مسدسِ حالی

مؤلف: الطاف حسین حالی
شعری مجموعے


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


مسدسِ حالی

الطاف حسین حالی

ماخذ: اردو کی برقی کتاب

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید


پہلا دیباچہ

١٢٩٤ ھ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حامد اً و مصلیاً

بلبل کی چمن میں ہم زبانی چھوڑی

بزم شعرا میں شعر خوانی چھوڑی

*

جب سے دل زندہ تو نے ہم کو چھوڑا

ہم نے بھی تری رام کہانی چھوڑی

***

بچپن کا زمانہ جو کہ حقیقت میں دنیا کی بادشاہت کا زمانہ ہے ایک ایسے دلچسپ اور پر فضا میدان میں گزارا جو کلفت کے گرد و غبار سے بالکل پاک تھا ۔ نہ وہاں ریت کے ٹیلے تھے ، نہ خاردار جھاڑیاں تھیں ، نہ آندھیوں کے طوفان تھے ، نہ باد سموم کی لپٹ تھی۔

جب اس میدان سے کھیلتے کودتے آگے بڑھے تو ایک اور صحرا اس سے بھی زیادہ دلفریب نظر آیا جس کے دیکھتے ہی ہزاروں ولولے اور لاکھوں امنگیں خود بخود دل میں پیدا ہو گںیی ۔ مگر یہ صحرا جس قدر نشاط انگیز تھا ۔ اس کی سر سبز جھاڑیوں میں ہولناک درندے چھپے ہوئے تھے اور اس کے خوشنما پودوں پر سانپ اور بچھو لپٹے ہوئے تھے۔ جونہی اس کی حد میں قدم رکھا ہر گوشہ سے شیر و پلنگ اور مارو کژدم نکلے آئے ۔ باغ جوانی کی بہار اگر چہ قابل دید تھی مگر دنیا کی مکروہات سے دم لینے کی فرصت نہ ملی، نہ خود آرائی کا خیال آیا، نہ عشق و جوانی کی ہوا لگی ، نہ وصل کی لذت اٹھائی ، نہ فراق کا مزا چکھا۔


پنہاں تھا دام سخت قریب آشیانے کے

اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

***

البتہ شاعری کی بدولت چند روز جھوٹا عاشق بننا پڑا ۔ ایک خیالی معشوق کی چاہ میں برسوں دشت جنوں کی وہ خاک اڑائی کہ قیس و فرہاد کو گرد کر دیا۔ کبھی نالۂ نیم شب سے ربع مسکوں کو بلا ڈالا۔ کبھی چشم دریا بار سے تمام عالم کو ڈبو دیا۔ آہ د فغاں کے شور سے کرو بیوں کے کان بہرے ہو گئے۔شکایتوں کی بوچھاڑ سے زمانہ چیخ اٹھا ۔ طعنوں کی بھر مار سے آسمان چھلنی ہو گیا۔ جب رشک کا تلاطم ہوا تو ساری خدائی کو رقیب سمجھا ۔ یہاں تک کہ آپ اپنے سے بد گمان ہو گئے ۔ جب شوق کا دریا امنڈا تو کشش دل سے جذب مقناطیسی اور قوت کہر بائی کا کام لیا ۔ بارہا تیغ ابرو سے شہید ہوئے اور بارہا ایک ٹھوکر سے جی اٹھے۔ گویا زندگی ایک پیرا ہن تھا کہ جب چاہا اتار دیا اور جب چاہا پہن لیا۔ میدان قیامت میں اکثر گزرا ہوا۔ بہتد و دوزخ کی اکثر سیر کی۔ بادہ نوشی پر آئے تو خم کے خم لنڈھا دئیے اور پھر بھی سیر نہ ہوئے۔ کبھی خانۂ خمار کی چوکھٹ پر جبہ سائی کی ۔ کبھی مے فروش کے در پر گدائی کی۔ کفر سے مانوس رہے ایمان سے بیزار رہے۔ پیر مغاں کے ہاتھ پر بیعت کی ۔ برہمنوں کے چیلے بنے۔ بت پوجے ۔ سنار باندھا۔ قشقہ لگایا ۔ زاہدوں پر پھبتیاں کہیں ۔ واعظوں کا خاکہ اڑایا ۔ دیر اور بت خانہ کی تعظیم کی۔ کعبہ اور مسجد کی توہین کی ۔ خدا سے شوخیاں کیں ۔ نبیوں سے گستاخیاں کیں ۔ اعجاز مسیحی کو ایک کھیل جانا۔ حسن یوسفی کو ایک تماشا سمجھا ۔ غزل کہی تو پاک شہدوں کی بولیاں بولیں ۔ قصیدہ لکھا تو بھاٹ اور باد خوانوں کے منہ پھیر دیئے ۔ ہر مشت خاک میں اکسیر اعظم کے خواص بتلائے ، ہر چوب خشک میں عصائے موسوی کے کرشمے دکھائے۔ ہر نمرود وقت کو ابراہیم خلیل سے جا ملایا۔ ہر فرعون بے سامان کو قادر مطلق سے جا بھڑایا۔ جس کے مداح بنے اسے ایسا بانس پر چڑھایا کہ خود ممدوح کو اپنی تعریف میں کچھ مزا نہ آیا ۔ غرض نامۂ اعمال ایسا سیاہ کیا کہ کہیں سفید باقی نہ چھوڑی۔


چو پرسش گنہم روز حشر خواہد بود

تمسکات گناہان خلق پارہ کنند

***

بیس برس کی عمر سے چالیسویں سال تک تیلی کے بیل کی طرح اسی ایک چکر میں پھرتے رہے اور اپنے نزدیک سارا جہاں طے کر چکے ۔ جب آنکھیں کھیلیں تو معلوم ہوا کہ جہاں سے چلے تھے اب تک وہیں ہیں ۔

شکست رنگ شباب و ہنوز رعنائی

در آں دیار کہ زاوی ہنوز آنجائی

***

نگاہ اٹھا کر دیکھا تو دائیں بائیں آگے پیچھے ایک میدان وسیع نظر آیا جس میں بے شمار راہیں چاروں طرف کھلی ہوئی تھیں اور خیال کے لیے کہیں عرصہ تنگ نہ تھا۔ جی میں آیا کہ قدم آگے بڑھائیں اور اس میدان کی سیر کریں مگر جو قدم بیس برس تک ایک چال سے دوسری چال نہ چلے ہوں اور جن کی دوڑ گز دو گز زمین میں محدود رہی ہو ان سے اس وسیع میدان میں کام لینا آسان نہ تھا۔ اس کے سوا بیس برس کی بیکار اور نکمی گردش میں ہاتھ پاؤں چور ہو گئے تھے اور طاقت رفتار جواب دے چکی تھی ۔ لیکن پاؤں میں چکر تھا اس لیے نچلا بیٹھنا بھی دشوار تھا ۔ چند روز اسی تردد میں یہ حال رہا کہ ایک قدم آگے پڑتا تھا دوسرا پیچھے ہٹتا تھا۔ ناگاہ دیکھا کہ ایک خدا کا بندہ جو اس میدان کا مرد ہے ایک دشوار گزار رستے میں رہ نورد رہے ۔ بہت سے لوگ جو اس کے ساتھ چلے تھے تھک کر پیچھے رہ گئے ہیں ۔ بہت سے ابھی اس کے ساتھ افتاں و خیزاں چلے جاتے ہیں ۔ مگر ہونٹوں پر پیڑیاں جمی ہیں ۔ پیروں میں چھالے پڑے ہیں ۔ دم چڑھ رہا ہے ۔ چہرہ پر ہوائیاں اڑ رہی ہیں ۔ لیکن وہ اولو العزم آدمی جوان سب کا رہنما ہے ۔ اسی طرح تازہ دم ہے ۔ نہ اسے رستے کی تکان ہے نہ ساتھیوں کے چھوٹ جانے کی پروا ہے ۔نہ منزل کی دوری سے کچھ ہر اس ہے۔ اس کی چتون میں غضب کا جادو بھرا ہے کہ جس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے وہ آنکھیں بند کر کے اسی کے ساتھ ہو لیتا ہے


اس کی ایک نگاہ ادھر بھی پڑی اور اپنا کام کر گئی۔ بیس برس کے تھکے ہارے خستہ و کوفتہ اسی دشوار گزار رستہ پر پڑ لیے ۔ نہ یہ خبر ہے کہاں جاتے ہیں نہ یہ معلوم ہے کہ کیوں جاتے ہیں ۔ نہ طلب صادق ہے نہ قدم راسخ ہے نہ عزم ہے نہ استقلال نہ صدق ہے نہ اخلاص ہے مگر ایک زبردست ہاتھ ہے کہ کھینچے لیے چلا جاتا ہے۔

آں دل کہ رم نمودے از خو بروں جواناں دیرینہ سال پیرے بردس بیک نگاہے

زمانہ کا نیا ٹھاٹھ دیکھ کر پرانی شاعری سے دل سیر ہو گیا تھا اور جھوٹے ڈھکوسلے باندھنے سے شرم آنے لگی تھی۔ نہ یاروں کے ابھاروں سے دل بڑھتا تھا ۔ نہ ساتھیوں کی ریس سے کچھ جوش آتا تھا ۔ مگر یہ ایک ناسور کا منہ بند کرنا تھا جو کسی نہ کسی راہ سے تراوش کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ اس لیے بخارات درونی جن کے رکنے سے دم گھٹا جاتا تھا ، دل و دماغ میں تلاطم کر رہے تھے ۔ اور کوئی رخنہ ڈھونڈتے تھے ۔ قوم کے ایک سچے خیر خواہ نے ( جو اپنی قوم کے سوا تمام ملک میں اسی نام سے پکارا جاتا ہے اور جس طرح خود اپنے پر زور ہاتھ اور قوی بازو سے بھائیوں کی خدمت کر رہا ہے ۔ اسی طرح ہر اپاہج اور نکمے کو اسی کام میں لگانا چاہتا ہے )

آ کر ملامت کی اور غیرت دلائی کہ حومان ناطق ہونے کا دعویٰ کرنا اور خدا کی دی ہوئی زبان سے کچھ کام نہ لینا بڑے شرم کی بات ہے ۔

روچو انسان لب بجبنباں در دہن

در جمادی لاف انسانی مزن

***


قوم کی حالت تباہ ہے ۔ عزیز ذلیل ہو گئے ہیں ۔ شریف خاک میں مل گئے ہیں ۔ علم کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ دین کا صرف نام باقی ہے ۔ افلاس کی گھر گھر پکار ہے ۔ پیٹ کی چاروں طرف دہائی ہے ۔ اخلاق بالکل بگڑ گئے ہیں اور بگڑتے جاتے ہیں ۔ تعصب کی گھنگھور گھٹا تمام قوم پر چھائی ہوئی ہے ۔ رسم و رواج کی بیٹی ایک ایک کے پاؤں پہنچا سکتے ہیں غافل اور بے پروا ہیں ۔ علماء جن کو قوم کی اصلاح میں بہت بڑا دخل ہے زمانہ کی ضرورتوں اور مصلحتوں سے ناواقف ہیں ۔ ایسے میں جس سے جو کچھ بن آئے تو بہت ہے ورنہ ہم سب ایک ہی ناؤ میں سوار ہیں اور ساری ناؤ کی سلامتی میں ہماری سلامتی ہے ۔ ہر چند لوگ بہت کچھ لکھ چکے ہیں اور لکھ رہے ہیں ۔ مگر نظم جو کہ بالطبع سب کو مرغوب ہے اور خاص کر عربوں کا ترکہ اور مسلمانوں کا موروثی حصہ ہے قوم کے بیدار کرنے کے لیے اب تک کسی نے نہیں لکھی ۔ اگر چہ ظاہر ہے کہ اور تدبیروں سے کیا ہوا جو اس تدبیر سے ہو گا ۔ مگر ایسی تنگ حالتوں میں انسان کے دل پر ہمیشہ دو طرح کے خیال گزرتے رہے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ دوسرے یہ کہ ہم کچھ کرنا چاہیے ۔ پہلے خیال کا یہ نتیجہ ہوا کہ کچھ نہ ہوا ۔ اور دوسرے خیال سے دنیا میں بڑے عجائبات ظاہر ہوئے ۔

در فیض ست منشیں از کشائش ناامید ایں جا برنگ دانہ از ہر قفل می روید کلید ایں جا

" اور وہ ایسا خدا ہے کہ جب لوگ نا امید ہو جاتے ہیں تو مینہ برسات ہے اور اپنی رحمت پھیلاتا ہے "

ہر چند اس حکم کی بجا آوری مشکل تھی اور خدمت کا بوجھ اٹھانا دشوار تھا ۔ مگر ناصح کی جادو بھری تقریر جی میں گھر کر گئی ۔ دل سے ہی نکلی تھی دل میں جا کر ٹھہری ۔برسوں کی بجھی ہوئی طبعیت میں ایک ولولہ پیدا ہوا۔ اور باسی کڑھی میں ایک ابال آیا ۔ افسردہ دل بوسیدہ دماغ جو امراض کے متواتر حملوں سے کسی کام کے نہ رہے تھے انہیں سے کام لینا شروع کیا اور ایک مسدس کی بنیاد ڈالی۔ دنیا کے مکروہات سے فرصت بہت کم ملی ۔ اور بیمار یوں کے ہجوم سے اطمینان کبھی نصیب نہ ہوا مگر ہر حال میں یہ دھن لگی رہی۔ بارے الحمد للہ کہ بہت سے وقتوں کے بعد ایک ٹوٹی پھو ٹی نظم اس عاجز بندہ کی بساط کے موافق تیار ہو گئی ۔ اور ناصح مشفق سے شرمندہ نہ ہونا پڑا ۔ صرف ایک امید کے سہارے پر یہ راہ دور دراز طے کی گئی ہے ۔ ورنہ منزل کا نشان نہ اب تک ملا ہے اور نہ آئندہ ملنے کی توقع ہے ۔


خبر نیست کہ منزل گہ مقصود کجاست

ایں قدر ہست کہ بانگ جر سے مے آید

***

اس مسدس کے آغاز میں پان سات بند تمہید کے لکھ کر اول عرب کی اس ابتر حالت کا خاکہ کوکب اسلام کا طلوع ہونا اور نبی امی کی تعلیم سے اس ریگستان کا دفعتاً سر سزک و شاداب ہو جانا اور اس ابر رحمت کا امت کی کھیتی کو رحلت کے وقت ہر ابھرا چھو ڑ جانا اور مسلمانوں کا دینی و دنیوی ترقیات میں تمام عالم پر سبقت لے جانا بیان کیا ہے ۔ اس کے بعد ان کے تنزل کا حال کھا ہے اور قوم کے لیے اپنے بے ہنر ہاتھوں سے ایک آئینہ خانہ بنایا ہے جس میں آ کر وہ اپنے خط و خال دیکھ سکتے ہیں کہ ہم کون تھے اور کیا ہو گئے ۔ اگر چہ اس جانکاہ نظم میں جس کی دشواریاں لکھنے والے کا دل اور دماغ ہی خوب جانتا ہے بیان کا حق نہ مجھ سے ادا ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے ۔ مگر شکر ہے کہ جس قدر رہو گیا اتنی بھی امید نہ تھی ۔ ہمارے ملک کے اہل مذاق ظاہراً اس روکھی پھیکی سیدھی سادی نظم کو پسند نہ کریں گے ۔ کیونکہ اس میں تاریخی واقعات ہیں چند آیتوں اور حدیثوں کا ترجمہ ہے یا جو آج کل قوم کی حالت ہے ، اس کا صحیح صحیح نقشہ کھینچا گیا ہے ۔ نہ کہیں نازک خیالی ہے ، نہ رنگیں بیانی ، نہ مبالغہ کی چاٹ ہے ، نہ تکلف کی چاشنی ہے ، غرض کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے اہل وطن کے کان مانوس اور مذاق آشنا ہوں اور کوئی کرشمہ ایسا نہیں ہے کہ لاعین راَت ولا اذنٌ سمعت ولا خطر علی قلب بشر (نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی بشر کے دل میں گزارا) گویا اہل دہلی و لکھنؤ کی دعوت میں ایک ایسا دستر خوان چنا گیا ہے جس میں ابالی کھچڑی اور بے مرچ سالن کے سوا کچھ نہیں مگر اس نظم کی ترتیب مزے لینے اور وہ واہ سننے کیلیے نہیں کی گئی ۔ بلکہ عزیزوں اور دوستوں کو غیرت اور شرم دلانے کے لیے کی گئی ہے ۔ اگر دیکھیں اور پڑھیں اور سمجھیں تو ان کا احسان ہے ورنہ کچھ شکایات نہیں ۔

حافظ وظیفۂ تو دعا گفتن است و بس

در بند آں مباش کہ تشنید یا شنید

***


دوسرا دیباچہ

متعلق بہ ضمیمہ

١٣٠٣ ھ

حدیث درد دلآویز داستانے ہست

کہ ذوق بیش دہ چوں دراز تر گردو

***

مسدس مدو جز را سلام اول ہی اول ١٢٩٤ ھ میں چھپ کر شائع ہوا تھا ۔ اگر چہ اس نظم کی اشاعت سے شاید کوئی معتدبہ فائدہ سوسائٹی کو نہیں پہنچا ۔ مگر چھ برس میں جس قدر قبولیت و شہر ت اس نظم کو اطراف ہندوستان میں ہوئی وہ فی الواقع تعجب انگیز ہے ۔ نظم بالکل غیر مانوس تھی اور مضمون اکثر طعن و ملامت پر مشتمل تھے ۔ قوم کی برائیاں چن چن کر ظاہر کی گئی تھیں اور زبان سے تیغ و سناں کا کام لیا گیا تھا۔ ناظم کی نسبت قوم کے اکثر ابرار و اخیار مذہبی سو ء ظن رکھتے تھے۔ تعصب عموماً کلمہ حق سننے سے مانع تھا۔ با ایں ہمہ اس تھوڑی سی مدت میں یہ نظم ملک کے اطراف و جوانب میں پھیل گئی ۔ ہندوستان کے مختلف اضلاع میں اس کے ساتھ آٹھ ایڈیشن اب سے پہلے شائع ہو چکے ہیں ۔ بعض قومی مدرسوں میں اس کا انتخاب بچوں کو پڑھایا جاتا ہے ۔ مولود شریف کی مجلسوں میں جا بجا اس کے بند پڑھے جاتے ہیں ۔ اکثر لوگ اس کو پڑھ کر بے اختیار روتے اور آنسو بہاتے ہیں ۔ اس کے بہت سے بند ہمارے واعظوں کی زبان پر جاری ہیں ۔ کہیں کہیں قومی ناٹک میں اس کے مضامین ایکٹ کیے جاتے ہیں ۔ بہت سے مسدس اسی کی روش پر اسی بحر میں ترتیب دیئے گئے ہیں ۔ اکثر اخباروں میں موافق و مخالف ریویو اس پر لکھے گئے ہیں ۔ شمال مغربی اضلاع کے سرکاری مدارس میں عام قبولیت کی وجہ سے اس کو تعلیم میں دخل کر دیا گیا ہے ۔ یہ او ر اسی قسم کی اور بہت سی باتیں ایسی ہیں جس سے معلوم ہو تا ہے کہ قوم کے دل میں متاثر ہونے کا مادہ نہ ہوتا تو یہ اور ایسی ایسی ہزار نظمیں بے کار تھیں ۔ پس مصنف کو اگر فخر ہے تو صرف اس بات پت ہے کہ اس نے زمین گردانا ہے جو بے راہ ہے پر گمراہ نہیں ہے وہ رستے سے بھٹکے ہوئے میں مگر رستے کی تلاش میں چپ دراست نگراں ہیں ۔ اس کے ہنر مفقود ہو گئے ہیں مگر قابلیت موجود ہے ۔


ان کی صورت بدل گئی ہے ۔ مگر ہیولیٰ باقی ہے ۔ ان کے قویٰ مضمحل ہو گئے ۔ مگر زائل نہیں ہوئے ۔ ان کے جوہر مٹ گئے ہیں مگر جلا سے پھر نمو دار ہو سکتے ہیں ۔ ان کے عیبوں میں خوبیاں بھی ہیں مگر چھپی ہوئی ۔ ان کے خاکستر میں چنگاریاں بھی ہیں مگر دبی ہوئی ۔

