعل” شقاق “فاعل ، ”کم“ مفعول اور ”ان یصیبکم “ مصدری معنی رکھتا ہے اور دوسرا مفعول، نیز اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ اے میری قوم! میری مخالفت تمھیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تمہارا انجام قومِ نوح وغیرہ کی طرح ہو، دوسرا احتمال یہ ہے کہ ”تمھیں گناہ کی طرف نہ کھینچ کر لے جائے“، اس صورت میں ” یجرمن“ فعل،” شقاق“فاعل، اور ”کم“ مفعول ہے اور ”ان یصیبکم “ اس کا نتیجہ ہے اور آیت کا معنی وہی ہوگا جو ہم متن میں بیان کرچکے ہیں ۔
آیات ۹۱،۹۲،۹۳
۹۱( قَالُوا یَاشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ کَثِیرًا مِمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاکَ فِینَا ضَعِیفًا وَلَوْلَارَهْطُکَ لَرَجَمْنَاکَ وَمَا اٴَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیزٍ ) ۔
۹۲( قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَهْطِی اٴَعَزُّ عَلَیْکُمْ مِنْ اللهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَائَکُمْ ظِهْرِیًّا إِنَّ رَبِّی بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِیطٌ ) ۔
۹۳( وَیَاقَوْمِ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ إِنِّی عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یَاٴْتِیهِ عَذَابٌ یُخْزِیهِ وَمَنْ هُوَ کَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّی مَعَکُمْ رَقِیبٌ ) ۔
ترجمہ
۹۱ ۔انھوں نے کہا: اے شعیب! بہت سی وہ باتیں جو تو کہتا ہے ہم نہیں سمجھ پاتے اور ہم تجھے اپنے مابین کمزور پاتے ہیں اور اگر تیرے چھوٹے سے قبیلے کا احترام پیشِ نظر نہ ہوتا تو ہم تجھے سنگسار کرتے اور تُوہمارے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا ۔
۹۲ ۔اس نے کہا: اے قوم! کیا میرا چھوٹا سا قبیلہ تمھارے نزدیک خدا سے زیادہ عزت دار ہے جب کہ تم نے اس کے فرمان کو پسِ پشت ڈال دیا ہے، جو کچھ تم انجام دیتے ہو میرا پروردگار اس پر محیط ہے (اور اس سے آگاہ ہے) ۔
۹۳ ۔اے قوم! جو کچھ تم سے ہوسکے کرگزرو اور مَیں بھی اپنا کام کروں گا اور عنقریب تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ خوار ورسوا کرنے والا عذاب کس کے پیچھے آتا ہے اور کون جھوٹا ہے،تم انتظار کرو اور مَیں بھی انتظار کرتا ہوں ۔
ایک دوسرے کو دھمکیاں
یہ عظیم پیغمبر۔ حضرت شعیبعليهالسلام کہ انتہائی جچے تُلے، بلیغ اور دلنشین کلام کی وجہ سے جن کا لقب” خطیب الانبیاء“ ہے،(۱) ان کا کلام ان لوگوں کی روحانی ومادی زندگی کی راہیں کھولنے والا تھا، انھوں نے بڑے صبر، حوصلے، متانت اور دلسوزی کے ساتھ ان سے تمام باتیں کیں لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس گمراہ قوم نے انھیں کس طرح سے جواب دیا ۔
انھوں نے چار جملوں میں جو ڈھٹائی، جہالت اور بے خبری کا مظہرتھے آپ کو جواب دیا ۔
پہلے وہ کہنے لگے: اے شعیب!تمھاری زیادہ تر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں( قَالُوا یَاشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ کَثِیرًا مِمَّا تَقُولُ ) ، بنیادی طور پر تیری باتوں کا کوئی سر پیر ہی نہیں ، ان میں کوئی خاص بات اور منطق ہی نہیں کہ ہم ان پر کوئی غور وفکر کریں ، لہٰذا ان میں کوئی ایسی چیز نہیں جس پر ہم عمل کریں اس لئے تم اپنے آپ کو زیادہ نہ تھکاؤ اور دوسرے لوگوں کے پیچھے جاؤ۔
دوسرایہ کہ ہم تجھے اپنے مابین کمزور پاتے ہیں( وَإِنَّا لَنَرَاکَ فِینَا ضَعِیفًا ) ، لہٰذا اگر تم یہ سوچتے ہو کہ تم اپنی بے منطق باتیں طاقت کے بل پر منوا لو گے تو یہ بھی تمھاری غلط فہمی ہے ۔
یہ گمان نہ کرو کہ اگرہم تم سے پوچھ گچھ نہیں کرتے یہ تمھاری طاقت کے خوف سے ہے” اگر تیری قوم وقبیلے کا احترام پیشِ نظر نہ ہوتا تو ہم تجھے بدترین طریقے سے قتل کردیتے اور تجھے سنگسار کرتے( وَلَوْلَارَهْطُکَ لَرَجَمْنَاک ) ۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ انھوں نے حضرت شعیبعليهالسلام کے قبیلے کو ”رھط“ کے لفظ سے یاد کیا کہ جس کا لغتِ عرب میں تین سے کم تعداد سے لے کر سات یا دس یا بعض کے بقول زیادہ سے زیادہ چالیس افراد پر اطلاق ہوتا ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تیری قبیلے کی بھی ہماری نظر میں کوئی طاقت نہیں بلکہ دوسرے لحاظ ہیں جو ہمیں اس کام سے روکتے ہیں ، یہ بالکل اس طرح ہے جیسے ہم کسی سے کہتے ہیں کہ اگر تیری قوم اور خاندان کے ان چار افراد کا لحاظ نہ ہو تو ہم تیرا حق تیرے ہاتھ پر رکھ دیتے جب کہ در اصل اس کی قوم اور خاندان کے وہی چار افراد نہیں ہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ طاقت کے لحاظ سے اہمیت نہیں رکھتے ۔
آخر میں انہوں نے کہا: تُوہمارے لئے کویہ طاقتور اور ناقبلِ شکست شخص نہیں ہے( وَمَا اٴَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیزٍ ) ، اگرچہ تو اپنے قبیلے کے بزرگوں میں شمار ہوتا ہے لیکن جو پپروگرام تیرے پیشِ نظر ہے اس کی وجہ سے ہماری نگاہ میں تیری کوئی وقعت اور منزلت نہیں ہے ۔
حضرت شعیبعليهالسلام ان کی باتوں کے نشتروں اور توہین آمیز رویّے سے (سیخ پا ہوکر) اٹھ کر نہ چلے گئے بلکہ آپ نے اسی طرح انھیں پُر منطق اور بلیغ پیرائے میں جواب دیا: اے قوم! کیا میرے قبیلے کے یہ چند افراد تمھارے نزدیک خدا سے زیادہ عزیز ہیں( قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَهْطِی اٴَعَزُّ عَلَیْکُمْ مِنَ الله ) ، تم میرے خاندان کی خاطر جو تمھارے بقول چند نفر سے زیادہ نہیں ہیں مجھے آزار نہیں پہنچاتے ہو، تو کیوں خدا کے لئے تم میری باتوں کو قبول نہیں کرتے ہو، کیا عظمتِ خدا کے سامنے چند افراد کی کوئی حیثیت ہے؟
کیا تم کدا کے کسی احترام کے قائل ہو” جب کہ اسے اور اس کے فرمان کوتم نے پسِ پشت ڈال دیا ہے( وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَائَکُمْ ظِهْرِیًّا ) ۔(۲)
آخر میں حضرت شعیبعليهالسلام کہتے ہیں :یہ خیال نہ کرو کہ خدا تمھارے اعمال کو نہیں دیکھتا اور تمھاری باتیں نہیں سنتا، یقین جانو کہ میرا پروردگار ان تمام اعمال پر محیط ہے جو تم انجام دیتے( إِنَّ رَبِّی بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِیط ) ۔
بلیغ سخنور وہ ہے جو اپنی باتوں میں مدِّ مقابل کی تمام تنقیدوں کا جواب دے، قومِ شعیبعليهالسلام کے مشرکین نے چونکہ اپنی باتوں کے آخر میں ضمناً انھیں سنگسار کرنے کی دھمکی دی تھی اور ان کے سامنے اپنی طاقت کا اظہار کیا تھا لہٰذا ان کی دھمکی کے جواب میں حضرت شعیبعليهالسلام نے اپنا موقف اس طرح سے بیان کیا:اے میری قوم! جو کچھ تمھارے بس میں ہے کرگزرواور اس میں کوتاہی نہ کرو اور جو کچھ تم سے ہوسکتا ہے اس میں رُو رعایت نہ کرو( وَیَاقَوْمِ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُم ) (۳) ،مَیں بھی اپنا کام کروں گا( إِنِّی عَامِلٌ ) لیکن تم جلد سمجھ جاؤ گے کہ کون رسوا کن عذاب میں گرفتار ہوتا ہے اور کون جھوٹا ہے،مَیں یا تم( سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یَاٴْتِیهِ عَذَابٌ یُخْزِیهِ وَمَنْ هُوَ کَاذِب ) ۔اور اب جب معاملہ اس طرح ہے تو تم بھی انتظار کرو اور مَیں بھی انتظار کرتا ہوں( وَارْتَقِبُوا إِنِّی مَعَکُمْ رَقِیبٌ ) ۔(۴)
تم اپنی طاقت، تعداد، سرمائے اوراثرورسوخ سے مجھ پر کامیابی کے انتظار میں رہو اور میں بھی انتظار میں ہوں کہ عنقریب دردناک عذابِ الٰہی تم جیسی گمراہ قوم کے دامن گیر ہو اور تمھیں صفحہ ہستی سے مٹا دے ۔
____________________
۱۔ سفینة البحار،مادہ ”شعیب“۔
۱۔ عربی زبان میں جب کسی چیز کے بارے میں اپنی بے اعتنائی کا اظہار کرتے ہیں تو کہتے ہیں ”جعلته تحت قدمی “یا”جعلته دبرا ذنی “ یا”جعلته وراء ظهری “ یا”جعلته ظهریا “ (یعنی وہ میرے زیرِ پا ہے یا مَیں نے اسے پسِ پشت ڈال رکھا ہے وغیرہ) اور ”ظهری “ کا مادہ”ظهر “ (بروزن”قہر“ )ہے اور”ی“ یہاں یاء نسبت ہے اور ”ظ“ کے نیچے زیر ان تبدیلیوں کی بناء پر ہے جو کبھی اسمِ منسوب میں کی جاتی ہے ۔
۲۔ ”مکانة“ مصدر یا اسم مصدر ہے اور یہ کسی چیز پر قدرت رکھنے کے معنی میں ہے ۔
۴۔ ”رقیب“ کا معنی ہے محافظ، نگران اور نگہبان، یہ دراصل”رقبہ“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے”گردن“ یہ معنی اس کے لئے ہے کہ گردن کا محافظ اور نگران اس کی حفاظت کرتا ہے جو اس کی محافظت میں ہو (یہ اس سے کنایہ ہے کہ اس کی جان کی محافظت کرتا ہے) یا اس بنا پر کہ وہ گردن اونچی رکھتا ہے تاکہ پاسداری اور حفاظت کا کام انجام دے سکے ۔
آیات ۹۴،۹۵
۹۴( وَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا وَاٴَخَذَتْ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاٴَصْبَحُوا فِی دِیَارِهِمْ جَاثِمِینَ ) ۔
۹۵( کَاٴَنْ لَمْ یَغْنَوْا فِیهَا اٴَلَابُعْدًا لِمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ ) ۔
ترجمہ
۹۴ ۔اور جب ہمارا فرمان آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت کے ذریعے نجات دی اور جنھوں نے ظلم کیا تھا انھیں (آسمانی) صیحہ نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں منہ کے بَل گرے (اور مرگئے) ۔
۹۵ ۔اس طرح کہ گویا وہ ان گھروں میں رہتے ہی نہ تھے، دور ہو مدین(رحمت خدا سے) جیسے کہ قوم ِ ثمود دور ہوئی ۔
مدین کے تباہ کاروں کا انجام
گزشتہ اقوام کی سرگزشت کے بارے میں قرآن مجید میں ہم نے بارہا پڑھا ہے کہ پہلے مرحلے میں انبیاء انھیں خدا کی طرف دعوت دینے کے لئے قیام کرتے تھے اور ہر طرح سے تعلیم و تربیت اور پندونصیحت میں کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے تھے، دوسرے مرحلے میں جب ایک گروہ پر پند ونصائح کا کوئی اثر نہ ہوتا تو انھیں عذابِ الٰہی سے ڈراتے تاکہ وہ آخری افراد تسلیمِ حق ہوجائیں جو قبولیت کی اہلیت رکھتے ہیں اور وہ راہِ خدا کی طرف پلٹ آئیں نیز اتمام حجت ہوجائے ۔
تیسرے مرحلے میں جب ان میں سے کوئی چیز موثر نہ ہوتی تو روئے زمین کی ستھرائی اور پاکبازی کے لئے سنتِ الٰہی کے مطابق عذاب آجاتا اور راستے کے ان کانٹوں کو دُور کردیتا ۔
قومِ شعیب یعنی اہل مدین کا بھی آخرکار مرحلہ انجام آپہنچا، چنانچہ قرآن کہتا ہے:جب (اس گمراہ، ظالم اور ہٹ دھرم قوم کو عذاب دئےے جانے کے بارے میں )ہمارا فرمان آپہنچا تو ہم نے شعیب کو اور اس پر ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت کی برکت سے نجات دی( وَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا ) ، پھر آسمان پکار اور مرگ آفریں عظیم صیحہ نے ظالموں اور ستمگروں کو اپنی گرفت میں لے لیا( وَاٴَخَذَتْ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیْحَة ) ۔
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ”صیحہ“ ہر قسم کی عظیم آوازاور پکار کے معنی میں ہے، قرآن نے بعض قوموں کی نابودی صیحہ آسمانی کے ذریعے بتائی ہے، یہ صیحہ احتمالاً صاعقہ کے ذریعے اور اس کی مانند ہوتی ہے اور جیسا کہ ہم نے قومِ ثمود کی داستان میں بیان کیا ہے کہ صوتی امواج بعض اوقات اس قدر قوی ہوسکتی ہیں کہ ایک گروہ کی موت کا سبب بن جائے ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے:اس آسمانی صیحہ کے اثر سے قومِ شعیب کے لوگ اپنے گھروں میں منہ کے بل جاگرے اور مرگئے اور ان کے بے جان جسم درسِ عبرت بنے ہوئے ایک مدت تک وہیں پڑے رہے( فَاٴَصْبَحُوا فِی دِیَارِهِمْ جَاثِمِین ) ، ان کی زندگی کی کتاب اس طرح بند کردی گئی کہ ” گویا کبھی وہ اس سر زمین کے ساکن ہی نہ تھے“( کَاٴَنْ لَمْ یَغْنَوْا فِیهَا ) ۔
وہ تمام دولت وثروت کہ جس کی خاطر انھوں نے گناہ اور ظلم وستم کئے نابود ہوگئی، ان کی زمینیں اور زرق وبرق زندگی ختم ہوگئی اور ان کا شور وغوغا خاموش ہوگیا اور آخرکار جیسا کہ قومِ عاد وثمود کی داستان کے آخر میں بیان ہوا ہے، فرمایا گیا: دور ہوسرزمینِ مدین لطف ورحمتِ پروردگار سے جیسے کہ قوم ِ ثمود دور ہوئی( اٴَلَابُعْدًا لِمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ ) ۔
واضح ہے کہ یہاں ”مدین“ سے مراد اہلِ مدین ہیں جو رحمتِ خدا سے دور ہوئے ۔
شعیبعليهالسلام کی داستان میں تربیتی درس
انبیاء کے حالات اور گزشتہ اقوام کی داستانیں ہمیشہ بعد کی اقوام کے لئے الہام بخش اور سبق آموز ہوتی ہیں کیونکہ ان کی زندگی کی آزمائشیں کہ جو بعض اوقات دسیوں سال یا سینکڑوں سال تک جاری رہیں تاریخ کے چند صفحات میں سمٹ کر سب کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں اور ہر کوئی اپنی زندگی میں ان سے سبق حاصل کرسکتا ہے ۔اس عظیم پیغمبر۔ حضرت شعیبعليهالسلام کی زندگی بھی ہمیں بہت سے درس دیتی ہے، مثلاً:
۱ ۔ اقتصادی مسائل کی اہمیت
اس سرگزشت میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت شعیبعليهالسلام نے انھیں دعوتِ توحید کے بعد مالی امور تجارت میں حق وعدالت کی دعوت دی، یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ ایک معاشرے کے اقتصادی مسائل کو معمولی اور غیر اہم شمار نہیں کیا جاسکتا، یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ انبیاء صرف اخلاقی مسائل کے لئے مامور نہ تھے بلکہ اجتماعی واقتصادی کیفیت کی خرابی کی اصلاح بھی ان کی دعوت کا ایک اہم حصہ تھی، اس حد تک اہم کہ وہ اسے دعوتِ توحید کے ساتھ قرار دیتے تھے ۔
۲ ۔ نماز۔توحید اور پاکیزگی کی طرف دعوت دیتی ہے
حضرت شعیبعليهالسلام کی گمراہ قوم نے بڑے تعجب سے ان سے پوچھا کہ کیا تیری یہ نماز بتوں کی پرستش نہ کرنے اور کم فروشی اور دھوکہ بازی نہ کرنے کی دعوت دیتی ہے، شاید ان کا خیال تھا کہ ان حرکات اور اذکار کا ان امور میں کیا دخل ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ان دونوں کے درمیان قوی ترین رابطہ ہے ، اگر نماز اپنے حقیقی مفہوم کے ساتھ ادا ہو یعنی انسان اپنے تمام وجود کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں کھڑا ہو تو یہ حضور تکامل وارتقاء کا زینہ، تربیتِ روح کا وسیلہ اور دل سے گناہ کا رنگ صاف کرنے کا ذریعہ ہے، یہ حضور انسان کے ارادہ کو قوی اور اس کے عزم کو راسخ کرتا ہے اور غرور وتکبر کو اس سے دور کرتا ہے ۔
۳ ۔ خود بینی جمود کا باعث ہے
جیسا کہ مندرجہ بالا آیات سے ہمیں معلوم ہوا ہے قومِ شعیب کے افراد خود خواہ اور خود بین تھے، اور اپنے آپ کو فہمیدہ اور سمجھدار خیال کرتے تھے، حضرت شعیبعليهالسلام کو نادان سمجھتے تھے ان کا مذاق اڑاتے تھے، ان کی باتوں کو بے معنی اور ان کی شخصیت کو کمزور جانتے تھے، اس خود پرستی اور خود بینی نے ان کی زندگی کو تاریک کردیا تھا اور انھیں خاک سیاہ پر لابٹھایا تھا ۔
نہ فقط انسان بلکہ اگر جانور بھی خود بین ہو تو وہ راستے میں الٹک کر رہ جاتا ہے، کہتے ہیں گھوڑا سوار ایک شخص ایک نہر کے پاس پہنچا لیکن اس نے حیرت سے دیکھا کہ گھوڑا ایک چھوٹی سی اور کم گہری نہر میں گزرنے کے لئے تیار نہیں ہے ، اس نے بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا، ایک دانا شخص کا وہاں سے گزر ہوا، اس نے کہا: نہر کے پانی کو ہلاؤ تاکہ وہ مٹی سے آلودہ ہوجائے، مشکل حل ہوجائے گی، اس نے یہ کام کیا، گھوڑے نے آرام سے اسے عبور کرلیا، اس پر لوگ بہت حیران ہوئے، انھوں نے اس دانا شخص سے اس کی وجہ دریافت کی ۔
اس مردِ حکیم نے کہا: جب پانی صاف تھا تو گھوڑے نے اپنا عکس پانی میں دیکھا، اس نے سمجھا کہ یہ وہ خود ہے، وہ تیار نہ ہوا کہ اپنا ہی پاؤں اپنے آپ پر رکھے لیکن جب پانی مٹی سے آلودہ ہوگیا تو اس کا عکس غائب ہوگیا اور وہ آسانی سے وہاں سے گزر گیا ۔
۴ ۔ اصولوں کو تعصب پر قربان نہیں کرنا چاہئے
اس سرگزشت میں ہم نے پڑھا ہے کہ گمراہ قوم کی بدبختی کے عوامل میں سے ایک یہ تھا کہ وہ ذاتی کینہ پرستی اور عداوتوں کی وجہ سے حقائق کو بھلا دیتے تھے حالانکہ عقلمند اور حقیقت شناس وہ انسان ہے کہ ہر شخص سے حق بات سنے اور اسے قبول کرے چاہے کہنے والا اس کا اول درجے کا دشمن ہی کیوں نہ ہو ۔
۵ ۔ ایمان اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں
ابھی بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا خیال ہے کہ صرف عقیدہ رکھ کر ہی مسلمان ہوا جاسکتا ہے، اگرچہ وہ عمل نہ بھی کریں ، بہت سے ایسے افراد ہیں کہ جو چاہتے ہیں کہ دین ان کی سرکش ہواوہوس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے، اور انھیں ہر لحاظ سے آزاد رکھے ۔
داستان شعیبعليهالسلام سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قوم بھی ایسے ہی دین کی خواہاں تھی، لہٰذا وہ حضرت شعیبعليهالسلام سے کہتے تھے کہ ہم نہ اس کے لئے تیار ہیں اور نہ اپنے بڑوں کے بتوں کو فراموش کریں اور نہ ہم اپنے سرمائے اور اموال کے بارے میں اپنی آزادی ہاتھ سے دیں گے، وہ یہ بات بھولے ہوئے تھے کہ اصولی طور پر شجرِ ایمان کا ثمر عمل ہے اور انبیاء کا دین وآئین اس لئے تھا کہ انسان کی ذاتی خرابیوں عملی کمزوریوں اور انحرافات کی اصلاح کرے ورنہ جس درخت کی نہ کوئی شاخ ہو نہ پتے اورنہ پھل وہ جلانے کے ہی کام آئے گا ۔
انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں ایک طبقے میں یہ فکر بڑی راسخ ہوچکی ہے، وہ اسلام کو بس خشک عقائد کا ایک ایسا مجموعہ سمجھتے ہیں کہ جو فقط مسجد کے اندر ان کے ساتھ ہے اورجو نہی وہ مسجد کے دروازے سے باہر نکلتے ہیں تو اسے خدا حافظ کہہ دیتے ہیں ، ان کے دفتروں میں ، بازاروں میں اور کاروبار میں اسلام کا کوئی عمل دخل اورنام ونشان نہیں ہے ۔
بہت سے اسلامی ممالک کو ہم نے دیکھا ہے یہاں وہ ممالک جو ظہور اسلام کا مرکز تھے وہاں یہ تلخ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ اسلام چند عقائد اور چند کم روح عبادات میں منحصر ہوگیا ہے، علم وآگاہی، عدالتِ اجتماعی، رشدِ ثقافتی، بینشِ فرہنگی اور اخلاقِ اسلامی میں سے کسی چیز کا نام ونشان اور خبر نہیں ہے، اگرچہ خوش بختی سے چند ایک اسلامی تحریکوں کی وجہ سے خصوصا نوجون طبقے میں سچے اسلام اور ایمان وعمل کی یکجائی کی ایک تحریک پیدا ہوتی ہے، لہٰذا اب یہ جملہ کہ اسلام کو ہمارے عمل سے کیا کام یا اسلام کا تعلق دل سے ہے نہ کہ زندگی سے، کم سنا جاسکتا ہے ۔
نیز یہ جو التقاطی لوگوں (کہ جو کسی ایک مکتب کے پیروکار نہیں ہوتے) کا نظریہ ہے کہ ہم عقیدہ اسلام سے اور اقتصادیات مارکس سے لیتے ہیں یہ بھی قومِ شعیب کے گمراہوں کی سی طرزِ تفکر رکھتے ہیں ، یہ نظریہ بھی قابل مذمت ہے، لیکن بہرحال یہ تفرقہ بھی قدیم زمانے سے ہے اور آج بھی موجود ہے، ہمیں اس کے خلاف جہاد کرنا چاہیئے ۔
۶ ۔بلا شرط اور لامحدود ملکیت فساد کا سرچشمہ ہے
قومِ شعیب اس اشتباہ میں گرفتار تھی کہ کسی شخص کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی شخص کے لئے اس کے اموال میں تصرف کے بارے میں تھوڑی سے بھی حد بندی کی بات کرے، یہاں تک کہ وہ حضرت شعیب (علیه السلام)سے تعجب کرتے اور کہتے تھے کہ تجھ سا دانا شخص کیونکر ہمارے اموال کے بارے میں ہماری آزادی عمل میں رکاوٹ ڈلتا ہے، انھوں نے یہ بات تمسخر کے طور پر کہی یا حقیقت کے طور پر نشاندہی کرتی ہے کہ وہ مالی تصرفات میں کسی حدبندی کو خلاف عقل سمجھتے تھے، حالانکہ یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی، اگر لوگ اپنے اموال میں تصرف کرنے کے بارے میں آزاد ہوں تو پورا معاشرہ بد بختی اور خرابی کی لپیٹ میں آجائے گا، مالی امور کو صحیح اور نپے تلے ضوابط کے تابع ہونا چاہیئے، جیسے انبیائے الٰہی لوگوں کے سامنے پیش کرتے تھے ورنہ معاشرہ تباہ وبرباد ہوکر رہ جائے گا ۔
۷ ۔ انبیاء کا ہدف فقط اصلاح تھا
یہ جو حضرت شعیبعليهالسلام نے فرمایا:”ان ارید الاالاصلاح ما استعطعتم “ (مَیں تو فقط حتی المقدور اصلاح چاہتا ہوں ) یہ فقط ان کا شعار نہ تھا بلکہ تمام انبیاء اور تمام حقیقی رہبروں کا شعار تھا، ان کا گفتار وکردار ان کے اس ہدف کا شاہد ہے، وہ نہ لوگوں کی مشغولیت کے لئے آئے تھے ، نہ ان کے گناہ بخشنے کے لئے، نہ انھیں جنت بھیجنے کے لئے، نہ طاقتوروں کی حمایت کے لئے اور نہ عوام کے ذہنوں کو ماؤف کرنے کے لئے بلکہ ان کا ہدف اور مقصد ایک مکمل اور حقیقی اصلاح تھا، اصلاح سے ان کی مراد وسیع تر اصلاح تھی، فکر ونظر کی اصلاح، اخلاق کی اصلاح، معاشرے کے ثقافتی نظام کی اصلاح، اقتصادی اصلاح اور سیاسی اصلاح ۔
خلاصہ یہ کہ معاشرے کے تمام پہلوؤں کی اصلاح ان کے مدِنظر تھی ۔
اور اس مقصد کے حصول کے لئے ان کا سہارا فقط خدا تھا، وہ کسی سازش اور دھمکی سے نہیں ڈرتے تھے جیسا کہ حضرت شعیبعليهالسلام نے کہا:( وَمَا تَوْفِیقِی إِلاَّ بِاللهِ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیْهِ اٴُنِیب ) ۔
آیات ۹۶،۹۷،۹۸،۹۹
۹۶( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا مُوسیٰ بِآیَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِینٍ )
۹۷ ا( ِٕلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُوا اٴَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا اٴَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیدٍ )
۹۸( یَقْدُمُ قَوْمَهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فَاٴَوْرَدَهُمْ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ )
۹۹( وَاٴُتْبِعُوا فِی هٰذِهِ لَعْنَةً وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ )
ترجمہ
۹۶ ۔ ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح دلیل کے ساتھ بھیجا ۔
۹۷ ۔ فرعون اور اس کے حواریوں کی طرف انھوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی جبکہ فرعون کا حکم رشد ونجات کا باعث نہیں تھا ۔
۹۸ ۔ وہ روز قیامت اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور وہ انھیں (جنت کے خوشگوار چشموں کی طرف لے جانے کی بجائے) آتشِ جہنم میں پہنچادے گا اور کتنا بُرا ہے کہ آگ انسان کے لئے پانی کا گھاٹ قرار پائے ۔
۹۹ ۔ وہ اس جہان میں اور روزِ قیامت رحمتِ خدا سے دُور ہوں گے اور انھیں کیا بُرا تحفہ دیا جائے گا ۔
فرعون کے ساتھ زبردست مقابلہ
حضرت شعیبعليهالسلام اور اہلِ مدین کی داستان ختم ہونے کے بعد اب اشارہ حضرت موسی(علیه السلام)ٰ بن عمران کی سرگزشت کے ایک پہلو کی طرف کیا گیا ہے، یہاں فرعون کے ساتھ ان کے مقابلوں کا ذکر ہے اور اس سورہ میں یہ انبیاء الٰہی سے متعلق ساتویں داستان ہے ۔
تمام پیغمبروں کی نسبت قرآن میں حضرت موسی(علیه السلام)ٰ کا واقعہ زیادہ آیا ہے، تیس سے زیادہ سورتوں میں موسی(علیه السلام)ٰ وفرعون اور بنی اسرائیل کے واقعہ کی طرف سو سے زیادہ مرتبہ اشارہ ہوا ہے ۔
حضرت صالحعليهالسلام شعیبعليهالسلام اور لوطعليهالسلام جیسے ابنیاء کہ جن کے واقعات ہم پڑھ چکے ہیں کی نسبت حضرت موسیٰ کے واقعہ کی خصوصیت یہ ہے کہ ان انبیاء نے گمراہ قوموں کے خلاف قیام کیا تھا ۔
اصولی طور پر صاف پانی کے لئے چشمے کو صاف کرنا چاہیے، جب تک فاسد حکومتیں برسرِاقتدار ہیں کوئی معاشرہ شعادت اور نیک بختی کا منھ نہیں دیکھے گا، خدائی رہبروں کو ایسے معاشروں میں سب سے پہلے فساد کے ان مراکز کو درہم وبرہم کرنا چاہیے ۔
توجہ رہے کہ یہاں ہم حضرت موسی(علیه السلام)ٰ کی سرگزشت کے ایک مختصر گوشے کا مطالعہ کریں گے کہ جو مختصر ہونے کے باوجود تمام انسانوں کو ایک عظیم پیغام دے رہا ہے ۔
پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: ہم نے موسیٰ کو اپنے عطا کردہ معجزات اور قوی دلیل کے ساتھ بھیجا( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا مُوسیٰ بِآیَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُبِینٍ ) ۔
”سلطان“کا معنی”تسلط“ یہ کبھی ظاہری تسلط کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی منطقی تسلط کے معنی میں ، یعنی ایسا تسلط کہ کہ جو ں مخالف کے سامنے ایسی دیوار بن جائے کہ اسے فرار کا کوئی راستہ نہ ملے ۔
مندرجہ بالا آیت میں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ”سلطان“ دوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے اور لفظ ”آیات“ حضرت موسی(علیه السلام)ٰ کے واضح معجزات کی طرف اشارہ ہے، مفسّرین نے ان دو لفظوں کے بارے میں احتمالات بھی ذکر کئے ہیں ۔
بہرحال موسی(علیه السلام)ٰ کو سرکوبی کرنے والے ان معجزات اور قوی منطق کے ساتھ ”ہم نے فرعون اور اس کے اطرافیوں کی طرف بھیجا“( إِلَی فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ ) ۔
جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے ”ملا“ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ جن کا ظاہر آنکھوں کو پُر کردیتا ہے اگرچہ وہ اندر سے خالی ہوتے ہیں ، منطق قرآن میں اس کا اطلاق زیادہ تر اعیان واشراف اور پُرفریب اشخاص پر ہوتا ہے جو ظالم طاقتوں کے گرد رہتے ہیں ۔
فرعون کے اطرافی جو دیکھ رہے تھے کہ حضرت موسیٰعليهالسلام کے قیام سے ان کے ناجائز مفادات خطرے میں ہیں حضرت موسیٰعليهالسلام کے معجزات اور منطق کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے پر تیار نہ ہوئے ”لہٰذا انھوں نے حکمِ فرعون کی پیروی کی“( فَاتَّبَعُوا اٴَمْرَ فِرْعَوْنَ ) ۔ مگر فرعون کا حکم ہرگز ان کی سعادت کا ضامن اور سرمایہ رشد ونجات نہیں ہوسکتا تھا( وَمَا اٴَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیدٍ ) ۔
البتہ فرعون کو یہ مقام آسانی سے نہیں مل گیا تھا بلکہ اس نے اپنے مقاصد کے لئے ہر طرح کے سازشی حربے استعمال کی اور حضرت موسیٰعليهالسلام کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا، یہاں تک کہ وہ اس کے لئے نفسیاتی ہتھکنڈہ ہاتھ سے جانے سے نہیں دیتا تھا ۔
کبھی وہ کہتا تھا کہ موسیٰ چاہتا ہے کہ تم سے زمینیں ، ہتھیالے اور تمھیں کہ جو ان کے اصلی مالک ہو نکال باہر کرے، قرآن نے اس بات کو یوں نقل کیا ہے:( یُرِیدُ اٴَنْ یُخْرِجَکُمْ مِنْ اٴَرْضِکُمْ ) (اعراف/ ۱۱۰)
کبھی وہ اپنی قوم کے مذہبی احساس کو تحریک دیتا اور کہتا:( إِنِّی اٴَخَافُ اٴَنْ یُبَدِّلَ دِینَکُمْ )
مَیں اس سے ڈرتا ہوں کہ یہ کہیں تمھارے دین ہی کو نہ بدل ڈالے ۔ (المومن/ ۲۶)
کبھی کہتا:( اٴَوْ اٴَنْ یُظْهِرَ فِی الْاٴَرْضِ الْفَسَادَ )
مجھے ڈر ہے کہ یہ تمھاری زمین پر فتنہ وفساد برپا نہ کردے ۔ (المومن/ ۲۶)
کبھی حضرت موسیٰعليهالسلام پر تہمت لگاتا، کبھی انھیں دھمکی دیتا، کبھی اہلِ مصر کے سامنے اپنی قدرت وشوکت کا مظاہرہ کرتا اور کبھی مکاری سے اپنے آپ کو ایک ایسے رہبر کی حیثیت سے پیش کرتا کہ جو ان کی خیر اور اصلاح کا ضامن ہے اور چونکہ روزِ قیامت ہرقوم وملت اور ہر گروہ اپنے رہبر کے ساتھ محشور ہوگا اور جہان کے رہبر وہاں بھی رہبر شمار ہوں گے لہٰذا فرعون بھی کہ جو اپنے زمانے کے گمراہوں کا رہبر تھا، میدان حشر میں ان کے آگے آگے ہوگا( یَقْدُمُ قَوْمَهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ ) ۔ لیکن یہ پیشوا اپنے پیروکاروں کو اس جلادینے والی گرمی میں کسی ٹھنڈے میٹھے پانی کے خوشگوار چشمے کے کنارے لے جانے کے بجائے انھیں آتش جہنم میں لے کر داخل ہوگا( فَاٴَوْرَدَهُمْ النَّارَ ) ۔ اور کیسی بُری چیز ہے کہ آگ انسان کے لئے پانی کا گھاٹ قرار پائے کہ جس میں وہ اخل ہو( وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ ) ۔ وہ چیز کہ جو تشنگی دور کرنے کے بجائے انسان کے سارے وجود کو جلادے اور سیراب کرنے کی بجائے اس کی پیاس اور بھڑکادے ۔
توجہ رہے کہ ”ورود“ در اصل پانی کی طرف چلنے اور س کے قریب ہونے کے معنی میں ہے لیکن بعد ازں ہر قسم کی چیز کے کسی چیز پر داخل ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
”وِرد“ (بروزن ”ذکر“ ) اس پانی کو کہتے ہیں جس پر انسان وارد ہو اور پانی پر وارد ہونے کے معنی میں بھی آیا ہے ۔
اور ”مورود“ اس پانی کو کہتے ہیں جس پر وارد ہوا جائے (یہ اسم مفعول ہے) ۔
اس بناء پر ”بئس الورد المورود“ کا معنی یہ ہوگا: آگ پانی پینے کی بُری جگہ ہے کہ جس پر وہ وارد ہوں گے ۔(۱)
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اس دنیا کے ہمارے اعمال وافعال ایک وسیع صورت ( ENLRRGED FORM ) میں مجسم ہوں گے، اُس جہاں کی خوش بختیاں اور بدبختیاں ہمارے اِس جہاں کے کاموں کا پَرتو ہیں ، جو اشخاص یہاں اہل بہشت کے رہبر ورہنما ہیں وہاں بھی مختلف گروہوں کو جنت اور سعادت کی طرف لے جائیں گے اور خود ان کے آگے آگے ہوں گے ۔
اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: اِس جہان میں وہ لعنتِ خدا سے ملحق ہوگئے، سخت عذاب اور سزا میں گرفتار ہوگئے اور ٹھاٹھیں نارتی ہوئی موجوں میں وہ غرق ہوگئے اور روزِ قیامت بھی رحمتِ الٰہی سے دور ہوں گے( وَاٴُتْبِعُوا فِی هٰذِهِ لَعْنَةً وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ ) ۔
ان کا ننگین نام صفحاتِ تاریخ میں ہمیشہ کے لئے ایک گمراہ اور جابر قوم کے عنوان سے ثبت ہوگا، لہٰذا انھیں اس دنیا میں نقصان اٹھانا پڑا اور دوسرے جہان میں بھی اور جہنم کی آگ انھیں دیا جانے والا کیسا بُرا عطیہ ہے( بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ ) ۔
”رفد“ در اصل کوئی کام انجام دینے میں مدد کرنے کے معنی میں ہے، یہاں تک کہ اگر کسی چیز کو دوسری چیز کا سہارا قرار دیا جائے تو اسے بھی ”رفد“ سے تعبیر کرتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ لفظ عطا اور بخشش کے معنی میں استعمال ہونے لگاکیونکہ یہ عطا کرنے والے کی طرف سے اس کی مدد ہوتی ہے جسے عطا کی جارہی ہو۔
____________________
۱۔ ترکیب نحوی کے لحاظ سے یہ جملہ اس طرح ہے:
”بئس“ فعل ذم ہے ، اس کا فاعل ”الورد“ ہے ، ”المورود“ صفت ہے اور مخصوص بالذم لفظ ”النار“ ہے ، جو محذوف ہے ۔
بعض ادباء نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ ”المورود“ مخصوص بالذم ہے اور آیت میں کوئی چیز محذوف نہیں ہے، لیکن پہلا احتمال زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے ۔
ترکیب نحوی کے لحاظ سے یہ جملہ اس طرح ہے جس طرح ہم نے ”بئس الورد المورود“ بیان کیا ہے ۔
آیات ۱۰۰،۱۰۱،۱۰۲،۱۰۳،۱۰۴،
۱۰۰( ذٰلِکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْقُریٰ نَقُصُّهُ عَلَیْکَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِیدٌ )
۱۰۱( وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَکِنْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَهُمْ فَمَا اٴَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمْ الَّتِی یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ شَیْءٍ لَمَّا جَاءَ اٴَمْرُ رَبِّکَ وَمَا زَادُوهُمْ غَیْرَ تَتْبِیبٍ )
۱۰۲( وَکَذٰلِکَ اٴَخْذُ رَبِّکَ إِذَا اٴَخَذَ الْقُریٰ وَهِیَ ظَالِمَةٌ إِنَّ اٴَخْذَهُ اٴَلِیمٌ شَدِیدٌ
) ۱۰۳( إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَآیَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ذٰلِکَ یَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَشْهُودٌ )
۱۰۴( وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلاَّ لِاٴَجَلٍ مَعْدُودٍ )
ترجمہ
۱۰۰ ۔ یہ شہروں اور آبادیوں کی خبریں ہیں کہ جو ہم تجھ سے بیان کرتے ہیں کہ جن میں سے بعض ابھی تک قائم ہیں اور بعض کٹ چکی ہیں (اورختم ہوچکی ہیں ) ۔
۱۰۱ ۔ ہم نے ان پر ظلم کیا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے اور جب عذابِ الٰہی کا حکم آپہنچا تو خدا کہ جنھیں وہ ”الله“ کے سوا پکارتے تھے انھوں نے ان کی مدد نہ کی اور ان کے لئے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا ۔
۱۰۲ ۔ اور تیرے پروردگار کا عذاب ایسا ہی ہوتا ہے جب وہ ظالم شہروں اور آبادیوں کوسزا دیتا ہے (جی ہاں ) اس کی سزا اور عذاب دردناک اور شدید ہوتا ہے ۔
۱۰۳ ۔ اِس میں اس شخص کے لئے نشانی ہے کہ جو عذابِ آخرت سے ڈرتا ہے، وہی دن کہ جب لوگ جمع ہوں گے اور وہ دن کہ جس کا مشاہدہ سب کریں گے
۱۰۴ ۔اور ہم اس میں محدود مدّت کے سوا تاخیر نہیں کریں گے ۔
تفسیر
اس سورہ کی آیات میں گذشتہ اقوام میں سے سات کی سرگزشت بیان کی گئی ہے اور کچھ حصّہ ان کے انبیاء کی تاریخ کا بھی بیان ہوا ہے، ان میں سے ہر سرگزشت بھرپور انسانی زندگی کے مختلف زاویوں کا اہم حصّہ واضح کرتی ہے اور ہر ایک میں عبرت کے بہت سے درس ہیں ، یہاں ان تمام واقعات کی طرف مجموعی طور پر اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: یہ شہروں اور آبادیوں کے واقعات کا ایک حصّہ ہے کہ جو ہم تجھ سے بیان کررہے ہیں( ذٰلِکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْقُریٰ نَقُصُّهُ عَلَیْکَ ) ۔ وہی شہر اور آبادیاں جن کے کچھ حصّے ابھی قائم ہیں اور حصّے کشتِ زار کی طرح کٹ چکے ہیں اور تباہ ہوچکے ہیں( مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِیدٌ ) ۔
”قَائِمٌ“ گزتہ اقوام کے ان شہروں اور آبادیوں کی طرف اشارہ ہے جو ابھی باقی ہیں ، مثلاً سرزمینِ مصر کہ جہاں فرعونی رہا کرتے تھے اور یہ علاقہ اس ظالم قوم کے غرق ہوجانے کے بعد بھی اسی طرح باقی رہے، اس کے باغات، کھیت اور بہت سی خیرہ کن عمارتیں ابھی تک باقی ہیں ۔
”حَصِیدٌ“ کا معنی ہے ”کٹ جانے والی“ یہ ایسی سرزمینوں اور بستیوں کی طرف اشارہ ہے جو قومِ نوح اور قوم لوط کے علاقوں کی طرح ہیں کہ جن میں سے ایک بستی پانی میں غرق ہوگئی اور دوسری زیر وزبر ہوگئی اور ان پر سنگباری ہوئی ۔
لیکن یہ گمان نہ کرنا کہ ہم نے ان پر ظلم کیا ہے بلکہ انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے( وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَکِنْ ظَلَمُوا اٴَنفُسَهُمْ ) ۔
انھوں نے بتوں اور جھوٹے خداوں کی پناہ لی لیکن وج جن خداوں کو پروردگار کے مقابلے میں پکارتے تھے انھوں نے ان کی کوئی مشکل حل نہ کی( فَمَا اٴَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمْ الَّتِی یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ شَیْءٍ لَمَّا جَاءَ اٴَمْرُ رَبِّکَ ) ۔
جی ہاں ! ان مکار اور دھوکا باز خدداوں نے ان کے ضرر، نقصان، ہلاکت اور بدبختی کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کیا( وَمَا زَادُوهُمْ غَیْرَ تَتْبِیبٍ ) (۱) ۔
جی ہاں ! تیرے پروردگار کی سزا ان شہروں اور آبادیوں کے لئے اسی طرح تھی جنھوں نے ظلم کیا کہ جب الله نے انھیں سپرد ہلاکت کیا( وَکَذٰلِکَ اٴَخْذُ رَبِّکَ إِذَا اٴَخَذَ الْقُریٰ وَهِیَ ظَالِمَةٌ ) ۔ یقناً الله کی سزا اور عذاب دردناک اور شدید هے( إِنَّ اٴَخْذَهُ اٴَلِیمٌ شَدِیدٌ ) ۔
یہ خدا کا الیک عمومی قانون ہے، یہ ایک ہمیشگی مناسبت اور دائمی طریقہ ہے کہ جو قوم ملت اپنے ہاتھ آلودہ ظلم کرے، آلودہ ظلم کرے، خدائی فرامین کی سرحد سے تجاوز کرے اور انبیاء الٰہی کی رہبری، رہنمائی اور پند ونصائح کی پرواہ نہ کرے تو خدا آخرکار انھیں سختی سے جکڑلیتا ہے اور پنجہ عذاب میں پکڑ لیتا ہے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ مندرجہ بالا طریقہ کار ایک عمومی طرزِ عمل ہے اور دائمی سنت ہے، یہ سنت دیگر قرآن آیات سے بھی اچھی طرح معلوم ہوسکتی ہے، یہ حقیقت دراصل تمام اہلِ دنیا کو خبردار کرتی ہے کہ تم خیال نہ کرو کہ تم اس قانون سے مستثنیٰ ہو یا یہ کہ حکم گزشتہ اقوام کے ساتھ مخصوص تھا ۔
البتہ ”ظلم“ کے وسیع معنی میں تمام گناہ شامل ہیں ۔
نیز جو ”هِیَ ظَالِمَة “ کہہ کر بستی، شہر اور ابادی کو ظالم کہا گیا ہے حالانکہ یہ صفت شہر اور آبادی کے ساکنوں سے مربوط ہے، یہ گویا اس لطیف نکتے کی پرطرف اشارہ ہے کہ وہ ظلم وستم اور بیدادگری میں اتے ڈوبے ہوئے ہیں کہ گویا شہر کا شہر ظلم وستم کا حصّہ بن گیاہے، یہ تعبیر فارسی زبان کی اس تعبیر سے ملتی ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ فلاں شہر کے در ودیوار سے ظلم برستا ہے، اور یہ چونکہ ایک عمومی قانون ہے اس لئے بلافاصلہ فرمایا گیا ہے: یہ عبرت انگیز سرگزشتیں اور دردناک شوم اور منحوس حوادث کہ جو گزشتہ لوگوں پر گزرے ہیں اِن میں اُن راہِ حق پانے والوں کے لئے نشانی ہے کہ عذاب آخرت کے مقابلے سے ڈرتے ہیں( إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَآیَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الْآخِرَةِ ) ۔ کیونکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ہر چیز حقیر اور معمولی ہے یہاں تک کہ اس سزائیں اور عذاب بھی، دوسرا جہان ہر لحاظ سے وسیع تر ہے اور وہ لوگ جو قیامت پر ایمان رکھتے ہیں دنیا کے یہ نمونے دیکھ کر ہل جاتے ہیں ، عبرت حاصل کرتے ہیں اور ان کے سامنے راستہ کھل جاتا ہے ۔
آیت کے آخر میں روزِ قیامت کے دو اوصاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: وہ ایسا دن ہے کہ جس میں سب لوگ جمع ہوں گے( ذٰلِکَ یَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ ) ۔ وہ ایسا دن ہے کہ جو تمام لوگوں کا مشہود ہے( وَذٰلِکَ یَوْمٌ مَشْهُودٌ ) ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جیسے اس جہان میں خدائی قوانین وسنن عمومی اور سب کے لئے ہیں اُس عدالت میں بھی لوگوں کا اجتماع ہوگا، یہاں تک کہ ایک ہی وقت اور زمانے میں ہوگا، ایسا دن جو سب کے لئے واضح اور آشکار ہے، اس طرح کہ تمام انسان اس میں حاضر ہوں گے اور اسے دیکھیں گے ۔
یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ فرمایا گیا ہے: ”( یَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ ) “ یعنی ایسا دن جس کے لئے لوگ جمع ہوں گے، یہ نہیں کہا کہ ”فیہ النَّاس“ یعنی اس میں لوگ جمع ہوں گے، یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ قیامت کا دن صرف ایسا ظرف نہیں ہے کہ جس میں لوگ جمع ہوں گے بلکہ ایک ہدف اور مقصد ہے کہ جس کیں طرف انسان اپنے تکامل وارتقاء کے لئے بڑھیں گے ۔
سورہ تغابن کی آیت ۹ میں بھی ہے:( یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ )
وہ دن کہ جو جمع کرنے اور اجتماع کا دن ہے، جو تم سب کو اکھٹا کرے گا اور وہ ایسا دن ہے کہ جس میں سب احساسِ زیاں کریں گے ۔
چونکہ ممکن ہے بعض لوگ کہیں کہ اس دن کے بارے میں گفتگو کرنا ادھار والی بات ہے، معلوم نہیں وہ کب آئے گا؟ لہٰذا قرآن بلافاصلہ کہتا ہے: اس دن کو ہم صرف ایک محدود زمانے کے لئے تاخیر میں ڈالیں گے( وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلاَّ لِاٴَجَلٍ مَعْدُودٍ ) ۔
وہ بھی ایک مصلحت کے لئے جو واضح ہے تاکہ عالمِ دنیا کے لوگ آزمائش اور پرورش کے میدان دیکھ لیں اور انبیاء کا آخری پروگرام عمل شکل اختیار کرلے اور یہ جہان تکامل وارتقاء کے جس آخری سلسلے کی استعداد رکھتا ہے وہ ظاہر ہوجائے اور پھر اس جہان کے اختتام کا اعلان کیا جائے ۔
”معدود“ (یعنی شمار کیا ہوا)، یہ تعبیر قیامت کے نزدیک ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جوچیز قابلِ شمار اور گِنی جاسکے وہ محدود اور نزدیک ہے ۔
خلاصہ یہ کہ اس دن کی تاخیر ظالموں کو ہرگز مغرور نہ کردے کیونکہ اگرچہ دیر ہوجائے قیامت آکر رہے گی یہاں تک کہ اس کے لئے دیر سے آنے کی تعبیر بھی صحیح نہیں ہے ۔
____________________
۱۔ ”تتبیب“ کا مادہ ”تب“ ہے اس کا معنی ہے نقصان اور خسارے میں استمرار، نیز یہ لفظ ہلاکت اور نابودی کے معنی میں بھی آیا ہے ۔
آیات ۱۰۵،۱۰۶،۱۰۷،۱۰۸
۱۰۵( یَوْمَ یَاٴْتِ لَاتَکَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَسَعِیدٌ )
۱۰۶( فَاٴَمَّا الَّذِینَ شَقُوا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیهَا زَفِیرٌ وَشَهِیقٌ )
۱۰۷( خَالِدِینَ فِیهَا مَا دَامَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْاٴَرْضُ إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّکَ إِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِمَا یُرِیدُ )
۱۰۸( وَاٴَمَّا الَّذِینَ سُعِدُوا فَفِی الْجَنَّةِ خَالِدِینَ فِیهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْاٴَرْضُ إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّکَ عَطَاءً غَیْرَ مَجْذُوذٍ )
ترجمہ
۱۰۵ ۔ اور جس روز (قیامت آجائے گی، کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر بات نہیں کرے گا، ان میں سے ایک گروہ شقی ہے اور ایک گروہ سعادتمند (ایک گروہ بدبخت ہے اور ایک نیک بخت ہے)
۱۰۶ ۔ جو شقی ہیں وہ آگ میں ہیں اور ان کے لئے زفیر وشہیق (طویل اور دم گھٹنے والے نالے) ہیں ۔
۱۰۷ جب تک زمین وآسمان قائم ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، مگر جو کچھ تیرا پروردگار چاہے کیونکہ تیرا پروردگار جس چیز کا اراہ کرتا ہے اسے انجام دیتا ہے ۔
۱۰۸ ۔ لیکن جو سعادت مند ہیں وہ جب تک آسمان وزمین قائم ہیں ہمیشہ جنت میں رہیں گے مگر جو کچھ تیرا پرودگارچاہے، بخشش ہے منقطع نہ ہونے والی ۔
سعادت مند وشقاوت مندیا مشکلات؟
گزشتہ آیت میں مسئلہ قیامت اور اس عظیم عدالت میں تمام لوگوں کے اجتماع کی طرف اشارہ ہوا تھا، زیر بحث آیات میں اس دن لوگوں کے انجام کے ایک پہلو کو بیان کیا گیا ہے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: جب تک وہ دن آپہنچے گا تو پروردگار کے ارادے کے بغیر کوئی شخص بات نہیں کرسکے گا( یَوْمَ یَاٴْتِ لَاتَکَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ ) ۔
بعض اوقات یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ آیت جو اُس دن اذنِ الٰہی سے لوگوں کو بات کرنے کی دلیل ہے اُن آیات کے منافی ہے جو مطلقاً بات کرنے کی نفی کرتی ہیں ، مثلاً سورہ یٰسین کی آیہ ۶۵:
( الْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلیٰ اٴَفْوَاهِهِمْ وَتُکَلِّمُنَا اٴَیْدِیهِمْ وَتَشْهَدُ اٴَرْجُلُهُمْ بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ )
آج کے دن ان کے دہنوں پر مُہر لگادیں گے اور ہمارے ساتھ ان کے ہاتھ بات کریں گے اور ان کے پاوں گواہی دیں گے، ان کاموں کی جو وہ انجام دیتے تھے ۔
سورہ مرسلات کی آیت ۳۵ میں ہے:( هٰذَا یَومُ لَایَطِیقُونَ )
یہ وہ دن ہے جس میں وہ بول نہیں سکیں گے ۔
اسی بناء پر بعض عظیم مفسّرین کا نظریہ ہے کہ اصولی طور پر اس دن بات کرنے کا کوئی مفہوم نہیں کیونکہ ”بات کرنا“ تو ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے ہم انسان کے اندر کے حالات معلوم کرتے ہیں ، اگر ہماری کوئی ایسی حسّ ہوتی کہ جس سے ہم ہر شخص کے افکار معلوم کرسکتے تو گفتگو کی ہرگز ضرورت نہ ہوتی، اس بات بناء پر قیامت میں جو اسرار ظاہر ہوں گے اور ہر چیز ”بروز وظہور“ کی حالت ظاہرہوجائے گی تو اصولاً بات کرنے اور تکلم کا کوئی معنی نہیں ہے ۔
دوسرے لفظوں میں آخرت کا گھر جزا کا گھر ہے نہ کہ عمل کا، لہٰذا ارادے اور اختیار سے انسان کے بات کرنے کی کوئی خبر نہیں ہے بلکہ وہاں انسان ہے، اس کے اعمال ہیں اور جو کچھ ان سے مربوط ہے، اس لئے کہ اگر وہاں انسان بات بھی کرے گا تو وہ دنیا میں کی جانے والی باتوں کی طرح نہیں ہوگی کہ جن کا سرچشمہ خود اس کا اختیار اور ارادہ ہوتا ہے اور جو اندرونی اسرار کا ظاہر کرنے کا ذریعہ ہوتی ہیں ، وہاں وہ جو کچھ کہے وہ ایک قسم کا اس کے اعمال کا عکس العمل ہوگا، وہ اعمال کہ جو وہاں ظاہر وآشکار ہیں ، لہٰذا اس دن بات کرنا دنیا میں بات کرنے کی طرح نہیں ہے کہ انسان اپنے مَیل ورغبت سے جھوٹ سچ کہہ سکے ۔
بہرحال وہ دن حقائقِ اشیاء کے کشف اور ”غیب“ کے شہود کی طرف پلٹ آنے کا دن ہے اور وہ اِس جہان کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں رکھتا ۔
لیکن، مندرجہ بالا آیت سے مذکورہ نتیجہ نکالنا قرآن کی دیگر آیات کے ظاہری مفہوم سے زیادہ مناسبت نہیں رکھتا کیونکہ قرآن مومنین اور مجرمین کی پیشواوں ، جابروں اور ان کے پیروکاروں کی، اسی طرح شیطان اور اس کے فریب خوردگان کی اور دوزخیوں اور جنتیوں کی گفتگو نقل کرتا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس جہان میں بھی اِس جہان کی سی باتوں کا وجود ہے ۔
یہاں تک کہ قرآن کی بعض آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ گنہگار بعض سوالات کے جواب میں جھوٹ بھی بولیں گے، مثلاً سورہ انعام کی آیہ ۲۲ تا ۲۴ میں ہے:
( وَیَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِینَ اٴَشْرَکُوا اٴَیْنَ شُرَکَاؤُکُمْ الَّذِینَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ، ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ اٴَنْ قَالُوا وَاللهِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِینَ، انظُرْ کَیْفَ کَذَبُوا عَلیٰ اٴَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ )
وہ دن کہ جس دن ہم ان کے سب کو محشور کریں گے، مشرکین سے کہیں گے کہ وہ معبود جنھیں تم خدا کا شریک سمجھتے تھے کہاں ہیں ؟ ان کا جواب اور غذر اس کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا کہ وہ کہیں گے کہ اس خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم مشرک نہیں تھے، دیکھو وہ کس طرح اپنے آپ سے جھوٹ بولتے ہیں اور جسے وہ خدا جھوٹا شریک خیال کرتے تھے اسے بھی ہاتھ سے دے بیٹھیں گے ۔
اس بناء پر بہتر ہے کہ ہم بات کرنے سے متعلق ظاہر آیات کے تناقض سے مربوط سوال کا وہی جواب دیں جو بہت سے مفسّرین نے دیا ہے اور وہ یہ کہ اس دن لوگ کئی مرحلوں سے گزریں گے کہ جن میں ہر ایک کی کچھ خصوصیات ہیں ، کچھ مراحل ہیں ان میں سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی، یہاں تک کہ ان کے منھ پر مُہر لگادی جائے گی صرف ان کے اعضاءِ جسم کہ جن میں آثارِ اعمال محفوظ ہیں زبانِ بے زبانی سے کلام کریں گے لیکن دوسرے مراحل میں ان کی زبان کا قفل کھول دیا جائے اور وہ اذنِ الٰہی سے بات کریں گے اور اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے، خطاکار ایک دوسرے کو ملامت کریں گے بلکہ ان کی کوشش یہ ہوگی کہ اپنے گناہ دوسرے کی گردن پر ڈال دیں گے ۔
بہرحال آیت کے آخر میں تمام لوگوں کی دو گروہوں میں تقسیم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:وہاں ایک گروہ شقی ہوگا اور دوسرا سعید، ایک گروہ بدبخت ہوگا اور دوسرا خوش بخت( فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَسَعِیدٌ ) ۔
”سعید“ مادّہ سعادت سے اسبابِ نعمت فراہم ہونے کے معنی میں ہے اور ”شقی“ مادّہ ”شقاوت“ سے سزا ، پکڑ اور بلاء کے اسباب فراہم ہونے ہونے کے معنی میں ہے، اس بناء پر اُس جہان میں سعید وہی نیک لوگ یں جو انواع واقسام کی نعمتوں میں جاگزیں ہوں گے اور شقی وہی بدکار ہیں جو دوزخ میں مختلف عذابوں میں گرفتار ہوں گے ۔
بہرحال یہ شقاوت اور وہ سعادت دنیا میں انسانی اعمال، کردار، گفتار اور نیتوں کے نتیجے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
تعجب کی بات ہے کہ بعض مفسّرین نے جبرو اکراہ پر مبنی اپنے باطل عقیدے کے لئے اس آیت کو دستاویز قرار دیا ہے حالانکہ یہ آیت اس معنی پر دلالت نہیں کرتی بلکہ روزِ قیامت کے سعادتمندوں اور شقی افراد کے بارے میں بات کررہی ہے کہ وہ سب اپنے اعمال کی وجہ سے اس مرحلے میں پہنچے ہیں ۔شاید کچھ ایسی احادیث سے اس آیت کے مفہوم کے بارے میں اشتباہ ہوا ہے کہ جو قبلِ پیدائش سعادت وشقاوت مندوں کے بارے میں جو الگ الگ داستان ہے ۔
اس کے بعد شقاوت مندوں اور شعادت مندوں کے حالات کی تشریح بڑے جچے تلے انداز میں اور واضح عبارات کے ذریعے کی گئی ہے، ارشاد ہوتا ہے: رہے وہ جو شقاوت مند ہوئے، جہنم کی آگ میں زفیر وشہیق میں مبتلا ہیں ، نالہ وفریاد اور ورشین کرتے ہیں( فَاٴَمَّا الَّذِینَ شَقُوا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیهَا زَفِیرٌ وَشَهِیقٌ ) ۔
مزید فرمایا: وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے جب تک کہ آسمان وزمین موجود ہیں( خَالِدِینَ فِیهَا مَا دَامَتْ السَّمَاوَاتُ وَالْاٴَرْضُ ) ۔ مگر جو کچھ تیرا پروردگار چاہے( إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّکَ ) کیونکہ خدا جس کام کا ارادہ کرتا ہے اسے انجام دیتا ہے( إِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِمَا یُرِیدُ ) ۔ لیکن جو لوگ سعادت مند ہوئے جب تک آسمان وزمین موجود ہیں وہ ہمیشہ بہشت میں رہیں گے( وَاٴَمَّا الَّذِینَ سُعِدُوا فَفِی الْجَنَّةِ خَالِدِینَ فِیهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْاٴَرْضُ ) مگر جو کچھ تیرے پروردگار کا ارادہ ہو( إِلاَّ مَا شَاءَ رَبُّکَ ) ۔ یہ بخشش وعطیہ ہے جو ان سے ہرگز منقطع نہ ہوگا( عَطَاءً غَیْرَ مَجْذُوذٍ ) ۔
چند قابل توجہ نکات
۱ ۔ جبر واکراہ کی نفی :
جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ بعض مندرجہ بالاآیات سے سعادت وشقاوت کا ذاتی ہونا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ مندرجہ بالا آیات نہ صرف اس امر پر دلالت نہیں کرتی بلکہ وضاحت سے ثابت کرتی ہیں کہ سعادت وشقاوت اکتسابی ہیں کیونکہ فرمایا گیا ہے: ”فَاٴَمَّا الَّذِینَ شَقُوا “ یعنی وہ لوگ جو شقاوت مند ہوئے، اسی طرح فرمایا گیا ہے: ”اٴَمَّا الَّذِینَ سُعِدُوا “ یعنی وہ لوگ و سعادتمند ہوئے، اگر شقاوت وسعادت ذاتی ہوتیں تو کہنا چاہیے تھا: ”امّاالاشقیاء وامّا السعداء “ یا ایسی ہی کوئی اور عبارت ہوتی ۔
اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ تفسیر رازی کی یہ بات بالکل بے بنیاد ہے جو اس نے ان الفاظ میں بیان کی ہے:
مذکورہ آیات میں خدا ابھی سے حکم لگا رہا ہے قیامت میں ایک گروہ سعادت مند ہوگا اور ایک شقاوت مند ہوگا اور جنھیں خدا ایسے حکم سے محکوم کرتا ہے اور جانتا ہے کہ آخرکار قیامت میں سعید یا شقی ہوں گے، محال ہے کہ وہ تبدیل ہوجائیں ورنہ لازم آئے گا کہ خدا کا خبر دینا جھوٹ ہو اور اس کا علم جہالت ہو، اور یہ محال ہے ۔
یہ مسئلہ جبر واختیار میں ”علم خدا“ کے حوالے سے وہی مشہور اعتراض ہے کہ جس کا جواب ہمیشہ دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ اگر ہم اپنے خود ساختہ افکار کو آیات پر نہ ٹھوسیں تو ان کے مفاہیم روشن اور واضح ہیں ، یہ آیات کہتی ہیں کہ ان دن ایک گروہ اپنے اعمال کی وجہ سے سعادت مند ہوگا اور ایک گروہ اپنے کردار کے باعث شقاوت مند ہوگا اور خدا جانتا ہے کہ کونسے افراد اپنے ارادے، خواہش اور اختیار سے سعادت کی راہ اپنائیں گے اور کونسے اپنے ارادے سے راہِ شقاوت پر گامزن ہوں گے، اس بناء پر اگر اس کے کہنے کے برعکس لوگ یہ راہ منتخب کرنے پر مجبور ہوں تو علمِ خدا جہل ہوجائے گا کیونکہ سب کے سب اپنے ارادہ واختیار سے اپنی راہ انتخاب کریں گے ۔
ہماری گفتگو کا شاید یہ امر ہے کہ مندرجہ بالا آیات گزشتہ قوموں کے واقعات کے بعد آئی ہیں ، ان واقعات کے مطابق ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے ظلم وستم کی وجہ سے، حق وعدالت کے راستے سے اپنے انحراف کے باعث، شدید اخلاقی مفاسد کے سبب اور خدائی رہبروں کے خلاف جنگ کی وجہ سے اس جہان میں دردناک عذابوں میں مبتلا ہوئی، یہ واقعات قرآن نے ہماری تربیت وارشاد کے لئے، راہِ حق کوباطل سے جدا کرکے نمایاں کرنے کے لئے اور راہِ سعادت کو راہِ شقاوت سے جدا کرکے دکھانے کے لئے بیان کئے ہیں ۔
اصولی طور پر جیسا کہ فخر رازی اور اس کے ہم فکر افراد خیال کرتے ہیں اگر ہم پر ذاتی سعادت وشقاوت کا حکم نافذ ہو اور ہم بغیر ارادہ واختیار کے بدیوں اور نیکیوں کی طرف کھینچے جائیں تو تعلیم وتربیت لغو اور بے سود ہوجائے گی، پیغمبروں کا آنا جانا، کتب آسمانی کا نزول، پند ونصیحت، تشویق وتوبیخ، سرزنش وملامت، مواخذہ وسوال غرضیکہ سزا وجزا سب کی سب بے فائدہ یا ظالمانہ امور شمار ہوں گے ۔
وہ جو لوگوں کو نیک وبد کی انجام دہی میں مجبور سمجھتے ہیں ، چاہے اس کی جبر کو جبرِ خدائی سمجھیں یا جبر طبیعی، چاہے جبر اقتصادی سمجھیں یا جبرِ ماحول، صرف بات کرتے وقت یا کتابی دنیا میں اس مسلک کی طرفداری کرتے، لیکن عملی طور پر خود بھی ہرگز یہ عقیدہ نہیں رکھتے، یہی وجہ ہے کہ اگر ان کے حقوق پر تجاوز ہو تو زیادتی کرنے والے سرزنش، ملامت اور سزا کا مستحق سمجھتے ہیں اور اس بات کے لئے ہرگز تیار نہیں ہیں کہ اسے مجبور قرار دے کر اس سے صرف نظر کرلیں یا اس کی سزا کو ظالمانہ خیال کریں یا کہیں کہ وہ یہ کام کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا اور چونکہ خدا نے ایسا چاہا تھا یا ماحول اور طبیعت کا جبر تھا، یہ خود اصل اختیار کے فطری ہونے پر ایک اور دلیل ہے ۔
بہرحال ہمیں کوئی جبری مسلک والا ایسا نہیں ملتا جو اپنے روز مرہ کے عمل میں اس عقیدے کا پابند ہو بلکہ وہ تمام افراد سے ان کے آزاد، مسئول، جوابدہ اور مختار ہونے کے لحاظ سے ملتا اور پیش آتا ہے، دنیا کی تمام اقوام نے عدالتیں قائم کررکھی ہیں ، قوانین بنائے ہیں اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے مختار ہونے کو قبول کیا گیا ہے، دنیا کے تمام تربیتی ادارے ضمنی طور پر اس بنیادی نظریے کو قبول کرتے ہیں کہ انسان اپنے میل ورغبت اور اردہ واختیار سے کام کرتا ہے اور تعلیم وتربیت کے ذریعے اس کی رہنمائی کی جاسکتی ہے اور اسے ارشاد ودہدایت کی جاسکتی ہے اور اسے خطاوں ، غلطیوں اور کج فہمیوں سے روکا جاسکتا ہے
۲ ۔ ”شقوا“ اور ”سعدوا“ میں ایک باریک فرق:
یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ”شقوا“ فعل معلوم کے طور پر اور ”سعدوا“ فعل مجہول کی صورت میں آیا ہے ۔(۱)
تعبیر کا یہ اختلاف شاید اس لطیف نکتے کی طرف اشارہ ہو کہ انسان راہِ شقاوت کو اپنے قدموں سے طے کرتا ہے لیکن راہِ سعادت پر چلنے کے لئے جب تک خدائی امداد اور تعاون نہ ہو اور اس راہ میں وہ اس کے نصرت نہ کرے تو یہ کامیاب نہیں ہوگا، اس میں شک نہیں کہ یہ امداد اور تعاون صرف ان لوگوں کے شامل حال ہوتا ہے جنھوں نے ابتدائی قدم اپنے ارادہ واختیار سے اٹھائے ہوں اور اسی طرح ایسی امادا کی اہلیّت پیدا کرلی ہو (غور کرلیجئے گا) ۔
۳ ۔ قرآن میں مسئلہ خلود:
اصل لغت میں ”خلود“ طولانی بقاء کے معنی میں ہے اور ابدیت کے معنی میں بھی آیا ہے اس لئے اکیلا ”خلود“ ابدیت کی دلیل نہیں ہوتا بلکہ ہر قسم کی طولانی بقاء بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے لیکن بہت سی آیاتِ قرآنی میں یہ کلمہ کچھ قیود کے ساتھ ذکر ہوا ہے جن سے وضاحت کے ساتھ ابدیت کا مفہوم معلوم ہوتا ہے، مثلاً توبہ/ ۱۰۰ ، طلاق/ ۱۱ ، اور تغابن/ ۹ میں اہل بہشت کے لئے ”( خَالِدِینَ فِیهَا اٴبداً ) “ کی تعبیر موجود ہے، اس تعبیر سے ان لوگوں کے لئے بہشت کی ابدیت معلوم ہوتی ہے اور دوسری آیات مثلاً نساء/ ۱۶۹ اور جِن/ ۲۳ میں دوزخیوں کے ایک گروہ کے بارے میں یہی تعبیر ”( خَالِدِینَ فِیهَا اٴبداً ) “ نظر آتی ہے جو اُن کے لئے عذابِ جاوداں ہونے کی دلیل ہے ۔
اسی طرح کچھ اور تعبیرات بھی ہیں ، مثلاً:( مَاکِثِینَ فِیهِ اٴَبَدًا ) (کہف/ ۳) اور( خَالِدِینَ فِیهَا لَایَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا ) (کہف/ ۱۰۸)
یا اس قسم کی تعبیرات کی جو نشاندہی کرتی ہیں کہ حتماً بہشتیوں کے کچھ گروہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نعمت یا عذاب میں رہیں گے ۔
