یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
بانگ درا
(حصہ اول )
ـــــــ ۱۹۰۵ تک
علاّمہ محمّد اقبال
ہمالہ
اے ہمالہ! اے فصیل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
*
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
*
ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیے
تو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے
*
امتحان دیدۂ ظاہر میں کوہستاں ہے تو
پاسباں اپنا ہے تو ، دیوار ہندستاں ہے تو
*
مطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تو
سوئے خلوت گاہِ دل دامن کش انساں ہے تو
*
برف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سر
خندہ زن ہے جو کلاہِ مہر عالم تاب پر
*
تیری عمر رفتہ کی اک آن ہے عہد کہن
وادیوں میں ہیں تری کالی گھٹائیں خیمہ زن
*
چوٹیاں تیری ثریا سے ہیں سرگرم سخن
تو زمیں پر اور پہنائے فلک تیرا وطن
*
چشمۂ دامن ترا آئینۂ سیال ہے
دامن موج ہوا جس کے لیے رومال ہے
*
ابر کے ہاتھوں میں رہوار ہوا کے واسطے
تازیانہ دے دیا برق سر کہسار نے
*
اے ہمالہ کوئی بازی گاہ ہے تو بھی ، جسے
دست قدرت نے بنایا ہے عناصر کے لیے
*
ہائے کیا فرط طرب میں جھومتا جاتا ہے ابر
فیل بے زنجیر کی صورت اڑا جاتا ہے ابر
*
جنبش موج نسیم صبح گہوارہ بنی
جھومتی ہے نشۂ ہستی میں ہر گل کی کلی
*
یوں زبان برگ سے گویا ہے اس کی خامشی
دست گلچیں کی جھٹک میں نے نہیں دیکھی کبھی
*
کہہ رہی ہے میری خاموشی ہی افسانہ مرا
کنج خلوت خانۂ قدرت ہے کاشانہ مرا
*
آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی
کوثر و تسنیم کی موجوں کی شرماتی ہوئی
*
آئنہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتی ہوئی
سنگ رہ سے گاہ بچتی ، گاہ ٹکراتی ہوئی
*
چھیڑتی جا اس عراق دل نشیں کے ساز کو
اے مسافر دل سمجھتا ہے تری آواز کو
*
لیلی شب کھولتی ہے آ کے جب زلف رسا
دامن دل کھینچتی ہے آبشاروں کی صدا
*
وہ خموشی شام کی جس پر تکلم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھایا ہوا
*
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کہسار پر
خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
*
اے ہمالہ! داستاں اس وقت کی کوئی سنا
مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
*
داغ جس پر غازۂ رنگ تکلف کا نہ تھا
کچھ بتا اس سیدھی سادی زندگی کا ماجرا
*
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
***
گل رنگیں
تو شناسائے خراش عقدۂ مشکل نہیں
اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں
*
زیب محفل ہے ، شریک شورش محفل نہیں
یہ فراغت بزم ہستی میں مجھے حاصل نہیں
*
اس چمن میں مَیں سراپا سوز و ساز آرزو
اور تیری زندگانی بے گداز آرزو
*
توڑ لینا شاخ سے تجھ کو مرا آئیں نہیں
یہ نظر غیر از نگاہ چشم صورت بیں نہیں
*
آہ! یہ دست جفا جو اے گل رنگیں نہیں
کس طرح تجھ کو یہ سمجھاؤں کہ میں گلچیں نہیں
*
کام مجھ کو دیدۂ حکمت کے الجھیڑوں سے کیا
دیدۂ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ ترا
*
سو زبانوں پر بھی خاموشی تجھے منظور ہے
راز وہ کیا ہے ترے سینے میں جو مستور ہے
*
میری صورت تو بھی اک برگ ریاض طور ہے
میں چمن سے دور ہوں تو بھی چمن سے دور ہے
*
مطمئن ہے تو ، پریشاں مثل بو رہتا ہوں میں
زخمی شمشیر ذوق جستجو رہتا ہوں میں
*
یہ پریشانی مری سامان جمعیت نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغ خانہ حکمت نہ ہو
*
ناتوانی ہی مری سرمایۂ قوت نہ ہو
رشک جام جم مرا آیئنۂ حیرت نہ ہو
*
یہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے
توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے
***
عہد طفلی
تھے دیار نو زمین و آسماں میرے لیے
وسعت آغوش مادر اک جہاں میرے لیے
*
تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں میرے لیے
حرف بے مطلب تھی خود میری زباں میرے لیے
*
درد ، طفلی میں اگر کوئی رلاتا تھا مجھے
شورش زنجیر در میں لطف آتا تھا مجھے
*
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
وہ پھٹے بادل میں بے آواز پا اس کا سفر
*
پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کی خبر
اور وہ حیرت دروغ مصلحت آمیز پر
*
آنکھ وقف دید تھی ، لب مائل گفتار تھا
دل نہ تھا میرا ، سراپا ذوق استفسار تھا
***
مرزا غالب
فکر انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا
*
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پیکر ترا
زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
*
دید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے
بن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہے
*
محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار
*
تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار
*
زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں
تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں
*
نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر
محو حیرت ہے ثریا رفعت پرواز پر
*
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پر
*
آہ! تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے
گلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
*
لطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں
*
ہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیں
آہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیں
*
گیسوئے اردو ابھی منت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائی دل سوزیِ پروانہ ہے
*
اے جہان آباد ، اے گہوارۂ علم و ہنر
ہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و در
*
ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر
یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر
*
دفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہے؟
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟
***
ابر کوہسار
ہے بلندی سے فلک بوس نشیمن میرا
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن میرا
*
کبھی صحرا ، کبھی گلزار ہے مسکن میرا
شہر و ویرانہ مرا ، بحر مرا ، بن میرا
*
کسی وادی میں جو منظور ہو سونا مجھ کو
سبزۂ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو
*
مجھ کو قدرت نے سکھایا ہے در افشاں ہونا
ناقۂ شاہد رحمت کا حدی خواں ہونا
*
غم زدائے دل افسردۂ دہقاں ہونا
رونق بزم جوانان گلستاں ہونا
*
بن کے گیسو رخ ہستی پہ بکھر جاتا ہوں
شانۂ موجۂ صرصر سے سنور جاتا ہوں
*
دور سے دیدۂ امید کو ترساتا ہوں
کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتا ہوں
*
سیر کرتا ہوا جس دم لب جو آتا ہوں
بالیاں نہر کو گرداب کی پہناتا ہوں
*
سبزۂ مزرع نوخیز کی امید ہوں میں
زادۂ بحر ہوں پروردۂ خورشید ہوں میں
*
چشمۂ کوہ کو دی شورش قلزم میں نے
اور پرندوں کو کیا محو ترنم میں نے
*
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم میں نے
غنچۂ گل کو دیا ذوق تبسم میں نے
*
فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے
جھونپڑے دامن کہسار میں دہقانوں کے
***
ماخوذ - بچوں کے لیے
ایک مکڑا اور مکھی
اک دن کسی مکھی سے یہ کہنے لگا مکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا
*
لیکن مری کٹیا کی نہ جاگی کبھی قسمت
بھولے سے کبھی تم نے یہاں پاؤں نہ رکھا
*
غیروں سے نہ ملیے تو کوئی بات نہیں ہے
اپنوں سے مگر چاہیے یوں کھنچ کے نہ رہنا
*
آؤ جو مرے گھر میں تو عزت ہے یہ میری
وہ سامنے سیڑھی ہے جو منظور ہو آنا
*
مکھی نے سنی بات جو مکڑے کی تو بولی
حضرت! کسی نادان کو دیجے گا یہ دھوکا
*
اس جال میں مکھی کبھی آنے کی نہیں ہے
جو آپ کی سیڑھی پہ چڑھا ، پھر نہیں اترا
*
مکڑے نے کہا واہ! فریبی مجھے سمجھے
تم سا کوئی نادان زمانے میں نہ ہو گا
*
منظور تمھاری مجھے خاطر تھی وگرنہ
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس میں نہیں تھا
*
اڑتی ہوئی آئی ہو خدا جانے کہاں سے
ٹھہرو جو مرے گھر میں تو ہے اس میں برا کیا!
*
اس گھر میں کئی تم کو دکھانے کی ہیں چیزیں
باہر سے نظر آتا ہے چھوٹی سی یہ کٹیا
*
لٹکے ہوئے دروازوں پہ باریک ہیں پردے
دیواروں کو آئینوں سے ہے میں نے سجایا
*
مہمانوں کے آرام کو حاضر ہیں بچھونے
ہر شخص کو ساماں یہ میسر نہیں ہوتا
*
مکھی نے کہا خیر ، یہ سب ٹھیک ہے لیکن
میں آپ کے گھر آؤں ، یہ امید نہ رکھنا
*
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے
سو جائے کوئی ان پہ تو پھر اٹھ نہیں سکتا
*
مکڑے نے کہا دل میں سنی بات جو اس کی
پھانسوں اسے کس طرح یہ کم بخت ہے دانا
*
سو کام خوشامد سے نکلتے ہیں جہاں میں
دیکھو جسے دنیا میں خوشامد کا ہے بندا
*
یہ سوچ کے مکھی سے کہا اس نے بڑی بی !
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا
*
ہوتی ہے اسے آپ کی صورت سے محبت
ہو جس نے کبھی ایک نظر آپ کو دیکھا
*
آنکھیں ہیں کہ ہیرے کی چمکتی ہوئی کنیاں
سر آپ کا اللہ نے کلغی سے سجایا
*
یہ حسن ، یہ پوشاک ، یہ خوبی ، یہ صفائی
پھر اس پہ قیامت ہے یہ اڑتے ہوئے گانا
*
مکھی نے سنی جب یہ خوشامد تو پسیجی
بولی کہ نہیں آپ سے مجھ کو کوئی کھٹکا
*
انکار کی عادت کو سمجھتی ہوں برا میں
سچ یہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہیں ہوتا
*
یہ بات کہی اور اڑی اپنی جگہ سے
پاس آئی تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا
*
بھوکا تھا کئی روز سے اب ہاتھ جو آئی
آرام سے گھر بیٹھ کے مکھی کو اڑایا
***
(ماخوذ از ایمرسن)
(بچوں کے لیے)
ایک پہاڑ اور گلہری
کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے
تجھے ہو شرم تو پانی میں جا کے ڈوب مرے
*
ذرا سی چیز ہے ، اس پر غرور ، کیا کہنا
یہ عقل اور یہ سمجھ ، یہ شعور ، کیا کہنا!
*
خدا کی شان ہے ناچیز چیز بن بیٹھیں
جو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں
*
تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے
زمیں ہے پست مری آن بان کے آگے
*
جو بات مجھ میں ہے ، تجھ کو وہ ہے نصیب کہاں
بھلا پہاڑ کہاں جانور غریب کہاں!
*
کہا یہ سن کے گلہری نے ، منہ سنبھال ذرا
یہ کچی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا
*
جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا
*
ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا ، کوئی چھوٹا ، یہ اس کی حکمت ہے
*
بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا دیا اس نے
*
قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں
نری بڑائی ہے ، خوبی ہے اور کیا تجھ میں
*
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
یہ چھالیا ہی ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو
*
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں
(ماخوذ )بچوں کے لیے
ایک گائے اور بکری
اک چراگہ ہری بھری تھی کہیں
تھی سراپا بہار جس کی زمیں
*
کیا سماں اس بہار کا ہو بیاں
ہر طرف صاف ندیاں تھیں رواں
*
تھے اناروں کے بے شمار درخت
اور پیپل کے سایہ دار درخت
*
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آتی تھیں
طائروں کی صدائیں آتی تھیں
*
کسی ندی کے پاس اک بکری
چرتے چرتے کہیں سے آ نکلی
*
جب ٹھہر کر ادھر ادھر دیکھا
پاس اک گائے کو کھڑے پایا
*
پہلے جھک کر اسے سلام کیا
پھر سلیقے سے یوں کلام کیا
*
کیوں بڑی بی! مزاج کیسے ہیں
گائے بولی کہ خیر اچھے ہیں
*
کٹ رہی ہے بری بھلی اپنی
ہے مصیبت میں زندگی اپنی
*
جان پر آ بنی ہے ، کیا کہیے
اپنی قسمت بری ہے ، کیا کہیے
*
دیکھتی ہوں خدا کی شان کو میں
رو رہی ہوں بروں کی جان کو میں
*
زور چلتا نہیں غریبوں کا
پیش آیا لکھا نصیبوں کا
*
آدمی سے کوئی بھلا نہ کرے
اس سے پالا پڑے ، خدا نہ کرے
*
دودھ کم دوں تو بڑبڑاتا ہے
ہوں جو دبلی تو بیچ کھاتا ہے
*
ہتھکنڈوں سے غلام کرتا ہے
کن فریبوں سے رام کرتا ہے
*
اس کے بچوں کو پالتی ہوں میں
دودھ سے جان ڈالتی ہوں میں
*
بدلے نیکی کے یہ برائی ہے
میرے اللہ! تری دہائی ہے
*
سن کے بکری یہ ماجرا سارا
بولی ، ایسا گلہ نہیں اچھا
*
بات سچی ہے بے مزا لگتی
میں کہوں گی مگر خدا لگتی
*
یہ چراگہ ، یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا
یہ ہری گھاس اور یہ سایا
*
ایسی خوشیاں ہمیں نصیب کہاں
یہ کہاں ، بے زباں غریب کہاں!