یہ نظم جس میں قوم کی گزشتہ اور موجودہ حالت کا صحیح صحیح نقشہ کھینچا مد نظر تھا اگرچہ مشرق کی عام نظموں کی نسبت مبالغہ سے خالی تھی ۔ لیکن فرو گذاشت سے خالی نہ تھی ۔ دوست کی نگاہ نکتہ چینی اور خوردہ گیری میں وہی کام کرتی ہے جو دشمن کی نگاہ کر تی ہے ۔ دونوں یکساں عیبوں پر خوردہ گیری اور چشم پوشی کرتے ہیں ۔ مگر دشمن اس غرض سے کہ عیب ظاہر ہوں اور خوبیاں مخفی رہیں ۔ اور دوست اس خوف سے کہ مبادا خوبیوں کا غرور عیبوں کی اصلاح سے باز رکھے ۔ مصنف بھی جو کہ دوستی کا دم بھرتا ہے شاید محبت اور دلسوزی ہی سے قوم کی عیب جوئی پر مجبور ہوا اور ہنر گستری سے معذور رہا ۔ مگر بھڑک بھڑک کر بجھ گئی تھی ۔ اور اس کی افسردگی الفاظ میں سرایت کر گئی تھی۔ نظم کا خاتمہ ایسے دل شکن اشعار پر ہوا جن سے تمام امیدیں منقطع ہو گںیو اور تمام کوشش رائیگاں نظر آنے لںیس ۔ شاید اس خرابی کا تدارک کچھ نہ ہو سکتا اگر قوم کی توجہ مصنف کے دل میں یاک نئی تحریک پیدا نہ کرتی اور قوم کو ایک نئے خطاب کا مستحق نہ ٹھریاتی ۔ گو قوم نہیں بدلی مگر اس کے تیور بدلتے جاتے ہیں ۔ پس اگر تحسین کا وقت نہیں آیا تو نفرین ضرور کم ہونی چاہیے ۔ بعض احباب کی تحریک نے ان خیالات کی تائید کی اور ایک ضمیمہ مقتضائے حال کے موافق اصل مسدس کے آخر میں لاحق کیا گیا ۔ ضمیمہ کو طول دینا مصنف کا مقصود نہ تھا لیکن اس مضمون کو چھیڑ کر طول سے بچنا ایسا ہی مشکل تھا جیسے سمندر میں کود کر ہاتھ پاؤں نہ مارنا۔

قدیم مسدس میں جستہ جستہ تصرف کیا گیا ہے ۔ شاید بعض تصرفات کو ناظرین اس وجہ سے کہ قدیم اسلوب مانوس ہو گیا تھا پسند نہ کریں ۔ مگر مصنف کا فرض تھا کہ دوستوں کی ضیافت میں کوئی ایسی چیز پیش نہ کرے جو خود اس کے مذاق میں ناگوار معلوم ہو ۔ نظم نہ پہلے پسند کے قابل تھی اور نہ اب ہے۔ مگر الحمد اللہ کہ درد اور سچ پہلے بھی تھا اور اب بھی ہے امید ہے کہ درد پھیلے گا اور سچ چمکے گا :

ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم


رباعی

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے

اسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھے

مانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعد

دریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے

***


مسدس (۱)

کسی نے یہ بقراط سے جا کے پوچھا

مرض تیرے نزدیک مہلک ہیں کیا کیا

کہا " دکھ جہاں میں نہیں کوئی ایسا

کہ جس کی دوا حق نے کی ہو نہ پیدا

مگر وہ مرض جس کو آسان سمجھیں

کہے جو طبیب اس کو ہذیان سمجھیں

***

سبب یا علامت گر ان کو سجھائیں

تو تشخیص میں سو نکالیں خطائیں

دوا اور پرہیز سے جی چرائیں

یونہی رفتہ رفتہ مرض کو بڑھائیں

طبیبوں سے ہر گز نہ مانوس ہوں وہ

یہاں تک کہ جینے سے مایوس ہوں وہ"

***

یہی حال دنیا میں اس قوم کا ہے

بھنور میں جہاز آ کے جس کا گھرا ہے

کنارہ ہے دور اور طوفان بپا ہے

گماں ہے یہ ہر دم کہ اب ڈوبتا ہے

نہیں لیتے کروٹ مگر اہلِ کشتی

پڑے سوتے ہیں بے خبر اہلِ کشتی

***


گھٹا سر پہ ادبار کی چھار رہی ہے

فلاکت سماں اپنا دکھلا رہی ہے

نحوست پس و پیش منڈلا رہی ہے

چپ و راست سے یہ صدا آ رہی ہے

کہ کل کون تھے آج کیا ہو گئے تم

ابھی جاگتے تھے ابھی سو گئے تم

***

پر اس قومِ غافل کی غفلت وہی ہے

تنزل پہ اپنے قناعت وہی ہے

ملے خاک میں رعونت وہی ہے

ہوئی صبح اور خوابِ راحت وہی ہے

نہ افسوس انہیں اپنی ذلت پہ ہے کچھ

نہ رشک اور قوموں کی عزت پہ ہے کچھ

***

بہائم کی اور ان کی حالت ہے یکساں

کہ جس حال میں ہیں اسی میں ہیں شاداں

نہ ذلت سے نفرت نہ عزت کا ارماں

نہ دوزخ سے ترساں نہ جنت کے خواں

لیا عقل و دیں سے نہ کچھ کام انھوں نے

کیا دینِ برحق کو بدنام انھوں نے

***


وہ دیں جس نے اعدا کو اخواں بنایا

وحوش اور بہائم کو انساں بنایا

درندوں کو غمخوارِ دوراں بنایا

گڈریوں کو عالم کا سلطان بنایا

وہ خط جو تھا ایک ڈھوروں کا گلہ

گراں کر دیا اس کا عالم سے پلہ

***


مسدسِ (۲)

عرب جس کا چرچا ہے یہ کچھ وہ کیا تھا

جہاں سے الگ اک جزیرہ نما تھا

زمانہ سے پیوند جس کا جدا تھا

نہ کشور ستاں تھا، نہ کشور کشا تھا

تمدن کا اس پر پڑا تھا نہ سایا

ترقی کا تھا واں قدم تک نہ آیا

***

نہ آب و ہوا ایسی تھی روح پرور

کہ قابل ہی پیدا ہوں خود جس سے جوہر

نہ کچھ ایسے سامان تھے واں میسر

کنول جس سے کھل جائی دل کے سراسر

نہ سبزہ تھا صحرا میں پیدا نہ پانی

فقط آبِ باراں پہ تھی زندگانی

***

زمیں سنگلاخ اور ہوا آتش افشاں

لوؤں کی لپٹ بادِ صرصر کے طوفاں

پہاڑ اور ٹیلے سراب اور بیاباں

کھجوروں کے جھنڈ اور خارِ مغیلاں

نہ کھیتوں میں غلہ نہ جنگل میں کھیتی

عرب اور کل کائنات اس کی یہ تھی

***


نہ واں مصر کی روشنی جلوہ گر تھی

نہ یونان کے علم و فن کی خبر تھی

وہی اپنی فطرت پہ طبع بشر تھی

خدا کی زمیں بن جتی سر بسر تھی

پہاڑ اور صحرا میں ڈیرا تھا سب کا

تلے آسماں کے بسیرا تھا سب کا

***

کہیں آگ پجتی تھی واں بے محابا

کہیں تھا کواکب پرستی کا چرچا

بہت سے تھے تثلیث پر دل سے شیدا

بتوں کا عمل سو بسو جا بچا تھا

کرشموں کا راہب کے تھا صید کوئی

طلسموں میں کاہن کے تھا قید کوئی

***

وہ دنیا میں گھر سب سے پہلا خدا کا

خلیل ایک معمار تھا جس بنا کا

ازل میں مشیت نے تھا جس کو تا کا

کہ اس گھر سے ابلے گا چشمہ بدی کا

وہ تیرتھ تھا اک بت پرستوں کا گو یہ

جہاں نامِ حق کا نہ تھا کوئی جویا

***


قبیلے قبیلے کا بت اک جدا تھا

کسی کا ہبل تھا کسی کا صفا تھا

یہ عزا پہ وہ نائلہ پر فدا تھا

اسی طرح گھر گھر نیا اک خدا تھا

نہاں ابرِ ظلمت میں تھا مہرِ انور

اندھیرا تھا فاران کی چوٹیوں پر

***

چلن ان کے جتنے تھے سب وحشیانہ

ہر اک لوٹ اور مار میں تھا یگانہ

فسادوں میں کٹتا تھا ان کا زمانہ

نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ

وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے

درندے ہوں جنگل میں بے باک جیسے

***

نہ ٹلتے تھے ہر گز جو اڑ بیٹھتے تھے

سلجھتے نہ تھے جب جھگڑ بیٹھتے تھے

جو وہ شخص آپس میں لڑ بیٹھتے تھے

تو صدہا قبیلے بگڑ بیٹھتے تھے

بلند ایک ہوتا تھا گر واں شرارا

تو اس سے بھڑک اٹھتا تھا ملک سارا

***


بہ بکر اور تغلب کی باہم لڑائی

صدی جس میں آدھی انھوں نے گنوائی

قبیلوں کی گردی تھی جس نے صفائی

تھی اک آگ ہر سو عرب میں لگائی

نہ جھگڑا کوئی ملک و دولت کا تھا وہ

کرشمہ اک ان کی جہالت کا تھا وہ

***


مسدسِ (۳)

کہیں تھا مویشی چرانے پہ جھگڑا

کہیں پہلے گھوڑا بڑھانے پہ جھگڑا

لبِ جو کہیں آنے جانے پہ جھگڑا

کہیں پانی پینے پلانے پہ جھگڑا

یونہی روز ہوتی تھی تکرار ان میں

یونہی چلتی رہتی تھی تلوار ان میں

***

جو ہوتی تھی پیدا کسی گھر میں دختر

تو خوفِ شماتت سے بے رحم مادر

پھرے دیکھتی جب تھی شوہر کے تیور

کہیں زندہ گاڑ آتی تھی اس کو جا کر

وہ گود ایسی نفرت سے کرتی تھی خالی

جنے سانپ جیسے کوئی جننے والی

***

جوا ان کی دن رات کی دل لگی تھی

شراب ان کی گھٹی میں گویا پڑی تھی

تعیش تھا غفلت تھی، دیوانگی تھی

غرض ہر طرح ان کی حالت بری تھی

بہت اس طرح ان کو گزری تھیں صدیاں

کہ چھائی ہوئی نیکیوں پر تھی بدیاں

***


یکایک ہوئی غیرتِ حق کو حرکت

بڑھا جانبِ بوقبیں ابرِ رحمت

ادا خاکِ بطحا نے کی وہ ودیعت

چلے آتے تھے جس کی دیتے شہادت

ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا

دعائے خلیل اور نویدِ مسیحا

***

ہوئے محو عالم سے آثارِ ظلمت

کہ طالع ہوا ماہِ برجِ سعادت

نہ چٹکی مگر چاندنی ایک مدت

کہ تھا ابر میں ماہتابِ رسالت

یہ چالیسویں سال لطفِ خدا سے

کیا چاند نے کھیت غارِ حرا سے

***

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ

یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ

***


خطا کار سے درگزر کرنے والا

بد اندیش کے دل میں گھر کرنے والا

مفاسد کلا زیر و زبر کرنے والا

قبائل کو شیر و شکر کرنے والا

اٹھ کر حرا سے سوئے قوم آیا

اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا

***

مسِ خام کو جس نے کندن بنایا

کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا

عرب جس پہ قرنوں سے تھا جہل چھایا

پلٹ دی بس اک آن مین اس کی کایا

رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا

ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا

***

پڑی کان میں دھات تھی اک نکمی

نہ کچھ قدر تھی اور نہ قیمت تھی جس کی

طبیعت میں جو اس کے جو ہر تھے اصلی

ہوئے سب تھے مٹی میں مل کر وہ مٹی

پہ تھا ثبت علمِ قضا و قدر میں

کہ بن جائے گی وہ طلا اک نظر میں

***


وہ فخرِ عرب زیبِ محراب و منبر

تمام اہلِ مکہ کو ہمراہ لے کر

گیا ایک دن حسبِ فرمانِ داور

سوئے دشت اور چڑھ کے کوہِ صفا پر

یہ فرمایا سب سے کہ " اے آلِ غالب

سمجھتے ہو تم مجھ کو صادق کہ کاذب؟"

***


مسدسِ (۴)

کہا سب نے " قول آج تک کوئی تیرا

کبھی ہم نے جھوٹا سنا اور نہ دیکھا"

کہا" گر سمجھتے ہو تم مجھ کو ایسا

تو باور کرو گے اگر میں کہوں گا؟

کہ فوجِ گراں پشتِ کوہِ صفا پر

پڑی ہے کہ لوٹے تمہیں گھات پاکر"

***

کہا" تیری ہر بات کا یاں یقیں ہے

کہ بچپن سے صادق ہے تو اور امیں ہے"

کہا" گر مری بات یہ دل نشیں ہے

تو سن لو خلاف اس میں اصلا نہیں ہے

کہ سب قافلہ یاں سے ہے جانے والا

ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا

***

وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی

عرب کی زمیں جس نے ساری ہلا دی

نئی اک لگن دل میں سب کے لگا دی

اک آواز میں سوتی بستی جگا دی

پڑا ہر طرف غل یہ پیغام حق سے

کہ گونج اٹھے دشت و جبل نامِ حق سے

***


سبق پھر شریعت کا ان کو پڑھایا

حقیقت کا گر ان کو ایک اک بتایا

زمانہ کے بگڑے ہوؤں کو بنایا

بہت دن کے سوتے ہوؤں کو جگایا

کھلے تھے نہ جو راز اب تک جہاں پر

وہ دکھلا دیئے ایک پردہ اٹھا کر

***

کسی کو ازل کا نہ تھا یاد پیماں

بھلائے تھے بندوں نے مالک کے فرماں

زمانہ میں تھا دورِ صہبائے بطلاں

مئے حق سے محرم نہ تھی بزمِ دوراں

اچھوتا تھا توحید کا جام اب تک

خم معرفت کا تھا منہ خام اب تک

***

نہ واقف تھے انساں قضا اور جزا سے

نہ آگاہ تھے مبداء و منتہا سے

لگائی تھی ایک اک نے لو ماسوا سے

پڑے تھے بہت دور بندے خدا سے

یہ سنتے ہی تھرا گیا گلہ سارا

یہ راعی نے للکار کر جب پکارا

***


کہ ہے ذاتِ واحد عبادت کے لایق

زبان اور دل کی شہادت کے لایق

اسی کے ہیں فرماں اطاعت کے لایق

اسی کی ہے سرکار خدمت کے لایق

لگاؤ تو لو اس سے اپنی لگاؤ

جھکاؤ تو سر اس کے آگے جھکاؤ

***

اسی پر ہمیشہ بھروسا کرو تم

اسی کے سدا عشق کا دم بھرو تم

اسی کے غضب سے ڈرو گر ڈرو تم

اسی کی طلب میں مرد گر مرد تم

مبرا ہے شرکت سے اس کی خدائی

نہیں اس کے آگے کسی کو بڑائی

***

خرد اور ادراک رنجور ہیں واں

مہ و مہر ادنیٰ سے مزدور ہیں واں

جہاندار مغلوب و مقہور ہیں واں

نبی اور صدیق مجبور ہیں واں

نہ پرسش ہے رہبان و احبار کی واں

نہ پروا ہے ابرار و احرار کی واں

***


تم اوروں کی مانند دھوکا نہ کھانا

کسی کو خدا کا نہ بیٹا بنانا

مری حد سے رتبہ نہ میرا بڑھانا

بڑھا کر بہت تم نہ مجھ کو گھٹانا

سب انساں ہیں واں جس طرح سر فگندہ

اسی طرح ہوں میں بھی اک اس کا بندہ

***


مسدسِ (۵)

بنانا نہ تربت کو میری صنم تم

نہ کرنا مری قبر پر سر کو خم تم

نہیں بندہ ہونے میں کچھ مجھے سے کم تم

کہ بے چارگی میں برابر ہیں ہم تم

مجھے دی ہے حق نے بس اتنی بزرگی

کہ بندہ بھی ہوں اس کا اور ایلچی بھی

***

اسی طرح دل ان کا ایک اک سے توڑا

ہر اک قبلۂ کج سے منہ ان کا موڑا

کہیں ماسوا کا علاقہ نہ چھوڑا

خداوند سے رشتہ بندوں کا جوڑا

کبھی کے جو پھرتے تھے مالک سے بھا گے

دئیے سر جھکا ان کے مالک کے آگے

***

پتا اصل مقصود کا پا گیا جب

نشاں گنجِ دولت کا ہاتھ آگیا جب

محبت سے دل ان کا گرما گیا جب

سماں ان پہ تو حید کا چھا گیا جب

سکھائے معیشت کے آداب ان کو

پڑھائے تمدن کے سب باب ان کو

***


جتائی انھیں وقت کی قدر و قیمت

دلائی انہیں کام کی حرص و رغبت

کہا چھوڑ دیں گے سب آخر رفاقت

ہو فرزندو زن اس مںب یا مال و دولت

نہ چھوڑے گا پر ساتھ ہر گز تمہارا

بھلائی میں جو وقت تم نے گزارا

***

غنیمت ہے صحت علالت سے پہلے

فراغت مشاغل کی کثرت سے پہلے

جوانی، بڑھاپے کی زحمت سے پہلے

اقامت، مسافر کی رحلت سے پہلے

فقیری سے پہلے غنیمت ہے دولت

جو کرنا ہے کر لو کہ تھوڑی ہے مہلت

***

یہ کہہ کر کیا علم پر ان کو شیدا

کہ ہیں دور رحمت سے سب اہلِ دنیا

مگر دھیان ہے جن کو ہر دم خدا کا

ہے تعلیم کا یا سدا جن میں چرچا

انہی کے لیے یاں ہے نعمت خدا کی

انہی پر ہے واں جا کے رحمت خدا کی"

***


سکھائی انہیں نوعِ انساں پہ شفقت

کہا " ہے یہ اسلامیوں کی علامت

کہ ہمسایہ سے رکھتے ہیں وہ محبت

شب و روز پہنچاتے ہیں اس کو راحت

وہ برحق سے اپنے لیے چاہتے ہیں

وہی ہر بشر کے لیے چاہتے ہیں

***

خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر

نہ ہو درد کی چوٹ جس کے جگر پر

کسی کے گر آفت گزر جائے سر پر

پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر

کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر

خدا مہرباں ہو گا عرشِ بریں پر۔

***

ڈرایا تعصب سے ان کو یہ کہہ کر

کہ زندہ رہا اور مرا جو اسی پر

ہوا وہ ہماری جماعت سے باہر

وہ ساتھی ہمارا نہ ہم اس کے یاور

نہیں حق سے کچھ اس محبت کو بہرہ

کہ جو تم کو اندھا کرے اور بہرہ

***


بچایا برائی سے ان کو یہ کہہ کر

کہ طاعت سے ترکِ معاصی ہے بہتر

تو رع کا ہے ذات میں جن کی جوہر

نہ ہوں گے کبھی عابد ان کے برابر

کرو ذکر اہلِ ورع کا جہاں تم

نہ لو عابدوں کا کبھی نام واں تم

***


مسدسِ (۶)

