تفسیر نمونہ جلد 15

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
تفسیر قرآن


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تفسیر نمونہ جلدپانزدہم

تفسیرنمونه ، آیه الله العظمی مکارم شیرازی (مدظله العالی) کی ۱۵ ساله زحمات کا نتیجه ہے جس کو معظم له نے اہل قلم کی ایک جماعت کی مدد سے فارسی زبان میں تحریر فرمایا ، اس کا اردو اور عربی زبان میں ترجمه ہو کر شایع ہوچکا ہے.

تعداد جلد: ۱۵جلد

زبان: اردو

مترجم : مولانا سید صفدر حسین نجفی (رح)

تاریخ اشاعت: ربیع الثانی ۱۴۱۷هجری


مقدمه

لغت میں ”تفسیر“ کا معنی ہے چہرے سے نقاب ہٹانا۔

تو کیا قرآن پر جو نور کلام مبین اور تمام مخلوق کی ہدایت کے لئے حق تعالی کی واضح گفتگو ہے کوئی پردہ اور نقاب پڑا ہوا ہے۔جسے ہم ہٹانا چاہتے ہیں ؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔

قرآن کے چہرے پر تو کوئی نقاب نہیں ہے یہ تو ہم جن کے چہرے پر سے نقاب ہٹانا چاہیے اور ہماری عقل و ہوش کی نگاہ سے پردہ اٹھنا چاہیے تاکہ ہم قرآن کے مفاہیم کو سمجھ سکیں اور اس کی روح کا ادراک کر سکیں ۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ قرآن کا صرف ایک چہرہ نہیں ۔اس کا وہ چہرا جو سب کے لئے کھلا ہے وہ نور مبین ہے اور ہدایت خلق کی رمز ہے عمومی چہرا ہے ۔

رہا اس کا دوسرا پہلو تو اس کا ایک چہرا بلکہ کئی چہرے اور ہیں ۔ جو صرف غور و فکر کرنے والوں ،حق کے پیاسوں ،راستے کے متلاشیوں اور زیادہ علم کے طلب گاروں پر آشکار ہوتے ہیں ۔ اس میں سے ہر ایک کو اس کے اپنے ظرف ،خلوص اور کوشش سے حصہ ملتا ہے ۔

ان چہروں کو احادیث کی زبان میں ” بطون قرآن “ کہتے ہیں ۔ چونکہ ہر شخص ان کی تجلی نہیں دیکھ پاتا بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ ہر آنکھ انہیں دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی لہذا تفسیر آنکھوں کو توانائی دیتی ہے اور پردوں کو ہٹاتی ہے اور ہمارے اندر دیکھنے کی اہلیت پیدا کرتی ہے ۔ جتنا کہ ہمارے لئے ممکن ہے۔

قرآن کے کئی چہرے ایسے ہیں جن سے زمانہ گزرنے اور انسانی لیاقت و استعداد میں اضافے اور مالیدگی سے پردہ اٹھتا ہے ۔ مکتب علی علیہ السلام کے ہونہار شاگرد ابن عباس اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :

القرآن یفسره الزمان

زمانہ قرآن کی تفسیر کرتا ہے ۔

ان سب باتوں سے قطع نظر ایک مشہور حدیث ک ے مطابق :

القرآن یفسر بعضه بعضاََ ۔

قرآن خود اپنی تفسیر بیان کرتا ہے اور اس کی آیات ایک دوسرے کے چہرے سے پردہ اٹھاتی ہیں ۔

قرآن کا نور اور کلام مبین ہونا اس با ت کے منافی نہیں ہے کہ یہ ایک اکیلا ہے اس طرح کہ دوسرے سے پیوستہ بھی ہے اور ایک ایسا مجموعہ ہے جو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتا اور یہ سارے کا سارا نور اور کلام مبین ہے اگرچہ اس کی بعض آیات کچھ دیگر آیات کے چہرے سے پردہ اٹھاتی ہیں ۔

یہ کوشش کب شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچی

اس میں شک نہیں کہ قرآن کی تفسیر اپنے حقیقی معنی کے لحاظ سے خود پیغمبر کے زمانے سے اور آنحضرت کے پاکیزہ دل پر اس کی اولین آیات کے نازل ہونے سے شروع ہوئی اور پھر اس علم کے بزرگ اور عظیم لوگ اپنی سندوں کا سلسلہ پیغمبر کے شہر ِعلم کے در تک لے جاتے ہیں ۔

تفسیر قرآن کے سلسلے میں اب تک سینکڑوں کتابیں لکھی جا چکی ہیں جو مختلف زبانوں میں اور مختلف طرزوطریقہ کی ہیں ۔ بعض ادبی ہیں اور بعض فلسفی،کچھ کی نوعیت اخلاقی ہے اور کچھ احادیث کی بنیاد پر لکھی گئیں ہیں ۔ بعض تاریخ کے حوالے سے رقم کی گئیں اور بعض علوم جدیدہ کی اساس پر لکھی گئی ہیں ۔ اس طرح ہر کسی نے قرآن کو ان علوم کے زاویے سے دیکھا ہے جن میں وہ خود تخصص رکھتا ہے ۔

پھولوں سے لدے ہوئے اس باغ سے کسی نے دل انگیز اور شاعرانہ مناظر حاصل کئے، کسی نے علوم طبیعی کے استاد کی طرح برگ گل ، پھول ،شاخوں اور جڑوں کے اصول تلاش کرنے کی کوشش کی ہے ،کسی نے غذائی مواد سے استفادہ کیا ہے اور کسی نے دواؤں کے خواص سے ، کسی نے اسرار آفرینش سے یہ سب شگوفے اور رنگا رنگ گل چنے ہیں اور کوئی اس فکر میں ہے کہ کون سے گل سے بہترین عطر کشید کرے اسی طرح کوئی ایسا بھی ہے جس نے فقط شہد کی مکھی کی طرح گل چوسنے اور اس سے انگبین حاصل کرنے کی جستجوکی ہے۔

خلاصہ یہ کہ راہ تفسیر کے راہبوں میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک مخصوص آئینہ تھا جس سے انہوں نے قرآن کی ان زیبائیوں اور اسرار کو منعکس کیا۔ لیکن یہ واضح ہے کہ یہ سب چیزیں باوجودیکہ قرآن کی تفسیریں ہیں ان میں سے کوئی بھی قرآن کی تفسیر نہیھ کیونکہ ان میں سے ہر ایک قرآن کے ایک رخ سے پردہ ہٹاتی ہے نہ کہ تمام چہروں سے اور اگر ان سب کو ایک جگہ جمع کر لیا جائے تو پھر بھی وہ قرآن کے چند چہروں کی نقاب کشائی ہوگی نہ کہ تمام چہروں کی۔

قرآن حق تعالی کا کلام ہے اور اس کے لامتناہی علم کی تراوش ہے اور اس کا کلام اس کے علم کا رنگ اور اس کا علم اس کی ذات کا رنگ رکھتا ہے ۔ اور وہ سب لا متناہی ہیں ۔ اس بنا پر یہ توقع نہیں رکھنا چاہیےکہ نوع انسانی قرآن کے تمام چہروں کو دیکھ لے۔ کیونکہ دریا کو کوزے میں بند نہیں کیا جا سکتا ۔ تا ہم اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری فکر و نظر کا ظرف جس قدر وسیع ہوگا اتنا ہی زیادہ ہم اس بحر بیکراں کو اپنے اندر سما سکیں گے۔

اس لئے تمام علماء اور دانشوروں کا فرض ہے کہ وہ کسی زمانے میں بھی ناتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھ جائیں ۔ قرآن مجید کے زیادہ سے زیادہ حقائق کے انکشاف کے لئے اپنی پے در پے مخلصانہ سعی و کوشش جاری رکھیں ۔ قدماء اور گذشتہ علماء (خداوند عالم کی رحمتیں ان کی ارواح پاک پر ہوتی رہیں ) کے ارشادات سے فائدہ اٹھائیں لیکن انہی پر قناعت نہ کریں کیونکہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں :لا تحصی عجائبه ولا تبلی غرائبه

قرآن کی خوبیاں کبھی ختم نہیں ہوں گی اور اس کی عجیب و غریب نئی باتیں کبھی پرانی نہ ہوں گی ۔

ایک خطر ناک غلطی

تفسیر قرآن کے سلسلے میں یہ روش بہت زیادہ خطرناک ہے کہ انسان مکتب قرآن میں شاگردی اختیار کرنے کی بجائے اس عظیم آسمانی کتاب کے مقابلہ میں استاد بن بیٹھے یعنی قرآن سے استفادہ کرنے کی بجائے اس پر اپنے افکا ر کا بوجھ ڈال دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ انسان اپنے ماحول ،تخصیص علمی،مخصوص مذہب اور اپنی ذاتی رائے کو قرآن کے نام پر اور قرآن کی صورت میں پیش کرنے لگے اور یوں قرآن ہمارا امام پیشوا ، رہبر، قاضی اور فیصلہ کرنے والا نہ رہے بلکہ الٹا وہ ہمارے اپنے نظریات کی مسند نشینی اور ہمارے اپنے افکار و نظریات کی جلوہ نمائی کا ذریعہ بن جائے۔

قرآن کی تفسیر کا یہ طریقہ بلکہ زیادہ صحیح الفاظ میں قرآن کے ذریعہ اپنے افکار کی تفسیر کا یہ ڈھنگ اگرچہ ایک گروہ میں رائج ہے جو کچھ بھی ہے خطرناک ہے اور ایک دردناک مصیبت ہے جس کا نتیجہ راہ حق کی طرف ہدایت کے حصول کی بجائے صراط مستقیم سے دوری اور غلطیوں اور شبہات کو پختہ کرنے والی بات ہے۔

قرآن سے اس طرح فائدہ اٹھانا تفسیر نہیں ہے بلکہ تحمیل ہے۔ ای سے فیصلہ لینا نہیں بلکہ اس کے اوپر حکم چلانا ہے ۔یہ ہدایت نہیں بلکہ ضلالت و گمراہی ہے۔ اس طرح تو ہر چیزدگرگوں ہو جاتی ہے۔

ہماری کوشش ہے کہ اس تفسیر میں ہم انشاء اللہ یہ روش اختیار نہ کریں اور واقعاََ قرآن کے سامنے دل و جان سے زانوئے تلمذ تہ کریں اور بس۔

تقاضے اور احتیاج

ہر زمانے کی کچھ خصوصیات ، ضرورتیں اور تقاضے ہوتے ہیں جو زمانے کی بدلتی ہوئی کیفیت ، تازہ مسائل اور منشاء مشہود پر آنے والے نئے معانی و مفاہیم سے ابھرتے ہیں ۔ اسی طرح ہر دور کی اپنی کچھ مشکلات اور پیچیدگیاں ہوتی ہیں اور یہ سب معاشرتی اور تہذیبی و تمدنی تبدیلیوں کا لازمہ ہوتا ہے ۔

کامیاب افراداور صاحبان توفیق وہ ہیں جو ان ضروریات اور تقاضوں کو سمجھ سکیں جنہیں ” عصری مسائل “ کہا جاتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو ان مسائل کے ادراک سے عاری ہیں یا ادراک تو رکھتے ہیں لیکن وہ خود کسی دوسرے ماحول اور زمانے کی پیداوار ہیں جس میں یہ مسائل نہ تھے اس لئے وہ سرد مہری اور لا پرواہی سے ان مسائل کے سامنے سے گذرجاتے ہیں ۔ وہ ان مسائل کو بے کار کاغذوں کی طرح ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو پے در پے شکستوں کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

ایسے افراد ہمیشہ زمانے کی وضع و کیفیت کا شکوہ کرتے رہتے ہیں ، زمین و آسمان کو برا کہتے ہیں اور گزرے ہوئے سنہرے اور خواب و خیال کے زمانے کی یاد میں غمزدہ ، افسردہ اور پر حسرت رہتے ہیں ۔ ایسے لوگ روز بروز زیادہ بد ظن ، بد بیں اور مایوس ہوتے رہتے ہیں اور آخر کار معاشرے سے دوری اور گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ وہ زمانے کے تقاضوں اور مشکلات کو سمجھ نہیں پاتے یا وہ ایسا چاہتے ہی نہیں ۔ ایسے لوگ ایک تاریکی میں زندگی بسر کرتے ہیں اور چونکہ حوادث کے علل و اسباب اور ان کے نتائج کی تشخیص نہیں کر پاتے اس لئے ان کے مقابلہ میں گھبراتے ہوئے وحشت زدہ ، بے دماغ اور بغیرکسی منصوبہ بندی کے رہتے ہیں ایسے لوگ چونکہ تاریکی میں محو گردش ہوتے ہیں اس لئے ہر قدم پر ٹھوکر کھا تے ہیں اور کیا خوب کہا ہے سچے پیشوا نے :

جو شخص اپنے زمانے کے حالات و کوائف سے آگاہ ہے وہ اشتباہات او رغلطیوں سے بچار ہتا ہے

۱ ۔ مام صادق علیہ السلام سے ایک مشہور حدیث میں یہ مضمون یوں منقول ہے:العالم بزمانه لا تحجم علیه اللوابس ۔

ہر زمانے کے علماء اور دانشوروں کے لئے یہ پیغام ہے کہ ان کا فریضہ ہے کہ وہ پوری چابکدستی سے ان مسائل، تقاضوں ، احتیاجات اور روحانی کمزوری اور اجتماعی خالی نقاط کا ادراک کریں اور انہیں صحیح شکل و صورت میں پر کریں تاکہ وہ دوسرے امور سے پر نہ ہوجائیں کیونکہ ہماری زندگی کے محیط محال میں خلاء ممکن نہیں ہے۔

مایوس اور منفی فکر حضرات کے گمان کے برخلاف جن مسائل کو میں نے اپنی سمجھ کے مطابق واضح طور پر معلوم کیا ہے اور سمجھا ہے ان میں سے ایک نسل نوکی مفاہیم اسلام اور مسائل دینی جاننے کی پیاس ہے بلکہ یہ پیاس فقط سمجھنے کے لئے نہیں بلکہ انہیں چکھنے، چھونے اور آخر کار ان پر عمل کرنے کی ہے۔

ان مسائل نے نسل نوکی روح اور وجود کو بے قرار رکررکھا ہے لیکن یہ فطری امر ہے کہ یہ سب استفہام کی صورت میں ہے۔ ان خواہشات اور تقاضوں کا جواب دینے کے لئے پہلا قدم میراث علمی اور اسلامی تہذیب و تمدن کو عصر حاضرکی زبان میں ڈھالنا اور عالی مفاہیم کو موجودہ دور کی زبان میں موجودہ نسل کی روح، جان اور عقل میں منتقل کرنا ہے اور دوسرا قدم یہ ہے کہ اس زمانے کی مخصوص ضرورتوں اور تقاضوں کو اسلام کے اصولوں سے استنباط کرکے پورا کیاجائے۔

یہ تفسیر انہی دو اہداف و مقاصد کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔

کس تفسیر کا مطالعہ کرنا بہتر ہے

یہ ایسا سوال ہے جو بارہا مختلف طبقوں خصوصا نوجوان طبقے کی طرف سے ہمیں کیا گیا ہے ۔ یہ وہ ہیں جو خلوص سے ملی ہوئی پیاس کے ساتھ قرآن کے صاف و شفاف چشمے کے جویا ہیں اور اس محفوظ آسمانی وحی سے سیراب ہونا چاہتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ان سب کے سوال میں یہ جملہ پوشیدہ ہے کہ ہمیں ایسی تفسیر چاہئے جو تقلید کے حوالے سے نہیں بلکہ تحقیق کے حوالے سے ہمیں عظمت قرآن سے روشناس کراسکے اور دورحاضر میں ہماری ضرورتوں ، دکھوں اور مشکلوں میں راہنمائی کرسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر طبقے کے لوگوں کے لئے مفید بھی ہو اور جس میں پیچیدہ علمی اصطلاحات اس کی صاف و شفاف راہوں اور شاہراوں میں ناہمواریاں پیدا نہ کریں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ فارسی زبان میں آج ہمارے پاس کئی ایک تفاسیر موجود ہیں ۔ ا س میں شک نہیں کہ یہ وہ تفاسیر ہیں جو ہمارے قدماء بزرگوں کی میراث میں یا بعد میں عصر حاضر کے علماء نے انہیں تحریر کیا ہے اور کچھ ایسی ہیں جو چند صدیاں پہلے لکھی گئی تھیں اور ان کی مخصوص نثر علماء و ادباء سے مخصوص ہے۔

موجود تفاسیر میں بعض اس سطح پر ہیں کہ صرف خواص کے طبقے کا حصہ ہیں اور دیگر طبقات ان سے استفادہ نہیں کرسکتے اور بعض قرآن کے خاص گوشوں کو بیان کرتی ہیں ۔ ان کی مثال ایک گلدستہ کی سی ہے جسے کسی تروتازہ باغ سے چنا گیا ہو جس میں باغ کی نشانیاں توہیں لیکن باغ نہیں ہے۔

اس طرح اس بار بار کے سوال کا کوئی ایسا جواب نہ مل سکا یا بہت کم ملا کہ جو قانع ہو، وجدان کو مطمئن کرے اور پیاسے متلاشی کی تشنگی روح کو سیراب کرسکے۔

اس پر ہم نے فیصلہ کیا کہ اس سوال کا جواب عمل سے دینا چاہئے کیونکہ اس وقت اس کا صرف زبانی جواب ممکن نہیں ہے لیکن مشکلات اور روز افزوں مشاغل کے ہوتے ہوئے اور اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ قرآن ایک ایسا بیکراں سمندرہے جس میں آسانی سے اور ساز و سامان، تیاری وقت اور کافی غور و فکر کے بغیر داخل نہیں ہوا جاسکتا اور یہ وہ بحر ناپیدا کنار ہے جس میں بہت سے لوگ غرق ہوئے اور ڈوب چکے ہیں ۔ حسرت و اندوہ کے عالم میں اس دریا کے کنارے کھڑا میں اس کی امواج فروشاں کا نظارہ کررہا تھا کہ ایسے میں اچانک ایک بجلی سی فکر میں کوند گئی۔ امید کا دریچہ کھلا اور مسئلے کی راہ حل سمجھائی دینے لگی اور وہ تھی گروپ سسٹم میں کام کرنے کی سوچ اور پھر دس فاضل، مخلص، محقق، آگاہ اور باخبر نوجوان جو ”عشرہ کاملہ“ کے مصداق میں میرے رفیق راہ بن گئے۔ ان کی شبانہ روز پرخلوص کوششوں سے مختصر سی مدت میں یہ پوداثمر آور ہوگیا اور توقع سے بھی جلدی اس کی پہلی جلد چھپ گئی۔

اس بناء پر کہ کوئی نکتہ عزیز قارئین کے لئے مبہم نہ رہنے پائے ہم اپنے طریقہ کار کی بھی اجمالا تشریح کئے دیتے ہیں ۔

پہلے آیات قرآنی مختلف، حصوں میں ان محترم علماء میں تقسیم کردی جاتی تھیں ( ابتداء میں دودو افراد کے پانچ گروپ تھے)۔ ضروری ہدایات وراہنمائی کی روشنی میں وہ ان مختلف تفاسیر کا مطالعہ کرتے جو اس تفسیر کا منبع اور اصلی کتب ہیں جنہیں اس فن کے عظیم محققین نے سپرد قلم کیا ہے۔ چاہے وہ محققین سنی ہوں یا شیعہ سب کا مطالعہ کیا جاتا ۔ ہمارے زیر نظر رہنے والی تفاسیر میں سے بعض یہ ہیں :

تفسیر مجمع البیان ، تالیف شیخ المفسرین محقق عالی قدر جناب طبرسی

تفسیر انوار التنزیل ، تالیف قاضی بیضاوی۔

تفسیر الدر منثور ، تالیف جلال الدین سیوطی۔

تفسیر برہان ، تالیف محدث بحرانی۔

تفسیر المیزان ، تالیف استاد علامہ طباطبائی۔

تفسیر المنار ، محمد عبدہ مصری۔

تفسیر فی ظلال ، تالیف مصنف معروف سید قطب

اور تفسیر مراغی ، تالیف احمد مصطفی مراغی۔

اس کے بعد وہ معلومات اور ماحصل جو موجودہ زمانے کے احتیاجات اور تقاضوں پر منطبق ہوتے انہیں رشتہ تحریر میں لایا جاتا۔بعدازاں اس گروپ کی اجتماعی نشستیں ہفتے کے مختلف دنوں میں منعقد ہوتیں اور یہ تحریریں پڑھی جاتیں اور ان کی اصلاح کی جاتی۔ ان نشستوں میں ہی قرآن کے بارے میں جن نئی معلومات کا اضافہ ضروری ہوتا وہ کیاجاتا۔ پھر اصلاح شدہ تحریروں کو صاف کرکے لکھاجاتا۔ صاف کرکے لکھنے کے بعد ان سب تحریروں کو ان میں سے چندمنتخب علماء پھر سے پڑھتے اور انہیں منضبط کرتے۔ آخری شکل دینے کے لئے آخری میں میں خود پورے اطمینان سے اس کا مطالعہ کرتا اور بعض اوقات اسی حالت میں محسوس ہوتا کہ اس میں چند پہلوؤں کامزید اضافہ کیاجانا چاہئے اور پھر یہ کام انجام دیا جاتا۔ ضمنی طور پر آیات کارواں ترجمہ بھی میں اسی موقع پر کردیتاتھا۔

عام مطالب(آیات کے ذیلی ترجمہ اور بعض پہلوؤں کے علاوہ جن کا یہ حقیر اضافہ کرتا)چونکہ ان محترم حضرات کے قلم سے ہوتے تھے اورفطری طور پر مختلف ہوتے تھے اس لئے میں ان تحریروں کو ہم آہنگ کرنے کے لئے بھی ضروری کاوش انجام دیتا تھا اور ان تمام زحمات و مشقات کا ثمر یہ کتاب ہے جو عزیز قاری کی نظر سے گزر رہی ہے۔ امید ہے کہ یہ تمام لوگوں کے لئے عمدہ، مفید اور سود مند ثابت ہوگی۔


گفتار مترجم

اردو میں قرآن حکیم کے بہت سے تراجم اور تفاسیر موجود ہیں ۔ اہل تشیع کے ہاں آج بھی مولانا فرمان علی اور مولانا مقبول احمد کے تراجم و حواشی زیادہ مشہور ہیں ۔ ایک عرصہ تک تفسیر عمدة البیان کو شہرت حاصل رہی ہے۔

اب لے دے کہ تفسیر انوار النجف ہی ہے ۔ دیگر مکاتب فکر کے ہاں بھی متعدد قابل ذکر تفاسیر موجود ہیں لیکن کوئی تو مغربی دنیا کی مادی ترقی کے سامنے دفاعی کوشش معلوم ہوتی ہے اور کوئی اصل معانی و مآخذ ہی سے ہٹی ہوئی ہے اور ناروا جدت پسندی کا شکار ہے۔ ایک آدھ کو اسلامی رنگ دینے کی کوشش تو کی گئی ہے لیکن وہ بھی ذہنی ناپختگی اور مذہبی تعصب کے اثرات سے نہیں بچ سکی۔البتہ آزاد اور رواں ترجمے اور جدید اردو لہجے میں لکھی جانے والی تفاسیر کو کافی شہرت اور مقبولیت حاصل ہے۔

قرآن کے بارے میں کی جانے والی ہر کوشش سے کچھ نہ کچھ فوائد توضرور حاصل ہوئے ہیں لیکن قرآن مجید تمام علوم کی جامع کتاب ہے، اس کے تمام موضوعات کو اس طرح سے بیان کرنا کہ ہر علم کا تشنہ سیراب ہوجائے اس نظر سے دیکھا جائے تو نہ فقط پاکستان میں شیعوں کے پاس کچھ نہیں بلکہ دیگر مکاتب فکر کا بھی یہی حال ہے۔

ایران کے عظیم الشان اسلامی انقلاب نے ہمارے نوجوانوں میں قرآن شناسی کے لئے ایک نئی تڑپ پیدا کردی ہے اور ان دلوں میں ایک تازہ جوت جگادی ہے۔ اکثر نوجوان پوچھتے کہ قرآن فہمی کے لئے ہم کس تفسیر کا مطالعہ کریں تو ہمارے پاس اس کا جواب نہ ہوتا۔ شدت سے احساس ہوا کہ اردو میں کوئی مفید ترین اور جامع تفسیر لکھی جائے جو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور تمام عالمی افکار و نظریات اورعلوم و کمالات کے سامنے اسلامی عظمت اور قرآنی سر بلندی و بالاتری کا حقیقی مظہر ہو اور جس کے ذریعے قرآنی مفاہیم سے آشنائی بھی ہو اور اس الہی و الہامی کتاب سے حقیقی عشق بھی پیدا ہوسکے۔ چند ایک علماء کرام سے اس ضرورت کا تذکرہ کیا لیکن کسی نے حامی نہ بھری۔ خود اپنی کم مائیگی کا احساس جرأت نہیں دلاتا تھا۔

اسلامی فکر کو نظر اورعلوم و معارف کا اصل سرمایہ عربی اور فارسی میں موجود ہے۔ تفسیر کابیش بہا خزانہ بھی انہی زبانوں میں ہے لیکن ظاہر ہے کہ وہ یکجا تو نہیں ہے۔ وسیع مطالعے اور اجتماعی کوششوں کے بغیر اس سے بھی خاطر خواہ فائدہ ممکن نہیں ۔

فرمائشیں ، تقاضے اورسوالات بڑھتے رہے۔اس پر سیٹھ نوازش علی صاحب سے تذکرہ ہوا۔ وہ کہنے لگے آپ خود یہ کام کیوں نہیں کرتے۔ میں نے اپنی کم علمی کے علاوہ کچھ مجبوریاں بھی ان کے گوش گزار کیں ، مگر انہوں نے ہمت بڑھائی۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ عربی فارسی میں موجود کسی ایسی تفسیر کو اردو کے قالب میں ڈھالا جائے جو ہماری ضروریات کو پورا کرتی ہو۔ آخر ہم دونوں نے ایران کا سفر اختیار کیا۔ وہاں مختلف علماء کرام سے اس بات پر مشور ہ کیا کہ اس وقت کونسی تفسیر دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور روز مرہ کے سوالات کا آسان اور مناسب جواب مہیا کرتی ہے۔ ہمارے لئے یہ خوشگوار حیرت کی بات تھی کہ سب نے بالاتفاق تفسیرنمونہ کا نام لیا۔ چنانچہ یہ طے پایا کہ اسی تفسیر کا ترجمہ کیا جائے گا۔

ترجمے کے کٹھن مراحل میں بالعموم لفظی ترجمے کا اسلوب اپنایا گیا ہے اگر چہ بعض مقامات پر قارئین کی سہولت اور عبارت کی روانی کے لئے ازاد ترجمے کا طریقہ بھی اختیار کیا گیا ہے ہم مفہوم مفہوم کو منتقل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہے اس سوال کا جواب قارئین ہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں ۔

اس تفسیر کے سلسلے میں سب سے زیادہ تعاون کرنے والے اور اس کے لئے ہر طرح کی سہولیات فراہم کرنے والے میرے عزیز دوست سیٹھ نوازش علی ہیں ۔ خدا وند عالم انہیں بھائیوں ، اولاد اور دیگر اعزاء و اقارب کےساتھ خوش و خرم رکھے، ان کے اموال میں برکت دے، انہیں زیادہ سے زیادہ خدمت دین کی توفیق عطاء فرمائے اور ان کی عاقبت بخیر کرے۔ ترجمے کی نوک پلک دیکھنے ، دوبارہ لکھنے اور اشاعت کے مراحل میں عزیز ثاقب نقوی گران قدر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ عزیز محمدامین کی خدمات بھی اس ضمن میں قابل قدر ہیں ۔ پروفیسر مشکور حسین یاد، اور دیگر بہت سے احباب بھی اس کار خیر میں تعاون پر تعریف و تشکر کا حق رکھتے ہیں ۔

خدا یا ! ہمیں توفیق دے کہ ہم صرف تیری رضا کے لئے کام کریں ، جیسے تیرے بندے اصل تفسیر سے استفادہ کررہے ہیں اس کے ترجمے سے بھی صحیح طور پر فائدہ اٹھائیں ۔ اور ہماری کو تاہیوں سے در گزر کرتے ہوئے اپنی راہ میں اس کام کو ہماری آخرت کے لئے بہترین ذخیرہ قرار دے۔

اللهم صل علی محمد و عترته المعصومین و عجل فرجهم

صفدر حسین نجفی


اس تفسیر کی خصوصیات

اس بناء پر کہ عزیز و محترم قارئین زیادہ بینش و آگہی کے ساتھ اس تفسیر کا مطالعہ کرسکیں اس تفسیر کے مطالب کا ذکر یہاں ضروری ہے شاید ان میں سے کچھ ان کے گمشدہ مطالب ہوں :

۱ ۔ قرآن چونکہ کتاب زندگی ہے۔ اس لئے آیات کی ادبی و عرفانی وغیرہ تفسیر کے زندگی کے مادی، معنوی، تعمیر نو کرنے والے، اصلاح کنندہ، زندگی سنوارنے والے اور بالخصوص اجتماعی مسائل کی طرف توجہ دی گئی ہے۔ اور زیادہ تر انہی مسائل کا تذکرہ کیا گیا ہے جو فرد اور معاشرے کی زندگی سے نزدیک تعلق رکھتے ہیں ۔

۲ ۔ آیات میں بیان کئے گئے عنوانات کو ہر آیت کے ذیل میں جچی تلی اورمستقل بحث کے ساتھ پیش کیاگیا ہے۔مثلاسود، غلامی، عورتوں کے حقوق، حج کا فلسفہ، قمار بازی کی حرمت کے اسرار، شراب، سور کا گوشت، جہاد اسلامی کے ارکان و اہداف وغیرہ کے موضوعات پر بحث کی گئی ہے تاکہ قارئین اس ایک اجمالی مطالعے کے لئے دوسری کتب کی طرح رجوع کرنے سے بے نیاز ہوجائیں ۔

۳ ۔ کوشش کی گئی ہے کہ آیات ذیل میں ترجمہ رواں ، سلیس منہ بولتا لیکن گہرا اور اپنی نوع کے لحاظ سے پر کشش اور قابل فہم ہو۔

۴ ۔ لا حاصل ادبی بحثوں میں پڑنے کے بجائے خصوصی توجہ اصلی لغوی معانی اور آیات کے شان نزول کی طرف توجہ دی گئی ہے کیونکہ قرآن کے دقیق معانی سمجھنے کے لئے یہ دونوں چیزیں زیادہ موثر ہیں ۔

۵ ۔ مختلف اشکالات ، اعتراضات اور سوالات جو بعض اوقات اسلام کے اصول و فروع کے بارے میں کئے جاتے ہیں ہر آیت کی مناسبت سے ان کا ذکر کیا گیا ہے اور ان کا جچا تلا اور مختصر ساجواب دیدیا گیا ہے ۔ مثلا شبہ اکل و ماکول (وہ جانور جو دوسرے جانوروں کو کھاجاتے ہیں )، معراج تعداد ازواج، عورت اور مرد کی میراث کا فرق، عورت اور مرد کے خون بہامیں اختلاف ، قرآن کے حروف مقطعات ، احکام کی منسوخی، اسلامی جنگیں اور غزوات، مختلف الہی آزمائشیں اور ایسے ہی بیسیوں سوالوں کے جوابات اس طرح دئیے گئے ہیں کہ آیات کا مطالعہ کرتے وقت محترم قاری کے ذہن میں کوئی استفہامی علامت باقی نہ رہے۔

۶ ۔ ایسی پیچیدہ علمی اصطلاحات جن کے نتیجہ میں کتاب ایک خاص صنف سے مخصوص ہوجائے، سے دوری اختیارکی گئی ہے۔ البتہ ضرورت کے وقت علمی اصطلاح کا ذکر کرنے کے بعد اس کی واضح تفسیر و تشریح کردی گئی ہے۔

ہم توقع رکھتے ہیں کہ اس راہ میں ہماری مخلصانہ کوشش نتیجہ بخش ثابت ہوں گی اور تمام طبقوں کے لوگ اس تفسیر کے ذریعہ اس عظیم آسمانی کتاب سے زیادہ سے زیادہ آشناہوں گے جس کا نام بعض دوستوں کی تجویز پر تفسیرنمونہ رکھا گیا ہے۔

ناصر مکارم شیرازی

حوزہ علمیہ، قم

تیر ماہ، ۱۳۵۲ بمطابق جمادی الثانی ۱۳۹۳ ۔


سورہ تکویر

سورہ تکویر کے مضامین

یہ مکی سوروں میں سے ہے اور مختلف قرائن اس کی گواہی دیتے ہیں ، یہ سورہ اس حقیقت کو پیش کرتا ہے کہ کج فہم اور ہٹ دھرم دشمن پیغمبر اسلام پر پر جنون کی تہمت لگاتے تھے اور یہ صورت حال زیادہ تر پیغمبر اسلام کے مکہ کے قیام کے زمانے میں تھی اور ابتدائی تبلیغ میں یہ کیفیت تھی ۔ دشمنوں کی کو شش تھی کہ آپ کی باتوں کو سنجیدہ نہ سمجھیں اور ان پر زیادہ توجہ نہ دیں ۔ بہر حال یہ سورہ دو محوروں کے گرد گھومتا ہے پہلا محور اس سورہ کے آغاز کی آتیں ہیں جو قیامت کی نشانیوں ، اس جہا ن کے آخر میں عظیم تبدیلیوں اور قیامت کے آغاز کو بیان کرتی ہیں ۔

دوسرے محور میں قرآن کے لانے والے کی عظمت اور قرآن کی نفسوس انسانی میں تاثیر کی گفتگو ہے ۔ اس حصہ میں دل ہلادینے والی اور بیدار کرنے والی قسمیں ہیں ۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی اہمیت اور تلاوت کے بارے میں کئی حدیثیں منقول ہیں ، من جملہ ان دیگر احادیث کے علاوہ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے مر وی ہے ک”من قراء سورة اذاالشمس کورت اعاذ الله تعالی ان یفضحه حین تنشر صحیفة ” جو شخص ”اذاالشمس کورت “ کو پڑھے خدا اسے اس وقت ہر رسوائی سے محفوظ رکھے گا جب اعمال نامہ کھولیں(۱)

ایک اور حدیث میں آنحضرت ہی سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : ”من احب این ینظر الیّ یوم القیامة فلیقراء اذا الشمس کورت “۔جو شخص چاہتا ہے قیامت میں میر ادیدار کرے تو سورہ ”اذاالشمس کورت “کی تلاوت کرے(۲)

یہ حدیث ایک اور طرح سے بھی نقل ہوئی ہے :من سره ان ینظر الیّ یوم القیامة ( کانه رأن عین ) فلیقراء ” اذاالشمس کورت“ و ” اذا السماء النفطرت“ و اذا السماء النشقت “۔ جو شخص دوست رکھتا ہے کہ قیامت میں مجھے دیکھے ( گویا آنکھ سے دیکھے ( تو وہ سورہ ”اذا الشمس “ اور”اذالسماء النفطرت “ا ور”اذاالسماء النشقت “ کی تلاوت کرے اس لئے کہ ان سوروں میں قیامت کی نشانیاں اس طرح بیان ہوئی ہیں کہ تلاوت کرنے والے کو گویا صیحہ قیامت سے دوچار کردیتی ہےں ۔(۳)

ایک اور حدیث میں ہمیں ملتاہے کہ پیغمبر اسلام سے لوگوں نے عرض کیاکہ آپ پر اس قدر جلد کیوں بڑھاپے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں تو آپ نے فرما یا :شیبتی ود و الواقعة و المرسلات و عم یتساء لون و اذا الشمس کورت ۔ ” ” سورہ ہود ، واقعہ ، مرسلات ، عم اور اذالشمس کورت نے مجھے بوڑھا کردیا ۔ اس لئے کہ قرآن کے ہولناک حوادث کی ان میں اس طرح تصویر کشی کی گئی ہے کہ ہر بیدار انسان کو جلد بوڑھا کردیتی ہے ۔(۴)

امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی ایک حدیث مروی ہے کہ جو شخص سورہ ” عبس و تولیٰ“ أو ” اذا الشمس کورت“ کو پڑھے تو پروردگار کے لطف و کرم کے زیر سایہ وہ جنت ِ جاوداں میں ہوگا اور خدا کے نزدیک یہ کوئی اہم چیز نہیں ہے کہ وہ ارادہ کر۔(۵)

جو تعبیریں مندرجہ بالا آیتوں میں آئی ہیں وہ بتاتی ہیں کہ مراد ایسی تلاوت ہے کہ آگاہی اور ایمان و عمل کا سر چشمہ قرار پائے۔

____________________

۱۔ مجمع البیان ،ج ۱۰ ص۴۴۱

۲۔ مجمع البیان ،ج ۱۰ ص۴۴۱

۳۔ تفسیرقرطبی، جلد۱۰، صفحہ ۷۰۱۷۔ اس حدیث کے معنی کا سابقہ حدیث میں بھی احتمال ہے

۴۔ تفسیرنور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۱۳

۵ ثواب الاعمال مطابق نقل نور الثقلین ، جلد ۵ ص ۵۱۲


ـآیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( اذا الشمس کورت )

۲ ۔( و اذا النجوم انکدرت )

۳ ۔( واذا الجبال سیّرت )

۴ ۔( و اذا العشار عطّلت )

۵ ۔( و اذاالوحوش حشرت )

۶ ۔( و اذا البحار سجّرت )

۷ ۔( و اذا النفوس زوّجت )

۸ ۔( و اذا الموء دة سئلت ) ۔

۹ ۔( بِایّ ذنب قتلت ) ۔

ترجمہ

اس خدا کے نام سے جو مہر بان اور بخشنے والا ہے ۔

۱ ۔ جس وقت سورج کو لپیٹاجائے گا۔

۲ ۔ اور جس وقت ستارے بے نور ہوجائیں گے ۔

۳ ۔ جس وقت پہاڑ چلنے لگیں گے ۔

۴ ۔ جس وقت زیادہ قیمتی مال فراموش کردیا جائے گا۔

۵ ۔ جس وقت وحوش کو جمع کیاجائے گا۔

۶ ۔ جس وقت دریا جوش مارنے لگیں گے ۔

۷ ۔ جس وقت ہر شخص اپنے جیسے کا قرین قرار پائے گا ۔

۸ ۔ جس وقت زندہ در گور لڑکیوں سے سوال کیا جائے گا ۔

۹ ۔ کہ ان کو کس گناہ کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے ؟

جس دن کائنات کے دفتر کو لپیٹ دیاجائے گا

اس سورہ کے آغاز میں جیسا کہ ہم نے کہا ہے ، مختصر، ہیجان انگیز اور دل ہلا دینے والے اشاروں کے ساتھ اس جہاں کے اختتام اور قیامت کی ابتداء کے ہولناک حوادث سے ہمارا آمنا سامنا ہے ۔

یہ حوادث ہمیں عجیب و غریب جہانوں کی سیر کراتے ہیں ، پر وردگار عالم ان نشانیوں میں سے آٹھ نشانیون کو بیان کرتاہے ۔ پہلے ارشاد فرماتاہے :

” اس وقت جب سورج کا دفتر لپیٹ دیاجائے گا “( اذاالشمس کورت ) ۔

” کورت“ ،” تکویر“ کے مادہ سے اصل میں کسی چیز کے لپیٹنے اور جمع کرنے کے معنی میں ہے ۔ ( مثلاً سر پر عمامہ لپیٹنا) یہ ایسا مفہوم ہے جو لغت و تفسیر کی بہت سی کتب سے معلوم ہو تا ہے کبھی کسی چیز کے پھینک دینے اور تاریک ہو نے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ دونوں معانی اسی اصلی مضمون کی طرف لوٹتے ہیں ۔

بہر حال یہاں مراد سورج کی روشنی کا بجھ جانا ہے ، اس کا تاریک ہو نا ، یعنی اس کے وجود کا ختم ہو جانا ہے ، ہمیں معلوم ہے کہ فی الحال سورج ایک کرّہ ہے ، حد سے زیادہ گرم اور جلتا ہو ا، اس قدر کے اس کا تمام مواد تہہ بہ تہہ گیس کی شکل میں نکل آیاہے اور اس کے ارد گرد جلانے والے شعلے موجود ہیں جن کی بلندی لاکھوں میٹر ہے ۔ اگر کرہ زمین ان میں سے کسی شعلے کی دمریان الجھ جائے تو ایک ہی لمحہ میں خاک ہو کر تھوڑی سی گیس میں تبدیل ہو جائے لیکن اس جہان کے آخر میں قیامت کی ابتداء پر جوحرارت ختم ہو جائے گی اور شعلے بجھ جائیں گے ، اس کی روشنی بھی ختم ہو جائے گی اور اس کے حجم میں کمی ہو جائے گی ۔

تکویر کے یہ معنی ہیں ۔ اسی لئے لسان العرب میں آیاہے :

(کورت الشمس جمع ضوء ا ولف کما تلف العمامه ) سورج کی تکویر کے یہ معنی ہیں کہ اس کی روشنی سمٹ جائے گی اور لپیٹ دی جائے گی جس طرح عمامہ کو پیٹتے ہیں ۔

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی موجودہ علم بھی تائید کرتا ہے ۔ سورج کی روشنی آہستہ آہستہ تاریکی کی طرف جارہی ہے ۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے :

” اور جس وقت ستارے بے نور ہو کر غائب ہو جائیں گے “( و اذا النجوم انکدرت ) ۔

” انکدرت“،” انکدار“ کے مادہ سے گرنے اور پراکندہ ہونے کے معنی میں ہے اور کدورت کی اصل کے پیش نظر تیر گی اور تاریکی کے معنی میں ہے ۔ زیر بحث آیت میں ان دونوں کا جمع ہونا بھی ممکن ہے اس لئے کہ آغاز قیامت میں ستارے اپنی روشنی کھو بیٹھے گے ، منتشر ہو جائیں گے اور گر پڑیں گے اور عالم بالا کا نظام درہم بر ہم ہو جائے گا جیسا کہ سورہ انفطار کی آیت ۲ میں آیاہے :

( و اذا الکواکب انتثرت ) ” اور جب ستارے گر کر منتشر ہو جائیں گے “اور جیسا کہ سورہ مرسلات کی آیت ۸ میں آیا ہے( فالنجوم طمست ) اور جب ستارے مٹ جائیں گے اور تاریک ہو جائیں گے “قیامت کی تیسری نشانی کے سلسلہ میں فرماتا ہے :

”اور جب پہاڑ چلنے لگیں گے “اذالجبال سیرت “۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ قرآن کی مختلف آیتوں سے ہمیں معلوم ہوتاہے کہ آغاز قیامت میں پہاڑ مختلف مراحل طے کریں گے۔

پہلا مرحلہ یہ کہ چلنے لگیں گے اور آخری مرحلہ میں غبار میں تبدیل ہو جائیں گے ۔ اس سلسلہ میں مزید تشریح اسی جلد میں سورہ نباکی آیت ۲۵ میں ملاحظہ فرمائیں )۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے :” جس وقت نہایت قیمتی مال فراموشی کے حوالہ ہو جائیں گے “( اذاالعشار عطلت ) ۔

” عشار“ جمع ”عشراء“کی جو در اصل حاملہ اونٹنی کے معنی میں ہے جس کے حمل کو دس ماہ گذر چکے ہوں اور وہ بچہ جننے کے قریب ہویعنی زیادہ وقت نہ گزرے گا کہ وہ ایک اور اونٹ کو جنم دے گی ۔ اور بہت زیادہ دودھ اس کے پستانوں میں ظاہرہو گا ۔

جس وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں تو عرب میں اس قسم کے اوٹنی بہت قیمتی شمار ہو تی تھی ۔

”عطلت“ تعطیل کے مادہ سے سرپرست اور چرواہے کے بغیر چھوڑدینے کے معنی میں ہے ، مراد یہ ہے کہ اس دن ہولناکی اس قدر شدید ہو گی کہ ہر انسان اپنے نفیس ترین مال کو فراموش کردے گا ۔

مرحوم طبرسی مجمع البیان میں نقل کرتے ہیں کہ بعض مفسرین نے عشار کو بادل کے معنی میں لیا ہے اور ” عطلت‘ بارش کے معطل ہو جانے کے معنی میں ہے ۔ یعنی اس دن آسمان پر بادل تو ظاہر ہوں گے لیکن برسیں گے نہیں ۔ ( ہوسکتاہے یہ بادل مختلف گیسو ں سے ہوں ، یا ایٹمی بادل ہوں ، یا گرد و غبار کے تودے جو پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہو جانے سے آغاز قیامت میں ظاہر ہو ں گے )۔

لیکن طبرسی مزید کہتے ہیں کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ عشار کی تفسیر بادلوں سے کرنا ایسی چیز ہے جو لغت عرب میں معروف نہیں ہے لیکن اس مطلب کی طرف توجہ سے جو ” طریحی “ نے مجمع البحرین میں نقل کیا ہے کہ ” عشار“ اصل میں حاملہ اونٹنی کے معنی میں ہے اور اس کے بعد بار بردار کو کہا گیا ہے ۔

ممکن ہے بادلوں پر بھی اس اطلاق عام طور پر پانی کا بوجھ اٹھانے کی وجہ سے ہو اگرچہ ہو بادل جو آغاز قیامت میں نمو دار ہو ں گے بار بردارنہیں ہوں گے ( غور کیجئے)

بعض مفسرین نے ”عشار“ کی تفسیر گھروں اور زرعی زمینوں سے کی ہے جو عرصہ محشرمیں بیکار ہو جائیں گے اور ساکنوں اور زراعت کرنے والوں سے محروم ہوں گی۔لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مشہور ہے ۔ بعد میں آیت میں مزید ارشاد ہوتا ہے :

” اور جس وقت وحشی جانور اکھٹے کئے جائیں گے “( و اذا الوحوش حشرت ) ۔ وہی جانور جو عام حالات میں ایک دوسرے سے ڈرتے تھے عرصہ قیامت کے حولناک حوادث کی وحشت کی شدت ایسی ہو گی کہ ان کو ایک دوسرے کے گرد جمع کردے گی اور وہ ہر چیز کو بھول جائیں گے ، گویا وہ چاہیں گے کہ اپنے اس اجتماع سے اپنے خوف و و حشت میں کمی کریں ۔

دوسرے لفظوں میں جس وقت وہ ہولناک مناظر و حشی جانوروں سے ان کے مخصوص خواص چھین لیں گے تو انسانوں سے کیا سلوک کریں گے ۔ لیکن بہت سے مفسرین کا نظر یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت قیامت کی عدالت میں وحشی جانوروں کو جمع ہو نے کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ بھی اپنے عالم میں اور اپنی آگاہی اور شعور کے حدود میں رہتے ہو ئے جواب دہی کے پابند ہیں اور گر انہوں نے ایک دوسرے پرظلم و ستم کیا ہو گا تو وہاں ان سے بدلہ لیا جائے گا ۔

اس آیت کی سورہ انعام کی آیت ۳۸ کے ساتھ مشابہت ہے کہ جو کہتی ہے کہ:

( وما من دآبةٍ فی الارض ولا طائر یطیر بجناحیه اِلَّا امم امثالکم ما فرطنا فی الکتاب من شیء ٍ ثم الیٰ ربهم یحشرون )

کوئی زمین میں چلنے والا اور کوئی پرندہ جو پانے پروں سے پرواز کرتا ہے موجود نہیں مگریہ کہ وہ تمہاری طرح امتیں ہیں ۔ ہم نے کسی چیز کو اس کتاب میں چھوڑا نہیں ہے ، اس کے بعد تم اپنے پر ور دگار کی طرف محشور ہوگے۔

( جانوروں کے حشر و نشر اور حساب و کتاب کے سلسلہ میں تفصیلی بحث سورہ انعام کی اسی آیت کے ذیل میں جلد ۳ ص ۳۶۹ تا ۳۷۲ ہم کر چکے ہیں )۔

جو کچھ یہاں کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ زیرِ بحث آیات دنیا کے اختتام اور آخرت کے آغاز کی ہولناک نشانیوں کے سلسلہ میں بحث کر رہی ہیں ، لہٰذا پہلی تفسیر مناسب ہے ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے :۔

” جس وقت دریا و ں میں آگ لگ جائے گی “( و اذا البحار سجرت ) ۔

” سجرت“ ۔ ” تسجیر“ کے مادہ سے جلانے اور آگ کے ہیجان میں آنے کے معنی میں ہے ۔ اور اگر قرآن کی یہ تعبیر گزشتہ زمانے میں مفسیرین کے لئے عجیب و غریب تھی تو اس وقت ہمارے لئے باعث تعجب نہیں ہے اس لئے کہ ہم جانتے ہیں کہ پانی دو عناصر ، ہیڈروجن اور آکسیجن، سے مرکب ہے جو دونوں شدید طور پر قابل اشتعال ہیں ۔

بعید نہیں کہ عرصہ قیامت میں دریا اور سمندروں کاپانی اس طرح دباو اور فشار میں آجائے کہ انکا تجزیہ ہو جائے اور یہ آگ پکڑ جائیں ۔

بعض نے اس لفظ کے پر ہو نے کے معنی میں تفسیر کی ہے جیسا کہ آگ سے پر تنور کو مسجر کہا جا تا ہے ۔

ہو سکتا ہے کہ عرصہ محشر کے زلزلے اور پہاڑوں کا انتشار دریاو ں اور سمندروں کے پر ہونے کا سبب بنے یا آسمانی پتھروں کے گرنے سے وہ پر ہو جائیں اور ان کا متلاطم پانی خشکیوں کی سطح پرجاری ہو اور ہر چیز کو غرق کر دے ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے :

” اور جس وقت ہر شخص اپنے جیسے کا قرین ہو جائے گا( و اذا النفسوس زوّجت ) ۔ صالحین صالحین کے ساتھ، اور بد کار بدکار لوگوں کےساتھ ، اصحاب الیمین اصحاب الیمین کے ساتھ اور اصحاب الشمال اصحاب الشمال کے ساتھ ، اس دنیا کے بر عکس جہاں سب ملے جلے ہیں ، کہیں مومن کا ہمسایہ مشرک ہے اور کہیں صالح اور نیک کا ہمسایہ غیر صالح ہے ۔لیکن قیامت کے جو یوم الفصل یعنی جدائی کا دن ہے ، اس میں یہ صفتیں مکمل طور پر الگ الگ اور ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گی ۔

اس آیت کی تفسیر میں دوسرے احتمالات بھی پیش ہو ئے ہیں من جملہ ایک یہ ہے کہ ارواح ابدان میں پلٹ آئیں گی یا جتنی روحوں کے ساتھ جہنمی نفسوس شیاطین کے پا ہو جائیں گے یا یہ کہ ہر انسان اپنے دوست یا رفیق کے قریب ہو گا بعد میں اس کے کہ موت ان کے درمیان جدائی ڈال دے گی یا ہر انسا ن اپنے اعمال کا قرین ہو گا۔

لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔ سورہ واقعہ کی آیات ۷ سے اا تک اس کی گواہ ہیں :

( وکنتم ازواجاً ثلاثة فاصحاب المینة ما اصحاب المینة و اصحاب امشئمة ما اصحاب المشئمة و السابقون السابقون اولٰئک المقربون )

اس دن تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جاو گے۔ پہلا گروہ اصحاب مینہ کا ہے ۔ کیا کہنا اصحاب میمنہ کا ۔ دوسرا گروہ اصحاب شمال کا ہے وہ کیاہی منحوس گروہ ہے اور تیسرا گروہ سبقت کرنے والوں کاہے اور سبقت کرنے والے ہی مقربین ہیں ۔

حقیقت میں یہ آیت ایسی تبدیلیاں جو قیامت کی تمہید ہیں ، ان کے ذکرکے بعد اس عظیم دن کے ہر اول دستے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور وہ ایسا دن ہے جس میں ہر شخص اپنے قرین کے ہمراہ ہو جائے گا ۔

اس کے بعد قیامت کے ایک حادثہ کو موضوع بناتے ہوئے مزید فرماتا ہے :

” جس وقت زندہ در گور لڑکیوں سے سوال کیا جائے گا “( و اذا المو دة سئلت ) ۔” کہ وہ کس جرم میں قتل کی گئی ہیں “( بایّ ذنبٍ قتلت ) ۔

” موء دة “ ۔ ” وأد“ ( بروزن رعد) اس کی لڑکی کے معنی میں ہے جسے زندہ دفن کر دیا گیا ہو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس کے اصل معنی ثقل ، بوجھ اور سنگینی کے ہیں اور چونکہ ان لڑکیوں کو قبر میں دفن کرتے تھے اور ان پر مٹی ڈال دیتے تھے اس لئے یہ تعبیر ان کے لئے استعمال کی گئی ہے ۔

بعض روایات کے نتیجہ میں اس آیت کی تفسیر کو وسعت دی گئی ہے یہاں تک کہ ہر قسم کے قطع رحم یا مودة اہل بیت کو قطع کرنا اس میں شامل ہے ۔

ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ جس وقت اس آیت کی تفسیر کے متعلق سوال ہو ا تو آپ نے فرمایا (من قتل فی مودتنا ) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہماری محبت کی راہ میں قتل کر دیئے گئے ہیں ۔(۱)

ایک د وسری حدیث میں آیا ہے کہ اس بات کی گواہ آیت قربیٰ ہے( قل لا اسئلکم علیه اجراً الاالمودة فی القربیٰ ) ”کہہ دے میں تبلیغ نبوت کے سلسلہ میں تم سے کسی قسم کا اجر نہیں چاہتا سوائے اپنے اہل بیت کی مودة کے “ (سورہ شوریٰ ۲۳ ۔ )(۲) البتہ آیت کا ظاہری مفہوم وہی پہلی تفسیر ہے لیکن اس میں اس قسم کے مفہوم کی صلاحیت ہے ۔

____________________

۱۔تفسیر بر ہان جلد۴ ص۴۳۲، حدیث ۷ و ۱۱۔۲۔تفسیر بر ہان جلد۴ ص۴۳۲، حدیث ۷ و ۱۱۔


۱ ۔ لڑکیوں کو زندہ در گور کرنا

عربوں کے زمانہ جاہلیت کے درد ناک ترین اور نہایت وحشیانہ مظاہر میں سے ایک مظہر لڑکی کا زندہ در گور کردینا ہے جس کی طرف قرآن مجید میں بارہا اشارہ ہوا ہے ۔ اگر بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ یہ قبیح رسم عربوں میں عام تھی۔ صرف قبیلہ کندہ یا بعض دوسرے قبائل میں تھی۔ لیکن ظاہر ہے کہ یہ اقدام کچھ عجیب نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ ورنہ قرآن اس بارے میں اتنی تاکید کے ساتھ بار بار گفتگو نہ کرتا۔

بہر حال یہ کام اس قدر وحشت ناک تھا کہ اس کا کبھی کبھی ہو نا بھی نہایت قبیح امر ہے ۔ مفسرین نے کہا ہے کہ عربوں کے زمانہ جاہلیت میں جس وقت عورت کے وضع حمل کا وقت قریب آتا تو زمین میں ایک گڑھا کھود دیتے اور اس کے اوپر بیٹھ جاتے اگر نوزائیدہ بچہ لڑکی ہوتو اس کواس گڑھے میں پھینک دیتے اور اگر لڑکا ہوتا تو اسے زندہ رہنے دیتے ۔ اسی لئے ان کے شعراء میں سے ایک شاعر اس سلسلہ میں فخر یہ لہجہ میں کہتا ہے :

سمیتها اذا ولدت تموت و القبرصهو ضامن ذمیت

میں نے اس نو زائید لڑکی کا نام اس کی ولادت کے وقت تموت رکھا ( جس کے معنی مر جائے گی ) اور قبر میرا داماد ہے جس نے اسے اپنی بغل میں لے لیا اور اسے خاموش کردیا ۔(۱)

اس جرم کے مختلف اسباب و عوامل تھے

زمانہ جاہلیت میں عورت کا ایک انسان کے لحاظ سے بے قدر و قیمت ہونا اس شدید فقر و فاقہ کی کیفیت کا نتیجہ تھا جو اس معاشرہ میں مسلط تھا ۔ لڑکیاں نہ تو کچھ کماکر دے دسکتی تھی نہ ڈاکہ ڈالنے میں شرکت کر سکتی تھیں ۔

ایک سبب اور بھی اور وہ یہ کہ اس بات کا امکان تھاکہ مختلف جنگوں میں گرفتار ہو کر لڑکیاں قید ہو جائیں اور ان کی عزت و ناموس دوسروں کے قبضہ میں چلی جائے گی جس کے نتیجہ میں بے غیرتی کا دھبہ متعلقین کے دامن پر لگ جائے گا۔

یہ چند عوامل لڑکیوں کے زندہ در گور کرنے کا سبب بنے ، انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ زمانہ موجود میں بھی یہ رسم کسی نہ کسی صورت میں موجو دہے ۔ اور کچھ نہیں تو اسقاط حمل کی آزادی کی صور ت میں بہت سے متمدن ممالک میں رواج پائے ہوئے ۔ اگر زمانہ جاہلیت کے عرب نو زائیدہ بچیوں کو زندہ در گور کر دیتے تھے تو ہمارے زمانہ متمدن انسان انھیں شکم مادر میں قتل کردیتے ہیں اس کی مزید تشریح جلد ۶ ص ۳۷۲ پر سورہ نحل کی آیت ۵۹ کے ذیل میں ہم لکھ چکے ہیں ۔

۲ ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے اس اقدام کو اس قدر قبیح اور قابل ِ نفرت قرار دیاہے کہ روز ِ قیامت دوسرے اعمال کی پر سش سے پہلے اس داد خواہی کا تذکرہ کیا ہے ۔ یہ چیز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قانون ِ اسلام کی رو سے عام انسانوں خصوصاً بے گناہ انسانوں کے خون کی بہت شدید گرفت کی گئی ہے ۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اسلام کی نگاہ میں عورت کی کتنی قدر و منزلت ہے ۔

۳ ۔ ایک اور نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ قرآن میں نہیں کہا کہ قاتلوں سے سوال کریں گے بلکہ کہتا ہے کہ ان معصوم بچیوں سے سوال ہو گا کہ تمہارا کیا گناہ تھا کہ اس بے رحمانہ طریقہ پر تم کو قتل کیا گیا ۔ گو یا قاتل اس قابل بھی نہیں ہیں کہ ان سے ان کے جرم کے بارے میں پر سش بھی کی جائے بلکہ تنہا ان مقتولین کی گواہی کا فی ہے ۔

____________________

۱۔ مجمع البیان ، جلد ۱۰ ، ص ۴۴۴


آیات ۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴

۱۰ ۔( و اذا الصحف نشرت )

۱۱ ۔( و اذا السمآء کشطت )

۱۲ ۔( و اذاالجحیم سعرت )

۱۳ ۔( و اذاالجنة ازلفت )

۱۴ ۔( علمت نفسٌ مّآ احضرت )

ترجمہ

۱۰ ۔ جس وقت اعمال نامہ کھول دیئے جائیں گے ۔

۱۱ ۔اور جس وقت آسمان سے پردہ ہٹا دیا جائے گا۔

۱۲ ۔ اور جس وقت دوزخ دہک اٹھے گا ۔

۱۳ ۔ اور جس وقت جنت قریب کردی جائے گی ۔

۱۴ ۔ اس وقت ہر انسان جان لے گا کہ اس نے کیا کیا ہے ۔

اس دن معلوم ہو گاکہ ہم کتنے پانی میں ہیں ۔

اس بحث کے بعد کہ جو گذشتہ آیتوں میں قیامت کے مرحلے یعنی اس جہان کی ویرانی کے موضوع پر آئی تھی زیر بحث آیتوں میں اس کے دوسرے مرحلہ یعنی دوسرے عالم کے ظہور اورنامہ اعمال کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے : ” جس روز اعمال نامہ کھول دئے جائیں گے “( و اذاالصحف نشرت ) ۔ ” صحف “ صحیفہ کی جمع ہے ۔ یہ اس چیز کے معنوں میں ہے جو صفحہ رخ کی طرح وسیع ہو ۔ اس کا اطلاق ان تختیوں اور کاغذوں پر ہوا ہے جن پر کچھ مطالب لکھتے ہیں ۔ قیامت میں اعمال ناموں کے کھلنے سے مراد یہ ہے کہ جنہوں نے وہ عمال انجام دئے ہیں ان کے سامنے اعمال ظاہر ہو جائیں گے تاکہ وہ اپنا حساب کتاب دیکھ لیں جیسا کہ سورہ اسراء کی آیت چار میں آیاہے :( اقراء کتابک کفیٰ بنفسک الیوم علیک حسیباً ) اور ان اعمال ناموں کا دوسروں کے سامنے واضح ہونا بھی نیکو کاروں کے لئے ایک تشویق کا عنوان ہے اور بد کاروں کے لئے تشویق و سزا و رنج اور تکلیف ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے :”اور جس وقت آسمان کے سامنے سے پر دہ ہٹا دیا جائے گا “۔( و اذا السماء کشطت ) ۔ ”کشطت“ ( بر وزن کشف) کے مادہ سے اصل میں ، جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے ، جانور کی کھال اتار نے کے معنی میں ہے اور ابن منظور کے بقول ” لسان العرب “ میں کسی چیز کے رخ سے پردہ ہٹا نے کے معنی میں بھی آیاہے ، لہٰذا جس وقت بادل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں تو یہ تعبیر استعمال ہوتی ہے ۔

زیربحث آیت میں اس سے مرادیہ ہے کہ وہ پر دے جو اس دنیا میں عالم مادہ اور عالم بالا پر پڑے ہو ئے ہیں یعنی لوگ فرشتوں کو یادوزخ و جنت کو نہیں دیکھ سکتے ، وہ ہٹ جائیں گے اور انسان علم ہستی کے حقائق کو دیکھ سکیں گے ۔ جیساکہ بعد والی آیت میں آئے گا کہ جہنم شعلہ ور ہوگا اور جنت انسانوں کے نزدیک ہو جائے گی جی ہاں قیامت کا دن یوم البروزہے ۔ چیزوں کی ہیت اس دن آشکار ہو جائے گی اور آسمان کے چہرے سے پردہ ہٹ جائے گا ۔ اس تفسیرکے مطابق و مندرجہ بالا آیت قیامت کے دوسرے مرحلہ کے حوادث یعنی انسانوں کی حیات تازہ کے مراحل کی گفتگو کرتی ہے ۔ قبل و بعد کی آیات بھی انہی چیزوں کے حامل ہیں اور یہ بہت سے مفسرین اس آیت کو آسمانوں کے لپیٹے جانے اور قیامت کے پہلے مرحلہ یعنی اس عالم کی فنا سے متعلق سمجھا ہے ، یہ بہت بعید نظر آتاہے اور نہ یہ مفہوم قبل و بعد کی آیت کے ساتھ ہم آہنگ ہے ، اس لئے بعد والی آیات میں مزید فرماتاہے ” اور جس وقت جہنم شعلہ ور ہو گا “( و اذاالجحیم سعرت ) ۔( و ان جهنم لمحیطة بالکافرین ) ۔ ” بیشک دوزخ کافروں کا احاطہ کئے ہو ئے ہے “ ( توبہ/ ۴۹)

کے مطابق جہنم اب بھی موجود ہے لیکن اس دنیا کے حجابات اس کے مشاہدہ کی راہ میں حائل ہیں ۔ جیسا کہ بہت سی آیات قرآنی کے مطابق جنت بھی ان پر ہیز گاروں کے لئے تیار ہے ۔ اسی بناء پر بعد والی آیت میں فرماتا ہے :” اور جس وقت جنت ہیز گاروں کے نزدیک کر دی جائے گی “( و اذاالجنة ازلفت ) ۔ یہی معنی سورہ شعراء کی آیت ۹۰ میں بھی اس فرق کے ساتھ آئے ہیں کہ یہاں متقین کے نام کی تصریح نہیں ہو ئی ۔ ”ازلفت“ ۔ ” زلف“( بر وزن حرف) اور ”زلفیٰ “ ( بر وزن کبریٰ) کے مادہ سے نز دیکی کے معنوں میں ہے ہو سکتا ہے اس سے مراد قرب مکانی ہو یا قرب زمانی یا اسباب و مقدمات کے لحاظ سے یا پھر یہ سب امور ہوں یعنی جنت مکان کے لحاظ سے بھی مومنین کے نزدیک ہوجائے گی اور زمانِ ورود کے اعتبار سے بھی اور اس کے اسباب و علل بھی وہاں سہل و آسان ہوں گے ۔ قابل توجہ یہ ہے کہ یہ نہیں فرماتاکہ نیکو کار جنت کے نزدیک ہو جائیں گے بلکہ فرماتا ہے جنت کو ان کے نزدیک کردیں گے اور یہ بہت ہی محترم تعبیر ہے جو اس سلسلہ میں ممکن ہے ۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے جنت اور جہنم دونوں اس وقت موجود ہیں لیکن اس دن جنت زیادہ تر نزدیک اور دوزخ ہر زمانہ کی نسبت زیادہ بھڑک رہا ہوگا۔آخری زیر بحث آیت میں جو فی الحقیقت تمام گذشتہ آیتوں کی تکمیل کرتی ہے اور تمام شرطیہ جملوں کی جزا ہے جو گذشتہ بارہ آیتوں میں آئے ہیں ، فرماتا ہے :” اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے کیا کچھ حاضر کیا ہے “( علمت نفس مااحضرت ) ۔ اور تعبیر اچھی طرح بتا تی ہے کہ انسان کے تما م اعمال وہاں حاضر ہو گے اور وہاں انسان کا علم مشاہدہ لئے ہوگا ۔ یہ حقیقت قرآن کی متعدد آیات میں آئی ہے ۔ سورہ کہف کی آیت ۴۹ میں ہم پڑھتے ہیں ( و وجدوا ما عملوا حاضراً) ” جو کچھ انہوں نے اعمال کئے ہیں وہ اسے حاضرپائیں گے “۔ اور سورہ زلزال کی آخری آیات میں آیاہے : ( فمن یعمل مثقال ذرةٍ خیراً یرہ و من یعمل مثقال ذرة شراً یرہ)جس شخص نے ذرہ برابر نیک عمل کیا ہو گا وہ اسے دیکھے گا اور جس شخص نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھے گا ۔ یہ آیت بھی اعمال کی تجسیم کو بیان کرتی ہے اور یہ کہ انسانوں کے اعمال جو اس جہاں میں بظاہر نابود ہو جاتے ہیں ، وہ حقیقتاً نابود نہیں ہوتے ۔ اس دن مناسب شکلوں اور صورتوں میں مجسم ہو گے اور عرصہ محشر میں حاضر ہو گے ۔

۱ ۔نظم آیات

زیر بحث آیتوں میں اور گزشتہ آیتوں میں مسئلہ قیامت کے رابطہ سے بارہ احادیث کی طرف اشارہ ہوا ہے جن سے چھ دوسرے حوادث چھ دوسرے مرحلہ یعنی موت کے بعد کی نئی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ۔

پہلے حصہ میں سورج کے تاریک و سیاہ ہو جانے ، ستاروں کے بے نور ہونے ، پہاڑوں کے تزلزل اور حرکت میں آجانے ، سمندروں میں آگ لگ جانے ،اموال کو بھول جانے اور جانوروں کے وحشت زدہ ہو جانے کے بارے میں گفتگو ہے ۔

دوسرے مرحلہ میں انسانوں کے الگ الگ صفوں میں محشور ہونے ، بے گناہ زندہ در گورلڑکیوں سے سوال کئے جانے، نامہ اعمال کے کھلنے ،آسمانوں سے حجابات کے ہٹ جانے ، جہنم کی آگ کے بھڑک اٹھنے، جنت کے نزدیک ہونے اور آخر میں انسان کے اپنے اعمال سے مکمل طور پر آگاہ ہونے کی بات ہو ئی ہے ۔

یہ آیات ، باوجود اختصار، اس قدر پر معنی اور دل ہلانے دینے والی ہیں کہ ہر انسان کے وجود کو متزلزل کر دیتی ہےں اور اسے غور و فکر پر اس طرح مجبور کر دیتی ہےں کہ وہ اس دنیا کے انجام اور قیامت کی کیفیات کو مختصر عبارتو ں میں اپنی آنکھوں کے سامنے مجسم دیکھنے لگتاہے ۔ کس قدر زیبا، خوبصورت،اور اثر کرنے والی یہ آیات ِ قرآن ہیں اور کس قدر پرمعنی اور الہام بخش ان کے نکات ہیں ۔

۲ ۔کیا نظام شمسی ختم ہو جائے گا اور ستاروں کے چراغ گل ہوجائیں گے ؟

ہر چیز سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہئیے کہ ہمارے نظام شمسی کا یہ حیات بخش مرکز جسے ہم سورج کہتے ہیں آسمان کے باقی رہنے ستاروں کی بہ نسبت اگر چہ یہ متوسط ستارہ ہے لیکن اپنی ذات کی حد تک اور کرہ زمین کی نسبت بہت بڑا ہے ۔

ماہرین کی تحقیقق اور ان کے مطالعوں کے مطابق اس حجم کا ایک ملین اور تین کروڑ گنا زمین کے مقابلہ میں ہے البتہ یہ چو نکہ ہم سے تقریباًایک سو پچاس ملین کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے لہٰذا وہ موجود حجم میں نظر آتاہے ۔

سورج کی عظمت و وسعت کی تصویر کشی کے لئے یہی مقدار کا فی ہے کہ اگر چاند اور زمین کو اس فاصلہ کے ساتھ جو اس وقت ان دونوں کے درمیان ہے سورج کے اندرمنتقل کردیں تو چاند آسانی کے ساتھ زمین کے گردگردش کر سکتا ہے بغیراس کے کہ وہ سورج کی سطح سے خارج ہو ۔

سورج کی سطح کی حرارت چھ ہزار سینٹی گریڈ سے زیادہ ہے اور اس کے عمق کی حرار ت کئی ملین درجوں سے زیادہ ہے ۔ اگر چہ ہم چاہیں کہ سورج کے وزن کو ٹنوں کے حساب سے بیان کریں تو ضروری ہے کہ ہم دو کا عدد لکھیں اور ستائیس صفراس کے آگے لگائیں یعنی دو ارب ارب ارب ٹن۔

سورج کی سطح سے شعلہ بلند ہوتے ہیں جنکا ارتفاع کبھی تو ایک سوساٹھ ہزار کلو میڑ ہو تا ہے اور کرہ زمین اس کے اندر آسانی سے گم ہوسکتاہے ، چونکہ زمین قطرہ بارہ ہزار کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہے ، باقی رہا سورج کی نورانی روشنی دینے والی طاقت کا سرچشمہ، اس کے بر عکس جو بعض ماہرین نے طے کر کھا ہے ، وہ چلنے سے پید ا نہیں ہوتا ۔

جارج گاموف اپنی کتاب ” سورج کی پیدائش اور اس کی موت“ میں لکھتاہے کہ اگر سورج کا جسم خالص پتھر کے کوئلے سے بناہوتا اور مصر کے پہلے فرعون کے زمانے میں اسے آگ لگائی گئی ہوتی تو ضروری تھاکہ وہ اب تک سب جل چکا ہو تا اور خاک کے سوا کوئی چیز باقی نہ بچی ہوتی اور کسی قسم کے دوسرا جلنے والا مادہ اگر پتھر کے کوئلے کی جگہ ہم فرض کریں تووہ بھی یہی اشکال رکھتا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ جلنے کا مفہوم سورج پر صادق نہیں آتا۔ اس میں جو کچھ ہے وہ ایٹمی تجربوں سے حاصل شدہ طاقت ہے ہم جانتے ہیں کہ یہ طاقت ( انرجی) بہت زیادہ اور بڑی ہے اس بناء پر سورج کے ایٹم انرجی کی تبدیلی میں مصروف ہیں جو ماہرین کے حساب کے مطابق ہر سیکنڈ میں چار ملین ٹن کم ہوجاتے ہیں مگر سورج کا حجم اتنا بڑا ہے کہ ہزار ہا سال گزرنے کے باوجود اس پر کو ئی اثر نہیں پڑتا اور اس کیفیت و وضع میں معمولی سا تغیر بھی واقع نہیں ہوتا۔

لیکن جاننا چاہئیے کہ یہی چیز ایک مدت دراز کے بعد سورج کے فنا ہو جانے کا سبب بنے گی اور آخر کار یہ جرم عظیم لاغر، کمزور، پتلا اور بے نور ہو جائے گا ۔ اور یہی چیز ستاروں پر بھی صادق آتی ہے ۔(۱)

اس بنا ء پر جو کچھ اوپر والی آیات میں سورج کے تاریک ہونے اور ستاروں کے بکھر جانے کے سلسلہ میں آیاہے وہ ایسی حقیقت ہے جو مو جودہ زمانے کے علم کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور قرآن نے اس وقت ان حقایق کو بیان کیا ہے جب نہ صرف جزیرة العرب کے ماحول میں بلکہ اس زمانے کی علمی دنیا کی محفلوں میں بھی ان مسائل کی کوئی خبر نہیں تھی ۔

____________________

۱۔ اقتباس از کتب” پیدائش و مرگ خورشید“ و نجوم بی تلسکوب“ اور ” ساختمان خورشید


آیات ۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵

۱ ۵ ۔( فلآ اُقسم بالخنس ) ۔

۱۶ ۔( الجوار الکنّس ) ۔

۱۷ ۔( و الیل اذا عسعس ) ۔

۱۸ ۔( و الصبح اذا تنفَّس ) ۔

۱۹ ۔( انّه لقولُ رسول کریم ٍ )

۲۰ ۔( ذی قوةٍ عند ذی العرش مکینٍ )

۲۱ ۔( مطاعٍ ثم امینٍ )

۲۲ ۔( وما صاحبکم بمجنونٍ )

۲۳ ۔( ولقد راٰه بالافق المبین )

۲۴ ۔( وما هو علی الغیب بضنینٍ )

۲۵ ۔( وما هو بقول شیطان رجیم ٍ )

ترجمہ

۱۵ ۔ قسم ہے ان ستاروں کی جو پلٹ آتے ہیں ۔

۱۶ ۔ چلتے ہیں اور نگاہوں سے چھپ جاتے ہیں ۔

۱۷ ۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ پشت پھیرے اور آخر کو پہنچ جائے۔

۱۸ ۔ اور صبح کی جب وہ تنفس کرے۔

۱۹ ۔ کہ یہ قرآن باعظمت بھیجے ہوئے کا کلام ہے ( جبرائیل امین )۔

۲۰ ۔ جو صاحب قدرت ہے اور صاحب عرش خدا کے ہاں بلند مقام کا حامل ہے ۔

۲۱ ۔ فرمانروا اور امین ہے ۔

۲۲ ۔ اور تمہارا ساتھی( پیغمبر) دیوانہ نہیں ہے۔

۲۳ ۔ اس نے اُس کو ( جبرائیل کو)روشن افق میں دیکھا ۔

۲۴ ۔ وہ اس کے بارے میں جسے اس نے وحی سے حاصل کیا ہے بخیل نہیں ہے ۔

۲۵ ۔ یہ قرآن شیطان ِ رجیم کا قول نہیں ہے ۔

وحی الہٰی اس پر نازل ہوئی

پر وردگار عالم گذشتہ آیتوں کے بعد، جو قیامت و معاد اور اس کے مقدمات اور محشر کے عظیم دن کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ، ان آیتوں میں قرآن کی حقانیت اور پیغمبر اسلام کی گفتار کے سچ ہونے کی بحث کو پیش کرتا ہے اور معاد کے بارے میں جو کچھ گزشتہ آیات میں آیا ، حقیقت میں اس کی تائید کرتا ہے اور آگاہی بخشنے والی قسموں کے ساتھ ان مطالب کی تائید کرتا ہے ، پہلے فر ماتا ہے :

” قسم ہے ستاروں کی جولوٹتے ہیں “( فلا اقسم بالخنس ) (۱) اور نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں “( الجوار الکنس ) ۔

”خنس“۔ ” خانس“ کی جمع ہے ” خنس“ ( بر وزن شمس)کے مادہ سے اصل میں انقباض، باز گشت اور پنہاں ہونے کے معنی میں ہے ۔ اور شیطان کو اس لئے خناس کہتے ہیں کہ وہ خود کو چھپائے رکھتا ہے اور جب خدا کا نام لیا جائے تو وہ منقبض ہو جاتا ہے ۔

جیسے کہ حدیث میں آیاہے : (الشیطان یوسوس الی العبد فاذا ذکرالله خنس ) شیطان ہمیشہ خدا کے بندوں کو وسوسہ میں ڈالتا ہے لیکن جس وقت خدا کو یاد کریں تو پلٹ جاتا ہے ۔(۲)

” جوار “۔ ” جاریہ “ کی جمع ہے جس کے معنی تیز رفتار کے ہیں ۔ ” کنس“ کانس کی جمع ہے ۔ ” کنس“ ( بر وزن شمس) کے مادہ سے چھپ جانے کے معنی ہیں ۔ اور کناس ( بر وزن پلاس )پرندوں کے گھونسلوں ، ہر نوں اور دوسرے وحشی جانوروں کے چھپنے کی جگہ کو کہتے ہیں ۔

یہ کہ ان قسموں سے کیا مراد ہے بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس سے نظام شمسی کے پانچ ستاروں کی طرف اشارہ ہے جو دور بین کے بغیر دیکھے جاسکتے ہیں ۔ ( عطارد، زہرہ، مریخ ، مشتری، زحل) اس کی وضاحت یہ ہے کہ اگر ہم پے در پے چند راتوں کو آسمان پر نگاہیں لگائیں رکھے تو اس حقیقت کو سمجھنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ آسمان کے ستارے اجتماعی طور پر بتدریج طلوع ہوتے ہیں اور اکھٹے ہی غروب ہو تے ہیں بغیراس کے ان کے فاصلوں میں کوئی تبدیلی رونما ہو۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسے مروارید ہیں جو ایک سیاہ پارچہ پر معین ومقر فاصلوں پر ٹاکے گئے ہیں ۔

اس پارچہ کو ایک طرف سے اوپر لے جاتے ہیں اور دوسری طرف سے نیچے کھینچتے ہیں ، صرف پانچ ستارے ہیں جو اس قانون کلی سے مستثنیٰ ہیں دوسرے ستاروں کے درمیان چلتے پھرتے رہتے ہیں ، گویا پانچ مروارید ٹکے ہوئے نہیں ہیں ۔

اور پارچے پر آزاد قرار دئے گئے ہیں اور وہ لوٹتے پوٹتے رہتے ہیں ۔

یہ وہی مذکورہ بالا پانچ ستارے ہیں جو نظام شمسی کے خاندان کے ارکان ہیں اور ان کی حرکت قریب ہو نے کی وجہ سے ہمیں محسوس ہوتی ہے ورنہ آسمان کے تمام ستارے ہی اس قسم کی حرکات کے حامل ہیں ۔

لیکن چونکہ وہ ہم سے دور ہیں لہٰذا ہم ان کی حرکات کو محسوس نہیں کرتے۔

پھر اس نکتہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ علماء ہیئت نے ان ستاروں کا نام ” نجوم متحیرہ“ رکھا ہے ۔ اس لئے کہ ان کی حرکات خط مستقیم پر نہیں ہے اور اس طرح نظر آتا ہے کہ ایک مدت تک سیر کرتے ہیں پھر تھوڑا سا واپس پلٹتے ہیں ، دوبارہ اپنی سیر شروع کردیتے ہیں جس کے اسباب کے بارے میں علم ہیئت میں بہت سے مباحث ہیں ۔

مندرجہ بالاآیات ہو سکتا ہے اس طرف اشارہ ہوں کہ یہ ستارے حرکت رکھتے ہیں( الجوار ) اور اپنی سیر و حرکت میں رجوع و باز گشت رکھتے ہیں ۔( الخنس ) اور انجام کا ر سورج کے طلوع کے وقت پنہاں ہو جاتے ہیں ، ان ہرنوں کی طرح جو راتوں میں بیانوں میں اپنی غذا تلاش کرنے کے لئے پھرتے رہتے ہیں اور صبح کے وقت شکاریوں اور وحشی جانوروں کے خوف سے اپنا کناس اور غار میں مخفی ہوجاتے ہیں ۔( الکنس )

یہ احتمال بھی ہے کہ کنس سے مراد سورج کی شعاو ں میں پوشیدہ ہو نا ہے اس اعتبار سے سورج کے گردش کرتے وقت کبھی اس نقطہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ سورج کے قریب ہوجاتے ہیں اور پھر بالکل نظر نہیں آتے جسے علماء نجوم احتراق سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ ایک لطیف نکتہ ہے جو ان ستاروں کی وضع کیفیت کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوتا ہے ۔

بعض مفسرین کو ان ستاروں کے آسمان کے برجوں میں قرار پانے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔

جو ہرنوں کے اپنے ٹھکانوں میں پنہان ہونے سے مشابہت رکھتا ہے البتہ یہ معلوم ہے کہ نظام شمسی کے سیارے صرف ان پانچ تک محدود نہیں ہیں اور تین دوسرے سیارے اور انوس ، پلولٹوں اور نپٹون بھی موجود ہیں جو صرف صرف ان دور بینوں سے دیکھے جاسکتے ہیں جو ستاروں کو دکھاتی ہیں اور وہ کرہ ارض کے ساتھ مل کر نظام شمسی کے نوسیّاروں کو تشکیل دیتے ہیں (البتہ یہ نو سیارے ایک یا کئی چاند رکھتے ہیں جن کا حساب اس جمع سے الگ ہے )۔

” جواری “ جو جاریہ کی جمع ہے اور جس کے معنی وہ کشتیاں جو چل رہی ہوں ، ایک لطیف تعبیر ہے جو ان ستاروں کی آسمان کے سمندر میں حرکت اور چلنے کو کشتیوں کے سمندروں اور دریاو ں میں چلنے سے تشبیہ دیتی ہے ۔

بہر حال قرآن مجید گویا یہ چاہتا ہے کہ ان پر معنی اور ایک قسم کے ابہام کی آمیزش رکھنے والی قسموں کے ساتھ افکار انسانی کو بیدار کرے اور انھیں آسمان کے ستاروں کی عظیم فوج اور دستوں کے درمیان جو ان سیاروں کی مخصوص اور استثنائی وضع و کیفیت ہے اس کی طر ف متوجہ کرے تاکہ ان اجرام ِ فلکی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ غور و فکر کے بعد دماغ انسانی اس عظیم دستگاہ کو عالم وجود میں لانے والے کی عظمت سے آشنا ہو۔

بعض مفسرین نے مندرجہ بالا آیات کی کچھ اور تفسیریں بھی کی ہیں لیکن چونکہ وہ قابل ملاحظہ نہیں لہٰذا ان کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے ۔

ایک حدیث میں جو امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے ، آیاہے کہ آپ نے ان آیات کی تفسیر میں فرمایا:(ی خمسة انجم زحل والمشتری و المریخ و الزهره و عطارد ) وہ پانچ ستارے ہیں زحل ،مشتری، مریخ ،زہرہ اور عطارد۔(۳)

پس دوسری مرتبہ قسم کھا کر فرما تاہے :” قسم ہے رات کی جب وہ اپنے اختتام کو پہنچتی ہے ۔( و الیل اذاعسعس ) ” عسعس“ ۔ ” عسعسة “ کے مادہ سے اصل میں دقیق اورہلکی تاریکی کے معنی میں ہے اور چونکہ رات کی ابتداء اور انتہا میں تاریکی زیادہ ہلکی ہوتی ہے لہذٰا یہ معنی رات کے پشت پھیرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔ اور لفظ ” عسعس“ کا طلاق رات کو گردش کرنے والے ملازمین پر بھی اسی مناسبت سے ہوتا ہے ۔

جیسا کہ ہم نے کہا ہے اگر چہ لفظ مکمل طور پر دو مختلف معانی رکھتا ہے لیکن یہاں بعد میں آنے والی آیت کے قرینے کے پیش نظر جو صبح کی بات کرتی ہے مراد رات کا اختتام ہی ہے اور حقیقت میں اس قسم کے مشابہ ہے جو سورہ مدثر آیت ۳۳ میں آئی ہے( و اللیل اذا ادبر )

اصولی طور پر رات جیسا کہ ہم نے پہلے اشارہ کیا ہے خدا کی عظیم نعمتوں میں سے ہے جو جسم اور روح کے آرام و سکون کا باعث بھی ہے اور حرارتِ آفتاب کے اعتدال اور موجودات کی زندگی کے جاری رہنے کا سبب بھی ہے لیکن اختتام شب پر انحصار ممکن ہے اس بناء پر ہو کہ وہ روشنی اور نور کی طر ف رخ کئے ہوئے ہے اس سے قطع نظر پر وردگار سے منا جات اور عبادت کرنے کے لئے بہترین وقت ہے اور عالم زندگانی کے آغاز و حرکت کا لمحہ ہے ۔

آخر کار تیسری اور آخری قسم کی جانب رخ کرتے ہوئے فرماتاہے :

” قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لے“( و الصبح اذا تنفس ) ۔ کیا عمدہ اور جاذب توجہ تعبیرکی ہے ۔ صبح زندہ موجود سے تشبیہ دی ہے کہ اس کے تنفس یعنی سانس لینے کی ابتداء طلوع سپیدہ سحری سے ہوتی ہے وہ تمام موجودات میں روحِ حیات پھونکتی ہے ، گویا ایک کالے حبشی لشکر کے ہاتھ اور پاو ں کے نیچے اس کا سانس رک گیا تھا اور نور و روشنی کی پہلی شعاع کے چمکنے سے اس سے چنگل سے آزاد ہو کر تازہ سانس لینے لگی ہے ۔

یہ تعبیر اس تعبیر کے مشابہ ہے جو سورہ مدثر میں رات کی قسم کے بعد آئی ہے جس میں فرماتا ہے : ( و الصبح اذا اسفر) ” قسم ہے صبح کی جب وہ اپنے چہرے سے نقاب ہٹائے ” گویا رات کی تاریکی سیاہ نقاب کے مانند ہے جو صبح کے چہرے پر پڑی ہے ۔ سپیدہ سحر کے وقت نقاب ہٹا کر اپنا نورانی اور حیات افزا چہرہ جو زندگی کی نشانی ہے ساری دنیا کو دکھاتی ہے ۔

بعد والی آیت میں اس چیز کو جس کی خاطر یہ ساری قسمیں کھائی گئیں ہیں پیش کرتے ہو ئے فرماتا ہے :

” یقینا یہ قرآن صاحب عزت اور عظیم بھیجے ہو ئے کاکلام ہے ۔( جبرائیل امین ) جسے وہ خدا کی طرف سے اس کے پیغمبر کی طرف لایا ہے “( انه لقول رسول کریم ) ۔ یہ ان لوگوں کا جواب ہے جو پیغمبر پر اتہام لگاتے تھے کہ قرآن انہی کا بنایا ہو اہے اور اس کو خدا سے منسوب کر دیا گیا ہے ۔

اس آیت میں اور بعد والی آیت میں جبرائیل امین ، جو خداکے پیک وحی ہیں ، ان کے پانچ اوصاف بیان ہوئے ہیں ، جو ہر جامع الشرائط بھیجے جانے والے کے لئے لازمی ہیں ۔

اس کی پہلی توصیف کریم ہو نا ہے جو اس کے وجود کی قدر وقیمت کی طرف اشارہ ہے ، جی ہاں ! وہ خدا وند بزرگ کی طرف سے ہے اور قیمتی وجود جا حامل ہے ۔

اس کے بعد کے دوسرے اوصاف پیش کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے : ” وہ صاحب ِ قدر ت ہے اور عرش والے خدا کی بار گاہ میں بلند مقام کا حامل ہے “۔( ذی قوة عند ذی عرش مکین ) (۴)

ذی العرش خد اکی پاک ذات کی طرف اشارہ ہے ، اگر چہ وہ تمام عالم ہستی کا مالک ہے لیکن چونکہ عرش چاہے وہ اس عالم کے معنی میں ہو جو ماورائے طبیعت ہے ، یا خدا کے علم مکنون کے مقام کے معنی میں ہو بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے لہٰذا صاحب عرش کہہ کر اس کی تعریف کی گئی ہے ۔

ذی قوة “ ( صاحب قدرت) کی تعبیر جبرائیل کے بار ے میں اس بناپر ہے کہ اس قسم کے عظیم پیغام کے حصول اور اس کے باریک بینی پر مبنی ابلاغ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی رسالت کے حدود میں صاحب قدرت ہو اور بالخصوص ہر قسم کی فراموشی سے مبرا ہو جوابلاغ کی راہ میں حائل ہو۔

مکین اس شخص کے معنوں میں ہے جو صاحب منزلت و مکانت ہو ، بنیادی طور پر ضروری ہے کہ رسول کی شخصیت عظیم ہو تاکہ خدا کی رسالت اور نمائندگی کا فریضہ انجام دے سکے اور مقرب بار گاہ الہٰی ہو ، اور یہ مسلم ہے کہ عند کی تعبیر حضور مکانی کے معنوں میں نہیں ہے ، وہ اس لئے کہ خدا کو ئی مکان نہیں رکھتا۔ اس سے مراد حضور ِ معنوی ہے ۔

چوتھی اور پانچویں توصیف میں کہتا ہے ”وہ فرشتوں کا فرمانروا اور مطاع ہے “( مطاع ثم امین ) ۔ ثَمّ کی تعبیر جو اشارہ بعید کے لئے استعمال ہو تی ہے اس حقیقت کو پیش کرتی ہے کہ پیک وحی ِ الٰہی عالم فرشتگان میں موردِ اطاعت ہے اور ان تمام چیزوں سے قطع نظر پیام الہٰی کے ابلاغ میں انتہائی امین ہے ۔

روایات سے معلوم ہوتاہے کہ کبھی کبھی جبرائیل امین قرآن کے پہنچانے کے سلسلہ میں فرشتوں کے ایک عظیم گروہ کے ہمراہ آتے تھے اور یقیناً ان کے درمیان مطاع تھے ، یعنی سب فرشتے ان کی اطاعت کرتے تھے اور ایک رسول و سفیر کے لئے ضروری ہے کہ اس کے تمام ہمراہی اس کی اطاعت کرتے ہوں ۔

ایک حدیث میں آیاہے کہ ان آیات کے موقع پر پیغمبراکرم نے جبرائیل امین سے فرمایا:

مااحسن انثنی علیک ربک :( ذی قوة عند العرش مکین مطاع ثم امین ) فما کانت قوتک؟ وما کانت امانتک؟

تیرے پروردگار نے تیری کیاہی عمدہ تعریف کی ہے کہ فرمایا ہے صاحب قدرت ہے اور صاحبِ عرش خدا کے ہاں قرب رکھتا ہے اور وہاں فرمانرواہے اور امین ہے ۔

لہٰذا اپنی قدرت و امانت کا نمونہ پیش کر ۔

تو جبرائیل نے جواب میں عرض کیا ” میری قدرت کا نمونہ یہ ہے کہ میں قوم لوط کے شہروں کی تباہی پرمامور ہوا وہ چار شہر تھے اور ہر شہر میں چار لاکھ جنگجو افراد موجود تھے ان کی اولاد اس کے علاوہ تھی میں نے ان شہروں کو اٹھا لیا اور میں انہیں آسمان کی طرف لے گیا یہاں تک کے آسمان کے فرشتے ان کے جانوروں کی آواز سننے لگے ۔ پھر انہیں زمین کی طرف لایا اور انہیں زیر و زبر دکریا ۔

” باقی رہا میری امانت نمونہ تو یہ ہے کہ کوئی حکم ایسا نہیں کہ جو مجھے دیا گیا ہو اور اس میں میں نے معمولی ساتجاوز بھی کیا ہو“۔(۵)

اس کے بعد لوگ وہ ناروا نسبت ، جو پیغمبر کی طرف دیتے تھے ، اس کی نفی کرتے ہو ئے فرماتاہے :

تمہارا صاحب دیوانہ نہیں ہے( وماصاحبکم بمجنون ) ۔

” صاحب “ کی تعبیر جو ہمیشہ ساتھ رہنے والے رفیق، دوست اور ہم نشین کے معنی میں ہے علاوہ اس کے کہ پیغمبر تمام لوگوں کے ساتھ اخلاق و تواضع سے پیش آتے تھے اور کبھی کسی کے مقابلہ میں بر تری کا دعوی نہیں رکھتے تھے ۔

اس بات کی طرف اشارہ کہ آپ نے سالہا سال تمہارے درمیان زندگی گذاری اور تمہارے ہم نشین رہے ہیں اور تم نے انہیں عاقل و امین دیکھا ہے اور سمجھا ہے تو اب کس طرح ان کی طرف جنون کی نسبت دیتے ہو ، سوائے اس کے کہ وہ بعثت کے ساتھ ایسی تعلیمات اپنے ہمراہ لائے ہیں جو تمہارے تعصبات ، ہواو ہوس اور کورانہ تقلید کے ساتھ ساز گار نہیں ہیں ۔

لہٰذا اس خیال سے کہ تم اپنے کو ان کے قوانین اور احکامات کی اطاعت سے بچائے رکھو ، اس قسم کے اتہام ان پر لگاتے ہو ۔ ، جنون کا الزام ان تمام الزامات میں سے ایک ہے جو، آیات قرآن کے کے مطابق ، خدا کی طرف سے آئے ہوئے پیغمبروں پر ہٹ دھرم دشمنوں کی طرف سے لگائے گئے ۔

( وکذالک الذین من قبلهم من رسول الا قالوا ساحرا و مجنون )

بات اس طرح ہے کہ ان سے پہلے کوئی پیغمبر کسی قوم کی طرف نہیں بھیجا گیا مگر یہ کہ اس نے کہا کہ یہ ساحر اور جادو گر ہے یا دیوا نہ ہے ۔ ( ذاریات ۔ ۵۲) ۔

ان کی منطق میں عاقل وہ شخص تھا جو فاسد ماحول میں گھل مل جائے اور ویسی ہی خواہشات کی پیروی کرے ۔ جدھر کی ہوا ہو ادھرکو چلے اور ہر اصلاحی و انقلابی تحریک سے بے تعلق رہے ۔اس معیار اور ضابطے کے مطابق دنیا پرستوں کی تاریک نگاہ میں تمام پیغمبر دیوانے تھے ۔

اس کے بعد پیغمبر اسلام نے جبرائیل امین سے ارتباط کی تاکید کے لئے مزید فرماتاہے :”اس نے یقینی طور پر جبرائیل کا واضح اور آشکار افق میں مشاہدہ کیا ہے ،،۔( ولقد راٰه بالافق المبین ) ۔

افق مبین سے مراد وہی افق اعلیٰ اور فرشتوں کو آشکار کرنے والا افق ہے جس میں پیغمبر اکرم نے جبرائیل کا مشاہدہ کیا۔

بعض مفسرین نے سورہ نجم کی آیت ۷ کو جس میں ہے( وهو بالافق اعلیٰ ) اس تفسیر پر شاہد سمجھا ہے لیکن جیسا کہ سورہ نجم کی تفسیر میں ہم بیان کرچکے ہیں ۔

کہ یہ آیت اس سورہ کی باقی آیات کی طرح ایک دوسری حقیقت کو بیان کرتی ہے جو اس کی طرف رجوع کرنے سے واضح ہو گی ۔

بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ پیغمبر نے جبرائیل امین کا ان کی اصلی شکل و صورت میں دوبارہ مشاہدہ کیا ۔ایک دفعہ آغاز بعثت میں کہ جبرائیل آنحضرت کے سامنے افق بالا پر ظاہرہوئے اور تمام مشرق و مغرب کو ڈھانپ لیا اور دوسری مرتبہ معراج میں کہ پیغمبر نے انھیں اوپر والے آسمان میں ان کی اصلی صورت میں دیکھا اورمفسرین زیر ِ بحث آیت میں اسی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔

یہ احتمال بھی ہے خدا کی مراد ایسا مشاہدہ ہو جو شہود باطنی کے لحاظ سے ہو ۔مزیدوضاحت کے لئے جلد ۲۲ ،ص ۴۸۶ سے آگے سورہ نجم کی آیت ۵ تا ۱۳ کی طرف رجوع فرمائیے۔

اس کے بعد مزید فرماتا ہے :” پیغمبر اس چیزکے بارے میں جو اس نے بطریق وحی عالم غیب سے حاصل کی ہے بخیل نہیں ہے “۔

( وماهو علی الغیب بضنین ) ۔ ہر چیز بے کم و کاست بند گان کے اختیارمیں دے دیتا ہے ۔

وہ بہت سے دوسرے لوگوں کے مانند نہیں کہ جب کسی اہم حقیقت پر دسترس حاصل کرلیتے ہیں تو اس کو چھپانے پر اصرار کرتے ہیں

اور اکثر اس کے بیا ن پر بخل سے کام لیتے ہیں اور بسا اوقات ان معلوم مات کو اپنے ساتھ قبر میں لے جاتے ہیں ۔

پیغمبر ایسے نہیں ہیں وہ پورے جود و سخا کےساتھ ، جو کچھ حاصل کرتے ہیں اسے تمام ضرورت مندوں کے سامنے بیان کردیتے ہیں حتیٰ کہ انھیں بھی بتا دیتے ہیں جو بلندی اور قرب کے قائل ہی نہیں ہیں اس امید پر کہ شاید ہدایت حاصل کریں اور راہ حق کو حاصل کریں ۔

”ضنین “۔” ضنّہ“ (بروزن منّہ)نفیس اور قیمتی اشیاء کے بارے میں بخل کرنے کے معنی میں ہے اور ایہ ایک عیب ہے جوکبھی کسی پیغمبر میں نہیں ہوتا۔ اور اگر دوسرے افراد اپنے علوم کے بارے میں ایسے عیب کا شکار ہیں تو ہوا کریں ۔ پیغمبر ، جس کے علم کا سر چشمہ علم ِخدا کا بیکراں سمندر ہے ، اس قسم کی باتوں سے مبرا ہے

پرورگارِ عالم مزید فرماتا ہے : ” اور وہ شیطان رجیم کی کہی ہوئی بات نہیں ہے “( وما هوبقول شیطان الرجیم ) ۔

یہ آیات قرآنی ہر گز کاہنوں کی باتوں کی طرح نہیں ہیں جو شیاطین سے تعلق کی وجہ سے معلوم کر لیتے تھے ، اور پھر اس حقیقت کی نشانیاں اس کے کلام سے ظاہر ہیں ۔

اس لئے کہ کاہنوں کی باتیں جھوٹی ہو تی تھیں ۔ ان میں بہت سے شبہات ہوتے تھے اور وہ غلطیوں کی آمیزش سے ملوث ہوتی تھیں ، اور شیطانی میلانات و خواہشات کے گرد گھومتی تھیں ، اس چیزکا قرآن مجید سے کوئی تعلق نہیں

یہ حقیقت میں ان کی تہمت کا جواب ہے ۔ مشرکین کہتے تھے کہ پیغمبر ( معاذ اللہ ) کاہن ہیں اور جو کچھ وہ لائے ہیں انھوں نے شیاطین سے لیا ہے ، حالانکہ شیطانی باتیں گمراہ کن ہو تی ہیں اور قرآنی آیات سراسر نور ِ ہدایت اور روشنی ہیں اور یہ حقیقت قرآنی آیات کو دیکھتے ہی ثابت ہو جاتی ہے ۔

لفظ” رجیم “ اصل میں رجم اور ” رجام “ ( بروزن لجام ) کے مادہ سے پتھر کے معنی میں لیا گیا ہے ۔ اس کے بعد قسم کے بعد ہر قسم کے دور کرنے کے معنی میں آیاہے اور شیطان رجیم سے مراد یہاں یہی معنی ہیں ، یعنی وہ شیطان جو بار گاہ خدا وندی سے نکالا گیاہے

____________________

۱۔ یہ کہ لا اقسم میں ” لا نافیہ ہے یا زائد اور تاکید کے لئے ہے مفسرین نے اس سلسلہ میں کئی بحثیں کی ہیں اور چونکہ سورہ قیامت کی ابتداء میں اسی جلد میں اس عنوان پر ہم بحث کر چکے ہیں لہٰذا تکرار کی ضرورت نہیں ۔

۲۔لساب العرب مادہ خنس۔۳۔ مجمع البیان ، جلد۱۰ ص۴۴۶۔

۴۔ ” مکین “ ۔” مکانت“کے مادہ سے مقام و منزلت کے معنوں میں ہے اور جیسا کہ راغب کے مفردات میں کلمات سے اور دوسرے مفسرین سے معلوم ہوتا ہے یہ اصل میں کون کے مادہ سے اسم مکان ہے ، اس کے بعد کثرت استعمال کی بناپر اسے مادہ فعل کے برابر قرار دیا گیا ہے اور تمکن اس سے مشتق ہوا ہے ، تمسکن کی طرح جو سکون کے مادہ سے ہے ۔۵۔ مجمع البیان، جلد۱۰،ص ۴۴۶۔ یعنی مضمون تفسیر در المنثور میں بھی زیر بحث آیات کے ذیل میں آیاہے ۔


رسول کی شائستگی کی شرطیں رسول کی شائستگی کی شرطیں

پانچ صفتیں جو مندرجہ بالاآیات میں جبرائیل امین کے لئے پیغمبر گرامی اسلام کی طرف خدا کے بھیجے ہو ئے قاصد کے عنوان کے ماتحت آئی ہے ، ان میں سے دو صفتیں ایسی ہیں جو ہر رسول اور فرستادہ خدا میں سلسلہ مراتب کو نظر میں کھتے ہوئے پائی جانی ضروری ہیں ۔

پہلی صفت کرامت اور عمدہ صفات ِنفسی کا حامل ہو نا ہے جو اس کو رسالت جیسے اہم کام کا اہل بنادے ۔

دوسری صفت قدرت کا حامل ہو نا ہے تاکہ اپنے اثر رسالت کو قاطعیت اور توانائی کےساتھ وہ آگے بڑھیں اور ہر قسم کے ضعف وکمزوری سے دور ہوں ۔

اس کے بعد اس ہستی کی بارگاہ میں مقام و منزلت رکھنا جس کی رسالت کو اس نے قبول کیا ہے ( مکین ) تاکہ پیغامات کو اچھی طرح حاصل کرے اور اگر جواب کی ضرورت ہو تو بغیر کسی خوف و خطر کے اس کا ابلاغ کرے ۔

چوتھی صفت یہ کہ اگر امر رسالت اہمیت رکھتا ہوتو اس کے معاون ہو نے چاہئیے جو اس کی مدد کریں ۔ ایسے معاون جو اطاعت گذاراور فرمانبردار ہوں ۔ (مطاع)

آخری اس کا امانتدار ہونا تاکہ وہ لوگ جو اس رسول سے پیغام لیں اس پر اعتماد کریں اور اس کی گفتگو بے کم و کاست اس کا کلام شمار ہو جس کی طرف سے وہ آیاہے

جب یہ پانچوں اصول پورے ہوں تو پھر حق رسالت و پیغمبری ادا ہو گا ۔ اسی لئے ہم پیغمبر اسلام کے حالات و آپ کی تاریخ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ آپ اپنے بھیجے ہوئے ایلچیوں کواحتیاط کے ساتھ ، ان افراد میں سے جو ان صفات کو حامل ہوتے تھے ، منتخب کرتے تھے۔ جس کا ایک زندہ نمونہ جناب امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی ذات ہے اور پیغمبر کی طر ف سورہ برأت کی ابتدائی آیات کی مشرکین مکہ کے سامنے ان خاص حالات میں تبلیغ ہے جس کی تفصیل سورہ برأت میں آچکی ہے ۔

حضرت فرماتے ہیں : (رسولک ترجمان عقلک و کتابک ابلغ ما ینطق عنک ) تیرا بھیجا ہوا تیری عقل کو نمایا ں کرتا ہے اور تیرا خط تیری بات کا نہایت پر گو ناطق ہے ۔(۱)

____________________

۱۔ نہج البلاغہ،کلمات قصار، کلمہ ۳۰۱


آیات ۲۶،۲۷،۲۸،۲۹

۲۶ ۔( فاین تذهبون ) ۔

۲۷ ۔( اِن هو الاّ ذکر للعالمین ) ۔

۲۸ ۔( لمَن شآء منکم اَن یستقیمَ ) ۔

۲۹ ۔( وما تشآ ءُ ونَ اِلا اَن یشآءَ اللهُ ربُّ العالمین َ ) ۔

ترجمہ

۲۶ ۔ پس تم کہاں جارہے ہو۔

۲۷ ۔ یہ قرآن عالمین کے لئے صرف نصیحت ہے ۔

۲۸ ۔ ان لوگوں کے لئے جو چاہتے ہیں کہ نصیحت حاصل کریں ۔

۲۹ ۔ اور تم نہیں چاہتے مگر وہ جو عالمین کا پر وردگار چاہے۔

اے غافلو!کہا جارہے ہو ؟

گذشتہ آیات میں یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ قرآن مجید خدا کا کلام ہے اس لئے کہ اس کے مضامین سے ہویدا ہے کہ یہ شیطانی کلام نہیں ہے بلکہ رحمن کا کلام ہے جو پیک وحی الہٰی کے ذریعہ ، قدرت و امانتِ کلی کے ساتھ اس پیغمبر پر ، جو انتہائی طور پر اعتدال عقلی کا حامل ہے ، نازل ہو اہے ، ایسا پیغمبر جس نے تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا اور جو کچھ اسے تعلیم دی گئی ہے اس نے اسے بے کم و کاست بیان کیا ہے ۔

پروردگار عالم زیر بحث آیات میں مخالفین کو اس عظیم کلام کی پیروی نہ کرنے کی وجہ سے مستحق سرزنش قرار دیتا ہے اور ایک استفہام توبیخی کے ساتھ فرماتا ہے :

” ان حالات میں تم کہاں جا رہے ہو “( فاین تذهبون ) ۔ کیوں راہ راست کو چھوڑ کر بے راہ روی اختیار کرتے ہو اور کیوں اس چراغ ِ فروزاں سے منہ موڑ کر تاریکی کی طرف روادواں ہو۔ کیا تم اس سعادت و سلامتی کے دشمن ہو ؟اس کے بعد مزید فرماتا ہے :

” یہ قرآن تمام لوگوں کے لئے نصیحت ہی نصیحت ہے “۔( اِنْ هو الاذکر للعالمین ) ۔

سب کو نصیحت کرتا ہے تاکہ وہ خواب غفلت سے بیدار ہوں اور چونکہ ہدایت و تربیت کے لئے فاعل کی صرف فاعلیت ہی کافی نہیں ہے بلکہ قابل کی قابلیت در کار ہے ، لہٰذا بعد میں آنے والی آیت میں مزیدفرماتا ہے :

” قرآن ان لوگوں کے لئے ہدایت کا باعث ہے جو تم میں سے چاہتے ہیں کہ صراط مستقیم اختیار کریں “

( لمن شاء منکم ان یستقیم ) ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ گذشتہ آیت میں فرمایا ہے کہ قرآن تمام لوگوں کے لئے نصیحت و بیداری کا سبب ہے اور اس آیت میں صرف ایک گروہ کا ذکر کرتا ہے وہ لوگ جو ہدایت کو قبول کرنے اور راہ راست اختیار کرنے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں ۔

یہ فرق اس بناپر ہے کہ گذشتہ آیت فیض الہٰی کی عمو میت کو بیان کرتی ہے اور یہ آیت اس فیض سے فائدہ اٹھانے کی شرط کو قبول کرتی ہے ، تمام مواہب اور نعمتیں اسی طرح ہیں کہ اصل فیض عام ہیں لیکن اس سے فائدہ اٹھانا ارادہ کی پختگی سے مشروط ہے ۔

انہی معانی کو لئے ہوئے سورہ بقرہ کی آیت ۲ بھی آئی ہے( ذالک الکتاب لاریب فیه هدی للمتقین ) اس کتاب میں کوئی شک و تردد نہیں ہے اور یہ پر ہیز گار روں کے لئے سبب ہدایت ہے ۔

بہر حال یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو بتاتی ہےں کہ خدا نے انسان کو آزاد و مختار پیدا کیا ہے اور راہ حق و باطل کو طے کرنے کا آخری فیصلہ اس کے اختیار میں ہے ۔

یستقیم کی تعبیر جاذبِ توجہ اور عمدہ ہے جو بتاتی ہے کہ اسے راہ مستقیم پر چلائیں اور اگر افراط و تفریط، شیطانی وسوسے اور گمراہ کرنے والے پروپیگنڈے درمیان میں نہ ہوں تو انسان ندائے فطرت کے ذریعہ اس صراط مستقیم پر قدم رکھ سکتاہے ۔

ہمیں معلوم ہے کہ خطِ مستقیم ہمیشہ مقصد کی نزدیک ترین راہ ہوتاہے لیکن چونکہ اس بات کا امکان ہے کہ انسان کا ارادہ یہ تو ہم پیدا کرے کہ آدمی اس طرح آزاد ہے کہ اس راستے کو طے کرنے میں الہٰی توفیق کی کوئی احتیاج نہیں رکھتا تو بعد میں آنے والی آیت میں ، جو اس سورہ کی آخری آیت ہے ، فرماتا ہے :

” ارادہ نہیں کرتے مگر یہ کہ عالمین اور تمام جہانوں کا پر وردگار ارادہ کرے “

( وماتشاء ون الاان یشاء الله رب العالمین ) ۔ در حقیقت ان دونوں آیات کا مجموعہ اس دقیق و ظریف مسئلہ امرٌ بین الامرین کو بیان کرتاہے ۔ ایک طرف کہتا ہے ارادہ کی پختگی تمہارے اپنے اختیار میں ہے اور دوسری طرف کہتا ہے جب تک خدا نہ چاہے تم ارادہ نہیں کرسکتے ۔یعنی اگر تمہیں مختار و آزاد پیدا کیاگیا ہے تو یہ اختیار و آزادی بھی خدا کی جانب سے ہے ۔ اس نے چاہا ہے کہ تم ایسے رہو ۔

انسان اپنے اعمال میں نہ مجبور ہے نہ سو فیصدی آزاد ہے نہ طریقہ جبر صحیح ہے نہ طریقہ تفویض بلکہ جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ جسم و ہوش ، عقل و تونائی، ارادہ کی پختگی کی قوت،وہ سب خدا کی جانب سے ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جو ہمیشہ سے ایک طرف تو خالق کا محتاج ونیاز مندبناتی ہے اور دوسری طرف اس کی آزادی اور اختیار کے تقاضے کی بناپر اسے ذمہ داری سونپتی ہے ۔

” رب العالمین “ کی تعبیر اچھی طرح بتاتی ہے کہ مشیت الہٰی بھی انسان اور تمام عالمین کی تربیت ، تکامل اور ارتقاء کی راہ میں دخل رکھتی ہے وہ کبھی بھی نہیں چاہتا کہ کوئی گمراہ ہو اور گناہ کر کے اس کے جوار رحمت سے دور ہو ۔ وہ اپنے ربوبیت کے تقاضے سے ان تمام لوگوں کی مدد کرنا چاہتاہے کہ راہ ارتقاء میں قدم رکھیں ۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلک جبرکی طرفدارصرف دوسری آیت سے چمٹے ہوئے ہیں جب کہ ممکن ہے کہ تفویض کے طرفدار بھی پہلی آیت سے متوسل ہوں ۔ آیات کو ایک دوسر ے سے جدا کرنا جو عام طورپر پہلے کئے ہوئے غلط فیصلوں کا معلول ہے گمراہی کا سبب ہے ۔

آیات قرآن کو ایک د وسرے کے ساتھ رکھ کر ان کے مجموعہ سے فائدہ اٹھانا چاہئیے۔ قابل توجہ یہ امر ہے کہ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ جب پہلی اآیت ”لمن شاء منکم ان یستقیم“ نازل ہوئی تو ابوجہل نے جو عملی طور پر نظریہ تفویض کا حامی تھا ، کہا بڑااچھا ہو اکہ تمام اختیارات ہمیں دےدئے گئے ہیں ۔ یہی موقع تھا کہ دوسری آیت نازل ہوئی ”( وما تشاء ون الا ان یشاء الله رب العالمین ) “۔(۱)

خدا وندا ! ہم جانتے ہیں کہ راہ مستقیم کو طے کرنا تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ ہمیں اس راہ کو طے کرنے کی توفیق عطا فرما۔پر وردگارا ! ہماری خواہش ہے کہ ہم راہ ہدایت پر چلیں تو بھی ارادہ فرما کہ اس راہ میں ہماری دستگیری فرمائے ۔بار الہٰا ! محشر کا منظر اور تیری داد گاہ عدل و انصاف بہت ہولناک ہے اور ہمارا نامہ اعمال حسنات سے خالی ہے ہمیں اپنے عضو و فضل کی پناہ میں جگہ دے ، نہ کہ میزان عدل و انصاف کے سامنے ۔آمین یا رب العالمین ۔

سورہ تکویر کا اختتام

____________________

۱۔ روح المعانی ، جلد۳۰ص۶۲۔ اور روح البیان، جلد۱۰ ص۳۵۴۔


سورہ انفطار

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا اس میں ۱۹ آیتیں ہیں ۔

سورہ انفطار کے مضامین

یہ سورہ قرآن مجید کے آخری پارے کی بہت سی سورتوں کی مانند قیامت سے متعلق مسائل کے بارے میں ہے اور اس کی آیتوں میں مجموعی طور پر اس تعلق کے پانچ موضوعات کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔

۱ ۔ اشراط الساعة یعنی وہ عظیم حوادث جو اس جہان کے اختتام اور قیامت کی ابتداپر رونما ہوں گے ۔

۲ ۔ انسان کی توجہ خدا کی نعمتوں کی طرف جنہوں نے اس کے سارے وجود کو گھیر رکھا ہے ، اور اس کے غرور کو توڑ نے کی جانب ، تاکہ وہ اپنے کو معاد کے لئے تیار کرے ۔

۳ ۔ ان فرشتوں کی طرف اشارہ جو انسانوں کے اعمال کو ثبت کرنے پرمامور ہیں ۔

۴ ۔ قیامت میں نیک و بد لوگوں کی سر نوشت۔

۵ ۔ اس عظیم دن کی سختیوں کا ایک گوشہ ۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

ایک حدیث امام صادق علیہ السلا م سے منقول ہے کہ (من قراء هاتین السورتین ” اذا السماء انفطرت“ و اذاالسماء انشقت“ و جعلهما نصب عینه فی صلٰوة الفریضة و النافلة لم یحجبه من الله حجاب و لم یحجزه من الله حاجز و لم یزل ینظر الی الله و ینظر الله الیه حتی یفرغ من حساب الناس )

جو شخص ان دوسورتوں ( سورہ انفطار اور سورہ انشقاق) کی تلاوت کرے اور دونوں کو نماز فریضہ و نافلہ میں اپنا نصب العین بنالے تو کوئی اسے خدا سے محجوب نہیں کرسکے گا اور کوئی چیز اس کے اور خدا وند متعال کے درمیان حائل نہیں ہوگی۔(۱) یقینا سب سے بڑی نعمت بارگاہ خدا وندی میں حضوری ہے اوربندہ کے اور خدا کے درمیان سے حجابوں کا ہٹ جانا اس کے لئے ہے جو ان دونوں سوروں کو اپنے دل و جان کی گہرائیوں میں جگہ دے اور اپنی اس بنیاد پر اصلاح کرے ، نہ یہ کہ صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا کرے ۔

____________________

۱۔ مجمع البیان، جلد۱۰ ، ص ۴۴۷۔ نور الثقلین ، جلد۵ ،ص۵۲۰( از کتاب ثواب الاعمال


آیات ۱،۲،۳،۴،۵

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( اذا السّمآء انفطرت )

۲ ۔( و اذاالکواکب ا نتثرت )

۳ ۔( و اذا البحار فجّرت )

۴ ۔( و اذا القبور بُعثرت )

۵ ۔( علمت نفس ماقدّمت و اخّرت )

ترجمہ

خدا کے نام سے جو مہر بان اور بخشنے والا ہے ۔

۱ ۔ جس وقت(کرّاتِ آسمانی )پھٹ جائیں گے ۔

۲ ۔ جس وقت ستارے پراکندہ ہو کر گر پڑیں گے ۔

۳ ۔ اور جس وقت سمندر ایک دوسرے سے مل جائیں گے ۔

۴ ۔ اور جس وقت قبریں زیر و زبر ہو ں گی۔ ( اور مردے خارج ہوں گے )۔

۵ ۔ اس وقت ہر شخص جان لے گا کہ اس نے آگے کیابھیجا ہے اور پیچھے کیا چھوڑا ہے ۔

جس وقت جہان کا نظام زیر و زبر ہو جائے گا ۔

ہم پھر اس سورہ کے آغاز میں بعض ایسے وحشت ناک حوادث کا سامنا کررہے ہیں جو آغازِ قیامت میں سارے جہان کو گھیرلیں گے ۔ پہلے فرماتا ہے :

” جس وقت آسمان میں شگاف پڑجائیں گے “۔( اذا السماء انفطرت ) ۔ اور جس وقت ستارے پراکندہ ہوکر گرنے لگیں گے ۔

( و اذا الکواکب انتثرت ) ۔ عالم بالاکا نظام درہم برہم ہو جائے گااور ہولناک دھماکے سارے آسمان کے کروں کے گھیر لیں گے تمام منظومے اپنے نظام کھو بیٹھیں گے ۔ اور ستارے اپنے مدار سے نکل جائیں گے ، اور شدید تصادم کی وجہ سے ادھر ادھر بکھر جائیں گے۔ اس جہان کی عمر ختم ہو جائے گی اور عام چیزیں ویران ہو جائیں گی تاکہ ان کی ویرانی سے آخرت کا جہاں آباد ہو جائے۔

” انفطرت“ انفطار کے مادہ سے شگافتہ ہونے کے معنوں میں ہے ۔ اس تعبیر کی نظیر بہت سی آیات میں آئی ہے ۔ منجملہ دیگر تعبیرات کہ سورہ انشقاق کی آیت ۱ میں پڑھتے ہیں( اذا السماء انشقت ) اور سورہ مزمل کی آیت ۱۸ میں فرماتا ہے :( السماء منفطربه )

” انتثرت“ اصل میں مادہ نثر ( بروزن نصر) سے پراکندہ کرنے اور ہونے کے معنی میں ہے اور چونکہ ستاروں کا پراکندہ ہونا( گلوبند کی طرح جس کا دھاگہ ٹوٹ جائے) سبب بنتاہے کہ ہر ایک کسی گوشہ میں جاگرے۔

بعض مفسرین نے ستاروں کے سقوط اور ان کے گرنے سے تفسیر کی ہے اور یہ پراکندگی کے معنی کا لازمہ ہے ۔

” کواکب“ کو کب کی جمع عربی زبان میں بہت سے معانی میں آتی ہے دوسرے ستارے بطور عام اور زہرہ ستارہ بطور خاص۔

وہ سفیدی جو آنکھ میں ظاہرہوتی ہے ، بلند گھاس، درخت کا شگوفہ، فولاد کی چمک، زیبا و خوبصورت نوجوان، تلوار، پانی اور کسی جمیعت کا رئیس ۔

لیکن ظاہری طور پراس کے حقیقی معنی وہی درخشاں اور فروزاں ستاروہ ہیں ۔ باقی معانی مجازی شمار ہوتے ہیں جن میں اصلی معانی کی مشابہت پائی جاتی ہے ۔

یہ کہ ستاروں کا پراکندہ ہونا اور آسمانی کواکب کاانفجار اور پھٹنا اور ان کے نظام کا درہم برہم ہونا کن عوامل و اسباب کے زیر اثر رونما ہوگا۔ کیا فطرت کا اعتدال درہم بر ہم ہو جائے گا یا کوئی عظیم مرموز قوت اسے اپنے تحت الشعاع قرار دے گی یا عالم کا عظیم تدریجی انبساط اور پھیلاو موجودہ زمانے میں ماہرین کے نقطہ نظر سے اثبات کے درجہ کو پہنچ گیاہے یہان تک ہوجائے گا کہ جس کے بعد یہ نتیجہ بر آمد ہوگا ۔ کوئی شخص ٹھیک طرح نہیں جانتا ۔

لیکن ہمیں اتنا معلوم ہے کہ جس وقت یہ عظیم آسمانی کرے اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہو گے تو اس وقت کمزور ، ضعیف انسان کا جو حال ہو گا وہ ظاہر ہے ۔

یہ سب کچھ اس جہان کے فنا ہونے کے بارے میں انسان کو خبر دار کرنا ہے اور اسے تنبیہ کرنا ہے تاکہ وہ اس دنیا کو ایسا جاودانی گھر نہ سمجھ بیٹھے جس میں اسے ہمیشہ رہنا ہے ،اس سے دل نہ لگائے اور اس کے لئے ہزار ہا گناہوں سے آلودہ نہ ہو۔

اس کے بعد آسمان سے ہٹ کر زمین کو موضوع بناتاہے اور فرماتاہے :

” جس وقت سمندر اور دریا آپس میں مل جائیں “( اذاالبحارفجرت ) ۔ اگرچہ اس وقت بھی روئے زمین کا سمندر ، سوائے کچھ چھوٹے دریاو ں کے ، ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں لیکن یوں نظر آتا ہے کہ ابتدائے قیامت میں شدید زلزلوں کی بناپر یاپہاڑوں کے پراکندہ ہونے اور سمندرمیں گر پڑنے کی وجہ سے سمندر اس طرح پر ہو جائیں گے کہ پانی تمام خشکیوں کو گھیر لے گا اور سارے دریا ایک وسیع تر سمندر کی شکل اختیار کرلیں گے جیسا کہ سورہ تکویر کی آیت ۶( و اذا البحار سجرت ) کی ایک یہ بھی تفسیر ہے جس کی طرف ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں ۔

دوسرا احتمال جو اس آیت کی تفسیر میں اور اسی طرح سورہ تکویر کی آیت ۶ کی تفسیرمیں پیش کیاگیا ہے ، یہ ہے کہ فجرت اور سجرت وہی انفجار یعنی پھٹنا اور جلنا ہے جو تمام سمندروں اور دریاو ں کو آگ کے ایک عظیم ٹکڑے میں تبدیل کردے گا ۔

جیسا کہ ہم نے اشارہ کیاہے پانی دو عناصر سے تشکیل پاتاہے جو دونوں شدید طور پر قابل احتراق یعنی جلنے کے قابل ہے ، اب اگر سمندروں کے پانی کا تجزیہ ہو اور وہ کچھ عوامل و اسباب کے زیر اثر آکسیجن اور ہیڈروجن مین تبدیل ہو جائے تو ایک ہی شعلہ کے زیر اثر سب آگ میں تبدیل ہوجائیں ۔

اس کے بعد قیامت کے دوسرے مرحلے کے بارے میں جو اس جہاں کی تجدیدِ حیات اور مردوں کی زندگی کی تجدید کا مرحلہ ہے فرماتا ہے :

” اور جس وقت قبریں زیر و زبر ہوں “( و اذا القبور بعثرت ) ۔ اورمردے باہر آکر حساب کتاب کے لئے آمادہ ہوں ۔

” بعثرت“ کے معنی زیر و زبر ہونا اورمنتشر ہونا ہے ، راغب مفردات میں بعید نہیں سمجھا کہ یہ لفظ دو الفاظ سے مرکب ہو” بعث“ اور ”اثرت“ اسی لئے دونوں کے معنی اپنے اندر لئے ہوئے ہیں اور نتیجہ زیر و زبر ہونے کے معانی کی صورت میں نکلاہے ۔ ( مثل بسملہ کے جو بسم اللہ سے لیا گیا )۔

بہر حال جو اوپر والی آیات میں آیاہے اس چیزکے مشابہ ہے جو ہم سورہ زلزال میں پرھتے ہیں :( و اخرجت الارض اثقالها ) ” زمین اپنے ذخائر باہرنکالے گی “ ( اس بناپر اس سے مراد زمین دفن شدہ مردے ہوں گے جو اس آیت کی مشہور تفاسیر میں سے ایک ہے )۔ یا اس چیز کے مشابہ ہے جو سورہ نازعات کی آیت ۱۳ اور ۱۴ میں آئی ہے ۔( انماهی زجرة واحد فاذا هم بالساحرة ) ” صرف ایک ہی صحیفہ ہوگا جس کے بعد اچانک سب کے سب صحفہ زمین پر ظاہر ہو ں گے۔

یہ سب تعبیریں بتاتی ہیں کہ مردوں کا زندہ ہونا اور قبروں سے خارج ہونا نہایت تیزی سے ناگہانی طور پر صورت پذیر ہوگا ۔ ان نشانیوں کو بیان کرنے کے بعد جو قیامت سے قبل اور اس کے بعد صورت پذیر ہوں گی آخری بات کو اس طرح بیا ن کرتاہے :

” اس دن ہر شخص جانتا ہے کہ اس نے آگے کیا بھیجا ہے اور پیچھے کیا رکھا ہے “( علمت نفس ماقدمت و اخرت ) ۔ جی ہاں ! اس دن حجابات ہٹ جائیں گے ، غرور اور غفلت کے پردے چاک ہو جائیں گے اور حقائق جہاں چاک ہو جائیں گے اور حقائق جہان آشکارہو جائیں گے ۔ اور چونکہ وہ دن یوم البروز ہے لہٰذا ہر چیز ظاہر ہو جائے گی اور یہ وہی وقت ہے کہ انسا ن اپنے تمام اعمال کو دیکھے گا اور اپنے نیک و بد سے آگاہ ہوگا ، کون سے اعمال وہ آگے بھیج چکا ہے اور کون سے کام ہیں جن کے آثار انکے بعد دنیا میں باقی رہ گئے ہیں اور اس کے نتائج اس تک پہنچے ہیں ۔

خیرات اور صدقہ جاریہ کے مثل ۔اور وہ تعمیرات و آثار جو مقاصد رحمانی یا مقاصد شیطانی کے لئے اس نے بنائی ہیں اور پیچھے جھوڑ گیا ہے یا کتابیں اور دیگر علمی آثار وغیرہ ۔ علمی آثار جو نیک و بد مقاصد کےلئے اس نے اپنے بعد چھوڑے ہیں اور وہ دوسروں کے لئے استفادہ کا باعث بنے ہیں ۔ ایسے نیک و بد سنن و طرق جنہوں نے اقوام و ملل کو اپنی طرف کھینچا ہے یہ ہیں ان کاموں کے نتائج انسان کے بعد اس تک پہنچے ہیں اور جو اوپر والی آیت ہیں ” اخرت“ کا مصداق ہیں ۔

یہ ٹھیک ہے کہ انسان اس دنیا میں بھی اجمالی طور پر اپنے اعمال سے باخبر ہے لیکن بھول جانا اور اپنے اعمال کی پرستش کرنا عام طور پر مانع ہوتا ہے کہ انسان ان سب کو اپنے دل میں جگہ دے اور اپنے اعمال کے آثار کی گہرائی اور عمق سے واقف ہو۔

لیکن اس دن ہر چیز میں انقلاب بر پاہو گاتو انسان کی روح اور جان بھی اس قسم کے انقلاب سے متأثر ہوگی یہ وہ جگہ ہوگی جہاں انسان اپنے تمام اعمال کا تفصیلی علم حاصل کرے گا بلکہ سورہ آل ِ عمران کی آیت ۳۰( یوم تجد کل نفس ما عملت من خیر محضراً و ما عملت من سوءٍ ) سب کو اپنے سامنے حاضر پائے گا ۔

بعض مفسرین نے اس آیت کے لئے اور تفاسیر بھی بیان کی ہیں ۔ منجملہ دیگر تفاسیر سے مراد وہ کام ہیں جنہیں ابتدائے عمر میں مقدم رکھتاتھا اور وہ کام جو اواخر عمر کےلئے چھور رکھے تھے ۔ لیکن پہلی تفسیر ہر جہت سے زیادہ مناسب ہے ۔ نفس سے مراد یہاں نفسوس انسانی میں سے ہر فرد ہے اور اس میں تمام افراد ِ بشر شامل ہیں ۔

وہ آثار جو انسان کے بعد باقی رہ جاتے ہیں

علاوہ اس چیز کے جو اوپر والی آیات میں آئی ہے اسلامی روایت سے اچھی طرح معلوم ہوتاہے کہ ہو سکتاہے کچھ آثار انسا ن کے بعد باقی رہ جائیں جن کی بر کتیں یا برے نتائج سالہا سال تک حتیٰ کہ قیامت تک اس شخص کو پہنچتے رہیں ۔

ایک حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے :

( لیس یتبع الرجل بعد موته من الاجر الَّا ثلاث خصال : صدقة اجراها فی حیاته فهی بعد موته و سنة هدی سنّها فهی تعمل بها بعد موته وولد صالح یستغفر له )

انسا ن کی موت کے بعد اس کے اعمال کی کتاب بند ہو جاتی ہے اور سزا یا جزا اسے نہیں ملتی لیکن تین طریقوں سے اجر یا سزا مل سکتی ہے ۔ عمارتیں یا مفید چیزیں جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے وہ اپنی طرف سے بطور یاد گار چھوڑ گیا ہے ، جو اس کے بعد باقی ہیں ، دوسرے ہدایت کرنے والی سنت جسے وہ وجود میں لایاہے اور اس کی موت کے بعد اس پر عمل ہو رہاہے اور تیسرے وہ نیک اور صالح بیٹا جو اس کے لئے استغفار کرتاہے ۔(۱)

ایک دوسری روایت میں یہ چھ امور بیان کئے گئے ہیں جو مومنین کی حالت کے لئے ان کی موت کے بعد مفید ہیں ، نیک بیٹا ، وہ قرآن جس کی وہ تلاوت کرتا تھا ، وہ کنواں جو اس نے کھو دا تھا ، وہ درخت جو اس نے بویا تھا ، پانی مہیا کرنا سنت حسنہ جو اس کے بعد رہ جائے اور مورد ِ توجہ قرار پائے ۔(۲)

بعض روایات میں اس علم و دانش پر جو کسی کی جانب سے لوگوں میں رہ جائے انحصار کیا گیا ہے ۔(۳)

” جو شخص کوئی نیک سنت جاری کرے اور دوسرے اس کی پیروی کریں تو وہ اپنا اجر تو رکھتا ہی ہے اس کے علاوہ ان لوگو ں کے اجر کے برابر بھی جنہوں نے اس کی پیروی کی ہے ، بغیر اس کے کہ ان کی پیروی کرنے والے لوگوں کے اجر میں کوئی کمی ہو ، اور جو شخص بری سنت جاری کرے اور لوگ اس کی پیروی کریں تو اس کا اپنا گناہ تو ہے ہی ، اس کے علاوہ جن لوگوں نے اس کی پیروی کی ہے ان کے گناہوں کے برابر بھی اس کا گناہ ہے ، بغیر اس کے کہ پیروی کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ کمی ہو“۔

یہ وہ مقام تھا جہاں اصحاب پیغمبر میں سے حذیفہ نے آیت ( علمت نفس ماقدمت و اخرت) کی تلاوت کی ۔(۴)

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

(فکیف بکم لو تنا هت بکم الامور و بعثر ت القبور هنالک تبلوا کل نفس مااسلفت و ردوا الیٰ الله مولاهم الحق و ضل عنهم ماکانوا یفترون )

تمہارا کیا حال ہوگا جب تمام امور اختتام پذیرہوں گے ، قبریں زیر و زبر ہوں گی اور تم سب کے سب عرصہ محشر میں قیام پذیر ہوں گے وہاں ہر شخص ہرعمل کو جسے اس نے پہلے انجام دیا ہو گا آزمائے گا اور سب کے سب خدا کی طرف پلٹ جائیں گے جو ان کا حقیقی مولا و سر پرست ہے اور جنہیں جھوٹ موٹ ا سکی مثل قرار دیا تھا ، ان کے دل سے محو ہوجائیں گے ۔(۵)

یہ آیات و روایا ت انسان کی ذمہ داری کی حدود کو ا س کے اعمال کے مقابلہ میں اسلامی نقطہ نظر سے معین کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ کس حد تک ہر انسان اپنے اعمال کے سلسلہ میں جواب دہ ہے ، یہاں تک کہ ممکن ہے کہ ہزار ہا سال گزرنے کے بعد اس کے لئے اچھا اجر حاصل کریں یا اس کے لئے اچھا اجر حاصل کریں یا اس پر لعنت و گناہ کا بوجھ ڈالیں ۔ اس سلسلہ میں جلد ۱ ، ص ۲۰۲ تا ۲۰۴( سورہ نحل کی آیت ۲۵ کے ذیل میں ) پر بھی ہم بحث کر چکے ہیں ۔

____________________

۱۔ بحار الانوار، جلد ۷۱، ص۲۵۷۔

۲۔ بحار الانوار، جلد ۷۱، ص۲۵۷۔

۳۔منیة المرید۔ ص۱۱۔

۴۔ مجمع البیان ، جلد ۱۰ ، ص۴۴۹۔

۵۔ نہج البلاغہ خطبہ ۲۲۶۔


آیات ۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲

۶ ۔( یا ایها الانسان ما غرک بربک الکریم ) ۔

۷ ۔( الذی خلقک فسوّٰک فعدلک ) ۔

۸ ۔( فی ایّ صورةٍ ما شآء رکّبک ) ۔

۹ ۔( کلّا بل تکذّبون بالدّین ) ۔

۱۰ ۔( و انّ علیکم لحٰفظین ) ۔

۱۱ ۔( کراماً کاتبین ) ۔

۱۲ ۔( یعلمون ما تفعلون ) ۔

ترجمہ

۶ ۔ اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے کریم پر وردگار کے مقابلہ میں مغرور کردیاہے ؟

۷ ۔ وہ خدا جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے درست کیا ، پھر تجھے اعتدال پر رکھا۔

۸ ۔ اور جس شکل میں چاہتاتھا تجھے مرکب کیا ۔

۹ ۔ جیسا تم خیال کرتے ہو ویسا نہیں ہے ، بلکہ تم روز جز ا کے منکر ہو ۔

۱۰ ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ تم پر نگہبان مقرر کئے گئے ہیں ۔

۱۱ ۔ بلند منزلت والے اور لکھنے والے ( تمہارے نیک و بد اعمال کے )۔

۱۲ ۔ وہ جانتے ہیں کہ تم کیا کرتے ہو۔

اے انسان تجھے کس چیز نے مغرور کردیا ہے ؟

گذشتہ آیتوں کے بعد جو قیامت کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں زیر بحث آیتوں میں انسان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے اور اس کو خدا کے سامنے اس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پہلے اسے مخاطب کیا ہے اور تیز ڈانٹ ڈپت کے ساتھ جس میں ایک طرح کا لطف و کرم بھی ملا ہوا ہے ، فرماتا ہے :

” اے انسان تجھے کس چیز نے تیرے کریم پروردگار سے غافل کیا ہے اور اس کے مقابلہ میں مغرور کیا ہے “( یاایها الانسان ماغرک بربک الکریم ) ۔

یہاں انسان کا اس کی انسانیت کے لحاظ سے جس میں اس جہان کے باقی موجودات کے مقابلہ میں تمام امتیازات کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے ، مخاطب کیا ہے ، اس کے بعد اس سے اس خدا کے سامنے پیش کیا ہے جو رب بھی ہے اور کریم بھی ہے ، جس نے اپنی ربوبیت کے تقا ضے سے ہمیشہ اسے اپنی رحمت سے نوازا ہے اور اس کی تربیت و تکامل و ارتقاء کا ذمہ لیا ہے اور اپنے تقاضائے کرم سے اپنے خوان نعمت پر جگہ دی ہے ۔ اور اپنی تمام مادی اور معنوی نعمتوں سے سرفرازکیاہے بغیر اس بات کے کہ اس سے کوئی توقع رکھتاہو اور ان تمام نعمتوں کا اجر اس سے طلب کرے ، حتیٰ کے اس کی خطاو ں سے بھی چشم پوشی کرتا ہے اور اپنے لطف و کرم سے اسے مورد عفو و بخشش قرار دیتا ہے ۔

کیا یہ مناسب ہے کہ قسم کا وجود ایسے پروردگار کے مقابلہ میں جسارت و غرور سے کام لے لیایا ایک لمحہ کے لئے بھی اسے غافل ہو اور ا س کے فرمان کی انجام دہی میں جو خود اس کی سعادت کا ضامن ہے ، قصورو کوتاہی کا ارتکاب کرے ۔

اسی لئے ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کے موقع پر فرمایا: ( غرّہ جھلہ) اس کی جہالت و نادانی سے اسے مغرورو جاہل بنا یا ہے ۔(۱)

یہاں واضح ہو جاتا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ اپنی ربوبیت و کرم پر انحصار کرتے ہوئے وہ انسان کے غرور و غفلت کو ختم کرے ۔ اس طرح سے جیسا کہ بعض نے خیال کیا ہے کہ مقصود کلام یہ ہے کہ آدمی کو تلقین کی جائے کہ خدا سے عذر خواہی کے سلسلہ میں وہ جواب میں کہے” تیرے کرم نے مجھے مغرور کیا ہے “۔

نیز جو کچھ فضل بن عیاض سے نقل ہو اہے کہ ا س سے سوال کیا گیا کہ اگر تجھے خدا قیامت کے دن اپنے حضور میں طلب کرے اور تجھ سے سوال کرے ۔” ما غرک بربک الکریم “ تو جواب میں تو کیا کہے گا ۔ اس نے کہا میں جواب میں کہوں گا ’ ’غرنی ستورک المرخاة“ جو پردے تونے میرے گناہ پر ڈالے ہوئے تھے انہوں نے مجھے غافل و مغرور کیا ہے ۔

یہ سب مفہوم آیت کے ساتھ ساز گار نہیں ہے بلکہ آیت کے مفہوم کے تضاد سے تعلق رکھتا ہے اس لئے کہ مقصودِ آیت غرور کو ختم کرنا ہے اور خواب غفلت سے بیدار کرنا ہے ، نہ یہ کہ نیا پردہ غفلت کے پردوں پر ڈالنا ہے اس بناپر مناسب نہیں ہے کہ آیت کو اس کے مقصد سے دور لے جائیں اور اس کی متضاد کیفیت سے نتیجہ کلام اخذ کریں ۔

”غرک “ غرور کے مادہ سے اصل میں بیداری کے موقع پرغفلت کے معنی میں ہے دوسرے لفظوں میں ایسے مقام پر غفلت سے کام لینا جہاں غفلت کرنا بالکل نامناسب ہے ہو، اور چونکہ غفلت بعض اوقات جسارت یا احساس برتری کا سبب بنتی ہے لہٰذا غرور کے لفظ کی ان معانی سے بھی تفسیر ہوئی ہے اور شیطان کو اسی وجہ سے غرور(بروزب شرور) کہتے ہیں وہ انسان کو اپنے وسوسوں سے فریب دیتا ہے اور اسے غافل و مغرور کردیتا ہے ۔

” کریم “ کی تفسیر میں مفسرین نے انواع و اقسام کی تعبیریں پیش کی ہیں ، بعض نے کہا ہے کہ کریم وہ بخشنے والاہے جس کے تمام افعال احسن ہیں اور وہ کبھی اتنی بخشش کے ہوتے ہوئے نفع و نقصان کا خیال نہیں کرتا ۔

بعض نے کہا کہ کریم وہ شخص جو طلب سے زیاد ہ بخش دے ، بعض مفسرین نے کہاہے کہ کریم وہ شخص ہے جو تھوڑی سی متاع کو قبو ل کرلیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں زیادہ قیمت دیتا ہے لیکن حقیقت میں یہ سب چیزیں کریم کے مفہوم میں شامل ہیں ۔

خدا کے کرم کے سلسلہ میں بس اتنا کافی ہے کہ وہ صرف گناہگاروں کو معاف کر کے راضی نہیں ہوتا بلکہ شائستہ افراد کے گناہوں کو حسنات میں تبدیل کردیتا ہے ۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اس آیت کی تفسیر میں عجیب وغریب جملہ ارشاد فرماتے ہیں :

یہ آیت سننے والے کے سامنے بہت مضبوط دلیل ہے اور ایسے شخص کے سامنے جسے جہالت و نادانی نے مغرورکردیا ہو قاطع عذر ہے۔ خدا فرماتا ہے :

” اے انسان تجھے کس چیز نے گناہ کرنے پر جرأت دلائی ہے اور کس چیز نے تجھے تیرے پر وردگار کے مقابلہ میں مغرور کردیا ہے اور کس چیز نے اپنی ہلاکت کےساتھ تعلق پیدا کردیا ہے ؟ کیا تیری اس بیماری کےلئے صحت مند ہونا نہیں ہے ، تیرے اس خواب کے لئے بیداری نہیں ہے ۔ توخود پر کم ازکم اتنا تو رحم کر جتنا تو دوسروں پر کرتا ہے ۔

تو جب کسی کو جلانے والے سورج کی دھوپ میں دیکھے تو اس پر سایہ کرتا ہے ، جب کسی بیمار کو دیکھے کہ دردو تکلیف نے اسے سخت نالاں کردیا ہے توتوُ اس پر رحم کھاکر آنسو بہاتا ہے تو وہ کیا شئے ہے جس نے اپنی بیماری پرتجھے ایک طرح کا صبر کرنے والا بنادیا ہے اور اپنی مصیبت پرمطمئن کردیا ہے اور خود پر گریہ کرنے سے بعض رکھا ہے ۔

حالانکہ تیرے نزدیک عزیز ترین افراد میں سے تو خود ہے تو پھر کس طرح رات کو نزول بلا کے خوف نے تجھے بیدار نہیں کیا حالانکہ گناہ و مصیبت میں تو غوطہ زن ہے اور اس کے غلبہ سے باہر بھی نہیں ہے ۔

آ اور اس غفلت کی بیماری کا عزم ِ صمیم کی دوا سے علاج کر اور اس خواب غفلت کو جس نے تیری آنکھوں کو گھیر رکھا ہے ۔ بیداری سے بر طرف کر ۔آخدا کا مطیع و فرمانبردار بن جا اور ا س کی یاد سے مانوس ہو ۔

اچھی طرح سے جان لے کہ تیرے خدا سے غفلت کرنے کے موقع پر وہ نعمتیں دینے پر تجھ سے عنایت کرتاہے اور تجھے اپنے عفوو کرم کی طرف بلا تاہے اور اپنی بر کتوں کے زیر سایہ تجھے دیکھنا چاہتا ہے حالانکہ تونے اس کی طرف پشت کر رکھی ہے اور دوسرے کی طرف رخ کررکھا ہے ۔

بزرگ و عظیم ہے وہ خدا جو باوجود اس عظیم قدرت کے کریم ہے لیکن تو باوجود اس ضعف و حقارت کے اس مصیبت پر کس قدر جری ہے ۔(۲)

اس کے بعد اس غافل انسان کو بیدار کر نے کے لئے اپنے لطف و کرم کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتا کرتے ہوئے فرماتا ہے :

”وہ خدا جس نے تجھے پیدا کیا ہے پھر تیرے وجود کی دستگاہ کو منظم کیا اور تجھے اعتدال بخشا“( الذی خلقک فسوّاک فعدلک ) ۔(۳)

اور اس طرح خلقت کے چار مرحلوں کو یعنی اصل خلقت ، پھر اس کی تنظیم ، پھر اس میں اعتدال ، آخر میں ترتیب بندی کو چار مختصر سی پر معنی عبارتوں میں بیان کرتاہے ۔

پہلے مرحلے میں اصل خلقت انسانی قرار پائی ہے کہ اسے ناچیز و حقیر نطفہ سے رحم کے ظلمت کدے میں خلق کیا۔ بعد کے مرحلہ میں جو تسویہ و تنظیم کا مرحلہ ہے اس کے پیکر کے اعضاء میں ہر عضو کو تنظیم کے ساتھ موزوں کیا ۔

آنکھ ،کان ،دل ، رگیں اور باقی اعضاء جن میں سے اگر انسان ہر ایک کی ساخت ، بناوٹ اور نظام پر غور و فکر کرے اور خد اکے لطف و کرم کو ان میں سے ایک ایک میں دیکھے تو علم و قدرت اور لطف و کرم کی ایک دنیا اپنی آنکھوں کے سامنے مجسم دیکھے گا۔

وہ نعمتیں کہ ہزارہا سال گزرے نے کے بعد بھی ماہرین علوم طبعی ان کے بارے میں غور و فکرکرتے ہیں اور لکھتے ہیں لیکن ابھی آغاز کار ہے اور وہ ابھی تحقیق کی ابتداء ہی میں ہیں ۔

اس کے بعد ایک تیسری نعمت کو موضوع گفتگو بناتا ہے اور وہ اعضاء جسم انسانی کے درمیان اعتدال و ہم آہنگی ہے جسم انسانی دو حصوں پر مبنی پیدا کیا گیا ہے جو دونوں ایک دوسرے کے معاون ہیں ۔ ہاتھ ، پاو ں ، آنکھ ، کان ، استخواں ، عروق و اعصاب و عضلات جسم کے دونوں حصوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے والے اور ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہیں ۔

علاوہ از این مختلف اعضاء بھی ایک دوسرے کے کام کی تکمیل کرتے ہیں ۔ مثلاًسانس لینے کا نظام گردش خون کی مدد کرتا ہے اور گردش خون کا نظام تنفس کے ساتھ کر کے غذا کے لقمے کونگلنے کےلئے اور دانت، زبان ،لعاب دہن کے غدود اور اطراف دہن کے عضلات اور گلا یہ سب ایک دوسرے کے دست بدست کام کرتے ہیں ، یہاں تک لقمہ ہاضمہ کے نظام میں داخل ہو جاتا ہے ۔

اس کے بعد بھی بہت سی ہم آہنگیاں صورت پذیر ہوتی ہیں تاکہ غذا جزوِ بدن ہوسکے اور قوت و حرکت و سعی کو شش کو پیدا کرے۔

یہ سب ”فعدلک“ کے جملہ میں پنہاں ہیں ۔ بعض اس جملہ کو تمام انواع حیوانات میں سے انسان کے سیدھے قد کی طرف ، جو اس کے بہت ہی فضیلت کا باعث ہے ، اشارہ سمجھتے ہیں ۔یہ معانی بعد والے مرحلے کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں لیکن پہلے معانی زیادہ جامع ہیں ۔

انجام کار آخری مرحلہ، دوسرے موجودات کے مقابلہ میں اس کی ترکیب اور صورت پذیری کا آن پہنچتاہے ۔ جی ہاں ! خدا نے نوع انسان کو دوسرے حیوانات کے مقابلہ میں موزوں تر بنایا ہے اور اسے عمدہ شکل عنایت کی ہے اور ایسی سیرت دی ہے جس میں زیبائی و خوبصورتی کے ساتھ فطری بیداری بھی ہے اور ایسی ترکیب جو علم ، آگاہی، تعلیم و تربیت کو قبول کرنے پر آمادہ ہے ۔

اس سے قطع نظر افرادِ انسانی کی صورتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور جیساکہ سورہ روم کی آیت ۲۲ میں آیاہے :”تمہارے رنگوں اور زبانوں کا اختلاف خدا کی آیات میں سے ہے “۔’ ’( و من اٰیاته خلق السماوات و الارض و اختلاف السنتکم و الوانکم ) اگر یہ اختلاف نہ ہوتا تو نوعِ بشر کی اجتماعی زندگی کا نظام معطل ہو جاتا۔

اس اختلاف ِ ظاہری کے علاوہ استعداد، ذوق اور سلیقے کے اختلاف قرار دئیے ہیں ۔ اور ان کی دو صورتیں بنائیں جن کا اس کی حکمت تقاضا کرتی تھی تاکہ ان کے مجموعہ سے ایک صحیح و سالم معاشرہ وجود میں آئے جو اپنی تمام ضرورتوں کو پورا کرے اور انسانوں کے ظاہری و باطنی قوہ ایک دوسرے کے تکمیل کنندہ بنےں ۔ اور مجموعی طور پر ، جیساکہ سورہ ( تین ) کی آیت ۴ میں آیاہے -”( لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ) “ خد انے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے ۔

خلاصہ کلام یہ کہ ان آیتوں میں اور بہت سی دوسری قرآنی آیات کی طرح خدا اس بھلادینے والے اور مغرور انسان کو اپنی معرفت کی راہ دکھا تا ہے اور یہ کہتاہے کہ رحم مادر سے لیکر اپنے پیدا ہونے تک کے زمانے کا اور اس وقت سے لیکر مکمل نشو و نما کی منزل تک پہنچنے کے عہد کا بغور مطالعہ کرے اور یہ دیکھے کہ منعم حقیقی کی جانب سے ہر قدم پر ایک نئی نعمت اس کے پاس آئی ہے ۔ اس طرح اس کو معلوم ہوگا کہ وہ دوسرسے پیر تک خالق کے احسانات کے بوجھ تلے دباہو اہے ،اس کو چاہئیے کہ غرو ر و غفلت کو خیرباد کہے او رپر وردگار عالم کی محبت کا طوق اپنی گردن میں ڈالے ۔

اساس کے بعد قرآن ان کے غرور و غفلت کو موضوع گفتگو بنا کر کہتاہے : ” جیساکہ تم گمان کرتے ہوایسا نہیں ہے تم روز جز ا کے منکر ہو “( کلا بل تکذبون بالدین ) ۔ ” نہ تو خد اکا کرم تمہارے غرور کا سبب ہے اور نہ اس کی نعمتوں کا سلسلہ بلکہ ا سکا اصلی سبب تمہارا روز قیامت پر ایمان نہ لانا۔(۱)

۱ ۔ کلا حرف ردع ہے اور پہلے سے ذکر شدہ یا تو ہم شدہ مطلب کے انکار کے لئے ہے اور یہ ”کلّا“اس آیت میں کس چیز کی نفی کرتا ہے ، اس سلسلہ میں مفسرین نے کئی احتمال پیش کئے ہیں ۔ سبسب سے پہلے وہی احتمال ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے یعنی یہاں کلّا غرور و غفلت کے تمام سر چشموں کی نفی کرتاہے سوائے قیامت کی تکذیب اور انکار کے جس کا ” بل“ کے بعد ذکر ہواہے ۔ راغب نے مفردات میں ( بلکہ مادہ کے سلسلے میں )ان معانی کو منتخب کیا ہے اور اوپر والی آیت بیان کر نےکے بعد کہتا ہے( کانّه قیل لیس ههنا مایقضیٰ ان یغرهم به تعالیٰ و لکن تکذیبهم هو الذی حملهم علی ما ارتکبوه ) گویا کہاگیا ہے کہ یہاں کوئی ایسی چیز نہیں جو انھیں اللہ کے مقابلہ میں مغرور کر ے لیکن ان کا تکذیب کرنا وہ ہے جس نے اس کا ارتکاب کیاہے ۔

جی ہاں اگر مغرور اور غافل افراد کی حالت پر غور کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ اصلی سبب یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے افراد کی روح کی گہرائیوں میں قیامت کے بارے میں شک یا اس کا انکار پوشیدہ ہے ، اور باقی امورتو صرف بہانے ہیں ۔ لہٰذا اگران کے دلوں میں قیامت پر ایمان پید اہو جائے تو یہ غرور اور غفلت سب ختم ہو کر رہ جائے ۔ دین دین سے مراد یہاں جز ا اور روز جز ا ہے اور یہ بعض مفسرین نے احتمال پیش کیا ہے کہ یہاں مراد دین اسلا م ہے بعید نظر آتا ہے اس لئے کہ ان آیتوں میں گفتگو کا جو محور ہے وہ معاد و قیامت ہے اس کے بعد اسباب غرور و غفلت کو ختم کرنے اور قیامت پر ایمان تقویت دینے کے لئے مزید کہتاہے : ” اس میں شک نہیں ہے کہ تم پر نگراں مقرر کئے گئے ہیں “( و انّ علیکم لحافظین )

ایسایسے نگران و نگہبان جو پروردگا رکی بارگاہ میں مقرب و محترم ہیں اوروہ ہمیشہ تمہارے اعمال کو تحریر کرتے ہیں( کراماً کاتبین ) ۔ اور جو کچھ تم انجام دیتے ہواس سے آگاہ ہیں اور سب کچھ اچھی طرح جانتے ہیں ۔( یعلمون ما تفعلون )

”حافظین “ سے مراد یہاں وہ فرشتے ہیں جو انسانوں کے اعمال کی کی نگرانی پو مامور ہیں ، اس سے قطع نظر کہ اعمال اچھے ہوں یا برے ۔ ان فرشتوں کو سورہ ق کی آیت ۱۸ میں رقیب و عتید سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

( ما یلفظ من قول الا لدیه رقیب و عتید ) انسان کوئی بات نہیں کرتامگر یہ کہ اس کے پاس فرشتہ ہے جو نگرانی کا فرض انجام دینے کے لئے مستعد ہے ۔ اسی سورہ ق کی اس سے پہلے کی آیت میں فرماتا ہے :

( اذیتلق المتلقیان عن الیمین و عن الشمال قعید ) ” یا دکر اس وقت کو جب وہ دو فرشتے جو دائیں بائیں سے تجھے پکڑے ہوئے ہیں ، تیرے اعمال ثبت کرتے ہیں ۔ “ قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی ان فرشتوں کی طرف اشارہ ہو اہے جو نگرانِ اعمال ہیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا ہر شخص سے پہلے اور ہر شخص سے بہتر اعمال انسانی کا شاہد و ناظر ہے لیکن اس نے مزید تاکید کے لئے اور زیادہ احساس ذمہ داری پید اکرنے کے لئے نگران فرشتے مقرر کئے ہیں ۔ ان کے علاوہ کچھ اور نگران بھی ہیں جو انسان کو ہر طرف سے گھیر ہوئے ہیں جن سب کا قیامت کی داد گاہ کے گواہوں کے عنوان کے ماتحت سات حصوں میں جلد ۱۱ کے صفحہ ۴۰۵ تا ۴۱۰۹ پر ہم نے ذکر کیا ہے ( سورہ حم سجدہ ) کی آیت ۲۰ اور ۲۱ کے ذیل میں ) یہاں کی طرف فہرست وار اشارہ کیا جاتاہے ۔

پہلا گواہ خدا ہے جو فرماتا ہے :” جو عمل انجام دیتے ہو ہم اس کے ناظر و شاہد ہیں “ ( یونس۔ ۶۱) ۔

” ا” اس بعد انبیاء و اوصیاء ہیں “( نساء۔ ۴۱) ۔ اس کے بعد” زبان ، ہاتھ، پاو ں اور پیکر انسان کے تمام اعضاؤ جوارح“ (نور۔ ۲۴) ایک گواہ جسم کی کھا ل ہے ( حم سجدہ ۔ ۲۱) ۔ اور گواہ فرشتے ہیں ( ق۔ ۲۱) اور زیر بحث آیت اس کے بعد وہ زمین جس پر انسان زندگی بسر کرتا ہے اور اس پر اطاعت کی جاتی ہے اور گناہ ہوتے ہیں ( زلزال ۔ ۴) اورآخر میں وہ وقت و زمانہ جس میں اعمال انجام پاتے ہیں ( سفینة البحارجلد ۲ مادہ یوم ) ۔

احتیاج طبرسی میں ہے ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ انسانوں کے نیک و بد اعمال تحریر کرنے پر جو فرشتے مامور ہیں ان کا کیا سبب ہے جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ خدا وندعالم السِر وما هو اخفی ہے یعنی وہ ہر چیزجس سے زیادہ پوشیدہ کو ئی چیز نہیں ہے وہ اسے جانتا ہے تو امام نے جواب میں فرمایا :

استعبدهم بذالک و جعلهم شهوداً علیٰ خلقه لیکون العباد لملازمتهم ایا هم اشد علی طاعةالله مواظبة و عن معصیة اشد انقبا ضاً وکم من عبدیهم بمعصیة فذکرمکانهما فادعوی وکف فیقول ربی یرانی و حفظنی علی بذالک تشهد و ان الله برأفته و لطفه وکلهم بعباده یذبون عنهم مردة الشیاطین و هو ام الارض و اٰفات کثیرة من حیث لایرو ن باذن الله الیٰ ان یجی ء امر الله عزوجل ۔

خدانے فرشتوں کو اپنی عبادت کے لئے بلا یا اور انہیں اپنے بندوں پر گواہ قرار دیا تاکہ بندے ان کی نگرانی کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ خداکی اطاعت کریں اور اس کی نافرمانی سے انہیں زیادہ سے زیاد ہ پریشانی اور دکھ ہو ۔ بہت ایسے بندے ہیں جو گناہ کا پختہ ارادہ کرلیتے ہیں اورپھر اس فرشتے کو یاد کرتے ہیں اور اپنے آپ کو گناہ سے باز رکھتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماراپروردگار ہمیں دیکھتا ہے اور نگران فرشتے بھی گواہی دیں گے ۔ اس کے علاوہ خدا نے ہمیں اپنی رحمت اور مہر بانی سے انہیں بندوں پر مامورکیاہے تاکہ حکم خدا نے سرکشی کرنے والے شیاطین کو ان سے دور رکھیں اور زمین کے جانوروں اور بہت سی آفات و بلیات کو جنہیں بندے اس وقت تک نہیں دیکھتے جب تک حکم خدا یعنی ان کی موت نہ آجائے۔

اس روایت سے اچھی طرح معلوم ہوتاہے کہ وہ تحریر اعمال کی ذمہ داری کے علاوہ ناگوار حادثوں ، مصیبتوں اور شیاطین کے وسوسوں سے انسانوں کو محفوظ رکھنے پر بھی مامور ہیں ( خدا کے فرشتوں کی مختلف ذمہ داریوں کے بارے میں ایک تفصیلی بحث جلد ۱۰ ص ۱۶۸ تا ۱۷۲ سورہ فاطر کی ا ٓیت ۱ کے ذیل میں آچکی ہے )۔

قابقابل توجہ بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیات ان فرشتوں کی تعریف و توصیف میں کہتی ہےں وہ کریم اور بزرگ فرشتے پروردگار کی بارگاہ میں بلند مقام کے حامل ہیں تاکہ انسان اپنے اعمال پر زیادہ توجہ دیں ، اس لئے کہ انسان کے اعمال کی نگرانی کرنے والا جس قدر بلند شخصیت رکھتا ہے انسان اس کا زیادہ لحاظ کرتا ہے اور گناہ کے انجام دینے سے زیادہ شرمندہ ہوتاہے ،۔ کاتبین کی تعبیر در حقیقت اس بات کی تاکید ہے کہ وہ حافظہ پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ باریک بینی کے ساتھ لکھتے ہیں ، اس انداز سے کہ کبھی کوئی چیز اس سے نظر انداز نہیں ہوتی اور ہر وہ چھوٹے بڑے عمل کو ضبط تحریر میں لاتے ہیں( یعلمون ماتفعلون ) ” جو کچھ تم انجام دیتے ہو وہ اسے جانتے ہیں “۔

یہ اس حقیقت پر ایک مزید تاکید ہے کہ وہ تمہارے اعمال سے بغیر استثناء آگاہ ہےں اور ان کا لکھنا اسی آگاہی کی بنیاد پر ہے ۔ یہ تمام تعبیریں انسان کے اختیار اور ارادے کی آزادی کو بیان کرتی ہیں اس لئے کہ اگر انسان کو کوئی اختیار حاصل نہ ہوتا تو اعمال کے تحریر کرنے والے فرشتوں کے مقرر کرنے کا اور ان سب تنبیہوں کا کوئی صحیح مفہوم نہ ہوتا ۔ > اور پھر یہ سب چیزیں اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ حساب و کتاب کا ہونا اور جزا و سزا کا ملنا قطعی اور حتمی ہے ، اس لئے کہ خدا نے اسے حد سے زیادہ اہمیت دی ہے اور اس حقیقت کی طرف توجہ اور اس پر ایمان اس مقصد کے لئے ہے کہ انسان کی تربیت کرے اور اسے اس کی ذمہ داریوں سے آشنا کرے اور غلط کاموں پر حد سے زیادہ روکنے والا اثر ڈالے ۔

____________________

۱۔ مجمع البیان ، جلد ۱۰، ص ۴۴۹۔ یہی حدیث در المنثور، روح البیان ، روح المعانی اور قرطبی میں بھی زیر بحث آیت کے ذیل میں نقل ہوئی ہے

۲خطبہ البلاغہ، ۳۔۔ ”ما شاء “ میں ما زائدہ ہے ، بعض مفسرین نے پیش کیا ہے کہ ما شرطیہ ہے لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے ۔

۴۔ بعض مفسرین روح البیان اور روح المعانی کے مو لف نے کہا ہے کہ ” واو یہاں حالیہ ہے لیکن استینافیہ کا احتمال زیادہ مناسب ہے ۔

۵۔نور الثقلین، جلد۵ ص۵۲۲۔


ثبت اعمال کے مامورین

نہ صرف اوپر آیات میں بلکہ بہت سی دوسری قر آنی آیات میں اور اسلامی روایات میں ان معانی کی طرف اشارہ ہو اہے کہ خدا نے ہر انسان پر نگہبان و نگران مقرر کئے ہیں جو اس کے اعمال قطع نظر اس کے کہ وہ اچھے ہوں یا برے ، تحریرکرتے ہیں اور اس کا اعمال نامہ روز جزا کے لئے تیار کرتے ہیں ۔

ان فرشتوں کی خصوصیات کے بارے میں معنی خیز اور خبر داروہشیار کرنے والی تعبیریں اسلامی رویات میں وارد ہوئی ہیں منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ کسی شخص نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے سوال کیاکہ جو انسان کے اعمال تحریر کرنے پر مامور ہیں کیا وہ انسان کے ارادہ اور نیک یا بد کام کرنے کے باطنی عزم سے بھی باخبر ہوتے ہیں تو امام نے جواب میں فرمایا :

”کیا بچے کھچے اور گندے پانی کے کنویں کی بو اور عطر کی خوشبو ایک جیسی ہوتی ہے “۔ راوی نے عرض کیا نہیں ۔ تو امام علیہ السلام نے فرمایا :

”کہ جب انسان کو ئی اچھا کام کرنے کی نیت کرتا ہے تو اس کا سانس خوشبو دار ہو جاتاہے تو وہ فرشتہ جو دائیں طرف ہے ( اور حسنات کے ثبت کرنے پر مامور ہے ) بائیں طرف والے فرشتے سے کہتا، اٹھ کھڑا ہو کہ اس نے نیک کام کا ارادہ کیاہے اور جب وہ اس کام کو انجادیتا ہے تو اس انسان کی زبان اس فرشتے کا قلم بن جاتی ہے اور لعاب دہن سیاہی بن جاتاہے ، لیکن جب انسان گناہ کا ارادہ کرتاہے تو اس کاسانس بد بو دار ہو جاتاہے ، اس وقت بائیں طرف کا فرشتہ دائیں طرف والے فرشتے سے کہتاہے ،اٹھ کھڑا ہو کہ اس نے معصیت و نافرمانی کا ارادہ کیاہے اور جب وہ نافرمانی انجام دیتا ہے تو اس کی زبان اس فرشتے کاقلم اور لعاب دہن سیاہی بن جاتاہے اور وہ اسے لکھ دیتاہے ۔(۱)

یہ حدیث اچھی طرح بتاتی ہے کہ انسان کی نیت اس کے وجود پر اچھی طرح اثر انداز ہوتی ہے اور فرشتے اس کے اندرونی اسرار سے باہر کے آثار کے ذریعہ آگاہ ہوجاتے ہیں اور اگر آگاہ نہ ہو ں تو انسان کے اعمال کو اچھی طرح ضبط تحریر میں نہیں لاسکتے ، اس لئے کہ نیت کی کیفیت عمل کی آلودگی اور خلوص کے سلسلہ میں حد سے زیادہ موثر ہوتی ہے یہاں تک کہ پیغمبر اسلام نے مشہورحدیث میں فرمایا ہے :

( انما الاعمال بالنیات ) ۔ اعمال نیتوں سے وابستہ ہیں ، دوسرے یہ کہ فرشتہ خود انسان سے لیتے ہیں اور اسی پر خرچ کرتے ہیں ۔ ہماری زبان انکا قلم اور ہمارا لعاب دہن ان کی سیاہی ہے ۔

۲ ۔ وہ مامور ہیں کہ جب انسان نیک کام کی نیت کرے تو اسے ایک نیکی کی حیثیت سے تحریر کریں اور جس وقت اسے انجام دیدے تو دس نیکیاں لکھ دیں ۔ لیکن جب انسان گناہ کا ارادہ کرتاہے تو جب تک عمل نہ کرے کوئی چیز اس کے خلاف نہیں لکھتے اور گناہ کے ارتکاب کے بعد بھی صرف ایک ہی گناہ لکھتے ہیں ۔(۲)

یہ تعبیر انسان پر خدا کے انتہائی لطف و کرم کو بیا ن کرتی ہے کہ گناہ کی نیت کو وہ بخش دیتا ہے اور فعل گناہ کی عدل کے مطابق سزا دیتا ہے نہ کہ میزان عدل کے مطابق اور یہ نیک اعمال کی تشویق ہے ۔

۳ ۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ ان دونوں فرشتوں کے موجود ہونے اور دس گنا حسنات کی سزا لکھنے کی طرف اشارہ کرنے کے بعد فرمایا:

جب انسان کسی برے کا م کو انجام دیتاہے دائیں طرف کا فرشتہ بائیں طرف کے فرشتے سے کہتا ہے اس گناہ کے لکھنے میں جلدی نہ کر شاید اس کے بعد کوئی نیک کام انجام دے جو اس کے گناہ پر پردہ ڈال دے جیساکہ خدائے عظیم فرماتا ہے :( ان الحسنات یذهبن السیّئات ) ”نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں “۔

یا یہ کہ تو بہ و استغفار کرے اور ( گناہ کا اثر ختم ہو جائے )۔ گناہ کافرشتہ سات گھنٹہ تک گناہ کے لکھنے سے رکا رہتاہے ، اگر اس گناہ کے بعد کوئی استغفار یانیک کام نہ ہو تو پھر حسنات والا فرشتہ سیئات والے فرشتہ سے کہتا ہے کہ اس بد بخت محروم کا گناہ لکھ دے ۔(۳)

۴ ۔ ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ جب مومنین کسی خصوصی مجلس میں ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں تو محافظین اعمال ایک دوسر سے کہتے ہیں کہ ہم ان سے دور ہو جائیں ۔ شاید ان کا کوئی راز ہے جسے خدا نے پوشیدہ رکھا ہے ۔(۴)

۵ ۔ حضرت علی علیہ السلام اپنے خطبہ میں جس میں لوگوں کو تقویٰ اور خوف ِخدا کی دعوت دیتے ہیں ، فرماتے ہیں کہ :

” اے بندگان خدا ! جان لوکہ خود تم میں سے کچھ نگران تم پر مقرر کئے گئے ہیں ،وہ تمہارے بد ن کے اعضاء ہیں اور یہ بھی جان لوکہ سچے حساب کرنے والے تمہارے اعمال کو لکھتے ہیں یہاں تک کہ تمہارے سانسوں کی تعداد کو محفوظ کر لیتے ہیں ۔ نہ شب ِ تاریک کی سیاہی تمہیں ان سے پوشیدہ رکھ سکتی ہے اور نہ محکم اور بند دروازے ۔ اور آج کل کس قدر قریب ہے ۔(۵)

____________________

۱۔ اصول کافی ، جلد ۲ باب من یہم بالحسنة اوالسیئة حدیث ۳۔

۲۔ اصول کافی ، جلد ۲ باب من یہم بالحسنة اوالسیئة حدیث ۳۔

۳۔ اصول کافی ، جلد ۲ باب من یہم بالحسنة اوالسیئة حدیث ۴۔

۴۔ اصول کافی مطابق نقل نو الثقلین ، جلد ۵ ص۱۱۰۔

۵- نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵۷۔


آیات ۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۱۹

۱۳ ۔( انّ الابرار لفی نعیم ) ۔

۱۴ ۔( و انّ الفجّار لفی جحیم ) ۔

۱۵ ۔( یصلونها یوم الدّین ) ۔

۱۶ ۔( وما هم عنها بغآ ءِ بِینَ ) ۔

۱۷ ۔( ومآ ادراکَ مَا یَومُ الدّینِ ) ۔

۱۸ ۔( ثم مآ ادراک مایوم الدّین ) ۔

۱۹ ۔( یوم لا تملک نفسٌ لِنفسٍ شیئاً و الامرُ یو مئِذٍ للّهِ ) ۔

ترجمہ

۱۳ ۔ یقینا نیک افراد نعمت فراوان میں ہیں ۔

۱۴ ۔ اور بد کار دوزخ میں ہیں ۔

۱۵ ۔ جز ا کے روز ا س میں وارد ہوں گے اور جلیں گے ۔

۱۶ ۔ اور کبھی بھی اس سے غائب اور دور نہیں ہوں گے ۔

۱۷ ۔ تو کیا جانے کہ قیامت کا دن کیا ہے ۔

۱۸ ۔ پھر تو کیا جانے کے قیامت کا دن کیا ہے ۔

۱۹ ۔ ایسا دن ہے جس میں کوئی شخص کسی دوسرے حق کے میں کسی کام کے انجام دینے پر قدرت نہیں رکھتا اور اس دن

سب امور اللہ سے مخصوص ہیں ۔

وہ دن جس میں کوئی شخص کسی کے لئے کوئی کام انجام نہیں دے گا ۔

اس بحث کے بعد جو گزشتہ آیات میں فرشتوں کے ذریعہ انسانوں کے اعمال کے ثبت و ضبط کے سلسلہ میں آئی ہے ان آیتوں میں اس حساب و کتاب کے نیچے اور نیکیوں او ربروں کی جو رہگذر ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار عالم فرماتاہے :

” یقینا نیک اور صالح افراد خد اکی عظیم نعمت میں ہیں “( ان الابرار لفی نعیم ) ۔ ” اور بدکار یقینا جہنم میں ہیں “( ان الفجار لفی جحیم ) ۔

” ابرار“ ۔” بار“ اور” بر“ ( بر وزن حق) کی جمع ہے جس کے معنی نیکو کار شخص کے ہیں ۔ اور ” بِر“ ( ب کے زیر کے ساتھ ) ہر قسم کی نیکی کے معنی میں ہے ۔ یہاں اچھے عقائد بھی مراد ہیں اور اچھی نیتیں اور اچھے اعمال بھی ۔

” نعیم “ مفرد ہے اور نعمت کے معنی میں ہے اور یہاں بہشت جاودانی کے معنی میں ہے اور نکرہ کی صورت میں آیاہے اس نعمت کی اہمیت ، وسعت اور عظمت کے بیان کے لئے ہے ، خدا کے علاوہ کوئی اور اس کی وسعت و عظمت سے واقف نہیں ہے ۔

” نعیم“ جو یہاں صفت مشبہ ہے یہاں ا س کی نعمت کی بقا اور اس کے استمرار کی تاکید کے لئے ہے ۔ یہ مفہوم عام طور پر صفت مشبہ میں چھپا ہوتا ہے ۔

” فجار “ فاجر کی جمع ہے ۔ اصل میں فجر کے معنی و سیع طور پرشگاف کر نے کے ہیں اور طلوع صبح کو اس لئے فجر کہتے ہیں گویا رات کا سیاہ پردہ سپید سحری کے ہاتھوں کلی طور پر شگافتہ ہو جاتاہے ۔ اس بناپر فجور کا لفظ ان لوگوں کے اعمال کے بارے میں دستیاب ہوتاہے جو پاکدامنی اور تقویٰ کا پردہ چاک کرتے ہیں اور گناہ کے راستے میں قدم رکھتے ہیں ۔

” جحیم“۔” جحم“( بر وزن فہم ) کے مادہ سے آگ بھڑ کانے معنی ہے ۔ اس وجہ جحیم بھڑکتی ہو ئی آگ کو کہتے ہیں ۔

قرآنی تعبیر میں یہ لفظ عام طور پر دوزخ کے معنی میں آیاہے اور یہ جو فرماتاہے :

’ نیکو کار جنت میں اور بد کار دوزخ میں ہیں “ ممکن ہے اس معنی میں ہو کہ وہ ابھی سے جنت اور دوزخ میں واردہوگئے ہیں اور اس دنیا ہی میں جنت کی نعمتوں اور جہنم کے عذاب نے انہیں گھیر رکھا ہے جیسا کہ سورہ عنکبوت کی آیت ۵۴ میں پڑھتے ہیں :( و ان جهنم لمحیطة بالکافرین ) ۔ ” دوزخ نے کافروں کااحاطہ کر رکھا ہے “۔

لیکن ایک جماعت نے کہا کہ اس قسم کی تعبیریں حتمی اور یقینی طور پر مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ اس لئے کہ ادب عربی میں حتمی اور یقینی مستقبل اور متحقق الوقوع مضارع کو حال کی شکل میں اور کبھی ماضی کی شکل بیان کرتے ہیں ۔

( آیت کے پہلے معنی طاہر کے ساتھ ساز گارہیں لیکن مناسب دوسرے معنی ہیں )۔

بعدکی آیت میں فاجروں کی سر نوشت کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے مزید فرماتاہے :” وہ روزجزا اور دوزخ میں داخل ہوں گے اور اس کی آگ میں جلیں گے “۔( یصلونها یوم الدین ) ۔

جب گذشتہ آیت کے معنی ایسے ہوں کہ وہ ابھی سے دوزخ میں داخل ہیں تو پھر یہ آیت بتاتی ہے کہ روز قیامت اس جلانے والی آگ میں ان کا داخلہ اور شدیدہوگا اور آگ کے اثر کو وہ اچھی طرح محسوس کریں گے ۔

” یصلون “ ۔” صلی“ (بر وزن سعی) کے مادہ سے آگ میں داخل ہونے ، جلنے ، بھن جانے اور اس کے دردو تکلیف کو بر داشت کرنے کے معنی میں ہے ۔اور اس بناپر ،کہ فعل مضارع ہے، استمرار پر دلالت کرتا ہے ،مزید تاکید کے لئے فرماتا ہے

” وہ اس آ گ سے کبھی دور اور مفقود نہیں ہیں “( وما هم عنها بغائبین ) ۔ بہت سے مفسرین نے اس جملہ کو فجار پرجو عذاب ہوگا اس کے جاوداں ہونے کی دلیل کے طور پر لیا ہے اور اس طرح نتیجہ نکالا ہے کہ فجا رسے مراد ان آیات میں کفار ہیں ، اس لئے کہ خلود اور ہمیشگی ان کے مورد کے علاوہ وجود نہیں رکھتی ۔ اس آیت کی تعبیر زمانہ حال کی شکل میں اس چیز کی مزید تاکید ہے جس کی طرف پہلے اشارہ ہو چکا ہے کہ اس قسم کے افراد دنیا میں بھی کلی طور پر جہنم سے دور نہیں ہیں ۔ ان کی زندگی خود دوزخ ہے ۔ اور مشہور حدیث کے مطابق ان کی قبر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھاہے اور اس طرح دنیا کی دوزخ اور بر زخ کی دوزخ اور قیامت کی دوزخ تینوں ان کے لئے موجود ہیں ۔

مندرجہ بالا ضمنی طور پر اس حقیقت کو بھی بیان کرتی ہے کہ دوزخیوں کے عذاب میں کسی قسم کا وقفہ نہیں ہے ، یہاں تک کہ ایک لمحہ کا وقفہ بھی نہیں ہوگا ۔

اس کے بعد اس عظیم دن کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے کہتا ہے : ” توکیا جانے کہ روز جزا کیاہے “( وما ادراک مایوم الدین ) ۔

”پھر تو کیا جانے کہ روز جز ا کیا ہے “۔( ثم ماادراک مایوم الدین ) ۔

جب پیغمبر اسلام قیامت کے بارے میں اس وسیع آگاہی اور علم کے باوجود اس پر حکومت کرنے والے حوادث، اضطراب اور عظیم وحشت کو اچھی طرح نہیں جانتے تو باقی کامعاملہ واضح ہے ۔

یہ گفتگو اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ قیامت کے ہولناک حوادث اس قدر وسیع و عظیم ہیں کہ جو قالبِ بیان میں نہیں سما سکتے اور جس طرح ہم عالم خاک کے اسیر جنت کی بے نمایا نعمتوں سے اچھی طرح آگاہ نہیں ہیں جہنم کے عذاب اور اس کے حوادث سے کس طرح آگاہ ہو سکتے ہیں ۔

اس کے بعد ایک مختصر اور پر معنی جملہ میں اس دن کی ایک اور خصوصیت جس میں در حقیقت تمام چیزیں چھپی ہو ئی ہیں پیش کرتے ہوئے فرماتاہے :

” وہی دن جس دن کوئی شخص کسی دوسر کے حق میں کوئی کام انجام نہیں دے سکے گا اور اس دن تمام امور خدا سے مختص ہیں “( یوم لاتملک نفس لنفس شیئا و الامر یومئذ لله )

کام تو اس جہان میں بھی سب اسی کے دست قدرت میں ہیں اور سب لوگ اسی کے نیاز مند ہیں لیکن پھر بھی یہاں کبھی کبھی بہرحال مجازی مالک و حاکم اور فرماں روا موجود ہیں جن میں سطحی نگاہ رکھنے والے افراد مستقل مبدا۔ قدرت خیال کرتے ہیں لیکن اس دن یہ مجازی مالکیت و حاکیمیت بھی ختم ہو جائے گی اور خدا کی حاکمیت ِ مطلقہ ہر زمانہ کی بہ نسبت زیادہ واضح ہوگی ۔

یہ چیز قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی آئی ہے( لمن الملک الیوم لله الواحد القهار ) ۔ ” آج کے د ن حکومت کس کے لئے ہے غالب و یکتا خدا کے لئے ہے “۔ ( مومن ۔ ۱۶) ۔

اصولی طور پر اس دن ہر شخص اس قدر اپنے آپ میں گرفتا ر ہو گا کہ اگر بالفرض اس میں قوت ہو تی بھی تب بھی دوسروں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا ۔( لکل امریء منهم یومئذ شأن یغنیه ) ۔

اس دن ان میں سے ہر ایک اس طرح مبتلا ہو گا جو ا س کے لئے کافی ہوگا ۔ ( عبس ۔ ۳۷) ۔

ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے :

( ان الامر یومئذ و الیوم کلمه الله اذاکان یوم القیامة بادت الحکام فلم یبق حاکم الا الله )

” اور آج اس دن تمام کام اللہ کے اختیار میں ہیں لیکن جب قیامت کا دن ہوگا تو تمام حاکم تباہ و بر باد ہو جائیں گے اور خدا کی حکومت کے علاوہ کوئی حکومت باقی نہیں رہے گی ۔(۱)

یہاں ایک سوال سامنے آتاہے کہ کیا یہ تعبیرانبیاء ، اولیاء اور فرشتوں کی شفاعت کے سلسلہ سے متصادم نہیں ہے ۔ اس سوال کا جواب ان مباحث سے جو ہم مسئلہ شفاعت کے سلسلہ میں تحریر کرچکے ہیں واضح ہو جاتاہے اور وہ یہ کہ قرآن مجید متعدد آیات میں تصریح کرچکا ہے کہ شفاعت خدا کے اذن اور اجازت سے ہو گی اور روز جزا کے شفیع اس کے رضا کے بغیر کسی کی شفاعت نہیں کریں گے ۔( ولا یشفعون الا لمن ارتضیٰ ) ( انبیاء ۔ ۲۸) ۔

خدا وند ا ! اس ہولناک دن کے بارے میں سب کی نظریں تیری طرف لگی ہوئی ہیں ۔ ہم ابھی سے تیری طرف نظریں لگائے ہوئے ہیں ۔

پروردگارا! ہمیں اس جہان میں اور اس جہان میں اپنے بے پایاں لطف و کرم سے محروم نہ کیجو ۔

ببار الہٰا ! ہرحالت میں حاکم مطلق تو ہے ہمیں وادی شرک میں محشور ہونے سے بچا لے اور دوسروں کی پناہ لینے سے محفوظ رکھ ۔

آمین یا رب العالمین

سورہ انفطار کا اختتام

____________________

۱۔ مجمع البیان ، جلد ۱۰، ص۴۵۰۔


سورہ مطففین

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا اس میں ۳۶ آیتیں ہیں

سورہ مطففین کے مضامین کا دائرہ

یہ سورہ مکہ میں نازل ہو ایامدینہ میں اس بارے مین مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ شان نزول بتاتی ہے کہ اس سورہ کی ابتدائی آیات جن کا موضوع کم تولنا ہے ، ان لوگوں سے متعلق ہےں جو مدینہ میں اس قبیح کام میں مشغول تھے ۔

لیکن دوسری آیا ت کا لب و لہجہ مکی سورتوں کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتا ہے جس میں مختصر اور پر جلال آیا ت میں پر وردگا رعالم قیامت اور حوادث قیامت کی خبر دیتا ہے خصوصاً اس سورہ کی آیات جو مسلمانوں کا مذاق اڑانے کے بارے میں کفا ر کو موضوع بناتی ہیں ۔

یہ آیتیں مکہ کے ماحول کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتی ہیں ۔ وہاں مومنین اقلیت میں تھے اور کافروں کی قطعی اکثریت تھی ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین سورہ کے ایک حصہ کو مکی اور دوسرے حصہ کو مدنی سمجھتے ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ سورہ مکی سورتوں سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے ، بہر حال اس سور کے مباحث پانچ محوروں کے گرد گھومتے ہیں ۔

۱ ۔ کم تولنے والوں کے بارے میں شدید تنبیہ و تہدید۔

۲ ۔ اس مفہوم کی طرف اشارہ کہ بڑے بڑے گناہوں کا سر چشمہ قیامت کے بارے میں پختہ یقین نہ ہونا ہے ۔

۳ ۔ اس عظیم دن فجار کی سر نوشت کا ایک حصہ۔

۴ ۔ جنت میں نیکوکاروں کو ملنے والی عظیم اور روح پرور نعمتوں کا ایک حصہ ۔

۵ ۔ کفار کا مومنین سے جاہلانہ مذاق اور اس کے بر عکس قیامت کے ہونے کا بیان ۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے (من قراء سورة المطففین سقاه الله من الرحیق المختوم یوم القیامة

جو شخص سورہ مطففین پڑھے خدا اسے خالص شراب سے جو کسی کو مسیر نہیں ہوتی قیامت میں سیراب کرے گا ۔(۱)

ایک دوسری حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے :

من قرأ فی الفرائضه” ویل للمطففین “ اعطاه الا من یوم القیامة من النار و لم تره ولم یرها

جو شخص اپنی فریضہ نماز وں میں سورہ مطففین پڑھے ،خدا قیامت میں اسے عذاب جہنم سے محفوظ رکھے گا نہ جہنم کی آگ اسے دیکھے گی ، اور نہ وہ جہنم کی آگ کو دیکھے گا ۔(۲)

یہ سب ثواب فضیلت اور بر کت اس شخص کے لئے ہے جو اس کے پڑھنے کو عمل کی تمہید اور مقدمہ قرار دے ۔

____________________

۱- مجمع البیان ، جلد ۱۰، ص ۴۵۱۔

۲-ثواب الاعمال ،مطابق نقل از نور الثقلین جلد ۵،


آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،

( بسم الله ) ( الرحمن الرحیم )

۱ ۔( ویل للمطففین )

۲ ۔( الذین اذا اکتالوا علی النّاس یستوفون ) ۔

۳ ۔( و اذا کالوهم او وَّ زنوهم یخسرون ) ۔

۴ ۔( ألاَ یظنُّ اُولٰٓئِکَ انّهم مبعوثونَ ) ۔

۵ ۔( لِیومٍ عظیمٍ ) ۔

۶ ۔( یوم یقوم النّٓس لرب العالمینَ ) ۔

ترجمہ

۱ ۔ وائے ہے کم تولنے والوں پر ۔

۲ ۔ وہ جب خود لیتے ہیں تو اپنا حق پورا لیتے ہیں ۔

۳ ۔ لیکن جب چاہتے ہیں کہ دوسروں کے لئے تولیں تو کم تولتے ہیں ۔

۴ ۔ کیاوہ باور نہیں کرتے کہ وہ اٹھائیں جائیں گے ۔

۵ ۔ عظیم دن ۔

۶ ۔ جس روز لوگ رب العالمین کی بار گاہ میں کھڑے ہو ں گے ۔

شان نزول

ابن عباس کہتے ہیں جس وقت پیغمبراکرم مدینہ میں داخل ہوئے تو بہت سے لوگ کم تولنے کے مرض میں مبتلا تھے تو خد ا نے ان آیتوں کو نازل کیا اور انہوں نے قبول کیااور کم تولنا ختم کردیا ۔

دوسری حدیث میں آیاہے کہ بہت سے اہل مدینہ تاجر تھے اور کم تولنے کے عادی تھے او روہ بہت سے حرام کام کرتے تھے توایسی صورت میں یہ آیات نازل ہوئیں ۔ پیغمبر اسلام نے یہ آیتیں اہل مدینہ کو سنائیں اس کے بعد آپ نے فرمایا

( خمس بخمس ) پانچ چیزیں پانچ چیزوں کے مقابلہ میں ہیں ،۔ انہوں نے عرض کیا ”اے خدا کے رسول کونسی پانچ چیزیں پانچ چیزوں کے مقابلہ میں ہیں ۔“ تو آپ نے فرمایا :

(ما نقض قوم العهد الا سلط الله علیهم عدوهم و ما حکموا بغیر ما انزل الله الّا فشافیهم الفقر ما ظهرت فیهم الفاحشةالاَّ فشافیهم الموت ولا طففوا الکیل الاَّ منعوا النبات و اخذ وا بالسنین و لامنعوا الزکاة الاَّ حبس عنهم المطر )

کسی قوم نے عہد شکنی نہیں کی مگر یہ کہ خدا نے اس کے دشمنوں کو اس پر مسلط کر دیا اور کسی جمیعت نے حکم خدا کے خلاف حکم نہیں دیا مگر یہ کہ ان میں فقر و فاقہ زیادہ ہوگیا ۔ کسی ملت کے درمیان فحاشی اور برائیاں ظاہر نہیں ہوئیں مگر یہ کہ موت کا وقوع ان میں زیادہ ہوگیا ۔ کسی قوم نے کم نہیں تولا مگریہ کہ ان کی زراعت ختم ہو گئی اور قحط سالی نے انہیں گھیر لیا اور کسی قوم نے زکاة نہیں روکی مگر یہ کہ بارش سے محروم ہو گئے۔(۱)

مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں ان آیتوں کی شان ِ نزول کے سلسلہ میں نقل کیا ہے کہ مدینہ میں ایک شخص تھا جس کا نام ابو جہنہ تھا جس کے پاس دو چھوٹے بڑے پیمانے تھے ۔ خرید تے وقت بڑا پیمانہ استعمال کرکے فائدہ اٹھا تا اور بیچتے وقت چھوٹے پیمانے سے دیتا ۔ ( تویہ سورہ نازل ہوا اور اسے خبر دار کیا)۔

کم تولنے والوں پر وائے ہے

ان آیات میں ہر چیز سے پہلے کم تولنے والوں کو شدید عذاب کا مستحق ٹھہرا کر فرماتا ہے :” وائے ہے کم تولنے والوں پر “( ویل للمطففین ) ۔ یہ حقیقت میں خدا کی جانب سے ان ظالم ، ستمگر اور گندے لوگوں کے خلاف اعلان جنگ ہے جو بز دلوں کی طرح لوگوں کا حق پامال کرتے ہیں ۔

” مطففین “ ۔ ” تطفیف“ کے مادہ سے اصل میں ” طف“ سے لیا گیا ہے جوکسی چیز کے کناروں کے معنی میں ہے اور یہ جو سر زمین کربلا کو وادیِ طف کہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فرات کے کنارے پر واقع ہے ۔

اس کے بعد ہرکم چیز پر طفیف کا اطلاق ہوتاہے ۔ اسی طرح وہ پیمانہ جولبریز نہ ہو ، وہاں بھی یہی لفظ بولا جاتا ہے ۔

اس کے بعد یہ لفظ کم تولنے کےلئے استعمال ہوا ہے خواہ وہ کسی شکل و صورت کا ہو ۔

” ویل “ یہاں شر، و غم اندوہ ، ہلاکت یا دردناک عذاب یا جہنم کی سخت جلانے والی وادی کے معنوں میں ہے عام طور پر یہ لفظ نفرین کرنے اور کسی چیز کی قباحت کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتاہے ، یا یہ کہ ایک مختصر سی تعبیر ہے جو بہت سے مفاہیم کو چاہتی ہے ۔

قابل توجہ یہ ہے کہ ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ خد انے لفظ ویل قرآن میں کسی شخص کے لئے استعمال نہیں کیا مگر یہ کہ اس کو کافر کہا ہے( فویل للذین کفروا من مشهد یوم عظیم )

”وائے ہے کافروں پر عظیم دن کے مشاہدہ سے “(۱) ( مریم ۔ ۳۷)

اس روایت سے معلوم ہوتاہے کہ کم تولنے سے کفر کی بو آتی ہے ۔ اس کے بعدمطففین یعنی کم تولنے والوں کے کام کی تشریح کرتے ہوئے فرماتاہے :” وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے لئے تولتے ہیں تو اپنا حق مکمل طور پر وصول کرتے ہیں “( و الذین اذااکتالوا علی الناس یستوفون ) ۔(۲)

لیکن جب وہ چاہتے ہیں کہ دوسروں کے لئے تولیں تو کم تولتے ہیں( و اذاکالوهم او وزنوهم یخسرون ) ۔

مفسرین کی ایک جماعت نے مندرجہ بالا آیات سے اس طرح استفادہ کیا ہے کہ مطفف سے مرادہ وہ شخص ہے جو خریدتے وقت اپناحق زیادہ لیتاہے اور بیچتے وقت مقابل کو اس کے حق سے کم دیتاہے ۔

اسی لئے خدا نے دونوں پہلوو ں کے پیش نظر ان پر ویل رکھی ہے ۔

لیکن یہ ایک اشارہ ہے اور غلط ہے کیونکہ ” یستوفون “ کا مفہوم یہ ہے کہ اپنا حق مکمل طو رپر وصول کرتے ہیں اور ایسا پہلو جس میں اپنے حق سے زیادہ لینے کی بات ہو اس عبارت میں موجود نہیں ہے اور یہ جو ہم دیکھ رہے ہیں کہ خد انے ان کی مذمت کی ہے ان دو حالتوں کے ایک دوسرے سے تقابل کی شکل میں ہے کہ خرید تے وقت پورا پورا حق لیتے ہیں اور بیچتے وقت کمی کرتے ہیں ۔

یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ہم کسی کی مذمت میں کہتے ہیں ” جب کسی سے اس کو کوئی چیز لینی ہوتی ہے تو وعدہ کے مطابق (جو وقت مقرر ہو عین اسی وقت ) لیتا ہے لیکن کسی کو کچھ دینا ہو تو مہینوں تاخیر کرتا ہے “۔ حالانکہ اپنی طلب کا وعدہ کے مطابق لینا کوئی بری با ت نہیں ہے ، لیکن ان دونوں کے تقابل کا جائزہ لینے کے نتیجے میں بری بات ہے ۔

قابل توجہ با ت یہ ہے کہ حق لینے کے معاملہ میں گفتگو کیل کے بارے میں ہے لیکن دینے کے معاملہ میں گفتگو کیل و وزن دونوں کے حوالے سے ہے ۔ تعبیر کا یہ فرق ہوسکتا ہے کہ ، ذیل کی دو وجوہ میں سے کسی ایک کی بناپر ہو :۔

پہلی وجہ یہ کہ خرید ار عام طور پر پہلے زمانے میں کیل سے استفادہ کرتے تھے اس لئے کہ بڑی ترازو جو زیادہ وزن تول سکے اس زمانے میں موجود لیکن بڑے پیمانہ آسانی سے مل سکتے تھے ۔

(”کر“ کے بارے میں بھی علماء نے کہا کہ یہ لفظ اصل میں ایک بڑے پیمانہ کا نام ہے ) بیچتے وقت وہ تھوک کا کا روبار کیل سے کرتے تھے اور وزن کے ذریعہ خوردہ فروشی کرتے تھے ۔

دوسرے یہ حق لینے کے وقت پیمانے سے زیادہ استفادہ مناسب ہے کیونکہ اس میں دھوکہ کا امکان بہت کم ہے ، لیکن کم تولنے کے لئے وزن کا ذریعہ زیادہ مفید ہوتا ہے اس لئے کہ اس میں دھوکہ دینے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ۔

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ مندرجہ بالاآیات اگرچہ صرف کیل و وزن کے حوالے سے کم تولنے کی بات کرتی ہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ آیت کا مفہوم وسیع ہے اور اس کا اطلاق کم تولنے کے سلسلہ میں ان چیزوں پر بھی ہے جن کا لین دین گن کرہوتاہے ۔ بلکہ یہ بھی بعید نہیں کہ آیت اپنے مفہوم کی گہرائی کے اعتبار سے موعودہ خد مت میں کمی کرنے کوبھی اپنے دامن میں سمیٹ لے ۔

مثال کے طور پر کوئی کاریگر یامزدور اپنا کام صحیح طو رپرمکمل نہیں کرتا تو وہ بھی مطففین کا مصداق ہے یعنی کم تولنے والوں کی صف میں ہے ، جن کی یہ آیتیں سختی سے مذمت کررہی ہیں ۔

بعض مفسرین اس آیت کو اور زیادہ وسیع معانی کا حامل سمجھتے ہیں اور حدود خدا وندی سے ہر قسم کا تجاوز اور اجتماعی و اخلاقی روابط میں کمی کو بھی اس کے مفہوم میں شامل سمجھتے ہیں ۔ اگر چہ اس آیت کے الفاظ سے ان معانی کا استفادہ واضح نہیں ہے ، لیکن غیر مناسب بھی نہیں ہے ۔

اس لئے مشہور صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود سے منقول ہے کہ نماز میں ایک معقول پیمانہ ہے جو شخص اس کا کیل مکمل طو ر پر ادا کرے تو خدا ا س کا اجر مکمل دے گا اور جو شخص اس میں کمی کرے تو اس کے بارے میں وہی کچھ جاری ہوگا جو خدا نے مطففین یعنی کم تولنے والوں کے بارے میں فرمایاہے ۔(۴)

اس کے بعدپروردگار عالم ایسے لوگوں کو تنبیہ یعنی استفہام ِ تو بیخی کے ذریعہ متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :

” کیا وہ باور نہیں کرتے کہ قبروں سے اٹھائے جائیں “( الا یظن اولٰئک انهم مبعوثون ) ۔

”عظیم دن “( لیوم عظیم ) ۔ وہ دن جس کا حساب عذاب اور اس کی ہولناکی اور سب عظیم ہیں ۔ ” وہ دن جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے اور رب العالمین کے بارہ گاہ میں حاضر ہو ں گے “۔( یوم یقوم الناس لرب العالمین ) ۔

یعنی وہ اگر قیامت کو باور کرتے اور جانتے کہ حساب کتاب ہو نا ہے اور تمام اعمال ایک عظیم عدالت میں محاکمہ کے لئے پیش ہوں گے جس شخص نے سوئی کی نوک کے برابراچھا یا برا کام کیا ہے اس کا نتیجہ وہ اس عظیم دن دیکھے گا ، پھر وہ کبھی اس قسم کا ظلم و ستم نہ کرتے اور لوگوں کے حقوق پامال نہ کرتے ۔ بہت سے مفسرین ” لظن“ کو جو ظن کے مادہ سے ہے یہاں یقین کے معنی میں سمجھتے ہیں ۔ اس تعبیر نظیر قرآن مجید میں موجود ہے ۔مثلا ً سورہ بقرہ کی آیت ۲۴۹( قال الذین یظنون انهم ملاقوا الله کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرةً باذن الله ) جو مانتے تھے کہ خدا سے ملاقات کریں گے ( اور وہ قیامت کے دن پر بھروسہ رکھتے تھے ) ”انہوں نے کہاکہ چھوٹے گروہ تھے جو حکم خدا سے بڑے گروہ کے مقابلہ میں کامیاب ہوئے “ ( توجہ رکھیں کہ یہ آیت بنی اسرائیل کے ایک گروہ کے بارے میں ہے جس نے ایمان و استقامت کا مختلف مراحل میں مظاہرہ کیا تھا ۔

اس بات کی شاہد و ناطق وہ حدیث ہے جو امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے آیہ( الایظن اولٰئک انهم مبعوثون لیوم عظیم ) کی تفسیر میں فرمایا کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ( الیس یوقنون انهم مبعوثون ) ؟ کیا انھیں یقین نہیں ہے کہ وہ قبروں سے اٹھیں گے ؟(۵)

انہی حضرت سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ظن کی دو قسمیں ہیں ، ظن تردید اور ظن یقین ۔ جو قرآن میں معاد اور قیامت کے بارے میں آیاہے وہ ظن یقین ہے اور جو کچھ دنیا کے بارے میں آیا ہے وہ ظن ِ شک ہے ۔(۶)

ایک جماعت کی طرف سے یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ ظن سے یہاں مراد موجودہ دور کے مشہور معانی گمان کئے گئے ہیں جو اس طرف اشارہ ہے کہ انسان کی جان او ر روح میں قیامت کی طرف توجہ کرنا اس طرح اثر کرتاہے کہ اگر کوئی شخص اس کا گمان بھی کرتاہو اور اس کو ایک دن کا احتما ل بھی ہو تو وہ برے کاموں سے اجتناب کرے چہ جائیکہ اس کا یقین رکھتا ہو۔ یہ وہی چیز ہے جو علماء کے درمیان دفع غرر مظنون یا دفع ضرر محتمل کے عنوان سے مشہور ہے ۔

اب اس بات کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ بے پروا ہ اور بے باک گناہگار نہ صرف یہ کہ قیامت کا یقین نہیں رکھتے ، بلکہ س کا گمان بھی نہیں رکھتے ،لیکن پہلی تفسیر ، ان وجوہ کی بناپر ، جو بیان کی گئی ہیں مقدم ہے ۔

اہم بات یہ ہے کہ لفظ ظن راغب کے مفردات کی رو سے اصل میں اس حالت کا نام ہے جو چند قرائن کے ہونے کی وجہ سے فکر انسانی کو حاصل ہوتی ہے اگر نشانیاں قوی ہوں تو علم و یقین لے آتی ہے اور اگر نشانیاں کمزور ہوں تو پھر وہ گمنا م کی حد سے آگے نہیں بڑھتی ۔(۶)

اس بناپر مذکورہ لفظ ، ا س کے برخلاف جو ہمارے زمانہ میں مشہور ہے ، وسیع ،مفہوم رکھتا ہے جس میں علم اور گمان دونوں شامل ہیں اور دونوں کے لئے استعمال ہوتاہے ۔

____________________

۱- تفسیر فخر رازی ، جلد ۳۱، ص ۸۸۔

۲۔ اصول کافی مطابق نقل نو رالثقلین ، جلد۵ ، ص۵۲۷۔

۳۔ یہاں علی الناس کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ لوگوں پر وہ کوئی حق رکھتے ہیں اور تقدیر اذا کالوا ما علی الناس تھی اور اصولاً ”کال علیہ“ وہاں کہا جاتاہے جہاں کیل کا مقصد حق لینا ہوتاہے باقی رہا ”کالہ“ اور” کال لہ“ اس جگہ سے مربوط ہے جہاں

۴.مجمع البیان جلد ۱۰ صقحه ۲۵۲

۵۔ تفسیر بر ہان ، جلد ۴ ، ص ۳۸۔

۶۔ نو ر الثقلین ، جلد ۵، ص۵۲۸۔

۷۔ مفردات، مادہ ظن۔


کم تولنا فساد فی الارض کا ایک سبب ہے

قرآن مجید کی آیات میں کئی مرتبہ کم تولنے کی مذمت کی گئی ۔ کبھی حضرت شعیب کے واقعہ میں جہاں وہ قوم کو خطاب کرکے کہتے ہیں

( اوفوا الکیل ولاتکونوا من المخسرین وزنو ا بالقسطاس المستقیم ولاتبخسوا الناس اشیاء هم ولاتعثوا فی الارض مفسدین )

”پیمانے کے حق کو ادا کرو اور دوسروں کو نقصان نہ پہنچاو ۔وزن صحیح ترازومیں کرو اور لوگوں کے حق میں کمی نہ کرو اور زمین میں فساد بر پا نہ کرو“۔ ( شعراء۔ ۱۸۱ تا ۱۸۳) ۔

اس طرح وزن کرتے وقت اور چیز کو پیمانے سے ناپتے وقت تولنے کو اور انصاف کو نظر انداز کرنے کو فساد فی لارض بتا یا گیا ہے اور یہ کام اجتماعی مفاسد میں سے ایک ہے ۔

سورہ رحمن کی آیت ۷/۸ میں وزن کرتے وقت انصاف سے کام لینے کو عالم ہستی کے نظام تخلیق میں عدالت کار فرما ہے ، اس کے برابربر قرار دیا گیاہے ، فرماتاہے :

( و السماء رفعها و وضع المیزان الاَّ تطغوا فی المیزان ) ” خد انے آسمان کو بلند کیا اورہر چیز میں میزان و حساب رکھا تاکہ تم وزن و حساب میں طغیان و سر کشی سے کام نہ لو “۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ناپ تول میں عدل کی رعایت کا مسئلہ کم اہم نہیں ہے بلکہ حقیقت میں اصل عدالت ہے اور سارے نظام ہستی پر حاکم نظم کلی ک ایک جز ہے ۔

اسی بناپر عظیم آئمہ اسلام نے اس مسئلہ کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے ، یہاں تک کہ اصبغ بن نباتہ کی مشہور روایت میں آیاہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی علیہ السلام سے سنا کہ آپ منبر پر فرمارہے تھے:

(یامعاشر التجار ! الفقه ثم المتجر ) اے گروہ تجار پہلے فقہ کی تعلیم حاصل کرو اس کے بعد تجارت کرو “ ۔ اس بات کی امام نے تین بار تکرار کی اور اس کلام کے آخر میں فرمایا :

( التاجر و الفاجر فی النار الاَّ من اخذ الحق و اعطی الحق ) ” تجارت کرنے والافاجر ہے اور فاجر دوزخی ہے سوائے اس کے جو صرف اپنا حق لوگوں سے لے اور لوگوں کا حق ادا کرے “۔(۱)

ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس وقت امیر المومنین علی علیہ السلام کوفہ میں تھے تو آپ ہر روز صبح کے وقت کوفے کے بازاروں میں آتے اور ایک ایک بازار میں گشت کرتے اور تازیانہ آپ کے کاندھے پر ہوتا ہر بازار کے وسط میں کھڑے ہو جاتے اور بلند آواز سے کہتے اے گروہ تجار ! خدا سے ڈرو ۔

جس وقت حضرت علی علیہ السلام کی پکار کو سنتے جو کچھ تاجروں کے ہاتھوں میں ہوتا رکھ دیتے اور پورے خلوص کے ساتھ آ پ کی باتوں کو سنتے ۔ اس کے بعد آپ فرماتے :

قدموا الاستخارة وتبرکوا بالسهولة و اقتربوا من المبتاعین و تزینوا بالحلم و تناهوا عن الیمین وجانبوا الکذب وتجافوا عن الظلم و انصفوا المظلومین ولا تقربوا الربا و اوفوا الکیل و المیزان ولا تبخسوا الناس اشیاء هم و لاتعثوا فی الارض مفسدین )

” خد اسے خیر طلب کرو اور لوگوں کے ساتھ معاملہ آسان کرکے بر کت چاہو اور خریداروں کے پاس جاو ، حلم و برد باری کو اپنی زینت قرار دو، قسم کھانے سے پرہیز کرو ، جھوٹ بولنے سے اجتناب کرو ، ظلم سے بچو اور مظلوموں کا حق ظالموں سے لے کر دو ، سود کے قریب نہ جاو ، پیمانے اور وزن کے معاملہ میں پورے پورے انصاف سے کام لو ، لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو اور زمین میں باعث فسا د نہ بنا کرو ۔

اس طرح کہ آپ کوفہ کے بازاروں میں گردش کرتے ، اس کے بعد دار الامارة کی طرف پلٹ آتے اور لوگوں کی داد خواہی اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے بیٹھ جاتے ۔(۲)

اور جیسا کہ ان آیات کی شان نزول میں بھی آیا ہے کہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں :” جو گروہ کم تولے گا خدا اس کی زراعت اس سے چھین لے گا اور اسے قحط سالی میں مبتلا کردے گا ، جو کچھ اوپر کہا گیا اس سے معلوم ہو تاہے کہ بعض گزشتہ اقوال کی بربادی اور ان پرعذاب نازل ہونے کے عامل یہ ہے کہ وہ کم تولتے تھے ۔ ان کا یہ اقدام ان کی اقتصادی بدحالی اور نزولِ عذاب خدا کا سبب بنا۔

یہاں تک اسلامی روایت میں آداب تجارت کے سلسلہ میں آیاہے کہ مومنین کے لئے بہتر ہے کہ پیمانے بھر تے اور وزن کرتے وقت زیادہ دیں او ر لیتے وقت اپنا حق کچھ کم لیں( ان لوگوں کے کام کے بالکل بر عکس جن کی طرف مندرجہ بالا آیات میں اشارہ ہو اہے کہ وہ اپنا حق تو پورا پورا وصول کرتے تھے لیکن دوسروں کا حق کم دیتے تھے )(۳)

دوسرے ، جیساکہ ہم نے اوپر والی آیت کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے کم تولنے کا مسئلہ بعض مفسرین کے نظریہ کے مطابق وسیع معا نی کا حامل ہے ، جو ہر قسم کے اجتماعی و انفرادی اور خدا سے تعلق رکھنے والی ذمہ داریوں کے انجام دینے کے سلسلہ میں کمی ہو سکتی ہے ، اس کو بھی اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے ۔

____________________

۱۔ کافی ، جلد۵ ، باب آداب التجارة حدیث۱۔

۲۔ کافی، باب آداب التجارة حدیث ۳ ( تھوڑے سے اختصار کے ساتھ )

۳۔وسائل الشیعہ ، جلد ۱۲ ، ابواب التجارة باب ۷ ، ص ۲۹۰ سے رجوع فرمائیے۔


آیات ۷،۸،۹،۱۰

۷ ۔( کلّا ٓ اِنَّ کتٰب الفجّٓر لفی سجّینٍ ) ۔

۸ ۔( وماَ ادرٰک ما سجِّینٌ ) ۔

۹ ۔( کتٰبٌ مرقومٌ ) ۔

۱۰ ۔( ویلٌ یَّومَئِذٍ للمُکذِّبینَ ) ۔

ترجمہ

۷ ۔ اس طرح نہیں ہے ( جیساکہ وہ قیامت کے بارے میں خیال کرتے ہیں ) یقینافاجروں کا نامہ اعمال سجّین میں ہے ۔

۸ ۔ تو کیاجانے سجّین کیاہے ؟

۹ ۔ رقم زدہ نامہ اور سرنوشت ہے۔

۱۰ ۔ وائے ہے اس دن تکذیب کرنے والوں پر۔

تو کیا جانے سجین کیاہے ؟

اس بحث کے بعد جو گزشتہ آیات میں کم تولنے والوں کے بارے میں اور قیامت کے دن کے بارے میں گناہ اور ایمان راسخ نہ ہونے کے رابطہ کے سلسلہ میں آئی تھی ، ان آیتوں میں اس روز بد کاروں اور فاجروں کا جو حال ہو گا ، اس کے ایک گوشہ کی طرف اشارہ کرتا ہے ، پہلے فرماتا ہے :

”اس طرح نہیں جیسا وہ قیا مت کے بارے میں خیال کرتے ہیں کہ حساب و کتاب نہیں ہوگا بلکہ فاجروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے “( کلّا انَّ کتاب الفجار لفی سجّین ) ۔ ” تو کیا جانے سجین کیاہے “۔( و ما ادراک ما سجین ) ایک مہر زدہ تحریر اور نامہ ہے “ (کتاب مرقوم)۔

ان آیات کے سلسلہ میں دو عمدہ نظر ئیے ہیں :

۱ ۔ کتاب سے مراد انسان کا وہی اعمال نامہ ہے ۔ کوئی چھوٹا یا بڑا ایساکام نہیں ہے جس کا اس میں شمار نہ کیا گیا ہو۔ تمام باتیں بے کم و کاست اس میں درج ہیں ۔

اور سجین سے مراد ایک جامع کتاب ہے جس میں تمام انسانوں کے نامہ ہائے اعمال جمع کئے گئے ہیں ۔

سادہ اور عام تعبیروں میں وہ ایک ایسے مکمل رجسٹر کے مانند ہے جس میں ہر ایک قرض خواہ مقروض کا حساب علیحدہ اور مستقل صفحہ پر تحریر ہے ۔

البتہ ان آیات اور بعد کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام بد کاروں کے اعمال سجین نامی کتاب میں ہیں اور تمام نیک افراد کے اعمال ایک دوسری کتاب میں درج ہیں ، جس کانام علیین ہے ۔