*
یہ مزے آدمی کے دم سے ہیں
لطف سارے اسی کے دم سے ہیں
*
اس کے دم سے ہے اپنی آبادی
قید ہم کو بھلی ، کہ آزادی!
*
سو طرح کا بنوں میں ہے کھٹکا
واں کی گزران سے بچائے خدا
*
ہم پہ احسان ہے بڑا اس کا
ہم کو زیبا نہیں گلا اس کا
*
قدر آرام کی اگر سمجھو
آدمی کا کبھی گلہ نہ کرو
*
گائے سن کر یہ بات شرمائی
آدمی کے گلے سے پچھتائی
*
دل میں پرکھا بھلا برا اس نے
اور کچھ سوچ کر کہا اس نے
*
یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی
***
(ماخوذ )بچوں کے لیے
بچے کی دعا
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
*
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
*
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
*
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
*
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
*
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
***
( ماخوذ از ولیم کو پر )
بچوں کے لیے
ہمدردی
ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
*
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئی
اڑنے چگنے میں دن گزارا
*
پہنچوں کس طرح آشیاں تک
ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا
*
سن کر بلبل کی آہ و زاری
جگنو کوئی پاس ہی سے بولا
*
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کیڑا ہوں اگرچہ میں ذرا سا
*
کیا غم ہے جو رات ہے اندھیری
میں راہ میں روشنی کروں گا
*
اللہ نے دی ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے دیا بنایا
*
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسرں کے
***
(ماخوذ بچوں کے لیے )
ماں کا خواب
میں سوئی جو اک شب تو دیکھا یہ خواب
بڑھا اور جس سے مرا اضطراب
*
یہ دیکھا کہ میں جا رہی ہوں کہیں
اندھیرا ہے اور راہ ملتی نہیں
*
لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال
قدم کا تھا دہشت سے اٹھنا محال
*
جو کچھ حوصلہ پا کے آگے بڑھی
تو دیکھا قطار ایک لڑکوں کی تھی
*
زمرد سی پوشاک پہنے ہوئے
دیے سب کے ہاتھوں میں جلتے ہوئے
*
وہ چپ چاپ تھے آگے پیچھے رواں
خدا جانے جانا تھا ان کو کہاں
*
اسی سوچ میں تھی کہ میرا پسر
مجھے اس جماعت میں آیا نظر
*
وہ پیچھے تھا اور تیز چلتا نہ تھا
دیا اس کے ہاتھوں میں جلتا نہ تھا
*
کہا میں نے پہچان کر ، میری جاں!
مجھے چھوڑ کر آ گئے تم کہاں!
*
جدائی میں رہتی ہوں میں بے قرار
پروتی ہوں ہر روز اشکوں کے ہار
*
نہ پروا ہماری ذرا تم نے کی
گئے چھوڑ ، اچھی وفا تم نے کی
*
جو بچے نے دیکھا مرا پیچ و تاب
دیا اس نے منہ پھیر کر یوں جواب
*
رلاتی ہے تجھ کو جدائی مری
نہیں اس میں کچھ بھی بھلائی مری
*
یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک چپ رہا
دیا پھر دکھا کر یہ کہنے لگا
*
سمجھتی ہے تو ہو گیا کیا اسے؟
ترے آنسوؤں نے بجھایا اسے
***
(ماخوذ بچوں کے لیے )
پرندے کی فریاد
آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا
*
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا
*
لگتی ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے یاد جس دم
شبنم کے آنسوؤں پر کلیوں کا مسکرانا
*
وہ پیاری پیاری صورت ، وہ کامنی سی مورت
آباد جس کے دم سے تھا میرا آشیانا
*
آتی نہیں صدائیں اس کی مرے قفس میں
ہوتی مری رہائی اے کاش میرے بس میں!
*
کیا بد نصیب ہوں میں گھر کو ترس رہا ہوں
ساتھی تو ہیں وطن میں ، میں قید میں پڑا ہوں
*
آئی بہار کلیاں پھولوں کی ہنس رہی ہیں
میں اس اندھیرے گھر میں قسمت کو رو رہا ہوں
*
اس قید کا الہی! دکھڑا کسے سناؤں
ڈر ہے یہیں قفسں میں میں غم سے مر نہ جاؤں
*
جب سے چمن چھٹا ہے ، یہ حال ہو گیا ہے
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے
*
گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے
دکھے ہوئے دلوں کی فریاد یہ صدا ہے
*
آزاد مجھ کو کر دے ، او قید کرنے والے!
میں بے زباں ہوں قیدی ، تو چھوڑ کر دعا لے
***
خفتگان خاک سے استفسار
مہر روشن چھپ گیا ، اٹھی نقاب روئے شام
شانۂ ہستی پہ ہے بکھرا ہوا گیسوئے شام
*
یہ سیہ پوشی کی تیاری کس کے غم میں ہے
محفل قدرت مگر خورشید کے ماتم میں ہے
*
کر رہا ہے آسماں جادو لب گفتار پر
ساحر شب کی نظر ہے دیدۂ بیدار پر
*
غوطہ زن دریاۓ خاموشی میں ہے موج ہوا
ہاں ، مگر اک دور سے آتی ہے آواز درا
*
دل کہ ہے بے تابئ الفت میں دنیا سے نفور
کھنچ لایا ہے مجھے ہنگامۂ عالم سے دور
*
منظر حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں میں
ہم نشین خفتگان کنج تنہائی ہوں میں
*
تھم ذرا بے تابی دل! بیٹھ جانے دے مجھے
اور اس بستی پہ چار آ نسو گرانے دے مجھے
*
اے مے غفلت کے سر مستو ، کہاں رہتے ہو تم
کچھ کہو اس دیس کی آ خر ، جہاں رہتے ہو تم
*
وہ بھی حیرت خانۂ امروز و فردا ہے کوئی؟
اور پیکار عناصر کا تماشا ہے کوئی؟
*
آدمی واں بھی حصار غم میں ہے محصور کیا؟
اس ولایت میں بھی ہے انساں کا دل مجبور کیا؟
*
واں بھی جل مرتا ہے سوز شمع پر پروانہ کیا؟
اس چمن میں بھی گل و بلبل کا ہے افسانہ کیا؟
*
یاں تو اک مصرع میں پہلو سے نکل جاتا ہے دل
شعر کی گرمی سے کیا واں بھی پگل جاتا ہے دل؟
*
رشتہ و پیوند یاں کے جان کا آزار ہیں
اس گلستاں میں بھی کیا ایسے نکیلے خار ہیں؟
*
اس جہاں میں اک معیشت اور سو افتاد ہے
روح کیا اس دیس میں اس فکر سے آزاد ہے؟
*
کیا وہاں بجلی بھی ہے ، دہقاں بھی ہے ، خرمن بھی ہے؟
قافلے والے بھی ہیں ، اندیشۂ رہزن بھی ہے؟
*
تنکے چنتے ہیں و ہاں بھی آشیاں کے واسطے؟
خشت و گل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے واسطے؟
*
واں بھی انساں اپنی اصلیت سے بیگانے ہیں کیا؟
امتیاز ملت و آئیں کے دیوانے ہیں کیا؟
*
واں بھی کیا فریاد بلبل پر چمن روتا نہیں؟
اس جہاں کی طرح واں بھی درد دل ہوتا نہیں؟
*
باغ ہے فردوس یا اک منزل آرام ہے؟
یا رخ بے پردۂ حسن ازل کا نام ہے؟
*
کیا جہنم معصیت سوزی کی اک ترکیب ہے؟
آگ کے شعلوں میں پنہاں مقصد تادیب ہے؟
*
کیا عوض رفتار کے اس دیس میں پرواز ہے؟
موت کہتے ہیں جسے اہل زمیں ، کیا راز ہے ؟
*
اضطراب دل کا ساماں یاں کی ہست و بود ہے
علم انساں اس ولایت میں بھی کیا محدود ہے؟
*
دید سے تسکین پاتا ہے دل مہجور بھی؟
"لن ترانی" کہہ رہے ہیں یا وہاں کے طور بھی؟
*
جستجو میں ہے وہاں بھی روح کو آرام کیا؟
واں بھی انساں ہے قتیل ذوق استفہام کیا؟
*
آہ! وہ کشور بھی تاریکی سے کیا معمور ہے؟
یا محبت کی تجلی سے سراپا نور ہے؟
*
تم بتا دو راز جو اس گنبد گرداں میں ہے
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دل انساں میں ہے
***
شمع و پروانہ
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پیار کیوں
یہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں
*
سیماب وار رکھتی ہے تیری ادا اسے
آداب عشق تو نے سکھائے ہیں کیا اسے؟
*
کرتا ہے یہ طواف تری جلوہ گاہ کا
پھونکا ہوا ہے کیا تری برق نگاہ کا؟
*
آزار موت میں اسے آرام جاں ہے کیا؟
شعلے میں تیرے زندگی جاوداں ہے کیا؟
*
غم خانۂ جہاں میں جو تیری ضیا نہ ہو
اس تفتہ دل کا نخل تمنا ہرا نہ ہو
*
گرنا ترے حضور میں اس کی نماز ہے
ننھے سے دل میں لذت سوز و گداز ہے
*
کچھ اس میں جوش عاشق حسن قدیم ہے
چھوٹا سا طور تو یہ ذرا سا کلیم ہے
*
پروانہ ، اور ذوق تماشائے روشنی
کیڑا ذرا سا ، اور تمنائے روشنی!
***
عقل و دل
عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا
بھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میں
*
ہوں زمیں پر ، گزر فلک پہ مرا
دیکھ تو کس قدر رسا ہوں میں
*
کام دنیا میں رہبری ہے مرا
مثل خضر خجستہ پا ہوں میں
*
ہوں مفسر کتاب ہستی کی
مظہر شان کبریا ہوں میں
*
بوند اک خون کی ہے تو لیکن
غیرت لعل بے بہا ہوں میں
*
دل نے سن کر کہا یہ سب سچ ہے
پر مجھے بھی تو دیکھ ، کیا ہوں میں
*
راز ہستی کو تو سمجھتی ہے
اور آنکھوں سے دیکھتا ہوں میں
*
ہے تجھے واسطہ مظاہر سے
اور باطن سے آشنا ہوں میں
*
علم تجھ سے تو معرفت مجھ سے
تو خدا جو ، خدا نما ہوں میں
*
علم کی انتہا ہے بے تابی
اس مرض کی مگر دوا ہوں میں
*
شمع تو محفل صداقت کی
حسن کی بزم کا دیا ہوں میں
*
تو زمان و مکاں سے رشتہ بپا
طائر سدرہ آشنا ہوں میں
*
کس بلندی پہ ہے مقام مرا
عرش رب جلیل کا ہوں میں!
صدائے درد
جل رہا ہوں کل نہیں پڑتی کسی پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے محیط آب گنگا تو مجھے
*
سرزمیں اپنی قیامت کی نفاق انگیز ہے
وصل کیسا ، یاں تو اک قرب فراق انگیز ہے
*
بدلے یک رنگی کے یہ نا آشنائی ہے غضب
ایک ہی خرمن کے دانوں میں جدائی ہے غضب
*
جس کے پھولوں میں اخوت کی ہوا آئی نہیں
اس چمن میں کوئی لطف نغمہ پیرائی نہیں
*
لذت قرب حقیقی پر مٹا جاتا ہوں میں
اختلاط موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں میں
*
دانۂ نم خرمن نما ہے شاعر معجز بیاں
ہو نہ خرمن ہی تو اس دانے کی ہستی پھر کہاں
*
حسن ہو کیا خود نما جب کوئی مائل ہی نہ ہو
شمع کو جلنے سے کیا مطلب جو محفل ہی نہ ہو
*
ذوق گویائی خموشی سے بدلتا کیوں نہیں
میرے آئینے سے یہ جوہر نکلتا کیوں نہیں
*
کب زباں کھولی ہماری لذت گفتار نے!