بعض افراد سزا کے جاوداں ہونے کے اشکالات کو اپنی نظر میں حل کرنے نہیں کرسکے مجبوراً انھوں نے اس کے لغوی معنی کا سہارا لیا ہے اور انھوں نے اسے مدتِ طولانی کے معنی میں لیا ہے حالانکہ بعض تعبیرات جیسے مندرجہ بالا آیات ہیں ان کی ایسیا تفسیر نہیں کی جاسکتی ۔
مزید وضاحت کے لئے ہم آپ کی توجہ ذیل کی اہم بحث کی جانب مبذولا کراتے ہیں
ایک اہم سوال اور اس کا جواب
یہاں فوراً ہر سننے والے صفحہ ذہن پر ایک بہت اہم سوال ابھرتا ہے اور وہ یہ کہ گناہ اور عذاب میں یہ عدمِ مساوات خدا کی طرف سے کیسے ممکن ہے، کیسے قبول کیا جاسکتا ہے کہ انسان اپنی ساری عمر جو زیادہ سے زیادہ اسّی یا سو سال ہوتی ہے میں اچھا یا بُرا کام انجام دے لیکن اس کی جزاء یا سزا کروڑوں سالوں پر یا اس سے بھی جتنی بھی طولانی عرصے پر محیط ہو۔
البتہ یہ مسئلہ جزاء کے بارے میں تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ بخشش اور جزاء جتنی بھی زیادہ ہو جزاء دینے والے کے فضل وکرم کی نشانی ہے لہٰذا اس پر اعرتاض، یا اشکال نہیں کیا جاسکتا لیکن بُرے کام، گناہ، ظلم اور کفر کے بارے میں یہ سوال ہے کہ ایک محدود گناہ پر دائمی عذاب عدلِ الٰہی کے نظریے کے ساتھ کیونکہ مناسبت رکھتا ہے ، جس شخص کی سرکشی اور تجاوز کا دَور ایک سوال سال سے زیادہ نہیں ہمیشہ کے لئے جنہم کی آگ اور عذاب کے شکنجے میں گیوں گرفتار رہے؟
کیا عدالت کا تقاضا نہیں کہ یہاں پر ایک توازن برقرار رکھا جائے اور مثلاً سو سال کے غلط اعمال کی مقدار کے برابر سے عذاب اور سزا ہو؟
مطمئن نہ کرنے جوابات:
اس اعتراض کے جواب کی پیچیدگی اس بات کا سبب بنی ہے کہ بعض علماء نے آیاتِ خلود کی توجیہ کا راستہ اختیار کیا اور ان کی اس طرح تفسیر کی ہے کہ ان سے ہمیشہ کی سزا اور عذاب معلومنہ ہو کیونکہ دائمی عذاب ان کے عقیدے کے مطابق خلافِ عدل ہے،اس سلسلے میں انھوں نے اس طرح کی باتیں کی ہیں :
۱ ۔ بعض کہتے ہیں کہ ”خلود“ سے مراد اس کا کنائی اور مجازی معنی ہے، یعنی ایک مدت جو نسبتاً طولانی ہو، جیسا کہ جن افراد کو آخر تک کے لئے سزائے قید سنائی جائے ان کے لئے کہا جاتا ہے کہ انھیں دائمی قید سنائی گئی ہے حالانکہ مسلّم ہے کہ کسی قید خانے میں ابدیت نہیں ہوتی اور قید کی عمر ختم ہوجاتی ہے یہاں تک کہ عربی زبان میں بھی ”یخلّد فی السّجن“ جوکہ مادہ ”خلود“ سے ہے ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے ۔
۲ ۔ بعض دیگر کہتے ہیں کہ ایسے باغی ارو سرکش افراد کہ جن کے پورے وجود کو گناہ نے گھیر لیا ہو اور ان کا سارا وجود کفر اور گناہ میں ڈھل گیا ہو اگرچہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے لیکن دوزخ ہمیشہ ایک ہی حالت میں نہیں رہے گی، ایک دن ایسا آئے گا کہ اس کی آگ آخرکار دوسری آگ کی طرح بجھ جائے گی اور دوزخیوں کو ایک خاص قسم کا سکون مل جائے گا ۔
۳ ۔ بعض نے احتمال ذکر کیا ہے کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ اور بہت سی سزا جھیلنے کے بعد آخرکار دوزخی ایک طرح سے اس کے عادی اور خوگر ہوجائیں گے اور وہ اپنے ماحول کے رنگ میں جائیں گے اور ماحول کے ساتھ ایک طرح کی موافقت پیدا ہوجائے گی، اس طرح انھیں کسی قسم کی ناراحتی، تکلیف اور عذاب کا احساس نہیں ہوگا ۔
البتہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ سب توجیہات ”خلود“ اور دائمی عذاب کے مسئلہ کے بارے میں جواب دینے سے عجز وناتوانی کی وجہ سے ہیں یہ بات ناقابل انکار ہے کہ آیاتِ خلود کا ظہور یہ ہے کہ ایک خاص طبقہ ہمیشہ کے لئے عذاب میں رہے گا ۔
حتمی جواب
اس مشکل کے حل کے لئے گزشتہ مباحث کی طرف لوٹنا پڑے گا اور اس اشتباہ کی اصلاح کرنا پڑے گی کہ جی میں عذابِ قیامت کا دوسری سزاوں پر قیاس کیا جاتا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوسکے کہ مسئلہ خلود اصلِ عدالتِ الٰہی کے منافی ہے ۔
۱ ۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے ابدی اور دائمی عذاب اور سزا ایسے لوگوں کے لئے منحصر ہے جنھوں نے اپنے لئے نجات کے تمام راستے بند کرلیے ہیں اور جان بوجھ کر فساد وتباہی اور کفر ونفاق میں غرق ہوگئے ہیں ، گناہ کے منحوس سائے نے جن کے تمام قلب وروح کو ڈھانپ دیا ہے اور درحقیقت جو گناہ اور کفر کے رنگ میں گئے ہیں ، جیسا کہ سورہ بقرہ میں ہے:
( وَقَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلاَّ اٴَیَّامًا مَعْدُودَةً قُلْ اٴَاتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللهِ عَهْدًا فَلَنْ یُخْلِفَ اللهُ عَهْدَهُ اٴَمْ تَقُولُونَ عَلَی اللهِ مَا لَاتَعْلَمُونَ )
جی ہاں ! جو شخص گناہ کا مرتکب ہوا اور اس کے آثار اس کے تمام وجود کا احاطہ کرلیں ایسے لوگ اہلِ دوزخ ہیں جو ہمیشہ اس میں رہیں گے ۔ (بقرہ/ ۸۰)
۲ ۔ بعض لوگوں کا یہ غلط اشتباہ ہے کہ سزا اور عذاب کی مدت گناہ کی مدت کے برابر ہونا چاہیے کیونکہ گناہ اور سزا کے درمیان ”رابطہ کیفی“ ہے یعنی زمانہ سزا کا تعلق گناہ کی کیفیت سے ہے نہ کہ اس کے زمانے کی مقدار سے مثلاً ممکن ہے کہ کوئی شخص کسی نفس کو قتل کرنے کے لئے لحظہ بھر کا تھا جبکہ اس کی سزا ممکن ہے اسّی سال پر محیط ہو، لہٰذا معاملہ کیفیت کا نہ کہ زمانی کمیت کا ۔
۳ ۔ ہم چاہتے ہیں قیامت کی زیادہ تر سزائیں اور عذاب عمل کے طبیعی وفطری اثر اور خاصیتِ گناہ کے حوالے سے ہیں ، زیادہ واضح الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ رنج وتکالیف اور پریشانیوں جن کا دوسرے جہان میں گنہگار سامنا کریں گے ان کے اپنے اعمال کا اثر اور نتیجہ ہیں جو انھیں دامنگیر ہوگا، قرآن کہتا ہے:( فَالْیَوْمَ لَاتُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَلَاتُجْزَوْنَ إِلاَّ مَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ )
آج (روزِ قیامت) کسی شخص پر ظلم نہیں ہوگا اور تمھارے اعمال کے سوا تمھاری جزا نہیں ہوگی (یٰسین/ ۵۴)
یہ بھی ارشاد الٰہی ہے:( وَبَدَا لَهُمْ سَیِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهِمْ مَا کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُون )
اور اُن کے بُرے اعمال اُن کے سامنے آشکار ہوجائیں گے اور جس کا ہمیشہ تمسخر اڑایا کرتے تھے اور انھیں گھیرلے گا (جاقیہ/ ۳۳)( فَلَایُجْزَی الَّذِینَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ إِلاَّ مَا کَانُوا یَعْمَلُونَ )
جنھوں نے بُرے کام کیے ہیں ان کے اعمال کے علاوہ انھیں کوئی جزاء نہیں دی جائے گی (القصص/ ۸۴)
اب جبکہ یہ تین پہلو ہوواضح ہوچکے ہیں تو مسئلے کا حتمی جواب ہماری دسترس سے زیادہ دُور نہیں رہا اور اس تک پہنچے کے لئے کافی ہے کہ آپ ذیل کے چندسوالات کا جواب دیں :
۱ ۔ فرض کریں کہ کوئی شخص پے درپے مشروباتِ الکحل کے استعمال کی وجہ سے ہفتہ بھی میں معدے کے شدید زخم میں مبتلا ہوگیا ہے اور بات یہاں تک جاپہنچی ہے کہ اب اسے یہ درد آخر عمر تک برداشت کرنا پڑے گا، تو کیا یہ نتیجہ اس کے بُرے عمل کے برابر ہے اور کیا یہ خلافِ عدالت ہے؟ اب اگر اس شخص کی عمر اسّی سال کی بجائے ایک ہزار سال یا ملین سال ہو تو اسے ایک ہفتے کی ہوس رانی کی خاطر ایک ملین سال دکھ درد جھیلناپڑیں گے تو کیا یہ اصلِ عدالت کے خلاف ہوگا جبکہ شراب خوری کے اس خطرے کے بارے میں پہلے سے بتایا جاچکا ہے اور اس کا انجام بھی اس کے سامنے واضح کیا جاچکا ہے ۔
۲ ۔ نیز فرض کریں کہ کوئی شخص ڈرائیونگ کے قوانین بھلادے جبکہ یہ بات مسلّم ہے کہ یہ قوانین سودمند ہیں اور حادثات سے رونما ہونے والی شریشانیوں میں کمی کا باعث ہیں ، یہ شخص سمجھدار دوستوں کی طرف سے خطرے کی بار بار تنبیہوں پر کان دھرے، اب اگر کوئی حادثہ کسی مختصر لمحے میں اسے آلے (اور حادثات تو لمحوں ہی میں رونما ہوتے ہیں ) اس حادثے میں اس کی آنکھیں ، ہاتھ یا پاوں ضائع ہوجائیں اور اس کے بعد اسے اندھے پَن میں یا اپاہیج ہوکر زندگی گزارنا پڑے تو کیا یہ نتیجہ پروردگار کی عدالت کے کسی طرح بھی منافی ہے؟
۳ ۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس ایک اور مثال بھی ہے اور مثالیں عقایں حقائق کو ذہن کے قریب کرتی ہیں اور اصلی، حتمی اور استدلالی نتیجہ حاصل کرنے کے لئے ذہن کو یتار کرتی ہیں ۔
فرض کریں ہم اپنے راستے میں خار مغیلاں کے چند گرام بیج چھڑک دیتے ہیں ، چند ماہ یا چند سالوں بعد ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے راستے میں کانٹوں کا ایک وسیع صحرا ہے جو ہمیشہ کے لئے ہماری دردسری اور تکلیف کا باعث بن گیا ہے ۔
یا یہ کہ ہم پھلوں کے چند گرام بیج چھڑک دیتے ہیں ، تھوڑے ہی عرصے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے سامنے بہت دلکش اور مہلک دار گلشن کھِل اٹھا ہے جو ہمیشہ ہمارے مشامِ جان کو معطر رکھتا ہے اور دل کو لبھاتا ہے ۔
کیا یہ امور جو سب کے سب اعمال کے آثار ہیں عدالت کے کسی طور بھی منافی ہیں حالانکہ اس عمل اور اس کے نتیجے کی مقدار میں مساوات نہیں ہے ۔
جو کچھ کہا جاچکا ہے اس سے مجموعی طور پر ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب جزاء اور سزا خود انسان کے عمل کا نتیجہ ہے تو کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
بسا اوقات ظاہراً ایک چھوٹا سا عمل ہوتا ہے جس کا اثر ایک عمر کی محرومیت، ابتلاء اور ناراحتی کی صورت میں نکلتا ہے اور بعض اوقات ایک اور ظاہراً چھوٹا چھوٹا سا عمل ایک عمر کے لئے سرچشمہ خیرات وبرکات بن جاتا ہے (اشتباہ نہ ہو، چھوٹے سے ہماری مراد مقدارِ زمانہ کے لحاظ سے ہے ورنہ وہ کام اور گناہ جو عذاب میں ہمیشگی کا باعث ہیں یقیناً کیفیت اور اہمیت کے لحاظ سے چھوٹے نہیں ہیں ) اس بناء پر جب گناہ، کفر، طغیان اور سرکشی پورے انسانی وجود کا احاطہ کرلیں اور اس کی جان کے تمام بال وپر بیدادگری اور نفاق کی آگ میں جلیں تو کونسا مقامِ تعجب ہے کہ وہ دوسرے جہان میں اسمانِ بہشت میں پرواز کی نعمت سے محروم ہوجائے اور ہمیشہ کے لئے عظیم محرومیت کے درد ورنج میں گرفتار رہے، کیا اسے بتایا نہیں گیا اور کیا اسے اس عظیم خطرے سے آگاہ نہیں کیا گیا ۔
جی ہاں ! ایک طرف سے انبیاء الٰہی نے اور دوسری طرف سے عقل وخرد نے ضروری آگاہی دی تھی، کیا اس نے بے توجہی میں اور بغیر اختیار کے اس کام میں ہاتھ ڈالا تھا اور اب ایسے انجام کوپہنچا ہے؟ نہیں بلکہ اس نے یہ کام علم کے ساتھ، جان بوجھ کر اور اختیار سے انجام دیا ہے ۔
کیا یہ انجام خود اس کے اعمال اور سیدھا اس کے اعمال کا نتیجہ نہیں ہے، یقیناً یہ انجام خود اس کے کام کے آثار میں سے ہے ۔
اس بناء پر نہ کشایت کی گنجائش ہے نہ کسی پر اشکال کی اور نہ ہی یہ انجام عدالتِ الٰہی کے قانون کے منافی ہے ۔(۲)
۴ ۔ زیرِ بحث آیا ت میں ”خلود“ کا معنی:
کیا ”خلود“ زیرِ بحث آیات میں ہمیشگی اور جاودانی کے معنی میں آیا ہے یا یہاں اس کا مفہوم ”طولانی مدت“ والا ہے جو اس کے لغوی مفہوم کے طور پر پہچانا جاتا ہے ۔
اس بنیاد کہ یہاں ”خلود“ کے ساتھ یہ شرط ہے کہ: ”مادامت السموٰات “(یعنی ، جب تک آسمان وزمین باقی ہیں ) بعض مفسّرین نے یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی ہے کہ اس موقع پر خلود ہمیشگی اور جاودانی کے معنی میں نہیں ہے کیونکہ آسمان وزمین ابدیت اور ہمیشگی نہیں رکھتے اور قرآن کی صریح آیات کے مطابق ایک زمانہ آئے گاکہ آسمان درہم وبرہم ہوجائیں گے اور زمین تباہ ہوکر ایک اور زمین میں بدل جائیں گی ۔(۳)
لیکن توجہ رہے ک عربی ادبیات میں ایسی تعبیریں عموماً ابدیت کے لئے کنایہ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں ، لہٰذا محلِ آیات میں بھی خلود ہمیشگی کے معنی میں آیا ہے ۔
مثلاً عرب کہتے ہیں : یہ کیفیت برقرار رہے گی ”مالاح کوکب “ (جب تک چمکتا ہے) یا ”ما لاح الجدیدان “ (جب تک دن رات موجود ہیں ) یا ”ما اضاء فجر“ (جب تک روشن ہوتی رہے) یا ”ما اختلف اللیل والنھار“ (جبل تک رات دن ایک دوسرے کے بعد آتے رہیں ) ۔
ایسی ہی بہت سی مثالیں ہیں جو سب کی سب ہمیشگی اور ابدیت کے لئے کنایہ ہیں ۔
امام امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام نہج البلاغہ میں ہے کہ جب جاہل مفسرین نے امام پر اعتراض کیا کہ آپ بیت المال کی تقسیم میں مساوات کیوں برتتے ہیں اور اپنی حکومت مستحکم کرنے کے لئے بعض لوگوں کو دوسروں پر ترجیح کیوں نہیں دیتے تو امام یہ بات سُن کر رنج ہوا اور آپعليهالسلام نے فرمایا:
”اٴتاٴمرونی اٴن اٴطلب النصر بالجور فیمن ولیت علیه واللّٰه لا اٴطور به ما سمر سمیر وما اٴم نجم فی السّماء نجماً “
کیا مجھ سے کہتے ہو کہ مَیں کامیابی کے لئے اپنی حکومت میں رہنے والوں کی طرف دستِ ظلم دراز کروں ، خدا قسم! مَیں اس کام کے نزدیک بھی نہیں جاوں گا جب تک رات کو بیٹھ کر لوگ قصّہ گوئی کریں گے اور جب تک آسمان کے ستارے ایک دوسرے کے بعد طلوع وغروب کرتے رہیں گے ۔(۴)
دعبل خزاعی کے اشعار میں سے ایک ان کا مشہور قصیدہ ہے جو انھوں نے امام علی بن موسیٰ الرضا علیہماالسلام کے حضور میں پڑھا، اُس کا ایک شعر یوں ہے:
ساٴبیکهم ماذر فی الاٴفق شارق
ونادیٰ منادی الخیر فی الصلوات
میں خاندان نبوت کے شہیدوں پر گریہ وزاری کرتا رہوں گا، اس وقت تک سورج افق مشرق پر روشنی چھڑکتا رہے گا اور جب تک اذان کی صدا دعوتِ نماز کے لئے میناروں سے گونجتی رہے گی ۔(۵)
البتہ یہ چیز عربی ادبیات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسری زبانوں میں بھی کم وبیش موجود ہے بہرحال ابدیت اور ہمیشگی پر آیت کی دلات بحث وتمحیص سے ماوراء ہے اور اسی طرح یہاں ان لوگوں کی گفتگو کی بھی ضرورت نہیں جو کہتے ہیں کہ یہاں آسمان وزمین سے مراد قیامت کے زمین وآسمان ہیں جو جاودانی ہیں ۔
۵ ۔ آیت میں استثناء کا کیا مفہوم ہے؟
مندرجہ بالا آیات میں اہلِ بہشت اور اہلِ جہنم دونوں کے بارے میں جملہ ”استثنائیه “( الّا ماشاء ربّک ) (مگر وہ تیرا پروردگار چاہے) آیا ہے، اس مفسرّین کے لئے ایک وسیع بحث کا دروازہ کھل گیا ہے ۔
عظیم مفسر طبرسی نے اپنی تعسیر میں مفسّرین سے اس استثناء کی دس وجوہات نقل کی ہیں ، ہماری نظر میں ان میں سے زیادہ تر کمزور ہیں اور قبل وبعد کی آیات سے ہر گز مناسبت نہیں رکھتیں لہٰذا ہم ان کا ذکر نہیں کرتے اور ان میں سے جو دو ہمیں زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہیں وہ پیش کرتے ہیں :
۱ ۔ اس استثناء کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ تصور نہ ہو کہ بے ایمان افراد کی دائمی اور سچّے مومنین کی جزا اور ثواب خدا کی مشیّت اور مرضی کے بغیر ہیں اور ان سے اس کی قدرت وتوانائی اور ارادہ محدود ہوجاتا ہے اور یہ سزا وجزا جبر اور لزوم کی صورت اختیار کرلیتی ہیں بلکہ ان دونوں کے جاودانی اور دائمی ہونے کے باوجود اس کی قدرت اور ارادہ ہرچیز پر حاکم ہے ۔
اس بات کا شاید یہ ہے کہ دوسرے جملے میں سعادت مندوں کے بارے میں استثناء کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے: ”عطاء غیر مجذوذ؛یہ ایسی عطا اور جزاء ہے کہ جو ان سے ہرگز منقطع نہ ہوگی ۔
یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ جملہ استثنائیہ صرف بیانِ قدرت کے لئے ہے ۔
۲ ۔ یہ آیت چونکہ شقی اور سعید دو گروہوں کے بارے میں ہیں اور ضروری نہیں کہ تمام شقاوتمند بے ایمان افراد ہوں جو خلود کے مستحق ہوں بلکہ ہوسکتا ہے کہ ان کے درمیان خطا کار مومنین بھی ہوں لہٰذا استثناء کا تعلق اس گروہ سے ہے ۔
لیکن یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے پھر دوسرے جملے میں استثناء کا کیا مفہوم ہوگا جو سعادت مندوں کے بارے میں ہے، اس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ وہ بھی خطاکار مومنین کے بارے میں ہے کہ جنھیں ابتداء میں ایک مدت تک دوزخ میں جاکر پاک ہونا ہوگا اس کے بعد وہ اہلِ بہشت کی صف میں شامل ہوجائیں گے، درحقیقت پہلے جملے میں استثناء انجام اور آخرکار کے متعلق ہے جبکہ دوسرے جملے میں آغاز اور ابتداء کے بارے میں پہلے جملے ہے (غور کیجئے گا) ۔
رہا یہ احتمال جو بعض نے ذکر کیا ہے کہ یہ جزاء اروسزا کی جنت اور دوزخ سے مربوط ہے جس کی مدت لامحدود ہے اور ختم ہوجائے گی، بہت بعید ہے کہ کیونکہ قبل کی آیات صراحت کے ساتھ قیامت کے بارے میں ہیں اور ان آیات کا تعلق اُن سے ٹوٹنے والا نہیں ہے ۔
اسی طرح یہ احتمال بھی درست ہے کہ ان آیات میں ”خلود“ قرآن کی دیگر آیات کی طرح مدتِ طولانی کے معنی میں ہے نہ کہ ابدیت کے معنی میں ، اس کی وضاحت یہ ہے کہ جملہ ”عطاء غیر مجذوذ“ اور خود استثناء کہ جو اس سے قبل کے جملوں کے ابدیت کی دلیل ہے سے یہ احتمال مطابقت نہیں رکھتا ۔
۶ ۔ ”زفیر“ اور ”شھیق“ کا مفہوم:
مندرجہ بالا آیات میں دوزخیوں کے بارے میں ہے کہ وہ وہاں ”زفیر“ اور ”شھیق“ کے حامل ہوں گے ۔
ان دو الفاظ کے معانی کے بارے میں اربابِ لغت اور مفسّرین نے متعدد احتمالات ذکر کئے ہیں :
بعض نے کہا ہے کہ ”زفیر“ داد وفریاد اور چیخ وپکار کرنے کے معنی میں ہے کہ جس کے ساتھ باہر کی طرف سانس لیا جائے اور ”شھیق“ اس نالہ وفریاد کو کہتے ہیں جس کے ساتھ اندر کی طرف سانس کھینچا جائے ۔
بعض نے گدھے کی ابتدائی آواز کو اور ”شھیق“ اس کی اختتامی آواز کوقرار دیا ہے، شاید یہ معنی پہلے معنی سےزیادہ مختلف نہیں ہے ۔
بہرحال یہ دونوں الفاظ ایسے اشخاص کے نالہ وفریاد کا مفہوم دیتے ہیں کہ غم واندوہ کے مارے جن کا پورا وجود واویلا کررہا ہو اور ایسی داد وفریاد جو انتہائی ریشانی، نارحتی اور شدّتِ کرب وتکلیف کی نشانی ہو۔
توجہ رہے کہ ”زفیر“ اور ”شھیق“ دونوں مصدر ہیں اور ”زفیر“در اصل کندھے پر بھاری بوجھ اٹھانے کے معنی میں ہے اور چونکہ یہ کام آہ ونالہ کا سبب بنتا ہے اس لئے آہ ونالہ کو ”زفیر“کہتے ہیں اور ”شھیق“ اصل میں طولانی ہونے کے معنی میں ہے جیسا کہ بلند پہاڑ کو ”جبل شاھق“ کہتے ہیں بعد ازاں یہ لفظ طولانی نالہ وفریاد کے معنی میں استعمال ہونے گا ۔
سعادت وشقاوت کے اسباب
سع ادت جو تمام انسانوں کی گمشدہ چیز ہے اور اسے ہر کوئی ہر کسی چیز میں اور ہر جگہ تلاش کرتا پھرتا ہے یہ ایک فریاد یا معاشرے کے تکامل وارتقاء کے اسباب فراہم کرنے کا نام ہے، اس کے مقابل شقاوت وبدبختی ہے جس سے سب نفرت کرتے ہیں اور وہ کامیابی، تکامل اور ارتقاء کے لئے درکار اسباب، حالات اور شرائط کے نامساعد ہونے کو کہتے ہیں ۔
اس بناء پر جس شخص کو رواحانی، جسمانی خاندانی، معاشرتی اور تمدنی لحاظ سے بلندتر اہداف تک پہنچنے کے لئے زیادہ اسباب حاصل ہوں وہ سعادت کے زیادہ نزدیک ہے یا دوسرے لفظوں میں زیادہ سعادتمند ہے، دوسری طرف جو شخص ان پہلووں کی کمی اور نارسائی میں گرفتار ہو وہ شقاوت مند اور بدبخت ہے اور سعادت سے بے بہرہ ہے ۔
لیکن توجہ رہے کہ سعادت وشقاوت کی حقیقی بنیاد انسان کا اپنا ارادہ اور خواہش ہے، انسانی ارادہ ہی اپنی اصلاح بلکہ معاشرے کی اصلاح ودرستی کے لئے ضروری وسائل فراہم کرسکتا ہے اور یہ انسان خود ہے جو بدبختی اور شقاوت کے عوامل کے خلاف جنگ کے لئے اٹھ کھڑا ہو یا اس کے سامنے سرتسلیم خم کردے ۔
انبیاء کی منطق میں سعادت وشقاوت کوئی ایسی چیز نہیں جو انسان کے لئے ذاتی ہو، یہاں تک کہ ماحول، خاندان اور وراثت بھی خود انسانی ارادے کے سامنے قابلِ تغیّر ہیں مگر یہ کہ ہم خود انسانی ارادے اور آزادی کا انکار کردیں ، اسے جبری شرائط وحالات کا محکوم قرار دے دیں اور اس کی سعادت یا شقاوت کو ذاتی یا ماحول وغیرہ کی جبری پیداوار سمجھیں حالانکہ یہ قطعی طور پر مکتبِ انبیاء اور اسی طرح مکتبِ عقل کے نزدیک محکوم ومذموم ہے ۔
یہ بات جاذب نظر ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی ہے کہ روایات میں مختلف امور کی اسبابِ سعادت یا اسبابِ شقاوت کے طور پر نشاندہی کروائی گئی ہے کہ جن کا مطالعہ انسان کو اس اہم مسئلے کے بارے میں اسلامی طرزِ فکر سے آشنا کرتا ہے اور انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ سعادت تک پہنچنے اور شقوات سے بچنے کے لئے بیہودہ وخرافاتی مسائل اور غلط قسم کے خیالات اور طور وطریقے کہ جو بہت سے معاشروں میں موجود ہوتے ہیں کا سہارا لینے کے بجائے اور بے بنیاد امور کو سعادت وشقاوت کے اسباب خیال کرنے کے بجائے حقائقِ غیبی اور سعادت کے اسباب حقیقی کی جستجو کرے ۔
نمونے کے طور پر ذیل کی چند پُر معانی احادیث کی طرف توجہ فرمائیے:
۱ ۔امام صادق علیہ السلام اپنے جدّ بزرگوار امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں :
حقیقة السعادة اٴن یختم للرجل عمله بالسعادة وحقیقة الشقاوة اٴن یختم للمرء عمله بالشقاوة .
حقیقتِ سعدت یہ ہے کہ انسان کی زنمدگی کا آخری مرحلہ سعادت مندانہ عمل کے ساتھ ختم ہو اور حقیقتِ شقاوت یہ ہے کہ اس کی زندگی کا آخری مرحلہ شقاوت مندانہ عمل پر اختتام پذیر ہو۔(۶)
یہ روایت صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ انسان کی زندگی کا آخری مرحلہ اور اس مرحلے میں اس کے اعمال اس کی سعادت یا شقاوت کا مظہر ہیں ، گویا اس طرح آپعليهالسلام ذاتی سعادت وشقاوت کی مکمل نفی کررہے ہیں اور انسان کو اس کے اعمال کا گروی قرار دے ہیں اور اس کی عمر کے آخری مرحلے تک اس کے لئے لوٹ آنے کا راستہ کھُلا قرار دے رہے ہیں ۔
۲ ۔ ایک اور حدیث میں حضرت علی السلام فرماتے ہیں :السعید من وعظ بغیره والشقی من انخدع لهواه وغروره .
سعادتمند وہ شخص ہے جو دوسروں کی زندگی سے نصیحت حاصل کرے اور شقاوتمند وہ شخص ہے جو ہَوائے نفس سے دھوکاکھاجائے ۔(۷)
حضرت علی علیہ السلام کی یہ گفتگو بھی سعادت وشقاوت کے اختیاری ہونے کی تاکید مزید ہے اور اس میں آپعليهالسلام ان دونوں کے بعض اسباب کو بیان فرمارہے ہیں ۔
۳ ۔ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:
اٴربع من اٴسباب السعادة واٴربع من الشقاوة: فلاٴربع الّتی من السّعادة: المرئة الصالحة والمسکن والواسع، والجار الصالح، والمرکب البهیء. والاٴربع الّتی من الشقاوة: الجار السوء، والمرئة السوء، والمسکن الضیق والمرکب السوء .
چار چیزیں اسبابِ سعادت ہیں اور چار چیزیں اسبابِ شقاوت ہیں :(۸) -
وہ چار جو اسبابِ سعادت ہیں یہ ہیں : نیک بیوی، وسیع گھر، نیک ہمسایہ اور اچھی سواری، اور وہ چار جو اسبابِ شقاوت ہیں یہ ہیں : بُرا ہمسایہ، بُری بیوی، تنگ مکان اور بُری سواری ۔
اس طرح توجہ کرتے ہوئے کہ یہ چار امور ہر شخص کی مادی اور روحانی زندگی میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں اور کامیابی یا شکست کے عوامل بن سکتے ہیں ، اس سے اسلامی منطق میں سعادت وبدبختی کے مفہوم کی وسعت واضح ہوجاتی ہے ۔
ایک اچھی بیوی انسان کو طرح طرح کی نیکیوں کا شوق دلاتی ہے، ایک وسیع گھر انسان کی روح وفکر کو سکون بخشتا ہے اور زیادہ فعّالیت کےالئے آمادہ کرتا ہے، بُرا ہمسایہ قابلِ تعریف نہیں ہے اور اچھا ہمسایہ آسائش وآرام میں مؤثر مددگار ہوتا ہے بلکہ انسان کی پیشرفت میں معاون ہوتا ہے، ایک اچھی سواری اپنے کام انجام دینے اور اجتماعی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے بہت کارمند ہے جبکہ خراب اور بے کار سواری پیچھے رہ جانے کا باعث ہے کیونکہ وہ اپنے مالک کو اس کے مقصد تک کم ہی پہنچاتی ہے ۔
۴ ۔پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ایک اور حدیث بھی نقل ہوئی ہے، فرمایا:
من علامات الشقاء جمود العینین، وقسوة القلب، وشدة الحرص فی طلب الرزق، والامر علی الذنب .
یہ چیزیں شقاوت کی علامتوں میں سے ہیں : آنکھوں کی قطرہ اشک سے محرومی، سنگدلی، حصولِ رزق میں شدید حرص اورگناہ پراصرار۔(۹)
یہ چارامور جو مندرجہ بالا حدیث میں آئے ہیں سب اختیاری ہیں ، ان کا سرچشمہ انسان کے خود کردہ اعمال واخلاق ہیں ، اسی طرح ان اسبابِ شقاوت سے بچنا بھی خود انسان کے اختیار میں ہے ۔
سعادت وشقاوت کے وہ اسباب جو مندرجہ بالا حدیث میں ذکر ہوئے ہیں اگر ان سب کی حقیقت اور انسانی زندگی میں ان کے نقشِ مؤثر کا موازنہ ان بیہودہ اور خرافاتی اسباب سے کریں کہ جن کے ہمارے ایٹمی اور خلائی دَور کے بہت سے گروہ پابند ہیں تو یہ حقیقت آشکار ہوجائے گی کہ تعلیماتِ اسلام کس قدر منطقی اور حساب شدہ ہیں ۔
ابھی بہت سے افراد ہیں جو گھوڑے کی نعل کو خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں ، تیرھویں کے دن کو بدبختی کا سبب جانتے ہیں ، سال کی بعض راتوں میں آگ کے اوپر سے پرندہ اُڑنے کو خوش بختی کی دلیل قرار دیتے ہیں ، بعض راتوں میں پرندے کی آواز کوبدبختی مانتے ہیں ، مسافر کی پشت کے پیچھے پانی چھڑکنے کو خوش بختی کا سبب سمجھتے ہیں ، پرنالے کے نیچے سے گزرنے کو بدبختی کا سبب جانتے ہیں ، یہاں تک کہ اپنے ساتھ یا اپنے کسی ذریعہ آمد ورفت کے ساتھ گھونگا آویزاں کرنے کو بھی خوش بختی کا سبب سمجھتے ہیں ، چھینک آجائے تو اسے پیشِ نظر کام انجام دینے میں بدبختی کی علامت سمجھتے ہیں ، اسی طرح بہت سی خرافات ہیں جو مشرق ومغرب کی اقوام میں رائج ہیں ۔
ایسے کتنے زیادہ انسان ہیں جو ان خرافات میں گرفتار ہونے کی وجہ سے زندگی میں فعالیت اورکارکردگی سے رہ گئے ہیں اور بےشمار مصیبتوں میں گرفتار ہیں ۔
اسلام نے ان تمام بیہودہ خیالات پر سُرخ لکیر کھینچ دددی ہے اور انسان کی سعادت وشقاوت کی بنیاد اس کے مثبت ومنفی کام قوت وکمزوری، طرزِ عمل اور عقیدے کو قرار دیا کہ جس کے نمونے مندرجہ احادیث میں واضح طور پر بیان ہوئے ہیں ۔
____________________
۱۔ ”سعدوا“ ”سعد“ کے مادہ سے ہے جو بعض ارباب لغت کے مطابق فعل لازم ہے اور مفعول کو نہیں چاہتا، اس بناء پر یہ صیغہ مجہول نہیں ہے لہٰذا یہ اہل لغت مجبور ہوئے ہیں کہ اسے محفف ”سعدوا“ (باب افعال کے مجہول) سے سمجھیں لیک جس طرح آلوسی نے روح المعانی میں ایت کے ذیل میں بعض اہلِ لغت سے نقل کیا ہے اس کا فعل ثلاثی بھی متعدی ہے اور ”سعدالله“ اور ”مسعود“ کہا جاتا ہے، اس بناء پر ضرورت نہیں ہے کہ ہم اس فعل مجہول کو بابِ افعال سے سمجھیں (غور کیجئے گا) ۔
۲۔ ’معاد وجہان پس از مرگ“ ص۳۸۵تا۳۹۳.
۳۔ سورہ ابراہیم، آیت۴۸، اور سورہ انبیاء، آیت۱۰۴.
۴ نہج البلاغہ، صبحی صالح، خطبہ۱۲۶.
۵ نور الابصار، ص۱۴۰، الغدیر اور دیگر کتب.
۶۔ تفسیر نور الثقلین: ج۲، ص۳۹۸.
۷۔ نہج البلاغہ: صبحی صالحی، خطبہ۸۶.
۸۔ مکارم الاخلاق: ص۶۵.
۹ تفسیر نور الثقلین: ج۲، ص۳۹۸.
آیات ۱۰۹،۱۱۰،۱۱۱،۱۱۲
۱۰۹( فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِمَّا یَعْبُدُ هٰؤُلَاءِ مَا یَعْبُدُونَ إِلاَّ کَمَا یَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِیبَهُمْ غَیْرَ مَنقُوصٍ )
۱۰۱۰( وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِیهِ وَلَوْلَاکَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِی شَکٍّ مِنْهُ مُرِیبٍ )
۱۱۱( وَإِنَّ کُلًّا لَمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّکَ اٴَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا یَعْمَلُونَ خَبِیرٌ )
۱۱۲( فَاسْتَقِمْ کَمَا اٴُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَکَ وَلَاتَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ )
ترجمہ
۱۰۹ ۔ جن معبودوں کی پرستش کرتے ہیں تم ان کے بارے میں شک میں نہ پڑنا ۔ یہ تو ان معبودوں کی ایسے ہی پرستش کرتے ہیں جیسے پہلے ان کے آباء واجداد کرتے تھے اور ہم انھیں ان کا حصّہ بے کم وکاست دیں گے ۔
۱۱۰ ۔ ہم نے موسیٰ آسمانی کتاب دی، اس کے بعد ان لوگوں نے اس میں اختلاف کیا اور اگر پہلے سے (ان کی آزمائش اور اتمامِ حجت کے بارے میں ) خدا کا فرمان نہ ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ ہوجاتا ۔
۱۱۱ ۔ اور تیرا پروردگار ہر خص کا عمل بے کم وکاست اسے دے گا وہ ان کی کارگزاری سے آگاہ ہے ۔
۱۱۲ ۔ لہٰذا تمھیں جس طرح حکم ہوا ہے استقامت اختیار کرو اور اسی طرح وہ لوگ بھی جو تیرے ساتھ خدا کی جانب آئے ہیں اور سرکشی نہ کرو کیونکہ جو کچھ تم کرتے ہو خدا اسے دیکھتا ہے ۔
استقامت کا دامن تھامے رکھو
یہ آیات در حقیقت پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی دلجوئی اور تسلّی کی خاطر اور ان کی مسئولیت وذمہ داری بیان کرنے کے لئے نازل ہوئی ہیں ۔
در اصل گزشتہ قوموں کے حالات سے جو اہم نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ پیغمبر اور ان کے بعد سچّے مومنین دشمنوں کی کثرت سے خوفزدہ نہ ہوں اور جس بت پرست اور ظالم قوم کا انھیں سامنا ہے اس کی شکست کے بارے میں شک وشبہ میں نہ پڑ یں اور خدائی امداد پر مطمئن رہیں ۔
اسی لئے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: اس چیز کے بارے میں شک وشبہ میں نہ پڑو کہ جس کی یہ پرستش کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی اسی راستے پر گامزن ہیں جس پر گزشتہ لوگوں کا ایک گروہ گیا ہے اور یہ بھی اسی طرح پرستش کرتے ہیں جیسے پہلے ان کے بڑے کیا کرتے تھے لہٰذا ان کا انجام ان سے بہتر نہیں ہوگا( فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِمَّا یَعْبُدُ هٰؤُلَاءِ مَا یَعْبُدُونَ إِلاَّ کَمَا یَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ ) ۔(۱)
لہٰذا بلافاصلہ فرمایا گیا ہے: ”ہم یقیناً سزا اور عذاب میں سے ان کا حصّہ انھیں بے کم وکاست دیں گے“ اور اگر وہ راہِ حق کی طرف پلٹ آئیں تو ہماری جزا میں ان کا حصّہ محفوظ ہے( وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِیبَهُمْ غَیْرَ مَنقُوصٍ )
باوجودیکہ لفظ ”( موفّوهم ) “ خود حق کی مکمل ادائیگی کے معنی میں ہے لفظ ”( غَیْرَ مَنقُوص ) “(بے کم وکاست) بھی اس مسئلے پر تاکید کے لئے ذکر کیا گیا ہے ۔
در اصل یہ آیت اس حقیقت کو مجسّم کرتی ہے کہ گزشتہ سرگزشت ہم نے پڑھی ہے وہ ناول یا افسانہ نہیں تھا نیز وہ انجام گزشتہ لوگوں کے ساتھ مخصوص نہیں تھا بلکہ یہ ایک ابدی اور جاودانی سنت ہے اور تمام انسانوں کے بارے میں ہے، کل آج اور آئندہ کل کے لئے البتہ یہ عذاب اور سزائیں بہت سی گزشتہ قوموں میں ہولناک اور عظیم بلاوں کی صورت میں عمل پذیر ہوئیں لیکن پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے دشمنوں کے لئے ایک اور شکل میں ظاہر ہوئیں ، وہ صورت یہ تھی کہ خدا نے اپنے پیغمبر کو اس قدر قدرت اور طاقت دی کہ آپعليهالسلام ہٹ دھرم اور بے رحم دشمنوں کو کہ جو کسی طور پر بھی راہِ مستقیم پر آنے کے لئے تیار نہ تھے گروہِ مومنین کے ذریعے درہم وبرہم کرسکیں ۔
دوبارہ پیغمبر اکرم کی تسلّی کے لئے فرمایا گیا ہے: اگر تیری قوم تیری آسمانی کتاب کے بارے میں یعنی قرآن کے متعلق بہانہ جوئی کرتی ہے توپریشان نہ ہو کیونکہ ہم نے موسیٰ کو آسمانی کتاب (تورات) دی تھی، ان کی قوم نے اس میں اختلاف کیا بعض نے قبول کرلیا اوربعض نے انکار کردیا( وَلَقَدْ آتَیْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِیهِ ) ۔
اگر تم دیکھتے ہو کہ تمھارے دشمنوں کو سزا دینے کے بارے میں ہم جلدی نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قوم کی تعلیم وتربیت اور ہدایت کے حوالے سے جو مصلحتیں ہیں وہ ایسا تقاضا نہیں کرتیں اور اگر یہ مصلحت نہ ہوتی اور وہ پروگرام جو تیرے پروردگار نے اس سلسلے میں پہلے سے شروع کررکھا ہے تاخیر کا تقاضا نہ کرتا تو لازماً ان کے درمیان فیصلہ ہوجاتا اور سزا انھیں دامنگیر ہوجاتی( وَلَوْلَاکَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ ) ۔ اگرچہ انھیں اس حقیقت کا ابھی تک یقین نہیں آیا اور اس کے بارے میں اسی طرح شک وشبہ میں ہیں ایسا شک وشبہ جس میں سوءِ ظن اور بدبینی کی آمیزش ہے( وَإِنَّهُمْ لَفِی شَکٍّ مِنْهُ مُرِیبٍ ) ۔(۲)
”مُرِیب“ مادہ ”ریب“ سے ایسے شک وشبہ کے معنی میں ہے جو بد بینی، سوء ظن اور مخالف قرائن کی آمیزش رکھتا ہو، اس بناء پر اس لفظ کا مفہوم یہ ہوگا کہ بُت پرست نہ صرف حقانیتِ قرآن کے بارے میں اور تباہ کاروں پر نزولِ عذاب کے معاملے میں شک کرتے ہیں بلکہ مدّعی ہیں کہ اس کے خلاف قرائن بھی ہمارے پاس ہیں ۔
”اس قوم کے لوگ ابھی تک کتاب موسیٰ کے بارے میں تردّد وشک میں ہیں “۔
لیکن بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ پہلی ضمیر مشرکینِ مکّہ اور دوسری قرآن (یا ان کی سزا اور عذاب) کی طرف لوٹتی ہے اس طرف توجہ کرتے ہوئے قبل اور بعد کی آیات پیغمبر اسلام کی دلجوئی اور تسلّی کے لئے ہیں ، دوسری تفسیر زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے اور ہم نے بھی متن میں اسی ہی منتخب کیا ہے ۔
”راغب “ نے مفردات میں ”ریب“ کا معنی شک کیا ہے کہ جس سے چہرے سے بعد میں پردہ اٹھ جائے اور وہ یقین میں بدل جائے، اس بناء پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ عنقریب تیری دعوت کی حقانیت سے اور اسی طرح تباہ کاروں کی سزا اور عذاب سے پردہ اٹھ جائے گا اور حقیقتِ امر ظاہر ہوگی ۔
مزید تاکید کے لئے اضافہ کیا گیا ہے: تیرا پروردگار ان دو گروہوں (مومنین اور کافرین) میں سے ہر ایک کو ان کے اعمال کو پوری جزا دے گا اور ان کے اعمال بے کم وکاست خود انہی کی تحویل میں دے دے گا( وَإِنَّ کُلًّا لَمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّکَ اٴَعْمَالَهُمْ ) ۔ خدا کے یہ کام مشکل نہیں کیونکہ وہ ہر چیز سے آگاہ ہے اور جو کچھ بھی انجام دیتے ہیں اس سے باخبر ہے( إِنَّهُ بِمَا یَعْمَلُونَ خَبِیرٌ ) ۔
یہ بات جاذب نظر ہے کہ فرمایا گیا ہے کہ ہم انھیں ان کے اعمال دے دیں گے اور یہ مسئلہ تجسیمِ اعمال کی طرف ایک اور اشارہ ہے اور اس بات کی طرف نشاندہی ہے کہ جزا اور سزا دراصل انسان کے اعمال ہی کی مختلف شکل ہے جو اس تک پہنچ جاتے ہیں ۔
گزشتہ انبیاء اور قوموں کی سرگزشت اور ان کی کامیابی کی رمزِ بیان کرنے کے بعد اور اسی طرح پیغمبر اسلام کی دلجوں ئی اور ان کے ارادے کی تقویت کے بعد اگلی آیت میں پیغمبر اکرم کو اہم ترین حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: استقامت وپامردی اختیار کرو جیسا کہ تمھیں حکم دیا گیا ہے( فَاسْتَقِمْ ) ۔
تبلیغ وارشاد کی راہ میں استقامت اختیار کرو، جہاد وپیکار کے راستے میں استقامت اختیار کرو، خدائی ذمہ داریوں کی انجام دہی اور تعلیماتِ قرآن کو عملی کل دینے میں استقامت اختیار کرو۔ لیکن یہ استقامت اِسے اور اُسے خوش کرنے کے لئے نہ ہو، نہ ظاہرداری اور ریاکاری کے لئے ہو، نہ غلبے اور تسلط کے لئے، نہ مقام ومنصب اور ثروت ودولت کے لئے ہو اور نہ طاقت واقتدار کے لئے ہو، بلکہ صرف فرمانِ خدا کی خاطر ہو اور جس طرح تجھے حکم دیا گیا اسی طرح ہونا چاہیے( کَمَا اٴُمِرْتَ ) ۔
لیکن یہ حکم صرف تجھ سے مربوط نہیں تمھیں بھی استقامت کرنا چاہیے ”اور وہ تمام لوگ بھی جو شرک سے ایمان کی طرف لوٹے ہیں اور انھوں نے الله کی دعوت کو قبول کیا ہے“( وَمَنْ تَابَ مَعَکَ ) ۔
ایسی استقامت جو افراط وتفریط سے پاک ہو، جو کمی بیشی سے خالی اور جس میں سرکشی نہ ہو( وَلَاتَطْغَوْا ) کیونکہ خدا تمھارے اعمال سے آگاہ اور باخبر ہے اور حرکت وسکون، گفتگو اورپروگران اس سے مخفی نہیں ہے( إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ ) ۔
پُر معنی اور روح فرسا آیت
ابن عباس سے مروی ایک مشہور حدیث میں ہے:
ما نزل علیٰ رسول الله (ص) آیة کانت اٴشد علیه ولا اٴشق من هٰذه الآیة،ولذلک قال لاٴصحابه حین قالوا اٴسرع الیک الشبیب یا رسول الله! شیبتی هود والواقعة.
پیغمبرِ خدا پر اس آیت سے زیادہ شدید اور گراں آیت نازل ہوئی، اسی لئے جب اصحاب نے آنحصرت سے پوچھا کہ یا رسول الله! آپ کے بال اتنی جلدی کیوں سفید ہوگئے اور پیری کے آثار اتنی جلدی کیوں نازل ہوگئے تو آپ نے فرمایا: مجھے سورہ واقعہ نے بوڑھا کردیا ہے ۔(۳)
ایک اور روایت میں ہے کہ جس وقت مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے فرمایا:
شمروا، شمروا، فما رئی ضاحکاً .
دامن سمیٹ لو، دامن سمیٹ لو (کہ کام اور کوشش کا وقت ہے) اور اس کے بعد آپ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔(۴)
اس کی دلیل بھی واضح ہے کیونکہ اس آیت میں چار اہم احکام موجود ہیں کہ جن میں سے ہر ایک انسان کے کندھے پر بارِگراں کی مانند ہے ۔
ان میں سے سب سے اہم حکم استقامت ہے ”استقامة“ جو ”قیام“ کے مادہ سے لی گئی ہے، اس لحاظ سے کہ انسان حالتِ قیام میں اپنے کام کاج پر زیادہ مسلط ہوتا ہے ۔
استقامت جو طلبِ قیام کے معنی میں ہے یعنی اپنے آپ میں ایسی حالت پیدا کر کہ تجھ میں سُستی کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ کیسا سخت اور سنگین حکم ہے ۔
ہمیشہ کامیابیاں حاصل کرنا نسبتاً آسان کام ہے لیکن ان کی نگہداشت کرنا اور انھیں محفوظ رکھنا بہت ہی مشکل ہے وہ بھی ایسے معاشرے میں جو پسماندہ اور عقل ودانش سے دُور ہو، ایسے لوگوں کے مقابلے میں جو ہٹ دھرم اور سخت مزاج ہوں ( کثیراور مصمم ارادے والے دشمنوں کی درمیان) صحیح، سالم، سربلند، باایمان اور آگے بڑھنے والے معاشرے کی تعمیر کے راستے میں استقامت کوئی آسان کام نہیں تھا ۔
دوسرا حکم یہ کہ یہ استقامت ایسی ہو کہ اس کا ہدف صرف خدائی ہو اور اس کا سبب حکمِ خدا ہو اور یہ ہر قسم کے شیطانی وسوسے سے دور رہے یعنی بہت بڑی سیاسی اور اجتماعی طاقت ہاتھ میں لینے کے لئے ہو اور وہ بھی صرف خدا کی خاطر ۔
تیسرا مسئلہ ان لوگوں کی رہبری کا ہے کہ جو راہ حق کی لوٹے ہیں اور انھیں استقامت پر ابھارنا اور آمادہ کرنا ہے، اور
چوتھا حق وعدالت کے راستے میں جہاد کی رہبری کرنا اور ہر قسم کے تجاوز اور سرکشی کو روکنا ہے کیونکہ اکثر ایساہوتا ہے کہ بہت سے افرا مقصد تک پہنچنے کے لئے انتہائی استقامت وپامردی دکھاتے ہیں لیکن عدالت کا لحاظ نہیں رکھتے اور وہ اکثر اوقات طغیان وسرکشی اور حد سے تجاوز کرنے لگتے ہیں ۔
جی ہاں ! یہ تمام احکام جمع ہوگئے اور پیغمبر اکرم پر ذمہداریوں کا ایسا بوجھ لاد دیا کہ آپ نے مسکرانا چھوڑدیا اور آپ کو بوڑھا کردیا ۔
بہرحال یہ حکم صرف کل کے لئے نہیں تھا بلکہ آج کے لئے اور آئندہ کل اور اس کے بعد کے لئے بھی ہے ۔
آج بھی ہم مسلمانوں کی ذمہ داری، خصوصاً رہبرانِ اسلام کی ذمہ داری کا خلاصہ یہی چار جملے ہیں : استقامت، خلوص، مومنین کی رہبری اور سرکشی وتجاوز سے اجتناب، اور ان اصولوں کو پلّے باندھے بغیر ان دشمنوں پر کامیابی ممکن نہیں جنھوں نے داخلی اور خارجی طور پر ہمار احاطہ کررکھا ہ اور جو تمام ثقافتی، فرہنگی، سیاسی، اقتصادی، اجتماعی اور فوجی وسائل ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں ۔
____________________
۱۔ ”مِریَة“ (بروزن ”جزیہ“ اور بروزن ”قریَة“بھی آیا ہے) عزم وارادے میں تردّد وشک کے معنی میں ہے ، بعض نے اسے ایسے شک کے معنی میں لیا ہے جس میں قرائنِ تہمت موجود ہوں ، بنیادی طور پر اس کا معنی اوٹنی کے پستان سے دودھ دوھ لینے کے بعد اسے اس امید پر نچوڑنا کہ اگر کچھ دودھ پستان میں باقی ہے تو وہ نکل آئے، یہ کام چونکہ تردّد وشک کے عالم میں انجام پاتا ہے لہٰذا اس لفظ کا اطلاق ہر قسم تردّد وشک پر ہونے لگا ۔
۲۔ اس بارے میں اس آیت میں ”ھم“ کی ضمیرز اور اسی طرح ”منہ“ کی ضمیر کس طرف لوٹتی ہے، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے،بعض کا نظریہ ہے کہ ”ھم“کی ضمی قومِ موسیٰ کی طرف اور ”منہ“کی ضمیر کتاب موسیٰ کی طرف لوٹتی ہے اور آیت کا معنی یوں ہے:
۳۔ تفسیر مجمع البیان: ج۵، ص۱۹۹.
۴ درّا لمنثور: مذکورہ آیت کے ذیل میں
آیت ۱۱۳
۱۱۳( وَلَاتَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّکُمْ النَّارُ وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اٴَوْلِیَاءَ ثُمَّ لَاتُنصَرُونَ )
ترجمہ
۱۱۳ ۔ ظالموں پر بھروسہ نہ کرو کہ جو اس بات کا باعث ہوگا کہ آگ تمھیں چھُولے اور اس حالت میں خدا کے سوا تمھارا کوئی ولی وسرپرست نہیں ہوگااور تمھاری مدد نہیں کی جائے گی ۔
ظالموں پر بھروسہ نہ کرو
یہ آیت ایک نہایت بنیادی، اجتماعی، سیاسی، فوجی اور نظریاتی لائحہ عمل بیان کررہی ہے، تمام مسلمانوں کو مخاطب کرکے ان کی ایک قطعی اور حتمی ذمہ داری کے طور پر ان سے کہا گیا ہے: ان لوگوں پر بھروسہ نہ کرو کہ جنھوں نے ظلم وستم کیا ہے، نہ اُن پر اعتماد کرو، نہ ان کا سہارا لو اور نہ پر تمھارا تکیہ ہو( وَلَاتَرْکَنُوا إِلَی الَّذِینَ ظَلَمُوا ) ۔ کیونکہ اس کام کے سبب آتشِ جہنم کا عذاب تمھیں دامنگیر ہوجائے( فَتَمَسَّکُمْ النَّارُ ) ۔ اور خدا کے علاوہ تمھارا کوئی ولی، سرپرست اور یاور نہ ہوگا( وَمَا لَکُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اٴَوْلِیَاءَ ) ۔ اور واضح رہے کہ اس حالت میں کوئی تمھاری مدد نہیں کرے گا( ثُمَّ لَاتُنصَرُونَ ) ۔
چند قابلِ توجہ نکات
۱ ۔ ”رکون“ کا مفہوم:
”رکون“ مادہ ”رُکن“ سے ستون اور ان دیواروں کے معنی میں ہے جو کسی عمارت یا دوسری چیزوں کو کھڑا کئے رکھتی ہیں ، بعد ازاں یہ لفظ کسی پر اعتماد اور تکیہ کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔
مفسرین نے سا آیت کے ذیل میں اس لفظ کے لئے بہت سے معانی ذکر کئے ہیں لیکن وہ سب یا ان میں سے زیادہ تر ایک جامع اور کلی مفہوم کی طرف لوٹتے ہیں مثلاً بعض نے اس کا معنی ”تمایل“ کیا ہے، بعض نے ہمکاری“، بعض نے ”اظہارِ رضایت“ یا ”دوستی“، بعض نے ’خیرخواہی“ اور بعض نے اس کا معنی ”اطاعت“کیا ہے کہ جو سب کے سب تکیہ، اعتماد اور وابستگی کے جامع مفہوم میں جمع ہیں ۔
۲ ۔ کِن امور میں ظالموں سے وابستگی نہیں کرنی چاہیے:
واضح رہے کہ سب سے پہلے تو ان ظلم وستم میں شرکت نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ایسے کام میں ان سے مدد لینا چاہیے ۔ اس کے بعد ان چیزوں میں ان سے تعلق نہیں رکھنا چاہیے جو اسلامی معاشرے کے ضعف وتوانائی کا باعث ہو، استقلال اور خود کفالت کھودینے کا سبب ہو اور ایک عضوِ ناتواں اور وابستہ میں تبدیل کردینے کا ذریعہ ہو، ایسے امور میں ان پر اعتماد اور بھروسہ نہیں کرنا کرنا چاہیے کیونکہ ایسے سہاروں کا نتیجہ اسلامی معاشروں کے لئے شکست، ناکامی اور کمزوری کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا ۔
باقی رہا مثال کے طور پر مسلمانوں کا غیر مسلمان معاشروں سے تجارتی یا علمی روابط ایس بنیاد پر رکھنا کہ اسلامی معاشروں کے مفادات، استقلال اور ثبات محفوظ رہیں تو ایسے روابط ظالمین سے ”رکون“ اور وابستگی کے مفہوم میں داخل نہیں اور نہ ہی اسلام کی نظر میں ایسی کوئی چیز ممنوع ہے، خود پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اور بعد کے ادوار میں ہمیشہ ایسے روابط موجود رہے ہیں ۔
۳ ۔ ظالموں سے وابستگی کی حرمت کا فلسفہ:
ظالموں پر تکیہ کرنا ان کی تقویت کا باعث ہے اور ان کے تقویت معاشروں میں ظلم، فساد اور تباہی پھیلانے کا باعث ہے ۔
احکامِ اسلامی میں ہے کہ جب تک انسان مجبور نہ ہو (بلکہ جب تک اوقات مجبور بھی ہو تب بھی) ظالم کے مقرر کردہ قاضی کے ذریعے اپنا حق حاصل نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ایسے جج اور ایسی حکومت کی طرف احقاقِ حق کے رجوع کرنے کا مفہوم ضمنی طور پر اس حکومت کو تسلیم کرنا اور اس سے تقویت پہنچانا ہے اور اس کا کام ضرر بعض اوقات اپنا حق کھودینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔
ظالموں پر بھروسہ تدریجاً معاشرے کی ثقافت وتمدن کے فکری پہلووں پر اثرانداز ہوتا ہے، رفتہ رفتہ ظلم اور گناہ کی برائی اور قباحت کا تصور ختم کردیتا ہے اور لوگوں کو ظلم کرنے اور ظالم بننے کی ترغیب دیتا ہے ۔
اصولی طور پر دوسروں پر تکیہ کرنا کہ جو وابستگی کی صورت میں ہو اس کا نتیجہ سوائے بدبختی کے کچھ نہیں چہ جائیکہ ظالم اور ستمگر پر ایسا بھروسہ کیا جائے ۔
ایک آگے بڑھنے والا، سربلند اور قوی معاشرہ وہ ہے جو اپنے پاوں پر کھڑا ہو جیسا کہ سورہ فتح کی آیہ ۲۹ میں قرآن ایک خوبصورمثال میں فرماتا ہے:( فَاسْتَویٰ عَلیٰ سُوْتِهِ ) ۔
سرسبز پوردے کی طرح کہ جو اپنے پاوں پر کھڑا ہو اور زندہ وسرفراز رہنے کے لئے کسی دوسری چیز سے وابستگی رکھتا ہو۔
ایک بااستقلال اور آزاد معارہ وہ ہے جو ہر لحاظ سے خود کفیل اور خود کفایت ہو اور دوسروں سے اس کا ارتباط برابر کے منافع کی بنیاد پر ہو، نہ کہ ایک ضعیف کے طاقتور پر بھروسہ سے اور انحصار کی بنیاد پر، یہ وابستگی چاہےفکری اور ثقافتی ہو یا فوجی، اقتصادی اور سیاسی ہو، ورنہ اس ما نتیجہ غلامی اور استعمار کے اور کچھ اور برآمد نہیں ہوگا اور اگر یہ وابستگی ظالموں کے ساتھ ہو تو اس کانتیجہ ان کے ظلم سے وابستگی اور ان کے پروگراموں میں شرکت ہوگا ۔
البتہ مندرجہ بالا آیت کا حکم معاشرے کے روابط کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دو افراد کے ایک دوسرے ے رابطے کے بارے میں بھی ہے یہاں تک کہ ایک آزاد با ایمان شخص کو کبھی بھی ایک ظالم وستمگر کا سہارا نہیں لینا چاہیے ورنہ وہ اپنا استقلال گنوا بیٹھے گا، اس کے دائرہ ظلم وستم کی طرف کھینچ جائے گا اور فساد وبے دادگری کی تقویت ووسعت کا باعث بھی ہوگا ۔
۴ ۔”( الذین ظلموا ) “ سے مراد کون لوگ ہیں ؟
اس سلسلے میں مفسرین نے بہت سے احتمالات ذکر کئے ہیں ، بعض نے ان سے مشرکین مراد لئے ہیں لیکن جیسا کہ بعض دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ انھیں مشرکین میں منحصر سمجھنے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے اگر نزولِ آیت کے وقت ظالمین کا مصداق مشرک تھے تب بھی منحصر کرنے کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے، جیساکہ روایات میں اس لفظ کی جو مشرکین کے ساتھ تفسیر کی گئی ہے وہ بھی انحصار کی دلیل نہیں بنتی، کیونکہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ ایسی روایات واضح اور آشکار مصداق بیان کرتی ہیں ۔
اس بناء پر وہ تمام اشخاص جنھوں نے بندگانِ خدا پر ظلم اور فساد کے لئے ہاتھ دراز کئے ہیں ، انھیں اپنا غلام بنایا ہے اور ان کی قوت واستعداد سے اپنے لئے فائدہ اٹھایا ہے ”الذین ظلموا“کے عام مفہوم میں داخل ہیں اور آیت کے مصادیق میں سے ہیں لیکن مسلّم ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی میں کسی چھوٹے ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں اور کبھی اس عنوان کے مصداق تھے اس کے مفہوم میں داخل نہیں ہیں ورنہ اس صورت میں تو بہت کم افراد ہی اس سے مستثنیٰ ہوئے ہوں گے اور پھر کسی شخص پر اعتماد اور بھروسہ کرنا جائز نہیں رہے گا ہاں البتہ اگر ”رکون“ کا معنی ظلم وستم کے پہلو پر اعتماد اور بھروسہ کیا جائے تو پھر وہ اشخاص بھی اس کے مفہوم میں شامل ہوں گے جنھوں نے ایک ہی مرتبہ ظلم میں ہاتھ آلودہ کئے ہیں ۔
۵ ۔ ایک اشکال اور اس کی وضاحت:
بعض اہل سنّت مفسّرین نے یہاں ایک اشکال پیش کیا ہے جس کا جواب اُن کے مبانی رُو سے ہرگز آسان نہیں ہے اور وہ یہ کہ ایک طرف ان کی روایات میں آیا ہے کہ ضروری ہے سلطانِ وقت کو ”اولوالامر“ سمجھتے ہوئے اس کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے چاہے وہ کوئی بھی ہو مثلاً انھوں نے پیغمبر اکرم سے ایک حدیث میں یوں بیان کیا ہے:
تم پر لازم ہے کہ سلطان اور بادشاہ کی اطاعت کرو۔”( وان اٴخذ مالک وضرب ظهرک ) “
(اگرچہ وہ تمھارا مال لے لے اور تمھاری پشت پر تازیانے لگائے) ۔
اسی طرح اور روایات بھی ہیں کہ جو وسیع معنی کے لحاظ سے اطاعتِ سلطان کی تاکید کرتی ہیں ، جبکہ دوسری طرف مندرجہ بالا آیت کہتی ہے کہ ظالم افراد پر تکیہ واعتماد نہ کرو۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان دونوں احکام کو ختم کریں اور یہ کہ بادشاہ کی اطاعت اس وقت تک ضروری ہے جب تک وہ عصیان ونافرمانی کی راہ پر نہ چلے اور کفر کے راستے پر قدم نہ رکھے ۔
لیکن ان روایات کا لب ولہجہ اطاعتِ سلطان کے لئے ہرگز اس استثناء سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔
بہرصورت ہماری فکر یہ ہے کہ جس طرح مکتبِ اہلِ بیتعليهالسلام میں آیا ہے کہ صرف اس حاکم اور متولی امورِ مسلمین کی اطاعت ضروری ہے جو عالم وعادل ہو اور جو عام مفہوم کے اعتبار سے پیغمبر اکرم اور امام معصومعليهالسلام کا جانشین شمار ہوسکے، نیز اگر بنی امیہ اور بنی عباس کے بادشاہوں نے اپنے مفاد کے لئے اس سلسلے میں کچھ حدیثیں گھڑ لی ہیں تو وہ کسی طرح بھی ہمارے مکتب کے اصول اور ان تعلیمات کے ہم آہنگ نہیں ہیں جو قرآن سے لی گئی ہیں ، ایسی روایات اگر قابل تخصیص ہیں تو انھیں تخصیص دی جائے ورنہ انھیں بالکل چھوڑدیا جائے کیونکہ جو روایت کتاب الله کے خلاف ہو وہ مردود ہے، قرآن کی صراحت ہے کہ مومنین کا امام اور پیشوا ظالم نہیں ہوسکتا اور زیرِ بحث آیت بھی صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ ظالموں کا سہارا نہ لو اور ان پر اعتماد نہ کرو، یا پھر ایسی روایات کو ضرورت اور مجبوری کی حالت کے ساتھ مخصوص قرار دیا جائے ۔
آیات ۱۱۴،۱۱۵
۱۱۴( وَاٴَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفِی النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّئَاتِ ذٰلِکَ ذِکْریٰ لِلذَّاکِرِینَ )
۱۱۵( وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللهَ لَایُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ )
ترجمہ
۱۱۴ ۔ نماز کو دن کے دو اطراف اور ابتدائے رات میں بپا کرو کیونکہ نیکیاں برائیوں (اور ان کے آثار) کو برطرف کردیتی ہیں ، یہ تذکرہ ہے ان لوگوں کے لئے جو اہلِ ذکر ہیں ۔
۱۱۵ ۔ اور صبر کرو کہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔
نماز اور صبر
ان آیات میں اسلامی احکام میں سے دو اہم ترین نشاندہی کی گئی ہے جو در حقیقت روحِ ایمان اور رکنِ اسلام ہیں ۔
پہلے نماز کا حکم دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: نماز کو دن کے دو اطراف میں اور اوائل شب میں قائم کرو( وَاٴَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفِی النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ ) ۔
”( طَرَفِی النَّهَارِ ) “ (یعنی دن کے دوطرف)، ظاہراً یہ تعبیر صبح اور مغرب کی نماز کے بارے میں ہے جو دن کے دو اطراف میں قرار پائی ہیں اور ”زُلف“ کہ جو ”زُلفہ“ کی جمع ہے نزدیکی کے معنی میں رات کے ابتدائی حصّوں پر ہے کہ جو دن کے قریب بولا جاتا ہے اس بناء پر بہ لفظ نمازِ عشاء پر منطبق ہوگا، روایاتِ اہلِ بیتعليهالسلام میں بھی یہی تفسیر وارد ہوئی ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں تین نمازوں (فجر، مغرب اور عشاء) کی طرف اشارہ ہے ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پنجگانہ نمازوں میں سے صرف تین نمازوں فجر، مغرب اور عشاء کا ذکر کیوں ہوا ہے اور ظہر ومصر کی نمازوں کے بارے میں گفتگو نہیں کی گئی ہے؟
اس سوال کا جواب پیچیدہ ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض مفسّرین نے ”طَرَفِی النَّھَارِ“ کا مفہوم اس قدر وسیع لیا ہے کہ اس میں فجر،ظہر، عصر اور مغرب سب کو شامل کرلیا ہے اور ”زلفاً من اللّیل“ کی تعبیر کہ جو نماز عشاء کے لئے ہے اس کے ساتھ پانچ نمازوں کی گنتی پوری کرلی ہے ۔
لیکن انصاف یہ ہے کہ ”طرفی النہار“ کے الفاظ ایسی تفسیر کی تاب نہیں رکھتے خصوصاً اس طرف توجہ رکھتے ہوئے کہ صدر اوّل کے مسلمان پابندی سے نماز ظہر کو اول وقت میں اور نماز عصر کو درمیانے وقت میں (زوال اور غروب آفتاب کے درمیان) انجام دیتے تھے ۔
یہاں جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ آیاتِ قرآن میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہوا ہے مثلاً:
( اٴَقِمْ الصَّلَاةَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ إِلیٰ غَسَقِ اللَّیْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ) (بنی اسرائیل/ ۷۸)
کبھی تین نمازوں کا ذکر ہے جیسے محلِ بحث آیت اور کبھی صرف ایک نماز کا تذکرہ ہے، مثلاً:
( حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِینَ ) (البقرہ/ ۲۳۸)
اس بناء پر ضروری نہیں کہ ہر موقع پر تمام پانچ نمازوں کا ایک ساتھ ذکر ہو۔ خصوصاًیہ کہ کبھی مناسبات کا تقاضا ہوتاہے کہ صرف نماز ظہر (صلوٰة الوسطیٰ) کی اہمیت کے پیش نظر اسی کا ذکر کیا جائے اور کبھی فجر، مغرب، اور عشاء ہی کے ذکر کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ کبھی خستگی اور تکان کی وجہ سے یا نیند کی بناء پر ہوسکتا ہے یہ نمازیں معرضِ فراموشی میں چلی جائیں ۔
اس کے بعد روزانہ نماز نمازوں کے لئے خصوصاً اور تمام عبادات، اطاعات اور حسنات کے لئے عموماً فرمایا گیا ہے: نیکیاں برائیوں کو برطرف کردیتی ہیں( إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّئَاتِ ) اور یہ ان کے لئے تذکر اور یادہانی ہے جو توجہ رکھتے ہیں( ذٰلِکَ ذِکْریٰ لِلذَّاکِرِینَ ) ۔
یہ آیت قرآن کی دیگر آیات کی طرح بتاتی ہیں کہ نیک اعمال کی تاثیر یہ ہے کہ وہ بُرے اعمال کے اثرات کو برطرف کردیتے ہیں ، سورہ نساء کی آیت ۳۱ میں ہے:( إِنْ تَجْتَنِبُوا کَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ )
”اگر بڑے گناہوں سے اجتناب کرو تو ہم تمھارے چھوٹے گناہوں کو چھپادیں گے“۔
اور سورہ عنکبوت کی آیہ ۷ میں ہے:( وَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُکَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّئَاتِهِمْ )
”وہ لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال انجام دیئے ہم ان کے گناہوں کو چھپادیں گے ۔
اسی طرح اطاعت اور نیک اعمال کے ذریعے گناہوں کے اثرات زائل ہونا ثابت کیا گیا ہے ۔
نفسیاتی طور پر بھی اس میں شک نہیں کہ ہر گناہ اور بُر عمل انسانی روح میں ایک طرح کی تاریکی پیدا کردیتا ہے اور اگر اسے جاری رکھا جائے تو اس کے پیہم اور تہ بہ تہ اثرات انسان کو ایک وحشتناک صورت میں مسخ کردیتے ہیں ۔
لیکن نیک اعمال کہ جن کا سرچشمہ رضائے الٰہی ہوتا ہے روحِ انسانی کو ایک لطافت بخشتے ہیں کہ جو اس سے آثار گناہ دھودیتے ہیں اور ان تاریکیوں کو روشنی میں بدل دیتے ہیں ۔
”( إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّئَاتِ ) “ چونکہ نماز کے حکم کے بعد فوراً ٰآیا ہے اس لئے اس کا ایک واضح مصداق روزانہ نماز ہے اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ روایات میں اس کی تفسیر صرف روزانہ کی نماز ہوئی ہے تو وہ اس کے منحصر ہونے کی دلیل نہیں بلکہ جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے یہ ایک واضح قطعی مصداق بیان کیا گیا ہے ۔
نماز کی انتہائی اہمیت
متعدد روایات جو مندرجہ بالا آیت کے ذیل میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے نقل ہوئی ہیں ان میں کچھ ایسی تعبیرات نظر آتی ہیں جو مکتبِ اسلام میں نماز کی اہمیت سے پردہ اٹھاتی ہیں ۔
ابوعثمان کہتا ہے: مَیں سلمان فارسی کے ساتھ ایک درخت کے نیچے بیٹھا تھا، انھوں نے درخت کی ایک خشک شاخ پکڑکر ہلائی یہاں تک کہ اس کے سارے پتے جھڑگئے، اس کے بعد میری طرف رخ کرکے کہا: تُو نے پوچھا نہیں کہ مَیں نے یہ کام کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: بتائیے آپ کی اس کام سے کیا مراد تھی؟ انھوں نے کہا: یہی کام ایک مرتبہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے انجام دیا تھا، جب میں ان کی خدمت میں ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا، اس کے بعد رسول نے مجھ سے کہا: سلمان پوچھتے نہیں ہو کہ میں نے ایسا کیوں کیا، میں نے عرض کیا: فرمائیے آپ نے کیاس کیوں کیا تو آپ نے فرمایا:انّ المسلم اذا توضاٴ فاٴحسن الوضوء ثمّ صلی الصلوات الخمس تحاتت خطایاه کما تحات هذا الورق ثمّ قرء هذه الآیة وَاٴَقِمْ الصَّلَاةَ ....
