خورشیدفقاہت

مؤلف: آیت اللہ سید عادل علوی
اسلامی شخصیتیں


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


خورشیدفقاہت

مصنف : آیت اللہ سید عادل علوی

مترجم : اصغراعجازقائمی۔ بی۔ اے۔ فاضل مشرقیات


اھداء

میں استادعلام حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سیدشہاب الدین مرعشی نجفی کےدرخشاں حالات زندگی پرمشتمل اس حقیرپیش کش کوخون حسین علیہ السلام کے حقیقی منتقم حضرت بقیۃ اللہ الاعظم اروحنالہ الفداء کی بارگاہ میں نیز امت اسلامیہ اورحوزات علمیہ کےنام اھداء کرتاہوں۔

شفاعت کاخواہاں

دعاکاطالب

عادل علوی


تقریظ

حجۃ الاسلام والمسلمن عالی جناب مولانا محمدمجتبیٰ علی خان صاحب ادیب الہندی

ہمارے ہندوستان کے قادرالکلام مایہ نازشاعرمحترم معجزجلالپوری صاحب کےفرزندارجمنداصغراعجازقائمی صاحب جلالپوری بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں درس وتدریس میں تواپناسکہ بہت پہلےجماچکے تھےجامعہ ناظمیہ ہندوستان میں تعلیمی مراحل امتیازی حیثیت سےگزارنےکےبعدتکمیل علم کیلئے حوزہ علمیہ قم پہونچے رفتہ رفتہ معلوم ہوسا کہ موصوف علمی ترقیوں کے ساتھ ساتھ شعروشاعری کےدرجات بھی طے کررہے ہین اورشاعرانہ مزاج علمی امتزاج سے نیارنگ پیداکرتاہے ۔

یہ ساری خوبیان ایک طرف علم کی وادی میں اترنے کے بعداندازمیں نکھارپیداہواتوتصنیف وتالیف کاسلسلہ بھی شروع ہوگیا۔

الحمدللہ آپ کی پہلی کتاب حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سیدشہاب الدین مرعشی نجفی طاب ثراہ کی سوانح حیات"قبسات"کااردوترجمہ خورشیدفقاہت، کےنام سے منظرعام پرآرہی ہے ۔

وہ علماء جوپوری زندگی دین حق کی خدمت اوراس کی نشرواشاعت کیلئے زبان وقلم سے جہاد کرتے رہے ہیں ان میں ایک اہم نام حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سیدشہاب الدین مرعشی نجفی طاب ثراہ کاہے۔آپ نےپوری عمرعلم کی خدمت میں گزاری ولایت آپ کاخاص موضوع تھااخلاق الحق پرآپ کاحاشیہ اس بات کازندہ ثبوت ہے اس کے علاوہ فقہ وحدیث ،علم کلام تفسیرقرآن ،حساب ہندسہ ، علم افلاک ،علم طب ،ہرموضوع پراپنے وقت کے اہم اساتذہ سے رجوع کیااوراسی کانتیجہ تھاکہ شہر علم واجتہاد قم میں آپ کی شخصیت ایک بے مثل شخصیت تھی علم انساب میں آپ کوید طولیٰ حاصل تھااوراس علم میں آپ کاکوئی نظیرنہیں جس مردحق آگاہ نے پوری زندگی حق وصداقت کادرس دیااب اس برگزیدہ شخصیت کی سوانح بھی وہی عظمت رکھتی ہے اورپڑھنے والےکوتیزی سے حق کی طرف قدم بڑھانے کی دعوت دیتی نظرآرہی ہے۔

قابل مبارکبادہیں محترم اصغراعجاز قائمی صاحب کہ انھوں نے اس اہم کتاب کواردوکاقالب عطاکیاتاکہ اردو داں حضرات بھی علماء کی زندگی اورخدمات سےواقف ہوسکیں۔

میں دست بہ دعاہوں کہ خداوندعالم توفیقات نیک عطافرمائے اورحضرت معصومہ قم کاکرم شامل حال رہے تاکہ موصوف ہندوستان کے مسلمانوں اوربالخصوص شیعیان آل محمدکےلئے بہترسے بہترموضوعات پرکتاب لکھیں۔

والسلام

ادیب الہندی

۴شعبان المعظم ۱۴۱۵ہجری

روزولادت حضرت ابوالفضل العباس

طہران۔۔۔ ایران


عرض مترجم

آیۃ اللہ العظمیٰ سیدشہاب الدین مرعشی حسینی نجفی کی ذات باصفات ایک آفتاب عالم تاب کی حیثیت رکھتی تھی جس کی روشن کرنیں فقط ایران ہی میں نہیں بلکہ دوسرے ممالک کوبھی درخشان کئے ہوئے تھیں۔

زہد وتقوی ،رفتارو کردار ، ایمان وعرفان اورخلوص وللہیت جیسے اخلاق وصفات حمیدہ اورکمالات جلیلہ میں اپنی مثال آپ تھےشایداسی عرفان وایمان کانتیجہ تھاکہ آپ کئی مرتبہ حضرت امام (عج)کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ اورکئی مرتبہ عالم مکاشفہ میں حضرت فاطمہ معصومہ قم کادیدارکیالہذاضروری تھاکہ ایسی باکمال شخصیت سے اردو داں حضرات بھی آگاہ ہوں۔

اسی خیال کے پیش نظرجب میں حضرت امام رضاعلیہ السلام کی زیارت کیلئے عازم سفرتھااستادحجۃ الاسلام والمسلمین سیدعادل علوی صاحب قبلہ میں نے ان کی کتاب قبسات کے ترجمہ کی درخواست کی انھوں نے قبول فرمایااورمجھے کتاب ترجمہ کرنے کیلئے مرحمت فرمائی ۔میں کتاب لیکرمشہدمقدس روانہ ہوگیااوروہاں کی متبرک اورمعنوی فضامیں حضرت امام رضاعلیہ السلام سے توسل کرتے ہوئے ضریح اقدس کےقریب اس کتاب کےترجمے میں مشغول ہوا۔ الحمدللہ امام کی برکتوں سے یہ کام جومجھے بہت دشوارمعلوم ہورہاہے تھاآسان ہوگیا۔

ظاہرہے مطلب کوایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرناآسان نہین ہوتالہذامیں نے تحت اللفظی ترجمہ کومعیار نہین بنایابلکہ مولف کے اصل مفہوم کوترجمے کےساتھ اپنے الفاظ میں بیان کیاہے۔

ارباب قلم سے بصدخلوص گزارش ہے کہ اگر الفاظ وعبارات کی ترکیب وتوجیہ اوران کے معانی ومفاہیم کی ادائیگی میں کوئی غلطی نظرآئے تواس کی راہنمائی فرمائیں تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اسکی تصحیح ہوجائے ۔

آخرمیں استادحجۃ الاسلام والمسلمین مجتبیٰ علی خان قبلہ ادیب الہندی کاشکریہ اداکرنااپنافریضہ سمجھتاہوں اس لئے کہ انھوں نے اپنے ایران کےمختصرقیام کے دوران اس کتاب پر تقریظ ثبت فرمائی ساتھ هی ساتھ حجۃ الاسلام والمسلمین سید احتشام عباس صاحب زیدی کابھی نهایت هی ممنون و مشکور هوں که انهوں نے اپنی علمی اورادبی مصروفیات کےباوجود ابتداء سے انتہاتک اس ترجمہ کی تصحیح وترتیب میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔خداان حضرات کوجزائے خیردے۔

والسلام

اصغراعجازقائمی۔ بی۔ اے۔ فاضل مشرقیات

(مدرسہ حجتیہ )حوزہ علمیہ قم۔۔۔۔ ایران


مقدمہ مولف

الحمد لله الذی خلق الانسان و علمه البیان والصلاة والسلام علیٰ النبی الاعظم والوصی الاکرم محمدخاتم الانبیاء وعلیٰ سیدالوصیاء وعلیٰ آل رسول الله الهداة المیامین الطیبین الطاهرین، فی الارضین خاتم الوصیین مولاناصاحب الزمان القائم المنتظرعجل الله فرجه وسهل مخرجه امابعد :

"خداوند عالم کی حمدوثنااورمحمدوآل محمد پردرودوسلام کےبعد"

ہرشخص اس بات پرگواہ کہ بے علماء اسلام کی زندگی بذات خودایک درس اور مشعل حیات ہے جوراستوں کوروشن ومنورکرتی ہے، انسانیت کوگمراہی اورپستی کی طرف سبقت کرنے سے نجات دیتی ہے۔

ان کی زندگیاں روشن چراغ کی ہیں جوانسانی معاشرے کوروشنی بخشنے کیلئے پیہم جلتی رہتی ہیں ان کی حیات کےماہ وسال وہ باثمردرخت ہیں جوآنے والی نسلوں کونیک زندگی کےثمرات اوراس کابہترین ذائقہ عطاکرتی ہیں ۔ان کی حیات کےایام وہ گلاب اورپھول ہیں جن سے زندگی میں خوشبوبکھرتی ہے۔

نیک اورصالح علماء ہی گمراہی اورپستی سے شریعت کی حفاظت کرتے ہیں یہی لوگ فسق وفجوراورغرورتکبرسےانسانیت کوبچاتے ہیں ان کی بصیرت ،دوربینی،ایمان راسخ اورعلم کامل کانتیجہ ہے کہ دین شیاطین کی کارستانیوں سے محفوظ رہتاہے۔

دین کےنیک افرادہی رسول کے امین ،امتوں کےرہبر،قبائل کےرہنما،انسانی معاشرے کاچراغ ،اللہ کےسفیراورانبیاء واوصیاء کےوارث ہیں۔

اگرنیک اورروشن فکرعلماء کاوجودنہ ہوتاتومعاشرے کےتاروپودبکھرجاتےماضی کےآثار مٹ جاتے ۔تہذیب کےپھول مرجھاجاتے ،انسانی عزت وآبروخاک میں مل جاتی دین کےآثاردھندلے ہوجاتے ،گمراہوں کی حکومت ہوتی،جہالت وبدبختی کےناخن درآتے۔

علماء اعلام کادنیاسے اٹھ جانازمین پرایک نقص اورزندگی کیلئے ایک ستم ہے خداوندعالم فرماتاہے "( أَوَلَمْ یَرَوْاْ أَنَّا نَأْتِی الأَرْضَ نَنقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا ) "(۱)

(کیاوہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کواس کےاطراف سےگھٹاتے چلے آئے ہیں)

اسی آیت کےذیل میں حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نےاپنی ایک حدیث میں فرمایاہے۔"انمانقص الارض بموت العالم۔"بےشک باعمل عالم کےاٹھ جانے سے روئے زمین پرنقص پیداہوجاتاہے ۔

"واذا مات العالم الفقیة ثلم فی الاسلام ثلمة لایسدهاشی ء الابقیه آخر

(اورجب کوئی فقیہ عالم دنیاسےاٹھتاہےتواسلام میں ایک رخنہ پڑجاتاہے جسے دوسرے فقیہ کےعلاوہ کوئی چیزپرنہیں کرسکتی)

حضرت رسول اکرم خاتم النبیین ؐ نے ہمارے درمیان لوگوں کی ہدایت وسعادت کیلئے دوگرانقدرچیزیں چھوڑی ہیں قرآن کریم اوراہلبیت علیہم السلام کتاب خداایک ایسی رسی ہے جس کاسلسلہ آسمان سے زمین تک ہے اوراہل بیت اطہارعلیہم السلام وہ قرآن ناطق ہیں جوہمارے درمیان قرآن صامت کے ترجمان ہیں اہل بیت اطہارعلیہم السلام کے پاس جوبھی علم وعرفان کی دولت ہےوہ سب قرآنی سرمایہ ہے اس لئے یہ دونوں چیزیں ہرگزجدانہیں ہوسکتیں جب تک نبی اکرمؐ کےنزدیک حوض کوثرپرواردنہ ہوں۔ہم نے ان دونوں بیش بہاچیزوں سے قول وعمل اورکرداروعقیدے کی بنیاد ہی تمسک اختیارکیاہے لہذاہم نبی اکرمؐ کی وفات کےبعد سےروزجزاتک ہرگزصراط مستقیم سے جدانہ ہوں گے۔ائمہ کرام شریعت کے محافظ ہیں اورغنیمت کبریٰ کے زمانے میں ائمہ کی طرح ہی فقہاء عظام اس کے پاسبان ہیں جولوگوں کوخیروصلاح کی تعلیم دیتے ہیں۔

"اما من کان من الفقهاء صائنالنفسه حافظالدینه مخالفالهواه مطیعالامرمولاه فعلیٰ العوام ان یقلدوه " جوفقیہ اپنے نفس کی نگہداشت اوراپنے دین کی حفاظت کرنے والاہوخواہشات نفسانی کامخالف اورامرمولاکامطیع وفرمانبردارہوعوام پراس کی تقلیدکرناواجب ہے۔

اسلامی علوم سے آگاہ اورالٰہی معارف کے سالک کامل فقہاء عظام اورمرجع کرام کےدرمیان استادعلام کی ذات باکمال بھی نمایاں تھی۔

آپ بزم فقہاء میں ایک بے مثل متقی فقیہ اورمستحکم عقل وفیصلے کے مالک تھے۔

مصنفین کی محفل میں عظیم الشان مولف اوربلندوبلامویدتھے۔

اخلاق فاضلہ میں سچےاستاداورشریف امین تھے۔

سیاست میں تیروسنان اورسیف ہندی کےمانندتھے۔

علم نسب میں ماہرفن اورتجربہ کارتھے ۔

مختلف علوم وفنون میں قادراستادصاحب نظراورمشہورمحقق تھے۔

اپنے زمانے میں شیخ الاجازہ اورسیدالکرامہ تھے ۔

آپ کی آنکھیں پرکشش ،ہونٹ متبسم، اورچہرہ ایساتھاجس سے صالحین کی صباحت متقین کی ہیبت اورمومنین کاوقارجھلکتاتھا۔ آپ کاچہرہ ہشاش وبشاش اوردل غمگین رہاکرتاتھاآپ کی باتیں صحیح ودرست ،لباس سادہ،پاکیزہ اوررفتارمتواضع تھے۔آپ خالق کون ومکان کواپنے دل میں عظیم اوراس کےماسواء کواپنی نظرمیں ہیچ سمجھتے تھے۔آپکی فکرجوالہ،ذکرجوہرخیز،بحث وگفتگوجمیل اورملاقات کریمانہ ہواکرتی تھی،آپ کاسراپاوجودغافلوں کوبیدارکرنے والااورجاہلوں کوآگاہ کرنے والاتھاجوتکلیف نہیں دیتےتھےمحرمات سے بری اورشبہات سے پرہیزکرنے والے تھے آپ بہت زیادہ بخشش کرنے والے اوردوسرے سے بہت کم خدمت لینے خدمت والے تھے آپ کادیدارشریں اورعبادت طولانی ہواکرتی تھی جوآپ سے جہالت کرتاتھااس کےمقابلے میں حلیم وبردبارتھے اورجوگستاخی کرتاتھااس پرصبرکرنے والے تھے بزرگوں کااحترام اورچھوٹوں پررحم کرتے تھے آپ کاطرزعمل ادب کی تصویرکلام حیرت انگیزدل متقی اورعلم زکی تھاآپ خداکی رضاپرراضی اورشکرگزارعفیف شریف نیک محفوظ وفاداراور کریم تھے جوآپ سے کچھ روکتاتھااسی کوعطاکرتےاورجوقطع تعلق اختیارکرتااسی سے صلہ رحم کرتے تھے آپ خوش مزاج کم خوراک ظریف وفطین محبت میں خالص عہدوپیمان میں کھرے دقیق النظر اوربہت خاشع تھے آپ کی نگاہ عبرت سکوت فکراورکلام حکمت تھاآپ نفسانی خواہشات کے مخالف امرمولاکے مطیع وفرمانبردار تھے آپ بہت کم آرام کرتے اورہمیشہ چاق وچوبندتھے آپ میں لجاجت ہٹ دھرمی کذب وعنادحسدونمیمہ اورکبرونخوت نام کوبھی نہیں تھامومنین آپ کواپنے اموراوراموال میں امین بناتے تھے آپ سے خیروصلاح کی امیدیں کی جاتی تھے برائیاں آپ سے کوسوں دورتھیں اورفقروفاقہ آپ کے نزدیک تونگری سے زیادہ محبوب تھاآپ نے اپنے اندرمتقین کے صفات اورانبیاء اوصیاء کے کمالات جمع کررکھیں تھے۔

میں نے ان صفات اورملکات فاضلہ کواستادعلام کی ذات میں بارہالمس اورمحسوس کیاہے اگرکوئی ایک مرتبہ بھی آپ کی ہم نشینی اختیارکرلیتاتووہ آپ کےنیک اخلاق کشادہ روئی وسعت علمی اورکامل معرفت کاکلمہ پڑھنے لگتاتھا۔آپ اپنی محفل میں مختلف داستانیں بیان کرتے تاکہ ہم نشینوں پرگراں نہ گزرےآپ کی بزم سے جوبھی اٹھ کرجاتاتھاوہ اپنے علم میں اضافہ ،آخرت کی طرف رغبت ،اورخداکے ذکرسے لگاومحسوس کرتاتھا۔اس کےتمام رنج وغم دورہوجاتے تھےاوراسے ایسالگتاتھاجومصیبت اس کے اوپرپڑی ہے اسے آ پ کی زبان سے رہاہے اسی وجہ سے آپ کی بزم اہل دردسے خالی نہیں رہتی تھی۔

اورجہاں تک آپ کےزہدتقویٰ کی بات ہے تویہ آپ کےمشہورترین اوصاف میں سےتھے جن کاہرخاص وعام گرویدہ تھا۔

مجھے استادعلام کےبلندوبالامقام کےشایان شان حالات زندگی تحریرکرنے کی تاب نہیں ہےمیں آپ کی پاکیزہ زندگی سےشرمندہ ہوکراپنی تنگ دامانی کااعتراف کرتاہوں۔

میں اپنے پورے عزت وافتخارکےساتھ استادعلام کےحالات زندگی پرمشتمل یہ کتاب پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتاہوں اورمیری امیدیں ایسے صاحب فن تذکرہ نویسوں سے وابستہ ہیں جواستادعلام کی زندگی پرتسلط رکھتے ہیں۔

ممکن ہے استاد علام کی زندگی کے بارے میں یہ مختصرسی کتاب اہل فن اورصاحبان علم کیلئے مفیدثابت ہوساتھ ہی اپنی اس حقیرپیش کش کوروزقیامت کیلئے ذخیرہ اورانبیاء واوصیاء نیزان کے جانشین علماء کی شفاعت کاوسیلہ سمجھتاہوں ،جس نے کسی مومن کی تاریخ بیان کی اس زندگی بحشی اورآیت کی روشنی میں "جس نے ایک نفس کوزندہ کیااس نے تمام لوگوں کوزندگی عطاکی"

میں تمام ان لوگوں کاشکرگزارہوں ہوں جنہوں نے اس کتاب کی تالیف کے سلسلے میں کسی نہ کسی شکل میں میری مددکی اورخداکی بارگاہ میں ان کی مزیدتوفیقات کیلئے دست بی دعاہوں وہی بہترین ناصرومعین اوسمیع ومجیب ہے۔

____________________

(۱) ۔ سورہ رعد آیہ/ ۴۱


حیات استادچندسطروں میں

آپ ۲۰ صفرالمظفر سنہ ۱۳۱۵ہجری قمری کونجف اشرف میں پیداہوئے آپ کانسب شریف ۳۳ واسطوں سے حضرت امام زین العابدین علیؑ ابن حسین ؑبن علی ابن ابی طالب تک پہونچتاہے ۔

آپ کےوالدسیدمحمودشمس الدین مرعشی نجف اشرف کےجیدعلماء میں سے تھے اورآپ کے داداسیدالحکماء تھے۔

نجف اشرف میں آپ نے منارہ علم وفضل حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ ضیاءالدین عراقی سے اورطہران وقم میں موسس حوزہ قم حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری سے اپنی علمی تشنگی کوسراب کیا۔

حوزہ علمیہ قم میں آپ کاشمارعظیم ترین مدرسین میں تھا۔

آپ کاپہلارسالہ عملیہ ذخیرۃ المعاد کے نام سے ۱۳۷۰ہجری میں شائع ہوا۔

آپ جودوسخااورزہدوتقویٰ میں اتنامشہورہوئے کہ ضرب المثل قرارپائے۔

آپ نے مختلف علوم وفنون میں ایک سوسے زائدکتابیں اوررسالے تالیف کئے ہیں جن میں سب سے اہم احقاق الحق پرآپ کی تعلیقات ہیں جو۲۴ جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔

آپ اسلامی ،سماجی اورثقافتی امورمیں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے تھے اوران پراپناکثیرسرمایہ خرچ کرتے تے انہیں میں سے قم مقدسہ میں آپ کازبردست عمومی کتاب خانہ بھی ہے۔

آپ نے ۷صفرالمظفرسنہ ۱۴۱۱ہجری قمری میں شب پنجشنبہ ۹۶ سال کی عمرمیں وفات پائی اوراپنےکتابخانہ ہی میں دفن ہوئے۔

آپ کی نیکی کےساتھ زندگی بسرکی اورنیکی کےساتھ موت کوگلے لگایاہمارا سلام ہو اس دن پرجب آپ پیداہوئے اس دن پر جب آپ کی موت آئی اوراس دن پرجب آپ زندہ مبعوث کئے جائیں گے۔

کچھ آپ کے پاکیزہ نسب کے بارے میں

خداوندکریم قرآن مجیدمیں ارشاد فرماتاہے۔"( قل لااسئلک علیه اجراً الا المودة فی القربی ) ٰ"اے رسول کہہ دو میں تم سے اپنی آل کی محبت کےعلاوہ اجررسالت نہیں چاہتا۔

نیزقرآن کاارشادہے۔"( ذریة بعضهامن بعض والله سمیع علیم ) "بعض کی اولاد کوبعض سے برگزیدہ کیااورخداسب کی سنتااورسب کچھ جانتاہے۔

استاد علام اصلاب طاھرہ اور ارحام مطھرہ سے نسلابعدنسل نہایت ہی باعظمت گھراورایسے ذکی خاندان میں پیداہوئے جوابتداء ہی سے علم وسیادت وشرافت کامرکزرہاہے آپ کانسب ۳۳واسطوں سے امام زین العابدین سیدالساجدین حضرت علیؑ ابن حسین ؑ بن ابی طالب ؑ تک پہونچتاہے۔

آپ اپنے نسب کی بلندی کےبارے میں فرماتے ہیں ہم خاندان علویہ میں حسب ونسب کے اعتبار سے اصیل اورفضائل ،تقوی عبادت عفاف وکفاف اورطہارت ضمیر میں سابق ترین ہیں ہماراگھردلوں کی جائے پناہ اوربزرگی وشرافت کومحورہے اسی وجہ سے دشمنوں کے دلوں میں آتش حسدبھڑک رہی ہے ہم یہاں اس پاکیزہ سلسلے کاذکراختصارسےکرتے ہیں۔

۱۔ آیۃ اللہ العظمیٰ السیدشہاب الدین المرعشی النجفی۔

۲۔ ابن علامہ زاھدونساب حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شمس الدین محمودالمرعشی جن کی وفات سنہ ۱۳۳۸ ہجری قمری میں ہوئی اورنجف اشرف کےقبرستان وادی السلام میں دفن ہوئے ۔

آپ کےکچھ استاتذہ اورمشائخ روایت کےنام یہ ہے۔

محقق مرحوم فاضل شریبانی۔ محقق خراسانی صاحب کفایۃ الاصول۔ سیدمحمدکاظم یزدی صاحب عروۃ الوثقیٰ ۔شیخ محمدحسن مامقانی۔ شیخ عباس کاشف الغطاء۔ شیخ ہادی طہرانی ۔شیخ آقارضاہمدانی۔ شیخ الشریعہ الاصفہانی ۔یہ وہ حضرات ہیں جوفرقہ امامیہ کی عظیم شخصیتوں میں شمارہوتے ہیں۔

آپ نے اپنے والد،فاضل شریبانی۔ شیخ محمدحسن مامقانی۔صاحب جوہر،مرحوم نوری صاحب مستدرک الوسائل ،مرحوم حاج ملاعلی خلیلی، سیداسماعیل صدر،سیدمعزالدین قزوینی حلی،مرزاصالح قزوینی ،مرزاجعفرطباطبائی ،مرزامحمدہمدانی ،امام حرمین مولالطف اللہ لاریجانی مازندرانی، صاحب عروۃ الوثقیٰ،اورسیدمرتضیٰ کشمیری سے روایت کی ہے۔

علم نسب آپ نے مرحوم حاج محمدنجف کرمانی اوران کے والد سید جعفر اعرجی کاظمی صاحب کتاب مناھل الضرب فی انساب العرب سے حاصل کئے۔

علوم الہیہ میں آپ کے اساتذہ مرحوم سیدحیدر حلی ،سیدجعفر حلی اورسیدابراہیم طباطبائی آل بحرالعلوم ہیں۔

علوم ریاضیہ میں آپ کےاساتذہ ملااسماعیل قرۃ باغی ، غلام حسین دربندی اورمرزامحمدعلی رشتی جیسے قابل ذکرہیں۔

علم کلام میں آپ کےاستاذ سیداسماعیل عقیلی صاحب کتاب کفایۃ الموحدین تھے علم رجال میں مرحوم شیخ ملاعلی خاقانی نجفی کے اسماء لئے جاتے ہیں ۔

علم اخلاق وسیروسلوک میں مرحوم آخوندملاحسین قلی ہمدانی اورسید مرتضیٰ کشمیری جیسے بزرگوار آپ کےاساتذہ تھے۔

آپ نے اہم تالیفات چھوڑی ہیں جن میں مشجرات العلوین ،ھادم اللذات ۔

رسالہ درحالات آل ابن طاووس جومجمع الدعوات کےضمیمہ کے ساتھ شائع ہوا،حاشیہ کفایہ،حاشیہ لمعہ وقوانین، ریاض المسائل اورقانون لابن سینافی علم الطب قابل ہیں۔

۳۔ ابن علامہ محقق جامع منقول ومعقول آیۃ اللہ العظمیٰ السیدشرف الدین المعروف بہ سیدالحکماء۔

آپ سنہ ۱۲۰۲ ہجری کربلائے معلی میں پیداہوئے اور۱۳۱۶ ہجری ۱۱۴ سال کی عمرمیں وفات پائی۔

آپ کی اہم تالیفات میں درجہ ذیل کتابیں ہیں۔

۱۔قانون العلاج ۔۔۔۔۔ جوتبریز سے شائع ہوئی۔

۲۔ زاد المسافرین ۔جامع العلل اوررسالۃ الجدری جوتہران سے شائع ہوا۔

۳۔ حاشیہ قانون ابن سینا۔

۴۔ شرح نفیسی۔

۵۔ شرح اسباب۔

۶۔ شرح زیارۃ جامعہ۔

۷۔ حاشیہ جواہر۔

۸۔ حاشیہ فرائد ازشیخ انصاری۔

۹۔ رسالۃ فی السیر والسلوک

۱۰۔ سفرنامہ۔

آپ ہی نے سب سے پہلے ایران میں مصنوعی دانتوں کوایجاد کیا۔

آپ کے انتقال کے بعدآپ کا جسمبارک شہرتبریز سے نجف اشرف منتقل کیاگیا۔

آپ کے اساتذہ میں شیخ اعظم انصاری ،صاحب جواہر،شیخ حسن،صاحب فصول اورصاحب ضوابط قابل ذکر ہیں۔

آپ نے صاحب ضوابط ،صاحب فصول۔صاحب جواہر،مرزافتاح بن یوسف طباطبائی اورشیخ انصاری سے روایت کی ہے اس کے علاوہ علمائے اہل سنت سے بھی روایت کی ہے جس میں شیخ محمدمصری کانام قابل ذکرتحریرہے۔

آپ نے دین اسلام کی ترویج کیلئے مختلف اسلامی ممالک مثلاً ایران ،ہنداورمصرکےسفربھی کیے ہیں آپ شیخ محمدعبدہ کے رفقاء میں سے تھے جب خدانے آپ کوایک بیماری سے شفابخشی توشیخ محمدعبدہ نے ایک بہترین قصیدہ کہاتھاجس کامطلع یہ ہے۔

صحت بصحتک الدنیامن العلل یابن الوصی امیرالمومنین

اے امیرالمومنین علی ؑ کےفرزنددنیاآپ کی صحت کی بدولت بیماری سے صحتیاب ہوگئی آپ کے ساتھ بیٹے تھے۔

مرحوم آیۃ اللہ مرزاجعفرافتخارالحکماء متوفی۔۔۔۔ ۱۳۱۸ھ

آپ کی تالیفات میں تقویم الشریعہ ،رسالہ فی امراض الحصبہ ،رسالہ فی الجدری ،الاطباء الاسلامیون اوررسالہ فی حرقۃ البول شامل ہیں۔

مرحوم مرزاالسیدمحمدالمرعشی الملقب بمعظم السادات ۔

مرحوم آیۃ اللہ مرزااسماعیل شریف الاسلام جوتہران کے علماء میں سے تھے۔

مرحوم آیۃ اللہ السید شمس الدین محمودالمرعشی والدعلام۔

مرحوم مرزاابراہیم المرعشی۔

مرحوم مرزاعبدالغفارالمرعشی۔

اس کےعلاوہ سیدکے حالات زندگی ریحانۃ الادب ج ۳ص۱۱۶۔۔۔پر بھی تحریرہیں۔

استاذ علام نے اپنے دادا کے حالات زندگی کےبارے میں فرمایاہے یہ جلیل القدرشخصیت فقہ واصول، حدیث وتاریخ ،رجال وانساب ،جفرورمل اورمثلثات واوفاق میں نابغہ روزگار اورعجوبہ کائنات تھی۔

علوم شمسیہ ۔زحلیہ اورقمریہ میں بھی انھیں مہارت تامہ حاصل تھی۔

۴۔ ابن علامہ نساب فقیہ ومتقی السیدمحمدنجم الدین الحائری آپ کی وفات ۱۲۶۴ہجری میں ہوئی اورنجف اشرف کےقبرستان وادی السلام میں دفن ہوئے ۔

آپ صاحب قوانین مرزاقمی اورکاشف الغطاء کےشاگردوں میں تھے اورآپ کوان دونوں سے نیزشیخ حسن نجف اورصاحب مفتاح الکرامہ سے اجازہ روایت بھی حاصل تھا۔

آپ کی اہم تالیفات اورمفیدحواشی میں حسب ذیل کتابیں ہیں۔

حاشیہ برکتاب عمدۃ الطالب،حاشیہ فقیہ ،نقدمشیحۃ الفقیہ ،رسالہ دراسطرلاب ،رسالہ درنجوم رسالہ دردوائرہندیہ۔

۵۔ ابن علامہ فقیہ متکلم شاعر نساب الحاج السیدمحمدابراہیم الحائری آپ کی وفات ۱۲۴۰ ہجری میں ہوئی آپ نقیب الاشراف کےنام سے مشہورہوئے ،فقہی اوراصولی کتابوں پرآپ کی تعلیقات موجودہیں نیزشجرہ سادات سے متعلق ایک کتاب مشجرات السادات بھی موجودہے۔

۶۔ ابن علامہ نساب نقیب السیدشمس الدین آپ کی وفات ۱۲۰۰ ہجری میں ہوئی اوراصفہان میں دفن ہوئے۔

۷۔ ابن علامہ صاحب کرامات مجدالمعانی قوام الدین نساب مولف کتاب نفی الریب عن نشاۃ الغیب دراثبات معادآپ کی والدہ سلطان حسین صفوی کی بیٹی تھیں جو۱۱۴ہجری میں افغانیوں کے فتنہ کےدوران قتل ہوئے ۔

۸۔ابن علامہ نساب نقیب نصیرالدین جوسفرحج میں امام زمانہ کی ملاقات سے مشرف ہوئے عربی اورفارسی زبان میں آپ کےقصائد ومراثی کادیوان موجودہے۔

۹۔ ابن علامہ محدث شاعرادیب نساب السیدجمال الدین آپ کی وفات ۱۸۰۱عیسوی میں ہوئی۔

۱۰۔ابن علامہ اصولی متکلم نساب حکیم علاوالدین نقیب الاشراف آپ کی تالیفات میں کفایۃ الحکیم درفلسفہ ،کتاب المصباح درفقہ اورکتاب النبراس فی المیزان ہیں۔

۱۱۔ ابن علامہ وزیرنقیب السیدمحمدخان آپ کی وفات ۱۰۳۴ہجری میں ہوئی علم تفسیر وتجویدمیں آپ کی تالیفات موجود ہیں۔

۱۲۔ ابن علامہ نقیب السیدابومجدمحمدالنقی جوشافعی کردوں کےہاتھوں اپنے عقیدے اورمحبت اہل بیت ؑ کی بناپرسنہ ۱۰۲۰ ہجری میں شہید ہوئے۔

۱۳۔ ابن وزیرمیرسیدخان المرعشی۔

۱۴۔ ابن میرسیدعبدالکریم خان ثانی سلطان طبرستان واطراف آن ۔

۱۵۔ابن سلطان میرسیدعبداللہ خان المرعشی۔

۱۶۔ ابن سلطان میرسیدالکریم خان الاول۔

۱۷۔ ابن سلطان میرسید محمدخان المرعشی۔

۱۸۔ ابن سلطان میرسید مرتضیٰ خان المرعشی۔

۱۹۔ ابن سلطان میرسید علی خان۔

۲۰۔ ابن سلطان میرسید کمال الدین الصادق ۔آپ نے تیمورمغولی سے جنگ کی آپ کی شجاعت اورجنگ کے واقعات تاریخ حبیب السیر میں مرقوم ہیں۔

۲۱۔ابن سلطان جامع منقول ومعقول متکلم فقیہ السید قوام الدین جومیرکبیرالمرعشی سلطان طبرستان کےنام سے مشہورہوئے آپ کی وفات ۸۰ ہجری میں ہوئی آپ کامزارشہرآمل کےسبزہ کے علاقہ میں ہے جوخراسان کے راستے میں واقع ہے آپ کے معرکے کتاب حبیب السیر اورروضۃ الصفامیں درج ہیں۔

۲۲۔ابن السیدکمال الدین الصادق نقیب ری۔

۲۳۔ابن زاہدابوعبداللہ نقیب بعض انساب کی کتابوں میں آپ کانام نامی علی مرتضیٰ بھی ہے۔

۲۴۔ ابن شاعرادیب فقیہ ابومحمدہاشم نساب شہرطبرستان میں آپ کامزارہے جوآج ایک زیارتگاہ ہے۔

۲۵۔ابن فقیہ ابوالحسن نقیب ری وطبرستان۔

۲۶۔ ابن شریف ابوعبداللہ الحسین۔

۲۷۔ابن محدث متقی ابومحمدحسن نساب۔

۲۸۔ابن زاہدصاحب کرامات ابوالحسن سیدعلی المرعشی وہ ذات گرامی ہے جن کی طرف تمام سادات مرعشیہ کانسب منتہی ہوتاہے خواہ وہ ایران میں ہوں یادوسرے ممالک میں۔

۲۹۔ابن ابومحمد عبداللہ عالم نساب محدث جوامیرالعافین یاامیرالعافین یامیرالمومنین کےلقب سے مشہورہیں۔

۳۰۔ابن شاعرمحدث ابومحمدالاکبرجوابوالکرم کے لقب سے معروف ہیں۔

۳۱۔ ابن فقیہ محدث نساب ابومحمدحسن الدکۃ جوحکیم راوی مدنی کے نام سے مشہورہیں آپ نے روم وترکیہ کے حوالی میں وفات پائی۔

۳۲۔ ابن ابوعبداللہ حسین الاصغرآپ کی وفات ۱۵۷ہجری میں ہوئی مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے آپ اپنے والدماجداوراپنے برادرحضرت امام محمدباقرؑ سے روایت کرتےہیں۔

۳۳۔ابن مولاناوامامناابوالحسن زین العابدین علی بن سیدالشہداابی عبداللہ الحسین ؑجورسول خداؐ کے نواسے اورامیرالمومنین امام المتقین قائدالغرالمیامین اسداللہ الغالب علی بن ابی طالب کےفرزندہیں تاصبح قیامت جب تک یہ گردش لیل ونہار قائم رہے ان پردرود وسلام ہو۔ اگرکوئی ان بزرگترین سادات ،عترت رسول ؐ اورخاندان آل مرعشی کی زندگانی کے متعلق مزید معلومات کاخواہشمندہے تواسے درج کتابوں کامطالعہ کرناچاہیے۔

۱۔ روضۃ الصفا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ازمیرآخوند

۲۔ حبیب السیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ازمیرآخوند

۳۔ عالم آرای عباسی ۔۔۔ ۔۔۔ ازاسکندربیگ ترکمان کاتب شاہ عباس اول۔

۴۔مجالس المومنین۔۔۔۔۔۔۔ ازشہیدثالث

۵۔ تاریخ طبرستان۔۔۔۔۔۔۔ ازسیدظہیرالدین مرعشی۔

۶۔ریاض العلماء ۔۔۔۔۔۔۔۔ ازعبداللہ آفندی اصفہانی۔

۷۔ الانساب۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ازابوسعیدعبدالکریم بن محمدبن منثورالسمعانی۔

۸۔ریحانۃ الادب۔۔۔۔۔۔۔ ازمرزامحمدعلی مدرس۔

۹۔اعیان المرعثین ۔۔۔۔۔۔۔ ازآیۃ اللہ مرعشی(محظوط)

۱۰۔ التدوین فی جبال شروین ۔۔۔۔ ازاعتمادالسلطنہ۔

۱۱۔ آثارالشیعہ الامامیہ ۔۔۔۔۔ ازعبدالعزیزصاحب جواہر۔

۱۲۔ تاریخ سادات مرعشی۔۔۔۔۔۔ ازڈاکٹرستودہ۔

۱۳۔ مجمع التوریخ ۔۔۔۔ ازسید محمدخلیل المرعشی۔

۱۴۔ دائرۃ المعارف تشیع۔۔۔۔ ج۱ ص۲۱۹۔

نیزاس کے علاوہ دوسری بعض انساب ،تراجم اورتاریخ ورجال کی کتابوں کی طرف بھی رجوع کیاجاسکتاہے۔

یہ خاندان علم وادب ،دین وسیاست اورسلطنت وثقافت میں ایک بلندوبالامقام پرفائزاورہمیشہ حق وحقیقت کی راہ پرگامزن رہاہے باالخصوص یہ خاندان اپنے اس فرزنداستاد علام حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سیدشہاب الدین المرعشی النجفی کےاوپربجاطورپرنازکرتاہے جنہوں نے معقول ومنقول کوایک جگہ جمع کردیا آپ تمام صفات حمیدہ اورکمالات نفسیہ کی بہترین مثال تھے آپ نے اپنے بعدآنے والوں کیلئے لوگوں کےدرمیان صدق ذکرطیب اورحب خالص کےآثار چھوڑے۔

نسب کان علیه من شمش الضحیٰ نوراً ومن فلق الصباح عموداً

وہ ایسے حسب ونسب کےمالک ہیں جوخورشیدکی نوربارانیوں کی وجہ سے بہت ہی روشن ومنور ہے اوریہ ایسانور ہےجوسپیدہ سحرکےنمودار ہونے سے عمودکی شکل میں چمکتاہے۔

فهؤلاء آبائی فجئنی بمثلهم اذاجمعتنایاجریرالمجامع

یہی لوگ میرے آباء واجداد ہیں لہذااے جیریرجب مجامع ہمیں فخرومباہات کیلئے جمع کریں توتم ہمارے لئے ان کامثل لےآو۔

ولادت اورابتدائی تربیت

خداوند عالم قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے۔"وسلام علیہ یوم ولد"اوران پرسلام ہوجس دن پیداہوئے۔

استادعلام ۲۰ صفرسنہ ۱۳۱۵ہجری صبح پنجشنبہ نجف اشرف میں پیداہوئے آپ کانام محمدحسین لقب شہاب الدین اورکنیت ابوالمعالی ہے۔( ۱ )

آپ نے ایسے والدین کی آغوش میں آنکھ کھولی جورفعت وشرف میں کریم اورفضل وادب میں کامل تھے لہذاآپ نے فضیلت وتقویٰ کی دولت اپنے متقی اورپرہیزگاروالدین سے ورثہ میں پائی ۔

آپ نے علم وعمل صالح اورپاکیزہ اخلاق وکردار کومحسوس کرتاہے اوراسے اپنے وجودمیں جذب کرتاہے جسے علم حسی سے تعبیرکیاگیاہے یہ بچہ اپنے ایام طفولیت ہی سے ہمیشہ خیروصلاح کی جانب پیش قدم رہا۔دین حنیف کواپنی شدیدتوجہ کامرکزبنائے رہا۔رسولؐ اوران کے اہل بیت اطہارؑ کی محبت میں شرشار رہااوراعمال صالحہ کے پرچم کےسائے میں قدم بڑھاتارہا۔

کسی نے سچ کہاہے بچے کی پہلی درسگاہ اس کاگھراورپہلامدرس اس کی ماں ہے اگرچہ اساس کے اخلاق وکردارکی اساس وبنیاد باپ کےذریعہ ہوتی ہے پس بچہ پہلی مرتبہ اپنے گھراوراپنے ماحول میں جوکچھ دیکھتااورلمس کرتاہے وہ اس کے ذہن پرنقش ہوجاتاہے اس کے آثار اس کے وجودمیں ہمیشہ درخشاں ہوتے ہیں ۔مثل ہے بچپنے کاعلم پتھرکی لکیرہوجاتاہے کیونکہ طفل اپنے والدین کےگھراورپہلی درسگاہ میں اپنے اساتذہ اورمربی سے جواخلاق وآداب اخذکرتاہے اس سے شاذ ونادرہی منحرف ہوتاہے۔

اس روش اوربلندمفہوم کی روشنی میں ہم اسلام کوایساپاتے ہیں جومسلمانوں اورمومنوں کوصحیح اوربہترین تربیت اولادکی طرف مائل کرتاہے۔اورانعقاد نطفہ سے پہلے ہی بچے کی نشوونمااورصحیح تربیت کی طرف توجہ دیتاہے بہترین افعال ،پسندیدہ اخلاق اوراچھے عادات واطوارکی طرف اسے راغب کرتاہے انحطاط خلقی اورناپسندیدہ امورسے اسے دورکرتاہے۔

استاذعلام ایسے ہی خاندان علم وشرف وسیادت میں پیداہوئے جولوگوں کی نگاہوں کامرکزتھا۔

آپ نے مجھ سے ایک دن بیان فرمایاکہ ان کے والدانھیں محقق آخوندکےدرس میں لےگئے جب کہ ابھی وہ حدبلوغ( ۲ ) تک بھی نہ پہنچے تھے۔اورجب بھی آپ کی والدہ گرامی یہ کہتی تھی کہ اپنے والدکوبیدارکرو کوشاق گزارتاتھاکہ اپنے والدکوآواز دیکربیدارکریں لہذاآپ اپناچہرہ اوررخساران کےتلوؤں پررگڑتےتھے جس سے وہ ہلکی سی گدگدی کےبعد بیدارہوجاتے اوراپنے نیک فرزندکی یہ تواضع وانکساری دیکھ کران کی آنکھیں آنسوؤں سےلبریز ہوجاتیں اورآسمان کی طرف اپنے ہاتھوں کوبلندکرکے اپنے اس فرزندکی مزیدتوفیق کی دعاکرتے تھے۔

استاد علام اکثر فرمایاکرتے تھےیہ بلندوبالامقام اوردین کےامورمیں خداکی توفیقات میرے والدین کی دعاؤں ہی کانتیجہ ہے۔

ایسی دسیوں حکایتیں استادعلام کی حیات ایام طفولیت اورعنفوان شباب کی سنی جاتی ہیں جواس بات کی طرف نشاندہی کرتی ہیں کہ دین اوراس کےاوامرنیز الٰہی احکام پرعمل کرناان کے وجودمیں ابتدائے حیات ہی سے رچ بس گیاتھاآپ اپنی پوری زندگی شریعت اسلامیہ کےمطابق بسرکرنے میں خاص اہتمام برتتے تھے۔

آپ نے مجھ سے ایک دن بیان کیاجب وہ نجف اشرف میں تھے ۲۵ مرتبہ پاپیادہ ابوعبداللہ الحسین ؑ سیدالشہداء کی زیارت سے مشرف ہوئے وہ طلبہ کی ایک جماعت کیساتھ زیارت کیلئے جایاکرتے تھےجودس افراد پرمشتمل ہوتی تھی جن میں سیدحکیم، سیدشاہرودی، اورسیدخوئی جیسےحضرات شامل رہاکرتے تھےانھوں نے فرمایاہم مراجع تقلید ،فقہاء اورمجتہدین کے ساتھ ہمیشہ سفرکرتے اوراس میں پیش آنے والے کام اپنے درمیان تقسیم کرلیاکرتے تھے میراکام یہ تھاکہ میں ہرمنزل پرلوگوں کیلئے پانی کاانتظام کرتاتھاکوئی کھاناپکاتاکوئی چائے درست کرتاتھاسوائے سیدشاہرودی کے وہ کہتے تھے میرافریضہ یہ ہے کہ میں سفرمیں آپ لوگوں کوخوش رکھوں اورراستے کی صعوبتوں اورمشکلوں کوآسان کروں یقیناًوہ بہت ہی پرمذاق اورزندہ دل آدمی تھے وہ کبھی ہمیں شعروسرود سے مسرور کرتے اورکبھی لطیف وبذلہ سنج حکایتوں سے خوشحال کرتے تھے اس طرح ہمیں سفرکی صعوبتوں اوردشواریوں کااحساس تک بھی نہ ہوتاتھا۔

ایسے خاندان اورعلمی وروحانی ماحول میں پلنے والی ہمارے استاد کی شخصیت بلندوبرترمقام اورمرجعیت کی منزل پرکیوں نہ فائزہوتی۔

آپ نے اپنی ضعیفی کے دوران مجھ سے ایک دن فرمایاہے وہ ابتداء بلوغ ہی سے ایسے کام انجام نہیں دیتے تھے جس کی طرف نفس رغبت دلاتاتھابلکہ آپ نفسانی خواہشات کےمخالف اورحکم خداکے اطاعت گزار تھے۔

