یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
تفسیر نمونہ جلد یازدہم
تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.
تعداد جلد: ۱۵جلد
زبان: اردو
مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)
تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری
سوره حجر
آیات ۱،۲،۳،۴،۵،
( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )
۱ ۔( الر تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِین ) ۔
۲ ۔( رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْ کَانُوا مُسْلِمِینَ ) ۔
۳ ۔( ذَرْهُمْ یَاٴْکُلُوا وَیَتَمَتَّعُوا وَیُلْهِهِمْ الْاٴَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُونَ ) ۔
۴ ۔( وَمَا اٴَهْلَکْنَا مِنْ قَرْیَةٍ إِلاَّ وَلَهَا کِتَابٌ مَعْلُومٌ ) ۔
۵ ۔( مَاتَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا یَسْتَاخِرُوْنَ ) ۔
ترجمہ
رحیم و رحمن خدا کے نام سے
۱ ۔ الٓر۔ یہ کتاب اور قرآن مبین کی آیات ہیں ۔
۲ ۔(جس وقت) کافر (اپنے اعمال کے برے آثار دیکھیں گے )کس قدر آرزو کریں گے ، کہ وہ مسلمان ہوتے ۔
۳ ۔ چھوڑو انھیں ۔ وہ کھالیں ، فائدہ اٹھالیں اور آرزوئیں انھیں غافل کردیں ، لیکن وہ بہت جلد سمجھ لیں گے ۔
۴ ۔ ہم نے کسی شہر و دیار ( کے باسیوں ) کو ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ وہ اجل معین ( اور تغیر ناپذیر زمانہ ) رکھتے تھے ۔
۵ ۔ کوئی گروہ اپنی اجل سے آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے ۔
تفسیر
بے بنیاد آرزوئیں
اس سورہ کی ا بتداء میں ہمیں پھر حروف مقطعات ( الف ۔ لام ۔ راء ) کا سامنا ہے ۔ یہ حروف واضح کرتے ہیں کہ آسمانی کتاب کہ جو ساری نوع انسانی کے لئے سعاد کا راستہ کھولنے والی انہی سادہ سے حروف الف ، باء سے ترتیب پائی ہے اس کاخام مال وہی ہے جو تمام افراد بشر یہاں تک کہ دو تین سالہ بچے کے اختیار میں بھی ہے یہ انتہائی اعجاز ہے کہ ایسے مصالحہ سے اس قسم کا بے نظیر محصول بنا یا جائے ۔
لہٰذا بلا فاصلہ فرمایا گیا ہے : یہ آسمانی کتا ب اور واضح کی آیات ہیں( الر تِلْکَ آیَاتُ الْکِتَابِ وَقُرْآنٍ مُبِین ) ۔
ہم جانتے ہیں کہ ”تلک “ دور کا اسم اشارہ ہے حالانکہ قاعدتاً یہاں ھٰذہ ہونا چاہئیے تھا ( کہ جو نزدیک کے لئے اسم اشارہ ہے ) لیکن جیسا ہ ہم کہہ چکے ہیں کہ عربی ادب میں ( بلکہ فارسی ادب میں بھی )بعض اوقات کسی عظمت بیان کرنے کے لئے دو کے اسم اشارہ سے استفادہ کیا جاتا ہے یعنی اس کی وہ عظمت ہے کہ گویا ہم سے بہت دور آسمانوں کے فاصلے پرہے ۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے بعض اوقات ایک بزرگ شخص کی موجودگی میں ہم کہتے ہیں کہ اگرآنجناب اجازت دیں تو ہم فلاں اقدام کریں یہاں ”آں “ (وہ ) کا لفظ ا س کے مقام کی عظمت بیان کرنے کے لئے ہے جیسا کہ ”نکرہ“ کی صورت میں قرآن کا ذکر بھی بیان ِ عظمت کے لئے ہے ۔
بہر حال ”کتاب “ کے بعد لفط ”قرآن “ کا آنا در حقیقت تاکید کے عنوان سے ہے اور لفظ ”مبین “ کے ذریعے اس کی توصیف اس لئے کی گئی ہے کیونکہ حقائق کو بیان کرنے والا اور حق کو باطل سے جدا کرکے واضح طور پر پیش کرنے والا ہے ۔
یہ جو بعض مفسرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ لفظ ” کتاب “ یہاں تورات اور انجیل کی طرف اشارہ ہے ۔ بہت بعید معلوم ہوتا ہے ۔
اس کے بعد ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جو ان واضح خدائی آیات کے بارے میں ہٹ دھرمی اور مخالفت میں اصرار کرتے ہیں ۔ فرمایا گیا ہے : ایک دن ایسا آئے گا کہ یہ لوگ اپنے منحوس کفر، اندھے تعصب اورہٹ دھرمی پرپشیمان ہوں گے اور ”کبھی یہ کار آرزو کریں گے کہ اے کاش ہم مسلمان ہوتے “( رُبَمَا یَوَدُّ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْ کَانُوا مُسْلِمِینَ ) ۔
جیسا کہ تفسیر المیزان میں ہے ؛ ”یود“ ( دوست رکھتا ہے ) سے مراد پسند کرنا، تمنا کرنا اور آرزو کرنا ہے اورلفظ”لو“ کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اسلام کی آرزو ایسے زمانے میں کریں گے جب وہ اس کی طرف نہیں آسکتے ہوں گے اور یہ خود اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ اس کی تمنا اور آرزو دوسرے جہان میں اپنے اعمال کے نتائج دیکھنے کے بعد کریں گے ۔
حضرت صادق علیہ السلام سے اس سلسلہ میں منقول حدیث بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہے ۔ آپ فرماتے ہیں :
ینادی مناد یوم القیامة یسمع الخلائق انه لا ید خل الجنة الا مسلم فثم یود سائر الخلائق انهم کانوا مسلمین
جب قیامت کا دن ہوگا تو کوئی اس طرح پکارے گا کہ تمام مخلوق ا س کی آواز سنے گی ، وہ کہے گا : (آج) جنت میں ان لوگوں کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوگا کہ جو اسلام لاچکے ہیں اس وقت سب لوگ آرزو اور تمنا کریں گے کہ اے کاش ہم مسلمان ہوتے ۔(۱)
نیز عظیم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے منقول ہے :
جس وقت دوزخی جہنم میں جمع ہوں گے اور مسلمانوں کے ایک گنہ گار گروہ کو ان کے ساتھ رکھا جائے گا تو کفار مسلمانون سے کہیں گے کہ کیا تم مسلمان نہیں تھے ۔ وہ جواب دیں گے کہ تھے تو سہی ۔ تو وہ کہیں گے کہ پھر تمہارا اسلام بھی تمہارے لئے فائدہ مند نہ ہوا ۔ کیونکہ تم بھی ہمارے ساتھ ایک ہی جگہ پر ہو ۔ وہ جواب دیں گے کہ ہم نے( بہت بڑے )گناہ کئے تھے کہ جن کے باعث ہم اس انجام کو پہنچے ہیں ( گناہ اور تقصیر کا یہ اعتراف اور دشمن کی وہ سر زنش سبب بنے گی کہ ) خدا وند عالم حکم دے گا کہ ہر وہ باایمان مسلمان کہ جوجہنم میں ہے اسے باہر نکالو ۔ تو اس وقت کفار کہیں گے کہ اے کاش ہم بھی اسلام لائے ہوتے۔(۲)
تفسیر طبرسی میں بی اسی مضمون کی چند احادیث زیر بحث آیت کے ذیل میں نقل ہوئی ہیں ۔
آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ کافروں میں ایسے افراد بھی ہیں کہ جن کا ضمیر ابھی بیدار ہے اور جب وہ پیغمبر ِ اسلام کی دعوت کو سنتے ہیں اور کتاب مبین کی آیات کے ان پیارے مضامین کو دیکھتے ہیں تو دل کی گہرائیوں سے ان کے گر ویدہ ہو جاتے ہیں اور آرزو کرتے ہیں کہ اے کاش ہم بھی اسلام لائے ہوتے ۔ لیکن تعصب ، ہٹ دھرمی یا مادی مفادات انھیں اجازت نہیں دیتے کہ اس عظیم حقیقت کو قبول کرلیں لہٰذاوہ اسی طرح کفر اور بے ایمانی کے قید خانے میں محصور رہ جاتے ہیں ۔
ہمارا ایک صاحب ایمان اور مجاہد دوست یورپ گیا تھا ۔ وہ بیان کرتا ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اسلام کی خوبیان ایک عیسائی کے سامنے شما کیں وہ ایک منصف مزاج آدمی تھا اس نے جواب میں کہا: میں شچ مچ تمہیں مبارکباد دیتا ہوں کہ ہم اس قسم کے مذہب کے پیروکار ہو ۔ لیکن میں کیا کرو ں ، میری زندگی کے حالات اجازت نہیں دیتے کہ میں اپنے مذہب سے دست بردار ہوجاؤں ۔
یہ بات ضاذب نظر ہے کہ بعض اسلامی روایات میں ہے کہ جس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قاصد آنحضرت کا خط لے کر قیصر روم کے پاس پہنچا تو اس نے خصوصیت کے ساتھ آپ کے قاصد کے سامنے اظہار ایمان کیا یہاں تک کہ وہ رومیوں کو اس دین توحید و اسلام کی دعوت دیتا چاہتا تھا ۔ اس نے سوچا کہ پہلے ان کی آزمائش کی جائے جن اس کی فوج نے محسوس کیاکہ وہ عیسائیت کو ترک کردینا چاہتا ہے ۔ تو اس نے اس کے قصر کا محاصرہ کرلیا ۔ قیصر نے ان سے فوراً کہاکہ میں تمہیں آزمانا چاہتا تھا اپنی جگہ واپس جاؤ۔
اس کے بعد اس نے رسول اللہ کے قاصد سے کہا : میں جانتا ہوں کہ تمہارا پیغمبر خدا کی طرف سے ہے اور وہی ہے جس کے ہم نتظر تھے لیکن میں کیا کروں کہ میں ڈرتا ہوں کہ میری حکومت ہاتھ سے نکل جائے گی اور میری جان بھی خبرے میں ہے ۔(۳)
توجہ رہے کہ ان دونوں تفسیروں میں آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ او رممکن ہے آیت کا اشارہ اس جہان میں بھی کفارے بعض گروہوں کی پشیمانی کی طرف ہواور اس جہان میں بھی ۔ جب کہ وہ مختلف حوالوں سے اس جہان میں لوٹ آنے کی قدرت رکھتے ہیں اور نہ اس جہان میں ( غور کیجئے گا) ۔
اس کے بعد قرآن بہت سر زنش کے لہجہ میں کہتا ہے : اے پیغمبر ! انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دے ( تاکہ چوپایوں کی طرح )کھاتے پھریں ۔ اس ناپائیدار زندگی کی لذتیں حاصل کرلیں اور آرزوئیں انھیں اس عظیم حقیقت سے غافل کردیں لیکن یہ بہت جلدی سمجھ جائیں گے( ذَرْهُمْ یَاٴْکُلُوا وَیَتَمَتَّعُوا وَیُلْهِهِمْ الْاٴَمَلُ فَسَوْفَ یَعْلَمُونَ ) ۔چونکہ یہ تو جانور ہیں جو اپنے اصطبل ، گھاس پھوس اور مادی لذّات کے سوا کچھ نہیں سمجھتے اور ان کی حرکتیں بس انہی چیزوں کے لئے ہیں ۔
غرور ، غفلت اور لمبی آرزؤں نے ان کے دلوں پر اس طرح سے پر دہ ڈال رکھا ہے اور انھیں اپنے میں ایسا مگن کر رکھا ہے کہ اب وہ ادراکِ حقیقت کی قدرت نہیں رکھتے ۔لیکن جب اجل کا طمانچہ ان کے منہ پر لگا ، غرور غفلت کے پردے ان کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹے اور انہوں نے اپنے آپ کو ااستانہ موت پر یا عرصہ قیامت میں پایا تو اس وقت سمجھیں گے کہ کس قدر غفلت میں تھے، کسی قدر زیاں کا اور بدبخت تھے اور کس طر ح انہوں نے اپنا قیمتی ترین سرمایہ خود اپنے ہاتھوں گنوا دیا ہے ۔
بعد والی آیت میں ، اس بناء پر کہیں وہ یہ گمان نہ کریں کہ یہ مہلت اور لذائذ ِدنیا سے بہرہ دری کا سلسلہ ختم ہو نے والا نہیں ، مزید ارشاد ہوتا ہے : ہم نے کسی گروہ کو کسی شہر میں نابود نہیں کیا مگر یہ کہ وہ اجلِ معین اور تغیرنا پذیر دور رکھتے تھے ۔
( وَمَا اٴَهْلَکْنَا مِنْ قَرْیَةٍ إِلاَّ وَلَهَا کِتَابٌ مَعْلُومٌ ) ۔
”کوئی امت اور جمیعت اپنی اجل معین سے تجاوز نہیں کرسکتی اور نہ کوئی پیچھے رہ سکتی ہے “( مَاتَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَمَا یَسْتَاخِرُوْنَ ) ۔
ہر جگہ یہی سنت الٰہی کار فرما رہی ہے کہ اس نے جدید نظر ، بیداری اور آگاہی کے لئے کافی مہلت دی ۔ اس نے دردناک حوادث سے بھی دور چار کیا اور وسائل ِ رحمت سے بھی نواز ۔ اس نے ڈرایا بھی اور شوق بھی دلا یا ۔وہ خطرے سے خبر دار کرتا ہے تاکہ سب پر حجت تمام ہو جائے ۔
مگر جب یہ مہلت تمام ہوتی ہے تو حتمی انجام انھیں آلیتا ہے ۔ دیر اور جلدی کا تربیتی مصالح کی خاطر ممکن ہے لیکن
کیا اسی حقیقت کی طرف توجہ کافی نہیں ہے تاکہ سب کے سب گذشتہ لوگوں کی سر نوشت سے عبرت حاصل کریں ، اور خدائی مہلت سے باز گشت اور اصلاح کے لئے استفادہ کریں کیا اب ہمیں بیٹھا رہنا چاہئیے تاکہ گذشتہ گمر اہ اور ظالم قوموں کا سا برا انجام ہمارے لئے بھی دہرایا جائے ۔ اور بجائے اس کے کہ ہم گذشتہ لوگوں سے عبرت حاصل کریں ، آنے والوں کے لئے عبرت بن جائیں ۔
ضمنی طور پر آخری دو آیات سے آیات ِ قرآن میں اور خود زیر بحث سورت میں گذشتہ لوگوں کی تاریخ بیان کرنے کا مقصد واضح ہو جائے ۔
____________________
۱۔مجمع البیان اور نور الثقلین میں یہ روایت محل بحث آیت کے ذیل میں عیاشی کے حوالے سے درج کی گئی ہے ۔
۲۔ مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔ نیز فخر رازی اپنی تفسیر میں اسی سے ملتی جلتی ایک حدیث نقل کی ہے ( البتہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ )
۳۔ مکاتیب الرسول جلد ۱ ص ۱۱۲۔
لمبی آروزئیں غفلت کا سبب ہیں
اس اس میں شک نہیں کہ امید وآرزو یا عربوں کی تعبیر میں ” امل “ انسان کے چرخ حیات کی حرکت کا عامل ہے یہاں تک کہ اگر اسے اہل دنیا کے دلوں سے صرف ایک دن کے لئے اٹھالیں تو نظامِ زندگی درہم برہم ہو جائے اوربہت کم افراد میں فعالیت ، سعی و کوشش اور جوش ِ عمل پیدا ہو ۔
اس سلسلے میں پیغمبر اکرم سے یہ مشہور حدیث منقول ہے :
الامل رحمة لامتی ولو لا الا مل لا رضعت والدة ولدها ولاغرس غارس شجرا ۔
امید میری امت کے لئے سایہ رحمت ہے اگر نورامید نہ ہوئی تو کوئی ماں اپنے بچے کو دودھ نہ پلائے ، اور کوئی باغبان پودانہ لگائے ۔(۱)
یہ حدیث بھی اسی عمل کی طرف اشارہ ہے لیکن حیات و حرکت کا عامل جب حد سے گذر جائے اور دور دراز کی آرزو کی شکل اختیار کرے تو انحراف و بد بختی کا بد ترین عامل ہے یہ بالکل آبِ باراں کی طرح کہ جو سببِ حیات ہے لیکن اگر حد سے بڑھ جائے تو غرقابی اور نابودی کا باعث ہوجائے ۔
یہی وہ ہلاکت خیز آرزو ہے جس کا ذکر زیر بحث آیات میں آیا ہے اور اسے کدا و حق و حقیقت سے بے خبری کا باعث شمار کیا گیا ہے ۔ یہ دور دراز کی آرزوئیں اور لمبی چوڑی امیدیں ہیں جو انسان کو اس طرح اپنے میں مشغول رکھتی ہیں اور عالم تخیل میں مستغرق کردیتی ہیں کہ انسان زندگی اور اس کے اصلی اہداف و مقاصد سے بالکل بیگانہ ہو جاتا ہے ۔
ایک مشہور حدیث کہ جو نہج البلاغہ میں حضرت علی (علیہ السلام) سے منقول ہے وہ بھی اس حقیقت کو وضاحت سے بیان کرتی ہے :
( ایها الناس ان اخوف ما اخاف علیکم اثنان: اتباع الهوی و طول الامل، اما اتباع الهوٰی فیصد عن الحق ، و اما طول الامل فینسی الاٰخرة ) ۔
اے لوگو!خوفناک ترین چیزیں کہ جن کا مجھے تمہارے بارے میں اندیشہ ہے وہ دو ہیں ۔ ہوا و ہوس کی پیروی اور دور دراز کی آر زئیں ، کیونکہ ہوا و ہوس کی پیروی تمہیں حق سے باز رکھے گی اور دور دراز کی آرزو آخرت کو بھلا دے گی ۔(۲)
یہ حقیقت ہے کہ کتنے ہی باصلاحیت اور لائق افراد ہیں کہ جوآرزوئے درازکے دا م میں گرفتاری کے زیر اثر ضعیف اور مسخ شدہ وجود بن چکے ہیں کہ جس کی وجہ سے نہ صرف وہ اپنے معاشرے کے لئے مفید نہیں رہے بلکہ اپنے ذاتی مفادات بھی پامال کر چکے ہیں اور ہر قسم کی ترقی اور کمال سے محروم ہو گئے ہیں ۔ جیسا کہ دعائے کمیل میں ہے ۔
وحبسنی عن نفعی بعد املی
طویل آرزو نے مجھے اپنے حقیقت ِ منافع سے محروم کردیا ہے ۔
اصولی طور پر آرزو جب حد سے گذر جاتی ہے تو ہمیشہ انسانوں کو رنج و تعب میں مبتلا کردیتی ہے پھر وہ رات دن کو شش کرتا ہے اور اپنے گمان میں سعادت و خوشحالی کی طرف جارہا ہوتا ہے حالانکہ اسے بد بختی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ ایسے افراد اکثر اوقات اس حالت میں جان دے دیتے ہیں ان کی درد ناک اور غم انگیز اندگی کے ان کے لئے باعثِ عبرت ہے کہ جو دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان رکھتے ہیں ۔
____________________
۱۔سفینة البحار ۔ج۱ ،ص۳۰(مادہ ”امل“) ۔
۲۔ نہج البلاغہ ،۴۲۔
آیات ۶،۷،۸
۶ ۔( وَقَالُوا یَااٴَیُّهَا الَّذِی نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّکْرُ إِنَّکَ لَمَجْنُونٌ ) ۔
۷ ۔( لَوْ مَا تَاٴْتِینَا بِالْمَلَائِکَةِ إِنْ کُنْتَ مِنْ الصَّادِقِینَ ) ۔
۸ ۔( مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِکَةَ إِلاَّ بِالْحَقِّ وَمَا کَانُوا إِذًا مُنْظَرِینَ ) ۔
ترجمہ
۶ ۔اور انہوں نے کہا: اے وہ شخص کہ جس پر ذکر (قرآن)نازل ہواہے ، بےشک تو دیوانہ ہے ۔
۷ ۔ اگر سچ کہتا ہے تو ہمارے لئے فرشتے کیوں نہیں لے آتا ۔
۸ ۔( لیکن انھیں جان لینا چاہیئے کہ) ہم فرشتوں کو حق کے بغیر نازل نہیں کرتے اور جس وقت نازل ہوئے تو پھر انھیں مہلت نہیں دی جائے گی ( اور انکار کی صورت میں عذاب ِالٰہی میں نابود ہو جائیں گے ) ۔
تفسیر
فرشتوں کے نزول کا تقاضا ۔
ان آیات میں پہلے تو قرآن اور پیغمبر کے خلاف دشمنی کفار کے اعتراض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : انھوں کہا:اے وہ شخص جس پر قرآن نازل ہوا ہے ہم یقینی قسم کھاتے ہیں کہ تو دیوانہ ہے( وَقَالُوا یَااٴَیُّهَا الَّذِی نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّکْرُ إِنَّکَ لَمَجْنُونٌ ) ۔
پیغمبر اکرم کے بارے میں ان کے یہ الفاظ انتہائی گستاخی اور جسارت کو مجسم کرتے ہیں ۔
ایک طرف تو ” یا ایھا الذی“ ( اے وہ شخص ) کہا گیا ہے دوسری طرف ”نزل علیه الذکر “کے الفاظ ہیں کہ جو انھوں نے قرآن کے استہزاء اور انکار کے طور پرکہیں ہیں اور تیسری مرتبہ پیغمبر اکرم کو مجنون قرار دینے کے لفظ”ان“ اور ”لام قسم“ کے ذریعے ان کی تاکید ہے ۔
جی ہاں !جس وقت ہٹ دھرم اور بے مایہ افراد ایک عظیم اور بے مثل عقل کا سامنا کرتے ہیں تو وہ اس کے ساتھ” مجنون“ک اپیوند لگانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انکے لئے تو ان کی اپنی ناتواں عقل ہی میزان ہوتی ہے او رجو کچھ ان کی میزان میں نہ سما سکے وہ ان کی نگاہ میں بے عقلی اور دیوانگی ہے ۔
ایسے افراد اپنے ماحول کے مسائل کے بارے میں خاص قسم کے تعصب کا مظاہرہ کرتے ہیں چاہے وہ گمراہی میں ہی کیوں نہ ہوں ای لئے وہ ہ رتازہ دعوت کو غیر عاقلا نہ دعوت قرار دے کر مقابلے کی کوشش کرتے ہیں اور نئی پیش آمد چیزوں سے وحشت زدہ ہوتے ہیں اور غلط روشوں کی سختی سے پابندی کرتے ہیں ۔
علاوہ ازیں وہ دنیا پرست جو تمام چیزوں کو مادی معیاروں پر پرکھتے ہیں اگر ان کا کسی ایسے انسان سے سامنا ہو کہ جو اپنے تمام مادی مفادات حتی کہ اپنی جان بھی ایک روحانی مقصد کے لئے قربان کردے تو انھیں یقین نہیں آتا کہ وہ عاقل ہے کیونکہ ان کے نزدیک عقل کا کام زیادہ مال و دولت ، خوبصورت بیوی ، ،پر تعیش زندگی اور ظاہری مقام و منصب کا حصول ہے ۔
بالکل واضح سی بات ہے کہ اگر کسی فکر بس مال و دولت ، عورتوں اور مقام و منصب تک ہے جو اس کے سامنے کہا جاتاہے کہ : اگر آسمانی سورج میرے ایک ہاتھ پر اور چاند دوسرے ہاتھ پررکھ دو اور تمہارے چھوٹے سے ماحول کی بجائے تمام نظام شمسی پر میری حکومت ہوتو بھی میں اپنی دعوت سے دستبردار نہیں ہوں گا ، تو وہ یہ بات کرنے والے کو دیوانہ ہی قرار دے گا ۔
تعجب تو اس بات پر ہے کہ یہ بے عقل افراد خدائی رہبروں کے ساتھ ایسے ایسے پیوند چسپاں کرتے تھے کہ جو بعض اوقات بالکل ایک دوسرے کی ضد ہوتے تھے کبھی انھیں ”دیوانہ “ کہتے اور کبھی ”جادو گر “ ۔ حالانکہ جا دو گر تو ایک خاص زیر کی اور ہوشیاری کا حامل ہوتا ہے اور عین ”دیوانہ “کا مد مقابل ہے ۔
یہ لوگ نہ صرف پیغمبر کی طرف ایسی غیر عاقلانہ نسبتیں دیتے تھے بلکہ بہانہ جوئی کے طور پر کہتے تھے ۔ ”اگر سچ کہتے ہوتو پھر ہمارے لئے فرشتے کیوں لاتے“۔تاکہ وہ تیری گفتگو کی تصدیق کریں ۔ اور ہم ایمان لے آئیں( لَوْ مَا تَاٴْتِینَا بِالْمَلَائِکَةِ إِنْ کُنْتَ مِنْ الصَّادِقِینَ ) ۔
خد اتعالی ٰانھیں جواب دیتا ہے : ہم ملائکہ کو سوائے حق کے نہیں بھیجتے( مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِکَةَ إِلاَّ بِالْحَق ) ۔اور اگر فرشتے نازل ہوں ( اور حقیقت ان کے لئے حسی ّپہلو اختیار کرلے )اور اس کے بعد وہ ایمان نہ لائیں تو پھر انھیں مہلت نہیں دی جائے گی اور وہ عذاب الہٰی کے ذریعے نابود ہو جائیں گے ۔( وَمَا کَانُوا إِذًا مُنْظَرِینَ ) ۔
”ماننزل الملائکة الا بالحق “ کی تفسیر کے سلسلے میں مفسرین کے مختلف بیانات ہیں :۔
۱ ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم فرشتوں کی صرف بطور اعجاز حق واضح کرنے کے نازل کریں گے نہ کہ ان کہ بہانہ جوئی کے لئے کہ وہ دکھ لیں اور پھر بھی ایمان نہ لائیں ۔ دوسرے لفظوں میں معجزہ کوئی بازیچہ اطفال نہیں کہ لوگوں کومن پسند سے رونما ہوتا رہے۔ بلکہ یہ تو اثبات حق کے لئے اور جو لوگ حق کے خواہاں ہیں ان کے لئے یہ امر بقدر کافی ثابت ہو چکا ہے کیونکہ پیغمبر اسلامنے قرآن جیسا معجزہ ہاتھ میں ہونے با وجود دوسرے معجزات بھی دکھا کر اپنی رسالت کو ثابت کیا تھا ۔
۲ ۔ ایک احتمال یہ ذکر کیا گیا ہے کہ ”حق “یہاں ” موت “ کے معنی میں ہے یعنی فرشتے صرف موت اور قبضِ روح کے وقت نازل ہو ں گے ۔ کسی اور وقت نہیں ۔
لیکن یہ تفسیر بہت بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ قرآن حکیم میں حضرت ابرہیم اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعات میں ، یہاں تک کہ مسلمانوں کے بارے میں بعض سے متعلق ہے کہ ان پر فرشتے نازل ہوئے ۔
۳ ۔ بعض نے کہا ہے کہ ” حق“ سے مراد یہاں وہی آخری دنیاوی عذاب اور نابود کرنے والی مصیبت ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ”عذاب استیصال“ ہے یعنی اگر فرشتے نازل ہوں اور پھر یہ ایمان نہ لائیں کیونہ ان میں موجود ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ ایمان نہیں لائیں گے تو ان کی نابودی بھی ساتھ ہوگی ۔
آیت کا دوسرا جملہ” وما کانو ا اذاً منظرین“ بھی اس کے معنی کی تاکید کرتا ہے ۔ لیکن پہلی تفسیر کے مطابق اس کا الگ نیا مفہوم ہے ۔
۴ ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ”حق “ یہاں شہود کے معنی میں ہے یعنی جب تک یہ افراد اس دنیا میں ہیں ان کی آنکھوں کے سامنے پر دے پڑے ہیں اور یہ ایسے حقائق نہیں دیکھ سکتے کہ جو ماورائے مادّہ سے مر بوط ہیں صرف دوسرے جہان میں عالم ِ شہود ہوگا کہ جہاں پردے ہٹ جائیں گے تو پھر یہ فرشتگان ِ الٰہی کو دیکھ سکیں گے ۔
اس میں بھی دوسری تفسیر والا اشکال موجود ہے کیونکہ قومِ لوط کے بے ایمان اور گمراہ افراد تک نے عذاب پر مامور فرشتوں کو اسی دنیا میں دیکھا تھا ۔(۱)
اس بناء پر صرف پہلی اور تیسری تفسیر ظاہر آیت سے مناسبت رکھتی ہے ۔ باقی رہا یہ مسئلہ کہ آیت میں کہ اگر ان تمام واضح دلائل کے بعد بھی ان کے تقاضا کے مطابق حسی معجزہ پیش کیا جائے تو پھر انھیں مہلت نہیں دی جائے گی یہ اس بناء پر ہے کہ ایسی حالت میں ان کے لئے ہر پورے معنی کے لحاظ سے اتمام ِ حجت ہو جائے گا، اور تمام بہانے ختم ہو جائیں گے اور چونکہ زندگی کی مہلت ، اتمام حجت ، احتمالِ تجدید نظر اور حق کی طرف باز گشت کے لئے ہے او رجن پر پوری طرح اتمام حجت ہو جائے ان کے لئے مہلت کوئی معنی نہیں رکھتی لہٰذا ان کی عمر کے اختتام کا اعلان ہوجاتا ہے اور وہ اس سزا اور عذاب تک جا پہنچے ہیں جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ( غور کیجئے گا ) ۔
آیت ۹
۹( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُون )
ترجمہ
۹ ۔ ہم نے قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم قطعی طور پر اس کی حفاظت کریں گے ۔
تفسیر
قرآن کی حفاظت
کفار نے بہت بہانہ سازیاں کیں ۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور قرآن کے بارے میں استہزا کیا ۔ گذشتہ آیات میں اس کا ذکر موجود ہے اس کے بعد زیر بحث آیت میں ایک عظیم اور نہایت اہم حقیقت بیان کی گئی ہے ۔ یہ بیان حقیقت ایک طرف تو پیغمبر اکرم کی دلجوئی کے لئے ہے اور ہم یقینی طور پر اس کی حفاظت کریں گے (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ) ۔
ایسا نہیں کہ یہ قرآن کسی یاور و مددگار کے بغیر ہے اور وہ اس کے آفتابِ وجود کو کیچڑ سے چھپادیں گے یا اس کے نور کو پھونکوں سے بجھا دیں گے یہ تو وہ چراغ ہے جسے حق تعالیٰ نے روشن کیا ہے اور یہ وہ آفتاب ہے جس کے لئے غروب ہونا نہیں ہے ۔
یہ چند ایک افراد اورناتواں گروہ تو معمولی سی چیز ہے اگر دنیا بھر کے جابر ، اہل اقتدار، سیا ستداں ، ظالم، منحرف، اہل فکراور جنگ آزما جمع ہو جائیں او ر اس کے نو رکو بجھا نا چاہیں تو وہ بھی ایسانہیں کرسکیں گے ۔ کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خدا نے اپنے اوپرلے رکھا ہے ۔
یہ کہ قرآن کی حفاظت سے مراد کن امور کی حفاظت ہے اس سلسلے میں مفسریں کے مختلف اقوال ہیں :
۱ ۔ بعض نے کہا ہے کہ تحریف و تغیر اور کمی بیشی سے حفاظت مراد ہے ۔
۲ ۔ بعض نے کہا ہے کہ آخر دنیا تک فطا و نابودی سے حفاظت مراد ہے ۔
۳ ۔ بعض دیگر نے کہاہے کہ قرآن کے خلاف گمراہ کرنے والی منطق کے مقابلے میں حفاظت مراد ہے ۔
لیکن یہ تفاسیر یہ صرف کہ یہ ایک دوسرے سے تضاد نہیں رکھیتیں بلکہ ” انا لہ لحٰفظون“ کے عام مفہوم میں شامل ہیں تو پھر کیوں ہم اس محافظت کو ایک کونے میں محصور کردیں جبکہ یہ مطلق طور پر اور اصطلاح کے مطابق حذف متعلق کے ساتھ آئی ہے حق یہ ہے کہ اس آیت کے ذریعے خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ قرآن کی ہر لحاظ سے حفاظت و نگہداری کرے گا اسے ہر قسم کی تحریف سے بچائے گا ۔
اسے فنادی نابودی سے محفوظ رکھے گا اور وسوسے پیدا کرنے والے سوفسطائیوں اور بد یہات کے منکردین سے اس کی محافظت کرے گا ۔
باقی رہا بعض قدماء مفسرین کا یہ احتمال کہ یہاں ذاتِ پیغمبر مراد ہے اور” لہ“ کی ضمیر پیغمبر کی طرف لوٹتی ہے ، کیونکہ قرآن کی بعض آیات ( مثلاً طلاق(۱) میں لفظ ”ذکر “ کا اطلاق ذاتِ پیغمبر پر ہوا ہے یہ بہت بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ زیر بحث آیت سے قبل آیت میں لفظ ” ذکر “ صراحت کے ساتھ قرآن کے معنی میں آیا ہے ۔ او ریہ مسلم ہے کہ یہ بعد والی آیت اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔
عدم تحریف ِقرآن
تمام شیعہ سنی علماء مشہور و معروف یہ ہے کہ قرآن میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی اور جو قرآن آج ہمارے ہاتھ میں ہے ، بالکل وہی قرآن ہے جو پیغمبر اکرم پر نازل ہوا، یہاں تک کہ اس میں کوئی لفظ اور کوئی حرف بھی کم یا زیادہ نہیں ہوا ۔
قدماء اور متاخرین میں سے وہ عظیم شیعہ علماء کہ جنہوں نے اس حقیقت کی تصریح کی ہے ان میں سے کوئی حسب ذیل علماء کے نام لئے جاسکتے ہیں :
مرحوم شیخ طوسی جو شیخ الطائفہ کے نام سے مشہور ہیں انہوں نے اپنی مشہورکتاب ”تفسیر بیان “ کے آغاز میں اس سلسلے میں روشن واضھ اور قطعی بحث کی ہے ۔
۲ ۔ سید مرتضیٰ جو چوتھی صدی ہجری کے اعاظم علما ء امامیہ میں سے ہیں ۔
۳ ۔ رئیس المحدثین مرحوم صدوق محمد بن علی بن بابویہ وہ عقائد امامیہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :۔” ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ قرآن میں کسی قسم کی کوئی تحریف نہیں ہوئی “۔
۴ ۔ عظیم مفسر مرحوم طبرسی سے بھی اپنی تفسیر کے مقدمہ میں اس سلسلے میں ایک واضح بحث کی ہے ۔
۵ ۔ مرحوم کاشف الغطاء جو بزرگ علماء متاخرین میں سے ہیں ۔
۶ ۔ مرحوم محقق یزدی نے کتاب عررہ الوثقیٰ میں جمہور مجتہدین شیعہ سے عدم تحریف قرآن نقل کیا ہے ۔
۷ ۔ بہت سے دوسرے بزرگواروں مثلاً شیخ مفید ، شیخ بہائی ، قاضی نور اللہ اور دیگر شیعہ محققین نے یہی عقیدہ نقل کیا ہے ۔ اہل سنت کے بزرگ اور محققین بھی زیادہ تر یہی عقیدہ رکھتے ہیں ۔
اگر چہ بعض شیعہ اور سنی محدثین کہ جن کی اطلا عات قرآن کے کے بارے میں ناقص تھیں انھوں نے قرآن میں وقوعِ تحریف کا ذکر کیا ہے لیکن دونوں مذاہب کے بزرگ علماء کی وضاحت سے یہ عقیدہ باطل قرار پاکر فراموش ہو چکا ہے ۔
یہاں تک کہ مرحوم سید مرتضیٰ ”المسائل الطرابلسیات“ کے جواب میں کہتے ہیں :
”صحت نقل قرآن دنیا کے مشہور شہروں ، تاریخ کے عظیم واقعات اور مشہور معروف کتب کے بارے میں ہماری اطلا عات کی طرح واضح اور روشن ہے ۔
کیا کوئی شخص مکہ اور مدینہ یا لندن اور پیرس جیسے شہروں کے ہونے میں کوئی شک و شبہ کرسکتا ہے اگر چہ اس نے کبھی بھی ان شہروں کی طرف سفر نہ کیا ہو ۔
کیا کوئی شخص ایران پر مغلوں کے حملے ، فرانس کے عظیم انقلاب یا پہلی اور دوسری عالمی جنگ کا منکر ہو سکتا ہے ۔
ایسا کیوں نہیں ہوسکتا اس لئے یہ تمام چیزیں تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچی ہیں ۔
قرآن کی آیات بھی اسی طرح ہیں اس تشریح کے ساتھ کہ جو ہم بعد میں بیان کریں گے ۔
اگر بعض افراد نے اپنے مفادات کی غرض سے شیعہ سنی میں تفرقہ ڈالنے کے لئے شیعوں کی طرف تحریف کے اعتقاد کی نسبت دی ہے تو ان کے دعوی کے بطلان کی دلیل علماء شیعہ کی بڑی اور عظیم کتب ہیں ۔
یہ بات عجب نہیں کہ فخر رازی جیسا شخص کہ جو شیعوں سے مربوط مسائل میں خاص حساسیت اور تعصب رکھتا ہے محل بحث آیت کے ذیل میں کہتا ہے کہ یہ آیت ”( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) “مذہب شیعہ کے بطلان کی دلیل ہے کیونکہ وہ قرآن میں تغیر اور کمی بیشی کے قائل ہوتے ہیں ۔
ہم صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر اس کی مراد بزرگان اور محققین شیعہ ہیں تو ان میں سے کوئی بھی اس قسم کاعقیدہ نہیں رکھتا تھا اور نہ رکھتا ہے اور اگر ا س کی مراد یہ ہے کہ اس سلسلے میں میں شیعوں کے درمیان ایک ضعیف قوم موجود ہے تو اس کی نظیر اہل ِ سنت میں بھی موجود ہے کہ جس کی نہ وہ اعتناء کرتے ہیں نہ ہم۔
معروف محقق کاشف الغطاء اپنی کتاب ”کشف الغطاء“ میں کہتے ہیں :۔
لاریب انه ”ای القراٰن “ محفوظ من النقصان بحفظ الملک الدیان کما دل علیه صریح القراٰن وجماع العلماء فی کل زمان ولاعبرة بنادر ۔
اس میں شک نہیں کہ قرآن کی حفاظت کے سائے میں ہر قسم کی کمی اور تحریف سے محفوظ رہا ہے جیسا کہ صریح قرآن اس پر دلالت کرتا ہے او رہر زمانے کے علماء کا اس پر اجماع رہا ہے اور شاذ و نادر افراد کی مخالفت کی کوئی حیثیت نہیں ہے ( تفسیر آلاء الرحمن ص ۳۵)
تاریک اسلام نے اس قسم کی ناروا نسبتیں کہ جن کا سر چشمہ تعصب کے سوا کچھ نہیں ، بہت دیکھی ہیں ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے بعض دشمنون کی طرف سے پیدا کردہ غلط فہمیاں تھیں کہ جو اس قسم کے مسائل کھڑے کرتے تھے کہ مسلمانوں کی صفوں اتحاد و حدت ہر گز بر قرار نہ رہے ۔
معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ مشہور حجازی مؤلف عبد اللہ القصیمی اپنی کتاب الصراع میں شیعوں کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے :۔
شیعہ ہمیشہ سے مساجد کے دشمن تھے یہی وجہ ہے کہ جو شیعوں کے شہروں میں جائے ، شمال سے جنوب تک ، اور مشرق سے مغرب تک اسے بہت کم مساجد دکھائی دیں گی ۔(۲)
خوب غور کریں کہ ہم ان تمام مساجد کو شمار کرتے تھک جاتے ہیں کہ جو شاہراہوں ، بازاروں ، کوچوں بلکہ شیعہ محلوں میں موجود ہیں ۔ بعض مقامات پر تو ایک ہی علاقے میں اتنی مسجدیں ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ بس کر، آؤ کوئی او رکام بھی کرو ۔
لیکن اس کے باوجود ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک مشہور مؤلف اس صراحت سے ایسی بات کرتا ہے جو ہم جیسے لوگوں کے نزدیک تو محض مضحکہ خیز ہے کہ جو ان مناطق اور شیعہ علاقوں میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔ ان حالات میں اگر فخر رازی کوئی ایسی نسبت دیتا ہے تو زیادہ تعجب نہیں کرنا چاہیئے۔
عدم تحریف ِ قرآن کے دلائل
۱ ۔ حافظان قرآن :
عدم تحریف قرآن کے بارے میں ہمارے پاس بہت زیادہ دلائل و براہین موجود ہیں ان میں زیادہ واضح اور روشن زیر بحث آیت اور قرآ ن کی کچھ اور آیات کے علاوہ اس عظیم آسمانی کتاب کی تاریخ بھی ہے ۔
مقدمہ کے طور پر اس نکتہ کی یاد ہانی ضروری ہے کہ وہ ضعف اقلیت کہ جس نے تحریف ِ قرآن کا احتمال ذکر کیا ہے ، وہ صرف قرآن میں کمی کے سلسلے میں ہے ۔ ورنہ کسی نے بھی یہ احتمال پیش نہیں کیا کہ موجودہ قرآن میں کسی چیز کا اضافہ کیا گیا ہے ۔( غو ر کیجئے گا )
یہاں سے گذر کر اگر ہم اس موضوع پر غور و فکر کریں کہ قرآن مسلمانوں کے لئے کچھ تھ قانون ِ اساسی ، زندگی کا دستور العمل ، حکومت کاپروگرام ، مقدس آسمانی کتاب اور رمز عبادت سب کچھ تو قرآن تھا تو اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اصولی طور پر اس میں کمی بیشی کا امکان نہیں ۔
قرآن ایک ایسی کتاب تھی کہ پہلے دور کے مسلمان ہمیشہ نمازوں میں ، مسجدوں میں ،گھرون میں ، میدان جگ میں دشمن کا سامنا کرتے ہوئے اپنے مکتب کی حقانیت پر استدلال کرنے کے لئے اسی سے استفادہ کرتے تھے یہان تک کہ تاریخ اسلام سے معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم قرآن عورتوں ک اھق مہر قرار دیتے تھے اور اصولی ور پر تنہا وہ کتاب کہ جو تمام محافل کا موضوع تھی اور ہر بچے کو ابتدائے عمر سے جس سے آشنا کیا جاتا تھا اور جو شخص بھی اسلام کا کوئی درس پڑھنا چاہتا اسے اس کی تعلیم دی جاتی تھی جی ہاں وہ قرآن یہی قرآن مجید ہے ۔
کیا اس کیفیت کے ہوتے ہوئے کسی شخص کو یہ شخص کویہ احتمال ہو سکتا ہے کہ اس آسمانی کتاب میں تغیر و تبدل ہو گیا ہو خصوصاًجبکہ ہم نے اسی تفسیر کی جلد اول کی ابتداء میں ثابت کیا ہے کہ قرآن ایک مجموعہ کی صورت میں اسی، موجود ہ صورت میں خود زمانہ پیغمبر میں جمع ہو چکا تھا اور مسلمان سختی سے اسے یاد کرنے اور حفظ کرنے کو اہمیت دیتے تھے ۔اصولی طور پر اس زمانے میں افراد کی شخصیت زیادہ تر اس بات سے پہچانی جاتی تھی کہ انھیں قرآن کی آیات کس حد تک یا د ہیں ۔
قرآن کے حافظوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ تواریخ میں ہے کہ حضرت ابو بکر کے زمانے میں ایک جنگ میں قرآن کے چار سو قاری مارے گئے تھے ۔(۱)
”بئر معونہ“ مدینہ کی نزدیکی آبادیوں میں سے تھی ۔ یہاں ایک واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں رسول اللہ کی زندگی میں اس علاقے میں ایک جنگ رونما ہو گی تھی ۔یہاں ایک واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں رسول اللہ کی زندگی میں اس علاقے میں ایک جنگ رونما ہوگئی ۔ اس جنگ میں اصحاب پیغمبر میں سے قاریانِ قرآن کی ایک کثیر جماعت نے شربت ِ شہادت نوش کیا یہ تقریباًستّر افرد تھے ۔(۲)
ان سے اور ان جیسے دیگر واقعات سے واضح ہو جاتا ہے کہ حافظ و قاری اور معلمین قرآن اس قدر زیادہ تھے کہ صرف ایک میدان ِ جنگ میں ان میں سے اتنی تعداد نے جام ِ شہادت نوش کیا اور تعداد ایسی ہونا چاہئیے تھی کیونکہ ہم نے کہا ہے کہ قرآن مسلمانو کے لئے صرف قانون اساسی نہیں ہے بلکہ ان کا سب کچھ اسی سے تشکیل پاتا ہے ۔ خصوصاًابتدائے اسلام میں مسلمانوں کے پاس ا س کے علاوہ کوئی کتاب نہ تھی اور تلاوت و قرات اور حفظ و تعلیم تعلّم قرآن کے ساتھ مخصوص تھاقرآن ایک تروک کتاب نہ یہ گھر ی امسجد کے کسی کونے میں فراموشی کے گرد و غبار کے نیچے پڑی ہوئی نہ تھی کہ کوئی اس میں کمی یا زیادتی کردیتا ۔
حفظ قرآن کا مسئلہ ایک سنت اور ایک عظیم عبادت کے عنوان سے ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان تھا اور ہے یہاں تک کہ قرآن ایک کتاب کی صورت میں بہت زیادہ پھیل گیا اور تمام جگہوں پر پہنچ گیا بلکہ آج بھی چھاپہ خانے کی صنعت کے وجود میں آنے کے بعد جبکہ اسلامی ممالک میں سب سے زیادہ قرآن ہی چھپتا اور نشر ہوتا ہے پھر بھی حفظ قرآن کے مسئلے نے ایک قدیم سنت اور عظیم افتخار کے طور پر اپنی اہمیت و حیثیت کو محفوظ رکھا ہے اور ہر شہر و دیار میں ہمیشہ ایک جماعت حافظِ قرآن تھی اور آج بھی ہے ۔
اس وقت حجاز اور کئی دیگر اسلامی ممالک میں ”تحفظ القراٰن الکریم “ یا دوسرے ناموں سے ایسے مدارس موجود ہیں ، جہاں طالب علموں کو پہلے مرحلے میں قرآن حفظ کرایاجاتا ہے ۔ سفرمکہ کے دوران اس شہر مقدس میں ان مدارس ک بر براہوں سے جو ملاقات ہوئی اس سے معلوم ہوتا ہے ان مدارس میں بہت سے نو جوان لڑکے اور لڑکیاں مشغول تحصیل ہیں ۔ جاننے والوں میں سے ایک شخص نے بتا یا کہ اس وقت پاکستان میں تقریباًپندرہ لاکھ حافظان قرآن موجود ہیں ۔
جیسا کہ دائرة المعارف فرید وجدی نے نقل کیا ہے کہ جامعة الازھر مصر کی یونیورسٹی میں داخلے کی ایک شرط پورے قرآن کا حفظ ہونا ہے اس کے لئے چالیس میں سے کم کم بیس نمبر رکھے گئے ہیں ۔
مختصر یہ کہ خود آنحضرت کے حکم و تاکید سے کہ جو بہت زیادہ روایات میں آئی ہے حفظ ِ قرآن کی سنت زمانہ پیغمبر سے لے کر آج تک ہر دور میں جاری و ساری ہے ۔ کیا ایسی حالت میں تحریف ِقرآن کے بارے میں کسی احتمال کا امکان ہے ؟
۲ ۔ کاتبان وحی :
ان تمام امور کے علاوہ کاتبانِ وحی کا معاملہ بھی غور طلب ہے یہ وہ افراد تھے جو آنحضرت کے حکم اور تاکید سے آپ پر قرآن کی آیات نازل ہونے کے بعد انھیں لکھ لیتے تھے ان کی تعداد چودہ سے لے کر تنتالیس تک بیا ن کی گئی ہے ۔
ابو عبد اللہ زنجانی اپنی نہایت قیمتی کتاب”تاریخ قرآن “ میں لکھتے ہیں ۔
کان للنبی کتاباًیکتبون الوحی وهم ثلاثة و اربعون اشهر هم الخلفاء الاربعة و کان الزمهم للنبی زید بن ثابت و علی بن ابی طالب علیه السلام ۔
پیغمبر کے مختلف کاتب اور لکھنے والے کہ جو وحی لکھا کرتے تھے اور وہ تنتالیس افراد تھے کہ جن میں زیادہ مشہور خلفاء اربعہ تھے ۔ لیکن اس سلسلے میں پیغمبر کے سب سے بڑھ کر ساتھی زید بن ثابت اور علی ابن ابی طاللب علیہ السلام ۔(۳)
وہ کتاب کہ جسے اس قدر لکھنے والے تھے کیسے ممکن ہے کہ تحریف کرنے والے اس کی طرف ہاتھ بڑھاسکتے ۔
____________________
۱۔ البیان فی تفسیر القرآن ص ۲۶۰ بحوالہ منتخب کنزالعمال ۔
۲۔سفینة البحار جلد ۱ ص ۵۷۔
۳۔تاریخ القرآن ص۳۴۔
۳ ۔ تمام رہبران اسلام نے اسی قرآن کی دعوت دی ہے :
یہ امر قابل توجہ ہے کہ اسلام کے عظیم پیشواؤں کے کلمات کا مطالعہ نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ابتدائے اسلام سے باہم بیک زبان لوگوں کو اسی موجودہ قرآن کی تلاوت ، مطالعہ اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دیتے تھے اور یہ امر خود نشاندہی کرتا ہے کہ یہ آسمانی کتاب اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر بعد تک تحریف ناپذیرمجموعہ کی صورت میں موجود ہی ہے ۔
نہج البلاغہ میں حضرت علی علیہ السلام کے کلمات اس دعویٰ کے زندہ گواہ ہیں ۔
خطبہ ۱۳۳ میں آپ (علیہ السلام) فرماتے ہیں :۔
وکتاب الله بین اظهر کم ، ناطق لایعیالسانه، و بیت لاتهدم ارکانه ، و عزلاتهزم اعوانه ۔
اور اللہ تمہارے درمیان ایسا ناطق ہے جس کی زبان کبھی گنگ نہیں ہوتی ۔ یہ ایسا گھر ہے جس کے ستون کبھی منہدم نہیں ہوتے اور یہ ایسا سرمایہ عزت ہے کے انصارکبھی مغلوب نہیں ہوتے ۔
خطبہ ۱۷۶ میں فرماتے ہیں :۔و اعلموا ان هٰذا القراٰن هو الناصح الذی الیغش والهادی الذی لایضل ۔
جان لو کہ یہ قرآن ایسا ناصح ہے جو اپنی نصیحت میں کبھی خیانت نہیں کرتا او ر ایسا ہادی ہے جوکبھی گمراہ نہیں کرتا ۔ نیز اسی خطبے میں ہے :وما جالس هٰذا القراٰن احد الاقام عنه بزیادة او نقصان،زیادة من هدی ، او نقصان من عمی ۔
کوئی شخص اس قرآن کا ہم نشین نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس سے پاس زیادتی یا نقصان کے ساتھ اٹھتا ہے ۔ ہدایت کی زیادتی یاگمراہی کی کمی ۔
اسی خطے کے آخر میں ہے :ان الله سبحانه لم یعظ احداًبمثل هٰذا القراٰن ، فانه حبل الله المتین و سببه الامین ۔
خدا نے کسی کو اس قرآن جیسی وعظ و نصیحت نہیں کی ۔ کیونکہ یہ خدا کی محکم رسی اور اس کا قابل اطمینان وسیلہ ہے ۔خطبہ ۱۹۸ میں ہے :۔ثم انزل علیه الکتاب نوراً لاتطفاٴ مصابیحة، و سراجاً لایخبوتوقده، و منها جا لا یضل نهجه و فرقاناً لایخمد بر هانه
اس کتاب کے بعد خدا نے اپنے نبی پر ایک کتاب نازل کی وہ کتاب جو خاموش نہ ہونے والا نور ہے اور جو ایسا چراغ پر فروغ ہے کہ جس میں تاریکی آہی نہیں سکتی اور یہ ایسا راستہ ہے جس پر چلنے والے گمراہ نہیں ہوسکتے اور یہ حق کی باطل سے جدائی کا ایسا سبب ہے جس کی برہان خاموش نہیں ہوتی ۔
ایسی تعبیرات حضرت علی السلام اور دیگر پیشوایانِ دین کے کلمات و ارشادات میں بہت زیادہ ہیں ۔
فرض کریں کہ اگر دست تحریف اس آسمانی کتاب کی طرف بڑھا ہوتا تو کیا پھر بھی ممکن تھا کہ اس کی طرف دعوت دی جاتی ۔ اور اسے راہ کشا ، حق کی باطل جدائی کا ذریعہ ، نہ بجھنے والانور ، خاموش نہ ہونے والا چراغ، خدا کی محکم رسی اور اس کا امین و قابل اطمینان وسیلہ قرار دے کر تعارف کروایا جاتا ۔
۴ ۔ آخری دین اور ختم نبوت کا تقاضا :
۔ اصولی طور پر پیغمبر اسلام کی خاتمیت قبول کرلینے کے بعد اور یہ تسلیم کرلینے کے بعد کہ دین اسلام آخری خدائی دین ہے اور قرآن کا پیغام دنیا کے خاتمے تک بر قرار رہے گا کس طرح یہ باور کیا جا سکتا ہے خدا اسلام اور پیغمبر خاتم کی اس واحد سند کی حفاظر نہیں کرے گا ۔
اسلام کے ہزاروں سال کے بعد باقی رہنے ، جاوداں ہونے اور آخری دنیا تک رہنے کے ساتھ کیا تحریف ِ قرآن کاکوئی مفہوم ہو سکتا ہے ؟
۵ ۔ روایات ِ ثقلین :
۔ روایات ثقلین کہ جو طرق معتبر و متعدد ہ سے پیغمبر اسلام سے نقل ہوئی ہیں قرآن کی اصالت اور ہر قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ رہنے پر ایک ایک اور دلیل ہیں کیونکہ ان روایات کے مطابق پیغمبر اکرم فرماتے ہیں :
میں تمہارے درمیان میں سے جارہاہوں اور دو گرانمایہ چیزیں تماہرے لئے بطور یاد گار چھوڑے جارہاہوں ، پہلی اور دوسری میری اہل بیت ۔ اگر تم نے ان کا دامن نہ چھوڑا ، تو ہ رگز گمراہ نہیں ہوگے ۔(۱)
____________________
۱۔حدیث ثقلین متواتر احادیث میں سے ہے یہ حدیث اہل سنت کی بہت سے کتب میں صحابہ کی ایک جماعت کی وساطت سے پیغمبر اکرم سے نقل ہوئی ہے ان صحابہ میں ابو سعید خدری ، زید بن ارقم ، زید بن ثابت، ابو ہریرہ ،حذیفہ بن اسید ، جابر بن عبد اللہ انصاری ، عبد اللہ حنطب، عبدبن حمید، جبیر بن مطعم ، ضمرہ اسلمی ، ابوذر غفاری ، ابو رافع اور ام سلمہ وغیرہ شامل ہیں ۔
کیا ایسی با ت کسی ایسی کتاب کے لئے صحیح ہے جو تحریف کا شکار ہو گئی ہو ۔
۶ ۔ قرآن جھوٹی اور سچی روایات کے لئے کسوٹی ہے :
ان سب پہلوؤں سے قطع نظر قرآن کا تعارف سچی اور جھوٹی روایات و احادیث کو پرکھنے کے لئے معیار کے طور پر کروایا گیا ہے بہت سے روایات کہ جو منابع اسلام میں آئی ہیں ان میں سے کہ جو حدیث کے سچے یا جھوٹے ہونے کے بارے میں شک کرو اسے قرآن کے سامنے پیش کرو، جو حدیث کے موافق وہ حق ہے اور جو حدیث اس کے مخالف ہے وہ باطل اور غلط ہے ۔
فرض کریں کہ قرآن میں کمی کے لحاظ سے ہی تحریف ہوتی تبب بھی ہر گز ممکن نہ تھا کہ اس کا تعارف حق و باطل کو پرکھنے کی کسوٹی کے طور پر کر وایا جاتا ۔
روایات ِ تحریف
مسئلہ تحریف کے بارے میں جو بعض لوگوں کے ہاتھ اہم ترین دستاویز ہے وہ ایسی مختلف روایات ہیں جن کا حقیقی مفہوم نہیں سمجھا گیا یا پھر ان کی سند کے بارے میں تحقیق نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اس قسم کی بری تعبیر وجود میں آئی ہے ۔
ایسی روایات مختلف قسم کی ہیں :
۱ ۔ ایسی روایات جن میں کہا گیا ہے کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد حضرت علی (علیہ السلام) نے قرآن جمع کرنا شروع کیا جب اسے جمع کرچکے تو اسے صھابہ کے ایک گروہ کے پاس لے آئے انہوں نے مقامِ خلافت کے ارد گرد کو گھیر رکھا تھا ۔ آپ نے پیش فرمایا تو انھوں نے اسے قبول نہ کیا اس پر حضرت علی (علیہ السلام) نے کہا :پھر تم اسے کبھی نہ دیکھو گے ۔
لیکن ان روایات میں غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس جو قرآ تھا وہ دوسرے قرآنوں سے مختلف نہیں تھا ۔ البتہ تین چیزوں کا فرق تھا ۔
پہلا یہ کہ اس کی آیات اور سورتیں ترتیب ِ نزولی کے مطابق منظم کی گئی تھیں ۔
دوسرا یہ کہ ہر آیت اور سورة کی شان ِ نزول اس کے ساتھ لکھی گئی تھی ۔
تیسرا یہ کہ جو تفاسیر آپ نے پیغمبر اکرم سے سنی تھیں وہ اس میں درج تھیں ، نیز اس میں آیاتِ ناسخ و منسوخ کی نشاندہی بھی کی گئی تھی ۔
لہٰذا وہ قرآن جو حضرت علی علیہ السلام نے جمع کیا تھا اس میں اس قرآ ن سے ہٹ کر کوئی نئی چیز نہ تھی اور جو چیز زیادہ تھہ تھی وہ تفسیر تاویل ، شان ِ نزول اور ناسخ و منسوخ کی تمیز وغیرہ تھی دوسرے لفظوں میں وہ قرآن بھی تھا اور قرآن کی اصلی تفسیر بھی تھی ۔
کتاب سلیم بن قیس میں ہے :۔
ان امیر المؤمنین (علیه السلام) لما رای غدر الصحابة وقلة و فائهم لزم بیته، و اقبل علی القرآن ، فلما جمعه کله، وکتابه بیده، و تاٴویله الناسخ و المنسوخ، بعثت الیه ان اخرج فبایع، فبعث الیه انی مشغول فقد آلیت علی نفسی لا ارتدی بردائی الا لصلاة حتی اؤلف القراٰن و اجمعه ۔(۱)
جس وقت امیر المومومنین (علیہ السلام) نے صحابہ کی بے وفائی اور دوستوں کی کمی دیکھی تو گھر نہ چھوڑا اور قرآن کی طرف توجہ ہوئے آپ قرآن جمع کرنے اور اسے اپنے ہاتھ سے لکھنے میں مشغول ہوگئے یہان تک کہ تاویل اور ناسخ و منسوخ سب کو جمع کرلیا اس دورانمیں انہوں نے آپ کے پاس کسی کو بھیجا کہ گھرسے باہر نکلےں اور بیعت کریں آپ نے جواب میں کہلابھیجا کہ مشغول ہو ں ، میں نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک قرآن جمع نہ کرلوں سوائے نماز کے عباکندے پر نہیں ڈالوں گا ۔
۲ ۔ روایات کی دوسری قسم وہ ہے جو تحریف معنوی کی طرف اشارہ کرتی ۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تحریف تین طرح کی ہے :۔
۱ ۔ تحریف لفظی
۲ ۔ تحریف معنوی
۳ ۔ تحریف معنوی
۱ ۔ لفظی یہ ہے کہ قرآن کے الفا اور عبارت میں کمی بیشی اور تغیر کیا جائے اور یہ وہ تحریف ہے جس کا ہم اور تمام محققین ِ اسلام شدت سے انکار کرتے ہیں ۔
۲ ۔ تحریف معنوی یہ ہے کہ آیت کا معنی اور تفسیر اس طرح سے کی جائے کہ وہ اس کے حقیقی مفہوم کے برخلاف ہو ۔
۳ ۔ تحریف عملی یہ ہے کہ اس کے خلاف عمل کیا جائے ۔
مثلاً تفسیر علی بن ابراہیم میں ابو ذر منقول ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی :۔
یوم بیض وجوه و تسودوجوه
جس دن کچھ لوگوں کے چہرے تو سفید ہوں گے اور کچھ کے چہرے سیاہ ہوں گے ۔ (آلِ عمران ۱۰۶) ۔
تو پیغمبر نے فرمایا:۔
روز قیامت لوگوں سوال کیا جائے گا تم تم نے ثقلین ( قرآن و عترتِ پیغمبر ) کے ساتھ کیا سلوک کیا تو لوگ کہیں گے :اما الاکبر فحرقناه،ونبذناه وراء طهورن
ہم نے ثقل اکبر ( قرآن ) کی تحریف کی اور اسے پس پشت ڈال دی
واضح ہے کہ یہاں تحریف سے مراد وہی مفہوم قرآن کو دگر گوں کرنا اور اسے پس، پشت ڈال دیناہے ۔
۳ ۔ تیسری قسم ان روایات کی ایسی روایا ت ہیں ۔ یہ روایات دشمنوں ، منحرفوں یا ناداں نے قرآن کو بے اعتبار کرنے کے لئے گھڑی ہیں مثلاً وہ متعدد روایات جو احمد بن سیاری سے نقل ہوئی ہیں کہ جن کی تعداد ایک سو اٹھاسی (یہ تعداد کتاب”برہان روشن“ کے مؤلف نے لکھی ہے ) ۔ تک جاپہنچی ہے ۔ مرحوم حاجی نوری نے کتاب ”فصل الخطاب“ میں انھیں فروانی سے نقل کیا ہے ۔
ان احادیث کاراوی سیاری بہت سے بزرگ علماء ِ رجال کے بقول فاسد المذہب، ناقابل اعتماد ضعیف الحدیث تھا اور بعض کے بقول صاحب غلو، منحرف ، تناسخ کے ساتھ مشہور اورکذاب تھا ۔ مشہور صاحب ِ کتاب رجال کشی کے بقول امام جواد علیہ السلام نے اپنے خط میں سیاری کے دعووں کو باطل اور بے بنیاد قرار دیا ہے ۔
البتہ روایاتِ تحریف سیاری میں منحصر نہیں ہیں لیکن ان کا زیادہ ترحصہ اسی کی طرف سے ہے ۔
ان جعلی روایات میں کچھ مضحکہ خیز روایات بھی نظر آتی ہیں جو شخص تھوڑا بہت بھی مطالعہ رکھتا ہے وہ فوراً ان روایات کی خرابی کو سمجھ لیتا ہے مثلاًایک روایت کہتی ہے کہ سورہ نساء کی آیہ ۳ میں ”( وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ماطاب لکم من النساء ) “( اور اگر تمہیں ڈر ہو کے تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو ان عورتوں سے نکاح کرو جو تمہیں اچھی لگتی ہیں ) شرط اور جزاء کے درمیان میں سے ایک تنہائی سے زیادہ قرآن ساقط ہو گیا ہے ۔
حالانکہ ہم سورہ نساء کی تفسیر میں کہہ چکے ہیں کہ اس اایت میں شرط اور جزاء پوری طرح ایک دوسرے سے مربوط ہیں یہاں تک کہ اس مین سے ایک لفظ بھی ساقط نہیں ہوا ۔
علاوہ ازیں ایک تہائی سے زیادہ تو پھر اس حساب سے کم ازکم چودہ پاروں کے برابر بنتا ہے ۔
یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ ان سب کا تبان، وحی اور زمانہ پیغمبر سے لے کر آج تک قرآن کے حافظوں اور قاریوں کے ہوتے ہوئے اس کے چودہ پارے ضائع ہوگئے او رکوئی آگاہ نہ ہوا ۔
ان جھوٹوں اور جعل سازوں نے اس تاریخی حقیقت کی طرف توجہ نہیں کہ قرآن کہ جو اسلام کاقانون اساسی ہے اور شروع سے مسلمانوں کا سب کچھ اسی سے تشکیل پاتا ہے رات دن گھروں اور مسجدوں میں اس کی تلاوت ہوتی رہتی ہے کیا اس عالم میں اس کا ایک لفظ بھی ساقط کیا جا سکتا ہے تھا چہ جائیکہ اس کے چودہ پارے غائب کردئے جائیں ۔ یہ اتنا بڑا جھوٹ ایسی احایدث گھڑنے والوں کے پیدا ہونے کی واضح دلیل ہے ۔
بہت سے بہانہ تراش کتاب فصل الخطاب کا سہارا لیتے ہیں ۔ اس کتاب کی طرف ہم نے سطور بالا میں اشارہ کیا ہے یہ مرحوم حاجی نوری کی تالیف ہے اور تحریف کے سلسلے میں لکھی گئی ہے اس کے ابرے میں ہم نے جو کچھ اوپر کہا ہے اس کے علاوہ اس با تی اس کی کیفیت واضھ ہو جاتی ہے کہ مرحوم حاج شیخ آقابزرگ تہرانی کہ جو مرحوم حاجی نوری کے شاگرد مبرز ہیں ، اپنے استاد کے حالات کے ذیل میں ”مستدرک الوسائل “ کی پہلی جلد میں لکھتے ہیں :۔
باقی رہا کتاب ” فصل الخطاب“ کے بارے میں تو میں نے بارہا اپنے استاد سے سنا ہے کہ فرماتے تھے کہ وہ مطالب جو فصل الخطاب میں ہے وہ میراذاتی عقیدہ نہیں ہے ۔ یہ کتاب تو میں نے بحث و اشکال کے لئے لکھی ہے اور اشارتاًعدم تحریف کے بارے میں اپنا عقیدہ بھی بیان کردیا ہے اور بہتر تھا کہ میں کتاب کا نام ” فصل الخطاب فی عدم تحریف الکتاب“ رکھتا ۔
اس کے بعد مرحوم محدث تھرانی کہتے ہیں :
عملی لحاظ سے ہم اپنے استاد کی روش اچھی طرح دیکھتے تھے کہ وہ روایات تحریف کو کچھ بھی وزن دینے کے قائل نہ تھے بلکہ انھیں ایسی ورایات سمجھتے تھے جنہیں دہوار پر دے مارنا چاہئیے ۔ ہمارے استاد کی طرف تحریف کی نسبت وہی شخص دے سکتا ہے جو ان کے عقیدہ سے آشنائی نہ رکھتا ہو ۔
آخری بات یہ ہے کہ بعض ایسے لوگ جو مسلمانوں کے لئے اس آسمانی کتاب کی عظمت کو محسوس نہیں کرتے تھے انھوں نے کوشش کی کہاس قسم کے خرافات اور اباطیل سے قرآن کو اس کی اصالت اور بنیاد سے گرادیں ۔ گذشتہ اور موجودہ زمانے میں بہت سی آیات تبدیل کردیں لیکن یہ ان کا اندھا پن تھا ،علماء ِ اسلام فوراً دشمن کی اس سازش سے آگاہ ہوئے اور ان نسخوں کو اکھٹا کرلیا ۔ یہ سیاہ دل دشمن نہیں جانتے تھے کہ قرآن میں سے ایک نقطہ بھی تبدیل ہو جائے تو قرآن کے مفسرین ، حفاظاور قارئین فوراً اس سے آگاہ ہو جائیں گے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ نور ِ خدا کو بجھا دیں لیکن وہ ایسا ہر گز نہیں کر سکتے ۔( یریدون ان یطفؤا نور الله بافواههم و یاٴبی الله الا ان یتم نوره ولو کره الکافرون ) ( توبہ ۔ ۳۲)
____________________
۱۔اس کی عبارت اس طرح ہے ۔و الشیعة هم ابدا اعداء المساجد ولهٰذا یقل ان یشاهد الضارب فی طول بلادهم عرضها مسجداً
۲۔تاریخ القرآن ص۳۴۔
آیات ۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵
۱۰ ۔( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِی شِیَعِ الْاٴَوَّلِینَ ) ۔
۱۱ ۔( وَمَا یَاٴْتِیهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُونَ ) ۔
۱۲ ۔( کَذَلِکَ نَسْلُکُهُ فِی قُلُوبِ الْمُجْرِمِینَ ) ۔
۱۳ ۔( لاَیُؤْمِنُونَ بِهِ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاٴَوَّلِینَ ) ۔
۱۴ ۔( وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهمْ بَابًا مِنْ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِیهِ یَعْرُجُونَ ) ۔
۱۵ ۔( لَقَالُوا إِنَّمَا سُکِّرَتْ اٴَبْصَارُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُو )
ترجمہ
۱۰ ۔ ہم نے تجھ سے پہلے ( بھی ) گذشتہ امتوں کے درمیان پیغمبر بھیجے ہیں ۔
۱۱ ۔ کوئی پیغمبر ان کے پا س نہیں آیا تھا مگر یہ کہ وہ ا س کا مذاق اڑاتے تھے ۔
۱۲ ۔ ہم اسی طرح ( او ر تمام وسائل سے استفا دہ کرتے ہوئے ) قرآن کو مجرموں کے دلوں کے اندر راستہ دیتے ہیں ۔
۱۳ ۔ ( لیکن اس کے با وجود ) و ہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور گذشتہ امتوں کی روش بھی اسی طرح تھی ۔
۱۴ ۔ اور اگر ہم آسمان سے ان کے لئے کوئی دروازہ کھول دیں اور وہ مسلسل اس میں اوپر کی طرف جائیں ۔
۱۵ ۔ تو کہیں گے کہ ہماری چشم بندی کی گئی ہے بلکہ ہمیں ( سر تاپا) مسحور کر دیا گیا ہے
تفسیر
ہٹ دھرمی اور محسوسات کا انکار
ان آیات میں پیغمبر اکرم اور مومنین کو اپنی دعوت میں در پیش مشکلات کے مقابلے میں تسلی و تشفی کے لئے گذشتہ انبیاء کی زندگی اور گمراہ و متعصب قوموں کے مقابلے میں ان کی مصیبتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے : تجھ سے پہلے ہم نے گذشتہ امتوں کے درمیان بھی نبی بھیجے تھے( وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ فِی شِیَعِ الْاٴَوَّلِینَ ) ۔
لیکن وہ لوگ ایسے ہٹ دھرم اور سخت مزاج تھے کہ ” جو پیغمبر بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا تمسخر اڑاتے( وَمَا یَاٴْتِیهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُونَ ) ۔
یہ استہزاء چند امور کی وجہ سے ہوتا تھا
۔انبیاء کی شان و شوکت کو کم کرنے اور حق کے متلاشی اور حق طلب افراد کو ان سے دور کرنے کے لئے ۔
۔ خدائی رسولوں کی منطق کے مقابلے میں ان کی اپنی ناتوانی کی وجہ سے چونکہ وہ لوگ ان کے دندان شکن دلائل کا جواب نہیں دے سکتے تھے لہٰذا تمسخر کا سہارا لیتے یعنی بے منطق ناداں کا حربہ استعمال کرتے تھے ۔
۔ اس بناء پر کہ انبیاء بد عت شکن تھے اور غیر مناسب رسوم و رواج کے خلاف قیام کرتے تھے لیکن جاہل متعصب کہ ان غلط رسول و رواج کو ابدی سمجھتے تھے انہیں ان کام پر تعجب ہو تا تھا اور وہ استہزاء کرنے لگتے تھے ۔
۔یہ لوگ اس لئے بھی استہزاء کرتے تھے کہ اپنے خوابیدہ ضمیر کو سلائے رکھیں اور کہیں کوئی ذمہ داری اور مسئولیت ان کے سر نہ آجائے ۔
۔ اس لئے کہ بہت سے انبیاء کے ہاتھ مالِ دنیا سے تہی ہوتے تھے اور ان کی زندگی سادہ ہوتی تھی جو لوگ اپنے دل کے اندھے پن کی وجہ سے شخصیت کو نئے لباس ، اعلیٰ سواری اور نگین زندگی میں منحصر سمجھتے تھے انھیں تعجب ہوتا تھا کہ کیا ایک فقیر اور تہی دست انسان ان دولت مندوں او ر خوشحال لوگوں کا رہبر ہوسکتا ہے ؟ لہٰذا وہ اس کا تمسخر اڑانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے تھے ۔
۔ آخر کار یہ بھی تھا کہ وہ دیکھتے تھے کہ انبیاء کی دعوت قبول کرنے سے ان کی شہوات و خواہشات محدود ہ وجائیں گی او ر ان کی حیوانی آزادی چھن جائے گی ۔ اور ان کے لئے فرائض اور ذمہ دار یاں پیدا ہو جائیں گی لہٰذا وہ استہزاء سے کام لیتے تاکہ اپنے آپ کو ان فرائض اور ذمہ داریوں سے بچا سکیں ۔
اس کے بعد فرمایا گیا : اسی اسی طرح ہم آیات قرآن مجرموں کے دلوں میں ں بھیجتے ہیں( کَذَلِکَ نَسْلُکُهُ فِی قُلُوبِ الْمُجْرِمِینَ ) ۔
لیکن ان تمام تبلیغ ، تاکید ، منطقی بیان اور معجزات دکھا نے کے باوجود یہ متعصب تمسخر اڑانے والے ” اس پر ایمان نہیں لاتے“( لاَیُؤْمِنُونَ بِه ) ۔
البتہ یہ انہی پر منحصر نہیں ہے ” ان سے پہلے گذشتہ اقوام کی بھی یہی روش تھی( وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْاٴَوَّلِینَ ) ۔
شہوات میں غوطہ زنی اور باطل پر ہٹ دھرمی کے باعث معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ اگر ہم ان کے لئے آسمان میں کوئی در وازہ کھول دیں اور ہمیشہ آسمان کی طر ف چڑھیں اور اتریں( وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْهمْ بَابًا مِنْ السَّمَاءِ فَظَلُّوا فِیهِ یَعْرُجُونَ ) ۔
تو کہیں گے کہ ہماری چشم بندی کی گئی ہے( لَقَالُوا إِنَّمَا سُکِّرَتْ اٴَبْصَارُنَا ) ۔بلکہ ہمیں جادو گر دیا گیا ہے اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں ، اس میں قطعاً کوئی حقیقت نہیں ہے( بَلْ نَحْنُ قَوْمٌ مَسْحُورُونَ ) ۔
یہ جائے تعجب نہیں کہ انسان عناد اور ہ دھرمی کے اس در جے پر پہنچ جائے کیونکہ انسان کی پاک روح اور خرابی سے بچی ہوئی فطرت کہ جو ادراک ِ حقائق اور واقعیات کے اصلی چہرے کے مشاہدہ پر قدرت رکھتی ہے ، گناہ جہالت اور حق سے دشمنی رکھنے کے زیر اثر آہستہ آہستہ تاریکی میں جا گرتی ہے البتہ ابتدائی مراحل میں اسے پاک کرنا پوری طرح ممکن ہے لیکن اگر خدا نخواستہ یہ حالت ِ انسان میں راسخ ہو جائے اور ” ملکہ “ کی شکل اختیار کرلے تو پھر اسے آسانی سے ختم کیا جاسکتا اور یہ وہ مقام ہے کہ حق کا چہرہ انسان کی نظر میں دگر گوں ہو جاتا ہے یہاں تک کہ محکم ترین عقلی دلائل اور واضح ترین حسی براہین اس کے دل پر اثر نہیں کرتے اور اس کا معاملہ معقولات اور محسوسات دونوں کے انکار تک جا پہنچتا ہے ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ ”شیع کا مفہوم “
” شیع“” شیعہ “کی جمع ہے ۔ ” شیعہ“ ایسی جمیعت اور گروہ کو کہا جاتا ہے جس کے افراد خطِ ،مشترک کے حامل ہوں مفردات مین راغب نے کہا ہے :
”شیع “ ”شیاع“ کے مادہ سے پھیلاؤ اور تقویت کے معنی میں ہے ” شاع الخبر“ اس وقت کہا جاتا ہے جب خبر متعدد اور قوی ہو جائے ” شاع القوم “ اس وقت کہا جاتا ہے جب جمیعت پھیل جائے اور زیادہ تعداد میں ہو اور ” شیعہ “ ان لوگوں کو کہتے ہیں کہ انسان جن کی وجہ سے قوی ہو ۔
مرحوم طبرسی مجمع البیان میں اس کی اصل ” مشایعت “ بمعنی متابعت سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شیعہ پیرو کار اور تابع کے معنی میں ہے اور شیعہ علی(علیہ السلام) انھیں کہا جاتا ہے جو حضرت علی (علیہ السلام) انھیں کہا جا تا ہے جو حضرت علی (علیہ السلام) کے پیرو کار ہوں اور ان کی امامت کا اعتقاد رکھتے ہوں ۔ پیغمبر اکرم کی یہ مشہور حدیث حضرت امام سلمہ سے مروی ہے ۔شیعة علی هم الفائزون یوم القیامة
( قیامت کے دن نجات پانے والے علی (علیہ السلام) کے پیرو ہیں )
یہ حدیث بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔
بہر حال اس لفظ کی اصل ”شیاع“ بمعی پھیلاؤ اور تقویت سمجھیں یامشایعت بمعنی متابعت جانیں شیعہ اور تشیع کے مفہوم میں ایک طرح کی فکری و مکتبی ہم بستگی موجود ہونے کی دلیل ہے کہ وہ انبیاء کے خلاف پر اگندہ صورت میں عمل نہیں کرتے تھے بلکہ وہ خط مشترک اور ایک ہی پروگرام کے حامل تھے کہ جو ہم آہنگ اقدامات سے تقویت پاتا ہے ۔
اگر گمرا ہ لوگ اس طرح باہم مل کر اقدامات کرتے ہوئے تو کیا راہ ِ حق کے سچے پیرو کاروں کو اپنے راستے میں ہم آہنگی اور مشرکہ منصوبہ بندی اختیار نہیں کرنا چاہئیے ۔
۲ ۔”نسلکہ“ کی ضمیر کامرجع
یہ لفظ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ مجرموں اور مخالفوں کو اپنی آیات اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ گویا ان کے دلوں میں داخل ہو گئی ہوں ۔
لیکن افوس کی بات ہے کہ عدم قابلیت اورعدم آمادگی کے سبب با ہر نکل آتی ہیں جیسے مقوی او رمفید غذا خراب اور غیر صحیح معدہ میں جذب نہیں ہوتی ۔بالک یہی حقیقت ”نسلکہ “ کہ جس کا مادہ اصلی ”سلوک “ سے ہے سمجھی جاسکتی ہے ۔
لہٰذا” نسلکہ “ کی ضمیر ” ذکر “ ( قرآن) کی طرف لوٹتی ہے کہ جو گذشتہ آیات میں آیا ہے کہ اس طرح بعد والے جملے ” لایومنون بہ “ میں ” بہ “ کی ضمیر اس کی معنی کی طرف لوٹتی ہے یعنی ان تمام چیزوں کے باوجود وہ لوگ ان آیات پر ایمان نہیں لائیں گے اس بناء پر دو ضمیروں کے درمیان پوری طرح ہم آہنگی موجود ہے ۔
اسی معنی میں اس تعبیر کی نظیر سورہ شعراء کی آیہ ۲۰۰ اور ۲۰۱ میں نظر آتی ہے ۔
بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ ” نسلکہ “ کی ضمیر استہزاء کی طرف لوٹتی ہے کہ جو گذشتہ آیت سے مستفاد ہو تا ہے لہٰذا جملے کا معنی یہ ہوگا : ہم نے اس استہزاء کرنے کو( ان کے گناہوں اور ہٹ دھرموں کی وجہسے ) ان کے دل میں داخل کردیا ہے ۔
لیکن یہ تفسیر کوئی اور اشکال نہ بھی رکھتی ہو تاہم دوضمیروں کے درمیان سے ہم آہنگی خم کردیتی ہے اور اس کی کمزوری کے لئے یہی کافی ہے ( غور کیجئے گا) ۔
ضمنی طور پر مندرجہ بالا جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ مبلغین کا فریضہ صرف یہ نہیں کہ مسائل لوگوں کے کانوں کو سنا دیں بلکہ انھیں تمام وسائل سے استفادہ کرنا چاہئیے تاکہ حق بات ان کے دل میں اتاردیں اس طرح سے کہ وہ دلنشیں ہو جائے یوں حق طلب لوگوں کو ارشاد و ہدایت ہو جائے گی اور ہٹ دھرم افراد پر اتمام حجت ہو جائے گی ۔
یعنی تمام سمعی و بصری اور عملی ذرائع سے استفادہ کرناچاہئیے ۔ واقعات اور داستانوں سے کام لینا چاہئیے ۔
شعر و ادب و ہنر و فن سے حقیقی اور اصلاحی معنی میں استفادہ کرنا چاہئیے ۔ تاکہ کلمات حق لوگوں کے دلوں میں جا گزیں ہو جائیں ۔
۳ ۔گذشتہ لوگوں کی روش
انبیاء پر طرف دار باطل کی نکتہ چینی اور مردانِ خد اسے لوگوں کو دور کرنے کی سازشیں کوئی نئی چیز نہیں اور کسی خاص زمانے یا علاقے میں منحصر نہیں بلکہ جیسا کہ مذکورہ بالا تعبیر سے معلوم ہوتا ہے قدیم زمانے سے گمراہ قوموں میں ایسی سازشیں موجود ہیں ۔
لہٰذا ان سے ہر گز وحشت زدہ نہیں ہونا چاہئیے اور اپنے اندر مایوسی اور ناامیدی کو جگہ نہیں دینا چاہئیے ۔ یا دشمنوں کی طرف سے پیدا کردہ کثیر مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہئیے ۔
یہ بات تمام راہیان حق کے لئے ایک موثر دلجوئی اور تسلی ہے ۔
اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی دور اور کسی علاقہ میں ہم دعوت ِحق نشر کریں اور پر چم عدم لہرائیں لیکن ہٹ دھرم اور سخت مخالفت کرنے والے دشمن کی طرف سے ہمیں رد عمل کا سامنا نہ کرنا پڑے تو ہم بہت ہی زیادہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں ۔ انبیاء الہٰی اور ان کے سچے پیر و کار ان مخالفتوں کی وجہ سے کبھی مایوس نہیں ہوئے بلکہ ان کے لئے ضروری ہوتا تھا کہ ہر روز اپنی دعوت کی گہرائی اور گیرائی میں اضافہ کریں ۔
۴ ۔( فظلموا فیه یعرجون ) “ کا مفہوم
یہ جملہ اور مندرجہ بالا آیات میں آنے والے بعد کے جملے اچھی طرح نشاندہی کرتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ آسمان سے کوئی دروازہ ان کے لئے کھول دیا جائے (ظاہراً آسمان یہاں اس تہ بہ فضا کی طرف اشارہ ہے جو زمین کے اطراف میں ہے کہ جس سے آسانی سے نکلنا ممکن نہیں ہے )اور مسلسل روز روشن میں اس آئیں جائیں پھر بھی وہ شدید ہٹ دھرمی سے کہیں گے کہ ہماری چشم بندی کردی گئی ہے اور ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔
توجہ رہے کہ ” ظلموا “ دن میں کسی کام کو جاری رکھنے کی دلیل ہے عرب یہ لفظ رات کے موقع کے لئے استعمال نہیں کرتے بلکہ اس کی جگہ ”باتوا“ کہتے ہیں جو مادہ ” بیتوتہ“ ( رات گزار نا) سے ہے ۔
زیادہ تر مفسرین نے یہی تفسیر انتخاب کی ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض مفسرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ ” ظلموا“ میں ضمیر فرشتوں کی طرف لوٹتی ہے یعنی اگر وہ فرشتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ وہ آسمان کی طرف جارہے ہیں اور پلٹ رہے ہیں تو پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے ۔
علاوہ اس کے کہ یہ تفسیر قبل اور بعد کی آیات سے کہ جوعموماً مشرکین کے بارے میں ہیں سے منا سبت رکھتی ( کیونکہ ملائکہ کا ذکر صرف پہلی چھ آیات میں آیا ہے اور ان کی طرف ضمیر کا لوٹنا بہت بعید ہے ) بلاغت کلام میں بھی نقص کا باعث ہے کیونکہ قرآن یہ کہنا چاہتا ہے کہ یہاں تک کہ اگر یہ لوگ خود بصورت اعجاز روز روشن میں آسمان کی طرف جائیں اور پلٹ آئیں تو بھی حق کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے ۔ ( غور کیجئے گا) ۔
۵ ۔ سکرات ابصارنا“ کا مطلب
” سکرت“ ”سکر“ کے مادہ سے چھپانے کے معنی میں ہے یعنی ہٹ دھرم کا فر کہتے ہیں کہ ہماری حقیقت میں آنکھ پر گویا پر دہ ڈال دیا گیا ہے اور اگر ہم اپنے تئیں آسمان کی طرف محو پرواز دیکھیں تو یہ ایک خیالی بات ہے یہ بالکل وہی چیز ہے جسے فارسی زبان میں ”چشم بندی “اور نظر بندی ( اردو میں اسے فریب ِ نظر کہتے ہیں (مترجم ) ۔ سے تعبیرکرتے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ دوسرے کے ہاتھ کی صفائی کی وجہ سے انسان حقیقت کو صحیح طور پر نہیں دیکھ سکتا بلکہ اس کے خلاف محسوس کرتا ہے ۔
یہ جو اس کے بعد جملہ ” بل نحن قوم مسحورون “( بلکہ ہم تو جادو زدہ ہیں ) آیا ہے اگر چہ فریب نظر بھی ایک قسم کا جادو ہے لیکن شاید یہ اس طرف اشارہ ہو کہ معاملہ چشم بندی سے بھی بالا ہو گیا ہے اور ہمیں سر تا پا جا دو کردیا گیا ہے نہ صرف ہماری آنکھ جادو کے زیر اثر ہے بلکہ ہمارا سارا وجود جادو کے سبب اپنا حقیقی احساس گنوابیٹھا ہے اور جو کچھ محسوس کرتا ہے ، خلافِ حقیقت ہے ۔
دوسرے لفظوں میں جب ہم کسی انسان کو کسی ذریعے سے اوپر لے جائیں اور نیچے لے آئیں تو وہ اس حالت کو نہ صرف اپنی آکھوں سے بلکہ پورے وجود کے ساتھ محسوس کرتا ہے لہٰذا اگر کسی کی پوری طرح چشم بندی کر دی جائے تو وہ پھر بھی اپنے اوپر نیچے آنے جانے کو محسوس کرے گا، یعنی فرض کریں کہ ان مشرکین کو ہم آسمان کی طرف لے جائیں تو پہلے کہیں گے کہ ہماری نظر کو فریب دیاگیا ہے اور بعد میں متوجہ ہوں گے کہ یہ حالت تو بدون چشم قابل احساس ہے تو کہیں گے اصولی طور پر تو سرسے لے کر پاؤں تک ہمارا وجود سحر زدہ ہے اور اس پر جادو کیا گیا ہے ۔
آیات ۱۶،۱۷،۱۸
۱۶ ۔( وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَیَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِینَ ) ۔
۱۷ ۔( وَحَفِظْنَاهَا مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ رَجِیمٍ ) ۔
۱۸ ۔( إِلاَّ مَنْ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاٴَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُبِینٌ ) ۔
ترجمہ
۱۶ ۔ ہم نے آسمان میں برج قرار دئیے ہیں اور انھیں ناظرین کے لئے زینت عطا کی ہے ۔
۱۷ ۔اور اس کی ہر شیطان مردود سے حفاظت کی ہے ۔
۱۸ ۔ مگر اشتراق سمع کرنے والے کہ شہاب ِ مبین جن کا تعاقب کرتے ہیں ( اور انھیں ہانکتے ہیں ) ۔
تفسیر
شیطان شہاب کے ذریعے ہانکے جاتے ہیں :
ان آیات میں توحید اور شناخت ِ خدا کی دلیل کے طور پر نظام اافرینش کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ان آیات کے ذریعے قرآن و نبوت کے بارے میں گذشتہ آیا ت کی بحث مکمل کی گئی ہے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے : ہم نے آسمان میں برج قرار دئے ہیں( وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَاءِ بُرُوجًا ) ۔
”بروج“ ”برج“ کی جمع ہے اس کا اصلی معنی ”ظہور“ ہے اسی بنا پر اطراف ِ شہر کی دیوار یا اجتماع ِ لشکر کے اس مخصوص حصے کو برج کہا جاتا ہے جو خاص ظہور کرتا ہو ۔ نیز اسی بناء پرجب عورت اپنی زینت ظاہر و آشاکر کرے تو ” تبرجت المرائة“ کہتے ہیں ۔
بہرحال آسمانی برج سورج اور چاند کی منازل کی طرف اشارہ ہیں زیادہ دقیق تعبیر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ہم کرہ زمین سے چاند اور سورج کی رف نگاہ کریں تو سال کے مختلف مواقع پر انھیں ہم ایک خاص صورت فلکی میں دیکھتے ہیں ( سیاروں کے مختلف مجموعے ہیں ان میں سے ہر ایک نے ایک خاص شکل اختیار کی ہوتی ہے ، اسے صورت فلکی کہتے ہیں ) اور کہا جاتا ہے کہ سورج برج حمل، ثور ، میزان ، عقرت، یاقوس میں ہے ۔(۱)
ان آسمانی برجوں کا وجود ، آفتاب و ماہتاب کی منزلیں اور وہ خاص نظام جو ان کی حرکت کے لئے ان پر بر جوں میں موجود ہے کہ جس سے ہماری دنیائے ہستی کی تقویم بنتی ہے آفریدگار اور خالق کے علم و قدرت پر یہ ایک واضح دلیل ہے یہ عجیب و غریب نظام جو دقیق بھی ہے اور باریک حساب کا حامل ہے ۔ مسلسل اور رواں دواں ہے ، ظاہر کرتا ہے کہ جہان کی خلقت ایک منصوبے اور ہدف کے تحت ہے اور اس میں ہم جتنا زیادہ غور و فکر کریں ہم اس جہان کے خالق اتناہی قریب ہو جاتے ہیں ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : ہم نے آسمان کو اور ان کی فلکی صورتوں کو ناظرین کی زینت عطا کی ہے( وَزَیَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِینَ ) ۔(۲)
ایک تاریک ستاروں بھری رات میں آسمان کی طرف نظر اٹھائیں تو ہم دیکھیں گے کہ مختلف گوشوں میں ستاروں کے مختلف گروہ موجود ہیں گویا ہ رگروہ کی اپنی انجمن ہے ۔ اور وہ آپس میں آہستہ آہستہ راز و نیاز کی باتیں کررہے ہیں ۔ بعض خیرہ خیرہ ہماری طرف دیکھتے ہیں مگر آنکھ سے اشارہ بھی نہیں کرتے اور بعض ہیں کہ مسلسل اشارہ کررہے ہیں گویا ہمیں اپنی طرف بلارہے ہیں ۔ بعض چمکتے ہوئے یوں لگتے ہیں کہ جیسے ہمارے قریب ہو تے جارہے ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے کم رنگ نور کے ساتھ گویاآسمانوں کی ان پہنائیوں سے بغیر آواز کے صدا دے رہے ہیں کہ ہم بھی یہاں ہیں یہ خوبصورت شاعرانہ منظر جو شاید بعض کے لئے مشاہدہ کے باعث معمول کا جلوہ ہو لیکن اس پر جتنا بھی غور و فکر کریں یہ قابل ِ دید، جاذب نظر اور شوق انگیز ہے اور جب چاند اپنی مختلف شکلوں میں ان گروہ د رگروہ ستاروں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے تو یہ منظر اور بھی تازہ اور اعجاب انگیز ہو جاتا ہے ۔
غروبِ آفتاب کے بعد ستارے یکے بعد دیگرے نمودار ہوتے ہیں گویا کسی پر دے کی اوٹ سے باہر کی طرف دوڑ رہے ہوں ۔ یہی تارے دم صبح خیرہ کن آفتاب کی قوت کے سامنے ٹھہر نہیں پاتے ، بھاگ جاتے ہیں اور اپنے آپ کو چھپالیتے ہیں ۔
اس سے قطع نظر علمی زیبائیوں اور فراواں اسرار کی نگاہ سے آسمان کاچہرہ اس قدر خوبصورت ہے کہ ہزاروں سال تمام علماء اور دانش مندوں کی آنکھ اسی کی طرف لگی ہوئی ہے ۔ خصوصاً آج کی دنیا میں نہایت طاقتور ٹیلی سکو پس اور ستارے دیکھنے والی عظیم دوربینوں کے ذریعے اس کی طرف دیکھا جاتا ہے اور ہر وقت اس سے ظاہر اً خاموش مگر غوغا حا کم کے تازہ اسرار اہل ِ دنیا کے لئے منکشف ہو رہے ہیں ، سچ ہے کہ :
چرخ بایں اختران نغزو خوش و زیبا ستی
آسمان ان عمدہ ، اچھے اور زیبا ستاروں کے ساتھ ہے
بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے : ہم نے اس آسمان ک وپر مردود، شوم اور ملعون شیطان سے محفوظ رکھا ہے ۔( وَحَفِظْنَاهَا مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ رَجِیمٍ ) ۔
مگر وہ شیطان کہ جو اشتراق سمع“ ( خبریں چرانا ) کی ہوس کرتے ہیں ان کا تعاقب شہابِ مبین کرتے ہیں اور انھیں پیچھے کی طرف ہانکتے ہیں( إِلاَّ مَنْ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاٴَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُبِینٌ ) ۔
شیطان شہاب کے ذریعے کیسے ہانکے جاتے ہیں ؟
زیر نظر آخری آیت ان آیات میں سے ہے جس کے متعلق مفسرین نے بہت کچھ کہا ہے اور ہر ایک نے ایک خاص راستہ طے کیا ہے اور اسے ایک معین نتیجہ نکالا ہے ۔
چونکہ بعینہ یہی مضمون سورہ صافات ( آیہ ۶،۷) اور سورہ جن (آیہ ۹) میں آیا ہے اور یہ ایسے مسائل میں سے ہے کہ جس کے بارے میں ممکن ہے بے خبر افراد کچھ ایسے سوالات اٹھائیں جو جواب کے بغیر رہ جائیں لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے بزرگ عظیم اسلامی مفسرین کی آراء پر ایک نگاہ ڈال لیں اور پھر جس رائے کو ہم ترجیح دیں اسے بیان کیا جائے ۔
۱ ۔ بعض مفسرین مثلاًتفسری فی ظلا ل کا مولف ان آیات اور اس قسم کی دیگر آیات سے برے آرام سے یہ کہہ کر گزرگئے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن ک اادراک ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اور ضروری ہے کہ جو کچھ ہمارے حقیقی اعمال میں سے ہماری زندگی میں مؤثر ہے اسے اہمیت دیں ۔ لہٰذا انھوں نے ان آیات کی اجمالی سی تفسیر پر قناعت کرتے ہوئے اس مسئلے کی توضیح سے صرف ِ نظر کیا ہے ۔
تفسیر فی ظلا ل کا مولف لکھتا ہے :
شیطان کیا ہے وہ کس طرح اشترا ق سمع کرنا چاہتا ہے اور وہ کیا چرانا چاہتا ہے ؟
یہ سب چیزیں خدائی غیوب میں سے ہیں کہ نصوص کے ذریعے جن کی دست یابی نہی ہوسکتی اور ان کے بارے میں تحقیق و جستجو کاکوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس سے ہمارے عقیدے میں کوئی آضافہ نہیں ہوتا ۔ اس کا اس کے سواکوئی فائدہ نہیں کہ فکر انسانی ایسی چیزمیں مشغول ہ وجاتی ہے جو اس کے ساتھ کوئی خاص ربط نہیں رکھتی اور اسے انسان اپنی زندگی میں حقیقی عمل انجام دینے سے رک جاتا ہے ۔ علاوہ ازیں ان کے بارے میں تحقیق سے کسی جدید حقیقت کے بارے میں ہمیں کوئی نیا ادراک نہیں ملتا(۳)
لیکن اس میں نہیں کہ قرآن ایک ایسی عظیم انسان ساز ، تربیت کنندہ اورحیات بخش کتب ہے کہ اگر کوئی چیز حیاتِ انسانی کے ساتھ ربط نہ رکھتی ہو تو وہ اس میں ہر گز نہ ہوگی ۔
یہ کتاب ساری کی ساری درس ہے درسِ زندگی ہے علاوہ ازیں کوئی شخص اس بات کو قبول نہیں کر سکتا کہ قرآن میں ایسے حقائق ہوں کہ جنہیں معلوم نہ کیا جاسکتا ہو ، کیا قرآن نور کتاب ِ مبین نہیں ہے اور کیا یہ لوگوں کے فہم و تدبراور ہدایت کے لئے نازل نہیں ہوا ۔ تو کیسے ان آیات کو سمجھنا ہم سے ربط نہیں رکھتا ؟
بہر حال ان آیات اور ان جیسی آیات کے بارے میں یہ طرز اعتراض ہمیں پسند نہیں ہے ۔
۲ ۔ مفسرین کی ایک اہم جماعت خصوصاً متقدین مفسرین کا اصرار ہے کہ آیت کے ظاہری معنی کو پوری طرح محفوظ رکھا جائے ۔ ان کے نزدیک ”سماء “ اسی آسمان کی طرف اشارہ ہے اور ”شہاب“ اسی ”شہاب “ کی طرف اشارہ ہے یعنی وہی سرگرداں سنگریزے جو اس فضائے بیکراں میں گر دش کررہے ہیں اور کبھی کبھاروہ زمین کی قوت ثقل کی زد میں آجاتے ہیں تو زمین کی طرف کھنچ آتے ہیں ۔ہوا کی لہروں سے تیزی سے ٹکرانے کی بنا وہ سرخ اور شعلہ ور ہو جاتے ہیں اور خاکستر بن جاتے ہیں ۔
نیز” شیطان “ وہی خبیث، راندہ اور سر کش موجودات ہیں جو آسمانوں کی طرف جانا چاہتے ہیں اور ہمارے اس جہان کی کچھ خبریں کہ جو آسمان میں منعکس ہوتی ہیں انھیں استراق سمع سے ( مخفی طور پر کان لگا کر ) معلوم کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن شہاب تیروں کی طرح ان کی طرف آتے ہیں اور انھیں ایسا کرنے سے باز رکھتے ہیں ۔(۴)
۳ ۔ مفسرین کی ایک اور جماعت نے ان آیات کی تعبیرات کو تشبیہ کنایہ اور امثال کے طور پر لیا ہے ۔ یعنی اصطلاحاًانھیں سمبالک( SYM BOLIC )سمجھا ہے ان مفسرین میں المیزان کے عالی قدر مفسر اور صاحب تفسیر الجواہرطنطاوی شامل ہیں ۔ ان مفسرین نے اس تشبیہ و کنایہ کو مختلف صورتوں میں بیان کیا ہے ۔
الف ۔تفسیر المیزان میں ہے :
مفسرین نے شیاطین کے استراق سمع اور شہاب کے ذریعے ان کے ہانکے جانے کے بارے میں جو مختلف توجیہات کی ہیں ایسی چیزپرمبنی ہیں جو کبھی کبھی ظاہر آیات وروایات سے ذہن میں آتی ہیں وہ یہ کہ افلاک زمین پر محیط ہیں ان میں فرشتوں کے مختلف گروہ موجود ہیں ہر گروہ کے لئے ان افلاک میں کئی دروازے ہیں کہ جن میں سے ان فرشتوں کے علاوہ کوئی نہیں آجا سکتا ۔ ان فرشتوں میں سے کچھ اپنے ہاتھ میں شہاب لئے ہوئے ہیں اور وہ استراق سمع کرنے والے شیاطین کی تاک ہیں کہ ان کے ذریعے ان کی سر کوبی کریں اور انھیں ہانکیں ۔
حالانکہ آج کی دنیا میں واضح ہو چکا ہے کہ ایسے نظر یات بے بنیاد ہیں ایسے کوئی افلاک ہیں نہ دروازے اور نہ ہی ایسی اور چیزیں ۔
جو کچھ یہاں بطور احتمال کہا جا سکتا ہے یہ ہے کہ ایسے بیانات کلام ِ الہٰی میں امثال کی طرح ہیں کہ جو غیر حسی حقائق واضح کرنے کے لئے حسی لباس میں ذکر ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ خدا فرماتا ہے :( و لک الامثال نضربها للناس وما یعقلها الا العالمون )