” سجین “ سجن کے مادہ سے لیا گیا ہے جس کے معنی زندان کے ہیں ۔ اس کے مختلف معانی ہیں ۔ سخت و شدید زندان ، محکم موجود، قعر جہنم میں ایک بہت ہی ہولناک وادی ، وہ جگہ جہاں بد کاروں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں ، اور جہنم کی آگ ۔(۱)

طریحی مجمع البحرین میں سجن کے مادہ کے بارے میں کہتا ہے :

و فی التفسیر هو کتاب جامع دیوان الشر دوّن الله فیه اعمال الکفرة و الفسقة من الجن و الجنس )

تفسیر میں آیا ہے کہ سجّین ایک کتاب ہے جو برائیوں کے دیوان کا جامع ہے جس میں خدا نے جن و انس میں سے کافروں اور فاسقوں کے اعمال کو مدون کیا ہے طریحی نے واضح نہیں کیا کہ اس تفسیر سے مراد کونسی تفسیر ہے ، آیا معصوم سے منقول ہے یا کسی غیرسے ۔

جو قرائن ان معانی کی تائید کرتے ہیں وہ درج ذیل سے عبارت ہیں

ایک قرآن مجید میں اس قسم کے مواقع پر کتاب کی تعبیر عام طور پر نامہ اعمال کے معنوں میں ہے ۔

۲ ۔ آخری آیت جو سجین کی تفسیر کی شکل میں بیان ہوئی ہے کہتی ہے : ”وہ کتاب ہے جو مہر زدہ اور یہ جو بعض نے آیات کو سجین کی تفسیر کے طور پر قبول نہیں کیا ، یقینا ظاہرکے بر خلاف ہے ۔

۳ ۔ بعض نے کہا کہ سجین اور سجیل کے ایک ہی معنی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ سجلّ ( سین اور جیم کے زیر اور لام پر تشدید کے ساتھ ) بہت بڑی کتاب کے معنی میں ہے ۔(۲)

۴ ۔ قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اعمال چند کتابوں میں منضبط ہوتے ہیں ، تاکہ حساب کے وقت کسی قسم کا عذر یا بہانہ کسی شخص کے لئے باقی نہ رہے ۔

ایک شخصی اعمال نامے ہیں جو قیامت میں متعلقہ افراد کے ہاتھوں میں دئے جائیں گے۔ نیکو کاروں کو دائیں ہاتھ میں اور بدکاروں کا بائیں ہاتھ میں ۔ آیات قرآنی میں اس کی طرف بہت اشارہ ہو اہے۔

دوسری کتاب وہ ہے جسے امتوں کے نامہ اعمال کا نام دیا جاسکتا ہے ، جس کی طرف وہ سورہ جاثیہ کی آیت ۲۸ میں اشارہ ہو اہے ۔( کل امة تدعی الیٰ کتابها ) ” قیام کے دن ہر امت کو اس کے نامہ اعمال کی طرف پکارا جائے گا ۔

تیسری اعمال نامہ عمومی ہے ۔ وہ تمام نیکو کاروں اوربد کاروں کا نامہ اعمال ہے جس کا زیر بحث آیات اور آنے والی آیات میں سجین اور علیین کے نام سے ذکر کیا گیا ہے ۔

خلاصہ یہ کے اس تفسیر کے مطابق سجین وہی دیوان کل ہے جس میں تمام بد کاروں کے نامہ اعمال جمع ہوں گے ۔ اس کو سجین اس لئے کہا گیا کہ اس دیوان کے مشتملات ان کے جہنم میں زندانی اور مقید ہونے کا سبب ہوں گے نیکو کاروں کی کتاب کے بر عکس جو اعلیٰ علیین ِ بہشت میں ہے ۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ سجین اسی مشہور و معروف معنی ، یعنی دوزخ کے لئے استعمال ہو اہے جو تمام بد کاروں کے لئے بہت بڑا زندان ہے ، یا دوزخ میں ایک سخت جگہ ہے ۔

اور کتاب فجار سے مرادہ وہی سر نوشت ہے ، جو ان کے لئے تحریر ہوئی ہے اس بناپر اس آیت میں معنی یہ ہو ں گے ” مقرر و مسلم سرنوشت بد کاروں کی جہنم میں ہے “۔

اور لفظ کتاب کے استعمال قرآن میں اسی معنی میں بہت مقامات پرہیں ۔ مثلاً سورہ نساء کی آیت ۲۴ ، بعد اس کے فرماتاہے :

” شوہر دار عورتیں تم پر حرام ہیں “ مزید کہتاہے :

( کتاب الله علیکم ) یہ حکم ( اور اس سے پہلے کے احکام ) ایسے ہیں جو خدا نے تمہارے لئے مقرر کر دیئے ہیں “۔

اور سورہ انفال کی آیت ۷۵ میں ہم پڑھتے ہیں :

( و اولو ا الارحام بعضهم اولیٰ ببعض فی کتاب الله )

” رشتہ دار ایک دوسرے کی بہ نسبت ان احکام میں ، جو خدا کے لئے مقرر کئے ہیں ،( دوسروں سے ) زیادہ سزا واراور حقدار ہیں “۔

وہ مطلب جو اس آیت کی تائید کرتا ہے ، یہ کہ سجین اپنے اسی معنی میں ہیں جو اخبارو آثار اسلامی میں بیان ہو اہے ، یعنی اس کی تفسیر جہنم کی گئی ہے ۔

تفسیر علی ابن ابراہیم میں آیاہے کہ ”انّ اکتاب الفجار لفی سجین “ کے معنی یہ ہیں کہ جو کچھ ان کے لئے عذاب مقرر کیا گیا ہے وہ سجین ( دوزخ ) میں ہے ۔

ایک حدیث امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی منقول ہے کہ (السجین الارض السابعة و علیون السماء السابعة )سجین ساتویں زمین اور علیین ساتواں آسمان ہے ( سب سے نچلی اور سب سے اوپر والی جگہ کی طرف اشارہ ہے ۔(۱)

متعدد روایا ت سے بھی معلوم ہوتاہے کہ وہ اعمال جو قرب خدا کے لائق نہیں ہیں ساقط ہو جائیں گے اور سجین میں قرار پائیں گے، جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے :

ان الملک لیصعد بعمل العبد مبتهجاً فاذا صعد بحسناته یقول الله عز وجل اجعلوها فی سجین انه لیس ایای ارادفیها ۔

کبھی ایسا ہوتاہے کہ فرشتہ بندہ کے عمل کو خوشی خوشی آسمان کی طرف لے جاتاہے تو خدا وند عزوجل فرماتا ہے اسے سجین میں قرار دو ، اس لئے کہ اس کا مقصد میری رضا نہیں تھا ۔

ان تمام روایات کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سجین جہنم میں ایک بہت ہی پست جگہ ہے جس میں بد کاروں کے اعمال یا نامہ اعمال رکھے جائیں گے ۔

یا ان کی سر نوشت یہ ہے کہ وہ اس زندان میں گرفتار رہیں گے ۔ اس تفسیر کے مطابق ( کتاب مرقوم ) کا جملہ تاکید ہے ”ان کتا ب الفجار لفی سجین “ کے جملے کی ( نہ یہ کہ سجین کی تفسیر ہے ) یعنی یہ ان کے لئے لکھی ہوئی حتمی اور قطعی سزا ہے ۔

” مرقوم “ رقم ( بر وزن زخم ) واضح خط ( تحریر) کے معنی میں ہے اور چونکہ خطوط یا تحریریں ابہام سے خالی ہوتی ہیں لہٰذا ممکن ہے کہ یہ تعبیر ابہام سے پاک ہونے کی طرف اشارہ ہو ، وہ چیز جو نہ کبھی محو ہوتی ہے نہ فراموش ہوگی ۔

یہ دونوں تفسیریں بھی صحیح ہو سکتی ہیں اس لئے کے پہلی تفسیر میں سجین بد کاروں کے کل اعمال کے دیوان کے معنی میں ہے اور دوسری تفیسر میں دوزخ کی گہرائی اور گڑھے کے معنوں میں ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کی علت و معلول ہیں ۔

یعنی جس وقت انسان کا نامہ اعمال بد کاروں کے کل اعمال کا دیوان قرار دیا گیا تویہی سبب بنے گا کہ اسے پست ترین مقام یعنی دوزخ کے گڑھے میں کھینچ کر لے جائیں گے ۔

آخری اور زیر بحث آیت میں ایک دل ہلادینے والے جملے سے منکرین معاد قیامت کی منحوس عاقبت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :

”وائے ہے اس دن تکذیب کرنے والوں پر “( ویل یومئذ للمکذبین ) ۔

وہ تکذیب جو انواع و اقسام کے گناہوں کا سر چشمہ ہے ، جن میں سے ایک کم تولنا ہے ۔

پہلی آیت میں فرماتاہے :

( ویل للمطففین ) اور یہاں فرماتاہے :( ویل یومئذ للمکذبین ) ، وہ تعبیر جو مختصر ہونے کے باوجود انواع اقسام کے درد ناک عذابوں اور ہولناک مصائب کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔

قابل توجہ یہ کہ پہلی آیت میں گفتگو کم تولنے والوں کے بارے میں ہے اس کے بعد بد کاروں کی بات ہے ، اور آخری آیت میں منکرین قیامت کا ذکر ہے اور اچھی طرح بتاتا ہے کہ اس اعتقاد اور ان اعمال کے درمیان قریبی رابطہ ہے جو آنے والی آیات میں زیادہ واضح طور پر منعکس ہواہے ۔

____________________

۱۔ لسان العرب ، مادہ سجن ۔

۲۔ روح المعانی جلد ۳۰ ، ص ۷۰ اور مجمع البحرین مادہ سجلّ ۔

۳۔ نو ر الثقلین ، جلد ۵، ص ۵۳۰ حدیث ۱۵۔


آیات ۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷

۱۱ ۔( الذین یکذِّبون بیوم الدین ) ۔

۱۲ ۔( ومایکذِّب به الَّا کلُّ مُعتدٍ واثیمٍ ) ۔

۱۳ ۔( اذا تتلیٰ علیه اٰیاتنا قال اساطیر الاولینَ ) ۔

۱۴ ۔( کلّا بل ران علیٰ قلوبهم ماکانوا یکسبون ) ۔

۱۵ ۔( کلّا ٓ انّهم عن ربهم یومئِذٍ لمَحجوبونَ ) ۔

۱۶ ۔( ثم انّهم لصالوا الجحیم ) ۔

۱۷ ۔( ثم یقال هٰذا الذی کنتم به تُکذِّبونَ ) ۔

ترجمہ

۱۱ ۔ وہی جو قیامت کے دن کا انکار کرتے ہیں ۔

۱۲ ۔ صرف وہی لوگ اس کا انکار کرتے ہیں جوگناہگار اورتجاوز کرنے والے ہیں ۔

۱۳ ۔ وہی شخص کہ جب اسے ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتاہے کہ یہ گذشتہ لوگوں کے افسانے ہیں ۔

۱۴ ۔ اس طرح نہیں جیساکہ وہ خیال کرتے ہیں بلکہ ان کے اعمال ان کے دلوں پر زنگ کی طرح ہیں ۔

۱۵ ۔ ایسانہیں جیساوہ خیال کرتے ہیں بلکہ وہ اس دن اپنے پروردگار سے محجوب ہوں گے ۔

۱۶ ۔ اس کے بعد وہ یقینا جہنم میں وارد ہوں گے۔

۱۷ ۔ پھر ان سے کہا جائے گا یہ وہی چیز ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے -

گناہ دلوں کا زنگ ہے

گزشتہ آیات کی آخری آیت مکذبین اور جھٹلانے والوں کی منحوس سر نوشت کی طرف واضح اشارہ تھا۔ زیر بحث آیات سے پہلے ان افراد کا تعارف کراتی ہیں اور کہتی ہیں وہ ایسے لو گ ہیں کو روز جز ا کا انکار کرتے ہیں( الذین یکذبون بیوم الدین ) ۔ اور اس کے بعد مزید کہتاہے :

” صرف وہ لوگ جو روز جزا کی تکذیب کرتے ہیں جو متجاوز اور گناہگار ہیں “( ومایکذب به الاکل معتد اثیم ) ۔ یعنی انکار قیامت کا اصلی سبب منطق، استدلال اور تفکر نہیں ہے ، بلکہ جو افراد چاہتے ہیں کہ زیادتیاں کرتے رہیں اور گناہ کرتے رہیں وہ قیامت کا انکار کر دیتے ہیں ۔ ( توجہ فرمائیں کہ اثیم صفت مشبہ ہے جو استمرار اور گناہ کو رکھنے پر دلالت کرتی ہے )۔

وہ چاہتے ہیں کہ کسی قسم کے احساس ذمہ داری کے بغیر اپنے گمان کے مطابق انتہائی آزادی کے ساتھ اور ہر قسم کے دباو اور ذہنی پریشانی کے بغیر اپنی برائیوں اور قباحتوں کو جار ی رکھیں اور کسی قانون کو قانون نہ سمجھیں ۔

یہ چیز اس چیز کے مانند ہے جو سورہ قیامت کی آیت پانچ میں آئی ہے( بل یرید الانسان لیفجر امامه ) ” بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنی آئندہ عمر میں مسلسل فسق و فجور کی راہ اختیار کئے رہے “، اس لئے وہ قیامت کی تکذیب کرتاہے ۔

بعد والی آیات میں قیامت کا انکار کرنے والوں کی تیسری صفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتاہے :

” جب ہماری آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں :’ یہ گزشتہ لوگوں کے بے بنیاد مطالب اور افسانے ہیں “۔( اذا تتلیٰ علیه آیاتنا قال اساطیر الاولین ) ۔

یہ لوگ علاوہ اس کے کہ تجاوز کرنے والے ( متعدد) اور گناہ گار ہیں ، آیات الہٰی کا مذاق اڑاتے ہیں ، انہیں کہانیاں اور موہوم قصے بتاتے ہیں ، ایسے قصے کو انسان کے نادانی کے زمانے کی یاد گار ہیں ۔(۱)

اور اس بہانے سے چاہتے ہیں کہ اپنے آپ کو ان آیات کی سماعت سے جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، اس سے بچالیں ۔نہ صرف اس سورہ میں بلکہ قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی ہم پڑھتے ہیں کہ جسارت کرنے والے مجرم دعوت ِ خدا وند ی سے منحرف ہونے کا یہی بہانہ کرتے تھے ۔

قرآن مجیدکی نو آیتوں میں یہی مضمون واضح کیا گیا ہے کہ مشرکین قرآن مجیدکی آیتوں کے مقابلہ میں اسی بہانہ سے کام لیتے تھے( قالوا اساطیر الاولین اکتتبها فهی تملیٰ علیه بکرةو اصیلاً ) ” انہوں نے کہا یہ قرآن گزشتہ لوگوں کے افسانوں اور قصے کہانیوں کا مجموعہ ہے ، جسے اس نے لکھا ہے اور صبح و شام اسے لکھا یا جاتا ہے “۔ (فرقان۔ ۵) ۔

سورہ احقاف کی آیت ۱۷ میں ایک سر کش جوان کی زبانی جو اپنے مہر بان اور مومن ماں باپ کے مقابلہ پر کھڑا ہو جاتاہے ہم اس طرح سنتے ہیں کہ اپنے ماں باپ کی تمام نصیحتوں کا یہ کہہ کر مذاق اڑاتاہے کہ( ماهٰذا اساطیر الاولین ) یہ باتیں جو کرتے ہو گزشتہ لوگوں کی بے بنیاد باتوں اور افسانوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔

بعض مفسرین نے کہاکہ زیر بحث آیت نضر بن حارث بن کلدہ ، پیغمبر اسلام کی خالہ کے بیٹے کے بارے میں ،جو کفر و ضلالت کے سرغنوں میں سے تھا ، نازل ہوئی ہے۔

لیکن واضح رہے کہ آیت کا نزول کسی خاص مورد اس سے مانع نہیں کہ دوسروں کے بارے میں بھی صادق آئے ، بہرحال سر کش لوگ وجدان کی تنبیہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے اور حق پسند لوگوں کے اعتراضات سے بچنے کے لئے ہمیشہ فضول قسم کے بہانے بناتے رہتے ہیں تاکہ خود اس طرح سکون حاصل کریں ۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ عام طور پر ایک ہی انداز سے با ت کرتے تھے گویا تاریخ کے طویل دور میں ایک دوسرے کے کان میں کہہ جاتے تھے سحر ، کہانت جنون اور افسانہ وغیرہ ۔ لیکن قرآن اس کے بعد آنے والی آیت میں ایک مرتبہ پھر ان کی سر کشی کے اصل سبب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہتاہے :

ایسا نہیں جیسا وہ خیال کرتے ہیں ، بلکہ ان کے برے اعمال ان کے دل پر زنگ بن کر لگے ہوئے ہیں اور وہ حقیقت کے ادراک سے محرو م ہوگئے ہیں ۔( کلا بل ران علیٰ قلوبهم ماکانوا یکسبون ) ۔ عجیب دل ہلادینے والی تعبیر ہے ان کے اعمال نے ان کے دلوں پر زنگ لگا دیا ہے اور وہ نور جو خدا داد فطرت کی بناپر تھا سلب کرلیا ہے ، اس وجہ سے حقیقت کا چہرہ جو آفتاب عالمتاب کی درخشاں ہے ان کے دلوں پر ہر گز روشنی نہیں ڈالتا اور نوار وحی کا پر تو منعکس نہیں ہوتا۔

” ران“ ۔” رین “ ( بروزن عین ) کے مادہ سے ، جیسا کہ راغب نے کہا ہے ، وہی زنگ ہے جو قیمتی چیزوں کو لگ جاتا ہے ۔ اور بعض دوسرے ارباب لغت کے بقول سرخ رنگ کا چھلکا ہے جو ہَوَا کی رطوبت کے زیر اثر لوہے اور دوسری اسی قسم کی چیزوں پر چپک جاتا ہے جسے فارسی میں زنگ یا زنکار کہتے ہیں اور عام طور پر وہ اسی دھا ت کے پرانے اور بوسیدہ ہونے کی نشانی ہے اور طبعی طور پر اس کی شفاعت اور درخشندگی کے ختم ہونے کی علامت ہے ۔

کبھی اس لفظ کی ایک چیز سے دوسری چیز پر غلبہ حاصل کرنے ، یا کسی چیز میں اس طرح گرنے سے جس سے بچا نہ جا سکے ، تفسیر کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ سب چیزیں ان اصلی معانی کا لازمہ ہیں ۔(۲)

دل کی نورانیت کو ختم کرنے کے سلسلہ میں گناہ کے تباہ کن اثرات پر ہم بحث کریں گے جسے نکات کے عنوان کے ماتحت ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

اس سے اگلی آیت میں فرماتاہے :” ایسا نہیں ہے جیسا وہ خیال کرتے ہیں بلکہ اس دن وہ اپنے پر وردگار سے محجوب ہوں گے“۔( کلا انهم عن ربهم یومئذٍ لمحجوبون ) ۔ اور یہ کہ ان کی زیادہ درد ناک سزا ہے ۔ یہ اس بالا تر اور زیادہ لذت بخش نعمت کا بالکل تضاد ہے جو نیک لوگوں کو پروردگار عالم کی معنوی ملاقات اور اس کی بار گاہِ قرب میں حضور سے حاصل ہو گا ۔

کلّا عام طور پر اس بات کی نفی کے لئے آتا ہے جو پہلے سے بیان شدہ ہو اور یہاں مفسیرن نے کئی احتمال تجویز کئے ہیں ۔ پہلا یہ کہ کلا اس کی تاکید ہے جو گزشتہ آیت میں آیاہے یعنی اس طرح نہیں ہے کہ جس طرح انہوں نے قیامت کے دن کا افسانے اور کہانی کے طور پر تعارف کرایا ہے ۔

یا یہ کہ اس طرح نہیں کہ وہ زنگ جو ان کے دلوں پر لگ چکا ہے وہ اتر جائے ۔ وہ اس جہان میں جمال حق کے مشاہدہ سے محروم ہیں اور دوسرے جہان میں بھی ۔

یا یہ کہ جس طرح قرآن کی دوسری آیات میں آیاہے کہ وہ مدعی تھے کہ اگر بالفرض قیامت ہو بھی ، تب بھی وہ خدا کی انواع و اقسام کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوں گے ۔(۳)

اس طرح نہیں جس طرح وہ خیال کرتے ہیں بلکہ وہ شدید ترین عذابوں اور سخت ترین شکنجوں میں گرفتار ہوں گے ۔

جی ہاں ! آخرت انسان کے اس دنیا کے اعمال کا عکس اور عظیم تجسم ہے ۔ وہ لوگ جو یہاں مشاہدہ حق سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور ان کے اعمال زنگ بن کر ان کے دلوں پر لگے ہوئے ہیں ، وہاں بھی پر وردگار سے محجوب ہوں گے اور جما ل ِ حق کے مشاہدہ کی طاقت ان میں نہیں ہو گی اور محبوب ِ حقیقی کے لقائے معنوی سے محروم رہیں گے ۔

اس کے بعد وہ یقینا جہنم کی آگ میں داخل ہوں گے( ثم انهم لصالوا الجحیم ) ۔ یہ جہنم میں ورود پروردگا رسے محجوب ہونے کا نتیجہ ہے اور ایک اثر ہے جو اس سے جد انہیں ہے اور بحیثیت ِ مسلّم دیدار حق سے محرومیت کی آگ جہنم سے بھی زیادہ جلانے والی ہے ۔ اور آخری آیت میں فرماتا ہے :

” پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس کی تم تکذیب کرتے تھے “( ثم یقال هٰذا الذی کنتم به تکذبون ) یہ بات ان سے بطور توبیخ وملامت و سر زنش کہی جائے گی اور یہ اس بیوقوف اور ہٹ دھرم گروہ کے لئے ایک روحانی عذاب ہے ۔

____________________

۱۔ ” اساطیر“ ،”اسطورہ“کی جمع ” سطر“ کے مادہ سے عام طور پر موہوم قصوں اور جھوٹی باتوں کے لئے استعمال ہوتا ہے

۲۔ تفسیر رازی در ذیل آیہ زیر بحث اور المنجد مادہ رین کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۳۔ سورہ کہف کی آیت ۳۶ میں آیا ہے (وما ا ظن الساعة قائمة و لئن رددت الیٰ ربی لاجدن خیراً منها منقلباً ) میں بالکل باور نہیں کرتا کہ قیامت بر پر ہو گی اور اگر میں اپنے پر وردگار کی طرف لوٹوں بھی اور قیامت بھی ہو ، پھر بھی اس جگہ سے بہتر جگہ وہاں پاو ں گا ( ان معانی کی نظیر سورہ فصلت کی آیت ۵۰ میں بھی آئی ہے) ۔


۱ ۔ دل کے لئے گناہ کیوں زنگ ہے

نہ صرف اس سورہ کی آیت میں دل کو تاریک کرنے پر گناہ کی تاثیر کو ذمہ دار ٹھہرا یا گیا ہے بلکہ قرآن مجید کی بہت سی دوسری آیتوں میں بھی ان معانی کی کئی مرتبہ تکرار کی گئی ہے اور بری صراحت کےساتھ انھیں قابل توجہ قرار دیا گیا ہے ۔ ایک جگہ فرماتاہے :

( کذلک یطبع الله علیٰ کل قلب متکبر جبار ) ” اسی طرح خدا ہر متکبر جبار اور سر کش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے “۔ ( مومن ۔ ۳۵) ۔ ایک دوسری جگہ ہٹ دھرم اور عناد رکھنے والے گناہگا روں کے گروہ کے بارے میں فرماتا ہے :

( ختم الله علیٰ قلوبهم و علیٰ سمعهم و علیٰ ابصار هم غشاوة ولهم عذاب عظیم )

” خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگادی اور اسی طرح ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے “۔ ( بقرہ ۷) ۔ اور سورہ حج کی آیت ۴۶ میں ہم پڑھتے ہیں: ( فانها لاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ) ظاہری آنکھیں نابینانہیں ہوتیں بلکہ وہ دل ہے جو سینوں میں اندھے اور نابیناہوجاتے ہیں ۔

جی ہاں ! گناہ اور اس کو جاری رکھنے کا بد ترین اثر دل کا تاریک ہوجانا ہے اور نورِ عالم اور حسّ کا ختم ہوناہے ۔گناہ اعضاء و جوارح سے سرزد ہوتے ہیں لیکن دل کومتاثر کرتے ہیں اور اسے غلیظ و متعفن کیچڑ میں تبدیل کردیتے ہیں ۔

یہ وہ مقام ہے جہان انسان راہ اور چاہ کے درمیان امتیاز نہیں کرسکتا اور عجیب و غریب شہادت کا شکار اور غلطیوں کا مر تکب ہوتاہے جن سے ہر شخص حیران ہو جاتا ہے وہ اپنے پیروں پر خود کلہاری مارتا ہے اور اپنی خوشبختی کا سرمایہ بر بادکردیتاہے ۔

ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے (کثرة الذنوب مفسدة للقلب ) گناہوں کی فراوانی انسان کے دل کو تباہ کردیتی ہے ۔(۱)

پیغمبر اسلام و کی ایک اورحدیث ہے (ان العبد اذا اذنب ذنبا نکتت فی قلبه نکتة سوداء فان تاب و نزع و استغفر صقل قلبه و ان عاد زات حتی تعلوقلبه فذٰلک الدین الذی ذکر الله فی القرآن ( کلّا بل ران علیٰ قلوبهم ما کانوا یکسبون )

جس وقت بندہ گناہ کرے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پید اہو جاتا ہے اگر توبہ کرے اور گناہ سے دست بردار ہوجائے اور استغفار کرے تو اس کا دل صیقل ہوجاتاہے اور اگر دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی بڑھ جاتی ہے،یہاں تک کہ اس کے پورے دل کو گھیر لیتی ہے اور یہ وہی زنگ ہے جس کی طرف اس آیت( کلا بل اران علیٰ قلوبهم ما کانوا یکسبون ) میں اشارہ ہو اہے ۔(۲)

یہی مفہوم امام محمد باقرعلیہ السلام سے بھی اصول کافی میں مختصر سے فرق کے ساتھ منقول ہے ۔(۳)

نیز اسی اصولی کافی میں رسول خدا سے منقول ہے کہ (تذاکر وا و تلاقوا و تحد ثوا فان الحدیث جلاء للقلوب ان للقلوب لترین کما کما یرین السیف و جلائه الحدیث )

مذاکر ہ کرو اور ایک دوسرے ملاقات کرو اور ( دین کے پیشواو ں کی ) احادیث نقل کرو اس لئے کہ حدیث دلوں کی جلا کا سبب ہے ۔ دل بھی زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس طرح تلوار کو زنگ لگ جاتا ہے اور قلوب کا صیقل حدیث ہے ۔ ۴

اصول نفسیات کی رو سے بھی مفہوم ثابت ہو چکاہے کہ انسان کے اعمال کا ہمیشہ اس کی روح پر اثر ہوتا ہے اور وہ اعمال روح کو آہستہ آہستہ اپنی صورت پر لے آتے ہیں ، یہاں تک کہ انسان کے سوچنے کے طریقہ اور فیصلہ کرنے کے انداز پر بھی اپنا اثر ڈالتے ہیں ۔

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ انسان گناہ کو جاری رکھنے کے نتیجے میں رفتہ رفتہ روح کی تاریکی میں ڈوبتا چلا جاتاہے اور ایسی منزل پرپہنچ جاتاہے کہ اس کواپنے گناہ حسنات نظر آتے ہیں یعنی اپنی برائیوں ہی کو اچھائیاں سمجھنے لگتاہے ۔ وہ بعض اوقات اپنے گناہ پر فخر کرتا ہے ایسی منزل پر پہنچ کر اس کے لئے واپسی کا کوئی امکان نہیں رہتا ، یہ ایک خطر ناک ترین حالت ہے جو ایک انسان کو پیش آتی ہے ۔

۲ ۔ روح و جان کے چہرہ پر عذاب

گر بہت سے مفسرین نے کوشش کی ہے کہ آیت( کلا انهم عن ربهم یومئذ لمحجو بون ) میں کسی چیز کو مقدر قرار دیں اور کہیں کہ یہ گناہ گار خد اکی رحمت سے محجوب ہوں گے یا اس کے احسان ، کرامت اور ثواب سے محجوب ہوں گے ، لیکن بظاہر آیت کسی تقدیر کی محتاج نہیں ہے ۔

وہ واقعاً پرور دگار سے محجوب ہوں گے جب کہ نیک اور پاک افراد قربِ خدا وندی کی منزل پر فائز ہوں گے اور دیار محبوب اور اس کے شہود ِ باطنی سے بہرہ مند ہوں گے ۔

یہ بے ایمان اور گناہگار دوزخی ہیں جو اس فیض عظیم اور نعمت بے نظیر سے محروم ہیں ۔ بعض پاک دل مومن اس جہان میں بھی اس دیدار سے فیضیاب ہوتے ہیں جبکہ کور دل مجرم اس جہان میں بھی اس فیض سے محروم ہوں گے ۔ پاک دل ہمیشہ حضور خداوندی میں ہیں اور یہ بے بصیر تاریک دل اس سے دور ہیں ۔

وہ اس کی مناجات سے اس قدرلذت حاصل کر تے ہیں جو کسی بیان کی محتاج نہیں ہے جبکہ یہ گناہگار اپنے گناہوں کی نحوست میں اس قدر غرق ہیں کہ ان کے لئے کو ئی راہ نجات نہیں ہے ۔

تو کز سرائے طبیعت نمی روی بیرون کجا بکوئے حقیقت گزرتوانی کرد

جمال یار ندارد و حجاب و پردہ دلے غبار راہ اشارہ نشاں تا نظر توانی کرد

تومادہ کے گھر سے باہرنہیں نکلتا تو پھر حقیقت کے کوچہ میں تیرا گذر کیسے ہو سکتاہے ۔ محبوب کے جمال پرکوئی پردہ نہیں ہے لیکن غبار ِ راہ کو بھٹانا کہ تو دیکھ سکے ۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام مشہور دعا ئے کمیل میں فرماتے ہیں :هبنی صبرت علیٰ عذابک فکیف اصبر علیٰ فراقک ) بالفرض اگر میں تیرے دردناک عذاب پر صبر کربھی لو تو تیرے فراق پر کیسے صبر کروں گا۔

____________________

۱۔ در المنثور،جلد۶ ص ۳۲۶۔

۲۔ در المنثور، جلد ۶ ص ۳۲۵۔

۳۔ نور الثقلین ، جلد ۵ ص ۵۳۱ حدیث ۲۲،۲۳۔

۴۔ نور الثقلین ، جلد ۵ ص ۵۳۱ حدیث ۲۲،۲۳۔


آیات ۱۸،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵،۲۶،۲۷،۲۸

۱۸ ۔( کلا ان کتٰب الابرار لفی علیین ) ۔

۱۹ ۔( و ما ادراک ماعلّیّونَ ) ۔

۲۰ ۔( کتٰب المرقوم ) ۔

۲۱ ۔( یشهد ه المقر بونَ ) ۔

۲۲ ۔( ان الابرار لفی نعیم ) ۔

۲۳ ۔( علی الارائکِ ینظرون ) َ۔

۲۴ ۔( تعرف فی وجوههم نضرةَ النعیم ) ۔

۲۵ ۔( یُسقون من رحیق المختومٍ ) ۔

۲۶ ۔( خِتٰمه مِسکٌ و فی ذٰلک فلیتنافسِ المتنافسونَ ) ۔

۲۷ ۔( و مزاجه مِنْ تسنیمٍ ) ۔

۲۸ ۔( عیناً یشربُ بها المقربونَ ) ۔

ترجمہ

۱۸ ۔ ایسا نہیں ہے جیسا وہ ( قیامت کے بارے میں ) خیال کرتے ہیں بلکہ نیک لوگوں کا نامہ اعمال علیین میں ہے ۔

۱۹ ۔ اور تو کیا جانے کہ علیین کیا ہے ؟

۲۰ ۔ تحریر ہے لکھی ہوئی اور سر نوشت ہے قطعی ۔

۲۱ ۔ جس کے شاہد مقرّبین ہیں ۔

۲۲ ۔ یقینا نیک لوگ انواع و اقسام کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے ۔

۲۳ ۔ جنت کے خوبصورت پلنگو ں اور تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے اور جنت کی خوبصورتی کو دیکھ کر رہے ہوں گے ۔

۲۴ ۔ ان کے چہروں پر تو نعمت کی طراوت اور نشاط دیکھے گا ۔

۲۵ ۔ وہ شراب زلال دست نخوردہ و سر بستہ سے سیراب ہوں گے ۔

۲۶ ۔ اس پر جو مہر لگائی گئی ہو گی وہ مشک و کستوری سے ہو گی اور ان جنت کی نعمتوں میں رغبت رکھنے والوں کو ایک دوسرے سے سبقت لے جانی چاہئیے ۔

۲۷ ۔ یہ شراب ( طہور) تسنیم سے مخروج ہوگی ۔

۲۸ ۔ وہی چشمہ جس سے مقربین پئیں گے ۔

عِلیین ابرار کے انتظار میں ہے

اس توصیف کے بعد جو گزشتہ آیات میں فاجر لوگوں کے اعمال اور سر نوشت کے بارے میں آئی ہے ان آیات میں اس گروہ کے بارے میں گفتگو ہے جو ان کا مد مقابل ہے یعنی ابرار اور نیکو کار لو گ جن کا امتیاز ، افتخار اور اعزاز فاجروں کے مقابلہ میں ملاحظہ کرنے سے دونوں کی حیثیت واضح ہوجاتی ہے ۔ پہلے فرماتاہے :

ایسا نہیں ہے جیسا وہ قیامت کے بارے میں خیال کرتے ہیں بلکہ نیک لوگوں کے نامہ ہائے اعمال علیین میں ہو ں گے “۔( کلّاان کتاب الابرار لفی علیین ) ۔

” علیین “۔’ ’ علی “ (بروزن ملی )کی جمع ہے بلند جگہ اور اس پر بیٹھنے والوں کے معنوں میں ہے ۔ یہاں پہاڑوں کے بلند ترین حصوں پر رہنے والوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ، یہاں مفسرین کی ایک جماعت نے آسمان کی افضل ترین جگہ یا جنت کی بہترین جگہ کے معنی میں اس کی تفسیر کی ہے اور بعض نے کہا کہ اس کا ذکع جمع کے ساتھ جو ہے وہ تاکید کے لئے اور علوفی علو بلندی در بلندی کے معنوں میں ہے ۔

بہرحال وہ تفسیریں جو گزشتہ آیا ت میں ہم سجین کے بارے میں کرچکے ہیں ان ہی سے مشابہ تفسیریں ہیں ۔

پہلی یہ کہ کتاب الابرار سے مراد نیک ، پاک اور مومنین کانامہ اعمال ہے اور مقصود کلام یہ ہے کہ ان کا نامہ اعمال ایک ایسے دیوان کل میں موجود ہے جو تمام مومنین اعمال کو بیان کرتا ہے ۔ وہ دیوان بہت ہی بلند منزلت رکھتاہے یا یہ کہ ان نامہ اعمال بلندترین مکان ی اجنت کے فراز پر ہے ۔ اور یہ بس معانی بتاتے ہیں کہ خود ان کامقام بہت ہی بلند و بالا ہے ۔

ایک حدیث میں ہمیں ملتاہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا کہ علیین سے مراد ساتواں آسمان اور عرشِ خدا کا نچلا حصہ ہے ۔(۱)

اور یہ نقطہ فجا ر کا عین نقطہ مقابل ہے جو دوزخ کے طبقوں میں پست ترین جگہ قرار پائی ہے ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ کتاب سے مراد سرنوشت اور حکم قطعی ہے جو نیک لوگوں کو بہشت کے اعلیٰ درجوں میں مقرر کئے ہوئے ہیں ۔

ان دونوں تفسیروں میں کوئی تضاد نہیں ہے کہ ان کا نامہ اعمال ایک دیوان کل میں بر قرار ہے اور اس دیوان کا مجموعہ آسمانوں کی بلندی پرہے اور فرمانِ الٰہی بھی یہی قرارپایا ہے کہ وہ خود جنت کے بلند ترین مقامات میں ہوں ۔

اس کے بعد علیین کی اہمیت و عظمت کو بیان کرنے کے لئے مزید کہتاہے : ” تو کیا جانے کہ علیین کیا ہے “( وما ادراک ما علیین ) یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ ایسا مقام ہے جو خیال و قیاس اور وہم و گمان سے بھی بر تر ہے ، جسے کوئی بھی حتی کہ پیغمبر اسلام بھی ، اس کی عظمت اور حدودِ اربعہ کا ادراک نہیں کر سکتے ۔

اس کے بعد خود قرآن وضاحت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ” علیین ایک لکھی ہوئی کتاب ہے “( کتاب مرقوم ) ۔ یہ اس تفسیر کی بناء پر جو علیین کو ابرار کے نامہ اعمال کے دیوان کل کے معنی میں پیش کرتی ہے ۔

باقی رہی دوسری تفسیر تو پھر آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ یہ حتمی سر نوشت ہے جس کے بارے میں خدا نے تحریر کیا ہے ۔ان کی جگہ جنت کے افضل ترین درجات میں ہو گی ۔ اس بناء پر کتاب مرقوم کتاب ا برار کی تفسیر ہے نہ کہ علیین کی ۔ ( غور کیجئے )۔

اس کے بعد مزید کہتا ہے :” یہ ایسی کتاب ہے جس میں یا جسے مقربین مشاہدہ کریں گے ، یا اس کی گواہی دیں گے “( یشهد ه المقربون ) ۔

اگر چہ مفسرین کی ایک جماعت اس آیت میں مقربون سے مراد فرشتے لیتی ہے جو بار گاہ الہٰی میں مقرب ہیں ، وہ فرشتے جو نیک لوگوں کے اعمال کے یا یقینی سر نوشت کے ناظر ہیں لیکن بعد کی آیت بتاتی ہے کہ مقربون خاصان خدا اور بر گزیدہ مومنین کایک گروہ ہے جس کا مقام بہت اونچا ہے اور دوسرے نیک افراد کے اعمال پر شاہد ہے جیساکہ سورہ واقعہ کی آیت ۱۰ ۔ ۱۱ میں اصحاب المینہ اور اصحاب المشئمہ کے ذکر کے بعد فرماتا ہے :

( و السابقون السابقون اولٰئک المقربون ) اور سبقت کرنے والوں میں سبقت کرنے والے ہی مقربین ہیں ۔ اور سورہ نحل کی آیت ۸۹ میں ہم پڑھتے ہیں( و یوم نبعث فی کل امة شهیداً علیهم من انفسهم و جئنا بک شهیداً علیٰ هٰو لاء ) اور یاد کرو اس دن کو جب ہر امت میں سے ایک گوا ہ اس پر مقر ر کریں گے “اور تجھے اس پر گواہ قرار دیں گے “۔ اس کے بعد نیک لوگوں کے عظیم ثواب کے ایک حصہ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے :

” یقینا ابرار انواع و اقسام کی نعمتوں سے بہر یاب ہیں “( ان الابرار لفی نعیم ) ۔

” نعیم “ کا اصلی مفہوم جو راغب کے بقول بہت زیادہ نعمت کے معنی میں ہے اور نکرہ کی شکل میں اپنے ذکر کے ساتھ یہاں عظمت و اہمیت کی دلیل ہے ، یہ بتا تا ہے کہ ابرار اس قسم کی بر کتوں اور نعمتوں کے حامل ہیں جو حدود توصیف و تعریف سے باہر ہیں اور یہ جنت کی تمام مادی و معنوی نعمتوں اور بر کتوں کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ایک جامع تعبیر ہے ۔ اس کے بعد ان میں سے بعض کی تشریح کرتے ہوئے فرماتاہے :

” وہ جنت کے خوبصورت پلنگو اور تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ان تمام نعمتوں اور مناظر کو دیکھ رہے ہوں گے او رلذت اٹھا رہے ہوں گے “( علی الارائک ینظرون ) ۔(۲)

” ارائک“ ۔”اریکہ“کی جمع ہے اور خوبصورت تخت کے معنی میں ہے ، یاپر زینت پلنگ جو حجلہ عروسی میں رکھتے ہیں ، یہاں جنت کے بہت ہی خوبصورت تختوں اور پلنگوں کی طرف اشارہ ہے جن پرنیک اورصالح افراد متمکن ہوں گے ۔

بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ اس لفظ کی اصل فارسی ہے اور یہ ” ارگ “ سے لیاگیا ہے جس کے معنی قصر سلطنت کے ہیں ۔ ( یہ لفظ اس قلعہ کے معنی میں بھی آیا ہے جو شہر کے اندر ہو ، اور چونکہ شہر کے اندر والا قلعہ عام طور پر باد شاہوں کے لئے مخصوص ہوتا ہے ،لہٰذا اس پر اطلاق ہوتاہے )۔

بعض دوسرے مفسرین ارائک کو مفرد اور فارسی لفظ” اراک“ یا ” ارایک“ سے ماخوذ جانتے ہیں جس کے معنی شاہی تخت کے ہیں اور پایہ تخت اوراس صوبہ کے معنی میں ہیں جس میں پایہ تخت ہو اور عراق کو اراک کی معرب سمجھتے ہیں جو اس قسم کے صوبہ کے معنی میں ہے اور کہتے ہیں کہ لفظ ارائک اوستا ( زرتشت کی مقدس کتاب ) میں بھی بار گاہ اور تختِ سلطنت کے معنی میں آیا ہے ۔

لغت عرب کے بعض علماء اس کی اصل عربی کو سمجھتے ہیں ، ان نظر یہ ہے کہ یہ لفظ اراک سے لیاگیا ہے جو مشہور درخت کا نام ہے جس سے تخت اور سائبان بنائے جاتے ہیں ۔(۳)

لیکن قرآن مجید میں ا س کے موارد استعمال سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اس زیبا اورخوبصورت اور مزین تخت کے معنوں میں ہے جس سے صاحبان قدرت و نعمت استفادہ کرتے ہیں ۔

( ینظرون ) دیکھیں گے ، کی تعبیر جو سر بستہ شکل میں استعمال ہوئی ہے اس میں یہ نہیں فرماتا کہ کس چیز کی طرف دیکھیں گے تاکہ اس کے مفہوم میں وسعت رہے ۔ وہ لطفِ خدا کی طرف دیکھیں گے۔ ا سکے بے مثال جمال کی طرف، جنت کی انواع و اقسام کی نعمتوں کی طرف اور نگاہوں کی خیرہ کرنے والی خوبصورتیوں کی طرف دیکھیں گے ، بہشت بریں میں ہوں گے ، اس لئے کہ انسانی لذتوں میں سے اہم ترین لذت دیکھنے کی لذت ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے :

” جب تو ان کے چہروں کی طرف دیکھے تو نعمت کے طراوت خوشی اور نشاط ان میں دیکھے گا“( تعرف فی وجوههم نضرة النعیم ) ۔ جو اس طرف اشارہ ہے کہ نشاط ، سروراور خوشی ان کے چہروں پر جھلک رہی ہوگی اور ان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے برعکس اگر دوزخیوں کے چہرے پر نظر رہے تو ان سے غم و رنج اور اندوہ و بد بختی اور بے چار گی نمایاں ہو گی ۔

” نضرة“ جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں ، تراتاز گی او رنشاط کے معنی میں ہے جو اچھی زندگی گذارنے والوں کے چہرے سے عیاں ہوتی ہے ، تحت ، نظارہ، آرام و سکون و نشاط کی نعمتوں کے بعد ایک اور نعمت یعنی بہشتیوں کی شراب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے :

” انہیں ایسی پاک و پاکیزہ شراب پلائیں گے جس میں کسی کاہاتھ نہیں لگا ہوگا “ ( یسقون من رحیق مختوم)۔ وہ شراب طہور جو دنیا کی اشرابوں کی طر ح گناہ پر آمادہ کرنے والی ، جنون پیداکرنے والی شیطانی شراب کی طرح نہیں ہے بلکہ وہ ہوش و عقل اور نشاط و عشق صفا پیدا کرتی ہے ۔

زیادہ مفسرین نے رحیق کو خالص شراب کے معنی میں لیا ہے ، ایسی شراب جس میں کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہو گی ۔

” مختوم“ کے معنی مہر لگی ہوئی ۔ اس سے بھی اس کے خالص اور پاک و صاف ہونے کا اظہار ہے ۔ ا سکے علاوہ وہ اس قسم کے برتنوں کا استعمال مہمان کے خاص احترام کی علامت ہے ، ایسا ظرف جس کا منھ بندہے ، اس پر مہر لگی ہوئی ہے اور اس کی مہر صرف مہمان کی خاطر تھوڑی جاتی ہے ۔(۴)

اس کے بعد فرماتا ہے :”اس کی مہر مشک اور کستوری سے لگائی گئی ہے “( ختامه مسک ) ۔ دنیا کے منھ بند بر تنوں کی طرح نہیں جن کی مہر مٹی سے لگائی جاتی ہے تو مشک اور عطر کی خوشبو فضامیں پھیل جاتی ہے ۔

بعض مفسرین نے یہ بھی کہاہے کہ مراد یہ ہے کہ آخر میں یعنی اس شراب طہور پینے کے اختتام پر انسان کے منھ سے مشک و عنبر کی خوشبو آئے گی ، دنیا کی نجس شرابوں کے بر خلاف جن کے پینے کے بعد منھ تلخ اور بد بو دار ہوجاتا ہے ، لیکن اس تعبیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو گزشتہ آیت میں آئی ہے یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے ۔ آیت کے آخر میں جنت کی شراب طہور کی طرف رغبت کرنے کے بعد فرماتاہے :” ان بہشتی نعمتوں میں اور خصوصیت کے ساتھ اس شراب طہور کی طرف رغبت کرنے والوں کو ایک دوسرے پر سبقت لے نی چاہےئے “۔( و فی ذٰلک فلیتنافس المتنافسون ) ۔ مفسر عظیم ” طبرسی “ ” مجمع البیان “میں کہتے ہیں :

” تنافس “کے معنی دو انسانوں کے ایک چیز کے لئے کو شش کرنے کے ہیں جن میں سے دونوں یہ چاہیں کے یہ نفیس چیز میرے پاس ہو

مجمع البحرین میں ہے کہ تنافس کے معنی عظمت و عزت کے ساتھ ایک دوسرے پر سبقت لے جانا ہے ۔ راغب مفردات میں کہتا ہے ”منافسہ “ کہ معنی یہ ہیں کہ معزز افراد سے مشابہت پید اکرنے کے لئے ان سے ملحق ہوجانے کی اس طرح کوشش کرنا کہ دوسرے کو نقصان نہ پہنچے ۔

حقیقت میں اس آیت کا مفہو م اُ س آیت کے مشابہ ہے جو سورہ حدیدکی آیت ۲۱ میں آئی ہے( سابقوا الیٰ مغفرة من ربکم و جنةعرضها کعرض السماء و الارض ) ” اپنے پروردگا رکی مغفرت تک پہنچنے کے لئے اوراس کی جنت تک پہنچنے کے لئے جس کی وسعت آسمان و زمین جتنی ہے، ایک دوسرے پر سبقت لے جاو “۔

یا جو کچھ سورہ آل عمران کی آیت ۳۳ ۱ میں آیاہے :( و سارعوا الیٰ مغفرة من ربکم و جنة عرضها السما وات و الارض ) ۔ بہر حال اس آیت میں جو تعبیر آئی ہے وہ بہت ہی خوبصورت ہے اور جو ایمان و عمل صالح کے ذریعہ ان بے نظیر نعمتوں تک پہنچنے کے سلسلہ میں انسانوں کو شوق دلانے کا سبب سمجھی جاتی ہے اور قرآن کی فصاحت و بلاغت کو عمدہ انداز میں ظاہر کرتی ہے ۔(۵) (۶)

اس کے بعد آخری نعمت جو اس سلسلہ آیات میں آئی ہے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :

” یہ شراب ِ طہور تسنیم میں ملی ہوئی ہے “( مزاجه من تسنیم ) ۔ ” وہی چشمہ جس سے مقربین پیتے ہیں ( عیناً یشرب بھا المقربون)۔(۷)

ان آیا ت سے معلوم ہوتا ہے کہ تسنیم جنت کی افضل ترین شراب طہور ہے جسے خاص طور پر مقربین پیتے ہیں لیکن عام نیک لوگ اس میں سے ایک مقدار رحیق ِمختوم ملاکر پیتے ہیں ، جو جنت کی شراب ِ طہور کی ایک اور قسم ہے ۔

یہ کہ شراب یایہ چشمہ تسنیم کے نام سے کیوں موسوم ہے ( اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ تسنیم لغت کے اعتبار سے چشموں کے معنوں میں ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف گر رہاہو) بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ وہ شراب ہے جو بہشت کے آسمانوں سے گرر ہی ہے ۔ حقیقت میں جنت کی شراب کی کئی قسم ہے ، بعض تو نہروں کی صورت میں بہہ رہی ہیں جن کی طرف قرآن کی متعدد آیات میں اشارہ ہواہے ۔(۸)

ان میں سے بعض منھ بند برتنوں میں مہر زدہ صورت میں ہیں جیساکہ مندرجہ بالاآیت میں آیاہے ۔

سب سے زیادہ اہم وہ شراب ہے جو بہشت کے آسمان یا اور اوپر والے طبقوں سے گرتی ہے اور یہ وہی شراب ہے ِ تسنیم ہے کہ جنت کا کوئی مشروب اس کا ہم پلہ نہیں ہے اور جنتیوں کے جسم و جان میں جوتاثیر فطری طور پر وہ کرتی ہے وہ سب سے بہتر پر کشش اور عمیق ہے ۔ اس کے پینے سے جو نشہ حاصل ہوتاہے وہ تعریف و توصیف سے بالا ہے ۔

البتہ اس حقیقت کو ہمیں دوبارہ بیان کرنا چاہئیے کہ یہ سب دھند لے نقوش ہیں جو دور سے نظر آتے ہیں ورنہ جنت کی گراں قدر اور بے نظیر نعمتوں کی تعریف و تو صیف زبان و قلم کے ذریعہ ممکن نہیں ہے ۔ حتی کہ خود قرآن کے بقول اس کی طرف کسی شخص کی فکر اوراس کے ذہن میں نہیں آسکتی ۔ ( فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرة اعین ) ( الم سجدہ ۔ ۱۷) کوئی نفس نہیں جانتا کہ آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے والی کونسی چیزیں ان کے لئے رکھی گئی ہیں ۔

____________________

۱۔ تفسیر قرطبی، جلد ۱۰ ص۷۰۵۳ ومجمع البحرین مادہ ” علو“

۲۔اس جملہ میں مبتداء محذوف ہے اور تقدیر میں (هم علی الارائک ینظرون ) ہے اس جملہ ینظرون حال ہے ، یا یہ کہ علی الارائک گزشتہ آیت کے لفظ ” ان “ کی خبر کے بعد خبر ہے ۔

۳۔ ” لغت نامہ “۔ ” وھخدا“ ، کتاب“ دیوان دین“، مفردات راغب “ اور بر ہان قاطع کی طرف رجوع کیاجائے ۔

۴۔ گزشتہ زمانے میں معمول تھااو رموجودہ زمانے میں بھی معمول ہے کہ یہ اطمینان کرنے والے کے لئے کہ اس چیز کو کسی کا ہاتھ نہیں لگا ا سکو کسی برتن میں رکھتے اور اس کامنھ بند کرنے کے بعد کسی رسی یا بٹے ہوئے تار سے اس پر گرہ لگادیتے تھے اور اس گرہ پر سخت مٹی یا لاکھ کو پگھلاکر رکھ دیتے اور ا س طرح سے مہر لگادیتے کہ برتن برتن کے اندر مہر توڑے بغیر رسائی ممکن نہ ہوتی ۔ عرب اس کو مختوم کہتے ہیں ۔

۵۔ جو کچھ آیت کی تفسیر میں کہاگیاہے اس سے واضح ہوجاتاہے کہ ذالک کا اشارہ جنت کی سات نعتموں کی طرف ہے خصوصاً مخصوص شراب طہور جس پر کشش اوصاف آیت میں آئے ہیں ۔

۶۔ چونکہ ” واو“ اور ”فاء“ (و فی ذالک فلیتنا فس المتنافسون ) کے جملہ میں دونوں عطف کے لئے ہیں تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دو حروف یکے بعد دیگرے کیوں آئے ہیں ۔ زیادہ مناسب جواب یہ ہے کہ یہاحرف ِ شرط محذوف ہے اور تقدیرِ عبارت اس طرح ہے (و ان ارید تنافس فی شیء فلتنافس فی ذالک المتنافسون )۔اگر کسی چیز میں رغبت ہے تو رغبت کرنے والے اس میں رغبت محسوس کریں ۔ اس طرح حرفِ شرط اور جملہ شرطیہ دونوں محذوف ہیں اور ذالک بھی مقدم رکھا گیاہے ۔ ( غور فرمائیے)۔

۷۔یہ کہ عیناً کیوں منصوب ہے اس کے لئے بہت سی وجوہ بیان ہوئی ہیں ۔ منجملہ ان کے یہ کہ تسنیم کے لئے حال یا اس کی تمیز ہے ، یا مدح و اختصاص کے عنوان کے ماتحت ہے اور تقدیر اعنی( میری مراد ہے ) اور ” بھا“ کی ”باء“ یاتو زائدہ ہے یا ” من “ کے معنی میں ہے اور دوسرے معنی زیادہ مناسب ہیں ۔۸۔ سورہ محمد ، آیت ۱۵۔


چند نکات

ابرار اور مقربین کون لوگ ہیں ؟

قرآن مجید کی آیات میں ابرار، مقربین اور ان کے عظیم اجر و ثواب کے بارے میں بار ہا گفتگو ہوئی ہے ، یہاں تک کہ سورہ آل عمران کی آیت ۱۹۳ کے مطابق اولوا لالباب ( قوی عقل و فکر والے ) تقاضا کرتے ہیں کہ ان کی زندگی کا اختتام ابرار کے ساتھ ہو ۔

( توفنا مع الابرار ) اور سورہ دھر کی آیات میں بھی ان کے لئے بہت اجر ثواب بیان ہوئے ہیں ، ( دھر آیت ۵ تا ۲۲) اور سورہ انفطار کی آیت ۱۳ اور سورہ مطففین کے زیر بحث آیت بھی ان کے بارے میں بار بار خدا کی مہر بانیوں کو بیان کرتی ہے ۔

ابرابر ، جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں ، ” بر“ کی جمع ہے یہ وہی لوگ ہیں جو وسیع روح، بلند ہمت، اچھے اعتقاد اور نیک عمل کے حامل ہیں اورمقربین وہ ہیں جو بار گاہ خدا میں قربِ مقام کے حامل ہیں ۔

ان دونون کے درمیان ظاہری طو ر پر عام و خاص مطلق کی نسبت ہے یعنی سب مقرب افراد ابرار ہیں ، لیکن ابرار مقرب نہیں ہیں ۔

ایک حدیث امام حسن مجتبیٰ سے منقول ہے کہ (کلما فی کتاب الله عزوجل من قوله ان الابرار فو الله ماراد به الا علی ابی طالب و فاطمه و انا والحسین ) جہاں کہیں قرآن میں انّ الابرار اآیاہے خدا کی قسم اس پروردگا رکی مراد علی ابن ابی طالب ، فاطمہ زہرا ، میں اور حسین ہیں ۔(۱)

اس میں شک نہیں کہ خمسہ نجباوہ پانچ مقدس نور ِ ابرار و مقربین کے سب سے زیادہ مصداق ہیں اور جیسا کہ ہم نے سورہ دھر میں کہاہے کہ یہ عظیم سورہ امیر المومنین حضرت علی و فاطمہ اور حسن و حسین کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس کی اٹھارہ آیات ان کے فضائل کی بحث میں ہیں ، اگر چہ ان کے بارے میں آیات کا نزول آیات مفہوم کی وسعت کی راہ میں مانع نہیں ہے ۔

____________________

۱۔ نور الثقلین، جلد ۵ ص۵۳۳حدیث ۳۳۔


۲ ۔ جنت کی شرابیں

قرآن کی مختلف آیتوں سے معلوم ہو تا ہے کہ جنت میں کئی قسم کی شراب ہائے طہور کئی ناموں اور کیفیتوں کے ساتھ موجود ہیں جو ہر لحاظ سے دنیا کی ناپاک شرابوں سے مختلف ہیں ۔ دنیا کی شرابیں عقل کو ختم کرتی ہیں ، جنو ن پیدا کرتی ہیں اور عداوت و خونریزی اور فتنہ و فساد کا سر چشمہ بنتی ہیں ۔ بد بو دار و بد ذائقہ اور نجس و ناپاک ہوتی ہیں ۔

لیکن جنت کی شرابیں عقل ، نشاط اور عشق پیدا کرتی ہیں ۔ خوشبو دار معطر او رپاک ہیں اور جو لوگ انہیں پیتے ہیں وہ ناقابل ِ بیان روحانی نشہ سے سرور حاصل کرتے ہیں جس کی دو قسمیں اس صورت میں آچکی ہیں ۔

رحیق مختوم او ر تسنیم اور اس کی دوسری اقسام سورہ دھر اور قرآن کی دوسری آیات میں بیان ہوئی ہیں جن میں سے ہرایک کی اس جگہ ہم نے تصریح کی ہے ۔

قابل توجہ یہ ہے کہ متعدد روایات میں یہ جنت کی شراب ان لوگوں کا اجر قرار دی گئی ہے جو دنیا کی شراب کی طرف توجہ نہ کریں ، پیاسوں کو سیراب کریں اور مومنین کے دلوں میں جو غم و اندوہ کی آگ جل رہی ہے اسے بجھادیں ۔

پیغمبر اسلام نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: (یا علی من ترک الخمر لله سقاه الله من الرحیق المختوم ) اے علی (ع )! جو شخص خدا کی خاطر شراب کو ترک کرے تو خدا اسے جنت کی منھ بند مہر شدہ شراب زُلال سے سیراب کرے گا ۔(۱)

زیادہ جاذب توجہ یہ بات ہے کہ ایک اور حدیث میں انہی جناب سے آیاہے کہ اگر دنیا کی شراب، خدا نہیں ، بلکہ غیر خدا کی خاطر بھی ترک کرے تو بھی خدا اسے اس شراب سے سیراب کرے گا۔

حضرت علی علیہ السلام کہتے ہیں ” میں نے عرض کی غیر خدا کے لئے ؟ فرمایا ہاں ! جو شخص اپنی جان کی حفاظت کے لئے بھی دنیاکی شراب کو چھوڑے تو خدا اسے رحیق مختوم سے سیرات کرے گا۔(۲)

جی ہاں وہ افرادجو شراب کو اپنی سلامتی کی حفاظت کی خاطر ترک کرےں وہ حقیقت میں اولوالاباب ہیں اور جیسا کہ سورہ آل عمران کی آیت ۱۹۳ سے معلوم ہوتا ہے اولو الالباب بھی ابرار کے زمرہ میں ہیں جو جنت کی شراب ہائے طہور سے بہرہ مند ہوں گے ۔

ایک اور حدیث میں علی (ع )بن حسین (ع )سے منقول ہے( من سقی مو مناً من ظمأ سقاه الله من الرحیق المختوم ) جس شخص کسی پیاسے شخص کو سیراب کرے خدا اسے رحیق مختوم سے سیراب کرے گا ۔(۳)

ایک اور حدیث میں آیا ہے :( من صام الله فی یوم صائف سقاه الله من الظمأ من الرحیق المختوم ) جو شخص موسم گر ما کے دنوں میں روزہ رکھے تو خدا اسے قیامت کی تشنگی کی حالت میں رحیق سے سیرات کرے گا ۔(۴)

____________________

۱۔ نور الثقلین، جلد ۵ ص۵۳۴حدیث ۳۷،۴۰۔

۲- نور الثقلین، جلد ۵ ص۵۳۴حدیث ۳۷،۴۰

۳۔ نور الثقلین ، جلد ۵ ص ۵۳۴ ( حدیث ۳۵)۔

۴۔ مجمع البیان در ذیل آیات زیر بحث ( جلد ۱۰ص ۴۵۶)۔


آیات ۲۹،۳۰،۳۱،۳۲،۳۳،۳۴،۳۵،۳۶

۲۹ ۔( انّ الذین اجرموا کانوا من الذین اٰمنوا یضحکونَ ) ۔

۳۰ ۔( و اذا مرُّوا بِهم یتغامزونَ ) ۔

۳۱ ۔( و اذا انقلبوا الیٰ اهلهم انقلبوا فکهینَ ) ۔

۳۲ ۔( و اذا را اوهم قالوا انَّ هٰوُ لآءِ لضآلُّونَ ) ۔

۳۳ ۔( و ما اُرسِلوا علیهم حٰفِظِیْنَ ) ۔

۳۴ ۔( فالیومَ الّذینَ اٰمنوا منَ الکفارِ یَضْحَکُونَ ) ۔

۳۵ ۔( علی الارآئِکِ ینظرونَ ) ۔

۳۶ ۔( هل ثوِّبَ الکفّارُ ماکانوا یَفْعَلونَ ) ۔

ترجمہ

۲۹ ۔ بدکار دنیا میں ہمیشہ مومنین پرہنستے تھے ۔

۳۰ ۔ اور جب مومنین کے پاس سے گزرتے ہیں تواشاروں سے ان کا مذاق اڑاتے ۔

۳۱ ۔ اور جب اپنے خاندان کی طرف پلٹتے تو مسرور پلٹتے ۔

۳۲ ۔ اور جس وقت مومنین کو دیکھتے توکہتے یہ گمراہ ہیں ۔

۳۳ ۔ حالانکہ وہ مومنین کی نگرانی پرکبھی مامور نہیں رہے اور نہ ان کے متکفل تھے ۔

۳۴ ۔ لیکن آج مومنین کفار پر ہنستے ہیں ۔

۳۵ ۔ جب کہ جنت کے مزین تختوں ( پلنگوں ) پر بیٹھے ہیں اور دیکھ رہے ہیں ۔

۳۶ ۔ کیا کفار نے اپنے اعمال کا اجر لے لیا ہے ؟

شال نزول

مفسرین نے ان آیا ت کے لئے دو شان نزول نقل کی ہیں ۔ پہلی یہ کہ ایک دن حضرت علی علیہ اسلام اور مومنین کی ایک جماعت کفا ر مکہ کے قریب سے گزری تو وہ حضرت علی (ع ) او ران مومنین پر ہنسنے لگے اور ان کا مذاق اڑا یا، تو مندرجہ بالا آیتیں نازل ہوئیں اور ان مذاق اڑانے والے کا فروں کی جو قیامت میں حالت ہوگی اس کو واضح کیا۔

حاکم ابو القاسم حسکانی شواہد التنزیل میں ابن عباس سے اس طرح نقل کرتے ہیں ”انّ الذین اجرموا “ ” سے مراد قریش کے منافقین ہیں اور ”الذین اٰمنوا “ سے مراد علی بن ابی طالب ہیں اور ان کے یاور انصار ہیں ۔(۱)

دوسری شال نزول یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات عمار ، صہیب، جناب بلال اور اسی قسم کے دوسرے غریب مومنین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو ابو جہل ، ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل جیسے مشرکین قریش کے تمسخر کا نشانہ بنے تھے ۔

اس دن وہ مومنین کا مذاق اڑاتے تھے لیکن آج

گذشتہ آیا ت کے بعد ، جو نیک لوگوں کے ملنے والی نعمتوں اور ثواب کے بارے میں گفتگو کر رہی تھیں ، زیر بحث آیا ت میں ان مصائب اور زخموں کے ایک گوشہ کی طرف ، جس سے اس جہان میں ایمان و تقویٰ کی بناپر ان کا واسطہ پڑا تھا ، اشارہ کرتاہے تا کہ واضح ہو جائے کہ وہ عظیم اجر و ثواب حساب کتاب کے بغیرنہیں ہے ۔

ان آیا ت میں کفارکی قبیح اور دل دکھانے والی تنقید اور ان سے آمنا سامنا ہونے کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور کفار کے چار کے رد عمل کو بیان کرتا ہے پہلے فرمایا تاہے :

” بدکار اور کفار ہمیشہ مومنین پر ہنستے تھے “( ان الذین اجرموا کانوا من الذین اٰمنوا یضحکون ) ، تمسخر آمیز اور منبی بر حقارت ہنسی ، ایسی ہنسی جو سر کشی و تکبر اور غرور و غفلت کی وجہ سے پید اہوتی ہے اور ہمیشہ چھوٹے دماغ کے مغرور افراد ،متقی مومنین کے مقابلہ میں اس قسم کی بے وقوفانہ ہنسی سے کام لیتے ہیں ۔

ضمنی طور پر” کفروا“ کی بجائے ” اجزموا “ کی تعبیر یہ بتاتی ہے کہ کافروبے ایمان افراد اپنے گناہ آلود اعمال سے پہچانے جاتے ہیں اس لئے کہ کفر ہمیشہ سے عصیان و جرم کا سر چشمہ ہے ۔

بعد والی آیت میں ان کے قبیح طرز عمل کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :

”جس وقت کفار مومنین کی جماعت کے قریب ہو ں تو اشاروں سے ان کا مذاق اڑاتے ہیں “

( و اذا مرّوبهم یتغامزون ) ،اور اشاروں اشارو ں میں کہتے ہیں کہ ان بے سرو پا افراد کو دیکھتے ہوکہ یہ مقربین بار گاہ خدا ہو گئے ہیں ۔ ان ننگے پاو ں اور برے حال لوگوں کو دیکھو کہ یہ اپنے اوپر وحی کے نزول کے مدعی ہیں اور ناداں لوگوں کو دیکھو کہ یہ کہتے ہیں کہ بوسیدہ اور خاک شدہ ہڈیاں دوبارہ زندگی کی طرف پلٹ آئیں گی اور وہیں وہ اسی قسم کی دوسری کھوکھلی باتیں کرتے ہیں ۔

ایسا نظر آتا ہے کہ مشرکین واضح طور پر اس وقت ہنسی اڑاتے تھے جب مومنین کی کوئی جماعت ان کے پاس سے گزرتی تھی اور ان کے تمسخر آمیز اشارے اس وقت ہوتے جب وہ مومنین کی جماعت کے نزدیک سے گزرتے اور چونکہ مومنین کی جماعت کے قریب رہ کر آسانی سے ان کا مذاق نہیں اڑا سکتے تھے ، لہٰذا آنکھوں کے اشاروں سے کام لیتے تھے ۔ لیکن جہاں خود ان کا جھمگٹا ہوتا اور مومنین ان کے پاس سے گزرتے وہاں وہ زیازہ آزادی اور جسارت سے کام لیتے ۔(۲)

یتغامزون “ ۔” غمز“ (بروزن طنز) کے مادہ سے آنکھ اور ہاتھ سے ایسی چیز کی طرف اشارہ کرنے کے معنی میں ہے جس سے عیب جوئی کا پہلو نکلتا ہو اور بعض اوقات یہ لفظ ہر قسم کی عیب جوئی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، خواہ زبان ہی سے کیوں نہ ہو۔

اور تغامز ( باب تفاعل سے ) کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ وہ سب کے سب ایک دوسرے کے ساتھ مل کر یہ حرکت کرتے تھے اور ہر کوئی اشارہ کرکے دوسرے کو کچھ بتا تا، جس میں مذاق کا پہلو ہوتا۔ یہ تو مومنین سے آمنا سامنا ہونے پر ہوتا تھا ۔ خصوصی جلسوں میں بھی یہی طرز کار اختیار کئے رکھتے اور علیحدگی میں بھی اس سلسلہ کو جاری رکھتے ، جیسا کہ بعد والی آیت کہتی ہے :

” جس وقت وہ اپنے گھروں کی طرف پلٹ جاتے تو خوش ہوتے اور جوکچھ انجام دیا ہوتا اس پر پھولے نہ سماتے“۔

( و اذا انقلبوا الیٰ اهلهم انقلبوا فکهین ) ، گویا انہیں فتح و کامیابی نصیب ہوئی ہے جس کی وجہ سے فخر و مباہات کررہے ہیں پھرمومنین سے علیحدگی کی صورت میں بھی اس مذاق کوجاری رکھتے ۔

”فکھین “ جمع ہے ” فکہ“ کی ، یہ صفت ہے مشبہ ( اور بروزن خشن ہے ) ” فکاھہ “( بر وزن قبالہ ) مذاق اڑانے کے معنی میں ہے اور اصل میں فاکھہ سے لیا گیاہے جس کے معنی پھل کے ہیں ۔

گویا یہ شوخیاں پھولوں کے مانند ہیں جس سے وہ لذت حاصل کرتے ہیں ۔ اور شیریں اور دوستانہ گفتگو کو فکاھہ کہا جاتا ہے ۔ اگر چہ اہل کا لفظ عام طور پر خاندان اور قریبی رشتہ داروں کے معنی میں ہے لیکن ممکن ہے کہ یہاں زیادہ وسیع معنی رکھتا ہو اور قریبی دوستوں کا بھی احاطہ کرے ۔

مومنین کے مقابلہ میں ان کا چھوتھا شرارت آمیز طرز عمل یہ تھا کہ جب وہ انھیں دیکھتے تو کہتے یہ گمراہ گروہ ہیں( واذا رأوهم قالوا ان هٰو لاء لضالون ) ، اس لئے کہ وہ بت پرستی اور خرافات ، جوکفار میں رائج تھیں ، انہیں یہ گمراہ راہ ہدایت ہدایت خیال کرتے تھے جبکہ مومنین نے انہیں چھوڑ دیا تھا اور توحید کی طرف پلٹ آئے تھے اور کفار کے گمان میں نقدِ دنیا کی لذت کو مومنین نے آخرت کی خاطر ادھار بیچ دیا تھا ۔

ہوسکتا ہے کہ یہ تعبیر ان مراحل میں ہو جہاں بات مذاق سے آگے بڑھ چکی ہو اور کفار اپنے آپ کو ناچار و مجبور دیکھتے ہوں کہ زیادہ سے زیادہ شدت عمل دکھائیں اس لئے کہ ہمیشہ عظیم پیغمبروں اور نئے دین و آئین کے ظہور کے وقت دشمنوں اور مخالفوں کا یہی طرز عمل ہوتا ہے کہ وہ مذاق اڑاتے تھے ۔

گویا وہ نئے دین کو اس قابل نہ سمجھتے تھے کہ سنجیدگی سے اس کا سامنا کریں ۔ لیکن جب دین خدا آمادہ افراد کے دلوں میں نفوذ کرجاتا اور اس کے بہت سے پیروکار ہو جاتے توکفار خطرہ محسوس کرکے اس پر سنجیدگی سے اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے اور لڑائی پر شدت سے آمادہ رہتے اور مرحلہ بہ مرحلہ زیادہ شدت اختیار کرتے۔

مندر جہ بالا آیت ان کی انتہائی کو شش کا پہلا مرحلہ ہے جس کی بعد نوبت خوں ریز جنگوں تک پہنچ گئی۔ چونکہ مومنین عام طور پر ایسے افراد میں سے تھے جن کی کوئی اجتماعی حیثیت نہ تھی اور وہ دولت مند بھی نہیں تھے ، اس بناپر کفار انہیں چشم حقارت سے دیکھتے تھے اور ان کے ایمان کو بے قیمت شمار کرتے تھے اور ان کے دین کا مذاق اڑاتے تھے ، بعد والی آیت میں قرآن کہتا ہے :

” یہ گروہ کفاران کی زندگی کا ( مومنین کی) کبھی بھی محافظ و نگہبان اور متکفل نہیں تھا “( وما ارسلوا علیهم حافظین ) ، تو پھر کس حق کی بناپر اور کونسی منطق کی رو سے ان ہر تنقید و اعتراض کرتے تھے ؟

سورہ ہود کی آیت ۲۷ میں ہم پرھتے ہیں کہ قوم نوح کے دولتمند اور متکبر لوگوں نے آپ سے کہا( وما نراک اتبعک الاَّ الذین هم اراذلنا بادی الرأی ) ” ہم ان لوگو ں کو جنہوں نے تیرا اتباع کیا ہے ذلیل اور سادہ لوح ہونے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھتے“۔ تو اُن جناب نے کفا رکے جواب میں کہا :( ولا اقول للذین تزدری اعینکم لن یو تیهم الله خیراً الله اعلم بما فی انفسهم ) میں بالکل نہیں کہتا کہ وہ لوگ تمہاری نظر میں ذلیل و خوار ہیں ، خدا انہیں خیر نہیں دے گا ، خد اان کے دلوں سے زیادہ آگاہ ہے ۔ “ ( ہود۔ ۳۱) ۔

یہ حقیقت میں ان خود پرست اور متکبر افراد کا جواب ہے اور انہیں بتا یا جارہا ہے کہ اس کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ مومنین کس گروہ سے وابستہ ہیں ، تم اپنے طور پر روح دعوت دین اور پیغمبر اسلام کے آئین اور ان کے مجموعہ قوانین کو دیکھو اور سمجھنے کی کوشش کرو۔

قیامت میں صورت حال بالکل بر عکس ہو جائے گی جیسا کہ بعد والی آیت میں فرماتاہے آج مومنین کفار پر ہنسیں گے “( فالیوم الذین اٰمنوا من الکفار یضحکون ) ۔ چونکہ قیامت انسان کے دنیاوی اعمال کا رد عمل ہے اور وہاں عدالت الہٰی کا اجر ہونا ہے اور عدالت کا تقاضا یہ ہے کہ وہاں پاک دل مومن ہٹ دھرم اور مذاق اڑا نے والے کافروں پر ہنسیں ۔ یہ ان مغرور لوگوں پر ایک قسم کا عذاب ہے ۔

بعض روایات میں رسول خدا سے منقول ہے کہ روز جنت کا ایک در کفارکے سامنے کھلے گا اور وہ اس خیال سے کہ جہنم سے آزادی اور جنت میں ورود کا حکم انہیں دے دیا گیا ہے ، اس دروازہ کی طرف چل پڑیں گے ۔ جس وقت اس کے قریب پہنچیں وہ دروازہ اچانک بند ہو جائے گا ۔ اور یہ کئی مرتبہ ہو گا اور مومنین جو جنت سے ان کا نظارہ کر رہے ہوں گے ان پر ہنسیں گے ۔(۳)

لہٰذا بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے :

وہ مزین پلنگوں اور تختوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے اور ان مناظر کو دیکھیں گے( علی الارائک ینظرون ) ۔ وہ کن چیزوں کی طرف دیکھیں گے ،اس آراو سکون و عظمت و احترام کو دیکھیں گے( جو انہیں حاصل ہو گا ) اور ان دردناک عذابوں کی طرف دیکھیں گے جن میں مغرور خود پرست کفار انتہائی ذلت اور زبوں حالی کے ساتھ گرفتار ہوں گے ۔

اور پھر اس سورہ کی آخری آیت میں ایک استفہامیہ جملے کی شکل میں فرماتا ہے :

” کیا کفار نے اپنے اعمال کا اجر اور کاموں کا ثواب لے لیا ہے “( هل ثوب الکفار ما کانوا یفعلون ) (۴)

یہ بات چاہے خدا کی جانب سے ہو،یا فرشتوں کی طرف سے، یا مومنوں کی طرف سے ، یہ ایک قسم کا طعن و استہزاء ہے اور مغرور متکبر افراد کے افکار اور دعووں پر جنہیں توقع تھی کہ اپنے برے اعمال کے بدلے میں خدا کی طرف سے انعام و اکرام انہیں ملے گا ۔ اس غلط گمان اور خیالِ خام کے مقابلہ میں فرماتاہے :

”کیا انہوں نے اپنے اعمال کا ثواب اور اجر لے لیا ہے “۔ بہت سے مفسرین نے اس جملے کو ایک مستقل جملہ سمجھا ہے جبکہ بعض کا نظریہ ہے کہ یہ گزشتہ آیت کا حصہ ہے یعنی مومنین مزین تختوں پر بیٹھے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے کہ کیا کفار نے اپنے غلط اعمال کا اجر لے لیاہے ۔

جی ہاں ! وہ اگر اجرلیں تو شیطان سے لیں ، کیا وہ بے نواگر فتار انہیں کوئی اجر دے سکتے ہیں ۔

” ثوب“ ( بروزن جوف) ثوب کے مادہ سے اصل میں کسی چیز کا اپنی پچھلی حالت کی طرف پلٹنا ہے اور ثواب اس اجر کو کہا جاتا ہے جو انسان کو اس کے اعمال کے مقابلہ میں دیتے ہیں ، اس لئے کہ اس کے اعمال کا نتیجہ اس کی طرف لوٹتاہے ۔ یہ لفظ اچھی یا بری جزا کے لئے استعمال ہوتا ہے، اگر چہ عام طور پر موردِ خبر میں استعمال ہوتا ہے ۔(۵)

اس لئے اوپر والی آیت ایک قسم کا کفار پر طنز کرتی ہے اور ہونا بھی ایسا ہی چاہیئے اس لئے کہ وہ ہمیشہ مومنین اور آیات ِ خدا کا مذاق اڑاتے تھے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس دن اپنے مذاق کی سزا بھگتیں ۔

____________________

۱۔ مجمع البیان ، جلد، ۱۰ ص۴۵۷۔ حضرت علی htitr اور مشرکین مکہ کے بارے میں ان آیات کا نازل ہونا بہت سی کتب تفسیر مثلاً قرطبی، روح المعانی ، کشاف اور تفسیر فخر رازی میں آیاہے ۔

۲۔ ” مرّوا “اور”بھم“ کی ضمیروں کے مرجع کے بارے میں مفسرین نے دو احتمال تجویز کئے ہیں ۔بعض نے پہلی ضمیر پر مشرکین کی طرف اور دوسری مومنین کی طرف پلٹائی ہے اور بعض نے اس کے بر عکس کہا ہے ۔ لیکن ہم نے جو کچھ اوپر کہاہے اس کے مطابق پہلا احتمال زیادہ مناسب ہے

۳۔ در منثور، جلد ۶، ص ۳۲۸( مختصر سے فرق کےساتھ )۔

۴۔ اس آیت میں استفہام تقریری ہے ۔

۵۔ ” مفردات“ راغب مادہ ”ثوب“


ایک نکتہ

دشمنانِ حق کا مذاق اڑانے کا بزدلانہ حربہ

انبیاء کی طویل تاریخ میں ہم بارہا دیکھتے ہیں کہ دشمنان خدا کا ایک حربہ مومنین کے مقابلہ میں تمسخر و استہزاء ہوتا ہے اور آیاتِ قرآنی نے اس موضوع کو با رہا پیش کیا ہے ۔ اور چونکہ تمسخر و استہزاء عام طور پر ایسے لوگوں سے صادر ہوتاہے جو مغرور ہوتے ہیں اور خود کو دوسروں سے بہتر و بر تر سمجھتے ہیں اور دوسروں کو چشم حقارت سے دیکھتے ہیں اور کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ کافر، ظالم ، ہٹ دھرم اور خود پرست اہل ایمان کے مقابلہ میں اس قسم کا حربہ استعمال کریں ۔

موجودہ زمانے میں بھی یہی صورت حال ہے ، دنیا کے افسوس ناک گروہی معاملات میں کئی شکلوں میں طعن و طنز اور مذاق کی صورت حال کو جاری رکھا جا تا ہے ۔ اب بھی کوشش کی جاتی ہے کہ حق کے طرفداروں کو اس قدیمی حربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میدان چھوڑ نے پر مجبور کریں ۔ لیکن مومنین ان کے مقابلہ میں خدائی دعووں کی طرف توجہ کرکے ،جن کا ایک نمونہ اوپر والی آیت میں آیاہے ، آرام و سکون محسوس کرتے ہیں اور تاریک دل مخالفوں کے مقابلہ میں مو منین کے دلوں میں روحِ مقاومت پیدا ہوتی ہے ۔

اصولی طورپر استہزاء ، تمسخر، غمز “( اشارے) ضحک اور ہنسنا، حق کے مقابلہ میں ، جس کی طرف مندرجہ بالا آیت میں اشارہ ہو اہے ، یہ سب گناہان کبیرہ میں سے ہیں اور جہالت و غرور کی علامت ہیں ، ایک فہیم ، عاقل اور ہشیار انسان بفرض محال کسی مکتب فکر سے متعلق نہ بھی ہو ، کبھی اپنے آپ کو اجازت نہیں دیتا کہ اس قسم کے حربوں سے مقابلہ کرتا ہے ۔

خدا وندا! ہم سب کو غرور و جہالت اور کبر و نخوت سے محفوظ فرما۔

پروردگارا !ہمیں حق طلبی، حق جوئی اور تواضع کی روح مرحمت فرما۔

بار الہٰا ! ہمارا نامہ اعمال علیین میں قرار دے اور سکتیوں کے زمرہ سے خارج کردے۔

آمین رب العالمین

سورہ مطففین کا اختتام


سورہ انشقاق

یہ سورہ مکہ میں نا زل ہوا اس کی ۲۵ آیتیں ہیں

سورہ انشقاق کے مضامین

یہ سورہ قرآن مجید کے آخری پارے کی بہت سی دوسری سورتوں کے مانند معاد و قیامت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے ، شروع میں دنیا کے اختتام اور قیامت کے شروع ہونے کے ہولناک اور دل ہلادینے والے حوادث کی طرف کچھ اشارے کرتا ہے اور بعد والے مرحلہ میں قیامت ، نیکو کاروں او ربد کاروں کے اعمال کا حساب اور ان کی سر نوشت کے مسئلہ کو بیان کرتا ہے ۔

تیسرے مرحلہ میں چند ایسے اعمال و عقائد ، جو موجب عذاب الہٰی ہیں ، ان کو پیش کرتاہے اور چوتھے مرحلہ میں چند قسموں کے بعد انسان کی دنیا وی اور اخروی زندگی کے مرحلوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور آخر کار پانچویں مر حلہ میں دوبارہ نیک و بد اعمال اور ان کی سزا و جزا کے بارے میں بات کرتا ہے ۔

تلاوت کی فضیلت

یہ سورہ قرآن مجید کے آخری پارے کی بہت سی دوسری سورتوں کے مانند معاد و قیامت کے بارے میں گفتگو کرتا ہے ، شروع میں دنیا کے اختتام اور قیامت کے شروع ہونے کے ہولناک اور دل ہلادینے والے حوادث کی طرف کچھ اشارے کرتا ہے اور بعد والے مرحلہ میں قیامت ، نیکو کاروں او ربد کاروں کے اعمال کا حساب اور ان کی سر نوشت کے مسئلہ کو بیان کرتا ہے ۔

تیسرے مرحلہ میں چند ایسے اعمال و عقائد ، جو موجب عذاب الہٰی ہیں ، ان کو پیش کرتاہے اور چوتھے مرحلہ میں چند قسموں کے بعد انسان کی دنیا وی اور اخروی زندگی کے مرحلوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور آخر کار پانچویں مر حلہ میں دوبارہ نیک و بد اعمال اور ان کی سزا و جزا کے بارے میں بات کرتا ہے ۔اس سورہ کی تلاوة کی فضیلت کے سلسلہ میں ایک حدیث پیغمبر اسلام منقول ہے (من قرأسورة انشقت اعاذه الله ان یو تیه کتابه وراء ظهره ) ، جو شخص سورہ انشقاق کو پڑھے تو خدا قیامت میں اس شر سے اس کو امان میں رکھے گا کہ اس کانامہ اعمال پس پشت سے دیا جائے۔(۱)

____________________

۱۔مجمع البیان ، جلد۱۰ ص ۴۵۸۔


آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹

( بسم الله الرحمٰن الرحیم )

۱ ۔( اذا السمآء ُ انشقّت ) ۔

۲ ۔( و اذنت لربها و حُقّت ) ۔

۳ ۔( و اذا الارضُ مدّت ) ۔

۴ ۔( و القت مافیها و تخلّت ) ۔

۵ ۔( و اذنت لربها و حقّت ) ۔

۶ ۔( یا ایها الانسان ُ انّک کادحٌ الیٰ ربک کدحاً فمُلٰقیهِ ) ۔

۷ ۔( فا مّا مَنْ اوتیَ کتابه بیمینه )

۸ ۔( فَسوفَ یُحَاسَب حساباً یسیراً ) ۔

۹ ۔( وینقلبُ الیٰ اهله مسروراً ) ۔

ترجمہ

رحمن و رحیم کے نام سے

۱ ۔ جس وقت آسمان پھٹ جائے گا ۔

۲ ۔ اور اپنے پروردگار کے فرمان کو تسلیم کرے گا اور سزاوار ہے کہ ایسا ہی ہو۔

۳ ۔ اور جب زمین میں وسعت پیدا ہوگی۔

۴ ۔ اور جو کچھ ا س کے اندرہے اسے باہر پھینک دے گی اور خالی ہو جائے گی ۔

۵ ۔ اور اپنے پروردگا رکے حکم کو تسلیم کرے گی اور ایسا ہی ہوگا ہونے کے لائق ہے ۔

۶ ۔ اے انسان ! تورنج و تکلیف اور سعی و کوشش کے ساتھ اپنے پروردگار کے طرف جائے گا اور اس سے ملاقات کرے گا ۔

۷ ۔ لیکن وہ شخص جس کانامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا ہے ۔

۸ ۔ عنقریب اس کے لئے آسان حساب ہو گا ۔

۹ ۔ اور وہ خوشحالی کے ساتھ اپنے گھروں کی طرف پلٹ جائے گا۔

کمالِ مطلق کی طرف رنج آمیز سعی و کوشش

جیسا کہ ہم نے اس سورہ کے مضامین کی تشریح میں کہا ہے ، اس سورہ کے آغاز میں ہی عظیم او رعجیب دنیا کے اختتام کے حوادث کی طرف اشارہ ہو اہے۔ پر وردگارِ عالم فرماتا ہے :

” جب آسمان میں شگاف پڑ جائیں گے اور آسمانی اجرام پراکندہ ہوجائیں گے او رنظام کواکب درہم و بر ہم ہو جائے گا “( اذا السماء انشقت ) ۔(۱)

اس کی نظیر جو سورہ انفطار کی آئی ہے ، اس میں فرماتا ہے :( اذاالسماء انفطرت و اذا الکواکب انتثرت ) جس وقت آسمان میں شگاف پڑ جائیں گے اور ستارے پراکندہ ہوجائیں گے اور بکھر جائیں ۔ ( انفطار۔ ۱،۲) ۔اور یہ اختتام دنیا اور اس کی خرابی و فنا کا اعلان ہے ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے :

” اور کے پروردگار کا حکم تسلیم کیاجائے گا اور حقیقت میں ایسا ہی ہونا چاہئیے “( و اذنت لربها و حقت ) ، مبادایہ تصور ہوکہ انسان اس عظمت کے باوجود حکم الہٰی کا معمولی سامقابلہ بھی کرے، وہ مطیع و فرمانبردار بندے کی طرح ہے ، جس کا اس کے حکم کے سامنے مکمل طور پر سرِ تسلیم خم ہے ۔

” اذنت“ اصل میں ” اذن“ ( بر وزن افق) سے جو کان کے معنی میں ہے، لیا گیا ہے اور اس کے معنی کان لگاکر سننا ہےں اور یہاں اطاعت ِ فرمان کا کنایہ ہے ۔ ” حقت“ حق کے مادہ سے شائستہ لائق اور سزا وار کے معنی میں ہے ۔ کس طر ح ہوسکتا کہ وہ سر تسلیم خم نہ کرے جبکہ لمحہ بہ لمحہ وجود خدا ہی سے اس کو فیض پہنچ رہا ہو۔ اگر ایک لمحہ کے لئے بھی یہ رابطہ منقطع ہو جائے تو یہیں ختم ہو کر رہ جائے۔

جی ہاں ! آسمان و زمین نہ صرف آغاز ِ خلقت میں سورہ حٰم سجدہ کی آیت ۱۱( قالتا اتینا طائعین ) کے مطابق ، حق تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ، حق تعالیٰ کے فرمان کے مطیع تھے ، بلکہ عمر کے اختتام میں بھی ایسے ہیں ۔

بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ” حقت“ کے جملہ سے مراد یہ ہے کہ قیامت کی وحشت اور اس کا خوف ایسا ہے کہ سزا وار ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اور شگافتہ ہوجائیں ، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے اور بعد والے مرحلہ میں زمین کی کیفیت کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے فرماتا ہے :

” اور جس وقت زمین کھینچی جائے گی اور وسیع کی جائے گی “( واذا الارض مدت ) پہاڑ قرآن کی بہت سی آیات کی شہادت کے مطابق مکمل طور پر پراکندہ ہ وجائیں گے اور تمام بلندیاں اور پستیاں ختم ہوجائیں گی، زمین صاف و شفاف، وسیع و عریض اور اپنے صحن میں تمام بندوں کے حضور کے لئے آمادہ ہو جائے گی۔

جیساکہ سورہ طٰہٰ کی آیت ۱۰۵ تا ۱۰۷ میں فرماتا ہے :( یسئلونک عن الجبال فقل ینسیفها ربی نسفاً فیذرها قاعاً صفصفاً ترٰی فیها عوجاً و لاامتاً ) ۔ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دے میرا پروردگار انہیں ہو امیں اڑائے گا اور بر باد کردے گا پھر زمین کو ہموار اور صاف کرے گا ، اس طرح کہ تو اس میں کوئی بلندی و پستی نہیں دیکھے گا اور اس قسم کی دادگاہ و عدالت جس میں اولین و آخرین جمع ہو ں ، اس کے لئے ایسے میدان کی ضرورت ہے ۔

بعض مفسرین نے کہا کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ خدا ایسی زمین کو قیامت میں اس سے کہیں زیادہ وسیع کردے گا کہ جس حالت میں اب ہے ، تاکہ مخلوق کے حشر کے لئے اس میں زیادہ سے زیادہ آمادگی ہو۔(۲)

تیسرے مرحلہ میں مزیدکہتا ہے :” زمین اس چیز کو جو اس کے اندر ہے، باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی “( القت مافیها و تخلت ) ۔ مفسرین کے درمیان مشہور یہ ہے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تمام وہ مردے ، جو مٹی اور قبروں میں آرام کر رہے ہیں ، اچانک باہر پھینک دئیے جائیں گے اور وہ لباسِ زندگی زیب تن کریں گے ۔

یہ اس کے مشابہ ہے جو سورہ زلزال میں آیا ہے( اخرجت الارض اثقالها ) ۔زمین اپنے وزنی بوجھ باہرنکالے گی۔ یا جو کچھ سورہ نازعات آیت ۱۳ ۔ ۱۴ میں آیاہے ( فانماھی زجرة واحدة فاذاھم بالساھرة)صرف ایک ہی صحیحہ ہو گا اور اس کے بعد سب کے سب صفحہ زمین پر ظاہرہو جائیں گے ۔

بعض مفسرین نے کہاکہ انسانوں کے علاوہ معدنیات اور خزانے جو زمین میں پوشیدہ ہیں ، سب کے سب زمین سے باہر آجائیں گے ۔

اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ زمین کے اندر پگھلاہو امواد ہولناک اور وحشت ناک زلزلوں کی وجہ سے کلی طور پر باہرآکر گرے گا اور وہ تمام پستیوں کو پر کردے گا اس کے بعد زمین کے اندر کا حصہ بالکل خالی اور ساکن ہو جائے گا ۔

ان معانی کے درمیان جمع ہو نے میں بھی کوئی چیز مانع نہیں ہے ۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے :

” اس کے بعد زمین اپنے پروردگار کے سامنے سر تسلیم ختم کردے گی اور سائستہ و لائق ہے کہ سر تسلیم خم کرے “( و اذنت لربها و حقت ) ۔ یہ عظیم حوادث ، جو تمام موجوادت کے سر تسلیم خم کرنے کے ساتھ لازم وملزول ہیں ، ایک طرف تو اس دنیا کے فنا ہونے کو بیان کرتے ہیں ، زمین و آسمان م انسانوں ، خزانوں اور گنجینوں کی فنا، اور دوسری طرف عالم آفرینش میں نئے عالم ہستی کے ایجاد کی دلیل ہیں ۔ اور تیسرے خدا وندِ عظیم و بزرگ کی ہر چیز خصوصاً معاد و قیامت پر قدرت کی نشانی ہیں ۔

جی ہاں ! جب یہ حوادث واقع ہوں تو انسان اپنے نیک وبد اعمال کا نتیجہ دیکھ لیتا ہے ۔ ( یہ ایسا جملہ ہے جو تقدیر میں ہے ) ۔ اس کے بعد انسان کومخاطب کرتے ہوئے اور اس راہ میں جو ان کی سر نوشت ہے ، ان کے لئے واضح کرتے ہوئے فر ماتاہے :

” اے انسان تو سعی و کوشش اور رنج و تکلیف کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف بڑھ رہاہے اور آخر کار اس سے ملاقات کرے گا “( یا ایها الانسان انک کادح ٌالی ٰ ربک کدحاً فملاقیه ) ۔

” کدح“ ( بر وزن مدح ) سعی و کوشش کے معنی میں ہے ، جو رنج و تعب کے ہمراہ ہو اورجسم و جان پر اثر انداز ہو۔ اسی لئے سخت محنت کرنے والے بیل کو ، جس میں کام کرنے کے آثار ظاہر ہوں ، ” ثورینہ کدوح “ کہتے ہیں ۔

تفسیر کشاف، فخر رازی اور المعانی میں آیاہے کہ یہ لفظ اصل میں خراش کے معنی میں ہے جو کھال پر لگ جاتی ہے ۔ اسی مناسبت سی ان کوششوں پر ، جو انسانی پر اثر انداز ہوں ، اس کا اطلاق ہو اہے ۔

یہ آیت ایک بنیادی اصل کی طرف اشارہ ہے جو تمام انسانوں کی حیات میں موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ زندگی ہمیشہ زحمت اور رنج و تعب اپنے ساتھ رکھتی ہے ۔ اگر مقصود صرف متاعِ دنیا تک پہنچنا ہی ہو ، تب بھی ، چہ جائیکہ مقصود آخرت ، سعادت جاوداں اور قرب ِ پروردگار ہو۔

دنیاوی زندگی کی یہ طبیعت اور اس کا یہ مزاج ہے یہاں تک کہ وہ افراد جو انتہائی خوش حالی سے عمر گزارتے ہیں وہ بھی رنج و زحمت اور درد و تکلیف سے بچے ہوئے نہیں ۔

پروردگار کی ملاقات کی تعبیر سے یہاں مراد چاہے قیامت کے منظر کا دیکھنا ہو ، جو اس کی حاکمیتِ مطلقہ کا مظہرہے، یا اس کی جزا و سزا کا آمنا سامنا ہو ، شہود باطن کے طریقہ سے خود اس کی ملاقات ہو۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رنج و تعب اس دن تک جاری رہے گااور اس وقت ختم ہو گا جب اس دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور انسا ن پاکیزہ عمل کے ساتھ اپنے خدا سے ملاقات کرے گا ۔

جی ہاں ! رنج و تعب کے بغیر راحت و آرام صرف وہم ہے۔ ” انسان “ کے لفظ سے خطاب ، جو ساری نوع انسانی پر حاوی ہے ،( انسان کی انسانیت پر انحصار کی طرف توجہ کرتے ہوئے ) اس حقیقت کو بیان کرتاہے کہ خدا نے ضروری یہ توانائیاں اس اشرف المخلوقات میں پیدا کی ہیں اور عنوانِ رب پرانحصار اس طرف اشارہ ہے کہ یہ سعی و کوشش انسانیت کے تکامل و تربیت کے نظام الاوقات کاایک جز ہے ۔

جی ہاں ! ہم سب مسافر ہیں جنہوں نے سر حد عدم سے رختِ سفر باندھا ہ اور اقلیم وجود میں قدم رکھاہے ، ہم سب ا س کی راہ عشق کی راہ رو ہیں اور دوست کے رخ ِ انور کی مقناطیسی کشش کی بنا پر آئے ہیں ۔

اس تعبیر کی نظیر قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی آئی ہے ، مثلاً( و ان الیٰ ربک المنتهیٰ ) اور یہ تمام امور تیرے پر وردگار کی طرف لوٹتے ہیں اور تمام خظوط اسی پر منتھیٰ ہوتے ہیں ۔( نجم۔ ۴۲) نیزفرماتا ہے :( و الیٰ الله المصیر ) ” سب کی باز گشت خدا کی طرف ہے “ (فاطر۔ ۱۸) ۔ اور دوسری آیات سب یہ بتاتی ہیں کہ موجودات کے تکامل کا یہ راستہ خداوند متعال کی طرف جاتا ہے لیکن یہاں تمام انسان دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں ، جیسا کہ فرماتا ہے :

” لیکن یہ شخص جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا، عنقریب اس کا آسان حساب کتاب ہو گا“( فاما من اوتی کتابه بیمینه فسوف یحاسب حسابا ً یسیراً ) ۔

اور وہ مسرور ہوکر اپنے اہل خانہ کی طرف پلٹ جائے گا( و ینقلب الیٰ اهله مسرواً ) ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو آفرینش کے مدارِ اصلی میں ، وہی مدار جو خدانے اس انسان کے لئے اس کے سر مایوں ، طاقتوں اور توانائیوں کے لئے معین کیاہے ، حرکت کرتے ہیں اور ان کی سعی و کو شش ہمیشہ خدا کے لئے ہے اور ان کی حرکت خدا کی طرف ہے۔

وہاں ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیں گے ۔ ان کے اعمال کی پاکیز گی ، ایمان کی سحت او رقیامت میں نجات کی علامت ہے اور ہل محشر کے مقابلہ میں سر فرازی و سر بلندی کا سبب ہے ۔

جس وقت میزان عدل کے نیچے کھڑے ہوں گے ، وہ میزان جو کم سے کم میزان کو تولتی ہے ، تو خدا ان کا حساب کتاب آسان کردے گا ، ان کی لغزشوں سے در گزر کرے گا اور ایمان و عمل صالح کی وجہ سے ان کی سیات کو حسنات مین تبدیل کردے گا۔

یہ کہ ” حساب یسیر“سے مکی امراد ہے ، بعض مفسرین نے کہا کہ اس سے مراد سہل و آسان حساب ہے جس میں سخت گیری و دقت نہ ہو، برائیوں سے در گزر اور حسنات کا اجر ہو ۔

ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے منقول هے : ( ثلاث من کن فیه حاسبه الله حساباً یسیراً و ادخله الجنةبرحمته قالوا و ما هی یا رسول الله ؟ قال تعطی من حرمک و تصل من قطعک و تعفو عمن ظلمک)

تین چیزیں جس شخص میں موجود ہوں خدا اس کے حساب کو آسان کر دے گا ، اور اس کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کردے گا ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ کونسی چیزیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا تو اس کو عطا کر جو تجھے محروم کرے ، اس سے صلہ رحم جو تجھ سے قطع رحم کرے اور اس کو معاف کر جو تجھ پر ظلم کرے ۔(۳)

یہ مفہوم روایات سے بھی ظاہر ہوتاہے کہ قیامت میں حساب و کتاب میں دقت و سخت گیری انسانوں کی عقل و دانش کی میزان سے تعلق رکھتی ہے ، جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فراماتے ہیں :( انمایداق الله العباد فی الحساب یوم القیامة علی ما اٰتاهم من العقول فی الدنیا ) خدا قیامت میں بندوں کے حساب وکتاب میں اس کی عقل کی مقدار کے مطابق ، جو دنیا میں بندہ کو دی گئی ہے ، سخت گیری کرے گا۔(۴)

لفظ اہل کے لئے مندرجہ بالا آیات میں مختلف تفسیریں بیان ہو ئی ہیں ، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد اس کی بیوی اور ایمان دار اولاد ہے ، مومنین جنت میں اس کے پاس پہنچیں گے اور یہ خود ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ انسان جن سے محبت رکھتا ہے ، انہیں جنت میں دیکھے اور ان سے قریب رہے۔

بعض دوسرے مفسرین نے اہل کوجنت کی حوروں کے معنی میں لیا ہے جو مومنین کے لئے معین ہوئی ہیں ۔ بعض نے اسے صاحبان ایمان افراد کے معنی میں لیا ہے جس سے وہ دنیا میں محبت کرتا تھا ۔ ان تمام معانی کے درمیان جمع بھی ممکن ہے ۔

____________________

۱۔ اذا حرف شرط ہے اور اس کی جزا محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے : اذا السماء انشقتلاتی الانسان ربہ فحاسبہ و جازاہ/

۲۔ تفسیر فخر رازی در ذیل ِآیات زیرِبحث۔

۳۔ مجمع البیان ، زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔

۴۔ نور الثقلین ، جلد ۵، ص۵۳۷۔


چند نکات

۱ ۔ ایسی حدیث جس میں اعجاز ہے

ایک حدیث میںاذاالسماء انشقت کی تفسیر کے سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا (انها تنشق من المجرة )( ستارے ) کہکشا و ں سے الگ ہوجائیں گے ۔(۱)

یہ حدیث پر معنی اور قابل دِقّت ہے اور علمی معجزات میں شمار ہوتی ہے اور ایسی حقیقت پر سے پر دہ اٹھاتی ہے کہ اس زمانہ کے ماہرین علماء میں سے کوئی اس تک نہیں پہنچتا تھا ۔ وہ یہ کہ موجودہ زمانے کے ماہرین فلکیات نے اپنے نجوم سے متعلق مشاہدات اور دور بینوں کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ عالم کہکشاں کا مجموعہ ہے اور ہر کہکشاں شمسی نظاموں اور ستا روں کا مجموعہ ہے اسی بناپر انہیں ستاروں کے شہر کانام دیتے ہیں ۔

کہ کہکشاں مشہور شہر کا راستہ ہے جو آنکھ سے نظر آسکتا ہے اور نظام ہائے شمسی اور ستاروں کے عظیم مجموعہ اور دائرہ کی مانند ہے ، اس کی ایک سمت ہم سے اس قدر دور ہے کہ اس کے ستارے ہمیں سفید بادل کی شکل میں نظر آتے ہیں ، لیکن وہ در حقیقت ایک دوسرے سے نزدیک نورانی نقطوں کا مجموعہ ہےں ۔

وہ سمت جو ہم سے نزدیک ہے اس کے ستارے قابل رو یت ہیں یہ وہی ستارے ہیں جو رات کے وقت ہم آسمان پر دیکھتے ہیں اور اس طرح ہمارا نظام شمسی سوائے اس کہکشاں کے اور کچھ نہیں ہے ۔

مندرجہ بالا روایت کے مطابق حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قیامت کے بر پا ہونے کے وقت یہ ستارے جنہیں تم دیکھتے ہوکہکشاں سے جدا ہو جائیں گے اور سب کا نظام درہم بر ہم ہو جائے گا ۔

اس زمانے میں کون جانتا تھا کہ یہ ستارے جنہیں ہم دیکھ رہے ہیں ، واقعی اس کہکشاں کا جز ہیں سوائے اس شخص کے کہ جس کا دل عالم غیب سے مربوط ہو اور علم خدا کے سر چشمہ سے سیراب ہوا ہو۔

____________________

۱- روح المعانی ، جلد ۳۰ ص۸۷ و در المنثور، جلد ۶ ص ۳۲۹


۲ ۔ دنیا رنج و تکلیف اور دکھ درد کا گھر ہے

” کادح“ کی تعبیر مندرجہ بالا آیت میں آئی ہے اور سعی و کوشش کی طرف اشارہ ہے جس میں رنج و زحمت کی آمیزش ہو ، اس طرف توجہ رکھتے ہوئے ، کہ اس کے مخالف تمام انسان ہیں ، اس واقعیت کو پیش کرتی ہے کہ اس جہان کی زندگی کی طبیعت کسی مرحلہ میں بھی مشکلات ، تکالیف اور رنج و مشقت سے خالی نہیں ہے ۔

چاہے یہ مشکلات و تکالیف جسمانی ہوں ، چاہے روحانی اور فکری یا دونوں کسی فرد کو اس سے مفر نہیں ہے ۔ حضرت علی ابن الحسین کی ایک بہت ہی پر معنی حدیث ہے :

(الراحة لم تخلق فی الدنیا ولا لاهل الدنیا ، انما خلقت الراحة فی الجنة و لاهل الجنة و التعب و النصب خلقا فی الدنیا و لاهل الدنیا وما اعطی احد منها جفنة الا اعطی من الحرص مثلیها و من اصاب من الدنیا اکثر کان فیها اشد فقیراً لانه یفتقر الیٰ الناس فی حفظ امواله و تفتقر الیٰ کل اٰلة من اٰلات الدنیا فلیس فی غنی الدنیا الراحة )

راحت و آرام دنیا میں اہل دنیا کے لئے نہیں ہے ، راحت و آسائش صرف جنت میں ہے اور اہل جنت کے لئے ہے ۔ رنج و تعب دنیا میں ہیں اور اہل دنیا کے لئے پیدا کئے گئے ہیں ۔ اسی وجہ سے جو ایک پیمانہ اس میں سے حاصل کر لیتا ہے تو دگنا لالچ اس کے نصیب میں شامل ہو جاتا ہے اور جس کے پاس مال دنیا کا فی ہے وہ زیادہ فقیر ہے ، کیونکہ وہ اپنے مال کی حفاظت کے سلسلہ میں دوسروں کا محتاج ہے اور زیادہ وسائلِ حفاظت کا محتاج ہے ۔ لہٰذا دنیا کے مال و دولت میں کوئی راحت و آرام نہیں ہے ۔

اس کے بعد امام نے اس حدیث کے ذیل میں فرمایا:(کلا ما تعب اولیاء الله فی الدنیا للدنیا بل تعبوا فی الدنیا للاٰ خرة) اولیاء خدا دنیا میں دنیا کی خاطر رنج و تعب میں نہیں مبتلا ہوتے بلکہ دنیا میں ان کا رنج و تعب آخرت کے لئے ہے ۔(۱)

____________________

۱۔ خصال صدیق جلد جلد۱، باب الدنیا و الاخرة ککفق المیزان ، حدیث ۹۵۔


آیات ۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵

۱۰ ۔( وامّا مَنْ اوتیَ کتابه ورآءَ ظَهره ) ۔

۱۱ ۔( فسوفَ ید عوا ثُبُوراً ) ۔

۱۲ ۔( ویصلیٰ سَعِیراً ) ۔

۱۳ ۔( انّه کان فی اهله مسروراً )

۱۴ ۔( انّه ظنّ اَن لن یحورَ ) ۔

۱۵ ۔( بلیٰ ِانَّ ربَّه کان به بصیراً ) ۔

ترجمہ

۱۰ ۔ اور رہا وہ شخص جس کو اس کانامہ اعمال پیچھے کی طرف سے دیا گیا ۔

۱۱ ۔ تو عنقریب اس کی فریاد بلند ہوگی کہ وائے ہو مجھ پر میں ہلاک ہوگیا ۔

۱۲ ۔ اور وہ جہنم کی آگ کے جلانے والے شعلوں میں جلے گا۔

۱۳ ۔ وہ اپنے گھروں کے درمیان ( کفرو گناہ کے سبب) مسرور تھا ۔

۱۴ ۔ وہ گمان کرتا تھا کہ کبھی پلٹ کر نہیں آئے گا۔

۱۵ ۔ جی ہاں ! اس کا پروردگار اس کے مقابلہ میں بینا تھا۔

وہ جو شرم و حیاکے باعث اپنانامہ اعمال پشت کی طرف سے لیں گے

اس بحث کے بعد ، جو گذشتہ آیات میں اصحاب الیمین ( وہ مومنین جن کانامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیاجائے گا) کے بارے میں گزرچکی ہے ، ان آیات میں کفار مجرمین اور ان کے نامہ اعمال کی کیفیت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتا ہے :

” باقی رہا وہ شخص جس کا نامہ اعمال اس کی پشت کی طرف سے دیا جائے گا“ ( و اما من اوتی کتابہ واء ظھرہ)۔ عنقریب وہ فریاد کرے گا کہ وائے ہو مجھ پر کہ میں ہلا ک ہوگیا ( فسوف یدعوا ثبوراً۔ ” اور آگ کے جلانے والے شعلوں میں جلے گا “ (ویصلیٰ سعیراً)۔

یہ کہ ان کے نامہ اعمال کس طرح ان کے پس پشت سے دیں گے اور کس طرح یہ آیت اور وہ آیات جو کہتی ہیں کہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیں ، ایک جگہ جمع ہوں گی، اس سلسلہ میں مفسرین نے مختلف تفسیریں کی ہیں ۔ بعض نے کہا کہ ان کے دائیں ہاتھ گردن کےساتھ زنجیر سے بندھے ہوں گے اور ان کے نامہ ہائے اعمال بائیں اور پشت کے پیچھے سے ملیں گے جو ذلت و خواری کے سر نیچے رکھنے اور شرمساری کی علامت ہے ۔

بعض دوسرے مفسرین نے کہا ہے کہ ان کے دونوں ہا تھ قید یو ں کے طرح پیچھے باندھ دئیے جائیں گے ۔ بعض دوسروں نے کہا ہے کہ سورہ نساء کی آیت ۴۷ کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہتی ہے :( من قبلی ان نطمس وجوهاً فنرها علیٰ ادبار ها ) ۔ ” اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مٹادیں اور پشت کی طرف پھیر دیں “ اس طرح گروہ مجرمین کے منہ عقب کی جانب مڑ جائیں گے اور ضروری ہے کہ وہ اپنے نامہ ہائے اعمال خود پڑھیں ۔ لہٰذاوہ ان کے بائیں ہاتھ میں پشت کی جانب انہیں دیں گے ۔

لیکن زیادہ مناسب یہ ہے کہ کہاجائے کہ اصحاب الیمین سر فرازی اور فخر و مباہات کے ساتھ اپنا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں لیئے ہوئے پکار کر کہیں گے( هاو م اقرء الکتابیه ) ” اے اہل محشر آو اور میر انامہ اعمال لے کر پڑھو“ ( حاقہ ۔ ۱۹) ۔ لیکن گناہگاروں کو ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیں گے تو وہ شرمساری اور ذلت سے اپنا ہاتھ پشت کے پیچھے کرلیں گے تاکہ جرم کی سند کم تر دیکھی جائے ۔

لیکن فائدہ کچھ نہیں ہوگا اس لئے کہ وہاں کوئی چیز پوشیدہ رہنے والی نہیں ہے ۔( یدعوا ثبورا ) ، اس کی تعبیر کی طرف اشارہ ہے جو عرب کس خطر ناک حادثہ کے موقعہ پر کرتے ہیں اور فریاد بلند کرتے ہیں( و اثبوا ) ،اے وائے کہ میں ہلاک ہو گیا ۔

توجہ فرمائیں کہ ” ثبور“ ہلاکت کے معنی میں ہے ۔ لیکن یہ آہ نالہ و فریاد کسی کے کان تک نہیں پہنچے گی ۔ اس کے بعد( ویصلیٰ سعیراً ) ہے یعنی وہ جہنم کے جلانے والی آگ میں داخل ہوگا ۔اس کے بعد اس منحوس سر نوشت کی علت کو بیان کرتے ہوئے فرماتاہے :” یہ اس بنا ء پر ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہمیشہ اپنے ( کفر و گناہ کی وجہ سے ) خوش رہتا تھا( انه کان فی اهله مسروراً ) ، ایسا سرور جس میں غرور کی آمیزش تھی اور ایسا غرور جو غفلت اور خدا سے بے خبری کو اپنے ساتھ لیئے ہوئے تھا ، ایسا غرور جو دنیا کے ساتھ شدید و بستگی اور موت کے بعد والے جہان سے بے پرواہی کی نشانی تھا ۔

واضح رہے کہ ذاتی طور پر سرور و خوش حالی مذموم چیزنہیں ہے بلکہ مومن کو چاہئیے کہ لطفِ خدا سے مسرور ہو اور رہنے سہنے کے انداز میں ہشاش بشاس ہو۔ وہ سرور و خوشی مذموم ہے جو انسان کو یاد خدا سے غافل کردے اور خواہشات کا اسیر بنا کر رکھ دے ۔

اس لئے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے : ”یہ اس بنا پر ہے کہ وہ گمان کرتا تھا کہ کبھی واپس نہیں لوٹے گا اور معاد و قیامت کا کوئی امکان نہیں ہے “( انه ظن ان لن یحور ) ۔ حقیقت میں اس کی بد بختی کا سبب اصلی اس کا اعتقاد فاسد اور گمان باطل تھا ، جس کا دارومدار انکار قیامت پر تھا ۔

یہی اعتقاد اس کے غرور و سرور کا باعث ہوا ، اس نے اس کو خد اسے دور کیا اور خواہشات کا اسیر بنا کر رکھ دیا ، یہاں تک کہ وہ انبیاء کی دعوت فکر کا مذاق اڑاتا اور جب اپنے گھر والوں کے پاس آتا تو اس مذاق سے خوش ہوتا ۔

یہی مفہوم سورہ مطففین کی آیت ۳۱( و اذا انقلبوا الیٰ اهلهم انقلبوا فکهین ) میں بھی آیا ہے ۔ اس طرح قارون اس مغرور دولت مند اور خداسے بے خبر انسان کی داستان میں بیان ہوا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے باخبر افراد اس سے کہتے تھے( لا تفرح ان الله لا یحب الفرحین )

اس قدر متکبرانہ طور پر خوش نہ ہو کیونکہ خدا خوش ہونے والے مغروروں کو دوست نہیں رکھتا ( قصص۔ ۷۶)

” لن یحور“ کبھی واپس نہیں لوٹے گا“۔ ” یحور “۔ ” حور“ ( بروزن غور ) کے مادہ سے تردد اور آمد و رفت کے معنی میں ہے ، خواہ یہ آمد و رفت عمل ہو یا فکر و نظر میں ،اسی لئے پانی کے حوض یا تا لاب میں گردش کرنے کے سلسلہ میں اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور محور اس کو کہتے جس کے گرد چرخہ گھومتا ہے ، محاورہ بحث کی آمد و رفت اور ردّ و بدل کے معنی سے ہے اور ” حوار“ بھی انہی معانی میں ہے اور کبھی اس دار کے معنی میں بھی آتاہے جو بحث کے آوزان بلند ہوتی ہے اور تحیر بھی کسی مسئلہ میں فکر کی آمد و رفت کا نتیجہ ہے جس کا لازمہ عمل میں سر گردانی ہے ۔

بعض مفسرین کانظریہ ہے کہ اس لفظ کی اصل حبشی ہے ۔ اور ابن عباس سے نقل ہو اہے کہ میں قرآن کے اس جملے کے معنی نہیں جانتا تھا ، یہاں تک کہ ایک بیابانی عرب سے میں نے سنا کہ وہ اپنی لڑ کی سے کہہ رہا تھا ” حوری “ یعنی واپس آجا ۔(۱)

اسے ” حور “ کے مادہ سے دھونے اور سفید کرنے کے معنی میں سمجھا ہے ، کیونکہ وہ لوگوں کے دلوں کو شرک و گناہ کے زنگ سے پاک و صاف کرتے تھے ، اور جنت کی حورو ں کو اسی لئے یہ نام دیاگیا ہے کہ ان کا رنگ سفید ہے ، یاان کی آنکھوں کی سفیدی بہت زیادہ ہے ۔

بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ لفظ جنت کی حوروں کے لئے اس لئے بولا جاتا ہے کہ وہ اس قدر خوبصورت ہیں کہ آنکھ انہیں دیکھ کر حیران رہ جاتی ہے ۔ لیکن بہر حال یہ لفظ زیر بحث آیت میں باز گشت اور معاد کے معنی میں ہے

” جی ہاں ! اس کا پروردگار اس کے بارے میں بینا تھا “( بلی ان ربه کان به بصیراً ) اس کے تمام اعمال کو لکھوایا اور روز حساب کے لئے ایک نامہ اعمال میں انہیں محفوظ کیا۔ اس آیت کی تعبیر گزشتہ آیت ( یا ایھا الانسان انک کادح الیٰ ربک کد حاً فملاقیہ)کی مانند عقیدہ و معاد پر دلیل و حجت شما رہو سکتی ہے ۔

خصوصاً دونوں آیات میں رب یعنی پروردگار کے عنوان پر انحصار ہو اہے ، اس لئے کہ انسان کی سیر ارتقاء یعنی پروردگار تک پہنچنے کا عمل ، موت کے آنے پر منقطع نہیں ہوتا اور دنیا وی زندگی ہر گز اس قابل نہیں ہے کہ خود مقصودِ تکامل ہو نیز انسان کے اعمال کے بارے میں خدا کا بصیر ہونا اور ان کے اعمال کو تحریر کیاجا نا حسا ب و سزا و جزا کی تمہیدہی بن سکتا ہے ، ورنہ فضول ہے ۔

____________________

۱۔مفردات راغب، تفسیر فخر رازی ، ابو الفتوح اور دوسری کتب ۔


آيات ۱۶،۱۷،۱۸،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵

۱۶ ۔( فلآ اقسم باشفق ) ۔

۱۷ ۔( و الّیل وما وسقَ ) ۔

۱۸ ۔( و القمر اذا اتسقَ ) ۔

۱۹ ۔( لترکبنَّ طبقاً عن طبقٍ ) ۔

۲۰ ۔( فما لهم لایومنون ) ۔

۲۱ ۔( و اذا قریٴ علیهم القرآنُ لا یسجدونَ ) ۔

۲۲ ۔( بل الذین کفروا یکذبون ) ۔

۲۳ ۔( و الله اعلم بما یوعونَ ) ۔

۲۴ ۔( فَبَشِّر هُم بِعَذَابٍ الیمٍ ) ۔

۲۵ ۔( اِ لاَّ اٰمنوا و عملوا الصّا لحاتِ لهم اجرٌ غیر ممنونٍ ) ۔

ترجمہ

۱۶ ۔ شفق کی قسم ۔

۱۷ ۔ اور رات کی قسم جسے وہ جمع کرتی ہے ۔

۱۸ ۔ اور قسم ہے چاند کی جبکہ وہ بدر کامل ہوتا ہے ۔

۱۹ ۔ تم سب ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہوتے ہو۔

۲۰ ۔ پس وہ کیوں ایمان نہیں لاتے ؟

۲۱ ۔ اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جائے تو سجدہ نہیں کرتے ۔

۲۲ ۔ بلکہ کفار ہمیشہ آیات الہٰی کی تکفیر کرتے ہیں ۔

۲۳ ۔ خدا اس چیز کو جسے وہ دل میں چھپائے رکھتے ہیں ، اچھی طرح جانتا ہے ۔

۲۴ ۔ پس انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے ۔

۲۵ ۔ مگر وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اعمال صالح انجام دئیے ہیں ، تو ان کے لئے ختم نہ ہونے والا اجر ہے ۔

تم ہمیشہ دگر گوں ہوتے رہتے ہو

اس بحث کے بعد جو گشتہ آیات میں خدا کی طرف سے انسان کی سیر تکامل کے بارے میں آئی تھی ان آیات میں ان مفہوم کی تاکید اور مزید توضیح کے لئے فرمایا ہے :

” قسم شفق کی “( فلا اقسم باشفق ) ۔ اور قسم ہے ان پراکندہ امور کی جنہیں وہ اکھٹا کرتی ہیں( و اللیل وما وسق ) ۔ اور قسم ہے چاند کی جب وہ کامل ہوتا ہے اور چودھویں کے چاند کی صورت اختیار کرلیتا ہے( و القمر اذا اتسق ) ، کہ تم سب ہمیشہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طر ف منتقل ہوتے ہو( لترکبن طبقاً عن طبق ) ۔

فلا اقسم کے جملہ میں لا کا لفظ ، جیساکہ پہلے بھی ہم نے اشارہ کیا ہے ، زائدہ ہے اور تاکید کے لئے ہے ۔ اگر چہ بعض کا خیا ل ہے کہ نفی کے لئے ہو یعنی میں قسم نہیں کھاتا اس بناء پر کہ مفہوم عیاں ہے ۔ قسم کی ضرورت نہیں ہے ، یایہ کہ مطلب اس قدر اہم ہے کہ ان قسموں کی ضرورت نہیں ہے کہ ان کی قسم کھائی جائے ۔ لیکن پہلے معنی ( زائد اور تاکید کے لئے ہونا ) زیادہ مناسب ہےں ۔

” شفق “ مفردات میں راغب کے بقول دن کی روشنی رات کی تاریکی سے آمیختہ ہونا ہے ، اس لئے لفظ اشفاق اس توجہ اور عنایت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جس میں خوف کا عنصر پایا جاتاہو۔ مثلا ً اگر کوئی فرد کسی شخص کے لئے محبت کے جذبات رکھتا ہو اور اس کے بارے میں کچھ حوادث سے ڈرتا ہوتو اس حالت کو اشفاق اور ایسے شخص کو مشفق کہتے ہیں ۔

لیکن فخر رازی کا نظر یہ ہے کہ شفق کا لفظ اصل میں رقّت اور نازک ہونے کے معنی میں ہے ۔ رقّت کے معنی پتلا ہونا ہے۔ اسی لئے بہت ہی نازک اور پتلے لباس کو شفق کہتے ہیں اور شفقت کا لفظ رقّتِ قلب کی حالت کے لئے بولا جاتا ہے ( لیکن راغب کا قول زیادہ صحیح نظر آتاہے )۔

بہر حال شفق سے مراد وہی روشنی ہے جو آغاز شب کی تاریکی کی آمیزش رکھتی ہو اور چونکہ ابتدائے شب میں ایک کم رنگ کی سرخی افق مغرب پر پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کی جگہ سفیدی لے لیتی ہے ، جو اس میں اختلاف ہے کہ شفق کا اطلاق اس سرخی پر ہے یا سفیدی پر۔

علماء مفسرین کے درمیان مشہو ر و معروف وہ پہلے معنی ہیں اور اشعار عرب میں بھی اسی پر انحصار کیاگیا ہے اور شفق کو شہیدوں کے خو ن سے تشبیہ دیتے ہیں اور (دماء الشهداء ) کہتے ہیں ۔

لیکن بعض مفسرین نے دوسرے معنی کو منتخب کیا ہے جو بہت ضعیف نظر آتے ہیں ، خصوصاً یہ کہ اگر اس کی لغوی اصل کے معنی ہم رقّت سمجھیں تو پھر اس کم رنگ کی سرخی سے مناسبت رکھتے ہیں جو سورج کی رقیق اور پتلی روشنی اور نور ہے ۔

بہر حال چونکہ شفق کا ظہور دنیا میں ایک گہری تبدیلی اور دگر گونی کی حالت کی خبر دیتا ہے او ر دن کے اختتام اور رات کے آغاز کا اعلان کرتا ہے ، اس کے علاوہ اس میں ایک خاص قسم کا جلدہ زیبائی اور خوبصورتی ہے ، اور ان سب سے قطع نظر نماز مغرب کے وقت کی قسم کھائی ہے تاکہ سب لوگوں کو خبردار اور آمادہ کرے کہ وہ اس خوبصورت آسمانی وجود کے بارے میں غور کریں ۔

باقی رہا رات کی قسم کھانا تو وہ ان بہت سے آثار و اسرار کی بناپر ہے جو اس میں پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ اس پر ہم پہلے مفصل گفتگو کر چکے ہیں ۔(۱)

جانوروں ، پرندوں ، یہاں تک کہ انسانوں کے اپنے گھروں ، آشیانوں اور گھونسلوں کی طرف رات کے وقت لوٹنے کی طرف اشارہ ہے جس کا نتیجہ جانوروں کا عمومی آرام و سکون اور آسائش ہے اور یہ رات کے اہم آثار و اسرار میں سے ایک شمار ہوتاہے جیساکہ سورہ مو من کی آیت ۶۱ میں ہم پڑھتے ہیں( الله الذی جعل لکم لتسکنوا فیه ) ، خدا وہ ہے جس نے رات کو تمہارے لیئے خلق کیا ہے تاکہ تم اس میں آرام و سکون حاصل کرو۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ اذا اتسق کی تعبیر اسی مادہ سے ہے اور مختلف وجودوں کے جمع ہونے کے معنی میں ہے اور یہاں چودھویں رات کے چاند کی روشنی کے کمال کے معنی میں ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ چاند اس حالت میں بہت ہی خوبصورت لگتا ہے اور ہر دیکھنے والی آنکھ کو دل کش نظر آتا ہے ۔

اس کا نور صفحہ زمین کو روشن کرتا ہے ۔ اس کے ہلکے رنگ کی روشنی جو رات کے آرام و سکون کو خراب نہیں کرتی ۔ رات کے مسافروں کو راستہ دکھاتی ہے اس لئے وہ خدا کی عظیم آیات میں سے ایک آیت ہے ۔ اسی بناء پر اس کی قسم کھائی گئی ہے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ چاروں موضوعات جن کی ان آیات میں قسم کھائی گئی ہے( شفق ، رات اور وہ موجودات جنہیں رات جمع کرتی ہے اور چودھویں رات کا چاند )۔

یہ سب ایسے جو ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور ایک ایسے خوبصورت مجموعہ کو تشکیل دیتے ہیں جو انسانی فکر میں تحریک پیدا کرتا ہے تاکہ وہ تخلیق کی عظیم وقت پر غور و فکر کرے اور ان تیز تبدیلیوں سے وقوعِ قیامت اور قدرت خدا کے بارے میں آشنائی حاصل کرے۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مختلف امور کا یہ حصہ ایسے حالات اور تبدیلیوں کی طرف اشارہ ہے جو عالمِ آفرینش میں ایک دوسرے کے ساتھ رونما ہوتی ہیں ۔

سورج چہرے پر نقاب ڈالتا ہے تو شفق ظاہر ہوجاتی ہے جو اس کے نور کا بقیہ ہے ۔ انسان، پرندہ ، چرند بڑی تیزی سے اپنے ٹھاکانوں اور آشیانوں کی طرف لوٹتے ہیں اور چاند بدرِ کامل کی شکل میں بلند ہوتا ہے ۔

توجہ فرمائیں کہ چودھویں کا چاند رات کے اسی ابتدائی حصہ میں طلوع ہوتا ہے اور ان قسموں کو ” لترکبن طبقاً عن طبق “کے اس جملے کی تمہید قراردیتاہے جو مختلف ایسے حالات کو بیان کرتا ہے جو انسان اپنی راہ حیات میں یکے بعد دیگرے پیدا کرتا ہے ۔ اس جملے کے لئے مفسرین نے مختلف تعبیریں بیان کی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے ۔

۱ ۔ مراد وہ گوناگوں حالات ہیں جو انسان ، خدا اور کمال ِ مطلق کی جانب سفر کرنے کے پر مشقت راستے پیدا کرتا ہے ۔ پہلے عالم ِ دنیا ، پھر عالم ِ بر زخ ہے اور پھر قیامت اور اس کے مختلف حالات ہیں ۔ ( توجہ فر مائیں کہ ” طبق“ ” مطابقہ “ کے مادہ سے ایک چیز کو دوسری چیز کے اوپر قرار دینے کے معنی میں ہے اور ان منزلوں کے معنی میں ہے جنہیں انسان اپنی سیر صعودی میں طے کرتا ہے )۔

۲ ۔ مراد وہ حالات ہیں جنہیں انسان کو نطفہ سے لے کر موت تک کے سفر میں سامنا کر نا ہو تا ہے ۔ بعض محققین نے ایسی ۳۷ حالتیں شمار کی ہیں ۔

۳ ۔ مراد وہ مختلف حالات و شدائد ہیں جن میں سے انسان دنیاوی زندگی میں صحت و بیماری ، غم و اندوہ سرور مسرت ،سختی و آرام اور صلح و جنگ کی صورت میں دوچار ہوتا ہے ۔

۴ ۔ مراد وہ مختلف حالات و شدائد ہیں جن سے انسان قیامت میں دوچارہوگا یہاں تک کہ حساب سے فارغ ہو کر ہر شخص اپنے اعمال کے نتیجے میں دوزخ اور جنت کی طرف جائے گا ۔

۵ ۔ مراد وہ حالات ہیں جو گزشتہ قوموں کو پیش آئے یعنی وہی تلخ و شیریں حوادث اور انواع و اقسام کی تردیدیں اور مخالفین کے انکار اس امت میں بھی واقع ہوں گے یہ مضامین ایک اور رویت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوئے ہیں ۔

ان تفسیروں کا جمع ہونا بھی معنی نہیں رکھتا ۔ ہوسکتاہے کہ آیت ان تمام تبدیلیوں ، تغیرات اور مراحل کی طرف اشارہ کررہی ہو جنہیں انسان اپنی زندگی میں دیکھتا ہے ۔ بعض مفسرین یہاں مخا طب خود پیغمبر کو سمجھتے ہیں اور آیت کی ان آسمانوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جن سے پیغمبر اسلام معراج کی شب گزرے ہیں ۔

لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ” لترکبن “ میں جو ” ب“ ہے اور پر پیش ہے اور جمع کے معنی دیتا ہے ، اس لئے یہ تفسیر مناسب ہے ۔ خصوصاً یہ کہ گذشتہ آیات میں بھی مخاطب کل انسان تھے ۔

بہر حال ان حالات کا حدوث اور آدمی کا ایک حالت پر قیام نہ کرنا ایک تو اس کے مخلوق ہونے اور محتاج خالق ہونے کی دلیل ہے ، اس لئے کہ ہر متغیر حادث ہے اور ہر حادث کو خالق کی ضرورت ہے ، دوسرے اس جہان کی ناپائیدار ہونے کی دلیل ہے ۔

تیسرے انسان کی پروردگار عالم کی طرف حرکت ِ مستمر مسئلہ معادو قیامت کی نشانی ہے جیسا کہ گزشتہ آیات میں آیاتھا( یا ایها الانسان انک کادح الیٰ ربک کد حاً فملاقیه )

اس کے بعد گزشتہ مباحث ایک نتیجہ کلی اخذ کرتے ہوئے فرماتا ہے ‘ ” وہ ایمان کیوں نہیں لاتے “( فمالهم لایومنون ) ، اس کے باوجود کے حق کے دلائل واضح و آشکار ہیں ، توحید و خدا شناسی کے بھی اور معاد و قیامت کے بھی ۔ آیات آفاتی بھی جو رات دن کی خلقت اور چاند سورج ، نور و ظلمت ، طلوع و غروب ، آفتاب و شفق ، رات کی روشنی اور رات کی روشنی کے تکامل میں چھپے ہوئے ہیں ۔ اور آیاتِ انفسی بھی ۔ اس لمحے سے لے کر جب انسان کا نطفہ رحم میں قرار پاتا ہے اور یکے بعد دیگرے مختلف مراحل طے کرتا ہے یہاں تک کہ عالم جنین میں اپنے اوج کمال کو پہنچتا ہے ، اس کے بعد ولادت کے لمحے سے لیکر موت تک دوسرے مراحل طے کرتا ہے، تو ان واضح نشانیوں کے باوجود نوع بشر ایمان کیوں نہیں لاتی ۔

اس کے بعد کتاب تکوین سے کتاب حق کی طرف رخ کرتے ہوئے فرماتاہے : ” جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تویہ خضوع اختیار کیوں نہیں کرتے “۔( و اذا قریٴ علیهم القرآن لایسجدون ) ۔

قرآن جو آفتاب کے مانند اپنی دلیل آپ ہے ، نور اعجاز اس کے مختلف پہلوو ں سے عیاں ہے ، پھر اس کے مضامین و مشمولات یہ سب اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ اسے وحی کے سر چشمہ سے لیا گیا ہے ۔

قرآن کے بارے میں ہر غیر جانب دار یہ جانتا ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ قرآن کسی انسان کے دماغ کی تخلیق ہو۔ پھر انسان بھی ایسا جس نے کبھی کوئی سبق نہیں پڑھا ہو اور ایک ایسے ماحول میں اس نے زندگی بسر کی ہو جو خرافات و ظلمات سے پر ہو ۔ یہاں سجدہ سے مراد خضوع ، تسلیم اور اطاعت ہے ۔(۲)

اور وہ مشہور سجدہ جس میں پیشانی کو زمین پر رکھتے ہیں ، اس مفہوم کلی کا ایک مصداق ہے ۔ اور شاید اسی بناپر بعض رویات میں آیا ہے کہ پیغمبر نے ان آیات کی تلاوت فرمائی تو سجدہ کیا ۔

البتہ فقہائے اہلبیت کے مشہور فتوے کے مطابق یہ سجدہ قرآ ن کے مستحب سجدوں میں سے ہے اور اہل تسنن کے چاروں مذاہب اس آیت کی تلاوت کے وقت سجدہ کرنا واجب سمجھتے ہیں ، سوائے امام مالک کے جن کا نظریہ ہے کہ سورہ کے ختم ہونے کے بعد سجدہ کرنا چاہئیے ۔(۳)

بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے : ” بلکہ کفار ہمیشہ آیات الہٰی اور معاد قیامت کی تکذیب کرتے ہیں “( بل الذین کفروا یکذبون ) ۔ یہاں فعل مضارع کا استعمال ، جوعام طور پر استمرار کے لئے ہوتا ہے ، ان معانی کا گواہ ہے کہ وہ اپنی تکذیب پر مصر تھے اور یہ ایسا اصرار تھا جو محض ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے تھا ۔ ان کی تکذیب ایسی نہیں تھی کہ انہیں اس کے لئے دلیلیں نہیں مل سکی تھیں ، بلکہ تعصب ، اندھی تقلید ، مادی منفعتوں کی حفاظت اور شیطانی خواہشات کی تسکین کے لئے تھی ۔

اس کے بعد تہدید آمیز لہجے میں فرماتا ہے :”خدا اسے اچھی طرح جانتا ہے جسے وہ اپنے دل کے اندر پنہاں رکھتے ہیں “( و الله اعلم بما یوعون ) ۔ خدا ان کی نیتوں ، مقاصد اور ایسی ترغیبات سے ، جو مسلسل تکذیبوں کا سبب بنتی ہیں ، باخبر ہے ، وہ چاہے کتنی ہی پردہ پوشی کیوں نہ کریں ، انجام کار انہیں اس کی سزا ملے گی ۔

” یوعون “ ” وعاء “ کے مادہ سے ظرف اور برتن کے معنی میں ہے ، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام کی مشہور عبارت سے نہج البلاغہ میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :

( ان هٰذه القلوب اوعیة فخیرها اوعاها ) یہ دل ظروف ہیں اور ان میں سے بہترین دل وہی ہے جس کی حفاظت اورظرفیت زیادہ ہو۔

اور بعد والی آیت میں فرماتا ہے :” پس انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے “( فبشر هم بعذاب الیوم ) بشارت کی تعبیر جو عام طور پر خوشخبری کے لئے استعمال ہوتی ہے ، یہاں ایک قسم کے طعن اور سرزنش کے طور پر ہے ۔

در حقیقت وہ اس طرح مومنین کو جنت کی وسیع نعمتوں کی بشارت دیتا ہے تاکہ تکذیب کرنے والے دوزخی حسرت و اندوہ میں ڈوب جائیں ۔ اس سورہ کی آخری آیت میں ایک استثناء کی شکل میں ایک مرتبہ پھر نیک عمل مومنین کی سر نوشت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :

” مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دئیے ان کے لئے اجر و ثواب ہے ، ایسا اجر جو ثابت شدہ اور منقطع نہ ہونے والااور ہر قسم کے نقصان سے محفوظ ہے “۔

( الاّّ الذین اٰمنوا و عملو ا الصالحات لهم اجر غیر ممنون ) ۔

” ممنون “ ” من “ کے مادہ سے نقصان و انقطاع کے معنی میں آیاہے اور منت کے معنوں میں بھی ہے ۔ ( لفظ منون جوموت کے معنوں میں ہے وہ بھی اسی مادہ سے ہے) اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سب معانی یہاں جمع ہوں ، اس لئے کہ آخرت کی نعمتیں دنیاوی نعمتوں کے بر عکس ، جو ناپائیدار اور نقصان پذیر بھی ہیں اور عام طور پر غیر مطلوب عوارض کی آمیزش رکھتی ہیں ،کسی قسم کی منت ِ نقصان، فنا اور غیر مطلوب عوارض نہیں رکھتیں ۔ وہ جاودانی ہیں ، نقصان ناپذیر ہیں اور ہر قسم کے نامناسب امور اور منت و احسان سے مبراہیں ،یہ استثناء متصل ہے یا منقطع مفسرین کے درمیان اس میں اختلا ف ہے ۔

بعض نے یہ احتمال تجویز کیاہے کہ استثناء منقطع ہے ، یعنی کفار کے حالات کی تشریح جو گزشتہ آیات میں تھی اس کو چھور کر مومنین کی جاودانی اجر کی بات کرتا ہے لیکن زیادہ مناسب یہی ہے کہ استثناء متصل ہو اور مقصد یہ ہو کہ کفار کے سامنے باز گشت کی راہ کھولے اور انہیں یہ یہ بتائیں کے جو لوگ توبہ کرے کے ایمان لے آئیں اور اعمال صالح انجام دیں ، ان سے عذاب دائمی اٹھا لیا جائے گا اور انہیں ایسا اجر دیاجائے گا جو دائمی ہوگا اور جس میں نقصا ن کا کوئی پہلو نہ ہوگا ۔

ایک نکتہ

مرحوم طبرسی مجمع البیان میں اس سورہ کی آخری آیات سے پہلے تو اختیار اور ارادہ کی آزادی کا اصل کی فائدہ اٹھاتے ہیں ، اس لئے مجبور افراد کے بارے میں ترک سجدہ اور ترکِ ایمان پر ملامت کرنا خدا وند حکیم کے لئے یہ ایک امر قبیح ہے اور وہ جو یہ فرماتا ہے :( فما لهم لا یومنون و اذا قریٴ علیهم القراٰن لا یسجدون ) مسئلہ اختیار پر واضح دلیل ہے ، اور پھر ترک سجدہ پر ملامت کرنا اس امر کا ثبوت ہے کہ کفار جس طرح اصول دین کے مکلف ہیں اسی طرح فروع دین کے بھی مکلف ہیں ۔ ( یہ گفتگو اس صورت میں ہے جب لفظ سجدہ مذکورہ بالا آیت میں نماز والے سجدے کے معنی میں ہو یاکم از وسیع معانی رکھتا ہو جس میں سجدہ نماز بھی شامل ہے )۔

خدا وند !جس دن سب لوگ تیری داد گاہ عدل میں حاضرہوں گے ہم پر حساب آسان کر دیجو ۔

پر وردگار ا ! اس راہ میں جہاں تمام بندے تیری طرف سفر کرتے ہیں صراط مستقیم طے کرنے میں ہماری مدد فرما ۔

بار الہٰا ! ہم تیرے قرآن کریم کے سامنے سرِ تسلیم خم کئے ہوئے ہیں ، ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرما۔

آمین یا رب العالمین

____________________

۱۔ تفسیر نمو نہ ۔ جلد ۹، ۱۴۳، سورہ قصص کی آیت ۷۱ تا ۷۳ سے رجوع فرمائیں ۔

”ماوسق“ کی تعبیر۲اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ” وسق “ بکھری ہوئی چیزوں کے جمع کرنے کے معنی میں ہے ۳اور مختلف قسم کے

۲۔” ماوسق“ میں ما مو صولہ ہے اور اس کے مصدریہ ہونے کا احتمال ضعیف ہے اور اس کی طرف لوٹنے والی ضمیر بھی محذوف ہے اور تقدیر میں ” وما وسقہ“ ہے ۔

۳۔ ”وسق“ ( بر وزن غضب) اونٹ کے ایک بار یا ساٹھ صاع جس کا ہر صاع تقریباً تین کلو ہے کے معنی میں آیا ہے اور وہ بھی ان سب کے مجتمع ہونے کے معنی میں ہے ۔

۲۔ ان معانی کے شواہد میں سے گزشتہ اور آئندہ آیات کی شہادت کے علاوہ ایک یہ ہے کہ سجدہ جس کے معنی تلاوت قرآن کے وقت زمین پر پیشانی رکھنا ہے ، سوائے چند آیات کے نہ واجب ہے نہ مستحب، اس لئے یہ جو کہہ رہاہے کہ قرأت قرآن کے وقت وہ سجدہ کیوں نہیں کرتے اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سجدے سے مراد سارے قرآن کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔

۳۔ روح البیان ، جلد ۱،ص، ۱۳۸۲


سورہ بروج

یہ سورہ مکے میں نازل ہو ا اس میں ۲۲ آیتیں ہیں

سورہ بروج کے مضامین اور اس کی فضیلت

ابتدائے بعثت کے زمانے میں مومنین ( مکہ میں )بہت سخت رنج و تکلیف اور دباو کی حالت میں تھے اور ہمیشہ دشمنوں کی طرف سے جسمانی اور روحانی اذیتوں میں گرفتار رہتے تھے اور یہ اس وجہ سے تھا کہ راہ ایمان کو خیر باد کہہ دیں ۔

اس سلسلہ میں ایک گروہ نے صورت حال کا مقابلہ کیا، لیکن بعض کمزور افراد دشمنوں کے مقابلہ میں شکستہ دل ہو کر ایمان سے پلٹ گئے ۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ ان مومنین کی پا مردی اور استقامت کا شوق دلایا ہے

اس صورت حال کے حوالے سے پروردگار عالم اس سورہ میں اصحابِ اخدود کے واقعہ کو نقل کرتا ہے : وہی لوگ جنہوں نے خندق کھو دی ، اس میں بہت زیادہ آگ جلائی اور مومنین کو اس آگ میں جلانے کی دھمکی دی اور ایک گروہ کو اس آگ میں جلا یا ، لیکن انہوں نے راہ ایمان کو خیرباد نہیں کہا۔ پھر اس سورے کے دوسرے حصہ میں ان کافروں کو تنبیہ کرتا ہے جنہوں نے مومنین پر دباو ڈا ل رکھا تھا ، اور انہیں جہنم میں جلانے والے عذاب کی خبر دیتا ہے جب کہ جنت کے پر نعمت باغات کی مومنین کو بشارت دیتاہے۔

بعد والے حصہ میں انہیں گزشتہ تاریخ کی طرف لے جاتا ہے اور فرعو ن و ثمود اور دیگر ظالم اقوام کی داستانیں ان کی نگاہوں کے سامنے مجسم کر کے پیش کرتاہے اور بتاتا ہے کہ عذاب الہٰی نے انہیں کس طرح نابود کردیا ، تاکہ کفارِ مکہ جو ان کی نسبت بہت کمزور تھے اپنا اندازہ لگالیں ۔ نیز یہ کہ یہ صورت حال پیغمبر اور مومنین کے دلوں کی تسلی کا سبب بھی ہو۔

اس سورہ کے آخری حصہ میں قرآن مجید کی عظمت اور وحی الہٰی کی سب سے زیادہاہمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اسی مفہوم پر سورہ کوختم کرتا ہے ۔ مجموعی طور پر یہ سورہ مومنین کو ظالموں کے مقابلہ میں پا مردی و استقامت اور صبر و شکیبائی کا درس دیتا ہے ۔ اس کی آیتوں کے اندر نصرت الہٰی کا وعد ہ بھی چھپا ہو اہے ، اس سورہ کا جو بروج کا نام رکھاگیا ہے وہ اس لفظ کی وجہ سے ہے جو اس کی پہلی آیت میں آیاہے

ابتدائے بعثت کے زمانے میں مومنین ( مکہ میں )بہت سخت رنج و تکلیف اور دباو کی حالت میں تھے اور ہمیشہ دشمنوں کی طرف سے جسمانی اور روحانی اذیتوں میں گرفتار رہتے تھے اور یہ اس وجہ سے تھا کہ راہ ایمان کو خیر باد کہہ دیں ۔

اس سلسلہ میں ایک گروہ نے صورت حال کا مقابلہ کیا، لیکن بعض کمزور افراد دشمنوں کے مقابلہ میں شکستہ دل ہو کر ایمان سے پلٹ گئے ۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ ان مومنین کی پا مردی اور استقامت کا شوق دلایا ہے

اس صورت حال کے حوالے سے پروردگار عالم اس سورہ میں اصحابِ اخدود کے واقعہ کو نقل کرتا ہے : وہی لوگ جنہوں نے خندق کھو دی ، اس میں بہت زیادہ آگ جلائی اور مومنین کو اس آگ میں جلانے کی دھمکی دی اور ایک گروہ کو اس آگ میں جلا یا ، لیکن انہوں نے راہ ایمان کو خیرباد نہیں کہا۔ پھر اس سورے کے دوسرے حصہ میں ان کافروں کو تنبیہ کرتا ہے جنہوں نے مومنین پر دباو ڈا ل رکھا تھا ، اور انہیں جہنم میں جلانے والے عذاب کی خبر دیتا ہے جب کہ جنت کے پر نعمت باغات کی مومنین کو بشارت دیتاہے۔

بعد والے حصہ میں انہیں گزشتہ تاریخ کی طرف لے جاتا ہے اور فرعو ن و ثمود اور دیگر ظالم اقوام کی داستانیں ان کی نگاہوں کے سامنے مجسم کر کے پیش کرتاہے اور بتاتا ہے کہ عذاب الہٰی نے انہیں کس طرح نابود کردیا ، تاکہ کفارِ مکہ جو ان کی نسبت بہت کمزور تھے اپنا اندازہ لگالیں ۔ نیز یہ کہ یہ صورت حال پیغمبر اور مومنین کے دلوں کی تسلی کا سبب بھی ہو۔

اس سورہ کے آخری حصہ میں قرآن مجید کی عظمت اور وحی الہٰی کی سب سے زیادہاہمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اسی مفہوم پر سورہ کوختم کرتا ہے ۔ مجموعی طور پر یہ سورہ مومنین کو ظالموں کے مقابلہ میں پا مردی و استقامت اور صبر و شکیبائی کا درس دیتا ہے ۔ اس کی آیتوں کے اندر نصرت الہٰی کا وعد ہ بھی چھپا ہو اہے ، اس سورہ کا جو بروج کا نام رکھاگیا ہے وہ اس لفظ کی وجہ سے ہے جو اس کی پہلی آیت میں آیاہے

اس سورہ کی فضیلت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ پیغمبر اسلام کی ایک حدیث میں ہمیں ملتا ہے کہ :

(من قراء هٰذه السورة اعطاه الله من الاجر بعد د کل من اجتمع فی جمعة و کل من اجتمع فی یوم عرفة عشر حسنات و قرائتها تنجی من المخاوف و الشدائد )

” جو شخص اس سورہ کو پڑھے تو خدا وند عالم اس ان افراد کی تعداد سے جو نماز جمعہ میں جمع ہوتے ہیں اور ان کی تعداد سے جو یوم عرفہ عرفات میں جمع ہوتے ہیں ، دس گناہ حسنات دیتاہے اور اس کی تلاوت انسان کو خوف وہراس اور مصائب سے رہائی بخشتی ہے ۔(۱)

اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ” شاہد و مشہود “ کی ایک تفسیر روزِ جمعہ اور روز ِ عرفہ ہے ، نیز اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ گزشتہ سورہ مصیبتوں کے مقابلہ میں مومنین کی مقاومت کو بیا ن کرتی ہے ، لہٰذا اس اجر و ثواب کی منا سبت سورہ کے مضامین سے واضح ہوجاتی ہے اور حتمی طور پر یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ تمام اجر و ثواب ان لوگوں کے لئے ہے جو اسے پڑھیں ،اس میں غور و فکر کریں اور پھر اس پر عمل کریں ۔

____________________

۱۔ تفسیر بر ہان ، جلد ۴ ، ص ۴۴۵۔


آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( و السّمآء ذات البروج ) ۔

۲ ۔( و الیوم الموعود ) ۔

۳ ۔( وشاهد و مشهود ) ۔

۴ ۔( قتل اصحاب الاخدود ) ۔

۵ ۔( النّٓار ذات الوقود ) ۔

۶ ۔( اذهم علیها قعود ) ۔

۷ ۔( و هم علیٰ مایفعلون َ بالمومنین َ شهود ) ۔

۸ ۔( وما نقموا منهم الاَّ اَن یومنوا بالله العزیز الحمید ) ۔

۹ ۔( الذی له ملک السماوات و الارض و اللهُ علیٰ کل شیءٍ شهیدٌ ) ۔

ترجمہ

رحمن و رحیم خدا کے نام سے

۱ ۔ قسم ہے آسمان کی جس کے بہت سے بروج ہیں ۔

۲ ۔ اور قسم ہے اس موعود دن کی ۔

۳ ۔ اور شاہد و مشہود کی ( شاہد سے مراد پیغمبر اور اعمال کے گواہ ہیں اور مشہود سے مراد اعمال ہیں )۔

۴ ۔ موت اور عذاب ہو ایذا دینے والے اصحاب اخدود پر ( آگ کی خندق)۔

۵ ۔ شعلہ اور آگ سے پر خندقیں ۔

۶ ۔ جس وقت وہ اس کے کنارے بیٹھے تھے ۔

۷ ۔ اور جو کچھ وہ مومنین کی نسبت انجا م دیتے تھے ( سر د مہری سے ) اسے دیکھ رہے تھے ۔

۸ ۔ انہیں کوئی اعتراض نہیں ان ( مومنین ) پر نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ خدا وند عزیز و حمید پر ایمان لائے تھے ۔

۹ ۔ وہی خدا کہ آسمانوں اور زمین کی حکومت جس کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے

مومنین انسانوں کو جلانے والی بھٹیوں کے سامنے

ہمیں معلوم ہے کہ مکہ کے مسلمان ابتداء میں سخت فشار اور دباو میں تھے اور دشمن ان کے لئے ہر قسم کی تکلیف کو جائز سمجھتے تھے اور جیساکہ ہم نے سورہ کے مضامین کی تشریح میں کہا ہے اس سورہ کے نزول کا مقصد ان ایذا پہنچا نے والے کفار کو خبر دار کرنا ہے کہ وہ ماضی کی اپنے سے مشابہت رکھنے والی اقوام کے لوگوں کی سر نوشت کو پیش نظر رکھیں ، اور ساتھ ہی یہ سورہ موجودہ مومنین کی تسلی ، دلداری اور تقویت ِ روحانی کا باعث اور تمام مسلمانوں کے لئے ایک درس بھی ہے ۔ پہلے فرماتا ہے :

” قسم ہے آسمان کی جس کے بہت سے بروج ہیں “ ۔( و السماء ذات البروج ) (بروج) ۔(برج) کی جمع ہے جس کے معنی اصل میں قصر او رمحل کے ہیں ۔

بعض مفسرین نے اسے ظاہر و آشکار شے کے معنوں میں لیاہے اور بلند و بالا عمارات کو اس نام سے منسوب کرنے کا سبب ان کے ظاہر ہونے کو قرار دیا ہے ۔ اسی بنا پر شہر کے اطراف کی دیوار کے ایک خاص حصہ کو اور لشکر کے جمع ہونے کی جگہ کو جو نما یاں ہوتی ہے ، برج کانام دیا جاتا ہے اور جب عورت اپنی زینت کا اظہار کرے تو اسے تبرجت المراة کہا جاتا ہے ۔(۱)

۱ ۔ آسمانی برج یاتو آسمان کے درخشاں اور روشن ستاروں کے معنی میں ہے یا آسمانی شکلوں اور صورتوں کے معنی میں ہے ، یعنی ستاروں کا ایسا مجموعہ جو ہماری نظروں کے اعتبار سے موجودات زمین میں سے کسی ایک سے مشابہت رکھتا ہے اور بارہ برج بارہ فلکی شکلیں ہیں ۔ سورج اپنے سالانہ سفر میں سے ہر ماہ ان میں سے ایک بر ج کی حدود میں گزارتا ہے ، البتہ سورج حرکت نہیں کرتا ۔ زمین اس کی گردش کرتی ہے لیکن نظر ایسا آتا ہے کہ سور ج حرکت کررہاہے اور ان فلکی صورتوں میں سے کسی ایک کے سامنے آگیا ہے ۔(۲)

ان معانی میں سے جو بھی ہوں وہ عظیم ہیں اور پھر ان کی عظمت بھی ایسی ہے جو غالباً اس زمانے میں عربوں پرواضح نہیں تھی لیکن موجودہ زمانے میں ہمارے لئے جانی پہچانی ہے ۔ اگر چہ زیادہ یہی نظر آتا ہے کہ مراد وہی آسمانی ستارے ہوں ۔ ایک حدیث میں منقول بھی ہے کہ لوگوں نے پیغمبر اسلام سے اس آیات کی تفسیرپوچھی تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد ستارے ہیں ۔(۳)

اس کے بعد دوسری آیت میں ارشاد ہوا : ” اور قسم ہے اس موعود دن کی “( قیامت کا دن جس کا وعدہ کیا گیا ہے ) ۔( و الیوم الموعود ) ۔ وہی دن جس کی تمام انبیاء اور پیغمبروں نے خبر دی ہے اور کئی سو قرآنی آیتیں جس کے ثبوت کے طور پر وہی دن جو اولین و آخرین کی وعدہ گاہ ہے اور وہی دن جس میں سب کے حساب کا فیصلہ ہونا ہے ۔

تیسری اور چوتھی قسم میں فرماتاہے : ” اور قسم ہے شاہد و مشہود کی “( و شاهد و مشهود ) ۔ یہ کہ شاہد و مشہود سے کیا مراد ہے ، اس کی علماء نے بہت سی تفسیریں کی ہیں جو تعداد میں تیس سے زیادہ ہیں جن میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں :

۱ ۔ شاہد سے مراد پیغمبر اسلام کی ذات گرامی ہے جیسا کہ قرآن مجید کہتا ہے :( یا ایها النبی انا ارسلناک شاهداً و مبشراً و نذیراً ) ” اے پیغمبر ہم نے تجھے شاہد، بشارت دینے والے اور ڈرانے والے کی حیثیت سے بھیجا ہے “۔ ( احزاب۔ ۴۵) ۔

اور مشہورسے مراد قیامت کا دن ہے جیسا کہ قرآن کہتاہے :( ذالک یوم مجموع له الناس و ذالک یوم مشهود )

قیا مت کا دن وہ دن ہے جس میں تمام لوگ جمع ہوں گے وہ مکمل طور پر ” مشہود“ اور آشکار دن ہے۔ ( ہود ۔ ۱۰۳) ۔

۲ ۔ شاہد سے مرادانسان کے اعمال کے گواہ ہیں ، مثلاً اس کے جسم کے اعضاء جوارح جیسا کہ سورہ نور کی آیت ۲۴ میں ہمیں ملتا ہے( یوم تشهد علیهم السنتهم و ایدیهم و ارجلهم بما کانوا یعملون ) وہ دن جس میں ان کی زبانیں ، ہاتھ اور پاو ں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ لہٰذا مشہود سے مراد انسان اور اس کے اعمال ہیں ۔

۳ ۔ شاہد کے معنی جمعہ کادن ہے جو نماز جمعہ کے بہت ہی اہم مراسم کے سلسلہ میں مسلمانوں کے اجتماع کا شاہد ہے اور ” مشہود“ عرفہ کا دن ہے کہ بیت اللہ الحرام کے زائرین اس دن کے شاہد و ناظر ہیں ۔

ایک روایت میں پیغمبر اسللام ، اور امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ تفسیر منقول ہے ۔(۴)

۴ ۔ شاہد عید قربان کا دن ہے اور ” مشہود “ عرفہ کا دن ہے ( جو عید قربان سے ایک دن پہلے ہے )۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہو ا، اس نے کسی کو دیکھا کہ بیٹھاہواہے اور رسول اللہ سے حدیث نقل کررہاہے ۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے اس شخص سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو اس نے کہا شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے ، وہ کہتاہے کہ میں وہاں سے ہٹ کر ایک د وسرے شخص کے پا س گیا وہ بھی رسول اللہ سے حدیث نقل کررہا تھا تو میں نے اس آیت کی تفسیر اس سے بھی پوچھی تو اس نے کہا شاہد جمعہ کا دن اور مشہود عید قربان کا دن ہے ۔ اس سے ہٹ کر میں ایک جوان کے پاس گیا جو خوبصور ت تھا اور رسول خدا ہی حدیث نقل کر رہاتھا میں نے کہا اس آیت کی تفسیر کے بارے میں کچھ بتا ، تو اس نے کہا :” شاہد محمد ہیں اور مشہود قیامت کا دن ہے ۔ کیاتو نے سنا نہیں کہ خدا کہتا ہے“ :

( یا ایها النبی ان ارسلناک شاهداً و مبشراً و نذیراً ) اور یہ بھی سنا کہ خدا کیا کہتا ہے :( ذالک الیوم المجموع له الناس و ذالک یوم مشهود )

میں نے سوال کیاکہ پہلا شخص کو ن تھا ، لوگوں نے بتایا ابن عباس ، دوسرے کے متعلق پوچھا تو بتا یا عبد اللہ بن عمر اور تیسرے کے متعلق پوچھا تو بتا یا کہ و ہ حسین بن علی علیہ السلام تھے(۵)

۵ ۔ شاہد سے مراد راتیں اور دن ہیں اور مشہود سے مراد اولادِ آدم جن کے اعمال کی وہ گواہی دیں گے ، جیسا کہ امام زین العابدین علیہ السلام کی صبح و شام کی دعا میں ہم پڑھتے ہیں (هٰذا یوم حادث جدید و هو علینا شاهد عتیدان احسنّا ودعنا بحمد و اناسأنا فارقتنا بذنب ) یہ نیا دن ہے جو ہمارے اعمال کا شاہد اگر ہم نیکی کریں توحمد و سپاس کے ساتھ ہم کو الودع کہے گا اور اگر برائی کریں تو مذمت کرتا ہوا ہم سے جدا ہوگا۔(۶)

۶ ۔ شاہد سے مراد ملائکہ اور شہود سے مراد قرآن ہے ۔

۷ ۔ شاہد سے مراد حجر الاسود اور مشہود سے مراد حجاجِ حرم ہیں جو اس کے پاس آتے ہیں اور اس پر ہاتھ رکھتے ہیں ۔

۸ ۔ شاہد مخلوق اور مشہود حق تعالیٰ ہے ۔

۹ ۔ شاہد سے مراد امت اسلامی اور مشہود سے مراد دوسری تمام امتیں ہیں جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۴۳ میں آیا ہے( لتکونوا شهداء علی الناس ) مقصد یہ ہے کہ تم دوسری امتوں پر گواہ بنو۔

۱۰ ۔ شاہد پیغمبر اسلام اور مشہود باقی تمام انبیاء ہیں ۔ سورہ نساء کی آیت ۴۱ میں گواہی ہے( و جئنا بک علیٰ هٰو لاء شهیداً ) اس دن ہم تجھے دوسرے انبیاء کا گواہ بنا کر لائیں گے ۔

۱۱ ۔ شاہد پیغمبر اور مشہود حضرت علی علیہ السلام ہیں ۔

البتہ اس آیت کی گزشتہ آیتوں سے مناسبت اس کو قبول کرتی ہے کہ روز قیامت کے شہود اور گواہوں کی طرف اشارہ ہو عام اس سے کہ وہ پیغمبر اسلام ہو یا باقی انبیاء اپنی امتوں کے مقابلہ میں ، یا ملائکہ ہوں یا بدن انسانی کے اعضاو جوارح، یا رات دن ، یا کچھ امور، اور مشہور سے مراد انسان ہوں یا ان کے اعمال ۔

اسی طرح بہت سے تفسیریں ایک دوسرے میں سے مدغم ہو جائیں گی اور ایک مجموعی مفہوم میں ان کا خلاصہ ہو جائے گا ۔ لیکن روز جمعہ ، روز عرفہ اور روز عید جیسی تفسیریں ان معانی سے الگ ہیں ، اگر وہ بھی روز محشر کے مشہود اور انسانوں کے اعمال کے گواہ ہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک ایسا پر ہجوم دن ہے جو اس دنیا میں قیامت کا ایک منظر شمار ہوتا ہے ۔

اس بیان کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتا ہے کہ ان تفسروں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اور ہوسکتاہے کہ شاہد و مشہود کے وسیع مفہوم میں یہ سب شامل ہوں ۔ اور یہ قرآن کی عظمت کی ایک نشانی ہے کہ اس میں اس قسم کے وسیع مفاہیم ہیں جو مختلف اور کافی تفسیروں کے اپنے اندر جگہ دیتے ہیں اس لئے کہ شاہد ہر قسم کے گواہ کو کہتے ہیں اور مشہود ہر اس چیز کو جس کی گواہی دی جائے ۔ پھر یہ دونوں نکرہ کی شکل میں بیان ہوئے ہیں جو اس شاہد اور مشہود کی عظمت کی طرف اشارہ ہے جو اوپر والی تفسیروں میں منعکس ہواہے ۔

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ایک لطیف و عمدہ تعلق ان چار حصوں کے درمیان اور اس مطلب کے درمیان ، جس کی قسم کھائی گئی ہے ، موجود ہے ، آسمان ، درخشاں ستارے اور اس کے موزوں برج سب کے سب نظم و حساب کی نشانی ہیں اور یومِ موعود حساب وکتاب کا واضح منظر ہے ، شاہد و مشہود بھی اسی حساب کی نکتہ رسی کا ذریعہ ہیں ۔

پھر یہ تمام قسمیں اس لئے ہیں کہ ایذا پہنچانے والے ظالموں کو خبر دار کرے کہ سچے مومنین کے ساتھ کئے جانے والے ان کے تمام مظالم ثبت و ضبط ہیں اور یوم موعود کے لئے انہیں محفوظ کیاگیا ہے اور وہ مشہود جنہوں نے تمہارے جسم کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے ، عام اس سے کہ وہ فرشتے ہوں یا تمہارے جسم کے اعضاء و جوارح یا رات و دن یاا سی قسم کی اشیاء وہ سب ان کاموں کو نظر میں رکھے ہوئے ہیں اور قیامت میں گواہی دیں گے ۔ ۷

اس لئے اس قسموں کے بعد فرماتا ہے :” موت اور عذاب تشدد کرنے والوں پریوں “( قتل اصحاب الاخدود ) ۔” وہی خندقین جو آگ اور لکڑیوں سے پر تھیں جن میں سے بڑے بڑے شعلے نکل رہے تھے “( النار ذات الوقود ) ۔ ” جس وقت وہ اس آگ کی خندق کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ( سرد مہری سے )( اذهم علیها قعود ) ۔” اور جو کچھ مومنین کے بارے میں انجام دے رہے تھے اسے دیکھ رہے تھے “۔( وهم علیٰ ما یفعلون بالمومنین شهود ) ۔

” اخدود “ مفردات میں راغب کے بقول زمینِ وسیع و عمیق اور کھلے ہوئے شگاف کے معنی میں ہے دوسرے لفظوں میں بڑی بڑی خندقوں اور گڑہوں کو کہتے ہیں ۔ اس کی جمع ”اخاوید “ہے اور اصل انسان کے خد سے لی گئی ہے جو انسان کی ناک کے دونوں طرف دائیں او ر بائیں دو دھنسی ہو ئی جگہوں کے معنی میں ہے ۔ ( رخسار) اور گریہ کرتے وقت اس پر آنسوں جاری ہوتے ہیں ۔

اس کے بعد بطور کنایہ اس گڑھے پر اس کا اطلاق ہوا ہے جو زمین پر ظاہر ہو ( پھر ایک حقیقی معنی کی شکل اختیار کر گیا ہے) یہ کہ یہ اذیت دینے والا گروہ کون تھا اور کس زمانہ میں تھا ، مفسرین اور ارباب ِ تاریخ اس سلسلہ میں مختلف نظر یات کے حامل ہیں ، جن کی تشریح انشاء اللہ آیات کے ذیل میں نکات کی بحث میں آئے گی ۔

لیکن یہ طے شدہ بات ہے کہ انہوں نے آگ کی بہت بڑی بڑی خندقیں بنا رکھیں تھیں ۔

وہ مومنین کو مجبور کرتے تھے کہ اپنے ایمان سے دستبردار ہو جائیں ۔ مومنین جس وقت اس کے مقابلہ میں کھڑے ہوتے تھے تو وہ انھیں جلانے والی ان بھٹیوں میں ڈال کر آگ لگادیتے تھے۔

’ ’ وقود“ اصل میں ان مادوں کے معنی میں ہے جس سے وہ آگ لگاتے تھے ،( لکڑیاں و غیرہ) اور ذات الوقود کی تعبیر اگرچہ ایندھن کی محتاج نہیں ہوتی ہے لیکن یہاں اس سے آگ بھڑ کانے والے مواد کی کثرت کی طرف اشارہ ہے ، جسے وہ استعمال کرتے تھے اور جس کی آگ طبعی طور پر بہت زیادہ اور طبیعی ہوتی تھی ۔

یہی وہ وجہ ہے کہ جسے بعض مفسرین نے سمجھا ہے کہ وقود کے دو معنی ہیں ، ایک ایندھن اور دوسرے شعلہ ، اور انہوں نے افسوس کیا ہے کہ مفسرین و مترجمین نے اس نکتہ کی طرف توجہ کیوں نہیں کی۔

اس آیت( اذهم علیها قعود ) اور اس کے بعد کی دوسری آیت سے مراد یہ ہے کہ ایک گروہ انتہائی سرد مہری سے بیٹھا ہو اتھا اور اس تشدد کو دیکھ رہا تھا اور لذت حاصل کررہا تھا ، جو خود ان کی انتہائی قساوت اور سخت دل ہونے کی نشانی ہے ۔

بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ گروہ مذہب حق سے مومنین کو رو گرداں کرنے پر مامور تھا ۔ بعض نے انہیں دو گروہوں پرمشتمل سمجھا ہے ، ایک اذیت دینے والا اور دوسرا تماشہ دیکھنے والا ۔ اور چونکہ دیکھنے والے تشدد کرنے والوں کے اعمال سے راضی تھے لہٰذا اس فعل کی ان سب کی طرف نسبت دی گئی ہے اوریہ فطری، بات ہے کہ اس قسم کے کام میں ایک گروہ ہمیشہ کام کرنے والا ہوتا ہے اور ایک دیکھنے والا ۔

علاوہ از ایں ان کے سرغنے عام طور پر حکم دیتے ہیں اور کارندے نچلے طبقے کے لوگ ہوتے ہیں ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک گروہ بیٹھا ہوا تھا اور تشدد کے عمّال کی نگرانی کررہا تھا کہ وہ متعلقہ کام سے کسی قسم کی رو گردانی نہ کریں اور باد شاہ کے سامنے گواہی دیں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح نبھا یا ہے ۔ اس گروہ کی تشکیل ان مختلف گروہوں سے بھی بعید نظر نہیں آتی ۔ لہٰذا ان تمام تفسیروں کے درمیان جمع بھی ممکن ہے ۔

بہر حال یفعلون کا جملہ فعل مضارع کی شکل میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل ایک مدت استمرار رکھتا تھا اور کوئی یک لخت ہونے والا حادثہ نہیں تھا ۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے : ” وہ تشدد کرنے والے ان مومنین پر سوائے اس کے اور کوئی اعتراض نہیں رکھتے تھے کہ وہ خدا وند ِ عزیزو حکیم پر ایمان لائے ہوئے تھے “( وما نقموا منهم االاَّ ان یو منوا بالله العزیز الحمید ) ۔

جی ہاں ! ان کاجرم اور گناہ صرف خدائے واحد و یگانہ و یکتا پر ایمان تھا ۔ خدا وند قادر جو ہر قسم کی ستائش کے لائق اور ہر قسم کے کمال کا جامع ہے ، تو کیا اس قسم کے خدا پر ایمان لانا جرم و گناہ ہے یا ہر قسم کے شعور و شائستگی سے محروم بتوں پر ایمان رکھنا کوئی گناہ یا جرم ہے ؟

” نقموا“ ” نقم “ ( بروزن قلم ) کے مادہ سے کسی چیز کا انکار کرنے یا اسے عیب لگانے کے معنی میں ہے ۔ زبانی طور پر عیب لگانا یا کسی عملی طور پر سزا دینا ، یہ دونوں پہلو اس کے معنی میں داخل ہیں ۔ اسی مادہ سے انتقام ہے

یہ بات طے شدہ ہے کہ اس قسم کا کام ایک بڑے اور واضح گناہ کے مقابلہ میں سر انجام پاتا ہے ، نہ کہ پروردگار عالم پر ایمان لانے کے سلسلہ میں ۔

اس قسم کے اقدام سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ قوم جو یہ کام کررہی تھی اس کا تمدن نہایت پست اور بگڑا ہوا تھا ، جبھی تو ان کے نزدیک افتخار واعزاز والا کام عظیم ترین جرم و گناہ تھا ۔

بہر حال یہ چیز سورہ مائدہ کی آیت ۵۹ میں آئی ہے کہ جادو گروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے اور فرعون کی طرف سے تشدد اور قتل کی دھمکی کے بعد اس سے کہا کہ( هل تنقمون منّا الا ان امنا با لله ) تو ہم سے صرف اس وجہ سے انتقام لے رہاہے کہ ہم اپنے پر وردگار پر ایمان لے آئے ہیں ۔

” عزیز“ طاقتور اور شکست نہ کھانے والے اور” حمید“ہر قسم کی تعریف اور توصیف کے قابل اور ہر قسم کے کمال کے حامل کی تعبیر حقیقت میں ان کے جرائم کا جواب ہے اور ان کے برخلاف ایک دلیل ہے یعنی کیا اس قسم کے خدا پر ایمان لانا جرم و گناہ ہے ۔

ضمنی طور پر یہ بھی واضح ہے کہ یہ بات تشدد کرنے والے کے لئے پورے دورِ تاریخ میں ایک قسم کی تہدید و تنبیہ بھی ہے کہ خدا وند عزیز و حمید ان کی کمین گاہ میں ہے ۔ اس کے بعد وہ عظیم معبود اپنے دو اور اوصاف کو بیان کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے :

” وہی خدا کہ آسمان اور زمین کی حکومت جس کے لئے ہے اور جو ہر چیز کا گواہ ہے اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہے( الذی له ملک السماوات و الارض و الله علی کل شیء شهید ) ۔

حقیقت میں یہ چار اوصاف ایسے ہیں جو عبودیت کی قابلیت کومسلم کردیتے ہیں کہ خدا وہ ہے جو قادر و تواناہے ، ہر قسم کے کمال کا حامل ہے وہ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے اور ہر چیز سے آگاہ ہے ، یہ چیز مومنین کے لئے بشارت بھی ہے کہ خدا حاضر و ناظر ہے اور ایمان کی حفاظت کے سلسلہ میں وہ ان کے صبر و استقامت کو دیکھتا ہے اور ان کے ایثار و قربانی اور فدا کاری کا اسے علم ہے ۔

ایسی صورت حال ان کو قوت توانائی اور احساس نشاط عطا کرتی ہے دوسرے یہ ان کے دشمنوں کے لئے تہدید اور دھمکی ہے کہ اگر خدا ان کے کام میں مانع نہیں ہوتا تو یہ ا س کمزوری کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ آزمائش اور امتحان کی وجہ سے ہے اور انجام کار یہ ظالم اپنے گناہ کے نتیجہ میں درد ناک عذاب کا تلخ مزہ چکھیں گے۔

_______________________________

۱۔ بعض محققین کا نظریہ ہے کہ یہ لفظ فارسی لفظ ”بزر“ سے لیا گیاہے جو بلندی ، بزرگی اور شکوہ کے معنی رکھتا ہے ، برہان قاطع اور اس کے حاشیہ کی طرف رجوع کیا جائے۔

۲یہ بارہ صورتیں عبارت ہیں حمل ، ثور، جوزا، سرطان ، اسد، میزان، ، عقرب، قوس، دلو اور حوت سے جو اسی ترتیب سے گوسفند ، بیل ، دو بچے جو اخروٹ کھیل رہے ہیں ، کیکڑا، شیر، خوشہ ، ترازو، بچھو، کمان ، بکری، ڈول اور مچھلی کی شکلیں ہیں ۔

۳۔ در المنثور جلد۶، ص۳۳۱۔

۴۔ مجمع البیان ، جلد ۱۰ ص ۴۶۶۔

۵۔ نور الثقلین ، جلد۵، ص۵۴۳۔ یہی مضمون ابو الفتوح رازی اور طبرسی نے بھی اپنی تفسیروں میں نقل کیاہے

۶۔ صحیفہ سجادیہ ، دعائے ششم ۔

۷۔ اس بناپر جواب قسم یہاں محذوف ہے اورقتل اصحاب الاخدود کا جملہ یاان الذین فتنوا المومنین و المومنات اس پر دلالت کرتے ہیں اور تقدیر میں اس طرح ہے ۔اقسم بهٰذا الامور ان الذین فتنوا المومنین و المو نات معذبین ملعونون کمالعن اصحاب الاخدود ۔ میں ان امور کی قسم کھاتا ہوں جن لوگوں نے مومنین مرد و عورت کو مصیبت میں ڈالا وہ ملعون و معذب ہیں ، جس طرح خندق والے معذب تھے۔


۱ ۔ اصحابِ اخدود کون لوگ تھے ؟

۱ ۔ ہم بتا چکے ہیں کہ اخدود عظیم گڑھے اور خندق کے معنی میں ہے اور یہاں بڑی بڑی خندقین مراد ہیں جو آگ سے پر تھیں تاکہ تشدد کرنے والے اس میں مومنین کو پھینک کر جلائیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ یہ واقعہ کس قوم سے متعلق ہے اور کس وقت معرض وجود میں آیا اور کیا یہ ایک خاص معین و مقرر واقعہ تھا ، یا دنیا کے مختلف علاقوں کے اسی قسم کے متعدد واقعات کی طرف اشارہ ہے ۔

مفسرین ومورخین کے درمیان اس موضوع پر اختلاف ہے ، سب سے زیادہ مشہور یہ کہ یہ واقعہ سر زمین یمن کے قبیلہ حمیر ۱ کے ذونواس نامی باشاہ کے دَور کاہے ۔

تفصیل اس کی یہ ہے کہ ذونواس ، جو حمیر نامی

قبیلہ سے متعلق تھا ، یہودی ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کا پورا قبیلہ بھی یہودی ہوگیا ۔ اس نے اپنا نام یوسف رکھا۔ ایک عرصہ تک یہی صورت حال رہی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ کسی نے اسے خبردی کہ سر زمین نجران ( یمن کا شمالی حصہ ) میں ابھی تک ایک گروہ نصرانی مذہب پر قائم ہے ۔ ذونواس کے ہم مسلک لوگوں نے اسے اس بات پر ابھارا کہ اہل نجران کو دینِ یہود کے قبول کرنے پر مجبور کرے ۔

وہ نجران کی طرف روانہ ہوگیا۔ وہاں پہنچ کر اس نے وہاں کے رہنے والوں کو اکٹھا کیا اور دین یہود ان کے سامنے پیش کیا اور ان سے اصرار کیا کہ وہ اس دین کو قبول کریں ۔ لیکن انہوں نے انکار کیا اور شہادت قبول کرنے پر تیار ہو گئے۔ انہوں نے اپنے دین کو خیرباد نہ کہا۔ ذونواس کے حکم پر اس کے حامیوں نے بہت بڑی خندق کھودی اس میں لکڑیاں ڈالیں اور آگ لگادی ۔ ذونواس اور اس کے ساتھیوں نے ایک گروہ کو پکڑ کر اس آگ میں زندہ جلایا اور ایک گروہ کو تلوار کے گھاٹ اتارا اس طرح آگ میں جلنے والوں اور مقتولین کی تعداد بیس ہزار تک پہنچ گئی۔(۲)

بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس سلسلہ دار و گیر سے بچ کر نصاریٰ بنی نجران کا ایک آدمی قیصر روم کے در بار میں جاپہنچا ۔ اس نے وہاں ذونواس کی شکایت کی اور اس سے مدد طلب کی ۔ قیصر نے کہا تمہاری سر زمین مجھ سے دور ہے ۔ باد شاہ حبشہ کو خط لکھتا ہوں جو عیسائی اور تمہارا ہمسایہ ہے میں اس سے کہتاہوں کہ وہ تمہاری مدد کرے ۔

پھر اس نے خط لکھااور حبشہ کے بادشاہ سے نصاریٰ نجران کے عیسائیوں کے خون کا انتقام لینے کی خواہش کی ۔

وہ نجرانی شخص بادشاہ حبشہ نجاشی کے پاس گیا ، نجاشی اس سے یہ تمام ماجرا سن کر بہت متاثر ہوا اور سر زمین نجران میں شعلہ دین مسیح کے خاموش ہوجانے کا اسے بہت افسوس ہو ا۔ اس نے ذونواس سے شہیدوں کے خون کا بدلہ لینے کا مصمم ارادہ کر لیا ۔

اس مقصد کے پیش نظر حبشہ کی فوج یمن کی طرف روانہ ہوئی اور گھمسان کی جنگ کے نتیجے میں اس نے ذونواس کو شکست فاش دی اور ان میں سے بہت سے افرادکو قتل کیا۔ جلدی ہی نجران کی حکومت نجاشی کے قبضہ میں آگئی اور نجران حبشہ کا ایک صوبہ بن گیا۔(۳)

بعض مفسرین نے تحریرکیا ہے کہ اس خندق کا طول چالیس ذراع ( ہاتھ ) تھا اور اس کا عرض بارہ ذراع تھا ۔ ( ایک ذروع تقریباًآدھا میٹر ہے اور بعض اوقات گز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جو تقریبا ً ایک میٹر ہے )۔

بعض مو رخین نے لکھاہے کہ سات گڑھے تھے جن میں سے ہر ایک کی وسعت اتنی ہی تھی جتنی اوپر بیان ہوئی ۔۴

مندرجہ بالا واقعہ تاریخ و تفسیر کی بہت سی کتابوں میں درج ہے منجملہ دیگر کتب کے عظیم مفسر طبرسی نے مجمع البیان میں ، ابو الفتوح رازی نے اپنی تفسیر میں فخر راز ی نے اپنی تفسیر کبیر میں ، آلوسی نے روح المعانی میں اور قرطبی نے اپنی تفسیر میں زیر بحث آیات کے ذیل میں ، اسی طرح ہشام نے اپنے سیرہ ( جلد اول ص ۳۵) میں اور ایک دوسری جماعت نے اپنی کتب میں اس واقعہ کو تحریر کیا ہے ۔

جو کچھ ہم نے تحریر کیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ تشدد کرنے والے بے رحم افراد آخر کار عذاب ِ الہٰی میں گرفتار ہو ئے اور ان سے اس خون ناحق کا انتقام دنیا ہی میں لیا گیا اور عاقبت کا عذاب جہنم ابھی ان کے انتظار میں ہے ۔

انسانوں کے جلانے والی یہ بھٹیاں جو یہود یوں کے ہاتھ سے معرض وجود میں آئیں ، احتمال اس امر کا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں یہ پہلی آدم سوز بھٹیاں تھیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اسی قسم کی قساوت اور بے رحمی کا خود یہودی بھی شکا رہوئے جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے بہت سے لوگ ہٹلر کے حکم سے آدم سوز بھٹیوں میں جلائے گئے اور اس جہان میں بھی عذاب ِ حریق کا شکار ہوئے ۔

علاوہ از یں ذونواس یہودی ، جو اس منحوس اقدام کا بانی تھا ، وہ بھی اپنی بد اعمالی کے انجام سے نہ بچ سکا ۔ جو کچھ اصحاب اخدود کے بارے میں درج کیاگیا ہے یہ مشہور و معروف نظر یات کے مطابق ہے لیکن اس ضمن میں کچھ اور روایات بھی موجود ہے جویہ بتاتی ہیں کہ اصحاب اخدود صرف یمن میں ذونواسی ہی کے زمانے میں نہیں تھے۔ بعض مفسرین نے تو ان کے بارے میں دس قول نقل کئے ہیں ۔

ایک روایت امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے ۔ آپ نے فرمایا ہے وہ اہل کتاب مجوسی تھے جو اپنی کتاب پر عمل کرتے تھے ۔ ان کے باد شاہوں میں سے ایک نے اپنی بہن سے مباشرت کی اور خواہش ظاہر کی کہ بہن سے شادی کو جائز قرار دے ۔ لیکن لوگوں نے قبول نہیں کیا ۔ بادشاہ نے ایسے بہت سے مومنین کو جنہوں نے یہ بات قبول نہیں کی تھی ، جلتی ہوئی آگ کی خندق میں ڈلوادیا ۔(۴)

یہ فارس کے اصحاب الاخدود کے بارے میں ہے ، شام کے اصحاب الاخدود کے بارے میں بھی علماء نے لکھا ہے کہ وہاں مومنین رہتے تھے اور آنتیا حوس نے انہیں خندق میں جلوایاتھا ۔(۵)

بعض مفسرین نے اس واقعہ کو بنی اسرائیل کے مشہور پیغمبر حضرت دانیال htitr کے اصحاب و انصارکے ساتھ مربوط سمجھا ہے جس کی طرف تورات کی کتاب دانیال میں اشارہ ہواہے اور ثعلبی نے بھی اخدود فارسی کو انہی پر منطبق کیا ہے۔ ۶

کچھ بعید نہیں کہ اصحاب ِ اخدود میں یہ سب کچھ اور ان جیسے دوسرے لوگ شامل ہوں اگرچہ اس مشہور مصداق سر زمین ِ یمن کا ذونواس ہی ہے

____________________

۱۔ حمیر یمن کے مشہور قبائل میں سے ایک قبیلہ تھا ۔

۲۔ تفسیر علی ابن ابراہیم قمی ،جلد ۲ ،ص ۴۱۴۔

۳۔ قصص قرآن بلاغی، ص ۲۸۸۔

۴۔ تفسیر روح المعانی اور ابو الفتوح رازی زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔

۵۔ اعلام قرآن ، ص۱۳۷۔ ۱۳۸

۶۔ اعلام قرآن ، ص۱۳۷۔ ۱۳۸


۲ ۔ حفظ ایمان کے سلسلہ میں استقامت

ان کی حفاظت کے سلسلہ میں ماضی و حال دونوں میں فداکاری کی بہت درخشاں مثالیں ہیں ۔ تاریخ ِ انسانی بہت سے ایسے افراد کا پتہ دیتی ہے جنہوں نے اس راستے میں جامِ شہادت نوش کیا ہے اور سولی کی رسی اور جلادوں کی تلواروں کو بوسہ دیا ہے اور پر وانہ دار تشددکرنے والوں کی روشن کی ہوئی آگ میں جلے ہیں جن میں سے صرف ایک گروہ کا نام و نشان تاریخ میں محفوظ ہے ۔

آسیہ زن فرعون کی داستان ہم نے سنی ہے جو موسیٰ بن عمران پر ایمان لانے کی وجہ سے ان تمام شدائد سے دوچار ہوئی اور جس نے انجام کا راس راہ میں اپنی جان جان ِآفرین کی بار گاہ میں پیش کی ۔

ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ خدا نے حبشہ کے لوگوں میں سے ایک پیغمبر ان پر مبعوث کیا۔

وہ لوگ اس پیغمبر کی تکذیب پر آمادہ ہوئے ۔ ان کے دمیان جنگ ہوئی ۔ آخر کار ان لوگوں نے اس پیغمبر کے اصحاب میں سے ایک گروہ کو قتل کیا اور ایک گروہ کو اس پیغمبر سمیت گرفتار کرلیا۔ اس کے بعد ایک جگہ آگ تیار کی اور لوگوں کو اس کے قریب بلا یااور کہا جو شخص ہمارے دین پر وہ اپنے آپ کو آگ میں ڈال دے ۔ پیغمبر کے وہ مقید ہمراہی آگ میں کود نے پر ایک دوسرے سے سبقت میں چھلانگ لگائے تو شفقتِ مادری جوش میں آئی اور سدِّ راہ ہوئی تو اس بچے نے کہا اے مادر گرامی خوف نہ کھائیں آپ خود بھی اس آگ میں کودجائیں اور مجھ کو بھی ڈال دیں ۔ خدا کی قسم یہ چیز راہ ِ خدا میں بہت معمولی ہے۔ (ان هٰذا و الله فی الله قلیل

اور یہ بچہ بھی ان افراد میں سے تھا جنہوں نے گہوارہ میں کلام کیا۔(۱)

اس داستان سے معلوم ہوتا ہے کہ چوتھا گروہ اصحاب الاخدود کا حبشہ میں تھا ۔ حضرت عمار یاسر کے ماں باپ اور ان جیسے دوسرے افراد کی داستان اور اس سے بڑھ کر حضرت امام حسین علیہ السلام کا واقعہ جاں بازی اور میدان کربلا میں ایک دوسرے سے بڑھ کر جام ِ شہادت نوش کرنا، اسلام میں مشہور و معروف ہے ۔

ہم اپنے اس زمانے میں بھی بہت زیادہ نمونے اس موضوع کے اپنے کانوں سے سنتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ بوڑھوں او رجوانوں نے دین و ایمان کی حفاظت کے سلسلہ میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نہایت والہانہ انداز میں منزلِ شہادت کی طرف قدم بڑھائے ۔ کہنا یہ چاہیئے کہ خدا کے دین کی بقا گزشتہ اور موجودہ زمانہ میں اس قسم کی قربانیوں کے بغیر نہ تھی ۔

____________________

۱۔ تفسیر عیاشی مطابق تفسیر المیزان، جلد۲۰ ص۳۷۷۔ ( تلخیص کے ساتھ )۔


آیات ۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،

۱۰ ۔( ان الذین فتنوا المومنین َ و المومنات ثم لم یتوبوا فلهم عذاب جهنم و لهم عذاب الحریق ) ۔

۱۱ ۔( انّ الذین امنوا و عملوا الصالحات لهم جنات تجری من تحت الانهار ذالک الفوز الکبیر ) ۔

۱۲ ۔( انَّ بطشَ ربک لشدیدٌ ) ۔

۱۳ ۔( انّه هو یبدیٴُ و یعید ) ۔

۱۴ ۔( و هو الغفور الودود ) ۔

۱۵ ۔( ذوالعرش المجید ) ۔

۱۶ ۔( فعّٓال لما یُرید ) ۔

ترجمہ

۱۰ ۔جنہوں نے صاحبان مرد اور عورتوں پر تشدد کیا، پھر انہوں نے توبہ نہ کی ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور آگ کا جلانے والا عذاب ہے ۔

۱۱ ۔ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالح انجام دیئے ان کے لئے جنت کے باغات ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔

۱۲ ۔ تیرے پرورگار کی قہر آمیز گرفت اور سزا بہت ہی شدید ہے۔

۱۳ ۔ وہی ہے جو خلقت کا آغاز کرتا ہے اور وہی ہے جو دوبارہ پلٹا تا ہے ۔

۱۴ ۔ اور بخشنے والا اور ( مومنین کا ) دوست رکھنے والا ہے ۔

۱۵ ۔ صاحبِ عرشِ مجید ہے ۔

۱۶ ۔ اور جو چاہتا ہےانجام دیتا ہے۔

تشدد کرنے والے عذاب ِ الہٰی کے سامنے

گزشتہ اقوام میں سے تشدد کرنے والوں کی عظیم بے رحمی کے بیان کے بعد جو صاحب ایمان لوگوں کو آگ میں زند ہ جلاتے تھے ان آیات میں ان تشدد کرنے والوں کے متعلق خدا کے سخت عذاب اور مومنین کے لئے عظیم ثواب کی طرف نوید ہے ۔ پہلے فرماتا ہے :

” وہ جنہوں نے ایماندارمردوں اور عورتوں کو موردِ آزار و عذاب قرار دیا اور پھر توبہ نہیں کی ان کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور اسی طرح جلانے والی آگ کا عذاب ہے “( ان الذین فتنوا المو منین و المو نات ثم لم یتوبوا فلهم عذاب جهنم و لهم عذاب الحریق )

” فتنوا “ ” فتن“ ( بروزن متن)اور فتنہ کے مادہ سے اصل میں سونے کو آگ میں ڈالنے کے معنی میں ہے تاکہ اس کو پرکھاجاسکے اور کھرا کھوٹا قرار دیا جاسکے ۔ اس کے بعد یہ مادہ ( فتنہ) آز مائش ، عذاب و عقاب ، گمراہی اور شرک کے معنی میں بھی استعما ل ہوا ہے اور زیر بحث آیت میں عذاب، آزار اور تشدد کے معنی میں ہے ۔

اس کی نظیر سورہ ذاریات کی آیت ۱۳ ۔ ۱۴ میں بھی آئی ہے( یوم هم علی النار یفتنون ذوقوا فتمتکم هٰذا الذی کنتم به تستعجلون ) ” وہی دن جس دن وہ آگ میں جلائے جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ عذاب کا مزہ چکھو ۔ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تمہیں جلدی تھی “۔” ثم لم یتوبوا “ کا جملہ بتا تا ہے کہ توبہ کا راستہ اس قسم کا تشدد کرنے والوں کے لئے بھی کھلا ہو اہے اور یہ چیز بتاتی ہے کہ پروردگار عالم گناہ گاروں پر کتنا رحم کرنا چاہتاہے ۔

ضمناً یہ مکہ کے لوگوں کے لئے تنبیہ ہے کہ وہ جلد از جلد مومنین کو آزار پہنچانے اور تکلیف دینے سے باز آجائیں اور خدا کی طرف رجوع کریں ۔ قرآن اصولی طور پر باز گشت کی راہ کسی پر بند نہیں کرتا اور یہ چیز بتاتی ہے کہ درد ناک عذاب ِ دنیا بھی مفسدین کی اصلاح کے لئے ہے اور ان کے حق کی طرف لوٹ آنے کے لئے ہے ۔

قابلِ توجہ یہ ہے کہ اس آیت میں ان کے لئے دو قسم کے عذاب بیان ہوئے ہیں ، ایک عذاب جہنم دوسرا عذاب حریق(جلانے والی آگ کا عذاب ) ان دو عذابوں کا ذکر ہوسکتا ہے کہ اس بناء پر ہوکہ چونکہ جہنم میں کئی قسم کی سزائیں اور عذاب ہیں ،جن میں سے ایک جلانے والی آگ ہے ۔ اس کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس بناء پر کہ تشدد کرنے والے مذکورہ افراد مومنین کو آگ میں جلاتے تھے لہٰذا وہاں انہیں آگ کی سزا ملنی چاہئیے، لیکن یہ آگ کہاں اور وہ آگ کہاں ۔ وہ آگ خدا کے قہر غضب کے شعلوں سے بھڑکائی گئی ہے اور و ہ ہمیشہ قائم رہنے والی ہے ، نیز ذلت و خواری اپنے ہمراہ لیئے ہوئے ہے ، جب کہ دنیا کی آگ ناپائیدار ہے جو کمزور مخلوق کی جلائی ہوئی ہے اور جو مومنین اس میں جلے ہیں وہ سر بلند پر افتخار ہوں گے اور راہ حق کے شہیدوں کی پہلی صف میں ان کی جگہ ہے ۔

بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ عذاب جہنم ان کی کفر کی سزا تھا اور عذاب حریق ان کے تشدد اعمال کے نتیجے میں ہے ۔ اس کے بعد مومنین کے اجر کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے :

” وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالح انجام دیئے ان کے لئے جنت کے باغات ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں اور یہ بہت بڑی کامیابی اور نجات ہے “۔( ان الذین امنوا و عملو ا الصالحات لهم جنات تجری من تحتها الانهار ذالک الفوز الکبیر ) ۔

اس سے بہتر کونسی کامیابی ہوگی کہ پروردگار عالم کے جوارا قدس میں انواع و اقسام کی پائیدار نعمتوں کے درمیان سر بلندی و افتخار کے ساتھ ان کو جگہ ملے۔ لیکن اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ اس فوز کبیر اور کامیابی کی اصل کلید ایمان اور عمل صالح ہے۔ اس راہ کا اصلی سرمایہ یہی ہے ، باقی جو کچھ ہے وہ اس کی شاخیں ہیں ۔

” عملوا الصالحات “ کی تعبیر ( اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ صالحات صالح کی جمع ہے ) بتاتی ہے کہ صرف ایک یا چند عمل صالح کافی نہیں ہیں بلکہ ضروری ہے کہ انسان ہر قدم پر عمل صالح انجام دے ۔

” ذالک “ کی تعبیر جو عربی میں دور کے اشارے کے لئے آیا ہے ، اس قسم کے مقامات پر اہمیت اور بلندی کو ظاہر کرتی ہے یعنی ان کی کامیابی ، نجات اور اختیارات اور اعزازات اس قابل ہیں کہ ہماری فکر کی دسترس سے خارج ہیں ۔ اس کے بعد دوبارہ تشدد کرنے والوں اور کفار کو تنبیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :

” یہ یقینی بات ہے کہ تیرے پر وردگار کی قہر آمیز گرفت اور سزا بہت ہی شدید ہے “۔( ان بطش ربل لشدید ) ۔ اس کے بعد فرماتا ہے :” یہ گمان نہ کروکہ تمہارے درمیان میں قیامت نہیں ہے ، یا تمہاری باز گشت مشکل ہے ، وہی ہے جو خلقت کا آغاز کرتا ہے اور وہی ہے جو واپس لوٹا ئے گا۔ “( انه یبدیٴ و یعید ) ۔

” بطش“ کے معنی ایسی گرفت کے ہیں جس میں قہر و قدرت کا دخل ہو ، چونکہ عام طور پریہ کام سزا کی تمہید ہوتا ہے اس لئے یہ لفظ سزا کے معنی میں بھی آیا ہے ۔

” ربک “ تیرے پروردگار کی تعبیر پیغمبر کے دل کی تسلی اور خدا کی طرف سے ان کی حمایت کی تاکید ہے ۔ قابل توجہ یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیت کئی قسم کی تاکید وں کو لیئے ہوئے ہیں ۔ ایک طرف تو لفظ بطش خود قہر آمیز گرفت کے معنی میں ہے اور اس میں شدت پوشیدہ ہے ، دوسرے جملہ اسمیہ ہے جو عام طور پر تاکید کے لیئے آتا ہے ، تیسرے ” شدید“ کی تعبیر اور چوتھے لفظ” انّ“ ، اور پانچویں ” لام تاکید“ یہ سب اسی آیت میں جمع ہیں ، اس بناء پر قرآن مجید چاہتا ہے کہ انہیں انتہائی انداز میں سزاو ں کے بیان سے تہدید کرے اور دھمکائے اورانه یبدیٴ و یعید کا جملہ جس میں معاد کی اجمالی دلیل پوشیدہ ہے ،کہہ کر ایک اور تاکید کا اضافہ کرتا ہے ۔(۱)

( قل یحییها الذی انشأ اوّل مرة و هو بکل خلق علیم ) کہہ دے وہی ذات جس نے اسے ابتداء میں خلق کیا ہے ، دوبارہ زندہ کرے گی اور وہ اپنی پوری مخلوق سے آگاہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ فارابی کی آرزو تھی کہ کاش مشہور یونانی فیلسوف ارسطو زندہ ہوتا تاکہ وہ محکم اور خوبصورت دلیل معاد و قیامت کے بارے میں قرآن مجید کی طرف سے سنتا ۔

اس کے بعد خدائے عظیم و برتر کے اوصاف میں سے پانچ اوصاف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : ” وہ توبہ کرنے والے بندوں کو بخشنے والا اور مومنین کو دوست رکھنے والا ہے “۔( وهو الغفور الودود ) ۔

” وہ تخت قدرت والا ، عالم ہستی پر حکومت ِ مطلقہ رکھنے والا صاحب ِ مجدد و عظمت ہے “۔( ذو العرش المجید ) ” وہ کام کا ارادہ کر کے اسے انجام دیتا ہے “۔( فعال لمایرید )

” غفور“ و ” ودود“ دونوں مبالغہ کے صیغہ ہیں اور اس کی انتہائی بخشش اور محبت کی طرف اشارہ ہیں ۔ گناہ گار توبہ کرنے والوں کا بخشنے والااور بند گان صالح کے بارے میں شفیق و مہر بان ۔

حقیقت میں ان اوصاف کا ذکر اس تہدید کے مقابلہ میں ، جو گزشتہ آیات میں آئی ہے ، اس حقیقت کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ باز گشت کا راستہ گناہگاروں کے سامنے کھولا ہے اور خدا شدید العقاب ہونے کے باوجود غفور و ،ودود ، و رو ف و مہر بان ہے ۔

جو کچھ کہا گیا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ودود یہاں فاعل کے معنی رکھتا ہے ، نہ کہ مفعول کے ۔ اور یہ جو بعض مفسرین نے ودود کے لفظ کو اسم مفعول کے معنوں میں سمجھا ہے ، مثل رکوب کے جو مرکوب کے معنی میں آیا ہے یعنی خدا سے بہت زیادہ محبت و دوستی کی گئی ، غفور کی صفت کے ساتھ جو اس سے پہلے آئی ہے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ خدا کا ہدف و مقصد بندوں سے محبت کرنا اور انہیں دوست رکھنا ہے ، نہ کہ بندوں کا اس کی نسبت دوست رکھنا اور محبت کرنا ہے ۔

تیسری صفت یعنی ذوالعرش ، اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ عرش بلند تختِ شاہی کے معنی میں ہے ، اس قسم کے موارد میں قدرت و حاکمیت کا کنایہ ہے اور اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ جہانِ ہستی کی حکومت اسی لئے ہے اور جو کچھ وہ ارادہ کرے وہ انجام پاجاتا ہے۔

اس بناپر حقیقت میں ”فعا ل لمایرید “ کا جملہ اس حاکمیت مطلقہ کے لوازم میں سے ہے اور ان سب میں مسئلہ معاد اور مردوں کو موت کے بعد زندہ کرنے والے جباروں کو سزا دینے اور کیفرِ کردار تک پہنچانے کے سلسلہ میں اس کی طاقت و قدرت کی نشاندہی کرتا ہے ۔

” مجید“ ” مجد“ کے مادہ سے کرم و شرافت و جلالت کی وسعت کے معنی میں ہے اور یہ ایسی صفات میں سے ہے جو خدا کی ذات سے مخصوص اور دوسروں کے بارے میں بہت کم استعمال ہوتی ہیں ۔(۲)

یہ پانچویں صفتیں ایک واضح انجام اور ایک دوسرے سے تعلق رکھتی ہیں ، اس لئے کہ غفور و و دود ہونا اس وقت مفید ہے جب قدر ت حاصل ہو اور کرم ِ وسیع اور نعمت بے پایاں ہو، تاکہ وہ جو کچھ ارادہ کرے انجام دے سکے ۔ نہ کوئی چیز اس کے کام میں مانع ہو اور نہ کوئی مقابلہ کی قدرت رکھتا ہو اور اس کے ارادہ میں ضعف و نقاہت و شک اور تردید و فسخ کا امکان نہ ہو۔

____________________

۱۔معاد کے بارے میں مندرجہ بالا خوب صورت دلیل وہی ہے جو سورہ یٰسین کے آخر میں آیہ۷۹ میں بھی آئی ہے ۔

۲۔ توجہ رکھنی چاہئیے کہ اوپر والی آیت میں مجید مشہور قرائت کی بناء پر مرفوع ہے اور خداکے اوصاف میں سے ہے نہ کہ مجرد اور عرش کے اوصاف میں سے ۔


آیات ۱۷،۱۸،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲

۱۷ ۔( هل اتٰک حدیث الجنود ) ۔

۱۸ ۔( فرعون َ و ثمود ) ۔

۱۹ ۔( بل الذین کفروا فی تکذیب ) ۔

۲۰ ۔( و الله من وآئِهم محیط ) ۔

۲۱ ۔( بل هو قرآن مجید ) ۔

۲۲ ۔( فی لوح محفوظ ) ۔

ترجمہ

۱۷ ۔ کیا لشکروں کی داستان تجھ تک پہنچی ہے ۔

۱۸ ۔ فرعون و ثمود کے لشکر ۔

۱۹ ۔ بلکہ کفار ہمیشہ حق کی تکذیب میں مصروف رہتے ہیں ۔

۲۰ ۔ اور خدا ان سب پر احاطہ رکھتا ہے ۔

۲۱ ۔ ( یہ کوئی جادواور جھوٹ نہیں ہے ) بلکہ باعظمت قرآن ہے ۔

۲۲ ۔ جو لوحِ محفوظ میں موجود ہے ۔

تونے دیکھا کہ خدا نے فرعون و ثمود کے لشکروں کے ساتھ کیا کیا؟

گزشتہ آیات میں خدا کی قدرت ِ مطلقہ اس کی قطعی حاکمیت اور تشدد کرنے والے کفار کی تہدید کے طور پر تھیں ۔

یہ بتانے کے لئے یہ تہدید یں عملی ہیں ، باتوں اور نعروں کی حد تک محدود نہیں ہیں ، زیر بحث آیات میں روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے فرماتا ہے :

” کیا لشکروں کی داستان تجھ تک پہنچی ہے “۔( هل اتاک حدیث الجنود ) ۔ وہ عظیم لشکر جنہوں نے خدائی پیغمبروں کے مقابلہ میں صف آرائی کی اور لڑنے کے لئے مستعد ہو گئے اس گمان میں کہ وہ خدائی قدرت کے مقابلہ میں اپنے کو پیش کرسکتے ہیں ۔ اس کے بعد ان کے دو بہت ہی واضح اور آشکار نمونوں کی طرف جن میں سے ایک قدیم الایام میں اور دوسرا بہت ہی نزدیک کے زمانے میں وقوع میں آیا، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :

”وہی فرعون اور ثمود کے لشکر “( فرعون و ثمود ) ۔ ” وہی جن میں سے بعض نے دنیا کے مشرق و مغرب کو اپنے زیر ِ تسلط کرلیا تھا اور بعض نے پہاڑوں کے چیر کر بڑے بڑے پتھر کاٹ کر ان سے بڑے بڑے مکانات ، قصر اور محل بنائے اور کسی میں بھی ان کا مقابلہ کرنے کی جرأت نہیں تھی ، لیکن خدا نے اپنے گروہ کو پانی کے ذریعہ اور دوسرے کی آندھی کے وسیلے سے ، جو دونوں انسانی زندگی کا ذریعہ ہیں اور زیادہ لطیف موجودات شمار ہوتے ہیں ، سپرد کوبی کی ۔ دریائے نیل کی موجیں فرعون اور اس کے لشکر کو نگل گئیں اور ٹھنڈی اور سر کوبی کرنے والی ہَو ا قومِ ثمود پرِکاہ کی طرح اٹھا تی اور تھوڑے وفقہ کے بعد ان کے بے جاں جسموں کو سطح زمین پر پھینک دیتی تھی تاکہ مشرکین عرب جان لیں کہ وہ کچھ بھی کرسکتے ۔

جب خدا نے ان عظیم اور طاقتور لشکروں سے اس طرح انتقام لیا تو ان لوگوں کی کیا ہستی ہے جو ان کے مقابلہ میں بہت ہی کمزور و ناتواں ہیں ، اگر اس کی قدرت مقابلہ میں ضعیف قوی برابر ہیں ۔

گزشتہ عام اقوام میں سے قوم ثمود و فرعون کا انتخاب سر کش قوموں کے نمونہ کے طور پر اس بناء پر ہے کہ وہ دونوں قومیں انتہائی طاقتور تھیں ۔ ایک گزشتہ ادوار سے متعلق تھی ( قوم ثمود ) اور دوسری زیادہ نزدیک ماضی سے تعلق رکھتی تھی ( قوم فرعون ) علاوہ از یں قوم عرب ان ناموں سے باخبر تھی اور اجمالی طور پر ان کی تاریخ سے آشنا تھی ۔

بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے :” بلکہ وہ لوگ کافر ہوگئے وہ ہمیشہ حق کی تکذیب میں گرفتار و مبتلا ہیں “۔( بل الذین کفروا فی تکذیب ) ۔ اس طرح نہیں ہے کہ حق کی نشانیاں کسی سے مخفی ہیں ۔ عناد اور ہٹ دھرمی اجازت نہیں دیتے کہ بعض لوگ راہ نکال کر منزل حق کی طرف قدم بڑھائیں ۔

” بل “ کی تعبیر جو اصطلاح کے ،مطابق ” اضراب“ ( ایک چیز سے دوسری چیزکی طرف عدول کرنے ) کے لیئے ہے ، گویا اس طرف اشارہ ہے کہ یہ مشرک گروہ قومِ فرعون و ثمود سے بھی بد تر اور زیادہ ہٹ دھرم ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ قرآن کے انکار اور تکذیب میں لگے رہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے اور وسیلہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔

لیکن انہیں جان لینا چاہئیے کہ خدا ان سب پر احاطہ رکھتاہے اور وہ سب ان کی قدرت کی گرفت میں ہیں( و الله من ورائهم محیط ) ۔

اگر خدا انہیں مہلت دیتا ہے تو عجز و توانائی کی بناپر نہیں ہے اور اگر انہیں جلدی سزا نہیں دیتا تو وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ اس کی اقالیم قدرت سے باہرہیں ۔( ورائهم ) ان کے پیچھے اور پسِ پشت کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ ہر جہت سے قدرت الہٰی کے قبضہ میں ہیں اور قدرت تمام اطراف سے ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔

اس بناپر ممکن نہیں ہے کہ اس کی عدالت اور سزا سے راہ فرار اختیار کرسکیں ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد ان کے اعمال پر تمام جہات سے خدا کا علمی احاطہ ہو اس طرح سے کہ ان کی کوئی گفتار، ان کا کوئی کردار اور ان کا کوئی کام اس سے مخفی نہیں ہے۔ بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے :

” ان کا قرآن مجید کی تکذیب پر اصراراور اسے سحر ، جادو، شعر اور کہانت سے تشبیہ دینا ، بیہودہ اور فضول بات ہے ، بلکہ وہ قرآن مجید با عظمت اور بلند مرتبہ ہے “( بل هو قراٰن مجید ) ۔ ” ایسا کلام ہے جو لوح محفوظ میں ثبت ہے اور نااہل شیاطین اور کاہنوں کا ہاتھ ہر گز اس تک نہیں پہنچتا ، اور ہر قسم کے تغیر، تبدیلی ، اضافہ اور نقصان سے محفوظ ہے( فی لوح محفوظ ) ۔

اس بناپر اگر وہ ناروا نسبتیں تیری طرف دیتے ہیں اور تجھے شاعر ، ساحر، کاہن ، اور مجنون کہتے ہیں تو تواس سے ہر گز غمگین نہ ہو۔ تیری تکیہ گاہ محکم ، تیری راہ روشن اور تیرا حمایتی صاحبِ قدرت ہے ۔

” مجید “ جیسا کہ ہم نے کہا ہے ” مجد“ کے مادہ سے شرافت و جلالت کی وسعت کے معنی میں ہے اور یہ معنی قرآن کے بارے میں پورے طور پر صادق آتے ہیں ، اس لئے کہ قرآن کے مشمولات و مضامین وسیع و عظیم ہیں اور اس کے معانی بلند و پر مایہ ہیں ۔

معارف و عقائد کے سلسلہ میں بھی اور اخلاق و مواعظ و احکام و تسنن کے بارے میں بھی۔ ( لوح ، لام کے زبر کے ساتھ ) عریض و وسیع صفحہ کے معنی میں ہے جس پر کوئی چیز لکھتے ہیں اور لوح ( لام کے پیش کے ساتھ ) پیاس کے معنی میں ہے ۔ اس ہَوا کو بھی کہتے ہیں ، جو زمین و آسمان کے درمیان موجود ہے ، وہ فعل جو پہلے تلفظ سے مشتق ہوتا ہے آشکار ہونے اورچمکنے کے معنوں میں ہے ۔

بہر حال یہاں مرادہ وہ صفحہ ہے جس پر قرآن مجید تحریر ہے ۔ لیکن وہ صفحہ نہیں جو ہمارے درمیان رائج ہے جو الواح کی مانند ہے بلکہ ایک تفسیر کے مطابق جو ابن عباس سے منقول ہے کہ:

لوحِ محفوظ کا طول زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے اور عرض مغرب و مشرق کے فاصلے کے برابر ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں محسوس ہوتاہے کہ لوحِ محفوظ وہی علم خدا کا ایک صفحہ ہے جس نے عالم مشرق و غرب کو گھیر رکھا ہے اور وہ ہر قسم کی دگر گونی ، تغیراور تبدیلی و تحریف سے محفوظ ہے ۔

جی ہاں ! قرآن مجید کا سر چشمہ حق تعالیٰ کا علم ِ بے پایاں ہے ۔ یہ انسانی فکر کی پیدا وار نہیں ہے ، نہ یہ القائے شیاطین کا نتیجہ ہے ۔ اس کے مشمولات و مضامین اس حقیقت کے گواہ ہیں ۔

یہ احتمال وہی چیز ہے جسے قرآن مجید میں کبھی کتاب مبین سے اور کبھی ام الکتاب سے تعبیر کیا گیاہے جیسا کہ سورہ رعد کی آیت ۳۹ میں ہم پڑھتے ہیں ( یمحو االلہ مایشاء و یثبت و عندہ ام الکتاب) خدا جسے چاہتا ہے محو کردیتا ہے اور جسے چاہتاہے ثابت رکھتا ہے اور اس کے پاس ام الکتاب ہے ۔ اور سورہ انعام کی آیت ۵۹ میں آیاہے (ولا رطب ولا یابس الاَّ فی کتاب مبین ) خشک و تر کی کوئی چیز ایسی نہیں مگریہ کہ واضح کتاب میں ثبت ہے ۔