آپ فرماتے تھےیہ مرجعت جوتم دیکھ رہے ہو میں نے اس کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھائے بلکہ یہ صرف پروردگار عالم کےلطف پیغمبراوران کےاہل بیت کی عنایتوں کانتیجہ ہے۔

سچ ہے رب کعبہ کی قسم جوخداکاہوجاتاخدااس کا ہوجاتاہےاورجواللہ کاہوجاتاہے اسے برکتیں نصیب ہوتی ہیں استادعلام کی حیات اس مفہوم کی بہترین مصداق تھی۔

____________________

(۱) ۔ آپ کے والدمرحوم نےلکھاہے کہ وہ بچے کی تطہیرکےبعدتبرک وتیمن کیلئے اسے اپنے جدامیرالمومنین علی ابن ابی طالبؑ کی قبرمطہرپہ لے گئے اس کے بعداپنے استادآیۃ اللہ الحاج مرزاحسین خلیلی تہرانی کےپاس لے گئے انھوں نے اس کااکرام کیااوراس کانام محمدحسین رکھااوردعاکی اس کےبعدوہ اسے لیکرخاتم المحدثین شیخ نوری کےپاس گئے انھوں نے بچے کااکرام کیااوراس کی کنیت ابوالمعالی رکھی پھروہ اسے لیکراپنےاستادسیداسماعیل صدرالدین کےگھرگئے انھوں نے اس کالقب شہاب الدین رکھا۔

(۲) ۔استادعلام کی ولادت ۱۳۱۵ہجری اورمحقق آخوندکی تاریخ وفات ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۲۹ ہجری ہے اس حساب سے آپ کی عمراس وقت چودہ سال تھی۔


آپ کی علمی زندگی کااجمالی خاکہ۔

خداوند عالم قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے۔"( یرفع الله الذین آمنوامنکم والذین اوتوالعلم درجات ) " جولوگ تم میں سے ایماندارہیں اورجن کوعلم عطاہواہے خداان کے درجے بلندکرےگا۔

استاد علام نجف اشرف میں پیداہوئے جوتقریباً ایک ہزارسال سے علم وادب اوراجہادوفقاہت کا،رکز رہاہےآپ نے وہاں لکھنے پڑھنے کی ابتدائی تعلیم حاصل کی اس کےبعدیہ محنت کش طالب علم علم اوراس پرعمل کرنے کی طرف متوجہ ہواآپ اس راہ میں سختی ومشقت کوپہچانتے ہی نہ تھے بلکہ تحصیل علم کی طرف پوری طرح سے لگ گئے اگرچہ آپ کے بعض اقرباء نے مخالفت بھی کی علوم عربیہ میں آپ نحوصرف وبلاغت کی تعلیم حاصل کی علوم نقلیہ سے فقہ اصول اورعلوم عقلیہ سے منطق وفلسفہ کی تعلیمات نجف اشرف اورکاظمین میں بزرگان علم سے حاصل کیں اورآیۃ اللہ شیخ ضیاء الدین عراقی کے ممتاز شاگردبن کرآسمان علم پر درخشان ہوئے جن کےبارے میں یہ مشہورتھاوہ اپنے شاگردوں کے ساتھ سخت مزاج اورتندخوتھے۔

استادعلام نے مجھ سے ایک دن بیان کیامیں درس کےبعدان کے ہمراہ ان کے گھرکی طرف بحث کرتے ہوئے جایاکرتاتھاایک دن بحث کےدوران وہ غضب ناک ہوگئے اورپوری قوت سے میرے سینے پرایک ضرب لگادی میں ان کے ہاتھوں کوبوسے دینے لگااستادکی آنکھوں سے آنسوجاری ہوئے اورفرمایااے شہاب تونے مجھے ادب سکھایا۔

ایسےہی اخلاق حسنہ اورتعظیم اساتذہ کےمثل کہاجاتاہے علم کی برکت استاد کی تعظیم میں مضمراوریہ سب کچھ ایسے ہی پاک اخلاق اوراساتذہ کرام کی تعظیم کاثمرہ ہے۔

یہ محنت کش طالب علم ایسے صاف وشفاف چشموں سے اپنی علمی تشنگی بجھاتارہاجوحضرت علی ؑ کی قبرکےپاس جاری رہاکرتے تھے جواپنے الٰہی علوم قدسیہ سے لوگوں کورزق پہنچانتے اورمومنین کوکھاناکھلاتے تھےاسی وجہ سے وہ مومنوں کےامیرہیں۔

لہذااستاد علام نے ان کےعلوم کےانوار سے فیض حاصل کیااورمختلف علوم وفنون میں اپنی معلومات میں مزیداضافہ کرنے کیلئے علمی اورادبی محفلوں میں حاضرہوکرتے تھے۔

اساتذہ سے سنداجتہادحاصل کرنے کےبعدآپ نے نجف اشرف سے ہجرت اختیار کی اورطہران میں قیام کیااس کے بعدشہرمقدس قم تشریف لائے جہاں آپ عالم شباب ہی سے مجتہدمسلم کی حیثیت سے پہچانے گئے اس وقت آپ کی عمر۲۵ سال تھی۔

ائمہ اطہار خصؤصا سیدالشہداء سے توسلات کےبعد آپ سے کرامات بھی ظاہرہوئے جس کی طرف ہم آگے اشارہ کریں گے۔

ابتداء ہی سے اساتذہ نے پہچاناکہ آپ عنقریب ایک ایسی درخشاں علمی شخصیت کی حیثیت سے ظاہرہوں گے جس کی شان علمائے اعلام اورتمام لوگوں کےدرمیان نمایاں ہوگی۔

آپ اپنے علم واجتہاد کے ساتھ ساتھ زندگی کی ابتداء ہی سے زہدوورع اورتقویٰ میں خاص شہرت کےمالک تھے یہ شہرت روز بروز بڑھتی گئی آپ نے حوزات علمیہ میں زندگی بسرکی آپ سے اہل علم اساتزہ طلاب اورعوام فیض یاب ہواکرتے تھے۔

مختلف علوم میں آپ کےاساتذہ۔

ہم اس فصل میں استادعلام کی حیات کےبارے میں سالہاسال جومحسوس کیاہے ذکرکریں گے آپ ہمیشہ استادومعلم کاشکریہ ادا کرتے اوران کےنام بڑے ہی ادب واحترام سے لیاکرتے تھے کیونکہ اسی نے اپ کوعلم کی دولت سے مالامال کیاوہ اپنے اساتذہ کوہمیشہ اپنے دروس ومحافل میں نیکی کے ساتھ یادفرماتے تھےمیں بھی اس روش میں اپنے استاد کی پیروی کرتاہوں ان کےمزارپرخوشی کے ساتھ جاتاہوں یہی وہ چیزیں ہیں جومیری توفیقات میں زیادتی اورتقرب الٰہی کاسبب بنیں۔

۱۔ علوم عربیہ

علوم عربیہ سے زبان عربی میں نحو،صرف، بلاغت ،عروض اورلغت مرادہے آپ نے مقدماتی مرحلہ میں علوم آلیہ کادرس حاصل کیایہ وہ پہلامرحلہ ہےجوحوزات علمیہ امامیہ کےدروس میں مراحل ثلاثہ( ۱ ) کےنام سے جاناجاتاہے۔

سب سے پہلے آپ نے درس مقدمات اپنے والدمرحوم سیدمحمودشمس الدین سے حاصل کیاجوتمام علوم میں آپ کےسب سے پہلے استاد ہیں آپ نے اپنی دادی بی بی شمس شرف بیگم سے جواپنے زمانے کی عالمہ اورفاضلہ تھیں درس حاصل کیاجن کی وفات سنہ ۱۲۳۸ہجری میں ہوئی جوعلامہ زاہدحاج سیدمحمدمعروف بہ حاج آقاابن علامہ سیدعبدالفتاح ابن علامہ سیدمرزایوسف طباطبائی تبریزی متوفی ۱۲۴۲ہجری کی صاحب زادی تھیں جوعلامہ وحیدبہبہانی کےشاگرد اورمحقق قمی صاحب قوانین کےمعاصرتھےآپ نے ایران اورروس کےقبضہ قفقازکی جنگ میں فعالانہ طورپرشرکت کی تھی۔

آپ نے علامہ زاہدسلمان زمانہ آیۃ شیخ مرتضیٰ طالقانی نجفی سے علم بلاغت مقامات حریری، مقامات بدیعی ھمدانی کےچنداجزاء نہج البلاغہ ،دیوان قیس عامری اورسبع معلقات اس کی شرح کےساتھ پڑھیں۔

شیخ طالقانی کےکچھ اہم تالیفات ہیں جیسے حاشیہ مطول،شرح منظومہ سبزواری،شرح روضات الجنات خوانساری ،شرح جوہرنضید علامہ حلی وغیرہم جس اختتام پرتحریرکیاہے "رب نج مرتضیٰ من النار"۔

آپ نےمرزامحمودحسینی مرعشی جوصاحب شرح سیوطی بھی ہیں سے شرح سیوطی ،ابن عقیل شرح نظام شرح رضی برکافیہ شرح شافیہ اوردوسری کتابوں کےدروس حاصل کئے۔آپ نے حجۃ الاسلام شیخ شمس الدین شکوئی قفقازی ،شیخ محمدحسین سدھی اصفہانی اورسیدمحمدکاظم خرم آبادی نجفی جوامام النجاۃ کےنام سے جانے جاتے ہیں سےبھی علمی فیض حاصل کیا۔

۲۔ سطح فقہ واصول

آپ نے اصول وفقہ کے سطحی دروس شیخ مرتضیٰ طالقانی سیدمرزاحبیب اللہ اشتہاردی سیداحمدمعروف بہ سیدآقاشوستری مرزامحمدطہرانی عسکری مرزامحمدعلی کاظمی (صاحب تقریرات الاصول)اورمرزاابوالحسن مشکینی (صاحب الحاشیہ والتعلیق علیٰ کفایۃ الاصول )جومرزاآخوندکےشاگردوں میں تھے سے حاصل کئے۔

استاد علام جب مجھے کفایۃ کادرس دیتے تھے توفرماتے تھے محقق آخوندکے شاگردوں کےپیمانے پرتدریس کی صلاحیت رکھتاہوں اورمیں نے ایساہی کیامیں اپنی کمسنی میں اپنے والدمرحوم کےساتھ محقق آخوندکےدرس میں جایاکرتاتھاجن کی پاٹ دار آواز درس کی عظمت مجھے ہمیشہ یادرہ گئی۔

آپ نے آیۃ اللہ حاج شیخ عبدالحسین دشتی ،مرزاآقااصطہباناتی ،شیخ موسیٰ کرمانشاہی ،شیخ نعمۃ اللہ لاریجانی ،سیدعلی طباطبائی یزدی شیخ محمدحسین بن محمدخلیل شیرازی نجفی مرزامحمود شیرازی نجفی سیدجعفربحرالعلوم سیدکاظم نحوی خرم آبادی اوراستادعباس خلیلی مدیرصحیفہ اقدام سے بھی اپنی علمی تشنگی کوسیراب کیا۔

۳۔ فقہ واصول کادرس خارج ۔

آپ نے شیخ العلماء استاذالفقہاء آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ آقاضیاء الدین عراقی سے اصول میں ابتداء سے بحث مطلق ومقیدتک استفادہ کیااستاد نے مجھ سے خودبیان کیاہے انہوں نے آپ کواجازہ اجتہادکتبی طورپرویساہی دیاتھاجیسا موسس حوزہ علمیہ قم آیۃ اللہ العظمیٰ عبدالکریم حائری نے تحریرفرمایاتھا۔

آپ نے محقق سیداحمدبہبہانی (صاحب کتاب معین الوارثین جوکتاب میراث کےفروض وفرائض میں ایک اہم کتاب ہے۔)سے بحث حجیت قطع کادرس حاصل کیا۔

علامہ فقیہ شیخ احمدبن شیخ علی بن شیخ محمدرضابن موسی ٰ بن علامہ اکبرجعفرکاشف الغطاء نجفی سے بحث طہارۃ وصلاۃ کےدروس صحن امیرالمومنین ؑ میں حاصل کئے۔

علامہ آیۃ اللہ شیخ علی اصغر ختائی تبریزی سے مشتق، اشتراک لفظی ،ترادف ،صحیح واعم اورحقیقت ومجاز کےدروس نجف اشرف میں مسجد شیخ انصاری میں حاصل کئے نیزعلامہ مصلح شیخ محمدحسین کاشف الغطاء نجفی سے بھی کسب فیض کیاجوالمراجعات الریحانیہ اورتحریرالمجلہ جیسی عظیم کتابوں کےمولف ہیں۔

علامہ فقیہ شیخ علی بن شیخ باقر نجفی جوصاحب جواہر کےپوتے تھے مبحث طہارۃ سے انفعال الماء القلیل میں استفادہ فرمایااستاد علام سنہ ۱۳۵۲ہجری میں جب تہران میں مقیم تھے محقق آیۃ اللہ شیخ عبدالنبی نوری سے مدرسہ محمودیہ میں مستفیض ہوئے اس طرح مختلف علوم میں محقق آقاحسین نجم آبادی (صاحب کتاب خلاصۃ الحساب وحاشیہ طہارۃ)سے کسب فیض کیا۔

آپ قم مقدسہ میں موسس حوزہ علمیہ شیخ عبدالکریم حائری کے درس میں بھی اسی شان سے جاتے تھے جس شان سے آیۃ اللہ محقق میرسید علی حسینی یثربی شیخ حسن علامی اورشیخ محمدرضاشاہی اصفہانی قدس سرہ کےدروس میں جاتے تھے۔

۴۔ علم کلام ۔۔

وہ علم ہے جس میں ادلہ عقلیہ ونقلیہ کے ذریعہ شریعت اسلامیہ کے مطابق مبداء ومعاد نیزدیگراصول دین سے بحث ہوتی ہے۔

آپ نے علم کلام کےدروس آیات عظام اورحجج کرام سے حاصل کئےجن میں آپ کے والد مرحوم ،شیخ اسماعیل محلاتی نجفی ،حاج شیخ جوادبلاغی نجفی (صاحب کتاب الھدیٰ الی دین المصطفی)سید ھبۃ الدین شہرستانی (صاحب کتاب الہیہ فی الاسلام)آقامحمدمحلاتی (صاحب کتاب گفتارخوش یارقلی)مرزاعلی یزدی قابل ذکرہیں۔

۵۔ علوم حدیث ،رجال ،تاریخ ،تراجم

ان علوم کی ابتدائی تعلیم آپ نے اپنےوالد مرحوم سے حاصل کیں اورعلامہ فقیہ سیدابوتراب خوانساری صاحب کتاب (سبل الرشاد فی نجاۃ العباد)علامہ محدث مرزامحمدبن رجب علی طہرانی عسکری صاحب کتاب(مستدرک بحارالانوار، صحیفہ الاما علی النقی) سے بھی کسب فیض کیاآپ استادعلام کے مشائخ روایت میں بھی ہیں۔

نیزعلامہ رجالی آیۃ اللہ محقق سیدابومحمدصدرالدین عاملی متوفیٰ سنہ ۱۳۵۷ ہجری صاحب کتاب (تاسیس الشیعہ الکرام للفنون الاسلامیہ )سے بھی اس وقت اکتساب فیض کیاجب آپ ایام شباب میں ایک سال تک مدینہ کاظمیہ مقدسہ میں مقیم تھے علامہ فقیہ شیخ عبداللہ ابن شیخ محمدحسن مامقانی سے بھی استفادہ کیاجن کی دوکتابیں (منتھی المقاصدفی الفقہ اورکتاب الرجال) کافی اہمیت کی حامل ہیں جوتین بڑی جلدوں میں ہے۔

آپ نے آیۃ اللہ شیخ محمدحرزالدین صاحب کتاب (معارف الرجال)اورعلامہ زاھد شیخ محمدحسین بن حاج شیخ مرزامحمدخلیلی شیرازی نجفی عسکری سے بھی کسب فیض کیا جن کے حاشیے تفسیر بیضاوی ،تفسیر مدارک ،کفایہ، تفسیرکشاف اورنہج البلاغہ پرموجودہیں رضاعت اورشہید اول کے اس قول یحرم الانسان اصولہ وفروعہ واصول فروع اصولہ پررسالہ بھی لکھے ہیں سامرہ میں آپ کاانتقال ہوااورامامین عسکرین کے مشرقی رواق میں دفن ہوئے ۔

جب استاد علام کاقیام کربلاء معلی میں تھاتوانھوں نے وہاں علامہ حاج مرزاعلی حسینی مرعشی حائری صاحب کتاب (شرح باب الحادی عشر)و(شرح وجیزہ شیخ بہائی دردرایہ)سے بھی اپنی علمی تشنگی کوسیراب کیا۔

نیزآپ نے علامہ فقیہ مرزاابومھدی ابن علامہ مرزاابوالمعالی ابن علامہ حاج ملامحمدابراہیم کرباسی اصفہانی کی خدمت میں کتاب سماء المقال کادرس لیاجواصفہان میں فوت ہوئے اورمقبرہ تحت فولادمیں دفن ہوئے۔

۶۔ علم تفسیر۔۔

آپ نے علوم قرآن اورتفسیرقرآن اپنے والد مرحوم ،شیخ محمدحسین شیرازی سیدھبۃ الدین شہرستانی اورسیدابراہیم شافعی رفاعی بغدادی سے حاصل کیا۔

ایک دن استادعلام نے مجھے فرمایاتھامیں نے تفسیربیضاوی کے مکمل پانچ دورے پڑھائے ہیں آپ ہی پہلے وہ شخص ہیں جنھوں نے پہلی بارقم میں گھروں سے نکال کرعامۃ الناس کےمختلف طبقات کے درمیان تفسیرقرآن کے دروس کی بنیادرکھی۔

۷۔ علم تجویداورقرائت۔۔

ان علوم کادرس آپ نے اپنے والد مرحوم ،آیۃ اللہ سیدآقاشوستری آیۃ اللہ مرزاابوالحسن مشکینی نجفی علامہ شیخ نورالدین شافعی بکتاشی اورعلامہ شیخ عبدالسلام کردستانی شافعی سےحاصل کیاجیساکہ آپ نے مجھ سے بیان کیاہے آپ نے ۱۰ مرتبہ علم تجویدکادرس دیاآپ کادرس تجویدعموم مردم کیلئے بھی ہواکرتاتھاجس طرح اس کادرس خاص ہوتاتھاآپ نے فرمایاہے میں نے یہ کام اس لئے کیاتاکہ یہ علم لوگوں کی زبانوں پرباقی رہے۔

۸۔ حساب ،ہندسہ ،علم ریاضیہ ،علم افلاک، ہیئت ودیگرنادرعلوم ۔۔

یہ علوم آپ نے علامہ ریاضی شیخ عبدالکریم بوشہری صاحب کتاب(شش ہزارمسئلہ)جوبمبئ سے طبع ہوئی اورعلامہ حاج ابوالقاسم موسوی خوانساری سے نجف اشرف کےمدرسہ آخوندمیں حاصل کئے آپ کی تالیفات میں حاشیہ برخلاصہ حساب شیخ بہائی حاشیہ برکتاب اکرازحکیم ذوایز یلاسوس یونانی اورحاشیہ برتحریراقلیدس قابل ذکر ہیں آپ نے علم رمل اورعلم جفرمیں بھی کتابیں لکھی ہیں دعاء سیفی اوردوسری دعاوں کی شرح بھی کی ہے۔

آپ نے محقق فاضل مرزاعلی خان جوڈاکٹرعندلیب زادہ کےنام سے مشہورہیں جوعندلیب الذاکرین تہرانی نجفی کےصاحبزادے اورآیۃ اللہ مجاہد سیدابوالقاسم کاشانی کےدامادتھے سے بھی کسب فیض کیا۔

علامہ مرزامحموداہری جونجف اشرف میں ریاضیات کےمدرس تھے نجھوں نے محقق جلال الدین دوانی کےطرز پرایم رسالہ بھی تحریرفرمایاہے آپ کےاستاد رہے ہیں آپ علامہ آقامحمدمحلاتی فرزندآیۃ اللہ حاج شیخ محمداسماعیل محلاتی نجفی صاحب کتاب (گفتارخوش یارقلی)علامہ شیخ عبدالحمید رشتی نجفی فاضل مرزااحمدمنجم شیرازی صاحب کتاب (معرفۃ التقویم )علامہ آیۃ اللہ سیدمحمدکاظم عصارتہرانی جوفقہ واصول وریاضیات میں کثیر تالیفات رکھتے ہیں کے بھی حلقہ تلامذہ میں شامل رہےہیں۔

آپ نے علامہ حاج مرزاجمال الدین فرزند علامہ مرزاابوالمعالی فرزندعلامہ حاج ملامحمدابراہیم کرباسی سے نجف اشرف میں (تشریح الافلاک)اورملاعلی قوشجی کی کتاب (فارسی ہیبت)نیز(شرح جغمینی) جیسی کتابیں پڑھیں ۔علامہ فقیہ مرزامحمودشیرازی نجفی جن کےحاشیے ریاضیات کی کتابوں اورکفایۃ الاصول ومطارح انظارپرموجودہیں سے نجف اشرف میں مسائل ہیئت اوروقت وقبلہ کےمباحث حاصل کئے یہ شہرسامرہ میں مدفون ہیں علم حروف واوقاف کے دروس اس فن کے اساتذہ مرزاباقرایروانی نجفی حاج شیخ محمدحسین شیرازی استاد علام رضاشاہ عراقی معروف بہ مرکب ساز ابوالحسن اخباری ہندی ،سیدیاسین علی شاہ ہندی اور رمزاعلی اکبرحکمی یزدی قمی سےحاصل کئے۔

۹۔ علم انساب ۔۔۔

آپ اپنے ہم عصرمراجع عظام کے درمیان علم انساب میں امتیازی شان رکھتے تھے اوراسی وجہ سے آپ کواچھی خاصی شہرت بھی حاصل ہوئی اس علم کےرموزپہلے آپ نے اپنے والدمرحوم سے حاصل کئےاس کےبعدعلامہ نساب سیدرضاموسوی بحرانی غریفی نجفی صاحب کتاب (الشجرۃ الطیبۃ فی الانساب العلویہ)اورعلامہ فقیہ سیدمھری موسوی بحرانبی غریفی نجفی جوبہت سی کتابوں کے مولف ہیں سے اس علم میں کسب فیض فرمایا۔

۱۰۔ علم طب ۔۔

علم طب پہلے آپ نے اپنے والدمرحوم ،اورمرحوم علی خان مویدالاطباء جوکربلامعلی میں مقیم تھے سےحاصل کیا۔

استادعلام نے ایک روزمجھ سے فرمایاکہ میں نے دوسال میں طب اوراس کے اولیات حاصل کرلئے تھے میں نے اس علم کوفقط اس لئے حاصل کرلئے تھے تاکہ وقت ضرورت اپنامعالجہ خودکرسکوں میں نے اس علم سے بہت زیادہ فائدے اٹھائے ہیں قدیم زمانے میں علم طب حوزوی دروس میں شامل تھااوراس کامکمل طورپردرس بھی دیاجاتاتھانجف اشرف میں اس فن کے بہت سے ماہرین اورحاذقین پائے جاتے تھے۔

مگرآج حوزات علمیہ میں علوم دینیہ کےطلباء کےدرمیان علم طب کے نشانات مفقود ہوچکے ہیں اوراس کیلئے مخصوص یونیورسٹیاں اورکالج کھول دئے گئے ہیں۔

مجھے نہیں معلوم آخریہ سستی اورلاپرواہی کیوں ہے کیادنیوی امورمیں زیادہ مشغولیت اورحوزات علمیہ کے بنیادی علوم فقہ واصول کی وسعت کی وجہ سے ایساہورہاہے یاپھرکوئی اوروجہ ہے۔

تعجب تویہ ہے کہ اس کےعلاوہ اوربھی دیگرعلوم کی کتابیں ہمارے زمانے میں مفقودہوتی جارہی ہیں افسوس ہم کس حال میں ہیں۔

زندگی کے آخری ایام میں جب میں آپ کی خدمت میں شرفیاب ہواتاکہ کناڈاسے کئے جانے والے سوال کاجواب وہاں سناؤں وہاں بعض مومنین کے درمیان قبلہ کی تعیین کے سلسلے میں اختلاف پیداہوگیاتھااوران لوگوں نے استادعلام سے قبلہ کے بارے میں استفسارکیاتھااسی دروان حوزے اوراس کے دروس کی بات چلی تو آپ نےحسرت ناک انداز میں فرمایاپہلے حوزہ میں مطول کادرس دیاجاتاتھاتاکہ طالب علم اپنے اندرعلمی قوت پیداکرےاورعلمی میدان میں بلندبرترمقام پرفائزہوجائے لیکن آج اس کافاتحہ پڑھاجارہاہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے حوزہ علمیہ میں مطول کادرس ختم ہوگیاہے اس بعدآپ نے فرمایاشیخ انصاری ہرنمازصبح کےبعدتعقیب نمازکی طرح ابن مالک کےاشعار اورمطول کے۵۰ صفحات اسے اہمیت دیتے ہوئے پڑھاکرتے تھے۔

اس کےبعد فرمایامجھے حوزہ علمیہ اوراس کے طلاب کے مستقبل کےبارے میں اضطراب وقلق ہے اگرنظام اسی روش پرچلتارہے گاتوخسران ہمارمقدربنے گا۔

____________________

(۱) ۔مذہب امامیہ کےدینی مدارس میں قدیم زمانے ہی سے علوم کی تحصیل کےتین مرحلے ہوتے ہیں۔پہلامرحلہ مقدمات کہاجاتاہے اس مرحلے میں نحو،صرف، معانی، بیان، بدیع،منطق،کلام،اولیات فقہاورادبیات اصول فقہ کےدروس دیئے جاتے ہیں اس میں جامع المقدمات کابھی درس دیاجاتاہے جوصرف، نحو،منطق،آداب متعلمین جیسی گیارہ کتابوں پرمشتمل ہےاس کےبعدالبھجۃ المرضیہ فی شرح الفیہ ابن مالک ازجلال الدین سیوطی یاشرح ابن عقیل ابن ناظم پھرمغنی اللبیب عب کتب الاعاریب کادرس دیاجاتاہے علم صرف میں شرح نظام ،منطق مرحوم مظفر،حاشیہ ملاعبداللہ یزدی اورفقہ میں تبصرۃ المتعلمین۔ شرائع الاسلام نیزمرجع تقلیدکےرسالہ عملیہ کےدروس دیئے جاتے ہیں۔


دوسرامرحلہ:

جسے مرحلہ سطح یامرحلہ سطوح بھی کہتے ہیں اس مرحلے میں فقہ واصول نیزاس فن کی اکثرمتدوال کتابیں مثلاً۔۔۔۔ معالم الدین ،قوانین الاصول، اصول مرحوم مظفریاحلقات شہیدصدر،شرح لمعہ ،رسائل ومکاسب ازشیخ انصاری،کفایہ الاصول ازمحقق خراسانی علم کلام میں شرح باب حادی عشرشرح تجریداورعلم فلسفہ میں منظومہ محقق سبزواری اوراسفارازملاصدرا۔۔شیرازی کےدورس دیئے جاتے ہیں یہ مرحلہ پہلے مرحلے سے اپنی عمیق فکرونظر کے ذریعہ ممتاز ہے اس مرحلے میں حواشی وتعلیقات اوراس فن کی دوسری کتابوں کے ذریعے عملی مسائل کوروشن کرنے کیلئے استدلال کیاجاتاہے اورطالب علم پر واجب ہے کہ وہ استاد کےبتائے ہوئے ہرموضوع میں نظریات وتعلیقات کوقلم بندکرے۔

تیسرامرحلہ۔

یہ دینی مدارس اورحوزات علمیہ میں درس کاآخری مرحلہ ہے اسے مرحلہ خارج بھی کہاجاتاہے اس مرحلے میں طالب علم مجتہدوفقیہ ہوجاتاہے اوراس میں احکام شرعیہ فرعیہ کواس تفصیلی دلائل کتاب وسنت اجماع اوعقل کےذریعہ استنباط کرنے کاملکہ پیداہوجاتاہے۔اس مرحلے میں درس کی کیفیت اس طرح ہے کہ استادپہلے شاگرد کےسامنے ایک مسئلہ بیان کرتاہے اس کےبعد اس مسئلہ کے موافق دلائل وبراہین پیش کرتا ہےاورجس سے متفق نہیں ہوتاہے اس کورد کرکے اپنی خاص علمی رائے بیان کرتاہے اورپھراس مسئلہ میں جوصحیح رائے ہوتی ہے اسے بیان کرتاہے اوراس پردلیلیں لاتاہے کبھی کبھی تواستادایک مسئلہ میں کئی کئی روز تک بحث کرتاہے یہاں تک کہ اس کاآخری نظریہ روشن ہوجاتااس مرحلے میں بحث وتدریس کسی خاص کتاب میں منحصر نہیں بلکہ استاد فقہ واصول کےباب کےمتعلق بالترتیب بحث کرتاہے لیکن دورحاضرمیں اکثردرس خارج اصول فقہ میں کفایہ الاصول ،فقہ میں العروۃ الوثقیٰ ازسیدیزدی یاشرائع الاسلام ازمحقق حلی پرمشتمل ہے یہی وجہ ہے کہ ان کتابوں پرشرحیں اورحاشیے زیادہ پائے جاتے ہیں خاص طورسے ہمارے زمانے میں ۔

حوزات علمیہ میں درس عامہ کی بہ نسبت امتیازی شان رکھتے ہیں اس مرحلے میں خصوصاشاگرد استادسے اس کے بیان کئے ہوئے موضوعات پربحث کرتاہے حوزے میں علم فقیہ کوخاص مرتبہ حاصل ہے کیونکہ دینی مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں فقہ کی تعلیم ہی کادرس اصل ہدف ہے حوزے میں فقط فقہاء ومجتہدین ہی نہیں ہوتے بلکہ متکلمین ،فلاسفہ ،ریاضی دان، مناطقہ ،مفسرین ،ادباء ،شعراء ،مولفین ،خطباءاوراس کے علاوہ دوسرے صاحبان علم وفضل وغیرھم بھی پائے جاتے ہیں اب یہاں درس وتدریس اورمدارس کااصل ہدف دین کی نصیحت خداوندعالم کی طرف رہنمائی کرناہے ۔حوزہ علمیہ سے فارغ ہونے والے افراد خداکےاس قول ۔"فلولانفرمن کل فرقۃ طائفہ" کامصداق بن کراطراف واکناف میں دینی تدریس وتربیت اوراسلامی تبلیغ وارشادمیں مشغول ہوتے ہیں نیزمختلف علوم وفنون میں تصنیف وتالیف کافریضہ بھی اداجسکی اسلامی معاشروں کی ضرورت ہوتی ہے ۔اقتباس ازکتاب امام شاہرودی۔

روایت میں آپ کےمشائخ۔

شاید ہمارے زمانے میں علماء عامہ اورخاصہ کی طرف سے اجازہ روایت حاصل کرنے میں استاد علام کاکوئی مثل نہ ہوآپ اس بلندوبرترمقام اورعظیم ترین مرتبے میں یکتاء روزگار اورسب سے آگے تھے۔

اپ کواحادیث امامیہ اورنبویہ ؐ کے نقل کے سلسلے میں تقریباً ۲۰۰ اسلامی شخصیتوں کی طرف سے اجازے حاصل تھے آپ کے فرزندڈاکٹرسیدمحمودمرعشی نے تمام اجازوں کوایک مجموعہ کی شکل میں کیاہے جوانشاء اللہ ۔۔زیورطبع سے آراستہ ہوگااجازہ دینے والوں کی مختصرحالات زندگی بھی اجازے کےساتھ دوجلدوں میں شائع ہوگی پہلی جلدتین فصل اوردوسری جلد صاحبان اجازات کے حالات زندگی پرمشتمل ہے۔

علامہ سیداحمدحسینی جوکثیر تالیفات کے مالک ہیں نے مجھ سے فرمایاہے میں نے صاحبان اجازات کے حالات زندگی مرتب کرلئے ہیں ان میں سے بعض بزرگوں سے میں نے ملاقات بھی کی ہے خداسے دعاہے وہ انھیں اس عظیم کام انجام دینے کی توفیق دے تاکہ صاحبان علم وفضل اورواقف کاران حدیث وراویت اس اہم تالیفات سے بہرہ مندہوسکیں۔

استادعلام نے اپنی کتاب الطرق والاسانید میں اپنے تمام مشائخ کوبطورتفصیل یادکیاہے ہم یہاں القاب وآداب کے بغیرمختصر طورپران آیات عظام اورحجج کرام کے اسماء گرامی فہرست وارتحریرکرتے ہیں۔

۱۔سیدحسن الصدر۔

۲۔الحاج مزاحسین علوی سبزواری۔

۳۔الحاج مرزاعبدالباقی موسوی صفوی شیرازی۔

۴۔ سیدعلی حسینی کوہ کمری تبریزی۔

۵۔ سیدمحمدمھدی موسوی بحرانی غریفی۔

۶۔سیدمحمدحسین ساروی۔

۷۔ الحاج سیدمحسن امین عاملی شامی

۸۔ سیدھبۃ الدین شہرستانی۔

۹۔سیدابوالحسن نقوی جوسیددلدارعلی ہندی کےپوتے تھے۔

۱۰۔سیدعلی نقی نقوی فرزندابوالحسن مذکورمعروف بہ نقن صاحب۔

۱۱۔الحاج سیدابوالحسن دہگردی اصفہانی۔

۱۲۔سیدمحمدرضاحسینی کاشانی ۔

۱۳۔سیدمحمدحسین تہرانی معروف بہ عصار۔

۱۴۔الحاج سید محمدموسوی زنجانی۔

۱۵۔سیدجعفرسیدبحرالعلوم نجفی کےپوتے تھے۔

۱۶۔الحاج سیدعلی شوستری جوسید جزائری کےپوتے تھے۔

۱۷۔سیدصادق رشتی ۔

۱۸۔سیدمحمدصادق آل بحرالعلوم نجفی۔

۱۹۔سیدمحمدفرزندحسین موسوی نجف آبادی اصفہانی۔

۲۰۔ سیدمحمدعلی حسینی تفرشی نجفی۔

۲۱۔سیدمحمدموسوی خلخالی نجفی۔

۲۲۔ سیداحمدمعروف بہ سیدآقاشوستری نجفی۔

۲۳۔ سیداحمدحسینی صفائی خوانساری۔

۲۴۔الحاج سیدناصرحسین ہندی فرزندصاحب عبقات۔

۲۵۔ سیدعبدالحسین شرف الدین موسوی عاملی۔

۲۶۔سیدمحمدموسوی تبریزی معروف بہ مولانا۔

۲۷۔الحاج سیدعلم بصیرالنقوی کابلی۔

۲۸۔سیدآقاحسین اشکوری۔

۲۹۔سیدمحمدحجت کوہ کمری۔

۳۰۔سیدمحمدعلی موسوی شوستری۔

۳۱۔سیدمحمدحسین شاہ عبدالعظیمی رازی۔

۳۲۔ سیدمحمدسعیدحبوبی تحفی ۔

۳۳۔ سیدمحمدعندالرزاق حلوالنجفی۔

۳۴۔سیدعبداللہ سبزواری معروف بہ برہان المحققین۔

۳۵۔سیدعبداللہ بلادی بلادی بحرانی۔

۳۶۔الحاج سیدابوالحسن اصفہانی موسوی۔

۳۷۔سیدمحمدابراہیم شیرازی۔

۳۸۔الحاج سیدآقاحسین طباطبائی قمی۔

۳۹۔ الحاج سیدآقاطباطبائی بروجردی۔

۴۰۔سیدعبدالحسین نبطی۔

۴۱۔سیدۃ خانم امینہ علویہ اصفہانی ۔

۴۲۔سیدنجم الحسن ہندی۔

۴۳۔ الحاج سیدکاظم عصار۔

۴۴۔الحاج سیدعلی نجف آبادی اصفہانی ۔

۴۵۔سیدمحمداصفہانی کاظمینی ۔

۴۶۔الحاج سیدفخرالدین۔

۴۷۔ سیداسماعیل شریف الاسلام مرعشی۔

۴۸۔الحاج سیدحسین قمی معروف بہ کوچہ حرمی۔

۴۹۔سیدمحمدباقرقزوینی ۔

۵۰۔سیدمحمدزنجانی۔

۵۱۔الحاج شیخ عبدالحسین بغدادی۔

۵۲۔ الحاج شیخ محمدرضادزفولی۔

۵۳۔ آخوندمولیٰ محمدحسین فشارکی اصفہانی۔

۵۴۔ شیخ فیاض الدین زنجانی۔

۵۵۔شیخ علی دامغانی۔

۵۶۔ شیخ علی اکبرنہاوندی۔

۵۷۔ شیخ آقابزرگ تہرانی۔

۵۸۔شیخ محمدرضااصفہانی مسجدشاہی۔

۵۹۔شیخ محمدباقرقاینی بیرجندی۔

۶۰۔الحاج مرزاابوالھدی کرباسی۔

۶۱۔الحاج مزامحمدشیرازی نجفی۔

۶۲۔مزاابوالحسن جیلانی معروف بہ شریعت مدار۔

۶۳۔ شیخ محمدصالح نوری طبرسی۔

۶۴۔مرزاابوالحسن مشکینی اردبیلی۔

۶۵۔ شیخ فضل اللہ نوری طبرسی حائری ۔

۶۶۔ شیخ فداحسین قرشی ہندی۔

۶۷۔ الحاج شیخ ابوالقاسم قمی۔

۶۸۔ الحاج شیخ فاضل مشہدی خراسانی۔

۶۹۔الحاج عبداللہ مامقانی۔

۷۰۔ شیخ محمدفراہانی۔

۷۱۔ شیخ ملامھدی بنائی حائری۔

۷۲۔الحاج مرزامحمدتہرانی۔

۷۳۔شیخ علی فرزندجعفرکاشف الغطاء نجفی ۔

۷۴۔ شیخ محمدحرزالدین نجفی۔

۷۵۔الحاج مرزاہادی خراسانی حائری۔

۷۶۔الحاج شیخ علی فرزندابراہیم قمی معروف بہ زاہد۔

۷۷۔ مرزامحمدفرزندمحمدحسن ہمدانی معروف بہ جولانی۔

۷۸۔الحاج مرزایحیی خوئی معروف بہ امام ۔

۷۹۔الحاج شیخ محمدعراقی معروف بہ سلطانی۔

۸۰۔ الحاج شیخ عبدالحسین شیرازی حائری۔

۸۱۔ شیخ باقرقمی۔

۸۲۔شیخ مرتضیٰ طالقانی نجفی۔

۸۳۔ شیخ مرزامحمدعلی جہاردہی رشتی۔

۸۴۔ الحاج مرزاابوالحسن آقامعروف بہ انکجی۔

۸۵۔ شیخ اسماعیل معزالدین اصفہانی۔

۸۶۔ شیخ محمدشریف اردوبادی نجفی۔

۸۷۔شیخ محمدجوادرازی۔

۸۸۔ مرزاحیدرقلی خان سردارکابلی ۔

۸۹۔الحاج مرزاھدایۃ اللہ قزوینی۔

۹۰۔شیخ عبداللہ زنجانی۔

۹۱۔شیخ ضیاءالدین عراقی نجفی۔

۹۲۔شیخ محمدحسین نائینی۔

۹۳۔شیخ محمدجوادفرزندعباس گلپائیگانی ۔

۹۴۔الحاج شیخ مہدی اصفہانی۔

۹۵۔شیخ عیسیٰ فرزندشکراللہ لواسانی تہرانی۔

۹۶۔مرزاحسن حائری شیرازی۔

۹۷۔مرزافخرالدین شیخ الاسلام حسینی قمی جوصاحب قوانین کے نواسے تھے۔

۹۸۔الحاج شیخ عباس قمی۔

۹۹۔شیخ خلف آل عصفور بحرانی۔

۱۰۰۔الحاج مرزاحسن فرزندالحاج ملاعلی علیاری تبریزی۔

۱۰۱۔ مرزامحمدعلی اردوبادی نجفی۔

۱۰۲۔ مرزافضل اللہ زنجانی معروف بہ شیخ الاسلام۔

۱۰۳۔شیخ عبدالغنی عاملی جوشیخ حرعاملی کی نسل سے ہیں۔

۱۰۴۔الحاج مرزاصادق آقاتبریزی۔

۱۰۵۔الحاج شیخ عبدالکریم حائری یزدی۔

۱۰۶۔ شیخ عبدالمحسن خاقانی خرم شہری۔

۱۰۷۔شیخ حسن علی اصفہانی۔

۱۰۸۔مرزامحمدعلی شاہ آبادی۔

۱۰۹۔الحاج مرزامحمدرضاکرمانی۔

۱۱۰۔الحاج شیخ حبیب حبیب اللہ ترشیزی۔

۱۱۱۔آقامرزاآقااصطہباناتی شیرازی نجفی۔

۱۱۲۔الحاج شیخ جوادبلاغی ۔

۱۱۳۔الحاج شیخ مہدی اصفہانی مسجدشاہی۔

۱۱۴۔ شیخ اسماعیل اصفہانی معروف بہ بشمی۔

۱۱۵۔شیخ مہدی قمی حکمی۔

۱۱۶۔الحاج مرزارضاکرمانی۔

۱۱۷۔ الحاج مرزاعلی شہرستانی مرعشی حائری ۔

۱۱۸۔شیخ مرتضیٰ جہرۃ قانی تبریزی۔

۱۱۹۔الحاج امام جمعہ خوئی۔

۱۲۰۔ شیخ سراج الدین فداحسین قرشی۔

۱۲۱۔سیدمحمودمرعشی والداستاد۔ اسکے علاوہ دوسرے علمائے امامیہ نے بھی آپ کواجازہ روایت دیاہے۔

علمائے اسماعیلیہ نے بھی آپ کواجازہ روایت دیاہے جس میں درج ذیل قابل ذکرہیں۔

۱۲۲۔ سیدمحمدہندی مقیم گجرات۔

۱۲۳۔ سیدسیف الدین طاہرجواسماعیلیہ کے امام تھے۔

علمائے زیدیہ سے بھی آپ روایت کرتے تھے۔

۱۲۴۔ سیدقاسم فرزندابراہیم احمدعلوی حسنی زیدی یمانی۔

۱۲۵۔سیدمحمدبن محمدبن اسماعیل منصورمماتی۔

۱۲۶۔شیخ یحیی بن حسین ابن بن ابراہیم سہیل زیدی۔

۱۲۷۔ سیداحمدمحمدزبارۃ الزیدی نقی جمہوریہ عربیہ یمنیہ ۔

۱۲۸۔ سیدیحیی ابن منصورباللہ محمدبن حمیدالدین صنعانی۔

۱۲۹۔ شیخ عبداللہ بن عبدالکریم بن محمدجرافی زیدی۔

۱۳۰۔ شیخ محمدبن محسن سراجی صفائی یمانی۔

۱۳۱۔قاضی احمدبن احمدبن محمدسیاغی زیدی یمانی۔

۱۳۲۔ سیداسماعیل بن احمدبن عبداللہ مختفی زیدی۔

۱۳۳۔ شیخ عبدالرزاق بن عبدالرزاق رقمی زیدی یمانی۔

۱۳۴۔شیخ عبداللہ بن احمدبن رقمی زیدی ۔

۱۳۵۔شیخ محسن بن احمدبن جلال زیدی۔

۱۳۶۔شیخ یحیی بن صالح بن حسین سراج یمانی زیدی۔

علمائے عامہ سے بھی آپ نے روایت کی ہے۔

۱۳۷۔شیخ محمدبہجۃ البیطارحنفی دمشقی مفتی دمشقی۔

۱۳۸۔شیخ احمدبن شیخ امین گفتار مفتی جمہوریہ سوریہ۔

۱۳۹۔سیدحسن الاسعدی شافعی کروی۔

۱۴۰۔شیخ یوسف الدجوی مصری مالکی ۔

۱۴۱۔سیدعلی بن محمدعلوی شافعی یمانی۔

۱۴۲۔ شیخ محمدنجیب المطیعی حنفی مصری۔

۱۴۳۔شیخ ابراہیم حبابی مصری جوسابق میں شیخ ازہرتھے۔

۱۴۴۔شیخ احمدبن محمدمقبول اھدل شافعی یمانی۔

۱۴۵۔شیخ محمداللہ حافظ جی حضورامیرشریعتی بنگلادیشی حنفی

۱۴۶۔شیخ محمد حسن مساط مالکی۔

۱۴۷۔شیخ محمدبن صدیق بطاح اھدل شافعی۔

۱۴۸۔شیخ علوی بن طاہربن عبداللہ الحدادشافعی حضرمی۔

۱۴۹۔شیخ محمدطاہربن عاشورامالکی مغربی۔

۱۵۰۔شیخ عبدالواسع بن یحیی واسعی شافعی یمانی۔

۱۵۱۔سیدابراہیم راوی رفاعی شافعی بغدادی۔

۱۵۲۔شیخ عبدالحفیظ بن محمدطاہرفہری مالکی مغربی ۔

۱۵۳۔شیخ حسین مجدی مدرس شافعی کردستانی۔

۱۵۴۔شیخ داود بن عبداللہ مرزوقی زبیدی شافعی یمانی۔

آپ کی تصنیفات وتالیفات۔

خداوندعالم قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے۔"ن والقلم ومایسطرون" قسم ہے نون اورقلم اوراس چیزکی جولکھتے ہیں۔

یہ بات پوشیدہ نہین ہے کہ جس کے پاس قلب سلیم اورپاکیزہ سماعت ہے وہ اس بات کی گواہی دے گاکہ سیدشہداء ابوعبداللہ الحسین علیہ السلام عالم مکاشفہ میں روحانی قلم(۱) کے ذریعہ جس پرلطف ومہربانی کریں پھروہ تصنیف وتالیف میں کثیرتعدادکاکیونکرمالک نہ اوراس کے تحریرکردہ رسالے اورکتابوں کی تعدادسوسے کیوں نہ بڑھ جائے اگرچہ مراجع کرام کی تصنیف وتالیف کازمانہ بہت ہی کم ہواکرتاہےجوعلم کی عالی حدسے مرجعیت تک کے درمیان محدودرہتاہے لیکن استادعلام اس کےباوجودبھی مفیدتصنیف وتالیف میں سرگرم رہے جس سے عام وخاص اورمطالعہ ومباحثہ کرنے والے افرادبے نیازنہیں ہیں۔