(یہ امثال ہیں کہ جو ہم لوگون کے لئے بیان کرتے ہیں اور صاحبان ِ علم کے علاوہ انھیں کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔ ( عنکبوت ۴۳) ۔
ایسی مثالیں قرآن میں بہت زیادہ ہیں مثلاًعرش، کرسی ، لوح اور کتاب ۔
لہٰذا آسمان کہ جو فرشتوں کا مسکن ہے سے مراد ایک عالم ِ ملکوتی ہے جو عالم طبیعت سے ماوراء ہے کہ جو اس جہانِ محسوس سے برتر و بالاتر ہے اور اس آسمان کی باتیں چوری چھپے سننے کے لئے شیطانوں کے قریب ہونے اور ان کی طرف شہاب پھینکے جانے سے مراد ہے کہ وہچاہتے ہیں کہ عالم ِ ملائکہ قریب ہوں تاکہ اسرار خلقت اور حوادث آئندہ کے بارے میں آگاہی حاصل کریں لیکن وہ ملائکہ معنوی و ملکوتی انوا سے شیطانوں کو ہانکتے ہیں ۔کیونکہ ان انوارکو بر داشت کرنے کی وہ تاب نہیں رکھتے(۵)
ب:طنطاوی اپنی مشہو ر تفسیر میں لکھتا ہے :۔
ایسے علماء جو حیلہ گر اور ریا کار ہیں اور عام لوگ جو ان کی پیروری کرتے ہیں یہ اہلیت نہیں رکھتے کہ آسمانوں کی عجائب، عالم بالا کی شگفیاں ، اس کے بے کراں کرات اور ان پر حکم فرماں نظم و حساب سے آگاہ ہوں خدا نے انھیں اس علم دانش سے محروم رکھا ہے اور ستاروں بھرے ،خوبصورت اور مززین ازآسمان کے تمام اسرار ان کے افراد کے اختیار میں دئیے ہیں جو عقل و ہوش اور اخلاص و ایمان رکھتے ہیں ۔
فطری او رطبیعی ہے کہ پہلا گروہ اس آسمان کے اسرار میں نفوذ سے روک دیا جاتا ہے اور درگاہ الٰہی سے دھتکار ا ہوا شیطان چاہے نوع بشر سے ہو یا غیر بشر سے ، ان حقائق تک رسائی کا حق نہیں رکھتا اور جس وقت وہ ان کے نزدیک ہوتا ہے تو دھتکار دیا جا ہے ۔
ایسے افراد ممکن ہے بہت سال جئےں اور مر جائیں مگر ان اسرار تک ہر گز نہیں پہنچ پاتے ۔ ان کی آنکھیں کھلی تو ہوتیں ہیں لیکن حقایق دیکھنے کی تاب نہیں رکھتیں ۔
کی ایسا نہیں کہ اس کا علم اس کے عاشقوں کے سوا کسی کو نہیں ملتا اور اس کے جمال کا نظار ہ اس کے عارفوں کے سواکوئی نہیں کرسکتا ۔(۶)
اس میں کیا مانع ہے کہ یہ تعبیرات کنایہ ہوں ، منع حسی منع عقلی کی طرف اشارہ ہوجبکہ کنایہ بلاغت کی بہترین انواع میں سے ہے ۔
کیا ہم دیکھتے نہیں کہ بہت سے لوگ جو ہمارے آس پاس زندگی کزار تے ہیں وہ اس زمین کے حدود اربعہ میں محبوس اور قید ہیں ان کی آنکھ کبھی جہان وبلا کی طرف نہیں اٹھتی اور وہ صدائے بالا پر کان نہیں دھرتے اور ا س جہان کے امور اور عجائبات کی انھیں کوئی خبر نہیں وہ خود خواہی ، شہوت ، کینہ وری، طمع و حرص اور خانماں ن ساز شہاب کے ذریعے ان اعلی ٰ معانی کے ادراک سے ہانکے گئے ہیں (اور اگر کسی روز وہ ایسی خواہش ظاہر کریں تو اپنے قلب وروح کی ان آلودگیوں کے باعث وہ ہانکے جائیں گے(۷)
ج:۔ایک او رمقام پر اس نے جو گفتگو کی ہے اس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے :
جس وقت انسانوں کی ارواح اس دنیا سے جہان برزخ کی طرف منتقل ہوتی ہیں ان کا زندوں کی روح کے ساتھ تعلق او ارتباط ہوتا ہے او رجہاں ان کے درمیان مناسبت او میلان ہواور وہ احضار ارواح وغیرہ کے ذریعے ان سے ارتباط اور تفاہم بر قرار رکھ سکیں تو کچھ مسائل ان کے اختیار میں دئے جاتے ہیں جو بعض اوقات حق او ر بعض اوقات باطل ہوتے ہیں کیونکہ وہ عوالم اعلیٰ تک رسائی نہیں کرسکتے بلکہ ان کی رسائی صرف نچلے عوالم تک ہوسکتی ہے ، مثلاًجسے مچھلی اپنے محیط سے باہر نکل کر ہوا میں پرواز نہیں کر سکتی ، وہ بھی طاقت رکھتے کہ اپنے جہان کے حدود اربعہ سے نکل کر بالاتر چلے جائیں ۔
د:بعض دوسرے کہتے ہیں جدید سائنسی انکشافات نشاندہی کرتے ہیں کہ بہت دور کی فضا سے طاقتور ریڈلہروں کا ایک سلسلہ جاری ہے انھی کرہ زمین میں ریڈیائی پیغامات وصول کرنے والے مخصوص مرکزکے لئے اخذ کیا جا سکتا ہے ۔ کسی شخص کو معلوم نہیں کہ ان انتہائی طاقتورلہروں کا سرچشمہ کہاں ہے ۔
بعض سائنسداں کہتے ہیں کہ قوی احتمال ہے کہ دور کے آسمانی کروں میں بہت سی زندہ موجودات کہ جوتمدن کے لحاظ سے ہم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں لہٰذا وہ چاہتی ہیں کہ اپنی خبریں اس دنیا تک پہنچائیں ان خبروں میں ایسے مسائل بھی موجود ہیں جو ہمارے لئے نئے ہیں اور موجودات کہ جنھیں دیو اورپری کہتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ ان لہروں سے فائدہ اٹھائیں لیکن طاقتور شعائیں انھیں دور پھینک دیتی ہیں(۸)
____________________
۳۔ تفسیر فی ظلال ج۵ ص ۳۹۶۔
۴۔فخر رازی نے اپنی تفسیر کبیر اور آلوسی نے روح المعانی میں اس تفسیر کا ذکر کرنے کے بعد ہیئت قدیمہ کے حوالے سے پیدا ہونے والے مختلف اشکالات کے جواب بھی دئیے ہیں اور کہا ہے کہ آج کی ہیئت کی طرف توجہ کرتے ہوئے افلاک کا پیاز کے چھلکوں کی طرح ہونے کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
۵۔المیزان ج۱۷ص۱۳۰۔ سورہ صافات کی آیات کے ذیل میں ۔
۶۔تفسیر طنتاوی ،ج۸ ص۱۱۔
۷۔تفسیر طنطاوی ،ج۱۸ ص ۱۰
۸تفسیر قرآن بر فرا زاعصار۔مولفہ ع نوفل صفحہ ۲۵۸۔
نتیجہ بحث
ان آیا ت کی تفسیر کے سلسلے میں مباحث بہت طویل ہو گئے ہیں اب مکمل نتیجہ حاصل کرنے کے لئے ہمیں چند نکات کی طرف توجہ کرنا چاہیئے ۔
۱ ۔لفظ ”سماء“(آسمان )بہت سی آیات قرآن میں ایسی مادی آسمان کے معنی میں مثلاً سورہ اعراف کی آیہ ۴۰ میں ہے :۔ان الذین کذبوا باٰیاتنا و استکبروا و اعنها لا تفتح لهم ابواب السماء
وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے اوران کے سامنے تکبر اختیار کیا ہے آسمان کے در وازے ان کے رخ پر نہیں کھلیں گے ۔
ہوسکتا ہے یہاں آسمان قرب خدا کے لئے کنایہ ہو جیسا کہ سورہ فاطر کی آیہ ۱۰ میں ہے ۔
( الیه یصعد الکلم الطیب و العمل الصالح یرفعه )
پاکیزہ باتیں اس کی طرف اوپر جاتی ہیں اور وہ عمل صالح کو بلند کرتا ہے ۔
واضح ہے کہ اعمال صالح اور پاکیزہ باتیں کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو اس آسمان کی طرف اوپر جائیں بلکہ ان کی پیش رفت مقام قرب خدا کی طرف ہوتی ہے او وہ روحانی عظمت و رفعت حاصل کرتے ہیں ۔
اصولی طور پر آیات قرآن کے بارے میں ”انزل“ اور” نزل“کی تعبیر واضح طورپر بتاتی ہے کہ مقام قدس پروردگار سے قلب ِپیغمبر پر نزول مراد ہے ۔
سورہ ابراہیم کی آیہ ۲۴ میں ہے :۔الم ترا کیف ضرب الله مثلاًکلمة طیبة کشجرة طیبة اصلها ثابت فرعها فی السماء
کیا تونے نہیں دیکھا کہ خدا نے اچھی بات کی مثال پیش کی ہے کہ گویا ایک پاکیزہ درخت ہے اس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی ٹہنیاں آسمان میں ہیں ۔
اس کی تفسیر میں ہم نے پڑھا ہے کہ یہ پاکیزہ درخت جسے خدا نے مثال کے طورپر بیا ن کیا ہے اس کی جڑ پیغمبر ﷺ ہیں ۔ اور علی (علیہ السلام) اس کی جڑاور شاخ( وہی شاخ کہ جو آسمان تک پہنچی ہوئی ہے ) اور دیگر آئمہ اس کی کچھ چھوٹی شاخیں ہیں(۱)
ایک حدیث میں ہے :کذٰلک الکافرون لاتصعد اعمالهم الیٰ السماء
اسی طرح کفا ر کہ جن کے اعمال آسمان کی طرف اوپر نہیں جاتے۔
واضح ہے کہ اسی احادیث میں آسمان اس حسی آسمان کی طرف اشار ہ نہیں ہے یہاں سے ہم نتیجہ نکال تے ہیں کہ آسمان مادی مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے اور معنوی مفہوم میں بھی ۔
۲ ۔نجوم ( ستارے) بھی ایک مادی مفہوم رکھتے ہیں کہ جو یہی ستارے ہیں جو آسمان میں نظر آتے ہیں اور ایک لفظ کا معنوی مفہوم ہے کہ جو علماء اور بڑی شخصیت کی طرف اشارہ ہے کہ جو انسانی معاشروں کو روشنی بخشتے ہیں اور جیسے لوگ ستاروں کے ذریعے تاریک راتوں میں بیابانوں میں اور سمندوں میں اپنا راستہ ڈھونڈتے ہیں ، انسا نی معاشروں میں عام لوگ بھی زندگی اور سعادت کی راہ علماء آگاہ اور صاحب ایمان رہبروں کی مدد سے پاتے ہیں ۔
مشہو حدیث جو پیغمبراکرم ﷺ سے نقل ہوئی ہے :۔مثل اصحابی فیکم کمثل النجوم بایها اخذ اهتدیٰ
میرے اصحاب ستاروں کی طرح ہیں جس کی اقتداء ہو جائے باعث ہدایت ہے(۲)
سورہ انعام آیت اس طرح ہے :وهوالذی جعل لکم النجوم لتهتدوا بها فی الظمات البر و البحر
اور وہ ذات کہ جس نے تمہاے لئے ستارے بنائے تاکہ خشکی اور دریا کی تاریکیوں میں ان کے ذریعے تمہاری ہدایت ہو ۔
تفسیر علی بن ابراہیم میں اس آیت کے ذیل میں منقول ہے کہ امام (علیہ السلام) فرمایا :النجوم آل محمد
ستارے سے مراد خاندان ِپیغمبر ہے ۔(۳)
۳ ۔ بحث آیات کی تفسیر میں وارد ہونے والی متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں کی طرف شیاطین کے صعود کی ممانعت اور ستارو ں کے ذریعے ان کا ہانکا جانا پیغمبر اکرم کی ولادت کے وقت سے ہوا اور بعض روایات سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدائش کے وقت سے شیاطین ایک حد تک ممنوع ہوئے اور پیغمبر کی ولادت کے بعد مکمل طور پر ممنوع ہوگئے(۴)
ان باتوں سے جو ہم نے بیان کی ہیں یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ ”سماء“ کا یہاں معنوی مفہوم ہے اور یہ حق ،ایمان اور روحانیت کے آسمان کی طرف اشارہ ہے اور ہر وقت شیطانوں کی کوشش ہے کہ وہ اس چار دیواری میں داخل ہو نے کے لئے راہ پالیں اور سچے مومنین اور حامیان حق کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسوں کے ذرریعے نفوذپیدا کرلیں لیکن مرادانِ الٰہی اور راہبران راہ حق انبیاء و آئمہ سے لے کر مجتہد علماء تک اپنے علم و تقویٰ کی طاقتور موجوں کے ساتھ ان پر حملہ کرتے ہیں اور انہیں اس آسمان سے قریب ہونے سے ہانکتے ہیں ۔
اسی مقام پر حضرت مسیح کے تولد اور اس سے بالا تر حضرت محمد ﷺکے تولد اور شیطان کے دھتکار نے کے درمیان ربط معلوم کیا جاسکتا ہے ۔
نیز یہیں پر آسمان کی طرف صعود اور اسرارر سے آگاہی کے درمیان ارتباط معلوم کیا جاسکتا ہے ۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس مادی آسمان میں کوئی خاص خبریں نہیں ہیں سوائے خلقت کی عجیب و غریب چیزوں کے جو روئے زمین سے بھی قابل مطالعہ ہیں ۔ نیز آج کی دنیا میں یہ مسئلہ یقینی ہوچکا ہے کہ اس بیکراں فضامیں پھیلے ہوئے آسمانی کرات میں سے بعض مردہ ہیں اور بعض زندہ ہیں او ر ان کے ساکنان بھی ہیں لیکن شاید ان کی زندگی ہم سے بہت زیادہ مختلف ہو ۔
یہ موضوع بھی بہت قابل ملاحظہ ہے کہ شہاب صرف زمین کی فضا سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اطراف زمیں کی ہوا سے پتھر کے ٹکڑے اٹھتے ہیں اور شعلہ ور ہوتے ہیں انہی سے شہاب پیدا ہوتے ہیں ورنہ زمین کی فضا سے باہر کوئی شہاب نہیں ہوتا البتہ زمینی فضا سے باہر کچھ پتھر سر گرداں ہیں لیکن انھیں شہاب نہیں کیا جاتا لیکن جب وہ زمینی فضامیں داخل ہوتے ہیں تو گرم ہوکر شعلہ ور ہوجاتے ہیں اور انسان کی نظروں سے سامنے آگ کی ایک لکیر کی صورت میں نمایاں ہوتے ہیں یو لگتا ہے کہ جیسے یہ حرکت کرتے ہوئے ستارے ہیں ۔
نیزہم یہ بھی جاتنے ہیں کہ آج کے انسان نے کئی مرتبہ زمین کی فضا سے باہر کی طرف عبور کیا ہے اور اس سے بہت بلند یہاں تک کہ چاند تک پہنچا ہے (توجہ رہے کہ زمین کی فضا ایک سوسے لیکر دوسو کلو میٹر سے زیادہ نہیں ہے جبکہ چاند ہم سے تیس لاکھ کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر ہے ) ۔
لہٰذااگر مراد یہی مادی شہاب اور مادی آسمان ہوتو یہ مان لینا چاہئیے کہ یہ علاقہ انسانی سائندانوں پر ظاہر ہوچکا ہے اور اس میں کوئی اسرار کی بات نہیں ہے ۔
خلاصہ یہ کہ بہت سے قرائن و شواہد جو ہم نے ذکر کئے ہیں ،سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے مراد حق و حقیقت کا آسمان ہے ، اور شیاطین وہی وسوسہ پیدا کرنے والے ہیں کہ جو کوشش کرتے ہیں کہ اس آسمان تک رسائی حاصل کرسکیں اور مخفی طور پر کان لگا کر باتیں سنیں اور لوگوں کو گمراہ کریں ۔ ستاررے اور شہاب یعنی رہبران الہٰی اور علماء اپنے قلم کی طاقتور لہروں اور موجوں سے انھیں پیچھے کی طرف ہانکتے ہیں اور دھتکار تے دیتے ہیں ۔
لیکن قرآن بحر بیکراں ہے اور ہوسکتا ہے کہ آنے والے علماء ان آیات کے سلسلے میں نئے حقائق تک دسترس حاصل کرلیں کہ آج جن تک ہم رسائی حاصل نہیں کرسکے۔
____________________
۱۔تفسیر بر ہان جلد ۲ ص۳۱۰۔
۲۔سفینة البحار جلد۲ ص ۹۔ یہ روایت سنی روایات سے ملتی جلتی ہے ۔ظاہر ہے کہ اس کا اطلاق اور عموم قابل عمل نہیں ہے کیونکہ صحابہ میں ہر قسم کے لوگ حتی کہ منافقین بھی داخل ہیں اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس سے یاتو سلماو ابوذر جیسے خاص اصحاب مراد ہیں یا اصحاب کساء اور اہل بیت مراد ہیں ہمارے اس نظریہ کی تائید سورہ انعام کی آیہ۹۷ کے ذیل میں آنے والی مذکورہ بالا روایت کی بھی کرتی ہے ۔
یہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے ۔
۳ ۔نور الثقلین جلد۱ ص ۷۵۰۔
۴۔نور الثقلین جلد ۳ ،ص ۵ تفسیر قرطبی ج۵ م ص۳۶۲۶۔
آیات ۱۹،۲۰،۲۱
۱۹ ۔( وَالْاٴَرْضَ مَدَدْنَاهَا وَاٴَلْقَیْنَا فِیهَا رَوَاسِیَ وَاٴَنْبَتْنَا فِیهَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَوْزُونٍ ) ۔
۲۰ ۔( وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیهَا مَعَایِشَ وَمَنْ لَسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِینَ ) ۔
۲۱ ۔( وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلاَّ بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ )
ترجمہ
۱۹ ۔اورہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں ثابت پہاڑ ڈالے اورتمام موزوں نباتات میں سے اس میں اگایا ۔
۲۰ ۔اور ہم نے تمہارے لئے طرح طرح کے وسائل زندگی فراہم کئے اور اسی طرح ان کے لئے بھی جنھیں تم روزی نہیں دے سکتے ۔
۲۱ ۔تمام چیزوں کے خزانے ہمارے پاس ہیں لیکن ہم معین انداز سے سوا اسے نازل نہیں کرتے۔
تفسیر
ہرچیز کا خزانہ ہمارے پاس ہے :
یہاں آیات آفرینش ایک حصہ اور زمین میں عظمت خدا کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں تاکہ گذشتہ بحث تکمیل کو پہنچے۔
پہلے بات زمین سے شروع کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہوتاہے:ہم نے زمین کو پھیلا یا( وَالْاٴَرْضَ مَدَدْنَاهَا ) ۔
”مد“ دراصل وسعت دینے او ر پھیلانے کے معنی میں ہے اور احتمال قوی یہ ہے کہ یہاں زمین کی خشکیوں کے ذریعے سے باہر نکلنے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ابتدا میں کرہ زمین کی ساری سطح سیلابی بارشوں کے زیر اثر پانی کے نیچے ڈوبی ہوئی تھی سالہاسال اسی حال میں گذرگئے ۔سیلابی بارشیں کم ہوئیں ، پانی زمین کے گڑہوں میں جاگزیں ہوا ۔ آہستہ آہستہ خشکیاں پانی کے نیچے سے نمودار ہونے لگیں ۔ یہی وہ چیز ہے جو روایات اسلامی میں ”دحو الارض “ کے نام سے مشہو ہے ۔ پہاڑوں کی خلقت چونکہ ان کے زیادہ فوائد کی وجہ سے توحید کی ایک نشانی ہے ، اسی لئے ان کا ذکر تے ہوئے مزید فرمایا گیا ہے : ہم نے زمین میں مستقر اور ثابت پہاڑ ڈالے ہیں( وَاٴَلْقَیْنَا فِیهَا رَوَاسِیَ ) ۔
پہاڑو ں کے لئے ”القاء“ (پھینکنا)کی تعبیر استعمال کی گئی ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ پہاڑ زمین کی وہ سلوٹیں ہیں جوزمین کے چمڑے کے تدریجاًسرد ہونے کی بناء پر یا آتش فشانی موادکی وجہ سے وجود میں آئے ہیں ۔ ہوئے ہیں ، ہوسکتا ہے یہ تعبیر اس لہٰذاہوکہ ” القاء “”ایجاد “ کے معنی میں بھی آیا ہے ، ہماپنی روز مرہ زبان میں کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں زمین کے لئے پلا ن بنایا ہے اور اس میں چند کمرے ڈالے ہیں یعنی بنائے اور ایجاد کئے ہیں ۔
بہر حال یہ پہاڑ علاوہ اس کے کہ جڑسے ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں اور روزمرہ کی طرح زمین کے اندرونی خلفشار اور دباؤ کے مقابلے میں لرزتے نہیں ، طوفانوں کی طاقت کی بھی درہم برہم کرردیتے ہین اور ہوا کی رفتاری کوپوری طرح کنٹرول کرتے ہیں یہ پہاڑ ، پانی کے ذخیروں کے لئے بہت اچھی جگہ ہیں جو یہاں برف کی صورت میں یاچشموں کی صورت میں میں موجود ہوتا ہے ۔
خصوصاً لفظ ”رواسی “ استعمال کیا گیا ہے کہ جو”راسیہ“ جمع ہے اور یہ ثابت اور مضبوط کے معنی میں ہے جو کچھ ہم نے سطور بالا میں بیان کیا ہے اس کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے کہ وہ خود بھی ثابت اور مستقر ہیں اور زمین کے نازل چمڑے اور انسانی زندگی کے ثبات و قرار کا باعث ہیں ۔
انسانی زندگی اور تمام جانداروں کے زندگی کے لئے ، بہترین عامل یعنی نباتات کی طرف بات کا رخ رکھتے ہوئے فرمایا گیاہے :ہم نے زمین پر موزوں نباتات میں سے اگایا ہے( وَاٴَنْبَتْنَا فِیهَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ مَوْزُونٍ ) ۔
”موزون “کس قدر خوبصورت اور رسا تعبیر ہے ۔ یہ لفظ د اصل ”وزن“ کے مادہ سے ہر چیز کے اندر شناسائی کے معنی میں لیا گیا ہے ۔(۱)
یہ دقیق حساب ، عجیب نظم و ضبط اورنباتات کے تمام اجزاء کے متناسب اندازوں کی طرف اشارہ ہے ۔ یہاس طرف اشارہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک بلکہ ہر ایک کاہر جز ، شاخ ، پتہ، پھول، پھل، اور گٹھلی سب کچھ معین حساب کتاب کا حامل ہے ،۔
کرہ زمین میں شاید لاکھوں قسمکے نباتات ہیں کہ جو مختلف خواص اور طرح طرح کے آثار رکھتے ہیں ان میں سے ہر ایک اللہ کی پہچان کا دریچہ ہے ان میں سے ہر ایک کا پتہ پتہ معرفتِ کردگار کی ایک کتاب ہے ۔
اس جملہ کے معنی میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیاہے کہ اس سے مراد مختلف معدنیات کا پہاڑوں میں پیداہونا ہے کیونکہ عرب لفظ ”انبات“معدن اور کان کے بارے میں استعمال کرتے ہیں ۔
بعض روایات میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ایک روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا:
مراد یہ ہے کہ خدا پہاڑوں میں سونے ، چاندی ، جواہرات او رباقی دھاتوں کی کانیں اور معدنیات پیدا کی ہیں ۔(۲)
یہ احتمال بھی ہے کہ ”انبات“ ( اُگانا)یہاں وسیع معنی میں ہوکہ جس میں تمام مخلوقات جنہیں خدا نے پیدا کیا ہے ، شامل ہوں ۔ سورہ نوح میں اس عظیم پیغمبر کی زبانی ہے کہ آپ لوگوں سے کہتے تھے :
( و الله انبتکم من الارض نباتا ) (نوح۔ ۱۷)
اور خدا نے تمہیں نباتات کی طرح زمین سے اُگایاہے ۔
بہرحال کوئی مانع نہیں کہ آیت وسیع مفہوم رکھتی ہو اور اس میں انسان ، نباتات اور معدنیات وغیرہ سبھی شامل ہوں ۔
انسان کے وسائل حیات چونکہ نباتات اور معدنیات میں منحصر نہیں ہیں لہٰذا بعد والی آیات میں ان تمام نعمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیاہے :ہم نے زمین میں تمہارے لئے انواع و اقسام کے وسائل زندگی بنائے ہیں( وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیهَا مَعَایِشَ ) ۔
نہ صر ف تمہارے لئے بلکہ تمام زندہ موجودات کے لئے اور وہ کہ جنہیں تم روزی نہیں دیتے اور تمہاری دسترس سے باہر ہیں( وَمَنْ لَسْتُمْ لَهُ بِرَازِقِینَ ) ۔
جی ہاں !ہم نے ان سب کو ان کی ضروریات فراہم کی ہیں ۔
”معایش“ ” معیشة“ کی جمع ہے اور یہ وسیلہ ہیں ، ذریعہ ، انسانی زندگی کی ضروریات کو کہتے ہیں کہ بعض اوقات جن کے پیچھے خود انسان جاتا ہے اور بعض اوقات وہ اس کے پیچھے آتی ہیں اگر چہ بعض مفسرین نے لفظ” معایش“کی تفسیر صرف زراعت ، نباتات اور کھانے پینے کی چیزوں سے کی ہے لیکن واضح ہے کہ مفہوم لغت پوری طرح وسیع ہے اور تمام وسائلِ حیات پر محیط ہے ۔
مفسرین نے”من لستم له برازقین “کی دو تفسیریں ہیں ۔
پہلی تفسیر یہ کہ خدا چاہتا ہے کہ انسانوں کو متوجہ کرے کہ ہم نے بھی تمہارے لئے زمین میں وسیلہ زندگی قرار دیا ہے اور زندہ موجودات بھی تماہرے اختیار میں دئے ہیں ( مثلاً چوپائے ) کہ جنہیں تمام روزی دینے کی توانائی نہیں رکتھے ۔ خدا انھیں روزی دیتا ہے اگرچہ یہ کام تمہارے ہاتھوں انجام پاتا ہے ۔(۲)
۱ ۔تفسیر اول کی بناء پر ”من“ (من لستم برازقین ) کا عطف ”لکم“ کی ضمیر پر ہوتا ہے اور دوسری تفسیر کی بناء پر ”معایش“ پر ۔ بعض نے پہلی تفسیر پر اعتراض کیا ہے کہ مجور کا اسم ظاہر ضمیر مجرور پر عطف نہیں ہوتا مگر یہ کہ حرف جر کی تکرار ہو یعنی یہاں ضروری تھا کہ لام ” من “ کے سر پر بھی آتی ۔
دوسرا یہ ”من “ کا اطلاق انسان کے علاوہ دیگر زندہ پر کس طرح ہوا ہے ۔ لیکن یہ دونوں اعتراض صحیح نہیں ہیں ۔کیونکہ عبارات عرب میں حرف جر کی تکرار نہ ہونے پر شواہد موجود ہیں اور اسی طرح غیر ذوی العقول موجودات ” من “ کے اطلاق کی بھی مثالیں ہیں ، دوسری تفسیر پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ لفظ” معایش“ اتنا وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ تمام وسائل زندگی یہاں تک کہ چوپائے وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں ۔لہٰذا ” معایش “ کے ذکرکے بعد اس کے ذکر کی ضرورت نہ تھی ۔اسی بناء پر ہم نے پہلی تفسیر کوترجیح دی ہے ۔
لیکن ہماری نظر میں پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اور اس کی ادبی دلیل بھی ہم نے فٹ نوٹ میں بیان کردی ہے ۔
تفسیر علی بن ابراہیم میں موجود ایک حدیث میں ہم نے اس تفسیر کی تائید میں پاتے ہیں جہاں ”من لستم لہ برازقین “ کے بارے میں ہےلکل ضرب من الحیوان قدرنا شیئا مقدراً
تمام جانوروں کے لئے ہم نے کوئی نہ کوئی چیز مقدر کی ہے ۔(۳)
زیربحث آخری آیت در حقیقت ایک سوال کا جواب دیا جارہا ہے کہ جو بہت سے لوگوں کی طرف سے کیا جاتا ہے اور وہ یہ کہ خدا اس قد ازراق و نعمات انسانوں کے قبضے میں کیوں نہیں دیتا ہے کہ وہ ہر قسم کی سعی و کوشش سے بے نیاز ہو جاتے ۔
رشادہوتا ہے : تمام چیزوں کے خزنے ہمارے پاس ہیں لیکن ہم ان کی معین مقدارکے علاوہ نازل نہیں کرتے( وَإِنْ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلاَّ بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ ) ۔
لہٰذا ایسا نہیں کہ ہماری قدرت محدود ہے اور اپنی نعمات کے ختم ہونے پر ہم وحشت زدہ ہیں بلکہ ہر چیز کا منبع ،مخزن اور سر چشمہ ہمارے پاس ہے اور ہم ہر زمانے میں ہر مقدار ایجاد کر نے کی قدرت رکھتے ہیں لیکن اس عالم کی تمام چیزیں کسی حساب کے ماتحت ہیں اور ارزاق بھی خدا کی طرف سے بمقدار حساب نازل ہوتی ہیں ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے :۔
ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولٰکن ینزل بقدر مایشاء( شوری ۲۷)
اگر خدا اپنے بندوں کے لئے بے حساب روزی پھیلادیتا تو وہ جادہ حق سے منحرف ہو جاتے ، لیکن جتنی مقدار وہ چاہتا ہے نازل کرتا ہے ۔(شوریٰ ۔ ۲۷)
پوری طرح واضح ہے کہ سعی و کوشش ،انسانی زندگی سے سستی ، کاہلی اور دل مردگی دور کرنے کے علاوہ حرکت و نشاط پیدا کرتی ہے اوریہ انسانوں کی صحیح وسالم فکری و جسمانی مشغولیت کے لئے بہت ہی اچھا وسیلہ ہے اور اگر ایسا نہ ہوتاتو تمام چیزیں بے حساب انسان کے اختیار میں ہوتیں ۔اور نہ معلوم پھر دنیا کا کیا منظر ہوتا ۔
کچھ بیکار انسان سیر شکم کے ساتھ بغیر کسی کنٹرول کے شور و غل مچاتے کیونکہ ہم جاتے ہیں کہ ان جہان کے لوگ اہل جنت کی طرح نیک و بد صفات کے حامل ہیں انہیں اس جہان کی بھٹی سے کندن بن کے نکالنا چاہئیے۔ سعی وکو شش اور صحیح حرکت و اشتغال سے بہتر کندن بنا نے کے لئے کون سی چیز ہو سکتی ہے لہٰذا جس طرح فقرو فاقہ اور احتیاج و نیاز ی بھی فساد اور تباہی کا باعث ہے ۔
____________________
۱۔”الوزن معرفة قدر الشیء “ ( مفردات راغب)
۲۔تفسیر نور الثقلین جلد۳ ص ۶ ( توجہ رہے کہ اس تفسیرکے مطابق ” فیھا“ کی ضمیر پہاڑوں کی طرف لوٹے گی ) ۔
۳۔تفسیر نو ر الثقلین جلد۳ ص۹۔
چند اہم نکات
۱ ۔ خدا کے خزنے کیا ہیں ؟
قرآن کریم کی متعدد آیات میں ہے کہ خدا خزانے رکھتا ہے ۔ آسمان و زمین کے خزانے خدا کی ملکیت ہیں یا ہر چیز کے خزانے اس کے پاس ہیں ۔
”خزائن“ جمع ہے ” خزانہ“ کی جمس کا معنی ہے وہ جگہ جہاں انسان اپنے اموال حفاظت کے لئے جمع کرتا ہے یہ اصل میں مادہ ”خزن“ (بروزن”وزن“)سے کسی چیز کی حفظ و نگہداری کے معنی میں ہے واضح ہے کہ جمع آوری او ر ذخیرہ کرنے اور کسی چیز کو محفوظ کرنے کے لئے وہی شخص اقدام کتا ہے جس کی قدت محدود ہو اور جو ہر زمانے میں کچھ چاہے فراہم نہ کرسکے لہٰذا وہ قدرت کے موقع کے لئے ذخیرہ کرلیتا ہے اور خزانہ میں جمع کرلیتا ہے ۔
لیکن کیا یہ امور خدا کے بارے میں تصور کئے جاسکتے ہیں ؟یقینا نہیں یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین مثلاً طبرسی نے مجمع بیان میں ، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں اور راغب نے مفردات میں ”خزائن اللہ “ کی ”مقدراتِ الٰہی “ کے ساتھ تفسیر کی ہے یعنی تمام چیزیں قدرت خدا کے خزانے میں جمع ہیں اس میں سے جتنی مقدار وہ ضروری او قرین ِمصلحت سمجھتا ہے ایجاد کرتا ہے ۔
جبکہ بعض دیگر مفسرین نے کہا ہے کہ ”خزائن اللہ “ سے مراد امور کا وہ مجموعہ ہے کہ جو عالم ہستی اور جہان مادہ میں موجود ہیں لیکن اس عالم کی اعلیٰ اور مخصوص موجودات محدود مقدار میں پیدا ہوتی ہے بغیر اس کے امکان وجود انہی میں منحصر ہو ۔ (المیزان جلد ۱۲ ،ص ۱۴۸) ۔
یہ تفسیر اگرچہ اصولی طور پر قابل قبول مسئلہ ہے لیکن ”عندنا“ ( ہمارے پاس) کی تعبیر پہلی تفسیر کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے ۔ بہر حال خزائن اللہ جیسی تعبیرات کا انتخاب عام مفہوم میں خدا کے بارے میں صداق نہیں آتا ۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ خود لوگوں کی زبان میں ان سے بات کرے ۔
جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے ضمنی طورپر یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ بعض مفسرین کی طرف سے ”خزائن“ کے مفہوم کو پانی اور بارش میں معین و محدود کرنے پر نہ صرف کوئی دلیل ،موجود نہیں ہے بلکہ یہ امر مفہوم آیت کی وسعت کے ساتھ بھی مناسبت نہیں رکھتا ۔
۲ ۔نززول مقامی اور نزول مکانی
جیساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے نزول ہمیشہ نزول مکانی یعنی اوپر سے نیچے آنے کے معنی میں نہیں ہوتا بلکہ بلکہ کبھی نزول مقامی کے معنی میں بھی ہوتا ہے ۔مثلاًجس وقت کوئی بڑی نعمت کسی بڑے شخص کی طرف سے زیر دست لوگوں کوملے تو اسے نزول سے تعبیر کیا جاتا ہے اسی بناء پر قرآن مجید میں یہ لفظ خدا کی نعمتوں کے بارے میں استعمال ہوا ہے چاہے وہ آسمان سے نازل ہوں مثلاً بارش یا زمین پر پرورش پاتی ہوں مثلاً حیوانات ،جیسا کہ سورہ زمر کی آیت ۶ میں ہے :وانزل لکم من الانعام ثمانیة ازواج (اور اس نے تمہارے لئے آٹھ قسم کے چوپائے نازل کئے۔نیزلوہے کے بارے سورہ حدید کی آیہ ۲۵ میں ہے ۔( و انزل الحدید )
ہم نے لوہا نازل کیا ۔
اسی طرح دیگر مثالیں بھی ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ ”نزول“ اور ”انزال“ یہاں وجود ، ایجاد اور خلقت کے معنی میں ہے البتہ چونکہ خدا کی طرف سے بندوں کے لئے ہے لہٰذا اس قسم کے تعبیر استعمال کی گئی ہے ۔
آیات ۲۲،۲۳،۲۴،۲۵
۲۲ ۔( وَاٴَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِحَ فَاٴَنْزَلْنَا مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَسْقَیْنَاکُمُوهُ وَمَا اٴَنْتُمْ لَهُ بِخَازِنِینَ ) ۔
۲۳ ۔( وَإِنَّا لَنَحْنُ نُحْیِ وَنُمِیتُ وَنَحْنُ الْوَارِثُونَ ) ۔
۲۴ ۔( وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِینَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاٴْخِرِینَ ) ۔
۲۵ ۔( وَإِنَّ رَبَّکَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ إِنَّهُ حَکِیمٌ عَلِیمٌ ) ۔
ترجمہ
۲۲ ۔ ہم نے ہوائیں (بادلوں کے ایک دوسرے سے ملنے ، ان کے بار آور ہونے اور ) تلقیح کے لئے بھیجیں ، اور آسمان سے ہم نے پانی نازل کیا اور اس سے سیراب کیا جبکہ تم ان کے حفاظت اور نگہداری کی طاقت نہیں رکھتے تھے ۔
۲۳ ۔اور ہم ہیں جو زندہ کرتے ہیں اور مارتے ہیں اور ہم ( سارے عالم کے )وارث ہیں ۔
۲۴ ۔ ہم تمہارے متقدمین کو بھی جانتے تھے اور متاخرین کو بھی ۔
۲۵ ۔ تیرا پرورردگار یقینی طور پر(قیامت میں )سب کو جمع اور محشور کرے گا کیونکہ وہ حکیم اور دانا ہے ۔
تفسیر
ہوا اور بارش
گذشتہ آیات میں بعض اسرار آفرینش کا تذکرہ تھا اور خدا کی نعمتوں کا بیان تھا ۔ مثلاً زمین ، پہاڑ، نباتات اور وسائل زندگی کی خلقت۔
زیر نظر پہلی آیت میں ہواؤں کے چلنے اور بارشوں کے نزول میں ان اسرار ِ آفرینش کے نقشِ مؤثر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : ہم نے ہوائیں بھیجیں جبکہ وہ بار آور کرنے والی ہیں ( بادلوں کے ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں اور انھیں بار آور کرتی ہیں )( وَاٴَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِحَ ) ۔
اور ان کے پیچھے ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا( فَاٴَنْزَلْنَا مِنْ السَّمَاءِ مَاءً ) ۔اور اس ذریعہ سے ہم نے سب کو سیراب کیا( فَاٴَسْقَیْنَاکُمُوهُ ) ۔حالانکہ تم اس کی حفاظت و نگہداری کی طاقت نہ رکھتے تھے ۔( وَمَا اٴَنْتُمْ لَهُ بِخَازِنِینَ ) ۔
”لواقح “”لاقح“ کی جمع ہے جس کا معنی بار آور کرنے والا ۔ یہاں ان ہواؤں کی طرف اشارہ ہے جو بادلوں کے ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے ملاتی ہیں اور باہم پیوند کرتی ہیں اور انھیں بارش کے لئے تیا ر کرتی ہیں ۔
بعض معاصرین اس آیت کو ہواؤں کے ذریعے نباتات کی تلقیح اور گردافشانی کے لئے اشارہ قرار دیا ہے او ر اس طرح ایک سائنسی مسئلے کے حوالے سے اس کی تفسیر کی ہے کہ جو نزو ل قرآن کے زمانے میں انسانی معاشرے میں محل توجہ نہ تھا اس طرح انہوں نے اسے قرآن کے اعجاز علمی کے دلائل میں سے شمار کیا ہے لیکن اس حقیقت کو قبول کرنے باوجود کہ ہواؤں کا چلنا نر نباتات کے نطفے کو مادہ نباتات تک پہنچانے اور انھیں بار آور کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے ، مندرجہ بالا آیت کو اس طرف اشارہ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس لفظ کے فوراً بعد آسمان سے نزول باران کا ذکر ( وہ بھی فاء تفریع کے ساتھ )آیا ہے جو نشاندہی کرتا ہے کہ ہواؤں کا تلقیح کرنا بارش برسنے کی تمہید ہے ۔
بہر حال مذکورہ بالا تعبیر بادلوں اور اس سے بارش پیدا ہونے کے لئے خوبصورت ترین تعبیر ہے ہو سکتا ہے کہ کہا جائے کہ بادلوں کو ماں باپ سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ جو ہواؤں مدد سے ملاپ کرتے ہیں اور بار آورہوتے ہیں ، او ر اپنی اولاد یعنی بارش کے دانوں کو زمین پر رکھتے ہیں ۔
( وَمَا اٴَنْتُمْ لَهُ بِخَازِنِینَ ) ( تم ان پانیوں کی حفاظت اور ذخیرہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے ) ممکن ہے یہ جملہ آب باران کو نزول سے پہلے ذخیرہ کرنے کی طرف اشارہ ہو یعنی ان بادلوں پر تمہارا بس نہیں کہ جو بارش کے اصلی منبع ہیں ، نیز مکن ہے نزول باران کے بعد ذخیرہ کرنے کی طرف اشارہ ہو یعنی تم میں یہ طاقت نہیں کہ نزول باران کے بعد زیادہ مقدار میں پانی جمع اور محفوظ رکھ سکو ، یہ خدا ہے جو اسے پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کی صورت میں منجمد کرکے یا زمین کی گہرائیوں میں بھیج کر محفوظ کرلیتا ہے جو بعد میں چشموں ، ند یوں اور کنوؤں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔
مباحث توحید کے بعد معاد و قیامت اور اس کے مقدمات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے ہم ہیں جو زندہ کر تے ہیں اور ہم ہیں جو مارتے ہیں( وَإِنَّا لَنَحْنُ نُحْیِ وَنُمِیتُ وَنَحْنُ الْوَارِثُونَ ) ۔
یہ حیات و موت کے مسئلے کی طرف اشارہ ہے جو در حقیقت اہم ترین اور قطعی ترین مسائل میں سے ہے یہ مسئلہ معاد کی بحث کے لئے تمہید بھی بن سکتا ہے اور توحید کی بحث کا نقطہ تکمیل بھی ۔ کیونکہ ظہور حیات عالم ہستی کے عجیب ترین مسائل میں سے ہے اور اس مظہر کی تحقیق اور اس کا مطالعہ ہمیں خالق ِ حیات سے اچھی طرح آشنا کرسکتا ہے ۔ اصولی طو ر پر موت اور حیات کا نظام بے پایا ں قدرت و علم کے بغیر ممکن نہیں ۔ دوسری طرف موت و حیات کا وجود خود اس امر کی دلیل ہے کہ اس عالم موجودات خود سے کچھ نہیں رکھتے اور جو کچھ رکھتے ہیں وہ کسی اور کی طرف ہے اور آخر کار ان سب کا واث اللہ ہے ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : ہم ان کے گذشتگان اورآنے والوں کو جانتے ہیں( وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِینَ مِنْکُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاٴْخِرِینَ ) ۔
لہٰذاوہ خود بھی اور اس کے اعمال بھی ہمارے علم کے سامنے واضح اور آشکار ہیں اور اس لحاظ سے معاد و قیامت اور ان کے اعمال کا حساب و کتاب پوری طرح ہمارے سامنے ہے ۔
اس بناء اس گفتگو کے فوراً بعد فرمایا گیا ہے:یقینا تیرا پروردگا ر ان سب کو قیامت میں ایک نئی زندگی کی طرف پلٹائے گا اور انھیں جمع و محشور کرے گا( وَإِنَّ رَبَّکَ هُوَ یَحْشُرُهُمْ ) ۔کیونکہ وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی( إِنَّهُ حَکِیمٌ عَلِیمٌ ) ۔
اس کی” حکمت “کا تقاضا ہے کہ موت تمام چیزوں کا اختتام نہ بنے کیونکہ اگر زندگی اس جہاں کی انہیں چار دن کی حیات میں منحصر ہو تو آفرینش جہاں لغو اور بے معنی ہو جائے اور خدا وند کلیم سے بعید ہے کہ اس کی خلقت ایسی بے نتیجہ ہو لیکن اگر یہ آفرینش ایک لامتناہی حیات اور دائمی سیر و ملوک کی تیاری کے لئے مقدمہ ہے ہوگی یا دو لفظو میں ابدی اور جاوداں زندگی کے لئے تمہید ہوتو ایک مکمل مفہوم و معنی کی حامل ہو گی اور اس کی حکمت سے ہم آہنگ ہوگی اس لئے کہ کلیم کوئی کام بے حساب و کتاب نہیں کرتااور اس کا علیم ہونا سبب بنتا ہے کہ معاد و حشر کے معاملے میں کوئی مشکل پیدا نہ ہو ہ ذرہ خاکی جو کسی بھی انسان کاکسی گوشے میں جاپڑاہے وہ اسے جمع کرے گا اور اسے نئی حیات بخشے گا ۔ دوسری طرف سب کے اعمال کا دفتراس جہان طبیعت کے دلمیں بھی ثبت ہے اور انسانوں کے قلب و روح میں بھی اور وہ ان سب سے آگاہ ہے ۔
اس بناء پر خدا کا علیم و حکیم ہونا حشر و نش او معاد و قیامت پر جچی تلی اور پر مغز دلیل شمار ہوتا ہے ۔
متقدمین او ر متاخرین کون ہیں ؟
”( لقد علمنا المستقدمین منکم و ل؛قد علمنا المستاخرین ) “ اس آیت کے بارے میں مفسرین نے بہت سے احتمالات کا ذکر کیا ہے ۔
مرحوم طبرسی نے مجمع لابیان میں چھ تفسیریں بیان کی ہیں ۔
قرطبی نے آٹھ احتمال ذکر کئے ہیں
ابو الفتح رازی نے تقریباً دس احتمال پیش کئے ہیں ۔
لیکن ان سب کا گہرا مطالعہ اور تحقیق کی جائے تو ظاہر ہو تا ہے کہ ان سب کوایک ہیں تفسیر میں جمع کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ :۔
لفظ” متقدمین“ اور” متاخرین “وسیع معنی رکھتے ہیں ، ان میں زمانے کے لحاظ سے پہلے اور بعد میں آنے والے اعمال خیر میں آگے بڑھ جانے والے ،جہاد اور دشمنانِ حق سے مبارزہ کرنے والے یہاں تک کہ نماز ِ جماعت کی صفوں میں آگے اورپیچھے رہنے والے اور اسی قسم کے دیگر لوگ شامل ہیں ۔
اس جامع معنی کی طرف توجہ رکھتے ہوئے وہ تمام احتمالات جمع کرکے قبول کئے جاسکتے ہیں اور اس آیت میں تقدم و تاخر کے بارے میں ذکر کئے گئے ہیں
ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرم نمازنے جماعت کی پہلی صف میں شرکت کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔
آپ نے فرمایا :۔ خدا اور اس کے فرشتے ان صفوں میں پیش قدمی کرنے والوں پر درود بھیجتے ہیں “
اس تاکید کے بعد لوگوں نے پہلی صف میں شرکت کے لئے بہت ہجوم کیا ۔ ایک قبیلہ ” بنی عذرہ “تھا ان لوگوں کے گھر مسجد سے دور تھے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے گھر بیچ ک مسجد نبوی کے قریب ہی گھر خرید لیتے ہیں تاکہ صف اول میں پہنچ سکیں ۔
اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور انہیں بتایا گیا کہ خدا تمہاری نیتوں کو جانتا ہے اور یہاں تک کہ تم اگر آخری صف میں بھی کھڑے ہوئے تو بھی تمہاری نیت چونکہ صف میں کھڑا ہونے کی ہے تمہیں اپنی نیت کی جزا ملے گی ۔(۱)
مسلم ہے کہ اس شان ِ نزول کا محدود ہونا آیت کے وسیع مفہوم کے محدود ہونے کاہر گز سبب نہیں ہوسکتا ۔
____________________
۱ ۔مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
آیات ۲۶،۲۷،۲۸،۲۹،۳۰،۳۱،۳۲،۳۳،۳۴،۳۵،۳۶،۳۷،۳۸،۳۹،۴۰،۴۱،۴۲،۴۳،۴۴
۲۶ ۔( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ )
۲۷ ۔( وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ ) ۔
۲۸ ۔( وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَةِ إِنِّی خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ) ۔
۲۹ ۔( فَإِذَا سَوَّیْتُهُ وَنَفَخْتُ فِیهِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِینَ ) ۔
۳۰ ۔( فَسَجَدَ الْمَلَائِکَةُ کُلُّهُمْ اٴَجْمَعُونَ ) ۔
۳۱ ۔( إِلاَّ إِبْلِیسَ اٴَبَی اٴَنْ یَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ ) ۔
۳۲ ۔( قَالَ یَاإِبْلِیسُ مَا لَکَ اٴَلاَّ تَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ ) ۔
۳۳ ۔( قَالَ لَمْ اٴَکُنْ لِاٴَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ) ۔
۳۴ ۔( قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّکَ رَجِیم ) ۔
۳۵ ۔( وَإِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَةَ إِلَی یَوْمِ الدِّینِ ) ۔
۳۶ ۔( قَالَ رَبِّ فَاٴَنْظِرْنِی إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ) ۔
۳۷ ۔( قَالَ فَإِنَّکَ مِنْ الْمُنْظَرِینَ ) ۔
۳۸ ۔( إِلَی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ) ۔
۳۹ ۔( قَالَ رَبِّ بِمَا اٴَغْوَیْتَنِی لَاٴُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاٴَرْضِ وَلَاٴُغْوِیَنَّهُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔
۴۰ ۔( إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْهُمْ الْمُخْلَصِینَ ) ۔
۴۱ ۔( قَالَ هَذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیمٌ ) ۔
۴۲ ۔( إِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْهِمْ سُلْطَانٌ إِلاَّ مَنْ اتَّبَعَکَ مِنْ الْغَاوِینَ ) ۔
۴۳ ۔( وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔
۴۴ ۔( لَهَا سَبْعَةُ اٴَبْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ ) ۔
ترجمہ
۲۶ ۔ ہم نے انسان کو خشک شدہ مٹی سے پیدا کیا کہ جو بد بو دار(سیاہ رنگ) کیچڑ سے لی گئی تھی ۔
۲۷ ۔اور اس سے پہلے ہم جن گرم او ر جلادینے والی آگ سے خلق کیا تھا ۔
۲۸ ۔اور یاد کرو وہ وقت جب تیرے پر وردگار نے فرشتوں سے کہا : میں بشرکو خشک شدہ مٹی جو بد بودار کیچڑ سے لی گئی ہے ، سے خلق کروں گا ۔
۲۹ ۔جب ہم اس کام کو انجام دے چکےں اور میں اپنی ( ایک شائستہ اور عظیم ) روح پھونکیں تو سب کے سب اسے سجدہ کرنا ۔
۳۰ ۔ تمام فرشتوں سے بلا استثناء سجدہ کیا ۔
۳۱ ۔ سوائے ابلیس کے کہ جس نے سجدہ کرنے والوں میں سے ہونے سے انکار کردیا ۔
۳۲ ۔(اللہ نے ) فرمایا اے ابلیس !تو ساجدین کے ساتھ کیوں شامل نہیں ہوا ؟
۳۳ ۔اس نے کہا : میں ہر گز ایسے بشر کو سجدہ نہیں کروں گا جسے تونے بد بودار کیچڑ سے لی گئی خشک شدہ مٹی سے بنایا ہے ۔
۳۴ ۔فرمایا: ان ( فرشتوں ) کی صف سے نکل جا کہ تو ہماری درگاہ سے راندہ گیا ہے ۔
۳۵ ۔اور تجھ پر روز قیامت تک لعنت (اور رحمت حق سے دوری ) ہوگی ۔
۳۶ ۔اس نے کہا: پر وردگارا!مجھے روز قیامت تک مہلت دے ( اور زندہ رکھ ) ۔
۳۷ ۔فرمایا: تو مہلت حاصل کرنے والوں میں سے ہے ۔
۳۸ ۔(لیکن روز قیامت تک نہیں بلکہ ) معین دن اور وقت تک۔
۳۹ ۔ اس نے کہا : پروردگارا!چونکہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے میں مادی نعمتوں کو زمین میں ان کی نگاہ میں مزین کروں گا اور سب کو گمراہ کروں گا ۔
۴۰ ۔مگر تیرے مخلص بندے ۔
۴۱ ۔ (اللہ نے) فرمایا:یہ میری مستقیم اور سیدھی راہ ہے ( ہمیشہ کی سنت ہے ) ۔
۴۲ ۔(کہ) تو میرے بندوں پر تسلط حاصل نہیں کرسکے گا مگر وہ گمراہ جو تیری پیروی کریں گے ۔
۴۳ ۔اور جہنم ان سب کی وعدہ گاہ ہے ۔
۴۴ ۔اس کے سات دروازے ہیں اور ہر در وازے کے لئے ان میں سے ایک معین گروہ تقسیم شدہ ہے ۔
تفسیر
خلقت ِ انسان
گذشتہ آیات میں مخلوق خدا کے ایک حصے اور نظام ِہستی کا بیان تھا ۔ اسی مناسبت سے ان آیات میں تخلیق کے عظیم شاہکار یعنی انسان کی خلقت کو بیان کیا گیا ہے ۔ متعدد پر معنی آیات کے ذریعے اس خلقت کے بہت سے پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہے ۔
ہم پہلے تو آیات کی اجمالی تفسیر بیان کرتے ہیں اس کے بعد اہم نکات پر علیحدہ علیحدہ بحث کریں گے ۔
ارشاد ہوتا ہے ہم نے انسان کو صلصال سے ( یعنی اس مٹی سے جو خشک شدہ ہو اور کسی چیز سے ٹکراتے وقت آواز دیتی ہو ) پیدا کیا ہے کہ جو
حماٍمّسنون ( سخت تاریک ،متغیر اور بد بو دار کیچڑ ) سے لی گئی ہے( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ) ۔
اور اس سے پہلے” جنّوں “کو ہم نے گرم اور جلانے والی آگ سے پیداکیاہے( وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ ) ۔
”سموم“ لغت میں جلانے والی ہوا کے معنی میں ہے گویایہ ہوا انسانی جسم کے تمام سوراخوں سے نفوذ کرتی ہے کیونکہ عرب انسانی جسم کے بہت ہی چھوٹے سوراخوں کو ”مسام“ کہتے ہیں ۔” سموم “ بھی اسی مناسبت سے ایسی ہوا کوکہا جاتا ہے مادہ ”سم “ (زہر)بھی اسی سے ہے کیونکہ وہ بد ن میں نفوذ کرکے وانسان کو قتل کردیتی ہے یا بیمار کردیتی ہے ۔
جنوں نے ذکر کے بعد قرآن پھر خلقتِ انسان کے موضوع کی طرف لوٹتا ہے ۔ فرشتوں سے اللہ تعالیٰ کی خلقت ِ انسان کے بارے میں جو پہلی گفتگو ہو ئی اسے یوں بیان کیا گیا ہے :یاد کرو وہ وقت جب تیرے پر وردگار نے فرشتوں سے کہا ، فرمایا : میں بشر کو تاریک رنگ بد بو دار کیچڑ سے لی گئی خشک مٹی سے پیدا کروں گا( وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَةِ إِنِّی خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ) ۔
جب میں اس کی خلقت کو انجام و کمال تک پہنچالوں اور اور اپنی ( ایک شریف پاک اور باعظمت ) روح ان میں پھونک دوں تو سب کے سب اسے سجدہ کرنا( فَإِذَا سَوَّیْتُهُ وَنَفَخْتُ فِیهِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِینَ ) ۔
خلقت انسان تکمیل کو پہنچ گئی اور انسان کے لئے جو جسم و جان مناسب تھا اسے دے دیا گیا اور سب کچھ انجام پاگیا “تو اس وقت تمام فرشتوں نے بلا استثناء سجدہ کیا( فَسَجَدَ الْمَلَائِکَةُ کُلُّهُمْ اٴَجْمَعُونَ ) ۔
وہ تنہا شخص جس نے اس فرمان کی اطاعت نہ کہ وہ ”ابلیس“تھا لہٰذا مزید فرمایا: سوائے ابلیس کے کہ جس نے ساجدین کے ساتھ ہونے سے نکار کیا( إِلاَّ إِبْلِیسَ اٴَبَی اٴَنْ یَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ ) ۔
اس موقع پر ابلیس سے باز پرس کی گئی اور خدا نے ”اس سے کہا “ اے ابلیس !تو ساجدین میں کیوں شامل نہیں ہے( قَالَ یَاإِبْلِیسُ مَا لَکَ اٴَلاَّ تَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ ) ۔
ابلیس کو جو غرور اور خود خواہی میں ایسا غرق تھا کہ اس کی عقل و ہوش غائب ہو چکے تھے ، پر وردگار کی پرستش کے جواب میں بڑی گستاخی سے بولا ”میں ہر گزایسے بشر کو سجدہ نہیں کروں گا جسے تو بدبو دار اور کیچڑ سے لی گئی خشک ٹی سے پیدا کیا ہے “( قَالَ لَمْ اٴَکُنْ لِاٴَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ) ۔
نورانی اور چمکنے والی آگ کہاں اور سیاہ او متعفن مٹی کہاں ۔ کیا مجھ جیسا ایک اعلیٰ موجود پست ترموجود کے سامنے خضوع کرسکتا ہے ، یہ کونسان قانون ہے ؟
وہ چونکہ غرور اور خود خواہی کے باعث خلقت و آفرینش کے اسرا بے خبر تھا اور خاک کی بر کات کو فراموش کر چکا تھا کہ جو ہر خیر و بر کت کا منبع ہے اور اس سے بڑھ کر وہ شریف اور عظیم الٰہی روح تھی جو آدم میں موجود تھی اور اس نے اسے لائق اعتناء نہ سمجھا ۔اچانک اپنے بلند مقام سے گر پڑااب وہ اس لائق نہ رہا تھا کہ صفِ ملائکہ میں کھڑا ہوسکے لہٰذا خدا تعالیٰ نے اسے فوراً فرمایا :یہاں سے( بہشت سے یا آسمانوں سے یا ملائکہ کی صفوں سے ) باہر نکل جاکہ تو راندہ درگاہ ہے( قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّکَ رَجِیم ) ۔
اور جان لے کہ تیرا غرور تیرے کفر کا سبب بن گیا ہے اور اس کفر نے تجھے ہمیشہ کے لئے دھتکارا ہوا کردیا ہے تجھ پر روز قیامت تک خدا کی لعنت اور رحمت ِخدا سے دوری ہے( وَإِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَةَ إِلَی یَوْمِ الدِّینِ ) ۔
ابلیس نے جب اپنے آپ کو با رگاہ ِ الہٰی سے دھتکارا ہوا پایا اور احساس کیا کہ انسان اس بد بختی کا سبب بنا ہے تو کینہ کی آگ اس کے دل میں بھڑک اٹھی اور اس نے اولاد آدم سے انتقام لینے کی ٹھان لی حالانکہ اصلی مجرم وہ خود تھا نہ کہ آدم اور نہ فرمانِ خدا لیکن غرور اور خود خواہی نے جس میں اس کی ہٹ دھرمی بھی شامل تھی اس حقیقت کو سمجھنے کی اجازت نہ دی ۔لہٰذا اس نے عرض کیا پر وردگارا!: اب جب معاملہ ایسا ہے تو مجھے روز قیامت تک مہلت دے دے ۔( قَالَ رَبِّ فَاٴَنْظِرْنِی إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ) ۔
یہ تقاضااس لئے نہ تھا کہ وہ توبہ کرے ، اپنے کئے پر پشمان ہو یا تلافی کے در پے ہو بلکہ اس لئے تھا کہ اپنی ہٹ دھرمی ، عناد ، دشمنی اور خیرہ سری کو جاری رکھ سکے ۔ خدا نے اس کی خواہش کو قبول کرلیا اور فرمایا”یقینا تو مہلت یافتہ افراد میں سے ہے “( قَالَ فَإِنَّکَ مِنْ الْمُنْظَرِینَ ) ۔لیکن روز قیامت مخلوق کے مبعوث ہونے تک کے لئے نہیں بلکہ جیسا کہ تو نے چاہا ہے بلکہ معین وقت اور زمانے کے لئے( إِلَی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ) ۔
اس بارے میں کہ ”یوم الوقت المعلوم “سے کونسادن مراد ہے مفسرین نے کئی ایک احتمالات ذکر کئے ہیں :
بعض نے کہا کہ اس سے مراد اس جہاں کا اختتام ہے اور ذمہ داری کے دو ر کا خاتمہ ہے کیونکہ قرآن کی آیات کے ظاہری مفہوم کے مطابق اس کے بعد تمام مخلوق نا بود ہو جائے گی اور صرف خدا کی ذات باقی رہ جا ئے گی ، لہٰذا ابلیس کی در خواست ایک حد تک قبول کی گئی ۔
بعض دوسرے مفسرین نے کہا ”وقت معلوم “ سے ایک معین زمانہ مراد ہے جسے خدا جانتا ہے او ر اس کے علاوہ کوئی اس سے آگاہ نہیں ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ اسے واضح کردیتا تو ابلیس کو گناہ و سر کشی کی زیادہ تشویق ہوتی ۔
بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا کہ اس سے مراد یوم قیامت ہے کیونکہ وہ اس دن تک زندہ رہنا چاہتا تھا تاکہ حیات جاوید پائے اور اس کی بات مان لی گئی خصوصاً جبکہ سورہ واقعہ کی آیہ ۵۰ میں ”یوم الوقت المعلوم “ کی تعبیر روز قیامت کے بارے میں بھی آئی ہے لیکن یہ احتمال بہت ہی بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو خدا نے اس کی درخواست کو مکمل طور پر موافقت کی ہوتی جبکہ مندرجہ بالا آیات کاظاہری مفہوم یہ ہے کہ اس کی درخواست کی پوری موافقت نہیں کی گئی ہے اور صرف” یوم وقت المعلوم “ تک در خواست مانی گئی ہے۔
بہر حال پہلی تفسیر آیت کی روح اور ظاہری مفہوم کے ساتھ زیادہ موافقت رکھتی ہے اور امام صادق علیہ السلام سے منقول بعض روایات میں بھی اس معنی کی تصریح کی گئی ہے ۔(۱)
اس مقام پر ابلیس نے اپنی باطنی نیت کو آشکار کر دیا ، اگر چہ خدا سے کوئی چیز پوشیدہ نہ تھی تاہم وہ کہنے لگا :” پروردگار ا!اس بناء پر کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے ( اور اس انسان نے میری بدبختی کا سامان فراہم کیا ہے )میں زمین کی مادی نعمتوں کو ان کی نگاہ مین دلفریب بناؤں گا اور انسانو ان میں مشغول رکھو گا اور آخرکار سب کو گمراہ کر کے رہوں گا( قَالَ رَبِّ بِمَا اٴَغْوَیْتَنِی لَاٴُزَیِّنَنَّ لَهُمْ فِی الْاٴَرْضِ وَلَاٴُغْوِیَنَّهُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔
لیکن وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اس کے وسوسے خدا کے مخلص بندو کے دل ہر گز اثر انداز نہیں ہوں گے او ا س کے جال انھیں نہیں پھانس سکیں گے ۔ خلاصہ یہ کہ خالص و مخلص بندے اس قدر طاقت ور ہیں کہ شیطانی زنجیریں توڑ ڈالیں گے ۔
لہٰذا فوراً اپنی بات میں استثناء کرتے ہوئے اس نے کہا :مگر تیرے وہ بندے جو خالص شدہ ہیں( إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْهُمْ الْمُخْلَصِینَ ) ۔
وااضح رہے کہ خدا نے شیطان کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ ابلیس کی یہ بات شیطنت آمیز تھی ، اصطلاح کے مطابق اپنے آپ کو بری قرار دینے کے لئے اور گمراہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کرنے کے لئے اس نے یہ بات کی تھی اور یہ سب ابلیسوں اور شیطانوں کی رسم ہے اولاًوہ اپنے گناہ دوسروں کے سر ڈال دیتے ہیں اور ثانیاًہر جگہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے برے اعمال کی غلط توجیہ پیش کریں نہ صرف بندگان خداکے سامنے بلکہ خود خدا کے سامنے بھی کہ جو ہر چیز سے آگاہ ہے ۔
ضمنا ً توجہ رہے کہ ”مخلصین “ ”مخلَص“(لام کی فتح کے ساتھ )جیسا کہ ہم سورہ کی تفسیرمیں بیان کر چکے ہیں کہ ”مخلص“ اس شخص کو کہتے جو ایمان و عمل کے اعلیٰ درجہ پرتعلیم و تربیت اور جہاد نفس کے بعد پہنچا ۔ جس پر شیطان اور کسی اور کے بھی وسوسوں کا کوئی اثر نہ ہو ۔(۲)
خدا نے شیطان کی تحقیر اور اور راہِ حق کے متلاشیوں اور طریق ِ توحید کے راہیوں کی تقویت کے لئے فرمایا:یہ میری مستقیم راہ ہے( قَالَ هَذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیمٌ ) ۔
تو میرے بندوں پر کوئی تسلط نہیں رکھتا مگر وہ کہ جو ذاتی طور پر تیری پیروی کریں( إِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْهِمْ سُلْطَانٌ إِلاَّ مَنْ اتَّبَعَکَ مِنْ الْغَاوِینَ ) ۔
یعنی در حقیقت تو لوگو ں کو گمراہ نہیں کرسکتا بلکہ یہ تو منحرف انسان ہیں جو اپنے ارادے اور رغبت سے تیری دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور تیری نقش قدم ہر چلتے ہیں ۔
دوسرے لفظوں میں یہ آیت انسانوں کے ارادے کی آزادی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ ابلیس اور اس کا لشکر کسی کو زبر دستی برائی کی طرف کھینچ کر نہیں لے جاتا بلکہ یہ خود انسان ہی ہیں جو اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور اپنے دل کا دریچہ اس کے لئے کھولتے ہیں اور اسے مداخلت کی اجازت دیتے ہیں خلاصہ یہ کہ شیطانی وسوسے اگر چہ موثر ہیں لیکن آخری فیصلہ شیطان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خود انسان کے بس میں ہے کیونکہ انسان اس کے مقابلے کھڑاہو کر اسے ٹھکرا سکتا ہے ۔ درحقیقت خدا تعالیٰ شیطان کے دفاع سے یہ خیال باطل اور تصور خام نکال دینا چاہتا ہے کہ وہ بلامقابلہ انسان پر حکومت حاصل کرلے گا ۔
اس کے بعد شیطان کے پیروں کاروں کو نہایت صریح دھمکی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جہنم ان کے سب کی وعدہ گاہ ہے( وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔
یہ گمان نہ کریں کہ وہ سزا اور عذاب کے چنگل سے فرار کر سکیں گے یا معاملہ ان کے حساب و کتاب تک نہیں پہنچے گا ان سب کے حساب کتاب کی ایک ہی جگہ اور ایک ہی مقام پر دیکھ بھال کی جائے گی ۔
وہی دوزخ کے جس کے سات دروازے ہیں اور ہر در وازے کے لئے شیطان کے پیروکاروں کاایک گروہ تقسیم ہوا ہے( لَهَا سَبْعَةُ اٴَبْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِنْهُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ ) ۔
یہ دحقیقت گناہوں کے دروازے ہیں جن کے ذریعے مختلف افراد دوزخ میں داخل ہوں گے ۔ ہر گروہ ایک گناہ کے ارتکاب کے ذریعے ایک در سے دوزخ میں جائے گا ۔جیسا کہ جنت کے دروازے اطاعتیں ، اعمال صالح اور مجاہدات ہیں کہ جن کے ذریعے لوگ بہشت میں داخل ہو ں گے ۔
____________________
۱۔نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۱۳، حدیث ۴۵۔
۲۔تفسیر نمونہ جلد ۹ ،ص( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع کریں ۔
چند اہم نکات
۱ ۔تکبرعظیم بدبختیوں کا سر چشمہ
ابلیس اور خلقت آدم (علیہ السلام) کی داستان قرآن کی مختلف سورتوں میں آئی ہے اس میں اہم ترین نکتہ ابلیس کا تکبر کی وجہ سے انتہائی بلند مقام سے محروم ہو جانا ہے کہ جس پر وہ فائز تھا ۔
ہم جانتے ہیں کہ ابلیس فرشتوں میں سے نہیں تھا ( جیسا کہ سورہ کہف کی آیہ ۵۰ سے معلوم ہوتا ہے )لیکن اس نے اطاعت الہٰی کے ذریعے ایسا بلند مقام حاصل کر لیا تھا کہ ملائکہ کی صفوں میں شامل ہوگیا تھا بلکہ یہاں تک کہ بعض کہ بقول فرشتوں کا معلم بن گیا تھا اور جیسا کہ نہج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ سے معلوم ہوتا ہے اس نے ہزار سال خدا کی عبادت کی تھی لیکن وہ یہ تمام مقامات گھڑی بھر کے تکبر کے باعث کھو بیٹھا اور خود پرستی اور تعصب میں ایسا گرفتار ہوا کہ عذر خواہی اور توبہ کی طرف نہ لوٹا بلکہ اس نے اپنا کام ایسی طرح جاری رکھا اور ہٹ دھرمی کے راستے پر ایسا جما رہا کہ اس نے مصمم ارادہ کرلیا کہ اولاد آدم میں سے تمام ظالموں او گنہ گاروں کے جرائم میں وسوسہ ڈال کر شرکت کرے گا اور ان سب کے کیفر کردار
یہ ہے خود خواہی ، غرور ، تعصب ، خود پسندی اور استکبار کا نتیجہ ۔
نہ صر ف ابلیس بلکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے شیطان صفت انسانوں کو دیکھا ہے یا ان کے حالات تاریخ کے سیاہ صفحات میں دیکھے ہیں کہ جس وقت وہ غرور و تکبر اور خود غرضی کے مرکب پر سوار ہوئے تو انہوں نے ایک دنیا کو خاک و خون میں غلطاں کردیا گویا آنکھوں میں اترے ہوئے خون اور جہالت کے پردے نے ان کے ظاہری اور باطنی آنکھوں کو بیکار کردیااور وہ کسی حقیقت کو نہ دیکھ پائے ۔ انہوں دیوانہ اور ظلم و جور کی راہ میں قدم اٹھا یا اور آخر کار اپنے آپ کو بد ترین گرھے میں گرا دیا یہ غرور و تکبر جلا ڈالنے والی اور وحشت ناک آگ ہے جیسا کہ ہوسکتا ہے کہ ایک انسان سالہا سال محنت و مشقت کرے ، گھر بنائے اس کا سا ز و سامان جمع کرے اور زندگی گذار نے کا سرمایہ فراہم کرے لیکن اس کی تمام محنتوں کا ماحصل آگ کا صرف ایک شعلہ چند لمحوں میں خاکستر بنادے ۔ اسی طرح پوری طرح ممکن ہے کہ ہزار ہا سال کی محنتوں کا ماحصل خدا کے سامنے ایک گھڑی کے غرور کے باعث کھو بیٹھے اس سے بڑھ کر واضح اور ہلادینے والا سبق اور کیا ہوگا ۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کی توجہ اپنے واضح اور روشن نکتے کی کی طرف بھی نہ تھی کہ آگ خا ک پربر تری نہیں رکھتی کیونکہ تمام بر کات کا سر چشمہ خاہے ۔ نباتات ،حیوانات ، معدنیات، سب کا تعلق مٹی سے ہے اور پانی ذخیرہ کرنے کے مقامات اسی کے ہیں ۔
خلاصہ یہ کہ ہر زندہ موجود کی پیدا ئش سر چشمہ خاک ہے لیکن آگ کا کام جلانا ہے بہت مواقع پر ویرانی اور تباہی و بر بادی کاسبب بن جاتی ہے ۔
حضرت علی علیہ السلام اسی خطبہ قاصعہ میں ابلیس کو”عد و الله “ ( دشمن خدا ) امام المتعصبین ( متعصب اور ہٹ دھرم لوگوں کا پیشوا ) اور سلف المتکبرین (متکبرین کا بزرگ ) کہہ کر پکار تے ہیں اور فرماتے ہیں : اسی لئے خدا نے عزت کا لباس اس کے بدن سے اتار دیا اور ذلت کی چادر اس کے سر پر ڈال دی ۔
اس کے بعد مزید فرماتے ہیں :
الا ترون کیف صغره الله بتکبره ، ووضعه بترفعه ، فجعله فی الدنیا مد حوراًو اعدله فی الاٰخره سعیراً
کیا دیکھتے نہیں ہو کہ کس طرح خدا نے اس سے اس کے تکبر کی وجہ سے حقیر اور چھوٹا کردیا اور بر تری کی خواہش کے سبب اسے پست کریا وہ دنیا میں راندہ در گاہ ہوا اور دار آخرت میں اس کے لئے دردناک عذاب فراہم کیا ۔(۳)
ضمنی طورپر جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے ابلیس مکتب جبر کا بانی و مبانی ہے وہ مکتب جو ہر انسان کے وجدان کے خلاف ہے اور اس کے پیدا ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ کہ گنہ گار انسان اپنے اعمال سے اپنے آپ کو بری ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ مندرجہ بلا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ ابلیس نے اپنی برات کے لئے او ر یہ ثابت کر نے کے لئے کہ اولاد آدم (علیہ السلام)کو گمراہ کرنے کی کوشش کا حق رکھتا ہے ، اسی عظیم گنا ہ کا رتکاب کیا اور کہا : خدا وند ا! تو نے مجھے گمراہ کیا ہے لہٰذا میں بھی اسی بناء پر مخلصین کے علاوہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کروں گا ۔
____________________
۳۔نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔
۳ ۔جہنم کے دروازے
مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ( بعیدنہیں کہ سات کا عدد یہاں عدد کثیر ہو یعنی جہنم کے بہت سے در وازے ہیں جیسا کہ سورہ لقمان کی آیہ ۲۷ میں بھی سات کا عدد اسی معنی میں آیا ہے ) ۔
لیکن واضح ہے کہ دروازوں کی یہ تعداد (جنت کے در وازوں کے طرح (نہ داخل ہونے والوں کی کثرت کی وجہ سے کہ وہ ایک چھوٹے سے در وازے سے نہیں گذرسکتے اور نہ ہی یہ تکلیف کے پہلو سے ہے بلکہ در حقیقت یہ ان مختلف عوامل کی طرف اشارہ ہے جو انسان کو جہنم کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں گناہوں کی ہر قسم جہنم کا ایک دروازہ ہے ۔
نہج البلاغہ کے خطبہ جہاد میں ہے :ان الجهاد باب من الجنة الله فتحه الله لخاصة اولیائه
جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک در وازہ ہے جسے خدا نے اپنے خاص بندوں کے لئے کھولا ہے ۔( نہج البلاغہ، خطبہ ۲۷ ۔)
ایک مشہور حدیث ہے ۔ان السیوف مقالید الجنة ۔
تلواریں جنت کی چابیاں ہیں ۔
ان تعبیرات سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ جنت اور دوزخ کے متعدد دروازوں سے کیا مراد ہے ۔
یہ قابل توجہ ہے کہ امام باقر علیہ السلام سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ جنت کے آٹھ در وازے ہیں ۔
خصال شیخ صدوق ابواب الثمانیة۔
جبکہ مندرجہ بالاآیات کہتی ہیں کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ، یہ فر ق اس طرف اشارہ ہے کہ اگر چہ بد بختی اور عذاب میں داخل ہو نے کے بہت سے دروازے ہیں لیکن اس کے باوجود سعادت و خوش بختی تک پہنچنے کے در وازے اس سے زیادہ ہیں ( سورہ رعد کی آیہ ۲۳ کے ذیل میں بھی ہم اس سلسلے میں گفتگو کر چکے ہیں ) ۔
۴ ۔سیاہ کیچڑ اور خدا کی روح
یہ بات جاذب نظر ہے کہ ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ انسان دو مختلف چیزوں سے پیدا ہوا ہے ان میں سے ایک عظمت کی انتہائی بلندیوں پر ہے اور دوسری قدر و قیمت کے لحاظ سے ظاہراً بہت پست ہے ۔
انسان کا مادی پہلو بد بو دار سیاہ رنگ کیچڑ سے تشکیل پاتا ہے اور اس کا معنی پہلو وہ چیز ہے کہ جسے ” روح خدا“ سے یاد کیا گیا ہے البتہ اللہ تعالیٰ جس رکھتا ہے نہ روح ۔ روح کی خدا کی طرف نسبت اصطلاح کے مطابق اضافت و نسبت تشریفی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی قالب میں ایک بہت ہی پر عظمت چیز روح کو ڈالا گیا ہے ۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے خانہ کعبہ کو اس کی عظمت کی بناء پر ”بیت اللہ “ اور ماہ مبارک رمضان کو اس کی بر کت کی وجہ سے ”شہر اللہ “ ( اللہ کا مہینہ کہا جاتا ہے ۔
اسی بناء پر انسان کی قوس صعودی اس قد ر بلند ہے کہ وہ اس مقام پر پہنچتا ہے کہ اسے سوائے خدا کے کچھ نظر نہیں آتا اور اس کی قوسِ نزول اس قدر پست ہے کہ چوپایوں سے بھی پست ہے( بل هم اضل ) ۔
قوس صعودی اور نزولی میں اتنا زیادہ فاصلہ خود اس کی مخلوق کی انتہائی اہمیت کی دلیل ہے اور یہ مخصوص ترکیب اس امر کی بھی دلیل ہے کہ انسانی مقام کی عظمت اس کے مادی پہلو کی وجہ سے نہیں ہے کیونکہ اس کے مادی پہلو کی طرف نظر کریں تو وہ سیاہ کیچڑ سے زیادہ کچھ نہیں یہ روح الہٰی ہے کہ جس میں بہت زیادہ صلاحیتیں پنہاں ہیں اور وہ نوار الٰہی کا مقام ِ تجلی ہو سکتی ہے اسے یہ سب عظمتیں بخشی گئی ہیں اور ا س کے کمال و ارتقاء کا صرف یہی راستہ ہے کہ اسے تقویت دی جائے اور مادی پہلو کہ جو اسی مقصد کے لیے ذریعہ ہے ، اسے صرف اسی کے پیش رفت کے لئے استعمال کیا جائے (کیونکہ ممکن ہے اس عظیم ہدف تک پہنچنے کے لئے موثر مدد دے ) ۔
سورہ بقرہ کی ابتداء میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلقت کے متعلق جوآیات آئی ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں ن کا آدم کے سامنے سجدہ کرنا ان کے مخصوص الہٰی علم کی وجہ سے تھا ۔
لیکن یہ سوال کہ غیر خدا کو سجدہ کس طرح ممکن ہے اور کیا واقعةً فرشتوں نے اس عجیب و خلقت کی وجہ سے خدا کو سجدہ کیا تھا یا انھوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تھا ۔
اس کا جواب سورہ بقرہ کی انہی آیات میں دیا جا چکا ہے جوخلقت ِ آدم سے متعلق ہیں ۔
۵ ۔جن کیا ہے ؟
لفظ ”جن “ در اصل ایسی چیز کے معنی میں ہے جو حسِ انسانی سے پوشیدہ ہو مثلاًہم کہتے ہیں ”جنة اللیل “ یا ”فلما جن علیه اللیل “ یعنی جس وقت سیاہ رات کے پر دے نے اسے چھپا لیا ۔ اسی بناء پر ” مجنون “ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی عقل پوشیدہ ہو ۔ ” جنین “ اس بچے کو کہتے ہیں کو رحم ِ مادر میں مخفی ہو ۔ ” جنت“ اس باغ کو کہتے ہیں جس کے درختوں نے اس زمین کو چھپا رکھا ہو ۔ ”جنان“ اس دل کو کہتے ہیں جو سینہ کے اندر چھپا ہواور ”جنة“ اس ڈھال کو کہتے ہیں جو انسان کو دشمن کی ضر بوں سے چھپائے ۔
البتہ آیات قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ”جن “ ایک موجود عاقل ہے کہ جو حس ِ انسانی سے پو شیدہ ہے اس کی خلقت در اصل آگ سے یا آگ کے صاف شعلوں سے ہوئی ہے ابلیس بھی اسی گروہ میں سے ہے ۔
بعض علماء انھیں ”ارواح عاقلہ “ کی ایک نوع سے تعبیر کرتے ہیں کہ جومادہ سے مجرد ہیں ( البتہ واضح ہے کہ تجرد کامل نہیں رکھتے کیونکہ جو چیز کسی مادہ سے پیدا ہوتی ہے وہ مادی ہے لیکن اس میں کچھ نہ کچھ تجرد ہے کیونکہ ہمارے حواس اس کا اداک نہیں کرسکتے ۔ دوسرے لفظوں میں ایک قسم کا جس لطیف ہے ) ۔
نیز آیات قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی ۔ مطیع بھی ہیں اور سر کش بھی ۔ اور وہ بھی مکلف اور مسئول ہیں ۔
البتہ ان مسائل کی تشریح اور دو حاضر کے علم سے ان کی ہم آہنگی کے بارے میں مزید بحث کی ضرورت ہے ۔ اس کے بارے میں ہم مناسب حد تک انشاء اللہ سورہ جن کی تفسیر میں بحث کریں گے کہ جوقرآن کے پارہ انتیس میں ہے ۔
جس نکتہ کی طرف یہاں اشارہ کرنا ضروری ہے یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں لفظ ”جان “ آیا ہے جو اسی مادہ ”جن “ سے ہے ۔
کیا یہ دونوں الفاظ ( ”جن “ اور ”جان “)ایک معنی رکھتے ہیں یا جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ” جان “ ”جن “ کی ایک خاص قسم ہے ۔
قرآن کی وہ آیات جو اس سلسلہ میں آئی ہیں اگر انہیں ایک دوسرے کے سامنے رکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ دونوں ایک ہی معنی میں ہیں ۔ کیونکہ قرآن بھی ”جن “ انسان کے ساتھ آیا ہے ۔ اور کبھی ”جان “ مثلاً سورہ بنی اسرائیل کی آیہ ۸۸ میں ہے :( قل لئن اجتمعت الانس و الجن )
سورہ ذاریات کی آیہ ۵۶ میں آیاہے :( وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون )
حالانکہ سورہ رحمن کی آیہ ۱۴ ۔ ۱۵ میں ہے :( خلق الانسان من صلصال کالفخار و خلق الجان من مارج من نار )
اسی سورہ آیہ ۳۹ میں ہے :( فیومئذ لایسئل من ذنبه انس و لا جان )
مندر جہ بالا آیات اور قرآن کی دیگر آیات کے مجموعی مطالعے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ”جان“ اور”جن “ دونوں کا ایک ہی معنی ہے ۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیات میں کبھی ”جن “ انسان کے ساتھ آیا ہے اور کبھی ” جان “۔
البتہ قرآن حکیم میں ” جان “ ایک اور معنی میں بھی ہے ۔ کہ سانپ کی ایک قسم ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں ہے :کانھا جان (قصص ۳۱) لیکن یہ ہماری بحث سے خارج ہے ۔
۶ ۔قرآن اور خلقت انسان
جیسا کہ ہم نے زیر بحث آیات میں دیکھا ہے کہ قرآن میں انسان کے بارے میں بڑی جچی تلی بحث ہے اور اس موضوع سے قرآن تقریبا ً سر بستہ اور اجمالی طور پر گذ رگیا کیونکہ اصلی مقصد تربیتی مسائل تھے ۔ قرآن کے چند اور مواقع پر اس بحث کی نظیر موجود ہے مثلاً سورہ سجدہ ، مومنون اور جن میں ۔ البتہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کوئی علوم طبیعی کتاب نہیں ہے بلکہ انسان سازی کی کتاب ہے لہٰذا ہمیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہئیے کہ اس میں ان علوم کے جزئیات مثلا ً تکامل سے مر بوط مسائک ، تشریح جنین شناسی ، نباتات شناسی وغیرہ بیان ہوں ۔ لیکن یہ بات اس سے مانع نہیں کہ تر بیتی مباحث کی مناسبت سے ان علوم کی بعض جزئیات کی طرف قرآن میں مختصرسا اشارہ ہو جائے ۔ بہر حال اس مختصر سی تمہید کے بعد یہاں دو امور پر بحث کرنا ضروری معلوم ہوتاہے ۔
۱ ۔ تکامل انواع سائنسی لحاظ سے ۔
۲ ۔ تکامل انواع قرآن کی نظر سے ۔
پہلے اس موضوع پر آیات و روایات سے قطع نظر کرتے ہوئے صرف علوم طبیعی کے خصوصی معیاروں کو سامنے رکھ بحث کرتے ہیں ۔
ہم جانتے ہیں کہ علوم طبیعی کے علماء کے درمیان زندہ موجودات چاہے ،نباتات ہوں یا حیوانات ، ان کے بارے میں دو مفروضے موجود ہیں ۔
الف: تکامل انواع کا مفروضہ یا ( Transformism )اس مفروضے کے مطابق زندہ موجودات کی انواع ابتداء میں موجودہ شکل میں نہ تھیں بلکہ موجودات کا آغاز ایک ایک سلول سے ہوا ہے ۔ یہ سلول ( Cellule )سمندروں کے پانی اور دریاؤں کی تہہ کے چکنے سیاہ کیچڑ کے درمیان حرکت سے پیدا ہوئے یعنی بے جان موجودات تھے کہ جو خاص حالات میں تھے ان سے پہلے پہلی زندہ سلول ( Cellule )پیدا ہوئے ۔
ان انتہائی زندہ موجودات نے تدریجاً تکامل و ارتقاء شروع کیا اور ایک نوع سے دوسری نوع میں بدلتے ہوئے دریاؤں سے صحراؤں کی طرف اور وہاں سے ہوا اور فضا کی طرف منتقل ہو ئے ۔ اس طرح انواع و اقسام کے نباتات اور آبی و زمینی جانور اور پرندے وجود میں آئے ان تکامل اور ارتقاء کی کامل ترین صورت یہی آج کا انسان ہے جو بندر سے مشابہ موجود سے اور بھی انسان نما بندرسے ظاہر ہوا ۔
ب:ثبوت انواع کا مفروضہ یا ( fixism ) اس مفروضے کے مطابق جانداروں کی ہر نوع ابتداء ہی سے اسی موجود شکل میں ظاہر ہوئی اور کوئی نوع دوسری نوع میں تبدیل نہیں ہوئی اور فطرتاً انسان بھی مستقل خلقت کا حامل تھا کہ جو ابتداء سے اسی مشکل و صورت میں پیدا ہوا ۔
دونوں گروہوں کے سائنسدانوں نے اپنا نظر یہ ثابت کرنے کے لئے بہت سے مطالب لکھے ہیں اور عملی محافل میں اس مسئلے پر بہت سے نزاع اور جھگڑے ہوئے ہیں ان جھگڑو ں میں شدت اس وقت پیدا ہوئی جب لامارک ( مشہور جانورشناس فرانسی سائنسداں جو اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا ۔ اور اس کے بعد ڈارون ( جانور شناس انگریز سائنسداں جو انیسویں صدی میں ہوا )نے تکامل انواع کے سلسلے میں اپنے نظر یات نئے دلائل کے ساتھ پیش کئے۔
البتہ آج کی علوم طبیعی کی محافل میں شک نہیں کہ اکثریت تکامل ِ انواع کے مفروضے کے حامی سائنس دانوں کی ہے۔
تکامل انواع کے حامیوں کے دلائل
ان دلائل کوآسانی سے تین حصوں میں خلاصہ کرکے بیان کیا جاسکتا ہے ۔
۱) پہلے وہ دلائل ہیں جو قدیم نباتات وحیوانات کے آثار کے علم ( PALEONTOLOGIE )یعنی گذشتہ موجودا ت کے پتھرائے ہوئے ڈھانچوں کے مطالعے کے حوالے سے پیش کئے گئے ہیں ان کاک نظر یہ ہے کہ زمین کے مختلف طبقوں کا مطالعہ نشاندہی کرتا ہے کہ زندہ موجودات نے زیادہ تر شکلوں سے کامل تر اور زیادہ ترپیچیدہ شکلوں میں طرف تغیر کیا ہے ۔
ان قدیم حیوانات ونباتات کے آثار میں پیش آنے والے فرق کی تفسیر فقط مفروضہ تکامل کے ذریعے کی جاسکتی ہے ۔
۲) دوسری دلیل وہ قرائن ہیں جو علم تشریح ( Comparative Anotomy )سے اخذ کئے گئے ہیں اس سلسلے میں وہ لمبی چوڑی بحثیں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس وقت مختلف جانوروں کی ہڈیوں کو جوڑنے کی تشریح کرکے ان کا ایک دوسرے سے موازنہ کیا گیا تو ان کے درمیان بہت زیادہ مشا بہت دکھائی دی ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ ان سب کا اصل اور بنیاد ایک ہی ہے ۔
۳) ان کی تیسری دلیل وہ قرائن ہیں کہ جو جنین ( Foeuts )سے ہاتھ لگے ہیں ان کا نظر یہ ہے کہ اگر جانوروں کا حالت جنین میں تقابلی جائزہ کیا جائے جبکہ انہوں نے ابھی ضروری تکامل حاصل نہ کیا ہو تو ہم دیکھیں گے کہ تکامل سے قبل جانور شکم مادر میں یا حالت نطفہ میں ایک دوسرے سے کس قدر مشابہت رکھتے ہیں یہ امر بھی نشاندہی کرتا ہے کہ سب کے سب ابتداء میں ایک ہی اصل سے لئے گئے ہیں ۔
ثبوت انواع کے حامیوں کے جوابات
مفروضہ ثبوت انواع ( Fixism )کے حامی ان تمام دلائل کا ایک کلی جواب دیتے ہیں اور وہ یہ کہ ان قرائن میں سے کوئی بھی اطمینان بخش نہیں ہے البتہ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ان تین طرح کے قرائن میں سے ہر ایک احتمال ِتکامل کو ایک ” ظنی احتمال“ کے طورپر پیش کرتا ہے لیکن یقین ہر گز پیدا نہیں کرتا ۔
واضح لفظوں میں مفروضہ تکامل کو عقلی دلیل کے ذریعے ایک علمی اور قطعی قانون ثابت کرنا چاہئیے یا محسوسات یا تجر بہ کے ذریعے اوور ان دو کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے ۔
لیکن ایک طرف تو ہم جانتے ہیں کہ عقلی اور فلسفیانہ دلائل سے ان مسائل کو ثابت نہیں کیا جا سکتااور دوسری طرف یہ مسائل کہ جن کی جڑیں لاکھوں بر س قبل کے معاملات میں چھپی ہوئی ہیں ان تک تجربے کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا ۔ تجربے اور مشاہدہ سے جو کچھ ہمیں معلوم ہوتا ہے وہ سطحی تغیرات ہیں جو زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ نباتات و حیوانات میں کسی اچانک تبدیلی جہش تاسیون کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں مثلاً عام بھڑوں میں سے اچانک کوئی ایسی بھڑ پیدا ہوتی ہے جس کی کھال عام بھڑوں کے کھال سے مختلف ہوتی ہے ، یعنی بہت نرم اور ملایم ہوتی ہے اور پھر اس کی کھال کی ان خصوصیات کی وجہ سے بھڑوں کی ایک نسل گوسفند مرینوس کے نام سے پیدا ہوتی ہے ۔
یا بعض جانوروں میں کسی تغیر کی وجہ سے ، آنکھ ، ناخن ، بدن یا کھال کے رنگ میں یا اس قسم کی کوئی اور تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے لیکن آج تک کوئی ایسی اچانک تبدیلی نہیں دیکھی گئی جو کسی حیوان کے بدن کے اصلی اعضاء میں کوئی اہم تغیر پیدا کردے یا ایک نوع کو دوسری نوع میں تبدیل کردے ۔
اس بناء پر صرف ایک قیاس اور گمان ہی کیا جاسکتا ہے کہ پے در پے جست و خیز اور یکے بعد دیگرے تبدیلیوں کے ذریعے ہوسکتا ہے کسی روز کسی حیوان کی نوع تبدیل ہو جائے مثلاً پیٹ کے پل زمین پر ینگنے والا جانور پرندے میں تبدیل ہو جائے لیکن یہ قیاس و تخمین ہر گز یقینی نہیں ہے بلکہ صرف ایک ظنی مسئلہ ہے کیونکہ ہم نے آج تک ایسے ناگہانی تغیرات کا تجربہ نہیں کیا جو اصلی اعضاء کو تبدیل کردیں ۔
جو کچھ کہا گیا اس سے ہم مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ تبدیلی ِ نوع ( Tranformism )کے حامیوں کی تین دلیلیں اس نظر یے کو ایک مفروضے سے اوپر نہیں لے جاسکتےں اسی بناء پر اس نظر یہ پر دقت ِ نظر سے بحث کرنے والے لوگ ہمیشہ اس پر تکامل ِ انواع کے مفروضے کے طور پر گفتگو کرتے ہیں نہ کہ ایک قانون کے طورپر۔
مفروضہ تکامل اور مسئلہ خدا شناسی
بہت سے لوگ اس مفروضے اور مسئلہ خدا شناسی کے درمیان ایک قسم کا تضاد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ شاید ایک لحاظ سے وہ حق بجانب بھی ہیں کیونکہ ڈارون کے نظریہ نے ارباب ِ کلیسا اور اس مفروضے کے حامیوں کے درمیان ایک شدید جنگ چھیڑ دی ہے ۔
اس مسئلے کی بنیاد اس زمانے میں سیاسی اور اجتماعی وجوہات کی بنیاد پر جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے بہت پراپیگنڈا کیا گیا کہ ڈارونیسم خدا شناسی سے مطابقت نہیں رکھتا ۔
لیکن آج یہ مسئلہ ہمارے لئے واضح ہے کہ یہ دونوں امور آپس میں کوئی تضا د نہیں رکھتے یعنی چاہے مفروضہ تکامل کو قبول کریں چاہے فقدان دلیل کے باعث اسے رد کریں دونوں صورتوں میں ہم خدا شناس ہوسکتے ہیں ۔
فرض کریں کہ مفروضہ تکامل ثابت بھی ہو جائے تو وہ ایک ایسے قانون علمی کے شکل اختیار کرلے گا جو طبیعی علت و معلوم سے پر دہ اٹھا دے اور جانداروں اور دیگر موجودات کے درمیان اس علت و معلوم کے رابطے سے کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا ۔
کیا بارشوں کے نزول ، سمندرروں کے مدو جزر اور زلزلوں وغیرہ کے طبیعی علل معلوم ہونے سے خدا شناسی کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ؟ مسلماً نہیں ۔ لہٰذا انواع موجودات کے درمیان ایک تکاملی و ارتقائی رابطے کا انکشاف خدا شناسی کے راستے میں مانع کیسے ہوسکتا ہے ایسی باتیں تو صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جن کا خیال ہے کہ علل طبیعی کا انکشاف وجود خدا قنول کرنے کے منافی ہے لیکن ہم آج اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان علل و اسباب کا انکشاف نہ صرف یہ کہ عقیدہ توحید کو ضرر نہیں پہنچاتا بلکہ وہ تو وجود خدا کے اثبات کے لئے نظام خلقت سے ہمارے لئے مزید دلائل مہیا کرتا ہے ۔
یہ بات جاذب توجہ ہے کہ خود ڈارون پر جب الحاد اور نے دینی کا الزام لگا یا گیا تو اس نے اس کی تردید کی اور اصل ِ انواع کے بارے میں اپنی کتاب میں تصریح کی کہ میں تکامل ِ انواع کو قبول کرنے کے باوجود خدا پرست ہو ں ،اصولی طور پر خدا کو قبول کئے بغیر تکامل کی توجیہہ نہیں کی جاسکتی ۔
اس عبارت پر غور کریں ۔
وہ جانوروں کی مختلف انواع کے ظہور کے لئے علل ِطبیعی کو قبول کر نے کے باوجود ہمیشہ خدائے بیگانہ پر ایمان رکھتا ہے او ر تدریجاً جب اس کا سن آگے بڑھ تا ہے تو اس میں مافوق بشر قدرت کوسمجھنے کا ایک خاص اور اندرونی احساس شدید تر ہو جاتا ہے اس حد تک کہ وہ انسان کے لئے معمائے آفرینش کو لاینحل سمجھتا ہے ۔(۵)
اصولی طور پر اس کا عقیدہ تھا کہ تکامل کے اس عجیب و غریب پیچ و خم میں انواع کی ہدایت اور ایک عام زندہ موجود کا ان مختلف انواع اور متنوع جانوروں میں تبدیلی ہونا کسی عقل کل کی طرف سے حساب شدہ او ر دقیق منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ اور واقعاً ہے بھی ایسا ہی ۔ کیا تنہا مادہ جو عام اور پست ہے ایسی تعجب خیز اور عجیب و غریب مشتقات کو ایک بے پایا ں علم و قدرت کے سہارے کے بغیر کیسے وجود بخش ہو سکتا ہے جبکہ ان میں سے ہر کو اپنی مفصل تشکیلات ہیں ۔
نتیجہ یہ کہ یہ شور و غوغا بالکل بے بنیاد ہے ہے کہ تکامل انواع کا نظریہ خدا شناسی کے نظریہ سے تضاد رکھتا ہے ( چاہے ہم مفروضہ تکامل کو قبول کریں یا نہ کریں ) ۔
