تقيه اسلام کی نگاہ میں

مؤلف: غلام مرتضي انصاری
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


تقيه اسلام کی نگاہ میں

تأليف

غلام مرتضي انصاري

gmansari۶۱@gmail.com


( بسم الله الرحمن الرحیم )

( مَن كَفَرَ بِاللهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ قَلْبُهُ مُطْمَئنِ‏بِالْايمَانِ وَ لَاكِن مَّن شَرَحَ ) ( بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ )

( مِّنَ اللهِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) ۔ نحل/ ۱۰۶

"جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ کا انکار کرے (اس کے لئےسخت عذاب ہے) بجز اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہیں) لیکن جنہوں نے دل کھول کر کفر اختیار کیا ہو تو ایسے

لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔"


بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله ربّ العالمین والصلوه والسّلام علی محمد ٍ وآله الطاهرین المعصومین ولعته الله علی اعدائهم اجمعین الی قیام یوم الدین ۔

مقدمه

تقیہ ایک اسلامی اور قرآنی قانون اورحکم ہے جسے عقل بھی قبول کرتی ہے اور فطرت انسانی بھی ۔ اسی لئے ہر عاقل اور باشعور انسان اسے تسلیم کرتا ہے ۔ لیکن ایک متعصّب گروہ (وہابی)اہلبیت اطہارعليهم‌السلام کے ماننے والوں کی دشمنی میں تقیہ کا اصلی اسلامی چہرہ مسخ کرکے اسے منافقت ،بزدلی ، جھوٹ ، ۔۔۔ سے تشبیہ دے کر شیعیان حیدر کرار پر قسم قسم کی تہمتیں لگاتے ہیں ، جبکہ قرآن کی صریح آیتیں اس کی مشروعیت اور حقانیت پر دلالت کرتی ہیں ۔

اسی کے پیش نظر یہ کتاب لکھی گئی ہے کہ ان اعتراض کرنے والوں کوقرآن ، حدیث ،اجماع اور عقلی دلائل کے ساتھ اطمینان بخش اور مستدل جواب دیا جائے اور ان کے عزائم کو برملا کیا جائے ۔اس امید کے ساتھ کہ حقیقت کےطلب گاروں کے ذہنوں میں ان عناصر کی ایجاد کردہ اشکالات اور ابہامات اورغلط فہمیوں کو دور کرسکے، جو اس مکتب کے ماننے والوں کے بارے میں پیدا کی گئی ہیں ۔

چنانچه ان مباحث کے مطالعے سے معلوم ہوگا کہ تقیہ کا لغوی معنی اپنی جان بچانا ہے اور اصطلاحی تعریف ،دشمن کا ہم عقیدہ ہوکر باطن کے خلاف زبان پرکلمات ادا کرنا ہے ، اس شرط کے ساتھ کہ جو بات دل میں ہے وہ حق ہو۔یعنی دل میں ایمان اور زبان پرایمان کے خلاف کلمہ جاری ہو۔


تقیہ کے شرائط ، آثار ، اقسام اور اس کی مشروعیت کو قرآن ، سنت ،عقل اور فطرت کے ذریعے ثابت کیا گیاہے ۔

تقیہ کی تاریخی حیثیت (قبل از اسلام اور بعد از اسلام )کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیاہے ۔

اسی طرح تقیہ کے واجب ہونے، مباح ہونے ، اور حرام ہونے کے موارد کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کیا گیا هے کہ تقیہ صرف مکتب تشیع کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسرے تمام اسلامی اور غیر اسلامی مکتب فکر والے بھی تقیہ کرنے کو ایک عاقلانہ فعل سمجھتے ہیں ۔اگر کوئی اس کو عقل اور شریعت کے خلاف سمجھتا ہے تو خود اس کی عقل اور عقیده پر شک کرنا چاہئے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ قرآن اور روایات میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور اللہ کے پاک نبیوںؑ کی سیرت میں بھی جگہ جگہ ملتا ہے تو پھر کیوں صرف شیعوں پر الزام تراشی کرتے ہیں؟

جواب بہت سادہ ہے ، وہ یہ ہے کہ پوری تاریخ میں شیعیان حیدر کرار ہر زمانے میں حکومت اور خلافت کیلئے آنکھوں کا خار بنتے رهے ، اور ہمیشہ ظالم و جابر حاکموں کے خلاف آواز بلند کرتے رهے ۔ جس کی وجہ سے ظالموں کے ظلم وبربریت کا شکار اور قتل ہوتے رهے ،اور اپنی جان بچانے کیلئے تقیہ کے ذریعے اپنے عقائد اور اعمال کو چھپانے پر مجبور ہوتے رهے ۔

چناچہ ہر انسان اپنی جان ،مال ، ناموس اور عزت کو بچانے کی خاطر بعض اوقات تقیہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اور یہ اسباب ہر انسان کیلئے مختلف ہوتے ہیں ۔اس کتاب کے دوسرے حصے میں وہابیوں کی طرف سے کئےہوئے اشکالات کا جواب دیتے ہوئے ثابت کیا گیاہے کہ تقیہ نہ بدعت ہے نہ جھوٹ اور بہتان ہے ، نہ علم امامت کے منافی ہے ،نہ سلونی سلونی قبل ان تفقدونی سے منافات رکھتا ہے ، اور نہ حرام محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حلال کا باعث ہے نہ اس کے برعکس۔اور نہ جہاد کے منافی ہے اور نہ امر بہ معروف ونہی از منکر کے منافی ہے ۔


ان مباحث کے ذیل میں خود وہابیوں سے کچھ سوال کئے گئے ہیں کہ کس طرح تقیہ کو دوسروں پر تہمت لگانے کا بہانہ بنادیتے ہو جبکہ قرآن مجید میں تقیہ کرنے والوں کی اللہ اور اس کے رسول نے مدح سرائی کی ہے؟!

اور یہ بھی یاد رہے کہ اس موضوع کو اس لئے انتخاب کیاهے که مختلف ممالک جیسے پاکستان ، افغانستان ، ہندوستان، عربستان اور دوسرے اسلامی ممالک میں سادہ لوح مسلمانوں کوشیعیت کے خلاف اکسانے اور مکتب اہل بیتعليهم‌السلام کے خلاف لوگوں کے دلوں میں عداوت ،نفرت ، شکوک اور دشمنی پیدا کرنے کی جو ناپاک کوششیں کی جارہی ہے ،اپنی توانائی اور صلاحیت کے مطابق ان کا سد باب کرسکے ۔

اس امید کے ساتھ حقیقت کے طلب گاروں کیلئے مکتب قرآن اور اہلبیتعليهم‌السلام تک رسائی کا یہ ایک وسیلہ بنے ،قرآن کریم کی آیات ، اہلبیت اطہارعليهم‌السلام کے فرامین اور اسلامی دانشوروں اور عالموں کے بیانات کو ایک کتاب کی شکل میں تألیف کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، خداتعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ تمام عالم انسانیت کو راہ حق اور صراط مستقیم کی طرف ہدایت دے اور جو ہدایت یافتہ ہیں ان کو ثابت قدم رکھے ، اور امربه معروف ونهي از منکرکرنے والوں کی توفیقات میں اضافہ فرمائے ۔

آمین

وَالسَّلامُ عَليٰ مَن اتَّبَعَ الهُديٰ

غلام مرتضي انصاري


پہلی فصل

کلیات تقیہ


پہلی فصل : کلیاتِ تقیہ

تقیہ کی تعريف

تقیہ کی لغوی تعریف ، تقوی اور اتقاء ہے جس سے مراد پرہیز کرنا، اپنے کو بچانا اور مراقبت کرناہے ۔

اور اصطلاحی تعریف یہ ہے :

التقيةُ سترُ الاعتقادِ و مكاتمةُ المخالفينَ و تركُ مظاهرتهم بما يعقب ضرراً في الدينِ و الدنيا ۔(۱)

____________________

۱:۔ صفری ،نعمت اللہ ؛ نقش تقیہ در استنباط ،ص۴۶۔


يعني تقيه سے مراد اپنے اعتقادات کو دشمنوں سے چھپا رکھنا، تاکہ دینی ، دنیوی اور جانی نقصان سے محفوظ رہے ۔

اس تعریف میں دو مطلب نظر آتے ہیں : ایک یہ کہ اپنی باطنی اعتقاد ات کا چھپانا ، دوسرا معنوی اور مادی نقصان ہونے سے پہلے دفاع کرنا ۔اوراگر اجتماعي اور انفرادي مفاد اور مصلحتوں ميں ٹکراؤ هو جائے تو اجتماعی منفعتوں اور مصلحتوں کو ذاتی اور شخصی مفادات پر مقدم رکھنا ہے ۔

اہل بیتعليهم‌السلام کے ذریعے جو آثار ہم تک پہنچے ہیں ان میں تقیہ ؛ حسنہ ، مؤمن کی ڈھال ، اضطرار ، افضل الاعمال ، ميزان المعرفة، حفظ اللسان ،تورية،عبادة السريه ، وقايةالدين،سلامت، خير الدنيا د وغیرہ کے نام سے پہچنوایا گیا ہے ۔(۱)

شيخ انصاري  اور تقیہ کی تعریف

آپ « رساله في التقيه» ميں فرماتے ہیں :

المراد من التقية هنا التحفظ عن ضررالغير

____________________

۱: ۔ محب الاسلام؛ شيعه مي پرسد،ج ۲،ص۲۸۱۔


بموافقته في قول او فعل مخالف للحق ۔(۱)

تقیہ سے مراد اپنے آپ کو دشمنوں کے کہنے کے مطابق عمل کرتے ہوئے ان کے شرّ اور نقصان سے بچانا ہے ۔اگرچہ ظاہراً حق کے خلاف کرنا پڑے ۔لیکن یہ تعریف جامع تعریف نہیں ہے کیونکہ تقیہ کی کئی اقسام جیسے مدارات والا تقیہ اس میں نہیں آسکتی ۔

شهيد اول  اورتقيه کی تعريف

شهيد اپنی کتاب (القواعد) میں فرماتے ہیں :

التقية مجاملة الناس بما يعرفون و ترك ما ينكرون حذرا من غوائلهم(۲)

تقيه سے مراد لوگوں کے ساتھ حسن معاشرت رکھنے کی خاطر جانتے ہوئے بھی کئی کاموں کو چھوڑ دینا ، تاکہ درد سر سے بچ جائے ۔

یہ تعریف زیادہ تر مداراتي تقيه کی طرف اشارہ کرتی ہے ،جس میں پوری انسانیت خواہ مسلمان ہو یا کافر ، مخالف ہو یا موافق، سب شامل ہیں ، که انسانيت کے ناطے

____________________

۱:۔ شيخ اعظم انصاري؛ رسائل الفقهيه، ص۷۱۔

۲: عاملي و مشقي ؛ للقواعد و القوائد،ج۲،ص۱۵۵۔


ايک دوسرے پر رحم کرے اور احترام کي نگاه سے ديکھے ۔اس سلسلے ميں اگر تقيه کرنے پر مجبور هوجائے تو اس کے لئے ضروري هے ،تقيه کرے ۔

تقيه کی جامع اور مانع تعريف

تقیہ کے مختلف موارد کے پیش نظر درج ذیل تعریف جامع اور مانع تعریف ہوگی :

التقية اخفاء حق عن الغيرا واظهار خلافه لمصلحة اقوي ۔(۱)

تقيه،حق کو دوسروں کی نظروں سے چھپانے کیلئے مخالفت کا اظهار کرنا ، اس شرط کے ساتھ کہ چھپائی جانے والی مصلحت ، اظہار کرنے والی مصلحت سے زیادہ اہم ہو۔اس عبارت میں (اخفاء حق اور اظہار خلاف )یہ دو ایسی عبارت ہے جس میں چھپائے جانے والا تقيه اور نہ چھپائے جانے والا تقیہ اور مدارات والا تقیہ سبھی شامل ہوجاتا ہے ۔لیکن كلمه مصلحت جو تعريف کا ثقیل ترین اور لغوی اوراصطلاحی معانی کے درمیان ارتباط پیدا کرنے والا نکتہ ہے ۔ اور اس طرح مصلحت یعنی مفسدہ کا دفع کرنا اور منفعت کا جلب کر نا مراد ہے ۔جس کی تقسیم بندی کچھ یوں کی جاسکتی ہے :

____________________

۱:۔ صفری،نعمت اللہ ؛ نقش تقیہ در استنباط ، ص ۵۱ ۔


تقیہ یعنی مصلحت اندیشی

مصلحت کی دو قسمیں ہیں:

۱. نقصان سے بچنا" دفع ضرر"

۲. منفعت حاصل کرنا "جلب منفعت"

نقصان سے بچنا انفرادی ہے یا اجتماعی ۔

انفرادی نقصان خود تین طرح کے ہیں :

۱. جانی نقصان

۲. مالی نقصان

۳. شخصيت کو ٹھیس پہنچنا ۔

اجتماعی نقصان خود چار قسم کی ہیں :

۱. دین اسلام کو ضرر پہنچنا ،

۲. مذہب تشیع کو ضرر پہنچنا ،

۳. مسلمانوں کو ضرر پہنچنا،

۴. شیعوں کو ضرر پہنچنا ۔


جلب منفعت بھی دو قسم ہیں:

۱. انفرادی ہے جو تقیہ کا مصداق نہیں بن سکتا ،

۲. اجتماعی ہے جس کی خود تین صورتیں بنتی ہیں :

۱. مسلمانوں کے درمیان وحدت اور یکجہتی کی حفاظت کرنا۔

۲. دین اسلام کیلئے عزت اور آبرو کاباعث بننا۔

۳. مکتب تشیع کیلئے عزت اور آ برو کا سبب بننا۔(۱)

تقیہ کے مزید نام:

روایات میں تقیہ کے مختلف نام آئے ہیں ۔ جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں:

دين الله ، جُنّة، تُرس ، حُصن ، صون ، شعار ، ايمان ، عزة، قرة العين ،سنن الانبياء ، سِرّ، حرز، خبأ ،حجا ب ، مدار اة ، ضروره ، اضطرار ، افضل الاعمال ، ميزان المعرفة، حفظ اللسان ،بادة، تورية، عبادة السريه، وقايةالدين، سلامة، خيرالدنيا و(۲)

____________________

۱: ۔ ایضاً ، ص ۵۲۔

۲:۔ عادل علوی ;التقیہ بین العلام، ص ۵۳۔


تقيه کے اقسام

آيات اور روايات کی روشنی میں تقیہ کي ا قسام:

مختلف اعتبار سے تقيه کی کئی قسمیں ہیں :

۱۔تقیہ خوفیہ

۱۔ مکتب اسلام پر ضرر کے خوف کی وجہ سے(۱) ۔

۲۔ دوسروں پر ضرر کے خوف کی وجہ سے ۔

۳۔ یا اپنے نفس ، ما ل اورآبرو پر ضرر کے خوف کی وجہ سے ۔

سبب کے اعتبار سے تقیہ کی دوا قسام ہیں:

خوفي اور مداراتي۔

اور خود تقيه خوفي یا حفظی کی تین اقسام ہیں :

____________________

۱: التقيه في رحاب العلمين(شيخ انصاري و امام خميني)،ص۱۳۔


الف: تقيه جان ، مال ، عزت ، آبرو اور ان سے متعلقہ چیزوں کی وجہ سےکیاجائے ۔

ب: تقيه اپنے مؤمن بھائیوں کی خاطر ہو کہ ان پر کوئی ضرر یا نقصان نہ آنے پائے ۔

ج : تقيه دین مقدس اسلام پر کوئی ضرر یا آنچ آنے کے ڈر سے کیا جائے ۔ کیونکہ ممکن ہے خود مسلمانوں کے درمیان اختلافات پائے جائیں لیکن اسلام کے اوپر کوئی بات نہ آئے ۔

جو اختلاف اور نزاع پایا جاتا ہے ، وہ تقیہ خوفی میں ہے ۔ ورنه تقیہ مداراتی کہ لوگوں کے ساتھ نیک رفتاری اور خوش اخلاقی سے پیش آنا ہے ؛ جسے ایک قسم کی ہوشیاری اور چالاکی تصور کیا جاتا ہے ۔

تقيه کو تقيه كننده کے اعتبارسےبھی کئی قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے جیسے : تقيه كننده : يا وہ ایک عام انسان ہےیا مذہبی رہنما ؤںمیں سے ہے ۔ جیسے پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم او رآئمہ طاهرينعليهم‌السلام فقهاء اور مسئولين۔

تقيه کو تقیہ پر مجبور کرنے والے کے اعتبار سے دو قسموں میں تقسیم کر سکتے ہیں: کافر ہے یا مسلمان ۔

تقيه پرعمل کرنے کےاعتبار سےبھی کئی قسميں هيں ۔ جیسے : يا وہ فعل ،حرام ہےاورچھوڑ دينا واجب ہے ، یا اس فعل کا شرط یا جزا میں تقیہ کرنا ہے ۔


تقيه احكام کےاعتبارسے يا واجب ہے يا حرام، يا مستحب يا مباح يا مكروه ،يا وجوب نفسي ہے يا وجوب غيري۔(۱)

تقيه خوفيه اعمال اور عبادات کا اہل سنت کے علماء اور فقہاء کے فتاوٰی کے مطابق عمل کرنا ، تاکہ اپني اور اپنے ہم مسلک افراد کی جان محفوظ رکھ سکے ۔

تقيه خوفيه کے موارد کو خود عاقل اور باہوش انسان تشخیص دے سکتے ہیں ۔جب ایک اہم اور مہم کام کے درمیان ٹکراؤ پيداہو جائے تو اہم کو مہم پر مقدم کرنا چاہئیے ۔اور تقیہ خوفیہ کی اسناد درج ذیل ہیں :

۱ ـ تقيه خوفيه کی پہلی دلیل:

سيد مرتضي علم الهدي نے اپنے رساله (محكم اور متشابه) میں تفسير نعماني سےنقل کیا ہے :عليعليه‌السلام نے فرمایا: خدا تعالي نے مؤمن کو کافروں کے ساتھ دوستي اور وابستگی سے منع کیا ہے لیکن تقیہ کے مواقع پر کفر ظاہر کرنے کی اجازت دی

____________________

۱:انديشه هاي كلامي شيخ طوسي، ج۱،ص ۲۷۷۔


گئی ہے پھر اس آیہ شریفہ کی تلاوت کی :

( لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّهِ فِي شَيْءٍ إِلاَّ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّهِ الْمَصِيرُ ) ۔(۱)

"خبردار صاحبانِ ایمان مؤمنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے"

کہتے ہیں کہ یہ مؤمنین کیلئے رخصت دینا، خدا کی رحمت اورتفضل ہے كه تقيه کے موقع پر ظاہر ہوتا ہے ۔(۲)

۲ ـ تقيه خوفيه کی دوسری دلیل:

طبرسي نےاميرالمؤنينعليه‌السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : میں طبیب یونانی سے گفتگو کرنے اور کچھ اسرار ولایت دکھانے کے بعد

____________________

۱: سوره آلعمران/۲۸۔

۲: وسائل الشيعه،باب امر بالمعروف،باب۲۹۔


وظیفہ شرعی کے بیان کرنے کے ضمن میں تمہیں دستور دونگا کہ تم اپنے دین میں تقیہ پر عمل کرو ۔ جیسا کہ خداوند تعالی نے فرمایا: : لا يتخذ المؤمنون۔۔۔تمہیں اجازت دونگا کہ جب بھی تمہیں کوئی مجبور کرے اور تمہیں خوف پیدا ہوجائے تو تم اپنے دشمنوں کی تعریف کرو اور ہم سے دشمنی کا اظہار کرو۔ اگر واجب نمازوں کے پڑھنے سے جان کا خطرہ ہو تو ، ترک کردو ۔اس طرح کچھ دستور دینے کے بعد فرمایا: حالانکہ تمہارے دل میں ہماری محبت پائی جاتی ہے اور ہماری پیروی کرتے ہو ۔مختصر وقت کیلئے ہم سے برائت کا اظہار کرکے اپنی جان ، مال ناموس اور دوستوں کو طولانی مدت کیلئے بچالو؛ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ تم پرآسانی کے دروازے کھول دے ۔ اور یہ بہتر ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے اور اپنے دوستوں کی خدمات اور دینی امور میں ان کی اصلاح کرنے میں کوتاہی سے بچے ۔

(۱)

____________________

۱: علی تہرانی ؛ تقیہ در اسلام، ص ۵۰۔


۲۔تقيه اكراهيه

مجبور شخص کا جابر اور ظالم شخص کے دستور کے مطابق عمل کرنا تاکہ اپنی جان بچائی جاسکے اور مال دولت اور عزت کو برباد ہونے سے محفوظ رکھا جا سکے ۔

اس کے مصداق حضرت عمار بن یاسر ہیں ۔ جن کے بارے میں قرآن فرمارها ہے:

( مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن بَعْدِ إيمَانِهِ إِلاَّ مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإِيمَانِ وَلَكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) ۔(۱)

"جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ کا انکار کرے (اس کے لئے سخت عذاب ہے) بجز اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہیں) لیکن جنہوں نے دل کھول کر کفر اختیار کیا ہو تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔"

اس آیۃ شریفہ کی شان نزول میں مفسرين کا کہنا ہے : جب پیغمبر اسلام

____________________

۱:نحل ۱۰۶۔


لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دیتے هوئے بتوں کو اعلانیہ طور پر باطل قرارديتے تھے تو کفار قریش اس کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے ۔ اورجب کوئی اسلام قبول کر تا تھا اس پر ظلم وتشدد کیا کرتے تھے ۔چنانچہ بلال، عمار، ياسر و سميه () جیسے پاک دل اور ایمان سے سرشار افراد کو مختلف مواقع پر جان لیوا اذیت اور آزار پہنچا تے تھے اور ان کو دوبارہ کفر کی طرف بلاتے تھے ۔چنانچہ عمار اور ان کے ماں باپ کو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں گستاخی اور نازیبا الفاظ زبان پر لانے پر مجبور کیا گيا؛ تو جناب یاسر اور ان کی زوجہ ، یعنی حضرت عمار کے والدین نے یہ گوارا نہیں کیا کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شان میں گستاخی کی جائے ۔ اسی جرم میں وہ دونوں اپنے بیٹے کے سامنے شہید کئے گئے ، لیکن عمار کی جب باری آئی تو اپنی جان بچانے کی خاطر کفار قریش کے ارادے کے مطابق پیغمبر کی شان میں گستاخی کی ۔ جس پر کفار نے انہیں آزاد کیا ۔جب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں یہ شکایت پہنچی کہ عمار نے آپ کی شان میں گستاخی کی ہے ۔ تو فرمایا : ایسا ممکن نہیں کہ عمار نے دوبار ہ کفر اختیار کیا ہو بلکہ وہ سر سے لیکر پاؤں تک ایمان سے لبریز اور اس کے گوشت و خون اور سراسر وجود میں ایمان کا نور رواں دواں ہے ۔اتنے میں عمار روتے ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں پہنچے ،آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان کے چهرے


سے آنسو صاف کئے اور فرمایا : جو کام تو نے انجام ديا هے ، قابل مذمت اور جرم نہیں ہے اگر دوبارہ کبھی ایسا موقع آجائے اور مشرکوں کے ہاتھوں گرفتار ہوجاؤ تو کوئی بات نہیں کہ تم ان کی مرضی کے مطابق انجام دو ۔پھر یہ آیہ شریفہ نازل ہوئی ۔

جس سے معلوم ہوتا کہ دینی مقدسات کی شان میں گستاخی کرنے پر مجبور ہوجائیں تو کوئی بات نہیں ۔ آپ کو اختیار ہے کہ یا آپ تقیہ کرکے اپنی جان بچائیں یا جرٲت دکھاتے ہوئے جام شہادت نوش کریں ۔

ایک روايت منقول ہے کہ دو مسلمانوں کو مسیلمہ کے پاس لایا گیا جو نبوت کا دعوی ٰ کررہا تھا ۔مسیلمہ نے ایک سے پوچھا: محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟

اس نے کہا : آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔

مسیلمہ : میرے بارے میں کیا کہتے ہو؟

مسلمان: آپ بھی اسی طرح ہیں ۔

پھردوسرے شخص کو لایا گیا ، اور اس سے بھی یہی سوال پوچھا گیا ، لیکن اس نے کچھ بھی


نہیں کہا ۔تو اسے قتل کرنے کا حکم دیا گیا ۔

یہ خبر رسول خدا تک پہنچی ، فرمایا: پہلے شخص نے تقیہ پر عمل کیا اور دوسرے شخص نے حق کو آشکار اور بلند و بالا کیا ۔اورپہلے کے حق میں دعا کی اور دوسرے کے لئے فرمایا :اس کیلئے شہادت مبارک ہو ۔(۱)

يوسف بن عمران روايت کرتا ہے کہ ميثم تمارسے سنا ہے: امير المؤمنينعليه‌السلام نے مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا : اے میثم جب عبيد الله ابن زياد تمھیں میرے بارے میں گستاخی کرنے اور مجھ سے برائت کرنے کا حکم دے گا تو تم کیا کرو گے؟

میں نے کہا :يا امير المؤمنينعليه‌السلام خدا کی قسم! کبھی اظہار برائت نہیں کروں گا ۔

فرمایا:پھر تو تم مارےجاؤ گے ۔

میں نے کہا : میں صبر کروں گا ؛ کیونکہ راہ خدا میں جان دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔

فرمایا:اے میثم! تم اس عمل کی وجہ سے قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگے ۔

____________________

۱: تقيه در اسلام ، ص۱۰۔


پس یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اگر کسی نے تقیہ کے موارد میں تقیہ نہیں کیا تو اس نے خودکشی کرلی هو ، بلکہ ایسے موارد میں انسان کو اختیار ہے کہ وہ شہادت کو اختیار کرے یا تقیہ کرکے اپنی جان بچائے تاکہ آئندہ آئمہ طاهرينعليهم‌السلام اور اسلام کي زیادہ خدمت کرسکے ۔

۳ ۔تقيه كتمانيه

ضعف اور ناتوانی کے مواقع پر اپنا مذہب اور مذہب والوں کی حفاظت کرنا اور ان کی طاقت اور پاور کو محفوظ کرنا تاکہ بلند و بالا اہداف حاصل کرسکے ۔

اور یہاں تقيه كتمانيه سے مراد ہے دین مقدس اسلام اور مکتب اہل بیتعليهم‌السلام کی نشر واشاعت کی خاطر اپنی فعالیتوں کو مخفی اور پوشیدہ رکھنا ، تاکہ دشمنوں کے مقابلے میں زیادہ قدرت مند ہو ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں ہمارے دینی اور مذہبی رہنما حضرات اس طرح تقیہ


کرنے کا حکم دیتے ہیں ؟

اس کا جواب یہی ہے کہ کیونکہ مکتب تشیع ایک ایسا مکتب ہے کہ حقيقي اسلام کو صرف اور صرف ان میں ملاحظہ کرسکتے ہیں ۔شیعہ ابتدا ہی سے مظلوم واقع ہوئے ہیں کہ جب آئمہ طاہرینعليهم‌السلام تقیہ کرنے کا حکم دے رہے تھے اس وقت شیعہ انتہائی اقلیت میں تھے اور ظالم وجابر اور سفاک بادشاہوں اور سلاطین کی زد میں تھے ۔اگر شیعہ اپنے آداب و رسوم کو آشکار کرتے تو ہر قسم کی مشکلات ان کے سروں پر آجاتیں اور جان بھی چلی جاتی ۔اور کوئی شیعہ باقی نہ رہتا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ حقیقی اسلام باقی نہ رہتا ۔ یہی وجہ تھی کہ آئمہ اطهارعليهم‌السلام نے تقیہ کا حکم دیا ۔

تقيه كتمانيه پر دلیل :

۱ ـ:كِتَابُ سُلَيْمِ بْنِ قَيْسٍ الْهِلَالِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيّاً ع يَقُولُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ قَالَ رَسُولُ اللهِ ص قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ التَّقِيَّةَ مِنْ دِينِ اللهِ وَ لَا دِينَ لِمَنْ لَا تَقِيَّةَ لَهُ وَ اللهِ لَوْ لَا التَّقِيَّةُ مَا عُبِدَ اللهُ فِي الْأَرْضِ فِي دَوْلَةِ إِبْلِيسَ فَقَالَ رَجُلٌ وَ مَا دَوْلَةُ إِبْلِيسَ فَقَالَ إِذَا وُلِّيَ إِمَامُ هُدًى فَهِيَ فِي دَوْلَةِ الْحَقِّ عَلَى إِبْلِيسَ وَ إِذَا وُلِّيَ إِمَامُ ضَلَالَةٍ فَهِيَ


دَوْلَةُ إِبْلِيسَ ۔(۱)

راوی کہتا ہے :هم نے امير المؤمنينعليه‌السلام سےقتل عثمان کے دن فرماتے هوئےسنا :هم نے رسول خداسے تاکید کے ساتھ فرماتے هوئےسنا: تقیہ میرا دین ہے اور جو بھی تقیہ کا قائل نہیں ، اس کا کوئی دین نہیں ۔ اور اگر تقیہ کے قوانین پر عمل نہ ہوتا تو شیطان کی سلطنت میں روئے زمین پر خدا کی کوئی عبادت نہ ہوتی ۔ اس وقت کسی نے سوال کیا ، ابلیس کی سلطنت سے کیا مراد ہے ؟

فرمایا : اگر کوئی خدا کا ولی یا عادل امام لوگوں پر حکومت کرے تو وہ خدائی حکومت ہے ، اور اگرکوئی گمراہ اور فاسق شخص حکومت کرے تو وہ شیطان کی حکومت ہے ۔

اس روایت سے جو مطلب ہمیں حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اس طاغوتی حکومت کے دوران صرف اپنے مذہب کو مخفی رکھنا اور خاموش رہنا صحیح نہیں ہے بلکہ اس میں بھی خدا تعالی کی عبادت و بندگی ہوتی رہے۔

اصحاب كهف کا عمل بھی اسی طرح کا تقیہ تھا ، اور حضرت ابوطالب کا تقیہ

____________________

۱: مستدرك‏الوسائل، ج ۱۲، ص۲۵۲ باب وجوب التقية مع الخوف ۔


بھی اسی قسم کا تقیہ شمار ہوتا ہے ۔جسے ابتدائے اسلام میں انہوں نے اختیار کیا تھا ۔کہ اپنے دین کو کفار قریش سے مخفی رکھا ۔ اورخود کو کفار کا ہم مسلک ظاہر کرتے رہے تاکہ رسول گرامي اسلام کی حمايت اور حفاظت آسانی سے کرسکیں ۔اور مخفی طور پر دین مبین اسلام کی نشر واشاعت کرتے رہے ۔ چنانچہ آپ ہی کی روش اور تکنیک کی وجہ سے پیغمبر اسلامسے بہت سارے خطرات دور ہوتے رہے ۔

۴ ۔تقيه مداراتي يا تحبيبي

اهل سنت کےساتھ حسن معاشرت اور صلح آميز زندگي کرنے کی خاطر ان کی عبادي ا ور اجتماعي محفلوں اور مجلسوں میں جانا تاکہ وحدت پیدا ہو اور اسلام دشمن عناصر کے مقابلے میں اسلام اور مسلمین قدرت مند ہوں ۔

تقيه مداراتي

۱ ۔ مطلوبيت ذاتي رکھتا ہے = وجوب نفسي

۲ ۔ مطلوبيت غيري رکھتا ہے = وجوب غيري


تقيه مداراتي کے شرعی جواز پر دلیلیں:

o امام سجاد نے صحيفه سجاديه میں مسلمانوں کیلئے دعائے خیر اور کفار کیلئے بددعا کرتے ہوئے فرمایا:خدايا اسلام اور مسلمين کودشمن اورآفات و بليات سے محفوظ فرما ، اور ان کے اموال کو با ثمر و منفعت اورپر بركت فرما۔ اور انہیں دشمن کے مقابلے میں زیادہ قدرت مند اور شان وشوکت اور نعمت عطا فرما ۔اور میدان جنگ میں انہیں کافروں پر فتح و نصرت عطا فرما ۔ اور اپنی عبادت اور بندگی کرنے کی مہلت اور فرصت عطا فرما تاکہ وہ تجھ سےتوبہ اور استغفار اور راز و نیاز کر سکیں خدایا ! مسلمانوں کو ہر طرف سے مشرکوں کے مقابلے میں عزت اور قدرت عطا فرما اور مشرکوں اور کافروں کوآپس میں جنگوں میں مشغول فرما ! تاکہ وہ مسلمانوں کے حدود اور دیار کی طرف دست درازی نہ کرسکیں ۔(۱)

____________________

۱: مستدرك‏الوسائل، ج ۱۲، باب وجوب التقية مع الخوف ، ص ۱۰۰۔


o معاويه بن وهب کہتا ہے کہ میں نے امام صادقعليه‌السلام سے سوال کیا : کہ دوسرے مسلمانوں اور مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے ؟

امامعليه‌السلام نے فرمایا: ان کی امانتوں کو پلٹاؤ اور جب آپس میں کوئی نزاع پیدا ہو جائے اور حاکم شرع کے پاس پہنچ جائے تو حق دار کے حق میں گواہی دو اور ان کے بیماروں کی عیادت کیلئے جاؤ اور ان کے مرنے والوں کی تشییع جنازے میں شرکت کرو۔(۱)

امام صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

كونوا لمن انقطعتم ﺇليه زيناً ولا تكونوا علينا شيناً صلّوا في عشائرهم عودوا مرضاهم و اشهدوا جنائزهم ولا يسبقونكم الي شيئٍ من الخير فا نتم أولي به منهم والله ما عبدالله بشيئٍ أحبُّ اليه من الخباء قلت: و ما الخباء؟ قال: التقيه ۔(۲)

ایسے کاموں کے مرتکب ہونے سے پرہیز کرو جو ہمارے مخالفین کے سامنے سرزنش کا باعث بنے ، کیوں کہ لوگ باپ کو اس کے بیٹوں کے برے اعمال کی وجہ سے ملامت کرتے

____________________

۱: وسائل الشيعه،ج۱ ، كتاب حج،احكام عشرت۔

۲: وسائل الشيعه ،ج ۱۱،ص ۴۷۱۔


ہیں ۔کوشش کرو کہ ہمارے لئے باعث زینت بنو نہ کہ باعث ذلت۔ اہل سنت کے مراکز میں نماز پڑھا کرو اور بیماروں کی عیادت کیا کرواور ان کے مردوں کے جنازے میں شرکت کیا کرو اور تمام اچھے کاموں میں ان پر سبقت لے جاؤ ، ان صورتوں میں اگر ضرورت پڑي تو محبت بڑھانے اور اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کیلئے اپنے عقائد کو چھپاؤ ۔ خدا کی قسم ایسے مواقع میں کتمان کرنا بہترین عبادت ہے ۔ راوی نے سوال کیا : یابن رسول اللہ ! کتمان سے کیا مراد ہے ؟ ! تو فرمایا: تقیہ ۔

یہ تقیہ مداراتی اور تحبیبی کے جواز پر کچھ دلائل تھے ۔ لیکن ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ سارے مسلمان عقیدتی ، فکری اور سلیقائی اختلافات مکمل طور پر ختم کرکے صرف ایک ہی عقیدہ اور سلیقہ کے پابندہوجائیں ؟ !

اس سوال کا جواب بالکل منفی میں ملے گا۔ یہ ناممکن ہے ۔کیونکہ کوئی بھی قوم یا قبیلہ نہیں ملے گا جس میں سینکڑوں اختلافات اور نظریات نہ پائے جاتے ہوں۔ حتی خود دین اسلام میں کہ سارے اصول اور فروع دین توحید کی بنیاد پر قائم ہیں ، پھر بھی زمانے کے


گزرنے کے ساتھ ساتھ اصلی راستے اور قاعدے سے منحرف ہوجاتے ہیں اور اختلافات کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ پس ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟! اور راہ حل کیا ہے ؟! ایک طرف سے بغیر وحدت اور اتحاد کے کوئی کام معاشرے کے حوالے سے نہیں کرپاتے، دوسری طرف سے اس وحدت اور اتحاد کے حصول کیلئے سارے اختلافی عوامل کو پس پشت ڈالنا پڑتا ہے ۔

کیا ایسی صورت میں ہم بیٹھے رہیں اور اختلافات کے کیڑے مکوڑے معاشرے کے سعادت مند ستون کو اندر سے خالی کرتے کرتےسرنگوں کریں؟!یا کوئی راہ حل موجود ہے جس کے ذریعے سے ايک حد تک وحدت برقرار کرلیں ؟!

یہ وہ مقام ہے جہاں دور حاضر کے مفکرین اور دانشمندوں نے کئي فارمولے تیار کئے ہیں جن کے ذریعے ممکن ہے کہ یہ ہدف حاصل ہوجائے ، اور وہ فامولے درج ذیل ہیں:

۱ ۔ ہر معاشرے میں موجود تمام ادارے قوم پرستی، رنگ و زبان اور موقعیت ، مذہب میں فرق کئے بغیر اجتماعی حقوق کو بعنوان ”حقوق بشر“ رسمی مان لیں اور خود غرضی سے پرہیز کریں ۔


۲ ۔ تمام ممالک کو چاہئے کہ معاشرے میں موجود تمام گروہوں کو اس طرح تعلیم دیں کہ اتحاد و اتفاق کی حفاظت کی خاطر اجتماعی منافع کو شخصی منافع پر مقدم رکھیں ۔ اور انہیں یہ سمجھائیں کہ اجتماع کی بقا میں افراد کی بقا ہے ۔

۳ ۔ ہر ایک شخص کو تعلیم دیں کہ دوسروں کے عقائد کا احترام کریں تاکہ معاشرے کیلئے کوئی مشکل ایجاد نہ ہو ۔اور ملک اور معاشرے کے بنیادی اصولوں اور قواعد و ضوابط کو ضرر نہ پہنچائيں ۔ اور ایک دوسرے کے احساسات اور عواطف کا احترا م کریں ۔

۴ ۔ ان کو سمجھائیں کہ دوسرے مکاتب فکر کے مختلف اور معقول آداب و رسوم میں شرکت کریں ۔ اس طرح ایک دوسرے کے درمیان محبت پیدا کریں۔

پس اگر ايك جامعه یامعاشرے میں ان قوانین اور اصولوں پر عمل درآمدهوجائے تو سارے اسلامی ممالک ایک پليٹ فارم پر جمع ہونگے اور ایک دوسرے کے درمیان محبت اور جذبہ ایثار پیدا هوگا۔ یہی وجہ تھی کہ آئمہ طاهرينعليهم‌السلام اپنے گوہر بار كلمات میں اس بات کی طرف تشویق کرتے هوئے نظر آتے هيں۔


مداراتی تقیہ کی ایک زندہ مثال یہ ہے کہ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کیلئے مسجد الحرام اور مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں دوسروں کے ساتھ بغیر سجدہ گاہ کے قالین پر سجدہ کر سکتے ہیں ، یہ نماز صحیح ہے اگرچہ جانی یا مالی نقصان کا خدشہ بھی نہیں ہے۔(۱)

تقيه اور توريه میں موازنه

لغت میں توريه ؛وراء یا پيٹھ سے نکلا ہے جس کا مد مقابل امام یعنی (آگے ) سے لیا گیا ہے ۔اور اصطلاح میں کسی چیز کو چھپانے کو کہا جاتا ہے ۔

 تقيه اور توريه کے درمیان نسبت تباين پایاجا تا ہے ۔ کیونکہ توریہ لغت میں ستر(چھپانا) اور تقیہ صیانت اور حفاظت کو کہا جاتا ہے ۔

 توریہ میں شخص واقعیت کا ارادہ کرتا ہے لیکن تقیہ میں نہیں ۔

____________________

۱: مکارم شیرازی؛ شیعہ پاسخ می گوید،ص۴۵۔


 توریہ میں مصلحت کو ملحوظ نظر نہیں رکھا جاتا لیکن تقیہ میں کئی مصلحتوں کو ملحوظ نظر رکھا جاتا ہے ۔

 لیکن مصداق کے لحاظ سے ان دونوں میں عموم و خصوص من وجہ کی نسبت پائی جاتی ہے ۔ کہ ان دونوں کا مورد اجتماع یہ ہے کہ تقیہ کرنے والا تقیہ کے موارد میں اوراظہار کے موقع پر حق کے برخلاف ، توریہ سے استفادہ کرتا ہے کیونکہ خلاف کا اظہار کرنا ؛ حق کا ارادہ کرنے یا خلاف حق کا ارادہ کرنے سے ممکن ہے۔

 تقيه اور توريه میں افتراق کا ایک مورد ، تقيه كتماني ہے كه یہاں کوئی چیز بیان نہیں ہوئی ہے جو توریہ کا باعث بنے ۔

 ان دونوں میں افتراق کا ایک اور مورد یہ ہے کہ توریہ میں کوئی مصلحت لحاظ نہیں ہوئی ہے اور اگر کوئی مصلحت ملحوظ ہوئی ہے تو بھی ذاتی منافع ہے ۔

تقيه ، اكراه اور اضطرارکے درمیان تقابل

تقيه کے بعض موارد کو اكراه و اضطرار کے موارد میں منحصر سمجھاجاتاہے۔شيخ انصاري(ره) مكاسب میں اكراه کے بارےمیں یوں فرماتے ہیں :


ثم ان حقيقة الاكراه لغة و عرفا حمل الغير علي ما يكرهه في وقوع الفعل من ذالك الحمل اقترانه بوعيد منه مظنون الترتب الغير علي ترك ذالك الفعل مضر بحال الفاعل او متعلقه نفسا او عرضا او مالا ۔(۱)

اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ اکراہ کے وجود میں آنے کی تین شرائط ہیں:

۱. یہ مخالف کی طرف سے واقع ہوتا ہے ۔ پس جہاں اگر خود انسان جلب منفعت یا دفع ضرر کیلئے کوئي قدم اٹھائے تو وہ توریہ میں شامل نہیں ہے ۔

۲. اكراه یہ ہے کہ مستقيماکسی کام پر انسان کو مجبور کیا جائے نه بطور غير مستقيم۔

۳. تهديد اور وعيد کے ساتھ ہو کہ اگر انجام نہ دے تو اس کی جان ، مال، عزت آبرو خطرے میں پڑ جائے ۔

ان تین شرائط اور اولین آیہ شریفہ جو مشروعیت تقیہ کے بارے میں نازل ہوئی جس میں

عمار ابن یاسر ؒ کا قصہ بیان ہوا ہے ، سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض موارد میں تقیہ اور اکراہ میں مطابقت پائی جاتی ہے ۔ اور ان تین شرائط کے ذریعے حضرت عمارؒ کے تقیہ کرنے پر استدلال کیا جا سکتا ہے ۔اور تقیہ کی تعریف بھی اس پر منطبق ہوسکتی ہے ۔لیکن جہاں یہ تین شرائط صدق آئیں اور تقیہ صدق نہ کرے تو وہ اکراہ اور تقیہ کے افتراق کے موارد ہونگے ۔

____________________

۱: شيخ انصاري(ره) ،المكاسب،شروط متعا قد ين،ص۱۱۹۔


تقيه کے آثارا ور فوائد

شہیدوں کے خون کی حفاظت

تقیہ کا بہترین فائدہ شہیدوں کے خون کی حفاظت ہے ۔یعنی پوری تاریخ میں شیعیان علیعليه‌السلام مظلوم واقع ہوتے رہے ہیں۔ جب بھی ظالموں کے مظالم کا نشانہ بنتےتھے تقیہ کرکے اپني جان بچاتےتھے۔

چنانچہ امام صادقعليه‌السلام فرماتے هيں: اے ہمارے شیعو! تم، لوگوں کے درمیان ایسے ہو جیسے پرندوں کے درمیان شہد کی مکھی ہے ۔ اگر پرندوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ شہد کی مکھی کے پیٹ میں شہد موجود ہے ، تو ساری شهد کي مکھیوں کو کھاجائیں اور ایک بھی زندہ نہیں چھوڑیں ؛ اسي طرح اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ تمہارے دلوں میں ہم اہل بیتعليهم‌السلام کی محبت موجود ہے تو تمھیں زخم زبان کے ذریعے کھا جائيں گے اور ہر وقت تمہاری غیبت اور بدگمانی میں مصروف رہيں گے ۔ خدا ان لوگوں پر اپنی رحمت نازل کرے جو ہماری ولایت کو


مانتے ہيں۔(۱)

اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت اور تقویت

یہ تقیہ کا دوسرا فائدہ ہے کہ اہل بیتعليهم‌السلام ، اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت اور تقویت کیلئے زیادہ کوشش کرتے تھے ، تاکہ اسلامی معاشرہ ایک واحد اور قدرت مند معاشرہ بنے ، اور اسلام دشمن عناصر کبھی بھی اس معاشرے پر آنکھ اٹھانے کی جرأت نہ کرسکيں ۔

اس عظیم مقصد کے حصول کی خاطر آئمہ طاهرينعليهم‌السلام اپنے چاہنے والوں کو سخت تاکید فرماتے تھے ۔جيسا که حديث ميں آيا هے:

قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى الصَّادِقِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ع وَ عِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الشِّيعَةِ فَسَمِعْتُهُ وَ هُوَ يَقُولُ مَعَاشِرَ الشِّيعَةِ كُونُوا لَنَا زَيْناً وَ لَا تَكُونُوا عَلَيْنَا شَيْناً قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْناً احْفَظُوا أَلْسِنَتَكُمْ وَ كُفُّوهَا عَنِ الْفُضُولِ وَ

____________________

۱: علامه كليني ؛ اصول كافي،ج۲،ص۲۱۸۔


قَبِيحِ الْقَوْل ۔(۱)

چنانچه امام صادقعليه‌السلام فرماتے ہیں : اے ہمارے شیعو! خبردار! کوئی ایسا کام انجام نہ دو ، جوہماری مذمت کا سبب بنے ۔ لوگوں کے ساتھ اچھی گفتگو کیا کرو ، اپنی زبانوں کی حفاظت کرواور فضول اور نازیبا باتیں کرنے سے باز آؤ ۔

عَنْ هِشَامٍ الْكِنْدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ ع يَقُولُ إِيَّاكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا عَمَلًا نُعَيَّرُ بِهِ فَإِنَّ وَلَدَ السَّوْءِ يُعَيَّرُ وَالِدُهُ بِعَمَلِهِ كُونُوا لِمَنِ انْقَطَعْتُمْ إِلَيْهِ زَيْناً وَ لَا تَكُونُوا عَلَيْهِ شَيْناً صَلُّوا فِي عَشَائِرِهِمْ وَ عُودُوا مَرْضَاهُمْ وَ اشْهَدُوا جَنَائِزَهُمْ وَ لَا يَسْبِقُونَكُمْ إِلَى شَيْ‏ءٍ مِنَ الْخَيْرِ فَأَنْتُمْ أَوْلَى بِهِ مِنْهُمْ وَ اللهِ مَا عُبِدَ اللهُ بِشَيْ‏ءٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الْخَبْ‏ءِ قُلْتُ وَ مَا الْخَبْ‏ءُ قَالَ التَّقِيَّة ۔(۲)

راوی کہتا ہے کہ امام صادقعليه‌السلام نے فرمایا: خبردار ! تم لوگ کوئی ایسا کام کر نہ بیٹھو جس کی وجہ سے هميں ذلت اٹھانی پڑے کیونکہ جب بھی کوئی اولاد برا کام کرتی ہے تو لوگ اس کے والدین کی مذمت کرنے لگتے ہیں۔جب کسی سے دوستی کرنے لگو اور

____________________

۱:۔ أمالي الصدوق، ص ۴۰۰، جلسہ۶۲‏۔

۲: وسائل الشيعة ‏، باب وجوب عشرة العامة بالتقية ،ج۱۶،ص۲۱۹ ۔


اس کی خاطر دوسروں سے دوری اختیار کرو تو اس کیلئے زینت کاباعث بنو نہ کہ مذمت اور بدنامی کا ۔ برادران اہل سنت کی نماز جماعت میں شرکت کرو ، ان کے مرنے والوں کے جنازے میں شریک ہو جاؤ ، ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ تم سے کار خیر میں آگے ہو ں ، کیوں کہ اچھے کاموں میں تم لوگ ان سے زیادہ سزاوار ہو ۔ خدا کی قسم ! خبأسے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں ہے ۔ کسی نے سوال کیا : اے فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خبأ سے کیا مراد ہے ؟! تو امام ؑ نے جواب دیا : اس سے مرادتقیہ هے ۔

عَنْ أَبِي أُسَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللهِ وَ الْوَرَعِ وَ الِاجْتِهَادِ وَ صِدْقِ الْحَدِيثِ وَ أَدَاءِ الْأَمَانَةِ وَ حُسْنِ الْخُلُقِ وَ حُسْنِ الْجِوَارِ وَ كُونُوا دُعَاةً إِلَى أَنْفُسِكُمْ بِغَيْرِ أَلْسِنَتِكُمْ وَ كُونُوا زَيْناً وَ لَا تَكُونُوا شَيْناً وَ عَلَيْكُمْ بِطُولِ الرُّكُوعِ وَ السُّجُودِ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَطَالَ الرُّكُوعَ وَ السُّجُودَ هَتَفَ إِبْلِيسُ مِنْ خَلْفِهِ وَ قَالَ يَا وَيْلَهُ أَطَاعَ وَ عَصَيْتُ وَ سَجَدَ وَ أَبَيْتُ ۔(۱)

راوی کہتا ہے کہ میں نے امام صادقعليه‌السلام سے سنا کہ آپ فرمارہے تھے : تم پر لازم

____________________

۱:۔ كافي ،باب الورع، ج‏۲ ، ص ۷۶۔


ہے کہ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرو ،کوشش کرو کہ سچ بات کہو،امانت میں دیانت داری دکھاؤ ،اچھے اخلاق کے مالک بنو، اور اچھے پڑوسی بنو،اور لوگوں کو زبانی نہیں بلکہ اپنے کردار کے ذریعے اچھائی کی طرف بلاؤ ۔اور ہمارے لئے باعث افتخار بنو نہ کہ باعث ذلت اور رسوائی۔اور تم پر لازم ہے کہ طولانی رکوع اور سجدے کیا کرو ؛ جب تم میں سے کوئی رکوع اور سجود کو طول دیتا ہے تو اس وقت شیطان اس کے پیچھے سے چیخ وپکار کرنےلگتا هے ، اور کهتا هے : واویلا ! اس نے خدا کی اطاعت اوربندگی کی، ليکن میں نے نافرمانی کی ، اس نے خدا کیلئے سجدہ کیا اور میں نے انکار کیا ۔

اگر ان دستورات کو آپ ملاحظہ فرمائیں تو معلوم ہو جائےگا کہ آئمہ طاہرین کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان الفت و محبت پیداهو اور سب مسلمان صلح و صفائی کے ساتھ زندگي بسر کريں ۔

تقيه کے شرائط

تقیہ ہر صورت اور ہر موقع اور ہر جگہ پر صحیح نہیں ہے بلکہ خاص شرائط اور زمان و


مکان میں جائز اور مطلوب ہے ۔جہاں باطل اور ناجائز کاموں کا اظہار کرنا جائز ہو ؛ صرف وهاں تقيه کرسکتا هے۔ اسی لئے تقیہ کے شرائط اور اسباب کچھ اس طرح تنظیم ہوئےہیں کہ اس کام کا باطل اور قبیح ہونا باقی نہ رہے۔ شيخ الطائفه( طوسي) اپنے استاد سيدمرتضي سے فعل قبیح کے مرتکب ہونے کے لئے تین شرائط نقل کرتے ہیں:

۱. اپنی جان کیلئے خطرہ ہو ، یعنی اگر اس قبیح فعل کو انجام نہ دے تو جان سے ماردینے کا خطرہ ہو ۔

۲. اس باطل فعل کے انجام دینے کے سوا کوئی اور چارہ نہ ہو ۔

۳. قبیح فعل کے انجام دینے پر مجبورکيا جارها ہو ۔

اگر یہ تین شرطيں موجود ہو تو اس کام کی قباحت بھی دور ہوجاتی ہے ۔(۱)

____________________

۱: يزدي ،دكتر محمود؛ انديشه هاي كلامي شيخ طوسي ۔


دوسری فصل

تقیہ تاریخ کے آئینے میں


دوسری فصل : تقيه تاريخ کے آئینے میں

الف:ظهوراسلام سے پهلے تقیہ

تقیہ کا مفہوم بہت وسیع ہے اس لئے اسے زندگی کے صرف ایک حصّے سے مخصوص نہیں کياجاسکتا ۔بلکہ زندگی کے تمام پہلوؤں میں اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔ تاريخی اعتبار سے تقيه کی ضرورت انسان کو اس وقت محسوس ہوتی ہے ،جب وہ اپنے آپ کو دشمن کے سامنے عاجز محسوس کرے ۔ اور یہ عاجزی انسان میں گاہ بہ گاہ خوف کا احساس پیدا کرنے لگتی ہے ۔ اور یہ ایک طبیعی چيز ہے کہ انسان اس خوف و ہراس کو اپنے سے دور کرنے کی فکر کرے ۔اور اس طبیعی امر میں تمام عالم بشریت حتی تمام ذی روح "حیوانات" بھی شریک ہیں۔