پھونک ڈالا جب چمن کو آتش پیکار نے
***
(ترجمہ گایتری )
آفتاب
اے آفتاب! روح و روان جہاں ہے تو
شیرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو
*
باعث ہے تو وجود و عدم کی نمود کا
ہے سبز تیرے دم سے چمن ہست و بود کا
*
قائم یہ عنصروں کا تماشا تجھی سے ہے
ہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے
*
ہر شے کو تیری جلوہ گری سے ثبات ہے
تیرا یہ سوز و ساز سراپا حیات ہے
*
وہ آفتاب جس سے زمانے میں نور ہے
دل ہے ، خرد ہے ، روح رواں ہے ، شعور ہے
*
اے آفتاب ، ہم کو ضیائے شعور دے
چشم خرد کو اپنی تجلی سے نور دے
*
ہے محفل وجود کا ساماں طراز تو
یزدان ساکنان نشیب و فراز تو
*
تیرا کمال ہستی ہر جاندار میں
تیری نمود سلسلۂ کوہسار میں
*
ہر چیز کی حیات کا پروردگار تو
زائیدگان نور کا ہے تاجدار تو
نے ابتدا کوئی نہ کوئی انتہا تری
آزاد قید اول و آخر ضیا تری
***
شمع
بزم جہاں میں میں بھی ہوں اے شمع! دردمند
فریاد در گرہ صفت دانۂ سپند
*
دی عشق نے حرارت سوز دروں تجھے
اور گل فروش اشک شفق گوں کیا مجھے
*
ہو شمع بزم عیش کہ شمع مزار تو
ہر حال اشک غم سے رہی ہمکنار تو
*
یک بیں تری نظر صفت عاشقان راز
میری نگاہ مایۂ آشوب امتیاز
*
کعبے میں ، بت کدے میں ہے یکساں تری ضیا
میں امتیاز دیر و حرم میں پھنسا ہوا
*
ہے شان آہ کی ترے دود سیاہ میں
پوشیدہ کوئی دل ہے تری جلوہ گاہ میں؟
*
جلتی ہے تو کہ برق تجلی سے دور ہے
بے درد تیرے سوز کو سمجھے کہ نور ہے
*
تو جل رہی ہے اور تجھے کچھ خبر نہیں
بینا ہے اور سوز دروں پر نظر نہیں
*
میں جوش اضطراب سے سیماب وار بھی
آگاہ اضطراب دل بے قرار بھی
*
تھا یہ بھی کوئی ناز کسی بے نیاز کا
احساس دے دیا مجھے اپنے گداز کا
*
یہ آگہی مری مجھے رکھتی ہے بے قرار
خوابیدہ اس شرر میں ہیں آتش کدے ہزار
*
یہ امتیاز رفعت و پستی اسی سے ہے
گل میں مہک ، شراب میں مستی اسی سے ہے
*
بستان و بلبل و گل و بو ہے یہ آگہی
اصل کشاکش من و تو ہے یہ آگہی
*
صبح ازل جو حسن ہوا دلستان عشق
آواز "کن" ہوئی تپش آموز جان عشق
*
یہ حکم تھا کہ گلشن "کن" کی بہار دیکھ
ایک آنکھ لے کے خواب پریشاں ہزار دیکھ
*
مجھ سے خبر نہ پوچھ حجاب وجود کی
شام فراق صبح تھی میری نمود کی
*
وہ دن گئے کہ قید سے میں آشنا نہ تھا
زیب درخت طور مرا آشیانہ تھا
*
قیدی ہوں اور قفس کو چمن جانتا ہوں میں
غربت کے غم کدے کو وطن جانتا ہوں میں
*
یاد وطن فسردگی بے سبب بنی
شوق نظر کبھی ، کبھی ذوق طلب بنی
*
اے شمع! انتہائے فریب خیال دیکھ
مسجود ساکنان فلک کا مآل دیکھ
*
مضموں فراق کا ہوں ، ثریا نشاں ہوں میں
آہنگ طبع ناظم کون و مکاں ہوں میں
*
باندھا مجھے جو اس نے تو چاہی مری نمود
تحریر کر دیا سر دیوان ہست و بود
*
گوہر کو مشت خاک میں رہنا پسند ہے
بندش اگرچہ سست ہے ، مضموں بلند ہے
*
چشم غلط نگر کا یہ سارا قصور ہے
عالم ظہور جلوۂ ذوق شعور ہے
*
یہ سلسلہ زمان و مکاں کا ، کمند ہے
طوق گلوئے حسن تماشا پسند ہے
*
منزل کا اشتیاق ہے ، گم کردہ راہ ہوں
اے شمع ! میں اسیر فریب نگاہ ہوں
*
صیاد آپ ، حلقۂ دام ستم بھی آپ
بام حرم بھی ، طائر بام حرم بھی آپ!
*
میں حسن ہوں کہ عشق سراپا گداز ہوں
کھلتا نہیں کہ ناز ہوں میں یا نیاز ہوں
*
ہاں ، آشنائے لب ہو نہ راز کہن کہیں
پھر چھڑ نہ جائے قصۂ دار و رسن کہیں
***
ایک آرزو
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
*
شورش سے بھاگتا ہوں ، دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو
*
مرتا ہوں خامشی پر ، یہ آرزو ہے میری
دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو
*
آزاد فکر سے ہوں ، عزلت میں دن گزاروں
دنیا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گیا ہو
*
لذت سرود کی ہو چڑیوں کے چہچہوں میں
چشمے کی شورشوں میں باجا سا بج رہا ہو
*
گل کی کلی چٹک کر پیغام دے کسی کا
ساغر ذرا سا گویا مجھ کو جہاں نما ہو
*
ہو ہاتھ کا سرھانا سبزے کا ہو بچھونا
شرمائے جس سے جلوت ، خلوت میں وہ ادا ہو
*
مانوس اس قدر ہو صورت سے میری بلبل
ننھے سے دل میں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو
*
صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں
ندی کا صاف پانی تصویر لے رہا ہو
*
ہو دل فریب ایسا کہسار کا نظارہ
پانی بھی موج بن کر اٹھ اٹھ کے دیکھتا ہو
*
آغوش میں زمیں کی سویا ہوا ہو سبزہ
پھر پھر کے جھاڑیوں میں پانی چمک رہا ہو
*
پانی کو چھو رہی ہو جھک جھک کے گل کی ٹہنی
جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو
*
مہندی لگائے سورج جب شام کی دلھن کو
سرخی لیے سنہری ہر پھول کی قبا ہو
*
راتوں کو چلنے والے رہ جائیں تھک کے جس دم
امید ان کی میرا ٹوٹا ہوا دیا ہو
*
بجلی چمک کے ان کو کٹیا مری دکھا دے
جب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو
*
پچھلے پہر کی کوئل ، وہ صبح کی مؤذن
میں اس کا ہم نوا ہوں ، وہ میری ہم نوا ہو
*
کانوں پہ ہو نہ میرے دیر و حرم کا احساں
روزن ہی جھونپڑی کا مجھ کو سحر نما ہو
*
پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے
رونا مرا وضو ہو ، نالہ مری دعا ہو
*
اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو
*
ہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دے
بے ہوش جو پڑے ہیں ، شاید انھیں جگا دے
***
آفتاب صبح
شورش میخانۂ انساں سے بالاتر ہے تو
زینت بزم فلک ہو جس سے وہ ساغر ہے تو
*
ہو در گوش عروس صبح وہ گوہر ہے تو
جس پہ سیمائے افق نازاں ہو وہ زیور ہے تو=
*
صفحۂ ایام سے داغ مداد شب مٹا
آسماں سے نقش باطل کی طرح کوکب مٹا
*
حسن تیرا جب ہوا بام فلک سے جلوہ گر
آنکھ سے اڑتا ہے یک دم خواب کی مے کا اثر
*
نور سے معمور ہو جاتا ہے دامان نظر
کھولتی ہے چشم ظاہر کو ضیا تیری مگر
*
ڈھونڈتی ہیں جس کو آنکھیں وہ تماشا چاہیے
چشم باطن جس سے کھل جائے وہ جلوا چاہیے
*
شوق آزادی کے دنیا میں نہ نکلے حوصلے
زندگی بھر قید زنجیر تعلق میں رہے
*
زیر و بالا ایک ہیں تیری نگاہوں کے لیے
آرزو ہے کچھ اسی چشم تماشا کی مجھے
*
آنکھ میری اور کے غم میں سرشک آباد ہو
امتیاز ملت و آئیں سے دل آزاد ہو
*
بستۂ رنگ خصوصیت نہ ہو میری زباں
نوع انساں قوم ہو میری ، وطن میرا جہاں
*
دیدۂ باطن پہ راز نظم قدرت ہو عیاں
ہو شناسائے فلک شمع تخیل کا دھواں
*
عقدۂ اضداد کی کاوش نہ تڑپائے مجھے
حسن عشق انگیز ہر شے میں نظر آئے مجھے
*
صدمہ آ جائے ہوا سے گل کی پتی کو اگر
اشک بن کر میری آنکھوں سے ٹپک جائے اثر
*
دل میں ہو سوز محبت کا وہ چھوٹا سا شرر
نور سے جس کے ملے راز حقیقت کی خبر
*
شاہد قدرت کا آئینہ ہو ، دل میرا نہ ہو
سر میں جز ہمدردی انساں کوئی سودا نہ ہو
*
تو اگر زحمت کش ہنگامۂ عالم نہیں
یہ فضیلت کا نشاں اے نیر اعظم نہیں
*
اپنے حسن عالم آرا سے جو تو محرم نہیں
ہمسر یک ذرۂ خاک در آدم نہیں
*
نور مسجود ملک گرم تماشا ہی رہا
اور تو منت پذیر صبح فردا ہی رہا
*
آرزو نور حقیقت کی ہمارے دل میں ہے
لیلی ذوق طلب کا گھر اسی محمل میں ہے
*
کس قدر لذت کشود عقدۂ مشکل میں ہے
لطف صد حاصل ہماری سعی بے حاصل میں ہے
*
درد استفہام سے واقف ترا پہلو نہیں
جستجوئے راز قدرت کا شناسا تو نہیں
***
درد عشق
اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو
نامحرموں میں دیکھ نہ ہو آشکار تو
*
پنہاں تہ نقاب تری جلوہ گاہ ہے
ظاہر پرست محفل نو کی نگاہ ہے
*
آئی نئی ہوا چمن ہست و بود میں
اے درد عشق! اب نہیں لذت نمود میں
*
ہاں خود نمائیوں کی تجھے جستجو نہ ہو
منت پذیر نالۂ بلبل کا تو نہ ہو!
*
خالی شراب عشق سے لالے کا جام ہو
پانی کی بوند گریۂ شبنم کا نام ہو
*
پنہاں درون سینہ کہیں راز ہو ترا
اشک جگر گداز نہ غماز ہو ترا
*
گویا زبان شاعر رنگیں بیاں نہ ہو
آواز نے میں شکوۂ فرقت نہاں نہ ہو
*
یہ دور نکتہ چیں ہے ، کہیں چھپ کے بیٹھ رہ
جس دل میں تو مکیں ہے، وہیں چھپ کے بیٹھ رہ
*
غافل ہے تجھ سے حیرت علم آفریدہ دیکھ!
جویا نہیں تری نگہ نارسیدہ دیکھ
*
رہنے دے جستجو میں خیال بلند کو
حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو
*
جس کی بہار تو ہو یہ ایسا چمن نہیں
قابل تری نمود کے یہ انجمن نہیں
*
یہ انجمن ہے کشتۂ نظارۂ مجاز
مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز
*
ہر دل مے خیال کی مستی سے چور ہے
کچھ اور آجکل کے کلیموں کا طور ہے
گل پژمردہ
کس زباں سے اے گل پژمردہ تجھ کو گل کہوں
کس طرح تجھ کو تمنائے دل بلبل کہوں
*
تھی کبھی موج صبا گہوارۂ جنباں ترا
نام تھا صحن گلستاں میں گل خنداں ترا
*
تیرے احساں کا نسیم صبح کو اقرار تھا
باغ تیرے دم سے گویا طبلۂ عطار تھا
*
تجھ پہ برساتا ہے شبنم دیدۂ گریاں مرا
ہے نہاں تیری اداسی میں دل ویراں مرا
*
میری بربادی کی ہے چھوٹی سی اک تصویر تو
خوا ب میری زندگی تھی جس کی ہے تعبیر تو
*
ہمچو نے از نیستان خود حکایت می کنم
بشنو اے گل! از جدائی ہا شکایت می کنم
***
سیدکی لوح تربت
اے کہ تیرا مرغ جاں تار نفس میں ہے اسیر
اے کہ تیری روح کا طائر قفس میں ہے اسیر
*
اس چمن کے نغمہ پیراؤں کی آزادی تو دیکھ
شہر جو اجڑا ہوا تھا اس کی آبادی تو دیکھ
*
فکر رہتی تھی مجھے جس کی وہ محفل ہے یہی
صبر و استقلال کی کھیتی کا حاصل ہے یہی
*
سنگ تربت ہے مرا گرویدہ تقریر دیکھ
چشم باطن سے ذرا اس لوح کی تحریر دیکھ
*
مدعا تیرا اگر دنیا میں ہے تعلیم دیں
ترک دنیا قوم کو اپنی نہ سکھلانا کہیں
*
وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زباں
چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاں
*
وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے
دیکھ کوئی دل نہ دکھ جائے تری تقریر سے
*
محفل نو میں پرانی داستانوں کو نہ چھیڑ
رنگ پر جو اب نہ آئیں ان فسانوں کو نہ چھیڑ
*
تو اگر کوئی مدبر ہے تو سن میری صدا
ہے دلیری دست ارباب سیاست کا عصا
*
عرض مطلب سے جھجک جانا نہیں زیبا تجھے
نیک ہے نیت اگر تیری تو کیا پروا تجھے
*
بندۂ مومن کا دل بیم و ریا سے پاک ہے
قوت فرماں روا کے سامنے بے باک ہے
*
ہو اگر ہاتھوں میں تیرے خامۂ معجز رقم
شیشۂ دل ہو اگر تیرا مثال جام جم
*
پاک رکھ اپنی زباں ، تلمیذ رحمانی ہے تو
ہو نہ جائے دیکھنا تیری صدا بے آبرو!