یہاں صرف ایک مسئلہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ قتآن نے پیدائش آدم کی جو مختصر تاریخ بیان کی ہے کیا تکامل انواع کا مفروضہ اس سے تضاد رکھتا ہے یا نہیں ۔ اس کے بارے میں ذیل میں بحث کریں گے ۔
قرآن اور مسئلہ تکامل انواع
یہ بات جاذب نظر ہے کہ مسلمانوں میں تکامل انواع کے حامیوں اور مخالفوں دونوں نے اپنے مقصد کے اثبات کے لئے آیات ِ قرآن سے تمسک کیا ہے لیکن شاید دونوں نے بعض اوقات اپنے عقیدے اور نظرے کے زیر اثرہوکر ایسی آیات سے استدلال کیا ہے کہ جو ان کے مقصود سے بہت کم ربط رکھتی ہیں ۔ لہٰذا وہ دونوں طرف سے زیر بحث آنے والی آیات کا انتخاب پیش کرتے ہیں ۔
اہم ترین آیت کے جس کا تکامل کے طرفداروں نے سہارا لیا ہے سورہ آل عمران کی آیہ ۳۳ ہے ۔
( ان الله اصطفیٰ آدم و نوحاً و آل ابراهیم و اٰل عمران علی العالمین )
اللہ نے آدم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) ، آل ابراہیم (علیہ السلام) اور آل عمران ایک گروہ کے درمیان زندگی بسر کرتے تھے اور ان میں سے چنے گئے ، آدم کو بھی اسی طرح ہو نا چاہئیے یعنی ان کے زمانے میں بھی وہ انسان کے جس پر ”عالمین “ کا اطلاق ہوتا ہے یقینا موجود تھے اور آدم (علیہ السلام) انہی میں سے چنے گئے تھے یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) روی زمین کے پہلے انسان نہ تھے بلکہ قبل ازیں بھی دوسرے انسان موجود تھے اور آدم (علیہ السلام) کا امتیاز وہی ان کا فکری اور روحانی ارتقاء و تکامل ہے کہ جس کے سبب وہ اپنے جیسے افراد میں سے چنے گئے ۔
اس نظریہ کے حامیوں نے کچھ اور آیات بھی ذکر کی ہیں کہ جن میں سے بعض مسئلہ تکامل سے بالکل ربط نہیں رکھیتیں اور ان کی تفسیر تکامل کے مفہوم میں کرنا زیادہ تر تفسیر بالرای بن جاتی ہے ۔
ان میں سے بعض آیات ایسی بھی ہیں کہ جو تکامل انواع کے مفہوم سے بھی مطابقت رکھتی ہیں ،ثبوت انواع سے بھی او رآدم (علیہ السلام) کی مستقل خلقت سے بھی ۔اسی بناء پر ہم نے بہتر سمجھا ہے کہ ان کے ذکر سے صرف نظر کیا جائے ۔
باقی رہا وہ اعتراض جو اس استدلال پر کیا جاسکتا ہے یہ ہے کہ ہے ’عالمین “ اگر معاصر لوگوں کے معنی میں ہو اور ”اصطفیٰ “ (چننا)یقینا ایسے ہی اشخاص میں سے ہو تو پھر یہ استدلال قابل قبول ہو سکے گا لیکن اگر کوئی کہے کے ”عالمین “ معاصرین اور غیر معاصرین سب کے لئے ہے تو اس صورت میں مندرجہ بالا آیت اس امر پر دلالت نہیں کرے گی جیسا کہ پیغمبر اسلام کی مشہور حدیث میں خاتون اسلام حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکی فضیلت میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:اماابنتی فاطمه فهی سیدة نساء العالمین من الاولین و الاٰخرین
باقی رہی میری بیٹی فاطمہ تو وہ اولین و آخرین کے سب جہانوں کے عورتوں کی سردار ہے ۔
یہ بالکل اسی طرح ہے کہ کوئی کہے کہ کچھ لوگوں کو خدا نے تمام اور ادوار کے انسانوں میں سے چن لیا ہے اور ان میں سے ایک آدم ہیں اس صورت میں ضروری نہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے میں دوسرے انسان بھی موجود ہوں کہ جن پر ”عالمین “ کا اطلاق ہو یا آدم ان میں سے چنے جائیں ، خصوصاً جبکہ گفتگو خدا کے چننے کے بارے میں ہے جو آئندہ آنے والی اوربعد کے زمانوں میں آنے والی نسلوں میں سے اچھی طرح آگاہ ہے ۔(۱)
لیکن اہم ترین دلیل جو ثبو ت انواع کے حامیوں نے آیاتِ قرآن میں سے منتخب کی ہے وہ زیر بحث اور اس جیسی آیات ہیں کہ جوکہتی ہیں کہ خدا نے انسنا کو خشک مٹی سے پیدا کیا کہ جو سیاہ رنگ بد بو دار اور کیچڑ سے لی گئی تھی ۔
یہ امر لائق توجہ ہے کہ ”انسان“ کی خلقت کے موقع پر بھی یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے :
( لقد خلقنا الانسان من صلصال من حماٴٍ مسنون ) ( حجر: ۲۶) ۔
نیزبشر کے بارے میں بھی یہ تعبیر آئی ہے :
( و اذقال ربک للملائکة انی خالق بشراً من صلصال من حماٴٍ مسنون ) (حجر: ۲۸) ۔
نیز یہ بھی ہے کہ فرشتوں نے خود ذات ِ آدم کو سجدہ کیا اس سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ( سورہ حجر کی آیات ۲۹ ، ۳۰ اور ۳۱ جو سطور بالا میں ہم بیان کرآئے ہیں ان میں غور و فکر کیجئے ) ۔
پہلی نظر میں ان آیات مفہوم یہی نکلتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) پہلے سیاہ رنگ کے کیچڑ سے پیدا ہوئے ، اعضاء و جوارح کی تکمیل کے بعد ان میں خدائی روح پھینکی گئی اور اس کے ساتھ ابلیس کے سوا تمام فرشتے ان کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔
ان آیات کا طرز بیان نشاندہی کرتا ہے کہ آدم کی مٹی سے خلقت او ر موجودہ شکل و صورت پیدا ہونے کے درمیان دیگر انواع موجود نہ تھیں ۔بعض مندرجہ بالا آیات میں ”ثم“ کی تعبیر آئی ہے یہ لفظ لغت عرب میں فاصلہ ترتیب کے لئے استعمال ہوتا ہے یہ لفظ ہر گز لاکھوں سال گذر نے اور ہزاروں انواع کے موجود ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ کوئی مانع نہیں کہ یہ ایسے فاصلوں کی طرف اشارہ ہو جو آدم کی مٹی سے خلقت اور پھر خشک مٹی اور پھر روح الٰہی پھونکے جانے کے مراحل میں موجود تھے اسی لئے لفظ ”ثم“ عالم جنین میں انسان کی خلقت اور ان مراحل کے بارے میں آیا ہے کہ جو جنین یکے بعد دیگررے طے کرتا ہے ،مثلاً
( یا ایها الناس ان کنتم فی ریب من البعث فانا خلقناکم من تراب ثم من نطفة ثم من علقةثم من مضغة ثم لنخرجکم طفلاًثم لتبلغوا اشد کم ) ۔
اے لوگو!اگر تمہیں بعث اور قیامت کے بارے میں شک ہے (تو انسان کی خلقت کے بارے میں قدرت خداپر غور و فکر کروکہ)ہم نے تمہیں خاک سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھرمضغہ( گوشت کے جبائے ٹکڑے )سے پھر ہم تمہیں بچہ کی شکل میں باہر نکالتے ہیں پھر تم مرحلہ بلوغ تک پہنچتے ہو (حجر : ۵)
آپ دیکھ رہیں کہ ضروری نہیں ہے کہ”ثم“ ایک طولانی فاصلہ کے لئے آئے بلکہ جیسے یہ ایک طولانی فاصلوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ویسے ہی مختصرفاصلوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔
جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اس سے مجموعی طورپر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آگر چہ آیات قرآن نے براہ راست مسئلہ تکامل یا ثبوت انواع بیان نہیں کیا ۔ (لیکن بالخصوص انسان کے بارے میں )آیات کا ظاہری مفہوم مستقل خلقت سے زیاد ہ مناسبت رکھتا ہے اگر چہ اس کے بارے میں کامل صراحت نہیں ہے لیکن خلقت ِآدم سے متعلقہ آیات کا ظاہر زیادہ مستقل خلقت ِ آدم سے متعلقہ آیات کا ظاہر مستقل خلقت کے مفہوم کے گرد گر دش کرتا ہے البتہ دیگر جانوروں کے بارے میں قرآن خاموش ہے ۔
___________________
۱۔یہ احتمال بھی ہے کہ ایک مختصر مدت میں اولاد آدم پر مشتمل ایک معاشرہ تشکیل پایا گیا ہو او ران میں سے آدم بر گزید ہ اور چنے ہوئے ہوں ۔
آیات ۴۵،۴۶،۴۷،۴۸،۴۹،۵۰
۴۵ ۔( إِنَّ الْمُتَّقِینَ فِی جَنَّاتٍ وَعُیُون ) ۔
۴۶ ۔( ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِینَ ) ۔
۴۷ ۔( وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَی سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ ) ۔
۴۸ ۔( لاَیَمَسُّهُمْ فِیهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِینَ ) ۔
۴۹ ۔( نَبِّءْ عِبَادِی اٴَنِّی اٴَنَا الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ) ۔
۵۰ ۔( وَاٴَنَّ عَذَابِی هُوَ الْعَذَابُ الْاٴَلِیمُ ) ۔
ترجمہ
۴۵ ۔پرہیزکار( بہشت کے سر سبز )باغوں اور اس کے سر چشمہ کے کنارے ہوں گے۔
۴۶ ۔ ( خدا کے فرشتے ان سے کہیں گے ) امن و سلامتی کے ساتھ ان باغوں میں داخل ہو جاؤ۔
۴۷ ۔ہم ان کے سینوں سے پر قسم کا غل ( حسد ، کینہ ، عداوت او ر خیانت ) اتارلیں گے ( اور ان کی روح پاک کریں گے ) اس حالت میں کہ سب بھائی بھائی بن کر تختوں میں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔
۴۸ ۔ انھیں ہر گز کوئی خستگی اور تکان نہ ہوگی اور انھیں اس سے کبھی بھی نکالا نہیں جائے گا ۔
۴۹ ۔ میرے بندوں کو آگاہ کردو کہ میں غفو ررحیم ہوں ۔
۵۰ ۔نیز(انھیں بتا دو کہ) میرا عذاب اور سزا دردناک ہے ۔
تفسیر
بہشت کی آٹھ نعمتیں
گذشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ خدا نے کس طرح تفصیل سے شیطان اور اس کے ساتھیوں ، ہمجولیوں اور پیرو کاروں کا نتیجہ کار بیان کیا ہے اور ان کے سامنے جہنم کے سات دروازے کھولے ہیں ۔
قرآن کی روش ہے کہ وہ موازنہ پیش کرکے تعلیم و تربیت کے لئے استفادہ کرتا ہے اسی روش کے مطابق ان آیات میں بہشت، اہل بہشت ،مادی او ر معنوی نعمات او ر جسمانی و روحانی عنایات کے بارے میں گفتگو ہے ۔ درحقیقت ان آیات میں آٹھ عظیم مادی اور معنوی نعمات کا تذکرہ بہشت کے در وازوں کی تعدا د کے مطابق آیا ہے ۔
۱ ۔ پہلے ایک عظیم مادی نعمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : پر ہیزگار بہشت کے سرسبز باغوں میں ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشموں کے کنارے ہوں گے( إِنَّ الْمُتَّقِینَ فِی جَنَّاتٍ وَعُیُون ) ۔
یہ امر جاذب نظر ہے کہ یہاں تمام صفات میں سے صرف ”تقویٰ“ کا ذکر کیا گیا ہے ، وہی تقویٰ ، پر ہیز گاری تعہد اور مسئولیت کہ جس میں تمام عمدہ انسانی صفات جمع ہیں ۔
”جنت وعیون “ کا صیغہ جمع کے ساتھ ذکر ہوا ہے یہ طرح طرح کے باغات ، فراوان چشموں اور گوناگوں بہشتوں کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں سے ہر ایک کا ایک نیا لطف اور خا ص خصوصیت ہے ۔
۲ ۔ ۳ ۔ اس کے بعد دو اہم معنوی نعمات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہیں ”سلامتی “ اور ”امن “۔ ہر قسم کے رنج و ناراحتی اور تکلیف سے سلامتی اور ہر قسم کے خطرے سے امن و امان ۔ ار شاد ہوتا ہے کہ اللہ کے فرشتے انھیں خوش آمدید کہتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان باغوں میں کامل سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہوجاؤ( ادْخُلُوهَا بِسَلَامٍ آمِنِینَ ) ۔
بعد والی آیت میں تین اور معنوی نعمات کو صراحت سے بیان کیا گیا ہے ۔
۴ ۔ ہم ان کے سینوں سے ہر قسم کا حسد کینہ ، عداوت او ر خیانت دھودیں گے اور ایسی آلائشیں ان سے دور کردیں گے( وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِهِمْ مِنْ غِلّ ) (۱)
۵ ۔ اور وہ یوں ہوں گے جیسے سب آپس میں بھائی بھائی ہیں ،اور ان کے درمیان محبت کا قریبی تعلق کار فرما ہے( إِخْوَانًا ) ۔
۶ ۔اس حالت میں کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے( عَلَی سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ ) ۔(۲)
ان کی اجتماعی نشستیں اس کے دنیا کے تکلیف و تکلفات کی طرح نہیں ہیں ۔ ان مجلس میں کوئی اوپر اور کوئی نیچے ہے ۔اس دنیا کے المناک طبقاتی زندگی کا کوئی اصول وہاں نہیں ہے وہاں سب آپس میں بھائی ہیں سب ایک دوسرے کے آمنے سامنے اور ایک ہی صف میں ہیں ایسا نہیں کہ کوئی تو مجلس میں بالا نشیں ہے اور ددسرا جوتے اتارنے کی جگہ پر بیٹھا ہے ۔
البتہ یہ امر معنوی درجات مختلف ہونے کے منافی نہیں ہے یہ تو ان کی اجتماعی نشستوں سے مر بوط ہے ورنہ ہر ایک کا اپنے تقویٰ و ایمان کے لحاظ سے اپنا مقام ہے ۔
اس کے بعد ساتویں مادی اور معنوی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرما یا گیا ہے انھیں ہر گز کوئی خستگی او ر تکان لاحق نہ ہو گی( لاَیَمَسُّهُمْ فِیهَا نَصَبٌ ) ۔
جب کہ اس دنیا میں آرام کے ایک دن سے پہلے اور بعد کتنی مشکلات سے گز رنا پڑتا ہے کہ جن کا تصور انسان کے راحت و آرام کو درہم بر ہم کر دیتا ہے ایساوہاں نہیں ہے ۔
۸ ۔اسی طرح انھیں فنا اور نعمتوں کے ختم ہونے کا خیال بھی نہیں ستا تا کیونکہ ”وہ ہر گز ان پر مسرت نعمتوں بھرے ہوئے باغوں سے باہر نہیں نکلیں گے “( وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِینَ ) ۔
اب جبکہ بہشت کی فراوان اور دل انگیز نعمتوں کا مؤثر طریقے سے بیان ہوچکا اور یہ بتا یا جاچکا کہ وہ کاملاً متقین کے سپرد ہوں گیں تو اس بات کے پیش نظر کہ کہیں گنہ گار افراد ان غم و انداہ میں ڈوب کر نہ رہ جائیں کہ اے کاش ! ہم بھی ان نعمتوں کا تک پہنچ سکتے اس مقام پر رحمن و رحیم خدا بھی ان کے لئے بھی جنت کے در وازے کھولتا ہے مگر مشروط طور پر ۔
بہت محبت بھرے لہجے میں اور نوازشات کے نہایت اعلیٰ انداز میں اپنے پیغمبر کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے کہتا ہے : اے نبی ! میرے بندوں کو آگاہ کردے کہ میں غفور و رحیم ہو ں ۔ گناہ بخشنے والا اور محبت سے معمو ر ہوں( بَنیٴ عِبَادِی اٴَنِّی اٴَنَا الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ) ۔
”عبادی “ (میرے بندے )یہ ایک لطیف تعبیر ہے کہ جو ہر انسان کو اشتیاق دلاتی ہے اور اس کے بعد خدا کی یہ توصیف کہ وہ بخشنے والا مہر بان ہے ۔ اس اشتیاق کو اوجِ کمال تک پہنچا دیتی ہے۔
لیکن قرآن چونکہ ہمیشہ رحمت الٰہی کے مظاہرے سے سوء استفادہ کو روکتا ہے لہٰذا اس کے ہلادینے والے جملوں کے ذریعے اس کے خشم و غضب کا ذکر ہے یہ اس لئے ہے کہ تاکہ خوف و رجا کے درمیان اعتدال بر قرار رہے کیونکہ یہ تکامل و ارتقاء اور تربیت کا راز ہے ۔ لہٰذا بغیر کسی فاصلے کے فرما یا گیا ہے : میرے بندوں سے یہ بھی کہہ دو کہ میرا عذاب دردناک ہے( وَاٴَنَّ عَذَابِی هُوَ الْعَذَابُ الْاٴَلِیمُ ) ۔
____________________
۱۔”غل“ دراصل کسی چیز کے مخفیانہ نفوذ کے معنی میں ہے اسی لئے حسد ، کینہ اور دشمنی کو جو چپکے سے انسانی روح میں نفوذکرجاتے ہیں انہیں ”غل “ کہا جاتا ہے ۔ لہٰذا” غل“ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں بہت سی بری اور خلاف ِ اخلاق صفات شامل ہیں ( مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد سوم صفحہ ۱۱۸ ،اردو ترجمہ کے حاشیے کی طرف رجوع کریں ) ۔
۲۔”سرر“ ”سریر“ کی جمع ہے جو دراصل تخت، کرسی یا اس قسم کی کسی چیز کے معنی میں ہے کہ جس پر بیٹھتے ہیں اور خوشی کی محفلیں بر پا کرتے ہیں ( توجہ رہے کہ ”سرر“ او ”سرور“ ایک ہی مادہ سے ہیں ) ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ بہشت کے باغ اور چشمے
ہمارے لئے کہ جو اس محدود دنیا میں ہیں نعمات ِ بہشت کو سمجھنا بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے ۔ کیونکہ اس جہاں کی نعمتیں ان نعمتوں کے مقابلے میں ایسے ہی ہیں جیسے تقریباً صفر کے مقابلے میں ایک بہت بڑا عدد۔ لیکن یہ امر اس مین رکاوٹ نہیں کہ اپنی فکر اور روح کے ذریعے انھیں محسوس کریں یہ بات مسلم ہے کہ بہشت کی نعمتیں بہت ہی متنوع ہیں ، لفظ ”جنات“ (باغات)جو مندر بالا اور دیگر بہت سے آیات میں آیا ہے ۔ اسی طرح لفطظ ” عیون “( چشمے) اس حقیقت کے گواہ ہیں ۔
البتہ قرآن میں ( سورہ دہر، الرحمن ، دخان اور محمد وغیرہ میں ) ان چشموں کی مختلف انواع کی طرف اشارہ ہوا ہے اور مختلف اشارات کے ذریعے ان کی تنوع کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جو شاید اس جہاں کے طرح طرح کی نیک کاموں کے مجسم ہونے کی طرف اشارہ ہو ۔ انشاء اللہ ان سورتوں کی تفسیر میں ہم ان کا تفصیلی ذکر کریں گے۔
۲ ۔ مادی اور روحانی نعمتیں
برخلاف اس کے کے بعض لوگ خیال کر تے ہیں قرآن نے ہر جگہ لوگوں کو مادی نعمتوں کی طرف بشارت نہیں دی بلکہ بار گفتگو میں روحانی نعمتوں کا ذکر بھی آیاہے مندرجہ بالا آیات اس کا واضح نمونہ ہیں اس طرح سے فرشتے اہل بہشت کو اس عظیم مرکز نعمت میں خوش آمدیدکہتے ہوئے جو پہلی بشارت دیں گے وہ سلامتی اور امن کی بشارت ہے ۔
کینوں کا سینوں سے دھل جانا اور بری صفات مثلاً حسد، خیانت وغیرہ کہ جو روح اخوت کو ختم کر دیتی ہیں کا خاتمہ اور اسی طرح غلط قسم کی تکلفاتی امتیازات کہ جو فکر و روح کا سکون بر باد کردیتے ہیں کا خذف ہو جانا یہ سب ان کی معنوی و روحانی نعمتوں میں سے ہے کہ جن کی طرف مندر جہ بالا آیات میں اشارہ ہوا ہے ۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ امن و سلامتی کہ جس کا ذکر نعمات بہشت کے آغاز میں ہوا ہے ہر دوسری نعمت کی بنیاد ہے کیونکہ ان دوکے بغیر کوئی نعمت قابل استفادہ نہیں ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی تمام نعمتوں کا نقطہ آغاز امن و سلامتی کی نعمت ہے ۔
۳ ۔ کینہ اور حسد اخوت کے دشمن ہیں
۳ ۔ کینہ اور حسد اخوت کے دشمن ہیں :یہ امر لائق توجہ ہے کہ امن و سلامتی کے ذکر کے بعد زیر نظر آیات میں نعمت اخوت کے ذکر سے پہلے تمام مزاحم صفات مثلاًکینہ ، حسد، ،غرور او ر خیانت کی ریشہ کسی کا ذکر ہوا ہے لفظ” غل “ جو وسیع مفہوم رکھتاہے اس کے ذریعے ان سب کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔
درحقیقت اگر انسان کا دل اس ”غل“ سے پاک نہ ہو امن و سلامتی کی نعمت بھی حاصل نہ ہوگی اور نہ ہی اخوت برادرری کی نعمت بلکہ ہمیشہ جنگ و جدال اور کشمکش جاری رہے گی اور رشتہ اخوت منقطع ہو گا اور امن و سلامتی چھن جائے گی ۔
۴ ۔جزائے کامل
بعض مفسرین کے بقول جزاتب مکمل ہوتی ہے جب اس میں یہ چار شر طیں موجود ہوں :
۱ ۔ فائدہ دیکھائی دینے والا ہو ۔ ۲ ۔ احترام کے ساتھ ہو ۔ ۳ ۔ ہر قسم کی پریشانی سے خالی ہو ۔ ۴ ۔ دائمی ہو ۔
مندرجہ بالا آیات میں نعمات بہشت کے لئے ان چار پہلوؤں کی طرف اشارہ ہواہے۔
”( ان المتقین فی جنات و عیون ) “ پہلی قسم کے لئے ہے ۔
”( ادخلوها بسلام اٰمنین ) “ احترام و تعظیم کی دلیل ہے ۔
”( و نزعنا ما فی صدور هم من غل اخواناًعلی سرر متقابلین ) “
ہرقسم کی پریشانی ،ناراضی اور روحانی تکلیف کی نفی کی طرف اشارہ ہے ۔
”( لایمسهم فیها نصب ) “ جسمانی نقصان اور ضرر کی نفی کے متعلق ہے ۔
”وماهم منها بمخرجین “ آخرین شرط پوری کرتا ہے یعنی ان نعمتوں کے لئے مدام ہے لہٰذا یہ جزا ہر لحاظ سے مکمل ہو گی ۔(۱)
۵ ۔آئیے اس دنیا میں تعمیر جنت کریں
مندر جہ بالاآیات میں جنت کی جن مادی اور معنوی صفات کی تصویر کشی کی گئی ہے اس جہان کی نعمتوں کے اہم اصول بھی یہی ہیں گویا قرآن ہمیں یہ نکتہ سمجھا نا چاہتا ہے کہ دنیاوی زندگی میں یہ نعمتیں فراہم کرکے تم بھی اس عظیم جنت کی ایک چھوٹی سی نظیر قائم کرسکتے ہو ۔
۔اگر سینوں کو کینوں اور عداوتوں سے پاک کرلو ۔
۔اگر اخوت برادری کے اصول کو تقویت دو ۔
۔ اگر غیر ضروری تکلفات و تشرفات کو اپنی زندگی سے خصوصاً اجتماعی زندگی سے دور کرلو ۔
۔اگر امن و سلامتی اپنے معاشرے کو لوٹا دو ۔
۔اگر تمام لوگوں کو یہ اطمینا ن دلایا جائے کہ کوئی شخص ان کی عزت و آبرو ، مقام و حیثیت اور جائز مفادات سے مزاحم نہیں ہو گا اور انھیں اپنی نعمات کے بقاء کا اطمینان ہوتو یہ دن ایسا دن ہوگا جب جنت کی نظیر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوگی ۔
____________________
۱۔ تفسیر کبیر ، فخرالدین رازی جلد ۱۹ صفحہ ۱۹۳۔
آیات ۵۱،۵۲،۵۳،۵۴،۵۵،۵۶،۵۷،۵۸،۵۹،۶۰
۵۱ ۔( وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ إِبْرَاهِیمَ ) ۔
۵۲ ۔ ا( ِٕذْ دَخَلُوا عَلَیْهِ فَقَالُوا سَلَامًا قَالَ إِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُونَ ) ۔
۵۳ ۔( قَالُوا لاَتَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ عَلِیمٍ ) ۔
۵۴ ۔( قَالَ اٴَبَشَّرْتُمُونِی عَلَی اٴَنْ مَسَّنِی الْکِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ ) ۔
۵۵ ۔( قَالُوا بَشَّرْنَاکَ بِالْحَقِّ فَلاَتَکُنْ مِنْ الْقَانِطِینَ ) ۔
۵۶ ۔( قَالَ وَمَنْ یَقْنَطُ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّهِ إِلاَّ الضَّالُّون ) ۔
۵۷ ۔( قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ اٴَیُّهَا الْمُرْسَلُونَ ) ۔
۵۸ ۔( قَالُوا إِنَّا اٴُرْسِلْنَا إِلَی قَوْمٍ مُجْرِمِینَ ) ۔
۵۹ ۔( إِلاَّ آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔
۶۰ ۔( إِلاَّ امْرَاٴَتَهُ قَدَّرْنَا إِنَّهَا لَمِنْ الْغَابِرِینَ ) ۔
ترجمہ
۵۱ ۔اور انھیں (میرے بندوں کو)ابراہیم کے مہمانوں کی خبر دے ۔
۵۲ ۔جس وقت وہ اس کے پاس پہنچے اور سلام کیا ( تو ابراہیم نے ) کہا : ہم تم سے خوفزدہ ہیں ۔
۵۳ ۔انھوں نے کہا: ڈرو نہیں ،ہم تجھے ایک دانا اور عالم بیٹے کی بشارت دیتے ہیں ۔
۵۴ ۔انھوں نے کہا: کیامجھے بشارت دیتے حالانکہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں (توپھر)توپھر کس چیزکی بشارت دیتے ہو ۔
۵۵ ۔انھوں نے کہا : ہم سچی بشارت دیتے ہیں ، مایوس لوگوں میں سے نہ ہو ۔
۵۶ ۔اپنے پر وردگار کی رحمت سے گمراہوں کے علاوہ کون مایوس ہوتا ہے ۔
۵۷ ۔(پھر اس نے )کہا : اے فرستادگان الہٰی ! تم کس کام کے لئے مامور کیے گئے ہو ۔
۵۸ ۔وہ کہنے:ہماری ذمہ دار ی گنہ گار قوم سے ہے کہ انھیں ہلاک کریں ۔
۵۹ ۔سوالئے خاندان لوط کے کہ ان سب کو بچا لیں گے ۔
۶۰ ۔البتہ اس کی بیوی کو ہم نے طے کیا ہے کہ وہ ( شہر میں ) پیچھے رہ جانے والوں (اور ہلاک ہونے والوں ) میں سے ہو ۔
تفسیر
انجانے مہمان
ان آیات میں اور ان سے پہلی والی کچھ آیات میں عظیم انبیاء اور ان کے سر کش امتوں کی تاریخ کا ایک تربیتی حصہ ہے اس میں خدا کے مخلص بندوں اور شیطان کے پیروکاروں کی زندگی کے واضح نمونے ہیں ۔
یہ امر جاذب نظر ہے کہ بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کے واقعہ سے شروع کی گئی ہے (وہی فرشتے کہ جو آپ کے پاس انسانی لباس میں آئے تھے پہلے انھوں نے آپ کو ایک ذی وقار بیٹے کی بشارت دی اور پھر قوم لوط کے دردناک انجام کی خبر دی) ۔
قبل کی دو آیتوں میں پیغمبر ِ اسلام کو حکم دیا کہ بندوں کو مقام رحمت خدا کے بارے میں بھی بتائیں اور اس کے درردناک عذاب کے بھی ۔ اب حضرت ابراہیم کے مہمانوں کے واقعے میں ان مذکورہ دو صفحات کے دو زندہ نمونے دکھائی دیتے ہیں اس طرح گذشتہ آیات اور ان آیا ت کے درمیان ربط واضح ہوجاتا ہے ۔
پہلے ارشادفرمایا گیا ہے : میرے بندوں کو ابرہیم (علیہ السلام) کے بارے میں خبر دو( وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ إِبْرَاهِیمَ ) ۔
اگر چہ ”ضیف“ یہاں مفرد کی صورت میں آیا ہے لیکن جیسا کہ بعض عظیم مفسرین نے کہا ہے ”ضیف“ مفرد اور جمع دونوں کے معنی رکھتا ہے (ایک مہمان اور کئی مہمان ) ۔
یہ بن بلائے مہمان وہی فرشتے تھے جنہوں نے ” ابراہیم کے پاس پہنچ کر پہلے انجانے طور پر اسے سلام کیا “( إِذْ دَخَلُوا عَلَیْهِ فَقَالُوا سَلَامًا ) ۔
جیسا کہ ایک بزرگ میزبان کا فریضہ ہے ، ابراہیم نے ان کی پذیرائی کا اہتمام کیا فوراً ان کے لئے مناسب غذا فراہم کی لیکن جب دسترخوان بچھایا گیا تو انجانے مہمانوں نے غذا کی طرف ہاتھ نہ بڑھا یا ۔تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس پر وحشت ہوئی ۔
انھوں نے اپنی پریشانی چھپائی نہیں ۔ صراحت سے ان سے کہا : ہم تم سے خوف زدہ ہیں “( قَالَ إِنَّا مِنْکُمْ وَجِلُونَ ) ۔(۱)
یہ خوف اس رواج کی بناء پر تھا کہ اس زمانے میں اور بعد میں بھی بلکہ ہمارے زمانے تک بعض قوموں کا معمول ہے کہ جب کوئی شخص کسی نان و نمک کھالیتا ہے تو اسے ضرر نہیں پہنچتا اور اپنے آپ کو اس ممنون ِ احسان سمجھتا ہے لہٰذا کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھانے کو برا سمجھتا ہے اور اسے کینہ و عدات کی دلیل شمار کیا جاتا ہے ۔
لیکن زیادہ دیر نہ گذری تھی کہ فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پریشانی سے نکال دیا اور ” اس سے کہا : ڈرو نہیں ہم تجھے ایک عالم و دانا بیٹے کی بشارت دیتے ہیں “۔( قَالُوا لاَتَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ عَلِیمٍ ) ۔
یہ کہ غلام علیم ( صاحب علم لڑکے )سے کون مراد ہے ، قرآن کی دیگر آیات کو سامنے رکھتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ اس سے مراد اسحاق ہیں کیونکہ فرشتوں نے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ بشارت دی تو ان کی بیوی سارہ جو ظاہراً ایک بانجھ عورت تھی انھوں نے اسے بھی یہ بشارت دی جیسا کہ سورہ ہود کی آیہ ۷۱ میں ہے ۔
وامراٴته قائمة فضحکت فبشرناها باسحاق
اس کی بیوی کھڑی تھی ، وہ ہنسی اور ہم نے اسے اسحاق کی بشارت دی ۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سارہ حضرت اسحاق کی والدہ تھیں ۔ قبل ایں حضرت ابراہیم حضرت ہاجرہ سے صاحب ِاولاد تھے ۔ حضرت اسماعیل ان کے فرزند تھے (حضرت ہاجرہ وہ کنیز تھیں جنھیں حضرت ابراہیم نے زوجیت کے لئے انتخاب کیا تھا )لیکن حضرت اسماعیل اچھی طرح جانتے تھے کہ طبیعی اصولوں کے لحاظ سے ان سے ایسے بیٹے کی پیدا ئش بہت بعید ہے اگر چہ خدا کی قدرت کاملہ کے لئے کوئی چیز محال نہیں ہے مگر انھوں نے معمول کے طبیعی قوانین کی طرف توجہ نے ان کے تعجب کو ابھاررا لہٰذا انھوں نے کہا مجھے ایسی بشارت دیتے ہوحالانکہ میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہوں ۔( قَالَ اٴَبَشَّرْتُمُونِی عَلَی اٴَنْ مَسَّنِی الْکِبَرُ ) ۔واقعاً کس چیز کی بشارت دیتے رہے ہو( فَبِمَ تُبَشِّرُونَ ) ۔
کیا تمہاری یہ بشارت حکمِ الہٰی سے ہے یا خود تمہاری طرف سے ہے صراحت سے کہو تاکہ مجھے زیادہ اطمینان ہو ۔
” مسنی الکبر“ ( مجھے بڑھاپے نے مس کیا ہے )یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بڑھاپے کے آثار میرے سفید بالوں اور چہرے کی جھریوں سے نمایاں ہیں اور اس کے آثار میں اپنے سارے وجود میں محسوس کرتا ہوں ۔
ممکن ہے کہ کہا جائے کہ اس لحاظ سے ابراہیم ایک اچھے تجربے سے گذرے تھے کہ بڑھاپے میں ہی ان کے بیٹے اسماعیل پید ا ہوئے تھے لہٰذا نئے بیٹے یعنی حضرت اسحاق کی پیدا ئش کی بارے میں انھیں تعجب نہیں کرنا چاہئیے تھا لیکن معلوم ہو ناچاہیئے ، کہ بعض مفسرین کے بقول حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق کی پیدا ئش میں دس سال سے زیادہ فاصلہ تھا لہٰذا بڑھاپے میں دس سال گذرجائیں تو بچے کی پیدا کا احتمال بہت کم ہوتا ہے ۔
ثانیاً اگر کوئی واقعہ خلاف معمول ہو اگر چہ استثنائی طور پر ہو ۔ اس سے مشابہ مواقع پر تعجب کرنے سے مانع نہیں ہے کیونکہ ایسے سن و سال میں بچے کی پیدائش بہر حال ایک امر عجیب ہے ۔۲
بہر حال فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو تردد یا زیادہ تعجب کا موقع نہ دیا ۔ اور ان سے صراحت و قاطعیت سے کہا ہم تجھے حق کے ساتھ بشارت دے رہے ہیں( قَالُوا بَشَّرْنَاکَ بِالْحَقّ ) ۔وہ بشارت کہ جو خدا کی طرف سے ہے اور اس کے حکم سے ہے ۔ اسی بناء پر یہ حق ہے او ر مسلم ہے ۔
اس کے بعد اس لئے کہ مبادا ابراہیم مایوس و ناامید ہوں تاکید کے طورپر کہنے لگے : اب جبکہ ایسا ہے تو مایوس ہونے والوں میں سے نہ ہو( فَلاَتَکُنْ مِنْ الْقَانِطِینَ ) ۔
لیکن ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراً ان کے اس خیال کو دور کردیا کہ ان پر مایوسی اور رحمت ِ خدا سے ناامیدی کا غلبہ نہیں ہے اور واضح کیا کہ یہ تو صرف طبیعی معمولات کے حوالے سے تعجب ہے ، لہٰذاا صراحت سے کہا : گمراہوں کے سوا اپنے پر وردگار کی رحمت سے کون مایوس ہو گا( قَالَ وَمَنْ یَقْنَطُ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّهِ إِلاَّ الضَّالُّون ) ۔
وہی گمراہ کہ جنہوں نے خدا کو اچھی طرح نہیں پہچانا اور اس کی بے پایاں قدرت پر ان کی نگاہ نہیں کی ۔ وہ خدا کہ جو مشت خاک سے ایسا عجیب و غریب انسان پیدا کرتا ہے اور ناچیز نطفہ سے ایک بچہ وجود میں لاتا ہے خرما کا خشک درخت جس کے حکم سے پھل سے لدجاتا ہے اور جلانے والی آگ جس کے حکم سے گلزار ہو جاتی ہے کون شخص ایسے پر وردگار کی قدرت میں شک کرے یا اس کی رحمت سے مایوس ہو ۔
بہر حال یہ بشا رت سننے کے ابراہیم (علیہ السلام) اس خیال میں پڑ گئے کہ ان خاص حالات میں یہ فرشتے انھیں صرف بیٹے کی بشارت دینے نہیں آئے ، یقینا یہ کسی نہایت اہم کام پر مامور ہیں اور یہ بشارت تو ان کی ماموریت کا ایک پہلو ہے لہٰذا ان سے پوچھنے لگے : اے فرستادگان الٰہی ! بتاؤ کہ تم کس اہم ذمہ داری کے لئے بھیجے گئے ہو؟( قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ اٴَیُّهَا الْمُرْسَلُونَ ) ۔
انھوں نے کہا: ہم ایک گنہ گار قوم کے لئے بھیجے گئے ہیں( قَالُوا إِنَّا اٴُرْسِلْنَا إِلَی قَوْمٍ مُجْرِمِینَ ) ۔
چونکہ وہ جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جستجو اور تحقیق کے بارے میں اپنی خو کی وجہ سے وہ بھی خصوصاً ایسے مسائل میں اتنے جواب پر بس نہیں کریں گے ۔ لہٰذا انھوں نے فوراً مزید فرمایا : یہ مجرم قوم لوط کے سوا کوئی اور نہیں ہے ہم مامور ہیں کہ اس بے شرم آلودہ قوم کو نیست و نابود کردیں ، سوائے خاندان لوط کے کہ جسے ہلاکت سے بچا لیں گے( إِلاَّ آلَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔
لیکن ”اجمعین“ کی تاکید کے ساتھ ”آل لوط“ کی تعبیر تمام گھر والوں کے بارے میں تھی یہاں تک کہ ان کی بیوی کہ جو مشرکین کی ہم کار تھی اور شاید ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس ماجرے سے آگاہ تھے لہٰذا انھوں نے بلافاصلہ استثناء کرتے ہوئے کہا : سوائے اسکی بیوی کے کہ ہم نے طے کیا ہے کہ وہ شہر میں رہ جانے والوں کے ساتھ فنا سے دو چار ہو گی اور نجات حاصل نہ کر سکے گی ۔
( إِلاَّ امْرَاٴَتَهُ قَدَّرْنَا إِنَّهَا لَمِنْ الْغَابِرِینَ ) ۔
”قدرنا“ اور ہم نے مقدر کیا)، یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ ہم اس سلسلے میں خدا کی طرف سے ماموریت رکھتے ہیں ۔
فرشتوں کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام)کا ملاقات کرنا انھیں ولادت اسحاق کی خوشخبری دینا اور اس طرح اس قوم لوط کے بارے میں گفتگو کرنا ان سب امور پر ہم سورہ ہود کی آیات ۶۹ تا ۷۶ کے ذیل میں تفصیل سے بحث کر چکے ہیں ۔(۳)
____________________
۱۔اگر چہ مندر بالاآیات میں اس بات کی طرف اشارہ نہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پذیرائی کی اور مہمانوں نے کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایالیکن جیسا کہ سورہ ہود کی آیہ ۶۹ اور ۷۰ میں ہم پڑھ چکے ہیں یہی تھا ( تفسیر نمونہ جلد ۹ میں مذکورہ آیات کی تفسیر ملاحظہ کیجئے )
۲۔بعض مفسرین نے کہا ہے کہ پہلے بیٹے اسماعیل کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر ۹۹ سال تھی اور اسحاق کی ولادت کے وقت ۱۱۲ سال تھے۔س
۳۔تفسیر نمونہ جلد نہم میں ملاحظہ فرمائیے ۔
آیات ۶۱،۶۲،۶۳،۶۴،۶۵،۶۶،۶۷،۶۸،۶۹،۷۰،۷۱،۷۲،۷۳،۷۴،۷۵،۷۶،۷۷
۶۱ ۔( فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ ) ۔
۶۲ ۔( قَالَ إِنَّکُمْ قَوْمٌ مُنْکَرُونَ ) ۔
۶۳ ۔( قَالُوا بَلْ جِئْنَاکَ بِمَا کَانُوا فِیهِ یَمْتَرُونَ ) ۔
۶۴ ۔( وَاٴَتَیْنَاکَ بِالْحَقِّ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ) ۔
۶۵( فَاٴَسْرِ بِاٴَهْلِکَ بِقِطْعٍ مِنْ اللَّیْلِ وَاتَّبِعْ اٴَدْبَارَهُمْ وَلاَیَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اٴَحَدٌ وَامْضُوا حَیْثُ تُؤْمَرُونَ ) ۔
۶۶ ۔( وَقَضَیْنَا إِلَیْهِ ذَلِکَ الْاٴَمْرَ اٴَنَّ دَابِرَ هَؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُصْبِحِینَ ) ۔
۶۷ ۔( وَجَاءَ اٴَهْلُ الْمَدِینَةِ یَسْتَبْشِرُونَ ) ۔
۶۸ ۔( قَالَ إِنَّ هَؤُلَاءِ ضَیْفِی فَلاَتَفْضَحُونِی ) ۔
۶۹ ۔( وَاتَّقُوا اللهَ وَلاَتُخْزُونِی ) ۔
۷۰ ۔( قَالُوا اٴَوَلَمْ نَنْهَکَ عَنْ الْعَالَمِینَ ) ۔
۷۱ ۔( قَالَ هَؤُلَاءِ بَنَاتِی إِنْ کُنْتُمْ فَاعِلِینَ ) ۔
۷۲ ۔( لَعَمْرُکَ إِنَّهُمْ لَفِی سَکْرَتِهِمْ یَعْمَهُونَ ) ۔
۷۳ ۔( فَاٴَخَذَتْهُمْ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِینَ ) ۔
۷۴ ۔( فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَاٴَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّیل ) ۔
۷۵ ۔( إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِین ) ۔
۷۶ ۔( وَإِنّهَا لَبِسَبِیلٍ مُقِیمٍ ) ۔
۷۷ ۔( إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً لِلْمُؤْمِنِینَ ) ۔
ترجمہ
۶۱ ۔جس وقت (خدا کے) بھیجے ہوئے خاندان لوط کے پاس آئے ۔
۶۲ ۔(لوط نے) کہاتم انجانے افراد ہو ۔
۶۳ ۔انھوں نے کہا : ہم تیرے پاس وہی چیز لائے جس کے بارے میں وہ ( کافر) شک و تردد کرتے تھے ( ہم عذاب پر مامور ہیں ) ۔
۶۴ ۔ہم تیرے پاس حقیقت مسلمہ لائے ہیں اور ہم سچ کہتے ہیں ۔
۶۵ ۔لہٰذا رات کے آخرپہر اپنے گھر والوں کو ساتھ لے اور یہاں سے نکل پڑ۔تو ان کے پیچھے پیچھے چل تم میں سے کوئی بھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اورجہاں کے لئے تمہیں کہا گیا ہے وہ وہاں چلے جاؤ۔
۶۶ ۔اورہم نے لوط کو وحی کی کہ صبح کے وقت ان سب کی جڑ اکھاڑ پھینکی جائے گی ۔
۶۷ ۔(دوسری طرف)اہل شہر کو ان کے آنے کا پتہ چل گیا اور وہ لوط کے گھر کی طرف آئے جبکہ وہ ایک دوسرے کوخوشخبری دے رہے تھے ۔
۶۸ ۔(لوط نے کہا یہ میرے مہمان ہیں میری آبرو نہ گنواؤ۔
۶۹ ۔ خدا سے ڈو اور مجھے شرمندہ نہ کرو ۔
۷۰ ۔وہ کہنے لگے: کہ کیا ہم نے تجھے دنیا والوں ( کے ادھر آنے ) سے روکا نہ تھا ۔
۷۱ ۔اس نے کہا : اگر تم صحیح کا انجام دینا چاہتے ہو تو میری بیٹیاں حاضر ہیں ان سے شادی کرلو اور گناہ کی قباحت سے بچو ) ۔
۷۲ ۔ تیری جان کی قسم ! وہ اپنی مستی میں سر گرداں ہیں او ر اپنی عقل و شعور گنوا بیٹھے ہیں ۔
۷۳ ۔آخر کار طلوع آفتاب کے وقت (صاعقہ یا زمین کے زلزلے کی صورت میں ایک ہولناک چنگھاڑنے انھیں گھیرلیا ۔
۷۴ ۔اس کے بعد ( ان کے شہرر اور آبادی کو ہم نے زیر وزبر کردیا )وہ تہہ و با لا ہوگئے اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش فرمائی ۔
۷۵ ۔اس ( عبرت انگیز سر گذشت) میں سمجھداروں کے لئے نشانیاں ہیں ۔
۷۶ ۔اور ( قافلوں کے ) راستوں میں ان کے ویرانے ہمیشہ کے لئے بر قرار ہیں ۔
۷۷ ۔ ان میں ایمانداروں کے واسطے نشانیاں ہیں ۔
تفسیر
قوم لوط کے گنہ گاروں کا انجام
گذشتہ آیات میں ہم نے ان فرشتوں کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات کا حال پڑھا جو قوم ِ لوط پر عذاب کے لئے مامور تھے زیر نظر آیات میں ہم ان کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے چلے آنے اورحضرت لوط کے پاس آنے کا حال پوچھیں گے۔
پہلے فرمایا گیا ہے :جس وقت فرستادگان الہٰی خاندان لوط کے پاس آئے( فَلَمَّا جَاءَ آلَ لُوطٍ الْمُرْسَلُونَ ) ۔
تو لوط نے ان سے فر مایا ”تم اجنبی لوگ ہو “۔( قَالَ إِنَّکُمْ قَوْمٌ مُنْکَرُونَ ) ۔
مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت لوط علیہ السلام نے ان سے یہ بات اس لئے کہی کہ وہ بہت خوبصورت نوجوانوں کی صورت میں ان کے پاس آئے تھے اور ہوسکتا کہ ان کا آنا آپ کے لئے ایک مشکل کا باعث بن جاتا ۔ایک طرف وہ مہمان تھے محترم تھے اور ان کا آنا مبارک تھا اور دوسری ماحول انتہائی شرمناک اور مشکلات سے پر تھا اور اسی لئے سورہ ہود کی آیات میں یہی واقعہ جو کسی اور مناسبت سے آیا ہے وہاں ”سیء بھم “ کے الفاظ آئے ہیں یعنی یہ امر خدا کی طرف سے اس پیغمبر کے لئے سخت ناگوار تھا اور وہ ان کے آنے سے پریشان ہوئے اور کہنے لگے کہ آج کا دن بہت ہی سخت ہے ۔
لیکن فرشتوں نے انھیں زیادہ دیر انتظار میں نہ رکھا اورصراحت کے ساتھ کہا کہ ہم تیرے پاس ایسی چیز لے کر آئے ہیں جس میں وہ شک رکھتے تھے ۔( قَالُوا بَلْ جِئْنَاکَ بِمَا کَانُوا فِیهِ یَمْتَرُونَ ) ۔یعنی ہم اس دردناک عذاب کے لئے مامور ہیں جس کے بارے میں تو انھیں تنبیہ کر چکا ہے لیکن انھوں نے اسے کبھی بھی سنجید گی سے نہیں لیا ۔
اس کے بعد انھوں نے بطور تاکید کہا : ہم تیرے لئے مسلم اور ناقابل تردید حقیقت لائے ہیں “ یعنی ہم اس بے ایمان اور منحرف قوم کے لئے حتمی عذاب اور قطعی سزا لے کر آئے ہیں( وَاٴَتَیْنَاکَ بِالْحَقّ ) ۔
پھر انھوں نے مزید تاکید کے لئے کہا : ہم یقینا سچ کہہ رہے ہیں “( وَإِنَّا لَصَادِقُونَ ) ۔
یعنی یہ قوم اپنے لوٹنے کے تمام راستے تباہ کر چکی ہے اور ان کی شفاعت کا موقع اب باقی نہیں رہا یہ اس لئے کہ کہیں لوط ان کی سفارش کے لئے نہ سوچنے لگےں کہ یہ لوگ اب ہر گز شفاعت کی اہلیت نہیں رکھتے۔
نیز ضروری تھا کہ مومنین کا چھوٹا سا گروہ ( کہ جو ان کی بیوی کے سوااہل خاندان پر مشتمل تھا) اس ہلاکت انگیزی سے بچ جائے لہٰذا انھوں نے حضرت لوط کو ضروری احکامات دئیے ، کہنے لگے : رات کے وقت جب یہ گنہ گار لوگ سو جائیں یا شراب و شہوت میں مست ہو جائیں تم اپنے خاندان کو لے کر شہر کے باہر نکل جاؤ( فَاٴَسْرِ بِاٴَهْلِکَ بِقِطْعٍ مِنْ اللَّیْل ) ۔”لیکن تم ان کے پیچھے پیچھے رہنا“تاکہ ان کی نگرانی کرسکو ان میں سے کوئی پیچھے نہ رہ جائے( وَاتَّبِعْ اٴَدْبَارَهُمْ وَلاَیَلْتَفِتْ مِنْکُمْ اٴَحَدٌ ) ۔”اور اسی مقام ( شام یا کوئی دوسرا علاقہ جہاں کے لوگ اس آلود گی سے پاک ہیں ) کی طرف چلے جاؤ“( وَامْضُوا حَیْثُ تُؤْمَرُونَ ) ۔
اس کے بعد گفتگوکا لب و لہجہ بدل جاتا ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے”ہم نے لوط کو اس امر کی وحی کی کہ دمِ صبح سب کی ریشہ کنی ہو جائے گی “۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک فرد بھی نہیں بچے گا ۔( وَقَضَیْنَا إِلَیْهِ ذَلِکَ الْاٴَمْرَ اٴَنَّ دَابِرَ هَؤُلَاءِ مَقْطُوعٌ مُصْبِحِینَ ) ۔
غور کیجئے گا ۔
قرآن اس واقعے کو یہیں چھوڑ کر ابتداء کی طرف لوٹتا ہے اور واقعے کا وہ حصہ جو ایک مناسبت کیو جہ سے وہاں رہ گیا تھا کہ جس کا ہم بعد میں ذکرکریں گے ، اسے بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : شہر والوں کو جب لوط کے پاس آنے والے نئے مہمانوں کا پتہ چلا تو وہ ان کے گھر کی طرف چل پڑے ،راستے میں وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے( وَجَاءَ اٴَهْلُ الْمَدِینَةِ یَسْتَبْشِرُونَ ) ۔گمراہی کی شرمناک وادی میں بھٹکنے والے ان افرادکا خیال تھا کہ گویا نرمال ان کے ہاتھ آگیا ہے خوبصورت اور خوش رنگ نوجوان اور وہ بھی لوط کے گھر میں ۔
”اہل مدینہ “ کی تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ کم از کم شہر کے بہت سے لوگ ٹولیوں میں حضرت لوط (علیہ السلام)کے گھر کی طرف چل پڑے۔ اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک بے شرم ، ذلیل اور جسور تھے ۔ خصوصاً لفظ ”یستبشرون “ ( ایک دوسرے کو بشارت دیتے تھے)ان کی آلوگیوں کے گہرائی کی حکایت کرتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا شرمناک عمل ہے کہ شاید کسی نے ان کی نظیر جانوروں میں بھی بہت کم دیکھی ہو گی اور یہ عمل اگرکوئی انجام دیتا بھی ہے تو کم از چھپ چھپاکر اور احساس شرمندگی کے ساتھ ایسا کرتا ہے ، لیکن یہ بدکا ر کمینہ صفت قو،م کھلم کھلاایکدوسرے کو مبارک باد دیتی تھی ۔
حضرت لوط علیہ السلام نے جب ان کا شور غل سنا تو بہت گھبرائے اور مضطرب ہوئے انھیں اپنے مہمانوں کے بارے میں بہت خوف ہوا کیونکہ ابھی تک وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ مہمان مامورین عذاب ہیں قادر وقاہر خدا کے فرشتے ہیں لہٰذا وہ ان کے سامنے کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے : یہ میرے مہمان ہیں ،میری آبرو نہ گنواؤ“ قَالَ إِنَّ ھَؤُلَاءِ ضَیْفِی فَلاَتَفْضَحُونِی) ۔یعنی اگر تم خدا، پیغمبر اور جزاء اور سزا کے مسئلہ سے صرف نظر کرلو تو بھی کم از کم یہ انسانی مسئلہ ہے اور یہ بات تو سب انسانوں میں چاہے مومن ہوں یا کافر ،موجود ہے کہ وہ مہمانوں کااحترام کرتے ہیں تم کیسے انسان ہو کہ اتنی سی بات بھی نہیں مانتے ہو ۔ اگر تمہارا کوئی دین نہیں تو کم ازکم آزاد انسان توبنو ۔
اس کے بعد آپ نے مزید کہا:آؤ خدا سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں کے سامنے شرمسار نہ کرو( وَاتَّقُوا اللهَ وَلاَتُخْزُونِی ) ۔(۱)
لیکن ”خزی“ در اصل دور کرنے کے معنی میں ہے بعد ازاں شرمندگی کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ گویا لوط چاہتے تھے کہ ان مہمانوں کے سامنے مجھے شرمندہ نہ کرو اور انھیں مجھ سے دور نہ کرو ۔
لیکن وہ ، وہ بہت جسور اور منہ پھٹ تھے بجائے اس کے وہ شرمندہ ہوتے کہ انھوں نے اللہ کے پیغمبر لوط (علیہ السلام) سے کیسا مطالبہ کیا ہے الٹا اس طرح سے پیش آئے جیسا لوط سے کوئی جرم سر زد ہو اہے انھوں نے زبان اعتراض دراز کی اورکہنے لگے : کیا ہم نے تجھ سے نہ کہا تھا کہ دنیاوالوں کو اپنے ہاں مہمان نہ ٹھہرانا اورکسی کو اپنے ہاں نہ آنے دینا( قَالُوا اٴَوَلَمْ نَنْهَکَ عَنْ الْعَالَمِینَ ) ۔
تم نے اس کی خلاف ورزی کیوں کی اور ہمارے کہنے پر عمل کیوں نہ کیا ۔
یہ اس بناء پرتھا کہ یہ قوم انتہائی کم ظرف اور کنجوس تھی یہ لوگ ہر گز کسی کو اپنے ہاں مہمان نہیں ٹھہراتے تھے او ر اتفاق سے ان کے شہر قافلوں کے راستے میں پڑ جاتے تھے کہتے تھے کہ انھوں نے یہ کام بعض آنے والوں کے ساتھ اس لئے کیا کہ کوئی ان کے ہاں ٹھہرے نہ ۔ آہستہ آہستہ ان کی عادت بن گیا لہٰذا جب حضرت لو ط کو شہر میں کسی مسافر کے آنے کی خبر ہوتی تو اسے اپنے گھر میں دعوت دیتے تاکہ وہ کہیں ان کے چنگل میں نہ پھنس جائے ان لوگوں کو جب اس کا پتا چلتا تو بہت سیخ پا ہوئے اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے کھل کر کہنے لگے تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اب تم کسی مہمان کو اپنے گھر لے جاؤ۔
لہٰذا یوں لگتا کہ زیر نظر آیت میں لفظ ”عالمین “ مسافروں اور ایسے افراد کی طرف اشارہ ہے جو اس شہر اور علاقے کے رہنے والے نہ تھے اور ان کا صرف وہاں سے گذر ہوتا تھا ۔
بہرحال حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کی یہ جسارت اور کمینگی دیکھی تو انھوں نے ایک طریقہ اختیار کیا تاکہ انھیں خواب غفلت اور انحراف و بے حیائی کی مستی سے بیدار کرسکیں ۔آپ نے کہا : تم کیوں انحراف کے راستے پر چلتے ہو اگر تمہارا مقصد جنسی تقاضوں کو پورا کرنا ہے تو جائز اور صحیح طریقے سے شادی کرکے انھیں پورا کیوں نہیں کرتے ،یہ میری بیٹیاں ہیں (میں تیار ہو ں کہ انھیں تمہاری زوجیت میں دے دوں )اگر تم صحیح کام انجام دینا چاہتے ہو تو اس کا راستہ یہ ہے( قَالَ هَؤُلَاءِ بَنَاتِی إِنْ کُنْتُمْ فَاعِلِینَ ) ۔
اس میں شک نہیں کہ حضرت لوط(علیہ السلام) کی تو چند بیٹیاں تھیں اور ان افراد کی تعداد زیادہ تھی لیکن مقصد یہ تھا کہ ان پر اتمام حجت کیا جائے اور کہاجائے کہ میں اپنے مہمانوں کے احترام اور حفاظت اور تمہیں برائی کی دلدل سے نکالنے کے لئے اس حد تک ایثار کے لئے تیار ہوں ۔
بعض نے یہ بھی کہا کہ ’ھوء لاء بناتی “سے مراد شہر کی بیٹیاں ہیں اور روحانی باپ کے اعتبار سے انھوں نے سب کو اپنی بیٹیاں کہاں ہے لیکن پہلی تفسیر اایت کے معنی کے زیادہ نزدیک ہے ۔
بغیر کہے واضح ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) یہ نہیں چاہتے تھے کہ اپنی بیٹیاں گمراہ مشرکین کی زوجیت میں دے دیں بلکہ ان کا مقصد تھا کہ آؤ ! ایمان لے آؤاور اس کے بعد میں اپنی بیٹیاں تمہارے عقد میں دے دوں گا ۔
لیکن فسوس شہوت ،انحراف اور ہٹ دھرمی کے اس عالم میں ان میں ذرہ بھر بھی انسانی اخلاق اور جذبہ باقی ہوتا تو کم از کم اس امر کے لئے کافی تھا کہ وہ شرمندہ ہوتے اورپلٹ جاتے مگر نہ صرف یہ کہ وہ شرمندہ نہ ہوئے بلکہ اپنے جسارت میں اوربڑھ گئے اور چاہا کے حضرت لوط (علیہ السلام) کے مہمانوں کی طرف ہاتھ بڑھائیں ۔
اس مقام پر اللہ تعالیٰ روئے سخن رسول اسلام کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے :تیری جان اور زندگی کی قسم !وہ اپنی مستی میں سخت سر گرداں تھے( لَعَمْرُکَ إِنَّهُمْ لَفِی سَکْرَتِهِمْ یَعْمَهُونَ ) ۔
سورہ ہود میں اسی قسم کی بحث کے بعد ہے کہ فرشتوں نے اپنی مامویت سے پر دہ اٹھایا اور حضرت لوط (علیہ السلام) سے مخاطب ہوکر کہنے لگے :ڈرئیے نہیں یہ لوگ آپ کو ئی تکلیف نہیں پہنچاسکتے ۔
سورہ قمر آیہ ۳۷ میں ہے کہ جب ان کی جسارت اور بڑھ گئی اور انھوں نے مہمانوں پر تجاوز کا مصمم ارادہ کرلیا تو ان کی آنکھیں اندھی ہو گئیں ۔ قرآن کے الفاظ میں ۔( ولقد راو دوه عن ضیفه فطمسنااعینهم )
(انھوں نے ان کے مہمانوں کے بارے میں ناجائز خواہش کی تو ہم نے ان کی آنکھیں اندھی کردیں )
بعض روایت میں آیا ہے کہ ایک فرشتے نے مٹھی بھر مٹی ان کے چہرے پر پھینک دی تو وہ سب اندھے ہو گئے ( اور چیختے چلاتے پلٹ گئے ) ۔
اس مقام پر اس قوم کے بارے میں اللہ کی گفتگوانتہاء کو پہنچ جاتی ہے وہ دو جچی تلی اور مختصر آیات میں ان کا منحوس انجام پڑ ے قاطع تباہ کن اور عبرت انگیز صورت میں بیان کرتا ہے اور کہتا ہے : آخر کار طلوع آفتاب کے وقت وحشت ناک چنگھاڑ نے ان سب کو گھیر لیا( فَاٴَخَذَتْهُمْ الصَّیْحَةُ مُشْرِقِینَ ) ۔
یہ”صیحہ“ہوسکتا ہے کہ ایک عظیم صاعقہ یا وحشت ناک زلزلہ کی آواز ہو ۔ بہر حال ایک بہت بڑی چنگھاڑ تھی ۔ اس کی وحشت سے سب کے سب بے ہو ش ہو گئے یا مر گئے ۔ہم جاتے ہیں کہ آواز کی لہریں جب ایک معین حد سے بڑھ جائیں تو تکلیف دہ اور وحشت ناک ہوتی ہیں اور اس سے بھی بڑھ جائیں تو انسان کو بیہوش کردیتی ہیں یا پھر موت کا سبب بن جاتی ہیں یہاں تک کہ ہوسکتا ہے کہ وہ عمارتوں کو تباہ کردیں ۔
لیکن ہم نے اسی پر اکتفاء نہیں کی بلکہ ان کے شہر کو ہم نے بالکل زیر و زبر کردیا اور عماتوں کے اوپر والے حصے نیچے اور نیچے والے اوپر کردئے( فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا ) ۔
ان کے لئے یہ عذاب بھی کافی نہ تھا ۔ اس پر ہم نے ان پر پتھریلے کنکروں کی بارش برسائی( وَاٴَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِنْ سِجِّی ) ۔
پتھروں کی یہ بارش ہو سکتا ہے ان لوگوں کے لئے ہو جو اس وقت وحشت ناک چنگھاڑ سے نابود نہیں ہوئے تھے یا جو اسی گر می و عذاب میں مبتلا نہیں ہوئے تھے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ناپاک اجساد اور ناپاک آثار کو محو کرنے کے لئے ہو شہر کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ پتھروں کی بارش کے بعد کوئی شخص اس علاقے سے گذرتا تو آسانی سے باور نہیں کرسکتا تھا کہ کبھی اس علاقے میں ایک شہر آباد تھا ۔
یہ تین عذاب ( وحشت ناک چنگھاڑ، شہر کا تہہ و بالا ہونا اور پتھروں کی بارش ) کیوں تھے جبکہ ان میں سے ہر ایک اس قوم کو ہلاک کرنے کے لئے کافی تھا ۔
ایسا یا تو ان کے گناہ کی شدت اور بے حیائی میں ان کے جسور ہونے کی بناء تھا یا دوسروں کے لئے عبرت کی خا طر اللہ نے ان پر عذاب کو کئی گنا کردیا ۔؟
یہ وہ مقام ہے جہاں قرآن تربیتی اور اخلاقی نتیجہ حاصل کرتے ہوئے کہتا ہے : اس واقعہ میں باہوش لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں( إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِین ) ۔
جو اپنی خاص فراست و دانائی کی وجہ سے ہو ، علامت سے واقعہ ہر اشارے سے حقیقت اور ہر نکتے سےاہم تربیتی مطلب اخذ کرلیتے ہیں ۔(۱)
لیکن یہ تصور نہ کریں کہ ان کے آثار بالکل ختم ہو گئے ہیں ۔ نہیں ”قافلوں اور راہ گیروں کے لئے ہمیشہ برقرار ہیں “( وَإِنّهَا لَبِسَبِیلٍ مُقِیمٍ ) ۔
اگر تم باور نہیں کرتے تو اٹھ کھڑے ہواور ان تباہ حال شہروں کے ویرانوں کو جاکر دیکھو کہ جو شامکے ایک راستے مدینہ جانے والوں مسافروں کے لئے موجود ہیں ، دیکھو اور ان میں غور کرو، عبرت حاصل کرو، خدا کی طرف پلٹ آؤ راہ توبہ اختیار کرواور اپنے قلب و روح کو غلاظتوں سے پاک کرلو ۔
تاکید مزید کے لئے اور اہل ایمان کو اس عبرت انگیز داستان میں غورو فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرماتا ہے : اس واقعہ میں اہل ایمان کی نشانیاں ہیں( إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً لِلْمُؤْمِنِینَ ) ۔
کیسے ممکن ہے کہ کوئی صاحبِ ایمان یہ ہلادینے والا واقعہ پڑھے اور اس سے عبرت حاصل نہ کرے ۔
”سجیل “ سے کیا مراد ہے ، اس گناہ گار قوم پر پتھروں کی بارش کیوں برسی؟ان کے شہر تہ و بالا کیوں ہوئے ،نزول عذاب صبح کے وقت کیوں ہوا ؟ خاندان لوط سے کیوں کہا گیا کہ پلٹ کر نہ دیکھیں اور قوم لوط کا اخلاق ان سب امور کے لئے سورہ ہود کی تفسیر میں ہم کافی بحث کرچکے ہیں ۔
(تفسیر نمونہ جلد ۹ ص تا ص ( اردو ترجمہ ملاحظہ کیجئے )
چند اہم نکات
۱ ۔ ”قطع من اللیل “ سے کیا مراد ہے ؟
”قطع“رات کی تاریکی کے معنی میں ہے ۔
مرحوم طبرسی مجمع البیان میں کہتے ہیں :
گویا ”قطع“”قطعة“ کی جمع ہے لہٰذا مذکورہ بالا آیت میں اس سے مراد رات کا زیادہ حصہ ہے ۔
لیکن مفردات میں راغب کے بقول معلو م ہوتا ہے کہ ” قطع“ ” قطعة“ معنی میں ہے او ر مفرد ہے ۔
البتہ بہت سے مفسرین کے بقول یہ لفظ رات کے آخری حصہ اور وقت سحر کے معنی میں ہے ، شاید یہ تفسیر قرآن کی بعض دوسری آیات کی بناء پرہے کہ جو صراحت سے آلِ لوط کے بارے میں کہتی ہیں ۔( نجینا هم بسحر )
ہم نے انھیں وقت سحر نجات دی (قمر ۳۴)
یعنی اس وقت کہ جب شہوت پرست آلودہ دامن لوگ خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے تھے ، شراب ، غرور اور شہتی کی مستی ان کے وجود میں چھائی ہوئی تھی اور آل لوط کے شہر سے نکلنے کے لئے فضا بالکل ساز گار تھی پس وہ نکل کھڑے ہوئے ۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ انھی تباہ کرنے والی سزا اور عذاب کی ابتداء بھی دم ِصبح طلوع آفتاب کے وقت ہوئی شاید یہ وقت اس لئے منتخب کیا گیا کہ جب حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر پر یورش کرنے والے سب اندھے ہوگئے اور گھروں کے لوٹ گئے تو ممکن تھا وہ کچھ نہ کچھ سوچ میں پڑ جائیں ،لہٰذا رات انھیں مہلت کے طور پر دی گئی کہ شاید وہ تو بہ کرلیں اور تلافی کا راستہ اختیار کریں ۔
بعض روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جب گھرو ں کو لوٹ گئے تو ان میں سے بعض نے قسم کھائی کہ ہم صبح خاندان ِلوط (علیہ السلام)کے کسی فرد کو زندہ نہیں چھوڑیں گئے ، لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی اقدام کرتے ، عذاب ِ الٰہی نے انھیں کاٹ کردکھ دیا ۔( نور الثقلین جلد ۲ صفحہ ۳۸۵)
۲ ۔”( وامضواحیث تؤمرون ) “کی تفسیر
ہم بتا چکے ہیں کہ فرشتوں نے خاندان لوط کو نصیحت کی کہ آخر شب اس علاقے کی طرف چلے جائیں جہاں کا تمہیں حکم دیا گیاہے ۔
اس جگہ کے بارے میں آیات قرآن اس سے زیادہ وضاحت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں مفسرین نے بہت سی مختلف باتیں کی ہیں ۔
بعض نے کہا ہے کہ ان سے کہا گیا کہ سر زمین شام کی طرف چلے جائیں کہ جہاں کاماحول نسبتاً پا ک تھا ۔
بعض نے کہا کہ فرشتوں نے ایک خاص بستی کا ذکر اور انھیں نصیحت کی کہ وہاں چلے جائیں ۔
تفسیر المیزان میں اس جملے سے یہ استفادہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے راستے کے لئے ایک طرح کی الہٰی ہدایت او ر حقیقی راہنمائی رکھتے تھے اور وہ اس کے مطابق چلے ۔
۳ ۔” متوسم “ اورر”مومن “ کے درمیان واسطہ
مندرجہ بالا آیات میں ہم دیکھا ہے کہ کبھی فرمایاگیا ہے کہ قوم لوط کے عبرت انگیز انجام میں ”متوسمین “ کے لئے نشانیاں ہیں اور کبھی ارشاد ہوتا ہے ” مؤمنین “ کے لئے ۔ ان دونوں تعبیروں کے درمیان ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے وہ یہ کہ حقیقی ”مومنین “” متوسم“ یعنی صاحب فراست ، فوراً بات کی تہہ تک پہنچ جانے والے اور بہت سمجھدار ہوتے ہیں ۔
ایک ر وایت میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ(علیہ السلام) سے ”” ان فی ٰلک لٰا یٰة للمتوسمین “ کی تفسیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا :
اس سے مراد امت اسلامی ہے ۔
اس کے بعد مزید فرمایا:قال رسول الله : اتقوا فراسة المؤمن ، فانه ینظر بنور الله عز وجل
رسول اللہ نے فرمایا: مومن کی فرست سے ڈرو کیونکہ وہ نور الہٰی سے دیکھتا ہے ۔(۱)
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:متوسمین آئمه هیں ۔( نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۲۳ ۔)
حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے :
رسول اکرم متوسم تھے ، ان کے بعد میں ہوں اور میرے بعد میری اولاد اور ذریت سے امام ہیں ۔ (نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۲۳) ۔
____________________
۱۔ نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۲۳۔
۴ ۔ شہوت و غرور کی مستی
اگر چہ شراب کی مستی مشہور ہے لیکن شراب سے بالات مستیاں بھی پیدا ہوتی ہیں ان میں سے مقام و منصب ، شہرت اور خواہش نفسانی کی مستی ہے ۔ مذکورہ بالاآیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی جان کی قسم کھاکر کہتا ہے کہ یہ لوگ اپنی مستی میں سر گرداں اور انتہائی واضح راہ نجات بھی انھیں سجھائی نہیں دیتی ۔ معاملہ یہاں تک جاپہنچا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) جیسے اپنی بیٹیاں ان کے نکاح میں دینے کو تیار ہوجاتے ہیں تاکہ وہ اپنی نفسانی خواہشات حلا ل و مشرو ع طر یقے سے پو را کر سکیں اور آلودگی گناہ اور شرمناک زندگی سے نجات پا سکیں لیکن وہ پھر بھی ان کی بات کو ٹھکرادیتے ہیں ۔
ضمنی طور یہ پیغمبر بزرگوار ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ مفاسد کو روکنے کے لئے صرف نفی پر بس نہ کی جائے بلکہ اثبات کا بھی سہارا لیا جائے یعنی انسان کے فطری تقاضے صحیح طور پر پورے ہونے چاہئیں تاکہ وہ خرابی کی طرف مائل نہ ہو ں اگر قوم لوط کے فاسد افراد ایسے تھے جن پر یہ مثبت طریقہ اثر انداز نہ ہوا لیکن عام طور پر یہ طریقہ بہت موثر ہوتا ہے ۔
جب ہم غلط اور غیر صحیح سرگرمیوں کو روکنا چاہیں تو پہلے ہمیں لوگوں کے لئے صحیح اور درست سر گرمیاں فراہم کرنا چاہئیں ۔
یہ امر جاذب نظر ہے کہ بعض روایات میں ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) جیسے بااستقامت پیغمبر تقریباًتیس سال اس پست اور کمینہ خصلت قوم میں پیدا کرتے رہے لیکن ان کے گھر والوں کے کوئی ان پر ایمان نہ لایا (اور اس میں بھی ان کی بیوی مستثنیٰ ہے )(۱)
یہ تمام استقامت کس قدر پر شکوہ ہے وہ بھی ایسے کمینہ خصلت لوگوں میں جن میں انسان ایک گھنٹہ بھی زندگی گذارے تو عاجز آجائے اور کس قدر تکلیف دہ ہے وہ ایسی بیوی کے ساتھ زندگی گذارنا ۔
سورہ ذاریات کی آیہ ۳۵،۳۶ میں ہے :( فاخرجنا من کان فیها من المؤمنین فماوجدنا فیها غیر بیت من المسلمین )
ہم نزول بلا سے پہلے اس زمین سے ان تمام افراد کو نکال لے گئے جو ایمان لائے تھے لیکن وہاں ایک اہل ایمان خاندان کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا ۔یہاں بھی واضح ہو جاتا ہے کہ خدائی عذاب کبھی بھی خشک اور تر دونوں کو نہیں جلاتا یہاں تک کہ اگر ایک سچا مومن اور احساس ذمہ داری رکھنا والا مومن ہوتو اسے بھی نجات بخشتا ہے ۔
____________________
۱۔ نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۳۸۲۔
آیات ۷۸،۷۹،۸۰،۸۱،۸۲،۸۳
۷۸( وَإِنْ کَانَ اٴَصْحَابُ الْاٴَیْکَةِ لَظَالِمِینَ ) ۔
۷۹ ۔( فَانْتَقَمْنَا مِنْهمْ وَإِنَّهمَا لَبِإِمَامٍ مُبِینٍ ) ۔
۸۰ ۔( وَلَقَدْ کَذَّبَ اٴَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِینَ ) ۔
۸۱ ۔( وَآتَیْنَاهُمْ آیَاتِنَا فَکَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِینَ ) ۔
۸۲) ۔( وَکَانُوا یَنْحِتُونَ مِنْ الْجِبَالِ بُیُوتًا آمِنِینَ ) ۔
۸۳ ۔( فَاٴَخَذَتْهُمْ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِینَ ) ۔
ترجمہ
۷۸ ۔اصحاب ایکہ (سرسبز مین والے شعیب کی قوم)یقینا ستمگر قوم تھی ۔
۷۹ ۔ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان دونوں قوم (ثمود اور اصحاب ایکہ) کے تباہ شدہ شہر سر را ہ آشکار ہیں ۔
۸۰ ۔اصحاب الحجر(قوم ثمود)نے مرسلین کی تکذیب کی ۔
۸۱ ۔ہم نے ان کے لئے اپنی آیات بھیجیں لیکن انھوں نے اس سے روگردانی کی ۔
۸۲ ۔ وہ پہاڑوں کے اندر اپنے امن و امان والے گھر تراشتے تھے ۔
۸۳ ۔لیکن آخر کا(ہلاکت آفرین )چنگھاڑ نے صبح کے وقت انھیں آگھیرا ۔
۸۴ ۔اور جو کچھ وہ حاصل کرچکے تھے عذاب الہٰی سے نجات کے لئے ان کے کام نہ آیا ۔
تفسیر
دو ظالم قوموں کا انجام
ان آیات میں قرآن دو گذشتہ اقوام کی سر گذشت کی طرف اشارہ کرتا ہے ایک کو” اصحاب الایکہ “ کہ اگیا ہے اور دوسری” اصحاب الحجر“ ان میں گذشتہ آیات قوم لوط کے بارے میں جو عبرت انگیز مباحث آئی ہیں انکی تکمیل کی گئی ہے پہلےارشاد ہوتا ہے :یقینا اصحاب ایکہ ظالم اور ستمگر لوگ تھے( وَإِنْ کَانَ اٴَصْحَابُ الْاٴَیْکَةِ لَظَالِمِینَ ) ۔(۱)
اور ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کی ستم گریوں اور سرکشیوں پر انھیں عذاب دیا( فَانْتَقَمْنَا مِنْهمْ ) ۔
ان لوگوں کا علاقہ اور قوم لوط کہ جس کی داستان گزرچکی ہے ، کی سر زمین تمہارے راستے میں واضح طورپر موجود ہے( وَإِنَّهمَا لَبِإِمَامٍ مُبِینٍ ) ۔
پس آنکھیں کھولو ان کا انجام دیکھو اور ان سے عبرت حاصل کرو ۔
____________________
۱۔لفظ ”ان “ اس آیت میں شرطیہ نہیں ہے بلکہ ”مثقلہ “سے ”مخففہ“ ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے (انہ کان اصحاب الایکة لظالمین )
اصحاب ایکہ کون ہیں ؟
بہت سے مفسرین اور ارباب لغت کہتے ہیں کہ ” ایکہ “ کا معنی ہے باہم جڑے ہوئے درخت یا جنگل اور ”اصحابالایکہ“ وہی قوم شعیب ہے جو حجاز و شام کے درمیان سر سبز و شاداب زمین پر آباد تھی ۔
ان کی زندگی بہت خوشحال تھی ان کے پاس فراوان دولت تھی اسی لئے انھیں غفلت و غرور نے گھیر لیا ، خاص طور پر و ہ کم فروشی اور فتنہ و فساد میں مبتلا ہو گئے ، حضرت شعیب علیہ السلام جیسے عظیم پیغمبر نے انھیں متنبہ کیا اور توحید و راہ حق کی دعوت دی لیکن جیسا کہ ہم نے سورہ ہود کی آیات میں دیکھا ہے انھوں نے حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا اور آخر کار دردناک عذاب کے ذریعہ نیست و نابود ہو گئے کئی روز تک وہ نہایت سخت گرمی کا شکار رہے ، آخری روزبادلوں کے جھنڈ کے جھنڈ آسمان پر چھا گئے اور انھوں نے بادل کے سائے میں پناہ لی لیکن ایک زبر دست بجلی زمین پر ٹوٹ پڑی اور ظالموں کو نیست و نابود کرگئی ۔
شاید قرآن نے ”اصحاب الایکہ “ ( درختوں سے بھری ہوئی زمین والے ) اس لئے کہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ یہ سب نعمتیں ہم نے انھیں بخشی تھیں ۔ اس کے باوجود انھوں نے شکران ِ نعمت کے بجائے کفران ِ نعمت کیا اور ظلم و ستم کی بنیادرکھی اور صاعقہ نے انھیں اور ان کے درختوں کو ختم کردیا ۔
ان کے حالات کی مزید تفصیل سورہ شعراء کی آیہ ۱۷۶ تا ۱۹۰ کے ذیل میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے حوالے سے آئے گی ۔
ضمناً توجہ رہے کہ ہوسکتا ہے ”فانتقمنامنهم “ ( ہم نے انھیں سزا دی ) قوم لوط اور ”اصحاب الایکه “ دونوں کی طرف اشارہ ہو کیونکہ اس جملے کے بعد فوراً یہ عبارت آئی ہے ۔”و انهما لبامام مبین “
ان دونوں کا علاوہ تمہارے سامنے آشکار ہے ۔
”و انهما لبامام مبین “کی یہی تفسیر مشہور ہے کہ یہ شہر لوط اور اصحاب الایکہ کے شہر کی طرف اشارہ ہے ”امام“”راستہ“ اور” جادہ“ کے معنی میں ہے ۔( کیونکہ یہ مادہ ”ام “ سے لیا گیا ہے جو قصد کر نے کے معنی میں ہے اور کیونکہ انسان مقصدتک پہنچنے کے لئے راستوں سے گذرتا ہے ) ۔
بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ”امام مبین “ سے مراد لوح محفوظ ہے اس کے لئے انھوں نے سور ہ یٰس کی آیہ ۱۲ کو قرینہ کے طور پر پیش کیا ہے لیکن یہ احتمال بہت ہی بعید ہے کیونکہ قرآن چاہتا ہے کہ لوگوں کو درسِ عبرت دے اور یہ دونوں نام لوح ِ محفوظ میں ہوں تو لوگ ان سے اثر لے سکتے ہیں ۔
جبکہ یہ شہر قافلوں اور پاس سے گذرنے والے مسافروں کے راستے میں ہوں تو ان پر گہرا اثر مرتب کرسکتے ہیں وہ ایک لمحہ کے لئے وہاں رک جائیں ،غور و فکر کریں ان کا عبرت میں دل اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اس آفت زدہ زمین کو آئینہ عبرت سمجھے کبھی قوم لوط کی سرمین کے پاس اور کبھی اصحاب ایکہ کے علاقے کے نزدیک اور آخر ان کے انجام پر آنکھیں سے سیلاب ِاشک بہائیں ۔
رہے ”اصحاب الحجر“ تو یہ وہی سر کش قوم ہے کہ جو حجر نامی علاقے میں رہتی تھی ، بہت خوش حال تھی ۔ ان کے عظیم پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام ان کے ہدیت کے لئے مبعوث ہوئے ۔ ان کے بارے میں قرآن کہتا ہے : اصحاب حجر نے خدا کے بھیجے ہوؤں کی تکذیب کی( وَلَقَدْ کَذَّبَ اٴَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِینَ ) ۔
اس کے بارے میں یہ شہر کہاں واقع ہے ، بعض مفسرین اور مورخین نے لکھا ہے کہ یہ شہر مدینہ اور شام کے درمیان قافلوں کی راہ میں ” وادی القریٰ“ میں ” تیمہ“ کے جنوب میں پڑتا تھا ، اور تقریبا ً اس کا کوئی اثر نشان باقی نہیں ہے ۔
کہتے ہیں کہ یہ شہر گزشتہ زمانے میں عربوں کے تجارتی شہروں میں سے تھا یہ شہر اتنا اہم تھا کہ بطلمیوس نے تجارتی شہروں میں لکھا ہے اور روم کے معروف جغرافیہ دان پلین نے اس کا نام ”حجری“ لکھا ہے ۔
ایک روایت میں ہے کہ ہجرت کے نویں سال جب رسول ﷺ نے لشکر روم کے مقابلے کے لئے تبوک کی طرف لشکر کشی کی تو مجاہد اسلام اس مقام پر ٹھہر نا چاہتے تھے ،پیغمبر اکرم ﷺ نے منع کیا اور فرما یا:
یہ وہی قوم ثمود کا علاقہ ہے جس پر عذاب الہٰی نازل ہوا تھا ۔(۱)
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن اصحاب الحجر کے بارے میں ( اور اسی طرح قوم ِ نوح ،قوم ِ شعیب اور قوم ِ لوط کے بارے میں شورہ شعراء کی آیات ۱۰۵ ، ۱۲۳ ، اور ، ۱۶۰ میں بالترتیب اور دیگرگزشتہ قوموں کے بارے میں ) کہتا ہے کہ انھوں نے ” پیغمبروں کی تکذیب کی “ حالانکہ ظاہراً ان کے پاس ایک سے زیادہ پیغمبر نہیں آئے او ر انھوں نے صرف اسی کی تکذیب کی تھی ۔
یہ تعبیر شاید اس بناء پر ہو کہ انبیاء کا پرگرام اورہدف اس طرح سے ایک دوسرے سے پیوستہ تھا کہ ان میں سے ایک کی تکذیب ان سب کی تکذیب تھی ۔
بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ان قوموں کے کئی پیغمبر تھے جن میں سے ایک زیادہ معروف تھا لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔
بہر حال قرآن اصحاب الحجر کے بارے میں اپنی گفتگوجاری رکھتے ہوئے کہتا ہے : ہم نے ان کے لئے اپنی آیات بھیجیں لیکن انھوں نے روگردانی کی( وَآتَیْنَاهُمْ آیَاتِنَا فَکَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِینَ ) ۔
لفظ”اعراض“ ( منھ پھیر نا)نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ان آیات کو سننے یا ان پر نگاہ ڈالنے کے لئے بھی تیار نہیں تھے۔
جبکہ اس کے برعکس اپنی دنیاوی زندگی کے کاموں میں اس قدر سخت گوش تھے ” اپنے لئے پہاڑوں میں امن کے گھر تراشتے تھے “( وَکَانُوا یَنْحِتُونَ مِنْ الْجِبَالِ بُیُوتًا آمِنِینَ ) ۔
یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ ان کا علاقہ کوہستانی تھا نیز یہ کہ ان کامادی تمدن ترقی یافتہ تھا جبھی تو وہ پہاڑو میں اپنے لئے امن کے گھر تراشتے تھے کہ جو طوفانوں ،سیلابوں بلکہ زلزلوں تک کا مقابلہ کر سکتے تھے ۔
عجیب بات یہ ہے کہ انسان دنیا کی چند روزہ زندگی کے لئے اتنے محکم کام کرتا ہے لیکن اپنی ابدی زندگی کے بارے میں اس قدر تساہل سے کام لیتا ہے کہ خدا کی بات سننے اور اس کی آیات پر نظر ڈالنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا ۔
تواب ایسی قوم کے بارے میں کیا توقع کی جا سکتی ہے سوائے اس کے کہ ان کے لئے ”انتخاب “ اصلح الہٰی “کا قانون حرکت میں آئے اور ایسی قوموں کو جو پوری طرح فاسد و مفسد ہو چکی ہیں انھیں جینے کا حق نہ دیا جائے اور تباہ کن عذاب کے ذریعے انھیں نابود کردیا جائے۔
اسی لئے قرآن کہتا ہے :آخر کار آسمانی چیخ نے دم ِصبح انھیں آلیا( فَاٴَخَذَتْهُمْ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِینَ ) ۔
یہ چیخ بجلی کی ہولناک آواز تھی جو ان کے گھروں میں آگری یہ اس قدر تباہ کن اور وحشت ناک تھی کہ اس نے ان کے بے جان جسموں کو زمین پر پھینک دیا اس بات کی شاہد سورہ حم سجدہ کی آیہ ۱۳ ہے ۔
فاعرضوا فقل انذرتکم صاعقة مثل عاد و ثمود
یہ کفارمنھ پھیریں تو کہہ دو کہ میں تمہیں ایسی بجلی گرنے سے ڈرتا ہوں بجلی قوم عاد و ثمود پر گری ۔
ان کے فلک بوس پہاڑ ، امن و امان کے گھر ، اس سر کش قوم کے طاقتور جسم اور ان کی بہت زیادہ دولت و ثروت کوئی چیز بھی عذاب الہٰی کے سامنے ٹھہر نہ سکی ۔ لہٰذا ان کی داستان کے آخر میں فرمایا گیا ہے : جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا وہ انھیں عذاب ِ الہٰی سے بچا نہ سکا( فَمَا اٴَغْنَی عَنْهُمْ مَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ) ۔
سورہ شعراء میں آیہ ۱۴۱ تا ۱۵۸ میں ان کے حالات زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں جو انشاء اللہ ان آیات کی تفسیر میں آئیں گے ۔
____________________
۱۔اعلام القرآن خزائلی ص۲۹۲۔
آیات ۸۵،۸۶،۸۷،۸۸،۸۹،۹۰،۹۱،
۸۵ ۔( وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا إِلاَّ بِالْحَقِّ وَإِنَّ السَّاعَةَ لَآتِیَةٌ فَاصْفَحْ الصَّفْحَ الْجَمِیلَ ) ۔
۸۶ ۔( إِنَّ رَبَّک هُوَ الْخَلاَّقُ الْعَلِیمُ ) ۔
۸۷ ۔( وَلَقَدْ آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنْ الْمَثَانِی وَالْقُرْآنَ الْعَظِیمَ ) ۔
۸۸ ۔( لاَتَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ إِلَی مَا مَتَّعْنَا بِهِ اٴَزْوَاجًا مِنْهُمْ وَلاَتَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِینَ ) ۔
۸۹ ۔( وَقُلْ إِنِّی اٴَنَا النَّذِیرُ الْمُبِینُ ) ۔
۹۰ ۔( کَمَا اٴَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِینَ ) ۔
۹۱ ۔( الَّذِینَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِینَ ) ۔
ترجمہ
۸۵ ۔ جوکچھ آسمانوں اورزمین میں ہے اورجو کچھ ان کے درمیان ہے اسے ہم نے بغیر حق کے پیدا نہیں کیا اوروعدہ کی گھڑی ( قیامت ) یقینا آکے رہے گی ان دشمنوں سے اچھی طرح صرفِ نظر کر( اور انھیں ان کی نادانیوں پر ملامت نہ کر) ۔
۸۶ ۔ تیرا پروردگار پیدا کرنے والا آگاہ ہے ۔
۸۷ ۔ ہم نے تجھے سورہ حمد اور قرآن عظیم دیا ہے ۔
۸۸ ۔ ( لہٰذا )ان ( کفار) میں سے کچھ گروہوں کو جو ( مادی ) نعمتیں دی ہیں ان پر ہر گز نگاہ نہ ڈال اور جو کچھ ان کے پاس ہے اس پر غمگین نہ ہو اور اپنے پرو بال مومنین کے لئے جھا دے۔
۸۹ ۔اورکہہ دوے کہ میں واضح ڈرانے والاہوں ۔
۹۰ ۔( ہم ان پر عذاب نازل کریں گے ) جیسے ہم نے ( آیات الہٰی کو ) تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا ہے ۔
۹۱ ۔ وہی لوگ جنہوں نے قرآن کو تقسیم کردیا ہے ( جو کچھ ان کے مفاد میں تھا قبول کرلیا ہے اور جو کچھ ان کی ہواو ہوس کے خلاف تھا اسے ترک کردیاہے) ۔
تفسیر
تقسیم او ر نکتہ چینی کرنے والے:
انسان ہمیشہ سے ایک صحیح آئیڈیا لوجی اور عقیدہ نہ ہو نے کی مصیبت میں گرفتار رہا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں وہ مبداء و معاد کے نظریے کاپابند نہیں رہا ، قوم لوط ، قوم شعیب اور قوم ِ صالح جیسی قومیں کہ جو اس ابتلاء میں گرفتار تھیں کے حالات تفصیل سے بیان کرنے کے بعد اب قرآن مسئلہ توحید اور معاد کی طرف لوٹتا ہے اور ایک ہی آیت میں ان دونوں امور کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اسے ہم نے بغیر حق کے پیدا نہیں کیا( وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ وَمَا بَیْنَهُمَا إِلاَّ بِالْحَقِّ ) ۔ان پر جو نظام حاکم ہے وہ بھی حق ہے اور ان کا مقصد تخلیق بھی حق ہے لہٰذا یہ عجیب و غریب نظم و نسق اور دقیق و منظم آفرینش دانا و توانا خالق پر واضح دلیل ہے کہ وہ بھی حق ہے بلکہ حقیقت ِ حق وہی ہے اور ہر حق اسی وقت تک حق ہے جب تک اس کے وجود ِ بے پایاں کےسا تھ ہم آہنگ ہے اور جو کچھ اس کے سوا ہے اور اسے تعلق نہیں رکھتا وہ باطل و فضول ہے ۔
یہ توحیدکے بارے میں تھا ۔ اس کے بعد معاد اور قیامت کے بارے میں فرمایا گیاہے ۔وعدہ کی گھڑی ( قیامت)آخر کار آکے رہے گی( وَإِنَّ السَّاعَةَ لَآتِیَةٌ ) ۔اگر چہ دیر سے آئے ، آخر کار ضرور آئے گی ۔
بعید نہیں کے پہلا جملہ دوسرے جملے کی دلیل کے طورپر ہو کیونکہ یہ وسیع و عریض جہان تبھی حق ہو گا جب صرف یہ چند روزہ دکھ درد سے بھری ہو ئی زندگی کے لئے نہ پیدا کیا گیا ہو بلکہ اس کے لئے کوئی ایسا نہایت اعلیٰ ہدف پیش نظر ہو جو اس عظیم آفرینش کی توجیہ کرسکے ۔ لہٰذا آسمان و زمین اور عالم ہستی کا حق ہونا خود اس بات کی دلیل ہے کہ آگے قیامت اور معاد موجود ہے ورنہ آفرینش و خلقت فضول تھی ( غور کیجئے گا) ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ ان کی ہٹ دھرمیوں نادانیوں ، تعصب ، کارشکنیوں اور سخت سے سخت مخالفوں کے باوجود ملائمت اور محبت کا مظاہرہ کرو”اور ان کے گنا ہوں سے صرف نظر کرواور انھیں بخش دو ،خوبصورتی کے ساتھ جس بخشش میں ملامت تک نہ ہو( فَاصْفَحْ الصَّفْحَ الْجَمِیلَ ) ۔کیونکہ لوگوں کے دلوں میں مبداء اور معاد کا عقیدہ راسخ کرنے کی دعوت کے لئے تمہارے پاس واضح دلیل موجود ہے لہٰذا تمہیں سختی اور خشونت کی کوئی ضرورت نہیں ۔ منطق و عقل تمہارے پاس ہے علاوہ ازیں جاہلوں کے ساتھ سختی سے تعصب ہی میں اضافہ ہوتا ہے ۔
”صفح“ ہر چیز کے چہرے کوکہتے ہیں مثلاًصفحہ صورت(۱)
اسی لئے ”فاصفح“ منھ پھیر نے اور صرف نظر کرنے کے معنی میں آیا ہے اور کسی سے منھ پھیر نا چونکہ بعض اوقات بے اعتبائی ، اظہار ناراضگی وغیرہ کے لئے ہوتا ہے اور بعض اوقات بزر گانہ عفو و در گذر کے لئے اس لئے زیر بحث آیت میں فوراً اسے لفظ ”جمیل“ کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے تاکہ دوسرا معنی دے سکے
امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں فرمایا:
العفو من غیر عتاب
اس سے مراد مواخذہ اور سر زنش کے بغیر عفو و در گذر ہے ۔(۲)
ایسی ہی ایک حدیث امام زین العابدین علیہ السلام سے بھی نقل ہو ئی ہے ۔(۳)
اگلی آیت ،جیسا کہ آپ مفسرین نے لکھا ہے در حقیقت در گذراور ” صفح“ ۔جمیل“ کے لئے ضروری ہونے کی دلیل کے طور پر ہے ارشاد ہوتا ہے : تیرا پروردگار پیدا کرنے والا اورآگاہ ہے ۔( إِنَّ رَبَّک هُوَ الْخَلاَّقُ الْعَلِیمُ ) ۔
وہ جانتا ہے کہ تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہیں وہ ان کے اندر ونی اسرار، میلانات ، سطح فکر اور مختلف قسم کے احساسات و جذبات سے باخبر ہے ان سب سے یہ توقع نہ رکھو کہ وہ ایک جیسے ہوں بلکہ ان سے عفو و درگذر سے جذبے سے پیش آؤ تاکہ تدریجا ً ان کی تربیت ہو اور وہ راہ حق کی طرف آئیں ۔
البتہ اس گفتگو کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ اپنے طرز عمل اور اعمال میں مجبور ہیں بلکہ یہ صرف ایک تربیتی قانون کی طرف اشارہ ہے اور یہ فکر و نظر اور صلاحتوں میں اختلاف کی نشان دہی کی گئی ہے ۔
اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ بعض کا یہ خیال ہے کہ حکم رسول اللہ کی مکی زندگی سے مخصوص ہے اور آ پ کی مدینہ ہجرت کے بعد جب مسلمان کچھ طاقتور ہو گئے تو اس کی جگہ جہاد کے حکم نے لے لی لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ حکم مدنی سورتوں میں بھی آیا ہے ( مثلاً سورہ بقرہ ، سورہ نور، سورہ تغابن اور سورہ مائدہ کہ جن میں سے بعض میں رسول اللہ کو صفح و عفو کا حکم دیا گیا ہے اور بعض میں مومنین کو)واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ایک عمومی اور ابدی حکم ہے اور اتفاقاً یہ حکم جہاد کے حکم کے منافی نہیں کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا اپنا اپنا مقام ہے ایک مقام پر عفو در گذر کے ذریعے آگے بڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور جہاں عفو و درگذر سے دوسرے کی جرات و جسارت اور بڑھ جائے اور وہ اس سے سوء استفادہ کرے تو وہاں شدت عمل کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔
اس کے بعدرسول اللہ کی دلجوئی کی گئی ہے اور انھیں تسلی دی گئی ہے کہ دشمنوں کی سختی ، کثرت اور فراوان مادی وسائل سے ہرگز پریشان نہ ہوں ، کیونکہ خدا نے خود پیغمبر پر وہ انعامات کئے ہیں جن کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتی ، فرمایا گیا ہے : ہم نے تجھے سورہ حمد اور عظیم قرآن دیا ہے( وَلَقَدْ آتَیْنَاکَ سَبْعًا مِنْ الْمَثَانِی وَالْقُرْآنَ الْعَظِیمَ ) ۔
ہم جانتے ہیں کہ ” سبع“کا معنی لغت میں ”سات“ ہے اور”متعدد“” دو دو“ کوکہتے ہیں بہت سے مفسرین نے اور روایات میں ” سبع من المثانی“ کو سورہ حمد کے لئے کنایہ مراد لیا ہے کیونکہ مشہور قوم کے مطابق سورہ حمد سات آیات پر مشتمل ہے اور اس لئے کہ اس کی اہمیت اور اس کے مضامین کو عظمت بہت زیادہ ہے یہ دو مرتبہ رسول اللہ پر نازل ہوئی یا یہ کہ یہ دو حصوں پر مشتمل ہے آدھا خدا کی حمد و ثنا اور آدھا حصہ بندوں کی طرف سے تقاضا و التجا ء ہے یا یہ کہ یہ ہر نماز میں دو مرتبہ پڑ ھی جاتی ہے ان پہلوؤں کے پیش نظر اس پر لفظ ”مثانی “ یعنی کئی دو دو کا اطلاق ہوا ہے(۴)
بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ”سبع“ قرآن کی ابتدائی بڑی سات سورتوں کی طرف اشارہ ہے اور مثانی خود قرآن کی طرف اشارہ ہے کیونکہ قرآن رسول اللہ پر دو مرتبہ نازل ہوا ایک مربتہ سارے کا سارا اکھٹا اور ایک مرتبہ تدیرجا ًضرورت کے ماتحت مختلف اوقات میں ، اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا : پورے قرآن کی سات اہم سورتیں ہیں ۔
ان مفسرین نے سورہ زمر کی آیہ ۲۳ کو بھی اس مفہوم کے لئے شاہد قرار دیا ہے ار شاد خدا وندی ہے :۔
( الله نزل احسن الحدیث کتاباًمتشابها مثانی )
خد اوہی ہے جس نے بہترین حدیث کو نازل فرمایا کہ جس کے مضامین و مفاہیم ہم آہنگ اور ایک دوسرے سے مشابہ ہیں وہ کتاب کہ جو دو مرتبہ نازل ہوئی ۔
لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے خصوصاً ان بہت سے روایات کی بناپر جو اہل بیت سے نقل ہوئی ہیں جن میں اس کا مطلب سورہ حمد بتایا گیاہے ۔
مفردات میں راغب میں لفظ ” مثانی “ قرآن کا پہلا اطلاق اس لحاظ سے صحیح جاناکہ اس کی آیات بار بار پڑھی جاتی ہیں اور یہی تجوید و تکرار قرآن کو حوادث سے محفوظ رکھتا ہے ۔
علاوہ ازیں ہر زمانے میں حقیقت ِقرآن کا نیا تکرار اور نئی تجلی سامنے آتی ہے جس کا تقاضا ہے کہ اسے مثانی کہا جائے ۔