جب مسلمان وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر وہ پنجگانہ نماز ادا کرتا ہے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑجاتے ہیں جیسا کہ اس شاخ کے پتے جھڑگئے ہیں ، اس کے بعد آپ نے یہ آیت ”( وَاٴَقِمِ الصَّلَاةَ ) ....“کی تلاوت فرمائی ۔(۱)
ایک اور حدیث رسول الله کے صحابی ابی امامہ سے مروی ہے، ابی امامہ کہتے ہیں : ایک دن میں مسجد میں رسول الله کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا، اس نے عرض کی: اے الله کے رسول! میں نے ایک گناہ کیا ہے کہ جس کی وجہ سے مجھ پر حد لازم ہوجاتی ہے، وہ حد مجھ پر جاری کیجئے، فرمایا: کیا تُو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے؟ اُس نے عرض کی: جی ہاں یا رسول الله! فرمایا: خدا نے تیرا گناہ یا تیری حد بخش دی ہے ۔(۲)
نیز حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے، آپ فرماتے ہیں : مَیں رسولِ خدا کے ساتھ مسجد میں نماز کے انتظار میں تھا کہ ایک شخص کھڑا ہوگیا، اس نے عرض کیا: اے الله کے رسول! مَیں نے ایک گناہ کیا ہے، رسول الله نے اس سے منھ پھیر لیا، جب نماز ختم ہوئی تو وہی شخص پھر کھڑا ہوا اور پھلی بات دُہرائی، رسول خدا نے فرمایا: کیا تُونے ہمارے ساتھ نماز یہ نماز ادا کی ہے؟ اور اچھی طرح وضو نہیں کیا؟ اس نے عرض کیا: کیوں نہیں ، آپ نے فرمایا: یہ تیرے گناہوں کا کفارہ ہے ۔(۳)
نیز حضرت علی علیہ السلام ہی کے واسطے سے پیغمبر اکرم سے منقول ہے، آپ نے فرمایا:
انّما منزلة الصلوٰات الخمس لاٴمِتی کنهر جار علیٰ باب اٴحدکم فمایظن اٴحدکم لو کان فی جسده درن ثمّ اغتسل فی ذٰلک النهر خمس مرّات لو کان یبقی فی جسده درن فکذلک والله الصلوٰت الخمس لاٴمتی .
پنجگانہ نماز میری امت کے لئے پانی کی جاری نہر کی طرح ہے کہ جو کسی شخص کے گھر کے دروازے سے گزرتی ہے، کیا تم گمان کرتے ہو کہ اگر اس کے بدن پر میل کچیل ہو اور پھر وہ پانچ مرتبہ روزانہ اس نہر میں غسل کرے تو پھر بھی کوئی میل کچیل اس کے بدن پر رہ جائے گی؟ (یقیناً نہیں ) خدا کی قسم اسی طرح میری امت کے لئے پنجگانہ نماز ہے ۔(۴)
بہرحال اس میں شک وشبہ نہیں کہ جب نماز اپنی شرائط کے انجام پائے تو انسان کو معنویت اور روحانیت کے ایک ایسے عالم میں لے جاتی ہے کہ اس کے ایمانی رشتے خدا کے ساتھ ایسے مستحکم کردیتی ہے کہ آلودگیوں اور گناہوں کے آثار اس کے قلب وجان سے دُھل جاتے ہیں ۔
نماز انسان کا گناہ کے مقابلے میں بیمہ کردیتی ہے اور گناہ کا زنگ آئینہ دل سے صاف کردیتی ہے ۔
نماز ملکاتِ عالی کے پودے انسانی روح کی گہرائیوں میں اُگاتی ہے، نماز ارادے کو قوی، دل کو پاک اور روح کو طاہر کرتی ہے اور اگر نماز جسمِ بے روح کی صورت میں نہ ہو تو تربیت کا اعلیٰ مکتب ہے ۔
قرآن کی نہایت امید افزا آیت
زیرِ بحث آیت کی تفسیر میں حضرت علی علیہ السلام سے ایک عمدہ اور جاذبِ نظر حدیث منقول ہے، جو اس طرح ہے:ایک دن آپ نے لوگوں کی طرف رخِ انور کرکے فرمایا: تمھاری نظرمیں قرآن کی کونسی آیت زیادہ امید بخش ہے؟
بعض نے کہا:( إِنَّ اللهَ لَایَغْفِرُ اٴَنْ یُشْرَکَ بِهِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَشَاءُ ) (۵)
(خدا شرک کو ہرگز نہیں بخشتا اور اس سے کم تر جس شخص کے لئے چاہے بخش دیتا ہے) ۔
امامعليهالسلام نے فرمایا: خوب ہے لیکن جو میں چاہتا تھا وہ نہیں ہے ۔
بعض نے کہا:( وَمَنْ یَعْمَلْ سُوئًا اٴَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرْ اللهَ یَجِدْ اللهَ غَفُورًا رَحِیمًا ) (۶)
(جو شخص کوئی برا عمل انجام دے یا اپنے اوپر ظلم کرے اس کے بعد خدا سے بخشش طلب کرے تو خدا کو غفور ورحیم پائے گا) ۔
بعض نے کہا:( قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ اٴَسْرَفُوا عَلیٰ اٴَنْفُسِهِمْ لَاتُقْنِطُوا مِنْ رِحْمَةِ اللّٰه ) (۷)
(کہہ دو! اے میرے بندو! کہ جنھوں نے اپنے نفسوں پر اسراف کیا ہے! خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا)
فرمایا: اچھی ہے لیکن جو میں چاہتا تھا وہ نہیں ہے ۔
بعض دیگر نے کہا:( وَالَّذِینَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً اٴَوْ ظَلَمُوا اٴَنْفُسَهُمْ ذَکَرُوا اللهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ اللهُ ) (۸)
(پرہیزگار وہ لوگ ہیں جو جب تک بُرا کام انجام دیں یا اپنے اوپر ظلم کریں تو خدا کی یاد میں پڑجاتے ہیں اور اپنے اوپر گناہوں کو بخشش طلب کرتے ہیں اور خدا کے علاوہ کون ہے جو گناہوں کو بخشے گا ۔
امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ بھی اچھی ہے لیکن جو میں چاہتا تھا وہ نہیں ہے ۔
اس وقت لوگ ہر طرف سے امام کی طرف متوجہ ہوئے اور ہمہمہ کیا تو فرمایا: کیا بات ہے مسلمانو! تو وہ عرض کرنے لگے: خدا کی قسم! ہماری نظر میں اس سلسلے میں اور کوئی آیت نہیں ۔
امام نے فرمایا: میں نے اپنے حبیب رسول اللہ سے سنا کہ آپ نے فرمایا:
قرآن کی امید بخش ترین آیت یہ ہے:( وَاٴَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفِی النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّئَاتِ ذٰلِکَ ذِکْریٰ لِلذَّاکِرِینَ ) (۹)
البتہ جیسا کہ ہم ہے سورہ نساء کی آیت ۸۴ کے ذیل می کہا ہے کہ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ قرآن کی زیادہ امید بخش آیت یہ ہے:ا( ِٕنَّ اللهَ لَایَغْفِرُ اٴَنْ یُشْرَکَ بِهِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَشَاءُ )
یعنی ۔ خدا شرک کو نہیں بخشتا اور اس سے کمتر جتنے گناہ ہیں جسے چاہے بخش دے ۔
لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ان آیات میں سے ہر ایک اس بحث کے ایک زاویے کے بارے میں ہے اور اس کے پہلووں میں سے ایک پہلو کو بیان کرتی ہے، لہٰذا ان کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے در حقیقت زیر بحث آیت ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو اپنی نمازیں اچھی طرح سے بجالاتے ہیں ۔ ایسے نماز جو حضور قلب کے ساتھ ہوتی ہے وہ ان کے قلب و روح سے گناہوں کے آثار دھویتی ہے ۔
جبکہ دوسری آیت ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو ایسی نماز کے حامل نہیں اور صرف توبہ کا راستہ اپنا تے ہیں لہٰذا یہ آیت اس گروہ کیلئے اور وہ آیت اس گروہ کے لیے زیادہ امید بخش ہے ۔
اس سے زیادہ امید افزاء بات کیا ہوگی کہ انسان جان یے کہ جس وقت اس پاؤں پھسلے یا ہوا و ہوس کا اس پر غلبہ ہو(جبکہ وہ گناہ پر اصرار نہ کرے اور نہ اس پاؤں گناہ کی طرف کھینچا رہے) وقت نماز آپہنچے تو وہ وضو کرے اور بارگاہ معبود میں راز و نیاز کے لیے کھڑا ہوجائے، گزشتہ اعمال کے بارے میں احساسِ شرمندگی اس میں موجود ہو۔ وہ احساس ندامت کو جو خدا کی طرف توجہ کے لوازمات میں سے ہے، تو اس کا گناہ بخشا جائے گا اور اس گناہ کی تاریکی اس کے دل سے ہٹ جائے گی ۔
نماز کو جو انسان ساز پرواگرام ہے اور حسنات کی یہ تاثیر کہ وہ برائیوں کو ختم کردیتی ہیں ، کے ذکر کے بعد اگلی آیت میں ”صبر“ کا حکم دیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہوتا ہے: صبر کرو کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا( وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللهَ لَایُضِیعُ اٴَجْرَ الْمُحْسِنِینَ ) ۔
اگر چہ بعض مفسرین نے یہاں صبر کو نماز کے معنی میں یا رسول اللہ کے سامنے جو دشمن تھے ان کی اذیت کے مقابلے کے مفہوم میں محدود کردیا ہے لیکن واضح ہے کہ محل بحث آیت میں صبر کے معنی کو محدود کرنے کیلئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ اس کا ایک عمومی اور جامع مفہوم ہے کہ جس مشکلوں ، مخالفتوں ، ایذاؤں ، ہیجانوں ، طغیانوں اور طرح طرح کی مصیبتوں کے مقابلے میں صبر کرنے کا معنی شامل ہے اور ان تمام حوادث کے مقابلے میں پامردی اور قیام صبر کا جامع مفہوم اس میں مندرج ہے ۔
صبر کو جو اسلام کا ایک اساسی حکم ہے قرآن میں کئی مواقع پر اس کا ذکر نماز کے ساتھ آیا ہے ۔ شاید ایسا اس بناء پر ہے کہ نماز انسان میں حرکت پیدا کرتی ہے اور صبر کا حکم مقاومت جب دوش بدوش ہوں تو ہر قسم کی کامیابی اصلی عامل عامل بن جاتے ہیں ۔
اصولی طور پر کوئی نیکی صبر اور استقامت کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ نیک کاموں کے اختتام پذیر ہونے پر حتمی طور پر استقامت لازمی ہے ۔ اسی بناء پر مندرجہ بالا آیت میں صبر کا حکم دیتے کے بعد فرمایا گیا ہے: وہ نیکوں کاروں کی جزا ضائع نہیں کرتا ۔ یعنی نیکی صبر اور قیام کے بغیر میسر نہیں آتی ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ناگوار حوادث کے مقابلے میں مختلف لوگ ردِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔
۱ ۔ کچھ لوگ فوراً اپنے حواس کھو بیٹھے ہیں اور قرآنی ارشاد کے مطابق یہ ہے کہ وہ واویلا شروع کردیتے ہیں ۔ قرآنی الفاظ میں :( اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعاً )
یعنی جب اسے کوئی تکلیف چُھوتی ہے تو جزع وفزع شروع کردیتا ہے ۔ (معارج/ ۲۰)
۲ ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو حواس نہیں گنوا بیٹھتے بلکہ حادثے کے مقابلے میں تحمل وبردباری سے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔
۳ ۔ بعض لوگ تحمل وبردباری کے ساتھ شکرگزاری بھی کرتے ہیں ۔
۴ ۔ کچھ لوگ ایسے حوادث کے مقابلے میں والہانہ جد وجہد کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور حادثے کے منفی اثرات ختم کرنے کے لئے انتظامات کرتے ہیں اور ایسا جہاد شروع کردیتے کہ تھکنے کا نام نہیں لیتے اور جب تک کہ مشکل کو سامنے سے ہٹا نہیں دیتے چین نہیں لیتے ۔
خدا نے ایسے صابروں کے لئے کامیابی کا وعدہ کیا ہے:( إِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ یَغْلِبُوا مِائَتَیْنِ )
اور اگر تم لوگوں میں ثابت قدم رہنے والے بیس بھی ہوئے تو دو سو پر غالب آجاوگے ۔ (انفال/ ۶۵)
اور ان کے لیے دوسرے جہاں کی جزاء نعماتِ بہشت کو قرار دیا گیا ہے:( وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِیرًا )
اور ان کے صبر کے بدلے خدا انھیں باغ بہشت اور ریشمی پوشاک عطا کرے گا ۔ (دہر/ ۱۲)
____________________
۱۔ مجمع البیان: مذکورہ آیت کے ذیل میں ۔
۲۔ مجمع البیان: مذکورہ آیت کے ذیل میں .۳ مجمع البیان: مذکورہ آیت کے ذیل میں
۴۔ مجمع البیان: مذکورہ آیت کے ذیل میں .۵۔ سورہ نساء: آیت۱۱۶.
۶۔ سورہ نساء: آیت۱۱۰.۷۔ سورہ زمر: آیت۵۳.
۸۔ سورہ آل عمران: آیت۱۳۵.۹۔ مجمع البیان، مذکورہ آیت کے ذیل میں
آیات ۱۱۶،۱۱۷
۱۱۶( فَلَوْلَاکَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِکُمْ اٴُوْلُوا بَقِیَّةٍ یَنْهَوْنَ عَنْ الْفَسَادِ فِی الْاٴَرْضِ إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّنْ اٴَنْجَیْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِینَ ظَلَمُوا مَا اٴُتْرِفُوا فِیهِ وَکَانُوا مُجْرِمِینَ )
۱۱۷( وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُهْلِکَ الْقُریٰ بِظُلْمٍ وَاٴَهْلُهَا مُصْلِحُونَ )
ترجمہ
۱۱۶ ۔ تم سے پہلے کے زمانوں (اور قوموں ) میں طاقتور علماء کیوں نہیں تھے کہ جو زمین میں فساد کو روکتے مگر یہ کہ ان میں سے بہت کم تھے کہ جنھیں ہم نے نجات دی اور جو ظلم و ستم کرتے تھے انھوں نے عیش و عشرت اور لذتوں کی پیروی کی اور وہ گنہ گار تھے (اور وہ نابود ہوگئے) ۔
۱۱۷ ۔ اور ایسا نہ تھا کہ تیرا پروردگار آبادیوں کو ظلم و ستم کے باعث نابود کرتا جبکہ ان کے باسی اصلاح کے درپے ہوتے ۔
معاشروں کی تباہی کا سبب
گزشتہ مباحث کی تکمیل کے لیے ان دو آیات میں ایک ایسا اہم نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ جو معاشروں کی تباہی سے نجات کا ضامن ہے اور وہ یہ کہ ہر معاشرے میں جب تک صاحبانِ عقل و فکر کا ایک متعہد اور ذمہ دار گروہ موجود ہے کہ جو مفاسد کو دیکھ کر ساکت اور خاموش ہوکر نہیں بیٹھ جاتا بلکہ ان کے خلاف مقابلے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور فکری و مکتبی حوالے سے لوگوں کی رہبری و رہنمائی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ تو اس صورت میں یہ معاشرہ تباہی اور نابودی کی طرف نہیں جاسکتا ۔
لیکن جب بے اعتنائی اور سکوت ہر سطح اور ہر طبقے میں حکم فرما ہو اور فساد اور برائی کے عوامل کے مقابلے میں معاشرے کا کوئی دفاع نہ ہو اور اس کا کوئی حامی و مددگا رنہ ہو تو پھر فساد اور اس کے پیچھے پیچھے نابودی و تباہی یقینی ہے ۔
پہلی آیت میں ان گزشتہ اقوام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو طرح طرح کی مصیبتوں میں گرفتار تھیں ، ارشاد ہوتا ہے: تم سے پہلے کے قرنوں ، امتوں اور قوموں میں ایسے نیک پاک طاقتور اور صاحب شعور لوگ کیوں نہیں تھے کہ جو زمین میں فساد کو پھیلنے سے روکتے( فَلَوْلَاکَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِکُمْ اٴُوْلُوا بَقِیَّةٍ یَنْهَوْنَ عَنْ الْفَسَادِ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔
اس کے بعد استثناء کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: مگر تھوڑے سے افراد کو جنھیں ہم نے نجات دی( إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّنْ اٴَنْجَیْنَا مِنْهُمْ ) ۔
یہ چھوٹا سا گروہ اگرچہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا رہا، لیکن یہ لوگ لوطعليهالسلام اور ان کے چھوٹے سے خاندان کی مثل نوحعليهالسلام اور ان کے چند ایمان لانے والوں کی طرح اور صالحعليهالسلام اور ان کے چند پیروکاروں کی مانند، اتنے کم اور اس قدر تھوڑے تھے کہ جو پورے معاشرے کی اصلاح نہ کرسکے ۔
بہرحال ظالم کہ جن کی معاشرے میں کثرت تھی ناز ونعمت اور عیش نوشی کے پیچھے لگے رہے اور بادہ غرور اور نعمتوں اور لذّتوں میں اس طرح سے مست ہوئے کہ طرح طرح کے گناہوں میں جاپڑے( وَاتَّبَعَ الَّذِینَ ظَلَمُوا مَا اٴُتْرِفُوا فِیهِ وَکَانُوا مُجْرِمِینَ ) ۔
اس کے بعد اس حقیقت پر زرو دینے کے لئے اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: یہ تم دیکھ رہے ہو کہ خدا نے اس قوم کو دیارِ عدم کی طرف بھیج دیا تو یہ اس اس بناء پر تھا کہ ان کے درمیان اصلاح کرنے والے نہ تھے، کیونکہ خدا کسی قوم وملت اور شہر ودیار کو اس کے ظلم کی وجہ سے نابود نہیں کرتا اگر وہ اصلاح کی طرح قدم اٹھالے( وَمَا کَانَ رَبُّکَ لِیُهْلِکَ الْقُریٰ بِظُلْمٍ وَاٴَهْلُهَا مُصْلِحُونَ ) ۔ کیونکہ عام طور پر ہر معاشرے میں ظلم اور برائی ہوتی ہے لیکن اہم یہ ہے کہ لوگ اس ظلم اور برائی کا احساسکریں اور خدا انھیں اصلاح کے لئے اقدام کی مہلت دیتا ہے اور قانونِ آفرینش ان کے لئے حقِ حیات کا قائل ہے لیکن جب یہ احساس ختم ہوجاتا ہے ، معاشرے بے پرواہی اور لااُبالی کا شکار ہوجاتے ہیں اور ظلم وفساد پوری طرح چھاجاتا ہے تو یہ ایسی منزل ہوتی ہے کہ سنتِ فطرت کے مطابق ان کے لئے زندہ رہنے کا حق نہیں رہتا، اس حقیقت کو ایک مثال واضح سے بیان کیا جاسکتا ہے ۔
انسانی بدن میں ایک قوتِ مدافعت موجود ہوتی ہے، یہ قوتِ مدافعت خون کے سفید گلبول کی صورت میں ہوتی ہے، جب یہ ہَوا، آب وغذا اور چمڑے کی خراش وغیرہ کے ذریعے بیرونی جراثیم بدن کے اندر حملہ آور ہوتے ہیں تو خون کے یہ سفید ذرّات سپاہیوں کی طرح ان کے مقابلے میں قیام کرتے ہیں اور انھیں نابود کرتے ہیں یا کم از کم ان کے پھیلاو کو روکتے ہیں ، ظاہر ہے کہ اگر کسی دن لاکھوں سپاہیوں کا یہ عظیم لشکر کمزور پڑجائے اور بدن کا دفاع نہ کرسکے تو بدن مضر جراثیموں کے تخت وتاراج کا میدان بن جائے گا اور طرح طرح کی بیماریاں اس پر حملہ آور ہوجائیں گی ۔
پورے انسانی معاشرے کی بھی یہی کیفیت ہے، اگر مدافع قوت اور محافظ لشکر کہ جسے ”اولوا بقیة“ کہا گیا ہے ہٹ جائے تو اجتماعی بیماری کے حامل جراثیم کہ جو معاشرے کے گوشہ وکنار میں موجود ہوتے ہیں بڑی تیزی سے نشو ونما پاتے ہیں اور کثرت حاصل کرکے معاشرے کو سرتاپا بیمار کردیتے ہیں ۔
”اولوا بقیة“ کا اثر معاشروں کی بقاء کے لئے اتنا حساس ہے کہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے بغیر معاشروں سے حقِ حیات سلب ہوجاتا ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کی طرف مندرجہ بالا آیات اشارہ کرتی ہیں ۔
”اولوا بقیة“ کون ہیں ؟
”اولوا“ کا معنی ہے ”صاحبان“ اور ”بقیة“ کا معنی ہے باقی ماندہ، لُغت عرب میں عموماً یہ تعبیر ”اولوا الفضل“ (صاحبانِ فضیلت اور نیک پاک شخصیات) کے معنی میں استعمال ہوتی ہے کیونکہ عام طور پر انسان بہتر اجناس اور زیادہ نفیس چیزوں کو سنبھال رکھتا ہے اور وہ اس کے پاس رہ جاتی ہیں ، اسی لئے یہ لفظ نفاست اور نیکی کا مفہوم بھی رکھتا ہے اس کے علاوہ اجتماعی مقابلوں میں جو لوگ زیادہ ضعیف ہوجاتے ہیں میدان اور منظر سے جلدی ہٹ جاتے ہیں یا نابود ہوجاتے ہیں اور وہ افراد باقی رہ جاتے ہیں جو فکر ونظر اور جسمانی قوت کے اعتبار سے زیادہ قوی ہوتے ہیں ، اسی بناپر باقی رہ جانے والے طاقتور اور قوی ہوتے ہیں ، اس لئے عربوں میں ضرب امثل ہے:
فی الزوایا خبایا وفی الرجال بقای .
گوشہ وگنار میں ابھی چھپے ہوئے مسائل موجود ہیں اور مردوں میں سے باقی ماندہ شخصیتیں موجود ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ لفظ ”بقیة“ جو قرآن میں تین مواقع پر آیا ہے اسی مفہوم کا حامل ہے، طالوت وجالوت کے واقعہ میں قرآن مجید میں ہے:ا( ِٕنَّ آیَةَ مُلْکِهِ اٴَنْ یَاٴْتِیَکُمْ التَّابُوتُ فِیهِ سَکِینَةٌ مِنْ رَبِّکُمْ وَبَقِیَّةٌ )
حکومتِ طالوت کی حقانیت کی نشانی یہ ہے کہ صندوقِ عہد تمھارے ہاتھ آئے گا وہی صندوق کہ جس میں موسیٰ وہارون کے خاندان کی نفیس یادگار ہے اور تمھارے سکون کی پونجی ہے ۔ (قبرہ/ ۲۴۸)
نیز حضرت شعیب علیہ السلام کے واقعہ میں زیرِ بحث سورہ میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا:( بَقِیَّةُ اللهِ خَیْرٌ لَکُمْ إِنْ کُنتُمْ مُؤْمِنِینَ )
بقیة الله تمھارے لئے بہتر ہے ۔ (ہود/ ۸۶)
نیز یہ جو بعض تعبیرات میں حضرت مہدی موعود علیہ السلام کو ”بقیة الله“ کہا گیا ہے وہ بھی اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ کیونکہ وہ خدا کی طرف سے ایک عظیم اور پُرفیض ذخیرہ ہیں کہ جنھیں اس جہان سے ظلم وستم کی بساط الٹنے اور عدل وداد کا پرچم گاڑنے کے لئے باقی رکھا گیا ہے ۔
یہاں سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ قیمتی شخصیتیں ، بُرائی کے خلاف کام کرنے والے افراد اور ”اولوابقیة“ انسانی معاشروں پر کتان بڑا حق رکھتے ہیں کیونکہ یہ اقوام وملل کی بقاء اور ہلاکت سے نجات کا وسیلہ ہیں ۔
مندرجہ آیت میں جو دوسرا قابلِ توجہ نکتہ ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ جب تک کسی شہر اور آبادی کے رہنے والے مصلح ہیں خدا اسے نابود نہیں کرتا ”مصلح“ اور ”صالح“ میں جو فرق ہے اس کی طرف توجہ کرنے سے یہ نکتہ واضح ہوجاتا ہے کہ صرف صالحیت اور اچھا ہونا ضامن بقاء نہیں بلکہ اگر معاشرہ صالح نہ ہو لیکن اصلاح کی کوشش کرے تو وہ بھی بقاء وحیات کا حق رکھتا ہے لیکن جب نہ صالح ہوں نہ مصلح تو پھر سنتِ افرینش کےلحاظ سے اس کے لئے حقِ حیات نہیں ہے اور وبہت جلد ختم ہوجائے گا ۔
دوسرے لفظوں میں جب معاشرہ باقی رہ جاتا ہے لیکن اگر ظالم ہو اور اصلاح کے لئے قدم نہ اٹھائے تو وہ باقی نہیں رہ سکتا ۔
ایک اور نکتہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ظلم وجُرم کا ایک سرچشمہ ہوس رانی، لذّت پرستی اور عیش ونوش کی پیروی کو قرار دیا گیا ہے جسے قرآن میں ”اتراف“ سے تعبیر کیا جاتا ہے ، یہ بے قید وبے عیش کوشی اور لذّت پرستی طرح طرح کے انحرافات کا سرچشمہ ہے جو معاشرے کے خوشحال طبقوں میں پیدا ہوتے ہیں کیونکہ شہوت کی مستی انھیں حقیقی انسانی اقدار اور اجتماعی حقائق کے ادراک سے روک دیتی ہے اور عصیان وگناہ میں غرق کردیتی ہے ۔
آیات ۱۱۸،۱۱۹
۱۱۸( وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اٴُمَّةً وَاحِدَةً وَلَایَزَالُونَ مُخْتَلِفِینَ )
۱۱۹( إِلاَّ مَنْ رَحِمَ رَبُّکَ وَلِذٰلِکَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ لَاٴَمْلَاٴَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اٴَجْمَعِینَ )
ترجمہ
۱۱۸ ۔ اور اگر تیرا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو(بغیر کسی اختلاف کے) ایک ہی امت قرار دیتا لیکن وہ ہمیشہ مختلف ہیں ۔
۱۱۹ ۔ مگر یہ کہ جس پر تیرا پروردگار رحم کرے اور اسی (رحمت کو قبول کرنے اور اس کے زیرِ سایہ حصولِ کمال) کے لئے انھیں پیدا کیا گیا ہے اور تیرے پروردگار کا فرمان قطعی ہے کہ وہ جہنم کو جنّوں اور انسانوں (میں سے سرکشوں اور نافرمانوں ) سے بھر دے گا ۔
تفسیر
پہلی زیرِ بحث آیت میں ایک سنّت فطرت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جو دراصل انسان سے مربوط تمام مسائل کی حقیقی بناید ہے اور وہ انسانوں کی روح، جسم، فکر، ذوق اور عشق کی عمارت میں اختلاف وفرق اور ارادہ واختیار کی آزادی ۔ ارشاد ہوتا ہے: اگر خدا چاہتا تو تمام لوگوں کو امتِ واحدہ بنادیتا لیکن خدا نے ایسا نہیں کیا اور ہمیشہ انسان ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں( وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اٴُمَّةً وَاحِدَةً وَلَایَزَالُونَ مُخْتَلِفِینَ ) ۔
اس لئے کہ کوئی یہ خیال نہ کرے کہ انھیں اپنی اطاعت پر پروردگار کی تاکید اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر نہیں کہ ان سب کو ایک ہی راستے اور ایک ہی معین پروگرام پر چلاتا، اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اس میں کوئی رکاوٹ نہ تھی کہ وہ تمام انسانوں کو جبری طور پر ایک ہی طرز پر خلق کرتا اور وہ سب صاحبانِ ایمان ہوتے اور ایمان کو قبول کرنے پر مجبور ہوتے لیکن ایسے ایمان کا کوئی فائدہ نہ تھا اور نہ ہی جبری ایمان کی بیناد پر ایسا اتحاد اور ہم آہنگی کہ جو غیر اداری اسباب پر قائم ہو کسی کے مقام ومرتبے کی دلیل ہے، نہ یہ حصولِ کمال اور تکامل کا ذریعہ ہے اور نہ ہی جزاء وسزا کا موجب، بالکل ایسے جیسے خدا نے شہد کی مکھّی کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی فطرت کے جبری حکم پر پھولوں کا شیرہ جمع کرتی ہے اور ملیریے کے مچھر کو اس لئے پیدا ہے کہ وہ اکیلا سوراخوں میں اپنا آشیانہ بناتا ہے اور ان میں کوئی بھی اس راستے میں خود کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔
اصولی طور پر انسان کی قدر و قیمت اور دوسرے موجودات سے اس کا اہم ترین امتیاز یہی ارادہ و اختیار کی آزادی کی نعمت ہے ۔ اسی طرح انسان میں مختلف ذوق، سلیقے، نظریات اور تصورات موجود ہیں کہ جن میں ہر ایک معاشرے کے ایک حصّے کی تعمیر و اصلاح کرتا ہے اور اس کے کسی ایک تقاضے کو پورا کرتا ہے ۔
جب انسان کو ارادے کی آزادی میسّر آئی ہے تو پھر عقیدے اور مذہب و مکتب کے انتخاب میں اختلاف فطری بات ہے ۔ اس اختلاف سے ایک گروہ راہِ حق کو قبول کرلیتا ہے اور دوسرا باطل کا راستہ اپنا لیتا ہے لیکن اگر انسانوں کی تربیت ہو اور وہ پروردگار کے دامن رحمت اور اس کی نعمتوں سے استفادہ کرتے ہوئے صحیح تعلیمات پالیں تو پھر تفاوت کے باوجود اور آزادی اختیار کے ہوتے ہوئے راہِ حق پر گامزن ہوں گے اگر چہ اس راہ میں بھی وہ مختلف ہوں گے ۔
اسی بناء پر بعد والی آیت میں فرمایا گیا ہے: لوگ حق کو قبول کرنے کے بارے میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر وہ کہ رحمت پروردگار جن کے شامل حال ہے( إِلاَّ مَنْ رَحِمَ رَبُّکَ ) ۔ لیکن یہ رحمت الٰہی کسی خاص گروہ کے لیے مخصوص نہیں ہے ۔ سب لوگ (بشرطیکہ وہ چاہیں ) اس سے استفادہ کرسکتے ہیں در حقیقت ”خدا نے لوگوں کو اس نعمت و رحمت کو قبول کرنے کے لیے پیدا کیا ہے“( وَلِذٰلِکَ خَلَقَهُمْ ) ۔جو لوگ رحمت الٰہی کے سائے میں آنا چاہتے ہیں ان کے لیے راستہ کھلا ہے، وہ رحمت کہ جس کا فیضان عقلی ادراک، ہدایت انبیاء اور کتبِ آسمانی کے ذریعے سب کے لیے عام ہے اور جب اس نعمت و رحمت سے فائدہ اٹھائیں گے تو جنت اور ابدی سعادت کے دروازے ان کے سامنے کھُل جائیں گے ۔
اور اگر یہ صورت نہ ہوئی تو ”خدا کا فرمان صادر ہوچکا ہے کہ وہ سرکش و نافرمانِ جنّوں اور انسانوں سے جہنم کو بھر دے گا“( وَتَمَّتْ کَلِمَةُ رَبِّکَ لَاٴَمْلَاٴَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اٴَجْمَعِینَ ) ۔
چندنکات
۱ ۔ ارادے کی آزادی ۔ اساس دعوت:
انسانی خلقت میں ارادے کی آزادی تمام انبیاء کی دعوت کی اساس ہے ۔ اصولی طور پر اس کے بغیر انسان ترقی اور کمال کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتا (یہاں انسانی اور روحانی کمال مراد ہے) اس بناء پر قرآن کی متعدد آیات میں یہ بات دہرائی گئی ہے کہ اگر خدا چاہتا تو تمام لوگوں کو جبری طور پر ہدایت کرتا لیکن اس نے ایسا نہیں چاہا ۔
خدا تو یہ کرتا ہے کہ راہ حق کی دعوت دیتا ہے، راستے کی نشاندہی کرتا ہے، نشانیاں اور علامتیں بتاتا ہے، بے راہ روی کے نتیجے سے خبردار کرتا ہے، رہبر مقرر کرتا ہے اور راستے پر چلنے اور اسے طے کرنے کا پروگرام دیتا ہے ۔
قرآن کہتا ہے:( اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدیٰ )
راستے کی نشاندہی ہمارے ذمہ ہے ۔ (لیل/ ۱۲)
یہ بھی فرماتا ہے:( اِنَّمَا اٴَنْتَ مُذَکِّرٌ، لَسْتَ عَلَیهِمْ بِمُصَیْطِرٍ )
تو صرف یاد دہانی کروانے والا نہ کہ زبردستی کرنے والا ۔ (غاشیہ/ ۲۱ ۔ ۲۲)
نیز سورہ شمس آیہ ۸ میں ہے:( فَاٴَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا )
خدا نے انسان کو پیدا کیا اور اسے فجور و تقویٰ کا راستہ بتادیا ۔
سورہ دہر کی آیہ ۳ میں ہے:( اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِراً وَاِمَّا کَفُوراً )
ہم نے انسان کو راستے کی نشاندہی کردی ہے ۔ اب وہ چاہے شکر گزاری کرے یا کفران کرے ۔
اس بناء پر محلِ بحث آیات انسانی ارادے کی آزادی اور مکتبِ جبر کی نفی پر زور دینے والی واضح ترین آیات میں سے ہیں اور اس امر کی دلیل ہیں کہ حتمی فیصلہ کرنا خود انسان ہی کا کام ہے ۔
۲ ۔ قرآنی آیات اور مقصد خلقت:
مقصد خلقت کے بارے میں قرآنی آیات میں مختلف بیانات موجود ہیں ، ان میں سے ہرایک اس مقصد کے کسی زاویے کی طرف اشارہ ہے، ان میں سے ایک آیت یہ ہے:( وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُونِ )
مَیں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔ (ذاریات/ ۵۶)
یعنی مکتبِ بندگی میں تکامل اور ارتقاء کو پہنچ جائیں اور اس مکتب میں انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچ جائیں ۔
ایک اور مقام پر ہے:( اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اٴَحْسَنُ عَمَلاً )
وہ خدا کہ جس نے موت وحیات کوپیدا کیا تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے بہتر عمل کون کرتا ہے ۔ (یعنی ایسا آزمائش کو جس میں تربیت کی آمیزش اور جس کا نتیجہ ترقی وکمال ہو)(مُلک/ ۲)
زیرِ بحث آیت میں فرمایا گیا ہے : ”( وَلِذٰلِکَ خَلَقَهُمْ ) “یعنی لوگوں کو قبولِ رحمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے، ایسی رحمت کہ جس میں ہدایت اور حتمی فیصلے کی طاقت کی آمیزش ہے ۔
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ،یہ تمام خطوط ایک ہی نکتے پر پہنچ کر ختم ہوتے ہیں اور وہ ہے انسانوں کی پرورش، ہدایت، پیشرفت اور تکامل وارتقاء کہ جو حتمی واصلی مقصدِ خلقت شمار ہوتا ہے، ایسا مقصد کہ جس کی بازگشت خود انسان کے ساتھ ہے نہ کہ خدا کے ساتھ کیونکہ وہ ایک ایساوجود ہے کہ جس کی تمام پہلووں سے کوئی انتہا نہیں اور وہ ایسا معبود ہے کہ جس میں کوئی نقصان نہیں کہ وہ مخلوق کو پیدا کرکے کمی اور ضرورت کو پورا کرے ۔
۳ ۔ ایک نکتے کی وضاحت:
آخری آیت میں جن وانس سے جہنم کو بھرنے کے بارے میں خدا کی تاکیدی فرمان موجود ہے لیکن واضح ہے کہ اس حتمی فرمان کی صرف ایک شرط ہے اور وہ رحمت الٰہی کے دائرے سے باہر نکلنا اور اس کے بھیجے ہوئے بزرگوں کی ہدایت ورہنمائی کو ٹھکرانا، لہٰذا اس طرح سے آیت نہ صرف مکتبِ جبر کے لئے دلیل نہیں بنتی بلکہ اختیار وآزادی کے لئے تاکید مزید ہے ۔
آیات ۱۲۰،۱۲۱،۱۲۲،۱۲۳
۱۲۰( وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَکَ وَجَائَکَ فِی هٰذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِکْریٰ لِلْمُؤْمِنِینَ )
۱۲۱( وَقُلْ لِلَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ إِنَّا عَامِلُونَ )
۱۲۲( وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ )
۱۲۳( وَلِلّٰهِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَإِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاٴَمْرُ کُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَکَّلْ عَلَیْهِ وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ )
ترجمہ
۱۲۰ ۔ ہم نے پیغمبروں میں سے ہر ایک کی سرگزشت تم سے بیان کی ہے تاکہ تمھارا دل آرام وسکون پائے (اور تمھارا ارادہ قوی ہو) اور ان (واقعات) میں مومنین کے لئے حق، نصیحت اور یاددہانی آئی ہے ۔
۱۲۱ ۔ اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تمھارے بس میں ہے اسے انجام دو ہم بھی انجام دیتے ہیں ۔
۱۲۲ ۔ اور انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں ۔
۱۲۳ ۔ اور آسمانوں اور زمین کے غیب (اور مخفی اسرار) خدا کے لئے اور تمام امور کی بازگشت اس کی طرف ہے، اس کی پرستش کرو اور اس پرتوکل کرو اور جو کچھ تم کرتے ہو تمھارا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے ۔
گزشتگان کے واقعات کے مطالعہ کے چار اثرات
ان آیات کے ساتھ ہی سورہ ہود اختتام پذیر ہوتی ہے، ان آیات میں اس سورہ کی تمام مباحث کا کلّی نتیجہ بیان ہوا ہے، اس سورہ کا چونکہ زیادہ حصّہ انبیاء کے بارے میں اور گزشتہ اقوام کے عبرتناک واقعات کے بارے میں ہے لہٰذا یہاں ان داستانوں کے گراں بہا نتائج کو چار عنوانات کے تحت بطور خلاصہ بیان کیا گیا ہے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے: ہم نے انبیاء کے مختلف واقعات تجھ سے بیان کئے ہیں تاکہ تیرے دل کو مضبوط کریں اور تیرے ارادے کو تقویت دیں( وَکُلًّا نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَکَ ) ۔
لفظ ”کلا “ان سرگزشتوں کے تنوع اور ان کی مختلف اقسام کی طرف اشارہ ہے، ان میں سے ہر ایک میں انبیاء سے ایک قسم کی روگرانی، ایک قسم کے انحرافات اور ایک قسم کے عذاب کی طرف اشارہ ہے، یہ تنوع انسانی زندگی کے مختلف زاویوں اور گوشوں پر کئی طرح سے واضح روشنی ڈالتا ہے ۔
پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کے لئے تثبیتِ قلب اور ان کے ارادے کو تقویت بخشنا (کہ جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہوا ہے)بلکہ ایک فطری امر ہے کیونکہ سخت ہٹ دھرم اور نہایت بے رحم دشمنوں کی مخالفتیں خواہ نہ خواہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم کے دل پر اثر ڈالتی تھیں کیونکہ آپ بھی انسان اور بشر تھے لیکن اس بناء پر کہ ناامیدی اور یاس کی تھوڑی سی گرد بھی آپ کے قلبِ پاک پر نہ پڑے اور آپ کا آہنی ارادہ ان مخالفتوں اور کارشکنیوں سے کمزور نہ ہو خدا تعالیٰ آپ سے انبیاء کے واقعات، ان کے کام کی مشکلات، ہٹ دھرم قوموں کے مقابلے میں ان کی استقامت وپامردی اور بالآخر کامیابی کے واعات یکے بعد دیگرے بیان کرتا ہے تاکہ رسول الله کا قلب وروح اور اسی طرح مومنین کے جو اس عظیم جنگ اور معرکے میں آپ کے دوش بدوش شریک تھے اور روز قوی تر ہوتے رہیں ۔
اس کے بعد ان واقعات کا بیان کرنے کے دوسرے نتیجے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: ان واقعاتِ انبیاء میں زندگی سے مربوط حقائق ہیں ، ان میں کامیابی اور ناکامی کے عوامل تمام تر تجھے بیان کردیئے گئے ہیں( وَجَائَکَ فِی هٰذِهِ الْحَقُّ ) ۔(۱)
ان واقعات کے بیان کا تیسرا اور چوتھا نتیجہ جو واضح ہوکر سامنے آتا ے یہ ہے کہ ”مومنین کے لئے وعظ ونصیحت اور تذکر ویاد دہانی ہے“( وَمَوْعِظَةٌ وَذِکْریٰ لِلْمُؤْمِنِینَ ) ۔
یہ جاذبِ نظر ہے کہ مؤلف المنار نے اس آیت کے ذیل میں کہا ہے کہ اس آیت میں ایجاز واختصار کا ایسا معجزہ ہے کہ گویا گزشتہ تمام واقعات کا اعجاز اس نے اپنے اند رسمولیا ہے اور چند مختصر سے الفاظ کے ذریعے اس میں اس کے تمام فوائد بیان کردیئے گئے ہیں ۔
بہرحال یہ آیت دوبارہ تاکید کرتی ہے کہ قرآن کے تاریخی واقعات کو معمولی نہ سمجھا جائے اور ان سے سننے والوں کی ضیافتِ طبع کے لئے استفادہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ زندگی کے ہترین دروس کا مجموعہ ہیں ، ان میں انسانوں کے آج اور کل کے تمام زاویوں اور پہلووں سے راہ گشائی کی گئی ہے ۔
اس کے بعد حضرت پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے کہ تم بھی دشمن کی طرف سختیوں اور ہٹ دھرمیوں کے مقابلے میں وہی کچھ کہو جو بعض پیغمبر اُن کے جواب میں کہتے تھے، فرمایا: وہ کہ جو ایمان لائیں گے ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تمھارے بس میں ہے وہ انجام دو اور گنجائش نہ چھوڑاور جو کچھ ہماری طاقت ہوگی ہم بھی انجام دیں گے( وَقُلْ لِلَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلیٰ مَکَانَتِکُمْ إِنَّا عَامِلُونَ ) ۔ تم انتظار میں رہو اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں تاکہ دیکھیں کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ہزیمت اٹھاتا ہے( وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ ) ۔
تم ہماری شکست کے خیالِ خام میں رہو اور ہم تمھارے لئے خدا کے واقعی عذاب کے انتظار میں ہیں کہ جو یا ہمارے ہاتھوں تمھیں پہنچے گا یا براہِ راست خدا کی طرف سے ۔
ایسی دھمکیاں جو ”امر“ کی صورت میں ذکر ہوئی ہیں قرآن کے دیگر مقامات پر بھی ہیں ۔ مثلاً:
( اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیرٌ )
جوچاہو کرو خدا تمھارے اعمال سے آگاہ ہے ۔ (حم سجدہ/ ۴۰)
نیز یہ بہت سے مفسّرین نے کہا ہے کہ مشار الیہ سورہ ہے، ہم نے جو کچھ کہا ہے اس سے مطابقت رکھتا ہے کیونکہ سورہ کا زیادہ تر حصّہ جو گزرچکا ہے گزشتہ انبیاء کے حالات کے بارے میں ہی تھا ۔
شیطان کے بارے میں ہے:( وَاسْتَفْزِزْ مَنْ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِکَ وَاٴَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ )
اپنی آواز سے انھیں حرکت میں لے او اور اپنا سوار اور پیدا لشکر ان کی طرف بھیجو۔ (بنی اسرائیل/ ۶۴)
واضح رہے کہ امر کے یہ تمام صیغے کسی کام پر ابھارنے کے لئے بلکہ وہ سب کے سب دھمکی کا پہلو رکھتے ہیں ۔
اس سورہ کی آخری آیت توحید (توحیدِ علم ، توحیدِ افعالی اور تح۔وحیدِ عبادت) بیان کررہی ہے جیسا کہ اس سورہ کی ابتدائی آیات علم ِ توحید کے بارے میں تھیں ۔
درحقیقت اس آیت میں توحید کے تین پہلووں کی نشاندہی کی گئی ہے:
پہلا: پروردگار کی توحیدِ علمی، آسمانوں اور زمینوں کے غیبی اسرار کے ساتھ مخصوص ہیں اور وہی ہے جو تمام آشکار ونہاں بھیدوں سے باخبر ہے( وَلِلّٰهِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔ اور اس کے غیر کا علم محدود علم اور زمین وآسمان کے طول وعرض میں موجود تمام چیزوں کے بارے میں وہ علم ذاتی پروردگار کی ذاتِ پاک کے ساتھ مخصوص ہے ۔
دوسرا: یہ کہ تمام امور کی باگ ڈور اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور تمام چیزوں کی بازگشت بھی اسی کی طرف ہے( وَإِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاٴَمْرُ کُلُّهُ ) ۔ اور یہ توحیدِ افعالی کا مرحلہ ہے ۔
تیسرا: یہ کہ اب جبکہ لامحدود اوربے پایاں قدرت اس کی ذات پاک سے مخصوص ہے اور ہر چیز کی بازگشت اس کی طرف ہے لہٰذا صرف اس کی پرستش کرو( فَاعْبُدْهُ ) ۔ اور اس پر توکل کرو( وَتَوَکَّلْ عَلَیْهِ ) ۔ اور یہ توحیدِ عبادت کا پہلو ہے ۔
اور چونکہ نافرمانی وسرکشی گناہ ہے لہٰذا اس سے بچو کیونکہ ”جو کچھ تم انجام دیتے ہو خدا اس سے غافل نہیں ہے( وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ) ۔
چند قابل توجّہ نکات
۱ ۔ علمِ غیب خدا سے مخصوص ہے:
جیسا کہ ہم ساتویں جلد میں سورہ اعراف کی آیہ ۱۸۸ اور پانچویں جلد میں سورہ انعام کی آیہ ۵۰ کے ذیل میں تفصیل سے بیان کرچکے ہیں کہ اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ اسرارِ نہاں اور اسرارِ گزشتہ وآئندہ پر آگاہی اور ان کا علم خدا کے ساتھ مخصوص ہے، قرآن مجید کی مختلف آیات بھی اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ وہ اس صفت میں اکیلا ہے اور اور کوئی شخص اس کی مانند نہیں ہے ۔
یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آیاتِ قرآن میں علمِ غیب کے کچھ حصّوں کی نسبت انبیاء کی طرف دی گئی ہے یا بہت سی آیات ورمایات میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم، حضرت علی علیہ السلام اور دیگر آئمہ معصومین علیہم السلام کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں کہ وہ حضرات بعض اوقات آنے والے واقعات اور اسرارِ نہاں کی خبر دیتے تھے تو یہ جاننا چاہیے کہ یہ بھی خدائی تعلیم سے ہوتا ہے ۔
وہی ہے کہ جب مصلحت دیکھتا ہے تو اسرارِ غیب کا کچھ علم اپنے خاص بندوں کو تعلیم دیتا ہے لیکن یہ علم ذاتی ہے اور لامحدود بلکہ تعلیمِ الٰہی کے ذریعے سے ہے اور اتنا ہی ہوتا ہے جتنا وہ اپنے ارادے سے عطا کرتا ہے ۔
اس وضاحت سے ان تمام بدگوئی کرنے والوں کا جواب واضح ہوجاتا ہے کہ جو شیعہ عقیدے پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ انبیاء اور آئمہ کو عالم الغیب جانتے ہیں ۔
خدا نہ صرف انبیاء اور آئمہ کو مناسب موقع اور محل پر اسرارِ غیب تعلیم کرتا ہے بلکہ بعض اوقات ان کے علاوہ افراد کو بھی اس قسم کی تعلیم دیتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ گرامی کے بارے میں قرآنِ حکیم میں ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان سے کہا: ڈرو نہیں ہم یہ بچہ تمھاری طرف پلٹادیں گے اور اسے انبیاء میں سے قرار دیں گے ۔
قرآنی الفاظ میں :( وَلَاتَخَافِی وَلَاتَحْزَنِی إِنَّا رَادُّوهُ إِلَیْکِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِینَ )
یہاں تک کہ پرندے اور دوسرے جانور ضروریاتِ زندگی کے ماتحت مخفی اسرار سے آگاہی حاصل کرلیتے ہیں ، حتّیٰ کہ نسبتاً مستقبل بعید کے واقعات سے بھی آگاہ ہوجاتے ہیں کہ جس کا تصور ہمارے لئے مشکل اور پیچیدہ ہے اور یوں بعض مسائل جو ہمارے لئے غیب شمار ہوتے ہیں ان کے لئے غیب نہیں ہیں ۔
۲ ۔ عبادت خدا کے لئے مخصوص ہے:
مندرجہ بالا آیت میں عبادت خدا کے لئے مخصوص ہونے کے بارے میں ایک لطیف دلیل بیان ہوئی ہے اور وہ یہ کہ اگر پرستش عظمت اور صفاتِ جمال وجلال کی بناء پر ہے تو یہ صفات سب سے بڑھ کر خدا میں موجود ہیں اور دوسرے اس کے مقابلے میں ناچیز وحقیر ہیں ، عظمت کی سب سے بڑی نشانی علمِ لامحدود اور قدرت بے پایاں ہے کہ جن کے بارے میں زیرِ نظر آیت کہتی ہے کہ یہ دونوں اس کے ساتھ مخصوص ہیں اور اگر پرستش مشکلات کے موقع پر معبود کی پناہ لینے کی خاطر ہے تو یہ اہلیت اس میں ہے کہ جو بندوں کی تمام ضروریات، حاجات اور اسرارِ غیب سیے باخبر ہو اور ان کی دعا قبول کرنے اور ان کی آرزوؤں کو پورا کرنے کی قدرت رکھتا ہو، اسی بناء پر توحیدِ صفات توحیدِ عبادت کا سبب بن جاتی ہے ۔ (غور کیجیے گا) ۔
۳ ۔ تمام تر سیر وسلوک کا خلاصہ:
بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ پروردگار کی عبودیت کے ذریعے انسان کی تمام تر سیر وسلوک کا خلاصہ زیرِ بحث آیت کے دو لفظوں میں بیان کردیا گیا ہے، یعنی ”( فَاعْبُدْهُ وَتَوَکَّلْ عَلَیْهِ ) “ کیونکہ عبادت چاہے عام عبادات کی طرح جسمانی ہو یا روحانی، مثلاً عالمِ آفرینش اور نظامِ اسرارِ ہستی میں غور وفکر، وہ اس سیر وسلوک کا آغاز ہے اور توکل یعنی طور تمام امور کو خدا کے سپرد کرنا کہ جو ایک طرح سے ”( فَنَا فِی اللّٰه ) “ ہے اس سیر کا آخری نقطہ ہے ۔
اس تمام راستے میں ابتداء سے لے لے انتہا تک توحیدِ صفات کی طرف توجہ راہرو کی مدد کرتی ہے اور کوشش وعشق سے ملی ہوئی جستجو پر ابھارتی ہے ۔
پروردگار! ایسا کر کہ ہم تجھے تیری صفاتِ جمال وجلال کے پہچانیں اور ایسا کر کہ ہم آگاہی اور علم کے ساتھ تیری طرف حرکت کریں ۔
پروردگار! ہمیں توفیق دے کہ ہم خلوص کے ساتھ تیری عبادت کریں اور عشق کے ساتھ تجھ پر توکّل کریں ۔
پروردگار! اس سختی کے زمانے میں جبکہ ہمارے عظیم الشان اسلامی انقلاب کے بعد روز افزوں مشکلات نے ہر طرف سے ہمیں گھیر رکھا ہے اور دشمن اس انقلاب کے نور کو بجھادینے کے درپے ہیں ، ہماری امید صرف تو ہے اور ان مشکلات کے حل کے لئے ہمارا سہارا تیری ذاتِ پاک ہے ۔
پروردگار! یہاں تک کا راستہ ہم نے طے نہیں کہ بلکہ تیری آشکار اور مخفی تائیدیں تھیں کہ جنھوں اس مرحلے تک پہنچنے کے لئے ہر جگہ ہمیں توانائی بخشی، جو راستہ باقی رہ گیا ہے اس میں بھی ہمیں اس عظیم نعمت سے محروم نہ فرما، اپنا لطفِ خاص ہم سے دُور نہ کر اور ہمیں اس کی بھی توفیق دے کہ ہم اس تفسیر کو کہ جو تیری عظیم آسمانی کتاب کی طرف ایک نیا دریچہ کھولتی ہے تکمیل تک پہنچائیں ۔
سورہ ہود کی تفسیر اختتام کو پہنچی
____________________
۱۔ جو کچھ کہا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”ھٰذہ“ ضمیر کا مرجع ”ابناء الرسل“ ہیں یہ مرجع ضمیر کے قریب بھی ہے، عبارت میں اس کا ذکر بھی ہے اور آیت میں موجودمباحث سے مناسبت بھی رکھتا ہے، اس امر کی طرف توجہ کرتے ہوئے ضمیر کا ایسے مرجع کی طرف لوٹنا بالکل واضح ہے ۔
سورہ یوسف
چند ضروری امور
اس سورہ کی تفسیر شروع کرنے پہلے چند امور کا ذکر ضروری ہے:
۱ ۔ یہ سورہ کہاں نازل ہوئی؟
اس بارے میں یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی مفسرین میں کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ صرف ابن عباس سے منقول ہے کہ اس کی چار آیات (پہلی تین آیات اور ایک ساتویں آیت) مدینہ میں نازل ہوئیں ۔
لیکن دوسری آیات سے ان آیات کے ربط پر غور و فکر کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انھیں دیگر آیات سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ اس بناء پر ان چار آیات کے مدینہ میں نازل ہونے کا احتمال بہت ہی ضعیف ہے ۔
۲ ۔ سورہ کا مضمون:
اس سورہ کی چند آخری آیات کے سوا تمام آیات خدا کے پیغمبر حضرت یوسف کے نام سے موسوم ہے ۔نیز اسی بناء پر قرآن مجید میں جو مجموعتاً حضرت یوسفعليهالسلام کا نام ۲۷ مرتبہ آیا ہے اس میں سے ۲۵ مرتبہ اسی سورة میں ذکر ہوا ہے ۔ صرف دو مواقع پر دیگر سورتوں (سورہ غافر آیہ ۳۴ اور سورہ انعام آیہ ۸۴) میں آپ کا نام آیا ہے ۔
قرآن کی دیگر سورتوں کے برعکس اس سورہ کا پورا مضمون ایک دوسرے سے مربوط اور ایک واقعہ کے نشیب و فراز سے متعلق ہے ۔ دس سے زیادہ حصوں میں بیان ہونے والی یہ داستان نہایت واضح، جاذب، جچی تُلی، عمیق اور ہیجان خیز ہے ۔
بے ہدف داستان پردرازوں نے یاپست اور غلیظ مقاصد رکھنے والوں نے اس اصلاح کنندہ واقعہ کو ہوس بازوں کے لیے ایک عشقیہ داستان بنانے اور حضرت یوسف علیہ السلام اور ان کے واقعات کے حقیقی چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہاں تک کہ انھوں نے اسے ایک رومانی فلم بنا کر پردہ سیمیں پر پیش کرنا چاہا ہے، لیکن قرآن کہ جس کی ہر چیز نمونہ اور اسوہ ہے اس واقعے کے مختلف مناظر پیش کرتے ہوئے اعلیٰ ترین عفت و پاکدامنی ،خودداری، تقویٰ، ایمان اور ضبط نفس کے درس دیئے ہیں ۔ اس طرح سے کہ ایک شخص اسے جتنی مرتبہ بھی پڑھے ان قوی جذبوں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔
اسی بناء پر قرآن نے اسے ”احسن القصص“ (بہترین داستان) جیسا خوبصورت نام دیا ہے اور اس میں اولوا الالباب (صاحبان فکر و نظر) کے لیے کئی عبرتیں بیان کی ہیں ۔
۳ ۔ یہ سورہ قرآن کا ایک اور اعجاز:
اس سورہ کی آیات میں غور و فکر سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ قرآن تمام پہلوؤں سے معجزہ ہے اور اپنے واقعات میں جو ہیر و پیش کرتا ہے وہ حقیقی ہیر و ہوتے ہیں نہ کہ خیالی ۔ کہ جن میں سے ہر ایک اپنی نوعیت کے اعتبار سے بے نظیر ہوتا ہے ۔
حضرت ابراہیم (علیه السلام):
وہ بت شکن ہیرو، جن کی روح بلند تھی او جو طاغوتیوں کی کسی سازش میں نہ آئے ۔
حضرت نوح (علیه السلام):
طویل اور پر برکت عمر میں ۔ صبرو استقامت ، پامردی اور دلسوزی کے ہیرو۔
حضرت موسیٰ (علیه السلام):
وہ ہیرو کہ جنھوں نے ایک سرکش اور عصیان گر طاغوت کے مقابلے کے لیے ایک ہٹ دھرم قوم کو تیار کرلیا ۔
حضرت یوسف (علیه السلام):
ایک خوبصورت، ہوس باز اور حیلہ گر عورت کے مقابلے میں پاکیزگی، پارسائی اور توقویٰ کے ہیرو۔
علاوہ ازیں اس واقعے میں قرآنی وحی کی قدرت بیان اس طرح جھلکتی ہے کہ انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے کیونکہ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کئی مواقع پر یہ واقعہ عشق کے بہت ہی باریک مسائل تک جاپہنچتا ہے اور قرآن انھیں چھوڑا کر ایک طرف سے گزرے بغیر ان تمام مناظر کو ان کی باریکیوں کے ساتھ اس طرح سے بیاں کرتا ہے کہ سامع میں ذرہ بھر منفی اور غیر مطلوب احساس پیدا نہیں ہوتا ۔ قرآن تمام واقعات کے متن سے گزرتا ہے لیکن تمام مقامات پر تقویٰ و پاکیزگی کی قوی قوی شعاعوں نے مباحث کا احاطہ کیا ہوا ہے ۔
۴ ۔حضرت یوسفعليهالسلام کا واقعہ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد:
اس میں شک نہیں کہ قبل از اسلام بھی داستان یوسف لوگوں میں مشہور تھی کیونکہ تورات میں سفر پیدائش کی چودہ فصلوں (فصل ۳۷ تا ۵۰) میں یہ واقعہ تفصیل سے مذکور ہے، البتہ ان چودہ فصلوں کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ تورات میں جو کچھ ہے وہ قرآن سے بہت ہی مختلف ہے، ان اختلاات کے موازنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ قرآن میں آیا ہے وہ کس حد تک پیراستہ اور ہر قسم کے خرافات سے پاک ہے، یہ جو قرآن پیغمبر سے کہتا ہے:”اس سے پہلے تو غافل تھا“ اس عبرت انگیز داستان کی خالص واقعیت سے ان کی عدم آگہی کی طرف اشارہ ہے (اگر احسن القصص سے مراد واقعہ یوسف ہو) ۔
موجودہ تورات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے جب حضرت یوسف علیہ السلام کی خون آلود قمیص دیکھی تو کہا: یہ میرے بیٹے کی قبا ہے جسے جانور نے کھالیا ہے، یقیناً یوسف چیر پھاڑ ڈالا گیا ہے ۔
پھر یعقوب نے اپنا گریبان چاک کیا، ٹاٹ اپنی کمر سے باندھا اور مدیِ دراز تک اپنے بیٹے کے لئے گریہ کرتے رہے، تمام بیٹوں اور بیٹیوں نے انھیں تسلی دینے میں کسر اٹھا نہ رکھی لیکن انھیں قرار نہ آیا اور کہا کہ مَیں اپنے بیٹے کے ساتھ اسی طرح غمزدہ قبر میں جاوں گا ۔
جبکہ قرآن کہتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام فراست سے بیٹوں کے جھوٹ کو بھانپ گئے اور انھوں نے اس معصیت میں داد وفریاد نہیں کی اور نہ اضطراب دکھایا جیسا کہ انبیاء کی سنت ہے اس مصیبت کا بڑے صبر سے سامنا کیا، اگرچہ ان کا دل جل رہا ہے، آنکھیں اشکبار تھیں ، فطری طور پر کثرتِ گریہ سے ان کی بینائی جاتی رہی، لیکن قرآن کی تعبیر کے مطابق انھوں نے صبرِ جمیل کا مظاہرہ کیا اور اپنے اوپر قابو رکھا (کظیم) ۔ انھوں نے گریبان چاک کرنے، داد وفریاد کرنے اور پھٹے پرانے کپڑے پہننے سے گریز سے کیا جوکہ عزاداری کی مخصوص علامات تھیں ۔
بہرحال اسلام کے بعد بھی یہ واقعہ مشرق و ومغرب کے مؤرخین کی تحریروں میں بعض اوقات حاشیہ آرائی کے آیا ہے، فارسی اشعار میں سب سے پہلے ”یوسف وزلیخا“ ہے اور اس کے بعد نویں صدی کے مشہور اعر عبدالرحمٰن جامی کی ”یوسف زلیخا“ ہے ۔(۱)
۵ ۔ داستانِ یوسف ایک ہی جگہ کیوں بیان ہوئی؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دیگر انبیاء کے واقعات کے برعکس حضورت یوسف کا واقعہ ایک ہی جگہ بیان ہوا ہے جبکہ اس کے برعکس باقی انبیاء کے حالاتِ زندگی علیحدہ علیحدہ حصّوں کی شکل میں قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں پھیلے ہوئے ہیں ۔
یہ خصوصیت اس بناپر ہے کہ اس واقعے کی کڑیاں خاص وضع وکیفیت کے باوجود اگر ایک دوسرے سے جُدا ہوجائیں تو ان کا باہمی ربط ختم ہوجاتا ہے، مکمل نتیجہ اخذ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سارا واقعہ ایک ہی جگہ ذکر ہو، مثلاً حضرت یوسف کے خواب کا آخری حصّہ بیان نہ کیا جائے تو اس پہلے حصّے کا کوئی مفہوم نہیں بنتا، یہی وجہ ہے کہ سورہ کے آخر میں ہے کہ جس وقت حضرت یعقوب اور حضرت یوسف کے بھائی مصر میں آئے اور ان کے باعظمت مقام کے سامنے جھک گئے تو حضرت یوسف نے اپنے والد گرامی کی طرف رخ کرکے کہا:
( یَااٴَبَتِ هٰذَا تَاٴْوِیلُ رُؤْیَای مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّی حَقًّا )
اے میرے پدر بزرگوار! یہ ہے میرے خواب کی تعبیر کہ جو مَیں نے ابتداء میں دیکھا تھا، خدا نے اسے سچ کردکھایا ہے ۔ (یوسف/ ۱۰۰)
یہ مثال اس وقعہ کے آغاز واختتام کے درمیان نہ ٹوٹنے والے تعلقات کو واضح کرتی ہے، جبکہ ددسرے انبیاء کے واقعات اس طرح نہیں ہیں اور ان کے واقعات کا ہر حصّہ الگ نتیجہ رکھتا ہے ۔
اور ایک خصوصیت اس سورہ کی یہ ہے کہ قرآن مجید میں دیگر انبیاء کے حالات وواقعات آئے ہیں عام عام طور ان پر ان میں سرکش اقوام کے ساتھ ان کے مقابلوں کی تفصیل ہے کہ جن میں آخرکار ایک گروہ ایمان لے آتا ہے اور دوسرا اپنی مخالفت عذاب الٰہی سے نابود ہوجانے تک جاری رکھتا ہے لیکن داستان یوسف میں اس سلسلے میں بات نہیں کی گئی بلکہ زیادہ تر خود حضرت یوسف کی زندگی کے بارے میں ہے اور زندگی کی سخت وادیوں سے ان کے گزرنے کی داستان ہے کہ جس میں آخرکار انھیں ایک طاقتور حکومت حاصل ہوجاتی ہے اور یہ واقعہ اپنی مثال آپ ہے ۔
۶ ۔ سورہ یوسف کی فضیلت:
اسلامی روایات میں اس سورہ کی فضیلت کے بارے میں مختلف فضائل مذکور ہیں ، ان میں سے ایک حدیث حضرت امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں :
من قرء سورة یوسف فی کل یوم اٴوفی کل لیلة بعثه الله یوم القیامة وجماله مثل مال یوسف ولایصیبه فزع یوم القیامة وکان من خیار عباد الله الصالحین .
جو شخص ہر روز یہ ہر سب سورہ یوسف کی تلاوت کرے گا، خدا اسے روزِ قیامت اس حالت میں اٹھائے گا کہ اس کا حُسن وجمال حضرت یوسف علیہ السلام کا سا ہوگا اور اسے روزِ قیامت کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور وہ خدا کے بہترین صالح اور نیک بندوں میں سے ہوگا ۔(۲)
ہم نے بارہا کہا ہے کہ قرآن کی سورتوں کی فضیلت میں جو روایات آئی ہیں ان کا مطلب سطحی مطالعہ نہیں ہے اور ان کا مقصد یہ نہیں کہ بغیر غوروفکر اور بغیر عمل کے پڑھا جائے بلکہ ان سے مراد ایسی تلاوت ہے کہ جو وفکر کی تمہید ہے اور ایسا غور وفکر کہ جو عمل کا سرآغاز ہے ۔
اس سورہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی سزندگی کا طرزِ عمل اس سورہ کی روشنی میں مرتب کرے اور ہوا وہوس، مال ومنال، جاہ وجلال اور مقام ومنصب کے شدید طوفانوں کے مقابلے میں اپنے آپ پر قابو رکھے، یہاں تک کہ زندان کی تاریکیوں میں پاکدامنی محفوظ رکھنے کو برائی سے آلودہ قصرِ شاہی پر مقدم رکھے تو ایسے شخص کے قلب وروح کا حُسن وجمال حضرت یوسف کے حُسن وجمال کی طرح ہے اور قیامت کے دن کہ جب اندر کی ہر چیز نمایاں ہوجائے گی وہ خیرہ کن زیبائی حاصل کرے گا اور خدا کے صالح اور نیک بندوں کی صف میں شامل ہوگا ۔
اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ چند ایک روایات میں عورتوں کو اس سورہ کی تعلیم دینے سے منع کیا گیا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عزیر مصر کی بیوی اور مصر کی ہوس باز عورتوں سے مربوط آیات اگرچہ پورے عفتِ بیان کے ساتھ ہیں مگر ہوسکتا ہے بعض عورتوں کے لئے تحریک کا باعث ہوں اور اس کے برعکس تاکید کی گئی ہے کہ عورتوں کو سورہ نور کی تعلیم دی جائے کہ جس میں حاب کے بارے میں آیات ہیں ۔
لیکن ان روایات کی اسناد ہرگز قابلِ اعتماد نہیں ہیں جبکہ اس برعکس روایات بھی موجود ہیں کہ جن میں گھروالوں کو اس سورہ کی تعلیم دینے کا شوق دلایا گیا ہے ۔
علاوہ ازیں اس سورہ میں غور وخوض کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں نہ صرف یہ کہ عورتوں کے لئے کوئی نقطہ ضعف موجود نہیں ہے بلکہ عزیزِ مصر کی بیوی کا واقعہ ان سب کے لئے درسِ عبرت ہے کہ جو شیطانی وسوسوں میں گرفتار ہوتی ہیں ۔
____________________
۱۔ کشف الظنون: حاج خلیفہ، ج۲، ص۶۶۱.
۲۔ مجمع البیان، محل بحث سورہ کے ضمن میں
آیات ۱،۲،۳
( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )
۱( الٓر تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْمُبِینِ )
۲( إِنَّا اٴَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ )
۳( نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اٴَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ هٰذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ کُنتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِینَ )
ترجمہ
خدا کے نام سے جو بخشنے والا مہربان ہے ۔
۱ ۔ الٓر وہ واضح کتاب کی آیات ہیں ۔
۲ ۔ ہم نے اس پر عربی قرآن نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھو (اور غور وفکر کرو) ۔
۳ ۔ ہم ننے تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کیا ہے، تجھ پر اس قرآن کی وحی کرکے، اگرچہ اس سے پہلے تُو غافلین میں سے تھا ۔
یہ داستان، ”احسن القصص“ ہے
اس سورہ کا آغاز بھی حروف مقطعات (الف۔ لام۔راء) سے ہوا ہے کہ جو عظمتِ قرآن کی نشانی ہے اور اس بات کی مظہر ہے کہ یہ عمیق اور معنی خیز حروف الف با کے سادہ ترین اجزاء سے ترکیب دی گئی ہیں ۔
قرآن کے حروف مقطعات کے بارے میں اب تک تین مواقع پر (سورہ بقرہ، آل عمران اور اعراف کی ابتداء میں ) کافی بحث ہوچکی ہے لہٰذا اب تکرار کی ضرورت نہیں اور ہم یہ ثابت کرچکے ہیں کہ یہ حروف عظمت قرآن پر دلالت کرتے ہیں ۔
شاید یہی وجہ ہے کہ حروفِ مقطعات کے فوراً بعد عظمتِ قرآن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: ”یہ کتاب بیّن کی آیت ہیں “ وہ کتاب جو ضوفشاں ہے، حق کو باطل سے جدا کرکے دکھانے والی ہے، صراطِ مستقیم کی رہنما ہے اور نجات وکامیابی کا راستہ بتانے والی ہے( الٓر تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ الْمُبِینِ ) ۔
یہ بات لائقِ توجہ ہے کہ اس آیت میں دُور کے اسم اشارہ( تِلْکَ ) سے استفادہ کیا گیا ہے کہ جس کی نظیر سورہ بقرہ اور بعض دیگر سورتوں کی ابتداء میں بھی موجود ہے، اس کے بارے میں ہم کہہ چکے ہیں کہ ایسی تمام تعبیرات ان آیات کی عظمت کی طرف اشارہ ہیں ، یعنی یہ آیات ایسی بلند وبرتر ہیں کہ گویا ان کا مقام بہت ہی بالا ہے، آسمانوں کی بلندی پر بیکراں فضاوں کی گہرائیوں میں کہ جن تک پہنچنے کے لئے بہت تگ ودو کی ضرورت ہے، ایسے ہی گرے پڑے مطالب کی طرح نہیں ہیں کہ جو ہر قدم پرانسان کو مل جاتے ہیں ۔
ایسی تعبیر کے نمونے فارسی ادب میں بھی ہیں کہ ایک بلند مرتبہ شخصیّت کے حضور ہم کہتے ہیں آنجناب ، آنمقام محترم.....وغیرہ۔
اس کے بعد ان آیات کے نزول کا مقصد یوں بیان کیا گیا ہے: ہم نے اسے عربی قرآن بھیجا ہے تاکہ تم اسے اچھی طرح سمجھ سکو( إِنَّا اٴَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ ) ۔
قصد صرف ان آیات کی قرائت، تلاوت اور تبرکاً پڑھنا نہیں ہے بلکہ اصل انھیں سمجھنا ہے اور یہ تمام انسانی وجود کو عمل کی دعوت ہے ۔
باقی رہا قرآن عربی میں ہونا تو اس کی شہادت دنیا کی مختلف زبانوں کا مطالعہ کرنے والوں نے دی ہے کہ یہ ایسی وسیع زبان ہے کہ جو لسان وحی کی ترجمان ہوسکتی ہے اور خدا کی باتوں کے مفہوم اور باریکیوں کو واضح کرتی ہے، اس کے علاوہ مسلّم ہے کہ اسلام نے جزیرة عربستان سے طلوع کیا ہے کہ جو تاریکی، ظلمت، وحشت اور بربریت کا مرکز ہے، ظاہر ہے کہ سب سے پہلے اسے وہاں کے لوگوں ہی کو اپنے گرد جمع کرنا تھا اور اسے اس طرح سے گویا واضح ہونا چاہے تھا کہ اَن پڑھ اور علم ودانش سے بے بہرہ افراد کو تعلیم دیتا اور تعلیم ہی کے ذریعے انھیں تبدیل کرتا اور اس دین کے نفوذ کے لئے ایسا حقیقی بیج بوتا کہ دنیا کے تمام علاقے اس کے زیرِ سایہ آجاتے ۔
البتہ قرآن ایسی زبان کا حامل ہونے کے باوجود ساری دنیا کے لوگوں کے لئے قابل فہم نہیں ہے (اور اگر کسی اور زبان میں ہوتا تو پھر بھی یہی کچھ ہوتا) کیونکہ ہمارے پاس کوئی ایسی عالمی زبان نہیں ہے کہ جسے ساری دنیا کے لوگ سمجھتے ہوں لیکن یہ بات ساری دنیا کے لوگوں کے لئے اس کے تراجم کے ذریعے اس سے فائدہ اٹھانے میں رکاوٹ نہیں ہے یا اس سے بالاتر یہ بات اس میں رکاوٹ نہیں کہ اس زبان سے تردیجی طور پر آشنا ہوکر خود آیات کو سمجھ سکیں اور مفاہمِ وحی کا اسی کے الفاظ میں ادراک کرسکیں ۔
بہرحال قران کے عربی ہونے کا ذکر کہ جو قرآن میں دس مواقع آیا ہے ان لوگوں کا جواب ہے جنھوں نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم پر تہمت لگائی کہ انھوں نے یہ بات ایک عجمی شخص سے یاد کی ہیں اور قرآن کے مضامین میں ایک فکر کا نتیجہ ہیں نہ کہ سرچشمہ وحی سے پھوٹے ہیں ۔
ضمنی طور پر پے درپے یہ تعبیرات تمام مسلمانوں کے لئے اس ذمہ داری کا تعیّن کرتی ہیں کہ وہ سب کوشش کریں اور عربی زبان کو اپنی دوسری زبان کے طور پر سیکھیں اس لئے کہ یہ وحی کی زبان ہے اور حقائقِ اسلام کے سمجھنے کی کلید ہے ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے: ہم وحی کے ذریعے اور یہ قرآن بھیج کر تم سے ایک بہترین قصّہ بیان کر رہے ہیں اگرچہ اس سے پہلے تُو غافلین میں تھے( نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اٴَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ هٰذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ کُنتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الْغَافِلِینَ ) ۔
بعض مفسّرین کا نظریہ ہے کہ ”( اٴَحْسَنَ الْقَصَص ) “ پورے قرآن کی طرف اشارہ ہے اور وہ ”( بِمَا اٴَوْحَیْنَا إِلَیْکَ هٰذَا الْقُرْآنَ ) “کو اس کے لئے قرینہ قرار دیتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ لفظ ”قصہ“ یہاں صرف داستان اور واقعہ کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اصل لغت کے لحاظ سے کسی چیز کے آثار کی جستجو کرنے کے معنی میں ہے اور جو چیز ایک دوسرے کے پیچھے ہو عرب اسے ”قصہ“ کہتے ہیں اور چونکہ ایک موضوع کو بیان کرتے وقت کلمات اور جملے پے درپے بیان ہوتے ہیں اس لئے کام کو ”قصہ“ کہا جاتا ہے ۔
بہرحال خدا نے اس قرآن کو ”( اٴَحْسَنَ الْقَصَص ) “ قرار دیا ہے کہ جس کا بیان نہایت زیبا ہے اور جس کے الفظ انتہائی فصیح وبلیغ ہیں اور جس کے الفظ کے معانی نہایت اعلیٰ اور عمیق ترین ہیں ، جو ظاہری نظر سے بہت زیبا، انتہائی شریں اور خوشگوار اور باطنی لحاظ سے بہت ہی معنی خیز ہے ۔
متعدد روایات میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تعبیر پورے قرآن کے لئے بھی استعمال ہوئی ہے اگرچہ یہ احادیث زیرِ بحث آیت کی تفسیر کے طور پر نہیں ہیں ، (غور کیجئے گا) ۔
مثلاً ایک حدیث علی بن ابراہیم نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل کی ہے، آپ نے فرمایا: ”( اٴحسن القصص هٰذا القرآن ) ؛ بہترین قصّہ یہ قرآن ہے“۔(۱)
روضة الکافی میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے ایک خطبہ میں ہے:
( انّ اٴحسن وابلغ الموعظة واٴنفع التذکر کتاب الله عزّ ذکره ) .