*
سونے والوں کو جگا دے شعر کے اعجاز سے
خرمن باطل جلا دے شعلۂ آواز سے
***
ماہ نو
ٹوٹ کر خورشید کی کشتی ہوئی غرقاب نیل
ایک ٹکڑا تیرتا پھرتا ہے روئے آب نیل
*
طشت گردوں میں ٹپکتا ہے شفق کا خون ناب
نشتر قدرت نے کیا کھولی ہے فصد آفتاب
*
چرخ نے بالی چرا لی ہے عروس شام کی
نیل کے پانی میں یا مچھلی ہے سیم خام کی
*
قافلہ تیرا رواں بے منت بانگ درا
گوش انساں سن نہیں سکتا تری آواز پا
*
گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھلاتا ہے تو
ہے وطن تیرا کدھر ، کس دیس کو جاتا ہے تو
*
ساتھ اے سیارۂ ثابت نما لے چل مجھے
خار حسرت کی خلش رکھتی ہے اب بے کل مجھے
*
نور کا طالب ہوں ، گھبراتا ہوں اس بستی میں میں
طفلک سیماب پا ہوں مکتب ہستی میں میں
***
انسان اور بزم قد رت
صبح خورشید درخشاں کو جو دیکھا میں نے
بزم معمورۂ ہستی سے یہ پوچھا میں نے
*
پر تو مہر کے دم سے ہے اجالا تیرا
سیم سیال ہے پانی ترے دریاؤں کا
*
مہر نے نور کا زیور تجھے پہنایا ہے
تیری محفل کو اسی شمع نے چمکایا ہے
*
گل و گلزار ترے خلد کی تصویریں ہیں
یہ سبھی سورۂ "والشمس" کی تفسیریں ہیں
*
سرخ پوشاک ہے پھولوں کی ، درختوں کی ہری
تیری محفل میں کوئی سبز ، کوئی لال پری
*
ہے ترے خیمۂ گردوں کی طلائی جھالر
بدلیاں لال سی آتی ہیں افق پر جو نظر
*
کیا بھلی لگتی ہے آنکھوں کو شفق کی لالی
مے گلرنگ خم شام میں تو نے ڈالی
*
رتبہ تیرا ہے بڑا ، شان بڑی ہے تیری
پردۂ نور میں مستور ہے ہر شے تیری
*
صبح اک گیت سراپا ہے تری سطوت کا
زیر خورشید نشاں تک بھی نہیں ظلمت کا
*
میں بھی آباد ہوں اس نور کی بستی میں مگر
جل گیا پھر مری تقدیر کا اختر کیونکر؟
*
نور سے دور ہوں ظلمت میں گرفتار ہوں میں
کیوں سیہ روز ، سیہ بخت ، سیہ کار ہوں میں؟
*
میں یہ کہتا تھا کہ آواز کہیں سے آئی
بام گردوں سے وہ یا صحن زمیں سے آئی
*
ہے ترے نور سے وابستہ مری بود و نبود
باغباں ہے تری ہستی پے گلزار وجود
*
انجمن حسن کی ہے تو ، تری تصویر ہوں میں
عشق کا تو ہے صحیفہ ، تری تفسیر ہوں میں
*
میرے بگڑے ہوئے کاموں کو بنایا تو نے
بار جو مجھ سے نہ اٹھا وہ اٹھایا تو نے
*
نور خورشید کی محتاج ہے ہستی میری
اور بے منت خورشید چمک ہے تری
*
ہو نہ خورشید تو ویراں ہو گلستاں میرا
منزل عیش کی جا نام ہو زنداں میرا
*
آہ اے راز عیاں کے نہ سمجھے والے!
حلقۂ دام تمنا میں الجھنے والے
*
ہائے غفلت کہ تری آنکھ ہے پابند مجاز
ناز زیبا تھا تجھے ، تو ہے مگر گرم نیاز
*
تو اگر اپنی حقیقت سے خبردار رہے
نہ سیہ روز رہے پھر نہ سیہ کار رہے
***
( ماخوذ از لانگ فیلو)
پیا م صبح
اجالا جب ہوا رخصت جبین شب کی افشاں کا
نسیم زندگی پیغام لائی صبح خنداں کا
*
جگایا بلبل رنگیں نوا کو آشیانے میں
کنارے کھیت کے شانہ ہلایا اس نے دہقاں کا
*
طلسم ظلمت شب سورۂ والنور سے توڑا
اندھیرے میں اڑایا تاج زر شمع شبستاں کا
*
پڑھا خوابیدگان دیر پر افسون بیداری
برہمن کو دیا پیغام خورشید درخشاں کا
*
ہوئی بام حرم پر آ کے یوں گویا مؤذن سے
نہیں کھٹکا ترے دل میں نمود مہر تاباں کا؟
*
پکاری اس طرح دیوار گلشن پر کھڑے ہو کر
چٹک او غنچۂ گل! تو مؤذن ہے گلستاں کا
*
دیا یہ حکم صحرا میں چلو اے قافلے والو!
چمکنے کو ہے جگنو بن کے ہر ذرہ بیاباں کا
*
سوئے گور غریباں جب گئی زندوں کی بستی سے
تو یوں بولی نظارا دیکھ کر شہر خموشاں کا
*
ابھی آرام سے لیٹے رہو ، میں پھر بھی آؤں گی
سلادوں گی جہاں کو خواب سے تم کو جگاؤں گی
***
( ماخو ذ از ٹینی سن)
عشق اور موت
سہانی نمود جہاں کی گھڑی تھی
تبسم فشاں زندگی کی کلی تھی
*
کہیں مہر کو تاج زر مل رہا تھا
عطا چاند کو چاندنی ہو رہی تھی
*
سیہ پیرہن شام کو دے رہے تھے
ستاروں کو تعلیم تابندگی تھی
*
کہیں شاخ ہستی کو لگتے تھے پتے
کہیں زندگی کی کلی پھوٹتی تھی
*
فرشتے سکھاتے تھے شبنم کو رونا
ہنسی گل کو پہلے پہل آ رہی تھی
*
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو
خودی تشنۂ کام مے بے خودی تھی
*
اٹھی اول اول گھٹا کالی کالی
کوئی حور چوٹی کو کھولے کھڑی تھی
*
زمیں کو تھا دعوی کہ میں آسماں ہوں
مکاں کہہ رہا تھا کہ میں لا مکاں ہوں
*
غرض اس قدر یہ نظارہ تھا پیارا
کہ نظارگی ہو سراپا نظارا
*
ملک آزماتے تھے پرواز اپنی
جبینوں سے نور ازل آشکارا
*
فرشتہ تھا اک ، عشق تھا نام جس کا
کہ تھی رہبری اس کی سب کا سہارا
*
فرشتہ کہ پتلا تھا بے تابیوں کا
ملک کا ملک اور پارے کا پارا
*
پے سیر فردوس کو جا رہا تھا
قضا سے ملا راہ میں وہ قضا را
*
یہ پوچھا ترا نام کیا ، کام کیا ہے
نہیں آنکھ کو دید تیری گوارا
*
ہوا سن کے گویا قضا کا فرشتہ
اجل ہوں ، مرا کام ہے آشکارا
*
اڑاتی ہوں میں رخت ہستی کے پرزے
بجھاتی ہوں میں زندگی کا شرارا
*
مری آنکھ میں جادوئے نیستی ہے
پیام فنا ہے اسی کا اشارا
*
مگر ایک ہستی ہے دنیا میں ایسی
وہ آتش ہے میں سامنے اس کے پارا
*
شرر بن کے رہتی ہے انساں کے دل میں
وہ ہے نور مطلق کی آنکھوں کا تارا
*
ٹپکتی ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو
وہ آنسو کہ ہو جن کی تلخی گوارا
*
سنی عشق نے گفتگو جب قضا کی
ہنسی اس کے لب پر ہوئی آشکارا
*
گری اس تبسم کی بجلی اجل پر
اندھیرے کا ہو نور میں کیا گزارا!
*
بقا کو جو دیکھا فنا ہو گئی وہ
قضا تھی شکار قضا ہو گئی وہ
***
ز ہد اور رندی
اک مولوی صاحب کی سناتا ہوں کہانی
تیزی نہیں منظور طبیعت کی دکھانی
*
شہرہ تھا بہت آپ کی صوفی منشی کا
کرتے تھے ادب ان کا اعالی و ادانی
*
کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف میں شریعت
جس طرح کہ الفاظ میں مضمر ہوں معانی
*
لبریز مۓ زہد سے تھی دل کی صراحی
تھی تہ میں کہیں درد خیال ہمہ دانی
*
کرتے تھے بیاں آپ کرامات کا اپنی
منظور تھی تعداد مریدوں کی بڑھانی
*
مدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے میں میرے
تھی رند سے زاہد کی ملاقات پرانی
*
حضرت نے مرے ایک شناسا سے یہ پوچھا
اقبال ، کہ ہے قمری شمشاد معانی
*
پابندی احکام شریعت میں ہے کیسا؟
گو شعر میں ہے رشک کلیم ہمدانی
*
سنتا ہوں کہ کافر نہیں ہندو کو سمجھتا
ہے ایسا عقیدہ اثر فلسفہ دانی
*
ہے اس کی طبیعت میں تشیع بھی ذرا سا
تفضیل علی ہم نے سنی اس کی زبانی
*
سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات میں داخل
مقصود ہے مذہب کی مگر خاک اڑانی
*
کچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہیں ہے
عادت یہ ہمارے شعرا کی ہے پرانی
*
گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معانی
*
لیکن یہ سنا اپنے مریدوں سے ہے میں نے
بے داغ ہے مانند سحر اس کی جوانی
*
مجموعۂ اضداد ہے ، اقبال نہیں ہے
دل دفتر حکمت ہے ، طبیعت خفقانی
*
رندی سے بھی آگاہ شریعت سے بھی واقف
پوچھو جو تصوف کی تو منصور کا ثانی
*
اس شخص کی ہم پر تو حقیقت نہیں کھلتی
ہو گا یہ کسی اور ہی اسلام کا بانی
*
القصہ بہت طول دیا وعظ کو اپنے
تا دیر رہی آپ کی یہ نغز بیانی
*
اس شہر میں جو بات ہو اڑ جاتی ہے سب میں
میں نے بھی سنی اپنے احبا کی زبانی
*
اک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہد
پھر چھڑ گئی باتوں میں وہی بات پرانی
*
فرمایا ، شکایت وہ محبت کے سبب تھی
تھا فرض مرا راہ شریعت کی دکھانی
*
میں نے یہ کہا کوئی گلہ مجھ کو نہیں ہے
یہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکانی
*
خم ہے سر تسلیم مرا آپ کے آگے
پیری ہے تواضع کے سبب میری جوانی
*
گر آپ کو معلوم نہیں میری حقیقت
پیدا نہیں کچھ اس سے قصور ہمہ دانی
*
میں خود بھی نہیں اپنی حقیقت کا شناسا
گہرا ہے مرے بحر خیالات کا پانی
*
مجھ کو بھی تمنا ہے کہ "اقبال" کو دیکھوں
کی اس کی جدائی میں بہت اشک فشانی
*
اقبال بھی "اقبال" سے آگاہ نہیں ہے
کچھ اس میں تمسخر نہیں ، واللہ نہیں ہے
***
شاعر
قوم گویا جسم ہے ، افراد ہیں اعضائے قوم
منزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم
*
محفل نظم حکومت ، چہرۂ زیبائے قوم
شاعر رنگیں نوا ہے دیدۂ بینائے قوم
*
مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
***
دل
قصۂ دار و رسن بازئ طفلانۂ دل
التجائے "ارنی" سرخی افسانۂ دل
*
یا رب اس ساغر لبریز کی مے کیا ہو گی
جاوۂ ملک بقا ہے خط پیمانۂ دل
*
ابر رحمت تھا کہ تھی عشق کی بجلی یا رب!
جل گئی مزرع ہستی تو اگا دانۂ دل
*
حسن کا گنج گراں مایہ تجھے مل جاتا
تو نے فرہاد! نہ کھودا کبھی ویرانۂ دل!