خواہ یہ خوف و ہراس بھوک اور پیاس کی شکل میں ہو یا گرمی ، سردی اور بیماری کی شکل میں ہو ؛ انسان اس خوف سے بچنے کیلئے کوئی نہ کوئی راہ پیدا کر لیتا ہے ۔ لیکن ان حالات میں جنگ و جدال کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ہاں غیر طبیعی خطرات اور مشکلات کے موقع پر جیسے اپنے کسی مسلمان بھائی پر ظلم وستم کو روکنے کا سبب هو تو تقیہ کرنا بهترہے ۔

اس فصل ميں هم بهت هي اختصار کے ساتھ انبياء اوراولياءالهي نے جهاں جهاں تقيه کئے هيں ؛ ان موارد کو بيان کريں گے :


حضرت آدمعليه‌السلام اور تقيه

سب سے پہلی جو سزا اپنے بھائی کے حسد اور دشمنی کی بنا پر قتل کرنے کی وجہ سے ملی وہ حضرت آدم کے زمانےمیں انہی کے بیٹے کو ملی۔قرآن اس واقعے کو کچھ یوں بیان فرما رہا ہے :

( وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَاْ بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لَأَقْتُلَكَ إِنِّي أَخَافُ اللّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ إِنِّي أُرِيدُ أَن تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِكَ جَزَاء الظَّالِمِينَ فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُهُ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِينَ ) (۱)

اور آپ انہیں آدم کے بیٹوں کا حقیقی قصہ سنائیں جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ ہوئی تو اس نے کہا: میں تجھے

____________________

۱: سوره مائدہ ۲۷ ـ ۳۰۔


ضرور قتل کروں گا، (پہلے نے)کہا: اللہ تو صرف تقویٰ رکھنے والوں سے قبول کرتا ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے اپنا ہاتھ تیری طرف بڑھانے والا نہیں ہوں، میں تو عالمین کے پروردگار اللہ سے ڈرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اپنے گناہ میں تم ہی پکڑے جاؤ اور دوزخی بن کر رہ جاؤ اور ظالموں کی یہی سزا ہے ۔چنانچہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی اور اسے قتل کر ہی دیا، پس وہ خسارہ اٹھانے والوں میں شامل ہو گیا۔

تاريخ بتاتي ہے چونکہ هابيل حضرت آدمعليه‌السلام کےوصی اور جانشین تھے ، ان کی شہادت کے بعد خلافت اور جانشینی ان کے بھائی شیث کی طرف منتقل ہوئی ۔ اور سب سے پہلے جس نے تقیہ کیا وہ حضرت شيثعليه‌السلام تھے، جنہوں نے قابیل سے تقیہ کیا کہ انہیں خدا تعالی نے علم عطا کیا تھا ۔ اگر وہ تقیہ نہ کرتے تو روئے زمین عالم دین سے خالی ہوجاتا۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ظالم کے خلاف مقاومت اور مقابلہ کرنے سے عاجز اور ناتوان هونے کی صورت میں تقیہ کرنا جائزہوتاہے ۔

اور یہ ایک فطری چیز ہے کہ حضرت ہابیل نے جو چیز انہیں خدا کی طرف سے


عطا ہوئی تھی ، اپنے بھائی قابیل سے چھپائی ۔ اور یہ ان کا چھپانا صرف اس لئے تھا کہ حق کو نااہل لوگوں کے ہاتھ لگنے سے بچایا جائے ۔

اور یہ ایک ایسی سنت ہے جس پر سارے انبيآء ، اوليآء اور صالحين نے عمل کیا ہے ۔

طبري نے اپنی تاريخ میں روایت نقل کي ہے کہ : حضرت آدمعليه‌السلام اپنی وفات سے گیارہ دن پہلے مریض ہوئے اور اپنے بیٹے شيثعليه‌السلام کو اپنا جانشین بنانے کے بعد فرمایا: میرا یہ وصیت نامہ قابیل سے چھپائے رکھنا۔(۱)

حضرت ابراهيمؑ او رتقيه

ابراهيم خليل اللہ نے بت پرستوں اورمشركوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا ؛ یہاں تک کہ ان کی قوم انہیں آگ میں جلانے کے لئے تیار ہوگئ ۔ قرآن اس واقعے

____________________

۱: التقيه في فقه اهل البيتعليه‌السلام ، ج۱ ، ص ۱۵۔


کو یوں بیان فرما رہا ہے :

( وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِه عَالِمِينَ إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ قَالَ لَقَدْ كُنتُمْ أَنتُمْ وَآبَاؤُكُمْ فِي ضَلَالٍ مّبِينٍ قَالُوا أَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ أَمْ أَنتَ مِنَ اللَّاعِبِينَ قَالَ بَل رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ وَأَنَا عَلَى ذَلِكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَ وَتَاللهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ قَالُوا مَن فَعَلَ هَذَا بِآلِهَتِنَا إِنَّهُ لَمِنَ الظَّالِمِينَ قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيم قَالُوا فَأْتُوا بِهِ عَلَى أَعْيُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَشْهَدُو نَ قَالُوا أَأَنتَ فَعَلْتَ هَذَا بِآلِهَتِنَا يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا فَاسْأَلُوهُمْ إِن كَانُوا يَنطِقُونَ فَرَجَعُوا إِلَى أَنفُسِهِمْ فَقَالُوا إِنَّكُمْ أَنتُمُ الظَّالِمُونَ ثُمَّ نُكِسُوا عَلَى رُؤُوسِهِمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هَؤُلَاءيَنطِقُونَ ) ۔(۱)

____________________

۱:۔ انبياء /۵۱ ـ۶۵ ۔


اور بہ تحقیق ہم نے ابراہیمعليه‌السلام کو پہلے ہی سے عقل کامل عطا کی تھی اور ہم اس کے حال سے باخبر تھے ،جب انہوں نے اپنے باپ (چچا) اور اپنی قوم سے کہا: یہ مورتیاں کیا ہیں جن کے گرد تم جمے رہتے ہو؟

کہنے لگے: ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پوجا کرتے پایاہے۔

ابراہیمعليه‌السلام نے کہا: یقینا تم خود اور تمہارے باپ دادا بھی واضح گمراہی میں مبتلا ہیں۔

وہ کہنے لگے : کیا آپ ہمارے پاس حق لے کر آئے ہیں یا بیہود ہ گوئی کر رہے ہیں؟

ابراہیمعليه‌السلام نے کہا: بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا اور میں اس بات کے گواہوں میں سے ہوں۔ اور اللہ کی قسم! جب تم یہاں سے پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے ان بتوں کی خبر لینے کی تدبیر ضرور سوچوں گا۔ چنانچہ ابراہیم نے ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا سوائے ان کے بڑے (بت) کے تاکہ و ہ اس کی طرف رجوع کریں۔

وہ کہنے لگے: جس نے ہمارے معبودوں کا یہ حال کیا ہے یقینا وہ ظالموں میں سے ہے۔

کچھ نے کہا: ہم نے ایک جوان کو ان بتوں کا (برے الفاظ میں) ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جسے ابراہیم کہتے ہیں۔ کہنے لگے: اسے سب کے سامنے پیش کرو تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں۔


کہا :اے ابراہیم! کیا ہمارے معبودوں کا یہ حال تم نے کیا ہے ؟

ابراہیمعليه‌السلام نے کہا: بلکہ ان کے اس بڑے (بت )نے ایسا کیا ہے سو ان سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں۔

(یہ سن کر) وہ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور کہنے لگے : حقیقتاً تم خود ہی ظالم ہو۔ پھر وہ اپنے سروں کے بل اوندھے ہو گئے اور (ابراہیم ) سے کہا: تم جانتے ہو یہ نہیں بولتے ۔

بخاري روايت کرتا ہے : حضرت ابراہیمعليه‌السلام نے تین جھوٹ بولے: اس میں سے دو خدا کی ذات کے بارے میں «قوله اني سقيم» اور« بل فعله كبير هم» تیسرا جھوٹ اپنی بیوی سارہ کے بارے میں ، جو خوبصورت تھی ، اور فرعون کو کسی نے ان کی لالچ دی تھی ۔ فرعون نے حضرت ابراہیمعليه‌السلام کو اپنے دربار میں بلاکر کہا : یہ جو تمہارے ساتھ آئی ہے وہ کون ہے ؟

تو آپ نے جواب دیا : یہ میری بہن ہے ۔ اور ادھر سارا سے بھی کہہ رکھا تھا کہ تم بھی میری بات کی تائید کرنا ،جبکہ خود ان کی بیوی تھیں ۔حضرت ابراہیمعليه‌السلام کا تقیہ


کرنے کا سبب یہی تھا کہ اپنی جان بچائی جائے ،کیونکہ فرعون ابراہیمعليه‌السلام کو قتل کرنا چاہتا تھا تاکہ ان کی زوجہ کو اپنے عقد میں لے لے۔

حضرت يوسفعليه‌السلام اور تقيه

حضرت يوسفعليه‌السلام کا واقعه بہت طولاني اور معروف ہے ، اس لئے خلاصه كلام بيان کروں گا وہ یوں ہے فرمایا :

( فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِي رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ ) ۔(۱)

اس کے بعد جب یوسف نے ان کا سامان تیار کرادیا تو پیالہ کو اپنے بھائی کے سامان میں رکھوادیا اس کے بعد منادی نے آواز دی کہ قافلے والو تم سب چور ہو۔

اسی سے استدلال کرتے هوئے امام صادقعليه‌السلام نے فرمایا :

التقيه من دين الله قلت:من دين الله؟ قال :اي والله من دين الله لقد قال يوسف : ايتها العير انكم

____________________

۱: سوره يوسف/۷۰۔


لسارقون والله ما كانوا سرقوا شی ۔(۱)

تقیہ دین خدا میں سے ہے ، میں نے سوال کیا: کیا دین خدا میں سے ہے ؟تو فرمایا: ہاں خدا کی قسم ؛دین خدا میں سے ہے بے شک یوسف پیغمبر نے فرمایا: اے قافلہ والو! بیشک تم لوگ چور ہو ؛ حالانکہ خدا کی قسم انہوں نے کوئی چوری نہیں کی تھی ۔

دوسری جگہ اس روایت کی تفصیل کچھ یوں بتائی گئی ہے:

عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع فِي قَوْلِ يُوسُفَ ع- أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسارِقُونَ‏ فَقَالَ وَ اللَّهِ مَا سَرَقُوا وَ مَا كَذَبَ ‏۔(۲)

وَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ ع- بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ‏ هذا فَسْئَلُوهُمْ‏ إِنْ كانُوا يَنْطِقُونَ‏ فَقَالَ وَ اللَّهِ مَا فَعَلُوا وَ مَا كَذَبَ قَالَ فَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع مَا عِنْدَكُمْ فِيهَا يَا صَيْقَلُ قَالَ فَقُلْتُ مَا عِنْدَنَا فِيهَا إِلَّا التَّسْلِيمُ قَالَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ أَحَبَّ اثْنَيْنِ وَ أَبْغَضَ اثْنَيْنِ أَحَبَّ الْخَطَرَ فِيمَا بَيْنَ الصَّفَّيْنِ وَ أَحَبَّ الْكَذِبَ فِي الْإِصْلَاحِ وَ أَبْغَضَ الْخَطَرَ فِي الطُّرُقَاتِ‏ وَ أَبْغَضَ الْكَذِبَ فِي غَيْرِ الْإِصْلَاحِ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ع إِنَّمَا قَالَ- بَلْ فَعَلَهُ

____________________

۱: تاريخ الامر والملوك،ج۱،ص۱۷۱۔

۲:الكافي (ط - الإسلامية) ؛ ج‏۲ ؛ ص۳۴۲۔


كَبِيرُهُمْ هذا إِرَادَةَ الْإِصْلَاحِ وَ دَلَالَةً عَلَى أَنَّهُمْ لَا يَفْعَلُونَ وَ قَالَ يُوسُفُ ع إِرَادَةَ الْإِصْلَاحِ .(۱)

حسن صیقل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ: "ہمیں حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام سے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں ایک روایت بیان کی گئی ہے جب یوسف علیہ السلام کی طرف سے کہا گیا کہ "اے قافلہ والو! تم لوگ ضرور چور ہو" (یوسف/ ۷۰) اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟" کیونکہ امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا: "بخدا! نہ تو انہوں نے پیمانہ چرایا تھا اور نہ ہی یوسف علیہ السلام نے جھوٹ بولا تھا" اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کے بارے میں فرمایا: "بلکہ یہ کام بڑے بت نے کیا ہے، اگر وہ بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو اس بارے میں بھی امام علیہ السلام نے فرمایا: "خدا کی قسم! نہ تو بتوں نے یہ کام کیا تھا اور نہ ہی ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ بولا تھا" اس پر امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "صیقل ! اس بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو؟" صیقل نے کہا: "ہمارے پاس تو سرِ تسلیم خم کرنے کے علاوہ اور کچھ

____________________

۱:. كلينى، محمد بن يعقوب، الكافي (ط - الإسلامية) ، ج‏۲، ص: ۳۴۲- تهران، چاپ: چهارم، ۱۴۰۷ ق.


نہیں ہے امام علیہ السلام نے فرمایا: "ابراہیم علیہ السلام نے جو یہ کہا تھا اس سے ان کی مراد اصلاح کرنا تھی اور اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ بت کوئی کام نہیں کر سکتے۔ اور اگر یوسف علیہ السلام نے ایسا کہا تھا تو بھی اس سے ان کی مراد اصلاح کرنے کی تھی اور یہ بتانا تھا کہ برادران نے یوسف علیہ السلام کو چرایا تھا۔

پس معلوم ہوا اگر چہ فرمان امام سے واضح ہوا کہ حضرت یوسف اور حضرت ابراہیم علیہم السلام ن جھوٹ نہیں بولا ہے، اور اگر جھوٹ بھی مان لئےجائیں لوگوں کی اصلاح کی خاطر کہا تھا، اور اصلاح کی خاطر جھوٹ بولنا خدا کے نزدیک فساد پھیلانے والے سچ سے افضل ہے، اور جائز ہے۔

حضرت موسیعليه‌السلام اورتقيه

قرآن كريم نے حضرت موسیعليه‌السلام کی شجاعت کے بارے میں کئی دفعہ اشارہ کیا ہے کہ کس طرح فرعون کے ساتھ روبرو ہوئے ، حضرت موسیعليه‌السلام کو بہت سے پیغمبروں پر فضیلت حاصل ہے :

( تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِّنْهُم


مَّن كَلَّمَ اللّهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ ) ۔(۱)

یہ سب رسول وہ ہیں جن میں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے خدا نے کلام کیا ہے اور بعض کے درجات بلند کئے ہیں ۔

حضرت موسیعليه‌السلام نے ان تمام شجاعتوں اور فضیلتوں کے باوجود اپنی زندگی میں کئی موقعوں پر لوگوں کو رسالت کی تبلیغ کے دوران تقیہ کیا ہے ۔اور یہ تقیہ اپنی جان کے خوف سے نہیں بلکہ باطل کا حق پر غلبہ پانے کے خوف سے کیا ہے ۔جب خدا نے موسي اور هارونعليه‌السلام کو حکم دیا :

( اذْهَبَا إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى ) ۔(۲)

"تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ کہ وہ سرکش ہوگیا ہے ۔ اس سے نرمی سے بات کرنا کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا خوف زدہ ہوجائے "۔

____________________

۱: سوره بقره۲۵۳۔

۲: سوره طه۴۳،۴۴۔


اورفرعون کے ساتھ نرم اور میٹھی زبان میں بات کرنا اور اعلان جنگ نہ کرنا ، جبکہ وہ طغیان اور نافرمانی کے عروج پر تھا ؛ ایک قسم کا تقیہ ہے ۔البتہ یہ تقیہ مداراتی تھا نہ خوفی لیکن اصحاب موسیعليه‌السلام کے بارے میں قرآن مجيد اشاره کرتا ہے :

( إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ ) ۔(۱)

"فرعون نے روئے زمین پر بلندی اختیار کی اور اس نے اہلِ زمین کو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا کہ ایک گروہ نے دوسرے کو بالکل کمزور بنادیا وہ لڑکوں کو ذبح کردیا کرتا تھا اور عورتوں کو زندہ رکھا کرتا تھا۔ وہ یقینا مفسدین میں سے تھا"

یہ خوف لوگوں کا تھا نہ اپنی جان کا ۔لیکن ولادت حضرت موسیعليه‌السلام کے بارے میں قرآن کہہ رہا ہے کہ جنہوں نے حضرت موسیعليه‌السلام کی دعوت قبول کرلی تھی ، اپنے ایمان کو دلوں میں چھپائے ہوئے تھے ، جب تک موسیعليه‌السلام نے علیٰ الاعلان دعوت کرنا شروع کیا ۔

_________________

۱: ۔ سورہ قصص ۴۔


تاریخ میں آپ کے بعض اصحاب اور مؤمنوں کی تاریخ کو قرآن نے ثبت کیا ہے ؛ جو درج ذیل ہیں :

مؤمن آل فرعون اور تقيه

قرآن فرما رہا ہے :

( وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّه لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ ) ۔(۱)

" اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مؤمن نے جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا ،یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے اور

____________________

۱: غافر۲۸ ۔


اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر نازل بھی ہوسکتی ہیں - بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے"

ابن كثيرلکھتا ہے : یہ فرعون کا چچا زاد بھائی تھا اوراس نے اپنا ایمان اپنی قوم سے چھپا رکھا تھا ۔ جن کے نام میں مورخین نے اختلاف کیا ہے ؛ کسی نے کہا آپ کا نام شمعان تھا ، کسی نے کہا حزقیل تھا ۔بہر حال جب فرعون نے حضرت موسیعليه‌السلام کے قتل کا ارادہ کیا اور اپنے حواریوں سے مشاورت کرنے لگا ، تو مؤمن اس ناپاک سازش سے آگاہ ہو ا اورسخت فکر مند ہوا ،اور فرعون کو یوں مشوره دیا :

( وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَ تَقْتُلُونَ رَجُلاً أَن يَقُولَ رَبىّ‏َِ اللهُ ) ؟ !

"اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مؤمن نے جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے "


:( قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَى ) ‏۔(۱)

" فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی باتیں بتارہا ہوں جو میں خود سمجھ رہا ہوں "

ثعلبي نے لکھا ہے اس شخص کا نام حزقیل ہے اور یہ اصحاب فرعون میں سے تھااور وہی ترکھان تھا جس نے حضرت موسیعليه‌السلام کی ماں کیلئے وہی صندوق بنا کر دیا تھا جس میں ڈال کر موسیٰ کو دریائے نیل میں ڈال دیا گیا تھا ۔

قَالَ الصادق عليه‌السلام :إِنَّ مَثَلَ أَبِي طَالِبٍ مَثَلُ أَصْحَابِ الْكَهْفِ أَسَرُّوا الْإِيمَانَ وَ أَظْهَرُوا الشِّرْكَ فَآتَاهُمُ اللهُ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ ۔(۲)

امام صادقعليه‌السلام نے فرمایا: "بے شک ابوطالب کی مثال اصحاب کہف کی مثال ہے ، انہوں نے اپنا ایمان چھپائے رکھا اور شرک کا اظہار کیا ، خدا تعالیٰ انہیں قیامت کے دن دو دفعہ ثواب عطا کریگا "

____________________

۱: غافر۲۹ ۔

۲: الكافي باب مولد النبي ص و وفاته‏،ج ۱، ص ۴۴۸۔


امام حسن العسکریعليه‌السلام نے فرمایا:ان ابا طالب كمؤمن آل فرعون يكتم ايمانه ۔(۱) فرماتے ہیں : حضرت ابوطالب نےبھی مؤمن آل فرعون کی طرح اپنا ایما ن کفار قریش سے چھپا رکھا تھا ۔

آسيه بنت مزاحم اور تقيه

آپ فرعون کی بیوی ہیں قرآن نے آپ کے بارے میں فرمایا:

( وَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبّ‏ ابْنِ لىِ عِندَكَ بَيْتًا فىِ الْجَنَّةِ وَ نجَّنىِ مِن فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهِ وَ نجَّنىِ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ) ۔(۲)

" اور خدا نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی زوجہ کی مثال بیان کی ہے کہ اس نے دعا کی کہ پروردگار !میرے لئے جنّت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے کاروبار سے نجات دلادے اور اس پوری ظالم قوم سے نجات عطا کردے"

____________________

۱: وسائل الشيعه ،ج۱۱، ص ۸۳۔

۲: سوره تحريم ۱۱۔


روايات اهلبيت میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت آسیہ بہشت میں نبی کی بیویوں میں سے ہونگی۔(۱)

اصحاب كهف او رتقيه

قطب راوندي نے شيخ صدوق سے امام صادقعليه‌السلام کي روايت نقل کي هے :

فَقَالَ لَوْ كَلَّفَكُمْ قَوْمُكُمْ مَا كَلَّفَهُمْ قَوْمُهُمْ فَافْعَلُوا فِعْلَهُمْ فَقِيلَ لَهُ وَ مَا كَلَّفَهُمْ قَوْمُهُمْ قَالَ كَلَّفُوهُمُ الشِّرْكَ بِاللهِ فَأَظْهَرُوهُ لَهُمْ وَ أَسَرُّوا الْإِيمَانَ حَتَّى جَاءَهُمُ الْفَرَجُ وَ قَالَ إِنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ كَذَبُوا فَآجَرَهُمُ اللهُ إِلَى أَنْ قَالَ وَ قَالَ إِنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ أَسَرُّوا الْإِيمَانَ وَ أَظْهَرُوا الْكُفْرَ فَكَانُوا عَلَى إِظْهَارِهِمُ الْكُفْرَ أَعْظَمَ أَجْراً مِنْهُمْ عَلَى إِسْرَارِهِمُ الْإِيمَانَ وَ قَالَ مَا بَلَغَتْ تَقِيَّةُ أَحَدٍ تَقِيَّةَ أَصْحَابِ الْكَهْفِ فَأَعْطَاهُمُ اللهُ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ ۔(۲)

"اگر تمهاري قوم کفر کا اظهار کرنے پر مجبور کرے تو اظهار کرنا اوراپنا ايمان آرام آنے تک

____________________

۱: ۔ تفسير نور الثقلين ۔ ج۵ ، ص۲۷۷۔

۲: مستدرك‏الوسائل ،ج ۱۲ ،ص ۲۷۲۔


چھپا رکھنا۔ پھر فرمايا اصحاب کهف نے بھي ظاهراً جھوٹ بولا اور الله تعالي نے بھي ان کو جزائے خير دي اور کها اصحاب کهف نے اپنے ايمان کو چھپایا اور کفر کا اظهار کیا۔پس کفر کا اظهار کرنے کا ثواب ايمان کے چھپانے سے زياده هے ۔ اور فرمايا: اصحاب کهف سے زياده کسي اور نے تقيه نهيں کيا ۔۔۔الله تعالي نے بھي ان کو دو مرتبه اجر اور ثواب عطا کيا"

امير المؤمنينعليه‌السلام سے ایک حدیث نقل ہوئی ہے :

وَ عَلَيْكُمْ بِالتَّمَسُّكِ بِحَبْلِ اللهِ وَ عُرْوَتِهِ وَ كُونُوا مِنْ حِزْبِ اللهِ وَ رَسُولِهِ وَ الْزَمُوا عَهْدَ اللهِ وَ مِيثَاقَهُ عَلَيْكُمْ فَإِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيباً وَ سَيَعُودُ غَرِيباً وَ كُونُوا فِي أَهْلِ مِلَّتِكُمْ كَأَصْحَابِ الْكَهْفِ وَ إِيَّاكُمْ أَنْ تُفْشُوا أَمْرَكُمْ إِلَى أَهْلٍ أَوْ وَلَدٍ أَوْ حَمِيمٍ أَوْ قَرِيبٍ فَإِنَّهُ دِينُ اللهِ عَزَّ وَ جَلَّ الَّذِي أَوْجَبَ لَهُ التَّقِيَّةَ لِأَوْلِيَائِهِ ۔(۱)

امام ؑ نے فرمایا:تم پر ضروری ہے کہ اللہ کی رسی اور عروۃ الوثقی سے متمسک رہیں ۔ اللہ

____________________

۱: مستدرك، باب وجوب التقية مع الخوف إلى خر۔


اور اس کے رسول کی سپاہیوں میں سے ہوجائیں۔اللہ تعالی کے ساتھ جو بھی عہد وپیمان باندھ لئے ہیں ،ان پر پورا اترا کریں۔بیشک اسلام ابتداء میں بھی غریب تھا اور آنے والے زمانے میں بھی غریب ہوگا۔ تم لوگ اپنی قوم کے درمیان اصحاب کہف کی طرح زندگی گزار اکریں۔خبرداراپنی راز کی باتیں اپنی بیویاں ،اولاد اور اپنے دوستوں کو نہ بتائیں۔بیشک تمہارے لئے یہی دین خدا ہے جس نے اپنے اولیاء کے لئے تقیہ کو مجاز قرار دیا ہے۔

امام حسن العسكريعليه‌السلام کی روايت اس بات کی تائید کرتی ہے۔

وَ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ع قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص: إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ إِنَّمَا فَضَّلَهُمُ اللَّهُ عَلَى خَلْقِهِ أَجْمَعِينَ بِشِدَّةِ مُدَارَاتِهِمْ لِأَعْدَاءِ دِينِ اللَّهِ وَ حُسْنِ تَقِيَّتِهِمْ لِأَجْلِ‏ إِخْوَانِهِمْ‏ فِي‏ اللَّه‏ ۔(۱)

"رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: بیشک انبیائے الہٰی کو دوسرے لوگوں پر اس لئے فضیلت

____________________

۱: مستدرك الوسائل و مستنبط المسائل / ج‏۱۲ / ۲۶۲ / ۲۷ باب وجوب الاعتناء و الاهتمام بالتقية و قضاء حقوق الإخوان ,ص : ۲۶۱


ملی ہے کہ خدا کے دشمنوں کے ساتھ مدارات کیا کرتے تھے اور نیک لوگوں کے ساتھ خدا کی خاطر اچھا تقیہ کیا کرتے تھے "

یہ اسلام سے پہلے کے تقیہ کے کچھ موارد تھےجو آیات اورشیعہ سنی احادیث کی کتابوں میں مرقوم تھے ۔ اور یہ ایسے حقائق ہیں جن سے انکار ممکن نہیں ہے ۔

ب:ظهور اسلام کے بعد تقيه

اسلام چونکہ ابتدا سے غریب تھا اور غریب ہی رہ گیا ۔ابتدائے اسلام میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور اس زمانے میں لوگ انحرافات اور گمراہی کے اسیر ہوچکے تھے ، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آکر انہیں نجات دلاد دی ۔جس پر قرآن گواہی دے رہا ہے :

( هُوَ الَّذِى بَعَثَ فىِ الْأُمِّيِّنَ رَسُولًا مِّنهْمْ يَتْلُواْ عَلَيهْمْ ءَايَاتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَ الحْكْمَةَ وَ


إِن كاَنُواْ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَالٍ مُّبِينٍ ) ۔(۱)

"اس خدا نے مکہ والوں میں ایک رسول بھیجا ہے جو ان ہی میں سے تھا کہ ان کے سامنے آیات کی تلاوت کرے ,ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اگرچہ یہ لوگ بڑی کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا تھے "

یہ تعلیمات اسلامی کی خصوصیت تھی کہ انسان کو اس گمراہی سے نکال کر انسانیت کے بلند و بالا مقام تک پہنچایا۔اور عقلوں پر لگے ہوئے تالے کھول دیے ۔اور سارے انسانوں کو ایک ہی صف میں لاکر رکھ دیا ۔

اور انسان کی فضیلت کیلئے تقوی کو معیار قرار دیتے ہوئے فرمایا :( إِنَّ أَكْرَمَكمُ‏ عِندَ اللهِ أَتْقَئكُمْ ) ۔(۲)

بے شک خدا کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ باعزت ترین شخص وہی ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو ۔

____________________

۱: سوره جمعه۲۔

۲: سوره حجرات۱۳۔


اسی طرح ظالم وجابر بادشاہ جو فقیر وں اور ضعیفوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہوئے زندگی گزارتے تھے ، جب اس پیغام کو سنا تو وہ لوگ خاموش نہیں رہ سکے ؛ بلکہ اسلام کو اس صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہوگئے ۔جس کی وجہ سے اسلام مظلوم اور غریب ہوا ۔

ابو طالبؑ اور تقيه

بعض نفسياتي خواهشات کے اسیر او ر ریاست طلب ،دین فروش اور درہم و دینار کے لالچی لوگوں نے ظالموں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے اپنی کتابوں میں ابوطالب کے ایمان کو مشکوک ظاہر کرنا چاہا ۔ نعوذ باللہ ! آپ شرک کی حالت میں اس دنیا سے چلے گئے ؛ جبکہ آپ کی شخصیت ، عظمت اور اسلام کے ساتھ محبت اور ایمان پر واضح دلائل موجود ہیں ۔ابوطالبعليه‌السلام کی ذات وہ ہے جسے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت کا شرف حاصل ہے ؛ کہ آپ حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کفار قریش اور دوسرے دشمنوں کے مکر وفریب اور ظلم وستم سے بچاتے رہے ، جبکہ وہ لوگ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان کے درپے تھے ۔

اگر آپ کا اسلام اور پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر مکمل ایمان اور اعتقاد نہ ہوتا توکیسے


دعوت ذوالعشیرہ کے موقع پر رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یوں خطاب کیا ؟!:

وَ اللَّهِ لَا وَصَلُوا إِلَيْكَ بِجَمْعِهِمْ حَتَّى أُغَيَّبَ فِي التُّرَابِ دَفِيناً

فَامْضِ ابْنَ أَخِ فَمَا عَلَيْكَ غَضَاضَةٌ وَ أَبْشِرْ بِذَاكَ وَ قِرَّ مِنْكَ عُيُوناً

وَ دَعَوْتَنِي وَ زَعَمْتَ أَنَّكَ‏ نَاصِحِي وَ لَقَدْ صَدَقْتَ وَ كُنْتَ قَبْلُ أَمِيناً

وَ لَقَدْ عَلِمْتُ‏ بأَنَ‏ دِينَ‏ مُحَمَّدٍ مِنْ خَيْرِ أَدْيَانِ البَرِيَّة دِينَا(۱)

خدا کی قسم! اگروہ سب مل کر اپنی پوری قوت صرف بھی کرے؛جب تک میں زندہ ہوں اس وقت تک آپ کو ان کی طرف سے کوئی گزند نہیں پہنچے گا ۔پس اے میرے برادر زادے! جو آپ کا مقصد ہے اسے آشکار کرلو اور اس کی بشارت دو کوئی عیب والی بات نہیں ہے اور تم خوش رہو۔چشم شما روشن باد۔[یہ فارسی اصطلاح میں ایک دعائے خیر ہے]

اور تم نے مجھے دعوت دی ہے مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ناصح ہو اور تم نے سچ کہا ہے ،اور تم پہلے سے ہی امانت دار تھے۔اور میں بھی جانتا تھا کہ کہ دین محمد تمام مخلوقات عالم

___________________

۱: الغدير، ج۷ ، ص۳۳۴۔


کے دین سے بہتر دین تھا۔

اگر ابوطالبعليه‌السلام ايمان نہ لائے ہوتے تو ابولہب کی طرح وہ بھی پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا تھے ، خدا کی طرف سے مورد مذمت اور قابل نفرین قرار پاتے ؛ لیکن ایمان ابوطالب ؑ ہمارے لئے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آئمہ طاہرین ؑ کے فرامین کے ذریعے واضح اور روشن ہے ، اور آپ کا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت کرنا کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ۔

یہاں تک کہ ابن ابی الحدید نے اشعار کی شکل میں اس مطلب کو بیان کیا ہے :

لو لا ابو طالب و ابنه لما مثل الدين شخصا فقاما

فهذا بمكة آوي و حامي و هذا بيثرب جس الحماما(۱)

"اگر ابوطالبعليه‌السلام اور ان کے فرزند علی نہ ہوتے تو دین اسلام بطور نمونہ برپا نہ ہوتا ۔ پس ابوطالبعليه‌السلام نے مکہ میں رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو پناہ دی اور ان کے بیٹے نے مدینے میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جان بچانے کی خاطر اپنی جان کی بازی لگا دی" ۔

____________________

۱: شرح نهج البلاغہ ، ابن ابی الحدید ج۱۴،ص۸۴۔


اگر علی نہ ہوتے تو ابوطالب سید سادات المسلمین والسابقین الاولین ہوتے ۔

جابر بن عبداللہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدااصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے امیر المؤمنینعليه‌السلام کی ولادت کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے وضاحت فرمائی ، یہاں تک کہ ابوطالبعليه‌السلام کے بارے میں عرض کی :

قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ اللهُ أَكْبَرُ النَّاسُ يَقُولُونَ [إِنَ‏] أَبَا طَالِبٍ مَاتَ كَافِراً قَالَ يَا جَابِرُ اللهُ أَعْلَمُ بِالْغَيْبِ إِنَّهُ لَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الَّتِي أُسْرِيَ بِي فِيهَا إِلَى السَّمَاءِ انْتَهَيْتُ إِلَى الْعَرْشِ فَرَأَيْتُ أَرْبَعَةَ أَنْوَارٍ فَقُلْتُ إِلَهِي مَا هَذِهِ الْأَنْوَارُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ هَذَا عَبْدُالْمُطَّلِبِ وَ هَذَا أَبُو طَالِبٍ وَ هَذَا أَبُوكَ عَبْدُ اللهِ وَ هَذَا أَخُوكَ طَالِبٌ فَقُلْتُ إِلَهِي وَ سَيِّدِي فَبِمَا نَالُوا هَذِهِ الدَّرَجَةَ قَالَ بِكِتْمَانِهِمُ الْإِيمَانَ وَ إِظْهَارِهِمُ الْكُفْرَ وَ صَبْرِهِمْ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى مَاتُوا ۔(۱)

جابر بن عبد اللہ انصاری نےعرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ اکبر ؛ لوگ کہتے ہیں کہ ابوطالبؑ حالت کفر میں اس دنیا سے رحلت کر گئے!

____________________

۱: بحار الانوار،ج۳۵، ص۱۶۔


فرمایا: اے جابر خداوند سب سے زیادہ جاننے والا ہے علم غیب کا مالک ہے ، جس رات جبرئیل مجھے معراج پر لے گئے اور عرش پر پہنچےتو چار نور دیکھنے میں آئے، میں نے سوال کیا : خدایا یہ چار نور کن کے ہیں ؟!تو الله تعالي کی طرف سے جواب آیا : اے محمد!صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یہ عبدالمطلب ، ابوطالب،تیرے والد عبداللہ اور تیرے بھائی طالب کے ہیں۔میں نے کہا : اے میرے الله اے میرے آقا ! یہ لوگ کیسے اس مرتبے پر پہنچے ؟ خدا تعالی کی طرف سے جواب آیا : ایمان کے چھپانے اور کافروں کے مقابلے میں کفر کے اظہار اور ان پر صبر کرنے کی وجہ سے پہنچے ہیں۔

يونس بن نباته نے امام صادقعليه‌السلام سے روايت کی ہے :

قال يا يونس ما يقول الناس في ايمان ابو طالب عليه‌السلام قلت جعلت فداك ، يقولون «هو في ضحضاح من نار و في رجليه نعلان من نار تغلى منهما امّ رأسه» فقال كذب اعداءالله ، ان اباطالب عليه‌السلام من رفقاء النبيين و الصديقين و الشهداء و الصالحين و حسن اولئك رفيقا ۔(۱)

____________________

۱: كنز الفوائد ،ص۸۰۔


چنانچہ محمد بن یونس نے اپنے والد سے انہوں نے امام صادقعليه‌السلام سے نقل کيا هے کہ آنحضرت نے ہم سے کہا: اے یونس ! لوگ ابوطالب کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کی ، مولا میں آپ پر قربان ہو جاؤں ؛ لوگ کہتے ہیں :

هو في ضحضاح من نار و في رجليه نعلان من نار تغلى منهما امّ رأسه ۔

"ابو طالب کھولتی ہوئی آگ میں پیروں میں آگ کے جوتے پہنے ہوئے ہے جس کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہے "

امام نے فرمایا: خدا کی قسم یہ خدا کے دشمن لوگ غلط کہہ رہے ہیں ! ابوطالب انبیاء،صادقین ، شہداء اور صالحین کے ساتھیوں میں سے ہیں اور وہ لوگ کتنے اچھے ساتھی ہیں ۔(۱)

قصہ مختصر اگر علمائے اہل سنت بھی تھوڑا انصاف سے کام لیتے تو ايمان ابو طالبعليه‌السلام کو درک کرلیتے کہ ایمان کے کتنے درجے پر آپ فائز تھے ۔لیکن بعض خود غرض اور بغض اور

____________________

۱:۔ الطرائف؛ترجمه داود الهامى؛ ايمان ابو طالب ص۴۴۸ ۔


کینہ دل میں رکھنے والے لوگوں نے ایک جعلی اور ضعیف روایت جو حدیث ضحضاح کے نام سے مشہور ہے اس کو دلیل بنا کر امير المؤمنين کے پدر گرامی اور پیغمبر اكرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا ابو طالب کے ايمان کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی ہے ۔اگران لوگوں کو اہل بیت اور علی ابن ابی طالبعليه‌السلام سے دشمنی نہ ہوتی تو ان ساری صحیح اور معتبر حدیثوں میں سے صرف ایک ضعیف حدیث کو نہیں اپناتے ۔ اور شيخ بطحا مؤمن قريش پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بڑے حامى پر یہ تہمت نہ لگاتے ۔(۱)

محققین اور راويو ں نے اس حديث کی بررسى اور گہری تحقيق کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ حدیث مورد اعتماد نہیں ہے ۔ علمائے اہل سنت کے نزدیک اس روایت کو نقل کرنے والے جھوٹے ، بعض مجہول اور بعض علیعليه‌السلام اور ان کی اولاد سے بغض و کینہ رکھنے والے تھے ۔ جن میں سے ایک مغيرة بن شعبه ہے جو ایک فاسق و فاجر اور سخت دشمن اہل بیت تھا ۔اس بارے میں درج ذیل کتابوں کا مطالعہ کرسکتے ہیں :

____________________

۱: الطرائف؛ترجمه داود الهامى؛ ايمان ابو طالب ص۴۶۰۔


۱- اسنى المطالب في نجاة ابي طالب، سيد احمد زينى دحلان۔

۲- شيخ الأبطح او ابو طالب، سيد محمد علي آل شرف الدين۔

۳- الطرائف-ترجمه داود الهامى، ص: ۴۶۱ ۔

۴- الشهاب الثاقب، لرجم كفر ابى طالب، شيخ نجم الدين۔

۵- ايمان ابى طالب، ابو على كوفى۔

۶- ايمان ابى طالب، مرحوم مفيد۔

۷- ايمان ابى طالب، ابن طاوس۔

۸- ايمان ابى طالب، احمد بن قاسم۔

۹- بغية الطالب ۔۔، سيد محمد عباس تسترى ۔

۱۰- موهاب الواهب في فضائل ابى طالب۔

۱۱- الحجة على الذاهب الى تكفير ابى طالب، سيد فخار۔(۱)

____________________

۱: ایضاً، ص ۴۶۱۔


امام کاظمعليه‌السلام سے روایت ہے:

إِنَّ إِيمَانَ أَبِي طَالِبٍ لَوْ وُضِعَ فِي كِفَّةِ مِيزَانٍ وَ إِيمَانَ هَذَا الْخَلْقِ فِي كِفَّةِ مِيزَانٍ لَرَجَحَ‏ إِيمَانُ‏ أَبِي‏ طَالِبٍ‏ عَلَى إِيمَانِهِمْ ثُمَّ قَالَ كَانَ وَ اللَّهِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَأْمُرُ أَنْ يُحَجَّ عَنْ أَبِي‏ النَّبِيِّ وَ أُمِّهِ وَ عَنْ أَبِي طَالِبٍ‏ حَيَاتَهُ وَ لَقَدْ أَوْصَى فِي وَصِيَّتِهِ بِالْحَجِّ عَنْهُمْ بَعْدَ مَمَاتِه ‏۔(۱)

" اگر ایمان ابوطالبعليه‌السلام کو ترازو کے ا یک پلڑے میں قرار دیدیا جائے ا ور دوسری تمام مخلوقات کے ایمان کو دوسرے پلڑےمیں رکھ دیا جائے تو ابوطالبعليه‌السلام کا ایمان دوسرے تمام مخلوقات کے ایمان سے زیادہ بھاری ہوگا ۔۔۔ خدا کی قسم امیر المؤمنینعليه‌السلام جب تک زندہ رہے اپنے باپ، ماں اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نیابت میں حج انجام دیتے رہے ۔اور حسن و حسینعليه‌السلام کو بھی وصیت کرگئے کہ وہ لوگ بھی اسی طرح ان کی نیابت میں حج انجام دیتے رہیں ۔اور ہم میں سے ہر امام اس سنت پر عمل کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آخری حجت کا ظہور ہوگا "

____________________

۱: إيمان أبي طالب (الحجة على الذاهب إلى كفر أبي طالب) ؛ ص۸۵


عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَبِي طَالِبٍ أَ كَانَ مُؤْمِناً فَقَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ هَاهُنَا قَوْماً يَزْعُمُونَ أَنَّهُ كَافِرٌ فَقَالَ وَا عَجَبَاهْ أَ يَطْعَنُونَ عَلَى أَبِي طَالِبٍ أَوْ عَلَى رَسُولِ اللهِ ص وَ قَدْ نَهَاهُ اللهُ أَنْ يُقِرَّ مُؤْمِنَةً مَعَ كَافِرٍ فِي غَيْرِ آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَ لَا يَشُكُّ أَحَدٌ أَنَّ بِنْتَ أَسَدٍ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ السَّابِقَاتِ وَ أَنَّهَا لَمْ تَزَلْ تَحْتَ أَبِي طَالِبٍ حَتَّى مَاتَ أَبُو طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ۔(۱)

امام سجادعليه‌السلام سے ایمان ابوطالبعليه‌السلام کے بارے میں سوال ہوا: کیا وہ مؤمن تھے ؟

تو فرمایا : ہاں ۔

راوی نے عرض کی : یہاں ایک قوم رہتی ہے جن کا عقیدہ ہے کہ ابوطالب حالت کفر میں اس دنیا سے چلے گئے ہیں !

تو امام ؑ نے فرمایا : واعجبا ! کیا وہ لوگ ابوطالب پر طعنہ اور تہمت لگا رہے ہیں یا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ؟! جب کہ خدا تعالی نے قرآن مجید کی کئی آیات میں کفار کے ساتھ ازدواج کو

____________________

۱: بحار ،ج ۳۵، ص ۱۱۷۔


ممنوع قرار دیا ہے؛ اور اس میں بھی کسی کواختلاف نہیں کہ فاطمہ بنت اسد مؤمنہ عورتوں میں سے تھیں اور مرتے دم تک ابوطالبؑ کی زوجیت میں رہیں ۔

اور یہ دوسری دلیل ہے ایمان ابوطالب پر کہ مسلمان عورتوں کا کافروں کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے ؛ چنانچہ ۔ جب زینب نے اسلام قبول کیا ، اور ابی العاص نے شریعت اسلام قبول نہیں کیا تو اسلام نے ابی العاص کے ایمان لانے تک ان کے درمیان فاصلہ ڈالا۔ اور جب وہ ایمان لایا تو دوبارہ نکاح پڑھ کر ان کو رشتہ ازدواج میں منسلک کیا ۔(۱)

لیکن حضرت فاطمه بنت اسد وہ پہلی خاتون ہیں جنھوں نے مکہ سے مدینے میں رسول خدا (ص) کی طرف ہجرت کی ہے اور آپ پیغمبر اسلام (ص) کیلئے مہربان ترین خاتون تھیں۔(۲)

جب آپ رحلت کرگئی تو امير المؤمنينعليه‌السلام روتے ہوئے رسول خدا (ص) کی خدمت میں تشریف لائے ۔ رونے کا سبب پوچھا تو فرمایا : یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ! میری ماں فاطمہ اس نیا سے رحلت کر گئی ہے ۔فقال رسول الله : امي والله !