ایک دن استادنے مجھ سے فرمایامیرے پاس مخطوطات کابوریوں سرمایہ ہے لیکن میری غربت کی وجہ سے میرے پاس کوئی ایساشخص نہیں ہے جواسے سلیقہ سے مدون کرے۔

ایک دن اورایک دلچسپ حدیث کے بارے میں فرمایاعلماء گرمی کے موسم میں شدت حرارت کی وجہ سے حوزہ علمیہ میں تعطیل کرکے قم سے دورایسے سرسبزوشاداب مقامات پرچلے جاتے ہیں جوگرمی کاموسم بسرکرنے کیلئے بہترین علاقہ شمارکیاجاتاہے لیکن میں اسی شہرمیں تحقیق وتالیف کی وجہ سے گرمی کی شدت برداشت کرتارہاکبھی اس دیوارکے سائے میں پناہ لیتاتھاکبھی اس دیوارکے سائے میں اس طرح سالہاسال گزرگئے اورمیں تصنیف وتالیف میں مصروف رہا۔

اس جیسے عظیم اورصابرانسان کی زندگی کیونکر کتابوں اوررسالوں سے ثمربارنہ ہوتی اورکتاب احقاق الحق پران کی تعلیقات ان کی زندگی کابہترین ثمرہ اورہمیشہ باقی رہنے والاعلمی اثرکیوں نہ قرارپاتیں۔

میں نے سالہاسال انھیں نمازصبح سے پہلے محراب عبادت میں کسی نہ کسی کتاب کامطالعہ کرتے ہوئے دیکھاہے جس دے وہ احقاق الحق کے تعلیقات کیلئے موادفراہم کرتے تھے آپ نے مختلف علوم وفنون میں نایاب کتابیں اورمفیدرسالے بھی تحریرکئے ہیں آپ کے بعض رسالے اورکتابیں ایسی بھی ہیں جوچندصفحات پرمشتمل ہیں۔

استادعلام اپنی پہلی وصیت میں اپنے فرزندسے اپنی تصانیف کے متعلق فرماتے ہیں میں اسے اپنی کتاب (مشجرات آل الرسول الاکرم)عمدۃ الطالب پرتعلیقات اوراپنے تمام آثار اورقلمی رشحات کے تکمیل کی وصیت کرتاہوں جنہیں میں نے سیکڑوں بلکہ ہزاروں کتابوں سے راتوں کی بیداری اوردنوں کی تھکن کوخاطر میں لاتے ہوئے حاصل کیاہے یہ دونوں مذکورہ بالاکتابیں زمانے کے حسنات میں سے ہیں ان میں بہت سے فوائدونوادربھی پوشیدہ ہیں جودوسری کتابوں میں نہیں پائے جاتے خداوندعالم مجھے ان دونوں کتابوں کےذریعے بہترین جزادے۔

وصیت نامے میں ایک جگہ اورفرماتے ہیں میں اسے اپنی تمام ناقص تصنیف وتالیف کی تکمیل اوراس کےنشرواشاعت کی وصیت کرتاہوں جوفقہ ،اصول،انساب،رجال ،درایہ ،تفسیر،حدیث ،تاریخ ،تراجم ،مجامع،علوم غریبہ اورسیروسلوک جیسے علوم پرمشتمل ہے اس کے علاوہ میں اپنے حالات کشفیات ،مجاہدات اورمتاعبات پرمشتمل کتابوں کی بھی وصیت کرتاہوں۔

ایک اورمقام پرفرماتے ہیں میں اسے اپنی تمام تصانیف وتالیف کے نشرکی وصیت کرتاہوں خصوصیت سے ان کتابوں کی جومیں نے عالم شباب میں مختلف علوم ،غرائب عجائب اورانساب کےمتعلق تحریرکی ہے۔

ایک اورمقام پرفرماتے ہیں میں اسے اپنے ان منظومات کی جومختلف حالات میں میرے طبع موزوں سے وجودمیں آئیں کی جمع وتدوین کی وصیت کرتاہوں۔

اب ہم ان تصنیفات وتالیفات کاذکرکرتے ہیں جوان کےسحرالبیان قلم سے وجودمیں آئی ہیں پروردگار سے دعاہے وہ اولاد کواپنے آباء واجداد کےآثارزندہ کرنے اوران کے علوم کے چشمے سے لوگوں کوسیراب کرنے کی توفیق دے۔

____________________

(۱) ۔ چوتھی کرامت کی طرف مراجع کیجیئے ص۔۱۲۲


انساب ،رجال ،تاریخ اورسفرنامے

۱۔ مشجرات آل الرسول الاکرم

یہ کتاب چارجلدوں پرمشتمل ہے جس میں پوری دنیاکے سادات کے انساب بیان کئے گئے ہیں آپ نے اپنی نصف عمراس کتاب کی تالیف وتنسیق اورتدوین میں صرف کی یہ عربی زبان میں شجروں کی شکل میں ہے۔

۲۔ کتاب المسلسلات فی ذکرالاجازات

یہ کتاب جملہ علماء شیعہ امامیہ زیدیہ اسماعیلیہ اورعلماء عامہ کی طرف سے دئے گئے اجازات پرمشتمل ہے اس کاایک نسخہ میں نے آپ کےفرزندکے پاس دیکھاہے جوطباعت کیلئے آمادہ ہے۔

۳۔ طبقات النسابین

یہ کتاب دوضخیم اوربڑی جلدوں میں ہے جواسلام کی پہلی صدی سے چودھویں صدی تک کے علماء نساب کےحالات زندگی پرمشتمل ہے فاضل سیدمہدی رجائی نے اس کتاب سے استاد علام کی کتاب لباب الانساب کےمقدمے کیلئے اقتباس فرمایاہے۔

۴۔ مزارات العلویین

اس کتاب میں پوری دنیاکےسادات کرام اورعلویوں کی قبروں کاتذکرہ ہے جسے آپ نے رجال وانساب اورالواح القبورنامی کتابوں سے اخذکیاہے یہ عربی زبان میں حروف تہجی کےاعتبارسے ترتیب دی گئی ہے۔

۵۔الفوائدالرجالیہ

یہ کتاب علم الرجال کے اہم مباحث پرمشتمل ہے جسے آپ نے اس فن کے اساتذہ سے اخذکیاہے۔

۶۔اعیان المرعشیین

یہ کتاب خاندان مرعشی کےسیکڑوں فقہاء، علماء،حکماء،متکلمین ،فلاسفہ، محدثین،ادبا،بادشاہوں اوروزیروں کے حالات زندگی پرمشتمل ہے۔

۷۔اللئالی المنتظمۃ والدرالثمینہ

یہ کتاب علامہ حلی،قاضی نوراللہ شوستری صاحب احقاق الحق متوفی – ۱۰۱۱ ہجری اورقاضی شافعی فضل بن روزبہان کےحالات زندگی پرمشتمل ہےتعلیقات احقاق الحق کےمقدمے میں ان حضرات کے حالات زندگی شائع ہوئے ہیں۔

۸۔ مستدرک کتاب شہداء الفضیلۃ۔۔۔ یہ کتاب شیخ عبدالحسین امینی (صاحب الغدیر)کی تحریرہے استادعلام نے اپنے مستدرک میں شہداء علماء شیعہ کی ایک جماعت کاذکرکیاہے جنہیں علامہ امینی نے ذکرنہیں کیاہے۔

۹۔ لمعۃ النوروالضیاء

یہ رسالہ سیدابوالرضافضل اللہ راوندی کاشانی کےحالات زندگی کے بارے میں لکھاگیاہے جوکتاب (المناجاۃ الالہیات فی مناقب امیرالمومنین)کے ضمیمہ کیساتھ ۱۳۸۴ہجری قمری میں طہران سے شائع ہوا۔

۱۰۔ سجع البلابل فی ترجمۃ صاحب الوسائل

یہ ایک رسالہ ہے جومولف وسائل الشیعہ شیخ حرعاملی کی حالات زندگی پرمشتمل ہے یہ کتاب(اثباۃ الھداۃ باالنصوص والمعجزات)کیساتھ شائع ہوا۔

۱۱۔ وسیلۃ المعاد فی مناقب شیخناالاستاد

یہ رسالہ تفسیرآلاء الرحمن اورالھدیٰ الی دین المصطفی نیزدیگراہم تالیفات کےمولف شیخ محمدجوادبلاغی کے حالات زندگی پرمشتمل ہےجوکتاب (المدرسۃ السیارہ فی ردالنصاریٰ)کےضمیمہ کے ساتھ ۱۳۸۳ہجری میں تہران سے شائع ہوا۔

۱۲۔لؤلوۃ الصدف فی حیات السیدمحمدالاشرف

یہ رسالہ فیلسوف کبیر محقق میردامادکے نواسے علامہ عبدالحبیب کےفرزندسیدمحمداشرف کے حالات زندگی پرلکھاگیاہے(جوکتاب فضائل السادات)مولف محمداشرف کےضمیمہ کے ساتھ سنہ ۱۳۸۰ ہجری میں قم سے شائع ہوا۔

۱۳۔ منیۃ العالمین

یہ رسالہ محدث شہیدابوجعفرمحمدبن فتال نیشاپوری کے حالات زندگی پرمشتمل ہے جوروضۃ الواعظین کےضمیمہ کے ساتھ سنہ ۱۳۷۷ ہجری میں قم مقدسہ سے شائع ہوا۔

۱۴۔الفتحیہ

یہ رسالہ میرابوالفتح شریفی عربشاہی جرجانی صاحب کتاب (تفسیرالشاہی فی آیات الاحکام درزبان فارسی)کےحالات زندگی پرمحتوی ہے جوتبریزسے کسی کتاب کے ضمیمہ کے ساتھ شائع ہوا۔

۱۵۔مطلع البدرین

یہ رسالہ محدث لغوی مفسر کبیرشیخ فخرالدین محمدعلی طریحی نجفی صاحب کتاب (مجمع البحرین)کی سوانح حیات پرمشتمل ہے جوسنہ ۱۳۷۹ہجری میں تہران سے شائع ہوا۔

۱۶۔مفرج الکروب

یہ رسالہ علامہ دیلمی صاحب کتاب ارشادالقلوب کےدورحیات پرتحریرکیاگیاہےجوسنہ ۱۳۸۸ ہجری میں کسی کتاب کے ضمیمہ کےساتھ تہران سے شائع ہوا۔

۱۷ ۔رسالہ طریقہ

یہ رسالہ فارسی زبان میں شیخ جعفریاشیخ علی نقی شیخ الاسلام کے حالات میں تحریر ہےجومعارف الہیہ میں لکھی ہوئی کتاب تحفہ شاہی کے ساتھ سنہ ۱۳۸۰ ہجری میں شائع ہوا۔

۱۸۔ ایک اوررسالہ استادعلام نے فارسی زبان میں اپنے استادآیۃ اللہ شیخ محمدمحلاتی نجفی (صاحب کتاب گفتار خوش یارقلی جوباطل مذاہب کی ردمیں لکھی گئی ہے)کے حالات پرتحریرکیاہے جوسنہ ۱۳۸۴ ہجری میں کسی کتاب کے ضمیمہ کے ساتھ تہران سےشائع ہوا۔

۱۹۔ شیخ عزالدین ابن اثیرالموصلی صاحب کتاب اسدالغابہ کے حالات پرایک رسالہ ہے جوتہران شائع ہوا۔

۲۰۔ الحاج سیدابوالقاسم طباطبائی تبریزی نجفی معروف بہ علامہ متوفیٰ سنہ ۱۳۶۲ ہجری کی زندگی پربھی ایک رسالہ ہے جوکتاب مشجرات اجازات علماء الامامیہ کے ضمیمہ کے ساتھ شائع ہوا۔

۲۱۔ریاض الاقاحی

یہ رسالہ متکلم محدث شیخ زین البیاضی عاملی صاحب کتاب الصراط المستقیم الیٰ مستحقی التقدیم کےحالات زندگی پرمشتمل ہےجوسنہ ۱۳۸۴ہجری میں تہران سے شائع ہوا۔

۲۲۔جلال الدین سیوطی شافعی کی کتاب الدرالمنثورپرمقدمہ بھی تحریرکیاہے جوتہران سے شائع ہوا۔

۲۳۔ الافسطیہ

اس رسالہ میں قم مقدس کے اطراف کےدیہات ،قریہ طغرود کےسادات کرام کےانساب بیان کئے ہیں جومحدث عباس قمی کی کتاب وقائع الایام کےساتھ طہران سے شائع ہوا۔

۲۴۔مصرمیں خلفاء فاطمین کےانساب کی صحت پرایک رسالہ ہے جسے آپ نے مدیرمجلہ ھدی الاسلام علامہ فاضل حسن قاسم مصری کی فرمائش پرلکھاہے۔

۲۵۔ رسالہ دراشباہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

۲۶۔حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کےسراقدس کے موضع دفن کی تعیین میں ایک رسالہ ہے جومورخین کے اقوال اورخوداختیارکئے ہوئے قول اصح پرمشتمل ہے کاش یہ زیورطبع سے آراستہ ہوجاتا۔

۲۷۔کشف الظنون عن حال صاحب کشف الظنون ۔۔۔ یہ رسالہ مولف کتاب کاتب الحلبی کے حالات زندگی پرمشتمل ہے جوتہران سے شائع ہوا۔

۲۸۔منھج الرشادفی ترجمۃ الفاضل الجواد

یہ رسالہ فاضل جوادکے حالات میں ہےجومسالک الافہام کے ساتھ شائع ہوا۔

۲۹۔ ایک رسالہ حاج مومن شیرازی جزائری کے حالات پرلکھاگیاہے جس کانام کاشقۃ الحال فی ترجمۃ صاحب الخیال ہے یہ طبع ہوا۔

۳۰۔ ایک رسالہ سلطان علی فرزندامام محمدباقرعلیہ السلام کےدورحیات پرمشتمل ہے جوکاشان میں مدفون ہیں۔

۳۱۔المنن والمواھب العددیہ

یہ رسالہ میرمحمدقاسم نساب سبزواری کے حالات پرمشتمل ہے جوتبریزسے شائع ہوا۔

۳۲۔ غنیۃ المستجیر

یہ رسالہ استادعلام کے سلسلہ اجازات اورمرحوم حاج مرزااحمداصفہانی کے اجازۃ روایت پرمشتمل ہے جوکتاب (الشمش الطالعہ فی شرح زیارۃ الجامعہ)کے ساتھ طبع ہوا۔

۳۳۔ رسالہ درحالات صاحب کتاب عمدۃ الطالب۔

۳۴۔العزیۃ

یہ رسالہ شہیدعزالدین یحیی معروف بہ امام زادہ کے حالات پرمشتمل ہے طہران میں آپ کامزارہے یہ رسالہ ۱۳۸۲ ہجری قمری میں شائع ہوا۔

۳۵۔ ھدیۃ النبلاء ۔

یہ کتاب سنہ ۱۰۰۰ ہجری قمری کےبعدکےعلماء اورعلوی سادات جن کاذکرتراجم کی کتابوں میں بہت کم ملتاہے کےحالات زندگانی پرمشتمل ہے۔

۳۶۔التبصرۃ فی ترجمۃ مولف التکملۃ

یہ رسالہ نجوم السماء کے مقدمہ میں تحریرہے۔

۳۷۔المجدی فی حیاۃ صاحب المجدی

یہ رسالہ صاحب (کتاب المجدی درعلم نسب )جوپانچویں صدی ہجری کی اہم شخصیتوں میں ہیں کے حالات زندگی پرمشتمل ہے سنہ ۱۴۱۰ ہجری میں یہ اسی کتاب کے ضمیمہ کے ساتھ شائع ہوا۔

۳۸۔ الضوء البدری فی حیات صاحب الفخری

یہ رسالہ صاحب کتاب (الفخری فی علم النسب )قاضی سیدابوطالب کے حالات زندگی پرمشتمل ہے جوساتویں صدی ہجری کی اہم شخصیتوں میں تھےیہ رسالہ اسی کتاب کےضمیمہ کے ساتھ شائع ہوا۔

۳۹۔کشف الارتیاب

یہ رسالہ ابوالحسن بہیقی معروف بہ ابن فندق متوفیٰ سنہ ۵۶۵ ہجری کے حالات زندگی پرمشتمل ہے جوانہیں کی کتاب لباب الانساب کے ضمیمہ کے ساتھ شائع ہوا۔

۴۰ ۔ رسالہ درحالات مرحوم سیدعلی اصغرمحمدشفیع جابلقی۔

۴۱۔حاشیہ برکتاب وقائع الایام مولف محدث کبیرشیخ عباس قمی قدس سرہ۔

۴۲۔ رسالہ درفوائدصحیفہ سجادیہ یہ طہران سے اسی کتاب کے ضمیمہ کے ساتھ شائع ہوا۔

۴۳۔ملاآخوندملاعبدالکریم جزی حائری کی کتاب (تذکرۃ القبور)کی تکمیل کی ہے جس کاکچھ حصہ ضمیمہ کتاب کے طورپرسیدمصلح الدین مھدی اصفہانی کی جانب سےشائع ہوا۔

۴۴۔ منیۃ الرجال فی شرح نخبۃ المقال ۔۔۔ یہ کتاب علامہ سید حسین حسینی بروجردی متوفیٰ سنہ ۱۲۷۷ ہجری کی کتاب (منظومہ نجمۃ المقال)کی شرح اس کی پہلی جلدسنہ ۱۳۷۸ہجری میں قم سے طبع ہوئی۔

۴۵۔ ھدیۃ ذوی النھی فی ترجمۃ المولیٰ علم الھدیٰ

یہ رسالہ مولی محمدمعروف بہ علم الھدیٰ کاشانی ابن مولیٰ فیض کاشانی کے حالات زندگی پرمشتمل ہے جوکتاب معادی الحکمۃ فی مکاتیب الائمۃ کےضمیمہ کے ساتھ شائع ہوا۔

۴۶۔شرح کتاب عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب ازعلامہ سیدجمال الدین احمدبن عنبہ الداؤدی اس شرح کاشمار استادعلام کی اہم تالیفات میں ہوتاہے۔

۴۷۔مزارات الطالبین۔۔۔

۴۸۔الصرفہ یہ صاحب کتاب نفحہ کے حالات میں ایک رسالہ ہے۔

۴۹۔ سفرنامہ اصفہان

یہ کتاب سنہ ۱۳۴۲ہجری میں آپ کے سفراصفہان کے حالات پرمشتمل ہے۔ جس میں وہاں کے تاریخی ،تعمیری آثاراورعلماءوادباء کےقبورنیزبعض فضلاء کی ملاقات کاذکرتحریرہے۔

۵۰۔ سفرنامہ شیراز

یہ کتاب آپ کےسفرشیرازجسےادب کہاجاتاہے کےحالات پرمشتمل ہے جسےمیں وہاں کےقدیمی آثاراورعلماءوادباجیسے شیخ عبداالنبی ،مرزااحمدبن محمدکریم تبریزی جوصوفیوں کےسلسلہ ذھبیہ کےقطب ہیں نیزشاعرسیدمحمدقدسی خطاط شیخ محمدجعفرمحلاتی اوردیگرافرادکےتذکرہ ہیں۔

۵۱۔ سفرنامہ آذربائیجانی

اس کتاب میں وہاں کی اہم اورمشہورچیزیں پیش آنے والے حالات نیزبعض علماء کےتذکرے ہیں۔

آپ کے تینوں سفرکی داستان مخطوطات کی شکل میں موجودہے ہم ان کے لائق وفائق فرزندسے استادعلام کے تمام مخطوطات کی طباعت کی امیدرکھتے ہیں جیساکہ ان کے والدعلام نے اپنے وصیت نامے میں بھی تحریرکیاہے خداانھیں اس نیک کام کی توفیق عطافرمائے۔

علم اصول فقہ ۔

اس علم میں استاد علام نے ذیل کتابوں کی تالیف کی ہے۔

۵۲۔ الھدایۃ فی مفاضل الکفایۃ ۔۔۔ اس کتاب میں محقق خراسانی کی کفایۃ الاصول کے مشکلات کی تشریح کی ہے۔

۵۳۔مصباح الھدایۃ فی شوارع الکفایۃ۔

۵۴۔ حاشیۃ برمعالم الدین ازشہیدثانی۔

۵۵۔حاشیۃ برقوانین اصول ازمحقق قمی۔

۵۶۔حاشیہ برفرائدالاصول معروف بہ رسائل از شیخ اعظم انصاری۔

۵۷۔ مسارح الافکارفی مطارح الانظاریہ شیخ اعظم انصاری کی تقریرات پرحاشیہ ہے۔

علم فقہ ۔

۵۸۔ حاشیہ برکتاب مکاسب ازشیخ اعظم انصاری۔

۵۹۔حاشیہ برکتاب وسیلۃ النجاۃ ازآیۃ اللہ العظمیٰ سیدابوالحسن اصفہانی۔

۶۰۔ رسالہ دراثبات حلیۃ اللباس المشکوک ۔

۶۱۔رسالہ دربیع باشرط۔

۶۲۔حاشیہ منحصرہ شرح لمعہ ازشہیداول وثانی۔

۶۳۔ اجوبۃ المسائل الرازیہ

یہ کتاب مصنوعہ کحل کی نجاست طبی دانشگاہوں میں ایکسرےاورپوسٹ مارٹم کےجوازکےسلسلے میں مومنین تہران کیلئے سوال کےجوابوں پرمشتمل ہے۔

۶۴۔ الصناعاۃ الفقہیہ۔

۶۵۔ رسالہ دربیع خیاری۔

۶۶۔ رسالہ نخبۃ الاحکام درفارسی طبع تہران۔

۶۷۔ سبیل النجاۃ

یہ فارسی میں سالہ عملیہ ہے جوسنہ ۱۳۷۰ ہجری میں طہران سے شائع ہوایہ پہلارسالہ ہے۔

۶۸۔ توضیح المسائل

یہ ایک رسالہ عملیہ ہے جواول طہارت سے آخردیات تک فقہ کاایک کامل دورہ ہے پچاس مرتبہ سے زیادہ طبع ہوااورآخری مرتبہ آپ ہی کے حکم کےمطابق سنہ ۱۴۰۷ ہجری میں شائع ہواجسے میں نے صبح وشام ابتداء سے انتہاتک آپ کے سامنے گیارہ روزتک پڑھاجس کےنتیجہ میں بعض فقہی مسئلے اورنظریات تبدیل ہوئے اوراس کے آخرمیں مسائل مستحدثہ کےعنوان پرایک نئی فصل قائم کی یہ توضیح المسائل جدیدکےنام سےطبع ہوا۔

۶۹۔ غایۃ القصویٰ لمن رام التمسک بالعروۃ الوثقیٰ

محقق سیدیزدی کی کتاب العروۃ الوثقیٰ پرمفیدتعلیقات ہیں جوقم سے دوجلدوں میں شائع ہوئے۔

۷۰۔ الشموس الطالعہ

یہ فارسی زبان میں فقہ کے اکثرابواب پرمشتمل ہے ابھی تک اس کے تین اجزاء شائع ہوئے ہیں۔

۷۱۔ المصطلحات الفقہیۃ

یہ کتاب فقہاء مجتہدین اورمحدثین کی زبانوں پربولی جانے والی فقہی اصطلاحات کی شرح ہے۔

۷۲۔ مناسک الحج

یہ رسالہ فارسی زبان میں ہے جس میں مختصرحج کے ارکان کاذکرہے۔

۷۳۔ھدایۃ الناسکین

یہ مناسک حج اورزیارۃ حرمین شریفین کے بارے میں ایک رسالہ ہے ۔

۷۴۔ مصباح الناسکین

یہ رسالہ بھی حج کے ارکان پرمشتمل ہے کئی مرتبہ شائع ہوچکاہے۔

۷۵۔ راہنمائے سفرمکہ ومدینہ

یہ زبان فارسی میں تحریرہے حاجیوں کیلئے رہنماہے یہ طہران سے طبع ہوا۔

۷۶۔منھاج المومنین

یہ دوجلدوں میں ایک رسالہ عملیہ ہے جلداول میں عبادات اوردوم میں معاملات کےمباحث کاتذکرہ ہے جسے میں نے استاذعلام کے امتثال امرمیں سنہ ۱۴۰۶ہجری میں تحریرکیاتھاجوکچھ میں ہفتے کے دوران لکھتاتھااسے جمعرات وجمعہ کی صبح کوآپ کی خدمت میں پڑھ کرسنادیاکرتاتھاجس طرح میں نے آپ کے کتاب القصاص( ۱ ) کی تقریرات کوتحریرکیاہے اورآپ کےسامنے پڑھابھی ہے خداوندعالم مجھے اس کےشائع کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

علم منطق۔

۷۷۔ رفع الغاشیہ عن وجہ الحاشیہ

یہ کتاب آپ نے ایام شباب میں حاشیہ تہذیب المنطق از مولیٰ عبداللہ یزدی اورتہذیب ازعلامہ تفتازانی کے اوپرایک شرح کے طورپرتحریرفرمائی۔

عربی ادب

۷۸۔ قطب الخزامی من ریاض الجامی

۔ عبدالرحمن جامی کی شرح کافیہ پرمختصرشرح اورتعلیقہ ہے۔

۷۹۔المعول فی امرالمطول ۔

یہ کتاب علامہ تفتازانی کی علم معانی وبیان وبدیع پرمشتمل مطول نامی کتاب پرتعلیقہ اورحاشیے کے طورپرتحریرفرمائی ہے۔

۸۰۔ الفروق

اس کتاب میں متشابہ الفاظ جسم وجسد،روح ونفس، اورارادہ ومشیت کے درمیان فرق بیان کیاگیاہے جوغیرمطبوع ہے۔

علم حدیث

۸۱۔مفتاح احادیث الشیعہ ۔

یہ کتاب چندجلدوں میں ہے جن میں حدیثوں کے موارد اوران کے بیان کے مواقع بیان کئے گئے ہیں جوغیرمطبوع اورناقص ہے۔

۸۲۔حاشیہ وتعلیقات برکتاب الفصول المھمۃ ازشیخ حرعاملی یہ بھی ناقص ہے اس کاایک بھی طبع نہیں ہوسکا۔

۸۳۔ حدیث کساء ۔

۔ حدیث سلسلۃ الذہب طبع ۱۳۵۶ہجری۔

علوم قرآن کریم۔۔

۸۴۔ مقدمہ تفسیرغیرمطبوعہ۔

۸۵۔التجویدیہ کتاب علم تجویدکے مفیدفوائدپرمشتمل ہے (غیرمطبوعہ)

۸۶۔ الردعلی مدعی التحریف۔

۔ محدث نوری صاحب کتاب مستدرک الوسائل کی کتاب فصل الخطاب کی ردمیں لکھی گئی ہے(غیرمطبوعہ)۔

۸۷۔ حاشیہ برکتاب انوارالتنزیل فی تفسیرالقرآن الکریم ازمفسرقاضی ناصرالدین بیضاوی استادعلام نے مجھ سے ایک دن فرمایامیں نے اس تفسیرکے پانچ دورے سے پڑھائے ہیں ۔آپ ہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے گھروں میں عامۃ الناس کیلئے قم میں درس تفسیرکی بنیاد رکھی ۔

دعائیں اورزیارتیں

۸۸۔ دعاؤں اورزیارتوں کایک منتخب مجموعہ بھی ہے جسے آپ نے مفاتیح الجنان، زادالمعاد،اقبال، مصباح، بلدامین،کامل الزیارات ،مزارکبیر نیزدوسری معتبرکتابوں سے اخذکیاہے یہ مجموعہ تہران سے کئی مرتبہ طبع ہوا۔

۸۹۔ شمس الامکنۃ والبقاع فی خیرۃ ذات الرقاع ۔۔۔ یہ ایک رسالہ ہے جس میں استخارہ ذات الرقاع کی سنداس کی روایت اوراسے دیکھنے کاطریقہ بیان کیاہے۔

علم درایۃ۔

۹۰۔ الدرالفرید

اس کتاب میں بعض اسانید بیان کئے ہیں یہ شیخ صدوق کی کتاب من لایحضرہ الفقیہ کی پہلی جلدکے ساتھ شائع ہوا۔

علم ہیئت۔

۹۱۔الوقت والقبلہ ۔۔۔ (غیرمطبوعہ)

علوم غریبہ۔

۹۲۔ حاشیہ سرخاب ۔

یہ کتاب علم رمل کےمختلف فوائدپرمشتمل ہے اس میں اس علم کے موجد،مشہورمصنفین اورعلم رمل کی اہم کتابوں کاذکرہے۔

۹۳۔ حاشیۃ برکتاب مفتاح العلامہ ایدمر

یہ اعمال شمسیہ ،قمریہ اورزحلیہ کے بارے میں ہے ۔

۹۴۔ الشمعۃ فی مصطلحات اہل الضعۃ

۔ یہ کتاب ایسے الفاظ پرمشتمل ہے جومقام افادہ اوراستفادہ میں زبان پرجاری ہوتے ہیں جسے آپ نے لغت کی کتابوں سے اخذکرکےحروف ہجاء کےاعتبارسےترتیب دیاہے۔

۹۵۔اجوبۃ المسائل العلمیہ والفنون المتوعہ۔

۹۶۔ انس الوحید ۔

۔ یہ کشکول آپ نے اپنے سامرہ میں قیام کے دوران عالم شباب میں تحریرکیاتھاجوناقص ہے۔

۹۷۔ حاشیہ برکتاب السر المکنون فی علم الحروف(ناقص)

۹۸۔ جذب القلوب الیٰ دیارالمحبوب یافاکھۃ النوادی

یہ کشکول علم رجال وتاریخ کے فوائدپرمشتمل ہے۔

۹۹۔سلوۃ الحزین یاروض الریاحین

یہ بھی ایک کشکول ہے جس میں آپ نے علم جفر، علم رمل، علم حروف اعمال شمسی وزحلی ومریخی اورزہری کے اہم فوائداوربعض مجرب نقوش واذکارنیزبعض مثلثاث ومربعات وطبی تجربات اورمختلف قسم کےمطالب تحریرفرمائے ہیں۔

اس کتاب کاتذکرہ آپ نے اپنے وصیت نامےمیں بھی کیاہےاپنی پہلی وصیت میں فرماتے ہیں میں اسے (اپنے فرزندکو)تہذیب نفس اورمجاہدات شرعیہ کی وصیت کرتاہوں کیونکہ جوکچھ مجھے فضل وشرف ملاہے اسی کےذریعے ملاہے اوررب کریم نے مجھے وہ کچھ دیاہے۔جسے کان سننے سے عاجزاورزمانے کی نگاہیں دیکھنے سے قاصرہیں پروردگارکی اس عظیم عطااوربے پایان فضل پرمیں اس کاشکرگزارہوں۔

میں نے اس کےبعض اسراراپنی مخصوص کتاب سلوۃ الحزین میں بیان کئے ہیں اس کتاب کومونس الکئیب المضطہد،روض الریاحین اورنسمات الصباکے نام سے بھی جاناجاتاہےاس مجموعہ میں میں نے اورادواذاکارکےاسرارطلسمات وحروف کےرموزاعمال شمسی وقمری کورمزشجری اورافلاطونی قلم کے طورپر بیان کئے ہیں۔

مولف کتاب فرماتے ہیں میں نے اس رسالہ کومفاتیح الاسرارالتوضیح مصطلحات علم الکمیاء کےضمن میں دیکھاہے جسے استادعلام نے خوداپنے قلم سے تحریرفرمایاتھا۔

مؤلف فرماتے ہیں ایک دن میں استادعلام کےکمرے میں مصروف درس تھاآپ کاکاتب ورق گردانی میں مشغول تھااسی درمیان اس نے اس علم سے متصل ایک ورق نکالاجسے استادعلام نے دیکھ کرفرمایا۔۔۔۔ اکتبہ فی کتاب کذا۔۔۔ اسے میری کتاب میں لکھ دولیکن میری زندگی میں اسے شائع نہ کیاجائے کیونکہ حاسدین اوردشمن اسی کےذریعہ میری زندگی ہی میں مجھ پر حملہ آورہوں گےہاں میری موت کےبعداس کی طرف رجوع کیاجائے اس سے عوام کوکافی فائدہ پہنچے گا۔

علم کلام ۔۔۔

آپ کی تمام تصنیفات وتالیفات میں علم کلام میں فیضان بخش اورسب سے زیادہ اہم وہ تعلیقات ہین جسے آپ نے کتاب احقاق الحق پر تحریرکئے ہیں مؤلف فرماتے ہیں ہم اس عظیم کتاب کی درخشندگی اورجلوہ گری سےکسب فیض کیلئے اپنی کتاب ۔ومیض من قبسات الحق ۔کی بعض عبارتیں نقل کرتے ہیں۔

صدراسلام سے ہمارے زمانے تک علماء فقہاء اورمجتہدین نے امامت اورائمہؑ کے فضائل میں لاتعدادکتابیں تصنیف کی ہیں جن میں سب نمایاں کتاب احقاق الحق وازھاق الباطل ہے استاد علام خداوندعالم کی توصیف وستائش کے بعداس کتاب کے مقدمے میں فرماتے ہیں گرانقدرمطالب ،بیش بہامفاہیم خوشگوارمشارب شیریں اورمصفیٰ مناھل درحقیقت قرآنی دلائل اورفطرت سلیم سے ہم آہنگ عقلی براہین کے ذریعے معارف الٰہیہ ،اصول دین اورعقائدکاجانناہے کیونکہ اسی کے ذریعہ دنیاوآخرت کی عظیم وکریم سعادتین حاصل ہوتیں ہیں۔

بڑے بڑے علماء اسلام نے اس علم میں بڑی بڑی کتابیں اوررسالے تحریرکئے ہیں اس موضوع میں تدوین شدہ کتابوں کے درمیان سب سے اہم اورگراں بہاکتاب احقاق الحق وازھاق الباطل ہے جسے سیدشریف فخرآل رسول فرزندزھراء(س) سعیدشہید مولاناقاضی نوراللہ حسینی مرعشی شوستری نے تحریرکیاہے جومناظرے اورکلام میں اپنی مثال آپ تھے۔

تمام کتب کلامیہ میں دقت نظراوران پرتحقیق وتدقیق کے باوجود اس علم کی چھوٹی بڑی تمام کتابوں میں اس کے مثل کوئی کتاب نہیں ہے ۔یہ کتاب اس فن کی دوسری کتابوں کے درمیان اپنے اعتقادیات ،فقہیات واصول میں اپنےمحکم اورقوی دلائل نیزواضح ترین حجج وبراہین کے اعتبارسے منفردہے۔

اس علم اب تک جوکچھ بھی کہااورلکھاجاسکتاہے سارے اعتراضات کے جوابات کے ساتھ یہ کتاب اپنے شافی وکافی بیان وتحریر کے ذریعہ ان سب پربحث کرتی ہے ۔

اس کتاب نے ہرقسم کے شکوک وشبہات دورکردئیے حجتیں قائم کیں خصوصاًان مسائل میں جوصفات باری سے متعلق ہیں خداہی اس کتاب کااجردے گاجس کے ذریعہ پرچم حق بلندہوااورنشانات صداقت زندہ ہوئے۔

اس میں درحقیقت علم کلام کےتمام مطالب مکمل طورپربیان کردئیے گئے ہیں جس کے مطالعے کے بعددوسری کتابوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

مختصریہ کہ جوبھی اس کتاب کاجائزہ لے اسے قرآن کی آیتیں منظم موتیوں کی طرح نظرآئیں گی ۔اورکم ہی ایسی سطریں نظرآتی ہیں جن میں اللہ کے کلام احادیث معصومین ؑ کااقتباس ضرب الامثال یاکوئی مشہورشعرموجود نہ ہو اس کے علاوہ یہ کتاب اعتقادی مسائل اورفقہی فرعات واصول میں مصنف کی وسیع معلومات اورعلمی تہجرپردلالت کرتی ہے اس کتاب میں کوئی بھی امکانی شبہ جوپیش آیاہے یاآسکتاہے بلاجواب نہیں چھوڑاہے اوراسے اس طرح حل فرمایاہے کہ پڑھنے والااگرباانصاف ہوتوپھرکوئی شک وشبہ باقی نہیں رہ جاتا۔

کتاب احقاق الحق فضل بن روزبہان کی ردمیں لکھی گئی ہے جواپنے زمانے میں شافعی علماء میں سےتھاجس نے بہت سی کتابیں بھی تصنیف وتالیف کی ہیں جن میں مشہورکتاب الردعلیٰ نہج الحق ہے اس کی تصنیف سے اسے ۹۰۹ ہجری میں فراغت حاصل ہوئی تھی اس کتاب کانام اس نے ابطال نہج الباطل رکھا۔

مذکورہ کتاب علامہ حلی کی تصنیف نہج الحق کی ردمیں لکھی گئی ہے علامہ حلی عالم اسلام کی وہ عظیم شخصیت ہیں جن کے فضل وکمال کاہرفرقے کے سیرت نگاروں نے اپنے تذکروں میں اعتراف کیاہے وہ علی الاطلاق علامہ تھے علم معقول ومنقول میں ان کی آوازساری کائنات پرچھائی تھی وہ اپنی کمسنی کے زمانے ہی میں بڑے بڑے علماء پرسبقت لےگئے تھے انکی عظمتیں اوربزرگیاں اتنی زیادہ ہیں جن کااحصاء تحریرمیں نہیں کیاجاسکتا۔

ان کی تصانیف بہت زیادہ ہیں بعض افاضل کابیان ہے کہ انہیں کے ہاتھوں کی تحریرکردہ ان کی پچاس سے زیادہ کتابیں دستیاب ہوئیں۔

اوربعض اہل علم نے فرمایاہے کہ ان کی تصانیف کی تعداد۱۰۰۰ ہے اگر علامہ کی تصانیف کوان کی ولادت سے وفات سے وفات تک کےایام پرتقسیم کیاجائے توان کے علمی افادات واستفادات درس وتدریس ،مسافرتوں ،سماجی اورعوامی امورنیزعبادتوں کے ساتھ ہردن کے حق میں ایک دفترہوگا۔

انھوں نے مختلف علوم وفنون میں دسیوں کتابیں تصنیف کی اورسلطان محمدشاہ کی فرمائش پرکشف الحق اورنہج الصدق نامی کتاب بھی لکھی جواسلام ومذاہب کے ادلہ وبراہین دیکھنے کے بعد اپنے اختیاراورعلامہ حلی کی حرکت سے انھیں کے ہاتھوں پرشیعہ ہوئے اوراسی صادق عقیدے پرتادم مرگ باقی رہے(جیساکہ منتخب التواریخ اورمقدمہ احقاق الحق میں آیاہے جب فضل بن روزبیان نے حلی کی کتاب نہج الحق کی ردلکھی توقاضی نوراللہ شوستری شہیدثالث علیہ الرحمۃ نے اس کے جواب میں احقاق الحق تحریرفرمائی۔

شہیدثالث ایران کےصوبہ خوزستان میں ۹۵۶ہجری میں پیداہوئے اوروہیں آپ کی نشوونمااورتربیت ہوئی اس کےبعد آپ نے عوام الناس کو اسلام کی طرف دعوت دینے کے لئے ہندوستان کی طرف ہجرت فرمائی ۔جب آپ اہل وطن سے دورعالم غربت میں تھے آپ کے پاس کتابوں کاوافر ذخیرہ بھی نہ تھا نیز اس وقت آپ تقیہ کے حصار مین کھرے ہوئے تھے جب آپ نے ااس کتاب کوس تحریرکیا فرمایا۔

اس کتاب میں آپ نے اپنی گفتگوکو تین قسموں پر تقسیم کیاہے ۔۱۔ قال المنصف ۲۔ قال الناصب ۳۔ ناصب کے بیانات کی رد۔

علماء جمہورکی ردمیں لکھی جانے والے کتابوں میں یہ بہترین تصنیف مانی جاتی ہے اس کاتب سے مفید تعلیقات بھی ملحق کئے گئے جسے استاد علام نے تحریر فرمائے ہین اوراصل کاتب پر اضافہ ہے ۔

استادعلام ۱۳۱۵ہجری مین پیداہوئے اور۱۳۷۷ہجری میں تعلیقات لکھنے میں مشغول ہوئے جسے آپ نے ۲۴جلدوں میں کامل کیا۔

علوم ربانی معارف الٰہی اورفضائل آل محمدمیں یہ ایک گرانقدر تصنیف ہے جس مین آیات واحادیث سے استنادکیاگیاہے اوراس کاموادکئی برسوں کی کڑی محنت سے عامہ کی کتابوں اوران کے طریقوں سے جمع کیاگیاہے اس کے مصادرکی تعداد۲۰۰۰ مطبوعہ ومخطوطہ کتابوں سے بھی زیادہ اوراحادیث کے اہم کلمات کی مناسبت سے ایک فہرست لکھکرفضائل اہل بیت اطہارمیں تحقیق کرنے والوں کیلئے راہ ہموار کردی ہے۔

نگاہیں جب اسے دیکھتی ہیں حیرت زدہ ہوجاتی ہین کہ استادعلام نے کتنے صبروتحمل اورجانفشانی کے ساتھ یہ عظیم علمی کارنامہ انجام دیاہے اوراس میں بحث کے تمام دینی ،تاریخی ، علمی ،ادبی اور رجالی اجزاء کاشامل کیاہے تاکہ پڑھنے والے کوکسی دوسری کتاب کی احتیاج نہ رہ جائے۔

رب کعبہ کی قسم یہ گرانقدرمجموعہ عقلی نقلی تاریخی اورادبی علوم کی روشنی میں فضائل آل محمدﷺ کوملحوظ نظرئیے کے موافق ایک بیش بہاخزانہ ہے۔

مولف کتاب نے اپنے کلام پرتمام کوششیں صرف کردیں اوراس میدان میں سبقت کرنے والے متکلمین کیلئے کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی۔

یہ کتاب مدلل اورکم نظیرہے جس سے دونوں جہاں کی سعادتیں حاصل کی جاسکتی ہیں۔

____________________

(۱) ۔ استاد علام نے اسلامی ایران کی کامیابی کے بعدجواہرالکلام سے کتاب القصاص کے درس خارج کی ابتداء کی اوریہ سلسلہ ۱۴۰۰ سے ۱۴۰۳ ہجری تک جاری رہامیں آپ کے درس میں اسی طرح شرکت کرتاتھاجیسے آیۃ اللہ العظمیٰ گلپائیگانی کےدرس کتاب القضاء اور آیۃ اللہ العظمیٰ جوادتبریزی کےدرس کتاب الطہاۃ میں شریک ہوتاتھامیں نے اصول فقہ کامکمل دورہ ۸سال کی مدت میں آیۃ اللہ شیخ محمدفاضل کے نزدیک کامل کرلیااس کےبعد آیۃ اللہ العظمیٰ جوادتبریزی کےدرس میں شریک ہوکر دوسرادورہ آغازکیاان کی تقریرات کو میں نے تحریرکیاہے میں اپنے آپ کوان کاشکریہ اداکرنے سے عاجزسمجھتاہوں اورمجھے ان کے عظیم حق کے ادائیگی کی قوت بھی نہیں ہے خداانہیں جزائے خیردے یہ حضرات حدیث کی روشنی میں بہترین والدتھےباپ تین ہوتے ہیں ،اب ولدک،اب زوجک ،اب علمک ،وهوافضلهم ۔


آپ کے کچھ سفراورسیاحتوں کاذکر

خداوندعالم قرآن مجید میں ارشادفرماتاہے ۔"( قل سیروافی الارض ) "( ۱ ) (اے رسول ؐ " تم لوگوں سے کہہ دوروئے زمین پرسیر کریں)

سروسیاحت انسانی حیات میں ایک جزکی تشکیل کرتے ہیں ہرمسافرکے اغراض ومقاصداور اس کی آرذوئیں اس کےسفرسے وابستہ رہتی ہیں خداوندعالم نے انسان کوطبیعتوں ،ہمتوں اوراعمال کے اختلاف کے اعتبارسے مختلف طریقوں پرخلق کیاہے۔

لیکن دیوان امیرالمومنینؑ میں ایسے اشعاربھی ہیں جن میں سفرکے فوائدکا ذکرکیاگیاہے۔

تغرب عن الاوطان فی طلب العلی وسافرففی الاسفار خمس فوائد

تفرج هم واکتساب معیشة وعلم وآداب وصحبة ماجد

بلندیاں حاصل کرنے کیلئے سفرکروکیونکہ سفرمیں پانچ فائدے ہیں ،غموں سے دوری حاصل کرناکسب معاش ، طلب علم وآداب اورشریف لوگوں کی رفاقت اختیارکرنااس کےفائدے ہیں انسان سفرکی مشقتیں اورصعوبتیں غربت کے رنج وغم ،فرقت کی وحشت اوروطن سے دوری کاغم کہ جس کی محبت جزوایمان ہے برداشت کرتے ہوئے ایک شہر سے دوسرے شہر سفرکرتاہے کیونکہ سفر میں بہت سے فائدے ہیں جن فائدوں کاذکرحضرت امیرالمومنین ؑ کے اس شعر میں کیاگیاہے۔

۱۔ سیاحت۔ (تفرج غم)یعنی غموں سے دوری حاصل کرنا۔

۲۔ سفر تجارت(اکتساب معیشہ)یعنی کسب معاش کرنا۔

۳۔سفرعلم (وعلم)کسب علم

۴۔اجتماعی اورثقافتی سفر(آداب)یعنی مختلف قوموں کے عادات واطوار اوررنگارنگ تہذیبوں کامشاہدہ کرنا۔

۵۔ اخلاقی سفر(وصحبتہ ماجد)یعنی شریف لوگوں کی رفاقت اختیار کرنا۔

انسان اپنے وطن اورمامن سے بلندی وارتقاء کےمدارج طے کرنے کیلئے سفراختیارکرتاہے۔علماء وطالبان علم اپنی علمی حایت کی ابتداہی سے فقروغربت ریسمان میں جخرے ہوئے سفرکی صعوبتوں کوبرداشت کرتے ہیں کیونکہ حدیث میں آیاہے۔