*
عرش کا ہے کبھی کعبے کا ہے دھوکا اس پر
کس کی منزل ہے الہی! مرا کاشانۂ دل
*
اس کو اپنا ہے جنوں اور مجھے سودا اپنا
دل کسی اور کا دیوانہ ، میں دیوانۂ دل
*
تو سمجھتا نہیں اے زاہد ناداں اس کو
رشک صد سجدہ ہے اک لغزش مستانۂ دل
*
خاک کے ڈھیر کو اکسیر بنا دیتی ہے
وہ اثر رکھتی ہے خاکستر پروانۂ دل
*
عشق کے دام میں پھنس کر یہ رہا ہوتا ہے
برق گرتی ہے تو یہ نخل ہرا ہوتا ہے
***
مو ج دریا
مضطرب رکھتا ہے میرا دل بے تاب مجھے
عین ہستی ہے تڑپ صورت سیماب مجھے
*
موج ہے نام مرا ، بحر ہے پایاب مجھے
ہو نہ زنجیر کبھی حلقۂ گرداب مجھے
*
آب میں مثل ہوا جاتا ہے توسن میرا
خار ماہی سے نہ اٹکا کبھی دامن میرا
*
میں اچھلتی ہوں کبھی جذب مہ کامل سے
جوش میں سر کو پٹکتی ہوں کبھی ساحل سے
*
ہوں وہ رہرو کہ محبت ہے مجھے منزل سے
کیوں تڑپتی ہوں ، یہ پوچھے کوئی میرے دل سے
*
زحمت تنگی دریا سے گریزاں ہوں میں
وسعت بحر کی فرقت میں پریشاں ہوں میں
***
( ماخوذ از ایمرسن)
رخصت اے بزم جہاں
رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں میں
آہ! اس آباد ویرانے میں گھبراتا ہوں میں
*
بسکہ میں افسردہ دل ہوں ، درخور محفل نہیں
تو مرے قابل نہیں ہے ، میں ترے قابل نہیں
*
قید ہے ، دربار سلطان و شبستان وزیر
توڑ کر نکلے گا زنجیر طلائی کا اسیر
*
گو بڑی لذت تری ہنگامہ آرائی میں ہے
اجنبیت سی مگر تیری شناسائی میں ہے
*
مدتوں تیرے خود آراؤں سے ہم صحبت رہا
مدتوں بے تاب موج بحر کی صورت رہا
*
مدتوں بیٹھا ترے ہنگامۂ عشرت میں میں
روشنی کی جستجو کرتا رہا ظلمت میں میں
*
مدتوں ڈھونڈا کیا نظارۂ گل خار میں
آہ ، وہ یوسف نہ ہاتھ آیا ترے بازار میں
*
چشم حیراں ڈھونڈتی اب اور نظارے کو ہے
آرزو ساحل کی مجھ طوفان کے مارے کو ہے
*
چھوڑ کر مانند بو تیرا چمن جاتا ہوں میں
رخصت اے بزم جہاں! سوئے وطن جاتا ہوں میں
*
گھر بنایا ہے سکوت دامن کہسار میں
آہ! یہ لذت کہاں موسیقی گفتار میں
*
ہم نشین نرگس شہلا ، رفیق گل ہوں میں
ہے چمن میرا وطن ، ہمسایۂ بلبل ہوں میں
*
شام کو آواز چشموں کی سلاتی ہے مجھے
صبح فرش سبز سے کوئل جگاتی ہے مجھے
*
بزم ہستی میں ہے سب کو محفل آرائی پسند
ہے دل شاعر کو لیکن کنج تنہائی پسند
*
ہے جنوں مجھ کو کہ گھبراتا ہوں آبادی میں میں
ڈھونڈتا پھرتا ہوں کس کو کوہ کی وادی میں میں ؟
*
شوق کس کا سبزہ زاروں میں پھراتا ہے مجھے
اور چشموں کے کنارے پر سلاتا ہے مجھے؟
*
طعنہ زن ہے تو کہ شیدا کنج عزلت کا ہوں میں
دیکھ اے غافل! پیامی بزم قدرت کا ہوں میں
*
ہم وطن شمشاد کا ، قمری کا میں ہم راز ہوں
اس چمن کی خامشی میں گوش بر آواز ہوں
*
کچھ جو سنتا ہوں تو اوروں کو سنانے کے لیے
دیکھتا ہوں کچھ تو اوروں کو دکھانے کے لیے
*
عاشق عزلت ہے دل ، نازاں ہوں اپنے گھر پہ میں
خندہ زن ہوں مسند دارا و اسکندر پہ میں
***
طفل شیر خوار
میں نے چاقو تجھ سے چھینا ہے تو چلاتا ہے تو
مہرباں ہوں میں ، مجھے نا مہرباں سمجھا ہے تو
*
پھر پڑا روئے گا اے نووارد اقلیم غم
چبھ نہ جائے دیکھنا! ، باریک ہے نوک قلم
*
آہ! کیوں دکھ دینے والی شے سے تجھ کو پیار ہے
کھیل اس کاغذ کے ٹکڑے سے ، یہ بے آزار ہے
*
گیند ہے تیری کہاں ، چینی کی بلی ہے کد ھر؟
وہ ذرا سا جانور ٹوٹا ہوا ہے جس کا سر
*
تیرا آئینہ تھا آزاد غبار آرزو
آنکھ کھلتے ہی چمک اٹھا شرار آرزو
*
ہاتھ کی جنبش میں ، طرز دید میں پوشیدہ ہے
تیری صورت آرزو بھی تیری نوزائیدہ ہے
*
زندگانی ہے تری آزاد قید امتیاز
تیری آنکھوں پر ہویدا ہے مگر قدرت کا راز
*
جب کسی شے پر بگڑ کر مجھ سے ، چلاتا ہے تو
کیا تماشا ہے ردی کاغذ سے من جاتا ہے تو
*
آہ! اس عادت میں ہم آہنگ ہوں میں بھی ترا
تو تلون آشنا ، میں بھی تلون آشنا
*
عارضی لذت کا شیدائی ہوں ، چلاتا ہوں میں
جلد آ جاتا ہے غصہ ، جلد من جاتا ہوں میں
*
میری آنکھوں کو لبھا لیتا ہے حسن ظاہری
کم نہیں کچھ تیری نادانی سے نادانی مری
*
تیری صورت گاہ گریاں گاہ خنداں میں بھی ہوں
دیکھنے کو نوجواں ہوں ، طفل ناداں میں بھی ہوں
***
تصویر درد
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میری
خموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میری
*
یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
*
اٹھائے کچھ ورق لالے نے ، کچھ نرگس نے ، کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
*
اڑالی قمریوں نے ، طوطیوں نے ، عندلبوں نے
چمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میری
*
ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے
سراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میری
*
الہی! پھر مزا کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کا
حیات جاوداں میری ، نہ مرگ ناگہاں میری!
*
مرا رونا نہیں ، رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
وہ گل ہوں میں ، خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری
*
""دریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارم
ز فیض دل تپیدنہا خروش بے نفس دارم""
*
ریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوں
خوشی روتی ہے جس کو ، میں وہ محروم مسرت ہوں
*
مری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائی
میں حرف زیر لب ، شرمندۂ گوش سماعت ہوں
*
پریشاں ہوں میں مشت خاک ، لیکن کچھ نہیں کھلتا
سکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوں
*
یہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کا
سراپا نور ہو جس کی حقیقت ، میں وہ ظلمت ہوں
*
خزینہ ہوں ، چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نے
کسی کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوں!
*
نظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستی
میں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوں
*
نہ صہباہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہ
میں اس میخا نۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوں
*
مجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے
*
عطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میں
کہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میں
*
اثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کا
مرا آ ئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میں
*
رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں
*
دیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویا
لکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میں
*
نشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیں!
تری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میں
*
چھپاکر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
*
سن اے غافل صدا میری، یہ ایسی چیز ہے جس کو
وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں
*
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
*
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میں
*
یہ خاموشی کہاں تک؟ لذت فریاد پیدا کر
زمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں
*
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
*
یہی آئین قدرت ہے، یہی اسلوب فطرت ہے
جو ہے راہ عمل میں گام زن، محبوب فطرت ہے
*
ہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گا
لہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گا
*
جلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سے
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑں گا
*
مگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیدا
چمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑں گا
*
پرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کو
جو مشکل ہے، تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا
*
مجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میں
کہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گا
*
دکھا دوں گا جہاں کو جو مر ی آنکھوں نے دیکھا ہے
تجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گا
*
جو ہے پردوں میں پنہاں، چشم بینا دیکھ لیتی ہے
زمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے
*
کیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نے
گزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نے
*
رہا دل بستۂ محفل، مگر اپنی نگاہوں کو
کیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نے
*
فدا کرتا رہا دل کو حسنیوں کی اداؤں پر
مگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نے
*
تعصب چھوڑ ناداں! دہر کے آئینہ خانے میں
یہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نے
*
سراپا نالۂ بیداد سوز زندگی ہو جا
سپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نے
*
صفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سے
کف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نے
*
زمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہے
غضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نے
*
زباں سے گر کیا توحید کا دعوی تو کیا حاصل!
بنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نے
*
کنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھا
ارے غافل! جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نے
*
ہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کی
نصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کی
*
دکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پرنم کو
جو تڑپاتا ہے پروانے کو، رلواتا ہے شبنم کو
*
نرا نظارہ ہی اے بوالہوس مقصد نہیں اس کا
بنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کو
*
اگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھا
نظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کو
*
شجر ہے فرقہ آرائی، تعصب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کو
*
نہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک بر گ گل تک بھی
یہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کو
*
پھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میں
یہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کو
*
محبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے
ذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہے
*
دوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہنا
علاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہنا
*
شراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میری
شکت رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہنا
*
تھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میں
عبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنا
*
بنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپنا
چمن میں آہ! کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہنا
*
جو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میں
غلامی ہے اسیر امتیاز ماو تو رہنا
*
یہ استغنا ہے ، پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کو
تجھے بھی چاہیے مثل حباب آبجو رہنا
*
نہ رہ اپنوں سے بے پروا ، اسی میں خیر ہے تیری
اگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہنا
*
شراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کی
سکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنا
*
محبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے
کیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نے
*
بیابان محبت دشت غربت بھی ، وطن بھی ہے
یہ ویرانہ قفس بھی، آشیانہ بھی ، چمن بھی ہے
*
محبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے ، صحرا بھی
جرس بھی، کارواں بھی، راہبر بھی، راہزن بھی ہے
*
مرض کہتے ہیں سب اس کو، یہ ہے لیکن مرض ایسا
چھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہے
*
جلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانا
یہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہے
*
وہی اک حسن ہے، لیکن نظر آتا ہے ہر شے میں
یہ شیریں بھی ہے گویا بیستوں بھی ، کوہکن بھی ہے
*
اجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کو
مرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہے؟
*
سکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہ
زباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہے
*
نمیگردید کوتہ رشتۂ معنی رہا کر دم
حکایت بود بے پایاں، بخاموشی ادا کر دم
***
( آرنلڈ کی یاد میں )
نا لۂ فراق
جا بسا مغرب میں آخر اے مکاں تیرا مکیں
آہ! مشرق کی پسند آئی نہ اس کو سر زمیں
*
آ گیا آج اس صداقت کا مرے دل کو یقیں
ظلمت شب سے ضیائے روز فرقت کم نہیں
*
""تا ز آغوش وداعش داغ حیرت چیدہ است
ہمچو شمع کشتہ در چشم نگہ خوابیدہ است""
*
کشتۂ عزلت ہوں، آبادی میں گھبراتا ہوں میں
شہر سے سودا کی شدت میں نکل جاتا ہوں میں
*
یاد ایام سلف سے دل کو تڑپاتا ہوں میں
بہر تسکیں تیری جانب دوڑتا آتا ہوں میں
*
آنکھ گو مانوس ہے تیرے در و دیوار سے
اجنبیت ہے مگر پیدا مری رفتار سے
*
ذرہ میرے دل کا خورشید آشنا ہونے کو تھا
آئنہ ٹوٹا ہوا عالم نما ہونے کو تھا
*
نخل میری آرزوؤں کا ہرا ہونے کو تھا
آہ! کیا جانے کوئی میں کیا سے کیا ہونے کو تھا
*
ابر رحمت دامن از گلزار من برچید و رفت
اند کے بر غنچہ ہائے آرزو بارید و رفت
*
تو کہاں ہے اے کلیم ذروۂ سینائے علم
تھی تری موج نفس باد نشاط افزائے علم
*
اب کہاں وہ شوق رہ پیمائی صحرائے علم
تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سودائے علم