____________________

۱: تنقيح المقال في علم الرجال،ج۳،ص۷۹۔

۲: اصول كافي ،ج۱،باب امير المؤمنين ۔


تو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا خدا کی قسم وہ میری ماں تھی ۔ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم روتے ہوئے تشریف لائے اور تشییع جنازے میں شریک ہوئے ۔(۱)

پس اگر فاطمه بنت اسدمؤمنه تھیں اور ابو طالبعليه‌السلام كافر، تو کیسے پیغمبر اسلام (ص) نے ان کے درمیان جدائی نہیں ڈالی ؟!کیسے یہ تصور ممكن ہے كه پیغمبر اسلام (ص) نے ایک مهم ترين احكام اسلام سے چشم پوشي كرتے ہوئے اس حکم کو تعطيل كیا ہو؟!۔(۲)

پیغمبر اكرم (ص) ا ور تقيه

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کےتقيه كرنے کے موارد میں سے ایک مورد آپ کا بعثت سے تین سال پہلےمخفیانہ طور پر دعوت دینا تھا ۔

____________________

۱: اصول كافي ،ج۱،باب امير المؤمنين۔

۲: بحار الانوار،ج۳۵،ص۱۱۵۔


اسی طرح صلح حدیبیہ کےموقع پرسهيل بن عمرو جو کہ مشركوں کانماينده تھا ، کی درخواست پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کی بجائے 'باسمک اللهم' لکھنا اور رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے عنوان کو حذف کرکے محمد بن عبداللہ لکھنا بھی ایک قسم کا تقیہ ہے ۔(۱)

آنحضرت (ص) کا عبد الله بن ابي پر نماز ميت پڑھنا اور بجائے دعا کے آہستہ سے نفرین کرنا جبکہ وہ منافقين مدينه کا سردار تھا ؛ موارد تقيه میں سے تھا ۔(۲)

عليعليه‌السلام اور تقيه

آپ کا سقیفہ والوں کے انتخاب پر ظاہرا ً ۲۵ سال تک خاموش رہنا جبکہ آپ کو معلوم تھا کہ قرآن اور فرمان رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مطابق خلافت پر آپ کا حق تھا ، لیکن مسلمانوں کے درمیان وحدت اور اتحاد کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے خاموش رہنا ،تقیہ تھا ۔ جس

____________________

۱: ابن هشام؛ السنة النبويه،ج۳، ص۳۱۷ ۔

۲: وسائل الشيعه،ج۹ ، ص۳۲۸ ـ ۳۲۹۔


کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی مصلحتوں کو محفوظ کیا ۔ اگر آپ خاموش نہ رہتے تو اس وقت روم والے مسلمانوں کے سر پر کھڑے تھے کہ کوئی موقع ہاتھ آجائے تاکہ مسلمانوں پر حملہ کرکے ان کو نابود کرسکیں ، جو مسلمانوں کی وحدت کی وجہ سے ناکام ہوا ۔

آپ کا اپنے زمانے کے حاکموں کے پیچھے نماز پڑھنا بھی تقیہ کے موارد میں سے ہے ۔

امام حسن ، امام حسین ،امام سجاد  اور تقيه

امام حسنعليه‌السلام کی خلافت کا دور ۲۱ رمضان ۴۱ ھ سے لے کر وفات امام سجادعليه‌السلام سن ۹۵ ھ تک تاريك ترين اور وحشت ناك ترين دور ہے جس سے آئمہ طاهرين دوچار ہوئے۔

صلح امام حسنعليه‌السلام ربيع الاول سال ۴۱ ھ کے بعد اور حكومت اموي کے برسراقتدارآنے کے بعد ، شيعه اور ان کے پيشواؤں کوشدید دباؤ ميں رکھا گیا۔معا ويه نے حکم دیا كه خطيب لوگ عليعليه‌السلام اور ان کے خاندان کی شان میں گستاخی کریں


اور منبروں سے لعن طعن کریں ۔ شهادت اما م حسينعليه‌السلام سن ۶۱ ھ کے بعد مزید سختی کرنے لگے ۔ حضرت عليعليه‌السلام نے اپني خاص روشن بینی کی وجہ سے اپنے بعد آنے والےتمام واقعات کی پیشگوئي فرمائی ۔ اور اس دوران میں اپنے دوستوں سے تقیہ کرنے کا حکم فرمارہے تھے ۔کہ جب بھی ان کے مولا کے بارے میں گستاخی کرنے پر مجبور کیا جائے تو اپنی جان بچائیں اور ان کی بات قبول کریں۔(۱)

اس دوران میں آئمہعليهم‌السلام کے سياسي تقيه کے واضح ترين مصداق ،صلح امام حسنعليه‌السلام کوقراردے سکتے ہیں ۔ كه جو خود مهم ترين علت اور اسباب میں سے ایک ہے جس کا مقصد مسلمانوں خصوصاً شیعیان حیدر کرار کے خون کی حفاظت تھی ۔(۲)

اسی طرح امام حسينعليه‌السلام کا معاويه کے خلاف جنگ نہ کرنا بھی تقیہ شمار ہو تا

____________________

۱: بحار الانوار،ج۷۵ ، ص۳۹۳۔

۲: بحار الانوار،ج۷۵ ، ص ۴۴۷۔


ہے ۔اور اس دوران امام حسن و امام حسينعليه‌السلام کا مروان بن حكم ، حاكم مدينه کے پیچھے نماز پڑھنا بھی سياسي و اجتماعي تقيه کے مصاديق میں سے ہے ۔(۱)

اگر تاریخ کا مطالعہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ امام سجادعليه‌السلام تقیہ کرنے کا ایک خاص طریقہ اپناتے ہیں اور وہ دعا کی شکل میں اسلامی معارف اور تعلیمات کا عام کرنا ہے ۔ جس کا مجموعہ صحیفہ سجادیہ کی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے ۔

امام باقرعليه‌السلام او رتقيه

امام باقرعليه‌السلام کا دور بنی امیہ کے کئی خلفاءوليد بن عبد الملك ، سليمان بن عبد الملك،عمر بن عبد العزيز، هشام بن عبد الملك)کا دور تھا اس دوران میں سخت گيري نسبتاً كم ہوئی ۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے شيعه مکتب کے مختلف کلامي، فقهي اور فرهنگي امور کو تدوين کرکے اسلامي مکاتب کے سامنے رکھ ديا ، اور بهت

____________________

۱: بحار الانوار، ،ج۸۸۔


سے شاگردوں کي تربيت کي ۔

ہم امام ؑ کے سیاسی تقیہ کے موارد میں سے درج ذیل توریہ والی روایت کو شمار کر سکتے ہیں کہ امام ؑ نے ہشام کی مجلس میں اس سے یوں خطاب کیا :يا امير المؤمنين الواجب علي الناس الطاعة لامامهم و الصدق له بالنصيحه ۔(۱) اے امير المؤمنین! لوگوں پر واجب ہے کہ اپنے امام ؑ کی اطاعت کریں اور نصیحت اور خیر خواہی کے وقت اسے قبول کریں ۔

اس روایت میں لفظ امام ،غاصب حاكموں ا ور آئمہ اهل بيتعليهم‌السلام دونوں پر قابل تطبيق ہے ۔بنی امیہ کے بادشاہوں سے تقیہ کرتے ہوئے شاہین اور عقاب کے ذریعے شکار کرنے کو حلال قرار دیا ؛ ان دو پرندوں کے ذریعے خلفائے بنی امیہ بہت زیادہ شکار کیا کرتے تھے ۔امام باقرعليه‌السلام کےتقیہ کرنے پر یہ روایت صراحت کے ساتھ بیان کر رہی ہے ۔(۲)

____________________

۱: بحار الانوار ، ج ۴۶، ص ۳۱۶۔

۲:وسائل الشيعه ، ج ۱۶ ،ص ۲۶۴۔


امام صادقعليه‌السلام اور تقيه

امام صادقعليه‌السلام کي ۳۴ ساله مدت امامت ۱۱۴ ھ سے لیکر ۱۴۸ ھ تک) آئمہ طاهرينعليهم‌السلام کي طولاني ترين مدت امامت شمار ہوتی ہے كه جسے تین حصوں میں تقسيم کرسکتے ہیں:

پہلاحصہ:

یہ هشام بن عبد الملک( ۱۰۵ ـــ ۱۲۵) کادور تھا ، جو سياسي لحاظ سے قدرت مند خليفه شمار ہوتا تھا اور مملكت اسلامي کے او ضاع پرمسلط تھا ۔ امام ؑ اور ان کی فعالیتوں کو سخت کنٹرول میں رکھتا تھا ۔

دوسرا حصہ :

یہ دوره سن ﴿ ۱۲۵ _ ۱۴۵ ﴾ھ کو شامل کرتا ہے كه بني اميه کي حكومت روبه زوال تھي اور بنی عباس کے ساتھ جنگ وجدال میں مشغول ہوگئے تھے آخرکار ان کے ہاتھوں شکست کھا کران کي حکومت سرنگوں ہوئي ۔

تیسرا حصہ:

سن( ۱۴۵ ـ ۱۴۸) ھ کوشامل کرتا ہے كه اس وقت منصور نے شدت


کے ساتھ امام ؑ اور ان کی فعاليتوں کو مختلف اطراف سے كنٹرول کررکھا تھا۔

بحارالانوار میں آنحضرت کے تقيه سے مربوط ۵۳ روايت جمع کي گئي ہیں ۔(۱) كه جن میں سے زیادہ تر اس کتاب کے مختلف ٖصفحات پر ذکر ہوئی ہیں ۔

جب منصور نے امام ؑ کو ان کی حکومت کے خلاف قیام کرنے سے ڈرايا تو امامعليه‌السلام نے فرمايا: میں نے بنی امیہ کے زمانے میں کوئي ایسا قيام نہیں کیا ہے جب کہ وہ سب سے زیادہ ہمارے ساتھ دشمنی کرنے والے تھے ، اب یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنے چچا زاد بھائی کے خلاف قیام کروں جب کہ رشتے کے لحاظ سے سب سے زیادہ قریب ہے ، اورسب سے زیادہ میرے اوپر مہربان اور نیکی کرنے والا ہے۔(۲)

امام صادقعليه‌السلام کی وصيت بعنوان تقیہ ہم بیان کر سکتے ہیں کہ جب امام صادقعليه‌السلام رحلت فرماگئے تو منصور نے مدينه کے گورنر کو خط لکھا : جس کو بھی امام ؑ نے اپنا جانشین

____________________

۱: ۔ بحار الانوار،ج ۷۵، ص ۳۹۳ ۔

۲: بحار الانوار،ج۷۵ ، ص،۱۹۶۔


اوروصی بنایا، اسے اپنے پاس لا کر اس کا سر قلم کردو۔

جب مدینے کا گورنر اس ماجرا کی تحقیق کرنے لگا تو معلوم ہوا کہ امامعليه‌السلام کئی افراد کو اپنے جانشین کے طور پر معین کرچکے هيں، جیسے موسی ابن جعفرعليه‌السلام ، اپنی زوجہ حميدہ اور اپنے دوسرےفرزند عبدالله اور خود امامعليه‌السلام ۔جن میں سے خود منصور اور مدینہ کا گورنر بھی شامل ہیں۔

دوسرے دن جب منصور کو یہ خبر دی گئی تو وہ چیخ اٹھا اور کہنے لگا : اے گورنر اس صورت میں میں کسی کو بھی قتل نہیں کرسکتا ۔(۱)

الْإِمَامُ الْعَسْكَرِيعليه‌السلام فِي تَفْسِيرِهِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى وَ قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْناً قَالَ الصَّادِقُ ع قُولُوا لِلنَّاسِ كُلِّهِمْ حُسْناً مُؤْمِنِهِمْ وَ مُخَالِفِهِمْ أَمَّا الْمُؤْمِنُونَ فَيَبْسُطُ لَهُمْ وَجْهَهُ وَ أَمَّا الْمُخَالِفُونَ فَيُكَلِّمُهُمْ بِالْمُدَارَاةِ لِاجْتِذَابِهِمْ إِلَى الْإِيمَانِ فَإِنِ اسْتَتَرَ مِنْ ذَلِكَ يَكُفَّ شُرُورَهُمْ عَنْ نَفْسِهِ وَ عَنْ إِخْوَانِهِ الْمُؤْمِنِينَ

__________________

۱: مهدي پيشوائي ؛ سيره پيشوايان ، ص۴۱۴۔


قَالَ الْإِمَامُ ع إِنَّ مُدَارَاةَ أَعْدَاءِ اللهِ مِنْ أَفْضَلِ صَدَقَةِ الْمَرْءِ عَلَى نَفْسِهِ وَ إِخْوَانِهِ كَانَ رَسُولُ اللهِ فِي مَنْزِلِهِ إِذِ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي سَلُولٍ فَقَالَ رَسُولُ اللهِصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ ائْذَنُوا لَهُ فَأَذِنُوا لَهُ فَلَمَّا دَخَلَ أَجْلَسَهُ وَ بَشَرَ فِي وَجْهِهِ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللهِ قُلْتَ افِيهِ مَا قُلْتَ وَ فَعَلْتَ بِهِ مِنَ الْبِشْرِ مَا فَعَلْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ص يَا عُوَيْشُ يَا حُمَيْرَاءُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ يُكْرَمُ اتِّقَاءَ شَرِّهِ وَ قَالَ الْإِمَامُ ع مَا مِنْ عَبْدٍ وَ لَا أَمَةٍ دَارَى عِبَادَ اللهِ بَأَحْسَنِ الْمُدَارَاةِ وَ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فِي بَاطِلٍ وَ لَمْ يَخْرُجْ بِهَا مِنْ حَقٍّ إِلَّا جَعَلَ اللهُ نَفَسَهُ تَسْبِيحاً وَ زَكَّى أَعْمَالَهُ وَ أَعْطَاهُ لِصَبْرِهِ عَلَى كِتْمَانِ سِرِّنَا وَ احْتِمَالِ الْغَيْظِ لِمَا يَحْتَمِلُهُ مِنْ أَعْدَائِنَا ثَوَابَ الْمُتَشَحِّطِ بِدَمِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ(۱)

امام عسکريعليه‌السلام اپني تفسير ميں امام صادقعليه‌السلام سے اس آيه شريفه کے ذيل ميں نقل فرماتے هيں :که هر انسان کے ساتھ نيک گفتار هونا چاهئے ، خواه وه مؤمن هو يا ان کا مخالف هو۔مؤمنوں کے ساتھ خوش روئي کے ساتھ پيش آئے،ليکن ان کے مخالفين کے ساتھ مدارات کے ساتھ پيش آئيں تاکه ان کوايمان کي طرف جلب کرسکيں۔ اگر يه لوگ ان سے چھپائیں کہ یہ مؤمن ہیں تو ان کے شر سے اپنے

____________________

۱: مستدرك‏الوسائل، ج۹، ص ۳۶، باب استحباب مداراة الناس ۔


آپ کو ، اپنے مؤمن بھائيوں کوبچا سکتے هيں ۔امام ؑ نے فرمايا : دشمنوں کے ساتھ مدارات کے ساتھ پيش آنا؛ اپني جان، اور اپنے بھائيوں کا بهترين صدقه دينا هے۔رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ايک دن اپنے گھر ميں تشريف فرما تھے که عبدالله بن ابي سلول نے دستک دي ، تو رسول اللهصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا: قوم کا سب سے برا انسان هے ، اسے اندر آنے کي اجازت دي جائے ۔ جب وه اندر داخل هواتو آپ نے خنده پيشاني سے اس کا استقبال کيا ۔ جب وه نکل گيا تو عائشه نے سوال کيا : يا رسول الله ! آپ نے کها کچھ ، اور کيا کچھ؟تو رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمايا:اے عويش اے حميرا! الله کے نزديک قيامت کے دن سب سے برا انسان وه هوگا، جس کے خوف سے لوگ اس کي عزت کريں ۔

امام ؑ نے فرمايا : کسي بھي مرد اور عورت ميں سے کوئي بھي الله کے بندوں کيساتھ نيکي کرے ، جبکه وه اس حالت میں باهر نهيں نکلتا،مگر يه که الله تعالي اس کے سانسوں کو اپني تسبيح پڑھنے کا ثواب لکھ ديتا هے ۔ اور اس کے سارے اعمال کوخالص بناتا هےاور اسے همارے اسرار کو چھپانے ، اور دشمن کے غم وغصے


کو برداشت کرنے کي وجه سے، اس شخص کا ثواب عطا کرے گا ، جو الله کي راه ميں جهاد کرتے هوئے اپنے خون ميں غلطان هوچکا هو۔اور اس مداراتي تقيه کے نتائج کو بھی بیان فرمایا۔

عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللهِ ع قَالَ مَنْ كَفَّ يَدَهُ عَنِ النَّاسِ- فَإِنَّمَا يَكُفُّ عَنْهُمْ يَداً وَاحِدَةً- وَ يَكُفُّونَ عَنْهُمْ أَيَادِيَ كَثِيرَة ۔(۱)

جو بھی لوگوں کے ساتھ مدارات اور مہربانی کرے اور ان کےساتھ سختی سے پیش نہ آئے تو اس نے حقیقت میں نه صرف اپنا ایک ہاتھ كسي دوسرے کو اذیت اورتکلیف پہنچانے سے باز رکھا ،بلکه بہت سے ہاتھوں کو اپنے اوپر ظلم و تشدد کرنے سے دور رکھا ہے ۔

____________________

۱: بحار الأنوار، ج‏۷۲، باب التقية و المداراة،ص : ۳۹۳۔


امام موسي کاظم ؑ اور تقيه

امام كاظمؑ کا ۳۵ ساله دور امامت ( ۱۴۸ ـ ۱۸۳) جو حضرت حجت(عج) کی امامت کے علاوہ طولاني ترين اورسخت ترين دور شمار ہوتا ہے ۔جس میں تقیہ کے بہت سے موارد دیکھنے میں آتے ہیں:

یہ دور،بنی عباس کے سخت اورسفاک خلفاء جیسے منصور ، مهدي ، هادي اور هارون کی حکومت کا دور تھا ۔کہ ان میں سے ہر ایک امامت کی نسبت بہت زیادہ حساس تھے ، یہاں تک کہ امام ؑ کے بعض چاہنے والوں ، جیسے محمد ابن ابي عمير کئی عرصے تک جیل میں ڈالے گئے ۔ اسی دور میں حسين ابن علي ابن حسن جو شهيد فخ کے نام سے معروف تھے ، ۱۶۹ ه میں حکومت کے ساتھ ان کي جنگ هوئي ،جو ان کی شهادت پر جا کر ختم ہوئي۔ اور هادي عباسي یه تصور كررہا تھا کہ یہ جنگ ،امام ؑ کے فرمان کے مطابق کي گئي ہے، اس لئے ان کے اوپر زیادہ سخت گيري کرنی شروع کردی ۔

اس دورمیں تقيه امام ؑ کے بعض موارد یہ ہیں:


۱ـ جب خلیفہ موسي الهادي اس دنيا سے چلا گیا تو امام ؑ کا اس کی ماں خیزران کو تعزيتي پیغام دیتے ہوئے خلیفہ کو امير المؤمنين کا عنوان دے کر ياد کرنا اور اس کیلئے رحمه الله کہہ کر طلب مغفرت کرنا اور پھر هارون کی خلافت کو بھی امير المؤمنين کے عنوان سے ياد کرتے ہوئے ان کو مبارک باد کہنا ،

مرحوم مجلسي نے اس خط کے ذیل میں لکھا ہے کہ ، آنحضرت کے زمانے میں شدت تقيه کا نظاره كر سکتے ہیں كه انہیں ایک فاسق اور جابر حاکم کے لئے ایسےالقابات لکھنے پر مجبورکرديا تھا۔(۱)

۲ـ يحي بن عبد الله بن حسن نے ایک خط امام ؑ کے نام لکھا ،کہ آنحضرت کو حكومت عباسي کے خلاف قیام کرنے سے روکتے ہوئے سزا دی جائے ۔لیکن امام ؑ نے

____________________

۱: بحار الانوار،ج۴۸۔ص۱۶۶۔


اس کے جواب میں خط لکھا جس کے ضمن میں اسے بطورخلیفہ یاد کیا ۔ امام ؑ کا یہ خط هارون کے ہاتھوں میں پہنچ گیا ۔جسے دیکھ کر انہوں نے کہا: لوگ موسي ابن جعفر کے بارے میں مجھے بہت سی چیزیں بتا تے ہیں ، اور مجھے ان کے خلاف اکساتے ہیں جب کہ وہ ان تہمتوں سے پاک هیں ۔(۱)

۳۔علي ابن يقطين جو هارون کی حکومت میں مشغول تھے اور امامؑ کے ماننے والوں میں سے تھے ؛ ایک خط امامؑ کو لکھتے ہیں اور امامؑ سے وضو کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ امامؑ اس کے جواب میں اهل سنت کے وضو کا طریقہ اسے تعلیم دیتے ہیں کہ تم انہیں کی طرح وضو کیا کرو ۔ اگرچه علي ابن يقطين کو بڑاتعجب ہوا ، لیکن حکم امامؑ کی اطاعت ضروری تھی ۔ هارون كو بھی علي ابن يقطين پرشك ہو چکا تھا ، سوچا کہ اس کے وضو کرنے کے طریقے کو مشاہدہ کروں گا ۔ اگر اس نے مذهب شيعه کے مطابق وضوکیا تو اسے بهت سخت سزادوں گا ۔ لیکن جب ان کے وضوکرنے کے طریقے

____________________

۱: بحار الانوار،ج۷۵ ،ص۳۸۔


کو دیکھا تو اسے اطمینان ہواکه ان کے بارے ميں لوگ جھوٹ کہتے تھے ، تو علی ابن یقطین کی عزت اور مقام اس کے نزدیک مزید بڑھ گيا ۔بلا فاصله اس ماجرا کے بعد امامؑ کی طرف سے علي ابن یقطین کو دستور ملا کہ وضو اب مذهب شيعه کے مطابق انجام دیا کریں ۔(۱)

امام رضاعليه‌السلام اور تقيه

امام رضاعليه‌السلام کی امامت کا دور ( ۱۸۳ ـ ۲۰۳) تک ہے ، جسے تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:

پہلا دور : ۱۸۳ سے لیکر ۱۹۳ سال تک کا دور ہے ۔ اس دور میں ہارون الرشید حاکم تھا ؛ يه دورشیعیان حیدر کرار پر بہت سخت گزرا۔اس ملعون نے قسم کھا ئی ہوئی تھی کہ موسي ابن جعفرعليه‌السلام کے بعد جو بھی امامت کا دعویٰ کرے گا اسے قتل کیا جائے گا ۔ لیکن

____________________

۱: رياض ، ناصري ، الواقفيه۔


اس کے باوجود امام رضاعليه‌السلام نے بغیر کسی خوف اور وہم و گمان کے اپنی امامت کو لوگوں پرآشکار کیا امام ؑ کا تقیہ نہ کرنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ اس وقت خواہشات نفسانی اور مال و زر کے اسیروں نے آپ کی امامت کا انکار کرکے فرقہ واقفیہ کی بنیاد ڈالی تھی ۔ امام موسیعليه‌السلام کے زندہ ہونے کے قائل ہوگئے تھے ۔ چنانچہ کہنے لگے :الامام الکاظم لم یمت ولایموت ورفع الی السماء وقال رسول الله فی شانه:ویملأالارض قسطاً وعدلاً کماملئت ظلماً وجوراً ۔(۱)

"امام کاظم ؑفوت نہیں ہوئے ہیں اور نہ فوت ہونگے ، انہیں خدا تعالی نے آسمان کی طرف اٹھایا ہے ۔اور رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کی شان میں فرمایا:دنیا کو وہ عدل و انصاف سے اسي طرح پر کریں گے جس طرح ظلم و جور سے پر ہو چکی ہوگی "

اس ماجرے کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان کے ہاتھوں مال خمس اور زکوۃ کا کچھ حصہ موجود تھا ۔ کیونکہ حضرت امام موسی بن جعفرعليه‌السلام قید و بند میں تھے ؛ جس کے بعد آپ کی

____________________

۱: بحار الانوار، ج۴۶، ص ۱۱۴۔


شہادت ہوئی تو جو مال ان کے ہاتھوں میں موجود تھا ،ضبط کر لیا اور ان کے فرزند ارجمند علی ابن موسی الرضاعليه‌السلام کی امامت کے منکر ہوگئے ۔(۱)

ٍ زياد بن مروان قندى جو گروہ واقفيه میں سے تھا کہتا ہے :میں ابو ابراہیمعليه‌السلام کی خدمت میں تھااور ان کے بیٹے علی ابن موسیٰ الرضاعليه‌السلام بھی ان کی خدمت میں حاضر تھے ؛ مجھ سے فرمانے لگے: اے زیاد ! یہ میرا بیٹا ہے اس کا قول میرا قول ہے اس کی کتاب میری کتاب ہے اس کا رسول میرا رسول ہے ، اور یہ جو بھی زبان پر جاری کرے گا وہ حق ہوگا۔(۲)

بہر حال امامعليه‌السلام نے اپنی امامت کا اظہار کیا تو آپ کے ایک صحابی نے اصرار کیا کہ آپ لوگوں کو اپنی امامت کے بارے میں مزيد وضاحت فرمائیں ؛ توفرمایا: اس سے بڑھ کر اور کیا وضاحت کروں ؟! کیا تم چاہتے ہو کہ میں ہارون کے پاس جاکر اعلان کروں کہ میں لوگوں کا امام ہوں اور تیری خلافت اور تیرا منصب باطل ہے ؟! ایسا توپیغمبراكرم (ص) نے بھی

____________________

۱:۔ زندگانى چهارده معصومعليه‌السلام ، ،امامت حضرت رضاعليه‌السلام , ص۴۲۴۔

۲:۔ زندگانى چهارده معصومعليه‌السلام ، ،امامت حضرت رضاعليه‌السلام ، ص۴۲۵۔


اپنی رسالت کے اولین بار اعلان کرتے وقت نہیں کیا ہے ، بلکہ آغاز رسالت میں اپنے دوستوں ، عزیزوں اورقابل اعتماد افراد کو جمع کرکے اپنی نبوت کا اظہار کیا ۔(۱)

امام هاديعليه‌السلام اور تقيه

امام هاديعليه‌السلام کا دوران امامت ( ۲۲۰ ـ ۲۵۴ ھ)بھی سخت ترین دور تھا ، جس کی سب سے بڑی دلیل یہ هے کہ بنی عباس کے خلفاء اور حکمران، آپ پر ہر وقت پہرہ لگائےرکھتے تھے ۔ چنانچہ متوكل( ۲۳۲ ـ ۲۴۷) نے امامعليه‌السلام کی فعاليت کو سخت كنٹرول میں رکھنے کیلئے مدينه سے سامرا (دارالخلافہ) منتقل کردیا ۔جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ عباسیوں کے ایک گروہ نے متوکل کو خط لکھا کہ لوگ امام ہادیعليه‌السلام کے گرویدہ ہورہے ہیں جو تمہاری حکومت کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ اوراگر تم مكه اور مدينه چاہتے ہو تو علي ابن محمدکو مدينه سے نکال کر کہیں اور منتقل کردو ۔(۲)

____________________

۱:۔ بحار الانوار، ج۴۶، ص ۱۱۴۔

۲:۔ بحار الانوار،ج۵۰،ص۲۱۔


امامعليه‌السلام کے سیاسی اوضاع کی شناخت کیلئے اتنا ہی کافی ہے ۔

اور اب اس دور میں اجتماعی تقیہ کے پائے جانے پر ہمارے پاس جو دلیل ہے ،وہ یہ ہیں :روایتوں میں ذکر ہوا ہے کہ علی ابن مھزیار نے امام ؑ سے پوچھا : کیا ہم اہل سنت کے احکام کے مطابق اموال پر مالک ہوسکتے ہیں جبکہ مکتب اہل بیت ؑ کے احکام کے مطابق اس مال پر مالک نہیں بن سکتے؟جیسے ارث وغیرہ کے احکام ہیں ،جب کہ وہ لوگ اپنے احکام کے مطابق ہم سے اموال لیتے ہیں ؟

تو امامعليه‌السلام نے فرمایا:

يجوز لكم ذالك انشاءالله اذا كان مذهبكم فيه التقية منهم والمداراة لهم ۔(۱)

"ہاں تمہارے لئے ایسا کرنا جائز ہے انشاءالله اگر تقيه اور مدارات کی حالت میں ہو" ۔

____________________

۱:۔ وسائل الشيعه،ج۱۸، ص۱۶۵۔


امام جوادعليه‌السلام اور تقيه

امام جوادعليه‌السلام کا دور امامت سن ۲۰۳ سے ۲۲۰ ھ تک ہے جو مامون اور اس کے بھائی معتصم کی حكومت کا دور ہے۔ امام ؑ نے بیشتر وقت مدینہ اور مرکزی حکومت سے دور رہ کر گزارا ۔ لیکن پھر بھی مامون اور معتصم ،ام الفضل جو آپ کی زوجہ اور مامون کی بیٹی ہے ، کے ذریعے امامعليه‌السلام کے گھریلو معاملات میں جاسوسی کرنے لگے ؛ لیکن وہ قابل ذکر موارد جہاں آپ نے تقیہ کیا ہے وہ یہ ہیں:

۱. امامعليه‌السلام کا نماز میں قنوت نہ پڑھنا:اذا كانت التقية فلا تقنت وانا اتقلد هذا ۔(۱)

۲. ایک دفعہ يحي بن اكثم کے ساتھ مناظرہ ہوا ، جب یحی نے ابوبکر اور عمر کی شان میں جعلی احادیث کو بیان کیا تو امام ؑ نے فرمایا: میں منكر فضائل نہیں

____________________

۱:۔ وسائل الشيعه ،ج۴،ح۱ ۔


ہوں ، اس کے بعد منطقي دلائل کے ذریعے ان احادیث کے جعلی ہونے کو ثابت کرنے لگے ۔(۱)

امام حسن العسكريعليه‌السلام اور تقيه

امام عسكريعليه‌السلام کا دور امامت اگرچہ بہت ہی مختصر ہے ( ۲۵۴ ـ ۲۶۰) لیکن اپنے بابا کے دور امامت سے کئی درجہ زیادہ سخت اور مشکل ہے ۔اس دور کے آغاز میں معتز( ۲۵۲ ـ ۲۵۵) نے آپ کو آل ابوطالبعليه‌السلام کے کچھ افراد کے ساتھ قید کرلیا ۔ اس کے بعد مهدي( ۲۵۵ ـ ۲۵۶) عباسی نے بھی یہی رویہ اختیار کیا ، یہاں تک کہ آپ کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ۔(۲)

لیکن وہ اس مکروہ ارادے میں کامیاب نہیں ہوا ۔ لیکن آخر کار معتمد( ۲۵۶ ـ ۲۷۹)

____________________

۱:۔ بحار الانوار،ج۵۰،ص۸۰۔

۲:۔ بحار الانوار ،ص ۳۰۸۔


جس نے یہ سن رکھا تھا کہ امام عسكريعليه‌السلام کی اولاد میں سے ایک فرزند آئے گا جو ظلم و بربریت کو ختم کرے گا ؛امام ؑ اور ان کے خاندان پر کڑی نظر اور پہرہ ڈال رکھا تھا ، تاکہ وہ فرزند اس دنیا میں نہ آنے پائے ۔ آخرکار اس نے امامعليه‌السلام کو شهید کردیا ۔

لیکن امامعليه‌السلام نے اپنے بیٹے کی ولادت کو مخفی رکھا ، یہاں تک کہ بہت سارے شیعوں کوبھی ان کی ولادت کا علم نہیں تھا جو سن ۲۵۵ ه میں متولد ہوئے تھے ۔(۱) کیونکہ بهت زياده خطرہ تھا ۔ امامعليه‌السلام کی شہادت کے بعد آپ کا بھائی جعفر جو ایک بےایمان انسان تھا ، آپ کی ساری میراث اپنے نام کروایا ۔کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ امام ؑ کا کوئی وارث بھی ہے ۔(۲)

امامعليه‌السلام کے کچھ سیاسی تقیہ کے موارد اپنے چاہنے والوں کے نام لکھے ہوئے خط سے

____________________

۱:۔ بحار الانوار ج ۵۱، ص ۔۱۵ ۔

۲:۔ الارشاد ، ج ۲، ص ۳۳۰۔


واضح ہوتے ہیں، فرماتے ہیں کہ:

۱ ـ جب میں تمہارے سامنے سے گزروں تو مجھے سلام نہ کرنا ۔اور اپنے ہاتھوں سے میری طرف اشارہ نہ کرنا ، کیونکہ تم لوگ امان میں نہیں ہو ۔اور اس طرح اپنے آپ کو درد سر میں ڈالنے سے محفوظ رکھو ۔

۲ ـ امامعليه‌السلام جب اپنے اصحاب سے ملاقات کرتے تھے تو ان کیلئے مخفی طور پر پیغام بھیجتے تھے کہ فلاں جگہ جمع ہو جائیں ، تاکہ ایک دوسرے کا دیدار ہو سکے ۔ ۔امامعليه‌السلام سخت سياسي دباؤ کی وجہ سے اپنے چاہنے والوں کو تقیہ کرنے پر زیادہ زور دیتے تھے ۔جیسا کہ فرمایا:

وسع لهم في التقيه يجاهرون باظهار موالاة اولياءالله و معادات اعداءالله اذا قدروا و يسترونها اذا عجزوا ۔

خدا تعالی نے شیعیان حیدر کرار کیلئے تقیہ میں راحت اور آرام کو پوشیدہ رکھا ہے کہ اپنی طاقت اور قدر کو آشکار کرنے کا وقت آتا ہے تو اللہ کے چاہنے والوں سے محبت اور ان کے دشمنوں سے نفرت کا اعلان کریں، اور جب بھی دوسرے گروہ کے مقابلے میں کمزور واقع ہوجائیں تو اس دوستی اور دشمنی کو چھپائیں ؛ پھر فرمایا:

أَلَا وَ إِنَّ أَعْظَمَ فَرَائِضِ اللهِ عَلَيْكُمْ بَعْدَ فَرْضِ مُوَالاتِنَا وَ مُعَادَاةِ أَعْدَائِنَا اسْتِعْمَالُ التَّقِيَّةِ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَ إِخْوَانِكُمْ وَ مَعَارِفِكُمْ وَ قَضَاءُ حُقُوقِ إِخْوَانِكُمْ فِي


اللهِ أَلَا وَ إِنَّ اللَّه يَغْفِرُ كُلَّ ذَنْبٍ بَعْدَ ذَلِكَ وَ لَا يَسْتَقْصِي فَأَمَّا هَذَانِ فَقَلَّ مَنْ يَنْجُو مِنْهُمَا إِلَّا بَعْدَ مَسِّ عَذَابٍ شَدِيدٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهُمْ مَظَالِمُ عَلَى النَّوَاصِبِ وَ الْكُفَّارِ فَيَكُونَ عَذَابُ هَذَيْنِ عَلَى أُولَئِكَ الْكُفَّارِ وَ النَّوَاصِبِ قِصَاصاً بِمَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحُقُوقِ وَ مَا لَهُمْ إِلَيْكُمْ مِنَ الظُّلْمِ فَاتَّقُوا اللَّه وَ لَا تَتَعَرَّضُوا لِمَقْتِ اللهِ بِتَرْكِ التَّقِيَّةِ وَ التَّقْصِيرِ فِي حُقُوقِ إِخْوَانِكُمُ الْمُؤْمِنِينَ ۔(۱)

آگاہ رہو ! ہمارے ساتھ دوستی اور ہمارے دشمنوں کے ساتھ نفرت اور دشمنی کے بعد خدا تعالی کے واجبات میں سے سب سے بڑا واجب تقیہ کرتے ہوئے اپنی اور اپنے دوستوں کی حفاظت کرو اور اللہ کے بندوں کے حقوق ادا کرو ، آخر میں فرمایا: تقوی الہی کو اپنا پیشہ قرار دو اور اپنے آپ کو تقیہ نہ کرکے اور اپنے مؤمن بھائیوں کے حقوق ادا نہ کرکے غضب الہی کےمستحق نہ بنو ۔

۳ ـ آپ کے اصحاب میں سے ایک چاہتا تھا کہ آپ اعلانیہ طور پر حجت خدا کی حیثیت سے معرفی ہوجائیں۔لیکن امامعليه‌السلام نے فرمایا:خاموش رہو ! یا اسے چھپا ئے رکھو یا آشکار کرکے موت

____________________

۱:۔ بحار الانوار ، ج ۷۵، ص۴۰۹ ۔


کیلئے تیار ہوجاؤ ۔(۱)

امامعليه‌السلام زندان میں بھی آزاد نہیں تھے بلکہ وہاں بھی جمحی نامی ایک شخص جاسوس رکھا گیا تھا امام ؑ نے جس سے زندانیوں کے سامنے خلیفہ کے لئے تیار کیا گیا خط نکالا جس میں زندانیوں کے خلاف رپورٹ تیار کیا گیا تھا۔(۲)

آپ کے ایک صحابی کہتا ہے کہ ہم ایک گروہ سامرہ میں امام ؑ کی ملاقات کرنے گئے ہمیں امام ؑ نے ایک خط لکھا جس میں حکم دیا گیا تھا :کوئی مجھے سلام نہ کرے اور نہ ہاتھوں سے اشارہ کرے،کیونکہ تمہاری جانیں خطرے میں ہیں۔(۳)

عبدالعزیز بلخی کہتا ہے ہم نے دیکھا کہ امام ؑ شہر کے دروازہ کی طرف تشریف لارہے ہیں۔،میں نے دل میں سوچا کہ اونچی آواز میں لوگوں کو بتادوں : لوگو! یہ حجت خدا ہیں انہیں پہچان لو۔پھر سوچا ایسی صورت میں تو مجھے قتل کیا جائے گا۔ جب امام ؑ میرے

____________________

۱:۔ بحار الانوار ، ج ۵۰، ص ۲۹۰۔

۲: ۔ ابن صباغ مالکی،الفصول المھمۃ،ص۳۰۴،ابن شہر آشوب،مناقب آل ابیطالب ،ج۴ ،ص۴۳۷۔

۳: ۔ مجلسی،باقر؛بحار الانوار،ج۵۰،ص۲۶۹۔


نزدیک پہنچے تو ہاتھوں سے اشارہ کیا کہ خاموش رہو ورنہ مارے جاؤگے ، اس رات کو میں امام ؑ کی خدمت میں شرف یاب ہوا تو فرمایا: راز فاش کرکے اپنے آپ کو خطر میں نہ ڈالو ورنہ مارے جاؤگے۔(۱)

حضرت حجت(عج) اور تقيه

آنحضرت(عج) کی امامت کاپہلا دور جو غيبت صغري کا دورکہلاتا ہے اور سنہ ( ۲۶۰ ـ ۳۲۹) ھ پر مشتمل ہے ۔اس دوران میں امام ؑ اپنے چار خاص نائبین کے ساتھ رابطہ رکھتے تھے ۔ ان چار نائبین کے نام لیتے ہوئے امام ؑ کے ساتھ ان کا رابطہ اور تقیہ کے موارد کو بیان کریں گے:

____________________

۱: ۔ مسعودی،اثبات الوصیہ،نجف،المکتبۃ الحیدریۃ،ص۲۴۳۔


۱۔ ابو عمرو عثمان ابن سعيد عمري

وہ امام حسن العسكريعليه‌السلام کے وكيل بھی تھے جو روغن فروشي کے شغل کو اپنی فعاليتوں کیلئے وسیلہ قرار دیتے ہوئے امام ؑ تک ان کے اموال کو پہنچاتے تھے ۔یہی وجہ تھی کہ ابوعمرو عثمان عمری ”سمان“ يعني روغن فروش کے نام سے معروف تھے۔(۱)

۲۔ ابو جعفر محمد بن عثمان

اس زمانے میں شیعیان حیدر کرار کا زیادہ اصرار تھا کہ امامعليه‌السلام کا نام مبارک معلوم ہوجائے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ اس قدرپوشیدہ تھا کہ بہت سارے شیعوں کو ان کا نام بھی معلوم نہ تھا ۔ لیکن آنحضرت نے ایک خط میں جو محمد بن عثمان کے ذریعے بھیجا ؛ جس میں یوں لکھا تھا :

____________________

۱:۔ بحار الانوار ، ج ،۵۱،ص۳۴۴۔


ليخبر الذين يسالون عن الاسم،امّا السكوت و الجنة و امّا الكلام و النارفانهم اوقفوا علي الاسم اذاعوه و ان وقفوا علي المكان دلواً عليه ۔(۱)

ضروری ہے کہ ان لوگوں کو جو میرا نام جاننا چاہتے ہیں ،بتادوں کہ اس بارے میں خاموش رہیں تو ان کے لئے بہشت ہے اور اگر اس بارے میں بات کریں تو ان کے لئے جہنم ہے ۔ کیونکہ جو میرا نام جاننے کے بعد اسے افشا کرے اور اگر اسے میرے رہنے کی جگہ معلوم ہوجائے اور دوسروں کو خبر دے تو وہ عذاب جہنم کا مستحق ہے ۔

۳۔ ابو القاسم حسين بن روح

حسين بن روح جو بہت ہی محتاط انسان تھے، امنیت اور حفاظت کے تمام اصول اور قواعد وضوابط کو بروئے کار لاتے تھے ۔ چنانچہ محمد بن عثمان کے بعد نائب امام ؑ آپ ہی کو بننا تھا، جب ایک مؤمن نے آپ سے سوال کیا کہ کیوں یہ نیابت آپ کو نہیں ملی ؟

تو کہا : میں ایک ایسی حالت میں تھا کہ اگر اس بارے میں مجھ پر سختی کرتے تو شاید میں

____________________

۱۔ بحار الانوار ، ج ،۵۱،، ص ۳۵۱۔


آنحضرت کے مكان اور جائیگاہ کا راز فاش کر دیتا ۔(۱)

ان کے تقیہ کے بارے میں یوں نقل ہوا ہے کہ ایک مجلس میں تینوں خلیفوں کو عليعليه‌السلام سے افضل اور برتر توصیف اور تمجید کرنے لگے اور لوگوں کو اپنے اوپر راضی کرنے لگے تو ایک صحابی جو آپ کے عقیدے سے باخبر تھا ، ہنسنے لگا ۔ جب مجلس اختتام پذیر ہوا تو اس شخص کے پاس گئے اور اسے خوب ڈانٹا اور اسے کہا اگر دوبارہ کبھی ایسا کیا تو رابطہ قطع کردوں گا۔(۲)

۴ ـ علي ابن محمد السمري 

ان کی وفات کے وقت ایک خط جو آنحضرت(عج)نے آپ کو دیا تھا جس میں نائب خاص کے منقطع اور اس کے دعوی کرنے والوں کی تکذیب کی ہوئی تھی ۔ اسی طرح آپ کے سیاسی تقیہ کے موارد میں شیعوں سے خمس وزکوۃ لینے کے بعد ان کو کوئی رسید نہ

____________________

۱:۔ بحار الانوار ، ج ،۵۱، ، ص۳۵۹۔

۲:۔ بحار الانوار ، ج ،۵۱،، ص۳۵۶۔


دینا بھی شامل ہے ۔(۱)

____________________

۱: بحار الانوار ، ج ،۵۱، ، ص۳۵۴۔


تیسری فصل

مذاہب اہل سنت اورتقيه


تیسری فصل:مذاہب اہل سنت اورتقيه

گذشتہ مباحث سے معلوم ہو ا کہ بيشتر اسلامي فرقے تقيه کو قبول کرتے ہیں ۔لیکن بعض کہتے ہیں کہ جائز نہیں ہے جیسے :

o فرقه ازارقه کہتا ہے ،تقيه نه قولاً جائزہے ا ور نه فعلاً۔

o فرقه صفريه کہتا ہے ، تقيه قولاً جائز ہے لیکن فعلاً جائز نہیں ۔

o فرقه زيديه کہتا ہے ، تقيه اهل عصمت کیلئے جائز ہے ليکن عصمت کے نااہل کیلئے جائز نہیں ہے ۔


تمام مفسّران مذاهب مختلف اسلامی مشروعیت تقیه کو قرآن ہی سے درج ذیل آیات کی روشنی میں ثابت کرتے ہیں:

۱:( لاَ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللهِ فِى شَىْء إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ) ۔۔۔(۱)

مذاهب اسلامی کے سارے مفسّرین کا اتفاق نظر ہے کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی ہے اور جب مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی کفر قریش انہیں اذیت و آزار پہنچاتے تھے جس سے پچنے کے لئے یہ لوگ تقیہ کرتے تھے۔حسن بصری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:مسیلمہ کذاب کے دو جاسوسوں نے دو مسلمان کو پکڑ کر اس کے پاس لے آئے اور اس نے ایک سے

____________________

۱: سوره آل عمران، آيه ۲۸۔


کہا:کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے جواب دیا:ہاں ۔مسیلمہ نے اسے قتل کرنے کا جلاد کو حکم دیا۔ دوسرے سے یہی سوال دہرایا۔ اس نے منفی میں جواب دیا۔ تو اسے چھوڑ دیاگیا۔

اس شخص نے رسول خدا کی خدمت میں جاکر ماجرا بیان کیا تو آپ نے فرمایا:تمہارے ساتھی نے اپنے ایمان پر استقامت کا مظاہرہ کیا اور تم نے اس راستے کا انتخاب کیا ،جس کی اسلام نے اجازت دی ہے۔(۱)

امام شافعی نے اس آیۃ کے ذیل میں لکھا ہے :شرعی لحاظ سے مجبور کیا ہوا انسان کی بات ناگفتہ تلقی ہوتی ہے اور وہ اگر قسم بھی کھائے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔(۲)

شیخ محمد فواد عبدالباقی نے اس آیت کے ذیل میں ابن ماجہ سے ایک حدیث نقل کی ہے:۔۔۔چند مسلمانوں کو مشرکوں نے گرفتار کر لیا تو جو بھی انہوں نے کہا اس پر عمل کیا۔ اور ایسی حالات

____________________

۱:۔ تفسیر الحسن البصری، ج ۲، ص ۷۶۔

۲: ابوعبدالله محمدبن ادریس شافعی، احکام القرآن، ج ۲، ص ۱۱۴۔


میں تقیہ ضرور کرنا چاہئے۔کیونکہ خدا تعالی نے فرمایا ہے:الا من اکره و قلبه مطمئن بالایمان ۔(۱) اسی طرح بہت سارے علمائے اہل سنت نے ایسی صورت میں تقیہ کو جائز مانے ہیں، جن میں سے کچھ کا نام یہ ہیں:

ابن جوزی(۲) ، فخر رازی(۳) ، بیضاوی(۴) و امام شوکانی(۵)

۲:( وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّى اللهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ ) ۔(۶)

تمام مذاہب اسلامی کے مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مومن آل فرعون ،فرعون کا چچا

____________________

۱۔ سنن ابن ماجه، ج ۱، ص ۱۵۰۔

۲۔ المحرر الوجر فی تفسیر الکتاب الغریز، ج ۱۰، ص ۲۳۵۔

۳۔ زاد المیسی، ج ۴، ص ۴۹۶۔

۴۔ تفسیر الکبیر، ج ۲، ص ۱۳۲۔

۵۔ انوار التنزیل و اسرار التأویل، ج ۱، ص ۵۷۱۔

۶۔ سوره غافر، آيه ۲۸


زاد بھائی تھا جس نے حضرت موسی پر ایمان لایا ہوا تھا۔جب فرعون نے موسی کو قتل کرنا چاہا تو انہوں نے کہا:کیا ایسے شخص کو قتل کروگے جو کہتا ہے کہ میرا خدا اللہ ہے؟جبکہ وہ اپنے پروردگار کی طرف سے معجزات لے کر آیا ہے۔اگر وہ جھوٹا ہے تو یہی جھوٹ اس کے لئے باعث ہلاکت ہے۔اور اگر سچا ہے تو کچھ عذاب تو تم تک بھی پہنچنے والا ہے ،جن کا وہ وعدہ دے رہا ہے۔بے شک خدا کسی اسراف کرنے اور زیادہ طلبی کرنے اور جھوٹ بولنے والے کی ہدایت نہیں کرتا۔ پس ان کا ایمان کا چھپانا اور فرعونیوں کے ساتھ ہمدردی اور دل سوزی کا اظہار کرنا تقیہ کے علاوہ کیا کچھ اور ہوسکتا ہے؟جن کے مشورے سے موسی کلیم اللہ کی جان بچ گئی۔

محدّثان اهل سنّت نےابن عباس اور دوسرے محدثین سے ایک روایت نقل کی ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا:صدیقین چار لوگ ہیں:حبیب نجار، مؤمن آل یاسین، مؤمن آل فرعون که جنہوں نے کہا: «اتقتلون رجلاً ان یقول ربی الله»اور علی بن ابیطالب ،جو ان سب میں افضل ہیں۔(۱)

____________________

۱:۔ متقی هندی، کنزالعمال، ص ۱۱؛ قرشی، مسند شمس الاخبار، ص ۹۸؛ محمد بن حرین جلال، حاشیه کشف الاستار، ص ۹۸۔


۳:( فَابْعَثُواْ أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَاذِهِ إِلىَ الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيهُّا أَزْكىَ‏ طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْيَتَلَطَّفْ وَ لَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا إِنهَّمْ إِن يَظْهَرُواْ عَلَيْكمُ‏ يَرْجُمُوكمُ‏ أَوْ يُعِيدُوكُمْ فىِ مِلَّتِهِمْ وَ لَن تُفْلِحُواْ إِذًا أَبَدًا ) ؛(۱)

"اب تم اپنے سکے دے کر کسی کو شہر کی طرف بھیجو وہ دیکھے کہ کون سا کھانا بہتر ہے اور پھر تمہارے لئے رزق کا سامان فراہم کرے اور وہ آہستہ جائے اورکسی کو تمہارے بارے میں خبر نہ ہونے پائے یہ اگرتمہارے بارے میں باخبر ہوگئے تو تمہیں سنگسار کردیں گے یا تمہیں بھی اپنے مذہب کی طرف پلٹا لیں گے اور اس طرح تم کبھی نجات نہ پاسکو گے"

کے ذیل میں مفسرین اہل سنت لکھتے ہیں کہ اصحاب کہف نے اس زمانے کے بت پرست بادشاہ کے سامنے اپنا ایمان چھپا کر تقیہ کرتے رہے ،یہاں تک کہ غار میں پناہ لیں۔

شیعہ مفسرین نے امام جعفر صادق ؑ سے اس بارے میں روایت کی ہے:اصحاب کہف سے بڑھ کر کسی نے تقیہ نہیں کیا ہے کیونکہ ان لوگوں کے گلے میں طوق پہنائے جاتے تھے۔ اسی

____________________

۱۔ کهف ۱۹ – ۲۰۔


لئے اللہ تعالی نے انہیں دو بار اس کا اجر عطا کیا ہے۔(۱)

فخر رازی شافعی، و قرطبی مالکی نے بھی اس بات کی تصریح کی ہے۔(۲)

تقيه اور احاديث اهل سنت

اہل سنت کی بہت سی روایتوں میں تقیہ کے جواز کے بارے میں ذکر ہوا ہے۔جیسا کہ سیوطی نے رسول خدا کی ایک حدیث نقل کی ہے، آپ نے فرمایا:بدترین قوم وہ قوم ہے جن کے درمیان مومنین تقیہ کرنے پر مجبور ہوں۔

ابن عربی مالکی لکھتا ہے کہ رسول اللہ تین ہجری میں ایک گروہ کو کعب ن اشرف طائی جو یہودی قبیلہ بنی نصر کا سردار تھا،جن میں محمد بن مسلمہ تھا ۔ اس نے اپنے ساتھیوں سمیت کہا:یا رسول اللہ کیا ہمیں اجازت دیتے ہیں کہ مجبوری کے وقت آپ کو ناسزا کہیں؟ رسول

____________________

۱۔ اصول کافی، ج ۲، ص ۱۷۴۔

۲۔ تفسیر الکبیر، ج ۲۱، ص ۱۰۳۔


خدا نے انہیں اجازت دے دی۔(۱)

شیعہ سنی دونوں کی کتابوں میں مشہور حدیث "لا ضرر و لا ضرار فی الاسلام "نقل ہوئی ہے ۔جس کی تفصیل میں لکھتے ہیں :اس کی مشہور ترین مصداق ، اجبار اور اضطرار کے موقع پر تقیہ کو ترک کرکے جانی اور مالی نقصان پہنچانے سے روک دینا ہے۔(۲)

امام شافعی اور ان کے پیروکاروں نے آیہ شریفہ:"الا مااضطررتم " کے ذیل میں لکھا ہے کہ مجبور شخص کا طلاق دینا اور آزاد کرنا حیثیت نہیں رکھتا۔(۳) یعنی نہ طلاق جاری ہوگا اور نہ غلام کو آزاد کرنے سے آزاد ہوگا۔کیونکہ اس پر حکم ساقط ہے۔اس لئے کہ اس نے اپنی جان بچانے کے لئے طلاق جاری کیا ہے اور غلام کو آزاد کیا ہے،اور اپنی جان بچانا اس پر واجب ہے۔اسی طرح اگر وہ کفر آمیز کلمات زبان پر لائے تو اس پر مرتد کا حکم بھی نہیں لگا سکتا،کیونکہ اس کا مقصد اپنے دین کی حفاظت کرنا تھا۔

____________________

۱۔ احکام القرآن، ج ۲، ص ۱۲۵۷۔

۲۔ سنن ابن ماجه، ج ۲، ص ۷۸۴؛ السنن الکبری بیهقی، ج ۶، ص ۶۹؛ معجم الکبیر طبرانی، ج ۲ ، ص ۸۱؛ المستدرک حاکم، ج ۲، ص ۵۸۔

۳۔ احکام القرآن، ج ۳، ص ۱۹۴۔


اس بحث میں ہم ثابت کریں گے کہ اهل سنت والجماعت اور ان کے آئمہ نے بھی تقيه کیا ہے ، چنانچہ وہ احادیث جنہیں مسلم ا ور بخاري نے ذکر کیا ہے اہل سنت صحیح مانتے ہیں ۔ اوریہ دونوں اس بات کے قائل ہیں کہ اپنی جان بچانے کیلئے کفر کا اظہار کرنا جائز ہے ،اور اسی ضمن میں عمار بن یاسر کا قصہ نقل کرتے ہیں :الا من اكره و قلبه مطمئن بالايمان ۔

آگے کہتے ہیں کہ جب بھی اپنی جان خطرے میں پڑ جائے تو عمار بن یاسر کی پیروی کرنا کوئی بدعت نہیں ہے ۔ کیونکہ سب جانتے تھے کہ عمار، سر سے لیکر پیر تک سارا وجود ایمان سے لبریز تھا ۔(۱)

ذهبي نے اسی قصے کو اپنی کتاب میں نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ اگر مسلم اور بخاری نے اسے صحیح اور جائز مانا ہے تو جائز ہے ۔

____________________

۱۔ تقیہ از دیدگاہ مذاہب و فرقہ ہای اسلامی ، ص ۹۵۔


تقیہ اور صحابہ کانظریہ

عمر بن خطاب (ت ۲۳ ھ) اور تقیہ

بخاری روایت کرتا ہے کہ عمر بن خطاب نے جب اسلام قبول کیا تو مشرکوں سے خوف زدہ ہوکرگھر میں چھپا رہا ، اس قصہ کو عبداللہ بن عمر خطاب نے یحیی بن سلیمان کے ذریعے " عمر بن خطاب کا اسلام "کے باب میں نقل کیا ہے :وه لکھتا ہے کہ عمر ابن خطاب بہت ہي خوف زدہ ہوگیا تھا ، ابو عمر و عاص بن وائل سھمی جو دور جاہلیت میں اس کے ساتھ ہم پیمان ہو چکاتھا عمر کے پاس آیا ، عاص بن وائل نے عمر سے کہا : تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ تو عمر نے جواب دیاتیری قوم کا کہنا ہے کہ اگر میں مسلمان ہو جاؤ ں تو مجھے قتل کیا جائیگا۔تو اس نے کہا : وہ لوگ تمہار ا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ جب اس سے یہ


بات سنی تو اس کے بعد سے امان محسوس کرنے لگا ۔

اس کے بعد عاص باہر آیا اور دیکھا کہ لوگ درّے سے نیچے آرہے ہیں ، ان سے پوچھا کہ کہاں جارہے ہو ؟ تو کہنے لگے : خطاب کے بیٹے کو قتل کرنے جارہے ہیں۔

اس نے کہا: نہیں تم ایسا نہیں کروگے؛ تو وہ لوگ وہاں سے واپس چلے گئے ۔(۱)

مقصد یہ ہے کہ یہ حدیث پوری صراحت کے ساتھ بیان کررہی ہے کہ عمر نے تقیہ کے طورپر اپنے آپ کو گھر میں چھپائےرکھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر نے اپنی اسلامی زندگی کا آغاز هي تقیہ سے کیا ۔اور اس کی کوئی عاقل انسان مذمت بھی نہیں کر سکتا ؛ کیونکہ یہ ایک فطری عمل ہے ،اس کے برخلاف اگر کوئی دشمن کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرلے تووہ قابل مذمت ہے ۔

____________________

۱۔ صحیح بخاری ۵: ۶ باب اسلام عمر بن خطاب۔


عبد اللہ ابن مسعود(ت ۳۲ ھ)اور تقیہ

عبداللہ ابن مسعود کہتا ہے : جب بھی مجھے کوئی ظالم و جابر اپنی مرضی کے مطابق الفاظ زبان پر لانے پر مجبور کرے جو ایک یا دو کوڑے لگنے سے بچنے کا سبب ہو تو ضرور وہ الفاظ زبان پر جاری کروں گا ۔

اسی کے ذیل میں ابن حزم کہتا ہے:اس بارے میں کسی بھی صحابی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ بلکہ سب کا اتفاق ہے ۔(۱)

یہ بات تقیہ کے جائز ہونے اورسارے صحابہ کا اتفاق ہونے پر دلیل ہے اگر چہ جابر حکمران کے ایک یا دو تازیانے سے بچنے کیلئے ہی کیوں نہ کیا جائے ۔

ابن مسعود کا تقیہ کرنے کا دوسرا مورد ولید بن عقبہ کے پیچھے نماز پڑھنا ہے کہ

____________________

۱۔ المحلی ابن حزم ج ۸ ص ۳۳۶،مسالہ ۱۴۰۹۔


ولید کبھی شراب پی کر مستی کی حالت میں مسجد نبویصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں آتا اور نماز جماعت پڑھاتا تھا ؛ ایک دن اس نے صبح کی نماز چار رکعت پڑھائی جب لوگوں نے تعجب کیا اور ایک دوسرے کے ساتھ کانا پھوسی کرنے لگے تو کہا: کیا تمہارے لئے ایک رکعت کا اور اضافہ کروں ؟

ابن مسعود نے اس سے کہا :ہم آج کے دن کو ابتدا سے ہی زیادتی کے ساتھ شروع کریں گے ۔(۱)

ٍاور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابن مسعود اور دوسرے تمام نمازگزاروں نے فاسق اور شراب خور حاکم کے سامنے تقیہ کرتے ہوئے نماز یں ادا کی ہیں ۔ اور یہ وہی شخص ہے جسے عثمان کے زمانے میں شرابخوری کے جرم ميں کوڑے مارےگئے تھے ۔(۲)

____________________

۱۔ قاضی دمشقی، شرح العقیدہ الطحاویہ؛ ج۲،ص ۵۳۳۔

۲۔ صحیح مسلم،ج۳،ص ۱۳۳۱، کتاب الحدود ، باب الخمر۔


ابو الدرداء(ت ۳۲ ھ)اور تقیہ

بخاری اپنی کتاب میں ابودرداء سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک گروہ کے سامنے مسکرا رہے تھے جب کہ اپنے دلوں میں ان پر لعنت بھیج رہے تھے ۔(۱)

ابو موسی اشعری(ت ۴۴ ھ)اور تقیہ

ابو موسی اشعری نے بھی اسی روایت کو اسی طرح نقل کیا ہے کہ ہم ایک گروہ کے سامنے مسکرا رہے تھے جب کہ اپنے دلوں میں ان پر لعنت بھیج رہے تھے ۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس گروہ سے مراد وہ ظالم اور جابر حکمران تھے ، کہ جن کے شر سے بچنے کیلئے تقیہ کرتے ہوئے ہم ان کے سامنے مسکرا رہے تھے۔(۲)

____________________

۱۔ صحیح بخاری، ج ۸ ص ۳۷ کتاب الادب ، باب المداراۃ مع الناس۔

۲ ۔ قرافی، الفروق ؛ ج۴ ، ص ۲۳۶۔


ثوبان (ت ۵۴ ھ) غلام پیغمبر اور تقیہ

یہ بات مشہور ہے کہ ثوبان جھوٹ کو ان موارد میں مفید اور سود مند جانتا تھا جہاں سچ بولنا مفید نہ ہو ۔ غزالی (ت ۵۰۵ ھ) نے ان سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : جھوٹ بولنا گناہ ہے سوائے ان موارد میں کہ جہاں کسی مسلمان کو نقصان اور ضرر سے بچائے اور فائدہ پہنچے ۔(۱)

ابو ہریرہ (ت ۵۹ ھ) اور تقیہ

ان کی زندگی کے بہت سارے واقعات ہیں جنہیں پڑھ کر معلوم ہوجاتا ہے کہ انہوں نے اموی حکومت والوں کے شر سے بچنے کیلئے تقیہ کو بہترین اور وسیع ترین وسیلے کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ ابوہریرہ واضح طور پر تقیہ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ اگر تقیہ نہ ہوتا تو میری گردن بھی اب تک اڑ چکی ہوتی ۔

____________________

۱۔ احیاء علوم الدین ؛ غزالی ،ج ۳،ص ۱۳۷۔


صحیح بخاری لکھتا ہے کہ اسماعیل نے ہمارے لئے نقل کیا کہ میرے بھائی نے ابی ذئب سے انہوں نے سعید مقبری سے انہوں نے ابی ہریرہ سے روایت کی ہے کہ: دوچیزوں کو پیغمبر خدا سے ہم نے حفظ کیا ؛ ایک کو ہم نے پھیلا دیا اور دوسری کومخفی رکھا ۔ اگر اسے بھی آشکار کرتے تو میری گردن کٹ چکی ہوتی ۔(۱)

فقہ مالکی اورتقیہ

امام مالک بن انس ( ت ۲۷۹ ھ)کے تقیہ بارے میں پہلے بیان کرچکا ؛ جس میں ان کا کہنا تھا : کوئی بھی ایک بات جو جابر حکمران کے دو کوڑے سے بچنے کا باعث ہو ، اسے میں اپنی زبان پر جاری کروں گا۔(۲)

اسی طرح مالکی مذہب کے علماء بھی جبر اور اکراہ کے موقع پر کفر آمیز کلمات

____________________

۱۔ صحیح بخاری ، ، کتاب العلم، باب حفظ العلم ،ج۱، ص ۴۱ ۔

۲۔ مالک بن انس؛ المدونہ الکبری ، ج۳،ص۲۹، کتاب الایمان بالطلاق۔


کا زبان پر لانے کو ، جب کہ اس کا دل ایمان سے پر ہو ؛جائز قرار دیتے ہیں ۔

ابن عربی مالکی (ت ۵۴۳ ھ) کہتا ہے کہ مؤمن تقیہ کرکے کافر ہوجائے لیکن ایمان سے اس کا دل مطمئن اور استوار ہو تو اس پر مرتد کا حکم جاری نہیں ہوگا ۔ وہ دنیا میں معذور اور آخرت میں بخشا جائے گا ۔

پھر صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے ۔اسی کے ذیل میں مالکی مذہب کے ہاں اکراہ اور جبر کے موقع پر قسم کھانااور اس میں تقیہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؛ اس مورد میں تقیہ کے جواز پر حکم لگاتا ہے ۔(۱)

فقہ حنفی اورتقیہ

فقہ حنفی میں تقیہ کا مفہوم بہت وسیع ہے ۔ان کے فقہاء بڑی دقت اور اہتمام

____________________

۱۔ ابن عربی؛ احکام القرآن ،ج۳، ص۱۱۷۷۔۱۱۸۲۔


کے ساتھ تقیہ کو جائز قرار دیتے ہیں ۔ ہم یہاں صرف ایک کتاب جس میں تقیہ کے کئی مورد بیان کیے گئے ہیں جو حنفی عالم دین فرغانی (ت ۲۹۵ ھ)نے قاضی خان کے فتاویٰ کو جمع کرکے لکھے ہیں ۔

پہلا مورد:

جب کسی شخص کو کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرنے پر مجبور کرے ، اور اگر نہ مانے تو اسے خود قتل کیا جائے گا یا اس کے بدن کا کوئی عضو کاٹا جائے گا ؛ تو کیا ایسے مورد میں اس پر اکراہ صادق آتا ہے ؟ اور کیا وہ ایک مسلمان کو قتل کرسکتا ہے ؟اگر جائز نہیں ہے تو کیا اس پر قصاص ہے ؟

ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ اکراہ اس پر صادق آتا ہے اور قصاص مجبور کرنے والے سے لیا جائے گا نہ کہ مجبور ہونے والے سے ۔

ابو یوسف کہتا ہے کہ اکراہ صحیح ہے اور قصاص کسی پر بھی واجب نہیں ہے لیکن مقتول کی دیت مجبور کرنے والے پر واجب ہے کہ تین سال کے اند ر مقتول کے وارث کو دی جائے !!!