لایاتی الاباالفقروالغربة ۔۔۔ علم فقروغربت ہی سے حاصل ہوتاہے۔

تم انہیں دیکھ رہے ہوکہ انہوں نے جدوجہدکی راہ اختیارکرلی ہے اورسفرکی صعوبتوں کوجھیلناکھلے دل سے قبول کرلیاہے تاکہ خاص طورسے عالم شباب میں بلندمقامات ، نفسانی کمالات، اسلامی آداب ،نیک اورعظیم شخصیتوں کی رفاقت حاصل کریں اورہرجوان کی اپنی آرذوئیں اورتمنائیں ہوتی ہیں۔

انہیں لوگوں میں سے جنھوں نے بلندیاں حاصل کرنےکیلئے وطن سے غربت اختیارکی استادعلام بھی تھے میں نے عالم شباب ہی میں سفرکوآپ کی حیات کاجزپایاآپ نے پہلے عراق کاسفرکیااس کے بعدعلوم وفنون وآداب کوکسب کرنے علماء وافاضل سے فیض حاصل کرنے اپنے درس وتحقیق کی تکمیل نیز ارباب کمالات سے استفادہ کرنے کیلئے ایران کاسفرکیا۔ایران میں آپ کے بہت سے اساتذہ ہیں ۔

استاد علام نے اپنے تمام سفرکی داستانوں کوقلمبندکرلیاہے تاکہ بعدمیں آنے والوں کیلئے ان کاذکرباقی رہے آپ نے اپنے بعض طلبہ کوداستان سفرتحریر کرنے کی وصیت کی ہے استادعلام نے عتبات مقدسہ کی زیارت کیلئے عراق میں کربلائے معلی، کاظمین اورسامرہ کاسفرکیااسی طرح آپ نے بصرہ ،عمارہ ،بغداد، کویت ،کرکوک ،موصل اورسماوہ کے سفرکئے۔

ایران مین آپ نے مشہدمقدس ،خراسان ،آذربائیجان ،اصفہان،شیراز، قزوین، کازون ، سمنان ، دامغان ،شاہرود،کاشان،اراک، اردبیل اورہمدان کے سفرکئے آپ کے بعض قیمتی مولفات ہمدان کے سفرمیں چوری ہوگئے تھے جس کاذکرآپ نے اپنے بڑھاپ میں مجھ سے کیاتھاجب بھی مجھے یہ واقعہ یادآجاتاہے میرادل سلگنے لگتاہے۔

انقلاب کی ابتداء میں اپنی آنکھ کاعلاج کرانے کیلئے آپ نے برطانیہ اوراسپین کا سفربھی اختیارکیایہ تکلیف آپ کوانقلاب کے دوران قم میں جان دینے والے پہلے شہیدکے جسدکودیکھنے بعدہوئی تھی جوقم کے انقلابیوں کے مجمع میں تھاان انقلابیوں نے آپ کے گھرمیں تحصین اختیارکررکھاتھاکہ پہلوی حکومت کی پولیس آتشی اسلحوں سے لیس یہاں حملہ آورہوئی ۔

ایمان راسخ اورمضبوط عزم وحوصلہ ہی پہلوی شاہ کے نظام کے خاتمے اوراسلامی حکومت کے قیام کاسبب تھا۔

استادعلام نے اپنے سفرمیں بھی اورقم میں علمی شخصیتوں سے بھی ملاقات کی جومختلف مذاہب وادیان میں اپنی ایک حیثیت رکھتے تھے آپ کے علمی بحث ومباحثے ان کے ساتھ جاری تھےجوحق وحقیقت کی دعوت دیتے تھے انھیں شخصیات میں علامہ سیدمحمودشکری آلوسی بغدادی ،علامہ سیدعلی خطیب،سیدیاسین متقی،استادانستانس کرمانی بغدادی ،شیخ عبدالسلام شافعی، سیدناصرحسین ہندی، فیلسوف ٹیگورہندی،مرزااحمدتبریزی،برفیسورکرین فرنسی ،زین العابدین خان ابراہیمی، سیدمحمدبن زبارۃ الیمنی، امام یحیی یمنی،سیدجمال الدین کوکبانی،میسوکدارفرنسی، ڈاکٹرفوادسزکین،سیدابراہیم رفاعی راوی بغدادی ،رشیدبیضون لبنانی، سیدمحمدرشیدصاحب تفسیرالمنار،عارف الدین مدیرمجلہ عرفان درلبنان ،شیخ عبدالسلام کردستانی شافعی،قاضی بہجت الآفندی صاحب کتاب تاریخ آل محمد،برفسورولترانگریزی اس کے علاوہ سیکڑوں بزرگان علم وفضل سے ملاقات کی۔

۱۳۴۲ہجری میں آپ نے حضرت امام علی رضاؑ کی زیارت سے مشرف ہونے کیلئے نجف اشرف سے ایران کاسفراختیارکیااس دوران طہران میں بعض علمائے اعلام سے ملاقات کی اوروہاں ایک سال تک قیام بھی کررہاتاکہ وہاں موجودٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندرسے اپنی علمی تشنگی کوسیراب کریں جن میں آیۃ اللہ حاج شیخ عبدالنبی نوری آیۃ اللہ آقاحسین نجم آبادی اورآیۃ اللہ آشتیانی قابل ذکرہیں۔

اس کے بعدحضرت معصومہ سلام اللہ کی زیارت سے مشرف ہوئے اورآیۃ اللہ العظمیٰ عبدالکریم حائری کے حکم کی اطاعت میں قم میں مقیم ہوگئے خداآپکو حادثات سے محفوظ رکھے تاکہ طلاب علوم دینیہ آپ کے دروس وعطایاسے بہرہ مندہوسکیں۔

آپ نے حوزہ علمیہ قم ۱۳۴۳ہجری سے اپنی زندگی کے آخری لمحے ۱۴۱۱ہجری تک تدریس کے فرائض انجام دیئے آپ نے اپنے علوم اورنیک اخلاق وکردارکے چشموں سے اکثرعلماء ،فضلاء کوسیراب کیاجوصرف ایران ہی سے نہیں بلکہ دوسرے ممالک سے بھی تعلق رکھتے تھے۔

____________________

(۱) ۔ سورہ عنکبوت ۲۰


آپ کے خیرات وبرکات

قرآن میں آیاہے۔"( وَقُلِ اعْمَلُوا فَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ ) "(اوراے رسول " تم کہہ دو کہ تم لوگ اپنے اپنے کام کئے جاؤ ابھی توخدااس کا رسول اورمومنین تمہارے کاموں کودیکھیں گے)

"( قال انی عبدالله اتانی الکتاب و جعلنی نبیا، و جعلنی مبارکا این ما کنت ) " (جناب عیسیٰؑ نے کہابے شک میں خداکابندہ ہوں مجھ کواس نے کتاب (انجیل)دی ہے اورمجھ کونبی بنایااورمیں چاہےکہیں رہوں مجھ کومبارک بنایاہے۔)

برکت

برک سے مشتق ہے جس کے لغوی معنی اثبات شئی کے ہیں اس کے بعد اس معنی سے بہت سی فرعیں پیداہوئیں جوایک دوسرے سے مفہوم کے اعتبارسے بہت ہی قریب ہیں برک کے معنی ۔۔کلکل بعیر۔ یعنی اونٹ کے سینے کاوہ حصہ جوزمین سے ملاہوکے ہیں۔

برکت کے دوسرے معنی

اضافہ اورنموکے ہیں اس بناپرتبارک اللہ کے معنی پروردگارکی تمجیدوتجلیل کے ہیں۔کسی شئی میں خیرالٰہی کاثابت ہونابھی برکت کہلاتاہے (( لفتحناعلیهم برکات من السماء والارض ) )ہم نے ان پرآسمان وزمین کی برکتوں کے دروازے کھول دئے ہیں۔اوراسے برکت اس لئے کہاگیاہے کہ اس میں اسی طرح ثابت رہتاہے جس طرح گڑھے یاتالاب میں پانی موجودرہتاہے اورمبارک اسے کہتے ہیں جس میں یہ خیرموجودہو ۔ فھذاذکرمبارک انزلناہ۔ سے خیرات وفیضان الٰہی کی طرف اشارہ ہے۔

موارداستعمال سے معلوم ہوتاہے لغت کے اس مادے میں اصل واحدوہی فضل وفیض خیروزیادتی اورمادی معنوی نمووثبات ہیں اس بناپرمبارک اسے کہتے ہیں جس میں خیراورفضل وفیض پایاجائے ۔ وبارک اللہ فیہ۔ برکت کے امتداد واستمرارپردلالت کرتاہے۔

وتبارک۔

امتدادبرکت کے تحقق پردال ہے لہذا۔ بارکناحولہ۔ کے معنی ہم نے اس میں فضل وفیضان زیادہ زمانے تک قائم رکھاہے۔"وبارکناعلیہ وعلیٰ اسحاق"اورہم نے ابراہیم اوراسحاق پربرکتیں نازل کی ہیں۔)

ورحمة الله وبرکاته علیکم اهل البیت ، کے معنی اللہ کامادی اورمعنوی فیضان ہے واللہ مبارک کے معنی یہ ہیں کہ خداہی مبدء فضل ہے اسی میں کل فضل ہے اوراسی طرف فضل وبرکات کی انتہاہے۔

والبرکات:

کے معنی دائمی سعادت کے ہیں ۔ وبارک علیٰ محمدوآل محمدکے معنی یہ کہ اے خداشرف ومجدوعظمت میں سے جوکچھ بھی تونے اہل بیت ؑ کوعطاکیاہے اسے ان کےلئے ثابت ودائم رکھ۔

وبرکۃ اللہ:

کے معنی اس کی برتری ہرشئی پرہے اورتبارک اللہ کے معنی وہ مقدس پاک بلندعظیم اوررفیع ہے۔

ابن عباس نے برکت کے معنی یوں بیان کئے ہیں۔(الکثرة فی کل خیروالمبارک مایاتی من قبطه الخیر )۔ یعنی ہرخیرکی کثرت کوبرکت کہتے ہیں اورجس کی طرف سے خیرکافیضان ہوااسے مبارک کہتے ہیں۔

پس برکتیں تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوتی ہیں۔"( وَانَزَّلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاۗء مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِه جَنّٰتٍ وَّحَبَّ الْحَصِيْدِ ) " اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی نازل کیا ہے پھر اس سے باغ (کےدرخت) اور کھیتی کا غلہ اُگایا ہے۔

"( تبارک الذی له ملک السمٰوات والارض ومابینهما ) " اوروہی بہت بابرکت ہے جس کیلئے سارے آسمان وزمین اوران دونوں کے درمیان کی حکومت ہے۔

"( اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبٰرَكَ اللهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ) " دیکھوحکومت اورپیداکرناخاص اسی کے لئے ہے اور امر بھی وہ نہایت ہی صاحب برکت اللہ ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے۔

"( تبارک الذی نزل الفرقان علیٰ عبده لیکون للعالمین نذیرا ) " خدابابرکت ہے جس نے اپنے بندے محمدؐ پرقرآن نازل کیا تاکہ یہ سارے جہان کیلئے خداسے ڈرانے والاہو۔

"( ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَفَتَبٰرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ ) " پھر ہم نے اسے ایک دوسری مخلوق بنادیا ہے تو کس قدر بابرکت ہے وہ خدا جو سب سے بہتر خلق کرنے والا ہے۔

"( تَبٰرَكَ الَّذِيْٓ اِنْ شَاۗءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ ) " بابرکت ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو تمہارے لئے اس سے بہتر سامان فراہم کردے۔

"( تبارک الذی جعل فی السماء بروجاوجعل فیهاسراجاوقمرامنیرا ) " بہت بابرکت ہے وہ خداجس نے آسمان میں برج بنائے اوران برجوں میں آفتاب کاچراغ اورجگمگاتاچاندبنایا۔

مخلوق میں اللہ کی برکت کامفہوم یہ ہے کہ وہ نورالانوار ہے اسی سے تمام انوار کاانعکاس ہوتاہے اورنورآسمان وزمین کی برکت ہے جوچمکدارستاروں اور روشن ماہتاب میں جلوہ گرہے۔

"( تبارک اسم ربک ذی الجلال والاکرام ) " اے رسول تمہاراپروردگارجوصاحب جلال وکرامت ہے اس کانام بڑابابرکت ہے۔

خداکے تمام اسماء حسنی مبارک ہیں ہروہ اسم جوعنایت ربانی اورتربیت الٰہی کی طرف دلالت کرتے ہیں مبارک مبارک ہیں خداجلیل وکریم ہے اسی کے کرم اوراسی کی جلالت کی وجہ سے اس لطیف وبدیع کائنات کاوجودہے جواس کے اسماء اوراس کی برکتوں پردلالت کرتی ہے ہرشی میں اسکی نشانی موجودہے جواس بات کی طرف نشاندہی فرماتی ہے۔

"( تبارک الذی بیده الملک وهوعلیٰ کل شیء قدیر ) " (الملک/۱)جس خداکے قبضے میں سارے جہان کی بادشاہت ہے وہ بڑی برکت والاہے اورہرشئی پرقادرہے۔

جولوگ اپنے پروردگارسے طلب مغفرت کرتے ہین اللہ نے ان سے آسمانوں اورزمینوں کی برکتوں کاوعدہ کیاہے۔

اس کاوعدہ سچاہے جیساکہ قرآن فرماتاہے۔

"( لفتحناعلیهم برکات من السماء والارض ) "(الاعراف/۹۶) ہم نے ان آسمان وزمین کی برکتوں کے دروازے کھول دئے ہیں۔

خداکی زمین مبارک ہے۔

"( وجعل فیهارواسی من فوقهاوبارک فیها ) "(فصلت/۱۰)اوراسی نے زمین میں اس کے اوپرپہاڑ پیداکئے اوراسی نے اس میں برکت عطاکی۔

"( وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ) "اورجن بیچاروں کویہ لوگ کمزورسمجھتے تھے انھیں کو(ملک شام کی)زمین کاجس میں ہم نے (زرخیزہونے کی)برکت دی تھی جس کے مشرق اورمغرب میں (سب کا)وارث (ومالک )بنادیا۔

روئے زمین پربہت سے مخصوص مکانات اوربقعےپائے جاتے ہیں جوبرکت کے ذریعےامتیازی شان رکھتے ہیں۔

"( الٰی الْمَسْجِدِالْاَقْصٰی الَّذِیْ بَارَکْنَا حَوْلَه لِنُرِیْهَ مِنْ اٰیَاتِنَا ) " ہم نے راتوں رات اپنے بندے کومسجدحرام سے مسجداقصیٰ تک کی سیراکرائی جس کے گرد ہم نے ہرقسم کی برکت مہیاکررکھی ہے تاکہ اسے اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔

"( ونجیناه ولوطا الی الأرض التی بارکنافیها ) "اورہم نے ابراہیم ولوط کوسرکشوں سے صحیح وسالم نکال کراس سرزمین بیت المقدس میں جاپہنچایاجس میں سارے جہان کئلئے برکت عطاکی تھی۔

انبیاء علیہم السلام مبارک ہیں۔

"( وبارکناعلیه وعلیٰ اسحاق ) "(الصافات/۱۱۳) ہم نے ابراہیم اوراسحاق پربرکت نازل ۔

"( فلماجاءهانودی ان بورک من فی النارومن حولها ) "(النمل/۸)غرض جب موسیٰ آگ کے قریب آئے توان کوآوازآئی کہ مبارک ہے وہ جوآگ میں تجلی دکھاتاہےاوراس کے گردہے۔

خداوندعالم اپنے نبی کریم ﷺ اوران امتوں پرجوانبیاء کے ہمراہ تھیں برکتیں نازل کرتے ہوئے۔ نبیؐ سے خطاب فرماتاہے۔ "( اهبط بسلام مناوبرکات علیک وعلیٰ امم ممن معک ) "(ھود/۴۸) اے نوح ہماری طرف سےسلامتی اوران برکتوں کے ساتھ اتروجوتم پراوران لوگوں جوتمہارے ساتھ ہیں۔

"( ورحمة الله وبرکاته علیٰ اهل البیت انه حمیدمجید ) "(ھود/۷۳)اوراے اہل بیت (ع)تم پرخداکی رحمت اوراس کی برکتیں نازل ہوں بے شک وہ قابل حمدوثنااوربزرگ ہے۔

نبی ؐ بھی مبارک ہے اورآسمانی کتابیں بھی مبارک ہیں ۔

"( وهذاکتاب انزلناه مبارک مصدق الذی بین یده ) "(الانعام/۹۲)اوریہ قرآن وہ کتاب ہے جسے ہم نے بابرکت نازل کیاہے اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جواس سے پہلے موجودہے۔

"( وهذاذکرمبارک انزلناه افانتم له منکرون ) "(الانبیاء/۵۰)اوریہ قرآن ایک بابرکت تذکرہ ہے جسے ہم نے نازل کیاہے توکیا تم لوگ اسے نہیں مانتے ۔

ہم سب پرقرآن کی آیتوں پرایمان لانااوراس میں تدبرکرنالازم ہے۔

"( کتاب انزلناه الیک مبارک لیدبرواآیاته ) "(ص/۲۹)اے رسول کتاب قرآن جسے ہم نے تم پرنازل کیاہے بڑی برکت والی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غورکریں۔

ہماراخدااسکی کتاب اس کانبی اوراس کاگھرمبارک ہے۔

"( إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ ) "(آل عمران/۹۶)لوگوں کی عبادت کیلئے جوگھرسب سے پہلے بنایاگیاوہ مکہ ہے وہ بڑٰ ی خیروبرکت والااورسارے جہان کے لوگوں کاراہنماہے۔

لہذامعلوم ہواکہ اللہ کی طرف سے برکتیں نازل ہوتی ہیں وہی دائمی برکت اورفضل وفیض کواپنے بندوں اورانبیاء کے درمیان قراردیتاہے جس کی طرف جناب عیسیٰ نے اشارہ کیاہے۔

"( اناانزلناه فی لیلة القدر ) "(القدر/۱)ہم نے قرآن شب قدرمیں نازل کیاہے ۔

اوران ربانی برکتوں کی طرف بھی رہنمائی فرماتاہے۔

"( فَسَلِّمُواْ عَلىَ أَنفُسِکُمْ تحَیَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَرَکَةً طَیِّبَةً ) "(النور/۶۱) تم اپنے نفسوں کوسلام کرلیاکروجوخداکی طرف سے ایک مبارک پاک وپاکیزہ تحفہ ہے ۔

ان تمام باتوں کے پیش نظرعمل کرنے والوں کوعمل اورجستجوکرنے والوں کوجستجوکرناچاہیے کیونکہ صاحب تقدیرہی اس کی خاص رحمتوں اورمخصوص فیض وکرم سے بہرہ ورہوسکتاہے ۔علماء اورفقہاء وانبیاء ؑ کی برکتوں کے وارث ہیں یہ حضرات جہاں بھی ہوں گے مبارکین کی فہرست میں شامل رہیں گے۔

انھیں بابرکت علماء میں سے ایک استادعلام بھی تھے آپ اپنی پوری زندگی میں مبارک تھے۔ خیروبرکت ،فیض قدسی ،اورفضل ملکوتی آپ میں جلوہ گرتھاآپ فیوضات ربانی اورتوجہات الٰہی کے مرکزتھے قدعاش سعیدا ومات سعیدا۔

(آپ نے سعادت اورخوش بختی کے ساتھ زندگی بسرکی اوراسی عالم میں موت سے ہم آغوش ہوئے)

خداوندعالم آپ کے امورخیریہ اورصدقات جاریہ کومکرم ودائم رکھے تاکہ آپ کے رحلت کے بعد بھی برکتیں جاری ہیں جوشرف وبلندی اورکثرت خیرخدانے آپ کوعطاکئے وہ ثابت رہیں۔(آمین)

جیسے جیسے زمانہ گزرتاجاتاہے باعمل علماء کی عظمتیں ان کی شان اوران کی قدربڑھتی جاتی ہیں جبکہ لوگ ان کےعلم و فضل کی بناپران سے حسدکرتے تھے اوروہ اپنے دشمنوں کے مقابل نبردآزماتھے۔ فان الناس اعداء ماجھلوا۔ لوگ جسے نہیں جانتے اس کے دشمن ہوتے ۔

"( وجعلنی مبارکااینماکنت واوصانی بالصلاة والزکاة" ( ) مریم /۳۱)اورمیں کہیں بھی رہوں مجھ کومبارک بنایاہے اورمجھے نمازوزکٰوۃ کی تاکیدکی گئی ہے۔

پس اپنے پرودگار سے برکتوں کاسوال کرو۔

"( وقل رب انزلنی منزلامبارکاوانت خیرالمنزلین ) "اوراے رسول تم کہہ دو اے میرے پروردگار تومجھے بابرکت جگہ میں اتاردے اورتوتوسب اتارنے والوں سے بہترہے۔

آپ کارب حمیدآسمان وزمین کانورہے۔

"( ومثل نوره مشکاة فیها مصباح ،المصباح فی زجاجة،الزجاجة،کانهاکوکب دری من شجرة مبارکة زیتونة لاشرقیة ولاغربیة ) "اوراس کے نورکی مثال ایک طاق(سینہ)ہے جس میں ایک روشن چراغ(علم شریعت)ہے اورچراغ ایک شیشے کی قندیل (دل) میں ہواورقندیل (اپنی تڑپ میں)گویاایک چمکتاہواروشن ستارا(وہ چراغ )زیتون کے ایسے مبارک (تیل سے)روشن کیاجائے جونہ مشرق کی طرف ہواورنہ مغرب کی طرف۔

اورجب تم عین اللہ ہوجاتے ہوتوبرکتیں تم کوعزت بخشتی ہیں تمہاراحصارکرلیتی ہیں جیساکہ جناب موسیٰ علیہ السلام کیلئے ہواتھا۔

"( فلماآتاه نودی من شاطیء الوادالایمن فی البقعة المبارکة من الشجرة ) " (القصص/ ۳۰)

غرض جب موسیٰؑ آگ کے پاس آئے تومیدان کے داہنے کنارے سے اس مبارک جگہ میں درخت سے انھیں آوازآئی اے موسیٰؑ بے شک میں ہی اللہ اورسارے جہان کاپالنے والاہوں۔

اورتم پرشب قدرکی مبارک ساعتوں میں اللہ رحمت وبرکت نازل کرتاہے۔یہ علماء اپنے دوستوں اوراحباء کی طرف سے مہجورومحزون تھے نہ کوئی ان کی قدرجانتاتھااورنہ کوئی شایان شان ان کی تعظیم ہی کرتاتھا۔

ان باعمل علماء کی رحلت کے بعدان کے وجودکی نیکیاں اورعظیم برکتیں ظاہرہوتی ہیں اسی لئے لوگ ان کےحقوق کی پامالی اوران کے فراق پرکف افسوس ملتے ہیں کہ ہم نے ان کے فیضان علوم اوران کے وجودکی برکتوں سے کیوں فائدہ نہیں اٹھایااوراب حسرتوں اورندامتوں کاکوئی فائدہ نہیں۔

عمومی کتاب خانہ

یہ بات مخفی نہ رہےکہ انسانی نعاشرہ میں کتب خانہ کی بڑی اہمیت ہے اوریہ ایسی چیزہے جسے معاشرہ میں کم قدروقیمت سے نہیں دیکھاجاسکتا۔

کتب خانے علماء ،عطیم شخصیتوں، انسانئ تاریخ اوراس کی ترقی کے اسباب وعلل نیزان افراد کے آراءوافکار کے مرکزہوتے ہیں جومعرفت کے خواہاں ،ثقافت وتہذیب کی ترقی کے طالب نیزسماج کے تمام طبقوں میں علمی وثقافتی تشنگی کودورکرنے والے ہیں اوروہ اپنے وجودمیں چھپے ہوئے اسراروفنون کوتصنیف وتالیف کی شکل میں لانے اوراسے اجالے میں نمایاں کرنے نیزاس کی نشرواشاعت میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں۔

ایسے لوگ ابتدائے حیات ہی سے دنیاکے حقائق اورنئی نئی علمی گتھیوں کےسلجھانے میں مشغول رہاکرتے ہیں۔

ایسے لوگوں نگاہوں میں دوسرے مقدس اہداف ومقاصدبھی ہواکرتے ہیں جیسے قوموں کی شگفتگی لانا، اچھے انسانی افکارواخلاق کوعام کرنا،نفسوں کوآسودگی عطاکرنا، علمی میراث کی حفاظت کرنا،لوگوں کوزندگی اورتاریخ کواستمراربخشنا،علمی اورثقافتی راہ کوہمیشہ جاری رکھنا،سماج کی عمارت کی بنیادکومستحکم کرناایسے مقاصدہیں جومعاشرے میں کتب خانوں کی ضرورت کومحسوس کراتے ہیں اوراپنی قدروقیمت کاپتہ دیتے ہیں۔

انھیں اسباب وعلل اورضرورتوں کااحساس تھاجس نے علماء اعلام کوابتداء سے ہی عمومی اورخصوصی کتابخانوں کی تاسیس کیلئے آمادہ کیا۔انھیں حیرت انگیزعلماء میں استادعلام بھی تھے جنھوں نے عظیم عمومی کتاب خانے کی تاسیس کی جس کی نظیرعالم اسلام میں بہت کم ہے آپ نے کتابوں کی جمع آوری میں ایسی صعوبتیں اورمشقتیں برداشت کیں جواس سے پہلے کبھی نہیں سنی گئی۔

حقیقت حال اوردعوے کی سچائی کیلئے ہم قارئین کے سامنے بعض ایسے نمونے بیان کرتے ہیں جس سے شعورواحساسات دنگ رہ جاتے ہیں اورایک عظیم شخصیت ابھرکرآپ کے سامنے آتی ہے اوردل میں کہتی ہے یہ سخت محنتیں کیونکرباثمر نہ ہوتیں ایساعظیم کتب خانہ کیوں نہ تعمیرہوتاجس کے دروازے ۱۳۹۴ہجری سے آنے جانے والوں کیلئے کھول دئیے گئے ہیں۔

مجھے بعض ایسی کتابوں کے بارے میں علم ہے جسے استادعلام نے نجف اشرف میں اپنے عالم شباب میں خریداتھاجس کی بہترین مثال بعض کتابوں پرآپ کی مندرجہ ذیل تحریرہیں۔مثلاً

بسمہ تعالیٰ۔

میں نے اسے ۴سال کی نمازاجارہ پرخریداتھااورمرحوم الحاج حسین تاجردہخوارقانی کی طرف سے استادعلام آیۃ اللہ شیخ عبداللہ مامقانی نے مجھےاجیربنایاتھا۔

یہ جملہ عبدذلیل شہاب الدین الحسینی النجفی نے شعبان ۱۳۴۱ہجری میں تحریرکیاہے۔

ایک اورکتاب پرتحریرفرماتے ہیں۔

میں نے اسے ایک سال تک حضرت امیرالمومنینؑ کی روزانہ زیارت کی اجرت پرخریداہے۔ عبدذلیل شہاب الدین الحسینی النجفی

ایک اورکتاب پرتحریرفرماتے ہیں۔

علامہ شیخ عبدالرحیم بن احمدہندی بہاری نجفی نے اپنے فرزندعلامہ شیخ شہاب الدین کی گزارش پر۱۰۶۰ میں کشف اللغات والاصطلاحات نامی ایک کتاب تحریرکی ہے اورکتاب مکمل کرنے کے تھوڑے ہی عرصے بعدانتقال فرماگئے۔

میں نے اس کتاب کومرحوم مرزامحمدطہرانی کی نیابت میں نمازکی دوسال کی اجرت مبلغ ۲۰ برطانوی روپیہ میں خریدا۔خدامجھے اس عمل کے پوراکرنے کی توفیق دے اور۱۲ذیقعدۃ الحرام ۱۳۴۲ہجری کونجف اشرف میں ظہرسے میں نے نمازبھی شروع کردی بھوک کے عالم میں ان حروف کے لکھنے والے کو۲۰ گھنٹے سے کوئی غذانصیب نہ ہوئی۔

شہاب الدین الحسینی المرعشی مدرسہ قوام ۱۳۴۲ہجری۔

کیااچھاہوتااگرمیں اپنے والدعلام کی کتاب سے ایک حیرت انگیزواقعہ یہاں نقل کرتاجواستادعلام کی زندگی میں کتاب۔الرافدج۔ص۔۱۰۹ پر"کتاب کی قدر"کے عنوان سے شائع کیاگیاہے۔

کتاب کی قدر

میں ۲۱ربیع الاول ۱۳۹۶ہجری دوشنبہ کے دن استادعلام کی خدمت میں موجودتھاآپ دلچسپ باتیں بیان کررہے تھے جن میں کچھ باتیں کتاب کی قدروقیمت اوراس کے حاصل کرنے کے طریقوں پرمشتمل تھی آپ نے فرمایاایک دن میں محلہ مشراق میں واقع اپنے مدرسے سے اس بازار کی طرف گیاجو باب صحن علوی سے متصل ہے وہاں ایک عورت مرغی کے انڈے بیچ رہی تھی میں اس کے پاس زنڈے خریدنے گیاتواس کے پا س ایک کتاب نظرآئی میں نے اس سے اس کتاب کے بارے میں پوچھااس نے کہامیں اس کتاب کوفروخت کرناچاہتی ہوں میں نے اس کتاب لی جومرزاعبداللہ آفندی کی تصنیف ریاض العلماء تھی اوربالکل ہی نایاب نایاب تھی میں نے اس سے کتاب کی قیمت پوچھی اس نے کہاپانچ روپئے سومیں نے اس سے کہامیں اسے سوروپیئے میں خریدسکتاہوں اوراس سے زیادہ نہیں دے سکتاوہ اضی ہوگئی۔

اسی دوران کتابوں کادلال جس کانام کاظم دجیلی تھاآگیاجولندن کے عمومی کتاب خانے کیلئے پرانی کتابوں کوخریدتااوراسے نجف اشرف میں موجودبرطانوی حاکم کے سپردکردیاکرتاتھا۔یہی پہلاانگریز حاکم ہے جس نے نجف اشرف پر حکومت کی ہے ۔اس نے اس نے میرے ہاتھ سے قوت کیساتھ کتاب لے لی اوراس عورت سے کہامیں اس کتاب کو اس سے زیادہ قیمت پرخریدوں گااس طرح اس کتاب کے اوپربولی بڑھنے لگی۔

میں نے اپناچہرہ حرم کی طرف کرکے امیرالمومنین علیہ السلام سے خطاب کرتے ہوئے کہااے میرے آقاکیاآپ اس پر راضی ہیں کہ یہ کتاب میرے ہاتھ سے چلی جائے جبکہ میں اس کتاب کے ذریعہ آپ کی خدمت کروں گا کہ اچانک اس عورت نے کاظم دلال سے کہامیں میں تیرے ہاتھ یہ کتاب نہیں بیچوں گی کیونکہ یہ سیدکی ہےمیں نے کہامیرے ساتھ چلوتاکہ میں تمھیں اس کے پیسے دے دوں ۔وہ میرے ساتھ مدرسہ تک آئی اس وقت میرے پاس کچھ نئے پرانے لباس اورگھڑی تھی میں اسے بازارمیں کپڑوں کے دلال حاج حسین شیش کے پاس بیچنے کیلئے گیااس نے اسے بیچ دیاوہ عورت جومیرے ساتھ کہتی تھی اے سیدتم نے مجھے معطل کررکھاہے وہ شخص مجھے نقدپیسے دے رہاتھاکبھی میں اسے جواب نہ دیتاتھااورکبھی کہتاتھاابھی ٹھہروابھی ٹھہرو۔ رقم کپڑوں اورگھڑی کے بیچنے کے بعدبھی پوری نہ ہوئی میں اسے لیکرمدرسہ آیااوراپنے ساتھیوں سے پانچ پانچ دس دس روپیئے قرض کے طورپراکٹھاکئے یہاں تک ۱۱۰ یا۱۲۰ روپیئے ہوگئے میں اس عورت کے پاس آیااوراسے پیسے دیدئیےاور اس گرانقدرکتاب کے خریدنے پرمیں نہایت ہی خوش ومسرورتھا۔

ابھی تھوڑٰ ی ہی دیرہوئی تھی کہ کاظم دلال نے پولیس کے ساتھ مدرسہ پر دھاوابول دیااورمجھے گرفتارکرکے انگریزحاکم کے پاس لےگیاوہ مجھ پرکتاب کی چوری کی تہمت لگارہااورمیراخیال ہے کہ وہ اپنی زبان میں گالیاں دے رہاتھااورمجھے برابھلاکہہ رہاتھااس کے بعد اس نے مجھے قیدکرنے کاحکم دے دیامیں رات قیدخانے میں تھااوراپنے پروردگار سے اس کتاب کے محفوظ رہنے کی دعاکررہاتھاجسے میں نے چھپادیاتھادوسرے دن شیخ الشریعہ حاج مرزافتح اللہ نمازی اورصاحب کفایہ کے فرزندمرزامہدی انگریزحاکم کےپاس ایک جماعت کے ساتھ میری رہائی کیلئے آئے ۔اورقیدسے میرے چھوٹنے کی گفتگواس شرط پرتمام ہوئی کہ میں حاکم کوایک مہینہ کے اندرکتاب دیدوں ۔

میں مدرسہ آیااورطلبہ کوجمع کرکے کہایہ اسلام کی عظیم خدمت ہے کہ تم لوگ اس عظیم کتاب کونقل کرڈالویہ کتاب بڑی سائزمیں دوسری اورتیسری جلدوں پرمشتمل ہے جس میں دس جزء ہیں اورجس کی ابتداء حاء مہملہ لفظ حسن سے ہوتی ہے۔

طلبہ اس کتاب کونقل کرنے میں مصروف ہوگئے اورمعینہ مدت سے پہلے ہی پوری کتاب نقل ہوگئی جب بھی میں اس کتاب کوحاکم انگریز کے حوالے کرنے کیلئے سوچتاتھامجھے قدرت نہ ہوتی تھی اس خیال سے میں شیخ الشریعہ کی خدمت میں گیااوران سے کہاآپ عصرحاضرکے مرجع ہیں یہ ایسی کتاب ہے جس کامثل پورے عالم اسلام میں نہیں اوراسے انگریز حاکم لے لیناچاہتاہے جب انھوں اس کتاب کودیکھاایک مرتبہ کھڑے ہوئے پھربیٹھ گئے دوبارہ اٹھے اورپھربیٹھ گئے اورکہایہی وہ کتاب ہے میں نے کہاہاں۔ انھوں نے تکبیروتحلیل کہکرمجھ سے کتاب لے لی جومعینہ مدت کے ختم ہونے تک انھیں کے پاس رہی وقت کے تمام ہونے سے پہلے ہی انگریزحاکم کاقتل ہوگیااوریہ کتاب شیخ ہی کے پاس موجودرہی ان کے بعد ان کے ورثاء کی طرف منتقل ہوئی لیکن آج وہ کتاب کہاں ہے مجھے اس کاعلم نہیں ہے۔

البتہ کتاب کا جو نسخہ میرے پاس تھا اس سے میں نے ۱۲ نسخے تیارکیے ایک نسخہ آیۃ اللہ سیدحسن الصدراورایک نسخہ آیۃ اللہ عبدالحسین شرف الدین کے پاس بھیج دیا۔میرانسخہ آج بھی میرے عمومی کتب خانے میں موجودہے مجھے قم اسی کتاب کاایک جزء اورمل گیاوہ بھی میرے کتب خانے میں موجودہے۔

اس واقعہ کی تاریخ ۱۳۴۰ ہجری سے ۱۳۴۱ہجری کی ہے اسی طرح ہمیں کتابوں کے حاصل کرنے میں عجیب وغریب واقعات پیش آتے ہیں۔

استادعلام نجف اشرف میں اپنی گرانقدرکتابوں کی حفاطت کے بارے میں سوچاکرتے تھے ۔آپ نے مخطوطات کی جمع آوری میں بھی سعی بلیغ کی اوراسے خیابان ارم( ۱ ) پرواقع اپنے مدرسے میں مخصوس کتاب خانے پر وقف کردیاتاکہ طلاب اس سے استفادہ کریں۔

اس عمومی کتاب خانہ کاافتتاح ۱۵ شعبان ۱۳۸۵ہجری حضرت امام عصر(عج) کی ولادت باسعادت کےدن ایک مدرسہ میں ہوا۔

مطالعہ کرنے والؤن کی کثرت اورجگہ کی تنگی کی وجہ سے استادعلام نے اپنے مدرسے کے روبرو۱۵شعبان ۱۳۹۴ہجری کوہزارمربع میٹرزمین اور۴ طبقوں پر مشتمل ایک نئے کتاب خانے کاافتتاح بکیا ۔اس کی توسیع کی گئی اور۵۰۰ مربع میٹرزمین مزیداس سے ملحق کردی گئی۔

کتاب خانے میں مطبوعہ کتابوں کی تعداد رفتہ رفتہ ۲لاکھ ۵۰ ہزاراورمخطوطات کی تعداد ۲۵ ہزار تک پہنچ گئی ہے حجۃ الاسلام محقق سیداحمدحسینی نےاس کی فہرست ترتیب دی جو ہمارے زمانے ۱۴۱۱ہجری تک ۱۹ جلدوں تک پہنچ گئی ہرجلدمیں ۴۰۰ مخطوطہ کتابوں کی فہرست ہے۔

مخطوطات میں تیسری صدی ہجری کی بے مثل اورمنفرد کتابیں ہین اس کےعلاوہ شیخ طوسی، محقق اول، اورعلامہ حلی،فخرالمحققین ، شہیدثانی ،علامہ مجلسی، شیخ حرعاملی،میرداماد،شیخ بہائی، صدرالمتالھین، فیض کاشانی، شیخ انصاری، اوربہت سے اساطین علم وادب کی مختلف مذاہب وادیان پرمخطوطہ کتابیں موجودہیں۔

میں نے اس کتب خانے میں علی ابن ہلال جوابن بواب کاتب بغدادی کے نام سے مشہورہین کے ہاتھوں کے لکھے قرآن مجیدکاایک نسخہ تقدیم کیاہے جس کواس نے ۱۳۹۲ہجری میں تحریرکیاتھا۔

اس کتب خانے میں تقریبادوہزار افراد روزانہ مطالعہ کرتے ہیں ۔اوریہ مرکزخطی نسخوں کی فوٹو کاپیوں اورمائیکروفلم وغیرہ کے تبادلے کے سلسلے میں دنیابھرکے ۳۵۰ مراکزسے جڑاہواہے۔

یہ کتب خانہ طویل عریض اورتمام تصویری وسائل سے آراستہ ہے جس میں مطالعے کے بڑے بڑے ہال ہیں محققین ومولفین اورفہرست نگاروں کےلئے کچھ کمرے بھی بنائے گئے ہین اوراب حال ہی میں حضرت امام خمینی ؒ کی عنایت اوراسلامی حکومت کے لطف سے کتب خانے کےبغل میں ۲۴۰۰ مربع میٹرزمین بھی خریدی جاچکی ہے۔ جس کاسنگ بنیاد استادعلام نے اپنی آخری عمرمیں روز جمعہ ۲۰ ذی الحجہ ۱۴۱۰ ہجری کوبزرگ اورعظیم شخصیتوں کے مجمع میں رکھا۔

نئی عمارت سات مستحکم طبقوں پرمشتمل ہے تین طبقے زمین کے پیچھے بنائے گئے ہیں تاکہ یہ مخطوطات کامخزن رہے اورہر قسم کے خطرات خاص طورسے زلزلوں سے محفوظ رہے ساتھ ہی یہ عمارت بجلی کے تمام جدیدترین وسائل سے آراستہ ہے۔

ہم دین کے خدمتگزاروں اوراسکی عظیم میراث کے محافظوں کیلئے خاص طورسے استادعلام کی روح کے درجات کی بلندی کیلئے خداوندعالم کی بارگاہ میں دست بہ دعاہیں۔

دینی مدرسے

مراجع کرام سالہاسال دینی علوم کی تحصیل اورفقہ اہل بیت ؑ کی تعلیم کیلئے تنہائی کی سختی غربت ومسافرت کی وحشت فقروتنگدستی کاغم اورطلبگی کی سختیاں برداشت کرتے رہے ہین اسی لئے جب ہم کسی مرجع کی تاریخ کامطالعہ کرتے ہیں تواسے سماج کے رنج وغم سے آگاہ پاتے ہیں لہذاوہ سب سے پہلے طلاب علوم دینیہ کی مشکلوں کوکم کرنے یاانھیں دورکرنے کی کوشش کرتاہے خاص طورسے جب وہ حوزہ علمیہ پر قیادت کے شباب کوپہنچتاہے تواسے طلبہ کے قیام کیلئے مدرسہ بنانے کی فکرمیں ہوتی ہے۔

انھیں بنیادوں پر استادعلام نے بھی قم میں طلباء کے قیام کیلئے مدرسوں کی تعمیر کرائی جسے ہم بطوراختصاربیان کرتے ہیں ۔

مدرسہ مرعشیہ۔

یہ مدرسہ آپ کے عمومی کتب خانہ کے مقابل خیان ارم( ۲ ) پرواقع ہے جس کی زمین الحاج عباس فنائیان نے وقف کی تھی اسکی تاسیس ۱۳۸۳ ہجری مین ہوئی اس کی مساحت ۴۲۰ مربع میٹر اورزیربنا۶۶۰ میٹرہے یہ تین طبقوں پرمشتمل ہے مدرسہ میں ۱۶۰ میٹر صحن بھی ہے جس میں ۳۷ کمرے ہیں ہرسال عشرہ محرم میں یہاں عزاداری بھی ہوتی ہے اس مدرسہ کانام استادعلام کے لقب کے اعتبارسے مدرسہ مرعشیہ رکھاگیا۔

مدرسہ مھدیہ۔

یہ مدرسہ خیابان باجک پرواقع ہے اسکی تاسیس ۱۳۷۴ہجری میں ہوئی مساحت کے اعتبارسے یہ ۴۵۰ مربع میٹرزمین پرمشتمل ہے جس میں ۳۰۰ زیربناہے اس مدرسہ میں ۳۵ کمرے اورایک دارالمطالعہ بھی ہے جس میں دوہزارکتابیں موجودہیں امام عصر(عج)کے نام سے برکت حاصل کرنے کیلئے اس کانام مدرسہ مھدیہ رکھاگیا۔

اس اعتبارسے بھی اسے مھدیہ کہاجاتاہے کہ یہ مدرسہ الحاج مھدی ایرانی کی طرف سے تعمیرکیاگیاجنھوں نے اس کے اموراستادعلام کوتفویض کردئیے تھے۔

مدرسہ مؤمنیہ ۔

یہ بہت ہی بڑااورجدیدالتاسیس مدرسہ ہے اس کی تاسیس ۱۳۸۹ہجری میں خیابان چہارمردان چہارراہ سجادیہ پرہوئی یہ دوطبقوں پر مشتمل ہے جس میں ۷۶ کمرے ہیں مساحت کے اعتبارسے ۲۰۱۶ مربع میٹرزمین پرواقع ہےجس میں ۱۱۷۶میٹر کایک صحن بھی ہے جس میں بڑےبڑے درخت لگائےگئے ہیں یہاں ایک دارالمطالعہ بھی ہے جس میں کتابیں موجودہیں اس مدرسہ کانام مومنیہ اس اعتبارسے رکھاگیاکہ یہ پہلے ایک دینی مدرسہ تھاجسے مرحوم مرزامومن خان نے بنوایاتھامرورزمانہ کے ساتھ اس کی عمارت منہدم ہوگئی جسے دوبارہ استادعلام نے تعمیرکرایا۔

مدرسہ شہابیہ۔

یہ مدرسہ خیابان امام خمینیؒ پرواقع ہے جوشاہ رضاپہلوی کے زمانے میں قم مقدسہ کاایک تنہاسینماگھر تھایہ بات انقلابی علماء اورمومنین کےدلوں پرشاق تھی کہ قم جیسے شہرمیں جوانوں کوگمراہ کرنے کی غرض سے ایک طاغوتی سینماگھربنایاگیاتھاجس میں فحش فلمیں دکھائی جاتی تھیں جواسلامی انقلاب کے دوران شہرفقہ فقاہت اورمدینہ علم واجتہادقم کیلئے عیب تھیں لہذا کچھ شجاع اوربہادرمومن جوانوں نے ایک رات اسے بموں سے اڑادیاپھراستاد علام نے اسے خریدلیااوراس کےملبہ پرایک دینی مدرسہ کی بنیادرکھی جس کے کئی حصے ہیں ایک طلباء کے رہنے کاحصہ ہے دوسرادارالمطالعہ تیسرامدرس اورہال چوتھاچاپخانہ اوردارالنشر سے مخصوص ہے۔

مجھے یادہے سینماگھرکےاڑانے جانے کےچندماہ قبل میں استادعلام کےساتھ ٹیکسی میں سفرکررہاتھاجب سینماگھرکی طرف سے گزرے تواستاداستادعلام نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلندکئے اورخداسے رازونیازمیں مصروف ہوگئے۔

میں نے دعاتونہیں سنی لیکن سینماگھرکےاڑائے جانے کےبعدیہ احساس ہواکہ یہ اسی بزرگ کےانفاس قدسیہ کی برکتیں تھیں۔

چونکہ آپ کانام شہاب الدین تھااس لئے اس مدرسہ کانام شہابیہ رکھاگیا۔

طلبہ کے لئے گھر

استادعلام کے آثار میں یہ بھی ہے انھوں نے اپنی نگرانی میں اہل علم کیلئے بہت سے مکانات تعمیرکرائے جن میں تمام ضروری سہولتیں موجودہیں۔یہ مکانات خیابان آذرکے کے آخری حصے پرواقع ہے جسے کوچہ آیۃ اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی کے نام سے جاناجاتاہے یہ ایک لمبی گلی ہے جس کے دونوں طرف ان طلبہ کے مکانات ہیں جوجوق درجوق قم مقدس میں آتے ہیں اوران کے پاس کوئی گھراورجائے پناہ نہیں ہوتی۔