خدا وندا ! ہمیں اپنی اس عظیم آسمانی کتاب کی حقیقت سے زیادہ آشنا فرما۔

پر وردگارا ! اس دن جس میں مومنین ِ صالح فوزِ کبیر حاصل کریں گے اور کافرین مجرم عذاب ِ حریق میں گرفتار ہوں گے اپنے دامن عافیت میں پناہ دیجو۔

بار الہٰا ! تو غفور و ودود و رو ف و مہر بان ہے ۔ تو ہم سے وہ سلوک کر جو تیرے ان اسمائے صفات سے ہم آہنگ ہے ۔ وہ سلوک نہ کیجو جس کا ہمارے اعمال تقاضا کرتے ہیں ۔

آمین یا رب العالمین

سورہ بروج کا اختتام


سورہ طارق

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوااور اس میں ۱۷ آیتیں ہیں

سورہ طارق کے مضامین اور ان کی فضیلت

اس سورہ کے مطالب نہایت عمدہ طریقہ سے دو محوروں کے گرد گھومتے ہیں ۔

۱ ۔ معاد و قیامت کا محور ۔

۲ ۔ قرآن مجید اور اس کی قدر و قیمت کا محور۔

لیکن سورہ کے آغاز میں فکر آفرین قسموں کے بعد ان نگہبانوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو خدا کی طرف سے بندوں پر مقرر ہیں اور معاد و قیامت کے امکان کو ثابت کرنے کے بعد پہلی زندگی، یعنی انسان کے نطفہ کے پانی سے پیدا ہونے ، کی طرف اشارہ کرکے نتیجہ اخذ کرتا ہے اور فرماتا ہے :

” وہ خدا جو قدرت رکھتا ہے کہاسے اس قسم کی بے قیمت اور ناچیز پانی سے پید اکرے ، وہ نئے سرے سے اس کی باز گشت کی توانائی اور طاقت بھی رکھتا ہے ، بعد کے مر حلے میں روز قیامت کی بعض خصوصیات کی طرف اشارہ کرتا ہے ، اس کے بعدمتعدد پرمعنی قسموں کے حوالہ سے قرآن کی اہمیت کو گوش گزارکرتا ہے اور آخر کا ر سورہ کو خدائی عذاب کی اس تہدید پر ختم کرتا ہے جو کافروں کے لئے ہے ۔

اس سورہ کی فضیلت

اس سورہ کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث میں ہمیں پیغمبر اسلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ( من قرأھا اعطاہ اللہ بعدد کل نجم فی السماء عشر حسنات ) جو شخص اس کی تلاوت کرے خدا اسے ہر اس ستارے کی تعداد کے مقابلہ میں ، جو آسمان میں ہے، دس نیکیاں عطا کرتا ہے ۔(۱)

اور ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے (من کان قرأته فی الفریضة و السماء و الطارق کان له عند الله یوم القیامة جاه و منزله و کان من رفقاء النبیین و اصحابهم فی الجنة ) جو شخص نماز فریضہ و واجب میں سورہ و السماء و الطارق کی تلاوت کرے وہ روز قیامت خدا کے ہاں عظیم مقام و منزلت کا حامل ہوگا اور جنت میں پیغمبرو ں کے رفقاء اور ان کے اصحاب میں سے شمار ہو گا ۔(۲)

واضح رہے کہ سورہ کے مضامین پر عمل کرنا ہی ایسی چیز ہے جس کا یہ اجر ِ عظیم ہے ، نہ کہ وہ تلاوت جو عمل اور غور و فکر سے خالی ہو۔

____________________

۱۔ مجمع البیان ،جلد ۱۰ ، ص ۴۶۹۔

۲۔ثواب الاعمال مطابق نور الثقلین ، جلد ۵، ص ۵۴۹۔


آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹،۱۰

( بسم الله الرحمٰن الرحیم )

۱ ۔( و السماء و الطارق ) ۔

۲ ۔( و ما ادراک ما الطارق ) ۔

۳ ۔( النّجم الثّاقب ) ۔

۴ ۔( اِنْ کلُّ نفسٍ لمَّا علیها حافظٌ ) ۔

۵ ۔( فلینظر الانسان ُ ممَّ خُلق ) ۔

۶ ۔( خُلق من مآءٍ دافقٍ ) ۔

۷ ۔( یخرجُ مِن مّآءٍ دافقٍ ) ۔

۸ ۔( اِنّه مِن بین الصُّلبِ و التَّرآئِب ) ۔

۹ ۔( یوم تُبلیَ السَّرآ ئِر )

۱۰ ۔( فماله مِن قوةٍ وَ لا نَاصرٍ ) ۔

ترجمہ

رحمن و رحیم کے نام سے

۱ ۔ قسم ہے آسمان کی اور رات کے کھٹکھٹانے والی کی ۔

۲ ۔ اور تو نہیں جانتا کہ رات کو کھٹکھٹانے والا کون ہے ؟

۳ ۔ وہی درخشاں ستارہ اور تاریکیوں کو چیر نے والا ۔

۴ ۔ ( اس عظیم خدائی آیت کی قسم ) ہر شخص کا ایک مراقب و محافظ ہے ۔

۵ ۔ انسان کو دیکھنا چاہئیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟

۶ ۔ وہ اچھلتے ہوئے پانی( منی ) سے پیدا ہو اہے ۔

۷ ۔ وہ پانی جو پشت او رسینوں کے درمیان سے خارج ہوتا ہے ۔

۸ ۔ ( وہ جس نے اس قسم کی ناچیز شے سے پیدا کیا ہے ) اسے واپس لوٹا سکتا ہے ۔

۹ ۔ جس دن اسرار کھلیں گے ۔

۱۰ ۔ اور اس کے لئے کوئی قوت اور مدد گار نہیں ہے ۔

اے انسان دیکھ کہ تو کس چیز سے پید اہو اہے

یہ صورت بھی قرآن کے آخری پارے کی بہت سی دوسری سورتوں کی طرح خوبصورت اور فکر انگیز قسموں کے ساتھ شروع ہو رہاہے ۔ ایسی قسمیں ایک عظیم حقیقت کے بیان کی تمہید ہیں ۔

” قسم ہے آسمان کی اور رات کو کھٹکھٹانے والے کی “( و السماء و الطارق ) ” اور تو نہیں جانتا کہ رات کو کھٹکھٹانے والا کون ہے “( وما ادراک ما الطارق ) ” بلند و درخشاں اور رات کی تاریکیوں کو چیر نے والا ستارہ ہے “۔( النجم الثاقب ) ۔

” طارق“ طریق ( بر وزن برق) کے مادہ سے کوٹنے کے معنی میں ہے ۔ راستے کو اسی لیئے طریق کہتے ہیں کہ وہ چلنے والے لوگوں کے قدموں سے رونداجاتاہے اور مطرقہ اس ہتھوڑے کے معنوں میں ہے جسے دھاتوں وغیرہ کو کوٹنے کے لئے استعمال کی کیا جاتا ہے ۔ چونکہ رات کو گھروں کے دروازے بند کردیتے ہیں اس لئے وہ شخص جو رات کو آتا ہے در وازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہو تاہے ، لہٰذا رات کو آنے والے شخص کو طارق کہتے ہیں ۔

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام اشعث بن قیس منافق کے بارے میں ، جو رات کے وقت آپ کے دروازہ پر آیا تھا اور حلوہ اپنے ساتھ لا یا تھا کہ اپنے خیال ناقص میں حضرت علی علیہ السلام اپنی طرف متوجہ کرے اور کسی معاملہ میں آپ سے اپنے موافق حکم حاصل کرے ، فرماتے ہیں (وا عجب من ذالک طارق طرقنا بملفوفة و عائها ) اور اس سے زیادہ تعجب کی بات تو اس شخص کی ہے جس نے رات کے وقت در وازہ کھٹکھٹایا تھا اور وہ لذیذ حلوہ سے پُر ڈھکا ہوا بر تن اپنے ہمراہ لایا تھا ۔(۱)

لیکن قرآن یہاں طارق کی خود تفسیر کرتاہے اور کہتا ہے یہ رات کا مسافر وہی درخشاں ستارہ ہے جو آسمان پر ظاہر ہوتا ہے اور اس قدر بلند ہے گویا چاہتاہے کہ آسمان کی چھت میں سوراخ کردے ۔ اس کی روشنی آنکھوں کو اس قدر خیرہ کرنے والی ہے کہ تاریکویں میں شگاف ڈال دیتی ہے اور انسان کی آنکھوں کے اندر نفوذ کرتی ہے ۔

(توجہ فرمائیں کہ ثاقب ثقب کے مادہ سے سوراخ کرنے کے معنی ہے)۔

یہ بات کہ اس سے مراد کوئی معین ستارہ ہے ، مثلاً ثریا نامی ستارہ ( آسمان میں بلندی اور دوری کے لحاظ سے ) یا زحل، پھر زہرہ یا شہب ، (خیرہ کرنے والی روشنی کے لحاظ سے ) یا آسمان کے تمام ستاروں کی طرف اشار ہ ہے ۔ یہاں تفسیریں کی گئی ہیں ۔ لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بعد کی آیت میں اسے نجم ثاقب ( نفوذ کرنے والے ستارے ) کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ہر ستارہ نہیں بلکہ وہ درخشاں ستارے ہیں جن کو نور تاریکی کے پردوں میں شگاف ڈال دیتاہے اور انسان کی آنکھوں میں نفوذ کرتاہے ۔

بعض روایا ت میں النجم الثاقب کی زحل ستارے سے تفسیر کی گئی ہے جو نظام شمسی کے سیاروں میں سے بہت ہی پر فروع اور منور ستارہ ہے ، اور یہ معنی اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتے ہیں ، جو امام صادق علیہ السلام نے النجم الثاقب کی تفسیر کے سلسلہ میں ایک منجم کو بتائے ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا : زحل ستارہ ہے جو ساتویں آسمان میں طلوع ہوتا ہے اور اس کی روشنی تمام آسمانوں کو چیرتی ہوئی نچلے آسمان تک پہنچ جاتی ہے ۔ اسی لئے خدا نے اسے نجم ثاقب کہاہے ۔(۲)

قابل توجہ بات یہ ہے کہ زحل آخری اور سب سے دور جو نظام شمسی ہے ، اس کا ستارہ ہے ، جو بغیر کسی آلے کی مدد کے خالی آنکھ سے دیکھاجاسکتاہے اور چونکہ نظام شمسی کے ستاروں کی ترتیب کے اعتبار سے سورج کی نسبت کے پیش نظر ساتویں مدار اور مقام گردش میں قرار پاتا ہے ( چاند کے مدار کے حساب سے ) تو امام اس حدیث میں اس کا مدار ساتواں آسمان بتاتے ہیں ۔ اس ستارے کی کچھ خصوصیات ہیں جو اسے قابل قسم بناتی ہیں ۔

ایک تو یہ نظام شمسی کے سب سے دور ستاروں میں سے ہے ۔ اس وجہ سے ادب عربی میں ہر بلندی کی اس سے مثال دیتے ہیں اور کبھی اسے شیخ النجوم بھی کہتے ہیں ۔(۳)

زحل ستارہ جس کا فارسی نام کیوان ہے ، اس کے کئی نورانی حلقے ہیں جو اس کا احاطہ کئے ہوئے ہیں ۔ اس کے آٹھ چاند ہیں ۔زحل کے نورانی حلقے جو اس کا احاطہ کئے ہوئے عجیب ترین آسمانی مظاہر میں سے ہیں ، جن کے بارے میں ماہرین ِ فلکیات کے مختلف نظر یات ہیں اور وہ حلقے اب بھی پر اسرار موجودات ہیں ۔ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ زحل دس چاند ہیں جن میں سے آٹھ کا عام نجومی دوربینوں سے مشاہدہ کیا جا سکتاہے اور دوسرے دو چاند صرف بہت بڑی دور بینوں سے نظر آسکتے ہیں ۔(۴)

مذکورہ اسرار میں اس وقت کسی پر قطعاً واجب نہیں تھے ۔ جب قرآن نازل ہوا تھا ۔ وہ اس کے صدیوں بعد آشکارہوئے ، بہر حال نجم ثاقب کی زحل ستارے سے تفسیر خصوصیت کے ساتھ ممکن ہے ، ایک واضح مصداق کے بیان کی قبیل سے ہوا ور وہ اس راہ میں حائل نہ ہو کہ آسمان کے دوسرے درخشاں ستاروں سے تفسیر کی جائے ، اس لئے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری روایات میں مصداقی تفسیربہت زیادہ ہے ۔

سورہ صافات کی آیت ۱۰ میں ہم پڑھتے ہیں (الاَّ من خطف الخطفة فاتبعة شهاب ثاقب ) ” مگر وہ جو مختصر سے لہجہ میں استراق سمع کے لئے (چوری چھپے کان لگاکر سننے کے لئے )آسمان کے نزدیک ہوتو شہاب ثاقب اس کا تعاقب کرتاہے “۔

تو اس آیت میں شہاب کی توصیف لفظِ ثاقب سے ہوئی ہے اور چونکہ یہ آسمان میں وجود میں آنے والی چیز عجائبات ِ عالم میں سے ایک ہے ، لہٰذا ممکن ہے کہ زیر بحث آیت کی ایک تفسیر یہ بھی ہو۔ اس آیت کے لئے جو شانِ نزول بعض کتب تفسیر میں بیان ہوئی ہے وہ بھی ان معانی کی تاکید کرتی ہے ۔(۵)

ہم دیکھیں کہ یہ قسمیں کس لئے ہیں ۔ بعد میں آنے والی آیت میں فرماتا ہے :” مسلم ہے کہ ہر ایک مراقب و محافظ ہے ،( ان کل نفس لما علیها حافظ )

۲ ۔ اس آیت میں ان نافیہ ہے اور لما الاَّ کے معنی میں ہے ۔

جو اس کے اعمال کو لکھتاہے اور حساب کتاب اور جزاء وسزا کے لئے محفوظ رکھتاہے ۔ جیسا کہ سورہ انفطار کی آیت ۱۰ ۔ ۱۱ ۔ ۱۲ ۔ میں ہم پڑھتے ہیں( و انّ علیکم لحافظین کراما ً کاتبین یعملون ماتفعلون ) اور تم پر کچھ محافظ مقرر کر دیئے گئے ہیں ، لکھنے والے مکرم و محترم ، جو ہمیشہ تمہارے اعمال لکھتے ہیں اور جوکچھ انجام دیتے ہو اس سے واقف ہیں “۔

اس طرح تم اکیلے اور تنہا نہیں ہو ،اور تم میں سے کوئی بھی ہو اور جہاں کہیں بھی ہو، وہ پروردگار کے مامورین کی زیر نگرانی ہوگا۔ یہ ایسا مفہوم ہے جس کی طرف توجہ انسان کی اصلاح و تربیت کے لئے بے حد مو ثر ہے قابل توجہ بات یہ ہے کہ آیت میں یہ نہیں بیان کیا گیا کہ یہ حافظ کون ہے اور کن امور کی حفاظت کرتا ہے ۔

لیکن قران کی دوسری آیتیں گواہی دیتی ہیں کہ حفاظت کرنے والے فرشتے ہیں اور جن چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں وہ انسان کے اعمال ہیں ، قطع نظر اس سے کہ وہ طاعتیں ہوں یا معاصی و گناہ ۔ یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ اس سے مراد انسان کی حوادث و مہلکات سے حفاظت ہے ۔

واقعی اگر خدا انسان کی حفاظت نہ کرے تو دنیا میں بہت کم افرادکو طبیعی موت نصیب ہو ، اس لئے کہ حوادث کا حجم اس قدر زیادہ ہے کہ کوئی بھی ان سے نہیں بچ سکتا ۔ خصوصاً وہ بچہ جن کی عمر ابھی چند سال ہی کی ہوتی ہے ۔ممکن ہے یہ بھی حفاظت نہ ہو توجن و انس پر مبنی شیاطین کے وسوسے اس قدر زیادہ ہیں کہ کوئی فرد بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔

لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ بعد والی آیت مسئلہ معاد و قیامت اور اعمال و کردار کے حساب و کتاب میں گفتگو کرتی ہے لہٰذا پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے ۔ اگرچہ اس آیت میں ان تینوں تفسیروں کو جمع کرنے سے بھی کوئی قباحت پید انہیں ہوتی ۔

قابل توجہ یہ ہے کہ پہلے بیان شدہ قسموں کے اور اعمال ِ انسان کی فرشتوں کے ذریعہ حفاظت کے مسئلہ کے درمیان ایک زندہ رابطہ ہے، اس لئے کہ بلند آسمان اور ستارے ، جو اپنے منظم راستوں میں مسلسل راہ پیمائی کررہے ہیں ، اس عالم عظیم میں نظم و ضبط اور حساب وکتاب کے موجود ہونے کی دلیل ہے تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ انسان کے اعمال حساب وکتاب کے بغیر ہوں اور مراقبین الہٰی اور محافظین خدائی ان کی نگرانی نہ کریں ۔

اس کے بعد مسئلہ معاد کے ایک استدلال کے عنوان سے ، ان لوگوں کے مقابلہ میں جو اسے غیر ممکن سمجھتے ہیں ، فرماتا ہے :” انسان کو دیکھنا چاہئیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے “( فلینظر الانسان مما خلق )

اس طرح قرآن تمام لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر پہلی خلقت کی طرف واپس لے جاتا ہے اور ایک جملہ استفہامیہ کے ذریعہ ان سے پوچھتا ہے ” تمہاری خلقت کس چیز سے ہوئی ہے ؟“اور بغیر اس کے کہ ان کے جواب کا انتظار کرے ، اس سوال کا جواب جو بالکل واضح ہے ، خود دیتا ہے اور مزید کہتاہے :” وہ ایک ٹپکنے والے پانی سے خلق ہوا ہے “( خلق من ماءٍ دافق ) ۔ جو مرد کے نطفہ کی توصیف کرتے ہوئے کہتا ہے : ” جو صلب اور ترائب کے درمیان سے نکلتا ہے “( یخرج من بین الصلب و الترائب ) ۔

” صلب“ کے معنی پشت کے ہیں اورترائب تریبہ کی جمع ہے جو علماء لغت کے مطابق سینے کے اوپر کی ہڈیوں کے معنی میں ہے ، جس کے اوپر گلوبند باندھا جاتا ہے ، جیسا کہ ابن منظور لسان العرب میں کہتا ہے :(قال اهل اللغة اجمعون موضع القلادة من الصدر )سب اہل لغت کہتے ہیں وہ سینے کے قلادة والی جگہ ہے ۔ اس کے باوجود اس کے کئی اور معنی بھی بیان ہوئے ہیں ۔ منجملہ ان کے ایک یہ کہ ترائب کے معنی ہاتھ، پاو ں اور آنکھیں ہیں ، یہ کہ سینہ کی ساری ہڈیاں ہیں ۔ یاد ائیں طرف کی چارپسلیاں ، ۔ یا بائیں طرف کی چار پسلیاں ، ۔ بہر حال یہ کہ اس آیت شریفہ میں صلب و ترائب سے کیا مراد ہے ، اس عنوان پر مفسرین کے درمیان بہت کچھ اختلاف ہے اور اس سلسلہ میں انہوں نے بہت سی تفسیریں تحریر کی ہیں ۔

ان میں سے چند درج ذیل ہیں :

۱ ۔ ”صلب “ مردوں کی طرف اشارہ ہے اور ” ترئب “ عورتوں کی طرف، اس لئے کہ مرد مظہر صلابت اور عورتیں مظہر لطافت وزینت ہیں ۔ اس لئے یہ آیت نطفہ انسانی کی ترکیب کی طرف مرداور عورت کے نطفے کے حوالے سے اشارہ کرتی ہے جو موجودہ زمانے کی اصلاح میں ” اسپرم“( Sperm )اور ” اودل“ کے نام سے موسوم ہے ۔

۲ ۔ ” صلب “ اشارہ ہے مرد کی پشت کی طرف اور ترائب اشارہ ہے اس کے سینے اور بدن کے اگلے حصہ کی طرف۔ اس بناء پر مراد صرف مرد کا نطفہ ہے ، جو شکم کے اندرونی حصوں میں سے پشت اور اگلے حصے کے اندر سے خارج ہوتا ہے ۔

۳ ۔ مراد عورت کے رحم سے جنین کا خروج ہے جو اس کی پشت اور بدن کے اگلے حصہ میں قرار پاتا ہے ۔

۴ ۔ بعض مفسرین نے یہ کہاہے کہ یہ آیت ایک دقیق علمی نکتہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جس سے اس آخری زمانے کے انکشاف نے پردہ اٹھایا ہے ، جو نزولِ َقرآن زمانے میں یقینا پنہان تھا اور وہ یہ کہ نطفہ مرد کے بیضے اور عورت کے تخمدان سے لیاجاتا ہے اور ماہرین جنین شناسی کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ یہ دونوں ابتداء میں جب جنین میں ظاہر ہوتے ہیں تو گُردوں کے قریب میں ہوتے ہیں اور تقریباً پشت کے مہروں کے ستون کے وسط کے مقابلہ میں صلب اور ترائب ( پشت اور انسان کی نچلی پسلیاں ) کے درمیان قرار پاتے ہیں ۔ پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد اور ان دونوں اعضاء کے نشو نما سے اس جگہ سے نیچے آجاتے ہیں اور ان میں سے ہرایک اپنی موجودہ جگہ پر آجاتا ہے ۔

چونکہ انسان کی پیدائش عورت او رمرد کے نطفہ کی ترکیب سے ہوتی ہے اور دونوں ابتداء میں اصل محل صلب و ترائب کے درمیان قرار پاتاہے ،لہٰذا قرآن نے اس قسم کی تعبیر کو منتخب کیاہے ، وہ تعبیر جو اس زمانے میں کسی کو معلوم نہیں تھی اور جدید علم جنین شناسی نے اس پر سے پردہ اٹھا یاہے ۔(۶)

زیادہ واضح تعبیر میں مرد کا بیضہ اور عورت کا تخمدان ابتدائے خلقت میں ، یعنی اس وقت جب عورت و مرد خود عالم جنین میں تھے ، ان کی پشت میں قرار پایاتھا ، جو تقریبا ً پشت کے مہروں کے ستون کے وسط کے مدِ مقابل تھا ۔ اس طرح سے کہا جاسکتا ہے کہ مرد کا نطفہ ساز دستگاہ دونوں صلب و ترائب کے درمیان تھے ۔ لیکن آہستہ آہستہ جب مرد و عورت کی خلقت شکمِ مادر میں مکمل ہوتی ہے تو وہاں سے الگ ہو کر آہستہ آہستہ نیچے آتی ہے ، اس طرح سے کہ مردکے بیضے کے تولد کے وقت شکم سے باہر اور آلہ تناسل کے قریب قرار پاتی ہے اور عورت کا تخمدان رحم کے قرب میں قرار پاتاہے ۔

لیکن اس تفسیر پر اہم اعتراض یہ ہے کہ قرآن کہتاہے کہ وہ ٹپکنے والا پانی صلب اور ترائب کے درمیان سے خارج ہوتا ہے ، یعنی پانی خروج کے وقت ان دونوں کے درمیان سے گزرتا ہے ، جبکہ اس تفسیر کے مطابق نطفہ کے پانی کے خروج کے وقت ایسا نہیں ہوتا ۔ جبکہ نطفہ ساز دستگاہ اس موقع پر کہ جب خود شکم مادر میں تھی تو اس وقت صلب و ترائب کے درمیان تھی ۔ اس سے قطع نظر ترائب کی تعبیر اگر نچلی آخری پسلیوں سے لی جائے تب بھی بحث و تنقید سے خالی نہیں ہے

۵ ۔ اس جملہ سے یہ مراد ہے کہ منی حقیقت میں انسان کے تمام اجزائے بدن سے لی جاتی ہے ۔ اسی لئے خروج کے وقت سارے بدن میں ہیجان ہوتا ہے اور اس کے بعد تمام بدن میں سستی آجاتی ہے ۔ اس لئے صلب و ترائب انسان کی عام پشت او رتمام اگلے حصہ کی طرف اشارہ ہے ۔

۶ ۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ عمدہ ترین منی کی پیدائش کا عامل ”نخاع شو کی “ حرام مغز ہے کو مرد کی پشت اوراس کے بعد دل و جگر ہیں ، جن میں سے ایک سینہ کی ہڈیوں کے نیچے اور دوسرا دونوں کے درمیان ہے اور یہی چیزسبب بنی کے صلب وترائب کے مابین تعمیر کا اس کے لئے انتخاب ہوا ، لیکن ہر چیز سے پہلے مشکل کے حل کرنے کے لئے اس اہم نکتہ کی طرف توجہ کی جائے کہ مندر بالا آیات میں صرف مرد کے نطفہ کے بارے میں گفتگو ہے اس لئے کہ ماء دافق “ کی تعبیر( اچھل کر نکلنے والا پانی ) مرد کے نطفہ پر صادق آتی ہے ، نہ عورت کے نطفہ پر ۔

یہی وجہ ہے کہ بعد والی آیت پر ” یخرج“ کی ضمیر جس کی طرف لوٹتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ اچھل کر نکلنے والا پانی صلب و ترائب سے خارج ہوتا ہے،تو اس حساب سے اس بحث قرآنی میں عورت کو شریک کرنا مناسب نظر نہیں آتا ، بلکہ زیاہ مناسب وہی تعبیر ہے کہ کہا جائے کہ قرآن نطفہ کے دو اصلی اجزاء میں سے ایک کی طرف ، جو مرد کا نطفہ ہے اور سب کو معلوم ہے ، اشارہ کرتا ہے اور صلب و ترائب سے مراد انسان کی پشت اور اگلا حصہ ہے، اس لئے کہ مرد کے نطفہ کا پانی ان ہی دونوں کے درمیان سے نکلتا ہے ۔(۷)

یہ تعبیر واضح اور ہر قسم کی پیچیدگی سے خالی ہے اور لفظ کے معنی کے سلسلہ میں جو کچھ کتب لغت میں آیا ہے اس سے ہم آہنگ ہے ۔ اس کے باوجود ممکن ہے کہ اس آیت میں ایک سے زیادہ اہم حقیقت بھی چھپی ہوئی ہو جو ہمارے موجودہ علم کی حد تک ہمارے لئے منکشف نہیں ہوئی اور ماہرین کے آئندہ کے انکشافات اس پر سے پردہ ہٹاسکیں گے ۔

اس کے بعد اس بیان سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے فرماتا ہے :” وہ جس نے انسان کو نطفہ کے پانی سے پیداکیاہے ، قادر ہے کہ اسے دوبارہ زندگی کی طرف لوٹا ئے“۔( انه علیٰ رجعه لقادر ) ۔

ابتداء میں وہ مٹی تھا ، پیچیدہ اورتعجب انگیز مراحل طے کرنے کے بعد کامل انسان میں تبدیل ہوا۔ اس لئے اس کی نئی زندگی کی طرف باز گشت کوئی مشکل پیدانہیں کرتی ۔ اس بیان کی نظیر قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی نظر آتی ہے ۔

سورہ حج کی آیت ۵ میں فرماتاہے :( یاایهاالناس ان کنتم فی ریب من البعث فانا خلقنا کم من تراب ثم من نطفة ) ”اے لوگوں ! اگر قرآن کے بارے میں شک میں مبتلا ہو تو ہم نے تمہیں خاک سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے “۔ نیز سورہ مریم کی آیت ۶۷ میں ہم پڑھتے ہیں( اولا یذکر الانسان انا خلقناه من قبل و لم یک شیٴاً ) ” کیاانسان اس بات کو یاد نہیں کرتا کہ ہم نے اسے پہلے پید اکیا ، جبکہ وہ کوئی شیء نہیں تھا “۔

اس کے بعد اس عظیم دن کی تعظیم و توصیف پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” یہ باز گشت اس دن تحقق پائے گی جس دن اسرار آشکار ہوں گے“۔( یوم تبلی السرائر ) ۔(۸)

”تبلیٰ“ ۔” بلوی“ کے مادہ سے آزمائش اور امتحان کے معنی میں ہے اور چونکہ آز مائش کے وقت اشیاء کی حقیقت آشکا رو واضح ہو جاتی ہے ، لہٰذا یہ مادہ یہاں ظہور و بروز کے معنی میں آیا ہے۔

جی ہاں ! اس دن جو یوم الظہور و یوم البروز ہے، اسرار آشکار ہوجائیں گے، قطع نظر اس سے کہ ایمان و کفر نفاق ہوں ، یا نیت خیر و شر یاریا و اخلاص ۔

روز بروز یہ ظہور مومنین کے لئے باعث افتخار و فراوانی نعمت ہوگا اور مجرموں کے لئے شرمساری اور اس کے جھلکے کا سبب اور ذلت و خواری کا باعث۔ اور کیا ہی درد ناک ہے کہ وہ انسان جس نے اپنی اندرونی خرابیوں اور برائیوں کو عمر بھر لوگوں سے چھپائے رکھا ہو اور ان کے درمیان عزت سے زندگی گزاری ہو ، لیکن اس دن ، جس دن تمام اسرار آشکار ہوں گے ، تو تمام مخلوق کے سامنے شرمسار اور ندامت سے سرنگوں ہو، اس لئے کہ بعض اوقات عذابِ ندامت اور دوزخ کی آگ سے بھی زیادہ دردناک ہوتا ہے ۔

سورہ رحمن کی آیت ۴۱ میں بھی آیاہے :( یعرف المجرمون بسیماهم ) ” قیامت میں گناہگار اپنے چہروں سے پہچانے جائیں گے “۔ نیز دوسری آیات میں ہے کہ” قیامت میں ایک گروہ کے چہرے روشن اور تابناک ہوں گے اور دوسرے گروہ کے چہرے تاریک و غبار آلود ہوں گے “۔ ( عبس۔ ۳۸ ۔ ۴۱)

جی ہاں !جس طرح طارق اور ستارے رات کے وقت آسمان میں ظاہر ہوتے ہیں اور پردے سے باہر آ جاتے ہیں ، وہ محافظ و مراقب جو انسان کے اعمال کے حفظ و ضبط پر مامور ہیں ، وہ بھی وہاں سب کچھ ظاہر کردیں گے ۔۔

ایک روایت میں معاذ بن جبل سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول خدا ﷺسے اس آیت میں جو لفظ سرائر ہے ، اس کے معنی پوچھے کہ وہ کون سے اسرار ہیں جن کے ذریعہ خدا قیامت میں بندوں کو آزمائے گا ؟تو آپ نے فرمایا

(سرائرکم هی اعمالکم من الصلٰوة و الصیام و الزکوٰة و الوضوء و الغسل من الجنابة و کل مفروض لان الاعمال کلها سرائر خفیة فان شاء الرجل صلیت ولم یصل وان شاء قال توضأت ولم یتوضأ فذالک قوله یوم تبلی السرائر

”تمہارے سرائر تمہارے اعمال ہی ہیں ، مثلاً نماز، روزہ،زکوٰة ، وضو ، غسل ، ِ جنابت اور ہر واجب عمل ، اس لئے کہ تما م اعمال حقیقت میں پنہاں ہیں ۔ اگرانسان چاہے تو کہہ دے کہ میں نے نماز پڑھی ہے جب کہ اس نے نہ پڑھی ہو اور کہہ سکتا ہے کہ میں نے وضو کیا ہے جبکہ وضو نہ کیا ہو۔ یہ ہے خدا کے اس کلام کی تفسیر( یوم تبلی السرائر ) ۔(۹)

اس دن اہم مشکل یہ ہوگی کہ انسان کے لئے کوئی قوت و طاقت اندر سے اور کوئی یاور و ہمدرد باہر سے نہیں ہوگا (نماله من قوة ولا ناصر )۔ کوئی طاقت جو اس کے برے اعمال اور بری نیت پر پردہ ڈالے اور کوئی مدد گارجو اسے عذابِ الہٰی سے رہائی بخشے۔

یہ مفہوم بہت سی قرآنی آیات میں آیاہے کہ اس دن نہ کوئی مدد گار ہوگا نہ کوئی فدیہ ہونے والا قبول ہوگا ، نہ ہی کوئی فرار اور باز گشت کی راہ انسان کے سامنے ہوگی اور نہ کوئی راستہ عدالتِ پر وردگار کے چنگل سے فرار کرنے کا راستہ ہوگا۔ نجات کا وسیلہ صرف اور صرف عمل صالح ہوگا۔ جی ہاں ! نجات کا وسیلہ صرف یہی ہے ۔۔

____________________

۱-۔نہج البلاغہ، خطبہ ۲۲۴۔

۲۔نو رالثقلین، جلد ۵، ص۵۵۰ حدیث۴۔

۳۔دائرة المعارف دھخدا مادہ زحل۔

۴۔ دائرة المعارف دھخدا مادہ زحل۔

۵۔ روح المعانی ، جلد ۱۰، ص۳۹۷۔

۶۔ تفسیر مراغی ، جلد ۳۰، ص۱۱۳۔

۷۔ قرآن کی دوسری آیتوں میں بھی جب نطفہ سے انسان کی خلقت کی گفتگو درمیان میں آتی ہے تو زیادہ تر مرد ہی کے نطفہ پر، جو ایک محسوس امر ہے ، انحصار کیا جاتا ہے ۔ سورہ نجم کی آیت ۴۶ اور سورہ قیامت کی آیت ۳۷ کی طرف رجوع فرمائیں ۔

۸۔یوم یہاں ظرف ہے اور رجع کا متعلق ہے جو گزشتہ آیت میں آیاہے اور اس قسم کے مواد میں مصدر اور اس کے معمول کے درمیان فاصلہ ضرر نہیں رکھتا، اس لئے کہ یہ کسی اجنبی سے فاصلہ نہیں ہے ۔

۹۔مجمع البیان ، جلد ۱۰۔ اس مفہوم سے مشابہ تفسیر در المنثور، جلد۶، ص ۳۳۶ میں بھی آئی ہے ۔


آيات ۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷

۱۱ ۔( و السّمآءِ ذات الرجع ) ۔

۱۲ ۔( و الارض ذات الصدعِ ) ۔

۱۳ ۔( اِنّه لقول ٌ فصلٌ ) ۔

۱۴ ۔( وما هو بالهزل ) ۔

۱۵ ۔( انّهم یکیدونَ کیداً ) ۔

۱۶ ۔( واکید کیداً ) ۔

۱۷ ۔( فمهل الکافرون امهلْهُم رُویداً ) ۔

ترجمہ

۱۱ ۔ پر بارش آسمان کی قسم ۔

۱۲ ۔ پر شگاف زمین کی قسم ۔

۱۳ ۔ یہ ایک سچی ہے ۔

۱۴ ۔ یہ مذاق نہیں ہے ۔

۱۵ ۔ وہ ہمیشہ مکرکرتے ہیں ۔

۱۶ ۔ اور میں اس کے مقابلہ میں چارہ جوئی کرتا ہوں ۔

۱۷ ۔ اب جبکہ ایسا ہے تو کافروں کو تھوڑی سی مہلت دے دے ۔ ( تاکہ اپنے اعمال کی سزا دیکھ لیں )۔

میں دشمنوں کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیتا ہوں

گزشتہ آیا ت کے بعد، جن میں انسان کے نطفہ اور اس کی پہلی زندگی کی طرف توجہ کے حوالے سے استدلال تھا ، ان آیات میں پھر امر معاد پر تاکید کرتے ہوئے اور دوسرے دلائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے : ” قسم ہے بارش سے پر آسمان کی “۔( و السماء ذات الرجمع ) اور قسم ہے زمین کی جو شگافتہ کی جاتی ہے اور اس میں سے سبزہ پھوٹتا ہے “۔( و الارض ذات الصدع ) ۔ ” کہ یہ ایک حق بات ہے کہ تم زندہ ہوجاو گے “۔( انه لقول فصل ) ۔

” یہ پکّی بات اور اس میں کسی قسم کی شوخی اور مزاح نہیں ہے “۔( وما هو بالهزل )

” رجع “ رجوع کے مادہ سے باز گشت کے معنی میں ہے اور عرب بارش کو رجع کہتے ہیں ، اس وجہ سے کہ پانی زمین اور سمندروں سے اٹھتا ہے اور بارش کی صورت میں زمین کی طرف لوٹ آتاہے ۔ یہ کہ مختلف فاصلوں پر بار بار بارش ہوتی ہے۔

وہ گڑھے جن میں بارش جمع ہوجاتی ہے انھیں بھی رجع کہتے ہیں ، بارش کے پانی کے جمع ہو جانے کی بناء پر ، یا ان لہروں اور موجوں کی بناء پر جو ان کی سطح پر ہوا کی جنبش سے پیدا ہوتی ہیں ۔(۱)

”صدع“ سخت اجسام میں شگاف پڑ جانے کے معنی میں ہے ، اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو کچھ رجع کے معنی میں کہا گیا ہے اس کو کشک و سخت زمینوں کے بارش کے نزول کے بعد شگافتہ ہونے اور سبزہ کی نشو نما کی طرف اشارہ سمجھا ہے۔ حقیقت میں یہ دونوں قسمیں اشارہ ہیں مردہ زمینوں کی بارش کی وجہ سے زندہ ہونے کی طرف ،جسے قرآن نے باربار مسئلہ معاد کے سلسلہ میں بطور دلیل پیش کیا ہے ۔ مثلاً سورہ ق کی آیت ۱۱( و احیینابه بلدة میتاً کذالک الخروج ) ” ہم نے بارش کے ذریعہ مردہ زمینوں کوزندہ کیا اور قیامت میں تمہارا خروج بھی اسی طرح ہوگا۔ “

اسی طرح ان قسموں کے درمیان اور ان چیزو ں کے درمیان جن کے لئے قسم کھائی گئی ہے ، واضح مناسبت ہے یہ قرآن کے محاسن میں سے ایک ہے کہ قسموں کے درمیان اور ان کے درمیان جنکے لئے یہ قسمیں کھائی جارہی ہیں ، ایک عمدہ اور پر کشش تناسب نظر آتا ہے ، جس طرح سورہ ج کی آیت ۵ میں مسئلہ معاد پر نطفہ سے انسان کی خلقت اور جنین کے اسرار استدلال کرتا ہے اور بارش کے نزول کے زیر اثر مردہ زمینوں کے زندہ ہونے پر استدلال کرتا ہے ، اسی طرح اس سورہ( سورہ طارق) میں بھی ان دونوں مسائل پر انحصارکیا ہے ۔

بعض مفسرین نے ”( و السماء ذات الرجع ) “ کے جملے کے لئے ایک اور تفسیر بھی بیان کی ہے اور وہ ہے آسمان کے ستاروں کی گردش کی تکرار اور ان کا پہلی حالت کی طرف پلٹنا، زمین کی مختلف ادوار میں اپنے گرداور سورج کی گردش اور نظام شمسی کے سیاروں کی حرکت، چاند سورج اور ستاروں کی طلوع و غروب کی حرکت ۔ یہ سب حرکات باز گشت کی حامل ہیں ۔ ان باز گشتوں کا وجود انسان کی حیاتِ تازہ کی طرف باز گشت کی علامت ہے ۔ البتہ پہلے معنی زمین کے شگافتہ ہونے اور مسئلہ معاد کے دلائل کے ساتھ بہت زیادہ مناسبت رکھتے ہیں ۔

قول فصل کے معنی ایسی بات کے ہیں جو حق و باطل کو الگ الگ کردے ۔ یہاں گزشتہ آیتوں کے قرینہ سے ایک گروہ نے اسے قیامت کی طرف اشارہ سمجھا ہے جبکہ مفسرین کی ایک دوسری جماعت اسے قرآن کی طرف اشارہ سمجھتی ہے ۔

معصومین علیہم السلام کی بعض روایات میں بھی اس طرف اشارہ ہو اہے ۔ البتہ قیامت کو قول فصل سے تعبیر کرنا قرآن کی بہت سی آیتوں میں نظر آتا ہے ، جو ضمنی طور پر معاد کی خبر دیتی ہیں ۔اس طرح دونوں تفسیروں کے درمیان جمع ممکن ہے ۔ ایک حدیث میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے واسطے سے پیغمبر اسلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :

(انها ستکون فتنة قلت فما المخروج منها یا رسول الله قال کتاب الله فیه نبأ من قبلکم و خبر مابعد کم وحکم مابینکم هو الفصل لیس بالهزل من ترکه من جبار قصمه الله و من ابتغی الهدی فی غیره اضلّه الله )

” عنقریب تمہارے درمیان فتنہ ظاہر ہو گا ۔ میں نے عرض کیا اے خدا کے رسول اس سے نجات کی کیا صورت ہے ؟ فرمایا:قرآن جس میں گزشتہ اور آئندہ لوگوں کی خبریں اور تمہارے درمیان کے فیصلے ہیں اور وہ ایسا کلام ہے جو حق کو باطل سے جدا کردیتاہے ، محکم و پختہ ہے ، اس میں شوخی و مزاح نہیں ہے ، جو جبار اس کو چھوڑے گا خدا اس کی کمر توڑے گا اور جو شخص اس کے غیرسے ہدایت چاہے گا خدا اس کو گمراہ کردے گا ۔(۲)

اس کے بعد پیغمبر و مومنین کو تسلی دینے کے لئے اور دشمنان اسلام کی تہدید کی غرض سے خدا وند عالم مزید فرماتاہے : ” وہ ہمیشہ مکر و حیلہ کرتے ہیں اور منصوبے بناتے ہیں( انهم یکیدون کیداً ) ۔ میں بھی ان کے مقابلہ میں ایک منصوبہ بناتا ہوں اور ان کی سازش کو خاک میں ملا دیتا ہوں ۔( وأکید کیداً ) اب جبکہ معاملہ اس طرح ہے تو کافروں کو تھوڑی سے مہلت دے دے تاکہ وہ اپنے اعمال کا انجام دیکھ لیں ۔( فمهل الکافرین املههم رویدا ) ً۔

ہاں ! وہ ہمیشہ منحوس منصوبہ تم سے لڑنے کے لئے بناتے رہتے ہیں ۔ کبھی مذا ق ا ڑاتے ہیں ، کبھی ، کبھی دیوانہ کہتے ہیں ، کبھی صبح کو ایمان لاتے ہیں اور عصر کے وقت کافر ہو جاتے ہیں تاکہ ایک گروہ کو اپنے ساتھ واپس کفر کی طرف لے جائیں ۔

کبھی کہتے ہیں کہ جو لوگ تیرے گرد جمع ہو گئے ہیں وہ فقراء وبے نوا ہیں ۔ انہیں دور کرتا کہ تیرا ساتھ دیں ۔ کبھی کہتے ہیں کم از کم ہمارے بعض خدا و ں کو قانونی طور پر قبول کرلے تو ہم تیرا ساتھ دیں گے ۔ کبھی تجھے جلا وطن کرنے کا اور قتل کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ ہر لمحہ اور نئے بھیس میں آتے ہیں تاکہ تیری جماعت کو متفرق و منتشر کردیں اور تیر ے اصحاب و انصار پر دباو ڈالیں یا تجھے ختم کردیں اور خدا کے نور کو بجھا دیں ۔

لیکن انہیں جانتا چاہئیے کہ خدا نے ارادہ کیا ہے کہ یہ نور عالمگیر ہو جائے ۔ یہ خدا کا نور ہے ۔ یہ کسی کے پھونک مارنے سے نہیں بجھ سکتا ۔ یہ فروزاں آفتاب ہے جو چمگادڑوں کی چشم پوشی سے ختم نہیں ہوسکتا۔ وہ منصوبہ بناتے اور ہم بھی اپنی تدابیرکرتے ہیں ۔

” کید “ بقول مفرد ات راغب، ایک قسم کی چارہ جوئی ہے اور یہ دو قسم کا ہوتاہے ۔ ایک مذموم دوسرا پسندیدہ ، اگر چہ اس کا استعمال مذموم چارہ جوئی میں زیادہ ہوتاہے لیکن ممدوح چارہ جوئی میں بھی ہوتاہے ،مثلاً( کذالک کدنا لیوسف ) ہم نے اس طرح یوسف کے لئے چارہ جوئی کی ۔(سورہ یوسف۔ ۷۶)

دشمنوں کے کیدو مکر کی مراد زیرِ بحث آیت میں واضح ہے ۔ یہ وہی صورت ِ حال ہے جس کے کچھ عنوانات کے متعلق ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے اور قرآن کی ایذا رساں سازشوں اور شرارت پر مبنی واقعات سے پر ہے ۔ باقی رہا خدائی کی ، اس سے یہاں کیا مراد ہے ؟

بعض نے یہاں کہاہے کہ وہی مہلت دیتاہے جو دردناک عذاب پر منتھی ہوتی ہے اور بعض نے خود عذاب کے معنی میں سمجھا ہے ۔ لیکن زیادہ مناسب یہ ہے کہ کہاجائے کہ مراد وہی الطاف الہٰی ہیں جو پیغمبر اور مومنین کے شامل حال تھے اور دشمنان اسلام کو غافل کردیتے اور ان کی کوشش کو ختم کردیتے ۔ ان کی سازشوں کو درہم برھم کردیتے جس کے نمونے تاریخ اسلام میں بہت زیادہ ہیں ۔

ان آیات میں خصوصیت کے ساتھ پیغمبر کو حکم دیتا ہے کہ کافروں سے لطف و مدارت سے پیش آ، انہیں مہلت دے اور ان کے فنا ہوجانے کے بارے میں عجلت سے کام نہ لے ۔ انہیں چھوڑ دے کہ کافی حد تک اتمام حجت ہوجائے اور انہیں رہنے دے تاکہ لوگ مختصر سی آماد گی بھی رکھتے ہوں وہ آخر کار مشرف بہ اسلام ہوجائیں ۔

اصولی طور پر جلد باز وہ ہوتاہے جو فرصتوں کے خود اور مکانات کے ہاتھ سے نکل جانے کا اندیشہ رکھتا ہے اور یہ چیز خدا وند ِ قادر و قاہر کے بارے میں کوئی مفہوم نہیں رکھتی ۔

قابل توجہ یہ کہ فرماتاہے :( فمهل الکافرین ) ” کافروں کو مہلت دے -“اور دوبارہ تاکید کرتے ہوئے کہتا ہے( امهلهم ) ” انہیں مہلت دے “۔

ان میں سے ایک باب تفعیل سے ہے اور دوسرا افعال سے اور اس کی تکرار تاکید کے لئے ہے ، بغیر اس کے کہ لفظ کی تکرار ہو اور اس کے کانوں کو بوجھ محسوس ہو۔

” رویداً “ ۔ ”رود“ ( بروزن عود) کے مادہ سے آمد و رفت رکھنے اور کسی کام کو نرمی سے انجام دینے کے معنی میں ہے ۔ یہاں اس کے مصدری معنی مراد ہیں اور تصغیر کا پہلو لئے ہوئے ہیں ، یعنی انہیں تھوڑی سی مہلت دے۔(۳)

اس طرح خدا اس مختصر سے جملے میں اپنے پیغمبر کو تین مرتبہ ان سے مدارات کرنے اور انہیں مہلت دینے کی ہدایت کرتا ہے ، یہ تمام مسلمانوں کے لئے نمونہ عمل ہے کہ وہ اپنے کاموں میں ، خصوصاً جبکہ ان کا دشمن سے مقا بلہ ہو، اس وقت حوصلہ اور صبر و شکیبائی سے کام لیں اور ہر قسم کی جلد بازی سے پر ہیز کریں ۔ کوئی بے محل اقدال نہ کریں اور ہر کام کا منصوبہ بنائیں ۔ علاوہ ازیں دین حق کی تبلیغ کی راہ میں ہمیشہ جلد بازی سے پرہیز کریں تاکہ وہ تمام افراد ، جنکی ہدایت کا احتمال موجود ہے ایمان لے آئیں اور باقی تمام افراد کے بارے میں اتمام ِ حجت ہو جائے ۔

یہ بات کہ یہ مہلت کم اور مختصر کیوں شمار کی گئی ہے، اس کی وجہ یاتو یہ ہے کہ اسلام مختصر سی مدت میں دشمنوں کے مقابلہ میں کامیاب ہو گیا تھا اور کافروں کے منصوبے خاک میں مل گئے تھے ۔ انہوں نے پہلی ضرب کا مزہ جنگ بدر میں چکھا ۔ اس کے بعد بہت جلد میدان احزاب و خیبر و حنین وغیرہ میں ان کے ارادے خاک میں ملے۔ پیغمبر کی زندگی کے آخری دنوں میں نور اسلام سارے جزیرة العرب پر چھا گیا اور ایک صدی گذرنے سے پہلے دنیا کے اس دور کے عمدہ اور اہم حصوں پر اس نے اپنا سایہ ڈال دیا ۔ یا پھر اس وجہ سے ہے کہ قیامت کا عذاب بھی نزدیک ہے اور اصولی طور پر جو کچھ قطعی ہووہ نزدیک شمار ہوتاہے ۔

بہر حال یہ سورہ آسمان اور ستاروں کی قسم سے شروع ہوتا ہے اور سازش کرنے والے حقیقت کے دشمن کفار کی تہدیدپر ختم ہوتا ہے ، درمیان میں معاد قیامت کے خوبصورت اور مو ثر دلائل اور انسانون پر نگہبانوں کے تقرر کے بارے میں لطف بیانات ہیں ۔ نیز مومنین کی تشفی و دلداری ہے ۔ یہ تمام عنوانات مختصر عبارتوں کے ساتھ ، جو نہایت ہی لطیف ہے اور مخصوص قسم کی قاطعیت لئے ہوئے ہیں ، بینا ہوئے ہیں ۔

خدا وندا ! دشمنوں کے کید و مکر کا رخ ، جو ہمارے زمانے میں بہت زیادہ ہو گیا ہے ، خود انہی کی طرف کردے اور ان کے منحوس منصوبے نقش بر آب کردے۔

پروردگارا!جس روز اسرار کھل جائیں گے اس روز ہمیں شر مندہ نہ کیجو۔

بار الہٰا ! ہم تیرے علاوہ کوئی قوت ، ناصر اور مددگار نہیں رکھتے۔ ہمیں اپنے غیر کے سپرد نہ کیجو۔

آمین یا رب العالمین

____________________

۱۔ مفردات راغب،مادہ رجع۔

۲۔ صحیح ترمذی ، سنن داو د مطابق روح المعانی جلد، ۳ ص ۱۰۰، اور تفسیر مراغی، جلد ۳۰ ، ص ۱۸۔

۳۔ اس بناپر رویداً یہاں مفعول مطلق کا جانشین ہے اور حقیقت میں ایسا ہے کہ جیسا کہ کہا جائےامهلهم امهالا قلیل ا ور یہ بعض نے احتمال پیش کیا ہے کہ رویداً یہاں امر کے معنی رکھتاہے، اس لئے تین امر پے در پے آئے ہیں ، بعید نظر آتا ہے البتہ رویدامر کے معنی میں اور اسم مفعول کی شکل میں بھی ا ٓیاہے لیکن زیر بحث آیت سے مناسب اور اس لفظ کے منصوب ہونے کے ساتھ موزوں یہی ہے کہ مفعول مطلق ہو ۔


سورہ اعلیٰ

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا اس میں ۱۹ آیتیں ہیں

سورہ اعلیٰ کے مضامین اور ان کی فضیلت

اس سورے کے در حقیقت دو حصے ہیں ۔ ایک تو وہ ہے جس میں روئے سخن خود پیغمبر کی طرف ہے اور ان کے لئے تسبیح پروردگار اور ادائے قرضِ رسالت کے سلسلہ میں احکام جاری کئے گئے ہیں ۔ اس حصہ میں خدائے بزرگ و بر تر کے ساتھ اوصاف شمار کرائے گئے ہیں ۔

دوسرا حصہ وہ ہے جوخوف خدا رکھنے والے مومنین اور شقی القلب کفار کی بات کرتا ہے ۔ اس حصہ میں ان دونوں گروہوں کی سعادت و شقاوت کے عوامل و اسباب اختصار کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں ۔

سورہ کے آخر میں اعلان کیا گیا ہے کہ یہ مطالب صرف قرآ ن ہی میں نہیں آئے بلکہ وہ حقائق ہیں جن پر گزشتہ کتب و صحف اور صحف ابراہیم و موسیٰ میں بھی تاکید آئی ہے ۔ اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں ہم تک بہت سی روایات پہنچی ہیں -

تلاوت کی فضیلت

ایک حدیث ہمیں پیغمبر اسلام کی ملتی ہے کہ آ پ نے فرمایا:

(من قرأ ها اعطاه الله عشر حسنات بعدد کل حرفانزل الله علیٰ ابراهیم وموسیٰ و محمد( صلوٰاة الله علیهم ) ”

جو شخص سورہ اعلیٰ کی تلاوت کرے خدا ہر اس حرف کے بدلے جو اس نے ابراہیم و موسیٰ اور محمد پر نازل کیا ہے دن نیکیاں اسے عطا فرمائے گا “۔(۱)

ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام منقول ہے کہ (من قرأ سبح اسم ربک الاعلیٰ فی فرائضه او نوانفله قیل له یوم القیامة ادخل الجنة من ای ابواب الجنة شیئت انشا ء الله )

جو شخص اپنے فرائض یانوافل میں سورہ اعلیٰ کی تلاوت کرے تو قیامت کے دن اس سے کہاجائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجا(انشاء الله )(۲)

متعدد روایات میں آیاہے کہ جس وقت پیغمبر یا ائمہ ہدیٰ”( سبح اسم ربک الاعلیٰ ) “ پڑھتے تو اس کے بعد اس حکم پر عمل کرتے ہوئے فرماتے “ ”سبحان ربی الاعلیٰ “۔(۳)

ایک اور روایت میں آیاہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتاہےکہ میں نے بیس سال راتوں کو آپ کی اقتداء میں نمازپڑھی تو سوائے( سبح اسم ربک الاعلیٰ ) کے اور کوئی سورة آپ نماز میں نہیں پڑھتے تھے ۔ آپ فرماتے تھے اگر تم جانتے کہ اس میں کیا بر کتیں ہیں تو تم میں سے ہر شخص اسے دس مرتبہ پڑھتا۔اور جو شخص اسے پڑھے گویا اس نے موسیٰ و ابراہیم کے صحف کی تلاوت کی ہے ۔

خلاصہ کلام یہ کہ مجموعہ روایات جو اس سلسلہ میں دستیاب ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورہ ایک خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ یہاں تک کہ ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ یہ سورہ پیغمبر اکرم کو محبوب سورہ تھا (کان رسول الله یحب هٰذه السورة سبح اسم ربک الاعلیٰ )(۴)

یہ بات کہ یہ سورہ مکی ہے یامدنی اس میں مفسرین کے درمیان اختلا ف ہے ، مشہور یہ ہے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا جبکہ بعض کا نظر یہ ہے کہ مدینہ میں نازل ہوا ، علامہ طباطبائی رحمة اللہ علیہ اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ اس سورہ کا پہلا حصہ مکہ ہو اور دوسرا حصہ ( ذیلی ) مدنی وہ اس لیے کہ ذیل میں گفتگونماز اور زکوٰة کی ہے اور اس ، تفسیر کے مطابق جو آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے ہم تک پہنچی ہے ، نماز سے مراد نماز عید الفطر اور زکوٰة سے مراد فطرہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ماہ مبارک رمضان کے روزے ، نماز عید اور زکوٰة فطرہ مدینہ میں نازل ہوئے ہیں ۔(۵)

لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ نماز اور زکوٰة کا حکم اس سورہ کے آخری حصہ میں ایک عام حکم کے طور پر ہے ، اگر چہ نماز ِ عید الفطراور زکوٰة فطرہ اس کے ایک واضح مصداق شمار ہوتے ہیں اورہم جانتے ہیں کہ واضح مصداق کے ساتھ روایات اہل بیت بہت ہی فراوان ہے ۔ اس وجہ سے ان مشہور علماء کا نظر یہ جو کہتے ہیں کہ تمام سورہ مکی ہے ، بعید نظر نہیں آتا ہے بالخصوص جب کہ آغاز سورہ کی آیات اور اختتام سورہ کی آیات مکمل طور پر ، مقاطع حروف کے لحاظ سے ہم آہنگ ہیں ۔ لہٰذا مشکل ہے کہ یہ کہا جاسکے کہ ایک حصہ مکہ میں نازل ہوا اور ایک مدینہ میں ۔

ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ مسلمانوں کا جو گروہ بھی مدینہ میں داخل ہوتا تو یہی سورہ مدینہ میں لوگوں کے سامنے پڑھتا ۔(۶)

پس یہ احتمال کہ اس کا صرف صدر حصہ مکہ میں اس کا ذیلی حصہ مدینہ میں نازل ہو اہو، بہت ہی بعید نظر آتا ہے ۔

____________________

۱۔ تفسیر نور الثقلین، جلد ۵ ، ص ۵۳۳۔

۲۔ تفسیر نور الثقلین، جلد ۵ ، ص ۵۳۳۔

۳۔ تفسیر نور الثقلین، جلد ۵ ، ص۵۴۴

۴۔ تفسیر مجمع البیان ، جلد ۱۰، ص ۴۷۲

۵۔ المیزان ، جلد ۲۰ ص ۳۸۶۔

۶۔ تفسیر در المنثور ، جلد ۶، ص ۳۳۷۔ یہ مفصل حدیث ہے جس کے اجمالی مفہوم کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے ۔


آیات ۱،۲،۳،۴،۵

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( سبح اسم ربک الاعلیٰ ) ۔

۲ ۔( الذی خلق فسوی ) ۔

۳ ۔( و الذی قدّر فهدیٰ ) ۔

۴ ۔( و الذیْٓ اخرج المرعیٰ ) ۔

۵ ۔( فجعله غثآءً احوٰی ) ۔

ترجمہ

رحمن و رحیم خدا کے نام سے

۱ ۔ اپنے بلند مرتبہ پروردگار کے نام کی تسبیح کر ( اور اسے منزہ رکھ )۔

۲ ۔ وہ خدا جس نے پید اکیا اور منظم کیا۔

۳ ۔ اور وہ جس نے منظم کیا اور ہدایت فرمائی ۔

۴ ۔ اور وہ جس نے چراگاہ کو ظاہر کیا ۔

۵ ۔ پھر اسے خشک اورسیاہ قرار دیا ۔

خدا وند ِ عظیم کی تسبیح کر

یہ سورہ حقیقت میں مکتب انبیاء کی دعوت ِ فکر کا نچوڑ اور خلاصہ، یعنی پروردگار ِ عالم کی تسبیح اقدس سے شروع ہوتا ہے ۔

پروردگار عالم ابتداء میں روئے سخن پیغمبر اسلام کی طرف کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” اپنے بلند مرتبہ پروردگار کے نام کو ہر عیب و نقص سے منزہ شمارکر “۔( سبح اسم ربک الاعلیٰ ) ۔

مفسرین کی ایک جماعت کا نظریہ ہے کہ یہاں اسم سے مراد مسمیٰ ہے جبکہ ایک جماعت نے کہا ہے کہ مراد خود اسم پروردگار ہے ، وہ نام جو مسمیٰ پر دلالت کرتا ہے ان دونوں تفسیروں کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں ۔

بہر حال مراد یہ ہے کہ خدا کا نام بتوں کا ہم ردیف قرار نہ دیا جائے اور اس کی ذات پاک کو ہم ہر قسم کے عیب و نقص سے جسم و جسمانیات کے عوارض سے اور ہر قسم کی محدودیت و نقصان سے منزہ شمار کریں ۔ بت پرستوں کی طرح نہیں جو خدا کا نام بتوں کے ساتھ لیتے تھے ، یا وہ لوگ جو خدا کو جسم جسمانیات سے منزہ خیال نہیں کرتے ۔

”اعلیٰ “ کی تعبیر اس حقیقت کوبیان کرتی ہے کہ وہ ہرشخص اور ہر اس چیز سے ، جس کا اہم تصور کرسکتے ہیں ، ہر خیال و قیاس و گمان سے اور ہر قسم کے جلی و خفی شرک سے برتروبالا ہے ۔

” ربک“ (تیرا پروردگار)کی تعبیر اس طرف اشارہ کرتاہے کہ وہ پروردگار جس کیطرف تو لوگوں کو بلاتا ہے بت پرستوں کے پروردگار سے الگ ہے

رب و اعلیٰ کی دو صفتوں کے بعد ان کی وضاحت کے لئے پانچ اور صفات بیان کرتاہے جو سب کی سب پر وردگار کی اعلیٰ ربوبیت کی تشریح ہیں ، فرماتاہے :

وہ خدا جس نے پیدا کیا اور منظم و مرتب کیا “( الذی خلق فسوّی ) ۔

”سوّی“ تسویہ کے مادہ سے نظام بخشنے اور مرتب کرنے سے جو آسمانی ستاروں پر حاکم ہے ، یا جو زمینی مخلوقات پر حکم فرماتاہے انسان کی جسم و جان کے لحاظ سے ۔

اور جو مفسرین نے صرف انسان کے ہاتھ پاو ں اور آنکھوں کے خاص نظام یا انسان کے راست قامت ہونے کے ساتھ تفسیر کی ہے ، در حقیقت وہ اس مفہوم کے ایک محدود و مصداق کا بیان ہے ۔ بہر حال عالم آفرینش کا نظام جو عظیم ترین آسمانی نظاموں پر حاوی ہے ، پروردگار کی ربوبیت اور اس کے وجود کے اثبات کے لئے سادہ اور عام موضوعات کا مویّد ہے ۔ مثلاً انسان کی انگلیوں کی پوروں کی لکیروں تک ، جن کی جانب سورہ قیامت میں اشارہ ہوا ہے :( بلیٰ قادرین علیٰ ان نسوّی بنانه ) ( قیامت، آیت ۴) اس مختصر سی تعبیر میں مطالب کا ایک جہان پوشیدہ ہے ۔

آفرینش اور خلقت کی تنظیم کے مسئلہ کے بعد حرکت ِ کمالی اور اس کی راہ میں موجودات کی ہدایت کے لئے لائحہ عمل مقرر کرنے کے موضوع کو پیش کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے : ” وہ جس نے تقدیر مقرر کی اور ہدایت فرمائی“( و الذی فهدیٰ ) ۔

تقدیر سے مراد اندازہ ، اہداف و مقاصد اور روبہ عمل ہونے کے لائحہ عمل کی تعیین ہے جن کے لئے موجودات کو خلق کیا گیا ہے ۔ ہدایت سے مراد ہی ہدایت تکوینی ہے جو محر کات اور قوانین کی شکل میں ہے اور جسے ہر موجود پر حاکم قرار دیا جاتا ہے (عام اس سے کہ وہ اندرونی محرک ہوں یابیرونی )۔

مثلاً ایک طرف ماں کے پستا ن اور اس کے دودھ کو بچہ کی غذا کے لئے پیدا کیا ہے ، ماں کو شدید محبت مادری سے نوازا ہے اور دوسری طرف بچہ میں محرک پید اکیا ہے جو اسے ماں کے پستان کی طرف کھینچتا ہے یہ آمادگی دونوں طرف کی وقت جاذبہ تمام موجودات کی راہ مقاصد میں نظر آتی ہے ۔

خلاصہ یہ کہ ہر موجود کی ساخت کے بارے میں تدبر و تفکر کرنا اور وہ راہ عمل جسے وہ اپنی زندگی میں طے کرتا ہے ، یہ دونوں باتیں اس حقیقت کا پتہ دیتی ہیں کہ نہایت باریک بینی پر مبنی ایک لائحہ عمل تجویز کیاگیا ہے طاقت جست ہدایت کے پیچھے ہے جو اس لائحہ عمل کے اجزاء میں مدد کرتا ہے ، اور یہ پروردگار کی ربوبیت کی ایک نشانی ہے ۔

البتہ انسان کے لئے ہدایت تکوینی کے پروگرام کے علاوہ ایک اور قسم کی ہدایت بھی موجود ہے جو وحی اور بعثت انبیاء کے ذریعہ صورت پذیر ہوئی ہے ۔ اس کانام ہدایت تشریعی ہے ، قابل توجہ یہ امر ہے کہ انسان کی ہدایت تشریعی بھی اس کی ہدایت تکوینی کی تکمیل کرتی ہے ۔

اس مفہوم کو سورہ طٰہٰ کی آیت ۵۰ میں بھی پیش کیا گیا ہے جہاں حضرت موسیٰ و فرعون کے اس سوال کے جواب میں کہ تم دونوں کاپروردگار کون ہے ؟( فمن ربکما یا موسی ) ٰ ) فرماتے ہیں( ربنا الذی اعطیٰ کل شیء خلقه ثم هدیٰ ) ” ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر موجود کو اس کی خلقت لازمہ عطا فرمایا اور پھر اس کی ہدایت کی “۔

اس بات کامفہوم موسیٰ بن عمران کے زمانے میں یا نزول قرآن کے زمانے میں اگر چہ مختصراً معلوم تھا لیکن موجودہ زمانہ میں ، جبکہ انسانی علوم و دانش نے انواع ِ موجودات کی شناخت کے سلسلہ میں خصوصاً پودوں اور جاندار وں کے بارے میں بڑی پیش رفت کی ہے ، اب بہت سی معلومات عام ہو چکی ہیں اور ہزار ہا کتابیں اس تقدیر اور ہدایت کے سلسلہ میں معرض تحریر میں آچکی ہیں ۔ اس کے باوجودمحققین کہتے ہیں کہ جو کچھ ابھی معلوم نہیں کیا جاسکاوہ کئی گنا زیادہ ہے۔

بعد والے مرحلے میں گیاہ و نباتات یعنی چوپاو ں کی غذا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے :

” وہ چراگاہ کو وجود میں لایا اور اسے زمین کے اندر سے باہر نکالا ہے “۔( و الذی اخرج المرعیٰ )

” اخرج“ ۔”کی تعبیر “۔” اخراج“ کے مادہ سے اس طرف اشارہ ہے ۔ گویا یہ سب زمین کے اندر موجود تھے اور خدانے انہیں باہر نکا لا ہے ۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ حیوانات کی غذا انسانی غذا کی تمہید ہے اور اس کا فائدہ آخر کار انسان کو پہنچتا ہے ۔

اس کے بعد مزید فرماتاہے :” اس کے بعد خدا نے اسے خشک اور سیاہ قرار دیا “۔( فجعله غثاء احویٰ ) ۔ اصل میں خشک گھاس کے معنی میں ہے جو سیلاب کے نتیجہ میں نکلتی ہے ۔ وہ جھاگ جو دیگ کے جوش کھانے سے پید اہوتاہے ، اسے بھی غثاء کہتے ہیں ۔ یہ تعبیر ہر اس چیز کے لئے کنایہ ہے جو ضائع ہوجاتی ہے ۔

زیر بحث غثاکے معنی خشک گھاس اور فضول چیز کے ہیں ۔

” احویٰ“ ” حوہ“ ( بروزن قوہ) کے مادہ سے کبھی سبزرنگ اور کبھی سیاہ رنگ کے معنی دیتاہے اور دونوں ایک ہی معنی کی طرف لوٹتے ہی ہیں ، اس لئے سبز رنگ جب زیادہ ہوتو سیاہی مائل ہوجاتاہے ، یہ تعبیر اس بناء پر ہے کہ خشک گھاس جب اوپر تلے پڑی ہوتو آہستہ آہستہ کالی ہونے لگتی ہے ، اس تعبیر کا انتخاب ، باوجودی خدائی نعمتوں کے بیان کے محل پر ، لیکن ہوسکتا ہے کہ مندرجہ ذیل تین علتوں میں سے اس کی ایک علت ہو ۔

۱ ۔ پہلی یہ کہ گھاس وغیرہ کی کیفیت دنیا کے فانی ہونے کو ظا ہرکر تی ہے اور انسانوں کے لئے ہمیشہ درس عبرت کا کام دیتی ہے ۔ وہ سبزہ جو فصل بہار میں تروتازہ اور مسرت بخش تھا ، چند گزرنے کے بعد خشک ہو کر سیاہ رنگ اختیار کر لیتا ہے اور اس پر مردنی چھا جاتی ہے گویا زبان حال سے دنیا کی ناپائیداری اور وقت کے تیزی سے گزرنی کی داستان سناتی ہے ۔

۲ ۔ دوسرے یہ کہ خشک گھاس جب اوپر نیچے رکھ دی جائے اور بوسیدہ ہوجائے تو ایک قسم کی کھاد بن جاتی ہے جو نئی گھاس کی پرورش کے لئے مفید ہوتی ہے اور زمین کی تقویت کا باعث بنتی ہے ۔

۳ ۔ تیسری علت یہ ہے کہ بعض مفسرین کے مطابق اس آیت میں گھاس اور درختوں سے پتھر کے کوئلوں کی تخلیق کی طرف اشارہ ہے ، اس لئے کہ ہم جانتے ہیں کہ پتھر کا کا کوئلہ جو کرہ زمین سے حاصل ہونے والی قوتوں میں سے ایک اہم ترین قوت ہے انسان اپنی روز مرہ کی زندگی میں اپنی صنعتوں اور کار خانوں میں اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا چکا ہے اور اب بھی اٹھا تا ہے ۔

یہ کوئلہ گیاہ اور درختوں کا باقی ماندہ حصہ تھا جو کئی ملین سال سے خشک ہوکر زمین میں دفن ہو گیا اور امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ پتھر بن کر سیاہ رنگ اختیار کرچکا ہے ۔ بعض ماہرین کا نظر یہ ہے کہ وہ چرا گاہیں موجودہ زمانے میں پتھر کے کوئلے کی شکل اختیار کرکے نکل آئی ہےں تقریباً ڈھائی ملین سال پہلے موجود تھیں اور پھر زمین میں دفن ہوگئیں ۔

یہ چراگاہیں اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر موجودہ زمانے میں پتھر کے کوئلہ کا مصرف ہم اپنی نگاہ میں رکھیں تو وہ چار ہزار سال سے زیادہ دنیا کے لوگوں کی ضرورت کو پورا کرسکتا ہے ۔(۱)

آیت کی تفسیر خصوصیت کے ساتھ آخری معنی کے حوالہ سے بعید از قیاس نظر آتی ہے ، لیکن ہوسکتا ہے کہ آیت کے جامع معانی ہوں ، جس میں تینوں تفسیریں جمع ہوں ۔

بہر حال ،( غثاء ً احویٰ ) ” خشک سیاہ رنگ کی گھاس “ بہت سی منفعتیں رکھتی ہے ۔ سردی کے زمانے میں جانوروں کی مناسب غذابھی ہے ، انسان کے لئے آگ کی فراہمی کا ذریعہ بھی اور زمینوں کے لئے مناسب کھاد بھی ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ سات صفتیں ، جو مندرجہ بالا آیت میں آئی ہیں ، بلند و بالاربوبیت ، خلقت ، تسویہ، تقدیر ، ہدایت اور گیاہ و نباتات کی تخلیق ، یہ حقیقت میں پر ور دگار کی اعلیٰ ربوبیت کے مسئلہ کی نہایت احسن انداز میں تشریح ہے جس کا مطالعہ انسان کو خدا کے اعلیٰ مقام ِ ربوبیت سے اچھی طرح آشنا کرتاہے ، اس کے دل میں ایمان کی روشنی پیدا کرتا ہے ، خد اکی اہم ترین نعمتوں کو اجمالی طور پر بیان کرتا ہے اور انسان میں شکر گزاری کا احساس پید اکرتا ہے ۔

ایک نکتہ

مسئلہ تقدیر اور موجودات عالم کی عمومی ہدایت جو اوپر والی آیات میں پروردگار کی ربوبیت کے مظاہر میں شمار ہوئی ہے ، ایسے مسائل میں سے ہے کہ جس قدر زمانہ گزرتا جائے انسانی علم و دانش میں پیش رفت ہوگی ، اسی قدر اس میں زیادہ سے زیادہ حقائق آشکا رہوتے جائیں گے ، علمی انکشافات ہمیں یہ امکان فراہم کرتے ہیں کہ ہم تمام ذرات ِ عالم میں نئے تعجب انگیز اور زیادہ شوق آور چہرے دیکھیں ۔

بعض مفسرین نے یہاں مشہور ماہر حیوانات کمر یسی موریسن کی کتاب ( رازِ آفرینشِ ا نسان ) کی تحریروں سے استناد کرتے ہوئے مختلف جانداروں کے حوالے سے حیوانات کی ہدایت کے بارے میں اس عظیم راز کے نمونے پیش کئے ہیں جس سے ایک مختصر سا نمونہ درج ذیل کیا جاتا ہے :۔

۱ ۔ مہاجر پرندے ، جو کبھی ایک سال کے اندر سمندروں ، جنگلوں اور بیا بانوں کا ہزار ہا میل کا راستہ طے کرتے ہیں ، اپنے آشیانوں کو کبھی نہیں بھولتے ، اور واپسی پر ٹھیک اپنے وطن پہنچ جاتے ہیں ، اسی طرح شہد کی مکھیاں اپنے چھتے سے خواہ کتنی ہی دور کیوں نہ ہو جائیں اور تیز ہوا انہیں کتنا منتشر کیوں نہ کردے ، پھر بھی وہ ٹھیک اپنے چھتے کی طرف واپس لوٹ آتی ہیں ، جبکہ انسان اپنے وطن کی طرف لوٹنے کے لئے واضح نشانیوں ، اور پتوں اور رہنماو ں کا محتاج ہوتا ہے ۔

۲ ۔ حشرات الارض خورد بینی آنکھیں رکھتے ہیں جن کی ساخت اوردیکھنے کی طاقت انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے ، جبکہ باز جیسے پرندے دور بینی آنکھ رکھتے ہیں ۔

۳ ۔ انسان رات کے وقت اپناراستہ معلوم کرنے کے لئے مجبور ہے کہ منبع نور سے فائدہ اٹھائے لیکن بہت سے پرندے انتہائی تاریکی شب میں اچھی طرح دیکھ لیتے ہیں ۔ ان کایہ دیکھنا ایسی آنکھوں کے ذریعہ ہے جو ایسی شعاو ں کے مقابلہ میں جو سرخ رنگ سے کم ہیں ، حساسیت رکھتی ہیں ، اور اس طرح راڈار کی دستگاہ کی مانند ہیں جن میں سے بعض کے اندر یہ دستگاہ یادگار کے طور پر رکھی ہوتی ہے ۔

۴ ۔ کتے ایک اضافی قوت شامہ رکھنے کی وجہ سے ہر اس جانور کو جو ان کے سامنے آئے ، سونگھ کر پہچان لیتے ہیں ، جبکہ انسان ، ان وسائل و ذرائع کے باوجود جو اسے میسر ہیں ، اس قسم کی قوت سے محروم ہے ۔

۵ ۔ تمام جانور ان آوازوں کو سن لیتے ہیں جن کی شدت ارتعاس ہماری قوتِ سامعہ کی گرفت سے باہر ہے ۔ ان کی قوت سماعت ہماری قوت سماعت سے کئی گناہ زیادہ ہے ۔ انسان اپنی اس کوتاہی کی تلافی علمی وسائل و آلات کے ذریعہ کرسکتا ہے اور مکھی کے پروں کی آواز جو کئی کلو میٹر دور ہو، اس طرح سن سکتاہے کہ گویا یہ آواز اس کی کان کی لو کے نزدیک ہے ۔ شاید انسان اور حیوان کی قوت و طاقت و سماعت کا یہ فرق ، جو خدا نے دونوں میں رکھا ہے ، اس بنا پر کہ انسان علم و عقل کے ذریعہ اپنی کوتاہیوں کی تلافی کر سکتا ہے جب کہ حیوان اس سے محروم ہیں ۔

۶ ۔ چھوٹی مچھلی ایک قسم ہے جو سالہا سال سمندر میں زندگی گزارتی ہے ۔ اس کے بعد تخم ریزی کے لئے اس نہر یادریا کی طرف لوٹ جاتی ہے جس میں وہ پیدا ہوئی ہے ۔ یہ مچھلی امواج کے برعکس بڑھتی ہے اور اپنے اصلی وطن کو ،جو اس کی پر ورش سے مناسبت رکھتا ہے کئی سال دور کے فاصلہ پر رہنے کے باوجود اسے تلاش کرلیتی ہے ۔

۷ ۔ پانی کے بعض جانوروں کی داستان اس سے زیادہ عجیب ہے ۔ وہ اپنے راستے کو اس طریقہ کے بر عکس طے کرتے ہیں ۔

____________________

ا۔ آخری تفسیر کتاب” قرآن بر فراز اعصار“ تالیف نوفل ترجمہ بہرام پور میں بیان ہوئی ہے ۔


آیات ۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳

۶ ۔( سنقر ئُک فلا تنسیٰٓ ) ۔

۷ ۔( الاَّ ما شآءَ الله انّه یعلم الجهر و ما یخفیٰ ) ۔

۸ ۔( ونیسرک للیسریٰ ) ۔

۹ ۔( فذکِّراِنْ نَّفعتِ الذِّکریٰ ) ۔

۱۰ ۔( سیذَّ کر من یخشیٰ ) ۔

۱۱ ۔( ویتجنبُها الاشقی ) ۔

۱۲ ۔( الذی یصلی النار الکبریٰ ) ۔

۱۳ ۔( ثم لایموت فیها ولا یحییٰ ) ۔

ترجمہ

۶ ۔ ہم عنقریب تیرے سامنے( قرآن کو) پڑھیں گے اور تو اسے کبھی فراموش نہیں کرے گا ۔

۷ ۔ مگر جو کچھ خدا چاہے ۔ و ہ آشکار اور پنہاں کو جانتا ہے ۔

۸ ۔ اور ہم تمہیں ہر اچھے کام کے انجام دینے کے لئے آمادہ کریں گے ۔

۹ ۔ تو جہاں سمجھنا مفید ہو ، سمجھا تے رہو۔

۱۰ ۔ اور عنقریب وہ لوگ جو خدا سے ڈرتے ہیں متذکر ہوں گے ۔

۱۱ ۔ لیکن زیادہ بدبخت لوگ اس سے دوری اختیار کرتے ہیں

۱۲ ۔ وہی جو بہت بڑی آگ میں داخل ہوگا ۔

۱۳ ۔ پھر اس آگ میں نہ مر جائے گا، نہ زندہ رہے گا۔

ہم تجھے ہر اچھے کام کے لئے آمادہ کریں گے

گزشتہ آیتوں میں پروردگار کی ربوبیت اور توحید کے بارے میں گفتگو تھی ۔ اس کے بعد زیر بحث آیات میں قرآن اور پیغمبر کی نبوت کی بات ہورہی ہے ۔

گزشتہ آیات میں عام موجودا ت کی ہدایت متعلق گفتگو تھی اور زیربحث آیات میں نوع انسانی کی ہدایت کی بات ہے ۔ خلاصہ یہ کہ گزشتہ آیات میں پروردگار علی و اعلیٰ کی تسبیح کا ذکر آیا تھا اور ان آیات میں اس قرآن کی بات ہے جو اس تسبیح کو بیان کرتاہے ۔

فرماتاہے : ” ہم عنقریب تیرے لئے قرأت کریں گے اور تو کبھی نہیں بھولے گا۔“( سنقرئک فلا تنسیٰ ) اس بناپر نزول وحی کے وقت عجلت سے کام نہ لے اور آیات الہٰی کے بھول جانے کے بارے میں کبھی پریشان نہ ہو ۔ وہ ذات جس نے یہ عظیم آیات انسانوں کی ہدایت کے لئے تجھ پر نازل کی ہیں ، وہ ان کا محافظ و نگہبان بھی ہے ۔

وہ ان آیات کا نقش تیرے مبارک سینے میں اس طرح ثبت کرے گا کہ نسیان کا گرد و غبار اسے کبھی مکدر نہیں کرے گا۔

یہ اس مفہوم کی نظیر ہے جو سورہ طٰہٰ کی آیت ۱۱۴ میں آیا ہے( ولا تعجل بالقرآن من قبل ان یقضیٰ الیک وجیه و قل رب زدنی علماً ) قرآن پڑھنے کے سلسلہ میں اس سے پہلے کہ اس کی وحی تجھ پر تمام ہو ، جلدی نہ کر اور کہہ پر وردگار میرے علم میں اضافہ فرما“۔

پھر سورہ قیامت کی آیت ۱۶ ۔ ۱۷ ۔ میں ہم پڑھتے ہیں :( لاتحرک به لسانک لتعجل به ان علینا جمعه و قراٰنه ) ” اپنی زبان کو قرآن کے ساتھ حرکت نہ دے اس سے پہلے کہ وحی تجھ پر تمام ہو، یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کو جمع کریں اور تیرے سامنے پڑھیں ۔“

اس کے بعد خدا کی قدرت کو ثابت کرنے اور یہ جو کچھ خیر و بر کت ہے وہ اسی کی طرف ہے ،مزید کہتاہے : ” تو آیات ِ الٰہی میں سے کسی چیز کو نہیں بھولے گا، مگر وہ جسے خدا چاہے۔ اس لئے کہ وہ آشکار و پنہاں کو جاننے والاہے “۔( الاَّ ما شاء الله انه یعلم الجهر ومایخفیٰ ) ۔

اس تعبیر کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ پیغمبر آیات الہٰی میں سے کسی چیز کو بھول جائیں گے ، یا ان کی گفتگو سے اطمینان قلب ہوجائے گا۔

مقصود کلام یہ ہے کہ آیات الہٰی کو یادر کھنے کی نعمت خدا کی طرف سے ہے ، لہٰذا جس وقت وہ چاہے اسے پیغمبر سے چھین سکتا ہے ، یا دوسرے لفظوں میں ہدف و مقصد خدا کے علم ذاتی اور اس کے پیغمبر کے علم وہبی کے درمیان جو فرق ہے اس کو بیان کرنا ہے۔

یہ آیت حقیقت میں اس چیز کے مشابہ ہے جو سورہ ہود کی آیت ۱۰۸ میں اہل بہشت کے جنت میں ہمیشہ رہنے کے بارے میں آئی ہے( و اما الذین سعدوا ففی الجنة خالدین فیها مادامت السماوات و الارض الاَّ ما شاء ربک عطاء غیر مجذوذ )

سعادتمند ہمیشہ جنت میں رہیں گے ، جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں وہ جو تیرا پروردگار چاہے ،یہ عطا ہے جو کبھی منقطع نہیں ہو گی“۔

یہ طے شدہ بات ہے کہ اہل جنت ہمیشہ جنت میں رہیں گے اور آیت کا آخری حصہ گواہ ہے :( الاَّ ما شاء ربک ) کا جملہ خداکے ارادے اورحاکمیت کی طرف اشارہ ہے اور اس طرف اشارہ ہے کہ ہر چیز اس کی مشیت سے ربط رکھتی ہے ، اپنی ابتدا و خلقت میں بھی اور بقاء و استمرار میں بھی ۔

من جملہ ان امور کے جو اس موضوع کے گواہ ہیں ، یہ ہے کہ خدا اپنے پیغمبر کے لئے ایک نعمت کے طور پر بیان کرے ۔ لہٰذا مراد تمام آیاتِ قرآن اور احکام و معارف اسلام کا حفظ اور یاد رکھنا ہے ۔

بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس اثناء سے مراد وہ آیتیں ہیں جنکے معنی اور تلاوت دونوں منسوخ ہو گئے ہیں ، لیکن یہ تفسیر بہت بعید نظر آتی ہے اصولی طور پر اس قسم کی آیات کا وجود ہی ثابت نہیں ہے ۔

بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی پیش کیا ہے کہ استثناء قرأت سے متعلق ہے ۔ اس لئے کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہم عنقریب تیرے لئے قرأت کریں گے اور اپنی آیات کو بیان کریں گے، مگر وہ آیات کے سیاق کی طرف توجہ کرتے ہوئے بعید نظر آتی ہے( انه یعلم الجهر و ما یخفیٰ ) کا جملہ حقیقت میں ا س مفہوم کی علت کا بیان ہے جو سنقرئک کے جملہ میں آیاہے ، جو اس طرف اشارہ ہے کہ وہ خدا جو تمام آشکار و پنہاں حقائق سے باخبر ہے، وہ تجھ پر نوعِ بشر کی احتیاجات میں سے باقی رہ جانے والی چیزیں وحی کے ذریعہ القا کرتا ہے اور اس سلسلہ میں کسی چیز کو نظر انداز نہیں کرے گا۔

یہ احتمال بھی ہے کہ مراد یہ ہوکہ پیغمبر وحی کے حصول میں عجلت نہ کریں اور بھول چوک کا خوف نہ رکھیں ، اسلئے کہ وہ خدا ، جو آشکار و پنہاں حقائق کاعلم ہے ، اس نے وعدہ کیا ہے کہ پیغمبر کو نسیان نہیں ہوگا ۔

بہر حال یہ پیغمبر ِ اسلام کا ایک معجزہ ہے کہ طولانی آیات کو جبرائیل کے ایک ہی مرتبہ تلاوت کرنے سے یاد کرلیتے ، ہمیشہ یاد رکھتے اور کوئی بات بھی نہیں بھولتے تھے۔

اس کے بعد پیغمبر کی دلداری کرتے ہوئے مزید کہتا ہے :”ہم تجھے ہر اچھے کام کے انجام دینے کی تو فیق دیں گے “۔( ونیسرک للیسریٰ ) (۱)

دوسرے لفظوں میں مقصودِ کلام یہ ہے کہ ا س راستہ میں جو تجھے در پیش ہے ، بہت سی سختیاں اور مشکلات ہیں ، وحی کے اخذ کرنے اور اسے یاد رکھنے کی راہ میں بھی ، تبلیغ رسالت میں بھی اور اچھے کام انجام دینے میں بھی ، ہم ان تمام امور میں ( وحی کے حصول ، اس کی تبلیغ ، نشر و اشاعت، تعلیم دینے اور اس پر عمل کرنے میں ) تیری مدد کریں گے اور مشکلات کو تجھ پر آسان کردیں گے

یہ جملہ ، ہو سکتا ہے کہ دعوت فکر ِ پیغمبر کے نفس مضمون ، پیغمبر کی ذمہ داریوں اور خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے لائحہ عمل کی طرف بھی اشارہ ہو ، یعنی اس کا مفہوم و مضمون آسان ہے ، اس کی شریعت شریعت سہلہ ہے اور اس کی خدائی دین میں حوصلہ شکن تکلیفیں اور ذمہ داریاں نہیں ہیں ۔

اس بناپر مندرجہ بالا آیات کا ایک بہت ہی وسیع مفہوم ہے ۔ اگر چہ بہت سے مفسرین نے اسے ایک ہی جہت میں محدود کردیا ہے ، اور واقعی کار خدا کی مدد ، توفیق اور نصرت نہ ہوتی تو ان مشکلات پر پیغمبر کاقابو پانا ممکن نہیں تھا ، خود پیغمبر اسلام کی زندگی بھی اس حقیقت کی تعلیم کا ایک نمونہ تھی ، آپ کسی چیز میں بھی ، قطع نظر اس سے کہ لباس ، خوراک، سواری یا زندگی کے دوسرے وسائل میں سخت گیر نہیں تھے ۔ ہر مناسب غذا کھالیتے ، ہر قسم کا لباس باعثِ عیب و نقص نہ ہوتا ، زیب تن فرمالیتے ، کبھی بستر پر آرام کرتے ، کبھی عام فرش پر ، حتیٰ کبھی بیابان کے ریت پر ، نیز آپ ہر قسم کے تعلق اور تقید سے آزاد تھے ۔

پیغمبر اسلام پر وحی آسمانی کی موہبت و نعمت اور آپ کے لئے توفیق اور تسہیل امور کے وعدے کے بیان کرنے کے بعد آپ کی اہم ترین ذمہ داری کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” پس تذکرمفید ہو “( فذکر انفعت الذکریٰ ) بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تذکربہر حال مفید ہے ، وہ افراد جو اس سے کسی طرح بھی مستفید نہ ہوں ، وہ بہت کم ہیں ، علاوہ ازیں اور کچھ نہیں کم از کم منکرین پر اتمام حجت کا سبب تو ہے ، جو بجائے خود ایک بہت بڑی منفعت ہے ۔ ۲

جبکہ بعض کا نظریہ ہے کہ آیت میں کچھ محذوف ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ تذکرکردار اور یاد دہانی کراچاہے مفید ہو یا نہ و( فذکر ان نفعت الذکرٰ اولم تنفع ) یہ حقیقت میں اس چیز کے مشابہ ہے جو سورہ نحل کی آیت ۸۱ میں آئی ہے( و جعل لکم سرابیل تقیکم الحر ) خدا نے تمہارے لئے پیراہن قرار دیئے ہیں ، جو تمہیں گرمی ( سردی ) سے محفوظ رکھتے ہیں ۔

اس آیت میں صرف گرمی کا ذکر ہو اہے اوردوسری قرینہِ تقابل سے معلوم ہوتی ہے لیکن بعض مفسرین کا اصرار ہے کہ جملہ شرطیہ یہاں مفہوم رکھتا ہے اور مراد یہ ہے کہ وہاں تذکر کرجہاں مفید ہو او رجہاں کوئی فائدہ نہ ہو تو پھر اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔

یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ” ان “ یہاں شرطیہ نہ ہو بلکہ ”قد“ کے معنی میں تاکید و تحقیق کے لئے ہو اور جملہ کا مفہوم یہ ہو کہ تذکر مفید و فائدہ بخش ہے ۔ ان چاروں تفسیروں میں سب سے زیاد ہ مناسب پہلی تفسیر ہے ۔

پیغمبر اسلام کا لائحہ عمل بھی اس پر گواہ ہے کہ وہ اپنی تبلیغات و تذکرات کے لئے کسی قسم کی قید و شرط کے قائل نہیں تھے ، سب کو وعظ و نصیحت کرتے اور خوفِ خدا دلاتے تھے ۔

بعد والی آیت میں تذکر، وعظ اور انذار کے مقابلہ میں لوگوں کے رد عمل کو پیش کرتا ہے اور انہیں دو گروہوں میں تقسیم کرتے ہوئے فرماتا ہے : عنقریب و ہ لوگ جو خد اسے ڈرتے ہیں اور مسئولیت و ذمہ داری کا احساس کرتے ہیں ، متذکر ہوں گے “( سیذکر من یخشیٰ )

جی ہاں جب روح میں خوف خدا اور خشیت الہٰی نہ ہو ، یا دوسرے لفظوں میں حق طلبی اور حق جوئی کی روح انسان میں نہ ہو ، جو تقویٰ کاایک مرتبہ مواعظ الٰہیہ اور تذکراتِ انبییاء فائدہ نہیں پہنچاتے۔ اسی لئے سورہ بقرہ کے آغاز میں پروردگار قرآن کو پرہیز گاروں کے لئے سبب ہدایت شمار کرتے ہوئے فرماتا ہے :( هدیً للمتقین ) ایک بعد والی آیت میں ایک دوسرے گروہ کو پیش کرتے ہوئے مزید ارشادہوتا ہے :” لیکن زیادہ بد بخت افراد اس سے دوری کرتے ہیں “( ویتجنبها الاشقی ) ۔(۳)

بعض روایا ت میں آیا ہے کہ ابن عباس کہتے ہیں کہ آیت ( سیذکر من یخشیٰ) عبد اللہ ابن مکتوم ،۔پاک دل و حق طلب نابینا کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ( یتجنبها الاشقیٰ ) ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیعہ کے بارے میں ہے کہ کفار ومشرکین کے سر غنہ تھے ۔(۴)

بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اشقیٰ سے مراد یہاں معاندین اور دشمنان حق ہیں ، اس لئے کہ لوگو ں کے تین گروہ ہیں : ایک عارف و آگاہ گروہ ، دوسرا، متوقف اور شک کرنے والاگروہ اور تیسرا گروہ دشمنی کرنے والا گروہ ۔ فطری و طبعی امر ہے کہ پہلا اور دوسرا گروہ تو فہمائش سے فائدہ اٹھا تے ہیں ۔ صرف تیسرا گروہ ہے جو مشیت سے فائدہ نہیں اٹھا تا ۔ ان کے بارے میں فہمائش کی تاثیر صرف وہی اتمام حجت ہے جس ذکر کیا گیا ۔

اس آیت سے ضمنی طور پرمعلوم ہوتاہے کہ پیغمبر اسلام تیسرے گروہ کو بھی اپنی فہمائش سے مستفید فرماتے تھے ، لیکن وہ لوگ دوری اختیار کرتے اور روگرداں ہوتے تھے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان دونوں آیتوں میں شقاوت و خشیت کا نقطہ مقابل قرار دیا گیا ہے جبکہ قاعدةً اسے سعادت کے مقابلہ میں قرار پانا چاہئیے تھا یہ اس بناپر ہے کہ انسان کی سعادت اور خوش بختی کا اصل سبب مسئولیت و ذمہ داری کا احساس اور خشیت ہی ہے ۔

بعد والی آیت میں آخری گروہ کی سر نوشت اس طرح بیان فرماتاہے :” وہ شقی جو دوزخ کی عظیم آگ میں داخل ہو گا اور وہاں قرار پائے گا“( الذی یصلی النار الکبریٰ ) پھر اس آگ میں ہمیشہ رہے گا ، نہ مرے گا اور نہ زندہ رہے گا ۔( ثم لایموت فیها ولا یحییٰ ) یعنی نہ تو مرےگا تاکہ آسودہ ہو اور نہ اس حالت کو جس میں وہ زندگی کا نام دیا جا سکتا ہے ۔ ۔ وہ ہمیشہ زندگی اور موت کے درمیان ہاتھ پاو ں مارتا رہے گا ، جو کیفیت ایسے افراد کے لئے بد ترین بلا و مصیبت ہے ۔

( النارالکبریٰ ) سے کیا مراد ہے ؟ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ جہنم کا سب سے نچلا طبقہ اسفل السافلین ہے ۔ ایسا کیوں نہ ہوکہ وہ شقی ترین اور معاند ترین لوگ ہیں ۔ لہٰذا ان پر نازل ہونے والا عذاب بھی سخت ترین اور ہولناک ترین ہونا چاہئیے ، لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس آگ کی لفظ کبریٰ کے ساتھ توصیف آتشِ صغریٰ کے مقابلہ میں ہے ، یعنی اس دنیا کی آگ کے مقابلہ میں ، جیسا کہ ایک حدیث میں آیاہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

(ان نارکم هٰذه جزء من سبعین جزء من نارجهنم و قد اطفئت سبعین مرة بالماء ثم التهبت ولولا ذالک ما استطاع ادمی ان یطیقها )۔ ” یہ تمہاری آگ جہنم کی آگ کی ستر اجزاء میں سے ایک ہے ۔ وہ پانی سے ستر مرتبہ دھوئی گئی پھر بھی وہ بھڑک اٹھی ۔ اگر ایسانہ ہو تا تو پھر کوئی آدمی اس کے تحمل کی طاقت نہ رکھتا اور ا سکے قریب نہ ٹھہر سکتا ۔(۵)

مشہور دعا ئے کمیل جو امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام ہے اس میں دنیا کی آگ اور آخرت کی آگ کے موازنہ میں ہم پڑھتے ہیں (علیٰ ان ذالک بلاء و مکروه مکثه یسیر بقائه قصیر مدته ) یہ ایسی بل ااو رمکروہ و ناپسندیدہ چیز ہے جس میں توقف کم ہے ، اس کی بقا مختصر ہے اور اس کی مدت تھوڑی ہے ۔

____________________

۱۔ بعض نے کہا ہے کہ واقعی آیت کا مفہوم ونیسرک الیسریٰ لک تھا ، اور تاکید کے عنوان سے تقدیم و تاخیر ہوئی ہے اور نیسرک للیسریٰ ہو گیا ہے ۔ البتہ یہ اس صورت میں ہے کہنیسرک نوفقک کے معنی میں نہ ہو ورنہ تقدیم و تاخیر کی ضرورت نہیں ہے ۔

۲۔ اور یہ جو قرآن کہتاہے ”سواء علیهم ء انذرتهم ام لم تنذر هم لا یو منون “ان کے لئے برابر ہے چاہے تو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے ۔وہ ایمان نہیں لائیں گے۔(بقرہ۔ ۶) یہ لوگوں کی صرف ایک اقلیت کے لئے ، ورنہ اکثریت بہر حال اچھی باتوں کا اثر لیتی ہے ، البتہ بعض لوگ بہت زیادہ اور اس کے بر عکس بعض لوگ بہت کم اثر لیتے ہیں ۔ لیکن بہر حال سنجیدہ باتیں عام طور پر اثر کرتی ہیں ۔ اس وجہ سے یہاں جملہ شرطیہ قید غالب کی قبیل سے ہے جو اثر نہیں رکھتی ۔

۳۔ یتجنبھا کی ضمیر ذکریٰ کی طرف لوٹتی ہے جو گزشتہ آیات میں آیا ہے ۔( غور کیجئے)

۴۔تفسیر قرطبی ، جلد ۱۰، ص ۷۱۱۰ دوسرا حصہ تفسیر کشاف و روح المعانی زیر بحث آیات کے ذیل میں ۔

۵۔ بحار الانوار ، جلد ۸، ص ۲۸۸، حدیث ۲۱۔


آیات ۱۴،۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۱۹

۱۴ ۔( قد افلح من تزکیٰ ) ۔

۱۵ ۔( و ذکراسم ربه فصلیٰ ) ۔

۱۶ ۔( بل تو ثرون الحیٰوةَ الدنیا ) ۔

۱۷ ۔( و الآخرةُ خیر وَّ ابقیٰ ) ۔

۱۸ ۔( انّ هٰذا لفی الصحفِ الاولیٰ ) ۔

۱۹ ۔( صحف ابراهیم و موسیٰ ) ۔

ترجمہ

۱۴ ۔ یقینا وہ رستگار ہوگا جو تزکیہ کرے ۔

۱۵ ۔ اور اپنے پر وردگار کے نام کا ذکر کرے اور نماز پڑھے ۔

۱۶ ۔ بلکہ تم دنیا کی زندگی کو مقدم سمجھتے ہو۔

۱۷ ۔ جب کہ آخرت زیادہ پائیدار اور بہتر ہے ۔

۱۸ ۔ یہ احکام پہلی آسمانی کتب میں آچکے ہیں ۔

۱۹ ۔ کتاب ابراہیم و موسیٰ میں ۔

وہ دستور العمل جو تمام آسمانی کتب میں آیاہے

گزشتہ آیات میں کفار اور دشمنان ِ حق کے بارے میں سخت سزا کا اشارہ ہوا ہے ، زیر بحث آیات میں اہل ایمان کی نجات اور اس نجات کے اسباب و عوامل کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ پہلے فرماتاہے :

” یقینا وہ شخص فلاح پائے گا جو اپنا تزکیہ کرے “( قد افلح من تزکیّٰ ) ۔ اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرے اور اس کے بعد نماز پڑھے ( وذکراسم ربہ فصلی) اس طرح فلاح و رستگاری اور کامیابی و نجات کے عوامل ان تین چیزوں کو بتایا ہے ، تزکیہ، نام خداکا ذکر اور اس کے بعد نماز پڑھنا ۔

تزکیہ سے مراد کیاہے ؟ اس سلسلہ میں علماء نے مختلف تفسیریں کی ہیں ۔ پہلی روح کو نجاستِ شرک سے پاک کرنا ہے ، گزشتہ آیات کے قرینہ سے ، نیز اس قرین سے بھی کہ اہم ترین تطہیر شرک سے تطہیر ہے ۔

دوسری یہ کہ تزکیہ سے مراد دل کو اخلاقی رزائل سے پاک کرنا اور اعمال صالح بجا لانا ہے ۔ قرآن مجید میں آیات فلاح کے نقطہ نظر سے دوسری آیات کے علاوہ سورہ مومنین کے آغاز کی ا ٓیتیں ہیں جو فلاح کو اعمال صالح کی روح قرار دیتی ہےں اور سورہ شمس آیت ۹ کے حوالے سے جس میں تقویٰ اور فجور کے بیان کے بعد فرماتاہے :( قد افلح من زکّٰها ) وہ فلاح پا گیا جس نے اپنے نفس کو فسق و فجور اور دوسرے برے اعمال سے پاک کیااور تقویٰ سے آرستہ کیا۔

تیسری تفسیر یہ ہے کہ زکیٰ سے مراد زکوٰة فطرہ دینا ہے ۔ عید فطرسے پہلے زکوٰة فطرہ ادا کی جائے ، پھر نماز عید پڑھی جائے ۔ جیساکہ متعدد روایات میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے ۔ ۱ ۔ اور یہی معانی منابع اہل سنت میں امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہیں ۔(۲)

یہاں سوال پید اہوتا ہے کہ سورہ اعلیٰ مکی ہے اور مکہ میں نہ زکوٰة فطرہ مقرر ہو ئی تھی ، نہ ماہ رمضان کے روزے ، نہ نمازِ عید ہی اور فطرہ کے مراسم ۔اس سوال کے جواب میں بعض مفسرین نے کہا ہے کہ کوئی مانع نہیں ہے کہ اس سورہ کا پہلا حصہ مکہ میں نازل ہوا ہو اور ذیلی حصہ مدینہ میں ۔ یہ احتمال بھی قوی طور پر موجود ہے کہ مندرجہ بالاتفسیر ایک واضح مصداق کے بیان کی قبیل سے ہو اور آیت کی تطبیق کسی واضح فرد پرہو ، بعض نے یہاں تزکیہ کو مالی صدقہ دینے کے معنی میں سمجھا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ تزکیہ کے وسیع معانی ہیں ۔ یہ روح سے شرک کی آلود گی کو دور کرنے کے معنی میں بھی ہے، اخلاقِ رزیلہ سے خود کو پاک کرنے کے معنی میں بھی ، ہر قسم کے مکر و ریا سے پاک کرنے کے معنی میں بھی اور راہ خدا میں زکوٰة دے کر مال و جان کی تطہیر کے معنی میں بھی اس لئے کہ سورہ توبہ آیت ۱۰۳ ۔( خذ من اموالهم صدقة تطهر هم و تزکییهم بها ) ”ان کے مال میں سے صدقہ ( زکوٰة ) لے تاکہ انہیں اس کے ذریعہ پا ک کرے اور ان کا تزکیہ کرے “ ۔ کے مطابق زکوٰة کا دینا روح و جان کی پاکیزگی کا سبب ہے ۔

اس بناپر تمام تفسیریں آیت کے وسیع معنی کے اعتبار سے ممکن ہے کہ ٹھیک ہوں ۔ قابل توجہ یہ بات ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں پہلے تزکیہ ، اس کے بعد پروردگار کا ذکر اور پھر نماز کی بات ہوئی ہے ۔

بعض مفسرین کے بقول مکلف کے تین عملی مراحل ہیں ، پہلا دل سے فاسد عقیدہ کا ازالہ ، اس کے بعد اللہ کی معرفت اور اس کے صفات و اسماء کا دل میں حضور ، اور تیسرا مشغلہ ہے ” اشتغال بخدمت“ مندرجہ ذیل بالا آیت نے تین مختصر جملوں میں ان تینوں مرحلوں کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ نما زکا ذکر پر وردگا رکی فرع شمار کیا گیا ہے ۔ یہ اس بناء پر ہے کہ جب تک اس کی یاد میں محو نہ ہو اور نور ایمان دل میں سایہ فگن نہ ہو اس وقت تک بندہ نما زکے لئے کھڑا نہیں ہوتا ۔ علاوہ از این وہ نماز قدر و قیمت رکھتی ہے جس کے ساتھ اس کا ذکر بھی ہو اور وہ اس کی یاد کو ساتھ لئے ہوئے ہو اور یہ جو بعض لوگوں نے ذکر پروردگار سے مراد صرف اللہ اکبر یا بسم اللہ الرحمن الرحیم کو لیا ہے ، یہ در حقیقت اس کی بعض مصادیق کا بیان ہے ۔

اس کے بعد اس فلاح و رستگاری کے دستور العمل سے انحراف کے اصلی عامل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے :” بلکہ تم دنیاوی زندگی کو مقدم رکھتے ہو اور اسے ترجیح دیتے ہو“( بل تو ثرون الحیٰوة الدنیا ) جبکہ آخرت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے( و الآخرة خیر و ابقیٰ ) ۔

یہ حقیقت میں وہی مفہوم ہے جو احادیث میں بھی آیاہے (حب الدنیا رأس کل خطئة ) ” دنیا کی محبت ہر گناہ کا سر چشمہ ہے “۔(۴)

حالانکہ عقل کبھی اجازت نہیں دیتی کہ انسان سرائے باقی کو متاعِ فانی کے بدلے فروخت کرے اور اور ان مختصر سی لذتوں کو جو انواع و اقسام کے درد و رنج ساتھ لئے ہوئے ہیں ان تمام جاودانی اور ہر قسم کی تکالیف سے مبرانعمتوں پر مقدم سمجھے اور ان پر ترجیح دے ۔

انجام کار سورے کے آخر میں فرماتاہے :” یہ احکام جو بتائے گئے ہیں اس کتاب ِ آسمانی ہی میں محدود نہیں ہیں بلکہ پہلی کتب اور صحف میں بھی آچکے ہیں “۔( انّ هٰذا الصحف الاولیٰ ) یعنی صحفِ و کتب ابراہیم و موسیٰ میں ۔( صحف ابراهیم و موسیٰ ) ۔(۵)

یہ بات کہ ھٰذا کامشارالیہ کیاہے اس سلسلہ میں کئی نظر یات موجود ہیں ۔ ایک جماعت نے کہا ہے کہ تزکیہ ، نماز اور حیاتِ دنیا کو آخرت پرترجیح نہ دینے کے آخری حکم کے سلسلہ میں اشارہ ہے ، اس لئے کہ یہی انبیاء کی سب سے اہم او ربنیادی تعلیمات تھیں اور نا کا بیاں تمام کتب آسمانی میں موجود ہے ۔

بعض دوسرے مفسرین اس کو ساری سورة کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ، اس لئے کہ سورة توحید سے شروع ہوتی ہے اور نبوت کاتذکرہ جاری رکھتے ہوئے عملی دستور العمل پر ختم ہوجاتی ہے ۔ بہر حال یہ تعبیر بتاتی ہے کہ اس سورہ کا اہم مضمون ، بالخصوص آخری آیات عالم ادیان کے اصول اساسی میں سے ہے ۔ ، تمام انبیاء کی بنیادی تعلیمات میں سے ہے اور یہ خود اس سورة کی عظمت اور ان کی تعلیمات کی اہمیت کی نشانی ہے ۔

” صحف“ صحیفہ کی جمع ہے جو یہاں لوح تختی اور صفحہ کے معنی میں ، جس پر کوئی چیز لکھتے ہیں مندرجہ بالا آیات بتاتی ہیں کہ حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ بھی آسمانی کتابوں کے حامل تھے ۔ ایک روایت حضرت ابو ذر غفاری (رض) سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے پیغمبر اکرم کی خدمت میں عرض کیا کہ انبیاء کی تعداد کیا ہے ، تو آپ نے فرمایا ” ایک لاکھ چوبیس ہزار “ میں نے عرض کیا ” ان میں سے رسول کتنے تھے “؟ فرمایا: تین سو تیرہ اور باقی سب نبی تھے “۔ میں نے عرض کیا ” حضرت آدم بنی تھے ؟ “ فرمایاہاں ۔ خدا نے ان سے کلام کیا اور انہیں اپنے دست قدرت سے خلق فرمایا “۔

اس کے بعد پیغمبر اکرم نے مزید فرمایا:” اے ابو ذر انبیاء میں سے چار افراد عرب تھے : ہود ، صالح ، شعیب ، اور تیرا پیغمبر “۔ میں نے کہا ” اے اللہ کے رسول ! خدا نے کتنی کتابیں نازل فرمائیں ہیں ؟ “ فرمایا: ایک سو چار کتابیں “ دس کتابیں آدم پر پچاس کتابیں شیث پر اور تیس کتابیں اخنوخ پر ، جو ادریس وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا ۔ ابرہیم پر دس کتابیں اور توریت ، انجیل ، زبور اور فرقان ، موسیٰ ، عیسیٰ ، داو د ،اور پیغمبر اسلام پر نازل ہوئیں ۔(۶)

( الصحف الاولیٰ ) کی تعبیر ابراہیم و موسیٰ کی کتب کے بارے میں آخری صحف کے مقابل ہے جو حضرت عیسیٰ اور پیغمبر اسلام پر نازل ہوئے ۔

____________________

۱۔ نور الثقلین، جلد، ۵ ص ۵۵۶ حدیث۱۹تا ۲۱۔

۲۔ روح المعانی ، جلد ۳۰، ص ۱۱۰ اور تفسیر کشاف، جلد ۴، ص ۷۴۰۔

۳۔ تفسیر فخر رازی ، جلد ۳۱، ص ۱۴۷۔

۴۔ یہ حدیث مختلف عبارتوں کے ساتھ امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام زین العابدین علیہ السلام سے ، بلکہ تمام انبیاء سے نقل ہوئی ہے اور یہ اس کی حد سے زیادہ اہمیت کی بناء پر ہے ۔ نور الثقلین ، جلد۵، ص ۵۵۶۔ ۵۵۷۔

۵۔ ہوسکتا ہے کہ صحف ابراہیم و موسیٰ صحف الاولیٰ کی وضاحت ہو، یہ احتمال بھی ہے کہ اس کا بیان اور واضح مصداق ہو، پہلی صورت میں گزشتہ تمام انبیاء کی کتب پر حاوی ہوگا اور دوسری صورت میں صرف ابراہیم و موسیٰ کے صحیفے مراد ہوں گے ۔

۶۔ مجمع البیان، جلد ۱۰، ص ۴۷۶۔


حب الدنیا رأس کل خطیئة کی تحلیل

یقینا مومن افراد کے لئے یہ قرآنی محاسبہ ، جومندرجہ بالا آیات میں آیاہے اور جو دنیا و آخرت کے موازنے کے سلسلہ میں ہے ، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ آخرت بہتر او ر زیادہ پائیدار ہے، مکمل طور پر واضح ہے ۔ لیکن اس کے باوجود مومن اکثر اوقات اپنے علم و آگاہی کو اپنے قدموں تلے روندتا ہے اور گناہوں کا ارتکاب کرتاہے ۔

اس سوال کے جواب میں ایک ہی جملہ دیا جاسکتا ہے کہ یہ سب ان خواہشات کے نتیجے میں ہوتاہے جن کا انسان کے وجود پر غلبہ ہوتاہے اور خواہشات کے غلبہ کا سر چشمہ بھی حب دنیا ہی ہے ۔ حب دنیا میں یہ سب چیزیں شامل ہیں :۔

حب مال ، حب مقام ، شہوت جنسی ، تفوّق طلبی ، تن پروری ، جذبہ انتقام اور اسی قسم کے دیگر امور جو انسان کی روح میں کبھی کبھی اس قسم کاطوفان بر پا کردیتے ہیں کہ اس کی تمام معلومات کو بر باد کردیتے ہیں ، یہاں تک کہ بعض اوقات ا س کی حس تشخیص ہی کو ختم کردیتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ دنیاکی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتاہے ۔

یہ جو بعض اسلامی رویات میں بارہا حب دنیا کو تمام گناہوں کا سر چشمہ بتایا گیا ہے یہ ایک حقیقت واقعی ہے ، جسے ہم نے خود اپنی زندگی اور دوسروں کی زندگی میں بار ہا آزمایا ہے ۔ اسی بناپر گناہ کی جڑوں کو کاٹنے کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ کار نہیں ہے کہ ہم دنیا کی محبت اور ا س کے عشق کو دل سے باہر نکال دیں

ہمیں چاہئیے کہ ہم دنیا کو ایک وسیلہ ، رہگزر ، پل اور کھیتی سمجھیں ۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ دنیا کے عاشق ، دورا ہے پر کھڑے ہیں ، یعنی متاع دنیا کے حصول اور رضائے خد اکے حصول کا دوراہہ وہ کسی دوسری چیز کو ترجیح دیں ۔

اگر ہم اپنے جرائم کے دفتر کو دیکھیں تو مندرجہ بالاآیت کی حقیقت ہمیں اس میں اچھی طرح نظر آئے گی ، اگر ہم لڑائیوں میں ، خونریزیوں اور قتل و غارت کے اسباب و علل کو موردَِ توجہ قرار دیں تو ان سب میں حب دنیا بنائے فساد کے طور پرملے گی ۔

باقی رہا کہ حب دنیا کو کس طرح دل سے نکالا جاسکتا ہے کہ ہم سب ابنائے دنیا ہیں اور ماں سے بیٹے کی محبت ایک امر فطری ہے ۔ یہ چیز فکری تعلیم و تربیت اور تہذیب ِ نفس کی متقاضی ہے ۔ من جملہ ان امو کے جو حب دنیا کو دل سے نکالنے کے خواہشمند لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں ، اہل دنیا کے انجام ِ کار کا مطالعہ ہے ۔

فراعنہ باجود وقوت اور مالی وسائل کے آخر کار کیا کیا ؟ قارون ان خزانوں میں سے ، جن کی چابیاں کئی طاقتور انسا ن مشکل سے اٹھاسکتے تھے ، اپنے ساتھ کیالے کر گیا؟ وہ طاقتیں جنہیں ہم اپنے زمانے میں دیکھتے ہیں ایک موج ہوا کے ذریعہ ان کی زندگی کا چراغ گل کردیاجاتاہے اور صرف ایک گردش لیل و نہار کے نتیجے میں ان کا تحت سلطنت الٹ کر رکھ دیا جاتا ہے ۔ وہ اپنے قصر دولت و ثروت کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ، یا زیر خاک پنہاں ہو جاتے ہیں ۔ یہ سب چیزیں ہمارے لئے بہترین معلم کا کام دے سکتی ہیں ۔

اس وسیع و عریض گفتگو کو ہم امام زین العابدین علیہ السلام کی ایک بہت ہی معنی خیز حدیث پر ختم کرتے ہیں ۔ آنجناب سے کچھ لوگوں نے پوچھا ” خد اکے نزدیک سب سے افضل عمل کونسا ہے ؟آپ نے فرمایا:

(ما من عمل بعد معرفة الله عزل وجل ومعرفة رسول افضل من بغض الدنیا )” خدا اور اس کے رسول کی معرفت کے بعد بغض دنیا سے بہتر کوئی عمل نہیں ہے “۔ اس کے بعد آپ نے مزید فرمایا: ” محبت دنیا بہت سے شعبے ہیں ۔ سب سے پہلی چیز جس کی وجہ سے خدا کی نافرمانی ہوئی ، وہ ابلیس کی نافرمانی تھی ، جس وقت اس نے انکار کیا اور تکبر کر کے کافرین میں سے شمارہو گیا ۔

اس کے بعد حرص تھی جو آدم و حواکے ترک اولیٰ کاسبب بنی ، جس وقت کہ خدا وند متعال نے ان سے فرمایا جنت کی جس جگہ سے چاہوکھاو ، لیکن اس ممنوع درخت کے قریب نہ جانا ورنہ ظالم ہو جاو گے ۔ لیکن وہ اس چیز کی طرف گئے جس کی انہیں ضرورت نہیں تھی ، یہی چیز ان کی اولا دکے لئے قیامت تک باقی رہ گئی ، اس لئے کہ زیادہ تر چیزیں جو انسان طلب کرتا ہے اس کی ضرورت سے تعلق نہیں رکھتیں ۔ ( عام طور ضرورتیں گناہ کا سبب نہیں ہیں ۔ وہ چیزیں جو سبب گناہ ہے وہ ہوا و ہوس اور ضرورت سے زائد امور ہیں )۔

اس کے بعد حسد تھا جو آدم کے بیٹے کا سبب ِ گناہ تھا اس نے اپنے بھائی سے حسد کیا اور اس کو قتل کردیا ۔ اس کے شعبوں میں سے عورتوں کی محبت ، دنیا کی محبت(۱)

حبّ ریاست، حب راحت و آرام ، حب گفتگو و کلام ، حب بر تری اور حب دولت و ثروت ہے ۔ یہ سات صفات ہیں جو سب کی سب حب دنیا میں جمع ہیں ، اسی لئے انبیاء مر سلین اور علماء اعلام نے اس حقیقت سے آگاہی کے لئے کہا ہے کہ ”حبّ الدنیا رأس کل خطیئة ) ۔

خدا وندا! دنیا کی محبت ، جو تمام گناہوں کا سرچشمہ ہے ، اسے ہمارے دلوں سے نکال دے ۔

پروردگارا ! تو خو دہی تکامل و ارتقاء کے پر بیچ راستے میں ہمارا ہاتھ تھام کر منزل ِ مقصود تک ہماری ہدایت فرما۔

بار لہٰا ! تو آشکار و پنہاں سب سے آگاہ ہے ، ہمارے مخفی اور آشکار گناہ اپنے لطف و کرم سے بخش دے ۔

آمین یا رب العالمین

____________________

۱۔ ایسا نظر آتاہے کہ یہاں حب دنیا میں باقی رہنے کی محبت ہے ، جو سات شعبوں میں سے ایک شما رہوتی ہے اور عام طور پر طویل امیدوں میں ظاہر ہوتی ہے ۔ اصول کافی جلد ۲، باب ”حب الدنیا و الحرص علیہا “حدیث ۸۔ اصول کافی کے اس باب میں اس سلسلہ میں ۱۷ روایت نقل ہوئی ہیں ، جو بہت ہی اخلاقی اور تربیتی ہیں ۔


سورہ غاشیہ

یہ سورہ مکہ میں نازل ہو اا س میں ۲۶ آیتیں ہیں

سورہ غاشیہ کی مشتملات اور اس کی فضیلت

یہ سورہ جو مکی سورتوں میں سے ہے ، زیادہ تر تین محوروں کے گردش کرتا ہے ۔

پہلا ۔معاد و قیامت کی بحث ، یا بالخصوص مجرموں کا درد ناک انجام اور مومنوں کو ملنے والا شوق انگیز ثواب ۔

دوسرا۔ توحید کی بحث جو آسمان کی خلقت ، پہاڑوں اور آسمان کی آفرینش کی طرف اشارہ اور انسان کی تین موضوعات کی طرف توجہ کے بیان سے عبارت ہے ۔

تیسرا۔ نبوت کی بحث، پیغمبر اسلام کی فرائض اور ان کی ذمہ داریوں کے بیان پرمبنی ہے ۔

یہ سورہ مجموعی طور پر مکی سورتوں کی مقاصد ہی کو موضوع گفتگوبناتا ہے جن سے ایمان و اعتقاد کو تقویت حاصل ہوتی ہے ۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے سلسلہ میں ایک حدیث پیغمبر اسلام سے منقول ہے (من قرأ ها حاسبه الله حسابا ً یسیراً ) ” جو شخص اس کی تلاوت کرے گا پروردگار عالم بروز قیامت اس کا حساب آسان کردے گا۔

ایک اور حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے ” جو شخص واجب اور مستحب نمازوں میں اس سورہ کی قرأت کی پابندی کرے گا ، خدا سے دنیا و آخرت میں اپنے سایہ رحمت میں جگہ دے گا

یقینا یہ سب ثواب اسی صورت میں انسان کو حاصل ہو گا جب اس کی تلاوت اس کے لئے فکر و عمل کا محرّک ثابت ہو۔

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷

( بسم الله الرحمٰن الرحیم )

۱ ۔( هل اتٰک حدیث الغاشیة ) ۔ ۲ ۔( وجوه یومئذ خاشعةٌ ) ۔ ۳ ۔( عاملة ناصبة ) ۔

۴ ۔( تصلیٰ ناراً حامیة ) ۔ ۵ ۔( تسقیٰ من عینِ اٰنیةٍ ) ۔ ۶ ۔( لیس لهم طعام الاّ مِنْ ضَرِیع ) ۔

۷ ۔( یسمنُ ولا یغنی مِن جوعٍ ) ۔

تر جمہ

رحمن و رحیم خداکے نام سے ۔

۱ ۔کیا غاشیہ( قیامت کا دن جس کے وحشت ناک حوادث سب کا احاطہ کر لیں گے )کی داستان تجھ تک پہنچی ہے ؟

۲ ۔ چہرے اس دن خاشع اورذلت بار ہوں گے ۔

۳ ۔ وہ جنہوں نے ہمیشہ عمل کیا ہے تھک چکے ہیں ( اور کوئی نتیجہ انہیں حاصل نہیں ہوا)۔

۴ ۔ دہکتی آگ میں داخل ہوں گے ۔

۵ ۔ انہیں حد سے زیادہ گرم چشمے سے پلایا جائے گا ۔

۶ ۔ ضریع (بد بو داراور تلخ خشک کاٹنے ) کے علاوہ انہیں اور کوئی کھانا نہیں ملے گا۔

۷ ۔ ایسی غذا جو نہ انہیں موٹا کرے گی اور نہ ان کی بھوک کو ختم کرے گی ۔

بد نصیب تھکے ماندے

اس سورہ کے آغاز میں ہمارا سامنا قیامت کے ایک نئے نام سے ہو اہے جو غاشیہ ہے ۔ فرماتاہے : ” کیا غاشیہ کی داستان تجھ تک پہنچی ہے “۔( هل اتٰک حدیث غاشیة ) ۔

” غاشیة “ غشاوة کے مادہ سے ڈھانپنے کے معنوں میں ہے ۔ قیامت کے لئے اس کانام انتخاب اس وجہ سے ہے کہ اس دن اولین و آخرین حسا ب کے لئے جمع ہو ں گے ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ مراد اس طرح کی آگ ہے جو کافروں اور مجرموں کے چہرے کو ڈھانپ لے گی ۔

پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس آیت میں مخاطب خود پیغمبر کی ذات ِ اقدس ہے اور پیغمبر اسلام سے یہ جملہ استفہام کی شکل میں اس عظیم دن کی اہمیت کے پیش نظر کہا گیا ہے ۔

بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی تجویز کیا ہے کہ ا س آیت میں مخاطب ہر انسان ہے ۔ لیکن یہ مفہوم بعید نظر آتاہے ۔ ا س کے بعد مجرموں کی حالت کو پیش کیا کرتے ہوئے فرماتاہے :

” چہرے اس دن خاشع اور ذلت بارہوں گے“۔( وجوه یومئذٍخاشعة ) ذلت عذاب اور عظیم سزا کے خوف نے اس دن ان کے تمام وجود کو گھیر رکھا ہوگا ، اور چونکہ انسان کے باطنی حالات ہر جگہ سے زیادہ اس کے چہرے سے ظاہر ہوتے ہیں ، لہٰذا خوف، ذلت اور وحشت کی طرف اشارہ کرتا ہے ، جو اس کے تمام چہرے کو ڈھانپ لیں گے ۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں ”وجوہ “سے کفر کے بڑے بڑے لوگ اور سر غنے مراد ہیں ،جو ایک گہری ذلت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ لیکن پہلے معنی زیادہ مناسب نظر آتے ہیں ۔ اس وقت مزید فرماتا ہے :” یہ ایسے لوگ ہیں جو مسلسل کام کرکے تھک چکے ہیں “۔( عاملة ناصبة ) زندگانی دنیا میں بہت زیادہ کوشش کرتے ہیں ، لیکن تھکن کے علاوہ انہیں کوئی فائدہ نصیب نہیں ہوتا، نہ ان کا بار گاہ خدا میں کوئی عمل مقبول ہے اور نہ اس دولت و ثروت میں سے وہ کوئی چیز اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں ، جسے انہون نے جمع کر رکھا ہے ، نہ اپنے بعد وہ کوئی نیک نامی چھوڑ جاتے ہیں ، نہ کوئی اولاد صالح ، وہ محض تھک جانے والے زحمت کش ہیں ، کتنی بہترین اور عمدہ تعبیر ہے( عاملة ناصبة )

بعض مفسرین نے اس جملہ کی تفسیر میں کہا ہے کہ مراد یہ ہے کہ اس نیا میں وہ عمل کرتے ہیں لیکن اس کی خستگی و رنج و تکلیف اپنے ساتھ آخرت میں لے جاتے ہیں ۔

بعض نے کہا ہے کہ مجرموں سے دوزخ میں محنت ِشاقّہ لی جائے گی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ عذاب جھیلیں ۔ لیکن ان تینوں تفسیروں میں سے پہلی تفسیر زیادہ صحیح نظر آتی ہے ۔

آخر کار یہ خستہ ، تھکے ہوئے اور فضول کام کرنے والے زحمت کش بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور اس میں جلیں گے ۔( تصلیٰ ناراً حامیةً ) ” تصلیٰ“ صلی ( بروزن نفی) کے مادہ سے آگ میں داخل ہونے اور اس میں جلنے کے معنی میں ہے (صلی بالنار ای لزمها و احترق بها ) آگ میں ہمیشہ رہا اور جلتارہا “۔

لیکن ان کا عذاب اسی پر ختم نہیں ہوگا ، جب وہ آگ کی حرارت کی وجہ سے پیا س میں مبتلا ہوں گے توحد سے زیادہ کھولتے ہوئے چشمے سے انہیں پلایا جائے گا ۔( تسقیٰ من عین اٰنیة ) ” اٰنیة“ مونث ہے اٰنی کے ( انی بروزن حلی) مادہ سے جو تاخیر میں ڈالنے کے معنی میں ہے او ر کسی چیز کے بیان کرنے کے وقت کے پہنچ جانے کے لئے بولا جاتاہے ۔ یہاں ایسے جلانے والے پانے کے معنی میں ہے جس کی حرارت اپنی انتہاکو پہنچی ہوئی ہو۔

سورہ کہف کی آیت ۲۹ میں ہم پڑھتے ہیں( و ان یستغیثوا یغاثوا بماء کلمهل یشوی الجوه بٴس الشواب وسا ء ت مرتفقاً )

اور اگر پانی مانگیں گے تو ان کے لئے ایسا پانی لائیں گے جو کسی پگھلی ہوئی دھات کی طرح ہوگا جو ان کے چہروں کو بھون دے گا ۔ وہ کتنا بر ا مشروب ہے اور وہ محل اجتماع کتنا بر اہے ۔

بات بعد والی آیت میں ان کی خوراک کے بارے میں ، جبکہ وہ بھوکے ہوں گے ، مزید فرماتاہے :” وہ ضریع کے علاوہ کوئی غذا نہیں رکھتے “۔( لیس لهم طعام الاَّ من ضریع ) یہ ضریع کیا ہے؟ اس سلسلہ میں مفسرین کے پاس مختلف تفسیر ہیں ، بعض نے کہا ہے کہ ایک قسم کا کانٹا ہے جو زمین سے چمٹ جاتاہے ، اگر وہ تر ہو تو قریس اسے شبرق کہتے تھے اور جب خشک ہوتا تو ضریع کہتے ۔ وہ ایک زہریلی گھاس ہے جسے کوئی جانور منھ نہیں لگاتا ۔(۱)

علمائے لغت میں سے خلیل کا کہنا ہے کہ ضریع بد بو دار اور سبز گھاس ہے جو دریا سے باہر آن گر تی ہے ، ابن عباس نے کہا ہے کہ یہ آتش جہنم کایک درخت ہے جو اگر دنیا میں ہوتو زمین اور جو کچھ اس میں ہے اس سب کو جلا کر فنا کردے ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے کہ ضریع دوزخ کی آگ میں ایک چیز ہے جو کانٹے کی طرح ہے ، حنظل سے زیادہ تلخ اور مردار سے زیادہ بد بو دار، آگ سے زیادہ جلانے والی ہے ۔ خدا نے ا سکانام ضریع رکھا ہے (الضریع شیء یکون فی النار یشبه الشوک اشد مرارة من الصبر و انتن من الجیفة و احر من النار سماه الله ضریعاً ) بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ضریع ایک ذیل غذا ہے کہ جہنمی جس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے بارگاہ خدا میں تضرع کریں گے )۔(۲)

( ہم اس بات کو نہ بھول جائیں کہ ضرع کا مادہ ضعف ، ذلّت اور خضوع کے معنی ہے ۔(۳)

یہ تفاسیر ایک دوسرے کے ساتھ منافات نہیں رکھتی اور ہوسکتا ہے کہ اس لفظ کے معنی میں یہ سب جمع ہوں ۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتاہے : نہ وہ انہیں موٹا کرتاہے نہ ان کی بھوک کو ختم کرتا ہے “۔( لایسمن و لایغنی من جوع ) ۔ یقینا اس قسم کی غذا نہ جسم کی تقویت کے لئے اور نہ بھوک کو ختم کرنے کے لئے ہے ۔ وہ ایک ایسی غذا ہے جو بجائے خود ایک عذاب ہے جیسا کہ سورہ مزمل کی آیت ۱۳ میں ہم پڑھتے ہیں :

( و طعاماً ذاعصة و عذابا الیما ) ً ) ہمارے پاس گلے میں پھندہ لگانے والی غذائیں ہیں اور وہ دردناک عذاب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس دنیا میں انواع و اقسام کی لذیذ، مرغن اور شیریں غذائیں دوسروں پر ظلم کرکے فراہم کی ہیں اور جنہوں نے محروم لوگوں کو ناگوار غذائیں کھانے کے علاوہ اور کسی غذا کے حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا ، ضروری ہے کہ وہاں ان کی ایسی غذا ہو جو ان کے لئے عذاب ِ الیم بنے ۔ البتہ جیساکہ ہم نے بار ہاکہا ہے جنت کی نعمتیں اور دوزخ کی عذاب دونوں ہم جیسے اسیروں زندگی کے لئے ناقابل تشریح ہیں ۔ یہ سب اشارے ہیں جنہیں ہم سمجھنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔

____________________

۱۔ تفسیر قرطبی ، جلد ۱۰ ، ص۷۱۱۹۔

۲۔ تفسیر قرطبی ، جلد ۱۰ ، ص۷۱۲۰۔

۳۔ایک اور بحث دوزخیوں کی غذا کے بارے میں جسے قرآن کبھی ضریع کبھی زقول اورکبھی غسلین کے نام سے یاد کرتا ہے اور ان تعبیرات میں فرق ہے ۔ یہ سب تفسیر نمونہ کی جلد ۱۴،پر سورہ حاقہ کی آیت ۳۶ کے ذیل میں ہم پیش کرچکے ہیں


آیات ۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶

۸ ۔( وجوه یومئذ ناعمة ) ۔ ۹ ۔( لسعیها راضیة ) ۔ ۱۰ ۔( فی جنّة عالیة ) ۔

۱۱ ۔( لایسمع فیها لاغیةً ) ۔ ۱۲ ۔( فیها عین جاریةٌ ) ۔ ۱۳ ۔( فیها سرور مرفوعةٌ ) ۔

۱۴ ۔( و اکواب موضوعةٌ ) ۔ ۱۵ ۔( ونمارقُ مصفوفةٌ ) ۔ ۱۶ ۔( و زرابیُّ مبثوثةٌ ) ۔

ترجمہ

۸ ۔ اس دن کچھ چہرے شاداب ہوں گے ۔ ۹ ۔ اس لئے کہ اپنی کوشش سے مسرور ہوں گے ۔

۱۰ ۔ جو بہشت عالی میں ہوں گے ۔ ۱۱ ۔ جس میں تو کوئی لغو اور بیہودہ بات نہیں سنے گا۔

۱۲ ۔ اس میں چشمے جاری ہیں ۔ ۱۳ ۔ اس میں خوبصورت بلند تخت ہوں گے ۔

۱۴ ۔ اور پیالے جو ان چشموں کے پاس رکھے ہوں گے۔ ۱۵ ۔ اور تکیے جو صف بستہ ہوں گے ۔

۱۶ ۔ اور بچھے ہوئے فاخرہ فرش ہوں گے ۔

بہشت کی روح پرور نعمتوں کے مناظر

اس تشریح کے بعد جو گزشتہ آیات میں دوسری دنیا میں مجرموں او ربد کاروں کی حالت اور جہنم کے عذاب کے بارے میں آئی تھی ، ان آیتوں میں نیکو کار مومنین کی حالت کی تشریح اور جنت کی بے نظیر نعمتوں کی توصیف پیش کرتا ہے تاکہ قہر کو مہر سے ملا دے اور انذار کو بشارت سے مربوط کردے ، فرماتا ہے :

” چہرے اس دن پرطراوت اورمسرور ہوں گے “( وجوه یومئذً ناعمة ) بد کاروں کے چہروں کے برعکس ، جن کی طرف گزشتہ آیات میں اشارہ ہواہے کہ وہ ذلت و اندوہ میں غرق ہوں گے ۔

”ناعمة“ نعمت کے مادہ سے یہاں ایسے چہروں کی طرف اشارہ ہے جو نعمت سے سر شار ، ترو تازہ شاداب اور مسرور و نورانی ہوں گے ، جیسا کہ سورہ مطففین کی آیت ۲۴ میں آیاہے کہ جنتیوں کی توصیف میں فرماتا ہے :( تعرف فی وجوههم نضرة النعیم ) ” ان کے چہروں میں تجھے طراوت او رنعمت کی شادابی نظر آئے گی“۔ یہ چہرے ایسے نظر آئیں گے کہ وہ اپنی سعی و کوشش سے راضی اور خوش ہوں گے( لسعیها راضیة ) دوزخیوں کے برعکس جنہوں نے اپنی سعی و کوشش سے سوائے تھکن اور رنج کے اور کچھ حاصل نہیں کیا( عاملة ناصبة ) ۔

بہشتی اپنی سعی و کو شش کو احسن وجہ سے دیکھیں گے اور مکمل طور پر راضی اور خوش ہوں گے ، ایسی سعی و کوشش جولطفِ خدا کے پر توکے سائے میں کبھی کئی گنا، کبھی دس گنا اور کبھی سات سو گنا اور کبھی اس سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہو۔ اور کبھی اس سے بے حد و حساب وجزا حاصل کر چکے ہوں گے( انما فی الصابرون اجرهم بغیر حساب ) ( زمر۔ ۱۰) ۔

اس کے بعد اس مفہوم کی شرح پیش کرتاہے اور فرماتا ہے :”وہ بہشت عالی میں قرار پائے ہیں “( فی جنة عالیة ) لفظ ”عالیة“ ممکن ہے کہ علو ّمکانی کی طرف اشارہ ہو ، یعنی وہ جنت کے عالی طبقات میں ہیں ، یا یہ علو مکانی ہے ۔ مفسرین نے دونوں احتمال تجویز کئے ہیں ، لیکن دوسری تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے ، اگر چہ دونوں کے درمیان جمع بھی ممکن ہے ۔

اس کے بعد اس جنت کی ایک اور صفت ، جوروحانی او رمعنوی پہلو رکھتی ہے ، بیان فرماتا ہے : ” وہاں تو کوئی اور لغو اور بیہودہ بات نہیں سنے گا“( لایسمع فیها لاغیة ) (۱)

نہ ایسی بات جو نفاق کاپہلو لئے ہوئے ہو، نہ عداوت و جنگ و جدال کی ، نہ کینہ پروری اور حسد کی ، نہ جھوٹ نہ تہمت و افترا ، نہ غیبت ،نہ لغوو بے فائدہ ۔ وہ ماحول کیسا آرام دہ ہوگا جو ان فضولیات سے پاک و مبرّا ہو۔

اگر ہم ٹھیک طرح سے غور وفکر کریں تو دنیا میں وہ زندگی کا زیادہ تر حصہ اسی قسم کی باتوں کا سننا ہے جو روح و جان کے سکون اور اجمتاعی نظاموں کو درہم برہم کردیتا ہے ، فتنوں کی آگ بھڑکاتا ہے اور انہیں شعلہ ور کرتا ہے ۔

اس روحانی اور آرام و سکون بخش نعمت کے ذکر کے بعد ، جو جنتیوں کی روح و جان کو لغو و بیہودہ باتیں نہ ہونے کی وجہ سے حاصل ہے ، جنت کی مادی نعمتوں کے ایک حصہ کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” اس جنت میں چشمے جاری ہیں “( فیها عین جاریة ) اگر چہ عین یہاں نکرہ ہے اور عام طور پر نکرہ ایک فرد کے لئے بھی آتاہے ، لیکن قرآن کی باقی آیات کے قرینہ سے جس کے معنی رکھتا ہے اور مختلف چشموں کے معنی میں ہے ، جیسا کہ سورہ ذاریات کی آیت ۱۵ میں ہے( ان المتقین فی جنات وعیون ) پرہیز گار او رمتقی لوگ جنت کے باغات او رچشموں کے درمیان قرار پائے ہیں ۔

بعض مفسرین نے یہ بھی کہاہے جنتیوں کے محلوں میں سے ہرمحل میں ایک چشمہ جاری ہے اور عین کا مفرد ہونا یہاں اس طرف اشارہ کرتا ہے ، ایسا چشمہ جوجنت والوں کی خواہش کے مطابق جس طرف چاہیں گے اسی طرف بہے گا اور جنت والے نہر وغیرہ بنانے کے محتاج نہیں ہوں گے ۔ البتہ کئی چشموں کا ہونا خوبصورتی و زیبائی و طراوت کے اضافہ کے علاوہ یہ فائدہ بھی رکھتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک مخصوص مشروب ہو اور جنتیوں کے ذائقہ کو انواع ق اقسام کی شراب ِ طہور سے شیریں و معطر کرتا ہو۔

ان چشموں کے تذکرہ کے بعد جنت کے تخت اور پلنگوں کو موضوع بناکر فرماتاہے :” جنت کے ان باغوں میں بلند اور اونچے تخت او رپلنگ ہوں گے “( فیها سر ر مر فوعة ) ” سر ر“ جمع ہے سریرکی ،” سرور“ کے مادہ سے ایسے تحت اور پلنگوں کے معنی میں کہ جن پر مجالس انس و سرور میں بیٹھتے ہیں ۔(۲)

ان پلنگوں کابلند ہونا اس بناء پر ہے کہ جنتی اپنے اطراف کے تمام مناظر اور صحن دیکھ سکیں اور ان کے مشاہدہ سے لذت حاصل کریں ۔ ابن عباس کہتے ہیں یہ بلند تخت اور پلنگ اس قسم کے ہیں کہ جس وقت ان کے مالک ان پر بیٹھنے کا ارادہ کریں گے تو وہ تواضع و خضوع کریں گے اور نیچے ہوجائیں گے اور بیٹھنے کے بعد اپنی پہلی حالت پر پلٹ جائیں گے ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ ان پلنگوں کی مرفوعة کے لفظ کے ساتھ توصیف ان کے قیمتی ہونے کی طرف اشارہ ہواور، جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ وہ سونے کے ٹکڑوں سے بنے ہوئے ہوں گے اور دُر و یاقوت و زبرجد سے مزیّن ہوں گے ۔ دونوں تفسیروں کے مابین جمع بھی ممکن ہے ۔

چونکہ ان خوشگوار چشموں اور جنت کی شراب طہور سے فائدہ اٹھانا بر تنوں کی احتیاج رکھتا ہے ، لہٰذا بعد والی آیت میں فرماتا ہے :” خوبصورت اور جاذب نظر پیالے ان چشموں کے پاس رکھے ہوں گے “( و اکواب موضوعة ) ۔ جس وقت وہ ارادہ کریں گے تو پیالے چشموں سے پر ہو کر ان کے سامنے آجائیں گے اور وہ تازہ تازہ نوش کریں گے ایسی لذت جس کا شعور ساکنین دنیا کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ اکواب جمع کوب ( بر وزن خوب) جو قدح ، پیالے یا اسی ظرف کے معنی میں ہے جس میں دستہ لگاہوا ہو۔

اس نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے کہ قرآن میں اہل جنت کی شراب طہور کے برتنوں کے بارے میں مختلف تعبیریں آئی ہیں یہاں اور بعض دوسری آیت میں اکواب کی تعبیرآئی ہے جبکہ بعض دوسری آیات میں اباریق ( ابریق کی جمع ) کی تعبیر آئی ہے ، جو ایسے ظرف کے معنی میں ہے جس کا دستہ اورٹونٹی ہو، سیال چیزوں کو انڈیل نے کی غرض سے ۔ یا پھر کأس کا لفظ آیاہے جس کے معنی شراب سے لبریز جام کے ہیں( یطوف علیهم ولدان مخلدون باکواب و اباریق و کأس من معین ) ان کے گرد ایسے جوان گردش کرتے ہوں گے جو ہمیشہ جوانی کی طراوت و تروتازگی کے حامل ہوں گے ۔ جبکہ شراب طہور سے لبریز پیالے او رجام ان کے ہاتھ میں ہوں گے اور وہ ان کے سامنے پیش کریں گے ۔ (واقعہ ۱۷ ۔ ۱۸) ۔

اس کے بعد جنت کی نعمتوں کے جزئیات کے متعلق مزید نکات پیش کرتے ہوئے اضافہ فرماتا ہے : ” وہاں پلنگوں پر تکیئے اور گاو تکیئے ہوں گے جو صف بستہ ہوں گے“( ونمارق مصفوفه ) ۔ نمارق نمرقہ ( بروزن غلغلہ) کی جمع ہے جس کے معنی چھوٹے تکیئے کے ہیں جس کا سہارا لیتے ہیں ۳

اور عام طور پر مکمل استراحت کے وقت ان سے فائدہ اٹھایا جا سکتاہے اور مصفوفہ کی تعبیر اشارہ ہے نظمِ خاص او ر تعداد کی طرف جو ان پر حاکم ہے ۔ یہ تعبیر بتاتی ہے کہ وہ مجالس ِ انس تشکیل دیں گے اور یہ مجلسیں جو ہر قسم کی لغویت او ر بیہودگی سے پاک ہوں گی۔

ان میں صرف الطاف الٰہی ، اس کی بے پایاں نعمتوں اور دنیا کے درد و رنج اور عذاب سے نجات کے بارے میں گفتگو ہوگی ، اس قدر لطف اور لذت رکھتی ہوں گی کہ کوئی چیز ان کی ہمسر نہیں ہوسکتی ۔

آخری زیر ِبحث آیت میں جنت کے قیمتی فرشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” وہاں گراں بہااور خوبصورت فرش بچھے ہوئے ہوں گے “۔( و زرابی مبثوثة ) ۔

” زرابی“ جمع ہے زریبہ کی جو ایسے قیمتی فرش کے معنی میں ہے جو نرم ، راحت بخش اور بیش قیمت ہوں گے ۔ واضح ہے کہ ان آسائش و لذت کے وسائل و ذرائع کے برابر اور بہت سے دوسرے وسائل موجود ہوں گے جبکہ یہ مشتے نمونہ ازخروارے کے مصداق ہیں ۔ ان آیتوں میں جنت کی ساتھ اہم نعمتیں بیان ہوئی ہیں جن میں سے ہر ایک دوسری سے زیادہ جاذب تر اور زیبا تر ہے ۔

خلاصہ کلا م یہ ہے کہ جنت ایک بے نظیر جگہ ہے ، جس میں کسی قسم کا لڑائی جھگڑا نہیں ہے ۔ وہاں انواع و اقسام کے رنگ برنگ کے پھل ، دل خوش کن نغمے ، آبِ جاری کے چشمے ، شراب طہور ،سائشتہ خدمتگار ، بے مثل بیویاں ، مصّع پلنگ ، قیمتی فرش اور پر خلوص دوست ہوں گے ۔ نیز عمدہ او رخوبصورت پیالے ہوں گے جو چشموں کے پاس رکھے ہوں گے ۔ مختصر یہ ایسی نعمتیں وہاں دستیاب ہوں گی جن کی نہ اس دنیا کے الفاظ کے ذریعے تشریح ممکن ہے اور نہ عالمِ خیال ہی اس کی توضیح کرسکتا ہے ۔

یہ سب چیزیں ان مومنین کی تشریف آوری کی متظر ہیں جنہوں نے اپنے اعمال صالح کے ذریعہ نعمت الہٰی کے اس مرکز میں ورود کی اجازت لے لی ہے ۔

مذکورہ بالا مادّی لذتوں کے علاوہ معنوی لذتیں بھی ہیں ۔ سب سے بڑھ کر لقا اللہ کی نعمت ہے ۔ اس معبود حقیقی کے لطف و کرم ہیں کہ اگر ایک لمحے کے لئے مل جائیں تو وہ جنت کی تمام مادہ نعمتوں کے مقابلہ میں بہتر و بر تر ہیں بقول شاعر

گرم بہ دا من و صل تو دسترس باشد دگر ز طالع خویشم چہ ملتمس باشد؟

اگر بہ ہر دو جہاں یک نفس زنم بر دوست مراز ہر دوجہاں حاصل آن نفس باشد

اگر مجھے تیرے وصل کے دامن تک دسترس حاصل ہو جائے تو پھر میں اپنے مقدر سے اور کیامانگوں ۔

اگر دونوں جہاں کے بدلے دوست کے ساتھ ایک سانس لوں تو اس دونوں جہاں کاماحصل یہی ایک سانس ہو گا ۔

____________________

۱۔ ”لاغیة“ اگر چہ اسم فاعل ہے لیکن اس قسم کے موارد میں اس چیز کے معنی ہے جو لغویت لئے ہو ۔ اسی لئے مفسرین نے اس کی ( ذاتِ لغو) لغو لئے ہوئے تفسیر کی ہے

۲۔ مفردات راغب مادہ ”سر“

۳۔ صحاح اللغة مادہ مادہ غرق ۔


آیات ۱۷،۱۸،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵،۲۶

۱۷ ۔( افلا ینظرون الیٰ الابل کیف خلقت ) ۔ ۱۸ ۔( و الیٰ السّمآءِ کیف رفعت ) ۔

۱۹ ۔( و الیٰ الجبال کیف نصبت ) ۔ ۲۰ ۔( و الیٰ الارض کیف سطحت ) ۔

۲۱ ۔( فذکّر انمآ انت مذکّرٌ ) ۔ ۲۲ ۔( لستَ علیهم بمصیطرٍ ) ۔

۲۳ ۔( الا من تولّیٰ و کفر ) ۔ ۲۴ ۔( فیعذبه الله العذاب الاکبر ) ۔

۲۵ ۔( انّ علینا ایا بهم ) ۲۶ ۔( ثم انّ علینا حسابهم ) ۔

ترجمہ

۱۷ ۔ کیاوہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح اسے پیداکیاگیا؟

۱۸ ۔اور آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح بلندی پر قائم کیا گیا؟

۱۹ ۔ اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح وہ اپنی جگہ نصب ہوئے ہیں ؟

۲۰ ۔ اور زمین کی طرف کہ وہ کس طرح مسطح ہوئی ہے ؟ ۲۱ ۔ پس نصیحت کر کہ تو صرف نصیحت کرنے والا ہے ۔

۲۲ ۔ تو ان پر مسلط نہیں ہے کہ انہیں ( ایمان لانے پر ) مجبور کرے ۔ ۲۳ ۔ مگر وہ شخص جو پشت پھیرے اور کافر ہوجائے ۔

۲۴ ۔ خد اجسے بہت بڑے عذاب کی سزا دے گا۔ ۲۵ ۔ یقینا ان کی باز گشت ہماری طرف ہے ۔

۲۶ ۔ اور یقینا ان کا حساب کتاب ہمارے پاس ہے ۔

اونٹ کی طرف دیکھوجوخود ایک آیت ہے

گزشتہ آیا ت میں بہت زیادہ بحثیں جنت اور اس کی آیتوں کے بارے میں آئی تھیں لیکن زیر بحث آیات میں ان نعمتوں تک پہنچنے کی اصل کلید کی گفتگو ہے جو اللہ کی معرفت ہے ۔ خدا کی قدرت کے چار مظاہر بیان کرکے خدا کی نادر خلقت اور انسان کو اس کے مطالعہ کی دعوت کے ساتھ جنت میں داخل ہونے کی راہ بتاتا ہے اور ضمنی طور پر یہ بھی اشارہ کرتا ہے کہ خدا کی قدرت بے پایاں ہے ، جو مسئلہ معاد کے حل کرنے کی کلید ہے ۔

پہلے فرماتا ہے :” کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیداکیا گیا ہے “۔( فلاینظرون الیٰ الابل کیف خلقت ) یہاں پر ہر چیز سے پہلے اونٹ کی خلقت کو کیوں منتخب کیا گیاہے ؟ اس سلسلہ میں مفسرین نے بہت کچھ تحریر کیا ہے لیکن یہ چیز واضح ہے کہ ابتداء میں روئے زمین سخن مکہ کے عربوں کی طرف تھا ، جن کی زندگی کے بہت سے کام اونٹ سے وابستہ تھے ۔ اس سے قطع نظر یہ جانور عجیب و غریب خصوصیتوں کاحامل ہے ، جو اسے دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتی ہےں ، حقیقت یہ ہے کہ وہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ پھر یہ بھی ہے کہ :

۱ ۔ بعض جانور ایسے ہیں کہ جنکے صرف گوشت سے فائدہ اٹھا یا جاسکتا ہے، بعض ایسے ہیں جن کے صرف دودھ سے استفادہ ہوتاہے ، بعض ایسے ہیں جو صرف سواری کے کام آتے ہیں اور بعض صرف بار داری کے کام آتے ہیں ، لیکن اونٹ ایسا جانور ہے جس میں یہ تمام خصوصیتیں پائی جاتی ہیں ۔ اس کا گوشت بھی قابل استعمال ہے اور دودھ بھی ۔ یہ سواری کے کام بھی آتاہے اور بار داری کے لئے بھی اسے کام میں لایا جاتا ہے ۔

۲ ۔ اونٹ زیادہ طاقتور اور زیاد قوت مقاوت رکھنے والا جانور ہے ۔ یہ بہت زیادہ سامان اٹھالیتا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ جس وقت وہ بیٹھا ہوا ہو تو

بھاری بوجھ اس پر رکھ دیتے ہیں اور ایک ہی حرکت کے ساتھ اپنے ہاتھوں کے سہارے کھڑا ہو جاتا ہے ، جبکہ دوسرے جانور اس قسم کا کام نہیں کرسکتے ۔

۳ ۔ اونٹ آٹھ دس روز تک پیاسا رہ سکتا ہے ، اور اس میں بھوک کو برداشت کرنے کی بھی بہت صلاحیت ہوتی ہے ۔

۴ ۔ اونٹ ہر روز راستے کی طولانی مسافت طے کرسکتاہے اور ایسی زمینوں سے ، جن میں سے گزرنا مشکل ہو جیسے ریگستان علاقہ ، جس کو عبور کرنا مشکل ہوتا ہے ، آسانی سے اس بناء پر عرب اسے صحرائی جہاز کہتے ہیں ۔

۵ ۔ وہ غذا کے اعتبار سے بہت ہی سستا ہے ، ہر قسم کے خاورو خس و خاشاک کھالیتا ہے ۔

۶ ۔ وہ غذا کے نامناسب حالات میں بیا بان کے ایسے طوفانوں کے درمیان ، جو آنکھ و کان کو بہرا کردیتے ہیں ، اپنے مخصوص وسائل کے ساتھ ، جو خد انے ان کی پلکوں ، کانوں اور ناک میں مہیا کئے ہیں ، مقابلہ کرتا ہو اپنے سفر کو جاری رکھتا ہے ۔

۷ ۔وہ اپنی پوری طاقت و قوت کے باوجود نہایت مطیع جانور ہے ۔ ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی مہار ہاتھ میں لے کر جدھر اس کا دل چاہے انہیں لے کر جاسکتا ہے ۔

مختصر یہ کہ اس جانور کی خصوصیات کچھ اس قسم کی ہیں کہ اگر اس کی خلقت کے بارے میں غور وفکر کیا جائے تو وہ انسان کو خالقِ عظیم کی طرف متوجہ کرتی ہے ، جو ایسی مخلوق کا پید اکرنے والا ہے ۔ جی ہاں ! قرآن میں ارشاد ہوتاہے:” کیا یہ وادی غفلت کے گمشدہ اس مخلوق کے حیران کن اسرار پر غور نہیں کرتے تاکہ انہیں حق کی راہ حاصل ہو ا ور یہ بے راہ روی سے بچ جائیں ؟“ یہ بات بغیر کہے واضح ہے کہ ” فلاینظرون “ کے جملہ میں نگاہ سے مراد عام نگاہ نہیں ، بلکہ ایسی نگاہ ہے کہ جس میں غو ر و فکر و تفکر و تدبر شامل ہو۔

اس کے بعد آسمان کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے فرماتاہے :” کیاوہ آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح قرار دیاگیا ہے “۔( والیٰ السماء کیف رفعت ) آسمان اپنی عظمت کے ساتھ اور اپنے ان سب عجائبات کے ساتھ ستاروں اور کہکشاو ں کے ساتھ اور اس سارے جما ل و زیبائی و شکوہ کے ساتھ ، جس نے انسان کو درطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے ،جس کی وجہ سے اپنے آپ کو وہ اس عظیم اور نظم و حساب سے پر جہان کے پید اکرنے والے کے مقابلہ میں چھوٹا اور ناچیز بلکہ اس لامحدود کے مقابلہ میں صفر کے برابر سمجھتا ہے ، کس طرح یہ عظیم کرّے اپنی اپنی جگہ پرمیخ کی طرح گڑے ہوئے ہیں اور بغیر ستون کے اپنی جگہ بر قرار ہیں ۔

اس نظام شمسی کے کرّوں کو عالم وجود میں آئے ہوئے لاکھوں سال گزر چکے ہیں ، لیکن ان کی حرکت اصلی کے محور تبدیل نہیں ہوئےآسمان کی خلقت اگرچہ ہمیشہ عجیب تھی لیکن موجودہ زمانہ کے علمی انکشافات کے سائے میں اس کے عجائبات کئی گنا زیادہ ہو گئے ہیں اور بھی نمایاں ہوگئی ہے کیا اس عالم عظیم کے خالق ومدبر کے بارے میں غور فکر نہیں کرناچاہیئے اوراسکے بلند وعظیم مقاصد کے قریب نہیں جانا چا ہییے؟اس کے بعد آسمان سے ہٹ کر زمین کو مو ضوع گفتگو بناتے ہوئے فرماتا ہے---: کیا وہ پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح اپنی جگہ پر نصب ہوئے ہیں -:( والی الجبال کیف نصبت ) وہ پہاڑ جن کی جڑیں ایک دوسرے سے متصل ہیں ، زمین کے اطراف کو زِرہ کے حلقوں کی مانند گھیرے ہو ئے ہیں اور اندرونی پگھلے ہوئے مادہ سے پیدا ہونے والے زلزلوں اور چاند و سورج کی قوت جاذبہ سے پیدا ہو نے والے مدّوجزر کم کرتے ہیں وہ پہاڑ جوان طو فانوں کے مقا بلہ میں قابل اطمینان پناہ گاہ اورڈھال ثابت ہو تے توکرہ زمین ایسے بیابانوں میں تبدیل ہو جاتا جن میں زندگی گزارنا نا ممکن ہوت وہ پہاڑ جو پانی کے ذخیروں کو اپنے اندر محفوظ کیے ہو ئے ہیں اور انہیں آہستہآہستہ پیاسی زمینوں کی طرف روانہ کرتے ہیں اوراپنے چاروں طرف زندگی کی مسرت، ہریالی، خوشی، طراوت اور ترو تازگی پیدا کرتے ہیں غا لباً یہی پہلو ہیں جن کی وجہ سے دوسری آیات میں پہاڑوں کو زمین کی میخیں کہا گیا ہےاصولی طور پر پہاڑ عظمت و صلا بت کے مظہر ہیں اور ہر

جگہ خیروبرکت کا سبب ہیں یہی وجہ ہے کہ انسان پہاڑوں پر تفکر کی زیادہ صلا حیت محسو س کرتا ہے اور یہ بات بلا سبب نہیں ہے کہ پیغمبراکرم اپنی بعثت سے مدتوں پہلے جبلِ نور اور غارِ حرا میں عبادت میں مشغول رہتے تھے ۔

” نصبت“ نصب کے مادہ سے ثابت قرار دینے کے معنی میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ تعبیر ضمنی طور پر آغازخلقت میں پہاڑوں کی خلقت کی کیفیت کی طرف اشارہ ہو وہی چیز جس پر سے موجودہ علم نے پردہ اٹھایا ہے ، اسے پہاڑوں کی خلقت کے متعدد اسباب و عوامل کی طرف نسبت دی ہے اور ا ن کے لئے انواع و اقسام کی قائل ہے ۔

وہ پہاڑ جو زمین کے گھومنے کی وجہ سے پید اہو تے ہیں وہ پہاڑجو آتش فشانیوں کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں ، وہ پہاڑ جو بارش سے پیدا ہونے والے جھاگ کا نتیجہ ہیں ، وہ پہاڑجو سمندروں کے اندر بنتے ہیں اور جو سمندر کی کیچڑ اور اس میں پھنس جانے والے جانوروں کا مجموعہ ہیں ۔ ( مثلا ً مرجانی پہاڑ اور جزیرے )۔

جی ہاں ! ان پہاڑوں میں سے ہر ایک کی بناوٹ اور اس کے آثار و بر کات مشکل سے سمجھ میں آنے والے ہیں ، اہمیت کے حامل بھی اور بیدار مغز انسانوں کے لئے قدرتِ حق کی نشانیاں بھی ۔

اس کے بعد زمین کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتاہے : ”کیا وہ زمین کی طرف نہیں دکھتے کہ وہ کس طر ح مسطح ہوئی ہے “۔( و الیٰ الارض کیف سطحت )

کس طرح مسلسل بارشوں نے پہاڑوں کو غسل دے کر مٹی کے ذرات کو وجود دیاہے ، پھر گڑہوں کو وسعت دے کر ایسی صاف زمین تیار کی ہے جو زراعت کے لئے بھی موزوں ہے اور ہر قسم کی تعمیر کے لئے بھی اور اسے انسانوں کے اختیار میں دے دیا گیا ہے ۔

اگر تمام کرّہ زمین پہاڑوں اور درّوں پر مشتمل ہوتا تو اس پر زندگی گزارنا کس قدر مشکل او رطاقتو ر ہوتا۔ وہ کون ہے جس نے ہمارے پیداہونے سے پہلے اسے مسطح کرکے قابلِ استفادہ بنایا ۔ یہ سب ایسے امور ہیں جن پر غور و فکر کی قرآن ہمیں دعوت دیتا ہے ۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان چاروں امور کے درمیان کونسا ربط ہے : اونٹ ، آسمان ، پہاڑ اور زمین ۔ فخر رازی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں کہ :

یہ اس بناپرہے کہ قرآن عربی میں نازل ہوا ہے اور عرب عا م طور پر سفر میں رہتے تھے چونکہ ان کے علاقہ میں زراعت اور کھیتی باڑی نہیں تھی اور ان کے سفر زیادہ تر اونٹوں پر ہی ہوتے تھے ۔ جب وہ ہولناک بیابانوں اور غیر آباد ریگستانوں میں سفر کرتے تھے تو ان میں تفکر کا مادہ پیداہو تا تھا ۔ کوئی موجود نہ ہوتا جس سے وہ بات کرتے ۔ کوئی چیز ایسی نہ ہوتی جو ان کی آنکھ اور کان کو اپنی طرف متوجہ رکھتی ۔ ایسی حالت میں جب وہ غور و فکر کرتے تو سب سے پہلے ان کی نظر اونٹ پر پڑتی جس پر وہ سوار ہوتے تھے ۔ وہ اس کا عجیب منظر دیکھتے اور سوچ میں ڈوب جاتے جب وہ سر اٹھا کر اوپر کی طرف دیکھتے تو آسمان کے علاوہ کوئی چیز انہیں نظر نہیں آتی ۔ جب دائیں بائیں نگاہ کرتے تو پہاڑوں کے سوا انہیں کچھ نظر نہیں آتا ، اور جب اپنے قدموں کی طرف دیکھتے تو زمین کے علاوہ کوئی چیز موجود نہ ہوتی ، گویا خدا انہیں دعوت فکر دے رہاہے اور دعوتِ فکر بھی ایسی جوتنہائی موقع پر دی جائے اور اس کا دائرہ صرف چار چیزوں تک محدود ہو۔(۱)

لیکن اگر ہم چاہیں کہ ہم عربوں کے ماحول سے نگاہ ہٹا کر زیادہ وسیع فضا میں غور و فکر کریں تو کہا جاسکتا ہے کہ چاروں امور ، اوپر والی آیت میں آئے ہیں انسانی زندگی کی بنیاد کو تشکیل دیتے ہیں ۔ آسمان نور و روشنی کامرکز ہے اور بارش ہوا کابھی ۔ زمین انواع و اقسام کے موادِ غذائی کی پرورش کا مرکز ہے ۔

پہاڑ آرام و سکون کی رمز اور پانی اور معانیات کا ذخیرہ ہیں ۔

اونٹ خانگی جانوروں کا نمونہ ہے جسے انسان کے اختیار میں دیاگیا ہے اس طرح زراعت کے مسائل اور صنعت و کاریگری کے مسائل انہیں چاروں میں پوشیدہ ہیں ۔ان گوناگوں نعمتوں کے بارے میں غور وفکر بہر حال انسان کو شکر منعم حقیقی پر ابھار تاہے اور شکر منعم انہیں اللہ کی معرفت اور خالقِ نعمت کی شناخت کی دعوت دیتا ہے ۔

توحید سے متعلق اس بحث کے بعد پیغمبر کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے ارشاد ہوتاہے :” اب جب ایساہی ہے تو انہیں یاد دلا اور نصیحت کر اور تو،تو صرف یاد دہانی کرانے والا ہی ہے ۔ “( فذکر انما انت مذکر ) ۔ تو ان پر بالکل مسلط نہیں کہ انہیں ایمان لانے پر مجبور کرے ۔( لست علیهم بمصیطر ) ۔

جی ہاں ! آسمان و زمین ، پہاڑوں اور جانوروں کی خلقت بتاتی ہے کہ یہ عالمِ ظاہر حساب و کتاب کے بغیر نہیں ہے اور ا سکی خلقت کا کوئی ہدف و مقصد ہے۔ اب جبکہ ایسا ہی ہے تو تو انہیں یا د دہانیوں اور نصیحتوں سے خلقت و آفرینش پر غور کرنے کی تلقین کر، انہیں قرب خدا کی راہ دکھا اور راہ تکامل اور ارتقا میں ان کا رہبر و رہنما بن جا ۔

البتہ راہ کمال اسی صورت میں طے کی جاتی ہے جب ارادہ و اختیار کے ساتھ میل و رغبت بھی شامل ہو۔ وہ تکامل و ارتقاء جوحالت ِ جبر کے نتیجے میں ہو، اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ تو انہیں مجبور نہیں کرسکتا اور اگر مجبور کربھی سکتاتو کوئی فائدہ نہیں تھا ۔

بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ حکم فرمانِ جہاد کے نزول سے پہلے تھا اور حکم جہاد کے نزول سے یہ حکم منسوخ ہو گیا یہ کہنا برا اشتباہ اور غلطی ہے ۔ پیغمبر کے تذکر اور تبلیغ کا سلسلہ پہلے دن سے شروع ہوا اور آپ کی زندگی کے آخری دن تک جاری رہا ۔

آپ کے بعد بھی آپ کے جانشینوں اور علمائے دین کے ذریعہ جاری و ساری رہا اور ہے ۔ یہ فسخ ہونے والی چیز نہیں ہے ۔ اسی طرح لوگو کوں ایمان لانے پر مجبور نہ کرنا بھی ایک بنیادی با ت ہے ،جہاد کا مقصد بھی زیادہ تر سر کش افراد سء جنگ کرنا ہے اور حق طلب لوگوں کے راستے سے رکاوٹوں کو دور کرنا ہے ۔

یہ مفہوم اس چیز کے مشابہ ہے جو سورہ نساء کی آیت ۸۰ میں آئی ہے ، جس میں فرماتاہے:( ومن تولیّٰ فما ارسلناک علیهم حفیظاً ) ” اور جو شخص رو گردانی کرے تو ہم نے تجھ کو اس کا ذمہ دار نہیں بنایا ، اور سورہ انعام کی آیت ۱۰۷ اور شوریٰ کی آیت ۴۸ میں انہیں معانی کو بیان کرتی ہیں ۔

” مصیطر“ سطرکے مادہ سے کتاب کی سطور کے معنی میں ہے اور مسیطر وہ شخص ہے سطروں کو مرتب کرتا ہے اس کے بعد ہر وہ شخص جو کسی چیز پرمسلط ہو اور اسکو منظم کرے یا اسے کسی کام کے انجام دینے پر مجبور کرے ۔

بعد والی آیت میں ایک استثناء کی شکل میں فرماتاہے :” مگر وہ شخص جو پشت پھیرے اورکافر ہو جائے “( الا من تولیٰ و کفر ) ۔” اسے خدا ایک بہت بڑے عذاب کی سزا دے گا “۔( فیعذ به الله العذاب الاکبر ) ۔ یہ با ت کہ یہ استثناء کس جملے سے متعلق ہے ، اس کی مختلف تفسیریں ہیں ۔

پہلی یہ کہ فذکر کے جملے کے مفعول سے استشناء ہے۔ یعنی ضروری ولازمی نہیں ہے کہ ان معاند افراد سے روگردانی کرتے ہیں اور پند و نصیحت کو قبول نہیں کرتے تُو نصیحت کر اور یاد دہانی کرا۔ حقیقت میں یہ اس چیز کے مشابہ ہے جو سورہ زخرف کی آیات ۸۳ میں آئی ہیں( فذر هم یخوضوا و یلعبوا حتی یلاقوا یو مهم الذی یوعدون ) ” انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دے تاکہ وہ اپنے باطل میں الجھے رہیں اور کھیل کود میں لگے رہیں ، یہاں تک کہ وہ دن آ جائے جس کا وعدہ کیا گیا ہیں “دوسرے یہ کہ ایک محذوف جملے سے استشناء ہے اور معنوی طور پر اس طرح ہے” نصیحت کر اس لئے کہ نصیحت سب لوگوں کے لیے نفع بخش ہے، مگر وہ جو حق کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں “اس چیز کے مشابہ جو سورہ اعلی کی آیت ۹ میں آئی ہے( فذکر ان نفعت الذکری ) اس بنا پر کہ آیت معنی شرط رکھتی ہو۔ تیسرے یہ کہ”علیہم“ کی ضمیر سے استشناء ہے جو گز شتہ آیت میں ہے تُو ان پر کوئی تسلط نہیں رکھتا، مگر وہ لوگ جو رد گرداں ہو جائیں اور راہِ عناد اختیار کریں تیری ذمہ داری ہے کہ ان سے مقا بلہ کریں(۲)

یہ سب تفا سیر اس صورت میں ہیں کہ اگر استثناء اصطلاح کے مطابق متصل ہو، لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ استثناء منقطع ہو، جو تقر یباََ بلکہ کا مفہوم رکھتا ہے اور جملہ کے معنی اس طرح ہیں ” بلکہ وہ لوگ جو رو گرداں ہو جائیں اور کافر ہو جا ئیں توخدا ان پر مسلط ہے یا خداانہیں بہت بڑے عذاب کی خبر دے گ“ ان تفسیروں میں سے دو تفسیریں سب سے زیادہ مناسب ہیں پہلی یہ کہ استثناء متصل ہو اور لست علیہم بمصیطر کے جملے کی طرف لوٹے، جو طا قتوروں کے مقابلہ میں طاقت سے کام لینے کی طرف اشارہ ہو یا استثناء متصل ہو اور ہٹ دھرم کا فروں کے لئے عذابِ الٰہی کی خبر کے معنوں میں ہو۔ عذابِ اکبر لے مراد آخرت کا عذاب ہے، دنیا کے عذاب کے مقابلہ میں جو چھوٹا ہے اور کم اہم ہے جیسا کہ سورہ زمر کی آیت ۲۶ میں ہم پڑھتے ہیں( فاَ ذا قهم الله الخذی فی الحیوة الدنیا ولعذاب الاٰخرة اکبر ) خدا نے ذلت و خواری کا مزہ انہیں اس دنیا میں چکھا یا اور آخرت کا عذاب اکبر ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ عذابِ اکبر سے مراد عذابِ قیا مت و دوزخ کا شد ید ترین حصہ ہے اس لئے کہ دوزخ میں تمام مجرموں کا عذاب ایک جیسا نہیں ہے۔ اس سورہ کے آخر میں تہد ید آمیز لہجے میں فرماتا ہیں :” یقینا ان کی باز گشت ہماری طرف ہے“( انّ الینا ایابهم ) --۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے:” اس کے بعد یقینا ان کا حساب ہمارے ہاتھ میں ہے“( ثم انّ علینا حسا بهم ) یہ حقیقت میں پیغمبر کے دل کے لئے ایک قسم کی تشفی و تسلی ہے کہ کافر وں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پر یشان و غمزدہ نہ ہوں اور اپنے کام کو جاری رکھیں ضمنی طور پر یہ سب ہٹ دھرم کا فروں کی دھمکی ہے تاکہ وہ جان لیں کہ ان کا حساب و کتاب کسی کے اختیار میں ہے۔ اس طرح سورہ غاشیہ جو قیامت کے موضوع سے شروع ہورہا تھا، قیامت ہی کے موضوع پر ختم ہورہا ہے درمیان میں تو حید و نبوت کی طرف جو قیامت کی بنیادوں کو تشکیل دیتے ہیں ، اشارہ ہو ا ہے۔ اس سورہ کی ابتدا ئی آیات کے ضمن میں مجرموں کو ملنے والی سنگین سزاؤں کا ایک حصہ اوراس کے بعد مو منین کے روح پرور حساب کا اہم حصہ آیا ہےضمنی طور پر راستے کے انتخاب کااختیار دیا گیا ہے اور ساتھساتھ انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ سب کی بازگشت خدا کی طرف ہے اور اس کو ان سے حساب لینا ہے ساتھ ہی یہ واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر تبلیغِ رسالت پر ما مور ہیں اور لوگو ں کے کفر و گناہ کے ذمہ دار ہیں راہِ حق کے تمام مبلغین کی ذمہ داری اسی قسم کی ہوتی ہے خدا وندا-! جس دن تمام مخلوقات کی باز گشت تیری طرف ہے اور سب کا حساب تجھے لینا ہے، ہم پر اپنا لطف و کرم کییجو۔

پروردگارا! ہمیں اپنی رحمتِ کبریائی سے کام لے کر عذابِ اکبر سے رہائی بخش بارِ الہا! تیری جنت کی نعمتیں جن کا ایک گو شہ تُو نے اس سورہ میں بیان کیا ہے، بہت ہی بیش بہا اور شو ق انگیز ہیں ۔

اگر ہم اپنے اعمال کی وجہ سے اس کے مستحق نہیں ہیں تو تو ہمیں ان کو اپنے فضل و کرم سے مرا حمت فر ما۔

آمین یا رب العالمین

____________________

۱۔ تفسیر فخر رازی ، جلد ۳۱، ص۱۰۸۔

۲۔ایک حدیث سے جو در المنثور میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر کی ذمہ داری تھی کہ بُت بر ستوں سے جنگ کریں اور اس صورت کے علاوہ باقی حالات میں ان کی ذمہ داری صرف یہ تھی کہ نصیحت کریں ۔


سورہ فجر

یہ سورہ مکہّ میں نازل ہوا۔ اس میں تیس آیات ہیں ۔

سورہ فجر کے مشمولات

یہ سورہ بہت سے دوسرے سوروں کی طرح، جو مکّے میں نازل ہوئے، مختصر، متز لزل کر دینے والی، پُر جلال اور بہت زیادہ ڈرا نے والی آیات کا حامل ہے اس سورہ کے پہلے حصّہ میں ہمیں بہت سی قسمیں ملتی ہیں جواپنی نوعیت کے لحاظ سے نئی ہیں اور یہ قسمیں ظالموں کے لئے عذابِ الہی کی تہدید کے طور پر ہیں ۔ اس سورہ کے دوسرے حصہ میں گزشتہ سر کشی کرنے والی بعض اقوام ، مثلا-قومِ عاد وثمود و فر عون اوران سے خدا شدید انتقام لینے کی طرف اشارہ ہے، تا کہ دوسری طاقتیں اپنے انجام پر غور کریں ۔ اس سورہ کے تیسرے حصہ میں مسئلہ معاد اور مجر مین و کا فرین کی سر نوشت اوراسی طرح مومنین کے اجر کو، جو صا حب نفس مطمّنہ ہیں ،موضوع بنا یا گیا ہے

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے سلسلہ میں ہمیں ایک حدیث پیغمبر اسلام کی ملتی ہے(من قراء ها فی لیال عشر غفر الله له ومن قراء ها سائر الا یام کانت له نوراَ یوم القیامت ) جو شخص اسے دس را توں ( اول ذی الحج کی دس راتوں ) میں پڑھے، خدا اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اورجو شخص باقی ایام میں پڑھے تو قیا مت کے دن اس کے لئے نور و روشنی ہوگی(۱)

ایک حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام کی ہے کہ سورہ فجر کو ہر واجب او ر مستحب نماز میں پڑھو کہ یہ حسین بن علی کا سورہ ہے ۔ جو شخص اسے پڑھے گاوہ قیامت میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہشت میں ان کے درجہ میں ہو گا ۔(۲)

اس سورہ کا تعارف سورہ امام حسین علیہ السلام کے عنوان سے ممکن ہے کہ اس وجہ سے ہو کہ نفس مطمئنہ کا واضح مصداق ، جو اس سور ہ کی آخری آیات میں واقع ہوا ہے ، حسین بن علی علیہ السلام ہیں ، جیسا کہ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے انہی آیات کے ذیل میں آیاہے ۔ یا پھر اس بناء پر کہ لیال عشر (دس راتوں سے مراد) تفسیر محرم الحرام کی پہلی دس راتیں ہیں جو حسین بن علی علیہ السلام سے خاص رابطہ رکھتی ہیں ۔ بہر حال یہ سب اجر و ثواب و فضیلت ان اشخاص کے لئے ہے جو اس کی تلاوت کو اپنی اصلاح اور تربیت کی تمہید قرار دیں ۔

آیات ۱،۲،۳،۴،۵

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( و الفجر ) ۔ ۲ ۔( و لیال عشر ) ۔ ۳ ۔( والشفع و الوتر ) ۔

۴ ۔( و اللیل اذا یسر ) ۔ ۵ ۔( هل فی ذٰلک قَسَمٌ الذی حِجر ) ۔

ترجمہ

رحمن و رحیم خدا کے نام سے

۱ ۔ صبح کی قسم ۔ ۲ ۔ اور دس راتوں کی ۔ ۳ ۔ اور زوج و فرد کی ۔

۴ ۔ اور رات کی جب وہ ( دن کی روشنی کی طرف) حرکت کرتی ہے قسم ہے ( کہ تیرا پر ور دگار ظالموں کی گھات میں ہے )۔

۵ ۔ کیا جو کچھ کہا گیا ہے اس میں صاحبان عقل کے لئے اہم قسم نہیں ہے ؟

تمہاری صبح کی سفیدی کی قسم

اس سورہ کے آغاز میں پانچ بیدار کرنے والی قسموں کی طرف اشارہ ہواہے ۔ پہلے فرماتا ہے :” قسم ہے فجر اور رات کے سیاہ پردے کے چاک ہونے کی “۔

( و الفجر ) ۔ ” اور قسم ہے دس راتوں کی “ ۔( و لیال عشر ) ۔

”فجر “ اصل میں وسیع شگاف کے معنی ہے ، چونکہ صبح کا نور شب کی تاریکی میں شگاف ڈال دیتاہے ، لہٰذااسے فجر کہا گیا ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ فجر دو قسم کی ہے ، کاذب اور صادق ۔ فجر کاذب طولانی سفیدی ہے جو آسمان میں ظاہر ہوتی ہے اور اسے لومڑی کی دم سے تشبیہ دیتے ہیں ۔جس کا باریک نقطہ افق کی طرف ہے اوراس کا قاعدہ ِ مخروط وسط آسمان میں ہے ۔

فجر صادق ابتداء ہی سے افق میں و سعت پیدا کر تی ہے۔ اس میں نور انیت اور صاف قسم کی شفا فیت ہوتی ہے۔ وہ آب زلال کی نہر کی مانند افق مشرق کو گھیر لیتی ہے۔ اس کے بعد پور ے آسمان میں پھیل جاتی ہے۔ فجر صادق رات کے ختم ہونے اور دن کے آغاز کا اعلان ہے۔ اس مو قع پر روزہ داروں کو اکل وشرب سے ہاتھ کھینچ لینا چا ہئے۔ اس وقت صبح کی نماز کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔

بعض مفسرین نے اس آیت میں فجر کے اس کے مطلق معنی یعنی صبح کی سفیدی مراد لی ہے ، جو یقینا عظمتِ پروردگار کی ایک نشانی ہے ، یہ انسانوں اور تمام زمینی موجودات کےلئے نورکی حاکمیت کے آغاز اور ظلمت کے ختم ہونے کا نقطہ عطفیٰ ہے ۔ یہ زندہ موجودات کی جنبش و حرکت کا آغاز نیند و سکوت کا اختام ہے ۔ ا س زندگی کی بناء پر خدا اس کی قسم کھاتا ہے ۔

لیکن بعض مفسرین نے ا س سے نئے سال کا پہلا دن یعنی پہلی محرم مراد لی ہے بعض نے اس کی تفسیر عید قربان کی فجر کی ہے جس میں حج کے اہم مراسم انجام پاتے ہیں اور یہ دس راتوں سے متصل ہے،بعض نے اس کو ماہ رمضان مبارک کی صبح قرار دیاہے اور بعض نے روزِ جمعہ کی فجر سمجھا ہے ۔ لیکن آیت کا وسیع مفہوم ہے جو ان سب مفاہیم پر حاوی ہے ، اگر چہ اس کے بعض مصداق دوسرے بعض مصداقوں سے زیادہ واضح اور اہم بھی ہیں ۔

بعض نے آیت کے معنی اس سے زیادہ وسیع سمجھے ہیں او رکہا ہے کہ فجر سے مراد ہر وہ روشنی ہے جو تاریکی میں چمکتی ہے ۔ اس بناء پر اسلام اور نور پاک ِ محمدی کا عصر جاہلیت پر طلوع ہونا اس فجرکا ایک مصداق ہے اسی طرح قیام محمدی کی صبح کی سفیدی کا عا لم کے ظلم و ستم کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہونے کے وقت چمکنا ، اس کا ایک دوسرا مصداق شمار ہوتا ہے جیسا کہ بعض روایات میں ا سکی طرف اشارہ ہواہے ۔(۳)

علیٰ ہٰذا دشتِ کربلا میں عاشورہ حسینی کا قیام اور اس کا بنی امیہ کے مظالم کے تاریک پردوں کو چاک کرنا اور ان دیو صفت لوگوں کے حقیقی چہروں کو بے نقاب کرنا ، اس کا ایک اور مصداق ہے ۔

اسی طرح تمام سچے انقلاب ، جو کفر و جہالت اور ظلم و ستم کے خلاف گزشتہ اور موجودہ تاریخ میں برپاہوتے ہیں ، نہ صرف وہ فجر کے مصداق ہیں بلکہ بیداری کا وہ شعلہ جو گنہگاروں کے تاریک دل میں ظاہر ہوتا ہے اور انہیں توبہ کی دعوت دیتا ہے ، وہ فجر ہے ، البتہ یہ آیت کے مفہوم کی ایک وسعت ہے جبکہ ظاہر آیت وہی فجر ہے ، یعنی سپیدہ صبح کا طلوع ہونا۔

باقی رہا ”لیال عشر “ ( دس راتیں ) تو مشہور وہی ذو الحجہ کی دس راتیں ہیں جو مسلمانانِ عالم کے سیاسی اور عبادتی عظیم ترین اور نہایت متاثر کرنے والے اجتماعات کی گواہ ہیں ۔ یہ معانی ایک حدیث میں جابر بن عبد اللہ انصاری کے واسطے سے پیغمبر اسلام سے منقول ہوئے ہیں ۔(۲)

بعض مفسرین نے ان دس راتوں کو ماہ مبارک ِ رمضان کی آخری دس راتیں قرار دیاہے جن میں شب قدر ہے ۔ بعض نے محرم کی ابتدائی دس راتو ں کو ” لیال عشر“ کا مصداق قرار دیا ہے ۔ ان تینوں تفسیروں کوجمع کرنا بھی مکمل طور پر ممکن ہے ۔

بعض ایسی روایات جو بطون قرآن کی طرف اشارہ کرتی ہیں ان کے مطابق فجر سے مراد حضرت مہدی کا وجود ذی جود ہے اور یہاں عشر ان کے پہلے کے دس ائمہ ہیں اور شفیع جو بعد والی آیت میں آیاہے ، اس سے مراد حضرت علی و حضرت فاطمة الزھر ہیں بہر حال دس راتوں کا خواہ اس کی تفسیر کچھ بھی کیوں نہ ہو، ان کی حد سے زیادہ اہمیت کی دلیل ہے ۔ اس لئے کہ قسم ہمیشہ اہم امور کی کھائی جاتی ہے ۔(۵)

ان تمام معانی کی جمع بھی ممکن ہے ۔

اس کے بعد قسموں کو جاری رکھتے ہوئے مزید فرماتا ہے :” جفت و طاق کی قسم “( و الشفع و الوتر ) یہ کہ شفع و وتر ( زوج و فرد) سے اس آیت میں کیا مراد ہے ، مفسرین نے بہت سے اقوال اور احتمال بیان کئے ہیں ۔ بعض نے بیس اقوال تک پیش کئے ہیں ۔(۶)

اور بعض نے اس سے بھی زیادہ یعنی ۳۶/ اقوال تک نقل کئے ہیں ۔(۷)

ان میں سے زیادہ اہم امور مندرجہ ذیل اقوال ہیں :

۱ ۔ مراد ،زوج و فرد اعداد ہیں ۔ اس تفسیر کے مطابق خدا نے ان تمام اعداد کی قسم کھائی ہے جو زوج و فرد سے تشکیل پاتے ہیں ۔ وہ اعداد ایسے ہیں کہ تمام حسا بات اور تمام نظام ان کے محور کے گردگھومتے ہیں اور انہوں نے سارے عالم معنی کو گھیر رکھا ہے گویا فرماتا ہے :

قسم ہے نظم و ضبط اور حساب و کتاب کی ، اور حقیقت میں عالم ِ ہستی میں اہم ترین مفہوم یہی نظم وحساب اور عدد کا مسئلہ ہے جو انسانی زندگی میں اصل بنیاد کو تشکیل دیتا ہے ۔

۲ ۔ شفیع سے مراد مخلوقات ہیں کیونکہ ساری مخلوق جو ڑا جو ڑا ہیں اور ایک دوسرے کے قرین ہے جب کہ وتر سے مراد خد اہے ، جس کی شبیہ و نظیر و مانند و مثل نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ تمام ممکنات ماہیت و وجود سے مرکب ہیں ، جسے فلسفہ میں زوج ترکیبی سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ صرف غیر متناہی شئے جو ماہیت کے بغیر ہے، وہ خدا کی اپنی ذات ہے ، اس تفسیر کی طرف معصومین علیہم السلام کی بعض روایات میں اشارہ ہوا ہے ۔(۸)

۳ ۔ زوج و فرد سے مراد اس جہان کی تمام مخلوق ہے جو ایک لحاظ سے زوج اور ایک لحاظ سے فرد ہے ۔

۴ ۔ مراد نمازیں ہیں جن میں رکعات کی تعداد کے لحاظ سے بعض زوج اور بعض فرد ہیں ۔ یہ معنی بھی ایک روایت میں معصوم سے نقل ہوئے ہیں ۔(۹)

۵ ۔ شفع سے مراد روز ترویہ ہے ( آٹھویں ذی الحج جس دن حاجی عرفات کی طرف کوچ کر نے کے لئے آمادہ ہوتے ہیں ) اور وتر سے مراد عرفہ کا دن ہے ( دس ذی الحج ) اور وِترسے مرادعرفہ کا دن ہے ۔ یہ تفسیر بھی معصومین علیہم السلام کی روایات میں آئی ہے ۔(۱۰)

دہ بات یہ ہے کہ اگر الف لام ان دونوں الفاظ میں عموم کے لئے ہوں تو یہ تمام معانی اس میں جمع ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے کہ ان تفسیروں میں سے ایک تفسیر کی کوئی نہ کوئی مصداق ہے ۔ شفع و وِتر کا خصوصیت سے ذکر ہونا اس مفہوم میں مخصوص ہونے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ ایک واضح مصداق سے مطابقت رکھنے کی قسم سے ہے ۔ لیکن الف لام ان دونوں میں عہد کاہوتو پھر خاص قسم کے زوج و فرد کی طرف اشارہ ہوگا اور یہاں گزشتہ قمسوں کی مناسبت سے سب سے زیادہ دو معنی مناسب ہیں :

ایک یہ کہ عید کا دن اور عرفہ کا دن ہو جو ذی الحج کی ابتدائی دس راتوں سے مکمل طور پر مناسبت رکھتا ہے اور مناسک ِحج کا اہم ترین حصہ انہیں دونوں میں انجام پاتاہے ۔ یایہ کہ مراد نمازیں ہوں جو فجر کی قسم کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں ، جو سحر کا اور بار گاہ ِ خدا میں راز و نیاز کا وقت ہے ، خصوصاً جبکہ یہ دونوں تفاسیر

ان روایا ت میں بھی وارد ہوئیں ہیں جو معصومین سے مروی ہیں ۔

آخر میں آخری قسم میں فرماتا ہے :” اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ صبح اور دن کی روشنی کی طرف جاتی ہے “( و اللیل اذا یسر ) (۱۱)

کیسی پر کشش اور عمدہ تعبیر ہے کہ چلنے کی نسبت رات کی طرف وہی ہے ، وہ بھی رات کو چلنا اس لئے کہ ” یسر“۔ ” سری“ کے مادہ سے ( بروزن شما) بقول راغب مفردات میں رات کے چلنے کے معنی میں ہے ۔ گویا رات ایک زندہ وجود ہے اور حسّ و حرکت رکھتی ہے جو تاریکی میں قدم بڑھاتی ہے اور روشنی کی طرف جاتی ہے ۔

جی ہاں ! اس تاریکی کی قسم کھائی ہے جس کا رخ روشنی کی طرف ہے ، متحرک تاریکی نہ کہ ٹھہری ہوئی ۔

تاریکی اس وقت وحشت ناک ہوتی ہے جب وہ رکی ہوئی ہو لیکن اس میں اگر نور و روشنی کی طرف حرکت ہو تو اس کی قدر و قیمت زیادہ ہوتی ہے ۔

بعض مفسرین نے یہ بھی کہاہے کہ ظلمت ِ شب کرہ زمین پر حرکت کی حالت میں ہے اور اصولی طور پر جو رات اہم مفید اور حیات بخش ہے وہ وہی رات ہے جو حرکت کی حالت میں ہو ، یعنی جو مستقل طور پر بتدریج خود کو دن سے تبدیل کرے ، اس لئے کہ اگر رات کرّہ زمین کے نصف حصہ پر جاکر رک جائے اور میخ کی طرح گڑ جائے تو وہ آدھا حصہ بھی ختم ہوجائے اور دوسرا آدھا حصہ بھی جو ہمیشہ سورج کی روشنی کے مقابل ہو:

رات سے مراد یہاں کیا ہے ؟ کیاسب راتیں مراد ہیں ، یا کوئی خاص رات ؟

اس میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ اگر اس کا الف لام عموم کے لئے ہو تو اس میں تمام راتیں شامل ہوں گی ، جو خدا کی آیات میں سے خود ایک آیت ہے اور آفرینش کے مظاہر میں سے خود ایک مظہر ہیں ۔ اگر اس کا الف لام عہد ہو تو پھر معین رات کی طرف اشارہ ہے اور گزشتہ قسموں کی مناسبت سے مراد عید قربان کی رات ہے جس میں حجاج کرام مزدلفہ ( مشعر الحرام ) کی طرف اور اس وادیِ مقدس میں رات گزارنے کے بعد طلوع آفتاب کے وقت سر زمین منیٰ کی طرف راونہ ہوجاتے ہیں ۔یہ تفسیر معصومین علیہم السلام سے منقول روایات میں بھی آئی ہے ۔(۱۲)

جن لوگوں نے اس رات کا منظر قریب سے عرفات و مشعر میں دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کس طرح ہرگز گوشہ و کنار سے لاکھوں افراد کی حالت میں ہوتے ہیں ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رات اپنے وجود کے ساتھ حرکت کر رہی ہے یہ ٹھیک ہے کہ حاجی چل رہے ہوتے ہیں ، لیکن یہ حرکت عمومی اس قدر وسعت رکھتی ہے گویا زمین و زمان سب حرکت میں ہوں اور یہ سب اس وقت محسوس ہوتا ہے جب انسان عید کی رات اس سر زمین میں ہو اور و اللیل اذا یسر کے معنی اپنی آنکھوں دیکھے ۔ بہر حال رات کسی بھی معنی میں ہو ، عام یا خاص ، عظمت الہٰی کی نشانی ہے اور عالم ہستی کے اہم موضوعات میں سے ہے ۔

رات ہَوَاکی حرارت میں اعتدال پید اکرتی ہے ، تمام موجودات کو آرام پہنچاتی ہے اور بارگاہ خدا میں راز و نیاز کے لئے فضا میں سکون پید اکرتی ہے ۔ باقی رہی عید قربان کی رات جس کا نام ( لیلة جمع ) ہے ، وہ بھی اس مقدس وادی مشعر الحرام میں سال کی عجیب ترین رات ہے ۔

بہرحال ان پانچ قسموں کا رشتہ ( فجر کی قسم ، دس راتوں کی قسم ، زوج و فرد کی قسم اور رات کی قسم ) اس صورت میں بالکل واضح ہے جب ہم ان سب کو ایام ذی الحج اور حج کے عظیم مراسم سے متعلق سمجھیں ۔

اس صورت حال کے علاقہ پھر عالم تکوین اور عالم تشریع کے اہم حوادث کے مجموعہ کی طرف اشارہ ہے جو خدا کی عظمت کی نشانیاں ہیں اور عالم ہستی کے عجیب و غریب اور حیران کن مظاہر ہیں ، ان پر معنی اور بیدار کر نے والی قسموں کے بعد ارشاد ہوتاہے :

” کیا کچھ کہاگیاہے اس میں صاحبان خرد کے لئے اہم قسم ہے “( هل فی ذالک قسم لذی حجر ) ۔ حجر یہاں عقل کے معنی میں ہے اور اصل میں

منع کے معنی میں ہے ۔ مثلاًکہاجاتا ہے کہ قاضی نے فلاں شخص کو حجر ( بر وزن زجر) کیا یعنی اسے اس کے اموال میں تصرف کرنے سے منع کر دیا ۔ یایہ کہ کمرہ کو حجرہ کہا جاتا ہے ، اس لئے کہ وہ ایک محفوظ و ممنوع جگہ ہوتی ہے کہ اس میں دوسرے وارد نہیں ہوسکتے ۔

دامن اور آغوش کو حجر (بر وزن فکر) کہا جاتاہے دوسروں سے محفوظ ہونے اور ممنوع ہونے کی وجہ سے اور عقل بھی انسان کو غلط کاموں سے روکتی ہے لہٰذا اسے حجر سے تعبیر کیا گیا ہے ، جیسا کہ خود لفظ عقل کے معنی بھی خود منع کرنے کے ہیں ۔ اسی لئے وہ رسّی جسے اونٹ کے گھٹنے میں باندھتے ہیں کہ اسے چلنے پھرنے سے روکیں ، عقال کہلاتی ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ منقسم بہ ( وہ چیز جن کے لئے یہ قسمیں کھائی گئی ہے) کیا ہے ؟ اس سلسلہ میں دواحتمال ہیں ، پہلا یہ کہ جملہ( ان ربک البالمرصاد ) تیرا پروردگار کمینگاہ میں ہے ، اس قسموں کا جوابِ قسم ہے ۔ دوسرا یہ کہ جوابِ قسم محذوف ہے اور آنے والی آیات میں جو سر کشوں کی سزا اور ان پر نازل ہونے والے عذاب کی بات کرتی ہے اور وہ اس پر گواہ ہیں ۔ یہ معنی کے لحاظ سے اس طرح ہے ۔ قسم ہے ان چیزوں کی جو کہی ہیں کہ ہم کافروں اور سر کشوں پر عذاب نازل کریں گے(۱۳)

____________________

۱۔ مجمع البیان ،جلد۱۰ص ۴۸۱۔

۲۔ مجمع البیان ،جلد۱۰ص ۴۸۱۔

۳۔ یہ معنی امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں نقل ہوئے ہیں ۔ تفسیر بر ہان ، جلد ۴، ص ۴۵۷، حدیث ۱۔

۴۔ تفسیر ابو الفتوح رازی، جلد، ۱۲ ، ص ۷۴

۵۔ اگر چہ ” لیال عشر“ یہاں نکرہ کی شکل میں بیان ہوئی ہیں لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ نکرہ یہاں بیان عظمت کے لئے ہے ، لہٰذا یہ عہد کا مفہوم پیدا کرتی ہیں اور یہ ان

مخصوص راتوں کی طرف اشارہ ہے جو اوپر بیان ہوئی ہیں ۔

۶۔ تفسیر فخر رازی ، جلد ۳۱، ص ۱۶۴۔

۷۔ علا مہ طباطبائی نے المیزان میں بعض مفسرین سے جلد ۲۰ ، ص ۴۰۶ پر نقل کیا ہے اور روح المعانی نے تحریر و التجیر سے جلد ۳۰ ص ۱۲۰ پر نقل کیا ہے ۔

۸۔ ابو سعدی خدری نے اسے پیغمبر سے نقل کیاہے ۔ مجمع البیان ، جلد ۱۰، ص ۴۸۵۔

۹۔ مجمع البیان ، جلد ۱۰، ص ۴۸۵۔

۱۰۔ مجمع البیان ، جلد ۱۰، ص ۴۸۵۔

۱۱۔ یسر اصل میں یسری ہے جو مادہ سری کا فعل مضارع ہے اس کے بعد اس کی یا ء تخفیف اور گزشتہ آیات سے ہم آہنگی کی بناء پر حذف ہو گئی ہے۔

۱۲۔ نور الثقلین ، جلد ۵، ص ۵۷۱۔

۱۳۔ تقدیر میں اس طرح ہے کہ لنعذبن الکفار و الطاغین۔ اس طرح قسم اور منقسم بہ واضح ہوجاتے ہیں ۔


آیات ۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴

۶ ۔( الم تر کیف فعل ربک بعادٍ ) ۔ ۷ ۔( ارم ذات العماد ) ۔ ۸ ۔( التی لم یخلق مثلها فی البلاد ) ۔

۹ ۔( و ثمود الذی جابوا الصخرَ بالواد ) ۔ ۱۰ ۔( و فرعون ذی الاوتاد ) ۔ ۱۱ ۔( الذی طغوا فی البلاد ) ۔

۱۲ ۔( فاکثروا فیها الفساد ) ۔ ۱۳ ۔( فصبّ علیهم ربک سوط عذابٍ ) ۔

۱۴ ۔( ان ربک لبامرصاد ) ۔

ترجمہ

۶ ۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے پروردگار نے قوم عاد کے ساتھ کیا کیا؟ ۷ ۔ اور اس باعظمت شہر ارم کے ساتھ

۸ ۔ وہی شہر جس کی نظیر شہروں میں پیدا نہیں کی گئی ۔ ۹ ۔ اور قوم ثمود جو درّوں میں سے بڑ ے بڑے پتھر کاٹتی تھی ۔

۱۰ ۔ اور فرعون جو صاحب قوت اور سخت سزا دینے والا تھا ۔ ۱۱ ۔ وہی قومیں جنہوں نے شہروں میں سر کشی کی ۔

۱۲ ۔ اور ان میں بہت زیادہ فساد انہوں نے کیا۔ ۱۳ ۔ لہٰذا خدا نے ان کو عذاب کا تازیانہ لگا یا ۔

۱۴ ۔ یقینا تیر اپر وردگار کمین گاہ میں ہے ۔

تیرا پرور دگار ظالموں کی گھات میں ہے

گزشتہ آیات کے بعد جو سر کشوں کی سزا اور ان پر نازل ہونے والے عذاب کے بارے میں بامعنی قسموں کی ضمانت لئے ہوئے تھیں ، ان آیات میں گزشتہ اقوام میں سے چند طاقتور قوموں کے متعلق ، جن میں سے ہرایک عظیم قوت کی مالک تھی ، لیکن ساتھ ہی مغرور بھی متکبر و سر کش بھی تھی ، ان کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ان کی درد ناک سر نوشت کو واضح کرتا ہے تاکہ مشرکین مکہ اور دوسری اقوام جو ان کے مقابلہ میں بہت کمزور ہیں ، اپنا اندازہ لگالیں اور خواب غفلت سے بیدار ہو جائیں ۔ پہلے فرماتا ہے :” کیاتونے دیکھانہیں کہ تیرے پروردگار نے قوم عاد کے ساتھ کیا کیا ہے “۔( الم تر کیف فعل ربک بعاد ) ۔

رویت (دیکھنا )سے یہاں مراد علم و آگاہی ہے چونکہ ان اقوام کی داستانیں اس قدر مشہور ومعروف تھیں کہ گویا بعد کے زمانے کے لوگ بھی انہیں اپنی آنکھوں سے

دیکھتے تھے ،لہٰذا رویت کی تعبیر صرف ہوئی ہے ۔ البتہ اس آیت میں مخاطب پیغمبر تھے لیکن مقصود سب کوتنبیہ کرنا اور خبردار کرنا ہے ۔

”عاد“ خدا کے عظیم پیغمبر حضرت ہود کی قوم ہے ۔ بعض مو خین کا نظریہ ہے کہ عاد کا اطلاق دو قبیلوں پر ہوتا ہے ایک وہ جو بہت پہلے تھا اور قرآن نے اسے عاد الاولیٰ سے تعبیر کیا ہے ۔ ( نجم ۔ ۵۰) ۔ وہ غالبا ً تاریخ سے پہلے موجود تھا ۔دوسراقبیلہ جو تاریخ بشر کے دور میں اور تقریباً ولادت مسیح سے سات سو سال پہلے تھا اور عاد کے نام سے مشہور تھا ۔ یہ احقاف یایمن میں رہا ئش پذیر تھا۔ اس قبیلہ کے افراد بلند قامت اور قوی الجثہ تھے اور عاد کے نام سے نمایاں جنگجو شما رہوتے تھے ۔ اس کے علاوہ وہ متمدن بھی تھے ۔ ان کے شہر آباد اور زمینیں سر سبز و شاداب تھیں ۔ ان کے باغات پر بہار تھے اور انہوں نے بڑے بڑے محل بھی تعمیر کئے تھے بعض مو خین کا خیال ہے کہ عاد اس قبیلہ جد اعلیٰ کا نام تھا اور وہ قبیلہ کو اپنے جدکے نام سے موسوم کرکے پکار تے تھے ۔ ا سکے بعد مزید فرماتاہے :

” وہی پر شکوہ اور عظیم شہررام “( ارم ذات العماد ) ، اس بات میں کہ ارم کسی شخص کا نام ہے یا قیبلے کا یا جگہ یا کسی شہر کا ، مو خین کے درمیان اختلاف ہے ۔ زمخشری کشاف میں نقل کرتا ہے کہ عاد بیٹا ہے عوص کا ، وہ بیٹاہے ارم کا ، وہ بیٹا ہے سا، ابن نوح کا اور چونکہ قبیلے کے اجداد سے قبیلے منسوب ہوتے تھے ، لہٰذا عاد کو ارم بھی کہتے ہیں ،۔ موخین کا نظر یہ ہے کہ ارم وہی عاد اولیٰ ہے اور عاد دوسرا قبیلہ ہے ، جبکہ کچھ اور حضرات کا نظریہ ہے کہ ارم انکے شہر اور سر زمین کانام ہے ۔(۱)

لیکن بعد والی آیت سے مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ارم ان کے بے نظیر شہر کا نام ہے ۔

عماد کے معنی ستون اور ا س کی جمع عمد ہے ( بر وزن شتر) پہلی تفسیر کی بناپر قوم عاد کے طاقتور جسموں اور ستون جسے پیکروں کی طرف اشارہ ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق با عظمت عمارتوں ، بلند و بالا محلات ، اور ان عظیم ستونوں کی طرف اشارہ ہے جو عظیم محلوں میں تعمیر کئے کئے تھے اور ان دونوں صورتوں میں قوم عاد کی طاقت و قوت کا اشارہ ہے ۔(۲)

اس کے بعد والی آیت میں فرماتا ہے :” وہی شہر و دیار جن کی مانند و مثل دنیا کے شہروں میں پیدا نہیں ہوئی تھی( التی لم یخلق مثلها فی البلاد ) یہ تعبیر بتائی ہے کہ ارم سے مراد وہی شہر ہے ، نہ کہ قبیلہ طائفہ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض مفسرین نے اسی تفسیر کو قبول کیاہے اور ہم نے بھی اسی کو تر جیح دی ہے ۔(۳)

بعض مفسرین نے جزیرة العرب کے بیابانوں اور عدن کے صحراو ں میں شہر ارم کے بر آمد ہونے کی ایک دلچسپ داستان بیان کی ہے جس میں وہ اس شہر کی بلند و بالا عمارات اور سامان ِ زینت وغیرہ کی بات کرتے ہیں ۔ لیکن مذکورہ داستان واقعیت کی نسبت خواب یا افسانے سے زیادہ تعلق رکھتی ہے ، لیکن اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ قوم عاد طاقتور قبائل پر مشتمل تھی، ان کے شہر ترقی یافتہ تھے اور جیسا کہ قرآن اشارہ کرتا ہے ، ان جیسے شہر پھر آباد نہیں ہوسکے ۔ بہت سی داستانیں شداد کی ، جو عاد کا بیٹا ، زبان زدِعام ہیں اور تاریخ میں مرقوم ہیں ، یہاں تک کہ شداد کی بہشت اور اس کے باغات ضرب المثل کی شکل اختیار کر گئے ہیں ۔ لیکن ان داستانوں کی حقیقت کچھ نہیں ہے ، یہ محض افسانے ہیں ۔ یہ ایسے افسانے ہیں کہ ان کی حقیقت پر بعد میں حاشیہ آرائی کر لی گئی ۔

اس کے بعد گزشتہ اقوام کے دوسرے سر کش گروہ کا حوالہ دے کر فرماتا ہے: کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے پر وردگار نے قوم ثمود کے ساتھ کیا کیا ، جو وادی میں بڑے بڑے پتھروں کوکاٹتی اور ان سے گھر اور قصر بناتی تھی ۔( وثمود الذین جابو ا الصخر بالواد ) ثمود کی قوم قدیم ترین اقوام میں سے ہے ۔ ان کے پیغمبر حضرت صالح تھے اور وہ وادی القریٰ نامی سر زمین میں رہتے تھے ، جو مدینہ اور شام کے درمیان تھی ، ان کا تمدن ترقی یافتہ تھا ، زندگی مرفہ الحال تھی اور ان کی عمارتیں عظیم تھیں ۔

بعض مو رخین کہتے ہیں ثمود اس قبیلے کے باپ کانام تھا ، اسی نا م سے وہ قبیلہ موسوم ہوا ۔(۴)

جابوا اصل میں جو بہ ( بر وزن توبہ ) سے لیا گیا ہے جو پست زمین کے معنی میں ہے ۔ اس کے بعد ہر قطعہ زمین کی قطع و برید کے معنی میں آیاہے ۔

کسی بات کے جواب کو اس لئے جواب کہتے ہیں گویا وہ ہوا کو قطع کرتا ہے اور کہنے والے کے منہ سے نکل کر سننے والے کے کان تک پہنچتا ہے ( یا اس لحاظ سے کہ سوال کو کاٹ کردیتا ہے )۔

بہر حال یہاں مراد پہاڑوں کے ٹکڑوں کا کاٹنا اور اطمینان کے ساتھ ان سے گھر بناناہے ، جیسا کہ سورہ فجر کی آیت ۸۲ میں اسی قوم ثمود کے بارے میں ہم پڑھتے ہیں( و کانوا ینحتون من الجبال بیوتاً آمنین ) ۔وہ دو پہاڑوں کے اندر پرسکون گھر بناتے تھے ۔ ان معنی کی نظیر سورہ شعرا کی آیت ۱۴۹ میں آئی ہے وہاں بیوتاً فارھین کی تعبیر صرف ہوئی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ان گھروں میں عیش و عشرت سے زندگی بسر کرتے اور ہوس رانی سے کام لیتے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ قومِ ثمود وہ پہلی قوم تھی جنہوں نے پہاڑوں سے پتھر کاٹ کر پہاڑوں کے اندر مضبوط و محکم گھر بنانے کا اقدام کیا۔

”واد“ جو اصل میں وادی تھا ، در یا سیلابوں کی گزرگاہ کے معنی میں ہے اور کبھی درّہ کے معنی میں بھی آیاہے ، اس لئے کہ سیلاب ان سے جو پہاڑوں کے قریب ہوتے ہیں ، گزر تے ہیں ، یہاں سے دوسرے معنی مناسب ہیں یعنی درے اور پہاڑ کے دامن ، اس لئے کہ قرآن کی وہ آیات بھی یہی بتاتی ہیں جو اس قوم کے متعلق بیانات دیتی ہیں اور اس کا اوپر بھی اشارہ ہوا ہے کہ قوم ثمود اپنے گھر پہاڑوں کے دامن میں بناتی تھی ۔ اس طرح وہ پتھر کاٹتے اور ان کے اندر پر امن گھر بناتے ۔(۵)

ایک حدیث میں آیاہے کہ پیغمبر تبوک کے موقع پر راستہ چلتے ہوئے دبستان کے شمال میں داوی ثمود میں پہنچے ۔ آپ گھوڑے پر سوار تھے ۔ فرمایا جلدی کرو اس وقت تم ملعون و معذب سر زمین پر ہو۔(۶)

اس میں شک نہیں کہ قوم ثمود ترقی یافتہ تھا کہ ان کے شہر آباد تھے ۔ لیکن پھر ہمیں ایسے اعداد و شمار سے واسطہ پڑتا ہے جو مبالغہ آمیز نظر آتے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ مفسرین کی ایک جماعت نے لکھا ہے کہ انہوں نے ایک ہزار سات سو شہر بنائے تھے ، جو سب کے سب پتھروں سے تعبیر ہوئے تھے ۔

اس کے بعد تیسری قوم کو پیش کرتے ہوئے فرماتاہے :

” اور اسی طرح فرعون صاحبِ ثروت “( و فرعون ذی الاوتاد ) جو اس طرف اشارہ ہے کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ خدانے طاقتور ظالم او ربیداد گر قومِ فرعون کے ساتھ کیا کیا۔

”اوتاد“ جمع ہے وتد کی ( بر وزن صمد ) جس کے معنی میخ کے ہیں ۔ فرعون کو ذی الاوتاد کیوں کہتے ہیں ؟ اس کی مختلف تفسیریں ہیں ۔

پہلی یہ کہ اس کے بہت سے لشکر تھے جن میں سے بہت سے خیموں میں زندگی گزار تے تھے اور جو خیمے ان کے لئے گاڑے جاتے تھے ان میں میخیں استعمال ہوتی تھیں ۔

دوسری یہ کہ فرعون جس شخص پر غضبناک ہوتا، زیادہ تر اس کو یہ سزا دیتا کہ اس کے چاروں ہاتھ پاو ں میخو ں سے باندھ دیتا ، یا اس کے ہاتھ اور پاو ں میں میخیں گاڑ دیتا یہاں تک کہ وہ مرجاتا ۔ یہ تفسیر ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے ۔(۷)

تاریخ میں آیاہے کہ جس وقت فرعون کی بیوی حضرت آسیہ حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئیں تو انہیں بھی یہی سزا دی گئی اور شہید کیاگیا ۔ ذی الاوتاد اصولی طور پر قوت اور استقرار حکومت کا کنایہ ہے ۔

تینوں تفسیریں آپس میں منافات بھی نہیں رکھتی ۔ ہوسکتا ہے کہ آیت کے معنی جمع ہوں ۔ اس کے بعد مجموعی طور پر ان تینوں اقوام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتاہے :

” وہی جنہوں نے شہروں میں سر کشی کی “( الذین طغوا فی البلاد ) اور ان میں بہت سا فساد بر پا کیا اور خرابی کی( فاکثروا فیها الفساد ) فساد جو ہر قسم کی ظلم و ستم ، تجاوز عن الحدود ، عیاشی اور ہوس رانی پر مشتمل تھا ۔ واقعی ان کی سر کشی ایک اثر رکھتی ہے اور ہر سر کشی کرنے والی قوم آخر کار ہر قسم کے فساد میں مبتلا ہوجاتی ہے ۔

اس کے بعد ایک مختصر او رپر معنی جملے کے ساتھ ان تمام سر کش قوموں کی دردناک سزا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اضافہ فرماتا ہے :” لہٰذا خدا نے ان کو عذاب کا تازیانہ لگایا “( فصب علیهم ربک سوط عذاب ) ۔

” سوط“ کے معنی تازیانے کے ہیں ۔ اس کے معنی اصل میں ایک شی کو دوسری چیز سے مخلوط کرنے کے ہیں ۔ اس کے بعد اس کا تازیانہ پر بھی اطلاق ہواہے جو چمڑے وغیرہ سے بناہو۔ بعض مفسرین کے نزدیک عذاب کا کنایہ ہے ، ایسا عذاب جو انسان کے گوشت و خون سے مخلوط ہو جائے اور اس کو سخت پریشان و بے حال کردے ۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے کلام میں امتحان کے بارے میں ملتا ہے (و الذی بعثه بالحق لتبلبلن بلبلة و لتغربلن غربلة و لتساطن سوط القدر )۔ قسم ہے اس کی جس نے پیغمبر کوحق کے ساتھ مبعوث کیا تم شدت و سختی کے ساتھ موردِ امتحان و آزمائش قرار پاو گے ، چھلنی کی مانند ہو جاو گے ، دیگ میں جو چیز ہو اس کی طرح اس کے جوش کھانے اور ابال آنے کے وقت مل جل جاو گے اور اوپر نیچے ہو جاو گے “۔(۸)

یہ مختصر سی تعبیر شدید اور مختلف قسم کے عذابوں کی طرف اشارہ ہے جو اس قوم پر نازل ہوئے ۔ قوم عاد تو قرآن مجید کے بقول تیز ٹھنڈی اور جلانے والی ہوا اور آندھی سے ہلاک ہوئی( و اماعاد فاهلکوا بریح صرصر عاتیة ) ( حاقہ ۔ ۶ ) باقی رہی قوم ثمود تو وہ عظیم آسمانی چیخ کے ذریعہ نابود ہوئی ۔

( فاما ثمود فاهلکوا بالطاغیة ) ( حاقہ۔ ۵) اور قوم فرعون دریائے نیل کی موجوں میں غرق اور دفن ہو گئی( فاغرقنا هم اجمعین ) ( زخرف: ۵۵)

آخری زیر بحث آیت میں ان تمام لوگو ں کو ہشیار اور خبر دار کرنے کے لئے ، جو اس راستہ پر چلتے ہیں جس پر وہ سر کش لوگ چلتے تھے، فرماتا ہے :

” یقینا تیرا پروردگار کمین گاہ میں ہے “( ان ربک لبالمرصاد ) ۔”مرصاد“ رصد کے مادہ سے کسی چیز کی نگہبانی کرنے کے لئے آمادگی کے معنی میں ہے ۔ فارسی میں اسے کمین گاہ کہتے ہیں ۔ یہ لفظ عا طور پر ایسی جگہ استعمال ہوتاہے جہاں کچھ افراد مجبور ہوں کہ کسی گزرگاہ سے گزریں اور کوئی شخص اس گزرگاہ میں ضرب لگانے کے لئے آمادہ و تیار ہو۔

اس ساری گفتگو میں اس طرف اشارہ ہے کہ گمان نہ کرو کہ کوئی شخص عذابِ الہٰی سے بچ کر جاسکتا ہے ۔ سب کچھ اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور جس وقت وہ ارادہ کرے ان کو سزا دے سکتا ہے اور ان پر عذاب نازل کرسکتا ہے ۔

یہ بات واضح ہے کہ خدا کا کوئی مکان نہیں ہے اور وہ کسی گزرگاہ میں بھی نہیں بیٹھتا ۔ یہ تعبیر اس بات کا کنایہ ہے کہ پروردگار اپنی قدرت کے ذریعہ تمام سر کشوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلالم سے منقول ہے :(ان ربک قادر علیٰ ان یجزی ا هل المعاصی جزائهم ) ” تیرا پر وردگار قدرت و توانائی رکھتا ہے کہ گنہگاروں کو کیفر ِ کردار تک پہنچائے“۔(۹)

ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:(المرصاد قنطرة علی الصراط لایجوز ها عبد بمظلمة عبد ) ” مرصاد ایک پل ہے اس راستہ پر جو جہنم کے اوپر سے گزرتا ہے ۔ جس شخص کی گردن پر کسی مظلوم کا حق ہوگا وہ اس پر سے نہیں گزر سکے گا“۔(۱۰)

یہ حقیت میں ایک واضح مصداق کے بیان کی قسم میں سے ہے اس لئے کہ خدا کی کمین گاہ قیامت اور مشہور پل صراط تک محدود نہیں ہے ۔ خدا تو اس دنیا میں بھی ہر ظالم کی گھات میں ہے اور گزشتہ تینوں اقوام پر نازل ہونے والا عذاب اس کا واضح مصدا ق ہے ۔

” ربک“ ( تیرا پرورگار ) کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ سنت الہٰی تیری امت کی سر کش ، ظالم اور ستمگر قوموں کے بارے میں بھی جاری ہوگی ۔ پیغمبر اور مومنین کے دلوں کی تسکین بھی ہے کہ وہ سمجھ لیں کہ یہ ہٹ دھرم اور کینہ پرور دشمن خدا کی قدرت کے چنگل سے کبھی فرار نہیں کرسکیں گے اور یہ ان لوگوں کے لئے خطرہ کی تنبیہ بھی ہے جو پیغمبر اکرم اور مومنین پر ہر قسم کا ظلم و ستم روارکھتے تھے ۔ انہیں جان لینا چاہیئے کہ وہ لوگ جو ان سے زیادہ صاحب طاقت تھے ، ایک تیز آندھی ، ایک طوفان ، ایک شعلہ اور صیحہ آسمانی کے مقابلہ میں تاب مقاومت نہ لاسکے تو یہ کس طرح سوچتے ہیں کہ اپنے ان غلط اعمال کے باوجود عذابِ الہٰی سے نجات پاسکیں گے ۔

ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے آپ فرماتے ہیں : ” جبرائیل امین نے مجھ کو خبر دی ہے کہ جس وقت خدا وند و یکتا اولین و آخرین کی مخلوق کو میدانِ حشر میں جمع کرے گا تو جہنم کو لے آئے گا اور پل صراط کو ، جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے ، اس پر رکھ دے ۔ اس صراط پر تین پل ہوں گے ۔ پہلے پل پر امانت و رست گاری اور رحمت و محبت ہے ۔ دوسرے پل پر نماز اور تیسرے پل پر پروردگارعالم کا عدل ہوگا ۔ لوگوں کو حکم دیا جائے گاکہ وہ اس پل پر سے گزریں ۔ جنہوں نے امانت اور رحم میں کوتاہی کی ہوگی وہ پہلے پل پر ہی رہ جائیں گے ۔ اس سے گزر گئے تو نماز میں کوتاہی کی ہوگی تو دوسرے پل پر ہی رہ جائیں گے اور اگر اس سے بھی گزر گئے تو اپنے راستے کے آخر میں عدل الہٰی پائیں گے اور( ان ربک لبالمرصاد ) کے یہی معنی ہیں ۔(۱۱)

حضرت علی علیہ السلام کے ارشاد ات و کلمات میں ہم پڑھتے ہیں (ولئن امهل الله الظالم فلن یفوث اخذه وهو له بالمرصاد مجاز طریقه و بموضع الشجی من مساغ ریقه )

اگر خدا ظالم کو مہلت دے دے تو اس کی سزا ہر گز ختم نہیں ہوگی ۔ وہ ستمگاروں کی گھات میں ہے اور اس طرح ان کے حلق کو اپنے دستِ قدرت میں لئے ہوئے ہے کہ جس وقت چاہے گا اس طرح دبائے گا کہ اس کا لعاب دہن تک گلے سے نیچے نہیں جاسکے گا ۔(۱۲)

____________________

۱۔تفسیر کشاف ، جلد ۴،ص ۷۴۷۔ اس مضمون کو قرطبی نے بھی اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے ۔ اسی طرح دوسری تفسیروں میں بھی ہے ۔

۲۔ پہلی تفسیر کی بناء پر ذات کا مو نث ہونا طائفہ و قبیلہ کی بناء پر ہے جو مو نث لفظی ہے ۔

۳۔ ارم غیر منصرف ہے اسی لئے حالتِ جر میں منصوب ہوتاہے ۔

۴۔ ثمود اہل لغت کے لحاظ سے ثمد ( بر وزن نمد) اس تھوڑے سے پانی کے معنی میں جس کا کوئی مادہ نہ ہو اور ثمود ا س شخص کو کہتے ہیں جس سے زیادہ مال کا مطالبہ کریں ، اتنی مقدار جس سے اس کے مال میں نقص پید اہوجائے ، بعض اس لفظ کو عجمی کہتے ہیں ۔ مفردات راغب۔

۵۔جابو ا الصخر بالواد میں باء بظاہر ظرفیت کے معنی رکھتا ہے ۔

۶۔ روح البیان ، جلکد ۲ ص ۴۲۵۔

۷۔ علل الشرائع نور الثقلین کی نقل کے مطابق جلد ۵، ص ۵۷۱ حدیث ۶

۸-«نهج البلاغه»، خطبه ۱۶.