امام مالک اور امام شافعی سے نقل کیا ہے کہ اکراہ کرنے والا اور مجبور کئے جانے والا ، دونوں کو قتل کرناچاہئے ۔ اس کا مطلب يه هے که ابوحنيفه ،امام مالک،امام شافعي اس بات کے قائل هيں که مجبور شخص دوسرے انسان کو قتل کرسکتاهے ۔(۱) جب که شيعوں کےنزديک مجبور شخص ، خود قتل تو هو سکتا هے ليکن کسي کو وه قتل نهيں کرسکتا ۔

دوسرا مودر:

کسی فعل کا انجام دینا اس کے ترک کرنے سے بہتر ہے تو ایسی صورت میں تقیہ جائز ہے ۔ اور جب بھی اس فعل کے ترک کرنے سے وہ گناہ کا مرتکب ہوجائے تو اس پر تقیہ کرنا واجب ہے ۔جیسے اگر کسی کوخنزير کا گوشت کھانے ، یا شراب پینے پر مجبور کیا جائے تو مجبور ہونے والے کو کھانا اور شراب کا پینا جائز ہے ۔ اسی طرح کوئی پیغمبراسلام (ص) کی شان میں گستاخی کرنے اور زبان پر کفر آمیز الفاظ کے استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے

____________________

۱۔ فرغانی؛ فتاوی قاضی خان؛ ،ج ۵،ص ۴۸۴۔


تو جائز ہے ، جب کہ اس کا دل رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ایمان اور ان کی محبت سے پر ہو۔

تیسرا مورد:

اگر کسی عورت کو قید کرکے اسے زنا کرنے پر مجبور کیا جائے ،اور وہ زنا کرلے تو اس پر کوئی حد جاری نہیں ہوگی ۔

جب که شيعوں کے نزديک مجبوري کي حالت ميں بھي زناجائز نہیں ہے ۔(۱)

چوتھا مورد :

اگر کسی مرد کو مجبور کرے کہ ماہ رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرے یا کوئی چیز کھائے یا پئے ، تو اس پرکوئی کفارہ نہیں ہے لیکن اس روزے کی قضا اس پر واجب ہوگی۔(۲)

____________________

۱ ۔ فرغانی؛ فتاوی قاضی خان ، ج ۵،ص ۴۹۲۔

۲ ۔ فرغانی؛ فتاوی قاضی خان ، ج ۵ ، ص ۴۸۷۔


فقہ شافعی اورتقیہ

فقہ شافعی(ت، ۲۰۴) ،میں تقیہ وہاں جائز اور مباح ہے، جهاں مجبور ہونے والے کيلئے جائز ہو ؛جيسے: کفر آمیز کلمات کا زبان پر جاری کرنا ، جبکہ اس کا دل ایمان سے پر ہے ۔شافعی کے نزدیک وہ شخص ایسا ہے جیسے اس نے زبان پر ایسا کوئی کفر آمیز کلمہ جاری ہی نہیں کیا ہے ۔اس بات کو عطاء بن ابی ریاح (ت ۱۱۴ ھ)کی طرف نسبت دی گئی ہے جو بڑے تابعین میں سے ایک ہے ۔(۱)

اسی طرح ابن حجر عسکلانی شافعی (ت ۸۲۵ ھ) نے بھی مجبور ہونے کی صورت میں تقیہ کرنے اور کفر آمیز الفاظ زبان پر جاری کرنے کی اجازت دی ہے ۔(۲)

تقیہ کا ایک اور مورد جسے سیوطی شافعی (ت ۹۱۱ ھ) نے بیان کیا ہے : وہ صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ جب بھی زبان پر کفر کا اظہار کرنے پر مجبور ہوجائے تو اپنی جان بچانے کی

____________________

۱ ۔ امام شافعی ؛ احکام القرآن ، ج۲، ص ۱۱۴۔۱۱۵۔

۲ ۔ ابن حجر عسکلا نی ؛ فتح الباری ،ج۱۲، ص ۲۶۳۔


خاطر زبان پر کفر کا اظہار کرنا افضل ہے ۔آگے لکھتا ہے کہ اسی طرح جب بھی مجبورہوجائے شراب پینے پر ، پیشاب پینے پر ،خنزیر کا گوشت کھانے پر ، دوسروں کا مال تلف کرنے پر، دوسرے کی غذا کھانے پر، جھوٹی گواہی دینے پر، رمضان میں روزہ توڑنے پر، واجب نماز کے ترک کرنے پر ،۔۔۔ تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ انہیں انجام دے ۔ان کی تعبیر یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو خدا کی بارگاہ میں توبہ کے ذریعے ساقط ہو سکتی ہے ، اکراہ کے ذریعے بھی ساقط ہوسکتی ہے ۔(۱)

فقہ حنبلی اورتقیہ

ابن قدامہ حنبلی (ت ۶۲۰ ھ)نے حالت اکراہ میں تقیہ کے مباح ہونے پروضاحت کی ہے کہ مجبور شخص کا فعل، تہدید اور اکراہ کی وجہ سےجائز ہوجائے گا اورحد بھی جاری نہیں ہوگی۔(۲)

____________________

۱۔ سیوطی؛ الاشباہ و النظایر فی قواعد و فروع الفقہ الشافعی ، ص ۲۰۷ ۔۲۰۸

۲ ۔ ابن قدامہ ، المغنی ،ج ۸ ،ص ۲۶۲۔


فقہ حنبلی میں تقیہ کے موارد میں ذکر ہوا ہے کہ کفرآمیز کلمہ پر اگر اکراہ کیا جائے تو اس کیلئے جائز ہے حنبلی مذہب کے مفسروں نے لکھا ہے :

ابن جوزی نے وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ کفر پر مجبور کرنے کی صورت میں تقیہ کرنا جائز ہے ۔

احمد بن حنبل (ت ۲۴۱ ھ) کا اس بارے میں نظریہ ہے کہ اگر مجبور شخص اس فعل کو انجام نہ دے تو جابر اسے قتل کرے گا یا اس کےجسم کا کوئی حصہ کاٹ دیا جائے گا ، دونوں صورتوں میں تقیہ کرنا اس کیلئے جائز ہے ۔(۱)

ابن قدامہ کا نظریہ یہ ہے کہ اگر کسی کو کفر آمیز کلمہ زبان پر لانے پر مجبور کیا جائے تو تقیہ کرے اور اس پر مرتد کا حکم نہیں لگے گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ مالک، شافعی اور ابوحنیفہ کی بھی یہی رائے ہے ۔

____________________

۱۔ ابن جوزی؛ زاد المسیر ، ج۶ ، ص ۶۹۶۔


ابن قدامہ اپنے نظریے کی تائید کیلئے قرآن کریم اور سنت نبوی سے استدلال کرتا ہے ۔(۱)

امام شافعی اور تقیہ

دو جگہوں پر امام شافعی نے تقیہ کیا ہے اور دونوں مورد ہارون الرشید کے ساتھ پیش آئے:

۱ ۔سارے تاریخ دانوں کے ہاں مشہور ہے کہ امام شافعی نے ایک مدت تک یمن میں اپنی زندگی گزاری اور یمن کے اکثرلوگ علوی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ۔ اور شافعی بھی علویوں کی طرف مائل ہوئے اور یہاں سے ان پر قسم قسم کی مشکلات آنا شروع ہوئیں۔ یہاں تک کہ ان کے اپنے قبیلے میں وه شیعہ مشہور ہوگئے۔ یہ بات ہارون الرشید کے جاسوسوں پر مخفی نہ رہی ، حماد بربری نےیمن سے ہارون الرشید کو ایک خط لکھا اور اسے علویوں کی

____________________

۱۔ ابن قدامہ ؛ المغنی ؛ ، ج۱۰، ص ۹۷۔


طرف سے خطرے کا احساس دلایا ، اور شافعی کے وجود کو ان کیلئے بہت ہی خطرناک قرار دیا اور کہا کہ شافعی کی زبان سے جو بات نکلتی ہے وہ تلوار سے زیادہ تیز ہے ۔ اس لئے ہارون نے یہ دستور دیا کہ شافعی کو بعض علوی اکابرین کے ساتھ بغداد بھیجا جائے ۔جب یہ لوگ بغداد پہنچے تو ہارون نے سارے علویوں کے قتل کا حکم دیا اور بے چون و چرا سب کو قتل کیا گیا ۔ لیکن شافعی نے تقیہ کے طور پر ایک جملہ کہا جو حقیقت پر مشتمل نہیں تھا ، اس نے ہارون سے کہا : کیا میں اس شخص کو ترک کردوں جو کہتا ہے ، میں ان کا چچا زاد بھائی ہوں ؟! اور اس شخص کی جانب داری کروں کہ جو کہتا ہے کہ میں اس کا خادم اور غلام ہوں ؟!!(۱)

شافعی کا یہ جملہ مؤثر ہوا اور ان کی جان بچ گئی ۔

۲ ۔ تقیہ کا دوسرا مورد پہلا مورد سے زیادہ واضح تر اور آشکار تر ہے : ایک دن شافعی کو زنجیروں میں بندھے ہوئے ہارون کے دربار میں لایا گیا ۔جس میں ان کے کچھ دشمن

____________________

۱۔ بیھقی ؛ مناقب الشافعی ، ج۱،ص ۱۱۲۔


بھی موجود تھے ؛ جن میں سے ایک بشر مریسی معتزلی (ت ۲۱۸ ھ)تھا ۔اس نے حکم دیا کہ شافعی کو اور سخت سزا دی جائے جسے ہارون الرشید سن رہا تھا ؛ شافعی سے کہنے لگا: تو اجماع کا مدّعی ہے کیا کوئی ایسی چیز کا علم ہے جس پر لوگوں کا اجماع قائم ہوا ہو ؟ شافعی نے جواب دیا : اسی امیرالمؤمنین پر لوگوں نے اجماع کیا ہے ۔ جو بھی ان کی مخالفت کرے گا، وہ مارا جائے گا ؛ ہارون ہنس پڑا ، پھر حکم دیا کہ زنجیروں کو کھول کر انہیں آزاد کر دیا جائے ،پھر ان کو اپنے پاس بٹھاکر ان کا احترام کرنے لگا۔(۱)

امام مالك او رتقيه

جب تک بنی عباس کا حکم ظاہر نہیں ہوا اس وقت تک بنی امیہ کے دور میں مالک نے امام صادقعليه‌السلام سے روايت نقل نہیں کی ۔یہ اپنی جان و مال کے خوف اور تقیہ کے سواکچھ نہیں تھا ۔

پس ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیسے آپ کے اماموں کیلئے تقیہ کرنا

____________________

۱۔ ابونعیم، حليۃ الاولیاء ؛ ج ۹ ، ص ۸۲۔۸۴


جائز ہوا اور ہمارے لئے تقیہ جائز نہیں ؟ اس کا صرف ایک ہی جواب ہے کہ تعصب کی بنا پر يه لوگ ایک جائز اور قرآنی حکم کا مزاح کر رهے هيں۔

ابو بكرا ور تقيه

مكه اور مدينه کے درمیان میں پیغمبراسلام (ص) کے همراه ا يك اونٹ پر سوار تھا ۔اور اس سے پہلے بھی ابوبکر کا مکہ اور مدینے میں آنا جانا رہتا تھا ۔راستے سے بخوبی واقف تھا ۔۔۔ جب ابوبکر سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ کون ہے ؟ تو اس نے کہا : یہ میرا رہنما ہے ۔

واقدي کہتا ہے :رسول خدا (ص) ابو بكر کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے اور جس سے بھی ملاقات کرتے تھے اور پوچھتے جاتے تھے کہ یہ کون ہے تیرے ساتھ؟ تووه کبھي نہیں


کہتے تھے که: یہ رسول خدا (ص) ہیں بلکہ وه کهتےتھے کہ یہ میرا رہنما ہے ۔(۱)

امام احمد بن حنبل اور تقيه

مامون کے بعدمعتصم عباسي نے دوسری مرتبہ احمد حنبل کا امتحان لیا اور پوچھا: تيرا قرآن کے بارے میں کیا عقيده ہے ؟

چونکہ اس وقت عرب اور یونان کے فلاسفروں اور دانشمندوں کے درمیان قرآن کے قدیم یا حادث ہونے میں اختلاف پایا جاتا تھا ؛ احمد بن حنبل نے کہا: میں ایک دانشمند انسان ہوں لیکن اس مسئلے کو نہیں جانتا ۔ خلیفہ نے سارےعلماء کو جمع کیا تاکہ اس کے ساتھ علمی بحث شروع کریں ۔ عبد الرحمن نے احمد کے ساتھ بحث شروع کی ، لیکن قرآن کے مخلوق ہونے کا اعتراف نہیں کیا ،جب اسے کئی کوڑے لگے تو اسحق نے ان کے ساتھ مناظرہ کی خلیفہ سے اجازت مانگی تو خلیفہ نے بھی اجازت دے دی ۔

اسحاق: یہ جو علم تیرے پاس ہے اسے کیا کسی فرشتے کے ذریعے سے تم پر الہام ہوا ہے

____________________

۱ ۔ محب الاسلام، شيعه مي پرسد،ج۲،ص ۲۷۴۔


یالوگوں سے حاصل کیا ہے ؟

احمد: دانشمندوں سے سیکھا ہے ۔

اسحاق: تھوڑا تھوڑا کرکے حاصل کیا ہے یا ایک ہی مرتبے میں؟

احمد:تھوڑا تھوڑا اور بتدریج حاصل کیا ہے ۔

اسحاق:کیا مزید علم باقی ہے جو تو نے نہیں سیکھا ہے؟

احمد: ہاں ضرور باقی ہے ۔

اسحاق: قرآن کے مخلوق ہونے کا عقیدہ اسی علم کی وجہ سے ہے جو ابھی تک نہیں سیکھا ہے اور امير المؤمنين تجھے سکھائے گا۔

احمد: امير المؤمنين کی اسی بات کو قبول کرتا ہوں ۔

اسحاق :کیا قرآن کے مخلوق هونے میں؟

احمد: ہاں قرآن کے مخلوق هونے میں۔

ان کے اس اعتراف پر گواہ رکھ کر اسے شاہی لباس تحفہ دیا اور آزاد کردیا۔(۱)

____________________

۱ ۔ تاريخ يعقوبي، ج ۳، ص ۱۹۷۔


امام اهل سنت احمد بن حنبل کے اس مناظره پر مشهور ومعروف اديب اور دانشمند ”جاحظ“نے ایک اچھی تفسیر لکھی ہے ۔ جاحظ اپنے اس رسالے میں اہل سنت سے مخاطب ہے کہ تمہارے امام احمد بن حنبل نے رنج اور امتحان کے بعد اعتراف کرلیا ہے : سوائے کافرستان کے کہیں اور تقیہ جائز نہیں ہے ۔ ليکن ان کا قرآن کے بارے میں مخلوق ہونے کا اعتراف کرنا تقیہ کے سوا کچھ اور تھا ؟! اور کيا یہ تقیہ دار الاسلام میں انہوں نے نهيں کیا جو اپنے عقیدے کی تکذیب کررہا ہے ؟! اگر ان کا اقرار صحیح تھا تو تم ان سے اور وہ تم سے نہیں ہیں ۔

شيعه ان لوگوں سے سوال کرتے ہیں کہ حجر بن عدی اور يزيد بن صوحان عبدي جو علی کے ماننے والےتھے ان کا معاویہ کا ظالمانہ اور جابرانہ دربار میں علی کا مدح کرنا کیا تقيه تھا ؟!

بس يه ماننا پڑے گا که شيعه هر جگه تقيه کو روا نهيں سمجھتے ، بلکه جهاں جائز هو وهاں تقيه کرتے هيں۔


حسن بصری (ت ۱۱۰ ھ)اور تقیہ

یہ تابعین میں سے تھا کہتا ہے کہ تقیہ قیامت تک کيلئے جائز هے۔(۱) یہ ان لوگوں میں سے تھا جو صحابہ کےحالات سے واقف تھے۔اس قول کو یا ان سے سنا ہے یا اس نے اس مطلب کو قرآن سے لیا ہے ۔(۲)

بخاری (ت ۲۵۶ ھ) اور تقیہ

بخاری نے اپنی مشروعیت تقیہ پر لکھي هوئي کتاب "الاکراہ " میں مختلف روایات کو دلیل کے طور پر نقل کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بخاری کا نظریہ کیا ہے ؟ وہ اس آیہ شریفہ کو نقل کرتا ہے :

( ومَن كَفَرَ بِاللهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ قَلْبُهُ مطْمَئنِ‏ بِالْايمَانِ وَ لَاكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا

) ____________________

۱۔ طبری ؛ جامع البیان ، ج۶، ص ۳۱۶۔

۲۔ تقیہ از دیدگاہ مذاہب و فرقہ ہای اسلامی غیر شیعی،ص۱۲۶۔

(

فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللهِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) ۔(۱)

جو شخص بھی ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرلے ۔۔۔۔ علاوہ اس کے کہ جو کفر پر مجبور کردیا جائے اور اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمئن ہو ۔۔۔۔اور کفر کے لئے سینہ کشادہ رکھتا ہو اس کے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔

( لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَ مَن يَفْعَلْ ذَالِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللهِ فىِ شى‏ءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَئةً ) (۲)

خبردار صاحبانِ ایمان ۔مؤمنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے ۔(۳)

____________________

۱ ۔ نحل ۱۰۶۔

۲۔ آلعمران ۲۸۔

۳۔ صحیح بخاری، کتاب الاکراہ ۔


وہابی مذہب کے علمائےرجال اور تقیہ

وہابی مذہب کے علمائےرجال تقیہ کا انکار نہیں کرتے ، بلکہ واضح طور پر تمام مسلمانان عالم کے سامنے تقیہ کو بروئے کار لاتے ہیں جس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ بڑے بڑے اولیاء اور صالحین کے قبور کو گرانا ، لیکن قبر مبارک پیغمبر اور ابوبکراور عمر کے قبور کو باقی رکھنا تقیہ کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ۔ ان کا قبر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اصحاب کے قبور کو باقی رکھنا کئی ملین مسلمانوں کے دلوں کو آزار پہنچنے سے بچانا ہے اور یہی تقیہ ہے ۔(۱)

اس سے معلوم ہوا کہ تقیہ اختیاری طور پر بغیر کسی جبر و اکراہ کے جائز نہیں ۔اس بات پر سارے علماء کا اتفاق ہے کہ تقیہ صرف جبر و اکراہ کی صورت میں جائز ہے ۔یہی وجہ ہے کہ تمام مذاہب اسلامی کی فقہی کتابوں میں "باب الاکراہ "کے نام سے الگ باب ہے ۔

__________________

۱۔ تقیہ از دیدگاہ مذاہب و فرق اسلامی غیر شیعی، ص ۱۶۶۔


چوتھی فصل

جواز تقیہ کے دلائل


چوتھی فصل : جوازتقيه کےدلائل

مقدمه

تمام دلائل کی بررسی کرنے سے پہلے اس محل بحث کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ چنانچہ اس فصل میں درج ذیل عنوانات پر گفتگو ہوگی:


۱. شیعوں کے نزدیک تقیہ کی مشروعيت مسلمات میں سے ہے ۔ صرف ایک دو موارد میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے کہ جائز ہے یا نہیں ۔ اور وہ بھی آئمہ معصومین سے مربوط ہے ۔ لیکن اس کے مقابلےمیں اہل سنت کے نزدیک کیا تقیہ جائز ہے یا نہیں ؛ بحث کریں گے ۔

۲. چونكه ہماری بحث اهل سنت سے ہے لہذا دلائل ایسے ہوں جن کے ذریعے اہل سنت کے ساتھ استدلال کیا جاسکے ۔اس لئے هم کوشش کريں گے که زياده تر دلائل قرآن مجید،عقل اور سنت کے علاوہ اهل سنت کي کتابوں سے پيش کريں۔

۳. مشروعیت تقیہ سے مراد ، اصل جواز تقیہ ہے جو وجوب ، استحباب ، مباح، اور کراہت کو بھی شامل کرتا ہے ۔

۴. مشروعیت تقیہ کے بارے میں شیعوں اور اہل سنت حضرات کے درمیان ابتدائے اسلام میں کوئی اختلاف نہیں پایاجاتا ۔کیونکہ قرآن کریم نے اسے ثابت کیا ہے ۔ اصل اختلاف شیعہ اور اہل سنت کے درمیان دو نقطوں پر ہے:

الف: کیا ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے ساتھ تقیہ کر سکتا ہے یا نہیں؟ جیسا کہ شیعہ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کرتے ہیں۔

ب: اس بات کو تو سب مانتے ہیں کہ ابتدائے اسلام میں تقیہ جائز تھا کیونکہ اس وقت اسلام


اور مسلمانان ضعیف تھے ۔لیکن اب چونکہ اسلام ایک قدرت مند اور عزت مند اور بڑی شان وشوکت والا دین بن چکا ہے تو کیا اب بھی تقیہ کرنا مناسب ہے ؟

انهي سوالات اور اشکالات کے جواب ميں هم قرآن ، سنت ،اجماع ،عقل اور فطرت سے استدلال کريں گے :

الف: قرآن

قرآن مجيد نے کئی موقع پر تقیہ کے مسئلے کو بیان کیا ہے ؛ کبھی تقیہ ہی کے عنوان سے تو کبھی کسی اور عنوان سے اشارہ کیا ہے کہ تقیہ قرآنی احکام کے مسلمات میں سے ہے :سوره غافر میں اس مرد مجاهد ، فدا كاراور وفادارکا ذکر ہوا ہے ، جو فرعون کے دربار میں ایک خاص اور حساس مقام کا مالک ہے ۔ اور حضرت موسیعليه‌السلام کے آئین پر محکم ایمان رکھنے والا ہے ، جس نےاپنے ایمان کو دل میں چھپا رکھا ہے تاکہ اپنے دوستوں کی


ضرورت کے وقت اس سے استفادہ کیا جائے ۔ جس کے بارے میں فرمایا:

( وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ ) ۔(۱)

اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مؤمن نے جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے؟ اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر نازل بھی ہوسکتی ہیں - بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے ۔

یہ آیہ شریفہ مؤمن آل فرعون کی استدلالی اور منطقی بات کی طرف اشارہ ہے

____________________

۱۔ سوره غافر / ۲۸۔


جب فرعون نے حضرت موسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔

انہوں نے فرمایا: موسیٰ الله کی طرف دعوت دے رہے ہیں اور قابل مطالعہ اور اچھی دلیل بھی ساتھ بیان کررہے ہیں تو اس کی دو صورتیں ہیں:

یا وہ جھوٹ بول رہے ہیں ،ایسی صورت میں وہ خود رسوا اور ذلیل ہونگے اور قتل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ۔ کیونکہ قتل کرنا انہیں افکار عمومی میں ایک کامیاب اور فاتح ہیرو اور لیڈر بنادے گا ۔ اور ان کے پیچھے ایک گروہ ہمیشہ کیلئے چلنے کی کوشش کرے گا ، اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں میں زندہ رہیں اور لوگ خود ان سے دور ہو جائیں ۔

یا واقعاً وہ سچ کہہ رہےہیں اور خدا کی طرف سے آئے ہیں ، اس صورت میں جس چیز کی وہ تہدید کر رہےہیں ممکن ہے وہ واقع ہوجائے۔ ہمارا ان کے ساتھ حساب کتاب بالکل صاف ہے اس لئے انہیں قتل کرنا کسی بھی صورت میں عاقلانہ کام نہیں ہوگا۔ان کلمات کے ساتھ لوگوں کو اور بھی کچھ نصیحتیں کی ۔اس طرح فرعونیوں کے دل میں وحشت اور رعب ڈال دیا ، جس کی وجہ سے وہ لوگ ان کے قتل کرنے سے منصرف ہوگئے ۔


قرآن اس آیہ شریفہ میں مؤمن آل فرعون کے عقيده کے چھپانے کو ایک اچھا اور نیک عمل بتارها ہے ، کیونکہ انہوں نے ایک بہت بڑے انقلابی رہنما کی جان بچائی اور دشمنوں سےنجات دلائی۔اس سے معلوم ہوا کہ تقیہ عقیدہ کے چھپانے کے سوا کچھ نہیں ۔

سوال یہ ہے کہ کیا کوئی اس مرد مجاہد کے اس عمل کو اس حساس موقع پرایک عظیم ہدف کے بچانے کی خاطر فدا کاری اور جہاد کے علاوہ کچھ اور کوئي نام دےسکتا ہے ؟!

کیا کوئی اس حقیقت سے انکار کرسکتا ہے کہ اگر یہ مرد مؤمن تقیہ کی اس تکنیک سے استفادہ نہ کرتے تو حضرت موسیعليه‌السلام کی جان خطرے میں پڑ جاتی ۔

حضرت ابراهيم تقیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

( فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ فَرَاغَ إِلَى آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ مَا لَكُمْ لَا تَنطِقُونَ فَرَاغَ


عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِين ) ۔(۱)

پس وہ اپنی قوم سے کہنے لگے: میں بیمار ہوں اور میں تمہارے جشن میں نہیں آسکتا ۔ قوم نے بھی انہیں چھوڑ دیا ۔ ابراہیمعليه‌السلام نے بھی بت خانے کو خالی پایا ؛بتوں کو توڑنے کی نیت سے چلے اور تمام بتوں کو مخاطب کرکے کہا:تم لوگ اپنے بندو ں کے رکھے ہوئے کھانوں کو کیوں نہیں کھاتے ہو؟ بات کیوں نہیں کرتے ہو؟ تم کیسے بے اثر اور باطل خدا ہو؟! پھر ایک مضبوط اور محکم کلہاڑی اٹھائی اور سب بتوں کو توڑ ڈالا سوائے ایک بڑے بت کے۔

ان آیات اور روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم بتوں کو توڑنے کا ایک وسیع اور دقیق پروگرام بناچکے تھے ، اور اس پروگرام کا اجراء کرنے کیلئے ایک خاص اور مناسب موقع اور فرصت کی تلاش میں تھے ۔ یہاں تک کہ وہ وقت اور عید کا دن آگیا اور اپنا کارنامہ انجام دیا ۔ یہ دن دولحاظ سے زیادہ مناسب تھا کہ ایک تو سب لوگ شہر سے دور نکل چکے تھے جس کی وجہ سے اپنا کام صحیح طریقے سے انجام دے سکتے تھے اور دوسرا یہ کہ لوگوں کو چونکہ تہوار کے ختم ہونے کے بعد بت خانے میں عبادت کیلئے آناتھا، لہذا لوگوں کے افکار اور احساس کو بیدار کرنے اور ان کو نصیحت

____________________

۱ ۔ سوره صافات / ۸۹ ـ ۹۳۔


کرنے کیلئے یہ دن اور وقت زیادہ موزوں تھا ۔ اور آپ کا یہ کام اس بات کا باعث بنا کہ لوگ سوچنے لگے اور شہر بابل والے ظالم و جابر حکمرانوں کے چنگل سے آزاد ہوگئے ۔

لوگوں کو آپ پر شک تو ہوچکا تھا لیکن آپ نے اپنے عقیدے کو مکمل طور پر چھپا رکھا تھا اور لوگوں کے دعوت کرنے پر کہا کہ میں بیمار ہوں ۔:فقال اني سقيم ۔ جبکہ آپ کے جسم مبارک پر کوئی کسی قسم کی بیماری موجود نہیں تھی ۔لیکن آپ نے اپنے اس عظیم ہدف کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کی خاطر توریہ کیا ، کیونکہ آپ کی بیماری سے مراد روحانی بیماری تھی جو کہ آپ لوگوں کا خدا کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرنے کی وجہ سے محسوس کررہے تھے ۔

۳ ـ تکنیکی تقیہ کے موارد میں سے ایک مورد حضرت مسیح کی جانب سے بھیجے ہوئے مبلغین کی داستان ہے جو انطاکیہ شہر کے لوگوں میں بھیجے گئے تھے ۔جن کے بارے میں فرمایا:

( إِذْ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمُ اثْنَيْنِ فَكَذَّبُوهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ


فَقَالُوا إِنَّا إِلَيْكُم مُّرْسَلُونَ ) (۱)

اس طرح کہ ہم نے دو رسولوں کو بھیجا تو ان لوگوں نے جھٹلادیا تو ہم نے ان کی مدد کو تیسرا رسول بھی بھیجا اور سب نے مل کر اعلان کیا کہ ہم سب تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔

اس ماجرے میں ان دونوں شخص کو انطاکیہ کے بت پرستوں کے اصولوں کے ساتھ ٹکراؤ کی وجہ سے انطاکیہ کے بادشاہ نے جیل میں ڈالديا۔ اور کوئی تبلیغی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔ لیکن تیسرےشخص کو، جو ان دونوں کی مدد کیلئے آئے تھے ناچار اپنا مبارزہ اور ان کے ساتھ مقابله کا راستہ تبدیل کرنا پڑا ۔پہلے اپنا عقیدہ چھپا تارها۔ تاکہ اپنی تدبیر ، فصاحت و بلاغت کے ساتھ حکومت کے امور میں مداخلت کرسکے ۔ اس کے بعد ایک مناسب فرصت اور موقع کا انتظار کرتے رہے تاکہ اپنے دوستوں کو نجات دلا سکے ۔اور اس شہر کے لوگوں میں اخلاقی ، اجتماعی اور فکری انقلاب برپا کرسکے۔اتفاقاً دونوں ہدف حاصل ہوئے کہ قرآن

____________________

۱۔ سوره يس ۱۴۔


کریم نے اسے یوں تعبیر کیا ہے : ”( عززنا بثالث ) “ ہم نے اس تیسرے شخص کے ذریعے ان دونوں کی مدد کی اور ان کو عزت اور قوت بخشی ۔

اب سوال يه هے که کیا حضرت ابراهيم کا اپنا اعلیٰ ہدف کو چھپا رکھنا ترس اور خوف و ہراس کی وجہ سے تھا؟ یا اس اعلیٰ اور عظیم ہدف کو حاصل کرنے کیلئے مقدمہ سازی تھی؟!

کیا عيسي مسيحعليه‌السلام کی طرف سے بھیجے ہوئے تیسرے شخص بھی اپنے دوستوں کی طرح تلخ تجربات کے مرتکب ہوتے؟ اور خود کو بھی زندان میں ڈلوا دیتے ؟!یا یہ کہ روش تقیہ سے استفادہ کرکے تینوں دوستوں کو دشمن کے قید اور بند سے رہائی دلاتے؟!!

ان آیات سے بخوبی معلوم ہوتاہے کہ تقیہ کا ہدف اور فلسفہ کیا ہے اور اس کا صحیح مفہوم کیا ہے ؟(۱)

____________________

۱۔ مكارم شيرازي؛ تقيه سپري عميقتر براي مبارزه،ص ۳۵۔


کیا تقيه سے انکار ان آیتوں کا انکار نہیں؟!

شيعه، تقیہ کا انکار کرنے والوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر تقیہ جائز اور درست نہیں ہےتو ان آیات مبارکہ کا کیا کرو گے ؟ کیا ان آیات کیلئے کوئی شأن نزول نہیں ہے ؟ یا اہل قرآن کیلئے ان آیات کے ذریعے کوئی حکم بیان نہیں ہورہا ؟

اگر يه آيتيں کوئی شرعی تکلیف کو معین نہیں کرتیں تو نازل ہی کیوں ہوئیں؟ لیکن اگر کوئی شرعی حکم کو معین کرتی ہیں تو یہ بتائیں کہ وہ احکام کیا ہیں؟آیات شریفہ جو اس مطلب پر دلالت کرتی ہیں ، درج ذیل ہیں:

( وَ قَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَ تَقْتُلُونَ رَجُلاً أَن يَقُولَ رَبىّ اللهُ وَ قَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَتِ مِن رَّبِّكُمْ وَ إِن يَكُ كَذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَ إِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِى يَعِدُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يهَدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ يَاقَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فىِ الْأَرْضِ فَمَن يَنصُرُنَا مِن بَأْسِ اللهِ إِن جَاءَنَا قَالَ فِرْعَوْنُ


مَا أُرِيكُمْ إِلَّا مَا أَرَى‏ وَ مَا أَهْدِيكمُ‏ إِلَّا سَبِيلَ الرَّشَادِ ) ۔(۱)

اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مؤمن نے جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر بھی نازل ہوسکتی ہیں - بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے ۔میری قوم والو بیشک آج تمہارے پاس حکومت ہے اور زمین پر تمہارا غلبہ ہے لیکن اگر عذاب خدا آگیا تو ہمیں اس سے کون بچائے گا ؟فرعون نے کہا کہ میں تمہیں وہی باتیں بتارہا ہوں جو میں خود سمجھ رہا ہوں اور میں تمہیں عقلمندی کے راستے کے علاوہ اور کسی راہ کی ہدایت نہیں کررہا ہوں۔

( لا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكافِرينَ أَوْلِياءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنينَ وَ مَنْ يَفْعَلْ ذلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللهِ في‏ شَيْ‏ءٍ

) ____________________

۱۔ سوره غافر ۲۸ ـ ۲۹۔

(

إِلاَّ أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقاةً وَ يُحَذِّرُكُمُ اللهُ نَفْسَهُ وَ إِلَى اللهِ الْمَصيرُ ) ۔(۱)

خبردار! اےایمان والو!مؤمنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے ۔

( مَن كَفَرَ بِاللهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ قَلْبُهُ مُطْمَئنُ بِالْايمَانِ وَ لَاكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللهِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) ۔(۲)

"جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ کا انکار کرے (اس کے لئے سخت عذاب ہے) بجز اس شخص کے جسے مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہیں) لیکن جنہوں نے دل کھول کر کفر اختیار کیا ہو تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔"

____________________

۱ ۔ سوره آلعمران۲۸۔

۲ ۔ سوره نحل ۱۰۶ ۔


ان آیات کریمہ سے تقیہ کی مشروعیت ثابت ہوگئی اب بات یہ ہے کہ اہل سنت کو کسی بھی دور میں تقیہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوئی کیونکہ وہ لوگ ہر دور کے حکمرانوں خواہ وہ ظالم وجابر ہی کیوں نہ ہوں ان کے خلاف کبھی کوئی آواز نہیں اٹھاتے بلکہ انہیں اولی الامر مانتے اور ان کی اطاعت کرتے لیکن اس کے برخلاف اہل تشیع نےکسی دور میں بھی حاکم وقت کو اولی الامر نہیں مانا بلکہ ظالم و جابر حمکرانوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے رہے جو ان حکمرانوں کے لئے قابل تحمل نہیں تھا جس کی بناء پر حکمران ،شیعیان امیرالمؤمنین ؑ کی جان و مال کے درپے رہے جس کی وجہ سے شیعیان علی ؑ تقیہ کرنے پر مجبور ہوتے رہے۔

ب: سنت

ہر دور ميں، تقیہ کو کامیابی کا راز تصور کیا جاتارہا ہے ۔ آپ کی تقریب ذہن کیلئے ہم کچھ مثالیں بیان کریں گے :


۱۔تقيه، پیغمبرعليه‌السلام کی تدبير

پیغمبر اسلام (ص) کی شهامت ، شجاعت او رتدبيرکو سب دوست اور دشمن تسلیم کرتے ہیں۔

چنانچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا تین سال تک ” مخفيانه دعوت “ کرنا اور”مخفیانہ هجرت “ کرنا کہ جس کی وجہ سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دشمن کے محاصرہ سے نکلنے میں کامیاب ہونا، اس کے بعدمدینہ تشریف لانے تک غار ثورمیں مخفی رہنا اور رات کی تاریکیوں میں چلنا اور دن کو مخفی رہنا ، یہ سب تقیہ کےاعتقادی یا عملی مصادیق میں سے ہیں ۔

۲ ۔تقيه،اعلیٰ اهداف کے حصول کا ذریعہ


کیا کوئی شخص ایسے مسائل میں تقیہ کے اصولوں کا بروئے کار لانے کو نقطہ ضعف یا ترس یا محافظہ کاری کہہ سکتا ہے؟!

امام حسينعليه‌السلام كه جس نے تقیہ کے سارے نمونے کو پیروں تلے روند ڈالے ، لیکن جب بھی ضرورت محسوس کی کہ مقدس اور ابدی اہداف کے حصول اور ظلم وستم ، کفر و بے ایمانی اور ساری جہالت کے خاتمے کیلئے تقیہ کرتے ہوئے مکہ معظمہ سے نکلے جب کہ سارے مسلمان اعمال حج انجام دینے کی تیاریوں میں مصروف تھے ۔ اور اس کی وجہ بھی خود امام حسینعليه‌السلام نےبیان فرمائی تھی : اگرمیں چیونٹی کی بل میں بھی چھپ جاؤں تو یہ لوگ مجھےوہاں سے بھی نکال کر شہید کردیں گے ۔ اور اگر مکہ میں ٹھہر جاؤں تو حرم الہی کو میرے خون سے رنگین کریں گے اور خانہ کعبہ کی بھی بے حرمتی کریں گے ۔

تو اہل انصاف سے ہم یہی سوال کریں گے کہ امام حسینعليه‌السلام کا اس موقع پر تقیہ کرنا کیا عقل انسانی کے خلاف تھا ؟ یا عین عاقلانہ کام تھا ؟!


۳۔ جنگ موته میں تقيه کاکردار

جنگ”موته“کے میدان میں مجاہدین اسلام کے صفوںمیں کچھ اس طرح سےترتیب دینا جو امپراتوري روم کے لاکھوں افراد پر مشتمل فوج کے ذہنوں میں تزلزل پیدا کرے اور نفسیاتی طور پر انہیں مفلوج کرے جو مسلمانوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھی ،اور یہ بہت مؤثر بھی رہا ۔

۴۔ فتح مكه میں تقيه کا کردار

پیغمبر اسلام (ص) نے مکہ فتح کرنے کی خاطر نہایت ہی مخفیانہ طور پر ایک نقشہ تیار کیا ؛ یہاں تک کہ انپے قریبی صحابیوں کو بھی پتہ چلنے نہیں دیا ۔ جس کے نتیجے میں مسلمان فتح مکہ جیسی عظیم کامیابی سے ہمکنار ہوئے ۔اسی طرح بہت سے مواقع پر تقیہ کے اصولوں پر عمل کرکے فوجی طاقتوں اور اسلحوں کی حفاظت کی ۔


کہنے کا مقصد یہ ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں خصوصاً ملکی حفاظت کرنے والوں کا سب سے پہلا اصول تقیہ اور کتمان ہے کہ دشمنوں سے ہر چیز کو چھپایا جائے تاکہ وہ ہم پر مسلط نہ ہوں ۔اس لئے جو بھی تقیہ کرنے پر اعتراض کرتاہے وہ در اصل تقیہ کے مفہوم اور معنی سے واقف نہیں یا کسی ایک خاص مکتب کو دوسرے مکاتب فکر کےسادہ لوح افراد کے سامنے متنفر کرنے کیلئے اس قرآنی اور عقلانی اصول کی اصل اور حقیقی شکل و صورت کو بگاڑ کر پیش کرتا ہے ۔ ہم اس سے کہیں گے کہ آپ کسی مکتب کی اہانت نہیں کررہےہو بلکہ در آپ اصل میں قرآن مجید کا مزاق اڑا رہے ہو۔

۵ ۔ تقيه دشمنوں کے مقابلے میں دفاعی وسیلہ

مجاہدین دشمنوں کے شر سے بچنے کیلئے تقیہ بروئے کار لاتے ہیں تاکہ اس تکنیک کے ذریعے دشمن کو غافل گیر کرکے مغلوب بنایا جائے ۔ اور میدان جنگ میں خود کامیابی سے


ہمکنار ہوسکیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تقیہ گوشہ نشین افراد اور ڈرپوک اور غیر متعہد اور عافیت آرام طلب افراد کا شیوہ نہیں ہے بلکہ یہ مجاہدین اسلام اور محافظین دین کا شیوہ ہے ۔ پس تقیہ بھی ایک طرح کی جنگ اور جہاد ہے ۔اور یہ تقیہ خود وزارت دفاع اورملکی حفاظت کرنے والوں کی طاقت شمار ہوتا ہے ۔ چنانچه امير المؤمنينعليه‌السلام نے فرمایا:

التقيه من افضل اعمال المؤمن يصون بها نفسه و اخوانه عن الفاجرين ۔(۱)

تقیہ مؤمن کی افضل ترین عبادتوں میں سے ہے ،جس کے ذریعے فاسق اور فاجر طاقتوں کی شر سے وہ اپنی جان اور اپنے دوسرے بھائیوں کی جا ن بچاتا ہے ۔

۶ ۔تقيه مؤمن کی ڈھال ہے

قال الباقر: اي شيئ اقر للعين من التقية؟ ان التقية جنة المؤمن(۲)

____________________

۱ ۔ وسائل الشيعه ، ج ۳،باب ۲۸۔

۲۔ وسائل الشيعه ، ج ۲۴ ، باب۲۶۔


امام باقرعليه‌السلام نے فرمایا: کونسی چیز تقیہ سے زیادہ مؤمن کیلئے سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہے ؟!بے شک تقیہ مؤمن کی ڈھال ہے۔

امام صادقعليه‌السلام نے فرمایا:

التقية ترس المؤمن و التقية حرز المؤمن ۔(۱)

بے شک تقیہ مؤمن کیلئے ڈھال اورقلعہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو دشمن کی شر سے بچاتا ہے ۔اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ تقیہ ایک دفاعی مفہوم رکھتا ہے جسے اپنے دشمن کے مقابلے میں بروئے کار لایا جاتا ہے ۔زرہ کا پہننا اور ڈھال کا ہاتھ میں اٹھانا مجاہدین اور سربازوں کا کام ہے ۔ ورنہ جو میدان جنگ سے بالکل بے خبر ہو اور میدان میں اگر جائے توفرار کرنے والا ہو تو اس کیلئے زرہ پہننے اور ڈھال کے اٹھانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟!