*
""شور لیلی کو کہ باز آرایش سودا کند
خاک مجنوں را غبار خاطر صحرا کند
*
کھول دے گا دشت وحشت عقدۂ تقدیر کو
توڑ کر پہنچوں گا میں پنجاب کی زنجیر کو
*
دیکھتا ہے دیدۂ حیراں تری تصویر کو
کیا تسلی ہو مگر گرویدۂ تقریر کو
*
""تاب گویائی نہیں رکھتا دہن تصویر کا
خامشی کہتے ہیں جس کو، ہے سخن تصویر کا""
***
چاند
میرے ویرانے سے کوسوں دور ہے تیرا وطن
ہے مگر دریائے دل تیری کشش سے موجزن
*
قصد کس محفل کا ہے؟ آتا ہے کس محفل سے تو؟
زرد رو شاید ہوا رنج رہ منزل سے تو
*
آفرنیش میں سراپا نور ، ظلمت ہوں میں
اس سیہ روزی پہ لیکن تیرا ہم قسمت ہوں میں
*
آہ ، میں جلتا ہوں سوز اشتیاق دید سے
تو سراپا سوز داغ منت خورشید سے
*
ایک حلقے پر اگر قائم تری رفتار ہے
میری گردش بھی مثال گردش پرکار ہے
*
زندگی کی رہ میں سرگرداں ہے تو، حیراں ہوں میں
تو فروزاں محفل ہستی میں ہے ، سوزاں ہوں میں
*
میں رہ منزل میں ہوں، تو بھی رہ منزل میں ہے
تیری محفل میں جو خاموشی ہے ، میرے دل میں ہے
*
تو طلب خو ہے تو میرا بھی یہی دستور ہے
چاندنی ہے نور تیرا، عشق میرا نور ہے
*
انجمن ہے ایک میری بھی جہاں رہتا ہوں میں
بزم میں اپنی اگر یکتا ہے تو، تنہا ہوں میں
*
مہر کا پرتو ترے حق میں ہے پیغام اجل
محو کر دیتا ہے مجھ کو جلوۂ حسن ازل
*
پھر بھی اے ماہ مبیں! میں اور ہوں تو اور ہے
درد جس پہلو میں اٹھتا ہو وہ پہلو اور ہے
*
گرچہ میں ظلمت سراپا ہوں، سراپا نور تو
سینکڑوں منزل ہے ذوق آگہی سے دور تو
*
جو مری ہستی کا مقصد ہے ، مجھے معلوم ہے
یہ چمک وہ ہے، جبیں جس سے تری محروم ہے
بلال
چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز میں لایا
*
ہوئی اسی سے ترے غم کدے کی آبادی
تری غلامی کے صدقے ہزار آزادی
*
وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ایک دم کے لیے
کسی کے شوق میں تو نے مزے ستم کے لیے
*
جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں
*
نظر تھی صورت سلماں ادا شناس تری
شراب دید سے بڑھتی تھی اور پیاس تری
*
تجھے نظارے کا مثل کلیم سودا تھا
اویس طاقت دیدار کو ترستا تھا
*
مدینہ تیری نگاہوں کا نور تھا گویا
ترے لیے تو یہ صحرا ہی طور تھا گویا
*
تری نظر کو رہی دید میں بھی حسرت دید
خنک دلے کہ تپید و دمے نیا سائید
*
گری وہ برق تری جان ناشکیبا پر
کہ خندہ زن تری ظلمت تھی دست موسی پر
*
تپش ز شعلہ گر فتند و بر دل تو زدند
چہ برق جلوہ بخاشاک حاصل تو زدند
*
ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری
*
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بنی
نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بنی
*
خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا
خوشا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا
سر گزشت آدم
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے
بھلایا قصۂ پیمان اولیں میں نے
*
لگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میں
پیا شعور کا جب جام آتشیں میں نے
*
رہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کو
دکھایا اوج خیال فلک نشیں میں نے
*
ملا مزاج تغیر پسند کچھ ایسا
کیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نے
*
نکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھی
کبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نے
*
کبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچا
چھپایا نور ازل زیر آستیں میں نے
*
کبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایا
کیا فلک کو سفر، چھوڑ کر زمیں میں نے
*
کبھی میں غار حرا میں چھپا رہا برسوں
دیا جہاں کو کبھی جام آخریں میں نے
*
سنایا ہند میں آ کر سرود ربانی
پسند کی کبھی یوناں کی سر زمیں میں نے
*
دیار ہند نے جس دم مری صدا نہ سنی
بسایا خطۂ جاپان و ملک چیں میں نے
*
بنایا ذروں کی ترکیب سے کبھی عالم
خلاف معنی تعلیم اہل دیں میں نے
*
لہو سے لال کیا سینکڑوں زمینوں کو
جہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نے
*
سمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کی
اسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نے
*
ڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریں
سکھایا مسئلۂ گردش زمیں میں نے
*
کشش کا راز ہویدا کیا زمانے پر
لگا کے آئنۂ عقل دور بیں میں نے
*
کیا اسیر شعاعوں کو ، برق مضطر کو
بنادی غیرت جنت یہ سر زمیں میں نے
*
مگر خبر نہ ملی آہ! راز ہستی کی
کیا خرد سے جہاں کو تہ نگیں میں نے
*
ہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخر
تو پایا خانۂ دل میں اسے مکیں میں نے
***
ترانۂ ہندی
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا
*
غربت میں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی، دل ہو جہاں ہمارا
*
پربت وہ سب سے اونچا، ہمسایہ آسماں کا
وہ سنتری ہمارا، وہ پاسباں ہمارا
*
گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں
گلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا
*
اے آب رود گنگا، وہ دن ہیں یاد تجھ کو؟
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا
*
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
*
یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا
*
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا
*
اقبال! کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں
معلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا
***
جگنو
جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں
یا شمع جل رہی ہے پھولوں کی انجمن میں
*
آیا ہے آسماں سے اڑ کر کوئی ستارہ
یا جان پڑ گئی ہے مہتاب کی کرن میں
*
یا شب کی سلطنت میں دن کا سفیر آیا
غربت میں آ کے چمکا، گمنام تھا وطن میں
*
تکمہ کوئی گرا ہے مہتاب کی قبا کا
ذرہ ہے یا نمایاں سورج کے پیرہن میں
*
حسن قدیم کی یہ پوشیدہ اک جھلک تھی
لے آئی جس کو قدرت خلوت سے انجمن میں
*
چھوٹے سے چاند میں ہے ظلمت بھی روشنی بھی
نکلا کبھی گہن سے، آیا کبھی گہن میں
*
پروانہ اک پتنگا، جگنو بھی اک پتنگا
وہ روشنی کا طالب، یہ روشنی سراپا
*
ہر چیز کو جہاں میں قدرت نے دلبری دی
پروانے کو تپش دی، جگنو کو روشنی دی
*
رنگیں نوا بنایا مرغان بے زباں کو
گل کو زبان دے کر تعلیم خامشی دی
*
نظارۂ شفق کی خوبی زوال میں تھی
چمکا کے اس پری کو تھوڑی سی زندگی دی
*
رنگیں کیا سحر کو، بانکی دلھن کی صورت
پہنا کے لال جوڑا شبنم کی آرسی دی
*
سایہ دیا شجر کو، پرواز دی ہوا کو
پانی کو دی روانی، موجوں کو بے کلی دی
*
یہ امتیاز لیکن اک بات ہے ہماری
جگنو کا دن وہی ہے جو رات ہے ہماری
*
حسن ازل کی پیدا ہر چیز میں جھلک ہے
انساں میں وہ سخن ہے، غنچے میں وہ چٹک ہے
*
یہ چاند آسماں کا شاعر کا دل ہے گویا
واں چاندنی ہے جو کچھ، یاں درد کی کسک ہے
*
انداز گفتگو نے دھوکے دیے ہیں ورنہ
نغمہ ہے بوئے بلبل، بو پھول کی چہک ہے
*
کثرت میں ہو گیا ہے وحدت کا راز مخفی
جگنو میں جو چمک ہے وہ پھول میں مہک ہے
*
یہ اختلاف پھر کیوں ہنگاموں کا محل ہو
ہر شے میں جبکہ پنہاں خاموشئ ازل ہو
***
صبح کا ستارہ
لطف ہمسایگی شمس و قمر کو چھوڑوں
اور اس خدمت پیغام سحر کو چھوڑوں
*
میرے حق میں تو نہیں تاروں کی بستی اچھی
اس بلندی سے زمیں والوں کی پستی اچھی
*
آسماں کیا ، عدم آباد وطن ہے میرا
صبح کا دامن صد چاک کفن ہے میرا
*
میری قسمت میں ہے ہر روز کا مرنا جینا
ساقی موت کے ہاتھوں سے صبوحی پینا
*
نہ یہ خدمت، نہ یہ عزت، نہ یہ رفعت اچھی
اس گھڑی بھر کے چمکنے سے تو ظلمت اچھی
*
میری قدرت میں جو ہوتا، تو نہ اختر بنتا
قعر دریا میں چمکتا ہوا گوہر بنتا
*
واں بھی موجوں کی کشاکش سے جو دل گھبراتا
چھوڑ کر بحر کہیں زیب گلو ہو جاتا
ہے چمکنے میں مزا حسن کا زیور بن کر
زینت تاج سر بانوئے قیصر بن کر
ایک پتھر کے جو ٹکڑے کا نصیبا جاگا
خاتم دست سلیماں کا نگیں بن کے رہا
*
ایسی چنروں کا مگر دہر میں ہے کام شکست
ہے گہر ہائے گراں مایہ کا انجام شکست
*
زندگی وہ ہے کہ جو ہو نہ شناسائے اجل
کیا وہ جینا ہے کہ ہو جس میں تقاضائے اجل
*
ہے یہ انجام اگر زینت عالم ہو کر
کیوں نہ گر جاؤ ں کسی پھول پہ شبنم ہو کر!
*
کسی پیشانی کے افشاں کے ستاروں میں رہوں
کس مظلوم کی آہوں کے شراروں میں رہوں
*
اشک بن کر سرمژگاں سے اٹک جاؤں میں
کیوں نہ اس بیوی کی آنکھوں سے ٹپک جاؤں میں
*
جس کا شوہر ہو رواں، ہو کے زرہ میں مستور
سوئے میدان وغا ، حبِّ وطن سے مجبور
*
یاس و امید کا نظارہ جو دکھلاتی ہو
جس کی خاموشی سے تقریر بھی شرماتی ہو
*
جس کو شوہر کی رضا تاب شکیبائی دے
اور نگاہوں کو حیا طاقت گویائی دے
*
زرد ، رخصت کی گھڑی ، عارض گلگوں ہو جائے
کشش حسن غم ہجر سے افزوں ہو جائے
*
لاکھ وہ ضبط کرے پر میں ٹپک ہی جاؤں
ساغر دیدۂ پرنم سے چھلک ہی جاؤں
*
خاک میں مل کے حیات ابدی پا جاؤں
عشق کا سوز زمانے کو دکھاتا جاؤں
***
ہندوستانی بچوں کا قومی گیت
چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
*
تاتاریوں نے جس کو اپنا وطن بنایا
جس نے حجازیوں سے دشت عرب چھڑایا
*
میرا وطن وہی ہے ، میرا وطن وہی ہے
یونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھا
*
سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا
مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا
*
ترکوں کا جس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
*
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
*
وحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
*
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
بندے کلیم جس کے ، پربت جہاں کے سینا
*
نوح نبی کا آ کر ٹھہرا جہاں سفینا
رفعت ہے جس زمیں کی بام فلک کا زینا
*
جنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
***
لاہور و کراچی
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے، فقط عالم معنی کا سفر
*
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
*
آہ! اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں
حرف "لا تدع مع اللہ الھاً آخر"
***
نیا شوالا
سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو برا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے
*
اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے
*
تنگ آ کے میں نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے
*
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے
*
آ ، غیریت کے پردے اک بار پھر اٹھا دیں
بچھڑوں کو پھر ملا دیں نقش دوئی مٹا دیں
*
سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی
آ ، اک نیا شوالا اس دیس میں بنا دیں
*
دنیا کے تیرتھوں سے اونچا ہو اپنا تیرتھ
دامان آسماں سے اس کا کلس ملا دیں
*
ہر صبح اٹھ کے گائیں منتر وہ مٹیھے مٹیھے
سارے پجاریوں کو مے پیت کی پلا دیں
*
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
***
داغ
عظمت غالب ہے اک مدت سے پیوند زمیں
مہدی مجروح ہے شہر خموشاں کا مکیں
*
توڑ ڈالی موت نے غربت میں مینائے امیر
چشم محفل میں ہے اب تک کیف صہبائے امیر
*
آج لیکن ہمنوا! سارا چمن ماتم میں ہے
شمع روشن بجھ گئی، بزم سخن ماتم میں ہے
*
بلبل دلی نے باندھا اس چمن میں آشیاں
ہم نوا ہیں سب عنادل باغ ہستی کے جہاں
*
چل بسا داغ آہ! میت اس کی زیب دوش ہے
آخری شاعر جہان آباد کا خاموش ہے
*
اب کہاں وہ بانکپن، وہ شوخئ طرز بیاں
آگ تھی کافور پیری میں جوانی کی نہاں
*
تھی زبان داغ پر جو آرزو ہر دل میں ہے
لیلی معنی وہاں بے پردہ، یاں محمل میں ہے
*
اب صبا سے کون پوچھے گا سکوت گل کا راز
کون سمجھے گا چمن میں نالۂ بلبل کا راز
*
تھی حقیقت سے نہ غفلت فکر کی پرواز میں
آنکھ طائر کی نشیمن پر رہی پرواز میں
*
اور دکھلائیں گے مضموں کی ہمیں باریکیاں
اپنے فکر نکتہ آرا کی فلک پیمائیاں
*
تلخی دوراں کے نقشے کھینچ کر رلوائیں گے
یا تخیل کی نئی دنیا ہمیں دکھلائیں گے
*
اس چمن میں ہوں گے پیدا بلبل شیراز بھی
سینکڑوں ساحر بھی ہوں گے، صاحب اعجاز بھی
*
اٹھیں گے آزر ہزاروں شعر کے بت خانے سے
مے پلائیں گے نئے ساقی نئے پیمانے سے
*
لکھی جائیں گی کتاب دل کی تفسیریں بہت
ہوں گی اے خواب جوانی! تیری تعبیریں بہت
*
ہوبہو کھینچے گا لیکن عشق کی تصویر کون ؟
اٹھ گیا ناوک فگن، مارے گا دل پر تیر کون ؟
*
اشک کے دانے زمین شعر میں بوتا ہوں میں
تو بھی رو اے خاک دلی! داغ کو روتا ہوں میں
*
اے جہان آباد، اے سرمایۂ بزم سخن
ہوگیا پھر آج پامال خزاں تیرا چمن
*
وہ گل رنگیں ترا رخصت مثال بو ہوا
آہ! خالی داغ سے کاشانۂ اردو ہوا
*
تھی نہ شاید کچھ کشش ایسی وطن کی خاک میں
وہ مہ کامل ہوا پنہاں دکن کی خاک میں
*
اٹھ گئے ساقی جو تھے، میخانہ خالی رہ گیا
یادگار بزم دہلی ایک حالی رہ گیا
*
آرزو کو خون رلواتی ہے بیداد اجل
مارتا ہے تیر تاریکی میں صیاد اجل
*
کھل نہیں سکتی شکایت کے لیے لیکن زباں
ہے خزاں کا رنگ بھی وجہ قیام گلستاں
*
ایک ہی قانون عالم گیر کے ہیں سب اثر
بوۓ گل کا باغ سے، گلچیں کا دنیا سے سفر
***
ابر
اٹھی پھر آج وہ پورب سے کالی کالی گھٹا
سیاہ پوش ہوا پھر پہاڑ سربن کا
*
نہاں ہوا جو رخ مہر زیر دامن ابر
ہوائے سرد بھی آئی سوار توسن ابر
*
گرج کا شور نہیں ہے ، خموش ہے یہ گھٹا
عجیب مے کدۂ بے خروش ہے یہ گھٹا
*
چمن میں حکم نشاط مدام لائی ہے
قبائے گل میں گہر ٹانکنے کو آئی ہے
*
جو پھول مہر کی گرمی سے سو چلے تھے ، اٹھے
زمیں کی گود میں جو پڑ کے سو رہے تھے ، اٹھے
*
ہوا کے زور سے ابھرا، بڑھا، اڑا بادل
اٹھی وہ اور گھٹا، لو! برس پڑا بادل
*
عجیب خیمہ ہے کہسار کے نہالوں کا
یہیں قیام ہو وادی میں پھرنے والوں کا
***
ایک پرندہ اور جگنو
سر شام ایک مرغ نغمہ پیرا
کسی ٹہنی پہ بیٹھا گا رہا تھا
*
چمکتی چیز اک دیکھی زمیں پر
اڑا طائر اسے جگنو سمجھ کر
*
کہا جگنو نے او مرغ نواریز!