غریبوں کو محنت کی رغبت دلائی

کہ بازو سے اپنے کرو تم کمائی

خبر تاکہ لو اس سے اپنی پرائی

نہ کرنی پڑے تم کو در در گدائی

طلب سے ہے دنیا کی گریاں یہ نیت

تو چمکو گے واں ماہِ کامل کی صورت

***

امیروں کو تنبیہ کی اس طرح پر

کہ ہیں تم میں جو اغنیا اور تو نگر

اگر اپنے طبقہ میں ہوں سب سے بہتر

بنی نوع کے ہوں مددگار و یاور

نہ کرتے ہوں بے مشورت کام ہر گز

اٹھاتے نہ ہوں بے دھڑک گام ہر گز

***

تو مردوں سے آسودہ تر ہے وہ طبقہ

زمانہ مبارک ملے جس کو ایسا

پہ جب اہلِ دولت ہوں اشرارِ دنیا

نہ ہو عیش میں جن کو اوروں کی پروا

نہیں اس زمانہ میں کچھ خیرو برکت

اقامت سے بہتر ہے اس وقت رحلت

***


دیے پھیر دل ان کے مکر و ریا سے

بھرا ان کے سینہ کو صدق و صفا سے

بچایا انہیں کذب سے، افترا سے

کیا سرخرو خلق سے اور خدا سے

رہا قول حق میں نہ کچھ باک ان کو

بس اک شوب میں کر دیا پاک ان کو

***

کہیں حفظِ صحت کے آئیں سکھائے

سفر کے کہیں شوق ان کو دلائے

مفاد ان کو سوداگری کے سھاوئے

اصول ان کو فرماں دہی کے بتائے

نشاں راہِ منزل کا ایک اک دکھایا

بنی نوع کا ان کو رہبر بنایا

***

ہوئی ایسی عادت پہ تعلیم غالب

کہ باطل کے شیدا ہوئے حق کے طالب

مناقب سے بدلے گئے سب مثالب

ہوئے روح سے بہرہ ور ان کے قالب

جسے راج رد کر چکے تھے، وہ پتھر

ہوا جا کے آخر کو قایم سرے پر

***


جب امت کو سب مل چکی حق کی نعمت

ادا کر چکی فرض اپنا رسالت

رہی حق پہ باقی نہ بندوں کی حجت

نبی نے کیا خلق سے قصدِ رحلت

تو اسلام کی وارث اک قوم چھوڑی

کہ دنیا میں جس کی مثالیں ہیں تھوڑی

***

سب اسلام کے حکم بردار بندے

سب اسلامیوں کے مددگار بندے

خدا اور بنی کے وفادار بندے

یتیموں کے رانڈوں کے غمخوار بندے

رہِ کفر و باطل سے بیزار سارے

نشہ میں مئے حق کے سرشار سارے

***

جہالت کی رسںیر مٹا دینے والے

کہانت کی بنیاد ڈھا دینے والے

سر احکام دیں پر جھکا دینے والے

خدا کے لیے گھر لٹا دینے والے

ہر آفت میں سینہ سپر کرنے والے

فقط ایک اللہ سے ڈرنے والے

***


مسدسِ (۷)

اگر اختلاف ان میں باہم دگر تھا

تو بالکل مدار اس کا اخلاص پر تھا

جھگڑتے تھے لیکن نہ جھگڑوں میں شر تھا

خلاف آشتی سے خوش آیندہ تر تھا

یہ تھی موج پہلی اس آزادگی کی

ہرا جس سے ہونے کو تھا باغ گیتی

***

نہ کھانوں میں تھی واں تکلف کی کلفت

نہ پوشش سے مقصود تھی زیب و زینت

امیر اور لشکر کی تھی ایک صورت

فقیر اور غنی سب کی تھی ایک حالت

لگایا تھا مالی نے اک باغ ایسا

نہ تھا جس میں چھوٹا بڑا کوئی پودا

***

خلیفہ تھے امت کے ایسے نگہباں

ہو گلہ کا جیسے نگہبان چوپاں

سمجھتے تھے ذی و مسلم کو یکساں

نہ تھا عبد و حر میں تقاوت نمایاں

کنیز اور بانو تھی آپس میں ایسی

زمانہ میں ماں جائی بہنیں ہوں جیسی

***


رہِ حق میں تھی دوڑ اور بھاگ ان کی

فقط حق پہ تھی جس سے تھی لاگ ان کی

بھڑکتی نہ تھی خود بخود آگ ان کی

شریعت کے قبضہ میں تھی باگ ان کی

جہاں کر دیا نرم نرما گئے وہ

جہاں کر دیا گم، گرما گئے وہ

***

کفایت جہاں چاہیے واں کفایت

سخاوت جہاں چاہیے، واں سخاوت

جچی اور تلی دشمنی اور محبت

نہ بے وجہ الفت نہ بہ بے وجہ نفرت

جھکا حق سے جو، جھک گئے اس سے وہ بھی

رکا حق سے جو، رک گئے اس سے وہ بھی

***

ترقی کا جس دم خیال ان کو آیا

اک اندھیر تھا ربعِ مسکوں میں چھایا

ہر اک قوم پر تھا تنزل کا سایہ

بلندی سے تھا جس نے سب کو گرایا

وہ نیشن جو ہیں آج گردوں کے تارے

دھند لکے میں پستی کے پنہاں تھے سارے

***


نہ وہ دور دورہ تھا عبرانیوں کا

نہ یہ بخت و اقبال نصرانیوں کا

پراگندہ دفتر تھا یونانیوں کا

پریشاں تھا شیرازہ ساسانیوں کا

جہاز اہلِ روما کا تھا ڈگمگاتا

چراغ اہلِ ایراں کا تھا ٹمٹماتا

***

ادھر ہند میں ہر طرف تھا اندھیرا

کہ تھا گیان گن کا لدایاں سے ڈیرا

ادھر تھا عجم کو جہالت نے گھیرا

کہ دل سب نے کیش و کنش سے تھا پھیرا

نہ بھگوان ودھیان تھا گیانیوں میں

نہ یزداں پرستی تھی یزدانیوں میں

***

ہوا ہر طرف موجزن تھی بلا کی

گلوں پہ چھری چل رہی تھی جفا کی

عقوبت کی حد تھی نہ پرسش خطا کی

پڑی لٹ رہی تھی ودیعت خدا کی

زمیں پر تھا ابرِ ستم کا دڑیڑا

تباہی میں تھا نوع انساں کا بیڑا

***


وہ قومیں جو ہیں آج غمخوار انساں

درندوں کی اور ان کی طینت تھی یکساں

جہاں عدل کے آج جاری ہیں فرماں

بہت دور پہنچا تھا واں ظلم و طغیاں

بنے آج جو گلہ باں ہیں ہمارے

وہ تھے بھیڑئیے آدمی خوار سارے

***


مسدسِ (۸)

ہنر کا جہاں گرم بازار ہے اب

جہاں عقل و دانش کا بہورا ہے اب

جہاں ابرِ رحمت گہر بار ہے اب

جہاں ہن برستا لگاتار ہے اب

تمدن کا پیدا نہ تھا واں نشاں تک

سمندر کی آئی نہ تھی موج واں تک

***

نہ رستہ ترقی کا کوئی کھلا تھا

نہ زینہ بلندی پہ کوئی لگا تھا

وہ صحرا انھیں قطع کرنا پڑا تھا

جہاں نقشِ پا تھا نہ شورِ درا تھا

جونہی کان میں حق کی آواز آئی

لگا کرنے خود ان کا دل رہنمائی

***

گھٹا اک پہاڑوں سے بطحا کے اٹھی

پڑی چارسو یک بیک دھوم جس کی

کڑک اور دمک دور دور اس کی پہنچی

جو ٹیکس پہ گرجی تو گنگا پہ برسی

رہے اس سے محروم آبی نہ خاکی

ہری ہو گئی ساری کھیتی خدا کی

***


کیا امیوں نے جہاں میں اجالا

ہوا جس سے اسلام کا بول بالا

بتوں کو عرب اور عجم سے نکالا

ہر اک ڈوبتی ناؤ کو جا سنبھالا

زمانہ میں پھیلائی توحید مطلق

لگی آنے گھر گھر سے آواز حق حق

***

ہوا غلغلہ نیکیوں کا بدوں میں

پڑی کھلبلی کفر کی سرحدوں میں

ہوئی آتش افسردہ آتشکدوں میں

لگی خاک سی اڑنے سب معبدوں میں

ہوا کعبہ آباد سب گھر اجڑ کر

جمے ایک جا سارے دنگل بچھڑ کر

***

لیے علم و فن ان سے نصرانیوں نے

کیا کسبِ اخلاق روحانیوں نے

ادب ان سے سیکھا صفاہانیوں نے

کہا بڑھ کے لبیک یزدانیوں نے

ہر اک دل سے رشتہ جہالت کا توڑا

کوئی گھر نہ دنیا میں تاریک چھوڑا

***


ارسطو کے مردہ فنوں کو جلایا

فلاطون کو زندہ پھر کر دکھایا

ہر اک شہر و قریہ کو یوناں بنایا

مزا علم و حکمت کا سب کو چکھایا

کیا برطرف پردہ چشمِ جہاں سے

جگایا زمانے کو خوابِ گراں سے

***

ہر اک میکدے سے بھرا جا کے ساغر

ہر اک گھاٹ سے آئے سیراب ہو کر

گرے مثلِ پروانہ ہر روشنی پر

گرہ میں لیا باندھ حکم پیمبر

کہ" حکمت کو اک گم شدہ مال سمجھو

جہاں پاؤ اپنا اسے مال سمجھو"

***

ہر اک علم کے فن کے جویا ہوئے وہ

ہر اک کام میں سب سے بالا ہوئے وہ

فلاحت میں بے مثل و یکتا ہوئے وہ

سیاحت میں مشہورِ دنیا ہوئے وہ

ہر اک ملک میں ان کی پھیلی عمارت

ہر اک قوم نے ان سے سیکھی تجارت

***


کیا جا کے آباد ہر ملک ویراں

مہیا کیے سب کی راحت کے ساماں

خطرناک تھے جو پہاڑ اور بیاباں

انہیں کر دیا رشکِ صحنِ گلستاں

بہار اب جو دنیا میں آئی ہوئی ہے

یہ سب پودا انہی کی لگائی ہوئی ہے

***


مسدسِ (۹)

یہ ہموار سڑکیں یہ راہیں مصفا

دو طرفہ برابر درختوں کا سایا

نشاں جا بجا میل و فرسخ کے برپا

سرِ رہ کنوئیں اور سرائیں مہیا

انہی کے ہیں سب نے یہ چربے اتارے

اسی قافلہ کے نشاں ہیں یہ سارے

***

سدا ان کو مرغوب سیر و سفر تھا

ہر اک بر اعظم میں ان کا گزر تھا

تمام ان کا چھانا ہوا بحر و بر تھا

جو لنکا میں ڈیرا تو بربر میں گھر تھا

وہ گنتے تھے یکساں وطن اور سفر کو

گھر اپنا سمجھتے تھے ہر دشت و در کو

***

جہاں کو ہے یاد ان کی رفتار اب تک

کہ نقشِ قدم ہیں نمودار اب تک

ملایا میں ہیں ان کے آثار اب تک

انہیں رو رہا ہے ملیبار اب تک

ہمالہ کو ہیں واقعات ان کے ازبر

نشاں ان کے باقی ہیں جبرالٹر پر

***


نہیں اس طبق پر کوئی بر اعظم

نہ ہوں جس میں ان کی عمارت محکم

عرب، ہند، مصر، اندلس ، شام، ویلم

بناؤں سے ہیں ان کی معمور عالم

سرِ کوہِ آدم سے تا کوہِ بیضا

جہاں جاؤ گے کھوج پاؤ گے ان کا

***

وہ سنگیں محل اور وہ ان کی صفائی

جمی جن کے کھنڈروں پہ ہے آج کائی

وہ مرقد کی گنبد تھے جن کے طلائی

وہ معبد جہاں جلوہ گر تھی خدائی

زمانہ نے گو ان کی برکت اٹھا لی

نہیں کوئی ویرانہ پر ان سے خالی

***

ہوا اندلس ان سے گلزار یکسر

جہاں ان کے آثار باقی ہیں اکثر

جو چاہے کوئی دیکھ لے آج جا کر

یہ ہے بیت حمرا کی گویا زباں پر

کہ تھے آلِ عدنان سے میرے بانی

عرب کی ہوں میں اس زمیں پر نشانی

***


ہویدا ہے غرناطہ ہے شوکت ان کی

عیاں ہے بلنسیہ سے قدرت ان کی

بطلیوس کو یا دہے عظمت ان کی

ٹپکتی ہے قادس میں سر حسرت ان کی

نصیب ان کا اشبیلیہ میں ہے سوتا

شب و روز ہے قرطبہ ان کو روتا

***

کوئی قرطبہ کے کھنڈر جا کے دیکھے

مساجد کے محراب و در جا کے دیکھے

حجازی امیروں کے گھر جا کے دیکھے

خلافت کو زیر و زبر جا کے دیکھے

جلا لا ان کا کھنڈروں میں ہے یوں چمکتا

کہ ہو خاک میں جیسے کندن دمکتا

***

وہ بلدہ کہ فخرِ بلادِ جہاں تھا

ترو خشک پر جس کا سکہ رواں تھا

گڑا جس میں عباسیوں کا نشاں تھا

عراقِ عرب جس سے رشکِ جناں تھا

اڑا لے گئی بادِ پندار جس کو

بہا لے گئی سیلِ تاتار جس کو

***


سنے گوشِ عبرت سے گرجا کے انساں

تو واں ذرہ ذرہ یہ کرتا ہے اعلاں

کہ تھا جن دنوں مہرِ اسلام تاباں

ہوا یاں کی تھی زندگی بخش دواں

پڑی خاک ایتھنز میں جاں یہیں سے

ہوا زندہ پھر نام یوناں یہیں سے

***


مسدسِ (۱۰)

وہ لقمان و سقراط کے دُرِ مکنوں

وہ اسرارِ بقراط و درسِ فلاطوں

ارسطو کی تعلیم سولن کے قانوں

پڑے تھے کسی قبر کہنہ میں مدفوں

یہیں آ کے مہرِ سکوت ان کی ٹوٹی

اسی باغِ رعنا سے بو ان کی پھوٹی

***

یہ تھا علم پر واں توجہ کا عالم

کہ ہو جیسے مجروح جویائے مرہم

کسی طرح پیاس ان کی ہوتی نہ تھی کم

بجھاتا تھا آگ ان کی باراں نہ شبنم

حریمِ خلافت میں اونٹوں پہ لد کر

چلے آتے تھے مصر و یوناں کے دفتر

***

وہ تارے جو تھے شرق میں لمعہ افگن

پہ تھا ان کی کرنوں سے تا غرب روشن

نوشتوں سے ہیں جن کے اب تک مزین

کتب خانۂ پیرس و روم و لندن

پڑا غلغلہ جن کا تھا کشوروں میں

وہ سوتے ہیں بغداد کے مقبروں میں

***


وہ سنجار کا اور کوفہ کا میداں

فراہم ہوئے جس میں مساحِ دوراں

کرہ کی مساحت کے پھیلائے ساماں

ہوئی جزو سے قدر کل کی نمایاں

زمانہ وہاں آج تک نوح گر ہے

کہ عباسیوں کی سبھا وہ کدھر ہے

***

سمر قند سے اندلس تک سراسر

انھی کی رصدگاہیں تھیں جلوہ گستر

سوادِ مراغہ میں اور قاسیوں پر

زمیں سے صدا آ رہی ہے برابر

کہ جن کی رصد کے یہ باقی نشاں ہیں

وہ اسلامیوں کے منجم کہاں ہیں

***

مورخ جو ہیں آج تحقیق والے

تفحص کے ہیں جن کے آئیں نرالے

جنہوں نے ہیں عالم کے دفتر کھنگالے

زمیں کے طبق سر بسر چھان ڈالے

عرب ہی نے دل ان کے جا کر ابھارے

عرب ہی سے وہ بھرنے سیکھے ترارے

***


اندھیرا تواریخ پر چھا رہا تھا

ستارہ روایت کا گہنا رہا تھا

درایت کے سورج پہ ابر آ رہا تھا

شہادت کا میدان دھندلا رہا تھا

سرِ رہ چراغ اک عرب نے جلایا

ہر اک قافلہ کا نشاں جس سے پایا

***

گروہ ایک جو یا تھا علمِ نبی کا

لگایا پتا جس نے ہر مفتری کا

نہ چھوڑا کوئی رخنہ کذبِ خفی کا

کیا قافیہ تنگ ہر مدعی کا

کیے جرح و تعدیل کے وضع قانوں

نہ چلنے دیا کوئی باطل کا افسوس

***

اسی دھن میں آساں کیا ہر سفر کو

اسی شوق میں طے کیا بحر و بر کو

سنا خازنِ علم دیں جس بشر کو

لیا اس سے جا کر خبر اور اثر کو

پھر آپ اس کو پرکھا کسوٹی پہ رکھ کر

دیا اور کو کود مزا اس کا چکھ کر

***


کیا فاش راوی میں جو عیب پایا

مناقب کو چھانا مثالب کو تایا

مشائخ میں جو قبح نکلا جتایا

ائمہ میں جو داغ دیکھا، بتایا

طلسم ورع ہر مقدس کا توڑا

نہ ملا کو چھوڑا نہ صوفی کو چھوڑا

***


مسدسِ (۱۱)

رجال اور اسانید کے جو ہیں دفتر

گواہ ان کی آزادگی کے ہیں یکسر

نہ تھا ان کا احساں یہ اک اہلِ دیں پر

وہ تھے اس میں ہر قوم و ملت کے رہبر

لبرٹی میں جو آج فائق ہیں سب سے

بتائیں کہ لبرل بنے ہیں وہ کب سے

***

فصاحت کے دفتر تھے سب گاؤ خوردہ

بلاغت کے رستے تھے سب نا سپردہ

ادھر روم کی شمع انشا تھی مردہ

ادھر آتشِ پارسی تھی فسردہ

یکایک جو برق آ کے چمکی عرب کی

کھلی کی کھلی رہ گئی آنکھ سب کی

***

عرب کی جو دیکھی وہ آتش زبانی

سنی بر محل ان کی شیوا بیانی

وہ اشعار کی دل میں ریشہ دوانی

وہ خطبوں کی مانند دریا روانی

وہ جادو کے جملے وہ فقرے فسوں کے

تو سمجھے کہ گویا ہم اب تک تھے گونگے

***


سلیقہ کسی کو نہ تھا مدح و ذم کا

نہ ڈھب یاد تھا شرحِ شادی و غم کا

نہ انداز تلقین وعظ و حکم کا

خزانہ تھا مدفوں زباں اور قلم کا

نوا سنجیاں ان سے سیکھیں یہ سب نے

زباں کھول دی سب کی نطقِ عرب نے

***

زمانہ میں پھیلی طب ان کی بدولت

وہی بہرہ ور جس سے ہر قوم و ملت

نہ صرف ایک مشرق میں تھی ان کی شہرت

مسلم تھی مغرب تک ان کی حذاقت

سلر نو میں جو ایک نامی مطب تھا

وہ مغرب میں عطارِ مشکِ عرب تھا

***

ابو بکر رازی علی ابنِ عیسیٰ

حکیم گرامی حسین ابن سینا

حنین ابن اسحٰق قسمیں دانا

ضیا ابنِ بیطار راس الاطبا

انھیں کے ہیں مشرق میں سب نام لیوا

انہیں سے ہوا پار مغرب کا کھیوا

***


غرض فن ہیں جو مایۂ دین و دولت

طبیعی ، الہی، ریاضی و حکمت

طب اور کیمیا، ہندہ اور ہیئت

سیاست، تجارت، عمارت، فلاحت

لگاؤ گے کھوج ان کا جا کر جہاں تم

نشاں ان کے قدموں کے پاؤ گے واں تم

***

ہوا گو کہ پامال بستاں عرب کا

مگر اک جہاں ہے غزلخواں عرب کا

ہرا کر گیا سب کو باروں عرب کا

سپید و سیہ پر ہے احساس عرب کا

وہ قومیں جو ہیں آج سرتاج سب کی

کو نڈی رہیں گی ہمیشہ عرب کی

***

رہے جب تک ارکان اسلام برپا

چلن اہلِ دیں کا رہا سیدھا سادا

رہا میل سے شہد صافی مصفا

رہی کھوٹ سے سیمِ خالص مبرا

نہ تھا کوئی اسلام کا مردِ میداں

علم ایک تھا شش جہت میں در افشاں

***


پہ گدلا ہوا جب کہ چشمہ صفا کا

گیا چھوٹ سر رشتہ دینِ ہدیٰ کا

رہا سر پہ باقی نہ سایہ ہما کا

تو پورا ہوا عہد جو تھا خدا کا

کہ ہم نے بگاڑا نہیں کوئی اب تک

وہ بگڑا نہیں دنیا میں جب تک

***


مسدسِ (۱۲)