____________________

۱۔ وسائل الشيعه ، ج ۶ ، باب۲۴ ۔


۷ ۔ تقيه پیغمبروں کی سنت

امام صادقعليه‌السلام نےفرمایا:عليك بالتقيه فانها سنت ابراهيم الخليل ۔(۱)

تم پر تقیہ کرنا ضروری ہے کیونکہ تقیہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی سنت ہے ۔ اور ابراہیم وہ مجاہد ہیں جنہوں نے اکیلے ظالم و جابر نمرود کے ساتھ مقابلہ کیا ۔ نہ صرف اس کے ساتھ بلکہ تمام متعصب اور لجوج بت پرستوں کےساتھ مبارزہ کیا ؛ اور ہر ایک کو عقل اور منطق اور اپنی بے نظیر شجاعت کے ساتھ گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ۔ ان کے باوجود حضرت ابراہیمعليه‌السلام نے کئی مقام پر تقیہ کرکے اپنی جان بچائی ہے ۔ لیکن کیاکوئی ابراہیمعليه‌السلام پر مصلحت اندیشی کا الزام لگا سکتا ہے ؟!ہرگز نہیں۔ اس لئے تقیہ حضرت ابراہیمعليه‌السلام کی سنت کے عنوان سے بھی معروف ہے ۔

____________________

۔ وسائل الشيعه، ج ۶ ، باب۲۴ ۔


۸ ۔تقيه ،مجاهدوں کا مقام

امام حسن العسكريعليه‌السلام سےمنقول ہے:

مثل مؤمن لا تقية له كمثل جسد لا راس له ۔(۱)

وہ مؤمن جو تقیہ نہیں کرتا وہ اس بدن کی طرح ہے جس پر سر نہ ہو۔اور سر کے بغیر بدن کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی کیونکہ باقی جسمانی تمام تر فعالیت سر سے وابستہ ہے ۔

اور بالکل یہی تعبیر ”صبر و استقامت“ کے بارے میں آئی ہے كه ايمان بھی بغيرصبرو استقامت کے بغیر سرکے بدن کی طرح ہے ۔ان تعبیرات سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ تقیہ کا فلسفہ وہی صبر و استقامت کا فلسفه ہے اور تقیہ کے ذریعے اپنی طاقت اور اسلحہ کا بندوبست اور ان کی حفاظت کي جاتی ہے ۔

____________________

۱۔ وسائل الشيعه ،ج ۱۶، باب ۲۴۔


۹ ۔ تقيه ،مسلمانوں کےحقوق کی حفاظت

تقیہ کا مسئلہ اور مسلمان بھائیوں کے حقوق کی ادائیگی دو ایسے فریضے ہیں جنہیں ایک دوسرے کے ساتھ ہی قرار دیا گیا ہے ۔

امام حسن العسكريعليه‌السلام نے فرمایا :

و أعظمُهما فرضانِ : قضاءُ حقوقِ الاخوانِ في اللهِ و استعمالُ التقيهِ من اعداءِ اللهِ ۔(۱)

تمام فرائض میں سے اهم ترین فریضہ دو ہیں:

o اپنے دینی بھائیوں کے حقوق کا ادا کرنا ۔

o اور اللہ کے دشمنوں کے سامنے تقیہ کرنا۔

____________________

۱ ۔ وسائل الشيعه ،ج ۱۶، باب ۲۸، ح ۱۔


اس تعبیر سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تقیہ ان دو چیزوں کے درمیان ایک قسم کا رابطہ قائم کرنا ہے ۔ اگر غورکریں تو معلوم ہوگا کہ تقیہ کا مسئلہ دوسرے مسلمانوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرح ایک اجتماعی مسئلہ ہے ۔

ج ۔ عقل

معمولاً تقيه اقلیتوں سے مخصوص ہے جو اکثریت کے پنجوں میں اسیر ہوجاتے ہیں ایسی صورت میں اگر وہ اپنے عقیدے کا اظہار کرتے ہیں تو اس کے لئے جانی یامالی نقصان کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔اور ساتھ ہی اس اقلیت والے گروہ کے ہاں موجود قومی سرمایہ اور طاقت کا ہدر جانے کے علاوہ اسے کچھ نہیں ملتا ۔

کيا عقل نہیں کہتي کہ یہ قومی سرمائے اور طاقت کا اہم ضرورت کے موقعوں کے لئے محفوظ رکھنا ایک عاقلانہ اور اچھا کام ہے ؟ بلکہ عقل کہتی ہے کہ اپنے عقیدے کوچھپا کر ان طاقتوں کو ذخیرہ کیا جائے تاکہ انہیں مناسب فرصت اور مواقع پر بروئے


کار لایا جاسکے ۔

مثال کےطورپر: کوہستانی علاقوں اور دیہاتوں میں مختلف جگہوں سے پانی کے چھوٹے چھوٹے چشمے پھوٹنے لگتے ہیں۔ اگر ان کو ایک تالاب میں جمع کریں گے تو اس سے بہت بڑے مزرعے کو سیراب کرسکتے ہیں ، لیکن اگر ان کواسی طرح بہنے دیں تو کھیتوں کو سیراب کئے بغیر پانی ضائع ہو جاتا ہے ۔ اسی لئے زمیندار ان چشموں کے نزدیک تالاب بنا کر پانی کو جمع کرتے ہیں تاکہ بیج بوتے وقت زمین کو سیراب کر سکیں۔ جب کہ اس سے قبل سارا پانی ضائع ہو جاتا تھا ۔ تقیہ بھی اسی طرح ہے کہ جس کے ذریعے اپنی اور اپنی قوم و ملت کے سرمائے اور جان کی حفا ظت کی جائے تاکہ مناسب موقع پر اس سے بھر پور استفادہ کیا جاسکے۔جو ایک عاقلانہ کام ہے۔

۱۔دفع ضرر

عقل بتاتی ہے کہ دفع ضرر واجب ہے ؛ اور تقیہ ایک ایسی تکنیک ہے کہ جس کے ذریعے


انسان جانی یا مالی ضرر کو اپنے سے اور اپنے دوسرے هم فکر افراد سے دفع کر سکتا ہے ۔اسی لئے فقہاء فرماتے ہیں :

فقد قضي العقل بجواز دفع الضرر بها (بالتقيه) بل بلزومه و اتفق عليها جميع العقلاء: بل هو امر فطري يسوق الانسان اليه قبل كل شيئ عقله و لبه و تدعوه اليه فطرته ۔(۱)

عقل تقیہ کے ذریعے دفع ضرر کو جائز قرار دیتی ہے بلکہ اس کے واجب ہونے پر تمام فقہاء اور عقلاء کا اتفاق ہے ۔اور اس سے بھی بالا تر یہ ایک فطری عمل ہے کہ جو انسان کو اس کی فطرت اور عقل سب سے پہلے تقیہ کے ذریعے اپنی جان اور مال کی حفاظت کرنے پر ابھارتا ہے ۔اور یہ غریزہ ہر انسان اور حیوان میں پایاجاتا ہے ۔

۲ـ مہم پر اہم کا مقدم کرنا

فالعقل السليم يحكم فطريا بانه عند وقوع التزاحم بين الوظيفة الفرديه مع شوكة

____________________

۱ ۔ جعفر سبحاني؛ مع الشيعه الاماميه في عقائدهم، ص ۸۹۔


الاسلام و عزته و قوته او وقوع التزاحم بين الحفظ النفس و بين الواجب او محرم آخر لابد من سقوط الوظيفة الفرديه و ليست التقيه الا ذالك ۔(۱)

عقل سليم کا فطری حكم ایسا ہے کہ جب کوئی شخص اپنے فریضے کی انجام دہی کے موقع پر اسلام کی قدرت ، شان وشوکت اور عزت کے ساتھ مزاحم ہوجاتا ہے ۔ یا اپنی جان بچانے کا وقت آتا ہے تو یہ کسی واجب یا حرام کام کا ترک کرنے یا انجام دینے پر مجبور ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں اہم کو انتخاب کرتے ہوئے مہم کو ترک کرنے کا نام تقیہ ہے ۔ اس استدلال سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ :

ان العقل يري ان احكام الدين انما شرعت لسعادة الانسان في حياته الي الابد، فاذا كانت هذه السعادة و ادانت الاكام متوقفة و الاخفاء عن الاعداء في فترة من الزمن فالفعل يستقل بالحكم بحسن التقية لقديما للاهم علي المهم ۔(۲)

____________________

۱۔ صادق ، روحاني؛فقه الصادق ،ج۱۱ ، ص۳۹۳۔

۲۔ محمد علي،صالح المعلم؛ التقيه في فقه اهل البيت،ج۱، ص۶۶۔


عقل بتاتی ہے کہ احكام دين کو انسان کی ابدی خوش بختی کیلئے تشریع کیا ہے ۔ لیکن اگر یہی خوش بختی اور احکام دین پر عمل کرنا کچھ مدت کیلئے اپنے جانی دشمنوں سے چھپا نے پر مجبور ہو تو عقل، تقیہ کرنے اور اہم کام کو مہم کام پر مقدم کرنے کو ایک اچھا اور مناسب عمل سمجھے گی ۔

اگر ان بیانات کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں :جب بھی انسان یا مکلف دو کاموں کوانجام دینے پر مجبور ہو ؛ لیکن ان دوکاموں میں سے صرف ایک کو فی الحال انجام دے سکتا ہو ۔ اب وہ سوچتا ہے کہ کس کام کو انجام دوں اور کس کام کو چھوڑ دوں؟! اگر وہ عاقل اور سمجھدار ہو تو وہ جس میں مصلحت زیادہ ہوگی اسے انجام دے گا اور جس کام میں مصلحت کم ہوگی اسے ترک کرے گا اسی کا نام تقیہ ہے ۔

د : فطرت

اگر صحیح معنوں میں فکر کریں تو معلوم ہوگا کہ تقیہ سراسر عالم حيات کے قانون


کی اساس اور بنیاد ہے ۔اور تمام زندہ مخلوقات اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان بچانے کی خاطراس اصول سے استفادہ کرتی ہیں ۔جیسے بحری حیوانات جب احساس خطر کرتے ہیں تو وہ اپنی جان بچانے کی خاطر اپنے جسم پر موجودخاص تھیلیوں سے استفادہ کرتے ہیں کہ جس میں ایک کالے رنگ کا ایک غلیظ مادہ ہوتا ہے جسے وہ اپنے اطراف میں پھیلادیتے ہیں جیسے آنسو گیس استعمال کرکے اس جگہ سے دور ہو جاتے ہیں ۔

اسی طرح بہت سے حشرات ہیں جو اپنے جسم کو پروں اور بالوں کے ذریعے اس طرح چھپاتے ہیں کہ بالکل اس شاخ کے رنگ و روپ میں بدل جا تے ہیں اور جب تک غور نہ کریں نظر نہیں آتے ۔ بعض جاندار ایسے ہیں جو مختلف موقعوں پر اپنا رنگ بھی اسی محیط کے رنگ و روپ میں تبدیل کرتے رہتے ہیں ، اور اس حيران کن دفاعی سسٹم کے ذریعے جانی دشمن کی نظروں سے اوجھل ہو جاتےہیں، تاکہ اپنی جان بچا سکیں ۔


بعض حیوانات ایسے بھی ہیں جو خطرے کی صورت میں اپنے جسم کو بالکل بے حس و حرکت بناتے ہیں تاکہ دشمن کو دھوکه دے سکیں ۔

خلاصہ کلام یہ ہے جو بھی تقیہ کے مسئلہ کو شیعوں کا مسئلہ قراردیتے ہوئے اعتراضات کرتے ہیں ، حقیقت ميں وہ تقیہ کے مفہوم اور معنی سے واقف نہیں ہیں، یا واقف تو ہیں لیکن شیعوں کو دیگر مکاتب فکر یا سادہ لوح عوام کی نگاہوں میں گرانے کی خاطر اس فطری اور عقلانی اصول یا سسٹم سے انکار کرتے ہیں ۔

ان مطالب سے معلوم ہوتا ہے کہ تقیہ کا سسٹم تمام مکاتب فکر میں کم و بیش پایا جاتا ہے ۔لیکن یہ یاد رکھیں کہ ہمیشہ نیک اور صالح افراد جو کہ تعداد کے لحاظ سے تھوڑے ہیں ، ان جنایت کار اور ظالم افراد جو کہ تعداد کے لحاظ سے زیادہ ہیں ، سے تقیہ کرتے آئے ہیں ؛ تاکہ اس تکنیک یا سسٹم کے ذریعے اپنی جان ، مال عزت ، آبرو اور ناموس ، کی حفاظت کرسکیں ۔(۱)

____________________

۱ ۔ مكارم شيرازي؛ تقيه سپري عميقتر ، ص۲۲۔


ه : اجماع

جنگي نقشے بھی ہمیشہ مخفیانہ طور پر بنائے جاتے ہیں جنگجو افراد ہمیشہ کوشش کرتے ہیں کہ خود کو دشمن کی نظروں سے چھپائے رکھتے ہیں ،اور اپناجنگی سامان اور اسلحے کو میدان جنگ کے گوشہ و کنارميں درخت کے پتوں یا کیچڑوں اور مٹی مل کر چھپا تے هیں ، اسی طرح فوجیوں کی وردیاں بھی کچھ اسطرح سے پہنائی جاتی ہیں کہ میدان جنگ میں آسانی کے ساتھ دشمنوں کی نظروں میں نہ آئیں ۔یا کبھی جنگجو افراد مصنوعی دھواں چھوڑکر دشمن کوغافل گیر کرتے ہیں ۔یا رات کی تاریکی میں ايک جگه سے دوسري جگه نقل مکاني کرتے ہیں ۔

اسی طرح جاسوس اور اطلاعات والے جب دشمن کے علاقوں میں جاتے ہیں تو وہ اس علاقے کے لوگوں کے لباس اور ماحول اور فرہنگ میں اپنے آپ کو ضم کرتے ہیں ۔ اگر غور کریں تو یہ سب امور تقیہ کے مختلف شکلیں ہیں ۔جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے دشمن


پر فتح و کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔(۱)

اداری اور دفتری کاموں میں خواہ وہ سیاسی امور ہو یا اقتصادی یا معاشرتی ، مختلف مقاصد کے حصول کیلئے رموز کا استعمال کرنا ، یہ سب اس سسٹم کی مختلف شکلیں ہیں ،جسے کوئی بھی عاقل انسان رد نہیں کرسکتا ۔ بلکہ سب ان کی تائید کریں گے ۔ اگر ایسی صورت میں جبکہ دشمن اس کے مقابل میں ہو اور وہ اپنی شجاعت دکھاتے ہوئے آشکار طور پر دشمن کے تیروتلواروں یا گولیوں کے زد میں نکلے تو اس کی عقل پر شک کرنا چاہئے۔

یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ تقیہ ہر مکتب فکر والوں میں موجود ہے جس کے ذریعے ہی قومی سرمایہ اور عوام کی جان اور مال اور ملکی سالمیت کی حفاظت ممکن ہے ۔

____________________

۱ ۔ مكارم شيرازي؛ تقيه سپري عميقتر ، ص ۱۸۔


پانچویں فصل

وجوب و تحریم تقيه کے موارد اوران کا فلسفه


پانچویں فصل :

وجوب وتحریم تقيه کے موارد اوران کا فلسفه

وہ موارد جہاں تقیہ کرنا واجب ہے

وجوب تقیہ کے موارد اور ان کے اہداف کو باہم تحقیق کریں گے ۔ کیونکہ یہ دونوں (وجوب و هدف)ایک دوسرے سے مربوط ہیں ۔ اگر تقیہ کے اصلی موارد کوبیان کریں تو ہدف اصلی بھی خود بخود واضح ہوجاتا ہے ۔بطور خلاصہ تقیہ کو کئی اہداف کی خاطر واجب جانا گیا ہے :


۱۔ طاقت کی محافظت کرنا

کبھی انسان کیلئے ایسا موقع پیش آتا ہے کہ جہاں اپنا عقیدہ اگر عیاں اور آشکار کرے تو بغیر کسی فائدے یااپنے اہداف سے قریب ہونے کی بجائے اس شخص یا اور کئی افراد کی جان نابود یا ناقابل تلافی نقصان کا شکار ہو سکتی ہے ۔ایسے مواقع پر عقل اور منطق حکم دیتی ہیں کہ احساسات میں بے دلیل گرفتار ہوکر اپنی طاقت کو ضائع کرنے سے باز آئیں ۔بلکہ آئندہ کیلئے ذخیرہ کریں ؛ تاکہ قدرت و طاقت اس قدر زیادہ ہوجائے جس کے ذریعے اپنا عظیم ہدف تک رسائی ہوسکے ۔کیونکہ کسی بھی شخص میں اتنی وافر مقدار میں قدرت یا طاقت نہیں ہے کہ جنہیں کھلے دل و دماغ سے ہاتھ سے جانے دیں ۔

کبھی ایک لائق اور مفید شخص کی تربیت کیلئے کئی سا ل ایک معاشرے کو زحمت اٹھانی پڑتی ہے اور وہ اپنی طاقت کو خرچ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ تویہ کیسے ممکن هے که اپني ذمه داري کا احساس نہ کریں ؟!


مخصوصا ًایسے معاشرے میں جہاں اچھے اور نیک انسانوںمیں افرادي قوت اور طاقت بہت کم ہو ؟

یہی وجہ تھی کہ اسلام کے شروع میں پیغمبر نے تقریباً تین سال اپنا عقیدہ سواے ایک خاص گروہ کے دوسرے لوگوں سے چھپا ئےرکھا ۔ آہستہ آہستہ مسلمانوں میں افرادی قوت میں اضافہ ہوتا گیا ، یہاں تک کہ تقیہ کی بندش تین سال بعد ٹوٹنے لگی اور آپ اسلام کی طرف علی ٰ الاعلان لوگوں کو دعوت دینے لگے ۔لیکن پھر بھی آپ کے اوپر ایمان لانے والوں کی تعداد کم تھی جوکہ دشمنوں کے ہاتھوں اسیر ہوجاتے اور قسم قسم کی اذیتیں اور آزار برداشت کرنا پڑتیں ۔اور ایک معمولی بات پر مسلمان قتل کردئے جاتے تھے ۔ تو پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایسے افراد کو تقیہ کرنے کی اجازت دیتے تھے ۔تاکہ اپنی دفاعی طاقت اور قوت کو اس نومولود مکتب کی حفاظت کی خاطر محفوظ کرلیں اور بیہودہ اور بے ہدف اوربے دلیل اپنی جان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں ۔


۲۔ پروگرام کو چھپانا

چونکہ تقیہ زیادہ تر نیک اور صالح افراد جو تعداد کے لحاظ سے کم ہیں ، ان سے مربوط ہے تاکہ وہ اس ظالم اور جابر گروہ کے شر سے اپنے دین یا جان یا ناموس کو بچائیں ۔یہ بھی معلوم ہے کہ اقلیت اپنی زندگی کو جاری رکھنے اور عالی ہدف تک جانے کیلئے تقیہ کے طور و طریقے سے استفادہ کرنے پر مجبور ہیں ۔ ورنہ اگر اکثریت کے سامنے اپنا عقیدہ برملا کرے تو وہ لوگ مزاحمت کرنے لگیں گے ۔اس لئے مجبور ہیں کہ اپنے عقائد ، پروگرام اور دیگر کاموں کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھنے کیلئے تقیہ کرلیں ۔اس قسم کا تقیہ ظہور اسلام کے وقت بہت زیادہ پایا جاتا تھا ۔

هجرت پیغمبر کانقشہ كه جو انقلاب اسلامی کی تکمیل اور کامیابی کا پہلا قدم تھا ،آپ کا مخفیانہ طور پر نکلنا اور امير المؤمنينعليه‌السلام کا بستر پیغمبرگرامی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر جا کر آرام کرنا اور آنحضرت کا رات کی تاریکی میں غار حرا کی طرف حرکت کرنا اور اس غار میں کئی دن تک ٹھہرنے کے بعد مدینہ کی طرف مخالف سمت میں چلنا ،وغیرہ اسی تقیہ کی قسموں


میں سے ہے ۔سوال یہ ہے کہ کیا ان موقعوں پر تقیہ کرنا واجب ہے یا نہیں؟!

کیا اگر پیغمبراور مسلمان اپنا عقيده اور فكر کو دشمن سے نہیں چھپاتے تو کیا کامیابی ممکن تھی؟!

کیا ایسے موارد میں تقیہ کرنا ہی اپنی کامیابی اور دشمن کی نابودی کا سبب نہیں ہے ؟

اسی طرح اللہ کے خلیل حضرت ابراہیمعليه‌السلام نے جو تقیہ کیا تھا ،عرض کر چکا ، جو اگر اپنا عقیدہ نہ چھپاتے اور توریہ نہ کرتے تو کیا یہ ممکن تھا کہ لوگ انہیں اکیلا شہر میں رکنے دیتے ؟ ہرگز نہیں۔اس صورت میں آپ کو بت خانے کی طرف جانے کی فرصت بھی کہاں ملتی؟!لیکن آپ نے جو اپنا عقیدہ چھپایا اور جو نقشہ آپ نے تیار کیا ہوا تھا اسے اپنی انتہا کو پہنچانے کیلئے تقیہ ہی سے کام لیا۔اور یہی آپ کی کامیابی کا راز بنا۔

ان تمام روايتوں میں تقيه کو ايك دفاعي سپر یا ڈھال «جنّة المؤمن، ترس


المؤمن،حرز المؤمن » کہا گیا ہے جس کے ذریعےاپنی جان اور دوسروں کی جان بچائی جاتی ہے۔

۳ ـ دوسروں کی حفاظت کرنا

کبھی اپنے عقیدے کا اظہار کرنا اپنے اثر رسوخ کی وجہ سے اپنی ذات کیلئے تو کوئی ضرر یا ٹھیس پہنچنے کا باعث نہیں بنتا، لیکن ممکن ہے یہی دوسروں کیلئے درد سر بنے ۔ ایسی صورت میں بھی عقیدہ کا اظہار کرنا صحیح نہیں ہے ۔

اهل بيت اطہار کے بعض اصحاب اور انصار کی حالات زندگی میں ایسے موارد دیکھنے میں آتےہیں کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے ظالم و جابر حکمرانوں کی طرفسے لوگ ان کا پیچھا کررہے تھے ، ان کا اپنے اماموں سے ملنا جابر حکمرانوں کا ان کی جانی دشمنی کا باعث بنتا تھا۔ان میں سے کچھ موارد یہ ہیں :


ایک دن زرارہؓ نے جو امام باقراور امام صادقعليه‌السلام کے خاص صحابیوں میں سے تھے ؛ امام جمعہ کو امام کی طرف سے ایک خط پہنچایا ، جس میں امام نے جو لکھا تھا اس کا مفہوم یہ تھا : میری مثال حضرت خضرعليه‌السلام کی سی ہے اور تیری مثال اس کشتی کی سی ہے جسے حضرت خضرعليه‌السلام نے سوراخ کیا تاکہ دشمن کے شرسے محفوظ رہے ۔اور تیرے سر پر ایک ظالم اور جابر بادشاہ کھڑا ہے ، جو کشتیوں کو غصب کرنے پر تلا ہوا ہے ، جس طرح حضرت خضرعليه‌السلام نے اس کشتی کو سوراخ کیا تاکہ غاصب اس کو نہ لے جائے، اسی طرح میں بھی تمہیں محفلوں میں کبھی کبھی ڈراتااور مذمت کرتا رہوں گا ، تاکہ تو فرعون زمان کے شر سے محفوظ رہے ۔

تقيه کے حدود کو سرکرنے والوں کےسردار امام حسينعليه‌السلام فرماتے ہیں :

انّ التقية يصلح اﷲ بها امّة لصاحبها مثل ثواب اعمالهم فان تركها اهلك امّة تاركها شريك من اهلكهم ۔(۱)

____________________

۱ ۔ وسائل الشيعه، ج۴ ،باب ۲۷ ۔


ایسا تقيه کرنے والاجوامت کی اصلاح کا سبب بنے تواسے پوری قوم کے اچھے اعمال کا ثواب دیا جائے گا ۔ کیونکہ اس قوم کی طاقت اور قوت کو زیادہ خدمت کرنے کیلئے اس نے محفوظ کیا ۔ لیکن اگرایسے موارد میں تقیہ کو ترک کرے اور ایک امت کو خطرے میں ڈالے تو ظالموں کے جرم میں یہ بھی برابر کا شریک ہوگا۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے موارد میں تقیہ کا تر ک کرنے والا قاتلوں کے جرم میں برابر کا شریک بنتا ہے۔(۱)

وہ روایات جو وجوب تقيه پردلالت کرتی ہیں

۱ ـ راوی امام صادقعليه‌السلام سے نقل کرتا ہے کہ آپ نے اس آیہ شریفہ« اوليك يؤتون اجرهم مرّتين بما صبروا »" وہ لوگ جنہیں ان کے صبر کے بدلے دو مرتبہ ثواب دیا جائے گا " کے ذیل میں فرمایا:

____________________

۱ ۔ تقيه سپري عميقتر، ص ۸۲۔


بما صبروا علي التقية و يدرؤن بالحسنة السيّئة، قال : الحسنة التقية و السيّئة الاذاعة ۔(۱)

تقیہ پر صبر کرنے پر دوگنا ثواب دیا جائے گا اور یہ لوگ حسنات کے ذریعے اور سیئات کو دور کرتے ہیں اور حسنہ سے مراد تقیہ ہے اور سیئات سے مراد آشکار کرنا ہے ۔

۲ ۔ حسن كوفي نے ابن ابي يعفورسے اور اس نے امام صادقعليه‌السلام سے روایت کی ہے کہ امام ؑ نے فرمایا:

قال اتقوا علي دينكم احجبوه بالتقيه فانّه لا ايمان لمن لا تقية له انّما انتم في الناس كالنحل في الطير ولو انّ الطير يعلم ما في اجواف النحل ما بقي منها شيء الّا اكلته ولو ان الناس علموا ما في اجوافكم انّكم تحبونا اهل البيت عليهم‌السلام لاكلو كم بالسنتهم و لنحلوكم في السرّ والعلانية رحم الله عبدا منكم كان علي ولايتنا ۔(۲)

____________________

۱ ۔ وسائل الشيعه ، باب امر بالمعروف، ص۴۶۰ ۔

۲ ۔ وسائل الشيعه ، باب امر بالمعروف ، ص ۴۶۱۔


امامعليه‌السلام نے فرمایا: اپنے دین اور مذہب کے بارے میں هوشيار رہو اور تقیہ کے ذریعے اپنے دین اور عقیدے کو چھپاؤ ، کیونکہ جو تقیہ نہیں کرتا اس کا کوئي ایمان نہیں ۔ اور تم لوگوں کے درمیان ایسے ہو جیسے پرندوں کے درمیان شہد کی مکھی ۔ اگر پرندوں کو یہ معلوم ہو کہ شہد کی مکھی کے پیٹ میں میٹھا شہد ہے تو کبھی شہد کی مکھی کو زندہ نہیں چھوڑتے ۔اسی طرح اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ تمہارے دلوں میں ہم اہل بیت کی محبت موجود ہے ، تو زخم زبان کے ذریعے تمہیں کھا جائیں گے ۔اور تم پر مخفی اور علانیہ طور پر لعن طعن کریں گے ۔خدا ان لوگوں پر اپنی رحمت نازل کرے جو ہماری ولایت کے پیروکار ہیں ۔

۳ ۔عن ابي جعفر عليه‌السلام : يقول لاخير فيمن لا تقية له، ولقد قال يوسف عليه‌السلام : ايّتها العير انّكم لسارقون و ما اسرقوا لقد قال ابراهيم عليه‌السلام : انّي سقيم و اﷲ ما كان سقيما ۔(۱)

امام باقرعليه‌السلام نے فرمایا : جس میں تقیہ نہیں اس میں کوئی خیر نہیں ۔ بہ تحقیق حضرت یوسفعليه‌السلام

____________________

۱ ۔ وسائل الشيعه ، باب امر بالمعروف ، ص ۴۶۴۔


نے فرمایا: ايّتها العير! بیشک تم لوگ چور ہو ۔ جبکه انہوں نے کوئی چیز چوری نہیں کی تھی ۔ اور حضرت ابراہیمعليه‌السلام نے فرمایا میں بیمار ہوں۔خدا کی قسم !حالانکہ آپ بیمار نہیں تھے ۔

کیابطورتقیہ انجام دئے گئے اعمال کی قضا ہے؟

ہمارے مجتہدین سے جب سوال هوا : هل يجب الاعاده و القضاء في مقام التقيه أم تقول بالاجزاء؟ کيا تقيه کے طور پر انجام دئے گئے اعمال کا اعاده يا قضا کرناواجب هے يا نهيں ؟مجتہدین اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ علم فقہ کی دو قسم ہے :

الف: عبادات

ب: معاملات

عبادات سے مراد یہ ہے کہ ان کا انجام دینا تعبدی ہے کہ جن میں قصد قربت شرط ہے جیسے نماز ، روزہ اورحج وغیرہ۔ جب عبادت ایک زمانے سے مختص ہو جیسے نماز ظہر و عصر جو مقید ہے زوال شمس اور غروب شمس کے درمیان ادا کی جائے ، ورنه قضا ہوجائے گی۔


پس خود عبادت کی دو قسمیں ہیں: ( ادائيه و قضائيه)

اگر عبادات ناقص شرائط يا اجزاء کے سا تھ ہوں تو وقت کے اندر ان کا اعادہ اور وقت کے بعدقضاء واجب ہے ۔

اب جو فعل تقیہ کے طور پر انجام پایا ہو وہ اگر عبادت ہے تواعادہ لازم نہیں ہے کیونکہ تقیہ میں ادا اور قضاء کی بحث ہی نہیں ہے ۔

شيخ مرتضیٰ انصاري اس سؤال کے جواب میں کہ کیا اعاده يا قضاء واجب ہے ؟ فرماتے ہیں اگر شارع اقدس نے واجب موسع کےتقیہ کے طور پر انجام دینے کی اجازت دی ہے ، تویہ اجازت یا کسی خاص مورد میں ہے یا عام موارد میں ۔ بعنوان مثال شارع اقدس نے اجازت دی ہے کہ نماز یا مطلق عبادات تقیہ کے طور پر انجام دی جائیں ، وقت ختم ہونے سے پہلے تقیہ کی علل و اسباب دور ہوجائیں تو یہ سزاوار ہیں کہ وہ اجزاء جو تقیہ کی وجہ سے ساقط ہوئے تھے انجام دیے جائیں لیکن اگر شارع نے واجب موسع کو تقیہ کی حالت


میں انجام دینے کی اجازت دی ہے خواہ خصوصی ہو یا عمومی ، تو بحث اسی میں ہے کہ کیا یہ تقیہ والا حکم کو بھی شامل کرے گا یا نہیں ؟

بلكه آخر کلام یہ ہے کہ حالت تقیہ میں دیا گیا حکم مکلف سے ساقط ہو جاتا ہے ، اگرچہ وقت وسیع ہی کیوں نہ ہو۔(۱)

اس کے بعد شيخ انصاري تفصيل کے قائل ہوگئے ہیں :اگر یہ شرائط اور اجزاءکا شمول عبادات میں کسي بھي صورت ميں ضروري ہے خواہ اختیاری ہو یا اضطراری ، تو یہاں مولا کا حکم مکلف سےساقط ہو جاتا ہے کیونکہ اجزاء میں کمی بیشی تقیہ کی وجہ سے ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ معذور تھا ۔اگر چہ یہ عذر تمام وقت میں باقی رہے ۔ جیسے نماز کا اپنے وقت میں ادا کرنا ممکن نہیں مگر یہ کہ سرکہ کے ساتھ وضو کرے ۔باوجودیکہ سرکہ میں کوئی تقیہ نہیں ۔درنتیجہ نماز کا اصل حکم منتفی ہوجاتا ہے ، کیونکہ نماز کیلئے شرط

____________________

۱۔ التقيه في رحاب العلمين ، ص ۲۷۔


ہے کہ پانی کے ساتھ وضو کرے ۔

لیکن اگر یہ اجزاءاورشرائط دخالت رکھتا ہو اور مکلف کیلئے ممکن بھی ہو تو واجب ہے ورنہ نہیں ۔

اگر یہ اجزاء تمام وقت میں ادا ہوں تو ان کا حکم پہلے ہی سے ساقط نہیں ہوتا بلکہ وہ اسے جتنا ممکن ہو انجام دیں ۔

اور اگراجزاء میں عذروقت کے اندر ہو ،خواہ اس عذر کا رفع ہونے کی امید ہو یا نہ ہو ، فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ وہ آخر وقت تک انتظار کرے یا انجام دیدے ۔

لہذا جو بھی عبادات تقیہ کے طور پر ادا کی گئی ہیں وہ عبادات صحیح ہیں کیونکہ شارع نے انہیں تقیہ کی حالت میں انجام دینے کی اجازت دی ہے ۔(۱)

____________________

۱۔ التقيه في رحاب العلمين ، ص ۲۸۔


کیا خلاف تقيه کا عمل باطل ہے ؟

اگرکوئی مولا کے حکم کی مخالفت کرے اور اس کا عمل حکم شرعی کے مطابق نہ ہو تو وہ باطل ہوجاتا ہے ۔اور اگر کسی پر تقیہ کرنا واجب ہوگیا تھا لیکن اس نے تقیہ نہیں کیا تو کیا اس کا عمل بھي باطل ہوجائے گا یا نہیں ؟

شيخ انصاري فرماتے هيں : اگر تقیہ کی مخالفت کرے جہاں تقیہ کرنا واجب ہے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ بعض ترک شدہ عمل اس میں انجام پائے ۔ تو حق یہ ہے کہ خود تقیہ کا ترک کرنا عقاب کا موجب ہو گا ۔ کیونکہ مولا کے حکم کی تعمیل نہ کرنا گناہ ہے ۔

پس قاعدہ کا تقاضا یہ ہے کہ یہ فعل بھی باطل ہوگا ۔ بالفاظ دیگر ہم ادلہ کے تابع ہیں اور موارد تقیہ میں ہیں ۔ اس کے بعد شیخ ایک توہّم ایجاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ شارع اقدس نے تقیہ کی صورت میں اسی فعل کا انجام دینے کا حکم دیا ہے ۔


لیکن یہ توہّم صحیح نہیں ہے کیونکہ تقیہ کے ساتھ قید ایک بيروني قید ہے جس کا کوئی اعتبارنہیں ہے ۔اور نہ هي شرعی قید بطلان کا موجب ہے ۔(۱)

امام خميني اس عنوان «ان ترك التقية هل يفسد العمل ام لا؟» کے تحت فرماتے ہیں کہ اگر تقيه کے برخلاف عمل کریں تو صحيح ہے ، کیونکہ تقیہ کا حکم ہونا موجب نہیں بنتا کہ عمل سے بھی روکےجیسا کہ علم اصول کا مسلم قاعدہ ہے:

انّ الامر بالشيئ لا يقتضي النهي عن ضدّه ۔

امام خميني کے مطابق یہ ہے کہ چونکہ ایک عنوان سے روکا گيا هے اور دوسرے عناوین میں بطور مطلق تقیہ کے خلاف عمل کرنا صحیح ہے ۔(۲)

____________________

۱۔ التقيه في رحاب العلمين ، ص ۲۴۔

۲۔ التقيه في رحاب العلمين،ص۲۵۔


وہ موارد جہاں تقيه کرنا حرام ہے

تقیہ عموما ً دو گروہ کے درمیان مورد بحث قرار پاتا ہے اور یہ دونوں کسی نہ کسی طرح صحیح راستے سے ہٹ چکے هوتے ہیں ۔اور اپنے لئے اور دوسروں کے لئے درد سر بنے هوتے ہیں:

پہلا گروه :

وہ مؤمنین جو ترسو اور ڈرپوک ہیں اور وه لوگ کوئی معلومات نہیں رکھتے، دوسرے لفظوں میں انہیں مصلحت اندیشی والے کہتے ہیں کہ جہاں بھی اظہار حق کو ذاتی مفاد اور منافع کے خلاف دیکھتے ہیں یا حق بات کا اظہار کرنے کی جرٲت نہیں ہوتي، تو فوراً تقیہ کا سہارا لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

التقية ديني و دين آبائي لا دين لمن لاتقية له ۔

تقیہ میرا اور میرے آباء و اجداد کا دین ہے ، جو تقیہ نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں ہے ۔اس طرح دین اور مذہب کا حقیقی چہرہ مسخ کرتے ہیں ۔

دوسرا گروہ:

نادان یا دانا دشمن ہے جو اپنے مفاد کی خاطر اس قرآنی دستور یعنی تقیہ


کےمفہوم کو مسخ کرکے بطور کلی آئین اسلام یا مذہب حقہ کو بدنام کرنے کی کوشش ميں لگا رهتا ہے ۔يه لوگ تقيه کے مفہوم میں تحریف کرکے جھوٹ ،ترس،خوف ، ضعیف ، مسئولیت سے دوری اختیار کرنا، ۔۔۔کا معنی کرتے ہیں ۔ سرانجام اس کا یہ ہے کہ و ہ اپني ذمه داري کو نبھانے سے دوري اختیار کرتے ہیں ،

ان دونوں گروہ کي غلطي دور کرنے کیلئے کافی ہے کہ دو موضوع کی طرف توجہ کریں ۔

۱۔ تقيه کامفهوم

مفهوم تقيه کے بارے میں پہلے بحث کرچکے ہیں ، کہ تقیہ کامعنی خاص مذہبی عقیدہ کا چھپانا اور کتمان کرنا ہے ۔ اور وسیع تر مفہوم یہ ہے کہ ہر قسم کے عقیدے ، فکر ، نقشہ، یا پروگرام کااظهار نه کرنا ،تقیہ کہلاتا ہے ۔

۲۔ تقيه کاحكم

ہمارے فقهاء اور مجتہدین نے اسلامی مدارک اور منابع سے استفاده کرتے ہوئے تقیہ کو تین دستوں میں تقسیم کیا ہے : ۱ ـ حرام تقيه ۲ ـ واجب تقيه ۳ جائز تقيه۔


اور کبھی اسے پانچ قسموں میں تقسیم کرتے ہیں : مکروہ اور مباح کو بھی شامل کرتے ہیں ۔لہذا یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ تقیہ نہ ہر جگہ واجب ہے اور نہ ہرجگہ حرام یا مکروہ ، بلکہ بعض جگہوں پر واجب ،و مستحب اور بعض جگہوں پر حرام یا مکروہ هے۔اسي لئے اگر کسی نے حرام مورد میں تقیہ کیا تو گویا اس نے گناہ کیا ۔

كلي طورپر جب بھی تقیہ کر کے محفوظ کئے جانے والا ہدف کے علاوہ کوئی اور ہدف جو زیادہ مہمتر ہو ، خطرے میں پڑ جائے تو اس وقت تقیہ کا دائرہ توڑنا واجب ہے ، چوں کہ تقیہ کا صحیح مفہوم ؛ قانون اہم اور مہم کے شاخوں میں سے ایک شاخ ہے جب یہ دونوں ہدف آپس میں ٹکرا جائیں تو اہم کو لیتے ہیں اور مہم کو اس پر فدا کيا جاتا ہے۔

یہی اهم اور مهم کا قانون کبھی تقيه کو واجب قرار دیتا ہے اور کبھی حرام۔ روایات کي روشني میں بعض موارد ميں تقیہ کرنا حرام ہے ،اور وہ درج ذیل ہیں:


۱۔ جہاں حق خطر ے میں پڑ جائے

جہاں اپنے عقیدے کو چھپانا مفاسد کا پرچار اور کفر اور بے ایمانی یا ظلم وجور میں اضافہ اور اسلامی ستونوں میں تزلزل اور لوگوں کا گمراہی اور شعائریا احکام اسلامی کا پامال ہونے کا سبب بنے تو وہاں تقیہ کرنا حرام ہے ۔ لہذا ایسے مواقع پر اگر ہم کہیں کہ تقیہ مباح ہے تو یہ بھی بہت بڑی غلطی ہوگی ۔ اور اس قسم کا تقيه « ويران گر تقيه » کہلائے گا ۔پس وہ تقیہ مجاز یا واجب ہے جو مثبت اورمفيد ہو اور اہداف کے حصول کی راہ میں رکاوٹ کا سبب نہ بنتا ہو۔

۲۔جہاں خون خرابہ کا باعث ہو

جہاں خون ریزی ہو اور بے گناہ لوگوں کی جان مال کو خطرہ ہو تو وہاں تقیہ کرنا حرام ہے ۔ جیسا کہ اگر کوئی مجھ سے کہہ دے کہ اگر فلاں کو تم قتل نہ کرو تو میں تجھے قتل کردوں گا۔ تو اس صورت میں مجھے حق نہیں پہنچتا کہ میں اس شخص کو قتل کروں ۔ اگرچہ مجھے یقین ہوجائے کہ میری جان خطرے میں ہے ۔


ایسی صورت میں اگر کوئی کہہ دے کہ ہمارے پاس روایت ہےکہ (المأمور معذور )۔ لہذا اگر میں فلاں کو قتل کروں تو کوئی گناہ نہیں ہے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معروف جملہ «المامور معذور » سند کے لحاظ سے ضعیف ہے کیونکہ اس کی اصلی سند « شمر» تک پہنچتی ہے ۔(۱) اسے کوئی عاقل اور شعور رکھنے والا قبول نہیں کرسکتا۔کیونکہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اپنی جان بچانے کی خاطر کسی دوسرے بے گناہ کی جان لے لے ۔ اور اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ قاتل ہوگا ۔ چنانچه امام محمد باقرعليه‌السلام فرماتے ہیں :

انّما جعل التقية ليحقن بها الدم فاذا بلغ الدم فليس التقية ۔(۲)

تقيه شریعت میں اس لئے جائز قرار دیا ہے کہ قومی اور انفرادی قدرت ضائع نہ ہو ، اپنے اور دوسروں کے خون محفوظ رہیں ۔ اور اگر خون ریزی شروع ہوجائے تو تقیه جائز نہیں ہے ۔

____________________

۱۔ مكارم شيرازي؛ تقيه مبارزه عميقتر،ص ۷۱۔

۲ ۔ شيخ اعظم انصاري؛ مكاسب، ج ۲، ص ۹۸۔


۳۔ جہاں واضح دليل موجود ہو

وہ موارد جہاں واضح طور پرعقلی اور منطقی دلائل موجود ہوں،جیسے اسلام میں شراب نوشی کی ممانعت هے يهاں تقيه کرکے شراب پينے کي اجازت نهيں هے ۔اور تقیہ حرام ہے یہاں عقیدہ چھپانے کی بجائے عقلی اور منطقی دلائل سے استدلال کریں ۔اور ایسا حال پیدا کریں کہ مد مقابل کو یقین ہوجائے کہ یہ حکم قطعی ہےاور اس کا اجراء کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔لیکن کبھی بعض ڈرپوک اور بزدل لوگ جب شرابیوں کے محفلوں میں پہنچ جاتے ہیں تو وہ بجائے اعتراض کرنے کے ، ان کے ساتھ ہم پیالہ ہو جاتے ہیں ۔ یا اگر نہیں پیتے تو کہتے ہیں کہ شراب میرے مزاج کیلئے مناسب نہیں ہے ۔لیکن یہ دونوں صورتوں میں مجرم اور خطاکارہے۔یا صراحت کے ساتھ کهه ديں کہ ہم مسلمان ہیں اس لئے شراب نہیں پیتے ۔

اسی طرح اجتماعی ، معاشرتی اور سیاسی وظيفے کی انجام دہی کے موقع پر بھی دو ٹوک جواب دینا چاہئیں ۔


۴۔ جہاں احکام شریعت بہت زیادہ اہم ہو

بعض واجبات اور محرمات جو شارع اور متشرعین کے نزدیک زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ، وہاں تقیہ جائز نہیں ہے ۔جیسے اگر کوئی خانہ کعبہ کی بے حرمتی یا انہدام کرنے کی کوشش کرے یا اسی طرح اور دینی مراکز جیسے مسجد ، آئمہ کی قبور کی بے حرمتی کرے تو وہاں خاموش رہنا جرم ہے ، اسی طرح گناہان کبیرہ کے ارتکاب پر مجبور کرے تو بھی انکار کرنا چاہئے ۔ایسے موارد میں تقیہ ہرگز جائز نہیں ہے۔


چھٹی فصل

تقیہ کے بارے میں شبہات اور ان کا مدلّل جواب


چھٹی فصل:

تقيه کے بارے میں شبہات اور ان کا مدلّل جواب

آئمہ طاہرین کے زمانے میں دوسرے مکاتب فکر کے لوگوں کی طرف سے شیعوں پر مختلف قسم کے شکوک و شبہات پیدا کرنے لگے؛ ان میں سے ایک تقیہ ہے ۔


سب سے پہلا اشکال اور شبہہ پیدا کرنے والا سلیمان بن جریر ابدی ہے جو فرقہ جریرہ کا رہبر ہے ۔ وہ امام صادقعليه‌السلام کا ہم عصر ہے ۔اس کا کہنا ہے کہ شیعوں کے امام جب کسی خطا کے مرتکب ہوتے تھے تو تقیہ کو راہ فرار کے طور پر بیان کرتے تھے ۔ اور کہتے تھے کہ یہ تقیہ کے طور پر انجام دیا گیا ہے ۔(۱)

یہی اشکال، اس کے بعد مختلف کلامی اور تفسیری کتابوں میں اہل سنت کی جانب سے کرنے لگے ۔ بعد میں شیعہ بڑے عالم دین سيد شريف مرتضي معروف به علم الهدي ( ۳۵۵ ـ ۴۳۶) ق نے ان شبہات اور اشکالات کا جواب دیا ہے۔(۲)

____________________

۱ ۔ نوبختي، فرق الشيعه ، ص۸۵۔

۲ ۔ شيخ انصاري، رسائل ، ج۱،ص ۲۹۰، ۳۱۰۔


فخر رازي( ۵۴۴ ـ ۶۰۶ ه ) صاحب تفسير كبيرنے « مفاتيح الغيب»میں سليمان ابن جرير کے تقیہ کے بارے میں اس شبہہ کوتكرار کیا ہے، جس کا جواب خواجه نصير الدين طوسي ( ۵۷۹ ـ ۶۵۲ ق) نےدیا ہے ۔(۱)

سب سے زیادہ شبهات گذشتہ دور میں تقي الدين احمد معروف ابن تيميه ( ۶۶۱ ـ ۷۲۸ ق) کی کتاب منهاج السنّه ، میں دیکھنے میں آتا ہے جو مجموعاً پانچ اشکالات پر مشتمل ہے ۔(۲)

____________________

۱۔ المحصل ، ص ۱۸۲۔

۲ ۔ ابن تيميه ؛ منهاج السنّه النبويه، ج ۱،ص۱۵۹۔


ابن تیمیہ کے اشکالات کی تفصیل

ابن تیمیہ کے وہ شبهات (جوتقیہ سے مربوط ہیں) کو تین حصوں میں تقسيم كرسکتے ہیں :

۱. اصل تشریع تقیہ سے مربوط شبہات

۲. امام معصوم سے مربوط شبہات

۳. شیعوں سے مربوط شبہات

الف:تشريع تقيه سے مربوط شبهات اور ان کا جواب

o تقيه یعنی جھوٹ۔

o تقيه یعنی منافقت۔

o تقيہ امر به معروف و نهي ازمنكرکی ضد۔


o تقيه جهادکی ضد۔

o تقيه اورآيات تبليغ کے درمیان تعارض۔

o تقيه یعنی ظلم۔

۱۔تقيه یعنی جھوٹ :

ابن تیمیہ اس شبہہ کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تقیہ ایک قسم کا جھوٹ ہے اور جھوٹ بولنا ایک قبیح اور بری چیز ہے اور خدا تعالی نے بری چیز کو حرام قرار دیا ہے ، پس تقیہ بھی خدا کے نزدیک قبیح اور بری چیز ہے ۔اور جائز نہیں ہے ۔اس اشکال کیلئے دو جواب دئے جاتے ہیں:

پہلا جواب: اگر تقیہ جھوٹ ہے تو الله تعالي نے قرآن مجید میں کئی جگہوں پر کیوں تقیہ کرنے والوں کی مدح سرائی کی ہے ؟!:جیسے آلعمران کي آيه نمبر ۲۸ میں فرمایا :( الّا ان تتقوا منهم، )

اورسوره نحل کي آيه ۱۰۶ میں فرمایا :


( الا من اكره و قلبه مطمئن بالايمان ) ۔

اللہ تعالی نے صرف تقیہ کرنے کو جائز قرار نہیں دیا بلکہ مجبوری کے وقت تقیہ کرنے کا باقاعدہ حکم دیا ہے اور تقيه کرنے کا شوق دلايا ہے ۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ کیا جب کافروں کی طرف سے مجبور کیا جائے اور تقیہ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہ ہو تو وہاں کیا جھوٹ بولنا صحیح نہیں ہے ؟ کیونکہ ہر جگہ جھوٹ بولنا برا نہیں ہے ۔ جیسے اگر کسی دو مسلمان بھائیوں کے درمیان الفت اور محبت پیدا کرنے اور خون و خرابہ سے بچنے کیلئے جھوٹ بولنا جائز ہے ، کیونکہ اگر سچ بولیں تو جھگڑا فساد بڑھ سکتاہے ۔

اس کا جواب یہ ہے کہ : یہ اشکال دومقدمے (صغری اور کبری) سے تشکیل پاتا ہے ۔ صغری میں کہا ہےکہ تقیہ ایک قسم کا جھوٹ ہے ۔ یہ صغری ہر مصداق اور مورد میں صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ تقیہ اخفائی یعنی واقعیت کے بیان کرنے سے سکوت اختیار کرنے کو کوئی جھوٹ نہیں کہتا ۔ بلکہ یہ صرف تقیہ اظہاری میں صدق آسکتا ہے ۔ وہ بھی توریہ نہ کرنے کی صورت میں ۔


پس تقیہ کے کچھ خاص موارد ہیں جہاں تقیہ کا مصداق کذب اور جھوٹ ہے۔

لیکن کبری ٰ یعنی جھوٹ بولنا قبیح اور برا ہے ؛ یہاں کہیں گے کہ جھوٹ ہر جگہ برا نہیں ہے ۔کیونکہ مختلف عناوین کو حسن و قبح کی کسوٹی پر ناپا جاتا ہے تو ممکن ہے درج ذیل تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت پائی جائے :

۱. یا وہ عنوان حسن و قبح کیلئے علت تامہ ہے ۔جیسے حسن عدالت اور قبح ظلم۔انہیں حسن و قبح ذاتی کہا جاتا ہے ۔

۲. یا وہ عنوان جو خود بخود حسن و قبح کا تقاضا کرتا ہو ، بشرطیکہ کوئی اور عنوان جو اس تقاضے کو تبدیل نہ کرے ،اس پر صدق نہ آئے ۔جیسے کسی یتیم پر مارنا خود بخود قبیح ہے لیکن اگر ادب سکھانے کا عنوان اس پر صدق آجائے تو یہ قباحت کي حالت سے نکل آتا ہے ۔ایسے حسن و قبح کو عرضی کہتے ہیں۔

۳. یا وہ عنوان جو حسن و قبح کے لحاظ سے متساوي الطرفين ہو ۔اور حسن و قبح سے متصف ہونے کیلئے مختلف شرائط کی ضرورت ہو ۔ جیسے کسی پر مارنا


اگر ادب سکھانے کیلئے ہو تو حسن ہے اور اگر اپنا غم و غصہ اتارنے کیلئے مارے تو قبیح ہےليکن اگر کسی بےجان چیز پر مارے تو نہ حسن ہے اور نہ قبیح ہے ۔

اور یہاں ہم اس وقت جھوٹ بولنے کو قبیح مانیں گے کہ پہلا عنوان اس پر صدق آتا ہو جب کہ ایسا نہیں ہے ۔اور عقلاءنے بھی اسے دوسری قسم میں شمار کیا ہے۔ کہ جب بھی کوئی زیادہ مہمتر مصلحت کے ساتھ تزاحم ہو تو اس کی قباحت دور ہوجاتی ہے ، جیسے : ایک گروہ کا خون خرابہ ہونے سے بچانے کیلئے جھوٹ بولنے کو ہر عاقل شخص جائز سمجھتا ہے۔

اسی لئے ہم دیکھتے ہیں كه قرآن او ر پیغمبر اسلام (ص) نے عماربن یاسر کے تقیہ کرتے ہوئے جھوٹ بولنے اور کفار کے شر سے اپنی جان بچانے کومورد تائید قرار دیا ہے ۔


شيخ طوسی  کا جواب

تقيه جھوٹ نہیں ہے کیونکہ ،الكذب ضد الصدق و هو الاخبار عن الشيء لا علي ما هو به ۔(۱) جھوٹ سچائی کی ضد ہے اور جھوٹ سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کی خبر دے، جس کي کوئي حقيقت نہ ہو۔

پس جھوٹ کے دو رکن ہیں:

الف: کسی واقعے کے بارے میں خبر دینا ۔

ب: اس خبر کا واقعیت کے مطابق نہ ہونا۔

جبکہ تقیہ کے تین رکن ہیں :

الف:حق بات کا چھپانا۔

ب: مخالفین کے ساتھ موافقت کا اظہار کرنا ۔

____________________

۱ ۔ محمود، يزدي؛ انديشه كلامي شيخ طوسي، ص ۲۷۹۔


ج: اور یہ دونوں رکن اس لئے ہوں کہ دشمن کے شر سے اپنی جان یا مال کی حفاظت کرے۔

لہذا پہلی بات تو یہ ہے کہ جھوٹ اخباری ہے اور تقیہ دشمن کو برحق ظاہر کرنا ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ جھوٹ میں یہ ضروری نہیں ہے کہ جو بات دل میں چھپا رکھی ہے وہ بھی حق ہو، جبکہ تقیہ میں یہ شرط ہے کہ جو بات دل میں چھپا رکھی ہے وہ بھی حق ہو ۔

۲۔تقيه يعني منافقت!

ممكن ہے کوئی یہ دعوا كرے کہ جو مکر اورفریب منافق لوگ کرتے ہیں ، تقیہ بھی اسی کی ایک قسم ہے۔ کیونکہ منافق دوسروں کو دھوکہ دینے کیلئے زبان پر ایسی چیزکا اظہار کرتے ہیں جس کے برخلاف دل میں چھپا رکھی ہو ۔


شيخ طوسي اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتےہیں کہ مخادع اس شخص کو کہا جاتا ہے جو دل میں موجود بات کے برخلاف زبان پر اظہار کرے تاکہ جس چیز سے وہ ڈرتا ہے اس سے وہ محفوظ رہے ۔اسی لئے منافق کو مخادع کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ زبان کے ذریعے اسلام کاکلمہ پڑھ کر کفر کی مہر لگنے سے فرار کرکے اپنی جان بچاتا ہے ۔ اگر چہ منافق ،مؤمن کو ظاہراً زبان کے ذریعے دھوکہ دیتا ہے ، لیکن حقیقت میں وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہوتا ہے ۔

یہ درست ہے کہ تقیہ میں بھی باطن کے خلاف بات کا اظہار ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی جان بچاتا ہے ؛ لیکن یہ دونوں ( تقیہ اور نفاق) اصولاًباہم مختلف اور متفاوت ہے۔اور دونوں قابل جمع بھی نہیں۔

امام صادقعليه‌السلام اس مختصر حدیث میں مؤمن ہونے کا دعوا کرنے اور ایسے موارد میں تقیہ کا دامن پکڑنے والوں کو شدید طور پر ڈراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

و ايّم اﷲ لو دعيتم لتنصرونا لقلتم لا نفعل انّما نتقي و لكانت التقيه احبّ اليكم من آبائكم و اّهاتكم ، ولو قد قام القائم ما


احتاج الي مسائلكم عن ذالك و لا قام في كثير منكم حدّ النفاق ۔(۱)

خدا کی قسم ! اگر تمہیں ہماری مدد کیلئے بلائے جائیں تو کہہ دینگے ہر گز انجام نہیں دیں گے،کيونکه ہم تقیہ کی حالت میں ہیں ۔تمہارے والدین کا تقیہ کرنا تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ، اور جب ہمارا قائم قیام کرے گا اور ہماری حکومت تشکیل دے گی، تو خدا کی قسم بغیر سوال کئے ، منافقین کو سزا دینا شروع کریگا جنہوں نے تمہارا حق مارا ہے ۔

یہ حدیث بتا تی ہے کہ امام  اپنے بعض نادان دوستوں کے بے موقع تقیہ کرنے کی وجہ سے غم و غصه کا اظہار فرما تے ہوئے نفاق اور تقیہ کے درمیان حد فاصل کو واضح فرمارہے ہیں ۔

اپنے مقدس اہداف کی ترقی کی خاطر پرده پوشي کرنے اور چھپانے کا نام تقیہ ہے اور جائز ہے ۔اجتماعی اور الہی اہداف کی حفاظت کی خاطر اپنا ذاتی اہداف کو فدا کرنے کا نام

____________________

۱ ۔ وسائل الشيعه، ج ۲ ، باب ۲۵۔


تقیہ ہے ۔اس کے برخلاف اگر کوئی اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اجتماعی اور قومی مفاد کو قربان کرے تو وه منافق کهلائے گا۔

ایک اور حدیث میں امامعليه‌السلام سے منقول ہے :جب بھی انسان ایمان کا اظہار کرے ،لیکن بعد میں عملی میدان ميں اس کے برخلاف عمل کرے تو وہ مؤمن کی صفات سے خارج ہے ۔ اور اگراظہار خلاف ایسے موارد میں کیا جائے جہاں تقیہ جائز نہیں ہے تو اس کا عذر قابل قبول نہیں ہے:

لانّ للتقيه مواضع من ازالها عن مواضعها لم تستقم له(۱)

کیونکہ تقیہ کی بھی کچھ حدود ہیں جو بھی اس سے باہر قدم رکھے گاتو وہ معذور نہیں ہوگا ۔اور حدیث کے آخر میں فرمایا : تقیہ وہاں جایز ہے جہاں دین اور ایمان میں کوئی خرابی پیدا نہ ہو ۔

«كميت» شاعر كه جو مجاہدوں کی صف میں شمار ہوتا ہے کہ اپنے ذوق شاعری

____________________

۱ ۔ وسائل الشيعه ,ج ۶ ، باب ۲۵۔


سے استفادہ کرتے ہوئے بنی عباس کے دور خلافت ميں اس طاغوتی نظام کے خلاف قیام کیا اور مكتب اهل بيتعليهم‌السلام کی حمایت کی ۔ ایک دن امام موسي ابن جعفر  کی خدمت میں پہنچا ، دیکھا کہ امام  کا چہرہ بگڑا ہواهے ۔ جب وجہ پوچھي توشدید اور اعتراض آميز لہجے میں فرمایا :کیا تونے بنی امیہ کے بارے میں یہ شعرپڑھا ہے ؟!