بہترین قصّہ بلیغ ترین وعظ ونصیحت اور مفید ترین تذکر اور یاددہانی کتابِ خدا ہے ۔(۲)
لیکن اس کے بعد آیات کی جن میں حضرت یوسف کی سرگزشت بیان کی گئی ہے کا تعلق زیرِ بحث سے ملتا ہے کہ ذہن انسانی زیادہ تر اس معنی کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور خدا نے حضرت یوسف کے واقعے کو ”( اٴحسن القصص ) “ کا نام دیا ہے یہاں تک کہ شاید اس سورہ کی ابتدائی آیات کا مطالعہ کرتے وقت بہت سے لوگوں کے ذہن میں اس کے معنی کے علاوہ کوئی دوسرا مفہوم نہیں آئے گا ۔
مگر ہم نے بارہا کہا ہے کہ کوئی مانع نہیں کہ ایسی آیات دونوں معانی کرنے کے لئے ہوں ، قرآن بھی بطورِ عموم ”( اٴحسن القصص ) “ ہے اور حضرت یوسف کی داستان بھی بطور خصوص ”( اٴحسن القصص ) “ ہے ۔
یہ واقعہ کیسے بہترین نہ ہو جبکہ اس کے ہیجان انگیز پیچ وخم میں زندگی کے اعلیٰ ترین دروس کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔
اس واقعے میں ہر چیز پر خدا کے ارادے کی حاکمیت کا ہم اچھی طرح مشاہدہ کرتے ہیں ۔
حسد کرنے والوں کا منحوس انجام ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور ان کی سازشوں کو نقشِ بر آب ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔
بے عفتی کی عار وننگ اور پارسائی وتقویٰ کی عظمت وشکوہ اس کی سطور میں ہم مجسم پاتے ہیں ۔
کنویں کی گہرائی میں ایک ننھے بچے کی تنہائی، زندان کی تاریک کوٹھری میں بے گناہ قیدی کے شب وروز، یاس وناامیدی کے سیاہ پردوں کے پیچھے نورِ امید کی تجلی اور آخرکار ایک وسیع حکومت کا عظمت وشکوہ کہ جو آگاہی وامانت کا نتیجہ ہے، یہ تمام چیزیں اس داستان میں انسان کی آنکھوں کے سامنے ساتھ ساتھ گزرتی ہیں ۔
وہ لمحے کہ جب ایک معنی خیز خواب سے ایک قوم کی سرنوشت بدل جاتی ہے ۔
وہ وقت کہ جب ایک قوم کی زندگی ایک بیدار خدائی زمام دار کے علم وآگہی کے زیر سایہ نابودی سے نجات پالیتی ہے ۔
اور ایسے ہی دسیوں درس، جس داستان میں موجود ہوں وہ کیوں نہ ”( اٴحسن القصص ) “ ہو۔
البتہ یہی کافی نہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان ”حسن القصص“ہے اہم بات یہ ہے کہ ہم میں یہ لیاقت ہو کہ یہ عظیم درس ہماری روح میں اتر جائے ۔
بہت سے ایسے لوگ ہیں جو حضرت یوسفعليهالسلام کے واقعے کو ایک اچھے رومانوی واقعے کے عنوان سے دیکھتے ہیں ، ان جانوروں کی طرح جنھیں ایک سرسبز واداب اور پھل پھول سے لدے ہوئے باغ میں صرف گھاس نظر آتی ہے کہ جو اُن کی بھوک زائل کردے ۔
ابھی تک بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جو اس داستان کو جھوٹے پر وبال دے کر کوشش کرتے ہیں کہ اس سے ایک سیکسی ( sexy ) داستان بنالیں جبکہ اس واقعہ کے لئے یہ بات ناشائستہ ہے اور اصل داستان میں تمام اعلیٰ انسانی قدریں جمع ہیں ، آئندہ صفحات میں دیکھیں گے کہ اس واقعے کے جامع اور خوبصورت پیچ وخم کو نظر انداز کرکے نہیں گزرا جاسکتا، ایک اعر شیریں سخن کے بقول:
کبھی کبھی اس داستان کے پُر کشش پہلووں کی مہک انسان کو اس طرح سرمست کردیتی ہے کہ وہ بے خود ہوجاتا ہے ۔
انسان کی زندگی پر اس داستان کا اثر
قرآن کا بہت سا حصّہ گزشتہ قوموں کی سرگزشت اور گزرے ہوئے لوگوں کے واقعاتِ زندگی کی صورت میں ہے، اس پہلو پر نظر کرنے سے یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ایک تربیت کنندہ اور انسان ساز کتاب میں یہ سب تاریخ اور داستانیں کیوں ہیں ۔
لیکن ذیل کے چند نکات کی طرف توجہ کرنے سے یہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے:
۱۔ تاریخ انسانی زندگی کے مختلف مسائل کی تجربہ گاہ ہے اور جو چیزیں انسان عقلی دلائل سے اپنے ذہن میں منعکس کرتا ہے انھیں تاریخ کے صفحات میں عینی صورت میں کھلا ہوا پاتا ہے اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ معلومات میں سے زیادہ قابلِ اعتماد وہ ہیں جو حسّی پہلو رکھتی ہیں ، واقعاتِ زندگی میں تاریخ کا اثر واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے، انسان اپنی آنکھوں سے صفحاتِ تاریخ میں اختلاف وانتشار کی وجہ سے کسی وم کی مرگ بار شکست دیکھتا ہے اور اسی طرح اتحاد وہم بستگی کے باعث کسی دوسری قوم کی درخشاں کامیابی کا مشاہدہ کرتا ہے، تاریخ اپنی زبانِ بے زبانی سے ہر قوم کے مکتب، روش اور طرزِ عمل کے قطعی اور ناقابل انکار نتائج بیان کرتی ہے ۔
گزشتہ لوگوں کے حالات ان کے نہایت قیمتی تجربات کا مجموعہ ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ زندگی کا ماحصل تجربے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔
تاریخ ایک آئینہ ہے جو اپنے اندر تمام انسانی معاشروں کا ڈھانچہ منعکس کرتا ہے، یہ آئینہ ان کی برائیاں ، اچھائیاں ، کامیابیاں ، ناکامیاں ، فتوحات، شکستیں اور ان سب امور کے عوامل واسباب دکھاتا ہے، اسی بناپر گزشتہ لوگوں کی تاریخ کا مطالعہ انسان کی عمر کو بالکل ان کی عمر جتنا طویل کردیتا ہے کیونکہ اس طرح وہ ان کی پوری عمر کے تجربات سمیٹ لیتا ہے، اسی بناپر حضرت علی علیہ السلام اپنے آبرومند فرزند کے نام اپنے تاریخی وصیت نامہ میں فرماتے ہیں :
ای بنی انّی وان لم اٴکن عمرت عمر من کان قبلی فقدنظرت فی اٴعمالهم وفکرت فی اخبارهم وسرت فی آثارهم حتّیٰ عدت کاٴحدهم بل کاٴنّی بما انتهیٰ الیٰ من امورهم قدعمرت من اولهم الیٰ آخرهم .
اے میرے! بیٹے اگر گزشتہ لوگوں کی عمر یکجا مجھے حاصل نہیں تاہم مَیں نے ان کے اعمال دیکھے ہیں ، ان کے واقعات میں غور فکر کیا ہے اور ان کے آثار کی سیر وسیاحت کی ہے اس طرح سے گویا مَیں ان میں سے ایک ہوگیا ہوں بلکہ اس بناپر کہ مَیں نے ان کی تاریخ کے تجربات معلوم کئے ہیں تو گویا مَیں نے ان کے اولین وآخرین کے ساتھ زندگی گزاری ہے ۔
البتہ، یہاں تاریخ سے مراد وہ تاریخ ہے جو خرافات، اتہامات، دروغ گوئیوں ، چاپلوسیوں ، ثناخوانیوں ، تحریفوں اور مسخ شدہ واقعاات سے خالی ہو لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسی تاریخیں بہت کم ہیں ، اس سلسلے میں قرآن نے حقیقی تاریخی کے جو نمونے پیش کئے ہیں اس کے اثر کو نظر سے اوجھل نہیں رہنا چاہیے ۔
ایسی تاریخ کی ضرورت ہے کہ جو آئینے کی طرح صاف ہو نہ کہ کثر نما ہو، ایسی تاریخ کہ جو صرف واقعات ذکر نہ کرے بلکہ اس کی بنیاد اور نتائج بھی تلاش کرے ۔
ان حالات میں قرآن کہ جو تربیت کی ایک اعلیٰ کتاب ہے تاریخ سے استفادہ کیوں نہ کرے اور گزشتہ لوگوں کے واقعات سے مثالیں اور شواہد پیش نہ کرے ۔
۲ ۔ علاوہ ازیں تاریخ ایک خاص قوتِ جاذبہ رکھتی ہے اور انسان بچپن سے بڑھاپے تک اپنی عمر کے تمام ادوار میں اس زبردست قوِ جاذبہ کے زیر اثر رہتا ہے، اسی بناپر دنیا کی ادبیات کا ایک اہم حصّہ اور اشاء پردازوں کے عظیم آثار اور واقعات پر مشتمل ہیں ۔
شعراء اور عظیم مصنفین کے بہترین آثار چاہے وہ فارسی میں ہوں یا دوسری زبانوں میں یہی داستانیں اور واقعات ہیں ، گلستانِ سعدی، شاہنامہ فردوسی، خمسہ نظامی اور معاصر مصنفین کے دلکش آثار، اسی طرح ہیجان آفرین فرانسیسی مصنف ویکٹرہوگو، برطانیہ کے شکسپیئر اور جرمنی کے گوئٹے سب کی تصانیف داستان کی صورت میں ہیں ۔
داستان اور واقعہ چاہے نظم کی صورت میں ہو یا نشر کی، نمائش کے انداز میں یا فلم کے پڑھنے والے اور دیکھنے والے پر اثرا انداز ہوتا ہے اور ایسی تاثیر عقلی استدلالات کے بس کی بات نہیں ہے ۔
اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انسان عقلی سے پہلے حسّی ہے اور وہ جس قدر فکری مسائل میں غور وفکر کرتا ہے اس سے زیادہ حسّی مسائل میں غوطہ زن ہوتا ہے زندگی کے مختلف مسائل جس قدر میدانِ حسّ سے دُور ہوتے ہیں اور خالص حوالے سے ہونے میں اسی قدر ثقیل اور سنگین ہوتے ہیں اور اتنی ہی دیر سے ہضم ہوتے ہیں ۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیشہ عقلی استدلالات کو مضبوط بنانے کے لئے حسّی مثالوں سے مدد لی جالتی ہے، بعض اوقات ایک مناسب اور برمحل مثال استدلال کا اثر کئی گناہ زیادہ کردیتی ہے، اسی لئے کامیاب علماء وہ ہیں جو بہترین مثالیں انتخاب کرنے پر زیادہ دسترس رکھتے ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ عقلی استدلال حسّی، عینی اور تجرباتی مسائل کا ماحصل ہیں ۔
۳ ۔ داستان اور تاریخ ہر شخص کے لئے قابل فہم ہے جبکہ اس کے برعکس استدلالت کی رسائی میں سب لوگ برابر کے شریک نہیں ہیں ۔
اسی لئے وہ کتاب کہ جو عمومیت رکھتی ہے اور سب کے لئے ہے، نیم وحشی، اُن پڑھ عرب کے بیابانی بدّو سے لے کر عظیم مفکر اور فلسفی تک کے استفادہ کے لئے ہے اسے حتمی طور پر تاریخ، داستانوں اور مثالوں کا سہارا لینا چاہیے ۔
ان تمام پہلووں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ تمام تاریخیں اور داستانیں بیان کرکے قرآن نے تعلیم وتربیت کے لحاظ سے بہترین راستہ اپنایا ہے ۔
خصوصاً اس نکتے کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن نے کسی موقع پر بھی خالی تاریخی واقعات ہی بیان نہیں کردیئے بلکہ ہر قدم پر اس سے نتائج اخذ کئے ہیں اور اس سے تربیتی حوالے سے استفادہ کیا ہے، چنانچہ آپ اسی صورت میں اس کے کئی نمونے دیکھیں گے ۔
____________________
۱۔ نور الثقلین: ج۲، ص۴۹.۲۔ نور الثقلین: ج۲، ص۴۹.
آیات ۴،۵،۶
۴( إِذْ قَالَ یُوسُفُ لِاٴَبِیهِ یَااٴَبَتِ إِنِّی رَاٴَیْتُ اٴَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاٴَیْتُهُمْ لِی سَاجِدِینَ ) ۔
۵( قَالَ یَابُنَیَّ لَاتَقْصُصْ رُؤْیَاکَ عَلیٰ إِخْوَتِکَ فَیَکِیدُوا لَکَ کَیْدًا إِنَّ الشَّیْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُبِینٌ ) ۔
۶( وَکَذٰلِکَ یَجْتَبِیکَ رَبُّکَ وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیثِ وَیُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَیْکَ وَعَلیٰ آلِ یَعْقُوبَ کَمَا اٴَتَمَّهَا عَلیٰ اٴَبَوَیْکَ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاهِیمَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبَّکَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) ۔
ترجمہ
۴ ۔وہ وقت (یاد کرو)جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا: ابا جان! مَیں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند میرے سامنے سجدہ کررہے ہیں ۔
۵ ۔اس نے کہا:اے میرے بیٹے، اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا ورنہ وہ تیرے لئے خطرناک سازش کریں گے کیونکہ شیطان انسان کا کُھلا دشمن ہے ۔
۶ ۔اور اس طرح تیرا پروردگار تجھے منتخب کرے گا، تجھے خوابوں کی تعبیر کا علم دے گا اور اپنی نعمت تجھ پر اور آلِ یعقوب پر تمام کرے گا جیسے اس سے پہلے تیرے باپ ابراہیم اور اسحاق پر تمام کی ہے، تیرا پروردگارعالم اور حکیم ہے ۔
امید کی کرن اور مشکلات کی ابتدا
حضرت یوسفعليهالسلام کے واقعے کا آغاز قرآن ان کے عجیب اور معنی خیز خواب سے کرتا ہے کیونکہ یہ خواب دراصل حضرت یوسفعليهالسلام کی تلاطم خیز زندگی کا پہلا موڑ شمار ہوتا ہے ۔
ایک دن صبح سویرے آپ بڑے شوق اور وارفتگی سے باپ کے پاس آئے اور انہیں ایک نیا واقعہ سنایا جو ظاہراً زیادہ اہم نہ تھا لیکن درحقیقت ان کی زندگی میں ایک تازہ باب کھلنے کا پتہ دے رہا تھا ۔
یوسفعليهالسلام نے کہا-: ابا جان! مَیں نے کل رات گیارہ ستاروں کو دیکھا کہ وہ آسمان سے نیچے اترے ، سورج اور چاندان کے ہمراہ تھے، سب کے سب میرے پاس آئے اور میرے سامنے سجدہ کیا( اِذْ قَالَ یُوسُفُ لِاٴَبِیهِ یَااٴَبَتِ إِنِّی رَاٴَیْتُ اٴَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاٴَیْتُهُمْ لِی سَاجِدِینَ ) ۔
ابنِ عباس کہتے ہیں کہ حضرت یوسفعليهالسلام نے یہ خواب شبِ جمعہ دیکھا تھا کہ جو شب قدر بھی تھی (وہ رات جو مقدرات کے تعین کی رات ہے) ۔
یہ کہ حضرت یوسفعليهالسلام نے جب یہ خواب دیکھا اس وقت آہہ کی عمر کتنے سال تھی، اس سلسلے میں بعض نے نو سال، بعض نے بارہ سال اور بعض نے سات سال عمر لکھی ہے، جوبات مسلم ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت آپ بہت کم سن تھے ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ لفظ”راٴیت “ کا اس آیت میں تاکید اور قاطعیت کے ساتھ تکرار ہوا ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مَیں ان بیشتر افراد کی طرح نہیں ہوں کہ جو خواب کا کچھ حصہ بھول جاتے ہیں اور اس کے بارے میں تردد وشک سے بات کرتے ہیں ، مَیں نے پورے یقین سے دیکھا ہے کہ گیارہ ستاروں ، سورج اور چاند نے میرے سامنے سجدہ کیا ہے، اور اس امر میں مجھے کوئی شک وشبہ نہیں ہے ۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہاں ضمیر ”ھم“ استعمال ہوئی ہے کہ جو ذوی العقول کے لئے بولی جانے والی جمع مذکر کی ضمیر ہے ، اسی طرح لفظ ”ساجدین “ بھی آیا ہے ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کا سجدہ کرنا کوئی اتفاقی امرنہ تھا بلکہ ایک واضح پروگرام کے ماتحت وہ عاقل افراد کی طرح سجدہ کررہے تھے ۔
البتہ واضح ہے کہ سجدہ سے یہاں مراد خضوع اور احترام ہے ورنہ سورج، چاند اور ستاروں کے لئے سجدے کا مفہوم عام انسانون کے سجدے کا سا نہیں ہے ۔
اس ہیجان انگیز اور معنی خیز خواب پر خدا کے پیغمبر یعقوبعليهالسلام فکر میں ڈوب گئے کہ سورج، چاند اور آسمان کے گیاری ستارے، وہ بھی گیارہ ستارے نیچے اُترے اور میرے بیٹے یوسف کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے، یہ کس قدر معنی آفریں ہے، یقینا سورج اور چاند مَیں اور اس کی ماں (یامَیں اور اس کی خالہ )ہے اورگیارہ ستارے اس کے بھائی ہیں میرے بیٹے کی قدر ومنزلت اور مقام اس قدر بلند ہوگا کہ آسمان کے ستارے ، سورج اور چاند اس کے آستانہ پر جبہ سائی کریں گے، یہ بارگاہ الٰہی میں اس قدر عزیز اور باوقار ہوگا کہ آسمان والے بھی اس کے سامنے خضوع کریں گے، کتنا پُر شکوہ اور پُرکشش خواب ہے ۔
لہٰذا پریشانی اور اضطراب کے انداز میں کہ جس میں ایک مسرت بھی تھی، اپنے بیٹے سے کہنے لگے: میرے بیٹے، اپنایہ خواب بھائیوں کو نہ بتانا( قَالَ یَابُنَیَّ لَاتَقْصُصْ رُؤْیَاکَ عَلیٰ إِخْوَتِک ) ، کیونکہ وہ تیرے خلاف خطرناک سازش کریں گے
نہ کرنا ورنہ وہ تیرے لئے خطرناک سازش کریں گے کیونکہ شیطان انسان کا کُھلا دشمن ہے ۔( فَیَکِیدُوا لَکَ کَیْدًا ) ۔
مَیں جانتا ہوں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ( ا( ِٕنَّ الشَّیْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُبِینٌ ) ، وہ موقع کی تاڑ میں ہے تاکہ اپنے وسوسوں کا آغازکرے، کینہ وحسد کی آگ بڑکائے، یہاں تک کہ بھائیوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنادے ۔
یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ حضرت یعقوبعليهالسلام نے یہ نہیں کہا کہ مجھے ڈر یے کہ بھائی ترے بارے میں بُرا ارادی کریں گے بلکہ اسے ایک قطعی امر کی شکل میں خصوصا لفظ ”کیدا“ کی تکرار کے ساتھ بیان کیا ہے کہ جو تاکید کی دلیل ہے آپ اپنے سب بیٹوں کی نفسیات سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ وہ یوسف کے بارے میں کتنے حساس ہیں ، شاید یوسف کے بھائی بھی خواب کی تعبیر کے بارے میں ناواقف نہ تھے ولاوہ ازیں یہ کواب ایسا تھا جس کی تعبیر زیادہ پیچیدہ نہ تھی ۔
دوسری طرف یہ خواب بچگانہ خوابوں کی طرح نہ تھا ، ہوسکتا ہے کوئی بچہ خواب میں چاند اور ستاروں کو دیکھے لیکن باشعور موجودات کی طرح چاند ستارے اس کے آگے سجدہ کریں ، یہ کوئی بچگانہ خواب نہیں ہے، ان وجوہ کی بنیاد پر حضرت یعقوبعليهالسلام بجا طور پر یوسف کے بارے میں بھائیوں کی طرف سے حسد کی آگ بھڑک اٹھنے کے بارے میں خوفزدہ تھے ۔
لیکن یہ خواب صرف مستقبل میں یوسفعليهالسلام کے مقام کی ظاہری ومادی عظمت بیان نہیں کرتا تھا بلکہ نشاندہی کرتا تھا کہ وہ مقامِ نبوت تک بھی پہنچے گے کیونکہ آسمان والوں کا سجدہ کرنا آسمانی مقام کے بلند ی پر پہنچنے کی دلیل ہے اسے لئے تو ان کے پدر بزرگوار حضرت یعقوبعليهالسلام نے مزید کہا:اور اس طرح تیرا پروردگار تجھے منتخب کرے گا( وَکَذٰلِکَ یَجْتَبِیکَ رَبُّک ) ، اور تجھے تعبیرِخواب کا علم دے گا( وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیث ) (۱) ۔
”احادیث“ ”حدیث“ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ایک واقعہ نقل کرنا،انسان چونکہ ااپنا خواب اِدھر اُدھر بیان کرتا ہے لہٰذا یہاں یہ خواب کے لئے کنایہ ہے ۔
اور اپنی نعمت تجھ ہر اور آلِ یعقوب پر تمام کرے گا( وَیُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَیْکَ وَعَلیٰ آلِ یَعْقُوبَ ) ، جیسے اس نے قبل ازیں تیرے باپ ابراہیم اور اسحاق پرکی ہے( کَمَا اٴَتَمَّهَا عَلیٰ اٴَبَوَیْک َ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاهِیمَ وَإِسْحَاق ) ۔
ہاں ! تیرا پروردگارعالم ہے اور حکمت کے مطابق کام کرتا ہے( إِنَّ رَبَّکَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ) ۔
____________________
۱۔ ”تاویل“در اصل کسی چیز کو لوٹا دینے کے معنی ہے اور کوئی کام یا بات اگر اپنے آخری مقصد تک پہنچ جائے تو اسے ”تاویل“ کہتے ہیں ، خارجی طور پر خواب کا صورت پزیر ہوجانابھی ”تاویل“ کا مصداق ہے ۔
اہم نکات
۱ ۔ خواب دیکھنا:
رؤیا اور خواب دیکھنے کا مسئلہ ایسے مسائل میں سے رہا ہے جنہوں نے عام افراد اور ایلِ علم کی فکرِ نظر کو کئی پہلوؤں سے اپنی طرف مبذول رکھا ہے ۔
یہ اچھے اور برے، وحشتناک اور دلپزیر ، سرور آفریں اور غم انگیز مناظر جو انسان خواب میں دیکھتا ہے کیا ہیں ؟
کیا یہ گزشتہ زمانے سے مربوط ہیں اور ان مناظر نے بیتے ہوئے زمانے میں انسانی روح کی گہرائیوں میں آشیانہ بنایا تھا یا یہ تغیرات کا مظہر ہیں یا آئندہ زمانے سے مربوط ہیں کہ جن کی فلم انسانی روح مخفی طریقے سے اپنے حساس کیمروں کے ذریعے بنا لیتی ہے یا پھر یہ مختلف قسم کے ہوتے ہیں جن میں سے بعض کا تعلق گزشتہ سے ہے اور بعض کا آئندہ سے اور بعض ان آرزؤں اور تمنّاؤں کا عکس ہیں کہ جو پوری نہیں ہوسکیں ۔
متعدد آیات میں قرآن تصریح کرتا ہے کہ کم از کم کچھ خواب ایسے ہیں جو کہ مستقبل بعید یا مستقبل قریب کی عکاسی کرتے ہیں ۔
حضرت یوسفعليهالسلام کا مذکورہ بالا خواب اسی طرح اس سورہ کی آیہ ۳۶ میں مذکور قیدیوں کا خواب، نیز عزیز مصر کے خواب کا واقعہ آیہ ۴۳ میں ہے یہ مختلف خوابوں کے نمونے ہیں جو تمام تر مستقبل کے واقعات سے پردہ اٹھاتے ہیں ، ان میں سے کوئی نسبتاً مستقبل بعید سے متعلق ہتے مثلاً حضرت ہوسفعليهالسلام کا خواب کہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چالیس سال بعد صورت پذیر ہوا اور کوئی مستقبل قریب کے بارے میں ہے مثلا عزیزِ مصر کا خواب اور حضرت یوسفعليهالسلام کے ساتھی قیدیوں کا خواب کہ جو بہت جلد ہی وقوعِ پزیر ہوگئے ۔
اس سورہ کے علاوہ بھی مختلف مقامات پر تعبیردار خوابوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، مثلاً پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کا خواب کہ جس کی طرف سورہ فتح میں اشارہ ہوا ہے اور اسی طرح حجرت ابراہیمعليهالسلام کا خواب جو سورہ صٰفٰت میں مذکور ہے (یہ خواب امرِ الٰہی بھی تھااور اس کی تعبیر بھی تھی) ۔
یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ ایک روایت میں پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے:
الرؤیا ثلاثة بشری من اللّٰه وتحرین من الشیطان والذی یحدث به الانسان نفسه فیراه فی منامه ۔
خواب تین قسم کے ہیں :
کبھی خدا کی طرف سے بشارت ہوتی ہے ۔
کبھی شیطان کی طرف سے حزن وغم کا سامان ہوتا ہے اورکبھی ایسے مسائل ہوتے ہیں جو انسانی فکر میں پلتے رہتے ہیں اور پھر وہ انہیں خواب میں دیکھتا ہے ۔(۱)
واضح ہے کہ شیطانی خواب کچھ بھی نہیں ہیں کہ ان کی کوئی تعبیر ہو، البتہ رحمانی خواب کہ جو بشارت کا پہلو رکھتے ہیں یقینا ایسے ہوتے ہیں کہ جو آئندہ کے کسی مسرت بخش واقعے سے پردہ اٹھاتے ہیں ۔
بہرحال ضروری ہے کہ ہم یہاں حقیقتِ خواب کے بارے میں مختلف نظریات کی طرف اجمالی طور پر اشارہ کریں ، حقیقتِ رؤیا کے بارے میں بہت سی تفسیریں کی گئی ہیں ، شاید انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکے ۔
۱ ۔ تفسیر مادی اور ۔
۲ ۔ تفسیر روحانی ۔
۱ ۔تفسیرمادی
مادیین کہتے ہیں کہ خواب کے چند علل واسباب ہوسکتے ہیں :
الف) ۔ ہوسکتا ہے خواب انسان کے روزمرّہ کے کاموں کا سیدھا نتیجہ ہو یعنی جو گزشتہ دنوں میں انسان کو پیش آتا ہے خواب کے وقت اس کی فکر کے سامنے وہ مجسم ہوجاتا ہے ۔
ب) ۔ ہوسکتا ہے یہ وہ آرزوئیں ہوں جو پوری نہیں ہوئیں ، جیسے پیاسا شخص خواب میں پانہ دیکھتا ہے اور جو شخص کسی کے سفر سے لوٹ آنے کے انتظار میں ہوتا ہے وہ خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ آگیا ہے ۔
پرانے زمانے سے کہاوت ہے :
شتر در خواب بیند پنبہ دانہ! ...۔
اونٹ خواب میں بنولے دیکھتا ہے.....۔
ج) ۔ ہوسکتا ہے کسی چیز کے خوف کے سبب انسان اسے خواب میں دیکھے،کیونکہ بارہا تجربہ ہوا ہے کہ جو لوگ چور سے خوفزدہ ہوتے ہیں رات کو خواب میں چور دیکھتے ہیں ، مشہور ضرب المثل ہے ۔
دور از شتر بہ خواب وخواب آشفتہ نہ بین
اونٹ سے دور ہوکر سوجا تاکہ تو خوابِ پریشان نہ دیکھے ۔
یہ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔
فرائڈ اور اس کے مکتب کے پیروکاروں نے خواب کے لئے ایک اور تفسیرِمادی بیان کی ہے ۔
وہ تفصیلی تمہیدات کے ساتھ اظہار کرتے ہیں کہ خواب نامراد وناکام آزروؤں کو پورا کرنے سے عبارت ہے کہ جو ہمیشہ تبدیل ہو کے ”میں “ کو فریب دینے کے لئے خود آگاہی کی منزل میں آتی ہیں ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ یہ قبول کر لینے کے بعد نفسِ انسانی دو حصوں پر مشتمل ہے ایک حصہ آگاہ ہے (وہ کہ جو روز مرہ کے افکار، ارادی معلومات اور انسانی اختیارات سے مربوط ہے )دوسرا حصہ نا آگاہ ہے (وہ باطنی ضمیر میں تشنہ تمناؤں کی شکل میں پنہاں ہے )، کہتے ہیں کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہماری وہ خواہشیں جو ہم مختلف اسباب کی وجہ سے پوری نہیں کرسکتے اور ہمارے باطنی ضمیر میں جاگزیں ہیں وہ عالمِ خواب میں جب خود آگاہی کا سسٹم معطل ہوجاتا ہے تو اس طرح کی تخیلاتی تکمیل کے لئے خود آگاہ مرحلے کا رخ کرتی ہیں ، کبھی وہ بغیر کسی تبدیلی کے منعکس ہوتی ہیں (یعنی عاشق اپنے اس محبوب کو عالمِ خواب میں دیکھتا ہے جو اس سے جدا ہوچکا ہے ) اورکبھی اس کی شکل تبدیل ہوجاتی ہے اور وہ مناسب شکلوں میں ظاہر ہوتی ہیں ، اس صورت میں خواب تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں ۔
اس تفسیر کی بنا پر خوابوں کا تعلق ہمیشہ گزشتہ زمانے سے ہوتا ہے اور وہ کبھی بھی آئندی کے بارے میں خبر نہیں دیتے اور وہ صرف ضمیرِ نا آگاہ کے پڑھنے کا اچھا وسیلہ بن سکتے ہیں ، اسی بنا پر نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لئے اکثر بیمار کے خوابوں سے مدد لی جاتی ہے کیونکہ ان کا علاج ضمیرِ نا آگاہ کے ظاہر ہونے پر منحصر ہوتا ہے ۔
غذا شناسی کے بعض ماہرین خواب اور بدن کی غذائی ضرورت کے درمیان رابطے کے قائل ہیں اور ان کا نظریہ ہے کہ مثلاً اگر انسان خواب میں دیکھے کہ اس کے دانتوں سے خون نکل رہا ہے تو لازماً اس کے بدن میں وٹامن سی کی کمی ہے اور اگر کوئی خواب میں دیکھے کہ اس کے سر کے بال سفید ہوگئے ہیں تو معلو م ہوگا کہ وہ وٹامن بی کی کمی میں گرفتار ہے ۔
۲ ۔تفسیر روحانی
لیکن روحانی فلاسفر خوابون کی ایک اور تفسیر کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ خواب چند قسم کے ہیں :
الف۔ وہ کواب کہ جو انسان کی گزشتہ زندگی کی آرزوؤں سے مربوط ہیں اور انسان کے خوابوں کا ایک اہم حصہ انہیں سے مربوط ہوتا ہے ۔
ب۔ وہ خواب کہ جو مفہوم سے عاری اور خیالِ پریشاں ہوتے ہیں یہ تو ہمات کا نتیجہ ہوتے ہیں (اگرچہ ممکن ہے ان کے نفسیاتی اسباب بھی ہوں )
ج۔ وہ خواب کے جو آئندہ سے مربوط ہیں اور مستقبل کے بارے میں گواہی دیتے ہیں ۔
اس میں شک نہیں کہ جو خواب انسان کی گزشتہ زندگی سے مربوط ہیں اور وہ مناظر کے جو انسان کی اپنی طویل زندگی میں دیکھے ہوئے ان کی تصویر کشی کی کوئی خاص تعبیر نہیں ہے ۔
اسی طرح خوابہائے پریشاں کہ جو افکارِ پریشاں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور جنھیں اصطلاح میں ”اضغاث احلام“کہا جاتا ہے ان افکار کی طرح ہیں کہ جن بخار اور ہزیان کی حالت میں پیدا ہوجاتے ہیں ، زندگی کے آئندی مسایل کے بارے میں ان کی بھی کوئی خاص تعبیر نہیں ہوتی، اگرچہ روحانیات اور نفسیات کے ماہرین ان سے انسان کی ناآگاہ ضمیر کو سمجھنے کا کام لیتے ہیں اور ان سے آگاہی کو نفسیاتی بیماریوں کے علاج کی کلید سمجھتے ہیں ، اس بنا پر ان کی تعبیر نفسیاتی اسرار اور بیماریوں کی تشخیص کے لئے ہے ناکہ زندگی کے آئندہ حوادث وواقعات کے لئے ۔
باقی رہے وہ خواب کہ جو مستقبل سے مربوط ہیں انہیں بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔
ایک قسم صریح اور واضح خوابوں کی ہے کہ جن کے لئے کسی قسم کی تعبیر کی ضرورت نہیں ، بعض اوقات ایسے خواب مستقبل ِ قریب یا بعیدمیں کسی معمولی فرق کے بغیر صورت پزیر ہوجاتے ہیں ۔
دوسری قسم: آئندہ کے واقعات کی حکایت کرنے کے باوجود خاص ذہنی وروحانی عوامل کے زیرِ اثر جن کی شکل متغیر ہوجاتی ہے اور جو تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں ۔
ان خوابوں کی ہر قسم کے لئے بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ جن سب کا انکار نہیں کیا جاسکتا، نہ سرف مذہبی مصادر اور تاریخی کتب میں ان کی مثالیں مذکور ہیں بلکہ ہماری اپنی خاص زندگی میں یا ایسے افرادکی زندگی میں جنھیں ہم جانتے ہیں ان کی بہت سی مثالیں موجود ہیں اور ان کی تعداد اس قدر کم ہے کہ انہیں ہرگز اتفاقات کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔
____________________
۱۔بحار الانوار،ج ۱۴، ص ۴۴۱، بعض علماء نے ان خوابوں میں ایک قسم کا اضافہ کیا ہے اور وہ ایسا خواب ہے جو انسان کے مزاج اور بدن کی کیفیت کا سیدھا نتیجہ ہو، اس کی طرف آئندہ مباحث میں اشارہ ہوگا ۔
چند خواب
یہاں ہم چند ایسے خوابوں کے نمونے پیش کرتے ہیں کہ جنہوں نے عجیب انداز سے آئندہ کے واقعات سے پردہ اٹھایا ہے اور جنھیں ہم نے قابلِ اعتماد افراد سے سنا ہے ۔
۱ ۔ ہمدان کے ایک مشہور اور کاملاً قابلِ وثوق عالم مرحوم اخوند ملا علی نے مرحوم آقا میزا عبدالنبی سے کہ جو تہران کے بزرگ علماء میں سے تھے، اس طرح نقل کیا ہے :
جب میں سامرا میں تھا تو مازندران سے مجھے ہر سال تقریبا تقریباً ایک سو تومان(۱) بھیجے جاتے تھے اور اسی وجہ سے پہلے ضرورت پڑتی تو مَیں قرض لے لیتا اور اس رقم کے پہنچنے پر اپنے سارےقرض ادا کردیتا ۔
ایک سال مجھے خبر ملی کہ اس سال فصل کی حالت بہت خراب رہی ہے لہٰذا وہ رقم نہیں بھیجی جائے گی، مَیں بہت پریشان ہوا، اسی پریشانی کے عالم میں سو گیا، اچانک میں نے خواب مین پیغمبرِ اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو دیکھا، آپ نے مجھے پکار کر کہا:
اے شخص!کھڑے ہوجاؤ ، وہ الماری کھولو(ایک الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )، وہاں ایک سو تومان ہے وہ لے لو۔
مَیں خواب سے بیدار ہوا، تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میرے دروازے پر دستک ہوئی، زوال کے بعد کی بات ہے، مَیں نے دیکھا کہ اہلِ تشیع کے عظیم مرجع تقلید مرحوم میزا شیرازی کا بھیجا ہواقاصد ہے ، وہ کہنے لگا :میرزا تمہیں بلا رہے ہیں ۔
مجھے تعجب ہوا کہ اس وقت مجھے وہ مردِ بزرگ کس لئے بلارہے ہیں ، مَیں گیا تو دیکھا کہ وہ ایک کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں (میں اپنا خواب بھول چکا تھا )، اچانک حضرتِ میرزا شیرازی نے کہا: میرزا عبدالنبی! اس الماری کا دروزاہ کھولو اور اس میں ایک سو تومان ہیں اٹھالو۔
فوراً خواب کا واقعہ میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا، اس واقعہ سے مجھے بہت تعجب ہوا، مَیں نے چاہا کچھ کہوں لیکن دیکھا کہ میرزا اس سلسلے میں کوئی بات کرنے کے لئے مائل نہیں ہیں مَیں وہ رقم لے کر باہر آگیا ۔
۲ ۔ ایک قابلِ اعتماد دوست نقل کرتا ہے :
کتابِ ”ریحانة الادب “ کے ،مولف مرحوم تبریزی کا ایک لڑکا تھا ، اس کا دایاں ہاتھ خراب تھا (شاید اسے شدید رومائٹرم تھا)حالت یہ تھی کہ وہ مشکل سے قلم اٹھا سکتا تھا، طے پایا کہ وہ علاج کے لئے مغربی جرمنی جائے ۔
وہ کہتا ہے کہ مَیں جس بحری جہاز میں تھا اس میں خواب دیکھا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہیں ۔
مَیں نے ڈائری کھولی اور یہ واقعہ دن اور وقت کے ساتھ لکھ لیا، کچھ عرصے کے بعد مَیں ایران واپس آیا ، عزیزوں میں سے کچھ لوگ میرے استقبال کے لئے آئے، مَیں نے دیکھا کہ انھوں نے سیاہ لباس پہن رکھے ہیں تو مجھے تعجب ہوا، خواب کا واقعہ میرے ذہن سے بالکل اتر چکا تھا، آخر کار انھوں نے آہستہ آہستہ مجھے بتایا کہ میری والدہ فوت ہو گئیں ہیں ۔
مجھے فوراً وہ خواب یاد اآیا، مَیں نے ڈائری کھولی اور وفات کے دن کے بارے میں سوال کیا تو دیکھا کہ ٹھیک اسی روز میری والدہ فوت ہوئیں تھیں ۔
۳ ۔ مشہور اسلامی مولف سید قطب اپنی تفسیر ”فی ظلال القرآن“ میں سورہ یوسف سے مربوط آیات کے ذیل میں لکھتے ہیں :
تم نے خوابوں کے بارے میں جو تمام باتیں کہی ہیں اگر مَیں ان تمام کا انکار بھی کردوں تو بھی مَیں اس واقعے کا انکار نہیں کرسکتا جو خود میری ساتھ پیش آیا کہ جب مَیں امریکا میں تھا، وہاں مَیں نے خواب میں دیکھا کہ میرے بھانجے کی آنکھوں میں خون اتر آیاہے اور وہ دیکھ نہیں سکتا میرا بھانجہ اس وقت میرے سب افراد خانہ کے ساتھ مصر میں تھا، مَیں اس واقعے پر پریشان ہوا مَیں نے فورا گھر والوں کو مصر خط لکھ بھیجا اور اپنے بھانجے کی آنکھوں کے بارے میں خصوصیت سے سوال کیا ۔
کچھ عرصے بعد میرے خط کا جواب آیا، اس میں انھوں نے لکھا تھاکہ اس کی آنکھوں سے داخلی طور پر خون رستا ہے اور وہ دیکھ نہیں سکتا اور اس وقت زیرِ علاج ہے ۔
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ داخلی طور پر اس کی آنکھوں سے خون اس طرح سے رِستا تھا کہ عام مشاہدے سے نہیں دیکھا جاسکتا تھا، صرف طبی آلات سے اسے دیکھنا ممکن تھا لیکن بہرحال وہ آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوچکا تھا ۔
بہر کیف مَیں نے خواب میں یہاں تک کہ داکلی طور پر رسنے والے خون کو واضح طور پر دیکھا تھا ۔
ایسا خواب کہ جن سے اسرارورموز سے سے پردہ اٹھا ہے اور آئندہ سے مربوط حقائق یا حالات منکشف ہوئے ہیں بہت زیادہ ہیں ، یہاں تک کہ دیر سے یقین کرنے والے افراد بھی ان کا انکار نہیں کرسکتے اور نہ انہیں محض اتفاق قرار دے سکتے ہیں ۔
آپ اپنے قریبی دوستوں سے تحقیق کرکے عام طور پر ایسے خوابوں کی مثالیں معلوم کر سکتے ہیں کہ جن کی تفسیر مادی حوالے سے ہرگز نہیں ہوسکتی اور صرف فلاسفہ کی روحانی تفسیر اور استقلالِ روح کے اعتقاد سے ان کی تعبیر ہوسکتی ہے ۔
لہٰذا ایسے تمام خوابوں سے مجموعی طور پر ایک مستقل روح کی موجودگی کے شاید کے طور پر استفادی کیا جاسکتا ہے ۔(۲)
۲ ۔ حضرت یعقوبعليهالسلام نے تعبیرکیسے بتائی
زیرِبحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ حضرت یعقوبعليهالسلام نے بھائیوں کے سامنے خواب بیان کرنے سے ڈرانے کے علاوہ اجمالی طور خواب کی تعبیر بھی بیان کردی، انھوں نے کہا کہ تُو برگزیدہ خدا ہوگا، خدا تجھے تعبیرِ خواب کا علم دے گا اور اپنی نعمت تجھ پر اور آلِ یعقوب پر تمام کرے گا ۔
اس امر پر یوسف کے خواب کی دلالت کہ وہ آئندہ بلند روحانی ومادی مقامات پر فائز ہوں گے بالکل قابلِ فہم ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے حضرت یعقوبعليهالسلام کو یہ کیسے علم ہوا کہ آئندہ یوسف کو تعبیر خواب کا علم حاصل ہوگا، کیا یہ ایک اتفاقی خبر تھی جو حضرت یعقوبعليهالسلام نے حضرت یوسفعليهالسلام کو دی اور اس کا ان کے خواب سے کوئی تعلق نہ تھا یا یہ کہ انھوں نے یہ بات اسی خواب سے معلوم کی ۔
ظاہرًا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوبعليهالسلام نے یہ بات حضرت یوسفعليهالسلام نے خواب ہی سے کشف کی اور ممکن ہے ایسا ان دومیں سے ایک طریقے سے ہوا ہو ۔
پہلا، یہ کہ یوسف نے اس کم سنی کے باوجود خصوصی طور پر بھائیوں کی آنکھوں سے بچ کر اپنے باپ سے خواب بیان کیا (یہ بات اس سے معلوم ہوئی کہ والد نے انہیں وصیت کی کہ اسے چھپانے کی کوشش کریں ) یہ امر ظاہر کرتا ہے کہ یوسف بھی اپنے خواب سے ایک خاص احساس رکھتے تھے تبھی تو اسے کسی کے سامنے بیان نہیں کیا، یوسف جیسے ایک ننھے سے بچے میں ایسا احساس پیدا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ تعبیرِ خواب کے علم کے لئے اس میں ایک روحانی صلاحیت موجود ہے، اس سے انھوں نے محسوس کیا کہ اس صلاحیّت کی پرورش سے اس سلسلے میں وہ ایک وسیع علم حاصل کر لیں گے ۔
دورسرا، یہ کہ عالمِ غیب سے انبیاء ورسل کا ارتباط مختلف ذرائع سے تھا، کبھی قلبی الہامات کے ذریعے کبھی فرشتہ وحی کے نزول کے ذریعے اور کبھی خواب کے ذریعے، حضرت یوسفعليهالسلام اگرچہ اس وقت تک ابھی مقامِ نبوت تک نہیں پہنچے تھے تاہم یوسف کے لئے ایسے معنی خیز کواب کا ہونا نشاندہی کرتا ہے کہ وہ آئندہ اس طریق سے عالمِ غیب سے ارتباط پیدا کریں گے لہٰذا فطرتاً انہیں کواب کی تعبیر اور مفہوم کو سمجھنا چاہیئے تاکہ وہ عالمِ غیب سے اس قسم کا رابطہ رکھ سکیں ۔
۳ ۔رازداری کا سبق
ان آیات سے جہاں ہمیں بہت سے درس ملتے ہیں ایک درس رازدی ہے جو بعض اوقات بھائیوں تک سے اختیار کرنا پڑتی ہے، انسان کی زندگی میں ہمیشہ ایسے راز ہوتے ہیں جو اگر فاش ہوجائیں تو ہوسکتا ہے اس کا مستقبل یا معاشرے کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے ۔
اس اسرار کی حفاظت کے بارے میں اپنے اوپر کنٹرول کرنا وسعتِ ظرف اور قوتِ ارادی کی ایک نشانی ہے، ایسے بہت سے افراد ہیں جنہوں نے اس سلسلے میں کمزوری کی بنا پر اپنے انجام یا معاشرے کو خطرے میں ڈال دیا اور ایسی بہت سی پریشانیاں ہیں جو رازداری نہ رکھنے کی وجہ سے انسان کو پیش آتی ہیں ۔
ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا (علیه السلام)سے منقول ہے :
لایکون المومن مومنا حتی تکون فیه ثلاث خصال سنة من ربه وسنة من نبیه وسنة من ولیه فاماالسنة من ربه فکتمان السر واماالسنة من نبیه فمدارة الناس واماالسنة من ولیه فالصبر فی الباساء والضراء ۔
مومن۔ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس میں تین خصلتیں نہ ہوں ، ان میں سے ایک پروردگار کی سنت ، ایک پیغمبر کی سنت ہے اور امام وولی کی سنت ہے:
خدا کی سنت رازوں کو چھپانا ہے ۔
پیغمبر کی سنت لوگوں سے نرمی اور مدارات کرنا ہے،اورامام کی سنت مصیبت اورپریشانیوں پر صبر کرنا ہے ۔(۳)
(البتہ یہاں مراد زیادہ تر دوسروں کے رازوں کو چھپانا ہے ) ۔
ایک حدیث میں امام صادقعليهالسلام سے منقول ہے:
سرک من دمک فلا یجرین من غیره او اوداجک ۔
تیرے اسرار اورراز تیرے خون کی طرح ہیں جنھیں صرف تیری ہی رگوں میں جاری ہونا چاہیئے ۔(۴)
____________________
۱ تومان ایرانی سکہ ہے (مترجم)
۲۔ معاد وجہان پس از مرگ،ص ۳۹۷۔
۳۔بحار، طبع جدید، جلد ۷۸،ص ۳۳۴۔
۴۔سفینة البحار(کتم ) ۔
آیات ۷،۸،۹،۱۰
۷( لَقَدْ کَانَ فِی یُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آیَاتٌ لِلسَّائِلِینَ ) ۔
۸( إِذْ قَالُوا لَیُوسُفُ وَاٴَخُوهُ اٴَحَبُّ إِلیٰ اٴَبِینَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّ اٴَبَانَا لَفِی ضَلَالٍ مُبِینٍ ) ۔
۹( اقْتُلُوا یُوسُفَ اٴَوْ اطْرَحُوهُ اٴَرْضًا یَخْلُ لَکُمْ وَجْهُ اٴَبِیکُمْ وَتَکُونُوا مِنْ بَعْدِهِ قَوْمًا صَالِحِینَ ) ۔
۱۰( قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ لَاتَقْتُلُوا یُوسُفَ وَاٴَلْقُوهُ فِی غَیَابَةِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ إِنْ کُنتُمْ فَاعِلِینَ ) ۔
ترجمہ
۷ ۔یوسف اوران کے بھائیوں (کے واقعے )میں سوال کرنے والوں کے لئے (ہدایت کی)نشانیاں تھیں ۔
۸ ۔جس وقت کہ (بھائیوں نے) کہا: یوسف اور اس کا بھائی (بنیامین)باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم زیادہ طاقتور ہیں ، یقینا ہمارا باپ کُھلی گمراہی میں ہے ۔
۹ ۔یوسف کو قتل کردو یا اسے دور دراز کی زمین میں پھنک آؤ تاکہ باپ کی توجہ صرف تمہاری طرف ہو اور اس کے بعد (اپنے گناہ سے توبہ کرلینا اور)نیک بن جانا ۔
۱۰ ۔ان میں سے ایک نے کہا: یوسف کو قتل نہ کرو اور اگر کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو اسے کسی اندھے کنویں میں پھینک دو تاکہ قافلوں میں سے کوئی اسے اٹھا لیں (اور اسے اپنے ساتھ کسی دور کے مقام پر لے جائیں ) ۔
بھائیوں کی سازش
یہاں سے یوسفعليهالسلام کے بھائیوں کی یوسفعليهالسلام کی خلاف سازش شروع ہوتی ہے، پہلی آیت میں ان بہت سے اصلاحی دروس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس داستان میں موجود ہے، ارشاد ہوتا ہے:یقینایوسف اوراس کے بھائیوں (کی داستان میں سوال کرنے والوں کے لئے نشانیاں تھیں( لَقَدْ کَانَ فِی یُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آیَاتٌ لِلسَّائِلِینَ ) ۔
اس بارے میں کہ ان سوال کرنے والوں سے کون سے اشخاص مراد ہیں ، بعض مفسرین (مثال قرطبی نے تفسیر جامع میں اور دوسرے حضرات نے ) کہا ہے کہ یہ سوال کرنے والے مدینہ کے یہودیوں کی ایک جماعت تھی جو اس سلسلے میں پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مختلف سوالات کیاکرتے تھے لیکن ظاہری طور پر آیت مطلق ہے اور کہتی ہے کہ اس واقعے میں تمام جستجو کرنے والوں کے لئے آیات، نشانیاں اور دروس چھپے ہوئے ہیں ۔
اس سے بڑھ کر کیا درس ہوگا کہ چند طاقتور افراد ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کہ جس کا سرچشمہ حسد تھا ظاہراً ایک کمزور اور تنہا شخص نابود کرنے کے لئے اپنی تمام تر کوشش صرف کرتے ہیں مگر اسی کام سے انہیں خبر نہیں ہوتی کہ وہ اسے ایک حکومت کے تخت پر بٹھارہے ہیں اور ایک وسیع مملکت کا فرماں روا بنارہے ہیں اور آخرکار وہ سب اس کے سامنے سرِ تعظیم وتسلیم خم کرتے ہیں ، یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ جب خدا کسی کا م کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اتنی طاقت رکھتا ہے کہ اس کام کو اس کے مخالفین کے ہاتھوں پایہ تکمیل تک پہنچادے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ ایک پاک اور صاحب ایمان انسان اکیلا نہیں ہے اور اگرسارا جہان اس کی نابودی پر کمر باندھ لے لیکن خدا نہ چاہے تو کوئی اس کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا ۔
حضرت یعقوبعليهالسلام کے بارہ بیٹے تھے، ان میں یوسفعليهالسلام اور بنیامین ایک ماں سے تھے، ان کی والدہ کا نام راحیل تھا، یعقوبعليهالسلام ان دونوں بیٹوں سے خصوصا یوسفعليهالسلام سے زیادہ محبت کرتے تھے کیونکہ ایک تو یہ ان کے چھوٹے بیٹے تھے لہٰذا فطرتا زیادہ توجہ اور محبت کے محتاج تھے اور دوسرا ان کی والدہ (راحیل)فوت ہوچکی تھیں اس بنا پر بھی انہیں زیادہ محبت کی ضرورت تھی علاوہ ازیں خصوصیت کے ساتھ حضرت یوسفعليهالسلام میں نابغہ اور غیر معمولی شخصیت ہونے کے آثار نمایاں تھے، مجموعی طور پر ان سب باتون کی بنا پر حجرت یعقوبعليهالسلام واضح طور پر ان سے زیادہ پیار محبت کا برتاؤ کرتے تھے ۔
حاسدبھائیوں کی توجہ ان پہلوؤں کی طرف نہیں تھی اور وہ اس پر بہت نارحت اور ناراض تھے، خصوصا شاید ماؤں کے الگ الگ ہونے کی وجہ سے بھی فطرتا ان میں رقابت موجود تھی لہٰذا وہ اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ یوسف اور اس کے بھائی کوباپ ہم سے زیادہ پیار کرتا ہے حالانکہ ہم طاقتوراور مفید لوگ ہیں اور باپ کے امور کو بہتر طور پر چلا سکتے ہیں ،اس لئے اسے ان چھوٹے بچوں کی نسبت ہم سے زیادہ محبت کرنا چاہیئے جب کہ ان سے تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا( إِذْ قَالُوا لَیُوسُفُ وَاٴَخُوهُ اٴَحَبُّ إِلیٰ اٴَبِینَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَة ) ۔(۱)
اس طرح یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے انہون نے اپنے باپ کے خلاف کہا کہ ہمارا باپ واضح گمراہی میں ہے( اِنَّ اٴَبَانَا لَفِی ضَلَالٍ مُبِینٍ ) ۔
حسد اور کینے کہ آگ نے انہیں اجازت نہ دی کہ وہ معاملے کے تمام اطراف پر غوروفکر کرتے اور ان دو بچوں سے اظہارِ محبت پر باپ کے دلائل معلوم کرتے کیونکہ ہمیشہ ذاتی مفادات ہر شخص کی فکر پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور اسے یکطرفہ فیصلوں پر ابھارتے ہیں کہ جن کا نتیجہ حق وعدالت کے راستے سے گمراہی ہے ۔
البتہ ان کی مراد دین ومذہب کے اعتبار سے گمراہی نہ تھی بلکہ بعد میں آنے والی آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ اپنے باپ کی عظمت اور نبوت پر ان کا عقیدہ تھا اور انہیں صرف ان کے طرزِ معاشرت پر اعتراض تھا ۔
بغض، حسد اور کینے کے جذبات نے آخر کار بھائیوں کو ایک منصوبہ بنانے پر آمادہ کیا، وہ ایک جگہ جمع ہوئے اور دو تجاویز ان کے سامنے تھیں کہنے لگے:یایوسف کو قتل کردو یا اسے دور دراز کے کسی علاقے میں پھنک آؤ تاکہ باپ کی محبت کا پورا رخ تمہاری طرف ہو جائے( اقْتُلُوا یُوسُفَ اٴَوْ اطْرَحُوهُ اٴَرْضًا یَخْلُ لَکُمْ وَجْهُ اٴَبِیکُم ) ۔
ٹھیک ہے کہ تمہیں اس کام پر احساس گناہ ہوگا اور وجدان کی مذمت ہوگی کیونکہ اپنے چھوٹے بھائی پر یہ ظلم کروگے لیکن اس گناہ کی تلافی ممکن ہے، توبہ کرلینا اوراس کے بعد صالح جمعیت بن جانا ( وَتَکُونُوا مِنْ بَعْدِہِ قَوْمًا صَالِحِینَ) ۔
اس جملے کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان کی مراد یہ تھی کہ یوسفعليهالسلام کو باپ کی آنکھوں سے دور کرنے کے بعد ان کے ساتھ تمہارا معاملہ ٹھیک ہوجائے گا اور اس طرف سے تمہیں جو پریشانی ہے وہ ختم ہوجائے گی ۔
ان میں سے پہلی تفسیر صحیح معلوم ہوتی ہے ۔
بہرحال یہ جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس عمل کے بارے میں انہیں احساسِ گناہ تھا اور اپنے دل کی گہرائیوں میں وہ تھوڑا سا خوفِ خدا رکھتے تھے، اسی بنا پر وہ یہ گناہ انجام دینے کے بعد توبہ تجویز کررہے تھے لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ انجام جرم سے پہلے توبہ کے بارے میں گفتگو کرنا درحقیقت وجدان کو دھوکا دینے کے مترادف ہے اور گناہ کے لئے راستہ ہموار کرنے کے لئے ہے اور بات کسی طرح بھی پشیمانی اور ندامت کی دلیل نہیں بنتی ۔
دوسرے لفظوں میں حقیقی توبہ یہ ہے کہ گناہ کے بعد انسان میں ندامت اور شرمندگی کی حالت پیدا ہوجائے لیکن گناہ سے پہلے توبہ کے بارے میں گفتگو کرنا توبہ نہیں ہے ۔
اس کی وضاحت یوں ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان جب گناہ کا ارادہ کرتا ہے تو اسے ضمیر کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا مذہبی اعتقادات اس کے سامنے بندباندھ دیتے ہیں اور گناہ کی طرف قدم اٹھانے سے روکتے ہیں ، اس موقع پر وہ شخص اس بند سے گزرنے کے لئے اور گناہ کی طرف راستہ ہموار کرنے کے لئے اپنے ضمیر اور مذہب کو دھوکا دیتاہے کہ میں گناہ کرلینے کے فورا بعد اس کی تلافی کرلوں گا، ایسا نہیں ہے کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤں گا، مَیں توبہ کرلوں گا، بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوں گا، نیک عمل بجالاؤں گا اور آخرکار ٓاثارِ گناہ دھوڈالوں گا، یعنی جس طرح انجامِ گناہ کے لئے ایک شیطانی منصوبہ بناتا ہے ضمیر کو دھوکا دینے اور مذہبی عقائد پر مسلط ہونے کے لئے بھی ایک شیطانی منصوبہ بناتا ہے اور اکثر اوقات یہ شیطانی منصوبہ بھی بیت موثر ثابت ہوتا ہے اور اس محکم دیوار کو اس ذریعے سے اپنے راستے سے ہٹا دیتا ہے، حضرت یوسفعليهالسلام کے بھائیوں نے بھی یہی راستہ اختیار کیا ۔
دوسرا نکتہ یہ کہ انھوں نے کہا کہ یوسف کوراستے سے ہٹا لینے کے بعد باپ کی توجہ اور نگاہ تمیاری طرف ہوجائے گی( یَخْلُ لَکُمْ” وَجْه“ اٴَبِیکُم ) ، یہ نہیں کہا کہ باپ کا دل تمہاری طرف مائل ہوجائے گا( یَخْلُ لَکُمْ”قلب“ اٴَبِیکُم ) ، کیونکہ انہیں اطمینان نہیں تھا کہ باپ اتنی جلدی اپنے بیٹے یوسف کو بھول جائے گا، یہی کافی ہے کہ باپ کی ظاہری توجہ ان کی طرف ہو ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ اگر باپ کا رخ اور نظر مائل ہوجائے تو یہ دل کے مائل ہونے کی بنیاد بن جائے گا، جب باپ کی نظر ان کی طرف ہوئی تو آہستہ آہستہ دل بھی ہوجائے گا ۔
لیکن بھائیوں میں سے ایک بہت سمجھدار تھا یا اس کا ضمیر نسبتا زیادہ بیدار تھا اسی لئے اس نے یوسف کو قتل کرنے کے منصبوبے کی مخالفت کی اور اسی طرح کسی دور دراز علاقے میں پھنک آنے کی تجویز کی بھی ، کیونکہ ان منصوبے میں یوسفعليهالسلام کی ہلاکت کا خطرہ تھا، اس نے ایک تیسرا منصوبہ پیش کیا، وہ کہنے لگا :اگر تمہیں ایسا کام کرنے پر اصرار ہی ہے تو یوسفعليهالسلام کو قتل نہ کرو بلکہ اسے کسی کنویں میں پھینک دو (اس طرح سے کہ وہ زندہ رہے) تاکہ راہ گزاروں کے کسی قافلے کے ہاتھ لگ جائے اوروہ اسے اپنے ساتھ لے جائیں اور اس طرح یہ ہماری اور باپ کی آنکھوں سے دور ہوجائے( قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ لَاتَقْتُلُوا یُوسُفَ وَاٴَلْقُوهُ فِی غَیَابَةِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ إِنْ کُنتُمْ فَاعِلِینَ ) ۔
____________________
۱۔ ”عصبة“ ایسی جماعت اور گروہ کے معنی میں ہے کہ جس کے افراد باہم شریکِ کار ہوں اور کسی کام کی انجام دہی میں ہم آہنگ ہوں ، یہ لفظ جمع کا معنی دیتا ہے اور اس کا مفرد نہیں ہے ۔
چند نکات
۱ ۔”( غیابات الجب ) “ کا مفہوم:
”جُب“ اس کنویں کو کہتے ہیں جسے پتھروں سے چُنا گیا ہو، شاید زیادتر بیابانی کنویں اسی قسم کے ہوتے ہیں اور ”غیابت“ کنویں میں پوشیدہ جگہ کو کہتے ہیں کہ جونگاہوں سے غیب اور اوجھل ہو، یہ تعبیر گویا اس چیز کی طرف اشارہ ہے کہ جو معمولاً بیابانی کنوؤں میں ہوتی ہے اوروہ یہ کہ کنویں کی تہ میں پانی کی سطح کے قریب، کنویں کی دیوار میں طاقچہ کی صورت میں ایک چھوٹی سی جگہ بنا دیتے ہیں تاکہ اگر کوئی کنویں کی تہ میں جائے تو اس پر بیٹھ سکے اور جو برتن اپنے ساتھ لے جائے، خود پانی میں جائے بغیر اسے بھر لے، ظاہر ہے کہ اگر کنویں کے اوپر سے دیکھا جائے تو یہ جگہ صحیح طور پر نظر نہیں آتی، اسی بنا پر اسے ”غیابات“ کہا گیا ہے ۔(۱)
ہمارے ہاں بھی اس قسم کے کنویں پائے جاتے ہیں ۔
۲ ۔ اس تجویز کا مقصد:
اس میں شک نہیں کہ یہ تجویز پیش کرنے والے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ یوسفعليهالسلام کو کنویں میں اس طرح پھینکا جائے کہ وہ ختم یوجائے بلکہ اس کا مقصدیہ تھا کہ وہ کنویں کے پنہاں مقام پر رہے تاکہ صحیح وسالم قافلوں کے ہاتھ لگ جائے ۔
۳ ۔ ”( ان کنتم فاعلین ) “ کا مطلب:
اس جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہنے والے نے حتیٰ یہ تجویز بھی ایک قطعی اور فیصلہ کن بات کے طور پر پیش نہیں کی شاید وہ ترجیح دیتا تھا کہ یوسف کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے ۔
۴ ۔ کنویں والی تجویز کس نے پیش کی:
کنویں والی تجویز پیش کرنے والے کا نام کیا تھا، اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے کہا ہے کہ اس کا نام”روبین“ تھا کہ جو ان سب سے زیادہ سمجھدار شمار ہوتا تھا، بعض نے ”یہودا“ کا نام لیا ہے اور بعض نے ”لاویٰ“ کا ذکر کیا ہے ۔
۵ ۔انسانی زندگی میں حسد کے تباہ کن اثرات :
ایک اور اہم درس جو ہم اس واقعے سے سیکھتے ہیں یہ ہے کہ کس طرح حسد انسان کو بھائی کے قتل یا اس سے بھی زیادہ سخت تکلیف دہ مقام تک لے جاتا ہے اور اگر اس اندرونی آگ پر قابو نہ پایا جائے تو یہ کس طرح دوسروں کو بھی آگ میں دھکیل دیتی ہے اور کود حسد کرنے والے کو بھی ۔
اصولاً جب کوئی نعمت کسی دوسرے کو میسر آتی ہے اور خود انسان اس سے محروم رہ جاتا ہے تو اس میں چار مختلف حالتیں پیدا ہوتی ہیں :
پہلی یہ کہ وہ آرزو کرتا ہے کہ جس طرح یہ نعمت دوسروں کو حاصل ہے مجھے بھی ہو، اس حالت کو” غبطہ “(رشک) کہتے ہیں اور قابلِ تعریف حالت ہے کیونکہ یہ انسان کو ایسی اصلاحی کوشش کی طرف ابھارتی ہے اورمعاشرے پر کوئی برا اثر مرتب نہیں کرتی ۔
دوسری یہ کہ وہ خواہش کرتا ہے کہ یہ نعمت دوسروں سے چھن جائے اور وہ اس مقصد کے لئے کوشش کرنے لگتا ہے، یہی وہ تنہائی مذموم حالت ہے جسے ”حسد“ کہتے ہیں ، یہ حالت انسان کو دوسروں کے خلاف غلط کوشش پر ابھارتی ہے اور خوداپنے بارے میں کسی اصلاحی کوشش پر آمادہ نہیں کرتی ۔
تیسری یہ کہ وہ تمنا کرے کہ خود یہ نعمت حاصل کرلے اور دوسرے اس سے محروم رہ جائیں ، اسی حالت کو ”بخل“ اور اجارہ داری کہتے ہیں یعنی ہر چیز انسان اپنے لئے چاہے اور دوسروں کی اس سے محرومیت پر لذت محسوس کرے ۔
چوتھی یہ کہ وہ چاہے کہ دوسرا اس نعمت میں رہے اگرچہ وہ خود مھرومیت میں زندگی بسر کرے، یہاں تک کہ وہ اس پر بھی تیار ہو کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ بھی دوسروں کو دے دے اور اپنے مفادات سے صرفِ نظر کرے اس بالاوبرتر حالت کو ”ایثار“ کہتے ہیں کہ جو اہم ترین اور بلند انسانی صفات میں سے ہے ۔
بہرحال حسد نے صرف بردرانِ یودف کو اپنے بھائی کے قتل کی سرحد تک نہیں پہنچایا بلکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ حسد انسان کو خود اس کی اپنی نابودی پر بھی ابھارتا ہے اسی بنا پر اسلامی احادیث میں اس گھٹیا صفت کے خلاف جہاد کے لئے ہلا دینے والی تعبیرات دکھائی دیتی ہیں ، نمونے کے طور پر ہم یہاں چند ایک احادیث نقل کرتے ہیں ۔
پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
خدا نے موسیٰ بن عمران کو حسد سے منع کیا اوران سے فرمایا:
ان الحاسد ساخط لنعمی صاد لقسمی الذی قسمت بین عبادی ومن یک کذٰلک فلست منه ولیس منی
یعنی ۔ حسد کرنے والا میرے بندوں کو ملنے والی نعمتوں پر ناخوش رہتا ہے اور اپنے بندوں میں جو کچھ میں نے تقسیم کیا ہے اس میں رکاوٹ ڈالتا ہے، جو شخص ایسا ہو نہ وہ مجھ سے ہے اور نہ مَیں اس سے ہوں ۔(۲)
امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:آفة الدین الحسد والعجب والفخر ۔
دین کے لئے تین چیزیں آفت اور مصیبت ہیں حسد، خودپسندی اور غرور۔
ایک اور حدیث میں اسی امامعليهالسلام سے منقول ہے:ان المومن یغبط ولایحسد، والمنافق یحسد ولا یغبط ۔
اہل ایمان رشک کرتے ہیں حسد نہیں کرتے لیکن منافق حسد کرتے ہیں رشک نہیں کرتے ۔(۳)
۶ ۔ماں باپ کے لئے ایک سبق:
اس واقعے کے اس حصے سے یہ درس بھی لیا جاسکتا ہے کہ ماں باپ کو اولاد سے اظہارِ محبت میں بہت زیادہ غور وخوض کرنا چاہیئے، اگرچہ اس میں شک نہیں کہ حضرت یعقوبعليهالسلام نے اس معاملے میں کسی خطا کا ارتکاب نہیں کیا تھا اور وہ حضرت یوسفعليهالسلام اور ان کے بھائی بنیامین سے جو اظہارِ محبت کرتے تھے وہ کسی اصول اور وجہ کے تحت تھا اور جس کی طرف ہم اشارہ کرچکے ہیں تاہم یہ ماجرا نشاندہی کرتا ہے کہ ضروری ہے کہ اس مسئلے میں انسان بہت حساس ہو اور اس پہلو کو سختی سے ملحوظ رکھے کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک بیٹے سے اظہار ِ محبت دوسرے بیٹے کے دل میں ایسے جذبات پیدا کردیتا ہے کہ وہ ہرکام کرگزرنے پر تیار ہوجاتا ہے، اس طرح وہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی اپنی شخصیت درہم برہم ہوگئی ہے اور پھر وہ اپنے بھائی کی شخصیت کو نقصان پہنچانے کے لئے کسی حد کو خاطر میں نہیں لاتا، یہاں تک کہ اگر وہ خود کسی ردِّ عمل کا مظاہرہ نہ کرسکے تو اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے اور بعض اوقات نفسیاتی بیماری کا شکار ہوجاتا ہے ۔
ایک واقعہ مجھے نہیں بھولتا کہ میرے ایک دوست کا چھوٹا بچہ بیمار تھا، فطری طور پر اسے زیادہ محبت کی ضرورت تھی، باپ نے بڑے بیٹے کو اس کی خدمت پر لگا دیا، تھوڑا ہی عرصہ گزراتھا کہ بڑا بیٹا ایک ایسی نفسیاتی بیماری میں گرفتار ہوگیا کہ جس کی شناخت نہیں ہوتی تھی، میں نے اس عزیز دوست سے کہا کہ اس کی وجہ اظہارِ محبت میں عدمِ عدالت ہی نہ ہو؟ وہ میری اس بات کا یقین نہیں کرتا تھا، وہ ایک ماہرِ نفسیات کے طبیب کے پاس گیا، طبیب نے کہا کہ تمہارے بیٹے کو کوئی خاص بیماری نہیں ہے اس بیماری کی وجہ یہ ہے کہ وہ محبت کی کمی کے مسئلے میں گرفتار ہے اور اس کی شخصیت پر ضرب لگی ہے جب کہ اس کے چھوٹے بھائی کو یہ تمام محبت حاصل ہوئی ہے ۔
اسی لئے اسلامی احادیث میں ہے کہ:
ایک روز امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
بعض اوقات مَیں اپنے کسی بچے سے اظہارِ محبت کرتا ہوں ، اسے اپنے زانو پر بٹھاتا ہوں ، اسے بکری کی دستی دیتا ہوں اور اس کے منہ میں چینی ڈالتا ہوں ، حالانکہ مَیں جانتا ہوں کہ حق دوسرے کا ہے لیکن پھر بھی یہ کام اس لئے کرتا ہوں تاکہ وہ میرے دوسرے بچوں کے خلاف نہ ہوجائے اور جیسے برادرانِ یوسف نے ہوسف کے ساتھ کیا وہ اس طرح نہ کرے ۔(۴)
____________________
۱۔ تفسیر المنار سے اقتباس، مذکورہ آیت کے ذیل میں ۔
۲۔ اصول کافی، ج۲،ص ۳۰۷۔
۳۔اصول کافی، ج۲، س ۳۰۷۔
۴۔بحار، ج۴،ص ۷۸۔
آیات ۱۱،۱۲،۱۳،۱۴
۱۱( قَالُوا یَااٴَبَانَا مَا لَکَ لَاتَاٴْمَنَّا عَلیٰ یُوسُفَ وَإِنَّا لَهُ لَنَاصِحُونَ ) ۔
۱۲( اٴَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَرْتَعْ وَیَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) ۔
۱۳( قَالَ إِنِّی لَیَحْزُنُنِی اٴَنْ تَذْهَبُوا بِهِ وَاٴَخَافُ اٴَنْ یَاٴْکُلَهُ الذِّئْبُ وَاٴَنْتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ ) ۔
۱۴( قَالُوا لَئِنْ اٴَکَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا إِذًا لَخَاسِرُون ) ۔
ترجمہ