بہر حال سورہ حمد کے بعد قرآن عظیم کا ذکر جب کہ سورہ حمد بھی اس کا جزو ہے اس سورہ کی اہمیت و عظمت کی دلیل ہے کیونکہ اکثر ہوتا ہے کہ کسی چیز کے ایک حصے کا ذکر اس کے ساتھ ساتھ اس کی اہمیت کی وجہ سے کیا جاتا ہے ایسا عربی ،فارسی اور دیگر زبانوں میں بہت ہے ۔
خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے یہ حقیقت بیان کرتا ہے تو ایسے عظیم سرمایہ کا حامل ہے قرآن جیسا سرمایہ جو تمام عالم ہستی کی عظمت رکھتا ہے وہ سرمایہ جو سراسر نور ، برکت ، درس اور لائحہ عمل ہے راہیں کھولنے والا ہے ۔ خصوصاً سورہ حمد کہ جس کا مفہوم اور مضموم اس قدر بلند ہے کہ لحظہ بھر میں انسان کا رشتہ خدا سے جوڑ دیتا ہے اور اس کی روح کو خدا کے آستانہ پر تعظیم و تسلیم اور رازو نیاز کے لئے ایستادہ کردیتا ہے ۔
اس عظیم نعمت کا تذکرہ کرنے کے بعد پیغمبر اکرم کو چار حکم دئے گئے ہیں ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : یہ مادی نعمتیں جو ہم نے کافروں دی ہیں ان پر ہر گز نگاہ نہ ڈالنا( لاَتَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ إِلَی مَا مَتَّعْنَا بِهِ اٴَزْوَاجًا مِنْهُمْ ) (۵)
یہ مادی نعمتیں پایہ دار نہیں ہوتی ہیں اور پھر درد سر بھی ہیں یہاں تک کہ اچھے حالات میں بھی انسان کے لئے ان کی حفاظت مشکل ہو جاتی ہے لہٰذا یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو تیری آنکھوں کو متوجہ کرے ۔ان کے مقابلے میں عظیم روحانی نعمت قرآن جو خدا نے تجھے دی ہے وہ بہت اہم ہے ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : یہ مال و ثروت اور مادی نعمتیں ان کے ہاتھ میں ہیں اس پر ہر گز غمگین نہ ہو( وَلاَتَحْزَنْ عَلَیْهِمْ ) ۔
درحقیقت پہلا حکم مادی نعمتوں کی طرف آنکھ نہ اٹھانے کے لئے ہے اور دوسرا ان سے محرومی پر غم نہ کھانے کے لئے ہے ۔
”( ولاتحزن علیهم ) “ کی تفسیرکے بارے میں یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس کا مطلب ہے :
اگر وہ تجھ پر ایمان نہیں لاتے تو غم نہ کھاؤں کیونکہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔
لیکن اگر پہلی تفسیر قبل کے جملوں کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے ۔
بہر حال سوہ طٰہٰ آیہ ۱۳۱ میں اس کی واضح نظیر موجود ہے ۔
( لاتمدن عینیک الیٰ ما متعنا به ازواجاًمنهم زهرة الحیٰوة الدنیا لنفتنهم فیه و رزق فیه و رزق بک خیر و ابقیٰ )
ان میں سے بعض کو نعمتیں دی ہیں ان پر نظر نہ ڈال یہ دنیاوی زندگی کے پھول ہیں ( ناپائیدار پھول ،جو بہت جلد مر جھاکر بکھر جائیں گے ) لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ انھیں اس کے ذریعہ آزمائیں ۔ خدا نے جو تجھے روزی دی ہے وہ تیرے لئے بہتر او ر زیادہ پائیدار ہے ۔
، تیسرا حکم تواضع ، فروتنی اور مومنین سے نرمی کر نے کے بارے میں ہے فرمایا گیا ہے :اپنے بال و پر مومنین کے لئے پھیلادے اور نیچے جھکالے( وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِینَ ) ۔
یہ تعبیر تواضع اور محبت کے لئے خوبصورت ہے جیسے پرندے اپنے بچوں سے اظہار محبت کرتے ہیں انھیں اپنے پروبال کے نیچے چھپا لیتے ہیں یہ انتہائی محبت کا منظر ہوتا ہے اس طرح وہ دشمنوں سے انھیں بچا لیتے ہیں اور بکھر جانے سے روکتے ہیں در اصل کنایہ کی صورت میں یہ جچی تلی مختصر تعبیر بہت سے مطالب کی حامل ہے ۔
ضمناً مذکورہ احکام کے بعد یہ جملہ ممکن ہے اس طرف اشار ہ ہو کہ مبادا مادی نعمتوں کے حامل ہونے کی وجہ سے کافروں سے انکساری کرو یہ انکساری اور محبت مومنین کے لئے ہونا چاہئیے اگر چہ مال دنیا دے ان کا ہاتھ خالی ہو ۔
آخر میں پیغمبر اکرم کو چوتھا حکم دیتے ہوئے فرمایاگیا ہے :ان بے ایمان دولت مندوں کے مقابلے میں مضبوطی سے کھڑے ہوجاؤاور انھیں کھلے بندوں کہہ دو کہ میں واضح ڈرانے والاہوں( وَقُلْ إِنِّی اٴَنَا النَّذِیرُ الْمُبِینُ ) ۔
کہہ دو کہ میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ خدا نے فرمایا ہے کہ میں تم پر عذاب نازل کروں گا جیسے کہ میں نے تقسیم کرنے والے نازل کیا ہے( کَمَا اٴَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِینَ ) ۔وہی تقسیم کرنے والے جنہوں نے آیات الہٰی کو بانٹ دیا( الَّذِینَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِینَ ) ۔(۶)
جو کچھ ان کے مفاد میں تھا وہ لے لیا اور جوکچھ ان کے نقصان میں تھا اسے ایک طرف رکھ دیا ۔درحقیقت ہوا یہ کہ بجائے اس کے کہ کتاب خدا اور اسکے احکام ان کے رہبر و راہنما ہوتے اسے انھوں نے اپنے برے مقاصدکے لئے وسیلہ بنالیا ۔ایک لفظ ان کے مفاد میں ہوتا ہے اس سے چمٹ جاتے اور ہزار الفاظ ان کے ضرر میں ہوتے تو انھیں ایک طرف رکھ دیتے۔
____________________
۱۔قاموس میں فیروز آبادی نے لکھا ہے :پہاڑکا دامن ، تلوار پہنائی اور چوڑائی اور صورت کو بھی ”صفح“ کہتے ہیں ۔ نیز کسی چیز کے کنارے اور چہرے کو بھی ”صفح “کہتے ہیں ۔
۲۔ نورالثقلین ، ج۳، ص ۲۷۔
۳۔نور الثقلین ، ج۳ ،ص۲۷۔
۴س۔پیغمبر اکرم ﷺ کی ایک حدیث میں ہے :
خدا فرماتا ہے :میں نے نماز ( سور ہ حمد )اپنے اور اپنے بندوں کے درمیاں دو حصوں میں تقسیم کیا ہے ایک حصہ مجھ سے مربوط ہے ہے دوسرابندوں سے ۔( مجمع البیان ، جلد۱،صفحہ۱۷۔
۵۔’ازواجاً“ متعنا“ کا مفعول ہے اور ”منھم “ایک عمومی مقدر فعل کے متعلق جار مجرور ہے اور اس سارے کا معنی ہو گا ۔ ”کفار کے مختلف گروہ
۶۔”عضین “ ”عضة“ کی جمع ہے جس کا معنی ہے ”متفرق“ کسی چیز کے حصہ کو بھی ”عضہ“ کہتے ہیں لہٰذا”عضین “کا معنی ہوا ”حصے “یا ”ٹکڑے“ ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ قرآن کریم خدا کی عظیم نعمت ہے
زیر نظر آیت میں خدا تعالیٰ اپنے پیغمبر کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کو خطرے سے خبر دار کرنے کے بعد اعلان کرتا ہے کہ یہ عظیم آسمانی کتاباوربہت بڑا سرمایہ ہے یہ ایک بے نظیر نعمت ہے جو مسلمانوں کو دی گئی یہ ایک ایسا جاودانی پروگرام ہے جس پر عمل کیا جائے تو دنیا آباد و آزاد ہو جائے ۔ اور امن و امان اور معنویت سے معمور ہو جائے ۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے دوسرے لوگ بھی معترف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اگر مسلمان اس کے معارف زندہ کرتے اور اس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرتے تو اتنا طاقتور اور ترقی یافتہ ہوتے کہ کوئی ان پر اپنا تسلط نہ جما سکتا ۔
یہ سورہ حمد سبعا من المثانی کہ جو فاتحة الکتاب،آغاز قرآن کرنے والی ہے اور فہرست ِ قرآن کہلاتی ہے ، ایک مکمل درس حیات ہے ۔
اس عظیم مبداء کی طرف توجہ کہ جو عام عالمین کی راہ ِتکامل میں پر ورش کرتا ہے جس کی خاص اور عام رحمت سب پر چھائی ہوئی ہے ۔
اس عدالت کی طرف توجہ کہ جس پر ایمان انسان کے اعمال کو پوری طرح سے کنٹرول کرلیتا ہے۔
غیر اللہ پر بھرسہ نہ کرنا اور اس کے غیر کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا ۔
مختصر یہ کہ صراط مستقیم پرقدم رکھنا جس میں انحراف نہیں ،وہ راستہ جو مشرق کی طرف خم کھاتا ہے نہ مغرب کی طرف ، جس میں افراط و تفریط ہے نہ گمراہی اور نہ ہی غضب الہٰی ۔
یہ سب جب انسان کی روح میں رچ بس جائیں تو ایک اعلیٰ اور با کمال شخصیت بنانے کے لئے کافی ہے ۔
لیکن افسوس یہ عظیم سرمایہ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں جا پڑا ہے کہ جنہیں اس کی گہرائی پتہ چلا ہے نہ اس کی علیٰ و قدر و قیمت کا ۔
یہاں تک کہ بعض ایسے ناآگاہ لوگ بھی ہیں کہ اس کی آیات کو چھو ڑ کر ایسے انسانوں کے گھڑے ہوئے قوانین اورپروگرام کی طرف دستِ نیاز پھیلاتے ہیں جو خود اسیر شہوت ہیں کم از یہ کہ جن کی فکر ناپختہ اور نارسا ہے یا وہ کہ جو اپنا علم نجس دولت اور حقیر قیمت پر فروخت کرتے ہیں یا دوسروں مادی تمدن کی تھوڑی سی ترقی ان کی توجہ کو اس طرح سے کھینچتی ہے کہ جو خود ان کے پاس ہے اس سے غافل ہوجاتے ہیں ۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم مادی ترقی کو بالکل اہمیت نہ دیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ سبھی کچھ اسے نہ سمجھیں اور قرآن نہ صرف روحانی لحاظ سے ایک پر بار اور عظیم سر چشمہ ہے بلکہ مادی ترقی اور خوشحالی کا بھی موثر پرگرام ہے اس سلسلہ میں ہم پہلے بھی متعلقہ آیات میں توضیح کرچکے ہیں اور انشاء اللہ آئندہ بھی کریں گے ۔
۲ ۔دوسروں کے وسائل پر نگاہ رکھنا انحطاط کا باعث ہے
بہت سے تنگ نظر افراد ایسے ہیں جو ہمیشہ اسی ٹوہ میں رہتے ہیں کہ ا س کے پاس کیا ہے ؟یہ لوگ مسلسل مادی حالت کا دوسروں سے تقابلی کرتے رہتے ہیں اور جب اپنے آپ کو کم پاتے ہیں تو رنج و غم میں مبتلا ہوجاتے ہیں چاہے دوسروں نے یہ وسائل ااپنی انسانی قدر و قیمت اور اپنا استقلال گنواکر حاصل کئے ہوں ۔
یہ طرز فکر رشد کی کمی ، احساس کمتری اورکم ہمتی کی نشانی ہے ۔ یہ زندگی میں پسماندگی اور تنزل کا سبب ہے یہاں تک کہ مادی زندگی کو بھی اس کا بہت منفی اثر ہوتا ہے بجائے اس کے انسان ایسے گھٹیا او ر نقصان دہ تقابل میں پڑے اپنی فکری اور جسمانی صلاحیتوں کو اپنی رشد و ترقی کے لئے استعمال کرے اور اپنے آپ کہے کہ میں دوسروں سے کم تر نہیں ہوں اور کوئی وجہ نہیں کہ میں ان سے زیادہ ترقی نہ کر سکوں میں کیوں ان کے مال و مقام پر آنکھ رکھوں میں ان سے بہتر حاصل کرسکتا ہوں ۔
مادی زندگی کا زندگی کا ہدف ہر گز نہیں ، ایک صحیح انسان مادی وسائل یا تو اس قدر چاہتا ہے جو اس کی روحانیت کے لئے مدد گار ہوں یا جس قدر اس کی آزادی اور استقلال کی حفاظت کرسکیں نہ کہ وہ حریصانہ ان کے پیچھے بھاگتا ہے اور نہ ہی ان کے بدلے سب کچھ قربان کردیتا ہے کیونکہ ایسا سودا احرار اور بندگان خدا نہیں کرتے وہ ایسا کام بھی نہیں کرتے جس میں دوسروں کے محتاج ہوں ۔پیغمبر اکرم سے مروی ایک حدیث میں ہے :۔
من رمی ببصره مافی ید غیره کثر همه ولم یشف غیضه
جو شخص اس پر نظر جائے رکھے جو دوسروں کے پاس ہے وہ ہمیشہ غمگین رہے گا اور اس کے دل کی آتش غضب کبھی نہیں بجھے گی ۔(۱)
____________________
۱۔تفسیر صافی زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۳ ۔ رہبر کی انکساری
آیات قرآن میں بارہا پیغمبر اکرم کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ مومنین سے تواضح ، مہر بانی ، نرمی اور ملائمت سے پیش آئیں یہ امر پیغمبر اسلام کے لئے منحصر نہیں ہے ۔بلکہ جو شخص بھی وسیع یا محدود لوگوں میں رہبری کا فریضہ اپنے ذمہ لے اسے چاہئیے کہ اس پر کار بند رہے کیونکہ یہ حقیقی قیادت اور تنظیمی اصولو ں میں سے ہے اس لئے ایک رہبر کا بہت بڑا سرمایہ اس کے پیروکاروں کا اس سے محبت کرنا اور اس سے روحانی رشتہ ہے اور یہ تواضع ، لنساری اور خیر خواہی کے بغیر حاصل نہیں ہوتا ۔رہبروں کی سختی اور فسادات ہمیشہ لوگوں کے ان کے گرد و پیش سے متفرق اور منتشر ہونے کا ایک ہی اہم عامل ہوتے ہیں ۔
امیر المومنین (علیہ السلام) ،محمد بن ابی بکر کو اپنے ایک خط میں اس طرح فرماتے ہیں :
فاخفض لهم جناحک و الن لهم جانبک و ابسط لهم وجهک و آس بینهم فی اللحظة و النظر ة
اپنے پروبال اس کے لئے جھکا دے، ان سے نرمی سے پیش آ، کشادہ رورہ اور ان کے درمیان نظر کرنے میں بھی مساوات اور برابری کو ملحوظ رکھ ۔(۱)
____________________
۱۔نہج البلاغہ،مکتوب ۲۷۔
۴ ۔ ”مقسطین “کون ہیں ؟
بلا شبہ خدائی احکام اور پروگرام سب لوگو ں کے مفاد میں ہوتے ہیں لیکن ظاہرا ً اور ابتدائی نظر میں عام طور ان میں سے بعض ہماری رغبت اور خواہش کے مطابق ہیں اور بعض بر خلاف ہیں یہ وہ مقام ہے جہاں سچے مومن تو ان سب کو کاملاً قبول کرلیتے ہیں یہاں تک کہ جو احکام ظاہراًان کے فائدے میں انہیں بھی قبول کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں ۔
کل من عند ربا
سب کچھ خدا کی طرف سے ہے ۔
یہ احکام الہٰی میں کسی قسم کی تقسیم اور تبعیض کے قائل نہیں ہیں لیکن وہ لوگ کہ جن کے دل بیمار ہیں اور وہ یہ تک چاہتے ہیں کہ دین حکم خدا کو بھی اپنے مفادات کے لئے استعمال کریں وہ صرف وہی حصہ قبول کرتے ہیں جو ان کے فائدے میں اور باقی پس ِ پشت ڈال دیتے ہیں وہ آیات قرآن کو بلکہ بعض اوقات ایک ہی آیت کو تقسیم کردیتے ہیں اور ایک حصہ جو ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتا ہے اسے قبول کرلیتے ہیں اور دوسرے حصے کو ایک طرف پھینک دیتے ہیں ۔
یہ بات باعث فخر نہیں کہ ہم بعض گذشتہ قوموں کی طرح یہ را گ لائیں :۔
نؤمن ببعض و نکفر ببعض
ہم بعض پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض پر نہیں ۔
کیونکہ تمام دنیا پرست یہی کچھ کرتے ہیں ۔ پیروان حق اور پیروان باطل میں یہی فرق ہے کہ پیروان ِ باطل میں یہی میں فرق ہے کہ پیروان ِ باطل احکام کے اسی حصے کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں جو ان کی خواہشات ، ہواوہوس اور ظاہری مفادات سے ہم آہنگ ہو ۔ یہ مقام ہے جہاں کھرا اور کھوٹا اور مومن اور منافق پہچاناجاتا ہے ۔
جوکچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اس کے علاوہ بھی ”مقتسمین “ کی کچھ تفاسیر علماء نے ذکر کی ہے ہیں یہاں تک کہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس لفظ کی سات تفسیربیان کی ہیں ان میں سے زیادہ تر غیر مناسب نظر آتی ہیں لیکن بعض جو غیر مناسب نہیں ہیں ان میں سے ایک ہم یہاں ذکر کرتے ہیں مشرکین کے کچھ سردار ایام حج میں مکہ کی سڑکوں اور کوچوں کے کنارے کھڑے ہو جاتے تھے ان میں سے ہر ایک گذرنے والوں سے رسول اللہ اور قرآن کے بارے میں کوئی نہ کوئی بات کرتا تاکہ انھیں متنفر کردیں ۔
بعض کہتے : وہ دیوانہ ہے جو کچھ کہتا ہے غیر موزوں ہوتا ہے ۔
بعض کہتے :وہ جادو گر ہے اور اس کا قرآن بھی اس کے جادو کا ایک حصہ ہے ۔
بعض آپ کو شاعر کہتے : آیات آسمانی کے جاں نواز آہنگ اور لہجے کو کذب اور جھوٹی شاعری قرار دیتے۔
بعض آپ کو کاہن کا نام دیتے اور قرآن کی غیب کی خبروں کو ایک طرح کی کہانت قرار دیتے۔
انھیں ” مقتسمین “کہا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے مکہ کی سڑکوں او گلیوں کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تقسیم کررکھا تھا ۔
کوئی مانع نہیں کہ یہ تفسیر او ر جو تفسیر ہم نے بیان کی ہے دونوں آیت کے مفہوم میں شامل ہوں ۔
آیات ۹۲،۹۳،۹۴،۹۵،۹۶،۹۷،۹۸،۹۹
۹۲ ۔( فَوَرَبِّکَ لَنَسْاٴَلَنّهُمْ اٴَجْمَعِینَ )
۹۳ ۔( عَمَّا کَانُوا یَعْمَلُون ) ۔
۹۴ ۔( فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاٴَعْرِضْ عَنْ الْمُشْرِکِینَ ) ۔
۹۵ ۔( إِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَهْزِئِینَ ) ۔
۹۶ ۔( الَّذِینَ یَجْعَلُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ فَسَوْفَ یَعْلَمُون ) ۔
۹۷ ۔( وَلَقَدْ نَعْلَمُ اٴَنَّکَ یَضِیقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُولُون ) ۔
۹۸ ۔( فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِنْ السَّاجِدِینَ ) ۔
۹۹ ۔( وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَاٴْتِیَکَ الْیَقِینُ ) ۔
ترجمہ
۹۲ ۔تیرے پروردگار کی قسم ہم ان سب سے سوال کریں گے ۔
۹۳ ۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں ۔
۹۴ ۔ جس چیز کے لئے مامور ہو اسے واضح طورپر بیان کرو اورمشرکین سے رخ پھیر لو( اور ان کی پر وانہ کرو) ۔
۹۵ ۔ہم تمسخر اڑانے والوں کے شر سے دو رکھیں گے۔
۹۶ ۔وہ کہ جنہوں نے خدا کے ساتھ اور خدا بنا رکھے ہیں لیکن وہ جلدی ہی جان جائیں گے ۔
۹۷ ۔ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ کہتے ہیں اس پر تیرا سینہ تنگ ہو جاتا ہے (او ر تجھے سخت پریشان کرتے ہیں ) ۔
۹۸ ۔( اس پریشانی کو دور کرنے کے لئے )اپنے پروردگار کی تسبیح کر ، حمد وثنا کر اور سجدہ گزاروں میں سے ہو جا ۔
۹۹ ۔اپنے پروردگار کی عبادت کر یہاں تک کہ یقین ( موت) آجائے۔
تفسیر
اپنے مکتب واضح طورپربیان کرو
یہ سورہ کی آخری آیات میں ہیں کہ ان سے سے پہلے”مقسمین “ کا انجام بیان کیا گیا ہے ۔جزا کے بارے میں گزشتہ آیات میں گفتگو ہوئی تھی ۔فرمایا گیا ہے : تیرے پر ور دگار کی قسم ! ہم یقینی طور پر ان سب سے سوال کریں گے( فَوَرَبِّکَ لَنَسْاٴَلَنّهُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔
ان تمام کاموں کے بارے میں جو ہم انجام دیتے تھے ۔( عَمَّا کَانُوا یَعْمَلُون ) ۔
واضح ہے کہ خدا کا سوال اس لئے نہیں کہ وہ پو شیدہ بات ظاہر ہو جائے کیونکہ وہ اندرونی اور بیرونی اسرار سے آگاہ ہے اور زمین و آسمان کاکوئی ذرہ اس کے علم کے بے پایاں سے مخفی نہیں ہے۔ لہٰذا سوال خدا مخاطب کو سمجھانے کے لئے ہے تاکہ و ہ اپنے اعمال کی قباحت کو سمجھ لے یا یہ ایک قسم کی نفسیاتی سزا ہے کیونکہ غلط کاموں کے بارے میں باز پرس اور وہ بھی سر زنش اور ملامت کے ساتھ اور و ہ بھی ایسے جہان میں انسان حقائق سے زیادہ قریب اور آگاہ ہے بہت تکلیف دہ ہے ۔لہٰذایہ سوالات درحقیقت ان کی سزا کا ایک حصہ ہیں ۔
ضمنی طور پر ”( عماکانوا یعملون ) “کی عمومیت نشاندہی کرتی ہے کہ انسان کے تمام اعمال کے بارے میں بلا استثناء سوال ہوگا اور خود تمام انسانوں کے لئے ایک درس ہے کہ وہ لحظہ بھر بھی اپنے اعمال اعمال سے غافل نہ رہیں ۔۔
یہ جو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ سوال توحید اور انبیاء پر ایمان لانے یا مشرکین کے معبودوں سے مربوط ہے ایک ایسی بات ہے جو بغیر دلیل کے ہے،آیت کا مفہوم پورے طورپر عمومیت کا حامل ہے ۔
باقی رہا یہ سوال کہ اس آیت میں خدا تعالیٰ سوال کرنے کے بارے میں تاکید کررہا ہے جبکہ سورہ رحمن کی آیہ ۳۹ میں ہے :( فیومئذلایسئل عن ذنبه انس و جان )
اس روز انسان اور جنوں میں سے کسی سے بھی کوئی سوال نہیں کیا جائے گا ۔
اس کا جواب ہم پہلے دے چکے ہیں جس کاخلاصہ یہ ہے کہ قیامت میں کئی مراحل ہیں بعض مراحل میں لوگوں میں سے سوال ہوگا اور بعض میں نہیں ہوگا جہاں مسائل خود بخود واضح ہو ں گے یا یہ کہ زبانی سوال نہیں ہوگا کیونکہ سورہ یٰٓس کی آیت ۶۵ کے مطابق لبوں پر مہر لگی ہوگی اور سوال صرف جسم کے اعضاء سے کیا جائے گا یہاں تک کہ بدن کی کھال سے بھی پوچھا جائے گا ۔(۱)
اس کے بعد رسول اللہ کو ایک قطعی فرمان دیا گیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے : مشرکین کے شور وغل کے مقابلے میں نہ صرف یہ کہ ضعف و خوف اور سستی کو نہ آنے دو اور خاموش ہوکر نہ بیٹھ جاؤبلکہ ” جس کام کے لئے مامورکئے گئے ہواسے واضح طور پر بیان کرو“۔اور حقائق دین صراحت سے کہہ دو “( فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ) ۔
اور مشرکین سے رخ موڑ لو اور ان سے بے اعتنائی کرو( وَاٴَعْرِضْ عَنْ الْمُشْرِکِینَ ) ۔
”فاصدع“” صدع“ کے مادہ سے ہے اس کا لغوی معنی ہے شگاف کرنا یا مضبوط چیزوں میں شگاف کرنااور چونکہ کسی چیز میں شگاف کرنے سے اسکا اندرونی حصہ آشکار ہو جاتا ہے اس لئے یہ لفظ اظہار ،افشاء، آشکار اور واضح کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ شدید درد سر کو بھی ”صداع“ کہتے ہیں کیونکہ ایسا لگتا ہے جیسے وہ پھٹ رہا ہواور شگافتہ ہو رہا ہو ۔
بہرحال مشرکین سے اعراض کرنا یہاں یاتو بے اعتنائی کے معنی میں آیاہے یا پھر ان سے جنگ ترک کرنے کے معنی میں آیا ہے کیونکہ اس زمانے میں ابھی مسلمان اس مرحلے تک نہیں پہنچے تھے کہ دشمن کی سختی کے جواب میں مسلح مقابلہ کرسکیں ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ قلب پیغمبر کی تقویت کے لئے انھیں اطمینان دلاتا ہے کہ تمسخر اڑانے والوں کے مقابلے میں وہ اپنے نبی کی حمایت کرے گا ، ارشاد ہوتا ہے : ہم تمسخر اڑانے والوں کے شر کو تجھ سے دور کیا( إِنَّا کَفَیْنَاکَ الْمُسْتَهْزِئِینَ ) ۔
یہ جملہ فعل ماضی کے ساتھ آیا ہے حالانکہ اس کا تعلق آئندہ سے ہے ظاہرا ً اس حمایت کے حتمی ہونے کی طرف اشارہ ہے یعنی ہم ان کے شر کو یقینی طور پر تجھ سے دور کریں گے اور یہ بات حتمی اور طے شدہ ہے ۔
بعض مفسرین نے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ چھ طرح کے گروہ تھے جس میں ہر ایک رسول اللہ ایک خاص قسم کا تمسخرکیا کرتا تھا اور جب آنحضرت دعوت کے لئے کھڑے ہوتے تووہ کوشش کرتے کہ اپنی باتوں سے لوگوں کو آپ کے پاس سے دور کریں لیکن خدا تعالیٰ نے ان میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی مصیبت میں مبتلا کردیا اس طرح انھیں اپنی اپنی پڑ گئی اور رسول اللہ کو بھی بھول گئے ( بعض تفاسیر میں ان کی ابتلاء کی تفصیل آئی ہے ) ۔
اس کے بعد ”مستھزئین“ کی توصیف ، قرآن یوں کرتا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خدا کے ساتھ معبود بنارکھے ہیں لیکن بہت جلد وہ اپنے اس کام کے منحوس نتیجہ سے آگاہ ہو جائیں گے( الَّذِینَ یَجْعَلُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ فَسَوْفَ یَعْلَمُون ) ۔
ہوسکتا ہے یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہو کہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے افکار و اعمال خود مضحکہ خیز ہیں کیونکہ یہ اس قدر ناداں ہیں جہانِ ہستی کے خالق خدا کے مقابلے میں انھوں نے پتھر اور لکڑی کے معبود تراش رکھے ہیں اس کے باوجود وہ تیرے ساتھ تمسخر کرنا چاہتے ہیں ۔
دوبارہ روح پیغمبر کی دلجوئی اور تقویت کے لئے فرمایا گیاہے :ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں تیرے سینے کو تنگ کردیتی ہیں اور تیری پریشانی کا باعث بنتی ہیں( وَلَقَدْ نَعْلَمُ اٴَنَّکَ یَضِیقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُولُون ) ۔تیری لطیف روح اور حساس دل یہ سب بد گوئی اور کفر و شرک آمیز باتیں بر داشت نہیں کرسکتا اور اسی بناء پر تو پریشان ہو جاتا ہے ۔لیکن تو پریشان نہ ہواو ر ان کی گھٹیا اور ناہنجار باتوں کے اثرات کم کرنے کے لئے ” اپنے پر ور دگار کی تسبیح بیان کر اور اس کی ذاتِ پاک کے سامنے سجدہ ریز ہو جا( فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِنْ السَّاجِدِینَ ) ۔کیونکہ اللہ کی تسبیح ان کی گفتگو کے برے اثرات کو مشتاقان خدا کے دلوں سے دور کردیتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تجھے توانائی بخشتی ہے اور نور و صفا عطا کرتی ہے ، دل کو جلا دیتی ہے ، خدا سے تیرے رشتے کو محکم کردیتی ہے ،تیرے ارادے کو قوی کردیتی ہے ، زیادہ قوت بر داشت عطا کرتی ہے ،جہاد پر زیادہ آماد ہ کرتی ہے اور زیادہ راسخ قدم بنا دیتی ہے ، روایات میں ابن عباس سے مروی ہے :رسول اللہ غمگین ہو جاتے تو نماز کے لئے گھڑے ہو جاتے اور نماز کے ذریعے ان آثار حزن و ملال کو دل سے دور کرتے۔
اس سلسلے میں آخری حکم یہ دیا گیا ہے کہ اپنے پر وردگار کی عبادت سے زندگی بھر دستبردار نہ ہونا” ہمیشہ ان کی بندگی کرتا رہ یہاں تک کہ یقین (موت) آجائے( وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَاٴْتِیَکَ الْیَقِینُ ) ۔
مفسرین میں مشہور ہے کہ ”یقین “ مراد یہاں موت ہے اور موت کو اس لئے یقین کہا گیا ہے کہ یہ ایک امر مسلم ہے ۔
انسان ہر چیز میں شک کرسکتا ہے لیکن موت میں شک نہیں کرسکتا، یا اس لئے اسے یقین کہا گیا ہے کہ موت کے وقت پر دے ہٹ جاتے ہیں اور حقائق انسان کی آنکھوں کے سامنے آشکار ہو جاتے ہیں اور اس کے بارے میں یقین کی حالت پید ہو جاتی ہے ۔
سورہ مدثرکی آیت ۴۶ ۔ ۴۷ ۔میں دوزخیوں کا یہ قول بیان کیا گیا ہے :( وکنا نکذب بیوم الدین حتی اتاناالیقین )
ہم ہمیشہ روز جزا کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ یقین (موت) نے ہمیں آلیا ۔
یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جو صوفیاء نے زیر بحث آیت کو ترک عبادت کے لئے دستاویز بنا لیا ہے اور کہا ہے کہ آیت کہتی ہے کہ عبادت کرو یہاں تک کہ تمہیں یقین آجائے لہٰذا حصولِ یقین کے بعد عبادت کی ضرورت نہیں ، یہ ایک بے بنیاد گفتگو ہے ۔ کیونکہ :۔
اولاً: بعض قرآنی آیات گواہی دیتی ہیں ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیاہے کہ یقین موت کے معنی میں ہے کہ جومومنین کو بھی آئے گی اور دوزخیوں کو بھی ۔
ثانیاً:اس گفتگو کے مخاطب پیغمبر اکرم ہیں اور یقین پیغمبر کا مقام سب پر روشن ہے تو کیاکوئی دعوی ٰ کرسکتا ہے کہ آپ ایمان کے لحاظ سے اس مقامِ یقین کے حامل نہ تھے ۔
ثالثاً:تواریخ متواتر گواہی دیتی ہیں کہ رسول اللہ نے اپنی عمر کی آخری گھڑیوں تک عبادت ترک نہیں کی اور حضرت علی (علیہ السلام) محراب عبادت میں شہید ہوئے اور اسی طرح باقی آئمہ ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ اعلانیہ دعوت ِ اسلام کا آغاز:
جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات:فاصدع بماتؤمر واعرض المشرکین انا کفیناک المستهزئین
مکہ میں نازل ہوئیں جبکہ پیغمبر اسلام تین برس تک مخفی طور پر دعوت دے چکے تھے اور آپ کے قریبوں میں سے چند افراد آپ پر ایمان لاچکے تھے جن مین عوررتوں میں سے سب سے پہلے جناب خدیجہ سلاماللہ علیھا تھیں اورمردوں میں حضرت علی علیہ السلام تھے ۔
واضح ہے کہ اس زمانے میں اور اس ماحول میں توحید خالص کی دعوت اور نظام ِ شرک و بت پرستی کو درہم برہم کرنا عجیب و غریب اور نہایت کٹھن کام تھا لہٰذا یہ بات تو شروع ہی سے نمایاں تھی کہ کچھ لوگ تمسخر اڑائیں گے لہٰذا خدا تعالیٰ اپنے پیغمبر (ص)کے دل کو تقویت دیتا ہے ، استہزاء کرنے والوں اور دشمنوں کی کثرت سے نہ ڈریں اور اپنی دعوت کھلے بندوں شروع کردیں اور اس راہ میں ایک پیہم مسلسل اور منطقی جہاد کے لئے تیار ہو جائیں ۔(۱)
___________________
۱۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۲۳۔ تفسیر نمونہ جلد ۶ صفحہ۸۷
۲ ۔خدا کی طرف توجہ کا روحانی اثر
انسانی زندگی میں ہمیشہ مشکلات آتی رہستی ہیں یہ دنیاوی زندگی کا مزاج ہے انسان جس قدر بڑا ہوتا جا تا ہے مشکلات بھی بڑی ہو تی جاتی ہیں اس سے عظیم مشکلات کا اندازہ لگا یا جاسکتا ہے جن کا سامنا رسول اللہ کو اپنی عظیم دعوت کے لئے کرنا پڑا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ زیادہ قوت کے حصول کے لئے اور مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے زیادہ وسعت قلب کے لئے تسبیح الٰہی ، دعا اور اس کے آستانے پر سجدہ ریزی کریں ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ انسانی روح میں ایمان اور ارادے کی تقویت کے لئے عبادت گہرا اثر رکھتی ہے ۔
مختلف روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب بزرگ پیشواؤں کو عظیم مشکلات اور بحرانوں کا سامنا ہوتا ہے تو وہ خانہ خدا کا رخ کرتے اس کی عبادت کے زیر سایہ راحت و آرام اور طاقت و قوت حاصل کرتے ۔
۳ ۔عبادت اور تکامل او ارتقاء
ہم جانتے ہیں کہ انسان ایسا موجود ہے جو تکامل و ارتقاء کی اعلیٰ ترین استعداد رکھتا ہے اس کے سفر کا آغاز نقطہ عدم سے ہوا ہے اور وہ لامتناہی منزل کی طرف رواں دواں ہے اور اگر وہ راہ تکامل پر چلتا رہے تو کہیں بھی ٹھہراؤ نہیں آئے گا ۔
ایک طرف ہم جانتے ہیں کہ عیادت تربیت ِ انسان کا اعلیٰ ترین مکتب اور عبادت انسانی سوچ کو بیدار کرتی ہے اور اس کی فکر کو لامتناہی منزل کی طرف متوجہ کرتی ہے اس کے قلب و روح سے گناہ اور غفلت کا گرد وغبار دور کرتی ہے اس کے وجود میں اعلیٰ انسانی صفات کی پر ورش کا باعث بنتی ہے ۔ روح ایمان کو تقویت دیتی ہے اور انسان کو آگاہ اور مسئولیت عطا کرتی ہے لہٰذا ممکن ہے کہ انسان لمحہ بھر کے لئے بھی اس عظیم تربیتی مکتب سے بے نیاز ہو اور وہ لوگ یہ جو سوچتے ہیں ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ انسان ایک ایسا مقام پر پہنچ جائے کہ جہاں عبادت کرنے کی ضرورت نہ ہو انھوں نے انسان کے تکامل و ارتقاء کو محدود خیال کیا ہے یا وہ مفہوم عبادت نہیں سمجھ سکے۔
علامہ طباطبائی نے تفسیر المیزان میں اس سلسل میں ایک بحث کی ہے ہم اسے اختصار کے ساتھ ذیل میں پیش کرتے ہیں :۔
اس عالم کے تمام موجودات کمال کی طرف محو سفر ہیں اور انسانی تکامل معاشرے کے اندر ہوتا ہے لہٰذا انسان ذاتی طور پر سماجی فطرت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے ایک طرف انسانی معاشرے اس صورت میں انسان کی تربیت اور تکامل کا ضامن بن سکتا ہے کہ وہ منظم قوانین کے احترام کے زیر سایہ اپنے امور بجا لائیں ، ٹکرائی سے بچیں اور ذمہ داریوں کی حدود واضح کریں ۔
دوسرے لفظوں میں اگر انسانی معاشرہ صالح ہوجائے تو لوگ اس میں رہ کر اپنے اصلی ہدف تک پہنچ سکتے ہیں اور اگر معاشرہ خراب ہو تو پھر لوگ اس تکامل و ارتقاء سے رک جاتے ہیں یہ احکام و قوانین و ارتقاء سے رک جاتے ہیں یہ احکام وقوانین اجتماعی ہوں یا عبادتی اس صورت میں موثر ہوں گے جب نبوت اور آسمانی وحی سے لئے گئے ہوں ۔
ہم یہ جانتے ہیں کہ عبادتی احکام انفرادی ہوں یا اجتماعی تکامل کے ایک حصے پر پر مبنی ہوتے ہیں ۔
یہاں سے واضح ہوجاتاہے کہ جب تک انسانی معاشرہ موجود ہے اور اس دنیا میں اس کی زندگی جاری و ساری ہے الہٰی ذمہ داریاں اور احکام بھی جاری ہیں اور انسان کی ذمہ داریوں اور قوانین کے خاتمے کا مطلب احکام و قوانین کی فراموشی ہے اوور اس کا نتیجہ انسانی معاشرے کی خرابی اور فساد ہے ۔
یہ نکتہ بھی قابل ِ توجہ ہے کہ نیک اعمال اور عبادات انسان کی اعلیٰ صلاحیتوں کے حصول کا سر چشمہ ہیں اور جب یہ اعمال کافی حد تک انجام پائیں اور انسان کے اندر یہ اعلیٰ صلاحتیں اور ملکات بیدار ہو جائیں تو یہ ملکات بھی اپنی باری پر زیادہ نیک اعمال اور خدا کی زیادہ عطاعت و بندگی کا سر چشمہ بن جاتے ہیں ۔
اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ جن کا گمان ہے کہ حکم کا مقصد انسانی تکمیل ہے لہٰذا جب انسان اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو پھر بقاء کا کوئی معنی نہیں ان کا خیال مغالطے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ اگر انسان ذمہ داریوں اور احکام کی انجام دہی سے دستبردار ہو جائے تو معاشرہ فوراً ابتری کا رخ کرے گا لہٰذا ایسے معاشرے میں ایک فرد ِ کامل کیسے زندگی بسر کرسکتا ہے اور اگر ملکات اپنے حقیقی اثرات سے رو گردان ہو گئے ہیں (غور کیجئے گا)
سوره نحل
آیات ۱،۲
( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ )
۱ ۔( اٴَتَی اٴَمْرُ اللهِ فَلاَتَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ) ۔
۲ ۔( یُنَزِّلُ الْمَلاَئِکَةَ بِالرُّوحِ مِنْ اٴَمْرِهِ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ اٴَنْ اٴَنذِرُوا اٴَنَّهُ لاَإِلَهَ إِلاَّ اٴَنَا فَاتَّقُونِی ) ۔
ترجمہ
بخشنے والے مہر بان خدا کے نام سے ۔
۱ ۔ (مشرکوں اور مجرموں کے سزا کے بارے میں ) حکم خدا پہنچ گیا ہے اس کے لئے جلدی نہ کرو ۔ خدا اس سے منزہ و بر تر ہے کہ اس کے لئے شریک قراردئے جائیں ۔
۲ ۔ روح الہٰی کے ساتھ ملائکہ کو اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نازل کرتا ہے اور انھیں حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو ڈراؤ اور ( ان سے کہو کہ) میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے لہٰذا ( میرے حکم کی ) مخالفت سے پر ہیز کرو ۔
تفسیر
حکم ِ عذاب قریب ہے ۔
جیسا کہ پہلے کہا چکا ہے کہ سورہ کی ابتدائی آیات کا اہم حصہ مکہ میں نازل ہوا ہے یہ وہ دن تھے جب پیغمبراسلام مشرکوں اور بت پرستوں کی طرف سے شدید الجھاؤ اور سختی کا سامنا تھا ۔ ہر روز وہ آپ کی حیات آفریں اور آزادی بخش دعوت کے خلاف کوئی نیا بہانہ تراشتے ۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ جس وقت رسول اکرم انھیں عذاب الہٰی کی تہدید کرتے تو بعض ہٹ دھرم کہتے کہ اگر یہ عذا ب اور سزا جس کی دھمکی دیتے ہو سچ ہے تو پھر وہ ہم پر نازل کیوں نہیں ہوتا اور شاید کبھی مزید کہتے کہ اگر فرض کیا عذاب آیابھی تو ہم بتوں کا دامن تھا م لیں گے ۔ تاکہ وہ بارگاہ الہٰی میں سفارش کریں کہ وہ ہم سے عذاب اٹھالے کیا وہ اس کی بارگاہ کے شفیع نہیں ہیں ۔
اس سورہ کی پہلی آیت ان اوہام پر خط بطلان کھینچتے ہوئے کہتی ہے :جلدی نہ کرو ۔ مشرکوں اور مجرموں کی سزا کے بارے میں حکم الہٰی یقینا پہنچ چکا ہے( اٴَتَی اٴَمْرُ اللهِ فَلاَتَسْتَعْجِلُوهُ ) ۔اور اگر تمہارا خیال ہے کہ بت اس کی بارگاہ کے سفارشی ہیں تو تم سخت غلطی اور اشتباہ میں ۔ خدا اس سے منزہ اور بر تر ہے کہ جسے تم اس کا شریک بناتے ہو( سُبْحَانَهُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ) ۔
لہٰذا اس آیت میں ” امر اللہ “مشرکین کے لئے عذاب کے بارے میں حکم خدا کی طرف اشارہ ہے اور لفظ ”اتٰی“ اگر چہ فعل ماضی ہے اور گذشتہ زمانے میں اس حکم کے تحقق کی نشاندہی کرتا ہے لیکن اس کا مفہوم مضارع ہے اور یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ حکم یقینا اور قطعاً تحقق پذیر ہو گا ۔ ایسا قرآن میں کثرت سے ہے کہ قطعی الوقوع صیغہ مضارع ماضی کےساتھ ذکر ہوا ہے ۔
بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ”امر اللہ “ خود عذاب کی طرف اشار ہ ہے نہ کہ حکم عذب کی طرف ۔
بعض نے اس سے ”روز قیامت “مراد لیا ہے ۔
لیکن جو تفسیر ہم نے بیان کی ہے وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔
نیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عذاب اور سزا کا فی دوافی بیان اور عادلانہ اتمام حجت کے بغیر نہیں ہے لہٰذا بعد والی آیت میں مزید فرمایاگیا ہے :خدا ملائکہ کو خدا ئی روح کے ساتھ حکم ِ الہٰی کے ہمراہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے( یُنَزِّلُ الْمَلاَئِکَةَ بِالرُّوحِ مِنْ اٴَمْرِهِ عَلَی مَنْ یَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ )
(”من امر “ من“ بے کے معنی میں ہے اور یہاں سببیت کے معنی دیتا ہے ) ۔
اور انھیں حکم دیتا ہے کہ لوگوں کو ڈراؤ ، شرک و بت پرستی پر متنبہ کرو اور کہہو کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے( اٴَنْ اٴَنذِرُوا اٴَنَّهُ لاَإِلَهَ إِلاَّ اٴَنَا ) ۔لہٰذا صرف میری نافرمانی سے ڈرو اور میرے سامنے احساسِ ذمہ داری کرو( فَاتَّقُون ) ۔
اس آیت میں روح سے کیا مراد ہے ؟اس سلسلے میں مفسرین میں بہت اختلاف ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد وحی، قرآن اور نبوت ہے کہ جو انسانوں کی زندگی کا باعث ہے اگرچہ بعض مفسرین نے یہاں وحی کو قرآن سے اور دونوں کو نبوت سے جدا کیا ہے ،اور انھیں تین تفاسیر کی شکل میں بیان کیا ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی حقیقت کی طرف لوٹتے ہیں ۔
بہر حال ”روح“ یہاں معنوی اور روحانی پہلو سے ہے اور ہر اس چیز کی طرف اشارہ ہے جو دلوں کی زندگی کا سبب ہیں اور نفوس کی تربیت اور عقلوں کی ہدایت کا باعث ہے جیسا کہ سورہ انفال کی آیہ ۲۴ میں ہے ۔
( یا یهاالذین اٰمنوا استجیبوا الله و للرسول اذا دعا کم لما یحییکم )
اے ایمان والو! خدا اور اس کے رسول کی دعوت قبول کرو ۔ جبکہ وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف پکارتے ہیں جو تمہاری زندگی جا باعث ہے ۔
سورہ مومن کی آیت ۱۵ میں ہے :( یلقی الروح من امره علی من یشاء من عباده )
وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح القاء کرتاہے ۔
نیز سورہ شوریٰ کی آیہ ۵۲ میں ہے ۔( وکذٰلک اوحینا الیک روحا من امر نا ماکنت تدری ماالکتاب و لاالایمان )
اس طرح ہم نے اپنے حکم سے تجھ پر روح کو وحی کیا اس سے پہلے کتاب و ایمان سے آگاہ نہ تھا ۔
واضح ہے کہ ان آیات میں ”روح“ قرآن ، مضامین وحی اور فرمان ِنبوت کے معنی میں ہے اگر چہ روح قرآن کی دیگر آیات میں اور معانی بھی آیات ہے لیکن ان مذکورہ قرائن کی طرف توجہ کرتے ہوئے زیر بحث آیت میں روح کا مفہوم قرآن اورر مضمون وحی ہے ۔
اس نکتہ کا ذکر بھی بہت ضروری ہے کہ ” علیٰ من یشاء من عبادنا “ ( اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے )کاہرگز یہ مبلن نہیں کہ وحی و نبی کی نبوت بغیر کسی حساب کتاب کے ہے کیونکہ مشیت الہٰی کبھی اس کی حکمت سے جدا نہیں ہوتی اور حکیم ہونے کے تقاضا سے وہ یہ انعام اسے عطا کرتا ہے جواس کا اہل ہو ۔۔
ارشاد الہٰی ہے ۔( الله اعلم حیث یجعل رسالاته )
خدا بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہا ں قرار دے ( انعام ۱۲۴)
یہ نکتہ بھی نظر سے اوجھل نہ رہے کہ اگر انبیاء کے لئے پہلا فرمان الہٰی(ان انذروا“ ( ڈاراؤ) ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک گمراہ اور آلوشرک وفساد قوم کو بیدا ر کرنے کےلئے انذار سے بڑھ کر مؤثر کوئی چیز نہیں انذار بیدار کرنے والا ۔ آگاہ اور اور حرکت آفرین ۔
یہ ٹھیک ہے کہ انسان نفع کا طالب اور نقصان پسند نہیں کرتا لیکن تجربہ نشاندہی کرتا ہے کہ تشویق کا اثر آمادہ افراد پر زیادہ ہوتا ہے جب کہ آلودہ افراد پر یہ تہمت کا اثر بہت ہوتا ہے اور ابتدائے نبوت میں انذار اور ڈرانے وال امور ہونا چاہیئیں ۔
آیات ۳،۴،۵،۶،۷،۸،
۳ ۔( خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ بِالْحَقِّ تَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ) ۔
۴ ۔( خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَاهُوَ خَصِیمٌ مُبِینٌ ) ۔
۵ ۔( وَالْاٴَنْعَامَ خَلَقَهَا لَکُمْ فِیهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَاٴْکُلُونَ ) ۔
۶ ۔( وَلَکُمْ فِیهَا جَمَالٌ حِینَ تُرِیحُونَ وَحِینَ تَسْرَحُونَ ) ۔
۷ ۔( وَتَحْمِلُ اٴَثْقَالَکُمْ إِلَی بَلَدٍ لَمْ تَکُونُوا بَالِغِیهِ إِلاَّ بِشِقِّ الْاٴَنفُسِ إِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُوفٌ رَحِیمٌ ) ۔
۸ ۔( وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیرَ لِتَرْکَبُوها وَزِینَةً وَیَخْلُقُ مَا لاَتَعْلَمُونَ ) ۔
ترجمہ
۳ ۔اس نے آسمان اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور وہ اس سے بالاتر ہے کہ اس کے لئے شریک بناتے ہیں ۔
۴ ۔ اس نے انسان کو ایک بے حیثیت نطفے سے پیدا کیا اور آخر کار وہ ایک موجود فصیح اور اپنا واضح مدافع قرار پایا ۔
۵ ۔اور اس نے چوپایوں کو پیدا کیا جبکہ ان سے تمہیں لباس اور دیگر منافع حاصل ہوتے ہیں اور تم ان کے گوشت میں سے کھاتے ہو ۔
۶ ۔اور تمہارے لئے ان میں زینت اور شکوہ ہے جس وقت انھیں ان کی آرام گاہ کی طرف لوٹا تے ہو اور جب ( صبح کے وقت)انھیں صحرا کی جانب بھیجتے ہو ۔
۷ ۔وہ تمہارے بھاری بوجھ ایسے مقام تک اٹھا لے جاتے ہیں جہاں تک تم بغیر مشقت کے ساتھ نہیں پہنچ سکتے کیونکہ تمہارا پر ورگار رؤف و رحیم ہے ۔
۸ ۔اور ( اسی طرح ) اس نے گھوڑوں ، خچروں اور گدھوں کو پیدا کیا ہے کہ تم ان پر سوار ہو سکو اور وہ تمہاری زینت کا سبب بھی ہوں اور وہ ( نقل و حمل کے ) دیگر ذرائع پیدا کرے گا کہ جنہیں تم نہیں جانتے ۔
تفسیر
جانوروں کے گونگوں فائدے
گذشتہ آیات میں شرک کی نفی کے باے میں بات کی گئی ہے ۔ زیر بحث آیات میں شرک کی بیخ کنی کے لئے اور خدائے یکتا کی توجہ کے لئے دو حوالے سے بات کی گئی ہے ۔ پہلے عقلی دلائل کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے اور عجیب و غریب نظام خلقت کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اور انسان کے لئے خدا کی طرح طرح کی نعمتوں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے تاکہ اس میں شکر گزاری کا جذبہ پیداہو اور آخر کار اسے خدا کے قریب کردے ۔
ارشاد ہوتا ہے : اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کےسا تھ پیدا کیا ہے( خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ بِالْحَقِّ ) ۔آسمان و زمین کی حقانیت اس کے عجیب نظام سے بھی واضح ہے اور منظم و حساب شدہ آفرینش سے بھی ، اس کے ہدف سے بھی اور اس میں موجود فائدہ سے بھی ۔
اس کے بعد مزید فرمایا : خدا اس سے بر تر و بلند ہے کہ وہ اس کے لئے شریک بناتے ہیں( تَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ) ۔
بت کہ جنہیں وہ اس کا شریک قرار دیتے ہیں ایسے تخلیق کی صلاحیت ہر گز نہیں رکھتے یہاں تک کہ وہ تو معمولی سا مچھر یا غبار کا ذرہ بھی پیدا نہیں کرسکتے اس کے باوجود تم انھیں کس طرح خدا کا شریک قرار دیتے ہو ۔
یہ بات لائق توجہ ہے کہ مشرکین خود اس عجب نظام اور بدیع خلقت کہ جو خالق کے علم و قدرت کی مظہر ہے کو صرف اللہ کی طرف سے جانتے ہٰں لیکن اس کے باوجود وہ عبادت کے وقت بتوں کے سامنے خاک پر گر پڑتے ہیں ۔
آسمان و زمین اوور ان میں بے پایاں اسرار کی جانب اشارہ کرنے کے بعد خود انسان کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے وہ انسان کہ جو ہ کسی سے بڑھ کر اپنے آپ سے قریب ہے ۔ فرمایا گیا ہے :انسان بے وقعت اوربے قیمت نطفے سے پیدا کیا گیا لیکن اس طرح پیدا ہو کر وہ فصیح و بلیغ متفکر ، اپنا دفاع کرنے والا اور واضح کلام کرنے والابن گیا ۔( خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ فَإِذَاهُوَ خَصِیمٌ مُبِینٌ ) ۔
”نطفہ“ کا اصلی معنی ہے تھوڑا یا صاف پانی ۔ بعد میں ان قطرات کو نطفہ کہا جانے لگا جو تلقیح کے لئے ذریعے انسانی پیدا ئش کا سبب بنتے ہیں ۔
اس تعبیر سے در حقیقت قرآن حق تعالیٰ کی عظیم قدت کو مجسم صورت میں بیان کرناچاہتا ہے کہ اس نے پانی کے حیثیت قطرے سے کیسی عجیب مخلوق پیدا کی ہے کہ جس کی قوس ِ نزول اور قوس ِ نزول صعود کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ ہے ۔
یہ مفہوم اس صورت میں ہے جب ” خصیم “ کو مدافع اور اپنی باطنی حالت بیان کرنے والے کے معنی میں لیا جائے جیسا کہ سورہ نساء کی آیہ ۱۰۵ میں ہے :( ولاتکن للخائنین خصیما )
اے رسول !خیانت کرنے والوں کے حامی اور مدافع نہ بنو ۔
یہ تفسیر کے ایک گروہ کے نزدیکقابل قبول ہے لیکن بعض مفسرین نے ایک اور تفسیر بیان کی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ :
خدانے انسان کواپنی قدرت کاملہ کے ذریعے بے وقعت نطفے سے پیدا کیا لیکن یہ ناشکرا انسان خدا کے مقابلے میں کھلم کھلا مجادلہ اور مخاصمہ پر اٹھ کھڑا ہوا ۔
یہ مفسرین سورہ یٰس کی آیہ ۷۷ کو اس تفسیر پر شاید کے طورپیش کرتے ہیں ۔
لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ زیر نظر آیات عظمت ِخلقت ِ الہٰی کے بارے میں اور عظمت اس وقت آشکار ہو گی جب ظاہراًمعمولی موجود سے وہ ایک قیمتی چیز پیدا کردے ۔
تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی ہے کہ :خلقه من ماء قطرة ماء منتن فیکون خصیماً متکلماً بلیغاً
خدا انے انسان کو پانی کے بدبو دار قطرے سے پیدا کیا ہے اور پھر وہ فصیح و بلیغ کلام کرنے والا ہو گیا ۔(۱)
دوسرا نکتہ یہ کہ انھیں ”منافع“ سے پہلے ذکر کیا گیا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ لباس ضرر کو روکنے کے لئے ہے اور ضرر کو روکنا حصول ِ منافع پر مقدم ہے ۔
ہوسکتا ہے وہ لوگ جو گوشت کھانے کے مخالف ہیں اس آیت سے بھی مطلب نکالیں کہ خدا نے جانوروں کا گوشت کھانے کا مسئلہ ان کے ” منافع“ میں شمار نہیں کیا ۔لہٰذا ”منافع“ کا ذکر کرنے کے بعد کہا ہے :و منها تاٴکلون “ ( اور تم ان حیوانات کا گوشت کھاتے ہو)اس تعبیر سے کم از کم یہ استفادہ کیاجاسکتا ہے کہ لبنیات کی اہمیت کہیں زیادہ ہے ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن نے ان مفید جانوروں کے عام معمول فوائد بیان کرنے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ان سے حاصل ہونے والے نفسیاتی فوائد کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے:یہ جانور تمہارے لئے زینت کا باعث ہوتے ہیں جبکہ انھیں آرام کی جگہ واپس لے جاتے ہو اور جب صبح کے وقت انھیں صحرا کی طرف بھیجتے ہو (ولکم فیها جما حین تریحون و حین تسرحون ) ۔
”تریحون“ اراحہ“ کے مادہ سے غروب کے وقت جانوروں کو ان کے باڑوں اور آرام کی جگہوں کی طرف واپس لانے کے معنی میں ہے اسی لئے ان کے آرام کی جگہ کو ” مراح“ کہتے ہیں ۔
”تسرحون“ ”سرح“ کے مادہ سے چوپایوں کو صبح کے وقت چرا گاہ کی طرف باہر لو جانے کے معنی میں ہے ۔
بھیڑ بکریوں اور دوسرے چوپایوں کے بیاباناور چرا گاہ کی طرف اکھٹے جانے اور پھر شام ڈھلے باڑوں اور آرام کی جگہ لوٹ آنے کے جاذب نظر نظر کو قرآن ”جمال“ سے تعبیر کرتا ہے یہ صرف ایک ظاہری ، تکلفاتی اور رسمی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس میں ایک حقیقت بیان کی گئی ہے کہ جس کا تعلق معاشرے کی گہرائیوں سے ہے یہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اس قسم کا معاشرہ خود کفیل ہوتا ہے فقیر و پس ماندہ نہیں ہے اور اس سے یا اس سے وابستہ نہیں ہوتا وہ خود وسائل مہیا کرتا ہے اور جو کچھ خود اس کے پاس ہوتا ہے اسے صرف کرتا ہے یہ در اصل معاشرے کا جما ل استغناء اور خود کفالت ہے یہ درحقیقت جمالِ تولید اورایک ملت کی ضروریات کی تکمیل ہے ۔ واضح تر الفاظ میں استقلال آزادی کے جمال اور ہر قسم کی وابستگی سے نجات ہے ۔
اس حقیقت کو دیہات میں رہنے والے اور دیہات میں پیدا ہو نے والے شہروں میں رہنے والوں سے بہتر سمجھ سکتے ہیں ، کہ جب یہ مفید چوپائے آتے جاتے ہیں تو انھیں دیکھ کر انھیں کیسا روحانی اور دلی سکون ہوتا ہے ایسا سکون جو بے نیازی کے احساس سے اٹھتا ہے ایسا سکون جو ایک مؤثر اجتماعی ذمہ داری کی انجام دہی پر ہوتا ہے ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیر نظر آیت میں پہلے ان کے صحرا سے لوٹنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ جب یہ ڈھورڈنگر صحرا سے لوٹتے ہیں تو ان کے پستان دودھ سے بھرے ہوتے ہیں ، شکم سیر ہوتے ہیں اور ان کے چہرے سے خوشی اور طمانیت جھلک رہی ہوتی ہے ۔ لہٰذا اس وقت ان میں وہ حرص او رجلد بازی نظر نہیں آتی جو صبح دم صحرا کی طرف جاتے ہوئے ہوتی ہے ۔اطمینان سے کشاں کشاں قدم اٹھاتے ہیں اور اپنے آرام کی جگہ پر جاپہنچتے ہیں ۔ ان کے دود ھ بھرے پستانوں کو دیکھنے والا ہر کوئی ایک بے نیازی کا احساس کرتا ہے ۔
اگلی آیت میں ان جانوروں کے ایک اور اہم فائدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے وہ تمہارے بھاری بوجھ اپنے پشت پر اٹھا کر لے جاتے ہیں اور ایسے دیا ر کی طرف لے جاتے ہیں جہاں تک تم شدید مشقت کے بغیر نہیں پہنچ پاتے( وَتَحْمِلُ اٴَثْقَالَکُمْ إِلَی بَلَدٍ لَمْ تَکُونُوا بَالِغِیهِ إِلاَّ بِشِقِّ الْاٴَنفُسِ ) ۔یہ خدا کی رحمت و کرم کی نشانی ہے کہ اس نے ان چوپایوں کو اتنی طاقت بخشی اور انھیں تمہارے قابو میں کردیا کیونکہ ” تمہارا پر وردگار رؤف و رحیم ہے( إِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُوفٌ رَحِیمٌ ) ۔
”شق“ ” مشقت“کے مادہ سے ہے لیکن بعض مفسرین نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ شگاف کرنے اور آدھا آدھا کرنے کے معنی میں ہے یعنی تم خود اس وزن کو اپنے کندھے پر لاد کر جاؤ تو تمہاری آدھی قوت ختم ہو جائے ۔اصطلاح کے مطابق نیم جاں ہوجاؤ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔
اس طرح جوچوپائے پہلے تو انسان کے لئے لباس اور گرمی سردی سے بچنے کا ذریعہ مہیا کرتے ہیں دوسرے درجہ پر ان کے لبنیات سے تیار شدہ چیزوں سے استفادہ کیا جاتا ہے اور پھر ان کا گوشت استعمال کیا جاتاہے اس کے بعد ان کے وہ نفسانی آثار ہیں جو احساسات پر مرتب ہوتے ہیں اور آخرمیں ان کی بار بر داری کا ذکر ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس دور میں جو کہ مشین کا زمانہ ہے اس میں بھی بہت سے مواقع پر صرف چوپایوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور جہاں کوئی اور طریقہ کار آمد بھی نہیں ہے ۔
اس کے بعد ایسے جانور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو انسان کی سوای کے کام آتے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے : خدا نے گھوڑے ، خچر اورگدھے پیدا کئے ہیں تاکہ تم ان پر سواری کرسکو او ر وہ تمہاری زینت کا سبب بھی بنیں( وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیرَ لِتَرْکَبُوها وَزِینَةً ) ۔
واضح ہے کہ یہاں لفظ ” زینت“ کوئی تکلفاتی اور رسمی طور پر نہیں آیات جو شخص تعلیمات قرآن سے آشنا ہے اس کے لئے اسکا مفہوم واضح ہے ۔وہ وہ ززینت ہے جس کا اثر اجتماعی زندگی میں ظاہر ہوتا ہے اس حقیقت کی تہہ تک پہنچنے کے لئے آپ اس شخص کی حالت کا تصور کریں کہ جس نے ایک طویل بیابانی راستے کو پاپیادہ طے کیا ہو اور تھکا ماندہ اپنی منزل تک پہنچتا ہے ۔ایک عرصہ تک کام کرنے کے قابل نہ رہا ہو اس کا موازمہ ایسے شخص سے کریں کہ سواری جس کے پاس ہو او روہ بہت جلد اپنی منزل پر پہنچ گیا ہو ۔ اس کی قوت و توانائی اسی طرح باقی ہو ،خوش و خرم ہو اور اپنے آئندہ امو ر انجام دہی کے لئے تیار ہو تو کیا یہ زینت نہیں ہے ؟
آیت کے آخر میں ایک نہایت اہم مسئلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، اور انسانی افکار کو آئندہ زماے نے میں نقل و حمل کے نئے پیدا ہونے والے ذرائع کی طرف متوجہ کیا گیا ہے یعنی آئندہ زمانے میں انسان کے پاس ان جانوروں کی نسبت نقل وحمل کے بہتر اور خوب تر ذرائع ہوں گے ۔ ارشاد ہوتا ہے خدا تعالیٰ ( نقل و حمل کے لئے ) کئی ایک چیز پید اکرے گا کہ جنھیں تم نہیں جانتے( وَیَخْلُقُ مَا لاَتَعْلَمُونَ ) ۔
بعض گزشتہ مفسرین نے اگر چہ اس جملے کو ایسے جانوروں کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو آئندہ پیدا ہوں گے اور نوع بشر کے مطیع ہوں گے لیکن جیسا کہ تفسیر مراغی اور تفسیر ظلال میں ہے ہمارے لئے جملے کا مفہوم سمجھنا آسان ہے کیونکہ ہم مشینی اور تیز رفتا رسوایوں کے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں ۔
یہ جو لفظ” یخلق“ ( پید اکرے گا ) استعمال کیا گیا ہے اس کی دلیل واضح ہے کیونکہ انسان در حقیقت چیزوں کو جوڑ کر اورملا کر ایجادات کرتا ہے او رکچھ نہیں جبکہ ان چیزوں کا اصلی مواد صرف خداکی تخلیق ہے علاوہ ازیں انسانی ایجادات میں موجود استعداد خدا ہی کی عطا کردہ ہے ۔
نکتہ
جانور پالنے اور کھیتی باڑی کی اہمیت
آج کے زمانے میں پیدا واری اور کارخانے اور مشینیں اتنی زیادہ ہیں کہ تمام دوسری چیزیں ماند پڑ گئی ہیں لیکن آج بھی انسانی زندگی کی پیدا وار کا ایک اہم حصہ جانور پالنے اور کھیتی باڑی سے حاصل ہوتا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ غذائی مواد کی حقیقی بنیاد یہی دو امور ہیں اسی بناء پر جانور وں اور کھیتی باڑی کی ضروریات میں خود کفالت نہ صرف اقتصادی استقلال کی ضامن ہے بلکہ سیاسی استقلال بھی بہت حد تک اس سے مربوط ہے لہٰذا کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ساری دنیا کی قومیں جانوروں کی نشوونما کو وسعت دینے اور اس کی وسعت کے لئے مارڈن ذرائع استعمال کرنے میں کوشاں ہیں ۔
یہ دونوں چیزیں اتنی اہم اور بنیادی ہیں کہ بعض اوقات ان ممالک میں سے جنھیں سوپر پاور کہا جاتا ہے مجبور ہو جاتے ہیں کہ اپنے سیاسی مقام کو نظر انداز کرکے ان ممالک کے سامنے ہاتھ پھیلائیں جو عین ان کے مخالف ہیں اس کے لئے روس کی مثال پیش کی جاسکتی ہے ۔
اسی بناء پراسلام اور اس کی حیات آفریں تعلیمات میں جانوروں کی پرورش اور زراعت کے مسئلے کو انتہائی زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور ان امور کے لئے مسلمانو کو ترغیب دینے کے لئے ہر موقع سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
مندرجہ بالا آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ قرآن جانوروں کے مسئلہ پر کس تشویق آمیز لہجے میں بات کرتا ہے ان سے حاصل ہونے والے منافع کا ذکر کرتا ہے چاہے وہ غذئی اعتبار سے ہوں یا لباس کے لحاظ سے ۔ یہاں تک کہ صحرا میں ان کے آنے جانے کا ذکر بڑے حسین پیرائے میں کرتا ہے ۔
زراعت ، کھیتی باڑی اور مختلف قسم پھلوں کی اہمیت کے بارے میں اسی طرح آئندہ آیات میں عمومی اعتبار سے گفتگو ہو گی ۔
اسلامی روایات میں جانور پالنے کے بارے میں نہایتجاذبِ توجہ تعبیرات نظر آتی ہیں اسی طرح کھیتی باڑی کے بارے میں بہت سی روایات میں ہم نمونے کے طور پر اسلامی مصا در سے چند ایک روایات پیش کرتے ہیں ۔
۱ ۔پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) نے ایک ایک عزیز سے فرمایا:
تم اپنے گھر”برکت“ کیوں نہیں لاتے ہو؟
اس نے عرض کیا:” برکت “سے آپ کی کیا مراد ہے ؟ فرمایا:”شاة تحلب “(دودھ دینے والی بکری )
مزید فرمایا:انه کانت فی داره شاة تحلب اونعجة او بقره وفبرکاة کلهن
جس گھر میں دودھ دینے والی بکری ،بھیڑ یا گائے ہو تو یہ سب برکتیں ہیں ۔(۲)
۲ ۔پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) سے منقول ہے کہ آپ نے بکری کی اہمیت کے بارے میں فرمایا:۔
نعم المال الشاة
بکری بہت اچھا سرمایہ ہے ۔(۳)
۳ ۔تفسیر نور الثقلین میں زیر بحث آیا ت کے ذیل میں امام امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے :
افضل مایتخذه الرجل فی منزله لعیاله الشاة فمن کان فی منزله شاة قدست علیه الملائکة مرتین فی کل یوم
اہل خانہ کے لئے انسان گھر میں جو چیز مہیا کرتا ہے وہ بکری ہے جس شخص کے گھرمیں بکری ہو خدا کے فرشتے ہر روز دومرتبہ اس کی تقدیس کرتے ہیں ۔
یہاں غلط فہمی نہیں ہونا چاہئیے ، ممکن ہے بہت لوگوں کے گھر میں بکری پالنے کے لئے حالات ساز گار نہ ہوں لیکن اصلی مقصد یہ ہے کہ جتنے گھر ہوں اتنی بھیڑ بکریاں ہمیشہ پالتے رہنا چاہئیے ( غور کیجئے گا) ۔
۴ ۔زراعت کی اہمیت کے لئے اتناکافی ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :(من وجد ماء ً و تراباًثم افتقر فابعد الله )جس کے پاس پانی اور مٹی ہو اس کے باوجود وہ فقیر ہو ، خدا اسے اپنی رحمت سے دور رکھے ۔(۳)
۵ ۔پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا:
علیکم بالغنم و الحرث فانهما یروحان بخیر ویغدوان بخیر
تمہاری ذمہ داری ہے کہ بھیڑ بکریاں پالو اور کھیتی باڑی کرو اور ان کا لین دین خیر و بر کت کا باعث ہے ۔(۵)
۶ ۔امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے ، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا:
مافی الاعمال شیء احب الیٰ الله من الزراعة
خدا کے ہاں زراعت سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں ۔(۶)
۷ ۔امام صادق علیہ السلام ہی سے ایک او ر حدیث منقول ہے ، فرماتے ہیں :
الزارعون کنوز الانام تزرعون طیباً اخرجه الله عزوجل وهم یوم القیامة احسن الناس مقاماً و اقربهم منزلة ید عون المبارکین ۔
کسان لوگوں کے خزانے ہیں وہ خدا کا عطاکردہ پاکیزہ اناج بوتے ہیں قیامت کے دن وہ بلند ترین مقام کے حامل ہوں گے وہ خدا کے زیادہ قریب ہیں اس روز انھیں ”مبارکین “ کے نام سے پکارا جائے گا ۔(۷)
____________________
۱۔تفسیر نور الثقلین ج۳ ص۳۹۔
۲۔بحار الانوار ج۱۴ ص ۶۸۶طبع قدیم ۔ مذکورہ حدیث میں بکری اور گائے کے علاوہ ”نعجة“ کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔لغت میں اس لفظ کے بہت سے معانی ہیں مثلاً وحشی گائے، پہاڑی بکری یا بھیڑ۔
۳۔بحار الانوار ج ۱۴، ص۶۸۶ طبع قدیم ۔
۴۔بحار الانوار جلد ۲۳ صفحہ ۱۹۔
۵۔بحار الانوار جلد ۱۴ ص۳۰۴۔
۶۔بحار الانوار جلد ۲۳ ، صفحہ ۲۰۔
۷۔وسائل الشیعہ جلد ۱۳ ،صفحہ ۱۹۴۔
آیات ۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،
۹ ۔( وَعَلَی اللهِ قَصْدُ السَّبِیلِ وَمِنْهَا جَائِرٌ وَلَوْ شَاءَ لَهَدَاکُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔
۱۰ ۔( هُوَ الَّذِی اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً لَکُمْ مِنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِیهِ تُسِیمُونَ ) ۔
۱۱ ۔( یُنْبِتُ لَکُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّیْتُونَ وَالنَّخِیلَ وَالْاٴَعْنَابَ وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔
۱۲ ۔( وَسَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِاٴَمْرِهِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ) ۔
۱۳ ۔( وَمَا ذَرَاٴَ لَکُمْ فِی الْاٴَرْضِ مُخْتَلِفًا اٴَلْوَانُهُ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَذَّکَّرُونَ ) ۔
ترجمہ
۹ ۔خدا کے ذمہ ہے کہ وہ بندوں کو راہ راست کی نشاندہی کرے البتہ بعض راستے گمراہی کے ہیں اور اگر خدا چاہے تو تم سب کو ( جبری طور) ہدایت کرے ( لیکن مجبور کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ) ۔
۱۰ ۔وہ وہی ہے جس نے آسمان سے پانی بھیجا کہ جسے تم پیتے ہو نیز یہ پودے اور درخت بھی اسے سے اگتے ہیں کہ جنھیں چرنے کے لئے تم اپنے جانور لے کر جاتے ہو ۔
۱۱ ۔اس( بارش کے پانی ہی ) سے خدا تمہاری کھیتیاں اگاتا ہے اسی سے وہ تمہارے لئے زیتون ، کھجور انگور اور ہر قسم کے پھل اگا تا ہے ۔ یقینا گور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں واضح نشانی موجود ہے ۔
۱۲ ۔ اس نے رات و دن اور سورج و چاند کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے نیز ستاربھی اس کے حکم سے تمہارے لئے مسخر ہیں اس میں ان لوگوں کے لئے (عظمت ِخدا کی ) نشانیاں ہیں جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں ۔
۱۳ ۔ (ان کے علاوہ ) جو رنگا رنگ مخلوق اس زمین میں پیدا کی گئی ہے اسے بھی ( تمہارے حکم کے سامنے ) مسخر کردیا گیا ہے اس میں ان لوگوں کے لئے واضح نشانی ہے جو متذکر ہوتے ہیں ۔
تفسیر
سب چیزیں انسان کے دستِ تسخیر میں ہیں :
گذشتہ آیات میں خدا کی مختلف نعمتوں کا ذکر تھا زیر نظر آیات میں بھی خدا بعض نہایت اہم نعمتوں کا ذکر ہے ۔
ایک بہت اہم معنوی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا کے ذمہ ہے کہ لوگوں کو اس صراط مستقیم کی ہدایت کرے جس میں کوئی انحراف اور کجی نہیں ہے ۔( وَعَلَی اللهِ قَصْدُ السَّبِیل ) ۔
”قصد“ راستہ صاف ہونے کے معنی میں ہے لہٰذا ”قصد السبیل“ کا معنی ”سیدھا راستہ “ ہو گا یعنی وہ راستہ جس میں انحراف اور گمراہی نہ ہو ۔(۱)
اس بارے میں کہ یہ ”سیدھا راستہ“ تکوینی پہلو سے ہے یا تشریعی پہلو سے ، اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں لیکن کوئی مانع نہیں کہ اس میں دونوں پہلو شامل ہوں ۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ خدا نے انسان کو مختلف توانائیاں عطا کی ہیں اور اسے طرح طرح کی استعدادیں دی ہیں تاکہ تکامل و ارتقاء میں راہ میں اس کی مدد کی جائے کیونکہ تکامل و ارتقاء اس کا مقصدِ خلقت ہے اسی طرح نباتات اور دیگر مختلف جانوروں کو بھی اس ہدف تک پہنچنے کے لئے ضروری تونائیاں عطا کی ہیں ۔فرق یہ ہے کہ انسان اپنے ارادے کے ساتھ آگے بڑھ تا ہے ، جب کہ بناتات او ر جانور بے اختیار اپنے ہدف کی طرف جاتے ہیں ۔ نیز تکامل انسان کی قوسِ صعودی کا بھی دیگر جانداروں سے کوئی موازنہ نہیں ہے ۔
اس طرح خدا تعالیٰ نے خلقت اور تکوین کے اعتبار سے عقل و استعداد اور دیگر لازمی توانائیاں عطا کرکے اس صراط مستقیم پر چلنے کے لئے تیار کیا ہے ۔
دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو وحی ِآسمانی ، درکار تعلیمات اور انسانی ضرورت کے قوانین کے ساتھ بھیجا تاکہ تشریعی لحاظ سے صحیح اور غلط راستہ کو جدا جدا کرکے دکھادیں اور اس راستے چلنے کے لئے انسان کے شوق کو ابھاریں اور اسے انحرافی راستوں سے باز رکھیں یہ بات جاذب نظر کہ مندرجہ بالا آیت میں خدا تعالیٰ نے اس امر کو اپنا ایک فریضہ شمار کیا ہے ۔
اور ”علی الله “ ( خدا پر لازم ہے ) الفاظ استعمال کئے ہیں کہ قرآن کی آیات میں ہیں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں ۔مثلاً( علینا للهدیٰ ) )
ہم پر لازم ہے کہ ہم انسان کی ہدایت کریں ، ( لیل ۔ ۱۲)
اگر ہم ”علی اللہ قصد السبیل “ کے مفہوم کی وسعت پر غورکریں اور تمام مادی اور روحانی توانائیاں جو خلقت انسان اور اس کی تعلیم و پر ورش میں استعمال ہوئی ہیں کے بارے میں سوچیں تو ہمیں ” قصد السبیل “ کی عظمت کا اندازہ ہو گا کہ جو تمام نعمتوں سے بر تر ہے ۔
انحرافی راستے چونکہ بہت زیادہ ہیں اس لئے قرآن اگلے مرحلے پر انسان کو بیدا رکرتے ہوئے کہتا ہے : ان راستوں میں سے بعض انحرافی ہیں (ومنها جائز )(۲)
انسان کے کمال اور ارتقاء کے لئے چونکہ اختیار و اراد ہ کی آزادی اہم ترین عامل ہے لہٰذا قرآن ایک مختصر سے جملے کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے ” اگر خدا چاہتا تو ہم سب کو زبر دستی راہ راست کی ہدایت کرتا“ یہاں تک کہ تم ایک قدم آگےاس سے نہ رکھ سکتے( ولو شاء لهداکم اجمعین ) )لیکن اس نے یہ کام نہیں کیا کیونکہ جبری ہدایت نہ باعث افتخار ہے اور نہ تکامل و ارتقاء کاذریعہ اس نے تمہیں آزادی دی ہے تاکہ تم یہ راستہ اپنے قدموں سے طے کرو اور اوجِ کمال تک جا پہنچو ۔
قرآن کا جملہ ضمنی طور پر اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اگر انسانوں کا ایک حصہ منحرف راستے کی طرف چل پڑتا ہے تو اس سے یہ وہم پیدا نہ ہو کہ ان کے مقابلے میں خدا مغلوب ہو گیا ہے بلکہ اس کی خواہش اور تقاجائے حکمت ہے کہ انسان آزاد ہیں ۔
اگلی آیت میں بھی مادی نعمت کا ذکر ہے تاکہ انسانوں کے احساس شکر کو ابھارا جائے اور ان کے دلوں میں عشق ِ الہٰی کے نور سے اجالا کیا جائے اور انھیں ان نعمتوں کے عطا کرنے والے کی زیادہ سے زیادہ معرفت کی دعوت دی جائے ۔ قرآن کہتا ہے : وہ وہی ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا( هُوَ الَّذِی اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً ) ۔حیات بخش ،میٹھا ، صاف شفاف اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک پانی جسے تم پیتے ہو( لَکُمْ مِنْهُ شَرَابٌ ) ۔
اور اسی سے پودے اور درخت نکلتے ہیں کہ جنہیں چرنے کے لئے تم اپنے جانوربھیجتے ہو( وَمِنْهُ شَجَرٌ فِیهِ تُسِیمُونَ ) ۔
”تسیمون“ ”اسامہ“ کے مادہ سے جانروں کو چرانے کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جانور زمین کے پودوں سے بی استفادہ کرتے ہیں اور درختوں کے پتوں سے بھی ۔ اتفاق کی بات ہے کہ عربی لغت میں ”شجر“ کا ایک وسیع مفہوم ہے ۔ یہ لفظ درخت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اورپودے کے لئے بھی
اس میں شک نہیں کہ بارش کا فا ئدہ یہی نہیں کہ اس کا پانی انسانوں کے پینے اور پودوں کے اگنے کے کام آتا ہے بلکہ اس سے ہوا صاف ہوجاتی ہے انسانی جسم کا درکار طوبت او ر نمی حاصل ہوتی ہے انسانی تنفس میں سہولت کا باعث ہے اور اسی طرح اس بارش کے اور بے شمار فائدے ہیں لیکن چونکہ مذکورہ دوباتیں زیادہ اہم تھیں اس لئے فقط انہی کا ذکر کیا گیا ہے ۔
قرآ ن بات جاری رکھتے ہوئے کہتاہے :بارش کے پانی ہی سے تمہاری کھیتیاں اگاتا ہے( یُنْبِتُ لَکُمْ بِهِ الزَّرْعَ وَالزَّیْتُونَ وَالنَّخِیلَ وَالْاٴَعْنَابَ ) )
مختصر یہ کہ تمام پھل اسی سے اگتے ہیں( وَمِنْ کُلِّ الثَّمَرَات ) ۔
یقینا یہ رنگا رنگ پھل اور طرح طرح کی کھیتیاں خدا کی طرف سے ان لوگوں کے لئے واضح نشانیاں ہیں جو صاحب فکر ہیں( إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔
”زرع“ کے مفہوم میں ہرطرح کی زراعت شامل ہے ”زیتون “ ایک خاص درخت کا نام ہے اور اس درخت کے پھل کو بھی ”زیتوں “ کہتے ہیں ( لیکن بعض مفسرین کے نزدیک ”زیتون“ صرف درخت نام ہے اور ” ززیتونہ“ اس کے پھل کانام ہے جبکہ سورہ کی آیت ۳۵ میں لفظ” زیتونہ“ خود درخت کے لئے استعمال ہوا ہے ) ۔
”نخیل“ کا معنی ہے ”کھجور کا درخت“یہ لفظ مفرد اور جمع دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔
”اعناف “ جمع ہے” عنب “کی جس کا معنی انگور ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے تمام پھلوں میں سے صرف ان تین پھلوں زیتون ، کھجوراور انگور کا ذکر کیوں کیا ہے اس کی دلیل انشاء اللہ آپ اسی آیت میں پڑھیں گے ۔
اس کے بعد اس نعمت کی طرف اشارہ ہے کہ اس جہان کے مختلف موجود ات انسان کے لئے مسخر کردئے گئے ہیں ، ارشاد ِ الہٰی ہے اللہ نے تمہارے لئے رات اور دن کو مسخر کردیا ہے اور اسی طرح سورج اور چاند کو بھی( وَسَخَّرَ لَکُمْ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ) ۔
اسی طرح ستارے بھی حکم انسان کے سامنے مسخر ہیں( وَالنُّجُومُ مُسَخَّرَاتٌ بِاٴَمْرِهِ ) ۔
ان امور میں یقینا خدا اور اس کی خلقت کی عظمت کی نشانیاں ہیں ان کے لئے جو عقل و فکر رکھتے ہیں (ا( ِٕنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَاتٍ لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ) ۔
سورہ رعداور سورہ ابراہیم کے ذیل میں ہم کہہ چکے ہیں کہ انسان کے لئے موجودات مسخر ہونے کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ موجودات انسانی فائدے کے لئے مصروف خدمت ہوں اور انسان کو اس بات کا امکان فراہم کریں کہ وہ ان سے استفادہ کرسکے ۔اسی بناء پر رات ، دن ، سورج، چاند اور ستاروں میں سے ہر کوئی انسان کی زندگی پر اثر انداز ہو تے ہیں اور انسان ان سے فائدہ اٹھا تا ہے اس لحاظ سے یہ موجودات انسان کے لئے مسخر ہیں ۔
یہ جاذب نظر تعبیر کہ موجودات حکم ِخدا سے انسان کے لئے مسخر ہیں ۔ اسلام اور قررآن کی نگاہ میں انسان کے مقام اور حقیقی عظمت کو واضح کرتی ہے اور اس کے خلیفة اللہ ہونے کی اہلیت کا اظہار کرتی ہے اس تعبیر کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ خدا کی گونا گوں نعمتوں کاذکر کرکے انسان کے جذبہ تشکر کو ابھار ا جائے او ر وہ اس عمدہ و بدیع نظام کی اپنے لئے تسخیر کو دیکھتے ہوں خدا کے نزدیک ہو جائے ۔
اسی لئے آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے : اس تسخیر کے لئے ان میں نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں ۔ اسرار تسخیر سے زیادہآگاہی کے لئے سورہ ابراہیم کی آیات ۳۲ اور ۳۳ کی تفسیر دیکھئے ۔
ان کے علاوہ ” زمین میں پیدا کی گئی مخلوقات کو بھی تمہارے لئے مسخر کردیا گیا ہے “( وَمَا ذَرَاٴَ لَکُمْ فِی الْاٴَرْضِ ) ۔
رنگا رنگ کی مخلوقات( مُخْتَلِفًا اٴَلْوَانُهُ ) ۔طرح طرح کے لباس ، مختلف قسم کی غذائیں ، پاکیزہ بیویاں ، آرام و آسائش کے وسائل ، قسم قسم کے معدنیات ، زیر زمین و پائے زمین مفید چیزیں اور دوسری نعمتیں ان میں بی واضح نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سمجھ جاتے ہیں “( إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَذَّکَّرُونَ ) ۔
____________________
۱۔بعض بزرگ مفسرین مثلاً علامہ طباطبائی نے ” المیزان “ میں ” قصد “ کو ”قاصد“ کے معنی میں لیا ہے کہ جو ”جائر “( حق سے منحرف )کا الٹ ہے ۔
۲۔”منھا“ کی ضمیر ”سبیل “ کی طرف لوٹتی ہے اور سبیل مؤنث مجازی ہے ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ مادی اور رروحانی نعمتیں
یہ بات جاذب توجہ ہے کہ مندرجہ بالاآیات میں مادی و روحانی نعمتیں اس طرح آپس میں ملی جلی ہوئی ہیں کہ انھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا اس کے باوجود آیات کے اس سلسلے میں مادی اور روحانی نعمتوں کے بارے میں لب و لہجہ میں ایک فرق ضرور ہے ۔
کسی موقع پر نہیں کہا گیا کہ خدا پر لازم ہے کہ تمہارے لئے فلاں روزی پیدا کرے لیکن راہ راست کی ہدایت کے بارے میں فرمایاگیاہے کہ خداپر لازم ہے کہ وہ تمہیں سیدھے راستے کی ہدایت کرے اور اس راستے کو طے کرنے کے لئے درکار قوت و توانائی بھی تمہیں عطا کرے ، تکوینی لحاظ سے بھی او ر تشریعی لحاظ سے بھی ۔اصولی طور پر قرآن کی یہ روش ہی نہیں کہ وہ کسی بحث کے کسی ایک پہلو پر ہی نظر رکھے ۔یہاں تک کہ درختوں اور پھلوں کی خلقت اور چاند سورج کی تسخیر ہونے کی بات کرتے ہوئے بھی معنوی اور روحانی ہدف کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے یہ مادی نعمتیں بھی خلقت و خالق کی عظمت کی نشانی ہیں ۔
۲ ۔ زیتون ، کھجور اور نگور ہی کا ذکر کیوں ؟
ہوسکتا ہے یہ سمجھا جائے کہ قرآن نے مندر جہ بالاآیات میں طرح طرح کے پھلوں میں سے زیتون ،کھجوراور انگور کا اذکر اس لئے کیا ہے کہ نزول قرآن کے علاقے میں موجود تھے لیکن قرآن کے عالمی او ر جاودانی ہونے اور اس کی تعبیرات کی گواہی کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ مطلب اس سے کہیں اونچا ہے ۔
غذا شناس وہ عظیم سائندان جنہوں نے اپنی عمر کے سالہا سال مختلف پھلوں کے خواص کے مطالعے میں صرف کئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ بہت کم پھل ایسے ہیں جو غذائیت کے اعتبارسے انسانی جسم کے لئے ان تین پھلوں سے جتنے مفید اور مؤثر ہو ں وہ کہتے ہیں کہ زیتون کا تیل بدن کے جلے ہوئے حصے کے پھر بننے کے لئے بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے اس میں حرارت بہت زیادہ ہوتی ہے اسی بناء پر یہ ایک قوت بخش شے ہے جو لوگ اپنے صحت و سلامتی کی حفاظت چاہتے ہیں انھیں اس اکسیر سے استفادہ کرنا چاہئیے ۔
زیتون کا تین انسان کے جگر کا مخلص دوست ہے گروں صفراکے عوارض اور گردے اور جگر کے درد دفع کرنے کے لئے خشکی کو دور کرنے کے لئے بہت ہی مؤثر ہے اسی بناء پر اسلامی روایات میں بھی اس کی بہت مدح و ثنااور توصیف کی گئی ہے ۔ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ الرضا (علیہ السلام) سے زیتون کے بارے میں مروی ہے :
بڑی اچھی غذا ہے منھ کو خوشبودار بنادیتی ہے ، بلغم کو دور کرتی ہے چہرے کو صفائی اور تازگی بخشتی ہے ۔اعصاب کو تقویت دیتی ہے بیماری اور درد کو ختم کردیتی ہے اور غصّے کی آگ کو بجھادیتی ہے ۔(۳)
اسی طرح میڈیکل سائنس اور علم غذا شناسی کی ترقی نے دوا کی حیثیت سے کھجورکی اہمیت کو بھی درجہ ثبوت تک پہنچا دیا ہے ۔
کھجور میں موجود کیلشیم ہڈیوں کی مضبوطی او ر پختگی میں اہم کردار کرتے ہیں نیز اس میں فاسفر( Phosphore )بھی موجود ہے ۔ جس سے دماغ کے اصلی عناصر کی تشکیل ہوتی ہے ۔ یہ اعصاب کو کمزوری اور خستگی سے بھی بچا تاہے اور قوت بینائی کو زیادہ کرتی ہے ۔
اس میں پوٹا شیم بھی موجود ہے جبکہ پوٹا شیم کی کمی ہی بدن میں کمی ہی زخم معدہ کی حقیقی وجہ سمجھی جاتی ہے نیز اس کا وجود پٹھوں اور بدن کے تانے بانے کے لئے بہت ہی قیمتی ہے دور حاضرکے غذا شناسوں میں یہ بات مشہور ہے کہ کھجور سرطان کو روکتی ہے کیونکہ اس سلسلے میں جو اعداد شمار مہیا ہوئے ہیں وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ جن علاقوں میں کھجور یں زیادہ کھائی جاتی ہیں وہ سرطان کی بیمای میں کم مبتلا ہوئے ہیں ۔ عررب کے بدو اور صحرا نشین جن کی زندگی فقر و فاقہ میں گزرتی ہے کھجور کھانے کے وجہ سے کبھی سرطان میں مبتلانہیں ہوئے ۔ اس کی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ کھجور میں میگینشم( Magnesium )موجود ہے ۔
خرمے میں شکر بہت ہے اور یہ شکر کی زیادہ صحیح او ربہتر قسم ہے یہاں تک کہ بعض مواقع پر شوگر کی بیماری میں مبتلاشخص بھی آرام کے ساتھ اس سے استفادہ کرسکتے ہیں ۔
سائنس دانوں نے کھجور میں تیرہ قسم کی حیاتی مادے اور پانچ طرح کے مٹامن معلوم کئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے یہ ایک نہایت قیمتی اور بھر پور غذا ہے(۴)
اسی بناء پر اسلامی روایات میں میں بھی اس کے بارے میں بہت زیادہ تاکید نظر آتی ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا :
کل التمر فان فیه شفاء من الادوائ
کھجور کھاؤکہ اس میں بہت سی بیماریوں کا علاج ہے ۔
نیز یہ بھی روایت ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) کی غذا اکثر اوقات روٹی اور کھجور پر مشتمل ہوتی تھی ۔ ایک اور روایت ہے کہ :ْ
جس گھر میں کھجورکا درخت نہیں اس کے رہنے والے در حقیت بھوکے ہیں ۔(۵)
سورہ مریم کی آیات میں بھی آئے گاکہ حضرت مریم جس بیابان میں تھیں وہاں کچھ بھی نہ تھا جس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں تازہ کھجور عطا کیں یہ اس طر ف اشارہ ہے کہ زچہ کے لئے تازہ کھجور بہترین وغذاؤں میں سے ہے ۔یہاں تک کہ اس آیت می ذیل میں آنے والی روایات کے مطابق اس حالت میں عورتوں کے لئے بہترین دوا کھجور ہی ہے ۔(۶)
باقی رہا انگور تو غذا شناس ماہرین کے بقول یہ اس قدر موثر عوامل رکھتا ہے کہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک طبیعی میڈیکل سٹور ہے ۔ علاوہ ازیں انگور خواص کے لحاظ سے ماں کے دودھ کے قریب قریب ہے یعنی ایک مکمل غذا ہے انگور جس میں گوشت سے دگنی حرارت پیدا کرتا ہے اس کے علاوہ یہ زہر کی ضد اور کاٹ ہے خون کی صفائی، جوڑوں کے درد کے علاج ورم کے آرام اور خون بڑھانے کے لئے یہ ایک مؤثر دوا ہے ۔ انگور معدہ اور آنتوں جو غیر مشکوک کردیتا ہے یہ نشاط آفریں ہے ، اور رنج و غم کو بر طرف کردینے والا اعصاب کو تقویت پہنچا تا ہے اس میں موجود مختلف وٹا من انسان کو قوت بخشتے ہیں انگور ایک نہایت قیمتی غذا ہونے کے علاوہ جراثیم کشی کی بہت صلاحیت رکھتا ہے یہاں تک کہ سر طان کا مقابلہ کرنے کے لئے بھی یہ ایک مؤثر عامل ہے ۔(۷)
اسی بناء پر رسول اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) سے مروی ایک حدیث کے مطابق :
خیرطعامکم الخبز و خیر فاکهتکم العنب
تمہاری بہترین غذا روٹی اور بہترین پھل انگور ہے ۔(۸)
ان پھلوں کے بارے میں غذا شناسوں نے جوکچھ کہا ہے اور فراواں روایات جو ان کے بارے میں اس اسلامی مصادر میں آئی ہیں ہم وہ سب کچھ بیان کرنے لگیں تو یقینا روشِ تفسیر سے ہٹ جائیں گے ۔ مقصد یہ تھا کہ ہم واضح کریں کہ قرآن نے ان تین پھلوں کا ذکر بلاوجہ نہیں کیا اورشاید اس زمانے میں ان کے فوائد کا اہم حصہ لوگوں سے مخفی تھا ۔
۳ ۔ تفکر تعقل اور تذکر
زہر بحث آیات میں نعمات الٰہی کو تین حصوں میں بیان کرنے کے بعد لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے فرق یہ ہے کہ ایک موقع پر قرآن کہتا ہے :
ان میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔
دوسری جگہ کہتا ہے :
اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں ۔
تیسری جگہ کہتا فرماتا ہے :
ان میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو متذکر ہوتے ہیں ۔
تعبیر کا یہ اختلاف یقینا از راہِ تعفن نہیں ہے بلکہ جیسا کہ قرآن کی روش سے واضح ہوتا ہے ان میں سے ہر ایک کسی نکتے کی طرف اشارہ ہے شاید فرق کا پہلو یہ ہے کہ زمی کی انگا رنگ نعمتوں کا مسئلہ اس قدر واضح ہے کہ وہاں صرف تذکر اور یادہانی کافی ہے لیکن زراعت کا معاملہ اور زیتون کھجور ، انگور اور کلی طور پر پھلوں کا مسئلہ ایسا ہے جس پر کچھ غور و فکر کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی غذائی خواص اور علاج کے لئے ان کی اہمیت سے آشنا ئی ہو سکے لہٰذا اس ضمن میں ”تفکر“ کی دعوت دی گئی ہے ۔