نہ کر بے کس پہ منقار ہوس تیز
*
تجھے جس نے چہک ، گل کو مہک دی
اسی اللہ نے مجھ کو چمک دی
*
لباس نور میں مستور ہوں میں
پتنگوں کے جہاں کا طور ہوں میں
*
چہک تیری بہشت گوش اگر ہے
چمک میری بھی فردوس نظر ہے
*
پروں کو میرے قدرت نے ضیا دی
تجھے اس نے صدائے دل ربا دی
*
تری منقار کو گانا سکھایا
مجھے گلزار کی مشعل بنایا
*
چمک بخشی مجھے، آواز تجھ کو
دیا ہے سوز مجھ کو، ساز تجھ کو
*
مخالف ساز کا ہوتا نہیں سوز
جہاں میں ساز کا ہے ہم نشیں سوز
*
قیام بزم ہستی ہے انھی سے
ظہور اوج و پستی ہے انھی سے
*
ہم آہنگی سے ہے محفل جہاں کی
اسی سے ہے بہار اس بوستاں کی
***
بچّہ اور شمع
کیسی حیرانی ہے یہ اے طفلک پروانہ خو!
شمع کے شعلوں کو گھڑیوں دیکھتا رہتا ہے تو
*
یہ مری آغوش میں بیٹھے ہوئے جنبش ہے کیا
روشنی سے کیا بغل گیری ہے تیرا مدعا؟
*
اس نظارے سے ترا ننھا سا دل حیران ہے
یہ کسی دیکھی ہوئی شے کی مگر پہچان ہے
*
شمع اک شعلہ ہے لیکن تو سراپا نور ہے
آہ! اس محفل میں یہ عریاں ہے تو مستور ہے
*
دست قدرت نے اسے کیا جانے کیوں عریاں کیا!
تجھ کو خاک تیرہ کے فانوس میں پنہاں کیا
*
نور تیرا چھپ گیا زیر نقاب آگہی
ہے غبار دیدۂ بینا حجاب آگہی
*
زندگانی جس کو کہتے ہیں فراموشی ہے یہ
خواب ہے، غفلت ہے، سرمستی ہے، بے ہوشی ہے یہ
*
محفل قدرت ہے اک دریائے بے پایان حسن
آنکھ اگر دیکھے تو ہر قطرے میں ہے طوفان حسن
*
حسن ، کوہستاں کی ہیبت ناک خاموشی میں ہے
مہر کی ضوگستری، شب کی سیہ پوشی میں ہے
*
آسمان صبح کی آئینہ پوشی میں ہے یہ
شام کی ظلمت، شفق کی گل فرو شی میں ہے یہ
*
عظمت دیرینہ کے مٹتے ہوئے آثار میں
طفلک ناآشنا کی کوشش گفتار میں
*
ساکنان صحن گلشن کی ہم آوازی میں ہے
ننھے ننھے طائروں کی آشیاں سازی میں ہے
*
چشمۂ کہسار میں ، دریا کی آزادی میں حسن
شہر میں، صحرا میں، ویرانے میں، آبادی میں حسن
*
روح کو لیکن کسی گم گشتہ شے کی ہے ہوس
ورنہ اس صحرا میں کیوں نالاں ہے یہ مثل جرس!
*
حسن کے اس عام جلوے میں بھی یہ بے تاب ہے
زندگی اس کی مثال ماہی بے آب ہے
***
کنار راوی
سکوت شام میں محو سرود ہے راوی
نہ پوچھ مجھ سے جو ہے کیفیت مرے دل کی
*
پیام سجدے کا یہ زیر و بم ہوا مجھ کو
جہاں تمام سواد حرم ہوا مجھ کو
*
سر کنارۂ آب رواں کھڑا ہوں میں
خبر نہیں مجھے لیکن کہاں کھڑا ہوں میں
*
شراب سرخ سے رنگیں ہوا ہے دامن شام
لیے ہے پیر فلک دست رعشہ دار میں جام
*
عدم کو قافلۂ روز تیز گام چلا
شفق نہیں ہے ، یہ سورج کے پھول ہیں گویا
*
کھڑے ہیں دور وہ عظمت فزائے تنہائی
منار خواب گہ شہسوار چغتائی
*
فسانۂ ستم انقلاب ہے یہ محل
کوئی زمان سلف کی کتاب ہے یہ محل
*
مقام کیا ہے سرود خموش ہے گویا
شجر ، یہ انجمن بے خروش ہے گویا
*
رواں ہے سینۂ دریا پہ اک سفینۂ تیز
ہوا ہے موج سے ملاح جس کا گرم ستیز
*
سبک روی میں ہے مثل نگاہ یہ کشتی
نکل کے حلقۂ حد نظر سے دور گئی
*
جہاز زندگی آدمی رواں ہے یونہی
ابد کے بحر میں پیدا یونہی ، نہاں ہے یونہی
*
شکست سے یہ کبھی آشنا نہیں ہوتا
نظر سے چھپتا ہے لیکن فنا نہیں ہوتا
***
(بہ درگاہ حضرت محبوب ا لہی، دہلی)
التجائے مسافر
فرشتے پڑھتے ہیں جس کو وہ نام ہے تیرا
بڑی جناب تری، فیض عام ہے تیرا
*
ستارے عشق کے تیری کشش سے ہیں قائم
نظام مہر کی صورت نظام ہے تیرا
*
تری لحد کی زیارت ہے زندگی دل کی
مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا
*
نہاں ہے تیری محبت میں رنگ محبوبی
بڑی ہے شان، بڑا احترام ہے تیرا
*
اگر سیاہ دلم، داغ لالہ زار تو ام
و گر کشادہ جبینم، گل بہار تو ام
*
چمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گل
ہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کو
*
چلی ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے
شراب علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو
*
نظر ہے ابر کرم پر ، درخت صحرا ہوں
کیا خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کو
*
فلک نشیں صفت مہر ہوں زمانے میں
تری دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کو
*
مقام ہم سفروں سے ہوا اس قدر آگے
کہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کو
*
مری زبان قلم سے کسی کا دل نہ دکھے
کسی سے شکوہ نہ ہو زیر آسماں مجھ کو
*
دلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثر
تری جناب سے ایسی ملے فغاں مجھ کو
*
بنایا تھا جسے چن چن کے خار و خس میں نے
چمن میں پھر نظر آئے وہ آشیاں مجھ کو
*
پھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبیں
کیا جنھوں نے محبت کا رازداں مجھ کو
*
وہ شمع بارگہ خاندان مرتضوی
رہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کو
*
نفس سے جس کے کھلی میری آرزو کی کلی
بنایا جس کی مروت نے نکتہ داں مجھ کو
*
دعا یہ کر کہ خداوند آسمان و زمیں
کرے پھر اس کی زیارت سے شادماں مجھ کو
*
وہ میرا یوسف ثانی وہ شمع محفل عشق
ہوئی ہے جس کی اخوت قرار جاں مجھ کو
*
جلا کے جس کی محبت نے دفتر من و تو
ہوائے عیش میں پالا، کیا جواں مجھ کو
*
ریاض دہر میں مانند گل رہے خنداں
کہ ہے عزیز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کو
*
شگفتہ ہو کے کلی دل کی پھول ہو جائے!
یہ التجائے مسافر قبول ہو جائے!
***
غز لیات
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ
*
آیا ہے تو جہاں میں مثال شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپائدار دیکھ
*
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ
*
کھولی ہیں ذوق دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہ گزر میں نقش کف پائے یار دیکھ
٭ ٭ ٭ ٭
نہ آتے ، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
نہ آتے ، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
*
تمھارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی
*
بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا
تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی!
*
تامل تو تھا ان کو آنے میں قاصد
مگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی
*
کھنچے خود بخود جانب طور موسی
کشش تیری اے شوق دیدار کیا تھی!
*
کہیں ذکر رہتا ہے اقبال تیرا
فسوں تھا کوئی ، تیری گفتار کیا تھی
٭ ٭ ٭ ٭
عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب
عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب
عداوت ہے اسے سارے جہاں سے
*
کوئی اب تک نہ یہ سمجھا کہ انساں
کہاں جاتا ہے، آتا ہے کہاں سے
*
وہیں سے رات کو ظلمت ملی ہے
چمک تارے نے پائی ہے جہاں سے
*
ہم اپنی درد مندی کا فسانہ
سنا کرتے ہیں اپنے رازداں سے
*
بڑی باریک ہیں واعظ کی چالیں
لرز جاتا ہے آواز اذاں سے
٭ ٭ ٭ ٭
لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے
لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے
بجلیاں بے تاب ہوں جن کو جلانے کے لیے
*
وائے ناکامی ، فلک نے تاک کر توڑا اسے
میں نے جس ڈالی کو تاڑا آشیانے کے لیے
*
آنکھ مل جاتی ہے ہفتاد و دو ملت سے تری
ایک پیمانہ ترا سارے زمانے کے لیے
*
دل میں کوئی اس طرح کی آرزو پیدا کروں
لوٹ جائے آسماں میرے مٹانے کے لیے
*
جمع کر خرمن تو پہلے دانہ دانہ چن کے تو
آ ہی نکلے گی کوئی بجلی جلانے کے لیے
*
پاس تھا ناکامی صیاد کا اے ہم صفیر
ورنہ میں ، اور اڑ کے آتا ایک دانے کے لیے!