۱۱ ۔ (یوسف کے بھائی باپ کے پاس آئے اور ) کہنے لگے: ابا جان! تم (ہمارے بھائی) یوسف کے بارے میں ہم پر اطمینان کیوں نہیں کرتے حالانکہ کہ ہم اس کے خیر خواہ ہیں ۔
۱۲ ۔اسے کل ہمارے ساتھ(شہر سے باہر) بھیج دو تاکہ خوب کھائے پئے، کھیلے کودے اور سیر وتفریح کرے اور ہم اس کے محافظ ہیں ۔
۱۳ ۔باپ نے کہا: اس کے دور ہونے سے مَیں غمگین ہوں گا اور مجھے ڈر ہے کہ اسے بھیڑیا نہ کھاجائے اور تم اس سے غافل رہو۔
۱۴ ۔انھوں نے کہا: اگر اسے بھیڑیا کھاجائے، جب کہ ہم طاقتور گروہ ہیں ، تو ہم زیا کاروں میں سے ہوں (اور ہرگز ایسا ممکن نہیں ہے)
منحوس سازش
یوسفعليهالسلام کے بھائیوں نے جب یوسف کو کنویں میں ڈالنے کی آخری سازش پر اتفاق کرلیاتو یہ سوچنے لگے کہ یوسفعليهالسلام کو کس طرح لے کر جائیں لہٰذا اس مقصد کے لئے انھوں نے ایک اور منصوبہ تیار کیا، اس کے لئے وہ باپ کے پاس آئے اور اپنے حق جتانے کے انداز میں ، نرم ونازل لہجے میں محبت بھرے شکوے کی صورت میں کہنے لگے:ابا جان! آپ یوسف کو کیوں کبھی اپنے سے جدا نہیں کرتے اور ہمارے سپرد نہیں کرتے،آپ ہمیں بھائی کے بارے میں امین کیوں نہیں سمجھتے حالانکہ ہم یقینا اس کے خیر خواہ ہیں( قَالُوا یَااٴَبَانَا مَا لَکَ لَاتَاٴْمَنَّا عَلیٰ یُوسُفَ وَإِنَّا لَهُ لَنَاصِحُونَ ) ۔
آئےے! جس کا آپ متہم سمجھتے ہیں اسے جانے دیجئے، علاوہ ازیں ہمارا بھائی نو عمر ہے، اس کا بھی حق ہے، اسے بھی شہر سے باہر کی آزاد فضا میں گھومنے پھرنے کی ضرورت ہے، اسے گھر کے اندر قید کردینا درست نہیں ، کل اسے ہمارے ساتھ بھیجئے تاکہ یہ شہر سے باہر نکلے، چلے پھرے، درختوں کے پھل کھائے، کھیلے کودے اور سیر وتفریح کرے( اٴَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَرْتَعْ وَیَلْعَب ) ۔(۱)
اور اگر آپ کو اس کی سلامتی کا خیال ہے اور پریشانی ہے تو” ہم سب اپنے بھائی کے محافظ ونگہبان ہوں گے“کیونکہ آخر یہ ہمارا بھائی اور ہماری جان کے برابر ہے( وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) ۔
اس طرح انھوں نے بھائی کو باپ سے جدا کرنے کا بڑا ماہرانہ منصوبہ تیار کیا، ہو سکتا ہے انھوں نے یہ باتیں یوسفعليهالسلام کے سامنے کی ہوں تاکہ وہ بھی باپ سے تقاضا کریں اور ان سے صحرا کی طرف جانے کی اجازت لے لیں ۔
اس منصوبے میں ایک طرف باپ کے لئے انھوں نے باپ کے لئے یہ مشکل پیدا کردی تھی کہ اگر وہ یوسف کو ہمارے سپرد نہیں کرتا تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہمیں متہم سمجھتا ہے اور دوسری طرف کھیل کود اور سیر وتفریح کے لئے شہر سے باہر جانے کی یوسفعليهالسلام کے لئے تحریک تھی ۔
جی ہاں ! جو لوگ غفلت میں ضرب لگانا چاہتے ہیں ان کے منصوبے ایسے ہی ہوتے ہیں وہ اپنے آپ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے تمام نفسیاتی اور جذباتی پہلوؤں سے کام لیتے ہیں لیکن صاحبانِ ایمان افراد کو ”المومن کیس“ (مومن ہوشیار ہوتا ہے) کے مصداق ایسے خوبصورت ظواہر سے دھوکا نہیں کھانا چاہیئے اگرچہ ایسی سازش بھائی کی سے کیوں نہ ہو۔
حضرت یعقوبعليهالسلام نے برادرانِ یوسف کی باتوں کے جواب میں بجائے اس کے کہ انہیں بُرے ارادے کا دیتے کہنے لگے مَیں تمہارے ساتھ یوسف کو بھیجنے پر تیار نہیں ہوں تو اس کی دو وجوہ ہیں :
پہلی یہ کہ یوسف کی جدائی میرے لئے غم انگیز ہے( قَالَ إِنِّی لَیَحْزُنُنِی اٴَنْ تَذْهَبُوا بِهِ ) ۔
اور دوسری یہ کہ ہوسکتا ہے کہ ان کے ارد گرد کے بیابانوں میں خونخوار بھیڑےے ہوں ” اور مجھے ڈر ہے کہ مبادا کوئی بھیڑیامیرے فرزندِ دلبند کو کھاجائے اور تم اپنے کھیل کود ، سیر وتفریح اور دوسرے کاموں میں مشغول ہوں “( وَاٴَخَافُ اٴَنْ یَاٴْکُلَهُ الذِّئْبُ وَاٴَنْتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ ) ۔
یہ بالکل فطری امر تھا کہ اس سفر میں بھائی اپنے آپ میں مشغول ہوں اور اپنے چھوٹے بھائی سے غافل ہوں اور بھڑیوں سے بھرے اس بیابان میں کوئی بھیڑیا یوسف کو آلے، البتہ بھائیوں کے پاس باپ کی پہلی دلیل کا کوئی جواب نہ تھا کیونکہ یوسف کی جدائی کا غم ایسی چیز نہ تھی کہ جس کی وہ تلافی کرسکتے بلکہ شاید اس بات نے بھائیوں کے دل میں حسد کی آگ کو اور بھڑدیا ہو۔
دوسری طرف بیٹے کو باہر لے جانے کے بارے میں باپ کی دلیل کا جواب تھا کہ جس کے ذکر کی چندان ضرورت نہ تھی اور وہ یہ کہ آخرکار بیٹے کو نشوونما اور تربیت کے لئے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے باپ سے جدا ہونا ہے اور اگر وہ نورستہ کے پودے کی طرح ہمیشہ باپ کے زیرِ سایہ رہے تو نشوونما نہیں پاسکے گااور بیٹے کے تکامل اور ارتقاء کے لئے باپ مجبور ہے کہ یہ جدائی برداشت کرے، آج کھیل کود ہے کل تحصیلِ علم ودانش ہے، پرسوں زندگی کے لئے کسب وکار اور سعی وکوشش ہے، آخرکار جدائی ضروری ہے ۔
لہٰذا اصلاً انھوں نے اس کا جواب نہیں دیا بلکہ دوسری دلیل کا جواب شروع کیا کہ جو ان کی نگاہ میں اہم اور بنیادی تھی”کہنے لگے: کیسے ممکن ہے ہمارے بھائی کوبھیڑیا کھاجائے حالانکہ ہم طاقتور گروہ ہیں ،اگر ایسا ہوجائے تو ہم زیا کاروبد بخت ہوں گے“( قَالُوا لَئِنْ اٴَکَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ إِنَّا إِذًا لَخَاسِرُون ) ۔
یعنی کیا ہم مُردہ ہیں کہ بیٹھ جائیں اور دیکھتے رہیں گے اور بھیڑیا ہمارے بھائی کو کھاجائے گا، بھائی کو بھائی سے جو تعلق ہوتا ہے اس کے علاوہ جو بات اس کی حفاظت پر ہمیں ابھارتی ہے یہ ہے کہ ہماری لوگوں میں عزت وآبرو ہے، ؛لوگ ہمارے متعلق کیا کہیں گے، یہی ناکہ طاقتور موٹی گردنوں والے بیٹھے رہے اور اپنے بھائی پر بھیڑے کو حملہ کرتے دیکھتے رہے، کیا پھر ہم لوگوں میں جینے کے قابل رہیں گے ۔
انھوں نے ضمناً باپ کی اس بات کا بھی جواب دیا کہ ہوسکتا ہے تم کھیل کود میں لگ جاؤ اور یوسف سے غافل ہوجاؤ اور وہ یہ کہ یہ مسئلہ گویا ساری دولت اور عزت وآبرو کے ضائع ہونے کا ہے ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ کھیل کود ہمیں غافل کردے کیونکہ اس صورت میں ہم لوگ بے وقعت ہوجائیں گے اور ہماری کوئی قدروقیمت نہیں ہوگی ۔
یہاں سوال سامنے آتا ہے کہ تمام خطرات میں سے حضرت یعقوبعليهالسلام نے صرف بھیڑےے کے حملے کے خطرے کی نشاندہی کیوں کی تھی ۔
بعض کہتے ہیں کہ کنعان کا بیابان بھیڑیوں کا مرکز تھا، اس لئے زیادہ خطرہ اسی طرف سے محسوس ہوتا تھا ۔
بعض دیگر کہتے ہیں کہ یہ ایک خواب کی وجہ سے تھا کہ جو حضرت یعقوبعليهالسلام نے پہلے دیکھا تھا کہ بھیڑیوں نے ان کے بیٹے یوسف پر حملہ کردیا ہے ۔
یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت یعقوبعليهالسلام نے کنائے کی زبان میں بات کی تھی اوران کی نظر بھیڑیا صفت انسانوں کی طرف تھی، جیسے یوسف کے بعض بھائی تھے ۔
بہرحال انھوں نے بہت حلیے کےے، خصوصا حضرت یوسفعليهالسلام کے معصوم جذبات کوتحریک کی اور انھیں شوق دلایا کہ وہ شہر سے باہر تفریح کے لئے جائیں اور شاید یہ ان کے لئے پہلا موقع تھا کہ وہ باپ کو اس کے لئے راضی کریں اور بہر صورت اس کام کے لئے ان کی رضامندی حاصل کریں ۔
____________________
۱۔ ”یرتع“ ”رتع“ (بروزن” قطع“) کے مادہ سے دراصل جانوروں کے چرنے اور خوب کھانے کے معنی میں ہے لیکن کبھی انسان کے لئے تفریح کرنے اور کوب کھانے پینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔
رُسوا کُن جُھوٹ
آخر کار بھائی کامیاب ہوگئے ، انہوں نے باپ کو راضی کرلیا کہ وہ یوسفعليهالسلام کو ان کے ساتھ بھیج دے، وہ رات انہوں نے اس خوش خیالی میں گزاری کہ کل یوسف کے بارے میں ان کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرے گااور راستے کی رکاوٹ اس بھائی کو ہم ہمیشہ کے لئے راستے سے ہٹا دیں گے، پریشانی انہیں صرف یہ تھی کہ باپ پشیمان نہ ہو اور اپنی بات واپس نہ لے لے ۔
صبح سویرے وہ باپ کے پاس گئے اور یوسف کی حفاظت کے بارے میں باپ نے ہدایت دہرائیں ، انہوں نے بھی اظہارِ اطاعت کیا، باپ کے سامنے اسے بڑی محبت و احترام سے اٹھایا اور چل پڑے ۔
کہتے ہیں کہ شہر کے دروازے تک باپ ان کے ساتھ آئے اور آخری دفعہ یوسف کو ان سے لے کر اپنے سینے سے لگایا، آنسو ان کی آنکھوں سے برس رہے تھے، پھر بھی یوسف کو ان کے سپرد کرکے ان سے جدا ہوگئے لیکن حضرت یعقوبعليهالسلام کی آنکھیں اسی طرح بیٹوں کے پیچھے تھیں ، جہاں تک باپ کی آنکھیں کام کرتی تھیں وہ بھی یوسف (علیه السلام)پر نوازش اور محبت کرتے رہے لیکن جب انہیں اطمینان ہوگیا کہاَطؤب باپ انہیں نہیں دیکھ سکتا تو اچانک انہوں نے آنکھیں پھیر لیں ، سالہاسال سے حَسد کی وجہ سے جو اُن کے اندر تہ بہ تہ بغض وکینہ موجود تھا وہ حضرت یوسفعليهالسلام پر نکلنے لگا، ہر طرف سے اسے مارنے لگے، وہ ایک سے بچ کر دوسرے سے پناہ لیتے لیکن کوئی انہیں پناہ نہیں دیتا ۔
ایک روایت میں ہے کہ اس طوفانِ بَلا میں حضرت یوسفعليهالسلام آنسو بہا رہے تھے اور جب وہ انہیں کنویں میں پھینکنے لگے تو اچانک حضرت یوسفعليهالسلام ہنسنے لگے،بھائیوں کو بہت تعجب ہوا ہے کہ یہ ہنسنے کو کونسا مقام ہے، گویا یوسفعليهالسلام نے اس مسئلے کو مذاق سمجھا ہے اور بات سے بے خبر ہے کہ سیاہ وقت اور بدبختی اس کے انتظار میں ہے لیکن یوسفعليهالسلام نے اس ہنسنے کے مقصد سے پردہ اٹھایا اور سب کو عظیم درس دیا، وہ کہنے لگے:
مجھے نہیں بھولتا کہ ایک دن تم طاقتور بھائیوں ، تمہارے قوی بازؤوں اور بہت زیادہ جسمانی طاقت پر مَیں نے نظر ڈالی تو مَیں بہت خوش ہوا اور مَیں نے اپنے آپ سے کہا کہ جس کے اتنے دوست اورمددگار ہوں اسے سخت حوادث کا کیا غم ہے، اس دن مَیں نے تم پر بھروسہ کیا اور تمہارے بازؤوں پر دل باندھا، اب تمہارے چنگل میں گرفتار ہوں اور تم سے بچ کر تمہاری طرف پناہ لیتا ہوں اور تم مجھے پناہ نہیں دیتے، خدا نے تمہیں مجھ پر مسلط کیا ہے تاکہ مَیں یہ درس سیکھ لوں کہ اس کے غیر پر یہاں تک کہ بھائیوں پر بھی بھروسہ نہ کروں ۔
بہر حال قرآن کہتا ہے:جب وہ یوسف کو اپنے ساتھ لے گئے اورانہوں نے متفقہ فیصلہ کرلیا کہ اسے کنویں کی مخفی جگہ پھنک دیں گے، اس کام کے لئے جو ظلم ستم ممکن تھا انہوں نے روا رکھا( ف( لَمَّا ذَهَبُوا بِهِ وَاٴَجْمَعُوا اٴَنْ یَجْعَلُوهُ فِی غَیَابَةِ الْجُبِّ ) ۔(۱)
لفظ ”اجمعوا“ نشاندہی کررتا ہے کہ سب بھائی اس پروگرام پر متفق تھے اگر چہ حضرت یوسفعليهالسلام کو قتل کرنے میں وہ متفق نہ تھے ۔
اصولی طور پر ”اجمعوا“ ”جمع“ کے مادہ سے اکٹھا کرنے کے معنی میں ہے اور ایسے مواقع پر آراء وافکار جمع کرنے کی طرف اشارہ ہوتا ہے ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اس وقت ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی، اسے تسلی دی اور اس کی دلجوئی کی اور اس سے کہا غم نہ کھاؤ ”ایک دن ایسا آئے گا کہ تم انہیں ان تمام منحوس سازشوں اور منصوبوں سے آگاہ کرو گے اور تمہیں پہچان نہیں سکیں گے( وَاٴَوْحَیْنَا إِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاٴَمْرِهِمْ هٰذَا وَهُمْ لَایَشْعُرُونَ )
وہ دن کہ جب تم تختِ حکومت پر تکیہ لگائے ہوگے اور تمہارے یہ بھائی تمہاری طرف دستِ نیاز پھیلائیں گے اور ایسے تشنہ کاموں کی طرح کہ جو چشمہ خوش گوار کی تلاش میں تپتے ہوئے بیابان میں سرگرداں ہوتے ہیں ، تمہارے پاس بڑی انکساری اور فروتنی سے آئیں گے، لیکن تم اتنے بلند مقام پر پہنچے ہوگے کہ انہیں خیال بھی نہیں ہوگا کہ تم ان کے بھائی ہو، اس روز تم ان سے کہو گے کہ کیا تمہی نہ تھے جنہوں نے اپنے چھوٹے بھائی یوسف کے ساتھ یہ سلوک کیا اور اس دن یہ کس قدر شرمسار اور پشیمان ہوں گے ۔
اسی سورہ کی آیہ ۲۲ کے قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وحی الٰہی وحیّ نبوت نہ تھی بلکہ یوسف کے دل پر الہام تھا تاکہ وہ جان لے کہ وہ تنہا نہیں ہے اور اس کا ایک حافظ ونگہبان ہے، اس وحی نے قلب یوسفعليهالسلام پر امید کی ضیا پاشی کی اور یاس وناامیدی کی تاریکیوں کو اس کی روح سے نکال دیا ۔
یوسف کے بھائیوں نے جو منصوبہ بنا رکھا تھا اُس پر انہوں نے اپنی خواہش کے مطابق عمل کرلیا، لیکن آخرکار انہیں واپس لوٹنے کے بارے میں سوچنا تھاکہ جاکر کوئی ایسی بات کریں کہ باپ کو یقین آجائے کہ یوسف کسی سازش کے تحت نہیں بلکہ طبیعی طور پر وادی عدم میں چلا گیا ہے اور اس طرح وہ باپ کی نوازشات کو اپنی جانب موڈ سکیں ۔
اس مقصد کے لئے انہوں نے جو منصوبہ بنایاتھا وہ بالکل وہی تھا جس کا باپ کو خوف تھا اور وہ جس کی پیش بینی کرچکے تھے، یعنی انہوں نے فیصلہ کیا کہ جاکر کہیں کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اس کے لئے فرضی کہانیاں پیش کرں ۔
قرآن کہتا ہے: رات کے وقت بھائی روتے ہوئے آئے( وَجَائُوا اٴَبَاهُمْ عِشَاءً یَبْکُونَ ) ۔
ان کے جھوٹے آنسو ؤوں اور ٹسوے بہانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جھوٹا رونا بھی ممکن ہے اور صرف روتی ہوئی آنکھ سے دھوکا نہیں کھانا چاہیئے ۔
باپ جو بڑی بے تابی اور بے قراری سے اپنے فرزند دلبند یوسف کی واپسی کے انتظار میں تھا اُس نے جب انہیں واپس آتے دیکھا اور یوسف ان میں دکھائی نہ دیا تو وہ لرز گیا اور کانپ اٹھا، حالات پوچھے تو انہوں نے کہا: اب جان! ہم گئے اور باہم (سواری اور تیر اندازی کے )مقابلوں میں مشغول ہوگئے اور یوسف کہ جو چھوٹا تھا اور ہم سے مقابلہ نہیں کرسکتا تھا اسے ہم اپنے سامان کے پاس چھوڑ گئے، اس کام میں ہم اتنے محو ہوگئے کہ ہر چیز یہاں تک کہ بھائی کو بھی بھول گئے، اس اثنا ء میں ایک بے رحم بھیڑیا اس طرف آپہنچا اور اس نے اسے چیر پھاڑ کھایا( قَالُوا یَااٴَبَانَا إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَکْنَا یُوسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاٴَکَلَهُ الذِّئْبُ )
لیکن ہم جانتے ہیں کہ تم ہرگز ہماری باتوں کا یقین نہیں کرو گااگر چہ ہم سچے ہوں کیونکہ تم نے پہلے ہی اس قسم کی پیش بینی کی تھی لہٰذا اسے بہانہ سمجھو گے( وَمَا اٴَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَنَا وَلَوْ کُنَّا صَادِقِینَ ) ۔
بھائیوں کی باتیں بڑی سوچی سمجھی تھیں ، پہلی بات یہ کہ انہوں نے باپ کو ”یاابانا“ (اے ہمارے والد) کے لفظ سے مخاطب کیا کہ جس میں ایک جذباتی پہلو تھا، دوسری بات یہ کہ فطری طور پر ایسی تفریح گاہ میں طاقتور بھائی بھاگ دوڑ میں مشغول ہوگئے اور چھوٹے کو ساما ن کی نگہداشت پر مقرر کریں گے اور اس کے علاوہ انہوں نے باپ کو غفلت میں رکھنے کے لئے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور روتی ہوئی آنکھوں سے کہا کہ تم ہرگز یقین نہیں کروگے اگرچہ ہم سچ بول رہے ہوں ۔
نیز اس بناء پر کہ باپ کو ایک زندہ نشانی بھی پیش کریں ”وہ یوسف کی قمیص کو جھوٹے خون میں تر کئے ہوئے تھے“ (وہ خون انہوں نے بکری یا بھیڑ کے بچے یا ہرن کا لگا رکھا تھا)( وَجَائُوا عَلیٰ قَمِیصِهِ بِدَمٍ کَذِبٍ ) ۔
لیکن ”دروغ گو حافظہ ندارد“ ایک حقیقی واقعہ کے مختلف پہلو ہوتے ہیں اور اس کے مختلف کوائف اور مسائل ہوتے ہیں ، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ان سب کوایک فرضی کہانی میں سمویا جاسکے لہٰذا برادرانِ یوسف بھی اس نکتے سے غافل رہے کہ کم از کم یوسفعليهالسلام کی کرتے کو چند جگہ سے پھاڑ لیتے تاکہ وہ بھیڑئےے کے حملے کی دلیل بن سکتا وہ بھائی کی قمیص کو اس سے بدن سے صحیح سالم اتار کر خون آلودہ کرکے باپ کے پاس لے آئے، سمجھدار اور تجربہ کار باپ کی جب اس کرتے پر نگاہ پڑی تو وہ سب کچھ سمجھ گئے اور کہنے لگے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ” بلکہ نفسانی ہوا وہوس نے تمہارے لئے یہ کام پسندیدہ بنادیاہے اور یہ شیطانی سازشیں ہیں “( قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اٴَنفُسُکُمْ اٴَمْرًا ) ۔
بعض روایات میں ہے کہ :
انہوں نے کرتا اٹھا لیا اور اس کا پہلا حصہ آگے کرکے پکار کر کہا:تو پھر اس میں بھیڑئےے کے پنجوں اور دانتوں کے نشان کیوں نہیں ہیں ۔
ایک اور روایت کے مطابق :
حضرت یعقوبعليهالسلام نے کرتا اپنے منہ پر ڈال لیا، فریاد کرنے لگے اور آنسو بہانے لگے، وہ کہہ رہی تھے: یہ کیسا مہربان بھیڑیا تھا جس نے میرے بیٹے کوتو کھالیا لیکن اس کے کرتے کو ذرہ بھر نقصان نہ پہنچایا، اس کے بعد وہ بے ہوش ہوکر خشک لکڑی کی طرح زمین پر گر پڑے، بعض بھائیوں نے فریاد کی : اے وائے ہو ہم پر روزِ قیامت عدلِ الٰہی کی عدالت میں ہم بھائی بھی ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں اور باپ کو بھی ہم نے قتل کردیا ہے، باپ اسی طرح سحری تک بے ہوش رہے لیکن سہرگاہی کی نسیم سرد کے جھونکے ان کے چہرے پر پڑے تو وہ ہوش میں آگئے ۔(۲)
باوجودیکہ یعقوبعليهالسلام کے دل میں آگ لگی ہوئی تھی، ان کی روح جل رہی تھی لیکن زبان سے ہرگز ایای بات نہ کہتے تھے جو ناشکری، یاس وناامیدی اور جزع و فزع کی نشانی ہو بلکہ کہا ” مَیں صبر کروں گا،صبرِ جمیل، ایسی شکیبائی جو شکر گزاری اور حمد خدا کے ساتھ ہو( فَصَبْرٌجمیل ) ۔(۳)
اس کے بعد یعقوبعليهالسلام کہنے لگے:” جو کچھ تم کہتے ہو اس کے مقابلے میں مَیں خدا سے مدد طلب کرتا ہوں “( وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ عَلیٰ مَا تَصِفُونَ ) ، مَیں اس سے چاہتا ہوں کہ جامِ صبر کی تلقی میرے حلق میں شیریں کردے اور مجھے زیادہ تاب وتوانائی دے تاکہ اس عظیم طوفان کے مقابلے میں اپنے اوپر کنٹرول رکھ سکوں اور میری زبان نادرست اور غلط بات سے آلودہ نہ ہو ۔
انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یوسف کی موت کی مصیبت پر مجھے شکیبائی دے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یوسف قتل نہیں ہوئے بلکہ کہا کہ جو کچھ تم کہتے ہو کہ جس کا نتیجہ بہرحال اپنے بیٹے سے جدائی ہے، مَیں صبر طلب کرتا ہوں ۔
۱ ۔ مندرجہ بالا آیت میں ” لما“ کا جواب محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہے:( فلما ذهبوا به واجمعوا ان یجعلوه فی غیابت الجب عظمت فتنتهم ) (تفسیر قرطبی)۔
اور یہ حذف شاید اس بنا پر ہو کہ اس دردناک حادثے کی عظمت کا تقاضا تھا کہ کہنے والا اس کے بارے میں خاموش رہے یہ خود بلاغت کے فنون میں سے ایک فن ہے ۔(تفسیر المیزان)
۲۔ تفسیر آلوسی مذکورہ آیت کے ذیل میں ۔
۳۔ ”صبر جمیل“ صفت وموصوف کے قبیل میں سے ہے اور مبتدا محذوف کی خبر بھی ہے ، یہ دراصل اس طرح تھا:” صبری صبر جمیل“ ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ ایک ترکِ اولیٰ کے بدلے
ابوحمزہ ثمالی نے ایک روایت امام سجادعليهالسلام سے نقل کی ہے ابوحمزہ کہتے ہیں :
جمعہ کے دن مَیں مدینہ منورہ میں تھا، نمازِ صبح مَیں نے امام سجادعليهالسلام کے ساتھ پڑھی، جس وقت امام نماز اور تسبیح سے فارغ ہوگئے تو گھر کی طرف چل پڑے، میں آپ کے ساتھ تھا ۔
آپعليهالسلام نے خادمہ کو آواز دی اور کہا:
خیال رکھنا جو سائل، ضرورت مند گھر کے دروازے سے گزرے اسے کھانا دینا کیونکہ آج جمعہ کا دن ہے ۔
ابوحمزہ کہتے ہیں :
مَیں نے کہا: ہروہ شخص کو مدد کا تقاضا کرتا ہے مستحق نہیں ہوتا، تو امام نے فرمایا:
ٹھیک ہے، لیکن مَیں اس سے ڈرتا ہوں کہ ان میں مستحق افراد ہوں اور ہم انہیں غذا نہ دیں اور اپنے گھر کے دروازے سے دھتکار دیں تو کہیں ہمارے گھر والوں پر وہی مصیبت نہ آن پڑے جو یعقوبعليهالسلام اور آلِ یعقوب پر آن پڑی تھی ۔
اس کے بعد فرمایا:
ان سب کو کھانا دو کہ(کیا تم نے نہیں سنا ہے کہ) یعقوبعليهالسلام کے لئے ہرروز ایک گوسفند ذبح کی جاتی تھی، اس کا ایک حصہ مستحقین کو دیا جاتا تھا، ایک حصہ وہ جناب خود اور ان کی اولاد کھاتے تھے ایک دن ایک سائل آیا، وہ مومن اور روزہ دار تھا، خدا کے ہاں اس کی بڑی قدرومنزلت تھی، وہ شہر(کنعان) سے گزرا، شبِ جمعہ تھی، افطار کے وقت وہ دروازہ یعقوبعليهالسلام پر آیا اور کہنے لگا: بچی کھچی غذا سے مدد کے طالب غریب ومسافر مہمان کی مدد کرو، اس نے یہ بات کئی مرتبہ دہرائی، انہوں نے سنا تو سہی لیکن اس کی بات کو باور نہ کیا، جب وہ مایوس ہوگیا اور رات کی تاریکی ہر طرف چھا گئی تو وہ لوٹ گیا، جاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اس نے بارگاہ الٰہی میں بھوک کی شکایت کی، رات اس نے بھوک ہی میں گزاری اور صبح اسی طرح روزہ رکھا جب کہ وہ صبر کئے ہوئے تھا اور خدا کی حمد وثنا کرتا تھا لیکن حضرت یعقوبعليهالسلام اور ان کے گھر والے مکمل طور پر سیر تھے اور صبح کے وقت ان کا کچھ کھانا بچا بھی رہ گیا تھا ۔
امامعليهالسلام نے اس کے بعد مزید فرمایا:
خدا نے اسی صبح حضرت یعقوبعليهالسلام کی طرف وحی بھیجی: اے یعقوب! تپونے میرے بندے کو خوار کیا ہے اور میرے غضب کو بھڑکایا ہے اور تُو اور تیری اولاد نزولِ سزا کی مستحق ہوگئی ہے، اے یعقوب ! مَیں اپنے دوستوں کو زیادہ جلدی سرزنش کرتا اور سزا دیتا ہوں اور یہ اس لئے کہ مَیں ان سے محبت کرتا ہوں ۔(۱)
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اس حدیث کے بعدہے کہ ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں :
مَیں نے امام سجادعليهالسلام سے پوچھا: کہ یوسفعليهالسلام نے وہ خواب کس موقع پر دیکھا تھا؟
امامعليهالسلام نے فرمایا: اسی رات۔(۲)
اس حدیث سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء واولیائے حق سے ایک چھوٹی سی لغزش یا زیادہ صریح الفاظ میں ”ترکِ اولیٰ“ کہ جو گناہ اورمعصیت بھی شمار نہیں ہوتا تھا (کیونکہ اس سائل کی حالت حضرت یعقوبعليهالسلام پر واضح نہیں تھی) بعض اوقات خدا کی طرف سے ان کی تنبیہ کا سبب بنتا ہے اور یہ صرف اس لئے ہے کہ ان کا بلند وبالا مقام تقاضا کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات اور عمل کی طرف متوجہ رہیں کیونکہ:
حسنات الابرار سیئات المقربین ۔
وہ کام جو نیک لوگوں کے لئے نیکی شمار ہوتے ہیں مقربینِ بارگاہِ الٰہی کے لئے برائی ہیں ۔
جہاں حضرت یعقوبعليهالسلام ایک سائل کے دردِ دل سے بے خبر رہنے کی وجہ سے یہ رنج وغم اٹھائیں تو ہمیں سوچنا چاہیئے کہ وہ معاشرہ جس میں چند لوگ سیر ہوں اور زیادہ تر لوگ بھوکے ہوں کیسے ممکن ہے کہ اس پر غضب الٰہی نہ ہو اور کس طرح خدا سے سزا نہ دے ۔
____________________
۱، ۲۔ تفسیر برہان، ج۲،ص ۲۴۳، اور نورالثقلین،ج ۲،ص ۴۱۱۔
۲ ۔ حضرت یوسفعليهالسلام کی دلکش دُعا
روایات اہلِ بیتعليهالسلام اور طرقِ اہل ِ سنت میں ہے کہ جس وقت حضرت یوسفعليهالسلام کنویں کی تہ میں پہنچ گئے تو ان کی امید ہر طرف سے منقطع ہوگئی اور ان کی تمام تر توجہ ذاتِ پاکِ خدا کی طرف ہوگئی، انہوں نے اپنے خدا سے مناجات کی اور جبرئیل کی تعلیم سے رازونیاز کرنے لگے کہ جو روایات میں مختلف عبارتوں میں منقول ہے ۔
ایک روایت میں ہے کہ آپعليهالسلام نے خدا سے یوں مناجات کی:
اللّٰهم یا مونس کل غریب ویا صاحب کل وحید ویا ملجا کل کائف ویا کاشف کل کربة ویا عالم کل نجوی یامنتهی کل شکوی ویا حاضر کل ملاء یاحیّ یا قیّوم اسئلک ان تقذف رجائک فی قلبی حتّیٰ لایکون لی هم ولا شغل غیرک وان تجعل لی من امری فرجاً ومخرجاً انک علیٰ کل شیء قدیر ۔
بارالہا! اے وہ جو غریب مسافرکا مونس ہے اور تنہا کا ساتھی ہے، اے وہ جو ہر خائف کی پناہ گاہ ہے، ہر غم کو برطرف کرنے والا ہے، ہر فریاد سے آگاہ ہے، ہر شکایت کرنے والے کی آخری امید ہے اور ہر مجمع میں موجود ہے، اے حیّ! اے قیّوم!(اے زندہ! اے ساری کائنات کے نگران!) مَیں تجھ سے چاہتا ہوں کہ اپنی امید میرے دل میں ڈال دے تاکہ تیرے علاوہ کوئی فکر نہ رکھوں اور تجھ سے چاہتا ہوں کہ میرے لئے اس عظیم مشکل سے راہِ نجات پیدا کردے کہ تُو ہر چیز پر قادر ہے ۔
یہ امر جاذبِ نظر ہے کہ اس حدیث کے ذیل میں یہے کہ فرشتوں نے حضرت یوسفعليهالسلام کی آواز سُنی تو عرض کیا:الٰهنا نسمع صوتاً ودعاء: الصوت صوت صبی والدعاء دعاء نبی !
پروردگارا! ہم آواز اور دعا سن رہے ہیں آواز تو بچے کی ہے لیکن دعاء نبی کی ہے ۔(۱)
یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ جس وقت حضرت یوسفعليهالسلام کے بھائیوں نے انہیں کنویں میں پھنکا تو ان کا کُرتہ اتار لیا اور ان کا بدن برہنہ ہوگیا تو یوسف نے بہت دادوفریاد کی کہ کم از کم میرا کُرتہ تو مجھے دے دو تاکہ اگر مَیں زندہ رہوں تو میرا بدن ڈھانپے اور اگر مرجاؤں تو میرا کفن ہو ، بھائی کہنے لگے: اسی سورج، چاند اور ستاروں سے کہ جنہیں خواب میں دیکھا تھا تقاضا کرو کہ اس کنویں میں تیرے مونس وغمخوار ہوں اور تجھے لباس پہنائیں ۔
حضرت یوسف علیہ السلام جب غیر خدا سے مطلقاً ناامید ہوگئے تو مذکورہ بالا دعا کی ۔(۲)
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا:
جب انہوں نے یوسف کو کنویں میں پھینکا تو جبرائیل ان کے پاس آئے اور کہا: بچّے! یہاں کیا کررہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا : بھائیوں نے مجھے کنویں میں پھینک دیا ہے ۔
جبرائیل کہنے لگے: کیا تم کنویں سے باہر نکلنا چاہتے ہو؟
وہ کہنے لگے: خدا کی مرضی ہے، اگر وہ چاہے گا تو مجھے باہر نکال لے گا ۔
جبرائیل نے کہا: خدا نے حکم دیا ہے کہ یہ دعا پڑھو تاکہ باہر آجاؤ۔
انہوں نے کہا کونسی دعاء؟
جبرائیل نے کہا : کہو:اللّٰهم انی اسئلک بان لک الحمد لااله الا انت المنان، بدیع السمٰوٰت والارض، ذوالجلال والاکرام، ان تصلی علی محمدواٰل محمد وان تجعل لی مما انافیه فرجاً ومکرجاً
پروردگارا ! مَیں تجھ سے دعا کرتا ہوں ، اے کہ حمد و تعریف تیرے لئے ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ، تُو ہے جو بندوں کو نعمت بخشتا ہے، آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، صاحبِ جلال واکرام ہے، مَیں درخواست کرتا ہوں کہ محمد وآلِ محمد پر درود بھیج اور جس میں مَیں ہوں اس سے مجھے کشائش ونجات عطا فرما ۔(۳)
کوئی مانع نہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ دونوں دعائیں کی ہوں ۔
____________________
۱، ۲۔ تفسیر قرطبی،ج ۵،ص ۳۳۷۳۔
۳۔ نورالثقلین،ج ۲،ص ۴۱۶۔
۳ ۔”( واجمعوا ان یجعلوه فی غیابت الجب ) “کا مفہوم
یعنی ۔ انہوں نے اتفاق کیا کہ اسے کنویں کی مخفی جگہ پر ڈال دیں ۔ یہ جملہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے حضرت یوسفعليهالسلام کو کنویں میں پھینکا نہیں تھا بلکہ نیچے لے گئے تھے، کنویں کی تہ میں جہاں ایک چبوترا سا نیچے جانے والوں کے لئے بنایاجاتا ہے اور سطحِ آب کے قریب ہوتا ہے انہوں نے حضرت یوسفعليهالسلام کی کمر میں طناب ڈال کر وہاں تک پہنچایا اور وہاں چھوڑ دیا ، مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں جو متعدد روایات وارد ہوئیں ہیں وہ بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہیں ۔
۴ ۔ تسویلِ نفس سے کیا مراد ہے؟
لفظ” سوّلت“ تسویل کے مادہ سے”تزئین“ کے معنی میں ہے، بعض اوقات اس کا معنی ”وسوسہ پیدا کرنا “بھی بیان کیا جاتا ہے، ان تمام معانی کی بازگشت تقریبا ًایک ہی مفہوم کی طرف ہے یعنی تمہاری نفسیاتی خواہشات نے تمہارے لئے یہ کام مزین کردیاہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جس وقت سرکش ہواوہوس انسانی روح اور فکر پر غلبہ کرلیتی ہے تو بدترین جرائم مثلاً بھائی کو قتل کرنا یا جلا وطن کرنا وغیرہ بھی انسان کی نظر میں ایسے پسندیدہ ہوجاتے ہیں کہ وہ انہیں ایک مقدس اور ضروری چیز خیال کرنے لگتا ہے، یہاں سے نفسیاتی مسائل کی ایک عمومی بنیاد کی طرف دریچہ کُھلتا ہے وہ یہ کہ ہمیشہ کسی ایک مسئلے کی طرف افراطی میلان خصوصاً جب اس میں اخلاقی رذائل بھی شامل ہوں انسان کی قوتِ شناخت پر پردہ ڈال دیتا ہے اور اس کی نظر میں حقائق کو الٹ کر پیش کرتا ہے ۔
اسی لئے تہذیبِ نفس کے بغیر فیصلہ کرنا اور عینی حقائق کو پہچاننا ممکن نہیں ہے اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ قاضی کے لئے عدالت شرط ہے تو اس کی دلیل یہی ہے اور قرآن مجید میں سورہ بقرہ کی آیہ ۲۸۲ بھی اسی طرف اشارہ ہے، جس میں فرمایا گیا ہے:( واتقوا اللّٰه ویعلِّمکم اللّٰه ) ۔
اور تقویٰ اختیار کرو خدا تمہیں علم ودانش دے گا ۔
۵ ۔ دروغ گو حافظہ ندارد
حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ بھائیوں کے سلوک کی داستان سے یہ مشہور حقیقت پھر درجہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ جھوٹا آدمی ہمیشہ کے لئے اپنا راز نہیں چھپا سکتا کیونکہ عینی حقائق جب خارجی وجود حاصل کرلیتے ہیں تو دیگر امور کے ساتھ ان کے بے شمار روابط ہوتے ہیں اور جھوٹا آدمی جو اپنے جھوٹ کے ذریعے ایک غلط منظر تخلیق کرنا چاہتا ہے تو وہ جس قدر بھی زیرک وہوشیار ہو ان تمام روابط کو محفوظ نہیں رکھ سکتا، بالفرض اگر وہ مسئلہ سے متعلق چند جعلی رابطے تیار بھی کرلے پھر بھی یہ بناوٹی رابطے حافظے میں ہمیشہ کے لئے رکھنا آسان کام نہیں ہے اور اس سے تھوڑی غفلت تضاد بیانی کا سبب بن جاتی ہے، علاوہ ازیں ان میں سے بہت سے روابط غفلت میں رہ جاتے ہیں اور انہی سے آخر کار حقیقت فاش ہوجاتی ہے، اور یہ ان تمام افراد کے لئے ایک درس ہے جنہیں اپنی عزت وآبرو ہے کہ وہ کبھی جھوٹ کا طواف نہ کریں ، اپنی معاشرتی حیثیت کو خطرے میں نہ ڈالیں اور اپنے لئے خدا کا غضب نہ خریدیں ۔
۶ ۔ صبرِ جمیل کیا ہے؟
سخت حوادث اور سنگین طوفانوں کے مقابلے میں پامردی وشکیبائی انسان کی روحانی عظمت اوربلند شخصیت کی نشانی ہے، ایسی عظمت کہ جس میں عظیم حوادث سما جاتے ہیں لیکن انسان ڈگمگاتا اور لرزتا نہیں ۔
ہوا کا ایک ہلکا سا جھونکا چھوٹے سے تالاب کے پانی کو ہلا دہتا ہے لیکن بحرِ اوقیانوس جیسے بڑے سمندروں میں بڑے بڑے طوفان آرام سے سما جاتے ہیں اور انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
بعض اوقات انسان ظاہراً پامردی وشکیبائی دکھاتا ہے لیکن بعد میں چُبھنے والی باتیں کرتا ہے کہ جو ناشکری اور عدمِ برداشت کی نشانی ہے، اس طرح وہ خود اپنے صبر وتحمل کا چہرہ بدنما کردیتا ہے لیکن با ایمان، قوی الارادی اور عالی ظرف وہ لوگ ہیں کہ ایسے حوادث میں جن کا پیمانہ صبر لبریز نہیں ہوتا اور ان کی زبان پر کوئی ایسی بات نہیں آتی جو کہ ناشکری، کفران، بے تابی اور جزع وفزع کی مظہر ہو، ان کا صبر” صبرِ زیبا“ اور ”صبرِ جمیل “ ہے ۔
اس وقت یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اس سورہ کی دوسری آیات میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت یعقوبعليهالسلام نے اس قدر گریہ اور غم کیا کی ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی، کیا یہ بات صبرِ جمیل کے منافی نہیں ؟
اس سوال کا جواب ایک جملے میں دیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ مردانِ خدا کا دل احساسات اور عواطف کا مرکزہوتا ہے، مقامِ تعجب نہیں کہ بیٹے کے فراق میں آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑے، یہ ایک حساس مسئلہ ہے، اہم یہ ہے کہ وہ اپنے اوپر ضبط رکھیں یعنی کوئی بات اور کوئی حرکت رضائے الٰہی کے خلاف نہ کریں ، اسلامی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب پیغمبرِ اسلام اپنے بیٹے ابراہیم کی موت پر آنسو بہا رہے تھے تو اتفاقاً یہی اعتراض آپ پر کیا گیا کہ آپ ہمیں رونے سے منع کرتے ہیں لیکن آپ خود آنسو بہاتے ہیں تو پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا:
آنکھیں روتی ہیں اور دل غم زدہ ہوتا ہے لیکن ہم کوئی ایسی بات نہیں کرتے جو خدا کو ناراض کردے ۔
حدیث کے الفاظ یوں ہیں :تدمع العین ویحزن القلب ولانقول مایسخط الرب ۔
ایک اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں :لیس هٰذا بکاء ان هٰذا رحمة
یہ(بے تابی کا)گریہ نہیں ہے یہ تو(جذبات کا اظہار اور) رحمت ہے ۔(۱)
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کے سینے میں دل ہے پتھر نہیں اور فطری امر ہے کہ جن معاملات کا تعلق دل کے جذبات سے ہو ان پر وہ ردِّ عمل تو کرتا ہے اور اس کا سادہ ترین اظہار آنکھوں سے اشک رواں ہونا ہے، یہ عیب نہیں ہے بلکہ یہ تو حسن ہے، عیب یہ ہے کہ انسان ایسی بات کرے جس سے خدا غضب ناک ہو۔
____________________
۱۔ بحار، طبع جدید،ج ۲۲،ص ۱۵۷،و ۱۵۱۔
آیات ۱۹،۲۰
۱۹( وَجَائَتْ سَیَّارَةٌ فَاٴَرْسَلُوا وَارِدَهُمْ فَاٴَدْلَی دَلْوَهُ قَالَ یَابُشْریٰ هٰذَا غُلَامٌ وَاٴَسَرُّوهُ بِضَاعَةً وَاللهُ عَلِیمٌ بِمَا یَعْمَلُونَ ) ۔
۲۰( وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَةٍ وَکَانُوا فِیهِ مِنَ الزَّاهِدِینَ ) ۔
ترجمہ
۱۹ ۔اور قافلہ آپہنچا(انہوں نے) پانی پر مامور( شخص کو پانی کی تلاش) کو بھیجا، اُس نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا اور وہ پکارا: خوشخبری ہو، یہ لڑکا ہے
( خوبصورت اور قابلِ محبت)انہوں نے اسے ایک سرمایہ سمجھتے ہوئے دوسروں سے مخفی رکھا اور جو کچھ وہ انجام دیتے تھے خدا اس سے آگاہ ہے ۔
۲۰ ۔اور انہوں نے اسے چند درہموں کی معمولی قیمت پر بیچ دیا اور (اسے بیچتے ہوئے) وہ اس کے بارے میں بے اعتناء تھے( کیوں کہ وہ درتے تھے کہ کہیں ان کا راز فاش نہ ہوجائے)
سرزمینِ مصر کی جانب
یوسفعليهالسلام نے کنویں کی وحشت ناک تاریکی اور ہولناک تنہائی میں بہت تلخ گھڑیاں گزاریں لیکن خدا پر ایمان اور ایمان کے زیرِ سایہ ایک اطمینان نے ان کے دل میں نورِ امید کی کرنیں روشن کردی تھیں اور انہیں ایک توانائی بخشی تھی تاکہ وہ اس ہولناک تنہائی کو برداشت کریں اور آزمائش کی اس بھٹی سے کامیابی کے ساتھ نکل آئیں ، اس حالت میں وہ کتنے دن رہے یہ خدا جانتا ہے، بعض مفسرین نے تین دن لکھا ہے اور بعض نے دو دن، بہرحال ایک قافلہ آپہنچا“( وَجَائَتْ سَیَّارَةٌ ) ۔(۱)
اور اس قافلے نے وہیں نزدیک ہی پڑاؤ ڈالا، واضح ہے کہ قافلے کی پہلی ضرورت یہی ہوتی ہے کہ وہ پانی حاصل کرے، اس لئے”انہوں نے پانی پر مامور شخص کو پانی کی تلاش میں بھیجا( فَاٴَرْسَلُوا وَارِدَهُم ) (۲) ، ” اُس نے اپنا ڈول کنویں میں ڈالا“( فَاٴَدْلَی دَلْوَهُ ) ۔
یوسف کنویں کی تہ میں متوجہ ہوئے کہ کنویں کے اوپر سے کوئی آواز آرہی ہے، ساتھ ہی دیکھا کہ ڈول اور رسی تیزی سے نیچے آرہی ہے، انہوں نے موقع غنیمت جانا اور اس عطیہ الٰہی سے فائدہ اٹھایا اور فوراً اس سے لپٹ گئے، بہشتی(۳) نے محسوس کیا کہ اس کا ڈول اندازے سے زیادہ بھاری ہے، جب اس نے زور لگاکر اسے اوپر کھینچا تو اچانک اس کی نظر ایک چاند سے بچے پر پڑی، وہ چِلّایا: خوشخبری ہو، یہ تو پانی کے بجائے بچہ ہے( قَالَ یَابُشْریٰ هٰذَا غُلَامٌ ) ۔
آہستہ آہستہ قافلے میں سے چند لوگوں کو اس بات کا پتہ چل گیا لیکن اس بنا پر کہ دوسروں کو پتہ نہ چلے اور یہ خود ہی مصر میں اس خوبصورت بچے جو ایک غلام کے طور پر بیچ دیں ”اسے ا نہوں نے ایک اچھا سرمایہ سمجھتے ہوئے دوسروں سے مخفی رکھا“( وَاٴَسَرُّوهُ بِضَاعَةً ) (۴)
البتہ اس جملے کی تفسیر میں کچھ اور احتمال بھی ذکر کئے گئے ہیں :
ایک یہ کہ یوسفعليهالسلام جن کے ہاتھ لگا انہوں نے اس کا کنویں سے ملنا مخفی رکھا اور کہا کہ یہ سرمایہ ہمیں کنویں کے مالکوں نے دیا ہے تاکہ اسے ان کے لئے مصر میں بیچ دیں ۔
دوسرا یہ کہ یوسفعليهالسلام کے بعض بھائی جواس کی خبر لینے کے لئے یا اس کو غذا دینے کے لئے کبھی کبھی کنویں کے پاس آیا کرتے تھے جب انہیں اس واقعے کا پتہ چلا تو انہوں نے اس بات کو چھپایا کہ یوسف ان کا بھائی ہے، صرف یہ کہا کہ یہ ہمارا غلام ہے جو بھاگ آیا ہے اور یہاں چھپا بیٹھا ہے اور انہوں نے یوسف کی دھمکی دی کہ اصل معاملے سے پردہ اٹھائے گا تو قتل کردیا جائے گا ۔
لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔
آیت کے آخر میں ہے : جو کچھ وہ انجام دیتے ہیں خدا اس سے آگاہ ہے( وَاللهُ عَلِیمٌ بِمَا یَعْمَلُونَ ) ۔
آخر کار انہوں نے یوسفعليهالسلام کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیا( وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَة ) ۔
یوسفعليهالسلام کو بیچنے کے بارے میں اختلاف ہے، بعض انہیں یوسف کے بھائی سمجھتے ہیں ، لیکن آیات کا ظاہر ی مفہوم یہ ہے کہ یہ کام قافلے والوں نے کیا ، کیونکہ زیرِ نظر آیت میں بھائیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی اور ان سے قبل کی آیت کے اختتام پر بھائیوں سے متعلق بحث ختم ہوگئی ہے اور جمع کی ضمیریں ”ارسلوا“، ”اسروہ“ اور ”شروہ“ سب ایک ہی طرف لوٹتی ہیں (یعنی، قافلے والے)۔
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسفعليهالسلام کو تھوڑی سی قیمت پر کیوں بیچ دیا، قرآن نے اسے ”بثمن بخس“سے تعبیر کیاہے کیونکہ حضرت یوسفعليهالسلام کا کم از کم ایک قیمتی غلام سمجھے جاسکتے تھے ۔
لیکن یہ معمول کی بات ہے کہ ہمیشہ چور یا ایسے افراد جن کے ہاتھ کوئی اہم سرمایہ بغیر کسی زحمت کے آجائے تو وہ اس خوف سے کہ کہیں دوسروں کو معلوم نہ ہوجائے اسے فورا ًبیچ دیتے ہیں اوریہ فطری بات ہے کہ اس جلد بازی میں وہ زیادہ قیمت حاصل نہیں کرسکتے ۔
”بخس“ اصل میں کسی چیز کو ظلم کے ساتھ کم کرنے کے معنی میں ، اسی لئے قرآن کہتا ہے :
( ولاتبخسوا الناس اشیائهم ) ۔
لوگوں کی چیزوں کو ظلم کے ساتھ کم نہ کرو۔(ہود: ۸۵)
اس بارے میں کہ انہوں نے حضرت یوسفعليهالسلام کو کتنے داموں میں بیچا اور پھر یہ رقم آپس میں کس طرح تقسیم کی، اس سلسلے میں بھی مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے یہ رقم ۲۰ درہم ، بعض نے ۲۲ درہم ، بعض نے ۴۰ درہم اور بعض نے ۱۸ درہم لکھی ہے اور طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بیچنے والوں کی تعداد دس بیان کی جاتی ہے، اس ناچیز رقم میں سے ہر ایک کا حصہ واضح ہوجاتا ہے ۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے-:یوسف کو بیچنے کے بارے میں وہ بے اعتناء تھے( وَکَانُوا فِیهِ مِنَ الزَّاهِدِین ) ۔
یہ جملہ درحقیقت گزشتہ جملے کی علت بیان کرنے کے لئے ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر انہوں نے یوسف کر تھوڑی سی رقم پر بیچ دیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس معاملے سے کوئی دلچسپی نہ رکھتے تھے اور اس کے بارے میں بے اعتناء تھے ۔
ایسا یا اس لئے تھا کہ یوسفعليهالسلام کو قافلے والوں نے بے مول لیا تھا اور انسان جو چیز معمولہ قمیت پر لے عموما کم قیمت پر ہی بیچتا ہے اور یا وہ ڈرتے تھے کہ مبادا ان کارازفاش ہواور کوئی مدعی پیداہوجائے اور یا اس بناء پر کہ انہیں یوسفعليهالسلام میں غلام ہونے کی نشانیاں نظر نہیں آتی تھیں بلکہ آزادی اور حریت کے آثار ان کے چہرے سے ہویدا تھے، اسی بنا پر نہ بیچنے والے ان میں کوئی دلچسپی رکھتے تھے نہ خریدار۔
____________________
۱۔کاروان کو ”سیارة“ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے ۔
۲۔”وارد“ پانی لانے والے کے معنی میں ہے، اصل میں یہ لفظ ”ورود“ سے لیا گیا ہے جس کا معنی جیسے کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے پانی کا قصد کرنا اگر چہ بعد میں اس کے معنی میں وسعت پیدا ہوگئی اور ہر ورود و دخول کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا ہے ۔
۳۔”بہشتی“ اردو میں پانی بھرنے والے کو کہتے ہیں ۔(مترجم)
۴۔بضاعة“ اصل میں ”بضع“ (بروزن”نظر“) کے مادہ سے گوشت کے ایک ٹکڑے کے معنی میں ہے کہ جسے جدا کرلیا جائے، بعدازاں اس معنی میں وسعت پیدا ہوگئی اور یہ لفظ مال اور سرمایہ کے اہم حصے کے لئے بھی استعمال ہونے لگا”بضاعة“ بدن کے ٹکڑے کے معنی میں ہے اور ”حسن البضع“ موٹے اور پرگوشت انسان کے معنی میں آیا ہے اور ”بضع“ (بروزن”حزب“)تین سے لے کر دس تک کے عدد کے معنی میں آیا ہے ۔
آیات ۲۱،۲۲
۲۱( وَقَالَ الَّذِی اشْتَرَاهُ مِنْ مِصْرَ لِامْرَاٴَتِهِ اٴَکْرِمِی مَثْوَاهُ عَسیٰ اٴَنْ یَنفَعَنَا اٴَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاٴَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُ مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیثِ وَاللهُ غَالِبٌ عَلیٰ اٴَمْرِهِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ ) ۔
۲۲( وَلَمَّا بَلَغَ اٴَشُدَّهُ آتَیْنَاهُ حُکْمًا وَعِلْمًا وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ) ۔
ترجمہ
۲۱ ۔اور وہ شخص جس نے اسے سر زمینِ مصر سے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا: اس کے مقام ومنزلت کی تکریم کرنا شاید ہمارے لئے مفید ہو یا اسے ہم اپنے بیٹے کے طور پر اپنا لیں ، اس طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں متمکن کردیا، (ہم نے یہ کام کیا)تاکہ وہ خواب کی تعبیر سیکھ لے، خدا اپنے کام پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
۲۲ ۔اور جب وہ بلوغ وقوّت کے مرحلے میں داخل ہوا تو ہم نے اسے ”حکم“ اور ”علم“ عطا کئے اور ہم اس طرح نیک لوگوں کو جزاء دیتے ہیں ۔
مصر کے محل میں
حضرت یوسفعليهالسلام کی بھرپور داستان جب یہاں پہنچی کہ بھائی انہیں کنویں میں پھینک چکے تو ہر صورت بھائیوں کے ساتھ ساتھ والا مسئلہ ختم ہوگیا، اب اس ننھے بچے کی زندگی کا ایک نیا مرحلہ مصر میں شروع ہوا، اس طرح سے کہ آخرکار یوسف مصر میں لائے گئے، وہاں انہیں فروخت کے لئے پیش کیا گیا، کیونکہ یہ نفیس تحفہ تھا لہٰذا معمول کے مطابق ” مصر“ کو نصیب ہواکہ جو درحقیقت فرعونوں کی طرف سے وزیر یا وزیرِ اعظم تھا اور ایسے ہی لوگ ”تمام پہلوؤں سے ممتاز اس غلام“ کی زیادہ سے زہادہ قیمت دے سکتے تھے، اب دیکھتے ہیں کہ مصر کے گھر یوسفعليهالسلام پر کیا گزرتی ہے ۔
قرآن کہتا ہے:جس نے مصر میں یوسف کو خریدا اس نے اپنی بیوی سے اس کی سفارش کی اور کہاکہ اس غلام کی منزلت کا احترام کرنا اور اسے غلاموں والی نگاہ سے نہ دیکھنا کیونکہ ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ہم اس غلام سے بہت فائدہ اٹھائیں گے یا اسے فرزند کے طور پر اپنا لیں گے( وَقَالَ الَّذِی اشْتَرَاهُ مِنْ مِصْرَ لِامْرَاٴَتِهِ اٴَکْرِمِی مَثْوَاهُ عَسیٰ اٴَنْ یَنفَعَنَا اٴَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا ) ۔(۱)
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی کوئی اولاد نہ تھی اور وہ بیٹے کے شوق میں زندگی بسر کررہا تھا، جب اس کی آنکھ اس خوبصورت اور آبرومند بچے پر پڑی تو اس کا دل آیا کہ یہ اس کے بیٹے کے طور پر ہو ۔
اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے: اس طرح اس سرزمین میں ہم نے یوسف کو متمکن اور صاحب نعمت واختیار کیا( وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔
یہ ”تمکین فی الارض“ اس بناء پر تھا کہ یوسف کا مصر میں آنا اور خصوصاً مصرکی زندگی میں قدم رکھنا ان کی آئندہ کی انتہائی قدرت کے لئے تمہید تھا اور یا اس بنا پر تھا کہ مصر کے محل کی زندگی کنویں کی تہ کی زندگی سے کوئی موزانہ نہ تھا ، وہ تنہائی، بھوک اور وحشت کی شدت کہاں اور یہ سب نعمت اور آسائش اور آرام وسکون کہاں ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے:ہم نے ایسا اس لئے کیا تاکہ اسے احادیث کی تاویل کی تعلیم دیں( وَلِنُعَلِّمَهُ مِنْ تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیثِ ) ۔”( تَاٴْوِیلِ الْاٴَحَادِیثِ ) “سے مراد ہے، جیسا ہے کہ پہلے بھی اشارہ کیا جا چکا ہے تعبیرِ خواب کا علم ہے کہ جس کے ذریعے یوسف آئندہ کے اسرار کے اہم حصے سے آگاہ ہوسکتے تھے اور یا اس سے مراد وحی الٰہی ہے کنونکہ حضرت یوسفعليهالسلام کی خدائی آزمائشوں کی سنگلاخ گھاٹیوں سے گزر کر دربارِ مصر میں پہنچنے تک ایسی قابلیت پیدا کرلی تھی کہ حاملِ رسالت ووحی ہوں ۔
لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔
آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے:خدا اپنے کام پرمسلط اور غالب ہے، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے( وَاللهُ غَالِبٌ عَلیٰ اٴَمْرِهِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ ) ۔
خدا کے مظاہرِ قدرت میں سے ایک عجیب مظہر اور امور پر اس کا تسلط یوں ہے کہ بہت سے مواقع پر وہ انسان کی کامیابی اور نجات کے وسائل اس کے دشمنوں کے ہاتھوں فراہم کرتا ہے چنانچہ حضرت یوسفعليهالسلام کے سلسلے میں اگر بھائیوں کا منصوبہ نہ ہوتا تو وہ ہرگز کنویں میں نہ جاتے اور نہ فرعون کے عجیب خواب کا معاملہ ان کے سامنے پیش ہوتا اور نہ ہی یوسفعليهالسلام مصر بنتے ۔
درحقیقت خدا نے بھائیوں کے ہاتھوں یوسفعليهالسلام کو تختِ قدرت پر بٹھایا اگرچہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے اسے بدبختی کے کنویں میں پھینک دیا ہے ۔
اس نئے ماحول میں جو درحقیقت مصر کا ایک اہم سیاسی مرکز تھا یوسفعليهالسلام کو نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، ایک طرف خیرہ کن طاقت اور طاغوتیانِ مصر کے محلات (جنہیں خواب سمجھا جاتا ) اور ان کی بے کراں ثروت کو دیکھتے ہوئے دوسری طرف بردہ فروشوں کے بازار کا منظر ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا، وہ ان دونوں کا موازنہ کرتے اور دیکھتے کہ عام لوگوں کی اکثریت فراواں رنج وغم اور دکھ درد کا شکار ہے تو ان کی روح اور فکر پر بہت بوجھ پرتا اور وہ سوچتے کہ اگر مجھے طاقت حاصل ہوجائے تو یہ کیفیت ختم کردوں ۔
جی ہاں ! انہوں نے بہت سی چیزیں اس شوروغل کے ماحول میں سیکھیں ، ان کے دل میں ہمیشہ غم واندوہ کا ایک طوفان موجزن ہوتا تھا کیونکہ ان حالات میں وہ کچھ نہیں کرسکتے تھے، اس دور میں وہ مسلسل خود سازی اور تہذیبِ نفس میں مشغول تھے ۔
قرآن کہتا ہے: جب وہ بلوغ اور جسم وروح کے تکامل کے مرحلے میں پہنچا اور انوارِ وحی قبول کرنے کے قابل ہو گیا، تو ہم نے اسے حکم اورعلم دیا( وَلَمَّا بَلَغَ اٴَشُدَّهُ آتَیْنَاهُ حُکْمًا وَعِلْمًا ) ۔
اور اس طرح ہم نیکو کار لوگوں کو جزاء دیتے ہیں( وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ ) ۔
”اشد“ ”شد“ کے مادہ سے مضبوط گروہ کے معنی میں ہے، یہاں جسمانی اور روحانی استحکام کی طرف اشارہ ہے، بعض نے کہا ہے کہ ”اشد“ جمع ہے جس کا مفرد نہیں ہے لیکن بعض نے اسے ”شد“ (بروزن”سد“)کی جمع کہا ہے، بہرحال اس کے معنی کا جمع ہونا قابلِ انکار نہیں ہے ۔
جو مذکورہ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے یوسف کی جسمانی و رحانی بلوغت پر اسے ”حکم“ اور”علم“ عطا کیا، یا تو مقامِ وحی ونبوت ہے جیسا کہ بعض مفسریننے کہا ہے اور یا ”حکم“ سے مراد عقل وفہم اور صحیح فیصلے کی قدرت ہے کہ جو ہوس پرستی اور اشتباہ سے خالی ہو اور ”علم“ سے مراد آگاہی اور دانش ہے کہ جس کے ساتھ جہالت نہ ہو، بہرحال ”حکم“ اور”علم“ جو کچھ بھی تھے دو ممتاز اور قیمتی خدائی انعام تھے کہ جو کدا نے حضرت یوسفعليهالسلام کو ان کی پاکیزگی تقویٰ ، صبر وشکیبائی اور توکل کی وجہ سے دئے تھے اور یوسفعليهالسلام کی یہ تمام خوبیاں لفظ”محسنین“ میں جمع ہے ۔
بعض مفسرین نے ”حکم“ اور ”علم“ کے بارے میں تمام تر احتمالات کو تین احتمالات کے طور پرذکر کیا گیا ہے :
۱ ۔ ”حکم“ مقامِ نبوت کی طرف اشارہ ہے (چونکہ پیغمبر برحق حاکم ہے )اور علم اشارہ ہے علمِ دین کی طرف ۔
۲ ۔ ”حکم“ سرکش ہواوہوس کے مقابلے میں اپنے اوپر ضبط رکھنے کے معنی میں ہے کہ جو یہاں حکمتِ عملی کی طرف اشارہ ہے اور علم اشارہ ہے نظری حکمت وعلم ودانش کی طرف اور”حکم“ کو ”علم“ پر اس لئے مقدم کیاگیا ہے کہ انسان جب تک تہذیبِ نفس اور خودسازی نہ کرلے صحیح علم تک نہیں پہنچ سکتا ۔
۳ ۔” حکم “اس معنی میں ہے کہ انسان نفسِ مطمئنہ کے مقام پر پہنچ جائے اور اپنے اوپر کنٹرول حاصل کرلے اس طرح کہ نفسِ امارہ اوروسوسہ پیدا کرنے والے نفس پر اسے کنٹرول ہوجائے اور علم سے مراد انوارِ قدسیہ اور فیضِ الٰہی کی شعاعیں ہیں کہ جو علم ملکوت سے پاک انسان کے دل پر پڑتی ہے(۲)
____________________
۱۔ ”مثوا“ کا معنی ہے مقام، یہ مادہ ”ثوی“ سے ہے جو اقامت کے معنی میں ہے لیکن یہاں حیثیت اور مقام ومنزلت کے معنی میں ہے ۔
۲۔تفسیر کبیر، ج۱۸،ص ۱۱۱۔
چند اہم نکات
۱ ۔ مصر کا نام کیوں نہیں لیا گیا:
زیرِ نظر آیات میں جاذبِ توجہ مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ ان میں مصر کا نام نہیں لیا گیا ہے کہ وہ شخص جس نے مصر سے یوسف کو خریدا لیکن آیت میں یہ بےان نہیں ہوا کہ یہ شخص کون تھا، آئندہ آےات میں ہم دیکھتے ہےں کہ ایک ہی دفعہ اس شخص کے منصب سے پردہ نہیں اٹھتا بلکہ تدریجاََ اس کا تعارف کرواےا گیا ہے مثلا آیہ ۲۵ میں فرمایا گیا ہے:( والفیا سید ها لدا الباب )
جس وقت یوسف نے زلیخا کے عشق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا اور بےرونی دروازے کی طرف بھاگ کھڑا ہوا تو اس عورت کے شوہر کو اچانک دروزے پر دےکھا ۔
جب ان آےات سے گزرتے ہوے آیہ ۳۰ تک پنچتے ہےں تو اس میں ---”امراة العزیز “ (عزیز کی بیوی) کی تعبےر آئی ہے ۔
یہ تدرےجی بیان یا تو اس لے ہے کہ قرآن اپنی سنت کے مطابق ہر بات کو ضراری مقدار کے مطابق بیان کرتا ہے جو کہ فصاحت وبلاغت کی نشانی ہے اور ےا یہ کہ جسے آج کل بھی ادبےات کا معمول ہے کہ ایک داستان بیان کرتے ہوے اسے سر بستہ نکتے سے شروع کیا جاتا ہے تاکہ پڑھنے والے میں تجسس پیدا ہوا ور اس کی پوری توجہ اس داستان کی طرف کھنچ جائے ۔
۲ ۔ علم تعبیرِ خواب اور مصر کا محل:
دسرا سوال جومذکورہ بالا آیات سے پیدا ہوتا ہے یہ ہے کہ علمِ تعبیرِ خواب اور مصر کے محل میں حضرت یوسفعليهالسلام کی موجود گی کا کیا رابطہ ہے کہ اس کی طرف ”لنعلمہ“ کی ”لام“ کہ جو لامِ غایت ہے کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے ۔
لیکن اگر ہم اس نکتے کی طرف توجہ دیں تو ہوسکتا ہے مذکورہ سوال کا جواب واضح ہوجائے کہ خدائے تعالیٰ بہت سی علمی نعمات وعنایات گناہ سے پرہیز اور سرکش ہوا وہوس کے مقابلے میں استقامت کی وجہ سے بخشتا ہے، دوسرے لفظوں میں یہ نعمات کہ جو دل کی نورانیت کا ثمرہ ہیں ، ایک انعام ہیں کہ جو خدا اس قسم کے اشخاص کو بخشتا ہے ۔
ابن سیرین تعبیر خواب جاننے میں بڑے مشہور ہیں ، ان کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ کپڑا بیچا کرتے تھے اور بہت ہی خوبصورت تھے، ایک عورت انہیں اپنا دل دے بیٹھی، بڑے حیلے بہانے کرکے انہیں اپنے گھر میں لے گئی اور دروازے بند کرلئے، لیکن انہیں نے عورت کی ہوس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا اور مسلسل اس عظیم گناہ کے مفاسد اس کے سامنے بیان کرتے رہے لیکن اس عورت کی ہوس کی آگ اس قدر سرکش تھی کہ وعظ ونصیحت کا پانی اسے نہیں بجھا سکتا تھا ۔
ابن سیرین کو اس چنگل سے نجات پانے کے لئے ایک تدبیر سوجھی، وہ اٹھے اور اپنے بدن کو اس گھر میں موجود گندگی کی چیزوں سے اس طرح کثیف ، آلودہ اور نفرت انگیز کر لیا کہ جب عورت نے یہ منظر دیکھا تو ان سے متنفر ہوگئی اور انہیں گھر سے باہر نکال دیا کہتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد ابن سیرین جو تعبیرِ خواب کے بارے میں بہت فراست نصیب ہوئی اور ان کی تعبیر سے متعلق کتابوں میں عجیب وغریب واقعات لکھے ہوئے ہیں کہ جو اس سلسلے میں ان کی گہری معلومات کی خبر دیتے ہیں ۔
اس بنا پر ممکن ہے کہ یہ خاص علم وآگاہی حضرت یوسفعليهالسلام کو مصر کی بیوی کی انتہائی قوت جذب کے مقابلے میں نفس پر کنٹرول رکھنے کی بنا پر حاصل ہوئی ہو ۔
علاوہ ازیں اس زمانے میں بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار تعبیرِ خواب بیان کرنے والوں کے مرکز تھے اور یوسفعليهالسلام جیسا ذہین نوجوان مصر کے دربارمیں دوسرے کے تجربات سے آگاہیاور علمِ الٰہی سے فیض حاصل کرنے کے لئے روحانی طور پر تیار ہوسکتا تھا ۔
بہرحال یہ نہ پہلا موقع ہے، نہ آخری کہ خدانے جہادِ نفس کے میدان میں سرکش ہوا وہوس پر کامیابی حاصل کرنے والے اپنے مخلص بندے کو علوم ودانش کی ایسی نعمات وعنایات سے نوازا ہو کہ جنہیں کسی مادی ترازو سے نہیں تولا جاسکتا، مشہور حدیث ہے:العلم نور یقذفه اللّٰه فی قلب من یشاء ۔
علم نور ہے خدا جس کے دل میں چاہتا ہے ڈالتا ہے ۔
یہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ یہ وہ علم ودانش نہیں جو استاد کے سامنے زانو تلمذ تہ کرکے حاصل کی جائے یا کسی کو بغیر کسی حساب وکتاب کے مل جائے، یہ تو انعامات ہیں ، جہاد بالنفس میں سبقت لے جانے والوں کے لئے ۔
۳ ۔” بلوغ اشد“کیاہے ؟:
ہم کہہ چکے ہیں کہ ”اشد“ استحکام اور جسمانی وروحانی قوت کے معنی میں ہے اور ”بلوغ اشد“ اس مرحلے تک پہنچنے کے معنی میں ہے لیکن قرآن مجید میں اس کا اطلاق عمرِ انسانی کے مختلف مراحل پر ہوا ہے ۔
بعض اوقات یہ ”سنِ بلوغ“ کے معنی میں آیا ہے، مثلا ہم پڑھتے ہیں :
( وَلَاتَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إِلاَّ بِالَّتِی هِیَ اٴَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ اٴَشُدَّهُ ) ۔
یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ سوائے حسن طریقے سے، جب تک کہ وہ حد بلوغ کو نہ پہنچ جائے(بنی اسرائیل: ۳۴) ۔
کبھی چالیس سال کی عمرتک پہنچنے کے معنی میں استعمال ہواہے مثلا:( حَتَّی إِذَا بَلَغَ اٴَشُدَّهُ وَبَلَغَ اٴَرْبَعِینَ سَنَةً ) ۔
یہاں تک کے بلوغ اشد کے مرحلے تک پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا،(احقاف: ۱۵) ۔
اور کبھی یہ لفظ بڑھاپے سے قبل کے مرحلے کے لئے آیاہے، ارشاد ہوتا ہے:
( ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا اٴَشُدَّکُمْ ثُمَّ لِتَکُونُوا شُیُوخًا )
اس کے بعد خدا تمہیں عالمِ جنین سے بچوں کی شکل میں باہر نکالتا ہے پھر تم جسم وروح کے استحکام کے مرحلے میں پہنچ جاتے ہو اس کے بعد بڑھاپے کے مرحلے میں ،(المومن: ۶۸)
تعبیرات کا یہ فرق ہوسکتا ہے اس بنا پر ہو کہ روح وجسم کے استحکام کے لئے انسان کئی مراحل طے کرتا ہے اور بلا شبہ اس میں سے ہر مرحلہ ایک حد بلوغ ہے اور چالیس سال کی عمر کے عام طور پر فکر وعقل پختہ ہوتی ہے دوسرا مرحلہ ہے اور اسی طرح انسان کی عمر ڈھلنے لگے اور وہ کمزوری کی طرف مائل ہو تو یہ ایک اور مرحلہ ہے لیکن بہرحال زیرِ بحث آیت جسمانی وروحانی بلوغ کے بارے میں ہے کہ جو حضرت یوسفعليهالسلام میں جوانی کی ابتدا ہی میں پیدا ہوگیا تھا ، اس سلسلے میں فخرالدین رازی نے ایک بات کی ہے جو ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں :
چاند کی گردش کی مدت (جس میں وہ محاق تک پہنچتا ہے) ۲۷ دن ہیں ، جب اسے چار حصوں میں تقسیم کریں تو ہر حصہ ۷ دن کا بنتا ہے (جس سے ایک ہفتہ بنتا ہے)۔
اسی لئے دانشمندوں نے بدن انسانی کے حالات کو سات سات سال پر مشتمل چار حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔
پہلا دور اس وقت کا ہے جب انسان پیدا ہوتا ہے تو ضعیف و ناتوں ہو تا ہے جسم کے لحاظ سے بھی اور روھ کے لحاظ سے بھی، لیکن جب وہ سات سال کا ہوجاتا ہے تو اس میں فکر وہوش اور قوتِ جسمانی کے آثار ظاہر ہوجاتے ہیں ۔
دوسرا مرحلہ سات سال مکمل ہونے بعد شروع ہوتا ہے اور انسان اپنا تکامل وارتقاء جاری رکھتا ہے یہاں تک کہ یکے بعد دیگرے چودہ سال ہورے ہوجاتے ہیں ۔
تیسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے تو پندرہ سال کی عمر وہ جسمانی اور روحانی بلوغ کے مرحلے میں پہنچتا ہے، اس میں جسمانی شہوت حرکت میں آتی ہے اور(اور پندہ سال کی تکمیل پر ) وہ مکات ہوجاتاہے ، پھر وہ اپنا تکامل وارتقاء جاری رکھتا ہے یہان تک کہ تیسرا دور ختم ہوجاتا ہے ۔
چوتھا دور ختم ہونے اور ۲۸ سال کی مدت پوری ہونے پر جسمانی رشد ونمو کی مدت ختم ہوجاتی ہے اور انسان ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتا ہے ۔
یہ نیا مرحلہ توقف کا مرحلہ ہے اور یہی ”بلوغ اشد “ کا زمانہ ہے اور یہ حالتِ توقف پانچویں دور کے اختتام یعنی ۳۵ سال تک جاری رہتی ہے (اور اس کے بعد تنزل کا دور شروع کا دور شروع ہوجاتا ہے )۔(۱)
مندرجہ بالا تقسیم اگرچہ ایک حد تک قابلِ قبول ہے لیکن دقتِ نظر سے دیکھا جائے تو درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ اول تو مرحلہ بلوغ دوسرے دور کے اختتام پر نہیں ہے، اسی طرح رشد جسمانی کی انتہا، جیسا کہ آج کل ماہرین فن کہتے ہیں ، ۵۲ سال ہے اور بعض روایات کے مطابق مکمل فکری بلوغ ۴۰ سال میں ہوتا ہے ۔
ان تمام باتوں سے قطع نظر جو کچھ سطور بالا میں کہا گیا ہے ایک ایساہماگیر شمارقانون شمار نہیں ہوتا جو سب اشخاص پر صادق آئے ۔
۴ ۔ نعمات الٰہی انبیاء کو بھی حساب کتاب سے ملتی ہیں :
آخری نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ ضروری ہے یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں جس وقت قرآن حضرت یوسفعليهالسلام علم وحکمت دینے کے بارے میں بات کرتا ہے مزید کہتا ہے : ”ہم اس طرح نیکو کاروں کو جزا دیتے ہیں “ یعنی نعماتِ الٰہی انبیاء تک جو بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں ملتیں اور ہر شخص کو اس کی نیکو کاری اور اچھائی کی مقدار کے مطابق قبضِ الہٰی کے بحرِ بے کراں سے فیض ملتا ہے اور وہ اسی حساب سے اس سے بہرور ہوتا ہے، جیسا کہ حضرت یوسفعليهالسلام کو ان تمام مشکلات کے مقابلے میں صبرواستقامت کرنے کی وجہ سے وافر حصہ نصیب ہوا ۔
____________________
۱۔تفسیر فخر رازی،ج ۱۸،ص۱۱۱۔
آیات ۲۳،۲۴
۲۳( وَرَاوَدَتْهُ الَّتِی هُوَ فِی بَیْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتْ الْاٴَبْوَابَ وَقَالَتْ هَیْتَ لَکَ قَالَ مَعَاذَ اللهِ إِنَّهُ رَبِّی اٴَحْسَنَ مَثْوَایَ إِنَّهُ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ) ۔
۲۴( وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَااٴَنْ رَاٴَی بُرْهَانَ رَبِّهِ کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ ) ۔
ترجمہ
۲۳ ۔اور جس عورت کے گھر میں یوسف رہتا تھا اس نے اس سے اپنے مطلب کے حصول کی خواہش کی اور دروازے بند کردئے اور کہا کہ اس چیز کی طرف جلدی آؤ جو تمہارے لئے مہیا ہے،(یوسف نے)کہا : مَیں خدا سے پناہ مانگتا ہوں وہ ( مصر)میرا صاحبِ نعمت ہے اور اس نے مجھے محترم جانا(تو کیا ممکن ہے کہ مَیں اس پر ظلم کروں اور اس سے خیانت کروں )یقینا ظالم کامیاب نہیں ہوں گے اور فلاح نہیں پائیں گے ۔
۲۴ ۔اس عورت نے تو یہ ارادہ کیا اور وہ بھی اگر پروردگار کی برھان نہ دیکھتا تو ارادہ کرتا، ہم نے ایسا اس لئے کیا تاکہ بدی اور فحشاء کو اس سے دور رکھیں کیونکہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا ۔
مصر کی بیوی کا عشقِ سوزاں
حضرت یوسفعليهالسلام نے اپنے خوبصورت، پرکشش اور ملکوتی چہرے سے نہ صرف مصر کو اپنی طرف کرلیا بلکہ کی بیوی بھی بہت جلدی آپعليهالسلام کی گرویدہ ہوگئی، آپعليهالسلام کا عشق اس کی روح کی گہرایوں میں اتر گیا ، جُوں جُوں وقت گزرتا گیا اس عشق کی حدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا لیکن یوسفعليهالسلام کہ جو پاکیزہ اور پرہیزگار انسان تھے انہیں خدا کے علاوہ کسی کی بھی فکر وسوچ نہ تھی، ان کا دل فقط عشقِ الٰہی کا گرویدہ تھا ۔
کچھ اور امور بھی شامل ہوگئے جنہوں نے کی بیوی کے عشقِ سوزاں کو اور بھڑکادیا ۔
ایک تو اسے اولاد نہ ہونے کا ارمان تھا، دوسرا اس کی رنگینیوں سے بھر پور اشراف کی زندگی تھی، تیسرا داخلی زندگی میں اسے کو ئی پریشانی اور مسئلہ نہ تھا جیسا کہ اشراف اور نازونعمت میں پلنے والوں کی زندگی ہوتی ہے اور چوتھا دربار نصر میں کسی قسم کی کوئی پابندی اور قدغن نہ تھا، ان حالات میں وہ عورت کہ جو ایمان وتقویٰ سے بھی بے بہرہ تھی شیطانی وسوسوں کی موجوں میں غوطہ زن ہوگئی، یہاں تک کہ اس نے ارادہ کرلیا کہ اپنے دل کا راز یوسف سے بیان کرے اور اپنے دل کی تمنا ان سے پورا کرنے کا تقاضا کرے ۔
اپنے مقصد کے حصول کی خاطر اس نے ہر ذریعہ اور ہر طور طریقہ اختیار کیا اور بڑی خواہش کے ساتھ کوشش کی کہ ان کے دل کو متاثر کرے، جیسا کہ قرآن کہتا ہے: جس عورت کے گھر میں یوسف تھے اس نے اپنی آرزو پورا کرنے کے لئے پیہم ان سے تقاضا کیا( وَرَاوَدَتْهُ الَّتِی هُوَ فِی بَیْتِهَا عَنْ نَفْسِه ) ۔
”راودتہ“ اصل میں ”مرودة“ کے مادہ سے چراگاہ کی تلاش کے معنی میں ہے ، مثل مشہور ہے:
( الرائد لایکذب قومه ) ۔
جو چراگاہ کی تلاش میں جاتا ہے وہ اپنی قوم قبیلے سے جھوٹ نہیں بولتا ۔
یہ بھی اسی مذکورہ معنی کی طرف اشارہ ہے ۔
اسی طرح سرما سلائی کہ جس سے آنکھوں میں آرام آرام سے سرما لگاتے ہیں کو”مِروَد“(بروزن مِنبر)کہا جاتا ہے ۔
بعد ازاں یہ لفظ ہر اس کام کے لئے بولا جانے لگا جو نرمی ، ملائمت اور آرام سے کیا جائے ۔
یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ زوجہ نے اپنا مقصود پانے کے لئے بڑی نرمی سے اور کسی قسم کی دھمکی کے بغیر ملائمت اور اظہار محبت سے یوسفعليهالسلام کو دعوت دی ۔
آخرکار جو آخری راستہ اسے نظر آیا یہ تھا کہ ایک دن انہیں تنہا اپنی خلوت گاہ پھنسا نے اور ان کے جذبات ابھارنے کے لئے تمام وسائل سے کام لے، جاذب ترین لباس پہنے، بہترین بناؤ سنگار کرے بہت مہک دار عطر لگائے اور اس طرح سے آرائش وزیبائش کرے کی یوسفعليهالسلام جیسے قوی انسان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے ۔
قرآن کہتا ہے: اس نے دروازوں کو اچھی طرح بند کرلیا اور کہا آؤ مَیں تمہارے لئے حاضر ہوں( وَغَلَّقَتْ الْاٴَبْوَابَ وَقَالَتْ هَیْتَ لَکَ ) ۔
لفظ” غلقت“ مبالغہ کا معنی دیتا ہے اور نشاندہی کرتا ہے کہ اس نے تمام دروازے مضبوطی سے بند کےے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یوسف کو محل کی ایسی جگہ پر لے گئی کہ جہاں کمروں کے اندر کمرے بنے ہوئے تھے اور جیسا کہ بعض روایات میں آیاہے اس نے سات دروازے بند کےے تاکہ یوسفعليهالسلام کے لئے فرار کی کوئی راہ باقی نہ رہے ۔
علاوہ ازیں شاید وہ اس طرح حضرت یوسفعليهالسلام کو سمجھانا چاہتی تھی کہ وہ راز فاش ہونے سے پریشان نہ ہوں کیونکہ ان بند دروازوں کے ہوتے ہوئے کسی شخص کے بس میں نہیں کہ وہ اندر آسکے ۔
جب حضرت یوسفعليهالسلام نے دیکھا کہ تمام حالات لغزش وگناہ کی حمایت میں ہیں اور ان کے لئے کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا تو انہوں نے زلیخاکو بس یہ جواب دیا: مَیں خدا سے پناہ مانگتا ہوں( قَالَ مَعَاذَ الله ) ۔
اس طرح حضرت یوسفعليهالسلام نے زوجہ کی خواہش کو قطعی وحتمی طور پررد کردیا اور اسے سمجھایا کہ وہ ہرگز اس کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے، آپ نے ضمناً اسے اور تمام افراد کو یہ حقیقت سمجھا دی کہ ایسے سخت اور بحرانی حالات میں شیطانی وسوسوں اور ان سے کہ جو شیطانی عادات واخلاق رکھتے ہیں نجات کے لئے ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ خدا کی طرف پناہ لی جائے، وہ خدا کہ جس کے لئے خلوت اور بزم ایک سی ہے اور جس کے ارادے کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہرسکتی ۔
اس مختصر سے جملے سے انہوں نے عقیدے اور عمل کے لحاظ سے خدا کی وحدانیت کا اعتراف کیا، اس کے بعد مزید کہا کہ تما م چیزوں سے قطعِ نظر ”مَیں ایسی خواہش کے سامنے کس طرح سے سرِ تسلیم خم کرلوں جب کہ مَیں مصر کے گھر میں رہتا ہوں ، اس کے دستر خوان پر ہوں اور اسنے مجھے بہت احترام سے رکھا ہوا ہے “( إِنَّهُ رَبِّی اٴَحْسَنَ مَثْوَایَ ) ، کیا یہ واضح خیانت نہ ہوگی ،”یقیناستمگار فلاح نہیں پائیں گے( إِنَّهُ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ) ۔
اس جملے میں ”رب“سے کیا مراد ہے؟
اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے ، اکثر مفسرین نے مثلا مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں اور مولف المنار نے المنار میں ”رب“ کو اس کے وسیع معنی میں لیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراد مصر ہے کہ جس نے حضرت یوسفعليهالسلام کے احترام واکرام میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی اور شروع ہی میں ”اکرمی مثواہ“ کہہ کر یوسف ع کے لئے اپنی بیوی سے سفارش کی تھی ۔
یہ گمان بالکل غلط ہے کہ لفظ”رب“ اس معنی میں استعمال نہیں ہوتا کیونکہ اس سورة میں متعدد مقامات پر لفظ”رب“ کا اطلاق غیرِ خدا پر ہوا ہے، کبھی حضرت یوسفعليهالسلام کی زبان سے اور کبھی کسی اور کی زبان سے ، مثلا قیدیوں کے خواب کے واقعہ میں ہم پڑھتے ہیں کہ جس قیدی کو آپعليهالسلام نے آزادی کی بشارت دی تھی اس سے کہا کہ اپنے رب ” مصر“ سے میرا ذکر کرنا ۔( وَقَالَ لِلَّذِی ظَنَّ اٴَنَّهُ نَاجٍ مِنْهُمَا اذْکُرْنِی عِنْدَ رَبِّک ) (آیت ۴۲) ۔
نیز حضرت یوسفعليهالسلام کی زبانی ہے کہ :
( فَلَمَّا جَائَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلیٰ رَبِّکَ فَاسْاٴَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِی قَطَّعْنَ اٴَیْدِیَهُن ) (آیت: ۵۰)
جب فرعونِ مصر کا فرستادہ ان کے پاس آیاتو انہوں نے کہا اپنے رب (فرعون)کے واپس جا ؤ اور اس سے تقاضاکرو کہ وہ تحقیق کرے کہ زناِن مصر نے اپنے ہاتھ کیوں کاٹ لئے تھے ۔
اس سورہ کہ آیہ ۴۱ میں حضرت یوسفعليهالسلام کی زبانی اور آیہ ۴۲ میں قراان کی زبانی لفظ”رب“ کا اطلاق مالک اور صاحبِ نعمت پر ہوا ہے ۔
لہٰذا آپ دیکھ رہے ہیں کہ زیرِ بحث آیت کے علاوہ اسی سورہ میں چار مرتبہ لفظ”رب“ کا اطلاق غیر خدا پر ہوا ہے اگرچہ اسی سورہ میں اور قرآن کی دوسری سورتوں میں یہ لفظ بار ہا پروردگارعالم کے لئے استعمال ہوا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ یہ ایک مشترک لفظ ہے اور اس کا اطلاق دونوں معانی پر ہوتا ہے ۔
بہرحال بعض مفسرین نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ زیر بحث آیت ”انہ ربی احسن مثوای“ ، میں لفظ ”رب“ ”خدا“ کے معنی میں ہے کیونکہ لفظ ”اللہ“ کہ جو ساتھ ذکر ہوا ہے ، سبب بنتا ہے کہ ضمیر اسی کی طرف لوٹے، لہٰذا اس صورت میں جملے کا معنی یوں ہوگا:
مَیں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ جو میرا پروردگار ہے اور جس نے میرے مقام کو محترم قرار دیا ہے اور مجھے حاصل نعمت اسی کی طرف سے ہے ۔
لیکن ”اکرمی مثوای“ کے لفظوں سے مصر کی سفارش کی طرف توجہ کی جائے تو اسی لفظ ”مثوای“ کا تکرار زیر ِ بحث آیت میں ہوا ہے، اس سے پہلے معنی کو تقویت ملتی ہے، تورات کی فصل ۳۹ شمارہ ۸،۹ اور ۱۰ میں یوں ہے-:
اور اس کے بعد یہ ہوا کہ اس کے آقا کی بیوی نے اپنی آنکھیں یوسف پر مرکوز کردیں اورکہنے لگی: میرے ساتھ سوجا ۔
لیکن اس نے انکار کردیا اور اپنے آقا کی بیوی سے کہا: جو کچھ اس گھر میں میرے ساتھ ہورہا ہے میرا آقا اس سے آگاہ نہیں ہے ، اس نے اپنی تمام ملکیت میرے سپرد کررکھی ہے، اس گھرمیں مجھ سے بڑا کوئی نہیں ہے اور میرے کسی چیز کے لینے میں اس نے کوئی مضائقہ نہیں سمجھا، سوائے تیرے کہ جو اس کی بیوی ہے لہٰذا مَیں یہ قباحت ِ عظیم کیسے انجام دوں گا کہ جوخدا کا معصیت ہے ۔
تورات کے یہ جملے بھی پہلے معنی کی تائید کرتے ہیں ۔
یہاں یوسف اور زوجہ کا معاملہ نہایت باریک مرحلے اور انتہائی حساس کیفیت تک پہنچ جاتا ہے جس کے متعلق قرآن بہت معنی خیز انداز میں گفتگو کرتا ہے: مصر کی بیوی نے اس کا قصد کیا اور اگر یوسف بھی برھانِ پروردگار نہ دیکھتا تو ارادہ کرتا( وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَااٴَنْ رَاٴَی بُرْهَانَ رَبِّهِ ) ۔
اس جملے کے معنی کے متعلق مفسرین میں بہت اختلاف ہے، اس کا خلاصہ درج ذیل تین تفسیر میں کیا جاسکتا ہے:
۱ ۔ مصر کی بیوی نے یوسف سے اپنی آزادی کو پورا کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا اور اس کے لئے اپنی انتہایہ کوشش کی ، یوسف بھی نوخیز جوان تھے، ابھی تک ان کی شادی بھی نہ ہوئی تھی اور نہایت ہیجان انگیز جنسی کیفیت ان کے سامنے تھی وہ بھی طبع بشری کے تقاضے سے ایسا ارادہ کرلیتے اگر برھان ِ پروردگار یعنی روح ، ایمان وتقویٰ ، تربیتِ نفس اور آخرکار مقامِ عصمت اس میں حائل نہ ہوتا ۔
اس بنا پر مصر کی بیوی کے ”ھم“ (قصد)اور یوسف کے قصد کے درمیان فرق یہ تھا کہ یوسف کی طرف سے ایک شرط سے مشروط تھا کہ جو حاصل نہ ہوئی (یعنی برھانِ پروردگار کا عدم وجود)لیکن کی بیوی کی طرف سے مطلق تھا اور چونکہ وہ اس قسم کے مقامِ تقویٰ وپرہیزگاری کی حامل نہ تھی اس لئے اس نے یہ ارادہ کرلیا اورآخری مرحلے تک اس پر قائم رہی، یہاں تک کہ اس کی پیشانی پتھر سے ٹکرائی ۔
ایسے جملوں کی نظیر عربی اور فارسی ادب میں بھی موجود ہے ، مثلا ہم کہتے ہیں کہ بے لگام افرادنے فلاں کسان کے پھلوں کا باغ غارت کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا ہے، مَیں نے بھی اگر سالہا سال مکتبِ استاد میں تربیت حاصل نہ کی ہوتی تو اس قسم کا ارادہ کرتا ۔
اس بناء حضرت یوسف (علیه السلام)کا ارادہ ایک شرط سے مشروط تھا، جو حاصل نہ ہوئی اور یہ شرط نہ صرف حضرت یوسفعليهالسلام کے مقامِ عصمت اور تقویٰ کے منافی نہیں بلکہ اس بلند مقام کی وضاحت ہے ۔
اس تفسیر کے مطابق حضرت یوسفعليهالسلام سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہیں ہوئی کہ جو ان کے ارادہ گناہ کی نشانی بنے بلکہ انہوں نے دل میں بھی ایسا ارادہ نہیں کیا ۔
لہٰذا بعض ایسی روایات کہ جن میں ہے کہ یوسفعليهالسلام مصر کی بیوی سے خواہش پورا کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے تھے یہاں تک کہ لباس بھی اتار لیا تھا اور ایسی ہی دوسری عبارتیں کہ جنہیں نقل کرتے ہوئے شرم آتی ہے، سب بے بنیاد، مجہول اور جعلی ہیں اور ایسے اعمال آلودہ ، بے لگام، ناپاک اور غلط افراد سے صادر ہوتے ہیں حضرت یوسف (علیه السلام)اپنی پاکیزگی روح اور بلند مقامِ تقویٰ کے حامل تھے انہیں ایسے کاموں سے کس طرح متہم کیا جاسکتا ہے ۔
یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ حضرت امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے ایک حدیث میں یہی تفسیر بہت ہی جچی تلی اور مختصر عبارت میں بیان ہوئی ہے، حدیث کچھ یوں ہے:
عباسی خلیفہ مامون امامعليهالسلام سے پوچھتا ہے: کیا آپ حضرات نہیں کہتے کہ انبیاء معصوم ہیں ۔
فرمایا: جی ہاں ۔
اس نے کہا-: پھر قرآن کی اس آیت کی تفسیر کیا ہے-”( وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَااٴَنْ رَاٴَی بُرْهَانَ رَبِّهِ ) “ ۔
امام نے فرمایا:
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ و لَوْلَااٴَنْ رَاٴَی بُرْهَانَ رَبِّهِ لهم بها کماهمت به لکن کان معصوما والمعصوم لا یهم بذنب ولا یاتیه ۔۔۔
یعنی ۔ زوجہ نے یوسفعليهالسلام سے اپنی خواہش کی تکمیل کا ارادہ کیا اور یوسف بھی اگر اپنے پروردگار کی برھان نہ دیکھتے تو مصر کی بیوی کی طرح ارادہ کرتے لیکن وہ تو معصوم تھے اورمعصوم کبھی بھی گناہ کا ارادہ نہیں کرتا اور گناہ کے پیچھے نہیں جاتا ۔
مامون کو اس جواب پر بہت لطف آیا، اس نے کہا:
لله درک یا ابالحسن
آفرین آپ پر اے ابالحسن!
۲ ۔ مصر کی بیوی اور یوسفعليهالسلام میں سے کسی کا ارادہ بھی جنسی خواہش سے مربوط نہ تھا بلکہ حملہ کرنے اور ایک دوسرے کو مارپیٹنے کا ارادہ تھا ۔ زوجہ چونکہ عشق میں شکست خوردہ تھی اس لئے اس میں انتقام کا جذبہ پیدا ہوگیا تھا اور یوسفعليهالسلام اپنا دفاع کرنا چاہتے تھے اور اس عورت کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرنا چاہتےء تھے ۔
اس امر کے لئے جو قرائن ذکر کئے گئے ہیں ا ن میں سے ایک یہ ہے کہ زوجہ نے مطلب براری کا اراہ تو بہت پہلے سے کیا ہوا تھا اور اس کے لئے اس نے تمام لوازمات پورے کررکھے تھے لہٰذا اس بات کا کوئی موقع نہیں تھا کہ قرآن کہے کہ اس نے اس کام کا ارادہ کیا کیونکہ ارادے کا موقع نہ تھا ۔
دوسرا یہ کہ اس شکست کے بعد سختی اور انتقام جوئی کی کیفیت پیدا ہونا فطری ہے کیونکہ یوسفعليهالسلام سے نرمی اور پیار محبت کے لئے جو کچھ اس کے بس میں تھا وہ کرچکی تھی اور چونکہ اس طرح ان پر اثر انداز نہیں ہوسکی تھی اس لئے اس نے دوسرا ہتھیار استعمال کرنا چاہا اور یہ سختی کا ہتھیار تھا ۔
تیسرا یہ کہ آیت میں :”( کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ) “(، ہم نے بدی اور فحشاء دونوں کو یوسف سے دُور کردیا) ”فحشاء“ کا معنی عہی بے حیائی اور آلودہ ہونا ہے، اور ”سوء“ مصر کے تشدد سے نجات ہے ۔
لیکن یوسفعليهالسلام نے چونکہ برھانِ پروردگار کو دیکھ لیا تھا لہٰذا اپنے آپ کو اس عورت سے دست وگریبان ہونے سے بچایا تا کہ کہیں وہ حملہ کرکے انہیں زخمی نہ کردے اور یہ پھر ان کے ارادہ تجاواز کی دلیل بن جائے لہٰذا انہوں نے اس بات کو ترجیح دی کہ اس جگہ سے دُور چلے جائیں اور وہ دروازے کی طرف بھاگے ۔
۳ ۔ اس میں شک نہیں کہ یوسفعليهالسلام جوان تھے، جوانی کے تمام احساسات اور جذبات بھی ان میں موجود تھے اگر چہ ان کے قوی جذبات ان کی عقل اور ایمان کے کے ماتحت تھے لیکن فطری بات یہ کہ جب ایسا انسان کسی انتہائی ہیجان انگیز موقع سے دوچار ہوتو اس کے اندر ایک طوفان پیدا ہوتا ہے ، جزبات اور عقل ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے لئے اٹھ گھڑے ہوتے ہیں ، جزبات کو بھڑکانے والے عوامل کی موجیں جس قدر زیادہ قوی ہوں گی اس کا پلڑا بھاری ہوگا، یہاں تک کہ ہوسکتا ہے کہ ایک انتہائی مختصر لمحے کے لئے ان کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ قدم تھوڑا سا آگے پڑے تو ہولناک لغزش کا سامنا کرنا پڑے ۔
اچانک ایمان وعقل کی قوت ہیجان میں آجاتی ہے اور اصلاح کے مطابق آمادہ جنگ ہوجاتی ہے اور مخالف فوج کو شکست دے دیتی ہے اور جذبار کی قوت کے جو قعرِ مذلت کے کنارے پہنچ جاتی ہے اسے پیچھے دھکیل دیتی ہے ۔
یہ مختصر حساس اور بحرانی لحظہ کہ جو اطمینان وسکون کے دو زمانوں کے درمیان تھا، قرآن نے اس کی تصویر کشی کی ہے، اس بناء پر ”وھم بھا لولا ان را برھان ربہ“ سے مراد ہے کہ جذبات اور عقل کی کش مکش میں یوسفعليهالسلام قعرِ مزلت وگناہ کے لبوں تک آپہنچے تھے کہ اچانک ایمان وعقل کی بہت زیادہ قوت جمع ہوگئی اور اس نے جذبات کے طوفان کو شکست دے دیاب کوئی یہ گمان نہ کرے کہ یوسفعليهالسلام اگراس پھسلن اور گرنے کی جگہ سے بچ گئے تو یہ کوئی معمولی کام تھا کیونکہ گناہ اور ہیجان کے عوامل ان کے وجود سے بہت کمزور تھے، نہیں ایسا ہرگز نہیں بلکہ آپعليهالسلام اپنی پاکیزگی کی حفاظت کے لئے اس حساس ترین لمحے میں جہاد بالنفس کے انتہائی شدید معرکے سے گزرے ۔
برہانِ پروردگار سے کیا مراد ہے؟
”برھان“ در اصل ”برہ“ کا مصدر ہے کہ جس کا معنی ہے”سفید ہونا“ بعد ازاں ہر محکم وقوی دلیل کو برھان کہا جانے لگا تو مقصودواضح ہونے کا سبب بنے، اس بناء پر برھانِ الٰہی کہ جو نجاتِ یوسفعليهالسلام کا سبب بنی ایک قسم کی واضح خدائی دلیل ہے، اس کے بارے میں مفسرین نے بہت سے احتمالات ذکر کئے ہیں ، ان میں سے بعض یہ ہیں :
۱ ۔ علم وایمان، انسانی تربیّت اور برجستہ وعمدہ صفات۔
۲ ۔ زنا کے حکمِ تحریمی کے بارے میں آگاہی وعلم۔
۳ ۔ مقامِ نبوت وگناہ سے معصوم ہونا ۔
۴ ۔ ایک قسم کی الہٰی امداد و نصرت جو ان کے نزدیک نیک اعمال کی وجہ سے اس حساس لمحے میں انہیں میسّر آئی ۔
۵ ۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ ایک بُت تھا کہ جو زوجہعليهالسلام مصر کا معبود شمار ہوتا تھا، اچانک اس عورت کی نگاہ اس بُت پر پڑی، اسے یوں محسوس ہوا جیسے اسے وہ گھور رہا ہے اور اس کی خیانت آمیز حرکات کو غیض و غضب کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے، وہ اٹھی اور اس بُت پر پردہ ڈال دیا، یوسفعليهالسلام نے یہ منظر دیکھا تو ان کے دل میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا، وہ لرز گئے اور کہنے لگے تُو تو اس بے عقل، بے شعور، حس وتشخیص سے عاری بُت سے شرم کرتی ہے، کیسے ممکن ہے کہ مَیں اپنے پروردگار سے شرم نہ کروں کہ جو تمام چیزوں کو جانتا ہے اور تمام مکفی امور اور خلوت گاہوں سے باخبر ہے ۔
اس احساس نے یوسفعليهالسلام یوسفعليهالسلام کو ایک نئی توانائی اور قوت بخشی اور شدید جنگ کہ جو ان کی روح کہ گہرائیوں میں جذبات اور عقل کے درمیان جاری تھی اس میں ان کی مدد کی تاکہ وہ جذبات کی سرکش موجوں کو پیچھے دھکیل سکیں ۔(۱)
اس کے باوجود کوئی مانع نہیں کہ یہ سب معانی یکجامراد ہوں کیونکہ ”برھان“ کے وسیع مفہوم میں سب موجود ہیں اور قرآنی آیات وروایات میں لفظ”برھان“ کا مندرجہ بالا اکثر معانی پر اطلاق ہوا ہے ۔
باقی رہیں وہ بے بنیاد روایات جو مفسرین نے نقل کی ہیں کہ جن کے مطابق حضرت یوسفعليهالسلام نے گناہ کا ارادہ کرلیا تھا کہ اچانک حالتِ مکاشفہ میں جبرائیل یا حضرت یعقوبعليهالسلام کو دیکھا کہ جو اپنی انگلی دانتوں سے کاٹ رہے تھے انہیں دیکھا تو یوسفعليهالسلام پیچھے ہٹ گئے ۔ ایسی روایات کی کوئی معتبر سند نہیں ہے، یہ اسرائیلیات کی طرح ہیں اور کوتاہ فکر انسانوں کے دماغوں کی پیداوار ہیں جنہوں نے مقامِ انبیاء کو بالکل نہیں سمجھا ۔
اب ہم باقی آیت کی تفسیر کی طرف توجہ کرتے ہیں ، قرآن مجید کہتا ہے: ہم نے یوسف کو اپنی ایسی برھان پیش کی تاکہ بدی اور فحشاء کو اس سے دور کریں( کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ) ، کیونکہ وہ ہمارے برگزیدہ اور مخلص بندوں میں سے تھا( إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ ) ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ہم نے جو اس کے لئے غیبی اور روحانی امداد بھیجی تاکہ وہ بدی اور گناہ سے رہائی پائے تو یہ بے دلیل نہیں تھا، وہ ایک ایسا بندہ تھا جس نے اپنے آپ کو آگاہی ، ایمان، پرہیزگاری اور پاکیزہ عمل سے آراستہ کیا ہوا تھا اور اس کا قلب وروح شرک کی تاریکیوں سے پاک اور خالص تھا، اسی لئے وہ ایسی خدائی امداد کی اہلیت و لیاقت رکھتا تھا، اس دلیل کا ذکر نشاندہی کرتا ہے کہ ایسی کدائی امداد جو طغیانی وبحرانی لمحات میں یوسفعليهالسلام جیسے انبیاء کو میسّر آتی تھی ان سے مخصوص نہ تھی بلکہ جو شخص بھی خدا کے خالص بندوں اور ”عباد اللّٰه المخلصین “ کے امرے میں آتا ہو ایسی نعمات کے لائق ہے ۔
____________________
۱۔ نور الثقلین،ج۲،ص ۴۲۲و تفسیر قرطبی، ص ۳۳۹۸،ج ۵۔
چند اهم نکات
۱نفس سے جهاد:
ہم جانتے ہیں کہ اسلام میں افضل ترین جہاد جہادِبا نفس ہے جیسے پیغمبر ِ اکرم نے اپنی ایک مشہورحدیث میں ”جہادِ اکبر“ کا نام دیا ہے یعنی بڑے دشمن سے جہاد کہ جسے جہاد ِ اصغر کا نام دیا گیا ہے میں اصولی طور پر اس وقت تک کامیابی ممکن نہیں جب تک کہ حقیقی معنی میں انسان جہادِ اکبرکے مرحلے سے نہ گزرے ۔
قرآن مجید جہاد ِ اکبر کے میدان میں انبیاء اور دیگر اولیائے خدا سے مربوط بہت سے مناظر کی تصویر کشی کی گئی ہے، ان میں سے نہایت اہم حضرت یوسفعليهالسلام کی سرگزشت اور زوجہ مصر کے عشقِ سوازاں کی داستان میں ہے، اگر چہ اس کے تمام پہلوؤ ں کی قرآن نے اختصار کے سبب وضاحت نہیں کی تاہم ایک مختصر جملے”وهم بها لولا ان را برهان ربه “ کے ذریعے اس طوفان کی شدت کو بیان کیا ہے ۔
اس میدانِ مقابلہ سے حضرت یوسفعليهالسلام رو سفید نکلے ، ان کی کامیابی کی تین وجوہ ہیں :
پہلی یہ کہ آپ (علیه السلام)نے اپنے تئیں خدا کے سپرد کیا اور اسکے لطف وکرم کی پناہ لی(قال معاذاللّٰه )۔
دوسری یہ کہ آپ ع نے مصر کے احسانات کی طرف توجہ کی، جس کے گھرمیں آپعليهالسلام زندگی بسر کررہے تھے ۔
یا یہ کہ خدا کی لامتناہی نعمات کی طرف توجہ کی کہ جس نے انہیں وحشتناک کنویں کی تہ سے نکال کر امن وامان وسکون وآرام کے ماحول میں پہنچا دیا، اس امر نے آپعليهالسلام کو اس بات پر ابھارا کہ اپنے گزشتہ اور آئندہ پر زیادہ غور وفکر کریں اور اپنے آپ کو زود گزر طوفانوں کے حوالے نہ کریں ۔
تیسری یہ کہ یوسفعليهالسلام کی کود سازی وبندگی کہ جس میں خلوص شامل تھا اور جو”انہ من عبادنا المخلصین“ سے معلوم ہوتی ہے نے آپعليهالسلام کو قوت بخشی کہ اس عظیم میدان میں کئی گنا وسوسوں کے مقابلے میں کہ جو اندر اور باہر سے آپعليهالسلام پر حملہ آور ہوتے تھے گھٹنے نہ ٹیک دیں ۔
اور یہ درس ہے تمام آزاد انسانوں کے لئے کہ جو جہادِ نفس کے میدان میں اس خطرناک دشمن پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام دعائے صباح میں بہت دلکش پیرائے میں فرماتے ہیں :
وان خذلنی نصرک عند محاربة النفس والشیطان فقد وکلنی خذ لانک الیٰ حیث النصب والحرمان۔
بار الہا! اگر نفس اور شیطان سے مقابلے کے وقت ہم تیری نصرت سے محروم رہ جائیں تو یہ محرومیت ہمیں رنج وحرمان کے سپرد کردے گی اور ہماری نجات کی امید نہیں رہے گی ۔
ایک حدیث میں ہے:
ان النبی(ص)بعث سریة فلما رجعوا قال مرحباً بقوم قضوا الجهاد الاصغر وبقی علیهم الجهاد الاکبر، فقیل یا رسول اللّٰه ماالجهاد الاکبر، قال جهاد النفس ۔
رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے کچھ مسلمانوں کو ایک جنگ پر بھیجا، جب وہ (تھکے، ماندے اور مجروح بدن) واپس آئے تو فرمایا: آفرین ہے ان لوگوں پر کہ جنہوں نے جہادِ اصغر انجام دیا ہے لیکن اب جہادِ اکبر کی ذمہ داری ان پر باقی ہے ۔
انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ جہادِ اکبر کیا ہے؟
فرمایا: نفس کے ساتھ جہاد۔(۱)
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :المجاهد من جاهد نفسه ۔
حقیقی مجاہد وہ ہے جو نفس کی سرکش خواہشوں کے خلاف جہاد کرے ۔(۲)
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:
من ملک نفسه اذا رغب، واذا رهب، واذا اشتهی، واذا غضب، واذا رضی، حرم اللّٰه جسده علی النار ۔
جو شخص چند حالت میں خود پر کنٹرول رکھے ۔
جب اسے کسی کی طرف رغبت ہو،جب خوف میں ہو،جب شعلہ شہوت بھڑکتا ہو،جب عالمِ غیض وغضب میں ہو اورجب کسی پر خوش ہو۔ (اپنے ارادے سے ان جذبات کو اس طرح کنٹرول میں رکھے کہ یہ اسے حکمِ خدا سے منحرف نہ کردیں )تو خدا اس کا بدن جہنم پر حرام کردے گا ۔( ۳)
____________________
۱۔وسائل الشیعہ، ج ۱۱،ص ۱۲۲۔
۲۔وسائل الشیعہ، ج ۱۱،ص ۱۲۴۔
۳-وسائل الشیعہ، ج ۱۱،ص ۱۲۳۔
۲ ۔ اخلاص کی جزا
جیسا کہ مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں اشارہ کیاجا چکا ہے کہ قرآن مجید اس خطرناک گرداب کہ جو زوجہ مصر نے پیدا کردیا، سے یوسفعليهالسلام کی نجات کی نسبت خداکی طرف دیتا ہے اور کہتا ہے:
ہم نے ”سوء“ اور ”فحشاء“ کو یوسف سے دُور کردیا ۔
لیکن ۔ بعد کا جملہ کہ جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھا، کی طرف توجہ کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان بحرانی لمحات میں خدا اپنے مخلص بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا اور ان کے لئے اپنی معنوی امداد سے دریغ نہیں کرتا بلکہ اپنے غیبی الطاف وامداد سے کہ جن کی تعریف وتوصیف کسی طرح بھی ممکن نہیں اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے اور یہ درحقیقت ایسی جزا ہے کہ جو خدائے بزرگ وبرتر ایسے بندوں کو عطا فرماتا ہے ۔ یہ در اصل پاکیزگی، تقویٰ اور اخلاص کی جزاء ہے ۔
ضمنی طور پر اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں حضرت یوسفعليهالسلام کا ذکر ”مُخلَص“ (بروزن”مطلق“ )بصورتِ اسمِ مفعول ہوا ہے یعنی ”خالص کیا ہوا“ نہ کہ بصورتِ ”مُخلِص“ (بروزن”مُحسِن“) اسمِ فاعل کی شکل میں جس کا معنی ہے ”خالص کرنے والا“۔
غور وخوض سے معلوم ہوتا ہے کہ ”مُخلِص“(لام کے نیچے زیر کی صورت میں )زیادہ تر ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے کہ جہاں انسان تکامل و ارتقاء کے ابتدائی مراحل میں ہو اور ابھی خود سازی کے عمل سے گزررہا ہو، جیساکہ قرآنِ حکیم میں ہے:( فَإِذَا رَکِبُوا فِی الْفُلْکِ دَعَوْا اللهَ مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّین )
جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں خدا کو خلوص سے پکارتے ہیں ۔(عنکبوت: ۶۵)
اسی طرح ایک اور آیت میں ہے:( وما امروا الا لیعبداللّٰه مخلصین له الدین ) ۔
انہیں حکم نہیں دیا گیا مگر یہ کہ خدا کی خلوص کے ساتھ پرستش کریں ۔(بینة: ۵)
لیکن” مُخلَص“ (لام پر زبر کی صورت میں ) اعلیٰ مرحلے کے لئے بولا جاتا ہے کہ جو ایک مدت تک جہادِ بالنفس سے حاصل ہوتا ہے وہی مرحلہ کہ جب شیطان انسان میں اپنے وسوسے پیدا کرنے سے مایوس ہوجاتا ہے، در حقیقت اس مرحلے میں خدا کی طرف سے بیمہ ہوجاتا ہے ۔
ارشاد الٰہی ہے:( قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاٴُغْوِیَنَّهُمْ اٴَجْمَعِینَ، إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْهُمَ الْمُخْلَصِین ) ۔
شیطان نے کہا: تیری عزت کی قسم! ان سب کو گمراہ کروں گا مگر تیرے مخلص بندوں کو( ۸۲ ۔ ۸۳) ۔
یوسفعليهالسلام اس مرحلہ پر پہنچے ہوئے تھے کہ اس بحرانی حالت میں انہوں نے پہاڑ کی طرح استقامت دکھائی اور کوشش کرنا چاہیئے کہ انسان اس مرحلے تک پہنچ جائے ۔
۳ ۔ متین وپاکیزہ کلام
قرآن کے عجیب وغریب پہلوؤں میں سے ایک کہ جو اعجاز کی ایک نشانی بھی ہے ، یہ ہے کہ اس میں کوئی چھپنے والی ، رکیک ، ناموزوں ، متبذل اور عفت وپاکیزگی سے عاری تعبیر نہیں ہے اور کسی عام اَن پڑھ اور جہالت کے ماحول میں پرورش پانے والے کا کلام ہرگز اس طرز کا نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہر شخص کی باتیں اس کے افکار اور ماحول سے ہم رنگ ہوتی ہیں ۔
قرآن کی بیان کردہ تمام داستانوں میں ایک حقیقی عشقیہ داستان موجود ہے اور یہ حضرت یوسفعليهالسلام اور مصر کی بیوی کی داستان ہے ۔
یہ ایک خوبصور ت اور ہوس آلودہ عورت کے ایک زیرک اور پاک دل نوجوان سے شعلہ ور عشق کی داستان ہے ۔
کہنے والے اور لکھنے والے جب ایسے مناظر تک پہنچتے ہیں تو وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ یا تو ہیرو اور اس واقعے کے اصلی مناظرکی تصویر کشی کے لئے قلم کو کھلا چھوڑ دیں اور با زبانِ اصطلاح حقِ سخن ادا کردیں اگرچہ اس میں ہزارہا تحریک آمیز، چھبنے والے اور غیر اخلاقی لفظ آجائیں ۔
یا وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ زبان وقلم کی نزاکت وعفت کی حفاظت کے لئے کچھ مناظر کو پردہ ابہام میں لپیٹ دیں اور سامعین وقارئین کو سربستہ طور پر بات بتائیں ۔
کہنے والا اور لکھنے والا کتنی بھی مہارت رکھتا ہو اکثر اوقات ان میں سے کسی ایک مشکل سے دوچار ہوجاتا ہے ۔
کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ ایک اَن پڑھ شخص ایسے شور انگیز عشق کے نہایت احساس لمحات کی دقیق اور مکمل تصویر کشی بھی کرے لیکن بغیر اس کے کہ اس میں معمولی سی تحریک آمیز وعفت سے عاری تعبیر استعمال ہوں ۔
لیکن قرآن اس داستان کے حساس ترین مناظر کی تصویر کشی شگفتہ انداز میں متانت وعفت کے ساتھ کرتا ہے، بغیر اس کے کہ اس میں کوئی واقعہ چھوٹ جائے اور اظہارِ عجز ہو، جب کہ تمام اصولِ اخلاق وپاکیزگی بیان بھی محفوظ ہو ۔
ہم جانتے ہیں کہ اس داستان کے تمام مناظر میں سے زیادہ حساس ”خلوت گاہ وعشق“ کا ماجرا ہے جیسے زوجہ مصر کی بیقراری اور ہواوہوس نے وجود بخشا ۔
قرآن اس واقعے کی وضاحت میں تمام کہنے کی باتیں بھی کہہ گیا ہے لیکن پاکیزگی اور عفت کے اصول سے ہٹ کر اس نے تھوڑی سی بات بھی نہیں کی، قرآن اس طرح سے کہتا ہے:
( وَرَاوَدَتْهُ الَّتِی هُوَ فِی بَیْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتْ الْاٴَبْوَابَ وَقَالَتْ هَیْتَ لَکَ قَالَ مَعَاذَ اللهِ إِنَّهُ رَبِّی اٴَحْسَنَ مَثْوَایَ إِنَّهُ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ) ۔
جس خاتون کے گھر یوسف تھے، اس نے ان سے تقاضااور اظہار تمنا کی اورتمام دروازے بند کرلئے اور کہنے لگی :جلدی آؤ،اس کی طرف جو و تمہارے خاطر مہیا ہے،انہوں نے کہا : مَیں اس کام سے خداکی پناہ مانگتا ہوں ، ( مصر)بزرگ اور میرا مالک ہے،اس نے مجھے بڑی عزت سے رکھا ہے ،یقینا ظالم (اور آلودہ دامن افراد ) فلاح نہیں پائیں گے (یوسف: ۲۳) ۔
اس آیت میں یہ الفاظ قابلِ غور ہیں :
۱ ۔ لفظ”وارد“ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں کوئی شخص دوسرے سے کوئی چیز بڑی محبت اور نرمی سے مانگے(لیکن زوجہ مصر یوسف سے جو کچھ طلب کرتی تھی )چونکہ یہاں واضح تھی لہٰذا قرآن نے اسی واضح کنایہ پر کفایت کی ہے اور نام نہیں لیا ۔
۲ ۔ یہاں قرآن لفظ”امراة ال “(یعنی ۔ مصر کی بیوی)تک استعمال نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے” الَّتِی ھُوَ فِی بَیْتِھَا“ (وہ خاتون کہ یوسف جس کے گھرمیں رہتا تھا )یہ اس لئے ہے تاکہ کلام پردہ پوشی اور عفتِ بیاں سے زیادہ قریب ہو ۔
ضمنی طور پر اس تعبیر سے قرآن نے حضرت یوسفعليهالسلام کی حسِ حق شناسی کو بھی مجسم کیا ہے، یعنی یوسفعليهالسلام نے تمام مشکلات کے باوجود اس کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا جس کے پنجے میں آپ کی زندگی تھی ۔
۳ ۔ َ”( غَلَّقَتْ الْاٴَبْوَابَ ) “ کہ جو مبالغے کا معنی دیتا ہے، دلالت کرتا ہے کہ تمام دروازے مضبوطی اور سختی سے بند کر دےے اوریہ اس ہیجان انگیز منظر کی تصویر کشی ہے ۔
۴ ۔”( وَقَالَتْ هَیْتَ لَک ) “ اس کا معنی ہے ”جلدی آؤ اس کی طرف جوتمہارے لئے مہیا ہے “ یا ”آجاؤ کہ مَیں تمہارے اختیار میں ہوں “۔
اس جملے کے وصالِ یوسف سے ہمکنار ہونے کے لئے زوجہ مصر کی آخری بات پیش کی گئی ہے لیکن ایک وزنی، پرمتانت اور معنی خیز انداز میں بغیر کسی تحریک آمیز اور بد آموزی کے ۔
۵ ۔”( مَعَاذَ اللهِ إِنَّهُ رَبِّی اٴَحْسَنَ مَثْوَایَ ) “یہ جملہ حضرت یوسفعليهالسلام نے اس حسین ساحرہ کی دعوت کے جواب میں کہااکثر مفسرین کے بقول اس کا معنی ہے:”مَیں خدا کی پناہ مانگتا ہوں ، تیرا شوہر مصر میرا بزرگ اور مالک ہے اور وہ میرا احترام کرتا ہے اور مجھ پر اعتماد کرتا ہے، مَیں اس سے کسی طرح کی خیانت کروں ، یہ کام خیانت بھی اور ظلم بھی “”( إِنَّهُ لَایُفْلِحُ الظَّالِمُونَ ) “۔
اس طرح قرآن حضرت یوسفعليهالسلام کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ انہوں نے مصر کی بیوی کے احساسات بیدار کرنے کی کوشش کی ۔
۶ ۔”( وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَااٴَنْ رَاٴَی بُرْهَانَ رَبِّهِ ) “ ایک طرف قرآن اس خلوت گاہ عشق کے انتہائی حساس مناظر کی تصویر کشی کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ کیفیت اس قدر تحریک آمیز تھی کہ اگر حضرت یوسفعليهالسلام عقل، ایمان یاعصمت کے بلند مقام پر نہ ہوتے تو گرفتار ہوجاتے، دوسری طرف آیت کے اس حصے میں قرآن طغیان گر شہوت کے دیو پر حضرت یوسفعليهالسلام کی آخری کامیابی پر ایک خوبصورت انداز میں خرات تحسین پیش کررہا ہے ۔
یہ بات قابل ِ توجہ ہے کہ لفظ”ھم “ استعمال ہوا ہے یعنی مصر کی بیوی نے پختہ ارادہ کررکھا تھا اور یوسفعليهالسلام نے بھی اگر برھان پروردگار نہ دیکھی ہوتی تو وہ بھی ارادہ کرتے ۔
کیا کوئی لفظ یہاں قصد وارادہ سے بڑھ کر متانت آمیز استعمال کیا جاسکتا ہے؟
آیات ۲۵،۲۶،۲۷،۲۸،۲۹
۲۵( وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیصَهُ مِنْ دُبُرٍ وَاٴَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَی الْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَاءُ مَنْ اٴَرَادَ بِاٴَهْلِکَ سُوئًا إِلاَّ اٴَنْ یُسْجَنَ اٴَوْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔
۲۶( قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِی عَنْ نَفْسِی وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ اٴَهْلِهَا إِنْ کَانَ قَمِیصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْکَاذِبِینَ ) ۔
۲۷( وَإِنْ کَانَ قَمِیصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِینَ ) ۔
۲۸( فَلَمَّا رَاٴَی قَمِیصَهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُ مِنْ کَیْدِکُنَّ إِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیمٌ ) ۔
۲۹( یُوسُفُ اٴَعْرِضْ عَنْ هٰذَا وَاسْتَغْفِرِی لِذَنْبِکِ إِنَّکِ کُنتِ مِنَ الْخَاطِئِین ) ۔
ترجمہ
۲۵ ۔اور دونوں دروازے کی طرف دوڑے (جبکہ زوجہ یوسف کا تعاقب کررہی تھی )اور پیچھے سے اس کی قمیص پھاڑ دی اور اس دوران اس عورت کے سردار کو ان دونوں نے دروازے پر پایا ، اس عورت نے کہا: جو تیرے اہل سے خیانت کا ارادہ کرے اس کی سزا سوائے زندان یا دردناک عذاب کے کیا ہوگی ۔
۲۶ ۔(یوسف )نے کہا: اس نے مجھے اصرار سے اپنی طرف دعوت دی اور اس موقع پر اس عورت کے خاندان میں سے ایک شاہد نے گواہی دی کہ اگر اس کی قمیص آگے سے پھٹی ہے تو عورت سچ کہتی ہے اور یہ جھوٹوں میں سے ہے ۔
۲۷ ۔اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو پھر وہ عورت جھوٹ بولتی ہے اور یہ سچوں میں سے ہے ۔
۲۸ ۔جب ( مصر نے) دیکھا تو اس (یوسف )کی قمیص پیچھے سے پھٹی تھی تو اس نے کہا کہ یہ تمہارے مکر وفریب میں سے ہے اور مَیں جانتا ہوں کہ عورتوں کا مکر وفریب عظیم ہوتا ہے ۔
۲۹ ۔یوسف! اس امر سے صرفِ نظر کرو اور (اے عورت!)تو بھی اپنے گناہ پر استغفار کر کہ تو خطا کاروں میں سی تھی ۔
زوجہ مصر کی رسوائی
یوسفعليهالسلام کی انتہائی استقامت نے زوجہ کو تقریباً مایوس کردیا، یوسفعليهالسلام اسی معرکے میں اس ناز وادا والی اور سرکش ہَوا وہَوس والی عورت کے مقابلے میں کامیاب ہوگئے تھے، انہوں نے محسوس کیا کہ اس لغزش گاہ میں مزید ٹھہرنا خطرناک ہے، انہوں نے اس محل سے نکل جانے کا ارادہ کیا، لہٰذا وہ تیزی سے قصر کے دروازے کی طرف بھاگے تاکہ دروازہ کھول کر نکل جائیں ، زوجہ بھی بے اعتناء نہ رہی وہ بھی یوسفعليهالسلام کے پیچھے دروازے کی طرف بھاگی تاکہ یوسفعليهالسلام کو باہر نکلنے سے روکے، اس نے اِس مقصد کے لئے یوسف کی قمیص پیچھے سے پکڑ لی اور اسے اپنی طرف کھنچا اس طرح سے کہ قمیص پیچھے سے لمبائی کے رخ پھٹ گئی( وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیصَهُ مِنْ دُبُر ) ۔
”استباق“ لغت میں دو یا چند افراد کے ایک دوسرے کے سبقت لینے کے معنی میں ہے اور ”قد“ لمبائی کے رخ پھٹنے کے معنی میں ہے جیسا کہ ”قط“ عرض میں پھٹ جانے کے معنی میں ، اس لئے حدیث میں ہے :
کانت ضربات علی بن ابی طالب عليهالسلام ابکاراً کان اذا اعتلی قد ، واذا اعترض قط ۔علی ابن ابی طالبعليهالسلام کی ضربیں اپنی نوع میں نئی اور انوکھی تھیں ، جب اوپر سے ضرب لگاتے تو نیچے چیر دیتے اور جب عرض میں ضرب لگاتے تو دو نیم کردیتے ۔(۱)
لیکن جس طرح ہوا یوسف دروازے تک پہنچ گئے اور دروازہ کھول لیا،اچانک مصر کو دروازے پیچھے دیکھا ، جس طرح قرآن کہتا ہے: ان دونوں نے اس عورت کے آقا کو دروازے پر پایا( وَاٴَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَی الْبَابِ ) ۔
”الفیت“ ”الفاء“ کے مادہ سے اچانک پانے کے معنی میں ہے اور شوہر کو ”سید “ سے تعبیر کرنا جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے اہل ِ مصر کے رواج کے مطابق تھا، وہاں کی عورتیں اپنے شوہر کو ”سید“ کہہ کر مخاطب کرتی ہیں ، آج کی فارسی زبان میں بھی عورتیں اپنے شوہر کا ”آقا“ سے تعبیر کرتی ہیں ۔
اب جب کہ زوجہ نے ایک طرف اپنے تئیں رسوائی کے آستانے پر دیکھا اور دوسری طرف انتقام کی آگ اس کی روح میں بھڑک اٹھی تو پہلی بات جو اسے سوجھی یہ تھی کہ اس نے اپنے آپ کو حق بجانب ظاہر کرتے ہوئے اپنے شوہر کی طرف رخ کیا اور یوسف پر تہمت لگائی: اس نے پکار کر کہا جو شخص تیری اہلیہ سے خیانت کا ارادہ کرے اس کی سزا زندان یا دردناک عذاب کے سواکیا ہوسکتی ہے( قَالَتْ مَا جَزَاءُ مَنْ اٴَرَادَ بِاٴَهْلِکَ سُوئًا إِلاَّ اٴَنْ یُسْجَنَ اٴَوْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔
یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ اس خیانت کار عورت نے جب تک اپنے آپ کو رسوائی کے آستانے پر نہیں دیکھا تھا، بھول چکی تھی کہ وہ مصر کی بیوی ہے لیکن اِس موقع پر اس نے ”اھلک“ (تیری گھر والی)کا لفظ استعمال کرکے کی غیرت کو ابھارا کہ مَیں تیرے ساتھ مخصوص ہوں لہٰذا کسی دوسرے کو نہیں چاہیئے کہ میری طرف حرص کی آنکھ سے دیکھے، یہ گفتگو حضرت موسیٰعليهالسلام کے زمانے کے فرعونِ مصر کی گفتگو سے مختلف نہیں کہ وہ تختِ حکومت پر بھروسے کے وقت کہتا تھا:( الیس لی ملک مصر ) ۔
کیا مصر کی سلطنت کا مَیں مالک نہیں ہوں (زخرف: ۵۱) ۔
لیکن جب اس نے دیکھا کہ تخت وتاج خطرے میں ہے اور میرے اقبال کا ستارا ڈوب رہا ہے تو کہا:
( یریدان ان یخرجٰکم من ارضکم ) ۔
یہ دونوں بھائی(موسیٰ وہارون)چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دیں ۔(طٰہٰ: ۶۳)
دوسرا قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ مصر کی بیوی نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ یوسف میرے بارے میں برا ارادہ رکھتا تھا بلکہ مصر سے اس کی سزا کے بارے میں بات کی،اس طرح سے کہ اصل مسئلہ مسلم ہے اور بات صرف اس کی سزا کے بارے میں ہے ، ایسے لمحے میں جب وہ عورت اپنے آپ کو بھول چکی تھی اس کی یہ جچی تلی گفتگو اس کی انتہائی حیلہ گری کی نشانی ہے ۔(۲)
پھر یہ کہ پہلے وہ قید خانے کے بارے میں بات کرتی ہے اور بعد میں گویا وہ قید پر بھی مطمئن نہیں ہے ایک قدم اور آگے بڑھاتی ہے اور ”عذاب الیم“ کا ذکر کرتی ہے کہ جو سخت جسمانی سزا اور قتل تک بھی ہوسکتی ہے ۔
اس مقام پر حضرت یوسفعليهالسلام نے کاموشی کو کسی طور پر جائز نہ سمجھا اور صراحت سے زوجی مصر کے عشق سے پردہ اٹھایا، انہوں نے کہا: اس نے مجھے اصرار اور التماس سے اپنی طرف دعوت دی تھی ( قَالَ ھِیَ رَاوَدَتْنِی عَنْ نَفْسِی)۔
واضح ہے کہ اس قسم کے موقع پر ہر شخص ابتداء میں بڑی مشکل سے باور کرسکتا ہے کہ ایک نوخیزجوان غلام کہ جو شادہ شدہ نہیں بے گناہ ہو اورایک شوہر دار عورت کہ جو ظاہراً باوقار ہے گنہگار ہو، اس بناء پر الزام زوجہ کی نسبت زیادہ یوسف کے دامن پر لگتا تھا لیکن چونکہ خدا نیک اور پاک افراد کا حامی ومدد گار ہے، وہ اجازت نہیں دیتا کہ یہ نیک اور پارسا مجاہد نوجوان تہمت کے شعلوں کی لپیٹ میں آئے لہٰذا قرآن کہتا ہے:اور اس موقع پر اس عورت کے اہلِ خاندان میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اصلی مجرم کی پہچان کے لئے اس واضح دلیل سے استفادہ کیا جائے کہ اگر یوسف کا کرتہ آگے کی طرف سے پھٹا ہے تووہ عورت سچ کہتی ہے اور یوسف جھوٹا ہے( وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ اٴَهْلِهَا إِنْ کَانَ قَمِیصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْکَاذِبِینَ ) ۔
اور اگر اس کاکُرتہ پیچھے سے پھٹا ہے وہ عورت جھوٹی اور یوسف سچاہے( وَإِنْ کَانَ قَمِیصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصَّادِقِینَ ) ۔
اس سے زیادہ مضبوط دلیل اور کیا ہوگی ۔ کنونکہ زوجہ کی طرف سے تقاضا تھا تو وہ یوسف کے پیچھے دوڑی ہے اور یوسف اس سے آگے دوڑ رہے تھے کہ وہ ان کے کُرتے سے لپٹی ہے، تو یقینا وہ پیچھے سے پھٹا ہے اور اگر یوسف نے کی بیوی پر حملہ کیا ہے اور وہ بھاگی ہے یا سامنے سے اپنا دفاع کیا ہے تو یقینا یوسف کا کُرتہ آگے سے پٹھا ہے ۔
یہ امر کس قدر جاذبِ نظر ہے کہ کُرتہ پھٹنے جا سادہ سا مسئلہ بے گناہی کا تعین کردیتا ہے، یہی چھوٹی سی چیز ان کی پاکیزگی کی سَند اور مجرم کی رسوائی کا سبب ہوگئی ۔
مصر نے یہ فیصلہ کہ جو بہت ہی جچا تُلا تھا بہت پسند کیا، یوسف کی قمیص کو غور سے دیکھا، اور جب اس نے دیکھا کہ یوسف کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے (خصوصاً اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس دن تک اس نے کبھی یوسف سے کوئی جھوٹ نہیں سنا تھا) اس نے اپنی بیوی کی طرف رخ کیا اور کہا: یہ کام تم عورتوں کے مکر وفریب میں سے ہے، بے شک تم عورتوں کا مکر وفریب عظیم ہے( فَلَمَّا رَاٴَی قَمِیصَهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُ مِنْ کَیْدِکُنَّ إِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیمٌ ) ۔
اس وقت مصر کوخوف ہوا کہ یہ رسوا کن واقعہ ظاہر نہ ہوجائے اور مصر میں اس کی آبرو نہہ جاتی رہے، اس نے بہتر سمجھا کہ معاملے کو سمیٹ کر دبا دیا جائے، اس نے یوسف کی طرف رخ کیا اور کہا: اے یوسف تم صرفِ نظر کرو اوراس واقعے کے بارے میں کوئی بات نہ کہو( یُوسُفُ اٴَعْرِضْ عَنْ هٰذَا ) ، پھر اس نے بیوی کی جانب رُخ کیا اور کہا:تم بھی اپنے گناہ سے استغفار کرو کہ تم خطا کاروں میں سی تھی( وَاسْتَغْفِرِی لِذَنْبِکِ إِنَّکِ کُنتِ مِنَ الْخَاطِئِین ) ۔(۳)
بعض کہتے ہیں کہ یہ بات کہنے والا مصر نہ تھا بلکہ وہی شاہد تھا لیکن اس احتمال کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے خصوصاً جب کہ یہ جملہ مصر کی گفتگو کے بعد آیا ہے ۔
____________________
۱۔ مجمع البیان، زیرِ بحث آیت کے ذیل میں ۔
۲۔ یہ کہ ”ما جزا“میں لفظ ”ما“ نافیہ ہے یا استفہامیہ ، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن دونوں صورتوں میں اس کے نتیجے میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
۳۔ اس جملے میں ”من الخاطئین “ کہ جو جمع مزکر ہے کہا گیا ہے : کہ ”من الخاطئات “ کہ جو جمع مونث ہے، ایسا اس لئے ہے کہ بہت مواقع پر تغلیب کے طور پر جمع مذکر کا دونوں پر اطلاق کیا جاتا ہے یعنی تو خطا کاروں کے زمرے میں ہے ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ شاہد کون تھا؟
شاہد کون تھا کہ جس نے یوسف اور مصر کی فائل اتنی جلدی درست کردی اور مہر لگادی اور بے گناہ کو خطا کار سے الگ کردکھایا، اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔
بعض نے کہاہے کہ وہ مصر کی بیوی کے رشتہ داروں میں سے تھا اور لفظ”من اھلھا“ اس پر گواہ ہے اور قائدتاً ایک حکیم، دانش مند اور سمجھدار شخص تھا اس واقعے میں کہ جس کا کوئی عینی شاہد نہ تھا اُس نے شگافِ پیراہن سے حقیقت معلوم کرلی، کہتے ہیں کہ یہ شخص مصر کے مشیروں سے تھا اور اس وقت اس کے ساتھ تھا ۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ شیر خوار بچہ تھا، یہ بچہ مصر کی بیوی کے رشتہ داروں میں سے تھا، اس وقت یہ بچہ وہی قریب تھا یوسف نے مصر سے خواہش کی کہ اس سے فیصلہ کروالو، مصر کو پہلے تو بہت تعجب ہوا کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے لیکن جب وہ شیر کوار حضرت عیسیٰ کی طرح گہوارے میں بول اٹھا اور اس نے گنہگار کو بے گناہ سے الگ کرکے معیار بتایاتو وہ متوجہ ہوا کہ یوسف ایک غلام نہیں بلکہ نبی ہے یا نبی جیسا ہے ۔
وہ روایات کہ جو اہل بیتعليهالسلام اور اہلِ تسنن کے طریقے سے منقول ہیں ان میں اس ایک دوسری تفسیر کی طرف اشارہ ہے، ان میں سے ایک روایت ابن عباس نے رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے نقل کی ہے، آپ نے فرمایا:
چار افراد نے بچپن میں بات کی، فرعون کی آرایش کرنے والی کا بیٹا، یوسف کا شاہد ، صاحبِ جریح اور عیسیٰ بن مریم۔(۱)
تفیر علی بن ابراہیم میں بھی امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے:
شہادت دینے والا چھوٹا بچہ گہوارے میں تھا ۔(۲)
لیکن توجہ رہے کہ مندرجہ بالا دونوں احادیث میں سے کسی کی بھی سند محکم نہیں ہے بلکہ دونوں مرفوعہ ہیں ۔
تیسرا احتمال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ شاہد وہی کُرتے کا پھٹا ہونا تھا کہ جس نے زبانِ حال میں شہادت دی، مگر کلمہ”من اهلها “ (شاہد کی بیوی کے خاندان میں سے تھا) کی طرف توجہ کرنے سے یہ احتمال بہت بعید نظر آتاہے بلکہ یہ کلمہ اس احتمال کی نفی کرتا ہے ۔
۲ ۔ مصر نے خفیف رِ عمل کیوں ظاہر کیا؟
اس داستان میں جو مسائل انسان کی توجہ اپنی طرف مبذول کرتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایسے اہم مسئلہ میں مصر مصر نے صرف ایک ہی جملے پر قناعت کیوں کی، جب کہ یہ اس کی عزت وناموس کا معاملہ تھا، اس نے صرف اتنا ہی کہا کہ اپنے گناہ پر استغفار کرو کہ تُو خطا کاروں میں سے تھی ۔
شاید یہی مسئلہ سبب بنا کہ اپنے اسرار فاش ہونے کے بعد مصر کی بیوی نے اشراف اور بڑے لوگوں کی بیویوں کو ایک خاص محفل میں دعوت دی اور ان کے سامنے اپنے عشق کی داستان کو صراحت سے اور کھول کر بیان کیا ۔
کیا رسوائی کے خوف نے کو آمادہ کیا کی وہ اس معاملے کو طول نہ دے یا یہ کہ طاغوتی حکمرانوں کے لئے یہ کام اور عزت وناموس کی حفاظت کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ وہ گناہ ، برائی اور بے عفتی میں اس قدر غرق ہوتے ہیں کہ اس بات کی ان کی نظر میں حیثیت اور وقعت ختم ہوچکی ہوتی ہے ۔
دوسرااحتمال زیادہ قوی معلوم ہوتا ہے ۔
۳ بحرانی لمحات میں نصرتِ الٰہی
داستانِ یوسف کا یہ حصہ ہمیں ایک اور بہت بڑا درس دیتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایسے انتہائی بحرانی لمحات میں پروردگار کی وسیع حمایت انسانی مدد کو آپہنچتی ہے ۔
جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے-:۔۔۔۔۔( یَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا، وَیَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِب ) ۔
خدا اس کے لئے نجات کی راہ پیدا کردے گا اور اسے ا یسی جگہ سے رزق دے گا کہ جہاں سے وہم بھی نہ ہو،(طلاق: ۲،۳) ۔
اسی کے مصداق ایسے ذرائع سے کہ انسان جن کے متعلق سوچتا بھی نہیں کہ کوئی امید کی کرن پیدا ہوگی، خدائے تعالیٰ کی مدد ہوتی ہے ۔
کیا خبر تھی کی کُرتے کا پھٹنا حضرت یوسفعليهالسلام کی پاکیزگی اور برائت کی سند بن جائے گا، وہی واقعات کو جنم دینے والا کُرتہ کہ جو ایک یوسفعليهالسلام کے بھائیوں کو پھٹنا نہ ہونے کی وجہ سے باپ کے حضور ذلیل ورسوا کرتا ہے لیکن دوسری طرف یہ کُرتہ کی ہوس آلود بیوی کو پھٹا ہونے کی وجہ سے خوار کرتا ہے اور تیسری طرف حضرت یعقوبعليهالسلام کی بے نور آنکھوں کے لئے نورِ آفرین بن جاتا ہے اور اس کی بوئے آشنائی نسیمِ صبحگاہی کے ہمراہ مصر سے کنعان تک سفر کرتی ہے اور پیرِ کنعان کو خوش خبری لے کر آنے والے سوار کی خبر دیتی ہے ۔
بہرحال خدا تعالے کے ایسے پوشیدہ الطاف ہیں کہ جن کی گہرائی سے کوئی شخص آگاہ نہیں ہے اور جس وقت اس کے لطف کی بادِ صبا چلتی ہے تو منظر اس طرح سے بدل جاتے ہیں کہ سمجھدار ترین افراد بھی جس کی پیش گوئی کے قابل نہیں ہوتے ۔
کُرتہ اگرچہ بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن ایک اہم چیز ہے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ مکڑی کے جالے کے چند تار ایک ملت کی زندگی کو ہمیشہ کے لئے تبدیل کردیتے ہیں جیسا کہ ہجرتِ رسول کے وقت غارِ ثور پر ہوا ۔
۴ ۔ مصر کی بیوی کا منصوبہ
مندرجہ بالا آیات میں عورتوں کے مکر کی طرف اشارہ ہوا ہے (البتہ ایسی عورتیں جو زوجہ مصر کی طرح بے لگام اور ہوس ران ہوں ) اور اس مکر وفریب کو ”عظیم“ قرار دیا گیا ہے (ان کیدکن عظیم)۔
تاریخ میں اور تاریخ ہی کے تسلسل میں ایسی بہت سی داستانیں موجود ہیں ، اس سلسلے میں بہت سی باتیں منقول ہیں کہ جن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہوس باز عورتیں اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے ایسے ایسے منصوبے بناتی ہیں جو بے نظیر ہوتے ہیں ۔
مندرجہ بالا داستان میں ہم نے دیکھا ہے کہ زوجہ مصر نے عشق میں شکست کھانے کے بعد اور اپنے آپ کو رسوائی کے آستانے پر پاکر کس طرح بڑی مہارت سے اپنی پاک دامنی اور یوسف کی آلودگی کو پیش کیا، یہاں تک کہ اس نے یہ بھی نہیں کہا کہ یوسف نے میری طرف برا ارادہ کیا بلکہ اسے مسلم امر کے طور فرض کیا اور صرف ایسے شخص کی سزا کے متعلق سوال کیا اور ایسی سزا کا ذکر کیا جو صرف قید پر موقوف نہ تھی بلکہ اس کی کوئی حد نہ تھی ۔
اسی واقعے میں ہم بعد میں دیکھے گے کہ جب مصر کی عورتوں نے سرزنش کی اور اپنے غلام سے اس کے بے قرار عشق پر انگلی اٹھائی تو اس نے کس طرح اپنی برائت کے لئے انتہائی مکارانہ اور سوچے سمجھے طریقے سے حیران کن چال چلی ۔
اور یہ ایسی عورتوں کے مکر کے بارے میں ایک اور تاکید ہے ۔
____________________
۱۔تفسیر المنار، ج۱۲،ص ۲۸۷۔
۲۔تفسیر نورالثقلین، ج۲،ص ۴۲۲۔
آیات ۳۰،۳۱،۳۲،۳۳،۳۴،
۳۰( وَقَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِینَةِ امْرَاٴَةُ الْ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَنْ نَفْسِهِ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَاهَا فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ ) ۔