رہا سورج ، چاند اور ستاروں کی تسخیر کا مسئلہ ، نیز رات اور دن کے اسرار کا معا ملہ تو اس کے لئے زیادہ سوچ بچار کی ضرورت ہے لہٰذا ”تعقل“ کا ذکر آیا ہے گویا یہ عام غور و فکر سے بالا تر مسئلہ ہے ۔
بہت حال قرآن کا روئے سخن ہر جگہ سوچ بچار کرنے والوں ، اہل فکر و نظر اور صاحبان ِ عقل کی طرف ہے ۔
اس طرف توجہ کریں کہ قرآن ایک ایسے ماحول میں اترا کہ جہاں جہالت کے سوا کسی چیز کی حکمرانی نہ تھی اس سے تعبیرات کی عظمت اور آشکار ہوتی ہے یہ امر ان لوگوں کے لئے دندان شکن جواب بھی ہے جو بعض خرافاتی مذاہب کی وجہ سے سچے مذاہب پر بھی سرخ لکیر کھینچ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مذہب توافیون ہے اور یہ فکر و نظر اور عقل و فہم کو بے کار کردیتا ہے اور خدا پر ایمان لانا آدمی کی جہالت کی پیدا وار ہے قرآن کی ایسی آیات تقریباً تمام سورتوں میں موجود ہیں جو وضاحت سے کہہ رہی ہے کہ سچا مذہب سوچ بچار اور تعقل کی پیدا وار ہے اور اسلام ہر مقام پر سرو کارہی اہل فکر و نظر اور اولو الالباب سے رکھتا ہے نہ کہ جاہل خرافات بکنے والوں اور بے منطق روشن فکروں سے ۔
____________________
۱۔بعض بزرگ مفسرین مثلاً علامہ طباطبائی نے ” المیزان “ میں ” قصد “ کو ”قاصد“ کے معنی میں لیا ہے کہ جو ”جائر “( حق سے منحرف )کا الٹ ہے ۔
۲۔”منھا“ کی ضمیر ”سبیل “ کی طرف لوٹتی ہے اور سبیل مؤنث مجازی ہے ۔
۳۔اسلام پزشک بی دارد۔
۴۔کتاب ”اولین دانش گاہ وآخرین پیامبر “جلد ۷ ص ۶۵ ۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ اس کتاب کی ساتوین جلد میں غذاؤں ہی کے خواص بیان کئے گئے ہیں ۔ اس میں علاج کے طور پر کھجور اور خرما کے بارے میں و کچھ بیان کیا گیا ہے اس کا مبالعہ ان دونوں غذاؤں کیاہمیت سے آشنا کرتاہے ۔
۵۔سفینة البحار ، جلد ۱ ص ۱۲۵۔
۶۔سفینة البحار جلد ص۱۲۵۔
۷۔اولین دانشگاہ اور آخرین پیامبر ۔جلد۷ ص ۱۰۱و ص۱۴۲۔
۸۔اسلام پزشک بی دارد ۔
آیات ۱۴،۱۵،۱۶،۱۷،۱۸
۱۴( وَهُوَ الَّذِی سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاٴْکُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُونَهَا وَتَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَ فِیهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ )
۱۵ ۔( وَاٴَلْقَی فِی الْاٴَرْضِ رَوَاسِیَ اٴَنْ تَمِیدَ بِکُمْ وَاٴَنْهَارًا وَسُبُلاً لَّعَلَّکُمْ تَهْتَدُونَ ) ۔
۱۶ ۔( وَعَلاَمَاتٍ وَبِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُونَ ) ۔
۱۷ ۔( اٴَفَمَنْ یَخْلُقُ کَمَنْ لاَیَخْلُقُ اٴَفَلاَتَذَکَّرُونَ ) ۔
۱۸ ۔( وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لاَتُحْصُوهَا إِنَّ اللهَ لَغَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔
ترجمہ
۱۴ ۔وہ ذات وہی ہے جس نے ( تمہارے لئے ) دریا کو مسخر کیا تاکہ اس سے تازہ گوشت کھا سکو اور لباس کے لئے اس سے وسائل ِ زینت نکالو اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ وہ دریا کا سینہ چیر تی ہیں تاکہ تم ( تجارت کر سکو اور ) فضل ِخدا سے بہرہ مند ہو شاید تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو ۔
۱۵ ۔اور اس نے زمین میں محکم اور مضبوط پہاڑوں کو گاڑ دیا تاکہ تمہیں اس کی حرکت اور لرزنے سے محفوظ رکھے اور اس نے دریا پیدا کئے اور راستے بنائے تاکہ تمہیں ہدایت حاصل ہو ۔
۱۶ ۔ اور اس نے نشانیاں پیدا کیں اور ( رات کے وقت ) ان ( لوگوں ) کی ستاروں کے ذریعے راہنمائی کی گئی ہے ۔
۱۷ ۔کہ خلق کرنے والا اس کی مانند ہے جو خلق نہیں کرتا کیا تم خیال نہیں کرتے ۔
۱۸ اور اگر تم نعمات ِ خدا کو گننا چاہو تو ہر گز شمار نہیں کر پاؤ گے ۔ اللہ غفور و رحیم ہے ۔
تفسیر
پہاڑ، دریا اور ستارے نعمت ہیں :
ان آیا ت میں انسا ن کو حاصل کچھ اور اہم نعماتِ الہٰی کاذکر ہے یہاں بات دریاؤں سے شروع کی گئی ہے کہ جو انسانیزندگی کا بہت اہم منبع ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے : جس نے دریاؤں اور سمندروں کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے اور انھیں تمہاری خدمت پر مامور کیا ہے ۔( وَهُوَ الَّذِی سَخَّرَ الْبَحْرَ ) ۔
ہم جانتے ہیں کہ زمین کا زیادہ تر حصہ دریاؤں اور سمندروں پر مشتمل ہے اور یہ بھی جاتنے ہیں کہ زندگی کی پہلی نپل دریا سے پھوٹی ۔ اس وقت بھی دریا اورسمندر انسانوں اور زمین کی تماموجودات کی زندگی کو جاری رکھنے کے لئے اہم منبع ہیں انھیں خدمت ِ بشر پا مامور کرنا خدا تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے ۔
اس کے بعد دریاؤں کے تین فوائد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے : تاکہ تم ا س سے تازہ گوشت کھاؤ۔(لِتَاٴْکُلُوا مِنْهُ لَحْمًا طَرِیًّا ) ۔وہ گوشت کہ جس کی پر ورش کی زحمت تم نے نہیں اٹھائی ۔ صرف خدا کے دستِ قدرت نے انھیں سمندروں اور دریاؤں میں پالا ہے اور تمہیں یہ مفت حاصل ہوا ہے ۔
اس گوشت کی یازگی کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے اس نے زمانے میں بھی پرا نااور باسی گوشت ،لتا تھا اور ہمارے اس زماے میں بھی اس صورت حال پر نظر رہے تو اس نعمت کی اہمیت اور تازہ گوشت سے غذا تیار کرکے کھانے کی اہمیت زیادہ واضح ہو جاتی ہے ۔
انسان کی مادی زندگی اور تمدن میں بہت ترقی ہوئی اس کے باوجود آج بھی دریا اور سمندر انسانی غذا کا ایک اہم منبع ہیں ہر سال لاکھوں ٹن گوشت جسے لطف پر وردگار کے دستِ مبارک نے انسانوں کے لئے پالا ہے دریا اور سمندر سے حاصل کیا جاتا ہے ۔
اس وقت جب انسان زمین پر بڑھتی ہوئی آبادی کو دیکھ کر اور ابتدائی مطالعہ کے بعد بعض لو گ آئندہ غذ کی کمی ہو جانے کا احساس کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ غذا میں آئندہ کی یہ متوقع کمی ڈراتی ہے لیکن سائنس دانوں کی توجہ دریاؤں اور سمندروں کی طرف ہے انھوں نے ان کی طرف چشم امید لگائی رکھی ہے ان کا خیال ہے کہ مختلف النوع مچھلیاں پال کر اور ان کی نسل کو بڑھا کر اس کمی کو بہت حد تک پورا کیا جاسکتا ہے دوسری طرف سائنس دانوں نے دریاؤں کے پانی کو آلودگی سے اور مچھلیوں کی نسل کی تباہی سے بچا نے کے لئے قوانین اور طریقے بھی وضع کیے ہیں ان کے مجموعی مطالعے سے قرآن کے مذکورہ جملے کی اہمیت زیادہ واضح ہوجاتی ہے جو کہ چودہ سوسال پہلے نازل ہوا ہے ۔
سمندروں سے ملنے والی چیزوں میں سے زینت اور بناؤ سنگار کے کام آنے والی چیزین بھی ہیں لہٰذا قرآن مزید کہتا ہے تاکہ اس سے پہننے کے لئے زینت کی چیزیں نکال سکو( وَتَسْتَخْرِجُوا مِنْهُ حِلْیَةً تَلْبَسُونَهَا ) ۔
انسان چوپایوں کی طر ح ذوق سے محروم نہیں بلکہ روحِ انسانی کے چار مشہور پہلو ہیں ان میں سے ایک جمالیاتی حس ہے یہی ذوق حقیقی شعر اور ہنر کی تخلیق کا سر چشمہ ہے ۔
اس میں شک نہیں کہ انسان کا روحانی پہلو بشری زندگی میں بہت مؤثر ہے لہٰذا صحیح طریقے سے ، افراد و تفریط سے بچتے ہوئے اس پہلو کی ضروریات بھی پوری کرنی چاہییں ۔
جو لوگ جمال پرستی اور زینتوں اور لذتوں میں غرق ہیں وہ اسی طرح گمراہ ہیں جیسے وہ خشک افراد کہ جو ہر قسم کی زینت کے مخالف ہیں ان میں سے ایک گروہ افراد میں مبتلا ہے اوردوسرا تفریط میں ۔ ایک گروہ سرمایے کو ضائع کرنے ، طبقاتی فاصلے پیدا کرنے اور معنویات کو قتل کرنے کا باعث ہے جبکہ دوسرا جمود اور ٹھہراؤکا باعث ہے ۔
اسی بناء پر اسلام میں معقول طریقے سے اور فضول خرچی سے بچتے ہوئے زیب و زینت سے استفادہ کی اجازت دی گئی ہے مثلاًاچھے لباس پہننے ، مختلف قسم کے عطر استعمال کرنے بعض قیمتی پتھروں سے استفادہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے خصوصاً عورتوں کے لئے چونکہ وہ زیب و زینت کی طرف فطری طور پر زیادہ رغبت رکھتی ہیں لیکن ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ فضول خرچی سے خالی ہونا چاہئیے ۔
آخر میں تیسری دریائی نعمت کا ذکر ہے اور وہ ہے اس میں کشتیوں کا چلنا جوکہ انسان اور اس کی ضروریات کی نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہیں ۔ فرمایا گیا ہے : کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ وہ سمندر کا سینہ چیرتی ہیں( وَتَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَ فِیهِ ) ۔
کشتی پر بیٹھے ہوئے لوگ جب صفہ سمندر پر چل رہے ہوتے ہیں تو یہ منظر کس قدر قابل ِ دید ہوتا ہے ” خدا نے یہ نعمت تمہیں بخشی ہے تاکہ اس سے فائدہ اٹھاؤ اور راہِ تجارت میں اس کے فضل و کرم سے استفادہ کرو( وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ ) ۔(۱)
ان سب نعمتوں کی طر ف متوجہ ہونے سے تم میں احساس ذمہ داری پیدا ہوتو ”شاید اس کی نعمتوں کا شکر بجالاؤ“( وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ ) ۔
لفظ ”فلک “کشتی کے معنی میں ہے مفرد اور جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتاہے ۔
”مواخر“ ”ماخرة“ کی جمع ہے اس کامادہ ”مخر“ ہے جو پانی کو دائیں بائیں سے چیر نے کے معنی میں ہے کشتیاں چونکہ چلتے وقت پانی کا سینیہ چیرتی ہیں اس لئے انھیں ”ماخر“یا ماخرة“ کہتے ہیں ۔
اصولاً و ہ کون ہے جس نے اس مادہ میں یہ خاصیت رکھی ہے جس سے کشتی بنائی جاتی ہے کہ وہ پانی کے اوپر ٹھہر سکے اگر ہر چیز پانی سے زیادہ بھاری ہوتی اور پانی کا مخصوص دباؤ بھی نہ ہوتا تو ہم سمندر کے بیکراں صفحے پر کبھی بھی نہیں چل سکتے تھے نیز وہ کون ہے جو سمندروں کی سطح پر منظم ہواؤں کی چلاتا ہے اور وہ کون ہے جس نے بخارا ت میں یہ طاقت پیدا کی ہے کہ ان سے ہم سمندر پر انجن والی کشتیاں چلا سکیں ؟ کیا ان میں سے ہر ایک عظیم نعمت نہیں ہے ۔
سمندری راستے خشکی کی سڑکوں اور شاہراہوں کی نسبت بہت وسیع ، بہت کم خرچ اور زیادہ مہیا ہوتے ہیں ۔ بعض دیو قامت بحری جہاز شہروں کی طرح وسیع ہوتے ہیں اور اس طرح انسانوں کو حمل و نقل کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہاتھ آیاہے ہم اس طرف توجہ کریں تو کشتی رانی کے لئے سمندروں کی نعمت کی عظمت زیادہ واضح ہو جاتی ہے ۔
سمندروں اور دریاؤں کے نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد قرآن سخت اور مضبوط پہاڑوں کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے : زمین میں محکم اور مضبوط پہاڑ پہاڑ دئیے گئے ہیں تاکہ اسے لرز نے اور حرکت کرنے سے بچا یاجائے اور تم اس پر آرام و اطمینان سے رہ سکو( وَاٴَلْقَی فِی الْاٴَرْضِ رَوَاسِیَ اٴَنْ تَمِیدَ بِکُمْ ) ۔(۲)
ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ پہاڑوں کی بنیادیں اور جڑیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور باہم وابستہ اور پیوستہ ہیں اور زرہ کی طرح زمین کو اپنے اندر لئے ہوئے ہیں یہ چیز اندرونی گیس کے سبب ہ رلمحہ ممکن ہے سر زنش سے زمین کو بہت حد تک بچائے ہوئے ہے ۔ علاوہ ازیں پہاڑوں کی خاص وضع پانی کے مد جزر کے مقابلے میں زمین کی جلد کی قوت ِ مدافعت کو بڑھاتی ہے ور اس پر پانی کے مدجزر کے اثر کو بہت کم کر دیتی ہے اسی طرح پہاڑ زمین پر آنے والے شدید طوفان کو قوت اور ہواؤں کی حرکت کو کم کردیتے ہیں کیونکہ اگر پہاڑا نہ ہوتے تو زمین کی ہموار سطح تیز آندھیوں اور طوفان کی زد میں رہتی اور اس حالت میں اس کے لئے سکون ممکن نہ تھا ۔
نیز پہاڑ چونکہ اصل خزانوں میں سے ہیں ( برف کی صورت میں یا اندرونی طور پر ان میں پانی ہوتا ہے ) لہٰذا ان کے ساتھ ہیں فوراً دریاؤں اور نہروں کی نعمت کا ذکر کیا گیا ہے ، فرمایا گیا ہے : اور تمہارے لئے دریااور نہریں پیدا کی گئی ہیں( وَاٴَنْهَارًا ) ۔
ممکن تھا کہ پہاڑوں کی وجود سے یہ تو ہم پیدا ہوتا کہ وہ زمین کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیتے ہیں اور راستوں کو بند کردیتے ہیں لہٰذا مزید فرمایا گیا ہے اور تمہارے لئے راستے بنائے گئے ہیں تاکہ تم ہدایت پاؤ( وَسُبُلاً لَّعَلَّکُمْ تَهْتَدُونَ ) ۔(۳)
یہ مسئلہ قابل توجہ ہے کہ دینا میں پہاڑوں کے بڑے بڑے سلسلوں میں کٹاؤ موجود ہے جس سے انسان ان کے درمیان سے اپنا راستہ بنالیتا ہے اور بہت کم ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ پہاڑزمین کے حصوں کو بالکل ہی ایک دوسرے سے الگ کردیں ۔
راستہ چونکہ نشانی اور علامت اورراہنما کے بغیر انسان کو مقصد تک نہیں پہنچا تالہٰذا راستے کی نعمت کا ذکر کرنے کے بعد ان نشانیوں اور علامتوں کا ذکر کیا گیا ہے فرمایا گیا ہے : اور علامتیں قرار دی گئی ہیں( وَعَلاَمَاتٍ ) ۔
یہ علامتیں مختلف قسم کی ہیں پہاڑوں کی شکل و صورت ، درے اور ان کا ایک دوسرے سے کٹا ؤ اور علیحدگی ، زمین کا نشیب و فراز ، مختلف رنگ کی مٹی، پہاڑوں کے مختلف رنگ یہاں تک کہ ہر ایک میں چلنے والی ہواؤں کی کیفیت راستے تلاش کرنے کے لئے علامتیں ہیں ۔
ہمیں معلوم ہے کہ یہ علامتیں مسافروں کے لئے کس قدر مدد گار ہیں یہ انھیں منزل سے دور ہو جانے اور کھو جانے سے بچاتی ہیں بعض بیا بان ایک ہی طرز کے ہوتے ہیں انھیں عبور کرنا بہت زیادہ مشکل اور خطر ناک ہے ایسے ایسے بیابان ہیں کہ کتنے ہی لوگ ان میں گئے ہیں اور پھر پلٹ کر نہیں آئے ۔غور کیجئے کہ اگر اسی طرح ساری زمین ایک ہی طرز اور کیفیت کی ہوتی، پہاڑ ایک جیسے ہوتے ۔ سب دشت و بیابان ایک ہی رنگ کے ہوتے اور درے ایک دوسرے سے مشابہ ہوتے تو کیاپھر انسان آسانی سے اپنے راستے معلوم سکتے ؟
بعض اوقات انسان تاریک راتوں میں بیابانوں میں سفر کر تا ہے یا رات کو وسط ِ سمندر میں سفرکرتا ہے اور اس کے لئے ایسی کوئی علامات نہیں ہوتیں ایسے کوئی علامات نہیں ہوتیں ایسے میں اللہ تعالیٰ آسمانی علامتوں کو مدد کے لئے بھیجتا ہے تاکہ اگر زمین میں کوئی علامت نہیں ہے تو مسافر آسمانی علامت سے استفادہ کریں اور بھٹک نہ جائیں لہٰذا مزید فرمایا گیا ہے اور ستاروں کے ذریعے لوگوں کی راہنمائی کی جاسکتی ہے( وَبِالنَّجْمِ هُمْ یَهْتَدُونَ ) ۔
البتہ یہ ستاروں کے فوائد میں سے ایک کا ذکر ہے ورنہ ان کے بہت سے فوائد ہیں تاہم اگر ان کا صرف یہی فائد ہ ہوتا تو بھی اہم تھا اگر چہ اب تو کشتیاں قطب نما کی مدد سے تیار کردہ نقشوں کے مطابق اپنا راستہ معین کرلیتی ہیں لیکن قطب نما کی ایجاد سے پہلے تو سمندروں میں ستاروں کی مدد کے بغیر چلنا ممکن ہی نہ تھا یہی وجہ ہے کہ رات کو جب بادل آسمان پر چھا ئے ہوتے تھے کشتیاں رک جاتی تھیں اور اگر وہ ایسے میں چلتی رہتیں تو انھیں موت کا خطرہ در پیش رہتا ۔
البتہ ہم جانتے ہیں کہ جو ستارے آسمان میں ہمیں اپنی جگہ بدلتے نظر آتے ہیں وہ پانچ سے زیادہ نہیں ہیں گویا یا یہ سیاہ کپڑے کو افق کی ایک طرف سے کھینچ کر دوسری طرف لے جاتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ثوابت کی حرکت مجموعی ہے لیکن سیاروں کی حرکت انفرادی ہے اور دیگر ستاروں سے ان کا راستہ تبدیل ہوتا رہتا ہے ۔ علاوہ ازیں ثابت ستاروں کی مختلف شکلیں ہیں جو ” اشکال ِ فلکی “کے نام سے مشہور ہیں اور چاروں سمتیں ( مشرق، مغرب شمال ، جنوب ) معلوم کرنے کے لئے ان شکلوں کی پہچان بہت مفید ہے ۔
پر وردگار کی ان عظیم نعتوں اور پوشیدہ الطاف کا ذکر کرنے کے بعد قرآن انسانی وجدان کو فیصلے کی دعوت دیتا ہے کیا پیدا کرنے والا اس کی طرح جو پیدا نہیں کرتا ، کیا تم خیال نہیں کرتے( اٴَفَمَنْ یَخْلُقُ کَمَنْ لاَیَخْلُقُ اٴَفَلاَتَذَکَّرُونَ ) ۔
یہ تربیت کا ایک مؤثر طریقہ ہے ۔ قرآن نے اس سے بہت سے مواقع پر استفادہ کیا ہے ۔قرآن سوالیہ طریقے سے مسائل پیش کر دیتا ہے اور ان کا جواب ان پر چھوڑدیتا ہے جن کا وجدان بیدا ہے ۔ قرآن اس طریقے سے لوگوں کے احساس کو ابھارتا ہے تاکہ جو اب ان کی روح کے اندر سے اٹھے اور پھر وہ اسے قبول کرلیں اور ا س جواب سے اس طرح محبت کریں جیسے وہ اپنے وجود سے پیدا ہونے والی اولاد سے کرتے ہیں ۔
اصول طور پر علم نفسیات کی رو سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ صحیح تعلیم و تربیت کے لئے زیادہ سے زیادہ کوشش کی جانا چالئیے اس طرح کی جسے تعلیم دی جارہی ہو وہ مطالب نکلیں اسے یہ احساس نہ ہوکہ یہ کوئی ایسی چیز ہے جو باہر سے اس پر ڈالی گئی ہے ، مقصد یہ ہے کہ وہ ان مطالب کو اپنے پورے وجود کے ساتھ قبول کرے اور ان کا دفاع بھی کرے ۔
اس نکتے کا تکرار بھی ضروری ہے کہ وہ مشرکین جو مختلف بتوں کے سامنے ریزہ ہوتے ہیں ان کا کبھی یہ عقیدہ نہیں ہوتا کہ بت پیدا کرتے ہیں اور وہ خالق ہیں بلکہ وہ بھی خلقت کو اللہ کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں ۔ اسی لئے قرآن کہتا ہے : کیا ان نعمتوں کے خالق کے سامنے سجدہ کرنا چاہئیے یا ان کے سامنے جو ایک ناچیز مخلوق سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے اور جنھوں نے کبھی کسی چیز کو خلق نہیں کیا اور نہ وہ خلق کرسکتے ہیں ۔
آخر میں اس بناء پر کہیں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ نعمت ِ الہٰی انہی چیزوں پر منحصر ہے ، قرآن کہتا ہے : اور اگر خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو یہ تمہارے بس میں نہیں( وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللهِ لاَتُحْصُوهَا ) ۔
سر تا پا تمہارا وجود اس کی نعمتوں میں مستغرق ہے ہر سانس جو اندر اور باہر آتا ہے یہی دو نعمتیں نہیں ۔ لمحہ بھرمیں ہزاروں نعمتیں ہیں اور ہر نعمت پر ایک شکر واجب ہے ہماری عمر کے گذرنے والے ہرلمحے کے لئے ہمارے بدن کے اندر اور باہر لاکھوں زندہ اور بے جان موجود کام کرتے ہیں جن کی فعالیت کے بغیر لحظہ بھر کی زندگی ممکن نہیں ۔
اصولا ً ہم تمام نعمتوں سے آگاہ نہیں ۔انسانی علم و دانش کا دامن جتنا پھیلتا رجارہا ہے ان نعمتوں کے نئے افق ہم پر کھلتے جارہے ہیں ایسے افق کہ جو بے کنارہیں کیا ان حالات میں ہم خدا کی نعمتیں شمار کرسکتے ہیں ؟
اس وقت سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ہم کس طرح اس کے شکر کا حق ادا کرسکتے ہیں اس حالت میں کیا ہم ناشکروں کے زمرے میں نہیں آئیں گے ؟اس سوال کا جواب قرآن اس آیت کے آخری جملے میں دیتاہے ، کہتا ہے : خدا غفور و رحیم ہے ۔( إِنَّ اللهَ لَغَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔
جی ہاں ! اللہ اس سے زیادہ مہر بان اوربزرگوار ہے کہ اپنی نعمتوں پر شکر کی طاقت نہ ہونے پر تمہارا مواخذہ کرے اگر تم یہ جان لو کہ تم سرتا پا اس کی نعمت میں غرق ہواور اس کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہو اور اپنا عذر کوتاہی اس کی بار گاہ میں پیش کرو تو تم نے اس کا بہت شکر ادا کیا ہے ور نہ وہ شکر کہ جو اس کی خدا وندی کے لائق ہے کوئی ادا نہیں کر سکتا لیکن یہ سب کچھ اس میں مانع نہیں کہ کہ ہم مقدور بھر اس کی نعمتوں کو شمار کریں کیونکہ جس قدر جہاں بینی اور جہانشاسی میں اضافہ ہوتا جائے گا معرفت الہٰی میں بھی اضافہ ہوگا اور عشقِ الہٰی کانور بھی دل میں زیادہ ضیا پاش ہو گا ۔ اس کی نعمتوں پر غور ہمارے احساس گذاری کو بھی متحرک کرتا ہے اسی لئے دیانِ دین اپنے ارشادات میں بلکہ اپنی دعاؤں اور مناجاتوں میں بھی اس کی کچھ بے پایا ں نعمتوں کو بیان کیا کرتے تھے تاکہ دوسروں کے لئے سبق ہو ۔
شکر نعمت کے بارے میں اور اس بارے میں کہ انسان پر وردگار کی نعمتوں کا شمار نہیں کرسکتا ہم سورہ ابراہیم کی آیہ ۳۴ کے ذیل میں بحث کرچکے ہیں ۔
____________________
۱۔”ولِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ “واؤ عطف کے ساتھ آیا ہے اس کا کوئی معطوف علیہ ہو ناچاہئیے قاعدہ مقدر ہے اور اس کی تقدیر یہ ہے ”لتنفعوا بها ولتبتغوا من فضله “تم دیکھتے ہوئے کشتیاں پانی کا سینہ چیر تی ہیں تاکہ تم اس سے مختلف فائدے اٹھاسکو اور تجارت کے لئے اس سے بہرہ ور ہو سکو ۔
۲۔”ان تمید بکم“ تقدیر تقدیر میں یوں تھا ”لئلا تعید بکم “ یا”کراهة ان تمید بکم “تاکہ و ہ تمہیں بلا وجہ نہ ے یا تمہیں حرکت دینے کو ناپند کرتے ہوئے ) ۔
۳۔بہر حال مندرجہ بالا آیت قرآن مجید کے عملی معجزات میں سے ہے ۔ یہ بات کم ازکم اس زمانے میں لوگوں پر ابھی منکشف نہیں ہوئی تھی ۔ اس سلسلے میں مزید تفصیل کے لئے ہماری کتاب ۔ ”قرآن و آکرین پیامبر “ دیکھئے ۔
نکتہ
راہ ،نشانی اور رہبر
مندرجہ بالا آیات میں اگر چہ زمین کے راستوں کا ذکر ایک نعمت الہٰی کے طور پر آیاہے کیونکہ راستے تمدن انسانی کی ترقی کا ذریعہ ہیں ۔ اسی لئے ترقی کاموں میں سب سے پہلے مناسب راستہ بنانے کی فکر کی جاتی ہے کیونکہ اس کے بغیر کسی قسم کی آبادکاری اور انسانی فعالیت ممکن نہیں ۔
بہر حال ہوسکتا ہے کہ اس سلسلے میں قرآن کا بیان انسان کی روحانی اور معنوی زندگی کے لئے نمونے کے طور ہو کیونکہ ہر مقدس ہدف تک پہنچنے کے لئے سب سے پہلے صحیح راستے کا انتخاب ضروری ہے تیر راستے کے علاوہ علامات اور نشانیوں کا وجود بھی زندگی کے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ایک دوسرے سے مشابہ راستے بہت ہیں اور ان میں سے اصلی راستہ بھول جانا بہت ممکن ہے ۔ایسے مواقع پر ” علامات“ کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔
خصوصاً وہ مومنین جنہیں قرآن نے ”متوسمین “ (ہوشیار) کہا ہے انھیں چاہیئے کہ ان نشانیوں کے حوالے سے پہچانیں اور حق کی نشانیوں کو دیکھ کر اسے باطل سے جدا طور پر پہچانیں ۔
اسی طرح رہبر و رہنما کا مسئلہ بھی محتاج وضاحت نہیں ۔
یہ بات جاذب نظر ہے کہ آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی بہت سی روایات میں ” نجم “ سے رسول اللہ اور ”علامات“ سے آئمہ مراد لی گئی ہے ۔ بعض روایات میں ” نجم“ اور” علامات“دونوں سے آئمہ اور ہادیانِ راہِ حق مراد لی گئی ہے ہم یہاں ان میں سے چند ایک احادیث کی طرف اشارہ ہے کرتے ہیں :
۱ ۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے ، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا:
النجم رسول الله و العلامات الائمة علیهم السلام
ستارہ رسول اللہ کی طرف اور علامات آئمہ علیہم السلام کی طرف اشارہ ہے ۔(۱) ۔
بعینہ یہی مضمون امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے بھی نقل ہوا ہے ۔
۲ ۔ ایک اور حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں فرمایا:۔
نحن النجم
ہم ستارے ہیں ۔(۲)
۳ ۔ ایک اور حدیث میں امام علی بن موسی ٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ رسول اللہ نے حضرت علی (علیہ السلام) سے فرمایا:انت نجم بنی هاشم
تم بنی ہاشم کا ستارہ ہو ۔(۳) ۔
ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ نے حضرت علی (علیہ السلام) سے فرمایا:انت احد العلامات
علامات میں سے ایک تم ہو ۔
یہ سب روایات مندرجہ بالا آیات کی معنوی تفسیر کی طرف اشارہ ہیں ۔
____________________
۱۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۴۵۔
۲۔ ( تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۴۵(۔
۳۔۔تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۴۵۔
آیات ۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،
۱۹ ۔( وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ )
۲۰ ۔( وَالَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لاَیَخْلُقُونَ شَیْئًا وَهُمْ یُخْلَقُونَ ) ۔
۲۱ ۔( اٴَمْوَاتٌ غَیْرُ اٴَحْیَاءٍ وَمَا یَشْعُرُونَ اٴَیَّانَ یُبْعَثُونَ ) ۔
۲۲( إِلَهُکُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَالَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ مُنکِرَةٌ وَهُمْ مُسْتَکْبِرُونَ ) ۔
۲۳ ۔( لاَجَرَمَ اٴَنَّ اللهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ إِنَّهُ لاَیُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِینَ ) ۔
ترجمہ
۱۹ ۔ جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم اعلانیہ کرتے ہو اللہ سب کو جانتا ہے ۔
۲۰ ۔خد اکے علاوہ وہ جن معبودوں کو پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو خلق نہیں کرسکتے بلکہ وہ تو خود مخلوق ہیں ۔
۲۱ ۔ وہ بے جان موجودات ہیں جن میں زندگی کی کوئی رمق نہیں اور انھیں معلوم نہیں کہ ان کی عبادت کرنے والے کب محشور ہوں گے ۔
۲۲ ۔تمہارا معبود خدائے یکتا ہے لیکن جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل حق کا انکار کرتے ہیں اور وہ بڑے بن بیٹھے ہیں ۔
۲۳ ۔جسے وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں یقینا خدا اس سب سے باخبر ہے ۔ اور وہ مستکبرین کو پسند نہیں کرتا ۔
مردہ اور بے شعور معبود
تفسیر
جن معبودوں کو وہ پکار تے ہیں وه مرده ہیں اور شعور نهیں رکهتے
گذشتہ آیات میں خدا کی ان دونہایت اہم صفات کی طرف اشارہ تھا جن میں سے کوئی بھی بتوں اور تراشے ہوئے معبودوں میں نہیں تھی یعنی موجودات کا خالق ہونا اور نعمتیں عطا کرنا ۔
زیر نظر پہلی آیت میں معبود حقیقی کی تیسری صفت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہے علم اور دانائی ۔ ارشاد ہوتا ہے: جسے تم پنہاں رکھتے ہو اور جسے تم آشکار کرتے ہو خدا سب کو جانتا ہے ( وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُونَ) ۔پھر تم پھر بتوں کے پیچھے کیوں جاتے ہو کہ جن کا کائنات کی خالقیت میں ذرہ برابر بھی حصہ نہیں ۔ نہ جنہوں نے تمہیں کوئی چھوٹی سی چھوتی نعمت بخشی ہے اور نہ جو تمہارے پوشیدہ اسرار اور ظاہری اعمال کو جانتے ہیں یہ کیسے معبود ہیں کہ جن میں ضرورت کی ایک بھی صفت نہیں ۔
اس کے بعد قرآن دوبارہ مسئلہ خالقیت کی طرف لوٹتا ہے لیکن اس کے مشابہ آنے والی پہلی آیت سے بات کچھ آگے کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : جن معبودوں کو وہ پکار تے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ کوئی چیز خلق نہیں کرتے بلکہ خود بھی مخلوق ہیں ۔( وَالَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لاَیَخْلُقُونَ شَیْئًا وَهُمْ یُخْلَقُونَ ) ۔
اب تک تو بحث اس بارے میں تھی کہ وہ خالق نہیں ہیں لہٰذا لائق عبادت نہیں ہوسکتے اب فرمایا گیا ہے کہ وہ تو خود مخلوق ہیں ، نیاز مند ہیں ۔ اور اس صورت میں وہ انسانوں کا سہارا کیسے ہوسکتے ہیں ۔ کس طرح ان کی مشکل کشائی کرسکتے ہیں ؟یہ کیسا احمقانہ فیصلہ ہے ۔
علاوہ ازین وہ تو ” مردہ “ ہیں ۔ انھوں نے زندگی کی بو تک نہیں سونگی اور نہ ا س کی استعدا د رکھتے ہیں “( اٴَمْوَاتٌ غَیْرُ اٴَحْیَاءٍ ) ۔
کیا معبود کو موجود زندہ بھی نہیں ہو نا چاہئیے کہ جو اپنے عبادت کرنے والوں کی نیاز ، حاجت اور عبادت سے با خبر ہو ۔ لہٰذا معبود حقیقی کی چوتھی صفت یعنی ”حیات“ بھی ان میں بالکل نہیں ہے ۔
اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے : یہ بت بالکل نہیں جانتے کہ ان کی عبادت کرنے والے کس وقت اور کس زمانے میں مبعوث ہوں گے( وَمَا یَشْعُرُونَ اٴَیَّانَ یُبْعَثُونَ ) ۔
ثواب اور جزا ان کے ہاتھ میں ہوتی تو انھیں کم از کم اپنے عبادت گزاروں کے پھر سے جی اٹھنے کا تو پتہ ہوتا ہے ۔ اس جہالت کے ہوتے ہوئے ہو کس طرح لائق عبا دت ہو سکتے ہیں یہ پانچویں صفت ہے جو معبود حقیقی میں ہونا چاہئیے جبکہ وہ اس سے محروم ہیں ۔(۱) ۔
مشرکین اور ان کے بت دونوں ہی جہنم میں ہوں گے ۔
لیکن واضح ہے کہ اگر یہ مراد ہو تو پہلے اور بعد کی آیات میں مناسب ربط نہیں ہوگا لہٰذا صحیح تفسیر وہی ہے جو ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں ( غور کیجئے گا ) ۔
اب تک ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہی کہ بت اور بت پرستی کا قرآن کی منطق میں وسیع مفہوم ہے ہر موجود یا ہر شخص جسے ہم خداکے بدلے سہارا قرار دے لیں اور اپنی تقدیر اس کے ہاتھ میں سمجھیں وہ ہمارا بت شمار ہو گا لہٰذا جو کچھ مندرجہ بالا آیات میں آیا ہے وہ ان لوگوں کے بارے میں بھی ہے جو ظاہراً بت پرست نہیں ہے لیکن ایک سچے مومن کا سا استقلال نہیں رکھتے وہ وہ جو کمزور بندوں کو اپنا سہارا بنائے ہیں اور آزادی کی بجائے واسبتگی اور دوسروں پر انحصار کی زندگی گزارتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ عالمی سوپر طاقتیں مشکلات میں ان سہارا بن سکتی ہیں جبکہ یہ طاقتیں جہنمی اور خدا سے بیگانہ ہیں ایسے لوگ بھی عملی طور بت پرست اور مشرک ہیں اور ہمیں ان سے کہنا چاہئیے کہ کیا تمہارے ان معبودوں نے کوئی چیز خلق کی ہے کیا وہ کسی نعمت کا سر چشمہ ہیں ؟ کیا یہ تمہارے اندرونی اسرار سے آگاہ ہیں ۔
کیا وہ جانتے ہیں کہ تم کب اپنی قبروں سے اٹھوگے کہ تمہیں تمہاری جزا یا سزا دے سکیں ۔ پس کیوں ان کی بتوں کی سی پرستش کرتے ہو ۔
بتوں کی صلاحیت کی نفی پر ان واضح دلائل کے بعد نتیجہ اخذ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : تمہارا الہ الہ واحدی ہے( إِلَهُکُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ ) ۔
مبداء ومعاد چونکہ ہر جگہ ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں لہٰذا بلافاصلہ مزید فرمایا گیا ہے وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور فطرتامبداء کے بارے میں بھی ٹھیک ایمان نہیں رکھتے ۔ ( ان کے دل حقیقت کے منکر ہیں اور وہ حق کے مقابلے میں مستکبر بنے ہوئے ہیں( فَالَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ مُنکِرَةٌ وَهُمْ مُسْتَکْبِرُونَ ) ۔(۲) ۔
ورنہ توحید کے دلائل تو متلاشیان ِ حق کے لئے اور حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والوں کے لئے آشکار ہیں ۔ ایس طرح معاد کے دلائل بھی واضح ہیں ۔ اسکبار اور تکبر اور حق کے سامنے سر نہ جھکانے کے سبب وہ ہمیشہ انکار ہی کرتے ہیں یہاں تک کہ حسی حقائق کے بھی منکر ہو جاتے ہیں ۔
یہاں تک کہ ان کا یہ طرز عمل ان میں رچ بس جاتا ہے اور اس کے عادت کے ہوتے ہوئے حق کی کوئی بات اور دلیل و منطق ان پر اثر انداز نہیں ہوتی۔
بت ، پرستش کے لائق نہیں اس سلسلے میں گذشتہ آیات میں جو زندہ دلائل گزر چکے ہیں کیا وہ کافی نہیں کہ ہر ذی شعورتصدیق کر ے کہ بت لائق عبادت نہیں لیکن انتہائی تعجب کی بات ہے کہ ہم دیکھتے ہیں یہ لوگ پھر بھی حقیقت قبول نہیں کرتے ۔
زیر بحث آخری آیت میں ہم پھر دیکھتے ہیں ۔ غیب و شہوداور پنہا ں و آشکار پر خدا کی آگاہی کا ذکر کیا گیا ہے ۔ فرمایا گیاہے : جسے تم پنہاں رکھتے ہو اور جسے تم آشکار کرتے ہو یقینا خدا اس سے باخبر ہے( لاَجَرَمَ اٴَنَّ اللهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّونَ وَمَا یُعْلِنُونَ ) ۔
یہ جملہ در حقیقت کفار اور دشمنان حق کے لئے ایک دھمکی ہے کہ خدا تمہاری حالت سے ہر گز غافل نہیں ہے وہ نہ صرف ان کے ظاہر کو جانتا ہے بلکہ ان کے باطن سے بھی آگاہ ہے اور موقع آنے پر ان سے حساب لے گا ۔
وہ مستکبر ہیں اور ” خدا مستکبرین کوپسند نہیں کرتا“( إِنَّهُ لاَیُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِینَ ) ۔کیونکہ حق کے سامنے استکبار اور تکبر خدا سے بیگانگی کی پہلی دلیل ہے ۔
لفظ ”لا جرم “ ” لا“ اور ” جرم “ کا مرکب ہے یہ لفظ عام طور پر تاکید کے لئے اور قطعاً اور یقینا کے معنی میں آتا ہے اور کبھی ”لابد“ ( ناچار) کے معنی میں آتا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات قسم کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ مثلاً ہم کہتے ہیں :( لاجرم لافعلن )
میں قسم کھاتا ہوں کہ کام کروں گا ۔
رہا یہ سوال کہ ”لاجرم“ سے یہ معانی کیسے معلوم ہوئے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ”جرم“ در اصل درخت سے پھل چننے اور توڑنے کے معنی میں ہے اور جب اس کے شروع میں ” لا“ لگادیا جائے تو اس کا مفہوم یہ ہو جاتا ہے کہ کوئی چیز اسے توڑ اور کاٹ نہیں سکتی اس طرح اس سے مسلماً ، ناچار اور کبھی قسم کا مفہوم حاصل ہو جاتا ہے ۔
____________________
۱۔ ”اٴَمْوَاتٌ غَیْرُ اٴَحْیَاؤَمَا یَشْعُرُونَ اٴَیَّانَ یُبْعَثُونَ “اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے دیگر احتمالات بھی ذکر کئے ہیں ان میں سے ایک کے مطابق یہاں مراد یہ ہے کہ بت نہیں جانتے کہ وہ کب مبعوث ہو ں گے اس سلسلے میں مفسرین نے بعض آیات سے شواہد بھی پیش کئے ہیں ۔ سورہ انبیاء کی آیت ۶۸ میں خدا فرماتا ہے :
۲۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ”فَالَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ “میں فاء تفریع کے لئے ہے ۔ قیامت ومبعوث ہونے کا انکار مبداء کے انکار کی وجہ سے ہے اور ان سر چشمہ استکبار ہے ۔
مستکبر کون ہیں ؟
قرآن مجید کی چند آیات میں ”استکبار “ کفار کی ایک خاص صفت کے عنوان سے استعمال ہوا ہے ان سب آیاتسے معلوم ہوتا ہے کہاس سے مراد ”تکبر “ کرتے ہوئے حق کو قبول نہ کرنا ہے ۔ سورہ نوح کی آیہ ۷ میں ہے :
( وانی کلما دعوتهم لتغفر لهم جعلوا اصابعهم فی اذانهم و استغثوا ثیابهم و اصبّروا و استکبروا استکباراً )
میں اپنے میں سے اس بے ایمان گروہ جو دعوت دیتا ہوں تاکہ تیری عفو و بخشش ان کے شامل حال ہو تو اس دعوت پر وہ کانو ں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں اور اپنے آپ کو اپنے لباس کے نیچے چھپالتے ہیں اور گمراہی پر اصرار کرتے ہیں اور حق کے سامنے استکبار کرتے ہیں ۔
نیز سورہ منافقین کی آیہ ۵ میں ہے :
( واذا قیل لهم تعالوا یستغفر لکم رسول الله لوّوا راء وسهم ورایتهم یصدون وهم مستکبرون ) ۔
اور جب ان سے کہو کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لئے بخشش و مغفرت طلب کرے تو وہ نافرمانی کرتے ہیں اور تم دیکھو گے کہ وہ لوگوں کو راہ حق سے روکتے ہیں اور استکبار کرتے ہیں ۔
اور سورہ جاثیہ کی آیت ۸ میں اسی گروہ کے بارے میں ہے :( یسمع اٰیات الله تتلیٰ علیه ثم یصرمستکبراً کان هم یسمعها )
اللہ کی آیات انھیں سنائی جاتی ہیں وہ سنتے ہیں لیکن اس کے باوجود کفر پر اس طرح سے اصرار کرتے ہیں گویا انھوں نے یہ آیت سی ہی نہیں ۔
در حقیقت بد ترین استکبار یہی ہے کہ حق کو قبول کرنے کی بجائے تکبر کیا جائے کیونکہ ہدایت کے تمام راستے انسان کے سامنے بند کردیتا ہے اور وہ ساری عمر بد بختی ، گناہ اور بے ایمانی میں بھٹکتا رہتا ہے ۔
نہج البلاغہ کے خطبہ قاصعہ میں حضرت علی علیہ السلام نے صراحت سے شیطان کو ” سلف المستکبرین “( تکبر کرنے والوں کا سر براہ )قرار دیا ہے کیونکہ اسنے پہلا قدم ہی اٹھا یا کہ حق کی مخالفت کی اور اس حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کردیا کہ آدم اس سے زیادہ کامل ہیں اسی طرح وہ تمام افراد جو حق کو قبول کرنے سے منہ پھیر لیتے ہیں مالی طور پر تہی دست ہو یا دولتمند وہ مستکبر ہیں لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اکثر اوقات زیادہ مالی طاقت ہی کے سبب انسان حق کو قبول کرنے سے رو گردانی کرتا ہے ۔
روضة الکافی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا:
و من ذهب یری ان له علی الاٰخرة فضلا فهو من المستکبرین ، فقلت انما یری ان له علیه فضلا بالعافیة اذا راٰه مرتکباً للمعاصی ؟هیهات هیهات ! فعله ان یکون قد غفرله مااتی، و انت موقوف تحاسب، اما تلوت قصة سحرة موسیٰ (ع)
جو شخص دوسرے پر بر تری اور امتیاز کا قائل ہووہ مستکبر ین میں سے ہے ۔
راوی کہتا ہے : میں نے امام سے پوچھا کیا اس میں کوئی حرج ہے کہ انسان کسی کو گناہ میں مشغول دیکھے اور خود اس نے چونکہ گناہ کا ارتکاب نہیں کیا لہٰذا اس پر اپنی بر تری اور امتیاز سمجھے؟
امام نے فرمایا :
تونے اشتباہ اور غلطی کی ہے ہوسکتا ہے کہ خدا بعد ازاں اس کا گناہ بخش دے اور تجھے حساب کے لئے کھڑا رکھے ۔ کیا تونے قرآن میں زمانہِ موسیٰ کے جادو گروں کا قصہ نہیں پڑھا ( کہ وہ فرعون کے انعام و اکرام کی خاطر اور اس کے دربار میں تقرب حاصل کرنے کے لئے ، اللہ کے ایک اولوالعزم پیغمبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے لئے تیار ہو گئے ۔ لیکن جو نہی انھوں نے حق کا چہر ہ دیکھا فوراً اپنا راستہ بدل لیا یہاں تک کہ فرعون کی طر ف سے قتل کی دھمکیاں سن کر بھی وہ ڈتے رہے اور خدا تعالیٰ نے انھیں اپنی عفو و بخشش اور رحمت و مہر بانی سے نوازا)(۱) ۔
____________________
۱۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۴۸۔
آیات ۲۴،۲۵،۲۶،۲۷،۲۸،۲۹
۲۴ ۔( وَإِذَا قِیلَ لَهمْ مَاذَا اٴَنزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوا اٴَسَاطِیرُ الْاٴَوَّلِینَ ) ۔
۲۵ ۔( لِیَحْمِلُوا اٴَوْزَارَهُمْ کَامِلَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَمِنْ اٴَوْزَارِ الَّذِینَ یُضِلُّونَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ اٴَلاَسَاءَ مَا یَزِرُونَ ) ۔
۲۶ ۔( قَدْ مَکَرَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاٴَتَی اللهُ بُنْیَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمْ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَاٴَتَاهُمْ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لاَیَشْعُرُونَ ) ۔
۲۷ ۔( ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَةِ یُخْزِیهِمْ وَیَقُولُ اٴَیْنَ شُرَکَائِی الَّذِینَ کُنْتُمْ تُشَاقُّونَ فِیهِمْ قَالَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ إِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَالسُّوءَ عَلَی الْکَافِرِینَ ) ۔
۲۸ ۔( الَّذِینَ تَتَوَفَّاهُمْ الْمَلاَئِکَةُ ظَالِمِی اٴَنفُسِهِمْ فَاٴَلْقَوْا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ بَلَی إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔
۲۹ ۔( فَادْخُلُوا اٴَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِینَ فِیهَا فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِینَ ) ۔
ترجمہ
۲۴ ۔اور جس وقت ان سے کہا جائے کہ تمہارے پر ور دگار نے نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں یہ خدائی وحی نہیں ) یہ تو گذشتہ لوگوں کے جھوٹے افسانے ہیں ۔
۲۵ ۔روز قیامت ان کے گناہوں کا بوجھ انھیں پوری طرح اپنے کندھے پر اٹھا نا ہوگا اور ان لوگوں کے گناہوں کا ایک حصہ بھی جنہیں انھوں نے جہالت کی وجہ سے گمراہ کیا ہے ۔ جان لوکہ اپنے کندھے پر برا سنگین بوجھ اٹھاتے ہیں ۔
۲۶ ۔جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ ( بھی ) اس قسم کے سازشیں کرتے تھے لیکن خدا ان کی ( زندگی ) کی بنیاد کی طرف گیا اور اسے بنیاد سے اکھاڑ پھینکا اور او پر سے ان کے سروں پر چھت گرائی اور ( اللہ کا ) عذاب ان پر ادھر سے آیا جہاں سے وہ نہیں جانتے تھے ۔
۲۷ ۔ پھر قیامت کے دن خدا تمہیں رسوا کرے گا اور انھیں کہے گا کہ تم نے میرے شریک بنارکھے تھے کہ جن کی وجہ سے دوسروں کے ساتھ دشمنی کرتے تھے وہ کہاں ہیں ۔ اس وقتر اہل علم کہیں گے کہ آج کے دن رسوائی اور بد بختی کا فروں کے لئے ہے ۔
۲۸ ۔ ( روح قبض کرنے والے ) فرشتے ان کی روح اس حالت میں قبض کریں گے کہ انھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہوگا ۔ اس وقت وہ سر جھکا لیں گے ۔ ( اور کہیں گے کہ) ہم برے کام نہیں کرتے تھے ۔ جی ہاں ! جوکچھ تم انجام دیتے تھے خدا اسے جانتا ہے ۔
۲۹ ۔ اب جہنم کے در وازوں میں سے داخل ہو جا ؤ وہ اس عالم میں ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ مستکبرین کے لئے کیسا برا ٹھکا نا ہے ۔
شان نزول
مجمع البیان میں ہے کہ بعض روایات کے مطابق پہلی آیت ” مقتسمین“ ( تبعیض کرنے والوں ) کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کے متعلق پہلے بحث ہو چکی ہے ۔
یہ سولہ افراد تھے ۔ ان کے چار گروپ تھے ان میں سے چار افراد حج دنوں میں مکہ کی سڑک پر لوگوں کے راستے میں کھڑے ہوجاتے تھے تاکہ مکہ میں لوگوں کے داخل ہونے سے پہلے ان کے ذہنوں کو قرآن اور اسلام کے خلاف کردیں وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ محمد کو ئی نیا دین نہیں لایا بلکہ وہی پرانے لوگوں کے جھوٹے افسانے ہیں ۔
تفسیر
جو دوسروں کے گناہ اپنے کندھے پر لادلیتے ہیں
گذشتہ آیات میں ان مستکبرین کے بارے میں گفتگو تھی کہ جو کبھی بھی حق کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ کسی نہ کسی طرح حق قبول کرنے سے بچ جائیں ۔
زیر نظر آیات میں اس بے ایمان گروہ کی دائمی منطق بیان کرنے سے بچ جائیں ۔ زیر نظر آیاتاس بے ایمان گروہ کی دائمی منطق بیان کیا گئی ہے ارشاد ہوتا ہے : جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پر وردگار نے کیا چیز نازل کی ہے تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی وحی نہیں ہے یہ تو وہی اگلے لوگوں کے افسانے ہیں ۔
( وَإِذَا قِیلَ لَهمْ مَاذَا اٴَنزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوا اٴَسَاطِیرُ الْاٴَوَّلِینَ ) ۔
اس تکلیف دہ بات کے ساتھ دو باتیں وہ اور بھی کہتے ۔ پہلی یہ کہ ہمار ی سطح فکر ان مسائل سے بہت بلند ہے یہ باتیں تو افسانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھیں جو عوام کو مشغول رکھنے کے لئے گھڑی گئی ہیں دوسری یہ کہ یہ کو ئی نئی باتیں نہیں ہیں کیونکہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کوئی انسان ایسی باتیں سنائے کہ ہم کہیں کہ محمد نے کوئی ایجاد کی ہے یا کوئی اپنی نئی تخلیق کی ہے یہ تو انہیں گذشتہ لوگوں کی فضول باتوں کا تکرار ہے ” اساطیر“ ” اسطور“(۱) ۔
کی جمع ہے یہ لفظ فضول اور جھوٹے قصے کہانیوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن حکیم میں یہ لفظ نو مرتبہ انبیاء کے مقابلے میں بے ایمان کافروں کا زبانی نقل ہوا ہے وہ لوگ اکثر اوقات ہادیانِ الہٰی کی دعوت کے جواب میں اپنی مخالفت کی توجیہ اور بہانے کے لئے اس لفظ کا سہارا لیتے تھے تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمیشہ لفظ ” اساطیر“ کے ساتھ ”اولین “ کو بھی صفت کے طور پر استعمال کرتے تھے ۔ تاکہ ثابت کریں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے یہاں تک کہ کبھی تویہ بھی کہتے کہ :
یہ کوئی اہم چیز نہیں ہے ہم بھی اگر چاہیں تو ان جیسی باتیں کر سکتے ہیں ۔ (انفال ۳۱)
یہ بات جاذب توجہ ہے کہ آج کے مستکبرین بھی اکثر اوقات حق سے فرار کرتے ہوئے تکلیف و اذیت دینے کے لئے نیزدوسروں کو گمراہ کرنے کے لئے ایسی ہی باتیں کرتے ہیں یہاں تک کہ انھوں نے معاشرہ شناسی کے نام پر کتابیں لکھی ہیں اور اپنے ان نظر یات کو علمی شکل میں پیش کیا ہے انھوں نے مذہب کو انسانی جہالت کی کی پیدا وار اور مذہبی تفاسیر و تسریحات کو افسانے اور قصے کہانیاں قرار دیا ہے لیکن اگر ان کی فکر کی گہرائیوں میں اتر کر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ مسئلہ کچھ اور ہے اوریہ لوگ فضول اور جعلی مذاہب کے خلاف مصروفِ جنگ نہیں بلکہ یہ خود ان کی پیدا ئش اورنشر و اشاعت کا عامل ہیں ۔
ان کی مخالفت صرف سچے مذاہب کے ساتھ ہے کہ جو انسانی افکار کو پیدا کرتے ہیں ۔ سامراج و استعمار کی زنجیریں توڑتے ہیں اور مستکبرین اور استعمار گروں کےلئے سدّ راہ ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ مذہبی تعلیمات ان کے منصوبوں کے خلاف ہیں کیونکہ وہ عدل و انصاف کے برخلاف مذہب کے اخلاقی احکام سر کش ہواو ہوس اوربے سروپا آزاد یوں سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ ان سب پہلوؤں کو جب وہ مجموعی طور پر دیکھتے ہیں تو کوشش کرتے ہیں کہ اس رکاوٹ کو راستے سے ہٹا دیں یقینا اپنے اس کام کے لئے انھیں ایک جواب کی بھی ضرورت ہے جو وہ لوگوں کو دے سکیں لہٰذا ان کے لئے ا س سے بہتر کونسا جواب ہے کہ ان تعلیمات کو جھوٹے افسانے قرار دے لیں ۔
افسوس سے کہنا پڑ تا ہے کہ ا ن لوگوں کو کامیاب کرنے میں ان خرافات کا بہت ہاتھ ہے جنھیں بعض اوقات ناداں اور ناآگاہ افراد گھڑتے ہیں اور انھیں مذہب کے سانچے میں ڈھال کر مذہب کے نام پیش کرتے ہیں ۔
مذہب کے تمام حقیقی طرفداروں پر لازم ہے کہ وہ ایسی خرافات کا شدت سے مقابلہ کریں اور ان کے خلاف جنگ کریں اور دشمنوں کا غیر مسلح کردیں یہ حقیقت ہر گز لکھیں او ر کہیں کہ اس قسم کی خرافات سچے مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور دشمن کو انھیں سند نہیں بنانا چاہئیے ۔ اصول عقائد اور مسائل عملی کے بارے میں انبیاء کی تعلیمات عقل و منطق سے اس قدر ہم آہنگ ہیں کہ ان کے لئے اس قسم کی تہمتوں کی کوئی گنجائش نہیں ۔
اگلی آیت میں ان دل کے اندھوں کے اعمال کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے : روز قیامت یہ لوگ اپنے گناہوں کا بوجھ پوری طرح اپنے دوش پر اٹھائیں گے اور ایک حصہ ان لوگوں کے گناہوں کا بھی کہ جنہیں جہالت کی وجہ سے انہوں نے گمراہ کیا ہے( لِیَحْمِلُوا اٴَوْزَارَهُمْ کَامِلَةً یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَمِنْ اٴَوْزَارِ الَّذِینَ یُضِلُّونَهُمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ ) ۔
جان لو کہ وہ بد ترین بوجھ اور ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھا ئے ہوں گے( اٴَلاَسَاءَ مَا یَزِرُونَ ) ۔
کیونکہ بعض اوقات ان کی گفتگو ہزاروں افراد کی گمراہی کا سبب بن جاتی ہے ۔
کس قدر دشوار ہے انسان اپنے گناہوں کا بوجھ اپنے گندھے پر اٹھائے ہزاروں دوسرے افراد کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائے اور اگر ان کی گمراہ کن باتیں بعد کی نسلوں کی گمراہی کا سر چشمہ بناجائیں تو ان کا بوجھ بھی ان کے کندھے پر پڑے گا ۔
”لیحملوا “ ( چاہئیے کہ اس بوجھ کو کندھے پر اٹھائیں )یہ لفظ صیغہ امر کی شکل میں ہے جس کا مقصد نتیجہ اور انجام کار بیان کرنا ہے یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم کسی سے کہیں کہ اب جب کہ یہ غلط کا م تو نے انجام دیا ہے تو اس کا نتیجہ بھی بھگتواور اس کی تلخی بھی چکھو ۔
بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ ”لیحملوا “ کی لام لامِ عاقبت ہے ۔
”اوزار“ ”وزر“ کی جمع ہے اس کا معنی بھاری بوجھ ۔ یہ لفظ گناہ کے معنی میں بھی آیا ہے اور یہ جو” وزیر“ کو ”وزیر“ کہا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہوتی ہے ۔
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ قرآن کس طرح کہتا ہے کہ کچھ افراد کے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے کندھے پر اٹھاتے ہین جنہیں انھوں نے گمراہ کیا ہے ۔
قرآن نے یہ نہیں کہا کہ” ان کے تمام گناہ “ حالانکہ روایات میں ہے کہ اگر کوئی شخص کسی برے کام کی بنیاد رکھے تو جتنے لوگوں نے اس پر عمل کیا ان کے سب کا گناہ بنیاد رکھنے والے کے کندھے پر ہو گا ۔
بعض مفسرین کے اس سوال کے جواب میں کہا ہے کہ گمراہ پیروکاروں کے دو قسم کے گنا ہ ہوتے ہیں ایک وہ کہ جن کا ار تکاب وہ اپنے ہبروں کی پیروی میں کرتے ہیں اور دوسرے وہ کہ جو خود سے بجا لاتے ہیں جبکہ رہبروں کے کندھے پہلی قسم کے گناہوں کا بوجھ ہے ۔
بعض نے مندرجہ بالا آیت میں لفظ ” من “ لو تبعیض کے لئے نہیں لیا بلکہ ”من“ کو اس بات کا بیان سمجھا ہے کہ پیروکاروں کے گناہ رہبروں کے دوش پر ہیں ۔
لیکن ایک اور تفسیر بھی نظر آتی ہے جو ان سب سے زیادہ دلچسپ ہے اور وہ یہ ہے کہ گمراہ پیروکاروں کی دو حالتیں ہیں ، بعض اوقات وہ جانتے بوجھتے ہوئے ان منحرف اور کج رہبروں کے پیچھے جاتے ہیں اور ان کے مثالیں پوری تاریخ میں بہت ہیں اس صورت میں گناہ کا عامل رہبروں کا حکم بھی ہے اور ان کا اپنا ارادہ بھی ۔ یہ مقام کہ جہاں ان کے گناہوں کی ذمہ داری کا ایک حصہ رہبروں کے کندھے پر ہے ۔ ( بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں سے کسی چیز کی کمی ہو) ۔لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پیرو کار مائل راغب نہیں ہوتے بلکہ انھیں غفلت میں ڈالا جاتا ہے اور وہ گمراہ رہبروں کے وسوسوں کا شکار ہو جاتے ہیں بہت سے معاشروں میں عوام میں اس کی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں ہو سکتا ہے کبھی وہ ایسے کاموں میں ” تقرب الیٰ اللہ “ کی نیت سے شریک ہوں اس صورت میں ان کے تمام گناہوں کا بوجھ گمراہ پیشواؤں کے کندھے پر ہے اور اگر ایسے پیروں کاروں نے تحقیق میں کوتاہی نہ کی ہو تو جوابدہ نہیں ہیں لیکن وہ لوگ جنہوں نے علم و آگہی ہوتے ہوئے گمراہ پیشواؤں کی پیروی کی یقینا ان کے گناہوں میں سے سوئی کے سرے کے برابر بھی کمی نہیں کی جائے گی جبکہ ان کے پیشواؤں کے کندھے پر بھی ذمہ داری کا ایک حصہ ڈالا جائے گا ۔
اس نکتہ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ”بغیر علم “ کے الفاظ اس بات کی دلیل نہیں کہ ان گمراہوں کے پیروکار اپنے رہبروں کے بارے میں کچھ نہ جانتے تھے اور وہ بالکل ہی غافل تھے کہ اس طرح کی کوئی ذاتی ذمہ داری ہی نہ ہو بلکہ یہ تعبیرات اس بات کی طرح ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ جاہل و ناداں افراد اغوا کرنے والوں کے جال میں جلدی پھنس جاتے ہیں لیکن دانا اور سمجھ دار لوگ بہت دیر میں ۔
اسی لئے قرآن نے دوسری آیات میں ان پیروکاروں کا بر ی الذمہ نہیں قرار دیا بلکہ ذمہ داری کا ایک حصہ ان کے کندھے پر رکھا ہے چنانچہ سورہ مومن کی آیہ ۴۷ اور ۴۸ میں ہے :۔
( و اذیتحاجون فی النار فیقول الضعفاء للذین استکبروا اناکنا لکم تبعاًفهل انتم مغنون عنا نصیباً من النار قال الذین استکبروا اناکل فیها ان الله قد حکم بین العباد ) ۔
گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے آپس میں دوزخ میں بحث و مباحثہ اور جھگڑا کریں گے نادا ں اور کمزور پیر و کار ، مستکبرین سے کہیں گے ہم تمہارے پیرو تھے تو کیا آگ کا کچھ حصہ ہماری طرف سے تم قبول کروگے وہ جواب میں کہیں گے :ہم سب دوزخ میں خدانے اپنے بندوں میں ( عادلامنہ ) فیصلہ کیا ہے ۔
بعد والی آیت میں یہ نکتہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ مستکبرین ہادیانِ الہٰی پر تہمت لگارہے ہیں اور آسمانی وحی کو ” اساطیر الاولین “ ( پہلے لوگوں کے افسانے ) شمار کرتے ہیں بلکہ ان سے پہلے بھی ایسی سازشیں کرتے تھے لیکن خدا ان کی زندگی کی بنیاد کی طرف گیا اور اسے بنیاد سے اکھیڑ دیا اور اوپر سے ان کے سروں پر چھت گر ادی( قَدْ مَکَرَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاٴَتَی اللهُ بُنْیَانَهُمْ مِنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمْ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ ) ۔
اور عذاب الہٰی ادھر سے ان کی طرف آیا جدھر کا انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا( وَاٴَتَاهُمْ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لاَیَشْعُرُونَ ) ۔
بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر نمرود کے ایک واقعہ سے کی ہے اس نے ایک عمارت بنائی تھی تاکہ آسمان کی طرف چڑھ کر آسمانی خدا سے مقابلہ کرے ۔
بعض دیگر مفسرین نے اسے بخت النصر کے واقعہ کی طرف اشارہ قرار دیا ہے ۔
لیکن مسلم ہے کہ آیت کا مفہوم عام ہے اور اس میں تمام مستکبرین اور گمراہ رہبر شامل ہیں ۔
یہ بات جاذب توجہ ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ خدا ان مستکبرین کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے ان کی عمارت کے سامنے کے حصے کی طرف سے اقدم نہیں کرتا بلکہ ان کی جڑ اکھاڑ نے اور بیخ کنی کے لئے اقدام کرتا ہے اور چھتوں کو ان کے سروں پر گراتا ہے جی ہاں ایسے لوگوں کے لئے خدائی سزا ایسی ہی ہوتی ہے ۔
عمارت کو بنیاد سے اکھاڑ پھینکنااور چھت کو نیچے گرانا ہو سکتا ہے ظاہری طور پر عمارتوں اور چھتوں کی طرف اشارہ ہو کہ جو زلزلوں اور بجلیاں گرنے سے تباہ و برباد ہو جائیں اور ان کے سروں سے آگریں یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے ارادوں اور ڈویلیمنٹ کی طرف اشارہ ہو کہ جو حکم ِ خدا سے جڑ سے اکھاڑ پھینکی گئیں اور تباہ و بر باد ہو گئیں ۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ آیت دونوں معانی کی طرف اشارہ ہو ۔
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن لفظ” سقف“ کے بعد ” من فوقھم“ کہتا ہے حالانکہ مسلم ہے کہ چھت ہمیشہ اوپر کی طرف ہوتی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تاکید کے لئے بھی ہو اور یہ نکتہ بیان کرنا بھی مقصود ہو کہ بعض اوقات چھت نیچے گرے لیکن صاحب خانہ چھت کے نیچے نہ ہو جب کہ ان ظالموں پر چھت گری تو وہ اس کے نیچے تھے اور وہ نابود ہو گئے آج کی اور گذشتہ تاریخ میں اس خدائی سزا کے کس قدر مناظر موجود ہیں ۔
کئی طاقت اور جابر حکمراں ہیں جو اپنے محل ِ اقتدار کو اس قدر مستحکم سمجھتے تھے کہ انھوں نے صرف اپنے لئے بلکہ اپنی اولاد کے لئے مستقبل کے لئے بھی اس کے منصوبے بنارکھے تھے ان کے پروگرام مکمل تھے اور ظاہراً انہوں نے اپنے اقتدار اور نظام کی بقا اور حفاظت کے پورے انتظامات کر رکھے تھے لیکن اچانک اس طرف سے عذاب الہٰی ان کی طرف آیا جدھر سے وہ تصور بھی نہ کر سکتے تھے اور ان کے اقتدار کی چھت ان کے سر پر آگری اور وہ یوں نابود و منتشر ہوئے گویا وہ صفحہ ارض پر تھے ہی نہیں ۔ جو کچھ کہا گیا وہ ان کے لئے دنیاوی عذاب ہے لیکن ان کی سزا یہییں پرختم نہیں ہو جاتی بلکہ ان کے بعد روز قیامت بھی خدا انھیں رسوا کرے گا( ثُمَّ یَوْمَ الْقِیَامَةِ یُخْزِیهِمْ ) ۔وہاں ان سے پوچھے گا اور کہے گا کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جو تم نے میرے لئے بنائے تھے ، اور ان سے تمہیں بڑی عقیدت تھی اور ان کی وجہ سے تم دوسروں سے جنگ و جدال کرتے تھے بلکہ دشمنی پر تل جاتے تھے ۔ “( وَیَقُولُ اٴَیْنَ شُرَکَائِی الَّذِینَ کُنْتُمْ تُشَاقُّونَ فِیهِمْ ) (۲) ۔
یقینا اس سوال کا جواب ان کے پاس نہیں ہے لیکن موقع پر اہل علم لب کشائی کریں گے اور کہیں گے ۔ شرمندگی ، رسوائی اور بد بختی آج کے دن کفار کے لئے( وَقالَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ إِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَالسُّوءَ عَلَی الْکَافِرِینَ ) ۔
یہاں سے واضح ہو جاتا ہے کہ روز قیامت گفتگو علماء کریں گے کیونکہ اس عظیم بار گاہ میں ایسی گفتگو کرنا چاہئیے جس میں کوئی غلطی نہ ہو اور ایسا اہل ایمان علماء کے سوا کسی سے نہیں ہو سکتا ۔یہ جو بعض روایات میں اس سے مراد آئمہ اہل بیت (علیہ السلام) لئے گئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ”با ایمان علماء “ کا بہترین مصداق ہیں ۔(۳) ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ مشر کین اور علماء کے درمیان اس سوال و جواب کا ردّ و بدل کسی پنہاں بات کو ظاہر کرنے کے لئے نہیں بلکہ یہ بھی مشرکین کے لئے ایک قسم کی نفسیاتی سزا اور عذاب ہے خصوصاً آگاہ مومنین اس جہاں میں ہمیشہ ان مفرور مشرکین کی ملامت کا نشانہ بنتے رہے تھے اور وہاں یہ مفرور اپنی سزا بھی اسی کیفیت سے پائیں گے انھیں بھی ملامت کی جائے گی جبکہ وہ ایسی جگہ پر ہوں گے جہاں وہ نہ انکار کرسکتے ہوں گے اور نہ وہاں سے نکل سکتے ہوں گے ۔
گذشتہ آیت کے آخر میں جن کفار کا ذکر تھا اگلی آیت کے بارے میں انہی کا ذکر ہے یہ ذکر در اصل ایک ہلادیتے والا اور غافل افراد کو بیدار کرنے والا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے وہ ایسے لوگ ہیں کہ موت کے فرشتے اس عالم میں ان کی روحیں قبض کرتے ہیں جبکہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہوتا ہے( الَّذِینَ تَتَوَفَّاهُمْ الْمَلاَئِکَةُ ظَالِمِی اٴَنفُسِهِمْ ) ۔
انسان جو ظلم و ستم کرتا ہے ، پہلے مرحلے میں وہ خود اسی پر ہوتا ہے اور دوسروں کے گھر سے پہلے وہ اپنا ہی گھر ویران کرتا ہے کیونکہ ظلم کا پہلا قدم یہ ہے کہ خود ظلم کرنے والے کی باطنی خوبیاں اور اس کی اپنی صفات بر باد ہو جاتی ہیں ۔ علاوہ ازیں جن معاشرے میں ظلم کی بنیاد رکھی جائے اجتماعی اور معاشرتی رشتوں کے حوالے سے چکر لگا تا ہوا وہ ظلم خود ظالم کے گھر کی طرف پلٹ آتا ہے ۔
لیکن یہ ظالم جب اپنے آپ کو موت کی چوکھٹ پر دیکھتے ہیں اور غرور و غفلت کے پر دے ان کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹے ہو تے ہیں تو وہ فوراً مان لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے برا کام انجام دیا ہے( فَاٴَلْقَوْا السَّلَمَ مَا کُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوءٍ ) ۔وہ ہر قسم کے برے کام کا انکار کیونکر کریں گے ؟ کیا وہ جھوٹ بولیں گے ، اس لئے کہ بار بار جھوٹ بولنے کی وجہ سے جھوٹ ان کی ذاتی صفت بن گیا ہے یا کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے یہ کام انجام دئے ہیں لیکن ہم سے غلطی ہو گئی ہے اگر چہ ہماری نیت بری نہیں تھی ۔ ممکن ہے دونوں وجوہ ہوں ۔
مگر ان سے فوراً کہا جائے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو تم نے بہت سے برے کام کئے ہیں جی ہاں ! اللہ تمہارے اعمال اور اسی طرح تمہاری نیتوں سے با خبر ہے( بَلَی إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔لہٰذا اب انکار کرنے اور بہانے بنانے کی گنجائش نہیں ۔اب جبکہ ایسا ہے تو جہنم کے در وازوں سے داخل ہو جاؤ کہ تم نے اس میں ہمیشہ کے لئے رہنا ہے( فَادْخُلُوا اٴَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِینَ فِیها ) ۔متکبرین کا ٹھکا نا کس قدر برا ہے( فَلَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِینَ ) ۔
____________________
۱۔بعض اسے جمع الجمع سمجھتے ہیں ان کے مطابق ”اساطیر“” اسطار“ ” سطر“ کی جمع ہے بعض کا نظریہ ہے کہ ”اساطیر “ وہ جمع ہے جس کا مفرد اس کی جنس میں سے نہیں ہے لیکن مشور وہی ہے جو ہم نے متن تفسیر میں بیان کیا ہے ۔
۲۔”تشاقون “”شقاق“ کے مادہ سے مخالفت اور دشمنی کے معنی میں ہے اور اس کی اصل ”شق“ نصف کرنے ( اور شگافتہ کرنے ) کے معنی میں آیا ہے ۔
۳۔تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۵۰ کی طرف رجوع فرمائیں ۔
چند اہم نکات
۱ ۔اچھی اور بری نیت
ایک عمل انجام دینے سے پہلے کئی مرحلوں سے گزرتا ہے اس میں رہبروں ، ہدایت کرنیوالوں یا وسوسے ڈالنے والوں کا اثر بھی اہمیت رکھتا ہے اسی طرح اچھی یا بری سنتیں اور رسمیں بھی اعمال کے لئے فکری اور معاشرتی اعتبار سے زمین ہموار کرتی ہیں اس بات کا نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بعض اوقات رہبروں اور کسی کام کی بنیاد رکھنے والوں کا اثر دیگر تمام عوامل سے زیادہ ہوتا ہے لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ وہ برائیوں یا نیکیوں میں شریک نہ ہوں اسی منطق کی رو سے قرآنی آیات اور اسلامی روایات میں نیکی یا بدی کی بنیاد رکھنے یا اچھی بری سنت قائم کرنے کے مسئلہ کو بڑی اہمیت دی گئی ہے ۔
مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ گمراہ کنندہ مستکبر اپنے گناہوں کا بوجھ بھی اپنے کند ھوں پر رکھتے ہیں اور ایک حصہ اپنے پیر وکاروں کے گناہوں کا بھی ( بغیر اس کے کہ پیروکاروں کی ذمہ داری میں کوئی کمی واقع ہو ) ۔
یہ بات اس قدر اہم ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :الدال علی الخیر کفاعله
نیکی کی دعوت دینے والا نیکی کرنے کی طرح ہے(۱)
زیر بحث آیت کے ذیل میں رسول اللہ سے منقول حدیث میں ہے آپ نے فرمایا:
ایما داع دعی الیٰ الهدی فاتبع ، فله مثل اجورهم ، من غیر ان ینقص من اجورهم شیئاًو ایما داع دعی الیٰ ضلاله فاتبع علیه فان علیه مثل اوزار من اتبعه ، من غیر ان ینقص من اوزارهم شیئا ۔
جو شخص ہدایت کی دعوت دے اس کا اجر اس ہدایت پر عمل کرنے والوں جتنا ہو گا جبکہ عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جو شخص گمراہی کی دعوت دے گا اسے اس کے پیروکاروں جتنی سزا ملے گی جبکہ پیروکاروں کی سزامیں بھی کوئی تخفیف نہ ہو گی ۔(۲)
امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے :
من استن بسنةعدل فاتبع کان له من عمل بها، من غیر ان ینتنقص من اجورهم شیء و من استن سنة جورفاتبع کان علیه مثل وزرمن عمل به ، من غیر ان ینتنقص من اوزارهم شیء
جو شخص کسی اچھی سنت کی بنیاد رکھے اور لوگ اس کی پیروی کریں تو اس کا اجر پیروی کرنے والوں جتنا ہوگا جبکہ خود عمل کرنے والوں کا اجر بھی کم نہ ہوگا اور جو شخص کسی ظلم و جور کی بنیاد رکھے اور لوگ اس کی پیروی کریں تو اس کا عمل کرنے والوں جتنا ہوگا جبکہ عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہوگی ۔(۳)
اس مضمون کی متعدددیگر روایات معصو م پیشواؤں سے نقل ہوئی ہیں شیخ حر عاملی علیہ الرحمة نے یہ روایات وسائل کی جلد ۱۱ کتاب ”الامر بالمعروف و انهی عن المنکر “ کے باب ۱۶ میں جمع کی ہیں ۔
صحیح مسلم میں بھی رسول اکرم سے اس مضمون کی ایک حدیث نقل ہوئی ہے ۔
رسول اللہ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے تھے کچھ افراد آپ کے پاس آئے ان کے پاؤں ننگے تھے جسم پر لباس نہیں تھا ، تلواریں انھوں نے اپنی کمروں سے باندھ رکھی تھیں ( اور وہ جہاد کے لئے تیار تھے ) ان کے فقر و فاقہ کا یہ عالم دیکھا تو رسول اللہ کا چہرہ دگر ہو گیا آپ اپنے گھر میں چلے گئے واپس آئے تو بلا ل کو حکم دیا کہ لوگوں سے کہو کہ جمع ہو جائیں اور انھیں نماز کی دعوت دو ، نماز پڑھی گئی ، اس کے بعد رسول اللہ نے خطبہ دیا اور فرمایا :
اے لوگو! خد اسے ڈرو ، وہی خدا کہ جس نے تم سب کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ہے ، اور جان لو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے لوگوتقویٰ اختیار کرو اور کل قیامت کے لئے غور و فکر کرو ۔ تم میں سے جو جس کے بس میں ہے ۔ دینار ، درھم ، لباس ، گندم ، کھجوریہاں تک کہ آدھی کھجور سے بھی حاجت مند کی مدد کرو ۔
اس دوران ایک انصاری رقم کی ایک تھیلی لے آیا ۔ تھیلی اتنی بڑی تھی کہ اس کے ہاتھ میں نہیں آسکتی تھی ۔ اس سے لوگوں کو تشویق ہوئی ۔ یکے بعد دیگرے انھوں نے مختلف چیزیں امداد کے طور پر دیں ، یہاں تک کہ اناج اور لباس کے دو ڈھیر لگ گئے ۔
رسول اللہ کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑگئی، اس وقت آپ نے فرمایا:
من سن فی الاسلام سنة حسنة فله اجرها و اجر من عمل بها بعده من غیر ان ینقص من اجورهم شیء و من سن فی الاسلام سنة سیئة کان علیه وزرها وزرمن عمل بها من بعد من غیر ان ینقص من اوزارهم شیء ۔
یعنی جس نے اسلام میں کسی اچھی سنت کی بنیاد رکھی ، اسے اس کا اجر ملے گا اور اس پر جو عمل ہو گا اس کا اجر بھی ملے گا جبکہ عمل کرنے والوں کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی ۔ اور جو کو ئی اسلام میں کسی بری سنت کی بنیاد رکھے اسے اس کا بوجھ اٹھا نا پڑے گا اور اس پر جو عمل ہو گا اس کا بوجھ بھی ۔ جبکہ عمل کرنے والوں کے بوجھ میں کوئی کمی نہ ہوگی ۔۴
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ یہ احادیث اور ان جیسی قرآنی سورہ انعام کی اس آیت سے کیسے مطابقت رکھتی ہیں ، جس میں فرمایا گیا ہے :ولا تزر وازرة وزر اخریٰ
کوئی دوسرے کا گناہ اپنے کاندھے پر نہیں اٹھا تا ۔ ( انعام ۱۶۵) ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب پوری طرح واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ یہ لوگ دوسرے کے گناہوں کے جواب دہ نہیں ہیں بلکہ اپنی ہی گناہوں کے جواب دہ ہیں کیونکہ یہ دوسروں کے گناہوں کے عمل میں شریک ہیں اور ایک لحاظ سے یہ خود ان ہی کا گناہ شمار ہوتا ہے ۔
۲ ۔ بے موقع تسلیم حق
بہت کم ایسے لوگ ہیں جو حقیقت کو شہود کے عالم میں دیکھ کر بھی جھٹلادیں ۔ یہی وجہ ہے کہ گنہگار اور ظالم جب موت کی چوکھٹ پر پہنچتے ہیں اور غفلت و غرور کے پر دے ہٹ جاتے ہیں ۔ اور ان کی نگاہ برزخ کھل جاتی ہے تو اظہار ایمان کرنے لگتے ہیں جیسا کہ مندرجہ بالاآیات میں ہے ۔( فالقوا السلم )
البتہ ایسے لوگ اس موقع پر مختلف باتیں کرتے ہیں ۔ بعض اپنے پرانے اعمال کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے کوئی برا کام نہیں کیا ہے اگر چہ وہ جانتے ہیں کہ جھوٹ بولنے کا موقع نہیں پھر بھی جھوٹ بولتے ہیں یہاں تک کہ بعض آیاتِ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لو گ روز قیامت بھی جھوٹ بولیں گے ۔ قرآن کہتا ہے :
( قالو ا و الله ربنا ما کنا مشر کین )
مشرکین کہیں گے پر وردگار کی قسم ہم مشرک نہیں ہیں ( انعام ۲۳)
بعض دوسرے اظہار ندامت کریں گے اور دنیا کی طرف لوٹائے جانے کی درخواست کریں گے ۔( سجدہ ۱۲)
بعض ایسے بھی ہوں گے جو صرف اظہار ایمان کریں گے مثلاًفرعون۔ ( یونس ۹۰)
بہرحال ان میں سے کوئی چیز بھی قبو ل نہیں کی جائے گی کیونکہ اس کا وقت گزر چکا ہوگا ۔ ایسا اظہار ِایمان اضطراری پہلو رکھتا ہے ۔
اور ہم بار ہا کہہ چکے ہیں کہ اضطراری ایمان کا کوئی فائدہ نہیں ۔
____________________
۱۔ وسائل الشیعہ جلد ۱۱ ص ۴۳۶۔۲۔ مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۳۔ وسائل الشیعہ جلد ۱۱ ص ۴۳۷۔۴. ۔صحیح مسلم جلد ۲ ص ۷۰۴( باب”الحث علی صدقة ولو بشق تمرة “)
آیات ۳۰،۳۱،۳۲
۳۰ ۔( وَقِیلَ لِلَّذِینَ اتَّقَوْا مَاذَا اٴَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوا خَیْرًا لِلَّذِینَ اٴَحْسَنُوا فِی هَذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَیْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِین ) ۔
۳۱ ۔( جَنَّاتُ عَدْنٍ یَدْخُلُونَها تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهَارُ لَهُمْ فِیهَا مَا یَشَائُونَ کَذَلِکَ یَجْزِی اللهُ الْمُتَّقِینَ ) ۔
۳۲ ۔( الَّذِینَ تَتَوَفَّاهُمْ الْمَلاَئِکَةُ طَیِّبِینَ یَقُولُونَ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔
ترجمہ
۳۰ ۔ جب پر ہیز گاروں سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پر وردگار نے کیا نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں خیر ( اور سعادت) جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کی ہے ان کےلئے بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو اس سے بھی بہتر ہے اورپر ہیز گاروں کا گھر کتنا اچھا ہے ۔
۳۱ ۔ بہشت ِ جاوداں کے باغات ہیں کہ جن میں وہ سب داخل ہوں گے ان کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ جو کچھ چاہیں گے وہاں موجود ہے ۔ اللہ پر ہیز گاروں کو اسی طرح جزا دیتا ہے ۔
۳۲ ۔وہی کہ ( قبض روح کرنے والے )فرشتے جن کی روح اس حالت میں قبض کریں گے کہ وہ پاک و پا کیزہ ہوں گے انھیں کہیں گے کہ تم پر سلام ہو اپنے اعمال کے سبب بہشت میں داخل ہو جاؤ۔
تفسیر
نیک لوگوں کا انجام :
گذشتہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ مشرکین قرآن کے بارے میں کیا اظہار خیال کرتے تھے ان آیات میں ہم نے ان مشرکین کا انجام بھی پڑھا ہے ۔ زیر نظر آیات میں مومنین کا اعتقاد بتا دیا گیا ہے اور ان کے انجام کار کی بھی خبر دی گئی ہے ۔
پہلے فرمایا گیا ہے : جب پر ہیز گاروں سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پر ور دگار نے کیا نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں خیر و سعادت( وَقِیلَ لِلَّذِینَ اتَّقَوْا مَاذَا اٴَنْزَلَ رَبُّکُمْ قَالُوا خَیْرًا ) ۔
تفسیر قرطبی میں ہے کہ جس وقت پیغمبر اکرم مکہ میں تھے تو موسم حج میں جزیرة العرب کے مختلف گوشوں سے لوگ جو ق در جوق مکہ میں آتے تھے ۔ ان کے کانوں تک پیغمبر اسلام کے بارے میں ادھر اُدھر سے اڑتی ہوئی باتیں پہنچی ہوتی تھیں لہٰذا جب وہ مختلف لوگوں سے ملتے تو اس بارے میں پوچھتے ۔ جب وہ مشرکین سے بات کرتے تو وہ کہتے کہ کوئی خاص بات نہیں وہی فضول افسانے اور گھسی پٹی کہانیاں ہیں اور جب ان کی ملا قات مومنین سے ہوتی اور وہ ان سے سوال کرتے تو وہ کہتے کہ ہمارے پر ور دگار نے سوائے خیر و سعادت کے کوئی چیز نازل نہیں کی۔
”خیر “ کس قدر معنی خیز ، خوبصورت اور جامع تعبیر ہے وہ بھی مطلق صورت میں کہ جس کے مفہوم میں تمام طرح کی نیکیاں ، مادی و روحانی سعادتیں اور کامیابیاں شامل ہیں دنیا میں خیر ، آخرت میں خیر ، فرد کے لئے خیر، معاشرے کے لئے خیر، تعلیم وتربیت میں خیر ، سیاست و اقتصا د میں خیراور امن و آزدی کی خیر ، مختصر یہ کہ ہر لحاظ سے خیر ۔ ( کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جب کسی لفظ کے متعلق کو حذف کر دیا جائے تو اس کے مفہو م میں عمومیت پیدا ہو جاتی ہے ) ۔
اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ قرآن کے متعلق خود قرآن میں طرح طرح کی تعبیریں آئی ہیں مثلاً نور، شفاء، ہدایت اور فرقان ( حق کو باطل سے جدا کرنے والا ) حق اور تذکرہ وغیرہ ، لیکن شاید یہ واحد آیت ہے جس میں ” خیر“ کی تعبیر آئی ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ دیگر تمام خاص مفاہیم اس عام مفہوم میں جمع ہیں ۔
ضمناً وہ اختلاف تعبیر جو مشرکین اور مومنین قرآن کے بارے میں کرتے تھے قابل ملاحظہ ہے مومنین کہتے تھے ” انزل خیراً“ یعنی خدا نے خیر و سعادت نازل کی ہے اس طرح سے وہ اپنے ایمان کا بھی اظہار کرتے تھے کہ قرآن وحی الہٰی ہے ۔(۱)
جبکہ مشرکین سے پوچھا جاتا کہ تمہارے پر وردگار نے کیا نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو”اساطیر الاولین “یعنی گزرے ہوؤں کے قصّے کہانیاں ہیں اس طرح وہ قرآن کے وحی الہٰی ہونے کا قطعی انکار کردیتے تھے ۔(۲)
اس کے بعد جیسا کہ گزشتہ آیات میں مشرکین کی باتوں کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے کہ انھیں دنیا اور آخرت میں کئی گنا مادی و روحانی عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
زیر نظر آیات میں مومنین کے اعتقادات کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے جنہوں نے نیکی کی ہے ان کے لئے اس دنیا میں نیکی ہے( لِلَّذِینَ اٴَحْسَنُوا فِی هَذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ ) ۔
یہ بات جاذب نظر ہے کہ ان کی جزا” حسنة“ ان کے اظہار ایمان ” خیر“ کی طرح مطلق ہے اور اس کے مفہوم میں اس جہان کی انواع و اقسام کی حسنات اور نعمات شامل ہیں ۔
یہ تو ان کی دنیا کی جزا ہے جبکہ ” آخرت کا گھر اس سے بھی بہتر ہے اور پرہیز گاروں کا گھر کس قدر اچھا ہے( وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَیْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِین ) ۔
یہاں پھر ہم ”خیر “ اور ” نعم الدار المتقین “ کے الفاظ پارہے ہیں یہ دونوں اپنے وسیع مفہوم کے ساتھ مطلق ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ ثواب اور جزا کیفیت و کمیت کے اعتبار سے انسانی اعمال کا عکس العمل ہیں ۔
جو کچھ ہم نے لکھا سے ضمناً یہ بھی واضح ہو تا ہے کہ ”( للذین احسنوا ) تا آخر آیہ “ ظاہراً کلام خدا ہے اور ان آیات اور گذشتہ آیات میں مقابلے کا قرینہ اس معنی کو تقویت پہنچاتا ہے ہے البتہ بعض مفسرین نے اس کی تفسیر میں دو احتمال ذکر کئے ہیں پہلا یہ کہ یہ کلام خدا ہے اور دوسرا کہ پر ہیز گاروں کے کلام کا تتمہ ہے ۔
پہلے تو پرہیز گاروں کے گھر کا ذکر سر بستہ کیا گیا ہے اگلی آیت میں اس کی توصیف یو کی گئی ہے : پرہیز گاروں کا گھر بہشت کے جاوداں باغ ہیں ۔ یہ سب ان گھروں میں داخل ہو جائیں گے( جَنَّاتُ عَدْنٍ یَدْخُلُونَها ) ان درختوں کے نیچے نہریں جاری ہو ں گی( تَجْرِی مِنْ تَحْتِهَا الْاٴَنْهَارُ ) ۔ یہی نہیں کہ وہاں باغات اور درخت ہوں گے بلکہ وہ جو کچھ چاہیں وہ وہاں موجود ہے( لَهُمْ فِیهَا مَا یَشَائُونَ ) ۔
کیا نعمات بہشت کی جامعیت اور وسعت کے بارے میں اس سے بہتر تعبیر ہو سکتی ہے ؟ سوال یہاں تک کہ یہ تعبیر سورہ زخرف کی آیہ ۷۱ میں آنے والی تعبیر سے یادہ وسیع نظر آیت ہے ، جہاں فرمایا گیا ہے :
( وفیها ما تششتهیه الانفس و تلذ الاعین )
بہشت میں ہر وہ چیز موجود ہے جو دل چاہیں گے اور آنکھیں جس سے لذت محسوس کریں گی۔
سورہ زخرف کی اس آیت میں دلوں کی خواہش کا ذکر ہے جبکہ زیر بحث آیت میں مطلق”خواہش “ کی بات کی گئی ہے ( یشاء ون) بعض مفسرین نے ”لهم فیها “ کے ”مایشاؤن “ پر مقدم ہونے سے انحصار کا استفادہ کیا ہے یعنی صرف وہی ایسی جگہ ہے جہاں انسان کو وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہے گا ورنہ دنیا میں ایسا ہو نا ممکن نہیں ہے ۔
ہم کہہ چکے ہیں کہ زیر بحث آیات میں پر ہیز گاروں کی زندگی اور موت کی کیفیت بیان کی گئی ہے ، گزشتہ آیات دے ہم آہنگ اور ہم قرینہ ہیں کہ جن میں مستبکر مشرکین کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔ وہاں ہم نے پڑھا ہے کہ فرشتے ان کی روح اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ ظالم ہیں اور ان کی موت ان کی بدبختی کے نئے دور کی ابتداء ہے ۔ اس کے بعد ابھیں حکم دیا جائے گا کہ جہنم کے در وازوں میں داخل ہو جا ؤ۔
لیکن یہاں فرمایا گیا ہے : پر ہیز گار وہ لوگ ہیں کہ روح قبض کرنے والے فرشتے ان کی روح اس حالت میں قبض کرتے ہیں کہ وہ پاک و پاکیزہ ہیں( الَّذِینَ تَتَوَفَّاهُمْ الْمَلاَئِکَةُ طَیِّبِین ) ۔اس موقع پر فرشتے ”انھیں کہتے ہیں سلام ہو تم پر “( وَ یَقُولُونَ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ ) ۔وہ سلام کہ جو امن و سلامتی اور آرام و سکون کی نشانی ہے ۔
اس کے بعد کہتے ہیں : اپنے اعمال کے سبب جنت میں داخل ہو جاؤ( ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ) ۔
تتوفاهم (ان کی روح حاصل کرتے ہیں ) یہ موت کے بارے میں ایک لطیف تعبیر ہے اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ موت فنا و نابودی نہیں اور اس سے ہر چیز ختم ہوجاتی بلکہ ایک بالا تر مرحلہ کی طرف منتقل ہو نے کا مرحلہ ہے ۔
تفسیر المیزان میں ہے کہ :
اس آیت میں تین موضوعات پیش کئے گئے ہیں :
۱ ۔ متقین کی روح اس حالت میں قبض کی جائے گی کہ وہ پاک و طیب ہوں گے ۔
۲ ۔ ان کے لئے ہر لحاظ سے امن و سلامتی کا ہونا ۔
۳ ۔ بہشت کی طرف ان کی راہنمائی ۔
ا ن تین نعمات کی نظیر سورہ انعام کی آیہ ۸۲ میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں ۔
( الذین اٰمنوا ولم یلبسوا ایمانهم بظلم اولٰٓئلک لهم الامن و هم مهتدون ) ۔
وہ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نہیں کیا ان کے لئے امن و امان ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں ۔
____________________
۱۔”خیرا ً “ در حقیقت فعل محذوف کا مفعول ہے اور تقدیر میں ”انزل خیراً “ تھا ۔
۲۔ ”اساطیر الاولین “ مبتداء محذوف کی خبر ہے اور تقدیر میں میں ”هٰذه اساطیر الاولین “تھا ۔
آیات ۳۳،۳۴،۳۵،۳۶،۳۷