ہاسپٹل

آپ نے اپنی نگرانی میں غریبوں محروموں اورتنگدست افرادکیلئے خیابان آذرپرنیکوئی ہاسپٹل میں درمانگاہ جداکےنام سے ایک ہاسپٹل کی تعمیرکی۔

امام باڑے اورمساجد

استادعلام نے اپنی نگرانی میں مختلف شہروں میں بہت سی مسجدیں اورامام باڑے بنوائے لیکن جس امامباڑے کی تعمیرآپ نے مرحوم الحاج غلام حسین شاکری کے حصہ ثلث سے کرائی وہ آپ کے گھرسے ملاہواہے جوعاشقان سیدالشہداءؑ کامہبط اورمامن ہے خاص طور سے محرم وصفرکےمہینوں میں مجالس عزااوراہل بیت ؑکی ولادت وشہادت پرمجالس ومحافل برپاہوتی ہیں اس طرح یہ امام باڑہ اسلامی علوم کی تدریس کامرکزبھی رہاہے جس کی طرف استاد علام نے اپنی پہلی وصیت میں اشارہ کیاہے آپ نے مختلف شہروں ،قصبوں اوردیہاتوں میں دسیوں مسجدیں مدرسے کنویں ،امام باڑے اورسڑکیں تعمیرکرائیں۔

طلبہ کی روٹی

۱۳۸۰ ہجری میں آیۃ اللہ العظمیٰ سیدبروجردی کی وفات کے بعدطلبہ کی روٹی آپ نےاپنے ذمہ لی لہذاآپ اپنے وکیلوں کےذریعہ طلبہ کوان کےمراتب کےاعتبارسے روٹیوں کےکوپن تقسیم کرتے تھے جس کی آخری برسوں میں ہرماہ ۲۰ لاکھ کےقریب پہنچ گئی تھی۔

یہ دیگرمراجع کرام کے دفاترسے ملنے والے شہریوں کےساتھ طلبہ کوملنے والی بہترین امدادتھی۔

____________________

(۱) ۔ جوآج خیابان آیۃ اللہ العظمیٰ مرعشی کے نام سے موسوم ہے۔

(۲) ۔ جوآج خیابان آیۃ اللہ العظمیٰ مرعشی کے نام سے موسوم ہے۔


آپ کی سیاسی زندگی

لوگوں کے امورکی نگرانی ان کیلئے سعادت وخوشگوارزندگی کی فراہم کرنا ۔ان سے شروفساد کودروکرنااسلامی سیاست ہے دوسرے لفظوں میں اس کےمعنی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کے ہیں ۔حدیث مین آیاہے (امرت بمداراۃ الناس)مجھے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کاحکم دیاگیاہے۔

نیک اورصالح علماء ہی انبیاء اوصیاء کےبعدقائداوررہبرہیں یہی حضرات تمام طبقے کے لوگوں کے ساتھ سلامتی وسعادت اورعلم وبرتری کی طرف سفرکرتے ہیں جب شہنشاہوں اوربادشاہوں کوعلماء کی دہلیزپردیکھوتویقین کرلوکہ یہ علماء اوربادشاہ دونوں بہتر ہیں یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بادشاہ سے لیکررعایاتک اگرتمام لوگ علماء کےدروازوں پرعلم وعمل صالح کے کسب واکتساب اوردینی وانسانی وظائف سیکھنے کیلئے آئیں تویہی بہترین اورنیک زندگی ہے۔

اورجب علماء کوبادشاہوں کے دروازوں پردیکھوتویہ علماء اوربادشاہ دونوں برے ہیں۔اورظالمین کے ساتھ وابستہ زندگی بھی بری ہے کیونکہ علماء اوربادشاہ دونوں نے اپنے نفس پرظلم کیا۔صراط مستقیم سے منحرف ہوگئے ۔اپنے آپ کوصحیح منزل تک نہیں پہنچایااوراب یہی لوگ اللہ کے راستے میں کجی ہی تلاش کرتے ہیں ۔

لہذالوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا،کلمہ حق کابلندکرنا،ظلم وجورسے نبردآزماہونااورانسانی معاشرے میں عدل قائم کرناہی ہماری سیاست ہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سیدمحسن الحکیم طاب ثراہ نے کیاجاودانی کلمہ ارشادفرمایاہے۔"اگرسیاست کےمعنی بندگان خداکےامورکی اصلاح اوران کے حالات کی ترقی کیلئے کام کرناہے توہرعالم پر اس کیلئے اپنی پوری قوت وتوانائی کے ساتھ قیام کرناواجب ہے"

ہرفقیہ اورعالم کے وجودمیں صحیح رحمانی سیاست جلوہ گرہے اوراس کےرفتاروکردارمیں دینی واسلامی سیاست روشن ہے۔اس پراستعماری سیاستوں اوراستکباری گروہوں سے مقابلہ کرنااورہرزمانہ میں ہرملک میں کلمہ حق کے بلند کرنے کیلئے برسرپیکارہوناضروری اسے ظلم وجورکے خاتمے ، عدل وانصاف کی حکومت قائم کرنے نیزطاغوتوں اورظالموں سے جنگ کرنے کیلئے اپنے نفس کی قربانی پیش کردیناچاہیے۔

علماء دین ایسی ہی شان کے ہوتے ہیں یہی لوگ بہترین قائداورنمونہ عمل ہیں جوظلم وعناومنکرات حتیٰ درباری ملاؤں اورواعظوں تک سے بھی جنگ کرتے ہیں۔

ایسے ہی نیک افراد میں استاد علام بھی تھے آپ نے ایران کے اسلامی انقلاب کی قیادت میں شرکت فرمائی اورامام راحل اسلامی انقلاب کے عظیم قائدورہبرحضرت امام خمینی ؒ کے ساتھ ایک ہی مورچے پرتھے یہاں تک کہ اس انقلاب کوکامیاب کیااسلامی حکومت کی بنیاد رکھی نبی اکرم ؐ اوراہل بیت اطہارؑ کے دین کومظبوط ومحکم فرمایاحتیٰ اپنی زندگی کے آخری سال تک یہ فریضہ انجام دیاجس کی گواہی وہ اعلانات وبیانات دے دہے ہیں جسے آپ نے اسلامی انقلاب کے دوران ارشادفرمایاتھا۔

آپ نے اس انقلاب کے پس منظرمیں دین محمدی کی ترویج ،قرآن کریم اوراہلبیتؑ کے معارف ومسالک کی نشرواشاعت فرمائی۔

میں نے ایک دن آپ سے ان سیاسی معرکوں ،پارٹیوں کے طنطنوں اورسیاسی شخصیتوں کے ہمہموں کے بارے میں اپنے شرعی فرائض دریافت کئے توآپ نے جواب دیاہمیں مذہب اہل بیتؑ کی رعایت اوراسکی حفاظت کرناچاہیے اوراسے سالم حالت میں اپنی اولادکے سپردکردیناچاہیے جیسے ہمارے آباؤاجداد نے ہمارےسپردکیاتھا۔

انھیں بنیادوں پراستاد علام سیاست کے بارے میں ایک مستقل کتاب لکھی جانی چاہیے اورچونکہ کتاب کی اس فصل میں اتنی گنجائش نہیں ہے لہذامیں نے یہاں اتنے ہی پراختصارکیاہے۔

آپ کی سماجی زندگی

اہم دینی شخصیتوں اورامت کے مصلح قائد نیزدینی مراجع کی اہم ذمہ داریاں سماج میں اصلاح سے ترقی کی راہ پرگامزن کرنااورسماج میں علم وثقافت کوفروغ دینارہی ہیں جواس عالم میں صبح کرے اورمسلمانوں کے اموراوران کے حالات کے بارےمیں غوروفکر نہ کریں وہ مسلمان نہیں ہےاسلام میں کوئی رہبانیت نہیں ہے اوربلاشبہ میری امت کی رہبانیت جہاداورتمام لوگوں کے ساتھ باہم سلوک کرناہے مجھے لوگوں کےساتھ حسن سلوک کاحکم دیاگیاجیساکہ احادیث شریف میں واردہواہے۔

اسی طرح استاد علام نے بھی امت کےدرمیان ایک نیک فرزند،شفیق بھائی مہربان باپ ،رحیم استاد،اورہمدردقائدکےعنوان سے زندگی بسرکی ،کبھی آپ سے کوئی ایساکلام صادرنہیں ہواجوخوشگواراورپاکیزہ سماج کے عادات واخلاق سے منافاۃ رکھتاہوآپ انتہائی اخلاص سے لوگوں کی مدارات کرتے تھے اوراگربعض اوقات سخت کلامی اورتندروئی سے کام لیتے توان کےاحساسات وجذبات کی رعایت کرتے تھے۔

مجھے یاد ہے جب صدام لعین شہرمقدس قم اورایران کےبیشتر شہروں کومیزائلوں اوربموں کانشانہ بنائے ہوئے تھا۔ عوام خوف ودہشت سے اپنی جان بچانے کیلئے قم سے باہر بھاگ رہے تھے لیکن استادعلام اپنی جگہ پرموجودرہے آپ اس سے پہلے حرم مطہرمیں نمازجماعت پڑھانے کیلئے ٹیکسی سے جایاکرتے تھے۔ لیکن ان مصیبت زدہ دنوں میں اپنی کبرسنی اورضعیفی کے باوجودنمازپڑھانے کیلئےپیدل تشریف لیجاتےتھےجب آپ سے اس سلسلے میں پوچھاگیاتوفرمایامیں چاہتاہوں کہ لوگ مجھے دیکھیں تاکہ ان کےدلوں کواطمینان ہوجائے ۔

ایک دفعہ میں آپ کے پاس آپ کے حجرہ میں بیٹھاہواتھاکہ ایک ضعیف آدمی آیااورسلام کے بعدفرمایااے سیدمیں آپ کوذاتی طورپرجانتاہوں میں ایک دلاک ہوں آپ کوآپ کی زندگی کاایک واقعہ یاددلاناچاہتاہوں اوروہ یہ ہے کہ میں عمومی حمام میں دلاک تھاآپ جوانی کےایام میں اپنے چھوٹے بچوں کےساتھ اس حمام میں تشریف لائے اوروہاں کچھ بچوں کودیکھ کرمجھ سے ان کےبارے میں پوچھاتومیں نے کہایہ یتیم بچے ہیں اس وقت آپ اپنے بچوں سے سے مخاطب ہوکرفرمانے لگے ان یتیم بچوں کے سامنے ان کے احساسات کی رعایت کرتے ہوئے تم مجھے باباکہہ کرنہ پکارناپھرآپ نے مجھے کچھ روپئے دئیے تاکہ میں ان بچوں کےپڑھنے لکھنے کی ضروری چیزیں خریدوں۔

جب میں نے یہ واقعہ سنامیرے حواس دنگ رہ گئے میں نے اپنے دل میں کہااللہ اکبریہی لطیف احساسات اورظریف ودقیق سماجی نکات کی رعایتیں ہیں۔

آپ کےاورعوام کےدرمیان کوئی پردہ نہیں تھاآپ کادروازہ آنے والے مردوں اورعورتوں کے لئے ہمیشہ کھلارہتاتھا۔

میں وہ ساعت کبھی نہیں بھول سکتاجب میں آپ کی وفات کے دودن پہلے آپ کے پاس موجودتھااورایک ضعیفہ اپنے خمس کی ادائیگی کیلئے آپ کے پاس آئی اس نے آپ سے قیامت کے دن اپنی شفاعت کی درخواست کی آپ نے جواب دیااگرشفاعت کی اہل ہوگی تومیں یقیناًتیری شفاعت کروں گا۔

وہ اپنے دشمنوں پربھی مہربان تھے پھربھلااپنے دوستوں اورچاہنے والوں کے ساتھ کیوں نہ حسن سلوک کرتے۔

ایک دن آپ نے مجھ سے اپنے دشمنوں اورحاسدوں کی طرف سے اپنے اوپرہونے والے واقعات کاتذکرہ کرتے ہوئے فرمایاکہ صحن مطہرمیں وہ دسیوں صفوں کی جماعت کی امامت فرمایاکرتے تھے لیکن دشمنوں کی افواہوں اورحاسدوں کی چغلیوں کی وجہ سے نوبت یہاں تک آگئی کہ تھوڑے سے مومنین کی امامت فرمانےلگے۔

استادعلام نے فرمایا۔

میں ان دنوں سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہاکی ضریح کے قریب آیااپنی عبااپنے سرپررکھی عمامے کے تحت الحنک کاایک سراضریح اقدس سے باندھ دیااوراس طرح شہزادی کی خدمت میں حاضر ہواجیسے عوام آتے ہیں۔پھرمیں شدت سے رویااوراپنے مصائب وآلام نیزبعض لوگوں کی ایذاء رسانی کاان سے شکوہ کیااسی اثناء میں مجھ پرغنودگی طاری ہوگئی تومیں نے عالم مکاشفہ میں دیکھاکہ میں ایک وسیع وعریض میدان میں دوڑرہاہوں میرے دشمن مجھےہر طرف سے پتھروں سے ماررہے ہیں اورمیں چیخ رہاہوں اے میرے جدامیرالمومنینؑ مجھے اس مصیبت سے رہائی دیجئے خوف زدہ بھاگتے ہوئے میں نے محسوس کیاکہ کسی نے پیچھے سے مجھ پرہاتھ رکھ دیاہے یقین ہوگیا یہ امیرالمومنین ؑ کاہاتھ ہے انھوں نے مجھے زمین سے اوپر اٹھایااورکہاصبرکروآپ کے جدامیرالمومنین ؑ کے ساتھ بھی ایساہی کیاگیاہے ۔میں بیدارہوگیااوراپنے دل میں انتہائی سکون وقرارمحسوس کیا۔

استادنے فرمایا۔

انھیں مصیبت زدہ دنوں میں ایک دن میں کسی مجلس میں گیا وہاں ایک عمامہ پوش شخص بھی تھامیں اس کےپہلومیں بیٹھ گیا اس نے مجھ سے شدت عداوت کی بناء پرلوگوں سامنے میری طرف پیٹھ کرلی میں نے اپنے دل میں اسے محفوظ کرلیااوراس کاحساب خداکےحوالے کردیاجب میں وہاں سےجانے لگاتواس کے دامن میں کچھ پیسے ڈال دئیے اوراسے احساس تک نہ ہوا۔اس کےبعدوہ لوگوں سے بیان کرتاتھا اس رات میرے پاس کچھ بھی پیسہ نہیں تھا۔

وہ اپنی گودمیں کچھ مال پاکرانتہائی حیرت میں تھااسے یہ احسا سہی نہین ہواکہ میں نے اس کی گودمیں پیسہ ڈال دیاتھا۔

اس عظیم اخلاق کودیکھواورسوچولوگوں کے ساتھ کس اعتبارسے رہناچاہیے۔

آپ حرم معصومہ میں تینوں وقت نمازپنجگانہ پڑھانے تشریف لےجاتے تھے آپ نےفرمایاجب میں نے قم مقدسہ کواپناوطن بنایاتھاحرم مطہرمعصومہ میں نمازصبح کی جماعت نہیں ہوتی تھی آپ نے اس خدمت کو۶۰ سال تک انجام دیا۔آپ ہی وہ فردفریدہیں جوطلوع فجرسے ایک گھنٹہ پہلےحرم شریف میں بلاناغہ پہنچ جایاکرتے تھے حتی سردی اوربرف باری کے زمانے میں بھی اپنے اس عمل کوجاری رکھاجبکہ گلیوں میں برف جمی رہتی تھی آپ بڑی مشکل سے گلی میں راستہ بناکرحرم پہنچتے اوربند دروازے کی پشت پربیٹھے دروازہ کھلنے کاانتظارکرتے تھے۔

آپ نے فرمایامیں پہلے تنہائی نمازاداکرتاتھااس کےبعدایک شخص میرے ساتھ نمازپڑھنے لگارفتہ رفتہ جماعت میں اضافہ ہوتاگیا۔استادعلام کی مرجعیت کازمانہ لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے اورفقہ کےدرس خارج سے شروع ہوا۔آپ فقہ کادرس خارج حرم سیدہ معصومہ میں مسجدبالاسر۱۰بجے دن اوراصول کادرس خارج شام کےوقت اپنے گھرمیں دیاکرتے تھے لیکن جب اپنی آخری عمرمیں مختلف قسم کے امراض میں مبتلاہوگئے تویہ سلسلہ بندہوگیا۔

آپ روزانہ سیکڑوں خطوط کےجواب دیاکرتے تھےجوایران اوربیرون ملک سے ان کےمقلدین اوردوسرے افرادکی طرف سے آتےتھے۔

مجھے یادہے آپ کے آخری دورحیات میں افریقہ کے کسی شہرسے ایک تفصیلی خط آیاجس میں ۱۷۰ سوال پوچھے گئےتھے میں نے تین روزتک اسے آپ کےسامنے پڑھااورآپ روزانہ مجھےایک گھنٹہ اس کاجواب لکھایاکرتےتھے۔

آپ حسب استطاعت لوگوں کی ضروتیں پوری کرتےتھے کبرسنی مختلف بیماریاں رنج وغم کاہجوم اورلوگوں کی قیل وقال اس راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے تھے بلکہ پوری صلاحیت اورقوت کےساتھ خداکی نصرت سے ہرمشکلوں اورسختیوں کامقابلہ کرتے تھے۔

آپ سماجی زندگی کی بہترین مثال تھے۔

"( ثم کان من الذین آمنوا وتواصوابالمرحمة ) "(البلد:۱۷)پھرتوان لوگوں میں (شامل)ہوجاناجوایمان لائے اورخیرکی نصیحت اورترس کھانےکی وصیت کرتے ہیں۔

سچ ہےجوانسان ایسے معاشرے اورسماج میں زندگی بسرکرے جہاں مادے کااقتدارہووہ شیطان اورنفس امارہ کی پیروی کرتاہے یقیناً ایسے انسان گھاٹےمیں ہیں۔

مگراستادعلام جیسے بہت سے افراد ایمان لائے اورعمل صالح انجام دئیے۔

( "وتواصوابالحق وتواصوابالصبر ) "(العصر:۳)تم اپنے پروردگارکی تعریف کے ساتھ تسبیح کرنااوراسی سے مغفرت کی دعامانگنا۔وہ بے شک بڑامعاف کرنے والاہے۔

آپ کوحرم ائمہ اطہارؑ اورانکی اولادکے حرم مثلاًحضرت امام رضاعلیہ السلام حرم حضرت امام کی نقابت اوردیگرپرافتخارمناصب حاصل تھے۔

نیزحرم حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام شیراز میں احمدبن موسیٰ بن جعفر قم میں سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا،ری میں حرم حضرت شاہ عبدالعظیم اورامام موسیٰ ؑ کی اولادسیدجلال الدین اشرف کےروضہ نیزکاشان میں حرم علی بن محمدباقرمیں منصب تدریس ،نقابت اورخدمت کاافتخارحاصل تھا۔

آپ کی اولاد

استادعلام جواپنی زندگی میں ضرب المثل تھے خداوندعالم نے آپ کو۸ اولادعطاکیں جن میں ۴بیٹے اور۴بیٹیاں ہیں آپ کے تین فرزندعالم دین ہیں۔

۱۔ حجۃ الاسلام والمسلمین سیدمحمودمرعشی صاحب قبلہ مدظلہ جنھوں نے دوکتابیں حیات ابن سینااورحیات ابوحامدغزالی کے نام سے تالیف کی آپ نے ایک کتاب مسلسلات دوجلدوں میں تحریرکی جو۱۳۴۱ہجری شمسی میں قم سے شائع ہوئیں آپ اپنے والدماجدکےوصی اورقم میں مکتبہ عامہ کےامین بھی ہیں۔

۲۔حجۃ الاسلام سیدمحمدجوادمرعشی مدظلہ۔ جنھوں نے البیان فی اخبارصاحب الزمان،مناقب ابن ابی طالب از ابن مغازلی،الزام الناصب فی اثبات الحجۃ الغائب،مع الحسین فی نہضبۃ،السیدۃ زینب سلام اللہ علیہاازمحمدقاسم مصری،نیزاخبارالزینبیات ازیحیی عبیدلی کے فارسی زبان میں ترجمہ کئے۔

۳۔ثقۃ الاسلام السیدامیرحسین مرعشی مدظلہ۔

۴۔السیدمحمدکاظم مرعشی جوطہران میں زندگی بسرکرتے ہیں۔

۵۔زوجہ الحاج علی برادرآیۃ اللہ العظمیٰ حضرت شیخ فاضل لنکرانی۔

۶۔ زوجہ مرحوم الحاج حجۃ الاسلام سیدعباس موسوی۔

۷۔زوجہ مرحوم الحاج سیدخلیل میری طہرانی۔

۸۔ زوجہ حجۃ الاسلام والمسلمین الحاج شیخ عباس علی عمیدزنجانی جوطہرانی کے جیدعلماء میں سے ہیں نیزدانشگاہ طہران کے پروفیسربھی ہیں۔

آپ کےاخلاق کی خوشبو

خداوندتبارک وتعالیٰ قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے۔"وانک لعلیٰ خلق عظیم"اے رسول بے شک آپ خلق عظیم پرفائزہیں۔

نبی اعظم خاتم المرسلین حضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کواس لئے مبعوث برسالت کیاگیاتاکہ وہ اپنے اقوال واعمال اوررفتاروکردارکےذریعے مکارم اخلاق کی تکیمیل کریں اوریہی انبیاء واوصیاء کی سیرت رہی ہے علماء لوگوں کے درمیان عوام کی سرپرستی اورقیادت نیزفضائل ومحامدکوعام کرنے میں انبیاء کےوارث ہیں یہی علماء انبیاء اوراوصیاء کےبعدانسانی سماج اورمعاشرے کیلئے صالح قائداوربہترین نمونہ عمل ہیں انھیں اخلاق حسنہ،صفات حمیدہ اوربہترین سیرت نیزتقوی وپرہیزگاری میں ضرب المثل ماناجاتاہے ایسے ہی صالح اورمتقی علماء میں استادعلام کابھی شمارتھاجواپنے زھدوورع تقویٰ اورپرہیزگاری وانکساری میں اپنی مثال آپ تھے آپ عالم باعمل تھے لوگوں کوایسی چیزکاحکم دیتے تھے جس پرخودعمل پیراتھے اوراسی چیزسے روکتے تھے جس سے خودپرہیزکرتے تھے۔

میں نے انھیں ضعیفی کے زمانے میں اکثردیکھاہے کہ جب وہ حرم حضرت معصومہ قم میں نمازیادرس کیلئے جاتے تھے تودورہی سے عورتوں کودیکھ کراپنے چہرے پرعباڈال لیاکرتے تھے تاکہ پہلی نظرکسی اجنبی اورنامحرم عورت سے نہ ٹکرائے آپ کواپنے اس مستحسن عمل پرملکہ حاصل تھاآپ صرف خداکی رضاہی کےمطابق باتیں کرتے تھے ایک دن میں نے انھیں تنہائی میں اپنے رب سے مناجات کرتے ہوئے دیکھاایسالگتاتھاجیسے وہ اپنے خداکواپنے بالکل قریب دیکھ رہے ہین ۔یہ وہ کیفیت تھی جسے لفظوں میں نہیں بیان کیاجاسکتا۔

یہ چیزان کےزھدوورع اورتقویٰ وپرہیزگاری کے اوپربہترین گواہ ہے کہ انھوں نے پہلی وصیت میں اپنے فرزندکوخطاب کرتے ہوئے فرمایا۔

میں اسے (اپنے فرزندکو)صلہ رحم کی وصیت کرتاہوں خاص طورسے ان کے بھائیوں اوربہنوں کے سلسلے میں اوریہ وصیت کرتاہوں کہ ان کے ساتھ نیکی کاسلوک کرے اس لئے کہ میں نے اپنے بعددنیاکے ٹھیکروں (مال ودولت کی طرف اشارہ)کی شکل میں کچھ نہیں چھوڑاہےمجھےجوکچھ بھی حاصل ہوااسے حتیٰ وہ رقم بھی جوخاص طورسے مجھے دی جاتی تھی محتاجوں خصوصاً اہل علم پرصرف کردیاہے۔عنقریب میں دنیاسے سفرکرنے والاہوں لیکن اپنے ورثاء کیلئے دنیاکے مال واسباب اورزروجواہرمیں سے کچھ بھی نہیں چھوڑاہے انھیں اپنے رب کریم کے حوالے کردیاہے اوران کیلئے بہترین یادیں اوراچھی باتیں چھوڑی ہیں اوراگرمیں اپنی اولادکیلئے مال واسباب سمیٹنے کی کوشش کرتالوگ میرے اوپراس قدراعتبارکرتے تھے اپنے وارثوں کیلئے لاکھوں اورکڑوروں کی جائداد اورمال واسباب چھوڑسکتاتھا۔(( فاعتبروایااولی الابصار ) )

وہ اپنی وصیت میں فرماتے ہیں میرے ساتھ میری وہ جانماز بھی دفن کردی جائے جس پر میں نے ستر(۷۰)سال تک نمازشب اداکی ہے وہ تیرہ سال ہی کی عمرسے نمازشب کے پابندتھے پروردگارانھیں مقام محمودپرمبعوث کرے۔

اوردوسرے مقام پر فرماتے ہیں میں اسے وصیت کرتاہوں میرے ساتھ میری وہ تسبیح بھی دفن کی جائے جس کے دانوں پر میں نے ہر صبح خداوندکریم سے مغفرت طلب کی ہے۔

مجھے یادآتاہےکہ ایک دن انھوں نے اخلاق اورعرفان پرگفتگوکرتے ہوئے حسدکے سلسلے میں فرمایاحسدشروع میں حاسدکے دل میں سیاہ نقطے کےمانندہوتاہےاگرحسدکرنے والاعلمائے اخلاق کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق اپنے نفس کاعلاج نہ کرے تویہ خودخداوندعالم سے دعاکرتے تھے کہ وہ اس سے اس مرض کوزائل کردے اوراس بات میں غوروفکرکرتے تھے کیوں اس نے اپنے بھائی سے نعمت چھیننے کاقصدکررکھاہےجب کہ خداہی عطاکرنے والااورنعمت روک لینے والاہے وہی نافع بھی ہے اور ضاربھی اسےچاہیے کہ وہ اپنے پروردگارسے ایسی ہی نعمت کی درخواست کرے جیسی خدانے اس کےمحسودکوعطاکی ہے۔

اس طرح وہ اپناعلاج کرلے گااوراگرحسدکے اس بیج کاعلاج نہ کیاجائے اوراس نقطے کومٹایانہ جائے تووہ پھلنے پھولنے لگتاہے اورایک دن ظلم کادرخت ہوجاتاہے جوانسان کے وجودکوکھاجاتاہے۔

اس کےبعدفرمایامیں اپنے والدعلام کے ہمراہ کفایۃ الاصول کے مصنف محقق آخوندکے درس میں جایاکرتاتھاایک دن انھوں نے ایسے آدمی کودیکھاجوعلماء کالباس پہنے ہوئے تھااسے دیکھتے ہی ولادعلام نے ان الفاظ میں بددعاکرناشروع کردی "اللهم اخذ له فی الدنیاوالآخره "(باالہیٰ اسے دنیاوآخت میں ذلیل وخوار کردے)میں نے بارہا ان کی زبان سے بددعاکے یہ کلمات سنے ایک روزمیں نے اس کاسبب پوچھ ہی لیاتوانھوں نے فرمایایہ وہ شخص ہے جومحقق آخوندکے درس میں اپنے دوست کے ساتھ حاضرہواکرتاتھااورمحقق اس کےدوست کی ذکاوت وذہانت کی تعریف کیاکرتے تھےجس کی بناپراس کے وجودمیں حسدکی آگ بھڑک اٹھی ایک دن اس کادوست زکام میں گرفتارتھامیں اس کے پاس عیادت اورتیمارداری کیلئے گیاہواتھاکہ وہ شخص آیااوراس سے کہالویہ میرے پاس تمھارے لئے دواموجودہے اس نے کوئی چیزظرف میں ڈال کراسے پلادی تھوڑی دیرکے بعداس کے بیماردوست کارنگ اڑگیااوروہ چندہی گھنٹوں میں انتقال کرگیاہم سمجھ گئے کہ اس نے اپنے دوست کوشددحسدکی بناپرزہر دے دیااوراس کے چاربچوں کوباپ کی شفقت سے محروم کردیاحسدکے یہی اثرات ہوتے ہیں ۔وہ ایمان کواس طرح کھاجاتاہے جیسے آگ لکڑی کوکھاجاتی ہے۔

اس کےبعدفرمایایہ شیخ ہادی نجف کے علماء میں سے تھااس پرلعنت ملامت کی گئی اس کی تکفیرکی گئی اوراسےڈنڈوں سے ماراگیایہ عالم فاضل تھااس نے صحیح اورمسلم الثبوت کتابیں تالیف کی ہیں اس کی تحریروں میں کوئی ایسی چیزنہ مل سکی جواس کے کفراوردہریت پردلالت کرتی۔

اورجوچیزاس کے کفرکاسبب بنی وہ یہ تھی کہ شیخ ہادی نے مرزاحبیب سے ان کی زندگی کے آخری ایام میں ملاقات کی اس وقت دوشخص دروازے پرکھڑے تھےشیخ ہادی کے لئے چائے لائی گئی اس نے چائے پی خادم جب استکان لیکرواپس ہواتودروازے پرکھڑے ان دوشخصیتوں نے (حسدکی بناءپر)خادم سے کہامرزاحبیب کہتے ہیں استکان پاک کرلواس میں ایک کافرنے چائے پی ہے یہ خبرتیزی کے ساتھ پھیل گئی اوراسی درمیان تین دن کے بعدمرزاحبیب کاانتقال ہوگیااورکسی کوان سے حقیقت حال پوچھنے کاموقع نہیں ملا۔البتہ یہ بات ثابت ہے کہ ان دونوں حاسدوں نے شیخ ہادی سے حسدکی بناء پریہ بات اپنی طرف سے کہی تھی لیکن شیخ کی تکفیرعوام کی زبانوں پرباقی رہ گئی ہاں ایک صحن مطہرحضرت امیرالمومنین علیہ السلام میں ایک مجلس تشکیل دی گئی جس میں نجف کےبزرگ علماء حاضرہوئے مشہورخطیب منبرپرگیااورشیخ ہادی کےفضائل ومحامدبیان کئےاوران پرلگائی گئی تہمت کاازالہ کرنے کے بعدایک ظرف میں شیخ کوتھوڑاساپانی پلایاجس سے نجف کے ان بزرگ علماء نے باری باری پیاتاکہ لوگوں پرشیخ کاایمان اوران کی طہارت ثابت ہوجائے لیکن عوام اسے کافرہی گردانتے رہے اوروہ دونوں حاسدوظالم جنھوں نےشیخ ہادی سے حسدکیاتھازندگی کے منحوس ایام بسرکرنے کے بعدفقروفلاکت میں اس دنیاسےگئے اورجہنم ان کاٹھکانابنا۔

استادعلام کے چندکرامات

خداوندعالم قرآن مجیدمیں ارشادفرماتاہے۔"( وجعلنی من المکرمین ) "(یٰسین:۲۷)رسول خداؐ نے فرمایامجھے بزرگ لوگوں میں شامل کرلیاہے ۔

بےشک اولیاء خدااوراس کےصالح ومقرب بندوں میں ایسی کرامتیں پائی جاتی ہیں جوان کی زندگی میں بھی اورموت کے بعدبھی ظاہرہوتی ہیں خداکی سرزمین پریہ ایک سنت الہیہ رہی ہے تاکہ اولیاء خداایسے چمکے ہوئے ستارے بن جائیں جن کے ذریعے لوگ دنیاکے اندھیروں اورتاریکیوں میں ہدایت پائیں وہی خیروسعادت اوراحسان کی طرف راہنمائی کرتاہے اوروہی راہ انبیاء اوران کی رسالت کی حفاظت کرتاہے۔

بےشک علماء انبیاء علیہم السلام کے علوم وفنون اورفضائل کمالات کے وارث نیزروئے زمین پران کےامین ہیں ۔اورجب کہ شہیدانسانی معاشرے کے عقائدواعمال کاشاہدہوتاہے جن کی حفاظت کیلئے وہ جام شہادت نوشکرتاہے اورجب کہ شہداء کاخون انسانی معاشرے کی حیات کےدوام کاسبب بنتاہے اورجبکہ شہیدامت کیلئے شمع اوراس کادھڑکتا ہوادل ہے توعلماء کےقلم کی روشنائی شہداء کے خون سے بھی افضل ہے اوریہ خداوندقادروعلیم کی سنت ہے کہ اس نے پیغمبراسلام کے امین ان علماء کی ذات میں بھی کرامت وفضلیت اورامانت ووثاقت جیسے کمالات کوجلوہ گرکیاہے جن کے ذریعہ ہدایت کےخواہاں ہدایت پاتے ہیں۔

انھیں صالح اورمکرم علماء میں سے استاذعلام بھی تھے انھوں اپنی بعض کرامتیں "امابنعمۃ ربک فحدث"کے عنوان سے مجھ سے بیان کی ہیں اوربندے پرخداکے خاص لطف وکرم کامجھ سے تذکرہ کیاہے جب بندہ اہنے خداکی طرف حقیقی طورپرمتوجہ ہوجاتاہے اپنی نیت اوراپنے عمل کوخالص کرلیتاہے توخدااس کے اوپرکس طرح لطف واحسان فرماتاہے۔

میں نے ان کی بعض کرامتیں ان کی حیات میں ہی لکھ کرانھیں سنادی تھیں یہاں ہم اشارے کے طورپر ان کی کچھ کرامتوں کاذکرکرتے ہیں۔

پہلی کرامت

دست غیب

استادعلام نے مجھ سے بیان کیاہے کہ رضاخان علیہ اللعنہ والعذاب نے اپنے زمانے میں استعماری آقاؤں کے حکم سے ایران کے شہروں میں آزادی نسواں کے عنوان سے فحشاء وفسادرائج کرنے کیلئے عریانیت اوربے پردگی کاحکم دے دیاتھاجس کی بناپرامت اسلامیہ کاوقاراوراس کی اخلاقی قدریں متزلزل ہوگئیں تھیں اورمومن معاشرہ میں ان کے غلبہ اوررعب ووحشت کی بناپر دین کی روح مردہ ہوتی جارہی تھی۔

اس تاریک زمانے میں قم کاشہرکوتوال بدمعاشوں کاسرغنہ تھاوہ لمباچوڑالحیم اورشحیم تھامیں نے ایک دن حرم سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہامیں نمازجماعت کے بعدعورتوں کی گریہ وزاری اورچیخ پکارکی آوازیں سنی استفسارکرنے کے بعدمعلوم ہواکہ شہرکوتوال عورتوں کےمجمع میں ان کی چادریں چھینے کیلئے گیاہے میں تیزی سے اس کی طرف گیااوردیکھاکہ وہ عورتوں کے سروں سے چادریں چھین رہاہے اورسب خوف وہراس سے گریہ وزاری کررہی ہیں میں غصے سے سرخ ہوگیااورغیرارادی طورپراس کےمنھ پرایک زبردست طمانچہ رسیداوربولابدبخت خداتجھ سے سمجھےتوحرم حضرت معصومہ ؑ میں یہ جسارت کررہاہے اس نے مجھے غضبناک نگاہوں سے دیکھااورکہااے سیدمیں تیرے لئے کافی ہوں میں سمجھ گیااس نے میرے قتل کااردہ کرلیاہے خداکے لطف وکرم سے دوسرے ہی دن یہ خبرنشرہوئی کہ وہ بازارمیں گیااس پرایک چھت گرپڑی وہ اسی وقت مرگیااورواصل جہنم ہوامیں نے اپنے اس اقدام میں خداوندکریم کالطف وکرم حضرت معصومہ ؑکی عنایت اورخداکاغیبی ہاتھ دیکھاجب کہ میں خودضعیف الجثہ تھااوراس لمبے چوڑے شخص سے مقابلہ کی قوت نہیں رکھتاتھالیکن مجھے نہیں معلوم کہ کیسے یہ زبردست طمانچہ میں نے اس کے چہرے پہ ماراجس سے اس کی آنکھیں حلقہ چشم سے باہرآگئیں۔

اورخبرپھیل گئی کہ شہرکوتوال سید(آیۃ اللہ مرعشی)کی کرامت سے ہلاک ہوگیا۔

دوسری کرامت

"ایک سچاخواب"

استادعلام نے مجھےسے بیان کیاکہ انھوں نے عالم شباب میں جبکہ ابھی ان کی عمرکل تیس(۳۰)سال تھی ایک خواب دیکھاکہ قیامت آگئی ہے اورخوفناک اندازمیں صورپھونکاجاچکاہے جیساکہ اس کے بارے میں احادیث شریف اورقرآن مجیدمیں واردہواہے انگلیاں زردہوگئیں ہیں دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کودودھ پلانابھول گئیں ہیں چہرے غبارآلودہوگئے ہیں اورلوگ جوق درجوق حیرت وپریشانی میں کھڑے ہیں جیسے ان کےسروں پرپرندے بیٹھے ہوں۔

مجھے حساب وکتاب کیلئے ایک مقام پرلیجایاگیایہ جگہ اس سے الگ تھی جہاں تمام لوگوں کاحساب وکتاب لیاجارہاتھامجھے بتایاگیایہ اہل علم کی تعظیم وتکریم ہے کہ ان کاحساب لوگوں کےسامنے نہیں لیاجاتامیں ایک خیمے میں داخل ہواوہاں میں نے رسول خداﷺ کوحساب وکتاب کرتے ہوئے دیکھاجومنبرپرتشریف فرماتھے اوران کے داہنے بائیں دوشیخ بیٹھے ہوئے تھےجن کے چہرے سے صالحین کی ہیبت اوراہل تقویٰ کی جلالت ظاہرہورہی تھی ان دونوں بزرگوں کے سامنے کتابیں رکھی ہوئی تھیں لیکن ایک کی کتابیں دوسرے کی کتابوں سے زیادہ تھیں اہل علم صف بستہ کھڑے ہوئے تھے لوگوں نے مجھ سے کہاہرصف ایک ایک صدی کے علماء کی صف ہے مجھے چودہویں صف میں کھڑاکیاگیااورمیں اپنے حساب وکتاب کاانتظارکرنے لگامیرادل مضطرب تھامیں نے رسول ؐ کودیکھاکہ آپ حساب وکتاب میں بڑی باریک بینی سے کام لے رہے ہیں جب کوئی عالم حضرت رسول خداﷺ کے حضورشفاعت کامحتاج ہوتاتھاتویہ دونوں شیخ اس کی شفاعت کردیتے تھے میں نے اپنےبغل کھڑے ہوئے شخص سے پوچھایہ دونوں بزگواران کون ہیں میں دل ہی دل میں سوچ رہاتھاکاش میں انھیں پہچانتاہوتاتاکہ اگرمجھے بھی شفاعت کی ضرورت ہوتی تو انھیں ان کے مبارک ناموں سے پکارتااس نے جواب دیایہ شیخ مفید اورعلامہ مجلسی ہیں میں نے پوچھاان دونوں کے سامنے یہ کتابیں کیسی رکھی ہوئی ہیں اس نے جواب دیایہ ان کی تالیفات ہیں اوریہی ذریعہ شفاعت ہیں میں نے علامہ مجلسی کے سامنے زیادہ کتابیں دیکھیں وہ زیادہ شفاعت کرتت نظرآئے اچانک میری آنکھ کھل گئی اورمیں نے اپنے خداکاشکراداکیا۔

تیسری کرامت

ایک سچاخواب جس میں حضرت معصومہؑ قم کی توصیف بیان کی گئی ہے۔

استادعلام نے مجھ سےبیان کیاکہ وہ اپنے والد علام حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ السیدمحمودمرعشی سے سیدۃ النساء عالمین حضرت فاطمۃ زھراء سلام اللہ علیہاکی قبرمطہرکے متعلق بحث کررہے تھے کہ تم پرکریمہ اہلبیت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکااحترام واجب ہے والدعلام نے فرمایامیں نے خیال کیاامام علیہ السلام اس سے حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہاکومرادلے رہے ہیں تو امام علیہ السلام نے میرے اس خیال کودفع کرنے کی غرض سے فرمایامیری مرادحضرت فاطمہ بنت موسیٰ بن جعفرعلیہم السلام ہیں جوسرزمین قم میں مدفون ہیں۔

پھرآپ نے فرمایاجب عالم شباب میں پریشانیوں اورسختیوں میں کھراتھااوراپنی بیٹی کی شادی کرناچاہتاتھااورمیرے پاس مال دنیامیں سے کچھ بھی نہیں تھامیں خداکے علاوہ کسی اورکے سامنے ہاتھ پھیلانامعیوب سمجھتاتھاپس میں کریمہ اہلبیت حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکے حرم میں اس حالت میں گیاکہ میری آنکھوں سے آنسوبہہ رہے تھے اوردل مجروح تھامیں نے معصومہ سلام اللہ علیہاسے مخاطب کرتے ہوئے کہااے میری شہزادی ایسالگتاہے آپ میرے حالات نہیں دیکھ رہی ہیں اورمیری مشکلوں کوحل نہیں کررہی ہیں میں اپنی بیٹی کی شادی کیسے کروں جبکہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اسی غم زدہ کیفیت میں گھرآیااور سوگیااتنے میں خواب دیکھاکہ کوئی دروازہ کھٹکھٹارہاہے جب میں نے دورازہ کھولاتوایک شخص کودیکھاجومجھے کہہ رہاتھاحضرت معصومہ سلام اللہ علیہاآپ کوبلارہی ہیں میں تیزی کے ساتھ ان کی خدمت میں گیاجب صحن مبارک میں داخل ہواتووہاں تین کنیزوں کودیکھاجوطلائی رواق میں جھاڑودے رہی تھیں میں نے ان سے اس کاسبب پوچھاتوانھوں نے جواب دیاابھی حضرت سیدہ معصومہ تشریف لارہی ہیں تھوڑی ہی دیربعدمیں نے حضرت سیدہ معصومہ کودیکھاجو بہت کی نحیف وناتوان تھیں ان کاجسم زرد تھاان کی رفتا حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہاکی رفتار سےمشابہ تھی (جیسے میں نے اس سے پہلے بھی تین دفعہ دیکھا تھا )میں آگے بڑھااوران کے ہاتھوں کوچومنے لگاکیونکہ یہ نسبت میں میری پھوپھی ہوتی ہیں سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہانے فرمایااے شہاب ہم تمھارے امورسے کب غافل ہیں کہ تم ہم سے شکوہ کررہے ہو جس دن سے تم قم آئے ہوہماری حفظ ونگہداشت میں ہومیں سمجھ گیاکہ میں نے شہزادی کی شان میں بے ادبی کی ہے لہذامعذرت طلب کی جب میں خواب سے بیدارہواتوزیارت اورمعذرت طلب کرنے کیلئے حرم شریف آیاجلدہی میری حاجت پوری ہوگئی اورخداوندکریم نے میرے امورکوآسان کردیا۔( ۱ )

اس کےبعد استاد علام نے اہلبیت علیہم السلام کے نزدیک حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی عظمت ومنزلت کے متعلق امام جوادعلیہ السلام کے حوالےسے ایک حدیث بیان فرمائی ،من زارهاعارفابحقهاوجبت له الجنه (جوان کے حق کی معرفت کے ساتھ زیارت کرے بہشت اس پر واجب ہے)

اس کےبعدفرمایاجب میں آشیانہ آل محمدقم مقدسہ میں آیاتھامیرے پاس مال دنیاسے ایک قبااورایک رداکے علاوہ کچھ بھی نہیں تھااورآج جوکچھ بھی میرے پاس موجودہے وہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہاکےجودوکرم کی برکتیں ہیں۔

چوتھی کرامت

جسے میرے والدعلام قدس سرہ نے اپنی کتاب الرافدمیں نقل کیاہے جواستادعلام کی زندگی میں زیورطبع سے آراستہ ہوچکی ہے۔

استادعلام نے مجھ سے ۱۵ شوال المکرم ۱۳۸۹ہجری دوشنبہ کےدن ۹ بجکر۲۰ منٹ پربیان فرمایاتھا۔

۱۳۳۹ ہجری میں جب میں نجف اشرف کے مدرسہ قوام کاایک طالب علم تھااورمجھے یہ بات بھولی نہیں ہے کہ اس وقت میں مولاعبداللہ یزدی کی کتاب حاشیہ پڑھ رہاتھاان دنوں میں ہمیشہ پریشان رہتاتھااوراس پریشانی سے نجات کی مجھے کوئی صورت نظرنہ آتی تھی میری زندگی سخت الجھنوں کاشکارتھی یہاں تک کہ میں نے امیدکےتمام دروازے اپنے اوپربندپائے جس سے میرے دل پرغم والم کاایک ہجوم رہتاتھاپس میں ہمیشہ مایوسیوں کاشکاراورطرح طرح کے خیالات میں کھویارہتاتھااورمیری مستقل یہی کیفیت تھی جبکہ میں گہوارہ علم وادب اورتقویٰ وپرہیزگاری کےمرکزمیں زندگی بسرکررہاتھا۔

۱۔ میں بعض عمامہ پوش حضرات کےاخلاق سے تنگ دل تھاجس کی بناء پرمجھے ان سے اورتمام لوگوں سے سوء ظن پیداہوگیاتھااورخاص پیداہوگیاتھااورخاص اورعام افرادمیں امتیاز پیداکرنے کی صلاحیت ختم ہوگئی تھی یہاں تک کہ میں نے عدول علماء کے پیچھے بھی نمازجماعت پڑھناترک کردیاتھااورکسی کوسچاہی نہیں سمجھتاتھا۔

۲۔ میرے رشتہ داروں میں سے ایک شخص مجھے بڑی شدت سے درس سے روکناچاہتاتھایہاں تک کہ یہ نوبت آگئی کہ وہ میرے استادکےپاس گیااورانھیں میری تعلیم وتدریس سے روک دیاجس کے نتیجے میں مجھے اپنے استاتذہ کی خدمت میں پڑھنے لکھنے کی قدرت نہ رہ گئی اوریہ سلسلہ یوں ہی رہا۔