۳۱( فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَکْرِهِنَّ اٴَرْسَلَتْ إِلَیْهِنَّ وَاٴَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّکَاٴً وَآتَتْ کُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِکِّینًا وَقَالَتْ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ فَلَمَّا رَاٴَیْنَهُ اٴَکْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ اٴَیْدِیَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا إِنْ هٰذَا إِلاَّ مَلَکٌ کَرِیمٌ ) ۔
۳۲( قَالَتْ فَذَلِکُنَّ الَّذِی لُمْتُنَّنِی فِیهِ وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ وَلَئِنْ لَمْ یَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَیُسْجَنَنَّوَلَیَکُونَ مِنَ الصَّاغِرِینَ ) ۔
۳۳( قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اٴَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْهِ وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّی کَیْدَهُنَّ اٴَصْبُ إِلَیْهِنَّ وَاٴَکُنْ مِنَ الْجَاهِلِینَ ) ۔
۳۴( فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ کَیْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیم ) ۔
ترجمہ
۳۰ ۔شہر کی بعض عورتوں نے کہا: زوجہ مصر اپنے جوان (اپنے غلام)کو اپنی طرف دعوت دیتی ہے اور اس جوان کا عشق اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا ہے، ہم دیکھتی ہیں کہ وہ کھلی گمراہی میں ہے ۔
۳۱ ۔جس وقت ( مصر کی بیوی)کو ان کے خیال کی خبر ہوئی تو اس نے انہیں بلوایا(اور انہیں دعوت دی) اور ان کے لئے قیمتی تکیوں سے مجلس آراستہ کی اور ہر ایک کے ہاتھ میں (پھل کاٹ نے کے لئے) چھری تھمادی اور اس موقع پر (یوسف سے )کہا: ان کی محفل میں داخل ہو، جب ان کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور (بے اختیار )انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور کہا حاشاللّٰہ یہ بشر نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگوار فرشتہ ہے ۔
۳۲ ۔( کی بیوی نے) کہا: یہ وہی ہے جس (کے عشق )کی بناء پر تم نے مجھے سرزنش کی ہے، جی ہاں ! مَیں نے اسے اپنی طرف دعوت دی ہے مگر یہ بچ نکلا اور جو کچھ مَیں کہتی ہوں اس نے انجام نی دیا تو یہ اندان میں جائے گا تو یقینا ذلیل وخوار ہوگا ۔
۳۳ ۔(یوسف) نے کہا: پروردگارا! جس طرف یہ لوگ مجھے بلاتے ہیں اس سے قید خانہ مجھے زیادہ محبوب ہے اور اگر تونے ان کی چالوں کو مجھ سے دور نہ کیا تو مَیں ان کے دام میں پھنس جاؤں گا اور جاہلوں میں سے ہوجاؤں گا ۔
۳۴ ۔اس کے پرور دگار نے اس کی دعا قبول کرلی اور ان عورتوں کی چالیں اس سے دور کردیں کیونکہ وہ سننے اور جاننے والا ہے ۔
زوجہ مصر کی ایک اور سازش
زوجہ کے اظہار عشق کا معاملہ مذکورہ داستان میں اگرچہ خاص لوگوں تک تھا اور خود نے بھی اسے چھپا نے کی تاکید کی تھی تاہم ایسی باتیں چھپائے نہیں چھپتیں ، خصوصاً بادشاہوں اور اہلِ دولت واقتدار کے تو محلوں کی دیواریں بھی سنتی ہیں ، بہرحال آخرکار یہ راز قصر سے باہر نکل گیا اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے:شہر کی کچھ عورتوں اس بارے میں ایک دوسرے سے باتیں کرتی تھیں اور اس بات کا چرچا کرتی تھیں کہ کی بیوی نے اپنے غلام سے راہ ورسم پیدا رلی اور اسے اپنی طرف دعوت دیتی ہے( وَقَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِینَةِ امْرَاٴَةُ الْ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَنْ نَفْسِهِ ) ،اورغلام کا عشق اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا ہے( قَدْ شَغَفَهَا حُبّا ) ۔
پھر وہ یہ کہہ کر تنقید کرتیں کہ”ہماری نظر میں تو وہ واضح گمراہی میں ہے( إِنَّا لَنَرَاهَا فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ ) ۔
واضح رہے کہ ایسی باتیں کرنے والی مصر کی طبقئہ امراء کی عورتیں تھیں جن کے لئے فرعونیوں اور مستکبرین کے محلات کی گھٹیا کہانیاں بہت دلچسپ ہوتی تھیں اور وہ ہمیشہ ان کی ٹوہ میں لگی رہتی تھیں ۔
اشراف کی یہ عورتیں کہ جو خود بھی زوجہ کی نسبت ہوس رانی میں کسی طرح کم نہ تھیں ان کی چونکہ یوسف تک پہنچ نہیں تھی لہٰذا بقولے” جانماز آب می کشیدند“ مکر وفریب میں لگی ہوئی تھیں اور زوجہ کو اس کے عشق پر واضح گمراہی میں قرار دیتی تھیں ، یہاں تک کہ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ یہ راز بعض زنانِ مصر نے ایک سازش کے ساتھ پھیلایا، وہ چاہتی تھیں کہ زوجہ مصر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے انہیں اپنے مھل میں دعوت دے تاکہ وہ خود وہاں یوسف کو دیکھ سکیں ، ان کا خیال تھا کہ وہ یوسف کے سامنے ہوں تو ہوسکتا ہے ان کی نظر ان کی طرف مائل ہوجائے کہ جو شاید زوجہ مصر سے بھی بڑھ کر حسین تھیں اور پھر یوسف کے لئے ان کا جمال بھی نیاتھا اور پھر یوسف کے لئے مصر کی بیوی ماں یا مولی یا ولی نعمت کامقام رکھتی تھی اور ایسی کوئی صورت ان کے لئے نہ تھی لہٰذا وہ سمجھتی تھیں کہ زوجہ کی نسبت ان کے اثر کا احتمال زیادہ ہے ۔
”شغف“ ”شغاف“ کے مادہ سے ہے، یہ دل کے اوپر کی گرہ یا دل پر موجود ایک پتلا سا چھلکا جس نے غلاف کی طرح اسے ڈھاپ رکھا ہوتا ہے،کو کہتے ہیں ” شَغَفَھَا حُبّا“ وہ یوسف کی اتنی شیدائی ہوگئی ہے کہ اس کی محبت اس کے دل کے اندر اتر گئی ہے اور اس کی گہرائیوں میں سما گئی ہے اور یہ شدید محبت اور یہ عشق ِ سوزاں کی طرف اشارہ ہے ۔
”آلوسی“ نے تفسیر ”روح المعانی“ میں کتاب” اسرارالبلاغہ“ سے عشق ومحبت کے کئی مراتب کاذکرکیا ہے جن میں سے بعض کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے ۔
محبت کا پہلا درجہ میلان ہے، اس کے بعد ”علاقہ“ یعنی ایسی محبت جس کا تعلق دل سے ہو، اس کے بعد” کلف“ یعنی شدید محبت ہے، پھر ”عشق“ کا درجہ ہے، اس کے بعد ”شعف“ (عین کے ساتھ) ہے یعنی وہ حالت کہ جس میں دل آتشِ عشق میں جلتا ہے اور اسے اس جلن سے لذت حاصل ہوتی ہے، اس کے بعد”لوعة“ کا مرحلہ ہے اور پھر”شغف“ کا درجہ ہے، یہ وہ مرحلہ ہے کہ جہاں عشق دل کے تمام گوشوں اور زاویوں میں اتر جاتا ہے اور اس کے بعد” تدلة“ ہے، یہ وہ درجہ ہے کہ جس میں عشق عقلِ انسانی کو لے جاتا ہے اور آخری مرھلہ ”ھیوم“ ہے کہ جو مطلق بے قراری کا نام ہے اس مرحلے میں عاشق کو بے اختیار ہر طرف کھنچتی ہے ۔(۱)
یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ کس شخص نے یہ راز فاش کیا تھا، زوجہ تو یہ رسوائی ہرگز گوارا نہیں کرتی تھی اور نے تو خود اسے چھپانے کی تاکید کی تھی، رہ گیا ہو حکیم ودانا کہ جس نے اس کا فیصلہ کیا تھا، اس سے تو ویسے ہی یہ کام بعید نظر آتاہے، بہرحال جیسا کہ ہم نے کہاکہ خرابیوں سے پُر ان محلات میں ایسی کوئی چیز نہیں کہ جسی مخفی رکھا جاسکے اور آخرکار ہربات نامعلوم افراد کی زبانوں سے دربایوں تک اور ان سے باہر کی طرف پہنچ جاتی ہے اور یہ فطری امر ہے کہ لوگ اسے زیبِ داستان کے لئے اور بڑھا چڑھاکر دوسروں تک پہنچاتے ہیں ۔
زوجہ کو مصر کی حیلہ گر عورتوں کے بارے میں پتہ چلا تو پہلے وہ پریشان ہوئی، پھر اسے ایک تدبیر سوجھی، اس نے انہیں ایک دعوت پر مدعو کیا، فرش سجایا اور قیمتی گاؤ تکےے لگادئےے، وہ آبیٹھیں تو ہر ایک کے ہاتھ میں پَھل کاٹنے کے لئے چھری تھمادی(یہ چھریاں پَھل کاٹنے کی ضرورت سے زیادہ تیز تھیں )( ا فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَکْرِهِنَّ اٴَرْسَلَتْ إِلَیْهِنَّ وَاٴَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّکَاٴً وَآتَتْ کُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سِکِّینً ) ۔(۲)
یہ کام خود اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اپنے شوہر کی پروہ نہیں کرتی تھی اور گزشتہ رسوائی سے اس نے کوئی سبق نہ سیکھا تھا ۔
اس کے بعد اس نے یوسف کو حکم دیا کہ اس مجلس میں داخل ہو تاکہ تنقید کرنے والے عورتیں اس کے حُسن وجمال کو دیکھ کر اسے اس کے عشق پر ملامت نہ کریں( وَقَالَتْ اخْرُجْ عَلَیْهِن ) ۔
”ادخل“ (داخل ہوجاؤ) کی بجائے یہاں ”اخرج علیھن“ (ان کی طرف باہر نکلو) کی تعبیر استعمال ہوئی ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ زوجہ نے حضرت یوسفعليهالسلام کو کہیں باہر نہیں بٹھا رکھا تھا بلکہ اندر کے کسی کمرے میں کہ غالباً جہاں غذا اور پھل رکھا گیا تھا مشغول رکھا تھا تاکہ وہ محفل میں داخل ہونے والے دروازے سے نہ آئیں بلکہ بالکل غیر متوقع طور پر اور اچانک آئیں ۔
زنانِ مصر جو بعض روایات کے مطابق دس یا اس سے زیادہ تھیں جب انہوں نے زیبا قامت اور نورانی چہرہ دیکھا اور ان کی نظر یوسف کے دلربا چہرے پر پڑی تو انہیں یوں لگا جیسے اس محل میں آفتاب اچانک بادلوں کی اوٹ سے نکل آیا ہو اور آنکھوں کو خیرہ کررہا ہے، وہ اس قدر حیران اور دم بخود ہوئیں کہ انہیں ہاتھ اور پاؤں میں اور ہاتھ اور ترنج بین میں فرق بھول گیا، انہوں نے یوسف کو دیکھتے ہی کہایہ تو غیر معمولی ہے( فَلَمَّا رَاٴَیْنَهُ اٴَکْبَرْنَهُ ) ، وہ خود سے اس قدر بے خود ہوئیں کہ (ترنج بین کی بجائے)ہاتھ کاٹ لئے( وَقَطَّعْنَ اٴَیْدِیَهُنَّ ) ، اور جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی دلکش آنکھوں میں تو عفت وحیا کا نور ضوفشاں ہے اور ان کے معصوم رخسار شرم وحیا سے گلگوں ہیں تو ”سب پکار اٹھیں کہ نہیں یہ جوان ہرگز گناہ سے آلودہ نہیں ہے یہ تو کوئی بزرگوار آسمانی فرشتہ ہے( وَقُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا إِنْ هٰذَا إِلاَّ مَلَکٌ کَرِیمٌ ) ۔(۳)
اس بارے میں کہ زنانِ مصر نے اس وقت اپنے ہاتھوں کی کتنی مقدار کاٹی تھی، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، بعض نے یہ بات مبالغہ آمیز طور پر نقل کی ہے لیکن قرآن سے اجمالاً یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ہاتھ کاٹ لئے تھے ۔
اس وقت مصر کی عورتیں پوری طرح بازی ہار چکی تھیں ، ان کے زخمی ہاتھوں سے خون بہہ رہا تھا، پریشانی کے عالم میں وہ بے روح مجسمے کی طرح اپنی جگہ چپکی سی بیٹھی تھیں ، ان کی حالت کہہ رہی تھی کہ انہوں نے زوجہ سے کچھ کم نہیں کیا، اُس نے اس موقع کو غنیمت سمجھا اور کہا-” یہ وہ شخص ہے جس کے عشق پر تم مجھے طعنے دیتی تھیں( قَالَتْ فَذَلِکُنَّ الَّذِی لُمْتُنَّنِی فِیهِ ) ۔
گویا زوجہ چاہتی تھی کہ انہیں کہے کہ تم نے تو یوسف کو ایک مرتبہ دیکھا ہے اور یوں اپنے ہوش وہواس گنوا بیٹھی ہو کہ تم نے اپنے ہاتھ تک کاٹ لئے ہیں ، اس کے جمال میں مستغرق ہوگئی ہو اور اس کی ثنا خوانی کرنے لگی ہو تو پھر مجھے کیونکر ملامت کرتی ہو جب کہ مَیں صبح وشام اس کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی ہوں ۔
زوجہ نے جو منصوبہ بنایا تھا اس میں اپنی کامیابی پر وہ بہت مغرور اور خوش تھی ، وہ اپنے کام کو معقول ثابت کررہی تھی، اس نے ایک ہی دفعہ تمام پردے ہٹا دئےے اور پوری صراحت کے ساتھ اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور کہا: جی ہاں ! مَیں نے اسے اپنی آرزو پورا کرنے کے لئے دعوت دی تھی لیکن یہ بچا رہا( وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ ) ۔
اس کے بعد بجائے اس کے کہ اپنے گناہ پر اظہارِ ندامت کرتی یا کم از کم مہمانوں کے سامنے کچھ پردہ پڑا رہنے دیتی اور نے بڑی بے اعتنائی اور سخت انداز میں کہ جس سے اس کا قطعی ارادہ ظاہر ہوتا تھا، صراحت کے ساتھ اعلا ن کیا :اگر اس (یوسف) نے میرا حکم نہ مانااور میرے عشقِ سوزاں کے سامنے سر نہ جھکایا تا یقینا قید میں جانا پڑے گا( ولَئِنْ لَمْ یَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَیُسْجَنَنَّوَلَیَکُونَ مِنَ الصَّاغِرِینَ ) ۔
فطری امر ہے کہ جب مصر نے اس واضح خیانت پر اپنی بیوی سے فقط یہی کہنے پر قناعت کی کہ”واستغفری لذنبک“ (اپنے گناہ پر استغفار کر) تو اس کی بیوی رسوائی کی اس منزل تک آپہنچی ، اصولی طور پر جیسا کہ ہم نے کہا ہے مصر کے فرعون اور وں کے کے دربار میں ایسے مسائل کوئی نئی بات نہ تھی ۔
بعض نے تو اس موقع پر ایک تعجب انگیز روایت نقل کی ہے، وہ یہ کہ چند زنانِ مصر جو اس دعوت میں موجود تھیں وہ زوجہ کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئیں اور اسے حق بجانب قرار دیا، وہ یوسف کے گرد جمع ہوگئیں اور ہر ایک نے یوسف کو رغبت دلانے کے لئے مختلف بات کی ۔
ایک نے کہا: اے جوان! یہ اپنے آپ کو بچانا ، یہ ناز ونخرے آخر کس لئے؟ کیوں اس عاشق دلدادہ پر رحم نہیں کرتے؟ کیا اس خیرہ کن جمالِ دل آرا کو نہیں دیکھتے، کیا تمہارے سینے میں دل نہیں ہے؟ کیا تم جوان نہیں ہو؟ کیا تمہیں عشق وزیبائی سے کوئی رغبت نہیں اور کیا تم پھر اور لکڑی کے بنے ہوئے ہو۔
دوسری نے کہا: مَیں حیران ہوں چونکہ حُسن وعشق کی وجہ سے مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آتا لیکن کیا تم سمجھتے نہیں ہو کہ وہ مصر اور اس ملک کے صاحبِ اقتدارکی بیوی ہے؟ کیا تم یہ نہیں سوچتے کہ اس کا دل تمہارے ہاتھ میں ہو تو یہ ساری حکومت تمہارے قبضے میں ہوگئی اور تم جو مقام چاہوتمہیں مل جائے گا ۔
تیسری نے کہا:مَیں حیران ہوں کہ نہ تو تم اس کے جمالِ زیبا کی طرف مائل ہو اور نہ اس کے مال ومقام کی طرف لیکن کیا تم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ ایک خطرناک انتقام جُو عورت ہے اور انتقام لینے کی طاقت بھی پوری طرح اسکے ہاتھ میں ہے؟ کیا تمہیں اس کے وحشتناک اور تاریک ِ زندان کا خوف نہیں ؟ کیا تم اس کے قیدِ تنہائی کے عالمِ غربت وبیچار گی کے بارے میں غور وفکر نہیں کرتے؟
ایک طرف کی بیوی کی دھمکی اور ان آلودہ گناہ عورتوں کا وسوسہ تھا کہ جو اس وقت دلّالی کا کھیل کھیل رہی تھیں اور دوسری طرف یوسف کے کے لئے ایک شدید بحرانی لمحہ تھا، ہر طرف سے مشکلات کے طوفان نے انہیں گھیرطرکھا تھا لیکن وہ تو پہلے سے اپنے آپ کو اصلاح سے آراستہ کےے ہوئے تھے، نورِ ایمان، پاکیزگی اور تقوی نے ان کی روح میں ایک خاص اطمینان پیدا کررکھا تھا، وہ بڑی شجاعت اوت عزم سے اپنے موقف پر ڈٹے رہے، بغیر اس کے کہ وہ ان ہوس باز اور ہوس ران عورتوں سے باتوں میں الجھتے انہوں نے پروردگار کی بارگاہ کا رُخ کیا اور اس طرح سے دعا کرنے لگے : پروردگارا! جس طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت قید خانہ اپنی تمام تر سختیوں کے باوجودمجھے زیادہ محبوب ہے( قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اٴَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْه ) ۔
اس کے بعد چونکہ وہ جانتے تھے کہ تمام حالات میں خصوصاً مشکلات میں لطفِ الٰہی کے سوا کوئی راہِ نجات نہیں کہ جس پر بھروسہ کیا جائے، انہوں نے اپنے آپ کو خدا کے سپرد کیا اور اس سے مدد مانگی اور پکارے:پروردگارا! اگر تو مجھے ان عورتوں کے مکر اور خطرناک منصوبوں سے نہ بچائے تو میرا دل ان کی طرف مائل ہوجائے گا اور میَں جاہلوں میں سے ہوجاؤں گا( وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّی کَیْدَهُنَّ اٴَصْبُ إِلَیْهِنَّ وَاٴَکُنْ مِنَ الْجَاهِلِینَ ) ، خداوندا! مَیں تیرے فرمان کا احترام کرتے ہوئے اور اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرتے ہوئے اس وحشت ناک قید خانے کا استقبال کرتا ہوں ، وہ قید خانہ کہ جس میں میری روح آزاد ہے اور میرا دامن پاک ہے اس کے بدلے میں اس ظاہری آزادی کو ٹھوکر مارتا ہوں کہ جس میں میری روح کو زندانِ ہوس نے قید کر رکھا ہو اور جو میرے دامن کو آلودہ کرسکتی ہے ۔
خدایا! میری مدد فرما، مجھے قوت بخش اور میری عقل، ایمان اور تقویٰ کی طاقت میں اضافہ فرما تاکہ مَیں ان شیطانی وسوسوں پر کامیابی حاصل کروں ۔
اور چونکہ خدا تعالیٰ کا ہمیشہ سے وعدہ ہے کہ وہ مخلص مجاہدین کی(چاہے وہ نفس کے خلاف برسرِ پیکار ہوں یا ظاہری دشمن کے خلاف ) مدد کرے گا، اس نے یوسفعليهالسلام کو اس عالم میں تنہا نہ چھوڑا، حق تعالی کا لطف وکرم اس کی مدد کو آگے بڑھا، جیسا کہ قرآن کہتاہے :اس کے پرور دگار نے اس کی اس مخلصانہ دعا قبول کو قبول کیا( فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّ ) ، ان کے مکر اور سازشوں کو پلٹا دیا( فَصَرَفَ عَنْهُ کَیْدَهُنَّ ) کیونکہ وہ سننے اور جاننے والا ہے( إِنَّهُ هُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیم ) وہ بندوں کی دعا سنتا بھی ہے اور ان کے اندرونی اسرار سے بھی آگاہ ہے اور انہیں مشکلات سے بچانے کی راہ سے بھی واقف ہے ۔
____________________
۱۔تفسیر روح المعانی،ج۱۲،ص ۲۰۳۔
۲۔”متکا“ اس چیز کو کہتے ہیں جس پر تکیہ کیا جائے جیسے کرسیوں اور تخت کے ٹیک یا پشت بنی ہوتی ہے اور جیسا کہ اس زمانے کے محلات میں معمول تھا لیکن بعض نے متکا کا معنی ترنج بین کیا ہے کہ جو ایک قسم کا بھل ہے، جنہوں نے اس کا معنی ٹیک کیا ہے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ترنج بین کی بنی ہوئی تھی، فارسی میں اسے بالنگ کہتے ہیں ، یہ ترش مزہ پھل ہوتا ہے جس کا چھلکا موٹا ہوتا ہے اور اس کے موٹے چھلکے کا مربہ بنایاجاتا ہے، ہوسکتا ہے یہ پھل مصر میں ہمارے پھل سے مشابہ ہو اور مکمل طور پر ترش نہ ہو۔
۳۔ ”حاش للّٰہ“ ”حشی“ کے مادہ سے ایک طرف کے معنی میں ہے اور ”’تحاشی“ کنارہ کرنے کے معنی میں ہے اور ”حاش للہ“ کا معنی یہ ہے کہ خدا منزہ ہے، یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یوسف بھی پاک ومنزہ بندہ ہے ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ طاغوت کے پرانے ہتھکنڈے
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کی بیوی نے اور مصر کی دوسری عورتوں نے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے مختلف طریقے آزمائے، اظہارِ عشق کیا، شدید محبت ظاہر کی، اور تسلیم محض کا اظہار کیا، پھر لالچ دینے کی کوشش کی اور پھر ڈرایا دھمکایا، دوسرے لفظوں میں انہوں نے شہوت، زر اور زور کے تمام حربے استعمال کئے ۔ یہی ہر خود غرض اور زمانے کے طاغوت کا متفقہ اصول ہے، یہاں تک کہ ہم نے خود بارہا دیکھا ہے کہ وہ مردانِ حق کا جھکانے کے لئے پہلے تو انتہائی نرم دلی اور خوش روئی کا مظاہرہ کررتے ہیں ، پھر لالچ اور طرح طرح کی امداد کے ذریعے کام نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر کچھ نہ بن پائے تو پھر اسی موقع پر نہایت سخت دھمکیاں دیتے ہیں اور ہرگز کوئی لحاظ نہیں رکھتے کہ یہ تضاد بیانی ہے اور وہ بھی ایک ہی مجلس میں ، ان کا یہ طریقہ کس قدر بُرا، تکلیف دہ اور باعث تحقیرہے ۔
ان کے اس عمل کی دلیل واضح ہے، وہ تو اپنے ہدف کے متلاشی ہوتے ہیں لہٰذا ان کے لئے ذریعہ اہمیت نہیں رکھتا ، دوسرے لفظوں میں وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے ہر ذریعے سے فائدہ اٹھانا جائز سمجھتے ہیں ۔
اس دروان کمزور اور کم رُشد افراد پہلے ہی مراحل میں یا آخری مرحلہ میں جھک جاتے ہیں اورہمیشہ کے لئے ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں لیکن اولیائے حق نور ایمان کے زیرِسایہ حاصل کردہ عزم وشجاعت سے ان مراحل میں آگے نکل جاتے ہیں اور تمام تر قاطعیت سے اپنے سازش ناپذیر ہونے کا مظاہرہ کرتے ہیں اور آخری سانس تک کمال کی طرف رواں دواں رہتے ہیں ۔
۲ ۔ تقویٰ یہ نہیں کہ-
بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جب تک وہ گڑھے کے کنارے ہوتے ہیں تو اپنے تئیں بہت پاک دامن قرار پاتے ہیں اور تقویٰ وپارسائی کی ڈینگیں مارتے ہیں اور زوجہ جیسے آلودہ افراد انہیں ”ضلال مبین“ میں دکھائی دیتے ہیں لیکن جب ان کا اپنا پاؤں گڑھے میں جاپڑتا ہے تو پہلے ہی پاؤں پر وہ پھسل جاتے ہیں ، یہ لوگ عملی طور پر ثابت کرتے ہیں کہ ان کی باتیں زبانی دعویٰ سے زیادہ کچھ نہ تھیں ۔
زوجہ تو کئی برس یوسف کے ساتھ رہنے کے بعد ان کے عشق میں گرفتار ہوئی لیکن اسے طعنے دینے والیاں تو پہلی نشست میں ہی مبتلائے عشو ہوگئیں اور ترنج بین کی بجائے اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں ۔
۳ ۔یوسف محفلِ زنان میں کیوں آئے؟
یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے وہ یہ کہ حضرت یوسفعليهالسلام نے زوجہ کی بات کیوں مانی اور اس بات پر کیوں آمادہ ہوگئے کہ زوجہ مصر کی محفل میں قدم رکھیں کہ جو گناہ کے لئے برپا کی گئی تھی یا وہ ایک گنہگار کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے تھی ۔
لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اس محل میں یوسفعليهالسلام کی حیثیت ایک غلام اور بردہ کی تھی، وہ مجبور تھے کہ وہاں خدمت کریں ہوسکتا ہے زوجہ نے خدمت کے بہانے ہی سے ایسا کیا ہو کہ انہیں کھانے کے برتن یا پینے کی کوئی چیز لانے کے بہانے محفل میں لے گئی ہو جب کہ حضرت یوسفعليهالسلام اس منصوبے اور سازش سے آگاہ نہ تھے ۔
۴ ۔ ”( یدعوننی الیه ) ” اور ”( کیدهن ) “ کا مفہوم
”یدعوننی الیہ“ کا معنی ہے ”جس چیز کی یہ عورتیں مجھے دعوت دیتی ہیں “ اور”کید ھن“ کامعنی ہے”ان عورتوں کا منصوبہ“ ان الفاظ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مصر کی ہوس باز عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لینے اور یوسفعليهالسلام کی فریفتہ ہونے کے بعد باری باری خود بھی وہی کام کیا جووجہ نے کیا تھا اور انہوں نے بھی یوسف کو دعوت دی کہ وہ ان کے سامنے یا زوجہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور یوسفعليهالسلام نے ان سب کو ٹھکرادیا ۔
یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ کی بیوی اس گناہ میں اکیلی نہ تھی اور کئی ایک اس کی شریک گناہ تھیں ۔
۵ ۔ یوسفعليهالسلام خدا کی پناہ میں
جب انسان مشکلات میں گھرا ہوا ور کسی مصیبت کے کنارے تک پہنچ جائے تو اسے صرف خدا کی پناہ لینا چاہیئے اور اسی سے مدد طلب کرنا چاہیئے اگر اس کا لطف وکرم اور نصرت ومدد نہ ہوتو کوئی کام بھی نہیں ہوسکتا، یہ وہ سبق ہے جو حضرت یوسفعليهالسلام جیسے پاک دامن بزرگوار نے ہمیں دیا ہے، وہی ہیں جو کہتے ہیں :پروردگارا! اگر تُو ان کے منحوس منصوبوں سے نجات نہ دے تو مَیں بھی ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور اگر تونے مجھے ان کی ہلاکت خیز یوں میں تنہا چھوڑ دے تو طوفانِ حوادث مجھے اپنے ساتھ لے جائے ، تُو ہے کہ میرا حافظ ونگہبان ہے نہ کہ میری طاقت اور تقویٰ۔
لطف الٰہی سے وابستگی کی یہ حالت بنداگانِ خدا کو لامحدود طاقت اور عزم عطا کرنے کے علاوہ اس کے الطافِ خفی سے بہرہ ور ہونے کا سبب بنتی ہے، وہ الطاف کہ جن کی تعریف وتوصیف ناممکن ہے ان کاصرف مشاہدہ کیا جاسکتا ہے اور اسی طرھ ان کی تصدیق ہوسکتی ہے، ایسے ہی لوگ اس دنیا میں بھی لطفِ الٰہی سے سائے میں ہیں اور اُس جہان میں بھی لطفِ پروردگار سے ہمکنار ہوں گے، ایک حدیث میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مروی ہے:
سبعة یظلهم اللّٰه فی ظل عرشه یوم لایظل الا ظله: امام عادل، وشاب ننشا فی عبادة اللّٰه عزوجل، ورجل قلبه متعلق بالمسجد اذا خرج منه حتیٰ یعود الیه، ورجلان کانا فی طاعة اللّٰه عز وجل فاجتمعا علیٰ زلک وتفرقا، ورجل ذکر اللّٰه عزوجل خالیا ففاضت عیناه ، ورجل دعته امراة ذات حسن وجمال فقال انی اخاف اللّٰه تعالیٰ، ورجل تصدیق بصدقة فاخفاهاحتیٰ لا تعلم شماله ماتصدیق بیمینه !
جس روز عرش ِالہٰی کے سائے علاوہ کوئی سائی نہ ہوگا اس دن اللہ تعالیٰ سات طرح کے لوگوں کو اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا:
امام عادل،وہ جوان کی جس نے ابتدائے عمر ہی سے خدا کی بندگی میں پرورش پائی ہو،وہ شخص کہ جس کا دل مسجد اور عبادت ِالٰہی کے مرکز سے بندھا ہو، جب وہ اس سے نکلتا ہو تو اس کے خیال میں رہتا ہو یہاں تک کہ اس کی طرف لوٹ آتاہو،وہ لوگ جو فرمانِ خدا کی اطاعت میں مِل جُل کر کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے جدا ہوتے وقت ان کا روحانی رشتہ اتحاد اسی طرح برقرار رہتا ہو،وہ شخص کہ جو پروردگار کا نام سنتے وقت جس کی آنکھوں سے(احساسِ مسئولیت سے یا گناہوں کے خوف سے ) آنسو جاری ہوجاتے ہوں ،وہ شخص کہ جسے حسین وجمیل عورت اپنی طرف دعوت دے اور وہ کہے کہ مَیں خدا سے ڈرتا ہوں ، اوروہ شخص جوضرورت مندوں کی مدد کرتا ہو اور اپنے صدقے کو مخفی رکھتا ہو کہ دائیں ہاتھ سے دے تو بائیں کو خبر نہ ہو۔(۱)
____________________
۱۔ سفینة البحار، ج۱،ص ۵۹۵(ظل)۔
آیات ۳۵،۳۶،۳۷،۳۸
۳۵( ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا رَاٴَوْا الْآیَاتِ لَیَسْجُنُنَّهُ حَتَّی حِینٍ ) ۔
۳۶( وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیَانِ قَالَ اٴَحَدُهُمَا إِنِّی اٴَرَانِی اٴَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّی اٴَرَانِی اٴَحْمِلُ فَوْقَ رَاٴْسِی خُبْزًا تَاٴْکُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ نَبِّئْنَا بِتَاٴْوِیلِهِ إِنَّا نَرَاکَ مِنَ الْمُحْسِنِینَ ) ۔
۳۷( قَالَ لَایَاٴْتِیکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلاَّ نَبَّاٴْتُکُمَا بِتَاٴْوِیلِهِ قَبْلَ اٴَنْ یَاٴْتِیَکُمَا ذَلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِی رَبِّی إِنِّی تَرَکْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ کَافِرُونَ ) ۔
۳۸( وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِی إِبْرَاهِیمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ مَا کَانَ لَنَا اٴَنْ نُشْرِکَ بِاللهِ مِنْ شَیْءٍ ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللهِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَشْکُرُون ) ۔
ترجمہ
۳۵ ۔جب (وہ یوسف کی پاکیزگی کی )نشانیاں دیکھ چکے تو انہوں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ اسے ایک مدت تک قید خانے میں رکھیں ۔
۳۶ ۔اور دونوجوان اور اس کے ساتھ قید خانے میں داخل ہوئے ام میں سے ایک نے کہا: مَیں نے خواب میں دیکھا کہ شراب کے لئے (انگور) نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا: مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں روٹیاں اپنے سر پر اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے ان میں سے کھارہے ہیں ، ہمیں ان کی تعبیر بتاؤ کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم نیکو کاروں میں سے ہو۔
۳۷ ۔یوسف نے کیا: اس سے پہلے کہ تمہارے کھانے کا راشن تم تک پہنچے مَیں تمہیں تمہارے خواب کی تعبیر سے آگاہ کردوں گا، یہ وہ علم ہے کہ جس کی تعلیم میرے پروردگارنے مجھے دی ہے، مَیں نے ان لوگوں کے دین کو ترک کر رکھا ہے جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں (اسی لئے مَیں ایسی نعمت کے لائق ہوا ہوں )
۳۸ ۔مَیں نے اپنے آباء ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کی پیروی کی ہے، ہمارے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ کسی کوخدا کا شریک قرار دیں ، یہ خدا کا ہم لوگوں پر فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے ۔
بے گناہی کے پاداش میں قید
قصرِ میں یوسفعليهالسلام کی موجود گی میں زنانِ مصر کی حیران کن محفل اس شور وغوغا کے عالم میں تمام ہوئی، فطری بات تھی کہ یہ خبر کے کان تک پہنچ گئی، ان کے تمام واقعات سے واضح ہوگیا کہ یوسفعليهالسلام کو معمولی انسان نہیں ہے اور اس قدر پاکیزہ ہے کہ کوئی طاقت اسے گناہ پر ابھار نہیں سکتی، مختلف حوالوں سے اس کی پاکیزگی کی نشانیاں واضح ہوئیں ۔
یوسفعليهالسلام کی قمیص کا پیچھے سے پھٹا ہونا ، زنانِ مصر کے وسوسے کے مقابلے میں استقامت کا مطاہرہ کرنا، قید خانے میں جانے کے لئے آمادہ ہونا اور زوجہ کی طرف سے قید اور عذابِ الیم کی دھمکیوں کے سامنے سر نہ جھکانا یہ سب اس کی پاکیزگی کی دلیل تھیں ، یہ ایسے دلائل تھے کہ کوئی شخص نہ اسے چھپا سکتا تھا نہ ان کا انکار کرسکتا تھا ، ان کا لازمی نتیجہ زوجہ مصر کی ناپاکی اور جرم تھا ، یہ جرم ثابت ہونے کے بعد عوام میں خاندانِ کی جنسی حوالے سے رسوائی کا خوف بڑھ رہا تھا، مصر اور اس کے مشیر وں کو اس کے لئے صرف یہی چارہ دکھائی دیا کی یوسفعليهالسلام کو منظر سے ہٹایا جائے، اس طرح سے کہ لوگ اسے اور اس کا نام بھول جائیں ، اس کے لئے ان کی نظر میں بہترین راستہ اسے تاریک قید خانے میں بھیجا تھا کہ جس سے ہوسفعليهالسلام کو بھلا بھی دیا جائے گا اور وہ یہ بھی سمجھے گے کہ اصلی مجرم یوسفعليهالسلام تھا، ایس لئے قرآن کہتا ہے:جب انہوں نے (وہ یوسف کی پاکیزگی کی )نشانیاں دیکھ لیں تو پختہ ارادہ کرلیا کہ اسے ایک مدت تک قید میں ڈالا جائے( ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا رَاٴَوْا الْآیَاتِ لَیَسْجُنُنَّهُ حَتَّی حِینٍ ) ۔
”بدا“ کامعنی ”نئی رائے پیدا ہونا“یہ تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ پہلے اس کے بارے میں ان کا کوئی ارادہ نہ تھا اور پہلی مرتبہ زوجہ نے بات احتمال کے طورپر پیش کی تھی، بہرحال اس طرح یوسفعليهالسلام کی پاکدامنی کے گناہ میں قید خانے میں پہنچ گئے اور یہ پہلی مرتبہ نہ تھا کہ ایک قابل اور لائق انسان پاکیزگی کے جرم میں زندان میں گیا ۔
جی ہاں ! ایک آلودہ اور گندے ماحول میں آزادی تو ان آلودہ لوگوں کے لئے ہوتی ہے جو پانی کے بہاؤ کے ساتھ چلتے ہیں ، ایسے ماحول میں نہ صرف آزادی بلکہ سب کچھ انہیں کو میسر ہوتا ہے اور یوسف جیسے پاکدامن اور قیمتی افراد کہ جو اس ماحول کے رنگ میں رنگے نہیں جاتے اور پانی کے بہاؤ کے مخالف چلتے ہیں انہیں ایک طرف ہوناپڑتاہے لیکن کب تک؟ کیا ہمیشہ کے لئے؟ نہیں ، یقینا نہیں ۔
یوسف کے ساتھ زندان میں داخل ہونے والے دوجوان بھی تھے( وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیَانِ ) ۔
جب انسان کسی معمول کے طریقے سے خبروں تک رسائی حاصل نہ کر سکے تو تو اس کے لئے دوسرے احساسات کو استعمال کرتا ہے تاکہ حوادث کا اندازہ لگا سکے، خواب بھی اس مقصد کے لئے کار آمد ہوسکتا ہے ۔
اس بنا پر دو نوجوان کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ کے گھر مشروبات پر مامور تھا اور دوسرا باورچی خانے کا کنٹرولر ، دشمنوں کی چغلخوری اور بادشاہ کو زہر دینے کے الزام میں قید تھے، ایک روز یوسفعليهالسلام کے پاس آئے، دونوں نے اپنا گزشتہ شب کا خواب سنا یا جو کہ ان کے لئے عجیب تھا، ایک نے کہا: مَیں نے خواب میں دیکھا ہے کہ شراب بنانے کے لئے انگور نچوڑ رہا ہوں( قَالَ اٴَحَدُهُمَا إِنِّی اٴَرَانِی اٴَعْصِرُ خَمْرًا ) ۔
دوسرے نے کہا: مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مَیں نے کچھ روٹیاں سر پر اٹھارکھی ہیں اورآسمان کے پرندے آتے ہیں اوران میں سے کھاتے ہیں( وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّی اٴَرَانِی اٴَحْمِلُ فَوْقَ رَاٴْسِی خُبْزًا تَاٴْکُلُ الطَّیْرُ مِنْه ) ۔
اس کے بعد انہوں نے مزید کہا:، ہمیں ہمارے خواب کی تعبیر بتاؤ، کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ تم نیکو کاروں میں سے ہو( نَبِّئْنَا بِتَاٴْوِیلِهِ إِنَّا نَرَاکَ مِنَ الْمُحْسِنِینَ ) ۔
یہ کہ ان دونوں جوانون کو کیسے معلوم ہوا کہ یوسفعليهالسلام تعبیر کواب کے بارے میں اتنا وسیع علم رکھتے ہیں ،اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔
بعض نے کہا ہے کہ یوسفعليهالسلام نے خود سے قید خانے میں قیدیوں سے اپنا تعارف کرایا تھا کہ وہ تعبیرِ خواب کے بارے میں وسیع علم رکھتے ہیں ۔
بعض دیگر نے کہا ہے کہ یوسفعليهالسلام کی ملکوتی صفات نشاندہی کرتی تھیں کہ وہ ایک عام آدمی نہیں ہے بلکہ آگاہ اور صاحبِ فکر وبینش انسان ہے، اسی سے انہون نے سمجھا کہ ایساانسان تعبیرِ خواب کے بارے میں درپیش مشکل کوحل کرسکتا ہے ۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ حضرت یوسفعليهالسلام نے قید خانے میں آتے ہی اپنا نیک اطوار ، حسنِ اخلاق اور قیدیوں کی دلجوئی، خدمت اور بیمارون کی عیادت سے یہ ظاہر کردیا تھاکہ وہ ایک نیک اور گرہ کشا انسان ہیں ، اسی لئے قیدی مشکلات میں انہیں کہ پناہ لیتے تھے اور ن سے مدد مانگتے تھے ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ یہاں قرآن نے لفظ ”عبد“ یا ”بردہ“ کی بجائے لفظ”فتی“ (جوان) استعمال کیا ہے جو کہ ایک قسم کا احترام ہے، ایک حدیث میں ہے :لا یقولون احدکم عبدی وامتی ولاکن فتای وفتاتی ۔
تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میرا گلام اورمیری کنیز بلکہ کہو میر اجوان (لڑکا یا لڑکی)۔(۱)
(یہ اس لئے تھا کہ اسلام نے غلاموں کی آزادیکے لئے جو دقیق پرگرام بنایا ہے اس تدریجی آزادی کے دَور میں بھی گلام ہر قسم کی تحقیر و تذلیل سے محفوظ رہے )۔
جملہ”انی اعصر خمرا “ (مَیں شراب نچوڑ رہاہوں )، یا اس بنا پر ہے کہ اس نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ شراب بنانے کے لئے انگور نچوڑ رہا تھا یا وہ انگور جو خم میں تھا شراب ہوشکا تھا اسے وہ صاف کرنے کے لئے اورشراب بنانے کے لئے باہر نکال کر نچوڑ رہا تھا یا یہ کہ انگور نچوڑ رہا تھا تاکہ کہ انگورکا پانی بادشاہ کو دے، بغیر شراب بنائے ہوئے کیسے دے دیتا لیکن چونکہ یہ انگور شراب میں تبدیل ہونے کے قابل ہے اس لئے اس کے لئے لفظ ”خمر“ استعمال کیا گیا ہے ۔
”انی ارانی“ (مَیں دیکھ رہا ہوں )، یہ جملہ حالیہ ہے حالانکہ قائدتاً اسے کہنا چاہیئے تھا کہ ”مَیں نے خواب میں دیکھا ہے“ یعنی بیان کرتے ہوئے وہ اپنے تئیں خواب فرض کرتا ہے اور اس حالت کی تصویر کشی کرتے ہوئے اسے بیان کرتا ہے ۔
بہرحال وہ یوسفعليهالسلام کہ جو قیسیوں کی ہدایت اور راہنمائی کو کوئی موقع ہاتھ سےنہ جانے دیتے تھے انہوں نے ان قیدیوں کی طرف سے تعبیر ِ خواب کے للئے رجوع کرنے کو غنیمت جانا اور اس بہانے سے ایسے اہم حقائق بیان کئے جو ان کی تعبیرِ خواب سے متعلق اپنی آگاہی کے بارے میں کہ جو ان دو قیدیوں کے لئے بہت اہمیت رکھتے تھے، اور تمام انسانون کے لئے راستہ کھولنے والے تھے، آپ (علیه السلام)نے پہلے تو ان کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے ان سے کہا:تمہارے کھانے کا راشن آنے سے پہلے مَیں تمہیں خواب کی تعبیر سے آگاہ کردوں گا( قَالَ لَایَاٴْتِیکُمَا ) ۔
اس طرح آپ نے انہیں اطمینان دلایا کہ کھانا آنے سے پہلے وہ اپنامقصود پالیں گے ۔
اس جملے کی تفسیر کے بارے میں مفسرین نے بہت سے احتمال ذکر کئے ہیں ۔
ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام)نے کہا کہ مَیں حکمِ پروردگار سے کچھ اسرار سے آگاہ ہوں اور نہ سرف تمہارے خواب کی تعبیر بتاؤں گا بلکہ مَیں یہ بھی بتاسکتا ہوں کہ تمہارے لئے آج کونسی اور کس قسم کی غذا لائی جائے گی اور مَیں اس کی خصوصیات بھی بتا سکتا ہوں ، اس بناء پر ”تاویل“ سے یہاں مراد ”غذا کی خصوصیات“ ہیں (البتہ اس معنی میں ”تاویل“ کا استعمال بہت کم ہوا ہے خصوصاً گزشتہ جملے میں یہ لفظ تعبیر خوبکے معنی میں ہے) ۔
دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت یوسفعليهالسلام کی مراد یہ تھی کہ تم جس قسم کا طعام خواب میں دیکھو مَیں تم سے اس کی تعبیر بیان کرسکتاہوں ، لیکن یہ احتمال”( قبل ان یاتیکما ) “ کے جملے سے مناسبت نہیں رکھتا ۔
اس بناء پر مذکورہ جملے کی بہترین تفسیر وہی ہے جو ہم نے ابتدائے سخن میں پیش کی تھی ۔
اسکے بعد با ایمان اور خدا پرست یوسفعليهالسلام کہ جن کے وجود کی گہرائیوں میں توحید پوری وسعت سے جڑ پکڑ چکی تھی، نے یہ واضح کرنے کے لئے کہ امرِ الٰہی کے بگیر کوئی چیز حقیقت کا روپ اختیار نہیں کرتی، اپنی بات کو اسی طرح سے جاری رکھا ::تعبیرِ خواب کے متعلق میرا یہ علم ودانش ان امور میں سے ہے کہ جن کی تعلیم میرے پروردگارنے دی ہے( ذَلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِی رَبیِّ ) ۔
نیز اس بناء پر کہ وہ یہ کیال نہ کریں کہ خدا کوئی چیز بغیر کسی بنیادکے بخش دیتاہے، آپعليهالسلام نے مزید فرمایا: مَیں نے ان لوگوں کے دین کو ترک کر رکھا ہے کہ جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے منکر ہیں اور اس نورِایمان اور تقویٰ نے مجھے اس نعمت کے لائق بنایا ہے( إِنِّی تَرَکْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَایُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَهُمْ بِالْآخِرَةِ هُمْ کَافِرُونَ ) ۔
اس قوم وملت سے مسر کے بُت پرست لوگ یا کنعان کے بُت پرست لوگ مراد ہیں ۔
مجھے ایسے عقائدسے دور ہی ہونا چاہیئے کیونکہ یہ انسان کی پاک فطرت کے خلاف ہیں ، علاوہ ازیں مَیں نے ایسے خاندان میں پرورش پائی ہے کہ جو وحی ونبوت کا خاندان ہے،”مَیں نے اپنے آباء واجداداور بزرگوں ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب کی پیروی کی ہے( اتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِی إِبْرَاهِیمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ )
شاید پہلا موقع تھا کہ حضرت یوسفعليهالسلام نے قیدیوں سے اپنا تعارف کروایا تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ وہ وحی ونبوت کے گھرانے سے ہیں اور دیگر بہت سے قیدیوں کی طرح کہ جو طاغوتی نظاموں میں قید ہوتے ہیں ، بےگناہ زندان میں ڈالے گئے ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا:”، ہمارے لئے یہ مناسب نہیں کہ کسی چیزکوخدا کا شریک قرار دیں “ کیونکہ ہمارا خاندان خاندانِ توحید ہے، بُت شکن ابراہیم کا خاندان ہے
( وَ مَا کَانَ لَنَا اٴَنْ نُشْرِکَ بِاللهِ مِنْ شَیْء ) ، اور یہ ہم پر اور تمام لوگوں پر خدا کی نعمات میں سے ہے( ذٰلِکَ مِنْ فَضْلِ اللهِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ ) ۔
لہٰذا یہ خیال نہ کرنا کہ خدا کا یہ فضل اورمحبت صرفہم خانوادہ نبوت کے شاملِ حال ہوتی ہے بلکہ یہ ایسی نعمت ہے جو عام ہے اورتمام بندگانِ خدا کے شاملِ حال ہے کہ جو ان کی روح کے اندر ایک فطرت کے عنوان سے ودیعت کی گئی ہے اور یہ انبیاء کی رہبری وہدایت کے ذریعے کمال حاصل ہوتی ہے ۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ”کثر انسان ان خدائی نعمات کی شکر گزاری نہیں کرتے“ وہ راہ توحید سے منحرف ہوجاتے ہیں( وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَشْکُرُون ) ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں حضرت اسحاقعليهالسلام کا نام حضرت یوسفعليهالسلام کے ”آباء“ کے زمرے میں آیا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں حضرت یوسفعليهالسلام حضرت یعقوبعليهالسلام کے بیٹے ہیں اور حضرت یقوبعليهالسلام حضرت اسحاقعليهالسلام کے فرزند ہیں ، یہ اس لئے ہے کہ لفظ”اب“ کا طلاق”جد“ پر بھی ہوتا ہے ۔
____________________
۱۔ مجمع البیان،،ج ۵،ص ۲۳۲۔
آیات ۳۹،۴۰،۴۱،۴۲
٣٩( يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّـهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
) ٤٠( مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّـهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّـهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ )
٤١( يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا ۖ وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ الطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِ ۚ قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ )
٤٢( وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ )
قید خانہ یا مرکزِ تربیّت
جس وقت حضرت یوسفعليهالسلام نے گزشتہ گفتگو کے بعد ان قیدیوں کے دلوں کو حقیقتِ توحید قبول کرنے کے لیے آمادہ کرلیا تو ان کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے کہا: اے میرے قیدی ساتھیو! کیا منتشر خدا اور متفرق معبود بہتر ہیں یا یگانہ و یکتا اور قہار اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا خدا( یَاصَاحِبَیِ السِّجْنِ اٴَاٴَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ اٴَمْ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ) ۔
گویا یوسفعليهالسلام انھیں سمجھانا چاہتے تھے کہ کیوں تم فقط عالمِ خواب میں آزادی کو دیکھتے ہو بیداری میں کیوں نہیں دیکھتے، آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا اس کا سبب تمھارا انتشار، تفرقہ بازی اور نفاق نہیں کہ جس کا سرچشنہ شرک، بت پرستی اور ارباب متفرق ہیں جن کی وجہ سے ظالم طاغوت تم پر غالب آگئے ہیں ۔ تم لوگ پرچم توحید کے تلے کیوں جمع نہیں ہوتے اور ”( اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ) “ کا دامن پرستش کیوں نہیں تھامتے تاکہ ان خود غرض ستمگروں کو اپنے معاشرے سے نکال باہر کرو کہ جو تمھیں بے گناہ اور صرف الزام کی بنیاد پر قید میں ڈال دیتے ہیں ۔
اس کے بعد انہوں نے مزید کہا: یہ غیر خدا معبود تم نے بنارکھے ہیں ان کی حیثیت اسماء بلامسمیٰ کے کچھ نہیں کہ جنہیں تم نے اور تمھارے آباء و اجداد نے خدا کا نام دے رکھا ہے( مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلاَّ اٴَسْمَاءً سَمَّیْتُمُوهَا اٴَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ ) ۔
”یہ ایسے امور ہیں کہ جن کے لیے خدا نے کوئی دلیل و مدرک نازل نہیں فرمایا“ بلکہ یہ تمھارے کمزور ذہن کی پیدا وار ہیں( مَا اٴَنزَلَ اللهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ ) ۔
”جان لو کہ حکومت خدا کے علاوہ کسی کے لیے نہیں ہے“ اور اسی لیے تمھیں ان بتوں ، طاغوتوں اور فرعونوں کی تعظیم کے لیے سر نہیں جھکانا چاہیے( إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّٰهِ ) ۔
انہوں نے مزید تاکید کے لیے اضافہ کیا : خدانے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرو( اٴَمَرَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ ) ۔”یہ ہے مستحکم و مستقیم دین“ کہ جس میں کسی قسم کا کوئی پیچ و خم نہیں( ذٰلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ ) ۔
یعنی توحید ہر لحاظ سے ۔ عبادت، معاشرے پر حکومت، ثقافت اور ہر چیز میں مستحکم اور مستقیم دین ہے ۔
لیکن کیا کیا جائے کہ لوگ ہی آگاہی نہیں رکھتے اور اسی عدمِ آکہی کے باعث شرک کی بھول بھلیوں میں سرگردان ہیں اور اپنے آپ کو غیر اللہ کی حکومت کے سپرد کردیتے ہیں اور اس طرح انھیں کیسی کیسی سختیوں ، قید و بند اور بخبتیوں کا سامنا کرنا پڑ تا ہے( وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ ) ۔
اپنے دو قیدی ساتھیوں کو رہبری و ارشاد اور انھیں حقیقت توحید کی طرف مختلف پہلووں کے حوالے سے دعوت دینے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کے خواب کی تعبیر بیان کی کیونکہ وہ دونوں اسی مقصد کے لیے آپ کے پاس آئے تھے اور آپ نے بھی انھیں قول دیا تھا کہ انھیں ان کے خوابوں کی تعبیر بتائیں گے لیکن آپ نے موقع غنیمت جانا اور توحید کے بارے میں اور شرک کے خلاف واضح اور زندہ دلائل کے ساتھ گفتگو کی ۔
اس کے بعد آپ نے ان دو قیدی ساتھیوں کی طرف رُخ کرکے کہا: اے میرے قیدی ساتھیو! تم میں سے ایک آزاد ہوجائے گا اور اپنے ”ارباب“ کو شراب پلانے پر مامور ہوگا( یَاصَاحِبَیِ السِّجْنِ اٴَمَّا اٴَحَدُکُمَا فَیَسْقِی رَبَّهُ خَمْرًا ) ۔لیکن دوسرا سولی پر لٹکایا جائے گا اور اتنی دیر تک اس کی لاش لٹکائی جائے گی کہ آسمانی پرندے اس کے سر کو نوچ نوچ کر کھائیں گے( وَاٴَمَّا الْآخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاٴْکُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَاٴْسِهِ ) ۔
ان دونوں مذکورہ خوابوں کی مناسبت سے اگر چہ اجمالاً واضح تھا کہ ان میں سے کون آزاد ہوگا اور کون سولی پر لٹکایا جائے گا لیکن حضرت یوسفعليهالسلام نے نہ چاہا کہ یہ ناگوار خبر اس سے زیادہ صراحت سے بیان کریں لہٰذا آپعليهالسلام نے”تم میں سے ایک“ کہہ کر گفتگو کی ۔
اس کے بعد اپنی بات کی تائید کے لیے مزید کہا: یہ معاملہ جس کے بارے میں تم نے مجھ سے سوال کیا ہے اور مسئلہ پوچھا ہے حتمی اور قطعی ہے( قُضِیَ الْاٴَمْرُ الَّذِی فِیهِ تَسْتَفْتِیَانِ ) ۔یہ اس طرف اشارہ تھا کہ یہ خواب کی کوئی معمولی سی تعبیر نہیں ہے بلکہ ایک غیبی خبر ہے جسے میں نے الٰہی تعلیم سے حاصل کیا ہے لہٰذا اس مقام پر تردد و شک اور چون و چرا کی کوئی گنجائش نہیں ۔
بہت سی تفاسیر میں اس جملے کے ذیل میں مرقوم ہے کہ جب دوسرے شخص نے یہ ناگوار خبر سنی تو وہ اپنی بات کی تکذیب کرنے لگا: میں نے جھوٹ بولا تھا، میں نے ایسا کوئی خواب نہیں دیکھا تھا، میں نے مذاق کیا تھا ۔
اس کا خیال تھا کہ اگر وہ اپنے خواب کی تردید کردے گا تو اس کی سرنوشت تبدیل ہوجائے گی ۔ لہٰذا حضرت یوسفعليهالسلام نے ساتھ ہی یہ بات کہہ دی کہ جس چیز کے بارے میں تم نے دریافت کیا وہ نا قابلِ تغیرّ ہے ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ حضرت یوسفعليهالسلام کو اپنی تعبیرِ خواب پر اس قدر یقین تھا کہ انہوں نے یہ جملہ تاکید کے طور پر کہا ۔
لیکن جس وقت آپ نے محسوس کیا کہ یہ دونوں عنقریب ان سے جدا ہوجائیں گے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ ان کے ذریعے آزادی کا کوئی دریچہ کھل جائے اور روشنی کی کوئی کرن پھوٹے اور جس گناہ کی آپعليهالسلام کی طرف نسبت دی گئی تھی اس سے اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کریں ، ”آپ نے ان دو قیدی ساتھیوں میں سے جس کے بارے میں جانتے تھے کہ وہ آزاد ہوگا اس سے فرمائش کی کہ آپ نے مالک و صاحبِ اختیار (بادشاہ) کے پاس میرے متعلق بات کرنا“ تاکہ وہ تحقیق کرے اور میری بے گناہی ثابت ہوجائے( وَقَالَ لِلَّذِی ظَنَّ اٴَنَّهُ نَاجٍ مِنْهُمَا اذْکُرْنِی عِنْدَ رَبِّکَ ) ۔
لیکن اس فراموش کار غلام نے یوسف کا مسئلہ بالکل بھلا دیا جیسا کہ کم ظرف لوگوں کا طریقہ ہے کہ جب نعمت حاصل کرلیتے ہیں تو صاحبِ نعمت کو فراموش کردیتے ہیں ۔ البتہ قرآن نے یہ بات یوں بیان کی ہے: جب وہ اپنے مالک کے پاس پہنچا تو شیطان نے اس کے دل سے یوسف کی یاد بھلادی( فَاٴَنسَاهُ الشَّیْطَانُ ذِکْرَ رَبِّهِ ) ۔ اور اس طرح یوسف فراموش کردیے گئے ”اور چند سال مزید قید خانے میں رہے“( فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِین ) ۔
اس بارے میں کہ ”( اٴَنسَاهُ الشَّیْطَانُ ) “ کی ضمیر بادشاہ کے ساقی کے لیے ہے یا حضرت یوسفعليهالسلام کے لئے ، اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے ۔
بہت سوں کے نزدیک یہ ضمیر یوسفعليهالسلام کی طرف لوٹتی ہے ۔ اس احتمال کی بناء پر جملے کا معنی اس طرح ہوگا: شیطان، یادِ خدا یوسفعليهالسلام کے دل سے لے گیا اور اسی بناء پر وہ غیر خدا سے متوسل ہوئے ۔
لیکن گزشتہ جملے کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یوسفعليهالسلام نے اس سے فرمائش کی تھی کہ میرا تذکرہ اپنے صاحب و مالک سے کرنا ، ظاہری مفہوم یہ نکلتا ہے کہ یہ ضمیر ساقی کی طرف لوٹتی ہے ۔ اور لفظ ”رب“ کا دونوں جگہ ایک ہی مفہوم ہے ۔
علاوہ ازیں ”واذکر بعد امة“(ایک مدت کے بعد اسے یاد آیا)۔ یہ جملہ بھی بعد کی چند آیات میں اس داستان کے ذیل میں ساقی کے بارے میں آیا ہے، جو نشاندہی کرتا ہے کہ بھول جانے والا وہی تھا نہ کہ حضرت یوسف علیہ السلام۔
البتہ زندان یا دیگر مشکلات سے نجات کے لیے ایسی کوشش عام افراد کے لیے کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے اور طبیعی اسباب سے کام لینے کے ضمن میں ہے لیکن ایسے افراد کے لیے کہ جو نمونہ ہوں اور ایمان و توحید کی بلند سطح پر فائز ہوں ان کے لیے اشکال سے خالی نہیں ہوسکتی ۔ شاید اسی بناء پر خدانے یوسف کے اس ”ترکِ اولیٰ“ کو نظر انداز نہیں کیا اور اس وجہ سے ان کی قید چند سال مزید جاری رہی ۔
پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے ایک روایت میں ہے کہ آپعليهالسلام نے فرمایا:
مجھے اپنے بھائی یوسف پر تعجب ہوتا ہے کہ انہوں نے کیونکر خالق کی بجائے مخلوق کی پناہ لی اور اس سے مدد طلب کی ۔(۱)
ایک اور روایت میں امام صادقعلیہ السلام سے منقول ہے:
اس واقعے کے بعد جبرائیل یوسفعليهالسلام کے پاس آئے اور کہا: کس نے تمھیں سب لوگوں سے زیادہ حسین بنایا؟
کہنے لگے: میرے پروردگار نے ۔
کہا: کس نے تمھارے باپ کے دل میں تمھاری اس قدر محبت ڈالی؟
بولے: میرے پروردگار ہے ۔
کہا: کس نے قافلے کو تمھاری طرف بھیجاتا کہ وہ تمھیں کنویں سے نجات دے؟
کہنے لگے: میرے پروردگار نے ۔
پوچھا: کس نے اس پتھر کو (جو انہوں نے کویں کے اوپر سے گرایا تھا) تم سے دور رکھا؟
بولے: میرے پروردگار نے ۔
پوچھا: کس نے تمھیں کنویں سے نجات دی؟
کہنے لگے: میرے پروردگار نے ۔
کہا: کس نے مصر کی عورتوں کے مکر و فریب سے تمھیں دور رکھا؟
کہنے لگے: میرے پروردگار نے ۔
اس پر جبرائیل نے کہا: تمھارا پروردگار کہہ رہا ہے کس چیز کے سبب تم اپنی حاجت مخلوق کے پاس لے گئے ہو اور میرے پاس نہیں لائے ہو۔ لہٰذا چاہیے کہ چند سال زندان میں رہو ۔(۲)
چند اہم نکات
۱ ۔ قید خانہ مرکز ہدایت یا برائی کا دبستان:
دنیا میں زندان کی تاریخ بہت ہی دردناک اور غم انگیز ہے ۔بدترین مجرم اور بہترین انسان دونوں قید خانہ ہمیشہ بہترین اصلاحی یا بدترین بری چیزیں سکھا نے کا مرکز رہا ہے ۔قید خانے میں اگر تباخہ کار اور برے لوگ ایک جگہ جمع ہوجائیں تو در حقیقت یہ برائی کی ایک بڑی سطح کی تربیت گاہ بن جاتی ہے ۔ان قید خانوں میں تخریبی منصوبوں پر تبادلہ خیالات ہوتا ہے اور مجرم اپنے تجربات ایک دوسرے تک پہنچاتے ہیں اور ہر مجرم در اصل اپنا خصوصی درس دوسروں تک پہنچاتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ جیل سے نکل کر آزادی کے بعد پہلے سے بہتر اور زیادہ ماہرانہ انداز میں اپنے جراتم جاری رکھتے ہیں ۔یہ لوگ آپس میں مربوط ہوکر اور نئے انداز میں اپنا کام شریع کردیتے ہیں ۔البتہ جیل کے نگران اس سلسلے میں رکھتے ہوئے کہ یہ لوگ عام طور پر با صلاحیت ہوتے ہیں تو انھیں صالح مفید اور اصلاح شدہ افراد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔
رہے وہ زندان کے جن میں پاک نیک ،بے گناہ ،حق و آزادی کے مجاہدیوں ہوتے ہیں ،وہاں عقائد، علمی جہاد کے طریقوں اور اصلاحی امور کی تدریس ہوتی ہے ۔ایسے زندان راہ حق کے مجاہدیں کے لیے اچھا موقع مہیا کرتے ہیں کہ وہ آزادی کے بعد اپنی کاوشوں کوہم آہنگ اور متشکل کرسکیں ۔
حضرت یوسف کہ جو روجہ مصر جیسی ہوس باز،حیلہ گر اور ہٹ دھرم عورت کے خلاف کامیاب ہوئے تھے ان کی کوشش تھی کہ قید خانے کے ماحول کو ارشاد و ہدایت اور تعلیم و تربیت کے مرکز میں بدل دیں یہاں تک کہ اپنی اور دوسروں کی آزادی کی بنیاد انہی پر و گراموں پر رکھ دیں ۔
یہ سرگزشت ہمیں یہ اہم درس دیتی ہے کہ ارشاد اور تعلیم و تربیت کسی معین مرکز مثلاً مسجد و مدرسہ میں محدود و محصور نہیں ہے بلکہ اس مقصد کے لیے ہر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔یہاں تک کہ قید خانے میں بھی اور اسیری کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کی حالت میں بھی ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قید کی مجموع مدت سات سال تھی لیکن بعض کا کہنا ہے کہ آپ قیدیوں کے خواب کے واقعہ سے پہلے پانچ سال قید میں رہے اور اس کے بعد بھی سات سال قید رہے ۔یہ بہت رنج و زحمت کے سال تھے لیکن ارشاد و ہدایت اور اصلاح و تربیت کے لحاظ سے بہت پر برکت تھے ۔(۳)
۲ ۔جہاد نیک سولی پر لٹکائے جاتے ہیں :
یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس داستان میں ہے کہ جس نے خواب میں دیکھا تھا کہ شراب کا جام بادشاہ تھما رہا ہے وہ رہا ہوگیا اور جس نے دیکھا کے روٹیوں کا طبق اس کے سر پر ہے اور فضا کے پرندے اسی میں سے کھارہے ہیں وہ سولی پر لٹکا دیا گیا ۔
کیا اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ فاسد اور گندے ماحول میں طاغوتی حکومتوں میں وہ لوگ آزاد ہیں جو اپنی شہوات کی راہ پر چلتے ہیں اور جو معاشرت کی خدمت ،مدد اور بھو کوں کو روٹی کھلانے کی کوشش کرتے ہیں وہ زندگی کا حق نہیں رکھتے ،ایسے لوگوں ما انجام موت ہے ۔
جس معاشرے پر خراب اور فاسد نظام حکمران ہو اس کی یہی کیفیت ہوتی ہے اور ایسے معاشرے میں اچھے اور برے لوگوں کی ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے ۔
۳ ۔ آزادی کا عظیم درس:
ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت یوسف (علیه السلام)نے قیدیوں کو جو سب سے بالا درس دیا ہے وہ توحید پرستی کا درس ہے ۔وہی درس کہ جس کا خلاصہ حریت و آزادی ہے ۔
وہ جانتے تھے کہ ”ارباب متفرقون“ منتشر مقاصد اور مختلف معبود ، تفرقہ اور پراگندگی کا سرچشمہ ہیں اور جب تک تفرقہ اور انتشار موجود ہے طاغوت اور جابر افراد لوگوں پر مسلط ہیں گے لہٰذا آپعليهالسلام نے ان کی جڑ کاٹنے کا حکم دیا اور اس کے لیے توحید کی شمشیر برّاں سے کام لینے کے لیے کہا تا کہ آزادی کو صرف خواب میں نہ دیکھے رہیں بلکہ عالم بیداری میں دیکھیں ۔
لیکن جابر اور ستمگر لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوتے ہیں اگر چہ وہ کم ہوتے ہیں مگر تفرقہ بازی اور نفاق سے کام لیتے ہیں ۔یہ لوگ ”ارباب متفرقون“ کے ذریعے معاشرے کی طاقت کومنتشر کودیتے ہیں اور اس طرح عوام کی عظیم کثرت پر حکومت کرنا ان کے لئے ممکن ہوجاتا ہے ۔
جس دن قومیں توحید اور وحدتِ کلمہ کی طاقت سے آشنا ہوں گی اور سب لوگ ”الله واحد القھار“ کے پرچم تلے جمع ہوں گے اور اپنی عظیم قوت کا ادراک کرلیں گے وه دن جابروں اور ستمگروں کی نابودی کا دن ہوگا، یہ درس ہمارے آج کے لئے ، ہمارے کل کے لئے تمام انسانی معاشروں کے لئے اور پوری تاریخ کے سب انسانوں کے لئے بہت اہم ہے ۔
خصوصاً اس نکتے کی طرف توجہ ضروری ہے کہ یوسفعليهالسلام کہتے ہیں حکومت مخصوص ہے خدا کے لئے ”( إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّٰهِ ) “ اور اس کے بعد تالکید کرتے ہیں کہ پرستش، خضوع اور تسلیم بھی صرف اسی کے حکم کے سامنے ہونا چاہیے( اٴَمَرَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ ) پھر تاکید کرتے ہیں کہ مستقیم اور مستحکم آئین اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں( ذٰلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ ) ۔