۳۳ ۔( هَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ اٴَنْ تَاٴْتِیَهُمْ الْمَلاَئِکَةُ اٴَوْ یَاٴْتِیَ اٴَمْرُ رَبِّکَ کَذَلِکَ فَعَلَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَمَا ظَلَمَهُمْ اللهُ وَلَکِنْ کَانُوا اٴَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ ) ۔
۳۴ ۔( فَاٴَصَابَهُمْ سَیِّئَاتُ مَا عَمِلُوا وَحَاقَ بِهمْ مَا کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُون ) ۔
۳۵ ۔( وَقَالَ الَّذِینَ اٴَشْرَکُوا لَوْ شَاءَ اللهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَیْءٍ نَحْنُ وَلاَآبَاؤُنَا وَلاَحَرَّمْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَیْءٍ کَذَلِکَ فَعَلَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَهَلْ عَلَی الرُّسُلِ إِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِینُ ) ۔
۳۶ ۔( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ اٴُمَّةٍ رَسُولاً اٴَنْ اُعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ فَمِنْهمْ مَنْ هَدَی اللهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلاَلَةُ فَسِیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِینَ ) ۔
۳۷ ۔( إِنْ تَحْرِصْ عَلَی هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللهَ لاَیَهْدِی مَنْ یُضِلُّ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِینَ ) ۔
ترجمہ
۳۳ ۔ کیاوہ اس چیز کے علاوہ کسی چیز کے منتظر ہیں کہ ( قبض روح کرنے والے ) فرشتے ان کے پاس آئیں یا پھر ( ان کی سز اکے پارے میں ) تیرے پر وردگار کا حکم آپہنچے (اور پھر وہ توبہ کریں جبکہ اس وقت کی توبہ بے سود ہے ) ان سے پہلے والے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔ خدا نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انھوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ۔
۳۴ ۔ اور ان کے برے اعمال کا نتیجہ ان تک پہنچااور جس ( وعدہ عذاب)کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہ ان تک آپہنچا ۔
۳۵ ۔مشرکین نے کہا: اگر خدا چاہتا تو ہم اور ہمارے آباء اجداد اس کے غیر کی عبادت نہ کرتے اور نہ ان کی اجازت کے بغیر کسی چیز کو حرام کرتے( جی ہاں )ان سے پہلے لوگوں نے بھی یہی کام انجام دئے ہیں لیکن کیا انبیاء کی ذمہ داری سوائے واضح تبلیغ کے کچھ ہے ؟
۳۶ ۔ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ وہ خدائے یکتا کی عبادت کریں اورطاغوت سے اجتناب کریں ۔
ایک گروہ کو خدا نے ہدایت کی اور ایک گروہ کو گمراہی دامن گیر ہوئی پس روئے زمین میں چلو پھر و اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ۔
۳۷ ۔ تم ان کی ہدایت کی جتنی بھی لالچ کرو( کوئی فائدہ نہیں ) کیونکہ اللہ نے جسے گمراہ کیا ہے اس کی ہدایت نہیں کرتا اور ان کا کوئی مدد گار نہیں ہو گا ۔
تفسیر
انبیاء کی ذمہ داری واضح تبلیغ ہے
قرآن دوبارہ مشرکین اور مستکبرین کی طرز فکر اور طرز عمل کے بارے میں تجزیہ و تحلیل کرتا ہے اور تہدید آمیز لہجے میں کہتا ہے : وہ کس انتظار میں ہیں ” کیا وہ اس بات کے منظر ہیں کہ موت کے فرشتے ان کے پاس آئیں “ توبہ کے دروازے بند ہو جائیں دفتر اعمال لپیٹ دیا جائے اور واپسی کی کوئی راہ باقی نہ رہے( هَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ اٴَنْ تَاٴْتِیَهُمْ الْمَلاَئِکَةُ ) ۔
یا پھر وہ کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے لئے تیرے پر وردگار کی طرف سے عذاب کا حکم صادر ہو( اٴَوْ یَاٴْتِیَ اٴَمْرُ رَبِّکَ ) جبکہ اس حالت میں بھی توبہ کے دروازے بند ہو جائیں گے اور باز گشت اور تلافی کا راستہ باقی نہ رہے گا ۔
یہی ان کی کیسی طر فکر ہے ، کیسی ہٹ دھرمی ہے اور کیا احمقانہ اندا ز ہے ۔
یہاں لفظ ”ملائکہ “ اگر چہ مطلق طور پر آرہا ہے لیکن گذشتہ آیات کی طرف توکہ کرتے ہوئے کہ جن میں روح قبض کرنے والے فرشتے کے بارے میں گفتگوہے یہاں بھی وہی مراد ہیں ۔
”یاتی امر ربک“ ( خدا کا حکم آجائے گا ) اس جملے سے بہت سے احتمالات پیدا ہوسکتے ہیں لیکن اگر اس امر کی طرف توجہ کی جائے یہی تعبیر قرآن کی مختلف آیات میں نزول عذاب کے بارے میں آئی ہے تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہاں بھی وہی معنی مراد ہے ۔
بہر حال مجموعی طور پر ان دونوں جملوں سے تہدید کا مفہوم نکلتا ہے یہ تہدید اور دھمکی مستکبرین کے لئے ہے ان سے کہا گیا ہے کہ اگر خدا کی طرف سے پند و نصیحت اور ا س کے انبیا ء کی طرف سے وعظ و نصیحت سے تم بیدار نہیں ہو تے تو عذاب اور موت کے تازیانے تمہیں بیدار کریں گے لیکن اس بیدار ہونے سے تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔
اس کے بعد مزید فرما یا گیا ہے : یہی گروہ نہیں کہ جس کا طرز عمل ہے بلکہ ”گذشتہ مشرکین اور مستکبرین بھی یہی کچھ کیا کرتے تھے( کَذَلِکَ فَعَلَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ ) ۔ خدا نے تو ان پر ظلم نہیں کیا انہوں نے خود ہی اپنے اوپرظلم کیا ہے( وَمَا ظَلَمَهُمْ اللهُ وَلَکِنْ کَانُوا اٴَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُونَ ) ۔
کیونکہ در حقیقت خدا ان کے اعمال ہی کا نتیجہ ان کی طرف لوٹائے گا ، یہ جملہ پھر اس حقیقت کی تائید کرتا ہے کہ ہر ظلم اور برائی جو انسان سے سر زد ہوتی ہے آخر کار اسی کی دامن گیر ہوتی ہے بلکہ ہر چیز سے پہلے ان تک آپہنچی ہے کیونکہ برے عمل کے برے آثار اپنے فاعل کی رو ح پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس سے اس کا دل تاریک ہو جاتا ہے روح آلودہ ہو جاتی ہے اور آرام و سکون جاتا رہتا ہے ۔
دوبارہ ان کے اعمال کا نتیجہ بیان کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : بالآخرہ ان کے اعمال کی برائیاں ان تک آپہنچی ہیں( فَاٴَصَابَهُمْ سَیِّئَاتُ مَا عَمِلُوا ) ۔
(وعدہ عذاب الہٰی کہ)جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ان تک آپہنچے گا( وَحَاقَ بِهمْ مَا کَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُون ) ۔
”حاق بھم “ کامعنی ہے ”ان پر وارد ہوا“لیکن قرطبی، فرید وجدی اور دیگر مفسرین نے اسے احاطہ کرنے کے معنی میں لیا ہے البتہ اس سے ایسا مفہوم مراد لیا جانا چاہئیے جس میں وارد ہونا اور احاطہ کرنا دونوں معانی شامل ہوں ۔
بہر حال یہ آیت جو کہتی ہے کہ ” ان کے اعمال کی برائیاں ان تک آپہنچیں “ایک مرتبہ پھر اس حقیقت پر زور دیتی ہے کہ یہ انسان کے اپنے اعمال ہیں کہ جو اس جہان میں بھی اور اس جہاں میں بھی اسے دامن گیر ہوتے ہیں اس کے یہ اعمال مختلف صورتوں میں بھی مجسم ہوتے ہیں اور اسے رنج تکلیف ، آزار اور اذیت دیتے ہیں ۔(۱)
اگلی آیت مشرکین کی ایک کمزور اور بے بنیاد منطق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے : مشرکین کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو ہم کو ہمارے آباء و اجداد اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے “ اور بتوں کا رخ نہ کرتے( وَقَالَ الَّذِینَ اٴَشْرَکُوا لَوْ شَاءَ اللهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُونِهِ مِنْ شَیْءٍ نَحْنُ وَلاَآبَاؤُنَا ) ۔اور کوئی چیز اس کے اذن کے بغیر حرام قرار دیتے ( وَلاَحَرَّمْنَا مِنْ دُونِہِ مِنْ شَیْءٍ ) ۔یہ جو کچھ چوپایوں کی طرف اشارہ ہے کہ جنہیں مشرکین نے زمانہ جاہلیت میں اپنی طرف سے حرام قرار دے لیا تھا ان کے اس طرز عمل پر پیغمبر شدید تنقید کرتے تھے ۔
خلاصہ یہ کہ ان کا دعویٰ تھا کہ بتوں کی پرستش اور حلال حرام قراردینا اور ان کے دیگر کام اللہ کی رضا سے ہیں اور اس کے اذن کے بغیر نہیں ہیں ۔
ہوسکتا ہے کہ یہ گفتگو اس امر کی طرف اشارہ ہو کہ وہ جبر کا عقیدہ رکھتے تھے اور ہر چیز کو تقدیر سے وابستہ سمجھتے تھے ۔ اس آیت سے بہت سے مفسرین نے یہی مراد لیا ہے ۔
لیکن یہ احتمال بھی ان کا یہ کہنا عقیدہ جبر کی بنیاد پر نہ ہوا اور اس کا استدلال یہ ہو کہ اگر ہمارے اعمال پر خدا راضی نہیں ہیں ہے تو پھر اس نے پہلے پیغمبر اور رسول بھیج کر ان سے منع کیوں نہیں کیا اور کیوں ہمارے بزرگوں سے پہلے دن ہی نہیں کہا کہ میں ان کاموں سے راضی نہیں ہوں ۔ اس کی یہ خاموشی اس کی رضا کی دلیل ہے ۔
یہ تفسیر اس آیت اور کے بعد کی آیات کے ظاہری مفہوم سے مناسبت رکھتی ہے اسی لئے بلافاصلہ فرمایا گیا ہے ان کے آباؤ و اجداد بھی یہی کچھ کرتے تھے (اور انہی بہانوں کا سہارا لیتے تھے ) لیکن کیا انبیاء الہٰی کی ذمہ داری واضح تبلیغ کے علاوہ کچھ اور ہے ؟( کَذَلِکَ فَعَلَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَهَلْ عَلَی الرُّسُلِ إِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِینُ ) ۔
یعنی
اولاً یہ جو تم کہتے ہو کہ خدا نے سکوت اختیار کررکھا ہے ، ایسا ہر گز نہیں ہے ، جو پیغمبر بھی آیا ہے اس نے توحید کی اور نفی شرک کی دعوت دی ہے ۔
ثانیاً خدا اور پیغمبر کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ مجبور کریں بلکہ ان کے ذمہ ہے کہ راستے کی نشان دہی کریں اور یہ کام کیا جاچکا ہے ۔
ضمنی طور پر ”( کَذَلِکَ فَعَلَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِم ) “(جو لوگ اس سے پہلے تھے انھوں نے بھی یہی کام انجام دئیے ہیں )یہ ایک طرح سے پیغمبر کی تسلی کے لئے ہے تاکہ وہ جان لیں کہ یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں پہلے انبیاء کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوتا آیا ہے لہٰذا ملول نہ ہوں ، استقامت سے کام لیں اور ڈٹ جائیں خدا آپ کا یار و مدد گار ہے ۔
یہ حقیقت بیان کرنے کے بعد کہ انبیاء کی ذمہ داری صرف ابلاغ ِ آشکار اور تبلیغ واضح ہے ۔ اگلی آیت میں انبیاء کی کیفیت ِ دعوت کی طرف ایک مختصر اور جامع اشارہ کیا گیا ہے فرمایا گیا ہے :ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا ہے( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ اٴُمَّةٍ رَسُولاً ) ۔
لفظ ”امة“ ”ام “ ماں کے معنی میں ہے یا ہر چیز کے معنی میں ہے جو کسی دوسری چیز کو اپنا ضمیمہ قرار دے لہٰذا ہر وہ جماعت کہ جس کے افراد میں زمان ، مکان ، فکر یا ہدف میں کسی طرح کی وحدت ہو اسے ” امہ“ کہا جاتا ہے قرآن میں یہ لفظ ۶۴ سے زیادہ مرتبہ آیاہے ان کے مطالعے سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے ۔
ا س کے بعد مزید فرمایا گیا ہے :کہ ان سب رسولوں نے یہی دعوت دی ہے کہ خدائے یکتا کی پرستش کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو“( اٴَنْ اُعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ) ۔(۲)
یعنی تمام انبیا ء کی دعوت کی بنیاد پر عقیدہ توحید اور طاغوت سے مقابلہ تھا اور یہی وہ پہلی چیز تھی کی جس کی طرف سب انبیاء بلااستثناء دعوت دیتے تھے کیونکہ اگر توحید کے ستوں مستحکم نہ ہوں اور انسانی معاشرے سے طاغوتیت اور طاغوتی افکار نکال باہر نہ کئے جائیں تو کوئی اصلاحی پروگرام قابل ِ عمل نہیں ہے ۔
جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں ” طاغوت“ مبالغے کا صیغہ ہے یہ ”طغیان کے مادہ سے ہے جس کا مطلب ہے حد اور سر حد سے تجاوز کرنا اور ”طاغوت“ تجاوز کرنے والے کوکہتے ہیں لہٰذا شیطان ، بت اور ظالم و ستمگر حاکم کو ”طاغوت“ کہتے ہیں اورہر وہ راستہ جو غیر حق تک جا پہنچائے اسے ” طاغوت کہا جاتا ہے یہ لفظ مفرد اور جمع دونوں معانی میں استعمال ہوا ہے اگر چہ بعض اوقات اس کی جمع ”طواغیت“ کی جاتی ہے ۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء کی دعوت ِ توحید کا نتیجہ کیا نکلتا ہے قرآن کہتا ہے : ان امتوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں خدا نے ہدایت کی( فَمِنْهمْ مَنْ هَدَی اللهُ ) ۔اور ان میں ایسے تھے کہ گمراہی جنہیں دامن گیر ہوئی( وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلاَلَةُ ) ۔
اس موقع پر بھی مکتب جبر کے پیروں کاروں نے آواز بلند کی ہے کہ یہ آیت بھی ہمارے مکتب کی صداقت کے لئے ایک دلیل ہے لیکن ہم نے بار ہا کہا ہے کہ اگر ہدایت و ضلات والی آیات کو ایک دوسرے کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہیں رہتا اور نہ صرف یہ کہ وہ جبر کی طرف اشارہ نہیں کرتیں ، وضاحت سے انسانی اختیار ، ارادے اور آزادی کو بیان کرتی ہیں کیونکہ بہت سی قرآنی آیات میں ہے کہ خدائی ہدایت و ضلالت اس اہلیت اور نااہلی کے بعد کہ جو انسان کے اعمال کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔
قرآن صراحت سے کہتا ہے کہ خدا تعالی ٰ ظالموں ، ہیرا پھیری کرنے والوں ، جھوٹو ں اور اس قسم کے لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا اس کے برعکس جو لوگ راہ خدا میں جہاد اور جد و جہد کرتے ہیں اور دعوت انبیاء کو قبول کرتے ہیں ان پر اپنی رحمتیں نازل کرتا ہے ۔ انھیں تکامل و ارتقاء کی منزلوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور سیر الی اللہ کا راستہ کہ جو نشیب و فراز سے پر ہے اس میں ہدایت کرتا ہے جبکہ ظالموں اور جھوٹوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتیں اور عالم بے راہ روی میں سر گرداں رہیں نیز اعمال اچھے ہوں یا برے ان کی خاصیت چونکہ خدا کی طرف سے ہے لہٰذا ان کے نتائج کی نسبت خدا کی طرف دی جاسکتی ہے ۔
جی ہاں !خدا کی سنت یہ ہے کہ وہ ہدایت تشریعی کا طریقہ اختیار فرماتا ہے یعنی انبیاء کو مبعوث کرتا ہے تاکہ وہ فطرت سے ہم آہنگ ہو کر لوگوں کو توحید اور نفی طاغوت کی دعوت دیں اس ہدایت تشریعی کے بعد جو شخص یا گروہ اپنی لیاقت و اہلیت ثابت کرتا ہے وہ اس کے لطف و ہدایت ِ تکوینی سے ہم کنار ہو جاتا ہے ۔
جی ہاں ! یہ ہے خد اکی دائمی سنت ، نہ وہ کہ جو فکر الدین رازی اور اس جیسے مکتب جبر کے طرفداروں نے کہا ہے کہ خدا پہلے انبیاء کے ذریعہ دعوت دیتا ہے اور پھر جبری طور پر ( بغیر کسی وجہ کے) لوگوں میں ایمان یا کفر پیدا کردیتا ہے ، تعجب کی بات یہ ہے کہ ان کے خیال میں اس سلسلے میں خدا سے کسی قسم کا کوئی سوال و جواب نہیں ہوسکتا ۔
واقعا ًلوگوں نے خدا کا کیسا وحشت ناک تصور پیش کیا ہے کہ جوکسی عقل ، احساس او رمنطق سے مناسبت نہیں رکھتا ۔
یہ امر لائق توجہ ہے کہ زیر بحث آیت میں ہدایت و ضلالت کے بارے میں مختلف انداز سے بات کی گئی ہے پہلے فرما یا گیا ہے : ” خدا نے ایک گروہ کی ہدایت کی “ لیکن ضلات کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ ” خدا نے ایک گروہ کو گمراہ کیا“۔ بلکہ فرمایا :۔حقت علیهم الضلالة
یعنی گمراہی ان کے لئے ثابت ہو گئی اور ان کے دامن سے لپٹ گئی ۔
تعبیر کا یہ فرق ہوسکتا ہے ۔ دوسری آیاتِ قرآن اور بعض روایات سے ظاہر ہونے والی اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو کہ ہدایت کا زیادہ تعلق ان مقدمات سے ہے جو خدا تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں ، اس نے عقل دی ہے ، انسانی فطرت کو توحید کے لئے آمادہ کیاہے ، انبیاء بھیجے ہیں اور تشریعی و تکوینی آیات دکھائی ہیں اب صرف بندوں کیط رف سے ایک آزادنہ ارادے کی ضرورت ہے کہ جو انھیں منزل مقصود تک پہنچادے ۔
جبکہ ضلالت و گمراہی میں تمام تر کردار خود بندوں کا ہے کیونکہ خود بندے ہی تکوینی و تشریعی ہدایت کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں الہٰی فطرت کے قوانین کو پامال کرتے ہیں ۔ تشریعی و تکوینی آیات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور انبیاء کی دعوت پر چشم بصیرت اور گوش ہوش بند کرلیتے ہیں ۔ خلاصہ یہ تخریب و تحریف کے ان سب عنا صر کے ساتھ وادی ضلالت میں قدل رکھتے ہیں
تو کیا یہ سب امور انہی کی طرف سے نہیں ہیں ؟
سورة نساء کی آیہ ۷۹ میں اسی چیز کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔( مااصابک من حسنة فمن الله و ما اصابک من سیئة فمن نفسک )
جو بھلائی تجھے حاصل ہو وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو برائی تجھے پہنچے وہ خود تیری طرف سے ہے ۔
امام علی بن موسی رضا علیہ السلام کی طرف سے اصول کافی میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے کہ اس مطلب کو زیادہ واضح کرتی ہے ۔
ایک صحابی نے آپ سے جبر و اختیار کے بارے میں سوال کیا:۔
آپ (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا:
۱۔ اس بناء پر ضروری نہیں کہ ہم ”جزا“ کو ”سیئات“ سے پہلے مقدر فرض کریں ۔
۲۔ یہ جملہ تقدیر میں یوں تھا ۔”لیقول لهم اعبدو ا الله
لکھو
بسم الله الرحمٰن الرحیم
قال علی بن الحسین قال الله عزوجل :
یابن آدم ! بمشیتی کنت انت الذی تشاء، بقوتی ادیت الیٰ فرایضی، وبنعمتی قویت الیٰ معصیتی ، جعتک سمیعاً بصیراً
” مااصابک من حسنة فمن الله وما اصابک من سیئة فمن نفسک“
”وذٰلک الیٰ اولیٰ بحسناتک منک ، اونت اولیٰ بسیئاتک منی“
ترجمہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
( امام ) علی بن الحسین ( زین العابدین ) نے فرمایا کہ
(حدیث قدسی میں )اللہ عزوجل فرماتا ہے :
اے فرزندآدم !میرا ارادہ ہے کہ جس کی بنیاد پر تو ارادہ کرسکتا ہے ( میں نے توتجھے ارادے کی آزادی بخشی ہے )،
اور میری عطاکردہ قوت کے ساتھ تو واجبات ادا کرسکتا ہے،
جبکہ میری نعمت سے سوئے استفادہ کرتے ہوئے تونے اس وقت کو نافرمانی کی طاقت میں بدل لیا ہے ،
میں نے تجھے سننے اور دیکھنے والا بنایاہے (اور صحیح و غلط راستے کی نشاندہی کردی ہے ) ۔
اب جو بھلائی تجھے پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اورجس برائی کا تجھے سامنا کرنا پڑتا ہے وہ خود تیری طرف سے ہے ۔ “
یہ اس لئے ہے کہ تو جو نیک کام انجام دیتا ہے اس کے حوالے سے میں تجھ سے اولیٰ اور زیادہ مستحق ہوں او رجن برے کاموں کا تو مرتکب ہوتا ہے مجھ سے سزا وار تر ہے ۔(۱)
یہ تعبیر بھی انسانی ارادے کی آزادی کے لئے ایک زندہ دلیل ہے کیونکہ ہدایت و گمراہی جبری ہوتی تو زمین میں چلنا پھرنا اور گزشتہ لوگوں کے حالات کا مطالعہ کرنا فضول تھا لہٰذا یہ حکم بذاتِ خود اس بات کی تاکید ہے کہ کسی شخص کی سر نوشت پہلے سے معین شدہ نہیں ہے بلکہ خود اس کے اپنے ہاتھ میں ہے ۔
”سیر فی الارض “( زمین میں چلنا پھرنا ) اور گذشتہ لوگوں کے حالات کا مطالعہ کرنا ، اس بارے میں قرآن مجید میں بہت اور قابل توجہ مباحث موجود ہیں اس کا تفصلی ذکر ہم تفسیر نمونہ ، جلد ۳ سورہ آل عمران آیت ۱۳ کے ذیل میں کر آئے ہیں ۔
زیر بحث آیت میں پیغمبر اکرم کی دلجوئی کے طور پر تاکید کی گئی ہے کہ آخر کار یہ گمراہ اورہٹ دھرم لوگ اس مقام تک جاپہنچےں گے تو جس قدر بھی ”ان کی ہدایت کے لئے خواہش مند ہو جائے او رکوشش کرے ، کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ خدا جسے گمراہ کرے (پھر اسے ) ہدایت نہیں کرتا“۔( إِنْ تَحْرِصْ عَلَی هُدَاهُمْ فَإِنَّ اللهَ لاَیَهْدِی مَنْ یُضِلُّ ) ۔اور ان کے لئے کوئی یارو مددگار نہیں ہے “( وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِینَ ) ۔
”تحرص“ مادہ ” حرص“ سے خوب کوشش کے ساتھ کوئی چیز طلب کرنے کے معنی میں ہے ۔
واضح ہے کہ یہ جملہ تمامنحرفین اور کجرو لوگوں کے بارے میں نہیں ہے کیونکہ پیغمبر کا فریضہ ہے تبلی و ہدایت کرنا اور ہم جانتے ہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ تبلیغ وہدایت بہت سے گمراہوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے باعث سے بہت سے افراد دین ِ حق سے منسلک ہو جاتے ہیں او ربڑے عشق او رجذبے سے دین حق کا دفاع کرنے لگتے ہیں اور اس کا ساتھ دینے لگتے ہیں ۔
لہٰذ امندرجہ بالاجملہ ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے کہ جن کی ہٹ دھرمی اور بد دماغی انتہا کو پہنچ گئی ہو اور وہ استکبار ، غرور ، غفلت اور گناہ میں ایسے غرق ہو گئے ہوں گے کہ ان کے سامنے ہدایت کے دروازے نہ کھل سکین ۔ ایسے لوگوں کی ہدایت کے لئے پیغمبر جتنی بھی کو شش کرلیں بے نتیجہ ہوتی ہے کیونکہ اپنے اعمال کے سبب وہ اس حد تک گمراہ ہیں کہ قابل ہدایت نہیں رہے ۔
فطری امر ہے کہ ایسے لوگوں کا کوئی یار و مدد گار بھی نہیں ہوتا کیونکہ یا و رو مدگار تو کسی مناسب موقع پر ہی اقدام کرسکتا ہے ۔
ضمنی طور پر یہ تعبیر بھی نفی جبر کی دلیل ہے کیونکہ ” ناصر“ ایسے موقع سے مر بوط ہے جہاں خود انسان کے اندر سے جوش پیدا ہواور اس کا نتیجہ نصرت و مدد ہو( غور کیجئے گا ) ۔
”ناصرین “ جمع کی صورت میں ہے یہ شاید اس طرف اشار ہ ہو ۔ اس گروہ کے بر عکس گروہ مومنین کا ایک دوست اور مدد گار نہیں بلکہ بہت سے دوست اور مدد گار ہیں خدا ان کا مد دگار ہے انبیاء اور اولیاء الہٰی ان کے ناصر ہیں ۔ ملائکہ رحمت بھی ہیں ان کے حامی و مدد گار ہیں ۔ سورہ مومن کی آیہ ۵۱ میں ہے ۔
( انا لننصر رسلنا و الذین اٰمنوا فی الحیٰوة الدنیا و یوم یقوم الاشهاد )
ہم اپنے رسولوں کی اور اسی طرح مومنین کی اس جہان میں روز قیامت جبکہ گواہی دینے والے شہادت کے لئے اٹھیں گے ، نصرت کریں گے ۔
نیز سورة حم السجدہ کی آیہ ۳۰ میں ہے :۔
( ان الذین قالوا ربنا الله ثم استقاموا تتنزل علیهم الملائکة الاتخافوا ولا تحزنوا و ابشر وا بالجنة التی کنتم توعدون ) ۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس عقیدہ پر استقامت سے قائم رہتے ہیں ان پر آسمان کے ملائکہ نازل ہ وتے ہیں اور انھیں کہتے ہیں ڈرو نہیں اور غم نہ کھاؤ تمہیں اس جنت کی خوشخبری ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ ”بلاغ مبین “ کیا ہے
آیات بالا میں بتا یا گیا ہے کہ تمام انبیاء کی ذمہ داری ” بلاغ ِ مبین “ہے ۔
( فهل علی الرسل الاالبلاغ المبین )
یعنی ہادیان الہٰی محدود وقت کے سوا اپنی دعوت مخفی طور پرجاری نہیں رکھ سکتے ۔ مخفی کام اور وہ بھی دعوت رسالت کے زمانے میں قابل قبول اور نتیجہ بخش نہیں ہو سکتا ایسی صراحت کہ جس میں رشد و ہدایت اور قاطعیت ہو تدبیر کے ساتھ ساتھ اس دعوت کی شرط ہے ۔
اسی بناء پر تاریخ شاہد ہے کہ تمام انبیاء اگر چہ وہ عام طور پر تنہا ہوتے تھے اپنی دعوت صراحت اور وضاحت سے پیش کرتے تھے اور اس سلسلے میں ہر قسم کی مشکلات کے لئے تیار رہتے تھے اور یہی تمام حقیقی رہبروں کا دستور العمل ہے چاہے وہ انبیاء و مرسلین ہوں یا ان کے علاوہ ۔ کیونکہ خاموش رہنے سے دعوت کو کوئی قبول نہیں کرتا اور نہ ہی دو مختلف پہلو رکھنے والی باتوں سے کوئی استفادہ پاتا ہے ۔ حقیقی رہبر حقیقت بیان کرنے کے لئے کوئی چیز فروگذاشت نہیں کرتے وہ اس صراحت اور قاطعیت کے تمام نتائج بھی دلوں جان سے قبول کرتے ہیں ۔
۲ ۔ ہر امت کے لئے ایک رسول
زیر بحث آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے : ہم نے ہر امت میں ایک رسول مبعوث کیا ہے ۔
یہاں سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اگر ہر امت میں رسول بھیجا گیا ہے تو پھر دنیا کے تمام ممالک میں پیغمبر مبعوث ہوئے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کم از کم امت ہے حالانکہ تاریخ اس بات کی نشاندہی نہیں کرتی ۔
ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ انبیاء بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ خدائی دعوت امتوں کے کانوں تک پہنچ جائے ورنہ ہم جانتے ہیں کہ جس زمانے میں پیغمبر اسلام نے مکہ یا مدینہ میں قیام کیا تھا حجاز کے دوسرے شہروں میں کوئی پیغمبر نہیں تھا لیکن رسول اللہ نے اپنے نمائدے ان علاقوں میں بھیجے تھے ان نمائندوں نے رسول اللہ کی آواز ان سب کے کانوں تک پہنچائی علاوہ ازیں خود رسول اللہ نے خطوط لکھے اور مختلف ممالک مثلاًایران، روم اور حبشہ کی طرف قاصد روانہ کئے اس طرح ان تک پیغام الہٰی پہنچایا گیا ۔
اس وقت ہم بھی ایک امت ہیں ہم نے صد یوں بعد پیغمبر اسلام کی دعوت آپ کا پیغام لانے والے علماء کے ذریعے سنی ہے ۔
ہر امت میں رسول بھیجنے کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔
____________________
۱۔آیت کے آخر میں گمراہوں کو بیدار کرنے اور ہدایت یافتہ افراد کی روحانی تقویت کے لئے ایک عمومی حکم صادر فرمایا گیا ہے : زمین میں چلو پھرواور صفحہ زمین پر با تہِ خاک چھپے ہوئے گزشتہ لوگوں کے آثار کا مطالعہ کرو اور دیکھو آیاتِ الہٰی کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا (فَسِیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَانْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِینَ ) ۔
آیات ۳۸،۲۹،۴۰
۳۸ ۔( وَاٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَهدَ اٴَیْمَانِهمْ لاَیَبْعَثُ اللهُ مَنْ یَمُوتُ بَلَی وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔
۳۹ ۔( لِیُبَیِّنَ لَهُمْ الَّذِی یَخْتَلِفُونَ فِیهِ وَلِیَعْلَمَ الَّذِینَ کَفَرُوا اٴَنّهُمْ کَانُوا کَاذِبِینَ ) ۔
۴۰ ۔( إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ إِذَا اٴَرَدْنَاهُ اٴَنْ نَقُولَ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ ) ۔
ترجمہ
۳۸ ۔ انہوں نے تاکید سے قسم کھا کر کہا کہ مر جانے والوں کو خدا ہر گز مبعوث نہیں کرے گا ۔ جی ہاں ! یہ خدا کاقطعی وعدہ ہے ( کہ وہ تمام مرنے والوں کو پھر سے زندہ کرے گا ) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
۳۹ ۔ مقصد یہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں وہ اختلاف کرتے تھے وہ ان کے سامنے واضح کر دی جائے تاکہ انکار کرنے والے جان لیں کہ وہ جھوٹ بولتے تھے ۔
۴۰ ۔ ( معاد و قیامت ہمارے لئے مشکل نہیں ہے کیونکہ ) ہم جس وقت کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو صرف کہتے ہیں کہ ہو جا، تو وہ فوراً ہو جاتی ہے ۔
شان نزول
پہلی آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں مفسرین نقل کرتے ہیں :
ایک مسلمان نے کسی مشرک سے کچھ لینا تھا جب اس نے مطالبہ کیا تو اس نے قرض ادا کرنے میں لیت و لعل کی ۔ مسلمان پریشان ہوا، اس نے دورانِ گفتگو قسم کھائی :
اس چیز کی قسم کہ جس کے انتطار میں ہوں
( اس کا مقصد قیامت اور حسابِ خدا تھا )مشرک کہنے لگا :
”تم سمجھتے ہو کہ ہم موت کے بعد زندہ کئے جائیں گے ۔ و اللہ وہ کسی مردہ کو زندہ نہیں کرے گا ۔
( ا سکے بعد یہ بات اس لئے کہی کیونکہ ان لوگوں کا خیال تھا کہ مردوں کی بازگشت اور حیاتِ نو فضول یا محال بات ہے ) ۔اس کے بعد اس بات پر یہ آیت نازل ہو ئی اس میں اسے اور اسے جیسے افراد کو جواب دیا گیا ہے اور مسئلہ معاد کو واضح دلیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔(۱)
____________________
۱۔ تفسیر مجمع البیان ، تفسیر قرطبی اور تفسیر ابو الفتوح رازی ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر
معاد اور اختلافات کا خاتمہ
گذشتہ آیات توحید اور رسالتِ انبیاء کے بارے میں تھیں ۔ زیر بحث آیات میں مباحثِ توحید کے ایک پہلو کاذکر ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے : وہ تاکیدکے ساتھ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مر جانے والون کو خد اہرگز مبعوث نہیں کرے گا اور انھیں حیات نو عطا نہیں کرے گا( وَاٴَقْسَمُوا بِاللهِ جَهدَ اٴَیْمَانِهمْ لاَیَبْعَثُ اللهُ مَنْ یَمُوتُ ) ۔
بغیر کسی دلیل کے ان کا یہ انکار اور بھی تاکیدی قسموں کے ساتھ ان کی نادانی اور جہالت کی نشانی ہے لہٰذا ان کے جواب میں قرآن کہتا ہے : یہ خد اکا قطعی وعدہ ہے ( کہ وہ تمام مر نے والوں کو حیات نو عطا کرے گا تاکہ وہ اپنے اعمال کا نتیجہ دکھ لیں ) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے اور نہ جاننے کی وجہ سے انکار کردیتے ہیں( بَلَی وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔
” بلی ٰ“ ( جی ہاں ) ”حقاً “ اور اس کے بعد وعدہ کا ذکر ، وہ وعدہ کہ جو خدا کی طرف سے ہے ۔ معاد کی تاکید اور قطعیت کی دلیل ہیں ۔
اصول طور پر جو شخص کسی حقیقت کا قاطعیت کے ساتھ انکار کرے اس جواب بھی قاطعیت کے ساتھ دیا جانا چاہئیے تاکہ اس انکار کے برے نفسیاتی اچرات اثباتِ قاطع کے ذریعہ دور ہو سکیں اور یہ بات واضح ہو جائے کہ اس کی طرف سے نفی ، بے خبری اور نادانی کی وجہ سے ہے ۔ اس طرح انکار اپنا اثر بالکل کھو دے گا ۔
اس کے بعد معاد و قیامت کا مقصد اور اس پر خدا کی قدرت کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ اس امر کی نشاندہی کی جائے کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حیات نو قدر خدا میں نہیں ہے تو یہ ان کا بہت بڑا اشتباہ ہے اور اگر ان کا خیال ہے کہ معاد و قیامت بے مقصد ہے تو یہ بھی ان کی بہت بڑی غلطی ہے ۔
فرمایا گیا ہے : خدا مر نے والوں کو مبعوث کرے گا تاکہ جو چیز کے بارے میں وہ اختلاف کرتے تھے ان کے سامنے واضح کردے( لِیُبَیِّنَ لَهُمْ الَّذِی یَخْتَلِفُونَ فِیه ) ۔اور اس لئے کہ وہ جان لیں کہ وہ اس حقیقت کا جھوٹ انکار کرتے تھے ۔
( وَلِیَعْلَمَ الَّذِینَ کَفَرُوا اٴَنّهُمْ کَانُوا کَاذِبِینَ ) ۔
کیونکہ وہ جہان تو ایسا ہے جس میں پر دے ہٹ جائیں گے ، اور حقائق آشکار ہو جائیں گے ۔
جیسا کہ سورہ ق ٓ کی آیت ۲۲ میں ہے :۔( لقد کنت فی غفلة من هٰذا فکشفنا عنک غطائک فبصرک الیوم حدید )
انسان سے کہا جائے گا کہ تو اس دن کے بارے میں غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیری آنکھوں کے سامنے سے پر دہ اٹھا دیا ہے اور آج تو خوب دیکھتا ہے ۔
سورہ طارق کی آیہ ۹ میں ہے :۔( یوم تبلی السرائر )
قیامت ایسا دن ہے کہ جب رازہائے پنہاں آشکار ہو جائیں گے ۔
نیز سورہ ابراہیم کی آیت ۴۸ میں ہے :( وبرزوا لله الواحد القهار )
اس روز سب کے سب خدا ئے واحد و قہار کی بار گاہ میں حاضر ہو ں گے ۔
خلاصہ یہ کہ وہ دن شہود ،کشف ِ اسرار اور ظہور کا دن ہے ۔ اس روز پنہاں چیزیں آشکار ہو جائیں گی ایسے حالات او رماحول میں اختلاف ِ عقیدہ کا کوئی معنی نہیں ہے اگر چہ ممکن ہے کہ بعض ہٹ دھرم من کر اپنے آپ کو بچانے کے لئے جھوٹے سہارے لینے کی کوشش کریں لیکن یہ ایک استثنائی اور زود گزر امر ہے یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی مجرم کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیاجائے تواپنے تمام جرائم کا انکار کردے لیکن جب فوراً ٹیب ریکارڈ لگار کر اس کی آواز اسے سنائی جائے اس کے دستخظ اسے دیکھائے جائیں اور واضح ثبوت اس کے سامنے پیش کیے جائیں اور اسے ساتھ لے جاکر ، اس کے جرم کے آثار ، موقع و محل دکھا یا جائے تو اب جائے کلام باقی نہ رہے گی اور وہ اقرار کرلے گا ۔ عالم قیامت میں حقائق کا ظہور اس سے بھی زیادہ واضح اور آشکار ہو گا ۔
موت کے بعد کی زندگی اور قیامت کے مختلف اہداف و مقاصد ہیں جن کی مختلف مقامات پر آیات قرآنی میں نشاندہی کی گئی ہے مثلا ً انسان کا تکامل و ارتقاء ، اجرائے عدالت ، اس جہان کی زندگی کو با مقصد بنانا، فیض ِ الٰہی کو جاری وساری رکھنا وغیرہ ۔
زیر بحث آیت ایک اور مقصد کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ ہے اختلافات کو دور کرنا اور توحید طرف لوٹنا ۔
ہم جانتے ہیں کہ بہترین اصل کہ جو سارے عالم پر حکمران ہے وہ اصل توحید ہے ۔ یہ وسیع اور ہمہ گیر اصل خدا کی ذات ، صفات اور افعال پر صادق آتی ہے سارے عالم خلقت اور قوانین آفرینش پر بھی یہ اصل حکمران ہے اور ہر چیز کو آخر کار اسی اصل کی طرف پلٹنا چاہیئے لہٰذا ہماراعقیدہ ہے کہ یہ اختلافات اور اور نزاعات ایک دن ختم ہ وجائیں گے اور ساری دنیا کے لوگ ایک حکومت کے پرچم تلے جمع ہو جائیں گے اور یہ حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت ہو گی کیونکہ عالم ہستی کی روح یعنی توحید کے بر خلاف جو کچھ بھی ہے اسے آخر ایک دن ختم ہو نا جا چاہئیے ۔
لیکن عقائد کا یہ اختلاف دنیاسے مکمل طور پر ختم کبھی بھی ختم نہیں ہو گا کیونکہ یہ عالم غطا ہے یہاں بہت کچھ پر دے میں ہے ۔
البتہ ایک دن آئے گا کہ جب یہ پر دے ہٹ جائیں گے اور وہ ”یوم ظہور “ ہے ۔ اس بناء پر معاد کا ایک ہدف یہ ہے کہ سب وحدت کی طرف پلٹ آئیں اور تمام اختلافات ختم ہو جائیں ۔ اسی ہدف کی طرف مذکورہ بالا آیت میں اشارہ ہوا ہے قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اس مسئلے کی تکرار اور تاکید موجود ہے کہ خدا وند عالم روز قیامت لوگوں کے درمیان عدالت کرے گا اور اختلا فات ختم ہو جائیں گے ۔ ۲
دوسرا نکتہ ایک اور حقیقت پر مبنی ہے وہ یہ کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی بازگشت اور نئی زندگی محال ہے تو یہ جان لیں گے قدرت خدا اس سے برتر اور بالاہے ”جب ہم کسی کام کا ارادہ کرتے ہیں تو فقط یہ کہتے ہیں کہ ”ہو جا“ تو وہ فورا ً موجود ہو تی ہے “( إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ إِذَا اٴَرَدْنَاهُ اٴَنْ نَقُولَ لَهُ کُنْ فَیَکُونُ ) ۔
ایسی قدرت کاملہ کہ جس میں صرف”ہو جا “ کا فرمان ہر چیز کے وجود کے لئے کافی ہو تو پھر اس کے لئے مردوں کے حیات ِ نو عطا کرنے کی قدرت کے بارے میں تردد و شک کی کیا گنجائش رہ جاتی ہے ۔
شاید وضاحت کی ضرورت نہ ہوکہ ”کن“( ہوجا)کی تعبیر بھی تنگی بیان کی وجہ سے ہے ورنہ خدا کے لئے ”کن “کی ضرورت نہیں ۔اس کا ارادہ ہی کام کا ہوجانا ہے ۔ اس کی ناقص سی مثال اپنی زندگی سے پیش کرنا چاہیں تو وہ یہ ہے کہ ہم ارادہ کرتے ہیں کس چیز کے تصور کا تو وہ ہمارے ذہن میں ایجا د ہو جاتا ہے ہم اگر کسی عظیم پہاڑ، وسیع ، سمندر، ، درختوں سے بھرے بہت بڑے باغ یا ایسی کسی چیز کا تصور کرنا چاہیں توہمارے لئے کیا مشکل ہے کیا اس کے لئے ہمیں کسی جملے اور لفظ کی احتیاج ہے ؟ ان موجودات تصویرکی تو صرف تصور ہی سے ہمارے صفحہ ذہن پر ابھر آتی ہے ۔ تو اسی طرح خدا کے ”ہو جا“ کہے بغیر ، صرف ارادہ سے چیز موجود ہو جاتی ہے ۔
امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے ایک حدیث منقول ہے کہ ایک صحابی نے آپ سے عرض کیا کہ خدا کے ارادہ او ر مخلوق کے ارادہ کے بارے میں وضاحت فرمائیے تو امام (علیہ السلام) نے فرمایا :
مخلوق کا رادہ باطنی ہے اس کے بعد افعال ہیں کہ جو بعد میں آشکار ہو تے ہیں لیکن خدا کا ارادہ ہی اس کی ایجاد ہے نہ کہ اس کا غیر ، کیونکہ خدا میں سوچ بچار ، تصمیم اور فکر و نظر نہیں ہے (کیونکہ یہ صفات زائد بر ذات ہیں ) خدا کے بارے میں ان چیزوں کا کوئی وجود نہیں ہے یہ مخلوقات کی صفات ہیں لہٰذا خد اکا ارادہ ہی ایجاد ، افعال ہے ۔ فقط خدا کہتا ہے : ”ہوجا“ تو وہ ہو جا تاہے بغیر کوئی لفظ ادا کئے ، اسے زبان سے ادا کرنے ، کمر ہمت باندھنے اور غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔(۳)
____________________
۱۔ تفسیر مجمع البیان ، تفسیر قرطبی اور تفسیر ابو الفتوح رازی ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۲۔اس سلسلے میں آل عمران کی آیہ ۵۵، مائدہ کی ۴۸، انعام کی ۱۶۴، نحل کی ۹۲، اور حج کی ۶۹ کی طرف رجوع فرمائیں ۔
۳۔اصول کافی جلد ۱ ، باب الارادہ، حدیث نمبر ۳۔
آیات ۴۱،۴۲
۴۱ ۔( وَالَّذِینَ هَاجَرُوا فِی اللهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَلَاٴَجْرُ الْآخِرَةِ اٴَکْبَرُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ) ۔
۴۲ ۔( الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَلَی رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ ) ۔
ترجمہ
۴۱ ۔جن لوگوں پر ظلم ہوا اور پھر انہوں نے خدا کے لئے ہجرت کی ہے ہم اس دنیا میں انھیں اچھا مقام دیں گے اور اگر وہ جانیں تو آخرت کی جزا بہت بڑی ہے ۔
۴۲ ۔وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں صبر و استقامت کو اختیار کیا ہے اور وہ صرف اپنے پر وردگار پر توکل کرتے ہیں ۔
شان نزول
ان آیات کی شان ِ نزول میں بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ مکہ میں اسلام لانے کے بعد بعض مسلمانوں مثلا ً بلال ، عمار یاسر صہیب اور خبّاب پر سخت تشدد کیا گیا اسلام کی تقویت اور دوسروں تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے پیغمبر اکرم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یہ ہجرت آپ کی اور دوسروں کی کامیابی کا باعث بنیصہیب سن رسیدہ شخص تھے انہوں نے مشرکین مکہ سے کہا کہ میں ایک بوڑھا آدمی ہو میں اگر تمہارے میں اگر تمہارے پاس رہوں تو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور اگر میں تمہارا مخالف تو تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا تم ایسا کرو کہ میرے مال لے لو اور مجھے مدینہ جانے دو ۔ اس پر صہیب سے لوگوں نے کہا کہ تم نے نفع کا سود کیا ہے اس پر مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں جن میں اس جہان میں ، دوسرے جہان میں ان کی اور ان جیسے لوگوں کی کامیابی کا تذکرہ ہے ۔
تاریخ میں ہے کہ خلفاء کے زمانے میں جب بیت المال کے اموال تقسیم ہوتے تھے تو مہاجرین کے باری آتی تھی تو انہیں کہا جا تا تھا کہ اپنا حصہ لے لو یہ وہی ہے کہ جو خدا نے تمہیں دنیا میں دینے کا وعدہ کیا ہے او ر جو کچھ دوسرے جہان میں تمہارے انتظار میں ہے وہ بہت زیادہ ہے اس کے بعد وہ مذکورہ بالا آیت کی تلاوت کرتے تھے ۔(۱)
____________________
۱۔مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر
مہاجرین کی جزا
ہم نے بار ہا کہا ہے کہ قرآن اپنے تربیتی امور میں جس موثر ترین روش سے استفادہ کرتا ہے وہ ہے موازنہ اور تقابل ۔ قرآن ہر چیز کو ا س کے متضاد کے سامنے لے آتا ہے تاکہ ہر ایک کا مقام واضح اور متعین ہو جائے ۔ گزشتہ آیات میں منکرین قیامت اور ہٹ دھرم مشرکین کے بارے میں گفتگو تھی ۔ زیر بحث آیات سچے اور پاکباز مہاجرین کی بات کرتی ہیں تاکہ موازنہ اور تقابل سے دونوں کی کیفیت واضح ہو جائے ۔
پہلے فرمایا گیا ہے : جن لوگوں نے ستم اٹھائے اور راہ خدا میں ہجرت کی ہم اس دنیا میں انھیں اچھی جگہ اور مقام دیں گے( وَالَّذِینَ هَاجَرُوا فِی اللهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً ) ۔
یہ ان کی دنیاوی جز اہے ، رہی اخروی جزا ، اگر وہ جانے تو بہت ہی بڑی ہے( وَلَاٴَجْرُ الْآخِرَةِ اٴَکْبَرُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ ) ۔
بعد والی آیت میں ان سچے اور با استقامت اہل ایمان مہاجرین کی توصیف میں ان کے دو اوصاف بیان کئے گئے ہیں فرمایا گیا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے صبر و استقامت کا دامن تھاما اور جو اللہ پر توکل رکھتے ہیں( الَّذِینَ صَبَرُوا وَعَلَی رَبِّهِمْ یَتَوَکَّلُونَ ) ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ ہجرت او رمہاجرین :
آغاز اسلام میں مسلمانوں نے دو ہجرتیں کیں ۔ پہلی ہجرت نسبتاً مختصر تھی اس میں چند مسلمانوں نے ھجرت جعفر بن ابی طالب (علیه السلام) کی سر براہی میں حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔ دوسری ہجرت ہمہ گیر تھی ۔ اس میں رسول اللہ اور تمام مسلمانوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی ۔ زیر نظر آیات دوسری ہجرت سے متعلق ہیں ۔ ان آیات کی شان نزول بھی اس امر کی تائید کرتی ہے ۔
گذشتہ زمانے میں اور دور حاضر میں مسلمانوں کے لئے ہجرت کی دائمی اہمیت کے متعلق ہم سورہ نساء کی آیہ ۱۰۰ اور سورہ انفال کی آیہ ۷۵ کے ذیل میں تفصیلی بحث کر چکے ہیں ۔(۲)
بہر حال مہاجرین کا مقام اسلام میں بہت بلند ہے ، خود پیغمبر اکرم اور بعد کے مسلمان سب ان کا خاص احترام کرتے تھے کیونکہ انہوں نے دعوت اسلام کی تو سیع کی خاطر اپنا تمام سر مایہ حیات کو ٹھوکر ماردی ۔ بعض نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالاصہیب بعض افراد نے اپنے سارے مال و متاع سے منھ پھیر لیا ۔
ان دنوں میں اگر ان مہاجرین کا ایثار نہ ہو تا تو مکہ کا تنگ ماحول اور اس میں موجود شیطانی عناصر ہر گز اجازت نہ دیتے کہ اسلام کی آواز کسی کے کانوں تک پہنچے یہ وہ آواز ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے حلقوم میں دبا دیتے لیکن یہ مہاجرین تھے کہ جن کی اس سوچی سمجھی تحریک اور انقلاب کے ذریعے نہ صرف مکہ ان کے یر تسلط آگیا بلکہ اسلام کی آواز پوری دنیا کے کانوں تک پہنچ گئی ان کا یہ طرز عمل بعد کے مسلمانوں کے لئے اس قسم کے حالات میں ایک دائمی سنت کی حیثیت رکھتا ہے ۔
۲ ۔”( هاجروا فی الله ) “کا مفہوم :
اس تعبیر میں لفظ ”سبیل “ تک ذکر نہیں ہوا۔ یہ در اصل ان مہاجرین کے انتہائی خلوص کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے صرف خدا کی راہ میں ، اس کی رضا کی خاطر اور ا س کے دین کی حفاظت کے لئے اس قسم کی ہجرت کی ، نہ کہ اپنی جان بچا نے کے لئے یا کسی دوسرے مادی مفاد کے لئے ۔
۳ ۔( من بعد ماظلموا ) “ کا مطلب :
یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ میدان فوراًخالی نہیں کردینا چاہئیے بلکہ جب تک ممکن ہو قیام کرنا چاہئیے اور مشکلات کو بر داشت کرنا چاہئیے ۔ البتہ جس وقت دشمن کے آثار اور مظالم بر داشت کرنے کا نتیجہ اس کی جسارت میں اضافہ ہو اور مومنین کی کمزوری کے سواکچھ نہ ہو اس وقت ہجرت کرنا چاہیئے تاکہ زیادہ طاقت جمع کرنے اور زیادہ مضبوط مورچے قائم کرنے کا موقع مل سکے اور ہمہ گیر جہاد کے لئے بہتر جگہ میسر آسکے اور اہل حق کو فوجی ، ثقافتی اور تبلیغی محاذ پر کامیابی حاصل ہو سکے ۔
۴ ۔( لنبوئنهم فی الدنیا حسنة ) “ کا مفہوم :
یہ جملہ”بواٴت له مکاناً “ ( وہ مکان کہ جو میں نے اس کے لئے تیار کیا اور اسے اس میں جگہ دی ) کے مادہ سے لیا گیا ہے ، یہ جملہ نشاندہی کرتا ہے کہ حقیقی مہاجرین اگر چہ ابتداء میں اپنے مادی وسائل کھوبیٹھے تھے لیکن آخر کار انھیں مادی زندگی کے لحاظ سے بھی کامیابی حاصل ہوئی۔(۳)
انسان آخر دشمن کی ضربوں میں رہ کر ذلت کے ساتھ کیوں مرجائے ؟ وہ شجاعت و جرا ء ت کے ساتھ ہجرت کیوں نہ کر جائے اور کیوں نہ نئی جگہ سے مقابلے کی تیاری کرے تاکہ اپنا حق لے سکے ۔
سورہ نساء کی آیہ ۱۰۰ میں یہی مسئلہ زیادہ صرحت سے بیان کیا گیا ہے ۔ ارشاد الہٰی ہے :
( ومن یهاجر فی سبیل الله یجد فی الارض مراغماً کثیراً وسعة )
جو لوگ اللہ کی راہ میں ہجرت کریں انھیں دنیا میں امن کی بہت وسیع جگہ ملے گی کہ جہاں رہ کر وہ دشمن کو رسوال کرسکتے ہیں ۔
۵ ۔ مہاجرین کی صفات: مہاجرین کی دو صفات بیان کی گئی ہیں صبر اور توکل ۔ ان کی ان صفات کو بیان کرنے کا مقصد واضح ہے کیونکہ انسانی زندگی میں پیش آنے والے ایسے روح فرسا حوادث میں سب سے پہلے صبر و استقامت ضروری ہے جتنی مصیبت زیادہ ہوگی پھر اللہ پر توکل اور اعتماد بھی ضروری ہے اصول طور پر ایسی مشکلات میں اگر انسان کا کوئی مستحکم اور قابل ِ اطمینان سہارا نہ ہو تو اس کے لئے صبر و استقامت ممکن نہیں ہے ۔
بعض نے کہا کہ صبر کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اس راہ میں پہلے خواہشات ِ نفسانی کے مقابلے میں صبر و استقامت ضروری ہے اور توکل کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اس راستے کا آخری یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا ہر کسی سے کٹ جائے اور اس سے پیوستہ ہو جائے لہٰذا پہلی صفت آغاز سفر ہے اور دوسری اختتام سفر ۔(۴)
بہر حال بیرونی ہجرت اندرونی ہجرت کے بغیر ممکن نہیں ہے انسان کو چاہئیے کہ پہلے وہ اندرونی مادی برائیوں کو چھو ڑکر اخلاقی فضائل کی طرف ہجرت کرے تاکہ وہ بہرونی طور پر اس قسم کی ہجرت کرسکے اور دار الکفر کی ہر چیز کو ٹھو کر مار کر دار الایمان کی طرف منتقل ہو سکے ۔
____________________
۱۔مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۲۔تفسیر نمونہ جلد ۴ ص ۸۵( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع کریں ۔
۳۔”لنبوئنهم “ اصل میں ” بواء“ کے مادہ سے جگہ کے اجزاء مساوی ہونے کے معنی میں ہے ۔ اس کے برعکس ”نبوہ“( بر وزن ”مبدء “) جگہ کے اجزاء مساوی نہ ہونے کے میں ہے ۔ لہٰذا ” بوات لہ مکانا“ کا معنی ہے : میں نے اس کے لئے جگہ صاف کی لہٰذا یہ کسی کے لئے کوئی جگہ تیار کرنے کے معنی میں ہے ۔
۴۔ تفسیر کبیر فخر رازی ، شیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
آیات ۴۳،۴۴
۴۳ ۔( وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ إِلاَّ رِجَالاً نُوحِی إِلَیْهِمْ فَاسْاٴَلُوا اٴَهْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ ) ۔
۴۴ ۔( بِالْبَیِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَاٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔
ترجمہ
۴۳ ۔ ہم نے تجھ سے پہلے بھی ایسے مرد کہ جن پر وحی نازل کی، کے سواکسی کو نہیں بھیجا ، اگر تم نہیں جانتے تو باخبر لوگوں سے پوچھ لو ۔
۴۴ ۔ ( اور وہ لوگ جو ) واضح دلائل اور ( گزشتہ انبیاء کی ) کتب سے (آگاہ ہیں )اور ہم نے اس ذکر ( قرآن) کو تجھ پر نازل کیا تاکہ لوگوں کی طرف جو کچھ ہم نے بھیجا ہے وہ ان سے بیان کرو شاید وہ غرو رفکر کریں ۔
تفسیر
نہیں جانتے تو پوچھ لو
گذشتہ دو آیتیں حقیقی مہاجرین کے بارے میں تھیں البتہ زیر بحث آیات کے بارے میں دوبارہ اصول ِ دین سے متعلق گزشتہ مسائل کا ذکر ہے ان میں مشرکین کے ایک مشہور اعتراض کا جواب دیا گیا ہے ۔
وہ کہتے تھے کہ خدا نے تبلغ رسالت کے لئے کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیج دیا ( یا وہ کہتے تھے کہ پیغمبر کے پاس کوئی ایسی غیر معمولی قوت کیوں نہیں ہے جس کے ذریعے وہ ہمیں یہ کام ترک کرنے پر مجبور کردے کہ جو ہم انجام دیتے ہیں )ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ہم نے تجھ سے پہلے بھی رسول بھیجے ہیں اور وہ بھی بس ایسے ہی مرد تھے کہ جن پر وحی نازل ہوتی تھی( وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ إِلاَّ رِجَالاً نُوحِی إِلَیْهِمْ ) ۔
جی ہاں یہ مرد نوع بشر میں سے تھے ان میں تمام تر انسانی جذبات و احساسات موجود تھے یہ لوگوں کی مشکلات اور مصائب کو سب سے زیادہ سمجھتے تھے ۔ ان کی ضروریا ت کو جانتے تھے جبکہ کوئی فرشتہ ان امور سے اچھی طرح آگاہ نہیں ہوسکتا۔ انسان کے اندر جو گذرتی ہے فرشتہ اسے نہیں سمجھ پاتا۔
مسلم ہے صاحبان وحی کی اس کے سواکوئی اور ذمہ داری نہ تھی کہ وہ ابلاغ ِ رسالت کریں ۔ ان کا کام تھا کہ وہ پیام وحی حاصل کریں ۔ اسے انسانوں تک پہنچائیں اور معمول کے ذرائع کے ساتھ مقاصد وحی کے حصول کی جد و جہد کریں ۔ ان کا یہ کام نہ تھا کہ کسی غیر معمولی خدائی طاقت کے ذریعے تمام طبیعی قونین کو توڑتے ہوئے لوگوں کو قبولیت کی دعوت دیں اور انہیں انحرافات ترک کرنے پر مجبور کریں کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو پھر کسی کا ایمان لانا کوئی افتخار کی بات نہ ہوتی اور نہ ہی ایسا ایمان ترقی اور کمال کا ذریعہ ہوتا ۔
اس حقیقت پر تاکید اور اس کی تائید کے لئے مزید فرمایا گیا ہے : اگر اس بات کا تمہیں علم نہیں تو جاؤ با خبر لوگوں سے پوچھو( فَاسْاٴَلُوا اٴَهْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ ) ۔
”ذکر“ آگاہی اور اطلاع کے معنی میں ہے اور ”اهل الذکر “ ایک وسیع مفہوم ہے ۔ مختلف سطح پر ا سکے مفہوم میں تمام آگاہ او رباخبر لوگ شامل ہیں ۔
بہت سے مفسرین نے ”اهل الذکر “ سے اہل کتاب کے علماء مراد لیتے ہیں ۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ”اهل الذکر “ کا مفہوم اسی میں محدود سمجھ لی اجائے بلکہ در حقیقت اس کے کلی مفہوم کا ایک مصداق ہے کیونہ اس کے بارے میں سوال قاعدتاً اہل کتاب کے اور یہود و نصاریٰ کے علماء سے کیا جانا چاہئیے کہ گذشتہ انبیاء و مر سلین نوع بشر میں سے تھے اور مرد تھے کہ جو خدائی احکام کی تبلیغ اور اجراء کے لئے مامور ہوئے تھے ۔
یہ ٹھیک ہے کہ اہل کتاب ہر لحاظ سے مشر کین کے ہم آہنگ نہ تھے بلکہ اسلام کی مخالفت میں وہ ان سے ہم آہنگ تھے لہٰذا گذشتہ انبیاء کے حالات بیان کرنے کے لئے اہل کتاب کے علماء بہتر ذریعہ تھے ۔
مفردات میں راغب نے کہا ہے کہ ”ذکر“ کے دو معنی ہیں یہ لفظ کبھی ”حفظ“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی ”یاد آوری“ کے معنی میں ۔
البتہ ممکن ہے یاد آوری دل ہی سے ہو( دل سے یاد کرنا در اصل باطنی ذکر شمار ہوتا ہے ) یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کو ذکر کہا جاتا ہے یہ اس بناء پر ہے کہ قرآن حقائق کو واضح کرتا ہے ۔
اگلی آیت میں ہے : اگر تم انبیاء اور ان کی کتب کے واضح دلائل سے آگاہ نہیں ہوتو آگاہ اور باخبر لوگوں کی طرف رجوع کرو( بِالْبَیِّنَاتِ وَالزُّبُرِ ) ۔(۱)
توجہ رہے کہ علم باء کے بغیر اور باء کے ساتھ متعدی ہوتا ہے ۔
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے پہلے ”ارسلنا “ مقدر ہے اور اصل میں یوں تھا ”ارسلناھم بالبینات و الزبر“
بعض نے کہا ہے کہ اس کا متعلق ”و ما ارسلنا “ قبل کی آیت میں ہے۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ”نوحی الیهم “ سے متعلق ہے ۔
واضح ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے مطابق آیت کا ایک خاص مفہوم ہوگا لیکن مجموعی طور پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔
”بینات“ ” بینة“ کی جمع ہے اس کا معنی ہے ”واضح دلائل “ ، ہو سکتا ہے یہاں یہ انبیاء کے معجزات اور ان کی حقانیت کے دیگر دلائل کی طرف اشارہ ہو ۔
”زبر“ ” زبور“ کی جمع ہے ا س کا معنی ہے ” کتاب “۔
در حقیقت ”بینات“ کا مفہوم ہے اثبات کے دلائل اور ” زبر“ ان کتب کی طرف اشارہ ہے جن میں انبیاء کی تعلیمات جمع تھیں ۔
اس کے بعد قرآن روی سخن پیغمبر اکرم کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے :ہم نے یہ ذکر ( قرآن) تجھ پر نازل کیا تاکہ لوگوں کے لئے جو کچھ نازل ہوا ہے تو ان سے بیان کرے( وَاٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْهِمْ ) ۔
تاکہ وہ ان آیات پر غور و فکر کریں اور ان کے حوالے سے جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں ان کی طرف متوجہ ہوں( وَلَعَلَّهُمْ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔
در حقیقت تیری دعوت اور رسالت کا پروگرام اصول طور پر کوئی نئی چیز نہیں ۔ گزشتہ رسولوں پر بھی ہم نے آسمانی کتابیں نازل کی ہیں تاکہ وہ لوگوں کو ان ذمہ داریوں سے آگاہ کریں کہ جو خد ا، مخلوق اور خود اپنی ذات کی طرف سے ان پر عائد ہوتی ہیں ہم نے تجھ پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ تو اس کے مفاہیم اور تعلیمات کو بیان کرے اور انسانون کی فکر کو بیدار کرے تاکہ وہ مسئولیت اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ قدم اٹھائیں اور رشد و کمال کی طرف آگے بڑھیں ( نہ کہ جبری طریقے سے اور خدا کی خلافِ معمول جبری طاقت سے ) ۔
___________________
۱۔”بِالْبَیِّنَاتِ وَالزُّبُر “ترکیب کے لحاظ سے کس فعل سے متعلق ہے اس سلسلے میں مفسرین نے کئی ایک احتمالات ذکر کئے ہیں بعض نے اسے ”لاتعلمون “ سے متعلق سمجھا ہے (جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اور ظاہری مفہوم سے یہی بات مطابقت رکھتی ہے ) ۔
ایک اہم نکتہ
اہل ذکر کون ہیں ؟
اہلبیت علیہم السلام کے ذرائع سے مروی متعدد روایات میں ہے کہ اہل ذکر آئمہ اہلِ بیت ہیں ۔
ان میں سے ایک روایت امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے مروی ہے ۔ اس آیت کے بارے میں آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا:نحم اهل الذکر و نحن المسئولون
ہم ہے اہل ذکر اور ہم ہی سوال کیا جانا چاہئیے(۱)
ایک اور روایت میں ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں فرمایا:
الذکر القرآن ، وآل الرسول اهل الذکر و هم المسئولون
ذکر قرآن ہے اور آلِ رسول اہل ِ ذکر ہیں اور انھیں سے سوال کیا جانا چاہئیے ۔(۲)
بعض روایات میں ہے کہ ذکر خود رسول اللہ ہیں اور ان کے اہل بیت اہل الذکر ہیں ۔(۳)
اس مضمون کی اور بھی کئی روایات ہیں ۔
اہل سنت کی تفاسیر اور کتب میں بھی اسی مضمون کی بہت سی روایات ہیں ان میں سے ایک روایت ابن ِ عباس سے مروی ہے جسے اہل سنت کی مشہوربارہ تفاسیر میں زیر بحث آیت کی تفسیر کے ضمن میں نقل کیا گیا ہے ۔ ابن عباس کہتے ہیں :هو محمد و علی و فاطمه و الحسن و الحسین هم اهل الذکر و العقل و البیان
محمد ، علی ، فاطمہ، حسن ، اور حسین ہی اہل ذکر ، اہل عقل اور اہل بیان ہیں ۔(۴)
بارہ تفاسیر سے مندرجہ ذیل تفاسیر مراد ہیں :
۱ ۔ تفسیر ابو یوسف ۲ ۔ تفسیر ابن حجر ۳ ۔ تفسیر مقاتل بن سلیمان ۴ ۔ تفسیر وکیع بن جراح
۵ ۔ تفسیر یوسف بن موسیٰ ۶ ۔ تفسیر قتادہ ۷ ۔ تفسیر حرب الطائی ۸ ۔ تفسیر سدی
۹ ۔ تفسیر مجاہد ۱۰ ۔ تفسیر مقاتل بن حیان ۱۱ ۔ تفسیر ابو صالح ۱۲ ۔تفسیر محمد بن موسیٰ الشیرازی
اسی آیت کی تفسیر میں جابر جعفی کی ایک حدیث ثعلبی کی کتاب میں مرقوم ہے ۔ وہ کہتا ہے :۔
لما نزلت هٰذه الاٰیة قال علی (علیه السلام) نحن اهل الذکر
جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ، حضرت علی (علیه السلام) نے فرمایا: ”اہم اہل ِ ذکر ہیں “۔(مذکورہ بالا مدر ک کی طرف رجوع کریں )
آیات قرآن کی تفسیر میں معین مصادیق پر مبنی روایات سے یہ ہمارا پہلا سابقہ نہیں ہے ایسا مصداق آیت کے وسیع مفہوم کو کبھی محدود نہیں کرتا۔
اسی طرح یہاں بھی جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ذکر ہر قسم کی آگاہی ، یا د آوری اور اطلاع کے معنی میں ہے اور اہل ذکر کے مفہوم میں ہر سطح کے آگاہ اور باخبر افراد شامل ہیں لیکن قرآن مجید چونکہ یا د آوری ، علم اور آگہی کا زیادہ واضح نمونہ ہے لہٰذا اس پر ”ذکر“ کا اطلاق ہوا ہے ۔ اسی طرح رسول اللہ کی ذات بھی اس کا واضح مصداق ہے اسی طرح آئمہ معصومین کہ جوآنحضرت کے اہل ِ بیت اور آپ کے علم کے وارث ہیں وہ ” اہل الذکر “ کا واضح ترین مصداق ہیں ۔
اس کے سارے مسئلے کو قبول کرلیا جائے تو یہ آیت کے عمومی مفہوم کے منافی نہیں اور نہ ہی اس بات کے منافی ہے کہ اہل کتاب کے علماء کے بارے میں نازل ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے علماء ِ اصول اور فقہاء نے اس سے اجتہاد او ر تقلید کرنا چاہئیے ۔
اس موقع پر ایک روایت کے حوالے سے ایک سوال ابھر تا ہے ۔ روایت عیون الاخبار میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے مروی ہے روایت کے مطابق جو لوگ اس آیت کی تفسیر میں کہتے تھے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کی طرف رجوع کرو اور ان پر آپ نے اعتراض کیا اور فرمایا:
سبحان اللہ ! کیسے ممکن ہے کہ ہم علماء یہود و نصاریٰ کی طرف رجوع کریں کیونکہ اس طرح تو یقینا وہ ہمیں اپنے مذہب کی طرف دعوت دیں گے ۔
پھر فرمایا:اہل ذکر ہم ہیں ۔(۵)
اس سوال کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ امام نے یہ بات ان لوگوں سے کہی ہے جو آیت سے یہ مراد سمجھتے ہیں کہ ہر دور میں صرف علماء ِ اہل کتاب کی طرف رجوع کیا جائے حالانہ یہ بات ہر زمانے کے لئے نہیں ہے ۔ مثلاًامام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام کے زمانے میں لوگوں کی ہر گز یہ ذمہ داری نہ تھی کہ وہ حقائق جاننے کے لئے یہودی اور عیسائی علماء کے پاس جائیں ایسے زمانے میں علماء اسلام مرجع ہیں اور علماء اسلام کے سید و سردار آئمہ اہل بیت علیہم السلام ہیں ۔
دوسرے لفظوں میں پیغمبر اکرم کے زمانے کے مشرکین کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس مسئلے سے آگاہی کے لئے کہ اللہ نبی نوعِ بشر میں سے تھے ، علماء اہل کتاب کی طرف رجوع کریں بلکہ چاہئیے کہ ہر مسئلہ اس مسئلے سے آگاہ افراد سے پو چھا جائے اور یہ ایک بدیہی بات ہے ۔
بہر حال زیر بحث آیت میں ایک بیادی اسلامی اصول بیان کیا گیا ہے یہ آیت مادی و روحانی تمام پہلوؤں پ رمحیط ہے اور تمام مسلمانوں کو تاکید کرتی ہے کہ جو چیز وہ نہیں جانتے اس کے بارے میں آگاہ افراد سے پوچھیں اور جن مسائل سے جو لوگ آگاہ نہیں ہیں وہ ان میں دخل اندازی نہ کریں ۔ اس طرح سے قرآن نے نہ صرف اسلامی دینی مسائل میں ” تخصص“ (۔ specilaliza Tion )کی ضرورت ک وباقاعدہ قانونی طورپر تسلیم کیا ہے بلکہ تمام شعبوں ، تمام مواقعاور تمام علاقوں میں اس کے لئے تاکید کی ہے اس بناء پر تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ ہر زمانے میں ہر شعبے اور ہر موضوع پر ان کے پاس آگاہ اور ماہر افراد موجود ہوں ۔ تاکہ نہ جاننے والے ان کی طرف رجوع کریں ۔
اس نکتے کا ذکر نا بھی ضروری ہے کہ ہمیں ایسے متخصصین اور ماہرین کی طرف رجوع کرنا چاہیئے جن کی صداقت ، بے غرضی اور دوستی ثابت ہو ۔ کیا ہم کبھی کسی ایسے ماہر ڈاکٹرکی طرف رجوع کریں گے خود جس کے کام سے ہم مطمئن نہ ہوں ۔
یہی وجہ ہے کہ تقلید اور مر جعیت کی بحث میں اجتہادیااعلمیت کے ساتھ عدالت کو بھی قرار دیا جاتا ہے یعنی مرجع تقلید اسلامی مسائل کا عالم و آگاہ ہو ، صاحبِ تقویٰ بھی ہو ۔
____________________
۱۔تفسیر نور الثقلین جلد۳ ص ۵۵تا ۵۶۔
۲۔ ۔تفسیر نور الثقلین جلد۳ ص ۵۵تا ۵۶۔
۳۔۔تفسیر نور الثقلین جلد۳ ص ۵۵تا ۵۶۔
۴۔ احقاق الحق جلد ۳ ص۴۸۲۔
۵۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۵۷۔
آیات ۴۵،۴۶،۴۷
۴۵ ۔( اٴَفَاٴَمِنَ الَّذِینَ مَکَرُوا السَّیِّئَاتِ اٴَنْ یَخْسِفَ اللهُ بِهمْ الْاٴَرْضَ اٴَوْ یَاٴْتِیَهُمْ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لاَیَشْعُرُونَ ) ۔
۴۶ ۔( اٴَوْ یَاٴْخُذَهُمْ فِی تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِینَ ) ۔
۴۷ ۔( اٴَوْ یَاٴْخُذَهُمْ عَلَی تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُوفٌ رَحِیمٌ ) ۔
ترجمہ
۴۵ ۔کیا سازش کرنے والے اللہ کے اس درد ناک عذاب سے مامون ہو گئے ہیں کہ جو ممکن ہے ۔ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے ی ا( اس کی ) سزا ایسی جگہ سے ان کے پاس آپہنچے کہ جہاں سے انھیں توقع نہیں ہے ۔
۴۶ ۔ یا جس وقت ( زیادہ مال و دولت سمیٹنے کے لئے )وہ دوڑ دھوپ کررہے ہوں ان کا دامن آپکڑے، جبکہ وہ کہیں فرار بھی نہ کرسکیں ۔
۴۷ ۔ ی انھیں تدریجی طور پر خوف انگیز تنبیہات کے ساتھ اپنی گرفت میں لے کیونکہ پر وردگار رؤفاور رحیم ہے ۔
تفسیر
مختلف گناہوں کی مختلف سزائیں :
بہت سے مباحث میں قرآن استدلالی مطالب، جذباتی پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس طرح سے پیش کرتا ہے کہ وہ سامعین کے دلوں کے لئے بہت زیادہ اثر انگیز ہو جاتے ہیں ۔ زیر بحث آیات کی اسی روش کا ایک نمونہ ہیں ۔
گذشتہ آیات میں معاد و نبوت کے مسئلے پرمشرکین سے ایک بحث تھی لیکن زیربحث آیات میں جابر ، مستکبر اور ہٹ دھرم گنہ گاروں کا تہدید کی گئی ہے اور انھیں مختلف طرح کے عذاب الٰہی سے ڈرایا گیا ہے ۔
ار شاد ہوتا ہے :نو رحق کو بجھا دینے کے لئے طرح طرح کی منحوس سازشین کرنے والے یہ لوگ کیا عذاب ِ الہٰی سے مامون ہوں گئے ہیں حالانکہ ہر آن ممکن ہے خد انھیں مختلف طرح کے عذاب میں دھنسا دے( اٴَفَاٴَمِنَ الَّذِینَ مَکَرُوا السَّیِّئَاتِ اٴَنْ یَخْسِفَ اللهُ بِهمْ الْاٴَرْضَ )
کیا یہ بعید ہے کہ زمین پر ایک وحشت ناک زلزلہ آجائے ، سطح زمین پھٹ جائے اور اس میں وہ تمام تر سازو سامان ِ حیات کے ساتھ دھنس جائیں اور اقوام ِ عالم کی تاریخ میں ایسا بار ہا ہوا ہے ۔
”مکروا السیئات “ گھٹیا مقاصد اور غلط اہداف تک پہنچنے کے لئے سازشیں کرنے اور منصوبے بنانے کے معنی میں جیسا کہ مشرکین نور قرآن کو خاموش کرنے ، پیغمبر اسلام کو ختم کرنے اور مومنین کو اذیت دینے کے لئے سازشیں کرتے تھے ۔
”یخسف“ خسف“( بر وزن ”وصف“) کے مادہ سے پنہاں ہونے اور مخفی ہونے کے معنی میں ہے اسی لئے چاند کی روشنی جب زمین کے سائے میں چھپ جائے تو اسے ” خسوف“ کہتے ہیں ۔نیز مخسوف“ اس کنویں کو کہتے ہیں جس میں پانی چھپ جائے اسی طرح انسان اور مکان زلزلے وغیرہ سے پیدا ہونے والے زمین کے شگاف میں چھپ جائیں تو اسے ”خسف“کہتے ہیں ۔
اس ے بعد قرآن مزید کہتا ہے : یا جب وہ غفلت میں ہوں اور عذاب الہٰی ایسی جگہ سے آپہنچے جہاں سے انھیں توقع ہی نہ ہو ۔( اَوْ یَاٴْتِیَهُمْ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لاَیَشْعُرُونَ ) ۔
یا جس وقت وہ زیادہ مال جمع کرنے کے لئے دور دھوپ کر رہے ہیں انھیں عذاب دامن گیر ہو جائے( اٴَوْ یَاٴْخُذَهُمْ فِی تَقَلُّبِهِم ) ۔جبکہ وہ کہیں بھاگ بھی نہ سکیں( فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِینَ ) ۔
جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں ”معجزین “”اعجاز“کے مادہ سے ناتواں اور عاجز کرنے کے معنی میں ہے ۔ ایسے مواقع پر یہ عذاب کے چنگل سے فرار کرنے کے معنی میں ہے ۔
یا یہ کہ عذاب الہٰی اچانک ان تک نہ پہونچے بلکہ تدریجی طور پر پے در پے تنبیہوں کے بعد انھیں اپنی گرفت میں لے( اٴَوْ یَاٴْخُذَهُمْ عَلَی تَخَوُّفٍ ) ۔
آج ان کا ہمسایہ کسی سانحے کا شکار ہوا ، کل ان کے کسی باغ کو نقصان پہنچا اگلے روز ان کے کچھ اموال ضائع ہوگئے خلاصہ یہ کہ یکے دیگرے انھیں تنبیہیں کی گئیں وہ بیدار ہو گئے تو کیا خوب ورنہ آخری اور اصلی انھیں اپنی گرفت میں لے لے گا ۔ کسی گروہ کے لئے ایسے مواقع پر عذاب اور سزا تدریجی اس لئے ہے کہ ابھی اس میں احتمال ِ ہدایت موجود ہے اور خدا کی رحمت اجازت نہیں دیتی کہ اس کے ساتھ دوسروں کا سا سلوک کیا جائے کیونکہ تمہارا پر وردگار رؤف اور رحیم ہے( فَإِنَّ رَبَّکُمْ لَرَئُوفٌ رَحِیمٌ ) ۔
یہ امر قابل توجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں چار قسم کی سزاؤں کاتذکرہ ہے :
پہلی ” خسف“ اور زمین دھنس جانا۔
دوسری بے خبری میں ایسی جگہ سے عذاب آنا کہ جہاں سے توقع نہ ہو۔
تیسری اس وقت عذاب آپہنچا جب انسان مال و دولت جمع کرنے کی دھن میں مگن تھا ۔ چوتھی تدریجی سزا اور تدریجی عذاب ۔
مسلم ہے کہ چار قسم کی ان سزاؤں میں سے ہر ایک کسی خاص قسم کے گناہ سے مناسبت رکھتی ہے اگر چہ یہ سب گناہ گار ”الذین مکروا السیئات “ ( ایسے لوگ جو گھٹیا سا زشیں کرتے اور غلط منصوبے بناتے ہیں )کامصداق ہیں ۔ مختلف گناہوں پر یہ مختلف سزائیں اس لئے ہیں کہ خدا کے تمام کام حکمت کے مطابق اور استحقاق کی مناسبت سے ہوتے ہیں ۔
جہاں تک ہماری نظر ہے ، ا س سلسلے میں مفسرین نے کوئی بات نہیں کہی لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ :
پہلا عذاب سازشیوں کے اس گروہ کے لئے مخصوص ہے جو خطر ناک ، جابر اور مستکبرہیں جیسے قارون ۔خدا ان لوگوں کو اقتدار اور طاقت کی ایسی بلندی سے نیچے کھینچتا ہے اور انھیں زمین کی گہرائیوں میں سے اس طرح سے دھنسا دیتا ہے کہ وہ سب کے لئے باعث ِ عبرت بن جاتے ہیں ۔دوسرا عذ اب ایسے سازشیوں کے لئے مخصوص ہے کہ جو عیش ونوش میں سر مست ہوں اور جو سر کش ہواو ہوس میں غرق ہوں عذاب ِ الہٰی اچانک ایسی جگہ سے انھیں آپکڑ تا ہے کہ جہاں سے انھیں توقع تک نہیں ہوتی ۔تیسرا عذاب دنیا پرست زراند وز لوگوں کے لئے مخصوص ہے ایسے لوگ کہ جو شب و روز ا س کو شش میں ہیں کہ جیسے بھی ممکن ہو او رجس جرم اور ظلم سے ہو سکے اپنی دولت میں ضافہ کریں یہ لو گ ما ل و دولت جمع کرنے میں لگے ہوتے ہیں کہ عذاب ِ الہٰی انھیں آجکڑتا ہے ۔(۱)
چوتھا عذاب ایسے لوگوں کے لئے جو طغیان و سرکشی اور سازش و گناہ میں اس حد تک جا پہنچے ہیں کہ اب ان کے لوٹ آنے کی اور کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اس مقام پر ” تخوف“ تنبیہ و تہدید کے ذریعے اللہ تعالیٰ انھیں بیدار کرتا ہے ، وہ بیدار ہو جائیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو بہتر ورنہ انھیں دہن عذاب میں ڈال دیتا ہے ۔ خدا کی رافت و رحمت کا ذکر ایک علت کے طور پر چوتھے گروہ سے مر بوط ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابھی خدا سے اپنے تمام رشتے منقطع نہیں کئے اور اپنی واپسی کے تمام راستے ابھی تباہ نہیں کئے ۔
____________________
۱۔ لغت عرب میں ” تقلب“ اگر چہ ہر قسم کی آمد و رفت کے معنی میں ہے لیکن جیسا کہ بہت سے مفسرین نے کہا ہے اور بعض اسلامی روایات میں بھی تاکید کی گئی ہے ایسے مواقع پر نجات اور کسب ِ مال کے لئے آمد و رفت کے معنی میں ہے ( غور کیجئے گا ) ۔
آیات ۴۸،۴۹،۵۰
۴۸ ۔( اٴَوَلَمْ یَرَوْا إِلَی مَا خَلَقَ اللهُ مِنْ شَیْءٍ یَتَفَیَّاٴُ ظِلاَلُهُ عَنْ الْیَمِینِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ ) ۔
۴۹ ۔( وَلِلَّهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ مِنْ دَابَّةٍ وَالْمَلاَئِکَةُ وَهُمْ لاَیَسْتَکْبِرُونَ ) ۔
۵۰ ۔( یَخَافُونَ رَبَّهُمْ مِنْ فَوْقِهِمْ وَیَفْعَلُونَ مَا یُؤْمَرُونَ ) ۔
ترجمہ
۴۸ ۔ کیا انھوں نے مخلوق خد اکو نہیں دیکھا کہ ان کے سائے کس طرح دائیں بائیں سے حرکت کرتے ہیں اور وہ خضوع و خشوع سے اللہ کو سجدہ کرتے ہیں ۔
۴۹ ۔( نہ صرف ان مخلوق کے سائے بلکہ ) آسمانوں اور زمین میں چلنے والے تمام اور ملائکہ خدا کے حضور سجدہ کرتے ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی تکبر نہیں ہے ۔
۵۰ ۔وہ اپنے پر وردگار ( کی نا فرمانی) سے ڈرتے ہیں کہ جو ان کا حاکم ہے اور جس چیز پر وہ مامور ہیں اسے انجام دیتے ہیں ۔
تفسیر
سائے تک اللہ کے حضور سجدہ زیر ہیں
ان آیات میں دوبارہ بحث توحید کی طرف لوٹ آئی ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے : کیا وہ (سازشی مشرک) مخلو ق خدا کو نہیں دیکھتے کہ جس طرح ان کے سائے ان کے دائیں بائیں حرکت کرتے ہیں اور بڑے خشوع وخضوع سے اللہ کو سجدہ کرتے ہیں( اٴَوَلَمْ یَرَوْا إِلَی مَا خَلَقَ اللهُ مِنْ شَیْءٍ یَتَفَیَّاٴُ ظِلاَلُهُ عَنْ الْیَمِینِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ ) ۔(۱) ”یتفئوا “ ”فئی“ کے مادہ سے لوٹ آنے اور رجوع کے معنی میں ہے ۔
بعض کہتے ہیں کہ عرب چیزوں کے صبح کے سائے کو ”ظل“ کہتے ہیں اور عصر کے سائے کو ”فیئی“ کہتے ہیں اور یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ غنائم و اموال کے ایک حصے کو ”فیئی“ کہا گیا ہے تو یہ اس حقیقت کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ مال ِ دنیا کا بہترین حصہ بھی وقتِ عصر کے سائے کی طرح ہے کہ جو جلدی سے زائل اور ختم ہو جاتا ہے ۔
لیکن اس طرح توجہ کی جائے کہ زیر بحث آیت میں دائیں اور بائیں طرف کے سایوں کا ذکر ہے اور لفظ”فیئی“ ان سب کے لئے استعمال ہوا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں لفظ”فیئی“ وسیع معنی رکھتا ہے اور ا س کے مفہوم میں ہر طرح کا سایہ شامل ہے ۔
جس وقت آفتاب طلوع ہوتا ہے ، انسان جنوب کی طرف منھ کر کے کھڑا ہوا تو وہ دیکھے گا کہ سورج اس کی بائیں طرف افق ِ مشرق سے بلند ہورہا ہے اور تمام چیزوں کا سایہ اس کی دائیں طرف پڑرہا ہے ۔ اسی دائیں طرف مغرب ہے یہ صورت اسی طرح سے رہتی ہے اور دائیں طرف کا سایہ رفتہ رفتہ کم ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وقت زوال آپہنچتا ہے اس وقت سائے بائیں جانب کو ڈھلنے لگتے ہیں اور غروب آفتاب تک مشرق کی طرف سائے بڑھتے پھیلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جاتا ہے اور یہ سب کچھ چھپ جاتا ہے ۔
اس مقام پر خدا تعالیٰ چیزوں کے سایوں کی دائیں اور بائیں طرح حرکت کا ذکر اپنی عظمت کی نشانی کے طور پر کرتا ہے اور ان کے اس ڈھلنے کو پروردگار کے حضور عالمِ خضوع و خشوع میں سجدہ ریز ہونا قرار دیتا ہے ۔
____________________
۱۔”داخر“ اصل میں ”دخور“ کے مادے سے انکساری اور اپنے آپ کو چھوٹا ظاہر کرنے کے معنی میں ہے ۔
ہمارے سایوں کا ہماری زندگی پر اثر
اس میں شک نہیں کہ ہمارے سائے ہماری زندگی میں ایک اہم کردار کرتے ہیں شاید بہت سے لوگ اس سے غافل ہیں قرآن نے سایوں کا ذکر اس مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے کیا ہے ۔
سائے اگر چہ عدم نور کے علاوہ کچھ نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود بہت سے فوائد کے حامل ہیں مثلاً:
۱ ۔ سورج کی روشنی اور اس کی حیات بخش شعائیں موجودات کی زندگی اور نشوونما کا باعث ہیں جبکہ سائے کی روشنی کی شعاعوں کی تابش کو اعتدال میں رکھنے کے لئے ایک حیات آفرین کردار کرتے ہیں سورج کی روشنی اگر ایک ہی طویل عرسے کے لئے چمکتی رہے تو ہر چیز پژمردہ ہو جائے اور جل جائے ایسے میں سایے شدت و حدت کو اعتدال عطا کرتے ہیں وہ کم و بیش ہوتے رہتے ہیں کبھی اس جانب کو جھکتے ہیں اور کبھی اس جانب کو ۔ گویا کبھی ادھر نوازش کرتے ہیں اور کبھی اُدھر عنایت کرتے ہیں سایوں کا یہ طرز عمل چیزوں کی حفاظت اور بچاؤ میں نہایت تاثیر بخش ہے ۔
۲ ۔ جو لوگ بیابانوں میں پھرتے رہتے ہیں یا جنہیں بیابانوں میں رہنا اور گزرنا پڑجائے ان کے لئے انسانی نجات کے لئے سایوں کی غیر معمولی اثر انگیزی بالکل واضح ہے ایسے میں سایہ بھی وہ جو متحرک ہو اور ایک ہی جگہ ٹھہرنہ جاتا ہو اور ہر طرف حرکت کرتا ہو انسانی خواہش اور ضرورت کے عین مطابق ہوتا ہے ۔
۳ ۔ سائے ایک مفید پہلو یہ بھی ہے جوعام لوگوں کے خیال کے بر خلاف ہے ۔عام لوگ سمجھتے ہیں چیزوں کو دیکھنے کا ذریعہ صرف روشنی ہی ہے حالانکہ نور ہمیشہ سایے یا نیم سایے کے ساتھ ہوا تو چیزیں دکھائی دیتی ہیں دوسرے لفظوں میں اگر کسی موجود کے ہر طرف ایک جیسی روشنی چمکے اور اس پر کسی قسم کا کوئی سایہ یا نیم سایہ نہ ہو تو روشنی میں مستغرق یہ چیز ہر گز نہیں دیکھی جاسکے گی ۔
یعنی جس طرح مطلق تاریکی میں کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی اسی طرح مطلق نور میں بھی کوئی چیز نہیں دیکھی جاسکتی بلکہ نور و ظلمت باہم ہوں تو چیزوں کا دیکھا جانا ممکن ہوتا ہے ۔ لہٰذا سایے بھی چیزیں نظر آنے اور ان کی شناخت میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ ( غور کیجئے گا ) ۔
زیر نظر آیت میں ایک نکتہ اور قابل توجہ ہے آیت میں لفظ” یمین “ (دائیں طرف) مفرد صورت میں آیا ہے جبکہ ”شمائل“ جمع کی صورت میں ہے ” شائل“شمال“(بروزن” مشعل“)کی جمع ہے اور شمال کا معنی ہے بائیں طرف۔
تعبیر کا فرق ہوسکتا ہے اس بناء پر ہو کہ جو لوگ جنوب کی طرف رخ کئے ہوں دم صبح سایہ ان کے دائیں طرف پڑتا ہے اور پھر وہ مسلسل بائیں طرف حرکت کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وقت ِ مغرب افق مشرق میں محو ہوجا تا ہے ۔(۲)
بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ ”یمین“ اگر چہ مفرد ہے لیکن بعض اوقات اس سے جمع مراد ہو تی ہے اور یہاں جمع مراد ہے(۳)
گذشتہ آیت میں صرف سایوں کے سجدہ کرنے کی بات ایک وسیع مفہوم کے طور پر آئی تھی لیکن اگلی آیت میں تمام مادی و غیر مادی آسمانی و زمینی موجودات کے بارے میں فرمایاگیا ہے :آسمانوں اور زمین میں حرکت کرنے والی تمام موجودات اور اسی طرح فرشتے خدا کے حضور سجدہ کرتے ہیں( وَلِلَّهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ مِنْ دَابَّةٍ وَالْمَلاَئِکَةُ ) ۔اور وہ اس میں کسی قسم کا کوئی تکبر نہیں کرتے( وَهُمْ لاَیَسْتَکْبِرُونَ ) ۔
اور وہ خدا اور اس کے فرمان کے سامنے تسلیم محض ہیں ۔
سجدہ در حقیقت انتہائی خشوع وخضوع اور پرستش کا نام وہ سجدہ جو سات اعضاء کے ساتھ ہم انجام دیتے ہیں سجدہ کے عمومی مفہوم کا ایک مصداق ہے ورنہ سجدہ کا مفہوم بس اسی میں منحصر نہیں ہے ۔
عالم تکوین اور جہان آفرینش میں خدا کی تمام مخلوقات اور موجودات عام قوانین کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں ۔ اور ان قوانین سے انحراف نہیں کرتیں اور تمام قوانین خدا کی طرف سے ہیں پس در حقیقت تمام چیزیں بار گاہ الہٰی میں سجدہ ریز ہیں ۔ سب اس کی عظمت کی ترجمان ہیں سب اس کی بزرگی و بے نیازی کا مظہر ہیں مختصر یہ کہ سب اس کی مقدس ذات کی دلیل ہیں ۔
”دابة“ حرکت کرنے والے موجود کے معنی میں ہے نیز اس سے زندگی کا معنی بھی لیا جاتا ہے یہ جوز یر نظر آیت میں کہا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں چلنے والی سب موجودات خدا کے حضور میں سجدہ ریز ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندہ موجودات کرّارض ہی سے مخصوص ہیں بلکہ آسمانی کرّات میں بھی زندہ چلنے والے موجودات وجود رکھتے ہیں ۔
اگر چہ بعض نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ لفظ”من دابة“ صرف” مافی الارض“ کے لئے ہے یعنی یہاں صرف زمین میں حرکت کرنے اور پھر نے والوں کے بارے میں بات کی گئی ہے لیکن یہ اھتمال بہت بعید معلوم ہوتا ہے خصوصاً جبکہ شوریٰ کی آیہ ۲۹ میں ہے ۔( و من اٰیاته خلق السمٰوٰت و الارض وما بث فیها من دابة )
خدا کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین دونوں میں اس کی چلنے پھر نے والی مخلوق موجود ہے ۔
یہ بجا ہے کہ تکوینی اعتبار سے سجدہ اور خشوع و خضوع متحرک موجودات میں منحصر نہیں ہے لیکن چونکہ متحرک موجودات خلقت و آفرینش کے بہت سے اسرار و عجائب کا مظہر ہیں لہٰذا یہاں انہی کی نشادہی کی گئی ہے ۔
آیت کے مفہوم میں چونکہ عقل رکھنے والے انسان اور صاحب ایمان فرشتے بھی شامل ہیں نیز حیوانات اور دوسرے جانور بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں لہٰذا سجدہ یہاں عام اختیاری اور تشریعی معنی کا بھی حامل ہے اور تکوینی و اضطراری معنی کا بھی ۔
رہا یہ سوال کہ زیر بحث آیت میں فرشتوں کا الگ سے ذکر کیوں ہوا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ”دابة“ صرف ان چلنے پھرنے والے موجودات کو کہا جاتا ہے کہ جو جسم رکھتی ہین جبکہ فرشتے چلتے پھرتے تو ہیں لیکن مادی جسم نہیں رکھتے لہٰذا وہ ”دابة“ کے مفہوم میں شامل نہیں ہیں ۔
ایک حدیث میں ہے کہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں :
اللہ کے کچھ فرشتے ایسے بھی ہیں جوجو ابتدائے آفرینش سے خدا کے حضور سجدہ میں ہیں اور روز قیامت تک اسی طرحسر بسجود رہیں گے اور جب وہ قیامت کے دن سجدے سے سر اٹھائیں گے تو کہیں گے:( ما عبدناک حق عبادک )
ہم سے حق عبادت ادا نہ ہو سکا ۔
”( وهم لا یستکبرون ) “ فرشتوں کی اسی کیفیت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ بار گاہ حق میں خضوع اور سجدہ کرتے ہیں اور اس میں ان کے اندر غرور وتکبر کا شائبہ تک نہیں ہوتا ۔
لہٰذا اس کے بعد فوراً ان کی دو صفات کا تذکرہ ہے اور یہ دونوں ان میں تکبر کے نہ ہونے کی جانب اشارہ کرتی ہیں ۔
ارشاد ہوتا ہے وہ اپنے پر وردگار کی مخالفت سے ڈرتے ہیں کہ جو ان کا حاکم ہے( یخالفون ربهم من فوقهم ) )اور جس چیز پر وہ مامور ہیں اسے خوب انجام دیتے ہیں( ویفعلون مایؤمرون ) ۔