۳۔ میں خارش کےمرض میں مبتلاء تھااوراچھاہونے کےبعدمجھ پرذہنی طورسے سستی طاری ہوگئی کہ میں ہرچیزبھولنے لگااورہرگزکوئی چیزیادنہ کرپاتاتھا۔

۴۔ میری دونوں آنکھیں انتہائی کمزروہوگئی تھیں جس کی بناپرمیں پڑھنے لکھنے پرقادرنہیں رہ گیاتھا۔

۵۔ میں تیزنہیں لکھ پاتاتھا۔

۶۔انتہائی فقروتنگدستی مجھ پرطاری ہوگئی تھی جس کی بناء پربعض راتوں میں بھوکاہی سوناپڑتاتھامیرے کمرے میں حجۃ الاسلام والمسلمین الحاج مرزاحسن شیرازی اورحجۃ الاسلام مرزاحسین جومرزاشیرازی کےپوتے تھے رہتےتھےیہ لوگ میرے فقروفاقہ سے بے خبرتھے اورکمزوری سے میرے چہرے پرجوزردی طاری ہوگئی تھی اس کے بارے میں پوچھاکرتے تھے لیکن میں ان سے کچھ نہیں کہتاتھا۔

۷۔ میں قلبی طورپردائمی مریض رہنے لگاتھاایک لحظہ بھی مجھے سکون وقرارنہ تھا۔

۸۔بعض معنوی اورروحانی مسائل سے متعلق رفتہ رفتہ میراعقیدہ متزلزل ہوتاجارہاتھا۔

۹۔ میری بات پرکسی کوتوجہ نہیں ہوتی تھی خاص طورسے درس میں ۔

۱۰۔ میری خواہش تھی کہ دنیا اوراسکے تمام علائق خاص طورسے درہم ودینارکی محبت میرے دل سے نکل جائے۔

۱۱۔ مجھے حج بیت اللہ الحرام کی تمناتھی لیکن اس شرط کےساتھ کہ حج کے دوران یامدینہ منورہ میں موت آجائے اوردونوں پاک وپاکیزہ شہروں میں کسی ایک جگہ دفن کیاجاؤں ۔

۱۲۔ میں جب تک زندہ رہوں خداوندعالم مجھے علم وعمل صالح اورتمام نیک اعمال وآثارکی توفیق کرامت فرمائے۔

ان تمام باتوں نے مجھے یہ سوچنے پرآمادہ کردیاکہ میں پروردگار عالم کی بارگاہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام سے توسل اختیاکروں۔

لہذامیں نے عزم سفرکرلیااورمدرسہ سے نکل کر کربلائے معلی کی طرف روانہ ہوگیااس وقت میرے پاس صرف ایک روپیہ تھاجس سے میں نے دو روٹی اورایک کاسہ آب خریدا(اس وقت درسی ایام کے درمیان کازمانہ تھا مجھے یادآتاہے وہ شوال کامہینہ تھا)میں خان حماد کے راستے سے مشہد حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرف روتاہواپاپیادہ رواں دواں تھااس راہ میں مجھے اپنی کمزوری کااحساس تک نہیں ہوا۔

میں کربلامعلی میں داخل ہوااور نہرحسینی میں غسل زیارت بجالانے کے بعد حرم مطہرمیں آیا اورادعیہ ونوافل میں مصروف ہوگیا مغرب کےدعاوزیارت کے بعدمیں حجۃ الاسلام والمسلین مرحوم سیدعبدالحسین (مولف کتاب بغیۃ النبلاء فی تاریخ کربلاء )کے اطاق کی طرف گیایہ میرے والد علام کےدوستوں میں تھے میں نے ان سے درخواست کی کہ مجھے مولاکی ضریح کےپاس رات بھررہنے کی اجازت دیدیجئے جب وہاں بیتوتہ (رات بسرکرنا)ممنوع تھالیکن انھوں نے میرے والدعلام قدس سرہ کی دوستی کاپاس ولحاظ کرتے ہوئے مجھے اپنے سیدوآقاحضرت امام حسین علیہ السلام کی قبرمطہر کے نزدیک بیتوتہ کرنے کی اجازت دیدی میں نے دوبارہ وضوکیااورجب لوگ حرم کے تمام دروازے بندکرنے لگے تومیں حرم میں داخل ہوگیااورضریح کےپاس گیامیں سوچنے لگاکس جگہ بیٹھوں معمول یہ تھاکہ لوگ سراقدس کی طرف بیٹھاکرتے تھے۔لیکن میں سوچ رہاتھاامام روحی لہ الفداء اپنی ظاہری زندگی میں اپنے فرزندحضرت علی اکبر علیہ السلام کی طرف ہمیشہ متوجہ رہتے تھےوہ اپنی ظاہری حیات کےبعدبھی انھیں کی طرف متوجہ ہونگے اسی لئے میں امام کےپائینی حضرت علی اکبرعلیہ السلام کی قبرکےنزدیک بیٹھاابھی مجھے بیٹھے ہوئے ایک لحظہ بھی نہ گزراتھاکہ میں نے قرآن کریم کی تلاوت کی آوازسنی جس نے میرادھیان اپنی طرف متوجہ کرلیاتھایہ صداضریح مقدس کےپیچھے سے آرہی تھی میں نے مڑکےدیکھاتومجھے اپنے پدربزرگوارنظرآئے جوبیٹھے ہوئے قرآن کی تلاوت کررہے تھے ان کےپہلومیں قرآن کی ۱۳رحلیں رکھیں ہوئی تھیں ایک رحل ان کے سامنے بھی تھی جس پہ قرآن رکھاہواتھااوروہ اس کی تلاوت فرمارہے تھے میں آگے بڑھااوران کےہاتھوں کابوسہ لینے کےبعد ان کاحال دریافت کیاانھوں نے مجھے اس بات کی بشارت دی کہ تم انتہائی راحت وسکون میں ہو۔

میں نے اپنے والدعلام سے پوچھاآپ یہاں کیاکررہے ہیں ،انھوں نے جواب دیاہم چودہ آدمی ہیں جوہمیشہ حرم شریف میں قرآن کی تلاوت کرتے ہیں میں نے پوچھااورلوگ کہاں ہیں ۔

انھوں نے جواب دیاوہ اپنی بعض ضروتوں کی وجہ سے حرم سے باہرگئے ہوئے اوریہ رحل جومیرے پہلومیں رکھیں ہوئی ہے علامہ شیخ مرزامحمدتقی شیرازی کی ہے جوعلماء شیعہ اورانقلاب عراق کے رہبروں میں سے تھے اورجورحل اس کے بعدرکھی ہے علامہ شیخ زین العابدین مرندی کی ہے جونجف کے جیدعلماء میں سے تھے اورجورحل اس کےپہلو میں ہے علامہ شیخ زین العابدین مازندرانی (مولف کتاب ذخیرۃ العباد)کی ہے اسی طرح یکے بعددیگرے تمام علماء کرام کانام شمارکیالیکن افسوس مجھے بقیہ حضرات کے نام یاد نہیں ہیں۔

پھرمیرے والدعلام نے مجھ سے پوچھاتم یہاں کیسے آئے ہو جبکہ آج کل درس وتحصیل کازمانہ ہے میں نے انکی خدمت میں امام حسین علیہ السلام سے توسل کرتے ہوئے اپنی تمام حاجتیں جسے اوپربیان کیاہے پیش کردیاانھوں مجھے حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں جانے اوران سے اپنی حاجت بیان کرنے حکم دے دیا۔

میں نےپوچھاامام علیہ السلام کہاں ہیں ؟

انھوں نے اشارے سے کہا وہ ضریح کے اوپرہیں تم جلدی کرو کیونکہ امام علیہ السلام ایک مریض زائر کی عیادت کیلئے جاناچاہتے ہیں ۔

میں اپنی جگہ سے اٹھااورضریح اقدس کےپاس گیا ان کے چہرے پرایسانوربرس رہاتھاجس سے میری آنکھیں بندہوئی جارہی تھیں اورمیں اس نورکےدرمیان بہت ہی مشکلوں سے دیکھ رپارہا تھاابھی وہ ضریح کے اوپرہی تھے کہ میں نے انھیں سلام کیاانھوں نے جواب سلام دیتے ہوئے فرمایا۔

اوپرآجاؤ

میں نے کہامیں اس لائق نہیں ہوں دوبارہ بھی آپ نے یہی فرمایا

میں شرم وحیاء سے خودداری اختیارکی پھرانھوں نے مجھے ضریح کےہی کےپاس رہنے کی اجازت دےدی میں نے آنکھوں کی پوری توانائی کے ساتھ انھیں دیکھاکہ وہ بڑی ملاحت کے ساتھ مسکرارہے ہیں۔

پھرامام نے مجھ سے پوچھا "ماذاترید"تم کیاچاہتے ہو

میں نے فارسی کایہ شعرسنادیا۔

آنجاکہ عیان است ۔۔۔۔ چہ حاجت بہ بیان است

آپ میرے پوشیدہ امورسےواقف ہیں پھرامام علیہ السلام نے مجھے مصری کی ڈلی دیتے ہوئے کہاتم ہمارے مہمان ہواسے اپنے منھ میں رکھ لو۔

اس کے بعدامام علیہ السلام نے مجھ سے پوچھناشروع کیا۔

(اب یہاں سے ترتیب واراستاد علام کی ان خواہشوں کی تکمیل کاذکر ہے جسے پہلے بیان کیاجاچکاہے۔مترجم )

۱۔کس چیزنے تمہیں خداکے بندوں کی طرف سے سوء ظن پرمجبورکیا؟

میں نے اپنے نفس میں تغیر محسوس کیابے شک یہ امام کامجھ ولایتی تصرف تھااس کے بعد مجھے کسی کی طرف سے اپنے دل میں بدظنی کااحساس نہ ہوااورمیں نے یہ بھی محسوس کیاکہ اب ہرخاص وعام سے گھلتاملتاہوں اس حدتک کہ ہرایک سے سلام کرتاہوں مصافحہ ومعانقہ کرتاہوں ۔وہاں میں نے ظاہرالصلاح شخص کودیکھاجس کی امامت میں اذان صبح کے بعد فریضہ سحری اداکیاحالانکہ مجھے گمان تک بھی نہ تھاکہ کبھی ایسے شخص کی امامت میں نماز اداکروں گا۔

۲۔امام علیہ السلام نے مجھ سے کہااپنے درس وتدریس کی طرف متوجہ ہوجاؤ زمانہ کی مشکلات تمہیں ایذانہیں پہنچاسکتی اورتمہارے دروس کونہیں روک سکتیں۔

جب میں نجف اشرف واپس آیاتومیراوہ رشتہ دارجس نے میرے تحصیل علم میں رکاوٹ ڈالی تھی میرے پاس آکرکہنے لگامیں سمجھتاہوں تمہیں فقط پڑھنے ہی سے محبت ہے پڑھولیکن شرط یہ ہیکہ مجھ سے روپیئے وپیسے کاسوال نہ کرنا۔

۳۔ امام علیہ السلام نے فرمایا۔ہم نے خداسے تمہاری شفاء طلب کی ہے میں نے اسی لمحہ محسوس کیاکہ میں کسی مرض میں گرفتار ہی نہ تھا۔اوروہ ذہنی سستی جومجھ پر طاری ہوئی تھی دور ہوگئی اس وقت سے آج تک الحمدللہ میں عجیب وغریب قوت حافظہ کامالک ہوگیاہوں۔

۴۔ امام علیہ السلام نے فرمایا۔ ہم نے پروردگار عالم سے تمہارے لئے آنکھ کی تیزروشنی طلب کرلی ہے۔

اس وقت سے ہرطرح کی تحریرپڑھ لیتاہوں اوریہ نعمت میرے پاس اب بھی ہے جبکہ میں ۹۰ سال کاہوچکاتھا۔

۵۔ امام علیہ السلام نے مجھے قلم عطاکیااورفرمایاتیزی سے لکھو اس وقت سے میراقلم تیز روانی کے ساتھ چلنے لگا۔

۶۔ ا مام علیہ السلام نےفقروفاقہ سے متعلق مجھ سے کچھ فرمایا جوالفاظ مجھے یادنہیں رہ گئے ہیں۔

۷۔ ہم نے خداوندعالم سے تمہارے لئے اطمینان قلب طلب کیاہے پس میں نے اپنے دل میں مکمل آرام محسوس کیا۔

۸۔بعض روحانی اورمعنوی مسائل سے متعلق امام علیہ السلام نے عقیدے کے ثبات واستحکام کی دعافرمائی۔

۹۔ ہم نے خداوندعالم سے اہل علم کے ساتھ خاص طورسے درس وتدریس میں تحمیل طلب کیاہے اورلوگ تمہاری باتیں دل سے سنیں گے۔

۱۰۔ امام علیہ السلام نے دنیااوردرہم کی محبت میرے دل سے نکل جانے کیلئے دعافرمائی۔

۱۱۔ اس سوال کے جواب میں امام علیہ السلام خاموش رہے(مترجم)

۱۲۔ ہم نے خداوندعالم سے تمہارے دینی خدمات میں موفق اوراعمال قبول ہونے کی دعافرمائی۔

خلاصہ

حضرت امام علیہ السلام نےحج کے علاوہ میرے تمام سوالوں کاجواب دیاوہ اس کی طرف متعرض نہ ہوئے اورمیں نے بھی امام سے اس کاسوال نہیں کیا مجھے تھاکہ میرے حج کے بارے میں امام کاجواب نہ دینااس شرط کی بناپرتھاجو میں نے اس کے لئے لگارکھی تھی۔

میں نے امام علیہ السلام سے وداع لی اوراپنے والد قدس سرہ کے پاس آکر پوچھاآپ مجھ سے کچھ کہناچاہتے ہیں۔

انھوں نے کہااپنے آباؤ اجداد کے علوم حاصل کرنے میں محنت کرو اوراپنے بھائی بہنوں کے ساتھ محبت ومہربانی سے پیش آؤ۔

میں نے دوبارہ پوچھاکیاآپ کامجھ سے کوئی خاص کام نہیں ہےجسے میں انجام دوں ۔انھوں نے مجھے فرمایامیں انتہائی راحت وآرام سے ہوں مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے صرف ایک چیز مجھے کھٹک رہی ہے اوروہ یہ کہ عبدالرضابقال بہبہانی کامختصر ساقرض میرےاوپر رہ گیاہے میں ان سے رخصت ہوااسی دوران حرم شریف کے دروازے کھلنے لگے یہ اذان صبح کاوقت تھامیں نے تجدیدوضوکےبعداسی شخص کی امامت میں نمازاداکی جس کاذکرپہلے کرچکاہوں اورمجھے اس کایقین ہوگیامیری تمام ضروتیں اورحاجتیں پوری ہوگئی ہیں۔

اس کےبعد میں نجف اشرف کی طرف پاپیادہ روانہ ہوا اوراس شہرمقدس کے مدرسہ قوام میں پہنچ گیا میں نے طلباء کودیکھ کر انھیں سلام کیا گویاوہ لوگ اس سے پہلے بھی میرے بھائی تھے(یہ کیفیت ان سے سوء ظن کے بعدکی ہے)میں بطریق احسن ان سے معانقہ ومصافحہ کرتاتھااورہمیشہ نمازجماعت میں شریک ہوتاتھا۔

ایک دن عبدالرضاکے پاس اپنے والد علام قدس سرہ کاقرض معلوم کرنے گیااس نام کے تین افراد پائے جاتے تھے میں سب کے پاس گیا تومعلوم ہواکہ تیسرے آدمی کا قرض میرے والد کے اوپر ہے میں نے اس اپنے والد کے قرض کے سلسلے میں پوچھاتواس نے کہایہ حساب وکتاب کے دفتر ہیں ان میں دیکھ لووہ مرتب تھے میں نے اس میں صفحہ صفحہ دیکھایہاں تک کہ اپنے والد کانام نظرآیاجس میں ایک روز کے دودھ کی قیمت بطورقرض درج تھی میں نے اس میں اوراضافہ کرکے قرض دیاتاکہ عبدالرضا بقال بہبہانی راضی ہوجائے ۔

استادعلام پر حضرت امام حسین علیہ السلام کی یہ کرامت تھی جس کی بدولت وہ عصر حاضر میں ایک بے مثال شخصیت بن کرابھرے۔

پانچواں کرامت

استادعلام کی حضرت امام زمان علیہ السلام سےملاقات کی تین حکایتیں ہیں جسے انھوں نے خودقلم بندفرمایاتھا۔

پہلاواقعہ

نجف اشرف میں علوم دین کی تحصیل اورفقہ اہل بیت کی تعلیم کےزمانے میں مجھے حضرت بقیۃ اللہ الاعظم امام زمانہ (عج )کی زیارت کابےحداشتیاق تھااسی غرض سےمیں نے ہرشب چہارشنبہ پاپیادہ مسجدسہلہ میں ۴۰ مرتبہ جانے کاعہدکرلیاتھاکہ امام علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہوسکوں ۔میں نے اپنے اس عمل کو۳۵ یا۳۶ شب چہارشنبہ تک جاری رکھا۔

ایک مرتبہ اتفاق سے مجھے نجف اشرف سے نکلے میں تاخیر ہوگئی ہواابرآلودگی تھی اوربارش بھی ہورہی تھی مسجدسہلہ کےقریب ایک خندق تھی جب میں اندھیری رات میں رہزنوں اورڈاکوں سے خوف زدہ وہاں تک پہنچاتومیں نے اپنے پس پشت سے قدموں کی آہٹ محسوس کی جس نے میرے وحشت میں اوراضافہ کردیامیں نے اپنے پیچھے مڑکردیکھاتوایک سیدعربی بادیہ نشینوں کے لباس میں نظرآیاوہ مجھ سے قریب ہوااورمیرے نزدیک آکر فصیح زبان میں بولایاسیدسلام علیکم میں نے اپنے آپ میں خوف ووحشت کااحساس ختم ہوتے پایااورمجھے سکون اطمینان حاصل ہوگیالیکن مجھے اس بات پرتعجب ہواکہ کیسے اس نے اندھیری رات میں مجھے پہچان لیااورمیں اس سے بے خبرہی رہا۔

بہرحال ہم دونوں گفتگوکرتے ہوئے چلتے رہے اس نے مجھ سے پوچھا آپ کہاں جاناچاہتے ہیں۔

میں نے جواب دیامسجدسہلہ

اس نے پوچھاکس ارادے سے

میں نے جواب دیاحضرت بقیۃ اللہ الاعظم کی زیارت کے قصد سےتھوڑی ہی دیربعد ہم مسجدیزن بن صومان کے پاس پہنچے جومسجدسہلہ سےقریب ایک چھوٹی مسجد ہے سید عربی نے کہااچھاہوتااگرہم اس مسجد میں نمازاداکرتے ہم مسجد میں داخل ہوئے اورنماز اداکی نمازکےبعد سیدعربی نے دعائیں پڑھیں مجھے ایسامحسوس ہوا جیسے مسجد کے دردیواراس کے ساتھ دعائیں پڑھ رہے تھے اس کےبعدہی میں نے اپنے آپ میں ایک عجیب انقلاب محسوس کیاجسے بیان نہیں کرسکتادعائیں پڑھنے کےبعدسیدعربی نے مجھ سے کہا اے سید تم بھوکے ہوکیا اچھاہوتا تم ہمارے ساتھ کھاناکھاتے اس نے اپنی عباکے نیچے سے ایک دسترخوان نکالاجس میں تین روٹیاں اوردویاتین تروتازہ خیاررکھے ہوئے تھے جیسے اسے ابھی ابھی باغ سے توڑاگیاہواگرچہ یہ سردی کازمانہ تھالیکن میرادھیان اس بات کی طرف متوجہ نہیں ہوا کہ یہ تروتازہ خیار اس موسم میں کہاں سےآئے پھرمیں نے سیدکےحکم سے کھاناکھایا اس کے بعد سید عربی نے کہا اٹھواورمسجد سہلہ چلیں ہم مسجد میں داخل ہوئے سیدعربی ان اعمال کےبجالانے میں مصروف ہوگیاجواس مسجدسے متعلق روایات میں واردہوئے ہیںمیں انکی اتباع کرتارہاانھوں نے مغرب وعشاء کی نماز پڑھی میں نے بھی بےاختیاران کی اقتداء کی اوراس طرف متوجہ نہیں ہواکہ یہ کون ہے اعمال سے فارغ ہونے کے بعد سیدعربی نے مجھ سے فرمایاکیا تم بھی دوسرے افرادکی طرح اعمال اداکرنے کےبعد مسجدکوفہ جاؤگے یامسجدسہلہ ہی میں ٹھہروگے میں نے کہامسجدسہلہ ہی میں رات بسرکروں گاپھرہم مسجدکے وسط جہاں حضرت امام صادقؑ کامقام ہے بیٹھے میں نے سیدعربی سے کہا

اگرتمہیں چائے قہوہ یادخانیات کی حاجت ہوتواسے فراہم کروں اس نے ایک جامع کلمہ میں جواب دیا"ھذہ الامورمن فضول المعاش ونحن نجتنب عن فضول المعاش"یہ امورفضولیات میں سے ہیں اورہم فضولیات سے پرہیزکرتے ہیں۔

یہ کلمات میرے وجودکی گہرائی میں اترگئے اورجب بھی میں چائے پیتاہوں یہ کلمات یادآجاتے ہیں جس سے میرے شانے لرزنے لگتے ہیں ۔

بہرکیف یہ نشست تقریبادوگھنٹے تک جاری رہی اس دوران کچھ موضوعات پربحث ہوئی جن میں ہم بعض موضوعات کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔

۱۔ استخارہ کے سلسلے میں گفتگو ہوئی تو سیدعربی نے کہاتسبیح سے کس طرح استخارہ کرتے ہومیں نے کہاپہلے تین مرتبہ دروداس کےبعد تین مرتبہ۔ استخیراللہ برحمتہ خیرۃ فی عافیۃ۔پڑھتے ہیں پھرتسبیح کے دانوں کودودو کرکے شمارکرتے ہیں اگرآخرمیں دوباقی رہے توبداورایک باقی رہے تونیک ہے سیدعربی نے کہااس استخارے کاایک تتمہ بھی ہے جوتمہیں نہیں معلام ہے اوروہ یہ ہے کہ جب ایک باقی رہے توفوراً استخارہ کے نیک ہونے کاحکم مت دو بلکہ تھوڑی دیرٹھہرواوردوبارہ ترک عمل پراستخارہ کرواگرآخر میں دوباقی رہے توپہلااستخارہ نیک اورایک باقی رہے توپہلااستخارہ میانہ ہے۔

میں نے اپنے دل میں کہاعلمی علمی قواعدکے مطابق اس سے دلیل مانگناچاہیے انھوں نے جواب دیاہم نے بلندمقام سے تعلق اختیارکیاہے مجھے اسی قول سے اطمینان ہوگیااس کے باوجودمیں اب تک متوجہ نہیں ہواکہ یہ سیدکون ہے۔

۲۔ دوسری گفتگوجوہمارے درمیان اس نشست میں ہوئی وہ یہ کہ سیدعربی نے نمازیومیہ کے بعدکچھ مخصوص سورے پڑھنے کی تاکید کی اورکہانمازصبح کے بعدسورہ یاسین نمازظہرین کے بعدسورہ عم نمازعصر کےبعدسورہ نوح نمازمغرب کے بعدسورہ واقعہ اورنمازعشاء کےبعدسورہ ملک پڑھاکرو۔

۳۔ انھوں نے نمازمغربین کی پہلی دورکعتوں کےبارےمیں فرمایاکہ پہلی رکعت میں سورہ حمدکےبعدجوسورہ چاہوپڑھولیکن دوسری رکعت میں سورہ حمدکے بعدسورہ واقعہ پڑھاکرو۔

انھوں نے فرمایامگرب کی دوسری رکعت ہی میں سورہ واقعہ کی تلاوت تمہارے لئے مغرب کےبعدتلاوت کرنے سے کافی ہے۔

۴۔ انھوں نے نمازیومیہ کےبعدیہ دعاپڑھنے کی تاکیدکی۔"اللهم سرحنی من الهموم والغموم ووحشة الصدرووسوسة الشیطان برحمتک یاارحم الراحمین"

۵۔نمازیومیہ میں آخری رکعت کے ذکررکوع کےبعد اس دعاکی تاکیدکی۔ "اللهم صل علیٰ محمدوآل محمدوترحم علی عجزناواغثنابحقهم "

۶۔ انھوں نے محقق حلی کی شرائع الاسلام کی تعریف کی اورکہا چندمسائل کے علاوہ اس کے تمام مسائل واقع کے مطابق ہیں۔

۷۔ انھوں نے قرآن پڑھنے کی تاکیداورکہااس کاثواب ان شیعوں کوبخش دوجن کاکوئی وارث نہ ہو یاوارث توہوں لیکن وہ اپنے مردوں کویادنہ کرتے ہوں۔

۸۔ نمازیومیہ میں تحت الحنک باندھنے کی تاکید کی جیساعلماء عرب انجام دیتے ہیں۔ پھرانھوں نے تحت الحنک کوگلے کے نیچے سے نکال کراس کاسرعمامہ میں رکھااورکہاکہ اسی طریقے سے شرع مقدس میں واردہواہے۔

۹۔ انھوں نے مجھے زیارت حضرت ابوعبداللہ الحسین علیہ السلام کی تاکیدکی۔

۱۰۔ انھوں نے میرے حق میں ان الفاظ کے ذریعے دعاکی ۔"جعلک اللہ من خدمۃ الشرح "خداوندعالم تمہیں دین کے خدمت گزاروں میں قراردے۔

۱۱۔ میں نے ان سے کہامجھے نہیں معلوم کیامیری عاقبت بخیرہے کیامیں رسول خداؐ کے نزدیک سرخروہوں۔

انھوں نے جواب دیا تمہاری عاقبت بخیرہے اورکوششیں لائق شکریہ ہیں تم رسول خداؐ کے نزدیک سرخروہو۔

میں نے کہا۔میں نہیں جانتاکیامیرے والدین اساتذہ اورصاحبان حقوق مجھ سے راضی ہیں۔

انھوں نے جواب دیاسب تم سے راضی ہیں اورتمہارے لئے دعائیں کرتے ہیں میں کہاآپ میرے حق میں دعاکیجئے کہ تصنیف وتالیف کے سلسلے میں موفق ہوسکوں۔

انھوں نے میرے حق میں دعافرمائی اس کے علاوہ اوربھی دوسرے موضوعات پرگفتگوہوئی جس کی تفصیل کی گنجائش نہیں اسی دوران میں نے ایک ضرورت سے مسجدسے خارج ہونے کاارادہ کیااوراس حوض کے پاس آیاجومسجدکے اندردرمیان راہ واقع تھامیرے ذھہن میں اس رات کے واقعات آئے اوراس باعظمت سیدکابھی خیال آیاہو نہ ہو وہی میرامقصود ہوں جیسے ہی میرے دل میں یہ خیال آیامیں بے چینی کے ساتھ واپس ہوالیکن وہاں اس جلیل القدرسید(امام زمانہ عج)کانشان تک نہ پایااورکوئی دوسراشخص بھی مسجدمیں نہیں تھا۔

مجھے یقین ہوگیاجس کی مجھے تلاش تھی وہ حاصل ہوگیااورمیں غفلت کاشکارہی رہامیں اپنی غفلت پرپھوٹ پھوٹ کررویااوردیوانوں کی طرح صبح تک مسجدکے اطراف میں اس عاشق مجنون کے مانندپھرتارہاجووصال کے بعددوبارہ ہجرمیں مبتلاہوگیا۔

دوسراواقعہ

جب میں حضرت امام حسن العسکری ؑ اورحضرت امام علی نقی ؑ کی زیارت کے لئے جارہاتھاحرم سیدمحمد( ۲ ) کے راستے میں بھٹک گیا مجھ پربھوک وپیاس شدیدغلبہ طاری تھااورتیزگرم ہوائیں بھی چل رہی تھیں میں اپنی زندگی سے مایوس ہوگیااورغش کھاکرزمین پرگرگیا جب میری آنکھ کھلی تواپناسرایک جلیل القدرشخص کی گودمیں پایااس نے شریں پانی پلایاجس کی ٹھندک اورحلاوت کامزہ مجھے پوری عمرمیں نصیب نہیں ہواتھاپانی پلانے کے بعد اس نے دسترخوان کھولاجس میں دویاتین روٹیاں تھی میں نے اس سےکھایااس کےاس عرب نےکہا اے سیداس نہرمیں غسل کرلو میں نے کہااے بھائی یہاں توکوئی نہرنہیں ہے میں پیاس سے ہلاک ہورہاتھاتونے ہی مجھے نجات دی ہے اس جلیل القدرنے کہا یہ شیریں پانی ہے ابھی اس نے یہ کہاتھا کہ میں نے ایک صفاف وشفاف نہردیکھی اورحیرت کی حالت میں اپنے آپ سے کہنے لگانہرتومیرے پاس ہی تھی اورمیں ہلاک ہورہاتھا۔

بہرکیف اس عرب نے پوچھااے سیدکہاں جارہے ہو

میں نے جواب دیاحرم سیدمحمد یہی سامنے حرم سیدمحمدہے میں نے خودکوحرم سیدمحمدکے قبے کےسائے میں پایاجبکہ میں قادسیہ میں گم ہواتھااوروہاں سے حرم سیدکی مسافت بہت ہے جب تک مین ان کی خدمت میں رہا انھوں نے مجھے چندباتوں کی تاکید کی ۔

۱۔ قرآن شریف کی زیادہ سےزیادہ تلاوت کرو۔

۲۔ جوتحریف قرآن کے قائل ہیں ان کاشدت سے انکار کرو۔حتیٰ جس نے تحریف کی حدیثیں گڑھی ہیں اس کیلئے بددعاکی۔

۳۔ میت کی زبان کے نیچے عقیق کی انگوٹھی رکھو جس پر چہاردہ معصومین ؑ کے اسماء کندہ ہوں۔

۴۔ والدین کے ساتھ نیکی کروخواہ زندہ ہوں یامرگئے ہوں۔

۵۔ ائمہ معصومین ؑ ان کی اولاد کے مقبروں کی زیارت اوران کی تعظیم کرو۔

۶۔سادات کرام کااحترام کرو۔

اس کے بعدفرمایااے سید اہل بیت ؑ سے اپنی نسبت کی قدرومنزلت کوپہچانواوراس نعمت کاشکریہ اداکرو جوتمہارے لئے بڑی سعادت اورافتخار کاباعث ہے۔

۷۔ تلاوت قرآن اورنمازشب کی تاکید کرتے ہوئے فرمایااے سیدہمیں اہل علم پرافسوس ہے جوہماری طرف اپنی نسبت دیتے ہیں اوران اعمال کوانجام نہیں دیتے۔

۸۔ تسبیح فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہاپڑھنے کی تاکیدکی۔

۹۔نزدیک وبعیدسے حضرت سیدالشہداء علیہ السلام اولاد ائمہ اورعلماء صالحین کی زیارت کی تاکید کی۔

۱۰۔مسجدنبویہ میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکے دئیے ہوئے خطبے کے حفظ کی تاکید کی۔

۱۱۔حضرت علی علیہ السلام کے خطبہ شقشقیہ کے حفظ کی تاکیدکی۔

۱۲۔ثانی زہراء حضرت زینب سلام اللہ علیہاکےمجلس یزیدمیں دئیے ہوئے خطبہ کے یادکرنے پرتاکیدکی۔

اس علاوہ اوربھی دوسرے فوائد پرگفتگوہوئی ابھی میرے دل میں یہ خیال بھی نہ آیاتھاکہ یہ عرب کون ہے وہ نگاہوں سے غائب ہوگئے۔

تیسرا واقعہ

اپنے سامرہ کے قیام کے دوران میں نے سردی کے موسم میں ایک رات اس مقدس سرداب میں بسر کی جہاں سے امام زمانہ (عج)غائب ہوئے تھے شب کے پچھلے پہرمیں نے اچانک قدموں کی آہٹ محسوس کی جبکہ سرداب کادروازہ بندتھا میں بے چین ہواکہ کہیں دشمنا ن اہل بیت ؑ میں سے کوئی قتل کے ارادے سے آیاہومیرے قریب جوشمع جل رہی تھی بجھ گئی دفعتاً ایک دلکش آواز نے میرانام لیکرمجھے سلام کیامیں نے جواب سلام دیتے ہوئے پوچھاآپ کون ہیں ؟

انھوں نے جواب دیاآپ کے چچازادبھائیوں میں سے ہوں

میں نے کہاسرداب کے دروازے توبندتھے آپ یہاں تک کیسے آئے

انھوں نے جواب دیاخداوندعالم ہرشی پرقدرت رکھتاہے

میں نے کہاآپ کہاں کے باشندے ہیں

انھوں نے جواب دیاحجازکارہنے والاہوں

اس کے بعدسیدحجازی نے پوچھاتم اس وقت کس مقصدکے تحت یہاں آئے ہو

میں نے جواب دیااپنی ضروتوں کے تحت

سیدحجازی نے کہاتمہاری ضرورتیں یقیناً برآئیں گے پھرانھوں نے مجھے نمازجماعت ،صلہ رحم ،اساتذہ ومعلمین کے حقوق کی رعایت ،فقہ وتفسیروحدیث کے مطالعے نیزنہج البلاغہ اورصحیفہ سجادیہ کی دعاؤں کے یاد کرنے کی تاکیدکی۔

میں نے ان سے درخواست کی کہ بارگاہ ایزدی میں آپ میرے لئے دعافرمادیں انھوں نےاپنے ہاتھوں کوآسمان کی طرف بلندکیااوران الفاظ کے ذریعہ میرے حق میں دعافرمائی۔"الهی بحق النبی وآله وفق هذاالسیدلخدمة الشرع واذقه حلاوة مناجاتک واجعل حبه فی قلوب الناس واحفظه من شروکیدالشیاطین سیماالحسد " بارالہی محمدآل محمدکے صدقے میں اس سید کوخدمت شرع متین کی توفیق دے اپنی مناجات کی شیرینی کاذائقہ اسے چکھادے لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت جاگزین کردے اورشیاطین کے مکروفریب خصوصاًحسد سے اس کی حفاظت فرما۔

یہاں تک کہ اس سید حجازی سے باتیں ہونے لگیں گفتگوکے دوران سیدحجازی نے مجھ سے فرمایامیرے پاس تربت سیدالشہداء کی خالص خاک ہے جس میں کسی خاک کی آمیزش نہیں ہے انھوں نے چندمثقال خاک شفاء مجھے عنایت کی جومیرے پاس ہمیشہ تھی جس طرح پہلے مجھے عقیق کی انگوٹھی بھی دے چکے تھے اوروہ بھی میرے ساتھ تھی میں نے اس خاک شفاء کے عظیم اورحیرت انگیزآثارکامشاہدہ کیااوروہ سید حجازی میری نظروں سے غائب ہوگئے۔

قابل ذکرہے استاد علام نے یہ تینوں واقعات فارسی زبان میں دورسالوں میں تحریرکرکے اسے استادحسین عمادزادہ کے پاس بھیج دیاتاکہ وہ اسے اپنی کتاب المنتقم الحقیقی کے ساتھ شائع کردیں جس میں غاصبین حقوق آل محمدؐ کے حقیقی منتقم حضرت صاحب امر(عج)کےبارے میں بحث کی گئی ہے۔

استادعلام نے بیان ہے کہ سیدجلیل صاحبان علم میں سے ہیں اورخانوادہ رسالت کےایک فرد ہیں۔جن کے زہدوورع صدق بیانی اورراست گفتاری پرقطع ویقین حاصل ہے جب میں نجف اشرف میں دینی علوم کی تحصیل اورفقہ اہل بیت ؑ کی تعلیم میں منہمک تھاسیدجلیل نے یہ تینوں واقعات ابتداء سے انتہاتک نقل کیا ۔میں (مولف)نے یہ تینوں واقعات خوداستادعلام سے دریافت کئے تاکہ مجھے ان کے صاحب تشرف ہونے کایقین ہوجائے۔

آپ کے عروج ملکوتی سے چندمہینہ پہلے اصفہان کے ایک عالم فاضل نے مجھے اپ کے صاحب تشرف ہونے کی خبر دی لہذاجب آپ حرم معصومہ سلام اللہ علیہاکے صحن اقدس میں جانماز پرتشریف فرماتھے میں آپ کے پاس مزیدتاکید اوریقین کامل کیلئے آیا اورآپ سے ان تینوں واقعات میں صاحب تشرف ہونے کے بارے میں سوال کیاجسے منتقم حقیقی نامی کتاب میں بیان کیاگیاہے۔

استاد علام نے فرمایایہ واقعات نوجوانوں سے بیان نہ کرناوہ اس کاتحمل نہیں کرسکتے۔،میں نے کہا۔اے میرے سید وسردارمیں اسے اپنے خاص بھائیوں اورشاگردوں سے بیان کروں گاآپ خاموش رہے جس سے میں نے کشف کیاکہ آپ کی خاموشی رضایت کی آئینہ بردارہے جیساکہ آپ کومعلوم ہواکہ استاد علام نے اپنے بعض خاص افرادسے فرمایاتھایہ واقعات میری موت کے بعد ہی بیان کئے جائیں۔

ان واقعات کااسنادسیدجلیل کی طرف دیاگیاہے کیونکہ کتاب منتقم حقیقی سنہ ۱۳۷۴ہجری میں شائع ہوئی تھی اورآج سنہ ۱۴۱۱ ہجری ہے اس حساب سے یہ واقعات ۳۷ سال پہلے تحریرکئے گئے ہیں اس وقت استاد علام ۵۹ سال کےتھے۔اوریہی آپ کی زعامت ومرجعیت نیز آپ کے دشمنوں اورحاسدوں کی ارتقاء کاابتدائی زمانہ تھااوردشمنوں کے خوف سے آپ پران واقعات کااپنی طرف نسبت دیتے ہوئے بیان کرنابہت دشواراورسخت تھا۔

اس کے علاوہ اوربھی دوسرے قرائن ہیں جوآپ کے صاحب تشرف ہونے پرصراحتاً دلالت کرتے ہیں جیسےکہ آپ نے اپنی وصیت میں فرمایاہے میرے سینے پر ضریح حسین کی خاک رکھی جائے جس سے میراکفن محفوظ رہے اورمیں مصروف عزارہاہوں۔اسی طرح میرے دہن میں دوعقیق کی انگشتری رکھی جائے ایک پراصحاب کساء کے مقدس اسماء اوردوسرے پرچہاردہ معصومین ؑ کے مبارک نام کندہ ہوں ۔آپ کوحضرت بقیۃ اللہ الاعظم نے ایک انگشتری اورخالص خاک شفاعنایت فرمائی تھی جس کاذکرپہلے ہوچکاہے۔

اسی طرح اپنی پہلے وصیت میں فرماتے ہیں ۔ میں اسے تہذیب نفس اورمجاہدات شرعیہ کی وصیت کرتاہوں کیونکہ جوکچھ بھی مجھے حاصل ہواہے اسی کے ذریعہ حاصل ہواہے اوررب کریم نے مجھے وہ کچھ عطاکیاہے جسے کان سننے سے عاجز اورزمانے کی آنکھیں دیکھنے سے قاصرہیں پرودگار کی اس عظیم عطااوربے پایاں فضل پراس کاشکرگزارہوں۔

اے میرے فرزندمیں نے اس کے بعض اسرار ورموزاپنی مخصوص کتاب سلوۃ الحزین میں بیان کردئیے ہیں ۔

ہم اللہ سے دست بہ دعاہیں کہ وہ استادعلام کی اولاد شاگردوں کوآپ عظیم مولفات اورخاص طورسے اس کتاب کے نشرکی توفیق دے جس کاذکر آپ نے اپنی وصیت میں کیاہے۔

____________________

(۱) ۔ یہ واقعہ استادعلام نے مجھ سے بیان فرمایاہے اوراس سے پہلے میرے والدبھی کچھ اضافہ کےساتھ بیان فرماچکےتھے کہ وہ حرم معصومہ سلام اللہ علیہا انکا شکراداکرنے اوران سےمعذرت طلب کرنے کیلئے داخل ہوئے تورواق سے باہرنکلنے کے بعدایک شخص سامنے آیا جس نے انکی دست بوسی کی اوران کےپاؤں کے نیچے نقودسے بھراہواایک ظرف رکھتے ہوئے بیان فرمایاکہ یہ آپ کامخصوص ہدیہ ہے یہ کہہ کروہ شخص چلاگیاپھرآپ کی زوجہ آئی آپ نے اس سے فرمایااپنی بیٹی کے جہیزکیلئے مطلوبہ چیزیں خریدلواورتمام نقودکواپنی جیب میں بغیرشمارکئے ہوئے رکھ لیاپھرمطلوبہ چیزوں کی خریداری کی گئی اورانھوں نے والدعلام سے فرمایاہم نے مطلوبہ چیزیں خریدلی ہیں اس کے بعداپنی جیب سے ظرف کونکالاتواس میں کچھ بھی نہیں تھاایساہی مجھ سے نقل کیاہے۔

(۲) امام حسن العسکری کے بھائی


محبت حضرت امام حسین علیہ السلام

استادعلام اپنے ہم عصر مراجع کرام اورفقہائے عظام کے درمیان کچھ خصوصیات میں ممتاز اورمشہورتھے خداوندعالم ان کی قدرومنزلت اورشاسن وشوکت میں مزید اضافہ فرمائے،چندامتیازی خصوصیات۔۔۔۔

۱۔ علمی آثار اورمخطوطہ کتابوں کی حفظ ونگہداشت میں آپ کوبے پایاں محبت تھی اوریہ محبت ایک عظیم کتب خانہ کی شکل میں ظاہر ہوئی جواس وقت حوزہ علمیہ قم کاسب سے بڑاکتب خانہ ہے۔

۲۔ مختلف علوم وفنون کی تحصیل کاآپ کوبے حدشوق تھا جس کی بناء پر مختلف علوم وفنون میں سیکڑوں کتابیں اورہزاروں صفحات تحریرکئے۔

۳۔ مسانید واساتید کی حفاظتر میں آپ کو عشق کی حدتک شوش تھا جس کے نتیجے میں علماء امامیہ ،زیدیہ ،اسماعیلیہ ،اورعامہ کےتقریباً دوسو اجازہ روایت محفوظ تھے۔

۴۔ اہل بیت عصمت وطہارت سے آپ کوانتہائی محبت اورکمال کی حد تک عشق تھا آپ کا کوئی ایسا مکتوب ومرقوم نہیں ہےجسے اہل بیت علیہم االسلام کے ذکر پرختم نہ کیاہوا۔

آپ اہل بیت اطہارعلیہم السلام کے سچے شیدائی تھے خصوصاً سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہم السلام واقعہ عاشوراکے ذکر اورعزاداران پردل وجان سے قربان تھی انھوں نے ایک دن مجھ سے فرمایا۔عالم شباب میں ہم طلبہ کی جماعت جن میں روح اللہ الموسوی الخمینی رضوان اللہ علیہ بھی شامل تھے محرم کی راتوں میں سحر تک سیدالشہداء علیہ السلام کی مظلومیت پر آنسوبہاتی رخساروں پرطمانچے مارتی اورگریہ وزاری کرتی تھی۔

آپ نے نصیحت آمیز انداز میں فرمایا اگر خداوند کریم تمہیں علمی اورعملی زندگی میں توفیق عنایت کرے تویہ تین چیزیں اپناشعاربنالو۔

۱۔ ہمیشہ باطہارت رہو۔

۲۔ کسی بھی جنازے کودیکھو اس کی مشایعت کرو خواہ چندہی قدم کیوں نہ ہو۔

۳۔ عزائے حسین ؑ میں کسی بھی عنوان سے شرکت کرو۔

مجھے یاد ہے استاد علام اپنی زندگی کے آخری ایام میں عاشورہ لے دن غروب آفتاب کے وقت صحن حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا میں نمازجماعت کیلئے تشریف لائے اس وقت حسینی دستے اورانجمنیں ماتم میں مشغول تھیں لوگ رخساروں پرطمانچے ماررہے تھے سروسینہ پیٹ رہے تھے زنجیروں کاماتم ہورہاتھا نوحہ وبکا کی صدائیں بلند تھیں جب مکبر نے نماز جماعت کی مقدار بھر توقف کی درخواست کی میں ان کے پاس ہی تھا جیسے ہی استادعلام نے یہ جملہ سنا ان چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا اورمکبرسے ڈانتے ہوئے کہا (ساکت باش اگراین عزاداری نبودنمازجماعت نبود)خاموش ہوجاؤ اگر یہ عزادری نہ ہوتی تونمازجماعت نہ ہوتی انہیں سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی مظلومی پرگریہ وزاری اورنوحہ وبکا کرنے دو اگر یہ عزاداری اورماتمی انجمنیں نہ ہوتیں توہمارے دشمن واقعہ خونین کربلا نیز یزید اوراس کے ساتھیوں کے ظلم سے انکارکردیتے جس طرح بعض لوگوں نے غدیرکے واقعہ کاانکار کردیاہے۔

ہاں واقعہ سیدالشہداء کااعتقادرکھنے اوراس کاتذکر ہ کرنے سے انسان باوقار ہوتاہے۔اپنی زندگی کے آخری ایام میں جب آپ آپریشن کیلئے ہاسپٹل جانے لگے تو اپنے گھر سے ملے ہوئے امامباڑے میں خداسے شفاحاصل کرنے کیلئے آپریشن کی جگہ کومنبر حسین علیہ السلام سے تبرکاًوتیمناًمس کیا۔

استادعلام نے اپنی وفات سے چند مہینہ قبل مجھ سے فرمایاتھا میں نے اپنی اولاد کووصیتیں کی ہیں تم انھیں میری شب وفات یاددلادینا کہ میرے امامبسڑۓ میں منبر سے قریب رکھیں میرے عمامے کایاک سرامنبر اوردوسرا میرے جنازے سے باندھ دیں۔

آپ کے انتقال کے بعد میں نے یہ وصیتیں آپ کی اولاد کویاد دلائیں اورانھوں نے اس پر عمل کیا خداانھیں اس کابہترین صلہ دے۔

استاد استادعلام مادی اورمعنوی اعتبار سے ماتمی انجمنیں اورحسینی دستوں کی مدد بھی کیا کرتے تھے۔