فـالان صرت ا لي امة و الامم لها الي مصائر

ابھي تو ميں خاندان بني اميه کي طرف متوجه هوا هوں اور ان کا کام ميري طرف متوجه هورها هے ۔

كميت کہتا ہے کہ میں نے عرض کی: مولا !اس شعر کو میں نے پڑھا ہے لیکن خدا کی قسم میں اپنے ایمان پر باقی ہوں اور خاندان اہل بیتعليهم‌السلام سے محبت رکھتا ہوں اور آپ کے دوستداروں سے بھی محبت رکھتا ہوں اور اسی لئےآپ کے دشمنوں سے بیزار ہوں؛ لیکن اسے میں نے تقیۃً پڑھا ہے ۔

امام  نے فرمایا:اگر ایسا ہو تو تقیہ ہر خلاف کاروں کیلئے قانونی اور شرعی مجوز بنے گا ۔اور شراب خوری بھی تقیہ کے تحت جائز ہوجائے گی۔اور بنی عباس کی حکومت کا دفاع کرنا بھی جائز ہوجائے گا۔ اس قسم کے تقیہ سے تملّق ،چاپلوسي اور ظالموں کی ثنا خوانی کا


بازار گرم اور پر رونق ہوجائے گا۔اور نفاق ومنافقت بھی رائج ہوجائے گی۔(۱)

۳۔تقيه، جهادکے متنافی

اشکال يه ہے :

اگر تقیہ کے قائل ہوجائیں تو اسلام میں جہاد کا نظریہ ختم ہونا چاہئے ۔ جبکہ اس جہاد کی خاطر مسلمانوں کی جان و مال ضائع ہوجاتی ہیں ۔(۲)

جواب:

اسلامي احكام جب بھی جانی یا مالی ضرر اور نقصان سے دوچار اور روبرو ہوجاتا ہے تو دو قسم میں تقسیم ہوجاتا ہے :

۱. وہ احکامات جن کا اجراء کرنا کسی جانی ضرر یا نقصان سے دوچار نہیں ہوتا ، جیسے نماز کا واجب ہونا ، جس میں نہ مالی ضرر ہے اور نہ جانی ضرر ۔

____________________

۱ ۔ مكارم شيرازي؛ تقيه سپري عميقتر، ص ۷۰۔

۲۔ قفاري ؛ اصول مذهب الشيعه، ج۲، ص ۸۰۷۔


۲. وہ احکامات جن کا اجرا کرنا ، جانی یا مالی طورپر ضرر یا نقصان برداشت کرنےکاسبب بنتا ہے ۔جیسے زکوۃ اور خمس کا ادا کرنا ، راہ خدا میں جہاد کرنا وغیرہ ۔

تقیہ کا حکم صرف پہلی قسم سے مربوط ہے ۔ کہ بعض موارد میں ان احکام کو بطور حکم ثانوی اٹھایا جاتا ہے ۔لیکن دوسری قسم سے تقیہ کا کوئی رابطہ نہیں ہے ۔اور جہاد کا حکم بھی دوسری قسم میں سے ہے ، جب بھی شرائط محقق ہوجائے تو جہاد بھی واجب ہوجاتا ہے ۔اگرچہ بہت زیادہ جانی یامالی نقصان بھی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔

۴۔تقيه اور آيات تبليغ کے درمیان تعارض

آلوسی کہتا ہے کہ تقیہ ان دو آیات کے ساتھ تعارض پیدا کرتا ہے کہ جن میں پیغمبر


اکرم ؐکو تبلیغ کا حکم دیا گیا ہے ۔(۱)

۱ ۔( يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّه لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ) ۔(۲)

اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کو ہدایت نہیں کرتا ہے۔

اس آيه مباركه میں اپنے حبیب کو تبلیغ کا حکم دے رہا ہے اگر چہ خوف اور ڈر ہی کیوں نہ ہو۔

۲ ۔( الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللهَ وَكَفَى بِاللهِ حَسِيبًا ) ۔(۳)

وہ لوگ ا للہ کے پیغام کو پہنچاتے ہیں اور دل میں اس کا خوف رکھتے ہیں اور اس

____________________

۱۔ ابوالفضل آلوسي؛ روح المعاني،ج ۳، ص ۱۲۵۔

۲ ۔ مائدہ۶۷۔

۳ ۔ احزاب ۳۹۔


کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ،اوراللہ حساب کرنے کے لئے کافی ہے۔

اس آیہ شریفہ میں خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرنا ایک بہترین صفت قرار دیتے ہوئے سراہا گیا ہے ۔

اسی طرح اللہ تعالی کے احکامات کو چھپانے کی مذمت میں بھی آیات نازل ہوئی ہیں ، جیسا کہ فرمایا:

( إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللهُ مِنَ الْكِتَابِ وَ يَشْترَونَ بِهِ ثمَنًا قَلِيلاً أُوْلَئكَ مَا يَأْكلُونَ فىِ بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَمَةِ وَ لَا يُزَكِّيهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ) ۔(۱)

جو لوگ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب کے احکام کو چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں وہ درحقیقت اپنے پیٹ میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور خدا روز قیامت ان سے بات بھی نہ کرے گااور نہ انہیں پاکیزہ قرار دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے ۔

____________________

۱۔ بقرہ ۱۷۴۔


اس اشکال کیلئے یوں جواب دے سکتے ہیں ؛ تبلیغ کبھی اصول دین سے مربوط ہے اور کبھی فروع دین سے ۔ اور جب بھی تبلیغ اصول دین سے مربوط ہو اور تبلیغ نہ کرنا باعث بنے کہ لوگ دین سے آشنائی پیدا نہ کرے اور لوگوں کی دین سے آشنائی اسی تبلیغ پر منحصر ہو تو یہاں تقیہ حرام ہے اور دائرہ تقیہ کو توڑ کر تبلیغ میں مصروف ہونا چاہئے ، اگرچہ تقیہ ضرر جانی یا مالی کا سبب کیوں نہ بنے ؛ کیونکہ آیات مذکورہ اور داخلی اور خارجی قرینے سے پتہ چلتا ہے کہ تقیہ اسی نوع میں سے ہے ۔ یہاں تقیہ بے مورد ہے ۔

لیکن اگر تبلیغ فروع دین سے مربوط ہو تو یہاں تبلیغ اور جانی ومالی نقصانات کا مقائسہ کرے گا کہ کس میں زیادہ مصلحت پائی جاتی ہے ؟ اور کون سا زیادہ مہم ہے ؟اگر جان یا مال بچانا تبلیغ سے زیادہ مہم ہو تو وہاں تقیہ کرتے ہوئے تبلیغ کو ترک کرنا واجب ہے ۔ مثال کے طور پر ایک کم اہمیت والا فقہی فتويٰ دے کر کسی فقیہ یا عالم دین کی جان پچانا۔


۵۔تقيه اور ذ لّت مؤمن

اشکال :وهابي لوگ کہتے ہیں کہ تقیہ مؤمن کی ذلت کا باعث ہے ۔ خداتعالی نے ہر اس چیز کو جو باعث ذلت ہو ،اسے شریعت میں حرام قرار دیا ہے ۔ اور تقیہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔(۱)

جواب:اس جملے کاصغریٰ مورد اشکال ہے کیونکہ یہ بات قابل قبول نہیں اگر تقیہ کو اپنے صحیح اور جائز موارد میں بروئے کار لایا جائے تو ذلت کا باعث نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ دشمن کے سامنے ایک اہم مصلحت کی خاطر حق کی بات کرنے سے سکوت اختیار کرنا یا حق کے خلاف اظہار کرنا نہ ذلت کا سبب ہے اور نہ مذمت کاباعث ۔

چنانچه عمار ابن ياسر نے ایسا کیا تو قرآن کریم نے بھي ان کی مدح سرائي کی ۔

____________________

۱ ۔موسي موسوي؛ الشيعه و التصحيح ، ص ۶۷۔


۶۔تقيه ،ما نع امر به معروف

اشکال یہ ہے کہ تقیہ انسان کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے سے روکتی ہے ۔ کبھی جان کا خوف دلا کر تو کبھی مال یا مقام کا ۔جب کہ یہ دونوں (امر اور نہی ) واجبات اسلام میں سے ہیں ۔جس کی تائید میں فرمایا :افضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر ۔ ظالم و جابر حکمران کے سامنے حق بات کا اظہار کرنا بہترین جہاد ہے ۔

اس کا جواب کئی طرح سے دیا جاسکتا ہے :

۱ ـ امر به معروف و نهي از منكر مطلقًا جائز نہیں ۔ بلكه اس کیلئے بھی کچھ شرائط و معيارہے كه اگر یہ شرائط اور معيار موجود ہوں تو واجب ہے ۔۔ورنه اس کا واجب ہونا ساقط ہوجائے گا ۔

من جمله شرائط امر به معروف و نهي از منكر میں سے یہ ہیں :انکار کرنے میں کوئی ایسا مفسدہ موجود نہ ہو جو اس سے بھی کسی بڑے جرم ،جیسے قتل و غارت


میں مبتلا ہو جائے ۔ ایسی صورت میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ امر بہ معروف و نہی از منکر کرنا جائز نہیں ہے ۔

۲ ـ وہ روایات جو ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کا اظہار کرنے کو ممدوح قرار دیتی ہیں ، وہ خبر واحد ہیں جو ادلہ عقلی کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتیں ۔ یعنی تعارض کے موقع پر دلیل عقلی مقدم ہو گی ،اس سے دفع ضرر اور حفظ جان مراد ہے ۔(۱)

ب:امام معصومعليهم‌السلام کاتقيه سے مربوط شبهات

o تقيه بيان شريعت امامؑ کي ضد ہے۔

o تقيه روايات «سلوني قبل ان تفقدوني » سے تضاد رکھتا ہے ۔

____________________

۱ ۔ دكتر محمود يزدي؛ انديشه هاي كلامي شيخ طوسي، ص ۲۸۹۔


o تقيه كلام امام ؑ پر عدم اعتمادکاموجب ـ

o تقيه یعنی تحليل حرام و تحريم حلال۔

o تقيه شجاعت کی ضد۔

o جہاں سکوت کرنا ممکن ہو وہاں تقیہ کی کیا ضرورت؟

o تقيه کے علاوه اور بھي راستے هيں ۔

o کیا تقيه ايك اختصاصي حكم ہے يا عمومي؟

o تقيه کیا خلاف عصمت نہیں؟

o تقیہ کیا علم امامؑ سے منافات نہیں رکھتا ؟۔

o تقيه کرنے کي صورت میں کیا دین کا دفاع ممکن ہے ؟

o کیوں ایک گروه نے تقيه كیا اور دوسرےگروه نے نہیں کیا ؟

اشکال کرنے والا اس مرحلے میں تقیہ کے شرعی جواز کو فی الجملہ قبول کرتا ہے ، کہ بعض موارد میں مؤمنین کیلئے تقیہ کرنا جائز ہے ۔ لیکن دینی رہنماؤں جیسے امام


معصومعليهم‌السلام کیلئے تقیہ کرنا جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر دین کے رہنما تقیہ کریں تو درج ذیل اشکالات وارد ہوسکتے ہیں :

۱۔تقيه اور امامعليه‌السلام کا بیان شريعت

شیعہ عقیدے کے مطابق امام معصومعليهم‌السلام کے وجود مبارک کوشریعت اسلام کے بیان کیلئے خلق کیا گیا ہے ۔ لیکن اگر یہ حضرات تقیہ کرنے لگیں تو بہت سارے احکام رہ جائيں گےاور مسلمانوں تک نہیں پہنچ پائيں گے۔ اور ان کي بعثت کا فلسفہ بھي ناقص ہو گا۔

اسی سلسلے میں اہل سنت کے ایک عالم نے اشکال کیا ہے کہ اللہ تعالی ٰ نے عليعليه‌السلام کو اظهار حق کی خاطر منصوب کیا ہے تو تقیہ کيا معني رکھتا ہے ؟!

اس شبہہ کا جواب یہ ہے كه معصومینعليهم‌السلام نے بہترین انداز میں اپنے وظیفے پر


عمل کیا ہے لیکن ہمارے مسلمان بھائیوں نے ان کے فرامين کو قبول نہیں کیا ۔

چنانچه حضرت عليعليه‌السلام کے بارے میں منقول ہے آپ ۲۵ سال خانہ نشین ہوئے تو قرآن مجید کی جمع آوری ، آیات کی شأن نزول ، معارف اسلامی کی توضیح اور تشریح کرنے میں مصروف ہوگئے ۔ اور ان مطالب کو اونٹوں پر لاد کر مسجد میں مسلمانوں کے درمیان لے گئے تاکہ ان معارف سے لوگ استفادہ کریں ؛ لیکن خلیفہ وقت نے اسے قبول کرنے سے انکارکردیا ۔(۱)

جب امام نے يه حالت ديکھي تو خاص شاگردوں کي تربيت اور ان کو اسلامي احکامات اور دوسرے معارف کوتعليم ديتے هوئے اپنا شرعي وظيفه انجام دينے لگے ؛ ليکن يه هماري کوتاهي تھي که هم نے ان کے فرامين کو پس پشت ڈالا اور اس پر عمل نهيں کيا ۔

____________________

۱ ۔ محمد باقر حجتي؛ تاريخ قرآن كريم، ص ۳۸۷۔


الف:امامعليه‌السلام کاتقيه اور اقوال

شيخ طوسي امام کیلئے تقیہ کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اس میں دو قول ہیں:

۱. معتزلہ والے کہتے ہیں کہ امام کیلئے تقیہ کرنا جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ امام ؑ کا قول ، پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قول کی طرح حجت ہے ۔

۲. اماميه والے کہتے ہیں کہ اگر تقیہ کے واجب ہونے کے اسباب نہ ہوں،کوئی اور مانع بھي موجود نہ ہو تو امام تقیہ کرسکتے ہیں ۔

شيخ طوسي کے ان بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام تقیہ کرسکتے ہیں بشرطیکہ شرائط موجود ہوں۔

ب:امامعليه‌السلام کیلئے تقیہ جائز ہونے کے شرائط

 شرعی وظیفوں پر عمل پيرا هونا اور احکام کی معرفت حاصل کرنا اگر فقط امام ؑ پر منحصر نہ ہو جیسے امام ؑ کا منصوص ہونا فقط امام ؑ کے قول پر منحصر نہیں ہے بلکہ قول پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور عقل سلیم کے ذریعے سے بھی مکلف


جان سکتا ہے تو ايسي صورت ميں امام ؑ تقیہ کرسکتے ہیں ۔

 اس صورت میں امام ؑ تقیہ کرسکتے ہیں کہ آپ کا تقیہ کرنا حق تک پہنچنے میں رکاوٹ نه بنے ۔ اورساتھ ہی شرائط بھی پوری ہوں۔

 جن موارد میں امام ؑ تقیہ کررہے ہیں وہاں ہمارے پاس واضح دلیل موجود ہوکہ معلوم ہوجائے کہ امام ؑ حالت تقیہ میں حکم دے رہے ہیں ۔

اس بنا پر اگر احکام کی معرفت امام ؑ میں منحصر نہ ہو ، یا امام ؑ کا تقیہ کرنا حق تک جانے میں رکاوٹ نہ ہو اور کوئی ایسی ٹھوس دلیل بھی نہ ہو جو امام ؑ کے تقیہ کرنے کو جائز نہیں سمجھتے ہو ں اور ساتھ ہی اگر معلوم ہو کہ امام ؑ حالت تقیہ میں ہیں تو کوئی حرج نہیں امام ؑ تقیہ کرسکتے ہیں ۔(۱)

____________________

۱ ۔ محمود يزدي؛ انديشه هاي كلامي شيخ طوسي، ص۳۳۳۔


۲۔ تقيه، فرمان امامعليه‌السلام پر عدم اعتماد کاباعث

شیعہ مخالف لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے ائمہ معصومینعليهم‌السلام وسیع پیمانے پر تقیہ کرنے لگیں تو یہ احتمال ساری روایات جو ان حضرات سے ہم تک پہنچی ہیں ،میں پائی جاتی ہے کہ ہر روایت تقیہ کرکے بیان کی ہوں ۔اس صورت میں کسی ایک روایت پر بھی ہم عمل نہیں کرسکتے ۔کيونکه کوئي بھی روایت قابل اعتماد نہیں هوسکتي۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ہمارے آئمہ معصومینعليهم‌السلام کا تقیہ کرنا کسی قواعد و ضوابط کےبغیر ہو تو یہ اشکال وارد ہے ۔ لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ تقیہ کرنے کیلئے خواہ وہ تقیہ کرنے والا امام ہو یا عوام یا خواص ہو ، خاص شرائط ہیں اگر وہ شرائط نہ ہوں تو تقیہ کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے ۔اور جب اماموں کے تقیہ کے علل و اسباب ان کو معلوم ہوجائیں تو یہ اشکال بھی باقی نہیں رہے گا ۔


۳۔تقيه اور علم امام

علم امامعليه‌السلام کے بارے میں شيعه متكلمين کےدرمیان دو نظریے پائے جاتے ہیں :اور یہ اختلاف بھی روایات میں اختلاف ہونے کی وجہ سے پیدا ہوگیا ہے ۔

پہلا نظریہ :

قدیم شيعه متكلمين جیسے ، سيد مرتضي وغیرہ معتقد ہیں کہ امام ؑتمام احکامات اور معارف اسلامی کا علم رکھتےہیں ۔ لیکن مختلف حادثات اور بعض واقعات جیسے اپنی رحلت کب ہوگی؟ یا دوسروں کی موت کب واقع ہوگی ؟و۔۔۔بصورت موجبہ جزئیہ ہے نه موجبہ کلیہ ۔

دوسرا نظریہ :

علم امامعليه‌السلام دونوں صورتوں میں یعنی تمام احکامات دین اور اتفاقی حادثات کے بارے میں بصورت موجبہ کلیہ علم رکھتے ہیں ۔(۱)

____________________

۱ ۔ كليني ؛ اصول كافي، ج۱ ، ص ۳۷۶۔


بهر حال دونوں نظریہ کا اس بات پر اتفاق هے كه علم امامعليه‌السلام احكام اور معارف اسلامي کے بارے میں بصورت موجبه ہے ۔ وہ شبہات جو تقیہ اور علم امام سے مربوط ہے وہ بعض کے نزدیک دونوں مبنی میں ممکن ہے ۔ اور بعض کے نزدیک صرف دوسرے مبنی میں ممکن ہے ۔

پهلا اشکال:

تقيه اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آئمہعليهم‌السلام تمام فقهي احكام اور اسلامي معارف کا علم نہیں رکھتے ہیں اور اس کی توجیہ کرنےاور روایات میں موجود اختلاف کو ختم کرنے کیلئے تقیہ کا سہارا لیتے ہیں۔

اس اشکال کو سليمان ابن جرير زيدي نے مطرح کیا ہے ،جوعصر آئمہعليهم‌السلام میں زندگی گزارتا تھا ۔وہ کہتا ہے کہ رافضیوں کے امام نے اپنے پیروکاروں کیلئے دو عقیدےبیان کئے ہیں۔ جن کی موجودگی میں کوئی بھی مخالف ان کے ساتھ بحث و مباحثہ میں نہیں جیت سکتا۔


پہلا عقیدہ بداء ہے ۔

دوسرا عقیدہ تقيه ہے۔

شيعہ اپنے اماموں سے مختلف مواقع پر سوال کرتے تھے اور وہ جواب دیاکرتے تھے اور شیعہ ان روایات اور احادیث کو یاد رکھتے اور لکھتے تھے ،لیکن ان کے امام ، چونکہ کئی کئی مہینے یا سال گزرجاتے اور ان سے مسئلہ پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا ؛ جس کی وجہ سے وہ پہلے دئے ہوئے جوابات بھی بھول جاتے تھے ۔ کیونکہ اپنے دئے گئے جوابات کو یاد نہیں رکھتے تھے اس لئے ایک ہی سوال کے مختلف اور متضاد جوابات دئے جاتے تھے ۔اورشیعه جب اپنے اماموں پر ان اختلافات کے بارے میں اشکال کرتےتھے تو توجیہ کرتے ہوئے کہتے تھے کہ ہمارے جوابات تقیۃً بیان ہوئے ہیں ۔اور ہم جو چاہیں اور جب چاہیں جواب دے سکتے ہیں کیونکہ یہ ہمارا حق ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ کیا چیز تمہارے مفاد میں ہے اور تمہاری بقا اور سالمیت کس چیز میں ہے ۔اور تمہارے دشمن کب تم سے دست بردار ہونگے ۔


سليمان آگے بیان کرتا ہے : پس جب ایسا عقیدہ ایجاد ہوجائے تو کوئی بھی ان کے اماموں پر جھوٹے ہونے کا الزام نہیں لگا سکتا ۔ اور کبھی بھی ان کے حق اور باطل میں شناخت نہیں کرسکتا۔ اور انہی تناقض گوئی کی وجہ سے بعض شیعیان ابو جعفر امام باقرعليه‌السلام کی امامت کا انکار کرنے لگے ۔(۱)

پس معلوم ہوا کہ دونوں مبنی کے مطابق شیعوں کے اماموں کے علم پر یہ اشکال وارد ہے ۔

جواب :

اماميه کا یہ عقیدہ ہے کہ ان کے امامان معصوم تمام احكام اور معارف الهي کے بارے میں کلی علم رکھتےہیں اس بات پر واضح دلائل بھی بیان کی گئی ہیں لیکن ممکن ہے وہ دلائل برادران اہل سنت کیلئے قابل قبول نہ ہوں۔

____________________

۱۔ نوبختي؛ فرق الشيعه


چنانچه شيخ طوسي نے اپنی روایت کی كتاب تهذيب الاحكام کو انہی اختلافات کی وضاحت اور جواب کے طور پر لکھی ہے ۔

علامه شعراني اور علامه قزويني یہ دو شيعه دانشمندکا بھی یہی عقیدہ ہے کہ شیعوں کے امام تقیہ نہیں کرتے تھے بلکہ تقیہ کرنے کا اپنے ماننے والوں کو حکم دیتے تھے ۔

علامه شعراني کہتے ہیں : آئمہ تقيه نہیں کرتے تھے بلکہ صرف امر به معروف کیا کرتے تھے کیونکہ امامان تمام واقعیات سے باخبر تھے :اذا شائوا ان يعلموا علموا ۔کے مالک تھے ہمارے لئے تو تقیہ کرنا صدق آتا ہے لیکن آئمہعليهم‌السلام کیلئے صدق نہیں آتا کیونکہ وہ لوگ تمام عالم اسرار سے واقف ہیں ۔

علامه قزويني فرماتے ہیں :آئمہ تقيه نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ عالم تھے اور تمام اوقات اور وفات کی کیفیت اور نوعیت سے باخبرتھے ۔ اس


لئے ٖٖٖصرف ہمیں تقیہ کا حکم دیتے تھے ۔(۱)

اس شبهه کا جواب

اولاً: علم امام ؑ کے دوسرے مبنی پر یه اشکال هے نه پهلے مبنی پر ، کیونکه ممکن هے جو پهلےمبنی کا قائل هے وه کهے امام ؑ اپنی موت اور مرنے کے وقت اور کیفیت سے آگاه نهیں تھے ، اس لئے جان کے خوف سے تقیه کرتے تھے ۔

ثانیاً : امام ؑ کا تقیه کرنا اپنی جان کے خوف سے نهیں بلکه ممکن هے اپنے اصحاب اور چاهنے والوں کی جان کے خوف سے هو؛ یا اهل سنت کے ساتھ مدارات اور اتحاد کی خاطر تقیه کئے هوں۔ دوسرے لفظوں میں تقیه کبھی بھی جان یا مال کے خوف کے ساتھ مختص نهیں هے ۔

____________________

۱۔ مجله نور علم، ش ۵۰ ـ ۵۱، ص ۲۴ ـ ۲۵۔


ثالثاً: جو لوگ دوسرے مبنی کے قائل هیں ممکن هے کهه دیں که امام ؑ اپنی موت کے وقت اور کیفیت کا علم رکھتے تھے اور ساتھ هی جان کا خوف بھی کھاتے اور تقیه کے ذریعے اپنی جان بچانا چاهتے تھے ۔

ان دو شیعه عالم دین پر جو اشکال وارد هے یه هے ، که اگر آپ آئمہ طاہرین کے تقیه کا انکار کرتے هیں تو ان تمام روایتوں کا کیا جواب ديں گے که جن میں خود آئمہ طاهرین تقیه کے بهت سے فضائل بیان فرماتے هیں اور ان روایتوں کا کیا کروگے جو امام ؑ کے تقیه کرنے کو ثابت کرتی هیں؟!

علم امامؑ کے بارے میں مزید وضاحت

( فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا ءَاتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِّنْ عِندِنَا وَ عَلَّمْنَاهُ مِن لَّدُنَّا عِلْمًا ) ۔(۱)

"وہاں ان دونوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے (خضر) کو پایا جسے ہم نے اپنے

____________________

۱ ۔ الکہف ۶۵۔


پاس سے رحمت عطا کی تھی اور اپنی طرف سے علم سکھایا تھا"۔

علامہ طبرسیؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیۃ ولید بن عقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ جب اسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قبیلہ بنی مصطلق کے پاس زکوۃ جمع کرنے بھیجا تو قبیلہ والے بھی اسی خوشی میں ان کے استقبال کے لئے نکلے۔ دور جاہلیت میں ولید اور ان قبیلہ والوں کے درمیاں دشمنی تھی ۔ اس نے سوچا وہ لوگ ان کو قتل کرنے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں، رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف پلٹا اور کہنے لگا: انہوں نے زکات دینے سے انکار کیا۔ جبکہ یہ بالکل جھوٹ تھا ۔ اس وقت نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہت غضبناک ہوئے اور ان کے ساتھ جنگ کرنے لے لئے آمادہ ہوگئے۔ اس وقت یہ آیۃ نازل ہوئی ۔(۱)

اس آیۃ شریفہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی عام حالت میں علم غیبت نہیں رکھتے ہیں ورنہ جب وہ جھوٹ بولے تو آپ کو معلوم ہونا چاہئے تھا۔ ہاں

____________________

۱ ۔ مجمع البیان:۱۳۲/۵۔


اگر خود جاننا چاہیں تو ضرور آگاہ ہوسکتے ہیں۔

اس سے وہ اشکال دور ہوجاتا ہے کہ امامؑ علم غیب رکھتے ہوئے بھی زہر پی کر شہید ہوئے ۔

امامؑ اور نبی کا سلسله خدا سے ملا هوا هے لذا وه علم رکھتاهےمگر بندوں کے ساتھ بندوں والا برتاو کرتا هے اسی طرح امامؑ اور نبی بھی علم و قدرت رکھتے هیں لیکن بندوں کے ساتھ معمولی عام برتاؤ کرتے هیں اپنی قدرت استعمال نهیں کرتے ، جیسے الله تعالیٰ بھی کبھی کبھی اپنی قدرت کی جھلکیاں دکھاتا هے ،جیسے نیل میں حضرت موسیٰ کیلئے راسته پیدا کرنا اور پھر اسی نیل میں فرعون کو ڈبونا ۔ ایسے هی ائمه اور انبیاء بھی کبھی کبھی طاقت کا اظهار کرتے هوئے بددعا سے لوگوں کو متوجه کردیتے هیں که اگر چاهے تو یه بھی کرسکتا هے اسی سلسلے کی ایک کڑی کربلا هے ، جس میں امامؑ نے انسانیت کو معراج کا سیر کرایا ، معمول کے مطابق زندگی گزار کرامتحان کی منزلوں سے گزرے هیں۔

لیکن کبھی کبھی جیسے خدا بھی اپنی قدرت دکھاتا هے ویسے هی امامؑ بھی معجزے دکھاکر


اپنی طاقت دکھاتے هیں۔ جیسے خدا نے خدا هوکے حلم کا مظاهرہ کرتا هے ویسے هی امامؑ اور نبی ، امامؑ هوکر صبر کرتے هیں لیکن صبر سے یه نه سمجھ لینا که مجبور تھے۔ کیونکه مجبور صبر نهیں کرتا۔

اس سلسلے میں دو باتیں یاد دلاؤں: مولا نے شب عاشور کو انتظام کیا تھا که خیمے کے اطراف میں خندق کہودا جائے اور آگ جلائے جائیں تاکه دشمن خیمے کے پشت سے حمله آور نه هوسکے ۔ اس وقت ایک ظالم اور ملعون آیا اور اپنی سنگدلی کا اظهار کیا جسے کس زبان سے بیان کروں؟ گستاخی کی : حسینؑ کیا تم نے دنیا میں هی آگ تیار کرلی ؟ یهاں امامؑ نے اپنی الٰہی طاقت کا مظاهره کرتے هوئے هاتھوں کو بلند کرکے بد دعا کی که پالنے والے اسے جهنم کی آگ سے پهلے دنیا کی آگ کا مزه چکھا دے ۔ اسی وقت کہوڑا خندق میں گرا اور وه اسی میں جل گیا۔

ایک اور ملعون نکلا ش طبرسی یشه کے جام میں پانی بھرا پھر حسینؑ کے خیموں کے قریب آیا اور جام کو هلاتے هوئے کها : حسینؑ !یه دیکہو پانی موجود هے لیکن تم پیاسے هو ، تمہارے بچے پیاسے هیں ۔ اس وقت مولانے بد دعا کی پالنے والے اسے


ایسی پیاس دے دے جوبجھ نه سکے ۔ گہوڑے کے رکاب سے گرا اورپیر رکاب میں پھنسا کھسیٹتا هوا زخمی کردیا پھر آخر تک پیاس پیاس کهتے هوئے جهنم واصل هوا ۔ عزیزو اس ملعون کا گلاس میں پانی چھلکنا اکبر نےبھی دیکھا هوگا قاسم نےبھی دیکھا هوگا اور سقای حرم نے بھی دیکھا هوگا ۔

۴۔تقيه اور عصمت امامؑ

احکام اسلام کی تبلیغ اور ترویج میں ایک عام دیندارشخص سے بھی ممکن نهیں هے که وه کسی بات کو خدا اور رسول کی طرف نسبت دے دے ۔ تو یه کیسے ممکن هے که امامؑ تقیه کرتے هوئے ایک ناحق بات کو خدا کی طرف نسبت دے ؟!یه حقیقت میں امامؑ کے دین اور عصمت سے انکار کرنے کا مترادف هے ! ۔(۱)

____________________

۱ ۔ محسن امين، عاملي؛ نقض الوشيعه ، ص ۱۷۹۔


جواب یه هے که اگر هم تقیه کی مشروعیت کو آیات کے ذریعےجائز مانتے هیں چنانچه اهل سنت بھی اس کے قائل هیں که الله تعالی نے تقیه کو حکم کلی قرار دیا هے۔ اورهم بھی یہ نهیں کهتے که امامعليه‌السلام نے حکم اولی کےعنوان سے اس بات کو خدا کی طرف نسبت دی هے ؛ ليکن بعنوان حکم ثانوی کسی بات کو خدا کی طرف نسبت دینے میں کوئی اشکال نهیں هے ۔جیسے خود الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں مجبور شخص کیلئے مردار کھانے کوبحکم ثانوی ، جائز قرار دیا هے ۔

ثانياً: شيعه اپنے اماموں کوصرف راوی کی حیثیت سے قبول نهیں کرتے بلکه انهیں خودشارعین میں سے مانتے هیں ۔جو اپنے صلاح دید کے مطابق حکم جاری کرتےهیں ۔

۵۔ بجائےتقيه؛ خاموشی کیوں اختیار نهیں کرتے؟

اشکال: تقیه کے موقع پر امامؑ بطور تقیه جواب دینے کے بجائے خاموشی کیوں


اختیار نهیں کرتے تھے؟!

جواب :

اولاً: امام معصومعليهم‌السلام نےبعض موارد میں خاموشی بھی اختیار کی هے اور کبھی طفره بھی کیا هے اورکبھی سوال اور جواب کو جابجا بھی فرمایا ہے۔

ثانياً:سكوت خود تعريف تقيه کے مطابق ایک قسم کاتقیه هے که جسے تقیه کتمانیه کها گیاهے ۔

ثالثًا: کبھی ممکن هے که خاموش رهنا ، زیاده مسئله کو خراب کرنے کاباعث بنے۔ جیسے اگر سوال کرنے والا حکومت کا جاسوس هو تو اس کو گمراه کرنے کیلئے تقیةً جواب دینا هي زياده فائده مند هے ۔(۱)

رابعاً: کبھی امامؑ کے تقیه کرنے کے علل اور اسباب کو مد نظر رکھتے هوئے

____________________

۱ ۔ فخر رازي؛ محصل افكار المتقدمين من الفلاسفه والمتكلمين،ص ۱۸۲۔


واقعیت کے خلاف اظهار کرنا ضروری هوتا هے ۔ جیسے اپنے چاهنے والوں کی جان بچانے کی خاطر اپنے عزیزوں کو دشمنوں کے درمیان چھوڑنا ۔ اور یه صرف اور صرف واقعیت کے خلاف اظهار کرکے هی ممکن ہوتاهے ۔اور کبھی دوستوں کی جان بچانے کیلئے ،اهل سنت کے فتویٰ کے مطابق عمل کرنے پر مجبور هوجانا۔ چنانچه امام موسي كاظم نے علي ابن يقطين کو اهل سنت کے طریقے سے وضو کرنے کا حکم دیا تھا ۔(۱)

۶۔تقيه کے بجائے توریه کیوں نهیں کرتے ؟!

شبهه:

امامعليه‌السلام موارد تقيه میں توریه کرسکتے هیں، تو توریه کیوں نهیں کرتے ؟ تاکه جھوٹ بولنے میں مرتکب نه هوں۔(۲)

اس شبهه کا جواب:

____________________

۱ ۔ فخر رازي؛ محصل افكار المتقدمين من الفلاسفه والمتكلمين ص ۱۹۳۔

۲ ۔ وسائل شيعه، ج۱، ص ۲۱۳۔


اولاً:تقیه کے موارد میں توریه کرنا خود ایک قسم کا تقیه هے ۔

ثانياً: همارا عقیده هے که اگر امامؑ کیلئے هر جگه توریه کرنے کا امکان هوتا تو ایسا ضرور کرتے ۔

ثالثاً:بعض جگهوں پر امامؑ کیلئے توریه کرنا ممکن نهیں هے۔

۷۔تقيه اور دین کا دفاع

شبهه:

اس میں کوئی شک نهیں که الله کے نیک بندوں کی ذمه داریوں میں سے ایک اهم ذمه داری ، الله تعالیٰ کے دین کی حفاظت کرنا هے ۔اگر چه اس راه میں قسم قسم کی اذیتیں اور مصیبتیں برداشت کرنا پڑیں ۔اور اهل بيت ؑبالخصوص ان ذمه داری کو نبھانے کیلئے زیاده حقدار هیں ۔(۱)

____________________

۱ ۔ ابوالقاسم، آلوسي؛ روح المعاني،ج۳، ص۱۴۴۔


جواب:

آئمہ طاهرین نے جب بھی دین کیلئے کوئی خطر ہ محسوس کیا اور اپنے تقیه کرنے کو اسلام پر کوئی مشکل وقت آنے کا سبب پایا تو تقیه کو ترک کرتے هوئے دین کی حفاظت کرنے میں مصروف رہے ۔اور اس راه میں اپنی جان دینے سے بھی دریغ نهیں کیا ۔جس کا بهترین نمونه سالار شهیدان اباعبدالله کا دین مبین اسلام کا دفاع کرتے هوئے اپنی جان کے علاوه اپنے عزیزوں کی جانوں کا بھی نذرانه دینے سے دریغ نهیں کیا ۔

لیکن کبھی ان کا تقیه کرنا اسلام پر ضرر پهنچنے ، مسلمانوں کا گروهوں میں بٹنے ، اسلام دشمن طاقتوں کے کامیاب هونے کا سبب بنتا تھاتو وه لوگ ضرور تقیه کرتے تھے چنانچه اگر عليعليه‌السلام رحلت پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد تقیه نه کرتے اور مسلحانه جنگ کرنے پر اترآتے تو اسلام خطرے میں پڑ جاتا ۔ اور جو ابھي ابھي مسلمان هو چکے تھے ، دوباره کفر کي طرف پلٹ جاتے ۔کيونکه امامؑ کو اگرچه ظاهري فتح حاصل هوجاتي ؛ ليکن لوگ یہ بہتان باندھتے که انهوں نے پیغمبرؐکے جانے کے


بعد ان کي امت پر مسلحانه حمله کرکے لوگوں کو اسلام سے متنفر کيا ۔

پس معلوم هوا که آئمہ طاهرین کا تقیه کرنا ضرور به ضرور اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر تھا۔

۸۔تقيه «سلوني قبل ان تفقدوني » کے منافی

امام عليعليه‌السلام فرماتے هیں : مجھ سے پوچھو قبل اس کے که میں تمہارے درمیان سے اٹھ جاؤں ، اور تم مجھے پانه سکو ۔

اس روایت میں سوال کرنے کا حکم فرمارهے هیں ، جس کا لازمه یه هے که جو کچھ آپ بطور جواب فرمائیں گے ، اسے قبول کرنا هم پر واجب هوگا؛ اور امام ؑ کا تقیه کرنے کا لازمه یه هے که بعض سوال کا امام ؑ جواب نهیں دیں گے۔


جواب :

یه امير المؤمنين نے اس وقت فرمایا ، که جب آپ برسر حکومت تھے ؛ جس وقت تقیه کے سارے علل و اسباب مفقود تھے ۔یعنی تقیه کرنے کی ضرورت نه تھی۔اور جو بھی سوال آپ سے کیا جاتا ،اس کا جواب تقیه کے بغیر کاملاً دئے جاسکتے تھے ۔ البته اس سنهرے موقع سے لوگوں نے استفاده نهیں کیا ۔

لیکن همارے دیگر آئمہ طاهرین کو اتنی کم مدت کابھی موقع نهیں ملا۔ یهی وجه هے که بقیه اماموں سے ایسا جمله صادر نهیں هوا ۔ اگرچه شیعه اور سنی سوال کرنے والوں کو احکام بیان کرنے میں ذره برابر کوتاهی نهیں کی ۔

امام سجادعليه‌السلام سے روايت هے که هم پر لازم نهیں هے که همارے شیعوں کے هر سوال کا جواب دیدیں ۔اگر هم چاهیں تو جواب دیں گے ، اور اگر نه چاهیں تو گريز


کریں گے ۔(۱)

۹۔تقيه ، شجاعت کے منافی

اس شبهه کی وضاحت کچھ یوں هے که شیعوں کا عقیده هے که ان کے سارے امام ؑ انسانیت کے اعلاترین کمال اور فضائل کے مرتبے پر فائز هیں ۔ یعنی هر کمال اور صفات بطور اتم ان میں پائے جاتے هیں ۔ اور شجاعت بھی کمالات انسانی میں سے ایک هے ۔

لیکن تقیه اور واقعیت کے خلاف اظهار کرنا بهت سارے مواقع پر جانی خوف کی وجه سے هے ۔

____________________

۱۔ وسائل الشيعه، ج ۱۸، ص۴۳۔


اس کے علاوه اس سخن کا مضمون یه هے که همارے لئے الله تعالیٰ نے ایسے رهنما اور امام بھیجے هیں، جو اپنی جان کےخوف کی وجه سے پوری زندگی حالت تقیه میں گزاری ۔(۱)

جواب:

اولاً شجاعت اور تهور میں فرق هے ۔ شجاعت حد اعتدال اور درمیانی راه هے لیکن تهور افراط ہے اور بزدلی تفریط ۔اور شجاعت کا یه معنی نهیں که بغیر کسی حساب کتاب کے اپنے کو خطرے میں ڈالدے ۔ بلکه جب بھی کوئی زیاده اهم مصلحت خطرے میں هو تو اسے بچانے کی کوشش کرے۔

ثانیاً: همارے لئے یه بات قابل قبول نهیں هے که تقیه کے سارے موارد میں خوف اور ترس هی علت تامه هو ، بلکه اور بھی علل و اسباب هیں جن کی وجه

____________________

۱ ۔ كمال جوادي؛ ايرادات و شبهات عليه شيعيان در هند و پاكستان۔


سے تقیه کرنے پر مجبور هوجاتے هیں ۔جیسے اپنے ماننے والوں کی جان بچانے کی خاطر ، کبھی دوسرے مسلمانوں کے ساتھ محبت اور مودت ایجاد کرنے کی خاطر تقیه کرتے هیں ۔جن کا ترس یا خوف سےکوئی رابطه نهیں هے ۔

ثالثا ً: امامؑ کا خوف اپنی جان کے خوف کی وجه سے نهیں بلکه دین مقدس اسلام کے مصالح اور مفاد کے مد نظرامامؑ خائف هیں ، که ایسا نه هو ، دین کی مصلحتوں کو کوئی ٹھیس پهنچے ۔

اب اس اشکال یا بهتان (که آئمہ طاهرین نے اپنی آخری عمر تک تقیه کیا هے ) کا جواب یہ هے:

اولا ً : یه بالکل بیهوده بات هے اور تاریخ کے حقائق سے بهت دور هے ۔کیونکه هم آئمہ طاهرین کی زندگی میں دیکھتےهیں که بهت سارے موارد میں انهوں نے ظالم و جابر حکمرانوں کے ساتھ بهادرانه طور پر جنگ و جهاد کیا هے۔ چنانچه امام موسی کاظمعليه‌السلام نے اس وقت ، که جب هارون نے چاها که باغ


فدک آپ کو واپس کرے ، هارون الرشید کے کارندوں کے سامنے برملا عباسی حکومت کے نامشروع اور ناجائز هونے کا اعلان فرمایا ، اور مملکت اسلامی کی حدود کومشخص کیا ۔

ثانیا ً : هدایت بشر ی صرف معارف اسلامی کا برملا بیان کرنے پر منحصر نهیں هے ، بلکه بعض اهم اور مؤثر افراد تک اپنی بات کو منتقل کرنا بھی کافی ہے جو سارے لوگوں تک آپ کا پیغام پهنچنے کا باعث بنتا ہے۔

۱۰۔تقيه اور تحليل حرام و تحريم حلال

شبهه یه هے که اگر اس بات کو قبول کرلیں که امامؑ بعض فقهی مسائل کا جواب بطورتقیه دیں گے تو مسلماً ایسے موارد میں حکم واقعی (حرمت و حلیت )بدل جائےگا ۔ اور یه سبب بنے گا شریعت میں تحلیل حرام اور تحریم حلال


کا، يعني حرام حلال ميں بدل جائے گا اورحلال حرام ميں ۔۔۔(۱)

اس شبهه کا جواب یه هے که شیعوں کے نزدیک تقیه سے مراد ؛اضطراری حالات میں بعنوان حکم ثانوی ،آیات اور روایاتِ معصومین کی پیروی کرنا هے ۔جیسا کہ قرآن مجید کا حکم ہے:

( إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزيرِ وَ ما أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ باغٍ وَ لا عادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّه غَفُورٌ رَحيمٌ ) ۔(۲)

اس نے تمہارے اوپر بس مردار،خون،سورکاگوشت اور جو غیر خدا کے نام پر ذبح کیاجائے اس کو حرام قرار دیا ہے پھر بھی اگر کوئی مضطر ہوجائے اور حرام کا طلب گار اور ضرورت سے زیادہ استعمال کرنے والا نہ ہوتو اس کے لئے کوئی گناہ نہیں ہے۔بے شک خدا بخشنے والا اورمہربان ہے ۔

____________________

۱ ۔ احسان الهي ظهير؛ السنّه والشيعه، ص ۱۳۶۔

۲ ۔ بقرہ،۱۷۳۔


تقيه کا حكم بھی دوسرے احکام جیسے اضطرار، اكراه ، رفع ضرر اور حرج کی طرح هے ، که ایک معین وقت کیلئے حکم اولی کو تعطیل کرکے اس کی جگه تقیه والا حکم لگايا جاتا هے ۔اور ان جیسے احکام ثانوی فقه اهلسنت میں بھی هر جگه موجود هیں۔

۱۱۔تقيه ا يك اختصاصي حكم هے يا عمومي؟

اس حصے میں درج ذیل مسائل کي بررسی کرنے کي ضرورت هے :

۱. قانون تقیه پر اعتقاد رکھنا کیا صرف شیعه امامیه کے ساتھ مختص هے یا دوسرے مکاتب فکر والےبھی اس کے قائل هیں ؟اور اسے ایک الهی قانون کی حیثیت سے قبول کرتے هیں ؟!

۲. کيا تقيه کوئی ایسا حکم هے جو هرجگه اور هرحال میں جائز هے یا اس کے لئے بھی خاص زمان یا مکان اور دیگر اسباب کا خیال رکھنا واجب هے ؟


۳. کيا حكم تقيه ،متعلّق کے اعتبار سے عام هے یا خاص ؟ یعنی سارےلوگ ایک خاص شرائط میں اس پر عمل کرسکتے هیں ؟ یا بعض لوگ بطور استثنا هر عام و خاص شرائط کے بغیر بھی تقیه کرسکتے هیں ؟جیسے : پیغمبرعليه‌السلام و امامعليه‌السلام ؟

جواب:

دو احتمال هیں :

۱ ـ تقيه ايك حكم ثانوي عام هے که جس سے سارے لوگ استفاده کرسکتے هیں ۔

۲ ـ انبیاءؑ تقيه سے مستثنی هیں ۔ کیونکه عقلی طور پر مانع موجود هے ۔

شيخ طوسي اور اكثر مسلمانوں نے دوسرے احتمال کو قبول کیا هے ۔ كه پیغمبرعليه‌السلام کیلئے تقيه جائز نهیں هے ۔کیونکه تقیہ کی شناخت ، علم صرف اور صرف پیغمبرعليه‌السلام کے پاس هے ۔

صرف پیغمبر اور ان کے فرامین کے ذریعے شریعت کی شناخت اور علم ممکن هے ۔پس جب پیغمبرعليه‌السلام کیلئے تقیه جائز هو جائے تو همارے لئے کوئی اور راسته


باقی نهیں رهتا جس کے ذریعے اپنی تکلیف اور شرعی وظیفه کو پهچان لیں اور اس پر عمل کریں ۔(۱)

اسی لئے فرماتے هیں :فلا يجوز علي الانبياء قبائح و لا التقية في اخبارهم لانّه يؤدي الي التشكيك ۔(۲)

انبیاء کیلئے نه عمل قبیح جائز هے اور نه اپنی احادیث بیان کرنے میں تقیه جائز هے۔کیونکه تقیه آپ کے فرامین میں شکوک و شبهات پیدا هونے کا باعث بنتا هے۔ اور جب که هم پر لازم هے که پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی هربات کی تصدیق کریں ۔ اگر پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اعمال شرعی وظیفے کو همارے لئے بیان نه کریں اور همیں حالت شک میں ڈال دیں ؛ تو یه ارسال رسل کی حکمت کے خلاف هے ۔ پس پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

____________________

۱ ۔ محمود يزدي؛ انديشه هاي كلامي شيخ طوسي،ص ۳۲۸۔

۲ ۔ التبيان ، ج۷ ، ص ۲۵۹۔


کے لئے جائز نهیں که تقیه کی وجه سے هماری تکالیف کو بیان نه کریں ۔

شيخ طوسي پر اشكال : اگر هم اس بات کے قائل هوجائیں که پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے تقیه جائز نهیں هے تو حضرت ابراهیم کا نمرود کے سامنے بتائی گئی ساری باتوں کیلئے کیا تأویل کریں گے که بتوں کو آنحضرت هی نے توڑ کر بڑے بت کی طرف نسبت دی ؟!اگر اس نسبت دینے کو تقیه نه مانیں تو کیا توجیه هوسکتی هے ؟!

شيخ طوسي نےدو توجیه کے ضمن میں اس اشکال کا جواب دیا هے:

۱ ۔ بل فعله کو«ان كانوا ينطقون »کے ساتھ مقید کیا ہے۔ يعني اگریه بت بات کرتاهے تو ان بتوں کوتوڑنے والا سب سے بڑا بت هے ۔جب که معلوم هے که بت بات نهیں کرسکتا۔

۲ ۔ حضرت ابراہیمعليه‌السلام چاهتے تھے که نمرود کے چیلوں کو یه بتا دیں که اگر تم


لوگ ایسا عقیده رکھتے هو تو یه حالت هوگی ۔ پس آپ کا یه فرمانا: «( بل فعله كبيرهم ) » الزام کے سوا کچھ نهیں اور «( اني سقيم ) » سے مراد یه که تمہارے گمراه هونے کی وجه سے میں روحی طور پرسخت پریشانی میں مبتلا هوں۔

اسی طرح حضرت يوسفعليه‌السلام کا:«( انّكم لسارقون ) »کهنا بھی تقیه هی تھا ، ورنه جھوٹ شأن نبوت سے دور هے ۔(۱)

تمام انبیاءالهی کے فرامین میں توریه شامل هے اور توریه کرنا کوئی مشکل کا سبب نهیں بنتا ۔اور توریه بھی ایک قسم کا تقیه هے ۔

ثانیا ً انبیاء الهی کے یہ فرامین احکام شرعی بیان کرنے کے مقام میں نهیں هیں ۔

____________________

۱۔ التبيان ، ، ص ۲۶۰۔


۱۲۔کیوں بعض آئمہ طاہرین ؑنے تقیه کیا اور بعض نے نهیں کیا ؟!

یه سوال همیشه سے لوگوں کے ذهنوں میں ابھرتا رهتا هے که کیوں بعض آئمہؑ اور ان کے چاهنے والوں نے تقیه کیا اور خاموش رهے ؟! لیکن بعض آئمہؑ نے تقیه کو سرے سے مٹادیا اور اپنی جان تک کی بازی لگائی ؟!

وه لوگ جو مجاهدین اسلام کی تاریخ ، خصوصا ً معاویه کی ذلت بار حکومت کے دور کا مطالعه کرتے تو ان کو معلوم هوتا ،که تاریخ بشریت کا سب سے بڑا شجاع انسان یعنی امیر المؤمنینعليه‌السلام کا چهره مبارک نقاب پوش هوکر ره گیا ۔ جب یه ساری باتیں سامنے آتی هیں تو یه سوال ذهنوں میں اٹھتا هے که کیوں پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور علی کے باوفا دوستوں کے دوچهرے کاملاً ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں :


ایک گروه :

جو اپنے زمانے کے ظالم و جابر حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کا مقابله کرنے پر اتر آتے هیں ؛ جیسے میثم تمارؓ ، حجر بن عدیؓ، عبداللهؓ وغیرہ۔ اسی طرح باقی آئمہؑ کے بعض چاهنے والوں نے دشمن اور حاکم وقت کے قید خانوں میں اپنی زندگیاں رنج و غم میں گزارتے هوئے اپنی جانوں کا نذرانه پیش کیا ۔اور وحشت ناک جلادوں کا خوف نهیں کھایا، اور عوام کو فریب دینے والے مکار اور جبار حاکموں کا نقاب اتار کر ان کا اصلی چهره لوگوں کے سامنے واضح کردیا۔

یہی وجہ ہے کہ علی ؑکی محبت کے جرم میں کئی صدیاں گزرنے کے بعد بھی اسلام دشمن عناصر لوگوں (داعش) نے شام میں صحابی رسول حجر بن عدی کی قبر کو مسمار کرکے ان کی لاش نکال کر ان کی بے حرمتی کی گئی۔

دوسرا گروه :

باقی آئمہ طاهرین کے ماننے والوں اور دوستوں میں بهت سارے ، جیسے علی ابن یقطینؓ بڑی احتیاط کے ساتھ هارون الرشید کے وزیراور مشیر


بن کر رهے !