۹۔۔مجمع البیان ،جلد ۴۸۷۔

۱۰۔مجمع البیان ،جلد ۴۸۷۔

۱۱۔ روضہ کافی مطابق نقل نور الثقلین، جلد ۵، ص ۵۷۳۔

۱۲۔ نہج البلاغہ خطبہ ۹۷۔


آیات ۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۱۹،۲۰

۱۵ ۔( فامّا الانسان اذا ماابتلٰه ربه فاکرمه و نعَّمه فیقول ربیٓ اکرمن ) ۔

۱۶ ۔( و اما اذا ما ابتلٰه فقدر علیه رزقه فیقول ُ ربیٓ اهانن ) ۔

۱۷ ۔( کلَّا بل تکرمونَ الیتیمَ ) ۱۸۔( و لا تحٰٓضّون علیٰ طعام المسکین ) ۔

۱۹ ۔( و تاکلون التّراث اکلا ً لمّا ) ۲۰۔( و تحبِّو ن المال حبّاً جمّاً ) ۔

ترجمہ

۱۵ ۔ لیکن انسان کو خدا جس وقت آز مائش کے لئے عزت دیتا ہے ( اس کا اکرام کرتا ہے ) اور نعمت بخشتا ہے تو ( مغرور ہو جاتاہے ) اور کہتا ہے کہ میرے پر وردگار نے میرا اکرام کیا ہے ۔

۱۶ ۔ لیکن جب امتحان کے لئے اس پر روزی تنگ کردیتا ہے تو مایوس ہوجاتا ہے اور کہتا ہے میرے پروردگار نے مجھے ذلیل و خوار کیا ہے ۔

۱۷ ۔ایسا نہیں ہے جیسا تم نے خیال کیا ہے بلکہ تم یتیموں کا احترام نہیں کرتے ۔

۱۸ ۔ اور ایک دوسرے کو مساکین و فقراء کو کھانا کھلانے کا شوق نہیں دلاتے ۔

۱۹ ۔ اور میراث کو جائز و ناجائز طریقہ سے جمع کر کے کھاتے ہو۔ ۲۰ ۔ اور مال و دولت کو بہت دوست رکھتے ہو۔

نہ اس کی نعمت کے ملنے پر غرور کرو او رنہ سلب نعمت پر مایوس ہو

گزشتہ آیات کے بعد جو سر کشی کرنے والوں کو خبر دار کر رہی تھیں اور انہیں خدا کے عذاب سے ڈرارہی تھیں ، زیر بحث آیات میں مسئلہ امتحان کو پیش کرتا ہے جو ثواب اور عقاب الہٰی کا معیار ہے اور انسانی زندگی کا اہم مسئلہ شمار ہوتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے :

لیکن انسان ، جس وقت اس کا پر وردگار اور اس کی آزمائش کے لئے اس کا اکرام کرے اور نعمت بخشے ، تومغرور ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے پر وردگار نے مجھے عزت دی ہے( فاما الانسان اذا ما ابتلاه ربه فاکرمه و نعمه فیقول ربی اکرمن ) وہ نہیں جانتا کہ خدا ئی آز مائش کبھی نعمت کے ذریعہ اور کبھی انواع و اقسام کی مصیبتوں کے ذریعہ ہوتی ہے ۔ نہ نعمت کا حصول سببِ غرور بننا چاہئیے اور نہ مصائب مایوسی او رناامیدی کا سبب بنیں ۔ لیکن یہ کم ظرف انسان دونوں حالتوں میں مقصد آزمائش کو بھول جاتا ہے ، نعمت کے ملنے کے وقت اس طرح خیال کرتا ہے کہ وہ مقرب بارگاہ خدا ہو گیا او ریہ نعمت اس قرب کی دلیل ہے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ابتداء میں کہتا ہے کہ خدا اسے مورد اکرام قرار دیتا ہے ۔ لیکن آیت کے ذیل میں ہے کہ انسان خود کو مورد اکرام خدا دیکھتا ہے ۔ اس کی مذمت ہورہی ہے ۔ یہ اس بناء پر ہے کہ پہلا اکرام انعام ہی کے معنی میں ہے اور دوسرا اکرام بار گاہ خدا کے قرب کے معنی میں ہے ، لیکن جس وقت امتحان لینے کے لئے اس کی روزی تنگ کردیتا ہے تو مایوس ہوجاتا ہے اور کہتا ہے :

” میرے پروردگار نے مجھے ذیل و خوار کر دیا ہے “( و اما اذا ماابتلاه فقدر علیه رزقه فیقول اهانن ) ناامیدی اسے ہر طرف سے گھیر لیتی ہے اور وہ اپنے پروردگار سے رنجیدہ و ناخوش ہوجاتا ہے ۔ وہ اس سے غافل ہے کہ یہ سب چیزیں تو اس کی آزمائش اور امتحان کے ذرائع ہیں ۔ وہ امتحان جو انسان کی پر ورش اور ارتقاء کی رمز ہے او ر اس کے استحقاقِ ثواب کا سبب اور مخالفت کی صورت میں استحقاقِ عذاب کاباعث ہے ۔

یہ دونوں آیتیں خبر دار کرتی ہیں کہ نہ تو نعمت کا ورودتقرب خدا کی دلیل ہے اور نہ اس کا سلب ہوجانا حق سے دوری کی دلیل ۔ یہ تو امتحان کی مختلف صورتیں ہیں کہ خدا اپنی حکمت کے مطابق ہر گروہ کی کسی چیز سے آز مائش کرتاہے۔ یہ کم ظرف انسان ہیں کہ جو کبھی مغرور ہو جاتے ہیں اور کبھی مایوس ہو جاتے ہیں ۔

سورہ حٰم سجدہ کی آیت ۵۱ میں بھی آیاہے :

( و اذا انعمنا علی الانسان اعرض و ناٰ بجانبه و اذا مسه الشر فذودعا ء عریض ) ۔

جس وقت ہم کسی انسان کو نعمت دیتے ہیں تو وہ روگردانی کرتا ہے اور تکبر کرے کے حق سے دور ہو جاتا ہے ، لیکن جب اسے تھوڑی سی تکلیف پہنچے توہمیشہ دعا کرتا ہے اور بے تابی دکھاتا ہے ۔ اسی سورہ ہود کی آیت ۹ میں آیاہے( ولئن اذقنا الا نسان منا رحمة ثم نزعنا ها منه انه لیٴوس کفور ) ۔

جس وقت ہم انسان کو رحمت کا ذائقہ چکھائیں اور اسے چھین لیں تو ناامید و ناشکرا ہو جاتاہے ۔

یہ دونوں آیتیں علاوہ اس کے کہ خدا کی آزمائش کے مسئلہ کو مختلف طریقوں سے بیان کرتی ہیں ، یہ نتیجہ بھی بخشتی ہیں کہ نعمت سے بہرہ ور ہونا یا اس سے محروم ہونا قربِ خدا یا دوری پر وردگار کی دلیل نہیں ہے ، بلکہ ہمیشہ اور ہر جگہ ایمان و تقویٰ کا معیار ہے ۔

کتنے پیغمبر تھے جو اس دنیا میں انواع و اقسام کے مصائب میں مبتلا رہے ۔ ان کے مقابلہ میں کتنے کافر تھے جو گونا گون نعمتوں سے بہرہ مند تھے ۔ دنیا کی زندگی کا مزاج و طبیعت یہی ہے ۔ اس آیت کے ضمن میں پروردگار ِ عالم ابتلائات اور درد ناک حوادث کے فلسفہ کی طرف ایک سر بستہ اور جمالی اشارہ بھی کرتا ہے ۔ اس کے بعد ان اعمال کی تشریح کرتا ہے جو خدا سے دوری اور عذاب الہٰی کے چنگل میں پھنسنے کا موجب ہیں ۔ فرماتا ہے :

” ایسا نہیں ہے جیسا تم خیال کرتے ہو ( کہ تمہارے اموال پر وردگار کے نزدیک تمہارے قرب منزلت کی دلیل ہیں ، بلکہ تمہارے اعما ل تو تمہاری خدا سے دوری کی کیفیت کو بیان کرتے ہیں )” تم تو یتیموں کا احترام نہیں کرتے“( کلّا بل لا تکرمون الیتیم ) ۔ ” اور ایک دوسرے کو فقراء و مساکین کو کھانا کھلانے کا شوق نہیں دلاتے“۔( ولا تحاضّون علیٰ طعام المسکین ) ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ یتیموں کو کھانا کھلانے کی بات نہیں کرتا، بلکہ اکرام و احترام کی بات کرتا ہے۔ اس کے لئے یتیموں کے سلسلہ میں صرف بھوک کا مسئلہ در پیش نہیں ہوتا بلکہ اسے احترام سے محرومی کا سامنا کرنا ہوتا ہے اور وہ یہ احساس کرنے لگتا ہے کہ چونکہ اس کا باپ مرگیاہے ، لہٰذا وہ ذلیل و خوار ہوگیا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کی عزت کی جائے تاکہ وہ باپ کے نہ ہونے کا احساس نہ کرے۔

اسی لئے اسلامی روایات میں یتیموں سے محبت اور ان پر نوازش کرنے کے مسئلہ کو ایک خاص اہمیت دی گئی ہے ، ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ( مامن عبد یمسح یده علی رأس یتیم رحمة له الاَّ اعطاه الله بکل شعره نوراً یوم القیامة ) کوئی شخص کسی یتیم کے سر پر دست شفقت نہیں پھیرتا مگر یہ کہ خدا ان بالوں کی تعداد کے برابر جو اس کے ہاتھ کے نیچے آتے ہیں ، قیامت میں اسے نور بخشے گا۔(۱)

سورہ ضحیٰ کی آیت ۹ میں بھی آیاہے( فاما الیتیم فلاتقهر ) ” باقی رہا یتیم تو اسے مورد قہر و تحقیر قرار نہ دے“ یہ بالکل اس چیز کے مقابلہ میں ہے جو ایمان و اخلاق سے دور کل کے دور جاہلیت کے معاشرہ کی طرح آج کے معاشرہ میں بھی رواج رکھتی ہے کہ یتیموں کے مال کو مختلف حیلوں اور بہانوں سے اپنی ملکیت بنایاجاتا ہے اور اس یتیم کو اس طرح تنہا چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ باپ کی غیر موجود گی کا دکھ تلخ ترین شکل میں محسوس کرتا ہے ۔

جو کچھ ہم نے کہا اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ یتیموں کا اکرام ان کے مال کی حفاظت تک محدود نہیں ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے خیال کیاہے ، بلکہ اس کے ایک واضح ، صاف اور وسیع معنی ہیں جو مال کی حفاظت اور دوسرے امور دونوں کے متقاضی ہیں ۔ ”تحاضون(۲)

کاجملہ حض کے مادہ سے تحریص وترغیب کے معنی میں ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ صرف مسکین کو کھانا کھلانا ہی کافی نہیں ہے ، بلکہ لوگ ایک دوسرے کو اس کار خیر کے سلسلہ میں شوق دلائیں تاکہ یہ طریق ِ کار معاشرہ کی فضا میں وسعت پیداکرے تعجب کی بات یہ ہے کہ سورہ حاقہ کی آیت ۳۳ ۔ ۳۴ ،میں اس موضوع کو خدا وند ِ عظیم پر ایمان نہ لانے کے برابر بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :( انه کان لایو من با لله العظیم و الا یحض علی طعام المسکین ) وہ خدا ئے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا اور دوسروں کو مسکین کو کھانا کھلانے کا شوق نہیں دلاتا۔(۳)

اس کے بعد اس کے تیسرے غلط کام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں موردِ مذمت و ملامت قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے : ” تم میراث کو ( حلال و حرام طریقہ سے جمع کرکے کھاجاتے ہو۔( و تأکلون التراث اکلاً لمّٓا ) ۔(۴)

اس میں شک نہیں کہ اس مال کا کھانا ، جو شرعی میراث کے طور پر کسی شخص کو پہنچے ، برا نہیں ہے ۔ اس بناء پر مندرجہ بالاآیت میں اس کام کی مذمت ہوسکتا ہے کہ ذیل کے امور میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ ہو ۔

پہلی یہ کہ اپنے اور دوسروں کے حق کو جمع کرلیتا ہو، اس لئے کہ ” لم “ کا لفظ اصل میں جمع کے معنی میں ہے اور بعض مفسریں مثلاً زمخشری نے کشاف میں خصوصیت سے اس کی حرام و حلال کے درمیان جمع کرنے سے تفسیر کی ہے ۔ خصوصاً زمانہ جاہلیت کے عربوں کی حالت یہ تھی کہ وہ عورتوں اور بچوں کو میراث سے محروم کردیتے تھے اور ان کا حق خود لے لیتے تھے ۔ ان کا نظریہ تھا کہ میراث انہیں ملنی چاہئیے جو جنگوں ہوں ( اس لئے ان کے ہاتھ جو اموال لگتے تھے ان میں سے بہت سے مال وہ ہوتے تھے جو غارتگری کے نتیجے میں حاصل ہوتے تھے ) لہٰذا وہ صرف ان لوگوں کو حقدار سمجھتے تھے جو غارتگری کے قابل ہوں ۔

دوسرے یہ کہ جب میراث تم تک پہنچتی ہے تو تم فقیر و مسکین ، عزیزوں اور رشتہ داروں اور معاشرہ کے محروم افراد پر بالکل خرچ نہیں کرتے اور جب تم میراث کے مال کے ساتھ ، جو بغیر کسی زحمت و تکلیف کے تمہارے ہاتھ آتا ہے ۔

اس طرح کرتے ہوتو یقین اپنے کمائے ہوئے مال کے بارے میں تو تم زیادہ بخیل اور سخت ہوگے ، جو بہت بڑا عیب ہے ۔

تیسرے یہ کہ میراث اور چھوٹے بچوں کے حقوق کھانا ہے ، اس لئے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بے ایمان افراد ، اور وہ جو کسی قانون کے پابند نہیں ہوتے ، جب میراث کا مال ان کے ہاتھ لگ جائے تو وہ یتیم اور چھوٹے بچوں کا کوئی لحاظ نہیں کرتے اور چونکہ وہ یتیم اور چھوٹے بچے اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کرسکتے ، لہٰذا بے ایمان لوگ اس مال سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں ، یہ قبیح ترین شرمناک ترین گناہ ہے ۔ ان تینوں تفسیروں کے درمیان جمع بھی ممکن ہے ۔(۵)

” اور تم دولت و ثروت کو زیادہ عزیزرکھتے ہو“( و تحبون المال حباً جماً ) (۶)

تم دنیا پرست اور مال و متاع ِ دنیا کے عاشق افراد ہو اور یقینا وہ شخص جو مالِ دنیاسے ایسا لگاو رکھے وہ اس کے جمع کرنے کے وقت جائز و ناجائز ،حلال و حرام کا خیال نہیں رکھتا ۔ اس قسم کا شخص حقوق الہٰی کو بالکل تسلیم نہیں کرتا ، یا ان میں کمی کا مرتکب ہوتا ہے ، جس شخص کو حب دنیا نے گھیر رکھا ہو، اس کے دل میں یاد خدا کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی ۔

اس طرح نعمت و بلا کے ذریعہ انسانوں کی آزمائش کے ذکر کے بعد چار ایسی اہم آزمائشوں کی طرف متوجہ کرتا ہے جن کے بارے میں یہ مجرم گروہ ناکام ہو کر مردود ہوا تھا : یتیموں کے بارے میں یہ آز مائش ، مسکینوں کو کھانا کھلانے آزمائش ، میراث کے حصوں کی جائز و ناجائز طریقہ سے جمع کرنے کی آز مائش اور آخر میں بغیر کسی قید و شرط کے اموال جمع کرنے کی آزمائش ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ تمام آز مائشیں مالی پہلو رکھتی ہیں ، واقعی اگر کوئی شخص مالی آز مائشوں سے عہدہ بر آمد ہو جائے تو پھر اس کے لئے دوسری آزمائشیں آسان ہو جائیں گی ۔ یہ دنیا کا مال ہی ہے جو مشہو قول ” ایمان فلک دادہ بباد“ کے مطابق دنیا میں

ایمان کو خراب کردیتا ہے ۔ آدم کے بیٹے کی عظیم ترین لغزشیں اسی شعبہ سے تعلق رکھتی ہیں ۔

کچھ لوگ ایسے ہیں جو مال کے ایک حد تک تو امین ہیں ، لیکن جب ان کا پیمانہ پر ہوجائے اور وہ اس حد سے گزر جائیں تو شیطانی وسوسے انہیں خیانت کی طرف کھینچ کرلے جاتے ہیں ۔ سچے مومنین وہ ہیں جو امانت اور صحتِ عمل کاخیال دوسروں کے واجب و مستحب حقوق کے سلسلہ میں مال کی ہر حد میں بغیر کسی قید و شرط کے رکھتے ہیں ۔ اس قسم کے افراد کو ایمان اور تقویٰ زیب نہیں دیتا ہے ۔

مختصر یہ کہ جو افراد ہر حالت میں اور مال کی ہر مقدار کے سلسلہ میں امتحان و آزمائش سے عہدہ برا ہو سکیں ، وہ قابل اعتماد ، متقی ، پر ہیز گار اور عمدہ شخصیت کے حامل ہوتے ہیں اور بہترین دوست و احباب شمار ہوسکتے ہیں ۔ وہ دوسرے معاملات میں بھی ( عام طور پر ) پاک اور عمدہ افراد ہوتے ہیں ۔ مندرجہ بالا آیات جو مالی آزمائشوں تک محدود ہیں وہ اسی وجہ سے ہیں ۔

____________________

۱۔ بحار الانوار، جلد ۱۵، ص ۱۲۰( چاپ قدیم )۔

۲۔ تحاضون اصل میں تتحاضون تھا جس کی ایک تاء تخفیف کے لئے حذف ہوگئی ۔

۳۔ طعام اس آیت میں اور زیر بحث آیت میں مصدر ی معنی رکھتا ہے اور اطعام( کھانا کھلانے ) کے معنی میں ہے ۔

۴۔ ” لم “ کے معنی جمع کرنا ہیں اور کبھی ایسا جمع کرنا جس میں اصلاح کا مقصد بھی کا رفرماہو، اس کے معنی میں آتا ہے ۔

۵۔ تراث اصل میں وارث ( تراث ہی وزن پر )تھا اس کی واو تا میں تبدیل ہوگئی ہے ۔

۶۔ جم جیساکہ مصباح اللغة اور مقاییس میں آیا ہے کہ کثیر اور فراوان کے معنی میں اور جمّہ بر وزن جبّہ سے کے آگے کے جمع شدہ بالوں کے معنی میں ہے ۔


آیات ۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵،۲۶

۲۱ ۔( کلا اذا دکت الارض دکاً دکاً ) ۔ ۲۲ ۔( و جآء ربک و الملک صفاً صفاً ) ۔

۲۳ ۔( و جِایْ ٓءَ یومئذ بجهنم یومئذٍ یتذکر الانسان و انّٰی له الذکریٰ ) ۔

۲۴ ۔( یقول یٰلیتنی قدمت لحیاتی ) ۔ ۲۵ ۔( فیومئذٍ لایعذب عذابهٓ احدٌ ) ۔ ۲۶ ۔( ولا یو ثق وثاقهٓ احدٌ ) ۔

ترجمہ

۲۱ ۔ ایسانہیں ہے جیساکہ وہ خیال کرتے ہیں جس دن زمین کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جائے گی ۔

۲۲ ۔ اور تیرے پروردگار ک افرمان پہنچے گا اور ملائکہ صف بہ صف ہوں گے ۔

۲۳ ۔ اور اس دن جہنم کو حاضر کریں ۔ جی ہاں ! اس دن انسان متذکرہ ہوگا، لیکن کیسا فائدہ اس لئے کہ یہ تذکراس کے لئے سود مند نہیں ہوگا ۔

۲۴ ۔ وہ کہے گا کاش اس زندگی کے لئے میں نے کوئی چیز بھیجی ہوتی ۔

۲۵ ۔ اس دن کوئی بھی اس جیسا عذاب نازل نہیں کرے گا۔ ۲۶ ۔ اور کوئی شخص اس کی طرح کسی کو قید و بند میں نہیں جکڑے گا۔

اس دن بیدار ہوں گے کہ جب پانی سر سے اونچا ہو چکا ہو گا ۔

ان مذمتوں کے بعد جو گزشتہ آیات میں سر کشی کرنے والوں ، دنیا پرستوں اور دوسروں کے حقوق پر ہاتھ صاف کرنے والوں کی ہوئی تھیں ، ان آیات میں انہیں خطرے سے آگاہ کرتا ہے کہ آخر کار قیامت آنے والی ہے اور حساب و کتاب اور جزا و سزا کا مرحلہ در پیش ہے ۔ ضروری ہے کہ آ پ خود کو اس کے لئے تیار کریں ۔ پہلے فرماتا ہے :

ایسا نہیں ہے جیسا وہ گمان کرتے ہیں ( حساب و کتاب نہیں ہے اور اگر خدا نے انہیں مال دیا ہے تو ان کے احترام و اکرام کی وجہ سے دیاہے ، نہ کہ آزمائش و امتحان کے لئے ( کلّا) ۔

جس وقت زمین کوٹ کوٹ کرریزہ ریزہ کردی جائے گی ( اذا دکت الارض دکا ً دکاً) دک اصل میں نرم و صاف زمین کے معنی میں ہے ۔ پھر اونچی جگہ اور عمارتوں کے لئے کوٹنے اور ریزہ ریزہ کرنے اور صاف کرنے پر اطلاق ہواہے ۔ ” دکان“ اس جگہ کو کہتے ہیں جو صاف اور نشیب و فراز کے بغیر ہو۔ ” دکہ“ (چبوترا ) اس اونچی جگہ کو کہتے ہیں جسے بیٹھنے کے لئے صاف اور تیار کرتے ہیں ۔ ” دک “ کی تکرار مندرجہ بالا آیت میں تاکید کے لئے ہے ۔

مجمو عی طور پر یہ تاکید دنیا کے اختتام اور قیامت کے آغاز کے زلزلوں اور جھنجوڑ دینے والے حوادث کی طرف اشارہ ہے ۔ موجودات میں اس قسم کا تزلزل رونما ہوگا کہ پہاڑ ریزہ ریزہ اور زمینیں ہموار ہو جائیں گی ، جیسا کہ سورہ طٰہٰ کی آیت ۱۰۵ سے ۱۰۷ تک آیاہے :

( و یسئلونک عن الجبال فقل ینسفها ربی نسفاً فیذرها قاعاً صفصفاً لاتریٰ فیها عوجاً ولا امتاً )

تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، کہہ دے میرا پر وردگار انہیں بر باد کردے گا اور اس کے بعد زمین کو صاف و ہموار اور بے آب و گیاہ کردے گا ، اس طرح کہ تو اس میں کسی طرح کا نشیب و فراز نہیں دیکھے گا۔

قیامت کے پہلے مرحلہ کے اختتام ، یعنی اس جہاں کی ویرانی کے بعد ، دوسرا مرحلہ شروع ہوگا ۔ سارے انسان زندہ ہو جائیں گے اور عدالت الہٰی میں ظاہر ہوں گے ۔ اس وقت تیرے پروردگار کا فرمان آن پہنچے گا۔ فرشتے صف در صف حاضر ہو ں گے( و جاء ربک و الملک صفاً صفاً ) ۔ محشر میں موجود لوگوں کا محاصرہ کرلیں اور فرمانِ حق کے اجراء کے لئے آمادہ ہوں گے ۔

یہ تصویر کشی اس عظیم دن کی عظمت اور عدالت کے چنگل سے انسان کے فرار کرنے کی توانائی نہ ہونے کی ہے ۔

جاء ربک ) ” تیرا پر وردگار آئے گا “ کی تعبیر اس حقیقت کا کنایہ ہے کہ مخلوقات کے حساب و کتاب کا فرمان پہنچے گا ۔ یا پھر خدا کی عظمت کی علامتوں کا ظہور مراد ہے ، یا پر وردگار کے ظہور سے مراد اس دن اس کی معرفت کا ظہور ہے ، اس طرح سے کہ کسی شخص کےلئے انکار کی گنجائش باقی نہیں رہے گی ۔ گویا سب لوگ اپنی آنکھوں سے اس کی ذاتِ بے مثال کے جمال کامشاہدہ کریں گے۔ بہر حال مسلم ہے کہ خدا کا آنا ، اس لفظ کے حقیقی معنی جن کا لازمہ جسم ہے اور کسی مکان میں منتقل ہونا ہے ، کوئی امکان نہیں رکھتے اور وہ مراد نہیں رہی اس لئے کہ خدا جسم اور خواصِ جسم سے مبراہے ۔(۱)

یہی مفہوم بڑی صراحت کے ساتھ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا سے منقول ہے ۔(۲)

اس تفسیر کی شاہد سورہ نحل کی آیت ۳۳ ہے جس میں فرماتا ہے :

( هل ینظرون الاَّ تأتیهم الملائکة أو یأتی امر ربک ) کیاوہ اس کے علاوہ توقع رکھتے ہیں کہ فرشتے ان کے پاس آئیں یا تیرے پر وردگار کا امر آن پہنچے ؟ صفاً صفا کی تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ ملائکہ محشر میں مختلف صفوں میں وارد ہوں گے ۔ احتما ل ہے کہ ہر آسمان کے فرشتے ایک الگ صف میں حاضر ہوں گے اور اہل محشر کے گرد گھیرا ڈال دیں گے اس کے بعد فرماتاہے :

” اوراس دن جہنم کو لے آئیں گے ، اس دن انسان متذکرہوگا لیکن اس کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا“

( وجیء یومئذ بجهنم یومئذیتذکر الانسان و انّی له الذکریٰ ) ۔ اس تعبیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہنم جلانے کے قابل ہے اور اسے لاکر مجرموں کے قریب کردیا جائے گا، جیسا کہ جنت کے بارے میں بھی سورہ شعراء کی آیت ۹۰ میں ہم پڑھتے ہیں ( و ازلفت الجنة للمتقین) جنت پرہیزگاروں کے نزدیک کردی جائے گی ۔

اگر مفسرین مائل ہیں کہ ان الفاظ کو مجازی معنوں پر محمول کریں اور جنت و جہنم کے نیکو کاروں اور بد کاروں کے سامنے ظہور کا کنایہ سمجھیں ، لیکن اس خلاف ظاہر کے لئے ہمارے پاس کوئی دیل نہیں ہے ۔ بلکہ بہتر ہے کہ انہیں اس کے ظاہر پر چھوڑ دیا جائے، اس لئے کہ عرصہ محشر کی حقیقتیں ہم پرمکمل طور پر واضح نہیں ہیں اوروہاں کے حالات ہماری دنیا کے حالات سے بہت مختلف ہیں ۔ پھر اس کا کوئی مانع نہیں ہے کہ اس روز دوزخ و جنت کو اسن کی جگہ سے ہٹائیں گے ۔

ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے ہمیں ملتا ہے کہ جس وقت مندرجہ بالا آیت( وجیء یومئذ بجهنم ) نازل ہوئی تو آپ کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہوگیا ۔ یہ حالت اصحاب پر گراں گزری ۔ وہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس آئے اور ماجرا بیان کیا۔ حضرت علی علیہ السلام آئے اور پیغمبر اسلام کے دونوں شانوں کے دمیان بوسہ دیا اور کہا:

” اے خدا کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ۔ کیا حادثہ رونما ہواہے “؟

آپ نے فرمایا!” جبرائیل آئے تھے اور یہ آیت تلاوت کی ہے “۔

حضرت علی علیہ السلام کہتے ہیں :” میں نے عرض کیا کس طرح جہنم کو لے آئیں گے “؟

فرمایا: ” ستر ہزار فرشتے ستر ہزار مہاروں کے ذریعہ اسے کھینچ کر لائیں گے او روہ سر کشی کی حالت میں ہوگی ۔ اگر اس کو چھوڑ دیں تو وہ سب کو آگ لگادے گی ، پھر میں جہنم کے سامنے کھڑا ہو جاو ں گا اور وہ کہے گی : اے محمد مجھے آپ سے کو ئی سر و کار نہیں ہے ۔ خدا نے آپ کا جسم مجھ پر حرام کیا ہے “۔

اس دن ہر شخص اپنی فکر میں ہوگا لیکن جناب سید المرسلین کہیں گے :”رب امتی رب امتی “( پروردگار میری امت ، میری امت، )۔(۳)

جی ہاں ! جب مجرم انسان ان مناظر کو کو دیکھے گا تو ہل جائے گا اور غم و اندوہ میں ڈوب جائے گا ، اپنے ماضی پر نگاہ ڈالے گا اور اپنے اعمال سے سخت پشیمان ہوگا ،لیکن یہ پشیمانی اس کو کوئی فائدہ نہ دے گی ، انسان آرزو کرے گا کہ واپس پلٹ جائے اور اپنے تاریک ماضی کی تلافی کرے ، لیکن واپسی کے در وازے بالکل بند ہوں گے وہ چاہے گا کہ توبہ کرے لیکن توبہ کا زمانہ ختم ہو گیا ہوگا وہ چاہے گا کہ اعمال صالح بجالائے تاکہ اپنے برے اعمال کی تلافی کر سکے ، لیکن اعمال کا دفتر بند ہو چکا ہو گا ، یہ وہ مقام ہے جہاں اس کی فریاد بلند ہو گی او روہ کہے گا :” اے کاش ! میں نے اپنی زندگی کے لئے اعمال ِ صالح بھیجے ہوتے “( یقول یا لیتنی قدمت لحیاتی ) ۔

قابل توجہ یہ ہے کہ یہ نہیں کہے گا کہ اپنی آخرت کی زندگی کے لئے ، بلکہ کہے گا اپنی زندگی کے لئے ، گو یازندگی کا لفظ آخرت کی زندگی کے علاوہ کسی اور زندگی کے لئے موزوں نہیں ہے ، اور جلدی گزرنے والی ، انواع و اقسام کے مصائب کی آمیزش رکھنے والی دنیا وی زندگی شمار ہی نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ سورہ عنکبوت کی آیت ۶۴ میں ہم پڑھتے ہیں( وما هٰذا الحیوة الدنیا لهو لعب و انّ الدار الاٰخرة لهی الحیوان لوکانوا یعلمون ) ” یہ دنیا کی زندگی کھیل کود اور لہو لعب کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے اور حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے اگر تم جانتے ہو“۔

جی ہاں ! وہ لوگ جنہوں نے یتیموں کامال کھایا ، بھوکوں کے منہ لقمہ نہیں دیا ، ان کا مال و میراث غارت کیا اور مال ِ دنیا کی محبت نے ان کے دل کو مسخر کر رکھا تھا، وہ اس دن آرزو کریں گے کہ کاش کو ئی چیز آخرت کی زندگی کے لئے ، جو حقیقی اور جاودان زندگی ہے ، ہم نے آگے بھیجی ہوئی ، لیکن یہ آرزو بے نتیجہ ہو گی ۔

اس کے بعد دو مختصر جملوں میں ا س دن کے عذاب کے شدت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتاہے : ” اس دن خدا اس قسم کی سزا دے گا کہ اس جیسی سزا کوئی بھی نہیں دے سکے گا “( فیو مئذٍ لایعذب عذابه احد ) ۔

جی ہاں ! یہ سرکش جو اپنی قوت کے وقت بد ترین جرائم اور گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں ، اس دن ان کو اس قسم کی سزا ملے گی جو اس سے پہلے کسی کو نہیں ملی ہوگی ، جیسا کہ نیکو کار اس قسم کی جز ا پائیں گے جو کسی کے خیال و گمان میں بھی نہیں گزری ہوگی ، اس لئے کہ خدا ارحم الراحمین بھی ہے اور اشد العاقبین بھی ۔ نیز اس دن کوئی بھی خدا کی طرح کسی کو قیدو بند کی سزا نہیں دے گا ۔

( ولا یوثق وثاقه احد ) ۔نہ اس کی قید بند و زنجیر کی کوئی مثال ہے ، نہ اس کے عذاب کی کو ئی مثل و نظیر ہے ۔ ایسا کیوں نہ ہو جبکہ انہوں نے اس دنیا میں خدا کے مظلوم بندوں کو جتنا ان سے ممکن تھا قید و بند میں رکھا اور ان کو سخت تکالیف پہچائیں ۔

____________________

۱۔ فخر رازی اپنی تفسیر میں کہتا ہے کہ آیت میں کچھ محذوف ہو سکتا ہے کہ لفظ امر یا قہر جلائل آیات یا ظہور معرفت ہو۔ دوسرے مفسرین نے بھی ان چار الفاظ میں سے خصوصاً پہلے لفظ کو تقدیر آیت کے عنوان سے بیان کیا ہے ۔

۲۔ تفسیر المیزان ، جلد ۲۰ ص ۴۱۶۔

۳۔مجمع البیان ، جلد، ۱۰ ،ص ۴۸۳۔ ان معنی کے قریب نیز تفسیر در المنثور میں آیا ہے ، المیزان کی نقل کے مطابق جلد،۲۰، ص ۴۱۵۔


آیات ۲۷،۲۸،۲۹،۳۰

۲۷ ۔( یا ایتها النفس المطمئنة ) ۔ ۲۸ ۔( ارجعیٓ اِلیٰ ربک راضیةً مرضیةً ) ۔

۲۹ ۔( فادخلی فی عبادی ) ۔ ۳۰ ۔( و ادخُلی جنّتی ) ۔

تر جمہ

۲۷ ۔ تو اے سکون و اطمینان یافتہ نفس ۔

۲۸ ۔ اپنے پروردگار کی طرف پلٹ جا ، اس حالت میں کہ تو بھی اس سے راضی ہے اور وہ بھی تجھ سے راضی ہے ۔

۲۹ ۔ اور میرے بندوں کی صف میں داخل ہو جا ۔ ۳۰ ۔ اور میری جنت میں واردہو جا ۔

اے صاحب نفس مطمئنہ!

اس وحشتناک عذاب کے تذکرے کے بعد جو سر کشوں اور دنیا پرستوں پر قیامت میں نازل ہوگا ، زیر بحث آیات میں ا سکے بر عکس ، جو صورتِ حال ہے اس کو پیش کرتاہے ، اب نفس مطمئنہ اور ان مومنین کی طرف جو ان عظیم طوفانوں میں مکمل سکون و اطمینا ن سے بہرہ وررہے ، متوجہ انہیں نہایت لطف و محبت سے مخاطب کرتے ہوئے فرماتاہے :

” اے نفس مطمئنہ!“( یا ایها النفس المطمئنة ) ۔ اپنے پروردگارکی طرف پلٹ آ، اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے“۔( ارجعی الیٰ ربک راضیة مرضیة ) ۔” اور میرے بندوں کی صف میں داخل ہوجا “۔( فادخلی فی عبادی ) ۔ ” اور میری جنت میں داخل ہوجا “۔( وادخلی جنتی ) ۔ کیاہی پرکشش، دل خوش کن اور روح پرور تعبیر یں ہیں ، جن سے لطف وصفا اور اطمینان کی خوشبو آتی ہے ۔

پروردگار کی دعوت مستقیم ایسے نفوس کے لئے ، جو ایمان کے سائے میں اطمینان و سکون کی حالت میں پہنچے ہوئے ہیں ، انہیں اپنے پروردگار ، اپنے مالک ومربی اور مصلح کی طر ف باز گشت کی دعوت دیتا ہے ، ایسی دعوت جو طرفین کی رضا مندی لئے ہوئے ، دلدادہ عاشق کی رضامندی معشوق کے لئے اور محبوب ومعبودحقیقی کی رضامندی ۔ اس کے بعد افتخارِ عبودیت کا تاج ا س کے سر پر رکھنا اور لباس زندگی سے اسے مفتخر کرنا اور اپنے خاصانِ بارگاہ کی مسلک میں انہیں پرونا اور جگہ دینا ۔

اس کے بعد انہیں جنت میں ورود کی دعوت دینا اور وہ بھی ” میری جنت میں داخل ہو جا“ کی تعبیر کے ساتھ جو بتاتی ہے کہ اس مہمان کامیز بان صرف اور صرف خدا کی ذات پاک ہے ۔ عجیب دعوت ، عجیب مہمان اور عجیب میزبانی ہے ۔

نف سے مراد وہی انسان ہے اور مطمئنہ کی تعبیر اس سکون و اطمینان کی طرف اشارہ ہے جو ایمان کے پر تو کے سائے میں پیدا ہوا ہے ، جیسا کہ قرآن کہتا ہے :( الابذکر الله تطمئن القلوب ) ” جان لو کہ صرف اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے “۔ ( رعد۔ ۲۸) اس قسم کا نفس اللہ کے وعدوں پر بھی اطمینان رکھتا ہے اور جو راہ اس نے اختیار کی ہے اس پر بھی مطمئن ہوتا ہے ۔ دنیا اس کی طرف بڑھے ، تب بھی اور اس سے منہ موڑے تب بھی ، طوفان میں بھی اور حوادث و بلا میں بھی ،اور سب سے بالاتر خوف و وحشت اور قیامت کے عظیم اضطراب میں بھی۔

پروردگار کی طرف باز گشت سے مراد ، مفسرین کی ایک جماعت کے نظریہ کے مطابق ، ا سکے ثواب و رحمت کی طرف باز گشت ہے ، یعنی اس کے جوار قرب میں جگہ پانا، معنوی و روحانی باز گشت پاناکہ مادی و جسمانی ۔

کیا پروردگا رکی طرف یہ باز گشت صرف قیامت میں ہوگی یا جان دینے والے عمر کے لمحات کے ختم ہونے سے متعلق ہے ؟ آیا ت کا سیاق تو البتہ قیامت

سے مربوط ہے ، اگر چہ اس آیت کی تعبیر مطلق و وسیع ہے ، راضیہ کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ ثواب ِ خدا وندی کے تمام وعدوں کو ، اس سے زیادہ کہ جتنا وہ تصور کرسکتا تھا ، وہ حقیقی طور پر دیکھے گا اور اس طرح خدا کا فضل و کرم اس کے شامل حال ہوگا کہ وہ جسم رضا بن جائے گا ۔ باقی رہا مرضیہ کی تعبیر تو وہ اس بناپر ہے کہ وہ مورد ِ قبول و رضائے دوست واقع ہوا ہے ۔

اس قسم کا بندہ اس طرح کے اوصاف کے ساتھ اور مکمل رضا و تسلیم کے مقام پرپہنچنے کے ساتھ ، جس نے عبودیت کی اس حقیقت کو جو معبود کی راہ میں ہر چیز کو چھوڑ دینا ہے ، پالیا ہے اور اس نے خدا کے بندگان ِ خاص کے دائرہ میں قدم رکھا ہے ۔ یقینا ا س کے لئے جنت کے علاوہ کوئی دوسری جگہ نہیں ہے ۔

بعض تفاسیر میں آیاہے کہ یہ آیتیں سید الشہداء حضرت حمزہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ، لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکی ہے ، یہ حقیقت میں ایک قسم کی تطبیق ہے ، نہ کہ شانِ نزول ، جیسا کہ امام حسین کے بارے میں بھی ہم نے سورہ کے آغاز میں پڑھا ہے ۔ قابل توجہ یہ کہ کافی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں ہمیں ملتاہے کہ آپ کے ایک صحابی نے پوچھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مومن اپنی روح کے قبض ہوجانے سے خوش نہ ہو ؟ تو آپ نے فرمایا: ” نہیں خدا کی قسم ! جب موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لئے آتاہے تو ناخوشی و ناراضی کا اظہار کرتا ہے ۔ اس وقت موت کا فرشتہ اس سے کہتا ہے ” اے ولی خدا ! پریشان نہ ہو قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو مبعوث کیا ہے ، میں تجھ پرمہر بان باپ سے زیادہ شفیق ہوں ٹھیک طرح سے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھ لے “ وہ دیکھے گا رسول خدا ، امیر المومنین حضرت فاطمہ زہر حسن و حسین اور باقی ائمہ تیرے دوست و محبوب ہیں “ وہ اپنی آنکھوں کو کھولے گا اور دیکھے گا ۔ اچانک ایک کہنے والا پروردگار کی طرف سے کہے گا ”( یا ایتها النفس المطمئنة ) “ اے وہ شخص جو حضرت اور ان کے اہلبیت پر ایمان رکھتا ہے ، پلٹ آ، اپنے پروردگار کی جانب، اس حالت میں کہ تو ان کی ولایت پر راضی ہے اور و ہ اپنے ثواب پر تجھ سے راضی ہیں ۔ داخل ہوجا میرے بندوں یعنی محمد اور ان کے اہلبیت کے درمیان اور داخل ہو جامیری جنت میں تو اس موقع پر اس مومن کے لئے کوئی اور چیز زیادہ محبوب نہیں ہوگی ۔

وہ چاہے گا کہ جس قدر جلد ہو روح بدن سے رہا ہو اور اس منادی کے ساتھ مل جائے “۔(۱)

خدا وند! ہمیں اس قسم کے اطمینان و سکون سے مفتخر فرماتاکہ ہم اس عظیم خطاب کے لائق و شائستہ بنیں ۔

پروردگارا ! اس مقام تک پہنچنا تیرے لطف و کرم کے بغیر ممکن نہیں ہے ہمیں اپنے لطف و کرم سے نواز ۔

خدا وندا ! یقینا کوئی چیز تیرے کرم سے کم نہیں ہوگی ، اگر ہمیں صاحبان ِ نفوس ِ مطمئنہ میں سے قرار دے ہم پر احسان و کرم فرما۔

بار الہٰا! ہم جانتے ہیں کہ یہ سکون و اطمنان تیرے ذکر کے سائے کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ تو ہمیں اپنے ذکر کی خود توفیق عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین

____________________

۱۔ کافی جلد ۳، بابان المو من لایکره علی قبض روحه ۔ حدیث ۲۔


سورہ بلد

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ۔ اس کی بیس آیات ہیں ۔

سورہ بلد کی فضیلت اور اس کا مضمون

یہ سورہ مختصر ہونے کے باجود عظیم حقائق اپنے اندر لئے ہوئے ہے :

۱ ۔ اس سورہ کے پہلے حصہ میں پر معنی قسموں کے ذکر کے بعد اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ انسان کی زندگی اس عالم میں مشکلات اور تکلیفوں کے ساتھ توأم ہوتی ہے ، تاکہ وہ ایک طرف تو اپنے آپ کو مشکلات سے جنگ کرنے کے لئے آمادہ کرے اور دوسری طرف اس دنیا میں راحت و آرام اور مطلق آسودگی توقع اپنے ذہن سے نکال دے ، کیو نکہ مطلق آسودگی و راحت تو صرف آخرت کی زندگی میں ہی ممکن ہے ۔

۲ ۔ یہ سورہ دوسرے حصہ میں انسان پر اللہ کی کچھ نعمتوں کو شمار کرتا ہے ، اور اس کے بعد ان نعمتوں کے مقابلہ میں اس کی ناشکری اور کفران نعمت کی طرف اشارہ ہے ۔

۳ ۔ اس سورہ کے آخری حصہ میں لوگوں کو دوگروہوں ” اصحاب میمنہ “ اور ” اصحاب مشئمہ “ میں تقسیم کرتا ہے ، اور پہلے گروہ ( صالح مومنین ) کے صفات ِ اعمال کے ایک گوشہ کو اور پھر ان کی سر زنش کو بیان کرتا ہے ۔ اس کے بعد ان کے نقطہ مقابل یعنی کفار و مجرمین اور ان کی سر نوشت کو پیش کرتا ہے ۔

اس سور ہ کی آیات کی تعبیریں بہت ہی قاطع اور دو ٹوک اورچھبھنے والی ہیں ، اس کی جملہ بندیامختصر اور زوردار ہیں الفاظ بہت ہی موثر اور انتہائی فصیح ہیں ، آیات کی صورت اور اس کا مضمون اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ سورہ مکی سورتوں میں سے ہے ۔

سورہ بلد کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت میں پیغمبر اکرام صلی اللہ علیہ آلہ و سلم سے نقل ہواہے کہ آپ نے فرمایا:

من قرأ ها اعطاه الله الامن من غضبه یوم القیامة “۔

” جو شخص سورہ بلد کو پڑھے گا خدا اسے قیامت میں اپنے غضب سے امان میں رکھے گا۔ (” مجمع البیان “جلد ۱۰ ، ص ۴۹۰ ۔)

نیز ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ :

” جو شخص نمازِ واجب میں سورہ( لااقسم بهٰذا البلد ) کو پڑھے گا وہ دنیا میں صالحین میں شما رہو گا اور آخرت میں ایسے لوگوں میں سے پہچاناجائے گا جو بار گاہ خدا میں مقام و منزلت رکھتے ہیں ، اور وہ انبیاء ، شہداء اور صلحاء کے دوستوں میں سے ہو گا ۔ ( ” ثواب الاعمال “ مطابق نو ر الثقلین جلد ۵ ص ۵۷۸)

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( لآ اقسم بهٰذا البلد ) ۔ ۲ ۔( و انت حل ) بھٰذا البلد ۔ ۳ ۔( و والدٍ وما ولد ) ۔

۴ ۔( لقد خلقنا الانسان فی کبد ) ۔ ۵ ۔( أ یحسب ان لن یقدر علیه احد ) ۔ ۶ ۔( یقول اهلکتُ مالاً لبداً ) ۔

۷ ۔( ایحسب ان لم یرهُ احد ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ قسم ہے اس شہر مقدس ( مکہ ) کی ۔ ۲ ۔ اور قسم ہے جس میں تو ساکن ہے !

۳ ۔ اور قسم ہے باپ اور اس کے بیٹے کی ( ابراہیم خلیل و اسمٰعیل ذبیح)۔

۴ ۔ کہ ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے ۔ ( اور اس کی زندگی رنج و الم سے پر ہے )۔

۵ ۔ کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس پرکوئی بھی قدرت نہیں رکھتا؟ !

۶ ۔ وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال ( اچھے کاموں میں ) تلف کردیا ہے !

۷ ۔ کیاوہ گمان کرتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا ۔ ( اور نہ ہی دیکھتا ہے )؟

اس شہر ِ مقدس کی قسم

بہت سے مورد میں قرآن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ اہم حقائق کو قسم کے ساتھ شروع کرتا ہے ، ایسی قسمیں جو خود بھی انسانی عقل اور فکر و نظر کے تحرک کا سبب ہوتی ہیں ، ایسی قسمیں اس مورد نظر مطلب کے ساتھ ایک خاص رابطہ رکھتی ہیں ۔

یہاں بھی اس حقیقت کو بیان کرنے کےلئے کہ دنیا میں انسان کی زندگی دکھ ، درد اور رنج و الم کےساتھ توأم ہے ایک نئی قسم سے قسم کرتا ہے اور فرماتا ہے :

”قسم ہے اس شہر مقدس مکہ کی “( لااقسم بهٰذا البلد ) (۱)

۱ ۔( یہاں ” لا “ زائدہ ہے ، جو تاکید کے لئے آیا ہے ۔ البتہ ایک دوسری تفسیر کے مطابق احتمال ہے کہ ” لا“ نافیہ ہو ( اس سلسلہ میں مزید وضاحت سورہ قیامت کی ابتداء میں دی گئی ہے )۔

” وہ شہر کہ جس میں تو ساکن ہے “( و انت حل بهٰذا البلد ) ۔

اگر چہ ان آیات میں مکہ کا نام صراحت کے ساتھ نہیں آیا ، لیکن ایک طرف تو اس سورہ کے مکہ ہونے کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور دوسری طرف اس مقدس شہر کی حد سے زیادہ اہمیت کی بناپر یہ بات واضح ہے کہ اس سے مراد مکہ ہی ہے ۔ اور مفسرین کا اجماع بھی اسی پر ہے ۔

یقینا سر زمین مکہ کی شرافت اور عظمت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ خدا کی قسم کھائے ، کیونکہ توحید اور پر وردگار کی عبادت کا پہلا مرکز یہیں بنایا گیا تھا ، اور عظیم پیغمبروں نے اس گھر کے گرد طواف کیاہے ۔ لیکن ” و انت حل بھٰذا البلد“کاجملہ ایک نئے مطلب کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ، جو یہ کہتا ہے کہ یہ شہر تیرے وجود کے فیض و بر کت سے اس قسم کی عظمت کا حامل ہو گیا ہے کہ وہ اس قسم کے لائق ہو گیا ہے ۔

اور حقیقت بھی یہی ہے کہ سر زمینون کی قدرو قیمت ان میں مقیم انسانوں کی قدر و قیمت کی وجہ سے ہوا کرتی ہے ۔ کہیں ایسانہ ہو کہ کفار یہ تصور کرنے لگیں کہ قرآن نے جو اس سر زمین کی قسم کھائی ہے تو وہ ان کا وطن ہونے ، یا ان کے بتوں کا مرکز ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت کا قائل ہوگیا ۔ ایسا نہیں ہے بلکہ اس شہر کی قدر و قیمت ( اس کے مخصوص تاریخی حالات سے قطع نظر ) خدا کے خاص بندے محمد صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے وجودِ ذی جود کی بناء پر ہے :

اے کعبہ راز یمن قدوم تو شرف دی مردہ رازِ مقدم پاکِ تو صد صفا

بطحا ز نورِ طلعت تو یافتہ فروغ یثرب زخاک پائے تو با رونق و نوا

اے وہ کہ تیرے قدوم میمنت لزوم سے کعبہ کا شرف دوگنا ہوگیا ہے ۔

اور تیرے پاک قدم کے آنے سے مروہ کو صفائی حاصل ہو گئی ہے ۔

بطحا نے تیرے نور کی چمک سے روشنی حاصل کی ہے ۔

اور یثرب تیرے پاو ں کی خاک کی وجہ سے بارونق اور خوشحال ہو گیا ہے ۔

یہاں ایک اور تفسیر بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ :” میں اس شہر مقدس کی قسم کھاتا ، جب کہ انہوں نے تیرے احترام کی ہتک کی ہے ، اور تیری جان و مال اور عزت و آبرو کو حلال اور مباح شمار کر لیا ہے “۔

اور یہ کفار قریش کے لئے ایک شدید سر زنش اور توبیخ ہے کیونکہ وہ خود کو حرم مکہ کے خادم اور محافظ سمجھتے تھے اور وہ اس سر زمین کے احترام کے اس قدر قائل تھے کہ اگر ان کے باپ کا قاتل بھی اس میں آجاتا تو وہ بھی امان میں ہوتا تھا ۔یہاں تک کہ کہتا کہ جو لوگ مکہ کے درختوں کا چھلکا بھی لے کر اپنے بدن پر باند ھ لیتے تھے تو وہ بھی اس کی وجہ سے امان میں ہوتے تھے ، لیکن اس کے باوجود انہوں نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے بارے میں ان تمام ا ٓداب و سنن کو پاو ں تلے کیوں روند ڈالا؟!

اور آپ اور آپ کے اصحاب کے بارے میں ہر قسم کے آزار و اذیت کو جائز کیوں سمجھ لیا یہاں تک کہ ان کے خون کو بھی مباح سمجھنے لگے؟!

یہ تفسیر ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے بھی نقل ہوئی ہے ۔ ( ”مجمع البیان “ جلد ۱۰ ، ص ۴۹۳)

اس کے بعد مزید کہتا ہے :” قسم ہے باپ اور اس کے بیٹے کی ۔( ووالد وما ولد ) ۔

اس کے بارے میں کہ اس باپ اور بیٹے سے کون مراد ہے َ کئی تفاسیر بیان کی گئی ہیں ۔

پہلی تفسیر یہ کہ ” والد“ سے مراد ” ابراہیم “ اور ولد“ سے مراد اسماعیل ذبیح “ ہیں اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ گزشتہ آیت میں شہر مکہ کی قسم کھائی گئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ کعبہ اور شہر مکہ کی بنیاد رکھنے والے ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند اسماعیل علیہ السلام تھے ، یہ تفسیر بہت ہی مناسب نظر آتی ہے ، خصوصاً زمانہ جاہلیت کے عرب بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند کی حد سے زیادہ اہمیت کے قائل تھے ، اور ان پر فخر کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے اپنا نسب اور ان دونوں تک پہنچاتے تھے ۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے بیٹے ہیں ۔

تیسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی ذریت میں سے جو پیغمبراو ر انبیاء مبعوث ہوئے وہ مراد ہیں ۔

چوتھی تفسیر یہ ہے کہ اس سے ہرباپ اور بیٹا مراد ہیں کیونکہ مختلف زمانوں میں تولد اورنسل ِ انسانی کی بقا کا مسئلہ خلقت کی آفرینش کے حیرت انگیز مسائل میں ہے ، اور خدا نے خصو صیت کے ساتھ اس کی قسم کھائی ہے ۔

ان چاروں تفسیروں کے درمیان جمع بھی بعید نہیں ہے اگرچہ پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔(۱)

۱ ۔ بعض تفاسیر میں والدسے مراد امیر المومنین علیہ السلام اور اولاد سے مراد ان کے فرزندان ِ گرامی ہیں ، اور شاید وہ جناب ا س کے بہترین مصداق ہوں ۔ لہٰذا اس تفسیر کو ذکر کرنا زیادہ مناسب تھا۔ ( مترجم )

اس کے بعد اس چیز کو بیان کرتا ہے جو ان قسموں کا اصل مقصد ہے فرماتا ہے : ” یقینا ہم نے انسان کو رنج و تکلیف میں پید اکیا ہے ،( لقد خلقنا الانسان فی کبد ) ۔

” کبد“ مجمع لابیان “میں طبرسی کے قول کے مطابق شدت کے معنی میں ہے ، اسی لئے جب دودھ گاڑھا ہوجاتا ہے تو اسے” تکبد اللبن“ کہتے ہیں ۔

لیکن ” مفردات“ میں ” راغب “ کے قول کے مطابق ” کبد“ ( بروزن حسد) اس درد کے معنی میں ہے ، جو انسان کے ” کبد“ ( سیاہ جگر) کو عارض ہوتا ہے ۔ اس کے بعد ہر قسم کی مشقت اور دکھ تکلیف کے لئے اطلاق ہونے لگا۔

اس لفظ کی اصل چاہے جو کچھ بھی ہو اس کا اس مقام پرمفہوم وہی رنج ا ور دکھ درد ہی ہے ۔

ہاں ! انسان آغاز زند گی سے ہی ، یہاں تک کہ اسی لمحہ سے جب اس کا نطفہ قرار گاہ رحم میں واقع ہوتا ہے ۔ مشکلات اور درد و رنج کے بہت سے مرحلے طے کرتا ہوا متولد ہوتا ہے اور پیدا ہونے کے بعد بچپنے میں ، اور ا س کے بعد جوانی میں ، اور زیادہ بڑھاپے میں ، طرح طرح کی زحمتوں ، مشقتوں اور تکالیفات سے روبروہوتا ہے۔ دنیا کی زندگی کا مزاج یہی ہے اور اس کے علاوہ کوئی توقع رکھنا غلطی ہی غلطی ہے ۔ ایک شاعر عرب کے قول کے مطابق :

طبعت علی کدر و انت ترید ها صفواً عن الاکدار و الاقذار ؟

و مکلف الایام ضد طباعها متطلب فی الماء جدوة نار ؟

جہاں کی طبیعت کدورت اور گندے پن پر ہے اور تو چاہتا ہے کہ ہر قسم کی کدورت اور ناپاکی سے صاف ہو،

وہ جو شخص کی مانند ہے جو پانی کی موجوں کے درمیان آگ کا شعلہ طلب کرے ۔

انبیاء اور اولیاء اللہ کی زندگیوں کی طرف نگاہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے آفرینش کے ان سرِ سبد پھولوں کی زندگی بھی انواع و اقسام کے غیر مناسب امور اور دردو تکلیف میں گھری ہوئی تھی ۔ جب دنیا کے لئے اس طرح ہے تو دوسروں کے لئے اس کی وضع و کیفیت واضح ہے ۔

اور اگر ہمیں کچھ افراد یامعاشرے ایسے نظر آتے ہیں جنہیں بظاہر کوئی دکھ اور تکلیف نہیں ہوتی تو وہ یاتو ہمارے سطحی مطالعہ کی وجہ ایسا دکھائی دیتے ہیں ۔ اس لئے جب ہم اور زیادہ نزدیک ہوتے ہیں تو انہیں مرفہ الحال زندگی والوں کی درد و رنج کے عمق اور گہرائی سے آشنا ہوجاتے ہیں ، اور یا پھر وہ ایک محدودمدت اور استثنائی زمانہ کے لئے ہوتا ہے ، جوعالم کے قانوں کلی کو نہیں توڑتا۔

اس کے بعد مزید فرماتا ہے :” کیایہ انسان گمان کرتا ہے کہ کوئی بھی اس پر دست رسی کی قدرت نہیں رکھتا“۔( ایحسب ان لن یقدر علیه احد ) (۱)

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی زندگی کی ان تمام درد، دکھ اور تکالیف کے ساتھ آمیزش اس بات کی دلیل ہے کہ وہ بالکل کوئی قدرت نہیں رکھتا ۔

لیکن غرور وتکبر کے گھوڑے پر سوار ہے اور ہر قسم کے غلط کام گناہ ِ جرم اور حد سے بڑھ جانے کامرتکب ہوتا رہتا ہے ، گویا وہ خود کو امن و امان میں سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو سزاو ں کی قلم رَوسے دور خیا ل کرتا ہے ۔ جب اسے قدرت حاصل ہو جاتی ہے عذاب کے چنگل سے رہائی حاصل کرلے گا ؟ کتنا بڑا اشتباہ اور غلط فہمی ہے !

یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ دولت مند ہیں جو یہ خیال کرتے تھے کہ کو ئی ان کی دولت و ثروت کو ان سے چھین لینے کی قدرت نہیں رکھتا ۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا عقیدہ تھا کہ ان کے اعمال کی کوئی بھی باز پرس نہیں کرے گا ۔

لیکن آیت ایک جامع مفہوم رکھتی ہے جو ان تمام تفاسیر کو شامل ہوسکتی ہے ۔

بعض نے یہ کہا ہے کہ اوپر والی آیت قبیلہ ” جمع“ کے ایک شخص کی طرف جس کا نام ” ابو الاسد“ تھا اشارہ ہے وہ اس قدر طاقتور تھا کہ چمڑے کے ایک ٹکڑے پر بیٹھ جاتا تھا اور دس آدمی اسے اس کے نیچے سے کھینچنا چاہتے تھے تو نہیں کھینچ سکتے تھے وہ چمڑا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا تھا ، لیکن وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلتا تھا ۔ ۲

لیکن آیت کا اس قسم کے مغرور شخص یا اشخاص کے بارے میں بیان اس مفہوم کی عمومیت و وسعت سے مانع نہیں ہے ۔( یقول اهلکت مالا لبداً ) ۔

یہ ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ جب انہیں کارِ خیر میں مال صرف کرنے کو کہتے تھے تو وہ غرور و نخوت کی بناء پر یہ کہتے تھے : ہم نے یہ بہت زیادہ مال ان کاموں میں صرف کیا ہے ، حالانکہ انہوں نے خدا کی راہ میں کوئی چیز خرچ نہیں کی تھی۔ اور اگر انہوں نے کسی کو مال دیا بھی تھا تو وہ دکھاوے ، یا ریا کاری اور شخصی اغراض کی بناء پر تھا ۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت میں ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دشمنی اور اسلام کے برخلاف سازشوں میں صرف کیا تھا اور وہ اس پر فخر کرتے تھے ، جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جنگِ خندق کے دن جب علی علیہ السلام نے عمر بن عبد ود کے سامنے اسلام کو پیش کیا تو اس نے جواب میں کہا :”فاین ما انفقت فیکم مالاً لبداً

” پس وہ سارامال جومیں نے تمہاری مخالفت میں صرف کیا ہے اس کا کیا بنے گا“۔(۳)

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آیت ” حارث بن عامر جیسے بعض سردارانِ قریش کے بارے میں ہے ، جو ایک گناہ کا مرتکب ہواتھا ۔ اس نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نجات کے بارے میں پوچھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے کفارہ دینے کاحکم دیا ۔ اس نے کہا: جب سے میں دین ِ اسلام میں داخل ہواہوں میرا تمام مال و دولت کفاروں اور نفقات میں نابودہوگیا ہے ۴

ان تینوں تفاسیر کے درمیان جمع میں کوئی امرمانع نہیں ہے اگر چہ پہلی تفسیر آیت کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ۔

اهلکت “ کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہاس کے اموال در حقیقت نابودہی ہوئے ہیں ، اور اسے ان سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔

” لبد “ ( بر وزن لغت) تہ بہ تہ اور انبوہ کثیر کے معنی میں ہے اور یہاں بہت زیادہ مال کے معنی میں ہے ۔

اس کے بعد مزید فرماتا ہے : ” کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا ، اور نہ ہی دیکھے گا“؟ !( ایحسب ان الم یره احد ) ۔

وہ اس حقیقت سے غافل ہے کہ نہ صرف اس کے ظاہری اعمال کو خلوت و جلوت میں دیکھتا ہے ، بلکہ اس کے دل اور روح کی گہرائیوں سے بھی آگاہ ہے ، اور اس کی نیتوں سے باخبر ہے ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ وہ خدا جس کا غیر متناہی وجود ہر چیز پر احاطہ رکھتا ہے کسی چیز کو نہ دیکھے اور نہ جانے ؟ یہ غافل اس بات سے بے خبر ہیں کہ وہ اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے خود کو پر وردگار کی دائمی نگرانی ست باہر خیال کر رہے ہیں ۔

ہاں خد اکو علم ہے کہ انہوں نے یہ اموال کہاں سے حاصل کئے ہیں اور انہیں کس راہ میں صرف کیاہے ؟ ! ایک حدیث میں ابن عباس (رض) سے نقل ہو اہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لا تزول قد ما العبد حتی یسأل عن اربعة: عن عمره فیما افناه و عن ماله من این جمعه ، و فیما ذا انفقه؟ و عن عمله ماذا عمل به ؟ و عن حبنا اهل البیت

”قیامت میں کوئی شخص اپنے قدم سے قدم نہیں اٹھائے گا ، مگر یہ کہ چارچیزوں کے بارے میں اس سے سوال ہو گا: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کس راہ میں فنا کیا ، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے جمع کیا ، کس راہ میں اسے صرف کیا ، اور اس کے عمل کے بارے میں کہ اس نے کون کون ساعمل انجام دیا ، اور ہم اہل بیت کی محبت و مودت کے بارے میں “(۵)

او پروہ یہ دعویٰ کیسے کر تا ہے کہ میں نے بہت زیادہ مال خدا کی راہ میں خرچ کیا ہے جب کہ وہ اس کی نیت سے آگاہ ہے ، اور ان اموال کے غیر شرعی حصول کی کیفیت سے بھی آگاہ ہے ، اور ریا کاری اور مغر ضانہ طورپر صَرف کرنے کی کیفیت سے بھی باخبر ہے ۔

____________________

۱۔ ” ان “ اس جملہ میں ” مثقلہ سے مخففہ ہے “ اور تقدیر میں ”انه لن یقدر علیه احد “ ہے ۔

۲۔” مجمع البیان “جلد ۱۰ ، ص ۴۹۳۔

۳ ۱۰۔ حدیث ۵۸۰ ص ۵ جلد الثقلین نور«مسكن الفؤاد »، صفحه ۱۴.

۴۔ مجمع البیان جلد ۱۰ ،ص ۴۹۳۔

۵۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان کس طرح سے مغرور ہو جاتا ہے اور قدرت و طاقت کا دعویٰ کیسے کرتا ہے ، حالانکہ اس کی زندگی درد و رنج اور تکلیفات کے ساتھ خمیر ہوئی ہے ۔ اگر اس کے پاس کچھ مال ہے تو ایک رات کے لئے ہے ، اور اگر جان رکھتا ہے توایک بخار تک ہے


آنکھ ، زبان او رہدایت کی نعمت

گزشتہ آیات کے بعد، جن میں سر کشی کرنے والے انسانوں کے غرور و غفلت کے بارے میں گفتگو تھی ، زیر بحث آیات میں انسان پر خدا کی اہم ترین مادی و معنوی نعمتوں کا کچھ حصہ بیان کرتا ہے ،تاکہ ایک طرف تو اس کے غرور و غفلت کو توڑدے اور دوسری طرف اسے ان نعمتوں کوخلق کرنے والے میں تفکر اور غور و خوض کرنے پر آمادہ کرے اور اس کے دل و جان کے اندر شکر گذاری کے احساس کو بیدار کرکے اسے خالق کی معرفت کی طرف چلائے ۔

پہلے فرماتا ہے :” کیا ہم نے اس انسان کے لئے دو آنکھیں قرار نہیں دیں “۔( الم نجعل له عینین ) ۔

” اور ایک زبان اور دو ہونٹ( نہیں دیئے )“؟!( و لسانا ً و شفتین ) ۔ اور ہم نے اسے اس کی بھلائی اور برائی کو دونوں راہیں دکھادیں “( و هدینا النجدین ) اس طرح ان چند مختصر جملوں میں تین اہم مادی نعمتوں اور ایک عظیم معنوی نعمت کی طرف ، جو سب کی سب خدا کی عظیم ترین نعمتیں ہیں ، اشارہ کیا ہے ۔ ایک طرف تو آنکھوں ، زبان اور لبوں کی نعمت ہے اور دوسری طرف خیر و شر کی معرفت وہدایت کی نعمت ہے ۔

( اس بات کی طرف توجہ رہے کہ ” نجد“ اصل میں مرتفع اور بلند مقام کے معنی میں ہے ،” تھامہ“ کے مقابلہ میں پست زمینوں پربولا جاتاہے ، یا دوسرے لفظوں میں ” بلند جگہ “ اور پست جگہ “ اور یہاں خیر و شر و شقاوت کی راہ سے کنایہ ہے ۔ ۱

اوپر والی نعمتوں کی اہمیت کے بارے میں بس اتنا کافی ہے کہ :

” آنکھ “ بیرونی دنیا سے انسان کے رابطہ کے لئے ایک اہم ترین ذریعہ ہے آنکھ کے عجائبات اس قدر ہیں کہ وہ واقعی طور پر انسان کو خالق کے مقابلہ میں خضوع کرنے پر آمادہ کر دیتے ہیں ، آنکھ کے سات طبقے ہیں جو صلبیہ ( قرنیہ ) مشیمیہ ، عیبیہ ،زلالیہ، زجاجیہ اور شبکیہ کے نام سے موسوم ہیں ، ان میں سے ہر ایک عجیب و غریب اور عمدہ ساخت رکھتا ہے جن میں نور اور روشنی او رآئینوں سے مربوط طبیعاتی اور جسمانی قوانین کا بہت ہی باریک بینی کے ساتھ خیال رکھاگیا ہے ۔ اس طرح سے کہ تصویر کشی کی ترقی یافتہ دور بینیں بھی اس کے مقابلہ میں بے قدرو قیمت ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اگر ساری دنیا میں انسان کے سوا اور سارے وجودِ انسانی میں انکھ کے علاوہ اور کوئی چیز نہ ہوتی تو اس کی عجائبات کا مطالعہ پر وردگار کے عظیم علم قدرت کی شناخت کے لئے کافی تھا ۔

باقی رہی ” زبان “ تو وہ انسان کے لئے دوسرے انسانوں سے ارتباط، اور ایک قوم سے دوسری قوم ، اور ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف اطلاعات ومعلومات کے نقل ہونے ، اور مبادلہ کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے ، اور اگر یہ ارتباط کا ذریعہ نہ ہوتا تو انسان ہر گز کبھی بھی علم و دانش او رمادی تمدن او رمعنوی مسائل میں اس حد تک ترقی نہ کرسکتا ۔

باقی رہے ” لب“ تو ” اولاً“ بول چال میں ان کا بہت بڑا حصہ ہے کیونکہ بہت سے حروف لبوں ہی کے ذریعہ ادا ہوتے ہیں اس کے علاوہ ہونٹ کے چبانے ، اور منہ کی رطوبت کو محفوظ رکھنے اور پانی کے پینے میں بہت زیادہ مدد کرتے ہیں ، اور اگر یہ نہ ہوتے تو انسان کے کھانے پینے کا مسلہ ، یہاں تک کہ اس کے چہرے کامنظر ، اس کے لعاب دہن کے باہر کی طرف بہنے کی وجہ سے ، اور بہت سے حروف کی ادائیگی پر قدرت نہ رکھنے کی بناء پر افسوس ناک ہوتا۔

اور چونکہ حقائق کا ادراک پہلے درجہ میں آنکھ اور زبان سے ہوتا ہے ۔ ان کے بعد ” عقل “ اور فطری ہدایت آتی ہے ، یہاں تک کہ آیت کی تعبیر ” ہدایت تشریعی “ کو بھی جو انبیاء و اولیاء کے ذریعے ہوتی ہے شامل ہے ۔

ہاں !اس نے دیکھنے والی آنکھ اور زبان کو بھی انسان کے اختیار میں رکھا ہے ، اور” راہ اور چاہ “ کی بھی اسے نشاندھی کرادی ہے ” تا آدمی نگاہ کند پیش پائے خویش “ تاکہ انسان اپنے سامنے کی ہر چیز کو دیکھ لے ۔

لیکن ان روشن چراغوں کے باوجود ، جو اس کے راستے میں موجود ہیں ، اگر پھر بھی کو ئی راستہ سے ہٹ جاتا ہے تو پھر کہنا چاہئیے : ” بگذار تابیفتد و بیند سزای خویش “ ! اسے گرنے دو تاکہ وہ اپنی سزا پالے ۔

( و هدینا ه النجدین ) “۔ ( ہم نے اسے بھلائی اور برائی کے دونوں راستے دکھا دیئے ) کاجملہ علاوہ اس کے کہ وہ انسان کے ارادہ کی آزادی اور اختیار کے مسئلہ کو بیان کرتا ہے ، اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے ” نجد“ اونچی جگہ کو کہتے ہیں لہٰذا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خیر اور بھلائی کی راہ کو طے کرنا مشکلات ، زحمت اور رنج سے خالی نہیں ہے ، جیساکہ اونچی زمینوں کی طرف جانا مشکل ہے یہاں تک کہ شراور برائی کی راہوں کا طے کرنا بھی مشکلات رکھتا ہے ۔ لہٰذا کیسی اچھی بات ہے کہ انسان سعی و کوشش سے خیر کی راہ کو اختیار کرے ۔

لیکن ا س کے باوجود راستہ کا انتخاب کرنا خود انسان کے اختیار میں ہے ۔ یہ وہی ہے جو اپنی آنکھ اور زبان کو حلال یا حرام کے راستہ میں گردش دے سکتا ہے اور خیر و شر کی دونوں راہوں میں جسے چاہے انتخاب کرسکتا ہے ۔

لہٰذا ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی ہے خدا وند تعالیٰ آدم علیہ السلام کی اولاد سے کہتا ہے :

( یابن اٰدم ! ان نازعک لسانک فیما حرمت علیک فقد اعنتک علیه بطبقتین فاطبق، ان نازعک بصرک الیٰ بعض ماحرمت علیک فقد اعنتک علیه بطقتین فاطبق )

” اے اولاد آدم ! اگر تیری زبان تجھے کسی فعل ِ حرام پر ابھار نا چاہئیے، تو میں نے اسے روکنے کے لئے دو ہونٹ تیرے اختیار میں دئے ہیں ۔ پس تو ہونٹوکو بند کرے اور اگر تیری آنکھ تجھے حرام کی طرف لے جانا چاہے تو میں نے پلکیں تیرے اختیار میں دے دی ہیں تو انہیں بند کرلے “(۲)

اس طرح سے خدا نے ان عظیم نعمتوں پر کنٹرول کے وسائل و ذرائع بھی انسا ن کے اختیار میں دیئے ہیں اور یہ ایک اور اس کا عظیم لطف ہے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیات میں زبان کے بارے تو لبوں کی طرف اشارہ ہواہے، لیکن آنکھوں کے بارے میں پلکوں کی طرف اشارہ نہیں ہوا۔ اس کے بظاہر دو اسباب ہیں ، ایک تو یہ ہے کہ کہ لبوں کاکام بات کرنے ، کھانے اور تمام پہلوو ں میں پلکوں کی نسبت آنکھوں کے لئے کام کرنے سے کئی گناہ زیادہ ہے ، اور دوسرا سبب یہ ہے کہ زبان کاکنٹرول کرنا آنکھ کے کنٹرول سے کئی درجے زیادہ اہم ہے ، اور زیادہ بخت ساز ہے

____________________

۱۔ یہ تفسیر ایک حدیث میں امیر المومنین علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے ( مجمع البیان زیر بحث آیات کے ذیل میں ) اور یہ جو بعض نے ماں کے دو پستانوں سے جو سینہ پر ابھر ے ہوئے ہوتے ہیں تفسیر کی ہے بہت ہی بعید ہے ۔ ضمنی طور پر ” نجد“ کی تعبیر خیر کے بارے میں اس کی عظمت کی وجہ سے ہے اور شر کے بارے میں بابِ تغلب سے ہے ۔

۲ ـ «نور الثقلين»، جلد ۵، صفحه ۵۸۱.


۱ ۔ آنکھ کی حیرت انگیز یاں

آنکھ کو عام طور ہر کیمرے کی دوربین سے تشبیہ دیتے ہیں ، جو اپنی بہت ہی چھوٹی سی پتلی کے ساتھ مختلف مناطر کے فوٹو اتارتی ہے ، ایسی تصویریں جو فلم کے بجائے ” شبکیہ چشم “ ( آنکھ کی سکرین ) پر منعکس ہوتی ہیں اور وہاں سے بینائی کے اعصاب کے ذریعہ دماغ میں منتقل ہوتی ہیں ۔

تصویر کشی کا یہ حد سے زیادہ لطیف و دقیق کا خانہ ، شب و روز میں کئی ہزار تصویریں ، مختلف مناظر کی اتار سکتا ہے ، لیکن تصویر کشی اور فلمیں بنانے کی ترقی یافتہ مشینوں پر بھی اس کا بہت سے پہلوو ں سے قیاس نہیں ہوسکتا ، کیونکہ :

۱ ۔ اس مشین میں روشنی کو منظم کرنے والا دریچہ وہی آنکھ کی پتلی ہے کو خود کا ر طریقہ سے زیادہ قوی روشنی کے مقابلہ میں زیادہ تنگ اور کمزور روشنی کے مقابلہ میں زیادہ کشادہ ہوجاتی ہے حالانکہ کیمرے کی مشین کو اشخاص کے ذریعے منظم کرنا پڑتا ہے ۔

۲ ۔ آنکھ کا عدسہ ، ان تمام شیشوں کے بر خلاف ، جو دنیا کے تصویر کشی کے کیمروں میں استعمال ہوتے ہیں ، ہمیشہ اپنی شکل بدلتا رہتا ہے ، اس طور پر کہ کبھی تو اس کا قطر ۔ ۱/۵ ملی میٹر ہوجاتا ہے اور کبھی ۸/ ملی میٹر تک پہنچ جاتا ہے تاکہ وہ دور اور نزدیک کے مناظر کی تصویرین بنا سکے ۔ اور یہ کام ان عضلات کے ذریعے ، جنہوں نے عدسہ کو گھیرا ہو اہے، اور وہ کبھی اسے کھینچ لیتے ہیں اور کبھی چھوڑ دیتے ہیں ، انجام پاتا ہے، اس طرح سے آنکھ کا ایک عدسہ تنہا سینکڑوں عدسوں کا کام انجام دیتا ہے ۔

۳ ۔ تصویر کشی کی یہ مشین چار مختلف سمتوں کی طرف حرکت کرتی ہے ، یعنی آنکھ کے عضلات کی مدد سے جس طرف چاہے حرکت کر سکتی ہے اور تصویر بنا سکتی ہے ۔

۴ ۔ یہاں ایک ا در اہم نکتہ بھی ہے کہ تصویر کشی کے کیمروں کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان کی فلموں کو تبدیل کرتے رہیں ، اور جب فلم کی ایک ریل ختم ہو جائے تو اس کی جگہ دوسری ریل رکھنی پڑتی ہے ۔ لیکن انسا ن کی انکھیں زندگی بھر تصویریں اتارتی رہتی ہیں ، اور اس میں کوئی چیز تبدیل نہیں کرنی پڑتی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنکھ کی سکرین کا وہ حصہ ، جس پر تصویریں منعکس ہوتی ہیں ، اس میں دو قسم کے سلول ہوتے ہیں :

۱ ۔ مخروطی سلول ۲ ۔ عمودی سلول ، جو روشنی کے مقابلہ میں بہت ہی زیادہ حساس مادہ رکھتے ہیں اور روشنی کی تھوڑی سی چمک سے ہی ان کا تجزیہ ہو جاتاہے اور وہ ایسی لہریں پیدا کردیتے ہیں کہ وہ دماغ کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں اور اس کے بعد اس کا اثر زائل ہوجاتا ہے اور سکرین دوبارہ نئی تصویر کھینچنے کے لئے آمادہ ہوجاتی ہے ۔

۵ ۔ تصویر کھینچنے والی دوربینیں بہت ہی محکم اور مضبوط مادوں سے بنائی گئی ہیں ، لیکن آنکھ کی تصویر کھینچنے کی مشین اتنی لطیف کہ جس میں معلولی سی چیز سے بھی خراش آجاتی ہے ، اسی وجہ سے اس کو ایک مضبوط ہڈیوں سے بنی ہوئی حفاظت گاہ میں رکھا گیا ہے ۔

لیکن اتنی ظرافت و نزاکت کے باوجود یہ لوہے اور فولاد سے بھی زیادہ چلنے والی چیز ہے ۔

۶ ۔ فلیمیں بنانے والوں اور تصویر کھینچنے والوں کے لئے ” روشنی کے منظم ہو نے“ کا مسئلہ ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے ، اور اس مقصد کے لئے کہ تصویر یں صاف ہوں ، بعض اوقات کئی کئی گھنٹے روشنی اور اس کے مقدمات کو منظم کرنے میں مشغول رہناپڑتا ہے ، جب کہ آنکھ تمام حالات میں ، چاہے روشنی قوی ہویا درمیانی یا کمزور ، یہاں تک کہ تاریکی میں بھی ، بشر طیکہ معمولی اور خفیف سی روشنی بھی وہاں پر موجود تصویر لے لیتی ہے ۔ اور یہ چیز آنکھ کے عجائبات میں سے ہے ۔

۷ ۔ بعض اوقات ہم روشنی سے تاریکی کی طرف جاتے ہیں ، یا بجلی کے بلب اچانک بجھ جاتے ہیں ، تو ہم اس وقت کسی چیز کو نہیں دیکھ سکتے ، لیکن چند ہی لمحے گزرجانے کے بعد ہماری آنکھ خود کار طور پر اپنی کیفیت کو اس کمزور روشنی کے ساتھ منطبق کرلیتی ہے، اس طرح سے کہ جب ہم اپنے ارد گرد نظر کرتے ہیں کہ ہماری آنکھ تاریکی کی عادی ہوگئی ہے اور یہ عادت والی تعبیر کو سادہ اور عام زبان میں ادا ہو جاتی ہے ۔ایک بہت ہی پیچیدہ مکانیسم (طرزِساخت ) کا نتیجہ ہے جو آنکھ میں رکھی گئی ہے ، اور وہ خود کو بہت ہی مختصر سے وقت میں نئے حالات پر منطبق کرسکتی ہے ۔

اس کے بر خلاف جب ہم تاریکی سے روشنی میں داخل ہوتے ہیں تو ا س کے بر عکس ہوتا ہے ، یعنی ابتدا میں ہماری آنکھ قوی روشنی کو بر داشت نہیں کرتی ، لیکن چند لمحات کے بعد وہ اس سے منطبق ہو جاتی ہے اور اصطلاح کے مطابق عادی ہو جاتی ہے لیکن یہ امور تصویر بنانے والے کیمروں میں ہر گز موجود نہیں ہیں ۔

۸ ۔ تصویر بنانے والے کیمرے محدود فضا سے تصویر بناسکتے ہیں جب کہ انسا ن کی آنکھ تمام افق کا نیم دائرہ جو اس کے سامنے ہوتا ہے دیکھ لیتی ہے ، اور دوسرے لفظوں میں ہم اپنے اطراف کے تقریباً ۱۸۰ درجے کے دائرے کو دیکھ لیتے ہیں ، جب کہ تصویر کشی کا کوئی کیمرہ ایسانہیں ہے ۔

۹ ۔ عجیب و غریب بات یہ ہے کہ انسان کی دونوں آنکھیں ، جن میں سے ہر ایک ایک مستقل مشین ہے ، اس طر ح منظم ہوئی ہیں کہ ان دونوں سے لئے گئے فوٹو ایک ہی نقطہ پر جاکر پڑتے ہیں ۔ اس طرح سے اگر یہ تنظیم تھوڑی سی خراب ہوجائے تو اسے اپنی دو آنکھوں سے ایک ہی جسم کو دوجسم دیکھتا ہے ، جیساکہ احول ( جسے دو دو نظر آتے ہوں ) اشخاص میں یہ معنی مشاہدہ ہوتا ہے۔

۱۰ ۔ دوسرا قابل غور نکتہ یہ ہے کہ وہ تمام مناظر جن کی آنکھ تصویر کشی کرتی ہے آنکھ کی ا سکرین پر الٹے پڑتے ہیں ، حالانکہ ہم کسی چیز کو الٹا نہیں دیکھتے ، آنکھ کے عاد اور چیزوں کی ایک دوسر ے سے نسبت کو محفوظ رکھنے کی بناء پر ہے ۔

۱۱ ۔ آنکھ کی سطح ہمیشہ مرطوب ہونی چاہئیے کیونکہ اگر و ہ چند ساعت بھی خشک رہ جائے تو اس پر شدید ضرب پڑے یہ رطوبت ہمیشہ آنسوو ں کے غدود وں سے حاصل ہو تی ہے جو آنکھ میں ایک طرف منتقل ہو جاتے ہیں اور اسے بھی مرطوب رکھتے ہیں ۔

اگر آنکھ کے غدود خشک ہو جائیں تو آنکھ خطرے میں پڑ جاتی ہے اور پلکوں کی حرکت غیرممکن ہوجاتی ہے ، اور اگر اس کا فعل حد سے بڑھ جائے تو ہمیشہ چہرے پر آنسوں بہتے رہتے ہیں ، یا آنکھ کے فاضل پانی کو خشک کرتے ہیں اور یہ کتنا بڑا درد سر ہے

۱۲ ۔ آنسوو ں کی ترکیب ایک پیچیدہ ترکیب ہے ، اور اس میں دس سے زیادہ عناصرہوتے ہیں ، اور وہ مجموعاً آنکھ کی نگہداشت کے لئے ایک بہترین اور مناسب ترین مائع یا مر کب ہوتا ہے ۔

مختصر یہ ہے کہ آنکھ کے عجائبات اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کے بارے میں کئی دن تک بیٹھ کر گفتگو کرنے کی ضرورت ہے ، اور ان کی کئی کتا بیں لکھنی پڑیں ، اور ان تمام چیزوں کے باوجود اگر ہم ا س کے اصلی مادہ کو دیکھیں تو وہ تقریباً چر بی کے ایک ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے ۔

امیر المومنین علی علیہ السلام اپنی ایک قابل قدر گفتگو میں فرماتے ہیں :

” اعجبوا لهٰذا الانسان ینظر بشحم ، و یتکلم بلحم ، و یسمع بعظم، و یتنفس من خرم !“

”تعجب ہے اس انسان پرجو چربی کے ایک ٹکڑے سے دیکھتا ہے ، اور گوشت کے ایک ٹکڑے سے بولتا ہے ہڈی سے سنتا ہے سوراخ سے سانس لیتا ہے اور وہ ان بزرگ حیاتی کا موں کو ان چھوٹے سے وسائل کے ذریعے انجام دیتا ہے(۱)

____________________

۱۔ نہج البلاغہ ” کلمات قصار“ حکمت۸۔


۲ ۔ زبان کی حیرت انگیزیاں

زبان بھی اپنے جگہ پر انسانی بدن کے بہت ہی حیرت انگیز اعضاء میں سے ہے اور اس کے ذمے بہت ہی سخت ذمہ داریاں ہیں ، وہ غذا کو نگلنے میں مدد دینے کے علاوہ اس کو چبانے میں بھی اہم کام انجام دیتی ہے ، اور بار بار غذا کے لقمہ کودانتوں کی ہتھوڑی کے نیچے دھکیلتی رہتی ہے ، لیکن اس کام کو اتنے ماہرانہ انداز میں انجام دیتی ہے کہ اپنے آپ کو دانتوں کی ضربوں سے محفوظ رکھتی ہے ، حالانکہ ہمیشہ ان کے پاس اور ان سے چمٹی ہوئی رہتی ہے ۔

بعض اوقات اتفاقیہ طور پر کھانے کو چباتے وقت ہم اپنی زبان کو بھی چبالیتے ہیں تو ہماری چیخ نکل جاتی ہے اور ہم یہ سمجھ جاتے ہیں کہ اگر زبان میں وہ مہارت نہ ہوتی تو ہم پر کتنی مصیبت آن پڑتی ۔

ضمنی طور پر غذا کھانے کے بعد منھ کی فضا اور دانتوں کو پاک و صاف کرتی اور جھاڑدیتی ہے۔

اور ان سب کا موں سے زیادہ اہم بات کرنے کا مسئلہ ، جو زبان کی تیزی کے ساتھ منظم طور پر پے در پے حرکات اور چھ سمتوں میں حرکت کرنے سے انجام پاتا ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ خدا نے بات کرنے اور تکلم کے لئے ایک ایسا وسیلہ انسانوں کے اختیار میں دیاہے جو بہت ہی سہل اور آسان ، اور سب کی دسترس میں ہے ، نہ کچھ تھکان ہوتی ہے او رنہ ہی رنج و ملال حاصل ہوتا ہے، اور نہ ہی کچھ خرچ ہوتا ہے ۔

اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات انسان میں گفتگو کرنے کی استعداد کا مسئلہ ہے ، جو انسان کی روح میں ودیعت کر دیا گیا ہے اور انسان اپنے طرح طرح کے حد سے زیادہ مقاصد کو بیان کرنے کے لئے بے حد مختلف صورتوں میں زیادہ سے زیادہ جملہ بند یاں کرسکتا ہے ۔

اور اس سے بھی زیادہ اہم ، مختلف زبانوں کی وضع کی استعداد ہے ، اور ان ہزاروں زبانوں کے مطالعہ سے جو دنیا میں موجود ہیں ، اس کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے ، واقعاً ” العظمة للہ الواحد القھار !“ ( عظمت و بزر گی واحد و قہار خدا کے لئے ہی ہے )۔

۳ ۔ نجدین کی طرف ہدایت

” نجد“ جیساکہ ہم نے بیان کیا ہے ، بلندی یابلند سر زمین کے معنی میں ہے اور یہاں ” خیر “ و ” شر “ کی راہ مراد ہے ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

’ ’یا ایها ا لناس ! هما نجدان : نجد الخیر و نجد الشر فما جعل نجد الشر احب الیکم من نجد الخیر “۔

” اے لوگو! دو بلند سر زمینیں موجود ہیں ، خیر کی سر زمین اور شر کی سر زمین ، اور شر کی سر زمین تمہارے لئے خیر کی سر زمین سے ہر گز زیادہ محبوب قرار دی گئی ۔(۱)

اس میں شک نہیں کہ” تکلیف “ او رمسئولیت ، معرفت و آگاہی کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ اور اوپر والی آیت کے مطابق خدا نے یہ آگاہی انسانوں کے اختیار میں دے دی ہے ۔

یہ آگاہی تین طریقوں کے انجام پاتی ہے :

۱ ۔ عقلی اسراکات اور استدلال کے طریق سے ۔

۲ ۔ فطرت و وجدان کے طریق سے ، جس میں استدلال کی ضررت نہیں ہوتی ۔

۳ ۔ روح اور انبیاء و اوصیاء کی تعلیمات کے طریق سے اور تکامل کی راہ کو طے کرنے کے لئے انسان کو جن جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ان کی خدا نے ان تین طریقوں میں سے کسی ایک سے یابہت سے موارد میں ان تینوں ہی طریقوں سے اسے تعلیم دی ہے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس حدیث میں اس بات کی تصریح ہوئی ہے کہ ان دونوں راستوں میں کسی ایک کا طے کرنا انسان کی طبیعت او رمزاج کے لئے دوسرے سے زیادہ آسان نہیں ہے اور یہ بات حقیقت میں اس عمومی تصور کی کہ انسان برائیوں کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہے اور شر کے راستے کو طے کرنا اس کے لئے زیادہ آسان ہے ، نفی کرتی ہے ۔

اور یہ سچی بات ہے کہ اگر غلط تربیتیں اور فاسد ماحول نہ ہو تو انسان کو نیکیوں کے ساتھ لگاو اور محبت زیادہ ہوتی ہے ۔ اور شاید ” ننجد“ ( بلند سر زمین ) کی تعبیر نیکیوں کے بارے میں اسی بناء پر ہے ، کیونکہ بلند زمینیں بہتر اور زیادہ عمدہ فضا رکھتی ہیں ، اور شرور کے بارے میں تغلیب کی بناء پر ہے ۔

بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یہ تعبیر خیر و شر کے راستہ کے ظاہر ، نمایاں اور آشکار ہونے کی طرف اشارہ ہے ، جس طرح سے مرتفع اور بلند سر زمین مکمل او رپورے طور پر نمایا ں ہوتی ہے ۔(۲)

____________________

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۴۹۴ و تفسیر قرطبی جلد ۱ ص ۷۱۵۵۔۲۔ جیسا کہ چاند اور سورج کو ” قمران “ ( دوچاند) کہا جاتا ہے ۔


آیات ۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷،۱۷،۱۸،۱۹،۲۰

۱۱ ۔( فلا اقتحم العقبة ) ۔ ۱۲ ۔( وما ادراک مالعقبة ) ۔ ۱۳ ۔( فکُّ رقبةٍ ) ۔ ۱۴ ۔( اواطعام فی یوم ذی مسغبةٍ ) ۔

۱۵ ۔( یتیماً ذا مقربةٍ ) ۔ ۱۶ ۔( او مسکیناً ذا متربةً )

۱۷ ۔( ثم کان من الذین اٰمنوا و توصوا بالصبر و تواصوا بالمرحمةِ ) ۔

۱۸ ۔( اولٰئِک اصهاب المیمنةِ ) ۔ ۱۹ ۔( و الذین کفروا باٰیاتنا هم اصحاب المشئمةِ ) ۔ ۲۰ ۔( علیهم نارٌ مو صدةٌ ) ۔

تر جمہ

۱۱ ۔ لیکن وہ ( ناشکرا انسان ) اس اہم گھاٹی سے اوپر نہیں گیا ۔

۱۲ ۔ اور تجھے کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کیا ہے ؟ ۱۳ ۔ غلام کو آزاد کرناہے ۔ ۱۴ ۔ یا بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے ۔

۱۵ ۔ رشتہ داروں میں کسی یتیم کو ۔ ۱۶ ۔ یا خاک پر پڑے ہوئے مسکین کو ۔

۱۷ ۔ پھر اسے ایسے لوگوں میں سے ہونا چاہئیے جو ایمان لائے ہیں او رجو ایک دوسرے کو صبر و شکیبائی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں ۔

۱۸ ۔ وہ اصحاب الیمین ہیں ( اور ان کے نامہ اعمال کو ان کے دائیں ہاتھ میں دیں گے )۔

۱۹ ۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کردیا ، وہ شوم او ربد بخت لوگ ہیں اور ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

۲۰ ۔ ان کو آگ نے ہر طرف سے گھیررکھا ہے ،( جس سے بھاگنے کی کوئی راہ نہیں ہے )۔

دشوار گزار گھاٹی

ان عظیم نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد ، جو گزشتہ آیات میں آئی تھیں ، زیر نظر آیات میں نا شکر گزار بندوں کو مورد ِ ملامت و سر زنش قرار دیتاہے ، کہ ان تمام وسائل سعادت کے ہوتے ہوئے انہوں نے نجات کی راہ کیوں طے نہیں کی ، پہلے فرماتا ہے :۔ ” یہ ناشکرا انسان اس عظیم گھاٹی سے اوپر نہیں گیا“۔( فلا اقتحم العقبة ) ۔(۱)

اس بارے میں یہ کہ یہاں عقبہ سے کیا مراد ہے ، بعد والی آیات اس کی تفسیر کرتی ہیں ۔

فرماتاہے : ” تو نہیں جانتاوہ گھاٹی کیاہے “؟ :( و اماادراک مالعقبة )

” غلام کو آزاد کرنا ہے “ ۔( فک رقبة ) ۔

” بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے “۔( او اطعام فی یوم ذی مسغبة ) ۔ ”

” قریبوں میں سے کسی یتیم کو “( یتیماً ذا مقربة ) ۔

” یاخاک پر پڑے ہوئے مسکین کو “( او مسکیناً ذا متربة ) ۔

اس طرح یہ دشوار گزار گھاٹی جس سے گزرنے کے لئے ناشکرے انسانوں نے ہر گز خود تو تیار نہیں کیا ہے ، اعمال ِ خیر کو ایک ایسا مجموعہ ہے جو ارادی طور پر خدمت ِ خلق اور کمزوروں اور ضعیفوں کی مدد کرنے کے گرد گھومتا ہے ، اور ان صحیح اور خالص عقائد کا مجموعہ بھی ہے جن کی طرف بعد والی آیات میں اشارہ ہوا ہے ۔

اور سچ تو یہ ہے ،کہ اس شدید لگاو کو دیکھتے ہوئے جو عام طور سے لوگ مال و ثروت کے ساتھ رکھتے ہیں ، اس دشوار گزار گھاٹی سے گزرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ اسلام اور ایمان صرف دعویٰ اور باتوں سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ ہر مومن مسلمان کے سامنے ایسی دشوار گزار گھاٹیاں ہیں جن سے یکے بعد دیگرے ، حول و قوة خدا اور روح ایمان و اخلاص سے مدد طلب کر تے ہوئے گزرنا پڑتا ہے ۔

بعض نے یہاں ” عقبہ “ کی تفسیر ہوائے نفس کے معنی میں کی ہے یہاں آیات نے ” عبقہ“ کی تفسیر کی ہے تو اس تفسیر سے مراد اس طرح ہونا چاہئیے کہ اصلی گھاٹی ہوائے نفس کی گھاٹی ہے ، لیکن غلاموں کو آزاد کرنا ، اور مسکینوں کو کھانا کھلانا ، اس سے مبارزہ کرنے کے واضح مصادیق میں سے ہیں ۔

بعض دوسرے مفسرین نے یہ کہاہے کہ اس ” عقبہ “ سے مراد قیامت میں ایک دشوار گزار گھاٹی ہے ، جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث میں آیاہے :

ان امامکم عقبة کو داً لایجوز ها المثقلون ، و انا ارید ان اخفف عنکم لتلک العقبة “۔

” تمہارے سامنے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے ، جس سے بھاری بوجھ والے نہیں گزرسکیں گے، اور میں چاہتا ہوں کہ اس گھاٹی سے عبورکرنے کے لئے تمہارے بوجھ کو ہلکا کردوں “(۲)

البتہ حدیث جو پیغمبر اکرم سے نقل ہوئی ہے زیر بحث آیت کی تفسیر کے عنوان سے نہیں ہے ، لیکن مفسرین نے اس سے یہی سمجھا ہے ، لیکن ایسا سمجھنا ، اس تفسیر کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو صراحت کے ساتھ آیات میں آئی ہے ، مناسب دکھا ئی نہیں دیتا ، مگر یہ کہ مراد یہ ہو کہ قیامت کی دشوار گزار گھاٹیاں اس جہاں کی سخت اور سنگین اطاعتوں کا تجسم ہیں ، اور ان سے عبور کرنا ان اطاعتوں سے عبور کرنے کی فرع ہے ( غور کیجئے) ۔

یہاں پر” اقتحم “ کی تعبیر جو ” اقتحام “ کے مادہ سے ہے ، قابل توجہ ہے ، جو اصل میں سخت اور خوفناک کام میں داخل ہونے کے معنی میں ہے ۔ ( مفر دات راغب) یا کسی چیز میں داخل ہونا یا اس کے پاس سے شدت و مشقت سے گزرنا ہے ( تفسیر کشاف) اور یہ چیز بتاتی ہے کہ اس گھاٹی سے گزرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ اور یہ اس بات پر ایک تاکید ہے جو سورہ کے آغاز میں آئی ہے ، جس میں فرماتا ہے : ” ہم نے انسان کو دکھ اور تکلیف میں پید اکیا ہے ، اور اس کی زندگی بھی دکھ اور رنج و تکلیف سے توأم ہے اور پروردگار کی اطاعت کرنا بھی بہر حال کوئی آسان کام نہیں ہے “۔

امیر المومنین علیہ السلام کے ایک ارشاد میں آیاہے :”ان الجنة حفت بالمکاره و ان النار حفت بالشهوات

” بے شک جنت سختیوں کے درمیان گھری ہوئی ہے ، اور دوزخ شہوات کے درمیان گھری ہوئی ہے ۳

چند قابل ِ توجہ نکات

۱ ۔ ”( فک رقبة ) “ سے مراد ظاہراًوہی غلاموں کو آزاد کرنا ہے ۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک اعرابی پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ، اے رسول ِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل تعلیم کیجئے کہ جو مجھے جنت میں داخل کرے ، آپ نے فرمایا:

ان کنت اقصرت الخطبة لقد عرضت المسألة “۔

” اگر چہ تونے بات تو مختصر کی ہے ، لیکن ایک بہت بڑے مطلب کا سوال کیا ہے “ ۔ ( یا یہ کہ اگر چہ تونے مختصر سی بات کی ہے ، لیکن تونے اپنے مقصود کو اچھی طرح سے بیان کیاہے )۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اعتق النسمة و فک رقبة “ ” غلاموں کو آزادکر اور گردنوں کو ( طوق غلامی سے ) رہائی دے ۔

راوی سوال کرتا ہے ، کیا یہ دونوں چیزیں ایک ہی نہیں ہیں ؟

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں ! پہلے سے میری مراد یہ ہے کہ مستقل طور پر آزاد کردے ،اور دوسرے سے میری مراد یہ ہے کہ تو اس کی قیمت کی ادائیگی میں امداد کرے تاکہ وہ آزاد ہوجائے ۔

اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

و الفیء علی ذی الرحم الظالم ، فان لم یکن ذالک فاطعم الجائع ، واسق الظمأن، و امر بالمعروف و انه عن المنکر ، فان لم تطق ذالک فکف لسانک الامن الخیر “۔

” ان رشتہ داروں کی طرف جنہوں نے تجھ سے قطع رحمی کی ہے اور تجھ پر ظلم کیا ہے ، لوٹ جا ( اور ان سے نیکی کر ) اور اگر اس قسم کا کام ممکن نہ ہو تو پھربھوکوں کو کھانا کھلا اور پیاسوں کو پانی پلا،اور ا مر بالمعروف او رنہی از منکر اور اگر تجھ میں اس کام کے کرنے کی بھی طاقت نہیں ہے تو کم از کم اپنی زبان نیکی کے علاوہ کسی چیز کے لئے نہ کھول ،(۴)

۲ ۔ بعض مفسرین نے ”( فک رقبة ) “ کو اپنی گردن کو گناہوں کے بارسے تو بہ کے ذریعہ آزاد کرنے ، یا خود کو اطاعتوں کے ذریعے عذابِ الہٰی سے آزادکرنے کے معنی میں سمجھا ہے ، لیکن ان آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو اس کے بعد آئی ہیں ، اور یتیم و مسکین کے بارے میں وصیت کررہی ہیں ، ظاہراً اس سے مراد وہی غلامی کو آزاد کرنا ہی ہے۔

۳ ۔ ”( مسغبة ) “” سغب“ ( بروزن غضب) کے مادہ سے بھوک کے معنی میں ہے ، اس بناپر ”( یوم ذی مسغبة ) “ بھوک کے دن کے معنی میں ہے ، اگر بھو کے افراد انسانی معاشروں میں رہتے ہیں ،لیکن یہ تعبیر قحط رسانی اور خشک سالی اور اسی قسم کے دنوں میں کھاناکھلانے کی ایک تاکید ہے ، جو اس موضوع کے اہمیت کی بناء پر ہے ، ورنہ تو بھوکوں کو کھاناکھلانا ہمیشہ افضل اعمال سے رہاہے اورہے ۔

ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آیاہے :

من اشبع جائعاً فی یوم سغب ادخله الله یوم القیامة من باب من ابواب الجنة لایدخلها الامن فعل مثل مافعل “۔

” جو شخص کسی بھوکے کو قحط کے دنوں میں پیٹ بھرکھانا کھلائے گا تو خدا اس کو قیامت میں جنت کے دروازوں میں سے اس دروازے سے داخل کرے گا جس سے کوئی دوسرا داخل نہیں ہوگا سوائے اس شخص کے جس نے اس جیسا عمل انجام دیا ہوگا ۔(۵)

۴ ۔ ”( مقربة ) “ قرابت اور رشتہ داری کے معنی میں ہے اور یتیم رشتہ داروں کے بارے میں تاکیدبھی ان کی اولویت کی بناپر ہے ، ورنہ تمام یتیموں کو کھانا کھلانا اور ان پر نوازش کرنا چاہئیے۔ یہ جو خاص طور پر اس زمانے میں رشتہ دار یتیموں کے بارے میں زیادہ سخت ذمہ داری رکھتے ہیں ۔

اس سے قطع نظر وہ غلط فائدے، جو خاص طور پر اس زمانے میں رشتہ دار یتیموں کے اموال سے اٹھائے جاتے تھے ، تقاضا کرتے ہیں کہ اس دشوار گزارگھاٹی کے بارے میں ایک خاص قسم کی تنبیہ کی جائے ۔ ابو الفتوح رازی کا نظر یہ یہ ہے کہ ” مقربہ“ ” قرابت کے مادہ سے یہیں ہے ، بلکہ” قرب“ کے مادہ سے ہے اور ایسے یتیموں کی طرف اشارہ ہے جن کے پہلو بھوک کی شدت سے ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ہیں ۔(۶) لیکن یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے ۔

۵ ۔ ”( متربة ) “ مصدر میمی ہے ” ترب“ ( بروزن طرب) کے مادہ سے جو اصل میں ” تراب“ بمعنی ” خاک “ سے لیا گیا ہے ۔ اور اس شخص پر بولا جاتا ہے جو فقر و فاقہ کی شدت کی بناء پر خاک نشین ہوگیا ہو ، پھر یہ تاکید اس قسم کے مساکین کے لئے ان کی اولیت کی بناء پر ہے ، ورنہ تمام مساکین کو کھانا کھلانا اعمال حسنہ میں سے ہے ۔

ایک حدیث میں آیاہے :

” امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام جب کھانا کھانا چاہتے تھے تو یہ حکم دیتے تھے کہ ایک بہت بڑی سینی دستر خوان کے پاس رکھ دی جائے ، اور دسترخوان پر جتنے کھانے ہوتے تھے ان میں سے بہترین کھانااٹھا کر اس سینی میں ڈال دیتے تھے اور پھر حکم دیتے تھے کہ وہ حاجت مندوں کو دے دیں ، پھر آپ اس آیت کی تلاوت فرماتے :”( فلا اقتحم العقبة )

اس کے بعد مزید فرماتے: خدا وند تعالیٰ جانتا تھا کہ سب لوگ غلاموں کو آزاد کرنے پر قادرنہیں ہیں لہٰذ ااپنی بہشت کی طرف ایک اور راستہ بھی قرار دیا ہے “۔(۷)

بعد والی آیت میں ، اس تفسیر کو جاری رکھتے ہوئے ، جو اس دشوار گزار گھاٹی کے لئے یہاں فرمائی ہے ، مزید کہتا ہے : ” پھر وہ ایسے لوگوں میں سے ہوجو ایمان لائے ہیں ، اور ایک دوسرے کو صبر و استقامت اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں “۔( ثم کان من الذین اٰمنوا و تواصوا بالصبر و تواصوبالمرحمة ) ۔

اس طرح سے وہ لوگ اس دشوار گزار گھاٹی سے عبور کر لیں گے ، جو صاحب ایمان بھی ہوں اور صبر کی دعوت کرنے اور عواطفِ انسانی جیسے اعلیٰ اخلاق بھی رکھتے ہوں اور انہوں نے غلاموں کو آزاد کرنے میں اور یتیموں اور مسکینوں کو کھانا کھلانے جیسے اعمال صالح بھی انجام دیئے ہوں ۔

یا دوسرے لفظوں میں وہ تین میدانوں ، ایمان ، اخلاق اور عمل میں قدم رکھیں اور اس سے سر بلند و سرفراز ہو کر نکلیں یہی ہیں وہ لوگ جو اس قسم کی دشوار گزار گھاٹی کو عبور کرلیں گے ۔

” ثم “ ( بعد) کی تعبیر ہمیشہ ہی تاخیر زمانی کے معنی میں نہیں ہوتی کہ اس کلام کا لازمہ یہ ہو کہ پہلے کھانا کھلائیں اور انفاق کریں اس کے بعد ایمان لائیں ، بلکہ اس قسم کے موارد میں ۔ جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت نے تصریح کی ہے ۔ مقام کی بر تری کے بیان کے لئے ہے کیونکہ مسلمہ طور پر ایمان کا رتبہ ، اور صبر و مرحمت کی وصیت کرنے کا مرتبہ ، حاجت مندوں کی مدد کرنے کے مرتبہ سے بالاتر ہے ، بلکہ اعمال صالح کا سرچشمہ ایمان اور اخلاق ہی ہیں اور ان سب کی جڑ بنیاد اعتقادات اور اعلیٰ اخلاق میں ہی تلاش کرنا چاہئیے ۔

بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ ” ثم “ یہاں تاخیر زمانی کے معنی میں ہے ، کیونکہ بعض اوقات اعمال ِ صالح ایمان کی طرف جھکاو کا سر چشمہ بن جاتے ہیں اور خاص طور پر اخلاق کی بنیادوں کو محکم کرنے میں مو ثر واقع ہوتے ہیں ، کیونکہ انسان کا خلق و خو پہلے ” فعل “ کی صورت میں ہوتا ہے ، اس کے بعد ” حالت“ کی صورت میں اور پھر ” عادت“ بن جاتا ہے اور اس کے بعد وہ ایک ” ملکہ“ کی صورت اختیار کرلیتا ہے ۔

( تواصوا ) “ کی خبر تعبیر جس کا مفہوم ایک دوسرے کو وصیت اور سفارش کرنا ہے ، ایک اہم نکتہ اپنے اندر لیئے ہوئے ہے اور وہ یہ ہے کہ پر وردگار کی اطاعت کی راہ میں صبر و استقامت اور ہوائے نفس سے مبارزہ و مقابلہ جیسے اہم مسائل ، اور اسی طرح اصل محبت و مرحمت کو تقویت دینا معاشرے میں انفرادی صورت میں نہیں ہونے چاہیئے ، بلکہ اسے ایک عمومی صورت میں سارے معاشرے میں جاری ہونا چاہئیے اور سب افراد ہی ایک دوسرے کو اس ” اصول “ کی رعایت و حفاظت کرنے کی وصیت کریں تاکہ اس طریقہ سے اجتماعی تعلقات اور زیادہ محکم سے محکم ہوں ۔

بعض نے کہا ہے کہ ” صبر“ یہاں فرمان خدا کی اطاعت میں استقامت اور اس کے اوامر میں اہتمام کرنے کے معنی میں ہے اور ” مرحمت“ مخلوق ِ خدا کے لئے محبت کی طرف اشارہ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خالق و مخلوق سے ارتباط ہی دین کی اساس و بنیاد ہے ، بہر حال صبر و استقامت ہی ہر قسم کی اطاعت و بندگی اور گناہ وعصیان کے ترک کرنے کی اصل و بنیاد ہے ۔ اور ان اوصاف کے آخر میں اس اوصاف کے حاملین کے اوصاف کو اس طرح بیان فرماتا ہے : ” وہ اصحاب یمین ہیں “( اولٰئِک اصهابالمیمنة ) ۔

اور ان کا نامہ اعمال بارگاہ دخدا وندی میں قبول ہونے کی نشانی اور علامت کے طور پر ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ ” میمنہ“ ” یمن “ کے مادہ سے ہے ۔ یعنی وہ صاحبان ِ بر کت ہیں اور ان کا وجود خود ان کے لئے بھی برکت ہے اور معاشرے کے لئے بھی۔

اس کے بعد اس گروہ کے نقطہ مقابل یعنی ان لوگو ں کا بیان کرتے ہوئے ، جو اس دشوار گزار گھاٹی سے نہیں گزرے فرماتاہے :

وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کا انکار کردیا ، ایسے بد بخت اور شوم ہیں کہ ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا “۔( و الذین کفروا باٰیاتنا هم اصحاب المشئمة ) ۔

اور یہ اس با ت کی نشانی ہے کہ ان کے ہاتھ حسنات اور نیکیوں سے خالی ہے اور ان کا نامہ اعمال سیئات اور برائیوں سے سیاہ ہے ۔

” مشئمة“ ” شوم “ کے مادّہ سے ” میمنة “ کا جو ” یمن “ کے مادہ سے ہے ، نقطہ مقابل ہے ، یعنی یہ کافر گروہ شوم ، بد بخت او رنامبارک افراد ہیں جو اپنی بد بختی کا سبب بھی ہیں اور معاشرے کی بد بختی کا بھی ، لیکن چونکہ قیامت میں بد بخت و شوم ہونا اور مبارک ہونا اس چیز سے پہچانا جائے گا کہ ان کا نامہ اعمال ان کے بائیں یا دائیں ہاتھ میں ہوگا ، لہٰذا بعض نے اس تفسیر کو اسی وجہ سے پسند کیا ہے ، خصوصاً جب کہ شوم کا مادہ لغت میں بائیں طرف کے جھکاو کے معنی میں بھی آیاہے ۔(۸)

اس سورہ کی آخری آیت میں آخری گروہ کی سزا کی طرف ایک مختصر اور پر معنی اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے : ان کے اوپر آگ ہے ، جو انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے ، جس سے فرار کی کوئی راہ نہیں ہے “۔( علیهم نار مو صدة ) ۔

( موصدة ) “ ”ایصاد “ کے مادہ سے دروازہ کو بند کرنے اور اسے محکم کرنے کے معنی میں ہے ۔ یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ انسان اس کمرے میں جس کی فضا گرم ہو یہ چاہتا ہے کہ اس کے در وازہ کو بند کرنے اور اسے محکم کرنے کے معنی میں ہے ۔ یہ با ت کہے بغیروا ضح ہے کہ انسان اس کمرے میں جس کی فضا گرم ہو یہ چاہتا ہے کہ اس کے دروازوں کو کھول دے ، تاکہ تازہ ہوا آئے اور فضا کی گرمی کو معتدل کردے۔

اب سوچنا چاہئیے کہ دوزخ کی جلانے والی بھٹی میں ، جب کہ تمام دروازے بند ہو جائیں ، کیا حالت پید اہوگی ؟

خدا وندا ! ہمیں اس قسم کی جان گذار عذاب سے اپنے لطف و کرم کی پناہ میں محفوظ رکھنا۔

پروردگارا ! ان گھاٹیوں سے گزرنا جو ہمارے سامنے ہیں ، تیری توفیق کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ تو اپنی توفیق کو ہم سے نہ روکنا ۔

بار الہٰا ! ہمیں اصحاب میمنہ کی صف میں جگہ دینا اور نیک اور ابرار لوگوں کے ساتھ محشور فرمانا ۔

آمین یا رب العالمین

____________________

۱۔ ظاہر یہ ہے کہ اس جملہ میں ” لا‘ ” نافیہ “اور ” خبریہ “ ہے اور یہ جو بعض نے اسے نفرین یا استفہام کے معنی میں سمجھا ہے ، بہت بعید نظر آتا ہے ۔ وہ واحد اعتراض جو یہاں موجود ہے یہ ہے کہ جب انسان فعل ماضی پر ” لا “ آتا ہے تو عام طور پر اس کا تکرار ہوتا ہے ، جیسا کہ سورہ قیامت کی آیت ۳۱ میں آیاہے کہفلا صدّق و لا صلی :( نہ تو اس نے صدقہ دیا اور نہ ہی نمازپڑھی) جب کہ زیر بحث آیت میں ” لا“ کا تکرار نہیں ہوا، لیکن جیسا کہ مرحوم ” طبرسی“ نے ” مجمع البیان “ میں نقل کیا ہے کہ بعض اوقات یہ تکرار کے بغیر بھی استعمال ہوتا ہے ”فخر رازی “ اور” قرطبی “ نے اپنی تفاسیر میں بعض عربی ادب کے بزرگوں سے نقل کیا ہے کہ اگر ” لا“ لم“ کے معنی میں ہوتو پھر تکرار کی ضرورت نہیں ہے ، یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہاں تقدیر میں تکرار ہوا ہے :فلا اقتحم العقبة ولا فک رقبة ولا اطعام فی یوم ذی مسغبة

۲۔ مجمع البیان جلد۱۰ص ۴۹۵

۳-نهج البلاغه»، خطبه ۱۷۶.

۴۔ ” نو ر الثقلین “ جلد ۵ ص ۵۸۳۔

۵۔” مجمع البیان “جلد۱۰ ص۴۹۵۔

۶۔ ” تفسیر ابو الفتوح رازی ، جلد۱۲ ص۹۶۔

۷۔۔ کافی مطابق نقل تفسیر المیزان ، جلد۲۰ ، ص ۴۲۴۔

۸۔ تفسیر ابو الفتوح رازی جلد ۱۲ ص ۹۷ اور المنجد مادہ ” شأم “ ۔


سورہ الشمس

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ۔اس کی ۱۵ آیات ہیں ۔

سورہ الشمس اور اس کی فضیلت

یہ سورہ جوحقیقت میں ” تہذیب ِ نفس“ اور دلوں کو آلائشوں اور ناپاکیوں سے پاک کرنے والا سورہ ہے ، اسی معنی کے محور پر گر دش کرتاہے البتہ اس سورہ کے آغاز میں ۔ اس مطلب کوثابت کرنے کے لئے کہ فلاح و رست گاری تہذیبِ نفس کی مرہون منت ہے ، عالم ِخلقت کے گیارہ اہم موضوعات اور خدا کی ذاتِ پاک کی قسم کھائی گئی ہے ۔ اور قرآ ن مجید کی بیشتر قسموں کو مجموعی طور پر اپنے اندر سمو لیا ہے ۔

اور سورہ کے آخر میں باغی اور سر کش قوموں میں سے ایک کا ذکر ” جو تہذیب نفس کو ترک کرنے کی بناء پر ابدی او ر دائمی شقاوت و بد بختی میں ڈوب گئی تھی، اور خدا نے اسے شدید عذاب میں گرفتار کیا تھا ، یعنی قوم ” ثمود “ ۔ بطور نمونہ پیش کرتا ہے ، اور ایک مختصر سے اشارہ کے ساتھ ان لوگوں کی سر نوشت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔

حقیقت میں یہ مختصر سا سورہ بشرکی زندگی کے سر نوشت ساز مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ کو موضوع بناتا ہے اور انسانوں کے لئے اسلام کے قابل قدر نظام کو مشخص کرتاہے ۔

فضیلت تلاوت

یہ سورہ جوحقیقت میں ” تہذیب ِ نفس“ اور دلوں کو آلائشوں اور ناپاکیوں سے پاک کرنے والا سورہ ہے ، اسی معنی کے محور پر گر دش کرتاہے البتہ اس سورہ کے آغاز میں ۔ اس مطلب کوثابت کرنے کے لئے کہ فلاح و رست گاری تہذیبِ نفس کی مرہون منت ہے ، عالم ِخلقت کے گیارہ اہم موضوعات اور خدا کی ذاتِ پاک کی قسم کھائی گئی ہے ۔ اور قرآ ن مجید کی بیشتر قسموں کو مجموعی طور پر اپنے اندر سمو لیا ہے ۔

اور سورہ کے آخر میں باغی اور سر کش قوموں میں سے ایک کا ذکر ” جو تہذیب نفس کو ترک کرنے کی بناء پر ابدی او ر دائمی شقاوت و بد بختی میں ڈوب گئی تھی، اور خدا نے اسے شدید عذاب میں گرفتار کیا تھا ، یعنی قوم ” ثمود “ ۔ بطور نمونہ پیش کرتا ہے ، اور ایک مختصر سے اشارہ کے ساتھ ان لوگوں کی سر نوشت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔

حقیقت میں یہ مختصر سا سورہ بشرکی زندگی کے سر نوشت ساز مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ کو موضوع بناتا ہے اور انسانوں کے لئے اسلام کے قابل قدر نظام کو مشخص کرتاہے ۔

اس سورہ کی فضیلت کے بارے میں بس اتنا ہی کافی ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیاہے :”من قرأها فکانما تصدق بکل شیء طلعت علیه الشمس و القمر

” جو شخص اس سورہ کو پرھے گا تو گویا اس نے ان تمام چیزوں کو تعداد میں جن پر سورج اور چاند طلوع کرتے ہیں ، صدقہ دیا ہے ۔(۱)

اور مسلّمہ طور پر یہ عظیم فضیلت اس شخص کے لئے ہے ، جو اس چھوٹے سے سورہ کے عظیم مطالب پر دل و جا ن سے عمل کرے اور تہذیب نفس کو اپنا قطعی وظیفہ سمجھے ۔

____________________

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰، ص ۴۹۶۔


آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹،۱۰

( بسم الله الرحمٰن الرحیم )

۱ ۔( و الشّمس و ضحٰها ) ۔ ۲ ۔( و القمر اذا تلٰها ) ۔ ۳ ۔( و النّهار اذا جلّٰها ) ۔ ۴ ۔( و السّماءِ اذا یغشٰها ) ۔

۵ ۔( و السّماءِ و ما بنٰها ) ۔ ۶ ۔( و الارض و ما طحٰها ) ۔ ۷ ۔( و نفسٍ و ما سوّٰها ) ۔ ۸ ۔( فالهمها فجورها و تقوٰها )

۹ ۔( قد افلح مَنْ زکّٰها ) ۱۰ ۔( و قد خاب مَنْ دسّٰها ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے ۱ ۔ سورج اور اس کی روشنی کے پھیلنے کی قسم ۔ ۲ ۔ اور چاند کی جب کہ وہ اس کے پیچھے آئے ۔

۳ ۔ اور دن کی جب کہ وہ صفحہ زمین کو روشن کرے ۔ ۴ ۔ اور قسم ہے رات کی جب کہ صفحہ زمین کو ڈھانپ لے ۔

۵ ۔ اور قسم ہے آسمان کی اور جس نے اسے بنایا ۔ ۶ ۔ اور قسم ہے زمین اور جس نے اسے بچھایا ۔

۷ ۔ اور قسم ہے انسان کے نفس کی اور جس نے اسے درست کیا۔ ۸ ۔ پھر اسے فجو ر و تقویٰ ( خیر و شر)کاالہام کیا۔

۹ ۔ کہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا وہ فلاح پاگیا ( اور رست گار ہوا۔ ۱۰ ۔اور جس نے اپنے نفس کو معصیت اور گناہ سے آلودہ کیاوہ ناامید اور محروم ہوا۔

تہذیب نفس کے بغیر نجات ممکن نہیں

وہ پے در پے او راہم قسمیں جو اس سورہ کے آغاز میں آئی ہیں ایک حساب سے ” گیارہ “ قسمیں ہیں اور دوسرے حساب سے ”سات“ قسمیں ہیں ، اور قرآن کی بیشتر قسموں کو اپنے اندر سمویا ہواہے ۔ یہ چیز اس بات کی اچھی طرح سے نشان دہی کرتی ہے کہ یہاں کوئی بہت اہم مطلب در پیش ہے ، ایسا مطلب جو آسمانوں ، زمین اور چاند کی عظمت کے برابر ہے اور ایک ایسا مطلب ہے جو سر نوشت ساز اور حیات بخش ہے ۔

پہلے ضروری ہے کہ ہم ان قسموں کی تشریح و تفسیر بیان کریں اور اس کے بعد اس نہایت اہم مطلب پر غور کریں جس کے لئے یہ سب قسمیں کھائی گئی ہیں ۔

پہلے فرماتاہے : ” سورج کی روشنی کی قسم “ :( و الشمس و ضحاها ) ۔

جیساکہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں قرآن کی قسموں کے عام ہر دو مقصد ہوتے ہیں ، پہلا مقصد اس مطلب کی اہمیت جس کے لئے قسم کھائی گئی ہے اور دوسرا ان امور کی اہمیت جن کی قسم کھائی گئی ہے کیونکہ قسم ہمیشہ اہم موضوعات کی کھائی جاتی ہے ، اسی بناء پر یہ قسمیں انسان کو غور و فکر کی طرف مائل کردیتی ہیں تاکہ وہ عالم خلقت کے ان اہم موضوعات کے بارے میں غور و فکر کریں ،اور ان سے خدا کی طرف راستہ نکالیں ۔

” سورج“ کا انسان اور تمام زندہ زمینی موجودات کی زندگی میں اہم ترین اور پائندہ ترین نقش و اثر ہے ، کیونکہ اس بات کے علاوہ کہ وہ نور و روشنی اور حرارت کا منبع ہے، اور یہ دونوں انسانی زندگی کے اصلی عوامل میں سے شمار ہوتے ہیں ۔ دوسرے حیاتی منابع بھی اسی کے سبب سے وجود میں آتے ہیں ، ہواو ں کا چلنا ، بارش کا برسنا ، نباتات کی پرورش ، دریاو ں اور آبشار کا چلنا ، یہاں تک کہ قوت پید اکرنے والے منابع کا ظاہر ہونا ، جیسا کہ تیل و پیٹرول اور پتھر کا کوئلہ وغیرہ ،اگر ہم صحیح طور پر غور کریں تو ان میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صورت میں سورج کی روانی سے ارتباط رکھتا ہے اس طرح سے کہ اگر کسی دن یہ حیات بخش چراغ خاموش ہو جائے توتاریکی و سکوت اور خاموشی و موت ہر جگہ کو گھیر لے ۔

” ضحٰی“ اصل میں سورج کی روشنی کے پھیلنے کے معنی میں ہے یہ اس وقت ہوتا ہے جب سورج افق سے اوپر آجائے اور اس کی روشنی ہر جگہ کو گھیر لے۔ اس کے بعد دن کے اس موقع پر بھی ” ضحٰی “ کا طلاق ہونے لگا ۔

خصوصیت کے ساتھ ” ضحی“ پر تکیہ اس کی اہمیت کی بناء پر کیونکہ وہ زمین پر سورج کی روشنی کے تسلط کا وقت ہوتا ہے ، اس کے بعد تیسری قسم کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے :” قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کے پیچھے پیچھے آئے “( و القمر اذا تلاها ) ۔

یہ تعبیر ۔ جیسا کہ مفسرین کی ایک جماعت نے کہا ہے ۔ حقیقت میں چاند کے بدر کامل ہونے یعنی چودھویں رات کی طرف اشارہ ہے ، کیونکہ چودھویں رات کا چاند غروب آفتاب کے ساتھ ہی افق پر مشرق سے نمودار ہوتا ہے اور اپنے روشن چہرے کوظاہر کرتے ہوئے اپنا تسلط آسمان پر جمالیتاہے ۔ اور چونکہ یہ اس وقت ہر زمانہ سے زیادہ عمدہ اور زیادہ پر شکوہ ہوتا ہے لہٰذا اس کی قسم کھائی ہے ۔

مفسرین نے یہ احتمال بھی دیا ہے اوپر والی تعبیر چاند کے دائمی طور پر سورج کے تابع ہونے اور اس منبع نور سے روشنی حاصل کرنے کی طرف اشارہ ہے ، لیکن اس صورت میں ”( اذا تلاها ) “ کا جملہ قیدِ توضیحی ہوگا ۔

بعض نے اس آیت کی تفسیر میں کچھ اور احتمال بھی دئے ہیں جو توجہ کے لائق نہیں ہیں ، لہٰذا ان کو ذکرنہیں کیا گیا ۔

چوتھی قسم میں مزید کہتا ہے : اور دن کی قسم جب وہ صفحہ زمین کو روشن کر دے “۔( و النهار اذا جلا ها ) ۔

( جلاها )تجلیة “ کے مادہ سے ، اظہار و ابراز کے معنی میں ہے ۔

اس کے بارے میں کہ جلاھا کی ضمیر کس طرف لوٹتی ہے ، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ، بہت سے اسے زمین یا دنیا کی طرف لوٹا تے ہیں ۔ ( جیساکہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے )۔ یہ ٹھیک ہے کہ گزشتہ آیات میں ” زمین “ کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں تھی ، لیکن یہ بات قرینہ مقام سے واضح ہوجاتی ہے ۔

بعض کایہ بھی نظر یہ ہے کہ یہ ضمیر ” سورج“ کی طرف لوٹتی ہے ، یعنی قسم ہے دن کی کہ وہ سورج کو ظاہر کرتا ہے، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔

بہر حال اس اہم آسمانی مخلوق کی قسم اس کی نوع بشر اور تمام زندہ موجودات کی زندگی میں اس کی حد سے زیادہ تاثیر کی بناء پرہے ، کیونکہ دن حرکت ، جنبش اور حیات کا مظہر ہے، اور زندگی کی تمام جد و جہد ، کشش اور کو شش عام طور پر دن کی روشنی میں ہی صورت پذیر ہوتی ہے ۔

پانچویں قسم میں فرماتا ہے :” رات کی قسم جب وہ صفحہ زمین ( یا سورج ) کو ڈھانپ دیتی ہے “( و اللیل اذا یغشاها ) ۔(۱)

رات اپنی تمام بر کات و آثار کے ساتھ ایک طرف تو سورج کی دن کی حرارت میں اعتدال پید اکرتی ہے اور دوسری طرف تمام زندہ موجودات کے آرام و سکون اور راحت پانے کا سبب بنتی ہے ۔ کیونکہ اگر رات کی تاریکی نہ ہوتی ، اور مسلسل سورج چمکتا رہتا تو آرام و سکون کا وجود ہی نہ ہوتا کیونکہ سورج جلانےو الی حرارت ہر چیز کو نابود کردیتی ہے ، یہاں تک کہ اگر شب و روز کا نظام موجودہ کیفیت کے بر خلاف ہوتا تو بھی یہی مشکل پیش آتی ، جیسا کہ چاند میں جس کی راتیں کرّہ زمین کے دو ہفتوں کے برابر ہوتی ہیں اور دن بھی ہفتے کے برابر ہوتے وہ حرارت تقریباً تین سو درجہ سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتی ہے، جس میں کوئی بھی زندہ موجود جسے ہم پہچانتے ہیں باقی نہیں رہ سکتا اور آدھی رات کے وقت اس کا درجہ حرارت صفر سے نیچے چلاجاتا کہ اگر وہاں پرکوئی زندہ موجود ہوتو یقینی طور پر برف ہوکر نابود ہوجائے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ گزشتہ آیا ت میں افعال ماضی کی صورت میں آئے تھے اور اس آیت میں مضارع کی صورت میں آئے ہیں ، تعبیر کا یہ فرق ممکن ہے ، اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ شب و روز کے ظہور مثلاً حوادث کسی زمانے کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے وہ گزشتہ اور آئندہ سب کو شامل ہوتے ہیں اس لئے بعض فعل ماضی کی صورت میں اور بعض مضارع کی صورت میں آئے ہیں ، تاکہ ان حوادث کی عمومیت کوزمانہ کے ضمن میں واضح کریں ۔

چھٹی اور ساتویں قسم میں آسمان او رخالق ِ آسمان کی طرف توجہ کرتا ہے اور مزید فرماتا ہے :” قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے آسمان کو بنایا “( والسماء و ما بناها ) ۔

ایسی خیرہ کرنے والی عظمت کے ساتھ آسمان کی اصل خلقت ، عالم خلقت کے عظیم عجائبات میں سے ہے ، اور ان تمام ستاروں ، اجرامِ سماوی اور ان پر حاکم نظام ایک تعجب خیز چیز ہے ۔ اور ان سب سے زیادہ اہم اس آسمان کا خالق ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ لفظ ”ما“کو مصدریہ “مراد لینے پر مجبور ہوئے ہیں نہ کہ ،مو صولہ“ اور اس صورت میں آیت کا مفہوم اس طرح ہوگا ،: قسم ہے آسمان کی اور اس کی بناکی “۔

لیکن آیات” ونفس وما سواھا فالھمھا فجورھا و تقواھا“ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ، جن کی تفسیر عنقریب بیان کی جائے گی ، اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ” ما“ ” موصولہ “ہو اور خدا کی ذات ِپاک کی طرف اشارہ ہو جو تمام آسمانوں کا خالق ہے ، اور عربی زبان میں افراد ذی العقول کے بارے میں بھی ” ما“ کا استعمال ہوتا رہتا ہے ، جیساکہ سورہ نساء کی آیت ۳ میں آیاہے : فانکحوا ماطاب لکم من النساء : جو عورتیں پسند آئیں ان سے نکا ح کرو۔

مفسرین کی ایک جماعت کا نظریہ ، یہ ہے کہ ” ما“ ( جس چیز) کی تعبیر یہاں اس بناء پرہے کہ مبدأ جہان کو پہلے مبہم صورت میں ذکر کیا گیا ہو، تاکہ بعد میں غور و تحقیق اور مطالعہ کے ساتھ اس کے علم و حکمت سے آشنا ہوں ، اور ” جو چیز “ اس ذات “ کے ساتھ تبدیل ہوجائے ، لیکن تفسیر زیادہ مناسب ہے ۔

پھر آٹھویں اورنویں قسم میں ” زمین“ اور ” زمین کے خالق“ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتا ہے : قسم ہے زمین کی اور اس کی جس نے زمین کو بچھایا “( و الارض وما طحاها ) ۔

زمین جو انسان اور تمام زندہ موجودات کی زندگی کا گہوارہ ہے۔

زمین جو اپنی تمام حیرت انگیز چیزوں : پہاڑوں ، سمندروں ، درّروں ، جنگلوں ، چشموں ، دریاو ں ، معادن اور ا س کے گرانبہا منابع کے ساتھ ، کہ ان میں سے ہرایک اکیلا بھی حق تعالیٰ کی آیات میں سے ایک آیت اور اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔

اور اس سے بر تر و بالا اس زمین کا خالق اور وہ ذات ہے کہ جس نے اسے بجھا یا ہے ۔

” طحاھا“ ” طحو“ ( بروز ن سھو) کے مادہ سے بچھانے اور پھیلانے کے معنی میں بھی آیاہے اور دھکیلنے ، اور دور کرنے اور ختم کرنے کے معنی میں بھی، اور یہاں بچھانے کے معنی میں ہے ، کیونکہ اولاً زمین ابتدامیں پانی کے نیچے غرق تھی ۔ بتدریج آہستہ آہستہ پانی زمین کے گڑھوں میں قرار پایا اور خشکیوں نے سر نکال لیا اور زمین پھیلتی چلی گئی اور اس کو ” دحو الارض “ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

ثانیاً زمین ابتدا میں پستیوں اور بلندیوں او رناقابل ِ سکونت گڑھوں کی صورت میں تھی جس پر مسلسل موسلادھار بارشیں بر سیں جنہوں نے زمین کی بلندیوں کو دھو دیا اور گھاٹیوں میں پھیلادیا ۔ اور آہستہ آہستہ انسانی زندگی اور زراعت کے لئے قابلِ استفادہ ہموار زمینیں وجود میں آگئیں ۔

بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ اس تعبیر مین زمین کی حرکت کی طرف ایک اجمالی اشارہ موجود ہ ، کیونکہ ” طحو“ کے معانی میں سے ایک معنی دھکیلنا بھی ، جو سورج کے گرد زمین کی انتقالی حرکت کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے ، یا اس کی محوری حرکت، یا دونوں قسم کی حرکت بھی ہو سکتی ہے ۔

اور آخر میں ” دسویں “ اور ” گیارہویں “ قسم کوپیش کر تے ہوئے کو اس سلسلہ کی آخری قسم ہے ، فرماتا ہے : قسم ہے انسان کے نفس کی ، اور اس ذات کی ، جس نے اسے مرتب و منظم کیا ہے “( ونفس و ما سواها ) ۔

وہی انسان جو عالم خلقت کا خلاصہ جہانِ ملک و ملکوتکا نچوڑاور عالم ِ آفرینش کا گلِ سر سبد ہے :

یہ عجیب مخلوق جو عجائبات اور اسرار سے پر ہے اس قدر اہم ہے کہ خدا نے خود اس کی اور اس کے خالق کی ایک ہی جگہ قسم کھائی ہے ۔ اس بارے میں کہ یہاں “ نفس“ سے مراد انسان کی رو ح یا جسم و روح دونوں ؟ مفسرین نے کئی احتمال دیئے ہیں ۔

اگر مراد روح ہوتو پھر” سوّاھا“ سے مراد ( جو تسویہ کے مادہ سے ہے ) انسان کے روحی قویٰ اور استعدادوں کی ، حواس ظاہری سے لے کر ادراک ، حافظہ، انتقال ، تخیل ، ابتکار، عشق ،اور ارادہ ، تصمیم اور اسی قسم کے قوای، جو ” علم النفس“ کے مباحث میں بیان ہوئے ہیں ، تنظیم و تعدیل ہے ۔

اور اگر روح و جسم دونوں مراد ہوں تو پھر بدن کے تمام حیرت انگیز نظاموں اور ا سکے مختلف کار خانوں کو۔ جن کے بارے میں علم ”تشریح الاعضاء “ فزیالوجی “ (فعال الاعضاء ) میں تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی ہے۔ شامل ہوگا ۔ البتہ قرآن مجید میں نفس کا دونوں معانی پر اطلاق ہو اہے :

روح کے بارے میں سورہ زمر کی آیت ۲۴ میں آیاہے :( الله یتوفی الانفس حین موتها ) :”خدا موت کے وقت ارواح کو لے لیتا ہے “۔

اور جسم کے بارے میں سورہ قصص کی آیت ۳۳ میں آیاہے کہ موسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں : قال رب انی قتلت منھم نفساً فاخاف ان یقتلون: موسیٰ وعلیہ السلام نے کہا، میں نے ان ( ظالم فرعونیوں ) میں سے ایک کو قتل کردیا ہے ، مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے ۔

لیکن یہاں مناسب یہ ہے کہ دونوں کو شامل ہو ، کیونکہ خدا کی قدرت کی حیرت انگیزیاں جسم میں بھی موجود ہیں اور روح میں بھی ، اور ان میں سے کسی ایک کے ساتھ اختصاص نہیں رکھتیں ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں ”نفس“ نکرہ کی صورت میں بیان ہوا ہے ۔ ممکن ہے کہ یہ بات نفسِ انسانی کی اہمیت و عظمت کی طرف اشارہ ہو، ایسی عظمت جوتصور سے مافوق اور ابہام سے ملی ہوئی ہو ، جو اس کے انجانے موجود کی صورت میں تعارف کراتی ہے جیساکہ موجودہ زمانہ کے ایک عظیم ترین عالم نے انسان کو اسی عنوان سے تعبیر کیا ہے ، اور انسان کا ”موجودناشناختہ “نام رکھا ہے ۔

ہاں ! جب اس کی خلقت کی تکمیل ہوگئی اور اس کی” ہستی “وجود میں آگئی تو خدا نے اسے ” باید ھا و نباید ھا“( جوکام کرنے چاہئیں اور جو کام نہیں کرنے چاہئیں ) کی تعلیم دی ۔

اور اس طرح سے وہ ایک وجود بن گیا ،جو خلقت کے لحاظ سے ” سڑی ہوئی گیلی مٹی اور روحِ الہٰی کا مجموعہ ہے ، تعلیمات کے لحاظ سے ” فجور و تقویٰ سے آگاہ ہے “ اور نتیجہ کے لحاظ سے وہ ایک ایسا وجود ہے کہ جو قوسِ صعودی میں فرشتوں سے بر تر ہوسکتا ہے ، فرشتوں سے بھی آگے پرواز کرسکتا ہے ، اور جو بات وہم میں بھی نہ آئے وہ بھی بن سکتا ہے ، جب کہ قوس نزولی میں درندہ جانوروں سے بھی پست تر ہوجائے اور” بل ھم اضل “ کے مرحلہ تک جا پہنچے ، اور یہ چیز اس بات پرموقوف ہے کہ وہ اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ کونسی راہ اختیار کرتا ہے ۔

”الھمھا“ ” الھام “ کے مادہ سے اصل میں تو کسی چیز کے نگلنے یا پینے کے معنی ہے ، اور اس کے بعد پروردگار کی طرف سے انسان کی روح میں کسی مطلب کے القاء کرے نے کے معنی میں آیاہے ۔ گویا انسان کی روح اس مطلب کو اس کے سارے وجود کے ساتھ پی لیتی ہے اور نگل جاتی ہے ۔ اور کبھی وحی کے معنی میں بھی آیاہے ۔ لیکن بعض مفسرین کانظر یہ یہ ہے کہ ” الہام “ اور ” وحی “ ،میں فرق یہ ہے کہ وہ شخص جسے الہام ہوتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ مطلب اسے کہاں سے حاصل ہوا ہے ، جبکہ وحی کے وقت وہ جانتا ہوتا ہے کہ یہ اسے کہاں سے کس ذریعہ سے پہنچتی ہے ۔

” فجور“ ” فجر “ کے مادہ سے ۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے ۔ وسیع شگاف کرنے کے معنی میں ہے ۔ اور چونکہ صبح کی سفیدی رات کے پردہ کو چاک کردیتی ہے ، لہٰذا اسے ” فجر “ کہا گیا ہے ۔ اور چونکہ گناہوں کا ار تکاب بھی دیانت کے پردہ کو چاک کردیتا لہٰذا اس پر” فجور “ کا اطلاق ہواہے ۔

البتہ زیر بحث آیت میں ” فجور“ سے مراد وہی اس کے اسباب ، عوامل اور طریقے ہیں ۔

اور ” تقویٰ “ سے مراد ، جو” وقایة“ کے مادہ سے نگہداری کے معنی میں ہے ، یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو قباحتوں ، برائیوں ، آلودگیوں اور گناہوں سے محفوظ اور دور رکھے ۔

یہ بات بھی یاد دلانا ضروری ہے کہ اس آیت( فالهها فجورها و تقواها ) کے معنی یہ ہیں ، کہ خدا نے فجور و تقویٰ کے عوامل انسان کی روح کے اندر ایجادکردیئے ہیں ، ایسے عوامل جو اسے فجور و آلودگی اور حیا کے پردوں کو چاک کرنے کی دعوت دیتے ہیں ، اور ایسے عوامل جو اسے خیرات اور نیکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں ، جیسا کہ بعض نے خیال کیا ہے اور آیت کو انسان کے وجود میں تضاد کے موجود ہونے کی دلیل سمجھا ہے ۔

بلکہ وہ کہتاہے کہ اس نے ان دوحقیقتوں کا اسے الہام کیا اور تعلیم دی ، یا زیادہ سادہ اور آسان زبان میں اس کو اور چاہ کی نشان دہی کر دی ، جیسا کہ سورہ بلد کی آیت ۱۰ میں آیا ہے : و ھدیناہ النجدین :“ ہم نے انسان کو خیر و شر کی ہدایت کردی ہے ۔

اور دوسرے لفظوں میں خدا نے اسے تشخیص کی ایسی قدرت اور بیدار عقل و وجدان عطا کیا ہے کہ وہ ” فجور“ و تقویٰ “ ”عقل “ و ” فطرت“ کے طریقہ سے معلوم کر لیتا ہے ۔

اسی لئے بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت حقیقت میں ” حسن و قبح عقلی “ کے مسئلہ کی طرف ایک اشارہ ہے کہ خدا نے ادراک کی توانائی انسانوں کو عطاکی ہے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ خدا نے انسا ن کو بے شمار نعمتیں عطا کیں ہیں ، لیکن ان تمام نعمتوں میں سے یہاں مسئلہ فجور و تقویٰ اور حسن و قبح کے ادراک پر تکیہ کیا ہے کیونکہ یہ مسئلہ انسان کی زندگی کے مسائل میں سے زیادہ قسمت کو بنا نے یا بگاڑنے والا مسئلہ ہے ۔

انجام کار ان تمام اہم اور پے در پے قسموں کے بعد کے نتیجہ کو پیش نظر کرتے ہوئے فرماتاہے :” ان چیزوں کی قسم ہے کہ ” جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا وہ نجات پائے گا“۔( قد افلح من زکّٰها ) ۔

” زکّٰھا“ ” تزکیة“ کے مادہ سے اصل میں ، جیسا کہ راغب نے منفردات میں بیان کیا ہے ، رشد و نمو کے معنی میں ہے اور زکوٰة بھی اصل میں نشو نما اور رشد کے معنی میں ہے ۔ اسی لئے ایک روایت میں حضرت علی علیہ السلام سے آیاہے :”المال تنقصه النفقة و العلم یکوا علی الانفاق “۔ ”ما تو خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے لیکن علم خر چ کرنے سے بڑھتا ہے اور نشو و نما پاتا ہے ،(۲)

اس کے بعد یہ لفظ طہارت اور پاک کرنے کے معنی میں بھی آیاہے ، شاید اس مناسبت سے کہ آلودگیوں سے پاک کرنا رشد و نمو کا سبب ہوتا ہے ، اور زیر بحث آیت میں دونوں معانی کا امکان ہے ۔

ہاں ! رست گاری اور نجات اس شخص کے لئے ہے جو اپنے نفس کی تربیت اور نشو و نما کرے اور اسے شیطانی اخلاق و عادات ، گناہ و عصیان اور کفر سے پاک رکھے ۔

حقیقت میں انسان کی زندگی کا اصلی مسئلہ بھی یہی ” تزکیہ“ ہی ہے کہ اگر ہوتو وہ سعادت مند ہے ورنہ بد بخت و بے نوا ہے اس کے بعد گروہ ِ مخالف کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ،: ناامید و بد بخت ہو اوہ شخص جس نے اپنے نفس کو معصیت و گناہ سے آلودہ کیا ۔”( و قدخاب من دسا ها ) ۔” خاب“ ” خیبة“ کے مادہ سے ، اصل میں کسی چیز کو کراہیت و ناپسندیدگی کے ساتھ داخل کرنے کے معنی میں ہے ۔(۳)

جیسا کہ قرآن مجید عرب جاہلوں کے اپنی لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کے بارے میں فرماتاہے :ام ید سه فی التراب :” اسے کراہت و نفرت سے مٹی میں پنہاں کردیتا ہے “۔ ( نحل ۔ ۹۵)

” دسیسة“ نقصان دہ مخفی کاموں کے لئے بولا جاتا ہے ۔

زیر بحث آیت کے اس معنی کی مناسبت کے بارے میں مفسرین نے مختلف بیان دیئے ہیں ۔

کبھی تو یہ کہا گیا کہ یہ تعبیر گناہ اور فسق سے کنایہ ہے ، کیونکہ اہل تقویٰ و صلاح خود کو آشکار کرتے ہیں ، جب کہ آلودہ او رگنہگار لوگ خود کو چھپاتے ہیں ، جیسا کہ نقل ہوا ہے کہ عربوں میں جو گ زیادہ سخی ہوتے تھے وہ اپنے خیمے اونچی جگہ پر نصب کرتے تھے اور رات کو آگ جلا دیا کرتے تھے تاکہ حاجت مند رات میں جب چاہیں ان کے پاس آسکیں اور ان سے مانوس ہو سکیں ، لیکن بخیل اور کنجوس لوگ نشیبی زمینوں میں خیمے لگاتے تھے تاکہ کوئی شخص ان کے پاس نہ آسکے ۔

اور کبھی یہ کہا ہے کہ اس سے مراد ہے کہ گنہگار خود کو صالح لوگوں میں پنہاں کرلیتے ہیں ۔

یا اپنے نفس یا اپنی ہئیت ِ انسانی کو معاصی و گناہ میں چھپالیتے ہیں ۔

یا معاصی و گناہ کو اپنے نفس کے اندر چھپالیتے ہیں ۔

بہر حال یہ گانہ و معصیت اور شیطانی عادات سے آلودگی سے ایک کنایہ ہے ۔ اور یہ ٹھک تزکیہ کا نقطہ مقابل ہے ۔

اس آیت کے وسیع مفہوم میں ان تمام معانی کو جمع کرنے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے ۔

اس طرح سے دنیا وی زندگی کے میدان میں کامیاب ہونے والے اور شکست کھانے والے مشخص ہوجاتے ہیں اور ان دونوں گروہوں کی قدرو قیمت کا معیار ” تزکیہ نفس اور روحِ تقویٰ و اطاعت خدا وندی نمود و رشد ” یا “ انواع و اقسام کے معصی اور گناہوں سے آلودگی“ کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

اور اس سے وہ بات واضح ہو جاتی ہے ، جو امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں نقل ہوئی ہے ، کہ آپ نے فرمایا :”قد افلح من اطاع و خاب من عصی “:

” جس نے اطاعت کی وہ نجات پاگیااور جس نے نافرمانی کی و ہ ناامید اور محروم ہوگیا“۔(۴)

یہ حقیقت میں نتیجہ کا بیان اور مقصود کا ماحصل ہے ۔

ایک اور حدیث میں آیاہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس وقت آیہ” قد افلح من زکّاھا“ کی تلاوت کی تو ”اللهم اٰت نفسی تقواها، انت ولیها و مولاها ، و زکهاانت خیر من زکا ها

” خدا وندا ! میرے نفس کو اس کاتقویٰ عطا فرما، تو اس کا ولی و مولا ہے ، اور اس کا تزکیہ فرما ، کیونکہ تو بہترین تزکیہ کرنے والا ہے “۔(۵)

یہ گفتگو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس پر پیچ و خم راہ کو عبور کرنا اور اس دشوار گزار گھاٹی سے گزرنا پیغمبر اکرام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک کے لئے بھی توفیق الہٰی کے بغیر ممکن نہیں ہے ، یعنی بندوں کی طرف سے قدم اٹھانے اور خدا کی طرف سے تائیدات کے ذریعے لہٰذا ایک اور حدیث میں آیاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دوآیات کی تفسیر میں فرمایا:

افلحت نفس زکاها الله ، و خابت نفس خیبها الله من کل خیر ! “:” جس نفس کا خدا نے تزکیہ کیا وہ نجات پاگیا ، اور جس نفس کو خدا نے خیر سے محروم کردیا وہ نامید و محروم ہو گیا “۔(۶)

____________________

۱۔ اس بارے میں کہ یغشاھا““ کی ضمیر کس چیز کی طرف لوٹتی ہے ؟ یہاں بھی دو نظر یے ہیں ، ایک تو یہ ہے کہ یہ ” زمین “ کی طرف لوٹتی ہے ، کیونکہ رات ایک پردہ کی مانند ہے جو صفحہ زمین پر گر تا ہے ، اور دوسرا یہ ہے کہ یہ ” سورج“ کی طرف لوٹتی ہے ، کیونکہ رات ایک پردہ کی مانند ہے جو سورج کے چہرے پر پڑتا ہے، البتہ اس صورت میں اس کا مفہوم مجازی ہوگا ، کیونکہ رات حقیقت میں سورج پر پردہ نہیں ڈالتی ۔ بلکہ سورج کے غروب ہونے کے بعد ظاہر ہوتی ہے ۔ حقیقت میں اگرگزشتہ آیت میں ضمیر ” ارض “ کی طرف لوٹے تو یہاں بھی ایسا ہی ہونا چاہئیے اور اگر ” شمس “ کی طرف لوٹے تو پھر یہاں بھی اسی طرح ہوگا ۔

۲۔۔نہج البلاغہ کلمات قصار کلمہ ۱۴۷۔

۳۔مفردات” راغب “و ” قاموس اللغہ“

۴ ۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۴۹۸۔

۵۔ ’ مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۴۹۸۔

۶۔ در المنثور جلد ۶ ص ۳۵۷۔


۱ ۔ قرآنی قسموں کا ان کے نتائج کے ساتھ ربط

ان گیارہ انتہائی قسموں کا ، اس حقیقت کے ساتھ جس کے لئے قسم کھائی ہے ، کیا رابطہ ہے ؟

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ خدا وند تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کو بیان کرنا مقصود ہے کہ میں نے تم انسانوں کی سعادت و خوش بختی کے لئے تمام مادی و معنوی و سائل فراہم کئے ہیں ۔

ایک طرف تو سورج اور چاند کے نور اور روشنی سے تمہاری زندگی کے میدان کو روشن کردیا ہے اور تمہاری رات دن کے حرکت و سکون کے نظام کو منظم کرکے زمین کو تمہاری زندگی کے لئے ہر جہت سے آمادہ کیا ہے ۔

دوسری طرف تمہاری روح کو تمام صلاحیتو ں کے ساتھ خلق کیا ہے ۔ بیدار و وجدان تمہیں عطا کیا ہے ، اور اشیاء کے حسن و قبح کا تمہیں الہام کیاہے ۔ اس بناء پر سعادت کی راہ کو طے کرنے کے لئے تمہارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔ اس حال میں تم اپنے نفس کا تزکیہ کیوں نہیں کرتے؟ اور شیطان کے بہکانے میں کیوں آتے ہو؟

۲ ۔ سورج کا عالم ِ حیات میں نقش و اثر

سورج کے بارے میں ، جو نظام شمسی کا مرکز ہے اور اس کے کواکب کا رہبر و سالار ہے، دو مباحث ہیں ، ایک تو اس کے عظیم ہونے کی بحث کے بارے میں ہم پہلے بحث کرچکے ہیں ، اور دوسری بحث اس کی بر کتوں اور آثار کے بارے میں ہے ، جس کے لئے خلاصہ کے طور پر اس طرح کہا جاسکتا ہے ۔

۱ ۔ انسان اور دوسرے موجودات کی زندگی کے لئے پہلے مرحلے میں حرارت اور روشنی کی ضرورت ہے ، زندگی کے یہ دونوں امر اس آتشیں کرہ کے ذریعے کامل طور پر اعتدال کے ساتھ مہیا ہوئے ہیں ۔

۲ ۔ تمام غذائی اشیاء سورج کی روشنی کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں ، یہاں تک کہ وہ موجودات جو سمندروں کی گہرائیوں میں زندگی بسر کرتے ہیں ایسی نباتات سے استفادہ کرتے ہیں ، جو سمندروں کی سطح پر نور ِ آفتاب کے سائے میں اور پانی کی موجوں کے درمیان پرورش پاتے ہیں نیچے بیٹھ جاتے ہیں ، یا اگرزندہ موجودات ایک دوسرے سے استفادہ کرتے ہیں تو پھر ان میں سے ایک گروہ کی غذا نباتات ہی ہے ، جو سورج کی روشنی کے بغیر پر ورش نہیں پاتی ۔

۳ ۔ وہ تمام رنگ ، زیبائیاں اور جلوے ، جنہیں ہم عالم ِ طبیعات میں دیکھتے ہیں ،ایک طرح سے سورج کی چمک کے ساتھ ارتباط رکھتے ہیں اور یہ معنی مختلف علوم کے ذریعے خصوصاً فزکس میں ثابت ہوچکے ہیں ۔

۴ ۔ حیات بخش بارشیں بادلوں سے برستی ہیں ، اور بادل وہی بخارات ہیں جو سمندروں کی سطح پر سورج کے چمکنے سے وجود میں آتے ہیں ، اس بناء پر پانی کے تمام منابع جو بارش سے غذا حاصل کرتے ہیں ، چاہے وہ دریا ہوں یا چشمے ، نہریں ہوں یا کھال ، یاگہرے کنویں ، سب سورج کی روشنی کی برکات سے ہیں ۔

۵ ۔ وہ ہوائیں جن کا کام فضا کو معتدل کرنا ، بادلوں کو مختلف جگہوں تک پہنچانا، نباتات کی تلقیح اور پیوند لگانا ، اور گرمی اور سردی کو گرم علاقوں سے سرد علاقوں کی طرف ، اور سرد علاقوں سے گرم علاقوں کی طرف منتقل کرنا ہے ۔ آفتاب کے نور اور روشنی کے زیر اثر روئے زمین کے مختلف منطقوں کے درجہ حرارت کے بدلنے سے وجود میں آتی ہیں ۔ اور اس طرح سے و ہ بھی سورج سے سرمایہ حاصل کرتی ہیں ۔

۶ ۔ انرجی پیدا کرنے والے مادے اور منابع ، چاہے وہ آبشار ہوں ، یا وہ بڑے بڑے بندہوں ، جنہیں کوہستانی علاقوں میں بنایا جاتا ہے ، پیٹرول اور تیل کے منابع ، اور پتھر کوئلے کی کانیں ، یہ سب کے سب ایک طرح سے سورج کے ساتھ پیوند رکھتے ہیں ، کہ اگر وہ نہ ہو تا تو ان منابع میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تا اور صفحہ زمین میں تمام حرکتیں سکوت میں بدل جاتیں ۔

۷ ۔ نظام شمسی کی بقاء جاذبہ و واقعہ کے اعتدال کی بناء پر ہے ، جو ایک طرف تو کرّہ آفتاب کے درمیان اور دوسرے ان سیاروں کے درمیان ، جو اس کے گردش کرتے ہیں ، وجود رکھتا ہے۔ اس طرح سے سورج ان سیروں کے اپنے مداروں میں محفوظ رہنے میں بہت مو ثر نقش و اثر رکھتا ہے ۔

اس ساری گفتگو سے معلوم ہوتا ہے ، کہ اگر خدا نے پہلی قسم کی ابتداء سورج سے کی ہے ، تو اس کی کیا وجہ تھی ؟

اسی طرح سے چاند اور دن کی روشنی ، اور رات کی تاریکی کرّہ زمین میں سے ہر ایک انسان اور غیر انسان کی زندگی میں ایک اہم نقش و اثر رکھتے ہیں ، اسی بناء پر ان کی قسم کھائی گئی ہے اور ان سب سے بڑھ انسان کی روح اور اس کا جسم ہے ، جو ان سب سے زیادہ اسرار آمیز اور حیرت انگیز ہے ۔

تہذیب نفس کے بارے میں ہم اس سورہ کے آخر میں ایک بحث کریں گے ۔


آیات ۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،

۱۱ ۔( کذ بت ثمود بطغوٰهآ ) ۱۲ ۔( اِذِ انْبَثَ اشقٰها ) ۔ ۱۳ ۔( فقال لهم رسول اللهِ ناقة اللهِ و سُقیٰهَا ) ۔

۱۴ ۔( فکذّ بوه فعقروها فدمدم علیهم ربهم بذنبهم فسَوٰها ) ۔ ۱۵ ۔( ولایخاف عقبٰهَا ) ۔

ترجمہ

۱۱ ۔ قوم ثمود نے سر کشی کی وجہ سے ( اپنے پیغمبر کی ) تکذیب کی ۔

۱۲ ۔ جب کہ ان کا ایک شقی ترین آدمی اٹھ کھڑا ہوا۔

۱۳ ۔ اور خدا کے بھیجے ہوئے رسول ( صالح) نے ان سے کہا: اللہ کے ناقے کو اس کے پانی پینے کے لئے چھوڑ دو ( اور اس کی مزاحمت نہ کرو)۔

۱۴ ۔ لیکن انہوں نے اس کی تکذیب کی ، اور ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں ، اور اسے ہلاک کردیا ، لہٰذا ان کے خدا نے انہیں اس گناہ کی بناء پر جسکے وہ مرتکب ہوئے تھے تباہ کردیا ، اور ان کی زمین کو ہموار کردیا۔

۱۵ ۔ اور وہ ہر گز اس کام کے انجام دینے سے نہیں ڈرتا۔

سر کشوں کا ہلاکت خیز انجام

اس تنبیہ کے بعد ، جو گزشتہ آیات میں ان لوگوں کے بارے میں آئی تھی ، جو اپنے نفس کو آلودہ کرتے ہیں ، ان آیات میں نمونہ کے طور پر اس مطلب کی ایک واضح تاریخی مثال کو پیش کیا ہے اور سرکش قوم (ثمود ) کی سر نوشت کوقاطع اور پر معنی عبارتوں کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :” قوم ثمود نے سرکشی کی وجہ سے ( اپنے پیغمبر کی ) تکذیب کی “۔ ( کذبت ثمود بطغواھا )۔

” طغوٰی“ اور طغیانی “ دونوں ایک ہی معنی میں ہیں ، اور وہ حد اور سر حد سے تجاوز کرنا ہے اور یہاں حدود الٰہی سے تجاوز کرنا اور ا سکے فرامین کے مقابلہ میں سر کشی مراد ہے۔(۱)

قوم ثمود، جن کے پیغمبر کانام ” صالح “ تھا قدیم ترین اقوام میں سے ہے ، جو ”حجاز “اور ”شام“ کے درمیان ایک کوہستانی علاقے میں رہتی تھی ۔ ان کی زندگی مرفہ الحال تھی ، زمینیں آباد ، ہموار میدان اور زراعت کے لئے عمدہ مٹی ، شان و شوکت والے محلات، اور مضبوط و مستحکم گھر رکھتے تھے ۔ لیکن نہ صرف یہ کہ ان سب نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے تھے ، بلکہ سر کشی کرتے ہوئے اپنے پیغمبر صالح علیہ السلام کی تکذیب کے لئے کھڑے ہوگئے ، آیاتِ الٰہی کا مذاق اڑایا اور آخر کار خدا نے انہیں ایک آسمانی بجلی کے ذریعے نابود کردیا ۔

اس کے بعد اس قوم کی ایک ظاہری سر کشی کو پیش کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے : جبکہ ان کا ایک شقی ترین آدمی اٹھ کھڑا ہوا “۔( اذا نبعث اشقاها ) ۔

” اشقیٰ“اس قوم کے شقی ترین اور سنگ دل ترین آدمی کے معنی میں ہے جو اس شخص کی طرف اشارہ ہے جس نے ناقہ صالح علیہ السلام کو ہلاک کیا تھا، وہی اونٹنی ( ناقہ ) جو ایک معجزہ کے طور پر اس قوم کے درمیان ظاہر ہوئی تھی اور اس کو ہلاک کرنا اس پیغمبر الٰہی کے ساتھ اعلان جنگ تھا ۔

مفسرین اور مورخین کے قول کے مطابق اس شخص کانام ” قدار بن سالف“ تھا۔

بعض روایات میں آیاہے کہ پیغمبر اکرم اور حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: ”من اشقی الاولین “؟

” پہلی قوموں میں سب سے زیادہ شقی اور سنگ دل کون تھا“ علی علیہ السلام نے جواب میں عرض کیا : ”عاقر الناقة “ ” وہ جس نے ناقہ ثمود کی کونچیں کاٹ کر ہلاک کردیا تھا“

پیغمبر نے فرمایا: ”صدقت ، فمن اشقی الاٰخرین ؟:

”تم نے سچ کہا ۔ آخری اقوام میں شقی ترین آدمی کون ہے ؟

علی علیہ السلام کہتے ہیں : میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے معلوم نہیں ہے ، توپیغمبر نے فرمایا: ” الذی یضرب علی ھٰذہ و اشارہ الیٰ یافوخہ“جو شخص سر کے اس مقام پر ضرب لگائے گا “ اور پیغمبر نے آپ کی پیشانی کے اوپر والے حصہ کی طرف اشارہ کیا “۲/۳

بعد والی آیت میں قوم ثمود کی سر کشی کے بارے میں مزید تشریح پیش کرتے ہوئے فرماتاہے : ” اللہ کے رسول ( حضرت صالح ) نے ان سے کہا : خد ا کے ناقہ کو اس کا پانی پینے کے لئے آزاد چھوڑ دو اور اس کی مزاحمت نہ کرو“۔( فقال رسول الله ناقة و سقیاها ) ۔(۴)

یہاں ” رسول اللہ“ سے مراد قوم ثمود کے پیغمبر ،حضرت صالح علیہ السلام ہیں ، اور ناقة اللہ ( وہ اونٹنی جو خدا کی طرف منسوب ہے )۔ کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اونٹنی کوئی معمولی اونٹنی نہیں تھی بلکہ صالح علیہ السلام کی صداقت کی ایک گویا اور ناطق سند اور معجزہ کے عنوان سے بھیجی گئی تھی۔ مشہور روایت کے مطابق اس کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ مذکورہ اونٹنی پہاڑ کے ایک پتھر کے اندر سے نکلی تھی تاکہ وہ ہٹ دھرم منکرین کے لئے ایک گویا و ناطق معجزہ ہو۔

قرآن مجید کی دوسری آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں یہ خبر دی تھی کہ بستی کے پینے کا پانی ان کے اور ناقہ کے درمیان تقسیم ہو۔ ایک دن ناقہ کے لئے ہوگا اور ایک بستی والوں کے لئے ہوگا ، اور ان میں سے ہر ایک اپنی باری پر پانی سے فائدہ اٹھا ئے گا ۔ اور ایک دوسرے کے لئے مزاحم نہیں ہوگا :

( و نبئهم ان الماء قسمة بینهم کل شرب مختضر ) “ ( قمر۔ ۲۸)

اور انہیں خصوصیت کے ساتھ بتلادیا گیا: اگر تم نے اس ناقہ کو ہاتھ لگایا تو عذاب الٰہی تمہارے دامن گیر ہو جائے گا“: ”( ولا تمسوها بسوء فیأخذ کم عذاب یوم عظیم ) ‘ ‘ ( شعراء۔ ۱۵۶)

اور بعد والی آیت میں فرماتا ہے :اس سر کش قوم نے اس عظیم پیغمبر کے کلمات اور اس کی تنبیہات کی کوئی پرواہ نہ کی ،اس کی تکذیب کی اور ناقہ کو ہلاک کردیا “( فکذبوه فعقروها ) ۔

( عقروها“ )عقر “کے مادہ سے ( جو ظلم کے وزن پر ہے ) کسی چیز کی اصل اور جڑ بنیاد کے معنی میں ، اور عقر ناقہ کا معنی اس کی جر کاٹنے اور ہلاک کرنے کے معنی میں ہے ۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد اس کی کونچیں یعنی اس جانور کے پاو ں کے نچلے حصہ کو کاٹنا او راسے زمین پرپھینکنا ہے کہ اس کا نتیجہ بھی اس حیوان کی موت ہی ہے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ جس شخص نے ناقہ کو ہلاک کیا تھا وہ ایک ہی تھا جسے قرآن نے ” اشقی“ سے تعبیر کیاہے۔ لیکن اوپر والی آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس عمل کی قوم ثمود کے تمام سر کشوں اور طغیان گروں کی طرف نسبت دی گئی ہے ، اور ” عقروھا“ جمع کے صیغہ کی صورت میں آیا ہے : اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرعے لوگ بھی اس طرح سے اس کام میں حصہ دار تھے ، کیونکہ اولا اس قسم کی سازشیں عموماً گروہ او رجمیعت کے توسط سے پیش ہوتی ہیں اس کے بعد معین آدمی یا چند افراد کے ہاتھوں پایہ تکمیل کو پہنچتی ہیں ۔ ثانیاً چونکہ دوسروں کی رضا اور خشنودی سے انجام پاتی ہیں تو وہ ان کی اس کام میں شر کت کاسبب بن جاتا ہے ، یعنی رضامندی نتیجہ میں شرکت کا سبب بنتی ہے۔

اسی لئے امیر المومنین علی علیہ السلام کے فصیح و بلیغ کلام میں آیا ہے :

” ناقہ ثمود کو صرف ایک ہی شخص نے ہلاک کیا تھا ، لیکن خد انے عذاب میں سب کو شامل کیاہے کیونکہ وہ سب اس امر پر راضی تھے ، اسی لئے فرماتا ہے :

” ان ( سب نے ) ناقہ کو ہلاک کیا ، اور اس کے بعد وہ سب اپنے کئے پر نادم ہوئے “۔ ( لیکن اس وقت جب پشیمانی کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔(۵)

اس تکذیب اور شدید مخالفت کے بعد خدا نے انہیں ایسی سزادی کہ ان کانام و نشان تک باقی نہ رہا ، جیسا کہ اسی آیت کو جاری رکھتے ہوئے فرماتا ہے : ” ان کے پر ور دگار نے ان کے اس گناہ کی بنا ء پر جس کے وہ مرتکب ہوئے تھے سب کو نابود کردیا ، اور ان کی سر زمین کو صاف اور ہموار بنا دیا “( فدمدم علیهم ربهم بذنبهم فسواها ) ۔

صاعقہ یعنی اس عظیم آسمانی چیخ نے چند ہی لمحوں کے اندر اندر ان کی سر زمین کو ہلاک کر دیا اور ایسا زلزلہ پید اکیا کہ ان کے سارے کے سارے مکانات زمین بوس ہو گئے ، اور ان کے گھروں کو ان کی قبروں میں بدل کر رکھ دیا ۔

”دمدم“ ” دمدمة“ کے مادہ سے ، کبھی ہلاک کرنے کے معنی میں آیا ہے ، اور کبھی عذاب اور نامکمل سزا کے معنی میں ، بعض اوقات کوٹنے اور نرم کرنے کے معنی میں آیا ہے ، اور کبھی جڑ سے اکھاڑ نے کے معنی میں اور کبھی غضب ناک ہونے کے معنی میں یا احاطہ کرنے اور گھیر لینے کے معنی میں ،(۶)

اور زیربحث میں یہ سب معانی صادق آتے ہیں کیونکہ اس وسیع عذاب کا سر چشمہ غضب الٰہی ہے ، اور ان سب کی اس نے سر کوبی کی، انہیں کمزور کیا اور انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا ۔

” سوّاھا“ ” تسویہ“ کے مادہ سے ، ممکن ہے کہ صیحہ عظیم اور صاعقہ و زلزلہ کی وجہ سے ان کے گھروں کا صفایا کرنے اور ان کی زمینوں کو صاف کرنے کے معنی میں ہو، یا اس گروہ کو ایک طرف ٹھکانے لگانے کے معنی میں ہو ، یا ان سب کی سزا و عذاب میں مساوات کے لئے ہو اس طرح کہ ا ن میں سے کوئی بھی اس ماجرے سے صحیح و سالم نہ بچا ۔

ان معانی کے درمیا ن بھی جمع ممکن ہے ۔

”سوّاھا“ میں ضمیر “ قبیلہ “ ثمود کی طرف لوٹی ہے ، یاان کے شہروں اور آبادیوں کی طرف ، جنہیں خدا نے مٹی میں ملا کر یکساں کردیا ۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ” دمدم“ کی طرف لوٹتی ہے جو بعد والے جملہ سے معلوم ہوتی ہے ، یعنی خدا نے اس خشم و غضب و ہلاکت کو ان کے درمیان یکساں قرارد یا۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے یہ ” دمدم “ کی طرف لوٹتی ہے جو بعد والے جملہ سے معلوم ہوتی ہے ، یعنی خدا نے اس خشم و غضب و ہلاکت کو ان کے درمیان یکسان قرار دیا ، اور اس طرح سے کے تمام کو اس نے گھیر لیا ۔

لیکن پہلی تفسیرزیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔

ضمنی طور پر اس آیت سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سزا او ر عذاب ان کے گناہ کا نتیجہ ، اور اس کے ساتھ مناسبت رکھتا تھا اور یہ عین عدالت و حکمت ہے ۔

بہت سی اقوام کے بار ے میں ہم پڑھتے ہیں کہ وہ آثار عذاب کے ظہور کے وقت پشیمان ہو گئیں ، اور توبہ کی راہ اختیار کرلی، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض روایات میں آیاہے کہ جس وقت صالح علیہ السلام کی قوم نے عذا ب کی نشانیاں دیکھیں تو وہ صالح علیہ السلام کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے کہ جہاں کہیں بھی وہ مل جائیں انہیں ہلاک کر دیں ۔(۷)

اور یہ خدا اور پیغمبر کے مقابلہ میں ان کے عصیان و سر کشی کے شدید ہونے کی دلیل ہے ۔ لیکن خدا نے صالح علیہ السلام کو نجات دی اور اس قوم کو ہلاک کردیا، اور ان کی زندگی کے دفتر کو کلی طور پر لپیٹ دیا۔

انجام کار آخری آیت میں ان تمام لوگوں کو جو اسی راستہ پر چلتے ہیں ،سخت تنبیہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” اور خدا کو اس کام کے انجام کا کوئی خوف نہیں ہے “۔( ولا یخاف عقباها ) ۔

بہت سے حاکم ہیں جو سزا دینے پر قدرت رکھتے ہیں ، لیکن وہ ہمیشہ اس کے نتیجہ اور انجام سے ڈرتے رہتے ہیں ، اس کے رد عمل اور عکس العمل سے خوف زدہ رہتے ہیں اور اسی بناء ر اپنی قدرت سے فائدہ اٹھاتے ، اور زیادہ صحیح تعبیر میں ان کی قدرت ضعف و ناتوانائی کے ساتھ اور ان کے علم و جہالت کےساتھ ملا ہواہوتا ہے وہ اس بات سے ڈر تے ہیں کہ کہیں ان میں اس کے برے نتائج کے مقابلہ کی طاقت نہ ہو۔

لیکن خدا وند قادر متعال جس کا علم ان تمام امور اور ان کے عواقب و آثار پر احاط رکھتا ہے ، اور اس کی قدرت میں حوادث کے برے نتائج کے مقابلہ میں کسی قسم کے ضعف و ناتوانی کی آمیزش نہیں ہوتی ۔ اور اسی بناء پر انتہائی قدرت اور قاطعیت کے ساتھ جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اسے انجام دےتا ہے ۔

سر کشوں کو بھی اپنے کئے کی سز بھگتنی پڑے گی ، لہٰذا انہیں اپنے اعمال کی وجہ سے خدا کے خشم و غضب کا مشمول ہونے سے خود کو بچا ناچاہیئے ۔

” عقبیٰ“ اختتام ، انتہا اور انجام کار کے معنی میں ہے اور ” عقباھا“ کی ضمیر ” دمدمہ “ اور ہلاکت کی طرف لوٹتی ہے ۔

____________________

۱۔بعض علماء لغت کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ ” طغیان“ ناقص وادی کی صورت میں بھی آیاہے اور ناقص پانی کی صورت میں بھی ۔ ” طغوی“ ناقص واوی کے مادہ سے لیا گیا ہے ، اور ” طغیان “ ناقص پانی سے ( غور کیجئے )

۲۔ مجمع البیان جلد ۱۰ ص ۴۹۹، یہی معنی کچھ مختصر صورت میں تفسیر قرطبی میں بھی آیاہے ، جلد ۶ ص۷۱۶۸۔

۳۔ ” یافوخ “ سر کے اس اگلے حصہ کو کہا جاتا ہے ، جو بچّوں میں بالکل نرم ہوتا ہے ، اور آہستہ آہستہ ہڈی کی صورت اختیار کرتا ہے ، اور مضبوط، اور وہ سر کا حساس ترین مقام ہے ۔

۴۔” ناقة اللہ “ منصوب ہے ، ایک فعل محذوف سے اور تقدیر میں اس طرح ہے ، ذروا ناقة اللہ و سقیاھا ، اس کے مشابہ کو جو سورہ اعراف کی آیہ ۷۳ اور سورہ ہود کی آیہ۶۴ میں آیاہے ۔

۵۔ نہج البلاغہ خطبہ ۲۰۱۔

۶۔ مفرداتِ راغب، لسان العرب، مجمع البیان اور تفسیر کی دوسری کتابیں ۔

۷۔ روح البیان ، جلد ۱۰ ، ص ۴۴۶۔


۱ ۔ قوم ثمود کی سر گزشت کا خلاصہ

قوم ” ثمود“ جیساکہ ہم نے بیان کیا ہے ، مدینہ اور شام کی درمیانی سر زمین میں ( جس کانا م وادی القریٰ ہے ) زندگی بسر کرتی تھی ۔ ان کا دین و مذہب بت پرستی تھا او روہ انواع و اقسا م کے گناہوں میں ملوث تھے خد اکے عظیم پیغمبر صالح علیہ السلام ان میں مبعوث ہوئے اور ان کی ہدایت اور نجات کے لئے کمر ہمت باندھی ، لیکن ناتو یہ لوگ بت پرستی سے دست بر دار ہوئے اور نہ ہی انہوں نے سر کشی اور گناہ کے بارے میں اپنا نظر یہ بدلا ۔

جب انہوں نے معجزہ کا تقاضا کیاتو خدا نے ایک ناقہ ( اونٹنی ) اعجاز آمیز اور خارق العادہ طریقے سے پہاڑ کے اندر سے نکالی ، لیکن اس بناء پر کہ اس بارے میں ان کی آز مائش کرے یہ حکم دیاکہ اس بستی کا ایک دن کا سارا پانی اس اونٹنی کے لئے رہے گا اور دوسرے دن کا پانی خود استعمال کریں گے یہاں تک کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ جب وہ پانی سے محروم رہتے تھے تو اونٹنی کے دودھ سے فائدہ اٹھاتے تھے ،لیکن عظیم معجزہ بھی ان کی ہٹ دھرمی اور فسق و فجور میں کمی نہ کرسکا ۔

لہٰذا انہوں نے ناقہ کو نابود کرنے کامنصوبہ بنایا اور حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کابھی ، کیونکہ وہ انہیں اپنی خواہشات اور ہواوہوس میں مزاحم سمجھتے تھے ۔

ناقہ کی نابودی کا منصوبہ ایک بہت ہی بے رحمی اور شقی آدمی ” قدار بن سالف“ کے ذریعے عمل میں آیاہے اور اس نے کئی ضربوں کے ساتھ ناقہ کو زمین پر ڈھیر کردیا ۔

یہ بات حقیقت میں خدا کے ساتھ اعلان جنگ تھی ، کیونکہ وہ یہ چاہتے تھے کہ ناقہ کو ختم کردینے سے ، جو صالح علیہ السلام کا معجزہ تھی ، نورِ ہدایت کو خاموش کردیں گے ۔ اس موقع پر حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں آگاہ کیا کہ وہ تین دن تک اپنے گھروں میں جس نعمت سے لذت حاصل کرنا چاہیں کرلیں ، لیکن وہ اچھی طرح جان لیں کہ تین دن کے بعد عذاب الٰہی سب کو گھیر لے گا۔ ( سورہ ہود ۔ ۶۵)

یہ تین دن آخری غور و فکر کے لئے مہلت تھی ، اور توبہ و باز گشت کے لئے ایک آخری فرصت۔ لیکن انہوں نے نہ صرف یہ کہ تجدید نظر نہیں کی ،بلکہ ان کے طغیان و سر کشی میں اضافہ ہو گیا ۔ اس موقع پر عذاب الٰہی ان پر نازل ہوا اور ” صیحہ آسمانی “ ”( واخذ الذین ظلمواالصیحة فاصبحوا فی دیار هم جاثمین ) “( ہود ۔ ۶۷) ۔

وہ ایسے نابود ہوئے ، اور ان کی سر زمین اس طرح خاموش ہوئی کہ گویا ہر گز ہرگز ان گھروں میں کوئی رہتا ہی نہیں تھا ۔ لیکن خدا نے صالح اور ان کے مومن اصحاب کے اس مہلکہ سے نجات بخشی(ہود۔ ۶۶)

قوم ثمود کی سر گزشت کی مزید تفصیل کے بارے مین تفسیر نمونہ جلد ۵ ص ۳۱۲ سے آگے مطالعہ کریں

۲ ۔ اشقی الاولین“ و اشقی الاٰخرین“

شیعہ و سنی بزرگ علماء کی ایک جماعت منجملہ ثعلبی، واحدی ، ابن مردویہ، خطیب بغدادی ، طبری موصلی اور احمد حنبل وغیرہ نے اپنی اپنی اسناد کے ساتھ عمار یاسر (رض) جابر بن سمرہ (رض) اور عثمان (رض) بن صہیب کی وساطت سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس طرح نقل کیا ہے کہ آپ نے علی علیہ السلام سے فرمایا:

یا علی ! اشقی الاولین عاقر الناقة، اشقی الاٰخرین قاتلک، و فی روایة من یخضب هٰذه من هٰذا :

” اے علی ! پہلے لوگوں میں سے بد بخت ترین شخص وہ تھا جس نے ناقہ صالح کو قتل کیا ، اور پچھلے لوگوں میں سے بد بخت ترین آدمی تیرا قاتل ہے اور ایک روایت میں آیا ہے کہ جو اس سے رنگین کرے گا، ( جو اس طرف اشارہ ہے کہ تیری داڑھی کو تیرے سر کے خون سے خضاب کرے گا)۔(۱)

حقیقت میں ناقہ صالح کی کونچیں کاٹنے والے ” قدابن یوسف“ اور امیر المومنین کے قاتل” عبد الرحمن بن ملجم مرادی“ کے درمیان ایک شباہت موجود تھی ، ان دونوں میں سے کسی کو بھی ذاتی رنجش نہیں تھی ، مسلمان بھی امیر المومنین علی کی شہادت کے بعد جابرادر بیداد گر بنی امیہ کی حکومت کے زیر تسلط دردناک ترین عذابوں کے شاہد ہوئے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ” حاکم جسکانی“ نے شواہد التنزیل“ میں اس سلسلہ میں بہت زیادہ روایت نقل کی ہیں ، جو مضمون و مطالب کے لحاظ سے اوپر والی روایت کے مشابہ ہیں(۲)

____________________

۱۔ ” تفسیر نو ر الثقلین“ جلد ۵ ص ۵۸۷۔

۲۔ شواہد التنزیل “ جلد ۲ ص ۳۵ تا ۳۴۳۔


۳ ۔ تہذیب نفس ایک عظیم خدائی وظیفہ ہے

جس قدر قرآنی قسمیں کسی چیز کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ محکم ہوں وہ اس موضوع کی اہمیت کی دلیل ہیں ، اور ہم جانتے ہیں کہ زیادہ طولانی اور زیادہ تاکیدی قسمیں اسی سورہ میں ہیں ، خصوصاً خدا کی ذات پاک کی قسم کا اس میں تین مرتبہ تکرار ہواہے ۔ اور انجام کار اس مسئلہ پر تکیہ ہو اہے کہ فلاح و رست گاری تزکیہ نفس میں ہے ۔ اور محرومیت اور شکست و بد بختی تزکیہ کے ترک کردینے میں ہے ۔

حقیقت میں انسانی زندگی کا اہم ترین مسئلہ بھی یہی مسئلہ ہے ۔ اور حقیقتاً قرآن نے اوپر والے معنی کے ساتھ مفہوم کو واضح کردیا ہے کہ انسان کی نجات ورست گاری تصورات اور خیالوں کی مرہون منت نہیں ہے ، نہ ہی مال و ثروت اور مقام و منصب کے سایہ میں اور نہ ہی دوسرے اشخاص کے اعمال کے ساتھ وابستہ ہے ۔ ( جیساکہ عیسائی خیال کرتے ہیں کہ ہر شخص کی نجات عیسیٰ مسیح کی فداکاری کی مرہون منت ہے ) اور نہ ہی اس قسم کی دوسری باتوں میں ۔ بلکہ نجات انسانی ایمان و عمل صالح کے سایہ میں روح و جان کی پاکیزگی اور بلندی کی مرہون منت ہے ۔

انسان کی بد بختی اورشکست بھی نہ ہو تو اجباری قضاو قدر میں ہے ، اور نہ ہی الزامی سر نوشتوں میں ، او رنہ ہی دوسروں کے لئے ہوئے کاموں میں ، بلکہ وہ صرف اور صرف گناہ کی آلودگی سے بچے رہنے میں ہے اور تقویٰ کی راہ اختیار کرنے میں ہے ۔

تاریخوں میں آیا ہے کہ عزیز ِ مصر کی بیوی ( زلیخا) نے ، جب یوسف خزانوں کے مالک اور سرزمین ِ مصر کے حاکم بن گئے ، ان سے ملاقات کی او رکہا:

ان الحرص و الشهوة تصیر الملوک عبیداً ، وان الصبر و التقوی یصیر العبد ملوکاً، فقال یوسف قال الله تعالیٰ انه من یتق و یصبر فان الله لایضیع اجر المحسنین “۔

” حرص و شہوت بادشاہوں کو غلام بنادیتے ہیں اور صبر و تقویٰ غلاموں کو بادشاہ بنادیتے ہیں ۔ یوسف علیہ السلام نے اس کی بات کی تصدیق کی ، اور یہ کلام اسے یاد دلایا: ” جو شخص تقویٰ او ر صبر و شکیبائی اختیار کرے گا تو خدا نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ۔(۱)

یہی مطلب ایک دوسری عبارت میں نقل ہواہے کہ عزیز مصر کی بیوی ایک راہ گزر میں بیٹھی ہوئی تھی کہ یوسف کی سواری وہاں سے گزری ، تو زلیخا نے کہا؛الحمد لله الذی جعل الملوک بمعصیتهم عبیداً، و جعل العبید بطاعتهم ملوکاً :

” سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں کہ جس نے بادشاہوں کو معصیت اور نافرمانی کی بناء پر غلام بنا دیا ، اور غلاموں کو اطا عت و فرماں برداری کی وجہ سے باد شاہ “۔(۲)

ہاں نفس کی بندگی انسان کی غلامی کا سبب ہے ، اور تقویٰ و تہذیبِ نفس عالم ہستی پر حکومت کرنے کا سبب ہے ۔

ایسے افراد کتنے زیادہ ہیں جو خدا کی بندگی اور طاعت کی وجہ سے ایسے بلند مقام تک پہنچے ہیں کہ ولایتِ تکوینی کے مالک بن گئے ، خدا کے اذن سے اس عالم کے حوادث میں اثر انداز ہوسکتے ہیں اور کرامات و خوارق عادات پر دسترس رکھ سکتے ہیں ۔

خداوندا !ہوائے نفس کے ساتھ مبارزہ کرنے میں تو ہامری مد داور نصرت فرما۔

پروردگارا! تونے ہمیں ” فجور“ و ” تقویٰ“ کا الہا م کیا ہے ۔ ہمیں اس الہام سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عنایت فرما۔

بارِ الٰہا! شیطان کے مکرو فریب انسان کے نفس میں مخفی و پوشیدہ ہیں ، ہمیں ان مکروں کی شناخت سے آشنا کردے!

آمین یا رب العالمین

____________________

۱۔ ” محجة البیضاء “ جلد۵ ص ۱۱۶۔

۲۔ ” محجة البیضاء “ جلد۵ ص۱۱۷۔


سورہ اللیل

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا اس کی ۲۱ آیا ت ہیں

سورہ ” اللیل “ کے مضامین

یہ سورہ جو مکی سورتوں میں سے ہے اور مکی سورتوں کی خصوصیات کاحامل ہے ، مختصر آیات کے ٹکڑوں میں ہے ، لیکن ان کے مضامین گرما گرم اور تیز ہیں ، اور زیادہ تر قیامت ، خد ائی جزا و سزا اور اس کے عوامل و اسباب کے بارے میں ہیں ۔ ابتداء میں تین قسموں کو ذکر کے نے کے بعد لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا ہے :

۱ ۔ تقویٰ کے ساتھ انفاق کرنے والے ۔

۲ ۔ وہ بخیل جو قیامت کے اجر و پاداش کے منکر ہیں ، پہلے گروہ کا انجام کار خوش بختی اور راحت و آرام ہے جب کہ دوسرے گروہ کا انجام سختی ، تنگی اور بد بختی ہے ۔

اس سورہ کے دوسرے حصہ میں اس معنی کی طرف اشارہ کرنے کے بعد کہ بندوں کو ہدایت کرنا خدا کا کام ہے ،سب لوگوں کو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرایا ہے ۔

اور آخری حصہ میں ، ان لوگوں کے ، جو اس آگ میں جلیں گے، اور اس گروہ کے جو اس سے نجات پائیں گے ، اوصاف بیان کر تے ہوئے تعارف کرایا ہے ۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت میں پیغمبر اکرام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

من قرائها اعطاه الله حتی یرضی، و عافاه من العسر و یسر له الیسر(۱)

”جو شخص اس سورہ کی تلاوت کرے گا خدا اسے اس قدر عطا کرے گا کہ وہ راضی او رخوش ہوجائے گا، اور اسے سختیوں سے نجات دے گا اور زندگی کی راہوں کو اس کے لئے آسان کردے گا“۔

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( و اللیل اذا یغشیٰ ) ۔ ۲ ۔( و النهار اذا تجلیٰ ) ۔ ۳ ۔( وما خلق الذکر و الانثیٰٓ ) ۔ ۴ ۔( انّ سعیکم لشتیّٰ ) ۔

۵ ۔( فامامن اعطیٰ و اتّقیٰ ) ۔ ۶ ۔( و صدق بالحسنی ) ٰ ۔ ۷ ۔( فسنیسره للیسریٰ ) ۔ ۸ ۔( و اما من بخل و استغنیٰ ) ۔

۹ ۔( کذب بالحسنیٰ ) ۱۰( فسنیسره للیسریٰ ) ۱۱ ۔( وما یغنی عنه ما اذا تردّی )

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ قسم ہے رات کی جبکہ وہ عالم کو ڈھاپ لے ۔ ۲ ۔ اور قسم ہے دن کی جب کہ وہ تجلی کرے ۔ ۳ ۔ اور قسم اس کی جس نے مذکر مو نث پید اکئے ۔

۴ ۔ کہ تمہاری سعی و کو شش مختلف ہے ۔ ۵ ۔پس وہ خدا کہ جو ( راہ خدا میں انفاق کرے اور پر ہیز گاری ) اختیار کرے ۔

۶ ۔ اور ( خدا کی ) نیک جزاکی تصدیق کرے ۔ ۷ ۔ ہم اس کی راہوں کو آسان بنادیں گے ۔

۸ ۔ لیکن جو شخص بخل کرے ، اور اس طریقہ سے بے نیاز ہونا چاہے۔ ۹ ۔ اور ( خدا کی ) اچھی جزاو ں کی تکذیب کرے ۔

۱۰ ۔ ہم عنقریب اس کی راہوں کو دشوار بنادیں گے ۔

۱۱ ۔ اور جس وقت وہ( جہنم یا قبر میں )گرے گا تو اس کے اموال اس کی حالت کے لئے مفید ہوں گے ۔

سورہ ”و اللیل کا شان نزول

مفسرین نے اس سالم سورہ کے لئے ابنِ عباس (رض) سے ایک شانِ نزول نقل کی ہے ۔ ہم اس شانِ نزول کو مرحوم طبرسی کی ” مجمع البیان “ سے نقل کرتے ہیں :

مسلمانوں میں سے ایک شخص کے کھجور کے درخت کی ایک شاخ ایک فقیر عیال دار کے گھر کے اوپر پہنچی ہوئی تھی ۔ کھجور والا جب خرمے اتارنے کے لئے کھجور پر چڑھتا تو بعض اوقات خرمے کے کچھ دانے اس فقیر آدمی کے گھر میں جاگر تے اور اس کے بچے انہیں اٹھا لیتے وہ شخص کھجور کے درخت سے اتر کر خرمے چھین لیتا ، ( اور وہ اتنا بخیل اورسنگ دل تھا کہ )اگر ان میں سے کسی کے منھ میں بھی خرمے کا دانہ دیکھتا تو اس کے منھ میں انگلی ڈال کر نکال لیتا ۔ اس مرد فقیر نے پیغمبر کی خد مت میں شکایت کی : حضور نے فرمایا : تم جاو میں تمہارا یہ کام کرتا ہوں : اس کے بعد آپ نے کھجور والے سے ملاقات کی یہ درخت جس کی شاخیں فلاں شخص کے گھر کے اوپر پہنچی ہوئی ہیں ، مجھے دے دے تاکہ اس کے مقابلہ میں جنت میں ایک درخت دوں ۔ اس نے کہا میرے پاس کھجور کے بہت سے درخت ہیں لیکن کسی کے خرمے اس درخت کے جیسے اچھے نہیں ہیں ۔( لہٰذا میں یہ سو داکرنے کے لئے تیار نہیں ہوں )۔ اصحاب پیغمبر میں سے کسی نے یہ گفتگو سن لی ۔ اس نے عرض کیا: اے رسول اللہ اگر میں جاکر یہ درخت اس شخص سے خرید لوں ، اور آپ کو دیدوں تو آپ وہی چیز جو اس کو دے رہے تھے مجھے عطا فرمائیں گے ؟آپ نے فرمایا:ہاں ! اس شخص نے جاکر درخت والے سے ملاقات کی اور اس سے اس سلسلہ میں بات کی ، کھجور کے مالک نے کہا : کیا تجھے معلوم ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ آلہ وسلم ) اس کے بدلے میں جنت میں کھجور کا ایک درخت مجھے دینے کے لئے تیار تھے ۔ ( لیکن میں نے قبول نہیں کیا )۔ اور میں نے انہیں یہ کہ د یا کہ میں اس کے خرموں سے بہت لذت اندوز ہوتا ہوں ، میرے پاس بہت سے کھجور کے درخت ہیں لیکن کسی کے خرمے اتنے اچھے نہیں ہیں ۔

خریدار نے کہا کیا تو بیچنا چاہتا ہے یانہیں ؟ اس نے کہا : میں اسے نہیں بیچوں گا ، مگر صرف اس صورت میں کہ تو اتنی رقم مجھے دے دے کہ کوئی نہیں دے گا ۔ اس نے کہا: تو کتنی رقم لینا چاہتا ہے ؟ اس نے کہا چالیس درخت ۔

خریدار نے تعجب کرتے ہوئے کہا : تو ایسے کھجور کے درخت کی جو ٹیڑھا ہوچکا ہے بہت ہی بھاری قیمت مانگتا ہے ۔ چالیس کھجور کے درخت !