برے ان پہ وقت آ کے پڑنے لگے اب

وہ دنیا میں بس کر اجڑنے لگے اب

بھرے ان کے میلے بچھڑنے لگے اب

بنے تھے وہ جیسے بگڑنے لگے اب

ہری کھیتیاں جل گئیں لہلہا کر

گھٹا کھل گئی سارے عالم پہ چھا کر

***

نہ ثروت رہی ان کی قائم نہ عزت

گئے چھوڑ ساتھ ان کا اقبال و دولت

ہوئے علم و فن ان سے ایک ایک رخصت

مٹیں خوبیاں ساری نوبت بہ نوبت

رہا دین باقی نہ اسلام باقی

اک اسلام کا رہ گیا نام باقی

***

ملے کوئی ٹیلہ اگر ایسا اونچا

کہ آتی ہو واں سے نظر ساری دنیا

چڑھے اس پہ پھر اک خرد مند دانا

کہ قدرت کے دنگل کا دیکھے تماشا

تو قوموں میں فرق اس قدر پائے گا وہ

کہ عالم کو زیر و زبر پائے گا وہ

***


وہ دیکھے گا ہر سو ہزاروں چمن واں

بہت تازہ تر صورتِ باغِ رضواں

بہت ان سے کمتر پہ سر سبز و خنداں

بہت خشک اور بے طراوت مگر ہاں

نہیں لائے گو برگ و باران کے پودے

نظر آتے ہیں ہونہار ان کے پودے

***

پھر اک باغ دیکھے گا اجڑ سراسر

جہاں خاک اڑتی ہے ہر سو برابر

نہیں تازگی کا کہیں نام جس پر

ہری ٹہنیاں جھڑ گئیں جس کی جل کر

نہیں پھول پھل جس میں آنے کے قابل

ہوئے دکھ جس کے جلانے کے قابل

***

جہاں زہر کا کام کرتا ہے باراں

جہاں آ کے دیتا ہے رُو اَبر نیساں

تردد سے جو اور ہوتا ہے ویراں

نہیں راس جس کو خزاں اور بہاراں

یہ آواز پیہم وہاں آ رہی ہے

کہ اسلام کا باغ ویراں یہی ہے

***


وہ دینِ حجازی کا بیباک بیڑا

نشاں جس کا اقصاء عالم میں پہنچا

مزاحم ہوا کوئی خطرہ نہ جس کا

نہ عماں میں ٹھٹکا نہ قلزم میں جھجکا

کئے پے سپر جس نے ساتوں سمندر

وہ ڈوبا دہانے میں گنگا کے آ کر

***

اگر کان دھر کر سنیں اہلِ عبرت

تو سیلون سے تابہ کشمیر و تبت

زمیں روکھ بن پھول پھل ریت پر بت

یہ فریاد سب کر رہے ہیں بہ حسرت

کہ کل فخر تھا جن سے اہلِ جہاں کو

لگا ان سے عیب آج ہندوستاں کو

***

حکومت نے تم سے کیا گر کنارا

تو اس میں نہ تھا کچھ تمہارا اجارا

زمانہ کی گردش سے ہے کس کو چارا

کبھی یاں سکندر کبھی یاں ہے دارا

نہیں بادشاہی کچھ آخر خدائی

جو ہے آج اپنی تو کل ہے پرائی

***


ہوئی مقتضی جب کہ حکمت خدا کی

کہ تعلیم جاری ہو خیرالوریٰ کی

پڑے دھوم عالم میں دینِ ہدیٰ کی

تو عالم کی تم کو حکومت عطا کی

کہ پھیلاؤ دنیا میں حکمِ شریعت

کرو ختم بندوں پہ مالک کی حجت

***


مسدسِ (۱۳)

ادا کر چکی جب حق اپنا حکومت

رہی اب نہ اسلام کو اس کی حاجت

مگر حیف اے فخرِ آدم کی امت

ہوئی آدمیت بھی ساتھ اس کے رخصت

حکومت تھی گویا کہ اک جھول تم پر

کہ اڑتے ہی اس کے نکل آئے جوہر

***

زمانہ میں ہیں ایسی قومیں بہت سی

نہیں جس میں تخصیص فرماں دہی کی

پر آفت کہیں ایسی آئی نہ ہو گی

کہ گھر گھر پہ یاں چھا گئی آ کے پستی

چکور اور شہباز سب اوج پر ہیں

مگر ایک ہم ہیں کہ بے بال و پر ہیں

***

وہ ملت کہ گردوں پہ جس کا قدم تھا

ہر اک کھونٹ میں جس کا برپا علم تھا

ہو فرقہ جو آفاق میں محترم تھا

وہ امت لقب جس کا خیر الامم تھا

نشاں اس کا باقی ہے صرف اس قدر یاں

کہ گنتے ہیں اپنے کو ہم بھی مسلماں

***


وگر ہماری رگوں میں لہو میں

ہمارے ارادو میں اور جستجو میں

دلوں میں زبانوں میں اور گفتگو میں

طبعیت میں فطرت میں عادت میں خو میں

نہیں کوئی ذرہ نجابت کا باقی

اگر ہو کسی میں تو ہے اتفاقی

***

ہماری ہر اک بات میں سفلہ پن ہے

کمینوں سے بدتر ہمارا چلن ہے

لگا نام آبا کو ہم سے گہن ہے

ہمارا قدم ننگِ اہلِ وچن ہے

بزرگوں کی توقیر کھوئی ہے ہم نے

عرب کی شرافت ڈبوائی ہے ہم نے

***

نہ قوموں میں عزت، نہ جلسوں میں وقعت

نہ اپنوں سے الفت، نہ غیروں سے ملت

مزاجوں میں سستی، دماغوں میں نخوت

خیالوں میں پستی، کمالوں سے نفرت

عداوت نہاں ، دوستی آشکارا

غرض کہ تواضع، غرض کی مدارا

***


نہ اہلِ حکومت کے ہمراز ہیں ہم

نہ درباریوں میں سرافراز ہیں ہم

نہ علموں میں شایانِ اعزاز ہیں ہم

نہ صنعت میں حرفت میں ممتاز ہیں ہم

نے رکھتے ہیں کچھ منزلت نوکری میں

نہ حصہ ہمارا ہے سوداگری میں

***

تنزل نے کی ہے بری گت ہماری

بہت دور پہنچی ہے نکبت ہماری

گئی گزری دنیا سے عزت ہماری

نہیں کچھ ابھرنے کی صورت ہماری

پڑے ہیں اک امید کے ہم سہارے

توقع پہ جنت کی جیتے ہیں سارے

***

سیاحت کی گوں ہیں نہ مردِ سفر ہیں

خدا کی خدائی سے ہم بے خبر ہیں

یہ دیواریں گھر کی و پیشِ نظر ہیں

یہی اپنے نزدیک حدِ بشر ہیں

ہیں تالاب میں مچھلیاں کچھ فراہم

وہی ان کی دنیا وہی ان کا عالم

***


بہشت اور ارم سلسبیل اور کوثر

پہاڑ اور جنگل جزیرے سمندر

اسی طرح کے اور بھی نام اکثر

کتابوں میں پڑھتے رہے ہیں برابر

یہ جب تک نہ دیکھںی کہیں کس یقیں پر

کہ یہ آسماں پر ہیں یا ہیں زمیں پر

***


مسدسِ (۱۵)

وہ بے مول پونجی کہ ہے اصل دولت

وہ شائستہ لوگوں کا گنجِ سعادت

وہ آسودہ قوموں کا راس البضاعت

وہ دولت کہ ہے وقت جس سے عبارت

نہیں اس کی وقعت نظر میں ہماری

یونہی مفت جاتی ہے برباد ساری

***

اگر ہم سے مانگے کوئی ایک پیسا

تو ہو گا کم و بیش بار اس کا دنیا

مگر ہاں وہ سرمایۂ دین و دنیا

کہ ایک ایک لمحہ ہے انمول جس کا

نہیں کرتے خست اڑانے میں اس کے

بہت ہم سخی ہیں لٹانے میں اس کے

***

اگر سانس دن رات کے سب گنیں ہم

تو نکلیں گے انفاس ایسے بہت کم

کہ ہو جن میں کل کیلئے کچھ فراہم

یونہی گزرے جاتے ہیں دن رات پیہم

نہیں کوئی گویا خبردار ہم میں

کہ یہ سانس آخر ہیں اب کوئی دم میں

***


گڈریے کا وہ حکم بردار کتا

کہ بھیڑوں کی ہر دم ہے رکھوال کرتا

جو ریوڑ میں ہوتا ہے پتے کا کھڑکا

تو وہ شیر کی طرح پھرتا ہے بھپرا

گر انصاف کیجئے تو ہم سے بہتر

کہ غافل نہیں فرض سے اپنے دم بھر

***

وہ قومیں جو سب راہیں طے کر چکی ہیں

ذخیرے ہر اک جنس کے بھر چکی ہیں

ہر اک بوجھ بار اپنے سر دھر چکی ہیں

ہوئیں تب ہیں زندہ کہ جب مر چکی ہیں

اسی طرح راہِ طلب میں ہیں پویا

بہت دور ابھی ان کو جانا ہے گویا

***

کسی وقت جی بھر کے سوتے نہیں وہ

کبھی سیر محنت سے ہوتے نہیں وہ

بضاعت کو اپنی ڈبوتے نہیں وہ

کوئی لمحہ بے کار کھوتے نہیں وہ

نہ چلنے سے تھکتے نہ اکتاتے ہیں وہ

بہت بڑھ گئے اور بڑھے جاتے ہیں وہ

***


مگر ہم کہ اب تک جہاں تھے وہیں ہیں

جمادات کی طرح بارِ زمیں ہیں

جہاں میں ہیں ایسے کہ گویا نہیں ہیں

زمانہ سے کچھ ایسے فارغ نشیں ہیں

کہ گویا ضروری تھا جو کام کرنا

وہ سب کر چکے ایک باقی ہے مرنا

***

یہاں اور ہیں جتنی قومیں گرامی

خود اقبال ہے آج ان کا سلامی

تجارت میں ممتاز دولت میں نامی

زمانہ کے ساتھی ترقی کے حامی

نہ فارغ ہیں اولاد کی تربیت سے

نہ بے فکر ہیں قوم کی تقویت سے

***

دکان ان کی ہے اور بازار ان کا

بنج ان کا ہے اور بہوار ان کا

زمانہ میں پھیلا ہے بیوپار ان کا

ہے پیر و جواں برسرِ کار ان کا

مدار اہلکاری کا ہے اب انہیں پر

انہیں کے ہیں آفس انہیں کے ہیں دفتر

***


معزز ہیں ہر ایک دربار میں وہ

گرامی ہیں ہر ایک سرکار میں وہ

نہ رسوا ہیں عادات و اطوار میں وہ

نہ بدنام گفتار و کردار میں وہ

نہ پیشہ سے حرفہ سے انکار ان کو

نہ محنت مشقت سے کچھ عار ان کو

***


مسدسِ (۱۶)

جو گرتے ہیں گر کر سنبھل جاتے ہیں وہ

پڑے زد تو بچ کر نکل جاتے ہیں وہ

ہر اک سانچے میں جا کے ڈھل جاتے ہیں وہ

جہاں رنگ بدلا بدل جاتے ہیں وہ

ہر اک وقت کا مقتضیٰ جانتے ہیں

زمانہ کے تیور وہ پہچانتے ہیں

***

مگر ہے ہماری نظر اتنی اونچی

کہ یکساں ہے واں سب بلدی و پستی

نہیں اب تک اصلا خبر ہم کو یہ بھی

کہ ہے کون مردار کتیا ترقی

جدھر کھول کر آنکھ ہم دیکھتے ہیں

زمانہ کو اپنے سے کم دیکھتے ہیں

***

زمانہ کا دن رات ہے یہ اشارا

کہ ہے آشتی مین مری یاں گزارا

نہیں پیروی جن کو میری گوارا

مجھے ان سے کرنا پڑے گا کنارا

سدا ایک ہی رخ نہیں ناؤ چلتی

چلو تم ادھر کو، ہوا ہو جدھر کی

***


چمن میں وا آ چکی ہے خزاں کی

پھری ہے نظر دیر سے باغباں کی

صدا اور ہے بلبلِ نغمہ خواں کی

کوئی دم میں رحلت ہے اب گلستاں کی

تباہی کے خواب آرہے ہیں نظر سب

مصیبت کی ہے آنے والی سحر اب

***

فلاکت جسے کہئے ام الجرائم

نہیں رہتے ایماں پہ دل جس سے قائم

بناتی ہے انسان کو جو بہائم

مصلّی ہیں دل جمع جس سے نہ صائم

وہ یوں اہلِ اسلام پر چھا رہی ہے

کہ مسلم کی گویا نشانی یہی ہے

***

کہیں مگر کے گر سکھاتی ہے ہم کو

کہیں جھوٹ کی لو لگاتی ہے ہم کو

خیانت کی چالیس سجھاتی ہے ہم کو

خوشامد کی گھاتیں بناتی ہے ہم کو

فسوں جب یہ پاتی نہیں کار گر وہ

تو کرتی ہے آخر کو دریوزہ گر وہ

***


یہاں جتنی قومیں ہمارے سوا ہیں

ہزار ان میں خوش ہیں تو دو بینوا ہیں

یہاں لاکھ میں دو اگر اغنیا ہیں

تو سو نیم بسمل ہیں باقی گدا ہیں

ذرا کام غیرت کو فرمائیں گر ہم

تو سمجھیں کہ ہیں مبتذل کس قدر ہم

***

بگاڑے ہیں گردش نے جو خاندانی

نہیں جانتے بس کہ روٹی کمانی

دلوں میں ہے یہ یک قلم سب بے ٹھانی

کہ کیجئے بسر مانگ کر زندگانی

جہاں قدر دانوں کا ہیں کھوج پاتے

پہنچتے ہیں واں مانگتے اور کھاتے

***

کہیں باپ دادا کا ہیں نام لیتے

کہیں روشناسی سے ہیں کام لیتے

کہیں جھوٹے وعدوں پہ ہیں دام لیتے

یونہی ہیں وہ دے دے کے دم دام لیتے

بزرگوں کے نازاں ہیں جس نام پر وہ

اسے بیچتے پھرتے ہیں در بدر وہ

***


یہ ہیں ڈھنگ ان تازہ آفت زدوں کے

بہت کم زمانہ ہوا جن بگڑے

ابھی ایک عالم ہے آگاہ جن سے

کہ ہیں کس کے بیٹے وہ اور کس کے پوتے

جنہیں دیس پردیس سب جانتے ہیں

حسب اور نسب جن کا پہچانتے ہیں

***


مسدسِ (۱۷)

مگر منٹ چکا جن کا نام و نشاں ہے

پرانی ہوئی جن کی اب داستاں ہے

فسانوں میں قصوں میں جن کا بیاں

بہت نسل پر تنگ ان کی جہاں ہے

نہیں ان کی قدر اور پرسش کہیں اب

انہیں بھیک تک کوئی دیتا نہیں اب

***

بہت آگ چلموں کی سلگانے والے

بہت گھانس کی گھٹڑیاں لانے والے

بہت دربدر مانگ کر کھانے والے

بہت فاقے کر کر کے مر جانے والے

جو پوچھو کہ کس کان کے ہیں وہ جوہر

تو نںلیو گے نسلِ ملوک ان میں اکثر

***

انہی کے بزرگ ایک دن حکمراں تھے

انہی کے پرستار پیر و جواں تھے

یہی مامنِ عاجز و ناتواں تھے

یہی مرجعِ ویلم و اصفہاں تھے

یہی کرتے تھے ملک کی گلہ بانی

انہیں کے گھروں میں تھی صاحب قرآنی

***


یہ اے قومِ اسلام عبرت کی جا ہے

کہ شاہوں کی اولاد در در گدا ہے

جسے سنئے افلاس میں مبتلا ہے

جسے دیکھئے مفلس و بے نوا ہے

نہیں کوئی ان میں کمانے کے قابل

اگر ہیں تو ہیں مانگ کھانے کے قابل

***

نہیں مانگنے کا طریق ایک ہی یاں

گدائی کی ہیں صورتیں نت نئی یاں

نہیں حصر کنگلوں پہ گدیہ گری یاں

کوئی دے تو منگتوں کی ہے کای کمی یاں

بہت ہاتھ پھیلائے زیرِ ردا ہیں

چھپے اجلے کپڑوں میں اکثر گدا ہیں

***

بہت آپ کو کہہ کے مسجد کے بانی

بہت بن کے خود سیدِ خاندانی

بہت سیکھ کر نوحہ و سوز خوانی

بہت مدح میں کر کے رنگیں بیانی

بہت آستانوں کے خدّام بن کر

پڑے مانگتے کھاتے پھرتے ہیں در در

***


مشقت کو محنت کو جو عار سمجھیں

ہنر اور پیشہ کو جو خوار سمجھیں

تجارت کو کھیتی کو دشوار سمجھیں

فرنگی کے پیسے کو مردار سمجھیں

تن آسانیاں چاہیں اور آبرو بھی

قوم آج ڈوبے گی گر کل نہ ڈوبی

***

کریں نوکری بھی تو بے عزتی کی

جو روٹی کمائیں تو بے حرمتی کی

کہیں پائیں خدمت تو بے عزتی کی

قسم کھائیے ان کی خوش قسمتی کی

امیروں کے بنتے ہیں جب یہ مصاحب

تو جاتے ہیں ہو کر حمت سے تائب

***

کہیں ان کی صحبت میں گانا بجانا

کہیں مسخرہ بن کے ہنسنا ہنسانا

کہیں پھبتیاں کہہ کے انعام پانا

کہیں چھیڑ کر گالیاں سب سے کھانا

یہ کام اور بھی کرتے ہیں پر نہ ایسے

مسلمان بھائی سے بن آئیں جیسے

***


امیروں کا عالم نہ پوچھو کہ کیا ہے

خمیر ان کا اور ان کی طینت جدا ہے

سزاوار ہے ان کو جو نا سزا ہے

روا ہے انہیں سب کہ جو ناروا ہے

شریعت ہوئی ہے نکو نام ان سے

بہت فخر کرتا ہے اسلام ان سے

***


مسدسِ (۱۸)

ہر اک بول پر ان کے مجلس فدا ہے

ہر اک بات پر واں درست اور بجا ہے

نہ گفتار میں ان کی کوئی خطا ہے

نہ کردار ان کا کوئی نا سزا ہے

وہ جو کچھ کہ ہیں ، کہہ سکے کون ان کو

بنایا ندیموں نے فرعون ان کو

***

وہ دولت کہ ہے مایۂ دین و دنیا

وہ دولت کہ ہے توشۂ راہِ عقبیٰ

سلیماں نے کی جس کی حق سے تمنا

بڑھا جس سے آفاق میں نام کسریٰ

کیا جس نے حاتم کو مشہور دوراں

کیا جس نے یوسف کو مسوودِ اخواں

***

ملا ہے یہ فخر اس کو ان کی بدولت

کہ سمجھی گئی ہے وہ اصلِ شقاوت

کہیں ہے وہ سرمایۂ جہل و غفلت

کہیں نشۂ بادۂ کبر و نخوت

جہاں کے لئے جو کہ آبِ بقا ہے

وہ اقوم کے حق میں سمی دوا ہے

***


ادھر مال و دولت نے یاں منہ دکھایا

ادھر ساتھ ساتھ اس کے ادبار آیا

پڑا آ کے جس گھر پہ ثروت کا سایا

عمل واں سے برکت نے اپنا اٹھایا

نہیں راس یاں چار پیسے کسی کو

مبارک نہیں جیسے پر چیونٹی کو

***

سمجھتے ہیں سب عیب جن عادتوں کو

بہائم سے نسبت ہے جن سیرتوں کو

چھپاتے ہیں اوباش جن خصلتوں کو

نہیں کرتے اجلاف جن حرکتوں کو

وہ یاں اہلِ دولت کو ہیں شیرِ مادر

نہ خوفِ خدا ہے نہ شرمِ پیمبر

***

طبعیت اگر لہو و بازی پہ آئی

تو دولت بہت سی اسی میں لٹائی

جو کی حضرتِ عشق نے رہنمائی

تو کر دی بھرے گھر کی دم میں صفائی

پھر آخر لگے مانگنے اور کھانے

یونہی مٹ گئے یاں ہزاروں گھرانے

***


نہ آغاز پر اپنے غور ان کو اصلا

نہ انجام کا اپنے کچھ ان کو کھٹکا

نہ فکر ان کو اولاد کی تربیت کا

نہ کچھ ذلتِ قوم کی ان کو پروا

نہ حق کوئی دنیا پہ ان کا نہ دیں پر

خدا کو وہ کیا منہ دکھائیں گے جا کر

***

کسی قوم کا جب الٹتا ہے دفتر

تو ہوتے ہیں مسخ ان میں پہلے تو نگر

کمال ان میں رہتے ہیں باقی نہ جوہر

نہ عقل ان کی ہادی نہ دین انکا رہبر

نہ دنیا میں ذات نہ عزت کی پروا

نہ عقبیٰ میں دوزخ نہ جنت کی پروا

***

نہ مظلوم کی آہ و زاری سے ڈرنا

نہ مفلوک کے حال پر رحم کرنا

ہوا و ہوس میں خودی سے گزرنا

تعیش میں جینا نمائش پہ مرنا

سدا خوابِ غفلت میں بیہوش رہنا

دمِ نزع تک خود فراموش رہنا

***


پریشاں اگر قحط سے اک جہاں ہے

تو بے فکر ہیں کیونکہ گھر میں سماں ہے

اگر باغِ امت میں فصلِ خزاں ہے

تو خوش ہیں کہ اپنا چمن گل فشاں ہے

بنی نوعِ انساں کا حق ان پہ کیا ہے

وہ اک نوع، نوعِ بشر سے جدا ہے

***


مسدسِ (۱۹)