*
اس چمن میں مرغ دل گائے نہ آزادی کا گیت
آہ یہ گلشن نہیں ایسے ترانے کے لیے
٭ ٭ ٭ ٭
کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیونکر ہوا
کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیونکر ہوا
اور اسیر حلقۂ دام ہوا کیونکر ہوا
*
جائے حیرت ہے برا سارے زمانے کا ہوں میں
مجھ کو یہ خلعت شرافت کا عطا کیونکر ہوا
*
کچھ دکھانے دیکھنے کا تھا تقاضا طور پر
کیا خبر ہے تجھ کو اے دل فیصلا کیونکر ہوا
*
ہے طلب بے مدعا ہونے کی بھی اک مدعا
مرغ دل دام تمنا سے رہا کیونکر ہوا
*
دیکھنے والے یہاں بھی دیکھ لیتے ہیں تجھے
پھر یہ وعدہ حشر کا صبر آزما کیونکر ہوا
*
حسن کامل ہی نہ ہو اس بے حجابی کا سبب
وہ جو تھا پردوں میں پنہاں ، خود نما کیونکر ہوا
*
موت کا نسخہ ابھی باقی ہے اے درد فراق!
چارہ گر دیوانہ ہے ، میں لا دوا کیونکر ہوا
*
تو نے دیکھا ہے کبھی اے دیدۂ عبرت کہ گل
ہو کے پیدا خاک سے رنگیں قبا کیونکر ہوا
*
پرسش اعمال سے مقصد تھا رسوائی مری
ورنہ ظاہر تھا سبھی کچھ ، کیا ہوا ، کیونکر ہوا
*
میرے مٹنے کا تماشا دیکھنے کی چیز تھی
کیا بتاؤں ان کا میرا سامنا کیونکر ہوا
٭ ٭ ٭ ٭
انوکھی وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہیں
انوکھی وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں
*
علاج درد میں بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں
جو تھے چھالوں میں کانٹے ، نوک سوزن سے نکالے ہیں
*
پھلا پھولا رہے یا رب! چمن میری امیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں
*
رلاتی ہے مجھے راتوں کو خاموشی ستاروں کی
نرالا عشق ہے میرا ، نرالے میرے نالے ہیں
*
نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی
نشیمن سینکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں
*
نہیں بیگانگی اچھی رفیق راہ منزل سے
ٹھہر جا اے شرر ، ہم بھی تو آخر مٹنے والے ہیں
*
امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو
یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادے ، بھولے بھالے ہیں
*
مرے اشعار اے اقبال کیوں پیارے نہ ہوں مجھ کو
مرے ٹوٹے ہوئے دل کے یہ درد انگیز نالے ہیں
٭ ٭ ٭ ٭
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
*
منصور کو ہوا لب گویا پیام موت
اب کیا کسی کے عشق کا دعوی کرے کوئی
*
ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر
ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی
*
میں انتہائے عشق ہوں ، تو انتہائے حسن
دیکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
*
عذر آفرین جرم محبت ہے حسن دوست
محشر میں عذر تازہ نہ پیدا کرے کوئی
*
چھپتی نہیں ہے یہ نگہ شوق ہم نشیں!
پھر اور کس طرح انھیں دیکھا کر ے کوئی
*
اڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طور پر کلیم
طاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی
*
نظارے کو یہ جنبش مژگاں بھی بار ہے
نرگس کی آنکھ سے تجھے دیکھا کرے کوئی
*
کھل جائیں ، کیا مزے ہیں تمنائے شوق میں
دو چار دن جو میری تمنا کرے کوئی
٭ ٭ ٭ ٭
جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں
وہ نکلے میرے ظلمت خانۂ دل کے مکینوں میں
*
حقیقت اپنی آنکھوں پر نمایاں جب ہوئی اپنی
مکاں نکلا ہمارے خانۂ دل کے مکینوں میں
*
اگر کچھ آشنا ہوتا مذاق جبہہ سائی سے
تو سنگ آستانِ کعبہ جا ملتا جبینوں میں
*
کبھی اپنا بھی نظارہ کیا ہے تو نے اے مجنوں
کہ لیلی کی طرح تو خود بھی ہے محمل نشینوں میں
*
مہینے وصل کے گھڑیوں کی صورت اڑتے جاتے ہیں
مگر گھڑیاں جدائی کی گزرتی ہیں مہینوں میں
*
مجھے روکے گا تو اے ناخدا کیا غرق ہونے سے
کہ جن کو ڈوبنا ہو ، ڈوب جاتے ہیں سفینوں میں
*
چھپایا حسن کو اپنے کلیم اللہ سے جس نے
وہی ناز آفریں ہے جلوہ پیرا نازنینوں میں
*
جلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موج نفس ان کی
الہی! کیا چھپا ہوتا ہے اہل دل کے سینوں میں
*
تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں
*
نہ پوچھ ان خرقہ پوشوں کی ، ارادت ہو تو دیکھ ان کو
ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
*
ترستی ہے نگاہ نا رسا جس کے نظارے کو
وہ رونق انجمن کی ہے انھی خلوت گزینوں میں
*
کسی ایسے شرر سے پھونک اپنے خرمن دل کو
کہ خورشید قیامت بھی ہو تیرے خوشہ چینوں میں
*
محبت کے لیے دل ڈھونڈ کوئی ٹوٹنے والا
یہ وہ مے ہے جسے رکھتے ہیں نازک آبگینوں میں
*
سراپا حسن بن جاتا ہے جس کے حسن کا عاشق
بھلا اے دل حسیں ایسا بھی ہے کوئی حسینوں میں
*
پھڑک اٹھا کوئی تیری ادائے "ما عرفنا" پر
ترا رتبہ رہا بڑھ چڑھ کے سب ناز آفرینوں میں
*
نمایاں ہو کے دکھلا دے کبھی ان کو جمال اپنا
بہت مدت سے چرچے ہیں ترے باریک بینوں میں
*
خموش اے دل! ، بھری محفل میں چلانا نہیں اچھا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں
*
برا سمجھوں انھیں مجھ سے تو ایسا ہو نہیں سکتا
کہ میں خود بھی تو ہوں اقبال اپنے نکتہ چینوں میں
٭ ٭ ٭ ٭
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
*
ستم ہو کہ ہو وعدہ بے حجابی
کوئی بات صبر آزما چاہتا ہوں
*
یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو
کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں
*
ذرا سا تو دل ہوں ، مگر شوخ اتنا
وہی لن ترانی سنا چاہتا ہوں
*
کوئی دم کا مہماں ہوں اے اہل محفل
چراغ سحر ہوں ، بجھا چاہتا ہوں
*
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہوں ، سزا چاہتا ہوں
٭ ٭ ٭ ٭
کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے
کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے
نیاز مند نہ کیوں عاجزی پہ ناز کرے
*
بٹھا کے عرش پہ رکھا ہے تو نے اے واعظ!
خدا وہ کیا ہے جو بندوں سے احتراز کرے
*
مری نگاہ میں وہ رند ہی نہیں ساقی
جو ہوشیاری و مستی میں امتیاز کرے
*
مدام گوش بہ دل رہ ، یہ ساز ہے ایسا
جو ہو شکستہ تو پیدا نوائے راز کرے
*
کوئی یہ پوچھے کہ واعظ کا کیا بگڑتا ہے
جو بے عمل پہ بھی رحمت وہ بے نیاز کرے
*
سخن میں سوز ، الہی کہاں سے آتا ہے
یہ چیز وہ ہے کہ پتھر کو بھی گداز کرے
*
تمیز لالہ و گل سے ہے نالۂ بلبل
جہاں میں وانہ کوئی چشم امتیاز کرے
*
غرور زہد نے سکھلا دیا ہے واعظ کو
کہ بندگان خدا پر زباں دراز کرے
*
ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبال
اڑا کے مجھ کو غبار رہ حجاز کرے
٭ ٭ ٭ ٭
سختیاں کرتا ہوں دل پر ، غیر سے غافل ہوں میں
سختیاں کرتا ہوں دل پر ، غیر سے غافل ہوں میں
ہائے کیا اچھی کہی ظالم ہوں میں ، جاہل ہوں میں
*
میں جبھی تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی نہ تھی
جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں میں
*
علم کے دریا سے نکلے غوطہ زن گوہر بدست
وائے محرومی! خزف چین لب ساحل ہوں میں
*
ہے مری ذلت ہی کچھ میری شرافت کی دلیل
جس کی غفلت کو ملک روتے ہیں وہ غافل ہوں میں
*
بزم ہستی! اپنی آرائش پہ تو نازاں نہ ہو
تو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں میں
*
ڈھونڈتا پھرتا ہوں اے اقبال اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر ، آپ ہی منزل ہوں میں
٭ ٭ ٭ ٭
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
نظارے کی ہوس ہو تو لیلی بھی چھوڑ دے
*
واعظ! کمال ترک سے ملتی ہے یاں مراد
دنیا جو چھوڑ دی ہے تو عقبی بھی چھوڑ دے
*
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی
رستہ بھی ڈھونڈ ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
*
مانند خامہ تیری زباں پر ہے حرف غیر
بیگانہ شے پہ نازش بے جا بھی چھوڑ دے
*
لطف کلام کیا جو نہ ہو دل میں درد عشق
بسمل نہیں ہے تو تو تڑپنا بھی چھوڑ دے
*
شبنم کی طرح پھولوں پہ رو ، اور چمن سے چل
اس باغ میں قیام کا سودا بھی چھوڑ دے
*
ہے عاشقی میں رسم الگ سب سے بیٹھنا
بت خانہ بھی ، حرم بھی ، کلیسا بھی چھوڑ دے
*
سوداگری نہیں ، یہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر! جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
*
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
*
جینا وہ کیا جو ہو نفس غیر پر مدار
شہرت کی زندگی کا بھروسا بھی چھوڑ دے
*
شوخی سی ہے سوال مکرر میں اے کلیم!
شرط رضا یہ ہے کہ تقاضا بھی چھوڑ دے
*
واعظ ثبوت لائے جو مے کے جواز میں
اقبال کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے
***
فہرست
ہمالہ ۴
گل رنگیں ۸
عہد طفلی ۱۰
مرزا غالب ۱۱
ابر کوہسار ۱۴
ماخوذ - بچوں کے لیے ۱۶
ایک مکڑا اور مکھی ۱۶
(ماخوذ از ایمرسن) ۲۰
(بچوں کے لیے) ۲۰
ایک پہاڑ اور گلہری ۲۰
(ماخوذ )بچوں کے لیے ۲۲
ایک گائے اور بکری ۲۲
(ماخوذ )بچوں کے لیے ۲۷
بچے کی دعا ۲۷
( ماخوذ از ولیم کو پر ) ۲۸
بچوں کے لیے ۲۸
ہمدردی ۲۸
(ماخوذ بچوں کے لیے ) ۳۰
ماں کا خواب ۳۰
(ماخوذ بچوں کے لیے ) ۳۳
پرندے کی فریاد ۳۳
خفتگان خاک سے استفسار ۳۵
شمع و پروانہ ۴۰
عقل و دل ۴۲
صدائے درد ۴۴
(ترجمہ گایتری ) ۴۶
آفتاب ۴۶
شمع ۴۸
ایک آرزو ۵۳
آفتاب صبح ۵۷
درد عشق ۶۱
گل پژمردہ ۶۳
سیدکی لوح تربت ۶۴
ماہ نو ۶۷
انسان اور بزم قد رت ۶۹
( ماخوذ از لانگ فیلو) ۷۳
پیا م صبح ۷۳
( ماخو ذ از ٹینی سن) ۷۵
عشق اور موت ۷۵
ز ہد اور رندی ۷۹
شاعر ۸۴
دل ۸۵
مو ج دریا ۸۷
( ماخوذ از ایمرسن) ۸۸
رخصت اے بزم جہاں ۸۸
طفل شیر خوار ۹۲
تصویر درد ۹۴
( آرنلڈ کی یاد میں ) ۱۰۶
نا لۂ فراق ۱۰۶
چاند ۱۰۹
بلال ۱۱۱
سر گزشت آدم ۱۱۳
ترانۂ ہندی ۱۱۶
جگنو ۱۱۸
صبح کا ستارہ ۱۲۱
ہندوستانی بچوں کا قومی گیت ۱۲۵
لاہور و کراچی ۱۲۷
نیا شوالا ۱۲۸
داغ ۱۳۰
ابر ۱۳۴
ایک پرندہ اور جگنو ۱۳۶
بچّہ اور شمع ۱۳۸
کنار راوی ۱۴۱
(بہ درگاہ حضرت محبوب ا لہی، دہلی) ۱۴۳
التجائے مسافر ۱۴۳
غز لیات ۱۴۷
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ ۱۴۷
نہ آتے ، ہمیں اس میں تکرار کیا تھی ۱۴۸
عجب واعظ کی دینداری ہے یا رب ۱۴۹
لاؤں وہ تنکے کہیں سے آشیانے کے لیے ۱۵۰
کیا کہوں اپنے چمن سے میں جدا کیونکر ہوا ۱۵۲
انوکھی وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہیں ۱۵۴
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی ۱۵۶
جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں ۱۵۸
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں ۱۶۱
کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے ۱۶۲
سختیاں کرتا ہوں دل پر ، غیر سے غافل ہوں میں ۱۶۴
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے ۱۶۵