پھر تھوڑے سے سکوت کے بعد اس نے کہا : بہت اچھا ، میں خرمے کے چالیس درخت تجھے دیتا ہوں ۔

بیچنے والے( لالچی )نے کہا اگر تو سچ کہتا ہے تو کچھ آدمیوں کو گواہی کے لئے بلا لے! اتفاقاً کچھ لوگ وہاں سے گزررہے تھے اس نے انہیں آوازدی اور انہیں اس معاملہ پر گواہ بنایا۔

اس کے بعد وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا: اے رسول ِ خدا ! وہ کھجور کا درخت میری ملکیت میں آگیا ہے ، اور میں اسے آپ کی با رگاہ میں پیش کرتا ہوں ۔

پیغمبر اکرام صلی اللہ علیہ آلہ وسلم فقیر کے گھر والوں کے پاس گئے اور صاحب خانہ سے کہا : ” یہ کھجور کا درخت تیرا اور تیرے بچوں کا ہے ۔اس موقع پر سورہ ” و اللیل “ نازل ہوئی ( اور بخیلوں اور سخیوں کے بارے میں ان کے لائق باتیں کہیں )۔ بعض روایات میں آیاہے کہ اس خریدار کا نام ” ابوالاحداح“ تھا۔(۲)

____________________

۱۔” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۴۹۹۔۲۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۵۰۱۔


تقویٰ اور خدائی امدادیں

اس سورہ کے آغاز میں ہم پھر تین فکر انگیز ( مخلوقات اور خالقِ عالم کی ) قسموں کاسامنا کررہے ہیں ، فرماتا ہے : ” قسم ہے رات کی جبکہ وہ سارے جہاں کو ڈھانپ لے “۔( و اللیل اذا یغشیٰ ) ۔

” یغشیٰ “ کی تعبیر ممکن ہے اس بناء پرہوکہ رات کی تاریکی پردہ کی طرح آدھے کرہ زمین پر پڑتی ہے ، اور اسے اپنے نیچے ڈھانپ لیتی ہے ۔

یا اس بناپر کی دن کا چہرہ یا آفتاب ِ عالمتاب کا چہرہ اس کے پہنچ جانے سے ڈھک جاتا ہے ۔ بہرحال یہ رات کی اہمیت اور انسانوں کی زندگی میں اس کے اثرات کی طرف سورج کے اعتدال سے لے کر ، اس کے سائے میں تمام زندہ موجودات کے آرام و سکون اور شب زندہ دار، بیداردل اور آگاہ افراد کے مسئلہ تک ایک اشارہ ہے ۔

اس کے بعد دوسری قسم کو بیان کرتاہے اور مزید کہتا ہے :” اور قسم ہے دن کی جب کہ وہ آشکار و ظاہر ہو “۔( النهار اذا تجلیٰ ) (۱)

اور یہ اس لمحہ کی بات ہے جب سپیدہ صبح رات کے ظلماتی پردہ کو چیر دیتا ہے اور تاریکیوں کو پیچھے دھکیل کر سارے صفحہ آسامانی پر حاکم بن جاتا ہے ۔ اور ہر چیز کو نور اور روشنی میں نہلادیتا ہے۔ وہی نور و روشنی جو حرکت وحیات کی رمز اور تمام زندہ موجودات کی پرورش کا سبب ہے ۔

قرآن مجید میں ” نور“ و ” ظلمت“ کے نظام کے مسئلہ اور ان کی انسانی زندگی پر تاثیر کی طرف بہت زیادہ توجہ دی گئی، کیونکہ یہ عظیم دائمی نعمتیں پروردگار کی اہم آیات میں سے دوآیتیں ہیں ۔

اس کے بعد آخری قسم کو بیان کرتے ہوئے فرماتاہے : ” اور قسم ہے اس ذات کی جس نے مذکر و مو نث کی جنس کو پیدا کیا “۔( وماخلق الذکر و الانثیٰ ) ۔

کیونکہ عالم ” انسان “ و حیوان“ اور ” نبات“ میں ان دونوں جنسوں کا وجود ، اور وہ تغیرات جو انعقاد نطفہ سے لے کر تولد تک راہ نما ہوئی ہیں ، اور وہ خصوصیات و صفات جو دونوں جنسوں میں ان کی فعالیتوں اور پروگراموں کی نسبت سے پائی جاتی ہیں اور وہ بہت سے اسرار جو جنسیت کے مفہوم میں چھپے ہوئے ہیں ، یہ سب عظیم عالم ِ آفرینش کی نشانیاں اور آیات ہیں جن کے ذریعے ان کے پیدا کرنے والے سے واقفیت حاصل کی جاسکتی ہے ۔

” ما“ ( وہ چیز)کی تعبیر یہاں خدا کے بارے میں اس کی ذات پاک کی حد سے زیادہ عظمت سے کنایہ ہے ، اور یہ وہ ابہام ہے جو اس لحاظ سے یہاں اس طرح حکم فرماہے کہ وہ اسے خیال قیاس و گمان و وہم سے بر تر کردیتا ہے ۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ” ما“ یہاں مصدر یہ ہے ، تو اس بناء پر اس جملہ کا معنی یہ ہوگا : قسم ہے مذکر ومو نث کی خلقت کی لیکن یہ احتمال بھی ضعیف نظر آتا ہے ۔

حقیقت میں پہلی اور دوسری دو قسمیں آیات آفاقی کی طرف اشارہ ہیں ، اور تیسری قسم آیات انفسی کی طرف اشارہ ہے ۔

آخر کار ان قسموں کے ہدف کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:” زندگی کے لئے تمہاری سعی و کوشش گوناں گوں ہے ۔( انّ سعیکم لشتیٰ ) ۔

ان کوششوں کی سمت ، اور ان کے نتائج بھی مکمل طور پر مختلف اور متفاوت ہیں ، جو اس طرف اشارہ ہے کہ تم بہر حال زندگی میں سکون و آرام سے نہیں رہو گے ، اور یقینی طورپر سعی و کوشش کے لئے ہاتھ پاو ں مارو گے ، اور خدا داد قوتوں اور توانائیوں کو ، جو تمہارے وجود کا سرمایہ ہیں ۔ کسی نہ کسی راستہ میں خرچ کروگے اب تم خود دیکھو گے کے تمہاری سعی و کوشش کس راستے ، کس سمت اور کس نتیجہ کی حامل ہے ؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے سرمایوں اور صلاحیتوں کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالو، یا فضول مفت میں ضائع کربیٹھو ۔

” شتی“ ” شتیت“کی جمع ہے جو” شت“( بر وزن شط)کے مادہ سے جمیعت کو پراکندہ کرنے کے معنی میں ہے اور یہاں کیفیت و مقصد حصول اور انکے نتیجہ کے لحاظ سے لوگوں کی کوششوں کے اختلاف کی طرف اشارہ ہے ۔

اس کے بعد لوگوں کو دو گروہوں میں تقسیم کرکے ہر ایک کی خصوصیت کو شمار کرتے ہوئے فرماتاہے : ” پس وہ شخص جو راہ خدا میں بخشش کرے اور پرہیزگاری اختیار کرے “۔( فاما من اعطٰی و اتقٰی ) ۔

” اور راہ خد اکی اچھی جزا پر ایمان رکھتا ہو“( صدق بالحسنیٰ ) ۔

” ہم اس کے لئے راستہ کو آسان بنا دیں گے اور بہشت ِ جاوداں کی طرف ہدایت کریں گے۔“( فسنیسره للیسرٰی ) ۔

”اعطٰی“ سے مراد وہی راہ خدا میں خرچ کرنا اور حاجت مندوں کی مدد کرنا ہے۔

اور اس کے بعد تقویٰ کے لئے تاکید ممکن ہے کہ پاک نیت ، اور خرچ کرتے وقت قصدِ خالص، اور مشروع طریقہ سے اموال کاحصول اور انہیں مشروع و جائز طریقہ سے خرچ کرنا اور ہر قسم کا احسان جتانے اور اذیت و آزار پہنچانے سے خالی ہونے کے لزوم کی طرف اشارہ ہو کیونکہ ان اوصاف کا مجموعہ تقویٰ کے عنوان میں جمع ہے ۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ” اعطیٰ“ مالی عبادتوں کی طرف اشارہ ہے اور” اتقٰی “ باقی تمام عبادتوں کی طرف ، اور واجبات کو انجام دینے اور محرمات کو چھوڑ دینے کی طرف ، لیکن پہلی تفسیر ظاہر آیت کے ساتھ ساز گار ہے، اور شانِ نزول کے ساتھ بھی جو ہم نے اوپر بیان کی ہے ۔

( حسنٰی ) “ کی تصدیق (” حسنٰی“ ” احسن“ کی مو نث ہے “ جو زیادہ اچھے کے معنی میں ہے )۔

یہ خدا کی اچھی جزاو ں پرایمان رکھنے کی طرف اشارہ ہے،جیسا کہ شانِ نزول میں بیان ہواہے کہ ” ابو الدحداح“ نے خدا کی جزاو ں پر ایمان رکھتے ہوئے اپنے اموال خرچ کئے ۔ سورہ نساء کی آیہ ۹۵ میں آیا ہے : و کلاً وعد اللہ الحسنٰی :” خد انے ان میں سے ہر ایک کو اچھے اجر اور جزاو ں کا وعدہ دیا ہے ۔ ( اس آیت میں بھی حسنی اچھی جزا کے معنی میں ہے )۔

اور بعض نے اس کی کلمہ لا الہ الاَّاللہ یا شہادتین کے ساتھ تفسیر کی ہے ۔

لیکن سیاقِ آیات ، شانِ نزول ، اور بہت سی آیاتِ قرآنی میں حسنٰی کا اچھی جزا کے معنی میں ہونے کے ذکر کی طرف توجہ کرتے ہوئے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔

( فسنیسره للیسری ) “ کا جملہ ممکن ہے توفیق الٰہی ، اور ایسے اشخاص پر امر اطاعت کے آسان کرنے کی طرف اشارہ ہو، یا ان کی طرف جنت کی راہ کھولنے اور تحیت و سلام کے ساتھ ملائکہ اور فرشتوں کے استقبال کرنے ، یا ان تمام چیزوں کی طرف اشارہ ہو۔

یہ بات یقینی ہے کہ جو لوگ انفاق و تقویٰ کی را ہ اختیار کرتے ہیں اور عظیم خدائی جزاو ں پر گرم جوشی کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں ، ان کے لئے مشکلات آسان ہوجاتی ہیں او روہ دنیا و آخرت میں ایک خاص قسم کے سکون و آرام کے حامل ہوتے ہیں ۔

ان سب سے قطع نظر ممکن ہے کہ مالی انفاق ابتداء میں انسان کی طبیعت و مزاج کے لئے شاق اور مشکل ہو، لیکن تکرار کرنے اور مسلسل جاری رکھنے سے اس پر راستہ اس طرح آسان ہو جاتا ہے کہ وہ اس سے لذت آٹھا تا ہے ۔

کتنے ہی سخی لوگ ایسے ہیں جو اپنے دسترخوان پر مہمان کی موجودگی میں خوش ہوتے ہیں ، لیکن اس کے برعکس اگر کسی دن ان کے پاس مہمان نہ آئے تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں اور یہ بھی مشکلات آسان کرنے کی ایک قسم ہے۔ اور اس نکتہ سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئیے کہ ا صولی طور پر خدا ئی عظیم جزاو ں پر ایمان ، انسان کے لئے انواع و اقسام کی مشکلات کی بر داشت کو آسان اور سہل بنا دیتا ہے ، نہ صرف مال بلکہ وہ اپنی جان کو بھی اخلاص کے مطابق گزارتا ہے اور عشق شہادت میں میدان جہاد میں شرکت کرتا ہے ، اور اپنی اس قربانی اور ایثار سے لذت حاصل کرتا ہے۔

” یسریٰ “ ”یسر“ کے مادہ سے اصل میں گھوڑے پر زین کسنے ، اسے لگام دینے اور سواری کے لئے آمادہ و تیارکرنے کے معنی میں ہے ۔ اس کے بعد اس کا ہر سہل اور آسان کام کے لئے اطلاق ہواہے۔(۲)

بعد والی آیات میں اس گروہ کے نقطہ مقابل کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” لیکن وہ شخص جو بخل کرے اور اس طریقے سے بے نیازی چاہے“۔( وامامن بخل و استغنٰی ) ہم عنقریب راستوں کو اس پر دشوار اور مشکل بنادیں گے “۔( فسنیسره للعسرٰی ) ۔

” بخل“ یہاں ” اعطاء“ کا نقطہ مقابل ہے ، جو پہلے گروہ ( سعادت مند سختیوں کے گروہ) میں بیان ہوا ہے ۔” و استغنیٰ “ ( بے نیازی چاہے ) یابخل کرنے کے لئے ایک بہانہ ، یا مال جمع کرنے کے لئے ایک وسیلہ ہے ، اور یا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ خدا ئی جزاو ں سے اپنے آپ کو بے نیاز شمار کرتا ہے ، پہلے گروہ کے بر عکس ، جن کی آنکھ ہمیشہ لطفِ خدا پر لگی رہتی ہے یا وہ اپنے آپ کو خدا کی اطاعت سے بے نیاز سمجھتا ہے ، اور ہمیشہ گناہ میں آلودہ رہتا ہے۔ان تینوں تفاسیر میں سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔ اگر چہ تینوں تفاسیر کے درمیان جمع بھی ممکن ہے ۔

” حسنٰی“کی تکذیب سے مراد وہی قیامت کی جزاو ں کا انکار ہے، یا پیغمبروں کے دین و آئین اور نیک روش کا انکار ہے ۔

( فسنیسره للعسری ) “کی تعبیر جو واقعی طور پر دو ظاہر اً متضاد تعبیریں ہیں ( ہم ان کی راہ کو مشکلات کی طرف آسان کردیں گے )۔

فسنیسره للیسریٰ “ کا نقطہ مقابل ہے ، اس طرح سے کہ خدا پہلے گروہ کو تو اپنی تو فیقات کا مشمول قرار دے گا اور ان کے لئے اطاعت و انفاق کی راہ کو طے کرنا آسان بنادے گا تاکہ وہ زندگی کی مشکلات سے رہائی حاصل کرلیں لیکن دوسرے گروہ کی توفیقات سلب ہو گئی ہیں ، لہٰذا ان کے لئے طے کرنا مشکل ہوجاتا ہے ، اور انہیں دنیا و آخرت میں سختیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور اصولی طور پر ان بے ایمان بخیلوں کے لئے نیک اعمال کو انجام دینا ، خصوصاً راہ خدا میں انفاق کرنا سخت اور دشوار کام ہے ، جب کہ پہلے گروہ کے لئے نشاط آور اور ،روح افزا ہے ۔(۳)

اور آخری زیر بحث آیت میں ان دل کے اندھے بخیلوں کو خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے :” جب وہ قبر یا جہنم میں جا گرے گا ، تو اس کے اموال ا س کے کچھ کام نہ آئیں گے “۔( وما یغنی عنه ماله اذا تردّٰی ) ۔

نہ تو وہ ان اموال کو دنیا سے اپنے ساتھ لے جاسکتا ہے اور اگر وہ گروہ لے بھی جائے تو وہ اس کے جہنم کی آگ میں جانے سے مانع نہیں ہوں گے ۔

”ما“ اس آیت کے آغاز میں ممکن ہے ” نافیہ “ ہو( جیساہم نے او پر بیان کیا ہے ) یا استفہام انکاری کے لئے ہو ، یعنی اس کے اموال قبر یا دوزخ میں جاگرنے کے وقت ا سکو کیا فائدہ دیں ؟

” تردّٰ ی “ ” ردئت“ اور ردٰی “ کے مادہ سے ہلاکت کے معنی میں ہے اور بلندی سے گرنے کے معنی میں بھی آ یا ہے جو ہلاکت کا سبب ہو ۔ بلکہ بعض تو اس کی اصل ہی سقط کے معنی میں سمجھتے ہیں ، ، اور چونکہ جگہ سے گرنا ہلاکت کا سبب ہوتا ہے ، لہٰذا ہلاکت کے معنی میں بھی آیا ہے اور زیر بحث آیت میں ممکن ہے کہ قبر یا دوزخ میں گرنے کے معنی میں ہو یا ہلاکت عذاب کے معنی میں ہو۔

اس طرح قرآن ان آیات میں دو گروہوں کے بارے میں گفتگو گو کرتا ہے ، ایک گروہ مومن ، متقی اور سخی اور دوسرے گروہ بے ایمان ، بے تقویٰ اور بخیل ، اور ان دونوں گروہوں کانمونہ شانِ نزول میں وضاحت کے ساتھ بیان ہوا ہے ۔

پہلا گروہ تو فیقا ت ِ الہٰی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ، اپنی راہ کو سہولت کے ساتھ طے کرتا ہے، اور جنت اور اس کی نعمتوں کی طرف بڑھا چلا تاجا ہے ، جب کہ دوسراگروہ زندگی میں بے شمار مشکلات میں گھرا ہواہوتا ہے، بہت سال مال جمع کرتا ہے اور یہیں پر چھوڑ کر آگے چلا جاتا ہے ، اور سوائے حسرت، اندوہ و بال اور خدائی عذاب کے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ، اور وہ اس سے کوئی چیز نہیں خرید تے

____________________

۱۔ قابل توجہ بات یہ ہے ” یغشیٰ“ فعل مضارع کی صورت میں ذکر ہوا ہے ، لیکن ” تجلیّٰ“ فعل ماضی کی صورت میں ہے ۔بعض نے کہا ہے : یہ اس بناء پر ہے کہ اس زمانہ میں جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کا آغاز تھا تو جاہلیت کی تاریکی نے ہر جگہ کو گھیر رکھا تھا ۔ لیکن اس صورت میں ایسی ظلمت و تاریکی کی قسم کھانا کچھ اچھا دکھائی نہیں دیتا ۔ بہتر یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ فعل ماضی چونکہ ”اذا“ شرطیہ کے بعد واقع ہواہے : لہٰذا فعل مضارع کا معنی دیتا ہے ، یا یہ اصل میں ” تتجلی“ تھا اور ا سکی ایک ” تاء “ حذف ہوگئی ہے ، لیکن اس صورت میں فعل مونث ہو جائے گا، اور پھر ” نہار“ ( دن ) اس کا فاعل نہیں ہوسکتا بلکہ پھر تقدیر میں اس طرح ہونا چاہئیے۔ ”اذا تجلی الشمس فیه “جب اس میں سورج آشکار و ظاہر ہو)۔

۲۔ ” تفسیر کشاف“ جلد ۴ ، ص ۷۶۲۔

۳۔ ” یسریٰ“ و” عسرٰی“ دونوں مو نث کے صیغہ ہیں ( ان کا مذکر ” الیسر“ و ” اعسر“ و” اعسر“ ہے) اور ان دونوں کا مو نث کے صیغہ کی صورت میں ذکر کرنا تو اس بناء پر ہے کہ ان کا موصوف ( افعال کا مجموعہ ) ہے اور تقدیر میں اس طرح ہوگا ۔ ”فسنیسره الاعمال یسریٰ ۔ او۔ لا اعمال عسری یا تمام مسائل اور زندگی میں پیش آنے والے واقعات میں ، اور اگر اس کا موصوف مفرد ہو تو ممکن ہے کہ ” طریقة“ یا” خلّة“ یا اس قسم کا کوئی لفظ ہو۔


آیات ۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۱۹،۲۰،۲۱

۱۲ ۔( انّ علینا للهدیٰ ) ۔ ۱۳ ۔( و انّ لنا للاٰخرة و الاولیٰ ) ۔ ۱۴ ۔( فأنذرتکم ناراً تلظّٰی ) ۔

۱۵ ۔( لایصلٰهآ الاَّ الاشقی ) ۔ ۱۶ ۔( الذی کذّب و تولیّٰ ) ۔ ۱۷ ۔( و سیجنبها الاتقی ) ۔

۱۸ ۔( الذی یُو تی ماله یتزکیّٰ ) ۔ ۱۹ ۔( و ما لاحدٍ عنده من نّعْمَةٍ تُجزٰٓی ) ۔ ۲۰ ۔( الاَّ ابتغآء وجه ربِّه الاعلیٰ ) ۔

۲۱ ۔( وَ لَسوفَ یرضٰی ) ۔

ترجمہ

۱۲ ۔ یقینا ہدایت کرنا ہمارے ذمہ ہے۔ ۱۳ ۔ اور دنیا و آخرت ہمارے لئے ۔ ۱۴ ۔ اور میں تمہیں شعلہ نکالنے والی آگ سے ڈراتا ہوں ۔

۱۵ ۔ بدبخت ترین لوگوں کے سوا کوئی شخص اس میں داخل نہیں ہوگا۔ ۱۶ ۔وہی شخص جس نے آیاتِ ( خدا کی ) تکذیب کی اور پیٹھ پھیر لی۔

۱۷ ۔ اور زیادہ تقویٰ اختیار کرنے والے عنقریب اس سے دور رہیں گے ۔

۱۸ ۔ وہی شخص جو اپنے مال کو ( خدا کی راہ میں ) بخش دیتا ہے تاکہ اپنے نفس کا تزکیہ کرے ۔

۲۰ ۔ اور کسی شخص کا اس کے پاس کوئی حقِ نعمت نہیں ہے تاکہ وہ ( اس انفاق کے ذریعے ) اس کا بدلہ دے۔ ۲۰: سوائے اپنے بلند و بر تر پر وردگار کی رضا مندی چاہنے کے لئے ۔

۲۱ ۔ اور وہ عنقریب راضی و خوشنود ہوجائے گا۔

انفاق اور جہنم کی آگ سے دوری

گزشتہ آیات میں لوگوں کی دو گرہوں : مومنِ سخاوت منداور ایمان بخیل ،میں تقسیم کرنے ، اور ان میں سے ہر ایک کی سر نوشت بیان کرنے کے بعد زیر بحث آیات میں ، پہلے اس بات کو بیان کرتا ہے کہ ہمارا کام ہدایت کرنا ہے کسی کو مجبور کرنا نہیں ہے ۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ مردانہ وار راستہ پر گامزن ہوجاو ۔ علاوہ از این اس راستہ کو طے کرنا خود تمہارے نفع میں ہے اور ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

فرماتا ہے : یقینا ہدایت کرنا ہمارے ہی ذمہ ہے ۔ “( ان علینا للهدٰی ) ۔

چاہے تکوین ( فطرت و عقل ) کے طریق سے ہدایت ہو، اور چاہے تشریح ( کتاب و سنت) کے طریق سے ہو۔ اس سلسلہ میں جو کچھ ضروری تھا وہ ہم نے بیان کردیا ہے اور اس کا حق اداکردیا ۔

” اور یقینی طورپر آخرت اور دنیا ہماری ہی ملکیت ہے“۔( و ان لنا للاٰخرة و الاولیٰ ) (۱)

ہمیں تمہارے ایمان و اطاعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، نہ تمہاری اطاعت ہمیں کوئی فائدہ پہنچاتی ہے اور نہ ہی تمہاری نافرمانی سے ہمیں کوئی نقصان پہنچتا ہے ۔ یہ تمام پروگرام تمہارے فائدے کے لئے ہیں اور خود تمہارے لئے ہیں ۔

اس تفسیر کے مطابق یہاں ہدایت ” ارائہ طریق“ کے معنی ہے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ان دوآیات کا ہدف سخاوت کرنے والے مومنین کو شوق دلانا اور اس معنی پر تاکیدی ہو کہ ہم انہیں مزید ہدایت کا مشمول قرار دیں گے، اور اس جہان میں بھی اور دوسرے جہان میں بھی راستہ کو ان پر آسان کردیں گے، اور چونکہ دنیا و آخرت ہمارے ہی ملکیت ہے لہٰذا ہم اس کام کو انجام دینے کی قدرت رکھتے ہیں ۔

یہ ٹھیک ہے کہ زمانہ کے لحاظ سے دنیا آخرت پر مقدم ہے ، لیکن اہمیت اور ہدف اصلی کے لحاظ سے مقصودِ اصلی آخرت ہے ، اور اسی بناء پراسے مقدم رکھا گیا ہے۔

اور چونکہ ہدایت کے شعبوں میں سے ایک خبر دار کرنا اور ڈرانا ہے ، لہٰذا بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے : اب جب کہ یہ بات کہ میں تمہیں اس آگ سے ڈراتاہوں جو شعلہ ور ہوگی “( فانذر تکم ناراً تلظّٰی ) ۔

” تلظّٰی“ ” لظٰی“ ( بر وزن قضا) کے مادہ سے ،خالص شعلہ کے معنی میں ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خالص شعلوں میں کو ہر قسم کے دھوئیں سے خالی ہوں زیادہ گرمی اور حرارت ہوتی ہے۔ اور بعض اوقات لفظ ”لظٰی“ کاخود بھی اطلاق ہوتا ہے ۔(۲)

اس کے بعد اس گروہ کی طرف ، جو اس بھڑکتی ہوئی اور جلانے والی آگ میں داخل ہوں گے ، اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے :” بد بخت ترین آدمی کے سوا اس میں کوئی بھی داخل نہیں ہوگا ۔( لایصلاها الاَّ الاشقی ) ۔

اور شقی کی توصیف میں فرماتا ہے :” وہی شخص جو آیات الٰہی کی تکذیب کرتا ہے اور ان سے پیٹھ پھیر لیتا ہے “۔( الذی کذّب و تولیّٰ ) ۔

اس بناء پر خوش بختی و بد بختی کا معیار وہی کفر و ایمان ہے یا وہ عملی نتائج جو ان دونوں کے ہوتے ہیں ، اور وہ واقعاً جو شخص ہدایت کی ان نشانیوں ، اور ایمان و تقویٰ کے امکانات و وسائل کو نظر انداز کردے تو وہ ” اشقی “ کا مصداق، اور بد بخت ترین شخص ہے ۔

( الذین کذب و تولی ) “ کے جملہ میں ممکن ہے کہ ” تکذیب “ تو کفر کی طرف اشارہ ہو، اور ” تولی“ اعمال صالح کے ترک کرنے کی طرف اشارہ ہو، کیونکہ کفر کا لازمہ یہی ہے ۔

اور یہ بھی ممکن ہے کہ ترک ایمان کی طرف اشارہ ہوں ۔ اس طرح سے کہ پہلے تو پیغمبر کی تکذیب کرتے ہیں ، اور اس کے بعد پیٹھ پھیر کر ہمیشہ کے لئے اس سے دور ہو جاتے ہیں ۔

بہت سے مفسرین نے یہاں ایک اعتراض پیش کیا ہے اور اس کا جواب دیاہے اور وہ یہ ہے کہ اوپر والی آیات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ جہنم کی آگ کفار کے ساتھ جہنم مخصوص ہے ۔ یہ بات اس چیز کے مخالف ہے جو قرآن کی دوسری آیات اور مجموعہ روایات اسلامی سے معلوم ہوتی ہے کہ گنہگار مومن بھی جہنم کی آگ میں حصہ دار بنیں گے، لہٰذا منحرف گروہوں میں سے بعض نے ، جویہ نظر یہ رکھتے ہیں کہ ایمان کے ہوتے ہوئے کوئی گناہ ضرر نہیں پہنچاتا انہوں نے اپنے مقصود پر ان آیت سے استدلال کیاہے ۔ ( اس گروہ کا نام ” مرجئہ“ ہے۔

اس کے جواب میں دو نکتوں کی طرف توجہ کرانا چاہئیے: پہلا یہ کہ یہاں جہنم میں ورود سے مراد وہی ” خلود“ ہمیشہ رہنا ہے ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ خلود کفار کے ساتھ ہی مخصوص ہے ۔ اس بات کا قرینہ وہ آیات ہیں جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ غیر ِ کفار بھی جہنم میں وارد ہوں گے ۔

دوسرا یہ کہ اوپر والی آیات اور بعد والی آیات یہ کہتی ہیں کہ جہنم کی آگ سے دوری ” اتقی“ ( زیادہ متقی افراد) سے مخصوص ہے ، یعنی مجموعی طور پر وہ یہ چاہتاہے کہ صرف دو گروہوں کی حالت بیان کرے :

۱) بے ایمان بخیل گروہ اور

۲) زیادہ تقویٰ رکھنے والے سخاوت مندمومن ۔

ان دونوں گروہوں میں سے صرف پہلا گروہ جہنم میں وارد ہوگا ، اور دوسرا گروہ بہشت میں داخل ہو گا، اور اس طرح سے تیسرے گروہ یعنی گنہگار مومنین کے بارے میں تو اصلا کوئی بات ہی نہیں ہوئی ہے ۔

دوسرے لفظوں میں یہاں ” حصر“ ” حصر اضافی “ ہے ۔ گویا جنت صرف دوسرے گروہ کے لئے ، اور جہنم کے لئے ، اور جہنم صرف پہلے گروہ کے لئے پیدا کی گئی ہے ، اس بیان سے ایک دوسرے اعتراض کاجواب بھی، زیر بحث آیات اور ان آیندہ آنے والی آیات کے رابطہ سے ہواہے ، جو نجات کو ” اتقی“ سے مخصوص کرتی ہیں ،واضح ہوجاتا ہے

اس کے بعد اس گروہ کے بارے میں گفتگو کرتا ہے جو اس جلانے والی شعلہ ور آگ سے دور ہے ، فرماتاہے :” عنقریب سب سے زیادہ تقویٰ کرنے والا آدمی اس بھڑکتی ہوئی آگ سے دور رکھا جائے گا“۔( و سیجنبها الاتقی ) ۔

وہی آدمی جو اپنے مال کو راہ خدا میں انفاق کرتا ہے اور اس کا مقصد رضائے خدا کا حصول ، تزکیہ نفس ، اور اموال کو پاک کرنا ہوتا ہے ،( الذی یوتی ماله یتزکٰی ) ۔

” یتزکٰی “ کی تعبیر حقیقت میں قصدِ قربت اور نیت ِ خالص کی طرف اشارہ ہے ، چاہے یہ جملہ معنوی و روحانی رشد و نمو کے حصول کے معنی میں ہویا اموال کی پاکیزگی کے حاصل کرنے کے معنی میں ، کیونکہ ” تزکیہ“ ’ نمودینے“ کے معنی میں بھی آیاہے ، اور ” پاک کرنے “ کے معنی میں بھی ، سورہ توبہ کی آیہ ۱۰۳ میں آیا ہے :( خذ من اموالهم صدقة تطهرهم و تزکیهم بها و صل علیهم ان صلاتک سکن لهم ) :”ان کے اموال میں سے زکوٰة وصول کرلے تاکہ اس کے ذریعے تو انہیں پاک کرے اور ان کی پرورش کرے ، اور ( زکوٰة لیتے وقت) اس کے لئے دعا کر کیونکہ تیری دعا ان کے سکون و آرام کا باعث ہے “۔

اس کے بعد ان کے خلوصِ نیت کے مسئلہ پر ، جو وہ خرچ کرنے میں رکھتے ہیں ، تاکید کے لئے مزید فرماتا ہے :” کسی شخص کا اس کے اوپر حقِ نعمت نہیں ہے کہ اس انفاق کے ذریعے اس کی جزا دی جائے “ :(وما لاحد عند ه من نعمة تجزیٰ) بلکہ اس کا مقصد تو اپنے بزرگ و برتر پروردگار کی رضا حاصل کرنا ہے۔( الاابتغاء وجه ربه الاعلیٰ ) ۔

دوسرے لفظوں میں لوگوں کی درمیان بہت سے انفاق ایسے ہوتے ہیں جو ویسے ہی انفاق کا جواب ہوتے ہیں جو طرف مقابل کی طرف سے پہلے سے کئے ہوئے ہوتے ہیں ، البتہ حق شناسی اور احسان کا احسان کے ساتھ جواب دینا ایک اچھا کام ہے ، لیکن اس کا حساب پرہیز گاروں کے مخلصانہ انفاق سے جدا ہے ۔ اوپر والی آیات کہتی ہیں کہ پر ہیز گار مومنوں کا دوسروں پر خرچ کرنا نہ تو ریا کاری کی وجہ سے ہوتا ہے ، اور نہ ہی ان کی سابقہ خدمات کے جواب کے طور پر ، بلکہ اس کا سبب صرف اور صرف خدا کی رضا کا حاصل کرنا ہوتا ہے اور یہی چیزان انفاقوں کو حد سے زیادہ قدر و منزلت عطا کرتی ہے ۔

” وجہ“ کی تعبیر یہاں ” ذات“ کی معنی میں ہے اور اس سے مراد اس کی پاک ذات کی رضا و خوشنودی ہے ۔

” ربہ الاعلیٰ“ کی تعبیر اس با ت کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انفاق پوری معرفت کے ساتھ صورت پذیر ہوتا ہے، اور اس حالت میں ہوتا ہے کہ وہ پروردگار کی ربوبیت سے بھی آشنا ہوتا ہے ، اور اس کے مقام ِ اعلیٰ سے بھی باخبر ہوتا ہے ۔

ضمنی طور پر یہ استثناء ہر قسم کی انحرافی نیتوں کی بھی نفی کرتا ہے ،مثلاً نیک نامی، لوگوں کی توجہ مبذول کرنے ، اور معاشرے میں مقام و حیثیت و غیرہ حاصل کرنے کے لئے خرچ کرنا ، کیونکہ اس کا مفہوم ان اموال کے انفاق کامحرک، پر وردگارکی خوشنودی حاصل کرنے میں ہے ۔(۳) انجام کار اس سورہ کی آخری آیت میں اس گروہ کی عظیم و بے نظیر جزاو ں کو پیش کرتے ہوئے ایک مختصر سے جملہ میں فرماتا ہے :” اور ایسا آدمی عنقریب راضی و خوشنود ہوجائے گا“۔( لسوف یرضیٰ ) ۔ہاں ! جس طرح وہ رضائے الٰہی خدا کے لئے کام کرتا ہے ، خدا بھی ا س کو راضی کرے گا، ایسی رضا جو مطلق اور بے مطلق اور بے قید و شرط ہوگی، ایسی رضا جو وسیع و غیر محدود ہوگی ، ایسی پر معنی رضا جس میں تمام نعمتیں جمع ہوگی، ایسی رضاجس کا تصور کرنا بھی آج ہمارے لئے غیرممکن ہے اور وہ کون سی نعمت ہو گی اس سے بر تر بالاتر ہو گی ۔بعض مفسرین نے بھی یہی احتمال دیا ہے کہ ” یرضیٰ“ کی ضمیر خد اکی طرف لوٹتی ہے ، یعنی عنقریب خدا اس گروہ سے راضی ہوجائے گا کہ وہ بھی ایک عظیم و بے نظیر انعام ہے کہ خدائے بزرگ اور پروردگار ِ برتر اس قسم کے بندے سے راضی و خوشنود ہوجائے ۔ وہ بھی ایسی رضا جو مطلق عظیم و بے قید و شرط ہو ، اور یقینی طور پر اس رضائے الٰہی کے پیچھے اس باایمان او رباتقویٰ بندہ کی رضایت ہے ، کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں جیسا کہ سورہ بینہ کی آیہ ۸ میں آیاہے ،( رضی الله عنهم و رضو عنه ) ،یا سورہ فجر کی آیہ ۲۸ میں آیاہے ، راضیة مرضیة ، لیکن تفسیر اول زیادہ مناسب ہے ۔

____________________

۱۔ ” للاٰخرة “ کا ”لام “ اور اسی طرح ( گزشتہ آیت میں ” للھدٰی“ کا ”لام “ ظاہراً لام تاکید ہے جو یہاں ” اسم انّ“ کے اوپر ہے ، اگرچہ عام طور پر خبر کے اوپر داخل ہو اکرتی ہے ، یہ اس بناء پر ہے کہ بعض ادب کی کتابوں کی تصریح کے مطابق جب ” ان ّ“کی خبر مقدم ہو تو اس کے اسم پرلام داخل ہوتی ہے ۔

۲۔ ” تلظی“ اصل میں ” تتلظی“ تھا، دو ”تا“ میں سے ایک ” تا“ تخفیف کے لئے گر گئی ہے ۔

۳۔ ”الابتغاء وجه ربه الاعلیٰ “ کے جملہ میں استثناء ، استثناء منقطع ہے ، البتہ پہلی آیت میں ایک تقدیر ہے جو اس طرح ہے ۔ (وما لاحد عنده من نعمة تجزٰی فلاینفق ماله لنعمة الا ابتغاء وجه ربه الاعلی )ٰ ۔ کسی کا اس پر کوئی احسان نہیں ہے کہ اس کا بدلہ دیاجائے لہٰذا وہ اپنا مال کسی احسان کے بدلے میں خرچ نہیں کرتا مگر اپنے بزرگ و بر تر پر وردگار کی خوشنودی کے لئے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ یہ استثناء متصل ہو، ایک محذوف کو نظر نظر میں رکھتے ہوئے اور تقدیر اس طرح ہو:لاینفق لنعمة عنده ولا لغیر ذالک الاابتغاء وجه ربه الاعلی ٰ (غور کیجئے )۔


سورہ و اللیل کے شانِ نزول کے بارے میں ایک بات

فخر رازی : ” مفسرین اہل سنت عموماً یہ نظر یہ رکھتے ہیں کہ ” سیجنبھا الاتقی“ میں ” اتقی“ سے مراد حضرت ابو بکر (رض)ہیں ، اور شیعہ عام طور پر اس بات کا انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔(۱)

اس کے بعد وہ اپنے مخصوص انداز میں تجزیہ کرتے ہوئے اس طرح کہتاہے : امتِ اسلامی ( عام اس سے کہ اہل سنت ہوں یا شیعہ )ٌ اس چیز پر اتفاق رکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد افضل ترین شخص یا ابو بکر (رض)ہے یا علی، اور علی علیہ السلام پرمنطبق نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ قرآن اس فرد اتقیٰ کے بارے میں کہتا ہے :وما لاحد عندہ من نعمة تجزٰی کوئی شخص اس پر کوئی حق نہیں اور احسان نہیں رکھتا ، کہ جس کی جزا دی جائے اور یہ صفت علی علیہ السلام پر تطبیق نہیں کرتی کیونکہ پیغمبر ان پر حقِ نعمت رکھتے تھے ، لیکن پیغمبر اکرام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ صرف یہ کہ ابو بکر (رض) پر کوئی مادی حق نعمت نہیں رکھتے تھے ، بلکہ اس کے بر عکس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر انفاق کرتے تھے اور حقِ نعمت رکھتے تھے !

اس کا نتیجہ یہ بنتا ہے کہ ” اتقیٰ“ کامصداق ابو بکر (رض)ہے ، اور چونکہ اتقیٰ کا معنی سب لوگوں سے زیادہ پر ہیز گار ہے ،لہٰذا اس کی افضلیت ثابت ہے ۔(۲)

اگر چہ ہم ا س تفسیر کے مباحث میں ، اس قسم کے مسائل میں وارد ہونے کی طرف زیادہ مائل نہیں ہیں لیکن بعض مفسرین کااپنے پہلے سے کئے ہوئے فیصلہ کو قرآن کی آیات کے ذریعے ثابت کرنے پر اصرار اس حدتک پہنچ گیا ہے کہ وہ ایسی تعبیریں کرنے لگے ہیں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرتبہ ، اور بلند مقام کے لائق نہیں ہے ۔ لہٰذا اسی سبب سے ہم بھی یہاں چند نکات کاذکر کرتے ہیں ۔

اولاً : یہ جوفخررازی کہتاہے کہ اہل سنت کا اس پر اجماع و اتفاق ہے کہ یہ آیت ابو بکر (رض) کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن اس چیز کے بر خلاف جسے اہل سنت کے مشہور و معروف مفسرین نے صراحت کے ساتھ نقل کیا ہے ، منجملہ ” قرطبی“ اپنی تفسیروں میں ابن عباس (رض) سے ایک روایت میں نقل کرتا ہے کہ یہ سارا سورہ ( سورہ للیل ) ” ابو الدحداح“ کی شان میں نازل ہوا ہے ۔ ( جس کی داستان ہم نے سورہ کے آغاز میں بیان کردی ہے )۔(۳)

خاص طور پر جب وہ آیہ( وسیجنبها الاتقی ) ٰپر پہنچتا ہے تو پھر دوبارہ کہتا ہے کہ اس سے مراد ” ابو الد حداح“ ہے اگر چہ اکثر مفسرین سے اس نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ (ان کے نزدیک ) یہ ابو بکر (رض)کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن خود اس نے اس نظریہ کو قبول نہیں کیا۔

ثانیاً: جو اس نے کہاہے کہ شیعوں ک اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، ٹھیک نہیں ہے ، کیونکہ بہت سے مفسرین نے وہی ابوالدحداح کی داستان ہی بیان کی ہے اور اسے قبول کیا ہے ۔ البتہ بعض روایات میں امام جعفر علیہ السلام سے نقل ہواہے کہ ” اتقی“ سے مراد ان کے پیرو کا ر اور شیعہ ہیں اور الذی یو تی مالہ یتزکّٰی سے مراد امیر المومنین علی علیہ السلام ،

لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ باتیں شانِ نزول کا پہلو نہیں رکھتیں ، بلکہ یہ واضح اور روشن مصداق کی تطبیق کی قبیل سے ہیں ۔

ثالثاً: اس میں شک نہیں کہ اوپر والی آیت میں لفظ ” اتقی“ لوگوں میں سے زیادہ تقویٰ رکھنے والے کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس مفہوم وہی متقی ہوناہے ، اور اس بات کاواضح گواہ یہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں ” اشقی“ لوگوں میں سے بد بخت ترین کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ اس سے مراد وہ کا فر ہیں جو انفاق سے بخل کرتے تھے ۔ علاوہ ازیں یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم زندہ تھے ، تو کیا ابو بکر (رض) کو پیغمبر سے بھی مقدم رکھا جاسکتا ہے ؟ پہلے سے کئے ہوئے فیصلوں اور ذہنیتوں کی بناء پر ایسی تعبیر کیوں کریں جو پیغمبر تک کے مقامِ بلند کوبھی ضرب لگائیں ۔

اور اگر یہ کہاجائے کہ پیغمبر کامعاملہ الگ ہے ، تو پھر ہم کہتے ہیں کہ آیہ وماحد عند من نعمة تجزٰی میں ان کے معاملے کو کیوں الگ نہیں رکھا گیا اورعلی علیہ السلام کو آیت کے مورد سے خارج کرنے کے لئے کیوں کہاگیا کہ چونکہ وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مادی نعمتوں کے مشمول ہیں لہٰذا وہ اس آیت میں داخل نہیں ہیں ۔

رابعاً: ایسا کونسا آدمی ہے جس سے اس کی زندگی میں کسی نے محبت کی ہی نہ ہو اور کسی نے بھی نہ اسے ہدیہ دیاہو نہ کبھی دعوت کی ہو۔ کیا واقعاً ایسا ہو اہے کہ ابو بکر (رض) اپنی ساری عمر میں نہ تو کسی کی مہمانی پرگئے اور نہ ہی کبھی کسی کا کوئی ہدیہ قبول کیا اور نہ ہی کوئی اور دوسری مادی خدمت کس سے قبول کی کیا یہ چیز باور کرنے کے لائق ہے ؟ نتیجہ یہ ہے کہ آیہ ومالا حد عندہ من نعمة تجزیٰسے مرادیہ نہیں ہے کہ کسی بھی شخص کااس پر کوئی حق نعمت ہے ہی نہیں ، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان سے انفاق کرنا کسی حق نعمت کی بناء پر نہیں ہے ۔

یعنی اگر وہ کسی پر انفاق کرتے ہیں تو وہ صرف خدا کے لئے ہوتا ہے ، نہ کہ وہ کسی خدمت کی بناء پر اسے اجر و پاداش دینا چاہتے ہیں ۔

خامساً: اس سورہ کی آیات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ یہ سورہ ایک ایسے ماجرے کے بارے میں ، جس کے دو قطب ہیں ، نازل ہوا ہے ، ایک ” اتقی“ کے قطب میں تھا اور دوسرا ” اشقی“ کے قطب میں ۔ اگر ہم ” ابو الدحداح“ کی داستان کو شانِ نزول سمجھیں تو مسئلہ حل شدہ ہے لیکن اگر ہم کہیں کہ مراد ابوبکر (رض) تھے تو ” اشقی“ کی مشکل باقی رہ جاتی ہے کہ اس سے مراد کون شخص ہے؟

شیعوں کو اس بات پر کوئی اصرار نہیں ہے کہ یہ آیت خصوصیت کے ساتھ علی علیہ السلام کے بارے میں ہے ۔ ان کی شان میں آیات بہت زیادہ ہیں ، لیکن اگر اس کی تطبیق علی پرکی جائے تو” اشقی“ کی مشکل حل ہے، کیونکہ سورہ شمس کی آیہ ۱۲( اذانبعث اشقاها ) کے ذیل میں اہل سنت کے طرق سے کافی روایات نقل ہوئی ہیں کہ ” اشقی“ سے مراد علی بن ابی طالب کا قاتل ہے ۔ (ان روایات کو ، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ، کہ حاکم حسکانی نے شواہد التنزیل میں جمع کیا ہے )۔

خلاصہ یہ ہے کہ فخر رازی کی گفتگواور اس آیت کے بارے میں اس کی تحلیل بہت ہی کمزور او ربہت سے اشتباہات پر مشتمل ہے ۔ اسی لئے اہل سنت کے بعض مشہور مفسرین مثلاً آلوسی تک نے بھی روح المعانی میں اس تجزیہ کو پسند نہیں کیا، اوراس پر اعتراض کیاہے ، جیسا کہ وہ کہتا ہے:

و استدل بذالک الامام علی انه ( ابو بکر) افضل الامة و ذکر ان فی الاٰیات ما یأبی قول الشیعة انهافی علی و أطال الکلام فی ذالک و اٰتی بما لایخلو عن قبیل و قال :

” امام فخر رازی نے اس آیت سے یہ استدلال کیاہے کہ ابو بکر (رض)افضل امت ہیں ، اور مزید کہا ہے کہ آیات میں بعض قرائن ایسے ہیں جو شیعوں کے قول کے ساتھ ساز گار نہیں ہیں ۔ اور یہاں گفتگو کو طول دیا ہے اور ایسے مطالب بیان کئے ہیں جو قیل ( اور اشکال ) سے خالی نہیں ہیں ۔۴

____________________

۱۔ ”تفسیر فخر رازی“جلد ۳۱، صفحہ ۲۰۴۔

۲ ۔ تفسیر قرطبی“ جلد ص۷۱۸۰۔۳ ۔ تفسیر قرطبی“ جلد ص۷۱۸۰۔

۴ ۔روح المعاج جلد ۳۰ ص ۱۵۳


۲ ۔ انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت

راہ خدا میں انفاق اور بخشش کرنا ، محروم، خصوصاً آبرو مند لوگوں کی مالی امداد کرنا ، جو خلوصِ نیت سے لی ہوئی ہو، ایسے امور میں ہے جس کا قرآن مجید کی آیات میں بار بار ذکرہوا ہے ، اور اس کو ایمان کی نشانیوں سے لیاگیا ہے ۔ اس بارے میں اسلامی روایات بھی تاکید سے بھری ہوئی ہیں ، یہاں تک کہ وہ اس بات کی نشا دہی کرتی ہیں کہ اسلامی معاشرے اور تمدن میں مالی انفاق کرنا ، بشرطیکہ اس کا محرک پر وردگار کی رضاکے علاوہ اور کچھ نہ ہو ، اور وہ ہرقسم کی ریا کاری ، احسان جتانے اور آزار سے خالی ہو ، تو بہترین اعمال میں سے ہے۔

ہم اس بحث کو چند معنی خیز احادیث کے ذکر کے ساتھ مکمل کرتے ہیں ۔

۱ ۔ ایک روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیاہے :

ان احب الاعمال الی الله ادخال السرور علی المو من ، شعبة مسلم او قضاء دینه

”خدا کے نزدیک محبوب ترین عمل ضرورت مند مومن کے دل کو خوش کرنا ہے ، اس طرح سے کہ اسے سیر کیا جائے یاا س کا قرض ادا کیا جائے ۔(۱)

۲ ۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیاہے :

من الایمان حسن الخلق ، و اطعام الطعام ، و اراقة الدماء

حسن خلق ، کھانا کھلانا، اور خون بہانا ( راہ خدا میں قربانی) ایمان کے اجزاء میں سے ہیں ۔(۲)

۳ ۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

ما اری شیئاً یعدل زیادة المو من الااطعامه، وحق علی الله ایطعم من اطعم مو مناً من طعام الجنة “:

” میرے نزدیک کوئی چیز مومن کے دیدار اور زیارت کے برابر نہیں ہے سوائے اس کو کھانا کھلانے کے ۔ اور جو شخص کسی مومن کو کھانا کھلائے خدا پر لازم ہے کہ وہ اسے جنت کے کھانوں میں سے کھانا کھلائے “۔(۳)

۴ ۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے آیاہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی سواری کی مہار پکڑلی اور عرض کیا : اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم !ای الاعمال افضل ؟ تمام اعمال میں کون سا عمل افضل ہے“۔

اطعام الطعام ، و اطیاب الکلام “ :

” لوگوں کو کھانا کھلانا اور خوش کلام ہونا “۔(۴)

۵ ۔ اور آخر میں ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے :

من عال اهل بیت من المسلمین یومهم ولیلتهم غفر الله ذنوبه “ :

” جو شخص مسلمانوں کے گھرانے کی ایک رات دن پذیرائی کرے تو خدا اس کے گناہوں کو بخش دیتاہے “۔(۵)

خدا وندا ! ہم سب کو تو فیق دے تاکہ ہم اس عظیم کارِ خیر میں قدم رکھیں ۔

پروردگارا ! تمام اعمال میں ہمارے خلوص نیت میں اضافہ فرما۔

بار الہٰا ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو ہمیں اپنی نعمت و رحمت کا اس طرح سے مشمول قرار دے کہ تو بھی ہم سے خوش ہو اور ہم بھی خوش اور راضی ہوں ۔

آمین یا رب العالمین

____________________

۱۔ ” بحا رالانوار“ جلد ۷۴ حدیث ۳۵ ص ۳۶۵۔

۲۔ ” بحا رالانوار“ جلد ۷۴ حدیث ۳۵ ص ۳۶۵۔

۳- «بحار الانوار»، جلد ۷۴، صفحه ۳۷۸، حديث ۷۹، «اصول كافى»، جلد ۲، صفحه ۲۰۳، باب اطعام المؤمن

۴۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۴ ص۱۱۳۔

۵ ۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۴ حدیث ۲۔


سورہ ضحٰی

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ۔ اس میں ۱۱ آیات ہیں ۔

سورہ” الضحیٰ“کے مضامین اور اس کی فضیلت

یہ سورہ جو مکی سورتوں میں ہے ، اور بعض ورایات کے مطابق اس وقت نازل ہوا جب پیغمبر وحی کے وقتی طور پر منقطع ہوجانے اور تاخیر سے پریشان تھے ، اور دشمنوں کی زبان کھلی ہوئی تھی،۔ تو یہ سورہ نازل ہوا ، اور باران رحمت کی طرح پیغمبر کے قلب ِ پاک پر اُترا ، اور انہیں نئی تاب و توان بخشی او ربد زبانوں کی زبان کو بند کردیا ۔

اس سورہ کی دو قسموں کے ساتھ ابتدا ہوتی ہے ۔ اس کے بعد پیغمبر کو بشارت دیتاہے کہ خدا نے آپ کو ہر گز نہیں چھوڑا ۔

اس کے بعد آپ کو یہ خوشخبری دیتا ہے کہ خدا آپ کو اس قدر عطا کرے گا کہ آپ خوش ہو جائیں گے ۔

اور آخری مرحلہ میں ، پیغمبر کی گزشتہ زندگی کو آپ کی نظر میں مجسم کرتا ہے کہ خدا نے ہمیشہ آپ کو کس طرح اپنی انواع و اقسام کی رحمت کامشمول قرار دیا ہے ، اور زندگی کے سخت ترین لمحات میں اس نے آپ کی حمایت کی ہے ۔

اور اسی لئے آخری آیات میں آپ کو حکم دیتا ہے کہ ( خدا کی ان عظیم نعمتوں کے شکرانہ کے طور پر ) یتیموں اور حاجت مندوں پرمہر بانی کریں اور خدا کی نعمت کو یاد کرتے رہیں

اس سورہ کی فضیلت

اس سورہ کی فضیلت میں یہی بات کافی ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل ہوا ہے :

”من قرأ ھا کا ن ممن یرضاہ اللہ ، ولمحمد( ص) ان یشفع لہ ولہ عشر حسنات بعدد کل یتیم و سائل !

” جو شخص اس کی تلاوت کرے گا وہ اےسے لوگوں میں سے ہوگا جن سے خدا راضی ہو گا ، اور وہ اس لائق ہوگا کہ محمد اس کی شفاعت کریں اور ہر یتیم اور سوال کرنے والے مسکین کے برابر دس حسنات اس کے لئے ہوں گے ۔(۱)

اور یہ سب فضائل اس کے لئے ہیں جو اسے پڑھے اور اس پر عمل کرے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ متعدد روایات کے مطابق یہ سورہ اور اس کے بعد والا سورہ (سورہ الم نشرح) ایک ہی سورہ ہیں اور چونکہ ہر رکعت میں الحمد کے بعد ایک مکمل سورہ پڑھنا چاہئیے، لہٰذا ان دونوں سورتوں کو اکٹھا ملا کر پڑھنا چاہئیے، ( یہی بات ”سورہ فیل “اور” لایلاف“کے بارے میں کہی گئی ہے)۔

اور اگر ہم صحیح طور پر ان دونوں سورتوں کے مطالب میں غور کریں تو ہم دیکھیں گے کہ ان دونوں کے مطالب ایک دوسرے سے اتنے ہی ملتے جلتے ہیں کہ یقینی طو رپر ایک دوسرے کے ساتھ تسلسل قائم ہے اگر چہ ان دونوں کے درمیان ” بسم اللہ “ کا فاصلہ ہے ۔

اس بارے میں کہ کیا یہ دونوں سورتیں ہر لحاظ سے ایک ہی ہیں ؟ یا انہیں خصوصیت کے ساتھ نماز میں ایک سورے کے حکم میں شمار کرنا چاہئیے؟ اس میں اختلاف ہے ، جس کی تفصیل کا فقہ کی کتابوں میں ( قرأت نما ز کی بحث میں ) مطالعہ کرنا چاہئیے ، لیکن بہرحال علماء کا اجماع اس بات پر ہے کہ قرأت نماز میں ان میں سے ایک سورہ پر قناعت نہیں کرنا چاہیئے۔

آیات ۱،۲،۳،۴،۵

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( و الضحٰی ۲ و الّیل اذا سجٰی ) ۔ ۳ ۔( ماودّعک ربک و ما قلیٰ ) ۔ ۴ ۔( و للاٰخرة خیر لک من الاولیٰ ) ۔

۵ ۔( ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ قسم ہے دن کی جب کہ سورج نکل آئے ( اور ہر جگہ کو گھیر لے )۔

۲ ۔ اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ ساکن ہوجائے ۔

۳ ۔ کہ ہر گز نہ تو خدا نے تجھے چھوڑا ہے او رنہ ہی تجھ سے غصہ ہوا ہے۔

۴ ۔ اور یقینی طور تیرے لئے آخرت دنیا سے بہتر ہے ۔

۵ ۔ اور عنقریب تیرا رب تجھے اس قدر دے گا کہ تو راضی ہو جائے گا۔

شان نزول

اس سورہ کے شان نزول کے بارے میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں ، جن میں سب سے زیادہ واضح ذیل کی روایت ہے ۔

”ابن عباس (رض)“ کہتے ہیں : پندرہ دن گزر گئے اور پیغمبر پر وحی نازل نہ ہوئی۔ مشرکین نے کہا: محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے پر وردگار نے اسے چھوڑدیا ہے اور اس کا دشمن ہو گیا ہے ۔ اگر اس کی یہ بات سچ ہے کہ اس کی ماموریت خدا کی جانب سے ہے تو پھر اس پرمسلسل وحی نازل ہوتی ۔ اس موقع پر اوپروالی سورت نازل ہو ئی ( اور اس کی باتوں کا جواب دیا)۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث کے مطابق یہ سورہ نازل ہواتو پیغمبر نے جبرئیل سے فرمایا:

” تونے دیر لگادی حالانکہ میں شدت سے تیرا مشتاق تھا “، تو جبرئیل نے کہا :و انا کنت اشد الیک شوقا :“ میں تو خود آپ کا مشتاق تھا ، لیکن میں بندہ مامور ہوں اور پروردگار کی حکم کے بغیر نازل نہیں ہوتا“۔

ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں آئی اور” ذی القرنین “ و ” اصحابِ کہف“ اور” روح “ کی خلقت کے بارے میں سوال کیا: پیغمبر نے فرمایا:

” میں کل بتاو ں گا “ ، اور انشاء اللہ نہ کہا ، لہٰذا اسی وجہ سے وحی الٰہی کئی دن تک منقطع رہی “ اور دشمنوں کی زبان ِ شماتت سے کھل گئی،اور اس بناء پر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غمگین ہوگئے ، تو یہ سورہ نازل ہوا تاکہ پیغمبر کے دل کی تسلی کاباعث ہو(لیکن شان نزول بعید نظر آتی ہے ، کیونکہ یہودیوں کا پیغمبر سے آکر ملنا اور اس قسم کے سوالات کرنا عام طور پر مدینہ میں تھا نہ کہ مکہ میں )۔

بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ مسلمانوں کی ایک جماعت نے عرض کیا، اے رسول ِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ پر وحی کیوں نازل نہیں ہوتی ؟ آپ نے فرمایا: ” کیف ینزل علیّ الوحی و انتم لاتنقون براجمکم و التقلمون اظفارکم “

” مجھ پر وحی کیسے نازل ہو جب کہ تم اپنی انگلیوں کے جوڑوں کو پاک وصاف نہیں رکھتے ، اور ناخن نہیں کترواتے!؟(۲)

اس بارے میں کہ انقطاع وحی کی مدت کس قدر تھی ؟ مختلف روایات ہیں ۔ بعض نے بارہ دن ، بعض نے پندرہ دن ، بعض نے پچیس دن اور بعض نے چالیس دن تک نقل کئے ہیں ، اور ایک روایت میں صرف دو تین شب و روز بھی نقل ہوئے ہیں ۔

____________________

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۵۰۳۔

۲۔ ” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۰۴، ( تھوڑی سی تلخیص اور اقتباس کے ساتھ )۔


تجھے اس قدر عطا کرے گا کہ تو خوش ہوجائے گا

اس سورے کے آغاز میں بھی دو قسمیں کھائیں گئی ہیں :

۱ ۔ ”نور“ ( روشنی ) کی قسم

۲ ۔ ” ظلمت“ ( تاریکی ) کی قسم ، فرماتا ہے : ” قسم ہے دن کی جب کہ سورج نکل آئے اور ہر جگہ کو گھیر لے“ ( و الضحٰی)” اور قسم ہے رات کی جب کہ وہ ساکن اور ہر جگہ کو سکون و آرام میں غرق کردے“ ( و للیل اذا سجیٰ)۔ ” ضحی“دن کے پہلے حصہ کے معنی میں ہے جب کہ سورج آسمان پر اونچا ہو جائے ، اور اس کی روشنی ہر جگہ مسلط ہو جائے ،

اور یہ در حقیقت دن کا بہترین وقت ہوتا ہے ۔

اور بعض کی تعبیر کے مطابق یہ فصل جوانی کے حکم میں ہے ، جب کہ گرمیوں کی ہوا بھی گرم نہیں ہوتی، اور سر دیوں میں ہوا کی سردی ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے اور انسان کی روح و جان اس موقع پر ہر قسم کی فعالیت کے لئے آمادہ ہوتی ہے ۔ ” سجیٰ“ ” سجو“ ( بر وزن سرد، اور بر وزن غلو) کے مادہ سے اصل میں سکون و آرام کے معنی میں ہے ، اور چھپانے “ اور ” تاریک ہونے “ کے معنی میں بھی آیا ہے ، اسی لئے جب ” میت “ کو کفن میں لپیٹ دیتے ہیں تو اسے ” مسجی“ کہاجاتا ہے ۔

لیکن یہاں یہ وہی اصلی معنی دیتا ہے جو سکون و آرام ہے ۔ اسی وجہ سے ان راتوں کو جن میں ہوا نہ چلے ” لیلة ساجیة“ (آرام و سکون کی رات ) کہتے ہیں ،اور طوفان و امواج ِ خروشاں سے خالی سمندر کو ” بحر ساج“ ( پر سکون سمندر) کہا جاتا ہے ۔

بہر حال جو چیز رات کے سلسلہ میں اہم بات ہے وہی سکون و آرام ہے جو اس پر حکم فرما ہے ، اور طبعاً انسان کے اعصاب اور روح کو سکون و آرام میں ڈبو دیتی ہے ہے اور کل اور آئندہ آنے والے دنوں میں سعی اور کوشش کے لئے آمادہ و تیار کرتی ہے ۔ اس لحاظ سے یہ بہت ہی اہم نعمت ہے اور اس لائق ہے کہ اس کی قسم کھائی جائے ۔

ان دونوں قسموں اور آیت کے مضمون کے درمیان شباہت اور ایک قریبی ربط موجود ہے ۔ دن تو پیغمبر کے پاک دل پروحی کے نور کے نزول کی مانند ہے اور رات وقتی طو پر وحی کے انقطاع کے مانند ہے جو بعض مقاطع اور اوقات میں ضروری ہے ۔ ان دونوں عظیم قسموں کے بعد نتیجہ او رجواب ِ قسم کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے :” تیرے پروردگار نے ہر گز تجھے چھوڑا نہیں ہے ، اور نہ ہی تجھ سے غصہ ہوا ہے “۔( ماودعک ربک وما قلیٰ ) ۔

” ودع “ ” تودیع“ کے مادہ سے ، چھوڑنے اور وداع کردینے کے معنی میں ہے ۔

”قلیٰ“ ” قلا“ ( بروزن صدا) کے مادہ سے شدِت بعض و عداوت کے معنی میں ، اور مادّہ ” قلو“ ( بروزن سرو) پھینکنے اور دھکا دینے کے معنی میں بھی آیاہے ۔

راغب کا نظر یہ یہ ہے کہ یہ دونوں ایک ہی معنی کی طرف لوٹتے ہیں ، کیونکہ جو شخص کسی سے دشمنی کرتا ہے تو گویا دل اسے دھکادے دیتا ہے ، اور اسے قبول نہیں کرتا ۔(۱)

بہرحال یہ تعبیر پیغمبر کی ذات کے لئے ایک دلداری اور تسلی کے طور پر ہے کہ اچھی طرح یہ جان لیں کہ اگر کبھی نزول ِ وحی میں تاخیر ہو جائے تو وہ کچھ مصالح کی بناء پر ہوتی ہے جسے خدا ہی جانتاہے ، اور ہر گز اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ دشمنوں کے قول کے مطابق خدا اس سے خشمگیں اور غصہ ہوگیا ، یا اس کو چھوڑ دیا ہے۔ وہ ہمیشہ ہی خدا کے خاص لطف و کرم اور عنایات کے مشمول ہوتے ہیں اور ہمیشہ اس کی خاص حمایت کے زیر سایہ رہتے ہیں ۔

اس کے بعد مزید فرماتا ہے : ” بیشک عالم آخرت تیرے لئے اس دنیا سے بہتر ہے “۔( وللاٰخرة خیر لک من الاولیٰ ) اورتو اس دنیا میں بھی اس کے ا لطاف کامشمول ہے، اور آخرت کی دراز مدت میں خلاصہ یہ ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو دنیا میں بھی محترم ہے اور آخرت میں بھی محترم ہے، البتہ دنیا میں عزیز و محترم تر ہے ۔

بعض مفسرین نے ” آخرت“ اور ” اولیٰ “ کی پیغمبر کی عمر کے آغاز و انجام کی طرف اشارہ سمجھا ہے اور یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تو اپنی آخری عمر میں زیادہ موافق اور زیادہ کامیاب ہو گا ۔ اور یہ اسلام کی وسعت اور پھیلا و اور مسلمانوں کی دشمنوں پر بار بار کی کامیابیوں اور جنگوں میں ان کی فتوحات اور اسلام کے پودے باور ہونے اور شرک و بت پرستی کے آثار کے ہٹ جانے کی طرف اشارہ ہے

ان دونوں تفسیرکے درمیان جمع میں بھی کوئی مانع نہیں ہے ۔

اور آخری زیر بحث آیت میں پیغمبر کو افضل و بر تر خوش خبری دیتے ہوئے مزید فرماتا ہے :” عنقریب تیرا پروردگار تجھے اس قدر عطا کرے گا کہ تو خوش ہوجائے گا “۔( ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ ) ۔

یہ خدا کا اپنے بندہ خاص محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بالاترین احترام و اکرام ہے کہ فرماتا ہے : اس قدر تجھے بخشوں گا کہ تو راضی ہوجائے گا“۔

دنیا میں تو دشمنوں پرکامیاب ہو جائے گااور تیرا دین عالم گیر ہو جائے گا، اور آخرت میں بھی تو عظیم ترین نعمتوں کا مشمول ہو گا۔

اس میں شک نہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، خاتم ِ انبیاء اور عالم ِ بشریت کا رہبر ہو نے کی حیثیت سے صرف اپنی ہی نجات پر خوش ہو سکتے ،بلکہ آپ اس وقت راضی و خوش ہوں گے جب آپ کی شفاعت آپ کی امت کے بارے میں قبول ہو جائے گی ، اس بناء پر روایات میں آیاہے کہ یہ آیت امید بخش ترین آیت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت کے قبول ہونے کی دلیل ہے ۔

ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیاہے کہ انہوں نے اپنے باپ زین العابدین علیہ السلام سے انہوں نے اپنے چچا ” محمد بن حنفیہ “ سے ، انہوں نے اپنے باپ امیر المومنین علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” قیامت کے دن میں موقف شفاعت میں کھڑا ہو جاو ں گا اور گناہ گاروں کی اس قدر شفاعت کروں گا ، کہ خدا فرمائے گا:

” ارضیت یا محمد؟! ” اے محمد کیا تم راضی ہوگئے“؟!تو میں کہوں گا، رضیت، رضیت : ” میں راضی ہوگیا ، میں راضی ہو گیا“!اس کے بعد امیر المومنین علیہ السلام نے اہل کو فہ کی ایک جماعت کی طرف رخ کیا اور مزید فرمایا - تمہارا یہ نظریہ ہے کہ قرآنی آیات میں سب سے زیادہ امید بخش آیت ”( قل یا عبادی الذی اسرفوا علیٰ انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله ) “ ہے ( یعنی اے میرے بندو! جنہوں نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو)۔ اس جماعت نے کہا : جی ہاں ! ہم اسی طرح ہیں :آپ نے فرمایا : ” لیکن ہم اہل بیت یہ کہتے ہیں کہ آیاتِ قرآنی میں سب سے زیاد ہ امید بخش آیت ” ولسوف یعطیک ربک فتر ضیٰ “ ہے ۔(۲)

یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ پیغمبر کی شفاعت کے لئے کچھ شرائط ہیں ، نہ تو آپ ہر شخص کےلئے شفاعت کریں گے اور نہ ہیں ہر گنہگار اس کی توقع رکھ سکتا ہے ۔ ( اس کی بحث کی تفصیل جلد اول سورہ بقرہ کی آیت ۴۸ میں مطالعہ فرمائیے)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیاہے :

” رسول خدا فاطمہ کے گھر میں داخل ہوئے، جب کہ آپ کی بیٹی اونٹ کی اون کا سخت لباس پہنے ہوئے تھیں ، ایک ہاتھ سے چکی پیس رہی تھیں ، اور دوسرے ہاتھ سے اپنے فرزند کو دودھ پلارہی تھیں ، پیغمبر صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا، بیٹی ! دنیاکی تلخی کو آخرت کی شیرینی کے مقابلہ میں برداشت کر، کیونکہ خدا نے مجھ پر یہ نازل کیا ہے کہ تیراپروردگار اس قدر تجھے دے گا کہ تو راضی ہوجائے گا“۔

( ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ ) (۳)

____________________

۱۔ یہ مادہ ” ناقص یائی“ کی صورت میں بھی آیاہے اور ” ناقص“ واوی“ کی صورت میں بھی پہلی صورت میں بغض و عداوت کے معنی میں ہے ، اور دوسری صورت میں پھینکنے اور دھکادینے کے معنی میں ہے ، اور جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے دونوں معنی ایک ہی جڑ اور ریشہ کی طرف لوٹتے ہیں ۔

۲۔ ” ابو الفتوح رازی “ جلد ۱۲، صفحہ ۱۱۰۔

۳۔ ” مجمع البیان “ جلد۱۰، ص ۵۰۵۔


انقطاع وحی کا فلسفہ

اوپر والی آیات کے مجموعہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ خدا کی جانب سے ہے، یہاں تک کہ نزول وحی میں بھی آپ اپنی طرف سے کوئی اختیار نہیں رکھتے، جس وقت خدا چاہے وحی کو منقطع کردے، اور جس وقت چاہے بر قرار کردے اور شاید انقطاعِ وحی بھی اسی مقصد کے لئے تھا، تاکہ ان لوگوں کا جواب ہو جو پیغمبرِ اکرم صلی علیہ و آلہ وسلم سے اپنے من مانے اور اپنے میلان کے مطابق معجزوں کا تقاضا کرتے تھے ، یا آپ سے فرمائش کرتے تھے کہ فلاں حکم فلاں آیت کو بدل دیجئے، اور آ پ ان سے یہ فرماتے کہ میں ان امور میں اپنی طرف سے کوئی اختیار نہیں رکھتا ، ( جیسا کہ سورہ یونس کی آیہ ۱۵ میں آیاہے )۔

آیات ۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱

۶ ۔( الم یجد ک یتیماً فاٰوٰی ) ۔ ۷ ۔( ووجدک ضآلاًّ فهدٰی ) ۔ ۸ ۔( ووجدک عآئلاً فاغنٰی ) ۔

۹ ۔( فاما الیتیم فلا تقهر ) ۔ ۱۰ ۔( و اما السآئِل فلا تنهر ) ۔ ۱۱ ۔( و اما بنعمةِ ربک فحدِّث ) ۔

ترجمہ

۱ ۔ کیا تجھے یتیم نہیں پایا تو پھر پناہ دی؟ ۷ ۔ اور تجھے گمشدہ پایاتو راہنمائی کی ۔ ۸ ۔اور تجھے فقیر پایا تو بے نیاز کیا۔

۹ ۔ اب جب کہ یہ بات ہے تو یتیم کو حقیر نہ سمجھ۔ ۱۰ ۔ اور سوال کرنے والے کو نہ دھتکار۔ ۱۱ ۔ اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کو یاد کر۔

ان تمام نعمتوں کے شکرانے میں جو خدا نے تجھے دی ہیں

جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں اس سورہ میں ہدف اور مقصد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تسلی و دلداری اور آنحضرت کے لئے الطاف الہٰی کابیان ہے ۔ لہٰذا گزشتہ آیات کو جاری کرتے ہوئے ، جن میں اس مطلب کو بیان کیا گیا تھا، زیر بحث آیات میں پہلے تو پیغمبر ِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خدا کی تین خاص نعمتوں کا ذکر کرتا ہے ، اور اس کے بعد انہیں سے مربوط تین اہم حکم انہیں دیتاہے۔

فرماتا ہے : کیا خدا نے نے تجھے یتیم نہیں پایا تو تجھے اس نے پناہ دی ؟( الم یجد ک یتیماً فاٰوٰی ) ۔

تو ابھی شکم مادر ہی میں تھا کہ تیرا باپ اس دنیا سے چل بسا ، تو میں نے تجھے تیرے جد عبد المطلب ( سردارِکہ) کی آغوش میں میں پرورش کرائی۔

توچھ سالکا تھا تیری ماں دنیا سے چل بسی اور اس لحاظ سے بھی تو اکیلا رہ گیا ، لیکن ہم نے تیرے عشق و محبت کو ” عبد المطلب “ کے دل میں زیادہ کردیا۔

تو آٹھ سال کاہوا تو تیرا دادا ” عبد المطلب“ بھی دنیا سے رخصت ہو گیا “، تو ہم نے تیرے چچا ” ابو طالب “ کو تیری خدمت و حمایت کے لئے مقرر کردیا ، تاکہ تجھے جانِ شیریں کی طرح رکھے اور تیری حفاظت کرے۔

ہاں ! تو یتیم تھا اور میں نے تجھے پناہ دی۔

بعض مفسرین نے اس آیت کے کچھ اوردوسرے معنی بیان کئے ہیں جو اس کے ظاہر کے ساتھ ساز گار نہیں ، منجملہ ان کے یہ ہے کہ یتیم سے مراد وہ شخص ہے جو شرافت و فضیلت میں اپنامثل ونظیر نہ رکھتا ہو، جیساکہ بے نظیر موتی کو” در یتیم “ کہتے ہیں ، لہٰذا اس جملہ کامعنی یہ ہوگا کہ خدا نے تجھے شرافت و فضیلت میں بے نظیرپایا ۔ اس لئے تجھے انتخاب کیا اور مقامِ نبوت بخشا۔ دوسرا یہ کہ تو خود ایک دن یتیم تھا لیکن آخر کار تویتیموں کو پناہ گاہ اور انسانوں کا رہبر ہو گیا ۔

اس میں شک نہیں کہ پہلا معنی ہر لحاظ سے زیادہ مناسب ہے اور ظاہر آیت کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے ۔

اس کے بعد دوسری نعمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” اور تجھے گمشدہ پایاتو تیری راہنمائی کی “۔( ووجدک ضا لاًّ فهدٰی )

ہاں ! تو ہر گز نبوت و رسالت سے آگاہ نہیں تھا ، اور ہم نے یہ نور تیرے دل میں ڈالا ، تاکہ تو اس کے ذریعہ انسانوں کو ہدایت کرے،جیسا کہ ایک دوسری جگہ فرماتاہے :”( ماکنت ماالکتاب و لا الایمان و لٰکن جعلناه نوراً نهدی به من نشاء من عبادنا ) : ”نہ توتو کتاب ہی کو جانتاہے اورنہ ہی ایمان کو“ ( یعنی نزول وحی سے پہلے تواسلام و قرآن کے مطالب سے آگاہ نہیں تھا ) لیکن ہم نے اس کو ایک ایسا نور قرار دیا ہے کہ جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں جسے چاہیں ہدایت کرتے ہیں “ ( شورٰ۔ ۵۲)

یہ بات واضح ہے کہ پیغمبر کے پاس مقام نبوت و رسالت تک پہنچنے سے پہلے یہ الٰہی فیض نہیں تھا ۔ خدا نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر ہدایت فرمائی اور اس مقام تک پہنچا دیا ، جیساکہ سورہ یوسف کی آیہ ۳ میں آیا ہے :( نحن نقص علیک احسن القصص بما اوحینا الیک القراٰن و ان کنت من قبله لمن الغافلین ) :” ہم نے قرآن کی وحی کے ذریعہ ایک بہترین داستان تیرے لئے بیان کی ہے ، اگر تو اس سے پہلے اس سے آگاہ نہیں تھا ۔

یقینا اگر ہدایت الہٰی اور غیبی امدادیں پیغمبر کے ہاتھ کو نہ پکڑتیں تو وہ ہر گز منزلِ مقصود کا راستہ نہ پاتے۔

اس بناء پریہاں ” جلالت“ سے مراد ایمان ، توحید، پاکیزگی اور تقویٰ کی نفی نہیں ہے ، بلکہ ان آیات کے قرینہ سے جن کی طرف اوپر اشارہ ہواہے، اسرارِ نبوت اور قوانینِ اسلام سے آگاہی کی نفی ، اور ان حقائق سے عدم آشنائی تھی، جیسا کہ بہت سے مفسرین نے کہا ہے لیکن بعثت کے بعد پروردگار کی مدد سے ان تمام امور سے واقف ہو گئے اور ہدایت پائی، ( غور کیجئے)۔

سورہ بقرہ کی آیہ ۲۸۲ میں قرضوں کی سند لکھنے کے مسئلہ میں متعدد گواہوں کے فلسفہ کو ذکر کرتے وقت فرماتا ہے : ”( ان تضل احداهما فتذکر احدهما الاخرٰی ) :”یہ اس بناء پر ہے کہ اگر ان دونوں میں سے ایک گمراہ ہو جائے اور بھول جائے تو دوسرا ،اسے یاد دلادے“۔

اس آیت میں ” ضلالت“ صرف صرف بھول جانے کے معنی میں ہے ” فتذکر“ کے جملہ کے قرینہ سے ۔

یہاں اس آیت کے لئے اور بھی کئی تفاسیربیان ہوئی ہیں ، منجملہ ان کے یہ کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تو بے نام و نشان تھا ، خدا نے تجھے اس قدر بے نظیر نعمتیں عطا کیں کہ تو ہر جگہ پہچانا جانے لگا۔

ہاں ا س سے مراد یہ ہے کہ تو اپنے بچپنے میں کئی مرتبہ گم ہوا۔ ( ایک دفعہ مکہ کے درّوں میں جب کہ تو عبد المطلب کی پناہ میں تھا، اور دوسری مرتبہ اس وقت جب تیری رضاعی ماں ” حلیمہ سعدیہ“ دودھ پلانے کی مدت کے اختتام پر تجھے مکہ کی طرف لا رہی تھی تاکہ تجھے عبد المطلب کے سپرد کردے تو تو راستہ میں گم ہوگیا ، اور تیسری مرتبہ اس وقت جب تو اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ اس قافلہ میں جو شام کی طرف جا رہاتھا ،ایک تاریک اور اندھیری رات میں گم ہو گیا تھا ) اور خدا نے ان تمام موارد میں تیری راہمنائی کی اور تجھے تیرے جد یا چچا کی محبت بھری آغوش میں تک پہنچا دیا۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ” ضال“ لغت کے لحاظ سے دو معنی کے لئے آیاہے : ۱ ۔” گم شدہ “ ۲ ۔ ”گم راہ“مثلاً کہاجاتا ہے کہ :الحکمة ضالة المو من : حکمت و دانش مومن کی گم شدہ چیز ہے “۔

اور اسی مناسبت سے مخفی اور غائب کے معنی میں بھی آیاہے جیساکہ سورہ سجدہ کی آیہ ۱۰ میں آیا ہے : منکران معاد کہاکرتے تھے :

( ءَ اذا ضللنا فی الارض ءَ اناّ لفی خلق ) جدید:کہ جب ہم زمین میں پنہاں اور غائب ہو جائیں گے تو پھر نئی خلقت اختیار کریں گے“؟۔

اگر زیر بحث آیت میں ” ضال“ گم شدہ کے معنی میں ہو تو پھر کوئی مشکل پیش نہیں آتی ، ( یعنی تو گمشدہ تھا ،لوگ تیری عظمت و شرافت سے ناواقف تھے، پس ہم نے انہیں تیری طرف ہدایت کی ، ( مترجم )

اور اگر یہ ” گمراہ کے معنی میں ہوتو اس مراد بعثت سے پہلے راہ نبوت و رسالت تک دسترس نہ رکھتا ہو گا، یا دوسرے لفظوں میں پیغمبر اپنی ذات میں کوئی چیز نہیں رکھتے تھے، جو کچھ تھا وہ خدا کی طرف سے تھا، اس بناء پر دونوں ہی صورتوں میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

اس کے بعد تیسری نعمت کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے : خدا نے تجھے فقیر یا غنی و بے نیاز کردیا “۔( ووجدک عائلاً فاغنیٰ ) ۔(۱)

جناب ”خدیجہ (رض) “جیسی مخلص و باوفا خاتون کی توجہ تیری طرف مبذول کی ، تاکہ وہ اپنی عظیم ثروت و دولت کو تیرے اختیار میں دے دے اور تیرے عظیم اہداف و مقاصد کے لئے وقف کردے ، اور اسلام کے غلبہ کے بعد جنگوں میں بکثرت مال ہائے غنیمت تجھے عطا کئے ، اس طرح سے کہ تو اپنے عظیم مقاصد تک پہنچنے کے لئے بے نیاز ہوگیا ۔

ایک روایت میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے ان آیات کی تفسیر میں اس طرح فرمایا :

( الم یجدک یتیماً فاٰوٰی قال: فرداً لا مثل لک فی المخلوقین، فاٰوٰی الناس الیل، ووجد ک ضالاً ای ضا لة فی قوم لایعرفون فضلک فهداهم الیک، ووجدک عائلاًتعول اقواماً بالعلم فاغناهم بک ) :“

” کیا ہم نے تجھے اپنی مخلوق کے اندر یتیم یعنی بے نظیرفرد نہیں پایا تو ہم نے لوگوں کو تیری پناہ میں دے دیا ، اور تجھے اپنی قوم کے درمیان گمشدہ اور نا پہچانا ہوا پایا ، جو تیرے مقامِ فضل کو نہیں پہچانتے تھے ، تو خدا نے انہیں تیری طرف ہدایت کی اور تجھے علم و دانش میں اقوامِ عالم کا سر پرست قرار دیا اورا نہیں تیرے ذریعے بے نیاز کردیا۔(۲)

البتہ یہ حدیث آپ کے بطون کو بیان کرتی ہے ورنہ آیت کا ظاہر وہی ہے ، جو اوپربیان کیا گیا ۔

لیکن یہ تصور نہیں ہونا چاہئیے کہ یہ امور جو آیت کے آخر میں بیان ہوئے ہیں ۔ پیغمبر کے مقامِ بلندمیں کمی اورنقص کا سبب ہیں ، یا آپ کے بارے میں پر وردگار کی طرف سے منفی تو صیف ہے۔ بلکہ یہ تو حقیقت میں الطاف الٰہی اور اس عظیم پیغمبر کے بارے میں اس کے اکرام و احترام کابیان ہے ، جب محبوب دلباختہ عاشق کے بارے میں اپنے لطف و کرم کی بات کرتا ہے تو یہ خود ایک لطف و کرم کی بات کرتاہے تو یہ خود ایک لطف و محبت ہے اور اس کے لطف خاص کی دلیل ہے اور اسی بناء پرمحبوب کی طرف سے ان الفاظ کی سننے سے اس کی روح تازہ ہوجاتی ہے، اور ان کی جان میں صفا پید اہوتی ہے ، اور اس کے دل کو آرام و سکون حاصل ہو تاہے ۔

بعد والی آیات میں گزشتہ آیات کا نتیجہ نکالتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین احکام دیتی ہے، اگر چہ ان میں مخاطب رسول اللہ کی ذات گرامی ہے، لیکن یقیناً وہ سب کو شامل ہیں ، پہلے فرماتا ہے ، : جب معاملہ یہ ہے کہ تو پھر یتیم کی تحقیر و تذلیل نہ کر“( فاما الیتیم فلاتقهر ) ۔

”تقھر“ ” قھر“کے مادہ سے ” مفردات“میں ” راغب“ کے قول کے مطابق ، اس غلبہ کے معنی میں ہے جس کے ساتھ تحقیر ہو، لیکن ان دومعانی میں سے ہر ایک کے لئے علٰیحدہ بھی استعمال ہوتا ہے، اور یہاں مناسب وہی ” تحقیر“ ہی ہے ۔ یہ چیز اس بات کی نشا دہی کرتی ہے کہ یتیموں کے بارے میں اگر چہ اطعام و انفاق کا مسئلہ بھی اہم ہے لیکن اسے سے بھی زیادہ اہم دل جوئی و نوازش اور شفقت کی کمی کو رفع کرنا ہے۔ اسی لئے ایک مشہور حدیث میں آیاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :”من مسح علی رأس یتیم کان له بکل شعره تمر علی یده نور یوم القیامة “۔

” جو شخص نوازش و مہر بانی کے ساتھ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے تو ہر بال کی تعداد کے مطابق جس پر اس کا ہاتھ پھرے گا قیامت میں ایک نور ہو گا“۔(۳)

گویا پیغمبر سے فرماتاہے : توخودبھی یتیم تھا ، اور تونے بھی یتیمی کا رنج اور تکلیف اٹھائی ہے ، تو اب تو دل و جان سے یتیموں کی نگہبانی کر ، اور ان کی پیاسی روح کو محبت کے ساتھ سیراب کر۔

اور بعد والی آیت میں دوسرے حکم کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے :

” اور سوال کرنے والے کو نہ دھتکار“( و اما السائل فلاتنهر ) ۔

”لا تنھر“ ”نھر“کے مادہ سے سختی کے ساتھ دھتکار نے“ کے معنی میں ہے ۔ اور بعید نہیں ہے کہ اس کی اصل” نھر“ ہو اور جاری پانی کو نہر کے معنی کے ساتھ ایک ہو ، کیونکہ وہ بھی پانی کی شدت کے ساتھ دھکیلتی ہے ۔

اس بارے میں کہ یہاں ” سائل “ سے کون مراد ہے ؟ چند تفسیریں موجود ہیں ، پہلی یہ کہ اس سے ایسے افراد مراد ہیں جو علمی، اعتقادی اور دینی مسائل میں سوالات رکھتے ہیں ، اور قرینہ ا س کا یہ ہے کہ یہ حکم اس چیز پر جو گزشتہ آیات میں آیاہے متفرع ہے، ” ووجدک ضالا فھدٰی“ خدا نے تجھے گم شدہ پایا تو تجھے ہدایت کی ، پس اس ہدایتِ الٰہی کے شکرانے کے طور پر ہدایت کے نیاز مندوں کے لئے کوشاں راہ، اور اس کسی ہدایت کا تقاضا کرنے والے کو اپنے پاس سے نہ دھتکار۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جو مادہ لحاظ سے فقیر ہیں اور وہ تیرے پاس آتے ہیں ، توجتنی تجھ میں طاقت ہے اس کے مطابق عمل کر اور انہیں مایوس نہ کر اور اپنے پاس سے نہ دھتکار ۔

تیسری تفسیر یہ ہے کہ یہ فقرِ علمی اور فقرِ مادی دونوں کو بیان کررہی ہے ، اور اس کا حکم یہ ہے کہ ہر قسم کا سوال کرنے والے کو مثبت جواب دے ، یہ معنی پیغمبر کے لئے خدا کی ہدایت کے ساتھ بھی مناسبت رکھتا ہے ، اور ان کی یتیمی کے زمانے میں ان کی سر پرستی سے بھی مناسبت رکھتا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض مفسرین نے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ سائل سے مراد یہاں صرف علمی مسائل کے بارے میں سوال کرنے والا ہے ، کہا ہے کہ ” سائل کی تعبیر قرآن مجید میں ہر گز مالی تقاضا کرنے والوں کے لئے نہیں آئی۔(۴)

حالانکہ یہ قرآن میں بارہا اس معنی میں استعمال ہوا ہے ، چنانچہ سورہ ذاریات کی آیہ ۱۹ میں آیا ہے:( و فی اموالهم حق للسائل و المحروم ) :”ان کے مالوں میں سائل اور محروم کے لئے حق ہے اور یہی معنی سورہ معارج کی آیہ ۲۵ اور سورہ بقرہ آیہ ۱۷۷ میں بھی آیاہے۔

اور آخر میں تیسرے اور آخری حکم میں فرماتا ہے : اور باقی رہیں تیرے پروردگار کی نعمتیں تو توان کو بیان کر“ ( و اما بنعمة ربک فحدث)۔

نعمت کوبیان کرنا کبھی تو زبان سے ہوتا ہے اور ایسی تعبیروں سے جو انتہائی شکر و سپاس کی ترجمان ہوتی ہیں ، نہ کہ غرور و تکبر اور برتری کے خیال سے، اور کبھی عمل سے بھی ہوتا ہے اس طرح کے اس سے راہ ِ خدا میں انفاق وبخشش کرے، ایسی بخشش جو اس بات کی نشان دہی ہوکہ خدا نے اسے فرواں نعمت عطا کی ہے ۔

یہ سخی اور کریم لوگوں کی سنت ہے کہ انہیں کو ئی نعمت ملتی ہے تو وہ اسے بیان کرتے ہیں اور خد اکا شکر بجا لاتے ہیں ۔

اور ان کا عمل بھی اس حقیقت کی تائید و تاکید کرتا ہے ، پست ہمت بخیلوں کے بر عکس جو ہمیشہ نالہ و فریاد کرتے ہیں ، اور اگر ساری دنیا بھی انہیں دے دیں تو بھی نعمتوں پر پردہ پوشی ہی کرتے رہتے ہیں ۔ ان کاچہرہ فقیرانہ اور ان کی باتیں آہ و زاری کے ساتھ، اور ان کا عمل بھی فقر و فاقہ کو بیان کرنے والا ہوتاہے ۔

یہ اس حالت میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہواہے کہ آپ نے فرمایا :

انّ الله تعالیٰ انعم علی عبده نعمة یحب ان یری اثر النعمة علیه

” خدا وند عالم جب کسی بندہ کو کوئی نعمت دیتا ہے ، تو وہ اس بات کو دوست رکھتا ہے کہ اس پر نعمت کے آثار دیکھے“(۵)

اس بناء پر آیت کا ماحصل اس طرح ہے : اس بات کے شکرانے میں کہ تو فقیر تھا اور خدا نے تجھے بےاز کیا ہے ، تو بھی نعمت کے آثارکو آشکار، اور گفتار و عمل سے اس خدائی نعمت کو بیان کر۔

لیکن بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہاں ” نعمت“ سے مراد صرف معنوی نعمتیں ہیں ، منجملہ انکے نبوت یا قرآن مجید ہے کہ پیغمبر ا سکی تبلیغ کے ذمہ دار تھے، اور نعمت کوبیان کرنے سے مراد یہی ہے ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ یہ تمام مادی و معنوی نعمتوں کو شامل ہو۔

لہٰذا ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیاہے کہ آپ نے فرمایا : کہ آیت کا معنی اس طرح ہے :

حدث بما اعطاک الله ، وفضلک ، و رزقک،و احسن الیک وهداک :

” جو کچھ خدا نے تجھے بخشا ہے، برتری دی ہے ، روزی عطا کی ہے، اور تیرے ساتھ نیکی اور احسان کیا ہے اور تجھے ہدایت کی ہے ، ان سب کو بیان کر“(۶)

اور بالآخرہ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک دستور کلی کے عنوان سے آیا ہے :

من اعطی خیراً فلم یر علیه، سمی یغیض الله معادیاً لنعم الله

” جس شخص کو کوئی خیر و نعمت دی جائے ، لیکن اس کی شخصیت میں اس کے آثار نظر آئیں تو اسے خد اکا دشمن اور ا س کی نعمتوں کا مخالف شمار کرنا چاہئیے۔(۷)

ہم اس گفتگو کو امیر المومنین کی ایک دوسری حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا:

انّ الله جمیل یحب الجمال ، و یحب ان یری اثر النعمة علی عبده “۔

” خدا جمیل ہے اور وہ جمال و زیبائی کو دوست رکھتا ہے ، اور اسی طرح سے وہ اس بات کو دوست رکھتا ہے کہ اپنے بندے پر نعمت کے آثار دیکھے“۔(۸)

____________________

۱۔”عائل“ اصل میں عیال دار شخص کے منعی میں ہے ، چاہے وہ غنی و توانگر ہو ، لیکن یہ لفظ فقیر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اور زیر بحث آیت میں اسی معنی کی طرف اشارہ ہے ۔ ” راغب“ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر” عال“ اجوف یائی ہو تو فقیر کے معنی میں ہے ، اور اجوف واوی ہو تو کثیر العیال کے معنی میں ہوتاہے ، (لیکن ان دونوں کالازم و ملزوم ہونا بعید نہیں ہے )۔

۲۔ ” مجمع البیان “ جلدا۱۰ ، ص۵۰۶۔

۳۔ ” جمع البیان “ جلد۱۰ ،ص۵۰۶۔

۴۔ ” تفسیرعبدہ، جزء عم ،ص۱۱۳۔

۵۔ ” نہج الفصاحة“ حدیث۶۸۳۔

۶۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص۵۰۷۔

۷۔ ” تفسیر قرطبی“ جلد ۱۰ص ۷۱۹۲ ، اسی معنی کے قریب قریب کافی جلد ۶۔ کتاب الذی و التجمل حدیث ۲ میں بھی آیاہے۔

۸۔ فروع کافی جلد۶ ص ۴۳۸ حدیث۔


۱ ۔ مصائب و آرام کے درمیان سے مبعوث ہونے والا پیغمبر

اوپر والی آیات جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خد اکی نعمتوں کی تشریح و تفصیل کو بیان کرتی ہیں ، ضمنی طور پر اس نکتہ کوبھی بیان کرتی ہیں کہ آپ بچپن کے آغاز سے ہی یتیم تھے، مادی لحاظ سے سخت و شدید حالات میں زندگی بسر کررہے تھے، مصائب و آلام میں گھرے ہوئے تھے اور انہیں مصائب میں مبعوث ہوئے تھے اور یسا ہی ہونا چاہئیے۔

ایک دائی اور انسانی رہبر کو زندگی کی تلخیوں کو چکھنا ، پریشانیوں کو ذاتی طور پر لمس کرنا ، اور اپنے سارے وجود کے ساتھ تلخیوں کا احساس کرنا چاہئیے، تاکہ معاشرے کے محروم طبقات کی صحیح طور پر قدر کرسکے، اور ایسے لوگوں کے حالات سے جو مصائب و آلام میں مبتلا ہیں باخبر ہو سکے۔

پھر بچپن میں ہی باپ ( کی شفقت ) سے محروم ہوجائے، تاکہ اپنے یتیم بچوں کو مصیبت سے باخبرکرہے، دن اس کے بھوک میں گزریں اور راتوں کو بھوکا سوئے تاکہ بھوکوں کو درد اور تکلیف کو اپنے سارے وجود کے ساتھ محسوس کرے۔

یہی وجہ ہے کہ جب آپ کسی یتیم کو دیکھتے تھے تو آپ کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہو جاتے تھے ۔ اسے اپنی گود میں بٹھاتے تھے، اس سے نوازش وشفقت کرتے تھے ، اور جان شریں کی طرح اپنی آغوش میں لے لیتے تھے۔

اورپھر اس نے معاشرے کے تمدن میں فقر کو اچھی طرح سے درک کیاہو، تاکہ جو لوگ علم و دانش کے حصول کے لئے اس کی خد مت میں آئیں ان کا احترام کرے، اور کھلی آغوش کے ساتھ ان کی پذیرائی کرے۔

نہ صرف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بلکہ شاید تمام انبیاء مصائب اور محرومیوں کے پرور دہ تھے ، اور نہ صرف انبیاء بلکہ تمام سچے اور موفق رہبر ایسے ہی ہوئے ہیں اور انہیں ایسا ہی ہونا چاہیئے۔

جس شخص نے ناز و نعمت کے درمیان پرورش پائی ہو، شان و شوکت والے محلوں میں زندگی بسر کی ہو ، اس نے جب بھی کوئی خواہش کی ہو وہ پوری ہو گئی ہو، وہ محروم لوگوں کے درد و تکلیف کو کس طرح سے درک کرسکتا ہے، اور فقراء و مساکین کے کاشانوں اور یتیموں کے گھروں کا منظر اس کی نظروں میں کیسے مجسم ہو سکتا ہے اور وہ ان کی کمک اور مدد کے لئے بے تابی کے ساتھ کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟!

ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے آیا ہے :

ما بعث الله نبیاً قط حتی یسترعیه الغنم یعلمه بذالک رعیة الناس

”خد انے ہر گز کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا جبکہ اس سے بھیڑ بکریوں کی چوپانی کا کام نہیں کرایا ، تاکہ وہ اس طریقہ سے انسانوں کی نگہبانی کا طریقہ سیکھ سکیں “۔(۱)

یعنی ایک تو رنج و تکلیف بر داشت کیا ، دوسرے کم شعور افراد سے مقابلہ میں صبر و تحمل کا تجربہ کیااور کوہ و صحرا اور فطرت و مادہ کی آغوش میں توحیدو عرفان کے عظیم سبق حاصل کئے ۔

اور ایک حدیث میں آیاہے ” موسیٰ بن عمرا ن“ نے اپنے خدا سے سوال کیا کہ میں کس بناء پر اس مقام تک پہنچا؟خطاب قدر ت ہوا ، کیاتجھے وہ دن یاد ہے جب گوسفند کا ایک بچہ تیرے گلہ سے بھاگ گیا تھا ؟ پھر تو اس کو دوش پر اٹھا کرگوسفندوں کے گلہ میں واپس لے آیا، میں نے اسی بناء پر تجھے مخلوق کا سر پرست بنا دیا ہے۔ ( ایک جانور کے مقابلہ میں تیرا یہ عجیب و غریب تحمل و حوصلہ ، تیری عظیم روحی قدرت کی دلیل ہے۔ لہٰذا تو اس عظیم مقام کے لائق ہے)۔

____________________

۱۔” بحار الانوار“ جلد ۱۱ ، ص ۶۴ حدیث ۷۔


۲ ۔ یتیموں پر نوازش و شفقت

چھوٹے چھوٹے یتیم بچوں کاوجود ، جوبچپنے میں اپنے باپ ( کی شفقت) سے محروم ہو چکے ہوں ، ہر معاشرے میں اجتناب ناپذیر ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے بچوں کی کئی جہات سے حمایت ہونی چاہئیے۔

شفقت و مہر بانی کے لحاظ سے بہت سے محرومیاں ہوتی ہیں ۔ اگر ان کے وجود کا خلا اس لحاظ سے پر نہ ہوتوغیر صحیح، غیر سالم، اور بہت سے مواقع ہر سنگ دل ، مجرم اور خطر ناک بچے پروان چڑھتے ہیں ۔ علاوہ ازیں عواطف انسانی کا تقاضا یہ ہے کہ تمام لوگ ان کی طرف معاشرے کے تمام بچوں کی طرح توجہ اور حمایت کریں ۔ اور ان تمام باتوں سے قطع نظر لوگ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں ، جو ممکن ہے انہیں حالات سے دوچار ہو جائیں ، مطمئن ہوں ۔

بہت سے موارد میں یتیم بچے ایسے مال کے مالک ہوتے ہیں جسے وقت و امانت کے ساتھ ان کے مستقبل کے لئے محفوظ رکھناچاہئیے۔ اور بہت سے موارد میں ان کے ہاں مالی امکانات و وسائل کا فقدان ہوتا ہے ۔ لہٰذا انہیں اس لحاظ سے بھی موردتوجہ ہونا چاہئیے اور دوسرے لوگوں کو، مہر بان ماں باپ کی طرح ، ان کی روح سے یتیمی کے رنج اور تکلیف کو دور کرنا چاہئیے اور تنہائی کے کے گرد و غبار کو ان کے چہرے سے ہٹا دینا چاہئیے۔

اسی لئے قرآن مجید کی آیات، اور بہت سی اسلامی روایات میں اس مسئلہ پر تکیہ ہواہے جس میں اخلاقی پہلو بھی ہے اور معاشرتی اور انسانی پہلو بھی۔

یہ حدیث پیغمبر اکرام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے معروف ہے کہ آپ نے فرمایا:

ان الیتیم اذابکی اهتز لبکائه عرش الرحمٰن

” جب یتیم روتا ہے کہ خدائے رحمن کا عرش لرز ا ُ ٹھتا ہے “۔

” خدا اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے : اے میرے فرشتو! اس یتیم کو جس کا باپ مٹی میں روپوش ہو گیا ہے ، کس نے رلادیا؟فرشتے کہتے ہیں : خد ایا تو زیادہ بہتر طور سے جانتا ہے تو خدا فرماتا ہے : اے میرے فرشتو! میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ جو شخص اس کو رونے سے خاموش کرے گا اور اس کے دل کو خوش کرے گا ، میں قیامت کے دن اسے خوش کروں گا ۔ “ ۱

اس سے بالاتر ایک اور حدیث میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیاہے:

اذا بکی الیتیم وقعت دموعه فی کف الرحمن “۔

” جب یتیم روتا ہے تو اس کے آنسوں خدائے رحمن کے ہاتھ میں پڑتے ہیں ۔(۲)

ایک اور حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بھی آیاہے کہ آپ نے فرمایا:

انا و کافل الیتیم کهاتین فی الجنة اذا اتقی الله عزوجل و اشار بالسبابة وا لوسطی

”میں اور یتیم کا سر پرست ان دو کی طرح جنت میں ہوں گے، بشر طیکہ وہ خوفِ خدا اور تقویٰ رکھتا ہو۔ پھر آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا، ۳

اس موضوع کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امیر المومنین علی علیہ السلام نے اپنے مشہور وصیت نامہ میں یتیموں کی طرف توجہ اور دھیان دینے کو نماز و قرآن کی طرف توجہ کرنے کے ساتھ قرار دیا ہے ،فرماتے ہیں :

الله الله فی الایتام فلا تغلبوا افواههم ولایضیعوا بحضرتکم “:

” خدا کو یاد رکھو، خدا کو یاد رکھو! یتیموں کو کبھی سیر اور کبھی بھوکا نہ رکھو اور تمہارے سامنے وہ ضائع نہ ہوں ۔(۴)

ایک حدیث میں پیغمبر کے ایک صحابی سے آیا ہے ، وہ کہتا ہے کہ ہم رسول خدا کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بچہ آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : ” میں ایک یتیم بچہ ہوں ، میری ایک یتیم بہن ہے، اور ایک بیوہ ماں ہے ، جو جو کچھ خدا نے آپ کو کھانے کے لئے دیا ہے اس میں سے ہمیں بھی کھلائیے تاکہ خدا کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے وہ آپ کو اس قدر دے کہ آپ راضی ہوجائیں “!

” بیٹا تم نے کتنی اچھی بات کہی ہے ! پھر آپ نے حضرت بلا ل (رض) کی طرف رخ کیا جاو اور جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ لے آو ۔ بلال اکیس( ۲۱) خرمے کے دانے لے آئے پیغمبر نے فرمایا : سات دانے تیرے اور سات دانے تیری بہن کے اور سات دانے تیری ماں کے لئے “۔

” معاذ بن جبل (رض)“ اٹھے اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا : خد اتیری یتیمی کی تلافی کرے اور تجھے اپنے باپ کا اچھا جانشین بنائے۔ ( یتیم بچہ مہاجرین کی اولاد میں سے تھا )۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے” معاذ “ کی طرف رخ کر کے فرمایا:

” تیرے اس کام کا سبب کیا تھا ؟ “ اس نے عرض کیا : محبت اور رحمت تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

” جو شخص تم میں سے کسی یتیم کی سر پرستی اپنے ذمہ لے ، اور اس کا حق اداکرے، اور یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے تو خدا ہر بال کی تعداد میں ا س کے لئے ایک نیکی تحریر کرے گا، اور ہر بال کی تعداد میں اس کی برائیوں کو محو کردے گا، اور ہر بال کے بدلے اس کو ایک درجہ عطا کرے گا۔ “(۵)

البتہ ایسے وسیع معاشروں میں جیسا کہ آج کے معاشرے ہیں ، مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ اس سلسلے میں انفرادی کا موں پر قناعت نہ کریں ، بلکہ انہیں چاہئیے کہ اپنی توانائیوں کو یکجا طور پر استعمال کرتے ہوئے یتیموں کو اقتصادی، علمی اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے کار آمدبنائیں اور انہیں اسلامی معاشرے کے لائق افراد بنائیں ۔ اور یہ اہم کام عمومی تعاون کا محتاج ہے ۔

____________________

۱۔” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۰۶۔

۲۔” تفسیرفخر رازی“ جلد ۳۱ ص ۲۱۹۔

۳۔ ” نو ر الثقلین“ جلد ۵ ،ص ۵۹۷ حدیث ۲۳۔

۴۔ ” نہج البلاغہ خط نمر ۴۷ حصہ خطوط۔

۵ ۔ ” مجمع البیان“ جلد۱۰ ، ص ۵۰۔


۳ ۔ نعمتوں کو بیان کرنا

وہ حکم جو اس سلسلہ میں اوپر والی آیات میں بیان ہوا ہے، اگر وہ خد اکے شکر و سپاس کے عنوان سے ہو، اور خود کو بڑا کر کے دکھانے اور فخر کے عنوان سے نہ ہو، تو وہ نہ صرف انسان کو پر وردگار کے مقامِ عبودیت میں تکامل و ارتقاء بخشا ہے اور اجتماعی مثبت اثرات رکھتا ہے ، بلکہ انسان کی روح و جان میں بھی آرام بخش اثر چھوڑتا ہے ۔

خد اکی نعمتوں کے ذکر کرنے سے انسان اپنے پاس کسی چیز کے کم ہونے کا احساس ہی نہیں کرتا، بیماری کا شکوہ نہ کرنے سے دوسرے اعضاء کی سلامتی پر شکر گزار ہوتا ہے، کسی چیز کے کھوئے جانے پر جزع و فزع نہ کرنے سے وہ اپنے باقی امکانات و وسائل کو بیان کرتا ہے ۔

اس قسم کے افراد زندگی کی سختیوں اور طوفان میں یاس و نامیدی میں گرفتار نہیں ہوتے اور نہ ہی مضطرب و پرشان ہو تے ہیں ۔ ان کی روح سکون و آرام میں ، اور دل مطمئن ہوتا ہے۔ اور مشکلات سے مقابلہ کرنے میں ان میں زیادہ توانائی ہوتی ہے ۔

خدا وندا ! تیری نعمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ انہیں بیان کیاجاسکے ، ان کو ہم سے سلب نہ کرنا ، اور اپنے فضل و کرم سے ان میں اضافہ فرمانا۔

پروردگار ا ! ہم اس دنیا میں تیرے احسان میں غرق ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس جہاں میں بھی اسی طرح ہوں ۔

بارالٰہا ! ہمیں توفیق مرحمت فرما کہ ہم ہمیشہ محروم لوگوں کے پشتیبان اور یتیموں کے حقوق کے محافظ ہوں ۔

آمین یا رب العالمین


سورہ الم نشرح

یہ مکہ میں نازل ہوا اس میں ۸ آیات ہیں

سورہ” الم نشرح“ کے مضامین

مشہور یہ ہے کہ یہ سورہ، سورہ و الضحٰی کے بعد نازل ہوا ہے اور ا سکے مضامین بھی اسی مطلب کی تائید کرتے ہیں ، کیونکہ اس سورہ میں بھی پھر سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر خداکی نعمتوں کے ایک حصہ کو شمار کیا گیا ہے۔ حقیقت میں تین قسم کی عظیم نعمتیں سورہ و الضحیٰ میں آئی تھی اور تین ہی عظیم نعمتیں سورہ الم نشرح میں آئی ہیں ۔ گزشتہ نعمتوں میں تو بعض مادی اور بعض معنوی تھیں ، لیکن اس سورہ کی تمام نعمتیں معنوی پہلو رکھی ہیں اور یہ سورہ خصوصیت کے ساتھ تین محوروں کے گردش کرتا ہے :

ایک تو انہی تینوں نعمتوں کا بیان ہے ، دوسرا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مستقبل میں ان کی دعوت کی مشکلات کے بر طرف ہونے کے لحاظ سے بشارت ہے ، اور تیسرا خداوند یگانہ کی طرف اور اس کی عبادت و بندگی کی طرف تحریص و ترغیب۔

اسی بناء پر روایات اہل بیت میں ۔۔۔۔جیساکہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیاہے۔ یہ دونوں ایک ہی سورہ شمار ہوئی ہیں ۔ اسی لئے قرأت نماز میں اسی بناء پر کہ ایک مکمل سورت پڑھی جائے ، دونوں کو اکھٹا پڑھتے ہیں ۔ اہل سنت میں بھی بعض حضرات اسی نظریہ کے طرف دار ہیں جیسا کہ فخر رازی نے طاو س اور عمر بن عبد العزیز سے نقل کیا ہے کہ وہ بھی یہی کہا کرتے تھے کہ یہ دونوں سورتیں ایک ہی سورت ہیں اور وہ ایک رکعت میں دونوں کو تلاوت کیا کرتے تھے، البتہ وہ ان دونوں کے درمیان بسم اللہ کو حذف کردیتے تھے۔ ( لیکن ہمارے فقہاء کے مطابق بسم اللہ دونوں میں ہو نا چاہیئے، اور یہ جو مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیا ہے کہ ہمارے فقہا ء بسم اللہ کو خذف کردیتے ہیں درست نظر نہیں آ تا)۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ فخر رازی ان لوگو ں کا قول نقل کرنے کے بعد ، جو ان دونوں کو ایک سورہ کہتے ہیں ، کہتا ہے کہ یہ بات ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ان دونوں کے مضامین ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔ سورہ و الضحیٰ اس وقت نازل ہوا جب رسول ِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کفار کی اذیت رسانی پریشا ن تھے اور زندگی سختی اور غم و اندوہ میں بسر کررہے تھے، حالانکہ دوسری سورت اس وقت نازل ہو ئی جب کہ پیغمبر خوش حال و شادمان تھے، تو یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے جمع ہو سکتی ہےں ۔(۱)

لیکن یہ استدلال عجیب ہے کیونکہ دونوں سورتیں پیغمبر کی گزشتہ زندگی کی بات کررہی ہیں ، اور اس وقت کی بات ہے جبکہ آپ بہت ہی مشکلات کو پیچھے چھوڑ چکے تھے ، اور آپ کا پاک دل امید و سرور میں غرق تھا ۔ یہ دونوں سورتیں خدا کی نعمتوں کی بات کرہی ہیں ، اور سختی اور مشکلات سے پر ماضی کی یاد دلارہی ہیں ، تاکہ پیغمبر کے دل کی تسلی اور زیادہ سے زیادہ کامل امید کا باعث ہو۔

بہر حال ان دونوں سورتوں کے مضامین کا قریبی تعلق ایسی چیز نہیں ہے جو شک اور تردید کے قابل ہو ، اسی معنی کی نظیر سورہ فیل اور سورہ قریش میں بھی آئے گی۔ انشاء اللہ ۔

اس سورے کے بارے میں کہ یہ سورہ( الم نشرح ) مکہ میں نازل ہوا ہے یا مدینہ میں ، اوپر بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہ مکہ میں نازل ہوا ہے ، لیکن آیہ( ورفعنالک ذکرک ) ” ہم نے تیرے ذکر کو بلند کیا “ کی طرف توجہ کرتے ہوئے بعض کا نظر یہ یہ ہے کہ یہ مدینہ میں نازل ہوا ہے ، اس وقت جب کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی شہرت، چاروں طرف پھیل چکی تھی لیکن انصاف یہ ہے کہ یہ دلیل اطمنان بخش نہیں ہے کیونکہ پیغمبر کی شہرت ان تمام مشکلات کے باوجود ، جو آپ کو مکہ میں در پیش تھیں ۔ ہر طرف پھیل چکی تھی ، اور تمام محفلوں میں آ پ کے قیام ، رسالت اور دعوت کے بارے میں چر چے ہو رہے تھے اور حج کے سالانہ اجتماع کے ذریعے یہ شہرت حجاز کے دوسرے علاقوں خصوصاً مدینہ میں پہنچ چکی تھی ۔

____________________

۱- تفسیر فخر رازی“ جلد۳۲ ص۲۔


اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے سلسلے میں ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا : ”من قرأ اعطی من الاجرکمن لقی محمداً (ص)مغتماً ففرض عنه

” جو شخص اس سورہ کو پڑھے اس کو اس شخص کا اجر ملے، گا جس نے محمد کو غمگین دیکھا اور آپ کے قلبِ مبارک سے غم و اندوہ کو دور رکیا ہو“۔(۱)

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( الم نشرح لک صدرک ) ۔ ۲ ۔( ووضعنا عنک وزرک ) ۔ ۳ ۔( الذیٓ انقض ظهرک ) ۔

۴ ۔( ورفعنالک ذکرک ) ۔ ۵ ۔( فانّ مع العسر یسراً ) ۔ ۶ ۔( انّ مع العسر یسراً ) ۔

۷ ۔( فاذا فرغت فانصب ) ۔ ۸ ۔( و الیٰ ربک فارغب ) ۔

ترجمہ

اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ کیا ہم نے تیرے سینہ کو کشادہ نہیں کیا ؟ ۲ ۔ اور تجھ سے بھاری بوجھ بر طرف نہیں کیا ؟

۳ ۔ اور وہی بوجھ جو تیری پشت کو جھکائے دے رہا تھا۔ ۴ ۔ اور تیرے ذکر کو ہم نے بلند کیا ۔

۵ ۔ اس بناء پر یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے ۔ ۶ ۔ اور یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے ۔

۷ ۔ پس جب تو ایک اہم کام سے فارغ ہو جائے تو دوسری مہم کو شروع کردے۔ ۸ ۔ اور اپنے پروردگار کی طرف توجہ اور رغبت کر۔

____________________

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۰۷۔


ہم نے تجھے انواع وا قسام کی نعمتیں عطا کی ہیں ،

آیات کا لب و لہجہ پروردگار کے حد سے زیادہ لطف و محبت، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تسلی و دلداری کے پہلو رکھتا ہے ۔

پہلی آیت میں خدا کی اہم ترین نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” کیا ہم نے تیرے سینہ کو کشادہ نہیں کیا“۔

( الم نشرح لک صدرک ) ۔

”نشرح“ ” شرح“ کے مادہ سے ، مفرادات میں راغب کے قول کے مطابق اصل میں گوشت کے ٹکڑوں کو کشادہ کرنے اور زیادہ نازک اور پتلے ورق بنانے کے معنی میں ہے ۔ اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ شرح صدر سے مراد نور الٰہی اور خدا داد سکو ن و آرام کے ذریعے اس کوو سیع کرنا ہے ، اور اس کے بعد کہتا ہے : گفتگو اور کلام کی مشکلات کی شرح کرنا، اس کو پھیلانے اور اس کے مخفی معانی کو وضاحت کرنے کے معنی میں ہے ۔ بہر حال اس میں شک نہیں ہے کہ یہاں شرح صدر سے مراد اس کاکنائی معنی ہے۔ اور وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح و فکر کو وسعت دیناہے ، اور یہ وسعت ممکن ہے کہ ایک وسیع مفہوم رکھتی ہو، جو وحی و رسالت کے طریق سے پیغمبر کے وسعتِ علم کو بھی شامل رکھتا ہواور دشمنوں اور مخالفین کی ہٹ دھر میوں اور کارشکنیوں کے مقابلہ میں آ کے تحمل و استقامت میں وسعت و کشادگی کو بھی اپنے اندرلئے ہوئے ہو۔

اسی لئے جب موسیٰ بن عمران علیہ السلام ، فرعون جیسے سر کش کی دعوت پر مامور ہوئے”( اذهب الیٰ فر عون انه طغٰی ) “” فرعون کے پاس جاو کہ وہ سرکش ہو گیا ہے “ ، تو بلا فاصلہ عرض کرتے ہیں :”( ربّ شرح لی صدری ویسرلی امری ) “پر وردگار میرے سینہ کو کشادہ کردے اور میرے کام کو آسان کردے“۔ ( طٰہٰ۔ ۲۵ ۔ ۲۶) ۔

دوسرے مقام پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خطاب ہےفا صبر لحکم ربک ولا تکن کصاحب الحوت اب جبکہ یہ حال ہے تو اپنے پروردگار کے حکم کے منتظر رہو ، اور استقامت اور صبر و شکیبائی اختیار کر واور یونس کی طرح نہ ہو ( جو ضروری و لازمی صبر و شکیبائی کو ترک کرنے کی بناء پر ان تمام مشکلات اور تلخیوں میں گرفتار ہواہے)۔( قلم۔ ۴۸)

شرح صدر حقیقت میں ضیق صدر کا نقطہ مقابل ہے جیساکہ سورہ حجر کی آیہ ۹۷ میں آیاہے ۔ولقد نعلم انک یضیق صدرک بما یقولون :” ہم جانتے ہیں کہ تیرا سینہ ان کی ( مغرضانہ) باتوں سے تنگ ہوجاتا ہے “۔ اصولی طور پر کوئی عظیم رہبر شرح صدر کے بغیر مشکلات کا مقابلہ نہیں کر سکتا ، اور وہ شخص جس کی رسالت سب سے زیاد ہ عظیم ہے ۔ ( جیسا کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تھی )تو اس کا شرح صدر سب سے زیادہ ہو نا چاہئیے ۔ ابتلاو ں کے طوفان اس کی روح کے سمندر کے سکون و آرام کو درہم بر ہم نہ کریں ، اور مشکلات سے اس کے گھٹنے نہ ٹک جائیں ، دشمنوں کی کارشکنیاں اسے مایوس نہ کریں ، پیچیدہ مسائل کے سوالات اسے ہر طرف سے مجبور کرکے لاجواب نہ کردیں ، اور یہ خدا کا رسول اللہ کے لئے ایک عظیم ترین ہدیہ تھا۔

اسی لئے ایک حدیث میں آیاہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

”میں نے اپنے پروردگار سے ایک درخواست کی ،حالانکہ میں چاہتا تھا کہ یہ درخواست نہ کرتا۔ میں نے عرض کیا مجھ سے پہلے پیغمبروں میں سے بعض کو ہوا کے چلنے پر اختیار دیا، بعض مردوں کو زندہ کرتے تھے ۔ خدا نے مجھ سے فرمایا : کیا تو یتیم نہیں تھا تو میں نے تجھے پناہ دی ؟ میں نے عرض کیا ، ہاں ! فرمایا: کیا تو گمشدہ نہیں تھا ، میں نے تجھے ہدایت کی ؟ میں نے عرض کیا ، ہاں ! اے میرے پروردگار، فرمایا: کیا میں نے تیرے سینہ کو کشادہ اور تیریپشت کے بوجھ کو ہلکا نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا، ہاں ! اے پروردگار!“(۱)

یہ چیز اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ” شرح صدر“کی نعمت انبیاء کے معجزات سے مافوق تھی، اور واقعاً اگر کوئی شخص پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حالات کا باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کرے اور آپ کے شرح صدر کا اندازہ آپ کی زندگی کے دور کے سخت اور پیچیدہ حوادث سے لگائے ، تو وہ یقین کر لے گاکہ یہ چیز عام طریقہ سے ممکن نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک تائید الٰہی اور توفیقِ ربّانی ہے ۔

اس مقام پر بعض نے یہ کہا ہے کہ اس شرح صدر سے مراد وہی حادثہ ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بچپن یا جوانی میں پیش آیاتھا کہ آسمان سے فرشتے اترے، آپ کا سینہ شگافتہ کیا، اُن کے دل کو باہر نکال کر اسے پاک و صاف کیا، اور اس کو علم و دانش اور رافت و رحمت سے بھر دیا ۔

یہ بات ظاہر ہے کہ اس حدیث سے مراد جسمانی دل نہیں ہے ، بلکہ روحانی اور پیغمبر کے عزم و ارادہ کی تقویت، اور اس کی ہر قسم کے اخلاقی نقائص، اور وسوسہ شیطانی سے پاک سازی کے لحاظ سے خدائی امدادوں کی طرف ، ایک کنایہ اور اشارہ ہے ۔

لیکن بہر حال ہمارے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ زیر بحث آیت خاص طور پر اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے ، بلکہ اس کا ایک وسیع مفہوم ہے کہ یہ داستان بھی اس کا ایک مصداق شمار ہوسکتی ہے۔

اسی شرح صدر کی بناء پر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رسالت کی مشکلات کو اعلیٰ ترین صورت میں برداشت کیا اور اس طریقہ میں اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سے نبھا یا ۔

اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اپنی عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت کو بیان کرتے ہوئے مزید کہتا ہے : ” کیا ہم نے تیرے سنگین بوجھ کو اٹھا نہیں لیا “!؟( و وضعنا عنک وزرک ) ۔

” وہی بوجھ جو تیری پشت پر سخت گرانی کررہا تھا“۔( الذی انقض ظهرک ) ۔

”وزر“ لغت میں بوجھ کے معنی میں ہے ۔ ” وزیر“ کا لفظ بھی اسی معنی سے مشتق ہوا ہے چونکہ وہ حکومت کے سنگین بوجھ اپنے کندھے پر اٹھاتا ہے ،اور گناہوں کو بھی اسی معنی پر” وزر“ کہتے ہیں ، کیونکہ وہ گنہگار کے دوش پرایک سنگین بوجھ ہوتا ہے ۔ ” انقض“ ” نقض“ کے مادہ سے ، رسی کی گرہ کوکھولنے کے معنی میں ہے ، یا کسی عمارت کے ایک دوسرے میں گھسے ہوئے حصوں کو الگ کرنے کے معنی میں ہے ، اور” انتقاض“اس آواز کو کہا جاتا ہے جوکسی عمارت کے ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتے وقت کان میں پڑتی ہے ۔ یا کمرکے مہروں کی اس آواز کو کہتے ہیں جو سنگین بوجھ کے زیر بار آنے کے وقت آتی ہے۔

یہ لفظ عہد و پیمان اور معاہدوں کو توڑنے کے موقع پر بھی استعمال ہوتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے نقضِ عہد کیا۔

اس طرح اوپر والی آیت یہ کہتی ہے کہ : ” خدا نے وہ سنگین اور کمر توڑ نے والا بوجھ تجھ سے اٹھالیا“۔ یہ کون سا بوجھ جو خدا نے پیغمبر کی پشت سے اٹھالیا ؟ اور اس آلودہ ماحول سے فسادکے آثار کو ختم کرنا ہے ، نہ صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ آلہ وسلم بلکہ سارے کہ سارے انبیاء کا دعوت کے آغاز میں اس قسم کے عظیم مشکلات سے سامنا رہا ، اور وہ صرف خدائی امدادوں سے ہی ان پر کامیاب ہوتے تھے ، البتہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ماحول اور زمانے کے حالات کئی جہات سے زیادہ سنگین تھے ۔

بعض نے ” وزر“ کی تفسیر آغاز نزول میں ” وحی“ کے بار سنگین کے معنی میں بھی کی ہے ۔

بعض نے مشرکین کی ضلالت و گمراہی اور عناد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ بھی ۔

اور بعض نے ان کی حد سے زیادہ اذیت و آزارسے ۔

اور بعض نے اس غم و اندوہ سے جو آپ کے چچا حضرت ابو ظالب علیہ السلام کی اور آپ کی زوجہ حضرت خدیجہ کی وفات سے پیدا ہواتھا۔

اور بعض نے گناہ سے عصمت و پاکیز گی کے مسئلہ سے تفسیر کی ہے ۔

لیکن ظاہراًوہی پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے اور یہ سب اس کے شاخ و برگ ہیں ۔

اور تیسری نعمت کے بارے میں فرماتاہے :” ہم نے تیرے ذکر کو بلند کیا “۔( ورفعنالک ذکرک ) (۱)

تیرا نام اسلام اور قرآ ن کے ساتھ ہرجگہ پہنچا ، اور اس سے بہتر یہ ہے کہ تیرانام ہر صبح و شام اذان کے گلدستوں پر اور اذان کے وقت اللہ کے نام کے ساتھ لیا جاتاہے ۔ اور تیری رسالت کی شہادت خدا کی توحید و یگانگت کی شہادت کے ساتھ اسلام کا نشان اورا س پاک دین کے قبول ہونے کی دلیل ہے ۔

اس سے بڑھ کر فخر کی بات اور رفعت مقام کا اس سے بالاتر تصور اور کیا ہوگا؟! ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آیت کی تفسیر میں آیاہے کہ آپ نے فرمایا :

” جبرائیل نے مجھ سے کہا ہے کہ خدا وند تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : جس وقت میرانام لیاجاتا ہے تو اس وقت تیرانام بھی میرے ہی ساتھ لیا جاتاہے“۔ (اور تیرے مقام کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے )۔

”لک“ (تیرے لئے ) کی تعبیر اس بات کی تاکید کے لئے ہے کہ ہم نے تیرے نام اور شہرت کو ان تمام کا رشکنیوں اور دشمنیوں کے باوجود بلند کیا۔

یہاں ایک سوال سامنے آتاہے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ہے ، جب کہ اسلام کا پھیلنا اور پیغمبر کے کاندھے سے رسالت کے بوجھ کاہلکا ہونا اور اطراف عالم میں آپ کے نام کا بلند ہونا مدینہ میں ہوا ہے ۔

اس سوال کے جوا ب میں بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی بشارت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہلے سے دے دی گئی تھی، اور اسی چیز نے آپ کے د ل سے غم و اندوہ کا بوجھ ہٹادیا تھا ۔

اور کبھی یہ کہا ہے کہ یہاں فعل” ماضی“ ” مستقبل“ کامعنی دیتا ہے ، اور یہ آیندہ کے لئے ایک خوشخبری ہے ۔

لیکن حق بات یہ ہے کہ ان امور میں سے بعض، مکہ میں ہی خصوصاً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تیرہ سالہ دور کے آخری حصہ میں ہی ، جب کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں لوگوں کو دعوت دینے میں مشغول تھے، پورے ہوچکے تھے۔ بہت سے لوگوں کے دلوں میں ایمان و اسلام نفوذکرچکا تھا اور مشکلات نسبتاً کم ہوچکی تھیں ، اور پیغمبراکرم کا نام اور کام ہر جگہ پہنچ چکا تھا ، اور آیندہ کی عظیم کامیابیوں کی تمہید فراہم ہو چکی تھی۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ ” حسان بن ثابت“ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مشہور شاعر ، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدح میں اس آیت کے مضمون کی طرف بڑے خوبصورت انداز میں اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے :

ضم الالٰه اسم النبی الی اسمه

اذا قال فی الخمس المو ذن اشهد

وشق له من اسمه لیجعله

فذو العرش” محمود“ و هٰذا” محمّد“

” خدا نے پیغمبر کانام اپنے نام کے ساتھ ضم کردیاہے “

جب موذن پانچ مرتبہ اشہدکہتا ہے،

اس نے اپنے نام سے اس کے نام کو مشتق کیا ہے تاکہ اس کا احترام بر قرار رکھے۔

لہٰذا صاحبِ عرش خدا تو ” محمود“ ہے اور وہ ” محمد“ ہے

سیمرغ فہم ہیچکس از انبیاء نرفت

آنجا کہ تو بہ بالِ کرامت پریدہ ای

ہریک بقدرخویش بجائی رسید اند

آنجا کہ جائے نیست بجائی رسیدہ ای

انبیاء میں کسی کابھی طائر فکر وفہم وہاں تک نہیں پہنچا

جہاں آ پ کرامت و بزرگی کے پرو بال سے پہنچے ہیں

ان میں سے ہر ایک اپنی قدر و منزلت کے ایک مقام پرپہنچا ہے

جہاں کسی کے لئے کوئی مقام نہیں ہے آپ اس مقام پر پہنچے ہیں

بعد والی آیت میں اپنے پیغمبر کو اہم ترین بشارت دیتا ہے اور آپ کے قلب پاک میں امید کے انوار کی روشنی پید اکرتا ہے اور فرماتا ہے : ” یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے“۔( فان مع العسر یسراً )

اس کے بعد پھر تاکید کرتا ہے ، یقینا سختی کے ساتھ آسانی ہے “۔( ان مع العسر یسراً ) ۔

غم نہ کھاو یہ مشکلات اور سختیاں ایسی شکل میں باقی نہیں رہیں گی، دشمنوں کی کار شکنیاں ہمیشہ کے لئے جاری نہیں رہیں اور مادی محرومیاں ، اقتصادی مشکلات اور مسلمانوں کا فقر و فاقہ اس صورت میں باقی نہیں رہے گا۔

جو شخص مشکلات کو بر داشت کرتا ہے ، اور طوفان کے مقابلہ میں ڈٹ جاتا ہے ، وہ ایک دن اس کا میٹھا پھل بھی کھاتا ہے ۔ جس دن دشمنوں کی چیخ و پکار بند ہو جائے ، اور ان کی کار شکنیاں ختم ہوجائیں گی، ترقی و تکامل کے راستے صاف صاف ہوجائیں گے اور راہ حق کو طے کرنا آسان ہوجائے گا۔

اگر چہ بعض مفسرین نے ان آیات کو ظہور اسلام کے آغاز میں مسلمانوں کے عمومی فقر و فاقہ کی طرف اشارہ شمار کیاہے لیکن آیا ت کے مفہوم کی وسعت تمام مشکلات کو شامل ہے یہ دونوں آیات اس طرح سے پیش کی گئی ہیں کہ نہ تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اختصاص رکھتی ہیں اور نہ ہی آپ کے زمانہ سے ، بلکہ یہ ایک قاعدہ کلی کی صورت میں اور سابقہ مباحث کی ایک علت کے طور پر پیش کی گئی ہےں ، یہ تمام مخلص او رمومن اور سعی و کوشش کرنے والے انسانوں کو نوید ہے اور خوش خبری دیتی ہیں کہ ہمیشہ سختیوں کے ساتھ آسانیاں ہوتی ہیں ، یہاں تک کہ ” بعد“ کی تعبیر نہیں کرتا بلکہ ” مع“ ( ساتھ ) کی تعبیر کرتا ہے ، جو ہمراہ ہونے کی علامت ہے ۔

ہاں ! اسی طرح ہے ، ہر مشکل کے ساتھ آسانی ملی ہوئی ہے اور سختی کے ساتھ سہولت ہے ، یہ دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کےساتھ رہے ہیں اور رہیں گے۔

یہ ایسی نوید اور وعدہ الٰہی ہے ، جو دل کو نور وصفابخشتا ہے ، اور کامیابیوں کا امید وار بناتا ہے ، اور یاس و ناامیدی کے گرد و غبار کو انسان کے صفحہ روح سے صاف کردیتا ہے ۳

ایک حدیث میں آیاہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :

و اعلم ان مع العسر یسراً ، و ان مع الصبر النصر، و ان الفرج مع الکرب

” جان لو کہ سختیوں کے ساتھ آسانی ہے ، اور صبر کے ساتھ کامیابی، اور غم و اندوہ کے ساتھ کشائش و خوش حالی ہے “۔(۴)

ایک حدیث میں امیر المومنین علیہ السلام سے آیاہے :

ایک عورت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنے شوہر کی شکایت کی کہ وہ مجھے کوئی خرچہ نہیں دیتا، جب کہ اس کا شوہر واقعاً تنگ دست تھا، حضرت علی علیہ السلام نے اس کے شوہر کو زندان میں ڈالنے کی بجائے اس کے جواب میں فرمایا:( ان مع العسر یسراً ) ( اور اسے صبر کی تلقین کی)(۵)

ہاں !

صبر و ظفر ہر دو دوستان قدیمند

بر اثر صبر نوبت ظفر آید

”صبر اور کامیابی دونوں قدیمی دو دوست ہیں

صبر کے بعد ہی کامیابی کی نوبت آتی ہے “

اس کے بعد اس سورہ کی اخری آیت میں فرماتاہے ،:” پس جب تم کسی اہم کام سے فارغ ہو جاو تو دوسرے کام میں لگ جاو “( فاذا فرغت فانصب ) ۔

ہر گز کبھی بیکار نہ رہو ، تلاش و کوشش کو نہ چھوڑو، ہمیشہ جد و جہد میں مشغول رہو ، او رہر اہم کا م کے ختم کرنے کے ساتھ ہی دوسرے اہم کام کو شروع کردیا کرو۔

اور ان تمام حالات میں خدا پر بھروسہ رکھو“ اور اپنے پروردگار کی طرف توجہ رکھو“( و الیٰ ربک فارغب ) ۔

اس کی رضا و خوشنودی طلب کراور اس کے قرب و جوار کی طرف جلدی کر۔

جو کچھ بیان کیا گیا اس کے مطابق آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے ، جو مفہوم سے فارغ ہونے اوردوسری مہم کو شروع کرنے کو شامل ہے ، اور تمام کوششوں کا رخ پر وردگار کی طرف کرنے کا حکم دیتی ہے ، لیکن بہت سے مفسرین نے اس آیت کے لئے محدود معانی ذکر کئے ہیں ، جن میں سے ہر ایک کو ا س کے ایک مصداق کے عنوان سے قبول کیا جا سکتا ہے ۔

بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مرادیہ ہے کہ تو واجب نماز سے فارغ ہو جائے تو دعا میں مشغول ہوجا، اور خدا سے در خواست کر کہ تیری حاجت کو پورا کردے ۔

یا یہ کہا کہ جب تو فرائض سے فارغ ہو جائے تا نافلہ شب کے لئے کھڑا ہوجا۔

یا یہ کہا کہ جب تو دنیا کے کاموں سے فارغ ہو جائے تو آخرت کے امور ، عبادت اور اپنے پروردگار کی نماز میں مشغول ہو جا۔

یا یہ کہا کہ جب تو واجبات سے فارغ ہو جائے ،توجہاد نفس کے لئے کھڑاہو جا۔

یا یہ کہ جب تو دشمن سے جہاد کرنے سے فارغ ہو جائے تو جہاد نفس کے لئے کھڑا ہو جا ۔

یا یہ کہا کہ جب تو ادائے رسالت سے فارغ ہو جا ئے تو شفاعت کی در خواست کرنے کے لئے کھڑا ہو جا۔

متعدد روایات میں ، جنہیں اہل سنت کے مشہور عالم حافظ” حاکم حسکانی“ نے ” شواہد التنزیل“ میں نقل کیا ہے ، امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس طرح آیاہے کہ آپ نے فرمایا:

یعنی :” جب تو فارغ ہوجائے تو علی علیہ السلام کی ولایت کے لئے نصب کر دے “۔(۶)

اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ آیہ شریفہ میں فراغت کا موضوع معین نہیں ہواہے اور ” فانصب “ ” نصب“کے مادہ سے ( نسب کے وزن پر) تعب اور زحمت کے معنی میں ہے ، یہ آیت ایک ہمہ گیراصل کلی کو بیان کرتی ہے ، اور اس کا مقصد یہ ہے کہ پیغمبر کو کسی ایک مہم کے ختم ہو نے کے بعد آرام سے بیٹھ جانے سے روکے اور انہیں ایک نمونہ اور مثال کے طور پر زندگی میں ہمیشہ مسلسل طور پر سعی و کوشش میں مصروف رہنے کی تلقین کرے ۔

اس معنی کی طرف توجہ کرتے ہوئے واضح ہو جاتاہے کہ اوپر والی تمام تفاسیریں صحیح ہیں ، لیکن ان میں سے ہرایک اس وسیع اور عام معنی کے ایک مصداق کے عنوان سے ہے ۔

اور کای ہی اصلاحی اور مو ثر پروگرام ہے ، جس میں کامیابی اور تکامل و ارتقاء کی رمز چھپی ہوئی ہے ۔ اصولی طور پر بیکار رہنا اور مکمل طور پر فارغ ہوکر بیٹھ رہنا تھکاوٹ، خوشی کے کم ہونے اور سستی و فرسودگی کا سبب ہوتا ہے، اور بہت سے مواقع میں فساد و تباہی اور انواع و اقسام کے گناہوں کا باعث بنتا ہے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اعداد و شمار اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ تعلیمی اور اداروں کی تعطیلات کے زمانے میں بعض اوقات فتنہ و فساد کی تعداد سات گنا تک پہنچ جاتی ہے ۔

بہر حال یہ سورہ مجموعی طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر خدا کی خاص عنایت اورمصائب و آلام میں تسلی اور رسالت کے کام کی مشکلات اور نشیب و فراز کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک تائید و نصرت کا وعدہ ہے اور ا س کے ساتھ ہی یہ تمام انسانوں اور راہ حق پرچلنے والوں کے ایک امید بخش ، اصلاحی اور حیات آفرین مجموعہ ہے ۔

چند نکات

جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیاہے ، متعدد روایات میں آیاہے کہ ( ایک اہم مصداق کے بیان کے عنوان سے )”( فاذا فرغت فانصب ) “ کی آیت سے مراد کارِ رسالت کی انجام دہی کے بعد امیر المومنین علیہ السلام کو خلافت کے لئے نصب کرناہے

” آلوسی “ ” روح المعانی “ میں بعض امامیہ ( شیعہ ) کی گفتگو کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے ، انہوں نے ” فانصب‘ کو ”ص“ کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے ، بالفرض اگر ایسا ہو بھی تو وہ اس بات کی دلیل نہیں بنتا کہ اس سے علی بن ابی طالب علیہ السلام کو نصب کرنا مراد ہو۔ اس کے بعد وہ زمخشری کی کشاف سے نقل کرتا ہے کہ اگر شیعوں کے لئے اس قسم کی تفسیر ممکن ہو تو ” ناصبی“ ( دشمنانِ علی علیہ السلام ) بھی اس کی نصب کے دستور کے عنوان سے ( بغض علی بن ابی طالب کے معنی میں ) تفسیر کرسکتے ہیں ۔(۷)

کیونکہ ” انصبب“ ( ص کی زبر کے ساتھ) خود کو مشقت میں ڈالنے اور جد جہد کرنے کے معنی میں آیاہے ، جب کہ ” انصب“ (ص کی زیر کے ساتھ ) نصب کرنے ، اوپر جانے اور قائم کرنے کاحکم دینے کے معنی میں ہے ۔

ان مفسرین نے یہ خیال کرلیا ہے کہ شیعہ مسئلہ ولایت پر استدلال کرنے کے لئے آیت کی قرائت کو تبدیل کردیتے ہیں ، حالانکہ اس قسم کی تبدیلی کی ہر گز کوئی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ مذخورہ تفسیر کے لئے وہی مشہور اور جانی پہچانی قرائت ہی کافی ہے کیونکہ وہ یہ کہہ رہاہے کہ رسالت کے اہم امر سے فارغ ہو جانے کے بعد دوسرے اہم امر کے لئے جیسا کہ ولایت ہے ، سعی و کوشش کر اور یہ ایک اعتبار سے مکمل طور پر قابل قبول ہے ۔ اور ہم جانتے ہیں ہیں کہ پیغمبر مشہور حدیثِ غدیر اور دوسری بہت سے احادیث کے مطابق ، جو تمام علماء اسلام کی کتابوں میں آئی ہےں ، ہمیشہ مسلسل طور پر کوشش کرتے رہتے تھے ، لیکن کتنی قابل افسوس اور دکھ دینے ولای بات ہے کہ زمخشری جیسا عالم جو علی علیہ السلام کو پیغمبر کا چوتھا جانشین اور اسلام کا عظیم پیشوا سمجھتا ہے ، یہ کہنے کے لئے تیار ہو گیا کہ ناصبی بھی یہ حق رکھتے ہیں کہ آیت کو علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بغض کے ساتھ تفسیر کریں ، یہ کتنی رکیک اورچبھنے والی تعبیر ہے ؟ وہ بھی ایسے مفسر سے ؟ واقعاً تعصب سے بھی کیسے کیسے گل کھلاتا ہے ؟

۲ ۔ مشہورمعتزلی علام ” ابن ابی الحدید“ ’ نہج البلاغہ“ کی شرح میں “ زبیربن بکار سے جو اس کے قول کے مطابق نہ شیعہ تھا اور نہ معاویہ سے دشمنی رکھتا تھا ، بلکہ علی علیہ السلام سے جدا ہو کر گوشہ گیر ہوگیا تھا ، اور آ پ کے مخالفین سے جاملا تھا ، روایت کی ہے کہ وہ مغیرہ بن شربہ کے بیٹے سے نقل کرتاہے کہ میرا باپ ” مغیرہ“ معاویہ کی عقل اور سمجھ کے بارے میں بہت باتیں کیا کرتا تھا اور اس کے طرز فکر پرحیران ہو اکرتا تھا، لیکن رات وہ ا سکے پاس سے بہت غمگین اور پریشانی کی حالت میں آیا، میں سمجھ گیا کہ کوئی اہم مسئلہ پیش آگیاہے ، میں نے اس سے سوال کیا تو اس نے معاویہ کو سخت بر ابھلا کہنا شروع کردیا جب میں نے اس کا سبب پوچھا تو اس نے کہا آج رات جب میں اور وہ خلوت میں تھے تو میں نے اس سے کہا ، توجس مقام و مر تبہ کا خواہش مند تھا وہ تونے حاصل کرلیا ہے ۔ اب تو عدل و انصاف اور نیکی کرنے میں کوشش کر ، کیونکہ تیری عمر بھی اب بہت زیادہ ہوگئی ہے ۔ لہٰذا بنی ہاشم کے بارے میں نیکی کر کیونکہ اب تجھے ان سے کوئی خطرہ باقی نہیں رہا ۔ اور یہ بات تیرے لئے نیک نامی کا سبب بن جائے گی۔

تو اس نے جواب میں کہا: ہیہات اب میر ے لئے کون سی نیک نامی باقی رہ جائے گی، خلیفہ اول و دوم نے کتنے کام کئے تو ان کا کون سا نام باقی رہ گیا ، لیکن تم ” ابن ابی کبشہ“ ( محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کو دیکھو کہ لوگ اس کان نام ہرروز پانچ مرتبہ گلدستہ اذان پر ”اشهد ان محمداً رسول الله “ کی صورت میں باقی ہیں ، اے بیچارے !اب اس کے بعد کون سا کام باقی رہ گیا ہے ، اور ہمارا کون سا نام باقی رہ جائے گا ، نہیں خدا کی قسم نہیں ، سوائے اس صورت کے کہ یہ حالت بدل جائے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام دفن ہوجائے۔(۸)

لیکن ورفعنالک ذکرک کے مقتضی کے مطابق خدا نے چاہا ہے کہ یہ مبارک نام ساری دنیا ئے تاریخ اور تمام عالم بشریت میں بلند اور مشہورہے ، چاہے دوسرے لوگ پسند کریں ی اپسند نہ کریں ؟ خوش ہوں یا ناخوش ؟اگر ہم ان تعبیرات کو کھول کر دیکھیں تو ان کا کیا معنی ہوگا ؟لا حول ولا قوة الا بالله !

خدا وندا ! ہمارے دل کو حب ذات سے خالی کر دے اور پانے عشق و محبت سے پرکردے ۔

پروردگارا ! تونے خود کووعدہ دیا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ راحت اور آسودگی ہے ، اس زمانہ کے مسلمانوں کو ان عظیم سخت مشکلات سے جو دشمنوں کی طرف سے انہیں پہنچ رہی ہیں ، آسودہ کردے۔

بار الہٰا تیری نعمتیں اور مواہب ہم پر بہت زیادہ ہیں ان کی شکر گزاری کی توفیق مرحمت فرما۔

آمین یا رب العالمین

____________________

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۱۸۔

۲ ۔ ” رفع“ کی ” وضع“ کے بعد، اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ایک دوسرے کی ضد ہیں ، یہاں ایک خاص لطف دیتی ہے ۔

۳ ۔ جو کچھ ہم نے بیان کیاہے اس سے واضح ہو گیا کہ ” العسر“ میں الف لام جنس کے لئے ہے، اور عہد کے لئے نہیں ہے اور ” یسر“ کا لفظ اگر چہ نکرہ کی صورت میں ذکر ہوا ہے لیکن وہ بھی جنس کے معنی دیتا ہے ،اور ایسے مقام پرنکرہ ہونا عظمت کے بیان کے لئے ہوتا ہے۔

۴ ۔ ” تفسیر نور الثقلین “ صفحہ ۶۰۴ حدیث ۱۱۔ ۱۳۔

۵ ۔ ” تفسیر نور الثقلین “ صفحہ ۶۰۴ حدیث ۱۱۔ ۱۳۔

۶ ۔ شواہد التنزیل جلد۲ ص ۳۴۹ ( احادیث ۱۱۱۶ تا ۱۱۱۹)

۷ ۔ ” روح المعانی “ جلد ۳ ص ۱۷۲۔ ” تفسیر کشاف“ جلد ۴ ص ۷۷۲۔

۸ ۔ شرح نہج البلاغہ جلد۵ ص ۱۲۹۔ ( ابن ابی الحدید) کی عبارت یہا اس طرح ہے :فای عمل یبقی؟ و ای کرم یدوم بعد هٰذا ؟ لا اباً لک ، لا و الله دفناً دفناً “!


سورہ التین

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا۔ اس میں ۸ آیات ہیں ۔

سورہ ” التین “مطالب اور فضیلت

یہ سورہ حقیقت میں انسان کی خلقتِ زیبا، اور اس کے تکامل و ارتقاء اور انحطاط و پستی کے گرد گھومتا ہے اور یہ مطلب سورہ کے شروع میں پرمعنی قسموں کے ساتھ شروع ہوا ہے ، اور انسان کی نجات اور کامیابی کے عوامل کو شمار کرنے کے بعد آخر میں مسئلہ معاد اور خدا کی حاکمیتِ مطلقہ کی تاکید پر ختم ہوتا ہے ۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

ایک اور حدیث میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و وسلم سے آیاہے :

من قرأها اعطاه الله خصلتین :العادیة و الیقین مادام دی دار الدنیا، فاذا مات اعطاه الله من الاجر بعدد من قرأ هٰذه السورة صیام یومً !“:

”جو شخص اس سورہ کو پڑھے گا جب تک وہ دنیا میں رہے گا خدا اس کو دو نعمتیں عطا کرے گا: سلامتی اور یقین، اور جب دنیا سے رخصت ہوجائے گا، تو ان تمام لوگوں کی تعداد کے برابر جنہوں نے اس سورہ کو پڑھا ہے، ان سب کے ایک دن کے روزہ کا ثواب اجر کے طور پر اسے عطا کرے گا۔“(۱)

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( و التین و الزیتون ) ۔ ۲ ۔( و طور سینینَ ) ۳ ۔( و هٰذا البلدِ الاَمین ) ۔ ۴ ۔( لقد خلقنا الانسان فیْٓ احسن تقویمٍ )

۵ ۔( ثم رددنٰه اسفل سٰفلین ) ۔ ۶ ۔( الا الذین اٰمنوا و عملوا الصٰلحٰت فلهم اجر غیر ممنونٍ ) ۔

۷ ۔( فما یکذبُک بعدُ بالدیِّن ) ۔ ۸ ۔( الیس اللهُ باَحکم الحٰکمینَ ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ انجیر اور زیتون کی قسم ( یا سر زمینِ شام اور بیت المقدس کی قسم )۔

۲ ۔ اور طور سنین کی قسم ۔ ۳ ۔ اور اس امن والے شہر( مکہ) کی قسم

۴ ۔ کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور بہترین نظام میں پیدا کیا ہے ۔

۵ ۔ پھر ہم نے اسے پست ترین مرحلہ کی طرف لوٹا دیا ۔

۶ ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لے آئے اور عملِ صالح بجالائے ، تو ان کے لئے ایسا اجر و ثواب ہے جو منقطع نہ ہوگا۔

۷ ۔ پس ان تمام چیزوں کے باوجود تیرے روزِ جزا کے تکذیب کرنے کا سبب کیاہے ؟ !

۸ ۔ کیا خدا بہترین حکم کرنے والا نہیں ہے ؟

ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے ۔

اس سورہ کے آغاز میں بھی چار پر معنی قسمیں بیان کی گئی ہیں جو بہت ہی اہم معنی کے بیان کا مقدمہ ہیں ۔

فرماتا ہے :” انجیر و تین کی قسم( و التین و الزیتون ) ۔ ” اور طور سینین کی قسم( و طور سینین ) (۱)

اور اس امن و امان والے شہر کی قسم( و هٰذا البلد الامین ) ۔

” تین “ لغت میں انجیر کے معنی میں ہے اور ” زیتون“ وہی معروف زیتون ہے جس سے ایک مفید روغنی مادّہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اس بارے میں کہ کیا اس سے انہیں دو مشہور پھلوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ، جو حد سے زیادہ غذائی اور دوائی خواص کے حامل ہیں ، لیکن بعض کا نظریہ ہے کہ اس سے مراد وہ دو پہاڑ ہیں جن پر شہر دمشق اور بیت المقدس واقع ہیں ۔ کیونکہ یہ دونوں مقامات بہت سے انبیاء اور خدا کے بزرگ پیغمبروں کے قیا م کی سر زمین ہیں ، اور یہ دونوں قسمیں ، تیسری اور چوتھی قسموں کے ساتھ، جو مقدس سر زمینوں کی قسمیں ہیں ، ہم آہنگ ہیں ۔

اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ان دونوں پہاڑوں کی تین اور زیتون اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ ان میں سے ایک پر انجیر کے درخت اُگتے ہیں اور دوسرے زیتون کے درخت۔

اور بعض نے تین کو آدم علیہ السلام کے زمانہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے، کیونکہ وہ لباس جو آدم علیہ السلام اور حوّانے جنت میں پہناتھا وہ انجیر کے درختوں کے پتوں کا تھا ، اور زیتون کو نوح کے زمانہ کی طرف اشارہ سمجھا ہے، کیونکہ طوفان کے آخری مرحلوں میں نوح نے ایک کبوتر اس مقصد سے چھوڑا تھا تاکہ پانی کے نیچے سے خشکی کے ظاہر ہونے کو معلوم کرے وہ ( کبوتر) زیتون کی ایک شاخ لے کر واپس آیا تو نوح سمجھ گئے کہ طوفان تھم گیا ہے ، اور خشکی پانی کے نیچے سے ظاہر ہو گئی ہے ۔ ( اس لیے زیتون صلح و امنیت کی رمز ہے )۔

بعض تین کو اس مسجد نوح کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ جو کوہ جودی پر تعمیر کی گئی تھی ۔ اور زیتون کو بیت المقدس کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔

ابتدائی نظر میں تو آیت کا ظاہر وہی دو مشہور پھل ہیں ،لیکن بعد والی قسموں کی طرف توجہ کرتے ہوئے دو پہاڑ یا موردِ احترام دو مقدس مراکز ہی مناسب معلوم ہوتے ہیں ۔

اسی لئے ایک حدیث میں پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا کہ خدا نے شہروں میں سے چار شہروں کو منتخب کیا ہے اور ان کے بارے میں فرمایاہے:

( التین و الزیتون و طور سینین وهٰذ البلد الامین ) : ” تین“ مدینہ ہے ، اور ”زیتون “ بیت المقدس“ ، ” طور سینین“ کوفہ ہے اور ”( هٰذا البلد الامین ) “ ” مکہ“(۳)

” طور سینین“ سے مراد ظاہراً وہی ” طورسینا“ ہے جسے مفسرین نے اسی مشہورکوہِ” طور“ کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے جو صحرائے سینا میں ہے ، ، اور وہاں زیتون کے پر بار درخت موجود ہیں ۔

” سینا“ کو بر کتوں والا یا درختوں سے پر یا خوبصورت پہاڑ سمجھتے ہیں ، اور یہ وہی پہاڑ ہے جہاں موسیٰ علیہ السلام مناجات کے وقت گئے تھے ۔

بعض نے اسے کوفہ کے نزدیک سر زمین نجف کا ایک پہاڑبھی سمجھا ہے ۔

اور بعض نے تصریح کی ہے کہ ” سینین“ اور ” سینا“ ایک ہی چیز ہے، اور اس کا معنی پر بر کت ہے ۔

باقی رہا ”هٰذا البلد الامین “ تو یہ یقینا سر زمین مکہ کی طرف اشارہ ہے ، وہ سر زمین جو زمانہ جاہلیت میں بھی منطقہ امن اور حرمِ خدا سمجھی جاتی تھی، اورکوئی شخص وہاں دوسرے پر تعرض کا حق نہیں رکھتا تھا، یہاں تک مجرم اور قاتل بھی جب اس سر زمین میں پہنچ جاتے تھے تو وہ بھی امن میں ہوتے تھے۔

یہ سر زمین اسلام میں حد سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ، انسان تو رہے ایک اس کے جانور، درخت اور پرندے بھی خصوصیت کے ساتھ امن سے رہنے چائیں ۔(۴)

یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ قرآن مجید میں لفظ” تین “ صرف اسی جگہ استعمال ہوا ہے ۔ جبکہ لفظ زیتون قرآن مجید میں چھ مرتبہ صراحت کے ساتھ آیاہے ، اور ایک دفعہ اشارہ کی صورت میں جہاں فرماتا ہے:

وشجرة تخرج من طور سیناء تنبت بالدهن وصبغ للاٰکلین ،اور وہ درخت جو طور سینا میں اُگا ہے ، اس سے کھانے والوں کے لئے روغن اور سالن فراہم ہوتا ہے ۔ ( مومنون۔ ۲۰)

____________________

ا۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص۵۱۰۔

۲۔ ” بعض نے سینین “ کو” سینہ“ کی جمع سمجھا ہے جو درخت کے معنی میں ہے ، اور اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ” طور“ ” پہاڑ“ کے معنی میں ہے ، تو اس کا معنی درختوں سے پُر پہاڑ ہوگا، بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ” سینین“ ایک زمین کا نام ہے کہ جس پر وہ پہاڑ واقع ہے، بعض نے یہ کہا ہے کہ ” سینین “ پر برکت اور خوبصورت کے معنی میں ہے ، اور یہ اہل حبشہ کی زبان کا لفظ ہے ۔ ( روح المعانی جلد ۳۰ ص ۱۷۳)

۳ ۔ تفسیر نو الثقلین جلد ۵ ص ۶۰۶ حدیث ۴ یہ ٹھیک ہے کہ اس زمانہ میں کوفہ ایک بڑا شہر نہیں تھا ، لیکن اس سر زمین سے دریائے فرات کے گزرنے کی وجہ سے یقینی طور پر بہت سی آبادیاں اس زمانہ میں بھی وہاں بھی موجود تھیں ۔ ( تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے پہلے بھی وہاں پر ایک شہر آباد تھا )۔ ( دائرة المعارف مصاحب جلد۲ مادہ کوفہ)۔

۴ ۔لفظ ”امین “ممکن ہے کہ یہاں ” فعیل“ بمعنی ” فاعل“ ہو اور ا س کا معنی ” ذو الامانة“ ہو اور یا ” فعیل“ بمعنی ” مفعول “ ہو ، یعنی وہ سر زمین جس میں لوگ امن میں ہیں ۔


انجیر اور زیتون کا فایده

اب اگر ان دونوں قسموں ( تین و زیتون) کو ان کے ابتدائی معنی پرمحمول کریں ، یعنی معروف انجیر و زیتون پر، توپھر بھی یہ ایک پرمعنی قسم ہے کیونکہ :

” انجیر“ بہت زیادہ غذائی قدر و قیت کا حامل ہے، اور ہر سن و سال کے لئے ایک مقوی اور غذا سے بھر پورنوالہ ہے، جس میں چھلکا ، گٹھلی اور کوئی زائد چیز نہیں ہوتی۔

غذا کے ماہرین کہتے ہیں کہ :انجیر کو بچوں کے لئے طبیعی شکر کے طور پر استعمال کرایا جا سکتا ہے اور ورزش یامحنت مشقت کرنے والے اوربڑھاپے اور کمزوری میں مبتلا لوگ اپنی غذا کے لئے انجیر سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں ۔

کہتے ہیں کہ ” افلاطون“ انجیر کو جذب کرنے والا اور نقصا ن دہ مادّوں کو دفع کرنے والا سمجھا جاتا تھا۔

” جالینوس“ نے انجیر سے پہلوانوں کے لئے ایک خاص قسم کی غذا تیار کی تھی ، روم اور قدیم یونان کے پہلوانوں کو بھی انجیر دئے جاتے تھے ۔

غذا شناس ماہرین کہتے ہیں کہ انجیر میں مختلف قسم کے بہت سے وٹامن اور شکر موجودہے۔ اور بہت سی بیماریوں میں اس سے ایک دوا کے طور پر فائدہ حاصل کیاجاسکتاہے۔ خاص طور پر انجیر اور شہد کو مساوی طور پر مخلوط کر دیں تو زخم معدہ کے لئے بہت ہی مفید ہے ۔ خشک انجیر کا کھانا دماغ کو تقویت دیتا ہے ، خلاصہ یہ ہے کہ انجیر میں معدنی عناصر کے وجود کی بناپر جو قوائے بدن اور خون میں اعتدال کا سبب بنتے ہیں انجیر ہر سن و سال او رہر قسم کے حالات میں غذا کے طور پر بہترین پھل ہے ۔

ایک حدیث میں امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے آیا ہے :

التین یذهب بالبخر و یشد الفم و العظم، و ینبت الشعر ویذهب بالداء ولایحتاج معه الی دواء و قال علیه السلام : التین اشبه شیء بنبات الجنة :

” انجیرمنہ کی بدبو کو دور کرتا ہے ، مسوڑھوں اور ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے ، بالوں کو ا ُ گاتاہے درد اور تکلیف کو بر طرف کرتا ہے۔ اور اس کے ہوتے ہوئے کسی دوا کی ضرورت نہیں ہے۔

اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ انجیر جنت کے پھلوں سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔(۱)(۲)

باتی رہا ” زیتون“ تو اس کے بارے میں غذا شناس اور بڑے بڑے ماہرین جنہوں نے سالہا سال تک پھلوں کے مختلف خواص کامطالعہ کرنے میں اپنی عمریں صر ف کی تھیں ، زیتون اور اس کے تیل کی حد سے زیادہ اہمیت کے قائل ہیں ، اور وہ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ جو لوگ ہمیشہ صحیح و سالم رہنا چاہیں انہیں اس حیاتی اکسیر سے فائدہ اٹھانا چاہئیے۔

روغن زیتون انسا ن کے جگر کا پکا اور مخلص دوست ہے ۔ اور گردوں کی بیماریوں ، صفرادی پتھر یوں اور درد گردہ اور درد جگر کو دور کرنے اور خشکی کو رفع کرنے کے لیے بہت ہی مو ثر ہے۔

اسی بناء پر زیتون کے درخت کو قرآن مجید میں شجرہ مبارکہ کہا گیا ہے ۔

روغن زیتون بھی انواع و اقسام کے وٹامن سے سر شار ہے اور اس فاسفورس، سلفر، کیلشیم ،فیرم پوٹا شیم اور منگنز بھی پائی جاتی ہے ۔

وہ مرہم جو روغن زیتون اور لہسن کے ساتھ بنائی جاتی ہے گٹھیا کے دردوں کے لیے ،مفید بتائی جاتی ہے ، پِتّہ کی پتھری روغن زیتون کے کھانے سے ختم ہوجاتی ہے ۔(۳)

ایک روایت میں امیر المومنین علیہ السلام سے آیاہے :

ما افقر بیت یأ تدمون بالخل و الزیت وذالک ادام الانبیاء

” وہ گھر جس میں سرکہ اور زیتون سالن کے طور پر استعمال ہوتا ہے ، وہ کبھی کھانے سے خالی نہ ہوگااور یہ پیغمبروں کی غذا ہے “۔

اور ایک حدیث میں امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے آیاہے :(۴)

نعم الطعام الزیت: یطیب النکهة ویذهب بالبلغم، و یصفی اللون، یشد العصب و یذهب الوصب، ویطفیء الغضب “:

”روغن زیتون ایک اچھی غذا ہے ، منھ کو خوشبودار کرتا ہے ، بلغم کو دور کرتا ہے ، چہرے کے رنگ کو صاف کرتا ہے ۔ او ر تر و تازہ بناتا ہے ، اعصاب کو تقویت دیتا ہے، بیماری، درد اور ضعف کو دور کرتا ہے ، اور غصہ کی آگ کو بجھا تا ہے “۔(۵)

ہم اس بحث کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا:

کلو الزیت و ادهنوا به فانه من شجرة مبارکة “:

”روغن زیتون کھاو اور بدن پر اس کی مالش کروکیونکہ یہ ایک مبارک درخت سے ہے۔(۶)

اس چار پر معنی قسموں کے ذکر کرنے کے بعد جواب قسم پیش کرتے ہوئے اس طرح فرماتا ہے : ” یقینا ہم نے انسان کو بہترین صورت اور نظام میں پیدا کیا ہے ،،۔( لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ) ۔

” تقویم“کامعنی کسی چیز کو مناسب صورت، معتدل نظام اور شائستہ کیفیت میں لاناہے ۔ اور ا س کے مفہوم کی وسعت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خدا نے انسان کو ہرلحاظ سے موزوں اور شائستہ پیدا کیاہے ، جسم کے لحاظ سے بھی ، اور روحانی و عقلی لحاظ سے بھی، کیونکہ اس کے وجود میں ہر قسم کی استعداد رکھی گئی ہے اور اسے ایک بہت ہی عظیم قوس صعودی کو طے کرنے کے لئے آمادہ کیا گیا ہے ، اور اس کے باوجود کہ انسان ایک ” جرم صغیر“ ہے ، عالم کبیر“ کو اس میں جگہ دی گئی ہے، اسے اس قدر استعدادیں اور شائسگیاں بخشی ہیں وہ ولقد کرمنا بنی اٰدم ”ہم نے بنی آدم کو کرامت و عظمت بخشی ہے “۔ ( سورہ اسراء آیہ ۷۰) کی خلقت کے لائق ہو گیاہے ۔ وہی انسان جس کی خلقت کی تکمیل پر فرماتا ہے :فتبارک اللہ احسن الخالقین ”پس وہ خدا بہت ہی بزرگ و برتر اور برکتوں والا ہے جو بہترین خلق کرنے والا“! لیکن یہی انسان ان تمام امتیازات و اعزازات کے ہوتے ہوئے اگر حق کے راستے سے منحرف ہوجائے تو اس طرح سقوط کرتا ہے کہ ” اسفل السافلین“میں جا پہنچا ہے ، اس لیے بعد والی آیت میں فرماتا ہے : ” پھرہم اس پست ترین مراحل میں لوٹا دیتے ہیں “۔( ثم رددناه اسفل سافلین )

کہتے ہیں کہ ہمیشہ بلند پہاڑوں کے ساتھ بہت ہی گہری گھاٹیاں ہوتی ہیں اور انسان کی اس تکامل و ارتقاء کی قوس صعودی کے ساتھ ہی ایک وحشت ناک قوس نزولی بھی نظر آتی ہے ایسا کیوں نہ ہو کیونکہ وہ ایک ایسا موجود ہے جو ہر قسم کی استعدادیں رکھتا ہے ، اگر وہ ان سے صلاح و درستی کے لئے فائدہ اٹھا ئے تو افتخار کی بلندترین چوٹی پر پہنچ جاتا ہے اور اگر ان تمام استعدادوں کو فساد اور خرابی کی راہ پر ڈال دے تو اس میں عظیم ترین مفسدہ پیدا کردیتا ہے ، اور طبیعی طور پروہ”( اسفل السافلین ) “کی طرف کھینچتا چلا جاتا ہے ۔

لیکن بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے“: مگروہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اعمال ِ صالح انجام دیے ہیں وہ اس سے مستثنٰی ہیں ، کیونکہ ان کے لئے ایسا اجر و ثواب ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے “۔( الا الذین اٰمنوا وعملو الصالحات فلهم اجر غیرممنون ) ۔

”ممنون“ ”من“ کے مادہ سے یہاں ختم ہونے یا کم ہونے کے معنی میں ہے ، اسی بناء پر ” غیر ممنون“ دائمی اور ہرقسم کے نقص سے خالی اجرو ثواب کے معنی میں ہے ۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ منت و احسان سے خالی مراد ہے ، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے ۔

بعض نے ثم رددناہ اسفل سافلینکے جملہ کی بڑھاپے کے دور کے ضعف و ناتوانی اور حد سے زیادہ ہوش کی کمی کے معنی میں تفسیر کی ہے، لیکن اس صورت میں یہ بعد والی آیت کے استثناء کے ساتھ ساز گار نہیں ہے ۔ اس بناء پر قبل و بعد کی آیات کے مجموعہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے وہی پہلی تفسیر ہی درست نظر آتی ہے ۔

بعد والی آیت میں اس ناشکرے اور معاد کے دلائل اور نشانیوں سے بے اعتناء انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کیا سبب ہے کہ تو ان تمام دلائل کے باوجود روزِ جزا کی تکذیب کرتا ہے؟ !( فما یکذبک بعد بالدین ) ۔

ایک طرف تو خود تیرے وجود کی ساخت اور دوسری طرف اس وسیع و عریض عالم کی عمارت اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ دنیا کی چند روزہ زندگی تیری خلقت اور اس عظیم جہان کی خلقت کا اصل ہدف نہیں ہوسکتی ۔

یہ سب کچھ وسیع تر اور کامل تر جہان کے لیے ایک مقدمہ ہے اور قرآن کی تعبیر میں ” نشأة اولیٰ“ خود” نشأة اخری کی خبر دیتی ہے ۔ تو پھرانسان متذکر کیوں نہیں ہوتا۔( ولقد علمتم النشأة الاولیٰ فلولا تذکرون ) ۔( واقعہ ۔ ۶۲)(۷)

عالم نباتات ہمیشہ اور نئے سال نئے سرے سے موت و حیات کے منظر کو انسان کی آنکھ کے سامنے مجسم کرتا ہے اور جنینی دَور کی پے در پے خلقتیں ہر ایک معاد اور ایک نئی زندگی شمار ہوتی ہے۔ ان تمام چیزوں کے باوجودیہ انسان روز جزاء کا کس طرح انکار کرتا ہے ۔

جو کچھ ہم نے بیان کیاہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس آیت میں مخاطب نوعِ انسان ہے ، اور یہ احتمال کہ یہاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

کی ذات مخاطب ہے اور مراد یہ ہے کہ معاد کے دلائل کے باوجود کون شخص یا کون سی چیز تیری تکذیب کرسکتی ہے ، بعید نظر آتاہے ۔

اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ ” دین “ سے مراد یہاں آئین و شریعت نہیں ہے، بلکہ وہی جزا اورروزجزا ہے ۔ اس کے بعد والی آیت بھی اسی معنی کی گواہ ہے

جیسا کہ فرماتا ہے : ”کیا خدا بہترین حکم کرنے والا اور فیصلہ کرنے والا نہیں ہے “۔( الیس الله باحکم الحاکمین ) ۔

اور اگر ہم دین کو کل شریعت اور آئین کے معنی میں لیں تو پھر آیت کا مفہوم و معنی اس طرح ہو گا،” کیا خدا کے احکام و فرامین سے سب سے زیادہ حکیمانہ اور قابل یقین نہیں ہیں “؟ یا یہ کہ انسان کے لئے خدا کی خلقت ہر لحاظ سے حکمت ، علم اور تدبیرکے ساتھ آمیختہ ہے ۔ لیکن جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتاہے ۔

ایک حدیث میں آیاہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ| وسلم سورہ ” و التین “ کی تلاوت فرماتے تھے تو جیسے ہی آیہ” الیس اللہ باحکم حاکمین“ پر پہنچتے تھے تو فرماتے تھے ”( بلی و انا علیٰ ذالک من الشاهدین ) “۔

خدا وندا ! تونے ہماری خلقت کو بہترین صورت میں قرار دیا ہے۔ ہمیں توفیق عطا فرماکہ ہمارا عمل اور ہمارے اخلاق بھی بہترین صورت میں ہوں ۔

بار الٰہا ! ایمان و عملِ صالح کی راہ کو طے کرنا تیرے لطف و کرم کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ ہم پر اس راہ میں اپنا لطف و کرم فرما۔

آمین یارب العالمین

____________________

۱۔ ” کافی“ جلد ۶ ص ۳۵۸۔ مرحوم علامہ مجلسی نے بحار الانوار جلد۶۶ ۔ ص ۱۸۴ میں انجیر کے خواص کے بارے میں متعدد روایات نقل کی ہیں ۔

۲۔ ” اولین دانش گاہ و آخرین پیغمبر“ جلد۹ ص ۹۰ سے آگے۔

۳۔ ” ” اولین دانش گاہ و آخرین پیغمبر“ جلد۹ ص ۱۳۰ کے بعد۔

۴۔ ” بحار الانوار“ جلد ۶۶ ص ۱۸۰ حدیث ۶۔

۵۔ ” بحارالانوار“ جلد ۶۶ ص ۱۸۳ حدیث ۲۲۔

۶۔وہی ماخذ ص ۱۸۲ حدیث ۱۶۔

۷ ۔ جلد ۱۳ ص ۳۰۶ سے آگے سورہ واقعہ کی آیات سے استفادہ کرتے ہوئے سات دلیلیں بیان کی گئی ہیں ۔


سورہ العلق

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ۔ اس میں ۱۹ آیات ہیں

سورہ علق کے مطالب اور فضیلت

مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ یہ سورہ وہ پہلا سورہ ہے جو پیغمبر گرامی اسلام پرنازل ہوا اور اس کے مطالب بھی اسی بات کی تائید کرتے ہیں ، اور یہ بات جو بعض نے کہی ہے کہ پہلا سورہ، سورہ ، ” حمد“ یا سورہ” مدثر“ ہے ، یہ بات قطعی مشہور نہیں ہے ۔

یہ سورہ پہلے پیغمبر اکرام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قرائت و تلاوت کا حکم دیتا ہے اور اس کے بعد اس با عظمت انسان کی ایک بے قدر و قیمت قطرہ خون سے خلقت کی بات کرتا ہے ۔

اور بعد کے مرحلہ میں پروردگار کے لطف و کرم کے سائے میں انسان کے تکامل و ارتقاء اور اس کے علم و دانش اور قلم سے آشنائی کے بارے میں بحث ہوتی ہے ۔

اور ا س کے بعد مرحلہ میں ان ناشکرے انسانوں کے بارے میں ، جو ان تمام خدائی نعمتوں اور الطافِ الٰہی کے باوجودسر کشی کی راہ اختیار کرتے ہیں ، گفتگو کرتا ہے ۔

اور آخر میں ان لوگوں کی درد ناک سزا کی طرف اشارہ کرتا ہے جو لوگوں کوہدایت اورنیک اعمال سے روکتے ہیں ۔

اور سورہ کو” سجدہ“ اور بارگاہ ِ پروردگار میں تقرب حاصل کرنے کے حکم پر ختم کرتا ہے ۔

اس سورہ کی قرات کی فضیلت

اس سورہ کی قرأت کی فضیلت کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہو اہے کہ آپ نے فرمایا:

”من قرأ فی یومہ اولیلتہ اقرأ باسم ربک ثم مات فی یومہ اولیلتہ مات شہیداً و بعثہ اللہ شہیداً ، وحیاہ کمن ضرب بسیفہ فی سبیل اللہ مع رسول “۔

” جو شخص دن میں یا رات کو سورہ اقراء باسم ربک پڑھے گا اور وہ اس رات یا دن میں مر جائے گا تو وہ دنیا سے شہید مرے گا اور خدا اسے شہید مبعوث کرے گا اور شہیدوں کی صف میں اسے جگہ دے گا ، اور وہ قیامت میں اس شخص کی مانند ہو گا جس نے را ہ خدا میں پیغمبر اکرم نورِ مجسم صلی اللہ علہ و آلہ وسلم کی معیت میں شمشیر سے جہاد کیا ہو“۔

یہ سورہ ان مختلف تعبیروں کی مناسبت سے جو اس سورہ کے آغاز میں آئی ہیں سورہ ” علق“ یا سورہ ” اقرأ“ یاسورہ ” قلم “ کے نام سے موسوم ہواہے ۔(۱)

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱( اِقرا باسم ربک الذی خلق ) ۔ ۲ ۔( خلق الانسان من علقٍ ) ۳ ۔( اقرا وربک الاکرم ) ۔

۴ ۔( الذی علّم بالقلم ) ۔ ۵ ۔( علّم الانسان مالم یعلم ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ پڑھ اپنے پروردگار کے نام سے جس نے جہان کو پیدا کیا۔ ۲ ۔ وہی جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔

۳ ۔ پڑھ کہ تیرا پروردگار سب سے زیادہ مکرم و باعزت ہے۔ ۴ ۔ وہی جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ۔

۵ ۔ اور انسان کو وہ سب کو کچھ سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

شانَ نزول

جیسا کہ ہم نے سور ہ کے مطالب کی تشریح میں اشارہ کیا ہے کہ اکثر مفسرین کے نظریہ کے مطا بق یہ پہلا سورہ ہے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پرنازل ہواہے ، بلکہ بعض کے قول کے مطابق تو اوپر والی پانچ آیات سب ہی مفسرین کے نزدیک آغاز وحی میں ہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوئی تھیں اور ان کامضمون بھی اس معنی کی تاکید کرتاہے ۔

روایات میں آیاہے کہ پیغمبر کوہِ حرا پر گئے ہوئے تھے کہ جبرئیل آئے اور کہا: اے محمد پڑھو: پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں ۔

جبرئیل نے انہیں آغوش میں لے کر دبایااور پھر دوبارہ کہا:

( اقرأ باسم ربک الذی خلق ) پانچون آیات کے آخر تک ۔

جبرئیل یہ بات کہہ کرپیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظروں سے غائب ہوگئے۔ رسول خدا جو وحی کی پہلی شعاع کو حاصل کرنے کے بعد بہت تھکے ہوئے تھے خدیجہ کے پاس آئے اور فرمایا:” زملونی و دثرونی“: مجھے اڑھا دو اور کوئی کپڑا میرے اوپر ڈال دو تاکہ میں آرام کروں ۔(۲)

”طبرسی“ بھی مجمع البیان میں یہ نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدیجہ سے فرمایا:” جب میں تنہا ہوتا ہوں تو ایک آوازسن کرپریشان ہو جاتا ہوں “۔

حضرت خدیجہ نے عرض کیا : خدا آپ کے بارے میں خیر او ربھلائی کے سوا کچھ نہیں کرے گا کیونکہ خدا کی قسم آپ امانت کو ادا کرتے ہیں اور صلہ رحم بجالاتے ہیں ، اور جو بات کرتے ہیں اس میں سچ بولتے ہیں ۔

”خدیجہ“ کہتی ہیں : اس واقعہ کے بعد ورقہ بن نوفل کے پاس گئے، ( نوفل خدیجہ کا چچا زاد بھائی اور عرب کے علماء میں سے تھا)۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ ” ورقہ“ سے بیان کیا۔” ورقہ“ نے کہا: جس وقت وہ پکارنے والا آپ کے پاس آئے تو غور سے سنو کہ وہ کیا کہتا ہے َ اس کے بعد مجھ سے بیان کرنا۔

پیغبراکرم نے اپنی خلوت گاہ میں سنا کہ وہ کہہ رہا ہے: ” اے محمد کہو:( بسم الله الرحمن الرحیم )

( الحمدلله رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین ایاک نعبد و ایاک نستعین اهدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیهم غیر المغضوب علیهم و لاالضّالین ) ۔

اور کہو لاالہ الا اللہ ، اس کے بعدآپ ورقہ کے پاس آئے اور اس ماجرے کو بیان کیا ۔

”ورقہ“ نے کہا: آپ کو بشارت ہو، پھر بھی آپ کو بشارت ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ وہی ہیں جن کی عیسیٰ بن مریم نے بشارت دی ہے ، آپ موسیٰ علیہ السلام کی طرح صاحبِ شریعت ہیں اور پیغمبر مرسل( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ہیں ۔

آج کے بعد بہت جلد جہاد کے لیے مامور ہوں گے اور اگر میں اس دن تک زندہ رہا تو میں آپ کے ساتھ ہوکر جہاد کروں گا“!

جب ” ورقہ“ دنیا سے رخصت ہوگیا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

” میں نے اس روحانی شخص کو بہشت ( برزخی جنت)میں دیکھا ہے کہ وہ جسم پر ریشمی لباس پہنے ہوئے تھا کیونکہ وہ مجھ پر ایمان لایا تھا اور میری تصدیق کی تھی “۔(۳)

یقینی طور پر مفسرین کے بعض کلمات یا تاریخ کی کتابوں میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کی اس فصل کے بارے میں ایسے ناموزوں مطالب نظر آتے ہیں جو مسلمہ طور پر جعلی ، وضعی، گھڑی ہوئی روایات اور اسرائیلات سے ہیں ، مثلاً یہ کہ پیغمبر نزول وحی کے پہلے واقعہ کے بعد بہت ہی ناراحت ہوئے اور ڈرگئے کہ کہیں یہ شیطانی القاب نہ ہوں ، یاآپ نے کئی مرتبہ اس بات کا پختہ ارادہ کرلیا کہ خود کو پہاڑسے گرادیں ، اور اسی قسم کے فضول اور بے ہودہ باتیں جو نہ تو نبوت کے بلند مقام کے ساتھ ساز گار ہیں اور نہ ہی پیغمبر کی اس عقل اور حد سے زیادہ دانش مندی، مدبریت، صبر و تحمل و شکیبائی، نفس پر تسلط اور اس اعتماد کو ظاہر کرتی ہیں جو جو تاریخوں میں ثبت ہے ۔

ایسادکھائی دیتا ہے کہ اس قسم کی ضعیف ورکیک روایت دشمنان ِ اسلام کی ساختہ و پرداختہ ہیں جن کامقصدیہ تھا کہ اسلام کو بھی موردِ اعتراض قرادے دیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو بھی۔ جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے آیات کی تفسیرپیش کرتے ہیں ۔

____________________

۱۔ ” تفسیر بر ہان “ جلد ۴ ص ۴۷۸۔

۲۔ ” ابو الفتوح رازی“ جلد۱۲ ص۹۶، ( تھوڑی تلخیص کے ساتھ ، اسی مطلب کو بہت سے مفسرین عامہ و خاصہ نے بہت سے شاخ و برگ اور پھول بوٹے لگاکر نقل کیاہے، جن میں سے بعض بالکل قابلِ قبول نہیں ہے )۔

۳۔ ” تفسیر مجمع البیان“ جلد۱۰ ص ۵۱۴۔


اپنے پروردگار کے نام سے پڑھ

پہلی آیت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے :” اپنے پروردگار کے نام سے پڑھ جس نے سارے جہان کوخلق کیا ہے “۔( اقرأ باسم ربک الذی خلق ) ۔(۱)

بعض نے یہ کہا ہے کہ اوپر والے جملہ میں مفعول مخذوف ہے اور اصل میں اس طرح تھا اقرأ القراٰن باسم ربّک اپنے پروردگار کے نام سے قرآن مجید پڑھ ، اور اسی بناء پر علماء نے اس آیت کو اس پر دلیل بنایاہے کہ بسم اللہ قرآن کی سورتوں کا جز ہے۔(۲)

اور بعض نے ” باء “ کو زائدہ سمجھا ہے اور یہ کہاہے کہ اپنے پروردگارکے نام کو پڑھ ہے ، لیکن یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے ، کیونکہ مناسب یہ ہے کہ کہاجائے اپنے پروردگار کے نام کو یاد کر۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں سب سے پہلے پروردگار کی ” ربوبیت“ کے مسئلہ پر تکیہ ہواہے ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ ” رب“ ” مالک مصلح“ کے معنی میں ہے ، یعنی وہ ہستی جو کسی چیز کی مالک بھی ہے اور اس کی اصلاح و تربیت بھی کرتی ہو۔

اس کے بعد پروردگار کی ربوبیت کی ثابت کرنے کے لئے عالم ہستی کوخلقت و آفرینش پر تکیہ ہو اہے ، کیونکہ اس کی ربوبیت کی بہترین دلیل اس کی خالقیت ہے ، اور عالم کی تدبیر وہی کرسکتا ہے جس نے اس کو خلق کیا ہے ۔

یہ حقیقت میں عرب کے مشرکوں کا جواب ہے جو خدا کی خالقیت کو تو قبول کرتے ہیں لیکن ربوبیت اور تدبیر کے ضمن میں بتوں کے قائل تھے۔

اس کے علاوہ نظام ہستی میں خد اکی ربوبیت اور اس کی تدبیر اس کی ذاتِ مقدس کو ثابت کرنے کی بہترین دلیل ہے۔

اس کے بعد تمام مخلوقات میں سے عالم خلقت کے اہم ترین موجود اور آفرینش کے گل سر سبد یعنی انسان پر تکیہ کرتا ہے اور اس کی آفرینش کو ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” وہی خداجس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا “۔( خلق الانسان من علق ) ۔

”من علق“ اصل میں کسی چیز کے چپک جانے کے معنی میں ہے۔ اسی لیے جمے ہوئے خون کو اور اسی طرح” جو نک“ کو جو خون چُوسنے کے لیے بدن سے چپک جاتی ہے” علق“ کہتے ہیں ، اور چونکہ نطفہ عالم جنین کا پہلا دورگزار نے کے بعد جمے ہوئے اور چپکے ہوئے خون کی صورت اختیار کرلیتا ہے ، جو ظاہرمیں بہت ہی کم قدر و قیمت رکھتا ہے لہٰذا اس آیت میں انسان کی خلقت کا مبداء اسی ناچیز موجودکو شمار کرتا ہے تاکہ پروردگار کی عظیم قدرت نمائی واضح ہوجائے جس نے اس قسم کی بے قدر و قیمت موجود سے ایسی قابل قدر اور قیمتی مخلوق پید اکردی ہے۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ علق سے مرادیہاں آدم علیہ السلام کی مٹی ہے جو چپکنے کی حالت بھی رکھتی تھی ، اور یہ بات واضح ہے کہ وہ خدا جو اس عجیب مخلوق کو اس ” چپکی ہوئی مٹی “ کے ایک ٹکڑے سے وجود میں لایاہے ، وہی ہر قسم کی حمد و ستائش کے لائق ہے ۔

کبھی” علق“ کو ” صاحبِ علاقہ “ وجود کے معنی میں لیا ہے جو انسان کی اجتماعی روح اور ان کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق کی طرف اشارہ ہے ، اور یہ حقیقت میں تکامل بشر اور تمدنوں کی پیش رفت کا پایہ اصلی ہے ۔

بعض ” علق“ کو نر کے نطفہ ( سپرم) کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں جو ” جونک“ کے ساتھ بہت زیادہ مناسبت رکھتا ہے یہ خورد بینی موجود نطفہ کے پانی میں تیرتا ہے ، رحم میں عورت کے نطفہ کی طرف بڑھتا ہے ، اس کے ساتھ چپک جاتا ہے اور ان دونوں کی ترکیب سے انسان کا کامل و مکمل نطفہ وجود میں آتا ہے ۔

یہ ٹھیک ہے کہ اس زمانہ میں یہ مسائل تحقیق و دریافت نہیں ہوئے تھے، لیکن قرآن مجید نے علمی اعجاز کے طریق سے اس سے پردہ اٹھایا ہے ۔ ان چار تفاسیر میں سے پہلی تفسیر زیادہ واضح معلوم ہوتی ہے، اگر چہ تفسیروں کے درمیان جمع کرنے میں بھی کوئی مانع نہیں ہے ۔

ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہو جاتاہے کہ ” انسان“ ایک تفسیر کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کے معنی میں ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق انسانوں کے معنی میں ہے ۔

دوبارہ تاکید کے لئے مزید کہتا ہے : ” پڑھ کہ تیرا پروردگارہر کریم سے زیادہ کریم اور اور ہر بزرگوار سے اور باعزت سے بڑھ کر بزرگوار اور باعزت ہے ۔“( اقرأو ربک الاکرم ) ۔(۳)

بعض کا نظر یہ ہے کہ دوسرا ” اقرأ“ اسی ” اقرأ“ کی ایک تاکید ہے جواس پہلی آیات میں ہے ۔ اور بعض نے یہ کہا کہ یہ اس سے مختلف ہے ۔ پہلے جملہ میں پیغمبر کا اپنے لیے پڑھنا مراد ہے ، اور دوسرے جملہ میں لوگوں کے لیے پڑھنا۔

لیکن تاکید زیادہ مناسب نظر آتی ہے کیونکہ اس فرق پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

بہر حال اس آیت کی تعبیرحقیقت میں پیغمبر کی اس گفتگوکا جواب ہے کہ جو جبرئیل کے جواب میں آپ نے کہی تھی کہ میں پڑھا ہو انہیں ہوں ۔ یعنی پروردگار کی برکت سے جو حد سے زیادہ کریم وبزرگوار ہے تو قرأت و تلاوت کی طاقت وتوانائی رکھتا ہے ۔

اس کے بعداس خدا کی توصیف کر تے ہوئے جو سب کریموں سے بڑھ کر کریم و بزرگوار ہے ، فرماتا ہے :

”وہی ہستی جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ہے“۔( الذی علم الانسان بالقلم )

”اور انسان کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو وہ نہیں جانتا تھا “۔( علم الانسان مالم یعلم ) ۔

یہ آیات بھی درحقیت پیغمبر کی اسی گفتگو کا جواب ہیں جس میں آپ نے فرمایاتھا کہ : ” میں قرأت کرنے والانہیں ہوں “۔ یعنی وہی خدا جس نے انسان کو قلم کے ذریعہ تعلیم دی ہے اور جو کچھ انسان نہیں جانتاتھا اسے سکھا یا ہے، وہ اس بندے کو بھی جس نے کسی سے سبق نہیں پڑھا ہے قرأت و تلاوت سکھانے کی قدرت رکھتا ہے ۔

” الذی علم بالقلم “کے جملہ کے دو معنی نکلتے ہیں ، ایک یہ کہ : خدا نے انسان کو لکھنا اور کتابت کرنا سکھا یا ،اوراس عظیم کام کی قدرت و توانائی، جو تاریخ بشرکا مبداء اور تمام علوم و فنون اور تمدنوں کا سر چشمہ ہے ، اس میں ایجاد کی ۔

دوسرا یہ کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اس طریق سے اور اس وسیلہ سے علوم و فنون سکھائے۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایک تفسیر کے مطابق تولکھنے کی تعلیم مراد ہے ،اور دوسری تفسیر کے مطابق وہ علوم مراد ہیں جو کتابت کے ذیعہ انسان تک پہنچے ہیں ۔

بہرحال یہ ایک ایسی پر معنی تعبیر ہے، جو نزول وحی کے ا ن حسّاس لمحات میں ان عظیم اور پر معنی آیات میں منعکس ہو گئی ہے ۔

____________________

۱۔ ”راغب“ مفردات“ کہتا ہے ” قرأت“ حروف کلمات کو ایک دوسرے میں ملانے اور ضم کرنے کے معنی میں ہے ، اس لیے حرف کو قرائت نہیں کہتے ۔

۲۔ اس صورت میں ” باء“ ملابست کے لیے ہے ۔

۳۔ ” وربک الاکرم “ کا جملہ اسمیہ استینافیہ ہے اور ” مبتدا“ اور ” خبر‘ سے مرکب ہے۔


۱ ۔ وحی کا آغاز ایک حرکت علمی کے آغاز کے ساتھ ہوا ۔

یہ آیات، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ، اکثر مفسرین یا تمام مفسرین کے نظریہ کے مطابق، وہ سب سے پہلی آیات ہیں جو پیغمبر صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے قلبِ پاک پرنازل ہوئی تھیں اور وحی کی پہلی شعاعوں کی روشنی سے تاریخِ بشریت میں ایک نئی فصل کا آغاز ہوا، اور نوع انسانی ایک عظیم ترین الطافِ الٰہی کی مشمول ہوئی ، اور خدا کا وہ اکمل ترین دین ، جو سارے دینوں کا نقطہ اختتام تھا، نازل ہوا، اور تمام احکام اور اسلامی تعلیمات کے نزول کے بعد( الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً ) ۔ ( مائدہ۔ ۳) کے مطابق دین الٰہی کی تکمیل ہوئی اس کی نعمت حد، کمال کو پہچ گئی اور اسلام خدا کا پسندیدہ دین قرار پایا۔ یہاں ایک بہت عمدہ موضوع ہے، ( اور وہ یہ ہے ) کہ باوجود اس بات یہ کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ” امی تھے ، اور آپ نے کسی سے درس نہیں لیاتھا، اور حجاز کے ماحول کو سراسرجہالت و نادانی کے ماحول نے گھیر رکھاتھا، وحی کی پہلی آیات میں ” علم “ اور ” قلم “ کے مسئلہ پر گفتگو ہوئی، جو ان آیات میں خلقت و آفرینش جیسی عظیم نعمت کے فوراً بعد بلا فاصلہ ذکر ہوا ہے ۔ حقیقت میں یہ آیات پہلے انسانی جسم کی ایک بے قدر و قیمت لوتھڑے” علقہ“ جیسے موجود تکامل و ارتقاء کی خبر دیتی ہیں ، اور دوسری طرف سے روح کے تکامل کی ، تعلیم و تعلم کے ذریعے خصوصاً قلم کے ذریعہ بات کرتی ہیں ۔ جس دن یہ آیات نازل ہورہی تھیں اس دن نہ صرف حجاز کے ماحول میں ، جو جہالت کا ماحول تھا، کوئی شخص قلم کی قدر و منزلت کا قائل نہ تھا بلکہ اس زمانہ کی متمدن دنیا میں بھی قلم کی کم ہی قدر کی جاتی تھی۔ لیکن آج کے زمانہ میں ہم جانتے ہیں کہ وہ تمام تمدن ، علوم و فنون اور ترقیاں جو میدان میں نوعِ بشر کو نصیب ہوئی ہیں ، قلم کے محور کے گرد گردش کرتی ہیں ۔اور حقیقت یہ ہے کہ” مدادِ علماء( علماء کے قلم کی سیاہی) دماء شہداء( شہداء کے خون) پرسبقت لے چکی ہے کیونکہ شہید کے خون کی بنیاد اور اس کی پشتیبان علماء کے قلموں کی سیاہی ہی ہے ، اور اصولی طور پر انسانی معاشروں کی سر نوشت پہلے درجہ میں قلم کی نوک سے ہی لکھی گئی ہے

انسانی معاشروں کی اصلاحی باتیں مو من و متعمد قلموں سے لکھی جاتی ہےں ، اور معاشروں کے فساد اور تباہیوں کی باتیں بھی مسموم اور فاسد قلموں سے ہی تحریر میں آتی ہیں ۔

یہ بات بلاوجہ نہیں ہے کہ قرآن مجید نے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھتے ہیں ، ا س کی قسم کھائی ہے ۔ یعنی” آلہ“ کی قسم بھی کھاتا ہے اورجو کچھ اس سے حاصل ہوتا ہے اس کی قسم ، جیسا کہ فرماتا ہے :”( نٓ و القم وما یسطرون ) “ ( قلم ۔ ۱)

ہم جانتے ہیں کہ بشر کی زندگی کے ادوار کو دو ادوار میں تقسیم کرتے ہیں ۔

۱ ۔ تاریخ کا دور ۲ ۔ قبل از تاریخ کا دور

تاریخ کا دور وہ ہے جس میں قلم ، پڑھنے اور لکھنے کا زمانہ شروع ہوا ،اور انسان اس قابل ہو گیا کہ قلم کے ذریعہ اپنی زندگی کی کوئی چیز لکھ سکے ، اور آنے والے انسانوں کی زندگی میں قلم کے اثرات کے بارے میں تفسیر نمونہ کی جلد ۱۴ میں سورہ قلم کے آغاز میں ایک مفصل اور مبسوط تشریح پیش کی ہے ۔

اسی بناء ابتداء سے ہی اسلام کی بنیاد علم و قلم پر رکھی گئی ہے، اور یہ بات بلاوجہ نہیں ہے کہ اس قسم کی پس ماندہ قوم علوم و فنون میں اس قدر ترقی کر گئی کہ ،دوست و دشمن کے اعتراف کے مطابق ، انہوں نے ساری دنیا میں علم و دانش کو پھیلا دیا اور یورپ کے مورخین کے اعتراف کے مطابق یہ مسلمان کا نور علم و دانش ہی تھا جو قرونِ وسطیٰ میں تاریک یورپ کے صفحہ پر چمکا اور انہیں متمدن عصر میں داخل کرگیا ۔

اور اس سلسلہ میں خود انہیں کی طرف سے بہت سے کتابیں ” تاریخ تمدنِ اسلام“ یا” میراثِ اسلام “ کے عنوان سے لکھی گئی ہیں ۔

کس قدر نامناسب بات ہے کہ اس قسم کی ملت اور ایسا دین علم و دانش کے میدان میں پیچھے رہ جائے اور دوسروں کا محتاج ہو جائے ، یہاں تک کہ ان سے وابستہ ہوجائے۔

۲ ۔ ہرحال میں ذکرِ خدا

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کی دعوت کا آغازخدا کے نام کے ذکر سے شروع ہوا ہے ” اقرأ باسم ربک“ اور قابلِ غور بات یہ ہے کہ آپ کی بھر پور زندگی ذکر خدا اوریادِ خدا سے ملی ہوئی تھی۔

آپ کا ہر سانس ذکر خداکے ساتھ وابستہ تھا ۔ کھڑے ہوتے، بیٹھتے، سوتے ، چلتے، اور سوار ہوتے،پیادہ چلتے یا توقف کرتے سب یادِ خدا کے ساتھاور ” اللہ کے نام کے ساتھ تھا۔

جب نیند سے بیدار ہوتے تھے تو فرماتے تھے: ”الحمد لله الذی احیانا بعد مااماتنا و الیه النشور

” حمد کے لائق وہی ہے جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی جانب ہم سب نے لوٹ کرجانا ہے “۔

” ابن عباس (رض)“ کہتے ہیں کہ ایک رات میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں سویا ہواتھا۔ جب آپ بیدار ہوئے تو آپ نے آسمان کی طرف سر کوبلند کیااور سورہ آلِ عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت فرمائی۔

( ان فی خلق السماوات و الارض و اختلاف اللیل و النهار )

پھر عرض کیا:اللهم لک الحمد انت نور السماوات و الارض و من فیهناللهم لک اسلمت و بک اٰمنت و علیک توکلت و الیک انبت

” خدایا سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں ، تو ہی آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کا نور ہے خدا یا میں تیرے سامنے سر تسلیم خم کرچکا ہوں ، تجھ پر ایمان لا چکا ہوں ، تجھ پر توکل کر چکاہوں ، اور تیری طرف لوٹ چکاہوں “۔

جس وقت آپ گھر سے نکلتے تو فرماتے:

بسم الله ، توکلت علی الله ، اللهم انی اعوذبک ان اضل ، او اضل، اوازل، او ظلم، او اظلم، او جهل، اویجهل علیّ “۔

” اللہ کے نام سے ، میں اللہ پر توکل کرتا ہوں ، خدا یا میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں گمراہ ہوجاو ں ، یا کسی کی گمراہی کا سبب بنوں ، یا میں پھسل جاو ں یا کسی پرظلم کروں یا ظلم کیا جاو ، یاجہالت سے کام لوں ، یا مجھ سے جہالت کا بر تاو کیاجائے “۔

جب آپ مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے:

اعوذ بالله العظیم، وبوجهه الکریم و سلطانه القدیم من الشیطان الرجیم “۔

میں عظیم خدا سے اور اس کی کریم ذات سے اور اس کی قدیم سلطنت کے ذریعہ راندہ در گاہ شیطان سے پناہ مانگتا ہوں “۔

اور جس وقت آپ نیا لباس زیبِ تن کرتے تو فرماتے:

اللهم لک الحمد انت کسوتنیه اسئلک خیره وخیر ماصنع له و اعوذبک من شره و شرما صنع له “۔

” خد ایا سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں ۔ تونے ہی یہ لباس مجھے پہنایا ہے۔ میں تجھ سے اس کی خیر چاہتا ہوں اور جس خیر کے لیے یہ بنا ہے اور تجھ سے اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور جس شرکے لیے یہ بنا ہے “۔

اور جب گھر کی طر ف لوٹتے تو فرماتے:

الحمد الذی کفانی و اٰوانی و الحمد لله الذی اطعمنی و اسقانی “۔

” حمد ہے اس اللہ کی جس نے میری کفالت کی اور مجھے پناہ دی، اور حمد ہے اس للہ کی جس نے مجھے کھلایا اور پلایا۔

اور اسی طرح آپ کی تمام زندگی یادخدا، نام خدا اور الطافِ خدا کے تقاضوں سے گوندھی ہوئی اور ملی ہوئی تھی۔(۱)

____________________

۱۔ ” فی ظلال القراٰن جلد ۸ ص ۶۱۹ سے آگے( بہت زیادہ تلخیص کے ساتھ)۔


آیات ۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴

۶ ۔( کلّآ اِنّ الانسان لیطغیٰٓ ) ۷ ۔( أنْ رَّاهُ اسْتَغنیٰ ) ۸ ۔( اِنّ اِلیٰ ربِّک الرجعیٰ ) ۹ ۔( ارء یتَ الذی ینهیٰ )

۱۰ ۔( عَبْداً اذا صلّٰی ) ۔ ۱۱ ۔( أر ء یتَ اِن ْ کانَ علی الهُدٰٓی ) ۱۲ ۔( أوْ اَمَرَ بالتّقوٰی )

۱۳ ۔( أرء یتَ اِنْ کذَّبَ و تولیّ ) ٰ۔ ۱۴ ۔( ألم یعلم بِأنَّ الله یرٰی ) ۔

ترجمہ

۶ ۔ ایسانہیں کہ انسان حق شناس ہو، یقیناوہ سر کشی کرتا ہے ۔ ۷ ۔ اس وجہ سے کہ وہ خود کو بے نیاز سمجھتا ہے ۔

۸ ۔ یقینی طور پر سب کی باز گشت تیرے پروردگار کی طرف ہے ۔ ۹ ۔ مجھے بتا کیا وہ شخص جو نہی کرتا ہے ۔

۱۰ ۔ بندہ کو جب وہ نماز پڑھتا ہے ( کیا وہ مستحق عذابِ الہٰی نہیں ؟ ) ۱۱ ۔ مجھے بتا اگر یہ بندہ طریقِ ہدایت پرہو ۔

۱۲ ۔ یالوگوں کو تقویٰ کا حکم دے( کیا اسے نہیں کرنا مناسب ہے ؟ )

۱۳ ۔ مجھے بتا اگر( یہ سر کش) حق کی تکذیب کرے اور اس کی طرف سے پشت پھیرلے( تو اس کی کیسی دردناک سر نوشت ہو گی؟)

۱۴ ۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ خدا اس کے تمام اعمال کو دیکھتا ہے؟

کیا تجھے معلوم نہیں کہ خدا تیرے تمام اعمال کو دیکھتا ہے ؟

گزشتہ آیات کے بعد جن میں انسان کے لیے پروردگار کی مادی و معنوی نعمتوں کی طرف اشارہ ہوا تھا، اور ایسی وسیع نعمتوں کا لازمہ یہ ہے کہ انسان شکر ادا کرے اور خدا کے سامنے سر تسلیم خم کردے، لہٰذا زیر بحث آیات میں فرماتا ہے: ایسا نہیں ہے کہ خدا ئی نعمتیں ہمیشہ ہی انسان میں شکر گزاری کی روح بیدار کرتی ہوں بلکہ وہ یقینی طور پر طغیان و سر کشی کرتا ہے “۔( کلّا ان الانسان لیطغیٰ ) ۔(۱)

” اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگ جاتا ہے “۔( ان رٰاه استغنیٰ ) (۲)

یہ عام لوگوں کی فطرت ہوتی ہے ، ان لوگوں کی فطرت اور عادت جنہوں نے عقل و وحی کے مکتب میں پرورش نہ پائی ہو، چنانچہ جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگ جاتے ہیں تو سر کشی و طغیان شروع کردیتے ہیں ۔

نہ تو خدا کا بندہ بنتے ہیں ، نہ اس کے احکام کو قبول کرتے ہیں ، نہ وجدان کی پکار پر کان دھرتے ہیں اور نہ ہی حق و عدالت کا خیال کرتے ہیں ۔

انسان اور کوئی بھی دوسری مخلوق ہر گز بے نیاز اور مستغنی نہیں ہو سکتی۔ بلکہ تمام ممکن موجودات ہمیشہ خدا کے لطف اور نعمتوں کے محتاج اور نیاز مند رہتے ہیں ۔اور اگر ایک لمحہ بھی اس کافیض و کرم منقطع ہو جائے تو ٹھیک اسی لمحہ سب کے سب نابودو فنا ہو جائیں ۔ البتہ انسان بعض اوقات غلطی سے اپنے آپ کو بے نیاز سمجھنے لگ جاتا ہے ، اور آیت کی تعبیر لطیف بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے، جو یہ کہتی ہے کہ :” وہ خود کو بے نیاز سمجھنے لگ جاتا ہے“۔ یہ نہیں کہتی کہ وہ بے نیاز ہو جاتا ہے“۔

بعض کا نظریہ یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں ” انسان “ سے مراد خصوصیت کے ساتھ ” ابو جہل “ ہے ، جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت کے آغاز ہی سے مخالفت کے لیے کھڑا ہو گیا تھا۔ لیکن مسلّمہ طور پر یہاں ’ ’ انسان“ ایک مفہوم کلی رکھتا ہے اور ” ابو جہل“ جیسے افراد اس کے مصادیق ہیں ۔

بہر حال ایسامعلوم ہوتا ہے کہ آیت کا ہدف اور مقصد یہ ہے کہ پیغمبر کو یہ توقع رکھنی چاہئیے کہ لوگ فوراًہی ان کی دعوت قبول کرلیں گے۔ بلکہ انہیں چاہئیے کہ وہ خود کو سر کش مستکبرین کے انکار اور مخالفت کے لیے آمادہ تیارو رکھیں اور یہ جان لیں کہ ایک نشیب و فراز سے بھراہوا راستہ ان کے سامنے ہے ۔

اس کے بعد ان مستکبر سر کشوں کو تہدید کرتے ہوئے فرماتاہے : یقینا سب کی باز شگت تیرے پروردگار کی طرف ہے “۔( ان الیٰ ربک الرجعیٰ ) ۔

اور وہی سر کشوں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچا تا ہے ۔

اصولی طور پر جس طرح کہ ہر چیز کی باز گشت اس کی طرف ہے اور سب مرجائیں گے ، اور آسمان و زمین کی میراث اس کی پاک ذا ت کے لیے رہ جائے گی:( و لله میراث السماوات و الارض ) ( آل عمران۔ ۱۸۰) ابتداء میں بھی تمام چیزیں اسی کی طرف سے تھیں ، اور اس با ت کی گنجائش نہیں ہے کہ انسان خود کو بے نیاز سمجھنے لگ جائے ، اور مغرور ہوکر سر کش بن جائے۔

اس کے بعد مغرور سر کشوں کے کاموں کے ایک حصہ، یعنی راہ حق پر چلنے اور ہدایت و تقویٰ کے طریق کو طے کرنے سے روکنے کو بیان کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے : ” مجھے بتا کیا وہ شخص جو منع کرتا ہے “۔( ارئت الذی ینهیٰ )

”بندہ کو جب کہ وہ نماز پڑھتا ہے “۔( عبداً اذا صلّٰی ) ۔

کیا ایسا آدمی عذاب الٰہی کا مستحق نہیں ہے ؟ !

احادیث میں آیا ہے کہ ” ابو جہل“ نے اپنے اطرافیوں سے سوال کیا! کیا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، تمہارے سامنے بھی ( سجدہ کے لئے ) مٹی پر چہرے کو رکھتا ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ! اس نے کہا : قسم ہے اس کی جس کی ہم قسم کھاتے ہیں ، اگر میں اسے اس حالت میں دیکھوں گا تو اپنے پاو ں سے اس کی گردن کو کچل کر رکھ دوں گا۔ انہوں نے اس سے کہا : وہ دیکھوں ! وہ اس جگہ نماز پڑھنے میں مشغول ہے۔

ابو جہل چلا تاکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن کو اپنے پاو ں کے نیچے کچلے۔ لیکن جب وہ قریب پہنچا تو پیچھے ہٹ گیا اور ایسا معلوم دیتاتھا جیسے کہ وہ کسی چیز کو اپنے ہاتھ سے ہٹا رہا ہے ۔ان لوگوں نے اس سے کہا ، ہم تیری یہ حالت کیا دیکھ رہے ہیں ؟

اس نے کہا: میں نے اچانک اپنے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق دیکھی ہے ، اور ایک وحشت ناک منظر اور کچھ پر و بال مشاہدہ کیے ہیں !

اس موقع پر پیغمبر نے فرمایا: قسم ہے اس کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، اگر وہ میرے قریب آجاتا تو خدا کے فرشتے اس کے بدن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتے اور ا س کے ایک ایک عضو کو اچک کرلے جاتے“!

اس موقع پر اوپر والی آیات نازل ہوئیں ،(۳)

ان روایات کے مطابق اوپر والی آیات آغازِ بعثت میں نازل ہوئیں ، بلکہ اس وقت نازل ہوئیں جب اسلام کی دعوت برملا ہو چکی تھی۔ اسی لیے ایک گروہ کا نظریہ یہ ہے کہ اس سورت کی پہلی پانچ آیات ہی آغازِ بعثت میں نازل ہوئی تھیں ، اور باقی کافی مدت کے بعد نازل ہوئیں ۔

لیکن بہر حال یہ شانِ نزول آیت کے مفہوم کی وسعت سے مانع ہے ۔

بعد والی آیت میں اور زیادہ تاکید کے لئے مزید کہتا ہے :” مجھے بتا اگر نماز گزار بندہ طریق ہدایت پر ہو “۔( ارء یت ان کان علی الهدٰی ) ۔

” یا لوگوں کو تقویٰ کا حکم دے “۔( او امر بالتقویٰ ) ۔ کیا منع کرنا مناسب ہے ، اور کیا اس قسم کے شخص کی سزا جہنم کی آگ کے علاوہ کچھ اور ہوسکتی ہے ؟ !

” کیاوہ نہیں جانتا کہ خدا اس کے تمام اعمال کو دیکھتا ہے ، اور ان سب کو حساب و کتاب اور جزا و سزا کے لیے ثبت و ضبط کررہا ہے “۔( الم یعلم بان الله یرٰی ) ۔

اوپر والی آیات میں قضیہ شرطیہ کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس مغرور سرکش کو کم از کم یہ احتمال تودینا چاہئیے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طریقِ ہدایت پر ہیں ، اور ان کی دعوت تقویٰ کی طرف دعوت ہے ، یہی احتمال اس کی سر کشی کو روکنے کے لیے کافی ہے ۔

اس بناء پر ان آیات کا مفہوم ، پیغمبر کی تقویٰ کی طرف دعوت، اور ہدایت میں تردید نہیں ہوگا ، بلکہ یہ اوپر والے باریک نکتہ کی طرف اشارہ ہے ۔

بعض مفسرین نے ” کان“ و ”مر“ کی ضمیر کو اسی نہی کرنے والے شخص کی طرف لوٹا یا ہے ، جیسا کہ ”ابو جہل“ تھا۔ اس بناء پر آیات کا مفہوم اس طرح ہوجائے گا، اگر وہ ہدایت کو قبول کرلے اور نماز سے منع کرنے کی بجائے تقویٰ کی دعوت کرے تو اس کی حالت کے لئے یہ کتنا مفید ہوگا؟

لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔

عالم ہستی محضر خدا میں ہے

اس واقعیت کی طرف توجہ کہ انسان جو کام بھی انجام دیتاہے وہ خدا کے سامنے ہے ، اور اصولاً،” تمام عالم ہستی محضر خدا میں ہے “اور انسان کے اعمال میں سے کوئی چیز بھی ، یہاں تک کہ اس کی نیّات بھی خدا سے پنہان نہیں ہیں ، انسان کی زندگی کے پروگرام پر زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہے، اور اس کی غلط کاروائیوں سے روک سکتی ہے ، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ واقعی اس مطلب پر ایمان رکھتا ہو اور ا س نے ایک قطعی یقین کی صورت اختیار کرلی ہو۔

ایک حدیث میں آیاہے :

اعبد الله کانک تراه فان لم تکن تراه فانه یراک

”خدا کی اس طرح عبادت کر گویا کہ تو اسے دیکھ رہاہے، اور اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا تو وہ تجھے دیکھ رہاہے “۔

کہتے ہیں کہ ایک بیدار دل نے گناہ کے بعد توبہ کرلی تھی، لیکن ہمیشہ روتا رہتا تھا ۔ لوگوں نے اس سے کہا کہ تو اتنا کیوں روتا ہے؟ کیا تونہیں جانتا کہ خدا وند تعالیٰ بخشنے والاہے ؟ اس نے کہا : ہاں ممکن ہے کہ وہ معاف کردے، لیکن یہ خجالت و شرمساری کہ اس نے مجھے گناہ کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے ، اس کو اپنے سے کیسے دور کروں ؟!

گیرم کہ تو از سرّ گنہ گزری زان شرم کہ دیدی کہ چہ کردم چکنم ؟

میں نے مانا کہ تو میرے گناہ کو ضرورمعاف کردے گا۔

لیکن اس شرم کا کیا کروں کہ تونے یہ دیکھ لیا ہے میں نے کیا کیا ہے ؟

____________________

۱۔ جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیا ہے ” کلا“ اس چیز کو روکنے کے لیے ہے جو گزشتہ آیات کے مضمون کالازمہ ہے، اور بعض نے اسے ’ ’ حقاً“کے معنی میں بھی لیا ہے جو تاکید کے لئے ہے۔

۲۔ ”ان رٰاه استغنی “کا جملہ مفعول لاجلہ ہے اور تقدیر میں لان ہے اور رو یت یہاں علم کے معنی میں ہے ، لہٰذا اس کے دو مفعول ہوئے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ روئیت حِسی کے معنی میں ہو اور” استغنیٰ“ بمنزلہ” حال“ کے ہو۔

۳۔ تفسیر ” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۱۵۔


آیات ۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۱۹

۱۵ ۔( کلا لئن لم ینته لنسفعاً بالناصیةَ ) ۔ ۱۶ ۔( ناصیةٍ کاذبةٍ کاطئَةٍ ) ۔ ۱۷ ۔( فلیدع نادیه ) ۔

۱۸ ۔( سندع زبانیة ) ۔ ۱۹ ۔( کلا لاتطعه و اسجد و اقترب ) ۔

ترجمہ

۱۵ ۔ جیسا کہ وہ خیال کرتا ہے ایسا نہیں ہے ، اگر وہ اپنے کام سے دستبردار نہ ہوگا تو ہم اس کی ناصیہ(اس کے سر کے اگلے حصہ کے بال) پکڑ کر( عذاب کی طرف کھیچ لے جائیں گے)

۱۶ ۔ وہی دروغ گو اور خطاکار ناصیہ ( پیشانی)

۱۷ ۔ پھر وہ جسے چاہے پکار تارہے( کہ وہ اس کی مدد کرے) ۱۸ ۔ ہم بھی عنقریب دوزخ کے مامورین کو پکاریں گے۔

۱۹ ۔ جیسا کہ وہ سمجھتا ہے ،ایسا نہیں ہے ، ہر گز اس کی اطاعت نہ کر، اور سجدہ کر ، اور خدا کا تقرب حاصل کر۔

سجدہ کر اور تقرب حاصل کر!