کہاں بندگانِ ذلیل اور کہاں وہ

بسر کرتے ہیں بے غمِ قوت و ناں وہ

پہنتے نہیں جز سمور و کتاں وہ

مکاں رکھتے ہیں رشکِ خلدِ جناں وہ

نہیں چلتے وہ بے سواری قدم بھر

نہیں رہتے بے نغمہ و ساز دم بھر

***

کمر بستہ ہیں لوگ خدمت میں ان کی

گل و لالہ رہتے ہیں صحبت میں ان کی

نفاست بھری ہے طبعیت میں ان کی

نزاکت سو داخل ہے عادت میں ان کی

دواؤں میں مشک ان کی اٹھتا ہے ڈھیروں

وہ پوشاک میں عطر ملتے ہیں سیروں

***

یہ ہو سکتے ہیں ان کے ہم جنس کیونکر

نہیں چین جن کو زمانے سے دم بھر

سواری کو گھوڑا نہ خدمت کو نوکر

نہ رہنے کو گھر اور نہ سونے کو بستر

پہننے کو کپڑا نہ کھانے کو روٹی

جو تدبیر الٹی تو تقدیر کھوٹی

***


یہ پہلا سبق تھا کتاب ہُداٰ کا

کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

وہی دوست ہے خالقِ دوسرا کا

خلائق سے ہی جس کو رشتہ ولا کا

یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں

کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں

***

عمل جن کا ہے اس کلامِ متیں پر

وہ سر سبز ہیں آج روئے زمیں پر

تفوق ہے ان کو کہین و مہیں پر

مدار آدمتن کا ہے اب انہیں پر

شریعت کے جو ہم نے پیمان توڑے

وہ لے جا کے سب اہلِ مغرب نے جوڑے

***

سمجھتے ہیں گمراہ جن کو مسلمان

نہیں جن کو عقبیٰ میں امیدِ غفراں

نہ حصہ میں فردوس جن کے نہ رضواں

نہ تقدیر میں حور جن کے نہ غلماں

پس از مرگ دوزخ ٹھکانا ہے جن کا

حمیم آب و زقوم کھانا ہے جن کا

***


وہ ملک اور ملت پہ اپنی فدا ہیں

سب آپس میں ایک اک کے حاجت روا ہیں

اولوالعلم ہیں ان میں یا اغنیا ہیں

طلب گار بہبود خلقِ خدا ہیں

یہ تمغا تھا گویا کہ حصہ انہیں کا

کہ حب الوطن ہے نشان مومنیں کا

***

امیروں کی دولت غریبوں کی ہمت

ادیبوں کی انشا حکیموں کی حکمت

فصیحوں کے خطبے شجاعوں کی جرأت

سپاہی کے ہتیاےر شاہوں کی طاقت

دلوں کی امیدیں امنگوں کی خوشیاں

سب اہلِ وطن اور وطن پر ہیں قرباں

***

عروج ان کا جو تم عیاں دیکھتے ہو

جہاں میں انہیں کامراں دیکھتے ہو

مطیع ان کا سارا جہاں دیکھتے ہو

انہیں بر تر از آسماں دیکھتے ہو

یہ ثمرے ہیں ان کی جوانمردیوں کے

نتیجے ہیں آپس کی ہمدردیوں کے

***


غنی ہم میں ہیں جو کہ اربابِ ہمت

مسلم ہے عالم میں جن کی سخاوت

اگر ہے مشائخ سے ان کو عقیدت

تو ہے پیر زادوں پہ وقف ان کی دولت

نکمے ہیں دن رات واں عیش کرتے

پہ نوکر ہیں جتنے وہ بھوکے ہیں مرتے

***


مسدسِ (۲۰)

عمل واعظوں کے اگر قول پر ہے

تو بخشش کی امید بے صرفِ زر ہے

نماز اور روزہ کی عادت اگر ہے

تو روزِ حساب ان کو پھر کس کا ڈر ہے

اگر شہر میں کوئی مسجد بنا دی

تو فردوس میں نیو اپنی جمادی

***

عمارت کی بنیاد ایسی اٹھانی

نہ نکلے کہیں ملک میں جس کا ثانی

تماشوں میں ثروت بڑوں کی اڑانی

نمائش میں دولت خدا کی لُٹانی

چھٹی بیاہ مین کرنے لاکھوں کے ساماں

یہ ہیں ان کی خوشیاں یہ ہیں انکے ارماں

***

مگر دینِ بر حق کا بوسیدہ ایواں

تزلزل مین مدت سے ہیں جس کے ارکاں

زمانہ میں ہے جو کوئی دن کا مہماں

نہ پائیں گے ڈھونڈا جسے پھر مسلماں

عزیزوں نے اس سے توجہ اٹھا لی

عمارت کا ہے اس کی اللہ والی

***


پڑی ہیں سب اجڑی ہوئی خانقاہیں

وہ درویش و سلطاں کی امید گاہیں

کھیلیں تھیں جہاں علمِ باطن کی راہیں

فرشتوں کی پڑتی تھیں جن پر نگاہیں

کہاں ہیں وہ جذبِ الٰہی کے پھندے

کہاں ہیں وہ اللہ کے پاک بندے

***

وہ علمِ شریعت کے ماہر کدھر ہیں

وہ اخبار دیں کے مبصر کدھر ہیں

اصولی کدھر ہیں ، مناظر کدھر ہیں

محدث کہاں ہیں ، مفسر کدھر ہیں

وہ مجلس جو کل سر بسر تھی چراغاں

چراغ اب کہیں ٹمٹارتا نہیں واں

***

مدارس وہ تعلیم دیں کے کہاں ہیں

مراحل وہ علم و یقیں کے کہاں ہیں

وہ ارکان شرعِ متیں کے کہاں ہیں

وہ وارث رسول امیں کے کہاں ہیں

رہا کوئی امت کا ملجا نہ ماویٰ

نہ قاضی نہ مفتی نہ صوفی نہ مُلّا

***


کہاں ہیں وہ دینی کتابوں کے دفتر

کہاں ہیں وہ علمِ الٰہی کے منظر

چلی ایسی اس بزم میں بادِ صرصر

بجھیں مشعلیں نورِ حق کی سراسر

رہا کوئی ساماں نہ مجلس میں باقی

صراحی نہ طنبور، مطرب نہ ساقی

***

بہت لوگ بن کے ہوا خواہِ امت

سفیہوں سے منوا کے اپنی فضیلت

سدا گاؤں در گاؤں نوبت بہ نوبت

پڑے پھرتے ہیں کرتے تحصیلِ دولت

یہ ٹھہرے ہیں اسلام کے رہنما اب

لقب ان کا ہے وارثِ انبیا اب

***

بہت لوگ پیروں کی اولاد بن کر

نہیں ذات والا میں کچھ جن کے جوہر

بڑا فخر ہے جن کو لے دے کے اس پر

کہ تھے ان کے اسلاف مقوسلِ داور

کرشمے ہیں جا جا کے جھوٹے دکھاتے

مریدوں کو ہیں لوٹتے اور کھاتے

***


یہ ہیں جادہ پیمائے راہِ طریقت

مقام ان کا ہے ماورائے شریعت

انہیں پر ہے ختم آج کشف و کرامت

انہیں کے ہے قبضہ میں بندوں کی قسمت

یہی ہیں مراد اور یہی ہیں مرید اب

یہی ہیں جنید اور یہی با یزید اب

***


مسدسِ (۲۱)

بڑھے جس سے نفرت وہ تقریر کرنی

جگر جس سے شق ہوں وہ تحریر کرنی

گنہگار بندوں کی تحقیر کرنی

مسلمان بھائی کی تکفیر کرنی

یہ ہے عالموں کا ہمارے طریقہ

یہ ہے ہادیوں کا ہمارے سلیقہ

***

کوئی ملہی پوچھنے ان سے جائے

تو گردن پہ بارِ گراں لے کے آئے

اگر بد نصیبی سے شک اس میں لائے

تو قطعی خطاب اہلِ دوزخ کا پائے

اگر اعتراض اس کی نکلا زباں سے

تو آنا سلامت ہے دشوار واں سے

***

کبھی وہ گلے کی رگیں ہیں پھلاتے

کبھی جھاگ پر جھاگ ہیں منہ پہ لاتے

کبھی خوک اور سگ ہیں اس کو بتاتے

کبھی مارنے کو عصا ہیں اٹھاتے

ستوں چشمِ بد دور ہیں آپ دیں کے

نمونہ ہیں خلقِ رسول امیں گے

***


جو چاہے کہ خوش ان سے مل کر ہو انساں

تو ہے شرط وہ قوم کا ہو مسلماں

نشاں سجدہ کا ہو جبیں پر نمایاں

تشرع میں اس کے نہ ہو کوئی نقصاں

لبیں بڑھ رہی ہوں نہ ڈاڑھی چڑھی ہو

ازار اپنی حد سے نہ آگے بڑھی ہو

***

عقائد میں حضرت کا ہم داستاں ہو

ہر اک اصل مین فرع میں ہم زباں ہو

حریفوں سے ان کے بہت بد گماں ہو

مریدوں کا ان کے بڑا مدح خواں ہو

نہیں ہے گر ایسا تو مردود دیں ہے

بزرگوں سے ملنے کے قابل نہیں ہے

***

شریعت کے احکام تھے وہ گوارا

کہ شیدا تھے ان پر یہود و نصاریٰ

گواہ ان کی نرمی کا قرآن ہے سارا

خود اَلدّینُ یُسر نبی نے پکارا

مگر یاں کیا ایسا دشوار ان کو

کہ مومن سمجھنے لگے بار ان کو

***


نہ کی ان کی اخلاق میں رہنمائی

نہ باطن میں کی ان کے پیدا صفائی

پہ احکام ظاہر کے لے یہ بڑھائی

کہ ہوتی نہیں ان سے دم بھر رہائی

وہ دیں جو کہ چشمہ تھا خلقِ نکو کا

کیا قلتیں اس کو غسل و وضو کا

***

سدا اہلِ تحقیق سے دل میں بل ہے

حدیثوں پہ چلنے میں دیں کا خلل ہے

فتاووں پہ بالکل مدارِ عمل ہے

ہر اک رائے قرآں کا نعم البدل ہے

کتاب اور سنت کا ہے نام باقی

خدا اور نبی سے نہیں کام باقی

***

جہاں مختلف ہوں روایات باہم

کبھی ہوں نہ سیدھی روایت سے خوش ہم

جسے عقل رکھے نہ ہر گز مسلم

اسے ہر روایت سے سمجھیں مقدم

سب اس میں گرفتار چھوٹے بڑے ہیں

سمجھ پر ہماری یہ پتھر پڑے ہیں

***


کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر

جو ٹھررائے بیٹا خدا کا تو کافر

جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر

کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر

مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں

پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

***


مسدسِ (۲۲)

نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں

اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں

مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں

شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں

نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے

نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

***

وہ دیں جس سے توحید پھیلی جہاں میں

ہوا جلوہ گر حق زمین و زماں میں

رہا شرک باقی نہ وہم و گماں میں

وہ بدلا گیا آ کے ہندوستاں میں

ہمیشہ سے اسلام تھا جس پہ نازاں

وہ دولت بھی کھو بیٹھے آخر مسلماں

***

تعصب کہ ہے دشمنِ نوع انساں

بھرے گھر کیے سیکڑوں جس نے ویراں

ہوئی بزمِ نمرود جس سے پریشاں

کیا جس نے فرعون کو نذرِ طوفاں

گیا جوش میں بو لہب جس کے کھویا

ابو جہل کا جس نے بیڑا ڈبوبا

***


وہ یاں اک عجب بھیس میں جلوہ گر ہے

چھپا جس کے پردے میں اس ضرر ہے

بھرا زہر جس جام میں سر بسر ہے

وہ آبِ بقا ہم کو آتا نظر ہے

تعصب کو اک جزوِ دیں سمجھے ہیں ہم

جہنم کو خلدِ بریں سمجھے ہیں ہم

***

ہمیں واعظوں نے یہ تعلیم دی ہے

کہ جو کام دینی ہے یا دنیوی بری ہے

مخالف کی ریس اس میں کرنی بری ہے

نشاں غیرتِ دینِ حق کا یہی ہے

مخالف کی الٹی ہر اک بات سمجھو

وہ دن کو کہے دن تم تم رات سمجھو

***

قدم گر رہِ راست پر اس کا پاؤ

تو تم سیدھے رستے سے کترا کے جاؤ

پڑیں اس میں جو دقتیں وہ اٹھاؤ

لگیں جس قدر ٹھوکریں اس میں کھاؤ

جو نکلے جہاز اس کا بچ کر بھنور سے

تو تم ڈال دو ناؤ اندر بھنور کے

***


اگر مسخ ہو جائے صورت تمہاری

بہائم میں مل جائے سیرت تمہاری

بدل جائے بالکل طبعیت تمہاری

سراسر بگڑ جائے حالت تمہاری

تو سمجھو کہ ہے حق کی اک شان یہ بھی

ہے اک جلوۂ نورِ ایمان یہ بھی

***

نہ اوضاع میں تم سے نسبت کسی کو

نہ اخلاق میں تم پہ سبقت کسی کو

نہ حاصل یہ کھانوں میں لذت کسی کو

نہ پیدا یہ پوشش میں زینت کسی کو

تمہیں فضل ہر علم میں بر ملا ہے

تمہاری جہالت میں بھی اک ادا ہے

***

کوئی چیز سمجھو نہ اپنی بری تم

رہو بات کو اپنی کرتے بڑی تم

حمایت میں ہو جب کہ اسلام کی تم

تو ہو ہر بدی اور گنہ سے بری تم

بدی سے نہیں مومنوں کو مضرت

تمہارے گنہ اور اوروں کی طاعت

***


مخالف کا اپنے اگر نام لیجے

تو ذکر اس کا ذلت سے خواری سے کیجئے

کبھی بھول کر طرح اس میں نہ دیجے

قیامت کو دیکھو گے اس کے نتیجے

گناہوں سے ہوتے ہو گویا مبّرا

مخالف پہ کرتے ہو جب تم تبرّا

***


مسدسِ (۲۳)

نہ سنی میں اور جعفری میں ہو الفت

نہ نعمانی و شافعی میں ہو ملت

وہابی سے صوفی کی کم ہو نہ نفرت

مقلد کرے نا مقلد پہ لعنت

رہے اہلِ قبلہ مین جنگ ایسی باہم

کہ دینِ خدا پر ہنسے سارا عالم

***

کرے کوئی اصلاح کا گر ارادہ

تو شیطان سے اس کو سمجھو زیادہ

جسے ایسے مفسد سے ہے استفادہ

رہِ حق سے ہے برطرف اس کا جدہ

شریعت کو کرتے ہیں برباد دونوں

ہیں مردود شاگرد و استاد دونوں

***

وہ دیں جس نے الفت کی بنیاد ڈالی

کیا طبعِ دوراں کو نفرت سے خالی

بنایا اجانب کو جس نے موالی

ہر اک قوم کے دل سی نفرت نکالی

عرب اور حبش ترک و تا جیک و ویلم

ہوئے سارے شیر و شکر مل کے باہم

***


تعصب نے اس صاف چشمہ کو آ کر

کیا بغض کے خار و خس سے مکدر

بنے خصم جو تھے عزیر اور برادر

نفاق اہلِ قبلہ میں پھیلا سراسر

نہیں دستیاب ایسے اب دس مسلماں

کہ ہو ایک کو دیکھ کر ایک شاداں

***

ہمارا یہ حق تھا کہ سب یار ہوتے

مصیبت میں یاروں کے غمخوار ہوتے

سب ایک اک کے باہم مددگار ہوتے

عزیزوں کے غم میں دل افگار ہوتے

جب الفت میں یوں ہوتے ثابت قدم ہم

تو کہہ سکتے اپنے کو خیر الامم ہم

***

اگر بھولتے ہم نہ قولِ پیمبر

کہ " ہیں سب مسلمان باہم برادر"

برادر ہے جب تک برادر کا یاور

معین اس کا ہے خود خداوند داور

تو آتی نہ بیڑے پہ اپنے تباہی

فقیری میں بھی کرتے ہم بادشاہی

***


وہ گھر جس میں دل ہوں ملے سب کے باہم

خوشی نا خوشی میں ہوں سب یار و ہمدم

اگر ایک خوش دل تو گھر سارا خرم

اگر ایک غمگیں تو دل سب کے پر غم

مبارک ہے اس قصر شاہنشی سے

جااں ایک دل ہو مکدر کسی سے

***

اگر ہو مدار اس پہ تحقیق دیں کا

کہ ہے دین والوں کا برتاؤ کیسا

کھرا ان کا بازار ہے یا کہ کھوٹا

ہے قول و قرات ان جھوٹا کہ سچا

تو ایسے نمونے بہت شاذ ہیں یاں

کہ اسلام پر جن سے قائم ہو برہاں

***

مجالس میں غیبت کا زور اس قدر ہے

کہ آلودہ اس خون میں ہر بشر ہے

نہ بھائی کو بھائی سے یاں درگزر ہے

مہ ملا کو صوفی کو اس سے حذر ہے

اگر نشۂ مے ہو غیبت میں پنہاں

تو ہشیار پائے نہ کوئی مسلماں

***


جنہیں چار پیسے کا مقدور ہے یاں

سمجھتے نہیں ہیں وہ انساں کو انساں

موافق نہیں جن سے ایامِ دوراں

نہیں دیکھ سکتے کسی کو وہ شاداں

نشہ میں تکبر کے ہے چور کوئی

حسد کے مرض میں ہے رنجور کوئی

***


مسدسِ (۲۴)