جیسا کہ سورہ تحریم کی آیہ ۶ میں فرشتوں کے ایک گروہ کے بارے میں ہے:
( لایعصون الله ما امر هم و یفعلون ما یؤمرون )
وہ فرمان الہٰی کی مخالفت نہیں کرتے اور انھیں جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں ۔
اسی آیہ سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ غرور تکبر کے نہ ہونے کی دو نشانیاں ہیں ۔ ذمہ داریوں کا خوف اور احکام الٰہی کو بے چوں و چرا انجام دینا ۔ ان میں سے ایک تکبر نہ کرنے کی نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے اور دوسری قوانین اور احکام کے بارے میں ان کے طرز عمل کی طرف ۔ طرز عمل در حقیقت نفسیاتی کیفیت کا ردّ عمل ہے اور اس کا عملی مظاہرہ ہے ۔
آیت میں ”( من فوقهم ) “ یقینا حسی اور مکانی طور پر ہونے کی طرف اشارہ نہیں ہے بلکہ مقام کی بر تری کی طرف اشارہ ہے کیونکہ خدا سب سے بر تر اور بالا تر ہے ۔
سورہ انعام کی آیہ ۶۱ میں ہے ۔( وهوالقاهر فوق عباده )
وہ اپنے بندوں پر قاھر و غالب ہے ۔
قرآن میں ہے کہ فرعون نے قدرت و طاقت کے اظہار کے لئے کہا :( وانّا فوقهم قاهرون )
میں ان پر قاہر و غالب ہوں (اعراف ۱۲۷)
ان تمام مواقع پر لفظ”فوق“ مقام کی بر تری کو بیان کرتا ہے ۔
____________________
۲۔تفسیر قرطبی، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
۳۔تفسیر ابو الفتوح رازی جلد ۷ ص ۱۱۰۔
آیات ۵۱،۵۲،۵۳،۵۴،۵۵،
۵۱ ۔( وَقَالَ اللهُ لاَتَتَّخِذُوا إِلَهَیْنِ اثْنَیْنِ إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَإِیَّایَ فَارْهَبُونِی ) ۔
۵۲ ۔( وَلَهُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَلَهُ الدِّینُ وَاصِبًا اٴَفَغَیْرَ اللهِ تَتَّقُونَ ) ۔
۵۳ ۔( وَمَا بِکُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْ اللهِ ثُمَّ إِذَا مَسَّکُمْ الضُّرُّ فَإِلَیْهِ تَجْاٴَرُونَ ) ۔
۵۴ ۔( ثُمَّ إِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنْکُمْ إِذَا فَرِیقٌ مِنْکُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِکُونَ ) ۔
۵۵ ۔( لِیَکْفُرُوا بِمَا آتَیْنَاهُمْ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ) ۔
ترجمہ
۵۱ ۔اور اللہ نے حکم دیا ہے کہ دو خداؤں کا انتخاب نہ کرو ( تمہارا ) معبود صرف ایک ہے ۔ صرف مجھ سے ( اور میرے عذاب سے ) ڈرو۔
۵۲ ۔جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ، اسی کا ہے اور دین ( اور دینی قانون ) ہمیشہ اسی کا ہے تو کیا اس کے غیر سے ڈرتے ہو؟
۵۳ ۔تمہارے پاس جو کچھ بھی نعمتیں ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں اور پھر جب تمہیں پریشانیون ( اور تکالیف ) پہنچتی ہیں تو اسی کو پکارتے ہو۔
۵۴ ۔اور جب وہ رنج و تکلیف تم سے دور کردیتا ہے تو تم میں سے بعض پنے پر ور دگار کے لئے شریک ماننے لگتے ہیں ۔
۵۵ ۔(چھوڑوانھیں ) ہم نے انھیں جو نعمتیں دی ہیں ان کا کفران کرلیں اور چند دن ( اس دنیا وی مال و متاع سے )فائدہ اٹھالیں ۔ پس عنقریب جان لوگے ( کہ تمہارا انجام کار تمہیں کہا کھینچ لے آیا ہے ) ۔
تفسیر
ایک دین اور ایک معبود
توحید اور خدا شناسی کی بحث کے بعد زیر نظر آیات میں نظام ِ خلقت کے حوالے سے نفی شرک پرزور دیا گیا ہے تاکہ ان دونوں سے مجموعی طور پر حقیقت زیادہ آشکار ہو جائے۔
پہلے فرمایا گیا ہے : خدا نے حکم دیا ہے کہ دو خدا نہ مانو( وَقَالَ اللهُ لاَتَتَّخِذُوا إِلَهَیْنِ اثْنَیْنِ ) ۔معبود ایک ہی ہے
( إِنَّمَا هُوَ إِلَهٌ وَاحِدٌ ) ۔
نظام خلقت کی وحدت اور اس پر حاکم قوانین کی وحدت ، خود خالق و معبود کی وحدت کی دلیل ہے اب جبکہ ایسا ہی ہے تو ”صرف میرے عذاب سے ڈرواور میرے فرمان کی مخالفت سے خود کھاؤ نہ کہ کسی غیر سے ڈرتے رہو( فَإِیَّایَ فَارْهَبُونِی ) ۔
لفظ ”ایای“ کا مقدم ہو نا حصر کی دلیل ہے جیسے ”ایاک نعبد“ ۔ مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف میری مخالفت اور میرے عذاب سے ڈرتے رہو۔
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں صرف دو معبودوں کی نفی کی گئی ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ عرب کے مشرکین نے بہت سے بت اور معبود بنا رکھتے تھے اور ان کے بت خانے مختلف قسم کے بتوں سے بھرے ہوئے تھے ہو سکتا ہے کہ یہ تعبیر ذیل کے نکات میں سے کسی ایک یا سب کی طرف اشارہ ہو ۔
۱ ۔ آیت کہتی ہے کہ دو معبودوں کی عبادت بھی غلط ہے چہ جائیکہ زیادہ معبودوں کی ۔ دوسرے لفظوں میں کم از کم بات بیان کر دی گئی ہے تاکہ باقی ماندہ کی نفی زیادہ تاکید کے ساتھ ہو کیونکہ ایک سے زیادہ جس عدد کو بھی اختیار کریں دو سے بہتر حال گذرنا پڑے گا۔
۲ ۔ یہاں تمام طابل معبود ایک شمار کئے گئے ہیں ۔ فرمایا گیا ہے کہ انھیں حق کے مقابلے میں قرار نہ دو اور دومعبود حق و باطل) کی پرستش نہ کرو۔
۳ ۔ زمانہ جاہلیت کے عربوں نے در حقیقت د ومعبود اپنا رکھے تھے ایک وہ معبود جو خالق ہے او رجہان کو پیدا کرنے والا ہے یعنی اللہ او ر دوسرا وہ معبود جسے وہ اپنے اور اللہ کے درمیان وسیلہ سمجھتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ بت خیر ، بر کت او رنعمت کا وسیلہ ہیں ۔
۴ ۔ ہو سکتاہے مندرجہ بالا آیت ”ثنویین“ ( دو خدا ؤں کی پو جا کرنے والوں )کے عقیدے کے لئے نفی ہو ۔ثنویین دو خدا ؤں یعنی نیکی کا خدا اور بدی کا خدا کے قائل تھے ۔ دو خدا ؤں کی پوجا کرنے والوں کی منطق اھر چہ ضعیف اور غلط تھی ، لیکن عرب بت پرستوں کے پاس تو ایسی کمزور منطق بھی نہ تھی۔
عظیم مفسرمرحوم طبرسی نے اس آیت کے ذیل میں بعض حکماء سے یہ لطیف جملہ نقل کیا ہے :۔
خد انے تجھے حکم دیا ہے کہ دو خدا ؤں کی عبادت نہ کر لیکن تو نے تو اپنے اتنے سارے معبود بنا رکھے ہیں ۔
ایک بت تیرا سرکش نفس ہے ، دوسرا بت تیری ہوا و ہوس ہے ۔ تیرے مادی مقاصد اسپر مستزاد ہیں یہاں تک کہ تو انسانوں کو سجدہ کرتا ہے تو کس قسم کا توحید پرستار ہے ۔
اس کے بعد تو آیات میں میں توحید عبادت کی دلیل چارحوالوں سے پیش کی گئی ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے : جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اسی کی ملکیت ہے( وَلَهُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔تو کیا عالم ہستی کے مالک کو سجدہ کرنا چاہیئے ، ی ابتوں کو کہ جو کسی بھی قابلیت سے محروم ہیں ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے کہ نہ صرف آسمان و زمین اس کی ملکیت ہیں بلکہ ہمیشہ سے دین اور تمام قوانین بھی اسی کی طرف سے ہیں( وَلَهُ الدِّینُ وَاصِبًا ) ۔
جب یہ ثابت ہے کہ عالم ہستی اسی کی طرف سے ہے اور وہی تکوینی قوانین ایجاد کرتا ہے تو مسلم ہے کہ تشریعی قوا نین بھی اسی کے ذریعے معین ہو نا چاہئیں لہٰذا طبعاًو فطرتاً اطاعت بھی اسی کے ساتھ مخصوص ہے ۔
”واصب“در اصل” وصوب“ کے مادہ سے ” دوام“ کے معنی میں لیا گیا ہے بعض نے اس کا معنی ”خالص“ کیا ہے ( فطری بات ہے کہ جب تک کوئی چیز اخالص نہ ہو دوام حاصل نہیں کرسکتی) ہو سکتا ہے آیت میں یہ لفظ دونوں پہلوؤں کی طرف اشارہ کررہا ہویعنی ہمیشہ اور ہر زمانے میں دین خالص خدا کی طرف سے ہے جنھوں نے دین کو اطاعت کے مفہوم میں لیا گیا ہے ، انھوں نے ”واصب“ کا معنی ”واجب “ لیا ہے یعنی صرف خدا کے حکم کی اطاعت ہو نی چاہئیے۔
ایک روایت میں بھی ہے کہ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے اس جملے کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا تو امام نے فرمایا واصب یعنی واجب ۔ ۱
لیکن واضح ہے کہ یہ معانی ایک دوسرے سے لازم ملزوم ہیں ۔
آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کیا اس کے باوجود کے تمام قوانین دین اور طاعت ِ خدا سے مخصوص ہیں ا سکے غیر سے ڈرتے ہو( اٴَفَغَیْرَ اللهِ تَتَّقُونَ ) ۔
کیا بت تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں ؟
کیا بت تمہیں کوئی نعمت بخش سکتے ہیں ؟
نہیں توپھر ان کی مخالفت کا تمہیں خوف کیوں ہے او ران کی عبادت کو تم کیوں ضروری سمجھتے ہوحالانکہ جتنی نعمتیں تمہارے پاس ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں ۔( وَمَا بِکُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنْ اللهِ ) ۔
یہ در حقیقت معبود یگانہ یعنی اللہ کی عبادت ضروری ہونے کے بارے میں ہیں یہاں تیسری بات کی گئی ہے مراد یہ ہے کہ بتوں کی عبادت اگر شکر ِ نعمت کی وجہ سے ہے تو انھوں نے تمہیں کوئی نعمت نہیں دی کہ جس کا شکر ضروری ہو بلکہ تمہارے وجود پر سرتا پا نعمتِ الہٰی محیط ہے اس کے باوجود تم نے اس کی بندگی کو چھوڑ رکھا ہے اور بتوں کے پیچھے لگے پھرتے ہو۔
علاوہ ازیں جب تمہیں پریشانیوں ، مصیبتوں اور رنج وبلا کا سامنا ہوتا ہے تو انھیں دور کرنے کے لئے بار گاہ الہٰی میں آہ و زاری کرتے ہو اور اسے پکارتے ہو( ثُمَّ إِذَا مَسَّکُمْ الضُّرُّ فَإِلَیْهِ تَجْاٴَرُونَ ) ۔
لہٰذا بتوں کی پرستش اگر دفع ضرر اور حل مشکلات کے لئے کرتے ہو تو غلط ہے کیونکہ خود تم نے بھی عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ زندگی کے سنگین لمحات میں سب چیزوں کو چھوڑ کر خدا کی بار گاہ کی طرف جاتے ہو یہ در اصل مسئلہ توحید عبادت کے بارے میں چوتھی بات ہے ۔
”تجرون “ در اصل” جؤر“ (بر وزن”غبار“) کے مادہ سے ہے یہ چوپایوں اور وحشی جانوروں کی اس آواز کو کہتے ہیں جو تکلیف کے عالم میں ان سے بے اختیار نکلتی ہے بعد از آن یہ لفظ کنایے کے طور پر ہر اس آہ و زاری کے لئے استعمال ہونے لگا جو درد و غم کے موقع پر بے اختیار بلند ہو۔
اس لفظ کا یہاں پر خصوصیت کے انتخاب اس بات کو تقویت پہنچا تا ہے کہ جب مشکلات بہت زیادہ ہو جائیں جان عذاب میں اور درد و غم کے مارے بے اختیار فریاد بلند کرو تو کیا اس وقت اللہ کے علاوہ کسی کو پکار تے ہو ؟ نہیں تو پھر آرام و سکون کے وقت چھوٹی چھوٹی مشکلات کے موقع پر بتوں کے دامن سے کیوں جا لگتے ہو ۔
جی ہاں ! ان مواقع پر خدا تمہاری فریاد سنتا ہے اس کا جواب دیتا ہے اور تمہاری مشکلات کو بر طرف کرتا ہے ” پھر جب اللہ تمہارے ضرر اور رنج و غم کو بر طرف کردیتا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ اپنے پر ور دگار کے لئے شریک ماننے لگتے ہیں اور بتوں کی راہ لیتے ہیں( ثُمَّ إِذَا کَشَفَ الضُّرَّ عَنْکُمْ إِذَا فَرِیقٌ مِنْکُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِکُونَ ) ۔
قرآن درحقیقت اس باریک نکتے کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہے کہ فطرت توحید تم سب میں موجود ہے عام حالات میں غفلت غرور، جہالت، تعصب اور خرافات کے پ ردے اسے دھانپ دیتے ہیں لیکن جب طوفان حوادث آجائیں اور مصائب کی تند و تیز آندھیاں چل پڑیں تو یہ پر دے ہٹ جاتے ہیں اور نور فطرت آشکار ہو جاتا ہے اور چہرہ فطرت چمکنے لگتا ہے ایسی حالت میں تم خد ا کو اپنے پورے وجود اور اخلاص کے ساتھ پکارتے ہو ۔ اور خدا بھی رنج و بلا تم سے دور کر دیتا ہے ، رنج و بلا کے پر دے اس لئے ہٹ جاتے ہیں کہ غفلت کے پر دے اٹھ چکے ہوتے ہیں (توجہ رہے کہ آیت میں لفظ”کشف الضر“ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے مشکلات کے پر دے ہٹ جانا) ۔
ادھر طوفان مصائب تھمتا ہے زندگی سا حل سکون سے ہم کنارہوتی ہے اور ادھر وہی غفلت ، غرور اور شرک و بت پرستی ظاہر ہونے لگتی ہے۔
منطقی دلائل اور توضیح حقیقت کے بعد، زیر بحث آخری آیت میں تہدید آمیز لہجے میں کہا گیا ہے : تمہیں جو نعمتیں دی گئی ہیں ان کا کفران کرلو اور چند روز اس دنیاوی مال و متاع سے بہرہ مند ہو لو لیکن عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ تمہارے کام کا انجام کیا ہے( لِیَکْفُرُوا بِمَا آتَیْنَاهُمْ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ) ۔
یہ بالکل اس طرح ہے جیسے کوئی انسان کسی منحرف شخص کو مختلف دلائل و براہین کے ساتھ وعظ و نصیحت کرے تو ممکن ہے اس پر کوئی اچر نہ ہو تو آخر میں ایسے تہدید آمیز جملے پر اپنی گفتگو تمام کرے دے کہ : ج وباتیں میں تم سے کہہ چکا ہوں یہ سننے کے باوجود اگر تم اپنی اصلاح نہ کر وتو پر جو کچھ کر سکو کرتے رہو لیکن یاد رکھو تم جلد اس کے انجام سے دوچار ہو گے۔
اس بناء پر ”( لیکفروا ) “ میں لام ”لام ِ امر“ ہے وہ امر جو تہدید کے لئے آ یاہے جیسے ”تمتعوا“ بھی امر ہے تہیدید کے لئے ۔ فرق یہ ہے کہ ”لیکفروا“ غائب کا صیغہ ہے اور ”تمتعوا“ مخاطب کا ۔ گویا پہلے انھیں گائب فرض کر کے قرآن کہتا ہے :
یہ جائیں اور تمام نعمتوں کا کفران کریں ۔
اس تہدید سے وہ کچھ متوجہ ہوئے ہیں گویا وہ مخاطب کے طور پ رسامنے آگئے ہیں ۔ اب قرآن ان سے کہتا ہے ۔
ان دنیاوی نعمتوں سے چند دن فائدہ اٹھا لو لیکن ایک روز دیکھو گے کہ تم کس عظیم اشتباہ اور کتنی بڑٰ غلطی کے مرتکب ہوئے ہو اور آخر کار تم کس انجام تک آپہنچے ہو ۔
درحقیقت یہ آیت سورہ ابراہیم کی آیہ ۳۰ کے مشابہ ہے :
( قل تمتعوافان مصیر کم الیٰ النار )
کہہ دو چند روز اس دنیا کی لذتیں اٹھالو آخر کا تمہارا انجام ِ کار آتشِ جہنم ہے ۔(۱)
حوادث کے چنگل سے نجات مل گئی تو بعد ازاں انھوں نے راہ ِ توحید کو چھوردیا اور شرک کی راہ اپنالی تاکہ نعمتوں کا کفران و انکار کریں ۔
____________________
۱۔تفسیر برہان جلد ۲ ص۳۷۳۔
۲۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے ”لیکفروا“ اس شرک و کفران کی گایت و نتیجہ ہے جو پہلی آیت میں ذکر ہوا ہے
آیات ۵۶،۵۷،۵۸،۵۹،۶۰
۵۶ ۔( وَیَجْعَلُونَ لِمَا لاَیَعْلَمُونَ نَصِیبًا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ تَاللهِ لَتُسْاٴَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَفْتَرُونَ ) ۔
۵۷ ۔( وَیَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ وَلَهُمْ مَا یَشْتَهُونَ ) ۔
۵۸ ۔( وَإِذَا بُشِّرَ اٴَحَدُهُمْ بِالْاٴُنثَی ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ کَظِیمٌ ) ۔
۵۹ ۔( یَتَوَارَی مِنْ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ اٴَیُمْسِکُهُ عَلَی هُونٍ اٴَمْ یَدُسُّهُ فِی التُّرَابِ اٴَلاَسَاءَ مَا یَحْکُمُونَ ) ۔
۶۰ ۔( لِلَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْاٴَعْلَی وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ) ۔
ترجمہ
۵۶ ۔جو روزی ہم نے انھیں دی ہے وہ ا سکا ایک حصہ بتوں کے نام کردیتے ہیں جبکہ ان سے وہ کسی قسم کے سود و زیان کی خبر نہیں رکھتے ۔ خدا کی قسم ( قیامت کی عدالت میں ) ان جھوٹی تہمتوں پر ان سے باز پرس ہو گی ۔
۵۷ ۔ وہ ( اپنے خیال میں ) اللہ کے لئے بیٹیوں کے قاتل تھے وہ ( اس سے ) منزہ ہے (کہ اس کی اولاد ہو ) لیکن اپنے لئے وہ کچھ چاہتے جو انھیں پسند ہوتا ہے ۔
۵۸ ۔ حالانکہ جب ان مین سے کسی کو بشارت دی جائے کہ تمہارے ہاں بیٹی ہو ئی تو ( غم اور پریشانی کے مارے ) اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ زہر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے ۔
۵۹ ۔ اس بری خبر پر اپنے قوم قبیلے سے منہ چھپائے پھرتاہے اور اس فکر میں ہوتا ہے کہ ذلت اٹھا کر اسے زندہ رہنے دے یا تہہ خال چھپا دے یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں ۔
۶۰ ۔ بری صفتیں انھیں ہی جچتی ہیں جو دار آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔ خدا کے لئے تو اعلیٰ صفات ہیں اور وہ عزیز و حکیم ہے ۔
تفسیر
جہاں بیٹی کو باعث ِرسوائی سمجھا تاتھا
گذشتہ آیات میں شرک و بت پرستی کے خلاف مدلّل بحث تھی۔اب زیر نظر آیات میں مشرکین کی بعض بری بد عتوں اور گھٹیا عادتوں کو بیان کیا گیا ہے تاکہ شرک پرستی کے خلاف ایک اور دلیل قائم ہو جائے ۔
پہلے ارشاد ہوتا ہے : ان مشرکوں کو ہم نے جو روزی دی ہے اس کا ایک حصہ بتوں کی نذر کر دیتے ہیں جبکہ انھیں ان سے کسی نفع و نقصان کی خبر تک نہیں( وَیَجْعَلُونَ لِمَا لاَیَعْلَمُونَ نَصِیبًا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ ) ۔(۱)
پہلی یہ کہ ”لایعلمون “ کی ضمیر مشرکین کی طرف لوٹتی ہے یعنی مشرکین اپنے بتوں کے لئے ایک حصہ وقف کردیتے ہیں جبکہ ان سے کسی خیر و شر کی انھیں خبر نہیں ہم نے یہی تفسیرانتخاب کی ہے ۔
دوسری یہ کہ ”لایعلمون “ کی ضمیر خود بتوں کی طرف لوٹتی ہے یعنی وہ بت کہ جو علم ، شعور اور عقل نہیں رکھتے ، ان کے ل ئے ایک حصہ نذرکر تے تھے ۔
لیکن اس دوسری صورت میں آیت کی تعبیرات میں ایک تضاد سا محسوس ہوتا ہے کیونکہ ” ما“ عام طور پر غیر ذوی العقول موجودات کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ ”یعلمون “ عموماً ذوی العقول کے لئے آتا ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
جبکہ پہلی تفسیر کی بناء ”ما“ بتوں کی طرف اشارہ ہے اور ”لایعلمون “ عبادت کرنے والوں کی طرف ۔
جس حصے کا یہاں ذکر ہے اس میں کچھ اونٹ اور دیگر چوپائے شامل ہوتے ہیں اور کچھ حصہ وہ زرعی پیداوار کا وقف کرتے ہیں اس کی طرف سورہ انعام کی آیہ ۱۳۶ میں اشارہ ہوا ہے کہ مشرکین زمانہ جاہلیت میں اسے بتوں کے لئے مخصوس سمجھتے تھے اور ان کی راہ میں خرچ کرتے تھے ۔ حالانکہ بتوں سے انہیں کوئی فائدہ پہنچتا تھا نہ ضرر کا خوف ہو تا تھا یہ نہایت احمقانہ کام تھا جو وہ انجام دیتے تھے ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا : قسم بخدا ! قیامت کی عدالت میں ان تہمتوں اور جھوٹوں کے بارے میں باز پرس ہو گی( تَاللهِ لَتُسْاٴَلُنَّ عَمَّا کُنْتُمْ تَفْتَرُونَ ) ۔
اس باز پرس پر ان کے لئے اعراف کے سوال کوئی چارہ کار نہ ہو گا ۔ اس اعتراف ے بعد انھیں سزا ملے گی لہٰذا تمہارے اس برے منحوس عمل کا دنیاوی نقصان بھی ہے اور اخروی بھی ۔
ان کی دوسری منحوس بد عت یہ تھی کہ وہ اس خد اکے لئے بیٹیوں کے قائل تھے کہ جو ہر قسم کی آلائش ِ جسمانی سے پا ک ہے وہ معتقد تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں( وَیَجْعَلُونَ لِلَّهِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَهُ ) ۔لیکن اپنی نوبت پر اپنے لئے وہ کچھ چاہتے جو انھیں پسند تھا( وَلَهُمْ مَا یَشْتَهُونَ ) ۔
یعنی وہ کسی صورت تیار نہ تھی کہ انہی بیٹیوں کو اپنے لئے پند کریں کہ جنہیں خدا کے لئے قرار دیتے تھے ۔ بیٹی تو ان کی نظر میں سخت ننگ و عار ، رسوائی اور بد بختی کی علامت تھی ۔اگلی آیت میں بات جاری رکھتے ہوئے ان کی تیسری بری عادت کی نشاندہی کی گئی ہے فرمایا گیا ہے : جب ان میں سے کسی کو بشارت دی جاتی ہے کہ خدا نے تجھے بیٹی دی ہے تو غم اور غصہ کے مارے ان کا رنگ سیاہ پڑ جاتا ہے( وَإِذَا بُشِّرَ اٴَحَدُهُمْ بِالْاٴُنثَی ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا ) اور زہر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا( وَهُوَ کَظِیمٌ ) ۔(۲) معاملہ یہیں ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اپنے خیال باطل کے باعث وہ جس ننگ و عار میں مبتلا ہے اس میں اس کی حالت یہ ہے کہ ” یہ بری خبر سن کر وہ اپنی قوم قبیلے سے چھپتا چھپاتا ہے “( یَتَوَارَی مِنْ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ ) بات اس پر بھی بس نہیں ہوتی بلکہ وہ ہمیشہ اس فکر میں غوطہ زن رہتا ہے کہ کیا وہ اس ننگ و عار کو قبول کر لے اور اپنی بیٹی کو اپنے پاس رکھتے یا اسے زندہ در گور کر دے( اٴَیُمْسِکُهُ عَلَی هُونٍ اٴَمْ یَدُسُّهُ فِی التُّرَاب ) ۔آخر میں اس ظالمانہ شقاوت آمیز غیر انسانی فیصلے کی انتہائی صراحت سے مذمت کرتے ہو ئے فرمایا گیا ہے : جان لو کہ وہ بہت با اور قبیح فیصلہ کرتے ہیں( اٴَلاَسَاءَ مَا یَحْکُمُونَ ) ۔
آخر میں ان تمام برائیوں اور قباحتوں کو آخرت پر ایمان نہ ہونے کا نتیجہ قرار دیتے ہو ئے فرمایا گیا ہے : جو دار آخر ت پر ایمان نہیں رکھتے انہی کی ایسی بری صفات ہوتی ہیں( لِلَّذِینَ لاَیُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ ) ۔
لیکن خدا کی صفات بہت عالی ہیں( وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْاٴَعْلَی ) ۔اور وہ زبر دست حکمت والا ہے( وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ) ۔یہی سبب ہے کہ جو انسان اس عظیم و عزیز اور حکیم و دانا خدا کے نزدیک ہو ت اہے ا س کے علم و قدرت و حکمت کی بلند صفات کی طاقت و شعاعیں اس پر پڑتیں ہیں اور وہ خرافات اور گھٹیا بدعات سے الگ ہو جاتا ہے ۔
لیکن انسان جس قدر اللہ سے دور ہوتا ہے اسی قدر جہالت ، زبوں حالی اور ظلمتوں میں پھنستا چلا جا تا ہے ۔
اللہ اور اس کی عدالت کو بھول جانا تمام تر پستیوں ، برائیوں اور بے راہ رویوں کا باعث ہے ۔
ان دونوں بنیادی اصولوں کو یاد رکھا جائے تو انسان میں احساس مسئولیت زندہ رہتا ہے اور وہ جہالت و خرافات کے خلاف جنگ کے لئے توانائی کے حقیقی سر چشمہ سے مدد حاصل کرتارہتا ہے ۔
____________________
۱۔”لایعلمون “ کے معنی اور اس کی ضمیر کے بارے میں مفسرین نے دو تفسیریں بیان کی ہیں :
۲۔”کظیم “ اس شخص کو کہتے ہیں جوغم و اندوہ کے عالم میں اپنے تئیں سنبھالا دے رہا ہو یعنی زہر کے گھونٹ پی رہا ہو۔
چند اہم نکات
۱ ۔ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کیوں کہتے تھے ؟
قرآن کی متعدد آیات کے مطابق عرب کے مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں خیال کرتے تھے یا خدا کی طرف منسوب کیے بغیر انھیں عورتوں کی صنف میں سے سمجھتے تھے ۔
سورہ زخرف کی آیہ ۱۹ میں ہے :( وجعلوا الملائکة الذین هم عباد الرحٰمن انا ثاً ) ۔
فرشتے کہ جو رحمن کے بندے ہیں انھیں وہ عورتیں قرار دیتے تھے۔
سورہ بنی اسرائیل کی آیہ ۴۰ میں ہے :( افاصفا کم ربکم بالبنین واتخذمن الملائکة اناثاً )
کیا تمہیں خدا نے بیٹے دئے ہیں اور خود فرشتوں میں سے بیٹیاں بنا رکھی ہیں ۔
ہو سکتاہے یہ خیال گزشتہ اقوام کی خرافات میں سے زمانہ جاہلیت کے عربوں تک پہنچا ہو یہ بھی ممکن ہے کہ فرشتے چونکہ نظروں سے پو شیدہ ہیں اور پردے مین رہنے کی صفت عورتوں میں پائی جاتی ہے اس لئے وہ انھیں مؤنث سمجھتے ہوں یہی وجہ ہے کہ بعض کے بقول عرب سورج کو مؤنث مجازی اور چاند کو مذکر مجازی کہتے تھے کیونکہ سورج کا قرص اپنے خیرہ کن نور میں چھپا ہوتا ہے اور اس کی طرف نگاہ کرنا آسان نہیں ہے جبکہ چاند کو ٹکیہ پوری طرح نمایاں ہے ۔
یہ بھی احتمال ہے کہ فرشتوں کے وجود کی لطافت اس توہم کا سبب بنی ہو کیونکہ عورت مرد کی نسبت زیادہ لطیف ہے ۔
بہر حال یہ ایک پرانا ، غلط اور فضول سا تصور ہے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس خیال باطل کی تلچھٹ ابھی تک بعض لوگوں کی فکر میں موجو د ہے یہاں تک کہ مختلف زبانوں کے ادب میں بھی یہ بات دکھائی دیتی ہے کہ کسی خوبصورت عورت کی تعریف کے لئے اسے فرشتہ کہتے ہیں اسی طرح فرشتوں کی تصویر بناتے ہیں تو اسے عورتوں کی شکل دیتے ہیں حالانکہ اصولی طور پر فرشتے مادی جسم ہی نہیں رکھتے کہ ان کے بارے میں مذکر و مونث کی بحث میں پڑا جائے ۔
۲ ۔بیٹیوں کو زندہ در گور کیوں کیا جاتا تھا ؟
واقعاً یہ بات بری وحشت انگیز ہے کہ انسان اپنے انسانی جذبات و احساسات کو مسل کر اتنا آگے بڑھ جائے کہ دوسرے انسان کو قتل کر دے قتل بھی ایسا بد ترین کہ پھر جس پر وہ فخر کرتا پھرے پھر قتل بھی اسے کرے کہ جو اس کا اپنا جگر گوشہ ہو کمزور اور ننھی سے جان ہو اور پھر قتل بھی اس طرح سے کہ اس زندہ بولتی جاگتی جان کو اپنے ہاتھوں مٹی میں دفن کردے ۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ انسان ایسا وحشت ناک جرم کرنے لگے چاہے وہ نیم وحشی ہی کیوں نہ ہو ۔
اس کام کی یقینا کچھ معاشرتی ، نفسیاتی اور اقتصادی بنیادیں تھیں ۔
مؤرخین کہتے ہیں کہ اس فعل کی ابتداء زمانہ جاہلیت میں یوں ہوئی کہ :۔
ایک مرتبہ دو گروہوں میں جنگ شروع ہو گئی۔ فاتح گروہ نے مغلوب گروہ کی بیٹیوں اور عورتوں کو قید کرلیا ۔ ایک مدت بعد جب ان کے مابین صلح ہو گئی تو انھوں شکست کھانے والے گروہ کے قیدی واپس کرنا چاہے لیکن بعض قیدی لڑکیوں نے فتح مند گروہ کے مردوں سے شادی کرلی تھی انھوں نے یہی پسند کیا کہ دشمنوں کے ہاں ہی وہ جائیں اور پلٹ کر اپنے قبیلے میں نہ جائیں ان لڑکیوں کے والدوں پر یہ بات بہت گراں گذری ۔ انھیں اس پر بہت شرمساری اٹھانا پڑ ی یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے قسم کھائی کہ اگر آئندہ ان کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی تو وہ خود اسے اپنے ہاتھوں سے ختم کر دیں گے تاکہ وہ دشمنوں کے ہاتھ نہ لگے۔
آپ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح وحشت ناک ترین جرائم اور مظالم ناموس شرافت کی حفاظت اور خاندان کی عزت کے نام پر انجام دئیے گئے ۔
بات یہاں جاپہنچی کہ اس قبیح اور شرمناک بد عت کو بعض لوگسراہنے لگے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا زمانہ جاہلیت کی ایک رسم بن گئی جس کی قرآن نے شدت کے ساتھ مذمت کی ہے ۔ قرآن کہتا ہے :
( و اذا المو ء و دة سئلت باٴی ذنب قتلت )
وہ لڑکی جسے زندہ د رگور کر دیا گیا تھا جب اس سے پو چھا جائے گا کہ بتا تجھے کس جرم میں قتل کیا گیا ۔ (تکویر ۸ ۔ ۹)
لڑکے چونکہ تولید کنندہ ہو تے ہیں اور لڑکیاں مصرف کنندہ لہٰذا یہ احتمال بھی ہے کہ اس امر نے بھی اس ظلم میں مدد کی ہو لڑکے کو وہ لوگ بڑا سر مایہ سمجھتے تھے ۔
لوٹ مار اور اونٹوں کی حفاظت وغیرہ میں اس سے کام لیتے تھے ۔ جب کہ بیٹیاں ایسے کسی کام نہ آتی تھیں ۔
دوسری طرف ان میں قبائلی جنگ کا ایک دائمی سلسلہ تھا ۔ جھگڑے فسا د ہوتے رہتے تھے ان میں سے بہت سے جنگجو مرد اور لڑکے کام آجاتے تھے لہٰذا لڑکوں اور لڑکیوں کی تعدا د میں توازن اور تناسب باقی نہیں رہتا تھا۔
لڑکوں کا وجود اس قدر نادر اور عزیز ہو چکا تھا کہ ایک لڑکا بھی پید اہوتا تو خاندان کے لئے بڑے فخر کی بات ہوتی جبکہ لڑکی پیدا ہوجاتی تو پورا خاندان رنجیدہ ہو جاتا۔
بات یہاں تک جاپہونچی کہ بعض مفسرین نے بقول جب کسی عورت کے ہاں بچے کی پیدا ئش کا وقت قریب ہو تا تو اس کا شوہر کہیں غائب ہو جاتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لڑکی پیدا ہو جائے اور وہ گھر پر موجود ہو اس کے بعد اگر اسے خبر ملتی کہ لڑکا پیدا ہوا ہے تو ناقابل توصیف خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اور شور مچاتے ہوئے گھر میں لٹ آتا لیکن اگر اسے پتہ چلتا کہ بیٹی ہوئی ہے تو اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی(۱)
بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے کی داستان بڑی ہی درناک ہے ان واقعات پر نظر پڑے تو حالت غیر ہو جاتی ہے ۔
ایسے ہی ایک واقعے کے بارے میں لکھا ہے :ایک شخص پیغمبر اکرم (ص)کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے اسلام قبول کرلیا ، سچا اسلام ،ایک روز وہ آنحضرت کی خدمت میں آیا اور سوال کیا: اگر میں نے کوئی بہت بڑا گناہ کیا ہو تو کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟
آپ نے فرمایا : خدا تواب و رحیم ہے ۔
اس نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میرا گناہ بہت بڑا ہے ۔
آپ نے فرمایا :وائے ہو تجھ پر ، تیرا گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو خدا کی پخشش سے تو بڑا نہیں ؟
وہ کہنے لگا : اب جب آپ یہکہتے ہیں تو میں عرض کروں ۔ زمانہ جاہلیت میں میں ایک دوردراز کے سفر پر گیا ہوا تھا ان دنوں میری بیوی حاملہ تھی میں چال سال کے بعد گھر واپس لوٹا ۔ میری بیوی نے میرا استقبال کیا میں گھر میں آیا تو مجھے ایک بچی نظر پڑی ۔ میں نے پوچھا یہ کس کی لڑکی ہے ؟ اس نے کہا :اس نے کہا ایک ہمسایہ کی لرکی ہے ۔ میں سوچا گھنٹہ بھر تک چلی جائے گی لیکن مجھے بڑا تعجب ہوا کہ وہ نہ گئی ۔ مجھے علم نہ تھا کہ میری لڑکی ہے اور اس کی ماں حقیقت کو چھپا رہی ہے کہ کہیں یہ میرے ہاتھوں قتل نہ ہو جائے ۔
اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: آخر کار میں نے بیوی سے کہا: سچ بتاؤ یہ کس کی لڑکی ہے ؟
بیوی نے جواب دیا : جب تم سفر پر چلے گئے تھے تو میں امید سے تھی بعد میں یہ بیٹی پیدا ہوئی ۔ یہ تمہاری ہی بیٹی ہے ۔
اس شخص نے مزید کہا : میں وہ رات بڑی پریشانی کے عالم میں گزاری کبھی آنکھ لگ جاتی اور کبھی میں بیدار ہو جاتا۔ صبح قریب تھی ، میں بستر سے اٹھا ، لڑکی کے بستر کے پاس گیا وہ اپنی ماں کے پاس سو رہی تھی ۔ میں نے اسے بستر سے نکا لا ، اسے جگایا ، اس سے کہا : میرے ساتھ نخلستان کی طرف چلو۔
اس نے بات جاری رکھی: وہ میرے پیچھے پیچھے چل رہی تھی یہاں تک کہ ہم نخلستان میں پہنچ گئے میں نے گڑھا کھودنا شروع کیا وہ میری مدد کر رہی تھی میرے ساتھ مل کر مٹی باہر پھینک رہی تھی گڑھا مکمل ہو گیا میں نے اسے بغل کے نیچے سے پکڑ کر اس گڑھے کے درمیان دے مارا ۔
اتنا سننا تھا کہ رسول اللہ کی آنکھیں بھر آئیں
اس نے مزیدبتا یا : میں نے اپنا بایاں ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا وہ باہر نہ نکل سکے دائیں ہاتھ سے میں اس پر مٹی ڈالنے لگا اس نے بہت ہاتھ پاؤں مارے ، بڑی مظلومہ فرمایاد کی : وہ کہتی تھی ابو جان ! آپ مجھ سے یہ سلوک کیوں کر رہے ہیں ؟
اس نے بتا یا : میں اس پر مٹی ڈال رہا تھا کہ کچھ مٹی میری داڑھی پر آپڑی بیٹی نے ہاتھا بڑھا یا اور میرے چہرے سے مٹی صاف کی لیکن میں اسی قساوت اور سنگدلی سے اس کے منھ پر مٹی ڈالتا رہا یہاں تک کہ میرے نالہ و فریاد کی آخری آواز تہہ خاک دم توڑ گئی۔
رسول اللہ (ص)نے داستان بڑے غم کے عالم میں سنی وہ بہت دکھی اور پریشان تھے اپنی آنکھوں سے آنسو ں صاف کرتے جارہے تھے
آپ نے فرمایا : اگر رحمت خدا کو اس کے غضب پر سبقت نہ ہوتی تو ضروری تھا کہ جتنا جلدی ہوتا وہ تجھ سے انتقام لیتا۔(۲)
قیس بن عاصم بنی تمیم کے سرداروں میں سے تھا ۔ظہور رسالت مآب کے بعد وہ اسلام لے آیا تھا اس کے حالات میں لکھا ہے کہ ایک روز وہ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ چاہتا تھا کہ جو سنگین بوجھ وہ اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے پھر تا ہے اسے کچھ ہلکا کرے ۔اس نے رسول اکرم کی خدمت میں عرض کیا :گزشتہ زمانے میں بعض باپ ایسے بھی تھے جنہوں نے جہالت کے باعث اپنی بے گناہ بیٹیوں کو زندہ در گور کر دیا تھا میری بھی بارہ بیٹیاں ہوئیں میں نے سب کے ساتھ یہ گھناؤنا سلوک کیا لیکن جب میرے ہاں تیر ہویں بیٹی ہوئی تو میری بیوی نے اسے مخفی طورپر جنم دیا اس نے یہ ظاہر کیا کیا کہ نو مود مردہ پیدا ہوئی ہے ۔ لیکن اسے چھپ چھپا کر اپنے قبیلوں والوں کے ہاں بھیج دیا اس وقت تو میں مطمئن ہو گیا لیکن بعد میں مجھے اس ماجرا کا علم ہو گیا میں نے اسے حاصل کیا اور اپنے ساتھ ایک جگہ لے گیا ۔
اس نے بہت آ ہ و زاری کی ، میری منتیں کیں گر یہ و بکا کی مگرمیں نے پر وا ہ نہ کی اور اسے زندہ در گور کردیا۔
رسول اللہ (ص)نے یہ واقعہ سنا تو بہت ناراحت ہو ئے۔ آپ نے آنکھوں سے آنسوجاری تھے کہ آپ نے فرمایا:
من لایرحم لایرحم
جو کسی پر رحم نہیں کھا تا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔
اس کے بعد آپ نے قیس کی طرف رخ کیا اور یوں گویا ہوئے :
تمہیں سخت دن در پیش ہے ۔
قیس نے عرض کیا:
میں کیا عرض کروں اس گناہ کابوجھ میرے کندھے سے ہلکا ہو جائے ؟
پیغمبر اکرم نے فرمایا:
تونے جتنی بیٹیوں کو قتل کیا ہے اتنے ہی غلام آزادکر (شاید تیرے گناہ کا بوجھ ہلکا ہو جائے ۔)(۳) ۔
نیز مشہو ر شاعر فرزدق کے دادا صعصعہ بن ناحیہ کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ حریت فکر رکھنے والا ایک شریف انسان تھا ۔زمانہ جاہلیت میں وہ لوگوں کی بہت سے بری عادات کے خلاف جد و جہد کرتا تھا یہاں تک کہ اس نے ۳۶۰ لڑکیاں ان کے والدوں سے خرید کر انھیں موت سے نجات بخشی۔ ایک مر تبہ اس نے دیکھا کہ ایک باپ اپنی نو مولود بیٹی کو قتل کرنے کا مصمم ارادہ کر چکا ہے ۔ اس بچی کی نجات کے لئے اس نے اپنے سواری کا گھوڑا تک اور دو اونٹ اس کے باپ کو دئے اور اس بچی کو نجات دلائی ۔
پیغمبر اکرم نے فرمایا :
تونے بہت ہی بڑا کام انجام دیا ہے اور تیری جزا اللہ کے ہاں محفوظ ہے ۔
فرزدق نے اپنے دادا کے اس کام پر فخر کرتے ہوئے کہا:ومناالذی منع الوائدات فاحیا الوئید فلم توائد
اور وہ شخص ہمارے خاندان میں سے تھا جس نے بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے کے خلاف قیام کیا۔ اس نے لڑکیوں کو لیا اور انھیں زندگی عطا کی اور انھیں تہہ خاک دفن نہ ہونے دیا۔(۴)
ابھی ہم اس مسئلہ پر گفتگو تفصیلی کریں گے اور دیکھیں گے اسلام نے کس طرح ان تمام قباحتوں ، مظالم اور جرائم کو ختم کردیا اور عورت کو ایک ایسا مقام بخشا کہ تاریخ میں جس کی نظیر نہیں ملتی ۔
____________________
۱.۔تفسیر فخرالدین رازی جلد ۲۰ ص۵۵۔
۲۔القرآن یواکب الدھر جلد ۲ ص ۲۱۴۔
۳۔جاہلیت و اسلام صفحہ۶۳۲۔
۴۔قاموس الرجال جلد۵ ص۱۲۵۔
۳ ۔عورت کے مقام کے احیاء میں اسلام کا کر دار
عورت کی تحقیر و تذلیل اور اس کی حیثیت کی تباہی زمانہ جاہلیت کے عربوں ہی میں نہ تھی بلکہ اس زمانے کی سب سے زیادہ متمدن قوموں نکا بھی یہی حال تھا وہ عورت کو ایک حقیر وجود سمجھتے تھے اس سے زیادہ ایک متاع بازارکا سلوک کرتے تھے نہ کہ انسان کاسا۔ البتہ دور جاہلیت کے عربوں کے ہاں عورت کی تذلیل زیادہ تکلیف دہ اور زیادہ وحشت ناک تھی یہاں تک کہ وہ نسب کو صرف مرد سے مربوط سمجھتے تھے اور عورت کو تو قبل پید ائش بچے کی پر ورش کے لئے ایک ظرف شمار کرتے تھے ۔ زمانہ جاہلیت کے اس شعر سے بھی ان کا یہ نظریہ ظاہر ہوتا ہے :۔
بنو نا بنو ابنائنا و بناتنا بنوهن ابناء الرجال الاباعد
ہمارے بیٹے تو صرف ہمارے بیٹوں کے بیٹے ہیں ۔ باقی رہے ہماری بیٹیوں کے بیٹے تو وہ تو اور مردوں کے بیٹے ہیں
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ عورت کے لئے حق میراث کے قطعاً قائل نہ تھے اور تعداد ازدواج کے لئے بھی کسی حد و حدود کے قائل نہ تھے وہ شادی اس ااسانی سے کرلیتے جیسے پانی پیتے ہیں اور اسی آسانی سے طلاق دیدیتے تھے ۔
اسلام نے ظہور کیا تو اس نے اس فضول اور بے ہودہ روش کے خلاف مختلف حوالوں اور طریقوں سے سخت جنگ کی ۔ اسلام نے خاص طور پر بیٹی کی پیدا ئش کو ننگ و عار سمجھنے کے خلاف بہت جنگ کی ہے احادیثِ اسلامی میں کسی خاندان میں بیٹی کسی پیدائش کو رحمت الہٰی کی آبشاجاری ہوجانے سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ رسول ِ اسلام خود اپنی بیٹی بانوئے اسلام فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کا اس قدر احترام کرتے کہ لوگوں کو تعجب ہوتا آپ اپنے اس قدر مقام و منزلت کے ہوتے ہوئے اپنی بیٹی کے ہاتھ چومتے ، کسی سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے اپنی بیٹی فاطمہ(علیه السلام) سے ملنے جاتے اور اس کے بر عکس جب کسی سفر کے لئے روانہ ہوتے تو آخری گھر جس میں خدا حافظ کہنے کے لئے آتے وہ فاطمہ (علیه السلام) کا ہی گھر ہوتا۔
ایک حدیث میں ہے :جب رسول اللہ کو خبر دی گئی کہ خد انے انھیں بیٹی عطا فرمائی ہے تو اچانک آپ نے اپنے اصحاب کے چہروں کی طرف دیکھا ان کے چہروں کی طرف دیکھا ان کے چہروں پر افسوس کے آثار نمایاں تھے (گویا زمانہ جاہلیت کی رسموں کے کچھ آثار ابھی ان کے دماغوں میں باقی تھے ) ۔
رسول اللہ نے فوراً فرمایا:۔
مالکم ؟
ریحانة اشمها، و رزقها علی الله عزوجل
تمہیں کیا ہوا ؟اللہ نے مجھے ایک مہکتا ہوا پھول دیا ہے جس کی خوشبو سونگھوں گا (رہی بات اس کی روزی ی تو) اس کا رزق خدا کے ذمہ ہے ۔(۱)
ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم (ص) سے مروی ہے ، آپ نے فرمایا:
نعم الولد البنات ،ملطفات، مهزات، موانسات مفلیات ۔
بیٹی کتنی اچھی ہوتی ہے ، وہ محبت کرنے والی ، مددگار ۔مونس و غمخوار اور پاک وپاک کنندہ ہوتی ہے ۔(۲)
ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :
من دخل السوق فاشتری تحفة فحملها الیٰ عیاله کان کهامل الصدقة الیٰ قوم محاویج ولیبدء بالاناث قبل الذکور، فانه من فسرح ابنته فکانما اعتق رقبة من ولد اسمٰعیل ۔
جو شخص بازار جائے اور اپنے گھر والوں کے لئے کوئی تحفہ خریدے وہ اس شخص کی طرح ہے جو حاجتمندوں کی مدد کرے ( اسے اس شخص کی سی جزا ملے گی ) اور جب گھر آکر اسے بانٹنے لگے تو سب سے پہلے بیٹیوں کو دے کیونک جو شخص اپنی بیٹی کو خوش کرے ایسے ہے گویا اس نے اولادِ اسماعیل میں سے کسی غلام کو آزاد کیا ہے ۔(۳)
در حقیقت عورت کو اسلام نے جو احترام عطاکیا ہے اسی کے سبب اسے معاشرے میں آزادی نصیب ہوئی اور اس کے سبب عورتوں کی غلامی کا دور ختم ہوا۔
اس سلسلے میں اور بھی بہت سی کہنے کی باتیں ہیں جو متعلقہ آیات کی تفسیر میں بیان کی جائیں کی لیکن اس حقیقت کو یہاں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اب بھی اسلامی معاشروں میں دور جاہلیت کے آثار باقی ہیں ۔ اب بھی ایسے گھرانوں نے کمی نہیں جو لڑکے کی پیدا ئش پر تو خوش ہوتے ہیں لیکن لڑکی پیدائش پر افسردہ اور پریشان ہوجاتے ہیں یا کم از کم لڑکے کی پیدائش کو لڑکی کی پیدائش پر ترجیح دیتے ہیں ۔
البتہ ہو سکتا ہے معاشرے میں عورتوں کی کیفیت کے حوالے سے خاص قسم کے اقتصادی اور معاشرتی حالات ایسی غلط عادات ورسوم کا باعث ہوں لیکن کچھ بھی ہو تمام سچے مسلمانوں کو چاہئیے کہ ایسے طرز فکر کو ختم کرنے کی جد و جہد کریں اور اس فکر کی معاشرتی اور اقتصادی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکیں کیونکہ اسلام یہ بات پسند نہیں کرتا کہ چودہ صدیوں بعد اس کے پیروکار دورِ جاہلیت کے افکار و نظر یات کی طرف پلٹ جائیں ۔ اور ایک نئے دور جاہلیت کا آغاز ہو جائے ۔
حالت تو یہ ہے کہ مغرب کے معاشرے میں بھی جہاں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ عورت کے لئے اعلیٰ مقام کے قائل ہیں عملی طور پر اسے اس قدر ذلیل کیا گیا ہے کہ اس کی حیثیت ایک بے قیمت گڑیا ، آتش ِ شہوت کو خاموش کرے والے وجود یا مال اسباب کے لئے ایک اشتہار سے زیادہ نہیں رہی۔(۴)
۳ ۔یہ بات جاذب نظر ہے کہ اتفاق سے یہ سطور ۲۰ جمادی الثانیہ ۱۴۰۱ ھئکو لکھی جارہی ہے ہیں کہ جو بانوئے اسلام حضرت فاطمہ اللہ علیھا کا روز ولادت ہے اور اسی دن کو اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف سے ”یوم خواتین “ قرارد یا گیا ہے ۔
____________________
۱. وسائل الشیعہ جلد ۱۵ص۱۰۲۔
۲۔وسائل الشیعہ جلد۱۵ صفحہ ۱۰۰۔
۳. ۔مکارم الاخلاق ص ۵۴۔
آیات ۶۱،۶۲،۶۳،۶۴،
۶۱ ۔( وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَا تَرَکَ عَلَیْهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَکِنْ یُؤَخِّرُهُمْ إِلَی اٴَجَلٍ مُسَمًّی فَإِذَا جَاءَ اٴَجَلُهُمْ لاَیَسْتَاٴْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَیَسْتَقْدِمُونَ ) ۔
۶۲ ۔( وَیَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا یَکْرَهُونَ وَتَصِفُ اٴَلْسِنَتُهُمْ الْکَذِبَ اٴَنَّ لَهُمْ الْحُسْنَی لاَجَرَمَ اٴَنَّ لَهُمْ النَّارَ وَاٴَنَّهُمْ مُفْرَطُونَ ) ۔
۶۳ ۔( تَاللهِ لَقَدْ اٴَرْسَلْنَا إِلَی اٴُمَمٍ مِنْ قَبْلِکَ فَزَیَّنَ لَهُمْ الشَّیْطَانُ اٴَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمْ الْیَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔
۶۴ ۔( وَمَا اٴَنزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ إِلاَّ لِتُبَیِّنَ لَهُمْ الَّذِی اخْتَلَفُوا فِیهِ وَهُدًی وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ) ۔
ترجمہ
۶۱ ۔ اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کی وجہ سے سزا دے تو مشیت ِ زمین پر چلنے والا کوئی باقی نہ رہے لیکن وہ ایک عرصے تک انھیں مؤخر کر دیتا ہے البتہ جب ان کی اجل آپہنچی ہے تو پھر وہ نہ ساعت بھر تا خیر کرتے ہیں او رنہ گھڑی بر تقدیم کرتے ہیں ۔
۶۲ ۔وہ خدا کے لئے وہ کچھ قرار دیتے ہیں کہ جسے خود ناپسند کرتے ہیں ( یعنی بیٹیاں ) اس کے باوجود جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کا انجام نیک ہے ، ناچار ان کے لئے آگ ہے اور وہ ( آتش جہنم کی طرف)پیش قدمی کرنے والے ہیں ۔
۶۳ ۔ بخدا تجھ سے پہلے ہم نے امتوں کی طرف نبی بھیجے لیکن شیطان نے (ان امتوں کو) ان کے اعمال انھیں سجا بنا کر دکھائے اور آجوہی ان کا ولی ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے ۔
۶۴ ۔ہم نے قرآن تجھ پر ناز ل نہیں کیا مگر اس لئے کہ جس امر میں وہ اختلاف کرتے ہیں تو ان سے بیان کردے اور یہ ان کے لئے ہدایت و رحمت ہے جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ۔
تفسیر
خد افوراً سزا کیوں نہیں دیتا؟
گذشتہ آیات میں مشرکین ِ عرب کے وحشت ناک جرائم اور قبیح بدعتوں کا ذکر ہے ان میں بتا یا گیا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو زندہ در گور کر دیتے تھے ۔ہو سکتا ہے اس مو قع پر بعض ذہنوں میں یہ سوال ابھرے کہ ایسے ظالمانہ اقدامات پر خدا تعالیٰ فوراًعذاب کیوں نہیں کرتا؟
زیر نظر آیت اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتی ہے : اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم و گناہ پر سزا دے تو سطح زمین پر کوئی حرکت کرنے والا باقی نہ رہے( وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَا تَرَکَ عَلَیْهَا مِنْ دَابَّةٍ ) ۔(۱)
”دابة“ ہر قسم کے زندہ اور متحرک موجود کو کہتے ہیں یہاں ممکن ہے ”علیٰ ظلمھم “ کے قرینوں سے انسانوں کے لئے کنایہ ہو یعنی اگر خد ا انسانوں کا ان ظلم کی وجہ سے مواخذہ کرے تو کوئی انسان سطح زمین پر باقی نہ رہے ۔
یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد زمین پر تمام حرکت کرنے والے اور چلنے پھر نے والے ہوں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ زمین پر چلنے والے جانور معمولاً انسان کے لئے پید اکئے گئے ہیں جیسا کہ قرآن کہتا ہے :
( هو الذی خلق لکم ما فی الاض جمیعاً )
اللہ وہ ہے کہ جس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لئے پیدا کیا ہے ۔ (بقرہ ۲۹)
لہٰذا جب انسان ختم ہو جائیں تو دوسرے چلنے پھرنے والے جانداروں کے وجود کا فلسفہ بھی ختم ہو جائے گا ، اس لئے ان کی نسل بھی منقطع ہو جائے گی۔
اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آیت کے مفہوم کی عمویت اور وسعت کو دیکھا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ زمین پر بسنے والے تمام انسان ظالم ہیں اور ہر شخص کسی نہ کسی ظلم کا مرتکب ہوا ہے اور اگر فوری سزا نافذ ہو تو کسی کا دامن نہیں بچے گا حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ نہ صرف انبیاء و مر سلین اس زمین پر موجود رہے ہیں کہ جو معصوم ہیں اور اس ظلم کے مصداق نہیں ہیں بلکہ ہر زمانے میں ایسے نیک پاک اور سچے مجاہد رہے ہیں کہ جن کی نیکیاں یقینا ان کی چھو ٹی برائیوں سے زیادہ ہوتی ہیں اور جو ہر گز ایسی سزا کے مستحق نہیں ہوتے کہ جو نابود کردے ۔
اس سوال کو جواب یوں دیا جا سکتا ہے
آیت کا حکم نوعی ہے نہ عمومی کہ جو سب کے لئے ہو ۔
اسے بیانات کی مثالیں عربی ادب میں اور دیگر زبانوں میں موجود ہیں یہ مشہور شعر ہم نے اکثر سنا ہے :
گر حکم شود مست گیرند در شھر ہر آنچہ ہست گیرند
اگر حکم ہو کہ جو بھی نشے میں ہو اسے پکڑ لیا جائے تو شہر میں کوئی بھی گرفتاری سے نہ بچ سکے ۔
اسی طرح ایک اور شاعر کہتا ہے :
گفت باید حد زندہشیار، مرد مست را گفت ہشیاری بیار ، اینجا کسی ہشیار نیست
اس نے کہا ہے جو ہوش میں ہے وہ اس مست شخص پر حد جاری کرے تو جواب ملا کہ پہلے کسی باہوش کو لے آؤ کیونکہ یہاں تو کوئی ہوش میں نہیں ہے ۔
اس استثناء کی شاہد سورہ فاطر کی آیہ ۳۲ ہے ، اس میں ارشاد الہٰی ہے :
( ثم اورثناالکتاب الذین اصطفینا من عبادنا فمنهم ظالم لنفسه و منهم مقتصد و منهم سابق بالخیرات باذن الله ذٰلک هو الفضل الکبیره ) ۔
پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے جھیں چن لیا انھیں کتاب کا وارث بنایا اور انسانوں میں تین طرح کے لوگ ہیں ایک وہ جنہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، دوسرے وہ جو درمیانے سے ہیں اور تیسرے وہ کہ جو اذن الہٰی سے نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں اور یہ بڑے فضل کی بات ہے ۔
یہ بات یقینی ہے کہ زیر بحث آیت میں جس عذاب کا ذکر ہے وہ سورہ فاطر کی مذکورہ آیت کے بیان کر دہ پہلے گروہ کے لئے ہے اور ایسے لوگوں ککی چونکہ معاشروں میں کثرت ہوتی ہے لہٰذا آیت کے انداز میں عمومیت کوئی قابل تعجب با ت نہیں ہے ۔
ہم نے جو کچھ کہا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ آیت انبیاء کی عصمت کی نفی پر ہر گز دلالت نہیں کرتی اور جنھوں نے یہ خیال کیا ہے انھوں نے قرآن کی دیگر آیات اور کلام میں موجودقرائن کی طرف توجہ نہیں کی۔
اس کے بعد قرآن کہتا ہے : خدا سب ظالموں کو مہلت دیتا ہے اور اجل مسمیٰ ( ایک معین زمانے ) تک ان کی موت کو مؤخر کردیتا ہے( وَلَکِنْ یُؤَخِّرُهُمْ إِلَی اٴَجَلٍ مُسَمًّی ) ۔
لیکن جب ان کی اجل آپہنچتی ہے تو ھر گھڑی بھر کی تاخیر ہوہے نہ تقدیم( فَإِذَا جَاءَ اٴَجَلُهُمْ لاَیَسْتَاٴْخِرُونَ سَاعَةً وَلاَیَسْتَقْدِمُونَ ) ۔
بلکہ ٹھیک اسی لمحے موٹ انھیں دامن گیر ہوجاتی ہے اور لحظہ کے لئے بھی آگے پیچھے نہیں ہوتی ۔
اجل مسمیٰ کیا ہے ؟
”اجل مسمیٰ “ کے مفہوم کے بارے میں میں مفسرین کی مختلف آراء ہیں البتہ قرآن حکیم کی دیگر آیات کہ جن میں سورہ انعام کی آیت ۲/ اور سورہ اعراف کی آیہ ۳۴ / شامل ہیں ، پر نظر رکھی جائے تو اس سے مراد موت کا آنا ہی ہے یعنی خد ابدنوں کو ان کی عمر کے آخر تک اتمام حجت کے لئے مہلت دیتا ہے کہ شاید ظالم اپنی اصلاح کی فکر کریں اور اپنے طرز عمل پر تجدید نظر کریں اور خدا ، حق اور عدالت کی طرف پلٹ آئیں ، جب مہلت یہ مدت ختم ہو جاتی ہے تو موت کا حکم جاری ہو جاتا ہے اور موت کے اسی لمحے سے سزا اورعذاب کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔
”اجل مسمیٰ “ کے بارے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ کی جلد ۵ ص ۱۳۳( اردو ترجمہ) اور جلد ۶ ص ۱۴۲( اردو ترجمہ )کی طرف رجوع کریں ۔
اگلی آیت میں قرآن ایک مرتبہ بھی زمانہ جاہلیت کے عرب کی بری رسموں کی مذمت کرتا ہے قبل ازیں بتا یا جاچکا ہے کہ وہ خود بیٹیوں سے نفرت کرتے تھے جبکہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے : ایک طرف تو وہ خود اپنے لئے بیٹیوں کو ناپسند کرتے ہیں لیکن دوسری طرف خدا کے لئے قائل ہیں( وَیَجْعَلُونَ لِلَّهِ مَا یَکْرَهُونَ ) ۔
یہ عجیب و غریب تناقض اور تضاد ہے سورہ نجم کی آیہ ۲۲ میں ہے ؛
یہ ایک انتہائی ناپسند دیدہ تقسیم ہے ۔
فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ بیٹیان اچھی چیز ہیں تو پھر تم کیوں بیٹیاں پیدا ہونے پر پریشان ہوجاتے ہو اور اگر یہ بری چیز ہے تو پھر خدا کے لئے اس کے قائل کیوں ہوتے ہو؟
اس کے باوجود ان کا غلط دعویٰ ہے کہ ان کا انجام نیک ہے اور جزائے خیر انہی کے لئے ہے( وَتَصِفُ اٴَلْسِنَتُهُمْ الْکَذِبَ اٴَنَّ لَهُمْ الْحُسْنَی ) ۔
کس عمل کی وجہ سے وہ ایسی جزا کی توقع رکھتے ہیں کیا معصوم ، بے گناہ بے چاری بیٹیوں کو زندہ در گور کرنے پر یا پر وردگار کی ساحتِ مقدس پر افتراء باندھنے پر؟
لفظ ” حسنیٰ “ ”احسن“کا مونث ہے اس کا معنی نہایت عمدہ ، بہت اچھا ۔یہاں بہترین جزا یا بہترین انجام کے معنی میں آیا ہے جس کی یہ مغرور اور گمراہ قوم اپنے تمام تر جرائم کے باوجود قائل تھی ۔ اس صورت میں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے عرب تو معاد اور قیامت پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے اس کے باوجود اس قسم کی باتیں کیوں کرتے تھے ۔
اس سلسلے میں توجہ رہے کہ وہ سب سے سب مطلقاً معاد کے منکر نہیں تھے بلکہ معاد ِ جسمانی کا انکار کرتے تھے انھیں اس بات سے انکار تھا کہ انسان کو پھر سے مادی زندگی دی جائے گی وہ اس بات پر تعجب کرتے تھے علاوہ ازیں ممکن ہے یہ تعبیر ” قضیہ شرطیہ“ کے طور پر ہو یعنی وہ کہتے تھے :یابالفرض دوسرا جہاں ہو تو ہمیں وہاں بہترین جزا ملے گی۔
بہت سے ظالم و جابر ، منحرف اور ہٹ دھرم افراد کی یہی طرز فکر ہے کہ خد اسے دور ہو نے کے باوجود وہ اپنے آپ کو خدا سے بہت نزدیک سمجھتے ہیں اور انتہائی مضحکہ خیز دعوے کرتے ہیں ۔
بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ”حسنیٰ“ سے ” نعمت حسنیٰ“ یعنی بیٹے مراد ہیں کیونکہ وہ بیٹیوں کو برا اور منحوس سمجھتے تھے لیکن بیٹوں کو اچھا اور اعلیٰ نعمت جانتے تھے ۔
لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اسی لئے بلا فاصلہ فرمایا گیا ہے : نا چار ان کے لئے جہنم کی آگ ہے( لاَجَرَمَ اٴَنَّ لَهُمْ النَّارَ ) ۔یعنی نہ صرف یہ کہ ان کی عاقبت بخیر نہیں بلکہ ان کا انجام کار جہنم کی آگ کے علاوہ کچھ نہیں اور وہ اسی آگ کی طرف پیش قدمی کرنے والے ہیں ۔( وَاٴَنَّهُمْ مُفْرَطُونَ ) ۔
”مفرط“ ”فرط“ ( بر وززن”فقط“)کے مادہ سے آگے بڑھنے کے معنی میں ہے ۔
ہو سکتا ہے زمانہ جاہلیت کے عربوں کی داستان سن کر بعض یہ سوال کریں کہ کسیے ممکن ہے کہ انسان اپنے جگر گوشہ کو اس بر بریّت کے ساتھ مٹی میں زندہ گاڑ دے ۔ اس سلسلے میں اگلی آیت میں فرمای اگیا ہے : بخدا ہم نے تجھ سے پہلے امتوں کی طرف نبی بھیجے لیکن شیطان نے ان امتوں کے اعمال انھیں بہت بنا سنوار کر پیش کئے تھے( تَاللهِ لَقَدْ اٴَرْسَلْنَا إِلَی اٴُمَمٍ مِنْ قَبْلِکَ فَزَیَّنَ لَهُمْ الشَّیْطَانُ اٴَعْمَالَهُمْ ) ۔
جی ہاں شیطان اپنے وسوسوں میں تنا ماہر ہے کہ قبیح ترین اور بد ترین جرائم کو بھی بعض اوقات انسان کے سامنے بہت خوبصورت بنا کر پیش کردیتا ہے اور اسے باعث ِ فخر سمجھنے لگتا ہے جیسا کہ دورِ جاہلیت کے عرب اپنی بیٹیوں کو زندہ د رگور کرنے کو پانے لئے سندافتخار جانتے تھے وہ اسے غیرت مندی کا مظاہرہ قرار دیتے اور قبیلے کی عز ت و آبرو کی حفاظت کے نام پر اس فعل کی تعریف کرتے ۔
بیٹی کو زندہ گاڑ دینے والا باپ کہتا :
میں نے اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے زیر خاک دفن کردیا ہے تاکہ کل کو وہ کسی جنگ میں دشمن کے ہاتھ نہ لگے۔
ظاہر ہے جہاں ایسے شرمناک ترین اعمال شیطانی تزئین کے بعد ایسے پر فریب ہو جائیں تو باقی کاموں کی حالت کیا ہو گی۔
آج بھی شیطانی تزئین کے ایسے نمونے بہت سے افراد کے اعمال میں نظر آتے ہیں ۔ آج بھی چوری ، غارت گری، تجاوز اور جرم کو مختلف پر فریب نام دئے جاتے ہیں ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ دورِ حاضر کے مشرکین بھبی ان گزشتہ امتوں کے انحرافی طرز عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
شیطان نے جن کے اعمال کو خوبصورت بنا کر پیش کیا تھا آج بھی شیطان ان کا ولی ، راہنما اور سر پرست ہے( فَهُوَ وَلِیُّهُمْ ) ۔اور یہ اسی کی راہنمائی میں قدم اٹھاتے ہیں ۔ اسی بناء پر دردناک عذابِ الٰہی ان کے انتظار میں ہے( الْیَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ ) ۔
”( فَهُوَ وَلِیُّهُمْ الْیَوْمَ ) “( آج شیطان ان کا ولی و سر پرست ہے ) اس جملے کی مفسرین مختلف پیرائے میں تفسیر کی ہے ۔ شاید ان میں سے زیادہ واضح وہی ہے جو ہم کہہ چکے ہیں ۔ یعنی یہ جملہ دور جاہلیت کے مشرکین عرب کی کیفیت واضح کر رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ انھوں نے بھی گزشتہ منحرف امتوں کے طرز عمل کی پیروی کی اور شیطان ان کا سر پرست ہے جیسے وہ گزشتہ گمراہوں کا سر پرست تھا۔
ا۔لیکن اس تفسیر کا لازمی مطلب یہ ہے کہ ”اعمالھم “ اور ” ولیھم“ کی ضمیر میں معنیٰ کے لحاظ سے فرق ہو پہلی ضمیر گذشتہ امتوں کے لئے ہو اور دوسری رسول اللہ کے زمانے کے مشر کین کی طرف اشارہ کرتی ہو ۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے یہ جملہ مقدر مانا جا سکتا ہے ۔هؤ لاء یتبعون الامم الماضیة ( غور کیجئے گا )
یہ اھتمال بھی ہے کہ اس سے مراد کیہ ہو کہ ابھی تک گزشتہ منحرف امتوں کے کچھ لوگ موجود ہیں اور وہ اپنے انحرافی طریقے کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور ششیطان آج بھی پہلے کی طرح ان کا سر پرست ہے ۔
زیر بحث آخری آیت میں بعثت ِ انبیاء کا مقصد بیان کیا گیا ہے کہ تاکہ واضح ہو جائے کہ اگر قومیں اور ملتیں اپنی خود غرضیوں اور غلط طور طریقوں کو چھوڑ کر رہبری ِ انبیاء سے وابستہ ہو جائیں تو ایسے خرافات ، اختلافات اور عملی تضادات ختم ہو جائیں ۔ ارشاد ہو تا ہے : ہم نے قرآن تجھ پر صرف اس لئے نازل کیا ہے کہ وہ جس امر میں اختلاف رکھتے ہیں تو اسے واضح کردے( وَمَا اٴَنزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ إِلاَّ لِتُبَیِّنَ لَهُمْ الَّذِی اخْتَلَفُوا فِیهِ ) ۔
اور یہ قرآن ان لوگوں کے لئے باعثِ ہدایت و رحمت ہے جو ایمان رکھتے ہیں( وَهُدًی وَرَحْمَةً لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ ) ۔
شیطانی وسوسے ان کے دلوں سے نکال دیتا ہے نفس امارہ اور شیطان صفت لوگوں کے پہنائے ہوئے پر فریب پر دے حقائق کے چہرے سے ہٹا دیتا ہے ۔ پس پردہ خرافات و جرائم کو واضح کردیتا ہے خود غر ضیوں نے جو اختلافات پیداکر دئے ہوتے ہیں انھیں ختم کر دیتا ہے ۔ بربر یتوں کا خاتمہ کردیتا ہے اور ہر طرف ہدایت و رحمت کا نور پھیلا دیتا ہے ۔
____________________
۱۔”علیھا“ کی ضمیر “” ارض “ کی طرف لوٹتی ہے ۔ اگر چہ پہلے اس کا ذکر نہیں آیا اور یہ مطلب کی وضاحت کے لئے ہے اس کی نظیر عربی ادب میں اور دیگر زبانوں کے ادب میں بہت ملتی ہے ۔
آیات ۶۵،۶۶،۶۷،
۶۵ ۔( وَاللهُ اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَحْیَا بِهِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ ) ۔
۶۶ ۔( وَإِنَّ لَکُمْ فِی الْاٴَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِیکُمْ مِمَّا فِی بُطُونِهِ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِینَ ) ۔
۶۷ ۔( وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِیلِ وَالْاٴَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَکَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ) ۔
ترجمہ
۶۵ ۔ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا اوراور جب زمین مردہ ہو چکی تھی اسے پھر سے حیات بخشی اس میں اس قوم کے لئے واضح نشانی ہے جو سننے والے کان رکھتی ہے ۔
۶۶ ۔اور چوپایوں کے وجود میں تمہارے لئے عبرت( کے درس)ہیں ۔ ان کے شکم کے اندر سے ہم تمہارے پینے کے لئے ہضم شدہ غذا اور خون میں سے خالص اور پسند یدہ دودھ فراہم کرتے ہیں ۔
۶۷ ۔ کھجور اور انگور کے درختوں کے میووں سے شراب(ناپاک) اور اچھا رزق حاصل کرتے ہو۔ اس میں عقل و دانائی سے کام لینے والی قوم کے لئے روشن نشانی ہے ۔
پانی ، پھل اور حیوانات
قرآن ایک مرتبہ پھر پر وردگار کی گونا گوں نعمتوں کا تذکرہ کرتا ہے یہ در اصل توحید اور خدا شناسی کے لئے ایک تاکید بھی ہے اور ساتھ ہی معاد کی طرف اشارہ ہے ۔ نیز نعمتوں کا تذکرہ بندوں کے احساس ِ تشکر کو بیدار کرنے کے لئے بھی ہے اس طرح انھیں زیادہ قرب ِ الہٰی کے حصول کی طرف مائل کیاگیا ہے ان تینوں پہلوؤں پر نظر رکھی جائے تو ان آیات کا گذشتہ آیا ت سے تعلق واضح ہو جاتا ہے ۔
دوسری طرف گذشتہ آیات میں سے آخری آیت قرآن کے نزول کے بارے میں تھی ۔ وہ آیات کہ روح ِ انسانی کے لئے حیات بخش ہیں اور زیر نظر پہلی آیت آسمان سے بارش کے نزول کے بارے میں ہے ۔ اور بارش جسمِ انسانی کے لئے حیات بخش ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے :خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس طرح زمین کو جو مردہ ہو چکی تھی اسے حیاتِ تازہ بخشی( وَاللهُ اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَحْیَا بِهِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ) ۔
اس امر میں ان کے لئے عظمت ِ الہٰی کی واضح نشانی ہے کہ جو سننے والے کان رکھتے ہیں (إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ ) ۔
آسمان سے بارش برسنے سے زمین کو جو حیات ِ نو ملتی ہے اس کا ذکر قرآن کی بہت سی آیات میں آیا ہے ۔ بعض اوقات خشک سالی زمین کو اس طرح سے خشک، سالی زمین کو اس طرح سے خشک ، خاموش اور بے روح کردیتی ہے کہ وہ بالکل بے کار اور بنجر ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کسی کو یقین نہیں آتا کہ کبھی اس زمین پر بھی سر سبز کھیتیاں لہراتی رہی ہیں یا آئندہ کبھی اس دکھ سے کوئی زندگی جنم لے گی لیکن چند پے در پے باریشیں ہوتی ہیں اور پھر سورج کی حیات بخش شعاعیں اس میں حرکت پید اکردیتی ہیں گویا کوئی سورہاتھا اور اب بیدار ہو گیا ہے یا زیادہ صحیح الفاظ میں کوئی مردہ تھا کہ جس میں بارش کے دم ِ مسیحائی سے زندگی لوٹ آتی ہے اس میں طرح طرح کے پھل پھول اگنے لگتے ہیں ۔ سبز ے لہلہانہ شروع کر دیتے ہیں ۔ حشرات الارض اس پر رینگنے لگتے ہیں ۔ پرندے اس میں چہچہانے لگتے ہیں اور جانور پھر سے اس کا رخ کرنے لگتے ہیں اور اس طرح زمرمہ حیات پھر سے گونج اٹھتا ہے ۔
مختصر یہ کہ وہ زمین جو پہلے مردہ خاموش تھی اس میں ایسا غلغلہ جاگ اٹھتا ہے کہ انسان مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ عالم ِ آفرینش کا ایک شاہکار ہے یہ خالق کی قدرت و عظمت کی نشانی بھی ہے او رمعاد و قیامت کے امکان کی دلیل بھی ہے اس سے کھلتا ہے کہ مردے کس طرح دوبارہ لباس ِ حیات زیب تن کرتے ہیں یہ خدا کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت بھی ہے خصوصاً بارش ایک ایسی نعمت ہے کہ جس کے حصول کے لئے بندے کچھ زحمت نہیں کرتے۔
پانی کہ جو پہلا رکن حیات ہے اس کے ذکر کے بعد چوپایوں کے وجود کی نعمت کی طرف اشارہ ہے اس سلسلے میں خصوصیت سے دودھ کا تذکرہ ہے کہ جو انتہائی مفید غذائی عنصر ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : اور چوپایوں کے وجود میں تمہارے لئے ایک بہت بڑا درسِ عبرت ہے( وَإِنَّ لَکُمْ فِی الْاٴَنْعَامِ لَعِبْرَةً ) ۔
اس سے بڑھ کر عبرت کی بات کیا ہو گی کہ ہم تمہیں ان جانوروں کے شکم میں ہضم شدہ غذا اور خون کے درمیان میں سے تمہارے پینے کے لئے خالص اور عمدہ دودھ فراہم کرتے ہیں( نُسْقِیکُمْ مِمَّا فِی بُطُونِهِ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِینَ ) ۔
” فرث“ لغت میں اس ہضم شدہ غذا کے معنی میں ہے کہ جو معدے کے اندر ہو اور جب وہ انتڑیوں تک پہنچتا ہے تو اس کا حیاتی مادہ بد ن میں جذب ہو جاتا ہے اور اس کا پھوک اور فضلہ باہر نکل جاتا ہے اس فضلے کو ” روث“ ( گوبر)کہتے ہیں ۔
ہم جانتے ہیں کہ شکر کا کچھ مواد اور اسی طرح پانی وغیرہ کی کچھ مقدار معدے کی دیواروں کے ذریعے بدن میں جذب ہو جاتی ہے اور اس کا ایک اہم حصہ ہضم شدہ غذا کی صورت میں انتڑیوں کی طرف منتقل ہو کر خون میں داخل ہو جاتا ہے ۔ نیز ہم یہ بھی جاتے ہیں کہ دودھ پستان کے اندر موجود خا ص غدودوں سے نکلتا ہے اور اس کا اصلی مواد خون او رچربی ساز غدودوں سے لیا جاتا ہے ، اس طرح یہ سفید رنگ ، صاف ستھرا اور خالص مادہ ، یہ قوت بخش اور عمدہ غذا ہضم شدہ غذاؤں کے دمریان سے کہ جو فضلہ سے مخلوط ہیں اور خون کے بیچوں بیچ سے حاصل ہوتا ہے واقعاً یہ ایک عجیب و غریب چیز ہے ۔ سر چشمہ اس طرح سے آلودہ اور تنفر آمیز لیکن ماحصل خالص ، خوبصورت ، دل انگیز اور عمدہ دودھ ۔
جانوروں اور ان کے دودھ کے ذکر کے بعد کچھ نباتات کی نعمت کا تذکرہ ہے ارشاد ہوتا ہے : اللہ نے تمہیں کھجور اور انگور کی صورت میں پر برکت غذا عطا کی ہے کبھی تم اسے نقصان دہ شکل میں ڈھال لیتے ہو اور ا س سے شراب بناتے ہو اور کبھی اس سے پاک و پاکیزہ رزق حاصل کرتے ہو۔( وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِیلِ وَالْاٴَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَکَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا ) ۔
اس امر میں اس کے لئے قدرت پر ور دگار کی ایک نشانی ہے جو عقل و خرد رکھتے ہیں( إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ ) ۔
”سکر“ کے اگر چہ لغت میں مختلف معانی ہیں ۔ یہاں سکرات ، مشروبات الکحل اور شراب کے معنی میں ہے اور یہی اسی کا مشہور معنی ہے ۔
واضح ہے اس آیت میں قرآن نے کھجور اور انگور سے شراب بنانے کی ہر گز اجازت نہیں دی بلکہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ” سکراً“ کو ” رزقاً“ کے بالمقابل بیان کیا گیا ہے یہ دراصل شراب کی حرمت اور اس کے غیر مطلقب ہونے کی طرف ایک بلیغ اشارہ ہے لہٰذا اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم کہیں کہ یہ آیت حرمت شراب نازل ہونے سے پہلے کی ہے اور اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ ہے بلکہ اس کے بر عکس آیت اس کے حرام ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور شاید یہ تحریم شراب کے لئے پہلا الارم ہے ۔
در حقیقت ایک جملہ معترضہ کی صورت میں خدا چاہتا ہے کہ نعمات الہٰی سے سوء ِ استفادہ کی طرف بھی اشارہ کرے ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ دودھ کس طرح پیدا ہوتا ہے ؟
جیسا کہ ہم نے مندر جہ بالا آیات میں پڑھا ہے ، قرآن مجید کہتا ہے : کہ دودھ ”فرث“ ( معدے کے اندر ہضم شدہ غذا) اور ”دم“ (کون ) کے درمیان سے نکلتا ہے ۔
آج کی فزیالوجی ( Physiology )( علم الاعضاء)نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ جس وقت غذا معدے میں ہضم اور جذب کے لئے تیار ہو جاتی ہے تو معدے اور اتڑیوں کی سطح میں کئی ملین بالوں کی رگوں کے ساتھ ساتھ بہت پھیل جاتی ہے ۔ مفید اور ضروری عناصر اسے جذب کرکے اسے ایک جڑ دار درخت تک پہنچاتے ہیں وہی جڑدار درخت کہ جس کی جڑیں پستان کی نوک میں جاکر جمع اور تمام ہو تی ہیں ۔ ماں غذاکھاتی ہے تو اس کا نچوڑ خون میں داخل ہو جاتا ہے خون کی ان رگوں کی آخری شاخیں اور ” جنین“ کے گر دش ِ خون کا آخری مقام اور اس کی رگوں کی آخری شاخیں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہوتی ہیں جب تک بچہ شکم ِ مادر میں ہوتا ہے اس طرح غذاملتی رہتی ہے لیکن وہ ماں سے الگ ہو جاتا ہے تو غذادینے والے قطب نما عقربہ کی نوک کی ماں کے پستان کی نوک کی طرف رخ کرتی ہے اس حالت میں اب ماں کا خون نوزاد بچے کے خون تک نہیں پہنچ سکتا یہاں ایک تغیر اور تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے اب ایک صاف شدہ محصول کی ضرورت ہوتی ہے جو بچے کے لئے گوارا اور مناسب ہو ایسے میں ” فرث“ اور ”دم“ کے درمیان میں سے دودھ پیدا ہو تا ہے ماں جو کچھ کھاتی ہے اس سے ” فرث“ بنتا ہے اور پھر اس سے خون پیدا ہوتا ہے اور پھر ان دونوں کے درمیان میں سے دودھ پیدا ہوتا ہے ۔
عجیب اتفاق ہے کہ دودھ کی ترکیب بھی ”خون“ اور”دم“کی درمیانی سی ترکیب ہے یہ نہ صاف شدہ خون ہے نہ ہضم شدہ غذا۔ یہ ” فرث“ سے بالا اورخون سے نیچے کی ایک چیز ہے ۔ دودھ کے بعض عناصر خون میں نہیں ہوتے اور پستان کی غدودد میں بنتے ہیں ۔ مثلاًکازوئین
خون کے کچھ عناصر جو دودھ میں موجود ہیں وہ بغیر کسی تغیر کے خون کے پالازما( Plasma )سے ترشح ہو کر دودھ میں داخل ہوتے ہیں مثلا ً مختلف وٹامن، خوردنی نمک اور مختلف فاسفیٹ ۔
کچھ اور مواد بھی خون سے حاصل ہوتا ہے مثلاً دودھ میں موجود شکر ( Lactose )خون میں موجود شکر سے حاصل ہوتی ہے جو پستان کے عمل میں مدد ہوتی ہے اور اس تغیر میں ایک اہم کردار کرتی ہے ۔
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں دودھ کی تو لید نتیجہ ہے خون کے ذریعہ ضذب ِ غذا کا اور خون کے پستانوں کی غدود سے براہ راست تعلق کا ، لیکن یہ بات جاذب نظر ہے کہ ”فرث“ کی مخصوص بو اور خون کا مخصوص رنگ دودھ میں منتقل نہیں ہوتے بلکہ یہ دودھ نئے رنگ اور نئی مہک کے ساتھ پستان کی نوک سے نکلتا ہے ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ فزیالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ پستان میں ایک لڑ دود ھ پیدا ہونے کے لئے کم از پانچ سے لٹر خون کو اس حصے سے گزرنا چاہئیے تاکہ ایک لڑ دودھ کے لئے درکار ضروری مواد خون سے حاصل کیا جا سکے جبکہ رگوں میں ایک لٹر خون پید ا ہونے کے لئے ضروری مقدار میں غذائی مداد کو انتڑیوں سے گزر نا پڑتا ہے یہ وہ مقام ہے کہ جہاں ” من بین فرث ودم “ ( ہضم شدہ غذا اور خون میں سے ) ک امفہوم پوری طرح واضح ہوتا ہے ۔ ۱
____________________
۱۔ کتاب ”شیمی حیاتی و پزشکی“ اور کتاب ” اولین دانشگاہ اور آخرین پیامبر “ جلد ۶ ص ۷۱، تا ص
۲ ۔ دودھ ایک اہم غذا
دودھ اہم حیاتی ن سے بھر پور ہے یہ اجزاء باہم مل کر ایک غذا بناتے ہیں ۔
دودھ کے اجزاء:۔ سوڈیم ( Sidiam )پوٹا شیم Pot) کیلشیم( Calcium )میگگنیشیم، کانسی ، تانبا، آئرن ، فاسفورس آیوڈ( lode )اور گندھک۔
اس کے علاوہ دودھ میں آکسیجن ، ازاٹ( Azote )اور کارناک ایسڈ کے اجزاے بھی موجود ہوتے ہیں ۔ دودھ میں شکر کافی مقدار میں لکٹوز ( Lactose )کی شکل میں ہوتی ہے ۔
دودھ میں تحلیل شدہ وٹامن اے ، بی ، سی اور ڈی ہوتے ہیں ۔ دور حاضر میں ثابت ہو چکا ہے کہ اگ رجانور نے خوب چارہ چرلیا تو اس کے دودھ میں ہر طرح کے وٹامن موجود ہوتے ہیں سب کی تفصیل اس کتاب میں نہیں آسکتی نیز اس مسئلے پر بھی تقریباً اتفاق ہے کہ دودھ ایک مکمل غذا ہے ۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ایک حدیث میں رسول اللہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:
لیس یجزی مکان الطعام والشراب الااللبن
دودھ کے سواکوئی چیز کھانے پینے کا مکمل نعم البدل نہیں ہے ۔
نیز روایات میں ہے :
دودھ عقل انسان کو بڑھاتا ہے ، ذہن انسانی کو شفا بخشتا ہے ، آنکھوں کی بینائی میں اضافے کا باعث بنتا ہے ، نسیان کو ختم کرتا ہے ، دل کو تقویت دیتا ہے اور کمر کو مضبوط کرتا ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ یہ آثار دودھ میں موجودحیاتین سے قریبی ربط رکھتے ہیں ۔(۱)
____________________
۱۔ کتاب” اولین دانشگاہ و آخرین پیامبر“ جلد ۶ میں موجود دودھ کی بحث سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
۳ ۔ دودھ ایک خاص اور عمدہ غذا
زیر بحث آیات میں دودھ کو ”خالص “ اور ”گوارا“ غذا قرار دیا گیا ہے اور یہ بات پہلی نظر ہی میں ہر شخص کے لئے واضح ہے کہ دودھ کم حجم، پر قوت اور اضافی مواد سے پاک ایک خالص غذا ہے اور ساتھ ہی یہ ہر سن و سال کے شخص کے لئے ، بچپن سے لیکر بڑھاپے تک کے لئے نہایت گوارا ، مفید اور مناسب ہے ۔
انہی وجودہ کی بناء پر بہت سے بیمار اس غذا سے استفادہ کرتے ہیں خصوصاً ہڈیوں کی نشو و نما کے لئے اس کی بہت زیادہ تاثیر مانی گئی ہے ، یہی وہ ہے کہ ہڈی ٹوٹ جانے کی صورت میں اس کی سفارش کی گئی ہے ۔
”خلوص“ کا معنی ”پیوند“ بھی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اس قرآنی تعبیر کو ہڈی جوڑنے میں دودھ کے بہت مؤثر ہونے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔
یہ بات جاذب نظر ہے کہ دودھ پلانے کے بارے میں جو اسلامی احکام وارد ہوئے ہیں ان میں یہ معنی وضاحت سے نظر آتا ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ فقہا کہتے ہیں :
اگر بچہ کسی عورت کااس قدر دودھ پئے کہ اس کی ہڈی مضبوط ہو جائے اور گوشت اگ آئے تو یہ اس عورت کامحرم اور رضاعی بیٹا ہو جائے گا۔
اسی طرح کا حکم اس عورت کے شوہر اور دیگر رشتہ داروں کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے ۔(۱)
دوسری طری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ فقہاء کے نزدیک پندرہ مرتبہ پے در پے دودھ پینے سے یہاں تک کہ ایک شب و روز دودھ پینے والا اس عورت کا محرم ہو جاتا ہے جس کا اس نے دودھ پیا ہے۔
ان دونوں باتوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کیا اس کا یہ مفہوم نہیں ہو گا کہ چوبیس گھنٹے دودھ پینا بھی ہڈیوں کی تقویت اور گوشت اگنے کے لئے موثر ہے ۔
اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ اسلامی احکام میں پہلے دن کے دودھ کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے یہاں تک کہ اسلام کی فقہی کتب میں بچے کی زندگی کو ا س سے وابستہ سمجھا گیا ہے ۔ اسی بناء پر بچے کو پہلا دودھ پلانا واجبات میں شمار کیا گیا ہے ۔
شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے بارے میں سورہ قصص کی آیہ ۷ میں ہے ۔
( و اوحینا الیٰ ام موسیٰ ان ار ضعیه فاذا خفت علیه فاقیه فی الیم )
موسیٰ کی ماں کو ہم نے وحی کی کہ اسے دودھ پلاؤ اور جب تمہیں اس کے بارے میں خوف لاحق ہوتو اسے دریا کی موجوں کے سپرد کردو۔
____________________
۱۔ شرح لمعہ، کتاب نکاح الاولاد و منہا الرضاع ۔
آیات ۶۸،۶۹
۶۸ ۔( وَاٴَوْحَی رَبُّکَ إِلَی النَّحْلِ اٴَنْ اتَّخِذِی مِنْ الْجِبَالِ بُیُوتًا وَمِنْ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُونَ ) ۔
۶۹ ۔( ثُمَّ کُلِی مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُکِی سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلاً یَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ اٴَلْوَانُهُ فِیهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔
ترجمہ :
۶۸ ۔ تیرےپر وردگار نے ( نظام فطرت کے تحت) شہد کی مکھی کو وحی کی کہ پہاڑوں میں ، درختوں میں اور جو عر شے لوگ بناتے ہیں ان میں گھر بنانا۔
۶۹ ۔ اور پھر تمام پھلوں سے کھا اور جو راستے تیرے پر وردگار نے تیرے لئے معین کئے ہیں ان میں راحت سے چل پھر ۔ ان کے بطن سے پینے کی ایک خاص چیز نکلتی ہے اس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اس میں لوگوں کے لئے شفا ء ہے ۔ اس امر میں اہل فکر و نظر کے لئے بڑی نشانی ہے ۔
تفسیر
شہد کی مکھی اور وحی الہٰی
یہاں قرآن کا لب ولہجہ شگفت انگیز ہ وگیا ہے نعمات الٰہی اور اسرار آفرینش کی بات جاری رکھتے ہو ئے شہد کی مکھی اور پھر شہد کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے لیکن اس طرح سے کہ شہد کی مکھی خدا کی طرف سے مامور ہے بتایا گیا ہے کہ رمز آمیز الہام و ہدایت کے جسے ”وحی“ کا نام دیا گیا ہے کے تحت شہد کی مکھی مشغول کا ر ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے تیرے پر وردگار نے شہد کی مکھی کو وحی کی کہ درختوں ، پہاڑوں اور لوگوں کے بنائے ہوئے عرشوں اور مچانوں میں گھر بنا( وَاٴَوْحَی رَبُّکَ إِلَی النَّحْلِ اٴَنْ اتَّخِذِی مِنْ الْجِبَالِ بُیُوتًا وَمِنْ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُونَ ) ۔
اس آیت میں چند قابل غور تعبیرات آئی ہیں :
۱ ۔ ”وحی“ کامفہوم :
جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے دراصل تیز اشارہ کے معنی میں ہے بعد ازاں یہ لفظ مخفی طور پر کوئی بات القاء کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ لیکن قرآن ِ مجید میں یہ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ ان سب معانی کی با زگشت اسی اصل معنی کی طرف ہے قرآن کے مفاہیم میں ایک وحی نبوت ہے زیادہ تر یہ لفظ قرآن میں اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے ۔ سورہ شوریٰ کی آیت ۵۱ میں ہے :( وماکان لبشر ان یکلمه الله الا وحیا )
انسان کے لئے ممکن نہیں کہ وہ طریق وحی کے سوا کسی طرح اللہ سے کلام کرسکے ۔
نیز ”وحی“ الھام کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے یہ الہام خود آگاہ ( انسانوں کے لئے ) بھی ہو سکتا ہے ۔ مثلا ً
( اوحینا الیٰ ام موسیٰ ان ارضعیه فاذا خفت علیه فالقیه فی الیم )
اور ہم نے موسیٰ ﷼ کی ماں کو وحی کی کہ اپنے نو مولود کو دودھ پلا اور جب تجھے اس کے بارے میں دشمنوں کا خطرہ محسوس ہوتو اسے دریا کی لہروں کے سپرد کر دے ۔( قصص ۷)
اور یہ الہام نا آگاہ اور طبیعی صورت میں بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ شہد کی مکھی کے بارے میں زیر بحث آیات میں مذکور ہے کیو نکہ یہ بات مسلم ہے کہ یہاں ”وحی “ اشارے کے معنی میں بھی ہے جیسا کہ حضرت زکریا ﷼ کے واقعے میں ہے :( فاوحیٰ الیهم ان سبحوا بکرة و عشیاً )
زکریا نے لوگوں کو اشارے سے کہا : صبح و شام اللہ کی تسبیح کرو۔ (مریم ۱۱)
نیز مخفی طور پر مخبر پہنچانے کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ جیسا کہ سورہ انعام کی آیہ ۱۱۲ میں ہے :
( یوحی ٰ بعضهم الیٰ بعض زحرف القول غروراً )
انسانی اور غیر انسانی شیاطین مخفی طریقے سے پر فریب اور گمراہ کن مطالب ایک دوسرے تک پہنچاتے ہیں ۔
۲ ۔ کیا طبعی الہام شہد کی مکھیوں سے مخصوص ہے ؟
طبائع و غرائز یا طبعی الہام شہد کی مکھیوں کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ تمام جانوروں میں موجود ہے اس مقام پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہاں یہ تعبیر استعمال کیوں کی گئی ہے ۔
ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے وہ یہ کہ موجودہ زمانے میں جبکہ شہد کی مکھیوں کی زندگی کا سائنسدانوں نے نہایت دقت ِ نظر کے ساتھ مطالعہ کیا ہے تو یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ اس عجیب و غریب جانور کا تمدن اور شگفت آمیز اجتماعی طرز حیات کئی حوالے سے انسان اور اس کی اجتماعی زندگی سے بڑھ کر ہے ۔
گذشتہ زمانے میں اس کی عجیب و غریب زندگی کچھ تو واضح تھی لیکن عصر حاضر کی مانند اس کی زندگی کے ایک سے ایک بڑھ کر عجیب تر پہلو انسان کے سامنے نہ تھے ۔ قرآن نے نہایت اعجاز آمیز انداز میں لفظ ”وحی“ کے ذریعے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے تاکہ یہ حقیقت واضح کرے کہ شہد کی مکھی کی زندگی ک اہر ھز چوپایوں اور دیگر جانوروں کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا اس طرح سے قرآن چاہتا ہے کہ ہم اس عجیب جانور کی اسرار آمیز دنیا میں قدم رکھیں اس کے خالق کی عظمت و قدرت سے آشنا ہوں اس آیت میں کلام کا لب و لہجہ بدلنے کایہی راز ہے ۔
۳ ۔ شہد کی مکھی کا گھر :
آیت میں سب سے پہلے شہد کی مکھی کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اسے گھر بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے شاید اس بات کا ذکر اس لئے کیا گیا ہو کہ مناسب گھر زندگی کی پہلی ضرورت ہے باقی کاموں کی باری بعد میں آتی ہے یا ہوسکتا ہے یہ اس بناء پر ہو کہ مسدس کمروں کی شکل میں بنی ہوئی شہد کی مکھیوں کی عمارت جو شاید کئی ملین سالوں سے دنا بھر میں یو نہی بنتی چلی آرہی ہے ، ان کی زندگی کی ایک عجیب ترین با ت ہو ۔(۱)