اس بحث کے بعد ، جو گشتہ آیات میں کافر سرکشوں ، اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور نماز گزاروں کے لیے ان کی مزاحمت کے بارے میں آئی تھی۔ ان آیات میں ان پر سخت دھمکیوں کی بارش کرتے ہوئے فرماتا ہے ،” جیسا کہ وہ خیال کرتا ہے ایسا نہیں ہے ( وہ گمان کرتا ہے کہ وہ پیغمبر کی گردن پر ان کے سجدہ کے وقت پاو ں رکھ سکتا ہے ، اور انہیں اس عبادتِ خدا سے روک سکتا ہے “)۔( کلّا ) ۔

” اگر وہ اپنے اس غرور اور جہالت سے دستبردار نہ ہوگا تو ہم اس کے سر کے اگلے حصہ کے بالوں کو پکڑ کر اسے عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے“۔( لئن لم ینته لنسفعاً بالناصیة ) ۔

وہی دروغ گو اور خطا کار کے سر کا اگلا حصہ ( پیشانی) “( ناصیة کاذبة خاطئة ) ۔

” لنسفعاً“ سفع“( بروزن عفو) کے مادہ سے بعض مفسرین کے قول کے مطابق مختلف معنی رکھتا ہے : پکڑنا، اور سختی کے ساتھ کھینچنا، منہ پر طمانچہ مارنا ، منہ کو کالاکرنا( ان تین پتھر وں کو بھی ، جو دیگ کو آگ پر رکھتے وقت دیگ کے پایے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ، سفع کہاجاتا ہے کیونکہ وہ سیاہ اور دھوئیں سے آلودہ ہوتے ہیں )۔ اور آخری بات نشان زدہ کرنے اور ذلیل کرنے کے لیے آیاہے۔(۱)

اور یہاں سب سے زیادہ مناسب وہی پہلا معنی ہے۔ اگر زیر بحث آیت میں دوسرے معانی کا احتمال بھی ہے ۔

بہر حال کیا اس سے مراد ہے کہ یہ ماجراقیامت میں واقع ہوگاکہ ابو جہل جیسے افراد کے سر کے اگلے حصہ کے بالوں کو پکڑیں گے اور جہنم کی طرف کھینچ کر جائیں گے ، یا دنیا میں پورا ہوجائے گا، یا دونوں باتیں ہوں گی؟ یہ بات بعید نہیں ہے کہ دونوں ہی مراد ہوں ، اوراور اس کا گواہ ذیل کی روایت ہے ۔

ایک رویت میں آیاہے :

”جس وقت سورہ رحمن نازل ہواتو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا:

” تم میں سے کون ہے؟ جو اس سورہ کو رو سائے قریش کے سامنے جاکر پڑھے“۔

حاضرین کچھ دیر کے لیے خاموش رہے چونکہ وہ سردارانِ قریش کی ایذا رسانی سے ڈرتے تھے ۔

” عبد اللہ بن مسعود“ کھڑے ہوگئے اور کہا: اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں یہ کام کروں گ ابن مسعود (رض) چھوٹے سے جثہ کے تھے اور جسمانی لحاظ سے کمزور بھی تھے، کھڑے ہو کر سردارانِ قریش کے پاس پہنچ گئے۔ انہیں دیکھا کہ وہ کعبہ کے ارد گردبیٹھے ہیں ، لہٰذا( ابن مسعود نے ) سورہ رحمن کی تلاوت شروع کردی۔

” ابو جہل“ نے کھڑے ہوکر ابنِ مسعود (رض) کے منہ پر ایسا تھپڑ مارا کہ ان کا کان پھٹ گیا اور خون جاری ہوگیا ۔

ابن مسعود (رض) روتے ہوئے پیغمبر کی خدمت میں حاضرہوئے، جب پیغمبر کی نگاہ ان پر پڑی تو آپ کو دکھ ہوا ۔ آپ نے سر نیچے کرلیا اور گہرے غم و اندوہ میں ڈوب گئے ۔

اچانک جبرئیل نازل ہوئے جب کہ وہ خندان و مسرو رہے تھے ، آپ نے فرمایا: اے جبرئیل تم کس لیے ہنس رہے ہو جب کہ ابن مسعود رو رہا ہے ؟ ( جبرئیل نے ) عرض کیا عنقریب آپ کواس کی وجہ معلوم ہو جائے گی۔

یہ ۰ ماجرا گزر گیا ۔ جب مسلمان جنگ بدر کے دن کامیاب و کامران ہوئے تو ابن مسعود مشرکین کے مقتولین کے درمیان گر دش کررہے تھے، ان کی نظر ابو جہل پر پڑی کہ وہ آخری سانس لے رہا تھا ، ابن مسعود اس کے سینہ پر سوار ہوگئے، جب اس کی نگاہ ان پر پڑی تو کہا : اے حقیر چر واہے تو کتنے بلند مقام پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ ابن مسعودنے کہا : الاسلام یعلو و لایعلیٰ علیہ : ” اسلام برتری حاصل کرے گا اور کسی چیز کو اسلام پر برتری حاصل نہیں ہوگی“۔

ابو جہل نے ان سے کہا اپنے دوست محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) سے کہہ دے :نہ تو زندگی میں کوئی شخص میری نظر میں اس سے زیادہ مبغوض تھا اور نہ ہی موت کی حالت میں ۔

جب یہ بات پیغمبر کے کانوں تک پہنچی تو آپ نے فرمایا :

”میرے زمانے کا فرعون موسیٰ کے زمانے کے فرعون سے بد تر ہے ۔ کیونکہ اس نے تو اپنی عمر کے آخری لمحات میں یہ کہا تھا: میں ایمان لے آیا ہوں ، لیکن اس کی سر کشی اور بھی بڑھ گئی ہے “۔

اس کے بعد ابو جہل نے ابن مسعود (رض) کی طرف رخ کر کے کہا: میر اسراس تلوار سے قطع کر جو زیادہ تیز ہے ۔ جب ابن مسعود نے اس کا سرقلم کیا تو وہ اس کو اٹھاکر پیغمبر کی خدمت میں نہ لاسکے۔ ( لہٰذا اس کے سر کے بالوں کو پکڑ کر زمین پرکھینچتے ہوئے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور آیت کا مضمون اس دنیا میں پورا ہوگیا )۔(۳)

” ناصبہ“ سر کے اگلے حصہ کے بالوں کو کہتے ہیں ۔ اور ان بالوں کو پکڑنا ایسی جگہ بولا جاتا ہے جب کسی شخص کو کسی کام کے لئے ذلت وخواری کے ساتھ لے جائیں ، کیونکہ جب کسی کے سر کے اگلے حصہ کے بالوں کو پکڑ تے ہیں تو اس سے ہر قسم کی حرکت کی قدرت سلب ہوجاتی ہے اور اس کے لیے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہتا ۔

البتہ لفظ ” ناصبة“ سر کے افراد و اشخاص کے لئے بھی اور نفیس اشیاء کے بارے میں بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ ہم فارسی ( اور اردو) زبان میں ” جمعیت کی پیشانی“ یا” عمارت کی پیشانی“ سے تعبیر کرتے ہیں ۔

” ناصبة کاذبہ خاطئة“ کی تعبیر ایسے شخص کی طرف اشارہ ہے ، جو یہ ناصیہ رکھتا ہے ، جو چھوٹا بھی تھا اور خطا کار بھی ، جیسا کہ ابو جہل تھا۔

ایک روایت میں ابن عباس (رض) سے آیا ہے کہ ایک دن ابو جہل رسول خدا کے پاس آیاجب کہ آنحضرت صلی اللہ و آلہ وسلم مقام ابراہیم کے پاس نماز میں مشغول تھے ، اس نے پکار کر کہا کیا میں نے تجھے اس کام سے منع نہیں کیا تھا؟ حضرت نے اس کو جھڑک کر دھتکار دیا ۔

ابو جہل نے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) ! تم مجھے جھڑک تے ہو اور مجھے دھتکارتے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اس سر زمین میں میری قوم اورقبیلہ سب سے زیادہ ہے ۔(۳)

اس موقع پر بعد والی آیت نازل ہوئی: یہ جاہل و مغرور اپنی ساری قوم و قبیلہ کو پکار لے اورانہیں مدد کے لیے بلالے( فلیدع نادیة ) ۔

” ہم بھی اس مامورین دوزخ کو پکار لیں گے“۔( سندع زبانیة ) ۔

تاکہ اسے معلوم ہو جائے کہ اس بے خبر غافل سے کوئی کام بھی نہیں ہو سکتا۔ اور مامورینِ عذاب کے چنگل میں پر کاہ کی طرح ایک خوفناک طوفان کے درمیان میں ہے ۔

” نادی“ ” ندا“ ( پکار نا) کے مادے سے مجلس عمومی کے معنی میں ہے ، اور بعض اوقات مرکزِ تفریح کو بھی نادی کہا جاتا ہے ، چونکہ وہاں لوگ دوسرے کو پکار تے اور ندا دیتے ہیں ۔

بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ” ندا“سے لیا گیا ہے جو بخشش کے معنی میں ہے ، کیونکہ وہاں ایک دوسرے کی پذیرائی کرتے ہیں ’ ’دار الندوة“ بھی جو قریش کی مشہور مجلس مشاورت کہی جاتی تھی اسی معنی سے لی گئی ہے ۔

لیکن یہاں ” نادی“سے مراد وہ جماعت ہے جو اس مجلس میں جمع ہو تی تھی ۔ یا دوسرے لفظوں میں اس سے وہ قوم و قبیلہ اور دوست مراد ہیں جن کی قوت پر ابو جہل جیسے لوگ اپنے کاموں میں بھروسہ کرتے تھے ۔

” ” زبانیة“ جمع” زبینہ“ (زاء کی زیر کے ساتھ)اصل میں یہ انتظامی مامورین کے معنی میں ہے جو” زبن“ ( بروزن متن) کے مادہ سے دفع کرنے ، ضرب لگانے اور دور کرنے کے معنی میں ، اور یہاں فرشتگان عذاب اور دوزخ کے مامورین کے معنی میں ہے ۔

اس سورہ کی آخری آیت میں جو آیہ سجدہ ہے ، فرماتا ہے :” اس طرح نہیں ہے جیسا کہ وہ خیال کرتا ہے او رتیرے سجدہ کے ترک کرنے پر اصرار کرتا ہے ” کلا“

” ہر گز ا س کی اطاعت نہ کر، اپنے پروردگار کی بار گاہ میں سجدہ کر اور اس کا تقرب حاصل کر“( لاتطعمه و اسجد و اقترب ) ۔

دنیا زمانے کے ابو جہل اس سے کہیں زیادہ حقیر و ناچیز ہیں کہ تجھے سجدہ کرنے سے روک سکیں ، یا تیرے دین و آئین کی ترقی میں روڑے اٹکاسکیں اور اس میں کوئی رکاوٹ ڈال سکیں ۔ تو پروردگار پر توکل کرتے ہوئے اس کی عبادت و بندگی اور سجدہ کے ساتھ اس راستہ میں قدم بڑھائے جا، اور ہر روز اپنے اپنے خدا سے نزدیک سے نزدیک تر ہوتا چلا جا۔

ضمنی طور پر اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ سجدہ انسان کے لئے بار گاہِ خدا کے قرب اور نزدیکی کا باعث ہے ۔ اور اسی لیے ایک حدیث میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا کہ آپ نے فرمایا:

( اقرب مایکون العبد من الله اذا کان ساجداً )

” بندے کی خدا سے سب سے زیادہ قرب کی حالت اس وقت ہوتی ہے ، جب وہ سجدہ میں ہوتا ہے “۔

البتہ ہمیں معلوم ہے کہ اہل بیت عصمت کی روایات کے مطابق قرآن مجید میں چار سجدے واجب ہیں ”الم سجده “ و ” حٰم سجده “ و ”النجم “ اور یہاں ”سورهٴ علق “ میں اور قرآن کے باقی سجدہ مستحب ہیں ۔

____________________

۱۔ ” فخر رازی“ جلد ۳۲ ص۲۳۔

۲ ” تفسیر فخر رازی “ جلد ۳۲ ص ۲۳ ( تلخیص کے ساتھ )۔

۳۔” فی ظلال القرآن“ جلد ۱۰ ص ۶۲۴۔


سر کشی اوربے نیازی کا احساس

دنیا کے اکثر مفاسد اور خرابیاں مرفہ الحال اور مستکبر طبقوں سے قوت حاصل کرتی ہیں ، اور انبیاء کے مقابلہ میں مخالفت کرنے والوں کی صف اول میں یہی لوگ ہوتے تھے، وہی لوگ جنہیں قرآن کبھی ” ملأ“ ( اعراف۔ ۶۰) سے تعبیر کرتا ہے ، اور کبھی ” مترفین“ ( سبا۔ ۳۴) سے ، اور کبھی ”( مستکبرین ) “( مو منون۔ ۶۷) کے ساتھ جن میں پہلا لفظ تو ان اشراف کی جمعیت کی طرف اشارہ ہے جن کا ظاہر آنکھوں کو بھلالگتا ہے لیکن ان کا باطن خالی ہوتا ہے ، اور دوسرا لفظ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو نارو نعمت میں زندگی بسر کرتے ہیں اور مست و مغرور ہو جاتے ہیں اور انہیں دوسروں کے دکھ درد کی کوئی خبر نہیں دیتی، اور تیسرا لفظ ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو کبر و غرور کی سواری پر سوار ہو کر خدا اور خلق خدا سے دور ہو جاتے ہیں ۔

اور ان سب کا سر چشمہ بے نیازی اور غنا کا احساس ہے ، اور یہ کم ظرف لوگوں کی خصوصیات میں سے ہے کہ جب وہ کوئی نعمت، مال یا کوئی مرتبہ و مقام حاصل کرلیتے ہیں تو وہ ایسے مست ہوجاتے ہیں اور بے نیازی کا احساس کرنے لگ جاتے ہیں کہ جس سے خدا کو بھی بھول جاتے ہیں ۔

حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ ہو اکے ایک ذراسے جھونکے سے دفتر ربام درہم و بر ہم ہو جاتا ہے اور انسان کا سارامال و دولت ایک ساعت سے بھی کم وقت میں نابود ہو سکتا ہے ، یا سیلا ب و زلزلہ اور بجلی کی کڑک سب کچھ بر باد کرکے رکھ دیتی ہے اور انسان کی سلامتی بھی ، پانی کے ایک گھونٹ کے گلے میں پھنس جانے سے ، ایسی خطرے میں پڑجاتی ہے کہ موت آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگتی ہے

یہ کیسی غفلت ہے جو کچھ لوگوں کو دامن گیر ہوجاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو بے نیاز خیال کرنے میں لگ جاتے ہیں اور غرورکی سر کش سوار پر سوار ہوکر معاشرے کے میدان کو اپنی جولانگاہ بنالیتے ہیں ۔

اس جہل و نادانی، اور اس بے خبری اور خیرہ سری سے خدا کی پناہ

ایسی حالت سے بچنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ انسان تھوڑا سا اپنے بے حساب ضعف و کمزوری اور پروردگار کی عظیم قدرت پر غور کرے، اور تھوڑا سا گزرے ہوئے لوگوں کی تاریخ کی ورق گردانی کرلے، اور ان اقوام کی سر گزشت کو جو اس سے زیادہ قوی اور طاقتور تھے، دیکھ لے تاکہ غرور کے سواری سے نیچے اترآئے۔

خدا وندا ! ہمیں کبر و غرور سے ، جو تجھ سے دوری کا اصل سبب ہے ، محفوظ رکھ۔

پروردگارا ! ہمیں دنیا و آخرت میں ایک لمحہ کے لیے بھی ہمارے اپنے سپرد نہ کرنا۔

بارلٰہا ! ہمیں ایسی قدرت عطا فرما کہ ہم ان مغرور و مستکبرین کی ناک کو ، جو تیرے سامنے سدِّراہ بنے ہوئے ہیں ، رگڑ کر رکھ دیں اور ان کے تمام منصوبوں کو مٹا دیں ۔

آمین یا رب العالمین


سورہ القدر

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ۔ اس میں ۵ آیات ہیں ۔

سورہ قدر کے مطالب

اس سورہ کا مضمون ، جیسا کہ اس کے نام سے بھی ظاہر ہوتا ہے ، شب قدرِ قدر میں قرآن کا نزول ہے ۔ اس کے بعد شب قدر کی اہمیت اور اس کے بر کات و آثار کا بیان ہے ۔

اس بارے میں کہ یہ سورہ” مکہ“ میں نازل ہوا ہے یا” مدینہ“ میں ، مفسرین کے درمیان مشہور اس کا ” مکی“ ہونا ہے لیکن بعض نے احتمال دیا ہے کہ یہ مدینہ میں نازل ہوا ہے کیونکہ ایک روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ ” بنی امیہ “ آپ کے منبر پر چڑھ گئے ہیں ۔ یہ چیز آپ پر گراں گزری اور آپ رنجیدہ ہوئے تو سورہ قدر نازل ہوئی اور آپ کو تسلی دی ، لہٰذا بعض علماء” لیلة القدر خیر من الف شہر “ کو بنی امیہ کی حکومت کی طرف ناظر سمجھتے ہیں جو تقریباً ایک ہزار ماہ رہی ) اور ہم جانتے ہیں کہ مسجد اور منبر مدینہ میں بنائے گئے تھے۔(۱)

____________________

۱۔ ” روح المعانی“ جلد ۳۰ ص ۱۸۸ و ” در المنثور“ جلد ۶ ص ۳۷۱۔


اس سورہ کی فضیلت

اس سورہ کی فضیلت میں یہی کافی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:

من قرأ ها اعطی من الاجر کمن صام رمضان و احیا لیلة القدر

” جو شخص اس کی تلاوت کرے گا تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا جس نے ماہ رمضان کے روزے رکھے اور شب قدر کو احیاء کیا ہو“۔(۱)

ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیاہے :

من قرأ انّا انزلناه بجهر کان کشا هر سیفه فی سبیل الله، ومن قرأها،سرّاً کان کالمتشحط بدمه فی سبیل الله “۔

” جو شخص سورہ انّا انزلناہ کو بلند آواز سے پڑھے وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے راہ خدا میں تلوار کھینچی اور جہاد کیا ، اور جو شخص اسے آہستہ اور پنہاں طور پڑھے وہ اس شخص کے مانند ہے جو راہ خدا میں اپنے خون میں لت پت ہو۔(۲)

آیات ۱،۲،۳،۴،۵

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( انّآ انزلناه فی لیلة القدر ) ۔ ۲ ۔( وما ٓ ادراک مالیلة القدر ) ۔ ۳ ۔( لیلة القدر خیر مّن الف شهر ) ۔

۴ ۔( تنزّ لُ الملآئکةُ و الرُّوحُ فیها باذن ربهم من کل امرٍ ) ۔ ۵ ۔( سلامٌ هی حتّی مطلع الفجر ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے ۱ ۔ ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔ ۲ ۔ اور تو کیا جانے شب قدر کیا چیز ہے ؟ ! ۳ ۔ شب قدر ہزار مہینہ سے بہتر ہے ۔

۴ ۔ فرشتے اور روح اس رات میں اپنے پروردگار کے اذن سے ہرکام ( کی تقدیر) کے لیے اتر تے ہیں ۔

____________________

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۱۶۔

۲۔’ مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۱۶۔


شب قدر نزولِ قرآن کی رات

قرآن کی آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید ماہ مبارک میں نازل ہوا ہے :” شہر رمضان الذی انزل فیہ القراٰن “ (بقرہ۔ ۱۸۵) اور اس تعبیر کا ظاہر یہ ہے کہ سارا قرآن اسی ماہ میں نازل ہوا ہے ۔

اور سورہ قدر کی پہلی آیت میں مزید فرماتا ہے : ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا “۔( انّآ انزلناه فی لیلة القدر )

اگر چہ اس آیت میں صراحت کے ساتھ قرآن کا نام ذکر نہیں ہوا ، لیکن یہ بات مسلم ہے کہ ” انّا انزلناہ“ کی ضمیر قرآن کی طرف لوٹتی ہے اور اس کا ظاہری ابہام اس کی عظمت اور اہمیت کے بیان کے لیے ہے ۔

( انّا انزلناه ) “ ( ہم نے اسے نازل کیا ہے ) کی تعبیر بھی اس عظیم آسمانی کتاب کی عظمت کی طرف ایک اور اشارہ ہے جس کے نزول کی خدا نے اپنی طرف نسبت دی ہے مخصوصاً صیغہ متکلم مع الغیر کے ساتھ جو جمع کامفہوم رکھتا ہے ، اور یہ عظمت کی دلیل ہے ۔

اس کا شب” قدر“ میں نزول وہی شب جس میں انسانوں کی سر نوشت اور مقدرات کی تعین ہوتی ہے ۔ یہ اس عظیم آسمانی کتاب کے سرنوشت ساز ہونے کی ایک اور دلیل ہے۔

اس آیت کو سورہ بقرہ کی آیت کے ساتھ ملانے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شب قدر ماہ مبارک رمضان میں ہے ، لیکن وہ کون سی رات ہے قرآن سے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا ۔ لیکن روایات میں اس سلسلہ میں بھی اور دوسرے مسائل کے بارے میں بھی گفتگو کریں گے۔

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تاریخی لحاظ سے بھی اور قرآن کے مضمون کے پیغمبر اکرم کی زندگی سے ارتباط کے لحاظ سے بھی یہ مسلم ہے کہ یہ آسمانی کتاب تدریجی طور پر اور ۲۳ / سال کے عرصہ میں نازل ہوئی ہے ۔ یہ بات اوپر والی آیات سے جو یہ کہتی ہیں کہ ماہ رمضان میں اور شب قدر میں نازل ہوئی، کس طرح ساز گار ہوگی؟

اس سوال کا جواب:۔ جیسا کہ بہت محققین نے کہا ہے ۔ یہ ہے کہ قرآن کے دو نزول ہیں ۔

۱ ۔ نزول دفعی : جو ایک ہی رات میں سارے کا ساراپیغمبراکرم کے پاس قلب پریا بیت المعمور پر یا لوح محفوظ سے نچلے آسمان پر نازل ہوا۔

۲ ۔ نزول تدریجی : جو تیئس سال کے عرصہ میں نبوت کے دوران انجام پایا ۔ ( ہم سورہ دُخان کی آیہ ۳ جلد ۱۲ تفسیر نمونہ ص ۲۶ سے آگے اس مطلب کی تشریح کے چکے ہیں )۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آغازِنزول ِ قرآن شب قدر میں ہواتھا، نہ کہ سارا قرآن ، لیکن یہ چیز آیت کے ظاہر کے خلاف ہے ، جو کہتی ہے کہ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن کے نازل ہونے کے سلسلے میں بعض آیات میں ” انزال“ اور بعض میں ” تنزیل“ تعبیر ہوئی ہے ۔ اور لغت کے کچھ متنوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ” تنزیل “ کا لفظ عام طور پر وہاں بولا جاتا ہے جہاں کوئی چیز تدریجاًنازل ہو لیکن ” انزال “ زیادہ وسیع مفہوم رکھتا ہے جو نزول دفعی کو بھی شامل ہوتا ہے ۔(۱)

تعبیر کایہ فرق جو قرآن میں آیاہے ممکن ہے کہ اوپر والے دو نزولوں کی طرف اشارہ ہو۔

بعد والی آیت میں شب قدر کی عظمت کے بیان کے لیے فرماتاہے :” تو کیا جانے کہ شب قدر کیا ہے “۔( وما ادراک مالیلة القدر ) ۔

اور بلا فاصلہ کہتا ہے :” شب قدر ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے “۔( لیلة القدر خیر من الف شهر ) ۔

یہ تعبیر اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ اس رات کی عظمت اس قدر ہے کہ پیغمبر اکرم نور مجسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک بھی اپنے اس وسیع وعریض علم کے باوجود آیات کے نزول سے پہلے واقف نہیں تھے ۔

ہم جانتے ہیں کہ ہزار ماہ اسّی ( ۸۰) سال سے زیادہ ہے ۔ واقعاً کتنی باعظمت رات ہے جو ایک پر برکت طولانی عمر کے برابر قدر و قیمت رکھتی ہے ۔

بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

” بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے لباسِ جنگ زیب تن کررکھا تھا ، اور ہزار ماہ تک اسے نہ اتا را ، وہ ہمیشہ جہاد فی سبیل اللہ میں مشغول ( یا آمادہ ) رہتا تھا ، پیغمبر اکرم کے اصحاب و انصار نے تعجب کیا، اور آرزو کی کہ کاش اس قسم کی فضیلت و افتخار انہیں بھی میسر آئے تو اوپروالی آیات نازل ہوئیں ۔ اور بیان کیاکہ شب قدر ہزار ماہ سے افضل ہے ۔ ۲

ایک اور حدیث میں آیاہے کہ پیغمبر نے بنی اسرائیل کے چار افراد کو ذکر کیا جنہوں نے اسی سال بغیر معصیت کیے خدا کی عبادت کی تھی۔ اصحاب نے آرزو کی کہ کاش وہ بھی اس قسم کی توفیق حاصل کرتے تو اس سلسلہ میں اوپر والی آیات نازل ہوئیں ۔(۳)

اس بارے میں کہ یہاں ہزار کا عدد” تعداد“ کے لئے ہے یا” تکثیر“ کے لیے بعض نے کہا ہے : یہ تکثیر کے لیے ہے ، اور شب قدر کی قدر و منزلت کئی ہزار ماہ سے بھی زیادہ ہے ، لیکن وہ روایات جوہم نے اوپرنقل کی ہیں وہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ عددِ مذکور تعداد ہی کے لئے ہے اور اصولی طور پر بھی عدد ہمیشہ کے لئے ہوتا ہے مگر یہ تکثیر پر کوئی واضح قرینہ موجود ہو ، اوراس کے بعد اس عظیم رات کی مزید تعریف و توصیف کرتے ہوئے اضافہ کرتا ہے : ” اس رات میں فرشتے اور روح اپنے پروردگار کے اذن سے ہر کام کی تقدیر کے لیے نازل ہوتے ہیں “۔( تنزل الملائکة و الروح فیها باذن ربهم من کل امر ) ۔

اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ” تنزل“ فعل مضارع ہے اور استمرار پر دلالت کرتا ہے ( جو اصل میں ” تتنزل“ تھا)۔ واضح ہو جاتا ہے کہ شبِ قدر پیغمبر اکرم اور نزولِ قرآن کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں تھی، بلکہ یہ ایک امر مستمر ہے ، اور ایسی رات ہے جو ہمیشہ آتی رہتی ہے اور ہر سال آتی ہے ۔

اس بارے میں کہ روح سے کیا مراد ہے بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد ” جبرئیل امین “ ہے ، جسے ” روح الامین “ بھی کہا جاتا ہے ، اور بعض نے ” روح“ کی سورہ شوریٰ کی آیہ ۵۲” و کذلک اوحینا الیک روحاً من امرنا“ ” جیسا کہ ہم نے گزشتہ انبیاء پر وحی کی تھی، اسی طرح سے تجھ پر بھی اپنے نافرمان سے وحی کی ہے“۔

کے قرینہ سے ” وحی“ کے معنی میں تفسیر کی ہے ۔

اس بناء پر آیت کا مفہو م اس طرح ہوگا” فرشتے وحی الٰہی کے ساتھ، مقدرات کی تعیین کے سلسلہ میں ، اس رات میں نازل ہوتے ہیں “۔ یہاں ایک تیسری تفسیر بھی ہے جو سب سے زیادہ قریب نظر آتی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ” روح ایک بہت بڑی مخلوق ہے جو فرشتوں سے مافوق ہے ، جیساکہ ایک امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ ایک شخص نے آپ سے سوال کیا : کیا روح وہی جبرئیل ہے “ ؟ امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:”جبرئیل من الملائکة، و الروح اعظم من الملائکة ان الله عز و جل یقول : تنزل الملائکة و الروح “۔

” جبرئیل تو ملائکہ میں سے ہے ، اور روح ملائکہ سے زیادہ عظیم ہے ، کیا خدا وند تعالیٰ یہ نہیں فرماتا : ملائکہ اور روح نازل ہوتے ہیں ، ؟(۴)

یعنی مقابلہ کے قرینہ سے یہ دونوں آپس میں مختلف ہیں لفظ ” روح“ کے لئے یہاں دوسری تفاسیر بھی ذکر ہوئی ہیں کیونکہ ان کے لیے کوئی دلیل نہیں تھی ، لہٰذا ان سے صرف نظرکی گئی ہے

” من کل امر“ سے مراد یہ ہے کہ فرشتے سر نوشتوں کی تقدیر و تعین کے لئے ، او رہر خیر و برکت لانے کے لئے اس رات میں نازل ہوتے ہیں ، اور ان کے نزول کا مقصدان امور کی انجام دہی ہے ۔

یا یہ مراد ہے کہ ہر امر خیر اور ہر سر نوشت اور تقدیر کو اپنے ساتھ لاتے ہیں ۔(۵)

”ربھم“ کی تعبیر کو، جس میں ربوبیت اور تدبیر جہاں کے مسئلہ پر بات ہوئی ہے ، ان فرشتوں کے کام کے ساتھ قریبی مناسبت ہے ، کہ وہ امور کی تدبیر و تقدیر کے لیے نازل ہوتے ہیں ، اور ان کا کام بھی پروردگارکی ربوبیت کا ایک گوشہ ہے ۔اور آخری آیت میں فرماتا ہے :” یہ ایک ایسی رات ہے ، جو طلوع صبح تک سلامتی اور خیر و برکت و رحمت سے پر رہتی ہے “۔( سلام هی حتی مطلع الفجر ) ۔

قرآن بھی اسی میں نازل ہوا، اس کا احیاء اور شب بیداری بھی ہزار ماہ کے برابر ہے ، خدا کی خیرات و برکات بھی اسی شب میں نازل ہوتی ہیں ، اس کی رحمتِ خاص بھی بندوں کے شامل حال ہوتی ہے ، اور فرشتے اور روح بھی اسی رات میں نازل ہوتے ہیں ۔

اسی بناء پر یہ ایک ایسی رات ہے جو آغاز سے اختتام تک سرا سر سلامتی ہی سلامتی ہے۔ یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق تو اس رات میں شیطان کو زنجیر میں جکڑ دیا جاتا ہے ۔ لہٰذا اس لحاظ سے بھی یہ ایک ایسی رات ہے جو سالم او رسلامتی سے توأم ہے ۔

اس بناء پر ” سلام “ کا اطلاق ، جو سلامت کے معنی میں ہے ۔( سالم کے اطلاق کے بجائے) حقیقت میں ایک قسم کی تاکید ہے ، جیسا کہ بعض اوقات ہم کہہ دیتے ہیں کہ فلاں آدمی عین عدالت ہے ۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس رات پر” سلام “کا اطلاق اس بناء پر ہے کہ فرشتے مسلسل ایک دوسرے پریا مومنین پر سلام کرتے ہیں ، یا پیغمبر کے حضور میں اور آپ کے معصوم جانشین کے حضور میں جاکر سلام عرض کرتے ہیں ۔

ان تفسیروں کے درمیان بھی ممکن ہے ۔

بہر حال یہ ایک ایسی رات ہے جو ساری کی ساری نور و رحمت ، خیر و بر کت، سلامت و سعادت، اور ہر لحاظ سے بے نظیر ہے ۔

ایک حدیث میں آیاہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا گیا ۔ کیاآپ جانتے ہیں کہ شب قدر کونسی رات ہے ؟ تو آپ نے فرمایا-”کیف لانعرف و الملائکة تطوف بنا فیها

” ہم کیسے نہ جانیں گے جب کہ فرشتے اس رات ہمارے گرد طواف کرتے ہیں “۔(۶)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں آیا ہے کہ خدا کے کچھ فرشتے آپ کے پاس آئے اور انہیں بیٹے کے تولد کی بشارت دی اور ان پر سلام کیا ، ( ہود۔ ۶۹) ۔ کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام کی جو لذت ان فرشتوں کے سلام میں آئی، ساری دنیا کی لذتیں بھی اس کے برابرنہیں تھیں ۔ اب غور کرنا چاہئیے کہ جب شب قدر میں فرشتے گروہ درگروہ نازل ہورہے ہوں ، اور مومنین کو سلام کررہے ہوں ،تو اس میں کتنی لذت، لطف اور برکت ہوگی؟! جب ابراہیم کو آتش نمرودمیں ڈالا گیا ، تو فرشتوں نے آکر آپ کو سلام کیااور آگ ان پر گلزار بن گئی ، تو کیا شب قدر میں مومنین پر فرشتوں کے سلام کی برکت سے آتش دوزخ” برد“و” سلام “ نہیں ہو گی ؟ ۔

ہاں ! یہ امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کی نشانی ہے کہ وہاں تو خلیل پر نازل ہوتے ہیں اور یہاں اسلام کی اس امت پر ۔(۷)

____________________

۱۔ مفردات راغب مادّہ نزل۔

۲۔ ” در المنثور“ جلد ۶ ص ۳۷۱۔

۳۔ ” در المنثور“ جلد ۶ ص ۳۷۱۔

۴۔ ” تفسیر بر ہان “ جلد ۴ ص ۴۸۱۔

۵-بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ خدا کے امر و فرمان سے نازل ہوتے ہیں لیکن مناسب وہی پہلا معنی ہے ۔

۶۔ ” تفسیر برہان“ جلد ۴ ص۴۸۸ حدیث ۲۹۔

۷۔ ” تفسیر فخر رازی“ جلد ۳۲ ص ۳۶۔


۱ ۔ شب قدر میں کون سے امورمقدّر ہوتے ہیں ؟

اس سوال کے جواب میں کہ اس رات کو، شب قدر، کا نام کیوں دیا گیاہے ، بہت کچھ کہا گیا ہے : منجملہ یہ کہ :

۱ ۔ شب قدر کو نام شب قدر کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ بندوں کے تمام سال کے سارے مقدرات اسی رات میں تعین ہوتے ہیں ، اس معنی کی گواہ سورہ دخان ہے جس میں آیاہے کہ :( انا انزلناه فی لیلة مبارکة انا کنا منذرین فیا یفرق کل امر حکیم ) “: ہم نے اس کتاب مبین کو ایک پر بر کت رات میں نازل کیا ہے ، اور ہم ہمیشہ ہی انداز کرتے رہتے ہیں ، اس رات میں ہر امر خدا وند عالم کی حکمت کے مطابق تنظیم و تعین ہوتا ہے “۔ ( دخان۔ ۳ ۔ ۴)

یہ بیان متعدد روایات کے ساتھ ہم آہنگ ہے جو کہتی ہیں کہ اس رات میں انسان کے ایک سال کے مقدرات کی تعین ہوتی ہے اور رزق ، عمریں اور دوسرے امور اسی مبارک رات میں تقسیم اور بیان کیے جاتے ہیں ۔

البتہ یہ چیز انسان کے اردہ اور مسئلہ اختیارکے ساتھ کسی قسم کا تضاد نہیں رکھتی ، کیونکہ فرشتوں کے ذریعے تقدیر الٰہی لوگوں کی شائستگیوں اور لیاقتوں ، اور ان کے ایمان و تقویٰ اور نیت ِ اعمال کی پاکیزگی کے مطابق ہوتی ہے ۔

یعنی ہر شخص کے لیے وہی کچھ مقدر کرتے ہیں جو اس کے لائق ہے ، یا دوسرے لفظوں میں ، اس کے مقدمات خود اسی کی طرف سے فراہم ہوتے ہیں ، اور یہ امر نہ صرف یہ کہ اختیارکے ساتھ کوئی منا فات نہیں رکھتا، بلکہ یہ اس پر ایک تاکید ہے ۔

۲ ۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ اس رات کا اس وجہ سے شب قدر نام رکھا گیاہے کہ وہ ایک عظیم و قدر و شرافت کی حامل ہے ( جس کی نظیر سورہ حج کی آیہ ۷۴ میں آئی ہے ) (ماقدر و اللہ حق قدرہ)انہوں نے حقیقت میں خدا کی قدر و عظمت کو ہی نہیں پہچا نا“۔

۳ ۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن اپنی پوری قدر و منزلت کے ساتھ، قدر و منزلت والے رسول پر اور صاحبِ قدر و منزلت فرشتے کے ذریعے اس میں نازل ہواہے۔

۴ ۔ یایہ مطلب ہے کہ ایک ایسی رات ہے جس میں قرآن کا نازل ہونا مقدر ہوا ہے ۔

۵ ۔ یایہ کہ جو شخص اس رات کو بیدارر ہے تو وہ صاحبِ قدر و مقام و منزلت ہوجاتا ہے ۔

۶ ۔ یا یہ بات ہے کہ اس رات میں اس قدر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ ان کے لیے عرصہ زمین تنگ ہو جاتا ہے ، کیونکہ تقدیر تنگ ہونے کے معنی میں بھی آیاہے۔ و من قدر علیہ رزقہ ( طلاق۔ ۷)

ان تمام تفاسیر کا ” لیلة القدر “ کے وسیع مفہوم میں جمع ہونا پورے طور پر ممکن ہے اگر چہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب اور زیادہ مشہور ہے ۔

۲ ۔ شب قدر کون سی رات ہے ؟

اس بارے میں کہ ” لیلة القدر“ ماہ رمضان میں ہوتی ہے ، کوئی شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ قرآن کی تمام کی تمام آیات اسی معنی کا اقتضا کرتی ہیں ، ایک طرف تو وہ کہتی ہیں کہ قرآن ماہ رمضان میں نازل ہوا ہے ( بقرہ۔ ۱۸۵) اور دوسری طرف یہ کہتی ہیں کہ شب قدر میں نازل ہوا ہے ۔ ( آیات زیر بحث)۔

لیکن اس بارے میں کہ ماہ رمضان کی راتوں میں سے کون سی رات ہے ، بہت اختلاف ہے ، اوراس سلسلہ میں بہت سی تفاسیر بیان کی گئی ہیں ۔ منجملہ : پہلی رات سترھویں رات ، انیسویں رات، اکیسویں رات، تیئسویں رات، اور ستائیویں رات اور انتیسویں رات۔

لیکن روایات میں مشہور و معروف یہ ہے کہ ماہ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے اکیسویں یا تیئسویں رات ہے ۔ اسی لیے ایک روایت میں آیاہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ مبارک کی آخری دس راتوں میں تمام راتوں کا احیاء فرماتے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے ۔

ایک روایت میں امام جعفر صاق علیہ السلام سے آیاہے کہ شب قدر اکیسویں یا تیئسویں رات ہے ، یہاں تک کہ جب راوی نے اصرار کیا کہ ان دونوں راتوں میں سے کون سی رات ہے اور یہ کہا کہ اگر میں ان دونوں راتوں میں عبادت نہ کر سکوں تو پھر کون سی رات کا انتخاب کروں “۔ تو بھی امام نے تعین نہ فرمائی اور مزیدکہا: ”ماالیسر لیلتین فیما تطلب “اس چیز کے لیے جسے تو چاہتا ہے دو راتیں کس قدرآسان ہیں ؟(۱)

لیکن متعدد روایات میں جو اہل بیت کے طریقہ سے پہنچی ہیں زیادہ تر تیئسویں رات پر تکیہ ہوا ہے ۔ جب کہ اہل سنت کی زیادہ تر روایات ستائیسویں رات کے گرد گردش کرتی ہیں ۔

ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا:

التقدیر فی لیلة القدر تسعة عشر، و الابرام فی لیلة احدی و عشرین، و الامضاء فی لیلة ثلاث و عشرین “۔

”تقدیر مقدرات تو انیسوں کی شب کو ہوتی ہے ، اور ان کا حکم اکیسویں رات کو ، اور ان کی تصدیق او رمنظوری تیئسویں رات کو۔(۲)

اور اس طرح سے روایات کے درمیان جمع ہو جاتی ہے ۔

لیکن بہر حال ، اس وجہ کی بناء پر جس کی طرف بعد میں اشارہ ہوگا، شب قدر کو ابہام کے ایک ہالے نے گھیر رکھا ہے۔

____________________

۱۔ ” تفسیر نور الثقلین“ جلد ۵ ص ۶۲۵ حدیث ۵۸ ۔

۲ ۔ ” تفسیر نور الثقلین“ جلد ۵ ص ۶۲۶ حدیث ۶۲ ۔


۳ ۔ شب قدر مخفی کیوں رکھی گئی ؟

بہت سے علماء کا نظر یہ یہ ہے کہ سال بھر کی راتوں یا ماہ مبارک رمضان کی راتوں میں شب قدر کا مخفی ہونا اس بناء پر ہے کہ لوگ ان سب راتوں کو اہمیت دیں ۔ جیسا کہ خدا نے اپنی رضا و خوشنودی کی مختلف قسم کی عبادتوں میں پنہاں کررکھا ہے تاکہ لوگ سب عبادتوں اور اطاعتوں کی طرف رخ کریں ۔ او ر اپنے غضب کو معاصی کے درمیان پنہاں رکھا ہے ، تاکہ سب لوگ گناہوں سے پر ہیز کریں ، اپنے دوستوں کو لوگوں سے مخفی رکھا ہے تاکہ سب کا احترام کریں ، اور دعاو ں کی قبولیت کو مختلف دعاو ں میں پنہاں رکھا ہے تاکہ دعاو ں کی طرف رخ کریں ۔

اسم اعظم کو اپنے اسماء میں مخفی رکھا ہے تاکہ تمام اسماء کو بزرگ و عظیم سمجھیں ۔ اور موت کے وقت کو مخفی رکھا ہے تاکہ ہر حالت میں آمادہ وتیار رہیں ۔ اور یہ فلسفہ مناسب نظر آتا ہے ۔

۴ ۔ کیا گزشتہ امتوں میں بھی شب قدر تھی؟

اس سورہ کی آیات کے ظاہر سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ شب قدر منزل ِ قرآن اور پیغمبر اسلا م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں تھی۔ بلکہ دنیا کے اختتام تک اس کا ہرسال تکرار ہوتا رہے گا۔

فعل مضارع (تنزل)کی تعبیر، جو استمرار پر دلات کرتی ہے ، اور اسی طرح جملہ اسمیہ ”( سلام هی حتی مطلع الفجر ) “ کی تعبیر بھی ، جو دوام کی نشانی ہے ، اسی معنی کی گواہ ہے ۔

اس کے علاوہ بہت سی روایات بھی ، جو شاید حدِ تواتر میں ہیں ، اس معنی کی تائید کرتی ہیں ۔ لیکن یہ بات کہ کیا گزشتہ امتوں میں بھی تھی یا نہیں ؟ متعدد روایات کی تصریح یہ ہے کہ یہ امت پر مواہب الٰہیہ میں سے ہے ، جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے آیاہے کہ آپ نے فرمایا: ”انّ الله وهب لامتی لیلة القدر لم یعطها من کان قبلهم “” خدا نے میری امت کو شب قدر عطا کی ہے ، گزشتہ امتوں میں سے کسی بھی یہ نعمت نہیں ملی تھی“۔(۱)

اوپر والی آیات کی تفسیر میں بعض وارد شدہ روایات اس مطلب پر دلالت کرتی ہیں ۔

____________________

۱۔ ” در المنثور“ ج۶ ص ۳۷۱۔


۵ ۔ شب قدر ہزار ماہ سے کیسے بر تر ہے ؟

ظاہر ہے کہ اس شب کا ہزار ماہ سے بہتر ہونا اس رات کو بیدار رہنے اور اس کی عبادت کی قدر و قیمت کی وجہ سے ہے ، اور لیلة القدر کی فضیلت اور اس میں عبادت کی فضیلت کی روایات، جو شیعہ اور اہل سنت کی کتابوں میں فراوان ہیں ، اس مطلب کی مکمل طور پر تائید کرتی ہیں ۔

اس کے علاوہ اس رات میں قرآن کا نزول اور اس میں برکات اور رحمت الہٰی کا نزول بھی اس بات کا سبب ہے کہ یہ ہزار ماہ سے برتر و بالا تر ہو۔

ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیاہے کہ آپ نے ” علی بن ابی حمزہ ثمالی“ سے فرمایا:شب قدر کی فضیلت کو اکیسویں اور تیئسویں رات میں تلاش کرو، اور ان دونوں راتوں میں سے ہرایک میں ایک سو رکعت نماز بجالاو ۔ اور اگر تم سے ہو سکے تو ان دونوں راتوں کا طلوعِ صبح تک احیاء کرو، اور اس رات غسل کرو“۔ ” ابو حمزہ“ کہتا ہے : میں نے عرض کیا : ” اگر میں کھڑے ہو کر یہ سب نمازیں نہ پڑھ سکوں “۔

آپ نے فرمایا: پھر بیٹھ کر پڑھ لو ۔ میں نے عرض کیا اگر اس طرح بھی نہ پڑھ سکوں ۔ آپ نے فرمایا: پھر بستر میں ( لیٹ کر) پڑھ لو ، اور رات کے پہلے حصہ میں تھوڑا سا سولینے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے ، اور اس کے بعد عبادت میں مشغول ہو جاو ۔ ماہ رمضان میں آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور شیاطین طوق و زنجیرمیں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں اور مومنین کے اعمال مقبول ہوتے ہیں ، ماہ رمضان کتنا اچھا مہینہ ہے ۔

۶ ۔ قرآن شب قدر میں کیوں نازل ہوا؟

کیونکہ شب قدر میں ایک سال کے لیے انسانوں کی سر نوشت ان کی قابلیتوں اور صلاحیتوں کے مطابق مقدر کی جاتی ہے ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ انسان اس رات بیدار رہے ۔ اور توبہ اور اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرے اور خدا کی بار گاہ میں حاضر ہوکر خود میں اس کی رحمت کے لیے زیادہ سے زیادہ اور بہتر سے بہتر لیاقت پیدا کرے ۔

ہاں ! جن لمحات میں ہماری سر نوشت کی تعین ہوتی ہے ان میں انسان کو سویاہوانہیں ہونا چاہئیے ، اور نہ ہی ہر چیز سے غافل او ر بے خبر رہنا چاہئیے کیونکہ اس صورت میں ایک غم ناک سر نوشت ہو جائے گی۔

قرآن چونکہ ایک سر نوشت ساز کتاب ہے ، اور اس میں انسانوں کی سعادت و خوش بختی اور ہدایت کی باتوں کی وضاحت کی گئی ہے ، لہٰذا ضروری ہے کہ سر نوشتوں کی تعین کا پروگرام شب قدر میں نازل ہو۔ قرآن اور شب قدر کے درمیان کتنا خوبصورت رابطہ ہے ، اور ان دونوں کا ایک دوسرے سے تعلق اور رشتہ کس قدر پر معنی ہے ؟

۷ ۔ کیا مختلف علاقوں میں ایک ہی شب قدر ہوتی ہے ؟

ہم جانتے ہیں کہ تمام شہروں میں قمری مہینوں کا آغاز یکساں نہیں ہو تااور یہ ممکن ہے کہ ایک علاقہ میں تو آج اول ماہ ہو، اور دوسرے علاقہ میں دوسری تاریخ ہو۔ اس بناء پر شب قدرِ سال میں ایک معین رات نہیں ہو سکتی ، کیونکہ مثال کے طور پر مکہ کی تیئسویں رات ، ایران و عراق میں بائیسویں رات ہو سکتی ہے ، اس طرح اصولی طور پر ہر ایک کی علیٰحدہ شب قدر ہو گی ۔کیا یہ بات اس چیز سے ، جو آیات و روایات سے معلوم ہوتی ہے ، کہ شب قدر ایک معین رات ہے ، ساز گارہے ؟ !

اس سوال کا جواب ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ رات وہی کرہ زمین کے آدھے سایہ کوہی کہتے ہیں ، جو کرہ زمین کے دوسرے حصہ پرپڑتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ سایہ گردش زمین کے ساتھ حرکت میں ہے ، اور اس کا ایک مکمل دورہ چوبیس گھنٹوں میں انجام پاتا ہے ، اس بناء پرممکن ہے کہ شب قدر رات کا زمین کے گرد ایک مکمل دورہ ہو۔ یعنی تاریکی کی چوبیس گھنٹے کی مدت جو زمین کے تمام نقاط کو اپنے سائے کے نیچے لے لے ، وہ شب قدر ہے ، جس کا آغاز ایک نقطہ سے ہوتا ہے ، اور دوسرے نقطہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے ۔ ( غور کیجئے)۔

خدا وندا ! ہمیں اس قسم کی بیداری و آگاہی عطا فرما کہ لیلة القدر کی فضیلت سے پورا پورا فائدہ اٹھائیں ۔

پروردگارا ! ہماری چشم امید تیرے لطف و کرم پر لگی ہوئی ہے ، ہمارے مقدرات کو اس کے موافق معین فرما۔

بار الٰہا ! ہمیں اس مہینہ کے محرومین میں سے قرار نہ دے کہ جس سے بالاتر کوئی محرومیت نہیں ہے ۔

آمین یا رب العالمین


سورہ بینة

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ۔ اس میں ۸ آیات ہیں ۔

سورہ بینہ کے مطالب

مشہور یہ ہے کہ سورہ بینہ مدینہ میں نازل ہواہے اور اس کے مطالب بھی اسی معنی کی گواہی دیتے ہیں ، کیونکہ اس میں اہل کتاب کے بارے میں بحث ہوئی ہے ۔ اور ہم جانتے ہیں کہ اہل کتاب سے مسلمانوں کا زیادہ تر سرو کار مدینہ میں ہی ہوا ۔

اس سے قطع نظر نماز اور زکوٰة دونوں کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے ، یہ ٹھیک ہے کہ زکوٰة کا شرعی حکم تو مکہ میں ہی ہوگیا تھا، لیکن اس کو قانونی صورت اور وسعت مدینہ میں دی گئی۔

بہر حال یہ سورہ پیغمبر اکرام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کے ہمہ گیر ہونے ، اور اس کے روشن و واضح دلائل اور نشانیوں سے آمیختہ ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ ایسی رسالت جس کے لیے پہلے سے انتظار کیا جارہا تھا ۔ لیکن جب ان کے پاس یہ رسالت پہنچی تو ایک گروہ نے اس بناء پر کہ ان کے مادی منافع خطرے میں پڑ رہے تھے ، اس کی طرف سے پشت پھیر لی۔

ضمنی طور پر یہ اس حقیقت کو بھی اپنے اندر لیے ہوئے ہے کہ انبیا ء کی دعوت کا اصول ، مثلاً ایمان و توحید و نماز و روزہ ، ایک ایسا اصول ہے جو ثابت او رجاودانی ہے اور یہ تمام آسمانی ادیان میں موجود رہا ہے ۔

اس سورہ کے ایک دوسرے حصہ میں اہل کتاب اور مشرکین کے اسلام کے مقابلہ میں اعترضات کو مشخص کرتا ہے کہ وہ گروہ جو ایمان لے آیا ہے اور اعمال صالح انجام دیتا ہے وہ تو بہترین مخلوق ہے ۔ اور وہ گروہ جس نے کفر ، شرک اور گناہ کی راہ اختیار کرلی ہے ، وہ بد ترین مخلوق شمار ہوتی ہے ۔

اس سورہ کے مختلف نام ہیں ، جو اس کے الفاظ کی مناسبت سے انتخاب ہوئے ہیں ، لیکن ان میں سب سے زیادہ مشہور سورہ”بینة ولم یکن “و” قیمة“ ہیں

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت میں اس طرح نقل ہوا ہے :۔ ”اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اس سورہ میں کون کون سی بر کتیں ہیں تو وہ اپنے گھر والوں اور مال و منال کو چھوڑ کر اس کی طرف بڑھتے“۔ قبیلہ ” خزاعہ“ کے ایک شخص نے عرض کیا: اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس کی تلاوت کا اجر و ثواب کیا ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

” کوئی منافق اور وہ لوگ جن کے دل میں شک و شبہ ہے ، اس کی تلاوت نہیں کریں گے ۔خدا کی قسم مقرب فرشتے اس دن سے جب سے سارے آسمان اور زمین پیداہوئے ہیں ، اسے پڑھتے ہیں ، اور اس کی تلاوت میں ایک لمحہ کے لیے بھی سستی نہیں کرتے جو شخص اسے رات کے وقت پڑھے گا ، خدا ایسے فرشتوں کو مامور کرے گا، جو اس کے دین و دنیا کی حفاظت کریں گے، اور اس کے لیے بخشش اور رحمت طلب کریں گے، اور دن کے وقت پڑھے گا تو ان چیزوں کی مقدار میں جنہیں دن روشن کرتا ہے ، اور رات انہیں تاریک بنادیتی ہے ، اسے ثواب دیں گے۔(۱)

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( لم یکن الذین کفروا من اهل الکتاب، و المشرکین منفکین حتی تاتیهم البینة ) ۔

۲ ۔( رسول من الله یتلوا صحفا مطهرة ۳ فیها کتب قیّمة ) ۔

۴ ۔( وما تفرّق الذین اوتوا الکتاب الاَّ من بعد ما جائٓتْهم البینة ) ۔

۵ ۔( ومآ أمروْٓ الا لیعبدوا الله مخلصین له الدِّین حنفآء و یقیموا الصَّلٰوةَ و یو توا الزّکٰوة و ذٰلک دین القیِّمة ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ اہل کتاب اور مشرکین میں کفار ( کہتے تھے ) جب تک ان کے لیے واضح دلیل نہ آجائے وہ اپنے دین سے دستبردار نہیں ہو ں گے۔

۲ ۔ خدا کی طرف ایسا رسول جو پاکیزہ صحیفوں کی تلاوت کرے۔

۳ ۔ اور ان میں صحیح اور قا بل قدر تحریریں ہوں ۔

۴ ۔ لیکن اہل کتاب نے ( خدا کے دین میں ) اختلاف نہیں کیا مگر ان کے پاس واضح دلیل پہنچ جانے کے بعد۔

۵ ۔ حالانکہ انہیں کوئی حکم اس کے سوا نہیں دیا گیا تھا کہ وہ کمال اخلاص کے ساتھ خدا کی عبادت کریں ، شرک سے توحید کی طرف لوٹیں ، نماز قائم کریں اور زکوٰة ادا کریں ، اور یہی مستقیم اور صحیح دین ہے ۔

____________________

۱۔ مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۵۲۱۔


یہ جاودانی دین ہے

سورہ کے شروع میں ظہور اسلام سے پہلے اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) اور مشرکین عرب کی حالت کو پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے : وہ اس بات کا دعویٰ کیا کرتے تھے کہ جب تک کوئی واضح دلیل اور مسلمہ پیغمبر ان کے پاس نہ آ جائے ، وہ اپنے دین سے دستبردارنہیں ہو ں گے “۔( لم یکن الالذین کفروا من اهل الکتاب و المشرکین منفکین حتی تأتیهم البینة ) ۔

” ایسا پیغمبر جو خدا کی طرف سے ہو او رپاک و پاکیزہ صحیفوں کو ہمارے سامنے تلاوت کرے“۔ ( رسول من اللہ یتلوا صحفاً مطھرة)۔

ایسے صحیفے جن میں موزوں ، ثابت اور قابل قدر تحریریں ہوں “۔( فیها کتب قیمة ) ۔

ہاں ! وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظہور سے پہلے اسی قسم کے دعوے کیا کرتے تھے ۔ لیکن آپ کے ظہور اور آپ کی کتابِ آسمانی کے نزول کے بعد میدان بدل گیا اور وہ خدا کے دین میں اختلاف کرنے لگ گئے۔ ” اور اہل کتاب نے اختلاف نہیں کیا ، مگر واضح دلیل اور سچا اور آشکار پیغمبر ان کے پاس آجانے کے بعد( وما تفرق الذین اوتوا الکتاب الامن بعد ماجائتهم البینة )

اسی طرح سے اوپر والی آیات اہل کتاب اور مشرکین کے دعوو ں کو بیان کررہی ہیں کہ ابتداء میں تو نہیں یہ اصرار تھا کہ اگر کوئی پیغمبرواضح دلائل کے ساتھ ہمیں دعوت دینے کے لئے آئے گا تو ہم قبول کرلیں گے۔

لیکن اس کے آجانے کے بعد اپنے قول سے پھرگئے اور اس کے مقابلہ میں جنگ و جدال کے لیے کھڑے ہوگئے ، سوائے اس گروہ کے جنہوں نے ایمان کی راہ اختیار کرلی۔

اس بناء پر اوپر والی آیت اسی چیز کے مشابہ ہے جو سورہ بقرہ کی آیہ ۸۹: ولما جاء کتاب من عند اللہ مصدق لمامعھم و کانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما جاء ھم ماعرفوا کفروا بہ فلعنة اللہ علی الکافرین:میں آئی ہے یعنی جب خدا کی طرف سے ان کے پاس کتاب آئی جو ان نشانیوں کے موافق تھی جو ان کے پاس تھیں ، اور اس سے پہلے وہ خود کو فتح کی خوش خبری دیا کرتے تھے۔ لیکن جب یہ کتاب اور پیغمبر جسے انہوں نے پہلے سے پہچانا ہواتھا ، ان کے پا س آیا تو وہ کافر ہو گئے، پس کافروں پر خدا کی لعنت ہو۔

ہم جانتے ہیں کہ اہل کتاب اس قسم کے ظہور کا انتظار کررہے تھے ، اور اصولی طور پر، مشرکین عرب بھی ، جو اہل کتاب کو اپنے سے زیادہ عالم اور زیادہ آگاہ سمجھتے تھے، اس پروگرام میں ان کے ساتھ ہم آواز تھے لیکن جب ان کی آرزوئیں پوری ہوگئیں تو انہوں نے اپنے راستہ کو بدل لیا اور مخالفین کی صفوں میں جاملے ۔

مفسرین کی ایک جماعت کا ان آیات کی تفسیر کے بارے میں ایک دوسرا نظریہ ہے ، اور وہ یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ واقعاً ووہ اپنے ادعا کے مطابق اپنے دین سے دستبردار نہیں ہوئے، اور اسے نہیں چھوڑا جب تک کہ واضح دلیل ان کے پاس نہ آ گئی۔

لیکن اس بات کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس قسم کی واضح دلیل آجانے کے بعد وہ ایمان لے آئےں گے ۔ حالانکہ بعد والی آیات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ یہ مطلب اس طرح نہیں تھا ، مگر اس صورت میں کہ یہ کہا جائے کہ اس سے مراد ان میں سے ایک گروہ کا ایمان لانا ہے ، چاہے وہ بالکل قلیل تعداد میں ہی ہوں ، اور اصطلاح کے مطابق یہ ” موجبہ جزئیہ“ کی قبیل ہے ۔

لیکن بہرحال یہ تفسیر بعید نظر آتی ہے ، اور شاید اسی بناء پر ” فخر رازی “ اپنی تفسیر میں پہلی آیت کو قرآنی آیات میں سب سے زیادہ پیچیدہ آیت شمار کرتا ہے ، جو( اس کی نظر میں ) بعد والی آیات سے تضاد رکھتی ہے ۔ اس کے بعد وہ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے چند طریقے بیان کرتا ہے جن میں سے بہترین وہی ہے جو ہم نے اوپر نقل کیا ہے ۔

یہاں ایک تیسری تفسیر بھی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا مشرکین اور اہل کتاب کو ان کی حالت پر نہیں چھوڑے گا ، جب تک کہ ان پر اتمام حجت نہ کردے اور کوئی دلیل ” بینہ“ نہ بھیجے ، اور انہیں راستہ نہ بتا دے ۔ اسی لیے پیغمبر اسلام کو ان کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے ۔

حقیقت میں یہ آیت قاعدہ لطف کی طرف اشارہ ہے جو علم کلام میں بیان کیا جاتا ہے کہ خدا اتمام حجت کے لیے ہر قوم و ملت کے لیے واضح دلائل بھیجے گا۔(۱)

بہر حال ” بینہ“ سے مراد یہاں واضح و روشن دلیل ہے جس کا مصداق دوسری آیت کے مطابق” رسول اللہ “ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات ہے جب کہ آپ کی زبان پر قرآن مجید تھا۔

” صحف“ ” صحیفہ“ کی جمع ہے ، ایسے اوراق کے معنی میں ہے جن پر کوئی چیز لکھتے ہیں ، اور یہاں اسے سے مراد ان اوراق کے مطالب ہیں ، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ پیغمبر اکرام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہرگز کوئی چیز اوراق سے نہیں پڑھتے تھے ۔

اور” مطہرہ“ سے مراد ، اس کا ہر قسم کے شرک ، کذب ، دروغ اور باطل سے پاک ہونا ہے اور شیاطینِ جن و انس کے اس میں دخل دینے سے پاک ہے ۔

جیسا کہ سورہ حٰم سجدہ کی آیہ ۴۲ میں آیاہے :لایاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ:” اس کے پاس کسی قسم کا باطل نہ اس کے سامنے سے آیا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے سے ۔ ” فیھا کتب قیمة“ کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان صحف آسمانی میں ایسے مطالب لکھے ہوئے ہیں جن میں کسی قسم کا انحراف اور کجی نہیں ۔ اس بناء پر تو ” کتب“ ” مکتوبات کے معنی میں ہے ، یا یہ ان احکام و مقررات کے معنی میں ہے جو خدا کی طرف سے مقررکیے گئے ہیں کیونکہ کتابت تعین حکم کے معنی میں بھی آئی ہے جیسا کہ فرماتا ہے :( کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم ) “۔

” روزہ تمہارے اوپر اسی طرح مقرر کیا گیا ہے جیسا کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر مقرر کیا گیا تھا “( بقرہ۔ ۱۸۳)

اور اس طرح ” قیمة“ صاف ومستقیم ، یا محکم و پائیدار، یا قدرو قیمت والا کے معنی میں ہے ، یا یہ سب مفاہیم اس میں جمع ہیں ۔

یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ چونکہ قرآن میں تمام گزشتہ کے مضامین و مطالب بہت سے اضافات کے ساتھ ہیں ، لہٰذا یہ کہا گیا ہے کہ اس میں گزشتہ کتب قیمة ہیں ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ پہلی آیت میں اہل کتاب کا” مشرکین“ سے پہلے ذکر کیا گیا ہے ، اور چوتھی آیت میں صرف اہل کتاب کا بیان ہے اور مشرکین کے سلسلہ میں کوئی بات نہیں کی گئی ، حالانکہ آیت دونوں کی طرف ناظر ہے۔

یہ تعبیرات ظاہراً اس وجہ سے ہیں کہ ان پروگراموں میں اہل کتاب اصل اور بنیادی حیثیت رکھتے تھے اور مشرکین ان کے تابع تھے ۔

یا اس بناء پر کہ اہل کتاب زیادہ لائق مذمت تھے کیونکہ ان میں بہت سے علماء اور دانش مند موجود تھے اور وہ اس لحاظ سے مشرکین کی نسبت بلند سطح پرتھے۔ اس بناء پر ان کی مخالفت زیادہ قبیح اور زیادہ ناپسندیدہ تھی، لہٰذا وہ زیادہ سر زنش کے لائق تھے

اس کے بعد ” اہل کتاب“کو اور ان کے تابع ” مشرکین“ کو ملامت کرتے ہوئے فرماتا ہے :” انہوں نے اس جدید دین میں اختلاف کیوں کیا کہ بعض تو ایمان لے آئے اور بعض کا فر ہو گئے حالانکہ اس دین میں انہیں اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں دیاگیا کہ خدا کی عبادت کریں ، اور اس کی عبادت کو ا س کے غیر کی عبادت سے خالص رکھیں ، اور ہر قسم کے شرک سے باز رکھیں اور توحید کی طرف مائل رہیں ، نماز کو قائم کریں ، اور زکوٰة اداکریں “۔

( وما امروا الا لیعبدوا الله مخلصین له الدین حنفاء و یقیموا الصلوٰة یو توا الزکاة ) “۔(۲)

اس کے بعد فرماتا ہے : ” اور یہ ایک مستقیم و پائیدار دین ہے “( ذٰلک دین القیّمة ) ۔

اس کے بارے میں کہ یہاں ” وما امروا“سے کیا مراد ہے ؟ ایک جماعت نے یہ کہاہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اہل کتاب کے اپنے دین میں مسئلہ توحید اور نماز و زکوٰة موجود تھا ،اور یہ ایسے مسائل ہیں جو ثابت ہیں ، لیکن وہ ان احکام کے بھی وفا دار نہیں رہے تھے ۔

دوسرا معنی یہ ہے کہ دین اسلام میں سوائے خالص توحید ، اور نماز و زکوٰة وغیرہ کے اور کوئی حکم نہیں آیا۔ اور یہ ایسے امور ہیں جنہیں وہ سب جانتے تھے ۔ تو پھر وہ ان کو قبول کرنے سے روگردانی کیوں کرتے ہیں ؟ اور ان کو ماننے سے انکار کررہے ہیں ۔

دوسرا معنی زیادہ نزدیک دکھائی دیتا ہے ، کیونکہ گزشتہ آیت کے بعد ، جو دین جدیدکے قبول کرنے میں ان کے اختلاف کرنےکی بات کررہی تھی، مناسب یہی ہے کہ ” امروا“ جدید دین کی طرف ناظر ہو۔ اس سے قطع نظر پہلا معنی صرف اہل کتاب کے بارے میں صادق آتا ہے ، اور مشرکین پر صادق نہیں آتا ، جب کہ دوسرا معنی سب کو شامل ہے۔

بعض مفسرین کے نظریہ کے مطابق” دین“ سے مراد جسے خدا کے لیے خالص کرنا چاہئیے وہی ” عبادت“ ہے ، اور ”( الا لیعبدوا الله ) “ کا جملہ بھی ، جو اس سے پہلے ذکر ہو اہے ، اسی معنی کی تائید کرتا ہے ۔

لیکن احتمال بھی ہے کہ اس سے دین و شریعت کا مجموعہ مراد ہو، یعنی اس بات پر مامور ہوئے تھے کہ خدا کی پرستش کریں اور ہر جہت سے اپنے دین و آئین کو خا لص رکھیں ۔ یہ معنی ” دین “ کے وسیع مفہوم کے ساتھ زیادہ ساز گار ہے ۔ اور بعد والا جملہ ”( و ذٰلک دین القیمة ) “ جو دین وسیع معنی میں پیش کرتا ہے اسی معنی کی تائید کرتا ہے ۔ ” حنفاء“ ” حنیف“ جمع ہے ، جو ” حنف“ ( بر وزن کنف) کے مادہ سے ہے ، اور مفردات“میں ” راغب“ کے قول کے مطابق، گمراہی سے راہ مستقیم کی طرف مائل ہونے کے معنی میں ہے اور عرب ان تمام لوگوں کو جو” حج“ بجا لاتے تھے یا ” ختنہ“ کیا کرتے تھے، ”حنیف“ کہا کرتے تھے ( اور احنف) اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کا پاو ں ٹیڑھا ہو۔

مجموعی طور سے لعنت کی مختلف کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ اصل میں انحراف اورٹیڑھے پن کے معنی میں تھا البتہ قرآن، اور اسلامی روایات میں شرک سے توحید و ہدایت کی طرف انحراف کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

اس تعبیر کا انتخاب ممکن ہے اصل میں اس بناء پرہو کہ بت پرست معاشرے ہر اس شخص کو جو ان کے دین کو چھوڑ کر توحید کی طرف قدم بڑھاتا تھا، اسے ” حنیف“ ( منحرف ) شمار کرتے تھے ، اور پھر آہستہ آہستہ یہ تعبیر راہ توحید کو طے کرنے والوں کے لئے ایک رائج تعبیر کے عنوان سے پہچانی گئی، اور حقیقت میں اس کا مفہوم ” ضلالت“سے ہدایت کی طرف انحراف تھا ۔ اور اس کا لازمہ ، وہی توحید خالص اور اعتدالِ کامل اور ہر قسم کے افراط و تفریط سے اجتناب ہے ، لیکن اس بات کو نہیں بھولنا چاہیئے کہ یہ سب اس نقط کے ثانوی معنوی ہیں ۔

( و ذٰلک دین القیمة )(۲)

کا جملہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اصول یعنی توحید خالص اور نماز ( خالق کی طرف توجہ ) اور زکوٰة( مخلوق کی طرف توجہ ) تمام ادیان کے ثابت ہونے اور پائیدار اصول ہیں ، بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ انسا ن فطرت میں داخل ہیں ۔

کیونکہ ایک طرف تو انسان کی سر نوشت مسئلہ توحید پر اور دوسری طرف سے اس کی فطرت منعم کا شکر ادا کرنے اور اس کی معرفت و شناخت کی دعوت دیتی ہے ، اور تیسری طرف سے روح اجتماعی اور انسان کی مدنیت اسے محروم افراد کی مدد کے لیے پکارتی ہے ۔

اس بناء پر ان احکام و دستورات کی جڑ بنیاد کلی طور پر فطرت کی جملہ گہرائیوں میں موجود ہے ۔ اسی لیے یہ تمام گزشتہ انبیاء اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات میں پائی جاتی ہے۔

آیات ۶،۷،۸،

۶ ۔( انَ الذین کفروا من اهل الکتاب و المشرکین فی نار جهنم خالدین فیها اولٰٓئک هم شر البریّة ) ۔

۷ ۔( انّ الذین اٰمنوا وعملوا الصالحات اولٰٓئکَ هم خیر البریّة ) ۔ ۸ ۔( جزآو هم عند ربهم جنات عدن تجری من تحتها الانهار خالدین فیهآ ابداً رضیَ الله عنهم و رضو عنه ذٰلک لمن خشی ربّه ) ۔

ترجمہ

۶ ۔ اہل کتاب اور مشرک کفار و دوزخ میں جائیں گے اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے ، وہ بدترین مخلوق ہیں ۔

۷ ۔ یقینی طور سے وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اعمال صالح انجام دیے ہیں ، وہ ( خدا کی )بہترین مخلوق ہیں ۔

۸ ۔ ان کی جزاء ان کے پروردگار کے یہاں بہشتِ جاودانی کے باغات ہیں ، جس کے درختوں کے نیچے نہریں ہیں ۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی رہیں گے ، خدا بھی ان سے راضی ہے اور وہ بھی خدا سے راضی ہیں ، اور یہ ( بلند مقام) اس شخص کے لیے، جو اپنے پروردگار سے ڈرے۔

____________________

۱۔ اس بات پر توجہ کرنا چاہئیے کہ ” منفکین“ جو” منفک“ کی جمع ہے ، ممکن ہے کہ اسم فاعل ہو، یا اسم مفعول ہو، پہلی اور دوسری تفسیر کی بناء پر اسم فاعل کے معنی دیتا ہے اور تیسری تفسیر کی بناء پر اسم مفعول کا ( غور کیجئے)۔

۲۔”وما امروا “ کا جملہ کہ ” جملہ حالیہ“ ہو یا ” استینافیہ“ ہو اور ”لیعبدوا “ میں لام“ ” لام غرض“ ہو ، اور یہاں اس سے مراد وہ مقصد اور نتیجہ ہو جو بندوں کی طرف لوٹتا ہے ، نہ کہ وہ ہدف و نتیجہ جو خدا کی طرف لوٹے ، جیسا کہ بعض مفسرین نے خیال کیا ہے ۔ اور اسی وجہ سے انہوں نے لام غرض“ کا انکار کیا ہے ۔ اصولی طور پر خدا کے تمام افعال کی کوئی نہ کوئی غرض اور علت ہوتی ہے ، لیکن وہ اغراض ایسے ہوتے ہیں جو بندوں کی طرف لوٹتے ہیں ، اور بعض نے یہاں ” لام “کو” ان“ کے معنی میں سمجھا ہے جیسا کہ ”یرید الله لیبین لکم “ ( نساء:۲۶) میں ہے ۔

۳۔اس بات پرتوجہ رکھنا چاہیئے کہ ” دین القیمة“ اضافت کی صورت میں ہے، وصف کی صورت میں نہیں ہے ۔ اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ ایک ایسا دین ہے جو گزشتہ( مستقیم اور قابل قدر) کتب قیمہ میں آیا ہے، یایہ ایک ایسا دین ہے جس میں اسلام کے مستقیم اور قابل قدر احکام بیان ہوئے ہیں ، اس بناء پر قیمة کا مو نث ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ ” کتب“ یاملت و شریعت کا وصف ہے ( غور کیجئے)


بہترین اوربد ترین مخلوق

گزشتہ آیات میں آیاتھا کہ کفار اہل کتاب اور مشرکین اس انتظار میں تھے کہ خدا کی طرف سے کوئی واضح و روشن و دلیل ان کے پاس آئے، لیکن واضح و روشن دلیل ” بینہ“ کے آجانے کے بعد وہ متفرق اور پراگندہ ہوگئے اور ہرایک نے الگ الگ راہ اختیار کرلی۔

زیر بحث آیات میں اس دعوت الہٰی کے مقابلہ میں ” کفر کرنے والے “ اور ایمان لانے والے “ دونوں گروہوں اور ان سے ہر ایک کے انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔

پہلے فرماتاہے : اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ اس جدید دین سے کافر ہوئے ہیں وہ دوزخ کی آگ میں ہوں گے اور ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ وہ بد ترین مخلوق ہیں “۔( انّ الذین کفروا من اهل الکتاب و المشرکین فی نار جهنم خالدین فیها اولٰئک هم شر البریة ) ۔

” کفروا“ کی تعبیر دین اسلام کے مقابلہ میں ان کے کفر کی طرف اشارہ ہے ، ورنہ ان کا پہلے کا کفر و شرک کوئی نئی بات نہیں ہے ۔

( اولٰئک هم شر البریة ) “ ( وہ بد ترین مخلوق ہیں ) کی تعبیر ایک لرزہ خیز تعبیر ہے ، جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ تمام چلنے پھر نے والی مخلوق ، اور نہ چلنے پھر نے والی مخلوق میں سے ، ان لوگوں سے بڑھ کر مردود اور دھتکاری ہوئی مخلوق اور کوئی نہیں ہے ، جنہوں نے حق کے واضح ہوتے ہوئے اور اتمام حجت کے بعد سیدھی راہ کو چھوڑ دیا اور ضلالت و گمراہی کی راہ اختیار کرلی ۔ اور یہ بات حقیقت میں اسی چیز کے مشابہ ہے جو سورہ انفال کی آیہ ۲۲ میں بیان ہوئی ہے :( ان شر الدواب عند الله الصم البکم الذین لایعقلون ) :” خدا کے نزدیک بد ترین جاندار وہ لوگ ہیں جو نہ سننے والے کان رکھتے ہیں ، نہ گویا زبان اور نہ ہی بیدار فکر و اندیشہ“

یا جو کچھ سورة اعراف کی آیہ ۱۷۹ میں بیان ہوا ہے ، جہاں دوزخیوں کے گروہ کو ان ہی اوصاف کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد فرماتاہے :( اولٰئک کالانعام بل هم اضل اولٰئک هم الغافلون ) : وہ چوپاو ں کی طرح ہیں ۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ اور غافل ہیں ۔

زیربحث آیت کا مطلب ان سے بھی کچھ آگے ہے کیونکہ یہ ان کا بد ترین مخلوق ہونے کے ساتھ ان کا تعارف کراتی ہے اور حقیقت میں ان کے جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کی ایک دلیل کے طور پرہے ۔ وہ بد ترین مخلوق کیوں نہ ہوں گے جب کہ سعادت کے تمام دروازے ان کے سامنے کھلے ہوئے تھے لیکن وہ کبر و غرور اور عناد و ہٹ دھرمی کی وجہ سے جان بوجھ کر مخالفت کے لیے کھڑے ہوگئے ۔

اس آیت میں بھی ” اہل کتاب“ کو مشرکین پر مقدم رکھنے کی وجہ بھی ممکن ہے یہ ہو کہ وہ کتابِ آسمانی کے حامل او ر دانشمند تھے ۔

اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نشانیاں ان کی کتابوں میں صراحت کے ساتھ آئی تھیں ۔ اس بناء پر ان کا مخالفت کرنا زیادہ قبیح و بد تر تھا۔

بعد والی آیت میں دوسرے گروہ کی طرف ، جو ان کے مخالف نقطہ مقابل اور قوس صعودی میں واقع ہوئے ہیں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اعمال صالح انجام دیئے ہیں ، وہ خدا کی بہترین مخلوق ہیں “:( انّ الذین امنوا و عملوا الصالحات اولٰئک هم خیر البریة ) ۔

اس کے بعد ان کی جزا اور پاداش کو چند مختصر سے جملوں میں اس طرح بیان کرتا ہے ، : ان کی جزا ان کے پرورگار کے پاس بہشت کے جاودانی باغات میں ، جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ، اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے“( جزاو هم عند ربهم جنات عدن تجری من تحت الانهار خالدین فیها ابداً ) ۔

” خدا بھی ان سے خوش اور راضی ہے ، اور وہ بھی خدا سے خوش اور راضی ہیں “ ۔( رضی الله عنهم و رضو عنه ) ۔

” یہ بلند و والا مقام اور اہم و بے نظیر جزائیں اس شخص کے لئے ہیں جو اپنے پر وردگار سے ڈرے“۔( ذالک لمن خشی ربه ) ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ مومنین کے بارے میں اعمال صالح کی گفتگو بھی درمیان آئی ہے ، جو حقیقت میں ایمان کے درخت کا پھل ہے ۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرنا اکیلا کافی نہیں ہے ، بلکہ انسان کے اعمال بھی اس کے ایمان پرگواہ ہونا چاہئیں ، لیکن کفر اکیلا ہی ، چاہے اس کے ساتھ غیر صالح اعمال نہ بھی ہوں ، سقوط و بد بختی کا سبب ہے ۔ اس سے قطع نظر کفر عام طور پر انواع و اقسام کے گناہوں ، جرائم اور غلط اعمال کا مبداء بھی ہوتا ہے ۔

( اولٰئک هم خیر البریة ) “ کی تعبیر اچھی طرح اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ مومن اور اعمال صالح بجالانے والے انسان فرشتوں تک سے بھی بالاتر ہیں ، کیونکہ آیت مطلق ہے ، اور اس میں کسی قسم کا استثناء نہیں ہے۔ قرآن کی دوسری آیات بھی اسی معنی کی گواہ ہیں مثلاً: فرشتوں کے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کی آیات ، اور آیہ( و لقد کرمنا بنی آدم ) ( اسراء ۷۰)

بہرحال اس آیت میں پہلے تو ان کے مادی و جسمانی صلہ ، جو جنت کے پر نعمت باغات ہیں ، کا ذکر کرتا ہے ، اور اس کے بعد ان کی معنوی و روحانی جزاء کو بیان کرتا ہے کہ خدا بھی ان سے راضی ہے اور وہ بھی خدا سے راضی اور خوش ہیں ۔

وہ خدا سے راضی اور خوش ہیں کیونکہ جو کچھ وہ چاہتے تھے وہ اس نے انہیں دیا ہے ، اور خدا ان سے راضی اور خوش ہے چونکہ وہ جو کچھ چاہتا تھا وہ انہوں نے انجام دیا ، اور اگر ان سے کوئی لغزش ہوبھی گئی تو اس نے اپنے لطف و کرم سے اس سے صرف نظر کی ، اس سے بڑھ کر اور کون سی لذت ہو سکتی ہے کہ اسے اس بات کا احساس ہوجائے کہ اس کے کاموں کو معبود نے قبول کرلیا ہے اور اس کا محبوب اس سے راضی اور خوش ہے ۔ اور اسے اس کی لقاء حاصل ہوگئی ہے ۔

دارند ہر کس از تو مرادے ومطلبے

مقصود ما ز دنیا عقبیٰ لقایء تو است

” ہر شخص تجھ سے کوئی نہ کوئی خواہش اور مطلب رکھتا ہے لیکن ہمارا مقصد دنیا میں تیری لقاء ہے “۔

ہاں ! انسان کے جسم کی جنت تو اس جہاں کے جاودانی باغات ہیں ، لیکن اس کی روح کی بہشت خدا کی رضا اور لقائے محبوب ہے ” ذٰلک لمن خشی ربہ“ کا جملہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ان تمام برکات کا سر چشمہ خدا کا خوف ، خشیت اور ڈر ہے ، کیونکہ یہی خوف ہی ہر قسم کی اطاعت ، تقویٰ اور اعمال صالح کی طرف حرکت کرنے کا سبب بنتا ہے ۔

بعض مفسرین نے اس آیت کو سورہ فاطر کی آیہ ۲۸ ۔( انما یخشی الله من عباده العلماء ) ” صرف علماء ہی خد اسے ڈرتے ہیں “ کے ساتھ ملا کر یہ نتیجہ نکالاہے کہ بہشت پر حقیقتاًعلماء اور آگاہ دانش مند لوگوں کا مسلمہ حق ہے ۔

البتہ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ خشیت اور خوفِ خدا کے کئی درجے اور مرتبے ہوتے ہیں اور علم و دانش و آگاہی میں بھی کئی درجے اور مرتبے ہوتے ہیں اس بات کا مفہوم واضح اور روشن ہو جاتا ہے ۔

ضمنی طور پربعض کا نظر یہ یہ ہے کہ ” مقام خشیت“ مقام ِ خوف سے بالاترہوتا ہے ، کیونکہ خوف تو ہر قسم کے ڈر پر بولاجاتا ہے ، لیکن خشیت اس خوف کو کہتے ہیں جو تعظیم و احترام کے ساتھ ہو۔

۱ ۔ علی علیہ السلام اور ان کے شیعہ خیر البریہ ہیں

بکثرت روایات میں ، جو اہل سنت کے طریقوں سے ان کی مشہور کتابوں میں اور اسی طرح شیعوں کی مشہور کتابوں میں نقل ہوئی ہیں آیہ( اولٰئک هم خیر البریة ) (وہ خدا کی بہترین مخلوق ہیں )کی علی علیہ السلام اور ان کے پیرو کاروں کے ساتھ تفسیر ہوئی ہے ۔

” حاکم حسکانی “ نیشاپوری نے ، جو پانچویں صدی ہجری کے مشہور علماء اہل سنت میں سے ہیں ، ان رویات کو اپنی مشہور کتاب ”شواہدالتنزیل“ میں مختلف اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ، اور ان کی تعداد بیس ہزار روایات سے زیادہ ہے جن میں سے ہم چند روایات کو نمونہ کے طور پر آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔

۱ ۔ ” ابن العباس“ کہتے ہیں جس وقت آیہ”( الذین امنوا و عملوا الصالحات اولٰئک هم خیر البریة ) “ نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے علی علیہ السلام سے فرمایا : ”( هو انت و شیعتک تأتی انت و شیعتک یوم القیامة راضیین مرضیین و یأتی عدوک غضباناً مقمحین ) “” اس آیت سے مراد تو اورتیرے شیعہ ہیں جو روز قیامت عرصہ محشر میں اس حال میں وارد ہوں گے کہ تم بھی خدا سے راضی ہوگے اور خدا بھی تم سے راضی ہوگا ، اور تیرا دشمن غصہ کی حالت میں عرصہ محشرمیں وارد ہوگا اور زبر دستی اس کو جہنم میں دھکیل دیا جائے گا “۔ ( حدیث کے بعض نسخوں میں مقمحین آیا ہے ، جس کا معنی طوق و زنجیر کے ذریعہ سر کو اونچا رکھنا ہے )۔ ( شواہد التنزیل“ جلد ۲ ص ۳۵۷ حدیث ۱۱۲۶)

۲ ۔ ایک دوسری حدیث میں ” ابو برزہ“ سے آیا ہے کہ جس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو فرمایا :

( هم انت و شیعتک یا علی و میعاد ما بینی و بینک الحوض )

” اے علی ! وہ تو اور تیرے شیعہ ہیں ، اور تیری اور میری وعدہ گاہ حوض کوثر ہے ۔(۱)

۳ ۔ ایک اور حدیث میں ” جابر بن عبد اللہ انصاری“ سے آیاہے کہ ہم خانہ خد اکے پاس پیغمبر اکرم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ علی علیہ السلام ہماری طرف آے ، جس وقت پیغمبر کی نگاہ ان پر پڑی تو فرمایا:” قد اتاکم اخی“میرا بھائی تمہاری طرف آرہاہے ۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خانہ خدا کی طرف رخ کیا او رفرمایا :

( فقال ورب هٰذه البنیة ان هٰذا و شیعته هم الفائزون یوم القیامة )

” اس کعبہ کے خدا کی قسم یہ شخص اور اس کے شیعہ قیامت کے دن رست گار اور کامیاب ہو ں گے“

اس کے بعد ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا:

( اما و الله انّه أولکم ایماناًبالله ، و اقومکم بامر الله و اوفاکم بعهد الله ، و اقضا کم بحکم الله و قسمکم بالسویة، و اعدلکم فی الرعیة، و اعظمکم عند الله مزیة ) “۔

قال ” جابر“: فانزل الله : ( انّ الذٰن اٰمنوا و عملوا الصالحات اولٰئک هم خیر البریة ) “ فکان اذا اقبل قال اصحاب محمد ( صلی الله علیه و آله وسلم )قد اتاکم خیر البریة بعد الرسول :

” خدا کی قسم یہ تم سب میں سے پہلے خدا پر ایمان لایا ہے اور اس نے خدا کے حکم سے تم سب میں پہلے قیام کیا ہے، خدا کے عہد کو تم سب سے زیادہ وفا کرنے والا ہے ، اور وہ تم سب سے زیادہ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کرنے والا ہے اور وہ ( بیت المال ) کی تقسیم میں سب سے زیادہ مساوات کرنے والاہے ، رعیت میں سب سے زیادہ عدل کرنے والا ہے ، اور اس کا مقام و مرتبہ خدا کے نزدیک تم سب سے زیادہ ہے “۔

جابر کہتے ہیں کہ اس موقع پر خدا نے آیہ ”( انّ الذین اٰمنواو عملوا الصالحات اولٰئک هم خیر البریة )

نازل فرمائی۔ اس کے بعد جب بھی کبھی علی علیہ السلام آتے تو اصحاب محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )انہیں آتا ہوا دیکھ کر کہتے :رسول اللہ کے بعد خدا کی مخلوق میں جو سب سے زیادہ بہتر وہ آرہاہے ۔(۳)

اس آیت کا خانہ کعبہ کے پاس نزول اس سورہ کے مدنی ہونے کے ساتھ منافات نہیں رکھتا ، کیونکہ ممکن ہے کہ یہ نزول مجدد کے قبیل سے ہوا ، یا تطبیق کے عنوان سے ہو، علاوہ از یں بعید نہیں ہے کہ ان آیات کا نزول ان سفروں میں ہوا ہو جن میں پیغمبر مدینہ سے مکہ کی طرف آئے تھے ، خصوصاً جب کہ اس روایت کا راوی” جابر بن عبد اللہ انصاری “ ہے جو مدینہ میں آپ کے ساتھ ملحق ہوئے تھے ، اور اس قسم کی آیات پر مدنی ہونے کا اطلاق بعید نہیں ہے ۔

ان احادیث میں سے بعض کو” ابن حجر“ نے کتاب” صواعق محرقہ“ میں نقل کیا ہے ۔ بعض کو شبلنجی نے ” نور الابصار“ میں ذکر کیا ہے ۔(۳)

” جلال الدین سیوطی“ نے ” در المنثور“ میں بھی آخری روایت کا عمدہ حصہ” ابن عساکر“ سے جابر بن عبد اللہ انصاری“ سے نقل کیاہے۔(۴)

۴ ۔ ” در المنثور“ میں آیاہے کہ جس وقت آیہ ” انّ الذین اٰمنواو عملوا الصالحات اولٰئک ھم خیر البریة“نازل ہوئی ، تو پیغمبر نے علی علیہ السلام سے فرمایا:

هو انت و شیعتک یوم القیامة راضین مرضین

” وہ تو اور تیرے شیعہ ہیں ، قیامت کے دن تم خدا سے راضی ہوگے اور خدا تم سے راضی ہوگا“۔(۵)

۵ ۔ مذکورہ مو لف نے ایک دوسری حدیث میں ” ابن مردویہ“ کے واسطے سے علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرام نے مجھ سے فرمایا:

الم تسمع قول الله : انّ الذین اٰمنواو عملوا الصالحات اولٰئک هم خیر البریة؟ انت و شیعتک و موعدی و موعدکم الحوض، اذات جئت الامر للحساب تد عون غرا محجلین :(۶)

” کیا تم نے خداکا یہ ارشاد نہیں سنا کہ فرماتا ہے : لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالح انجام دیے وہ بہترین مخلوق ہیں ؟ یہ تم اور تمہارے شیعہ ہیں ۔ اور میری اور تمہاری وعدہ گاہ حوض کوثر کا کنارہ ہے ۔ جب میں امتوں کے حساب کے لیے آو ں گا تو تمہیں ” غر محجلین “ (سفید پیشانی والے )کہہ کر پکارا جائے گا۔

اہل سنت کے اور بھی بہت سے دوسرے علماء نے اسی مضمون کو اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ، منجملہ ” خطیب خوارزمی“ نے ” مناقب “ میں ” ابو نعیم اصفہانی“ نے ” کفایت الخصام “ ،میں ” علامہ طبعی“ نے اپنی مشہور تفسیر میں ” ابن صباغ مالکی“ نے ” فصول المھمة“ میں علامہ شوکانی “ نے فتح القدیر “ میں ” شیخ سلیمان قندوزی “ نے” ینابیع والمودة‘اور ” آلوسی“ نے ”روح المعانی“ میں زیر بحث آیات کے ذیل میں ، اور بہت سے دوسرے علماء نے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ اوپر والی حدیث میں بہت ہی مشہور و معروف احادیث میں سے ہے کہ جسے اکثر دانش مندوں اور علماء اسلام نے قبول کیا ہے ، اور یہ علی علیہ السلام اور ان کے شیعوں کی ایک بہت بڑی فضیلت ہے ۔

ضمنی طور پر ان روایات سے یہ حقیقت اچھی طرح آشکار ہو جاتی ہے کہ لفظ” شیعہ “ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ سے ہی آنحضرت کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان نشر ہوا، اور یہ امیر المومنین علی علیہ السلام کے خاص پیروکار وں کی طرف اشارہ ہے ۔ لہٰذا وہ لوگ جو یہ گمان کرتے ہیں ” شیعہ“ کی تعبیر صدیوں بعد وجود میں آئی ہے، بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں ۔

____________________

۱۔ وہی مدرک ص ۳۵۹ حدیث ۱۱۳۰۔

۲۔ وہی مدر ک ص ۳۶۲ حدیث ۱۱۳۹۔

۳۔ ” صواعق محرقہ“ص ۹۶ ” نو ر الابصار“ ص ۷۰، ۱۰۱۔

۴۔” در المنثور“ جلد۶ ص ۳۷۹۔

۵۔ ” در المنثور“ جلد۶ ص ۳۷۹۔

۶۔ ” در المنثور“ جلد۶ ص ۳۷۹۔


۲ ۔ عبادت میں خلوص نیت لازم ہے

اصول فقہ کے بعض علماء نے آیہ ”( وما امرو الا لیعبدون ا الله مخلصین له الدین ) “ سے عبادات میں قصدِ قربت کے لازم ہونے پر استدلال کیاہے اور یہ اوامر میں اصل ان کا تعبدی ہونا ہے نہ کہ توصلی ہونا۔ اور یہ اس سے وابستہ ہے کہ یہاں ” دین “ کا معنی عبادت ہو، تا کہ یہ عبادات میں خلوص کے لازم ہونے کی دلیل بنے اور ” امر“ کو ہم اس آیت میں مطلق قرار دیں ، تاکہ اس کامفہوم تمام اوامر میں قصدِ قربت کا لازم ہوناہے ، ( سوائے ان موارد کے جو دلیل کی وجہ سے خارج ہوں ) حالانکہ آیت کا مفہوم ، ظاہر کے اعتبار سے ، ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے ، بلکہ اس سے مقصود شرکِ کے مقابلہ میں توحید کا اثبات ہے ۔ یعنی انہیں توحید کے سوال اور کسی چیز کی دعوت نہیں دی گئی ہے اور اس حال میں اس کا احکام فرعی کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے ۔

۳ ۔ انسان کی عجیب قوسِ صعودی و نزولی

اس سورہ کی آیات سے اچھی طر ح معلوم ہوتا ہے کہ عالم میں کسی بھی مخلوق کے قوس صعودی و نزولی کا فاصلہ انسان کے قوس صعودی و نزولی کے برابر نہیں ہے ۔ اگر انسان ایمان لے آئے اور اعمالِ صالح بجالائے( اس بات پر توجہ رہے کہ ”( عملوا الصالحات ) “ تمام اعمال صالح کو شامل ہے ، نہ کہ بعض کو) تو وہ خدا کی مخلوق میں سے زیادہ افضل اور بر ترہوجاتا ہے ، لیکن اگر وہ کفر و ضلالت اور ہٹ دھر می اور عنادکا راستہ اختیار کرلے ، تو اتنا گر جاتا ہے کہ خدا کی مخلوق میں سب سے زیادہ بد تربن جاتا ہے !انسان کے ” قوس صعودی“ و نزولی“ کا یہ عظیم، فاصلہ اگر چہ ایک حساس اور خطر ناک مسئلہ ہے لیکن یہ نوع بشر کے مقام عظمت اور اس کے تکامل و ارتقاء کی قابلیت پر دلالت کرتا ہے ، اور یہ ایک طبیعی و فطری چیز ہے کہ اس قسم کی حد سے زیادہ قابلیت و استعداد کے ہوتے ہوئے ، تنزل و سقوط کا امکان بھی حد سے زیادہ ہو۔ خدا وندا ! ہم ” خیر البریہ“ کے بلند مقام تک پہنچنے کے لیے تیرے لطف و کرم سے مدد طلب کرتے ہیں ۔

پروردگارا ! ہمیں اس عظیم اور بزرگ ہستی کے شیعوں اور پیروکاروں میں سے قرار دے جو اس کے لیے سب سے زیادہ لائق اور شائستہ ہے ۔

بار الٰہا ! ہمیں اس قسم کا خلوص مرحمت فرماکہ ہم تیرے سوال کسی کی پرستش نہ کریں اور تیرے غیر سے محبت نہ رکھیں ۔

آمین یا رب العالمین


سورہ الزّلزال

یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوا۔ اس میں ۸ آیات ہیں ۔

سورہ زلزلہ کے مطالب اور فضیلت

اس بارے میں کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا یا مدینہ میں ، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ بہت سے اسے مدنی سمجھتے ہیں جب کہ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ مکہ میں نازل ہو ا ہے ۔ اس کی آیا ت کا لب و لہجہ جو” معاد“ اور ” قیامت“ کی شرائط کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ، مکی سورتوں سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے ، لیکن ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس وقت یہ سورہ نازل ہوا تو ” ابو سعید خدری“ نے پیغمبر اکرام سے آیہ فمن یعمل مثقال ذرةکے بارے میں سوال کیا ، اور ہم جانتے ہیں کہ ” ابو سعید“ مدینہ میں مسلمانوں سے ملحق ہوئے تھے ۔(۱)

لیکن اس سورہ کا مکی یا مدنی ہونا اس کے مفاہیم اور تفسیر پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

بہرحال یہ سورہ خصوصیت کے ساتھ تین محوروں کے گردگردش کرتاہے ۔

پہلے” الشرائط الساعة “اور قیامت کے وقوع کی نشانیوں سے بحث کرتا ہے ۔

اور اس کے بعد انسان کے تمام اعمال کے بارے میں زمین کی گواہی کی گفتگو ہے ۔

اور تیسرے حصہ میں لوگوں کی دو گروہوں ” نیکو کار“ اور بد کار“ میں تقسیم، اور ہر ایک شخص کے اپنے اعمال کا نتیجہ پانے کی بات ہے ۔

____________________

۱۔ ” روح المعانی “ جلد ۲۰ ص ۲۰۸۔


اس سورہ کی فضیلت

اس سورہ کی فضیلت میں اسلامی روایات میں اہم تعبیریں آئی ہیں منجملہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے :( من قرأها فکانما قرأ البقرة و اعطی من الاجر کمن قرأ ربع القراٰن ) :جو شخص اس کی تلاوت کرے گویا اس نے سورہ بقرہ کی قرا ئت ، اور اس کا اجزر ثواب اس شخص کے برابر ہے جس نے قرآن کے چوتھے حصہ کی قرائت کی ہو۔(۱)

اورایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

سورہ ”( اذا زلزلت الارض ) “ کی تلاوت کرنے سے ہر گز خستہ نہ ہونا ، کیونکہ جو شخص اس کو نافلہ نمازوں میں پڑھے گا وہ ہر گز زلزلہ میں گفتار نہ ہوگا اور نہ ہی ا س کی وجہ سے مرے گا ۔ اور مرتے دم تک صاعقہ اور آفاتِ دنیا میں سے کسی آفت میں گفتار نہ ہوگا۔(۲)

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( اذا زلزلت الارض زلزالها ) ۔ ۲ ۔( و اخرجت الارض اثقالها ) ۳ ۔( و قال الانسان مالها )

۴ ۔( یومئذٍ تحدث اخبارها ) ۵ ۔( بانّ ربک اوحیٰ لها ) ۔ ۶ ۔( یومئذ یصدر الناس اشتا تا لیروا اعمالهم ) ۔

۷ ۔( فمن یعمل مثقال ذرةٍ خیرا یره ) ۔ ۸ ۔( ومن یعمل مثقال ذرةٍ شراً یره )

ترجمہ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ جس وقت زمین شدت کے ساتھ لرز نے لگے گی۔ ۲ ۔ اور زمین اپنے سنگین بوجھ کو باہر نکال کررکھ دے گی۔

۳ ۔ اور انسان کہے گا کہ زمین کو کیا ہوگیا ہے ۔ ( کہ اس طرح لرز رہی ہے )

۴ ۔ اس دن زمین اپنی تمام خبروں کو بیان کردے گی۔ ۵ ۔ کیونکہ تیرے پروردگار نے اسے وحی کی ہے ۔

۵ ۔ اس کے لوگ مختلف گروہوں کی صورت میں قبروں سے نکلیں گے، تاکہ ان کے اعمال انہیں دکھائے جائیں ۔

۷ ۔ پس جس شخص نے ایک ذرہ کے وزن کے برابر بھی اچھا کام انجام دیا ہوگا وہ اسے دیکھے گا ۔

۸ ۔ اور جس نے ایک ذرہ کے وزن کے برابر بر اکام کیا ہوگا وہ اسے دیکھے گا۔

____________________

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۲۴۔

۲۔ ” اصول کافی“ ( مطابق نو الثقلین جلد ۵ ص ۳۴۷)۔


جس دن انسان اپنے تمام اعمال دیکھے گا

جس طرح سورہ کے مطالب کے بیان میں اشارہ ہوا ہے یہ سورہ اس جہان کے اختتام اور قیامت کے شروع کے بعض ہولناک اور وحشت ناک حوادث کے بیان کے ساتھ شروع ہوا ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے :” جس وقت زمین شدت کے ساتھ ہلنے لگے گی“۔( اذا زلزلت الارض زلزالها ) ۔(۱)

اور اس طرح زیر و زبر ہوگی کہ ” وہ سارے سنگین بوجھ“ جو اس کے اندر ہیں ، باہر نکال کررکھ دے گی “۔( واخرجت الارض اثقالها ) ۔

” زلزالھا“ ( اس زلزلہ) کی تعبیر یا تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس دن سارا کرہ زمین لرزنے لگے گا۔ (عام زلزلوں کے برخلاف جو سب کے سب کسی خاص موضع یا علاقہ میں ہوتے ہیں )۔ اور زلزلہ معہود یعنی زلزلہ قیامت کی طرف اشارہ ہے۔(۲)(۳)

اس بارے میں کہ ” اثقال “ ( سنگین بوجھ) سے کیا مراد ہے ، مفسرین نے متعد د تفاسیر بیان کی ہیں ، بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد انسان ہیں جو قیامت کے زلزلہ سے قبروں کے اندر سے باہر اچھل پڑیں گے ، جیسا کہ سورہ انشقاق کی آیہ ۴ میں آیا ہے ۔ ”( القت مافیها وتخلّت )

اور بعض نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنے اندرونی خزانوں کو باہر پھینک دے گی۔ اور بے خبر دنیا پرستوں کے لئے حسرت کا سبب بنے گی۔(۴)

یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد زمین کے اندر بہہنے والے بھاری مواد کو باہر پھینکنا ہے جن کی کچھ مقدار عام طور پر آتش فشانی اور زلزلوں کے وقت باہر نکلتی ہے

عالم کے اختتام پر جو کچھ زمین کے اندر ہے وہ اس زلزلہ عظیم کے بعد باہر آجائے گا ۔

پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے ، اگر ان تفاسیر کے درمیان جمع بھی بعید نہیں ہے ۔

بہرحال اس دن انسان اس اَن دیکھے منظر کو دیکھ کر سخت متوحش ہو گا ، اور کہے گا : ” یہ کیا ہوگیا ہے کہ زمین اس طرح لرز رہی ہے ، اور جو کچھ اس کے اندر تھا اسے باہر پھینک دیا ہے “۔( و قال الانسان مالها ) ۔

اگر چہ بعض نے یہاں انسان کی کافر انسانوں کے ساتھ تفسیر کی ہے ، کیونکہ زمین کے اوضاع و احوال سے تعجب اس دن کفار کے ساتھ مخصوص نہیں ہوگا۔

کیا یہ تعجب ، اور اس سے پیدا ہونے والا سوال”نفخهٴ اولیٰ “ سے مربوط ہے یا ”نفخہ دوم “ سے ؟

ظاہر یہ ہے کہ یہ وہی پہلانفخہ ہے جو اس عالم کے اختتام کا نفخہ ہے ۔کیونکہ یہ زلزلہ عظیم اختتام ِ جہاں پر آئے گا۔

یہ احتمال بھی دیاگیاہے کہ اس سے مراد نفخہ قیامت اور مردوں کے زندہ ہونے اور ان کے زمین سے باہر پھینک دینے کا نفخہ ہے کیونکہ بعد والی آیات بھی سب کی سب نفخہ دوم کے ساتھ مربوط ہیں ۔ لیکن چونکہ قرآن کی آیات میں ان دونوں نفخوں کے حوادث بارھا اکھٹے ذکر ہوئے ہیں ، لہٰذا اختتام جہاں پر وحشت ناک زلزلہ کے بیان کی طرف توجہ کرتے ہوئے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے ، اور اس صورت میں کے ” اثقال “ سے مراد معدنیات ، خزانے اور اس کے اندر موجود پگھلے ہوئے مواد ہیں ۔ اور اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ” زمین اس دن اپنی ساری خبریں بیان کرے گی“( یومئذتحدث اخبارها ) ۔

جو خوبیان اور برائیاں ، اور خیر و شر کے اعمال روئے زمین پرواقع ہوئے ہیں ، وہ ان سب کو ظاہر کردے گی۔ اور اس دن انسان کے اعمال کے گواہوں میں سے اہم ترین گواہ یہی زمین ہو گی جس پر ہم اپنے اعمال انجام دیتے ہیں ۔ اور جو ہماری شاہد و ناظر ہے ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا:”( اتدرون ما اخبارها ) “؟:”کیا تم جانتے ہو کہ زمین کے اخبار سے یہاں کیا مراد ہے “؟

قالوا: الله و رسوله اعلم “: انہوں نے کہا: خدا اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں “۔

آپ نے فرمایا:اخبارها ان تشهد علی کل عبد و امة بما عملوا علی ظهرها، تقول عمل کذا و کذا، یوم کذا، فهٰذا اخبارها “:

”زمین کے خبر دینے والے سے مراد یہ ہے کہ زمین ہر مرد اور عورت کے اعمال کی ، جو انہوں نے روئے زمین پر انجام دیے ہیں ، خبر دے گی، وہ کہے گی کہ فلاں شخص نے فلاں دن فلاں کام کیا ہے ، یہ ہے زمین کا خبر دینا“۔(۵)

ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم سے آیا ہے :

حافظوا علی الوضوء و خیر اعمالکم الصلوٰة فتحفظوامن الارض فانّهاامّکم، ولیس فیها احد یعمل خیراً او شراً الا و هی مخبرة به “۔

” وضوء اور اپنے اعمال میں سے بہترین عمل ، نماز کی حفاظت کر، اور زمین کی طرف دیکھتے رہو، کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے ، کوئی انسان بھی اچھا یا برا کام انجام نہیں دیتا مگر یہ کہ زمین اس کی خبر دیتی ہے “۔(۶)

ابو سعید خدری سے نقل ہوا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : جب کبھی تم بیا بان میں ہو، تو بلند آواز کے ساتھ اذان دو، کیونکہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”لا یسمعه جن ولا انس ولا حجر الایشهد “کوئی جن و انس، اور پتھرکو کوئی ٹکڑا اسے نہیں سنتا ، مگر یہ کہ( قیامت میں ) اس کے لیے گواہی دے گا“(۷)

کیا واقعاً خدا کے حکم سے زمین کی زبان کھل جائے گی اور وہ بات کرے گی؟ یا اس سے مراد روئے زمین پر انسان کے اعمال کے آثار کا ظاہر ہونا ، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان جو عمل بھی انجام دیتا ہے ، وہ خواہ مخواہ اس کے اطراف میں کچھ آثار چھوڑ تا ہے ۔ چاہے وہ آج ہمارے لیے محسوس نہ ہوں ۔ ٹھیک ایک دوست یا دشمن کی انگلیوں کے انہیں آثار کے مانند، جو دروازے کے قبضہ پر رہ جاتے ہیں ، اور اس دن یہ سب کے سب آثار ظاہر ہو جائیں گے ، اور زمین کا بات کرنا اس عظیم ظہور کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔ جیسا کہ ہم کسی خواب آلود شخص سے کہتے ہیں ، کہ تیری آنکھیں بتلارہی ہیں کہ تو کل رات سو یا نہیں ہے ۔ یعنی بے خوابی کے آثار اس میں نمایاں ہیں ۔

بہر حال یہ کوئی غیر مانوس بات نہیں ، کیونکہ موجود ہ زمانے میں انسان کے علم و دانش کی پیش رفت کی وجہ سے ایسے آلات ووسائل اختراع ہوچکے ہیں جو ہر جگہ اور ہر لمحہ انسان کی آواز کو گرفت میں لے سکتے ہیں ، یا انسان اور اس کے اعمال و افعال کی تصویریں کھینچ سکتے ہیں ، اور ایک مسلم سند کے عنوان سے اسے عدالت میں پیش کرسکتے ہیں ، اس طرح کہ انکار کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے ۔

اگر لوگ گزشتہ زمان میں زمین کی گواہی سے تعجب کرتے تھے ، تو موجود ہ زمانہ میں ایک پتلی سی ریل ( فیتہ ) یا ( ریکارڈ) ضبط کے کرنے کی مشین جو ایک بٹن کی صورت میں لباس سے ٹکی ہوئی ہوتی ہے ، بہت سے مسائل کو بیان کرسکتی ہے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں علی علیہ السلام سے آیا ہے کہ آ پ نے فرمایا: ”صلو ا المساجد فی بقاع مختلفة، فان کل بقعة تشهد للمصلی علیها یوم القیامة “” مساجدکے مختلف حصوں میں نماز پڑ ھا کرو، کیونکہ زمین کا ہرٹکڑا ، اس شخص کے لیے جو اس پر نماز پڑھتا ہے ، گواہی دے گا۔(۸)

ایک اور دوسری حدیث میں آیاہے ، کہ امیر المومنین علی علیہ السلام جب بیت المال تقسیم فرماتے تھے، اور وہ خالی ہو جاتا تھا تو ہاں دو رکعت نماز بجالاتے اور فرماتے:”اشهدی انی ملأتک بحق و فرغتک بحق “ ( قیامت کے دن )” گواہی دینا کہ میں نے تجھے حق کے ساتھ پر کیا تھا اور حق کے ساتھ ہی خالی کیاہے “۔(۹)

بعد والی آیت میں مزید فرماتا ہے : یہ اس خبر(نباء) پر ہے کہ تیرے پروردگار نے زمین کی وحی کی ہے “۔( بان ربک اوحٰی لها ) (۱۰)

اور زمین اس فرمان کے اجزاء میں کوتا ہی کرے گی ،” اوحٰی“ کی تعبیر یہاں اس بناء پر ہے کہ اس قسم کی اسرار آمیز گفتگو کرنا زمین کی طبیعت کے خلاف ہے ۔اور یہ چیز ایک وحی الٰہی کے طریقے کے سوا ممکن نہیں ہے ۔

بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ زمین کو وحی کرے گا کہ جو کچھ اس کے اندر ہے وہ باہر پھینک دے۔

لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح اور مناسب نظر آتی ہے ۔

اس کے بعد فرماتا ہے : ” اس دن لوگ مختلف گروہوں کی صورت میں قبروں سے نکل کر عرصہ محشر میں وارد ہوں گے، تاکہ ان کے اعمال انہیں دکھائے جائیں ۔( یومئذ یصدر الناس اشتاتاً لیروا اعمالهم ) ۔

” اشتات“ ” شت“ ( بروزن شط) کی جمع ہے ، پراگندہ اور متفرق کے معنی میں ہے ، یہ اختلاف و پراگندگی ممکن ہے اس بناء پر ہو کہ ہر مذہب والے الگ عرصہ محشر میں وارد ہوں گے، یا زمین کے علاقوں میں سے ہر علاقے کے لوگ جدا جدا وارد ہوں گے، یا یہ ہے کہ ہر ایک گروہ تو ہشابشاش، شاد و خندان، حسین و خوبصورت چہروں کے ساتھ آئے گا اور ایک گروہ تیوری چڑھا ئے تیرہ و تاریک چہروں کے ساتھ محشر میں وارد ہوگا ۔

یاہر امت اپنے امام ، رہبر اور پیشوا کے ساتھ ہو گی جیسا کہ سورہ اسراء کی آیہ ۷۱ میں آیا ہے ، : یوم ندعوا کل انا ساس باماھم“: ” اس دن ہم ہر گروہ کو اس کے امام و پیشوا کے ساتھ بلائیں گے ۔ یایہ ہے کہ مو منین ، مو منین ساتھ، اور کفار، کفار کے ساتھ محشور ہوں گے۔ ان تما م تفاسیر کے درمیان جمع بھی پورے طور پر ممکن ہے کیونکہ آیت کا مفہوم وسیع ہے ۔ ” یصدر“ ” صدر“ ( بروزن صبر)کے مادہ سے اونٹوں کے پانی والی جگہ سے نکلنے کے معنی میں ہے ، انبوہ کی صورت میں ہیجان میں آئے ہوئے باہر آتے ہیں ” ورود“ کے بر عکس جو پانی کی جگہ میں داخل ہونے کے معنی میں ہے ۔ اور یہاں مختلف قوموں کے قبروں سے نکلنے اور حساب دینے کے لیے محشر میں آنے سے کنایہ ہے ۔

پہلا معنی گزشتہ آیات کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔

( لیروا اعمالهم ) “ ( تاکہ ان کے اعمال انہیں دکھائے جائیں ) کے جملہ سے مراد اعمال کی جزا کا مشاہدہ ہے ۔

یا نامہ اعمال کا مشاہدہ مراد ہے جس میں ہر نیک و بد عمل ثبت ہے ۔

یا مشاہدہ باطنی مراد ہے جس کا معنی ان کے اعمال کی کیفیت کی معرفت و شناخت ہے ۔

یا ” تجسم اعمال “ کی صورت میں خود اعمال کا مشاہدہ مراد ہے ۔

آخری تفسیر ظاہر آیہ کے ساتھ سب سے زیادہ موافق ہے ، اور یہ آیت مسئلہ تجسم اعمال پر روشن ترین آیات میں سے شمار ہوتی ہے کہ ا س دن انسان کے اعمال مناسب صورتوں میں مجسم ہو کر اس کے سامنے حاضر ہو ں گے، اور ان کی ہم نشینی خوشی کا مو جب یا رنج و بلا کا باعث ہوگی۔

اس کے بعد ان دونوں گروہوں مومن و کافر، نیکو کار و بد کار کے انجام کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” پس جس شخص نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھے گا“۔( فمن یعمل مثقال ذرة خیراً یره ) ۔

اور جس شخص نے ذرہ برابر بر اکام کیا ہوگا وہ اسے دیکھے گا“۔( ومن یعمل مثقال ذرة شراً یره )

یہاں بھی مختلف تفسیریں ذکرہوئی ہیں کہ کیا اعمال کی جزا کو دیکھے گا، یا نامہ اعمال کا کا مشاہدہ کرے گا، یا عمل کو۔

ان آیات کا ظاہر بھی قیامت کے دن“ تجسم اعمال“ اور خود عمل کے مشاہدہ کے مسئلہ پر،نئے سرے سے ایک تاکید ہے ، چاہے وہ عمل نیک ہو یا برا، یہاں تک کہ اگر ایک سوئی کے برابر بھی نیک یابرا کام ہوگا تو وہ بھی اپنے کرنے والے کے سامنے مجسم ہوجائے گا، اور وہ اس کا مشاہدہ کرے گا۔

”مثقال “ لغت میں بوجھ اور سنگینی کے معنی میں بھی آیاہے ، اور اس ترازوکے معنی میں بھی جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے ، اور یہاں یہ پہلے معنی میں ہی ہے ۔

”ذرة“ کے لیے بھی لغت اور مفسرین کے کلمات میں مختلف تفسیرں ذکر ہوئی ہیں ، کبھی تو چھوٹی چیونٹی کے معنی میں ، اور کبھی اس گرد و غبار کے معنی میں جو زمین پر ہاتھ رکھ کر اٹھانے کے بعد اس سے چپک جاتا ہے اور کبھی غبار کے ان چھوٹے چھوٹے ذرات کے معنی میں تفسیرہوئی ہے جو فضا میں معلق ہوتے ہیں اور جب سورج کی شعاعیں کسی سوراخ سے تاریک کمرے میں پڑےتیں ہیں تو وہ ظاہر ہو جاتے ہیں ۔

ہم جانتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں ” ذرہ“ کا ” ایٹم“ پر بھی اطلاق کرتے ہیں ۔ اور ایٹم بم کو ”القنبلة الذریة “ کہتے ہیں ۔

” ایٹم “ اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ نہ تو وہ عام آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے اور نہ ہی دقیق ترین خورد بینوں کے کے ذریعے قابل مشاہدہ ہے ، اور صرف اس کے آثار کا ہی مشاہدہ کرتے ہیں ، اور اس کا حجم اور وزن علمی حساب و کتاب کے ذریعے ہی ناپاتولا جاتا ہے ، اور وہ اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ سوئی کی ایک نوک پر لاکھوں کی تعداد میں سما جاتے ہیں ۔

ذرّہ کا مفہوم چاہے جو بھی ہو یہاں مراد سب سے چھوٹا وزن ہے ۔

بہر حال یہ آیت ان آیات میں سے ایک ہے جو آدمی کی پشت میں لرزہ پیدا کردیتی ہےں ، اور اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اس دن حساب و کتاب حد سے زیادہ دقیق اور حساس ہو گا۔ اور قیامت میں ناپ تول کا ترازو اس قدر ظریف ہوگا، کہ وہ انسان کے چھوٹے سے چھوٹے اعمال کا وزن اور اس کا حساب کرلے گا۔

____________________

۱۔ ”اذا“ یہاں شرطیہ ہے ، اور اس کے بارے میں کہ جزائے شرط کیاہے کئی احتمال دئے گئے ہیں ، بعض اس کی جزا” یو مئذ تحدث اخبارھا“ کو سمجھتے ہیں ، بعض ” یومئذ یصدر الناس اشتاتا “کو، اور بعض نے جزا کو محذوف جانا ہے ۔ اس طرح کہ لوگ یہ سوال کرتے تھے کہ متی الساعة( قیامت کب واقع گی)تو جواب میں فرمایا : جب وہ عظیم زلزلہ آئے گا، یعنی اس وقت قیامت واقع ہوگی۔

۲۔ پہلی صورت میں اضافت عمومی معنی رکھتی ہے اور دوسری صورت میں عہد کے معنی دیتی ہے ۔

۳۔ ”زِلزال“ ”زا“ کی زیر کے ساتھ مصدری معنی دیتا ہے اور زَلزال( زا کی زبر کے ساتھ)اسم مصدرکے معنی دیتا ہے اور یہ وضع عام طور پر ان افعال میں آتی ہے جو مضاعف کی صورت میں استعمال ہوتے ہیں ، مثلاً ”صلصال “ اور” وسواس“۔

۴۔ ” اثقال“ جمع ہے ” ثقل “( بر وزن فکر ) کی جو” بار“ کے معنی میں ہے ، اور بعض نے اسے ”ثقل“ ( بروزن عمل) کی جمع سمجھا ہے جو وسائلِ خانہ یا وسائل مسافر کے معنی میں ہے ، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب ہے ۔

۵۔ ” نور الثقلین“ جلد۵ ص ۶۴۹۔

۶۔ ” مجمع البیان“ جلد ۱ ص ۵۲۶۔

۷۔ وہی مدرک ۔

۸۔” لئالی لاخبار“ جلد ۵ ص ۷۹ چاپ جدید۔

۹۔” لئالی لاخبار“ جلد ۵ ص ۷۹ چاپ جدید۔

۱۰۔ ”بان“ میں ” باء“ سببیت کے لئے ہے اور لھا میں ” لام“ ” الیٰ “ کے معنی میں ہے کہ جیساکہ سورہ” نحل “ کی آیہ ۶۸ میں آیاہے ” و اوحٰی ربک الی النحل“


۱: قیامت کے حساب و کتاب میں دقت اور سخت گیری

نہ صرف اس سورہ کی آخری آیات سے ، بلکہ قرآن کی مختلف آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں اعمال کی حساب رسی میں حد سے زیادہ دقت ار موشگافیاں ہوں گی۔ سورہ لقمان کی آیہ ۱۶ میں آیاہے : یا بنیّ انھا ان تک مثقال حبة من خردل فتکن فی صخرة او فی السماوات اوفی الارض یأت بھا اللہ ان اللہ لطیف خبیر: ” اے بیٹے! اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ( نیک یا بد عمل ہوگا ) اور وہ پتھر کے اندر یا آسمان یا زمین کے کسی گوشہ میں چھپا ہوا ہوگا، تو خدا ( قیامت میں ) حساب رسی کے لیے اسے لے آئے گا ، بے شک خدا لطیف و خبیر ہے ۔

”خردل “ رائی کا دانہ ، جو بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے ، اور وہ چھوٹے ہونے میں صرف ضرب المثل ہے ۔

یہ تعبیر یں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اس حساب رسی میں چھوٹے چھوٹے کاموں کا بھی محاسبہ ہوگا ۔ ضمنی طور پر یہ آیات اس بات کی تنبیہ کرتی ہیں کہ نہ تو چھوٹے گناہوں کو کم اہمیت شمار کریں ، اور نہ ہی چھوٹے نیک کاموں کو وہ چیز جس کا خدا حساب لے گا ، چاہے کچھ بھی ہو کم اہمیت نہیں ہے ۔

اس لیے بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں ہیں جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض صحابہ تھوڑے مال کے خرچ کرنے کے سلسلہ میں بے اعتنا تھے، وہ یہ کہتے تھے کہ اجر و ثواب تو ان چیزوں پر دیا جاتا ہے جنہیں ہم دوست رکھتے ہیں ، اور چھوٹی چھوٹی چیزیں ایسی نہیں ہوتیں جن سے ہمیں کچھ لگاو اور محبت ہو، اور اسی طرح سے وہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کے سلسلہ میں بھی بے اعتنا تھے، لہٰذا یہ آیات نازل ہوئیں ، اور انہیں چھوٹی اور کم خیرات کرنے کی بھی ترغیب دی ، اور چھوٹے چھوٹے گناہ کرنے سے ڈرایا۔

۲ ۔ ایک سوال کا جواب

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ ان آیات کے مطابق انسان قیامت میں اپنے اعمال ، چاہے وہ اچھے ہوں یا برے ، چھوٹے ہوں یا بڑے، دیکھے گا۔ یہ معنی آیات ” احباط“ و ”تکفیر“ اور آیات ”عفو“ و ”توبہ“ کے ساتھ کیسے ساز گار ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ آیات ” احباط“ تویہ کہتی ہیں کہ بعض عمل مثلاً ” کفر“ انسان کی تمام نیکیوں کو ختم کردیتا ہے ۔ لئن اشرکت یحبطن عملک ( زمرہ۔ ۶۵) او رآیات” تکفیر“ کے مطابق بعض اوقات نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہے ۔( ان الحسنات یذهبن السیئات ) ( ہود ۱۱۴) اور عفوو توبہ کی آیات یہ کہتی ہیں کہ عفو الٰہی کے سائے میں ۔ یاتوبہ کرنے سے: گناہ محو ہو جاتے ہیں ، یہ سارے مفہوم تمام نیک و بد اعمال کا مشاہدہ کرنے کے مسئلہ کے ساتھ کیسے مطابقت کرتے ہیں ؟

اس سوال کے جواب میں ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنا چاہئیے اور وہ یہ ہے کہ : وہ دو اصول جو اوپر والی آیات میں بیان ہوئے ہیں ۔ اور جو یہ کہتے ہیں کہ انسان اچھے اور برے کام کا ایک ایک ذرہ تک دیکھے گا، ایک قانون کلی کی صورت میں ہے ، اور ہم جانتے ہیں کہ ہر قانون میں کچھ مشتثنیات ہوسکتے ہیں ۔ لہٰذا آیات عفو و توبہ ، اور احباط و تکفیر حقیقت میں اس قانون ِکلی میں استثناء کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ ” احباط“ و ”تکفیر“ کے سلسلہ میں در حقیقت موازنہ اور ایک عجز و انکسار رونما ہوتا ہے ، اور یہ ٹھیک مطالبات اور قرضوں کے مانند ہے ، جن میں ایک دوسرے منہا ہوجاتے ہیں ، جس وقت انسان اس موازنہ کا نتیجہ دیکھتا ہے تو حقیقت میں اس نے اپنے تما م اچھے اور برے اعمال کو دیکھ لیا ہے ۔ یہی بات”عفو“ و ” توبہ“ میں بھی جاری ہے،کیونکہ عفو لیاقت و شائستگی کے بغیر صورت پذیرنہیں ہوتا، اور توبہ خود ایک نیک عمل ہے ۔

بعض نے یہاں ایک اور جواب دیا ہے ، جو صحیح نظر نہیں آتا ، اور وہ یہ ہے کہ کافر اپنے اچھے اعمال کا نتیجہ اسی دنیا میں دیکھ لیں گے ،جیسا کہ مومن اپنے برے اعمال کی سزااسی جہان میں پالیتے ہیں ۔

لیکن ظاہر یہ ہے کہ زیر بحث آیات قیامت کے ساتھ مربوط ہیں نہ کہ دنیاکے ساتھ ، علاوہ از ایں یہ کوئی کلیہ نہیں کہ ہرمومن و کافر اپنے اعمال کا نتیجہ دنیا میں دیکھے۔

۳ ۔ قرآن کی سب سے زیادہ جامع آیات

عبد اللہ بن مسعود (رض)“ سے نقل ہوا ہے کہ قرآن مجید کی سب سے زیادہ محکم آیات” فمن یعمل مثقال ذرة خیراً یرہ ومن یعمل مثقال ذرة شراً یرہ“ ہی ہیں ۔ اور وہ انہیں ” جامعہ“ سے تعبیر کیا کرتے تھے، اور سچی بات یہ ہے کہ ان کے مطالب پر گہرا ایمان ، اس بات کے لیے کافی ہے کہ انسان کو راہ حق پر چلائے اور ہر قسم کی فساد و شر سے روکے۔ اسی لیے ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آکرعرض کی:” علمنی مما علمک اللہ “ جو کچھ خدا نے آپ کو تعلیم دی ہے اس میں سے مجھے بھی تعلیم دیجئے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے اصحاب میں سے ایک کے سپرد کردیا تاکہ و ہ اسے قرآن کی تعلیم دے ۔ اور اس نے اسےسوره اذا زلزلت الارض “ کی آخرتک تعلیم دی ۔ وہ شخص اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہا: میرے لیے تو یہی کافی ہے ۔( اور ایک اور دوسری روایت میں آیاہے کہ اس نے کہا: ”تکفینی هٰذه الاٰیة “ ” یہی ایک آیت میرے لیے کافی ہے )۔ پیغمبر اکرم نے فرما یااسے اس کے حال پر چھوڑ دو کہ وہ ایک مرد فقیہ ہو گیاہے۔ ( اور ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا:” رجع فقیھا“ وہ فقیہ ہو کر لوٹاہے )اس کی وجہ بھی واضح ہے، کیونکہ جو شخص یہ جانتا ہوکہ ہمارے اعمال ، چاہے ایک ذرہ کے برابر ہوں ، یا رائی کے ایک دانہ کے برابر، ان کا حساب لیاجائے گا، تو وہ آج ہی سے اپنے حساب و کتاب میں مشغول ہو جائے گا اور اس کا اس تربیت پرسب سے زیادہ اثر ہوگا۔ ۱

اس کے باوجود ” ابو سعید خدری“ سے آیا ہے کہ جس وقت آیہ فمن یعمل نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا: اے رسول خدا کیا میں اپنے تمام اعمال کو دیکھوں گا ؟ آپ نے فرمایا:ہاں میں نے کہا :ان بڑے بڑے کاموں کو ؟ فرمایا: ہاں میں نے کہا : چھوٹے چھوٹے کام بھی ؟ فرمایاہاں ! میں نے کہا وائے ہو مجھ پر ، میری ماں میری عزا میں بیٹھے ، فرمایا :اے ابو سعید! تجھے بشارت ہو، کیونکہ نیکیاں دس گناہ شمار ہوں گی، جو سات سو تک ہو سکتی ہیں اور خدا جس چیز کے لیے چاہے گا اس سے بھی کئی گناہ کردے گالیکن ہرگناہ کے لیے صرف ایک ہی گناہ کی سزا ملے گی، یاخدا معاف کردے گا، اور جان لے کہ کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے نجات نہیں پائے گا( مگر یہ کہ خدا کا کرم اس کے شامل حال ہو) میں نے عرض کیا: اے رسول خدا کیا آپ بھی؟ فرمایا: ہاں میں بھی مگر یہ کہ خدا مجھے اپنی رحمت کا مشمول قرار دے ۔ ۲

خدا وندا ! جب تیرا پیغمبر اس عظمت و بزرگی کے باوجود صرف تیری بخشش اور عفو پر دل بستہ ہے تو پھر ہماری حالت تو واضح ہے ۔

پروردگارا !اگر ہمارے اعمال ہماری نجات کا معیار ہوں تو وائے ہے ہماری حالت پر ، اور اگر تیرا کرم ہمارا یار و مدد گار ہو تو پھر خوشا بحال ِما۔

بار الٰہا ! جس دن ہمارے سارے چھوٹے بڑے گناہ ہمارے سامنے مجسم ہوجائیں گے، اس دن کے لیے ہم صرف تیرے ہی لطف و کرم پرنظر رکھے ہوئے ہیں ۔

آمین یارب العالمین

____________________

۱۔ ” تفسیر روح البیان“ جلد۱۰ ص ۴۹۵ ۔ یہی مضمون ” نور الثقلین“ جلد۶۰ میں بھی آیاہے ۔

۲۔”در المنثور“ جلد۶ ص ۳۸۱۔


سورہ العٰدیٰت

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا اس میں ۱۱ آیات ہیں

سورہ و العادیات کے مطالب

اس برے میں کہ یہ سورہ مکہ “ میں نازل ہوا ،یا مدینہ“ میں مفسرین کے در میان شدید اختلاف ہے ۔ بہت سوں نے تو اسے مکی شمار کیا ہے جب کہ ایک جماعت اسے مدنی سمجھتی ہے

آیات کے مقطع کا مختصراور چھوٹا ہونا اور قسموں پر تکیہ ، اور اسی طرح مسئلہ معاد کے بارے میں بیان ایسے قرائن ہیں جو اس کے مکی“ ہونے کی تاکید کرتے ہیں ۔

لیکن دوسری طرف سے اس سورہ کی قسموں کا مضمون ، جہاد کے مسائل سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ، جیسا کہ انشاء اللہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوگا ، اسی طرح وہ روایات جو کہتی ہیں کہ یہ سورہ جنگِ ذات السلاسل“ کے بعد نازل ہوا ہے ۔

( یہ وہ جنگ ہے جو ہجرت کے آٹھویں سال واقع ہوئی تھی، اور اس میں کفار کے بہت سے گروہ قیدی بنائے گئے تھے، اور انہیں محکم رسیوں سے باندھا گیا تھا، لہٰذا اس کانام ذات السلاسل“ ہوگیا ، جس کی تفصیل انشاء اللہ آیات کی تفصیل میں آئے گی)۔

یہ اس سورہ کے مدنی ہونے پر گواہ ہے ، یہاں تک کہ اگر ہم اس سورہ کے آغاز کی قسموں کو حاجیوں کے منیٰ و مشعر کی طرف جانے پر ناظرسجھیں ، تب بھی یہ مدینہ ہی کے ساتھ مناسبت رکھتاہے ۔

یہ ٹھیک ہے کہ مراسم حج اپنی اکثر فروعات کے ساتھ زمانہ جاہلیت کے عربوں میں بھی۔ سنتِ ابراہیمی کی اقتداء کرنے کی وجہ سے رواج رکھتے تھے لیکن وہ خرافات کے ساتھ ایسے آلودہ ہوچکے تھے کہ یہ بات بعید نظر نہیں آتی ہے کہ قرآن نے ان کی قسم کھائی ہو۔

ان تمام جہات کی طرف توجہ کرتے ہوئے ہم اس کے مدنی “ ہونے کو تر جیح دیتے ہیں ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے سورہ کے مطالب بھی واضح ہو گئے ہیں ۔ کہ آغاز میں کچھ بیدار کرنے والی قسموں کا ذکر کرتا ہے ۔ اور ا س کے بعد نوع انسان کی چند کمزوریوں ، مثلاً بخل او ر دنیا پرستی کو درمیان میں لے آتاہے ، اور انجام کار مسئلہ معاد پر ایک مختصراور گویا اشارے اور بندوں پر خدا کے علمی احاطہ پر سورہ کو ختم کرتاہے

اور اس کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں پیغمبر اکرم سے آیاہے :

” من قرأھا اعطی من الاجر عشر حسنات، بعدد من بات بالمزدفلة، و شہد جمعاً:

” جو شخص اس کی تلاوت کرے گا تو ان تمام حاجیوں کی تعداد ( جو عید قربان کی رات ) ” مزدلفہ“ میں توقف کرتے ہیں ، اور وہاں حاضر رہتے ہیں ، دس گنا زیادہ نیکیاں اسے دی جائیں ۔(۱)

ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام آیاہے :

من قرأها والعادیات و ادمن قرائتها بعثه الله مع امیر المومنین ( سلام الله علیه) یوم القیامة خاصه، و کان فی حجره ورفقائه :

”جو شخص سورہ والعادیات کو پڑھے گا، اور اس کی مداومت کرے گا ، تو خدا اسے قیامت کے دن خصوصیت کے ساتھ امیر المومنین ( سلام اللہ علیہ ) کے ہمراہ مبعوث کرے گا، اور وہ آپ کی جماعت میں اور آپ کے دوستوں کے دمیان ہوگا۔(۲)

بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ سورہ والعادیات نصف قرآن کے برابر ہے ۔(۳)

یہ بات کہے بغیر ظاہر و واضح ہے کہ یہ تمام فضیلتیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو اس کو اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنالیں گے، اور اس کے تمام مطالب و مضامین پر ایمان رکھیں گے اور اس پر عمل کریں گے ۔

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( و العادیات ضبحاً ) ۔ ۲ ۔( فالموریات قدحاً ) ۔ ۳ ۔( فالمغیرات صبحاً ) ۔ ۴ ۔( فاثرن به نقعاً ) ۔ ۵ ۔( فوسطن به جمعاً ) ۔

۶ ۔( انّ الانسان لربه لکنود ) ۔ ۷ ۔( و انّه علیٰ ذلک لشهید ) ۔ ۸ ۔( و انهّ لحب الخیر لشدید ) ۔

۹ ۔( افلایعلم اذا بعثر مافی القبور ) ۔ ۱۰ ۔( وحُصل مافی الصدور ) ۔ ۱۱ ۔( انّ ربهم بهم یومئذٍ لّخبیر ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ ان فراٹے بھر تے ہوئے سرپٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم ( جو میدان جہاد کی طرف پیش رفت کرتے ہیں )۔

۲ ۔ اور ان کی قسم جو( اپنے سموں سے پتھروں پر ٹاپ مارتے ہوئے) چنگاریاں نکالتے ہیں ۔

۳ ۔ اور صبح ہوتے ہی دشمن پر یلغار کردیتے ہیں ۔ ۴ ۔ اور اس سے ہر طرف گرد و غبار ہی گرد و غبار کر دیتے ہیں ۔

۵ ۔ اور یکا یک دشمن کے دل بادل میں گھس جاتے ہیں ۔ ۶ ۔ بیشک انسان اپنے پروردگار کی نعمتوں کے سامنے ناشکرا اور بخیل ہے ۔

۷ ۔ اور وہ خود بھی اس معنی پر گواہ ہے ۔ ۸ ۔ وہ مال کے ساتھ شدید لگاو اور محبت رکھتا ہے ۔

۹ ۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ اس دن جو بھی قبروں میں ہیں وہ سب زندہ ہوجائیں گے۔

۱۰ ۔ اور جو کچھ سینوں کے اندر (چھپایاہوا )ہے، وہ آشکار اور ظاہر ہوجائے گا۔ ۱۱ ۔ اس دن ان کا پروردگار ان سے مکمل طور پر باخبر ہے ۔

شان نزول

ایک حدیث میں آیاہے کہ یہ سورہ جنگ ” ذات السلاسل“ کے بعد نازل ہوا، اور اس کا واقعہ اس طرح ہے ۔

ہجرت کے آٹھویں سال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوخبر ملی کہ بارہ ہزار سوار سر زمین ” یا لیس“ میں جمع ہیں ، اور انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ جب تک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور علی علیہ السلام کو قتل نہ کریں اور مسلمانوں کی جماعت کومنتشر نہ کردیں آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔

پیغمبراکرم نے اپنے اصحاب کی ایک بہت بڑی جماعت کو بعض صحابہ کی سر گردگی میں اس کی جانب روانہ کیا، لیکن وہ کافی گفتگو کے بعد بغیرکسی نتیجہ کے واپس لوٹ آئے۔

آخر کار پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ نے علی السلام کو مہا جرین و انصار کے ایک گروہ کثیر کے ساتھ ان سے جنگ کرنے کے لیے بھیجا۔ وہ بڑی تیزی کے ساتھ دشمن کے علاقہ کی طرف روانہ ہونے اور رات بھرمیں سارا سفر طے کرکے صبحدم دشمن کو اپنے محاصرہ میں لے لیا ۔ پہلے تو ان کے سامنے اسلام کو پیش کیا ۔ جب انہوں نے قبول نہ کیا تو ابھی فضا تاریک ہی تھی کہ ان پر حملہ کردیا اور انہیں درہم برہم کر کے رکھ دیا ، ان میں سے کچھ کو قتل کیا ، ان کی عورتوں کو اسیر کر لیا اور بکثرت مال غنیمت کے طور پر حاصل کیا۔

سورہ ” والعادیات“ نازل ہوئی حالانکہ ابھی سر باز انِ اسلام مدینہ کی طرف لوٹ کر نہیں آئے تھے۔ پیغمبر خدا اس دن نماز صبح کے لیے آئے تو اس سورہ کی نماز میں تلاوت کی ۔ نماز کے بعد صحابہ نے عرض کیا ، یہ تو ایسا سورہ ہے جسے ہم نے آج تک سنا نہیں ہے ۔

فرمایا: ہاں ! علی علیہ السلام دشمنوں پر فتح یاب ہوئے ہیں اور جبرئیل نے گزشتہ رات یہ سورہ لاکر مجھے بشارت دی ہے ۔

کچھ دن کے بعد علی علیہ السلام غنائم اور قیدیوں کے ساتھ مدینہ میں وارد ہوئے۔(۴)

بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ واقعہ اس سورہ کے واضح مصادیق میں سے ایک ہے ۔ یہ اس کاشانِ نزول نہیں ہے ۔

____________________

۱۔ ” جمع “ و مشعر الحرام“ کے ناموں میں سے ایک نام ہے اس بناء پر کہ لوگ وہاں جمع ہو تے ہیں ، یا وہاں نماز مغرب و عشا ء فاصلہ کے بغیر پڑھی جاتی ہے ۔

۲” مجمع البیان “ آغاز سورہ عادیات جلد ۱۰ ص ۴۲۱۔

۳۔۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۵۲۷۔

۴۔ ” بحار الانوار“ جلد۲۱ ص ۶۶ سے آگے،” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۵۲۸ اور بعض دوسری کتب تاریخ۔


بیدار مجاہدین کی قسم

ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہ سورہ بیدار کرنے والی قسموں سے شروع ہوا ہے ۔ پہلے فرماتا ہے: ” ان فراٹے بھرے ہوئے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم ( جو میدان جہاد کی طرف پیش رفت کرتے ہیں )۔( و العادیاتِ صبحاً ) (۲)

یا حاجیوں کے ان اونٹوں کی قسم جو ہانپتے ہوئے سر زمین عرفات سے مشعر الحرام سے مشعر سے منیٰ کی طرف چلتے ہیں ۔

” عادیات“ ” عادیة“ کی جمع ہے ، جو عدو“ ( بر وزن صبر)کے مادہ سے ہے ، اصل میں گزرنے اور جدا ہونے کے معنی میں ہے ، چاہے دل سے ہو ، جسے ” عداوت“ کہتے ہیں ، یا خارجی حرکت اور چلنے سے ہو جسے ” عدو“ ( دوڑنا ) کہتے ہیں ، اور کبھی یہ معاملات میں ہوتی ہے ۔ جسے ” عدوان“ کہتے ہیں ، اور یہاں وہی سرعت اور تیزی کے ساتھ دوڑنا مراد ہے ۔

” ضبح“ ( بر وزن مدح) تیزی اور سرعت کے ساتھ دوڑنے ولاے کے سانس کی آواز کے معنی میں ہے جو ا س کے دوڑنے کے وقت کانوں میں آتی ہے ۔

جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے اس آیت کی تفسیر میں دو نظریے موجود ہیں ۔

پہلا نظریہ یہ ہے کہ اس سے مرادان اونٹوں کی قسم ہے جوحج جیسے عظیم فریضہ میں موافقت اور اماکنِ مقدس میں سرعت اور تیزی کے ساتھ چلتے ہیں ، اس بناء پر وہ ایک تقدس کے حامل بن جاتے ہیں اور قسم کے لائق ہیں ۔

ایک حدیث میں آیاہے کہ ” ابن عباس (رض) ‘ ‘سے روایت ہے کہ ، انہوں نے فرمایا: ” میں خانہ کعبہ کے پاس حجر اسماعیل میں تھا کہ ایک شخص آیا اور اس نے آیہ ” و العادیات ضبحاً“ کے بارے میں میں مجھ سے سوال کیا “ میں نے کہا :” اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو راہ جہاد میں حملہ کرتے ہیں اور رات کو اپنے آرام کرنے جگہ پر لوٹ جاتے ہیں ، اور وہ غازی لڑنے والے مجاہدین ہیں جو آگ روشن کرتے ہیں اور اپنے لیے کھانا پکاتے ہیں “۔

وہ شخص میرے پاس سے چلا گیا اور علی علیہ السلام کے پاس پہنچا، آپ اس وقت چاہ زمزم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ اس نے آپ سے بھی اس آیت کے بارے میں سوال کیا۔

آپ نے فرمایا: کیا تونے مجھ سے پہلے بھی کسی شخص سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا ہے ؟ اس نے عر ض کیا : ہاں ! میں نے ابن عباس سے پوچھا ہے اور انہوں نے کہا ہے اس سے مراد وہ گھوڑے ہیں جو راہ جہاد میں حملہ کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا: جاو اور اسے میرے پاس بلا و ۔

جب میں حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں آیا تو آپ نے فرمایا: جو بات تم نہیں جاتنے اس کے بارے میں لوگوں کو فتوے کیوں دیتے ہو۔ اسلام میں سب سے پہلا غزوہ جنگِ بدر تھا ، اور ہمارے پا گھوڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک گھوڑا” زبیر“ کے پاس اور دوسرا گھوڑا” مقداد “ کے پاس تو” عادیات“ سے مراد گھوڑے کیسے ہوسکتے ہیں ؟ایسانہیں ہے ۔ اس سے مراد اونٹ ہیں جو عرفات سے مشعر کی طرف اور مشعر سے منیٰ کی طرف جاتے ہیں ۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : جب میں نے یہ سنا تو میں نے اپنا نظریہ بدل لیا اور امیر المومنین علی علیہ السلام کے نظریہ کو قبول کرلیا“۔(۲)

یہ احتمال بھی ہے کہ ” عادیات “ ایک وسیع معنی رکھتا ہے ۔ لہٰذا یہ مجاہدوں کے گھوڑوں کو شامل ہے اور حاجیوں کے اونٹوں کو بھی، اور اوپر والی روایت سے مراد یہ ہو کہ اس کے معنی کو گھوڑوں میں محدود نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ یہ معنی تمام مقامات پر صادق آتا ہے ۔ اس کا سب سے زیادہ واضح مصداق حاجیوں کے اونٹ ہیں ۔

یہ تفسیر کئی جہات سے زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔

اس کے بعد مزید فرماتا ہے : ” قسم ہے ان کی جو آگ کی چنگاریاں نکالتے ہیں “۔( فالموریات قدحاً ) ۔

مجاہدین کے وہ گھوڑے جو میدان جنگ کی طرف اتنی تیزی کے ساتھ جاتے ہیں کہ ان کے سموں کے پتھروں پر ٹکرانے سے چنگاریاں نکلتی ہیں ، یا وہ اونٹ جو سرعت کے ساتھ مواقف حج میں دوڑ تے ہیں اور ان کے پاو ں کے نیچے سے کنکریاں اور ریت اڑتی ہے اور ان کے دوسرے سنگریزوں کے ساتھ ٹکرانے کی وجہ سے چنگاریاں نکلتی ہیں ۔

یا وہ قبیلے اورگروہ جو مواقفِ حج میں کھانا پکانے کے لئے آگ جلاتے ہیں ، یا ان لوگوں سے کنایہ ہے جو جنگ اور جہاد کی آگ بھڑ کاتے ہیں یا ان زبانوں کی طرف اشارہ ہے جو اپنے چبھنے والے بیان سے دشمن کے دل میں آگ لگادیتے ہیں ، یا بعض مفسرین کے قول کے مطابق اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی حاجات کو انجام دینے کے لیے کوشش کرتے ہیں اور اپنا مقصود حاصل کرلیتے ہیں جیسے کہ آگ چقماق کے پتھر سے باہر آتی ہے ۔ لیکن یہ سارے احتمالات بعید نظر آتے ہیں اور آیت کا ظاہر وہی پہلی دو تفاسیر ہیں ۔ ”موریات“ ” ایراء “ کے مادہ سے ” موریة“ کی جمع ہے جو آگ بھڑکانے کے معنی میں ہے اور ” قدح“ چنگاری نکالنے کے لیے پتھر یالکڑی یالوہے یا چقماق کو ایک دوسرے پر مارنے کے معنی میں ہے ۔

اس کے بعد تیسری قسم میں فرماتا ہے : ” اور صبح ہوتے ہی دشمن پرحملہ کرنے والوں کی قسم “ ( فالمغیرات صبحاً)۔

عربوں کی عادت ۔ جیسا کہ طبرسی نے مجمع البیان میں لکھا ہے ۔ یہ تھی کہ وہ رات کے وقت دشمن کے علاقے کے قریب جاکرگھات میں بیٹھ جاتے تھے تاکہ صبح سویرے ان پر حملہ کردیں ۔

ان آیات کی شان نزول ( یا اس کے ایک واضح مصداق ) میں یہ آیا ہے کہ لشکر اسلام علی علیہ السلام کی کمان میں رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میدانِ کی طرف بڑھتا چلا گیا اور دشمن کے قبیلہ کے قریب پہنچ کرگھات لگا کر بیٹھ گیا اور صبح سویرے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ان پر حملہ کردیا، اور دشمن کے رد عمل دکھانے سے پہلے پہلے ان کی طاقت کو درہم برہم کردیا۔

اور اگر ہم ان قسموں کو حاجیوں کے اونٹوں کی طرف اشارہ سمجھیں تو پھر اس آیہ سے مراد اونٹوں کے قافلوں کا عید کی صبح مشعرسے منیٰ کی طرف دوڑتے ہوئے آنا ہے ۔

”مغیرات“ ”اغارة“ کے مادہ سے ” مغیرة“ کی جمع ہے ، جو ہجوم کرنے اور دشمن پر حملہ کرنے کے معنی میں ہے ۔ چونکہ بعض اوقات یہ ہجوم اور حملہ مال لوٹنے کی غرض سے ہوتا ہے لہٰذا یہ لفظ بعض اوقات فارسی میں عام معنی یعنی غارت کرنے اور دوسروں کا مال چھیننے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔

بعض نے یہ کہا ہے کہ اس لفظ کے مادہ میں گھوڑے کے ساتھ ہجوم اور حملہ کرنا چھپاہوا ہے ، لیکن اس کے موادر استعمال اچھی طرح اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اگر ابتداء میں یہ قید موجود تھی بھی تو تدریجاً اب ختم ہو گئی ہے ۔

اور یہ جو بعض نے احتمال دیا ہے کہ یہاں ” مغیرات“ سے مراد وہ ہجوم کرنے والے طوائف و قبائل ہیں جو میدانِ جنگ کی طرف، یاعجلت اور تیزی کے ساتھ منیٰ کی طرف چلتے ہیں ، بعید نظر آتا ہے کیونکہ آیہ”( و العادیات ضبحاً ) “ یقینی طور پر گھوڑوں یا اونتوں کی تو صیف ہے نہ کہ ان کے سواروں کی ، اور یہ آیت بھی اسی مطلب کی جاری رکھے ہوئے ہے ۔

اس کے بعد ان مجاہدوں کی سواریوں کی ایک اور خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید فرماتا ہے :” دشمن پر اس قدر تیزی کے ساتھ دوڑجاتے ہیں کہ جس کی وجہ سے ہر طرف گرد و غبار ہی گرد و غبار کردیتے ہیں “۔( فاثرن به نقعاً ) ۔(۳)

یا یہ کہ حاجیوں کے اونٹوں کے مشعر سے منیٰ کی طرف ہجوم کے زیر اثر ہر طرف سے گرد و غبار اٹھتا ہے ۔

” اثرن“ ”اثارہ“ کے مادہ سے” غبار“ یا” دھوئیں “کو پراگندہ کرنے کے معنی میں ہے ۔ اور بعض اوقات ہیجان میں لانے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، اسی طرح فضا میں آواز کی لہروں کے پھیلنے کے معنی آیامیں ہے ۔

نقع بروزن (نفع) غبار کے معنی میں ہے اور اس مادہ کی اصل پانی کے نیچے چلے جانا، یا کسی کے پانی کے نیچے چلے جانے کے معنی میں ہے اور چونکہ ” غبار“ میں ڈوب جانا بھی اس سے مشابہت رکھتا ہے لہٰذا اس لفظ کا اس پر اطلاق ہوا ہے ”نقیع“ ساکن اور کھڑے ہوئے پانی کو کہا جاتا ہے ۔

ان کی خصوصیات میں سے آخری خصوصیات کے بارے میں فرماتا ہے : ” وہ اسی صبح دشمن کے درمیان پہنچ گئے“۔( فسوطن به جمعاًً ) ۔(۴)

انہوں نے غفلت کی حالت میں دشمن پر ایسی برق رفتاری کے ساتھ حملہ کیا کہ چند ہی لمحوں کے اندر صفوں کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ، ان کے قلب لشکر پر حملہ کرکے ان کی جمیعت کو تتر بتر کردیا اور یہ اسی سرعتِ عمل ، بیداری، آمادگی، شہامت اور شجاعت کا نتیجہ ہے ۔

یا یہ حاجیوں کے ” مشعر“ سے سے قلبِ ” منیٰ “ میں ورود کی طرف اشارہ ہے ۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد دشمن کو محاصرہ میں لے لینا ہے ۔ لیکن یہ تفسیر اسی صورت میں صحیح ہوگی جب ”فوسطن“کا جملہ ” سین “کی تشدید کے ساتھ پڑھا جائے جب کہ مشہور قرأت اس طرح نہیں ہے ۔ اس بناء پر صحیح وہی پہلی معنی ہی ہے ۔

مجموعی طور پر اس سارے مضمون کو یکجا کرکے یہ مطلب نکلتا ہے کہ ان مذکورہ گھوڑوں کی قسم جو پہلے تو بڑی سرعت کے ساتھ فراٹے بھر تے ، سانس نکالتے، میدان جہاد کی طرف پیش رفت کرتے ہیں ، پھر ان کی سرعت میں ایسی تیزی آتی ہے کہ پتھروں پر ان کے سموں کی ٹاپوں سے چنگاریاں نکلتی ہیں ، جو رات کی تاریکی کو چیر دیتی ہیں اور اس کے بعد جب وہ دشمن کے علاقے میں پہنچ جاتے ہیں تو ابھی وہ غفلت میں ہی ہوتے ہیں کہ فضا کے صاف اور روشن ہوتے ہی ان پر حملہ کردیتے ہیں ، ایساحملہ ، جس سے فضا میں گرد و غبار چھا جاتا ہے ، اور انجام کار و ہ دشمن کی جمیعت کے قلب میں واردہوکر ان کی صفوں کو درہم برہم کردیتے ہیں ۔

ان طاقتور او رپر قدرت گھوڑوں کی قسم

ان شجاع اور بہادر سواروں کی قسم

مجاہدین کے گھوڑوں کی فراٹے بھرنے کی قسم

ان کی چنگاریوں کی قسم جو ان کے سموں سے نکلتی ہیں ۔

غفلت کی حالت میں ان کے حملے کی قسم

گرد وغبار کے ان ذرات کی قسم جو فضا میں پھیل جاتے ہیں ۔

اور انجام کار ان کے دشمن کی صفوں کے قلب میں وارد ہو کر انہیں درہم برہم کرکے فتح یاب ہونے کی قسم ۔

اگر چہ وہ تمام باتیں جو بیان کی گئی ہیں وہ ان قسموں کے معنی میں نہیں آئی ہیں ، لیکن کلام کی ضمنی دلالت میں یہ سب جمع ہیں ۔

اور یہیں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جہاد اس قدر عظمت رکھتا ہے کہ مجاہدین کے گھوڑوں کا فراٹے بھر نا اور سانس لیناتک بھی لائق قسم ہے ۔

اسی طرح پتھروں پر ان کی ٹاپوں سے نکلنے والی چنگاریاں اور اسی طرح وہ گرد و غبار جو فضا میں آڑاتے ہیں ، ہاں ! ہاں ! میدان جہاد کا گرد و غبار بھی قابل قدرا ور عظمت ہے ۔

بعض نے کہا ہے کہ ان قسموں سے مراد احتمالاً وہ نفوس ہیں جو اپنے کمالات کو دوسروں کی طرف منتقل کرسکیں اور اپنے افکار سے علم و دانش کی چنگاریاں نکالیں اور ہوا و ہوس پر حملہ آور ہوں اور اپنے اندر اور دوسروں میں خدا کا شوق پید اکریں ۔ اور انجام کار ساکنین علیین کے قلب میں مقام حاصل کریں ۔(۵)

لیکن یہ بات واضح ہے کہ ان باتوں کو اوپر والی آیات کی تفسیر کے عنوان سے قبول نہیں کیا جاسکتا ، یہ وہ تشبیہات ہیں جو آیت کی تفسیر سے مناسبت کی وجہ سے ذہن میں آتی ہیں ۔

ان عظیم قسموں کے بعد ، یعنی وہ چیزجس کے لیے قسمیں کھائی گئی ہیں ، پیش کرتے ہوئے فرماتا ہے :

”بیشک انسان اپنے پروردگارکی نعمتوں کے بارے میں ناشکرا اور بخیل ہے “۔( انّ الانسان لربه لکنود ) ۔

وہی غیر تربیت یافتہ انسان وہی انسان جس کے دل پر معارف الہٰی اور انبیاء کی تعلیمات کے انوار نہیں چمکے، اور وہی انسان جس نے خود کو خواہشاتِ نفسانی اور سر کش شہوتوں کا تابع بنالیا ہے ، یقینا وہ ” ناشکرا“ اور بخیل“ ہے ۔

”کنود“ اس زمین کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز نہیں اگتی۔ ناشکرے اور بخیل انسان پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔

مفسرین نے کنود کے لیے بہت سے معنی بیان کیے ہیں ۔ ” ابو الفتوح رازی“ نے تقریباً پندرہ معانی اس سلسلہ میں نقل کیے ہیں ، لیکن ان میں سے اکثر اسی اصل معنیٰ کے شاخ و برگ ہیں جو اوپر بیان ہوا ہے ۔ مزید معانی یہ ہیں :

۱ ۔ کنود اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی مصیبتوں کو تو بڑھا چڑھا کر بیان کرے لیکن نعمتوں کو بھول جائے ۔

۲ ۔ کنود اس شخص کو کہتے ہیں جوخدا کی نعمتوں کو اکیلا ہی کھاتا ہے اور دوسروں کو روکتا ہے ۔ جیس اکہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے : ”ا تدرون من الکنود

” کیا تم جانتے ہوکہ کنود کسے کہتے ہیں “؟ !

لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں ، تو آپ نے فرمایا:

الکنود الذی یأکل وحده، ویمنع رفده یضرب عبده

۲ ۔ کنود اس شخص کو کہتے ہیں جو اکیلے ہی اکیلے کھا تا ہے اور دوسروں سے عطا و بخشش کو روکتا ہے اور اپنے ماتحت غلاموں کو مارتا ہے “۔(۶)

۳ ۔ کنود وہ شخص ہے جو مشکلات و مصائب میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہمدردی نہیں کرتا۔

۴ ۔کنود وہ ہے جس کی نیکیاں بہت ہی کم ہوں ۔

۵ ۔ کنود اس شخص ہے کہ جب اسے کوئی نعمت ملتی ہے تو وہ اسے دوسروں کو نہیں دیتا اور اگر کسی مشکل میں گرفتار ہو جائے توبے صبری دکھاتا اور بہت گڑگڑاتا ہے

۶ ۔ کنود وہ شخص ہے جو اللہ کی نعمتوں کو معصیت میں صرف کرتا ہے ۔

۷ ۔ کنود وہ شخص ہے جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتا ہے ۔

لیکن جسیا کہ ہم نے بیان کیا ہے ، یہ سب معانی اسی ناشکری اور بخل کی شاخ و برگ اور مصادیق ہیں ۔

ایسے موارد میں ” انسان “ کی تعبیر، بد کار، ہوا پرست، سر کش اور باغی انسانوں کے معنی میں ہے ، او ربعض نے اس کی کافر انسان سے تفسیر کی ہے ورنہ یقینا ہر انسان ایسا نہیں ہے کیونکہ بہت سے انسان ایسے ہیں کہ جن کی روح میں شکر گزاری اور عطا و بخشش گندھی ہوئی ہے ، اور وہ ناشکری اور بخل سے بیزار ہیں ۔ اسی طرح وہ انسان جنہوں نے اللہ پر ایمان کے سائے میں خود خواہی اور خود پرستی کو چھوڑ دیا ہے ، اور پروردگار کے اسماء و صفات کی معرفت اور اخلاق الٰہی کی فضا میں آسمان پر بلند پروازی کررہے ہیں ۔

اس کے بعد مزید کہتا ہے : ” اور وہ خود بھی اسی معنی پر گواہ ہے “۔( و انه علیٰ ذالک لشهید ) ۔

کیونکہ انسان اپنے نفس کے بارے میں اچھی طرح آگاہ ہے اور اگر وہ اپنی اندرونی صفات کو ہر شخص سے چھپاسکتا ہو تو خدا اور اپنے وجدان سے مخفی نہیں رہ سکتا ، چاہے وہ اس حقیقت کا اعتراف کرے یا نہ کرے ۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ” انہ“ کی ضمیر ”خدا “کی طرف لوٹتی ہے ، یعنی خدا انسان میں کنود کی صفت کے وجود کا گواہ ہے ۔

لیکن قبل و بعد کی آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے ، جن میں ا س سے مشابہ ضمیر یں انسان کی طر ف لوٹتی ہیں ، یہ احتمال بہت ہی بعید نظر آتا ہے ، اگر چہ بہت سے مفسرین نے اس تفسیر کو ترجیح دی ہے ۔

یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ اس سے مراد انسان کی اپنے گناہوں اور عیوب پر قیامت میں گواہی دینا ہے ، جیسا کہ قرآن کی بہت سی آیات سے معلوم ہوتاہے ۔

اس تفسیر کے لیے بھی یہاں کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ آیت ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جو اس دنیا میں بھی اس کے کفران اور بخل پر گواہی کو شامل ہے ۔

یہ ٹھیک ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی شناخت سے عاجز ہوجاتا ہے ، اور اصطلاح کے مطابق اپنے وجدان کو دھوکا دیتا ہے اور شیطانی آرائش و زیبائش اس کی مذموم صفات کو اس کی نظر میں خوبصورت بنا کر جلوہ گر کردیتی ہیں لیکن خصوصیت کے ساتھ کفران و بخل کے بارے میں مطلب اس قدر واضح ہے کہ اس کی پردہ پوشی نہیں کی جاسکتی اور اپنے وجدان کو دھوکا نہیں دے سکتا۔

بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے : وہ مادی چیزیں اور مال سے شدید لگاو اور محبت رکھتا ہے “۔( و انه لحب الخیر لشدید ) ۔(۷)

اور مال و دولت کے ساتھ اس کا یہی شدید اور اکثریت سے لگاو اس کے بخل ، ناشکری اور کفران کا سبب بن جاتا ہے ۔

البتہ ” خیر“ ایک ایسا وسیع معنی رکھتا ہے ، جو ہر قسم کی نیکی کو شامل ہے ۔ اور یقینی طور پر بہت سی نیکیوں اور اچھی چیزوں مثلاً علم و وانش ، تقوی اور بہشت و سعادت سے لگاو اور محبت کو ئی ایسا مذموم مطلب نہیں ہے کہ قرآن اوپر والی تعبیر کے ساتھ اس کی مذمت کر ے۔

اسی لیے اس کی یہاں ”مال“ کے معنی سے تفسیر کی ہے ، جس پر قرینہ مقام اور گزشتہ آیت بھی گواہ ہے ، اور قرآن کی بعض دوسری آیات بھی، اس کی گواہی دیتی ہیں )۔ مثلاً بقرہ کی آیہ ۱۸۰ ، جس میں فرماتا ہے :”( کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیراً الوصیة للوالدین و الاقربین ) “ تم پر فرض ہے کہ اگر تم میں سے کوئی کچھ مال چھوڑجائے تو وہ باپ ، ماں اور نزدیکیوں کے لئے وصیت کرے۔

مسلمہ طور پر ” مال“ پر خیر“ کا اطلاق اس بناپر ہے کہ مال اپنی ذات کی حد تک اچھی چیز ہے ۔ اور وہ انواع و اقسام کی نیکیوں کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔ لیکن ناشکرا اور بخیل انسان اس کو اس کے اصلی ہدف سے روک کر خود پسندی اور خود غرضی کی راہ میں استعمال کرتا ہے ۔

اس کے بعد ایک استفہام انکاری کی صورت میں جو تہدید کے ساتھ توأم ہے ، فرماتا ہے : ” کیایہ ناشکرا، بخیل اور دنیا پرست انسان یہ نہیں جانتا کہ جب وہ سب کے سب جو قبروں میں ہیں ،زندہ ہ وجائیں گے“۔( افلا یعلم اذا بعثر ما فی القبور ) ۔ اور جب وہ تمام چیزیں جو سینوں میں ہیں ، جیسے کفر و ایمان ، اخلاص و ریا ، تکبر و غرور ، تواضع و انکسار اور اچھی اور بری نیتیں ، سب آشکار ہو جائیں گی“۔( وحصل ما فی الصدور ) ۔

” اس دن پر وردگار ان سے اور ان کے اعمال اور نیتوں سے آگاہ ہے “۔ اور اس کے مطابق ہی انہیں جزا و سزا دے گا۔( انّ ربهم بهم یومئذ لخبیر ) ۔

” بعثر“ ” بعثرة“ ( بروزن منقبة) کے مادہ سے اصل میں زیر و زبر کرنے ، باہر نکالنے اور استخراج کرنے کے معنی میں ہے۔ اور چونکہ مردوں کو زندہ کرنے کے وقت قبریں زیر و زبر ہوں گی، اور جو کچھ ان میں ہے وہ ظاہر ہوجائے گا، لہٰذا اوپر والی آیات میں یہ تعبیر قیامت کے بارے میں استعمال ہوئی ہے ۔

( مافی القبور ) “ کی تعبیر ( اس بات کی طر توجہ کرتے ہوئے کہ ” ما“ عام طور پر غیر ذوی العقول کے لیے آیات ہے ) یا تو اس بناء پر ہے کہ اس میں یہ بات مد نظر ہے کہ مردے ابھی مٹی ہیں ، یا یہ اس ابہام کی بناء پر ہے جو اس پر حاکم ہے کہ معلوم نہیں کون سے اشخاص ہیں ؟

”قبور“ ( قبروں ) کی تعبیر اس سے کوئی منافات نہیں رکھتی کہ لوگوں کا ایک گروہ اصولاً قبر نہیں رکھتا مثلاً وہ لوگ دریا میں ڈوب جائیں ،یا ان کی قبر ایک مدت کے بعد ختم ہو جاتی ہے اور ان کی مٹی بکھر جاتی ہے کیونکہ ان لوگوں کی اکثریت مد نظر ہے جو قبر رکھتے ہیں علاوہ ازیں ممکن ہے کہ قبر یہاں ایک وسیع معنی رکھتی ہو، یعنی وہ جگہ جہاں لوگوں کی مٹی موجود ہو اگر چہ وہ عام قبر کی صورت میں نہ ہو۔

” حصل “ تحصیل کے مادہ سے اصل میں ”چھلکے“ سے ” مغز“ کو نکالنے کے معنی میں ہے ۔ اسی طرح معادن کو صاف کرنے اور سونے وغیرہ کو کان کے پتھر سے نکالنے پر بولا جاتا ہے ۔ اس کے بعد یہ ایک وسیع معنی یعنی مطلق استخراج کرنے اور الگ کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ، اور زیر بحث آیت میں اس خیر و شر اور نیکی و برائی کو جدا کرنا مراد ہو، جودلوں میں چھپی ہوئی ہے چاہے وہ ایمان و کفر ہو، یا صفات حسنہ و رذیلہ، یا اچھی اور بری نیتیں ، وہ سب کی سب اس دن ایک دوسرے سے جدا اور ظاہر و آشکار ہو جائیں گی۔ اور ہر شخص کو ان کے مطابق جزا و سزا ملے گی۔

جیسا کہ سورہ طارق کی آیہ ۹ میں آیا ہے : یوم تبلی السرائر: ” اس دن سارے اندرونی بھید ظاہر و آشکار ہو جائیں گے“۔

” یو مئذٍ “ کی تعبیر اور اس معنی پر تکیہ کہ خدا” اس دن “ ان کے اعمال اور ان کے دلوں میں چھپے ہوئے بھبیدوں سے آگاہ ہو گا حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ خدا ہمیشہ ان مسائل سے آگاہ ہے ، اس بناء پر ہے کہ وہ دن روزِ جزا ہے ، اور وہ انہیں ان کے اعمال و عقائد کی جزا دے گا۔

بعض مفسرین کے قول کے مطابق اس تعبیر کی مثال اس طر ح ہے کہ کوئی شخص دوسرے سے تہدید کے طور پر کہے سأعرف لک امرک میں عنقریب تجھے تیرے عمل کا تعارف کراو ں گا “۔ حالانکہ آج بھی اس قسم کا تعارف موجود ہے ۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اس کا نتیجہ اور بدلہ تجھے دوں گا۔

ہاں ! خدا ہمیشہ اور ہر حال ت میں اندر او رباہر کے اسرار سے مکمل طور پر آگاہ ہے ، لیکن اس آگاہی کا اثر قیامت میں اجر و ثواب اور جزا و سزا کے وقت زیادہ ظاہر اور زیادہ آشکار ہوجائے گا۔ اور یہ تمام انسانوں کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ اگر واقعاً وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں تو یہ چیز ان کے گناہوں کے درمیان ایک طاقتور سد بن جائے گی، چاہے وہ گناہ آشکار ہوں یا پنہاں ، اندرونی گناہ ہو یا بیرونی ، اور اس اعتقاد کا تربیت پر کیاثر پڑتا ہے کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔

____________________

۱۔ قاعدہ کی رو سے ” و العادیات عدواً“ کہنا چاہئیے ،لیکن چونکہ عدو ( دوڑنے ) کا لازمہ سانس نکالنا ہے ، لہٰذا اس کے بجائے” ضبحاً“ کہا گیا ہے، بعض نے یہ کہا ہے کہ آیت میں ایک محذوف ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے ۔ (و العادیات یضبحن ضبحاً

۲۔” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۲۹ ۔ اس روایت کو ”قرطبی“ نے بھی اپنی تفسیر کی جلد ۱۰ ص ۷۲۴۵ میں نقل کیا ہے ۔

۳۔ ”بہ“ کی ضمیر”عدو“ ( دوڑنے ) کی طرف لوٹتی ہے جس کا ”والعادیات ضبحاً “ کے جملہ سے استفادہ ہوتا ہے ۔ اس بناء پر ” باء“ یہاں ” سببیت“ کے معنی میں ہے ، یعنی اس دوڑنے کے سبب گرد و غبارفضا کو پر کردیتا ہے ۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہ اس زمانہ یا مکان کی طرف لوٹتی ہے جس میں یہ تاخت و تاز انجام پائی ہے ۔ اس بناء پر ” باء“ ظرفیت کے معنی میں ہے ، لیکن صحیح وہی پہلا معنی ہے۔

۴۔”بہ“ کی ضمیر کے مرجع اور ”باء“ کے معنی کے سلسلہ میں یہاں وہی بحث ہے جو پہلی آیت میں تھی۔

۵ تفسير «بيضاوى»، صفحه ۴۶۵.

۶۔۔ ”مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۵۳۔

۷۔ ”لحب الخیر “ کی ” لام “ ممکن ہے ” لام تعدیہ“ ہو یا لام علت ، پہلے احتمال کی بناء پر ا سکی تفسیر وہی ہے جو اوپر بیان ہو چکی ہے ، اور دوسرے احتمال کی بناء پر آیت کا مفہوم اس طرح ہے ، انسان مال کی محبت کی وجہ سے بخیل ہے ، لیکن مسلمہ طور پر پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے ۔


اس سورہ کی قسموں اور ا س کے ہدف کے درمیان ربط

اس سورہ کے سلسلہ میں جو سوالات سامنے آتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مجاہدین کے گھوڑوں کی قسم اور ” ان الانسان لربہ لکنود“کے جملہ کے درمیان کیا ربط ہے ؟ کیونکہ قرآن کی آیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ قسموں اورمقسم بہ

(جس کے لیے قسم کھائی گئی ہے ) کے درمیان ایک قسم کا ربط موجود ہوتا ہے ، اور اصولی طور پر قرآن کی وضاحت و بلاغت بھی اس قسم کے مطلب کا اقتضا کرتی ہے ۔

زیربحث آیات میں ممکن ہے اس طرح کا ربط ہو کہ قرآن یہ کہتا ہے کہ ایسے ایثار کرنے والے انسان بھی موجود ہیں جو جہاد کے راستہ میں بے پرواہ ہو کر پیش رفت کرتے ہیں اور کسی قسم کی فدا کاری میں کوتاہی نہیں کرتے، اور اپنی جان و مال خدا کی راہ میں دے دیتے ہیں لیکن بعض لوگ اتنے بخیل اور ناشکرے کیوں بن جاتے ہیں کہ نہ تو وہ حق تعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلہ میں خدا کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور نہ ہی اس کی راہ میں ایثار کرتے ہیں ؟

یہ ٹھیک ہے کہ قسم تو گھوڑوں ہی کی کھائی گئی ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ان کی اہمیت اس لحاظ سے ہے کہ وہ مجادہدین کے لئے ایک آلہ ہیں ، اور حقیقت میں مجاہدین کے جہاد کی قسم کھائی گئی ہے ۔( اور اسی طرح اگر یہ حاجیوں اور خانہ خدا کے زائرین کے اونٹوں کی قسم ہو)۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ربط اس طرح سے حاصل ہوتا ہے کہ یہ جانور حق تعالیٰ کی راہ میں سر عت کے ساتھ جاتے ہیں ۔ پس اے انسان تو کیوں اس کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرتا جب کہ تو اشرف المخلوقات ہے اور اس کے لائق ہے ؟

لیکن پہلی مناسبت زیادہ واضح ہے

۲ ۔ کیا انسان طبعاً ناشکرا اور بخیل ہے ؟

ممکن ہے کہ لوگ ان الانسان لربہ لکنود کے جملہ سے مفہوم لیں کہ ” کنود“ کی حالت میں ہونا یعنی ناشکری اور بخل کرنا سب انسانوں کی طبیعت کا جز ء ہے تو پھر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ یہ امر بیدار وجدان اور فطری شعور کے ساتھ ، انسان کو شکرِ منعم اور ایثار و قربانی کی دعوت دیتا ہے ، کیسے ساز گار ہوسکتا ہے ؟

اس قسم کا سوال ، قرآن مجید کی بہت سی آیات میں ، جو انسان کی کمزوریوں کے واضح نقاط کو بیان کرتی ہیں ، سامنے آتا ہے ۔

ایک جگہ انسان کو ”( ظلوم و جهول ) “ شمار کیا گیا ہے ۔ ( احزاب۔ ۷۲)

دوسری جگہ ”( هلوع ) “ ( کم ظرف) معارج۔ ۱۹)

ایک دوسری ”( یٴوس کفور ) “ (مایوس ناشکرا) ( ہود۔ ۹)

ایک اور مقام پر ظاغی اور سر کش ۔ ( علق۔ ۶) کے ساتھ متعارف ہوا ہے ۔

کیا واقعاً ضعف کمزوری کے یہ نقاط انسان کی طبیعت میں پوشیدہ ہیں ، حالانکہ قرآ ن صراحت کے ساتھ کہتاہے کہ خدا نے آدم کو مکرم بنایا ہے اور سب مخلوق پر اسے بر تری دی ہے :( ولقد کرمنا بنی آدم و حملنا هم فی البر ولبحر و رزقنا هم من الطیبات و فضلنا هم علیٰ کثیر ممن خلقنا تفضیلاً ) ( اسراء۔ ۷۰)

اس سوال کا جواب ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ انسان دو بعدو جہات وجودی رکھتا ہے، اور اسی بناء پر وہ اپنے ”قوس صعودی “ میں ”( اعلیٰ علیین ) “تک پہنچ جا تا ہے اور اپنے ”قوس نزولی“ میں اسفل سافلین میں گر جاتا ہے۔

اگروہ مربیان ِ الٰہی سے تر بیت پائے، عقل کے پیام سے ہدایت حاصل کرے اور اپنی اصلاح کرے تو وہ( ” فضلناهم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلاً“ ) کا مصداق ہو جاتا ہے ۔

اور اگر ایمان تقویٰ سے منھ موڑ لے ، اور اولیاء خدا کی راہنمائی سے باہر نکل جائے ، توپھر وہ ” ظلوم“ و ” کفار“ یو س“ و ”کفور“ اور”ہلوع “ و ” کنود“ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔

اس طرح ان آیات کے درمیان کسی قسم کا تضاد موجود نہیں ہے ، البتہ ان میں سے ہر ایک کا انسان کے ایک بُعد اور جہت کے ساتھ تعلق ہے ۔

ہاں ! انسان کی فطرت کے اندر تمام نیکیوں ، اچھائیوں اور افتخارات و فضائل کی اصلی جڑ پوشیدہ ہے اور اسی طرح انسان ان فضائل کے نقطہ مقابل کے لیے بھی آمادگی رکھتا ہے ۔ اسی لیے عالم ِ آفرینش کی کسی بھی مخلوق کے قوسِ صعودی و نزولی کے درمیان اس قدر فاصلہ اور دوری نہیں ہے ، (غورکیجئے)

۳ ۔ جہاد کی عظمت

قرآن مجید میں جہاد اور راہ خدا کے مجاہدین کی عظمت کے بارے میں بہت ہی زیادہ گفتگو ہوئی ہے ۔ لیکن شاید یہ مسئلہ کسی جگہ بھی اس عظمت کے ساتھ بیان نہیں ہوا کہ ان کے گھوڑوں کے پھنکارنے ، ان کے سموں سے نکلنے والی چنگاریوں اور ان کے تیز دوڑنے سے اٹھنے والا گرد و غبار تک بھی اس قدر با عظمت سمجھا جائے ، کہ اس کی قسم کھائی جائے خصوصاً ان کے سرعت عمل پر ، جو جنگوں میں کامیابی کا اہم ترین عامل ہے ، تکیہ ہوا ہے ، اور غفلت کی حالت میں جالینے پر بھی، جوجنگ میں موفق ہونے کا ایک اور عامل ہے ، تکیہ ہوا ہے ۔

اور یہ سب جہاد کے پروگرام کے سلسلہ میں ایک ترتیب اور تعلیم ہے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس سورہ کے شان نزول میں بھی آیا ہے کہ علی علیہ السلام نے یہ حکم دیا تھا کہ رات کی تاریکی میں اپنی سواریوں کو تیار کرلیں ، انہیں ضروری خوراک دیں ، ان پر زین کس لیں ، او رمکمل طور پر الرٹ) تیاری کی صورت میں آجائیں ، جب رات کی تاریکی کا پردہ ہٹا تو آ پ نے فوراً اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز صبح ادا کی ، اور بلا فاصلہ دشمن پر حملہ کردیا، اور دشمن اس وقت بیدار ہوا جب مجاہدین ِ اسلام کے گھوڑے ان کے سروں پر پہنچ گئے۔

غفلت کی حالت میں اس سریع حملہ سے تلف ہونے والوں کی تعداد بھی بہت کم رہی ، اور جنگ کا خاتمہ بھی مختصر سے وقت میں ہو گیا ، اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں اس سورہ کی آیات میں بہت ہی عمدہ طریقہ سے بیان ہوئی ہیں ۔

یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ نہ تو گھوڑو ں میں کوئی خصوصیت ہے اور نہ ہی بیابان کے پتھروں پر سموں کے ٹکرانے سے پیدا ہونے والی چنگاریاں کوئی خصوصیت رکھتی ہیں ، او رنہ ہی ان کے پاو ں سے اٹھنے والا گرد و غبار ، جو چیز خصوصیت رکھتی ہے وہ مسئلہ جہاد ہے اور اس کے بعد اس کے آلات ہیں ، جو مودہ زمانہ کے تمام جنگی وسائل کو شامل ہیں ،جیسا کہ سورہ انفال کی آیت ۹ میں ”( رباط الخیل ) “ ( قومی اور طاقتور گھوڑوں ) کے بیان میں ” قوة“ اور ”طاقت“ کے بارے میں کلی طور پر گفتگو ہوئی ہے ۔

خدا وندا ! ہمیں اپنی رضا اور خوشنودی کی راہ میں جہاد کرنے اور قربانی دینے کی توفیق مرحمت فرما۔

پروردگارا !نفس سر کش ناشکری اور کفران کی طرف مائل رہتا ہے ، ہمیں اس کے خطرات سے محفوظ فرما۔

بار الہٰا ! تو ہر شخص کے اندرونی اسرار سے آگاہ ہے اور ہمارے اعمال سے باخبر ہے ۔ اپنے لطف و کرم اور عنایت و بخشش سے ہمارے ساتھ سلوک کر ۔

آمین یا رب العالمین


سورہ القارعة

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ۔ اس میں ۱۱ آیات ہیں ۔

سورہ قارعہ کے مطالب اور اس کی فضیلت

اس سورہ میں کلی طور پرمعاد اور ا س کے مقدمات کے بارے میں گفتگو ہے ۔ اس میں چبھنے والی تعبیریں ، ہلادینے والے بیان ہیں ، اور صریح و واضح انداز اور تنبیہ ہے ۔ اور آخر میں انسانوں کی دو گروہوں میں تقسیم کا بیان ہے ۔

ایک گروہ تو وہ ہے جن کے اعمال عدل الٰہی کے میزان میں وزنی ہوں گے ، اور ان کی جزاء حق تعالیٰ کے جوار ِ رحمت میں سراسر رضایت بخش زندگی ہے ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جن کے اعمال ہلکے او رکم وزن ہوں گے ، ان کی سر نوشت جہنم کی جلادینے والی آگ ہے ۔

اس سورہ کا نام یعنی ” قارعہ“ اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے ۔

اس سورہ کی فضیلت

اس کی فضیلت کے سلسلہ میں بس اتنا ہی کافی ہے کہ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے :

من قرأ القارعة اٰمنه الله من الدجال ان یو من به ، و من قیح جهنم یوم القیامة ان شاء الله :

” جو شخص سورہ ” قارعہ“ کو پڑھے گا تو خدا وند تعالیٰ اسے دجال کے فتنہ اور اس پر ایمان لانے سے محفوظ رکھے گا، اور اسے قیامت کے دن انشاء اللہ پیپ سے دو رکھے گا۔ ۱

____________________

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد۱۰ ، ص۵۳۰۔


آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( القارعة ) ۔ ۲ ۔( ما القارعة ) ۔ ۳ ۔( وماادراک ما القارعةُ ) ۔ ۴ ۔( یوم یکون الناس کالفراش المبثوثِ ) ۔

۵ ۔( وتکون الجبال کالعهن المنفوش ) ۔ ۶ ۔( فاما مَن ثقلت موازینه ) ۔ ۷ ۔( فهو فی عشیة راضیةٍ ) ۔

۸ ۔( و اما مَن خفّتْ موازینه ) ۔ ۹ ۔( فاُمُّه هاویةٌ ) ۱۰ ۔( وما ادراک ماهیه ) ۔ ۱۱ ۔( نار حامیة ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ وہ چھبنے والا حادثہ۔ ۲ ۔ اور وہ کیسا چبھنے والا حادثہ ہے ؟ ۳ ۔ اور تو کیا جانے کہ وہ چبھنے والا حادثہ کیسا ہے ؟

۴ ۔ وہ دن جس میں لوگ پراکندہ پر وانوں کی طرح ہر طرف دوڑتے رہے ہوں گے۔

۵ ۔ اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کی طرح ہو جائیں گے ۔ ۶ ۔ ( اس دن) جس کے اعمال کا ترازو وزنی ہوگا ۔

۷ ۔وہ ایک پسندیدہ زندگی میں ہوگا ۔ ۸ ۔ لیکن جس کا ترازوئے اعمال ہلکاہوگا۔ ۹ ۔اس کی پناہ ھاویہ ( جہنم) ہوگی۔

۱۰ ۔ اور توکیا جانے کہ ھاویہ کیاہے ؟ ۱۱ ۔ ایک جلا ڈالنے والی آگ ہے ۔

چھبنے والا حادثہ

ان آیات میں ، جو قیامت کا تعارف کراتی ہیں ، پہلے ارشاد ہوتا ہے : ” وہ چبھنے والا حادثہ“( القارعة ) ۔

اور وہ کیسا چبھنے والا حادثہ ہے “۔( ما القارعة ) ۔

” اور تو کیا جانے کہ وہ چبھنے والا حادثہ کیاہے ؟( وما ادراک ما القاعة ) ۔

” قارعة“ ” قرع“ ( بروزن فرع) کے مادہ سے ، کسی چیز کو کسی دوسری چیز پر اس طرح رگڑ نے کے معنی میں سے کہ اس سے سخت آواز پیدا ہو، تازیانہ اور ہتھوڑے کو بھی اسی مناسبت سے ” مقرعہ“ کہتے ہیں ، بلکہ ہر اہم سخت حادثہ کو ” قارعة“ کہا جاتا ہے ۔ ( یہاں تاء تانیث کا تاء ممکن ہے تاکید کی طرف اشارہ ہو۔

ان تعبیروں سے جو دوسری اور تیسری آیات میں آئی ہیں ، جن میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک سے یہ فرمایا ہے کہ تو کیا جانے یہ سخت اور سر کوبی کرنے والا حادثہ کیا ہے : واضح ہو جاتا ہے کہ یہ چبھنے والا حادثہ اس قدر عظیم ہے کہ اس کے ابعاد اور مختلف جہات ہر شخص کے ذہن میں نہیں آسکتے ۔

بہر حال بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ ” قارعة“ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے ، لیکن انہوں نے ٹھیک طور سے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا یہ تعبیر قیامت کے مقدمات کی طرف اشارہ ہے جس میں عالم ِ دنیا درہم بر ہم ہو جائے گا، آفتاب و ماہتاب تاریک ہو جائیں گے، سمندروں میں آگ لگ جائے گی ، اگر اس طرح ہو تو پھر اس حادثہ کے لیے ” قارعة“ کے نام کے انتخاب کی وجہ واضح ہے ۔

دوم اس سے دوسرا مرحلہ مراد ہو، یعنی مردوں کے زندہ ہونے اور عالم ہستی میں ایک نئی طرح ڈالنے کا مرحلہ ، اور ٹکرانے اور چھبنے کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ اس دن وحشت وخوف اور ڈردلوں سے ٹکرائیں گے ان کی سر کوبی کریں گے۔

وہ آیات جو اس کے بعد آئیں ہیں ، ان میں سے بعض تو جہان کے خراب و برباد ہونے کے حادثہ سے مناسبت رکھتی ہیں اور بعض مردوں کے زندہ ہونے کے ساتھ ، لیکن مجموعی طور سے یہ پہلا احتمال زیادہ مناسب نظر آتا ہے ، اگر چہ ان آیات میں دونوں حادثے یکے بعد دیگرے ذکر ہوئے ہیں ( قرآن کی اور بہت سی دوسری آیات کے مانند جو قیامت کی خبر دیتی ہیں )۔

اس کے بعد اس عجیب و غریب دن کے تعار ف میں کہتا ہے :” وہی دن جس میں لو گ پراگندہ، حیران و پریشان ، پروانوں کی طرح ہر طرف جائیں گے “۔( یوم یکون الناس کالفراش المبثوث ) ۔

” فراش“ ” فراشة“کی جمع ہے ، بہت سے اسے” پروانہ“ کے معنی میں سمجھتے ہیں ، بعض نے اس کی ” ٹڈی دل“ کے معنی میں تفسیر کی ہے ، او رظاہراً یہ معنی سورہ قمر کی آیہ ۷ سے لیا ہے جو لوگوں کو اس دن پراگندہ ٹڈی دل سے تشبیہ دیتی ہے ،( کانهم جراد منتشر ) ورنہ اس کے لغوی معنی ” پروانہ“ ہی ہیں ۔

بہر حال ” پروانہ“ کے ساتھ تشبیہ اس لیے ہے کہ پروانے اپنے آ پ کو دیوانہ وار آگ پر پھینک دیتے ہیں ۔ بد کار لوگ بھی اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں ڈالیں گے ۔

یہ احتمال بھی ہے کہ پروانہ کے ساتھ تشبیہ ایک خاص قسم کی حیرت و سر گردانی کی طرف اشارہ ہے ، جو اس دن تمام انسانوں پر غالب ہوگی۔

اور اگر” فراش“ ٹڈی دل کے معنی میں ہوتو پھر مذکورہ تشبیہ اس لیے ہے کہ کہتے ہیں بہت سے پرندے اڑتے وقت ایک معین راستہ میں اکھٹے پرواز کرتے ہیں ، سوائے ٹڈی دل کے ، جو گروہ کی صورت میں اڑتے ہوئے بھی کوئی مشخص راستہ نہیں رکھتے، بلکہ ان میں سے ہر ایک کسی دوسری ہی طرف اڑرہا ہوتا ہے ۔

پھر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حیرت و پراگندگی و سر گردانی اور وحشت و اضطراب جہاں کے خاتمہ کے ہولناک حوادث کی وجہ سے ہو گا ، یا قیامت اور حشر و نشر کے آغاز کی وجہ سے ۔

اس سوال کا جواب ہمارے اسی بیان سے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے واضح ہوجاتا ہے ۔

اس کے بعد اس دن کی ایک خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے مزید کہتا ہے:” اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کے مانند ہو جائیں گے“۔( تکون الجبال کالعهن المنفوش ) ۔

” عھن“ (بر وزن ذہن ) رنگی ہوئی اون کے معنی میں ہے ۔

اور ” منفوش“ ” نفش “ ( بر وزن نقش) کے مادہ سے اون کو پھیلانے کے معنی میں ہے جو عام طور پردھنکنے کے مخصوص آلات کے ذریعے اون کو دھنکنے سے انجام پاتی ہے ۔

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ قرآن کی مختلف آیات کے مطابق قربِ قیامت میں پہاڑ پہلے تو چلنے لگیں گے ، پھر ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراکر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور انجام کار غبار کی صورت میں فضا میں اڑنے لگیں گے ۔ زیر بحث آیت میں ان کو رنگین اور دھنکی ہوئی اون سے تشبیہ دی گئی ہے ، ایسی اون جو تیز آندھی کے ساتھ چلے اور ا س کا مصرف رنگ ہی رنگ نمایاں ہو، اور یہ پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہو کر بکھر نے کا آخری مرحلہ ہو گا۔

ممکن ہے یہ تعبیر پہاڑوں کے مختلف رنگوں کی طرف اشارہ ہو کیونکہ روئے زمین کے پہاڑوں میں سے ہر ایک خاص رنگ رکھتا ہے ۔

بہر حال یہ جملہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اوپر والی آیات قیامت کے پہلے مرحلوں ، یعنی اس جہان کی ویرانی اور اختتام مرحلہ کی ہی بات کرتی ہیں ۔

اس کے بعد حشر ونشر، مردوں کے زندہ ہونے اور ان کی دو گرہوں میں تقسیم کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” پس جس شخص کا ترازوئے عمل وزنی ہوگا “( فاما من ثقلت موازینه ) ۔

” وہ ایک عمدہ او رپسندیدہ زندگی میں ہو گا“۔( فهو فی عشیة راضیة ) ۔

” لیکن جس شخص کا ترازوئے اعمال ہلکا ہو گ( و امامَم خفت موازینه ) ۔

” تو اس کی پناہ گاہ جہنم ہے “۔( فامه هاویة ) ۔

اور تو کیا جانے ھاویہ ( دوزخ ) کیا ہے ؟( وما ادراک ماهیه ) ۔(۱)

”ایک جلانے والی آگ ہے “( نار هامیة ) ۔

”موازین“میزان کی جمع ہے جو تولنے کے ایک آلہ کے معنی میں ہے ۔ یہ لفظ پہلے تو مادی وزنوں میں استعمال ہوتا رہاہے ، اس کے بعد معنوی موازین اور مقاسیس کے لیے بھی استعمال ہو نے لگا۔

بعض کا نظر یہ ہے کہ اس دن انسان کے اعمال جسمانی اور قابل ِ وزن موجودات کی صورت اختیار کرلیں گے اور واقعی طور پر انہیں اعمال کے تولنے والے ترازوو ں کے ساتھ تولیں گے۔

یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ خود نامہ اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ اگر اس میں کچھ اعمال صالح لکھے ہوئے ہیں تو وہ سنگین او ربھاری ہوگا ورنہ ہلکا بے وزن ہوگا۔

لیکن ظاہراً ان توجیہات کی ضرورت نہیں ہے ۔ میزان یقینی طور پر ترازوں کے معنی میں نہیں ہے ، جس میں مخصوص قسم کے پلڑے ہوتے ہیں ، بلکہ اس کا ہر قسم کے تولنے کے وسیلہ اور ذریعہ پر اطلاق ہوتا ہے ، جیساکہ ایک حدیث میں آیا ہے ۔

( ان امیر المومنین و الأئمه من ذریته ( ع ) هم الموازین ) “۔

” امیر المومنین اور وہ ائمہ جو آ پ کی ذریت میں ہیں ، وہی تولنے کے ترازوہیں “۔(۲)

اس طرح اولیاءء خدا یا قوانینِ عدل الٰہی ہی وہ ترازو ہیں جن کے سامنے انسانوں اور ان کے اعمال کو پیش کیاجاتا ہے اور جس قدر وہ اس کے ساتھ مشابہت اور مطابقت رکھتے ہیں وہی ان کا وزن ہے ۔

یہ بات واضح ہے کہ میزان کے ” ہلکا“ اور ” بھاری“ ہونے سے مراد خود تولنے کے ترازوو ں کی سنگینی و سبکی نہیں ہے ، بلکہ ان چیزوں کا وزن ہے جن کو ان سے تولتے ہیں ۔

ضمنی طورپر” موازین“کی تعبیر جمع کی صورت میں اس بناء پر آئی ہے کہ اولیائے حق اور قوانینِ الٰہی میں سے ہرایک علیٰحدہ علیٰحدہ تولنے کی ایک میزان ہے ۔ اس سے قطع نظر انسان کی صفات اور اعمال کا تنوع اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہر ایک کو ایک ترازو سے تولا جائے ، او ر تولنے کے نمونے اور ترازو مختلف ہوں ۔

”راغب“ ”مفردات “ میں کہتاہے : ” قرآن مجید میں میزان کبھی تو مفرد کی صورت میں آیا ہے اور کبھی جمع کی صورت میں ، پہلی صورت میں اس کے لیے آیاہے جو حساب کرتا ہے یعنی خدائے یکتا، اور دوسری صورت میں ان کے لیے ہے جن کا حساب ہوگا۔

بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ موازین ” موزون“ کی جمع ہے ، یعنی وہ عمل جس کا وزن کرتے ہیں ۔ اس بناء پر موازین کا ہلکا یابھاری ہونا خود اعمال کے ہلکا اور بھاری ہونے کے معنی میں ہے ، نہ کہ تراز وو ں کے ہلکا اور بھاری ہونے کے معنی میں ۔(۳)

( عیشة راضیة ) “ ( خوش وخرم زندگی) کی تعبیر بہت ہی عمدہ اور بلیغ تعبیر ہے ، جو قیامت ،میں اہل بہشت کی پر نعمت اور سراسر سکون و آرام کی زندگی کے لئے بیان ہوئی ہے یہ زندگی اتنی پسندیدہ اور رضایت بخش ہے گویا کہ وہ خود ہی راضی ہیں ، یعنی بجائے اس کے کہ ” مرضیة“ کہا جائے، زیادہ تاکید کے لیے” اسم مفعول“ کی بجائے ” اسم فاعل“ استعمال ہوا ہے ۔(۳)

اور یہ عظیم امتیاز آخرت کی زندگی کے ساتھ ہی مخصوص ہے، کیونکہ دنیا کی زندگی چاہے جتنی بھی مرفہ، پر نعمت، امن و امان اور رضایت و خوشنودی کے ساتھ ہو، پھر بھی ناخوشی اور ناپسندید گی کے عوامل سے خالی نہیں ہوتی ۔ یہ صرف آخرت ہی کی زندگی ہے جو سراسر رضایت و خوشنودی، آرام اور امنیت و دل جمعی کا سبب ہے ۔

”فامہ ھاویہ“کے جملہ میں ”ام “ کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ ”ام “ ماں کے معنی میں ہے ، اور ہم جانتے ہیں کہ ماں اولاد کے لیے ایک ایسی پناہ گاہ ہے جس کی طرف مشکلات میں پناہ لیتے ہیں اور اس کے پاس رہتے ہیں ، اور یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ہلکے وزن والے، گنہگار، دوزخ کے علاوہ اور کوئی جگہ پناہ لینے کے لیے نہ پائیں گے ، اس شخص کے حال پر وائے ہے جس کی پناہ گاہ دوزخ ہوگی۔

بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یہاں ”ام “ کامعنی”مغز“ ( دماغ) ہے کیونکہ عرب سر کے مغز کو ” ام الرأس“ کہتے ہیں ، تو اس بناء پر آیت کا معنی یہ ہوگا کہ انہیں سر کے بل جہنم میں پھینکیں گے، لیکن یہ احتمال بعید نظرآتاہے کیونکہ اس صورت میں بعد والی آیت ” وما ادراک ماھیہ“( تو کیا جانے کہ وہ کیا چیزہے ) کا مفہوم درست نہیں رہے گا۔

” ھاویة“ ” ھوی“ کے مادہ سے گر نے اور سقوط کرنے کے معنی میں ہے ، اور وہ ”دوزخ“کے ناموں میں سے ایک نام ہے ، کیونکہ گنہگار اس میں گریں گے اور یہ جہنم کی آگ کے عمق اور گہرائی کی طرف بھی اشارہ ہے ۔

اور اگر ہم ”ام “ کو یہاں ” مغز“ کے معنی میں لیں ، تو ” ھاویة“ کا معنی گر نے والی ہوگا، لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح اور مناسب نظر آتی ہے ۔

” حامیة“ ”حمی“ ( بروزن نفی)کے مادہ سے شدتِ حرارت کے معنی میں ہے ، اور ” حامیة“ یہاں جہنم کی آگ کی حد سے زیادہ حرارت او رجلانے کی طرف اشارہ ہے ۔

بہر حال یہ جملہ جو یہ کہتا ہے تو کیاجانے کہ ” ھاویة“ کیاہے ” ھاویة“ جلانے والی آگ ہے“۔ اس معنی پر ایک تاکید ہے کہ قیامت کا عذاب اور جہنم کی آگ تمام انسانوں کے تصور سے بالاتر ہے ۔

____________________

۱- ماہیہ“ اصل میں ” ماھی“ تھا ” ھاء سکت“ کا اس سے الحاق ہوا۔

۲۔ ” ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ جب لوگوں نے آپ سے میزان کے معنی کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے جواب میں فرمایا:المیزان العدل “ ” تولنے کی ترازو وہی عدل ہے “۔

۳۔اس معنی کو ” زمخشری“ نے ” کشاف“ میں اور ” فخر رازی“ نے تفسیر کبیر “ میں اور ” ابو الفتوح رازی“ نے اپنی تفسیر میں ” موازین“ کے معنی میں دو احتمالوں میں سے ایک احتمال کے عنوان سے ذکر کیا ہے ۔


البتہ دونوں کا نتیجہ ایک ہے ، لیکن دو مختلف راستوں سے۔

اس سلسلہ میں ہم نے سورہ اعراف کی آیہ ۸ ۔ ۹ کے ذیل میں ( جلد ۴ ص ۴۲) پر ، اور اسی طرح سورہ کہف کی آیہ ۱۰۵ کے ذیل میں ( جلد ۷ ص ۷۲۷) پر اور سورہ مومنون کی آیہ ۱۰۲ کے ذیل میں ( جلد ۸ ) پر زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے

۴ بعض نے ”راضیة“ کو ” ذات رضا“ کے معنی میں بھی سمجھا ہے ، یا تقدیر میں کچھ فرض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے مراد اس زندگی والوں کی رضایت ہے ، لیکن تین تفاسیر میں سے وہی تفسیر اوپر بیان ہوئی ہے جو سب سے زیادہ مناسب ہے ۔

میزان اعمال کی سنگینی کے اسباب

اس میں شک نہیں کہ تمام نیک اور صالح اعمال کی قدر و قیمت یکساں نہیں ہے اور یہ آپس میں بہت زیادہ فرق رکھتے ہیں ، اور اسی وجہ سے مختلف اسلامی روایات میں کچھ اعمال ِ خیر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے اور ان کو ہی قیامت میں میزان عمل کے بھاری ہونے کے اسباب شمار کیا گیا ہے ۔

منجملہ ایک حدیث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے کہ آپ نے لاالہ الا اللہ کی تفسیر میں فرمایا:

( یعنی بواحدانیته لایقبل الاعمال الابها، وهی کلمة التقویٰ یثقل الله بها الموازین یوم القیامة ) :

لااله الا الله “خد اکی وحدانیت کی طرف اشارہ ہے اور کوئی عمل اس کے بغیر قبول نہیں ہوگا یہ کلمہ تقویٰ ہے جو عمل تولنے والے ترازوں کو قیامت میں سنگین اور وزنی بنائے گا“۔(۱)

ایک اور حدیث میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اکرم کی نبوت کی شہادت کے بارے میں آیا ہے :

خف میزان تر فعان منه و ثقل میزان توضعان فیه

” تولنے کا وہ ترازو جس سے شہادتین کو اٹھالیا جائے وہ ہلکا ہوجائے گا ، اور وہ ترازو جس میں شہادتین کو رکھ دیا جائے و ہ سنگین اور وزنی ہو جائے گا“۔(۲)

اور ایک اور دوسری حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے :

مافی المیزان شیء اثقل من الصلواة علیٰ محمد و آل محمد

” میزان عمل میں کوئی چیز محمد و آلِ محمد پر درود بھیجنے سے زیادہ سنگین نہیں ہے “۔

اور روایت کے ذیل میں آیا ہے کہ قیامت میں کچھ لوگ میزان عمل کے نیچے کھڑے ہوں گے جن کے اعمال کا پلڑا ہلکا ہوگا، پھر محمد و آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پردرود

کو اس میں رکھ دیں گے تو وہ سنگین اور وزنی ہو جائے گا۔(۳)

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے :

( من کان ظاهره ارجع من باطنه خف میزانه )

جس شخص کا ظاہر اس کے باطن سے بہتر ہوگا قیامت میں اس کا میزان عمل ہلکا رہے گا“۔(۳)

ہم اس بحث کو سلمان فارسی (رض)کی ایک گفتگو پر ختم کرتے ہیں جو حقیقت میں وحی اور سنت کا خلاصہ ہے ۔ اس حدیث میں آیاہے ”کسی شخص نے تحقیر کے طور پر سلمان فاسی (رض) سے کہا :

تو کون ہے اور تیری کچھ بھی قدر و قیمت نہیں ہے سلمان (رض) نے جواب میں کہا ہے :

( امام اولی و اولک فنطفة قذرة و اما اٰخری و اٰخرک فجیفة منتینة فاذا کان یوم القیامة،و نصبت الموازین فمن ثقلت موازینه فهو الکریم و من خفت موازینه فهو اللئیم ) “:

” لیکن !میرے اور تیرے وجود کاآغاز تو ایک گندے نطفہ سے ہوا ہے اور میرے اور تیرے وجود کا اختتام ایک بد بو دار مردارہے ، اور جب قیامت کا دن ہوگا اور اعمال کے تولنے کے لیے ترازو نصب کیے جائیں گے تو جس شخص کے عمل کا ترازوسنگین اور بھاری ہوگا وہ شریف و بزرگوارہے ، اور جس کے عمل کا ترازو سبک اور ہلکا ہوگا وہ پست و ذلیل اور کمینہ ہوگا۔(۵)

خدا وندا ! ہمارے ترازو کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کے ذریعے سنگین اور وزنی کردے۔

پروردگارا !”عیشة راضیة “ کا حصول تیرے لطف و کرم کے بغیر آسان نہیں ہے ۔ پس تو خود ہی اس راہ میں ہماری مدد فرما!

بار الہٰا تیری دوزخ کی آگ بہت ہی سخت جلانے والی ہے اور ہم میں اس کو بر داشت کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔ اسے اپنے رحم و کرم کے پانی سے ہمارے لیے خاموش کردے۔

آمین یا رب العالمین

____________________

۱۔ ” نور الثقلین “ جلد ۵ ص ۶۵۹ حدیث ۱۲، ۸۔

۲۔ ” نور الثقلین “ جلد ۵ ص ۶۵۹ حدیث ۱۲، ۸۔

۳۔ ” نور الثقلین “ جلد ۵ ص ۶۵۹ حدیث ۷۔

۴۔ ” نور الثقلین “ ج۵ ص ۶۶۰ حدیث۱۳۔

۵۔ ” نور الثقلین “ جلد ۵ ص ۶۶ حدیث ۱۴۔


سورہ التکاثر

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا۔ اس میں ۸ آیات ہیں ۔

سورہ تکاثر کے مطالب اور اس کی فضیلت

بہت سے مفسرین کا نظر یہ یہ ہے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ہے ۔ اس بناء پر اس میں تفاخر کے بارے میں جو گفتگو آئی ہے وہ اصولی طور پر قبائل ِ قریش کے ساتھ مربوط ہے جو موہومِ امور کی بناء پر ایک دوسرے پر فخر و مباہات کیاکرتے تھے ۔

لیکن جیسا کہ مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں لکھا ہے ۔ بعض کا نظر یہ یہ ہے کہ مدینہ میں نازل ہوا ہے اور اس میں تفاخر کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ یہودیوں یا انصار کے دو قبیلوں کے بارے میں ہے ، لیکن اس سورہ کا مکی سورتو ں سے زیادہ مشابہت رکھنے کی وجہ سے مکی ہونا زیادہ صحیح نظر آتا ہے ۔

اس سورہ کے مطالب میں مجموعی طور سے پہلے تو ایسے لوگوں کی ، جولمو ہوم مطالب کی بنیاد پر ایک دوسرے پر فخر و مباہات کرتے تھے، سر زنش اور ملامت ہے ۔ اس کے بعد قیامت ومعاداور جہنم کی آگ کے مسئلہ پر تنبیہ ہے اور آخر میں نعمتوں کے بارے میں سوال اور باز پرس کے مسئلہ میں تنبیہ کی گئی ہے ۔

اس سورہ کا نام اس کی پہلی آیت سے سے لیا گیا ہے ۔

اس سورہ کی فضیلت

اس کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے :

( و من قرأها لم یحاسبه الله بالنعیم الذی انعم علیه فی دار الدنیا و اعطی من الاجر کانما قرء الف اٰیة ) “ :

”جو شخص اس کو پڑھے گا تو خدا اس سے ان نعمتوں کا حسان نہیں لے گا جو اس نے اسے دار دنیا میں دی ہیں ، اور اسے اس قدر اجر و ثواب عطا کرے گا گویا کہ اس نے قرآن کی ہزارآیتوں کی تلاوت کی ہے ۔(۱)

اور ایک حدیث سے امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ ” اس سورہ کا واجب اور مستحب نماز میں پڑھنا شہداء کی شہادت کا ثواب رکھتا ہے ۔(۲)

واضح ہو کہ یہ سب ثواب ان لوگوں کے لیے ہیں جو اسے پڑھیں اور اسے اپنی زندگی کا پروگرام بنا ئیں اور دل جا ن سے آپ کو اس کے ساتھ ہم آہنگ کریں ۔

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( الهٰکم التّکاثر ) ۔ ۲ ۔( حتی ٰزرتم المقابر ) ۔ ۳ ۔( کلّا سوف تعلمون ) ۔ ۴ ۔( ثم کلّا سوف تعلمون ) ۔

۵ ۔( کلّا لو تعلمون علم الیقین ) ۔ ۶ ۔( لتروُنّ الجحیم ) ۔ ۷ ۔( ثم لترونَّها عین الیقین ) ۔ ۸ ۔( ثم لتُسئلُنَّ یومئذٍ عن النعیم ) ۔

ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ تفاخر و تکاثر نے تمہیں اپنے حال میں مشغول رکھا۔ ( اور اس نے تمہیں خدا سے غافل کردیا)۔

۲ ۔ یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت کے لیے گئے۔ ( اور تم نے اپنے مردوں کی قبریں شمار کیں )۔

۳ ۔ ایسا نہیں ہے جیسا کہ تم نے خیال کیا ہے ، تم جلدی ہی ( اصل حقیقت کو ) جان لو گے۔

۴ ۔ ہرگز ایسا نہیں ہے جیسا کہ تمہارا خیال ہے ، یہ جلدی ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا۔

۵ ۔ اس طرح نہیں ہے جس طرح تم خیا ل کرتے ہو، اگر تم آخرت کا علم الیقین رکھتے ہوتے( تو ان موہومات اور فخر و مباہات کے پیچھے نہ لگتے)۔

۶ ۔ تم یقینا جہنم کو دیکھو گے۔

۷ ۔ پھر ( اس میں وارد ہو کر ) اس کو عین الیقین کے ساتھ مشاہدہ کرو گے ۔

۸ ۔ پھر اس دن تم سب سے ان نعمتوں کے بارے میں جو تمہیں دی گئیں تھیں ، سوال کیا جائے گا۔

شان نزول

جیساکہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ بعض مفسرین کانظریہ یہ ہے کہ یہ سورہ ان قبائل کے بارے میں نازل ہواہے جو ایک دوسرے پر فخر مباہات کیاکرتے تھے اور اپنی جمیعت ، افراد کی کثرت یا مال و دولت کی زیادتی کے باعث ایک دوسرے پر فخر کرتے تھے، یہاں تک کہ اپنے قبیلہ کے افراد کی تعداد کو بڑھانے کے لیے قبرستان میں جاتے تھے اور ہرقبیلہ کی قبریں شمار کرتے تھے ۔

البتہ بعض مفسرین تو اس کو مکہ میں قریش کے دو قبیلوں کے بارے میں سمجھتے ہیں ، اور بعض مدینہ میں انصارِ پیغمبر کے بارے میں اور بعض یہودیوں کے دوسرے لوگوں پر فخر کرنے کے بارے میں ۔ اگر چہ اس کا مکمل ہونا صحیح نظر آتا ہے ۔

لیکن یہ امر یقینی ہے کہ شان نزول چاہے جو کچھ ہو آیت کے مفہوم کو ہر گز محدود نہیں کرتی۔

____________________

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۳۲۔

۲۔ ” وہی مدرک “ ( تلخیص کے ساتھ)۔


تکاثر و تفاخر کی مصیبت

ان آیات میں پہلے ملامت بھرے لہجہ میں فرماتا ہے : ” تفاخر اور ایک دوسرے پر کثرت رکھنے کے خیال نے تمہیں خدا اور قیامت سے غافل کرکے اپنی طرف مشغول کردیا ہے “۔( الهاکم التکاثر ) ۔

” یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت اور دیدار کے لیے بھی گئے اور تم نے اپنے مردوں کی قبروں کو شمار کیا“( حتی زرتم المقابر ) ۔

آیت کی تفسیر میں یہ بھی احتمال دیا گیا ہے کہ ” تکاثر“ اور تفاخر نے انہیں اس طرح سے اپنی طرف مشغول کرلیا ہے کہ وہ قبروں میں وارد ہونے کے لمحہ تک جاری و ساری ہے ۔

لیکن پہلا معنی ” زرتم المقابر“کی تعبیر ، اور اسی طرح شانِ نزول اور نہج البلاغہ کے خطبہ کے ساتھ ، جس کی طرف انشاء اللہ بعدمیں اشارہ ہوگا ، زیادہ ساز گار ہے ۔

( الهاکم ) “ ” لھو“ کے مادہ سے ، چھوٹے چھوٹے کاموں میں مشغول ہوجانا، اور کاموں سے غافل رہنے کے معنی میں ہے ۔ ”راغب“ ” مفردات“ میں کہتا ہے ” لھو“ اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اپنی طرف مشغول رکھتے ہوئے اس کے اہداف و مقاصد سے باز رکھتی ہے ۔

”تکاثر“ کثرت“ کے مادہ سے ، تفاخراور مباہات اور ایک دوسرے پر اپنی بڑائی جتلانے کے معنی میں ہے ۔(۱)

” زرتم“ ” زیارة“ اور ” زور“ ( بر وزن قول ) کے مادہ سے اصل میں سینہ کے اوپر والے حصہ کے معنی میں ہے اس کے بعد ملاقات کرنے اور روبرو ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ اور ” زور“ ( بر وزن قمر) سینہ کے اوپر والے حصہ کے ٹیڑھا ہوجانے کے معنی میں ہے ۔ اور چونکہ جھوٹ ایک قسم کا حق سے انحراف ہے ، اس لیے اس پر ” زور“ ( بر وزن نور) کا اطلاق ہوتا ہے ۔

” مقابر“ ” مقبرة“ کی جمع ہے جو میت کی قبر کی جگہ کے معنی میں ہے اور یہاں قبروں کی زیارت کرنا یاتو ( بعض تفاسیر کے مطابق) موت سے کنایہ ہے یا شمارکرنے اور فخر و مباہات کرنے کے لیے قبروں کے پاس جانے کے معنی میں ہے (جو اس کی مشہور تفسیر کے مطابق ہے )۔

اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے دوسرا معنی زیادہ صحیح نظر آتاہے اور ا س کے شواہدمیں سے ایک امیر المومنین علی علیہ السلام کا وہ کلام ہے جو اس سلسلہ میں نہج البلاغہ میں آیا ہے ، جو آپ نے ”( الهاکم التکاثر حتیٰ زرتم المقابر ) “ کے بعد فرمایاہے :

یا له مراماً ماابعده؟ وزراً ما اغفله؟ و خطراً ما افظعه ؟ لقد استخلوا ،منهم ای مدّ وتنا و شوهم من مکان بعید افبمصارع اٰبائهم یفخرون ؟

تکاثر و تفاخر کی مصیبت

ان آیات میں پہلے ملامت بھرے لہجہ میں فرماتا ہے : ” تفاخر اور ایک دوسرے پر کثرت رکھنے کے خیال نے تمہیں خدا اور قیامت سے غافل کرکے اپنی طرف مشغول کردیا ہے “۔( الهاکم التکاثر ) ۔

” یہاں تک کہ تم قبروں کی زیارت اور دیدار کے لیے بھی گئے اور تم نے اپنے مردوں کی قبروں کو شمار کیا“( حتی زرتم المقابر ) ۔

آیت کی تفسیر میں یہ بھی احتمال دیا گیا ہے کہ ” تکاثر“ اور تفاخر نے انہیں اس طرح سے اپنی طرف مشغول کرلیا ہے کہ وہ قبروں میں وارد ہونے کے لمحہ تک جاری و ساری ہے ۔

لیکن پہلا معنی ” زرتم المقابر“کی تعبیر ، اور اسی طرح شانِ نزول اور نہج البلاغہ کے خطبہ کے ساتھ ، جس کی طرف انشاء اللہ بعدمیں اشارہ ہوگا ، زیادہ ساز گار ہے ۔

” الھاکم “ ” لھو“ کے مادہ سے ، چھوٹے چھوٹے کاموں میں مشغول ہوجانا، اور کاموں سے غافل رہنے کے معنی میں ہے ۔ ”راغب“ ” مفردات“ میں کہتا ہے ” لھو“ اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو اپنی طرف مشغول رکھتے ہوئے اس کے اہداف و مقاصد سے باز رکھتی ہے ۔

”تکاثر“ کثرت“ کے مادہ سے ، تفاخراور مباہات اور ایک دوسرے پر اپنی بڑائی جتلانے کے معنی میں ہے ۔(۲)

” زرتم“ ” زیارة“ اور ” زور“ ( بر وزن قول ) کے مادہ سے اصل میں سینہ کے اوپر والے حصہ کے معنی میں ہے اس کے بعد ملاقات کرنے اور روبرو ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ اور ” زور“ ( بر وزن قمر) سینہ کے اوپر والے حصہ کے ٹیڑھا ہوجانے کے معنی میں ہے ۔ اور چونکہ جھوٹ ایک قسم کا حق سے انحراف ہے ، اس لیے اس پر ” زور“ ( بر وزن نور) کا اطلاق ہوتا ہے ۔

” مقابر“ ” مقبرة“ کی جمع ہے جو میت کی قبر کی جگہ کے معنی میں ہے اور یہاں قبروں کی زیارت کرنا یاتو ( بعض تفاسیر کے مطابق) موت سے کنایہ ہے یا شمارکرنے اور فخر و مباہات کرنے کے لیے قبروں کے پاس جانے کے معنی میں ہے (جو اس کی مشہور تفسیر کے مطابق ہے )۔

اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے دوسرا معنی زیادہ صحیح نظر آتاہے اور ا س کے شواہدمیں سے ایک امیر المومنین علی علیہ السلام کا وہ کلام ہے جو اس سلسلہ میں نہج البلاغہ میں آیا ہے ، جو آپ نے ” الھاکم التکاثر حتیٰ زرتم المقابر“ کے بعد فرمایاہے :

( یا له مراماً ماابعده؟ وزراً ما اغفله؟ و خطراً ما افظعه ؟ لقد استخلوا ،منهم ای مدّ وتنا و شوهم من مکان بعید افبمصارع اٰبائهم یفخرون؟ ام بعد ید الهلکی یتکاثرون؟ یر تجعون منهم اجساداً خوت، و حرکات سکنت، ولایکونوعبراً احق من ان یکونوا مفتخراً ) !“:

” تعجب ہے وہ مقصد سے کتنے زیادہ دور ہیں اور کیسے غافل زیارت کر نے والے ہیں ؟ اور کیسا موہوم اور رسوا کرنے والا افتخار ہے ؟ ایسے افراد کی بوسیدہ ہڈیوں کی یاد میں بڑے ہوئے ہیں کو سالہا سال سے مٹی ہوچکے ہیں اور وہ یاد بھی کیسی؟ اتنے دور دراز کے فاصلہ پر ایسے لوگوں کی یاد میں پڑے ہیں جو ان کی حالت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔ کیا وہ اپنے آباو اجداد کی نابودی کی جگہ پر فخر کرتے ہیں یا اپنے مردوں او رمعدود مین کی تعدا کو شمار کرکے خو د کو بہت زیادہ سمجھتے ہیں وہ ایسے جسموں کی باز گشت کے خواہاں ہیں جن کا تارد پودر بکھر چکا ہے اور جن کی حرکتیں ختم ہو چکی ہیں ، یہ بوسیدہ جسم اگر عبرت کا باعث ہوں تو وہ اس سے زیادہ سزاوار ہیں کہ جب موجبِ افتخار ہوں “(۳)

یہ خطبہ جس کے صرف ایک حصہ کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اس قدر ہلادینے والا گویا و صریح ہے کہ ” ابن ابی الحدید معتزلی“ کہتا ہے کہ : میں اس ذات کی قسم کھا تا ہوں جس کی تمام امتیں قسم کھاتی ہیں کہ میں نے پچھلے پچاس سال سے لے کر آج تک اس خطبہ کو ایک ہزار بار پڑھا ہے ، اور ہر بار میرے دل میں ایک نیا لرزہ و خوف اور ایک نئی پند و نصیحت پیدا ہوئی ہے ، اور اس نے میری روح کے اندر ایک شدید اثر چھوڑاہے او رمیرے اعضاء و جوارح لرزنے لگے اور کبھی ایسا نہیں ہوا ، کہ میں اس میں غور و فکر کروں اور اس حال میں اپنے خاندان ، عزیزو ں اور دوستوں کی موت کو یاد نہ کروں ، اور ٹھیک میرے سامنے یہ بات مجسم ہو جاتی تھی کہ میں وحی ہوں جس کی امام نے وضاحت کی ہے ۔

اس سلسلے میں کتنے ہی واعظوں ، خطباء، سخن وروں اور فصیح افراد نے گفتگو کی ہے، اور میں نے انہیں کان لگا کر سنا ہے اور ان کی باتوں میں غور و فکر کیا ہے ، کسیی ایک میں بھی میں نے کلامِ امام والی تاثیر نہیں پائی ۔

یہ تاثیر جو ان کا کلام میرے دل میں چھوڑتا ہے ، یا تو اس کا سر چشمہ اس کا وہ ایمان ہے جو اس کاکہنے والارکھتاہے ، یا اس کے یقین و اخلاص والی نیت اس بات کا سبب بن گئی ہے کہ وہ اس طرح ارواح میں نفوذ کرے اور دلوں میں جاگزیں ہو جائے۔(۴)

” ابن ابی الحدید“ اپنی گفتگو کے ایک اور حصہ میں کہتا ہے :

ینبغی لو اجتمع فصحاء العرب قاطبةفی مجلس و تلی علیهم یسجدوا له ! “:

” یہ خطبہ اس لائق ہے کہ ، اگر فصحائے عرب سب کے سب کسی مجلس میں جمع ہوں اور یہ خطبہ ان کے سامنے پڑھا جائے، تو وہ اس کے سامنے سجدہ کریں “۔

اور اسی مقام پر امیر المومنین علی علیہ السلام کی فصاحت کے بارے میں معاویہ کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ کہتا ہے:

و الله ما سنّ الفصاحة لقریش غیره

” خدا کی قسم قریش کے لیے علی کے سوا کسی نے فصاحت و بلاغت کی بنیاد نہیں رکھی۔

بعد والی آیت میں ان لوگوں کو اس بات کے ساتھ سختی سے تہدید کرتے ہوئے فرماتا ہے :” ایسا نہیں ہے جیسا کہ تم گمان کرتے ہو، اور تم اس کے ذیعے ایک دوسرے پر فخر و مباہات کرتے ہو۔ تم عنقریب اس موہوم تفاخر کا نتیجہ دیکھ لوگے“۔( کلّا سوف تعلمون ) ۔

پھر دوبارہ مزید تاکید کے لیے کہتاہے :” پھربھی اس طرح نہیں ہے جس طرح تم خیال کرتے ہو۔ عنقریب تم جا ن لو گے“۔( ثم کلّا سوف تعلمون ) ۔

مفسرین کی ایک جماعت نے ان دونوں آیتوں کو ایک ہی مطلب کی تکرار اور تاکید سمجھا ہے اور یہ دونوں ہی سر بستہ طور پر ان عذابوں کی خبر دیتی ہےں جو ان متفاخر مستکبرین کے انتظار میں ہے ۔

جب کہ بعض دوسروں نے پہلی آیت کو عذاب قبر اور عذاب برزخ کی طرف اشارہ سمجھا ہے ، جس سے انسان کی موت کے بعد روبرو ہوگا اور دوسری کو عذاب قیامت کی طرف ۔

ایک اور حدیث میں امیر المومنین علی علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا:

مازلنا نشک فی عذاب القبرحتیٰ نزلت الهاکم التکاثر، الیٰ قوله کلّا سوف تعلمون، یرید فی القبر، ثم کلا سوف تعلمون بعد البعث

” ہم میں سے ایک گروہ ہمیشہ عذاب قبر کے بارے میں شک کیا کرتا تھا یہاں تک کہ سورہ ”( الهاکم التکاثر ) “ نازل ہوئی ، یہاں تک کہ فرماتا ہے : ” کلا سوف تعلمون “ اس سے مراد عذاب قبر ہے ۔ اس کے بعد فرماتا ہے : ثم کلا سوف تعلمون “ اس سے مراد قیامت کا عذاب ہے “۔(۵)

تفسیر کبیر فخر رازی میں یہ مطلب علی علیہ السلام کے ایک صحابی” زربن جیشن“ سے نقل ہوا ہے ،جو کہتا ہے : ” ہم عذابِ قبرکے بارے میں شک کیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ ہم نے علی علیہ السلام سے سنا کہ آپ فرماتے ہیں :”یہ آیت عذابِ قبر پر دلیل ہے“۔(۶)

اس کے بعد مزید کہتا ہے : ” ایسا نہیں ہے جیساکہ تم ایک دوسرے پر فخر کرنے والے خیال کرتے ہو۔ اگر تمہارا آخرت پر ایمان ہوتااور علم الیقین کے ساتھ جان لیتے ، تو ہر گز ایسا کام نہ کرتے اور ان باطل مسائل پر فخر و مباھات کرنے سے باز آتے۔( کلا لو تعلمون علم االیقین ) (۷)

پھر دوبارہ تاکید اور مزیدڈرانے کے لیے اضافہ کرتا ہے : تم یقینی طو رپر جہنم کو دیکھو گے“۔( لترون الجحیم ) ۔

”پھر اس میں داخل ہو کر عین الیقین کے ساتھ اس کا مشاہدہ کرو گے“۔( ثم لتر ون ها عین الیقین ) ۔

” پھر اس دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا“۔( ثم لتسئن یومئذ عن النعیم ) ۔

اس دن تمہیں اس بات کی وضاحت کرنی پڑے گی کہ تم نے ان خدا داد نعمتوں کو کس طریقہ سے صرف کیا ہے ؟ اور ان سے تم نے خدا کی اطاعت کے لیے مددلی ہے یا اس کے معصیت کے لیے ، یا ان نعمتوں کو ضائع کرکے ہر گز ا ن کا حق ادا نہیں کیا ہے ؟

____________________

۱۔ فارسی کے روز مرہ کے استعمالات میں ” تکاثر“ دولت جمع کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، حالانکہ یہ معنی لغت کی اصل کے اعتبار سے نہیں ہے ، لیکن بعض روایات میں جن کی طرف اشارہ کریں گے، اس قسم کا استعمال ہوا ہے ۔

۲-«نهج البلاغه»، خطبه ۲۲۱.