اگر مرجعِ خلق ہے ایک بھائی

نہیں ظاہرا جس میں کوئی برائی

بھلا جس کو کہتی ہے ساری خدائی

ہر اک دل میں عظمت ہے جس کی سمائی

تو پڑتی ہیں اس پر نگاہیں غضب کی

کھٹکتا ہے کانٹا سا نظروں میں سب کی

***

بگڑتا ہے جب قوم میں کوئی بن کر

ابھی بخت و اقبال تھے جس کے یاور

ابھی گردیں جھکتی تھیں جس کے در پر

مگر کر دیا اب زمانے نے بے پر

تو ظاہر میں کڑھتے ہیں پر خوش ہیں جی میں

کہ ہمدرد ہات آیا اک مفلسی میں

***

اگر اک جوانمرد ہمدرد انساں

کرتے قوم پر دل سے جان اپنی قرباں

تو خود قوم اس پر لگائے یہ بہتاں

کہ ہے اس کی کوئی غرض اس میں پنہاں

وگر نہ پڑی کیا کسی کو کسی کی

یہ چالیں سراسر ہیں خود مطلبی کی

***


نکالے گر ان کی بھلائی کی صورت

تو ڈالیں جہاں تک بنے اس میں کھنڈت

سنیں کامیابی میں گر اس کی شہرت

تو دل سے تراشیں کوئی تازہ تہمت

منہ اپنا ہو گو دین و دنیا میں کالا

نہ ہو ایک بھائی کا پر بول بالا

***

اگر پاتے ہیں دو دلوں میں صفائی

تو ہیں ڈالتے اس میں طرح جدائی

ٹھنی دو گروہوں میں جس دم لڑائی

تو گویا تمنا ہماری بر آئی

بس سے نہیں مشغلہ خوب کوئی

تماشا نہیں ایسا مرغوب کوئی

***

تغلب میں بد نیتی میں دغا میں

نمو اور بناوٹ فریب اور ریا میں

سعایت میں بہتان میں افترا میں

کسی بزم بیگانہ و آشنا میں

نہ پاؤ گے رسوا و بدنام ہم سے

بڑھے پھر نہ کیوں شانِ اسلام ہم سے

***


خوشامد میں ہم کو وہ قدرت ہے حاصل

کہ انساں ہو ہر طرح کرتے ہیں مائل

کہیں احمقوں کو بناتے ہیں عاقل

کہیں ہوشیاروں کو کرتے ہیں غافل

کسی کو اتارا کسی کو چڑھایا

یونہی سیکڑوں کو اسامی بنایا

***

روایات پر حاشیہ اک چڑھانا

قسم جھوٹے وعدوں پہ سو بار کھانا

اگر مدح کرنا تو حد سے بڑھانا

مذمت پہ آنا تو طوفاں اٹھانا

یہ ہے روزمرہ کا یاں ان کے عنواں

فصاحت میں بے مثل ہیں جو مسلماں

***

اسے جانتے ہیں بڑا اپنا دشمن

ہمارے کرے عیب جو ہم پہ روشن

نصحتم سے نفرت ہے، ناصح سے اَن بَن

سمجھتے ہیں ہم رہنماؤں کو رہزن

یہی عیب ہے، سب کو کھویا ہے جس نے

ہمیں ناؤ بھر کر ڈبویا ہے جس نے

***


وہ عہدِ ہمایوں جو خیر القروں تھا

خلافت کا جب تک کہ قائم ستوں تھا

نبوت کا سایہ ابھی رہنموں تھا

سماں خیرو برکت کا ہر دم فزوں تھا

عدالت کے زیور سے تھے سب مزین

پھلا اور پھولا تار احمد کا گلشن

***


مسدسِ(۲۵)

سعادت بڑی اس زمانہ کی یہ تھی

کہ جھکتی تھی گردن نصتیا پہ سب کی

نہ کرتے تھے خود قول حق سے خموشی

نہ لگتی تھی حق کی انہیں بات کڑوی

غلاموں سے ہو جاتے تھے بند آقا

خلیفہ سے لڑتی تھی ایک ایک بڑھیا

***

نبی نے کہا تھا انہیں فخرِ امت

جنہیں خلد کی مل چکی تھی بشارت

مسلم تھی عالم میں جن کی عدالت

رہا مفتخر جن سے تختِ خلافت

وہ پھرتے تھے راتوں کو چھپ چھپ کے در در

وہ شرمائیں اپنا کہیں عیب سن کر

***

مگر ہم کہ ہیں دام و درہم سے بہتر

نہ ظاہر کہیں ہم میں خوبی نہ مضمر

نہ اقران و امثال میں ہم موقر

نہ اجداد و اسلاف کے ہم میں جوہر

نصیحت سے ایسا برا مانتے ہیں

کہ گویا ہم اپنے کو پہچانتے ہیں

***


نبوت نہ گر ختم ہوتی عرب پر

کوئی ہم پہ مبعوث ہوتا پیمبر

تو ہے جیسے مذکورہ قرآں کے اندر

ضلالت یہود اور نصاریٰ کی اکثر

یونہی جو کتاب اس پیمبر پہ آتی

وہ گمراہیاں سب ہماری جتاتی

***

ہنر ہم میں جو ہیں وہ معلوم ہیں سب

علوم اور کمالات معدوم ہیں سب

چلن اور اطوار مذموم ہیں سب

فراغت سے دولت سے محروم ہیں سب

جہالت نہیں چھوڑتی ساتھ دم بھر

تعصب نہیں بڑھنے دیتا قدم بھر

***

وہ تقویمِ پارینہ یونانیوں کی

وہ حکمت کہ ہے ایک دھو کے کی ٹٹی

یقیں جس کو ٹھہرا چکا ہے نکمی

عمل نے جسے کر دیا آ کے ردی

اسے وحی سے سمجھے ہیں ہم زیادہ

کوئی بات اس میں نہیں کم زیادہ

***


زبور اور توریت و انجیل و قرآں

بالا جماع ہیں قابلِ نسخ و نسیاں

مگر لکھ گئے جو اصول اہلِ یوناں

نہیں نسخ و تبدیل کا ان میں امکاں

نہیں مٹتے جب تک کہ آثار دنیا

مٹے گا کبھی کوئی شوشہ نہ ان کا

***

نتائج ہیں جو مغربی علم و فن کے

وہ ہیں ہند میں جلوہ گر سو برس سے

تعصب نے لیکن یہ ڈالے ہیں پردے

کہ ہم حق کا جلوہ نہیں دیکھ سکتے

دلوں پر ہیں نقش اہل یوناں کی رائیں

جواب وحی اترے تو ایماں نہ لائیں

***

اب اس فلسفہ پر جو ہیں مرنے والے

شفا اور مجسطی کے دم بھرنے والے

ارسطو کی چوکھٹ پہ سر دھرنے والے

فلاطون کی اقتدا کرنے والے

وہ تیلی کے کچھ بیل سے کم نہیں ہیں

پھرے عمر بھر اور جہاں تھے وہیں ہیں

***


وہ جب کر چکے ختم تحصیلِ حکمت

بندھی سر پہ دستارِ علم و فضیلت

اگر رکھتے ہیں کچھ طبعیت میں جودت

تو ہے سب ان کی بڑی یہ لیاقت

کہ گردن کو وہ رات کہہ دیں زباں سے

تو منوا کے چھوڑیں اسے اک جہاں سے

***


مسدسِ(۲۶)

سوا اس کے جو آئے اس کو پڑھا ویں

انہیں جو کچھ آتا ہے اس کو بتا ویں

وہ سیکھے ہیں جو بولیاں سب سکھا ویں

میاں مٹھو اپنا سا اس کو بنا ویں

یہ لے دے کے ہے علم کا ن کے حاصل

اسی پر ہے فخر ان کو بین الاماثل

***

نہ سرکار میں کام پانے کے قابل

نہ دربار میں لب ہلانے کے قابل

نہ جنگل میں ریوڑ چرانے کے قابل

نہ بازار میں بوجھ اٹھانے کے قابل

نہ پڑھتے تو سو طرح کھاتے کما کر

وہ کھوئے گئے اور تعلیم پاکر

***

جو پوچھو کہ حضرت نے جو کچھ پڑھا ہے

مراد آپ کی اس کے پڑھنے سے کیا ہے

مفاد اس میں دنیا کا یا دین کا ہے

نتیجہ کوئی یا کہ اس کے سوا ہے

تو مجذوب کی طرح سب کچھ بکیں گے

جواب اس کا لیکن نہ کچھ دے سکیں گے

***


نہ حجت رسالت پہ لا سکتے ہیں وہ

نہ اسلام کا حق جتا سکتے ہیں وہ

نہ قرآں کی عظمت دکھا سکتے ہیں وہ

نہ حق کی حقیقت بتا سکتے ہیں وہ

دلیلیں ہیں سب آج بے کار ان کی

نہیں چلتی توپوں میں تلوار ان کی

***

پڑے اس مشقت میں ہیں وہ سراپا

نتیجہ نہیں ان کو معلوم جس کا

گئیں بھول آگے کی بھیڑیں جو بیٹا

اسی راہ پر پڑ لیا سارا گلا

نہیں جانتے یہ کہ جاتے کدھر ہیں

گئے بھول رستہ وہ یا راہ پر ہیں

***

مثال ان کی کوشش کی ہے صاف ایسی

کہ کھائی کہیں بندروں نے جو سردی

ادھر اور ادھر دیر تک آگ ڈھونڈی

کہیں روشنی ان کو پائی نہ اس کی

مگر ایک جگنو چمکتا جو دیکھا

پتنگا اسے آگ کا سب نے سمجھا

***


لیا جا کے تھام اور سب نے اسی دم

کیا گھانس پھونس اس پہ لا کر فراہم

لگے اس کو سلگانے سب مل کے پیہم

پہ کچھ آگ سلگی نہ سردی ہوئی کم

یونہی رات ساری انہوں نے گنوائی

مگر اپنی محنت کی راحت نہ پائی

***

گزرتے تھے جو جانور اس طرف سے

جب اس کشمکش میں انہیں دیکھتے تھے

ملامت بہت سخت تھے ان کو کرتے

کہ شرمائیں وہ زعم باطل سے اپنے

مگر اپنی کد سے نہ باز آتے تھے وہ

ملامت پہ اور الٹے غراتے تھے وہ

***

نہ سمجھے وہ جب تک ہوا دن نہ روشن

اسی طرح جو ہیں حقیقت کے دشمن

نہ جھاڑیں گے گرد تو ہم سے دامن

پہ جب ہو گا نور سحر لمعہ افگن

بہت جلد ہو جائے گا آشکارا

کہ جگنو کو سمجھے تھے وہ اک شرارا

***


وہ طب جس پہ غش ہیں ہمارے اطباء

سمجھتے ہیں جس کو بیاضِ مسیحا

بتانے میں ہے بخل جس کے بہت سا

جسے عیب کی طرح کرتے ہیں اخفا

فقط چند نسخوں کا ہے وہ سفینہ

چلے آئے ہیں جو کہ سینہ بسینہ

***


مسدسِ (۲۷)

نہ ان کو نباتات سے آگہی ہے

نہ اصلا خبر معدنیات کی ہے

نہ تشریح کی لے کسی پر کھلی ہے

نہ علمِ طبیعی نہ کیمسٹری ہے

نہ پانی کا علم اور نہ علمِ ہوا ہے

مریضوں کا ان کے نگہباں خدا ہے

***

نہ قانون میں ان کے کوئی خطا ہے

نہ مخزن میں انگشت رکھنے کی جا ہے

سیدی میں لکھا ہے جو کچھ بجا ہے

نفیسی کے ہر قول پر جاں فدا ہے

سلف لکھ گئے جو قیاس اور گماں سے

صحیفے ہیں اترے ہوئے آسماں سے

***

وہ شعر اور قصائد کا ناپاک دفتر

عفونت میں سنڈاس سے جو ہے بدتر

زمیں جس سے ہے زلزلہ میں برابر

ملک جس سے شرماتے ہیں آسماں پر

ہوا علم و دیں جس سے تاراج سارا

وہ علموں میں علمِ ادب ہے ہمارا

***


برا شعر کہنے کی گر کچھ سزا ہے

عبث جھوٹ بکنا اگر ناروا ہے

تو وہ محکمہ جس کا قاضی خدا ہے

مقر جہاں نیک و بد کی سزا ہے

گنہگار واں چھوٹ جائینگے سارے

جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے

***

زمانہ میں جتنے قلی اور نفر ہیں

کمائی سے اپنی وہ سب بہرہ ور ہیں

گویے امیروں کے نورِ نظر ہیں

ڈفالی بھی لے آتے کچھ مانگ کر ہیں

مگر اس تپِ دق میں جو مبتلا ہیں

خدا جانے وہ کس مرض کی دوا ہیں

***

جو سقے نہ ہوں جی سے جائیں گزر سب

ہو میلا جہاں گم ہوں دھوبی اگر سب

بنے دم پہ گر شہر چھوڑیں نفر سب

جو تھڑ جائیں مہتر تو گندے ہوں گھر سب

پہ کر جائیں ہجرت جو شاعر ہمارے

کہیں مل کے " خس کم جہاں پاک" سارے

***


عرب جو تھے دنیا میں اس فن کے بانی

نہ تھا کوئی آفاق میں جن کا ثانی

زمانہ نے جن کی فصاحت تھی مانی

مٹا دی عزیزوں نے ان کی نشانی

سب ان کے ہنر اور کمالات کھو کر

رہے شاعری کو بھی آخر ڈبو کر

***

ادب میں پڑی جان ان کی زباں سے

جلا دین نے پائی ان کے بیاں سے

سناں کے لیے کام انہوں نے لساں سے

زبانوں کے کوچے تھے بڑھ کر سناں سے

ہوئے ان کے شعروں سے اخلاق صیقل

پڑی ان کے خطبوں سے عالم میں ہلچل

***

خلف ان کے یاں جو کہ جادو بیاں ہیں

فصاحت میں مقبول پیر و جواں ہیں

بلاغت میں مشہور ہندوستاں ہیں

وہ کچھ ہیں تولے دیکے اس گوں کے یاں ہیں

کہ جب شعر میں عمر ساری گنوائیں

تو بھانڈ ان کی غزلیں مجالس میں گائیں

***


طوائف کو از بر ہیں دیوان ان کے

گویوں پے بے حد ہیں احسان ان کے

نکلتے ہیں تکیوں میں ارمان ان کے

ثنا خواں ہیں ابلیس و شیطان ان کے

کہ عقلوں پہ پردے دیئے ڈال انہوں نے

ہمیں کر دیا فارغ البال انہوں نے

***


مسدسِ (۲۸)

شریفوں کی اولاد بے تربیت ہے

تباہ ان کی حالت بری ان کی گت ہے

کسی کو کبوتر اڑنے کی لت ہے

کسی کو بٹیریں لڑانے کی دھت ہے

چرس اور گانجے پہ شیدا ہے کوئی

مدک اور چنڈو کا رسیا ہے کوئی

***

سدا گرم انفار سے ان کی صحبت

ہر اک رند اوباش سے ان کی ملت

پڑھے لکھوں کے سایہ سے ان کو وحشت

مدارس سے تعلیم سے ان کو نفرت

کمینوں کے جرگے میں عمریں گنوانی

انہیں گالیاں دینی اور آپ کھانی

***

نہ علمی مدارس میں ہیں ان کو پاتے

نہ شائتہم جلسوں میں ہیں آتے جاتے

پہ میلوں کی رونق ہیں جا کر بڑھاتے

پڑے پھرتے ہیں دیکھتے اور دکھاتے

کتاب اور معلم سے پھرتے ہیں بھاگے

مگر ناچ گانے میں ہیں سب سے آگے

***


اگر کیجئے ان پاک شہدوں کی گنتی

ہوا جن کے پہلو سے بچ کر ہے چلتی

ملی خاک میں جن سے عزت بڑوں کی

مٹی خاندانوں کی جن سے بزرگی

تو یہ جس قدر خانہ برباد ہونگے

وہ سب ان شریفوں کی اولاد ہونگے

***

ہوئی ان کی بچپن میں یوں پاسبانی

کہ قیدی کی جیسے کٹے زندگانی

لگی ہونے جب کچھ سمجھ بوجھ سیانی

چڑھی بھوت کی طرح سر پر جوانی

بس اب گھر میں دشوار تھمنا ہے ان کا

اکھاڑوں میں تکیوں میں رمنا ہے ان کا

***

نشہ میں مئے عشق کے چور ہیں وہ

صفِ فوجِ مژگاں میں محصور ہیں وہ

غمِ چشم و ابرو میں رنجور ہیں وہ

بہت ہات سے دل کے مجبور ہیں وہ

کریں کیا کہ ہے عشق طینت میں ان کی

حرارت بھری ہے طبعیت میں ان کی

***


اگر شش جہت میں کوئی دلربا ہے

تو دل ان کا نادیدہ اس پر فدا ہے

اگر خواب میں کچھ نظر آگیا ہے

تو یاد اس کی دن رات نامِ خدا ہے

بھری سب کی وحشت سے روداد ہے یاں

جسے دیکھئے قیس و فرہاد ہے یاں

***

اگر ماں ہے دکھیا تو ان کی بلا سے

اپاہج ہے باوا تو ان کی بلا سے

جو ہے گھر میں فاقہ ان کی بلا سے

جو مرتا ہے کنبا تو ان کی بلا سے

جنہوں نے لگائی ہو لو دلربا سے

غرض پھر انہیں کیا رہی ماسوا سے

***

نہ گالی سے دشنام سے جی چرائیں

نہ جوتی سے پیزار سے ہچکچائیں

جو میلوں میں جائیں تو لچپن دکھائیں

جو محفل میں بیٹھیں تو فتنے اٹھائیں

لرزتے ہیں اوباش ان کی ہنسی سے

گریزاں ہیں رندان کی ہمسائیگی سے

***


سپوتوں کو اپنے اگر بیاہ دیجے

تو بہوؤں کا بوجھ اپنی گردن پہ لیجے

جو بیٹی کے پیوند کی فکر کیجئے

تو بد راہ ہیں بھانجے اور بھتیجے

یہی جھینکنا کو بہ کو گھر بہ گھر ہے

بہو کو ٹھکانہ نہ بیٹی کو بر ہے

***


مسدسِ (۲۹)

نہ مطلب نگاری کا ان کو سلیقہ

نہ دربار داری کا ان کو سلیقہ

نہ امید واری کا ان کو سلیقہ

نہ خدمت گزاری کا ان کو سلیقہ

قلی یا نفر ہو تو کچھ کام آئے

مگر ان کو کس مد میں کوئی کھپائے

***

نہیں ملتی روٹی جنہیں پیٹ بھر کے

وہ گزرا ان کرتے ہیں سو عیب کر کے

جو ہیں ان میں دوچار آسودہ گھر کے

وہ دن رات خواہاں ہین مرگِ پدر کے

نمونے یہ اعیان و اشراف کے ہیں

سلف ان کے وہ تھے خلف ان کے یہ ہیں

***

وہ اسلام کی پود شاید یہی ہے

کہ جس کی طرف آنکھ سب کی لگی ہے

بہت جس سے آئندہ چشمِ بہی ہے

بقا منحصر جس پہ اسلام کی ہے

یہی جان ڈالے گی باغِ کہن میں ؟

اسی سے بہار آئے گی اس چمن میں ؟

***


یہی ہیں وہ نسلیں مبارک ہماری؟

کہ بخشیں گی جو دین کو استواری؟

کریں گی یہی قوم کی غم گساری؟

انہیں پر امیدیں ہیں موقوف ساری؟

یہی شمعِ اسلام روشن کریں گی؟

بڑوں کا یہی نام روشن کریں گی؟

***

خلف ان کے الحق اگر یاں یہی ہیں

سلف کے اگر فاتحہ خواں یہی ہیں

اگر یاد گارِ عزیزاں یہی ہیں

اگر نسلِ اشراف و اعیاں یہی ہیں

تو یاد اس قدر ان کی رہ جائے گی یاں

کہ اک قوم رہتی تھی اس نام کی یاں

***

سمجھتے ہیں شائستہ جو آپ کو یاں

ہیں آزادیِ رائے پر جو کہ نازاں

چلن پر ہیں جو قوم کے اپنی خنداں

مسلماں ہیں سب جن کے نزدیک ناداں

جو ڈھونڈو گے یاروں کے ہمدرد ان میں

تو نکلیں گے تھوڑے جوانمرد ان میں

***


نہ رنج ان کے افلاس کا ان کو اصلا

نہ فکر ان کی تعلیم اور تربیت کا

نہ کوشش کہ ہمت نہ دینے کو پیسا

اڑانا مگر مفت ایک اک کا خاکا

کہیں ان کی پوشاک پر طعن کرنا

کہیں ان کی خوراک کو نام دھرنا

***

عزیزوں کی جس بات میں عیب پانا

نشانہ اسے پھبتیوں کا بنانا

شماتت سے دل بھائیوں کا دکھانا

یگانوں کو بیگانہ بن کر چڑانا

نہ کچھ درد کی چوٹ ان کے جگر میں

نہ قطرہ کوئی خون کا چشمِ تر میں

***

جہاز ایک گرداب میں پھنس رہا ہے

پڑا جس سے جوکھوں میں چھوٹا بڑا ہے

نکلنے کا رستہ نہ بچنے کی جا ہے

کوئی ان میں سوتا کوئی جاگتا ہے

جو سوتے ہیں وہ مست خواب گراں ہیں

جو بیدار ہیں ان پہ خندہ زناں ہیں

***


کوئی ان سے پوچھے کہ اے ہوش والو

کس امید پر تم کھڑے ہنس رہے ہو

برا وقت بیڑے پہ آنے کو ہے جو

نہ چھوڑے گا سوتوں کو اور جاگتوں کو

بچو گے نہ تم اور نہ ساتھی تمہارے

اگر ناؤ ڈوبی تو ڈوبیں گے سارے

***


مسدسِ (۳۰)