یہاں تک کہ یہ تعبیر خود شہد بنانے سے عجیب تر۔ شہد کی مکھی کس طرح سے ایک خاص قسم کی موم تیار کرتی ہے اور کیسی عمدہ گی ، نفاست اور صفائی سے پیماش شمدہ مسدسی کمرے بناتی ہے ۔ بنیادی طور پر کسی ایک سطح سے اس طرح سے پورا استفادہ کرنا اس کا کوئی حصہ بے کار نہ رہ جاء یا اس کے زاویے اور کونے تنگ و تاریک نہ ہو ں اس کے لئے مسدس شکل میں بہتر مساوی رادیوں کا کوئی اور انتخاب نہیں ہوسکتا علاوہ ازیں ایسے گھروں میں پائیداری بھی ہوتی ہے ۔
۴ ۔ گھر کا انتخاب۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے ایسے گھر بعض اوقات پہاڑوں میں بنائے جاتے ہیں ناقابل ِ عبور پتھروں کے درمیان ان کے ایسے خاص سوراخوں میں جو اس مقصد کے لئے بالکل مناسب ہوتے ہیں ۔
کبھی شہد کی مکھیاں یہ گھر درختوں کی ٹہنیوں میں بناتی ہیں ، اور گا ہ ان گنبد نما جگہوں میں کہ جو لوگ ان کے لئے عرشوں کے اوپر بناتے ہیں ۔
اس تعبیر سے ضمناً معلوم ہوتا ہے کہ شہد کا چھتہ پہاڑ، درخت اور عرشہ کی بلند جگہ پر ہونا چاہئیے تاکہ وہ اس سے اچھی طرح فائدہ اٹھا سکیں ۔
اس کے بعد شہد کی مکھی کی دوسری ذمہ داری بیان کی گئی ہے قرآن کہتا ہے : اس کے بعد ہم نے اسے یہ وحی کی کہ تو تمام قسم کے پھلوں سے کھا ۔( ثُمَّ کُلِی مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ ) ۔اور جو راستے تیرے رب نے تیرے لئے معین کئے ہیں ان میں بڑی راحت سے چل پھر ۔( فَاسْلُکِی سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلاً ) ۔
” ذلل“ ”ذلول“ کی جمع ہے اس کا معنی ہے ” ہموار اور ”تسلیم“ یہ راستوں کی توصیف کے لئے آیا ہے اس لئے کہ یہ راستے اس باریک بینی کے ساتھ معین کئے گئے ہیں کہ شہد کی مکھیوں کے سامنے تسلیم اور ہموار ہیں اس سلسلے میں ہم بعد از یں وضاحت کریں گے ۔
آخر میں ایک نتیجہ کی صورت میں ان کی ماموریت کا آخری مر حلہ بیان کیا گیا ہے : شہد کی مکھیوں کے اندر سے ایک خاص طرح کی پینے کی چیز نکلتی ہے جو مختلف رنگ کی ہوتی ہے( یَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ اٴَلْوَانُهُ ) ۔
یہ شراب حلال انسانوں کے لئے بڑی اہم شفا بخش چیز ہے( فِیهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ ) ۔
شہد کی مکھیوں کی یہ زندگی انسان کے لئے غذا مہیا کرتی ہے اور شفا بھی اور سبق آموز بھی ہے اس میں اہل فکر و نظر کے لئے عظمت و قدرت پر وردگار کی واضح نشانی ہے ۔( إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔
اس آیت میں بھی چند پر معنی اور قابل توجہ نکات ہیں ۔
____________________
۱۔ابھی تک شہد کی مکھیوں کی ۴۵۰۰ اقسام دریافت ہو چکی ہیں لیکن یہ بات بڑی عجیب ہے کہ مہاجرت اختیار کرنے میں ان کا طرز عمل ، شہد بنا نا ، پھولوں کا رس چوسنا اور کھانا سب کچھ ایک جیسا ہے ،۔( اولین دانشگاہ و آخرین پیامبر جلد ۵ ص ۵۵)
۲۔سفینة البحار ، جلد ۲ ص۱۹۰۔
چند قابل توجہ نکات :
اس آیت میں بھی چند پر معنی اور قابل توجہ نکات ہیں ۔
۱ ۔ شہد کس چیز سے بنتا ہے ؟
شہد کی مکھیاں عموماً شکر کا خاص مادہ جو پھولوں کی جڑوں اور ابتدائی حصوں میں ہوتا ہے اسے چوستی ہیں اور اسے جمع کرتی ہیں لیکن ان مکھیوں کی شناخت رکھنے والے کہتے ہیں کہ مکھیاں پھولوں کے ابتدائی حصوں میں موجود شکر سے ہی استفادہ نہیں کرتیں بلکہ بعض اوقات پھولوں کے تخمدانوں نیز پتوں اور پھلوں کے ابتدائی حصوں سے بھی استفادہ کرتی ہیں ۔ قرآن ان سب کو ”من کل الثمرات “(سب پھلوں سے ) تعبیر کرتا ہے ۔
ایک ماہر حیاتیات مسٹر مٹرلینگ اس سلسلے میں عجیب بات کہتا ہے کہ اس کی اس بات سے قرآنی تعبیر کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے وہ کہتا ہے :۔
آج اگر شہد کی مکھی ( پالتویا جنگلی جس قسم کی بھی ہو ) ختم ہو جائے تو ہمارے ایک لاکھ قسم کے نباتات ، پھول اور پھل نابود ہوجائیں اور کیا معلوم کہ اصلاً ہمارا تمدن ہی ختم ہو جائے ۔(اولین دانشگاہ و آخرین پیامبر جلد ۵ ص ۵۵) ۔
اس نے یہ اس لئے کہا ہے کیونکہ نر پھلوں کے دانے بکھیرنے میں ، مادہ پودوں کو حاملہ کرنے میں اور اس کے بعد پھلوں کی پر ورش میں شہد کی مکھیوں کا کر دار اس قدر عظیم ہے کہ بعض ماہرین کے نزدیک ان کا یہ کام شہد بنانے سے کہیں اہم ہے در حقیقت شہد کی مکھیاں جو کچھ ان سے کھاتی ہیں وہ بالقوہ طرح طرح کے پھل ہیں کہ جو ان کی مدد سے صورت پذیر ہوتے ہیں اس صورت میں دیکھا جائے تو ” کل الثمرات “ کی تعبیر کس قدر معنی خیزمعلوم ہوتی ہے ۔
۲ ۔ ہموار اور مطیع راستے
مکھیوں کا علم رکھنے والے اپنی تحقیقات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صبح کے وقت شہد کی مکھیوں کا ایک غول جو پھولوں کی پہچان پر مامور ہوتا ہے چھتے سے نکلتا ہے اور پھولوں سے بھری جگہوں کے بارے میں معلومات حاصل کرکے لوٹ آتا ہے اور دوسروں کو اطلاع فراہم کرتا ہے اس طرح سے ان کی سمت اور پروگرام کا تعین ہوتا ہے اور چھتے سے ان کا فاصلہ بھی دوسروں پر واضح ہو جاتا ہے ۔ شہد کی مکھیاں پھولوں کی جگہ تک پہنچنے کے لئے بعض اوقات اپنے راستے میں نشانیاں اور علامتیں مقرر کرتی ہیں وہ اپنے راستے میں مختلف قسم کی مہک پھیلا کر یا کسی اور طرح سے راستے کو معین کرتی ہیں اس کے باعث بہت کم امکان ہوتا ہے کہ کوئی مکھی راستے سے بھٹک جائے ۔
”( فاسلکی سبل ربک ذللا ) “ ( اپنے رب کے راستوں پر چل پھر کہ جوتیرے لئے مطیع اور ہموار کئے گئے ہیں ) ۔
یہ جملہ گویا اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔
۳ ۔شہد کہاں بنتا ہے ؟
شاید ابھی تک بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ شہد کی مکھیوں کا طریق ِ کار یہ ہے کہ وہ پھولوں کا شیرہ چوس کر منہ میں جمع کرلیتی ہیں اور پھر چھتے میں سٹور کر دیتی ہیں حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ہے وہ پھولوں کا شیرہ اپنے خاص بدن کے بعض خانوں میں بھیج دیتی ہیں ان خانوں کو مکھیوں کا علم رکھنے والے ”پوٹ“ کہتے ہیں ۔ یہ جگہ در اصل ایک چھوٹے سے کیمیکل کار خانے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں پھولوں کے رس میں مختلف تغییرات اور تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں اور آخر کا ریہ شہد کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور پھر مکھی اس تیار شدہ شہد کو اپنے بدن سے باہر نکالتی ہے ۔
یہ بات عجیب ہے کہ سورہ نحل مکی سورتوں میں سے ہے اور ہم جانتے ہیں کہ مکہ کے علاقے میں نہ پھل ہوتے ہیں نہ پھول اور ناہی شہد کی مکھیاں لیکن قرآن اس بارے میں اس عمد گی اور باریکی سے گفتگو کر رہا ہے اور انتہائی دلکش انداز میں شہد بنانے کی تفصیلات بیان کر رہا ہے ۔مثلاً:( یخرج من بطونها شراب مختلف الوانه )
شہد کی مکھیوں کے اندر سے مختلف رنگوں کا ایک مائع نکلتا ہے ۔
۴ ۔شہد کے مختلف رنگ
شہد کی مکھیاں جس رنگ کے پھل یاپھول پر بیٹھتی ہے اور اس کا رس چوستی ہے اس رنگ کے اعتبار سے شہد مختلف رنگوں کا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ شہد کبھی سیاہ قہووں کی طر ح کا، کبھی چاندی کی سی سفیدی کے ساتھ ، کبھی بے رنگ ، کبھی زرد ، کبھی شفاف، کبھی سیاہ ، کبھی گولڈن ، کبھی کھجور کی مانند یہاں تک کہ کبھی سیاہی مائل ہوتا ہے ۔
رنگوں کا یہ تنوع شہد کے سر چشموں کے تنوع کو ظاہر کرنے کے علاوہ ذوق کے تنوع کا بھی غماز ہوتا ہے کیونکہ آج کے زمانے میں ثابت ہو چکا ہے کہ غذا کا رنگ انسان کی بھوک اور خواہش کو تحریک کرنے میں بہت ہی موثر ہوتا ہے ۔ متقدمین بھی گویا اس نفسیاتی مسئلے کو پہچانتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی غذاؤں کو زعفران ، ہلدی اور دوسرے رنگوں سے رنگین کرتے تھے تاکہ دیکھنے میں مہمانوں کو غذا اچھی لگے اور انھیں کھانے کے لئے تشویق پید اہو ۔ غذا شناسی کی کتب میں اس ضمن میں بہت بحث کی گئی ہے کہ جسے تفسیر کی موجودہ حدود کے پیش نظر تمام تر نقل کرنا مناسب نہیں ہے ۔
۵ ۔ شہد ، غیر معمولی شفا بخش مادہ ہے
ہم جانتے ہیں کہ نباتات اور پھلوں میں حیات بخش دوائیں مخفی ہیں ۔ آج بھی ہماری وسیع معلومات ضری بوٹیوں اور نباتات میں دواؤں کی موجود صلاحیت کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں ۔
یہ بات لائق توجہ ہے کہ سائنس داں تجربے کے ذریعے اس حقیقت تک پہنچے ہیں کہ شہد کی مکھیاں شہد بناتے وقت اس مہارے سے کام کرتی ہیں کہ بناتات میں موجوددواؤں کے خواص پوری طرح شہد میں منقتل کردیتی ہیں جو اس میں محفوظ ہو جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شہداس زمین کے بہت سے نباتات اور پھولوں کے معالجاتی خواص کا زندہ ثبوت ہے ۔
سائنس دانوں اور ڈاکٹروں نے شہد کے بہت زیادہ خواص بیان کئے ہیں ۔ ان خواص کا تعلق علاج معالجے سے بھی ہے ، احتیاطی تدابیر سے بھی حصولِ قوت سے بھی ۔
شہد بہت جلد خون میں جذب ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ قوت بخش ہے اور خون باننے میں نہایت مؤثر ہے ۔
شہد معدے اور انتڑیوں میں بد بوپیدا ہونے سے بچا تا ہے ۔
شہد خشکی اور قبض کو دور کرتا ہے ۔
شہد بے خوابی کے علاج کے لئے بہت مؤثر ہے ۔ ( بشرطیکہ تھوڑی مقدار میں پی جائے ورنہ اس کا زیادہ استعمال نیند کوکم کردیتا ہے ) ۔
شہد تھکان کو دور کرنے اور پٹھوں کے کھینچاؤدور کرنے کے لئے اثر آفرین ہے ۔
شہدحاملہ عورتوں کا دیا جائے تو ان کے بچوں کے اعصاب قوی کردیتا ہے ۔
شہد خون کے کیلیشیم میں اضافہ کردیتا ہے ۔
شہد کمزور ہاضمے کے لئے مفید ہے خصوصاًجن کے پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہو اطباء ان کے لئے اسے تجویز کرتے ہیں ۔
شہد بدن کی تعمیر میں جلدی سے اپنا کر دار ادا کرنا شروع کردیتا ہے لہٰذا فوری طور پر انر جی پیدا کرتا ہے اور قوٰی پر اثر انداز ہو تا ہے ۔
شہددل کو تقویت بخشتا ہے ۔
شہد جگر اور پھیپھڑوں کے علاج کے لئے ایک اچھی دوا ہے ۔
شہد جراثیم کش خاصیت کی بناء پر اسہال میں مبتلا افراد کے لئے مفید ہے ۔
شہدمعدے اور انٹر یوں کے زخم کے علاج کے لئے مؤثر عالم شمار ہوتا ہے ۔
شہد گھٹیا ( Rlieumatism )پٹھوں کی بیماریوں اور عضلات کے نمو میں نقص کے علاج کے لئے مفید دوا ہے ۔
شہد کھانسی کے علاج کے لئے مؤثر ہے اور آواز کو صاف کرتا ہے ۔
خلاصہ یہ کہ شہد دوا کے طور پر اس قدر خواص رکھتا ہے کہ اس مختصر سی کتاب میں بیان نہیں کئے جاسکتے ۔
علاوہ ازیں شہد سے جلد کی لطافت ، چہرے کی خوبصورتی ، طول، عمر کے لئے پر تاثیر دوائیں بنتی ہیں ۔
شہد منہ زبان اور آنکھ کے ورم دور کرنے کے لئے فائدہ مند دوائیں تیار کرنے کے کام آتا ہے ۔
شہد جَلد تھک جانے کے علاج کے لئے بننے والی دواؤں میں استعمال ہوتا ہے ۔
شہد میں کئی ایک معدنیات اور وٹامن پائے جاتے ہیں مثلا ً۔
آئرن ( Iron )،فاسفورس( Phosphorous ) پوٹاشیم( Potasium ) ،
میگنیشم( Magnesium )سیسہ( Lead )،تانبا( Copper )سلفر( Sulpher )،نکّل( Nickel ) ، کانسی ( Bronze )، سوڈیم( Sodium ) وغیرہ اس میں موجود ہیں ۔
ان کے علاوہ اس میں گوند ، پولن ، لکٹک ایسڈ( Lactic )،فارمک ایسڈ( Formic ) سڑک ایسڈ( Citric )ٹارٹارک ایسڈ( Tartaric Acid ) اور معطر روغن بھی اس میں موجود ہوتا ہے ۔
اس میں چھ طرح کے وٹامن پائے جاتے ہیں ۔ اے ، بی ، سی ، ڈی ، کے اور ای ۔ بعض خیال ہے کہ ( پی۔ بی۔ وٹامن)بھی شہد میں ہوتے ہیں ۔
شہد انسانوں کے علاج کے لئے بھی مفید ہے صحت کے استحکام کے لئے بھی اور خوبصورتی میں بھی خدمت گذار ہے ۔
اسلامی روایات میں بھی دوا کی حیثیت سے شہد کی کاصیت کا بہت ذکر آیا ہے اس سلسلے میں حضرت امام علی علیہ السلام امام صادق علیہ السلام اور دیگر معصومین ﷼ سے منقول ہے کہ انھوں نے فرمایا :
ما استشفی الناس بمثل العسل
لوگوں کے لئے شہد کی سی شفا کسی بھی چیز میں نہیں ہے ۔( وسائل الشیعہ جلد ۱۷ ص ۷۳ تا ص ۷۵) ۔
یہ بھی حدیث ہے ۔لم یستشف مریض بمثل شربة عسل
کسی مریض کے لئے شربت ِ شہد سے بڑھ کر کوئی چیز شفا بخش نہیں ہے ۔ ( وسائل الشیعہ جلد ۱۷ ص ۷۳ تا ص ۷۵)
کئی ایک روایات میں در د دل کے علاج کے لئے شہد کو تجویز کیا گیا ہے رسول اکرم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :۔من شرب العسل فی کل شهر مرة یرید ماجاء به القراٰن عوفی من سبع و سبعین داء
جو شخص مہینہ میں کم از کم ایک مرتبہ شربت شہد پئے اور خدا سے اس شفاء کا تقاضا کرے کہ جس کا قرآن میں ذکر ہے و ہ اسے ستر قسم کی بیماریوں سے شفا بخشے گا ۔(۱)
یہ بات قابل توجہ ہے کہ ہر حکم کے استثنائی مواقع بھی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ چند ایک ایسے مواقع بھی ہیں کہ جن میں شہد کے استعمال سے منع کیا گیا ہے ۔
____________________
۱۔ ۔سفینة البحار ، جلد ۲ ص۱۹۰۔
۶ ۔ ”للناس“ یعنی انسانوں کے لئے
یہ بات جاذب ِ توجہ ہے کہ مکھیوں کا علم رکھنے والے کہتے ہیں کہ شہد کی مکھی کی بھوک ختم کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ دو یا تین پھلوں کو چوس لے جبکہ وہ ایک گھنٹے میں اوسطاً اٹھائی سوپھولوں پر بیٹھتی ہے اور کئی کلو میٹر سفر کرتی ہے اور اپنی مختصر سی عمر میں ڈھیر سا را شہد جمع کرلیتی ہے ۔
بہر حال اس کی یہ تگ و تازی اور کار کر دگی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ صرف اپنے لئے کام نہیں کرتی بلکہ جیسا کہ قرآن کہتا ہے ”للناس“ ( سب انسانوں کے ) کرتی ہے ۔
۷ ۔ شہد کے بارے میں دیگر اہم امور
موجودہ زمانے میں یہ نکتہ ثابت ہو چکا ہے کہ شہد کبھی بھی خراب نہیں ہوتا یعنی یہ ایسی غذا ہے جو ہمیشہ تازہ اور زندہ دستیاب رہتی ہے یہاں تک کہ اس میں موجود وتامن کبھی ختم نہیں ہوتے ۔ ماہرین کے نزدیک اس کیوجہ اس پوٹا شیم کی فراواں موجودگی ہے ۔ کہ جو جراثوموں کو پید انہیں ہونے دیتی ۔علاوہ ازیں ایسا مواد بھی موجود ہے جو بد بو پید اہونے سے روکتا ہے مثلا ً اس میں فارمک اسیڈ( Formic Acid ) موجود ہے لہٰذا شہد میں جراثیم کی پیدائش روکنے کی خاصیت بھی موجود ہے اور جراثیم کشی کی بھی ۔ قدیم مصری اسی بات کو جانتے ہوئے اپنے مردوں کو مومیانے کے لئے اسے استعمال کرتے تھے ۔
شہد کو معدنیات سے بنے ہوئے برتنوں میں ذخیرہ نہیں کرنا چاہئیے یہ وہ بات ہے جو ماہرین بتاتے ہیں اور جاذب ِ نظر یہ ہے کہ قرآن شہد کی مکھیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے :۔
( من الجبال بیوتاً و من الشجر ومما یعرشون )
یعنی شہد کی مکھیوں کے گھر صرف پتھروں اور لکڑیوں میں ہوتے ہیں ۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ شہد کو بطور دوا استعمال کرنے کے لئے اور صحت کے لئے اس کے خواص سے فائدہ اٹھانے کےلئے ضروری ہے کہ اسے ہر گز حرارت نہ پہنچائی جائے اور دوسری غذاؤں میں پکا کر اس سے استفادہ نہ کیا جائے ۔
بعض کا نظر یہ ہے کہ قرآن نے شہد کے لئے جو” شراب“ ( پینے کی چیز ) کی تعبیر استعمال کی ہے یہ اسی نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ اسے پیا جائے ۔
نیز یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ شہد کی مکھی کا ڈنگ بھی معالجانہ خاصیت رکھتا ہے البتہ شہد کی مکھی اپنے لطیف مزاج کے باعث کسی کوڈنگ نہیں مارتی ۔ یہ تو ہم ہیں جو اسے ڈنگ مارنے پر ابھارتے ہیں ۔
ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ شہد کی مکھی بد بو سے پریشان ہو جاتی ہے اگر کوئی شہد حاصل کرنے والا بد دار ہاتھ ، بد بو دار لباس کے ساتھ چھتے کے قریب جائے تو اسے ضرور ڈستی ہے اگر اس نے پہلے کسی چھتے میں ہاتھ ڈالا ہو اور غیر چھتے کی بد اس کے ہاتھ میں لگی ہو تو دوسرے چھتے میں ہاتھ ڈالنے پر مکھیاں اس پر حملہ کر دیں گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے وہ اپنے ہاتھ کو اچھی طرح دھو لے ۔
البتہ شہد کی مکھی جب ڈنگ مارتی ہے تو خود مر جاتی ہے اس بناء پر ڈنگ مارنا اس کی ایک طرح کی کود کشی ہے ۔
مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے شہد کی مکھی کے ڈنگ سے استفادہ کیا جاتا ہے مثلا ًگھٹیا( Rheumatism )، ملیر یا ، درد اعصاب وغیرہ ۔ البتہ اس کے لئے اطباء کی راہنمائی کے مطابق استفادہ کرنا چاہئیے ورنہ شہد کی مکھی کا ڈنگ خطر ناک بھی ہو سکتا ہے چند ایک مکھیاں ڈس لیں تو عموماً قابل بر داشت ہوتا ہے لیکن دوسوسے لیکر تین مکھیاں ڈس لیں تو بہت زہر پیدا ہو جاتا ہے اور دل کی تکلیف کا باعث بنتا ہے اور گار پانچ سے کی تعداد تک مکھیاں ڈس لیں تو عمل تنفس مفلوج ہو جانے اور موت کا احتمال بھی ہو تا ہے ۔
۸ ۔ شہد کی مکھیوں کی عجیب و غریب زندگی
گزشتہ زمانے میں کم موجودہ زمانے میں بہت سے علماء و محققین کے پیہم مطالعات سے یہ بات ثابت ہو ئی ہے کہ شہد کی مکھیوں کی زندگی بہت ہی منظم ہوتی ہے ان کے ہاں برے سلیقے سے کام تقسیم ہوتا ہے بہت دقیق نظام کے تحت ذمہ داریاں بانٹی ہو ئی ہوتی ہیں ۔
شہد کی مکھیوں کا شہر بہت زیادہ پاک و صاف او رمتحرک زندگی سے بھرپور ہوتا ہے ان کا شہر عام شہروں سے بہت مختلف ہوتا ہے یہ روشن اور درخشاں تمدن کا حامل ہوتا ہے ۔ اس شہر میں خلاف ورزی کرنے والے او رکاہل افراد بہت کم نظر آتے ہیں اگر کبھی چھتے کے باہر مکھیاں سستی اور کاہلی ک امظاہرہ کرتے ہوئے بد بو دار اور نقصان دہ پھولوں کا رس چوس آئیں تو چھتے کے در وازے پر ہی اس سے باز پرس ہوتی ہے ۔ پھر ایک کھلی عدالت لگتی ہے اور اس مقدمے کے ضمن میں اس کے قتل کا حکم صادر ہوتا ہے ۔
بلجیم کے ماہر حیاتیات مڑلینگ نے شہد کی مکھیوں کے بارے میں بہت زیادہ مطالعہ اورتحقیق کی ہے اس نے ان کے شہر پر حکم فرماعجیب وغریب نظام کا گہرا مطالعہ کیا ہے ، وہ لکھتا ہے :
ملکہ( یازیادہ صحیح الفاظ میں چھتہ کی ماں ) مکھیوں کے شہر کی ایسے حکمران نہیں جیسا ہم تصور کرتے ہیں بلکہ وہ بھی اس شہر کے دیگر باسیوں کی طرح یہاں کے نظام اور قوانین کی فرمانبردار ہوتی ہے ۔
ہمیں یہ علم نہیں کہ یہ نظام اور قوانین کہاں پر وضع ہوتے ہیں ہمیں انتظار ہے کہ شاید کسی دن اس بات کا ہمیں سراغ مل جائے اور ان قوانین کے بنانے والے کو ہم پہچان لیں لیکن فی الحال ہم اس قانون ساز کو ” چھتے کی روح “ کے نام سے پکار تے ہیں ۔
ہمیں معلوم نہیں کہ ”چھتے کی روح “ کہاں ہے اور شہر میں رہنے والے کس فرد میں حلول کئے ہوئے ہیں لیکن یہ ہم جانتے ہیں کہ چھتے کی روح پرندوں کے مزاج اور طبیعت سے مشابہ نہیں ہے نیز ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ چھتے کی روح شہد کی مکھی کا اندھا ارادہ اور عادت نہیں ہے ”چھتے کی روح “ شہر میں رہنے والے ہر فرد کو اس کی استعداد کے مطابق ذمہ داری سونپتی ہے اور ہر کسی کا کسی نہ کسی کام پر لگا تی ہے ۔ ” چھتے کی روح “ ماہر تعمیرات اور کاریگر مکھیوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ گھر بنائیں ”چھتے کی روح “ معین دن اور معین لحظے میں شہر کے تمام باسیوں کو حکم دیتی ہے کہ شہر سے ہجرت کر جائیں اور نیا مسکن تلاش کرنے کے لئے اپنے آپ کو ان دیکھے حوادث اور مشقتوں کے حوالے کردیں ۔ہمیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ شہد کے قوانین جو ”چھتے کی روح“ کے ذریعے وضع ہوئے ہیں کس پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے ہیں کہ جس نے انھیں جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کون ہے جو ایک معین دن چل پڑنے کا حکم صادر کرتا ہے ۔
جی ہاں !چھتے میں مہاجرت کے یہ مقدمات اطاعت ِ خدا میں فراہم ہوتے ہیں ۔
وہی خدا کہ جس کے ہاتھ میں شہد کی مکھی کی تقدیر ہے ۔ ( کتاب زنبور عسل ( شہد کی مکھی ) تالیف مٹرلینگ ص ۳۵ ۔ ۳۶) ۔
مذکورہ دانش مند اپنی فکر و نظر میں موجود مکتب مادیت کے پرانے خیالات کی وجہ سے اس مسئلے پر اگر ابہام کے ساتھ گفتگو کرتا ہے تو ہماری نظر تو قرآن کی راہنمائی پر ہے ہم تو یہ بات اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کہ یہ آوازیں کہا سے آتی ہیں یہ نظام کہا ں تربیت پاتا ہے ، یہ پروگرام کہاں بنتا ہے انھیں منظم کرنے والا کون ہے اور کون ان کے لئے حکم جاری کرتا ہے ۔ قرآن کتنی خوبصورت تعبیر کہتا ہے ۔اوحی ربک الیٰ النحل
تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی و الہام کیا
کیا اس سے زیادہ رسا ، جامع ، منہ بولتی او رناطق تعبیر کا تصور ہوسکتا ہے ۔
شہد کی مکھیوں کے بارے میں جو کچھ بیان نہیں کیا جا سکا اگر چہ وہ بیان کئے جانے والے کی نسبت بہت زیادہ ہے لیکن ہماری طرز تفسیر اجازت نہیں دیتی کہ اس موضوع پر اس سے زیادہ گفتگو کریں ۔(۱)
۱ ۔ اولین دانش گاہ و آخرین پیامبر
۲ ۔زنبور عسل۔ تالیف مٹرلینگ
۳ ۔ شگفت ہائے ۔ عالم حیوانات۔
( غیر ایرانی مصنفین کی کتابوں کے فارسی ترجمے سے استفادہ کیا گیا ہے وغیرہ اور ترجمے ہی کا نام یہا ں دیا گیا ہے ۔(مترجم)
____________________
۱۔ مندر جہ بالا مباحث میں شہد کی مکھیوں اور شہد کے خواص کے بارے میں ان کتابوں سے استفادہ کیاگیا ہے ۔
آیات ۷۰،۷۱،۷۲
۷۰ ۔( وَاللهُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ یَتَوَفَّاکُمْ وَمِنْکُمْ مَنْ یُرَدُّ إِلَی اٴَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْ لاَیَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ قَدِیرٌ ) ۔
۷۱ ۔( وَاللهُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ فَمَا الَّذِینَ فُضِّلُوا بِرَادِّی رِزْقِهِمْ عَلَی مَا مَلَکَتْ اٴَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیهِ سَوَاءٌ اٴَفَبِنِعْمَةِ اللهِ یَجْحَدُونَ ) ۔
۷۲ ۔( وَاللهُ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ اٴَنفُسِکُمْ اٴَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَکُمْ مِنْ اٴَزْوَاجِکُمْ بَنِینَ وَحَفَدَةً وَرَزَقَکُمْ مِنْ الطَّیِّبَاتِ اٴَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللهِ هُمْ یَکْفُرُونَ ) ۔
ترجمہ
۷۰ ۔اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی تمہیں مارے گاتم میں سے بعض بڑھاپے کو جا پہنچتے ہیں کہ علم و آگاہی کے بعد ( ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے ) کہ کچھ نہیں جانتے (اور سب کچھ بھول جاتے ہیں ) بیشک خدا علیم و قدیر ہے ۔
۷۱ ۔ خد انے تم میں سے بعض کو بعض دوسروں پر رزق میں بر تری دی ہے ( کیونکہ تمہاری استعداد اور کوشش میں فرق ہے ) لیکن جنھیں برتری دی گئی ہے وہ اس بات پر تیار ہیں کہ اپنی روزی میں سے اپنے غلاموں کو دیں تاکہ سب کے سب برابر ہو جائیں کیا وہ نعمت ِ خدا کا انکار کرتے ہیں ؟
۷۲ ۔ اور اللہ نے تمہارے لئے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور ان بیویوں سے تمہیں پوتے نواسے اور بیٹے عطا کئے اور تمہارے لئے طیبات میں روزی قرار دی کیا پھر یہ باطل پر ایمان لے آتے ہیں اور نعمت ِ خدا کا انکار کرتے ہیں ۔
تفسیر
رز ق میں اختلاف کا سبب
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی کچھ اہم نعمتوں اور عنا یا کا تذکرہ تھا کچھ نباتا ت اور حیوانات کی تخلیق کا بیان تھا تاکہ لوگ ان پر نظر کرتے ہوئے ان سب نعمتوں اور اس دقیق نظام کے خالق سے آشنا ہوں ۔
زیر بحث آیات میں بھی ایک اور حوالے سے خالق یکتا کے اثبات کے مسئلہ پر گفتگو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ آیات نعمتوں کے تغیرات کے حوالے سے بات کرتی ہیں ایسے تغیرات کا ذکر ہے کہ جو انسانی اختیار سے باہر ہیں اور ان کا فیصلہ کسی او رکی جانب سے ہوا ہے ۔
پہلے فرمایا گیا ہے : اللہ نے تمہیں پیدا کیا( وَاللهُ خَلَقَکُمْ ) اس کے بعد وہ تمہاری روح کو لے لے گا( ثُمَّ یَتَوَفَّاکُمْ ) ۔
زندگی بھی اسی کی طرف سے ہے اور موت بھی تاکہ تم جان لو کہ موت و حیات پیدا کرنے والے تم نہیں ہو لمبی عمر کا ہونا بھی تمہارے اختیار میں نہیں ہے بعض جوانی میں یا برھاپے کی سر حد پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں لیکن ” تم میں سے بعض لمبی عمر پاتے ہیں ۔ عمر کے بد ترین انتہائی بڑھاپے تک جا پہنچتے ہیں( وَمِنْکُمْ مَنْ یُرَدُّ إِلَی اٴَرْذَلِ الْعُمُر ) (۱)
اور اس طولانی عمر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ علم و آگاہی کے بغیر انھیں کچھ معلوم نہیں ہوتا اور وہ سب کچھ بھول جاتے ہیں( لِکَیْ لاَیَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا ) ٌ)(۲)
یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ علت و سبب کے معنی میں ہو یعنی اللہ انھیں ان بالائی سالوں کی طر ف لے جاتا ہے اس کی علت یہ ہے کہ ان پر حالت ِ نسیان طاری کرے تاکہ یہ انسان جا ں لیں کہ ان کے پاس جوکچھ ہے کچھ بھی ان کی اپنی طرف سے نہیں ہے ۔
بعینہ اس کی حالت بچپن کی سی ہو جاتی ہے کہ جب بھول جاتا ہے اور ناآگاہ بھی تھا جی ہاں ! ” خدا آگاہ اور قادر ہے “( إِنَّ اللهَ عَلِیمٌ قَدِیر ) ۔
تمام قدرتیں اسی کے اختیار میں ہیں وہ جس قدر مصلحت سمجھتا ہے عطا کرتا ہے اور جس موقع پر ضروری سمجھتا ہے لے لیتا ہے ۔
اگلی آیت میں یہی بات جاری ہے اور فرمایاگیاکہ تمہاری روزی تک تمہارے اختیار میں نہیں ہے ” یہ خدا جو تم میں سے بعض کو رزق کے اعتبار سے دوسروں پر بر تری دیتا ہے ۔( وَاللهُ فَضَّلَ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ ) ۔
لیکن جنھیں یہ برتری دی گئی ہے ان کی تنگ نظری کا یہ عالم ہے کہ جو کچھ ان کے اختیار میں ہے وہ اپنے غلاموں کو دینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور انھیں اپنے اموال میں شریک نہیں کرتے کہ وہ بھی ان کے برابر ہو جائیں( فَمَا الَّذِینَ فُضِّلُوا بِرَادِّی رِزْقِهِمْ عَلَی مَا مَلَکَتْ اٴَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیهِ سَوَاءٌ ) ۔
بعض مفسرین نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ جملہ مشرکین کے بعض احمقانہ افعال کی طرف اشارہ ہے کہ جو اپنے بتوں اور خدا ؤں کے لئے چوپاؤن اور زرعی پیدا وار کا ایک حصہ مختص کردیتے تھے حالانکہ یہ بے وقعت پتھر اور لکڑیاں ان کی زندگی پر ذرہ بھر اثر نہیں رکھتے تھے لیکن وہ اس بات پر تیار نہ تھے کہ اس دولت میں سے کچھ اپنے بے چارے غلاموں کو دیں کہ جو رات دن ان کی خدمت کرتے تھے ۔
کیا رزق کی تفریق عدالت پر مبنی ہے ؟
اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا لوگوں میں تقسیم رزق میں اختلاف پید اکرنا اللہ کے اصولِ عدالت و مساوات کے مطابق ہے جبکہ اصول ِ عدالت و مساوات کو انسانی معاشروں پر حاکم ہونا چاہئیے ۔
اس سوال کے جواب میں دو نکتوں کی طرف توجہ رکھنا چاہئیے ۔
۱ ۔ اس میں شک نہیں کہ انسانوں میں موجود مادی فوائد وسائل اور آمد نی میں اختلاف کا ایک اہم حصہ ان کی استعداد اور صلا حیتوں میں اختلاف سے مربوط ہے ، جسمانی اور وحانی صلاحیتوں فرق اقتصادی کار کر دگی کی کمیت و کفییت کا سر چشمہ ہے اسی سے بعض کا حصہ رزق کم اور بعض کا زیادہ ہو جاتا ہے ۔
البتہ اس میں شک نہیں کہ بعض اوقات ایسے حوادث پیش آتے ہیں کہ جو ہمارے نزدیک اتفاقات ہوتے ہیں ۔ ان کی وجہ سے بعض لوگوں کو زیادہ نعمات میسر آجاتی ہیں لیکن انھیں استثنائی امور شمار کرنا چاہئیے لیکن اکثر امور کی بنیادوہی سعی و کوشش کی کمیت و کیفیت کا فرق ہے ۔
البتہ ہماری مراد ایسے معاشر ے سے ہے جو صحیح نہج پر قائم ہو جو ظالمانہ لوٹ کھسوٹ سے پاک ہو نہ کہ ایسا معاشرہ جو منحرف اور کج رو ہو اور جو قوانین ِ آفرینش اور انسانی بنیادوں پرقائم نظام سے ہٹ گیا ہو۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم بعض لوگوں کو بے وقعت اور بے دست و پا سمجھتے ہیں لیکن ان کے پا س بہت وسائل اور مال و دولت ہوتی ہے ہم اس پر تعجب کرتے ہین لیکن اگر ہم بعض لوگوں کو بے وقعت اور بے دست و پاسمجھتے ہیں لیکن ان کے پاس بہت وسائل اور مال و دلت ہوتی ہے ہم اس تر تعجب کرتے ہین لیکن اگر ہم ان کے جسم ، روح اور اخلاق پر زیادہ غور کریں اور سطحی مطالعے پر مبنی فیصلہ ایک طرف کردیں تو ہم دیکھیں گے کہ وہ کوئی نہ کوئی ایسی قوت رکھتے ہیں کہ جس کی وجہ سے وہ اس مقام پر پہنچے ہیں ۔
ہم پھر یہ بات دہراتے ہیں کہ ہمارا موضوع بحث وہ صحیح و سالم معاشرہ ہے کہ جو ظالمانہ لوٹ کھسوٹ سے پاک ہو ۔
بہر حال آمدن اور وسائل کا یہ فرق صلاحیتوں کے فر ق پر مبنی ہے اور یہ صلاحتیں نعماتِ الہٰی ہیں البتہ ہو سکتا ہے کہ چند مواقع پر یہ اکتسابی ہوں ۔
لیکن بعض مواقع یقینا غیر اکتسابی ہوتے ہیں اور اس بناء پر ایک صحیح و سالم معاشرے میں بھی اقتصادی لحاظ سے آمدن کا فرق قابل انکار نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم سب لوگوں کا ہم شکل ، ہم رنگ ، ہم استعداد اور ہم قالب بنا سکیں ۔ سب لوگ ایسے ہو جائیں کہ ان میں کسی قسم کا کوئی فرق باقی نہ رہے لیکن ایسا ممکن نہیں ہے ۔
۲ ۔انسان ، درخت یاپھول کے پودے کو دیکھیے کیا ممکن ہے ککہ ان کے بدن کی متناسب عمارت اعضاء کے لحاظ سے مساوی ہو۔ کیا پودے کی جڑیں اس کے پھولوں کی نازک پتیوں جیسی ہو سکتی ہیں ؟ کیا انسان کی ایڑی کی ہڈی اس کی آنکھ کی لطیف پتلی کے ہر لحاظ سے مساوی ہوسکتی ہے اور اگر ہم انھیں یکساں کرسکیں تو کیا آپ سمجھیں گے کہ ہم نے صحیح کام انجام دیا ہے ۔
پر فریب اور شعور سے عاری نعروں سے قطع نظر کر کے فرض کیجئے کہ ایک دن ہم ہر لحاظ سے ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے خیالی انسان بنالیں پوری دنیا کو پانچ ہزار ملین ( ۵/ ارب)ایسے انسان سے بھر دیں جو ہم شکل ، ہم لباس ، ہم ذوق، ہم فکر اور ہر لحاظ سے یکساں ہیں ۔ کسی کار خانے سے نکلنے والے ایک ہی برانڈ کے سگر ٹوں کی طرح ۔ تو ذرا سوچیں کہ کیا اس روز انسانوں کو اچھی زندگی نصیب ہو جائے گی ۔ مسلم ہے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ دنیا ایک جہنم بن جائے گی ۔ سب کے سب ایک مصیبت میں گرفتار ہو جائیں گے سب کے سب ایک ہی طرف چل پڑےں گے سب کے سب ایک ہی چیز چاہیں گے سب ایک پوسٹ کے خواہش مند ہو ں گے ،سب ایک ہی قسم کی غذائیں چاہیں گے اور سب ایک کام کرنا چاہیں گے ۔ ظاہر ہے اس قسم کی زندگی بہت ہی جلد ختم ہو جائے گی اور فرض کریں کہ وہ باقی رہ جائے تو ایک تھا دینے والی روح ، بے کیف اور ایک ہی طرز کی زندگی ہو گی۔ ایسی زندگی جو موت سے زیادہ مختلف نہ ہوگی ۔
لہٰذا صلاحیتوں کا اختلاف اور اس کے لوازم نظام کی بقا کے لئے ناگریز ہے بلکہ ایسا ہونا استعداد و صلاحیت کی نشو ونما کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔ پر فریب نعروں سے اس حقیقت کو بدلا نہیں جاسکتا ۔
لیکن ایسا نہ ہو کہ کوئی ہماری اس گفتگو کا یہ مطلب سمجھنے لگے کہ ہم طبقاتی معاشرے اور لوٹ کھسوٹ اور استعماری نظام کو قبول کرتے ہیں نہیں ہر گز نہیں ہماری مراد طبعی اور فطری اختلاف ہے نہ کہ مصنوعی ہماری مراد وہ تفاوت اور فرق ہیں کہ جو ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے معاون و مدد گار ہیں نہ کہ ایک دوسرے پر تجاوزو ظلم کرنے والے ۔طقاتی فرق (توجہ رہے یہاں طبقاتی فرق سے مراد اس کا وہی اصلاحی مفہوم ہے یعنی ایک لوٹ کھسوٹ کرنے والا طبقہ اور دوسرا جسے لوٹا جا رہا ہے )ہر گز نظام آفرینش سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ نظام ِ خلقت سے ہم آہنگ استعدا اور کوشش کا فرق ہے اور ان دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ ( غور کیجئے گا )
دوسرے لفظوں میں استعداد کے اختلاف کو اصلاح و تعمیر کے لئے استعمال ہو نا چاہیئے جیسے ایک بد ن کے اعضاء کا اختلاف ہوتا ہے جیسے ایک پھول کے پودے میں مختلف حصوں کااختلاف ہوتا ہے وہ اختلاف کو ایک دوسرے کے مزاحم نہیں ہوتا بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہوتا ہے ۔
مختصر یہ کہ آمدن کے اختلاف سے طبقاتی معاشرہ پیدا کرنے کے لئے سوء ِ استفادہ نہیں کرنا چاہیئے ۔ اسی بناء پر زیر بحث آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : کیا وہ نعمت ِ خدا کا انکار کرتے ہیں( اٴَفَبِنِعْمَةِ اللهِ یَجْحَدُونَ ) ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ اختلاف فطرت کی صورت میں ہوں نہ کہ مصنوعی اور ظالمانہ صورت میں خدا کی نعمت ہیں اور انسان کے نظام معاشرہ کی حفاظت کے لئے ہیں ۔
زیر بحث آخری آیت گزشتہ دوآیات کی طرح لفظ” اللہ “ سے شروع ہوتی ہے اس میں نعماتِ الہٰی کا ذکر ہے اس میں انسان کی انفرادی قوت ، انسان کے معاونین اور مددگاروں اور اسی طرح پاکیزہ رزق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔اس طرح ان تین آیتوں میں جن نعمتوں کا ذکر شروع ہوا ہے اس کی تکمیل ہ وجاتی ہے یعنی بات زندگی اور موت کے نظام سے شروع کی گئی ہے پھر رزق اور استعداد میں فرق کا ذکر ہے کہ جو زندگی میں تنوع کا باعث ہے اور آخری آیت میں نسل انسانی کے زیادہ ہونے اور پاکیزہ رزق کی طرف اشارہ ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے :اللہ نے تمہاری نوع میں سے تمہارے لئے بیویاں بنائی ہیں( وَاللهُ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ اٴَنفُسِکُمْ اٴَزْوَاجًا ) ۔وہ بیویاں کہ جو تسکین ِ جسم کی باعث بھی ہیں اور بقاء کا ذریعہ بھی اسی لئے ساتھ ہی اضافہ کیا گیا ہے : اور تمہاری بیویوں کے ذریعے تمہیں بیٹے، پوتے اور نواسے عطا کئے ہیں( وَجَعَلَ لَکُمْ مِنْ اٴَزْوَاجِکُمْ بَنِینَ وَحَفَدَةً ) ۔
”حفدة“ ”حافد“کی جمع ہے ۔ در اصل اس کا معنی ہے وہ شخص جو کسی جزا کی توقع کے بغیر تعاون کرے لیکن یر نظر آیت میں بہت سے مفسرین کے نظرے کے مطابق ” حفدة“ اس سے مراد پوتے اور نواسے ہیں ، بعض اس سے مرا د صرف نواسے لیتے ہیں اور بعض نے ”بنین“ سے چھوٹے بیٹے مراد لیا ہے اور ”حفدة“ سے بڑے بیٹے کہ جو مدد اور ہمکاری کرسکتے ہیں بعض نے ”حفدة“ مراد ہر طرح کے معاون و مدد گار لئے ہیں چاہے وہ بیٹے ہوں یا کوئی اور۔(۳)
بہر حال اس میں شک نہیں ہر شخص کے ارد گرد ، بیٹوں ، پوتوں اور نواسوں اور بیویوں کی صورت میں انسانی قوتوں کا وجود اس کے لئے ایک بہت بڑی نعمت ہے یہ روحانی لحاظ سے بھی مدد کرتے ہیں اور مادی لحاظ سے بھی ۔
اس کے بعد فرمایا گیا ہے : اللہ نے تمہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق دیا ہے( وَرَزَقَکُمْ مِنْ الطَّیِّبَاتِ ) ۔
”طیبات“کا یہاں وسیع مفہوم ہے اس میں ہر قسم کے پاکیزہ رزق شامل ہے چاہے وہ مادی پہلو سے ہو یا روحانی پہلو سے ، انفرادی حوالے سے ۔
آخر میں اس بحث سے نتیجہ نکالتے ہوئے فرمایا گیا ہے :کیا وہ خدا کی عظمت و قدرت کے یہ سب آثار دیکھنے کے باوجود اس کی جانب سے اپنے اوپر ہونے والی ان تمام نعمتوں کے باوجود بتوں کے پیچے لگے ہوئے ہیں ” کیا وہ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں( اٴَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللهِ هُمْ یَکْفُرُونَ ) ۔
یہ ان کا کیسا غلط طرز عمل ہے کہ وہ نعمتوں کے سر چشمے کو فراموش کرکے اس کے پیچے جاتے ہیں کہ ان کی زندگی پر کچھ بھی اثر نہیں رکھتا اور ہر لحاظ سے ” باطل“ کامصداق ہے۔
____________________
۱۔”ارذل“ ”رذل“کے مادہ سے پست ، ناچیز اور حقیر شے کے معنی میں ہے ” ارذل العمر “ سے مراد بڑھاپے کا وہ دور ہے کہ جب ناتوانی اور نسیان انسان کو اس طرح سے آلے کہ وہ اپنی ابتدئی ضروریات بھی پورانہ کر سکے اسی بناء پر قرآن اس مدت کو عمر کا غیر مطلوب حصہ قرار دیتا ہے ۔ بعض مفسرین اسے ۷۵سال کی عمر سمجھتے ہیں ۔ بعض ۹۰ اور بعض ۹۵ شمار کرتے ہیں لیکن حق یہ ہے کہ یہ کوئی معین عمر نہیں ہے بلکہ شخص شخص میں فرق ہوتا ہے ۔
۲۔لِکَیْ لاَیَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا “ہوسکتا ہے عمر کے بالائی سالوں تک پہنچنے کا نتیجہ ہو۔ اس طرح اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ ان سالوں میں انسنا کے اعصاب اور دماغ تمر کز اور حافظہ کی طاقت گنوا بیٹھے ہیں اور انسان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ فراموشی اور بے خبری میں گھرا ہواتا ہے ۔
۳۔اس صورت میں ” حفدة“ کا عطف” بنین“ پر ہونا چاہیئے بلکہ ” ازدواج“ پر ہو نا چاہئیے یہ خلاف ظاہر ہے ، جبکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ ”بنین“پر ہی عطف ہے (غور کیجئے گا) ۔
چند اہم نکات
۱ ۔ رزق کے اسباب اور سر چشمے
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس میں شک نہیں کہ خدا داد صلاحیتوں اور نعمتوں کے لحاظ سے انسان مختلف ہیں لیکن کامیابیوں کی اصل بنیاد انسان کی سعی و کوشش اور جدو جہد ہی ہے ۔ زیادہ کوشش کرنے والے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں اور سست و کم و کوش محروم رہتے ہیں ۔
اسی بناء پر انسان کے نصیب کو اس کی سعی و کوشش سے مربوط قرار دیتا ہے اور صراحت سے کہتا ہے :
( و ان لیس للانسان الا ما سعیٰ )
یقینا انسان کے لئے بس وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے (نجم ۳۹)
نیز اس کے ساتھ ساتھ تقویٰ درست راستے کا انتخاب ، امانتداری ، نظام قوانین ِ الہٰی کی پاسداری اور عدل و انصاف کے اصولوں کے مطابق عمل بھی اس میں غیر معمولی اثر رکھتا ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے :
( ولو ان اهل القریٰ اٰمنوا و اتقوا لفتحنا علیهم برکات من السماء و الارض )
اگر شہروں اور قصبوں کے باسی ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کریں توہم ان پر زمین و آسمان کی بر کتوں کے دروازے کھول دیں ۔ (اعراف ۹۶)
نیزوہ فرماتا ہے :( ومن یتق الله یجعل له مخرجاًو یر زقه من حیث لا یحتسب )
جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ اسے رزق کی فراوانی عطاکرتا ہے اور جہاں سے اسے گمان نہیں ہوتا وہاں سے عطا کرتا ہے ۔(طارق ۲،۳)
اسی بناء پر انفاق اورراہ خدا میں خرچ کرنے کو وسعت رزق کا وسیلہ قرار دیتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے :۔
( ان تقرضوا الله قرضاًحسناً یضاعفه لکم )
اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو یعنی اس کی راہ میں خرچ کرو تو وہ اسے کئی گناہ کر دے گا ۔ (تغابن ۱۷)
شاید یاد دہانی کی ضرورت نہ ہو کہ اجتماعی زندگی میں سے ایک فرد یا ایک گروہ کے چلے جانے سے سارے معاشرے کو نقصان پہنچتا ہے ۔ اسی لئے فرد کی نگہداری اور مدد کرنا سارے معاشرے کے لئے فائدہ مند ہے (اس لئے کہ معنوی اور انسانی پہلوؤں سے قطع نظر بھی یہ فائدہ ہے ) ۔
خلاصہ یہ کہ معاشرے کے اقتصادی نظام پر تقویٰ ، درست روی، پاکیزگی ، امداد باہمی ایک دوسرے سے تعاون اور اتفاق کے اصول کار فرما ہوں تو وہ طاقت و ر اور سر بلند ہوگا۔
لیکن اس کے برعکس معاشرے میں لوٹ کھسوٹ ، دھوکا دہی ، غارتگری ، تجاوزاور دوسروں کو نظر انداز کردینے کا عمل جاری ہوتو وہ اقتصادی لحاظ سے پس ماندہ رہے گا اور اس کی مادی زندگی بھی پراگندگی اور انتشار کا شکار ہو جائے گی۔
اسلامی روایات میں حصول رزق کے لئے سعی وکوشش پر زور دیتے ہوئے اسے تقویٰ کے ساتھ ہونے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے یہاں تک کہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :۔
لاتکسلوا فی طلب معایشکم فان اٰبائناکانوا یرکضون فیهاو یصٰلیونها
حصول رزق میں سستی سے کام نہ لو ۔ کیونکہ ہمارے آباء اجداد اس راہ میں دوڑتے تھے اور اسے طلب کرتے تھے ۔(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ ص ۴۸) ۔
ان ہی امام بزرگوار سے منقول ہے :( الکاد علی عیاله کالمجاهد فی سبیل الله )
جو شخص اپنے ہل و عیال کے تلاش رزق کے لئے نکلتا ہے وہ مجاہد ِ راہ خدا کی طرح ہے ۔(وسائل الشیعہ جلد ۱۲ ص ۴۳)
یہاں تک کہ حکم دیا گیا ہے کہ مسلمان صبح سویرے جتنی جلدی ہو سکے اپنے گھروں نکلیں اور اپنی زندگی کے لئے سعی و کوشش کریں ۔ (وسائل الشیعہ جلد ۱۲ ص ۵۰)
وہ اشخاص کہ جن کی دعائیں قبول نہیں ہوتی ان میں سے وہ افراد بھی شامل ہیں جن کا جسم صحیح و سالم ہو مگر وہ گھر میں پڑے رہتے ہوں اور کشایش رزق کے لئے صرف دعا کرتے رہتے ہوں ۔
یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ پھر بہت سی روایات میں یہ کیوں کہا گیا ہے کہ روزی خداکے ہاتھ میں ہے اس کے حصول کے لئے کوشش کرنے کی مذمت کی گئی ہے ۔
اس سوال کے جواب میں مندرضہ ذیل دو نکات کی طرف توجہ کرنا چاہئیے :
۱ ۔ اسلامی مصادر میں غور و خوض کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ زیر بحث مسئلہ ہو یا کوئی اور، جو آیات و روایات ابتدائی نظر میں ایک دوسرے سے متضاد نظر آتی ہے در اصل ان میں سے ہر ایک مسئلے کے ایک پہلو کے بارے میں ہوتی ہے جبکہ دوسرے پہلوؤں سے غفلت کے باعث تضاد کا شک گذرتا ہے ۔
وہ مقام کہ جہاں لوگ دنیا پر ریجھ جاتے ہیں ان کا حرص بہت زیادہ ہو جاتا ہے اور وہ مادی دنیا کی زرق و برق زندگی کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور اس کے حصول کے لئے کسی جرم اور زیادتی سے نہیں چوکتے وہاں پیہم تاکیدی احکام کے ذریعے انھیں اس دنیا کی ناپائیداری اور دنیا وی مال و جاہ کی بے وقعتی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جبکہ وہ مقام کہ جہاں کچھ لوگ زہد وتقویٰ کے بہانہ سے کام اور سعی و کوشش سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں وہاں انھیں محنت ، کام کاج اور کوشش کی اہمیت یا دلائی گئی ہے ۔
در اصل سچے رہبروں کا یہی طرز عمل ہونا چاہئیے کہ وہ افراط سے بھی مناسب طریقے سے روکیں اور تفریط سے بھی ۔
جن آیات و روایات میں تاکید کی گئی ہے کہ رزق خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس نے ہر شخص کا حصہ معین کیا ہوا ہے در حقیقت یہ حرص و طمع ، دنیا پرستی اور بے اصول و بے حدود سمیٹنے سے روکنے کے لئے ہے اور ان کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انسان کے نشاط کار کے ولولوں کو ختم کر دیا جائے ۔ اور ایک آبر ومندانہ ، خود کفایت اور اپنے قدموں پر کھڑی زندگی کی جد و جہد کو ختم کردیا جائے ۔
اس حقیقت کی طرف توجہ کرتے ہوئے ان روایات کی تعبیر واضح ہو جاتی ہے کہ جن میں کہا گیا ہے کہ بہت سی روز یاں ایسی ہیں کہ اگر تم ان کے پیچے نہ جاؤتو وہ تمہارے پیچھے آئیں گی۔
۲ ۔ توحیدی نقطہ نگاہ سے کائنات کو دیکھا جائے تو ہر چیز خد اکی طرف منتہی ہو تی ہے اور ایک خدا پرست سچا موحد کسی چیز کو اپنی طرف سے نہیں سمجھتا بلکہ اس تک جو بھی نعمت پہنچی ہے اس کا سر چشمہ خدا ہی کو جانتا ہے وہ کہتا ہے ۔
بیدک الخیر انک علی کل شیء قدیر
ہر طرح کی نیکی اور خیرکی کلید تیرے ہاتھ میں ہے اور تو ہر چیز پر قادر اور توانا ہے (آلِ عمران ۲۶)
اس لحاظ سے ایک حقیقی توحید پرست کو ہر موقع پر اس حقیقت کی طرف متوجہ رہا چاہئیے یہاں تک کہ اس کی سعی و کا وش ، فکر اور آلات و اسبات ِ پیدا وار بھی دراصل خدا ہی کی طرف سے ہیں ۔ اس کی نگاہ ِ لطف لمحہ بھر کے لئے پھر جائے تو سب کچھ ختم ہو جائے۔
خد اپر ایمان رکھنا والا ایک شخص جب کسی سواری پر سوار ہوتا ہے تو کہتا ہے :
( سبحان الذی سخرلنا هٰذا )
پاک ہے وہ خدا کہ جس نے اسے ہمارے لئے مسخر کیاہے ۔
جب وہ کوئی نعمت پاتا ہے تو زمزمہ توحید اس کے ہونٹوں سے نکلتا ہے :( وما بنا نعمة فمنک )
ہمارے پاس جو بھی نعمت ہے بار الہٰا !تیری طرف سے ہے ۔
یہاں تک کہ انسانوں کی نجات کے لئے جب کوئی قدم اٹھاتا ہے تو پیروی انبیاء میں کہتا ہے :۔
( وما توفیقی الا بالله علیه توکلت و الیه انیب )
میری توفیق صرف اللہ کی طرف سے ، میں نے اسی پر توکل کیا ہے او رمیں ایس کی طرف پلٹتا ہوں (ہود، ۸۸)
لیکن ان تمام مباحث میں جو چیز مسلم ہے وہ یہ ہے کہ تلاش رزق کو نکلنا چاہیئے ۔ سعی و کو شش کرنا چاہئیے اور ا س کے لئے مثبت اور اصلاحی راستہ اختیار کرنا چاہئیے وہ راستہ کہ جو ہر قسم کے افراط و تفریط سے پاک ہو ۔
رہی اس روزی کی بات کہ جو انسان کو بغیر کوشش کے مل جاتی ہے تو وہ فرعی مسئلہ نہ کہ اساسی اور بنیادی ۔ شاید اسی بناء پر حضرت علی علیہ السلام نے اپنے کلمات قصار میں پہلے درجے میں اس رزق کا ذکر فرمایا ہے کہ انسان جس کے لئے نکلتا ہے اور اس کے بعد رزق کا جو خود انسان کے پیچھے آتا ہے ۔
یا بن اٰدم ! الرزق رزقان : رزق تطلبه ورزق طلبه
اے ابن آدم ! رزق دو قسموں کا ہوتا ہے ایک وہ کہ جس کی تلاش میں تو نکلتا ہے اور دوسرا وہ کہ جو تیری تلاش میں آتا ہے ۔ ۱
____________________
۔۱کتب دعا میں اس جملے کا ذکر نماز عصر کی تعقیبات میں کیاگیا ہے ۔
۲ ۔ دوسروں سے برابری کا سلوک
زیر نظر آیات میں بہت سے انسانوں کی تنگ نظری اوربخل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے : فرمای اگیا ہے کہ وہ اس بات کے لئے تیار نہیں کہ ان کے اختیار میں جو بہت سے نعمتیں دی گئی ہیں وہ اپنے زیر دست افراد کو بخشیں البتہ وہی لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو انبیاء اور ہادیان الہٰی کے تربیتی مکتب کے تربیت یافتہ ہیں ۔
ان روایا ت کے ضمن میں کئی ایک روایات میں مساوات اور مواسات کی تاکید کی گئی ہے ۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں اس سلسلے میں ہے :لایجوز للرجل ان یختص نفسه بشیء من الماٴکول دون عیاله
کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے لئے گھر میں مخصوص غذا رکھے اور وہ کچھ کھائے کہ جس سے اس کے گھر والے محروم رہیں ۔(۱)
نیز حضرت ابوذر سے منقول ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا :
انما ھم خوانکم فاکسوھم مما تکسون ، و اطعموھم مما تطعمون، فمارؤی عبدہ بعد ذٰلک الاوردٰئہ، وازارہ ازارہ ، من غیر تفاوت
جو افراد تمہارے زیر دست اور ماتحت ہیں وہ تمہارے بھائی ہیں جو کچھ خود پہنتے ہو انھیں ۔ پہناؤ اورجو کچھ خود کھاتے ہو انھیں کھلاؤ۔
رسول اللہ کی اس وصیت کے بعد ابوذر کا طرز عمل اپنے ماتحت افرد سے یہ تھا کہ ان کا لباس ان کے اپنے لباس سے بالکل مختلف نہ ہوتا تھا ۔۔(۲)
مذکور ہ روایات اور اسی طرح خود زیر بحث آیت کہ جو کہتی ہے ”فھم فیہ سوآءُ“(بس وہ اس میں مساوی ہیں ) سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نصیحت کرتا ہے کہ تمام مسلمان اسلامی اخلاق کے طرز عمل کے طور پر اپنے گھر کے تمام افراد اور اپنے تحت افراد سے حتی الامکان مساوات کریں اور برابری کا سلوک کریں گھریلوماحال اور اپنے ماتحت افراد میں اپنے لئے کوئی امتیاز نہ برتیں ۔
____________________
۱.۔نہج البلاغہ ، کلمات قصارص ۳۷۹۔
۲. ۔تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص۶۸۔
آیات ۷۳،۷۴
۷۳ ۔( وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَمْلِکُ لَهُمْ رِزْقًا مِنْ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ شَیْئًا وَلاَیَسْتَطِیعُونَ ) ۔
۷۴ ۔( فَلاَتَضْرِبُوا لِلَّهِ الْاٴَمْثَالَ إِنَّ اللهَ یَعْلَمُ وَاٴَنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ ) ۔
ترجمہ
۷۳ ۔ وہ خدا کو چھوڑکر کچھ ایسے موجودات کی پر ستش کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں سے ان کے رزق کے مالک نہیں ہیں اوریہ کام جن کے بس کا نہیں ۔
۷۴ ۔لہٰذا اللہ کے لئے امثال (اور شبیہ) کا عقیدہ رکھو کیونکہ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
تفسیر
خدا کے لئے شبیہ کا عقیدہ نہ رکھو :
گذشتہ آیات میں توحید کے بارے میں گفتگو تھی اب زیر بحث آیات میں مسئلہ شرک کے بارے میں بات کی گئی ہے سر زنش و ملامت کے لہجے میں فرمایا گیا ہے : وہ خدا کو چھوڑ کر ایسے موجودات کی پرستش کرتے ہیں کہ جو آسمان و زمین میں سے ان کی روزی کے مالک نہیں ہیں اور اس سلسلے میں ان کا ذرہ بھر بھی کوئی اثر نہیں( وَیَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللهِ مَا لاَیَمْلِکُ لَهُمْ رِزْقًا مِنْ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ شَیْئًا ) ۔
نہ صرف یہ کہ اس سلسلے میں وہ کسی چیز کے مالک نہیں بلکہ خلق و ایجاد اور ان پر دست رسی کی طاقت نہیں رکھتے( وَلاَیَسْتَطِیعُونَ ) ۔
یہ اس طرف اشارہ ہے کہ مشرکین اس لئے بتوں کی پوجا پاٹ کرتے تھے کہ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کی زندگی اور نفع و نقصان میں کوئی اہم کردار ادا کرتے ہیں حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ رزق کا مسئلہ انسانی زندگی کے اہم ترین مسائل میں سے ہے چاہے وہ آسمان سے بارش کے حیات بخش قطروں اور سورج سے زندگی بخش شعاعوں کی صورت میں )ہو یا وہ زمین سے نکلنے والا ہو اس میں سے کچھ بھی بتوں کے اختیار میں نہیں وہ تو بے اہمیت اور بے قیمت موجودات ہیں کہ جن کا اپنا کوئی ارادہ نہیں ہوتا یہ تو صرف خرافات اور جہالت پر مبنی تعصبات ہیں کہ جھنہوں نے انھیں اہمیت دے رکھی ہے ۔
در حقیقت ”( لایستطیعون ) “”( لایملکون ) “ ( وہ کسی چیز کے مالک نہیں ) کی دلیل ہے اس لئے کہ وہ ان کی خلقت یا حفاظت کی ذرہ بھر قدرت بھی نہیں رکھتے۔
اگلی آیت میں نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : اب جبکہ ایسا ہے تو پھر خدا کی کسی مثل ، شبیہ اور نظیرکے قائل نہ بنو( فَلاَتَضْرِبُوا لِلَّهِ الْاٴَمْثَالَ ) ۔کیونکہ خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے( إِنَّ اللهَ یَعْلَمُ وَاٴَنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ ) ۔
بعض مفسرین کاکہنا ہے کہ ”فَلاَتَضْرِبُوا لِلَّهِ الْاٴَمْثَال “زمانہ جاہلیت کے مشرکین کی ایک منطق کی طرف اشارہ ہے ( ہمارے زمانے کے بعض مشرکین بھی یہ بات کرتے ہیں ) وہ کہتے تھے کہ اگرہم بتوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں تو ا س کی وجہ یہ ہے کہ ہم اس لائق نہیں کہ خدا کی پرستش کریں لہٰذا ہمیں بتوں کی طرف رجوع کرنا چاہئیے کہ جو ا س کے مقرب بارگاہ ہیں ۔ خدا ایک عظیم شہنشاہ کی طرح ہے کہ جو وزراء اور خواص ہی اس سے رابطہ کرسکتے ہیں اور عام لوگ جن کی اس بادشاہ تک رسائی نہیں وہ باد شاہ کے قریبی خواص اور مقربین کے پیچھے ہی لگیں گے۔
اس قسم کی قبیح اور غلط منطق بہت خطر ناک ہے بعض اوقات بڑے انحرافی انداز میں اسے خوب صورت بناکر پیش کیا جاتا ہے قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے :
خدا کے لئے مثالیں بیان نہ کرو۔
یعنی ایسی مثال اس کے لئے پیش نہ کروجو محدود افکار اور ممکن موجودات کے حوالے سے ہو اور نقائص سے مامور ہو کیونکہ ایسی مثال اس سے مناسبت نہیں رکھتی تو اگر اس امر کی طرف توجہ رکھتے کہ تمام موجودات اللہ کے احاطہ وجودی میں ہیں اور اس کے غیر متناعی لطف و رحمت کے سایے میں ہیں اور وہ خود تم سے تمہاری نسبت زیادہ نزدیک ہے تو کبھی بھی وسائط و وسائل کی طرف متوجہ نہ ہوتے ۔
وہ خدا جو براہ راست اپنے سے راز و نیاز اور گفتگو کی دعوت دیتا ہے اور جس نے اپنے گھر کے دروازے شب و روز تمہارے لئے کھول رکھے ہیں اسے کسی جابر و متکبر باد شاہ سے تشبیہ نہیں دیناچاہئیے کیونکہ یہ باد شاہ تو محل نشیں رہتے ہیں اور گنتی کے چند افراد کے سوا کوئی ان کے محل میں نہیں جاسکتا( فَلاَتَضْرِبُوا لِلَّهِ الْاٴَمْثَال )
صفات خدا کی بحثوں میں ہم اس نکتے کی طرف خصوصی طور پر متوجہ ہوتے ہیں کہ صفات الہٰی کی شناخت کی راہ میں تشبیہ کا مسئلہ نہایت خطرناک ہے یعنی اس کی صفات کو بندوں پر قیاس کرنا اور ان سے مشابہ قراردینا کیونکہ خدا ہر لحاظ سے ایک لامتناہی وجود ہے اور دوسرے لحاظ سے محدود وجود ہیں لہٰذا ہر قسم کی تشبیہ و تمثیل ہمیں اس کی ذات سے دور لے جائے گی۔
یہاں تک کہ جہاں ہم مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس کی ذات مقدس کو نور یا اس قسم کی چیز کے ساتھ تشبیہ دیں وہاں بھی ہمیں متوجہ رہنا چاہئیے کہ ایسی تشبیہات بہر حال ناقص اور نا رسا ہیں اور صرف کسی ایک پہلو سے قابل قبول ہیں نہ کہ ہر پہلو سے (غور کیجئے گا) ۔
جبکہ بہت سے لوگ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور زیادہ تر تشبیہ و قیاس کی گمراہ کن وادیوں میں گھر جاتے ہیں ، اور حقیقت ِ توحید سے بہت دور جا پڑتے ہیں لہٰذا قرآن بار بار بیدار کرتا ہے اور تنبیہ کرتاہے کبھی کہتا ہے :
( ولم یکن له کفواً احد )
کوئی چیز اس کے ہم پلہ اور اس کی مثل نہیں ۔ (اخلاص ۔ ۴)
کبھی کہتاہے :( لیس کمثله شیء )
کوئی شے اس کی مانند و مثل نہیں ہے ۔ ( شورایٰ ۔ ۱۱)
کبھی فرماتا ہے :( فلا تضربوا لله الامثال )
یہ در اصل اسی حقیقت کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کے لئے ہے اور شاید ”( ان الله یعلم و انتم لاتعلمون ) “ ( خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے) اسی مسئلے کی طرف اشارہ کررہا ہو کہ عام لوگ صفات ِ الہٰی کے اسرار سے بے خبر ہیں ۔
آیت ۷۵
۷۵ ۔( ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً عَبْدًا مَمْلُوکًا لاَیَقْدِرُ عَلَی شَیْءٍ وَمَنْ رَزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهرًا ههلْ یَسْتَوُونَ الْحَمْدُ لِلَّهِ بَلْ اٴَکْثَرُهُمْ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔
۷۶ ۔( وَضَرَبَ اللهُ مَثَلاً رَجُلَیْنِ اٴَحَدُهُمَا اٴَبْکَمُ لاَیَقْدِرُ عَلَی شَیْءٍ وَهُوَ کَلٌّ عَلَی مَوْلاَهُ اٴَیْنَمَا یُوَجِّهُّ لاَیَاٴْتِ بِخَیْرٍ هَلْ یَسْتَوِی هُوَ وَمَنْ یَاٴْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ) ۔
۷۷ ۔( وَلِلَّهِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا اٴَمْرُ السَّاعَةِ إِلاَّ کَلَمْحِ الْبَصَرِ اٴَوْ هُوَ اٴَقْرَبُ إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ) ۔
ترجمہ:
۷۵ ۔خدا کی مثال بیان کی ہے اس مملوک غلال کی جس کی قدرت میں کوئی چیز نہیں اور اس باایمان) انسان کی جسے اچھا رزق بخشا گیا ہے اور وہ چھپ کر اور آشکار اسے عطائے خدا میں خرچ کرتا ہے کیا یہ دونوں برابر ہیں ۔ حمد و شکر خدا کے لئے لیکن ان میں سے اکثرنہیں جانتے ۔
۷۶ ۔اور اللہ نے دو افراد کی ( ایک اور ) مثال بیان کی ہے کہ جن میں سے ایک مادرزاد گونگا ہے کہ جو کچھ نہیں کرسکتا اور اپنے ساتھی پر بوجھ ہے اسے جس کام کے لئے بھی بھیجا جائے اچھا عمل انجام نہیں دیتا کیا ایساشخص اس انسان کے برابر ہے جو عدل و انصاف سے فیصلہ کرتا ہے اور راہ ِ مستقیم پر قائم ہے ۔
۷۷ ۔آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ کے ہے (اور وہی سب کچھ جانتا ہے )اور قیامت کا معاملہ اس کے لئے بالکل پلک جھپکنے یا اس سے بھی معمولی کاک کی طرح ہے ( کیونکہ خد اہر چیز ہر قدرت رکھتا ہے ) ۔
تفسیر
مومن اور کافر کے لئے مثالیں :
گذشتہ آیات میں ایمان اور کفر اور مومنین و مشرکین کے بارے میں گفتگو تھی ۔ زیر نظر آیات میں دو زندہ اور روشن مثالوں کے ذریعے ان کی حالت کو واضح کیا گیا ہے ۔
پہلی مثال میں مشرکین کو اس غلام مملوک سے تشبیہ دی گئی ہے جس کے بس میں کچھ نہیں ہوتا اور مومنین کو غنی و بے نیاز انسان سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو اپنے وسائل سے سب کو فائدہ پہنچاتا ہے ۔
ارشادہ ہوتا ہے : اللہ غلام مملوک کا ذکر بطور مثال کرتا ہے کہ جس کے بس میں کچھ بھی نہیں( ضَرَبَ اللهُ مَثَلاً عَبْدًا مَمْلُوکًا لاَیَقْدِرُ عَلَی شَیْءٍ ) ۔
نہ تکوین میں اس کی کوئی قدرت ہے اور نہ تشریع میں ۔ کیونکہ ایک طرف وہ ہمیشہ اپنے آقا کی قید میں ہوتا ہے اور ہر لحاظ سے محدود ہوتا ہے اور دوسری طرف اسے اپنے مال میں ( وہ بھی اگر ہو تو ) کوئی حق تصرف نہیں ہوتا اور اسی طرح اپنی ذات سے متعلق دیگر امو رمیں بھی وہ آزاد نہیں ہوتا ۔
جی ہاں بندوں کا غلام اور بندہ ہونے کا نتیجہ قید اور ہر لحاظ سے محدود یت کے سوا کچھ نہیں ۔
جبکہ اس کے مقابلے میں آزاد انسان کی مثال اس شخص کی سی ہے جسے رزق حسن اور طرح طرح کی روزی اور پاکیزہ نعمتیں میسر ہوں( وَمَنْ رَزَقْنَاهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا ) ۔
ان آزاد انسانوں کے پا س بہت سے وسائل ہیں کہ جن سے وہ چھپ کر بھی اور اعلانیہ بھی خرچ کرتے ہیں اور انفاق کرتے ہیں( فَهُوَ یُنفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَجَهرًا ) ۔
کیا یہ دونوں افرد برابر ہیں( هلْ یَسْتَوُونَ ) ۔
مسلم ہے کہ ایسا نہیں ہے لہٰذا ”تمام حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے ۔( الْحَمْدُ لِلَّهِ ) ۔
وہ اللہ کے جس کا بندہ آزاد قدرت مند بھی ہے اور عطا کرنے والا بھی جبکہ بتوں کے بندے ناتواں ، محدود، بے قدرت اور قیدی ہیں ” لیکن ان (مشرکین) میں سے اکثر نہیں جانتے( بَلْ اٴَکْثَرُهُمْ لاَیَعْلَمُونَ ) ۔(۱)
لیکن بات بہت بعید معلوم ہوتی ہے ۔
اس کے بعد ایک اور مثال بتوں کے بندوں اور سچے مومنین کے بارے میں بیان کی گئی ہے بتوں کے بندوں کو مادر زاد گونگوں سے تشبیہ دی گئی ہے کہجو غلام اور ناتواں بھی ہیں اور سچے مومنین کو اس آزاد انسان سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو قوت ِ گویائی رکھتا ہے ہمیشہ عدل و انصاف کی دعوت دیتا ہے اور صراط مستقیم پر قائم ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے اللہ نے دواشخاص کی مثال دی ہے ان میں سے ایک مادر زاد گونگا ہے اور کچھ اس کے بس میں نہیں( وَضَرَبَ اللهُ مَثَلاً رَجُلَیْنِ اٴَحَدُهُمَا اٴَبْکَمُ لاَیَقْدِرُ عَلَی شَیْءٍ ) ۔
وہ غلام ہونے کے باوجود اپنے مولاو آقا کے لئے بوجھ ہے( وَهُوَ کَلٌّ عَلَی مَوْلاَهُ ) ۔یہی وجہ ہے کہ ”اسے جس کام کے لئے بھی بھیجا جائے وہ اچھا انجام نہیں دے سکتا ۔( اٴَیْنَمَا یُوَجِّهُّ لایَاٴْتِ بِخَیْرٍ ) ۔
گویا اس میں چار منفی صفات ہیں :
۱ ۔ وہ مادر زاد گونگا ہے ۔
۲ ۔ بالکل نواں ہے ۔
۳ ۔ اپنے مالک کے لئے بوجھ ہے اور
۴ ۔جب اسے کسی کام کے لئے بھیجا جائے تو کوئی مثبت اقدام نہیں کرپاتا۔
یہ چار صفات اگر ایک دوسرے کی علت و معلوم ہیں مگر ایک انسان کی منفی حالت کی سوفی صدتصویر کشی کرتی ہیں کہ جس کے وجود سے کوئی خیر و برکت حاصل نہیں ہوتی اور جو معاشرے اور خاندان پر بوجھ ہے ۔
کیا ایسا شخص اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے کہ جو فصیح اور گویا زبان رکھتا ہے اور ہمیشہ عدل و انصاف کی دعوت دیتا رہتا ہے اور صاف راستے اور سیدھی راہ پر قائم ہے ۔( هَلْ یَسْتَوِی هُوَ وَمَنْ یَاٴْمُرُ بِالْعَدْلِ وَهُوَ عَلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ) ۔
یہاں اگر چہ دو ہی صفات بیان ہو ئی ہیں
ایک مسلسل عدل و انصاف کی صورت اوردوسری طرز مستقیم اور صحیح راستہ کہ جو ہر قسم کے انحراف سے پا ک ہو۔
لیکن یہ دونوں صفات دوسری صفات کو واضح کرتی ہیں وہ شخص عدل و انصاف کی دعوت دیتا ہے ، کیا ہوسکتا ہے کہ وہ ایک گونگا ، بزدل اور بے وقعت انسان ہو۔ ہر گز نہیں ۔ایسا شخص زبان گویا ، منطق محکم او ر ارادہ قوی اور شجاعت و شہامت کا حامل ہوگا۔
وہ شخص کہ جو راہ ِ مستقیم پر گامزن ہو کیا وہ بے دست و پا، ناتواں ، بے ہوش اور کم عقل انسان ہوسکتا ہے؟
ہر گز نہیں نہیں مسلم ہے کہ وہ ایک صاحب ِ فکر و نظر ، صاحب ِ کاوش و جستجو ، باہوش ، با تدبیر اور با استقامت شخص ہو گا ۔
ان دونوں کا موازہ کیا جائے تو بت پرستی میں وسیع فرق واضح ہو جاتا ہے اور ان دونوں نقطہ ہائے نظر اور مکاتب ِ فکر کے تحت تربیت پانے والوں کا فرق بھی واضح ہو جاتا ہے ۔
عام طور پر ہم نے دیکھا ہے کہ قرآن توحید کے بیان اور شرک کے خلاف گفتگو کو معاد اور قیامت کی عظیم عدالت کے مسائل سے مربوط اکردیتا ہے یہاں بھی ایسی ہی صورت حال ہے گذشتہ اور زیر بحث آیات شرک کی نفی اور اثبات توحید کے بارے میں ہیں اب گفتگو کا رخ معاد کی طرف ہو رہا ہے اور مشرکین کے بعض اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے : اللہ آسمانوں اور زمین کے غیبی امور سے آگاہ ہے ۔( وَلِلَّهِ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) ۔
گویا یہ اس اعتراض کا جواب ہے کہ جو معاد جسمانی کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ ہم جس وقت مر جائیں گے ہماری خاک کے ذرے ادھر اُدھر بکھر جائیں گے کیسے ان کا علم ہو گا کہ وہ ہمیں جمع کر سکے ۔ علاوہ ازیں ، وہ کہتے ، اگر فرض کریں ہمارے خاک کے ذرے ادھر اُدھر بکھر جائیں گے تو کیسے ان کا علم ہو گا کہ وہ ہمیں جمع کر سکے۔ علاوہ ازیں ، وہ کہتے ، اگر فرض کریں ہمارے جسموں کے بکھرے ہوئے ذرات جمع بھی ہو جائیں اور ہمیں پھر سے زندگی بھی مل جائے ان جسموں کے بھولے بسرے ہوئے اعمال سے کون ااگاہ ہو گا اور کون ان کے نامہ اعمال کی پڑتال کرے گا ۔
زیر بحث آیت ایک ہی جملے میں اس سوال کے تمام پہلو ؤں کا جواب دیتی ہے کہ خدا آسمانوں اور زمین کے غیب کو جانتا ہے ، وہ ہرجگہ ہمیشہ حاضر ہے لہٰذا اصولی طور پر غیب و پنہاں کا اس کے لئے کوئی مفہوم ہی نہیں ۔ اس کے لئے تما م چیزیں شہود ہیں
یہ مختلف تعبیرات تو ہمارے وجود کے حساب سے ہیں اور ہماری منطق سے ہم آہنگ ہیں ۔
اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے :قیامت کا معاملہ تو پلک جھپکنے یا اس سے بھی کم تر سطح پر آسان ہے( وَمَا اٴَمْرُ السَّاعَةِ إِلاَّ کَلَمْحِ الْبَصَرِ اٴَوْ هُوَ اٴَقْرَبُ ) (۲)
یہ در حقیقت منکرین معاد کے دوسرے اعتراض کی طرف اشارہ ہے وہ کہتے تھے کہ یہ کام تو انتہائی مشکل ہے ۔ کون اسے انجام دینے کی قدرت رکھتا ہے ؟
قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے :تمہاری طاقت بہت کم ہے اس لئے تمہیں یہ کام مشکل دکھائی دیتاہے لیکن خدا کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں اس کے لئے یہ کام آسان سا ہے جیسے تمہارا پلک جھپکنا آسان سا بھی ہے اور تیزی سے انجام بھی پاجاتا ہے۔
یہ بات جاذب نظر ہے کہ قیام ِقیامت کو پلک جھپکنے یاجلدی سے کسی چیز کو دیکھنے سے تشبیہ دے کر مزید فرمایا گیا ہے ۔ (اوهو اقرب )( یا اس سے بھی نزدیک تر) یعنی نظر بھر دیکھنے کی تشبیہ بھی تنگی بیان کی وجہ سے ہے یعنی قیامت اس تیزی سے بر پا ہو گی کہ اس کے لئے مدت اور زمانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور جو یہ ” کلمح البصر“ کہا گیا ہے یہ بھی اس لئے ہے کہ تمہاری منطق میں اس سے مختصر تر کوئی زمانہ نہیں ہے ۔
بہر حال یہ دو چھوٹے چھوٹے جملے اللہ کی بے انتہاء قدرت پرخصوصاً معاد اور انسان کے قبروں سے جی اٹھنے میں اس کی قدرت پر زندہ ناطق اور منہ بولتے اشارے ہیں ۔ اسی لئے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کیونکہ خدا ہر چیز پرتواناو قادرہے( إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ )
۱ ۔ آزاداور قیدی انسان :
بعض لوگوں کے نظرئے کے بر خلاف تو حید اور شرک کا مسئلہ صرف ایک اعتقادی اور ذہنی مسئلہ نہیں ہے بلکہ انسان کی ساری زندگی پر اثر انداز ہوتاہے اور ہر چیز کو اپنے رنگ میں رنگ دیتا ہے توحید کا پودا جس دل لگ جاتاہے اس دل کی زندگی اور رشد و نمو کا عامل بن جاتاہے کیونہ توحید انسانی نگاہ کو اس قدر وسیع کردیتی ہے کہ اس کا رشتہ لامتناہی ذات سے جوڑدیتی ہے ۔
لیکن اس کے بر عکس شرک انسان کو پتھر ، لکڑی کے بتوں کی انتہائی محدود دنیا میں محصور کردیتا ہے انسانوں کو بتوں کی طرح کمزور کر دیتا ہے اور انسان کی فکر ، نظر ، ہمت ، سعی اور توانائی کو اسی رنگمیں رنگ دیتا ہے ۔
زیر بحث آیت میں یہ حقیقت مثال کے پیرائے میں اس خوبصورتی سے بیان ہوئی ہے کہ اس سے عمدہ اور رساانداز ممکن نہیں ہے ۔
مشرک ”ابکم “ (گونگا)مادر زاد گونگاکہ جس کا عمل ا س کی فکری کمزوری اور عاری از منطق ہونے کا ترجمان اور وہ شرک کے چنگل میں گرفتار ہونے کی وجہ سے کوئی مثبت کام نہیں کرسکتا( لایقدر علی شیء ) ۔
وہ ایک آزاد انسان نہیں ہے بلکہ خرافات وموہوما ت کا قیدی ہے ۔ اپنی انہی صفات کی بناء پر وہ معاشرے پر ایک بوجھ ہے کیونکہ اس نے اپنی تقدیر کی مہاربتوں یا استعمار گر انسانوں کے ہاتھ میں دے رکھی ہے وہ ہمیشہ بندھا ہوا اور کسی پر انحصارکئے ہوئے ہوتا ہے جبکہ توحید آزادی اور استقلال کا آئیں ہے وہ جب تک توحید ک اذائقہ نہ چکھے اس بندھن سے آزاد نہیں ہو سکتا( وهو کل علی مولاه ) ۔
اپنی یہ طرز فکر لئے ہوئے وہ جس راستے پر بھی قدم رکھے گا ، ناکام رہے گا اور کسی طرف اسے خیر و سعادت نصیب نہیں ہو گی”( اینما یوجهه لایاٴت بخیر ) “
کوتاہ فکری کے اس اسیر اور عاجز و ناتواں شخص کی زندگی کا کوئی ہدف اور پروگرام نہیں ہے یہ اس مرد آزاد و شجاع سے کسی قدر مختلف ہے جو نہ صرف خود عدل و داد پر کار بند ہے بلکہ ہمیشہ اپنے معاشرے میں عدل و داد کی حکمرانی کا پر چم بلند کئے رہتا ہے ، علاوہ ازیں ایک آزاد انسان منطقی فکر اور توحید کے فطری نظام سے ہم آہنگ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ راہ مستقیم پر گامزن رہتا ہے وہی راہ مستقیم جو منزل ِ مقصود تک پہنچنے کے نزدیک ترین راستہ ہے اس راستے سے انسان تیزی سے منزل تک جاپہنچتا ہے ایک آزاد انسان کج راستوں پر اپنا سرمایہ وجود ضائع نہیں کرتا ہے ۔
خلاصہ یہ کہ توحید اور شر ک صرف عقیدہ نہیں ہے بلکہ پوری زندگی سے ان کا تعلق ہے سیاسی ، اقتصادی ، ثقافتی اور تمدنی زندگی ان سے مربوط ہے ۔اگر ہم زمانہ جاہلیت کے مشرک عربوں اور ابتدائے اسلام کے موحد مسلمانوں کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ان دونوں راستوں کا واضح فرق معلوم ہو جائے گا ۔وہی افراد جو کل تک جہالت ، تفرقہ ، انحطاط اور بد بختی میں ایسے گرفتار تھے کہ انھیں فقر و فساد سے آلود اپنے ماحول کے سوا کچھ خبر نہ تھی لیکن جب انھوں نے وادی توحیدی میں قدم رکھا تو انھیں ایسی وحدت ، آگہی اور توانائی میسر آئی کہ اس زمانے کی ساری متمدن دنیا ان کے زیر نگیں ہو گئی ۔
۲ ۔ انسان زندگی پر عدالت اور سچائی کا اثر :
یہ بات جاذب نظر ہے کہ زیر بحث آیات میں موحدین کے کاموں میں سے صرف دعوت ِ عدل اور صراط مستقیم پر گامزن ہو نے کا ذکر کیا گیا ہے یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ کسی فرد یامعاشرے کی حقیقی سعادت انہی دو چیزوں میں مضمر ہے انسان کا طرز عمل صحیح ہو اس کی زندگی کا پرو گرام نہ شرقی ہو نہ غربی وہ نہ دائیں طرف منحرف ہو نہ بائیں طرف اور پھر قیام عدل کی دعوت ۔ وہ بھی وقتی نہیں بلکہ ”یاٴمر بالعدل “ کے مفہوم کے مطابق دائمی اور مسلسل ( کیونکہ ”یاٴمر “ مضارع کا صیغہ ہے جو دوام کا مفہوم دیتا ہے ) ۔
۳ ۔روایت پر ایک نظر :
طرقِ اہل بیت سے ایک روایت مندرجہ بالا آیات کی تفسیر کے ضمن میں آئی ہے روایت میں ہے
الذین یاٴمر بالعدل امیر المؤمنین و الائمة (صلواة الله علیهم )
عدل و انصاف کی دعوت دینے والے امیر المومنین علی اور آئمہ اہل ( علیھم السلام )ہیں ( نور الثقلین،جلد ۳ ص ۷۰)
بعض مفسرین نے ”من یاٴمر بالعدل “ سے حضرت حمزہ ، عثمان بن مظعون یاعمار مراد لئے ہیں اور ”ابکم “ سے ابن ابی خلف اور ابوجہل وغیرہ ۔
واضح ہے کہ یہ سب ان کے لئے واضح مصداق ہیں اور ان روایات سے یہ ظاہر نہیں ہو تا کہ ان مفہوم انہی افراد میں منحصر ہے ۔
ضمنی طور پر ان تفسیر سے یہ بات واضح ہوتی ہے ۔ آیات کی تشبیہ بتوں اور خدا کی طرف اشارہ نہیں کرتی بلکہ مشرکین اور مومنین کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔
____________________
۱۔جو تفسیر ہم نے بیان کی ہے ا سکے مطابق مذکورہ بالا مثال مومن اور کافر کےلئے ہے لیکن بعض مفسرین نے اس تشبیہ کے لئے ایک اور احتمال ذکر کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہاں مراد یہ ہے کہ بتوں کو مملوک غلام سے خدا کو اس آزاد ومومن سے تشبیہ دی جائے کہ جو صاحب نعمات ہے اور اس میں سے خرچ کرتا ہے ۔
۲۔”لمح“ ”برزن”مسح“) اصل میں بجلی کے چمکنے کے معنی میں ہے بعد ازاں ایک اچکتی نگاہ ڈالنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ ضمناًتوجہ رہے کہ یہاں ”او“ ”بل“ کے معنی میں ہے ۔
فہرست
سوره حجر ۴
آیات ۱،۲،۳،۴،۵، ۴
تفسیر ۴
بے بنیاد آرزوئیں ۴
لمبی آروزئیں غفلت کا سبب ہیں ۹
آیات ۶،۷،۸ ۱۱
تفسیر ۱۱
فرشتوں کے نزول کا تقاضا ۔ ۱۱
آیت ۹ ۱۵
تفسیر ۱۵
قرآن کی حفاظت ۱۵
عدم تحریف ِقرآن ۱۶
عدم تحریف ِ قرآن کے دلائل ۱۸
۱ ۔ حافظان قرآن : ۱۸
۲ ۔ کاتبان وحی : ۲۰
۳ ۔ تمام رہبران اسلام نے اسی قرآن کی دعوت دی ہے : ۲۲
۴ ۔ آخری دین اور ختم نبوت کا تقاضا : ۲۳
۵ ۔ روایات ِ ثقلین : ۲۳
۶ ۔ قرآن جھوٹی اور سچی روایات کے لئے کسوٹی ہے : ۲۴
آیات ۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵ ۲۹
تفسیر ۲۹
ہٹ دھرمی اور محسوسات کا انکار ۲۹
چند اہم نکات ۳۱
۱ ۔ ”شیع کا مفہوم “ ۳۱
۲ ۔”نسلکہ“ کی ضمیر کامرجع ۳۲
۳ ۔گذشتہ لوگوں کی روش ۳۳
۴ ۔ ( فظلموا فیه یعرجون ) “ کا مفہوم ۳۳
۵ ۔ سکرات ابصارنا“ کا مطلب ۳۴
آیات ۱۶،۱۷،۱۸ ۳۶
تفسیر ۳۶
شیطان شہاب کے ذریعے ہانکے جاتے ہیں : ۳۶
شیطان شہاب کے ذریعے کیسے ہانکے جاتے ہیں ؟ ۳۸
نتیجہ بحث ۴۳
آیات ۱۹،۲۰،۲۱ ۴۷
تفسیر ۴۷
ہرچیز کا خزانہ ہمارے پاس ہے : ۴۷
چند اہم نکات ۵۲
۱ ۔ خدا کے خزنے کیا ہیں ؟ ۵۲
۲ ۔نززول مقامی اور نزول مکانی ۵۳
آیات ۲۲،۲۳،۲۴،۲۵ ۵۴
تفسیر ۵۴
ہوا اور بارش ۵۴
متقدمین او ر متاخرین کون ہیں ؟ ۵۶
آیات ۲۶،۲۷،۲۸،۲۹،۳۰،۳۱،۳۲،۳۳،۳۴،۳۵،۳۶،۳۷،۳۸،۳۹،۴۰،۴۱،۴۲،۴۳،۴۴ ۵۸
تفسیر ۶۰
خلقت ِ انسان ۶۰
چند اہم نکات ۶۵
۱ ۔تکبرعظیم بدبختیوں کا سر چشمہ ۶۵
۳ ۔جہنم کے دروازے ۶۷
۴ ۔سیاہ کیچڑ اور خدا کی روح ۶۷
۵ ۔جن کیا ہے ؟ ۶۸
۶ ۔قرآن اور خلقت انسان ۷۰
تکامل انواع کے حامیوں کے دلائل ۷۱
ثبوت انواع کے حامیوں کے جوابات ۷۲
مفروضہ تکامل اور مسئلہ خدا شناسی ۷۳
قرآن اور مسئلہ تکامل انواع ۷۴
آیات ۴۵،۴۶،۴۷،۴۸،۴۹،۵۰ ۷۸
تفسیر ۷۸
بہشت کی آٹھ نعمتیں ۷۸
چند اہم نکات ۸۲
۱ ۔ بہشت کے باغ اور چشمے ۸۲
۲ ۔ مادی اور روحانی نعمتیں ۸۲
۳ ۔ کینہ اور حسد اخوت کے دشمن ہیں ۸۲
۴ ۔جزائے کامل ۸۳
۵ ۔آئیے اس دنیا میں تعمیر جنت کریں ۸۳
آیات ۵۱،۵۲،۵۳،۵۴،۵۵،۵۶،۵۷،۵۸،۵۹،۶۰ ۸۵
تفسیر ۸۶
انجانے مہمان ۸۶
آیات ۶۱،۶۲،۶۳،۶۴،۶۵،۶۶،۶۷،۶۸،۶۹،۷۰،۷۱،۷۲،۷۳،۷۴،۷۵،۷۶،۷۷ ۹۰
تفسیر ۹۱
قوم لوط کے گنہ گاروں کا انجام ۹۲
چند اہم نکات ۹۷
۱ ۔ ”قطع من اللیل “ سے کیا مراد ہے ؟ ۹۷
۲ ۔” ( وامضواحیث تؤمرون ) “کی تفسیر ۹۸
۳ ۔” متوسم “ اورر”مومن “ کے درمیان واسطہ ۹۸
۴ ۔ شہوت و غرور کی مستی ۱۰۰
آیات ۷۸،۷۹،۸۰،۸۱،۸۲،۸۳ ۱۰۱
تفسیر ۱۰۱
دو ظالم قوموں کا انجام ۱۰۱
اصحاب ایکہ کون ہیں ؟ ۱۰۳
آیات ۸۵،۸۶،۸۷،۸۸،۸۹،۹۰،۹۱، ۱۰۷
تفسیر ۱۰۷
تقسیم او ر نکتہ چینی کرنے والے: ۱۰۷
چند اہم نکات ۱۱۴
۱ ۔ قرآن کریم خدا کی عظیم نعمت ہے ۱۱۴
۲ ۔دوسروں کے وسائل پر نگاہ رکھنا انحطاط کا باعث ہے ۱۱۵
۳ ۔ رہبر کی انکساری ۱۱۶
۴ ۔ ”مقسطین “کون ہیں ؟ ۱۱۷
آیات ۹۲،۹۳،۹۴،۹۵،۹۶،۹۷،۹۸،۹۹ ۱۱۹
تفسیر ۱۱۹
اپنے مکتب واضح طورپربیان کرو ۱۱۹
چند اہم نکات ۱۲۳
۱ ۔ اعلانیہ دعوت ِ اسلام کا آغاز: ۱۲۳
۲ ۔خدا کی طرف توجہ کا روحانی اثر ۱۲۴
۳ ۔عبادت اور تکامل او ارتقاء ۱۲۴
سوره نحل ۱۲۶
آیات ۱،۲ ۱۲۶
تفسیر ۱۲۶
حکم ِ عذاب قریب ہے ۔ ۱۲۶
آیات ۳،۴،۵،۶،۷،۸، ۱۲۹
تفسیر ۱۲۹
جانوروں کے گونگوں فائدے ۱۲۹
نکتہ ۱۳۴
جانور پالنے اور کھیتی باڑی کی اہمیت ۱۳۴
آیات ۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳، ۱۳۷
تفسیر ۱۳۷
سب چیزیں انسان کے دستِ تسخیر میں ہیں : ۱۳۷
چند اہم نکات ۱۴۲
۱ ۔ مادی اور رروحانی نعمتیں ۱۴۲
۲ ۔ زیتون ، کھجور اور نگور ہی کا ذکر کیوں ؟ ۱۴۲
۳ ۔ تفکر تعقل اور تذکر ۱۴۵
آیات ۱۴،۱۵،۱۶،۱۷،۱۸ ۱۴۷
تفسیر ۱۴۷
پہاڑ، دریا اور ستارے نعمت ہیں : ۱۴۷
نکتہ ۱۵۴
راہ ،نشانی اور رہبر ۱۵۴
آیات ۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳، ۱۵۶
مردہ اور بے شعور معبود ۱۵۶
تفسیر ۱۵۶
جن معبودوں کو وہ پکار تے ہیں وه مرده ہیں اور شعور نهیں رکهتے ۱۵۶
مستکبر کون ہیں ؟ ۱۶۰
آیات ۲۴،۲۵،۲۶،۲۷،۲۸،۲۹ ۱۶۲
شان نزول ۱۶۳
تفسیر ۱۶۳
جو دوسروں کے گناہ اپنے کندھے پر لادلیتے ہیں ۱۶۳
چند اہم نکات ۱۷۰
۱ ۔اچھی اور بری نیت ۱۷۰
۲ ۔ بے موقع تسلیم حق ۱۷۲
آیات ۳۰،۳۱،۳۲ ۱۷۳
تفسیر ۱۷۳
نیک لوگوں کا انجام : ۱۷۳
آیات ۳۳،۳۴،۳۵،۳۶،۳۷ ۱۷۷
تفسیر ۱۷۸
انبیاء کی ذمہ داری واضح تبلیغ ہے ۱۷۸
چند اہم نکات ۱۸۵
۱ ۔ ”بلاغ مبین “ کیا ہے ۱۸۵
۲ ۔ ہر امت کے لئے ایک رسول ۱۸۶
آیات ۳۸،۲۹،۴۰ ۱۸۷
تفسیر ۱۸۸
معاد اور اختلافات کا خاتمہ ۱۸۸
آیات ۴۱،۴۲ ۱۹۲
شان نزول ۱۹۲
تفسیر ۱۹۳
مہاجرین کی جزا ۱۹۳
چند اہم نکات ۱۹۳
۱ ۔ ہجرت او رمہاجرین : ۱۹۳
۲ ۔” ( هاجروا فی الله ) “کا مفہوم : ۱۹۴
۳ ۔ ( من بعد ماظلموا ) “ کا مطلب : ۱۹۴
۴ ۔ ( لنبوئنهم فی الدنیا حسنة ) “ کا مفہوم : ۱۹۴
آیات ۴۳،۴۴ ۱۹۶
تفسیر ۱۹۶
نہیں جانتے تو پوچھ لو ۱۹۶
ایک اہم نکتہ ۱۹۹
اہل ذکر کون ہیں ؟ ۱۹۹
آیات ۴۵،۴۶،۴۷ ۲۰۲
تفسیر ۲۰۲
مختلف گناہوں کی مختلف سزائیں : ۲۰۲
آیات ۴۸،۴۹،۵۰ ۲۰۵
تفسیر ۲۰۵
سائے تک اللہ کے حضور سجدہ زیر ہیں ۲۰۵
ہمارے سایوں کا ہماری زندگی پر اثر ۲۰۷
آیات ۵۱،۵۲،۵۳،۵۴،۵۵، ۲۱۱
تفسیر ۲۱۱
ایک دین اور ایک معبود ۲۱۱
آیات ۵۶،۵۷،۵۸،۵۹،۶۰ ۲۱۷
تفسیر ۲۱۷
جہاں بیٹی کو باعث ِرسوائی سمجھا تاتھا ۲۱۷
چند اہم نکات ۲۲۰
۱ ۔ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کیوں کہتے تھے ؟ ۲۲۰
۲ ۔بیٹیوں کو زندہ در گور کیوں کیا جاتا تھا ؟ ۲۲۰
۳ ۔عورت کے مقام کے احیاء میں اسلام کا کر دار ۲۲۶
آیات ۶۱،۶۲،۶۳،۶۴، ۲۲۹
تفسیر ۲۲۹
خد افوراً سزا کیوں نہیں دیتا؟ ۲۲۹
اجل مسمیٰ کیا ہے ؟ ۲۳۱
آیات ۶۵،۶۶،۶۷، ۲۳۶
پانی ، پھل اور حیوانات ۲۳۶
چند اہم نکات ۲۳۹
۱ ۔ دودھ کس طرح پیدا ہوتا ہے ؟ ۲۳۹
۲ ۔ دودھ ایک اہم غذا ۲۴۱
۳ ۔ دودھ ایک خاص اور عمدہ غذا ۲۴۲
آیات ۶۸،۶۹ ۲۴۴
تفسیر ۲۴۴
شہد کی مکھی اور وحی الہٰی ۲۴۴
۱ ۔ ”وحی“ کامفہوم : ۲۴۴
۲ ۔ کیا طبعی الہام شہد کی مکھیوں سے مخصوص ہے ؟ ۲۴۵
۳ ۔ شہد کی مکھی کا گھر : ۲۴۶
چند قابل توجہ نکات : ۲۴۸
۱ ۔ شہد کس چیز سے بنتا ہے ؟ ۲۴۸
۲ ۔ ہموار اور مطیع راستے ۲۴۸
۳ ۔شہد کہاں بنتا ہے ؟ ۲۴۹
۴ ۔شہد کے مختلف رنگ ۲۴۹
۵ ۔ شہد ، غیر معمولی شفا بخش مادہ ہے ۲۵۰
۶ ۔ ”للناس“ یعنی انسانوں کے لئے ۲۵۳
۷ ۔ شہد کے بارے میں دیگر اہم امور ۲۵۳
۸ ۔ شہد کی مکھیوں کی عجیب و غریب زندگی ۲۵۴
آیات ۷۰،۷۱،۷۲ ۲۵۷
تفسیر ۲۵۷
رز ق میں اختلاف کا سبب ۲۵۷
کیا رزق کی تفریق عدالت پر مبنی ہے ؟ ۲۵۸
چند اہم نکات ۲۶۳
۱ ۔ رزق کے اسباب اور سر چشمے ۲۶۳
۲ ۔ دوسروں سے برابری کا سلوک ۲۶۷
آیات ۷۳،۷۴ ۲۶۸
تفسیر ۲۶۸
خدا کے لئے شبیہ کا عقیدہ نہ رکھو : ۲۶۸
آیت ۷۵ ۲۷۱
تفسیر ۲۷۱
مومن اور کافر کے لئے مثالیں : ۲۷۱
۱ ۔ آزاداور قیدی انسان : ۲۷۵
۲ ۔ انسان زندگی پر عدالت اور سچائی کا اثر : ۲۷۶
۳ ۔روایت پر ایک نظر : ۲۷۶