۳۔۔ نہج البلاغہ خطبہ ۲۲۱۔

۴۔ ” شرح نہج البلاغہ“ ابن ابی الحدید“ جلد۱۱ ص ۱۵۳۔

۵۔ ” مجمع البیان“ جلد ۱۰ ص ۳۴۔

۶۔ ” تفسیر فخر رازی“ جلد ۲۲ ص ۷۲۔

۷۔ بعض کا نظر یہ یہ ہے کہ ایسے موقعوں پر لفظ” کلا“ تاکید کے لیے ہوتا ہے اور ”حقاً“کے معنی میں ہوتا ہے ، یہ بات طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ” العرب تو کد بکلّا و حقّاً“ عرب لفظ کلا اور حقا سے تاکید کرتے ہیں ۔


۱ ۔ تفاخرکا سر چشمہ

اوپر والی آیات سے معلوم ہوتاہے کہ تفاخر او رایک دوسرے پر فخر و مباھات کرنے کے عوامل اصل میں ایک ، وہی خدائی جزاء و سزا کے بارے میں جہالت و نادانی او رمعاد کے بارے میں ایمان کا نہ ہونا ہے

اس کے علاوہ انسان کا اپنی پیدا ئش کے آغاز سے لے کر انجام تک ہی کمزوریوں اور مصیبتوں سے بے خبر رہنا بھی کبر و غرور او رتفاخر کے عوامل میں سے ایک عامل ہے ۔ اسی بناء پر قرآن مجید اس تفاخر و تکا ثر کو توڑنے کے لیے گزشتہ اقوال کی سر گزشت کو مختلف آیات میں بیان کرتا ہے کہ یہ قومیں اتنے امکانات اور فراوان قدرت رکھنے کے باوجود اتنے سادہ عام قسم کے وسائل کے ذیعے کس طرح سے نابود ہو گئیں ۔

ہواو ں کے چلنے سے آسمانی بجلی( صاعقہ) کے کوند نے سے ، زمین کے ایک زلزلہ سے ، حد سے زیادہ بارش کے برسنے سے ، خلاصہ یہ ہے کہ پانی ، ہوا اور مٹی سے او ربعض اوقات ” سجیل“ (کنکریوں ) اور چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ذریعے نابود ہو گئے۔

ان حالات میں یہ سب تفاخر و غرور کس لیے ہے ؟

اس بات کے لیے دوسرا عامل وہی ضعف و حقارت کا احساس ہے جو ناکامیوں اور شکستوں سے پیدا ہوتا ہے کہ کچھ افراد اپنی شکستوں کی پر دہ پوشی کے لیے تفاخر ومباھات کی پناہ لیتے ہیں ۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے :

مارجل تکبّر او تجبّر الا لذته وجد ها فی نفسه

” کو ئی شخص تکبر اور فخر و مباھات نہیں کرتا مگر اس ذلت کی وجہ سے جسے وہ اپنے نفس کے ا ندر پاتا ہے “۔(۱)

لہٰذا جب وہ یہ احساس کرتا ہے کہ وہ حد کمال کو پہنچ گیاہے ، تو پھر وہ تفاخر کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتا۔

ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے :

ثلاثة من عمل الجاهلیة، الفخر بالانساب، و الطعن فی الاحساب و الاستسقاءُ بالانواء

”تین چیزیں ایسی ہےں جو زمانہ جاہلیت کے عمل میں سے ہیں ، نسب پرفخر کرنا ، لوگوں کی شخصیت اور خاندانی شرافت میں طعن کرنا ستاروں کے ذریعے بارش طلب کرنا(۲)

ایک اور حدیث میں امیر المومنین علیہ السلام سے آیا ہے :

اهلک الناس اثنان: خوف الفقر، و طلب الفخر “دو چیزوں نے لوگوں کو ہلاک کیا : فقر و فاقہ کا خوف( جو انسان کو ہر طریقہ اور ہر ذریعہ سے مال جمع کرنے پر ابھارتا ہے )اور ایک دوسرے پر فخر کرنا۔(۳)

اور حقیقتا ً حرص بخل، دنیا پرستی اور تباہ کرنے والی رقابتوں اور بہت سے اجتماعی مفاسد کے اہم ترین عوامل میں سے ایک یہی فقر و فاقہ کا بلا وجہ خوف او رافراد و قبائل او رامتوں کے درمیان ایک دوسرے پر فخر و مباہات کرنا اور برتری کا اظہار کرنا ہے اسی لیے ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیاہے کہ آپ نے فرمایا:

ما اخشی علیکم الفقر، ولکن اخشی علیکم التکاثر “ ” میں تم پر فقر و فاقہ سے نہیں ڈرتا ، لیکن میں تمہارے تکاثر و تفاخر سے ڈرتا ہوں “(۴)

” تکا ثر“ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی تذکرہ کیا ہے اصل میں تفاخر کے معنی میں ہے ، لیکن بعض اوقات یہ زیادہ طلب اور مال جمع کرنے کے معنی میں بھی آیاہے چنانچہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیاہے :

التکاثر، ( فی ) الاموال جمعها من غیر حقها، و منها من حقها، و شدّها فی الاوعیة

” تکاثر، غیر شر عی طریقہ سے مال جمع کرنا ، اور اس کا حق ادا نہ کرنا اور اسے صندوقوں اور خزانوں میں جمع کرنا۔(۵)

ہم اس وسیع بحث کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک پر معنی حدیث پر ختم کرتے ہیں ، جو آپ نے ” الھاکم التکاثر“کی تفسیر میں بیان فرمائی ہے :

یقول ابن اٰدم مالی مالی ، ومالک من مالک الامااکلت فافنیت او لبست فابلیت او تصدقت فامضیت ۔

” انسان کہتا ہے : میرا مال ، میرا مال ، حالانکہ تیرا مال تو صرف وہ غذا ہے جو تو کھاتا ہے ، وہ لباس جو تُو پہنتا ہے اور وہ صدقات ہیں جو تو راہ خدا میں دیتا ہے“۔(۶)

اور یہ ایک بہت ہی عمدہ نکتہ ہے کہ اس فراوان مال میں سے ہر شخص کا حصہ ، جسے وہ جمع کرتا ہے ، اور اس کے حلال و حرام ہونے کے بارے میں کبھی تھوڑی سی دیر کے لیے بھی غور و فکر نہیں کرتا ، اس تھوڑے سے کھانے پینے اور راہ خدا میں خرچ کرنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے ، او رہم جانتے ہیں کہ وہ جو کچھ اپنی ذات پر خرچ کرتا ہے وہ بہت ہی کم ، حقیر اور نہ ہونے کے برابرہے ۔ اور کیا ہی اچھا ہو کہ وہ راہ خدا میں خرچ کرنے میں اپنا حصہ زیادہ کرے ۔

____________________

۱” اصول کافی“ جلد ۲ ص ۲۳۶ باب الکبر حدیث ۱۷۔

۲۔” بحار الانوار“جلد ۷۳ ص ۲۹۱ ۔

۳۔”بحار الانوار“ جلد ۷۳ ص ۲۹۰ حدیث ۱۲۔

۴۔ ” الدر المنثور“ جلد ۶ ص ۳۸۷۔

۵۔ ” نو ر الثقلین “ جلد ۵ ص۶۶۲ حدیث۸

۶۔ ” صحیح مسلم “ ( مطابق نقل مجمع البیان جلد ۱۰ ص ۵۳۴)


۲ ۔ یقین اور اس کے مراحل

” یقین “ ”شک “ کا نقطہ مقابل ہے ، جیسا کہ علم ، جہالت کا نقطہ مقابل ہے ، او رکسی چیز کے واضح اور ثابت ہونے کے معنی میں آیاہے ، اور اختیار و روایات سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے اس کے مطابق ایمان کے اعلیٰ مر حلہ کو یقین کہا جاتا ہے ۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: ” ایمان اسلام سے ایک درجہ بالاتر ہے ، اور تقویٰ ایمان سے ایک درجہ بالاتر ہے ، اور یقین تقویٰ سے ایک درجہ بالاتر ہے ۔

اس کے بعد آپ نے فرما یا: ”ولم یقسم بین الناس شیء اقل من الیقین “ ” یقین کی حقیقت اللہ پر توکل کرنا، اللہ کی پاک ذات کے سامنے سر تسلیم خم کرنا، قضائے الٰہی پر راضی رہنا اور اپنے تمام کاموں کا خدا کے سپرد کردینا ہے ۔(۱)

مقام تقویٰ و ایمان و اسلام سے مقام ِ یقین کی بر تری ایک ایسی چیز ہے جس پر دوسری روایات میں بھی تاکید ہو ئی ہے ۔(۲)

ایک دوسری حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے :

من صحة یقین المرأ المسلم ان لایرضی الناس بسخط الله ، ولا یلومهم علی مالم یو ته الله ان الله بعد له و قسطه جعل الراحة فی الیقین و الرضا و جعل الهم و الحزن فی الشک و السخط :

” مرد مسلمان کے یقین کے صحیح ہونے کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ خدا کو ناراض کرکے لوگوں کو راضی نہ کرے اور جو کچھ خدا نے اسے نہیں دیا اس پر لوگوں کو ملامت نہ کرے( انہیں اپنی محرومیوں کا ذمہ دار نہ ٹھہرائے) خدا نے اپنے عدل و انصاف کی بناء پر راحت و آرام ، یقین و رضا میں رکھا ہے ، اور غم و اندورکو شک اور راضی میں قرار دیا ہے “۔ !

ان تعبیرات اور دوسری تعبیروں سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ جب انسان یقین کے مقام تک پہنچ جاتا ہے تو ایک خاص قسم کا سکون و آرام اس کے سارے دل و جان میں سرایت کرجاتا ہے ۔

لیکن اس کے باوجود یقین کے لیے کئی مراتب ہیں جن میں سرایت کرجاتا ہے ۔

لیکن اس کے باوجود یقین کے لیے کئی مراتب ہیں جن کی طرف اوپر والی آیات اور سورہ واقعہ کی آیہ ( انّ ھٰذا لھو حق الیقین ) میں اشار ہ ہوا ہے ، اور وہ تین مرحلہ ہیں ۔(۳)

۱ ۔ علم الیقین : یہ ہے کہ انسان مختلف دلائل سے کسی چیز پر ایمان لائے، اس شخص کے مانند جو دھوئیں کو دیکھ کر آگ کے ہونے پر ایمان لے آتا ہے ۔

۲ ۔ عین الیقین :اس مقام پر حاصل ہو تا ہے جب انسان مشاہدہ کے مرحلہ تک پہنچ جاتا ہے ، او راپنی آنکھ سے مثلاکسی آگ کو دیکھ لے۔

۳ ۔ حق الیقین : اور وہ اس شخص کے مانند ہے جو آگ میں داخل ہوجائے ، اور اس کے سوزش اور حرارت کو لمس کرے، اور یہ یقین کا بالاترین مرحلہ ہے ۔

محقق طوسی اپنی ایک گفتگو میں کہتے ہیں : ”یقین “ وہی پختہ، اور ثابت اعتقاد ہے ، جس کا زوال ممکن نہیں ہے اور حقیقت میں وہ دو علموں سے مرکب ہے ۔ ایک معلوم کے متعلق علم ، اور دوسرا یہ علم کہ اس علم کے خلاف محال ہے ، اور اس کے کئی مراتب ہیں ۔ ” علم الیقین “ و ” عین الیقین “ و ” حق الیقین “(۴)

حقیقت میں پہلا مرحلہ عمومی پہلو رکھتا ہے اور دوسرا مرحلہ پر ہیز گار وں کے لیے ہے اور تیسرا مرحلہ خواص اور مقربین کے ساتھ مخصوص ہے ۔

اسی سے ایک حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں صحابہ نے عرض کیا : ہم نے سنا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے بعض اصحاب پانی پر چلتے تھے ؟!آپ نے فرمایا: ”لو کان یقینه اشد من ذالک لمشی علی الهواء

” اگر اس کا یقین اس سے زیادہ پختہ اس سے زیادہ اور محکم ہوتا تو وہ ہوا پر چلتا “ !

مرحوم ” علامہ طباطبائی“ اس حدیث کو ذکر نے کے بعد مزید کہتے ہیں : تمام چیزیں خدا وند سبحان پر یقین اور عالم تکوین کے اسباب کی تاثیرکے استقلال کو محو کرنے کے محور کے گرد گھومتی ہیں ، اس بناء پر انسان کا قدرت مطلقہ الٰہیہ پر اعتقاد و ایمان جتنا زیادہ ہوگا ، اشیاء عالم اسی نسبت سے اس کے سامنے مطیع و منقاد ہو جائیں گی۔(۵)

اور عالم ِ آفرینش میں یقین اور خارق العادت تصرف کے رابطہ کی یہی رمز ہے ۔

____________________

۱” بحا رالانوار “ جلد۷۰ ص ۱۳۸ حدیث۔

۲۔ ” بحا رالانوار “ جلد ۷۰ ص ۱۳۵ ۔ ۱۳۷۔

۳۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۰ ص ۱۴۳۔

۴۔ ” مطابق نقل بحار الانوار“ جلد ۷۰ ص ۱۴۳۔

۵۔ ” المیزان “ جلد ۶ ص ۲۰۰ ( سورہ مائدہ کی آیہ ۱۰۵ کے ذیل میں )


۳ ۔ سب لوگ دوزخ کا مشاہدہ کریں گے

” لترون الجحیم“ کے جملہ کی دو تفسیریں ہیں پہلی یہ کہ اس سے مراد آخرت میں دوزخ کا مشاہدہ کرنا ہے جو کفارکے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور یایہ تمام جن و انس کے لیے عام ہے ، کیونکہ قرآن کی بعض آیات کے مطابق سب کو ہی جہنم کے پاس سے گزرنا پڑے گا۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد اسی عالم دنیا میں شہود قلبی ہے ، اور اس صورت میں یہ جملہ قضیہ شرطیہ کا جواب ہے ، فرماتا ہے : ” اگر تم “ ” علم الیقین “ رکھتے ہوتے تو ” جہنم“ کو اسی عالم میں دل کی آنکھ سے مشاہدہ کرلیتے “ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بہشت و دوزخ اب بھی خلق شدہ موجود ہیں ، اور وجودِ خارجی رکھتی ہیں ۔

لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ پہلی تفسیر بعد والی آیات کے ساتھ ، جو روز قیامت کی بات کررہی ہیں ، زیادہ زیاہ مناسب ہے ، اس بناء پر یہ ایک قطعی اور غیر مشروط قضیہ ہے ۔

۴ ۔ قیامت میں کونسی نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا؟

اس سورہ کی آخری آیت میں آیا ہے کہ یقینی طور پر تم سب سے قیامت کے دن نعمتوں کے بارے میں با ز پرس ہو گی، بعض نے تو یہ کہاہے اس نعمت سے مراد” سلامتی“ ‘ اور ” فراغتِ خاطر‘ ‘ ہے ، اور بعض اسے ” تندرستی“ اور امن و امامن “ سمجھتے ہیں ، اور بعض نے تمام ہی نعمتوں کو اس آیت کا مشمول سمجھا ہے ۔

ایک حدیث میں امیر المو منین علی علیہ السلا م سے آیاہے : ”النعیم الرطب، و الماء البارد

” نعیم سے مراد تازہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی “۔

جب کہ ایک حدیث میں آیاہے کہ ” ابو حنیفہ“ نے ” امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے اس کے سوال کو اسی کی طرف پلٹا کر فرمایا: تیرے نظریہ کے مطابق نعیم سے مراد کیاہے “؟

اس نے عرض کیا : غذا ہے اور کھانا اور ٹھنڈا پانی ہے “۔ آپ نے فرمایا: اگرخدا قیامت کے دن تجھے اپنی بار گاہ میں اس لیے کھڑا کرے کہ وہ ہر اس لقمہ کا جو تونے کھایا ہے ، اور اور ہر اس گھونٹ کاجو تونے پیا ہے ، تجھ سے سوال کرے، پھر تو تجھے وہاں بہت زیادہ دیر تک ٹھہر نا پڑے گا“ ! اس نے عرض کیا : نعیم کیا ہے “؟

آپ نے فرمایا:” وہ ہم اہل بیت ہیں کہ خد انے ہمارے ہی ذریعے اپنے بندوں کو نعمت عطا کی ہے اور ان کے در میان اختلاف کے بعد الفت بخشی ہے ، ان کے دلوں کو ہماری وجہ سے آپس میں جوڑ دیا ہے اور انہیں ایک دوسرے کا بھائی بنایا جبکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن تھے ۔ اور ہمارے ہی ذریعے انہیں اسلام کی طرف ہدایت کی ہے “۔۔۔۔۔ ہاں ! نعیم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے اہل بیت ہی ہیں “۔(۱)

ان روایات کی تفسیر ، جو ظاہراً مختلف ہیں ، جو تمام مواہب الٰہی کو ، چاہے وہ معنوی ہوں جیسے دین ، ایمان ، اسلام و قرآن اور ولایت یا انواع و اقسام کی انفرادی و اجتماعی نعمتیں ہوں ، ان سب کو شامل ہے ۔

البتہ جو نعمتیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں ، مثلاً نعمتِ ” ایمان و ولایت“ تو ان کے بارے میں زیادہ سوال ہوگا کہ ان کا حق ادا ہوا ہے یانہیں ؟ اور ظاہر اً وہ روایات جو اس آیت کے مادی نعمتوں کے شمول کی نفی کرتی ہیں وہ اس معنی میں ہیں کہ تمہیں اہم تر مصادیق کو چھوڑ کر بہت چھوٹے مصادیق کی طرف نہیں جانا چاہیئے۔ اور حقیقت میں یہ لوگوں کو خدئی ا نعمتوں اور مواہب کے مراتب کے سلسلے میں ایک تنبیہ ہے کہ ان کے لیے ان سے بہت سخت قسم کی باز پرس ہو گی ۔

اور یہ کیسے ممکن ہے کہ ان نعمتوں کے بارے میں سوال نہ ہو حالانکہ یہ بہت ہی بڑے سر مائے ہیں جو نوع بشر کے اختیار میں دیے گئے ہیں ۔ اور انہیں ان میں سے ہر ایک کی بڑی باریکی کے ساتھ قدر دانی کرناچاہیئے اور ان کا شکر بجا لانا چاہئیے ۔ اور انہیں ان کے صحیح موارد میں صرف کرنا چاہئیے ۔

خدا وندا ! اپنی بے انتہا نعمتوں کو، خصوصاًایمان و ولایت کی نعمت کو ہمیشہ ہمیشہ ہم پر جاری رکھ۔

پر وردگارا ! ہمیں ان نعمتوں کے حق کی ادائیگی کی توفیق مرحمت فرما۔

بار لٰہا ! ہم پر ان عظیم نعمتوں میں اضافہ کرتا رہ ، اور انہیں ہر گز ہم سے سلب نہ کرنا۔

آمین یا رب العالمین

____________________

۱ ۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۵۳۵ ۔


سورہ و العصر

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا۔ اس میں ۳ آیات ہیں ۔

سورہ و العصر کے مطالب

مشہور یہ ہے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ہے اگر بعض نے مدنی ہونے کا احتمال بھی ظاہرکیاہے لیکن سورہ کی آیات کے چھوٹے چھوٹے مقاطع اور اس کا لب و لہجہ اس کے مکی ہو نے کا شاہد ہے ۔

بہرحال اس سورہ کی جامعیت اس حد تک ہے کہ بعض مفسرین کے قول کے مطابق قرآن کے تمام علوم و مقاصد کا خلاصہ اس سورہ میں موجود ہے ۔ دوسرے لفظوں میں اس سورہ نے مختصر ہونے کے باوجود انسا کی سعادت و خوش بختی کا ایک مکمل اور جامع پروگرام پیش کیا ہے ۔

سب سے پہلے عصرکی معنی خیز قسم سے شروع ہوتا ہے ، جس کی تفسیر عنقریب پیش کی جائے گی ، اس کے بعد تمام انسانوں کے زیاں کار اور خسارے میں ہونے کی گفتگو ہے جو تدریجی زندگی کی فطرت میں پوشیدہ ہے ۔ اسکے بعد صرف ایک گروہ کو اس اصل کلی سے جدا کرتا ہے ، جو ذیل کی چار خصوصیات والے پروگرام کے حامل ہیں :

۱ ۔ ایمان ۔ ۲ ۔ عمل صالح ۔ ۳ ۔ایک دوسر ے کے حق کی وصیت کے نے والے ۔

۴ ۔ ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کرنے والے ، اور حقیقتاًیہ چار اصول اسلام کی اعتقادی و عملی ، اور انفرادی و اجتماعی پروگراموں کو اپنے اندر لیے ہوئے ہیں ۔

اس سورہ کی فضیلت

اس سورہ کی فضیلت کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث میں آیا ہے :

من قرأ“ و العصر “ فی نوافله بعثه الله یوم القیامة مشروفاً وجهه ضاحکاً سنّة قریرة عینه حتیٰ ید خل الجنة

” جو شخص سورہ ”و العصر“ کو نافلہ نمازوں میں پڑھے گا، خدا اسے قیامت کے دن اس حالت میں اٹھائے گا کہ اس کا چہرہ نورانی ، لبخنداں ‘ اور اس کی آنکھ خدا کی نعمتوں سے روشن اورٹھنڈی ہوگی یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو گا۔ ۱

اور یہ تو آپ کو معلوم ہی ہو گاکہ یہ سب اعزاز و افتخار اور سرور و شادمانی اس شخص کے لیے ہے ، جو اپنی زندگی میں ان چار اصولوں پر عمل کرے گا، نہ کہ صرف پڑھنے پر ہی قناعت کرے ۔

____________________

۱۔ ” تفسیر مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۴۵۔


آیات ۱،۲،۳،،

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( و العصر ) ۲ ۔( انّ الانسان لفی خسر ) ۔ ۳ ۔( الا الذین اٰمنوا و عملوا ال صالحاتِ و تو اصوبالحق و تواصوا بالصبر ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن الرحیم

۱ ۔ قسم ہے عصر کی ۔ ۲ ۔ کہ سب انسان خسارے میں ہیں ۔ ۳ ۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالح انجام دیئے ہیں ، ایک دوسرے کو حق کی وصیت و نصیحت کی اور ایک دوسرے کو صبر و استقامت کی وصیت کی ۔

نجات کی صرف ایک راہ

اس سورہ کی ابتداء میں ہم ایک نئی قسم سے روبرو ہورہے ہیں ، فرماتا ہے : ” عصر کی قسم “( و العصر ) ۔

” عصر “ کا لفظ اصل میں نچوڑ نے کے معنی میں ہے ، اس کے بعد اس کا وقت عصر پر اطلاق ہونے لگا کیونکہ اس میں زلزلہ کے پروگراموں کو لپیٹ کر مختصر کردیا جاتا ہے ۔

اس کے بعد یہ لفظ مطلق ” زمانہ “ اور تاریخ بشرکے دور یازمانے کے ایک حصہ ، جیسے ظہور اسلام اور پیغمبر اکرم کے قیام کے زمانے ، اور اسی قسم کے دوسرے زمانوں کے معنی میں استعمال ہواہے ، اسی لیے اس قسم کی تفسیر میں مفسرین نے بہت زیادہ احتمال دیے ہیں ۔

۱ ۔ بعض اس اسے اسی وقت ” عصر “ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ، اس قرینہ سے کہ قرآن کی بعض دوسری آیات میں دن کے آغاز کی قسم کھائی گئی ہے مثلاً: ”( والضحیٰ ) “( ضحیٰ آیہ ۱) یا ”( و الصبح اذااسفر ) “ ( مدثر۔ ۳۴)

یہ قسم اس اہمیت کی بناء پر ہے جو دن کے اس موقع کو حاصل ہے کیونکہ یہ وقت انسانوں کی حیات اور نظام زندگی کے خاتمے کا وقت ہوتا ہے ، دن کے کام اپنے انجام کو پہنچتے ہیں ، پرند و چرند اپنے اپنے آشیانوں اور ٹھکانوں کو لوٹتے ہیں ، سورج افق مغرب میں اپنا سر چھپالیتا ہے اور فضا بتدریج تاریک ہوتی چلی جاتی ہے ۔

یہ اختتام اور تغیر انسان کو خدا کی لایزال قدر ت کی طرف جو اس نظام پر حاکم ہے متوجہ کرتا ہے اور حقیقت میں یہ توحید کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور پروردگار کی آیتوں میں سے ایک آیت ہے جو قسم کے لائق ہے ۔

۲ ۔بعض دوسروں نے اسے تمام زمانے اور تاریخ بشریت کی طرف اشارہ سمجھا ہے ، جو در سہا ئے عبرت، ہلادینے والے حوادث اور بیدار کرنے والے واقعات سے پر ہے ، اور اسی بناء پر ایسی عظمت رکھتا ہے کہ خدا کی قسم کے لائق ہے ۔

۳ ۔ اور بعض نے زمانہ کے ایک خاص حصہ کو ، جیسے پیغمبر اکرم کے قیام کا زمانہ یا مہدی علیہ السلام کے قیام کا زمانہ ، جو تاریخ بشر میں خصوصیت اور مخصوص عظمت کا حامل ہے ، مراد لیا ہے اورقسم کو اسی کے بارے میں سمجھے ہیں ۔ ۱

۴ ۔ اور بعض اس لفظ کے لغوی ریشہ اور جڑ بنیاد کی طرف بھی خصوصی توجہ دی ہے اور اس قسم کو ان مشکلات اور دشواریوں کے بارے میں سمجھتے ہیں جو انسانوں کی طویل زندگی میں رونما ہوتے ہیں ، انہیں خوابِ غفلت سے بیدار کرتے ہیں ، انہیں خدا ئے عظیم کی یاد دلاتے ہیں اور روحِ استقامت کی پرورش کرتے ہیں ۔

۵ ۔ بعض اسے کامل انسانوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ، جو عالم ہستی اور جہانِ خلقت کا نچوڑ ہیں ۔

۶ ۔ اور آخر میں بعض اسے ” نماز عصر“ کے بارے میں سمجھتے ہیں ، اسی خصوصی اہمیت کی بناء پر جو اسے باقی نمازوں میں حاصل ہے کیونکہ وہ ” صلاة وسطی“ جس کے لیے قرآن میں خاص قسم کی تاکید کی گئی ہے نماز عصر کو سمجھتے ہیں ۔

اگر چہ اوپر والی تفاسیر آپس میں ایک دوسرے سے کوئی تضاد نہیں رکھتیں ، اور ممکن ہے کہ وہ سب ہی آیت کے معنی میں جمع ہوں ، اور ان تمام اہم امور کی قسم کھائی ہو ، لیکن ان سب میں ، سب سے زیادہ مناسب ، عصر کو زمانہ اور تاریخ بشرکے معنی لینا ہی نظر آتا ہے ۔

کیونکہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ قرآن کی قسمیں ہمیشہ اس مطلب کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں جس کے لیے قسم کھائی گئی ہے اور مسلمہ طور سے انسانوں کی زندگی میں زیان و خسارہ ان کی عمر کے زمانے کے گزرنے کا نتیجہ ہے ، یا پیغمبر خاتم کے قیام کا زمانہ ، کیونکہ اس سورہ میں بیان کیے گئے چار اصولوں کا پروگرام اسی زمانہ میں نازل ہوا ہے ۔

جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے آیاتِ قرآنی کی عظمت اور اس کے مفاہیم کی وسعت اچھی طرح سے واضح ہو گئی ہے کہ ان میں سے ایک ہی لفظ کس حد تک پر معنی اور عمیق و گوناگوں تفاسیر کے لائق ہے ۔

بعد والی آیت میں اس چیز کی طرف اشارہ ہے جس کے لیے یہ اہم قسم کھائی گئی ہے ، فرماتا ہے :” یقینی طور پر تمام انسان خسارے میں ہیں “( انّ الانسان لفی خسر ) ۔

وہ اپنے وجودی سرمائے کو، خواہ چاہیں یانہ چاہیں ، کھوبیٹھے ہیں ، عمر کی گھڑیاں ، دن ، مہینے اور سال تیزی کے ساتھ گزرتے چلے جاتے ہیں ، معنوی اور مادی قوتیں تحلیل ہوجاتی ہیں اور طاقت و قدرت گھٹتی چلی جاتی ہیں ۔

ہاں ! انسان اس شخص کے مانند ہے جس کے پاس عظیم سرمایہ ہو اور اس کی مرضی اور خواہش کے بغیر اس سرمایہ کا ایک حصہ ہر روز اس سے لے لیتے ہوں ۔ یہ دنیا کی زندگی معین کا مزاج ہے ، ہمیشہ کم ہوتے چلے جانے والا مزاج، ایک دل میں حرکت کرنے کی ایک میں استعداد ہوتی ہے اور جب وہ استعداد اور طاقت ختم ہ وجاتی ہے تو دل خود بخود رک جاتا ہے ، حالانکہ اس میں کوئی عجیب ، بیماری یا علت نہیں ہوتی ، اور یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب کہ وہ کسی بیماری کی وجہ سے پہلے ہی فیل نہ ہو جائے۔ انسانی وجود کے باقی کار خانوں ، اور ا س کی مختلف استعدادوں کے سر مایوں کا بھی یہی حال ہے ۔

” خسر“ ( بر وزن عسر) اور خسران “‘ جیسا کہ ” راغب “ مفردات“ میں کہتا ہے : سرمایہ کے کم ہونے کے معنی میں ہے ۔

کبھی تو اس کی انسان کی طرف نسبت دی جاتی ہے اور یہ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی کو نقصان ہو گیا ، اور بعض اوقات خود عمل کی طرف نسبت دی جاتی ہے اور یہ کہتے ہیں کہ اس کی تجارت میں نقصان ہو گیا ۔ یہ لفظ عام طور پر خارجی سر مایوں مثلاً مال و مقام کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اور بعض اوقات اندرونی سر مایوں ، مثلاً صحت و سلامتی ، عقل و ایمان اور ثواب کے لیے استعمال ہوتا ہے ، اور یہ وہی چیز ہے جسے خدا وندعالم نے ” خسران مبین“ (واضح خسارہ) کے عنوان سے ذکر کیا ہے ، جیساکہ فرماتاہے :ان الخاسرین الذین خسروا انفسهم و اهلیهم یوم القیامة الاذالک هوالخسران المبین “واقعی زیاں کار لوگ تو وہ ہیں جو قیامت میں اپنے وجود اور اپنے گھروالوں کے وجود کا سرمایہ ہاتھ سے دے بیٹھیں گے۔ جان لو کہ خسران مبین ( واضح خسارہ) یہی ہے۔ ( زمر۔ ۱۵) ۔(۲)

فخر رازی اس آیات کی تفسیر میں ایک بات نقل کرتاہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گزشتہ بزرگوں میں سے ایک کہتے ہیں کہ اس سورہ کا معنی میں نے ایک برف پوش شخص سے سیکھا ہے جو پکار پکار کر کہہ رہا تھا: ار حموا من یذوب رأس مالہ ارحموا من یذوب رأس مالہ!: اس شخص پر رحم کرو جس کا سرمایہ پگھلا جا رہا ہے ، اس شخص پر رحم کرو جس کی پونجی پگھل رہی ہے ۔ میں نے اپنے آپ سے یہ کہا ہے معنی ان الانسان لفی خسرکا:اس پر زمانہ گزرتا چلا جا تا ہے اور اسی عمر ختم ہو جاتی ہے ، اور وہ کوئی ثواب حاصل نہیں کرتا ، اور وہ اس حال میں خسارے میں ہے ۔(۳)

بہر حال اسلام کی جہان بینی کے لحاظ سے دنیا ایک بازار، تجارت ہے ، جیسا کہ ایک حدیث میں امام ہادی علی بن محمد التقی علیہ السلام سے آیا ہے :

الدنیا سوق ربح فیها قوم و خسرا ٰخرون

” دنیا ایک بازار ہے جس میں ایک گروہ نے نفع کمایا اور دوسری جماعت خسارے میں رہی“۔(۴)

زیر بحث آیت کہتی ہے کہ اس عظیم بازار میں سبھی لوگ خسارے میں رہتے ہیں ، سوائے ایک گروہ کے جس کا پروگرام بعد والی آیت میں بیان ہوا ہے ۔

ہاں اس عظیم خسارے اور قہری اور جبری نقصان سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے ، صرف ایک ہی راہ ہے جس کی طرف اس سورہ کی آخری آیت میں اشارہ ہوا ہے ، فرماتا ہے : ” سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے اعمال صالح انجام دیے ہیں ، اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت اور صبر و استقامت کی نصیحت کرتے ہیں “( الا الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات و تواصوا بالحق و تواصوا ابالصبر ) ۔

دوسرے لفظوں میں جو چیز اس عظیم نقصان کو روک سکتی ہے اور اسے عظیم نفع میں تبدیل کرسکتی ہے ، یہ ہے کہ اس سرمائے کو ہاتھ سے روک دینے کے مقابلہ میں زیادہ گراں بہا اور قیمتی سرمایہ حاصل کرے، جس سے نہ صرف اس سرمایہ کی خالی جگہ پر ہو گی بلکہ اس سے سینکڑوں اور ہزاروں گنا زیادہ اور بہتر ہوجائے گی ۔

ہر سانس جو انسان لیتا ہے اس سے موت کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے ، جیسا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام اپنی اس نورانی عبارت میں فرماتے ہیں : ” نفس المرء خطاہ الیٰ اجلہ“ ” انسان کا سانس موت کی طرف اس کا ایک قدم ہے “ ۵

اس بناء پر انسان کے دل کی ہر حرکت اسے اختتام عمر سے ایک قدم اور زیادہ نزدیک کردیتی ہے۔ اس طرح سے اس قطعی نقصان کے مقابلہ میں کوئی ایسا کام کرنا چاہئیے جس سے خالی جگہ پر ہوجائے۔

ایک گروہ عمر اور زندگی کا نفیس سرمایہ ہاتھ سے دے دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں تھوڑا یا زیادہ مال ، معمولی گھر یا خوبصورت محل فراہم کرلیتا ہے ۔

ایک گروہ اس تمام سرمائے کو ، مقام و منصب تک پہچنے کے لیے ضائع کردیتا ہے ۔

اور کچھ لوگ اسے عیش و نوش اور جلدی گزرجانے والی لذتوں میں صرف کردیتے ہیں ۔

مسلمہ طور سے ان میں سے کوئی سی چیز بھی اس عظیم سر مایہ کی قیمت نہیں ہوسکتی ، اس کی قیمت صرف اور صرف خدا کی رضا اور اس مقام کاقرب ہے ۔

یا جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایاہے :

انه لیس لانفسکم ثمن الاالجنة فلاتبیعوها الا بها

”تمہار ے وجود کی قیمت جنت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس کو اس سے کمتر کسی چیز کے بدلے میں بیچ دو“ ۶

یاجیسا کہ ماہ رجب کی دعا میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیاہے :

خاب الوافدون علی غیرک و خسر المتعرضون الالک

جو تیرے غیر کے پاس جائیں گے وہ مایوس ہو جائیں گے اور تیرے سوا دوسروں کی طرف رجوع کرنے والے خسارے میں رہیں گے ۔

اور قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ” یوم التغابن“ بلا وجہ نہیں ہے جیسا کہ سورہ تغابن کی آیہ ۹ میں آیاہے :” ذالک یوم التغابن“اس دن پتہ چل جائے کہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں “۔

حسن مطلب اور لطف مسئلہ یہ ہے کہ ایک طرف تو انسانی وجود کے سر مایوں کا خرید ار خدا وندِ عظیم ہے :”( ان الله اشتری من المومنین ) “‘ ( توبہ۔ ۱۱۱)

دوسری طرف وہ تھوڑے سے سرمایوں کو بھی خرید لیتا ہے :( فمن یعمل مثقال ذرة خیراً یره ) ( زلزال ۔ ۷)

اور تیسری طرف اس کے مقابلہ میں وہ بہت زیادہ قیمت لگاتا ہے ۔ کبھی دس گناہ کبھی سات سو گنا اور کبھی اس سے بھی زیادہ ۔ ” فی کل سنبلة مائة حبة و اللہ یضاعف لمن یشاء“ ( بقرہ۔ ۲۶۱)

اور جیسا کہ دعا میں وارد ہوا ہے ، یا من یقبل الیسیر و یعفو عن الکثیر:” اے وہ خدا جو تھوڑے سے حسنات اور نیکیوں کو بھی قبول کرلیتا ہے اور بہت زیادہ گناہوں کو بخش دیتا ہے “۔

اور چوتھی طرف سے ، باوجود اس کے کہ یہ تمام سرمائے خود اسی انسان کو دیے جاتے ہیں ، وہ اس قدر بزرگوار ہے کہ پلٹ کر انہیں کو زیادہ گراں قیمت پر خرید لیتا ہے ۔

____________________

۱۔ ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ و العصر ان الانسان لفی خسر کی تفسیر میں فرمایا: العصر عصر خروج القائم عصر سے مراد حضرت مہدی ( سلام اللہ علیہ ) کے قیام کا زمانہ ہے ۔ ( نور الثقلین جلد ۵۔ ۶۶۶ حدیث ۵)

۲۔ ” مفرداتِ راغب“ مادہ ”خسر“

۳۔ ” تفسیر فخر رازی“ جلد ۳۲ ص۸۵۔

۴۔ ’ تحف العقول “ ص ۳۶۱( کلمات امام ہادی علیہ السلام )

۵۔ ” نہج البلاغہ“ کلمات قصار جملہ ۷۴۔

۶۔ ” نہج البلاغہ“ کلمات قصار جملہ ۴۵۶۔


خوش بختی کا چار نکاتی پروگرام

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن نے اس عظیم خسارت کے لیے ایک جامع پروگرام پیش کیا ہے ، جس میں چار اصولوں پرتکیہ ہوا ہے ۔

پہلی اصل: اس پروگرام میں مسئلہ ” ایمان “ ہے جو انسان کی تمام کارکردگیوں کی بنیاد ہے ، کیونکہ انسان کی عملی جد و جہد اس کی فکری و اعتقادی بنیادوں سے سر چشمہ حاصل کرتی ہے ۔ وہ حیوانات کے افعال کی طرح نہیں ہوتیں جن کی حرکات فطری و طبعی اسباب کی بناء پر ہوتی ہیں ۔

دوسرے لفظوں میں انسان کے اعمال اس کے عقائد و افکار کی ایک مجسم صورت ہوتے ہیں ، اور اسی بناء پر خدا کے تمام انبیاء ہر چیز سے پہلے امتوں کی اعتقادی بنیادوں کی اصلاح کیا کرتے تھے ۔ اور وہ خصوصیت کے ساتھ شرک سے جو انواع و اقسام کے رذائیل ، بد بختیوں اور پراگندگیوں کا سر چشمہ ہے مبارزہ کرتے تھے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ” ایمان “ یہاں مطلق طور پر ذکر ہوا ہے تاکہ ایمان کے تمام کے تمام پہلوو ں کو شامل کیا جائے یعنی خدا اور اس کی صفات پر ایمان سے لے کر قیامت و حساب و کتاب ، جزا و سزا ، کتب آسمانی ، خدا کے انبیاء اور ان کے اوصیا ء کے ایمان تک ۔

دوسری اصل : میں ایمان کے بار آور اور پر ثمر درخت کے پھل اور نتیجہ کو پیش کرتے ہوئے ”اعمال صالح“ کی بات کرتا ے ۔ کیسی وسیع اور مطالب سے پر تعبیر ہے ، ہاں !” صالحات“ وہی سار ے کے سارے شائستہ اعمال ، نہ صرف عبادات ، نہ صرف انفاق فی سبیل اللہ ، نہ صرف راہِ خدا میں جہاد، نہ صرف علم و دانش کا حصول ، بلکہ ہر وہ شائستہ کام جو تمام میدانوں میں نفوس کے تکامل و ارتقاء ، اخلاق کی پرورش ، قرب الیٰ اللہ اور انسانی معاشرے کی پیش رفت کا وسیلہ ہو۔

یہ تعبیر چھوٹے سے چھوٹے کاموں سے لے کر ۔ جیسے لوگوں کے راستہ سے ایک رکاوٹ ڈالنے والے پتھر کو ہٹا نا ۔ کروڑوں انسانوں کو گمراہی و ضلالت سے نجات دلانے اور دین حق و عدالت کی سارے جہان میں نشرو اشاعت کرنے تک کو شامل ہے ۔

اور اگر ایک حدیث میں ” اعمال صالح“ کی امام جعفر صادق علیہ السلام ، ” مواسات اور دینی بھائیوں سے مساوات کرنے “ سے تفسیر ہوئی ہے ، تو وہ واضح و روشن مصداق کے قبیل سے ہے ۔

ممکن ہے بعض اوقات اعمال صالح بعض غیر مومن انسانوں سے بھی سر زد ہوں ، لیکن مسلمہ طور پر وہ مضبوط و پائیدار اور وسعت رکھنے والے نہیں ہوتے، کیونکہ وہ خدا ئی عمیق اور گہرے اسباب سے سر چشمہ حاصل نہیں کرتے۔ لہٰذا ان میں جامعیت نہیں ہوتی۔

قرآن نے یہاں ” صالحات“ کو خصوصیت کے ساتھ جمع کی صورت میں بیان کیا ہے ، ایسی جمع ہو جو ” الف و لام“کے ساتھ ہے ، اور عموم کے معنی رکھتی ہے ۔ اور یہ اس حقیقت کو بیان کررہی ہے کہ ایمان کے بعد اس طبعی و قہری خسارے سے روکنے والا راستہ تمام اعمال صالح کو انجام دیتا ہے نہ صرف ایک یاچند اعمال صالح پر قناعت کرنا، اور واقعاً اگر ایمان عمیق اور گہرے طور پر انسان کے دل میں جاگزیں ہو جائے تو وہ ایسے ہی آثار ظاہر کیا کرتا ہے ۔

ایمان کوئی فکر اور اعتقاد نہیں ہوتا ، جو روح کے گوشوں میں تو موجود ہو لیکن اس میں کسی قسم کی تاثیر موجود نہ ہو ۔ ایمان تو انسان کے سارے وجود کو اپنے رنگ میں رنگ دیتا ہے ۔

ایمان اس پر نور چراغ کے مانند ہے جو کسی کمرے کے اندر روشن ہے ، جو نہ صرف اس کمرے کی فضا کو روشن کرتا ہے بلکہ اس کی روشنی اس کمرے کے تمام دریچوں سے باہر نکلتی ہے اور جو شخص اس کے باہرسے گزرے وہ اچھی طرح سے سمجھ لیتا ہے کہ اس میں ایک پر نور چراغ روشن ہے ۔

اسی طرح سے جب ایمان کا چراغ انسان کے دل کی سرائے میں روشن ہوتا ہے تو اس کا نور انسان کی زبان ، آنکھ ، کان اور ہاتھ پاو ں سے منعکس ہوتا ہے ، ان میں سے ہر ایک کی حرکت بتاتی ہےں کہ دل میں ایک نور موجودہے جس کی شعاعیں با ہر نکل رہی ہیں ۔

اسی بناء پر قرآن کی آیات میں عام طور پر ” عمل صالح“ ” ایمان “کے ساتھ ” لازم و ملزوم “ کے عنوان سے آیا ہے ۔

سورہ نحل کی آیہ ۹۷ میں آیاہے :( من عمل صالحاً من ذکر او انثیٰ وهو مو من فلنحیینه حیٰوة طیبة ) “جو بھی عمل صالح انجام دے ، مردہو یا عورت، لیکن ہوہ صاحبِ ایمان ، تو ہم اسے پاکیزہ حیات کے ساتھ زندہ کریں گے ۔

اور سورہ مومنون کی آیہ ۹۹ ۔ ۱۰۰ میں آیا ہے ، اس عالم سے جدائی کے بعد بدکاروں کو اس بات پر افسوس ہو گا کہ انہوں نے اعمال صالح کیوں انجام نہیں دیے ۔ لہٰذا بہت ہی زیادہ امداد کے ساتھ عملِ صالح کو انجام دینے کے لئے باز گشت کا تقاضا کریں گے:( رب ارجعون لعلی اعمل صالحاً فیماترکت ) “ اور سورہ مومنون کی آیہ ۵۱ میں آیاہے کہ خدا اپنے رسولوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ ” پاک و پاکیزہ چیزیں کھاو اور عمل صالح بجالاو ”( یاایها الرسول کلوا من الطیبات و اعملوا صالحاً )

اور چونکہ ایمان و عمل ِ صالح سوائے اس صورت کے ہرگز جاری نہیں رہتے کہ ایک طرف تو معاشرے میں حق کی طرف دعوت اور اس کی معرفت کے لیے کام کیاجائے اور دوسری طرف سے اس دعوت کی انجام دہی کی راہ میں صبر و استقامت کی دعوت ہو، اس لیے ان دونوں اصولوں کے بعد دوسرے اصولوں کی طرف اشارہ فرماتا ہے ، جو حقیقت میں دو بنیادی اصولوں ” ایمان “اور ” عملِ صالح“ کے اجراء کے ضامن ہیں ۔

تیسری فصل : میں ” تواصی بہ حق “ کے مسئلہ یعنی حق کی طرف سب کو عمومی دعوت دینے کی طرف اشارہ کرتا ہے تاکہ سب لوگ حق کو باطل سے اچھی طرح پہچان لیں اور ہر گز اسے فراموش نہ کریں اور زندگی کی راہ میں اس سے منحرف نہ ہوں ۔

” تواصوا“ ” توا صی “ کے مادہ سے ، جیسا کہ ” راغب“ نے ” مفردات“ میں بیان کیا ہے ، اس معنی میں ہے کہ بعض افراد دوسرے بعض افراد کو نصیحت کریں ۔

اور ”حق “ ” واقعیت“ یا واقعیت سے مطابقت کے معنی میں ہے ۔ کتاب” وجوہ قرآن“ میں قرآن مجید میں اس لفظ کے بارہ معانی اور موارد استعمال ذکر ہوائے ہیں ، مثلاً خدا، قرآن، اسلام ، توحید، عدل ، آشکارہونا، اورواجب ہوناوغیرہ، لیکن وہ سب ہی اسی ریشہ اور جڑ کی طرف لوٹتے ہیں جو ہم نے اوپر بیان کی ہے ۔

بہر حال ”( تواصوا بالحق ) “کا جملہ بہت ہی وسیع معنی رکھتا ہے ، جو امر بہ معروف اور نہی از منکر کو بھی شامل ہے ، اور جاہل کو تعلیم دینے اور اس کو ہدایت کرنے ، غافل کو تنبیہ کرنے ، شوق دلانے اور ایمان و عمل صالح کی تبلیغ کرنے کو بھی ۔

یہ بات ظاہر و واضح ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے ہیں انہیں خود بھی حق کا طرفدار اور اس کا عامل ہونا چاہئیے۔

چوتھی اصل : میں ” صبر “ و استقامت اور اس کی نصیحت و وصیت کرنے کا مسئلہ پیش ہوا ہے ، کیونکہ معرفت اور ٓگاہی کے بعد ہر شخص عمل کی راہ میں ہر قدم پر موانع سے روبرو ہوتا ہے ۔ اگر استقامت اور صبر نہ ہوتو وہ ہرگز احقاقِ حق نہیں کرسکتااور کوئی عمل صالح انجام نہیں دے سکتا ، یا اپنے ایمان کی حفاظت نہیں کرسکتا۔

ہاں ! احقاقِ حق ، اور اجراء حق اور معاشرے میں حق کی ادائیگی، ایک عمومی فعالیت اور پختہ و عظیم استقامت یعنی موانع کے مقابلہ میں ڈٹ جانے کے سوا ممکن نہیں ہے ۔

” صبر“ بھی یہاں ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو اطاعت پر صبر کرنے کو بھی شامل ہے ، گناہ پر ابھارنے والی چیزوں پر صبر کرنے ، اور مصائب اور ناگوار حوادث پر صبر کرنے اور توانائیوں ، سر مایوں اور ثمرات کو کھو بیٹھنے کے مقابلہ میں صبر کرنے کو بھی۔ ۱

ان چار اصولوں کے بارے میں جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ہے اور جو حقیقت میں انسانوں کی زندگی اور سعادت کاجامع ترین پروگرام ہے اس کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہو جاتاہے کہ روایات میں یہ کیوں آیا ہے کہ ” جنب اصحابِ پیغمبر ایک دوسرے کے پاس جاتے تھے ، تو ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے سورہ ” و العصر“ کی تلاوت کیا کرتے تھے، اور اس چھوٹی سی سورت کے عظیم مطالب کو بیان کیا کرتے تھے اور پھر ایک دوسرے کو خدا حافظ کہتے ہو ئے اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے تھے۔ ۲

اور حقیقتاً اگر مسلمان آج بھی اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں ان چار اصولوں پر عمل پیراہو جائیں ، اور دنیا جہاں کے شریروں کے شر ان سے منقطع ہو جائیں ۔

خدا وندا ! ہمیں صبر و استقامت اور حق و صبر کی ایک دوسرے کو وصیت کرنے کی توفیق مرحمت فرما۔

پروردگارا ! ہم سب خسارے میں ہیں اورا س خسارے کی تلافی تیرے لطف و کرم کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔

بار الٰہا ! ہم چاروں احکام پر ، جو تونے اس سورہ میں دیے ہیں ، عمل کرنا چاہتے ہیں ۔ تو ہمیں اس کی توفیق عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین

____________________

۱۔ ہم نے ” صبر کی حقیقت اور اس کے مراحل اور شعبوں کے بارے میں جلد اول میں سورہ بقرہ کی آیہ۱۵۳ کے ذیل میں مفصل بحث کی ہے ۔

۲۔ ” در المنثور“ جلد ص ۳۹۲۔


سورہ ھمزة

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا۔ اس میں ۹ آیات ہیں ۔

سورہ ھمزہ کے مطالب اور فضیلت

یہ سورہ جو مکہ سورتوں میں سے ہے ایسے لوگوں کے بارے میں گفتگو کررہا ہے جو مال جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں اور ان کے نزدیک انسانی وجود کی تمام اقدار کا خلاصہ یہی ہے پھر وہ ان لوگوں کو جن کے ہاتھ اس سے خالی ہوتے ہیں حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔

یہ مغرور دولت جمع کرنے والے اور خود پسند حیلہ گر ، بادہ کبر و نخوت سے ایسے مست ہو جاتے ہیں کہ دوسروں کی تحقیر، عیب جوئی، استہزاء اور غیبت کرنے سے لذت اٹھاتے ہیں اور اس سے تفریح کرتے ہیں ۔

اور سورہ کے آخر میں ان کی دردناک سر نوشت کی بات کرتا ہے کہ وہ کیسی حقارت آمیز صورت میں دوزخ میں پھینکے جائیں گے ، اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہر چیز سے پہلے ان کے دل پرمسلط ہو جائے گی، اور ان کی روح و جان کو ، جو اس سارے کبر و نخوت اور ان سب شرارتوں کا مرکز تھا، آگ میں ڈال دی اجائے گا، بھڑکتی ہوئی دوامی اور طولانی آگ ۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت میں ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے :

من قرأ سورة الهمزة اعطی من الاجر عشر حسنات بعددمن استهزأ بمحمد ( ص) و اصحابه “:

” جو شخص اس سورہ کی تلاوت کرے گااسے ان لوگوں کی تعداد سے ، جنہوں نے محمد اور ان کے اصحاب کا مذاق اڑا یا تھا ، دس گناہ حسنات دیے جائیں گے“۔(۱)

ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے : ” جو شخص اس کو واجب نمازمیں پڑھے گا ، تو اس سے فقر و فاقہ دور ہوجائے گا، اور روزی اس کا رخ کرے گی اور قبیح اور بری موت اس سے دور ہو جائے گی“۔(۲)

____________________

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد ص ۵۳۶۔۲۔ ” مجمع البیان “ جلد ص ۵۳۶۔


آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( ویل لکل همزة لمزة ) ۔ ۲ ۔( الذی جمع مالاو عدده ) ۔ ۳ ۔( یحسب انّ ماله اخلده ) ۔

۴ ۔( کلّا لیُنبذنّ فی الحطمةِ ) ۔ ۵ ۔( وما ادراک ما الحطمة ) ۔ ۶ ۔( نار الله الموقدةُ ) ۔

۷ ۔( التی تطّع علی الافئِدة ) ۔ ۸ ۔( انّها علیهم مو صدة ) ۔ ۹ ۔( فی عمدٍ مُمَدّدةٍ ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے

۱ ۔ ہر عیب جو اور تمسخر کرنے والے کے لیے وائے ہے ۔ ۲ ۔ وہی جو مال کو جمع کر کے گنتا رہا، ( جائز و ناجائز کا حساب کیے بغیر)

۳ ۔ وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس کے اموال اس کے دوام کا سبب بن جائیں گے۔

۴ ۔ جیسا کہ وہ خیال کرتا ہے ایسانہیں ہے ، عنقریب اسے حطمہ( ریزہ ریزہ کرنے والی آگ) میں پھینک دیاجائے گا۔

۵ ۔ اور تو کیا جانے کہ حطمہ کیا ہے ؟ ۶ ۔ خد اکی بھڑکتی ہوئی آگ۔ ۷ ۔ ایسی آگ جو دلوں سے نکلتی ہے ۔

۸ ۔ یہ آگ ان کے اوپر دربستہ صورت میں ہے ۔ ۹ ۔ کشیدہ اور طولانی ستونوں میں ۔

شان نزول

مفسرین کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ اس سورہ کی آیات ” ولید بن مغیرہ“ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ، جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پس پشت تو آپ کی غیبت کیا کرتا تھا اور آپ کے سامنے طعن و تشنیع اور استہزاء کیا کرتا تھا۔

اور بعض دوسرے مفسرین نے اسے رو سائے شرک اور اسلام کے جانے پہچانے دوسرے کینہ ور لوگوں مثلا: ” اخنس بن شریق“ و” امیہ بن خلف“ و ” عاص بن وائل“ کے بارے میں سمجھا ہے ۔

لیکن ہم ان شان ہائے نزول کو قبول بھی کرلیں تو بھی آیات کے مفہوم کی عمومیت ختم نہیں ہوتی، بلکہ وہ ان تمام کو شامل ہے جو ان صفات کے حامل ہیں ۔

عیب جوئی اور غیبت کرنے والوں کے لیے وائے ہے ۔

یہ سورہ ایک چھبنے والی تہدید کے ساتھ شروع ہوتا ہے ، فرماتا ہے : ؛” ہر عیب جو اور تمسخراڑانے والے کے لئے وائے ہے “( ویل لکل همزة لمزة ) ۔

وہ لوگ جو زبان کے ڈنگ، ہاتھ اور پاو ں کی حر کات اور چشم و ابرو کے اشاروں سے ، پیٹھ پیچھے اور روبرو دوسروں کا مذاق اڑاتے ہیں ، یاان کی عیب جوئی اور غیبت کرتے ہیں ، یا انہیں طعن و تشنیع اور تہمت کے تیروں کا ہدف بناتے ہیں ۔”ھمزة“ و” لمزة “ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں(۱)

پہلا ” ھمز“ کے مادہ سے اصل میں ” توڑنے “ کے معنی میں ہے ۔ اور چونکہ عیب جو اور غیبت کرنے والے دوسروں کی شخصیت کو توڑتے ہیں اس لیے ان پر” ھمزہ“ کا اطلاق ہو تا ہے ۔

اور ”لمزة“ ” لمز“ ( بر وزن رمز) کے مادہ سے اصل میں غیبت کرنے اور عیب جوئی کرنے کے معنی میں ہے ۔

اس بارے میں کہ کیا یہ دونوں لفظ ایک ہی معنی میں ہیں اور غیبت کرنے والوں اور عیب جوئی کرنے والوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں ، یاان دونوں کے درمیان کوئی فرق ہے ؟ مفسرین نے بہت سے احتمال دیے ہیں ، بعض نے انہیں ایک ہی معنی میں لیا ہے اوراس بناء پر ان دونوں کا اکٹھا ذکرتاکید کے لیے ہے ۔

لیکن بعض نے یہ کہا ہے کہ ”ھمزہ“غیبت کرنے والے کے معنی میں ہے اور”لمزہ“ عیب جوئی کرنے کے معنی میں ہے ۔

بعض دوسروں نے ” ھمزہ“ ان اشخاص کے معنی میں سمجھا ہے جو ہاتھ اور سر کے اشارہ سے عیب جوئی کرتے ہیں اور ” لمزہ“ ان اشخاص کے معنی میں جو زبان سے یہ کام انجام دیتے ہیں ۔

اور بعض نے ” پہلے “ کو روبرو عیب جوئی کرنے اور ”دوسرے“ کو پیٹھ پیچھے عیب جوئی کرنے کی طرف اشارہ سمجھا ہے ۔

اور بعض نے پہلے کو آشکار ا عیب جوئی اور دوسرے کو پنہاں اور آنکھ اور آبرو کے اشارہ سے عیب جوئی کے معنی میں سمجھا ہے ۔

اور بعض اوقات یہ کہا گیا ہے کہ یہ دونوں ہی اس شخص کے معنی میں ہیں جو لوگوں کو برے اور چبھنے والے القاب سے یاد کرتا ہے ۔

اور آخر میں ” ابن عباس (رض) “کی ایک روایت میں آیاہے کہ وہ ان دونوں کی تفسیر میں اس طرح کہاکرتے تھے:

هم المشاو ون بالنمیمة، المفرقون بین الاحبة، الناعتون للناس بالعیب “۔

” یہ وہ لوگ ہیں جوچغل خوری کرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں اور لوگوں میں عیب نکالتے ہیں “۔(۲)

گویا ابن عباس (رض) نے اس بات کا اس حدیث سے جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہوئی ہے استفادہ کیا ہے ، جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے :

” الاانبئکم بشرار کم؟ قالوا : بلی یا رسول الله ( ص) قال: المشاو ون بالنمیمة، المفرقون بین الاحبة ، الباغون للبرآء المعایب

” کیا میں تمہیں شریر ترین افراد کی خبر نہ دوں ؟ انہوں نے کہا : ہاں اے رسول ِ خدا ( ) فرمایا: وہ لوگ جو بہت زیادہ چغل خوری کرتے ہیں ، دوستوں کے درمیان جدائی ڈالٹے ہیں اور پاکیزہ و بے گناہ افراد کے عیوب کی جستجو میں رہتے ہیں ۔(۳)

لیکن ارباب لغت کے کلمات کے مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں الفاظ ایک ہی معنی میں ہیں اور ایک وسیع معنی رکھتے ہیں ، جو ہر قسم کی عیب جوئی ، غیبت، طعن و تشنیع اور علائم و اشبات اور زبان کے ذیعے ٹھٹھ کرنے اور مذاق اڑانے اور چغل خوری اور بد گوئی شامل ہے ۔

بہر حال اس گروہ کے بارے میں ” ویل “ کی تعبیر ایک تہدید شدید ہے ۔ اور اصولی طور پر آیات قرآنی نے اس قسم کے افراد کے لیے سخت تنقید اور اعتراض کیا ہے اور ان کے لیے ایسی تعبیریں استعمال کی ہیں کہ ان جیسی کسی بھی گناہ کے لیے نظر نہیں آتیں ۔ مثلاً جب کور دل منافقین کو مومنین کامذاق اڑانے کی بناء پر عذاب الیم کی تہدید کرتا ہے تو فرماتا ہے :استغفرالهم اولاً تستغفرلهم ان تستغفر لهم سبعین مرة فلن یغفر الله لهم : تو ان کے لیے استغفار کر اور چاہے نہ کر، اگر ان کے لیے ستر مرتبہ بھی استغفار کرے گا تو بھی خدا انہیں نہیں بخشے گا“۔ (توبہ ۔ ۸۰)

اسی معنی کے مشابہ ، ان منافقین کے بارے میں ، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا استہزاء کرتے اور ،مذاق اڑاتے تھے، سورہ منافقین کی آیہ ۵ میں آیاہے ۔

اصولی طور پر اسلام کی نظر میں اشخاص کی عزت اور حیثیت بہت ہی محترم ہے ۔ اور ہر وہ کام جو لوگوں کی تحقیر و تذلیل کا سبب ہو بہت بڑا گناہ ہے ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیاہے : ”اذل الناس من اهان الناس “ :” لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل شخص وہ ہے جو لوگوں کی توہین و تذلیل کرے“۔(۴)

ہم نے اس سلسلہ میں سورہ حجرات کی آیہ ۱۱ ، ۱۲ کے ذیل میں ( جلد ۱۲ ص ۴۵۸ پر) زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اس کے بعد اس قبیح عمل ( عیب جوئی و استہزاء ) کے سر چشمہ کو ( جو عام طور پر مال و دولت سے پیدا ہونے کبر و غرور کے سبب سے ہوتا ہے ) پیش کرتے ہوئے مزید کہتا ہے : ” وہی شخص جو مال کو جمع کر کے گنتا رہا ، ( حلال و حرام کا خیال رکھے بغیر)( الذی جمع مالاو عد ده ) ۔

اسے مال و دولت کے ساتھ اتنی محبت ہے ، کہ وہ ہمیشہ انہیں گنتا رہتا ہے اور درہم و دینار کی چمک اور دوسری قسم کے سکوں سے لذت حاصل کرتا ہے ، اور خوش ہوتا ہے ہر درہم و دینار اس کے لیے ایک بت ہے ، وہ نہ صرف اپنی شخصیت بلکہ تمام شخصیتوں کو انہیں میں منحصر سمجھتا ہے اور یہ ایک طبیعی وفطری امر ہے کہ اس قسم کا گمراہ اور دیوانہ و احمق فقیر و نادار اور مومنین کا ہمیشہ مذاق اڑایا کرتا ہے ۔

” عددہ“ اصل میں ” عد“ کے مادہ سے اسے شمار کرنے اور گننے کے معنی میں ہے ۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہ ”عدہ “(بروزن عذہ)کے مادہ سے ہے جو ان اموال کو آمادہ کرنے اور مشکلات اور برے دن کے لیے ذخیرہ کرنے کے معنی میں ہے ۔

اور بعض نے اس کی تفسیر روک رکھنے اور بچانے کے ساتھ بھی کی ہے ۔

لیکن پہلا معنی سب سے زیادہ منا سب ہے ۔

بہر حال یہ آیت ان مال جمع کرنے والوں کے بارے میں ہے جو مال کو ایک وسیلہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہدف اور مقصد کے طور پر دیکھتے ہیں اور ا س کے جمع کرنے میں کسی قسم کی قید و شرط نہیں ہیں ۔وہ اسے حلال و حرام اور دوسروں کے حقوق پر تجاوز کر کے ،شریفانہ طر یقہ سے ،یا پست و رذیلا طریقہ سے ،جمع کرتے ہیں ۔اور صرف اسی کو عظمت و شخصیت کی نشانی سمجھتے ہیں ۔

وہ مال و دولت کو زندگی کی ضروریات کے پورا کرنے کے لیے نہیں چا ہتے ،اور یہی وجہ ہے کہ ان کے مال و دولت میں جتنا اضافہ ہوتا جاتا ہے ان کی حرص اور طمع بڑ ھتی چلی جاتی ہے ۔ورنہ معقول حدود میں اور جائز طریقہ سے حاصل شدہ مال و دولت نہ صرف مذموم نہیں ہے بلکہ بعض اوقات قرآن مجید نے اسے ”فضل اللہ “کے عنوان سے تعبیر کیا ہے ،جہاں فر ماتا ہے :( واتبعوا من فضل الله ) ( جمعہ ۱۰) اور دوسری جگہ اسے خیر سے تعبیر کرتا ہے( کتب علیکم اذا حضراحدکم الموت ان ترک خیرا الو صیة ) :تم پر واجب ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ پہنچے تو اگر اس نے کچھ خیر چھوڑی ہے تو اس کے لیے وصیت کرے۔

ایسا مال یقینی طور پر نہ تو طغیان و سر کشی کا باعث ہوتا ہے ، نہ ہی تفا خر کا سبب بنتا ہے اور نہ ہی وہ دوسروں کے استہزاکا موجب ہوتا ہے ،لیکن وہ مال جو معبود بنا کیا گیا ہے اور وہی اصلی ہدف و مقصد بن چکا ہے ،اور وہ اپنے مالکون کو ”قارون “کی طرح طغیان و سرکشی دعوت دیتا ہے ،وہ ننگ و عار ہے ،ذلّت ہے اور مصیبت و نکبت ہے اور خدا سے دوری اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں رہنے کا باعث ہے ۔

عام طور پر اس مال کو زیادہ مقدار میں جمع کرنا بہت زیادہ آلودگیوں کے سوا ممکن نہیں ہے ۔

اس لیے ایک حدیث میں امام علی بن موسٰی رضا علیہ السلام سے آیا ہے ،آپ نے فر مایا :

لا یجتمع المال الابخمس خصال “:بخل شدید ،وامل طویل ،وحرض غالب ،و قطیعةرحم ،وایثارالدنیاعلی الٰاخرة “:

”پانچ خصلتوں کے بغیر مال کسی کے پاس جمع نہیں ہو سکتا ۔(۱) بخل شدید(۲) طویل آرزوئیں(۳) حر ص غالب(۴) قطع رحمی(۵) اور دنیا کو آخرت پر مقدم رکھنا ۔۵

جو لوگ سخی ہوتے ہیں اور لمبی لمبی آرزؤں میں گرفتار نہیں ہوتے ،حلاال و حرام کا خیال رکھتے ہیں ،اپنے اقرباء کی مدد کرتے ہیں ،عام طور پر ایسوں کے پاس مال جمع نہیں ہوتا ان کی آمدنی زیادہ ہی کیوں نہ ہو ۔

بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے :”دولت جمع کرنے والا مال پرست انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اس کے اموال اس کی ہمیشگی کا سبب ہے( یحسب ان ماله اخلده ) ۔(۶)

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ”اخلدہ “یہاں ”فعل ماضی “کی صورت میں آیا ہے ،یعنی وہ یہ گمان کرتا ہے ،کہ اس کے اموال نے اسے ایک جاودانی اور دائمی موجود بنا دیا ہے ،نہ تو موت اس کے پاس پھٹک سکتی ہے ،اور نہ ہی بیماریاں اور دنیا کے حوادث اس کے لیے کوئی مشکل پیدا کر سکتے ہیں ،کیونکہ اس کی نظر میں مشکل کشا صرف مال و دولت ہے ،اور یہ مشکل کشا اس کے پاس حاضر ہے ۔یہ تصور کتنا غلط اور خام خیالی ہے ؟اس قدر مال و دولت جو قارون کے قبضہ واختیار میں تھا ،کہ اس کے خزانوں کی چابیاں کئی طاقتور مرد بڑی مشکل سے اُٹھا سکتے تھے ،لیکن عذاب الٰہی کے حملہ کے وقت وہ اس کی موت کو ایک گھڑی کے لیے مئو خر نہ کر سکے اور خدا نے اسے اور اس کے خزانوں کو ایک ہی لمحہ میں مختصر سے زلزلہ کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا“:( فخسفا به و بداره الارض ) (قصص۔ ۸۱)

وہ اموال جن کا کامل نمونہ فراعنہ مصر کے پاس تھا ،لیکن مصداق ”کم تر کوا من جنات وعیون وزروع ومقام کریم و نعمةکانوا فیها فا کهین “:”وہ کتنے زیادہ باغات اور چشمے کھیتیاں اور عمدہ و قیمتی محلات ،اور دوسری فراواں نعمتیں جن میں وہ ناز و نعمت کے ساتھ زندگی بسر کر رہے تھے ،اپنے پیچھے چھوڑ گئے ۔“(دخان ۔ ۲۵ تا ۲۷) لیکن یہ سب کے سب آسانی کے ساتھ ایک ہی ساعت میں دوسروں کے ہاتھ میں پہنچ گئے :”کذالک و اورثنا قو ماََاٰخرین ،(دخان ۔ ۲۸)

اور اسی لیے کیو نکہ قیامت میں پر دے ہٹ جائیں گے ،اور انہیں اپنی عظیم غلطی کا علم ہو جائے گا ،تو وہ پکار اُٹھیں گے :( ما اغنی عنی ما لیه هلک عنی سلطانیه ) :”میرے مال ودولت نے مجھے ہر گز بے نیاز نہیں کیا ،اور میری قدرت و طاقت و اقتداربھی میرے پاس نہ رہے ۔(حاقہ ۔ ۲۸ ۔ ۲۹)

اصولی طورپر انسان فنا و نیستی سے متنفر ہے ۔اور وہ ہمیشگی اور دام کا طرف دار ہے ،اور یہی اندرونی لگاؤ ہماری معاد کے مباحث میں مدد کرتا ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ انسان ہمیشگی اور دام کے لیے پیدا ہوا ہے ،ور نہ جاوداں ہونے کے ساتھ لگاؤ کی فطری خواہش اس میں نہ ہوتی ۔

لیکن یہ مغرور خود غرض اور دنیا پر ست انسان اپنی ہمیشگی کو ایسے امور میں سمجھنے لگتا ہے جو ٹھیک اس کی فناونیستی کا سبب ہیں ،مثلاََوہ مال و مقام کو ،جو عام طور پر اس کی بقاء کے دشمن ہیں دوام کا ذریعہ شمار کرنے لگتا ہے ۔اس بیان سے واضح ہوگیاکہ مال کے ذریعے دوام اور ہمیشگی کا تصور ،مال کے جمع کرنے کی ایک دلیل ہے اور ان د ل کے اندھوں کی نظر میں مال کاجمع ہو جانا بھی دوسروں پر استہزاء اور تمسخر کرنے کا ایک عامل شمار ہوتا ہے ۔قرآن اس گروہ کے جواب میں فر ماتا ہے :ایسا نہیں ہے جیساکہ وہ گمان کرتا ہے :(کلاّ)۔

بلکہ وہ عنقریب انتہائی ذلت و خواری کے ساتھ پاش پاش کرنے والی آگ میں پھینک دیے جائیں گے ۔“( لینبذنفی الحطمة ) ۔اس کے بعد حطمہ کی اس طرح تفسیر کرتا ہے :”اور تو کیا جانے کہ حطمہ کیا ہے “( وما ادراک ماالحطمة ) ۔

”وہ خدا کی بھڑ کی ہوئی آگ ہے ۔“( نارالله الموقدة ) ۔”وہ آگ جو دلوں سے نکلے گی اور اس کے ابتدائی شعلے دلوں میں ظاہر ہو ں گے ۔“( التی تطلع علی الافئدة ) ۔

( لینبذن ) “”نبذ“(بر وزن سبز)کے مادہ سے ”مفر دات “میں ”راغب“کے قول کے مطابق،اصل میں کسی چیز کو اس کی حقارت اور بے قدری کی وجہ سے دور پھینکنے کے معنی میں ہے ۔

یعنی خدا ان مغرور ،خود خواہ،اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والوں کو اس دن ذلیل اور بے قدر و قیمت موجودات کی صورت میں جہنم کی آگ میں پھینکے گا ،تاکہ وہ اپنے کبرو غرور کا نتیجہ دیکھ لیں ۔

”حطمہ “”حطم “کے مادہ سے مبالغہ کا صیغہ ہے جو کسی چیز کو در ہم برہم کرنے کے معنی میں ہے ،اور یہ اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ بڑی سختی کے ساتھ ان کے اعضاء و جوار ح کو توڑ کر رکھ دے گی ،لیکن بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ”حطمہ “ساری جہنم کا نام نہیں ہے ،بلکہ اس کے حد سے زیادہ گرم اور بھڑ کتے ہوئے حصہ کا نام ہے ۔(۷)

اس معنی کو سمجھنا کہ آگ جلانے کے بجائے اعضاء کو توڑدے گی ،شاید گز شتہ زمانوں میں تو مشکل ہو ،لیکن موجودہ زما نہ میں بم کے پھٹنے کی لہروں کی تاثیر کی شدت کا مسئلہ ہم سب پر واضح ہو چکا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک خو فناک بم کے پھٹنے سے پیدا ہو نے والی لہریں ،نہ صرف انسانوں کو بلکہ لوہے کے محکم گار ڈروں اور عمارتوں کے بڑے بڑ ے ستونوں کو بھی توڑ دیتی ہیں ،یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے ۔

”نار اللہ “(خدا ئی آگ )کی تعبیر اس کی عظمت کی دلیل ہے اور ”مو قدة“کی تعبیر اس کے ہمیشہ کے لیے روشن ہونے کی دلیل ہے ۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ آگ دنیا کی آگ کے بر خلاف ،جو پہلے چمڑے کو جلاتی ہے ،اور اس کے بعد بدن کے اندر نفوذ کرتی ہے ،سب سے پہلے دلوں میں شعلہ ور ہوگی اور اندر کو جلائے گی ۔پہلے دل کو جلائے گی پھر دما غ اور ہڈیوں کو اور ا س کے بعدباہر کی طرف سرایت کرے گی ۔

یہ کس قسم کی آگ ہے جس کا پہلا شعلہ انسان کے دل میں ظاہر ہوگا ؟یہ کیسی آگ ہے جو باطن کو ظاہر سے پہلے جلائے گی ؟قیامت کی ہر چیز عجیب و غریب ہے اور اس کا اس جہان کی باتوں کے ساتھ بہت زیادہ فرق ہے ،یہاں تک کہ اس کی جلانے والی آگ کی گر فت میں بھی ایک الگ خا صیت ہے ۔

ایسا کیو ں نہ ہو ؟جب کہ ان کے دل ہی تو کفر اور کبر و نخوت کا مر کز تھے ،اور وہ حبّ ِدنیا اور مال و دولت کی محبت کا محور بنے ہوئے تھے

خد اکے قہر وغضب کی آگ ہر چیز سے پہلے ان کے دلوں پر کیوں مسلط نہ ہو ، جب کہ انہوں نے اس دنیا میں مومنین کے دل کو تمسخر، عیب جوئی، غیبت اور تحقیر و تذلیل کے ساتھ جلا یاتھا ۔ لہٰذا عدالتِ الٰہی کا تقا ضا یہی ہے کہ وہ اپنے اعمال جیسا ہی کیفرِ کردار دیکھیں ۔

اس سورہ کی آخری آیت میں فرماتا ہے :” یہ جلانے والی آگ ان پر دروازہ بند صورت میں ہو گی“۔( انها علیهم مو صدة ) ۔

”موصدة“ ” ایصاد“ کے مادہ سے ، دروازہ بند کرنے اور اس کو محکم کرنے کے معنی میں ہے ، اسی لئے ان کمروں کوجو پہاڑوں کے اندر مال جمع کرنے کے لیے بناتے ہیں ” وصید“ کہتے تھے ۔

حقیقت میں جیسا کہ وہ اپنے اموال کو مضبوط صندوقوں اور در بست خزانوں میں محفوظ کرکے رکھا کرتے تھے ، خدا بھی انہیں دوزخ کے دربست عذاب، میں جس سے خلاصی اور نجات پانے کی کوئی راہ نہ ہوگی، قید کرے گا۔

اور آخر میں فرماتا ہے :

” انہیں کھینچے ہوئے اور طولانی ستونوں میں رکھا جائے گا“( فی عمد ممدّدة ) ۔

”عمد“ ” عمود“ جیسا کہ لکڑی اور لوے کی قطعات( شہتیر) ہوتے ہیں ”ممددة“ کھینچے ہوئے اور طولانی کے معنی میں ہے ۔

مفسرین کی ایک جماعت نے اس تعبیر کو لوہے کی بڑی بڑی میخوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے ، جن کے ساتھ جہنم کے دروازے محکم طور پر جڑے ہوئے ہوں گے ، اس طرح کہ ان سے نکلنے کی بالکل کوئی راہ نہ ہوگی۔ اس بناء پر یہ گزشتہ آیت پر ایک تاکید ہے جو یہ کہتی ہے کہ جہنم کے دروازوں کو ان پر بند کردیں گے، اور وہ ہر طرف سے محصور ہو کر رہ جائیں گے ۔

بعض نے اسے عذاب و مجازات کے وسائل کی ایک قسم کی طرف اشارہ سمجھا ہے ، اس چیز کے مانند جو ہمارے ہاں ” ہتھکڑی اور بیڑی“ کے ساتھ معروف ہے ، اور لکڑی یا لوہے کا ایک وزنی ٹکڑاہوتا ہے جس میں پاو ں کے ناپ کے برابر دو سوراخ ہوتے ہیں ، اس میں پاو ں کو رکھ دیتے ہیں اور اس کے اوپرسوراخ سے پکڑ کر اس میں تالہ لگادیتے ہیں ۔ اس طرح اس آدمی میں چلنے کی طاقت نہیں رہتی تھی، اور یہ ان شکنجوں کی سزا ہو گی جو وہ بے گناہ لوگوں کو دیاکرتے تھے۔

بعض نے ایک تیسری تفسیر بھی آخری انکشافات کی مدد سے اس کے لیے بیان کی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ جہنم کے جلانے والے شعلے کشیدہ اور طولانی ستونوں کی طرح ان پر مسلط ہو جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں کہ آخری انکشافات میں ثابت ہوا ہے کہ ریکس( رونٹگن)کی مخصوص شعاعیں ، دوسری شعاعوں کے برخلاف جو مخروطی صورت میں پھیلتی ہیں ، وہ استوانی صورت میں ٹھیک ستون کی طرح منتشرہوتی ہیں ، اور تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ شعاعیں انسان کے سارے وجود میں نفوذ کرجاتی ہیں ، یہاں تک کہ اس کے دل پر بھی مسلط ہو جاتی ہیں ، اور اسی بناء پر داخلی اعضاء کا ایکسرے لینے کے لیے ا س سے استفادہ کرتے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ جنہم کی بھڑکتی ہو ئی آگ سے ایسی شعاعیں اٹھیں گی جو اوپر والی شعاعوں سے ملتی جلتی ہوں گے۔ ۸

لیکن ان تفاسیر میں سب سے زیادہ مناسب وہی پہلی تفسیر ہے ۔ ( البتہ ان تفاسیر میں بعض کی بناء پر ”( فی عمد ممددة ) “ کاجملہ دوزخ کی حالت کو بیان کرتا ہے اور دوسری بعض کی بناء پر دوزخیوں کی حالت کو )

____________________

۱۔مبالغہ کا صیغہ مشہور چھ اوزان کے علاوہ دوسرے اوزان پر بھی آتاہے ، منجملہ ان کے ایک یہی وزن ہے ، جس کی عربی زبان میں نظائر بھی موجود ہیں ، مثلاً: ” ضحکہ“ جو بہت زیادہ ہنسنے والے کے معنی میں ہے ۔

۲۔ ”تفسیر فخر رازی“ جلد ۳۲ ص ۹۲۔

۳۔ ” اصول کافی جلد ۲ باب النمیمة حدیث ۱

۴۔ ” بحار الانوار “ جلد ۷۵ ص ۱۴۲۔

۵۔”نور الثقلین“جلد ۵ ص ۶۶۸حدیث ۷

۶۔”مالہ “ممکن ہے کہ ”مال “ضمیر غائب کی طرف مضاف ہو ،یا ”ما“موصولہ اور اس کے صلہ سے مرکب ہو، ”اخلدہ ‘کا جملہ جو کہ فعل ماضی ہے مضارع کے معنی میں ہے ۔یا خلود کے موجبات واسباب کے معنی میں ہے ۔

۷۔”نور الثقلین “جلد ۳ص۱۷،۱۹حدیث ۶۰،۶۴

۸۔ ” طنفاوی“ زیربحث آیات کے ذیل میں ۔


۱ ۔ کبر و غرور بڑے برے گناہوں کا سرچشمہ ہے

” اپنے آپ کو بڑاخیال کرنا ایسی عظیم بلا ہے جو بہت سے گناہوں کی اصل اور بنیاد قرار پاتی ہے۔ خدا سے غفلت، نعمتوں کا کفران ، عیاشی اور ہوس بازی میں غرق ہونا ، دوسروں کی تحقیر و تذلیل ، مومنین کا مذاق اڑانا ، اسی صفت رذیلہ کے منحوس اور برے اثرات ہیں ۔

کم ظرف لوگ جب کسی مقام و منصب یا کسی اچھی منزل پر پہنچ جاتے ہیں تو وہ ایسے کبر و غرور میں گرفتار ہو جاتے ہیں کہ کسی دوسرے کے لیے کسی قدر و قیمت کے قائل ہی نہیں ہوتے۔ اور یہی چیز ان کے معاشرے سے جدا ہونے اور معاشرے کے ان سے الگ ہونے کا سبب بن جاتی ہے ۔

وہ اپنے ہی تصورات و خیالات کی دنیا میں ڈوبے رہتے ہیں اور خود کو باقیوں سے علحٰیدہ کوئی اور مخلوق خیال کرنے لگتے ہیں ، یہاں تک کہ اپنے آپ کو مقربان خدا میں بھی شمار کرنے لگتے ہیں ، اور اسی وجہ سے دوسروں کی عزت و آبروبلکہ ان کی جان تک بھی ان کے نظر میں بے قدر و قیمت ہو جاتی ہے ، اور وہ ” ھمز“ و ” لمز“ یادوسروں کی عیب جوئی اور مذمت میں مشغول ہوجاتے ہیں اور یوں اپنے خیال میں وہ اپنی عظمت میں اضافہ کرتے ہیں ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ بعض روایات میں اس قسم کے افراد کو عقرب( بچھو) سے تشبیہ دی گئی ہے ،اور اگر چہ بچھو کا ڈنک مارنا کسی کینہ کی وجہ سے نہیں ہوتا، لیکن ان کا ڈنک مارنا کینہ پروری کی وجہ سے ہوتا ہے ۔

ایک حدیث میں آیاہے کہ پیغمبر اکرم نے فرمایا:” میں نے شب معراج دوزخیوں کے ایک گروہ کر دیکھا کہ ان کے پہلو و ں کے گوشت الگ کرکے انہیں کھلاتے تھے ۔ میں نے جبرئیل سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ تو انہوں نے کہا :

” ھٰو لاء الھمازون من امتک ، المازوں ! “:

” یہ آپ کی امت میں سے عیب جوئی کرنے والے اور استہزاء کرنے والے ہیں ۔

جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے ، ہم نے سورہ حجرات کی آیات کے ذیل میں اس سلسلہ میں تفصیلی بحث کی ہے ۔

۲ ۔ مال جمع کرنے کی حرص

مال و دولت کے بارے میں افراط و تفریط کے لحاظ سے مختلف نظریے پائے جاتے ہیں ۔ بعض لوگ تو اس کو اتنی جلدی اہمیت دیتے ہیں کہ اسے تمام مشکلات کا حل سمجھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ اس نظریے کے طرف داروں نے اپنے اشعار میں اس سلسلہ میں خوب دادِ سخن دی ہے ، منجملہ ایک شاعر عرب کہتا ہے:

فصا حة سحبان و خط ابن مقلة وحکمة لقمان و زهد بن ادهم

اذا اجتمعت فی المرء و المرء مفلس فلیس له قدر بمقدار درهم

” ( عرب کے معروف فصیح) “ سحبان کی فصاحت “ اور معروف خطاط) ” ابنِ مقلہ کا خط اور ” لقمان “ کی حکمت اور ” ابراہیم بن ادہم “ کا زہد اگر کسی انسان میں جمع ہو جائے اور مفلس و نادار ہو، تو اس کی قدر و قیمت ایک درہم کے برا بر بھی نہیں ہوگی“ !

لہٰذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے اگر یہ گروہ ہمیشہ مال جمع کرنے میں مشغول رہے اور ایک آن کے لیے بھی راحت و آرام سے نہ بیٹھے اور اس کے لیے کسی بھی قید و شرط کا قائل نہ ہو اور حلا ل و حرام ان کی نظر میں یکساں ہو جائے۔

اس گروہ کے نقطہ مقابل میں وہ گروہ ہے جو مال و دولت کے لیے کم سے کم قدر و قیمت کا بھی قائل نہیں ہے ۔ وہ فقر و فاقہ کی تعریف کرتا ہے اور اس کی عظمت و بلندی کا قائل ہے، یہاں تک کہ وہ مال کو تقویٰ اور قرب ِ خدا میں مزاحم سمجھتے ہیں ۔ لیکن دونوں نظر یات کے مقابلہ میں (جو افراط و تفریط رکھتے ہیں ) قرآن مجید اور اسلامی روایات سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مال اچھی چیز ہے ، لیکن چند شرائط کے ساتھ :

پہلی شرط یہ ہے کہ وہ ذریعہ اوروسیلہ ہو نہ کہ ہدف اور مقصد۔

دوسری شرط یہ ہے کہ وہ انسان کو اپنا ” اسیر“ نہ بنائے بلکہ انسان اس کا ” امیر “ ہو ۔

تیسری شرط یہ ہے کہ اسے مشروع اور حلال طریقہ سے حاصل کیا جائے اور وہ رضائے خدا کے لیے صَرف ہو۔

اس قسم کے مال سے محبت نہ صرف یہ کہ وہ دنیا پرستی نہیں ہے ، بلکہ آخرت سے محبت کی ایک دلیل ہے ۔ اسی لیے ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے :

” جس وقت آپ نے ذہب و فضہ( سونا چاندی) پر لعنت کی، تو آپ کے ایک صحابی نے تعجب کیا، اور اس بارے میں سوال کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ”لیس حیث تذهب الیه انما الذهب الذی ذهب بالدین و الفضة الّتی افاضت الکفر “:” (ذہب) سونے سے مراد وہ چیز ہے جو دین کو ختم کردے اور فضہ ( چاندی) سے مراد وہ چیز ہے جو کفر و بے ایمانی کا سر چشمہ بنے“ ۔(۱)

ایک اور حدیث میں حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے آیا ہے :

” السکر اربع سکرات سکر الشراب و سکر المال ، و سکر النوم ، و سکر الملک“۔

” نشہ اور مستی چار قسم کی ہوتی ہے : ۱ ۔ شراب کی مستی ۔ ۲ ۔ مال کی مستی۔ ۳ ۔ نیند کی مستی ۔ ۴ ۔ اقتدار کی مستی ۔(۲)

ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا، میرے ماں باپ آپ پر قربان ، مجھے کچھ وعظ و نصیحت فرمائیے، تو آپ نے فرمایا:

ان کان الحسنات حقاًفالجمع لماذا وان کان الخلف من الله عز و جل حقاً فالبخل لماذا ؟! “:

”اگر حسنات حق ہیں اور ہم ان پر ایمان رکھتے ہیں تو پھر مال کا جمع کرنا کس لیے؟ ( کیوں اسے راہ خدا میں خرچ نہ کریں ) اور اگر بدلہ دینا اور تلافی کرنا اللہ کی طرف سے حق ہے ، تو بخل کس لیے؟ ۔(۳)

بہت سے لوگ ایسے ہیں جو آخر عمر تک مال جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں اور انجام کار دوسروں کے لیے چھو ڑجاتے ہیں ۔ ان کا حساب تو انہیں دینا پڑے گا اور اس سے فائدہ دوسرے لوگ اٹھائیں گے۔ اسی لیے ایک حدیث میں آیا ہے کہ لوگوں نے امیر المومنین علی علیہ السلام سے سوال کیا ، من اعظم الناس حسرة ؟ : لوگوں میں سب سے زیادہ حسرت و ندامت کس کو ہوگی؟

آپ نے فرمایا:

من رأی ماله فی المیازن غیره و ادخله الله به النار و ادخل وارثه به الجنة

وہ شخص جو اپنے اموال کو دوسروں کے اعمال میں تولنے کی ترازوں میں دیکھے، خدا اسے تو اس کے اموال کی وجہ سے دوزخ میں داخل کرے، اور اس کے وارث کو اس کی وجہ سے جنت میں داخل کرے“۔(۴)

ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے آیہ” کذالک یرھم اللہ اعمالھم حسرات علیھم“ :( اسی طرح سے خدا ان کے اعمال کو ان کے لیے حسرت بنادے گا) کی تفسیر میں فرمایا:

هو الرجل یدع المال لا ینفقه فی طاعة الله بخلا ثُم یموت فیدعه لمن یعمل به فی طاعة الله او فی معصیه

” یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو مال چھوڑ جاتا ہے اور بخل کی وجہ سے اسے راہ خدا میں خرچ کرتا۔ پھر مرجاتا ہے ، اور اسے ایسے شخص کے لیے چھوڑ جاتا ہے جو اسے اللہ کی طاعت یا اس کی معصیت میں خرچ کرتا ہے “۔

اس کے بعد امام نے مزید فرمایا:

” اگر وہ خدا کی اطاعت میں خرچ کرے گاتو وہ اسے دوسرے کی میزان عمل میں دیکھ کر حسرت کرے گا کیونکہ وہ مال تو اس کی ملکیت تھا ، اور اگر وہ خدا کی معصیت و نافرمانی میں صرف کرے گا ، تو وہ گناہ کرنے میں ا س کی تقویت کا سبب بنا( اس پر بھی اسے عقوبت اور حسرت ہو گی)۔(۵)

ہاں ! انسان مال کو مختلف انداز میں استعمال کرتے ہیں ، کبھی تو اس سے ایک خطر ناک بت بنالیتے ہیں ، اور کبھی عظیم سعادت کا وسیلہ ۔

اس گفتگو کو ہم ” ابن عباس (رض) سے منقول ایک پر معنی حدیث پر ختم کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں :

ان اول درهم و دینار ضربا فی الارض نظر الیهما ابلیس فلما عاینهما اخذهما فوضعهما علی عینیه، ثم ضمهما علی صدره، ثم صرخ صرخة، ثم ضمهما الیٰ صدره، ثم قال : انتما قرة عینی! و ثمرة فو اد ماابالی من بنی اٰدم اذا احبوکما“ ان لایعبدوا و ثنا! حسبی من بنی آدم آدم ان یحبوا کما :(۶)

” جب دنیا میں درہم و دینار کا سب سے پہلا سکہ بنا یا گیا تو ابلیس نے ان پر نگاہ کی ، جب انہیں دیکھا تو اس نے ان دونوں کو اٹھالیا اور دونوں کو اپنی آنکھوں پر رکھا ، پھر انہیں سینہ سے لگا لیا ۔ پھر وہ والہانہ طور پر چیخا اور دوبارہ انہیں سینہ سے لگا لیا اور کہنے لگا: تم ( اے درہم و دینار)میری آنکھوں کی روشنی ہو، تم میرے دل کا میوہ ہو۔ اگر انسان تمہیں دوست بنالیں تو میرے لیے یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ وہ بت پرستی نہ کریں ۔ بس میرے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ تم سے محبت کرنے لگیں ، ( کیونکہ تم سب بتوں سے بڑھ کر بت ہو)۔(۷)

خدا وندا ! ہمیں مال و غضب ، دنیا و شہوت کی ہستی سے محفوظ فرما۔

پروردگارا ! ہمیں شیطان کے تسلط اور درہم و دینار کی بندگی سے رہائی عطا فرما۔

بارالٰہا ! جہنم کی آگ سخت توڑ نے والی ہے اور تیرے لطف و کرم کے بغیر اس سے نجات ممکن نہیں ہے ۔ ہمیں اپنے لطف کا مشمول قرار دے۔

آمین یا رب العالمین

____________________

۱۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۳ ص ۱۴۱ حدیث ۱۷۔

۲۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۳ ص ۱۴۲۔

۳۔ ” توحید صدوق“ مطابق نقل ” نور الثقلین“ جلد ۵ ص ۶۶۸ حدیث۸۔

۴۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۳ ص ۱۴۲۔

۵۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۳ ص ۱۴۲۔

۶۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۳ ص ۱۴۲۔ٍ

۷ ۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۳ ص ۱۳۷ حدیث ۳


سورہ فیل

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ۔ اس میں پانچ آیات ہیں ۔

سورہ فیل کے مطالب

یہ سورہ جیساکہ اس کے نام سے واضح ہے ایک مشہور تاریخی داستان کی طرف اشارہ کرتا ہے ، جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کے سال واقع ہوئی تھی اور خدا نے خانہ” کعبہ“ کو کفار کے اس عظیم لشکر کے شر سے محفوظ رکھا تھا جو سر زمین یمن سے ہاتھیوں پر سوار ہو کر آیاتھا۔

یہ سورہ اس عجیب داستان کی یاد دلاتا ہے جو مکہ کے بہت سے لوگوں کو یاد تھی، کیونکہ وہ ماضی قریب میں واقع ہوئی تھی۔

اس داستان کی یاد آوری مغرور اور ہٹ دھرم کفار کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ یہ جان لیں کہ وہ خدا کی قدرت کے مقابلہ میں کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے ۔ وہ خدا جس نے ہاتھیوں کے اس عظیم لشکر کو ان چھوٹے چھوٹے پرندوں ، اور ان نیم بند کنکریوں ( حجارة من سجیل) سے ریزہ ریزہ کردیا۔ وہ ان ہٹ دھرم متکبرین کو سزادینے کی قدرت بھی رکھتا ہے ۔

نہ تو ان کی قدرت ہی ” ابرھہ“ کی قدرت سے زیادہ تھی اور نہ ہی ان کے لشکر کو اور افراد کی تعداد کبھی اس حد تک پہنچی تھی۔ یعنی تم لوگ جنہوں نے اس واقعہ کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہے ، غرور و تکبر کی وادی سے نیچے کیوں نہیں اترے؟!

اور اس کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیاہے :

جو شخص سورہ فیل کو نماز واجب مین پڑھے گا قیامت میں ہر پہاڑ اور ہموار زمین اور ہر ڈھیلہ اس کی گواہی دے گا وہ نماز گزاروں میں سے ہے اور ایک منادی ندا دے گا کہ تم نے میرے پرندے کے بارے میں کہا ہے ۔

میں تمہاری گواہی کو اس کے نفع یا نقصان میں قبول کرتا ہوں میرے بندے کو حساب کے بغیر جنت میں داخل کردو، کیونکہ وہ ایسا شخص ہے جسے میں دوست رکھتا ہوں اور ا س کے عمل کو بھی دوست رکھتا ہوں ۔(۱)

یہ بات واضح اور ظاہر ہے کہ یہ سب فضیلت و ثواب اور عظیم جزا اس شخص کے لیے ہے جو ان آیات کو پڑھ کے غرور و تکبر کی سواری سے نیچے اتر آئے اور رضائے الٰہی کی راہ میں قدم رکھ دے ۔

آیات ۱،۲،۳،۴

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( الم تر کیف فعل ربک باصحاب الفیل ) ۔ ۲ ۔( الم یجعل کیدهم فی تضلیل ) ۔

۳ ۔( و ارسل علیهم طیراً ابابیل ) ۔ ۴ ۔( ترمیهم بحجارة من سجِّیل ) ۔

۵ ۔( فجعلهم کعصفٍ ماکولٍ ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ کیا تو نے دیکھانہیں کہ تیرے پروردگار نے اصحاب فیل( ابرھہ کے لشکر کو جو کعبہ کو نابود کرنے کے ارادے سے آیاتھا) کے ساتھ کیا کیا۔

۲ ۔ کیا ان کے منصوبہ کو خاک میں نہیں ملادیا؟ ۳ ۔ اور ان کے اوپر گروہ در گروہ پرندے بھیجے۔

۴ ۔ جو ان کے اوپر چھوٹی چھوٹی کنکریاں برسا رہے تھے۔ ۵ ۔ اور اس طرح انہیں کھائے ہوئے بھوسہ کی مانند بنادیا۔

شان نزول

ایک حدیث میں امام علی بن الحسین علیہ السلام سے آیا ہے کہ :

”ابو طالب ہمیشہ اپنی تلوار کے ذریعے پیغمبر اسلام کا دفاع کیا کرتے تھے ۔یہاں تک کہ آپ نے فر ماتے ہیں :(ایک دن )ابو طالب نے کہا :اے بھتیجے !کیا آپ سب لوگوں کے لیے مبعوث ہوئے ہیں یا صرف اپنی قوم کے لیے بھیجے گئے ہیں

پیغمبر نے فر مایا :”نہیں !میں تمام انسانوں کے لیے مبعوث ہوا ہوں ،وہ گورا ہو یا کالا،عر بی ہو ،یا عجمی ۔اسی ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ،میں تمام انسانوں کو چاہے وہ گورے ہوں یا کالے اس دین کی طرف دعوت دیتا ہوں ۔اور ان تمام لوگوں کو جو پہاڑ کی چو ٹی پر بستے ہیں یا دریاؤں میں رہتے ہیں اس دین کی طرف بلاتا ہوں ،اور میں فارس و روم کی تمام زبانوں کو دعوت دیتا ہوں ۔

جب یہ گفتگو قریش کے کانوں تک پہنچی تو انہوں نے تعجب کیا اور کہا ،کیا آپ اپنے بھتیجے کی باتوں کو نہیں سنتے کہ وہ کیا کہتا ہے ۔خدا کی قسم اگر فارس و روم کے لوگ یہ بات سن لیں گے تو ہمیں ہماری سر زمین سے باہر نکال کھڑا کر یں گے اور خانہ کعبہ کے پتھروں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے الگ الگ کر دیں گے ۔اس موقع پر خدا نے آیہ شر یفہ( و قالو اان نتبع الهدٰی معک نتخطف من ارضنا اولم نمکن لهم حرمااٰمنا یجبیٰ الیه ثمرات کل شیء ) :”انہوں نے کہا :اگر ہم تیرے ساتھ مل کر ہدایت کو قبول کرلیں تو ہمیں ہماری سر زمین سے باہر نکال دیں گے ،کیا ہم نے انہیں امن کے اس حرم میں ،جس کی طرف ہر طرح کے پھل لاتے ہیں ،جگہ نہیں دی “(قصص۔ ۵۷) نازل ہوئی ۔

اور ان کے اس قول کے بارے میں کہ وہ خانہ کعبہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے سورئہ فیل نازل کی۔(اور انہیں گوش گزار کیا کہ کوئی شخص بھی اس قسم کے کام کی قدرت نہیں رکھتا )۔(۲)

____________________

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد۱۰ ص ۵۳۹۔

۲-روضة الواعظین“(مطابق نقل ”نورالثقلین“جلد ۵ ص۶۶۹ حدیث ۸)


اصحاب فیل کی داستان

مفسرین اور مور خین نے اس داستان کو مختلف صورتوں میں نقل کیا ہے ،اور اس کے وقوع کے سال میں بھی اختلاف ہے لیکن اصل داستان ایسی مشہور ہے کہ یہ اخبار متواترمیں شمار ہوتی ہے ،اور ہم اسے مشہور روایات کے مطابق ”سیرةابن ھشام “و ”بلوغ الارب “و”بحا رالانوار “و”مجمع البیان “سے خلاصہ کر کے نقل کرتے ہیں ۔

یمن کے باد شاہ ”ذونواس “نے نجرا ن کے عیسائیوں کوجو اس سر زمین کے نزدیک بستے تھے ،اس لیے بہت تنگ کر رکھا تھا کہ وہ اپنا دین مسیحیت چھوڑ دیں ۔قرآن اس واقعہ کو سورئہ ”بروج “میں اصحاب الاخدودکے عنوان سے بیان کیا ہے ۔او ر ہم نے اسے اسی سورہ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔اس عظیم جُرم کے بعد ”دوس “نامی ایک شخص ان میں سے اپنی جان بچاکر نکل گیا اور وہ قیصرروم کے پاس ،جو دین مسیحیت پر تھا ،جا پہنچا ،اور اس کے سامنے یہ سارا ماجرا بیان کیا ۔

چو نکہ ”روم “اور ”یمن “کے درمیان فا صلہ زیادہ تھا لہٰذا اس نے حبشہ کے بادشاہ ”نجاشی کو خط لکھاکہ وہ ”ذو نواس “سے نصارائے نجران کا انتقام لے ،اور اس خط کو اسی شخص کے ہاتھ ”نجاشی “کے پاس روانہ کیا ۔

”نجاشی “نے ایک بہت بڑا لشکر جو ستر ہزار افراد سے زیادہ پر مشتمل تھا”اریاط “نامی شخص کی کمان میں یمن کی طرف روانہ کیا ۔”ابرھہ“بھی اس لشکر کے ا فسروں میں سے ایک تھا ۔

”ذونواس“کو شکست ہوئی،اور ”اریاط “یمن کا حکمران ہو گیا ۔کچھ مدت کے بعد ”ابرھہ “نے اریاط کے خلاف بغاوت کردی اور ا س کا خاتمہ کرنے کے بعد اس کی جگہ پر بیٹھ گیا ۔

اس واقعہ کی نجاشی کو خبر پہنچی تو اس نے ”ابرھہ “کی سر کوبی کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ابرھہ نے اپنی نجات کے لیے اپنے سر کے بال منڈواکر یمن کی کچھ مٹی کے ساتھ مکمل تسلیم کے طور پر نجاشی کے پاس بھیج دیے ، اور وفا داری کا اعلان کیا۔ نجاشی نے جب یہ دیکھا توابرھہ کو معاف کردیا ، اوراسے اس کے منصب پر بر قرار رکھا۔

اس موقع پر ” ابرھہ“ نے اپنے حسن خدمت کو ثابت کرنے کے لیے ایک اہم اور بہت ہی خوبصورت گرجا گھر تعمیر کرایا ، جس کی اس زمانہ میں کرہ زمین پر کوئی مثل و نظیر نہ تھی۔ اور اس کے بعد جزیرہ عرب کے لوگو ں کو خانہ کعبہ کی بجائے اس گرجے کی طرف دعوت دینے کا مصمم ارادہ کرلیا ، اور یہ پختہ ارادہ کرلیا کہ اس جگہ کو عرب کے حج کامرکز بنا کے مکہ کی اہم مرکزیت کو وہاں منتقل کردے۔

اس مقصد کے لیے اس نے ہر طرف عرب کے قبائل اور سرزمین ِ حجاز میں بہت سے مبلغ بھیجے۔ عربوں نے ، جو مکہ اور کعبہ کے ساتھ شدیدلگاو رکھتے تھے اور اسے ابراہیم خلیل کے آثار میں سے جانتے تھے ، اس سے خطرہ محسوس کیا۔

بعض روایات کے مطابق ایک گروہ نے وہاں جاکر مخفی طور پر اس گرجے کو آپ لگادی ، اور روایت کے مطابق بعض نے اسے مخفی طور پر گندہ اور ملوث کردیا ۔ اور اس طرح سے انہوں نے اس عظیم دعوت کے مقابلہ میں شدید ردِّ عمل کا مظاہرہ کیا ، اور ” ابرھہ“ کے عبادت خانے کو بے اعتبار اور حقیر بنادیا ۔

ظاہرہے اس پر ” ابرھہ“ کو بہت غصہ آیا اور اس نے خانہ کعبہ کو کلی طور ویران کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ۔ اس کا خیال تھااس طرح وہ انتقام بھی لے لے گااور عربوں کو نئے معبد کی طرف متوجہ بھی کردے گا۔ چنانچہ وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ، جن میں سے کچھ لوگ ہاتھیوں پر سوار تھے، مکہ کی طرف روانہ ہوا۔

جب وہ مکہ کے قریب پہنچا تو اس نے کچھ لوگوں کو مکہ والوں کو اونٹ اور دوسرے اموال لوٹنے کے لیے بھیجا۔ ان میں سے دو سو اونٹ “ عبدالمطلب “ کے بھی لُوٹ لیے گئے۔

” ابرھہ“ نے کسی آدمی کو مکہ کے اندر بھیجا اور اس سے کہا کہ رئیسِ مکہ کو تلاش کرکے اس سے کہنا کہ ” ابرھہ“ یمن کا بادشاہ کہتا ہے کہ : میں جنگ کرنے کے لیے نہیں آیا، میں تو صرف اس لیے آیا ہوں کہ اس خانہ کعبہ کو ویران کردوں اگر تم جنگ نہ کرو تو مجھے تمہارا خون بہانے کی ضرورت نہیں ہے ۔

” ابرھہ “ کا قاصد مکہ میں داخل ہوا اور رئیس و شریف مکہ کے بارے میں دریافت کیا۔ سب نے ” عبد المطلب“ کی طرف راہنمائی کی ۔ اس نے ” عبد المطلب“ کے سامنے ماجرا بیان کیا۔ ” عبد المطلب“ نے بھی یہی جواب دیا کہ ہم میں تم سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہے ،رہا خانہ کعبہ تو خدا خود اس کی حفاظت کرے گا ۔

” ابرھہ“ کے قاصد نے عبد المطلب سے کہا کہ تمہیں میرے ساتھ اس کے پاس چلنا پڑے گا ۔ جب عبد المطلب ا س کے دربار میں داخل ہوئے تووہ آپ کے بلند قد حسین چہرے اور حد سے زیادہ رعب اور دبدبہ کو دیکھ کر سخت متاثر ہوا، یہاں تک کہ ”ابرھہ“ ان کے احترام میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور زمین پر بیٹھ گیا اور ” عبد المطلب“ کو اپنے پہلو میں بٹھالیا، کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ انہیں اپنے ساتھ تخت پر بٹھائے۔ اس کے بعد اس نے اپنے مترجم سے کہا کہ ان سے پوچھ کہ ان کی کیاحاجت ہے ؟

آپ نے مترجم سے کہا : میری حاجت یہ ہے کہ میرے دوسو اونٹ تیرے لشکری لُوٹ کر لے گئے ہیں ، تو انہیں حکم دیں کہ وہ میرا مال واپس کردیں ۔

” ابرھہ“ کو ان کے اس مطالبہ پر سخت تعجب ہوا اور اس نے اپنے متجم سے کہا : ان سے کہو: جب میں نے تمہیں دیکھا ، تو میرے دل میں تمہاری بہت زیادہ عظمت پید اہوئی تھی، لیکن تم نے یہ کہی تو میری نظر میں تمہاری توقیر گھٹ گئی۔

تم اپنے دو سو اونٹوں کے بارے میں تو بات کرتے ہولیکن ” کعبہ“ کے بارے میں جو تمہارا اور تمہارے آباو اجداد کا دین ہے ، اور میں اسے ویران کرنے کے لیے آیاہوں ، بالکل کوئی بات نہیں کرتے ۔

” عبد المطلب “ نے کہا : ”انا رب الابل ، و ان للبیت ربا سیمنعه “ ! ” میں اونٹوں کا مالک ہوں ، اور اس گھر کا بھی ایک مالک ہے ، وہ اس کی حفاظت خود کرے گا“۔

(اس بات نے ابرھہ کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ سوچ میں پڑ گیا)۔

” عبد المطلب“ مکہ کی طرف آئے ، اور لوگوں کو اطلاع دی کہ وہ پہاڑیوں میں پناہ گزیں ہو جائیں اور آپ خود ایک گروہ کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس آئے تاکہ دعا کریں اور مدد طلب کریں ۔ آپ نے خانہ کعبہ کے دروازے کی زنجیر میں ہاتھ ڈال کر اپنے یہ مشہور اشعار پڑھے:لاهم ان المرء یمنع رحله فامنع رحالک لایغلبن صلیبهم و محالهم ابداً محالک

جروا جمیع بلادهم و الفیل کی یسبوا عیالک لاهم ان المرء یمنع رحله فامنع عیالک

والنصر علی اٰل الصلیب و عابد یه الیوم اٰلک ۔(۱)

” خدا یا ہر شخص اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے تواپنے گھر کی حفاظت فرما“۔

”ایسا کبھی نہ ہو کہ کسی کی تمام توانائیاں اور ہاتھی ساتھ لے کر آئے ہیں تاکہ تیرے حرم کے ساکنوں قیدی بنالیں “۔

” خدا یا ہر شخص اپنے گھر والوں کا دفاع کرتا ہے تو بھی اپنے حرمِ امن کے رہنے والوں کا دفاع کر“

”اور آج اس حرم کے رہنے والوں کی آلِ صلیب اور اس کی عبادت کرنے والوں کے برخلاف مدد فرما“۔

اس کے بعد عبد المطلب اطراف مکہ کے ایک درّہ کی طرف آئے، قریش کی ایک جماعت کے ساتھ وہاں پناہ لی اور اپنے ایک بیٹے کو حکم دیا کہ وہ کوہ ابوقبیس کے اوپر جا کر دیکھے کہ کیا ہورہا ہے۔

آپ کا بیٹا بڑی تیزی کے ساتھ آپ کے پاس آیا اور کہا : بابا جان ! سمندر( دریائے احمر) کی طرف سے ایک سیاہ بادل آتا ہوا نظر آرہا ہے۔ عبد المطلب خوش ہو گئے اور پکار کر کہا :

یامعشر قریش ! ادخلوا منازلکم فقد اٰتاکم الله بالنصر من عنده

” اے جمیعت قریش اپنے گھروں کی طرف پلٹ جاو کیونکہ خدا کی نصرت تمہاری مدد کے لیے آرہی ہے ۔ یہ تو اس طرف کی بات تھی“۔

دوسری طرف سے ابرھہ اپنے مشہور ہاتھی پر سوار جس کانام” محمود“ تھا اپنے کثیر لشکر کے ساتھ کعبہ کو تباہ کرنے کے لیے اطراف کے پہاڑوں سے مکہ کی طرف اترا ، لیکن وہ اپنے ہاتھی پر جتنا دباو ڈالتا تھا وہ آگے نہ بڑھتا تھا ، لیکن جب وہ اس کا رخ یمن کی طرف کرتا تھا تو وہ فوراًچل پڑھتا تھا ۔ ابرھہ اس واقعہ سے سخت متعجب ہوا اور حیرت میں ڈوب گیا ۔

اسی اثناء میں سمندر کی طرف سے غول کے غول اور جھنڈ کے جھنڈ پرندوں کے، آن پہنچے، جن میں سے ہر ایک کے پاس تین تین کنکریاں تھیں ، ایک ایک چونچ میں اور دو دو پنجو ں میں ، جو تقریباً چنے کے دانے کے برابر تھیں ، انہوں نے یہ کنکر یاں ابر ھہ کے لشکر پر برسانی شروع کردیں ۔ یہ کنکر یاں جس کسی کو لگتیں وہ ہلاک ہو جاتا۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ کنکر یاں ان کے بدن پر جہاں بھی لگتیں سوراخ کردیتی تھیں ، اور دوسری طرف نکل جاتی تھیں ۔

اس وقت ابرھہ کے لشکر پر ایک عجیب و غریب وحشت طاری ہوگئی ۔ جو زندہ بچے وہ بھاگ کھڑے ہوئے ، اور واپسی کے لیے یمن کی راہ پوچھتے تھے ، لیکن مسلسل خزاں کے پتوں کی طرح سڑک کے بیچوں بیچ گر جاتے تھے ۔

ایک پتھر خود” ابرھہ“ کے آکر لگا اور وہ زخمی ہوگیا ۔ اس کو صعنا( یمن کے پائے تخت) کی طرف واپس لے گئے اوروہاں جاکر ہلاک ہو گیا ۔

بعض نے کہا ہے کہ چیچک کی بیماری پہلی مرتبہ عرب میں اسی سال پھیلی تھی۔

ہاتھیوں کی تعداد جو ابرھہ اپنے ساتھ لے گیا تھا، بعض نے وہی ” محمود“ ہاتھی، بعض نے آٹھ، بعض نے دس اور بعض نے بارہ لکھی ہے

مشہور قول کے مطابق پیغمبر اکرم نے ولادت اسی سال ہوئی اور عالم آپ کے نور کے وجود سے منور ہوگیا ۔ لہٰذا بہت سے لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان دونوں واقعات کے درمیان ایک رابطہ موجود تھا۔

بہرحال اس عظیم حادثہ کی اس قدر اہمیت تھی کہ اس سال کا نام عال الفیل ( ہاتھی کا سال ) رکھاگیا اور یہ عربوں کا تاریخ کا مبداء قرار پایا ۔(۲)

____________________

۱.۔مورخین ومفسرین نے اوپر والے اشعار کو مختلف طور پر نقل کیا ہے جو کچھ نقل کیا گیا ہے وہ مختلف نقلوں کا مرکب خلاصہ ہے ۔

۲۔” سیرة ابن ہشام “ جلد ۱ ص ۳۸ تا ۶۲ ” بلوغ الارب“۔ جلد ۱ ص ۲۵۰ تا ۲۶۳ ” بحار الانوار“ جلد ۱۵ ص ۱۳۰ سے آگے ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۵۴۲۔


تفسیر

ابرھہ سے کہہ دو کہ وہ آنے میں جلدی نہ کرے

اس سورہ کی پہلی آیت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے :”کیا تونے نہیں دیکھا کہ تیرے پروردگار نے اصحاب فیل کے ساتھ کیا سلوک کیا “؟( الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل ) ۔

وہ اپنی پوری قدرت و طاقت اور لشکر کے ساتھ آئے تاکہ خانہ خدا کو ویران و تباہ کردیں اور خدا نے ایک ایسے لشکر کے ساتھ، جو بظاہر بہت ہی چھوٹا اور بے حیثیت تھا، انہیں درہم بر ہم کردیا ۔ ہاتھیوں کو چھوٹے سے پرندوں کے ساتھ ، اور اس زمانہ کے ترقی یافتہ اسلحہ کو ” سجیل“ پتھریلی کنکریوں کے ساتھ بیکار کردیا تاکہ اس مغرور سر کش انسان کی کمزوری و ناتوانائی کو قدرتِ الٰہی کے مقابلہ میں ظاہر و آشکار کرے۔

الم تر ( کیا تونے نہیں دیکھا؟) کی تعبیر ، حالانکہ یہ حادثہ ایسے زمانہ میں رونما ہو اتھا کہ پیغمبر نے ابھی دنیا میں آنکھ نہیں کھولی تھی، یایہ آپ کی پیدائش سے قریب تر تھا، اسی وجہ سے مذکورہ حادثہ پیغمبر اکرم کے زمانہ کے بہت ہی نزدیک تھا، اس کے علاوہ یہ اتنا مشہور اور متواتر تھا کہ گویا پیغمبر اپنے چشم مبارک سے اس کا مشاہدہ کیا ہوا تھا ، اور پیغمبر کے معاصرین میں سے ایک گروہ نے یقینی طور پر اسے اپنی آنکھ سے دیکھا تھا۔

” اصحاب الفیل “ کی تعبیر انہیں چند ہاتھیوں کی وجہ سے ہے جنہیں وہ اپنے ساتھ یمن سے لائے تھے تاکہ مخالفین کو مرعوب کریں ، او ر اونٹ اور گھوڑے انہیں دیکھ کر بدک جائیں اور میدان ِ جنگ میں نہ ٹھہر سکیں ۔(۱)

اس کے بعد مزیدیہ کہتاہے :کیا خدا نے ان کے منصوبہ کو خاک میں نہیں ملادیا“( الم یجعل کیدهم فی تضلیل ) ۔

ان کا ارادہ یہ تھاکہ خانہ کعبہ کو تباہ کرڈالیں تاکہ یمن کے گرجے کو مرکزیت حاصل ہو اور قبائل عرب اس کی طرف متوجہ ہو جائیں ۔ لیکن وہ نہ صرف یہ کہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو بلکہ اس ماجرے نے جس کی شہرت تمام جزیرہ نمائے عرب میں پھیل گئی تھی۔ مکہ اور خانہ کعبہ کی عظمت کو اور چارچاندلگا دئے اور اس کے مشتاق دلوں کو پہلے سے بھی زیادہ اس کی طرف متوجہ کردیا اور شہر کو اور بھی زیادہ پر امن بنا دیا ۔

” تضلیل“ سے مراد ، جو وہی گمراہ کرنا ہے ، کہ وہ ہر گز اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے۔

اس کے بعد اس ماجرے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ”خدانے گروہ درگروہ ہر طرف ہاتھیوں کے لشکر کی طرف آئے تھے۔

یہ لفظ جمع کے معنی دیتا ہے ، جس کا مفرد بعض نے ” ابابلہ“ یعنی پرندوں یاگھوڑوں یا اونٹوں کا گروہ سمجھا ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسی جمع ہے جس کی جنس کا مفرد نہیں ہے ۔

بہر حال ” طیر“ یہاں جمع کا معنی دیتا ہے، اور یہ دونوں الفاظ ” طیر “ و ابابیل“ مجموعی طور پر گروہ در گروہ پرندوں کے معنی میں ہے ( ایسا نہیں ہے کہ ابابیل ان پرندوں کا نام ہو)۔

اس بارے میں کہ یہ پرندہ کو ن سا پرندہ تھا جیسا کہ ہم نے داستانوں کی تفصیل میں بیان کیا ہے مشہور یہ ہے کہ وہ پرندے کوّے یا چیل کی طرح کے پرندے تھے جو بحر احمر کی راہ سے اٹھے تھے اور ہاتھیوں کے لشکر کی طرف آئے تھے۔

بعد والی آیت میں مزید فرماتا ہے : ” ان پرندوں نے اس لشکر کو سجیل ( پتھریلی مٹی) کے چھوٹے چھوٹے کنکروں سے نشانہ بنایا تھا“۔( ترمیهم بحجارة من سجیل ) ۔(۲)

اور جیسا کہ اس ماجرے کی تفصیل میں ہم نے تواریخ ، تفاسیر اور روایات سے نقل کیا ہے ،ان چھوٹے چھوٹے پرندوں میں سے ہر ایک نے چنے کے دانے کے برابر ی ا س سے بھی چھوٹی چھوٹی کنکریاں اٹھائی تھیں ، ایک ایک کنکری چونچ میں اور دو دو اپنے پنجوں میں ۔ اور یہ چھوٹی چھوٹی کنکریاں جس پر بھی پڑتی تھیں ، اسی کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتی تھیں ۔

جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے : ” انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی مانند بنا دیا “( فجعلهم کعصف ماکول ) ۔

” عصف “ ( بر وزن حذف) ان پتوں کو کہتے ہیں جو زراعت کی شاخ پر ہوتے ہیں اور پھر خشک ہوکرٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ” گھاس “کے معنی میں ہے ۔

اور بعض نے اس کی گندم کے اس چھلکے کے معنی میں تفسیر کی ہے ، جب کہ وہ خوشہ میں ہوتا ہے ۔

” مأکول “ کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گھا س جانوروں کے دانتوں کے نیچے آکر دوبارہ پس جاتا ہے اور مکمل طور پر ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے ، پھر جانور کے معدے نے بھی اسے تیسری مرتبہ ریزہ ریزہ کیا ہے اور یہ چیز اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ یہ سنگریزے جس کسی کو بھی جاکر لگتے تھے، اس کو مکمل طورپر ریزہ ریزہ کردیتے تھے ۔

یہ تعبیر ان کے شدت کے ساتھ پارہ پارہ ہو نے کی دلیل قرار پانے کے علاوہ اس کے سر کش و مغرور اور ظاہراً طاقت ور گروہ اور جمیعت کے بے قدر و قیمت ہونے اوراس کے ضعف و ناتوانی کی طرف اشارہ ہے ۔

____________________

۱۔ ” فیل “ اگر چہ یہاں مفرد ہے ، لیکن جنس و جمع کا معنی رکھتا ہے

۲۔ ” سجیل “ فارسی کا لفظ ہے جو” سنگ“ ( پتھر) اور ” گل“ ( مٹی) سے لیا گیا ہے ، اسی بناء پر وہ ایک ایسی چیز ہوتی ہے جو نہ پتھر کی طرح سخت ہو اور نہ مٹی کی طرح نرم ۔


۱ ۔ ایک بے نظیر معجزہ ( اس گھر کا ایک مالک ہے )

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے اس مفصل و طولانی داستان کو چند مختصر اور چبھنے والے انتہائی فصیح و بلیغ جملوں میں بیان کردیا ہے ۔ اور حقیقتاً ایسے نکات بیان کیے ہیں جو قرآنی اہداف ، یعنی مغرور سر کشوں کو بیدار کرنے اور خدا کی عظیم قدرت کے مقابلہ میں انسان کی کمزوری دکھانے میں مدد دیتے ہیں ۔

یہ ماجرا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ معجزات و خوارق عادات، بعض لوگوں کے خیال کے بر خلاف، لازمی نہیں ہے کہ پیغمبر یا امام ہی کے ہاتھ پر ظاہر ہوں ۔ بلکہ جن حالات میں خدا چاہے اور ضروری سمجھے انجام پاجاتے ہیں ، مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا کی عظمت اور اس کے دین کی حقانیت سے آشنا ہو جائیں ۔

یہ عجیب و غریب اعجاز آمیز عذاب دوسری سر کش اقوام کے عذاب کے ساتھ ایک واضح فرق رکھتا ہے کیونکہ طوفان ِ نوح کا عذاب، اور قوم ِلوط کا زلزلہ اور سنگ باری، قومِ عاد کی تیز آندھی اور قومِ ثمودکا صاعقہ طبعی حوادث کا ایک سلسلہ تھے، کہ جن کا صرف ان خاص حالات میں وقوع معجزہ تھا۔

ان چھوٹے چھوٹے پرندوں کا اٹھنا ، اسی خاص لشکر کی طرف آنا، اپنے ساتھ کنکریوں کا لانا، خاص طور سے انہیں کو نشانہ بنانا اور ان چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے ایک عظیم لشکر کے افراد کے اجسام کا ریزہ ریزہ ہو جانا، یہ سب کے سب خارقِ عادق امور ہیں ، لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ خدا کی قدرت کے سا منے بہت ہی معمولی چیز ہے ۔

وہی خدا جس نے انہیں سنگ ریزوں کے اندر ایٹم کی قدرت پیدا کی ہے ، کہ اگر وہ آزاد ہو جائے تو ایک عظیم تباہی پھیلادے۔

اس کے لیے یہ بات آسان ہے کہ ان کے اندر ایسی خاصیت پید اکردے کہ ابرھہ کے لشکر کے جسموں کو ” عصف مأکول “ ( کھائے ہوئے بھوسے کی مانند ) بنادے۔

ہمیں بعض مصری مفسرین کی طرف اس حادثہ کی توجیہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ ان کنکریوں میں وبا یا چیچک کے جراثیم تھے ۔(۱)

اور اگر بعض روایات میں یہ ہے کہ صد مہ زدہ لوگوں کے بدنوں سے چیچک میں مبتلا افراد کی طرح خون اور پیپ آتی تھی، تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ حتمی طور پر چیچک میں مبتلا تھے ۔

اسی طرح سے ہمیں اس بات کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ یہ سنگ ریزے پسے ہوئے ایٹم تھے جن کے درمیان کی فضا ختم ہو گئی تھی ۔ اور وہ حد سے زیادہ سخت تھے ، اس طرح سے کہ وہ جہاں بھی گرتے تھے سوراخ کردیتے تھے۔

یہ سب کی سب ایسی توجیہات ہیں جو اس حادثہ کو طبیعی بنانے کے لیے ذکر ہو ئی ہیں اور ہم اس کی ضرورت نہیں سمجھتے ۔ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں کہ ان سنگ ریزوں میں ایسی عجیب و غریب خاصیت تھی جو جسموں کو ریزہ ریزہ کردیتی تھی ۔ا س سے زیادہ اور کوئی اطلاع ہمارے پاس نہیں ہے۔ بہر حال خدا کی قدرت کے مقابلہ میں کوئی کام بھی مشکل نہیں ہوتا۔(۲)

____________________

۱۔ ”تفسیرعبدہ“ جزء عم ص ۱۵۸ ملاحظہ ہو ۔

۲۔ اگر بعض تواریخ میں یہ آیا ہے کہ عرب کے شہروں میں چیچک کا مرض پہلی مرتبہ اسی سال دیکھنے میں آیا ہے تو یہ بات اسی معنی پر دلیل نہیں بنتی۔


۲ ۔ معمولی وسیلہ سے سخت ترین سزا

قابل توجہ بات یہ ہے کہ خدا نے اس ماجرے میں مستکبرین اور سر کشوں کے مقابلہ میں اپنی قدرت اعلیٰ ترین صورت میں دکھادی ہے ۔ شاید دنیا میں ابرھہ کے لشکر کے عذاب سے بڑھ کر زیادہ سخت اور کوئی عذاب نہ ہو اور ان مغرور لوگوں کو اسی طرح سے تباہ و بر باد کردیا جائے کہ ریزہ ریزہ اور کھائے ہوئے بھوسے ( عصف مأکول) کی طرح ہو جائیں ۔

اتنی بڑی قدرت و شوکت رکھنے والی جمیعت کی نابودی کے لیے نرم قسم کے سنگ ریزوں اور کمزور اور چھوٹے چھوٹے پرندوں سے کام لیاجائے۔ وہی بات کہ یہ دنیا جہان کے تمام مستکبرین اور سر کشوں کے لیے ایک تنبیہ ہے ، تاکہ وہ جان لیں کہ وہ خدا کی قدرت کے مقابلہ میں کس قدر ناتواں ہیں ۔

مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خدا اس قسم کے عظیم کام بہت ہی چھوٹے سے موجودات کے سپرد کر دیتا ہے ۔ مثلاً ایسے جراثیم کو ، جو ہر گز آنکھ سے دیکھے نہیں جاسکتے، مامور کردیتا ہے کہ وہ ایک مختصر سی مدت میں سر عت کے ساتھ اپنی پیدا ئش بڑھا کر طاقت ور قوموں کو ایک خطر ناک سرایت کرنے والی بیماری، مثلاً: ” وبا ء“ و ” طاعون“ میں مبتلا کردے۔ اور ایک مختصر سی مدت میں خزاں کے پتوں کی طرح زمین پر ڈھیر کردے۔

یمن کا عظیم بند( سد ماٰرب ) جیسا کہ ہم نے سورہ سبا کی تفسیر میں بیان کیا ہے ۔ زیادہ آبادی اور ایک عظیم طاقت ور تمدن کی پیدائش کا ذریعہ بنی ۔ اور اس کے بعد اس قوم کی سر کشی برھ گئی ، لیکن اس قوم کی نابودی کا فرمان جیسا کہ بعض روایات میں آیاہے ، ایک یا چند صحرائی چوہوں کے سپرد ہوا تاکہ وہ اس عظیم بند کے اندر گھس جائیں اور اس میں ایک سوراخ کردیں ۔ اس سوراخ میں پانی ہونے کی وجہ سے یہ سوراخ بڑے سے بڑا ہوتا چلا گیا اور آخر کار وہ عظیم بند توٹ گیا اور پانی جو اس بندکے تھپیڑے ماررہا تھا، اس نے ان سب آبادیوں ، گھروں اور محلوں کو ویران اور تباہ کردیا ۔ اور بڑی جمیعت یا تو نابود ہو گئی یا دوسرے علاقوں میں پراکندہ اور منتشر ہو گئی۔ یہ ہے خدا وندِ بزرگ و بر تر کی قدرت نمائی۔

۳ ۔ داستان ِ فیل کے اہداف

آگے آنے والی سورت ( سورہ لایلاف) سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ سورہ فیل کا ایک ہدف قریش پر خدا کی عظیم نعمتوں کی یاد آوری ہے تاکہ انہیں یہ بتا دے کہ اگر پروردگار کا لطف نہ ہوتا تو نہ اس مقدس مرکز یعنی مکہ و کعبہ کے آثار ہوتے اور نہ ہی قریش ہوتے ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اسی طرح کبر و غرور کی سواری سے نیچے اتر آئیں اور پیغمبر اکرم کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم کردیں ۔

دوسری طرف یہ ماجرا ، جو پیغمبراکرم کے میلاد کے قریب قریب ساتھ واقع ہوا تھا ، حقیقت میں اس عظیم ظہور کا پیش خیمہ تھا اور اس قیام کی عظمت کا پیام لانے والا تھا۔ اور یہ وہی چیز ہے جسے مفسرین نے ” ارھاص“ سے تعبیر کیا ہے ۔(۱)

اس واقعہ کا تیسرا مقصد یہ ہے کہ یہ ساری دنیا جہان کے سر کشوں کے لیے ایک تنبیہ ہے ، چاہے وہ قریش ہوں یا ان کے علاوہ کوئی اور ہوں ، کہ وہ جان لیں کہ وہ ہر گز پروردگار کی قدرت کے مقابلہ میں نہیں ٹھہرسکتے۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ وہ خیال ِ خا، کو اپنے سے سے نکال دیں ، اس کا حکم مانیں اور حق و عدالت کے سامنے سر تسلیم خم کردیں ۔

چوتھا مقصد اس عظیم گھر کی اہمیت کو ظاہر کرنا ہے کہ جب ” کعبہ“ کے دشمنوں نے اس کو نابود کرنے کا منصوبہ بنا یا ، اور وہ اس ابراہیمی سر زمین کی مرکزیت کو دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتے تھے ، تو خدا نے ان کی اس طرح سے گوشمالی کی کہ ساری دنیا کے لیے باعث عبرت بن گئی اور اس مقدس مرکز کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔

اور پانچواں مقصد یہ ہے کہ ، وہ خدا جس نے اس سر زمین ِ مقدس کی امنیت کی بارے میں ابراہیم خلیل کی دعا کو قبول کیا تھا ، اور اس کی ضمانت دی تھی ، اس نے اس ماجرے میں اس بات کی نشان دہی کردی ہے کہ اس کی مشیت یہی ہے کہ یہ توحید و عبادت کا مرکز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مرکز امن رہے ۔

____________________

۱۔” ارھاص“ ان معجزات کے معنی جو پیغمبرکے قیام سے قبل واقع ہوں اور اس کی دعوت کے لیے زمین ہموار کرنے والے ہوں ۔ یہ لفظ اصل میں بنیاد گزاری اور پہلا سنگِ بنیاد رکھنے کے معنی میں ہے جسے دیوار کے نیچے رکھتے ہیں ، اور آمادہ ہونے اور ( کھڑے ہونے )کے معنی میں بھی آیا ہے ۔


۴ ۔ ایک مسلّم تاریخی روئیداد

قابل توجہ بات یہ ہے کہ ” اصحاب فیل “ کا ماجرا عربوں کے درمیان ایسا مسلم تھا کہ یہ ان کے لیے تاریخ کا آغاز قرار پایا اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ ، قرآن مجید نے ایک نہایت ہی عمدہ تعبیر ” الم تر“ ( کیا تونے نہیں دیکھا ) کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے ، وہ بھی پیغمبر اکرم کو خطاب کرتے ہوئے جو نہ تو اس زمانہ میں موجود تھے اور نہ ہی اسے دیکھا تھا، جو اس ماجرے کے مسلم ہونے کی ایک اور نشانی ہے ۔

ان سب باتوں سے قطع نظر جب پیغمبر اکرام نے مشر کین مکہ کے سامنے ان آیات کی تلاوت کی تو کسی نے اس کا انکار نہ کیا ۔ اگر یہ مطلب مشکوک ہوتا تو کم از کم کوئی تو اعتراض کرتا اور ان کا اعتراض ان کے باقی اعتراضوں کی طرح ہی تاریخ میں ثبت ہو جاتاخصوصاً جب کہ قرآن نے جملہ ” الم تر“ کے ساتھ اس مطلب کو ادا کیا تھا۔

خدا وندا ! ہمیں توفیق مرحمت فرما کہ ہم اس توحید کے عظیم مرکز کی پاسداری کریں ۔

پر وردگارا ! ان لوگوں کے ہاتھ ، جو اس مقدس مرکز کی ظاہری حفاظت پرقناعت کرنا چاہتے ہیں ، لیکن اس کی حقیقت کے پیام کو نظر انداز کرتے ہیں ، اس مرکز سے کاٹ دے ۔

بار الٰہا ! تمام اشتیاق رکھنے والوں کو مکمل آگاہی و عرفان کے ساتھ اس کی زیارت نصیب فرما۔

آمین یا رب العالیمن


سورہ قریش

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ۔ اس میں ۴ آیات ہیں

سورہ قریش کے مطالب

ہ سورہ حقیقت میں سورہ فیل کی تکمیل کرنے والی سمجھی جاتی ہے اور اس کی آیات اس مطلب پر واضح دلیل ہیں ۔

اس سورہ کا مضمون قریش پر خدا کی نعمت اور ان کے بارے میں اس کے الطاف اور محبتوں کا بیان ہے ، تاکہ ان میں شکر گزاری کا احساس پید اہو اور اس عظیم گھر کے پروردگار کی عبادت کے لیے جس سے ان کا سارا شرف اور افتخار ہے تیار ہو جائیں ۔

جیسا کہ ہم نے سورہ ” و الضحیٰ“ کے آغاز میں بیان کیا تھا کہ یہ سورہ اور سورہ الم نشرح حقیقت میں ایک شمار ہوتی ہے ، اسی طرح سورہ ”فیل “ اور سورہ ”قریش“بھی ایک ہی شمار ہوتی ہیں کیونکہ اگر ہم ٹھیک طرح سے ان دونوں کے مطالب پر غور کریں تو معلوم ہو جائےگا کہ ان دونوں کے مطالب ایک دوسرے کے ساتھ اتنے ملتے جلتے ہیں کہ وہ دونوں کے ایک ہونے کی دلیل بن سکتے ہیں ۔

اسی بناء پر نماز کی ہر رکعت میں ایک مکمل سورت پڑھنے کے لیے اگر کوئی شخص اوپروالی سورتوں کا انتخاب کرے تو ضروری ہے کہ وہ دونوں کو اکٹھا پڑھے ۔اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے فقہی کتابوں (کتا ب صلوٰة بحث قرت) کی طرف رجوع کیا جائے ۔(۱)

____________________

۱۔مرحوم شیخ ”حر عاملی“نے کتاب”وسائل “میں اس مطلب سے مربوط روایات جلد ۴ ص۷۴۳(باب ۱۰ازابواب قرت نماز )میں نقل کی ہیں ۔


اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت میں یہی بات کافی ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فر مایا :

من قرأها اعطی من الاجرعشرحسنات ،بعددمن طاف بالکعبة،واعتکف بها :“

”جو شخص اس کو پڑ ھے تواسے ان لوگوں کی تعداد سے دس گنا نیکیاں دی جائے گی ،جنہوں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا ہے ،یا وہاں اعتکاف کیا ہے“(۱)

مسلمہ طور پر اس قسم کی فضیلت اس شخص کے لیے ہے جو اس خدا کی بارگاہ میں ،جو کعبہ کا پرور دگار ہے ،سر تعظیم جھکائے ،اس کی عبادت کرے ،اس گھر کے احترام کو مدّ نظر رکھے ،اس کا پیام دل کے کان سے سنے اور اس کی پا بندی کرے ۔

____________________

۱”مجمع البیان “جلد ۱۰ ص۵۴۳۔


آیات ۱،۲،۳،۴،

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( لایلف قریش ) ۔ ۲ ۔( ایلافهم رحلة الشتاء والصیف ) ۔ ۳ ۔( فلیعبدوا رب هذاالبیت ) ۔ ۴ ۔ا( لذی اطعمهم من جوع ) ۔( واٰمنهم من خوف ) ۔

تر جمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے

۱ ۔(اصحاب فیل کا عذاب )اس بناء پر تھا کہ قر یش (اس سر زمین مقدس سے )الفت رکھیں ۔(اور پیغمبر کے ظہور کے مقد مات فرا ہم ہوں )۔

۲ ۔انہیں سردیوں اور گر میوں کے سفر سے الفت ہے ۔ ۳ ۔پس (اس عظیم نعمت کے شکرانے کے طور پر )اس گھر کے پر وردگارکی عبادت کریں ۔

۴ ۔وہی جس نے انہیں بھوک سے نجات دی اور بدامنی سے نجات بخشی ۔

اس گھر کے پروردگار کی عبادت کرنی چا ہیئے ۔

چو نکہ گزشتہ سورہ (سورئہ فیل )میں اصحاب فیل اور ابرھہ کے لشکر کی نابودی کی تفصیل بیان ہوئی تھی ،جو خانہ کعبہ کو نابود کرنے اور اس خدائی مرکز مقدس کو ویران کرنے کے ارادہ سے آیا تھا ،لہٰذا اس سور ہ کی پہلی آیت میں ،جو حقیقت میں سورئہ فیل کا ایک (تکمیل بیان )ہے ،فر ماتا ہے :”ہم نے ہاتھیوں کے لشکر کو نابود کر کے انہیں کھائے ہوئے بھو سہ کے مانند ریزہ ریزہ کر دیا ،”تاکہ قر یش اس مقدس سر زمین سے الفت پیدا کریں “اور پیغمبر اکرم کے ظہور کے مقد مات فراہم ہوں ۔‘( لا یلاف قر یش ) ۔(۱)

”ایلاف “مصدر ہے ،اورالفت بخشنے کے معنی میں ہے اور ”الفت “انس و محبت اور گھل مل جانے کے ساتھ اجتماع کے معنی میں ہے ،اور یہ بعض نے ”ایلاف“کی مئوالفت اور ”عہد و پیمان “کے ساتھ تفسیر کی ہے ،تو وہ نہ تو اس لفظ کے ساتھ مناسب ہے جو باب افعال کا مصدر ہے ،اور نہ ہی اس سورہ کی آیات کے مضمون سے ۔

بہر حال اس سے مراد قریش اور سر زمین مکہ اور خانہ کعبہ کے درمیان الفت پیدا کرنا ہے کیو نکہ قریش اور تمام اہل مکہ اس سر زمین کی مر کزیت اور امنیت کی بناء پر ہی وہاں رہا ئش پذیر تھے ۔حجاز کے بہت سے لوگ ہر سال وہاں آتے تھے اور مراسم حج بجا لاتے تھے ،اقتصادی اور ادبی مباد لات رکھتے تھے اور اس سر زمین کی مختلف بر کات سے استفادہ کرتے تھے ۔

یہ سب کچھ اس کی مخصوص سلامتی کی وجہ سے تھا ۔اگر ابرھہ یا کسی اور لشکر کشی سے اس کی سلامتی اور امنیت مخدوش ہوجاتی ،یا خانہ کعبہ ویران ہو جاتا ،تو پھر کسی کو اس سر زمین سے الفت و محبت نہ رہتی ۔

”قریش “کا لفظ جیسا کہ بہت سے مفسرین اور ارباب لغت نے کہا ہے اصل میں سمندر کے عظیم جانوروں کی ایک نوع کے معنی میں ہے ،جو ہر جانور کو آسانی کے ساتھ کھا لیتی ہے ۔یہ عبارت ”ابن عباس “سے مشہور ہے کہ جب ان سے سوال ہوا کہ قریش کو ”قریش “کیوں کہتے ہیں ؟تو انہوں نے یہ جواب دیا :”لدابةتکون فی البحر من اعظم دوابه یقال لها القریش ،لا تمر بشیء من الغث والسمین الااکلته ،!:

”یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ سمندر کے ایک بہت بڑے جانور کا نام ہے ،وہ جس دبلے یا موٹے جانور کے پاس سے گزر تا ہے اسے کھا جاتا ہے ۔“

اس کے بعد وہ اپنی بات کے ثبوت میں اشعار عرب سے شہاد ت پیش کرتے ہیں ۔

اس بناء پر اس قبیلہ کے لیے اس نام کا انتخاب ،اس قبیلہ کی قدرت و قوت اور اس قدرت سے غلط فائدہ اٹھا نے کی وجہ سے ہوا ۔

لیکن بعض نے اسے ”قریش “(بر وزن فرش)کے مادہ سے اکتساب کے معنی میں لیا ہے ،کیونکہ عام طور پر یہ قبیلہ تجارت اور کسب میں مشغول رہتا تھا ۔بعض اس مادہ کو خبر گیری اور دیکھ بھال کرنے کے معنی میں جانتے ہیں او رچو نکہ قریش حاجیوں کے حالات کی خبر گیری کرتے تھے ،اور بعض اوقات ان کی مدد کرتے تھے ،اس لیے یہ لفظ ان کے لیے منتخب ہوا ۔

”قریش“لغت میں اجتماع کے معنی میں آیا ہے کیونکہ یہ قبیلہ ایک خاص قسم کی تنظیم اور اجتماع رکھتا تھا ،اس لیے یہ نام ان کے لیے انتخاب ہو ا۔

لیکن بہر حال موجودہ زما نہ میں قریش کسی اچھے مفہوم میں استعمال نہیں ہوتا ،اور با وجود اس کے کہ وہ پیغمبر اکرم کا قبیلہ تھا ،اسلام کا سخت ترین دشمن شمار ہوتا تھا جو کسی قسم کی عہد شکنی،عداوت اور دشمنی سے نہیں چو کتا تھا ۔یہاں تک کہ جب ان کی قدرت و طاقت اسلام کی کامیابی کی وجہ سے دم توڑ گئی تو پھر بھی انہوں نے مخفی سا زشوں کو جاری رکھا اور پیغمبر اکرم کی رحلت کے بعد بھی انہوں نے ایسے درد ناک حوادث پیدا کیے جنہیں تاریخ اسلام کبھی فرا موش نہیں کرے گی ۔ہم جانتے ہیں کہ ”بنی امیہ “اور”بنی عباس “جو طاغوتی حکومت کا اعلیٰ ترین نمونہ تھے ،قریش میں سے ہی اٹھے تھے ۔

قرائن بھی اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ وہ عربوں کے زمانہ جاہلیت میں بھی لوگوں کے استشمار و استعمار کی کو شش میں لگے رہتے تھے اور اسی وجہ سے جب آزادی بخش اسلام نے طلوع کیا اوران کے ناجائز منا فع خطرے میں پڑ گئے تو وہ پوری طاقت کے ساتھ مبارزہ کے لیے کھڑے ہو گئے ۔لیکن اسلام کی عظیم قدرت نے انہیں درہم و برہم کر دیا ۔

بعدو الی آیت میں مزید کہتا ہے :”ہدف اور مقصد یہ تھا کہ خدا قریش کو سردیوں اور گر میوں کے سفروں سے الفت بخشے ۔“( ایلافهم رحلةالشتاء والصیف ) (۲) ، ۔(۳)

ممکن ہے کہ اس سر زمین مقدس سے قریش کو الفت بخشنا مراد ہو ،تا کہ وہ گرمیوں اور سر دیوں کے طویل سفروں میں اس مقدس مر کز سے اپنا تعلق اور لگاؤ دل سے نہ بھلائیں اور ا س کی سلامتی کی وجہ سے اس کی طرف لوٹ آئیں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ سر زمین یمن اور شام کی زندگی کی آسا ئشوں سے متاثر ہو کر مکہ کو خالی چھوڑ دیں ۔یا اس سے ان دو عظیم سفروں میں قریش اور دوسرے لوگوں کے درمیان الفت پیدا کرنا مراد ہے ،کیو نکہ ابرھہ کی داستان کے بعد لوگ انہیں دوسری نظر سے دیکھتے تھے اور قریش کے قافلہ کے احترام و اہمیت کے قائل تھے ۔

قریش کو اس طویل سفر میں بھی امن کی ضرورت تھی اور سر زمین مکہ کے لیے بھی ،اور خدا نے ابرھہ کے لشکر کی شکست کے نتیجہ میں یہ دونوں سلامتیاں انہیں بخش دی تھیں ۔

ہمیں معلوم ہے کہ ”مکہ “کی زمین میں نہ تو کوئی باغ تھا اور نہ ہی کوئی کھیتی باڑی ہوتی تھی ۔جانوروں کی دیکھ بھال بھی ان کی محدود تھی ،ان کی در آمد زیادہ تر انہیں تجارتی قافلوں کے ذر یعے پوری ہوتی تھی ۔وہ سردی کے موسم میں جنوب یعنی سر زمین یمن کی طرف ۔جس کا موسم نسبتا گرم ہوتا ہے ۔رخ کر تے تھے اور گرمی کے موسم میں شمال اور سر زمین کی طرف ۔جس کی ہوا اور موسم خو شگوار ہوتا تھا ۔اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ سر زمین یمن بھی اور سر زمین شام بھی ،اس زمانہ میں اہم تجارتی مرا کز تھے ۔اور مکہ اور مدینہ ان دونوں کے در میان حلقئہ اتصالی شمار ہوتے تھے ۔

البتہ قریش ان غلط کاریوں کی وجہ سے ،جو وہ انجام دیتے تھے ،خدا کے ان الطاف و محبت کے مستحق تو نہ تھے ۔لیکن چو نکہ یہ مقدر ہو چکا تھا کہ اس قبیلہ اور اس سر زمین مقدس سے اسلام اور پیغمبر اسلام کا طلوع ہو ،لہٰذا خدا نے ان پر یہ لطف فر مایا ۔

بعد والی آیت میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قریش کو ان سب خدائی نعمتوں کی وجہ سے جو انہیں کعبہ کی بر کت سے حاصل ہوئی تھیں ”اس گھر کے پروردگار کی عبادت کرنا چا ہیئے نہ کہ بتوں کی ۔“(فلیعبدوارب ھٰذاالبیت )۔

”وہی خدا جس نے انہیں بھوک سے نجات بخشی اور کھانا دیا ،اور بے امنی سے رہائی بخشی اور امن دیا ۔“( الذی اطعمهم من جوع و امنهم من خوف ) ۔(۴)

ایک طرف تو انہیں تجارت میں فروغ عطا کیا اور انہیں فائدہ پہنچایا اور دوسری طرف بد امنی کو ان سے دور کر دیا اور دفع ضرر کیا ۔اور یہ سب کچھ ابرھہ کے لشکر کی شکست سے فراہم ہوا اور حقیقت میں یہ کعبہ کے بانی ابرا ہیم علیہ اسلام کی دعا کی قبو لیت تھی ۔لیکن انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی ۔اس مقدس گھر کو ایک بت خانہ میں تبدیل کر دیا ،بتوں کی عبادت کو اس گھر کے خدا کی عبادت پر تر جیح دی اور انجام کار ان تمام نا شکر یوں کا انجام بد دیکھا ۔

خدا وندا!ہمیں عبادت و بندگی اور نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور اس عظیم گھر کی حفا ظت ،پاسداری اور احترام کرنے کی تو فیق مر حمت فر ما ۔پرور دگار ا!اس عظیم اسلامی مرکز کو روز بروز زیادہ پر شکوہ ،اور دنیا جہان کے مسلمانوں کے لیے حلقئہ اتصال قرار دے ۔

بار الٰہا!سارے خو نخوار دشمنوں اور ان لوگو ں کے جو اس عظیم مر کز سے فائدہ اُٹھاتے ہیں ،ہا تھ کاٹ دے ۔

آمین یارب العالمین

____________________

۱۔”لا یلاف “میں ”لام “ علت کے معنی میں ہے اور ”جار دمجرور“”جعل “سے متعلق ہے ،جو گز شتہ سورہ کی آیہ ”فجعلھم کعصف مأ کول “میں ،یا کسی اور دوسرے فعل کے جو اس سورہ میں تھا ۔بعض نے اس جارومجرور کو فلیعبدوا کے جملہ سے متعلق سمجھا ہے ، جو بعد والی آیات میں آیا ہے ۔لیکن یہ احتمال آیات کے مفہوم کے ساتھ چنداں ساز گار نہیں ہے اور پہلا معنی بہتر ہے ۔

۲۔”ایلافھم “اس ”ایلاف “کا بدل ہے جو گزشتہ آیت میں آیاہے ،اور ”ھم “کی ضمیر پہلا مفعول ہے ۔اور ”رحلةالشتاء“دوسرا مفعول ہے اور بعض کے نظریے کے مطابق ظر فیت کے معنی میں ہے ۔اور ممکن ہے کہ وہ ”منصوب بنذع خافض“ہو، اور تقدیر میں اس طرح ہو ”ایلافھم من رحلة الشتاء والصیف “(دوسرا اور تیسر امعنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے ۔)

۳۔”رحلة“در اصل ”رحل “(بر وزن شہر )سے ،اس پردہ کے معنی میں ہے جو سوار ہونے کے لیے ڈالتے ہیں ۔اسی مناسبت سے ،خود اونٹ پر یا ان مسافرتوں پر جو اُونٹ یا دوسرے ذرائع سے ہوتی ہیں ،پربھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔

۴۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو دو آیات سمجھا ہے ،اور اس سورہ کی آیات کو پانچ آیات شمار کیا ہے ،لیکن مشہور و معروف یہ ہے کہ یہ ایک آیت ہے ،اور اس سورہ کی چار ہی آیات ہیں ۔


سورئہ الماعون

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ۔ اس میں ۷ آیات ہیں ۔

سورہ ما عون کے مطالب

یہ سورہ بہت سے مفسرین کے نظریہ کے مطابق مکی سورتوں میں سے ہے ۔اس کی آیات کا لب و لہجہ ،جو مختصر اورچبھنے والے مقاطع میں قیامت اور اس کے منکرین کے اعمال کے بارے میں گفتگو کرتی ہیں ،اس مطلب کی ناطق گواہ ہیں ۔مجموعی طور پر اس سورہ میں منکرین قیا مت کی صفات و اعمال کو پا نچ مر حلوں میں بیان کیا گیا ہے ،کہ وہ اس عظیم دن کی تکذیب کی وجہ سے راہ خدا میں ”اتفاق “کرنے اور ”یتیموں “اور ”مسکینوں کی مدد کرنے سے کس طرح رو گردانی کرتے ہیں اور وہ ”نماز “ کے بارے میں کیسے غافل اور ریا کار ہیں ،اور ”حاجت مندوں “کی مدد کرنے سے کس طرح رو گردانی کرتے ہیں ؟

اس سورہ کی شان نزول کے بارے میں بعض نے تو یہ کہاہے کہ یہ ابو سفیان کے بارے میں نازل ہوا ہے جو روزانہ دوبڑے بڑے اونٹ نحر کیا کرتا تھا اور وہ خود اس کے یار دوست انہیں کھاتے تھے۔ لیکن ایک دن ایک یتیم آیا اور اس نے ان سے کچھ مانگا تو اس نے اپنے عصا سے اسے مارا ، اور اسے دور کر دیا ۔

بعض دوسرے مفسرین نے یہ کہا کہ یہ ” ولید بن مغیرہ“ یا ” عاص بن وائل “ کی شان میں نازل ہوئی ہے ۔

اس سورہ کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے :

” من قرأ أء یت الذی یکذب بالدین فرایضہ و نووافلہ قبل اللہ صلاتہ و صیامہ، ولم یحاسبہ بما کان منہ فی الحیاة الدنیا“:

” جو شخص اس سورہ کو اپنی فریضہ نمازوں میں پڑھے گا تو ا س کے نماز و روزہ کو قبول کرے گا اور ان کاموں کے مقابلہ میں جو اس سے دنیا میں سر زد ہوئے ہیں اس کا کوئی حساب نہیں لے گا“۔(۱)

____________________

۱۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۵۴۶۔


آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( ارء یتَ الذی یکذب بالدین ) ۔ ۲ ۔( فذالک یدع الیتیم ) ۔ ۳ ۔( و لایحض علیٰ طعام المسکین ) ۔

۴ ۔( فویل للمصلین ) ۔ ۵ ۔( الذین هم عن صلاتهم ساهون ) ۔ ۶ ۔( الذین هم یرآء ُ و ن ) ۔ ۷ ۔( ویمنعون الماعون ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ کیا تونے اس شخص کو دیکھاہے ، جو ہمیشہ ہی روز ِ جزا کا انکار کرتا رہتا ہے ؟ ۲ ۔ وہی تو ہے ، جو یتیم کو سختی کے ساتھ دھکے دیتا ہے ۔

۳ ۔ اور دوسروں کو مسکین کو کھانا کھلانے کا شوق نہیں دلاتا ہے ۔ ۴ ۔ پس ان نماز گزاروں پر وائے ہے ، جو ۔

۵ ۔ اپنی نمازوں کو بھول جاتے ہیں ۔ ۶ ۔ وہی جو ریاکاری کرتے ہیں ۔ ۷ ۔ اور دوسروں کو ضروریاتِ زندگی سے باز رکھتے ہیں ۔

معاد کے انکار کے اثراتِ بد

اس سورے میں پہلے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مخاطب کرتے ہوئے منکرین کے اعمال میں روز جزا کے انکار کے اثراتِ بد کو بیان کرتا ہے :۔

” کیاتو نے اس شخص کو دیکھا ہے جو ہمیشہ روز جزا کا انکار کرتا ہے “( أ راء یت الذی یکذب با لدین ) ۔

اس کے بعد اس کے جواب کا انتظا رکیے بغیر مزید فرماتا ہے ،: ” وہی تو ہے جو یتیم کو سختی کے ساتھ دھکے دیتا ہے “۔( فذالک الذی یدع الیتیم ) ۔

” دین “ سے مراد یہاں ” جزا“ یا ” روز جزا “ ہے ۔ اور اس کی عظیم داد گاہ کے انکار سے انسان کے عمل میں ایک وسیع ردِّ عمل پیدا ہوتا ہے ۔ جس کے پانچ حصوں کی طرف اس سورہ میں اشارہ ہوا ہے ، منجملہ : یتیموں کو سختی کے ساتھ دھتکا ر نا اور دوسرے لوگوں کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کا شوق دلا نا ۔یعنی نہ تو خود ہی انفاق کرنا اور نہ ہی دوسروں کو ا س کام کی دعوت دینا ۔

بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہاں “ دین “ سے مراد قرآن یا تمام آئین و دین اسلام ہے ۔ لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے ، اور اس کی نظیر سورہ انفطار کی آیہ ۹” کلا بل تکذبون بالدین “اور سورہ ” تین “ آیہ ۷ فما یکذبک بعد بالدین“ میں بھی آئی ہے ، جہاں ان سورتوں کی دوسری آیات کے قرینہ سے دین سے مراد روز جزا ہے ۔

” یدع “ ” دعّ “ ( بر وزن حد) کے مادہ سے، سختی کے ساتھ دور کرنے اور غصہ کے ساتھ دھتکار نے کے معنی میں ہے اور” یحض“ ” حض“ کے مادہ سے کسی چیز کے لیے دوسروں کو تحریص و ترغیب دینے کے معنی میں ہے ، ” راغب“ ” مفردات“ میں کہتا ہے ، ” حص“ چلنے اور سیر کرنے کے لیے شوق دلانا ہے ، لیکن ” حض“ اس طرح نہیں ۔(۱)

چونکہ ”یحض “ اور ”یدع“فعل مضارع کی صورت میں آئے ہیں ، لہٰذا اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یتیموں اور مسکینوں کے بارے میں ان کا یہ کام دائمی طور پر تھا ۔

یہ نکتہ بھی یہاں پر قابل توجہ ہے کہ یتموں کے بارے میں انسانی حقیقت او رمہر بانی کرنے کا مسئلہ کھا نا کھلانے اور سیر کرنے کی نسبت زیادہ عمدہ ہے۔ کیونکہ یتیم سب سے زیادہ رنج اور دکھ شفقت و مہر بانی کے مرکز اور غذا ئے روحی کے ہاتھ سے چلے جانے کی وجہ سے ہوتا ہے ، اور جسمانی غذا کا مرحلہ بعد میں آتا ہے ۔

پھر ان آیات میں ہمارے سامنے مسکینوں کو کھانا کھلانے کا مسئلہ آتا ہے ، جو اہم ترین کار ہائے خیر میں سے ہے ۔ یہاں تک کہ فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص خود کسی مسکین کو کھاناکھلانے کی قدرت نہیں رکھتا، تو دوسروں کو اس بات کی ترغیب دے اور شوق دلائے۔

” فذالک“ کی تعبیر ( اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہاں ” فا“ سببیت کا معنی دیتا ہے ) اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ معاد پر ایمان کا نہ ہونا ان غلط کاریوں کا سبب بنتا ہے ، اور واقعاً ایسا ہی ہے وہ شخص جو دل کی گہرائیوں کے ساتھ اس عظیم دن اور اس دادگاہ عدل ، اور اس حساب و کتاب اور جزا و سزا پر یقین رکھتا ہو، اس کے تمام اعمال میں اس کے مثبت آثار ظاہر ہو ں گے ، لیکن جو اس پر ایمان نہیں رکھتے تو گناہ کرنے اور انواع و اقسام کے جرائم کرنے پر ان کی جرأت کرنے میں اس کے اثرات کامل طو ر پر نمایاں ہوتے ہیں ۔

اس گروہ کی تیسری صفت کے بارے میں فرماتاہے : پس ان نماز گزاروں پر وائے ہے “۔( فویل للمصلین ) ۔

” وہی نمازی جو اپنی نماز کو بھول جاتے ہیں “۔( الذین هم عن صلاتهم ساهون ) ۔

وہ اس کے لیے نہ تو کسی قدر و قیمت کے قائل ہیں او ر نہ ہی اس کے اوقات کوکوئی اہمیت دیتے ہیں ، او رنہ ہی اس کے ارکان و شرائط اور آداب کی رعایت کرتے ہیں ۔

” ساھون “ ” سھو“ کے مادہ سے اصل میں اس خطا کے معنی میں ہے جو غفلت کی بناء پر سرزد ہوچاہے اس کے مقدمات کے فراہم کرنے میں مقصر ہو یانہ ہو ۔ البتہ پہلی صورت میں معذور نہیں ہے ، اور دوسری صورت میں معذور ہے لیکن یہاں وہ سہو مراد ہے جو تقصیر کے ساتھ توأم ہو۔

اس بات کی توجہ رکھنی چاہئیے کہ یہ نہیں فرماتا کہ:” وہ اپنی نما ز میں سہو کرتے ہیں “۔ چونکہ نماز میں سہو تو بہر حال ہر شخص سے ہوجاتا ہے ، ”وہ اصل نماز سے ہی سہو کرتے ہیں ، اور کل کی کل نماز کو ہی بھول جاتے ہیں “۔

اس بات واضح ہے کہ اگر اس مطلب کاایک یاچند مرتبہ اتفاق ہو تو ممکن ہے کہ کوتاہی کی وجہ سے ہو ۔ لیکن جو شخص نماز کو ہمیشہ کے لیے ہی بھولے ہوئے ہو، اور اسے بالکل ہی بھلا چکا ہو، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس کے لیے کسی اہمیت کا قائل نہیں ہے ، یا اصلاً اس پر ایمان نہیں رکھتا ، اور اگر وہ کبھی کبھار نماز پڑھ لیتا ہے تو لوگو ں کی زبان یا اسی طرح کی باتوں سے ڈر کر پڑھتا ہے

اس بارے میں کہ یہاں ” ساھون “ سے مراد کیا ہے ؟ جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیا ہے اس کے علاوہ دوسری تفسیریں بھی بیان کی گئی ہیں ۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ اس سے مراد وقت فضیلت سے تاخیر کرنا ہے ۔

یا اس سے مراد منافقین کی طرف اشارہ کرنا ہے جونہ نماز کے ثواب کا اعتقاد رکھتے ہیں ، اور نہ ہی ا س کے ترک کے عذاب کا ۔

یا اس سے مرادوہ لوگ ہیں جو نماز میں ریا کاری کرتے ہیں ۔ ( جب کہ یہ معنی بعد والی آیت میں آرہاہے )۔

البتہ ان معانی کے درمیان جمع بھی ممکن ہے اگر چہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔

بہر حال جب نماز کو بھول جانے والے ویل او رہلاکت کے مستحق ہیں ، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو کلی طور پر نماز کو چھوڑے ہوئے ہیں اور تارک الصلاة ہیں ۔

چوتھے مرحلہ میں ان کے ایک اور بد ترین عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” وہ ایسے لوگ ہیں جو ہمیشہ رہا کاری کرتے ہیں “۔( الذین هم یراء ون ) ۔

مسلمہ طور پر اس تظاہر اور ریا کاری کے سر چشمے روز قیامت پرایمان کا نہ ہونا ، اور خدا ئی جزاو ں کی طرف توجہ کرنا ہے ، ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان خدائی جزاو ں کو تو چھوڑ دے، اور مخلوق کو خوش کرنے کی طرف توجہ رکھے۔

”ماعون“ ” معن“ ( بر وزن شأن) کے مادہ سے ، کم اور تھوڑی سی چیز کے معنی میں ہے اور بہت سے مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد جزئی اور معمولی قسم کی چیزیں ہیں ، جو لوگ ، خصوصاً ہمسائے ، ایک دوسرے سے رعایتاً لے لیتے ہیں ، مثلاً کچھ نمک، پانی ، آگ ( ماچس) برتن وغیرہ۔

واضح رہے کہ جو شخص اس قسم کی چیزیں بھی دوسروں کو دیتا، وہ انتہائی پست اور بے ایمان آدمی ہوتا ہے ، ایسے افراد اس قدر بخیل ہوتے ہیں کہ اس قسم کی معمولی چیزوں کے دینے سے بھی گریز کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہی معمولی معمولی چیزیں بعض اوقات بڑی بڑی احتیاجات کو پورا کرتی ہیں اور ان کے روک لینے سے لوگوں کی زندگی میں بڑی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں ۔

ایک گروہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ” ماعون“ سے مراد زکوٰة ہے ۔ کیونکہ اصل مال سے عام طور پر بہت ہی کم ہوتی ہے ۔ کبھی سو میں سے دس، کبھی سو میں سے پانچ اور کبھی سو میں سے اڑھائی۔

یقینا ”زکوٰة کا نہ دینا “بھی بد ترین کا موں میں سے ایک ہے ، کیونکہ زکوٰة معاشرے کی بہت سی اقتصادی مشکلات کو حل کرتی ہے۔ ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے ماعون کی تفسیر میں فرمایا :

( هو القرض یقرضه، و المتاع یعیره ، و المعروف یصنعه ) :

” ماعون وہ قرض ہے جو انسان دوسرے کو دیتا ہے ۔اور وہ وسائل زندگی ہیں جو وہ ادھار کے طور پر دوسرں کو دیتا ہے ۔ اور وہ امدادیں اور کار ہائے خیر ہیں جنہیں انسان انجام دیتا ہے ۔(۲)

ایک اور روایت میں انہیں حضرت سے یہی معنی نقل ہو اہے ، اور اس کے ذیل میں آیا ہے کہ راوی نے کہا : ہمارے ہمسائے ایسے ہیں کہ جب ہم کچھ وسائل زندگی ان کو دیتے ہیں تو وہ انہیں توڑدیتے ہیں اور خراب کردیتے ہیں ، تو کیا انہیں نہ دینا بھی گناہ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا اس صورت میں کوئی مانع نہیں ہے ۔

”ماعون“ کے معنی کے بارے میں دوسرے احتمالات بھی دئے گئے ، یہاں تک کہ تفسیر قرطبی میں بارہ سے زیادہ قول اس سلسلے میں نقل ہوئے ہیں جن میں سے بہت سوں کو ایک دوسرے میں ملا یا جاسکتا ہے ، البتہ زیادہ اہم وہی جو ہم نے اوپر نقل کیے ہیں ۔

ان دونوں کا موں کو ایک دوسرے کے بعد ذکر کرنا ( ریا کاری و منع ماعون) گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو بات خدا کے لیے ہے اسے وہ مخلوق کی نیت سے بجالاتے ہیں ، اور جو مخلوق کے لیے ہے وہ ان کے لیے نہیں کرتے اور اس طرح سے و ہ کوئی بھی حق اس کے حق دار تک نہیں پہچاتے۔

ہم اس گفتگو کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا :

” من منع الموعون جارہ منعہ اللہ خیرہ یوم القیامة، ووکلہ الیٰ نفسہ، ومن وکلہ الیٰ نفسہ فما اسوء حالہ ؟ ! :

جو شخص ضروری اور معمولی چیزوں کو اپنے ہماسایہ سے روکتا ہے ، خدا اسے قیامت کے دن اپنی خیر سے روک دے گا، اور جسے خدا اس کی اپنی حالت پر چھوڑ دے اس کا بہت ہی برا حال ہوگا۔(۳)

____________________

۱۔ ” مفردات“ مادہ ”حض“

۲۔ ” کافی “ مطابق نقل نور الثقلین جلد ۵ ص ۶۷۹۔

۳- نور الثقلین “ جلد ۵ ص ۶۷۹ حدیث ۲۰۔


۱ ۔ سورہ ماعون کے مباحث کی جمع بندی

اس مختصر سورہ میں صفات رذیلہ کا ایک ایسا مجموعہ آیا ہے کہ وہ جس شخص میں بھی ہو اس کی بے ایمانی ، پستی اور حقارت کی ایک نشانی ہے ۔ اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان سب کو تکذیب ِ دین یعنی جزاء یا روزِ جزا کی فرع قرار دیا ہے ۔

یتیموں کو حقیر جاننا ، بھوکوں کو کھانا کھلانا، نماز سے غفت برتنا ، ریاکاری کرنا اور لوگوں سے موافقت نہ کرنا ، یہاں تک کہ زندگی کے معمولی وسائل دینے میں یہ ہے کہ ان ( صفات رذیلہ ) کا مجموعہ۔

اور اس طرح سے ان بخیل ، خودخواہ اور ریا کار افراد کو ظاہر کرتا ہے ، جن کا نہ تو ” مخلو قِ خدا “ ہی کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ”خالق “کے ساتھ کوئی رابط ۔ ایسے افراد جن کے وجود میں نور ایمان اور احساس ِ مسئولیت نہیں ہوتا، نہ تو وہ خدائی اجرو ثواب میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔

۲ ۔ تظاہر و ریا ایک بہت بڑی اجتماعی مصیبت ہے ۔

ہرعمل کی قدر و قیمت اس کے سبب کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے ، یا دوسرے لفظوں میں اسلام کی نگاہ میں ہر عمل کی بنیاد اس کی ” نیت“ پر ہوتی ہے، وہ بھی ” خالص نیت“

اسلام ہر چیز سے پہلے نیت کے بارے میں تحقیق کرتا ہے ، لہٰذا ایک مشہور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے

انما الاعمال بالنیات و لکل امرء مانوی

” ہر عمل نیت کے ساتھ وابستہ ہے او ر ہر شخص کا عمل میں حصہ ، اس کی اس نیت کے مطابق ہوگا، جو وہ عمل میں رکھتا تھا “۔

اور اسی حدیث کے ذیل میں آیا ہے :

” جو شخص خد اکے لیے جہاد کرے اس کا اجر خدائے بزرگ و بر تر ہے ۔ اور جو شخص مالِ دنیا کے لیے جنگ کرے، یہاں تک کہ ایک عقال وہ چھوٹی سی رسّی جس سے اونٹ کے پاو ں کو باندھتے ہیں ) لینے کے لیے کرے اس کا حصہ بس وہی ہے ۔(۱)

یہ سب اس بناء پر ہے کہ ” نیت سے ہی عمل وجود میں آتا ہے ۔ وہ شخص جو خدا کے لیے کوئی کام انجام دیتا ہے ، تو وہ اس کی بنیاد کومحکم کرتا ہے ، اور اس کی تمام کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں ۔ لیکن جو شخص تظاہر اور ریا کاری کے لیے کسی عمل کو انجام دیتا ہے وہ صرف ا س کے ظاہر اور زرق و برق پرنظر رکھتا ہے ، اور وہ اس کی گہرائی و بنیاد اورحاجت مندوں کے استفادے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ۔

وہ معاشرہ جو ریا کاری کا عادی ہو جاتا ہے وہ نہ صرف خدا ، اخلاق حسنہ اور ملکاتِ فاضلہ سے دور کردیا جاتا ہے ، بلکہ اس کے تمام اجتماعی پروگرام مفہوم و مطلب سے خالی ہو جاتے ہیں ، اور وہ مٹھی بھرے معنی ظواہر کا خالص رہ جاتے ہیں ، اور ایسے انسان اور اس قسم کے معاشرے کی سر نوشت کتنی دردناک ہے ؟ ! ۔

” ریا “ کی مذمت میں بہت زیادہ روایات آئی ہیں ، یہاں تک کہ اس کو شرک کی ایک نوع کہا گیا ہے ، اور ہم یہاں تین ہلادینے والی روایات پر قناعت کرتے ہیں ۔

۱ ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیاہے :

سیأ تی علی الناس زمان تخبث فیه سرائر هم ونحن فیه علانیتهم، طمعاً فی الدنیا لایدون به ما عند ربهم، یکون دینهم ریاء لایخالطهم خوف، یعمعهم الله بعقاب فید عونه دعا ء الغریق فلا یستحب لهم ! :

” لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جب ان کے باطن قبیح ، گندے اور آلودہ ہوجائیں ، اور ان کے ظاہر زیبا اور خوبصورت ہوں گے۔ دنیا میں طمع کی خاطر وہ اس سے اپنے پروردگار کی جزاو ں کے طلب گار نہیں ہوں گے ۔ ان کا دین ریا ہو جائے گا، خوف خدا ان کے دل میں باقی نہ رہے گا، خد اان سب کو ایک سخت عذاب میں گرفتار کرے گا ، اور وہ جتنا بھی ایک ڈوبنے والے کی طرح خدا کو پکاریں گے ، ہر گز ان کی دعا قبول نہ ہوگی“۔(۲)

۲ ۔ ایک دوسری حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے اپنے ایک صحابی” زرارہ“ سے فرمایا :

من عمل للناس کان ثوابه علی الناس یا زراره ! کل ریاء شرک !“۔

” جو شخص لوگوں کے لیے عمل کرے گا اس کا اجر و ثواب لوگوں پر ہی ہو گا۔ اے زرارہ ! ہر ریا شرک ہے ۔(۳)

۳ ۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے آیاہے :” ان المرائی یدعی یوم القیامة باربعة اسماء:

یا کافر ! یا فاجر ! غادر ! یا خاسر ! حبط عملک ، و بطل اجرک، فلا خلاص لک الیوم ، فالتمس اجرک ممن کنت تعمل له !:

” ریا کار شخص کو قیامت کے دن چار ناموں سے پکارا جائے گا:

اے کافر! اے فاجر ! اے حیلہ گر ! اے خاسر و زیاں کار ! تیرا عمل نابود ہو گیا ہے ، تیرا اجر و ثواب باطل ہوچکا ہے۔ آج تیرے لیے نجات کی کوئی راہ نہیں ہے ، لہٰذا تو اپنا اجر و ثواب اس سے طلب کر جس کے لیے تو عمل کرتا تھا۔ ۴

خد اوندا ! خلوص نیت سخت مشکل کام ہے ، تو خود اس راہ میں ہماری مدد فرما۔

پروردگارا ! ہمیں ایسا ایمان مرحمت فر ما کہ ہم تیرے ثواب و عقاب کے علاوہ اور کچھ نہ سوچیں ، او رمخلوق کی رضا و خشنودی اور غصہ و غضب تیری راہ میں ہمارے لیے یکساں ہو۔

بار لہٰا ! اس راہ میں جو خطا اور غلطی اب تک ہم نے کی ہے وہ ہمیں بخش دے ۔

آمین یا رب العالمین ۔

____________________

۱۔وسائل الشیعہ“ جلد اول ص ۳۵ ( ابواب مقدمہ العبادات باب ۵ حدیث ۱۰)۔

۲۔ ” اصول کافی “ جلد ۲ باب الریاء حدیث ۱۴۔

۳۔ ” وسائل الشیعہ “ جلد اول ص ۴۹ ( حدیث ۱۱ کے ذیل میں )۔

۴۔ ” وسائل الشیعہ “ جلد اول ص ۵۱ ( حدیث ۱۶ کے ذیل میں )۔


سورہ الکو ثر

یہ سورہ مکّہ میں نازل ہوا ۔ اس میں ۳ آیا ت ہیں ۔

سو رہ کوثر کے مطالب اور اس کی فضیلت

مشہور یہ ہے کہ یہ سورہ” مکّہ “ میں نازل ہوا ہے ۔ لیکن بعض نے اس کے مدنی ہو نے کا احتمال بھی دیا ہے ۔ یہ احتمال بھی د یاگیا ہے کہ سورہ دو بار نازل ہوا ۔ ایک دفعہ مکّہ میں اور دوسری دفعہ مد ینہ میں ، لیکن جو روا یات اس کے شا ن نز ول میں وا رد ہو ئی ہیں وہ اس کے مکّی ہو نے کے مشہور قول کی تا ئید کرتی ہیں ۔

اس سورہ کے شان نزول میں آیا ہے کہ:” عا ص بن وائل“ نے جو مشرکین کے سر دا روں میں سے تھا ، پیغمبر اکر م سے مسجد الحرام سے نکلتے وقت ملاقات کی اور کچھ دیر تک آپ سے با تیں کرتا رہا۔ قر یش کے سر دارو ں کا ایک گروہ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ۔ انہو ں نے دور سے اس منظر کا مشا ہدہ کیا ۔ جس وقت” عا ص بن وائل “ مسجد میں دا خل ہوا تو انہو ں نے اس سے کہا کہ تو کس سے با تیں کر رہا تھا؟ اس نے کہا : اس”ابتر “ شخص سے۔اس نے اس تعبیر کا اس لیے انتخاب کیا کہ پیغمبر اکرم کے فر زند ” عبد اللہ“ دنیا سے ر خصت ہو چکے تھے۔ اور عرب ایسے آدمی کو جس کے کوئی بیٹا نہ ہو” ابتر“ کہا کر تے تھے یعنی ( بلا عقب۔ مقطوع النسل) لہٰذا قر یش نے پیغمبر اکرم کے فرزند کی و فا ت کے بعد اس لقب کو آنحضرت کے لیے انتخاب کر رکھا تھا ، جس پر یہ سورت نازل ہوئی ، اور پیغمبر اکر کو بہت سی نعمتوں اور کوثر کی بشا رت دی اور ان کے دشمنوں کو ابتر کہا

اس کی وضا حت اس طرح ہے کہ پیغمبر اکرم کے با نو ئے اسلام جنا ب خد یجہ سے دو پسر تھے، ایک قاسم اور دوسرے طاہر جنہیں عبداللہ بھی کہتے تھے ۔ دو نوں ہی مکّہ میں دنیا سے چل بسے اور پیغمبر اکرم کے کوئی بیٹا نہ رہا۔ اس بات نے قر یش کے بد خوا ہو ں کی زبان کھو ل دی، وہ آنحضرت کو” ابتر“ کہنے لگے

وہ اپنی روایت کے مطابق بیٹے کوحد سے زیا دہ اہمیت دیتے تھے، اسے باپ کے پرو گرا موں کو جاری رکھنے والا شمار کرتے تھے اس سانحے کے باعث ان کا خیال یہ تھا کہ پیغمبراکرم کی رحلت کے بعد بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے پرو گرام معطل ہوکر رہ جا ئیں گے چناچہ وہ اس بات پر بہت خوش تھے۔

قرآن مجید نازل ہوا اور اس سورہ میں اعجاز آمیز طریقہ سے انہیں جواب دیا اور خبر دی کہ ٓانحضرت کے دشمن ہی ابتر رہیں گے اور اسلام وقرآن کاپروگرام کبھی منقطع نہیں ہوگا ۔ اس سورہ میں جو بشارت دی گئی ہے وہ ایک طرف تو دشمنان اسلام کی امیدوں پر ایک ضرب تھی اور دوسری طرف رسول اللہ کے لئے تسلی خاطر تھی جن کا قلب ِ نازک دل اس قبیح لقب اور دشمنوں کی سازش کو سن ر غمگین اور مکدر ہواتھا ۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت میں پیغمبر اکرم سے آیاہے :

” من قرائھا سقاہ اللہ من انھار الجنة ، و اعطی من الاجر بعدد کل قربان قربہ العباد فی یوم عید و یقربون من اھل الکتاب و المشرکین “

جو شخص اس کی تلاوت کرے خدا اسے جنت کی نہروں سے سیراب کرے گا اور ہر قربانی کی تعداد میں جو خدا کے بندے عید ( قربان ) کے دن کرتے ہیں ، اور اسی طرح سے وہ قربانیاں کو اہل کتاب اور مشرکین دیتے ہیں ان سب کی تعداد کے برابر اس کو اجر دے گا۔

اس سورہ کا نام ( کوثر) اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے ۔

آیات ۱،۲،۳،

( بسم ا لله ارحمن ارحیم )

۱ ۔( انا اعطینک الکو ثر ) ۔ ۲ ۔( فصل لر بک وانحر ) ۔ ۳ ۔( انا شائنک هو الا بتر ) ۔

تر جمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحیم ہے

۱ ۔ ہم نے تجھے کوثر ( بہت زیادہ خیر و برکت ) عطا کی۔ ۲ ۔ اب جب کہ یہ بات ہے تو اپنے پروردگار کے لئے نماز پڑھ اور قر بانی دے۔

۳ ۔ یقینا تیرا دشمن ہی ابتر ( اور بلا عقب و مقطوع النسل ) ہے۔

ہم نے تجھے فرا واں خیر و بر کت دی

اس تمام سورے میں روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے ( جیسا کہ سورہ والضحیٰ اور سورہ الم نشر ح میں ہے) اور تینوں سوروں کے اہداف و مقا صد میں سے ایک آنحضرت کے دل کو درد ناک انبوہ حوادث میں تسلی دینا اور دشمنوں کے بار بار لگائے ہوئے زبان کے زخموں کے مقا بلہ میں تشفی بخشنا ہے۔

پہلے فرماتا ہے:” ہم نے تجھے کو ثر عطا کیا“( اِنّا اعطینا ک الکوثر ) ” کوثر“ وصف ہے جو کثرت سے لیا گیا ہے، اور فراواں خیر وبرکت کے معنی میں ہے اور” سخی“ افراد کو بھی” کوثر“ کہا جا تا ہے۔

اس بارے میں کہ یہاں کوثر سے کیا مراد ہے، ایک روایت میں آیا ہے کہ جس وقت یہ سورہ نازل ہوا، پیغمبر اکرم منبر پر تشریف لے گئےاور اس سورہ کی تلاوت فرمائی۔ اصحاب نے عرض کیا یہ کیا چیز ہے جو خدا نے آپ کو عطا فرمائی ہے؟ آپ نے فر مایا کہ یہ جنت میں ایک نہر ہے ،جو دودھ سے زیادہ سفید اور قدح( بلور) سے زیادہ صاف ہے، اس کے اطراف میں دُر و یا قو ت کے قبے ہیں

ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ ا لسلام سے آیا ہے کہ آپ نے فر مایا:

” کوثر جنت میں ایک نہر ہے جو خدا نے اپنے پیغمبر کو ان کے فرزند( عبد اللہ جو آپ کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے) کے بدلے میں عطا کی ہے۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد وہی” حوضِ کوثر“ ہے جو پیغمبر سے تعلق رکھتا ہے، اور جس سے مومنین جنت میں داخل ہونے کے وقت سیراب ہو گے۔

بعض نے اس کی نبوت سے تفسیر کی ہے، بعض دوسروں نے قرآن سے، بعض نے اصحاب و انصار کی کثرت سے اور بعض نے کثِر ت اولاد اور ذُریّت سے، جوسب آپ کی دُختر نیک اختر فا طمہ زہرا علیہا السّلام سے وجود میں آئی اور اس قدر بڑھ گئی ہے کہ حساب و شمار سے باہر ہو گئی ہے اور دامنِ قیا مت تک پیغمبر اسلام کے وجود کی یاد گار ہے۔ بعض نے اس کی ”شفا عت“ سے بھی تفسیر کی ہے اور اس سلسلہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث بھی نقل کی ہے

یہاں تک کہ فخر رازی نے ” کو ثر“ کی تفسیر میں ” پندرہ قول“ نقل کیے ہیں ۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اس وسیع معنی کے واضح مصادیق کا بیا ن ہے، کیو نکہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے” کوثر“ ” خیر کثیر اور فراداں نعمت“ کے معنی میں ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ خدا وند تعا لیٰ نے پیغمبر اکرم کو بہت ہی زیادہ نعمتیں عطا فر مائی ہیں اور جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ان میں سے ہر ایک اس کے مصاد یق میں سے ایک واضح مصداق ہے اور ان کے علاوہ اور بھی بہت سے مصداق ہیں ، جنہیں آیت کی مصداقی تفسیر کے عنوان سے بیان کیا جا سکتا ہے- بہر حال تمام میدانوں میں پیغمبر اکرم کی ذات پر تمام نعمتیں ۔ یہاں تک کہ دشمنوں کے ساتھ جنگوں میں آپ کی کامیابیوں میں ،یہاں تک کہ آپ کی اُ مّت کے علماء جو ہر عصر اور ہر زمانہ میں قرآن واسلام کی مشعلِ فروزاں کی پا سداری کر تے ہیں ، اوراسے دنیا کے ہر گوشہ میں لے جاتے ہیں ۔ سب اس خیر کثیر میں شامل ہیں -

اس بات کو نہیں بھولنا چا ہئیے کہ خدا اپنے پیغمبر سے یہ بات اس وقت کہہ رہا ہے کہ ابھی تک اس خیر کثیر کے آثار ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ یہ ایک ایسی خبر اور پیش گوئی تھی جو مستقبل بعید کے لئے کی جا رہی تھی۔ یہ ایک اعجاز آمیز اور رسو لِ اکرم کی دعوت کی حقا نیت کو بیان کرنے والی خبر ہے۔

اس عظیم نعمت اور خیر فر اداں کے لئے بہت ہی زیا دہ شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے، اگر چہ مخلوق کا شکر ادا کرنا خا لق کی نعمت کے حق کو ہر گز ادا نہیں کرتا، بلکہ شکر گزاری کی تو فیق اس کی طرف سے خُود ایک اور نعمت ہے، لہٰذا فرماتا ہے:” اب جب کہ ایسا ہے تو صرف اپنے پرور دگا ر کے لئے نماز پڑھ اور قر بانی دے “( فصل لربّک وانحر )

ہاں ! نعمت کا بخشنے والا وہی ہے اسی بناء پر نماز، عبادت اور قر بانی جو ایک قسم کی عبادت ہے، اس کے علاوہ کسی اور کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی خصو صاََ” رب “کے مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے، جو نعمتوں کے دوام اور پروردگار کی تد بیر و ربو بیت کو بیان کرتا ہے خلا صہ یہ کہ” عبادت“ خواہ نماز کی صورت میں ، ہو یا قربانی کرنے کی صورت میں وہ رب اور ولی نعمت کے ساتھ ہی مخصوص ہے اور وہ خدا کی ذاتِ پاک سے وا بستہ ہے

یہ بات مشرکین کے اعمال کے مقابلہ میں جو اپنی نعمتوں کوتو خدا ہی کی طرف سے سمجھتے تھے لیکن سجدہ اور قربانی بتوں کے لئے کر تے تھے بہر حال’ لربّک‘ کی تعبیر عبادات میں قصدِ قر بت کے لازم ہو نے کے مسئلہ پر ایک واضح دلیل ہے بہت سے مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ نماز سے مرادعید قربان کے دن کی نماز ہے اور قربانی کرنا بھی اسی دن ہے لیکن ظاہراََ آ یت کا مفہوم عام اوروسیع اگر چہ عید کے دن کی نماز اور قر بانی بھی اس کا ایک وا ضح مصداق ہے۔ ”وانحر “” نحر“ کے مادّہ سے، اُو نٹ کو حلال کر نے کے ستاتھ مخصوص ہے۔ یہ بات شاید اس بناء پر ہے کہ قر با نیوں میں سے

اونٹ کی قر بانی سب سے زیاد ہ اہمیت رکھتی تھی۔ اورپہلے پہل مسلمان اس سے زیادہ لگاو رکھتے تھے اور اُونٹ کی قربانی دینا ایثار و قربانی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

اوپر والی آیت کے لیے یہاں دو اور تفسیریں بھی بیان کی گئی ہیں ۔

۱ ۔” وانحر “کے جملہ سے مراد نماز کے وقت رُو بقلیہ کھڑا ہو نا ہے، چو نکہ ” نحر“ کا مادّہ گلے والی جگہ کے معنی میں ہے اس کے بعد عربو ں نے اسے ہر چیز کے آمنے سامنے ہونے کے معنی میں استعمال کیا ہے ، لہٰذا وہ کہتے ہیں :” منا زلناتتناحر“یعنی ہمارے گھر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں ۔

۲ ۔ اس سے مراد تکبیر کے وقت ہاتھوں کو بلند کرنا اور گلے اور چہرے کے سامنے لانا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے:” جس وقت یہ سورہ نازل ہوا، تو پیغمبر اکرم نے جبرئیل سے سوال کیا:یہ ”نُحیره

جس کے لئے میرے پروردگار نے مجھے مامور کیا ہے، کیا ہے؟” جبرئیل“ نے عرض کیا:

” یہ نحیرہ نہیں ہے، بلکہ خدا نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ جس وقت نماز میں داخل ہو تو تکبیر کہتے وقت اپنے ہاتھو ں کو بلند کریں ، اور اسی طرح جب رکوع کریں ، یا رکوع سے سر اُٹھا ئیں ، یا سجدہ کریں ، اس وقت بھی، کیو نکہ ہماری اور سات آسما نو ں کے فر شتو ں کی نماز اسی طرح کی ہے۔ اور ہر چیز کی ایک زینت ہوتی ہے، اور نماز کی زینت ہر تکبیر کے وقت ہاتھوں کو بلند کر نا ہے۔

ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السّلام سے آیا ہے کہ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں اپنے دستِ مبارک سے اشارہ کر تے ہوئے فرمایا:

اس سے مراد یہ ہے کہ نماز کے آغاز میں ہاتھو ں کو اس طرح بلند کرو کہ ان کی ہتھیلیاں رُو بقبلہ ہو“

لیکن پہلی تفسیر سب سے زیادہ مناسب ہے، کیو نکہ اس سے مراد بُت پرستوں کے اعمال کی نفی ہے جو غیر خدا کے لئے عبادت و قربانی کرتے تھے۔ لیکن اس کے با وجود ان تمام روایات اور مطالب کے درمیان جمع کرنا، جو اس سلسلہ میں ہم تک پہنچی ہیں کوئی مانع نہیں ہے۔ خا ص طور سے تکبیرات کے وقت ہاتھ بلند کرنے کے سلسلہ میں تو شیعہ اور اہلِ سنّت کی کتا بوں میں متعدد روایات نقل ہوئی ہے۔ اس طرح سے ایک آیت جا مع مفہو م رکھتی ہے جو ان کو بھی شامل ہے۔

اور اس سورہ کی آخری آیت میں ، اس نسبت کی طرف تو جہ دیتے ہوئے، جو شرک کے سر غنے آنحضرت کی طرف دیتے تھے، فرماتا ہے :” اَ بتر اور بلا عقب و مقطوع النسل نہیں ہے۔ بلکہ تیرا دشمن اَبتر، بلا عقب اور مقطوع النسل رہے گا۔“( انّا شا نئک هو الابتر )

” شا نی“ ”شنئان“ ( بر وزن ضربان) کے مادّہ سے عداوت و دشمنی، کِینہ ورزی اور بد خلقی کر نے کے معنی میں ہے اور ” شا نی“ اس شخص کو کہتے ہیں جو اس صفت کا حامل ہو۔

قا بِل تو جہ بات یہ کہ ” ابتر “ اصل میں ” دُم کٹے جا نور“ کے معنی میں ہے، اور دُ شمنانِ اسلام کی طرف سے اس تعبیر کا انتخاب آنحضرت کی ہتک حرمت اور تو ہین کر نے کے لئے تھا۔ اور” شانی “ کی تعبیر اسی و اقعیت کو بیان کرتی ہے کہ وہ اپنی دشمنی میں کم سے کم آداب کی رعا یت تک بھی نہیں کرتے تھے۔ یعنی ان کی عداوت و دشمنی قساوت و ر ذالت سے آمیختہ تھی۔ حقیقت میں قرآن یہ کہتا ہے کہ یہ لقب خود تمہارا ہے نہ کہ پیغمبر اکرم کا۔ دوسری طرف۔ جیسا کہ سو رہ کی شانِ نزول میں بیان کیا گیا ہے۔ قر یش پیغمبر اکرم ، اور اسلام کی بسا ط کے اُلٹ جانے کے انتظار میں تھے، کیو نکہ وہ یہ کہتے تھے کہ آپ کے پیچھے کوئی او لاد نہیں ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ تو بلا عقب اور بے اولاد نہیں ہے بلکہ تیرے دشمن ہی بلا عقب اور بے اولاد ہیں ۔

۱ ۔ حضرت فاطمہ او ر ”کوثر“

ہم بیان کر چکے ہیں کہ ” کو ثر “ ایک عظیم جا مع ااور وسیع معنی رکھتا ہے۔اوروہ” خِیرکثیر و فراداں ہے“ او ر اس کے بہت زیادہ مصادیق ہیں ۔ لیکن بہت سے بزرگ شیعہ علماء نے واضح ترین مصادیق میں سے ایک مصداق” فا طمہ زہرا“( سلام اللہ علیہا) کے وجود مبارک کو سمجھا ہے۔ چو نکہ آیت کی شانِ نزول سے ظاہر ہے کہ دشمن پیغمبرِاکرم کو ابتر اور بلا عقب ہو نے سے متہم کرتے تھے۔ قرآن ان کی بات کی نفی کے ضمن میں کہتا ہے:” ہم نے تجھے کو ثر عطا کیا ہے“ اس تعبیر کا مطلب یہی بنتا ہے کہ یہ” خیر کثیر“ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہی ہیں کیو نکہ پیغمبر کی نسل اور ذریت اسی دُخترِ گرامی کے ذر یعے سا رے عالم میں منتشر ہوئی، جو نہ صرف پیغمبر کی جسمانی او لاد تھی بلکہ انہوں نے آپ کے دین اور اسلام کی تمام اقدار کی حفاظت کی اور اسے آنے والوں تک پہچایا۔ نہ صرف اہلِ بیت کے آئمہ معصومین، جن کی اپنی ایک مخصوص حیثیت تھی، بلکہ ہزارہا فرزندانِ فا طمہ عالم میں پھیل گئے، جن میں بڑے بڑے بزرگ علماء مئو لفین،فقہا،محدّ ثین، مفسّرین والا مقام، اور عظیم حکمران ہو گزرے ہیں جنہوں نے ایثار و قر بانی اور فدا کاری کے ساتھ دینِ اسلام کی حفاظت کی کو شش کی۔یہاں پر” فخر رازی“ کی ایک عمدہ بحث ہمارے سامنے آئی ہے جو اُس نے کوثر کی مختلف تفسیروں کے ضمن میں بیان کی ہے:تیسرا قول یہ ہے کہ یہ سورہ ان لوگوں کے ردّ کے عنوان سے نازل ہواہے جو پیغمبر اکرم کی اولاد کے نہ ہونے پر طعن و طنز،اور تنقید و اعتراض کرتے تھے۔ اس بنا ء پر سورہ کا معنی یہ ہوگا کہ خدا آپ کو ایسی نسل دے گا جو زمانئہ دراز تک باقی رہے گیغور تو کرو کہ لوگوں نے اہلِ بیت کے کتنے افراد کو شہید کیا لیکن اس کے با وجود دُنیا اُن سے بھری پڑی ہے جب کہ بنی اُمیہ میں سے( جو اسلام کے دشمن تھے) کوئی قابل ذکر شخص دنیا میں باقی نہیں رہا پھر آنکھ کھول کر دیکھ اور غور کر کہ فاطمہ کی اولاد کے در میان باقر و صادق و رضاو نفسِ ذکیہ /

جیسے کتنے عظیم اور بزرگ علماء ہوئے ہیں

۲ ۔ اس سورہ کا اعجاز

در حقیقت اس سورہ میں تین پیشین گوئیاں ، بیا ن کی گئی ہے ایک طرف پیغمبر کو خیر کثیر عطا کر نے کی خوش خبری دیتی ہے ( اگر چہ ” اعطینا“ فعل ما ضی کی صورت میں ہے لیکن ممکن ہے کہ یہ مضارع مسلّم کی قسم سے ہو، جو ماضی کی صورت میں بیان ہوا ہے) اور یہ خیر کثیر ان تمام فتو حات، کا میا بیوں اورتوفیقات کو شامل ہے جو پیغمبر اکرم کو بعد میں نصیب ہوئی ہے اگر چہ وہ مکہ میں اس سورہ کے نزول کے وقت پیش بینی کے قا بل نہیں تھیں

دوسری طرف یہ سورة اس بات کی خبر دے رہا ہے کہ پیغمبر اکرم بے اولاد، بلا عقب اور مقطوع النسل نہیں ہو گے۔ بلکہ آپ کی نسل اور اولاد بڑی کثرت سے عا لم میں مو جود رہے گی۔

تیسری جانب یہ سورہ اس بات کی خبر دیتا ہے کہ آپ کے دشمن ابتر، بلا عقب اور مقطوع النسل ہو جائیں گے یہ پیش گو ئی بھی پو ری ہو گئی ہے اور آپ کے دشمن اس طرح تتر بتر اور تباہ وبرباد ہوئے کہ آج ان کا نام و نشان تک باقی نہیں ہے حالانکہ” بنی اُمیہ“ اور ”بنی عباس“ جیسے قبائل جو پیغمبر اور ان کی اولاد کے مقابلہ میں کھڑے ہو ئے ایک وقت اتنی جمعّیت اور کثرت رکھتے تھے کہ ان کی اولاد شمار میں نہ آئی تھی، لیکن آج اگر اُن میں سے کوئی باقی رہ بھی گیا ہو تو وہ بالکل پہچانا نہیں جات

۳ ۔ خُدا کے لیے جمع کی ضمیر کس لیے ہے؟

قا بل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں بھی اور قرآن مجید کی اور بہت سی دوسری آیات میں بھی صیغہ” متکلم مع الغیر“( جمع متکلم) کے ساتھ اپنا ذکر کرتا ہے فرماتا ہے:”ہم“ نے تجھے کوثر عطا کیایہ تعبیر اور اس قسم کی تعبیریں عظمت و قدرت کو بیان کرنے کے لیے ہوتی ہیں کیو نکہ بزرگ اور بڑی ہستیاں جب اپنے بارے میں بات کرتی ہیں ، تووہ صرف اپنے بارے میں ہی نہیں ، بلکہ اپنے ماموریں کا رندو ں کے بارے میں بھی خبر دیتی ہیں ، اور یہ قدرت و عظمت اور ان کے اوامرکے مقابلہ میں فرمانبر داری کرنے والوں سے کنا یہ ہے

زیر بحث آیت میں لفظ ” ان “ بھی اس معنی پرایک دوسری تاکید ہے۔ ” اٰتیناک “ کے بجائے ” اعطیناک“ کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ خدا نے پیغمبر کو کو ثر بخش دےا ہے اور عطا کردیا ہے ۔ اور یہ پیغمبر اکرم کے لئے ایک بہت بڑی بشارت ہے کہ کو دشمنوں کی بیہودہ باتوں سے آپ کا قلب مبارک آزردہ نہ ہو ۔ اور آپ کے آہنی عزم میں سستی اور کماور کمزوری پیدا نہ ہونے پائے ۔ اور دشمن یہ جالیں کہ آپ کی تکیہ گاہ وہ خدا ہے ، جو تمام خیرات کا منبع ہے اور اس نے خیر کثیر آپ کو بخش دی ہے ۔

خدا ندا! ہمیں اس خیر کثیر کی بر کات سے جو تو نے اپنے پیغمبر کو مرحمت فرمائی ہے ، بے نصیب نہ کرنا ۔

پروردگارا ! تو جانتا کہ ہم آنحضرت اور آپ کی ذریت طاہرہ کو خلوص دل کو ساتھ دوست رکھتے ہیں ، لہٰذا ہمیں انہیں کے ساتھ محشور کرنا۔

بار الہٰا آنحضرت اور آپ کے دین و ائیں کی بہت بڑی عظمت ہے، اس عظمت و عزت و شوکت میں روز بروز اضافہ فرما۔

سورہ کافرون

یہ مکہ میں نازل ہوا اس میں ۶ آیات ہیں

سورہ کافرون کے مطالب اور اس کی فضیلت

یہ سورہ مکہ میں نازل ہو ا۔ اس کا لب و لہجہ اور اس کے مطالب اس بات کے واضح گواہ ہیں ۔ اسی طرح وہ شانِ نزول جس کی طرف بعد میں اشارہ ہو گا ، اس مدعا پر دوسری دلیل ہے ۔ یہ جو بعض نے اس کے مد نی ہونے کا احتمال دیا ہے ، بہت بعید نظر آتا ہے ۔

سورہ کالب و لہجہ بتاتا ہے کہ یہ سورہ ایسے زمانہ میں نازل ہوا جب مسلمان اقلیت میں تھے اور کفار اکثریت میں پیغمبر پر ان کی طرف سے سخت دباو تھا اور انہیں اصرار تھا کہ کسی طرح سازش کرکے آ پ کو شرک کی طرف کھینچ لیں ۔ پیغمبر نے ان کی اس پیش کش کو حقارت کے ساتھ ٹھکرا دیا اور انہیں کلی طور پر مایوس کردیا اور ان کے ساتھ الجھے بھی نہیں ۔

یہ بات تمام مسلمانوں کے لئے ایک نمونہ ہے کہ وہ اسلام اور دین کی اساس کے بارے میں دشمن کے ساتھ کسی حالت میں بھی مصالحت نہ کریں اور جب بھی ان کی طرف سے اس قسم کی خواہش کی جائے تو انہیں کامل طور سے مایوس کردیں ۔ اس سورہ میں اس معنی پر خصوصیت کے ساتھ دو مرتبہ تاکید ہوئی ہے کہ ” میں تمہارے معبودوں کی پرستش نہیں کروں گا “ اور یہ تاکیدانہیں مایوس کرنے کے لئے ہے ۔ اسی طر اس بات کی بھی دومرتبہ تاکید ہوئی ہے کہ ” تم بھی ہر گز میرے معبود ، خدا ئے یگانہ کی عبادت نہیں کروگے ۔ “ یہ ان کی ہٹ دھرمی کی ایک دلیل ہے اور اس کا انجام یہ ہے کہ ” میں ہوں اور مریا دین توحید ، اور تم ہو اور تمہارا شرک آلود دین “۔

اس سورہ کی فضیلت

اس سورہ کی فضیلت کے بارے میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں ، جو اس کے مطالب کی حد سے زیادہ اہمیت کی ترجمان ہیں ۔

ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:

من قرأ قل یا ایها الکافرون فکأنما قرأ ربع القراٰن و تباعدت عنه مردة الشیاطین ، و برأ من الشرک و لیعافی من الفزع الاکبر

” جو شخص ” قل یا ایھا الکافرون “ کو پڑھے گا تو ایسا ہے جیسے اس نے چوتھائی قرآن پرھا ہو، سر کش شیاطین اس سے دور رہیں گے ، وہ شرک سے پاک ہوجائے گا اور”روز قیامت “کی گھبراہٹ سے امان میں ہوگا ۔

” ربع القراٰن “ ( چوتھائی قرآن ) کی تعبیر شاید اس بناء پرہے کہ قرآن کا تقریباً چوتھا حصہ شرک و بت پرستی سے مبارزہ میں ہے اور اس کا نچوڑ اور خلاصہ اس سورہ میں آیا ہے ۔ اور سر کش شیاطین کا دور ہونا اس بناء پر ہے کہ اس سورہ میں مشرکین کی پیش کش کوٹھکرادیا گیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ شرک شیطان کا اہم ترین آلہ ہے ۔

قیامت میں نجات پہلے درجہ میں توحید اور نفی ِ شرک کی مرہونِ منت ہے ، وہی مطلب کے محور پریہ سورہ گردش کرتا ہے ۔

ایک اور حدیث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے آیاہے کہ ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ مجھے کسی ایسی چیز کی تعلیم دیجئے جسے میں سوتے وقت پڑھا کروں ، آپ نے فرمایا:

اذا اخذت مضجعک فاقرأ قل یاایها الکافرون ثم نم علی خاتمها فانها براء ة من الشرک

” جب تو اپنے بستر پر جائے تو سورہ قل یا ایھا الکافرون کو پڑھ ۔ ا سکے بعد سو جا کیونکہ یہ شرک سے بیزاری ہے ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک روایت میں یہ بھی آیاہے کہ آپ نے ” جبیر بن مطعم “ سے فرمایا:

” کیا تو اس بات کو دوست رکھتا ہے کہ جب تو سفر پر جائے تو زاد راہ اور توشہ کے لحاظ سے اپنے ساتھیوں میں سب سے بہتر ہو“؟َ اس نے عرض کی ہاں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

ان پانچ سو رتوں کو پڑھا کرو:”قل یا ایها الکافرون “ و ”اذا جاء نصر الله و الفتح “ و”قل هو الله احد “ و ”قل اعوذ برب الفلق “ و”قل اعوذ برب الناس “ اور اپنی قرأت کی ابتداء بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سے کیاکرو۔

اور ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ” میرے والد کہا کرتے تھے کہ ” قل یا ایھا الکافرون “ ربع قرآن ہے اور جب آپ اس کی قرأت سے فارغ ہوتے تھے فرماتے :” اعبد اللہ وحدہ “ میں صرف خدائے واحد کی عبادت کرتا ہوں ، میں صرف خدائے واحد کی عبادت کرتاہوں ۔

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( قل یا ایها الکافرون ) ۔ ۲ ۔( لآ اعبد ماتعبدون ) ۔ ۳ ۔( ولا انتم عابدون مآاعبد ) ۔ ۴ ۔( ولا انا عابد ما عبدتم ) ۔

۵ ۔( ولا انتم عابدوں مآاعبد ) ۔ ۶ ۔( لکم دینکم وَلِیَ دین ) ۔

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے

۱ ۔ کہہ دو اے کافرو! ۲ ۔ جن کی تم پرستش کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا۔

۳ ۔ اور نہ تم ا س کی عبادت کروگے ، جس کی میں پرستش کرتا ہوں ۔ ۴ ۔ اور نہ ہی میں ان کی پرستش کروں گا جن کی تم پرستش کرتے ہو۔

۵ ۔ اور نہ تم اس کی پرستش کروگے جس کی میں عبادت کرتا ہوں ۔

۶ ۔ (اب جب کہ معاملہ اس طرح ہے تو ) تمہارا دین تمہارے لئے اور میرا دین میرے لئے ۔

شان نزول

روایات میں آیاہے کہ یہ سورہ مشرکین کے سرغنوں کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوا ہے ۔ مثلا ً ” ولید بن مغیرہ “”عاص بن وائل “ ” حارث بن قیس “ اور ” امیہ بن خلف “ وغیرہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ اے محمد ! آو تم ہمارے دین کی پیروی کرلو ، ہم بھی تمہارے دین کی پیروی کرلیتے ہیں ، اور ہم تمہیں اپنے تمام امتیازات میں شریک کرلیں گے ، ایک سال تو تم ہمارے خدا و ں کی عبادت کیا کرو اور دوسرے سال ہم تمہارے خدا کی عبادت کیا کریں گے ۔ اگر تمہارا دین بہتر ہے تو ہم اس میں شریک ہو گئے ہیں اور اپنا حصہ اس میں سے لے لیا ۔ اور اگر تمہارا دین ہوتو تم ہمارے دین میں شریک ہو گئے اور تم نے اس میں سے اپنا حصہ لے لیا اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :

” میں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ کسی چیز کو اس کا شریک قرار دوں “۔

انہوں نے کہا : کم از کم ہمارے خدا و ں کو چھو ہی لو اور ان سے تبرک حاصل کرلو تو ہم تمہاری بات مان لیں گے اور تمہارے خدا کی پرستش کرنے لگیں گے ۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

” میں تو اپنے پروردگار کے حکم کا منتظر ہوں ۔ تو اس موقع پر سورہ ” قل یا ایھا الکافرون “ نازل ہوااور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد الحرام میں آئے اور جب قریش کے سرداروں کی ایک جماعت وہاں جمع تھی ۔ تو آپ نے ان کے سروں کے اوپر کھڑے یہ سورہ آخر تک ان کے سامنے پڑھا۔ جب انہوں ے اس سورہ کے پیام کو سنا تو مکمل طور پر مایوس ہوگئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ و سلم اور آ پ کے صحابہ کو آزار پہنچا نے لگے “

بت پرست کے ساتھ ہر گز مصالحت نہیں ہو سکتی

اس سورہ کی آیات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں : ” کہہ دو اے کافرو!( قل یا ایها الکافرون )

”تم جن کی پرستش کرتے ہو میں ان کی پرستش نہیں کرتا “۔( لااعبد لا تعبدون )

” اور نہ ہی تم اس کی پرستش کروگے جس کی میں پرستش کرتا ہوں “۔( ولا انتم عابدون مااعبد )

اس طرح اپنی مکمل علیٰحدگی کو مشخص کرتا ہے اور صراحت کے ساتھ کہتا ہے ، ” میں ہر گز کبھی بت پرستی نہیں کروں گا “

اور تم بھی اپنی اس ہٹ دھرمی اور اپنے بڑوں کی اندھی تقلید کے باعث، جس پر تمھیں اصرار ہے ، اور بت پرستوں کی طرف سے جو بکثرت نا جائز منافع تمہیں حاصل ہوتے ہیں اس وجہ سے ہر گز شرک سے خالص خدا پر ستی کی طرف نہیں آسکتے

بت پرستوں کو توحید وبت پرستی میں کس قسم کی مصالحت سے مکمل طور پر مایوس کر نے کے لئے دوبارہ مزید فرماتا ہے: اور نہ ہی میں ہرگز انکی پرستش کروگا جن کی تم پرستش کرتے ہو“( ولا انا عابد ما عبدتم ) ” نہ ہی تم اس کی پرستش کرو گے جس کی میں عبادت کر تا ہوں “( ولا انتم عا بدون مااعبد ) اس بناء ہربت پرستی کے مسئلہ پر بے جا مصالحت کے لئے اصرار نہ کرو، کیو نکہ کہ یہ بات غیر ممکن ہے” اب جب کہ معاملہ اس طرح ہے تو تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے“( لکم دینکم ولی دین )

” بہت سے مفسرین نے یہ تصریح کی ہے کہ یہا ں ” کا فرون“ سے مراد مکّہ کے بت پرستوں کے سر غنوں کا ایک خاص گروہ ہے، اس بنا پر ” الکافرون“ پر” الف و لام“ اصطلاح کے مطابق”عہد کا ہے”جمع“ کا نہیں ہے

ممکن ہے کہ اس مطلب پر ان کی دلیل۔ اس چیز کے علاوہ جو شان نزول میں کی جا چکی ہے۔یہ ہو کہ مکہ کے بت پر ستوں میں سے بہت سے آخرکار ایمان لے آئے تھے۔ اس بنا ء پر اگر وہ یہ کہتاہے کہ،” نہ تم میرے معبود کی عبادت کرو گے نہ ہی میں تمہارے معبودوں کی ، تو یقینی طور پر یہ شرک و کفر کے سر غنوں کے اس گروہ کے بارے میں ہے جو آخری عمر تک ہر گز ایمان نہیں لایا، ورنہ فتح مکہ کے مو قع پر بہت سے مشرکین فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے تھےیہاں چند سوالات سامنے آتے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے

۱ ۔ یہ سورہ ”قل“ ( کہہ دے) کے ساتھ شروع کیوں ہوا؟

کیا یہ بہتر نہیں تھاکہ”قل“ اس کے آغاز میں لائے بغیر” یا ایھاالکافرون“ کہا جا تا؟

دوسرے لفظوں میں پیغمبر کو خدا کے حکم کا اجراء کرنا چا ہیے تھا اور انہیں ”( یا ایها الکا فرون ) “ کہنا چا ہیئے تھا، نہ کہ جملہ” قل “کا بھی تکرار کریں