غرض عیب کیجئے بیاں اپنا کیا کیا

کہ بگڑا ہوا یاں ہے آوے کا آوا

فقیر اور جاہل ضعیف اور توانا

تاسف کے قابل ہے احوال سب کا

مریض ایسے مایوس دنیا میں کم ہیں

بگڑ کر کبھی جو نہ سںبھلی وہ ہم میں

***

کسی نے یہ اک مردِ دانا سے پوچھا

کہ " نعمت ہے دنیا میں سب سے بڑی کیا؟"

کہا" عقل جس سے ملے دین و دنیا"

کہا " گر نہ ہو اس سے انساں کو بہرا"

کہا " پھر اہم سب سے علم و ہنر ہے

کہ جو باعثِ افتخارِ بشر ہے"

***

کہا " گر نہ ہو یہ بھی اس کو میسر"

کہا" مال و دولت ہے، پھر سب سے بڑھ کر"

کہا" در ہو یہ بھی اگر بند اس پر"

کہا" اس پہ بجلی کا گرنا ہے بہتر"

وہ ننگِ بشر تاکہ ذلت سے چھوٹے

خلائق سب اس کی نحوست سے چھوٹے"

***


مجھے ڈر ہے اے میرے ہم قوم یارو

مبادا کہ وہ ننگِ عالم تمہیں ہو

گر اسلام کی کچھ حمیت ہے تم کو

تو جلدی سے اٹھو اور اپنی خبر لو

وگر نہ یہ قول آئے گا راست تم پر

کہ ہونے سے ان کا نہ ہونا ہے بہتر

***

رہو گے یونہی فارغ البال کب تک

نہ بدلو گے یہ چال اور ڈھال کب تک

رہے گی نئی پود پامال کب تک

نہ چھوڑو گے تم بھیڑیا چال کب تک

بس اگلے فسانے فراموش کر دو

تعصب کے شعلے کو خاموش کر دو

***

حکومت نے آزادیاں تم کو دی ہیں

ترقی کی راہیں سراسر کھلی ہیں

صدائیں یہ ہر سمت سے آ رہی ہیں

کہ راجا سے پرجا تلک سب سکھی ہیں

تسلط ہے ملکوں میں امن و اماں کا

نہیں بند رستہ کسی کارواں کا

***


نہ بد خواہ ہے دین و ایماں کا کوئی

نہ دشمن حدیث اور قرآں کا کوئی

نہ ناقص ہے ملت کے ارکاں کا کوئی

نہ مانع شریعت کے فرماں کا کوئی

نمازیں پڑھو بے خطر معبدوں میں

اذانیں دھڑلے سے دو مسجدوں میں

***

کھلی ہیں سفر اور تجارت کی راہیں

نہیں بند صنعت کی حرفت کی راہیں

جو روشن ہیں تحصیلِ حکمت کی راہیں

تو ہموار ہیں کسبِ دولت کی راہیں

نہ گھر غنیم اور دشمن کا کھٹکا

نہ باہر ہے قزاق و رہزن کا کھٹکا

***

مہینوں کے کٹتے ہیں رستے پلوں میں

گھروں سے سوا چین ہے منزلوں میں

ہر اک گوشہ گلزار ہے جنگلوں میں

شب و روز ہے ایمنی قافلوں میں

سفر جو کھیے تھا نمونہ سقر کا

وسیلہ ہے وہ اب سراسر ظفر کا

***


پہنچتی ہیں ملکوں میں دم دم کی خبریں

چلی آتی ہیں شادی و غم کی خبریں

عیاں ہیں ہر اک بر اعظم کی خبریں

کھلی ہیں زمانہ پہ عالم کی خبریں

نہیں واقعہ کوئی پنہاں کہیں کا

ہے آئینہ احوالِ روئے زمیں کا

***


مسدسِ (۳۱)

کرو قدر اس امن و آزادگی کی

کہ ہے صاف ہر سمت راہِ ترقی

ہر اک راہ رو کا زمانہ ہے ساتھی

یہ ہر سو سے آوازِ پیہم ہے آتی

کہ دشمن کا کھٹکا نہ رہزن کا ڈر سے

نکل جاؤ رستہ ابھی بے خطر ہے

***

بہت قافلے دیر سے جا رہے ہیں

بہت بوجھ بار اپنے لدوا رہے ہیں

بہت چل چلاؤ میں گھبرا رہے ہیں

بہت سے نہ چلنے سے پچتا رہے ہیں

مگر اک تمہیں ہو کہ سوتے ہو غافل

مبادا کہ غفلت میں کھوٹی ہو منزل

***

نہ بد خواہ سمجھو بس اب یاروں کو

لٹیرے نہ ٹھرماؤ تم رہبروں کو

دو الزام پیچھے نصیحت گروں کو

ٹٹولو ذرا پہلے اپنے گھروں کو

کہ خالی ہیں یا پر ذخیرے تمہارے

برے ہیں کہ اچھے و تیر تمامرے

***


امیروں کی تم سن چلے داستاں سب

چلن ہو چکے عالموں کے بیاں سب

شریفوں کی حالت ہے، تم پر عیاں سب

بگڑنے کو تیار بیٹھے ہیں یاں سب

یہ بوسیدہ گھر اب گرا کا گرا ہے

ستوں مرکزِ ثقل سے ہٹ چکا ہے

***

یہ جو کچھ ہوا ایک شمّہ ہے اس کا

کہ جو وقت یاروں پہ ہے آنے والا

زمانہ نے اونچے سے جس کو گرایا

وہ آخر کو مٹی میں مل کر رہے گا

نہیں گرچہ کچھ قوم میں حال باقی

ابھی اور ہونا ہے پامال باقی

***

یہاں ہر ترقی کی غایت یہی ہے

سر انجام ہر قوم و ملت یہی ہے

سدا سے زمانہ کی عادت یہی ہے

طلسمِ جہاں کی حقیقت یہی ہے

بہت یاں ہوئے خشک چشمے ابل کر

بہت باغ چھانٹے گئے پھول پھل کر

***


کہاں ہیں وہ اہرامِ مصری کے بانی

کہاں ہیں وہ گردانِ زابلستانی

گئے پیشدادی کدھر اور کیانی

مٹا کر رہی سب کو دنیائے فانی

لگاؤ کہیں کھوج کلدانیوں کا

بتاؤ نشاں کوئی ساسانیوں کا

***

وہی ایک ہے جس کو دایم بقا ہے

جہاں کی وراثت اسی کو سزا ہے

سوا اس کے انجام سب کا فنا ہے

نہ کوئی رہے گا نہ کوئی رہا ہے

مسافر یہاں ہیں فقیر اور غنی سب

غلام اور آزاد ہیں رفتنی سب

***


مسدسِ (۳۲)

ضمیمہ

بس اے ناامیدی نہ یوں دل بجھا تو

جھلک اے امید اپنی آخر دکھا تو

ذرا نا امیدوں کی ڈھارس بندھا تو

فسردہ دلوں کے دل آ کر بڑھا تو

ترے دم سے مردوں میں جانںڈ پڑی ہیں

جلی کھیتیاں تو نے سر سبز کی ہیں

***

زلیخا کی غمخوار ہجراں میں تو تھی

دل آرام یوسف کی زنداں مں تو تھی

مصائب نے جب آن کر ان کو گھیرا

سہارا وہاں سبکو تھا اک تیرا

***

بہت ڈوبتوں کو ترایا ہے تو نے

بگڑتوں کو اکثر بنایا ہے تو نے

اکھڑتے دلوں کو جمایا ہے تو نے

اجڑتے گھروں کو بسایا ہے تو نے

بہت تو نے پستوں کو بالا کیا ہے

اندھیرے میں اکثر اجالا کیا ہے

***


قومی تجھ سے ہمت ہے پیرو جواں کی

بندھی تجھ سے ڈھارس ہے خرد و کلاں کی

تجھی پر ہے بنیاد نظمِ جہاں کی

نہ ہو تو تو رونق نہ ہو اس دکاں کی

تگا پو ہے ہر مرحلے میں تجھی سے

روا رو ہے ہر قافلے میں تجھی سے

***

کسانوں سے کلر میں ہے تو بواتی

جہازوں کو گرداب میں ہے کھواتی

سکندر کو دارا پہ ہے تو چڑھاتی

فریدوں کا ضحاک سے ہے لڑاتی

چلے سب جدھر تو نے مائل عناں کی

نظر تیری سیٹی پہ ہے کارواں کی

***

نوازا بہت بے نواؤں کو تو نے

تو نگر بنایا گداؤں کو تو نے

دیا دسترس نا رساؤں کو تو نے

کیا بادشہ ناخداؤں کو تو نے

سکندر کو شانِ کئی تو نے بخشی

کلمبس کو دنیا نئی تو نے بخشی

***


وہ رہرو نہیں رکھتے جو کوئی ساماں

خورو زاد سے جن کا خالی ہے داماں

نہ ساتھی کوئی جس سے منزل ہو آساں

نہ محرم کوئی جو سنے درد پنہاں

ترے بل پہ خوش خوش ہیں اس طرح جاتے

کہ جا کر خزانہ ہیں اب کوئی پاتے

***

زمیں جو تنے کو جب اٹھتا ہے جوتا

سمیں کا گمان تک نہیں جب کہ ہوتا

شب و روز محنت میں ہے جان کھوتا

مہینوں نہیں پاؤں پھیلا کے سوتا

اگر موجزن اس کے دل میں نہ تو ہو

تو دنیا میں غل جوک کا چار سو ہو

***

بنے اس سے بھی گر سوا اپنے دم پر

بلاؤں کا ہو سامنا ہر قدم پر

پہاڑ اک فزوں اور ہر کوہ غم پر

گزرتی ہو جو کچھ گزر جائے ہم پر

نہیں فکر تو دل بڑھاتی ہے جب تک

دماغوں میں بو تیری آتی ہے جب تک

***


یہ سچ ہے کہ حالت ہماری زبوں ہے

عزیزوں کی غفلت وہی جوں کی توں ہے

جہالت وہی قوم کی رہنموں ہے

تعصب کی گردن پہ ملت کا خوں ہے

مگر اے امید اک سہارا ہے تیرا

کہ جلوہ یہ دنیا میں سارا ہے تیرا

***

نہیں قوم میں گرچہ کچھ جان باقی

نہ اس میں وہ اسلام کی شان باقی

نہ وہ جاہ و حشمت کے سامان باقی

پر اس حال میں بھی ہے اک آن باقی

بگڑنے کا گو ان کے وقت آگیا ہے

مگر اس بگڑنے میں بھی اک ادا ہے

***


مسدسِ (۳۳)

بہت ہیں ابھی جن میں غیرت ہے باقی

دلیری نہیں پر حمیت ہے باقی

فقیری میں بھی بوئے ثروت ہے باقی

تہی دست ہیں پر مروت ہے، باقی

مٹے پر بھی پندار ہستی وہی ہے

مکاں گرم ہے آگ گو بجھ گئی ہے

***

سمجھتے ہیں عزت کو دولت سے بہتر

فقیری کو ذات کی شہرت سے بہتر

گلیمِ قناعت کو ثروت سے بہتر

انہیں موت ہے بارِ منت سے بہتر

سر ان کا نہیں در بدر جھکنے والا

وہ خود پست ہیں پر نگاہیں ہیں بالا

***

مشابہ ہے قوم اس مریضِ جواں سے

کیا ضعف نے جس کو مایوس جاں سے

نہ بستر سے حرکت نہ جنبش مکاں سے

اجل کے ہیں آثار جس پر عیاں سے

نظر آتے ہیں سب مرض جس کے مزمن

نہیں کوئی مہلک مرض اس کو لیکن

***


بجا ہیں حواس اس کے اور ہوش قائم

طبعیت میں میل خور و نوش قائم

دماغ اور دل چشم اور گوش قائم

جونی کا پندار اور جوش قائم

کرے کوئی اس کی اگر غور کامل

عجب کیا جو ہو جائے زندوں میں شامل

***

عیاں سب پہ احوال بیمار کا ہے

کہ تیل اس میں جو کچھ تھا سب جل چکا ہے

موافق دوا ہے نہ کوئی غذا ہے

ہزالِ بدن ہے زوالِ قویٰ ہے

مگر ہے ابھی یہ دیا ٹمٹماتا

بجھا جو کہ ہے یاں نظر سب کو آتا

***

یہ سچ ہے کہ ہے قوم میں قحطِ انساں

نہیں قوم کے ہیں سب افراد یکساں

سفال و خزف کے ہیں انبار گریاں

جواہر کے ٹکڑے بھی ہیں ان میں پنہاں

چھپے سنگریزوں میں گوہر بھی ہیں کچھ

ملے ریت میں ریزۂ زر بھی ہیں کچھ

***


جو چاہیں پلٹ دیں یہی سب کی کایا

کہ ایک اک نے ملکوں کو ہے یاں جگایا

اکیلوں نے ہے قافلوں کو بچایا

جہازوں کو ہے زورقوں نے ترایا

یونہی کام دنیا کا چلتا رہا ہے

دیے سے دیا یونہی جلتا رہا ہے

***

یہ سچ ہے کہ بیشتر ہم میں ناداں

نہیں جن کے دردِ تعصب کا درماں

جہاں میں ہیں جوان کی عزت کے خواہاں

انہیں سے وہ رہتے ہیں دست و گریباں

پہ ایسے بھی کچھ ہوتے جاتے ہیں پیدا

کہ جو خیر خواہوں پہ ہیں اپنے شیدا

***

کوئی خیر خواہی میں ہے ہمسر ان کا

کوئی دست و بازو سے ہے یاور ان کا

کوئی ہے زباں سے ستائش گر ان کا

بہت رکھتے ہیں نقش جب دل پر ان کا

بہت ان کے گن سنتے ہیں چپکے چپکے

بہت سن کے سر دھنتے ہیں چپکے چپکے

***


بہت دن سے دریا کا پانی کھڑا تھا

تموج کا جس میں نہ ہر گز پتا تھا

تغیر سے یہ حال اس کا ہوا تھا

کہ مکروہ تھی بو تو کڑوا مزا تھا

ہوئی تھی یہ پانی سے زائل روانی

کہ مشکل سے کہہ سکتے تھے اس کو پانی

***


مسدسِ (۳۴)

پر اب اس میں رو کچھ کچھ آنے لگی ہے

کناروں کو اس کے ہلانے لگی ہے

ہوا بلبلے کچھ اٹھانے لگی ہے

عفونت وہ پانی سے جانے لگی ہے

اگر ہو نہ یہ انقلاب اتفاقی

تو دریا میں بس اک تموج ہے باقی

***

حوادث نے ان کو ڈرایا ہے کچھ کچھ

مصائب نے نیچا دکھایا ہے کچھ کچھ

ضرورت نے رستہ بتایا ہے کچھ کچھ

زمانے کے غل نے جگایا ہے کچھ کچھ

ذرا دست و بازو ہلانے لگے ہیں

وہ سوتے میں کچھ کلبلانے لگے ہیں

***

رہِ راست پر ہیں وہ کچھ آتے جاتے

تعلی سے ہیں اپنی شرماتے جاتے

تفاخر سے ہیں اپنے پچتاتے جاتے

سراغ اپنا کچھ کچھ ہیں وہ پاتے جاتے

بزرگی کے دعووں سے پھرنے لگے ہیں

وہ خود اپنی نظروں سے گرنے لگے ہیں

***


نہیں گھاٹ پر گو ترقی کے آتے

نئی بات سے ناک بھوں ہیں چڑھاتے

نئی روشنی سے ہیں آنکھیں چراتے

مگر ساتھ ہی یہ بھی ہیں کہتے جاتے

کہ دنیا نہیں گر چہ رہنے کے قابل

پر اس طرح دنیا میں رہنا ہے مشکل

***

تنزل پہ وہ ہاتھ ملنے لگے ہیں

کچھ اس سوز سے جی پگھلنے لگے ہیں

دھوئیں کچھ دلوں سے نکلنے لگے ہیں

کچھ آرے سے سینوں پہ چلنے لگے ہیں

وہ غفلت کی راتیں گزرنے کو ہیں اب

نشے جو چڑھے تھے اترنے کو ہیں اب

***

نہیں گرچہ کچھ دردِ اسلام ان کو

نہ بہبودیِ قوم سے کام ان کو

نہ کچھ فکرِ آغاز و انجام ان کو

برابر ہے ہو صبح یا شام ان کو

مگر قوم کی سن کے کوئی مصیبت

انہیں کچھ نہ کچھ آ ہی جاتی ہے رقت

***


خصومت سے ہیں اپنی گو خواریاں سب

نزاعوں سے باہم کے ہیں ناتواں سب

خود آپس کی چوٹوں سے ہیں خستہ جاں سب

پہ ہیں متفق اس پہ پیرو جواں سب

کہ نا اتفاقی نے کھویا ہے ہم کو

اسی جزر و مد نے ڈبویا ہے ہم کو

***

یہ مانا کہ کہ ہم میں ہیں ایسے دانا

جنہوں نے حقیقت کو ہے اپنی چھانا

تنزل کو ہے ٹھیک ٹھیک اپنے جانا

کہ ہم ہیں کہاں اور کہاں ہے زمانا

یہ اتنا زبانوں پہ ہے سب کی جاری

کہ حالت بری آج کل ہے ہماری

***

فرائض میں گو دین کے سب ہیں قاصر

نہ مشغول باطن نہ پابند ظاہر

مساجد سے غائب ملا ہی میں حاضر

مگر ایسے فاسق ہیں ان میں نہ فاجر

کہ مذہب پہ حملے ہیں جوہر طرف سے

وہ دیکھ ان کو ہٹ جائیں راہِ سلف سے

***


خود اپنی ہے گو قدر و قیمت گنوائی

پہ بھولے نہیں ہیں بڑوں کی بڑائی

جو آپ ان کی خوبی نہیں کوئی پائی

تو ہیں خوبیوں پر انہیں کی فدائی

شرف گو کہ باقی نہیں ان میں اب کچھ

مگر خواب میں دیکھ لیتے ہیں سب کچھ

***


مسدسِ (۳۵)

ذرا پھر کے پیچھے وہ جب دیکھتے ہیں

وہ اپنا حسب اور نسب دیکھتے ہیں

بزرگوں کا علم و ادب دیکھتے ہیں

سر افرازیِ جدّو اب دیکھتے ہیں

تو ہیں فخر سے وہ کبھی سر اٹھاتے

کبھی ہیں ندامت سے گردن جھکاتے

***

اگر کچھ بھی باقی ہو یاروں میں ہمت

تو ان کا یہی افتخار اور ندامت

شگونِ سعادت ہے اور فال دولت

کہ آتی ہے کچھ اس سے بوئے حمیت

وہ کھو بیٹھے آخر کمائی بڑوں کی

بھلا دی جنہوں نے بڑائی بڑوں کی

***

اسیری میں جو گرم فریاد ہیں یاں

وہی آشیاں کرتے آباد ہیں یاں

قفس سے وہی ہوتے آزاد ہیں یاں

چمن کے جنہیں چہچہے یاد ہیں یاں

وہ شاید قفس ہی میں عمریں گنوائیں

گئیں بھول صحرا کی جن کو فضائیں

***


بلندی میں ہوں یا کہ پستی میں ہوں ہم

قوی ہوں کہ کمزور افزوں ہو یا کم

محقر زمانہ میں ہوں یا مکرم

مؤخر ہوں اس بزم میں یا مقدم

عبا میں ہوں پوشیدہ یا شال میں ہوں

کسی رنگ میں ہوں کسی حال میں ہوں

***

اگر باخبر ہیں حقیقت سے اپنی

تلف کی ہوئی اگلی عظمت سے اپنی

بلندی و پسی کی نسبت سے اپنی

گزشتہ اور آئندہ حالت سے اپنی

تو سمجھو کہ ہے پار کھیوا ہمارا

نہیں دور منجدھار سے کچھ کنارا

***

الپ ارسلاں سے یہ طغرل نے پوچھا

کہ قومیں ہیں دنیا میں جو جلوہ فرما

نشاں ان کی اقبال مندی کے ہیں کیا

کب اقبال مند ان کو کہنا ہے زیبا

کہا" ملک و دولت ہو ہاتھ انکے جب تک"