اوریہ عمل اس عقیدے کے ساتھ بجالاتے تھے کہ ہمارے پاس جوکچھ بھی ہے وہ محرم وصفرکی بدولت ہے۔

اگرسلسلہ گفتگوکے طویل اورکتاب کی ضخامت کاخوف نہ ہوتا تو میں اس عطیم المرتبت سید کی زندگی کے ایسے واقعات تحریرکرتا جس سے شعورواحساسات دنگ رہ رہ جاتے لیکن اتنے ہی پراکتفاکرتاہوں جسے آپ نے اپنی پہلی وصیت میں حضرت امام حسین سے متعلق ذکر فرمایاہے اس سلسلہ میں ہرصاحب عقل وخردپر غوروفکرلازم ہے تاکہ جوہر معانی آشکار ہوں اورحقیقت مقصودتک رسائی ہوسکے۔

استادعلام نے فرمایاہے میں اسے اپنے اس حسینیہ میں جسے میں نے قم میں تاسیس کیاہے شعائرالہیٰ کے قائم کرنے میں جدوجہدکی وصیت کرتاہوں۔

میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میرے ساتھ وہ تھیلی جس میں میں نے ائمہ اطہاران کے اولاداصحاب اورعظیم علماء کے قبروں کی خاک تبرک وتیمن کیلئے اکٹھا کی ہے دفن کی جائے۔

میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میراسیاہ لباس جسے میں حزن وغم کے عالم میں محرم وصفرکے مہینے میں پہنتاتھا میرے ساتھ دفن کیاجائے۔

میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میرے کفن میں میرے سینے پروہ رومال رکھاجائے جس میں میں نے سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب پربہنے والے آنسوؤں کوجذب کیاہے۔

میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میری جانب سے حج اورزیارت قبررسول ؐ کیلئے ایک صالح آدمی کونائب بناکر بھیجاجائے مجھے ان دونوں سے بے پناہ عشق ہے اورمیں تہی دست ہوں اسی طرح یہ بھی وصیت کرتاہوں کہ میری جانب سے کسی نیک بندے کوعراق کے مقامات مقدسہ کی زیارت کیلئے روانہ کیاجائے کیونکہ میرے پاس فقہ واصول وحدیث کی چندجلدوں کے علاوہ اتناسرمایہ نہیں ہے جوان نیابتوں پرصرف ہوسکے ۔میں اپنی اولاد سے توقع رکھتاہوں کہ اس سلسلے میں خرچ کرنے سے کوتاہی نہیں کریں گے۔

میراپرورگارجانتاہے میرے پاس نہ ایک بالشت زمین ہے اورنہ کچھ روپیہ پیسہ میں وصیت کرتاہوں کہ میرے جنازے کوحضرت معصومہ سلام اللہ علیہا قم کی قبرکے سامنے رکھاجائے اورسیدالشہداءحسین مظلوم کی اہل بیت سے رخصت آخر کامصائب پڑھاجائے اوراسی طرح میرے جنازے کومیرے تعمیرکردہ امامباڑے میں رکھاجائے وہاں بھی یہی مصائب پڑھاجائے اوراسی طرح جب مجھے میری قبر میں اتاراجائے جو میں نے کتب خانہ کے دروازے پر اپنے لئے معین کی ہے وہاں بھی اسی مصیبت کاتذکرہ کیاجائے۔

میں اسے اوراپنے تمام فرزندکو وصیت کرتاہوں کہ ہرشب جمعہ میری قبرکے گرد جمع ہوں قرآن پڑھیں اورمصیبت سیدالشہداء پرگریہ وزاری کریں۔

استادعلام نے اپنی وصیت کے آخرمیں فرمایاہے۔

بارالہامیں تجھ سے ان گناہون کے سلسلے میں عفوومغفرت کاخواستگاہ ہوں جومجھسے اورمیری اولاد نیز میرے باایمان دوستوں سے سرزدہوئے ہیں ہمارانامہ اعمال ہمارے داہنے ہاتھوں میں اورخلدہمارے بائیں ہاتھوں میں عطاکرنااورہمیں محمدوآل محمد کی محبت ومودت کے ساتھ دنیا سے اٹھانا ۔بارالہاہم تجھ سے اہل بیت ؑ کے دشمن اوران کے حقوق غصب کرنے والوں ،ان کی فضائل ومناقب کاانکارکرنے والوں اورانہیں خداکے عطاکردہ مراتب میں شک کرنے والوں سے برائت وبیزاری کے خواہاں ہیں۔

بارالہا!ہمیں ان کی حیات کے صدقےمیں حیات اوران کی موت کے صدقےمیں موت عطاکرناتوجانتاہے ہم نے ان کی محبت ومودت میں اپنے کوفناکردیا ہے ہمیں ان کاصلہ عطاکرناجواہل بیت ؑ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہیدہوگئے ہمیں ان سے دفاع کرنے والوں کی فہرست میں شمارکرنااورہمیں ان لوگوں میں قراردینا جوان سے ہدایت لیتے ہیں اورانکے نقش قدم پرثابت قدم ہیں ہمیں ان کی محبت سے تمسک کرنے والوں میں قراردینا۔

آمین ثم آمین

والسلام علی من اتبع الهدیٰ

عبدفقیرخادم علوم اہل بیت ابوالمعانی شہاب الدین حسینی مرعشی نجفی عفی عنہ نے اسے تحریرکیاہے۔

استاد علام کی وصیتیں

"( ولقد وصینا الذین اوتوالکتاب من قبلکم وایاکم ان اتقواالله ) "(النساء/۱۳۱)

اورجن لوگوں کوتم سے پہلے کتاب عطاکی گئی ان کو اورتم کوبھی اس کی ہم نے وصیت کی تھی کہ خداکی نافرمانی سے ڈرتے رہو۔

"( وماوصینابه ابراهیم وموسیٰ وعیسیٰ ان اقیمواالدین ) "(الشوری/۱۳)

ہم نے موسیٰ ابراہیم اورعیسیٰ کودین کے قائم کرنے کی وصیت کی۔

( وَ وَصَّى بِهَا إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَ يَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَکُمُ الدِّينَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إِلاَّ وَ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ‌ أَمْ کُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي قَالُوا نَعْبُدُ إِلٰهَکَ وَ إِلٰهَ آبَائِکَ إِبْرَاهِيمَ وَ إِسْمَاعِيلَ وَ إِسْحَاقَ إِلٰهاً وَاحِداً وَ نَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ) ‌۔(البقرہ/۱۳۲) اورایسی ہی ابراہیم نےاپنی اولادکووصیت کی اوریعقوب نے بھی کہ اے فرزندخدانے تمہارے لئے واسطے دین کوپسندکیاہے لہذاتم ہرگزنہ مرنامگرمسلمان ہی ،اے یہودکیاتم اس وقت موجودتھے جب یعقوب کے سرموت آکھڑی ہوئی اس وقت انھوں نے اپنے بیٹوں سےکہا میرے بعدکس کی عبادت کروگے توکہنےلگے ہم آپ کے معبودآپ کے باپ دادؤں ابراہیم واسماعیل واسحاق کے معبودیکتاخداکی عبادت کریں گےاورہم اسی کے فرمانبردارہیں۔

"قال رسول الله صلی الله علیه وآله :من لم یحسن الوصیة عندموته کان نقصافی عقله ومروته "

رسول خداؐ نے فرمایاہے ۔جوشخص اپنی موت کے وقت وصیت نہ کرے اس کی عقل اورمروت میں نقص ہے۔

قال الصادق علیه السلام "الوصیة حق علیٰ کل مسلم "امام جعفرصادقؑ نے فرمایاہے وصیت ہرمسلمان کاحق ہے۔

وقال علیه السلام : ان اقلت فی عمر ک یومین فاجعل احدهما لآخر تک تستعین به به علیٰ یوم موتک ،فقیل : وماتلک الاستعانة؟ قال : لیحسن تدبیر مایخلف ویحکمه به "( ۱ )

امام علیہ السلام نےفرمایا ہے اگر تمہاری عمرمیں دودن بھی باقی رہ گئے ہوں توایک کوآخر ت کیلئے مخصوص کردو جس سے تم اپنی موت پر استعانت طلب کروپوچھاگیا استعانت کیاہے؟ آپ نے فرمایا اپنے اخلاف سے وصیت بہترین کرو۔

وصیت انسان کی زندگی اوراس کی موت کے درمیان رابطہ کاذریعہ ہے اوریہ اللہ کے بندوں پر اس کی ایک سنت رہی ہے لہذاہرایک کیلئے ضروری ہے کہ جو کچھ اسکے پاس ہے اس سلسلہ میں اپنے بعدکیلئے وصیت کرے۔

وصیت کرنے والوں کی وصیتیں شخصیت کے اعتبارسے مختلف ہواکرتی ہیں پروردگارعالم اپنے بندوں کو زہدوتقویٰ اوراقامہ دین کی وصیت کرتاہے انبیاء اسلام اپنانے اوراللہ کی بندگی کی وصیت کرتاہے حضرت محمدؐ نے حضرت علی علیہ السلام سے چارسووصیتیں فرمائی ہیں ،اوصیاء ایک دوسرے کووصیت کرتے ہیں اورعلماء بھی جوانبیاء کے وارث اوراوصیاء کے راہ پرچلنے والے ہیں اپنے بیٹوں اورتمام لوگوں کوعمومی اورخصوصی وصیتیں کرتے ہیں جن میں سب سے پہلے تقویٰ ، دین اورخداکی عبادت کی وصیت ہے ، جیساکہ ہمارے بزرگ علماء سیدابن طاؤس نے اپنے فرزندمحمداورعلامہ حلی نے اپنے فرزندفخرالمحققین کووصیت کی ہے۔

انھیں بزرگ علماء میں استادعلام بھی تھے جنھوں نے اس راستے کوطے کیا اورایسی گران بہاوصیتیں فرمائیں جسے نورکے قلم سے

لکھنے کی ضرورت ہے آپ نے ان وصیتوں کوتین رسالہ میں تحریرکیا ہے جن میں سے انتخاب کرکے چندوصیتیں ہم قارئین کیلئے تحریرکرتے ہیں اوران پر دقت نظر،غوروفکر نیز بحسب امکان عمل کرنے کی گزارش کرتے ہیں۔

"والله مستعان وعلیه التکلان "خدابہترین مددگار ہے اوراسی پر بھروسہ کیاجاتاہے۔

پہلی وصیت

"ماخوذ از:الطریق والمحجه لثمرة المهجة "

۱۔ میں اسے دین اسلام کی ترویج اورمذہب حق کے دفاع کی وصیت کرتاہوں دین آج بھی بےیاروغربت زدہ ہے اوربلندآواز سے پکاررہاہے۔"ھل من ناصرینصرنی ھل من ذاب یذب عنی" چندافراد کے علاوہ کوئی ایسانہیں ہے جواس کی آوازپرلبیک کہے اوراس کی فریاد رسی کوپہنچے خداوندعالم ان کی کوششوں کوقبول کرے اورانھیں بہترین جزادے

۲۔ میں اسے کتاب خدامیں تدبراس سے پندونصیحت حاصل کرنے اہل قبورکی زیارت اوران کے سلسلے میں یہ غوروفکر کرنے کی وصیت کرتاہوں کہ وہ کل کس حال میں تھے اورآج کس حال میں ہیں وہ کل کیسے تھے اورآج ان کی کیاصورت ہوگئی ہے وہ کل کہاں تھے اورآج کس مقام پرہیں۔

۳۔میں اسے لوگوں سے کم سے کم معاشرت رکھنے کی وصیت کرتاہوں اس لئے کہ اس زمانے میں لوگوں میں زیادہ اٹھنابیٹھنا خطرناک ہے کم ہی ایسادیکھاگیاکہ لوگ آپس میں مل جل کربیٹھے ہوں اورمومنین کے حق میں بہتان ،غیبت ،برائی اوران کے حقوق واخوت کے سلسلے میں زبان نہ کھولتے ہوں۔

۴۔ میں اسے اعزاء واقرباء کے ساتھ صلئہ رحم کی وصیت کرتاہوں کیونکہ یہ عمراوررزق میں توفیق وکرامت کاسب سے قوی سبب ہے۔

۵۔ میں اسے تالیف وتصنیف اوراصحاب امامیہ خاص طورسے گذشتہ علماء کی کتابوں کے نشرواشاعت کی وصیت کرتاہوں کیونکہ اس منحوس اورمردہ صفت زمانے میں ترویج مذہب کایہ سب سے قوی سبب ہے۔

۶۔ میں اسے شاہراہ زہدوورع پرچلنے اورحزم واحتیاط کی وصیت کرتاہوں ۔

۷۔ میں اسے زیارت جامعہ کے ہمیشہ پڑھنے کی وصیت کرتاہوں خواہ ہفتہ میں ایک ہی مرتبہ کیوں نہ ہو۔

۸۔ میں اسے خداکے بندوں خاص طورسے اہل علم کی غیبت سے پرہیز کی وصیت کرتاہوں اس لئے کہ انکی غیبت زہرآلودمردے کھانے کے برابرہے۔

۱۰۔ میں اسے نمازصبح کے بعدسورہ یاسین نمازظہرین کے بعدسورہ عم نمازعصر کےبعدسورہ نوح نمازمغرب کے بعدسورہ واقعہ اورنمازعشاء کےبعدسورہ ملک پڑھنے کی وصیت کرتاہوں اوران کی مداومت پرتاکید بھی کرتاہوں میں یہ روش اپنے مشائخ سے حاصل کی ہے اورباہر اسے آزمایابھی ہے۔

۱۱۔میں اسے نمازیومیہ کے بعدہرقنوت میں اس دعاشریف کے مستقل پڑھنے کی وصیت کرتاہوں۔

"اللهم انی اسئلک بحق فاطمة وابیهاوبعلهاوبنیهاوالسرالمستودع فیها ( ۲ ) "ان تصلی علی محمدوآل محمدوان تفعل بی ماانت اهله ولاتفعل بی ماانااهله "

۱۲۔ میں اسے ہررکوع خاص طور سے آخری رکوع کے بعد اس دعاکے پڑھنے پرتاکید اً وصیت کرتاہوں۔

"اللهم صلی علی محمدوآل محمدوترحم علی عجزناواغثنا بحقهم یاارحم الراحمین "( ۳ )

۱۳۔ میں اسے تسبیحات حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے ہمیشہ پڑھنے کی وصیت کرتاہوں۔

۱۴ ۔میں اسے حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہاکے اس خطبہ میں غوروخوض کی وصیت کرتاہوں جسے انھوں نے مسجد نبی میں ارشادفرمایاتھاجس کی بلاغت اورفصاحت سے فصحاء گنگ ،بلغاء عاجز اورعلماء مبہوت ہوگئے علماء سلف میں ابن طیفور بغدادی نے اپنی کتاب بلاغۃ النساء میں اس خطبہ کی روایت کی ہے۔

۱۵۔ میں اسے خطبئہ شقشقیہ میں غوروفکرکی وصیت کرتاہوں جسے حضرت علی علیہ السلام نے مسجدمیں ارشادفرمایاتھاسنی شیعہ بہت سے علماء نے اسے نقل کیاہے۔

۱۶۔ میں اسے نماز شب اورسحر کے وقت استغفارکرنے کی تاکیداًوصیت کرتاہوں ۔

۱۷۔ میں اسے صلئہ رحم کی وصیت کرتاہوں خاص طورسے ان کے بھائی اوربہنوں کے سلسلے میں یہ وصیت کرتاہوں کہ ان کے ساتھ نیکی کاسلوک کرے اس لئے کہ میں نے اپنے بعدکیلئے دنیاکے ٹھیکروں(مال ودولت کی طرف اشارہ ہے)کی شکل میں کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے مجھے جوکچھ بھی حاصل ہوااسے حتیٰ وہ رقم جوخاص طورسے مجھے دی جاتی تھی ۔محتاجوں اوراہل علم پرصرف کردیاہے عنقریب میں دنیاسےسفرکرنے والاہوں لیکن اپنے ورثہ کیلئے دنیاکے مال واسباب اورزروجواہرات میں سے کچھ بھی نہیں چھوڑاہے انھیں اپنے رب کے حوالے کردیاہے ان کیلئے بہترین یادیں اوراچھی باتیں چھوڑی ہیں اوراگر میں اپنی اولاد کیلئے مال واسباب سمیٹنے کی کوشش کرتالوگ میرے اوپراس قدراعتبارکرتے ہیں میں اپنے وارثوں کیلئے لاکھوں اورکڑورں کی جائدادواسباب چھوڑسکتاتھا۔فاعتبرویااولی الابصار

۱۸۔ میں اسے قرآن کریم اوراحادیث شریف کے پڑھنے پڑھانے کی وصیت کرتاہوں بے شک یہ چیزیں دل کے امراض کیلئے شفاء اورباطن کومنورکرنے والی ہیں۔

۱۹۔ میں اسے خداوند عالم سے توسل اوراذکاروادعیہ کی مداومت کی وصیت کرتاہوں کیونکہ خداوندعالم بلاوجہ وقت گنوانے والے جوان سے غضبناک ہوتاہے۔

۲۰۔ میں اسے فضول وقت صرف کرنے اوراپنی عمرعزیزکے بے معنی کاموں میں گنوانےسے پرہیزکی وصیت کرتاہوں ۔

۲۱۔ میں اسے نصف شب اورصبح وشام استغفارکی وصیت کرتاہوں۔

۲۲۔ میں اسے اپنے تربیت کردہ متقی اورپرہیزگارشاگردوں کے حق میں حسن سلوک کی وصیت کرتاہوں جس نے میرے ساتھ بھلائی کی اس نے میری مددکی۔

۲۳۔ میں اسے وصیت کرتاہوں کہ مجھے ائمہ کرام ان کے فرزندان کے مزارات اورحج وعمرہ کے مناسک میں دعائے خیر سے فراموش نہ کرے۔

۲۴۔ میں اسے اپنے امام باڑے میں جسے قم میں تاسیس کیاہےشعائرالہی کے قائم کرنے میں جدواجتہادکی وصیت کرتاہوں ۔

۲۵۔ میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میرے ساتھ وہ تھیلی جس میں نے ائمہ طاہرین انکی اولاد اصحاب اورعظیم علماء کے قبروں کی خاک اکٹھاکی ہے دفن کی جائے۔

میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میراسیاہ لباس جسے میں حزن وغم کے عالم میں محرم وصفرکے مہینے میں پہنتاتھا میرے ساتھ دفن کیاجائے۔

۲۶۔ میں اسے وصیت کرتاہوں کہ وہ جانمازجس پر میں نے سترسال نمازشب اداکی ہے میرے ساتھ دفن کی جائے۔

۲۷۔ میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میرے ساتھ وہ تسبیح جس کے دانوں پر میں نے مغفرت طلب کی ہے دفن کیاجائے۔

۲۸۔ میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میرے کفن میں میرے سینے پروہ رومال رکھاجائے جس میں میں نے سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب پربہنے والے آنسوؤں کوجذب کیاہے۔

۲۹۔ میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میری جانب سے حج اورزیارت قبررسول ؐ کیلئے ایک صالح آدمی کونائب بناکر بھیجاجائے مجھے ان دونوں سے بے پناہ عشق ہے اورمیں تہی دست ہوں اسی طرح یہ بھی وصیت کرتاہوں کہ میری جانب سے کسی نیک بندے کوعراق کے مقامات مقدسہ کی زیارت کیلئے روانہ کیاجائے کیونکہ میرے پاس فقہ واصول وحدیث کی چندجلدوں کے علاوہ اتناسرمایہ نہیں ہے جوان نیابتوں پرصرف ہوسکے ۔میں اپنی اولاد سے توقع رکھتاہوں کہ اس سلسلے میں خرچ کرنے سے کوتاہی نہیں کریں گے۔میراپرورگارجانتاہے میرے پاس نہ ایک بالشت زمین ہے اورنہ کچھ روپیہ پیسہ

۳۰۔ میں اسے ہمیشہ باطہارت رہنے کی وصیت کرتاہوں کیونکہ اس سے دل روشن ہوتاہے اوررنج والم دورہوتاہے۔

۳۱۔ میں اسے وصیت کرتاہوں کہ میرے جنازے کی تشییع میں ایسے شخص کومعین کیاجائے جوبلندآوازسے یہ پکارے جس کی کسی کاکوئی حق مجھ پر رہ گیاہے اسے معاف کردے ۔

۳۲۔ میں اسے حسن اخلاق تواضع وفروتنی کی وصیت کرتاہوں اوریہ تاکید کرتاہوں کہ مومنین کےساتھ کبرونخوت سے پرہز کرے۔

۳۳۔میں اسے ہرہفتہ محاسبہ نفس کی وصیت کرتاہوں اگرکوئی لغزش نظرآئے توبارگاہ ایزدی میں توبہ کے ذریعہ اس کاتدارک کرلے اوراگر اس کےاعمال میں نیکی ظاہر ہوتواس نعمت پرخداوندقدیر کاشکراداکرے اوراس سے مزیدتوفیق کاخواہاں ہو۔

۳۴۔میں اسے مسنونات ومستحبات کی بجاآوری اورحتیٰ الامکان مکروہات کوترک کرنے کی وصیت کرتاہوں۔

۳۵۔ میں اسے وصیت کرتاہوں کہ قرآن مجیدکی تلاوت کرے اوراس کاثواب ایسے شیعیان آل رسول کی ارواح کوھدیہ کرے جب کاکوئی وارث اورجن کے حق کاکوئی یادکرنے والانہیں ۔

اس عمل خیرکومیں نے بارہاآزماہے اوراس کے ذریعہ خداوندعالم نے مجھے توفیق بھی عنایت کی ہے۔

۳۶۔ میں اسے وصیت کرتاہوں کہ اپنے مستحب اعمال کاایک ثلث اپنے والد گرامی ایک ثلث اپنی والدہ ماجدہ اورایک ثلث صاحبان حقوق کیلئے قراردے اس لئے کہ ان کی روحیں اس ھدیہ کے ذریعہ خوش ہوتی ہیں اوراس کیلئے دعاکرتی ہیں کہ خدااسے دنیاوآخرت میں بہترین رزق عنایت کرے۔

۳۷۔میں اسے تہذیب نفس اورمجاہدات شرعیہ کی وصیت کرتاہوں کیونکہ جوکچھ میں نے حاصل کیاہے اسی کے ذریعہ حاصل کیاہے رب کریم نے مجھے اس کے ذریعہ وہ کچھ عطاکیاہے جسے کان سننے سے عاجز اورزمانے کی نگاہیں دیکھنے سےقاصر ہیں پروردگارکی اس عظیم عطااوربے پایان فضل پر اس کاشکرگزارہوں ۔

اے میرے فرزند میں نے اس کے بعض اسرار اپنی کتاب سلوۃ الحزین میں بیان کیے ہیں جسے مونس الکئیب المضطہد،روض الریاحین اورنسمات الصباکے نام سے بھی جاناجاتاہے۔

۳۸۔میں اسے محرمات سے دورشکوک وشبہات سے اجتناب اورحزم واحتیاط پر عمل کی وصیت کرتاہوں میں نے اپنے تلامذہ،برادران دینی اوراہل بیت اطہارعلیہم السلام سے محبت رکھنے والے تمام علماء وافاضل کواجازت دی ہے کہ وہ ان تمام باتوں کی میری طرف سے روایت کریں جسے میں نے اہل بیت اطہارؑ سے ان طرق واسانید کے ذریعہ روایت کی ہے جسے اپنے رسالہ الطرق المحجۃ لثمرۃ المھجہ میں درج کردیا ہے ۔اب میرے چل چلاؤ کاوقت قریب آچکا ہے ۔

اس وصیت نامے کوعبدحقیرخادم علوم اہل بیت ؑ ابوالمعالی شہاب الدین الحسینی المرعشی عفی اللہ نے صبح پنجشنبہ ۲۰ ربیع الثانی ۱۳۹۸ھ کوحرم ائمہ اطہار آشیانئہ آل محمدمشہدکریمہ اہل بیت ؑ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا شہرمقدس قم میں تحریرکیاہے۔

دوسری وصیت ۔

"ماخوذ از:الطریق والاسانیدالیٰ مرویات اهل بیت علیهم السلام "

۳۹۔ میں اسے اوراپنے خطاکارنفس کوظاہر وباطن میں تقویٰ الٰہی اوراس پشت دنیا کی زیب وزینت سے پرہیز کی وصیت کرتاہوں ۔

۴۰۔ میں اسے وصیت کرتاہوں کہ وہ اہل قبورکی زیارت کرے اوران سے اس بات کی عبر ت حاصل کرے کہ وہ کل کیسے تھے اورآج کیسے ہوگئے ہیں وہ کہاں تھے اورکہاں آگئے کل وہ کس کیفیت میں تھے اورآج کس کیفیت میں ہیں ان کے مال ومنال تقسیم ہوچکے ان کی بیویوں کی ترویج ہوچکی ان کے گھر آباد ہوگئے اورآج فقط ان کے اعمال وافعال ہی باقی رہ گئے ہیں۔

۴۱۔ میں اسے وصیت کرتاہوں کہ قرآن کریم کی تلاوت اوراحادیث کے مطالعے کوترک نہ کرے اوران میں غوروفکرکرے اوران کے انوارسے کسب نورکرے۔

۴۲۔ میں اسے وصیت کرتاہوں کہ وہ لوگوں کے ساتھ کم سے کم معاشرت رکھے اس لئے کہ تمہیں کم ہی ایسی مجلسیں نظرآئیں گی جن میں اللہ کے بندوں کی برائی اورغیبت نہ ہوتی ہو انکی اہانت اوران کے حق پرتہمت نہ لگائی جاتی ہوخاص طورسے جس کی غیبت کی جائے اگروہ علماء میں سے ہوتواس کی غیبت زہرآلودمردے کھانے کے برابرہے۔

۴۳۔ وہ صاحبان حقوق کوعلم وادب اورمال واولاد کے لحاظ سے بہترین دعاؤں میں فراموش نہ کرے۔

۴۴۔وہ ترویج دین اوراحیاء مذہب میں اپنی کوششوں میں کوئی کمی نہ کرے دین آج بےیاروغربت زدہ ہے اوربلندآوازسے پکارہاہے۔" ھل من ناصر ینصرناھل من ذاب یذب عنی"۔

۴۵۔ وہ انتہا ئے شب میں نمازشب اورہرصبح استغفارکوترک نہ کرے سیدالمظلومی امیرالمومنینؑ نے اپنی وصیتوں میں فرمایا۔علیک بصلاۃ اللیل ۔تمہارے اوپرنمازشب واجب ہے۔

۴۶۔وہ مشکوک غذائیں کھانے سے اجتناب کرے کیونکہ یہ بہت سخت امرہے۔

۴۷۔ میں اسے اپنے بھائیوں ،بہنوں ،عزیزوں ،طلاب علوم دینیہ اورغریب وفقیرمومنین کے حق میں حسن سلوک کی وصیت کرتاہوں خداوندعالم ہمیں اوراسے قول وفعل وسنت میں شکوک وشبہات اورلغزشوں سے محفوظ رکھے بےشک وہ اس پرقادرہے۔

بارالہا!محمدوآل محمدکی حیات کے مثل ہمیں زندگی دے ان کی موت جیسی موت دے ہمیں دنیامیں انکی زیارت اورآخرت میں ان کی شفاعت عطافرما۔آمین

اس وصیت نامے کوعبدحقیرخادم علوم اہل بیت ؑ ابوالمعالی شہاب الدین الحسینی المرعشی عفی اللہ نے صبح دوشنبہ ۲۵ صفر ۱۳۸۹ھ کوحرم ائمہ اطہار آشیانئہ آل محمدشہرمقدس قم میں خداوندعالم کی حمدوثناء اس کے امورکوتسلیم اوراس سے استغفارکرتےہوئے اپنےہاتھوں سےتحریرکیاہے۔

تیسری وصیت۔

"ماخوذ از:الطریق والاسانیدالیٰ مرویات اهل بیت علیهم السلام "

۴۸۔ اےمیرے بھائی میں تمہیں ظاہروباطن میں تقویٰ الٰہی اورہرحال میں خداپراعتمادووثوق کی وصیت کرتاہوں ۔بعض حدیث کی کتابوں میں حضرت امام حسین ؑ نے فرمایاہے۔"ثق بمن لاینساک واستحی ممن یراک"جوتمہیں فراموش نہ کرے اس پراعتمادرکھو اورجوتمہیں دیکھ رہاہے اس سے شرم وحیاءکرو۔

۴۹۔اپنے اعمال میں خلوص واخلاص پیداکروکہ یہ کدورت قلب کاعلاج ہے۔

۵۰۔قرآن مجیدکی تلاوت اس کی آیات میں غوروفکراوراس مقدس انوارسے روشنی حاصل کرناتمہارے لئے ضروری ہے۔

۵۱۔نبی وآل نبی ؐ کی حدیثوں کامطالعہ کرناتمہارے لئے ضروری ہے اس سےدل روشن ہوتاہےاورکثافتین دورہوتی ہیں۔

۵۲۔ تمہارے لئےذریت پیغمبرؐسے توسل ان کےحق میں حسن سلوک ان کادفاع اورزبان وقلم کےذریعہ ان کی نصرت کرناضروری ہے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں لوگوں میں نبوت نے ودیعت کیاہے ۔تم ان کےحق میں ظلم وتعدی بغض وعناد،بدخلقی،ذلت ورسوائی اوران کےحقوق کی عدم ادائیگی سےشدت کےساتھ پرہیزکروکیونکہ یہی چیزیں توفیق الٰہی کے سلب ہونے کاسبب ہیں ۔

العیاذبااللہ اگرتمہارے قلوب ان کی محبت کی شراب سے مملونہیں تویہ سمجھ لوکہ تم مریض ہواورروحانی طبیبوں کے ذریعہ تمہاراعلاج ضروری ہے کیاکوئی ہے جوان کے فضل وشرف ، جلالت ، ووجاہت اورقدرومنزلت کی معراج میں شک کرے ہرگزنہیں فقط کورچشم اورسنگدل افرادہی شک کرسکتے ہیں ۔

۵۳۔تم مومنین کے ساتھ حسن سلوک ،خاطرومداراۃ اورخوش روئی کابرتاؤ ضروری ہے کیونکہ یہ افرادیتیمان آل محمدہیں جیساکہ روایت میں آیاہے ان کے امورزمانہ غیبت میں صاحبان علم کوتفویض کئے گئے ہیں۔

۵۴۔تم پرامربالمعروف اورنہی اازمنکرکافریضہ ضرورری ہے اگر تم اپنی زبان وبیان اورحال وقلب کےذریعے اس فریضہ کی ادائیگی پراستطاعت رکھتے ہوتواسلام کےحق میں اس کی مشکلات کےرفع کیلئے دعاکروکیوں کہ وہ غریب اوراجنبی ہوگیاہے جیساکہ پہلے تھااگرتم چشم بصیرت سے دیکھوتوتمہیں نظرآئیگاکہ قرآن ایک طرف بےدینوں اوردوسری طرف عیسائیوں سے مصروف پیکارہےنیز دلوں میں اضطراب اوررنج والم کوبرانگیختہ کرنے والی آوازسے پیکاررہا ہے۔" ھل من ناصر ینصرناھل من ذاب یذب عنی"۔

اورمیں نہیں جانتاکہ اس منحوس اورمردہ صفت زمانے میں کیا میں نے اس کی آوازکاجواب دیاہے اوراس کی دعوت پرلبیک کہی ہے یانہیں بلکہ میں اس کےبدلے اللہ کے بندوں کی ہتک حرمت کرنے اورکتاب خداکی ہمنشینی نیزعترت پیغمبرؐ کے حق سے ٹکراؤکامرتکب رہاہوں وہ بندہ کس قدرخسارے میں ہے جواس کے نجات دہندہ ہیں انہیں کادشمن بناہواہے۔

۵۵۔ تم پر مومنین کی قبروں کی زیارت اوران سے عبرت حاصل کرناضروری ہے کہ وہ لوگ کل کیاتھے اورآج کیاہوگئے وہ کہاں آگئے کیسے تھے اورآج کس حال کوپہنچ گئے ہیں کس منزلت کے تھے اورکس حالت کوپہنچےبے شک قبروں کی زیارتیں خواہشات نفسانی اوردنیاکی محبت کومارتی ہیں اوررنج وغم کوبڑھاتی ہیں۔

۵۶۔ تم پرضروری ہے کہ معصومین ؑ کےآثار واقوال کومختلف مجلسوں اورمحفلوں میں بڑھ چڑھ کربیان کروان کے ذکروآثارکو زیادہ سےزیادہ رائج کرواس لئے کہ وہ خاص طورسے اس زمانے میں مظلوم اورستم رسیدہ ہے کیونکہ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہیں اوراس ذریت طاہرہ کوپس پشت ڈال دیا ہے ان چیزوں سے لولگاتے ہیں جوان کادل چاہتاہے اللہ انہیں اس غفلت سے بیدارکرے۔

۵۷۔ تم تصنیف وتالیف لوگوں سے فائدہ حاصل کرنے اورانھیں علمی فائدہ پہنچانے میں سعی بلیغ کرواوراپنی عمرضائع نہ کروجیسے اکثرلوگ کیاکرتے ہیں۔

خداوندعالم ہمیں اورتمام مومنین کوان نفیس وصیتوں پرعمل کرنے صفات حسنہ اورمکارم الاخلاق سے آراستہ ہونے نیزائمہ اہل بیت ؑ جوروز جزاہمارے شفیع ہونگے کے اقوال کی پیرویپرعمل کی توفیق عنایت فرمائے۔

میں محمدوآل محمدکے وسیلےسے خداکے فضل وکرم کاامیدوار ہوں کہ وہ ہمارے دین کی حفاظت کرے ہمارے ایمان کوتقویت بخشے ہمارے علم ویقین میں اضافہ فرمائیں اورہماری عاقبت بخیرکرے حرم ائمہ اطہارآشیانئہ آل محمدشہرمقدس قم میں خداوندعالم کی حمدوثناء طلب مغفرت اوراس کے آگئے سرتسلیم خم کرتے ہوئے ان وصیتوں کوتحریرکیاہے۔

یہ وصیتیں اوررسالہ ۱۴۱۰ہجری میں شائع ہوااس اعتبارسے استادعلام کی یہ آخری وصیتیں ہیں۔

خداوندعالم ہمیں اورتم سب کوان لوگوں کے ساتھ قراردے جواولیاء خداکے نقش قدم پرچلتے ہیں اوران کی وصیتوں پرعمل کرتے ہیں ان کے افعال وآثار کی جلوت وحکومت میں پیروی کرتے ہیں اس کے ذریعہ اپنے نفسوں کوپاک کرتے ہین نیک صفات اوراچھےاخلاق سے آراستہ ہوتے ہیں اوراپنے رب سے ملاقات اوراسی کی طرف بازگشت کرتے ہیں۔

____________________

(۱) ۔ بحارالانوارجلد۔ ۱۰۳ ص۱۹۵

(۲) ۔ اس سے امام زمانہ ، نومعصومین ازچہادم تادوازدہم یاولایت یااسم اعظم کی طرف اشارہ ہے۔

(۳) ۔وصیت میں ۔کلمہ ارحم الرحمین کاذکر نہیں ہے ۔


وفات حسرت آیات

رکن الاسلام ملاذالانام آیۃ اللہ العظمیٰ السید شہاب الدین الحسینی المرعشی النجفی کی جانسوزرحلت سے شہرقم ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے ارکان لرزگئے۔

آپ نے صحن حرم سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہامیں نمازمغرب کی امامت کے بعدشب پنجشنبہ ۷صفر۱۴۱۱ھ کواپنے پروردگار کی نداپرلبیک کہی اس خبرکے پھیلتے ہی شہروں میں سیاہ پرچم نصب کردئے گئے چہروں پہ رنج وغم کے آثار ظاہرہوگئےآنکھیں اشک آلود ہوگئیں دل غم زدہ اورلبوں پرآہ ونالے تھے ۔

ایران بلکہ تمام امت اسلامیہ کے اوپریہ عجیب رنج وغم کادن تھا آنکھیں رورہی تھیں اورواسیداہ عزاعزااست امروزمہدی صاحب زمان صاحب عزااست امروزکے فلک شگاف نعروں سے فضاء گونج رہی تھی۔

آپ کاجسدمبارک آپ کے امامباڑہ میں شب جمعہ تک رکھاگیااوروصیت کے مطابق تابوت کومنبر حسینی سے باندھ دیاگیاروزجمعہ آپ کے حسینیہ میں عزاداروں کاایک جم غفیرجمع ہوگیاجواپنے سروں اورچہروں پرحزن وغم کے عالم میں طمانچے لگارہے تھےسیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب پرگریہ وزاری اورمراسم عزاکے بعدآپ کاجنازہ کاندھوں پراٹھایاگیالوگوں کاٹھاٹھیں مارتاہواسمندرچلاآرہاتھاآنکھیں اوردل سے خون کے آنسوبہہ رہے تھے۔

آپ نگاہوں مین پوشیدہ ہوگئے لیکن دلوں میں آج بھی زندہ ہیں اورقیامت تک زندہ رہیں گے آپ تاریخ میں اپنے نیک اخلاق ،عزم راسخ ،استقامت وپامردی، مسلسل جہادمستحکم ارادے نفع بخش آثار ہمیشہ رہنے والی برکتوں اورگراں بہاافاضات کے ذریعہ زندہ رہیں گے آپ کامقام تمام مسلمانوں اورخصوصیت سے علماء کے دلوں میں باقی رہے گا۔

سچ ہے آپ صاحبان زہدوتقویٰ اوروارثان علم وفضائل کیلئے ایک روشن چراغ تھے وہ روشنی خاموش ہوگئی جوبزرگی اورعظمت کی طرف پیش رفت کرنے والے افراد کی رہنمائی کررہی تھی۔

میں نے آپ کے ساتھ برسوں زندگی بسرکی لیکن خیروتقویٰ کے علاوہ کسی اورشئی کامشاہدہ نہیں کیاآپ کاعمل آخرت کی طرف رغبت اورآپ کی باتیں علم میں زیادتی پیداکرتی تھیں آپ کی زیارت سے خدایادآتاتھاآپ کی پوری زندگی خیراعمال اورافتخارات سے اس طرح بھری ہوئی کہ آپ زہدوتقویٰ وورع اوراعمال خیرکی بجاآوری نیزعلمی ثقافتی اورسماجی خدمات کیلئے ضرب المثل بن گئے تھے۔درحقیقت آپ کوموت نہیں آئی ہے بلکہ آپ ایک روشن چراغ کی طرح بھی ضوفشاں ہیں۔

سلام اس دن پر جب آپ پیداہوئے------- ۲۰صفر۱۳۱۵ہجری

سلام اس دن پر جب آپ کی روح رحمت ایزدی کی طرف گئی----- ۷صفر۱۴۱۱ہجری

سلام اس دن پر جب آپ مومنین کے کاندھوں پربلندہوئے------ ۹صفر۱۴۱۱ہجری

سلام اس دن پر جب آپ اپنے عمومی کتب خانے میں قبرکےاندراتارے گئے روزجمعہ ۹صفر۱۴۱۱ہجری ۱۲بجے قبل الظہر۔

اورخداکے مقرب ملائکہ نے سلام کرتے ہوئے جنت کی بشارت دی۔

اور سلام اس دن پر جب زندہ مبعوث ہوں گے آپ کانامہ اعمال آپ کے داہنے ہاتھ میں ہوگااوراپنے اجدادطاہرین کی طرف آپ کوخداکے نزدیک حقیقی قیام گاہ کی بشارت دی جارہی ہوگی۔

آپ کے بعدلوگ آپ کی پاکیزہ روح آپ کی محبت اہل بیتؑ آپ کے نیک افکاراورعزم وجزم سے فیض حاصل کرتے ہیں۔

آپ نے مطبوعات ومخطوطات کاعلمی ذخیرہ، علماءوطلباء کی ایک طویل جماعت ،دینی مدرسے ،امامباڑے اورعمومی کتب خانہ جس کی عالم اسلام میں کوئی نظیرنہیں اپنے بعدآنے والوں کیلئے ترکہ کے طورپرچھوڑے۔

اے میرے سیدوسردارخداکی قسم میرے اورتمام چاہنے ولاوں کے اوپرآپ کافراق دشوارہے نیزیہ کتناسخت ہے اس زمانے میں آپ کامرثیہ پڑھاجائے۔

اے میرے سیدوآقامیں وہ آخری ساعت کبھی نہیں فراموش کرسکتاجب آپ کی وفات کے دوروزقبل دوشنبہ کے دن ۸بجے صبح آپ کی خدمت میں حاضرہواتھا۔

میں آپ کے پاس الحاج حسین شاکری کی کتاب علی فی الکتاب والسنہ پرتقریظ لکھوانے گیاتھاجب میں نے اپنااورمصنف کامقدمہ نیزکتاب کی کچھ عبارتیں پڑھ کرسنائیں توآپ نے فرمایااس نام کے آگےنجفی لکھدوہمیں فخرہے کہ ہم اپنے آپ کونجف اشرف سے منسوب کرتے ہیں پھرمیری طرف اشارہ کرت ہوئے فرمایاتم علم وادب میں یدطوبیٰ رکھتے ہوتم جانتے ہومیں محبت علی علیہ السلام میں مستغرق ہوں لیکن میری نگاہیں کمزورہیں تم تقریظ لکھدومیں نے تقریظ لکھ دی۔

پھرآپ نے مجھے صحیفہ سجادیہ ہدیہ کے طورپرپیش کی اورکہااسے ہرصبح پڑھتےرہناپھراس کے فضائل بیان کئے اس کے پہلے آپ نے صحیفہ سجادیہ استادطنطاوی کے پاس بھی بھیجاتھااورانھوں نے آپ کے پاس تحریرکیاتھا----انه دون کلام الخالق وفوق کلام المخلوق ----- یہ کلام خالق سے پست اورکلام مخلوق سے بالاکلام ہے۔

ہاں اےمیرے سیدوآقامیں نے تقریظ لکھدی جس طرح پہلے بھی لکھاکرتاتھالیکن جب میں نے آپ کے گھرکاارادہ کیاتواچانک مجھے روحانی باپ کےفراق اوراس عظیم حادثے کی خبرملی گھرپلٹ گیااورزبان پریہ جملہ جاری ہوا۔(یوم علیٰ آل الرسول عظیم)۔

اے میرے سیدوسردارچین سے سوجائیے ہم اپنے عہدکے مطابق آپ کی راہ پراخلاص کے ساتھ گامزن ہیں۔

انالله واناالیه راجعون

آپ کاغمگین فرزند

عادل علوی


استاد علام تذکروں میں"

ہمارے سماج اورمعاشرہ میں یہ عادت رہی ہے کہ اپنے درمیان کی عطیم شخصیتوں کاذکر ان کی وفات کے بعد کرتے ہیں اورجلدی جلدی میں کچھ مختصرسے تذکرکرکے اس کی شخصیت بلندمقام کی تجلیل کیلئے شائع کرتے ہیں۔

لیکن عصرحاضر کے بعض تذکرہ نویس محققین نے علماء اورمراجع کی زندگی میں ان کے حالات لکھنے کاایک نیاباب کھولاہے حجۃ الاسلام سیداحمدحسینی جوکثیرکتابوں کے مولف ہیں انھوں نے علماءامامیہ کاایک تذکرہ بھی لکھاہے جس میں زندہ اورفوت شدہ اہل علم کے تذکرے ہیں ۔

انہیں بزرگ علماء میں جن کاتذکرہ ان کی زندگی میں لکھاگیاہیں ایک استادعلام بھی ہیں اس طرح آپ کی پاکیزہ زندگی تاریخ کاجزبن گئی بعض مولفین ومورخین نے بھی اپنی کتاب میں آپ کاتذکرہ اشارے کے طورپرکیاہے ہم چندکتابوں کے نام تحریرکرتے ہیں جس میں آپ کاذکرہے۔

۱۔معارف الرجال۔۔۔ یہ کتاب استادشیخ محمدحرزالدین نجفی کی عربی زبان میں تین جلدوں پرمشتمل ہے دوسری جلدمیں ص۲۶۸سے ص۲۷۱اوراسی طرح ص ۳۹۵ سے ص۳۹۸ تک استادعلام کاذکر ہے اس کے علاوہ آپ کے والدکے بھی حالات ذکرہیں یہ نجف اشرف سے طبع ہوئی ۔

۲۔آئینہ دانشوران۔۔۔۔ یہ فارسی زبان میں سیدعلی رضاریحانی یزدی کی تحریرہے جو۱۳۵۴ہجری میں طبع ہوئی ص۲۵ سے ۶۲ اورص ۳۵۵ پرآپ کے حالات درج ہیں۔

۳۔زیربنائے تمدن وعلوم اسلامی ۔۔۔۔۔یہ عقیقی بخشایشی کی تالیف ہے ،قم سے طبع ہوئی ص۱۸۰ سے ص۱۸۴ تک آپ کے حالات ہیں۔

۴۔ آثار الحجۃ یہ شیخ محمدرازی کی تالیف ہے قم سے طبع ہوئی ص۴۶ سے ص ۵۳ تک

۵۔ مجلہ جہاں پزشکی ص ۶۵ سے ص ۷۰تک

۶۔ ریحانۃ الادب ۔۔۔ یہ شیخ محمدمدرس تبریزی کی تالیف ہے دوسری دفعہ ۸جلدوں میں شائع ہوئی تیسری جلدمیں ص۱۲۹ سے ص ۱۳۴ ص تک

۷۔ علماء معاصرین۔۔۔ یہ جلدعلی واعظی خیابان کی تالیف ہے طہران سے ۱۳۶۶ ہجری میں شائع ہوئی ص۳۱۷سے ص ۴۱۹تک

۸۔گنجینہ دانشمندان ۔۔۔ یہ کتاب شیخ محمدرازی کی ۸جلدوں پرمشتمل تالیف ہے دوسری جلدمیں ص۳۷سے ص۵۲ اوراسی طرح ص۳۱۵سے ص ۳۱۹تک