لیکن آپعليهالسلام نے اس کا انجام بھی بتادیا کہ ان سب چیزوں کے باوجود افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں( وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُونَ ) ۔ لہٰذا اگر لوگ صحیح تربیت وآگہی حاصل کریں اور ان میں حقیقتِ توحید زندہ ہوجائے تو ان کی یہ ساری مشکلات حل ہوجائیں ۔
۴ ۔ایک اصلاحی شعار سے سوء استفادہ:
”( إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّٰهِ ) “ قرآن کا ایک مثبت شعار ہے اور یہ تعرہ الله کی حکومت اور الله تک پہنچنے والی حکومت کے علوہ ہر حکومت کی نفی کرتا ہے، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تاریخ کے ایک طویل دَور میں اس سے عجیب وغریب غلط فائدہ اٹھایا گیا ہے، ان میں سے جیسا کہ ہم جانتے ہیں نہروان کے خوارج بھی تھے، یہ بہت ظاہر بین، جامدِفکر، احمق اور بدسلیقہ لوگ تھے ۔ جنگ صفین کے موقع پر یہ لوگ حکیمت اور تحکیم کی نفی کے لئے اس شعار سے چمٹ گئے اور کہنے لگے کہ جنگ ختم کرنے یا خلیفہ معین کرنے کے لئے حکم کا تعین گناہ ہے کیونکہ خدا کہتا ہے: ”( إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّٰهِ ) “(حکومت وحکمیت خدا سے مخصوص ہے)۔
وہ اس واضح مسئلے سے غافل تھے یا انھوں نے اپنے آپ کو غافل بنالیا تھا کہ اگر حکمیت کا تعین پیشواوں کی طرف سے ہو۔ وہ پیشوا کہ جن کے رہبر کا حکم خدا کی طرف سے صادر ہو تو ان کا حکم بھی حکم خدا ہے کیونکہ آخرکار یہ حکم اس تک جاپہنچا ہے ۔
یہ ٹھیک ہے کہ جنگ صفین کے موقع پر حکم (اور فیصلہ کرنے والوں کا تعین) حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے نہیں ہوا تھا لیکن اگر ایسا ہوتا تو اُن کا حکم حکم، علیعليهالسلام کا حکم اور پیغمبرِ اکرم کا حکم پیغمبرِ اکرم کا حکم خدا کا حکم ہے ۔
اصولی طور پر کیا خدا براہِ راست انسانی معاشرے پر حکومت اور قضاوت کرتا ہے؟ کیا اس کے لئے اس کے علاوہ کوئی صورت ہے کہ نوعِ انسانی میں سے کچھ افراد۔ البتہ فرمانِ خدا سے اس امر کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیں ؟
لیکن خوارج نے اس واضح حقیقت کی طرف توجہ کیے بغیر اصلاً حضرت علی علیہ السلام پر واقعہ حکمیت اور تحکیم کے بارے اعتراض کیا، یہاں تک کہ اسے معادذ الله آپعليهالسلام کے اسلام سے انحراف کی دلیل سمجھا، افسوس ہے ۔ اس خود خواہی، جہالت اور جمود پر۔
ایسے اصلاحی پروگرام جب جاہل ونادان افراد کے ہاتھ جاپڑیں تو بد ترین تباہ کن وسائل میں بدل جاتے ہیں ۔
آج بھی وہ گروہ کہ در حقیقت خوارج کی نفسیات رکھتے ہیں اور جہالت اور ہٹ دھرمی میں اس سے کم نہیں مندرجہ بالا آیت کو مجتہدین کی تقلید کی نفی یا ان سے صلاحیتِ حکومت کی نفی پر دلیل سمجھتے ہیں ۔ لیکن ان سب کا جواب مندرجہ بالا سطور میں دیا جاچکا ہے ۔
____________________
۱۔ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۲۔ مجمع البیان، ج ۵ ص ۲۳۵۔
۳۔ مزید وضاحت کے لئے تفسیر المنار،, قرطبی، المیزان اور تفسیر کبیر کی طرف رجوع کریں ۔
غیر خدا کی طرف توجہ
توحید کا خلاصہ اور معنی طرف یہ نہیں کہ خدا یگانہ ویکتا ہے بلکہ توحید پرستی کو انسان کے تمام پہلووں میں عملی صورت اختیار کرنا چاہیے اور اس کی روشن ترین نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ موحّد انسان غیرِ خدا پر بھروسہ نہیں کرتا اور اس کے غیر کی پناہ نہیں لیتا ۔
مَیں یہ نہیں کہتا کہ عالمِ اسباب کی پرواہ نہیں کرتا اور زندگی میں وسیلے اور سبب سے کام نہیں لیتا بلکہ مَیں کہتا ہوں کہ تاثیرِ حقیقی کو سبب میں نہیں سمجھتا بلکہ تمام اسباب کا سرا ”مسبب الاسباب“ کے ہاتھ میں جانتا ہے، دوسرے لفظوں میں اسباب کے لئے استقلال کا قائل نہیں ہے اور ان سب کو ذاتِ پاک پروردگار کا پڑتو سمجھتا ہے، ہوسکتا ہے اس عظیم حقیقت سے عدمِ واقفیت عام لوگوں کے بارے چشم پوشی کے قابل ہو لیکن اولیائے حق کے لئے اس بنیاد سے سرِمُو بے توجہی مستوجبِ سزا ہے، اگرچہ اس کی حیثیت ترکِ اولیٰ سے زیادہ نہیں ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ اس سے حضرت یوسفعليهالسلام کی لحظہ بھر کی بے توجہی سے ان کی قید کی مدت طویل ہوگئی تاکہ حوادث کی بھٹی میں وہ زیادہ پختہ اور آبدیدہ ہوجائیں اور طاقت اور طاغوتیوں کے خلاف جہاد کے لئے زیادہ ہوجائیں اور جان لیں کہ اس راستے میں الله کی قوت وطاقت پر بھروسہ کرنا ہے اور ان محروم اور ستم رسیدہ لوگوں پر بھروسہ کرنا ہے جو الله کی راہ میں قدم اٹھاتے اور یہ اس راہ کے تمام راہیوں اور سچّے مجاہدین کے لئے ایک عظیم درس ہے کہ جو ایک شیطان کی سرکوبی کے لئے اپنے اندر دوسرے یطان کی محبت کو داخل نہیں ہونے دیتے، وہ مشرق ومغرب کی طرف نہیں جھکتے اور صراطِ مستقیم کہ جو امتِ وسط کی شاہراہ ہے اس کے علاوہ کسی راستے پر قدم نہیں رکھتے ۔
آیات ۴۳،۴۴،۴۵،۴۶،۴۷،۴۸،۴۹
۴۳( وَقَالَ الْمَلِکُ إِنِّی اٴَریٰ سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَاٴْکُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَاٴُخَرَ یَابِسَاتٍ یَااٴَیُّهَا الْمَلَاٴُ اٴَفْتُونِی فِی رُؤْیَای إِنْ کُنتُمْ لِلرُّؤْیَا تَعْبُرُونَ )
۴۴( قَالُوا اٴَضْغَاثُ اٴَحْلَامٍ وَمَا نَحْنُ بِتَاٴْوِیلِ الْاٴَحْلَامِ بِعَالِمِینَ )
۴۵( وَقَالَ الَّذِی نَجَا مِنْهُمَا وَاِدَّکَرَ بَعْدَ اٴُمَّةٍ اٴَنَا اٴُنَبِّئُکُمْ بِتَاٴْوِیلِهِ فَاٴَرْسِلُونِی )
۴۶( یُوسُفُ اٴَیُّهَا الصِّدِّیقُ اٴَفْتِنَا فِی سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَاٴْکُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَاٴُخَرَ یَابِسَاتٍ لَعَلِّی اٴَرْجِعُ إِلَی النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُونَ )
۴۷( قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِینَ دَاٴَبًا فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِی سُنْبُلِهِ إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تَاٴْکُلُونَ )
۴۸( ثُمَّ یَاٴْتِی مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَاٴْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تُحْصِنُونَ )
۴۹( ثُمَّ یَاٴْتِی مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیهِ یَعْصِرُونَ )
ترجمہ
۴۳ ۔ بادشاہ نے کہا: میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں انھیں سات دبلی پتلی گائیں کھارہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور سات خشک شدہ خوشے ہیں (اور خشک شدہ خوشے سبز خوشوں پر لپٹے ہوئے ہیں اور انھیں ختم کردیا ہے) اے سردار! اگر تم خواب کی تعبیر کرسکتے ہو تو میرے خواب کے بارے میں کوئی نقطہ نظر پیش کرو۔
۴۴ ۔ انھوں نے کہا یہ تو خوابِ پریشان ہیں اور ہم اس قسم کی خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے ۔
۴۵ ۔ ان دو افراد میں سے ایک جسے نجات مل گئی تی اسے ایک مدت کے بعد یاد آیا، کہنے لگا: میں تمھیں اس کی تعبیر بتاوں گا، مجھے (اس قیدی جو ان کے پاس ہے) بھیج دو۔
۴۶ ۔ یوسف! اے بہت سچّے! اس خواب کے بارے میں رائے دو کہ سات موٹی تازی گائیں انھیں ساتھ دبلی پتلی گائیں کھارہی ہیں اور سات سبز خوشے ہیں اور ساتھ خشک شدہ خوشے ہیں ، تاکہ مَیں لوگوں کے پاس لوٹ جاوں اور وہ آگاہ ہوں ۔
۴۷ ۔ اس نے کہا: سات سال تک خوب محنت سے کاشت کاری کرو اور جو کچھ کاٹو اس میں سے تھوڑی سی مقدار کھالو اور باقی کو خوشوں میں رہنے دو (اور ذخیرہ کرلو)۔
۴۸ ۔ اس کے بعد سات سال سخت (خشکی اور قحط کے) آئیں گے کہ جو کچھ تم نے ان کے لئے ذخیرہ کیا ہوگا اسے کھالیں گے مگر قدر قلیل کہ جو تم (بیج کے لئے) بچاوگے پاوگے ۔
۴۹ ۔ اس کے بعد ایک سال آئے گا کہ لوگوں کو خوب بارش نصیب ہوگی اور اس سال (رس پھل اور روغن دار دانے) پائیں گے ۔
بادشاہِ مصر کا خواب
حضرت یوسف علیہ السلام سات برس تک قید خانے میں تنگی وسختی میں ایک فراموش شدہ انسان کی طرح رہے، وہ خود سازی، قیدیوں کو ارشاد وہدایت، بیماروں کی عیادت اور دردمندوں کی دلجوئی میں مصروف رہے، یہاں تک کہ ایک ظاہراً چھوٹا سا واقعہ رونما ہوا جس نے نہ صرف ان کی بلکہ مصر اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کی سرنوشت کو بدل کے رکھ دیا ۔
بادشاہِ مصر کہ جس کا نام کہا جاتا ہے کہ ولید بن ریان تھا (اور عزیر مصر اس کا وزیر تھا) نے ایک خواب دیکھا یہ ظاہراً ایک پریشان کن خواب تھا، دن چڑھا تو اس نے خواب کی تعبیر بتانے والوں میں اور اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور کہنے لگا: مَیں نے خواب دیکھا ہے کہ سات کمزور سی گائیں ہیں اور سات موٹی تازی گائیں ہیں اور دبلی پتلی گائیں ان پر حملہ آور ہوئی ہیں اور انھیں کھارہی ہیں ، نیز سات ہرے بھرے اور سات خشک شدہ خوشے ہیں اور خشک شدہ خوشے سبز خوشوں پر لپٹ گئے ہیں اور انھیں ختم کردیا ہے( وَقَالَ الْمَلِکُ إِنِّی اٴَریٰ سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَاٴْکُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَاٴُخَرَ یَابِسَاتٍ ) ۔
اس کے بعد اس نے ان کی طرف روئے سخن کیا اور کہنے لگا: اے میرے سردار! میرے خواب کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بیان کرو اگر تم خواب کی تعبیر بتاسکتے ہو( یَااٴَیُّهَا الْمَلَاٴُ اٴَفْتُونِی فِی رُؤْیَای إِنْ کُنتُمْ لِلرُّؤْیَا تَعْبُرُونَ ) ۔ لیکن سلطان کے حواریوں نے فوراً کہا کہ یہ خوابِ پریشان ہیں اور ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے( قَالُوا اٴَضْغَاثُ اٴَحْلَامٍ وَمَا نَحْنُ بِتَاٴْوِیلِ الْاٴَحْلَامِ بِعَالِمِینَ ) ۔
”اضغاث“ ”ضغث“ (بروزن ”خرص“ )کسی جمع ہے، اس کا معنی ہے لکڑیوں ، خشک گھاس، سبزی یا کسی اور چیز کا گھٹا ۔
”احلام“ ”حلم“ پریشان اور خلط ملط خوابوں کے معنی میں ہے ، یعنی مختلف چیزوں کے مختلف گھٹے لفظ ”احلام“ کو جو ”( مَا نَحْنُ بِتَاٴْوِیلِ الْاٴَحْلَامِ بِعَالِمِینَ ) “ میں الف لامِ ع۔ہد کے ساتھ آیا ہے اس طرف اشارہ ہے کہ ہم ایسے خوابوں کی تعبیر نہیں کرسکتے ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ان کا اظہار عجز حقیقتاً اس بناپر تھا کہ چونکہ اس خواب کا حقیقی مفہوم ان پر واضح نہیں تھا لہٰذا انھوں نے اسے خوابِ پریشاں قرار دیا کیونکہ ان کے نزدیک خوابوں کی دو قسمیں تھی ایک بامعنی وبامفہوم خواب کہ جو قابل تعبیر تھے اور دوسری خوابِ پریشان اور بے معنی خواب کہ جن کی تعبیر ان کے پاس کوئی نہ تھی ایسے خوابوں کو وہ قوتِ خیال کی فعالیت کا نتیجہ سمجھتے تھے جبکہ اس کے برخلاف پہلی قسم کے خوابوں کو وہ روح کے عالمِ غیب سے اتصال کا نتیجہ سمجھتے تھے ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ وہ اس خواب کو آئندہ کے پریشان کن حوادث کی دلیل سمجھ رہے تھے لیکن جیسا کہ بادشاہوں اور طاقتوں کے حاشیہ نشینوں کا طریقہ ہے وہ انھیں صرف وہی امور بتلاتے ہیں کہ جو شاہی مزاج کے لئے باعثِ انبساط ہوا اور جو چیز ان کی ”ذات مبارک“ کو مضطرب کردے اس کا ذکر نہیں کرتے، ایسی جابر اور ظالم حکومتوں کے زوال اور بدبختی کی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔
یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ انھوں نے کس طرح جرئت کی شاہِ مصر کے سامنے اس رائے کا اظہار کریں کہ وہ اسے خواب پریشان دیکھنے کا الزام دیں جبکہ ان حاشیہ نشینوں کا معمول یہ ہے کہ وہ ان کی ہر چھوٹی بڑی اور بے معنی حرکت کے لئے کوئی فلسفہ گھڑتے ہیں اور بڑی معنی خیز تفسیریں کرتے ہیں ۔
یہ ہوسکتا ہے کہ یہ اس لئے ہو کہ انھوں نے دیکھا تھا کہ بادشاہ یہ خواب دیکھ کر پریشان ومضطرب ہے اور وہ پریشانی میں حق بجانب بھی تھا کیونکہ اس نے خواب دیکھا تھا کہ کمزور اور لاغر گائیں توانا اور موٹی تازی گاوں پر حملہ آور ہوتی ہیں اور انھیں کھا رہی ہیں اور یہی صورت خشک خوشوں کی تھی، کیا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کمزور لوگ اچانک اس کے ہاتھ سے حکومت چھین لیں گے، لہٰذا انھوں بادشاہ کے دل کا اضطراب دور کرنے کے لئے اسے خواب پریشاں قرار دے دیا، یعنی پریشانی کی کوئی بات نہیں ، یہ کوئی خاص معاملہ نہیں ہے، ایسے خواب کسی چیز کی دلیل نہیں ہوتے ۔
بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ”اضغاث احلام“ سے ان کی مراد یہ نہ تھی کہ تیرے خواب کی کوئی تعبیر نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ یہ ایک پیچیدہ سا خواب ہے مختلف امور اس میں جمع ہوگئے ہیں اورذ ہم تو صرف ایک قسم کے خوابوں کی تعبیر کرسکتے ہیں نہ کہ اس قسم کے خوابوں کی، لہٰذا انھوں نے اس بات کا انکار نہیں کیا کہ ممکن ہے کوئی ماہر استاد مل جائے اور وہ اس کی تعبیر بیان کرسکے البتہ انھوں نے خود اظہارِ عجز کیا ہے ۔
اس موقع پر بادشاہ کا ساقی کہ جو چند سال قبل قید خانے سے آزاد ہوا تھا، اسے قید خانے کا خیال آیا، اُسے یاد آیا کہ یوسف اس خواب کی تعبیر بیان کرسکتے ہیں ، اس نے بادشاہ کے حاشیہ نشینوں کی طرف رُخ کرکے کہا: مَیں تمھیں اس خواب کی بتا سکتا ہوں ، مجھے اس کام کے ماہر استاد کے پاس بھیجو کہ جو زندان میں پڑا ہے تاکہ تمھیں بالکل صحیح خبر لاکر دوں( وَقَالَ الَّذِی نَجَا مِنْهُمَا وَاِدَّکَرَ بَعْدَ اٴُمَّةٍ اٴَنَا اٴُنَبِّئُکُمْ بِتَاٴْوِیلِهِ فَاٴَرْسِلُونِی ) ۔ جی ہاں ! اس گوش زندان میں ایک روشن ضمیر، صاحبِ ایمان اور پاک دل انسان زندگی کے دن گزار رہا ہے کہ جس کا دل حوادثِ آئندہ کا آئینہ ہے، وہ ہے کہ جو اس راز سے پردہ اٹھا سکتا ہے اور خواب کی تعبیر بیان کرسکتا ہے ۔
لفظ ”فَاٴَرْسِلُونِی “ (مجھے بھیج دو) ہوسکتا ہے اس طرف اشارہ ہے کہ قید خانے میں حضرت یوسفعليهالسلام سے ملاقات پر پابندی ہو اور وہ بادشاہ اور اس کے حواریوں سے اس کی اجازت لینا چاہتا ہو۔
اس کی اس بات نے محفل کی کیفیت ہی بدل دی، سب کی آنکھیں ساقی پر لگ گئیں ، آخرکار اسے اجازت ملی اور حکم ملا کہ جتنی جلدی ہوسکے اس کام کے لئے نکل کھڑا ہو اور جلد نتیجہ پیش کرے، ساقی زندان میں آیا اور اپنے پرانے دوست یوسفعليهالسلام کے پاس پہنچا، وہی دوست یوسفعليهالسلام کہ جس سے بڑی بے وفائی کی گئی تھی لیکن شاید وہ جانتا تھا کہ اس کی عظمت سے توقع نہیں کہ وہ دفتر شکایت کھول یٹھے ۔
اس نے حضرت یوسفعليهالسلام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: یوسف! اے سراپا صداقت! اس خواب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو کہ کسی نے دیکھا ہے سات لاغر گائیں موٹی تازی کو کھارہی ہیں ، نیز سات ہرے خوشے ہیں اور سات خشک شدہ (کہ جن میں سے دوسرا پہلے سے لپٹ گیا ہے اور اسے نابود کردیا ہے)( یُوسُفُ اٴَیُّهَا الصِّدِّیقُ اٴَفْتِنَا فِی سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَاٴْکُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَاٴُخَرَ یَابِسَاتٍ ) ۔ شاید مَیں اس طرح ان لوگوں کے پاس لوٹ کے جاوں تو وہ اس خواب کے اسرار سے آگاہ ہوسکیں( لَعَلِّی اٴَرْجِعُ إِلَی النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُونَ ) ۔
لفظ ”الناس“ ہوسکتا ہے اس طرف اشارہ ہو کہ چاپلوس حاشیہ نشینوں کے ذریعے بادشاہ کا خواب اس وقت کے ایک اہم واقعے کے طور پر لوگوں میں پھیل چکا تھا اور اس پریشانی کو دربار سے عام لوگوں تک کھینچ لائے تھے ۔
بہرحال حضرت یوسف علیہ السلام نے بغیر کسی شرط کے اور بغیر کسی صلے کے تقاضے کے فوراً خواب کی واضح اور نہایت اعلیٰ تعبیر بیان کی، اس میں آپ نے کچھ چھپائے بغیر درپیش تاریک مستقبل کے بارے میں بتیا ساتھ ہی اس کے لئے راہنمائی کردی اور ایک مرتب پرگرام بتادیا، آپعليهالسلام نے کہا: سات سال پیہم محنت سے کاشت کاری کرو کیونکہ ان سات برسوں میں بارش خوب ہوگی لیکن جو فصل کاٹو اسے خوشوں سمیت انباروں کی صورت میں جمع کرلو سوائے کھانے کے لئے جو تھوڑی سی مقدار ضروری ہو( قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِینَ دَاٴَبًا فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوهُ فِی سُنْبُلِهِ إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تَاٴْکُلُونَ ) ۔(۱)
لیکن جان لو کہ ان سات برسو کے بعد سات برس خشک سالی،بارش کی کمی اور سختی کے آئیں گے کہ جن میں صرف اس ذخیرے سے استفادہ کرنا ہوگا جو گزشتہ سالوں میں کیا ہوگا،ورنہ ہلاک ہوجاو گے( ثُمَّ یَاٴْتِی مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَاٴْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ ) ۔
البتہ خیال رہے کہ خشکی اور قحط کے ان سات سالوں میں تمام ذخیر ہ شدہ گندم نہ کھا جانا بلکہ کچھ مقدار بیج کے طور پر آئندہ کاشت کے لئے رکھ چھوڑنا کیونکہ بعد کا سال اچھا ہوگا( إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تُحْصِنُونَ ) ۔
اگر خشک سالی اور سختی کے یہ سال تم سوچے سمجھے پروگرام اور پلان کے تحت ایک ایک کرکے گزار لو تو پھر تمھیں کوئی خطرہ نہیں ۔اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا خوب باران رحمت ہوگی اور لوگ اس آسمانی نعمت سے خوب بہرہ مند ہوں گے ۔( ثُمَّ یَاٴْتِی مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیهِ یُغَاثُ النَّاس ) ۔
اس سے نہ صرف زراعت اور اناج کا مسئلہ حل ہوجائے گا بلکہ رَس دار پھل اور روغن دار دانے بھی فراواں ہوں گے کہ لوگ جن سے رَس اور روغن حاصل کریں گے( وَفِیهِ یَعْصِرُونَ ) ۔
____________________
۱۔ ”داٴب “ (بروزن ”مصر“) در اصل مسلسل چلتے رہنے کے معنی میں ہے اور مستقل عادت کے معنی میں بھی آیا ہے، لہٰذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ تم اپنی عادت کے مطابق زرا میں زراعت کو زیارہ اہمیت دیتے ہو، اسے معمول کے مطابق جاری رکھو لیکن اسے ہاتھ روک کر استعمال کر، یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ مراد یہ تھی جتنی ہوسکے زراعت میں محنت کرو کیونکہ ”داٴب ودؤب “ خشکی ومحنت کے معنی میں بھی آیا ہے یعنی اتنا کام کرو کہ تھک جاو۔
چند اہم نکات
۱ ۔ جچی تُلی تعبیر:
حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بیان کی وہ کس قدر جچی تلی تھی ۔قدیمی کہانیوں میں گائے سال کا سنبل سمجھی جاتی تھی اور اس کا توانا ہونا فراواں نعمت کی دلیل ہے جبکہ لاغر ہونا مشکلات اور سختی کی دلیل ہے ۔سات لاغر گائیں سات تونا گاوں پر حملہ آور ہوئیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سختی کے سات سالوں میں قبل کے سالوں کا ذخائر سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔اور سات خشک شدہ خوشے جو سات سبز خوشوں سے لپٹ گئے تویہ فراوانی نعمت اور خشک سالی کے دو مختلف ادوار کے لیے ایک اور دلیل تھی ۔اس میں اس نکتے کا اضافہ تھا کہ اناج کو خوشوں کی شکل میں ذخیرہ کیا جانا چاہیئے تاکہ جلد خراب نہ ہو اور سات برس تک چل سکے ۔
نیز یہ کہ لاغر گائیں اور خشک شدہ خوشے سات سات سالوں کے بعد نہ تھے یہ امر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان سخت سات سالوں کے بعد یہ کیفیت ختم ہوجائے گی اور فطری طور پر بیج کی فکر بھی کرنا چاہیے اور ذخیرے کا کچھ حصہّ اس کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے ۔
حضرت یوسفعليهالسلام در حقیقت کہ عام تعبیر خواب بیان کرنے والے شخص نہ تھے بلکہ ایک رہبر تھے کہ جو گوشہ زندان میں بیٹھے ایک ملک کے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کررہے تھے اور انھیں کم از کم پندرہ برس کے لیے مختلف مراحل پر مشتمل ایک پلان دے رہے تھے اور جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ یہ تعبیر جو آئندہ کے لئے منصوبہ بندی اور راہنمائی پر مشتمل تھی نے جابر بادشاہ اور اس کے حواریوں کو ہلا کے رکھ دیا اور اہل مصر کے ہلاکت خیز قحط سے نجات مل گئی ۔
۲ ۔ قدرت الہی کا عظیم مظہر:
یہ داستان ہمیں پھر یہ عظیم درس دیتی ہے کہ قدرت الہی اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا کہ ہم سوچتے ہیں ۔ خدا وہ ہے کہ جو ایک دور کے جابر حکمران کے ایک معمولی سے خواب کے ذریعے ایک بہت بڑی ملت کو ایک عظیم مصیبت سے نجات عطا کردے اور ساتھ ہی ایک خاص بندے کو بھی سالہا سال کی مصیبت سے رہائی دے دے ۔
اس سارے معاملے میں ضروری تھا کہ بادشاہ خواب دیکھے ۔ وہ خواب بیان کرے تو ساقی موجود ہو اور یہ بھی کہ اسے قید خانے میں دیکھا ہوا اپنا خواب یاد آجائے اور آخر کار اہم واقعات رونما ہوں ۔ خدا وہ ہے کہ جو ایک چھوٹے سے عظیم واقعات پیدا کردیتا ہے ۔ جی ہاں !ہمیں ایسے خدا سے دل باندھنا چاہیے ۔
۳ ۔ علمِ تعبیرِ خواب۔ حضرت یوسفعليهالسلام کا معجزہ:
اس سورہ میں متعدد خوابوں کا ذکر ہوا ہے حضرت یوسفعليهالسلام کا خواب اور فرعون مصر کا خواب۔ یہ تمام خواب اس بہت زیادہ اہمیت کی نشاندہی کرتے ہیں جو اس زمانے کے لوگ تعبیر خواب کو دیتے تھے ۔ اصولاً اس زمانے میں علم تعبیر خواب زمانے کی پیش رفت کے علوم میں سے شمار ہوتا تھا ۔ شاید اسی وجہ سے اس زمانے کے پیغمبر یعنی حضرت یوسفعليهالسلام اس علم میں درجہ کمال پر فائز تھے کہ جو در اصل ایک معجزہ شمار ہوتا تھا ۔
کیا ایسا ہی نہیں کہ ہر پیغمبر کا معجزہ اپتے زمانے کے ترقی یافتہ ترین میں سے ہونا چاہیے تا کہ اس کے مقابلے میں اس زمانے کے علماء عاجز ہو کر یقین حاصل کریں کہ اس علم کا سرچشمہ علوم الہی ہے نہ کہ انسانی اور بشری ۔
آیات ۵۰،۵۱،۵۲،۵۳
۵۰( وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِهِ فَلَمَّا جَائَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلیٰ رَبِّکَ فَاسْاٴَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِی قَطَّعْنَ اٴَیْدِیَهُنَّ إِنَّ رَبِّی بِکَیْدِهِنَّ عَلِیمٌ )
۵۱( قَالَ مَا خَطْبُکُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ یُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتْ امْرَاٴَةُ الْ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ اٴَنَا رَاوَدتُّهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِینَ )
۵۲( ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اٴَنِّی لَمْ اٴَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَاٴَنَّ اللهَ لَایَهْدِی کَیْدَ الْخَائِنِینَ )
۵۳( وَمَا اٴُبَرِّءُ نَفْسِی إِنَّ النَّفْسَ لَاٴَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّی إِنَّ رَبِّی غَفُورٌ رَحِیمٌ )
ترجمہ
۵۰ ۔ بادشاہ نے کہا: اسے میرے پاس لے او لیکن جب اس کا فرستادہ اس (یوسف) کے پاس آیا تو اس نے کہا: اپنے صاحب کے پاس واپس جاو اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا ماجرا کیا تھا جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹے تھے بے شک میرے خدا نے مجھے ان کے مکر وفریب سے آگاہ کیا ہے ۔
۵۱ ۔ (بادشاہ نے ان عورتوں کو بلوایا اور) کہا: جب تم نے یوسف کی اپنی طرف دعوت دی تھی تمھیں کیا معاملہ پیش آیا تھا ۔ انھوں نے کہا: حاشَ لِلّٰہ! ہم نے اس میں کوئی عیب نہیں دیکھا ۔ (اس موقع پر) زوجہ نے کہا: اس وقت حق آشکارا ہوگیا، وہ مَیں ہی تھی جس نے اسے اپنی طرف دعوت تھی اور وہ سچّوں میں سے ہے ۔
۵۲ ۔ یہ بات مَیں نے اس لئے کہی ہے کہ تاکہ وہ جان لے کہ مَیں نے اس کی غیبت میں اس سے خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنے والوں کی مکاری چلنے نہیں دیتا ۔
۵۳ ۔ مجھے ہرگز اپنے نفس کی برأت کا اعلان نہیں کرنا کیونکہ (سرکش) نفس تو بدیوں پر اُکساتا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے، میرا پروردگا غفور ورحیم ہے ۔
یوسف ہر الزام سے بری ہوگئے
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے شاہِ مصر کے خواب کی جو تعبیر بیان کی وہ اس قدر جچی تُلی اور منطقی تھی کہ اس نے بادشاہ اور اس کے حاشیہ نشینوں کو جذب کرلیا، بادشاہ نے دیکھا کہ ایک غیرمعروف قیدی نے کسی مفاد کی توقع کے بغیر اس کے خواب کی مشکل بغیر کس بہترین طریقے سے بیان کردی ہے اور ساتھ ہی آئندہ کے لئے نہایت جچا تُلا پروگرام بھی پیش کردیا ہے ۔
اجمالاً اس نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی غلام قیدی نہیں ہے بلکہ غیر معلولی شخصیت ہے کہ جو کسی پر اسرار ماجرے کے باعث قید میں ڈلا گیا ہے لہٰذا اُسے اس کے دیدار کا شوق پیدا ہوا لیکن ایسا نہیں کہ سلطنت کا غرور ایک طرف رکھ کر وہ دیدارِ یوسف کے لئے چل پڑے بلکہ اس نے حکم دیا کہ ”اسے میرے پاس لے او“( وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِهِ ) ۔
لیکن جب اس کا فرستادہ یوسفعليهالسلام کے پاس آیا تو بجائے اس کے یوسفعليهالسلام اس خوشی میں پھولے نہ سماتے کہ سالہا سال قید خانے کے گڑھے میں رہنے کے بعد اب نسیم آزادی چل رہی ہے، آپعليهالسلام نے بادشاہ منفی جواب دیا اور کہا کہ مَیں اس وقت تک اس زندان سے باہر نہیں اوں گا جب تک کہ تُو اپنے مالک پاس جاکر اس سے یہ نہ پوچھے کہ وہ عورتیں جنھوں نے تیرے وزیر ( مصر) کے محل میں اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے، ان کا ماجرا کیا تھا( فَلَمَّا جَائَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلیٰ رَبِّکَ فَاسْاٴَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِی قَطَّعْنَ اٴَیْدِیَهُنَّ ) ۔
وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایسے ہی جیل سے رہا ہوجائیں اور بادشاہ کی طرف سے معافی کی رسوائی قبول کرلیں ، وہ نہیں چاہتے تھے کہ آزادی کے بعد وہ بادشاہ کی طرف سے معاف کئے گئے ایک بار مجرم یا کم از کم ایک ملزم کی صورت میں زندگی بسر کریں ، وہ چاہتے تھے کہ سب سے پہلے ان کی قید کے سبب کے بارے میں تحقیق ہو اور ان کی بے گناہی اور پاکدامنی پوری طرح درجہ ثبوت کو پہنچ جائے اور برأت کے بعد وہ سربلندی سے آزاد ہوں اور ضمناً حکومتِ مصر کی مشینری کی آلودگی بھی ثابت ہوجائے اور یہ ظاہر ہوجائے کہ اس کے وزیر کے دربار میں کیا گزرتی ہے ۔
جی ہاں ! وہ اپنے عز و شرف کو آزادی سے زیادہ اہمیت دیتے تھے اور یہی ہے حریت پسندوں کا راستہ۔
یہ امر جاذب توجہ ہے کہ حضرت یوسفعليهالسلام نے اپنی گفتگو میں اس قدر عظمت کا مظاہرہ کیا کہ یہاں تک تیار نہ ہوئے کہ مصر کی بیوی کا نام لین کہ جو اُن پر الزام لگانے اور جیل بھینے کا اصلی عامل تھی بلکہ مجموعی طور پر زنانِ مصر کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا کہ جو اس ماجرا میں دخیل تھیں ۔
اس کے بعد آپعليهالسلام نے مزید کہا: اگرچہ اہلِ مصر نہ جانیں اور یہاں تک دربارِ سلطنت بھی بے خبر ہو کہ منصوبہ کیا تھا اور کن افراد کی وجہ سے پیش آیا ”میرا پروردگار ان کے مکر وفریب اور منصوبہ سے آگاہ ہے“( إِنَّ رَبِّی بِکَیْدِهِنَّ عَلِیمٌ ) ۔
شاہ کا خاص نمائندہ اس کے پاس لوٹ آیا اور یوسفعليهالسلام کی تجویز بیان کی ۔ یہ تجویز کہ جس سے عالی ظرفی اور بلند نظری جھلکتی تھی، بادشاہ نے سنی تو وہ یوسفعليهالسلام کی بزرگواری سے بہت زیادہ متاقر ہوا ۔ لہٰذا اس نے فوراً اس ماجرے میں شریک عورتوں کو بلا بھیجا ۔ وہ حاضر ہوئیں توان سے مخاطب ہوکر کہنے لگا: بتاؤ میں دیکھوں کہ جب تم نے یوسفعليهالسلام سے اپنی خواہش پورا کرنے کا تقاضا کیا تو اصل معاملہ کیا تھا( قَالَ مَا خَطْبُکُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ یُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ ) ۔
سچ کہنا ، حقیقت بیان کرنا کہ کیا تم نے اس میں کوئی عیب، تقصیر اور گناہ دیکھا ہے؟
ان کے خوابیدہ ضمیر اس سوال پر اچانک بیدار ہوگئے اور سب نے متفقہ طور پر یوسفعليهالسلام کی پاکدامنی کی گواہی دی اور کہا: منزہ ہے خدا، ہم نے یوسفعليهالسلام میں کوئی گناہ نہیں دیکھا( قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوءٍ ) ۔
مصر کی بیوی وہاں موجود تھی ۔ بادشاہ اور زنان مصر کی باتیں سن رہی تھی بغیر اس کے کہ کوئی اس سے سوال کرے، ضبط نہ کرسکی، اس نے محسوس کیا کہ اب وہ موقع آگیا ہے کہ ضمیر کی سالہا سال کی شرمندگی کی یوسف کی پاکیزگی اور اپنی گنہگاری کے اظہار سے تلافی کرے ۔ خصوصاً جبکہ اس نے یوسف کی بے نظیر عظمت کو اس پیغام میں جو انہوں نے بادشاہ کو بھیجا تھا دیکھ لیا کہ پیغام میں انہوں نے اس کے بارے میں تھوڑی سی بات بھی نہیں کی اور اشارتاً صرف زنانِ مصر کے بارے میں بات کی ہے ۔ اس کے اندر گویا ایک ہلچل مچ گئی وہ چیخ اٹھی: اب حق آشکار ہوگیا ہے ۔ میں نے اس سے خواہش پوری کرنے کا تقاضا کیا تھا، وہ سچا ہے اور میں نے اس کے بارے میں اگر کوئی بات کی ہے تو وہ جھوٹ تھی، بالکل جھوٹ تھی( قَالَتْ امْرَاٴَةُ الْ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ اٴَنَا رَاوَدتُّهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِینَ ) ۔
زوجہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: میں نے یہ صریح اعتراف اس بناء پر کیا ہے تاکہ یوسف کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کے بارے میں خیانت نہیں کی( ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ اٴَنِّی لَمْ اٴَخُنْهُ بِالْغَیْبِ ) ۔
کیونکہ اتنی مدت میں اور اس سے حاصل ہونے والے تجربات کے بعد میں نے سمجھ لیا ہے کہ خدا خیانت کرنے والوں کے مکر و فریب کو چلنے نہیں دیتا( وَاٴَنَّ اللهَ لَایَهْدِی کَیْدَ الْخَائِنِینَ ) ۔
(اگر چہ یہ جملہ مصر کی بیوی کا ہے، جیسا کہ ظاہر عبارت کا تقاضا ہے تو) در حقیقت اس نے یوسف کی پاکیزگی اور اپنی گنہگاری کے صریح اعتراف کے لیے دو دلیلیں قائم کیں :
پہلی یہ کہ اس کا ضمیر اور احتمالاً یوسفعليهالسلام سے اس باقی ماندہ لگاؤ اسے اجازت نہیں دیتا کہ حق کی اب وہ اس سے زیادہ پردہ پوشی کرے اور عدم موجود گی میں اس پاکدامنی نوجوان سے خیانت کرے اور
دوسری یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ اور درس عبرت حاصل کرنے کے بعد یہ حقیقت اس پر واضح ہوگئی کہ خدا پاک اور نیک لوگوں کا حامی و مددگار ہے اور کبھی بھی خیانت کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیتا اور اسی لیے محلوں کی پُر خواب زندگی کے پردے آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹ گئے اور وہ زندگی کی حقیقتوں کو سمجھنے لگی ۔ خصوصاً عشق میں شکست نے اس کے افسانوی غرور پر جو ضرب لگائی اس سے اس کی نگاہِ حقیقت اور کھل گئی ۔
اس حالت میں تعجب کی بات نہیں کہ وہ اس طرح کا صریح اعتراف کرے ۔
اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا: میں ہرگز اپنے نفس کی برأت کا اعلان نہیں کرتی کیونکہ میں جانتی ہوں کہ یہ نفس امارہ مجھے برائیوں کا حکم دیتا ہے( وَمَا اٴُبَرِّءُ نَفْسِی إِنَّ النَّفْسَ لَاٴَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ ) ۔
”مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے“ اور اس کی حفاظت اور نصرت و مدد کے باعث بچ جاؤں( إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّی ) ۔
بہر حال اس گناہ پر میں اس سے عفو و بخشش کی امید رکھتی ہوں ”کیونکہ میرا پروردگار غفور و رحیم ہے“( إِنَّ رَبِّی غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔
بعض مفسّرین نے آخری دو آیتوں کو حضرت یوسفعليهالسلام کی گفتگو سمجھا ہے اورکہا ہے کہ یہ دونوں آیتیں در حقیقت اس پیغام کا آخری حصہ ہیں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کے فرستادہ شخص کے ذریعے اسے بھیجا اور وہ ان آیات کا معنی یہ کرتے ہیں : اگر میں مصر کی عورتوں کے بارے میں تحقیق کا تقاضا کرتا ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بادشاہ (یا اس کا وزیر غزیز مصر) جان لے کہ میں نے زوجہ غزیز کے معاملے میں اس سے کوئی خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کرنے والوں کا مکر و فریب چلنے نہیں دیتا اس کے باوجد میں اپنی برأت کا اعلان نہیں کرتا کیونکہ نفسِ سرکش تو انسان کو برائی کا حکم دیتا ہے مگر یہ کہ خدا رحم کرے کیونکہ میرا پروردگار غفور و رحیم ہے ۔
ظاہراً اس مخالفِ ظاہر تفسیر کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے زوجہ مصر کی اس قدر دانش و معرفت کو قبول نہیں کرنا چاہا کہ وہ ایسے مخلصانہ لہجے میں بات کرے کہ جو عبرت آموزی اور بیداری کی حکایت کرے، حالانکہ بعید نہیں کہ انسان کی زندگی میں جب اس کا پاؤں کسی پتھر سے ٹھوکر کھائے تو اس میں بیداری، احساسِ گناہ اور ندامت کی ایسی کیفیت پیدا ہوجائے ۔ خصوصاً جبکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عشقِ مجازی میں شکست انسان پر عشق حقیقی (عشق الٰہی) کا راستہ کھول دیتی ہے ۔
اور آج کے علم نفسیات (تصید)کی تعبیر میں ”شدید جذبات جب ملامت سے دوچار ہوتے ہیں تو اوپر کی طرف اٹھتے ہیں اور ختم ہوئے بغیر اعلیٰ ترین شکل کے بارے میں منقول ہیں وہ بھی اس عبرت آموزی اور بیداری کی دلیل ہیں “۔
علاوہ ازیں ان دو آیات کو حضرت یوسفعليهالسلام سے مربوط کرنا اس قدر بعید اور خلافِ ظاہر ہے کہ جو کسی بھی ادبی معیار پر پورا نہیں اترتا ۔ کیونکہ:
اولاً”ذلک“ کہ جو زوجہ ہی کی گفتگو ہے اور اسے کلامِ یوسف سے نتھی کرنا بہات ہی عجیب ہے کہ جو گزشتہ آیات میں فاصلے پر آیا ہے ۔
ثانیاً اگر یہ آیات کلامِ یوسف ہوں تو اس میں ایک طرح کا تضاد پیدا ہوگا کیونکہ ایک طرف تو یوسف کہتے ہیں کہ میں نے کصر سے کوئی خیانت نہیں کی اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ میں اپنے آپ کو بری نہیں کرتا نفسِ سرکش برائیوں کا حکم دیتا ہے ۔ ایسی بات تو وہی شخص کہہ سکتا ہے جس سے کوئی لغزش سرزد ہوئی ہو اگر چہ وہ چھوٹی ہی کیوں نہ ہو جبکہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت یوسف سے کوئی لغزش سرزد نہیں ہوئی ۔
ثالثاً اگر مراد یہ ہے کہ غزیز مصرجان لے کہ وہ بے گناہ ہیں تو وہ تو شروع ہی میں (شاہد کی گواہی کے بعد)اس حقیقت کو جان چکا تھا اور اگر مراد یہ ہے کہ ”میں نے شاہ سے خیانت نہیں کی“ تو اس معاملے کا شاہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور یہ عذر پیش کرنا کہ وزیر کی بیوی سے خیانت جابر بادشاہ سے خیانت ہے تو ایک کمزور اور مہمل عذر معلوم ہوتا ہے خصوصاً جبکہ درباری لوگ عام طور پر ان مسائل کی پابندی نہیں کرتے ۔
خلاصہ یہ کہ آیات کا ربط نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تمام باتیں مصر کی بیوی نے کی تھیں کہ جو کچھ عبرت حاصل کرچکی تھی اور تھوڑی بہت بیدار ہوچکی تھی لہٰذا اس نے ان حقائق کا اعتراف کرلیا ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ پاکیزگی اور دشمن کا اعتراف:
واقعہ یوسف کے اس حصّے میں ہم نے دیکھا ہے کہ آخر کار ان کے یب سے بڑے دشمن نے ان کی پاکیزگی کا اعتراف کرلیا اور اپنی گنہگاری اور ان کی بیگناہی کا بھی اعتراف کرلیا ۔ یہ ہے تقویٰ، پاکبازی اور گناہ سے پرہیز کا انجام اور یہ ہے اس فرمان کا مفہوم کہ:( وَمَنْ یَتَّقِ اللهَ یَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَیَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَایَحْتَسِبُ )
جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے خدا اس کےلیے راہِ کشائش کھول دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے کہ جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا ۔(طلاق ۔ ۲ ۔ ۳)
یعنی ۔ تو پاک رہ اور پاکیزگی کی راہ اختیار کر، استقامت دکھا، خدا اجازت نہیں دے گا کہ نا پاک لوگ تیری حیثیت کو برباد کرسکیں ۔
۲ ۔ کبھی شکست بھی بیداری کا سبب بن جاتی ہے:
کبھی ناکمیاں بھی بیداری کا سبب بن جاتی ہیں بلکہ بہت سے مواقع پر ظاہراً شکست ہوتی ہے لیکن در حقیقت وہ ایک طرح کی معنوی کامیابی شمار ہوتی ہے ۔ ایسی ہی ناکامیاں انسان کی بیداری کا سبب بن جاتی ہیں اور غرور و غفلت کے پردوں کو چاک کردیتی ہیں اور انسان کی زندگی میں احساس کی بیداری کی بنیاد بن جاتی ہیں ۔
مصر می بیوی (کہ جس کا نام ”زلیخا“ یا ”راعیل“ تھا)اگر چہ اپنے معاملے میں بدترین ناکامیوں میں مبتلا ہوئی لیکن گناہ کے اس راستے پر اس کی یہ ناکامیاں اس کے متنبہ اور بیدار ہونے کا باعث بن گئیں ۔ اس کا خوابیدہ ضمیر بیدار ہوگیا اور وہ اپنے برے کردار پر پشیمان ہوئی اوراس نے درگاہِ الٰہی کی طرف رخ کرلیا ۔ احادیث میں جو واقعہ حضرت یوسفعليهالسلام سے اس کی ملاقات کے بارے میں ہے، جبکہ یوسف مصر ہوگئے، وہ بھی اس دعویٰ کی دلیل ہے ۔ لکھا ہے کہ زلیخا نے حضرت یوسفعليهالسلام کی طرف روئے سخن کرکے کہا:
الحمد للّٰه الذی جعل البعید ملوکا بطاعته و جعل الملوک عبیداً بمعصیته
”حمد ہے اس خدا کی جس نے غلاموں کو اپنی اطاعت کی بناپر بادشاہ بنادیا اور بادشاہوں کو اپنی نافرمانی کے باعث غلام بنادیا ۔
اس حدیث کے آخر میں ہے کہ آخر کار حضرت یوسفعليهالسلام نے اس کے ساتھ شادی کرلی“۔(۱)
وہ لوگ خوش بخت ہیں جو ناکامیوں سے فتح حاصل کرلیتے ہیں اور اپنے اشتباہات اور غلطیوں سے زندگی کی صحیح راہ تلاش کرلیتے ہیں اور سیاہ بختیوں میں نیک بختی کو پالتے ہیں ۔
البتہ سب لوگ شکست پر ایسے ردِّ عمل کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ کم ظرف لوگ شکست کے موقع پر یاس و ناامیدی کی اتھاہ گہرائیوں میں جا پڑتے ہیں اور بعض اوقات وہ خودکشی تک جا پہنچتے ہیں جو کہ کامل شکست ہے لیکن وہ لوگ کہ جو کچھ ظرف کے حامل ہوتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ ناکامی کو اپنی کامیابی کا زینہ قرار دیں ۔
۳ ۔ شرفِ انسانی ظاہری آزادی سے بہتر ہے:
ہم نے دیکھا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نہ صرف اپنی پاکدامنی کی حفاظت کے لیے قید خانے میں گئے بلکہ اعلانِ آزادی کے بعد بھی قید خانہ چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے یہاں تک کہ بادشاہ کا نمائندہ خالی ہاتھ لوٹ گیا اس لیے کہ پہلے مصر کی عورتوں سے یوسف کے بارے میں کافی تحقیق کی جائے اور اس کے بے گناہی ثابت ہوجائے تاکہ وہ عزت و آبرو کے ساتھ قید خانے سے آزاد ہوں نہ کہ ایک آلودہ مجرم، بے حیثیت انسان اور شاہ کے معاف کیے ہوئے شخص کے طور پر کہ جو خود ایک عظیم ننگ و عار ہے ۔
اور یہ تمام گزشتہ، آج کے اور کل کے انسانوں کے لیے ایک عظیم درس ہے ۔
۴ ۔ نفسِ سرکش:
علماء اخلاق نے نفس (انسانی جذبات، میلانات اور احساسات) کو تین مراحل میں تقسیم کیا ہے کہ جن کی طرف قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے ۔
پہلا ”نفس امارہ“، نفس سرکش ہے کہ جو انسان کو گناہ کی ترغیب دیتا ہے اور اسے ہر طرف کھینچتا ہے اس لیے اسے ”امّارہ“کہتے ہیں ۔ اس مرحلے میں ابھی عقل و ایمان اتنا قوی نہیں ہوتا کہ نفس سرکش کو لگام دے سکے بلکہ اکثر اوقات اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیتا ہے یا اس سے دست و گریبان ہو تو نفسِ سرکش اسے پٹخ دیتا ہے اور شکست دے دیتا ہے ۔
اسی مرحلے کی طرف مذکورہ بالا آیات میں زوجہ مصر کی گفتگو میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہی انسان کی تمام تر بدبختیوں کا سرچشمہ ہے ۔
دوسرا ”نفس لوامہ“ہے ۔ اس مرحلے پر انسان تعلیم و تربیت اور مجاہدہ سے پہنچتا ہے ۔ اس مرحلے میں ہو سکتا ہے انسان بعض اوقات غرائز اور جذبات کے طغیان کے نتیجے میں غلیطیوں اور گناہوں کا مرتکب ہو لیکن فوراً پشیمان ہوجاتا ہے اور اپنے آپ کو ملامت شروع کردیتا ہے اور اس طرح ممکن ہے وہ گناہ کی تلافی کا عزم کرے اور قلب و روح کو آپ توبہ سے پاک کرلے ۔ دوسرے لفظوں میں عقل اور نفس کے مقابلے میں کبھی عقل کامیاب ہوجاتی ہے اور کبھی نفس۔ بہرحال عقل و ایمان کا پلڑا بھاری رہتا ہے ۔
البتہ اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے جہاد اکبر ضروری ہے ۔ اس مرحلے میں کافی ریاضت، مکتبِ استاد میں تربیت، ارشادِ الٰہی اور سنت آئمہ سے الہام لینا لازمی ہے ۔
اس مرحلے کی قرآن مجید نے سورہ قیامت میں قسم کھائی ہے کہ جو اس کی عظمت کی دلیل ہے:
( لَااٴُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَةِ وَلَااٴُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ )
قسم ہے روز قیامت کی اور سرزنش کرنے والے نفس کی ۔
تیسرا ”نفسِ مطمئنہ“ ہے ۔ یہ وہ مرحلہ ہے کہ جس تک انسان قلب و روح کی صفائی، تہذیب اور کامل تربیت کے بعد پہنچتا ہے ۔ اس میں سرکش غرائز رام ہوجاتے ہیں اور ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور عقل و ایمان کے مقابلے کی تب نہیں رکھتیں ۔ یہی سکون و اطمینان کا مرحلہ ہے ایسا سکون و اطمینان کہ جو عظیم بحرِ اوقیانوس پر حکومت کرتا ہے وہ سمندر کہ سخت طافانوں پر بھی جن کی جبین پر شکن نہیں پڑتی ۔
یہ انبیاء اولیاء اور ان کے سچے پیروکاروں کا مقام ہے ۔ وہ لوگ کہ جنہوں نے مرد ان خدا کے مکتب میں ایمان و تقویٰ کا درس حاصل کیا ہے، سالہا سال تہذیب نفس کی ہے اور جہادِ اکبر کے آخری مرحلے تک آپہنچے ہیں ۔
اسی مرحلے کی طرف قرآن مجید نے سورہ فجر میں اشارہ کیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے:
( یَااٴَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ، ارْجِعِی إِلَی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَرْضِیَّةً، فَادْخُلِی فِی عِبَادِی، وَادْخُلِی جَنَّتِی )
اے مطمئن و باسکون نفس اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آکہ تو بھی اس سے خوش اور وہ بھی تجھ سے راضی ہے اور میرے خاص بندوں کے زمرے میں داخل ہوجا اور میری جنت میں قدم رکھ۔
پروردگارا! ہماری مدد فرما کہ ہم تیرے قرآن کی نورانی آیات کے زیر سایہ ”نفس امارہ“ سے ”نفس لوامہ“اور اس سے ”نفس مطمئنہ“ کی طرف ارتقا کریں ۔ اور ایک مطمئن اور پر سکون روح پیدا کریں کہ جسے طوفانِ حوادث متزلزل و مضطرب نہ کرسکے اور ہم دشمنوں کے مقابلے میں قوی تر ہوں ، دنیا کی رنگینیوں سے بے اعتناء ہوں اور سختیوں میں صابر و بردبار ہوں ۔
بار الٰہا اب جبکہ ہمارے اسلامی انقلاب کو ڈیڑھ برس سے زیادہ عرصہ گزررہا ہے متاسفانہ ہمارے فوجیوں میں اختلاف کی نشانیاں ظاہر ہو رہی ہیں ۔ ایسی نشانیاں کہ جنہوں نے اسلام کے تمام شیدائیوں ، انقلاب کے فدائیوں اور شہداء کے خون کے پاسداروں کو پریشان کر رکھا ہے ۔(۲)
خداوندا! ہم سب کو ایسی عقل عطا فرما کہ ہم سرکش ہوا وہوس پر کامیاب ہوں اور اگر ہم غلطظ پر ہیں تو توفیق و ہدایت کے روشن چراغ سے ہماری راہ کو منور فرما ۔
الٰہی! ہم نے یہاں تک کا راستہ اپنے قدموں سے طے نہیں کیا بلکہ ہر مرحلے میں تمھارا رہبر و رہنما تھا ۔ اپنا لطف و کرم ہم سے دور کر اور اگر تیری ان سب نعمتوں کی ناشکری تیری سزا کے استحقاق کا موجب بنی ہے تو اس سے پہلے کہ ہم سزا و غذاب میں گرفتار ہوں ، ہمیں بیدار فرما ۔
آمین یا رب العالمین
____________________
۱۔ سفینہ، ج ۱،ص ۵۵۴
۲۔ فوج میں جس اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ سابق صدر ایران بنی صدر کا پیدا کردہ تھا جو اس کی معزولی کے بعد دور ہوگیا ۔(مترجم)
فہرست
سورہ هود ۴
مضامین اور فضیلت ۴
اس سورة نے مجھے بوڑھا کردیا ۴
اس سورة کی معنوی تاثیر ۶
آیات ۱،۲،۳،۴ ۷
دعوت انبیاء کے چار اہم اصول ۷
دین ودُنیا کا رشتہ ۱۱
آیت ۵ ۱۲
شان نزول ۱۲
تفسیر ۱۲
آیت ۶ ۱۴
سب اسی کے مہمان ہیں ۱۴
چند اہم نکات ۱۴
تقسیمِ رزق اور زندگی کے لئے سعی وکوشش ۱۶
آیت ۷ ۲۱
مقصدِ خلقت ۲۱
آیات ۸،۹،۱۰،۱۱ ۲۵
مومن عالی ظرف اور بے ایمان کم ظرف ہوتے ہیں ۲۵
چند توجّہ طلب نکات ۲۷
۱ ۔ امتِ معدودہ اور یارانِ مہدی علیہ السلام: ۲۷
۲ ۔ کوتاہ فکری کے چار مظاہر ۲۸
۳ ۔ کم ظرفی کی انتہا ۲۹
۴ ۔ تمام نعمات عطیہ وبخشش ہیں ۲۹
۵ ۔ اعمالِ نیک کے اثرات ۲۹
آیات ۱۲،۱۳،۱۴ ۳۰
شان نزول ۳۰
قرآن ایک معجزہ جادواں ۳۱
چند اہم نکات ۳۲
۱۔ آیت ”لعلّ“ کا مفہوم: ۳۲
۲ ۔ آیات الٰہی کی تبلیغ میں تاخیر؟ ۳۳
۳ ۔ آیت میں ”اَم“ کا معنی: ۳۳
۴ ۔ معجزہ طلبی کا جواب: ۳۴
۵ ۔ قرآن کا چیلنج ۳۴
۶ ۔ پورا قرآن، دس سورتیں یا ایک سورت : ۳۵
۷ ۔ ” ( إِنْ لَّمْ یَسْتَجِیبُوا لَکُمْ ) “ کے مخاطب: ۳۷
آیات ۱۵،۱۶ ۳۸
تفسیر ۳۸
۱ ۔ ایک اشکال کی وضاحت: ۳۹
۲ ۔ دنیا کی زینتیں ۴۰
۳ ۔ ”حبط“ کے بعد لفظ ”باطل“ ۴۰
۴ ۔ ایک حدیث: ۴۱
آیت ۷ ۴۳
تفسیر ۴۳
۱ ۔ آیت میں ”شاھد“ سے مراد ۴۵
۲ ۔ صرف تورات کی طرف اشارہ کیوں ؟ ۴۷
۳ ۔ ” ( فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ ) “میں مخاطب: ۴۷
آیات ۱۸،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲ ۴۹
سب سے زیادہ زیاں کار ۵۰
آیات ۲۳،۲۴ ۵۴
تفسیر ۵۴
دو قابلِ توجہ نکات ۵۴
۱ ۔ تین مربوط حقائق: ۵۴
۲۔ ” ( اٴَخْبَتُوا ) “ کا مفہوم : ۵۵
آیات ۲۵،۲۶،۲۷،۲۸ ۵۷
حضرت نوح عليهالسلام کی قوم کی ہلا دینے والی سرگزشت ۵۷
انبیاء کے لفظ ”نذیر“ ۵۸
حضرت نوح کے جوابات ۶۱
آیات ۲۹،۳۰،۳۱ ۶۳
صاحبِ ایمان افراد کودھتکارا نہیں جاسکتا ۶۳
چند قابل توجہ نکات ۶۶
۱ ۔ علمِ غیب اور خدا کے خاص بندے ۶۶
۲ ۔ معیارِ فضیلت ۶۸
۳ ۔ ایک اشکال کی وضاحت ۶۸
آیات ۳۲،۳۳،۳۴،۳۵، ۶۹
کہاں ہے عذاب؟ ۶۹
ایک سوال اور اس کا جواب ۷۱
۱ ۔ ” ( إِجْرَام ) “کا مفہوم: ۷۲
۲ ۔ آخری آیت کس کے بارے میں ہے؟ ۷۲
۳ ۔ ایک وضاحت: ۷۳
آیات ۳۶،۳۷،۳۸،۳۹ ۷۵
معاشرے کو پاک کرنے کا مرحلہ ۷۵
چند قابل توجہ نکات ۷۸
۱ ۔ معاشرے کی پاکیزگی نہ کہ انتقام: ۷۸
۲متکبرین کی نشانیاں : ۷۹
۳ ۔ حضرت نوح عليهالسلام کی کشتی: ۸۰
آیات ۴۰،۴۱،۴۲،۴۳ ۸۲
آغاز طوفان ۸۲
چند اہم نکات ۸۷
۱ ۔ کیا طوفان نوح عالمگیر تھا: ۸۷
۲ ۔ کیا نزول عذاب کے بعد توبہ ممکن ہے؟: ۸۸
۳ ۔طوفان نوح میں عبرت کے درس ۸۹
آیت ۴۴ ۹۴
ایک داستان کا اختتام ۹۴
کوہ جُودی کہاں ہے؟ ۹۵
آیات ۴۵،۴۶،۴۷ ۹۸
پسر نوح کا دردناک انجام ۹۸
چند قابل توجہ نکات ۹۹
۱ ۔ حضرت نوح (علیه السلام)کا بیٹا کیوں ”عمل غیر صالح “ تھا؟ ۹۹
۲ ۔ حضرت نوح عليهالسلام اپنے بیٹے کے بارے میں کیوں کر متوجہ نہ تھے؟ ۱۰۰
۳ ۔ جہاں رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ۱۰۱
۴ ۔دھتکارے ہوئے مسلمان: ۱۰۲
آیات ۴۸،۴۹ ۱۰۴
حضرت نوح عليهالسلام باسلامت اُتر آئے ۱۰۴
چند اہم نکات ۱۰۷
۱ ۔ انبیاء کے سچے واقعات ۱۰۷
۲ ۔انبیاء اور علم غیب ۱۰۸
۳ ۔ درس کی ہمہ گیری ۱۰۸
آیات ۵۰،۵۱،۵۲ ۱۰۹
بہادر بت شکن ۱۰۹
۱ ۔ تمام انبیاء کی دعوت کا خمیر توحید ہے ۱۱۲
۲ ۔سچے رہبر اپنے پیروکاروں سے جزا نہیں چاہتے ۱۱۲
۳ ۔ گناہ ۔معاشرے کی تباہی ۱۱۳
۴ ۔ ” ( یزدکم قوة الیٰ قوتکم ) “ سے کیامراد ہے؟ ۱۱۵
آیات ۵۳،۵۴،۵۵،۵۶،۵۷ ۱۱۶
حضرت ہود عليهالسلام کی قوی منطق ۱۱۶
دو اہم نکات ۱۱۹
۱ ۔ ”ناصیة“ کا مفہوم ۱۱۹
۲ ۔” ان ربی علیٰ صراط مستقیم“کا مطلب ۱۲۰
آیات ۵۸،۵۹،۶۰ ۱۲۲
اس ظالم قوم پر ۔ابدی لعنت ۱۲۲
۱ ۔ قوم عاد تاریخ کی نگاہ میں ۱۲۷
۲ ۔ قوم عاد پر ابدی لعنت ۱۲۸
آیت ۶۱ ۱۳۰
قوم ثمود کی داستان شروع ہوتی ہے ۱۳۰
قرآن اور ہمارے زمانے کا استعمار ۱۳۲
آیات ۶۲،۶۳،۶۴،۶۵ ۱۳۴
تفسیر ۱۳۴
ناقہ صالح ۱۳۶
مکتب کا رشتہ ۱۳۸
آیات ۶۶،۶۷،۶۸ ۱۴۱
قوم ثمود کا انجام ۱۴۱
چند اہم نکات ۱۴۳
۱ ۔ مومنین کے لئے رحمت الٰہی ۱۴۳
۲ ۔ ”صیحہ“ سے کیا مراد ہے ۱۴۳
۳ ۔ سزا صرف مادی پہلو سے نہیں ۱۴۴
۴ ۔” جاثمین“کا مفہوم ۱۴۴
۵ ۔ ”یغنوا“ کا مطلب ۱۴۵
آیات ۶۹،۷۰،۷۱،۷۲،۷۳ ۱۴۶
ابراہیم بت شکن کی زندگی کے کچھ حالات ۱۴۶
آیات ۷۴،۷۵،۷۶ ۱۵۲
تفسیر ۱۵۲
آیات ۷۷،۷۸،۷۹،۸۰ ۱۵۵
قوم لوط کی شرمناک زندگی ۱۵۵
چند قابل توجہ نکات ۱۵۹
۱ ۔ حضرت لوط عليهالسلام کی بیٹیاں : ۱۵۹
۲ ۔ ”اطھر“ کا مفہوم: ۱۶۰
۳ ۔ایک مرد رشید، کی نصیحت: ۱۶۰
۴ ۔ انحراف کی انتہا: ۱۶۰
۵ ۔ ”قوة“ اور ”رکن شدید“ کا مفہوم: ۱۶۱
آیات ۸۱،۸۲،۸۳ ۱۶۲
ظالموں کی زندگی کا اختتام ۱۶۲
چند قابل توجہ نکات ۱۶۶
۱ ۔ صبح کے وقت نزولِ عذاب کیوں ؟: ۱۶۶
۲ ۔ زیر وزبر کیوں کیا گیا: ۱۶۶
۳ ۔پتھروں کی بارش کیوں ؟: ۱۶۶
۴ ۔پتھر نشاندارکیوں تھے؟ ۱۶۷
۵ ۔ہم جنس کی طرف میلان کی حُرمت۔ ۱۶۷
ہم جنس پرستی کی حرمت کا فلسفہ ۱۷۰
قومِ لُوط کا اخلاق ۱۷۳
آیات ۸۴،۸۵،۸۶ ۱۷۴
حضرت شعیب عليهالسلام کی سرزمین۔ مدین ۱۷۴
آیات ۸۷،۸۸،۸۹،۹۰ ۱۷۹
ہٹ دھرموں کی بے بنیاد منطق ۱۷۹
آیات ۹۱،۹۲،۹۳ ۱۸۴
ایک دوسرے کو دھمکیاں ۱۸۴
آیات ۹۴،۹۵ ۱۸۷
مدین کے تباہ کاروں کا انجام ۱۸۷
شعیب عليهالسلام کی داستان میں تربیتی درس ۱۸۸
۱ ۔ اقتصادی مسائل کی اہمیت ۱۸۸
۲ ۔ نماز۔توحید اور پاکیزگی کی طرف دعوت دیتی ہے ۱۸۸
۳ ۔ خود بینی جمود کا باعث ہے ۱۸۹
۴ ۔ اصولوں کو تعصب پر قربان نہیں کرنا چاہئے ۱۸۹
۵ ۔ ایمان اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں ۱۹۰
۶ ۔بلا شرط اور لامحدود ملکیت فساد کا سرچشمہ ہے ۱۹۱
۷ ۔ انبیاء کا ہدف فقط اصلاح تھا ۱۹۱
آیات ۹۶،۹۷،۹۸،۹۹ ۱۹۲
فرعون کے ساتھ زبردست مقابلہ ۱۹۲
آیات ۱۰۰،۱۰۱،۱۰۲،۱۰۳،۱۰۴، ۱۹۶
تفسیر ۱۹۶
آیات ۱۰۵،۱۰۶،۱۰۷،۱۰۸ ۲۰۰
سعادت مند وشقاوت مندیا مشکلات؟ ۲۰۰
چند قابل توجہ نکات ۲۰۳
۱ ۔ جبر واکراہ کی نفی : ۲۰۳
۲ ۔ ”شقوا“ اور ”سعدوا“ میں ایک باریک فرق: ۲۰۵
۳ ۔ قرآن میں مسئلہ خلود: ۲۰۵
ایک اہم سوال اور اس کا جواب ۲۰۶
مطمئن نہ کرنے جوابات: ۲۰۶
حتمی جواب ۲۰۷
۴ ۔ زیرِ بحث آیا ت میں ”خلود“ کا معنی: ۲۱۰
۵ ۔ آیت میں استثناء کا کیا مفہوم ہے؟ ۲۱۱
۶ ۔ ”زفیر“ اور ”شھیق“ کا مفہوم: ۲۱۲
سعادت وشقاوت کے اسباب ۲۱۳
آیات ۱۰۹،۱۱۰،۱۱۱،۱۱۲ ۲۱۷
استقامت کا دامن تھامے رکھو ۲۱۷
پُر معنی اور روح فرسا آیت ۲۲۰
آیت ۱۱۳ ۲۲۳
ظالموں پر بھروسہ نہ کرو ۲۲۳
چند قابلِ توجہ نکات ۲۲۳
۱ ۔ ”رکون“ کا مفہوم: ۲۲۳
۲ ۔ کِن امور میں ظالموں سے وابستگی نہیں کرنی چاہیے: ۲۲۳
۳ ۔ ظالموں سے وابستگی کی حرمت کا فلسفہ: ۲۲۴
۴ ۔” ( الذین ظلموا ) “ سے مراد کون لوگ ہیں ؟ ۲۲۵
۵ ۔ ایک اشکال اور اس کی وضاحت: ۲۲۶
آیات ۱۱۴،۱۱۵ ۲۲۷
نماز اور صبر ۲۲۷
نماز کی انتہائی اہمیت ۲۲۹
قرآن کی نہایت امید افزا آیت ۲۳۰
آیات ۱۱۶،۱۱۷ ۲۳۴
معاشروں کی تباہی کا سبب ۲۳۴
”اولوا بقیة“ کون ہیں ؟ ۲۳۶
آیات ۱۱۸،۱۱۹ ۲۳۸
تفسیر ۲۳۸
چندنکات ۲۳۹
۱ ۔ ارادے کی آزادی ۔ اساس دعوت: ۲۳۹
۲ ۔ قرآنی آیات اور مقصد خلقت: ۲۴۰
۳ ۔ ایک نکتے کی وضاحت: ۲۴۱
آیات ۱۲۰،۱۲۱،۱۲۲،۱۲۳ ۲۴۲
گزشتگان کے واقعات کے مطالعہ کے چار اثرات ۲۴۲
چند قابل توجّہ نکات ۲۴۵
۱ ۔ علمِ غیب خدا سے مخصوص ہے: ۲۴۵
۲ ۔ عبادت خدا کے لئے مخصوص ہے: ۲۴۶
۳ ۔ تمام تر سیر وسلوک کا خلاصہ: ۲۴۶
سورہ یوسف ۲۴۸
چند ضروری امور ۲۴۸
۱ ۔ یہ سورہ کہاں نازل ہوئی؟ ۲۴۸
۲ ۔ سورہ کا مضمون: ۲۴۸
۳ ۔ یہ سورہ قرآن کا ایک اور اعجاز: ۲۴۹
حضرت ابراہیم (علیه السلام): ۲۴۹
حضرت نوح (علیه السلام): ۲۴۹
حضرت موسیٰ (علیه السلام): ۲۴۹
حضرت یوسف (علیه السلام): ۲۴۹
۴ ۔حضرت یوسف عليهالسلام کا واقعہ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد: ۲۴۹
۵ ۔ داستانِ یوسف ایک ہی جگہ کیوں بیان ہوئی؟ ۲۵۰
۶ ۔ سورہ یوسف کی فضیلت: ۲۵۱
آیات ۱،۲،۳ ۲۵۴
یہ داستان، ”احسن القصص“ ہے ۲۵۴
انسان کی زندگی پر اس داستان کا اثر ۲۵۸
آیات ۴،۵،۶ ۲۶۱
امید کی کرن اور مشکلات کی ابتدا ۲۶۱
اہم نکات ۲۶۵
۱ ۔ خواب دیکھنا: ۲۶۵
۱ ۔تفسیرمادی ۲۶۶
۲ ۔تفسیر روحانی ۲۶۷
چند خواب ۲۶۹
۲ ۔ ایک قابلِ اعتماد دوست نقل کرتا ہے : ۲۶۹
۲ ۔ حضرت یعقوب عليهالسلام نے تعبیرکیسے بتائی ۲۷۱
۳ ۔رازداری کا سبق ۲۷۲
آیات ۷،۸،۹،۱۰ ۲۷۴
بھائیوں کی سازش ۲۷۴
چند نکات ۲۷۸
۱ ۔” ( غیابات الجب ) “ کا مفہوم: ۲۷۸
۲ ۔ اس تجویز کا مقصد: ۲۷۸
۳ ۔ ” ( ان کنتم فاعلین ) “ کا مطلب: ۲۷۸
۴ ۔ کنویں والی تجویز کس نے پیش کی: ۲۷۸
۵ ۔انسانی زندگی میں حسد کے تباہ کن اثرات : ۲۷۸
۶ ۔ماں باپ کے لئے ایک سبق: ۲۸۰
آیات ۱۱،۱۲،۱۳،۱۴ ۲۸۲
منحوس سازش ۲۸۲
رُسوا کُن جُھوٹ ۲۸۶
ایک اور روایت کے مطابق : ۲۸۹
چند اہم نکات ۲۹۰
۱ ۔ ایک ترکِ اولیٰ کے بدلے ۲۹۰
۲ ۔ حضرت یوسف عليهالسلام کی دلکش دُعا ۲۹۳
۳ ۔” ( واجمعوا ان یجعلوه فی غیابت الجب ) “کا مفہوم ۲۹۵
۴ ۔ تسویلِ نفس سے کیا مراد ہے؟ ۲۹۵
۵ ۔ دروغ گو حافظہ ندارد ۲۹۵
۶ ۔ صبرِ جمیل کیا ہے؟ ۲۹۶
آیات ۱۹،۲۰ ۲۹۸
سرزمینِ مصر کی جانب ۲۹۸
آیات ۲۱،۲۲ ۳۰۲
مصر کے محل میں ۳۰۲
چند اہم نکات ۳۰۶
۱ ۔ مصر کا نام کیوں نہیں لیا گیا: ۳۰۶
۲ ۔ علم تعبیرِ خواب اور مصر کا محل: ۳۰۶
۳ ۔” بلوغ اشد“کیاہے ؟: ۳۰۸
۴ ۔ نعمات الٰہی انبیاء کو بھی حساب کتاب سے ملتی ہیں : ۳۰۹
آیات ۲۳،۲۴ ۳۱۰
مصر کی بیوی کا عشقِ سوزاں ۳۱۰
برہانِ پروردگار سے کیا مراد ہے؟ ۳۱۷
چند اهم نکات ۳۱۹
۱نفس سے جهاد: ۳۱۹
۲ ۔ اخلاص کی جزا ۳۲۱
۳ ۔ متین وپاکیزہ کلام ۳۲۲
آیات ۲۵،۲۶،۲۷،۲۸،۲۹ ۳۲۵
زوجہ مصر کی رسوائی ۳۲۵
چند اہم نکات ۳۲۹
۱ ۔ شاہد کون تھا؟ ۳۲۹
۲ ۔ مصر نے خفیف رِ عمل کیوں ظاہر کیا؟ ۳۲۹
۳ بحرانی لمحات میں نصرتِ الٰہی ۳۳۰
۴ ۔ مصر کی بیوی کا منصوبہ ۳۳۱
آیات ۳۰،۳۱،۳۲،۳۳،۳۴، ۳۳۲
زوجہ مصر کی ایک اور سازش ۳۳۳
چند اہم نکات ۳۳۹
۱ ۔ طاغوت کے پرانے ہتھکنڈے ۳۳۹
۲ ۔ تقویٰ یہ نہیں کہ- ۳۳۹
۳ ۔یوسف محفلِ زنان میں کیوں آئے؟ ۳۴۰
۴ ۔ ” ( یدعوننی الیه ) ” اور ” ( کیدهن ) “ کا مفہوم ۳۴۰
۵ ۔ یوسف عليهالسلام خدا کی پناہ میں ۳۴۰
آیات ۳۵،۳۶،۳۷،۳۸ ۳۴۲
بے گناہی کے پاداش میں قید ۳۴۳
آیات ۳۹،۴۰،۴۱،۴۲ ۳۴۸
قید خانہ یا مرکزِ تربیّت ۳۴۸
چند اہم نکات ۳۵۲
۱ ۔ قید خانہ مرکز ہدایت یا برائی کا دبستان: ۳۵۲
۲ ۔جہاد نیک سولی پر لٹکائے جاتے ہیں : ۳۵۳
۳ ۔ آزادی کا عظیم درس: ۳۵۳
۴ ۔ایک اصلاحی شعار سے سوء استفادہ: ۳۵۴
غیر خدا کی طرف توجہ ۳۵۶
آیات ۴۳،۴۴،۴۵،۴۶،۴۷،۴۸،۴۹ ۳۵۷
بادشاہِ مصر کا خواب ۳۵۸
چند اہم نکات ۳۶۲
۱ ۔ جچی تُلی تعبیر: ۳۶۲
۲ ۔ قدرت الہی کا عظیم مظہر: ۳۶۲
۳ ۔ علمِ تعبیرِ خواب۔ حضرت یوسف عليهالسلام کا معجزہ: ۳۶۳
آیات ۵۰،۵۱،۵۲،۵۳ ۳۶۴
یوسف ہر الزام سے بری ہوگئے ۳۶۴
چند اہم نکات ۳۶۸
۱ ۔ پاکیزگی اور دشمن کا اعتراف: ۳۶۸
۲ ۔ کبھی شکست بھی بیداری کا سبب بن جاتی ہے: ۳۶۹
۳ ۔ شرفِ انسانی ظاہری آزادی سے بہتر ہے: ۳۷۰
۴ ۔ نفسِ سرکش: ۳۷۰
فہرست ۳۷۳