اس سوال کا جواب سورہ کے مضمون کی طرف تو جہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کیو نکہ مشرکین عرب نے پیغمبر کو بتو ں کے سلسلے میں مصالحت کرنے کی دعوت دی تھی،لہٰذا آپ کے لئے اپنی طرف سے اس مطلب کی نفی کر نا ضروری تھا اور یہ کہنا چاہییے تھا کہ میں ہر گز تمھاری بات نہیں ما نو ں گا اور اپنی عبا دت کو شرک سے آلو دہ نہیں کرو ں گا۔ اگر اس سورہ کے آغاز میں لفظ”قل “ نہ ہوتا تو یہ با ت خدا کی بات ہو جاتی اور اس صورت میں ”( لا اعبد ماتعبدون ) “( تم جن کی عبا دت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرو ں گا) کا جملہ اور اسی قسم کے دوسرے جملوں کا کوئی مفہوم نہ ہوتا

اس کے علاوہ چونکہ جبرئیل کے پیام میں لفظ”قل“خدا کی ظرف سے تھا ،لہٰذا پیغمبر کی ذمہ داری یہ کہ قرآن کی اصا لت کی حفا ظت کے لیے اسے بعینہ بیان کریں اور خود یہی چیز اس بات کی نشانی وہی کرتی ہے کہ” جبرئیل“ اور اس رسو ل اکرم نے وحی الٰہی کے نقل کرنے میں معمو لی سی بھی تبدیلی نہیں کی اور انہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایسے مامور ہیں جو فقط فرما ن الٰہی پر ہی کان دھرتے ہیں جیسا کہ سورہ یو نس کی آیت ۱۵ میں آیا ہے:قل ما یکون لی ان ابّد له من تلقائی نفسی ان اتبع االّا ما یو حٰی الّی : کہ دیجئے مجھے اس بات کا کوئی حق نہیں ہے کہ قرآن کو اپنی طرف سے بد ل دوں ، میں تو صرف اس بات کی پیروی کرتا ہوں جس کی مجھ پر وحی ہوتی ہے

۲ ۔ کیا بت پرست خدا کے منکر تھے؟

ہم جانتے ہیں کہ بت پرستوں کو ہر گز خدا کا انکار نہیں تھا۔ اور قرآن کی صریح آیات کے مطا بق جب ان سے آسمان و زمین کے خالق کے بارے میں پو چھا جاتا تھا تو وہ یہ جواب دیتے تھے کہ وہ خدا ہے:ولئن ساء لتھم من خلق السّما وات والارض لیقولن اللہ( لقمان۔ ۲۵)

تو پھروہ اس سورہ میں یہ کیسے کہتا ہے:” نہ تو میں تیرے معبود کی پرستش کرو ں گا اور نہ ہی تم میرے معبود کی پرستش کرو گے“؟

اس سوال کا جواب بھی اس چیز کی طرف تو جہ کرتے ہوئے واضح ہو جا تاہے کہ بحث مسئلہ خلقت کے بارے میں نہیں ہے بلکہ مسئلہ عبا دت کے بارے میں ہے۔ بت پرست، خالق جہاں خدا ہی کو سمجھتے تھے۔ لیکن ان کا عقیدہ یہ تھا کہ عبادت بتوں ہی کی کرنی چا ہئیے۔ تاکہ وہ بارگاہِ خدا میں واسطہ بنیں ، یا یہ کہ ہم اصلا اس لا ئق نہیں ہیں کہ خدا کی پرستش کریں ، لہٰذا ہمیں جسمانی بتو ں کی عبادت کرنی چاہئیے۔ اس مو قع پر قرآن ان کے اوہام اور خیا لات پر سرخ لکیر کھینچتے ہوئے ردّ کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ عبادت تو صرف خدا ہی کی ہونا چا ہئیے، نہ کہ بتوں کی ہونا چاہئیے اور نہ ہی دونوں کی

۳ ۔یہ تکرار کس لیے ہے؟

اس بارے میں کہ پیغمبر کی طرف سے بتوں کی عبادت کی نفی کی تکرار اور مشرکین کی طرف سے خدا کی عبادت کی نفی کی تکرار کس بنا ء پر ہے، بہت زیادہ اختلاف ہے۔

ایک جماعت کا عقیدہ تو یہ ہے کہ تکرار تا کید اور مشرکین کو مکمل طور پر ما یوس کرنے ، ان کے راستے کو اسلام کے راستے سے جدا کرنے اور یہ ثابت کرنے کے لیے ہے کہ توحید و شرک کے در میان مصالحت کا امکان نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، چو نکہ وہ پیغمبر اکرم کو شرک کی طرف دعوت دینے میں اصرار کے ساتھ تکرار کرتے تھے،لہٰذا قرآن بھی ان کے ردّ کرنے میں تکرار کرتا ہےایک حدیث میں آیا ہے کہ(امام جعفرصادق علیہ السّلام کے زما نے کے ایک زندیق)” ابو شاکردیصانی“ نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک صحابی” ابو جعفر احول“( محمّد بن علی نعما نی کوفی معروف بہ مومن طاق) سے ان آیات کے تکرار کی دلیل کے بارے میں سوال کیااور یہ کہا کہ کیا کسی عقل مند آدمی سے یہ بات ممکن ہے کہ اس کے کلام میں اس قسم کی تکرار ہو؟ ابو جعفر احول کے پاس چونکہ اس کا کوئی جواب نہیں تھا لہٰذا وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں مدینہ پہنچے اور اس سلسلہ میں سوال کیا، تو امام نے فرمایا:” ان آیات کے نزول اور ان میں تکرارکا سبب یہ تھا کہ قریش نے پیغمبر اکرم کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ایک سال آپ ہمارے خدا و ں کی پر ستش کریں اور دوسرے سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے، اورا سی طرح بعد والے سال میں آپ ہمارے خداؤں کی عبادت کریں اور اس کے اگلے سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے، تو اُوپر والی آیات نا زل ہوئیں اور تمام تجا ویز کی نفی کی“ جب ابو جعفر”احول نے“” ابو شاکر“ کو یہ جواب دیا تو اس نے کہا:”هٰذا ما حمله الا بل من الحجاز یہ وہ بار ہے جسے اُونٹ حجاز سے اٹھا کر لا ئے ہیں “

(یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تیرا جواب نہیں ہے بلکہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا قو ل ہے):

بعض دوسروں نے یہ کہا ہے کہ تکرار اس بنا ء پر ہے کہ ایک جملہ توحال کے بیان کے لیے ہے اور دوسرا مستقبل کے بیان کے لیے، یعنی میں ہر گز بھی نہ تو حال میں تمہارے معبو دوں کی پر ستش کرو ں گا اور نہ ہی کبھی آئندہ تمہارے معبودوں کی عبا دت کرو ں گا

لیکن ظاہراََ اس تفسیر پر کوئی شا ہد موجود نہیں ہے

ایک تیسری تفسیر بھی اس تکرار کے لیے بیان کی گئی ہے کہ پہلا جملہ تو معبودوں کے اختلاف کو اور دوسرا عبادت کے اختلاف کو بیان کرتا ہےیعنی نہ تو میں ہر گز تمہارے معبودوں کی عبادت کرو ں گا اور نہ ہی میری عبادت تمہاری عبادت کی طرح ہے، کیو نکہ میری عبادت مخلصا نہ ا ور ہر قسم کے شرک سے خا لی ہے

علاوہ ازیں تمہارا بتوں کی عبادت کرنا بڑوں کی اندھی تقلید کی بناء پر ہے ۔لیکن میرا اللہ کی عبادت کرنا تحقیق و شکرانے کے طور پر

لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ تکرارتاکید کے لیے ہے ،جیسا کہ ہم نے اوپر وضا حت کی ہے وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہےیہا ں ایک چو تھی تفسیر بھی بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ:” دوسری آیت میں تو یہ فرماتا ہے کہ جن کی تم اب عبادت کر رہے ہو میں ا ن کی عبادت نہیں کروں گااور چو تھی آیت میں فر ماتا ہے کہ” میں نے گز شتہ زما نہ میں بھی کبھی تمہا رے معبوود کی عبا دت نہیں کی ہے چہ جائیکہ اب کرو

یہ فرق اس بات کی طرف تو جہ کرتے ہوئے کہ دوسری آیت میں ” تعبدون“ فعل مضارع کی صورت میں ہے، اور چو تھی آیت میں ”عبد تم“ فعل ماضی کی صورت میں ہے،بعید نظر نہیں آتا

اگر چہ یہ تفسیر صرف دوسری اور چو تھی آیت کے تکرار کو تو حل کرتی ہیں ، لیکن تیسری اور پانچویں آیت اسی طرح اپنی پوری قوّت کے ساتھ باقی رہتی ہے

۴ ۔کیا”( لکم دینکم ) ۔۔۔۔۔“ کی آیت کا مفہوم بت پرستی کا جواز ہے؟

کبھی یہ خیال کیا گیاہے کہ اس سورہ کی آخری آیت جو یہ کہتی ہے کہ:” تمہارا دین تمہا رے لیے اور میرا دین میرے لیے“ تو اس کا مفہوم وہی ”صلح کل “ یہ ہے اور یہ انہیں اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنے دین پر بر قرار رہیں کیو نکہ یہ دینِ اسلام کو قبول کرنے پر اصرار نہیں کرتیلیکن یہ خیال انتہائی کمزور اور بے بنیاد ہے کیو نکہ آیات کا لب ولہجہ اچھی طرح سے اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ تعبیر ایک قسم کی تحقیر و تہدید ہے ،یعنی تمہارا دین خود تمہیں ہی مبارک ہو اور تم جلدی ہی اس کے بُرے انجام کو دیکھ لو گے،جیسا کہ سورہ قصص کی آیہ ۵۵ میں آیا ہے:( واذا سمعوا اللغو ا عرضواعنه وقالوا لنا اعما لنا ولکم اعما لکم سلام علیکم لانبتغی الجاهلین ) ” مو منین جب کوئی لغو او ربیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے رو گر دا نی کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اعمال تمہارے لیے تم پر سلام(وداع اور جدائی کا سلام) ہم جا ہلو ں کے طلب گار نہیں ہیں “

قرآن مجید کی سیکڑوں آیتیں اس مفہوم کی گواہ ہیں جو شرک کی ہر صورت میں سر کوبی کرتی ہیں ، اسے ہر کام سے زیادہ قابلِ نفرت سمجھتی ہیں اور اسے نہ بخشا جانے والا گناہ خیال کرتی ہیں علماء نے اس سوال کے دوسرے جواب بھی دیے ہیں مثلاََ یہ کہ آیت میں کچھ محذوف ہےاور تقدیر میں اسطرح ہے: ”لکم جزا ء دینکم ولی جزاء دینی “” یعنی تمہارے دین کی جزا تمہارے لیے اور میرے دین کی جزا میرے لیے “ دوسرے یہ کہ یہاں ”دین “ جزا ء کے معنی میں ہے اور آیت میں کوئی بھی چیز محذوف نہیں ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم اپنی جزا لو گے اور میں اپنی جزا لو ں گا

۵ ۔آپ نے ایک لمحہ کے لیے بھی شرک سے مصالحت نہیں کی۔

اس سورہ میں جو کچھ آیا ہے وہ حقیقت میں اس واقعیت کو بیان کرتا ہے کہ تو حیدو شرک دو متضاد پر وگرام اور مکمل طور پر دو الگ الگ راستے ہیں اور ان میں ایک دوسرے کے ساتھ کسی قسم کی مشابہت نہیں ہے تو حید انسان کو خدا سے مر بوط کرتی ہے،جب کہ شرک اس کوخدا سے بیگانہ کر دیتا ہے

تو حید تمام مرحلوں اور میدانوں میں وحدت ویگانگی کی رمز ہے جب کہ شرک زندگی کے تمام شئون میں تفرقہ او ر پرا گندگی کا سبب ہےتوحید انسان کو عالمِ مادّہ اور جہان اور جہان ِ طبیعت سے بلندی کی طرف لے جاتی ہے اور ماوراء طبیعت میں خدا کے لا متناہی وجود کے ساتھ اس کا رشتہ جوڑ دیتی ہے، جبکہ شرک انسان کو طبیعت کے کنویں میں سر نگو ں کر دیتا ہے اور اس کا رشتہ محدود،کمزور اور فانی مو جو دات کے ساتھ جوڑ دیتا ہے

اسی بنا پرپیغمبراکرم اور تمام انبیاء عظّام نے نہ صرف شرک کے ساتھ مصالحت نہیں کی، بلکہ ان کا پہلا اور اہم ترین پروگرام شرک کے ساتھ مبارزہ کرنا تھا ۔آج بھی راہِ حق کے تمام چلنے والوں اور اس دین کے علماء و مبلغین کو یہی راستہ اور طریقہ اختیار کرنا چا ہیئے اور ہر جگہ اور ہر مقام پر ہر قسم کے شرک اور مشرکین سے ساز باز اور مصالحت سے اپنی برائت اور بیزاری کا اعلان کرنا چاہیئےیہی اسلام کی اصل راہ ہے۔

خدا وندا! ہمیں شرک اور شرک آلودہ افکار واعمال سے دور رکھ۔

پرور دگا ر! ہمارے زمانہ کے مشرکین کے وسوسے بھی خطر ناک ہے ، ہمیں ان کے وام فریب میں گرفتار ہونے سے محفوظ رکھ۔

بارِالہٰا! ہمیں ایسی شجا عت اور صراحت و قاطعیت مر حمت فرما کہ ہم بھی پیغمبراکرم کی طرح ہر قسم کے کفر و شرک کی مصالحت کی پیش و کش کو ردّ کر دیں ۔

آمین یا ربّ العالمین


سورہ نصر

یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوا۔ اس میں ۳ آیات ہیں ۔

سورہ نصر کے مطالب اور اس کی فضیلت

یہ سورہ مدینہ میں ہجرت کے بعد نازل ہو اہے اور اس میں ایک بہت بڑی کامیابی اور فتح عظیم کی بشارت ہے کہ اس کے بعد لوگ گروہ در گروہ خدا کے دین میں داخل ہو ں گے، لہٰذا اس عظیم نعمت کا شکر ادا کرنے کے لئے پیغمبراکرم کو تسبیح حمد الٰہی اور استغفار کرنے کی دعوت دی گئی ہے ۔

اگر چہ اسلام میں بہت سی فتوحات ہوئی ہیں لیکن اوپر والی بات کے پورا ہونے کے طور پر ” فتح مکہ کے سوا اور کوئی فتح نہیں تھی۔

خصوصاً جبکہ بعض روایات کے مطابق عربوں کا نظریہ یہ تھا کہ اگر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ کو فتح کر لیا اور وہ اس پر مسلط ہو گئے ،تو یہ ان کے حقانیت کی دلیل ہوگی، کیونکہ اگر وہ حق پر نہ ہوئے تو خداانہیں اس قسم کی اجازت نہیں دے گا ، جیساکہ اس نے ” ابرہہ “ کے عظیم لشکر کو اس قسم کی اجازت نہیں دی تھی ۔ اسی بناء پر مشرکینِ عرب فتح مکہ کے بعد گروہ در گروہ اسلام میں داخل ہوگئے ۔

بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ سورہ ” صلح حدیبیہ“ کے بعد فتح مکہ سے دو سال پہلے ، ہجرت کے چھٹے سال نازل ہوا۔

لیکن یہ بات، جس کے بارے میں بعض نے احتمال دیا ہے کہ یہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کے دسویں سال حجة الوداع میں نازل ہوا ، بہت ہی بعید ہے ،کیونکہ اس سورہ کی تعبیریں اس معنی کے ساتھ ساز گار نہیں ہے، کیو نکہ یہ مستقبل سے مراط ایک حا دثہ کی خبردیتا ہے نہ کہ گز شتہ کی

اس سورہ کا ایک نام سورہ” تودیع“ہے۔( تو دیع یعنی خدا حا فظ) کیو نکہ اس میں ضمنی طور پر پیغمبر کی رحلت کی خبرہے ایک حدیث میں آیا ہے کہ جس وقت یہ سورہ نا زل ہوا اور پیغمبراکرم نے اس کی اپنے اصحاب کے سامنے تلا وت کی تو سب کے سب بہت خوش اور مسرور ہو ئے، لیکن پیغمبر کے چچا عباس (رض) اس کو سن کر رونے لگے پیغمبر نے فر مایا:

اے چچا ! جان آپ کیوں رو رہے ہیں ؟

عرض کیا: میرا گمان یہ ہے کہ اس سورہ میں آپ کی رحلت کی خبر دی گئی ہے تو رسولِ خدا نے فر مایا: یہی بات ہے جو آپ کہہ ر ہے ہیں(۱)

اس بارے میں کہ یہ مطلب اس سورہ کے کس جملہ سے معلوم ہوتا ہے، مفسرین کے در میان اختلاف ہے کیو نکہ آیات کے ظاہر میں تو فتح اور کامیابی کی بشارت کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ظاہراََ اس مفہوم کا اس بات سے استفادہ کیا گیا ہے کہ یہ سورہ اس بات کی دلیل ہے کہ پیغمبر کی رسا لت آخرت کو پہنچ رہی ہے، آپ کا دین مکمل طور پرثابت اور مستقر ہو چکا ہے اور یہ معلوم ہے کہ ایسی حالت میں سرائے فانی سے جہان باقی کی طرف رحلت کی تو قع پورے طور پر قا بل پیش بینی ہے۔

____________________

۱- مجمع البیان“جلد۱۰ص۵۵۴ یہ مضمون متعد در روایات میں مختلف الفاظ کے ساتھ ذکر ہواہے( المیزان جلد۲۰ ص۵۳۲)۔


اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں ’ایک حدیث میں پیغمبراکرم سے آیا ہے:”من قرائھا فکانما شھد مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وا لہ وسلم فتح مکہّ“”جو شخص اس کی تلاوت کرے گا وہ اس شخص کے مانند ہے جو فتح مکہّ میں پیغمبر کے ہمراہ تھے(۱) -

ایک اور حد یث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے:” جو شخص سورہ”( اذا جاء نصر الله والفتح ) “ کو نا فلہ یا واجب نماز میں پڑھے گا خدا اس کو اس کے تمام دشمنوں پر فتح یاب کرے گا اور وہ قیا مت میں اس حالت میں وارد محشر ہوگا کہ اس کے ہاتھ میں ایک عہد نامہ ہوگا، جو بات کرے گا، خدا نے اسے اس کی قبر کے اندر سے باہر بھیجا ہے، اور وہ جہنم کی آگ سے امان نامہ ہے،

آیات ۱،۲،۳،

-( بسم الله ارّحمن الرّحیم )

۱ ۔( اذا جاء نصرُ الله والفتحُ ) ۲ ۔( وَ رَاَیتَ الناّس ید خُلُونَ فی دین الله افواجاَ )

۳ ۔( فسبح بحمد ربک واستغفرهُ انّه کان توابا ) ۔

تر جمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے

۱ ۔ جب خدا کی مدد اور کامیابی آن پہنچے۔ ۲ ۔ اور تو دیکھے گا کہ لوگ گروہ در گروہ خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں

۳ ۔ پس تم اپنے پر ور دگار کی تسبیح اور حمد بجا لاو اور اس سے استغفار کرو کہ وہ بڑا ہی تو بہ قبول کرنے والا ہے۔

جب اصلی کامیابی آن پہنچے

اس سورہ کی پہلی آیت جس میں فر ماتا ہے:”جس وقت خدا کی مدد اور کامیابی آن پہنچے“۔(اذا جاء نصر اللہ والفتح)”اور تو دیکھے گا کہ لوگ گروہ در گروہ خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں “( و رایت الناس ید خلون فی دین اللہ افواجا)۔ تو اس عظیم نعمت اور اس کا میابی ااور نصرتِ الٰہی کے شکرانے کے طور پر اپنے پر ور دگار کی تسبیح اور حمد بجا لاوء اور اس سے بخشش طلب کرو کہ وہ بڑا ہی تو بہ قبول کرنے والا ہے۔

( فسبح بحمد ربک واستغفره انه کان توابا )

ان تین مختصر اور پر معنی آیات میں بہت سے ایسے نکات ہیں جن میں غور کرنے سے اس سورہ کے اصلی ہدف کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے

۱ ۔پہلی آیت میں ”نصرت“ کی اضافت”خدا “کی طرف ہوئی ہے(نصر اللہ) صرف یہی ایک جگہ نہیں ہے کہ جہاں یہ اضافت نظر آرہی ہے، بلکہ قرآن کی بہت سی آیات میں یہ معنیٰ منعکس ہے منجملہ ان کے سورہ بقرہ کی آیة ۲۱۴ میں آیا ہے( الا ان نصرالله قریب ) ” جان لو کہ خدا کی مدد قریب ہے“۔

اور سورہ آلِ عمران کی آیة ۱۲۶ اور انفال کی آیة ۱۰ میں آیا ہے۔( وما النصر الا من عند الله ) ” نصرت تو صرف خداہی کی طرف سے ہوتی ہے“۔

یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نصرت و کامیابی ہر حال میں خدا کے ارادہ سے ہی ہو تی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ دشمن پر غلبہ حا صل کرنے کے لیے توا نا ئیوں کو مجتمع کرنا اورقدرت وطا قت مہیا کرنا ضروری ہے، لیکن ایک موّ حد آدمی نصرت کوخدا ہی کی طرف سے سمجھتا ہے اور اسی بناء پر کامیابی کی صورت میں مغرور نہیں ہوتا بلکہ اس پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے۔

۲ ۔اس سورہ میں پہلے نصرتِ الٰہی، پھر فتح و کامرانی اور اس کے بعد اسلام کے نفوذ ووسعت اور لوگوں کے خدا کے دین میں گروہ در گروہ داخل ہونے کی بات کی گئی ہے۔ یہ تینوں ایک دوسرے کی علّت ومعلول ہیں ۔ جب تک خدا کی نصرت اور مدد نہ ہو، فتح و کامیابی حا صل نہیں ہوتی اور جب تک فتح و کامیابی حا صل نہ ہو اور راستہ کی رکاوٹیں دور نہ ہوں ،لوگ گروہ در گروہ مسلمان نہیں ہوتے ۔البتہ ان تین مرحلوں کے بعد، جن میں سے ہر ایک بہت بڑی نعمت ہے،چو تھا مرحلہ شکر اور حمد وستا ئش الٰہی کا آتا ہے۔اور دوسری طرف سے خدائی نصرت اور کامیابی اس لیے ہے کہ اصل ہدف یعنی لوگوں کاخد ا کے دین میں داخل ہونا اور عمومی ہدا یت صورت پذیر ہو۔

۳ ۔”فتح“ یہاں مطلق صورت میں بیان ہوا ہے اور ا ن قرا ئن کی بناء پر جن کی طرف ہم نے پہلے اشارہ کیا ہے، اس سے مُرادفتح مکہّ ہے،جس کا ایسا ہی ردِّ عمل ہواتھا اور وا قعاََ فتح مکہّ نے تاریخ اسلام میں ایک نئی فصل کا اضافہ کیا، کیو نکہ اس سے شرک کا اصلی مرکز تباہ و بر باد ہو گیا، بت توڑ دیے گئے اور بت پرستو ں کی امید مایو سی اور نا امیدی میں تبدیل ہو گئی، او ر لوگوں کے لیے اسلام پر ایمان کے راستے میں جو رو کاوٹیں تھیں وہ ہٹ گئی اسی بنا ء پر فتح مکہّ کوجز یرہ العرب میں اور اس کے بعد ساری دنیا میں اسلام کے ثبات واستقرار کا مر حلہ سمجھنا چا ہیئے۔

اور اسی لیے مشرکین کی جا نب سے فتح مکہّ کے بعد( سوائے ایک مو قع کے جس کی جلدی ہی سر کو بی ہو گئی) کسی قسم کا مقا بلہ نظر نہیں آیا او ر لوگ تمام علا قوں سے اسلام قبول کر نے کے لیے پیغمبر کی خد مت میں آئے تھے

۴ ۔تیسری آیت کے ذیل میں پیغمبر اکرم کو (اور طبعاََ سب مومنین کو) تین اہم حکم دیتا ہے جو حقیقت میں اس عظیم کا میابی کاشکرانہ اور نصرتِ الٰہی کے مقابلہ میں ایک مناسب عکس العمل ہے اور اوہ تسبیح،حمد اور استغفار کا حکم ہے

”تسبیح“ کا معنی خدا کو ہر قسم کے عیب و نقص سے منزّ ّ ہ سمجھنا ہے”حمد“صفاتِ کما لیہ کے ساتھ اس کی تو صیف و تعریف کرنا ہے،اور”استغفار“ بندوں کی کو تا ہیوں اور تقصیروں کو ظاہرکرتا ہے۔ یہ عظیم کامیابی اس باتکا سبب بنی ہے کہ شرکاآلودہ افکار میں کمی ہو،خدا کا کمال و جمال زیادہ سے زیادہ ظاہر ہو اور راستہ سے بھٹکے ہوئے لوگ حق کی طرف لو ٹ آئیں ۔

یہ فتح عظیم سبب بنی ہے کہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ خدا اپنے اولیاء اور دوستوں کو تنہا چھوڑ دیتا ہے

(اس نقص سے پا کیز گی) اور وہ یہ بھی جان لیں کہ خدا اپنے وعدوں کے انجام دینے پر توانا ہے(اس کمال سے مو صوف ہو نا) اور بندے بھی اس کی عظمت کے مقابلہ میں اپنے نقص کا اعتراف کریں ۔

اس کے علاوہ ممکن ہے کہ انسان میں کامیابی کے وقت غیر مطلو ب ر دِّعمل پیدا ہو جائے اوروہ”غرور و تکبرّ اورخود کو برتر سمجھنے“ میں مبتلا ہو جائے یا دشمن سے”انتقام لینے اور ذاتی حساب چکانے“ کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ یہ تینوں احکام ا سے ا س بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ وہ کامیابی کے حساّس لمحات میں خدا کی صفاتِ جلال وجمال کی یاد میں رہیں ،سب چیزوں کو اس کی طرف سے سمجھے اور استغفار میں مشغول ہو جائے تاکہ غرور و غفلت بھی اس سے زائل ہو اور وہ جذبہ انتقام سے بھی دور رہے

۵ ۔مسلمہ طور پر پیغمبر اسلام تمام انبیاء کی طرح” معصوم“تھے، پس یہ استغفار کا حکم کس لیے ہے؟

اس سوال کے جواب میں ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ یہ توساری امت کے یے ایک نمونہ و اسوہ اور دستور العمل ہے کیو نکہ:

اولاََ: اس طولانی مبارزہ کے طویل زمانہ میں ، جو بہت زیادہ سالوں تک جاری رہا(تقریباََ بیس سال) اور مسلمانوں نے بہت سخت اور درد ناک دن گزارے،بعض اوقات تو حاد ثات ایسے پیچیدہ ہو جاتے تھے کہ جانیں لبوں تک پہنچ جاتی تھیں اور بعض لوگوں کے افکار میں خدائی وعدوں کے بارے میں بُرے گمان پیدا ہو جاتے تھے، جیسا کہ قرآن جنگ” احزاب“ کے بارے میں فرماتا ہے:وبلغت القلوب الحناجر وتظنون باللہ الظنون:”اور دل گلے تک آ گئے اور تم اللہ کے بارے میں (نا مناسب) گمان کر نے لگے۔(احزاب ۱۰)

اب جب کہ کامیابی حاصل ہو گئی ہے تو وہ اس بات کو سمجھ گئے ہیں کہ وہ سب بد گما نیاں اور بے تا بیاں غلط تھیں ، لہٰذا انہیں استغفار کر نا چا ہیئے

ثا نیاََ: انسان چا ہے جتنی بھی خدا کی حمدو ثنا کرے، پھر بھی وہ اس کے شکر کا حق ادا نہیں کر سکتا ، لہٰذا اُسے حمد و ثنا کے آخر میں اپنی تقصیر و کو تا ہی کی بناء پر” خدا کی بارگاہ میں “ استغفار کر نا چا ہیئے

ثا لثاََ: عام طور پرکا میابیوں کے بعد شیطانی وسوسے شروع ہو جاتے ہیں اور ایک طرف ” غرور“ اور دوسری طرف” تندورئی اور انتقام جوئی“ کی حالت پیدا ہو جاتی ہےلہٰذا اس موقع پر خدا کو یاد رکھنا چا ہیئے اور مسلسل استغفار کرتے رہنا چا ہیئے، تاکہ ان میں سے کوئی سی حالت بھی پیدا نہ ہو یا اگر پیدا بھی ہو تو بر طرف ہو جائے۔

رابعاََ: جیسا کہ ہم نے سورہ کے آغاز میں بیان کیا ہے اس کامیابی کا اعلان تقریباََ پیغمبر کی ما موریت کے اختتام اور آنحضرت کی عمر کے پورا ہونے اور لقائے محبوب کے لیے جانے کے اعلان کے معنی میں ہے اور یہ حالت”تسبیح و”حمد و”استغفار“ سے منا سبت رکھتی ہے اسی لیے روایات میں آیا ہے کہ اس سورہ کے نازل ہو نے کے بعدپیغمبر اکرم ا س جملہ کا بہت زیادہ تکرار فر ماتے تھے:

” سبحانک اللهم وبحمدک، اللهم اغفرلی انک انت التواب الرحیم :”خدا وندا!تو پاک و منزّہ ہے ، اور میں تیری حمد و ثنا کرتا ہوں ۔ خد وندا! مجھے بخش دے کہ تو بہت ہی تو بہ کو قبو ل کرنے والا اور مہر بان ہے

۶ ۔” انہ کان توابا“ کا جملہ مسئلہ استغفار کی علّت کا بیان ہے یعنی استغفار و تو بہ کر کیو نکہ خدا بہت ہی توبہ کو قبو ل کرنے والا ہے۔ ضمنی طور پر شاید اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ جب خدا تمہاری تو بہ کو قبول کر لیتا ہے تو تم بھی کا میابی کے بعد جہا ں تک ہو سکے کو تا ہی کرنے والو ں کی توبہ کو قبول کر لو۔ اور جب تک ان سے مخا لفت کا ارادہ یا سازش کے آثار ظاہر نہ ہوانہیں اپنے سے دور نہ کرولہٰذا۔ جیسا کہ ہم نے دیکھ لیا ہے۔ پیغمبر اکرم نے اس فتح مکہّ کے ما جرے میں شکست خوردہ کینہ ور دشمنوں کے مقا بلہ میں اسلامی رافت ورحمت کااعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا ہے۔

یہ صرف پیغمبر اکرم ہی کی سیرت نہیں ہے کہ آپ دشمن پر آخری اور اصلی فتح حاصل کرنے کے مو قع پر تسبیح وحمد و استغفار میں مصروف ہو گئے، بلکہ سارے ہی انبیاء کی تا ریخ میں یہ مطلب اچھی طرح نمایاں ہے۔

مثلاََ حضرت ”یو سف“ علیہ السلام جب مصر کے تختِ حکو مت پر بیٹھے اور ایک طو یل جدائی کے بعد ان کے ماں باپ اور بھا ئی ان سے آکر ملے تو عرض کی:( ربّ قد اتیتنی من الملک وعلمتی من تاویل الاحادیث فا طر السماوات والارض انت ولیّ فی الدنیا والآخرة تو فّنی مسلماَ والحقنی با لصالحین ) :

پرور دگار! تو نے حکومت کا ایک بڑا حصّہ مجھے دیا ہے اور تو نے مجھے خوا بوں کی تعبیر کا علم عطا کیاہے، تو ہی آسمان و زمین کو پیدا کر نے والا ہے اور تو ہی دنیا و آخرت میں میرا سر پرست ہے ۔ مجھے مسلمان کی حیثیت سے موت دینا اور صا لحین کے سا تھ ملحق کرنا“( یو سف۔ ۱۰۱)

پیغمبر خدا حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب ملکہ سبا کے تخت کو اپنے سامنے حاضر دیکھا تو کہا:”هذا من فضل ربیّ لیبلونی ء اشکرام اکفر “:”یہ میرے پرور دگار کے فضل سے ہے تا کہ وہ مجھے آزمائے کہ آیا میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا کفرانِ نعمت کرتا ہوں “( نمل۔ ۴۰)

فتح مکہّ میں اسلام کی عظیم ترین فتح:

فتح مکہّ نے۔ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے۔ تاریخ اسلام میں ایک نئی فصل کا اضافہ کیا ہے اور تقریباََ بیس سال کے بعد دشمن کی مقا و متوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ۔حقیقت میں فتح مکہّ سے جزیرة العرب سے شرک و بت پرستی کی بساط لپیٹ دی گئی اور اسلام دنیا کے دوسرے مما لک کی طرف حرکت کے لیے آمادہ ہوا۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ حد یبیہ کے عہد و پیمان اور صلح کے بعد کفّار نے عہد شکنی کی اور اس صلح نامہ کو نظر اند ز کردیا ۔ اور پیغمبر کے بعض حلیفوں کے ساتھ زیا دتی کی،آپ کے حلیفوں نے آنحضرت سے شکایت کی تو رسول اللہ نے اپنے حلفیو ں کی مدد کرنے کا ارادہ کر لیا۔

اور دوسر ی طرف مکہّ میں بت پر ستی، شرک اور نفاق کا جو مر کز قا ئم تھا اس کے ختم ہونے کے تمام حا لات فراہم ہو گئے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جسے ہر حالت میں انجام دینا ضروری تھا“ اس لیے پیغمبر خدا کے حکم سے مکہّ کی طرف جانے کے لیے آمادہ ہو گئے۔

فتح مکہّ تین مراحل میں انجام پائی:۔

پہلا مر حلہ مقد ماتی تھا،یعنی ضروری قواء اور توا نائیوں کو فرا ہم کرنا، زمانہ کے موافق حالات کا انتخاب اور دشمن کی جسمانی رو حانی قوّت وتوانائی کی مقدار و کیفیّت کی حیثیت کے بارے میں کافی اطلاعات حاصل کر نا تھا۔

دوسرا مر حلہ، فتح کے مرحلہ کو بہت ہی ماہرانہ اور ضا ئعات وتلفات یعنی نقصان کے بغیر انجام دینا تھا۔ اور آخری مرحلہ، جو اصلی مرحلہ تھا، وہ اس کے آ ثار و نتا ئج کا مرحلہ تھا۔

۱ ۔ یہ مرحلہ انتہائی دقت،باریک بینی اور لطافت کے ساتھ انجام پایا،خصوصاََ رسول اللہ نے مکہّ ومد ینہ کی شا ہراہ کو اس طرح سے قرق کر لیا تھا کہ اس عظیم آماد گی کی خبر کسی طرح سے بھی اہلِ مکہّ کو نہ پہنچ سکی ۔اس لیے انہو ں نے کسی قسم کی تیاری نہ کی،وہ مکمل طور پرغفلت میں پڑے رہے اور اسی وجہ سے اس مقدّس سر زمین میں اس عظیم حملے اور بہت بڑی فتح میں تقریباََ کوئی خون نہیں بہا۔

یہاں تک کہ وہ خط بھی، جو ایک ضعیف الایمان” مسلمان حا طب بن ابی بلتعہ“نے قریش کو لکھا تھا اور قبیلہ ”مز ینہ“ کی ایک عورت ”کفود“یا ”سارہ“ نامی کے ہاتھ مکہ ّ کی طرف روانہ کیا تھا،اعجاز آمیز طریقہ سے پیغمبر اکرم کے لیے آشکار ہو گیا۔علی علیہ السلام کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ تیزی سے اس کے پیچھے روانہ ہوئے،اُنہونے اس عورت کومکہّ و مدینہ کی ایک در میانی منزل میں جا لیااوراس سے وہ خط لے کر خود اسے بھی مدینہ واپس لے آئے،جس کی داستان سورہ ممتحنہ کی پہلی آیت کے ذیل میں تفصیل کے ساتھ بیان ہو چکی ہے

بہر حال پیغمبراکرم مدینہ میں اپنا ایک قائم مقام مقر ر کرکے ہجرت کے آٹھویں سال ما ہِ رمضان کی دس تاریخ کو مکہّ کی طرف چل پڑے،اور دس دن کے بعدمکہّ پہنچ گئے۔

پیغمبر اکرم نے راستے کے وسط میں اپنے چچاعباس (رض) کو دیکھا کہ وہ مکہّ سے ہجرت کر کے آپ کی طرف آرہے ہیں ۔ حضرت نے ان سے فر مایا کہ اپنا سامان مدینہ بھیج دیجئے اور خود ہمارے ساتھ چلیں ،اور آپ آخری مہاجر ہیں ۔

۲ ۔آخر کار مسلمان مکہّ کے قریب پہنچ گئے اور شہر کے باہر،اطراف کے بیانوں میں اس مقام پر جسے ”مرّالظہران“ کہا جا تا تھا اور جو مکہّ سے چند کلو میٹر سے زیادہ فا صلہ پر نہ تھا ،پڑاؤ ڈال دیا۔ اور رات کے وقت کھانا پکانے کے لیے (یا شاید اپنی وسیع پیمانہ پر موجودگی کو ثابت کرنے کے لیے ) وہاں آگ رو شن کر دی ۔اہلِ مکہّ کا ایک گروہ اس منظر کو دیکھ کر حیرت میں ڈوب گئے ۔

ابھی تک پیغمبر اکرم اور لشکرِاسلام کے اس طرف آنے کی خبریں قریش سے پنہا ں تھیں ۔اس رات اہلِ مکہّ کا سر غنہ ابو سفیان اور مشرکین کے بعض دوسرے سر غنے خبریں معلوم کرنے کے لیے مکہّ سے باہر نکلے۔اس موقع پر پیغمبر اکرم کے چچا عباس (رض) نے سو چا کہ اگررسول اللہ قہر آلودہ طریقہ پر مکہّ میں وارد ہوئے تو قریش میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا۔انہوں نے پیغمبر اکرم سے اجازت لی اور آپ کی سواری پر سوار ہو کر کہا کہ میں جاتا ہوں ، شاید کوئی مل جا ئے تو ا س سے کہو ں کہ اہل مکہّ کو اس ماجرے سے آگاہ کر دے تاکہ وہ آکر امان حاصل کرلیں ۔

عباس وہاں روانہ ہو کربہت قریب پہنچ گئے۔اتفا قاََاس موقع پرانہوں نے”ابو سفیان “ کی آواز سنی جو اپنے ایک دوست ”بدیل “ سے کہہ رہا تھا کہ ہم نے کبھی بھی اس سے زیادہ آگ نہیں دیکھی ۔”بدیل نے“ کہا : میرا خیال ہے کہ یہ آگ قبیلہ ”خزاعہ“ نے جلائی ہوئی ہے ابو سفیان نے کہا:قبیلہ خزاعہ اس سے کہیں زیادہ ذلیل و خوار ہیں کہ وہ اتنی آگ رو شن کریں ۔

اس موقع پر”عباس“نے ” ابو سفیان “ کو پکارا۔ابو سفیان نے بھی عباس کو پہچان لیا اور کہا سچ سچ بتاؤکیابات ہے؟عباس نے جواب دیا یہ رسول اللہ ہیں جو دس ہزار مجاہدین اسلام کے ساتھ تمہاری طرف آرہے ہیں ۔ابو سفیان سخت پریشان ہوا اور کہا:آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ۔

عباس نے کہا: میرے ساتھ آؤاور رسول اللہ سے امان لے لو ورنہ قتل کر دیے جا ؤ گے ۔اس طرح سے عباس نے” ابو سفیان “ کواپنے ہمراہ رسول اللہ کی سواری پر ہی سوار کر لیا اور تیزی کے ساتھ رسول اللہ کی خدمت میں پلٹ آئے ۔وہ جس گروہ اور جس آگ کے قریب سے گزرتے وہ یہی کہتے کہ یہ توپیغمبر کے چچا ہیں جو آنحضرت کی سواری پر سوار ہیں کوئی غیر آدمی نہیں ہے۔یہا ں تک وہ اس مقام پرآئے جہاں عمر ابنِ خطاب (رض) تھے ۔جب عمر بن خطاب (رض) کی نگاہ ابوسفیان پر پڑی تو کہا:خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے تجھ (ابو سفیان)پر مسلط کیا ہے ،اب تیرے لیے کوئی ا مان نہیں ہے اور فوراََہی پیغمبر کی خدمت میں آکر آپ سے (ابو سفیان) کی گردن اُڑانے کی اجازت مانگی۔

لیکن اتنے میں عباس (رض) بھی پہنچ گئے اور کہا : کہ اے رسول ِ خدا میں نے اسے پناہ دے دی ہے ۔پیغمبر اکرم نے فر مایا: میں بھی سر ِدست اسے امان دیتا ہوں ۔کل آپ اسے میرے پاس لے آئیں ۔اگلے دن جب عباس (رض) اسے پیغمبر کی خدمت میں لائے تو رسول اللہ نے اس سے فرمایا :”اے ابو سفیان !وائے ہو تجھ پر،کیا وہ و قت ابھی نہیں آیا کہ تو خدا ئے یگانہ پر ایمان لے آئے۔ اس نے عرض کیا :ہاں !اے رسول ِخدا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ،میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ،اگر بتوں سے کچھ ہو سکتا تو میں یہ دن نہ دیکھتا ۔

آپ نے فرمایا:”کیا وہ موقع نہیں آیا کہ تو جان لے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔“اس نے عرض کیا:میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ابھی اس بارے میں میرے دل میں کچھ شک و شبہ موجود ہے۔لیکن آخر کار ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں میں سے دو آدمی مسلمان ہو گئے۔

پیغمبر اکرم نے عباس (رض)کو فر مایا:

”ابو سفیان کو اس درہ ّمیں جو مکہّ کی گزر گاہ ہے ،لے جاؤتاکہ خدا کالشکر وہاں سے گزرے اور یہ دیکھ لے۔“عباس (رض) نے عرض کیا:”ابو سفیان ایک جاہ طلب آدمی ہے،اس کو کوئی امتیازی حیثیت دے دیجئے۔پیغمبر نے فرمایا:”جو شخص ابو سفیان کے گھرمیں داخل ہو جائے وہ امان میں ہے ،جو شخص مسجد الحرام میں پناہ لے لے وہ امان میں ہے ،جو شخص اپنے گھر کے اندررہے اور دروازہ بند کر لے وہ بھی امان میں ہے۔“

بہر حال جب ابو سفیان نے اس لشکرِعظیم کو دیکھاتو اسے یقین ہو گیا کہ مقابلہ کرنے کی کوئی راہ باقی نہیں رہی اور اس نے عباس کی طرف رخ کرکے کہا :آپ کے بھتیجے کی سلطنت بہت بڑی ہو گئی ہے۔عباس نے کہا :وائے ہو تجھ پریہ سلطنت نہیں نبوت ہے۔

اس کے بعد عباس نے اس سے کہاکہ اب تو تیزی کے ساتھ مکہّ والوں کے پاس جاکر انہیں لشکراسلام کامقابلہ کرنے سے ڈرا۔

ابو سفیان نے مسجد الحرام میں جا کر پکار کر کہا:

”اے جمعیت قریش محمّد اد ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ تمہاری طرف آیا ہے،تم میں اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔اس کہ بعد اس نے کہا:جو شخص میرے گھرمیں داخل ہو جائے وہ امان میں ہے ،جو شخص مسجد الحرام میں چلا جائے وہ بھی امان میں ہے اورجو شخص اپنے گھر میں رہتے ہوئے گھر کا دروازہ بند کرے وہ بھی امان میں ہے ۔

اس کے بعداس نے چیخ کر کہا :اے جمعیت قریش اسلام قبول کر لو تاکہ سالم رہواور بچ جاؤ،اس کی بیوی ”ہندہ“نے اس کی داڑھی پکڑلی اور چیخ کر کہا:اس بڈھے احمق کو قتل کر دو۔ابو سفیان نے کہا:میری داڑھی چھوڑدے۔خدا کی قسم اگر تو اسلام نہ لائی تو تُوبھی قتل ہو جائے گی،جاکر گھر میں بیٹھ جا۔اس کے بعد پیغمبر اسلام لشکر اسلام کے ساتھ روانہ ہوئے اور”ذوی طوی “ کے مقام تک پہنچ گئے،وہی بلندمقام جہاں سے مکہّ کے مکا نات صاف نظر آتے ہیں ،پیغمبر کو وہ دن یاد آگیا جب آپ مجبور ہوکر مخفی طور پرمکہ ّ سے باہر نکلے تھے،لیکن آج دیکھ رہے ہیں کہ اس عظمت کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں ،توآپ نے اپنی پیشانی مبارک اونٹ کے کجاوے کے اوپر رکھ دی اور سجدہ شکر بجا لائے۔

اس کے بعد پیغمبر اکرم ”حجون“میں ( مکہّ کے بلند مقامات میں سے وہ جگہ جہاں خدیجہ کی قبر ہے)اُترے ،غسل کر کے اسلحہ اور لباسِ جنگ پہن کر اپنی سواری پر سوار ہوئے،سورہ فتح کی قرات کرتے ہوئے مسجدالحرام میں داخل ہوئے اور آواز تکبیر بلند کی ۔لشکر اسلام نے بھی نعرئہ تکبیر بلند کیا تواس سے سارے دشت وکوہ گونج اٹھے

اس کے بعد آپ اپنے اُونٹ سے نیچے اترے اور بتوں کو توڑنے کے لیے خانہ کعبہ کے قریب آئے۔آپ یکے بعد دیگرے بتوں کو سر نگوں کرتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے:”جاء الحق وزھق ا لباطل ان الباطل کان زھوقا”حق آگیا اور باطل مٹ گیا،اور باطل ہے ہی مٹنے والا“۔

کچھ بڑے بڑے بت کعبہ کے اوپرنصب تھے ،جن تک پیغمبرکا ہاتھ نہیں پہنچتا تھا۔آپ نے امیرالمو منین علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ آپدوش مبارک پر پاؤں رکھ کر اوپر چڑھ جائیں اور بتو ں کوزمین پر گرا کر توڑ ڈالیں ۔علی نے آپ کے حکم کی اطاعت کی۔

اس کے بعد آپ نے خانہ کعبہ کی کلید لے کردروازہ کھولااور انبیاء کی ان تصویروں کو جو خانہ کعبہ کے اندر درو دیوار پر بنی ہوئی تھیں ،محور کر دیا۔

۳ ۔اس سریع اور شاندار کامیابی کے بعد پیغمبر نے خانہ کعبہ کے دروازے کے حلقہ میں ہاتھ ڈالا اور وہاں پر موجود اہلِ مکہّ کی طرف رخ کر کے فرمایا:

”اب بتلاؤ تم کیا کہتے ہو؟اور تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے بارے میں کیاحکم دوں گا؟انہو ں نے عرض کیا:ہم آپ سے نیکی اور بھلائی کے سوااور کوئی توقع نہیں رکھتے !آپ ہمارے بزرگوار بھائی اور آپ ہمارے بزر گوار بھائی کے فر زند ہیں ۔آج آپ برسرِاقتدارآگئے ہیں ،ہمیں بخش دیجئے۔پیغمبر کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبانے لگے اور مکہّ کے لوگ بھی بلند آواز کے ساتھ رونے لگے ۔پیغمبر اکرم نے فر مایا:”میں تمہارے بارے میں وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے کہی تھی کہ آج تمہارے اوپر کسی قسم کی کوئی سر ز نش اور ملامت نہیں ہے،خدا تمہیں بخش دے گا،وہ ارحم الراحمین ہے۔“

اور اس طرح سے آپ نے ان سب کو معاف کر دیا اور فر مایا:”تم سب آزاد ہو،جہاں چا ہو جا سکتے ہو۔ضمنی طور پرپیغمبر نے یہ حکم دیا تھاکہ آپ کے لشکری کسی سے نہ الجھیں اور بالکل کوئی خون نہ بہایا جائے۔ایک روایت کے مطابق صرف چھ افراد کو مستثنیٰ کیا گیا تھا جو بہت ہی بد زبان اور خطر ناک لوگ تھے ۔

یہا ں تک کہ جب آپنے یہ سنا کہ لشکرِاسلام کے علمدار”سعد بن عبادہ نے انتقام کا نعرہ بلند کیا ہے اور وہ یہ کہہ رہا ہے کہ:الیوم یوم الملحمة”آج انتقام کا دن ہے“تو پیغمبر نے علی علیہ السلام سے فرمایا۔۔۔۔۔جلدی سے جاکر اس علم کو لے لو اور اس سے علم لے کر یہ نعرہ لگاو کہ :الیوم یوم المرحمة “ آج عفو و بخشش اور رحمت کا دن ہے“۔

اور اسی طرح مکہ بغیر کسی خونریزی کے فتح ہو گیا ،، عفو و رحمت ِ اسلامی کی اس کشش نے، جس کی انہیں بالکل توقع نہیں تھیں ، دلوں پر ایسا اثر کیا کہ لوگ گروہ گروہ آکر مسلمان ہو گئے، اس عظیم فتح کی صدا تمام جزائر عربستان میں جاپہنچی۔

اسلام کی شہرت ہرجگہ پھیل گئی اور مسلمانوں اور اسلام کی ہرجیت سے دھاک بیٹھ گئی۔

بعض تاریخوں میں آیاہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لا اله الا الله وحده،وحده انجز وعده و نصر عبده، وهزم الاحزاب و هزم الاحزاب وحده، الا ان کل مال اومأثره او دم تدعی فهو تحت قدمی هاتین !

” خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ وہ یکتا و یگانہ ، اس نے آخر کار اپنے وعدے کو پورا کردیا ۔ اور اپنے بندے کی مدد کی ، اور اس نے خود اکیلے ہی تمام گروہوں کو شکست دے دی ۔ جان لو کہ ہرمال ، ہر امتیاز ، اور ہر وہ خون جس کا تعلق ماضی اور زمانہ جاہلیت سے ہے ، سب کے سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہیں ۔ ( یعنی اب اس خون کے بارے میں ، جوزمانہ جاہلیت میں بہا یا گیا تھا، یا وہ اموال جو لوٹے گئے تھے ، کوئی بات نہ کرنا) اور زمانہ جاہلیت کے تمام اعزازات اور امتیازات بھی باطل ہو گئے ہیں اور اس طرح تمام گزشتہ فائلیں بند ہو گئیں ہیں ۔

یہ ایک بہت اہم اور عجیب قسم کی پیش نہادتھی جس میں عمومی معافی کے فرمان سے حجاز کے لوگوں کو ان کے تاریک اور پر ماجرا ماضی سے کاٹ کر رکھ دیا اور انہیں اسلام کے سائے میں ایک نئی زندگی بخشی جو ماضی سے مربوط کشمکشوں اور جنجالوں سے مکمل طو رپرخالی تھی۔

اس کام نے اسلام کی پیش رفت کے سلسلہ میں حد سے زیادہ مدد کی اور یہ ہمارے آج اور آنے والے کل کے لئے ایک دستور العمل ہے ۔

خدا وندا ! تو اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ اس دیرینہ عظمت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سچے دوستوں کے زمرہ میں قرار دے۔

بار الٰہا !ہمیں ایسی توفیق مرحمت فرماکہ ہم دنیا میں عدل ِ اسلامی حکومت کو اس طرح پھیلائیں کہ ساری دنیا کے لوگ فوج در فوج اسے دل و جان سے قبول کرلیں ۔

____________________

۱- مجمع البیان“ جلد ۱۰ ص۵۵۳

آمین یارب العالمین


سورہ اللھب ( تبّت)

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ۔ اس میں ۵ آیات ہیں ۔

سورہ لہب ( تبّت) کے مطالب اور اس کی فضیلت

یہ سورہ جو مکہ میں اور تقریباً پیغمبر اسلام کی آشکار ا دعوت کے آغاز میں نازل ہواتھا، وہ واحد سورہ ہے جس میں پیغمبر اسلام اور اسلام کے دشمنوں میں سے اس زمانہ کے ایک دشمن ( یعنی ابو لہب) پر نام لے کرسخت حملہ کیا گیاہے اور اس کا مضمون اس بات کی نشان دہی کر تاہے کہ اسے پیغمبر اسلام کے ساتھ خصوصی عدا وت تھی اوروہ اوراس کی بیوی کام بگاڑنے اور بد زبانی کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے تھے ۔

قرآن صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ وہ دو نوں جہنمی ہیں اور ان کے لیے نجات کی کوئی راہ نہیں ہے ۔یہ معنی صیحح ثابت ہوا ہے اور وہ دونوں کے دونوں انجام کار دنیا سے بے ایمان ہو گئے ۔یہ قرآن کی ایک کھلی ہوئی پیش گوئی ہے ۔

اور اس کی فضیلت

ایک حدیث میں پیغمبر اکرم سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا:”من قرئاھارجوت ان لایجمع اللہ بینہ وبین ابی لھب فی دار واحدة”جو شخص اس کی تلاوت کرے گا مجھے امید ہے کہ خدا اسے اور ابو لہب کوایک گھر میں اکٹھا نہیں کرے گا(یعنی وہ اہل بہشت سے ہوگا،جب کہ ابو لہب اہل دوزخ سے ہے ۔(۱)

یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ یہ فضیلت اس شخص کے لیے ہے جو اس سورہ کو پڑھ کراپنا راستہ ابو لہب کے راستے سے جدا کرے ،نہ کہ وہ لوگ جو زبان سے تو پڑھیں لیکن ابو لہب جیسا عمل کریں ۔

شانِ نزول

”ابن عباس “سے نقل ہو اہے کہ جس وقت آیہ”( و انذرعشیرتک الاقربین ) “نازل ہوئی اور پیغمبر اپنے قریبی رشتہ داروں کوانذار کرنے اور اسلام کی دعوت دینے (اور اپنی دعوت کا اعلان کرنے)پر مامور ہوئے،تو پیغمبر کوہِ صفا پر آئے اور پکار کر کہا ”یا صبا حاہ “(یہ جملہ عرب اس وقت کہتے تھے جب ان پردشمن کی طرف سے غفلت کی حالت میں حملہ ہو جاتا تھا تاکہ سب کو با خبرکر دیں اور وہ مقابلہ کے لیے کھڑے ہو جائیں ،لہٰذاکوئی شخص”یا صبا حاہ“کہہ کر آواز دیتا تھا !”صباح“کے لفظ کا انتخاب اس وجہ سے کیاجاتا تھا کہ عام طور پرغفلت کی حالت میں حملے صبح کے وقت کیے جاتے تھے)۔مکہّ کے لوگوں نے جب یہ صدا سنی تو انہوں نے کہا کہ یہ کون ہے جو فر یاد کر رہا ہے ۔کہا گیا کہ یہ ”محمّد ہیں ۔کچھ لوگ آپ کے پاس پہنچے تو آپ نے قبائل عرب کو ان کے نام کے ساتھ پکارا۔آپ کی آواز پر سب کے سب جمع ہو گئے تو آپ نے ان سے فر مایا:”مجھے بتلاؤ!اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ دشمن کے سوار اس پہاڑ کے پیچھے سے حملہ کرنے والے ہیں ،تو کیاتم میری بات کی تصدیق کرو گے۔“انہو ں نے جواب دیا :”ہم نے آپ سے کبھی جھوٹ نہیں سنا۔“

آپ نے فرمایا:

( انی نذیر لکم بین یدی عذاب شدید )

”میں تمہیں خدا کے شدید عذاب سے ڈراتا ہوں “

( میں تمہیں توحید کا اقرار کرنے اور بتوں کو ترک کرنے کی دعوت دیتا ہوں “)جب ابو لہب نے یہ بات سنی تو اس نے کہا:”تبا لک!امئا جمعتناالا لهذا؟ !:”تو ہلاک ہو جائے!کیا تو نے ہمیں صرف اس بات کے لیے جمع کیا ہے “؟

اس موقع پر یہ سورہ نازل ہوا :تبّت یدا ابی لهب وتب “اے ابو لہب تو ہی ہلاک ہو اور تیرے ہاتھ ٹو ٹیں ،تو ہی زیاں کاراور ہلاک ہونے والا ہے۔بعض نے اس موقع پر اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ ابو لہب کی بیوی ”اُم جمیل “نے یہ خبر سنی کہ یہ سورہ اس کے اور اس کے شوہر کے بارے میں نازل ہوا ہے تو وہ آپ کے پاس آئی ،لیکن وہ آپ کو نہ دیکھ سکی ۔اس کے ہاتھ میں ایک پتھر تھااور وہ کہہ رہی تھی کہ میں نے سنا ہے”محمّد نے میری ہجو کی ہے۔خدا کی قسم اگر وہ مجھے مل گیاتومیں یہ پتھر اس کے منہ پر دے مارو ں گی،میں خود بھی شاعر ہوں “!اس کے بعد اصطلاح کے مطابق اس نے پیغمبر اسلام کی مذمّت میں شعر کہے ہیں ۔(۲)

اسلام کے لیے ابولہب اور اس کی بیوی کا خطرہ اور ان کی عداوت اسی تک منحصر نہیں تھی۔اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن نے ان پرسخت شدید حملہ کیا ہے اور صراحت کے ساتھ ان کی مذمّت کر رہا ہے تو اس کی بہت سی وجو ہات ہیں ،جن کی طرف انشاء اللہ بعد میں اشارہ ہوگا۔

____________________

۱- مجمع البیان “جلد ۱۰ص۵۵۸۔

۲- تفسیر قرطبی“جلد ۱۰ص۷۳۲۴(تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ )اسی مضمو ن کو تھوڑے سے فرق کے ساتھ”طبرسی“نے ”مجمع البیان “میں ،”ابن اثیر“نے ”الکامل جلد ۲ص۶۰“میں اور ”درالمنثور“و ”ابو الفتو ح رازی “ اور ”فخر رازی“ اور ”فی ظلال القرآن میں اس سورہ کی تفسیر میں نقل کیا ہے۔


آیات ۱،۲،۳،۴،۵

( بسم الله ارحمن ارحیم )

۱ ۔( تبّت یدا ٓ ابی لهبِ وَّتبّ ) ۲ ۔( ما اغنی عنه ما له وما کسب )

۳ ۔( سیصلیٰ نارا ذات لهب ) ۴ ۔( وامراته حما لة الحطب ) ۵ ۔( فی جید هاحبل من مسد )

ترجمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے

۱ ۔ابو لہب کے دونوں ہاتھ کٹ جائیں (اور وہ ہلاک ہو جائے)۔

۲ ۔اس کے مال و دولت نے اور جو کچھ اس نے کمایا ہے اسے ہر گز کو ئی فائدہ نہ دیا۔

۳ ۔وہ جلدی اس آگ میں داخل ہوجائے گا جس کے شعلے بھڑک رہے ہیں ۔

۴ ۔ اور اسی طرح سے اس کی وہ بیوی جو ایندھن اٹھانے والی ہے ۔ ۵ ۔ اور اس کی گردن میں خرما کی چھال کی رسی ہے ۔

ابو لہب کا ہاتھ کٹ جائے

جیسا کہ ہم نے اس سورہ کے شان نزول میں بیان کیا ہے یہ سورہ حقیقت میں پیغمبر اکرم کے چچا،عبد المطلب کے بیٹے”ابو لہب کی بری باتوں کاجوا ب ہے جو اسلام کے سخت دشمنو ں میں سے تھا اور جس نے پیغمبر اکرم کی آشکار اور عمومی دعوت اور عذاب ِالٰہی کے بارے میں آپ کے انداز کو سن کر یہ کہا تھا کہ:”تو ہلاک ہو جائے ،کیا تو نے ہمیں انہی باتوں کے لیے پکارا تھا“؟

قرآن مجید اس بد زبان شخص کے جواب میں فرماتا ہے :

”ابو لہب کے دونوں ہاتھ کٹ جائیں ،یا وہ ہلاک ہو جائے اور خسارہ اُٹھائے “۔

( تب یدا ابی لهب وتب ) ”تب“و ”تباب “(بر وزن ِخراب )”مفر دات “میں ”راغب “کے قول کے مطابق دائمی خسارے کے معنی میں ہے لیکن ”طبرسی“نے”مجمع البیان “میں یہ کہا ہے کہ یہ اس نقصان کے معنی ہے جو ہلاکت پر منتہی ہو۔

بعض ارباب لغت نے اس کی ”قطع کرنے “کے معنی میں بھی تفسیر کی ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہلاکت پر منتہی ہو نے والا دائمی نقصان طبعاََ قطع ہونے اور کٹ جانے کا سبب بنتا ہے۔ان معانی کے مجموعہ سے وہی بات معلوم ہوتی ہے جو ہم نے آیہ کے معنی میں بیان کی ہے ۔

البتہ یہ ہلاکت اور نقصان ممکن ہے دنیوی پہلو رکھتا ہو یا معنوی و اُخروی یا دونوں ۔

یہاں یہ سوال سامنے آتاہے کہ قرآن مجید نے اپنی روش اور سیرت کے بر خلاف ایک شخص کا نام کیسے لے لیااوراس شدّت کے ساتھ اس پر حملہ کیو ں کیا ہے ؟لیکن ابو لہب کی حثییت معلوم ہو نے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے۔اس کا نام ”عبد العزیٰ“(عزی بت کا بندہ )اور اس کی کنیت”ابو لہب “تھی ۔اس کے لیے اس کنیت کا انتخاب شاید اس وجہ سے تھاکہ اس کاچہرہ سرخ اور بھڑکتا ہو اتھا ،چو نکہ لغت میں لہب آگ کے شعلہ کے معنی میں ہے۔

وہ اور اس کی بیوی ”اُمِ جمیل “جو ابو سفیان کی بہن تھی ،پیغمبر اکرم کے نہایت بد زبان اور سخت ترین دشمنو ں میں سے تھے۔ایک روایت میں آیا ہے کہ ”طارق محاربی“نامی ایک شخص کہتا ہے :میں ”ذی المجاز“ کے بازار میں تھا۔(ذی المجاز عر فات کے نزدیک مکہّ سے تھوڑے سے فاصلہ پر ہے)اچانک میں نے ایک جوان کو دیکھاجو پکار پکار کر کہہ رہا تھا:اے لوگوں !لا الٰہ الاّاللہ کا اقرار کر لوتو نجات پا جاؤ گے ۔اور اس کے پیچھے پیچھے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اس کے پاؤں کے پچھلے حصہ پر پتھر مار تا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کے پاؤں سے خون جاری تھا اور وہ چلا چلا کر کہہ رہاتھا”اے لوگوں !یہ جھوٹاہے،اس کی بات نہ ماننا“!

میں نے پوچھا کہ یہ جوان کون ہے ؟تو لوگوں نے بتایا:”یہ محمّد“ ہے جس کا گمان یہ ہے کہ وہ پیغمبر ہے اور یہ بوڑھا اس کا چچا ابو لہب ہے جو اس کو جھوٹا سمجھتاہے۔.-(۱)

ایک اور د وسری روایت میں آیا ہے کہ ”ربیع بن عباد“کہتا ہے :میں اپنے باپ کے ساتھ تھا،میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ وہ قبائل عرب کے پاس جاتے اورہر ایک کو پکار کر کہتے:میں تمہاری طرف خدا کا بھیجا ہو ارسول ہوں :تم خدائے یگانہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرواور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔جب وہ اپنی بات سے فارغ ہو جاتا تو ایک خو برو بھینگا آدمی جو ان کے پیچھے پیچھے تھا،پکار کر کہتا:”اے فلاں قبیلہ :یہ شخص یہ چاہتا ہے کہ تم لات وعزی بت اور اپنے ہم پیمان جنوں کو چھوڑدو اور اس کی بد عت وضلالت کی پیروی کر نے لگ جاؤ۔اس کی بات نہ سننا، اور ا س کی پیروی نہ کرنا!میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟تو انہوں نے بتایا کہ یہ ”اس کا چچا ابو لہب ہے“۔(۲)

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جب مکہّ سے باہر کے لوگوں کا کوئی گروہ اس شہرمیں داخل ہوتا تھا تو وہ پیغمبر سے اس کی رشتہ داری اور سن و سال کے لحاظ سے بڑا ہو نے کی بنا پر ابو لہب کے پاس جاتا تھااور رسول اللہ کے بارے میں تحقیق کرتا تھا ۔وہ جواب دیتا :محمّد ایک جادو گر ہے۔وہ بھی پیغمبر سے ملاقات کیے بغیر ہی لوٹ جاتے۔اسی اثناء میں ایک ایسا گروہ آیا جنہوں نے یہ کہا کہ ہم تو اسے دیکھے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ابو لہب نے کہا:”ہم مسلسل اس کے جنون کا علاج کر رہے ہیں !وہ ہلاک ہو جائے !(۳)

ان روایات سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اکثر مواقع پرسایہ کی طرح پیغمبر کے پیچھے لگا رہتا تھا اور کسی خرابی سے فرد گزاشت نہ کرتا تھا۔خصوصاََاس کی زبان بہت ہی گندی اور آلودہ ہوتی تھی اور و ہ رکیک اور چبھنے والی باتیں کیا کرتاتھا۔اور شاید اسی وجہ سے پیغمبر اسلام کے سب دشمنوں کا سر غنہ شما رہوتا تھا ۔اسی بناء پرزیربحث آیات اس پر اس کی بیوی ام جمیل پر ایسی صراحت ا ور سختی کے ساتھ تنقید کر رہی ہیں ۔

وہی ایک اکیلاایسا شخص تھا جس نے پیغمبر اکرم سے بنی ہاشم کی حمایت کے عہد و پیمان پر دسخظ نہیں کیے تھے اور ا س نے آپ کے دشمنوں کی صف میں رہتے ہوئے دشمنوں کے عہد وپیمان میں شرکت کی تھی ۔ان حقا ئق کی طرف توجہ کرنے سے اس سورہ کی استثنائی کیفیت کی دلیل واضح ہو جاتی ہے۔

اس کے بعد مزید فرماتا ہے:اس کے مال و ثروت نے اور جوکچھ اس نے کمایا ہے اس نے ،اسے ہرگزکوئی فائدہ نہیں دیااور وہ اسے عذاب الٰہی سے نہیں بچا ئے گا۔“( ما اغنیٰ عنه ما له وما کسب ) (۴)

اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک دولت مند مغرور شخص تھا جو اپنی اسلام دشمن کو ششوں کے لیے اپنے مال ِو دولت پربھروسہ کرتاتھا۔

بعد والی آیت میں مزید کہتاہے:”وہ جلدی ہی اس آگ میں داخل ہوگاجس کے شعلے بھڑکنے والے ہیں ۔“( سیصلیٰ نارََا ذات لهب ) اگر اس کا نام ”ابو لہب “تھا تو اس کے عذاب کی آگ بھی”ابو لہب “ہے اور وہ بہت ہی عظیم شعلے رکھتی ہے۔(اس بات پر توجہ رہے کہ ”لہب “یہاں نکرہ کی صورت میں آیا ہے اور یہ اس شعلہ کی عظمت کی دلیل ہے)۔نہ صرف ابو لہب کو بلکہ کسی بھی کافر اور بد کارکو اس کا مال و ثروت اور اس کی اجتماعی ومعا شرتی حثییت جہنم کی آگ اور خدا کے عذاب سے رہائی نہیں بخشیں گے،جیسا کہ سورہ شعراء کی آیہ ۸۸ و ۸۹ میں آیا ہے:( یوم لا ینفع مال ولا بنون الّامن اتی الله بقلب سلیم ) :قیامت ایک ایسا دن ہے جس میں انسان کو نہ تو ا س کامال ہی کوئی فائد ہ دے گا اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ،سوائے اس شخص کے جو قلب سلیم (یعنی ایمان و تقویٰ کی روح کے ساتھ )پر وردگار کے دربار میں حاضر ہو۔مسلمہ طور پر آیہ ”( سیصلیٰ ناراََ ذات لهب ) “سے مراد جہنم کی آگ ہے ،لیکن بعض نے احتمال دیا ہے کہ اس میں دنیا کی آگ بھی شامل ہے ۔

روایات میں آیا ہے کہ جنگ ”بدر “اور سخت شکست کے بعد ،جو مشرکین قریش کو اُٹھانی پڑی تھی ،ابو لہب نے جو خود میدان جنگ میں شریک نہیں ہو اتھا۔ابو سفیان کے واپس آنے پر اس سے ماجرے کے بارے میں سوال کیا:

ابوسفیان نے قریش کے لشکر کی شکست اور سر کوبی کی کیفیت اس سے بیان کی ۔اس کے بعد اس نے مزید کہا:خدا کی قسم ہم نے اس جنگ میں آسمان و زمین کے درمیان ایسے سوار دیکھے ہیں جو محمّد کی مدد کے لیے آئے تھے ۔اس موقع پر”عباس “ کے ایک غلام ”ابو رافع“نے کہا :میں وہاں بیٹھا ہوا تھا ،میں نے ا پنے ہاتھ بلند کیے اور کہا کہ وہ آسمانی فرشتے تھے۔اس سے ابو لہب بھڑک اُٹھا اور اس نے ایک زور دار تھپڑ میرے منہ پر دے مارا۔مجھے اُٹھا کرزمین پر پٹخ دیااور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے مجھے پیٹے چلے جا رہا تھا۔وہاں عباس کی بیوی”ام الفضل“ بھی موجودتھی اس نے ایک چھڑی اُٹھائی اورابو لہب کے سر پر دے ماری اور کہا:”کیا تو نے اس کمزور آدمی کو اکیلا سمجھا ہے ؟“

ابو لہب کا سر پھٹ گیا اور اس سے خون بہنے لگا۔سات دن کے بعد اس کے بدن میں بدبو پیدا ہو گئی،اس کی شکل میں طاعون کے دانے نکل آئے اور وہ اسی بیماری سے واصل جہنم ہو گیا۔اس کے بدن سے اتنی بدبو آرہی تھی کہ لوگ اس کے نزدیک جانے کی جرات نہیں کرتے تھے ۔وہ اسے مکہّ سے باہر لے گئے اور دور سے اس پر پانی ڈالااور اس کے بعد اس کے اُوپرپتھر پھینکے۔یہاں تک کہ اس کا بدن پتھروں اور مٹی کے نیچے چھپ گیا ۔(۵)

بعد والی آیت میں اس کی بیوی ”اُمِ جمیل “کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :”اس کی بیوی بھی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگی،جو اپنے دوش پر ایندھن اُٹھاتی ہے ۔“( وامراته حما لة الحطب ) (۶)

”اور اس کی گردن میں خرما کی چھال کی رسیّ یاگردن بند ہے۔“( فی جید ها حبل من مسد )

کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ابو لہب کی بیوی ۔جو ”ابو سفیان “ کی بہن اور معاویہ کی پھو پھی تھی ۔اسلام کے بر خلاف اپنے شوہر کی عداوتوں اور خرابیوں میں برابر کی شریک تھی لیکن اس بارے میں کہ قرآن نے اس کی حما لة الحطب (دوش پر ایندھن اُٹھانے والی عورت ) کے ساتھ تو صیف کیوں کی ہے،مفسرین نے متعددتفسیر یں بیان کی ہیں :بعض نے تو یہ کہا ہے کہ یہ اس بناء پر ہے کہ وہ کاٹیں دار جھاڑیاں کندھے پراُٹھا کرلاتی تھی اور پیغمبر کے راستہ میں ڈال دیا کرتی تھی تا کہ وہ آپ کے پاؤ ں میں چبھ جائیں ۔اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ تعبیر اس کی سخن چینی اور چغل خوری کے بارے میں آئی ہے ،جیسا کہ کسی نے کہاہے :میان دوکس جنگ چوں آتش است سخن چین بد بخت ہیزم کش است

دو آدمیوں کے در میان جنگ آگ کے مانندہے اور بد بخت چغل خور ایندھن اُٹھانے والا ہے ۔

بعض اسے اس کے شدت سے بُخل سے کنا یہ سمجھتے ہیں ،کیو نکہ وہ اتنی دولت مند ہو نے کے با وجود کسی ضرورت مند کی مددکے لیے تیار ہی نہیں ہوتی تھی ۔اسی لیے اسے ”ہیز م کش“ایندھن اُٹھانے والے فقیر سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ قیامت میں بہت سے گروہوں کے گناہوں کو اپنے کندھے پر اُٹھائے ہوئے ہوگی ۔ان معانی میں سے پہلا معنی سب سے زیادہ مناسب ہے ،اگر چہ ان کے در میان جمع بھی بعید نہیں ہے ۔

”جید “(بر وزن دید )”گر دن “کے معنی میں ہے اور اس کی جمع ”ا جیاد“ ہے بعض ارباب لغت کا نظریہ یہ ہے کہ ”جید “و ”عنق “ اور ”رقبہ “تینوں کے ایک ہی معنی ہے ، فرق صرف یہ ہے کہ ”جید “سینہ سے اُوپر والے حصہ کو کہا جاتا ہے ،”عنق “گر دن کی پشت یا ساری گردن کو اور ”رقبہ “مطلقاََگردن کو کہا جاتا ہے ۔اور بعض اوقات ایک انسان کو بھی ”رقبہ“کہتے ہیں ،مثلاََ:”فک رقبه “یعنی انسان کو آزاد کرنا ۔(۷)

”مسد “(بر وزن حسد ) اس رسی کے معنی میں ہے جو کھجور کے پتوں سے بنائی جاتی ہے ۔بعض نے یہ کہا ہے کہ ”مسد “وہ رسی ہے جو جہنم میں اس کی گردن میں ڈالیں گے جس میں کھجور کے پتوں جیسی سختی ہو گی اور اس میں آگ کی حرارت اور لو ہے کی سنگینی ہو گی۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ چو نکہ بڑے لوگوں کی عورتیں اپنی شخصیت کو آلات و زیو رات خصو صاََگردن کے قیمتی زیورات سے زینت دینے میں خاص بات سمجھتی ہیں ،لہٰذا خدا قیا مت میں اس مغرور و خود پسند عورت کی تحقیر کے لیے لیف خرما کاایک گردن بند اس کی گردن میں ڈال دے گا۔یا یہ اصلاََاس کی تحقیر سے کنایہ ہے۔

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس تعبیر کے بیان کرنے کاسبب یہ ہے کہ ”اُمِ جمیل “کے پاس جوا ہرات کا ایک بہت ہی قیمتی گردن بند تھا اور اس نے یہ قسم کھائی تھی کہ وہ اسے پیغمبر اکرم کی دشمنی میں خرچ کرے گی،لہٰذا اس کے اس کام کے بدلے میں خدا نے بھی اس کے لیے ایسا عذاب مقرر کر دیا ہے -

____________________

۱- مجمع البیان “جلد ۱۰ ص۵۵۹

۲-فی ظلا ل القرآن“جلد ۸ص۶۹۷

۳-تفسیر القرآن “جلد ۳۰ص۵۰۳

۴- ماکسب “میں ”ما“ ممکن ہے”مو صولہ“یا ”مصدریہ“ہو،بعض ا س کے لیے ایک وسیع معنی کے قائل ہیں جو نہ صرف اس کے اموال بلکہ اس کی اولاد کو بھی شامل ہے ،اور ”ما اغنیٰ عنہ “میں ”ما“مسلمہ طور پر”مانا فیہ “ہے ۔

۵--بحار الانوار “جلد ۱۹ ص۲۲۷

۶- ”امراتہ“ ”سیصلیٰ“میں پوشیدہ ضمیر پر عطف ہے اور حما لة الحطب “ حال ہے اور منصوب ہے،اور بعض نے مثل ”زمخشری “ کے ”کشاف“میں اسے ”ذم “ کے عنوان سے منصوب جاناہے ۔اور تقدیر میں اس طرح ہے اذاحما لة الحطب ۔لیکن مسلمہ طور پرپہلا معنی بہتر ہے ۔

۷- التحقیق فی کلمات القرآن الکر یم “جلد ۲ ،ص۱۵۸


۱ ۔ قرآن کے اعجاز کی ایک اور نشانی

ہم جانتے ہیں کہ یہ آیات مکہّ میں نازل ہوئیں اورقرآ ن کریم نے دو ٹوک طریقہ سے یہ خبر دی تھی کہ ابو لہب اور اس کی بیوی جہنم کی آگ میں ہوں گے ،یعنی وہ ہر گز بھی ایمان نہیں لائیں گے۔انجام کار ایسا ہی ہوا ،بہت سے مشرکین مکہّ توواقعی طور پر ایمان لے آئے اور بعض ظاہری طور پر مسلمان ہو گئے ،لیکن وہ افراد جو نہ تو واقع میں ایمان لائے اور نہ ہی ظاہر بظاہر ،وہ یہ دونوں تھے ۔یہ قرآن مجید کے غیبی اخبار میں سے ایک ہے اور قرآن نے دوسری آیات میں بھی اس قسم کی خبریں دی ہیں جن میں قرآن کی غیبی خبروں کے عنوان کے تحت اعجاز ِ قرآن کی ایک فصل کو مخصوص کیا گیا ہے اور ہم نے ان آیات میں سے ہر ایک کے ذیل میں مناسب بحث کی ہے

۲ ۔ ایک اور سوال کا جواب

یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی ان پیشین گوئیو ں کی مو جودگی میں ممکن نہیں تھا کہ ابو لہب اور اس کی بیوی ایمان لے آتے ،ورنہ یہ خبر جھو ٹی اور دردغ ہو جاتی ۔

یہ سوال اسی معروف سوال کے مانندہے جو ”علم ِ خدا “کے مسئلہ کے بارے میں جبر کی بحث میں پیش ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ خدا جو ازل سے ہر چیز کا عالم تھا ،وہ گنہگاروں کے گناہ اور اطاعت گزاروں کی اطاعت کو جانتا تھا ۔اس بناء پر اگر گنہگار گناہ نہ کرتے تو خداکا علم جہالت میں بدل جائے ۔

علماء اور فلا سفئہ اسلام قدیم سے اس سوال کا جواب دے چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا جانتا ہے کہ ہر شخص اپنے اختیار و آزادی سے فائدہ اُٹھا تے ہوئے کون کون سے کام انجام دے گا ،مثلاََزیرِبحث آیات میں خدا ابتداء سے جانتا تھا کہ ابو لہب اور اس کی بیوی اپنی خواہش و رغبت اور ارادہ و اختیار سے ہرگز ایمان نہیں لائیں گے ،جبری اور لازمی طور نہیں ۔

دوسرے الفاظ میں ارادہ و اختیار کی آزادی کا عنصر بھی خدا کو معلوم تھا۔وہ جانتا تھا کہ بندے صفت اختیا ر کے ساتھ اور اپنے ارادہ سے کون سے عمل انجام دیں گے۔

مسلمہ طور پر ایسا علم اور مستقبل کے بارے میں اس قسم کی خبر دینا ،مسئلہ اختیار کی تاکید ہے ،جبراور مجبوری کے لیے کو ئی دلیل نہیں ہے ۔(غور کیجئے)

۳ ۔بے بصیرت رشتہ دار ہمیشہ دور ہوتے ہیں ۔

یہ سورہ ایک مرتبہ پھراس حقیقت کی تاکید کر رہا ہے کہ ایسی رشتہ داری جس میں ایمان اور عقیدہ کا رشتہ نہ ہو اس کی کوئی حیثیت اور قدر و قیمت نہیں ہوتی ،اور مردان ِ خدا منحرف ،جبار اور سر کش لوگوں کے مقابلہ میں کسی قسم کامیلان نہیں رکھتے تھے چاہے وہ ان کے کتنے ہی قریبی رشتہ دار ہوں ۔

با وجود اس کے کہ ابو لہب پیغمبر اکرم کا چچا تھا اور آپ کے قریب ترین رشتہ داروں میں شمار ہو تاہے ،جب اس نے اپنا اعتقادی اور عملی راستہ آپ سے جدا کر لیا تو اس کی بھی دوسرے منحرف اور گمراہ لوگوں کی طرح سخت ملامت اور سر زنش کی گئی ۔اس کے بر عکس ایسے دور دراز کے لو گ بھی تھے جو نہ صرف پیغمبر کے رشتہ داروں میں شمار نہ ہو تے تھے ،بلکہ آپ کے خاندان اور اہل زبان سے بھی نہیں تھے ،لیکن وہ فکری ،اعتقادی اور عملی رشتہ کی بنا ء پر اس قدر نزدیک ہو گئے ، کہ مشہور حدیث میں سلمان منا اھل البیت (سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں )کے مطابق گویا خاندانِ رسالت کاجزء ہو گئے ۔

یہ ٹھیک ہے کہ اس سورہ کی آیات صرف ابو لہب اور اس کی بیوی کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ صرف ان کے صفات کی وجہ سے ان کی ایسی مذمت کی گئی ہے ۔اس بناء پر جو شخص یا جو گروہ اُنہیں اوصاف کا حامل ہوگا اس کی سر نو شت بھی ا ُ نہیں جیسی ہوگی ۔

خدا وندا!ہمارے دل کو ہر قسم کی ہٹ دھرمی اور عناد سے پاک کر دے ۔

پر ور دگار!ہم سب اپنے انجام اور عاقبت کار سے ڈرتے ہیں ،ہمیں امن و سکون اور آرام بخش دےو اجعل عاقبةامر نا خیراََ ،(ہماری عاقبت بخیر کر)

بارِالہا !ہم جانتے ہیں کہ اس عظیم عدالت میں نہ تو مال و دولت کام آتے ہیں اور نہ ہی کوئی رشتہ داری فائدہ دیتی ہے ،صرف تیرا لطف و کرم ہی کام آتا ہے ،لہٰذا ہم پر اپنا لطف و کرم کر ۔

آمین یا ربّ العالمین


سورہ اخلاص

یہ سورہ مکہّ میں نازل ہوا ۔ اس میں ۴ آیات ہیں

سورہ اخلاص “ کے مطالب

یہ سورہ ۔ جیسا کہ اس کے نام سے واضح ہے (سورئہ اخلاص اور سورہ توحید )پروردگارکی توحید اور اس کی یگا نگت اور یکتائی کے بارے میں گفتگو کرتا ہے اور چار مختصر سی آیات میں خدا کی وحدانیت کی اس طرح سے تو صیف و تعریف کی ہے جس میں اضافہ کی ضرورت نہیں ہے ۔

اس سورہ کی شان نزول کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوا ہے :

”یہو دیو ں نے رسول اللہ سے یہ تقا ضا کیا کہ آپ ان کے لیے خدا کی تو صیف بیان کریں ۔پیغمبر تین دن تک خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا،یہا ں تک کہ یہ سورہ ناز ل ہوا اور ان کو جواب دیا۔“

بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ سوال کرنے والا ”عبد اللہ بن صوریا“تھا ،جو یہودیوں کے مشہور سر داروں میں سے ایک تھا۔اور دوسری روایت میں یہ آیا ہے کہ اس قسم کاسوال ”عبد اللہ بن سلام “نے پیغمبر اکرم سے مکہّ میں کیا تھا اور اس کے بعد وہ ایمان لے آیا تھا ۔لیکن اپنے ایمان کو اسی طرح سے چھپا ئے ہوئے تھا ۔دوسری روایات میں یہ آیا ہے کہ اس قسم کا سوال مشرکین مکہّ نے کیا تھا۔(۱)

بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ سوال کر نے والا نجران کے عیسائیوں کا ایک گروہ تھا ۔

ان روایات کے در میان کوئی تضاد نہیں ہے،کیو نکہ ممکن ہے کہ یہ سوال ان سب کی طرف سے ہو اہو ۔اور یہی بات اس سورہ کی حد سے زیادہ عظمت و بزرگی کی ایک دلیل ہے جو مختلف افراد و اقوام کے سوالات کا جو اب دیتا ہے

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت کے بارے میں مشہور اسلامی منابع میں بہت سی روایات آئی ہیں ،جو اس سورہ کی حد سے زیادہ عظمت کی تر جمان ہیں ۔منجملہ ۔

ایک حدیث میں پیغمبر اکرم سے آیا ہے کہ آپ نے فر مایا:

ایعجزاحد کم ان یقراثلث القرآن فی لیلة

”کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ایک ہی رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ لے ۔“

حا ضرین میں سے ایک نے عرض کیا ،اے رسول ِخدا ،ایسا کرنے کی کس میں طاقت ہے ؟

پیغمبر نے فر مایا :”اقرء واقل هو الله احد “”سورہ قل ھو اللہ پڑھا کرو “

ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ جب رسول خدا نے ”سعد بن معاذ“کے جنازے پر نماز پڑھی تو آپ نے فر مایا :”ستر ہزار فرشتوں نے، جن میں جبرئیل بھی تھے ،اس کے جنازے پر نماز پڑھی ہے ۔میں نے جبرئیل سے پو چھا ہے کہ وہ کس عمل کی بناء پر تمہارے نماز پڑھنے کا مستحق ہو ا ہے “؟

جبرئیل نے کہا :’(اٹھتے بیٹھتے ،پیدل چلتے اور سوار ہوتے اور چلتے پھرتے ”قل هو الله احد “ پڑھنے کی وجہ سے “(۲)

ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم سے آیا ہے کہ آپ نے فر مایا :”جس شخص پر ایک رات اور دن گزر جائے ،اور وہ پنجگانہ نمازیں پپڑھے اور ان میں قل ھو اللہ احد کی قرات نہ کرے تو اس سے کہا جائے گا:یا عبد اللہ!لست من المصلین “!:

”اے بندہ خدا تو نماز گزارو ں میں سے نہیں ہے ۔(۳)

ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم سے آیا ہے کہ آپ نے فر مایا :”جو شخص خدا اور روزِ قیا مت پر ایمان رکھتا ہے وہ ہر نماز کے بعد قل ھو اللہ احد کے پڑھنے کو ترک نہ کرے کیو نکہ جو شخص اسے پڑھے گاخدا اس کے لیے خیر دنیا و آخرت جمع کر دے گا ۔اور خود اسے اور اس کے ماں باپ اور اس کی اولاد کو بخش دے گا“(۴)

ایک اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں داخل ہوتے وقت اس سورہ کا پڑھنا ،رزق کو بڑھاتا ہے اور فقر و فا قہ کو دور کردیتا ہے ۔(۵)

اس سورہ کی فضیلت میں اتنی زیادہ روایات ہیں کہ وہ اس مختصر بیان میں نہیں سما سکتیں اور ہم نے جو کچھ نقل کیا ہے وہ صرف ان کا ایک حصہ ہے ۔اس بارے میں کہ سورہ ”قل ھو اللہ “قرآن کی تہائی کے برا بر کیسے ہو گیا؟تو بعض نے تو یہ کہا ہے کہ یہ اس بناء پر ہے کہ قرآن ”احکام “و ”عقا ئد “اور ”تا ریخ “پر مشتمل ہے اور یہ سورہ عقا ئد کے حصہ کو اختصار کے ساتھ بیان کرتا ہے ۔

بعض دوسرے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ قرآن کے تین حصے ہیں ”مبداء“و ”معاد “اور ”جوکچھ ان دونوں کے درمیان ہے“اور یہ سورہ پہلے حصہ کی تشریح کرتا ہے ۔

یہ بات قابل قبو ل ہے کہ قرآن کی تقریباََایک تہائی توحید کے بارے میں بحث کرتی ہے ،اور اس کا خلا صہ سورہ تو حید میں آیا ہے

ہم اس گفتگو کو اس سورہ کی عظمت کے بارے میں ایک دوسری حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں ۔امام علی بن الحسین علیہ السلام سے لوگوں نے سورئہ توحید کے بارے میں سوال کیا تو آپنے فر مایا :

ان الله عز و جل علم انه یکون فی اٰخر الزمان اقوام متعمقون،فا نزل الله تعالیٰ قل هو الله احد ،والاٰیات من سورةالحدیدالی قو له :”وهو علیم بذات الصدور“فمن رام وراء ذالک فقد هلک

”خدا وند تعالی ٰجانتا تھا کہ آخری زمانہ میں ایسی قو میں آئیں گی جو مسا ئل میں تعمق اور غور و خو ض کرنے والی ہو ں گی ،لہٰذااس نے (مبا حث توحید اور خدا شناسی کے سلسلہ میں )سورہ قل ھو اللہ احد اور سورئہ حدید کی آیات ،علیم بذا ت الصدور تک نا زل فر مائیں ۔جو شخص اس سے زیادہ کا طلب گار ہوگاوہ ہلاک ہو جا ئے گا ۔(۶)

جملہ کا ”ھو “کی ضمیر کے ساتھ آغاز ،جو واحد غائب کی ضمیر ہے اور ایک مبہم مفہوم کو بیان کرتی ہے ،حقیقت میں اس واقعیت کی ایک رمز اور اشارہ ہے کہ اس کی ذات اقدس انتہائی خفا ء میں ہے اور انسانوں کے محدود افکار کی دسترس سے باہر ہے اگر چہ اس کے آ ثار نے جہان کو اس طرح سے پر کر رکھا ہے کہ وہ ہر چیز سے زیادہ ظاہر اور زیادہ آشکار ہے ۔جیسا کہ سورہ حٰم سجدہ کی آیہ ۵۳ میں آیا ہے :

سنر یهم اٰیاتنا فی الاٰفاق و فی انفسهم حتی یتبین لهم انه الحق :“”ہم جلدی ہی اطراف جہان اور ان کے نفسوں میں اپنی نشانیاں دکھا ئیں گے،تا کہ واضح ہوجائے کہ وہ حق ہے “اس کے بعد اس نا شنا ختہ حقیقت سے پر دہ اٹھائے ہو ئے کہتا ہے،”وہ یکتا و یگانہ خدا ہے “ضمنی طور پر یہاں ”قل “(کہہ دے )کا معنی یہ ہے کہ اس حقیقت کا اظہار کرو ۔

ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپنے اس بات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ کفار و بت پر ست اسم اشارہ کے ساتھ اپنے بتوں کی طرف اشارہ کرتے تھے اور کہتے تھے :

”اے محمد !یہ ہمارے خدا ہیں ،تو بھی اپنے خدا کی تعریف و تو صیف کرتا کہ ہم اسے دیکھیں اور اس کا ادراک کریں ۔تو خدا نے یہ آیات نازل کیں :قل هو الله احد ۔۔۔۔”ھا “”ھو “میں ، مطلب کو ثابت کرنے اور توجہ دینے کے لیے ہے اور ”واو “ضمیر غائب ہے ،جو اس ذات کی طرف اشارہ ہے جو آنکھو ں کے دیکھنے سے غائب اور حواس کے لمس سے دور ہے ،“(۷)

ایک اور حدیث میں امیر المو منین علی علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے فر مایا:

”جنگ ِ بدر کی رات میں نے ”خضر“علیہ السلام کوخواب میں دیکھا اور ان سے کہا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جس کی مدد سے میں دشمنو ں پر کامیاب ہوں “تو انہوں نے کہا :کہیئے:”یا هو ، یامن لاهو الّا هو

____________________

۱۔ المیزان جلد ۱۰ ص۵۴۶

۲۔”مجمع البیان “جلد ۱۰ ص۵۶۱

۳۔ ”مجمع البیان “جلد ۱۰ ص۵۶۱اور تفسیرو حدیث کی دوسری کتا بیں ۔

۴۔”مجمع البیان “جلد ۱۰ ص۵۶۱ اور تفسیرو حدیث کی دوسری کتا بیں

۵۔”مجمع البیان “جلد ۱۰ ص ۵۶۱ اور تفسیر و حدیث کی دوسری کتابیں

۶۔”اصول کافی “جلد ۱ باب السیئہ حدیث ۳

۷۔بعض نے ھو کو یہاں ”ضمیر شان “لیا ہے ، اس بناء پر معنی یہ ہوگا کہ شان و مطلب یہ ہے کہ خدا ایک اکیلا ہے ۔لیکن بہتریہ ہے کہ ”ھو “اس خدا کی پا ک ذات کی طرف اشارہ ہو جو سوال کرنے والوں کے لیے غیر معلوم اورمبہم تھی ۔اس بناء پر”ھو “مبتداء ہے اور ”اللہ “اس کی خبر اور ”احد “خبر کے بعد کی خبر ہے ۔


آیات ۱،۲،۳،

( بسم الله الرّحمن ارحیم )

۱ ۔( قل هو الله احد ) ۲ ۔( الله الصمد ) ۳ ۔( لم یلد ولم یو لد ولم یکن له کفو ااحد )

تر جمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے

۱ ۔کہہ دیجئے خدا یکتا و یگانہ ہے ۔ ۲ ۔خدا ہی ہے کہ جس کی طرف تمام حاجت مند رُخ کرتے ہیں ۔

۳ ۔نہ تو اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہو اہے۔ ۴ ۔ اور ہر گز اس کا کوئی ہم پلہ اور مانند نہیں ہے ۔

وہ یکتا اور بے مثال ہے

اس سورہ کی پہلی آیت بار بار کے ان سوالات کے جواب میں ہے جو مختلف اقوام یا افراد کی طرف سے پر وردگارکے او صاف کے سلسلہ میں ہو ئے تھے ،فر ماتا ہے :”کہہ دیجئے وہ یکتا و یگانہ ہے “( قل هو الله احد ) (۱)

جب صبح ہوئی تو میں نے رسول اللہ کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیاتو آپ نے فر مایا‘”یا علی !علمت الاسم الا عظم “اے علی آپ کو اسمِ اعظم کی تعلیم دی گئی ہے “

اس کے بعد جنگ بدر میں یہی جملہ میرا ورد زبان رہا ۔۔(۲)

”عمّاریا سر“ نے جب یہ سنا کہ حضرت امیر المو منین علیہ السلام صفین کے دن جنگ کے وقت یہی ذکر پڑھ رہے تھے تو عرض کیا :یہ کیا کنا یات ہیں ؟تو آپ نے فر مایا :یہ خدا کا اسم اعظم اور تو حید کا ستون ہے ۔(۳)

____________________

۱۔ ”بحار الانوار“جلد ۳ ص۲۲۲

۲”بحار الانوار جلد۳، ص۲۲۲

۳۔”بحار الانوار “جلد ۳،ص۲۲۲


اللہ “خدا کااسم خاص ہے

اللہ “خدا کااسم خاص ہے اور امام کی بات کا مفہوم یہ ہے کہ اسی ایک لفظ کے ذریعے اس کے تمام صفا ت جلال و جمال کی طرف اشارہ ہو ا ہے اور اسی بناء پر اس کو اسم اعظم الٰہی کا نام دیا گیاہے۔اس نام کا خدا کے سوا اور کسی پر اطلاق نہیں ہوتا جب کہ خدا کے دوسرے نام پر اس کی کسی صفت جمال و جلال کی طرف اشارہ ہوتے ہیں ،مثلاََ:عالم و خالق و رازق ،اور عام طور پراس کے غیر پر بھی اطلاق ہوتے ہیں ۔(مثلاََرحیم ،کریم ،عالم ،قادروغیرہ)اس حال میں اس کی اصل اور ریشہ و صفی معنی رکھتا ہے اور اصل میں یہ ”ولہ “سے مشتق ہے ،جو ”تحیر “کے معنی میں ہے کیو نکہ اس کی ذات پاک میں عقلیں حیران ہیں ،جیسا کہ ایک حدیث میں امیر المو منین علی سے آیاہے :

الله معناه المعبود الذی یا له فیه الخلق ویئوله الیه ،والله هوالمستور عن درک الابصار،المحجوب عن الاوهام والخطرات

اللہ کا معنی ایک ایسا معبود ہے جس میں مخلوق حیران ہے اور اس سے عشق رکھتی ہے ۔اللہ وہی ذات ہے جو آنکھوں کے ادراک سے مستور اور مخلوق کے افکار و عقول سے محجوب ہے ۔(۱)

بعض او قات اسے ”الاھة“(بر وزن وبمعنی عبادت )کی اصل اور ریشہ سے بھی سمجھا گیا ہے اور اصل میں ”الالٰہ “ہے جو ”تنہا معبود حقیقی“کے معنی میں ہے ۔

لیکن جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ۔اس کا ریشہ اور اصل چاہے جو بھی ہو ،بعد میں اس نے اسم خاص کی صورت اختیار کر لی ہے او ر یہ اسی جامع جمیع صفات کمالیہ اور ہر قسم کے عیب و نقص سے خالی ذات کی طرف اشارہ کرتا ہے

اس مقدس نام کا قرآن مجید میں تقریباََایک ہزار “مرتبہ تکرار ہوا ہے اور خدا کے اسماء مقد سہ میں سے کوئی سا نام بھی اتنی مرتبہ قرآن میں ہیں آیا۔یہ ایک ایسا نام ہے جو دل کو روشن کر تاہے اور انسان کو قوت اور توا نائی اور سکون و آرام بخشتا ہے اور اسے نور و صفا کے ایک عالم میں غرق کر دیتا ہے ۔

____________________

۱۔”بحار الانوار “جلد ۳، ص۲۲۲


لفظ ”احد

لیکن ”احد “کا لفظ”وحدت “کے مادّہ سے ہی ہے اور اسی لیے بعض نے ”احد “اور ”واحد “کی ایک ہی معنی کے ساتھ تفسیر کی ہے ۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ دونوں ہی اس ذات کی طرف اشارہ ہیں جو ہر لحاظ سے بے مثل و بے نظیر ہے۔علم میں یگانہ ہے ،قدرت میں بے مثل ہے ،رحما نیت اور رحیمیت میں یکتا ہے اور خلا صہ یہ ہے کہ وہ ہر لحاظ سے بے نظیر ہے ۔

لیکن بعض کا نظریہ یہ ہے کہ”احد “اور ”واحد“ میں فرق ہے ۔”احد “اس ذات کو کہا جاتا ہے جو کثرت کو قبول نہیں کرتا ،نہ تو خارج میں اور نہ ہی ذہن میں ۔لہٰذا وہ شمار کرنے کے قابل نہیں ہے اور ہر گز عدو میں داخل نہیں ہوتا ،”واحد “کے بر خلاف کہ اس کے لیے دوسرے اور تیسرے کا تصور ہوتا ہے ،چا ہے وہ خارج میں ہو یا ذہن میں ۔اسی لیے بعض اوقات ہم یہ کہتے ہیں کہ :احدی ازاں جمعیت نیا مد ،یعنی ان میں سے کوئی شخص بھی نہیں آیا لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں کہ :واحدی نیامد (ایک نہیں آیا )تو ممکن ہے کہ دو یا چند افراد آئے ہوں ۔(۱)

لیکن یہ فرق قرآن مجید اور احادیث کے مو ارد استعمال کے ساتھ چنداں سا ز گا ر نہیں ہے ۔

بعض کا یہ بھی نظریہ ہے کہ ”احد “(جنس و فصل اور ما ہیت و وجود )کے اجزائے تر کیبیہ خارجیہ یا عقلیہ کے مقابلہ میں خدا کی بساطتِ ذات کی طرف اشارہ ہے کہ جب کہ واحد خارجی کثرتوں کے مقابلہ میں اس کی ذات کی یگانگت کی طرف اشارہ ہے ۔ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے آیا ہے کہ ”احد “فرد یگا نہ کو کہتے ہیں ،اور ”احد “اور ” واحد “کا ایک ہی مفہوم ہے ،اور وہ ایک ایسی منفرد ذات ہے جس کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے ۔ او ر” توحید “اس کی یگا نگت ،وحدت اور انفرا دیت کا اقرار ہے ۔

اسی حدیث کے ذیل میں آیا ہے ۔

”واحد عدد نہیں ہے ، بلکہ واحد اعداد کی بنیاد ہے ۔عدد دو سے شروع ہو تا ہے ،اس بناء پر اللہ احد “یعنی وہ معبود جس کی ذات کے ادراک سے انسان عاجز ہیں ،اور جس کی کیفیت کا احاطہ کر نے سے نا تو اں ہیں “کا معنی یہ ہے کہ وہ الٰہیت میں فرد ہے اور مخلو قات کی صفا ت سے بر تر ہے ۔(۲)

قرآن مجید میں ”واحد “ و ” احد “دونوں کا خدا کی ذات پا ک پر اطلاق ہو اہے ۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ تو حید صدوق میں آیا ہے کہ جنگ جمل میں ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا اے امیر المو منین!کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ خدا واحد ہے ؟تو واحد کا کیا معنٰی ہے ؟

اچا نک لوگو ں نے ہر طرف سے اس پر حملہ کر دیا اور کہنے لگے :”اے اعرابی یہ کیا سوال ہے ؟کیا تو دیکھ نہیں رہا ہے کہ امیر المو منین علیہ السلام مسئلہ جنگ کی فکر میں کتنے مشغول ہیں ؟ہر سخن جائے و ہر نکتہ مقامی دارد !ہر بات کا ایک مو قع اور ہر نکتہ کا ایک مقام ہو تا ہے ۔

امیر المو منین علیہ السلام نے فر مایا :” اسے اس کی حالت پر چھوڑدو کیو نکہ جو کچھ وہ چا ہتا ہے وہی چیز ہم اس دشمن گروہ سے چا ہتے ہیں ۔(وہ تو حید کے بارے میں پو چھ رہا ہے ،ہم بھی مخالفین کو کلمئہ تو حید ہی کی دعوت دے ر ہے ہیں )۔“

اس کے بعد آپ نے فر مایا:

”اے اعرابی یہ جو ہم کہتے ہیں کہ خدا ”واحد“ہے تو اس کے چار معا نی ہو سکتے ہیں جن میں سے دو معا نی خدا کے لیے صحیح نہیں ہیں اور ا س کے دو معا نی صحیح ہیں ۔

”اب وہ دوجو صحیح نہیں ہیں ،ان میں سے ایک وحدت عددی ہے ۔یہ خدا کے لیے جا ئز نہیں ہے (یعنی ہم یہ کہیں کہ وہ ایک ہے دو نہیں ہیں )کیو نکہ اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے لیے دوسرے کا تصور ہو سکتا ہے لیکن وہ مو جود نہیں ہے۔حا لانکہ مسلہ طور پر حق تعالیٰ کی غیر متناہی ذات کے لیے دوسرے کا تصور نہیں ہو ہی سکتا ۔کیو نکہ جس چیز کا کوئی ثانی ہی نہیں ہے وہ باب اعداد میں داخل نہیں ہو تی ۔کیا تو دیکھتا نہیں کہ خدا نے ان لوگو ں کی،جنہوں نے یہ کہا تھاکہ :”ان اللہ ثالث ثلا ثة۔“(خدا تین میں کا تیسرا ہے ،تکفیر کی ہے ۔

”واحد کا دوسرا معنی جو خدا کے لیے صحیح نہیں ہے یہ ہے کہ وہ واحد نو عی کے معنی میں ہو ،مثلاََ:ہم یہ کہیں کہ فلاں آدمی لو گو ں میں سے ایک ہے ،یہ بھی خدا کے لیے صحیح نہیں ہے ۔(کیو نکہ خدا کی کوئی جنس اور نوع نہیں ہے )اس بات کا مفہوم تشبیہ ہے ،اور ہر قسم کی تشبیہ اور نظیر سے برترو بالا تر ہے۔”اب رہے وہ دو مفہوم جو خدا کے بارے میں صحیح اور صادق ہیں ، ان میں سے پہلا یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ خدا واحد ہے یعنی اشیاء عالم میں کوئی اس کی شبیہ نہیں ہے ،ہاں !ہمارا پر ور دگار ایسا ہی ہے ۔

”دوسرے یہ کہ یہ کہا جائے کہ ہمارا پروردگار احدی المعنی ہے ،یعنی اس کی ذات نا قابل ِ تقسیم ہے ،نہ تو خارج میں ،نہ توعقل میں اور نہ ہی وہم میں ،ہاں !خدائے بزرگ ایسا ہی ہے ۔(۳)

”خلاصہ یہ ہے کہ خدا واحد و احد ہے اور یگانہ ویکتا ہے ۔واحد عددی یا نوعی و جنسی کے معنی میں نہیں بلکہ وحدت ِذاتی کے معنی میں ،زیادہ واضح عبا رت میں اس کی وحدانیت کا معنی یہ ہے اس کا کوئی مثل و نظیر اور مانند و شبیہ نہیں ہے “اس بات کی دلیل بھی واضح وروشن ہے :وہ ایک ایسی ذات ہے جو ہر جہت سے غیر متناہی ہے اور مسلّمہ طور پر ہر جہت سے دو غیر متنا ہی ذاتیں ناقابل تصور ہیں ،کیو نکہ اگر دو ذاتیں ہوں گی تو وہ دونوں محدود ہو جا ئیں گی ،اس میں اس کے کما لات نہ ہوں گے اور نہ اس میں اس کے کما لات (غور کیجئے )۔

بعد والی آیت میں اس یکتا ذات مقدس کے بارے میں فر ماتا ہے :”وہ ایسا خدا ہے کہ تمام حاجت مند اسی کی طرف رخ کرتے ہیں ۔“( الله الصمد ) ۔

”صمد“کے لیے روایات اور مفسرین و ارباب لغت کے کلمات میں بہت زیادہ معنی بیان ہو ئے ہیں ۔

”راغب “”مفر دات “میں کہتا ہے :صمد اس آقا اور بزرگ کے معنی میں ہے جس کی طرف کاموں کی انجام دہی کے لیے جاتے ہیں ۔اور بعض نے یہ کہاہے کہ”صمد “اس چیز کے معنی میں ہے جو اندر سے خالی نہ ہو بلکہ پُر ہو ۔

”مقا ییس اللغت“میں آیا ہے کی دو اصلی جڑ بنیادیں ہیں :ایک قصد کے معنی میں ہے اور دوسرا صلابت واستحکام کے معنی میں ،اور یہ جو خدا کو ”صمد “کہا جاتا ہے تو یہ اس بناء پر ہے کہ بندے اس کی بار گاہ کا قصد و ارادہ کرتے ہیں ۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ ذیل کے متعدد معانی بھی لغت کی کتا بوں میں ”صمد “کے لیے ذکر ہوئے ہیں :ایسی بزرگ ہستی جو انتہا ئی عظمت ہو،اور ایسی ذات جس کی طرف لوگ اپنی حاجات لے کر جاتے ہیں ،ایسی ذات جس سے برتر کوئی چیز نہیں ہے ،ایسی ہستی جو مخلوق کے فناو نابود ہونے کے بعد بھی دائم اور باقی رہنے والی ہے ۔اسی لیے امام حسین بن علی علیہماالسلام نے ایک حدیث میں ”صمد“کے لیے پانچ معانی بیان کیے ہیں ۔

”صمد“اس ہستی کو کہتے ہیں جوانتہائی سیادت و آقائی میں ہو ۔

”صمد “وہ ذات ہے جو دائم اور ازلی و ابدی ہو۔

’صمد “وہ موجود ہے جو ف (اندر سے خلا ) نہ رکھتا ہو ۔

”صمد“وہ ہستی جو نہ کھاتی ہو نہ پیتی ہو ۔

”صمد“وہ ہستی جو کبھی نہ سوتی ہو ۔(۴)

اور دوسری عبارتوں میں آیا ہے کہ :”صمد اس ہستی کو کہتے ہیں جو قائم بہ نفس ہو اور غیر سے بے نیاز ہو ۔“

”صمد“اس ہستی کو کہتے ہیں جس میں تغیرات اور کون و فساد نہیں ہے ۔امام علی بن الحسین علیہ السلام سے نقل ہو اہے کہ آپ نے فرمایا :

”صمد“اس ہستی کو کہتے ہیں جس کا کوئی شریک نہ ہو کسی چیز کی حفا ظت کرنا اس کے لیے مشکل نہ ہواور کوئی چیز اس سے مخفی نہیں رہتی ۔(۵)

بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ ”صمد“اس ذات کو کہتے ہیں کہ وہ جب بھی کسی چیز کا ارادہ کرے تو اسے کہتا ہے ہو جا ،تو وہ فوراََہو جاتی ہے ۔

ایک حدیث میں آیا ہے کہ ”اہل ِبصرہ “نے امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا اور ”صمد “کے معنی در یافت کیے ۔امام علیہ السلام نے ا ن کے جواب میں فر مایا :

”بسم اللہ الرحمان الرحیم ،اما بعد قرآن میں آگاہی کے بغیر بحث و گفتگو نہ کرو ،کیو نکہ میں نے اپنے نانا رسول اللہ سے سنا ہے ،آپ فرما رہے تھے :جو شخص علم کے بغیر بات کرے گااسے آگ میں اس مقام پر رہنا پڑے گا جو اس کے لیے معین ہے ۔خدا نے خود ”صمد “کی تفسیر بیان فر مائی ہے ”( لم یلد ولم یولد ولم یکن له کفواََاحد )

نہ اسے کسی نے جنا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہو ا،اور نہ ہی کوئی اس کی ماننداور مثل و نظیر ہے ۔ہاں !خدا وندِ”صمد “وہ ہے جو کسی چیز سے وجود میں نہیں آیا ،اور نہ ہی وہ کسی چیز کے اندر موجود ہے نہ کسی چیز کے اوپر قرار پایا ہے ،وہ تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اور ان کا خالق ہے ،تمام چیزوں کو وہی اپنی قدرت سے وجود میں لایا ہے ۔جن چیزوں کو اس نے فنا کے لیے پیدا کیا ہے وہ اس کے ارادہ سے متلا شی ہو جائے گی ،اور جسے بقاء کے لیے پیدا کیا ہے وہ اس کے علم سے باقی رہے گی ۔یہ ہے خدا وند صمد ۔۔“(۶)

اور بالآخر ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ ”محمد بن حنفیہ“نے امیر المومنین علی علیہ السلام سے ”صمد “کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فر مایا :

”صمد “کی تا ویل یہ ہے کہ وہ نہ اسم ہے اور نہ جسم ہے ،نہ اس کا کوئی مثل ہے نہ کوئی نظیر ہے ،نہ صورت ہے ، نہ تمثال ہے ،نہ حد ہے ،نہ حدود ہے ،نہ محل ہے ،نہ مکان ہے،نہ حال ہے ،نہ یہ ہے ،نہ یہاں ہے ،نہ وہاں ہے ،نہ پر ہے ،نہ خالی ہے ،نہ کھڑا ہے ،نہ بیٹھا ہے ،نہ ساکن ہے ،نہ محترک ہے ،نہ ظلما تی ہے ،نہ نو رانی ہے ،نہ نفسانی ہے ،اس کے باوجود کوئی جگہ اس سے خالی نہیں ہے اور کسی مکان میں اس کی گنجائش نہیں ہے ۔نہ وہ رنگ رکھتا ہے ،نہ انسان کے دل میں سماتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی بو ہے ۔یہ سب چیزیں اس کی ذات پاک سے منتقی ہے ۔(۷)

یہ حدیث اچھی طرح سے نشان دہی کرتی ہے کہ ”صمد “کا ایک بہت ہی جامع اور وسیع مفہوم ہے ۔جو اس کی ساخت قدس سے مخلوقات کی ہر قسم کی صفات کی نفی کر تاہے ،کیو نکہ مشخص اور محدود اسماء اور اسی طرح جسم و رنگ و بو و مکان وسکون و حرکت و کیفیت و حد و حدود اور اسی قسم کی دوسری چیزیں ،یہ سب ممکنات و مخلوقات کی صفات ہیں ،بلکہ زیادہ تر عالم مادّہ کے او صاف ہیں ،اور ہم جانتے ہیں کہ خدا ان سب سے برتر اور بالاتر ہے ۔آخری انکشافات سے معلوم ہوا ہے کہ جہان مادّہ کی تمام چیزیں بہت ہی چھوٹے چھو ٹے ذرّات سے مل کر بنی ہے جنہیں ”ایٹم “کہا جاتا ہے ۔اور ”ایٹم “خود بھی دو عمدہ حصوں کا مر کّب ہے ۔مر کز ی ذرہ اور وہ الکڑون جو اس کے گرد گر دش کر رہے ہیں ۔اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اس ذرہ اور الکڑونوں کے در میان بہت زیادہ فا صلہ ہے ۔(البتہ یہ زیادہ ایٹم کے حجم کے اندازہ سے ہے )اس طرح سے کہ ا گر یہ فاصلہ اُٹھا دیا جائے تو اجسام اس قدر چھوٹے ہو جائیں گے کہ وہ ہمارے لیے حیرت میں ڈالنے والے ہو ں گے ۔

مثلاََاگر ایک انسان کے وجود کے ایٹمی ذرات کے فاصلے ختم کردیں اور اسے مکمل طور پر دبا دیں تو ممکن ہے کہ وہ ایک ذرہ کی صورت اختیار کر لے ،جس کا آنکھ کے ساتھ دیکھنا مشکل ہو جائے ۔لیکن اس کے باوجود وہ ایک انسان کے بدن کے سارے وزن کے برا بر ہوگا ،(مثلاََ:یہی معمولی ذرّہ ۶۰ کلووزنی ہو گا)

بعض نے اس علمی انکشاف سے استفادہ کرتے ہوئے اور اس بات کی طرف توجہ دیتے ہوئے کہ ”صمد “کا ایک معنی ایسا وجود ہے جو اندر سے خالی نہیں ہے ،یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قرآن اس تعبیر سے یہ چاہتا ہے کہ خدا سے ہر قسم کی جسما نیت کی نفی کر دے ،کیو نکہ تمام اجسام ایٹم سے بنے ہوئے ہیں اور ایٹم اندر سے خالی ہوتے ہیں ۔اور اس طرح یہ آیت قرآن کے علمی معجزات میں سے ایک ہو سکتی ہے ۔

لیکن اس بات کو نہیں بھو لنا چا ہیئے کہ اہل لغت میں ”صمد “ایک ایسی عظیم ہستی کے معنی میں ہے جس کی طرف تمام حاجت مند رخ کرتے ہیں اور وہ ہر لحاظ سے کامل ہو ،اور ظاہراََباقی تمام معانی اور تفا سیر جو اس کے لیے بیان کی گئی ہیں اسی اصل کی طرف لو ٹتی ہیں ۔

اس کے بعد اگلی آیت میں نصاریٰ،یہود اور مشرکین عرب کے عقائد کی رد پیش کر تے ہوئے ۔جو خدا کے لیے بیٹے یا باپ کے لیے قائل تھے ۔فر ماتا ہے :”اس نے نہ تو کسی کو جنا ہے اور نہ ہی وہ خود کسی سے پیدا ہو اہے ۔“( لم یلد ولم یو لد ) ۔اس بیان کے مقا بلہ میں ان لوگوں کا نظریہ ہے جو تثلیث (تین خداؤں )کا عقید ہ رکھتے تھے ،باپ خدا ،بیٹا خدا ،اور روح القدس ۔

نصاریٰ”مسیح“کو خدا کا بیٹا کہتے تھے اور یہود ”عزیر“کو اس کا بیٹا سمجھتے تھے،و قالت الیهود عزیر ابن الله و قالت النصاریٰ المسیح ابن الله ذالک قو لهم با فواههم یضاهئون قول الذین کفرو امن قبل قا تلهم الله انیّ یو فکون :

”یہود نے تو یہ کہا کہ عزیر خدا کابیٹا ہے اور عیسا ئیوں نے کہا کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے ۔یہ ایک ایسی بات ہے جو وہ اپنی زبان سے کہتے ہیں اور ان کی یہ بات گز شتہ کافروں کے قول کے مانند ہے ان پر خدا کی لعنت ہو ،وہ حق سے کیسے منحرف ہو جاتے ہیں ،(توبہ ۔ ۳۰)

مشرکین عرب کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ ملا ئکہ خدا کی بیٹیاں ہیں ،و خر قوا له بنین و بنات بغیر علم : ”انہوں نے جھو ٹ اور جہا لت کی بناء پر خدا کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لی تھیں ۔“(انعام ۔ ۱۰۰)

بعض روا یات سے معلوم ہوتاہے کہ آیہ ”لم یلد و لم یولد “میں تو لدایک و سیع معنی رکھتا ہے اور اس سے ہر قسم کی مادّی ولیطف چیزوں کے خروج اس ذات ِ مقّدس کے دوسری مادّی و لطیف چیزوں سے خروج کی نفی کرتا ہے ۔جیسا کہ اسی خط میں ۔جو امام حسین نے ”اہل ِ بصرہ “کے جواب میں صمد کی تفسیر میں لکھا تھا۔”( لم یلد ولم یو لد ) “کے جملہ کی اس طرح تفسیر کی گئی تھی:(لم یلد )یعنی کوئی چیز اس سے خارج نہیں ہوئی ،نہ تو بیٹے جیسی کوئی مادّی چیز اور نہ ہی وہ تمام چیزیں جو مخلوق سے خارج ہوئی ہیں (جیسے ماں کی چھا تیوں سے دودھ )اور نہ ہی نفس جیسی کوئی لطیف چیز ،اور نہ ہی قسم قسم کے حالات ،جیسے خواب وخیال حزن و اندوہ ،خو شحال ہونا ،ہنسنااور رونا،خوف و رجاء ،شوق و ملالت ،بھوک اور سیری وغیرہ ۔خدا اس سے بر تر و بالاتر ہے کہ کوئی چیز اس سے خارج ہو ۔

اور وہ اس بات سے بھی بر تر و بالاتر ہے کہ وہ کسی مادّی چیز سے متو لّد ہو ۔۔۔۔جیسا کہ کسی زندہ موجود کا کسی دوسرے زندہ موجود سے خارج ہونا اور گھاس کا زمین سے ،پانی کا چشمہ سے ،پھل کا درختوں سے اور اشیائے لطیف کا اپنے منا بع سے ،جیسے نگاہ کا آنکھ سے ،سماعت کا کان سے ،سو نگھنے کا ناک سے ،چکھنے کا منھ سے ،گفتگو کا زبان سے معر فت و شناخت کا دل سے اور آگ کی چنگاری کا پتھر سے نکلنا ۔(۸)

اس حدیث کے مطا بق تولد ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو ہر قسم کے خروج اور ایک چیز کے کسی دوسری چیز کا نتیجہ ہونے کو شامل ہے ،اور یہ حقیقت میں آیت کا دوسرا معنی ہے اور اس کا پہلا اور ظاہری معنی وہی تھا جو ابتداء میں بیان کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ دوسرا معنی پہلے معنی کی تحلیل کرنے سے پورے طور پر قابل ادراک ہے کیو نکہ اگر خدا کے بیٹا نہیں ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مادّی عوارض سے پاک و منزّہ ہے ۔یہی معنی تمام مادّی عوارض میں بھی صادق آتا ہے ۔(غور کیجئے )

اور آخر میں اس سورہ کی آخری آیت میں خدا کے اوصاف کے بارے میں مطلب کو مرحلہ کمال تک پہنچاتے ہوئے فرماتا ہے : اور ہر گز اس کاکوئی شبیہ اور ہمسر نہیں ہے ۔( ولم یکن له کفواً احد ) ۔(۹)

”کفواً“ اصل میں مقام و منزلت اور قدر میں پلہ کے معنی میں ہے اور اس کے بعد اس کا ہر قسم کے شبیہ اور مانند پر اطلاق ہوا ہے ۔

اس آیت کے مطابق مخلوقات کے تمام عوارض او رموجودات کی صفات اور ہر قسم کا نقص و محدودیت اس کی ذاتِ پاک سے منتفی ہے ۔ یہ وہی توحید ِ ذاتی و صفاتی ہے جو اس توحید عددی و نوعی کے مقابلہ میں ہے جس کی طرف اس سورہ کے آغاز میں اشارہ ہوا ہے ۔

اس بناء پر نہ تو ذات میں اس کا کوئی شبیہ ہے اور نہ صفات میں کوئی اس کے مانند ہے ، او رنہ ہی افعال میں کوئی اس کا مثل و نظیر ہے ، وہ ہر لحاظ سے بے مثل و نظیر ہے ۔

امیر المومنین علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے خطبہ میں فرماتے ہیں :”لم یلد “ فیکون مولودا ً “ ” ولم یولد“ فصیر محدود اً ولا ”کفٴ“ له فیاکفئه“ ولا نظیر له فیساویه

”اس نے کسی کونہیں جنا کہ وہ خود بھی مولود ہو۔ اور وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا ورنہ وہ محدود ہو جاتا اس کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے کہ وہ اس کا ہم پلہ ہو جائے ، اور اس کے لئے کسی شبیہ کا تصور نہیں ہو سکتا کہ وہ اس کے مساوی ہو جائے۔(۱۰)

اور یہ ایک ایسی عمدہ تفسیر ہے جو توحید کے عالیترین دقائق کو بیان کرتی ہے ۔ (سلام الله علیک یا امیر المومنین

____________________

۱۔ ”المیزان “جلد ۲۰، ص۵۴۳

۲۔”بحارالانوار “جلد ۳،ص۲۲۲

۳۔”بحار الانوار “جلد ۳،ص۳۰۶،حدیث۱

۴۔”بحار الانوار “جلد ۳،ص۲۲۳

۵۔”بحارالانوار “جلد ۳،ص ۲۲۳

۶۔”مجمع البیان“جلد ۱۰ ،ص۵۶۵

۷۔”بحار الانوار “جلد ۳، ص۲۳۰ ،حدیث۲۱

۸ ۔”بحار الانوار “جلد ۳ ص ۲۲۴

۹۔”احد“ ” کان“ کا اسم ہے اور ” کفواً “ اس کی خبر ہے ۔

۱۰۔ ” نہج البلاغہ“ خطبہ ۱۸۶۔


۱ ۔ توحید کے دلائل

توحید ، یعنی ذاتی خدا کا یکتا و یگانہ ہونا اور اس کا کوئی شریک و شبیہ نہ ہونا، دلائل نقلی اور قرآن مجید کی آیات کے علاوہ بہت سے عقلی دلائل سے بھی ثابت ہے جن میں سے ایک حصہ کو ہم مختصر طور پر یہاں نقل کرتے ہیں ۔

۱ ۔ برہان صرف الوجود۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا وجود مطلق ہے اور اس کے لیے کوئی قید و شرط اورحد نہیں ہے ۔اس قسم کا وجود یقینی طور پر غیر محدود ہو گا ،کیو نکہ اس میں محدودیت ہوگی تو وہ ضروری طور پر عدم سے آلودہ ہوگا ،لیکن وہ ذات ِمقّدس جس کی ہستی و وجود خود بخود موجود ہے وہ ہر گز عدم و نیستی کامقتضی نہیں ہوگا ،اور وہ خارج میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو عدم کو اس پر ڈال دے ۔اس بناء پر وہ کسی حد کے ساتھ محدود نہیں ہوگا۔

دوسری طرف سے عالم میں دو غیر محدود ہستیاں تصور میں ہی نہیں آسکتیں ،کیو نکہ اگر دو موجود پیدا ہو جائیں تو یقینا ان میں سے ہر ایک دوسرے کے کمالات کا فاقد ہوگا ۔یعنی اس میں دوسرے کے کمالات نہیں ہوں گے ۔اس بناء پر وہ دونوں ہی محدود ہو جائیں گے ،اور یہ خود ذات واجب والو جود کی یگانیت اور یکتائی پر ایک واضح دلیل ہے ۔(غور کیجئے )

۲ ۔ برھان علمی ۔جب ہم اس وسیع و عر یض جہان پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ابتداء میں ہم عالم کو پرا گندہ موجودات کی صورت میں دیکھتے ہیں ،زمین و آسمان ،سورج ،چاند ،ستارے ،انواع و اقسام کی نباتات و حیوانات ،لیکن ہم جتنا زیادہ غور کرتے ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ اس عالم کے اجزاء و ذرّات اس طرح سے ایک دوسرے کے ساتھ مربوط اورپیوستہ ہیں کہ مجمو عی طور پر وہ ایک منظم چیز بناتے ہیں اور اس جہان پرمعین قوانین کا ایک سلسلہ حکو مت کرتا ہے ۔

انسانی علم و دانش کی پیش رفت جس قدر زیادہ ہوتی جاتی ہے اسی قدر اس جہان کے اجزاء کا انسجام و وحدت زیادہ آشکار اور ظاہر ہوتا جا رہا ہے ،یہاں تک کہ بعض اوقات ایک چھو ٹے سے نمونہ (مثلاََایک سیب کے درخت سے گرنے )کی آزمائش اس بات کاسبب بن جاتی ہے کہ ایک بہت بڑا قانون جو سارے عالم ِ ہستی پر حکم فر ماہے ،منکشف ہو جاتا ہے ۔(جیسا کہ ”نیو ٹن “اور ”قانون جاذبہ “کے بارے میں ہے )۔

نظام ہستی کی یہ وحدت ،اس پر حاکم قوانین اور ا س کے اجزاء کے در میان انسجام و یکتائی ،اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اس کا خالق یکتا و یگانہ ہے ۔

۳ ۔بر ھانِ تمانع۔(فلسفی علمی دلیل )دوسری دلیل جو علماء نے خدا کی ذات کی یکتائی اور وحدت کے لیے بیان کی ہے اور قرآن نے سورہ انبیاء کی آیہ ۲۲ میں جس کے بارے میں ہدایت کی ہے ،وہ برھان تما نع ہے ،فر ماتا ہے :”( لو کان فیهما اٰلهةالا الله لفسدتا فسبحان الله رب ّالعرش عمّا یصفون ) “اگر زمین و آسمان میں خدائے واحد و یکتا کے علاوہ اور بھی خدا ہوتے تو آسمان و زمین میں فساد ہو جاتا ،اور نظام جہاں درہم و بر ہم ہو جاتا پس وہ خدا جو عرش کا پر ور دگار ہے ان کی تو صیف سے پاک و منزّہ ہے ۔

ہم اس دلیل کی جلد ۱۳ ص ۲۸۶ میں ”بر ھان تمانع “کے عنوان کے ما تحت تفصیل کے ساتھ وضاحت کر چکے ہیں ۔

۴ ۔خدا وندیگانہ کی طرف انبیاء کی عمومی دعوت : اثبات توحید کے لیے یہ ایک اور دلیل ہے کیو نکہ اگر عالم میں دو واجب الوجود ہوتے تو دونوں کو ہی منبع فیض ہو نا چا ہیئے تھا ،کیو نکہ ایک بے نہایت کامل وجود کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنی نور افشانی میں بخل کرے ،کیو نکہ وجود کامل کے لیے عدم فیض نقص ہے ،اور اس کے حکیم ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ سب کو اپنا فیض پہنچائے ۔

اس فیض کی دو شاخیں ہیں ۔(عالم خلقت میں )فیض تکوینی ،اور (عالم ہدایت میں )فیض تشریعی۔اس بناء پر اگر متعدد خدا ہوتے تو ضروری تھا کہ ان کی طرف سے بھی پیغمبر اور رسول آتے ،اور ان کے فیض تشر یعی سب کو پہنچاتے ۔حضرت علی علیہ السلام اپنے فر زند گرامی امام ِ مجتبٰی علیہ السلام کے وصیت نامہ میں فر ماتے ہیں : ”و اعلم یا بنی انه لو کان لربک شریک لا تتک رسله و لرایت اٰثار ملکه و سلطا نه ،و لعرفت افعاله و صفاته ،و لکنه اله واحد کماوصف نفسه ۔“”اے بیٹا !جان لو کہ اگر تیرے پرور دگار کا کوئی شریک ہوتا تواس کے بھیجے ہوئے نما ئند ے تیرے پاس آتے ،اور تو اس کے ملک و سلطنت کے آثار کا بھی مشاہد ہ کرتا ،اور تو اس کی صفات و افعال سے بھی آشنا ہوتا ،لیکن وہ ایک اکیلا معبود ہے ،جیسا کہ خود اس نے اپنی توصیف فر مائی ہے(۱)

یہ سب اس کی ذات کی یکتائی کے دلا ئل ہیں ۔باقی رہا اس کی ذات پاک میں ہر قسم کی تر کیب و اجزاء کے نہ ہونے کی دلیل تو وہ روشن و واضح ہے کیو نکہ اگر اس کے لیے اجزائے خارجیہ ہوں تو طبعاََ وہ ان کا محتاج ہوگا ،او ر واجب الوجود کے لیے محتاج ہونا معقو ل نہیں ہے ۔اور اگر ”اجزائے عقیلہ “(ما ہیت و وجود یا جنس و فصل کی تر کیبب)مراد ہو ،تو وہ بھی محال ہے ،کیونکہ ماہیت و وجود سے تر کیب اس کے محدود ہو نے کی فرع ہے ۔حالا نکہ ہم جانتے ہیں کہ اس کا وجود غیر محدود ہے ،اور جنس و فصل کی تر کیب ما ہیت رکھنے کی فرع ہے ،لیکن وہ ذات جس کی کوئی ماہیت نہیں ہے ،اس کی جنس و فصل بھی نہیں ہے ۔

توحید کی اقسام

عام طور پر تو حید کی چار اقسام بیان کی جاتی ہیں :

۱ ۔ توحید ذات :

(جس کی اوپر تشریح کی گئی ہے )

۲ ۔ تو حید صفات :

یعنی اس کی صفا ت اس کی ذات سے الگ نہیں ہے اور ایک دوسرے سے بھی جدا نہیں ہے،مثلاََہمارا”علم “و ”قدرت “دو الگ الگ صفات ہیں جو ہماری ذات پر عارض ہیں ،ہماری ذات ایک الگ چیز ہے اور ہمارا علم و قدرت دوسری چیزیں ہیں جیسا کہ ”علم “و ”قدرت “بھی ہم میں ایک دوسرے سے جدا ہے ۔ہمارے علم کا مر کزہماری روح ہے ،جب کہ ہماری قدرت جسمانی کا مرکز ہمارے بازو اور عضلات ہیں لیکن خدا میں نہ اس کی صفات اس کی ذات پر زائد ہیں اور نہ ہی وہ ایک دوسرے سے جدا ہیں بلکہ وہ ایک ایسا وجود ہے جو سارا کا سارا علم ہے ،سارا کا سارا قدرت ہے اور سب کاسب ازلیت و ابد یت ہے ۔

اگر اس کے علاوہ صورت ہو تو اس کا لازمہ تر کیب ہے اور اگروہ مرکب ہوگا تو اجزاء کا محتاج ہوگا ،اور محتاج چیز ہر گز واجب الوجود نہیں ہوتی ۔

۳ ۔ تو حید افعالی :

یعنی ہر وجود ،ہرحرکت ،اور ہر حرکت جو دنیا میں ہو رہی ہے اس کی باز گشت خدا کی پاک ذات کی طرف ہے ،وہی مسبب الا سباب ہے اور اس کی پاک ذات ہی علت العلل ہے ،یہاں تک کہ وہ افعال بھی جو ہم سے سر زد ہو تے ہیں ایک معنی میں اسی کے افعال ہیں ،چو نکہ اسی نے ہمیں قدرت و اختیار اور ارادہ کی آزادی فر مائی ہے ۔اس بناء پر ہم اپنے افعال کے فاعل اور ان کے مقابلہ میں مسئول و جواب دہ ہونے کے باوجود ایک لحاظ سے فاعل خدا ہی ہے ،کیو نکہ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب اسی کی طرف سے ہے ۔(لا مو ثر فی الوجود الاالله )(عالم وجود میں خدا کے سوا کوئی مو ثر نہیں ہے )۔

۴ ۔توحید در عبادت :

یعنی صرف اس کی عبادت کر نا چا ہیئے اور اس کا غیر لا ئق عبا دت نہیں ہے ، کیو نکہ عبا دت ایسی ذات کی ہونا چا ہیئے جو کمال مطلق اور مطلق کمال ہے ،جو سب سے بے نیاز اور تمام نعمتوں کا بخشنے والا ،اور تمام موجودات کا پیدا کرنے ولا ہے ، اور یہ صفات اس کی پاک ذات کے سوا کسی میں جمع نہیں ہو سکتیں ۔عبا دت کا اصلی مقصد اس کمال مطلق اور بے پایاں ہستی کا قرب حاصل کر نا اور اس کی صفات جمال و کمال کو اپنی روح کے اندر منعکس کرنا ہے ،جس کا نتیجہ ہو او ہوس سے دوری اور تہذیب نفس اور خود سازی کی طرف رخ کرنا ہے ۔

یہ ہدف اور مقصد ”اللہ “کی عبادت کے بغیر ،جو وہی کمال مطلق ہے، امکان پذ یر نہیں ہے ۔

____________________

۱۔”نہج البلاغة “وصیت امام مجتبٰی (حصہ خطوط و خط ۳۱)۔


۳ ۔توحید افعال کی اقسام

پھر توحید افعال کی بھی بہت سی اقسام ہیں جن میں سے ہم یہاں چھ اہم ترین اقسام کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔

۱ ۔ توحید خالقیت :

جیسا کہ قرآن کہتا ہے :قل اللہ خالق کل شیء:”کہہ دیجئے خدا ہی ہر چیز کا خالق ہے “(رعد ۔ ۱۶)

اس کی دلیل بھی واضح ہے ، جب گزشتہ دلائل سے ثابت ہو گیاکہ واجب الوجود ایک ہی ہے اور اس کے علاوہ ہر چیز ممکن الوجود ہے تو اس بناء پر تمام موجودات کا خالق بھی ایک ہی ہوگا ۔

۲ ۔ تو حید ر بو بیّت :

یعنی عالم ہستی کا مد بر و مدیر ،مربی اور اس کا نظام بخش صرف خدا ہے ،جیسا کہ قرآن کہتا ہے:۔( قل اغیر الله ابغی رباََوهو رب کل شی ء ) “کہہ دیجئے کیا میں خدا کے سوا کسی اور کو اپنا پرور دگار مان لوں حالا نکہ ہر چیز کا پر ور دگار وہی ہے “؟(انعام ۔ ۱۶۴)

اس کی دلیل بھی واجب الوجود کی وحدت اور عالم ہستی میں خالق کی توحید ہے ۔

۳ ۔توحید تشریع و قانون گزاری :

جیسا کہ قرآن کہتا ہے :( و من لم یحکم بما انزل الله فا و لئک هم الکا فرون ) :”جو شخص اس کے مطابق حکم نہیں کرتا ،جو خدا نے نازل کیا ہے ،وہ کا فر ہے ۔-“(مائدہ ۔ ۴۴)

کیو نکہ جب ہم نے یہ ثابت کر دیا کہ مدبر و مدیر وی ہے ،جو مسلہ طور پر اس کے غیر میں قانون گزاری کی صلا حیت نہیں ہو سکتی ،کیو نکہ اس کے غیر کا تد بیر عالم میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔لہٰذا وہ نظام تکوین سے ہم آہنگ قوانین وضع نہیں کر سکتا ۔

۴ ۔تو حید در ما لکیت :

چاہے ”حقیقی ما لکیت “ہو ،یعنی کسی چیز پرتکوینی تسلط ،یا ”حقو قی ما لکیت “ہو ،یعنی کسی چیزپرقانونی تسلط ،یہ سب اسی کے لیے ہیں جیسا کہ قرآن کہتا ہے :”( و لله ملک السماوات ولارض ) “”آسمانوں اور زمین کی مالکیت حاکیمیت خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے ۔(آل عمران ۔ ۱۸۹)

اور یہ بھی فر ماتا ہے :”( وانفقو مما جعلکم مستخلفین فیه ) “”خدا نے جن اموال میں تمہیں اپنا نمایندہ قرار دیا ہے ،ان میں سے (راہ خدا )میں خرچ کرو ۔“(حدید ۔ ۷)

اس کی دلیل بھی وہی توحید در خا لقیت ہے ۔جب تمام اشیاء کا خالق وہی ہے ،تو طبعاََتمام چیزوں کی مالک بھی اسی کی ذات مقدس ہے ،اس بناء پر ہر ملکیت کا سر چشمہ اسی کی ما لکیت کو ہو نا چا ہیئے ۔

۵ ۔ توحید حا کیمیت

یقینا انسانی معاشرہ حکومت کا محتاج ہے ،کیو نکہ اجتما عی زندگی حکو مت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ذمہ داریوں کی تقسیم ،پرو گرا موں کی تنظیم ،مدیر یتوں کا اجراء اور تجاوذات کو رو کنا ،صرف حکومت کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔

ایک طرف تو انسانوں کی اصل آزادی یہ کہتی ہے کہ کوئی شخص کسی شخص پر حق حکومت نہیں رکھتا مگر جسے اصل مالک اور حاکم حقیقی اجازت دے ،اور یہی وجہ ہے کہ ہم ہر اس حکومت کو جو حکومت الٰہی پر منتہی نہیں ہوتی مر دود سمجھتے ہیں ،اور یہی وجہ ہے کہ ہم حکومت کی مشر وعیت کو صرف پیغمبرکے بعد ائمہ معصو مین کے لیے اور ان کے بعد فقیہ جامع الشرائط کے لیے جا نتے ہیں ۔البتہ یہ ممکن ہے کہ لوگ کسی کو یہ اجازت دے دیں کہ وہ ان پر حکومت کرے ،لیکن چو نکہ پورے معاشرے کے تمام افراد کا اتفاق عادتاََممکن نہیں ہے ،لہٰذا عملی طور پراس قسم کی حکو مت ممکن نہیں ہے ۔(۱)

البتہ اس بات کو نہیں بھو لنا چاہیئے کہ تو حید ر بو بیت عالم تکوین کے ساتھ مر بوط ہے اور تو حید قانون گزاری و حکومت کا تعلق عالم تشریع کے ساتھ ہے۔

قرآن مجید کہتا ہے :( ان الحکم الالله ) “:”حکم اور حکومت کرنا صرف خدا کے لیے ہے “۔( انعام ۔ ۵۷ )

۶ ۔ تو حید اطاعت

یعنی جہان میں واجب الاطاعت ہونے کا مقام صرف خدا کی ذات پاک کے لیے ہے اور ہر دوسرے مقام کی اطاعت کی مشر وعیت کا سر چشمہ یہیں سے ہو نا چا ہیئے ،یعنی اس کی اطاعت بھی خدا ہی کی اطاعت شمار ہو گی ۔اس کی دلیل بھی واضح ہے ۔جب حا کمیت اسی کے ساتھ مخصوص ہے ،تو مطاع ہو نا بھی اسی کے ساتھ مخصوص ہے ۔اسی لیے ہم انبیاء کی اطاعت ،ائمہ معصو مین کی اطاعت اور ان کے جا نشینوں کی اطاعت کو بھی خدا ہی کی اطاعت کا پر تو شمار کرتے ہیں ۔قرآن کہتا ہے :( یا ایها الذین امنو ااطیعو االله و اطیعو الر سول و اولی الامر منکم ) :

”اے ایمان لانے والو!خدا کی اطاعت کرو اور رسول کی اور صاحبان ِ امر (ائمہ معصو مین )کی اطاعت کرو ۔(نساء ۵۹)

البتہ اوپر والے مبا حث میں سے ہر ایک کے لیے بہت ہی زیادہ شرح و بسط کی ضرورت ہے اور ہم نے اس بناء پر کہ ہم بحث تفسیری سے خارج نہ ہو جا ئیں ،انہیں اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ۔

خدا وندا!ہمیں ساری عمرتوحید کے راستہ پر ثابت قدم رکھ ۔

پر ور دگار !شرک کی شاخیں بھی تو حید کی شاخوں کی طرح بہت زیادہ ہیں ،اور تیرے لطف کے بغیر شرک سے نجات ممکن نہیں ہے ۔تو ہمیں اپنے لطف کا مشمول قرار دے ۔

بارالہا !ہمیں توحید کے ساتھ زندہ رکھنا اور توحید کے ساتھ ہی ہمیں موت دینا ،اور حقیقت تو حید کے ساتھ ہمیں محشور کر نا ۔

آمین یا رب العالمین ۔

____________________

۱۔ اس بناء پر اگر کوئی حکومت عوام اور اکثریت کی رائے سے معین ہو تو ضروری ہے کہ وہ فقیہ جامع الشرائط کے ذر یعے نافذ ہو ،تا کہ وہ مشر وعیت الہٰیہ پیدا کرسکے ۔


سور ہ الفلق

یہ سورہ مکّہ میں نازل ہوا ۔ اس میں ۵ آیات ہیں ۔

سورئہ ”فلق “کے مطالب

ایک جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہو ااگر چہ مفسرین کی ایک دوسری جماعت اسے ”مدنی “سمجھتی ہے ۔اس سورہ کے مطالب ایسی تعلیمات ہیں جو خدا نے پیغمبر کو با لخصوص،اور سب مسلمانوں کو با لعموم ،تمام اشرار کے شر سے ،اس کی ذات پاک سے پناہ مانگنے کے سلسلہ میں دی ہیں تاکہ خود کو اس کے سپرد کر دیں اور اس کی پناہ میں ہر صاحب شر موجود کے شر سے امان میں رہیں ۔اس سورہ کے شان نزول کے بارے میں اکثر کتب تفاسیر میں کچھ روایات نقل ہوئی ہیں جن کے مطابق بعض یہودیوں نے پیغمبر اکرم پر جادو کر دیا تھا ،جس سے آپ بیمار ہو گئے تھے ۔جبر ئیل نازل ہوئے اور جس کنو یں میں جادو کے آ لات چھپا ئے ہوئے تھے اس جگہ کی نشا ن دہی کی ،اسے باہر نکالاگیا ،پھر اس سورہ کی تلاوت کی تو پیغمبر کی حالت بہتر ہو گئی ۔لیکن مرحوم طبرسی اور بعض دوسرے محقیقن نے اس قسم کی روایات کو ، جن کی سند صرف ”ابن عباس (رض)“اور عا ئشہ (رض)تک منتہی ہوتی ہے ،قابل اعتراض سمجھا ہے اور درست قرار نہیں دیا ،کیو نکہ :

اوّلاَ۔یہ سورہ مشہور قو ل کے مطابق مکی ہے اور اس کا لب و لہجہ بھی مکی سورتوں والا ہے ،جب کہ پیغمبر کا یہو دیوں سے واسطہ مدینہ میں پڑا اور خود یہی بات اس قسم کی روایات کی عدم اصالت کی ایک دلیل ہے ۔

دوسری طرف اگر پیغمبر اکرم پر جادو گر اتنی آسانی کے ساتھ جادو کر لیا کریں کہ وہ بیمار پڑ جائیں اور بستر علالت پردراز ہو جائیں تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ وہ آپ کو آپ کے عظیم ہدف اور مقصد سے آسانی روک دیں ۔مسلمہ طور پر وہ خدا جس نے آپ کو اس قسم کی ماموریت اور عظیم رسالت کے لیے بھیجا ہے ،وہ آپ کو جادوگروں کے جادو کے نفوذسے بھی محفو ظ رکھے گا تا کہ نبوت کا بلند مقام ان کے ہاتھ میں بازیجہ اطفال نہ بنے ۔

سوم ۔اگر یہ مان لیا جائے کہ جادو پیغمبر کے جسم میں اثر انداز ہو سکتا ہے ،تو پھر ممکن ہے کہ لوگوں کے ذہن میں یہ وہم پیدا ہو جائے کہ جادو آپ کی روح میں بھی اثر انداز ہو سکتا ہے،اور یہ ممکن ہے کہ آپ کے افکار جادو گرو ں کا شکار ہو جائے ۔ یہ معنی پیغمبر اسلام پر اعتماد کی اصل کو عام لو گوں کے افکار میں متز لزل کر دیں گے ۔

اس لیے قرآن مجید اس معنی کی نفی کرتا ہے کہ پیغمبر پر جادو کیا گیا ہو ،فر ماتا ہے :”( و قال الظالمون ان تبتعون الا رجلا مسحورا انظر کیف ضر بو ا لک الا مثال فضلوا فلا یستطیعون سبیلا ) “”اور ظالموں نے کہا تم ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو ،دیکھو تو سہی!تیرے لیے انہوں نے کیسی کیسی مثالیں بیان کی ہیں اور ایسے گمراہ ہوئے ہیں کہ راستہ پا ہی نہیں سکتے ۔“(فر قان ۔ ۸ ، ۹)

”مسحور “چا ہے یہاں اس شخص کے معنی میں ہو جس پر عقلی لحاظ سے جادو کیا گیا ہو یا اس کے جسم پر ،دونوں صورتوں میں ہمارے مقصود پر د لالت کرتا ہے ۔ بہر حال ایسی صورت مشکوک روایات کے ساتھ مقام نبو ت کی قدرت پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی فہم آیات کے لیے ان پر تکیہ کیا جا سکتا ہے ۔

اس سورہ کی فضیلت

اس سورہ کی فضیلت میں پیغمبر اکرم سے نقل ہو ا ہے ،آپ نے فر مایا :

انزلت علی اٰیات لم ینزل مثلهن :المعوذتان :“

”مجھ پر ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ ان کی مثل اور مانند اور نازل نہیں ہوئیں ،اور وہ دو سورتیں ”فلق “اور ”ناس “ہیں ۔(۱) ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے :

”جو شخص نماز ”وتر “میں سورہ ”فلق “و ناس “اور( قل هو الله احد ) “کو پڑھے گا ،تو اس کو یہ کہا جائے گا کہ اے بندئہ خدا تجھے بشارت ہو ،خدا نے تیری نماز وتر قبول کر لی ہے ۔“(۲) ایک اور روایت میں پیغمبر اکرم سے بھی آیا ہے کہ آپ نے اپنے ایک صحابی سے فر مایا :”کیا تو چا یتا ہے کہ میں تجھے ایسی دو سورتوں کی تعلیم دو ں جو قرآن کی سورتوں میں سب سے زیادہ افضل و برتر ہیں ؟اس نے عرض کیا :ہاں !اے رسول اللہ ۔تو حضرت نے اسے معوذ تین (سورہ فلق و ناس )کی تعلیم دی ۔اس کے بعد ان دونوں کی نماز صبح میں قرات کی اور اس سے فرمایا ،جب تو بیدار ہویا سونے لگے تو ان کو پڑھا کر ۔(۳) یہ بات واضح ہے کہ یہ سب کچھ ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی روح و جان اور عقیدہ و عمل کو اس کے مطا لب کے ساتھ ہم آہنگ کریں ۔

____________________

۱۔ ”نور الثقلین “جلد ۵ص ۷۱۶و ”مجمع البیان “جلد ۱۰ ،ص ۵۶۷۲۔”نور الثقلین “جلد ۵ ص ۷۱۶و” مجمع البیان “جلد ۱۰ ،ص ۵۶۷

۳۔”نور الثقلین “جلد ۵ ص۷۱۶ و ”مجمع البیان “جلد ۱۰ ،ص ۵۶۷


آیات ۱،۲،۳،۴،۵

( بسم الله الرحمن الرحیم )

۱ ۔( قل اعوذ برب الفلق ) ۲ ۔( من شر ما خلق ) ۳ ۔( و من شر غا سق اذا وقب )

۴ ۔( ومن شر النفٰثٰت فی العقد ) ۵ ۔( و من شر حا سداذا حسد )

تر جمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے

۱ ۔ کہہ دیجئے میں سفیدہ صبح کے پر وردگار کی پناہ ما نگتا ہوں ۔

۲ ۔ ان تمام چیزوں کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہیں ۔

۳ ۔اور ہر مزاحمت کرنے والے موجود کے شر سے جب کہ وہ وارد ہو ۔

۴ ۔ اور ان کے شر سے جو گرہوں میں دم کرتے ہیں ۔(اور ہر طرح کے ارادہ کو کمزور کر دیتے ہیں )۔

۵ ۔ اور ہر حسد کرنے والے کے حسد سے جب وہ حسد کرے ۔

میں سپیدئہ صبح کے پر وردگار کی پناہ مانگتا ہوں ۔

قرآن اس سورہ کی پہلی آیت میں خود پیغمبر کو ایک نمونہ اور پیشوا کے عنوان سے اس طرح حکم دیتا ہے : کہہ دیجئے ،میں سفیدئہ صبح کے پرور دگا رسے پناہ مانگتا ہوں جو رات کی سیاہی کو چیر دیتا ہے ۔( قل اعوذبرب الفلق ) ۔ ان تمام چیزوں کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہیں ۔( من شر ما خلق ) ۔

تمام شریر موجودات کے شر سے ،شریر انسانوں سے ،جنوں ،حیوانات،شر کے پیش آنے والے واقعات اور نفس اماّرہ کے شر سے ۔”فلق “(بروزن شفق )”فلق “(بر وزن خلق )کے مادہ سے اصل میں کسی چیز میں شگاف کرنے اور ایک کو دوسرے سے جدا کرنے کے معنی میں ہے ،اور چونکہ سفیدئہ صبح کے پھوٹنے کے وقت رات کا سیاہ پردہ چاک ہو جاتاہے ۔لہٰذا یہ لفظ طلوع صبح کے معنی میں استعمال ہوا ۔جیسا کہ”فجر “کا بھی اسی منا سبت سے طلوع صبح پر اطلاق ہوتا ہے ۔

بعض اسے تمام موالید اور تمام زندہ موجودات کے معنی میں سمجھتے ہیں ،چاہے وہ انسان ہو یا حیوان و نبا تات کیو نکہ ان موجودات کا پیدا ہونا ،جو دانہ یا گٹھلی وغیرہ کے شگافتہ ہونے سے صورت پذیر ہوتا ہے ،وجود کے عجیب ترین مراحل میں سے ہے اور حقیقت میں تولد کے وقت اس موجود میں ایک عظیم تحرک رونما ہوتا ہے اور وہ ایک عالم سے دوسرے عالم میں قدم رکھتا ہے ۔

سورئہ انعام کی آیہ ۹۵ میں آیا ہے :”ا ن الله فالق الحب والنوی یخرج الحی من ا لمیت و مخرج ا لمیت من الحی “”خدا دانہ اور گٹھلی کا شگافتہ کرنے والا ہے ،جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے خارج کرتا ہے ۔

بعض نے ”فلق “کے مفہوم کو اس سے بھی زیادہ وسیع معنی میں لیا ہے اور اس کا ہر قسم کی آفر ینش وخلقت پر اطلاق کیا ہے ،کیو نکہ ہر موجود کی آفر ینش وخلقت سے عدم کا پردہ چاک ہو جاتا ہے ،اور وجود کا نور ظاہر و آشکار ہو جاتاہے ۔

ان تینوں معا نی (طلوع صبح،زندہ موجودات کا تولد ،اور ہر موجود کی خلقت و آفر ینش )میں سے ہر ایک عجیب و غریب وجود میں آنے والی چیز ہے جو پروردگار اور اس کے خالق و مدبر کی عظمت کی دلیل ہے ،اور اس وصف کے ساتھ خدا کی تو صیف ایک عمیق مفہوم و مطلب رکھتی ہے ۔

بعض احادیث میں یہ بھی آیا ہے کہ :”فلق “دوزخ میں ایک کنواں یا زندان ہے ،اور وہ جہنم کے وسط میں ایک شگاف کی مانند دکھائی دیتا ہے ۔

یہ رو ا یت ممکن ہے اس کے مصادیق میں سے ایک مصداق کی طرف اشارہ ہو ،لیکن یہ ”فلق “کے وسیع مفہوم کو محدود نہیں کرتی ۔”من شر ما خلق “کی تعبیر کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ آفر ینش و خلقت الٰہی اپنی ذات میں کوئی شر رکھتی ہے کیو نکہ آفر ینش خلقت تو ایک ایجاد ہی ہے ،ور ایجاد وجود خیر محض ہے ،قرآن کہتا ہے :( الذی احسن کل شیء خلقه ) ”وہی خدا جس نے چیز کو بھی پیدا کیا بہتراور زیادہ سے زیادہ اچھا کر کے پیدا کیا “(الم سجدہ ۔ ۷)

بلکہ شر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مخلوقات قوانین آفر ینش سے منحرف ہو جائیں اور معینہ راستے سے الگ ہو جائیں ۔مثلاََ ڈنک جانوروں کے کاٹنے والے دانت ایک دفاعی حربہ ہیں ،جنہیں وہ اپنے دشمنوں کے مقا بلہ میں استعمال کرتے ہیں اب اگر یہ ہتھیار اپنے مو قع و محل پر ہوں تو خیر ہی خیر ہیں ،لیکن اگر یہ بے موقع اور دوست ہی کے مقابلہ میں استعمال ہونے لگیں تو پھر شر اور برائی ہیں ۔

بہت سے ایسے امور ہیں ،جنہیں ہم ظاہر میں شر سمجھتے ہیں ،لیکن وہ با طن میں خیر ہیں ،مثلاََبیدار کرنے والے اور ہو شیار و خبر دار کرنے والے حوادث بلائیں اور مصائب ،جو انسان کو خواب غفلت سے بیدار کرکے خدا کی طرف متو جہ کرتے ہیں ،یہ مسلمہ طور پر شر نہیں ہیں ۔

اس کے بعد اس مطلب کی تو ضیح و تفسیر میں مزید کہتا ہے :”اور ہر مزاحمت کرنے والے موجود کے شر سے جب کہ وہ وارد ہو تا ہے ۔“( و من شر غاسق اذا وقب ) ۔

”غاسق “”غسق “( بر وزن شفق )کے مادہ سے ”مفر دات “میں ”راغب “کے قول کے مطابق ،رات کی ظلمت کی اس شدت کے معنی میں ہے جو آدھی رات کے وقت ہوتی ہے ،اسی لیے قرآن مجید نماز مغرب کے اختتام کے وقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فر ماتا ہے :الیٰ غسق اللیل ،اور یہ جو لغت کی بعض کتا بوں میں ”غسق“ کی آغاز شب کی تا ریکی کے معنی میں تفسیر ہوئی ہے ،بعید نظر آتا ہے ،خصوصاََجب کہ اس کا اصلی ریشہ اور جڑ،امتلا ء(پُر ہونے )اور بہنے کے معنی میں ہے ،اور مسلمہ طور پر رات کی تاریکی اس وقت زیادہ یعنی پُر اور لبریز ہوتی ہے جب آدھی رات ہو جائے ۔اس کے مفا ہیم میں سے ایک ،جو اس کا معنی کا لازمہ ہے ،ہجوم کرنا اور حملہ آور ہونا ہے ،اس لیے یہ معنی میں بھی استعمال ہوا ہے ۔

اس بناء پر زیر بحث آیت میں ”غاسق “کا معنی یاتو حملہ کرنے والا شخص ہے ،یا ہر وہ شریر موجود ہے جو حملہ کر نے کے لیے رات کی تا ریکی سے فائدہ اُٹھا تا ہے ،کیو نکہ نہ صرف درندے اور ڈنک مارنے والے جانور ہی رات کے وقت اپنے بلوں اور ٹھکانوں سے باہر نکل آتے ہیں ،بلکہ شریرو ناپاک اور پلید افراد بھی اپنے برے مقا صد کے لیے عام طور پر رات کی تاریکی سے فائد ہ اُٹھاتے ہیں ۔

”وقب “(بر وزن شفق )”وقب “(بر وزن نقب )کے مادہ سے گڑھے اور خندق کے معنی میں ہے ۔اس کے بعد اس کا فعل گڑھے میں داخل ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔گویا شریر اور نقصان پہنچانے والے موجودات رات کی تاریکی سے فائدہ اُٹھا تے ہوئے نقصان پہنچانے والے گڑھے کھود کر اپنے پلید اور گندے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اقدام کرتے ہیں ۔یا یہ ہے کہ یہ تعبیر ”نفوذ کرنے “کی طرف اشارہ ہے ۔

اس کے بعد مزید کہتا ہے :”اور ان کے شر سے جو گر ہوں میں دم کرتے ہیں ۔“( و من شر النفا ثات فی العقد ) ۔

”نفا ثات “”نفث“(بر وزن حبس )کے مادہ سے اصل میں تھو ڑی سی مقدار میں تھو کنے کے معنی میں ہے ۔اور چو نکہ یہ کام پھو نک مارنے کے ساتھ انجام پاتا ہے ،لہٰذا”نفث “”نفخ“(پھو نکنے اور دم کرنے )کے معنی میں آیا ہے ۔

لیکن بہت سے مفسرین نے ”نفا ثات “کی ”جادو گر عورتوں “کے معنی میں تفسیر کی ہے ۔(نفاثات جمع مونث ہے اور اس کا مفرد ”نفا ثہ “”نفث “کے مادہ سے صیغہ مبالغہ ہے )وہ عورتیں کچھ اوارد پڑ ھتی تھیں اور گر ہوں پر دم کیا کرتی تھیں اور ا س طرح سے وہ کرتی تھیں ،لیکن کچھ لوگ اسے وسوسے پیدا کرنے والی عورتوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔جو مسلسل مردوں کے ،خصو صاََجو اپنے شو ہروں کے کان بھرتی رہتی تھیں ،تاکہ مثبت کاموں کے انجام دینے میں ان کی آہنی عزم کو کمزور کر دیں اور اس قسم کی عورتوں کے وسوسوں نے طول تاریخ میں کیسے کیسے حوادث پیدا کیے ،کیسی کیسی آگ بھڑ کائی ،اور کیسے کیسے استوار و مظبوط ارادوں کو کمزور کر کے رکھ دیا ۔

”فخر ر ازی“ کہتا ہے :عورتیں مردوں کے دلوں میں اپنی محبت کے نفوذ کی بناء پر تصرف کر لیتی ہیں ۔(۱)

یہ معنی ہمارے زمانہ میں ہر وقت سے زیادہ ظاہر ہے کیو نکہ دنیا کے سیا ست دانوں میں جا سو سوں کے نفو ذ کرنے کا ایک اہم ترین ذریعہ جا سوسہ عورتوں سے فائدہ اُٹھانا ہے ،کیو نکہ ان ”( نفا ثات فی العقد ) “کے ذریعے پو شیدہ بھیدوں کے صندوقوں کے تالے کھل جاتے ہیں اور وہ ا تنہائی مر موز اور پو شیدہ مسائل سے با خبر ہو جاتی ہیں ،اور انھیں دشمن کے حوالے کر دیتی ہیں ۔

بعض نے نفاثات کی ”نفو س شریرہ “یا ”وسوسے پیدا کرنے والی جماعتوں “کے ساتھ بھی تفسیر کی ہے جو اپنے مسلسل پرو پیگنڈوں کے ذر یعے پختہ ارادوں کی گر ہوں کو کمزور کر دیتے ہیں ۔

بعید نہیں ہے کہ یہ آیت ایک عام اور جامع مفہوم رکھتی ہو جو ان تمام معا نی کو شامل ہو ،یہاں تک کہ سخن چینی کرنے والوں اور چغل خوروں کی باتوں کو بھی ،جو محبت کے مرا کز کو سست ،کمزور اور ویران کر دیتے ہیں ۔

البتہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ سا بقہ شان نزول سے قطع نظر ،آیت میں کوئی ایسی نشانی موجود نہیں ہے کہ اس سے خصو صیت کے ساتھ جادو گروں کا جادو مراد ہو اور بالفرض اگر ہم آیت کی اس طرح تفسیر بھی کریں ،تو بھی یہ اس شان نزول کی صحت پر دلیل نہیں ہوگی ۔بلکہ یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ پیغمبر اکرم جادو گروں کے شر سے خدا کی پناہ مانگ رہے ہیں ۔اسی طرح سے جیسے صحیح و سالم افراد سر طان کی بیماری سے پناہ ما نگتے ہیں ،چا ہے وہ ہر گز بھی اس میں مبتلا نہ ہوئے ہوں ۔

اس سورہ کی آخری آیت میں فر ماتا ہے :اور ہر حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے ۔“( ومن شر حاسد اذا حسد ) ۔

یہ آیت اس بات کی نشا ن دہی کرتی ہے کہ حسد بد ترین اور قبیح ترین صفات رذیلہ میں سے ہے ،کیو نکہ قرآن نے اسے درندہ جانوروں ،ڈسنے والے سا نپوں اور وسوسے ڈالنے والے شیا طین کے کاموں کے ساتھ قرار دیا ہے

____________________

۱۔”تفسیر فخر رازی “جلد ۳۲ ص ۱۹۶


۱- ۔شرو فساد کے اہم ترین سر چشمے

اس سورہ کے آغاز میں پیغمبر اکرم کو حکم دیتا ہے کہ وہ تما م شریر مخلو قات کے شر سے خدا کی پناہ ما نگیں ،اس کے بعد اس کی وضاحت میں تین قسم کے شروں کی طرف اشارہ کرتا ہے :

۱ ۔ ان تا ریک دل حملہ کرنے والوں کے شر سے جو تاریکیوں سے فائد ہ اُٹھاتے ہوئے حملہ آور ہو تے ہیں ۔

۲ ۔ان وسوسہ پیدا کرنے والوں کے شر سے جو اپنی باتوں اور برے پرو پیگنڈوں سے ،ارادوں ،ایمانوں ،عقیدوں محبتوں اور رشتو ں کو سست اور کمزور کر دیتے ہیں ۔

۳ ۔اور حسد کرنے والوں کے شر سے ۔

اس ا جمال و تفصیل سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے شرور و آفات کا سر چشمہ یہی ہیں ،اور شر و فساد کے اہم ترین منابع یہی تینوں ہیں ۔اور یہ بات بہت ہی پُر معنی اور قابل غور ہے ۔

۲ ۔آیات کا تنا سب

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس سورہ کی پہلی آیت میں پیغمبر اکرم کو حکم دیتا ہے کہ شر والی تمام موجودات کے شر سے ”فلق“کے پرور دگار سے پناہ مانگ ۔”رب فلق “کا انتخاب شاید اس بناء پر ہے کہ شریر موجودات،سلا متی و ہدایت کے نور اور روشنی کو منقطع کر دیتے ہیں ،لیکن فلق کا پروردگار ظلمتوں اور تاریکیوں کو شگا فتہ کرنے والا ہے

۳ ۔ جادو کی تاثیر

ہم نے پہلی جلد میں ، سورہ بقرہ کی آیہ ۱۰۲ و ۱۰۳ کے ذیل میں ،گز شتہ اور موجود زمانہ میں جادو کی حقیقت کے بارے میں ،اور اسلام کی نظر میں جادو کے حکم ،اور اس کے اثر کرنے کی کیفیت کے سلسلے میں تفصیلی بحث کی ہے ،اور ان مباحث میں ہم نے جادو کی تاثیر کو اجمالی طور پر قبول کیا ہے ،لیکن اس صورت میں نہیں ، جیسا کہ خیا لی پلاؤ پکانے والے ،اور بہیودہ لوگ اس کے بارے میں باتیں کرتے ہیں ۔زیادہ وضاحت کے لیے اسی بحث کی طرف رجوع کریں ۔

لیکن وہ نکتہ جس کا ذکر کرنا یہا ں ضروری ہے یہ ہے کہ اگر وہ زیر بحث آیات میں پیغمبر اکرم کو یہ حکم دے رہا ہے کہ جادو گروں کے جادو یا اس کے مانند چیزوں سے خدا کی پناہ مانگو تو اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ پیغمبر پر انہو ں نے جادو کر دیا تھا ۔ بلکہ اس کی ٹھیک مثال یہ ہے کہ پیغمبر کی غلطی اور خطا و گناہ سے بھی خدا کی پناہ ما نگتے تھے ۔یعنی خدا کے لطف سے استفادہ کرتے ہوئے ان خطرات سے بچے رہیں ۔اور خدا کا لطف نہ ہوتا تو آپ پر جادو کے اثر کرنے کا امکان تھا یہ بات تو ایک طرف رہی ۔

دوسری طرف ہم پہلے بھی یہ بیان کر چکے ہیں کہ اس بات کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے کہ ”( النفا ثات فی العقد ) “سے مراد جادو گر ہوں ۔

۴ ۔ حا سدوں کا شر

”حسد “ایک بری شیطانی عادت ہے جو مختلف عوامل جیسے ایمان کی کمزوری ، تنگ نظری اور بخل کی وجہ سے انسان میں پیدا ہو جاتی ہے اور اس کا مطلب دوسرے شخص کی نعمت کے زوال کی در خواست اور آرزو کرنا ہے حسد بہت سے گناہان ِ کبیرہ کا سر چشمہ ہے۔

حسد، جیسا کہ روایات میں وارد ہواہے ،انسان کے کے ایمان کو کھا جاتا ہے اور اسے ختم کر دیتا ہے ،جیسا کہ آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے ۔جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :

ان الحسد لیائکل الایمان کما تأکل النار الحطب(۱)

ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے :

اٰفةالد ین الحسد والعجب والفجر

”حسد “”خود کو بڑا سمجھنا “اور ایک دوسرے پر ”فخر “کرنا ،دین کے لیے آفت ہے ۔(۲)

اس کی وجہ یہ ہے کہ حسد کرنے والا حقیقت میں خدا کی حکمت پر اعتراض کرتا ہے کہ اس نے کچھ افراد کو نعمت سے کیو ں نواز ہے ؟اور انہیں اپنی عنایت کا مشمو ل کیوں قرار دیا ہے ؟ جیسا کہ سورئہ نساء کی آیہ ۵۴ میں آیا ہے :”( ام یحسدون الناس علی ما اٰتهم الله من فضله ) ۔“

حسد کا معاملہ ممکن ہے کہ اس حد تک پہنچ جائے کہ محسود سے نعمت کے زوال کے لیے حاسد خود کو پانی اور آگ تک میں ڈال کرنابود کر لے ،جیسا کہ اس کے نمونے داستانوں اور تواریخ میں مشہور ہیں ۔

حسد کی مذ مت میں بس یہی کافی ہے کہ دنیا میں جو سب سے پہلا قتل ہوا وہ ”قابیل “کی طرف سے”ہا بیل “پر ”حسد“کرنے کی وجہ سے ہوا تھا ۔

”حسد کرنے والے “ہمیشہ ہی انبیاء و اولیاء کی راہ میں رکاو ٹیں ڈالتے رہے ہیں ،اسی لیے قرآن مجید پیغمبر کو یہ حکم دے رہا ہے کہ وہ حاسدوں کے شر سے خدا اور رب فلق سے پناہ مانگیں ۔

اگر چہ اس سورہ میں اور بعد والے سورہ میں خود پیغمبر کی ذات مخا طب ہے ،لیکن مسلمہ طور پر اس سے نمونہ اور اسوہ مراد ہے ،اور سب لوگوں کو حا سدوں کے شر سے خدا کی پناہ مانگنی چا ہیئے ۔

خدا وند!ہم بھی حا سدوں کے شر سے تیری مقدس ذات سے پناہ ما نگتے ہیں ۔

پروردگارا!ہم تجھ سے یہ در خواست کرتے ہیں کہ تو ہمیں بھی دوسروں پر حسد کرنے سے محفو ظ رکھ ۔

بار الہٰا!ہمیں نفا ثات فی العقد اور راہ حق میں وسوسے ڈالنے والوں کے شر سے بھی محفوظ رکھ ۔

اٰمین یا رب العالمین

____________________

۱۔”بحار ا لا نوار “جلد ۷۳،ص ۲۳۷

۲۔ ”بحارالانوار “ جلد ۷۳ ،ص ۲۴۸


سورہ الناس

یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ۔اس میں ۶ آیات ہیں ۔

سورئہ الناس“ کے مطالب

انسان ہمیشہ انسانی وسوسوں کی زد میں ہے اور شیا طین جن و انس کی یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ اس کے قلب و روح میں نفوذ کریں ۔انسان کا مقام علم میں جتنا بالا ہوتا جا تا ہے اور اس کی حیثیت اجتماع اور معاشرے میں جتنی بڑ ھتی جاتی ہے ،شیا طین کے وسوسے اتنے ہی زیادہ شدید ہوتے چلے جاتے ہیں ،تاکہ اس کو راہ حق سے منحرف کر دیں اور ایک دانش ور عالم کے فساد و خرابی سے سارے جہان کو تباہ و بر باد کر ڈالیں ۔

یہ سورہ پیغمبر اکرم کو ایک نمونہ و اسوہ کے طور پر اور پیشواوررہبر کی حیثیت سے یہ حکم دے رہی ہے کہ تمام وسوسے ڈالنے والوں کے شر سے خدا کی پناہ طلب فر مائیں ۔

اس سورہ کے مطالب ایک لحاظ سے سورہ ”فلق “سے مشابہ ہیں ، اور دونوں میں ہی شرو ر وآفات سے خدا وند بزرگ کی پناہ مانگنے کو بیان کیا گیا ہے ،اس فرق کے ساتھ کہ سورہ فلق میں شرور کے مختلف انواع و اقسام بیان کیے گئے ہیں ،لیکن اس سورہ میں صرف نظر نہ آنے والے وسوسہ گروں (وسواس الخناس )پر تکیہ ہوا ہے ۔

اس بارے میں بھی کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوا ہے یا مد ینہ میں ، مفسرین کے در میان اختلاف ہے ۔ایک گروہ اسے” مکی “سمجھتا ہے جب کہ دوسری جماعت اسے ”مدنی “شمار کرتی ہے۔ لیکن ا س کی آیات کا لب و لہجہ ”مکی “سورتوں سے زیادہ ملتا جلتا ہے ۔

اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ روایات کے مطابق یہ سورہ اور سورہ فلق اکٹھے نازل ہوئے ہیں ،

اور سورہ فلق ایک کثیر جماعت کے نظریہ کے مطابق مکی ہے چنا نچہ بہت ممکن ہے کہ یہ سورہ مکی ہی ہو ۔

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت

س سورہ کی تلاوت کی فضیلت میں بہت سی روایات وارد ہوئی ہیں ،منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ ایک حدیث میں آیاہے کہ پیغمبر اکرم سخت بیمار پڑ گئے تو(خدا کے دو عظیم فر شتے )جبر ئیل و میکا ئیل آپ کے پاس آئے ۔جبرئیل تو پیغمبر کے سر کی طرف بیٹھ گئے اور میکا ئیل پاؤں کی طرف ۔جبر ئیل نے سورہ ”فلق “کی تلاوت اور پیغمبر اکرم کو اس کے ذر یعے خدا کی پناہ میں دے دیا اور میکا ئیل نے سورہ ”( قل اعوذ برب الناس ) “کی تلاوت کی ۔(۱)

ایک روایت میں جو امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوئی اور ہم اس کی طرف پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں ،یہ آیا ہے کہ :

”جو شخص نماز وتر میں ”معو ذتین “(سورہ فلق و ناس)اور ”( قل هو الله احد ) “کی تلاوت کرے گا تو اس سے کہا جائے گا ،اے بندئہ خدا !تجھے بشارت ہو کہ خدا نے تیری نماز وتر کو قبول کر لیا ہے “!(۲)

____________________

۱۔”نورالثقلین “جلد ۵،ص۷۶۴۵و ”مجمع البیان “جلد ۱۰ ص ۵۶۹

۲۔”نور الثقلین “جلد۵،ص ۷۶۴۵و ”مجمع البیان “جلد ۱۰ ص ۵۶۹


آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶

( بسم ا لله الر حمن الرحیم )

۱ ۔( قل اعوذبرب الناس ) ۲ ۔( ملک الناس ) ۳ ۔( الهٰ الناس ) ۴ ۔( من شر الو سواس الخناس )

۵ ۔( الذی یو سوس فی صدور الناس ) ۶ ۔( من الجنةوالناس )

تر جمہ

شروع اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے

۱ ۔ کہہ دیجئے میں لوگو ں کے پرور دگار کی پناہ ما نگتا ہوں ۔ ۲ ۔لوگوں کے مالک و حا کم کی ۔

۳ ۔لوگو ں کے خدا اور معبود کی ۔ ۴ ۔خناس کے وسوسوں کے شر سے ۵ ۔جو انسانوں کے سینوں میں وسوسے ڈا لتاہے۔

۶ ۔چا ہے وہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے ۔

لوگوں کی پروردگار کی پناہ ما نگتا ہوں

اس سور ہ میں ،جو قرآن مجید کا آخری سورہ ہے ،لوگوں کے لیے نمونہ اور پیشواہونے کے لحاظ سے خود پیغمبر کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے فر ماتا ہے :”کہہ دیجئے ،میں لوگوں کے پرور دگار کی پناہ مانگتا ہوں ۔“( قل اعوذ برب الناس )

”لوگوں کے مالک و حاکم کی ۔“( ملک الناس ) ۔

”لوگوں کے خدا و معبود کی ۔“( الٰه الناس ) ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں خدا کے عظیم او صاف میں سے تین اوصاف (ربو بیت ،ملکیت اور الو ہیت ) کا ذکر ہوا ہے جو سب کی سب براہ ِراست انسان کی تر بیت اور وسوسے ڈالنے والوں کے چنگل سے نجات کے ساتھ ار تبا ط رکھتی ہیں ۔

البتہ خدا سے پناہ ما نگنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان صرف زبان سے یہ جملہ کہے ،بلکہ فکر و نظر اور عقیدہ و عمل کے ساتھ بھی انسان خود کو پناہ میں قرار دے ۔شیطانی راستوں ،شیطانی پرو گراموں ،شیطانی افکار و تبلیغات ،شیطانی مجالس و محا فل سے خود کو دور رکھے ،اور رحمانی افکار و تبلیغات کے راستے کو اختیار کرے ۔ورنہ وہ انسان جو عملی طور پر ان وسوسوں کے طو فان میں ٹہرا رہے گا وہ صرف اس سورہ کے پڑھنے اور ان الفاظ کے کہنے سے کہیں نہیں پہنچے گا ۔

وہ ”( رب الناس ) “کہنے کے ساتھ پرور دگار کی ربوبیت کا اعتراف کرتا ہے اور خود کو اس کی تر بیت میں قرار دیتا ہے ۔

( ملک الناس ) “کہنے سے خود کو اس کی ملکیت سمجھتا ہے اور اس کے فر مان کا بندہ ہو جاتا ہے ۔

اور ”( الٰه الناس ) “کے کہنے سے اس کی عبو دیت کے راستہ میں قدم رکھ دیتا ہے اور اس کے غیر کی عبادت سے پر ہیز کرتا ہے ۔اس میں شک نہیں ہے کہ جو شخص ان تینوں صفات پر ایمان رکھتا ہو اور خود کو ان تینوں کے ساتھ ہم آہنگ کر لے ،وہ وسوسہ ڈالنے و الوں کے شر سے امان میں رہے گا ۔

در حقیقت یہ تینوں اوصاف تین اہم تربیتی درس،پیش رفت کے تین پرو گرام اور وسوسے ڈالنے والوں کے شر سے نجات کے تین ذریعے ہیں اور یہ سورہ انسان کا ان کے مقابلہ میں بیمہ کر دیتا ہے ۔

اسی لیے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے:”وسوسے ڈالنے والے خناس کے شر سے “( من شر لو سواس الخناس ) ۔

”وہی جو انسان کے سینوں میں وسوسے ڈالتے ہیں ۔“( الذی یو سوس وصدور الناس ) ۔

”جنوں اور انسانوں میں سے وسوسے ڈالنے والے ۔“( من الجنته والناس ) ۔

”وسواس“کا لفظ”مفر دات “میں ” راغب “کے قول کے مطابق اصل میں ایسی آہستہ آواز ہے جو آلات زینت کے آپس میں ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہے ۔

اس کے بعد ہر آہستہ آواز پر بولا جانے لگا اور اس کے بعد ایسے نا مطلوب اور برے افکار و خیالات پر،جو انسان کے دل و جان میں پیدا ہوتے ہیں ،اور ایسی آہستہ آواز کے مشابہ جو کان میں کہی جاتی ہے ،اطلاق ہوا ہے ۔

”وسواس “مصدری معنی رکھتا ہے ،بعض اوقات ”فاعل“(وسوسہ ڈالنے والا )کے معنی میں بھی آتا ہے ،اور زیر بحث آیت میں یہی معنی ہے ۔

”خناس “”خنوس “(بر وزن خسوف )کے مادہ سے ،صیغہ مبا لغہ ہے ،جو جمع ہونے اور پیچھے جانے کے معنی میں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب خدا کا نام لیا جاتا ہے تو شیا طین پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور چو نکہ یہ کام پنہاں ہونے کے ساتھ توام ہے ،لہٰذا یہ لفظ”اختفاء“کے معنی میں بھی آیا ہے ۔

اس بناء پر آیات کا مفہوم اس طرح ہو گا :”کہہ دیجئے میں شیطان صفت وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے ،جو خدا کے نام سے بھاگتا ہے اور پنہاں ہو جاتا ہے ،خدا کی پنہاں ما نگتا ہوں ۔“

اصولاََ” شیا طین “اپنے پرو گراموں کو چھپ کر کرتے ہیں اور بعض اوقات انسان کے دل کے کان میں اس طرح سے پھو نک مارتے ہیں کہ انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ یہ فکر خود اسی کی فکر ہے اور خود اسی کے دل میں خود بخود پیدا ہوئی ہے ،یہی بات اس کے بہکنے اور گمراہی کا سبب بن جاتی ہے ۔شیاطین کا کام زینت دینا ،باطل کو حق کے لعاب میں چھپانا ،جھوٹ کو سچ کے چھلکے میں لپیٹ کر گناہ کو عبادت کے لباس میں اور گمراہی کو ہدایت کے سر پوش میں پیش کر نا ہے ۔

خلاصہ یہ ہے کہ وہ بھی مخفی ہوتے ہیں اور ان کے پرو گرام بھی پنہاہ ہوتے ہیں ،اور یہ راہ حق کے ان تمام رہ روؤں کے لیے ایک تنبیہہ ہے جو یہ تو قع نہیں رکھتے کہ شیاطین کو ان کے اصلی چہرے اور قیا فہ میں دیکھیں ،یا ان کے پروگر ا موں کو انحرافی شکل میں مشا ہدہ کریں ۔سو چنے کی بات ہے ،وسوسے ڈالنے والے خناس ہوتے ہیں اور ان کا کام چھپانا ،جھو ٹ بولنا،دھوکا دینا، ریا کاری کرنا،ظاہر سازی اور حق کو پو شید ہ کرنا ہے ۔

اگر وہ اصلی چہرے میں ظاہر ہو جائیں ،اگر وہ باطل کو حق کے ساتھ نہ ملائیں ،اگر وہ صریح اور صاف بات کریں تو علی علیہ السلام کے قول کے مطابق لم یخف علی المرتادین :خدا کی راہ پر چلنے والوں پر مطلب مخفی نہیں رہتا ۔

وہ ہمیشہ کچھ حصہ تو ”اس“سے لیتے ہیں ،اور کچھ حصہ ”اس “سے اور انہیں آپس میں ملا دیتے ہیں ،تاکہ لوگوں پر مسلط ہو سکیں ،جیساکہ امیر المومنین علیہ السلام اسی گفتگوکو جاری رکھتے ہوئے فر ماتے ہیں :فهنالک یستولی الشیطان علی او لیائه(۱)

( الذی یو سوس فی صدور الناس ) “کی تعبیر ،اور لفظ ”وسوسہ “کا انتخاب ،اور لفظ ”صدور “(سینے )بھی اسی معنی کی تا کید ہیں ۔

یہ سب کچھ تو ایک طرف ،دوسری طرف سے ”من الجنةوالناس “کا جملہ خبر دار کرتا ہے کہ ”وسوسے“ڈالنے والے خناس ،صرف ایک ہی گروہ ،ایک ہی جماعت ،ایک ہی طبقہ ،اور ایک ہی لباس میں نہیں ہوتے ،بلکہ یہ جن و انس میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہر لباس اور ہر جماعت میں پائے جاتے ہیں ۔لہٰذا ان سب پر نظر رکھنی چا ہیئے اور ان سب کے شر سے خدا کی پناہ ما نگنی چا ہیئے ۔

نا مناسب دوست ،منحرف ہم نشین ،گمراہ اور ظالم اور پیشوا ،جبار اور طاغوتی کا رندے ،فاسد مقر رین اور لکھنے والے ،ظاہر فر یب الحادی والتقاطی مکاتب اور اجتماعی طور پر وسوسے ڈالنے والوں کے وسائل ارتباط سب کے سب ”وسو اس خناس “کے وسیع مفہوم میں داخل ہیں کہ جن کے شر سے انسان کو خدا کی پناہ ما نگنی چا ہیئے ۔

____________________

۱۔ ”نہج البلاغہ “خطبہ ۵۰


۱ ۔ ہم خدا کی پناہ کیوں ما نگتے ہیں ؟

انسان کے لیے ہر لمحہ انحراف کا امکان موجود ہے اور اصولی طور پر جب خدا اپنے پیغمبر کو یہ حکم دے رہا ہے کہ ”وسواس خناس “کے شر سے خدا کی پناہ ما نگیں ،تو یہ خناسوں اور وسوسہ ڈالنے والوں کے دام فر یب میں گرفتا رہونے کے امکان کی دلیل ہے ۔

با وجود اس کے کہ پیغمبر اکرم لطف الٰہی،غیبی امدادوں اور اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنے کی بناء پر ہر قسم کے انحراف سے محفو ظ تھے ،لیکن پھر بھی وہ آیات کو پڑ ھتے تھے اور ان کے ذریعے وسواس خناس کے شر سے پناہ ما نگتے تھے ۔ ان حالات میں دوسروں کا معاملہ واضح وروشن ہے ۔

لیکن مایوس ہو نے کی ضرورت نہیں ہے ،کیو نکہ ان مخرب وسوسہ ڈالنے والوں کے مقا بلہ میں مومن بندوں اور راہ حق کے رہروؤں کی مدد کے لیے آسمانی آتے ہیں ۔ ہاں !مو من تنہا نہیں ہے ،فر شتے ان پر نازل ہوتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں “:( ان الذین قالو ا ربنا الله ثم استقاموا تتنذل علیهم الملا ئکة ) “(حمٰ سجدہ ۔ ۳۰)

لیکن بہر حال مغرور ہر گز نہیں ہونا چاہئے ،اور خود کو موعظ و پند و نصائح اورخدائی امدادوں سے بے نیاز نہیں سمجھنا چا ہیئے۔بلکہ ہمیشہ اس سے پناہ ما نگنی چا ہیئے اور ہمیشہ بیدار اور ہو شیار رہنا چا ہیئے ۔

۲ ۔ اس ارے میں کہ تین آیات میں ”ناس “کا تکرار کیوں ہوا ہے ؟بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ہر مقام پر الگ الگ معنی ہے ۔

لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ خدا کی ان تین صفات کی عمو میت کی تا کید کے لیے ہے اور تینوں مقام پر ایک ہی معنی رکھتا ہے ۔

۳ ۔ ایک روایت میں پیغمبر اکرم سے آیا ہے :

ما من مئومن الا و لقلبه فی صدره اذنان :اذن ینفث فیها الملک و اذن ینفث فیها الو سواس الخناس فیئو ید الله المومن با لملک فهوقو له سبحانه:و ایدهم بروح منه :

”ہر مومن کے دل میں دو کان ہوتے ہیں ،ایک کان میں فرشتہ پھو نک مارتا ہے اور دوسرے کان میں وسواس خناس پھونک مارتا ہے ۔پس خدا مومن کی فر شتہ کے ذر یعے تا ئید فر ماتا ہے ۔اور آیہ ”و ایدہ بروح منہ “کا مطلب یہی ہے ۔“(۱)

ایک لرزہ خیز اور پر معنی حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ :

جب آیہ”( والذین اذا فعلو ا فا حشةاو ظلمو ا انفسهم ذکرواالله فا ستغفرو الذنو بهم ) :”(وہ لوگ جو کبھی کوئی برا کام انجام دیتے ہیں ،یا خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے ہیں ،اور اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے ہیں )نازل ہوئی ،تو ابلیس مکہ میں ایک پہاڑکے اوپر گیا اور اونچی آواز کے ساتھ فر یاد کی اور اپنے لشکر کے سرداروں کو جمع کیا ۔

انہوں نے کہا :اے آقا!کیا ماجرا ہے ،آپ نے ہمیں کیوں بلایا ہے ۔؟

اس نے کہا :یہ آیت نازل ہوئی ہے (اس آیت نے میری کمر میں لر زہ پیدا کر دیا ہے اور یہ آیت نجات بشر کا باعث )تم میں سے کون ہے جو اس کا مقابلہ کرے ؟

بزرگ شیطا نوں میں سے ایک نے کہا :میں ایسا کر سکتا ہوں ،میرا منصوبہ یہ ہے ۔

ابلیس نے اس کے اس منصوبہ کو نا پسند کر دیا !تو دوسرا کھڑا ہوں اور اس نے اپنا منصوبہ پیش کیا ،لیکن یہ بھی قبو ل نہ کیاگیا ۔

اس موقع پر ”وسواس خناس کھڑا ہوا اور ا س نے کہا :میں اس کام کو انجام دوں گا ۔

ابلیس نے کہا : وہ کیسے ؟

اس نے کہا :میں انہیں وعدوں اور آرزوؤں میں سر گرم کر دوں گا ،یہا ں تک کہ وہ گناہ میں آلودہ ہو جا ئیں گے ،جب وہ گناہ کر لیں گے تو میں انہیں توبہ کرنا بھلا دوں گا ۔

ابلیس نے کہا :تو اس کام سے عہدہ بر آ ہو سکتا ہے ۔(تیرا منصوبہ بہت ما ہرانہ اور عالی ہے )اور یہ کام قیا مت تک اس کو سپرد کر دیا ۔(۲)

خدا وندا !ہمیں ان سب وسوسہ ڈالنے والوں کے شر سے اور خناس کے تمام وسوسوں سے محفوظ فر ما ۔

پروردگار !دام فر یب سخت ہے ،اور دشمن بیدار اور ا س کے منصوبے مخفی اور پنہاں ہیں اور تیرے لطف کے بغیر نجات ممکن نہیں ہے ۔

با ر الٰہا!ہم نہیں جانتے کہ اس عظیم نعمت کا شکر تیری بار گاہ میں کس طرح پیش کریں کہ تو نے ہم پر احسان کیا ہے اور ہمیں یہ عظیم افتخار اور تو فیق عطا فر مائی ہے کہ ہم نے اس وقت تقر یباََپندرہ سال کے بعد اس تفسیر کو مکمل کر دیا ہے ۔

خدایا !تو جانتا ہے کہ اس لمحہ ایک ایسی نا قابل تو صیف خوشی اور شکر کے ساتھ ملی ہوئی شادمانی ہمارے سارے وجود میں مو جزن ہے ،ایسا احساس جس کی کسی بیان کے ساتھ تشریح اور اس کے شکر کی ہم میں تو انائی نہیں ہے ،ہم تیری بار گاہ میں ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتے ہیں ۔

آفر ید گار ا!ممکن ہے ہم سے ان آیات کی تفسیر میں کچھ لغزشیں ہو گئی ہوں ،تو وہ سب ہمیں بخش دے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ تیرے بندے بھی ہمیں بخش دیں گے ،اور آخری جملہ میں ہم یہ عرض کرتے ہیں : اے خدا ئے رحیم و مہر بان !اپنے کرم سے یہ نا چیز خدمت ہم سب سے قبول فر مالے اور اسے ہماری معاد اور روز جزا کا ذخیرہ قرار دے ۔

واٰخر دعواناان الحمدلله رب العالمین ۔

____________________

۱۔”مجمع البیان “جلد ۱۰ ،ص۵۷۱

۲۔”(المیزان “جلد ۲۰،ص ۵۵۷ )


فہرست

مقدمه ۴

یہ کوشش کب شروع ہوئی اور کہاں تک پہنچی ۵

ایک خطر ناک غلطی ۶

تقاضے اور احتیاج ۶

کس تفسیر کا مطالعہ کرنا بہتر ہے ۸

گفتار مترجم ۱۱

اس تفسیر کی خصوصیات ۱۳

سورہ تکویر ۱۵

سورہ تکویر کے مضامین ۱۵

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۱۵

ـآیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹ ۱۷

جس دن کائنات کے دفتر کو لپیٹ دیاجائے گا ۱۸

۱ ۔ لڑکیوں کو زندہ در گور کرنا ۲۳

اس جرم کے مختلف اسباب و عوامل تھے ۲۳

آیات ۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴ ۲۵

اس دن معلوم ہو گاکہ ہم کتنے پانی میں ہیں ۔ ۲۵

۱ ۔نظم آیات ۲۷

۲ ۔کیا نظام شمسی ختم ہو جائے گا اور ستاروں کے چراغ گل ہوجائیں گے ؟ ۲۸


آیات ۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵ ۳۰

وحی الہٰی اس پر نازل ہوئی ۳۱

رسول کی شائستگی کی شرطیں رسول کی شائستگی کی شرطیں ۳۹

آیات ۲۶،۲۷،۲۸،۲۹ ۴۰

اے غافلو!کہا جارہے ہو ؟ ۴۰

سورہ انفطار ۴۳

سورہ انفطار کے مضامین ۴۳

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۴۳

آیات ۱،۲،۳،۴،۵ ۴۴

جس وقت جہان کا نظام زیر و زبر ہو جائے گا ۔ ۴۴

وہ آثار جو انسان کے بعد باقی رہ جاتے ہیں ۴۸

آیات ۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲ ۵۰

اے انسان تجھے کس چیز نے مغرور کردیا ہے ؟ ۵۰

ثبت اعمال کے مامورین ۵۹

آیات ۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۱۹ ۶۲

سب امور اللہ سے مخصوص ہیں ۔ ۶۲

سورہ مطففین ۶۷

سورہ مطففین کے مضامین کا دائرہ ۶۷

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۶۷

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶، ۶۹


شان نزول ۶۹

کم تولنے والوں پر وائے ہے ۷۰

کم تولنا فساد فی الارض کا ایک سبب ہے ۷۵

آیات ۷،۸،۹،۱۰ ۷۸

تو کیا جانے سجین کیاہے ؟ ۷۸

آیات ۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷ ۸۳

گناہ دلوں کا زنگ ہے ۸۳

۱ ۔ دل کے لئے گناہ کیوں زنگ ہے ۸۸

۲ ۔ روح و جان کے چہرہ پر عذاب ۸۹

آیات ۱۸،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵،۲۶،۲۷،۲۸ ۹۱

عِلیین ابرار کے انتظار میں ہے ۹۲

چند نکات ۹۸

ابرار اور مقربین کون لوگ ہیں ؟ ۹۸

۲ ۔ جنت کی شرابیں ۹۹

آیات ۲۹،۳۰،۳۱،۳۲،۳۳،۳۴،۳۵،۳۶ ۱۰۱

شال نزول ۱۰۱

اس دن وہ مومنین کا مذاق اڑاتے تھے لیکن آج ۱۰۲

ایک نکتہ ۱۰۷

دشمنانِ حق کا مذاق اڑانے کا بزدلانہ حربہ ۱۰۷

سورہ انشقاق ۱۰۸


سورہ انشقاق کے مضامین ۱۰۸

تلاوت کی فضیلت ۱۰۸

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹ ۱۰۹

کمالِ مطلق کی طرف رنج آمیز سعی و کوشش ۱۱۰

چند نکات ۱۱۵

۱ ۔ ایسی حدیث جس میں اعجاز ہے ۱۱۵

۲ ۔ دنیا رنج و تکلیف اور دکھ درد کا گھر ہے ۱۱۶

آیات ۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵ ۱۱۷

وہ جو شرم و حیاکے باعث اپنانامہ اعمال پشت کی طرف سے لیں گے ۱۱۷

آيات ۱۶،۱۷،۱۸،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵ ۱۲۱

تم ہمیشہ دگر گوں ہوتے رہتے ہو ۱۲۲

ایک نکتہ ۱۲۷

سورہ بروج ۱۲۹

سورہ بروج کے مضامین اور اس کی فضیلت ۱۲۹

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹ ۱۳۲

مومنین انسانوں کو جلانے والی بھٹیوں کے سامنے ۱۳۳

۱ ۔ اصحابِ اخدود کون لوگ تھے ؟ ۱۴۰

۲ ۔ حفظ ایمان کے سلسلہ میں استقامت ۱۴۳

آیات ۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶، ۱۴۵

تشدد کرنے والے عذاب ِ الہٰی کے سامنے ۱۴۵


آیات ۱۷،۱۸،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲ ۱۵۰

تونے دیکھا کہ خدا نے فرعون و ثمود کے لشکروں کے ساتھ کیا کیا؟ ۱۵۰

سورہ طارق ۱۵۴

سورہ طارق کے مضامین اور ان کی فضیلت ۱۵۴

اس سورہ کی فضیلت ۱۵۴

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹،۱۰ ۱۵۶

اے انسان دیکھ کہ تو کس چیز سے پید اہو اہے ۱۵۷

آيات ۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷ ۱۶۶

میں دشمنوں کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیتا ہوں ۱۶۶

سورہ اعلیٰ ۱۷۲

سورہ اعلیٰ کے مضامین اور ان کی فضیلت ۱۷۲

تلاوت کی فضیلت ۱۷۲

آیات ۱،۲،۳،۴،۵ ۱۷۵

خدا وند ِ عظیم کی تسبیح کر ۱۷۵

ایک نکتہ ۱۷۹

آیات ۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳ ۱۸۲

ہم تجھے ہر اچھے کام کے لئے آمادہ کریں گے ۱۸۲

آیات ۱۴،۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۱۹ ۱۸۹

وہ دستور العمل جو تمام آسمانی کتب میں آیاہے ۱۸۹

حب الدنیا رأس کل خطیئة کی تحلیل ۱۹۳


سورہ غاشیہ ۱۹۶

سورہ غاشیہ کی مشتملات اور اس کی فضیلت ۱۹۶

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۱۹۶

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷ ۱۹۶

بد نصیب تھکے ماندے ۱۹۷

آیات ۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶ ۲۰۱

بہشت کی روح پرور نعمتوں کے مناظر ۲۰۱

آیات ۱۷،۱۸،۱۹،۲۰،۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵،۲۶ ۲۰۶

اونٹ کی طرف دیکھوجوخود ایک آیت ہے ۲۰۶

سورہ فجر ۲۱۴

سورہ فجر کے مشمولات ۲۱۴

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۲۱۴

آیات ۱،۲،۳،۴،۵ ۲۱۴

تمہاری صبح کی سفیدی کی قسم ۲۱۵

آیات ۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴ ۲۲۲

تیرا پرور دگار ظالموں کی گھات میں ہے ۲۲۲

آیات ۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۱۹،۲۰ ۲۳۰

نہ اس کی نعمت کے ملنے پر غرور کرو او رنہ سلب نعمت پر مایوس ہو ۲۳۰

آیات ۲۱،۲۲،۲۳،۲۴،۲۵،۲۶ ۲۳۶

آیات ۲۷،۲۸،۲۹،۳۰ ۲۴۱


اے صاحب نفس مطمئنہ! ۲۴۱

سورہ بلد ۲۴۴

سورہ بلد کی فضیلت اور اس کا مضمون ۲۴۴

سورہ بلد کی فضیلت ۲۴۴

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷ ۲۴۵

اس شہر ِ مقدس کی قسم ۲۴۵

آنکھ ، زبان او رہدایت کی نعمت ۲۵۲

۱ ۔ آنکھ کی حیرت انگیز یاں ۲۵۵

۲ ۔ زبان کی حیرت انگیزیاں ۲۵۹

۳ ۔ نجدین کی طرف ہدایت ۲۵۹

آیات ۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷،۱۷،۱۸،۱۹،۲۰ ۲۶۱

دشوار گزار گھاٹی ۲۶۱

چند قابل ِ توجہ نکات ۲۶۳

سورہ الشمس ۲۶۹

سورہ الشمس اور اس کی فضیلت ۲۶۹

فضیلت تلاوت ۲۶۹

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹،۱۰ ۲۷۱

تہذیب نفس کے بغیر نجات ممکن نہیں ۲۷۱

۱ ۔ قرآنی قسموں کا ان کے نتائج کے ساتھ ربط ۲۸۱

۲ ۔ سورج کا عالم ِ حیات میں نقش و اثر ۲۸۱


آیات ۱۱،۱۲،۱۳،۱۴،۱۵، ۲۸۳

سر کشوں کا ہلاکت خیز انجام ۲۸۳

۱ ۔ قوم ثمود کی سر گزشت کا خلاصہ ۲۸۹

۲ ۔ اشقی الاولین“ و اشقی الاٰخرین“ ۲۹۰

۳ ۔ تہذیب نفس ایک عظیم خدائی وظیفہ ہے ۲۹۱

سورہ اللیل ۲۹۳

سورہ ” اللیل “ کے مضامین ۲۹۳

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۲۹۳

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱ ۲۹۳

سورہ ”و اللیل کا شان نزول ۲۹۴

تقویٰ اور خدائی امدادیں ۲۹۶

آیات ۱۲،۱۳،۱۴،۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۱۹،۲۰،۲۱ ۳۰۲

انفاق اور جہنم کی آگ سے دوری ۳۰۲

سورہ و اللیل کے شانِ نزول کے بارے میں ایک بات ۳۰۷

۲ ۔ انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت ۳۱۰

سورہ ضحٰی ۳۱۲

سورہ” الضحیٰ“کے مضامین اور اس کی فضیلت ۳۱۲

اس سورہ کی فضیلت ۳۱۲

آیات ۱،۲،۳،۴،۵ ۳۱۳

شان نزول ۳۱۳


تجھے اس قدر عطا کرے گا کہ تو خوش ہوجائے گا ۳۱۵

انقطاع وحی کا فلسفہ ۳۱۹

آیات ۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱ ۳۱۹

ان تمام نعمتوں کے شکرانے میں جو خدا نے تجھے دی ہیں ۳۱۹

۱ ۔ مصائب و آرام کے درمیان سے مبعوث ہونے والا پیغمبر ۳۲۷

۲ ۔ یتیموں پر نوازش و شفقت ۳۲۹

۳ ۔ نعمتوں کو بیان کرنا ۳۳۲

سورہ الم نشرح ۳۳۳

سورہ” الم نشرح“ کے مضامین ۳۳۳

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۳۳۵

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸ ۳۳۵

ہم نے تجھے انواع وا قسام کی نعمتیں عطا کی ہیں ، ۳۳۶

چند نکات ۳۴۴

سورہ التین ۳۴۷

سورہ ” التین “مطالب اور فضیلت ۳۴۷

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۳۴۷

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸ ۳۴۷

ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے ۔ ۳۴۸

انجیر اور زیتون کا فایده ۳۵۱

سورہ العلق ۳۵۶


سورہ علق کے مطالب اور فضیلت ۳۵۶

اس سورہ کی قرات کی فضیلت ۳۵۶

آیات ۱،۲،۳،۴،۵، ۳۵۷

شانَ نزول ۳۵۷

اپنے پروردگار کے نام سے پڑھ ۳۶۰

۱ ۔ وحی کا آغاز ایک حرکت علمی کے آغاز کے ساتھ ہوا ۔ ۳۶۳

۲ ۔ ہرحال میں ذکرِ خدا ۳۶۴

آیات ۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱،۱۲،۱۳،۱۴ ۳۶۷

کیا تجھے معلوم نہیں کہ خدا تیرے تمام اعمال کو دیکھتا ہے ؟ ۳۶۷

عالم ہستی محضر خدا میں ہے ۳۷۰

آیات ۱۵،۱۶،۱۷،۱۸،۱۹ ۳۷۲

سجدہ کر اور تقرب حاصل کر! ۳۷۲

سر کشی اوربے نیازی کا احساس ۳۷۷

اس جہل و نادانی، اور اس بے خبری اور خیرہ سری سے خدا کی پناہ ۳۷۷

سورہ القدر ۳۷۹

سورہ قدر کے مطالب ۳۷۹

اس سورہ کی فضیلت ۳۸۰

آیات ۱،۲،۳،۴،۵ ۳۸۰

شب قدر نزولِ قرآن کی رات ۳۸۱

۱ ۔ شب قدر میں کون سے امورمقدّر ہوتے ہیں ؟ ۳۸۶


۲ ۔ شب قدر کون سی رات ہے ؟ ۳۸۷

۳ ۔ شب قدر مخفی کیوں رکھی گئی ؟ ۳۸۹

۴ ۔ کیا گزشتہ امتوں میں بھی شب قدر تھی؟ ۳۸۹

۵ ۔ شب قدر ہزار ماہ سے کیسے بر تر ہے ؟ ۳۹۰

۶ ۔ قرآن شب قدر میں کیوں نازل ہوا؟ ۳۹۰

۷ ۔ کیا مختلف علاقوں میں ایک ہی شب قدر ہوتی ہے ؟ ۳۹۱

سورہ بینة ۳۹۲

سورہ بینہ کے مطالب ۳۹۲

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۳۹۲

آیات ۱،۲،۳،۴،۵، ۳۹۳

یہ جاودانی دین ہے ۳۹۵

آیات ۶،۷،۸، ۳۹۹

بہترین اوربد ترین مخلوق ۴۰۱

۱ ۔ علی علیہ السلام اور ان کے شیعہ خیر البریہ ہیں ۴۰۴

۲ ۔ عبادت میں خلوص نیت لازم ہے ۴۰۸

۳ ۔ انسان کی عجیب قوسِ صعودی و نزولی ۴۰۸

سورہ الزّلزال ۴۰۹

سورہ زلزلہ کے مطالب اور فضیلت ۴۰۹

اس سورہ کی فضیلت ۴۱۰

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸ ۴۱۰


جس دن انسان اپنے تمام اعمال دیکھے گا ۴۱۲

۱: قیامت کے حساب و کتاب میں دقت اور سخت گیری ۴۱۸

۲ ۔ ایک سوال کا جواب ۴۱۸

۳ ۔ قرآن کی سب سے زیادہ جامع آیات ۴۱۹

سورہ العٰدیٰت ۴۲۱

سورہ و العادیات کے مطالب ۴۲۱

اور اس کی فضیلت ۴۲۲

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱ ۴۲۲

شان نزول ۴۲۳

بیدار مجاہدین کی قسم ۴۲۵

اس سورہ کی قسموں اور ا س کے ہدف کے درمیان ربط ۴۳۵

۲ ۔ کیا انسان طبعاً ناشکرا اور بخیل ہے ؟ ۴۳۵

۳ ۔ جہاد کی عظمت ۴۳۷

سورہ القارعة ۴۳۹

سورہ قارعہ کے مطالب اور اس کی فضیلت ۴۳۹

اس سورہ کی فضیلت ۴۳۹

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹،۱۰،۱۱ ۴۴۰

چھبنے والا حادثہ ۴۴۰

البتہ دونوں کا نتیجہ ایک ہے ، لیکن دو مختلف راستوں سے۔ ۴۴۶

میزان اعمال کی سنگینی کے اسباب ۴۴۶


سورہ التکاثر ۴۴۹

سورہ تکاثر کے مطالب اور اس کی فضیلت ۴۴۹

اس سورہ کی فضیلت ۴۴۹

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸ ۴۵۰

شان نزول ۴۵۰

تکاثر و تفاخر کی مصیبت ۴۵۲

تکاثر و تفاخر کی مصیبت ۴۵۳

۱ ۔ تفاخرکا سر چشمہ ۴۵۸

۲ ۔ یقین اور اس کے مراحل ۴۶۱

۳ ۔ سب لوگ دوزخ کا مشاہدہ کریں گے ۴۶۴

۴ ۔ قیامت میں کونسی نعمتوں کے بارے میں سوال ہوگا؟ ۴۶۴

سورہ و العصر ۴۶۶

سورہ و العصر کے مطالب ۴۶۶

اس سورہ کی فضیلت ۴۶۶

آیات ۱،۲،۳،، ۴۶۸

نجات کی صرف ایک راہ ۴۶۸

خوش بختی کا چار نکاتی پروگرام ۴۷۴

سورہ ھمزة ۴۷۸

سورہ ھمزہ کے مطالب اور فضیلت ۴۷۸

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۴۷۸


آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷،۸،۹ ۴۷۹

شان نزول ۴۷۹

۱ ۔ کبر و غرور بڑے برے گناہوں کا سرچشمہ ہے ۴۸۸

۲ ۔ مال جمع کرنے کی حرص ۴۸۸

سورہ فیل ۴۹۳

سورہ فیل کے مطالب ۴۹۳

اور اس کی فضیلت ۴۹۳

آیات ۱،۲،۳،۴ ۴۹۴

شان نزول ۴۹۴

اصحاب فیل کی داستان ۴۹۶

تفسیر ۵۰۱

ابرھہ سے کہہ دو کہ وہ آنے میں جلدی نہ کرے ۵۰۱

۱ ۔ ایک بے نظیر معجزہ ( اس گھر کا ایک مالک ہے ) ۵۰۴

۲ ۔ معمولی وسیلہ سے سخت ترین سزا ۵۰۶

۳ ۔ داستان ِ فیل کے اہداف ۵۰۶

۴ ۔ ایک مسلّم تاریخی روئیداد ۵۰۸

سورہ قریش ۵۰۹

سورہ قریش کے مطالب ۵۰۹

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۵۱۰

آیات ۱،۲،۳،۴، ۵۱۱


اس گھر کے پروردگار کی عبادت کرنی چا ہیئے ۔ ۵۱۱

سورئہ الماعون ۵۱۶

سورہ ما عون کے مطالب ۵۱۶

اس سورہ کی فضیلت ۵۱۶

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶،۷، ۵۱۷

معاد کے انکار کے اثراتِ بد ۵۱۷

۱ ۔ سورہ ماعون کے مباحث کی جمع بندی ۵۲۲

۲ ۔ تظاہر و ریا ایک بہت بڑی اجتماعی مصیبت ہے ۔ ۵۲۲

آمین یا رب العالمین ۔ ۵۲۴

سورہ الکو ثر ۵۲۵

سو رہ کوثر کے مطالب اور اس کی فضیلت ۵۲۵

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۵۲۶

آیات ۱،۲،۳، ۵۲۶

ہم نے تجھے فرا واں خیر و بر کت دی ۵۲۷

۱ ۔ حضرت فاطمہ او ر ”کوثر“ ۵۳۰

۲ ۔ اس سورہ کا اعجاز ۵۳۱

۳ ۔ خُدا کے لیے جمع کی ضمیر کس لیے ہے؟ ۵۳۱

سورہ کافرون ۵۳۲

سورہ کافرون کے مطالب اور اس کی فضیلت ۵۳۲

اس سورہ کی فضیلت ۵۳۳


آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶ ۵۳۴

شان نزول ۵۳۵

بت پرست کے ساتھ ہر گز مصالحت نہیں ہو سکتی ۵۳۵

۲ ۔ کیا بت پرست خدا کے منکر تھے؟ ۵۳۷

۳ ۔یہ تکرار کس لیے ہے؟ ۵۳۸

۴ ۔کیا” ( لکم دینکم ) ۔۔۔۔۔“ کی آیت کا مفہوم بت پرستی کا جواز ہے؟ ۵۳۹

۵ ۔آپ نے ایک لمحہ کے لیے بھی شرک سے مصالحت نہیں کی۔ ۵۴۰

سورہ نصر ۵۴۲

سورہ نصر کے مطالب اور اس کی فضیلت ۵۴۲

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۵۴۴

آیات ۱،۲،۳، ۵۴۴

جب اصلی کامیابی آن پہنچے ۵۴۴

فتح مکہّ میں اسلام کی عظیم ترین فتح: ۵۴۸

فتح مکہّ تین مراحل میں انجام پائی:۔ ۵۴۹

سورہ اللھب ( تبّت) ۵۵۵

سورہ لہب ( تبّت) کے مطالب اور اس کی فضیلت ۵۵۵

اور اس کی فضیلت ۵۵۵

شانِ نزول ۵۵۵

آیات ۱،۲،۳،۴،۵ ۵۵۷

ابو لہب کا ہاتھ کٹ جائے ۵۵۷


۱ ۔ قرآن کے اعجاز کی ایک اور نشانی ۵۶۳

۲ ۔ ایک اور سوال کا جواب ۵۶۳

۳ ۔بے بصیرت رشتہ دار ہمیشہ دور ہوتے ہیں ۔ ۵۶۴

سورہ اخلاص ۵۶۵

سورہ اخلاص “ کے مطالب ۵۶۵

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۵۶۵

آیات ۱،۲،۳، ۵۶۹

اللہ “خدا کااسم خاص ہے ۵۷۰

لفظ ”احد ۵۷۱

۱ ۔ توحید کے دلائل ۵۷۹

توحید کی اقسام ۵۸۱

۱ ۔ توحید ذات : ۵۸۱

۲ ۔ تو حید صفات : ۵۸۱

۳ ۔ تو حید افعالی : ۵۸۱

۴ ۔توحید در عبادت : ۵۸۲

۳ ۔توحید افعال کی اقسام ۵۸۳

۱ ۔ توحید خالقیت : ۵۸۳

۲ ۔ تو حید ر بو بیّت : ۵۸۳

۳ ۔توحید تشریع و قانون گزاری : ۵۸۳

۴ ۔تو حید در ما لکیت : ۵۸۳


۵ ۔ توحید حا کیمیت ۵۸۴

۶ ۔ تو حید اطاعت ۵۸۴

سور ہ الفلق ۵۸۶

سورئہ ”فلق “کے مطالب ۵۸۶

اس سورہ کی فضیلت ۵۸۷

آیات ۱،۲،۳،۴،۵ ۵۸۸

میں سپیدئہ صبح کے پر وردگار کی پناہ مانگتا ہوں ۔ ۵۸۸

۱- ۔شرو فساد کے اہم ترین سر چشمے ۵۹۳

۲ ۔آیات کا تنا سب ۵۹۳

۳ ۔ جادو کی تاثیر ۵۹۳

۴ ۔ حا سدوں کا شر ۵۹۴

سورہ الناس ۵۹۶

سورئہ الناس“ کے مطالب ۵۹۶

اس سورہ کی تلاوت کی فضیلت ۵۹۶

آیات ۱،۲،۳،۴،۵،۶ ۵۹۸

لوگوں کی پروردگار کی پناہ ما نگتا ہوں ۵۹۸

۱ ۔ ہم خدا کی پناہ کیوں ما نگتے ہیں ؟ ۶۰۲

تفسیر نمونہ جلد ١٥

تفسیر نمونہ

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
زمرہ جات: تفسیر قرآن
صفحے: 169