۹۔گنجینہ دانشوران۔۔۔ تالیف شیخ رحیمی قمی ص۱۵ -۱۶

۱۰۔گنجینہ آثارقم۔۔۔ تالیف شیخ عباس فیض ص۶۵۲۔۶۵۳

۱۱۔ اخترتابناک ۔۔۔ تالیف شیخ ذبیح اللہ محلاتی طہران سے طبع ہوئی ص۲۵۶

۱۲۔اعیان الشیعہ ۔۔۔ تالیف علامہ سیدمحسن امینی عاملی۔

اسی طرح استادعلام کی حیات اورخیراعمال کے تذکرے ،رسالے اورمجلوں میں بھی ان کی زندگی میں شائع ہوئے ہیں لیکن ان کی وفات حسرت آیات کے بعدبہت سے افراد نے رسالوں اور روزناموں میں ان کے حالات زندگی تحریرکئے جیسے نورشمارہ ۳۷ ربیع الاول سنہ ۱۴۱۱ہجری ص۴۸ سے ۸۶ تک فاضل معاصراستادناصرباقری بیدہندی دام ظلہ کے قلم سےاس مجلہ میں آپ کاذکر کیاگیاہے۔

استادعلام کے قلم سے"

استادعلام کی کتاب "الاجازہ الکبیرہ" کی تصحیح وتہذیب کے آخری مرحلے میں مجھے ان کے اس زندگی نامہ پراطلاع ملی جسے انھوں نے خوداپنے قلم سے تحریر کیاتھامیں نے اسے اپنی کتاب خورشیدفقاہت میں شامل کرلیاہے تاکہ اس خاتمہ خوشبوکے ہم مثل ہو۔

استادعلام نے کتاب کی نویں فصل میں تحریرکیاہے کہ میرے بعض دوستوں اوربھائیوں نے مجھ سے میرے حالات زندگی لکھنے کی درخواست قبول کی لہذابطوراختصاراپنے حالات تحریرکررہاہوں ۔

میرانام شہاب الدین محمد الحسین ابوالمعالی ہے نجفی خادم علوم ائمہ اطہاراورنساب عترت طاہرہ سے مشہورہوں ۲۰ صفر۱۳۱۵ ہجری صبح پنجشنبہ نجف اشرف میں میں نے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی یہی وہ پہلی زمین تھی جس کی مبارک خاک سے میراجسم مس ہوا۔

الحاج مرزاحسین خلیلی رازی ،الحاج مرزاحسین نوری،الحاج سیداسماعیل الصدرموسوی اصفہانی اورسیدمرتضی ٰ رضوی کشمیری ھندی قدس اللہ انفسہم الزکیہ جیسے آیات عظام اوربزرگان علم وفضل نے میرے کانوں میں اذان واقامت کہی۔

میرے والدعلام مجھے غسل وطہارت کے بعدحرم حضرت امیرالمومنین علیہ السلام لے گئے اورمجھے ان کے مزارمقدس کاطواف کرایا۔

اپنی ۵سال کی عمرسے میں اپنی جدہ ماجدہ فاضلہ طباطبائیہ کے نزدیک قرآن پڑھنے میں مشغول ہوگیااوران سے بعض ادبی کتابوں کادرس بھی لیا۔

شیخ شمس الدین عشق آبادی ،سیدمحمودمعلم حسنی مرعشی اوردیگراساتذہ سے میزان ونحواوردوسرے علوم کے دروس حاصل کئے۔

علامہ ادیب سیدکاظم خرم آبادی نحوی،شیخ مرتضیٰ طالقانی ،شیخ محمدحسین اصفہانی سدہی ،مرزامحمدشیرازی،مرزاآقااصطہباناتی، شیخ حسن رشتی ،شیخ عبدالحسین رشتی،مرزاعلی آقاایروانی، مرزاابوالحسن مشکینی اورشیخ محمدحسین طہرانی جیسے آیات عظام سے فقہ واصول کے سطحی دروس حاصل کئے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ عبدالکریم حائری ،آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ آقاضیاء الدین عراقی اور آیۃ اللہ العظمیٰ آقارضااصفہانی سے فقہ واصول کادرس خارج حاصل کیا۔

استادشیخ مرزامحموداہری ،شیخ حیدرعلی رقاع نائینی (مولف حواشی برشرح الچغمینی) آقاحسین نجم آبادی ،مرزاباقرایروانی،یاسین علی شاہ ہندی اورسیدہبۃ الدین شہرستانی جیسے سرمایئہ افتخار افراد سے میں نے بعض ریاضی اوردوسرے علوم کی تکمیل کی۔

شیخ عبدالکریم بوشہری (مولف کتاب شش ہزار مسئلہ)جوشیرازمیں مدرسہ سعادت کے موسس بھی ہیں ،آقامحمدمحلاتی (مولف کتاب گفتارخوش یارقلی)اورشیخ محمدمنجم جیسے حضرات سے میں نے حساب،ہندسہ اوردوسرے علوم حاصل کئے۔

شیخ محمدحسین بن خلیل شیرازی،والدعلام اورجن لوگوں نے مجھے اپنی آغوش تربیت میں پروان چڑھایاان سے علم تفسیرکے رموزواسرارحاصل کئے۔

علامہ سیدابراہیم راوی،شیخ نورالدین شافعی،علامہ سیداحمدآقاشوستری اورعلامہ الحاج مرزافرج اللہ تبریزی سے علم تجویدوقرائت کے گہرے مفہوم سیکھے،والدعلام،سیدمہدی اورسیدرضاسے علم نسب سیکھا۔

ڈاکٹرعلیخان عندلیب زادہ سے مسالک ،ممالک ،اورجغرافیہ پڑھا۔

مرزاطاہرتنکابنی ،اورالحاج ملاعلی محمدنجف آبادی سے ،علم کلام وفلسفہ پڑھا۔

خداان سب کوجزائے خیردے اورمجھے ان کے حق کے پرداخت کی توفیق عنایت کرے۔

بعض علماء اہل سنت اورعلماء زیدیہ سے میں نے ان کی فقہ کی تعلیم میں شرف تلمذحاصل کیا۔جن میں شیخ نورالدین شافعی سے علم تجویداورتلاوت قرآن کریم کے اسرارسیکھے ،سیدعلی خطیب نجف اشرف سے صحیح بخاری کاایک ثلث شیخ عبدالسلام کردستانی سے صحیح مسلم اورسیدعبدالوہاب نجفی مفتی کربلاء سے شمائل ترمذی پڑھی۔

ائمہ زیدیہ سے صحیفہ علی بن موسیٰ الرضااورامالی ابوالحسن ہارونی پڑھی۔

علامہ سیدجمال الدین احمدحسینی زیدی سے النفخہ العنبریۃ فی سلالۃ خیرالبریۃ پڑھی جواصل کےاعتبار سے یمنی ہیں ،یہ عراق سیروسیاحت کی غرض سے تشریف لائے تھے مشہدکاظمیہ میں ان کاانتقال ہوااوروہیں دفن ہوئے۔

نجف اشرف ،میں اپنے قیام کے دوران حرم امیرالمومنین علیہ السلام سے توسل کرتے ہوئے میں نے مختلف صاحبان علوم وفنون سے بہت کچھ استفادہ کیا۔

۱۳۳۹ ہجری میں سامراگیا اوروہیں سکونت اختیارکرلی،وہاں میں باہمی میل جول اوراپنوں سے روگرداں رہتے ہوئے پروردگارسے لولگاکرایک مدت تک علوم کی تحصیل میں مشغول رہا، اس بلندوبالامقام اورمقدس روضے کی برکتوں سے میں نے بہت کچھ استفادہ کیا،جسے زبان قلم بیان کرنے سے عاجز ہے اس کے بعدمیں کاظمین گیااوروہاں توسل کیا،کاظمین میں اپنے قیام کے دوران میں نے آیۃ اللہ سیدحسن صدرسے علم رجال ،درایہ اورفقہ کے دروس حاصل کئے۔

آیۃ اللہ شیخ مہدی خالصی سے اصول اورسیدابراہیم راوی شافعی بغدادی (جوبغدادمیں سیدسلطان علی کے مدرس ہیں)سے تفسیراورحدیث عامہ کے دروس حاصل کئے۔

پھرمیں ۱۳۴۲ہجری میں زیارت امام رضاؑ کے ارادے سے ایران تہران میں تقریباً ایک سال تک آیۃ اللہ شیخ عبدالنبی آیۃ اللہ شیخ آقاحسین آبادی جیسے آفتاب علم سے کسب فیض کیا پھر میں نجف اشرف لوٹ آیااپنے وظائف میں مستقل طورپرمصروف ہوگیا۔

۱۳۴۳ہجری میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہابنت موسیٰ بن جعفرؑ کی زیارت کیلئے قم آیااوریہیں مقیم ہوگیااس کے باب سے میں نے پناہ طلب کی ۔اس کے حضورتوسل کیا،ان کے کرم کے ذریعہ پناہ مانگی ۔

ایساکیوں نہ ہوفاطمہ معصومہ (س)ایسے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں عظمت وبزرگی کالباس پہنایاگیاہے آثارامامت جن کی پیشانی پرچمک رہے ہیں جس نے بھی ان سے توسل کیااورپناہ کاخواستگاہ ہوااسے اس دنیا میں کبھی ناکامی نصیب نہیں ہوئی۔

قسمت خداسے مجھے ۱۳۵۰ ہجری میں حضرت شاہ چراغ کی زیارت نصیب ہوئی جواپنے بھائی محمدعابدکے ساتھ شیرازمیں دفن ہیں یہ دونوں حضرات امام موسیٰ کاظم کے فرزنداورامام علی رضاعلیہ السلام کے بھائی ہیں۔

۱۳۵۴ہجری میں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی زیارت مشرف ہوااور آستانہ مقدسہ کابوسہ لیا۔بہت سے لوگوں نے اس سفر میں میرے اوپراحسانات بھی کئے۔

قم مقدسہ میں اپنے قیام کے دوران میں اراک ،ہمدان ،بوشہر،زنجان ،تبریز،شاہرود،سبزوار،قزوین،اصفہان،نیشاپور،شیراز،

ابھر،میانج اوردوسرے شہروں کے سفرکئےجہاں میں نے صاحبان علم وفضل سے ملاقات کی جن سے میں نے خودبھی فائدہ حاصل کیااورانہیں بھی میں نے فائدہ پہنچایا۔

میری طبیعت کی جولانی اورروحانی قلم نے فقہ واصول حدیث وکلام ،ادب وتاریخ ،رجال وانساب ،ریاضی اوردوسرے علوم میں نایاب کتابیں تحریرکی ہے جن میں سب سے اہم مشجرات الھاشمین ہے جسے مشجرات آل رسول اللہ الاکرام بھی کہتے ہیں۔

یہ میراوہ قیمتی ذخیرہ ہے جسے میں نے اپنے فقروفاقہ اورتنگدستی کے زمانے میں جمع کیاتھامیں نے اس میں سادات کرام کے نسب بیان کئے ہیں جوکسی اورکتاب میں نہیں ہیں۔

نیزمیں نے اس کتاب میں اپنے والدعلام شیخ محمدمہدی غریفی بحرانی اوران کے برادران کے برادرسیدمحمدرضاکی طرف سے اپنے مسموعات اورمرویات بیان کردئیے ہیں ۔

۱۔ مصباح الھدایۃ۔۔۔۔۔ یہ کفایہ پرحاشیہ ہے ۔

۲۔ مسارح الافکارفی حل مطارح الانظار۔۔۔۔ یہ شیخ انصاری کی تقریرات پرحاشیہ ہے۔

۳۔ سادات طغرودکے نسب کے بارے میں ایک رسالہ۔

۴۔ تعلیقہ۔۔۔ یہ کتاب احقاق الحق پرآپ کاتعلیقہ ہے جس میں ہمارے اوردوسروں کے درمیان فقہ واصول کے اختلافی مسائل کے سلسلے میں علماء شیعہ کے مدارک بیان کئے گئے ہیں ۔

یہ تعلیقہ کئی جلدوں میں ہے جس کے مطالعہ سے عقل حیران ہوجاتی ہے۔

۵۔ تعلیقہ برعمدۃ الطالب۔۔۔ یہ سادات علوی اورخاص طورسے ان لوگوں کے حالات زندگی پرمشتمل ہے جن کاذکر اسانیدروایت میں ہواہے میں نے اس کی جمع آوری میں کافی مشقتیں برداشت کی ہیں اس کامطالعہ کرنے والے بہت سے ایسے افراد سے آگاہ ہوں گے جن کی طرف اسناد کیاگیاہے اورجن سے روایت کی گئی ہے اوررجال کی کتابوں میں جن کاذکرمدح اورقدح سے نہیں ہواہے ،شنیدہ کے بودماننددیدہ خداوندعالم مجھے اس کے اتمام اورتدوین کی توفیق دے۔

۶۔ مزارات العلویین۔۔۔ یہ کتاب میں ساری دنیاکے سادات کرام کی قبروں کاتذکرہ ہے میں نےاس کی تالیف میں بہت مشقتیں برداشت کی ہیں یہ اپنے موضوع کے اعتبارسے نایاب ہے ۔

۷۔طبقات النسابین ۔۔۔ یہ دوجلدوں میں ہے جس میں پہلی صدی سے عصرحاضرتک کے علماء کانسب بیان کیاگیاہے ۔یہ کتاب اپنے باب میں یگانہ ہے۔

۸۔ رسالہ ۔۔۔۔ ایک رسالہ فقہی اصطلاحات پرمشتمل لغت کے طرزپرلکھاہے۔

۹۔جذب القلوب الیٰ دیارالمحبوب۔

۱۰۔ کشکول ۔۔۔ یہ چندجلدوں میں ہے۔

۱۱۔تعلیقہ برفرائدالاصول۔

۱۲۔تعلیقہ برقوانین ۔

۱۳۔تعلیقہ برشرح لمعہ۔

۱۴۔ تعلیقہ برحاشیہ ملاعبداللہ درمنطق۔

۱۵۔تعلیقہ برمطول جس کا نام میں نے المعول فی امر المطول رکھاہے۔

۱۶ ۔تعلیقہ برنخبۃ المقال (علامہ حسین بروجردی کی کتاب ہے یہ تعلیقہ متن کے ساتھ شائع ہواہے)

۱۷۔ سجع البلابل ۔۔۔ یہ کتاب صاحب وسائل کے حالات زندگی پرمشتمل ہے اثبات الھداۃ کے ساتھ طبع ہوچکی ہے۔

۱۸۔ اللیالی الثمنیہ ۔۔۔ یہ کتاب علامہ علی ،سلطان محمدخدابندہ ،علامہ قاضی نوراللہ شرستری اوردوسرے علماء کے حالات زندگی کے بارے میں ہے یہ کاتاب احقاق الحق کی پہلی جلدکے ساتھ شائع ہوئی۔

۱۹۔ ایک رسالہ علامہ ابن فتال نیشابوری صاحب کتاب روضۃ الواعظین کے حالات پرمشتمل ہے جواسی روضۃ الواعظین کے ساتھ طبع ہوا۔

۲۰۔ مغرج الکروب۔۔۔ یہ رسالہ صاحب ارشادالقلوب علامہ شیخ حسن الدیلمی کے حالات زندگی پرلکھاگیاہے جوکتاب کے ترجمے کے ساتھ آخر میں شائع ہوا۔

۲۱۔ رسالہ درسیروسلوک۔

۲۲۔ رسالہ درعلم جفر۔

۲۳۔ صاحب النفخہ العنبریۃ سیدابوالفضل یمانی کے حالات پرایک رسالہ۔

۲۴ ۔ کتاب درنفی تحریف قرآن۔

اس کے علاوہ اوربھی رسالے،متون ،حواشی تحریرکئے ہیں میں خداکے فضل عمیم سے لولگائے ہوں وہ مجھے یقیناً اس کی بہترین جزادے گا۔

میرے حلقہ درس سے فقہ واصول تفسیروکلام نیزدوسرے علوم میں ہزاروں علماء پیداہوئے ہیں جن میں اکثرحضرات سے میں راضی ہوں کم ہی ایسے ہیں جن پرشیطان نے تسلط اختیارکرکے انھیں ذکرخداسے بھلادیاہے جس کے سبب وہ روحانی لباس سے کنارہ کش ہوگئے۔والسلام

نظم

مختصراس کی سمجھئے عزوشان اجتہاد وہ تھاچرخ دیں پہ مہرضوفشان اجتہاد

ٹوٹ کربرساتھااس پر ابرنیسان نجف وہ زمین علم پرتھاآسمان اجتہاد

تشنگان علم پڑھتے تھے نمازآگہی وہ دیاکرتاتھامنبرسے اذان اجتہاد

انفرادی شان رکھتاتھا فن تدریس میں جس میں جوہرمل گیادیدی زبان اجتہاد

اب کدھرجائیں کہ بڑھتی جارہی ہے تشنگی

قم تھاساحل وہ تھابحرہ بیکران اجتہاد

اصغراعجازقائمی


مؤلف کی زندگی کااجمالی خاکہ

حجۃ الاسلام والمسلمین جناب سیدعادل علوی صاحب قبلہ سنہ ۱۳۷۵ ہجری قمری عراق کے مقدس شہرکاظمین میں متولدہوئےآپ آیۃ اللہ سیدعلی بن الحسین علوی کے فرزندہیں آپ کا نسب ۳۸واسطوں سےحضرت امام زین العابدین علیہ السلام تک پهنچتا هے ۔تیرہ سال کی عمرمیں ابتدائی دروس تمام کرنے کے بعدآپ حوزہ علمیہ نجف اشرف تشریف لائے اوروہاں اکابرفکروسخن اورنوابغ علم وفن کے چمنستان ادب کے خوشہ چینوں میں شامل ہوگئے اس کے بعداپنے والد مرحوم کے ہمراہ سنہ ۱۳۹۱ہجری قمری میں عراق سے قم کی طرف ہجرت فرمائی اورحوزہ علمیہ قم کے مختلف اساطین علم وادب کے نزدیک مکمل انہماک کے ساتھ دورس کے مراتب طے فرمائے اورآج اسی میں خیارات مکاسب اورکفایۃ الاصول کی تدریس میں مشغول ہیں آپ نے چندعلمی ادبی ثقافتی اوراسلامی کارنامے بھی انجام دئے جن میں مندرجہ ذیل قابل ذکرہیں۔

احی ادارے ہیں جس سے عام لوگ فائدہ اٹھارہے ہیں ۔جن میں سے کچھ یہ ہیں۔

۱۔درمانگاہ خیریہ امام سجاد علیہ السلام قم

۲۔ کتابخانہ امام موسی بن جعفرِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِِعلیہ السلام تہران

۳۔کتابخانہ امام رضاعلیہ السلام جو مشہدکےحسینیہ امامین جوادین علیھماالسلام"میں واقع ہے۔

۴۔انجمن پرسش وپاسخ

۵۔ موسسہ اسلامی تبلیغ وارشاد ۔۔۔۔ دنیاکے ۵۰ ممالک سے اس کی خط وکتابت جاری ہے اس موسسہ کی طرف سے اسلامی کتابیں اورجریدے بلاقیمت دوسرے ممالک بھیجےجاتے ہیں اوراب تک اس موسسہ کی طرف سے ۱۶ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔

۶۔ "مجلہ الکوثر" شش ماہی (عربی،انگریزی)

۷۔ مجلہ "عشاق اہل بیت( ع) " سہ ماہی مجلہ (اردو)

۸۔ ماہنامہ "صوت الکاظمین (عربی)

۹۔ مدرسہ امامین جوادین علمیہ وحسینیہ امامین کاظمین وموسسئہ خیریہ (قم)

۱۰۔تاسیس جماعت علماء خطباء (کاظمین وبغداد)

آپ مشہداورتہران کے حسینیہ امامین جوادین کے متولی ،کاشان ،اصفہان، قم ، اھواز،اورتہران کے دسیوں امامباڑے کے ناظرنیزقم میں مسجدعلوی کے امام جماعت ہیں۔

حوزہ علمیہ کے تقریباً ۲۰ فقہاء اورمجتہدین نے آپ کواجازہ روایت دیاہے( ۱ ) جن میں آیۃ اللہ العظمیٰ سیدشہاب الدین مرعشی نجفیؒ نے آپ کو(حجۃ الاسلام ذخرالمدرسین العظام آیۃ اللہ العظمیٰ گلپائیگانی (رہ)آیۃ اللہ العظمیٰ اراکی(رہ)نے (علامہ)اورآیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمدفاضل لنکرانی نے (حجۃ الاسلام والمسلمین العالم الفاضل والمتتبع الکامل صاحب التالیف القیمہ والتصانیف الثمینہ المفتخربشرف السیادہ)سے توصیف فرمایاہے ۔جب آپ کی عمر۲۵ سال تھی آیۃ اللہ عبداللہ شیرازی نے آپ کواجازہ روایت میں العلامۃ الفاضل السیدعادل علوی اسماومعنی تحریرفرمایاہے۔

۱۶ سال کی عمرمیں آپ آیۃ اللہ العظمیٰ السیدابوالقاسم خوئی(رہ)کے زیرنظرمعمم ہوئے انھوں نے آپ کے حق میں تائیدیہ اوردعاتحریرفرمائی ہے۔

دین اسلام کی ترویج وتبلیغ کیلئے آپ نے مختلف اسلامی ممالک کے سفربھی کئے اوراب تک دس مرتبہ حج بیت اللہ الحرام سے مشرف ہوئے ۔آپ نے اب تک سوکتابیں اوررسالے تحریرفرمائے ہیں۔

مولف کی مطبوعہ کتابیں اوررسالے(( ۲ ) )

آپ کاسب سے پہلامقالہ کلمۃ حول عظمۃ الحج کے عنوان سے سنہ ۱۳۹۱ہجری قمری میں بغدادسے شائع ہوااس وقت آپ ۱۶سال کے تھے۔

آج بھی آپ کے مقالے رسائل وجرائدمیں برابرشائع ہوتے رہتے ہیں۔

آپ نے آیۃ اللہ العظمیٰ سیدمرعشی نجفی ؒ کافقہی اورعملی رسالہ عربی زبان میں دوجلددوں میں (عبادات ومعاملات)منھاج المومنین کے نام سے تحریرفرمایاہے جوان کے فتاوے کے مطابق ہے یہ رسالہ ۱۴۰۶ہجری قمری میں شائع ہوا۔نیزان کے رسالہ عملیہ توضیح المسائل کی تصحیح وترتیب بھی فرمائی ہے۔

مولف کی مطبوعہ کتابیں

۱۔ الحق والحقیقہ بین الجبروالتفویض۔۔۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ ۱۳۹۸ھ میں شائع ہوئی۔

۲۔ احکام دین اسلام (فارسی)۔۔۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ ۱۳۹۸ھ اوردوسری مرتبہ ۱۴۰۳ہجری میں شائع ہوئی۔

۳۔ لمحۃ من حیاۃ الامام القائد۔۔۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ ۱۳۹۹ہجری اوردوسری مرتبہ ۱۴۰۷ ہجری میں شائع ہوئی۔

۴۔ راہنمائی قدم بقدم حجاج (فارسی)۔۔ یہ کتاب دوسری مرتبہ ۱۴۰۰ ہجری میں شائع ہوئی۔

۵۔ السعیدوالسعادۃ بین القدماء والمتاخرین ۔۔۔ طباعت ۱۴۰۱ہجری۔

۶۔ عقائدالمومنین ۔۔۔ طبع ۱۴۱۱ہجری۔

مجلہ عشاق اہل بیتؑ میں اس کتاب کااردوترجمہ برادرمحترم مرغوب عالم صاحب قبلہ قسط وارپیش کررہے ہیں۔

۷۔ تحفۃ الزائرین ۔۔۔ طبع ۱۴۱۱ ہجری۔

۸۔ قبسات من حیاۃ سیدناالاستاذ ترجمہ اردو اصغراعجازقائمی بی-اے فاضل مشرقیات ۔طبع ۱۴۱۵ ہجری۔

۹۔دلیل السائحین الیٰ سوریہ ودمشق۔۔۔ طبع ۱۴۱۲ہجری ۔

۱۰۔لمحۃ من حیاۃ اعلام الامۃ الاسلامیہ فی دمشق ۔۔۔ ۱۴۱۲ہجری۔

۱۱۔ المعالم الاثریہ فی الرحلۃ الشامیہ ۔۔۔ طبع ۱۴۱۲ہجری ۔

۱۲۔التوبۃ والتائبون علیٰ ضوء القرآن والسنہ ۔۔۔۔ طبع ۱۴۱۲ہجری۔

۱۳۔ تحفہ فدوی یانیایش مومنان منتخب ازمفاتیح الجنان۔۔۔ طبع ۱۴۱۲ہجری۔

۱۴۔ القصاص علی ضوء القرآن والسنہ۔۔۔طبع ۱۴۱۵ہجری ۔

۱۵۔ فقہاء الکاظمیہ المقدسہ یہ کتاب ۱۴۱۳ہجری سےماہنامہ صوت الکاظمین میں شائع ہورہی ہے ۔

۱۶۔دروس الیقین فی معرفۃ الاصول الدین ۔۔۔ طبع ۱۴۱۵ہجری۔

۱۷۔التقیہ بین الاعلام ۔۔۔ طبع ۱۴۱۵ ہجری۔

مطبوعہ رسالے

۱۸۔ رسالۃ فی العشق ۔۔۔ یہ رسالہ ۱۳۹۶ہجری میں کتاب الرافدمیں طبع ہوا۔

۱۹۔رسالۃ امام وقیام (فارسی)۱۳۹۹ہجری میں دیدگاہہاوانقلاب اسلامی نامی کتاب میں طبع ہوا۔

۲۰۔ ومیص من قبسات الحق ۔۔۔ ۱۴۱۰ہجری میں علی فی الکتاب والسنہ میں طبع ہوا۔

۲۱۔ فی رحاب الحسینیات ۔۔۔طبع ۱۴۰۹ ہجری ۔

۲۲۔ رسالۃ دربیان المحذوف فی تتمہ کتاب الامربالمعروف ۔۔۔ یہ امرباالمعروف والنھی عن المنکرکےضمن میں ۱۴۱۱ہجری میں شائع ہوا۔

۲۳۔فی رحاب علم الرجال۔۔۔ ۱۴۱۱ہجری میں امربالمعروف نامی کتاب میں طبع ہوا۔

۲۴۔ رسالۃ المومن مراۃ المومن۔۔۔ ۱۴۰۹ہجری میں مجلہ نوراسلام شمارہ ۱۱۔۱۲ میں طبع ہوا۔

۲۵ ۔القول المحمودفی القانون والحدود۔۔۔ طبع ۱۴۱۲ہجری

۲۶۔ بہجۃ المومنین فی زیارت الشام ۔۔۔۔طبع ۱۴۱۲ ہجری ۔

۲۷۔ مقام الانس باللہ۔۔۔ ۱۴۱۳ہجری میں مجلہ نورالاسلام بیروت شمارہ ۴۰،۳۹،۳۸،۳۷ میں طبع ہوا۔

۲۸۔الروضۃ البہیہ فی شئون حوزۃ قم العلمیہ ۔۔۔ یہ رسالہ ۱۴۱۴ہجری میں مجلہ ذکرالبنان مطبوعہ قم کے ۴شماروں میں طبع ہوا۔

۲۹۔ السیرۃ النبویہ فی السطورالعلویہ ۱۴۱۴ہجری میں مجلہ نورالاسلام کے شمارہ ۴۰،۳۹ میں طبع ہوا۔

۳۰ ۔ سرالخلیقہ وفلسفۃ الحیاۃ ۱۴۱۴ ہجری میں مجلہ نورالاسلام کے شمارہ ۴۴،۴۳ میں طبع ہوااوراضافہ کےساتھ ۱۴۱۵ہجری میں مجلہ الکوثرشمارہ ۱میں طبع ہوا۔

۳۱۔حول دائرۃ المعارف والموسوعہ الفقیہ۔۔۔ یہ ۱۴۱۴ہجری میں پہلی کانفرنس علمی دائرہ معارف فقہ اسلامی قم کی طرف سے شائع ہوا۔

۳۲۔ رسالتنا۱۴۱۲ہجری میں ماہنامہ صوت الکاظمین کے ۴شماروں میں طبع ہوا۔

۳۳۔ علی ابواب شہررمضان المبارک ۱۴۱۲ہجری میں مجلہ نورالاسلام کے شمارہ ۴۶،۴۵ میں طبع ہوا۔

۳۴۔ التقیۃ فی رحاب العلمین الشیخ الانصاری ،الامام الخمینی ۔۔۔ اسے عالمی کانفرنس میلاد شیخ انصاری ۱۴۱۵ہجری نے شائع کیا۔

۳۵۔(فاسئلواھل الذکر)السوال والذکرفی رحاب القرآن والعترۃ مجلہ نورالاسلام کے شمارہ ۳۱،۳۰،۲۹ میں ۱۴۱۳ہجری کوطبع ہوا ۔

۳۶۔الانوارالقدسیہ نبذۃ من سیرۃ المعصومین علیہم السلام ماہنامہ صوت الکاظمین کے ۱۴ شماروں میں شائع ہوااس کا اردو ترجمہ مجلہ عشاق اہل بیت ؑ میں شائع ہورہاہے۔

۳۷۔ کلمۃ التقویٰ فی القرآن الکریم یہ مجلہ نورالاسلام میں طبع ہوااوراس کاانگریزی ترجمہ مجلہ الکوثرمیں ۱۴۱۵ہجری کوطبع ہوا۔

۳۸۔ مواعظ ونصائح (عربی،اردو)مجلہ عشاق اہل بیت ؑ میں شائع ہوا۔

۳۹۔دورۃ الاخلاق المحمدیۃ فی تحکیم مبانی الوحدہ الاسلامیہ یہ رسالہ ۱۴۱۵ ہجری تہران میں اتحاد اسلامی کی ساتویں عالمی کانفرنس کی طرف سے شائع ہواہے۔

۴۰۔ سہام فی نحرالوھابیہ ۔۔۔ ۱۴۱۵ہجری سے ماہنامہ صوت الکاظمین میں مستقل شائع ہورہاہے۔

۴۱۔ الحب فی ثورۃ الامام حسین علیہ السلام ۱۴۱۵ہجری میں مجلہ نورالاسلام شمارہ ۵۰ میں طبع ہوا۔

۴۲۔لماذاالشہورالقمریۃ ۱۴۱۵ہجری مجلہ الذکرکےشمارہ ۱۵میں طبع ہوا۔

۴۳۔ طلوع البدرین فی ترجمہ العلمین طبع ۱۴۱۵ہجری ۔

۴۴۔ النبوع وسرالنجاح فی الحیاۃ ۱۴۱۵ہجری مجلہ الذکر کےشمارہ ۱۶ میں طبع ہوا۔

۴۵۔ حب اللہ نماذج وصورہ ۱۴۱۵ہجری مجلہ میقات الحج کے شمارہ ۲میں طبع ہوا۔

۴۶۔ الاخلاص فی الحج ۱۴۱۵ہجری م مجلہ میقات الحج کے شمارہ ۲میں طبع ہوا۔

۴۷۔ حقیقۃ القلوب فی القرآن الکریم ۱۴۱۵ہجری میں مدرسہ حجتیہ کی طرف سے طبع ہوا۔

مخطوطات

۱۔ عزۃ المسلمین فی رحاب نہج البلاغہ

۲۔ معالم الحرمین مکۃ المکرمۃ والمدینہ المنورہ

۳۔القول الحمیدفی شرح التجرید

۴۔ الدورس الفقہیہ فی شرح الروضۃ البہیہ ۔۔۔ شرح لمعہ

۵۔تقریرات کتاب الطہارۃ لبحث آیۃ اللہ العظمیٰ محمدجوادالتبریزی دامت برکاتہ

۶۔ تقریرات دورۃ اصول کاملۃ لبحث آیۃ اللہ العظمیٰ محمدجوادالتبریزی دامت برکاتہ

۷۔ تقریرات دورۃ اصول کاملۃ لبحث آیۃ اللہ العظمیٰ الشیخ محمدفاضل دام ظلہ

۸۔ تقریرات دورۃ اصول کاملۃ لبحث آیۃ اللہ العظمیٰ السیدمحمدرضاگلپائیگانی قدس سرہ

۹۔ منھل الفوائد

۱۰۔الشعب یسال

۱۱۔ دورس الہدایۃ فی علم الدرایہ

۱۲۔ بدایۃ الفکرفی شرح الباب الحادی عشر

۱۳۔ الساسۃ اصولھاومناہجھا

۱۴۔لمحات من حیاۃ آیۃ اللہ العظمیٰ السیدعبداللہ الشیرازی قدس سرہ

۱۵۔لحظات مع شہیدالاسلام السیدالصدرقدس سرہ

۱۶۔لباب کفایۃ الاصول

۱۷۔ ماھوالعقل ومن ھم البقلاء

۱۸۔ غریزۃ الحب

۱۹۔فن التالیف

۲۰۔الآمال فی القرآن الکریم

۲۱۔ ماھی السیاسۃ الاسلامیہ

۲۲۔ ملک اللہ وملکوتہ فی القرآن الکریم

۲۳۔ کیف تکون مفسراً للقرآن الکریم

۲۴۔ ماذاتعرف عن علم الفلک

۲۵۔محاضرات فی علم الاخلاق

۲۶۔ من حیاتی

۲۷۔ من آفاق الحج والمذاہب الخمسہ

۲۸ ۔جلوۃ من ولایۃ اہل البیت علیہم السلام

۲۹۔ العمرۃ المفردۃ فی سطور

۳۰۔ الاصل حبنااہل البیت علیہم السلام

۳۱۔ کیف تکون موفقاًفی الحیاۃ

۳۲۔من وحی التربیہ والتعلیم

۳۳۔ الجرائم والانحرافات الجنسیہ

۳۴۔ تسہیل الوصول فی شرح کفایۃ الاصول

۳۵۔ روضۃ الطالب فی شرح بیع المکاسب

۳۶۔ زبدۃ الاسرار

۳۷۔سوال وجواب

۳۸۔ خصائص القائدالاسلامی فی القرآن الکریم

۳۹۔مختصردلیل الحاج

۴۰۔ الصدق والصداقۃ فی رحاب الاحادیث الشریعۃ

۴۱۔ علی المرتضی نقطۃ باء البسملہ

۴۲۔ فاطمہ الزہراۃ لیلۃ القدر

۴۳۔حقیقۃ الادب فی مذھب اھل البیت

۴۴۔ اھل البیت سفینہ النجاۃ

۴۵۔ زبدۃ الافکارفی نجاسۃ اوطہارۃ الکفار

اس کے علاوہ اوربھی مخطوطات ہیں۔

____________________

(۱) ۔ میں نے بذاتہ مولف کے پاس ان اجازوں کامشاہدہ کیاہے(مترجم)

(۲) ۔ کتاب سے مراد جو۱۰۰صفحے سے زیادہ ہو،رسالے سے مراد جو۱۰اور۱۰۰ صفحوں کے درمیان ہواورمقالے سے مرادجو۱۰ صفحے سے کم ہویہ وہ اصطلاحات ہیں جنہیں مولف نے اپنی تالیفات میں معین کی ہیں۔


استادعلام کےتلامذہ

نجف اشرف میں حوزہ علمیہ کی تاسیس بلکہ مدرسہ شیخ مفیداوربغداد میں مدرسہ سیدمرتضیٰ کی تاسیس ہی سے مراجع کرام کی نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ وہ ابتدائے حیات علمی سے آخرعمرتک تمام درسی مراحل میں تدریس کی کامل صلاحیت اورمہارت رکھتے تھے بلکہ بعض مراجع کرام ایسے بھی تھے جوشام کوان کتابوں کادرس دیتے تھے جن کے دروس صبح کوحاصل کرتے تھے پوچھاجاتاتھا جسے آپ نے ابھی صبح کوپڑھاہے کیسے شام کوان کادرس دیتے ہیں ہوسکتاہے طالب علم اعتراض کریں اورآپ جواب سے ناواقف ہوں توصبح کے درس کی طرف ہماراذہن متوجہ ہوجاتاہے اوراس سے ہم اس اعتراض کاحل تلاش کرلیاکرتے ہیں مدرسین عظام اورمراجع کرام کی یہی روشن خصوصیات ہیں۔( ۱ ) انہیں بزرگوں میں استادعلام بھی تھے۔

آپ نے ایک دن مجھ سے فرمایاتھانجف اشرف میں میں نے مقدمات کادس مرتبہ درس دیاخارج سے پہلے کی سطوح کی کتابیں مکررپڑھائیں اورمحقق آخوندکی کفایۃ الاصول کادرس ابتداء سے انتہاتک ۱۷ مرتبہ دیاتھاطلاب کرام کے بڑے حلقہ میں وسیع شہرت کے مالک تھے اوربہت سے صف اول کے علماء آپ کے تلامذہ میں سے تھے۔

قم مقدسہ میں اصول وفقہ کے درس خارج کی ابتداء اس وقت کی جب آیۃ اللہ العظمیٰ موسس حوزہ علمیہ قم شیخ عبدالکریم حائری کےساتھ تھے۔

آپ نمازصبح سے پہلے تدریس کاآغاز کرتے اورایک درس دینے کے بعد حرم شریف میں نمازصبح کے فرائض انجام دیتے اس کےبعد دوسرادرس پھرناشتے کی غرض سے آتے اورپھرپلٹ کردرس کیلئے جاتے یہ سلسلہ رات تک جاری رہتاہے۔

آپ نے حوزہ علمیہ قم میں ۷۰ سال تک سیدہ معصومہ فاطمہ بنت موسیٰ ابن جعفرعلیہم السلام کے جوار میں درس دئیے اوراپنے انفاس قدسیہ سے سیکڑوں اساتذہ ،علماء خطباء، محققین ،آیات اورحجج کی تربیت کی آپ کےشاگرداپنے ہم عصروں پرفوقیت لےگئے اوراپنے قوم کی طرف لوٹ آئے تاکہ انھیں انذارکریں۔

ان لوگوں نے آپ کے حلقہ درس سے علم حاصل کئے اورتمام اسلامی ممالک میں اس کی روشنی پھیلائی آپ سے کسب فیض کرنے والوں نے علم وعمل سیاست ،ثقافت اورشریعت میں نمایاں اوردرخشان کامیابی حاصل کی۔

قم مقدسہ میں آپ کے اہم تلامذہ۔

سیدباقرطباطبائی ،شیخ مرتضیٰ حائری یزدی،شیخ قوام الدین وشنوی قمی، شیخ محمدعلی توحیدی ،شیخ عباس مستقیم،شیخ صفائی ، شیخ ابوالمجدالاسلامی ،شیخ شہاب الدین اشراقی،سیدحسن نجوی،شہیدسیدمصطفی خمینی ،سیدعلی بن حسین علوی،شیخ مصطفی اعتمادی ،شیخ قدرۃ اللہ وجدانی ،شیخ حسن نوری،شیخ حسین غفاری،شیخ ابوطالب تجلیل تبریزی اوردیگربزرگان علم وفقہ ۔۔۔

تہران میں اہم تلامذہ۔

شہیدشیخ مرتضیٰ مطہری،شہیدشیخ حسین غفاری،آقایحیی عبادی،شیخ امامی کاشانی سیدمحمودطالقانی،شیخ علی اکبرہاشمی رفسنجانی۔

تبریزاورآذربائجان میں اہم تلامذہ۔

شہیدسیدمحمدعلی قاضی طباطبائی، شہیداسداللہ مدنی،شیخ ولی اللہ اشراقی، سیدابوالحسن مولانا،سیدابوالقاسم مولانا،شیخ یوسف علی مامقانی ۔

مشہد،گیلان اورمازندران میں آپ کے تلامذہ۔

مرزاجواد طہرانی،شیخ مروارید،شیخ احسان بخش،شیخ لاکانی،شیخ پیشوائی،شیخ حسن غروی، شیخ کاشفی ،شیخ مجتہدزادہ،سیدحجۃ اللہ موسوی،شیخ عبداللہ نظری ،شیخ ایازی، شیخ داراب کلائی۔

یزداوراصفہان میں آپ کےتلامذہ۔

شہیدشیخ محمدصدوقی ،سیدطاہراصفہانی، سیدعلی رضاریحانی، سیدجوادمدرسی،شیخ سالک ۔

ایران کے اطراف بروجردمیں شیخ محمدقوانینی، اراک میں شیخ یحیی ابوطالبی، بیرجندی میں شیخ محمدحسین نابغ، آیتی خوانسارمیں نجم الھدیٰ ،سیدمحمدغضنفری،سیدمحمدعلی ابن رضا،کاشان میں شیخ جعفرصبوری،شیخ اعتماد،شیخ حسین امامی ،ہمدان میں شیخ رضاانصاری ،شیخ باقرمہاجرانی،مرزامہدی مدرس،باختران میں شیخ محمدرضاکاظمی ،آقاعلاؤالدین آل آقا، اردبیل میں مرزاحسن طاہری جیسے شاگردہیں اس کےعلاوہ ایران اوردوسرے ممالک میں بھی استادعلام کےچمکتے ہوئے ستارے پائے جاتے ہیں۔

____________________

(۱) ۔ آپ نے یہ حکایت مرجع تقلیدآیۃ اللہ العظمیٰ خوئی رحمۃ اللہ سے نقل کیاہے۔


فہرست

مترجم : اصغراعجازقائمی۔ بی۔ اے۔ فاضل مشرقیات اھداء ۳

تقریظ ۵

حجۃ الاسلام والمسلمن عالی جناب مولانا محمدمجتبیٰ علی خان صاحب ادیب الہندی ۵

عرض مترجم ۷

مقدمہ مولف ۹

حیات استادچندسطروں میں ۱۳

کچھ آپ کے پاکیزہ نسب کے بارے میں ۱۳

آپ کےکچھ استاتذہ اورمشائخ روایت کےنام یہ ہے۔ ۱۴

ولادت اورابتدائی تربیت ۲۰

آپ کی علمی زندگی کااجمالی خاکہ۔ ۲۳

مختلف علوم میں آپ کےاساتذہ۔ ۲۴

۱۔ علوم عربیہ ۲۴

۲۔ سطح فقہ واصول ۲۵

۳۔ فقہ واصول کادرس خارج ۔ ۲۶

۴۔ علم کلام ۔۔ ۲۷

۵۔ علوم حدیث ،رجال ،تاریخ ،تراجم ۲۷

۶۔ علم تفسیر۔۔ ۲۸

۷۔ علم تجویداورقرائت۔۔ ۲۸


۸۔ حساب ،ہندسہ ،علم ریاضیہ ،علم افلاک، ہیئت ودیگرنادرعلوم ۔۔ ۲۹

۹۔ علم انساب ۔۔۔ ۳۰

۱۰۔ علم طب ۔۔ ۳۰

دوسرامرحلہ: ۳۲

تیسرامرحلہ۔ ۳۲

روایت میں آپ کےمشائخ۔ ۳۳

علمائے اسماعیلیہ نے بھی آپ کواجازہ روایت دیاہے جس میں درج ذیل قابل ذکرہیں۔ ۳۹

علمائے عامہ سے بھی آپ نے روایت کی ہے۔ ۴۰

آپ کی تصنیفات وتالیفات۔ ۴۱

انساب ،رجال ،تاریخ اورسفرنامے ۴۳

علم فقہ ۔ ۴۹

علم منطق۔ ۵۱

عربی ادب ۵۱

علم حدیث ۵۲

علوم قرآن کریم۔۔ ۵۲

دعائیں اورزیارتیں ۵۲

علم درایۃ۔ ۵۳

علم ہیئت۔ ۵۳

علوم غریبہ۔ ۵۳

علم کلام ۔۔۔ ۵۵


آپ کے کچھ سفراورسیاحتوں کاذکر ۵۹

آپ کے خیرات وبرکات ۶۲

انبیاء علیہم السلام مبارک ہیں۔ ۶۵

ہماراخدااسکی کتاب اس کانبی اوراس کاگھرمبارک ہے۔ ۶۶

عمومی کتاب خانہ ۶۸

کتاب کی قدر ۷۰

دینی مدرسے ۷۳

مدرسہ مرعشیہ۔ ۷۳

مدرسہ مھدیہ۔ ۷۴

مدرسہ مؤمنیہ ۔ ۷۴

مدرسہ شہابیہ۔ ۷۵

طلبہ کے لئے گھر ۷۵

ہاسپٹل ۷۵

امام باڑے اورمساجد ۷۶

طلبہ کی روٹی ۷۶

آپ کی سیاسی زندگی ۷۷

آپ کی سماجی زندگی ۷۸

آپ سماجی زندگی کی بہترین مثال تھے۔ ۸۱

آپ کی اولاد ۸۲

آپ کےاخلاق کی خوشبو ۸۳


استادعلام کے چندکرامات ۸۶

پہلی کرامت دست غیب ۸۶

دوسری کرامت "ایک سچاخواب" ۸۷

تیسری کرامت ایک سچاخواب جس میں حضرت معصومہؑ قم کی توصیف بیان کی گئی ہے۔ ۸۸

چوتھی کرامت ۹۰

خلاصہ ۹۴

پانچواں کرامت ۹۵

پہلاواقعہ ۹۶

دوسراواقعہ ۹۹

تیسرا واقعہ ۱۰۱

محبت حضرت امام حسین علیہ السلام ۱۰۴

استاد علام کی وصیتیں ۱۰۷

پہلی وصیت ۱۰۹

دوسری وصیت ۔ ۱۱۳

تیسری وصیت۔ ۱۱۴

وفات حسرت آیات ۱۱۷

استاد علام تذکروں میں" ۱۲۰

استادعلام کے قلم سے" ۱۲۱

نظم ۱۲۶

مؤلف کی زندگی کااجمالی خاکہ ۱۲۸


مولف کی مطبوعہ کتابیں ۱۳۰

مطبوعہ رسالے ۱۳۱

مخطوطات ۱۳۲

استادعلام کےتلامذہ ۱۳۶

قم مقدسہ میں آپ کے اہم تلامذہ۔ ۱۳۷

تہران میں اہم تلامذہ۔ ۱۳۷

تبریزاورآذربائجان میں اہم تلامذہ۔ ۱۳۷

مشہد،گیلان اورمازندران میں آپ کے تلامذہ۔ ۱۳۷

یزداوراصفہان میں آپ کےتلامذہ۔ ۱۳۸

خورشیدفقاہت

خورشیدفقاہت

مؤلف: آیت اللہ سید عادل علوی
زمرہ جات: اسلامی شخصیتیں
صفحے: 24