جواب :

اس اشکال کا جواب امامیه مجتہدین اور فقهاء دے چکے هیں : که کبھی تقیه کو ترک کرتے هوئے واضح طور پر ما فی الضمیر کو بیان کرنا اور اپنی جان کا نذرانه دینا واجب عینی هوجاتا هے ؛ اور کبھی تقیه کو ترک کرنا مستحب هوجاتا هے ۔ اور اس دوسری صورت میں تقیه کرنے والے نے نه کوئی خلاف کام کیا هے ، نه ان کے مد مقابل والے نے تقیه کو پس پشت ڈال کر فداکاری اور جان نثاری کا مظاهره کرتے هوئے ، جام شهادت نوش کرکے کوئی خلاف کام کیاهے اسی دلیل کی بنا پر ميثم تمارؓ ، حجر بن عدیؓ اوررشيد هجري ؓ جیسے عظیم اور شجاع لوگوں کو همارے اماموںؑ نے بهت سراها هے ، اور اسلام میں ان کا بهت بڑا مقام هے ۔

ان کی مثال ان لوگوں کی سی هے ، جنهوں نے اپنے حقوق سے هاتھ اٹھائے هیں اور معاشرے میں موجود غریب اور نادار اور محروم لوگوں کی حمایت کرتے


هوئے ان پر خرچ کیا هے ، اور خود کو محروم کیا هے۔

اس میں کوئی شک نهیں که ان کی یه فداکاری اور محرومیت کو قبول کرنا ؛ سوائے بعض موارد میں ،واجب تو نهیں تھا ۔ کیونکه جو چیز واجب هے وه عدالت هے نه ایثار ۔لیکن ان کا یه کام اسلام اور اهل اسلام کی نگاه میں بهت قیمتی اور محترم کام شمار هوتا هے ۔اور یه احسان کرنا اس بات کی دلیل هے که احسان کرنے والا عواطف انسانی کی آخری منزل طے کرچکا هے ۔جو دوسروں کو آرام و راحت میں دیکھنے کیلئے خودمحرومیت کو اختیار کرے ۔

پس تقیه کو ترک کرتے هوئے اپنی جانوں کو دوسرے مسلمانوں اور مؤمنوں کےآرام اور راحت کی خاطر فدا کرنا بھی ایسا هی هے ۔اور یه اس وقت تک ممکن هے ، جب تک تقیه کرنا وجوب کی حد تک نه پهنچا هو ۔ اور یه پهلاراسته هے ۔


دوسرا راسته یه هے که لوگ ماحول اور معاشرہ نیز وقعت اور حیثیت کے اعتبار سے مختلف هوتے هیں ۔ اگر پست معاشرہ اور ماحول میں زندگی گزا ررهے هوں ، جیسے معاویه کا دور هے ؛اس کی غلط پروپیگنڈا اور اس کے کاسہ لیسوں اور مزدوروں اور بعض دین فروشوں کی جھوٹے پروپیگنڈوں کی وجه سے اسلام کے حقائق اور معارف معاشرے سے بالکل محو هوچکے تھے ۔اور لوگ اسلامی اصولوں سے بالکل بے خبر تھے ۔اور امیر المؤمنینعليه‌السلام کا انسان ساز مکتب بھی اپنی تمام تر خصوصیات کے باوجود ، کالعدم کر دیا گیا ، اور پرده خفا میں چلا گیا ۔اور اس ظلمانی پردے کو چاک کرکے اسلامی معاشرے کو تشکیل دینے کیلئے عظیم قربانی کی ضرورت تھی ۔ایسے مواقع پر راز فاش کرنا ضروري تھا ، اگرچه جان بھی دینا کیوں نه پڑے ۔

حجر بن عديؓ اور ان کے دوستوں کے بارے میں جنهوں نے معاویه کےدور میں مهر سکوت کو توڑ کر علیعليه‌السلام کی محبت کا اظهار کرتے هوئے جام شهادت


نوش فرمائي ؛اور ان کی طوفانی شهادت اور شهامت اس قدر مؤثر تھی که پورے مکه اور مدینه کے علاوه عراق میں بھی لوگوں میں انقلاب برپا کیا ؛ جسے معاویه نے کبھی سوچا بھي نه تھا ۔ اور چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی وہابی ٹولے نے ۱۴۳۴ ه میں محبت امیر المومنین ؑ کے جرم میں اس مردمؤمن کے جسم کو قبر سے نکال کر بے حرمتی کا نشانہ بنایا۔

امام حسينعليه‌السلام نے ایک پروگرام میں ، معاویه کے غیراسلامی کردار کو لوگوں پر واضح کرتے هوئے یوں بیان فرمایا :

الست قاتل حجر بن عدي اخا كنده ؛ والمصلين العابدين الذين كانوا ينكرون الظلم و يستعظمون البدع و لا يخافون في الله لومة لائم!

اے معاویه ! کیا تو وهي شخص نهیں ، جس نے قبیله کنده کےعظيم انسان (حجر بن عدی) کو نماز گزاروں کے ایک گروه کے ساتھ بے دردی سے شهید کیا ؟ ان کا جرم صرف یه تھا که وه ظلم اور ستم کے خلاف آوازاٹھاتے اور بدعتوں اور خلاف شرع کاموں سے بیزاری کا اظهار کرتے تھے، اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کی کوئی پروا نهیں کرتے


تھے ؟!۔(۱)

ج:شیعوں کے تقیه سے مربوط شبهات

o تقيه شیعوں کے اصول دين میں سے ہے ۔

o تقيه شیعوں کی بدعتوں میں سے ہے ۔

o تقيه پيروي از آئمہ اطهار سے تناقض رکھتا ہے ۔

o تقيه زوال دين کاموجب ہے ۔

o فتواي امامعليه‌السلام تقيه کی صورت میں قابل تشخیص نہیں ۔

o تقيه شیعوں کا خوف اور اضطرار ی حالت ہے ۔

o تقيه کافروں کے ساتھ کیا جاتا ہے نہ مسلمانوں کے ساتھ ۔

____________________

۱ ۔مكارم شيرازي؛ تقيه مبارزه عميقتر، ص ۱۰۷۔


۱۔تقيه شیعوں کی بدعت

شبهه پیدا کرنے والے کا کهنا هے که :تقیه شیعوں کی بدعت هے جو اپنے فاسد عقیدے کو چھپانے کی خاطر کرتے هیں۔(۱)

اس شبهه کا جواب یه هے که اس نے بدعت کے معنی میں غلطی کی هے ۔ جب که مفردات راغب نے بدعت کی تعریف کرتے هوئے کها هے :البدعة هي ادخال ما ليس من الدين في الدين ۔(۲) بدعت سے مراد یه هے که جوچیز دین میں نهیں، اسے دین میں داخل کرنا ۔اور گذشته مباحث سے معلوم هوا که تقیه دین کی ضروریات میں سے هے ۔ کیونکه قرآن اور احاديث آئمہعليهم‌السلام میں واضح طور پر بیان هوا هے که تقیه

____________________

۱۔ فهرست ايرادات و شبهات عليه شيعيان در هند و پاكستان، ص ۳۶۔

۲۔ راغب اصفهاني ؛ مفردات، بدع۔


کو اهل تشیع اور اهل سنت دونوں مانتے هیں اور اس کے شرعی هونے کو بھی مانتے هیں ۔

لہذا ، تقیه نه بدعت هے اور نه شیعوں کا اختراع ،که جس کے ذریعے اپنا عقیده چھپایا جائے، بلکه یه الله اور رسول کا حکم هے ۔

گذشته مباحث سے معلوم هوا كه تقيه دين کاحصه هے کيونکه وه آيات جن کو شيعه حضرات اسلام کا اہم جزء جانتے هيں،ان کي مشروعيت کو ثابت کرچکے هيں اور اهل سنت نے بھي ان کي مشروع هونے کا في الجمله اعتراف کيا هے۔ اس بنا پر ، نه تقيه بدعت هے اور نه شيعوں کا اپنا عقيده چھپانے کيلئے اختراع هے۔


۲۔تقيه، مكتب تشيع کا اصول دين ؟!

بعض لوگوں کا اپنے مخالفین کے خلاف مهم چلانے اور ان کو شکست دینے کیلئے جو خطرناک اور وحشنتاک راسته اختیار کرتے هیں ، ان میں سے ایک یه هے که ان کو متهم کرنا هے اور ایسی تهمتیں لگاتے هیں ، جن سے وه لوگ مبریٰ هیں ۔ اگرچه عیوب کا ذکر کرنا معیوب نهیں هے ۔

ان لوگوں میں سے ایک ابن تیمیه هے ؛ جو کهتا هے که شیعه تقیه کو اصول دین میں سے شمار کرتے هیں ۔ جبکه کسی ایک شیعه بچے سے بھی پوچھ لے تو وه بتائے گا : اصول دین پانچ هیں :

اول : توحید۔ دوم :عدل سوم: نبوت ۔چهارم:امامت ۔پنجم : معاد۔

ليکن وه اپنی كتاب منهاج السنه میں لکھتا هے : رافضي لوگ اسے اپنا اصول دین میں شمار کرتے هیں ۔ایسی باتیں یا تهمتیں لگانے کی دو هی وجه هوسکتی هیں:


۱ ۔ یا وه شیعه عقائد سے بالکل بے خبر هے ؛ که هو هی نهیں سکتا ۔ کیونکه مذهب تشیع کا اتنا آسان مسئله ؛ جسے سات ساله بچه بھی جانتا هو ، ابن تیمیه اس سے بے خبر هو ۔کیونکه همارے هاں کوئی چھٹا اصل بنام تقیه موجود نهیں هے ۔

۲ ۔ یا ابن تیمیه اپنی هوا وهوس کا اسیر هوکر شیعوں کو متهم کرنے پر تلا هوا هے ۔ وه چاهتا هے که اس طریقے سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرےاوراسلام اور مسلمین کی قوت اور شان و شکوکت کو متزلزل کرے ۔

اس قسم کی بیهوده باتیں ایسے لوگوں کی خوشی کا سبب بن سکتی هیں، جو کسی بھی راستے سے شیعیان علی ابن ابی طالب کی شان شوکت کو دنیا والوں کے سامنے


گھٹاتے اور لوگوں کو مکتب حقه سے دور رکھتے ۔(۱)

جب که خود اهل سنت بھی تقیه کے قائل هیں اور ان کے علماء کا اتفاق اور اجماع بھی هے ، که تقیه ضرورت کے وقت جائز هے ۔چنانچه ابن منذر لکھتا هے:

اجمعوا علي من اكره علي الكفر حتي خشي علي نفسه القتل فكفر و قلبه مطمئن بالايمان انه لا يحكم عليه بالكفر ۔(۲)

اس بات پر اجماع هے که اگر کوئی کفر کا اظهار کرنے پر مجبور هو جائے ، اور جان کا خطره هو تو ایسی صورت میں ضرور اظهار کفرکرے ۔جبکه اس کا دل ایمان سے پر هو ، تو اس پر کفر کا فتوا نهیں لگ سکتا ۔یا وه کفر کے زمرے میں داخل نهیں هوسکتا ۔

____________________

۱۔ عباس موسوي؛ پاسخ و شبهاتي پيرامون مكتب تشيع، ص۱۰۲۔

۲۔ دكترناصر بن عبدالله؛ اصول مذهب شيعه،ج ۲، ص ۸۰۷۔


ابن بطال کهتا هے :واجمعوا علي من اكره علي الكفر واختار القتل انه اعظم اجرا عنداﷲ !یعنی علماء کا اجماع هے که اگر کوئی مسلمان کفر پر مجبور هوجائے ، لیکن جان دینے کو ترجیح نہ دے تو اس کے لئے الله تعالیٰ کے نزدیک بهت بڑا اجر اور ثواب هے ۔

خوداهل سنت تقيه کے جائز هونے کو قبول کرتے هیں ۔ لیکن جس معنی ٰ میں شیعه قائل هیں ، اسے نهیں مانتے ۔ ان کے نزدیک تقیه ، رخصت یا اجازت هے ، لیکن شیعوں کے نزدیک ، ارکان دین میں سے ایک رکن هے ۔ جیسے نماز۔ اور بعد میں امام صادقعليه‌السلام کی روایت کو نقل کرتے هیں، جو پیغمبر اسلام (ص) سے منسوب هے ۔قال الصادق عليه‌السلام : لو قلت له تارك التقيه كتارك الصلوة ۔ اس کے بعد کهتےهیں که شیعه صرف اس بات پر اکتفاء نهیں کرتے بلکه کهتے هیں :لا دين لمن لا تقية له ۔(۱)

____________________

۱۔ دكترناصر بن عبدالله؛ اصول مذهب شيعه،ج ۲، ص ۸۰۷۔


۳۔تقيه، زوال دين کا موجب ؟!

کها جاتا هے که تقیه زوال دین اور احکام کی نابودی کا موجب بنتا هے ۔ لهذا تقیه پر عمل نهیں کرنا چاهئے ۔اور اس کو جائز نهیں سمجھنا چاهئے ۔

جواب:

تقيه ، احكام پنجگانه میں تقسيم كيا گیا هے :واجب ، حرام ، مستحب ، مكروه ، مباح۔

حرام تقيه، دین میں فساد اور ارکان اسلام کے متزلزل هونے کا سبب بنتا هے ۔ به الفاظ دیگر جوبھی اسلام کی نگاه میں جان، مال ، عزت، ناموس وغیره کی


حفاظت سے زیاده مهم هو تو وهاں تقیه کرنا جائز نهیں هے ، بلکه حرام هے ۔اور شارع اقدس کا بھی یهی حکم هے ۔کیونکه عقل حکم لگاتی هے که جب بھی کوئی اهم اور مهم کے درمیان تعارض هوجائے تو اهم کو مقدم رکھاجائے ، اور اگر تقیه بھی موجب فساد یا ارکان اسلام کے متزلزل هونے کا سبب بنتا هے تو وهاں تقیه کرنا جائز نهیں هے ۔

آئمہ طاهرین سے کئی روايات هم تک پهنچی هیں که جو اس بات کی تائید کرتی هیں اور بتاتی هیں که بعض اوقات تقیه کرنا حرام هے ۔

امام صادقعليه‌السلام نےفرمایا:

فكل شيئ يعمل المؤمن بينهم لمكان التقية مما لا يؤدي الي الفساد في الدين فانّه جائز ۔(۱)

هر وه کام جو مؤمن تقیه کے طور پر انجام دیتے هیں ؛اگر دین کیلئے کوئی

____________________

۱۔ وسائل الشيعه ، ج۶، باب۲۵، ص۴۶۹۔


ضرر یا نقصان بھی نه هو ،اور کوئی فساد کا باعث بھی نه هو ؛ تو جائز هے ۔

امام صادقعليه‌السلام کی اس حدیث سے معلوم هوتا هے که تقیه بطور مطلق حرام نهیں هے بلکه وه تقیه حرام هے جو زوال دین کا سبب بنتا هو ۔

لیکن وه تقیه واجب یا مباح يا مستحب هے جو زوال دین کا سبب نهیں بنتا ۔ اور یہ مکتب تشیع کا نظریہ هے ۔

۴۔امام ؑکی پيروي اور تقیه کے درميان تناقض

شبهه یہ هے که شیعه آئمہعليهم‌السلام کی پیروی کرنے کا دعویٰ کرتے هیں جبکه آئمہ طاهرین نے تقیه نہیں کیا هے ؛ جیساکہ علیعليه‌السلام نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی ، اور امام حسینعليه‌السلام نے یزید کے خلاف جهاد کیا ۔(۱)

____________________

۱۔ موسي موسوي؛ الشيعه والتصحيح، ص۶۹۔


اس شبهه کا جواب :

اولاً :شیعه نظریے کے مطابق تقیه ایسے احکام میں سے نهیں که هر حالت میں جائز هو ، بلکه اسے انجام دینے کیلئے تقیه اور اظهار حق کرنے کے درمیان مصلحت سنجی کرناضروري هے که تقیه کرنے میں زیاده مصلحت هے یا تقیه کو ترک کرنے میں زیاده مصلحت هے ؟

آئمہ طاهرین بھی مصلحت سنجی کرتے اور عمل کرتے تھے۔ جیسا که اوپر کی دونوں مثالوں میں تقیه کو ترک کرنے میں زیاده مصلحت پائی جاتی تھیں لهذا دونوں اماموں ؑنے تقیه کو ترک کیا ۔ اگر امیرالمؤمنینعليه‌السلام ابوبکر کی بیعت کرتے تو ان کی خلافت کو قبول کرنا اور اپنی امامت اور خلیفہ بلافصل کا انکار کرنا ثابت ہوتاہے اسی طرح اگر امام حسینعليه‌السلام تقیه کرتےاور یزید کی بیعت کرتے تو اپنے جد امجدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دین کا نام ونشان باقی نہ رہتا ، کیونکہ یزید نے منبر سے برملا کہہ دیا تھا :

لعبت بنوهاشم بالملک فلا خبر جاء ولا وحی نزل ۔


نہ کوئی قرآن نازل ہوا ہے اور نہ کوئی وحی نازل ہوئی ہے بلکہ بنی ہاشم والوں نے حکومت کرنے کے لئے ایک کھیل کھیلا ہے ۔

ثانيا: شيعه سارے اماموںؑ کی پيروي کرنےکو واجب سمجھتے هیں ۔ اور همارے سارے آئمہؑ نے بعض جگهوں پر تقیه کیا هے اور بعض جگهوں پر تقیه کو ترک کیا هے ۔ بلکه اس سے بھی بالا تر که بعض مقامات پر تقیه کرنے کا حکم دیا هے۔ یه اس بات کی دلیل هے که ان کی زندگی میں کتنی سخت دشواریاں پیش آتی تھیں۔

ثالثاً: تقيه کے بهت سے موارد ، جهاں خود آئمہعليهم‌السلام نے تقیه کرنے کو مشروع قرار دیا هے ، جن کا تذکره گزرچکا ہے۔

رابعاً: شبهه پیدا کرنے والا خود اعتراف کررها هے که حضرت عليعليه‌السلام نے فقط چھ ماه بيعت كرنے سے انکار کیا پھر بعد میں بيعت کرلی ۔یه خود


دلیل هے کہ حضرت عليعليه‌السلام کی سیرت میں بھی تقيه موجود هے ۔

۵۔تقيه اورفتواي امامعليه‌السلام کي تشخيص

اس کے بعد که قائل هوگئے كه آئمہعليهم‌السلام بھی تقیه کرتے تھے ؛ درج ذیل سوالات ، اس مطلب کی ضمن میں که اگر امامؑ حالت تقیه میں کوئی فتوا ی دیدیں، تو کیسے پهچانیں گے که تقیه کي حالت میں فتوا دے رهے هیں یا عام حالت میں ؟!

جواب:

اس کی پهچان تین طریقوں سے ممکن هے :

۱. امامؑ کا فتوی ایسے دلیل کے ساتھ بیان هوجو حالت تقیه پر دلالت کرتی هو ۔

۲. فتوای دینے سے پهلے کوئی قرینه موجود هو ، جو اس بات پر دلالت کرے


که حالت تقیه میں امام ؑنےفتوی دیا هے ۔

۳. امامعليه‌السلام قرينه اور دليل کو فتوای صادر کرنے کے بعد ،بیان کریں که حالت تقیه میں مجھ سے یه فتوای صادر هوا هے ۔

۶۔ تقيه اورشیعوں کا اضطراب!

تقيه،جبن و اضطراب کادوسرا نام هے ،اور شجاعت اور بهادری کے خلاف هے۔ جس کی وجه سے اپنےقول و فعل میں، اورظاهر و باطن میں اختلاف کی صورت میں ظاهر هوتی هے ۔اور یه صفت ، رزائل اخلاقی کے آثار میں سے هے اور اس کی سخت مذمت هوئی هے؛ لهذا خود امام حسينعليه‌السلام نے كلمه حق کی راه میں تقيه کے حدود کو توڑ کر شهادت کیلئے اپنے آپ کو تیار کیا ۔(۱)

____________________

۱۔ دكتر علي سالوس؛ جامعه قطربين الشيعه و السنه،ص۹۲۔


جواب:

اگرشیعوں میں نفسياتي طور پر جبن، اضطراب اور خوف پایا جاتا توظالم بادشاهوں کے ساتھ ساز باز کرتے ، اور کوئی جنگ يا جهاد کرنے کی ضرورت هی پیش نهیں آتی ۔ یه لوگ بھی درباری ملاؤں کی طرح اپنے اپنے دور کے خلیفوں کے هاں عزیز هوتے ۔اور تقیه کی ضرورت هی پیش نه آتی۔

اس سے بڑھ کر کیا کوئی شجاعت اور بهادری هے که جس دن اسلام کی رهبری اور امامت کا انتخاب هونے والاتھا ؛ اس دن لوگوں نے انحرافی راسته اپناتے هوئے نااهل افراد کو مسندخلافت پر بٹھادیا ۔ اس دن سے لیکر اب تک شیعوں کا اور شیعوں کے رهنماؤں کا یهی نعره اور شعار رها هے که هر طاغوتی طاقتوں کے ساتھ ٹکرانا هے اور مظلوموں کی حمایت کرنا هے اور اسلام سے بےگانه افراد کی سازشوں کو فاش کرنا هے ۔

اگرچه شیعه تقيه کی بنیاد پر حركت کرتے هیں ؛ لیکن جهاں بھی اس بات


کی ضرورت پیش آئی که ظالم اور جابر کے خلاف آواز اٹھانا هے ؛ وهاں شیعوں نے ثابت کردیا هے که اسلام اور مسلمین اور مظلوموں کی حمایت میں اپنا خون اور اپنے عزیزوں کی جان دينے سے بھي دريغ نهيں کيا۔

شیعوں کا آئیڈیل یه هے که اسلام همیشه عظمت اور جلالت کے مسند پرقائم رهے اور امت اسلامی کے دل اور جان میں اسلام کی عظمت اور عزت باقی رهے ۔

مسلمان یه بھی یاد رکھیں! که تاریخ بشریت کا بهترین انقلاب ؛ شیعه انقلاب رها هے ۔ اور دنیا کے پاک اور شفاف ترین انقلابات ، جو منافقت ، دھوکه بازی ، مکر و فریب اور طمع و لالچ سے پاک رهیں ؛ وه شیعه انقلابات هیں جن میں مسلمان عوام اور حکومت کی عظمت اور عزت مجسم هوچکی تھی ۔اور طاغوتی طاقتوں کےمقابلے میں اس مکتب کے ماننے والوں کو عزت ملی اور شیعه، طاغوتی طاقتوں اور حکومتوں کو برکات اور خیرات کا مظهر ماننا تو درکنار ، بلکه ان کے ساتھ ساز باز کرنے سے پر هیز


کرتے تھے ۔هم کچھ انقلابات کا ذکر کریں گے ، جن کو آئمہ طاهرین نے سراهتے هوئے ان کی کامیابی کے لئے دعائیں کی هیں ۔کیونکه کسی بھی قوم کی زندگی اور بقا کا راز انهی انقلابات میں هے ۔ جن میں سے بعض یه هیں:

o زيد ابن علي کا انقلاب۔

o محمد بن عبدالله کا حجازميں انقلاب۔

o ابراهيم بن عبدالله کا بصره ميں انقلاب۔

o محمد بن ابراهيم و ابو السرايا کا انقلاب۔

o محمد ديباج فرزند امام جعفر صادقعليه‌السلام کا انقلاب۔

o علي ابن محمد فرزند امام جعفر صادقعليه‌السلام کا انقلاب۔

اسی طرح دسیوں اور انقلابات هیں ، که جن کی وجه سے عوام میں انقلاب اورشعور پید ا


هوگیا هے ۔ اور پوری قوم کی ضمیر اور وجدان کو جگایا هے ۔(۱)

امامان معصوم ان انقلابات کو مبارک اور خیر وبرکت کا باعث سمجھتے تھے ۔اور ان سپه سالاروں کي تشویق کرتے تھے ۔راوي کهتا هے :

فَدَخَلْنَا عَلَى الصَّادِقِ وَ دَفَعْنَا إِلَيْهِ الْكِتَابَ فَقَرَأَ وَ بَكَى ثُمَّ قَالَ إِنَّا للهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ عِنْدَ اللهِ أَحْتَسِبُ عَمِّي إِنَّهُ كَانَ نِعْمَ الْعَمُّ إِنَّ عَمِّي كَانَ رَجُلًا لِدُنْيَانَا وَ آخِرَتِنَا مَضَى وَ اللهِ عَمِّي شَهِيداً كَشُهَدَاءَ اسْتُشْهِدُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ وَ عَلِيٍّ وَ الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِمْ ۔(۲)

جب امام صادقعليه‌السلام کو زیدابن علی کی شهادت کی خبر ملی تو کلمہ استرجاع کے بعد فرمایا :میرے چچا واقعاً بهترین اور عزیز ترین چچا هیں ۔ اور همارے لئے دنیا اور آخرت دونوں میں چاهنے والے هیں ۔ خدا کی قسم ! میرے چچا ایسے شهید هوئے

____________________

۱ ۔ علي عباس موسوي؛ پاسخ شبهاتي پيرامون مكتب تشيع ، ص۹۷۔

۲ ۔ بحارالأنوار ، ج ۴۶،ص ۱۷۵ باب ۱۱- أحوال أولاده و أزواجه ۔


هیں ، جیسے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، علی اور حسین کےرکاب ميں شہید هوچکے هوں ۔خدا کی قسم ! انہوں نے شهادت نوش فرمائی هے ۔

ایسے کلمات آئمہ معصومین سے صادر هوئے هیں ، اور یه بهت دقیق تعبیر یں هیں که جو شیعه تفکر کی عکاسی کرتی هیں که هر ظالم و جابر حکمران کو غاصب مانتے تھے ۔اور هر حاکم ، شیعه کو اپنے لئے سب سے بڑا خطر ه جانتے تھے ۔

هم زیاده دور نهیں جاتے ، بلکه اسی بیسویں صدی کا انقلاب اسلامی ایران پر نظر ڈالتے ہیں ؛ کیسا عظیم انقلاب تھا ؟! که ساری دنیا کے ظالم وجابر ؛ کافر هو یا مسلمان ؛طاغوتی قوتیں سب مل کر اسلامی جمهوریہ ایران پر حمله آور هوئیں ؛ اگرچه ظاهراً ایران اور عراق کے درمیان جنگ تھی ، لیکن حقیقت میں اسلام اور کفر کے درمیان جنگ تھی ۔ کیونکه عالم کفر نے دیکھا که اگر کوئی آئین یا مکتب ، ان


کیلئے خطرناک هے ، تو وه اسلام ناب محمدیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اس کے پیروی کرنے والے هیں ۔ اسی لئے باطل طاقتیں اپنی تمام تر قوتوں کے ساتھ ، اسلام ناب محمدیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علمبردار یعنی خمینی بت شکن  اور ان کے انقلاب کو سرکوب کرنے پر اتر آئے ، لیکن الله تعالیٰ نے ان کو ذلیل و خوار کیا اور اسلامی جمهوریہ ایران کی ایک فٹ زمین بھی چھین نه سکے، جبکه صدام نے مغرورانه انداز ميں کها تھا که ايک هفتے کے اندر اندر تهران ميں وارد هونگے اور ظهرانه تهران ميں جشن مناتے هوئے کھائيں گے ۔

آج پوری دنیا میں اگر اسلام کا کوئی وقار اور عزت نظر آتی هے تو انقلاب اسلامی کی وجه سے هے ۔

آئیں؛ اس انقلاب سے بھی نزدیکتر دیکھتے هیں که مکتب اهل بیتعليهم‌السلام کے پیروکاروں نے کس طرح حقیقی اسلام کے دشمنوں کے ساتھ بهادرانه طور پر مقابله


کیا اور دشمن کے سارے غرور کو خاک میں ملاتے هوئے ، شکست دی ؟! میرا مقصد ؛ شیعیان لبنان (حزب الله اور ان کے عظیم لیڈر ، سید حسن نصرالله ) هیں ۔ جو کردار ،خمینی بت شکن  نے امریکا اور اسرائیل کے مقابلے میں دنیا کے مستضعفوں کی حاکمیت قائم کرنے میں ادا کیا ، وهی کردار سید حسن نصرالله نے جنایت کار اور خون خوار اسرائیل کے ساتھ ادا کیا ۔

مناسب هے که اس بارے میں کچھ تفصیل بیان کروں ،تاکه دنیا کے انصاف پسند لوگوں کو یه معلوم هو سکے که تقیه کے دائرے کو توڑ کر دشمن کے ساتھ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابله کرنے والا کون تھا ؟!

رهبر انقلاب اسلامي حضرت امام خميني  نے ایک تحقير آميز انداز میں اسرائیل کی حیثیت کو دنیا کے سامنے واضح کرتے هوئے فرمایا تھا : که اگر دنیا کے سارے مسلمان متحد هوکر ایک ایک گلاس پانی پھینکیں تو اسرائیل اس صفحہ هستی


سے مٹ جائے گا ۔ دنیا کے بهت سارے دانشمندوں اور روشن فکروں نے اس بات کا مزاق اڑایا تھا ، لیکن حزب الله لبنان کی تجربات اور مهارت نے یه بات دنیا کے اوپر واضح کردی که اسرائیل کی حکومت هزاروں ایٹمی میزائیلوں اور بموں اور جدید ترین هتھیاروں کے رکھنے کے باوجود بھی ایک باایمان اور مختصر گروه کے سامنے بے بس هوکر اپنے گٹھنے ٹیکنے پر مجبور هوگیا ۔اور شیشے کے درودیوار والے محل اور بنگلوں میں رهنے والے چھوٹے چھوٹے فلسطینی بچوں کے غلیل کی زد میں آکر پریشان اور بیچین نظر آنےلگے۔

آج پوری دنیا میں خمینی بت شکن کے افکار اور نظریات پھیل چکے هیں ؛ جس کا مصداق اور نمونه اتم ، سید حسن نصر الله اور حزب الله لبنان کی شکل میں نظرآتا هے ۔اور آپ کے اس فرمان کی ترجمانی کرتے هوئے سید حسن نصرالله نے کها:والله انّ هي( اسرائيل) اوهن من بيت العنكبوت ؛ خدا کی قسم یه اسرائیل مکڑی کی جال سے بھی زیاده نازک اور کمزور هے ۔ یه کهه کر امام خمینی کے اس


جملے( اسرائیل کو اس صفحه هستی سے مٹ جانا چاهئے ) کی صحیح ترجمانی کی ۔

هاں ! سید حسن نصر الله کیلئے یهی باعث فخر تھا که رهبر معظم و مرجع عالی قدر حضرت آیة الله العظمی سید علی خامنه ای حفظہ اللہ کے بازؤں کا بوسه لیتے هوئے ، دنیا پر واضح کررهے تھے که میں امام زمان (عج) کے نائب برحق کےشاگردوں میں سے ایک ادنیٰ شاگرد هوں۔ اس مرد مجاهد نے لبنان کے سارے بسنے والوں کو ؛ خواه وه مسلمان هویا غیر مسلمان ، شهادت طلبی کا ایسا درس دیا که سارے مرد ،عورت ، چھوٹے بڑوں نے ان کی باتوں پر لبیک کهه کرکلمه لاالٰه الا الله کی سربلندی کے لئے شهادت کی موت کو خوشی سے گلے لگایا ۔ یهی حزب الله کی جیت کی اصل وجه تھی ۔اور یه ثابت کردیا که مکتب اهل بیت کے ماننے والے هی رهبری کے لائق هیں ۔

آج پوری دنیا نے یه محسوس کرلیا هے ، خصوصاً جوانوں نے ، که حزب


الله ، شیعه هے ، اور ان کی مکتب حقه کا زیاده سے زیاده مطالعه کرنے لگے هیں ، جس کا نتیجه یه نکلا هے که حقیقی اسلام کی شناخت کیلئے دروازه کھل گیا هے ۔

نيو يورك ٹائمز لکھتا هے که : سيد حسن نصر الله نے اسرائیل کے ساتھ جنگ کرکے اپنی اور اپنی ٹیم کی شخصيت اور وقار کو حد سے زیاده بلند و بالا کیا هے ۔ اور جو چیز صفحه تاریخ سے مٹادینے کے قابل هے، وه مصر کا صدر جمال عبد الناصر کا یهودیوں کو سمندر میں پھینک دینے کا خالی اور کھوکھلا دعویٰ اور صدام کا آدھا اسرائیل کو جلانے کا جھوٹا دعویٰ تھا ؛ ان دنوں صدام کے بڑے بڑے پوسٹرز پاکستان کے مختلف شهروں کی سڑکوں پر بکنے لگے ۔ اور صدام کو صلاح الدین ایوبی کا لقب دینے لگے ۔لیکن اس نے اسرائیل کے اوپر حمله کرنے کی بجائے کویت پر حمله کر کے مسلمانوں کا مال اور خزانه لوٹ کر سب سے بڑا ڈاکو بن گیا ۔

لیکن ان کے مقابلے میں دیکھ لو که سيد حسن نصر الله، ایک عالم دین


کے لباس میں محاذ جنگ پر ایک فوجی جرنیل کا کردار ادا کرتے هوئے اپنی ٹیم کا کمانڈ کرتے هوئے نظر آتےهیں ۔

نيو يورك ٹائمز مزید لکھتا هے که : وه مشرق وسطي کاسب سے بڑا قدرت مند انسان هے ۔یه بات عرب ممالک کے کسی ایک وزیر اعظم کے مشیر نے اس وقت کهی که جب سيد حسن نصرالله ٹی وی پر خطاب کررهے تھے ۔پھر وه مشیرایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہتا هے کہ وہ جو وعدہ کرتے ہیں وہ اسے ضرور پورا کرتے هیں ۔

خود اسرائیل کے ذرائع ابلاغ نے اعلان کردیا تھا که ۳۳ روزه جنگ میں ۱۲۰ اسرائیلی فوج کو قتل اور ۴۰۰ کوشدید زخمی کردئیے ہیں، جن میں سے بھی اکثر مرنے کے قریب ہیں۔اسی طرح ۵۰ یهودی دیہاتی بھی حزب الله کے میزائلوں کی زد میں آکر مرے ہیں، اور ۲۵۰۰ افراد زخمی ہوگئے ہیں ۔حز ب الله نے یه کر


دکھایا که اس مختصر مدت میں ۱۲۰ میر کاوا ٹینک ، ۳۰ زرهی ، ۲ آپاچی هیلی کوپٹرز کو منهدم کردیا ۔

غربی سیاستمداروں ، وایٹ هاوس کے حکمران لوگ ، شروع میں حزب الله کی اس مقاومت اور مقابلے کو بهت هی ناچیز اور کم سمجھ رهے تھے ،اور ان کا یه تصور تھا که ایک هفتے کے اندر اندر حزب الله پسپا هوجائے گا ، اور اسرائیل کے سامنے گٹھنے ٹیکنے پر مجبور هوجائے گا ۔یهی وجه تھی که پهلے دو هفتے تک تو نه اقوام متحده کی جانب سے اعتراض هوا اور نه وائٹ هاؤس کی جانب سے ،اور نه کوئی سازمان كانفرنس اسلامي عرب لیگ کی جانب سے ، نه اس جنگ کو روکنے کی بات هوئی ؛ صرف یه لوگ تماشا دیکھتے رهے ، اس سے بڑھ کر تعجب کی بات یه تھي که ایک دفعه بھی اسرائیل کی ان جنایات اور غانا میں بچوں اور عورتوں کے قتل عام کرنے پر ، ایک احتجاجی جلسه بھی عرب لیگ میں منعقد نهیں هوا !!


جب امریکه کی وزیر خارجه مس کونڈولارائس سے جنگ بندی کیلئے تلاش کرنے کی اپیل کی؛ تاکه لبنان خون خرابه میں تبدیل نه هو ؛ تو اس نے بڑی نزاکت کے ساتھ کها تھا :کوئی بات نهیں ، بچه جننے کیلئے اس کی ماں کو درد زه برداشت کرنا پڑتا هے ، اسی طرح هم اس کره زمین پر ایک جدید مشرق وسطی کے وجود میں لانے کیلئے کوشاں هیں ، جس کا وجود میں آنے کیلئے کوئی ایک ملک جیسے(لبنان) خون خرابه میں تبدیل هوجائے تو ہونے دو کیونکہ یه ایک طبیعی چيز هے !!

اس بیان کے جواب میں سید حسن نصراللہ نے مناسب اور منه توڑ جواب دیتے هوئے کها : هم بھی اس ناجائز طریقے سے وجود میں آنے والے بچے کو دنیا میں قدم رکھتے هی گلا دبا کر ماردیں گے ۔

تیسرے هفتے میں دهیمے دهیمے الفاظ میں بعض ممالک کے رهنماؤں اور سیاسی لیڈروں کے منه کھلنے لگے ۔اقوام متحده کے اٹارنی جرنیل ، جیسے طولانی خواب سے بیدار هوا هو، سمجھنے لگا که لبنان میں کوئی معمولی حادثه رونما هوا هے ۔


تیسرے هفتے کے آخر میں جب حزب الله ، اسرائیل کے چار بحری کشتیوں کو منهدم کرنے میں کامیاب هوئے ، اور اسرائیل اپنے کسی بھی ایک هدف کو پهنچ نهیں پایا ؛ تو امریکه ؛ جو کسی بھی صورت میں شورائے امنیت کا جلسه تشکیل دینے کیلئے حاضر نه تھا ، ایک دم وه جنگ بندی کرنے کی خاطر اتفاق رأئے کے ساتھ شق نمبر ۱۷۰۱ کے مطابق ، میدان میں اتر آیا ؛ کیونکه اسرائیل نے امریکه اور دوسرے ممالک کی طرف سے دئے هوئے تمام تر جدید میزائل ، بمب اور دوسرے سنگین اسلحے سے لیس هونے کے باوجود ؛ حزب الله کے سامنے اپنے گٹھنے ٹیک دیے تھے، اور مزید سیاسی امداد کیلئے هاتھ پھیلا رها تھا ۔ اس ضرورت کو امریکه ، قطعنامه کے ذریعے جبران کرنا چاهتا تھا ۔

مکتب اهل بیت کے ماننے والوں کے یه سارے انقلابات ، شیعوں کی شجاعت ، دلیری اور بهادری کو ثابت کرتےهیں ۔اور یه سارے انقلابات ، اپنی ذاتی مفاد


کی خاطر نهیں تھے ، بلکه الله تعالی کے ارادے کو حاکم بنانا اور ظلم و ستم کو ختم کرنا مقصود تھا ۔

لیکن افسوس کے ساتھ کهنا پڑتا هےکه بعض مسلم ممالک کے مفتی حضرات ؛ جیسے سعودی عرب کے مفتی بن جبرین ، اور مصر کے درباری ملا ، طنطاوی ، نے فتویٰ دیا تھا که حزب الله کی مدد کرنا، بلکہ ان کے لئےدعا کرنا بھی جائز نهیں هے اور حرام هے ؛ کیونکه وه لوگ شیعه هیں ۔ اسي طرح سعودی حکومت بھي اسرائیل کے جنگی طياروں کولبنان پر حمله کرنے کیلئے پیٹرول (فیول) دیتی رهی۔

اور جب مسلمانوں کی طرف سے یه لوگ دباؤ میں آئے تو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے هوئے اپنی قوم اور ملت کے سامنے معافی مانگنے پر مجبور هو گئے ۔ اور مفتی بن جبرین نے اپنے ویب سایٹ پر غلطی کا اعتراف کرتے هوئے معافی مانگ لی ، اور کها: جو کچھ مجھ سے پهلے نقل هوا هے وه میرا قدیم اور پرانا نظریه تھا ؛ ابھی میرا جدید نظریه یه هے که یه حزب الله ، وهی حزب الله هیں جس کا ذکر


قرآن مجید میں آیا هے ۔اور هم انهیں دوست رکھتے هیں اور ان کیلئے دعا بھی کرتے هیں ۔اور طنطاوي نے بھی جب جامعة الازهر کے اساتذه نے ان کے اوپر اعتراض کئے تو ان کے سامنےکها: جو کچھ میں نے پهلے بتايا تھا وه میرا اپنا ذاتی نظریه نهیں تھا بلکه حکومت کی طرف سے کهلوایا تھا ۔ اور میرا ذاتی نظریه ان کے بارے میں یه هے که حزب الله کے مجاهدین، اس وقت اسلام ، مسلمین اور عرب امت کی عزت اور کرامت کے لئے اسرائیل کے ساتھ لڑ رهے هیں ،لهذا ان کی حمایت کرنا ضروری هے ۔

آج کے دور میں سارے عرب ممالک میں محبوب ترین اسلامی شخصیت ، سید حسن نصرالله کو ٹھہرایا جاتا هے ۔ اور هر بچه ، جو پیداهوتا هے ؛ اس کا نام حسن نصرالله رکھ رهے هیں ۔ یه بهت دلچسپ بات تھی که اس سال جب ماه رمضان المبارک کا مهینه آیا اور لوگ روزه رکھنے لگے ؛ مصر میں بهترین اور اعلیٰ درجے کے خرما یا کھجور کا نام حسن نصرالله رکھا گیا ؛تا که روزه دار، افطاری کے وقت حسن


نصرالله کو دعائیں دیں اور خراب کھجور کا نام بش اور بلر رکھا گیا۔

یه وه تاریخی حقائق هیں ، جن سے کوئی بھی اهل انصاف انکار نهیں کرسکتا ۔ اور ان حقیقتوں سے لوگ جب آشنا هوجاتے هیں تو خود بخود مذهب حقه کی طرف مائل هوجاتے هیں ، بشرطیکه درباری ملاؤں کی طرف سے مسلمانوں کوکوئی رکاوٹ درپيش نه هو۔

اب هم ان سے سوال کرتے هیں که آپ کوئی ایک نمونه پیش کریں جو آپ کے کسی سیاسی یا مذهبی رهنما نے ایسا کوئی انقلاب برپا کیا هو ، اور اپنی شجاعت کا ثبوت دیا هو، تاکه هم بھی ان کی پیروی کریں !اور همیں یقین هے که وه لوگ نه اسلام سے پهلے اور نه اسلام کے بعد ، کوئی ایسی جوان مردی نهیں دکھا سکتے ۔ کیونکه انهیں اپنی جوان مردی دکھانے کی ضرورت هی نهیں پڑی ؛ جو همیشه ظالم و جابر حکمرانوں کے کوڑوں اور تلواروں سے محفوظ رهے هیں ۔کیونکه وه لوگ همیشه


حاکموں کے هم پیاله بنتے رهے هیں اوران کی هرقسم کے ظلم وستم کی تائید کرتے رهے هیں ۔ جس کی وجه سے تقیه کا موضوع هی منتفی هوجاتا هے ۔

اگر شیعه علما بھی ان کی طرح حکومت وقت کی حمایت کرتے اور ان کے هاں میں هاں ملاتے رهتے تو ان کو بھی کبھی تقيه کی ضرورت پیش نه آتی ۔بلکه ان کیلئے تقیه جائز بھی نه هوتا ، کیونکه تقیه جان اور مکتب کی حفاظت کی خاطر کیا جاتا هے ، اور جب ان کی طرف سے جان اور مال کی حفاظت کی گارنٹی مل جاتی تو تقیه کرنے کی ضرورت هی نهیں رهتی ۔

۷۔تقيه كافروں سے کیا جاتا هے نه کہ مسلمانوں سے

اشكال کرتے هیں که تقیه کافروں سے کیا جاتا هے نه کہ مسلمانوں سے ۔ کیونکه قرآن مجید میں تقیه کا حکم کافروں سے کرنے کا هے نه کہ مسلمانوں سے ۔ چنانچه


فرمایا:

( لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُوْنِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّهِ فِي شَيْءٍ إِلاَّ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّهِ الْمَصِيرُ ) ۔(۱)

خبردار صاحبانِ ایمان !مؤمنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ اور یه تقیه ابتدائے اسلام میں تھا ، لیکن شیعه حضرات ، اهل حدیث سے تقیه کرتے هیں ۔

پهلاجواب:

یه شيعيان حيدر كرار کی مظلوميت تھی که جو مسلمانوں سے بھی تقیه کرنے اور اپنا عقیده چھپانے پر مجبور هوگئے ۔ اور یه نام نهاد

____________________

۱۔ سوره مباركه آلعمران/۲۸۔


مسلمانوں کیلئے لمحه فکریه هے که وه اپنے اعمال اور کردار اور عقیدے پر نظر ثانی کریں ۔ جو کافروں والا کام اوربرتاؤ دوسرے مسلمانوں کے ساتھ کرتا هو ، کیونکه اگر تقیه کرنے کی وجه اور علت کو دیکھا جائے تو معلوم هوجاتا هے که نتیجه یہی نکلتا هے ، اور وه دشمن کی شر سے دین، جان اور مال کی حفاظت کرنا هے

دوسرا جواب:

ظاهر آيه اس بات پر لالت کرتی هے که تقیه ان کافروں سے کرنا جائز هے جو تعداد یا طاقت کے لحاظ سے مسلمانوں سے زیاده قوی هوں ۔

لیکن شافعی مذهب کے مطابق اسلامی مختلف مکاتب فکر سے تقیه کرنا جائز هے ۔ کیونکه شافعی کے نزدیک مجوز تقیه ، خطر هے ، خواه یه خطر کافروں سے هو یا مسلمانوں سے هو ؛ فخر رازی آیۃ شریفہ

( لا ان تتقوا منهم تقاة )

کی تفسیرمیں لکھتا ہے کہ تقیہ کافروں کے مقابلے میں مباح ہے


(الا ان مذهب الشافعی ان الحالة بین المسلمین اذا شاکلت الحالة بین المشرکین حلت التقیه محاماة علی النفس(۱)

اسی طرح تفسیر نیشاپوری کہ جو تفسیر طبری کا حاشیہ ہے لکھتا ہے :

(قال الامام الشافعی:تجوز التقیة بین المسلمین کما تجوز بین الکافرین محاماة عن النفس(۲)

شیعه مسلمانوں کے هاتھوں بهت سی سختیوں اور مشکلات کو تحمل کرنے پر مجبور هوئے هیں ۔ اور یه مظلومیت ،شهادت علي ابن ابي طالبعليه‌السلام کے بعد سے شروع هوئی ۔ان دوران میں بنی امیه کے کارندوں نے شیعه مردوں عورتوں ، چھوٹے بڑوں ، حتی کہ شیعوں کے کھیتوں اور حیوانات پر بھی رحم نهیں کيا ۔آخر کار انهیں بھی آگ لگادی گئي۔

جب معاویه اريكه قدرت پر بیٹھا تو شيعيان عليعليه‌السلام کو سخت سے

____________________

۱۔ فخر رازی؛ تفسیر کبیر،ج۸،ص۱۳۔

۲۔ تفسیر نیشاپوری(حاشیہ تفسیر الطبری)،ج۳،ص۱۱۸۔


سخت قسم کی اذیتیں پهنچانا شروع کیں۔ اور ان کی زندگی تنگ کردی ۔اور اس نے اپنےایک کارندے کو خط لکھا : کہ میں علی اور اولاد علی کے فضائل بیان کرنے والوں سے اپنی ذمه بری کرتا هوں ، یعنی انهیں نابود کرتا ہوں۔

یهی خط تھا که جس کی وجه سے ان کی نماز جماعت اور جمعہ کے خطیبوں نے علی پر ممبروں سے لعن طعن کرتے هوئے ان سے اظهار برائت کرنے لگے ، یه دور،کوفه والوں پر بهت سخت گزرا، کیونکه اکثر کوفه والے علی کے ماننے والے تھے ۔ معاویه نے زیاد بن سمیه کو کوفه اور بصره کی حکومت سپرد کی ، یه ملعون شیعوں کو خوب جانتا تھا ، ایک ایک کرکے انهیں شهیدکرنا ، هاتھ پیر ، کان اور زبان کاٹنا ، آنکھیں نکالنا اور شهر بدر کرنا شروع کیا ۔

اس کے بعد ایک اور خط مختلف علاقوں میں بانٹنا شروع کیا ؛ جس میں اپنے کارندوں اور حکومت والوں کو حکم دیا گياکه شیعوں کی کوئی گواهی قبول نه کریں ۔


سب سے زیاده دشواری اور سختی عراق ، خصوصاً کوفه والوں پر کی جاتی تھی ؛ کیونکه وه لوگ اکثر شیعیان علی ابن ابی طالبعليه‌السلام تھے ۔اگر یه لوگ کسی معتبر شخص کے گھر چلےجاتے تو ان کے غلاموں اور کنیزوں سے بھی احتیاط سے کام لینا پڑتا تھا ؛ کیونکه ان کے اوپر اعتماد نهیں کرسکتے تھے ۔اور انهیں قسم دلاتے تھے که ان اسرار کو فاش نهیں کریں گے ۔ اور یه حالت امام حسن مجتبیٰ کے دور تک باقی رهی ، امام مجتبیٰ کی شهادت کے بعد امام حسینعليه‌السلام پر زندگی اور تنگ کردی۔

عبدالملك مروان کی حکومت شروع هوتے اور حجاج بن يوسف کے بر سر اقتدار آتے هی ، دشمنان امير المؤمنينعليه‌السلام هر جگه پھیل گئے اور علی کے دشمنوں کی شأن میں جعلی احادیث تحریرکرنے ، اور علیعليه‌السلام کی شأن میں گستاخی کرنے لگے۔اور یه جسارت اس قدر عروج پر تھی که عبدالملك بن قريب جو اصمعي کا دادا تھا ؛ عبدالملك سے مخاطب هوکر کهنے لگا : اے امیر ! میرے والدین نے مجھے عاق کردیا هے اور سزا کے طور پر میرا نام علی رکھا هے ۔ میرا کوئی مددگار نهیں ،


سواے امیر وقت کے ۔ اس وقت حجاج بن یوسف هنسنے لگا اور کها: جس سے تو متوسل هوا هے ؛ اس کی وجه سے تمھیں فلاں جگه کی حکومت دونگا ۔(۱)

امام باقرعليه‌السلام شیعوں کی مظلومیت اور بنی امیه کے مظالم کے بارے میں فرماتے هیں : یه سختی اور شدت معاويه کے زمانے اور امام مجتبيعليه‌السلام کی شهادت کے بعد اس قدر تھی که همارے شیعوں کو کسی بھی بهانے شهید کیا جاتا تھا اور هاتھ پاؤں کاٹے جاتے اور جو بھی هماری محبت کا اظهار کرتا تھا ان سب کو قید کرلیا جاتا تھا اور ان کے اموال کو غارت کرتے تھے ۔ اور گھروں کو آگ لگاتے تھے ،یه دشواری اور سختی اس وقت تک باقی رهی که عبید الله جو امام حسینعليه‌السلام کا قاتل هے کے زمانے میں حجاج بن یوسف اقتدار پر آیا تو سب کو گرفتار کرکے مختلف تهمتیں لگا کر شهید کر دیا گیا ۔اور اگر کسی پر یه گمان پیدا هوجائے ، که شیعه هے ، تو اسے قتل کیا جاتا تھا ۔(۲)

____________________

۱ ۔ عباس موسوي؛ پاسخ و شبهاتي پيرامون مكتب تشيع،ص۸۶۔

۲ ۔ ابن ابي الحديد؛ شرح او، ج ۱۱ ص۴۴۔


یه تو بنی امیه کا دور تھا اور بنی عباس کا دور تو اس سے بھی زیاده سخت دور اهل بیت ؑ کے ماننے والوں پر آیا ۔ چنانچه شاعر نے علیکے ماننے والوں کی زبانی یه آرزو کی هے ، که اے کاش ، بنی امیه کا دور واپس پلٹ آتا !:

فياليت جور بني مروان دام لنا و كان عدل بني العباس في النار

اےكاش ! بنی امیه کا ظلم و ستم ابھی تک باقی رهتا اور بنی عباس کا عدل و انصاف جهنم کی آگ میں جلتا۔

جب منصور سن ۱۵۸ ھ میں عازم حج هوا كه وه اس کی زندگی کا آخری سال تھا ؛ ریطه جو اپنے بھائی سفاح کی بیٹی اور اپنے بیٹے کی بیوی (بهو) تھی ، اسے اپنے پاس بلا کر سارے خزانے کی چابیاں اس کےحوالےکردیں اور اسے قسم دلائی که اس کے خزانے کو کسی کیلئے بھی نهیں کھولے گي۔اور کوئی ایک بھی اس کے راز سے باخبر نه هو،حتی کہ اس کا بیٹا محمد بھی ، لیکن جب اس کی موت کی خبر ملی تو محمد اور اس کی بیوی جا کر خزانے کا دروازه کھولا ، بهت هی وسیع اور عریض کمروں میں پهنچے ، جن میں علی کے ماننے والوں کی کھوپڑیاں اور جسم کے ٹکڑے اور


لاشیں ملیں ۔اور هر ایک کے کانوں میں کوئی چیز لٹکی هوئی تھی که جس پر اس کا نام اور نسب مرقوم تھا ۔ ان ميں بچے ، نوجوان اوربوڑھے سب شامل تھے ۔الا لعنة الله علي القوم الظالمين !۔محمد نے جب یه منظر دیکھا تو وه مضطرب هو ا اور اس نے حکم دیا که ان تمام لاشوں کو گودال کھود کر اس میں دفن کیا جائے ۔(۱)

بنی عباس کے بادشاهوں نے علیعليه‌السلام کے فضائل بیان کرنےوالے شاعروں کی زبان کاٹی ، اور ان کو زنده درگور کیا اور جو پهلے مر چکے تھے ان کو قبروں سے نکال کرجسموں کو جلادیا ۔ ان سب کا صرف ايک هي جرم تھا ؛ اوروه محبت علی کے سوا کچھ اورنه تھا ۔

شيعيان آفريقا ،معاذ ابن باديس کے دور میں سنه ۴۰۷ ھ میں سب

____________________

۱۔ عباس موسوي؛ پاسخ و شبهاتي پيرامون مكتب تشيع،ص۸۷۔


کو شهید کیاگیا اور حلب کے شیعوں کو بھی اسی طرح بے دردی سے شهید کیاگیا۔

اهل انصاف!خود بتائیں که ان تمام سختیوں ، قید وبند کی صعوبتوں اور قتل و غارت ،کے مقابلے میں اس مظلوم گروه نے اگر تقیه کر کے اپني جان بچانے کي کوشش کي ، تو کیا انهوں نے کوئی جرم کیا؟!!

اور یه بتائیں که کون سا گروه یا فرقه هے ؛ جس نے شیعوں کی طرح اتنی سختیوں کو برداشت کیا هو ؟!!


خاتمه:جمع بندی اور نتیجہ گیری

اگرچہ مقدمہ میں اس کتاب کا نچوڑ بیان گیا ہے پھر بھی جمع بندی اور نتیجہ کے طور پر کچھ اختتامی کلمات بیان کرتے ہیں:یہ کتاب ایک مقدمہ اور چھ فصلوں پر مشتمل ہے:

پہلی فصل کلیات تقیہ ہے ،جس میں تقیہ کی تعریف،اقسام، آثار ،فوائد اور شرائط بیان کیا گیا ہے۔

دوسری فصل تاریخ تقیہ سے مربوط ہے ،جس میں اسلام سے پہلے [حضرت آدم ؑ سے لے کر اصحاب کہف تک ] اور اسلام کے بعد[حضرت ابوطالب ؑ سے لے کر آئمہ طاہرینؑ اور امام زمان ؑکے خاص نائبین تک کے ] مواردشامل ہیں۔

تیسری فصل میں مذاہب اہل سنت اور تقیہ سے مربوط واقعات بیان کئے گئے ہیں ،جن میں حضرت عمر سے لے کر امام مالک،امام شافعی،حنفی اور حنبلی تک اور پھر امام بخاری سے لے کر وہابی علمائے رجال تک بیان کیا گیا ہے۔

چوتھی فصل میں تقیہ کے جائز ہونے پر قرآن کریم اور سنت نبوی سے ،ساتھ ہی


عقلی ،اور فطری دلائل بطور تفصیل بیان کیا گیا ہے۔

پانچویں فصل میں تقیہ کے حرام ہونے اور واجب ہونے کے موارد کو جدا گانہ ذکر کیا گیا ہے۔

چھٹی فصل جو اہم ترین فصل شمار ہوتی ہے جس میں ابن تیمیہ و امثال آن کی طرف سے کئے گئے اشکالات اور شبہات کو تین حصوں [الف:تشریع تقیہ ،امام معصوم اور شیعیان حیدر کرارؑ ]میں تقسیم کرکے ان کا مدلل جواب دیا گیاہے ۔ امید رب العزت ہے کہ یہ مطالب آپ اور میرے لئے مفید اور باعث ہدایت اور ثبات قدم ہو اور ساتھ ہی آپ سے یہ امید بھی رکھی جاتی ہے کہ اس میں جو بھی نقائص آپ کی نظر مبارک سے گزرے ، اس کی نشاندہی کرکے بندہ حقیر کی اصلاح فرمائیں گے۔اور مفید پیشنہادات سے نوازیں گے۔

اگر ایک جملہ میں ان بحثوں کا نچوڑ بیان کرنا چاہے تو یوں کہیں گے : کہ جو لوگ شیعوں پر تقیہ کا تہمت لگا کر مذمت کرتے ہیں وہ لوگ خود قابل مذمت ہیں جو دوسروں کو تقیہ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔


اس کا فیصلہ اہل انصاف پر چھوڑتے ہیں کہ مذمت کے قابل ہم ہیں یا وہ لوگ۔

پهلے تحریرہواہےکه تقیه کهاں واجب هے؟ کهاں مستحب هے ؟ اور کهاں حرام هے؟اور کهاں مکروه و مباح ہے؟یهاں هم بطور خلاصه ان موارد کو بیان کریں گے تا که مکمل طور پر واضح هو سکے :

تقیه کا واجب هونا :

تقیه کرنا اس وقت واجب هوجاتا هے که جب بغیر کسی فائدے کے اپنی جان خطرے میں پڑجائے ۔

تقیه کا مباح هونا:

تقیه اس صورت میں مباح هوجاتا هے که اس کا ترک کرنا ایک قسم کا دفاع اور حق کی تقویت کا باعث هو۔ ایسے مواقع پر انسان فداکاری کرکے اپنی جان بھی دے سکتا هے ،اسی طرح اسے یه بھی حق حاصل هے که وه اپنے حق سے دست بردار هوکر اپنی جان بچائے ۔


تقیه کا حرام هونا:

اس صورت میں تقیه کرنا حرام هوجاتا هے جب باطل کی ترویج، گمراهی کا سبب، اور ظلم وستم کی تقویت کا باعث بنتا هو۔ایسے موقعوں پر جان کی پروا نهیں کرنا چاهئے اور تقیه کو ترک کرنا چاهئے ۔اور هر قسم کی خطرات اور مشکلات کو تحمل کرنا چاهئے ۔

ان بیانات سے واضح هواہے که تقیه کی حقیقت کیا هے اور شیعوں کا عقلی اور منطقی نظریه سے بھی واقف هوجاتا هے ، اس ضمن میں اگر کوئی تقیه کی وجه سے ملامت اور مذامت کرنے کے لائق هے تو وه تقیه کرنے پر مجبور کرنے والے هيں ، که کیوں کہ آخر اپنی کم علمی کی وجه سے دوسرے مسلمانوں کی جان و مال کے درپے هوگئے هوں؟ او ر تقیه کرنے پر ان کو مجبور کرتے هوں؟!!پس وه لوگ خود قابل مذمت هیں ، نه یه لوگ۔کیونکه تاریخ کے اوراق یه بتاتے هیں که معاویه نے جب حكومت اسلامي کی باگ دوڑ مسلمانوں کی رضایت کے بغیر سنبھال لی تو اس کی خودخواهی اس قدر بڑھ گئی که جس طرح چاهے اور جو چاهے ، اسلامی


احکام کے ساتھ کھیلتارہے ، اور کسی سے بھی خوف نهیں کھائے ، حتی کہ خدا سے بھی !! خصوصاً شیعیان علی ابن ابی طالبعليه‌السلام کا پیچھا کرتا تھا ، ان کو جهاں بھی ملتا ، قتل کیا کرتا تھا ، یهاں تک که اگر کسی پر یه شبهه پیدا هوجائے که یه شیعه هے تو اسے بھی نهیں چھوڑتا تھا ۔ بنی امیه اور بنی مروان نے بھی اسی راه کو انتخاب کیا اور ادامه رکھا ۔بنی عباس کی نوبت آئی تو انہوں نے بھی بنی امیہ کے مظالم اور جنایات کا نہ صرف تکرار کیا بلکہ ظلم وستم کا ایک اور باب کھولا ، جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔

ایسے میں شیعہ تقیہ کرنے کے سوا کیا کچھ کر سکتے تھے؟یہی وجہ تھی کہ کبھی اپنا عقیدہ چھپاتے اور کبھی اپنے عقیدے کو ظاہر کرتے تھے۔جس طریقے سے حق اور حقیقت کا دفاع ہوسکتا تھا اور ضلالت اور گمراہی کو دور کرسکتے تھے۔ ایسے موارد میں شيعه اپنا عقيده نهيں چھپاتے تھے ، تاکه لوگوں پر حجت تمام هوجائے ۔اورحقانيت لوگوں پر مخفي نه ره جائے ۔اسي لئے هم ديکھتے هيں که


هماري بهت ساري هستياں اپنے دور ميں تقيه کو کلي طور پر پس پشت ڈالتے هوئے اپني جانوں کو راه خدا ميں قربان کرتے، اور ظالموں کی قربان گاهوں اور پھانسي کے پھندوں تک جانے کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھنے لگے ۔

تاريخ کبھي بھي مجعذراء (شام کي ايک ديہات کانام هے) کے شهداء کو فراموش نهيں کرے گي۔يه لوگ چوده افرادتھے جو بزرگان شيعه تھے ، جن کا سربراه وهي صحابي رسول تھے جن کا زهد و تقوي اور عبادت کي وجه سےجسم نحيف هوچکے تھے۔اور وه کون تھے ؟ وه عظيم نامور حجر بن عدي کنديؓ تھے ، شام کو فتح کرنے والي فوج کے سپه سالاروں ميں سے تھے ۔

ليکن معاويه نے ان چوده افراد کو سخت اذيتيں دے کر شهيد کيا ۔ اور اس کے بعد کها: ميں نےجس جس کو بھي قتل کيا ، اس کي وجه جانتا هوں ؛سوائے حجر بن عديؓ کے ، که اس کا جرم کيا تھا ؟!


ابن زياد بن ابيه جو بدکارعورت سميه کا بيٹا تھا ؛ شراب فروش ابي مريم کي گواهي کي بناپر معاويه نے اسے اپنا بھائي کهه کر اپنے باپ کي طرف منسوب کيا ؛ اسي زيادنے حکم ديا که رشيد حجريؓ کو عليعليه‌السلام کي محبت اور دوستي کے جرم ميں ، ان کے هاتھ پير اور زبان کاٹ دی جائے ۔اور درخت کی ٹهني کی سولي پر چڑھایا جائے۔

ابن زياد جو اسي زنازاده کا بيٹا تھا ، نے علي کے دوستدار ميثم تمارؓ کو مار پيٹ کے بعد اسے دونوں هاتھ اور دونوں پاؤں اور زبان کو کاٹ کر تين دن تک کچھور کے اس سوکھی ٹهني پر لٹکائے رکھا، جس کي جب سے مولا نے پيشن گوئي کي تھي اس وقت سے اس تنے کو پاني ديتا رها تھا ، اور تين دن بعد اسے بے دردي سے شهيدکيا گيا ۔(۱)

____________________

۱۔ شيعه مي پرسد، ص ۲۹۰۔


اے اهل انصاف! اب خودبتائيں که ظلم و ستم کے ان تمام واقعات ميں کون زياده قابل مذمت هے ؟! کياوه گروه جسے تقيه کرنے اور اپناعقيده چھپانے پر مجبور کيا گيا هو يا وه گروه جو اپنے دوسرے مسلمانوں کو تقيه کرنے اور عقيده چھپانے پر مجبور کرتے هوں؟!دوسرے لفظوں ميں مظلوموں کا گروه قابل مذمت هے يا ظالوں کا گروه ؟!

هر عاقل اور باانصاف انسان کهے گا : يقيناً دوسرا گروه هي قابل مذمت هے۔

آقاي كاشف الغطاء  دوسروں کو تقيه کرنے پر مجبور کرنے والوں سے سوال کرتے هيں اور جواب ديتے هيں : کيا رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابي عمر بن حمق خزاعي ؓاور عبد الرحمن ابن حسانبيؓ ، زياد کے هاتھوں« قس الناطف» ميں زنده درگورکئے جانے کو فراموش کرسکتے هيں؟!!


کيا ميثم تمارؓ ، رشيد هجريؓ اور عبدالله بن يقطرؓجيسي هستيوں کو ابن زياده نے جس طرح بے دردي سے سولي پر چڑا کر شهيد کيا ؛ قابل فراموش هے؟!

ان جيسے اور سينکڑوں عليعليه‌السلام کے ماننے والے تاريخ ميں مليں گے جنهوں نے اپني پياري جانوں کو الله کي راه ميں قربان کرنے سے دريغ نهيں کيا ۔کيونکه يه لوگ جانتے تھے که تقيه کهاں استعمال کرنا هے اور کهاں ترک کرنا هے ۔يه لوگ بعض مواقع ميں تقيه کو اپنے آپ پر حرام سمجھتے تھے۔کيونکه اگر يه لوگ ان موارد ميں تقيه کرتے تو حق اور حقيقت بالکل ختم هوجاتی ۔

آقاي كاشف الغطاء  فرماتے هيں:ميں معاويه سے يهي پوچھوں گا که حجر بن عدي ؓکا کيا قصور تھا اور اس کا کيا جرم تھا ؟ سوائے عليعليه‌السلام کي محبت اور مودت کے ، جس سے اس کا دل لبريز تھا ۔اس نے تقيه کو کنار رکھتے


هوئے بني اميه کا اسلام سے کوئي رابطه نه هونے کو لوگوں پر آشکار کرديا تھا۔ هاں اس کا اگر کوئي گناه تھا تو وه حق بات کا اظهار کرنا اپنے لئے سعادت سمجھتا تھا ۔ اور يهي اس کا مقدس اور اهم هدف تھا ، جس کي خاطر اپني جان کا نذرانه دينے سے دريغ نهيں کيا ۔(۱)

ابن اثير لکھتا هے که حجر بن عديؓ کے دو دوستوں کو پکڑ کرشام ميں معاويه کی طرف روانه کيا گيا ؛ معاويه نے ايک سے سوال کيا : عليعليه‌السلام کے بارے ميں کيا کهتے هو؟!

اس نے کها: وهي ، جو تو کهتا هے ۔

معاويه نے کها: ميں ان سے اور ان کے دين سے که جس کي وه

____________________

۱۔ اين است آئين ما، ص ۳۶۸۔


پيروي کرتا هے، اور اس خدا سے که جس کي وه پرستش کرتا هے ، بيزار هوں ۔

وه شخص خاموش رها۔اس مجلس ميں موجود بعض لوگوں نے ان کي سفارش کي، اور معاويه نے بھي ان کي سفارش قبول کرلي ۔اور اسے آزاد کرديا ۔ ليکن اسے شهر بدر کرکے موصل کی طرف بھيجا گيا ۔

معاويه نے دوسرے سے سوال کيا :تم عليعليه‌السلام کے بارے ميں کيا کهتے هو؟

اس نے کها: مجھے چھوڑ دو ، نه پوچھو توبهتر هے ۔

معاويه نے کها: خدا کي قسم تمهيں جواب دئیے بغير نهيں چھوڑوں گا ۔


اس مرد مجاهد نے کها: ميں گواهي ديتا هوں علي بن ابي طالبعليه‌السلام ان لوگوں ميں سے تھے جو الله تعالي کو بهت ياد کرتے تھے اور حق بات کي طرف لوگوں کو دعوت ديتے تھے ، عدل اور عدالت کے قيام کے لئے کوشان تھے،عليعليه‌السلام ان ميں سے تھے جو لوگوں کي دادو فرياد سنتے تھے ،۔۔۔ اس طرح وه فضائل عليعليه‌السلام بيان کرتے گئے اور لوگ انهيں داد ديتے گئے ۔يهاں تک که معاويه نے کها : تو نے اپنےآپ کو هلاکت ميں ڈالا ہے۔

اس محب عليعليه‌السلام نے کها:بلکه ميں نے تجھے بھي هلاک کيا، يعني لوگوں کے سامنے تجھے بھي ذليل و خوارکيا۔

معاويه نے حکم ديا که اس شخص کو زياد بن ابيه کے پاس واپس بھيج دو، تاکه وه اسے بدترين حالت ميں قتل کردے !

زياد بن ابيه ملعون نے بھي اس محب عليعليه‌السلام کو زنده درگور کيا ۔


اگر يه لوگ تقيه کرتےتو لوگوں تک عليعليه‌السلام کے فضائل نه پهنچتے ، اور دين اسلام معاويه ، يزيداور ابن زياد والا دين بن کر ره جاتا۔يعني ايسا دين ؛ جو هر قسم کے رزائل ( جيسے مکرو فريب ، خيانت ومنافقت،ظلم و بربريت ،۔۔۔) کا منبع هوتا ۔اور يه دين کهاں اور وه دين جو تمام فضليتوں کامنبع هے، جسے رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے لايا اسےعليعليه‌السلام اور اولاد علي  نے بچايا اور ان کے دوستوں نے قيامت تک کيلئے حفاظت کي ؛ کهاں؟!!!

هاں يه لوگ راه حق اور فضيلت ميں شهيد هونے والے هيں ۔ جن ميں سے ايک گروه شهدائے طف هے ، جس کا سپه سالار حسين  هيں ، جنهوں نے کبھي بھي ظلم وستم کو برداشت نهيں کيا ، بلکه ظالموں کے مقابلے ميں بڑي شجاعت اور شهامت کے ساتھ جنگ کي ، اور تقيه کو اپنے اوپر حرام قرار ديا ۔


اب ان کے مقابلے ميں بعض عليعليه‌السلام کے ماننے والے تقيه کرنے پر مجبور تھے ، کيونکه شرائط،اوضاع واحوال اور محيط فرق کرتا تھا۔بعض جگهوں پرمباح ، يا جائز سمجھتے تھے اور بعض جگهوں پر واجب يا حرام يا مکروه۔

اب هم مسلمانوں سےيهي کهيں گے که آپ لوگ دوسرے مسلمانوں کو تقيه کرنے پر مجبور کرتے هو اور پھر کهتے هو که شيعه تقيه کيوں کرتے هيں ؟آپ کوئي ايسا کام نه کريں ، که دوسرے مسلمان تقيه کرنے پر مجبور هوجائيں ۔

ان لوگوں کو کيا غم ؟!

چاليس هجري سے ليکر اب تک شيعه اور ان کے اماموں نے رنج و الم، اذيت اورآزارميں زندگي بسرکی۔کسي نے زندگي کا بيشتر حصه


قيد خانوں ميں گزارا ، کسي کو تيروں اور تلواروں سے شهيد کيا گيا، تو کسي کو زهر ديکر شهيد کيا گيا ۔ان مظالم کي وجه سے تقيه کرنے پر بھي مجبور هوجاتےتھے۔

ليکن دوسرے لوگ معاويه کي برکت سے سلسله بني اميه کے طويل و عريض دسترخوان پر لطف اندوز هوتے تھے ، اس کے علاوه مسلمانوں کے بيت المال ميں سے جوائز اور انعامات سے بھي مالامال هوتے تھے ،اور بني عباس کے دور ميں بھي يه برکتوں والا دسترخوان ان کيلئے بچھا رهتا تھا ۔يهي وجه تھي که ان نام نهاد اور ظالم وجابر لوگوں کو بھي اولي الامر اور واجب الاطاعة سمجھتے تھے ۔اس طرح يزيد پليد ، وليد ملعون اور حجاج خونخوار کو بھي خلفائے راشدين ميں شامل کرتے تھے ۔

خدايا !ان کی عقل کو کیا ہوگیا ہے ؟ یہ لوگ دوست کوبھی رضی اللہ اور


دشمن کو بھی رضی اللہ۔ علیعليه‌السلام کوبھی خلیفہ اور معاویہ کوبھی خلیفہ مانتے ہیں، جب کہ ان دونوں میں سے صرف ایک برحق ہوسکتا ہے ۔ اگر کہیں کہ ان کے درمیان سیاسی اختلاف تھا ؛ تو سب سے زیادہ جوطولانی جنگ مسلمانوں کے درمیان ہوئی ،وہ جنگ صفین ہے ، جس میں سینکڑون مسلمان مارے گئے۔ اور جہاں مسلمانوں کاقتل عام ہورہاہو؛ اسے معمولی یا سیاسی اختلاف سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔

اسی طرح یزید کو بھی رضی اللہ عنہ اور حسین کو بھی رضی اللہ عنہ ، عمر بن عبدالعزیز کو بھی رضی اللہ عنہ اور متوکل عباسی اور معتصم کو بھی رضی اللہ عنہ؟ یعنی دونوں طرف کو واجب الاطاعۃ سمجھتے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف اور قانون ہے ؟ اور کون سا عاقلانہ کام ہے ؟

سؤال يه هے که کيا يه لوگ بھي کوئي رنج و الم ديکھيں گے ؟!


ليکن اس بارے ميں اماميه کا کيا عقيده هے؟ ذرا سن ليں : شيعه اسے اپنا امام اور خليفه رسول مانتے هيں جوالله اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کي جانب سے معين هوا هو ، نه لوگوں کے ووٹ سے۔اس سلسلے ميں بهت لمبي بحث هے ، جس کيلئے ايک نئي کتاب کي ضرورت هے ۔

خلاصه کلام يه هے که شيعه هر کس وناکس کو خليفه رسول نهيں مانتے؛ بلکه ايسے شخص کو خليفه رسول مانتے هيں ، جو خود رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کي طرح معصوم هو اور خود رسول پاک نے منتخب کیا ہو۔

هم کهتے هيں که ٹھيک هے هم تقيه کے قائل هيں ،ليکن هم پر اعتراض کرنے والے هميشه حاکم وقت کي چاپلوسي کرنے ميں مصروف رہے هيں۔اور آپ کوئي ايک مورد دکھائيں ، که جس ميں اپنا کوئي دینی رہنما نے ظالم و جابر حاکم کو نهي از منکر کرتے هوئے اسے ناراض کيا هو؟!

اس کے باوجود که آپ کے بهت سے علما ءجو درباري تھے ، جب بني اميه کا حاکم وليد ، بقول آپ کے،اميرالمؤمنين مستي اور نشے کي حالت


ميں مسجد ميں نماز جماعت کراتا هے اور محراب عبادت کو شراب کي بدبو سے آلوده کرتا هے اور صبح کي نمازچار رکعت پڑھا تا هے ، جب لوگ کانافوسي کرنے لگتے هيں تو وه پيچھے مڑ کر کهتا هے : اگر رکعتیں کم هوئیں تو اور چار رکعت پڑھا دوں؟!کوئي بھي حالت تقيه سے نکل کر اسے روکنے يا نهي از منکر کرنے والا نهيں هوتا ! !

اگرعليعليه‌السلام کے هزاروں شيعوں کاخونخوارقاتل حجاج بن يوسف جو آپ کی نگاهوں ميں اولوالامر هے ، کے ساتھ گفتگو سننا چاهتے هو تومعلوم هوجائے گا که کن کن هستيوں نے اس ظالم و جابر کے ساتھ آنکھوں ميں آنکھيں ڈال کر باتیں کي ہیں ؟!

بڑے بڑے دانشمندوں جيسے شهيد اول محمد بن مکي عامليؓ ، کو پهلے تلوار سے شهيد کيا گيا ،پھر لاش کو سولي پر لٹکا رکھا ، پھر اسے دمشق کے قلعے ميں لے جاکرجلايا گيا! !


اسي طرح شهيد ثاني زين الدين بن علي عاملي  کوشهيدکيا گيا۔

قاضي نورالله شوستري  جوشهيد ثالث کے نام سے معروف هے ، اسے هندوستان ميں شهيد کيا گيا۔

سيد نصر الله حائري  جو نادرباد شاه کا سفير تھا ، جوصرف اور صرف شيعه هونے کي وجه سے شهيد کيا گيا ۔(۱)

عراق میں صدام نے دس لاکھ سے زياده شيعوں کا قتل عام کيا اور بهت سے لوگوں کا پورا گھرانه تباه کيا اور آج بھی خودکش حملے کرکے بے گناہ لوگوں کو بے دردی سے شہید کر رہے ہیں۔

بحرین میں دیکھیں آل خلیفہ سعودی فوج کی مدد سے شیعوں کو خاک و خون میں نہلا رہےہیں۔

____________________

۱۔ محب الاسلام؛ شيعه مي پرسد، ج۲، ص ۲۹۳۔


یمن میں دیکھیں اب تک کتنے بے گناہ لوگ سعودی ظلم و بربریت کے نشانہ بنے ہیں؟

سوریہ میں دیکھیں ،جہاں وہابیت نے داعش کے نام سے شیعوں پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہوا ہے؟!!

افغانستان میں دیکھیں ،طالبان نے شیعیان حیدر کرار کا قتل عام کرکے ان کے املاک پر قبضہ کیا اور ان کے کئی ہزار جوان لڑکیاں بطور کنیز اپنے آقاؤں کو پیش کی گئیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں خصوصاً کراچی میں ۸۰۰ سے زائد ڈاکٹر ، انجنئیر ،تاجر اور علمائے کرام چیدہ چیدہ افراد کو شہید کیا گیا ۔کئی مسجدیں شہید کی گئیں ۔ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے سینکڑوں علی ؑکے ماننے والوں کو بسوں سے اتار اتارکر شہید کیا گیا۔ اسی طرح جامع مسجدکوئٹہ میں بموں کے ذریعے سینکڑوں نمازیوں کو خانہ خدا میں خاک و خون میں نہلایا گیا۔

کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے تافتان کے راستے میں زائرمؤمنین کے بسوں کو


راکٹ لانچرز کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا ۔

سیالکوٹ میں جمعہ کی نماز کے دوران ایک خودکش حملہ آور نے ۷۰ نمازیوں کو خاک وخون میں نہلایا۔

مختلف شہروں میں مظلوم کربلا اباعبداللہ الحسین ؑ کے عاشور کے جلوسوں میں خودکش حملہ آوروں کے ذریعے بے گناہ عزاداروں کو شہید کیا گیا ۔

پشاور اور پاڑاچنار جیسے شہروں میں جہاں ان قاتلوں کو جب افغانستان سے نکالا گیا تھا اور بے سروسامانی کے عالم میں پاڑا چنار پہنچے تھےتو وہاں کے شیعوں نے انہیں مسلمان ہونے کے ناطے قیام و طعام کا بندوبست کرکے زمین اور گھر دئے لیکن ان احسانات کا صلہ انہوں نے شیعوں کے مراکز پر حملہ کرکے شیعہ نسل کشی کی صورت میں دیا ۔

گلگت بلتستان جو امن کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے، اس خطے کے امن و امان کوتباہ کرنے کے لئے وہاں کے پنڈی سے جانے والے خالی ہاتھ مسافروں کو کوہستان ، چلاس اور استور کے علاقوں میں جہاں یہ یزیدی لوگ زندگی بسرکرتے ہیں ،بسوں سے اتار


اتارکر شناختی کارڈ چیک کرتے ہوئے لائن میں کھڑا کرکے بزدلانہ طور پر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ۔

ان تمام مظالم ، جرائم اور قتل وغارت گري کے باوجود يه لوگ پوچھتے هيں که شيعه تقيه کيوں کرتے هيں ؟!جب که اس سے پهلے اپنے آپ سے پوچھنا چاهئے که شيعوں کو تقيه کرنے پر مجبورکيوں کرتے هيں؟!!

آخر ميں الله تعالي کي بارگاه ميں دست به دعا هوں که الله هم سب کو راه مستقيم پرثابت قدم رکھے اور جو بھي هدايت کے طلب گار هيں انهيں هدايت کے راستے پر گامزن فرمائے۔ آمين ۔

والسّلام علی من اتبع الهدی

(تمت بالخیر)


كتاب نامه

القرآن الکريم

۱. ابن ابي الحديد؛ شرح نهج البلاغه، تحقيق ،محمد أبو الفضل ابراهيم، دار إحياء الكتب العربية ۱۳۷۸ ۔

۲. ابن ابی العز،علی بن علی،قاضی دمشق ؛ شرح العقیده الطحاویه، دارالکتب العلمیہ، ۲۰۰۹ ۔

۳. ابن الجوزي، م ۵۹۷ ؛ زاد المسیر ،تحقيق : محمد بن عبد الرحمن عبد الله ، دار الفكر, چ ۱۴۰۷

۴. ابن تيميه؛ منهاج السنه النبويه في نقض الشيعه و القدريه ، مكتبه الخياط، بيروت۔

۵. ابن حزم علی ابن محمد؛ الْمُحَلَّى بِالآثَارِ،دارالفکر ، ۱۴۲۱ ۔

۶. ابن شہر آشوب،مناقب آل ابیطالب،قم،کتابفروشی مصطفوی،ج ۴ ،ص ۴۳۷ ۔

۷. ابن عربی، تحقيق : محمد عبد القادر عطا؛ احکام القرآن؛ ناشر : دار الفكر للطباعة والنشر۔

۸. ابن عطیہ عبدالحق؛المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز،دارالکتب العلمیہ، ۱۴۲۸ ۔

۹. ابن كثير، اسماعيل بن عمرو؛ تفسير القرآن العظيم،تحقيق: محمد حسين شمس الدين‏، دار الكتب العلمية، بيروت‏، ۱۴۱۹ ۔ ‏

۱۰. ابن ماجہ،محمد بن یزید؛سنن ابن ماجه، دارالفکر، ۱۴۲۱ ہ

۱۱. ابن منظور، جمال الدين؛ لسان العرب ، نشر ادب الحفده، ۱۴۰۵ ۔

۱۲. ابن نجیم زین الدین ؛ الاشباه و النظایر فی قواعد و فروع الفقه الشافعی؛ دارالفکر المعاصر، ۱۴۲۰ ۔

۱۳. ابن هشام؛ السنة النبويه

۱۴. ابوعبدالله محمد بن احمد ابن ادریس شافعی، احکام القرآن، دارالقلم،بے تا۔

۱۵. احسان الهي ، ظهير ؛ السنه و الشيعه۔ پاكستان۔

۱۶. أحمد بن عبد الله الأصبهاني ؛ حيلة الاولیاءوطبقات الأصفياء دار الكتاب العربي ،بيروت، ۱۴۰۵ ۔

۱۷. اميني، عبد الحسين؛ الغدير ، چ ۲ ، تهران، ۱۳۳۶ ۔

۱۸. انصاری ،شیخ اعظم و امام خمینی؛التقيه في رحاب العلمين، الامانةالعامه للمؤتمر، ۱۳۷۳ ۔

۱۹. آلوسی سيد محمود، ابوالفضل؛ روح المعانی دارالكتب العلميه - بيروت، چاپ اول، ۱۴۱۵ ق۔

۲۰. بیضاوی عبداللہ بن عمر؛ انوار التنزیل و اسرار التأویل، دار الصادر، ۱۳۸۰ ۔

۲۱. پيشوائي، مهدي؛ سيره پيشوايان، مؤسسه امام صادق، قم، ۱۳۷۶ ۔

۲۲. تفسیر الحسن البصری،

۲۳. ثامر هاشم العمیدی ؛ تقيه از دیدگاه مذاهب وفرقه های اسلامی غیر شیعی، مترجم سید محمد صادق عارف، آستان رضوی، مشھد، ۱۳۷۷ ۔

۲۴. ثقة الاسلام كلينى، الكافي، ۸ جلد، دار الكتب الإسلامية تهران، ۱۳۶۵ هجرى شمسى‏

۲۵. جعفر سبحاني؛ مع الشيعه الاماميه في عقائدهم، حوزه علميه قم۔

۲۶. حجتي، محمد باقر؛ تاريخ قرآن كريم، نشر فرهنگ اسلامي، ۱۳۶۰ ۔

۲۷. حر عاملي، محمد بن الحسن؛ وسائل الشيعه، اسلاميه،تهران، ۱۳۸۷ ه

۲۸. داوود؛ ترجمه الطرائف،چ ۲ ، نوید اسلام، قم ، ۱۳۷۴ ش۔

۲۹. سالوس، علي؛ بين الشيعه و السنه ، دار الاعتصام،قاهره۔موسسه الهادي؛

۳۰. بیهقی احمد بن الحسین ؛السنن الکبری ، دارالفکر ،بیروت، ۱۴۱۹ ۔

۳۱. سيد على بن موسى بن طاوس ؛ الطرائف، چاپخانه خيام قم، ۱۴۰۰ هجرى قمرى

۳۲. السيد محمد صادق الروحاني; فقه الصادقعليه‌السلام ،ناشر مؤسسة دار الكتاب قم، ۱۴۱۲ ۔

۳۳. شیخ انصاري، مرتضي؛ رسائل و مكاسب،جامع المدرسين، ۱۳۷۵ ۔

۳۴. شيخ صدوق، من لا يحضره الفقيه، ۴ جلد، انتشارات جامعه مدرسين قم، ۱۴۱۳ هجرى قمرى‏

۳۵. شيخ مفيد;تصحيح اعتقادات الإمامية تحقيق : حسين درگاهي چ ۲ , دار المفيد، بيروت ، ۱۴۱۴ ۔

۳۶. محمد علي،صالح المعلم؛ التقيه في فقه اهل البيت،ج ۱ ، ص ۶۶ ۔

۳۷. طبری ابو جعفر محمد بن جرير ؛جامع البیان فى تفسير القرآن، دار المعرفه: بيروت: ۱۴۱۲ ق‏۔

۳۸. عبد الله بن قدامه; المغني، م ۶۲۰ ، چ، جديد,ناشر دار الكتاب العربي ، بيروت ، لبنان۔

۳۹. عروسى ،حويزى عبد على بن جمعه ؛ تفسير نور الثقلين، انتشارات اسماعيليان، قم ، ۱۴۱۵ ق‏۔

۴۰. علامه مجلسى، بحار الأنوار، ۱۱۰ جلد، مؤسسة الوفاء بيروت - لبنان، ۱۴۰۴ هجرى قمرى‏

۴۱. علوي، عادل؛ التقيه بين الاعلام، مؤسسه اسلاميه ، قم، ۱۴۱۵ ۔

۴۲. علي تهراني؛ تقيه در اسلام ، انتشارات طباطبائي، ۱۳۵۲ ۔

۴۳. غزالى، محمد بن محمد؛ احياء علوم الدين،مترجم: خوارزمى، مويدالدين ،انتشارات علمى و فرهنگى‏: تهران۔

۴۴. غفاري ،ناصر؛ اصول مذهب الشيعه الاماميه، مجمع جہانی اہل البیتؑ،قم ۱۴۱۳ ۔

۴۵. فخر رازي ؛ المحصول ،تحقيق : دكتر طه جابر فياض ,الثانية, مؤسسة الرسالة ، بيروت، ۱۴۱۲ ،

۴۶. فخر رازی محمد بن عمر ؛ تفسیرکبیر دار احیاء التراث العربی، ۱۴۲۲ ۔

۴۷. فخر رازی محمد بن عمر؛ مناقب الشافعی ،مکتبۃ الازھریہ للتراث ، ۲۰۰۸ ۔

۴۸. كاشف الغطاء، محمد حسين؛ اين است آئين ما ، انتشارات سعدي، تبريز، ۱۳۴۷ ۔

۴۹. كمال جوادي؛ فهرست ايرادات و شبهات عليه شيعيان در هند و پاكستان،

۵۰. مالک بن انس ؛ المدونة الکبری،مطبعة السعادة،دار احياء التراث، بيروت ، لبنان۔

۵۱. مامقانی،عبداللہ؛ تنقيح المقال في علم الرجال، موسسہ آل البیت،قم۔

۵۲. متقی هندی علی ابن حسام الدین ، کنزالعمال، موسسہ الرسالہ، ۱۴۰۵ ۔

۵۳. مجله نور علم، ش ۵۰ ـ ۵۱ ، ص ۲۴ ـ ۲۵ ۔

۵۴. محب السلام؛ شيعه مي پرسد ، بي نا ، تهران، ۱۳۹۸ ۔

۵۵. محسن امين، عاملي؛ نقض الوشيعه ، الشیعہ بین الحقائق و الاوھام،موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۳ ۔

۵۶. محمد بن اسماعيل، بخاري؛ صحیح بخاری، دارالطباعة العامره استانبول، دارالفکر ، ۱۴۰۱ ه

۵۷. محمد بن مكى عاملى( ۷۸۶ ه ق) ؛ القواعد و الفوائد،: ‏ناشر: كتابفروشى مفيد چاپ‏۱: قم- ايران۔

۵۸. حاکم نیشاپوری،محمد بن عبداللہ؛ المستدرک علی الصحیحین،دارالکتب العلمیہ ،بیروت، ۱۴۱۱ ہ

۵۹. مسعودی،اثبات الوصیہ،نجف،المکتبۃ الحیدریۃ،بی تا۔

۶۰. طبرانی،سلیمان بن احمد؛ المعجم الکبیر ،دارالحدیثیہ ، ۱۹۸۴ ۔

۶۱. معلمي، محمد علي؛ التقيه في فقه اهل البيت ، تقريرات آية الله مسلم الداوري، قم، ۱۴۱۹ ۔

۶۲. مكارم شيرازي،ناصر؛ تقيه سپري براي مبارزه عميقتر ، مطبوعاتي صدف، قم، بي تا۔

۶۳. مکارم شیرازی، ناصر؛ شیعہ پاسخ می گوید،انتشارات امام علی بن ابیطالب ،قم، ۱۳۸۷ ۔

۶۴. موسوى، فخار بن معد، إيمان أبي طالب (الحجة على الذاهب إلى كفر أبي طالب) ، دار سيد الشهداء للنشر ، قم، چاپ: اول، ۱۴۱۰ق.

۶۵. موسوي، علي عباس؛ پاسخ و شبهاتي پيرامون مكتب تشيع ، سازمان تبليغات، قم، ۱۳۷۱ ۔

۶۶. موسوي، موسي؛ الشيعه و التصحيح ، طبع لوس انجلوس ، ۱۹۸۷ ۔

۶۷. نعمت الله صفری؛ نقش تقيه در استنباط، بوستان کتاب قم، ۱۳۸۱ ۔

۶۸. نوبختي،حسن بن محمد؛ فرق الشيعه ، مکتبۃ الرضویہ، ۱۹۳۶ ۔

۶۹. نیشاپوری؛ تفسیر نیشاپوری، حاشیہ تفسیر طبری۔

۷۰. يزدي،محمود ؛ انديشه هاي كلامي شيخ طوسي،دانشگاه رضويه، ۱۳۷۸ ۔

۷۱. يعقوبي، ابن الواضح؛ تاريخ يعقوبي ، مكتبه المرتضويه، عراق، النجف۔

۷۲. راغب اصفهاني ؛ مفردات، بدع۔


خلاصه کتاب به زبان فارسی

تقیه ایک قرآنی،عقلی، اور فطری حکم هے،جسے هر عاقل انسان تسلیم کرتا هے ،لیکن ایک متعصب گروه[وهابیت]شیعیان حیدر کرار کی دشمنی میں اس حکم[تقیه] کا اصلی چهره بگاڑ کے منافقت،جھوٹ،بزدلی،وغیره سے تشبیه دے کر مکتب حقه کے پیروکاروں پر مختلف قسم کی تهمتیں لگانے لگے اور دوسرے مکاتب فکر والوں کو مکتب اهل بیت سے دور کرنے کی سازش کرنے لگے۔اسی کے پیش نظر ان کے عزائم کو برملا کرنے کے لئےکتاب حاضر تالیف کی گئی هے،تاکه ان غلط فهمیوں کو دور کرسکے۔لذا تقیه کی تعریف،شرائط،اقسام، آثار اور اس کی مشروعیت کو چاروں ادله کی روشنی میں بیان کئے گئے هیں۔اسی طرح اس کی تاریخی حیثیت والی بحث میں انبیاء اور اولیائے الهی نے جهاں جهاں تقیه کئے هیں،آیات ، روایات سمیت ذکر کیا هے۔میری نظر میں یهی دشمن تشیع کے لئے منه توڑ جواب ثابت هوگا۔ اس کتاب کی آخری حصه میں وهابیت خصوصاً ابن تیمیه کی طرف سے کئے گئے اشکالات کو بیان کرکے ان کےمدلل جوابات بھی دئے گئے هیں۔

انشاء الله یه ادنی سی کاوش بارگاه حق اور اهل بیت اطهار کے حضور میں قابل قبول هو ۔اور بنده حقیر اور قارئین محترم جو حقائق کے تلاش میں رهتے هیں ، کے لئے باعث اجر و ثواب هو۔

والسلام علیکم ورحمة الله

غلام مرتضی انصاری

۲۶/ ربیع الثانی ۱۴۳۹ هجری


خلاصه کتاب بزبان فارسی

تقیه،حکمی است اسلامی،قرآنی و عقلائی ،حتی فطری۔و هیچ فرد یا گروهی از ایمان و اعتقادبه آن،دریغ ندارند۔و در عین حال افراد گمراه تلاش کرده اند که این حکم قرآنی را بگونه ای دیگر[وارونه]مطرح کنند و چهره اسلامی تقیه را دگرگون سازند۔و این بیمار دلان[وهابیت]خواسته ان مشروعیت تقیه را متهم سازند به نفاق،کذب،خلاف شجاعت و۔۔۔درحالیکه می دانید یک حکم تاسیسی اسلام نیست بلکه حکم امضائی اسلام است که قبل از اسلام هم بوده ۔ادله این مطلب را از حضرت آدم تا پیامبر اسلام فرداً فرداًبیان کرده است۔ وبخاطر روشن شدن مطلب انواع و اقسام تقیه را مفصل بیان کرده است ۔ همین طور تاریخچه،شرائط،آثار، ۔۔۔ را بطور واضح و روشن آورده شده۔ در آخر اشکالات و اعتراضات دشمن[وهابیت خصوصاًابن تیمیه]را باذکر جواب دندان شکن بیان کرده است۔

انشاء الله این اثر برای قارئین محترم و بنده حقیر مفید خواهد بود۔

لازم به ذکر است که با این تفصیلی درزبان اردو برا ین موضوع کار نشده ۔لذا امید وارم که برای اردو زبان خیلی مفید باشد۔

والسلام علیکم ورحمة الله

غلام مرتضی انصاری

۲۴/۱۰ ۔ ۹۶ ۔


فہرست

مقدمه ۵

پہلی فصل : کلیاتِ تقیہ ۹

تقیہ کی تعريف ۹

شيخ انصاري  اور تقیہ کی تعریف ۱۰

شهيد اول  اورتقيه کی تعريف ۱۱

تقيه کی جامع اور مانع تعريف ۱۲

تقیہ یعنی مصلحت اندیشی ۱۳

تقیہ کے مزید نام: ۱۴

تقيه کے اقسام ۱۵

۱۔تقیہ خوفیہ ۱۵

۱ ـ تقيه خوفيه کی پہلی دلیل: ۱۷

۲ ـ تقيه خوفيه کی دوسری دلیل: ۱۸

۲۔تقيه اكراهيه ۲۰

۳ ۔تقيه كتمانيه ۲۴

تقيه كتمانيه پر دلیل : ۲۵

۴ ۔تقيه مداراتي يا تحبيبي ۲۷

تقيه مداراتي کے شرعی جواز پر دلیلیں: ۲۸

تقيه اور توريه میں موازنه ۳۳


تقيه ، اكراه اور اضطرارکے درمیان تقابل ۳۴

تقيه کے آثارا ور فوائد ۳۶

شہیدوں کے خون کی حفاظت ۳۶

اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت اور تقویت ۳۷

تقيه کے شرائط ۴۰

دوسری فصل : تقيه تاريخ کے آئینے میں ۴۳

الف:ظهوراسلام سے پهلے تقیہ ۴۳

حضرت آدم عليه‌السلام اور تقيه ۴۵

حضرت ابراهيمؑ او رتقيه ۴۷

حضرت يوسف عليه‌السلام اور تقيه ۵۱

حضرت موسی عليه‌السلام اورتقيه ۵۴

مؤمن آل فرعون اور تقيه ۵۷

آسيه بنت مزاحم اور تقيه ۶۰

اصحاب كهف او رتقيه ۶۱

ب:ظهور اسلام کے بعد تقيه ۶۴

ابو طالبؑ اور تقيه ۶۶

پیغمبر اكرم (ص) ا ور تقيه ۷۷

علي عليه‌السلام اور تقيه ۷۸

امام حسن ، امام حسین ،امام سجاد  اور تقيه ۷۹

امام باقر عليه‌السلام او رتقيه ۸۱


امام صادق عليه‌السلام اور تقيه ۸۳

پہلاحصہ: ۸۳

دوسرا حصہ : ۸۳

تیسرا حصہ: ۸۳

امام موسي کاظم ؑ اور تقيه ۸۹

امام رضا عليه‌السلام اور تقيه ۹۲

امام هادي عليه‌السلام اور تقيه ۹۵

امام جواد عليه‌السلام اور تقيه ۹۷

امام حسن العسكري عليه‌السلام اور تقيه ۹۸

حضرت حجت(عج) اور تقيه ۱۰۳

۱۔ ابو عمرو عثمان ابن سعيد عمري ۱۰۴

۲۔ ابو جعفر محمد بن عثمان ۱۰۴

۳۔ ابو القاسم حسين بن روح ۱۰۵

۴ ـ علي ابن محمد السمري  ۱۰۶

تیسری فصل:مذاہب اہل سنت اورتقيه ۱۰۹

تقيه اور احاديث اهل سنت ۱۱۵

تقیہ اور صحابہ کانظریہ ۱۱۸

عمر بن خطاب (ت ۲۳ ھ) اور تقیہ ۱۱۸

عبد اللہ ابن مسعود(ت ۳۲ ھ)اور تقیہ ۱۲۰

ابو الدرداء(ت ۳۲ ھ)اور تقیہ ۱۲۲


ابو موسی اشعری(ت ۴۴ ھ)اور تقیہ ۱۲۲

ثوبان (ت ۵۴ ھ) غلام پیغمبر اور تقیہ ۱۲۳

ابو ہریرہ (ت ۵۹ ھ) اور تقیہ ۱۲۳

فقہ مالکی اورتقیہ ۱۲۴

فقہ حنفی اورتقیہ ۱۲۵

پہلا مورد: ۱۲۶

دوسرا مودر: ۱۲۷

تیسرا مورد: ۱۲۸

چوتھا مورد : ۱۲۸

فقہ شافعی اورتقیہ ۱۲۹

فقہ حنبلی اورتقیہ ۱۳۰

امام شافعی اور تقیہ ۱۳۲

امام مالك او رتقيه ۱۳۴

ابو بكرا ور تقيه ۱۳۵

امام احمد بن حنبل اور تقيه ۱۳۶

حسن بصری (ت ۱۱۰ ھ)اور تقیہ ۱۳۹

بخاری (ت ۲۵۶ ھ) اور تقیہ ۱۳۹

وہابی مذہب کے علمائےرجال اور تقیہ ۱۴۱

چوتھی فصل : جوازتقيه کےدلائل ۱۴۳

مقدمه ۱۴۳


الف: قرآن ۱۴۵

کیا تقيه سے انکار ان آیتوں کا انکار نہیں؟! ۱۵۳

ب: سنت ۱۵۶

۱۔تقيه، پیغمبر عليه‌السلام کی تدبير ۱۵۷

۲ ۔تقيه،اعلیٰ اهداف کے حصول کا ذریعہ ۱۵۷

۳۔ جنگ موته میں تقيه کاکردار ۱۵۹

۴۔ فتح مكه میں تقيه کا کردار ۱۵۹

۵ ۔ تقيه دشمنوں کے مقابلے میں دفاعی وسیلہ ۱۶۰

۶ ۔تقيه مؤمن کی ڈھال ہے ۱۶۱

۷ ۔ تقيه پیغمبروں کی سنت ۱۶۳

۸ ۔تقيه ،مجاهدوں کا مقام ۱۶۴

۹ ۔ تقيه ،مسلمانوں کےحقوق کی حفاظت ۱۶۵

ج ۔ عقل ۱۶۶

۱۔دفع ضرر ۱۶۷

۲ـ مہم پر اہم کا مقدم کرنا ۱۶۸

د : فطرت ۱۷۰

ه : اجماع ۱۷۳

پانچویں فصل : ۱۷۶

وجوب وتحریم تقيه کے موارد اوران کا فلسفه ۱۷۶

وہ موارد جہاں تقیہ کرنا واجب ہے ۱۷۶


۱۔ طاقت کی محافظت کرنا ۱۷۷

۲۔ پروگرام کو چھپانا ۱۷۹

۳ ـ دوسروں کی حفاظت کرنا ۱۸۱

وہ روایات جو وجوب تقيه پردلالت کرتی ہیں ۱۸۳

کیابطورتقیہ انجام دئے گئے اعمال کی قضا ہے؟ ۱۸۶

کیا خلاف تقيه کا عمل باطل ہے ؟ ۱۹۰

وہ موارد جہاں تقيه کرنا حرام ہے ۱۹۲

پہلا گروه : ۱۹۲

دوسرا گروہ: ۱۹۲

۱۔ تقيه کامفهوم ۱۹۳

۲۔ تقيه کاحكم ۱۹۳

۱۔ جہاں حق خطر ے میں پڑ جائے ۱۹۵

۲۔جہاں خون خرابہ کا باعث ہو ۱۹۵

۳۔ جہاں واضح دليل موجود ہو ۱۹۷

۴۔ جہاں احکام شریعت بہت زیادہ اہم ہو ۱۹۸

چھٹی فصل: ۲۰۰

تقيه کے بارے میں شبہات اور ان کا مدلّل جواب ۲۰۰

ابن تیمیہ کے اشکالات کی تفصیل ۲۰۳

الف:تشريع تقيه سے مربوط شبهات اور ان کا جواب ۲۰۳

۱۔تقيه یعنی جھوٹ : ۲۰۴


شيخ طوسی  کا جواب ۲۰۸

۲۔تقيه يعني منافقت! ۲۰۹

۳۔تقيه، جهادکے متنافی ۲۱۴

۴۔تقيه اور آيات تبليغ کے درمیان تعارض ۲۱۵

۵۔تقيه اور ذ لّت مؤمن ۲۱۹

۶۔تقيه ،ما نع امر به معروف ۲۲۰

ب:امام معصوم عليهم‌السلام کاتقيه سے مربوط شبهات ۲۲۱

۱۔تقيه اور امام عليه‌السلام کا بیان شريعت ۲۲۳

الف:امام عليه‌السلام کاتقيه اور اقوال ۲۲۵

ب:امام عليه‌السلام کیلئے تقیہ جائز ہونے کے شرائط ۲۲۵

۲۔ تقيه، فرمان امام عليه‌السلام پر عدم اعتماد کاباعث ۲۲۷

۳۔تقيه اور علم امام ۲۲۸

پہلا نظریہ : ۲۲۸

دوسرا نظریہ : ۲۲۸

پهلا اشکال: ۲۲۹

جواب : ۲۳۱

اس شبهه کا جواب ۲۳۳

علم امامؑ کے بارے میں مزید وضاحت ۲۳۴

۴۔تقيه اور عصمت امامؑ ۲۳۸

۵۔ بجائےتقيه؛ خاموشی کیوں اختیار نهیں کرتے؟ ۲۳۹


جواب : ۲۴۰

۶۔تقيه کے بجائے توریه کیوں نهیں کرتے ؟! ۲۴۱

شبهه: ۲۴۱

اس شبهه کا جواب: ۲۴۱

۷۔تقيه اور دین کا دفاع ۲۴۲

شبهه: ۲۴۲

جواب: ۲۴۳

۸۔تقيه « سلوني قبل ان تفقدوني » کے منافی ۲۴۴

جواب : ۲۴۵

۹۔تقيه ، شجاعت کے منافی ۲۴۶

جواب: ۲۴۷

۱۰۔تقيه اور تحليل حرام و تحريم حلال ۲۴۹

۱۱۔تقيه ا يك اختصاصي حكم هے يا عمومي؟ ۲۵۱

جواب: ۲۵۲

۱۲۔کیوں بعض آئمہ طاہرین ؑنے تقیه کیا اور بعض نے نهیں کیا ؟! ۲۵۶

ایک گروه : ۲۵۷

دوسرا گروه : ۲۵۷

جواب : ۲۵۸

ج:شیعوں کے تقیه سے مربوط شبهات ۲۶۲

۱۔تقيه شیعوں کی بدعت ۲۶۳


۲۔تقيه، مكتب تشيع کا اصول دين ؟! ۲۶۵

۳۔تقيه، زوال دين کا موجب ؟! ۲۶۹

جواب: ۲۶۹

۴۔امام ؑکی پيروي اور تقیه کے درميان تناقض ۲۷۱

اس شبهه کا جواب : ۲۷۲

۵۔تقيه اورفتواي امام عليه‌السلام کي تشخيص ۲۷۴

جواب: ۲۷۴

۶۔ تقيه اورشیعوں کا اضطراب! ۲۷۵

جواب: ۲۷۶

۷۔تقيه كافروں سے کیا جاتا هے نه کہ مسلمانوں سے ۲۹۳

پهلاجواب: ۲۹۴

دوسرا جواب: ۲۹۵

خاتمه:جمع بندی اور نتیجہ گیری ۳۰۳

تقیه کا واجب هونا : ۳۰۵

تقیه کا مباح هونا: ۳۰۵

تقیه کا حرام هونا: ۳۰۶

ان لوگوں کو کيا غم ؟! ۳۱۶

كتاب نامه ۳۲۵

خلاصه کتاب به زبان فارسی ۳۲۹

خلاصه کتاب بزبان فارسی ۳۳۰


تقيه اسلام کی نگاہ میں

تقيه  اسلام کی نگاہ میں

مؤلف: غلام مرتضي انصاری
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 336