جہان ہو کمر بستہ ساتھی انکے جب تک

***


جہاں جائیں وہ سرخرو ہو کے آئیں

ظفر ہم عناں ہو جدھر باگ اٹھائیں

نہ بگڑیں کبھی کام جو وہ بنائیں

نہ اکھڑیں قدم جس جگہ وہ جمائیں

کریں مس کو گر مس تو وہ کیمیا ہو

اگر خاک میں ہاتھ ڈالیں طلا ہو"

***

ولی عہد کی جب کہ باتیں سنیں یہ

ہنسا سن کے فرزانۂ دور بیں یہ

کہا" جان عم گپ ہے گو دل نشیں یہ

مگر شرطِ اقبال ہر گز نہیں یہ

حوادث سہے بن گزارہ نہیں یاں

بلندی و پستی سے چارہ نہیں یاں

***

بہم ہے کبھی گاہ برہم ہے محفل

کٹھن ہے کبھی گاہ آسان ہے منزل

زمانہ کی گردش سے بچنا ہے مشکل

نہ محفوظ ہیں اس سے مدبر نہ مقبل

بہت یکہ تازوں کو یاں گھرتے دیکھا

سدا شہسواروں کو یاں گرتے دیکھا

***


مسدسِ (۳۶)

جہاں سود ہے یاں وہیں ہے زیاں بھی

جہاں روشنی ہے وہیں ہے دھواں بھی

سقر بھی ہے یہ خاکداں اور جناں بھی

بہاریں بھی ہیں اس چمن میں خزاں بھی

نکھرتے ہیں جویاں وہ گدلاتے بھی ہیں

چمکتے ہیں جو یاں وہ گہناتے بھی ہیں

***

ضعیف اور قومی امنی اور عراقی

چکھاتا ہے درد قدح سب کو ساقی

پہ اقبال کی ہے رمق جن میں باقی

یہ سب تلخیاں ان میں ہیں اتفاقی

بلاؤں میں گھر کر نکل جاتے ہیں وہ

ذرا ڈگمگا کر سنبھل جاتے ہیں وہ

***

نہیں ہوتے نیرنگِ گردوں سے حرناں

ہر اک درد کا ڈھونڈ لیتے ہیں درماں

اٹھاتے نہیں کچھ حوادث سے نقصاں

وہ چونک اٹھتے ہیں دیکھ خواب پریشاں

بھڑکتے ہیں افسردہ ہو کر سوا وہ

بھبکتے ہیں پژ مردہ ہو کر سوا وہ

***


پگھلتے ہیں سانچے میں ڈھلنے کی خاطر

لگاتے ہیں غوطہ اچھلنے کی خاطر

ٹھرتتے ہیں دم لے کے چلنے کی خاطر

وہ کھاتے ہیں ٹھوکر سنبھلنے کی خاطر

سبب کو مرض سے سمجھتے ہیں پہلے

الجھتے ہیں پیچھے سلجھتے ہیں پہلے

***

ضرورت نہیں یہ کہ فرمانروا ہوں

رعیت ہوں وہ خواہ کشور شا ہوں

سپاہی ہوں تاجر ہوں یا خدا ہوں

وہ کچھ ہوں پہ اپنے سے واقف ذرا ہوں

کہ ہم کیا ہیں اور کون ہیں اور کہاں ہیں

گھٹے یا بڑھے ہیں، سبک یا گراں ہیں

***

جب آئے انہیں ہوش کچھ وقت کھو کر

رہیں بیٹھ قسمت کو اپنی نہ رو کر

کریں کوششیں سب بہم ایک ہو کر!

رہیں داغ ذلت کا دامن سے دھوکر

نہ ہو تاب پرواز اگر آسماں تک

تو واں تک اڑیں ہو رسائی جہاں تک

***


پڑا ہے وہی وقت اب ہم پہ آ کر

کہ اٹھے ہیں سوتے بہت دن چڑھا کر

سواروں نے کی راہ طے باگ اٹھا کر

گئے قافلے ٹھہر منزل پہ جا کر

گر افتان و خیزاں سدھارے بھی اب ہم

تو پہنچے بھلا جا کے منزل پہ کب ہم

***

مگر بیٹھ رہنے سے چلنا ہے بہتر

کہ ہے اہلِ ہمت کا اللہ یارو

جو ٹھنڈک میں چلنا نہ آیا میسر

تو پہنچیں گے ہم دھوپ کھا کھا کے سر پر

یہ تکلیف و راحت ہے سب اتفاقی

چلو اب بھی ہے وقت چلنے کا باقی

***

ہوا کچھ وہی جس نے یاں کچھ کیا ہے

لیا جس نے پھل بیچ بو کر لیا ہے

کرو کچھ کہ کرنا ہی کچھ کیمیا ہے

مثل ہے کہ کرتے کی سب بدیا ہے

یونہی وقت سو سو کے ہیں گنواتے

ہو خرگوش کچھووں سے ہیں زک اٹھاتے

***


مسدسِ (۳۷)

یہ برکت ہے دنیا میں محنت کی ساری

جہاں دیکھئے فیض اسی کا ہے جاری

یہی ہے کلیدِ درِ فضل باری

اسی پر ہے موقوف عزت تمہاری

اسی سے ہے قوموں کی یاں آبرو سب

اسی پر ہیں مغرور میں اور تو سب

***

گلستاں میں جوبن گل و یاسمن کا

سماں زلفِ سنبل کی تاب و شکن کا

قدِ دل ربا سرو اور نارون کا

رخِ جاں فزا لالہ و نسترن کا

غریبوں کی محنت کی ہے رنگ و بو سب

کمیروں کے خوں سے ہیں یہ تازہ رو سب

***

ہلاتے نہ اگلے اگر دست و بازو

جہاں عطرِ حکمت سے ہوتا نہ خوشبو

نہ اخلاق کی وضع ہوتی ترازو

نہ حق پھیلتا ربعِ مسکوں میں ہر سو

حقائق یہ سب غیر معلوم رہتے

خدائی کے اسرار مکتوم رہتے

***


ستارہ شریعت کا تاباں نہ ہوتا

اثر علمِ دیں کا نمایاں نہ ہوتا

جدا کفر سے نورِ ایماں نہ ہوتا

مساجد میں یوں دردِ قرآں نہ ہوتا

خدا کی ثنا معبدوں میں نہ ہوتی

اذاں جا بجا مسجدوں میں نہ ہوتی

***

نہیں ملتی کوشش سے دنیا ہی تنہا

کہ ارکانِ دیں بھی اسی پر ہیں برپا

جنہیں ہو نہ دنیائے فانی کی پروا

کریں آخرت کا ہی وہ کاش سودا

نہیں ہلتے دنیا کیا خاطر اگر تم

تو لو دینِ حق کی ہی اٹھ کر کبر تم

***

بنی نوع میں دو طرح کے ہیں انساں

تفاوت ہے حالت میں جن کی نمایاں

کچھ ان میں ہیں راحت طلب اور تن آساں

بدن کے نگہبان، بستر کے درباں

نہ محنت پہ مائل نہ قدرت کے قائل

سمجھتے ہیں تنکے کو رستے میں حائل

***


اگر ہیں تو نگر تو بے کار ہیں سب

اپاہج ہیں روگی ہیں بیمار ہیں سب

تعیش کے ہاتھوں سے لاچار ہیں سب

تن آسانیوں میں گرفتار ہیں سب

برابر ہے یاں ان کا ہونا نہ ہونا

نہ کچھ جاگنا ان کا بہتر نہ سونا

***

اگر ہے تہی دست اور بے نوا وہ

تو محنت سے ہیں جی چراتے سدا وہ

نصیبوں کا کرتے ہیں گلا وہ

ہلاتے نہیں کچھ مگر دست و پا وہ

اگر بھیک مل جائے قسمت سے ان کو

ستو سو بار بہتر ہے محنت سے ان کو

***

نہ جو بے نوا ہیں نہ ہیں کچھ تو نگر

وہ ہیں ڈھور کی طرح قانع اسی پر

کہ کھانے کو ملتا رہے پیٹ بھر کر

نہیں بڑھتے بس اس سے آگے قدم بھر

ہوئے زیورِ آدمیت سے عاری

معطل ہوئیں قوتیں ان کی ساری

***


نہ ہمت کہ محنت کی سختی اٹھائیں

نہ جرأت کہ خطروں کے میداں میں آئیں

نہ غیرت کہ ذلت سے پہلو بچائیں

نہ عبرت کہ دنیا کی سمجھیں ادائیں

نہ کل فکر تھی یہ کہ ہیں اس کے پھل کیا

نہ ہے آج پروا کہ ہونا ہے کل کیا

***


مسدسِ (۳۸)

نہیں کرتے کھیتی ہیں وہ جاں فشانی

نہ ہل جوتتے ہیں نہ دیتے ہیں پانی

پہ جب یاس کرتی ہے دل پر گرانی

تو کہتے ہیں حق کی ہے نا مہربانی

نہیں لیتے کچھ کام تدبیر سے وہ

سدا لڑتے رہتے ہیں تقدیر سے وہ

***

کبھی کہتے ہیں" ہیچ ہیں سب یہ ساماں

کہ خود زندگی ہے کوئی دن کی مہماں

دھرے سب یہ رہ جائینگے کاخ و ایواں

نہ باقی رہے گی حکومت نہ فرماں

ترقی اگر ہم نے کی بھی تو پھر کیا

یہ بازی اگر جیت لی بھی تو پھر کیا

***

یہ سرگرم کوشش میں جو روز و شب ہیں

اٹھاتے سدا بارِ رنج و تعب ہیں

ترقی کے میداں میں سبقت طلب ہیں

نمائش پہ دنیا کی بھولے یہ سب ہیں

نہیں ان کو کچھ اپنی محنت سے لہنا

"بناتے ہیں وہ گھر نہیں جس میں رہنا"

***


کبھی کرتے ہیں عقلِ انساں یہ نفریں

کہ با وصف کو تاہ بینی ہے خود بیں

وہ تدبیریں اس طرح کرتی ہں تلقیں

کہ گویا کھلا اس پہ ہے سرِّ تکویں

مگر سب خیالات ہیں خام اس کے

ادھورے ہیں جتنے ہیں یاں کام اس کے

***

نہ اسبابِ راحت کی اس کو خبر کچھ

نہ آثارِ دولت کی اس کو خبر کچھ

نہ عزت نہ ذلت کی اس کو خبر کچھ

نہ کلفت نہ راحت کی اس کو خبر کچھ

نہ آگاہ اس سے کہ ہستی ہے شے کیا

نہ واقف کہ مقصود ہستی سے ہے کیا

***

کبھی کہتے ہیں" زہر ہے مال و دولت

اٹھاتے ہیں جس کیلئے رنج و محنت

اسی سے گناہوں کی ہوتی ہے رغبت

اسی سے دماغوں میں آتی ہے نخوت

یہی حق سے کرتی ہے بندوں کو غافل

ہوئے ہیں عذاب اس سے قوموں یہ نازل"

***


کبھی کہتے ہیں"سعی و کوشش سے حاصل

کہ مقسوم بِن کوششیں سب ہیں باطل

نہیں ہوتی کوشش سے تقدیر زائل

برابر ہیں یاں محنتی اور کاہل

ہلانے سے روزی کی گر ڈور ہلتی

تو روٹی نکموں کو ہرگز نہ ملتی

***

نکموں کے ہیں سب یہ دلکش ترانے

سلانے کو قسمت کے رنگیں فسانے

اسی طرح کے کر کے حیلے بہانے

نہیں چاہتے دست و بازو ہلانے

وہ بھولے ہوئے ہیں یہ عادت خدا کی

کہ حرکت میں ہوتی ہے برکت خدا کی

***

سنی تم نے یہ جس جماعت کی حالت

تنزل کی بنیاد ہے یہ جماعت

بگڑتی ہیں قومیں اسی کی بدولت

ہوا اس کی ہے مفسدِ ملک و ملت

کیا صور و صیدا کو برباد اسی نے

بگاڑا دمشق اور بغداد اسی نے

***


جہاں ہے زمیں پر نحوست ہے ان کی

جدھر ہے زمانہ میں نکبت ہے ان کی

مصیبت کا پیغام کثرت ہے، ان کی

تباہی کا لشکر جماعت ہے ان کی

وجود ان کا اصل البلیات ہے، یاں

خدا کا غضب ان کی بہتات ہے یاں

***


مسدسِ (۳۹)

سب ایسے تن آسان و بے کار و کاہل

تمدن کے حق میں ہیں زہرِ ہلاہل

نہیں ان سے کچھ نوعِ انساں کو حاصل

نہیں ان کی صحبت کہ ہے سمِ قاتل

یہ جب پھیلتے ہیں سمٹتی ہے دولت

یہ جوں جوں کہ بڑھتے ہیں گھٹتی ہے دولت

***

جہاں بڑھ گئی ان کی تعداد حد سے

ہوئی قوم محسوب سب دام و دو سے

رہا اس کو بہرہ نہ حق کی مدد سے

وہ اب بچ نہیں سکتی نکبت کی زد سے

بچو ایسے شوموں کی پرچھائیوں سے

ڈرو ایسے چپ چاپ یغمائیوں سے

***

مگر اک فریق اور ان کے سوا ہے

شرف جس سے نوعِ بشر کو ملا ہے

سب اس بزم میں جن کا نور و ضیا ہے

سب اس باغ کی جن سے نشوونما ہے

ہوئے جو کہ پیدا ہیں محنت کی خاطر

بنے ہیں زمانہ کہ خدمت کی خاطر

***


نہ راحت طلب ہیں نہ محنت طلب وہ

لگے رہتے ہیں کام میں روز و شب وہ

نہیں لیتے دم ایک دم بے سبب وہ

بہت جاگ لیتے ہیں سوتے ہیں تب وہ

وہ تھپکتے ہیں اور چین پاتی ہے دنیا

کماتے ہیں وہ اور کھاتی ہے دنیا

***

چنیں گر نہ وہ ہوں کھنڈر کا خ و ایواں

بنیں گر نہ وہ شاہ و کشور ہو عریاں

جو بوئیں نہ وہ تو ہوں جاندار بے جاں

جو چھانٹیں نہ وہ تو ہوں جنگل گلستاں

یہ چلتی ہے گاڑی انہیں کے سہارے

جو وہ کل سے بیٹھیں تو بے کل ہوں سارے

***

کھپاتے ہیں کوشش میں تاب و تواں کو

گھلاتے ہیں محنت میں جسم و رواں کو

سمجھتے نہیں اس میں جان اپنی جاں کو

وہ مر مر کے کھیتے ہیں زندہ جہاں کو

بس اس طرح جینا عبادت ہے ان کی

اور اس دھن میں مرنا شہادت ہے ان کی

***


مشقت میں عمران کی کٹتی ہے ساری

نہیں آتی آرام کی ان کے باری

سدا بھاگ دوڑ ان کی رہتی ہے جاری

نہ آندھی میں عاجز نہ مینہ میں ہیں عاری

نہ لو جیٹھ کی دم تڑاتی ہے ان کا

نہ ٹھر ماگھ کی جی چھڑاتی ہے ان کا

***

نہ احباب کی تیغِ احساں سے گھائل

نہ بیٹے سے طالب نہ بھائی سے سائل

نہ دکھ درد میں سوئے آرام مائل

نہ دریا و کوہ ان کے رستے میں حائل

سنے ہوں کبھی رستم و سام جیسے

غیور اب بھی لاکھوں ہیں گمنام ایسے

***

کسی کو یہ دھن ہے کہ جو کچھ کمائیں

کھلائیں کچھ اوروں کو کچھ آپ کھائیں

کسی کو یہ کد ہے کہ جھیلیں بلائیں

پہ احساس کسی کا نہ ہر گز اٹھائیں

کوئی محو ہے فکرِ فرزند و زن میں

کوئی چور ہے حبِ اہل وطن میں

***


جو مصروف ہے کاشتکاری میں کوئی

تو مشغول دوکان داری میں کوئی

عزیزوں کی ہے غمگساری میں کوئی

ضعیفوں کی خدمت گزاری میں کوئی

یہ ہے اپنی راحت کے سامان کرتا

وہ کنبے پہ ہے جان قربان کرتا

***


مسدسِ(۴۰)

کوئی اس تگ و دو میں رہتا ہے ہر دم

کہ دولت جہاں تک ہو کیجئے فراہم

رہیں جیتے جی تاکہ خود شاد و خرم

مریں جب تو دل پر نہ لے جائیں یہ غم

کہ بعد اپنے کھائیں گے فرزند و زن کیا

لباس ان کا اور اپنا ہوگا کفن کیا

***

بہت دل میں اپنے یہ رکھتے ہیں ارماں

کہ کر جائیں یاں کوئی کارِ نمایاں

وہ ہوں تاکہ جب چشمِ عالم سے پنہاں

رو ذکرِ جمیل ان کا باقی رہے یاں

یہی طالبِ شہرت و نام لاکھوں

بناتے ہیں جمہور کے کام لاکھوں

***

بہت مخلص اور پاک بندے خدا کے

نشاں جن سے قائم ہیں صدق و صفا کے

نہ شہرت کے خواہاں نہ طالب ثنا کے

نمائش سے بیزار دشمن ریا کے

ریاضت سب ان کی خدا کیلئے ہے

مشقت سب ان کی رضا کیلئے ہے

***


کوئی ان میں ہے حق کی طاعت پہ مفتوں

کوئی نامِ حق کی اشاعت پہ مفتوں

کوئی زہد و صبر و قناعت پہ مفتوں

کوئی پند و وعظِ جماعت پہ مفتوں

کوئی موج سے آپ کو ہے بچاتا

کوئی ناؤ ہے ڈوبتوں کی تراتا

***

بہت نوعِ انساں کے غمخوار و یاور

ہوا خواہِ ملت بہ اندیشِ کشور

شدائد کے دریائے خوں میں شناور

جہاں کی پر آشوب کشتی کے لنگر

ہر اک قوم کی ہست و بود ان سے ہے یاں

سب اس انجمن کی نمود ان سے ہے یاں

***

کسی پر سختی صعوبت ہے ان پر

کسی کو غم و رنج و کلفت ہے ان پر

کہیں ہو فلاکت مصیبت ہے ان پر

کہیں آئے آفت قیامت ہے ان پر

کسی پر چلیں تیرا آماج ہیں یہ

لٹے کوئی رہ گیر تاراج ہیں یہ

***


یہ ہیں حشر تک بات پر اڑانے والے

یہ پیماں کو میخوں سے ہیں جڑنے والے

یہ فوجِ حوادث سے ہیں لڑنے والے

یہ غیروں کی ہیں آگ میں پڑے والے

امنڈتا ہے رکنے سے اور ان کا دریا

جنوں سے زیادہ ہے کچھ ان کا سودا

***

جماتے ہیں جب پاؤں ہٹتے نہیں یہ

بڑھا کر قدم پھر پلٹتے نہیں یہ

گئے پھیل جب پھر سمٹتے نہیں یہ

جہاں بڑھ گئے بڑھ کے گھٹتے نہیں یہ

مہم بِن کئے سر نہیں بیٹھتے یہ

جب اٹھتے ہیں اٹھ کر نہیں بیٹھتے یہ

***

خدا نے عطا کی ہے جو ان کو قوت

سمائی ہے دل میں بہت اس کی عظمت

نہیں پھیرتی ان کا منہ کوئی زحمت

نہیں کرتی زیر ان کو کوئی صعوبت

بھروسے پہ اپنے دل و دست و پا کے

سمجھتے ہیں ساتھ اپنے لشکر خدا کے

***


نہیں مرحلہ کوئی دشوار ان کو

ہر اک راہ ملتی ہے ہموار ان کو

گلستاں ہے صحرائے پر خار ان کو

برابر ہے میدان و کہسار ان کو

نہیں حائل ان کے کوئی رہگزر میں

سمندر ہے پایاب ان کی نظر میں

***


مسدسِ (۴۱)

اسی طرح یاں اہلِ ہمت ہیں جتنے

کمر بستہ ہیں کام پر اپنے اپنے

جہاں کی ہے سب دھوم دھام انکے دم سے

فقیر اور غنی سب طفیل ہیں ان کے

بغیر ان کے بے سازو ساماں تھی مجلس

نہ ہوتے اگر یہ تو ویراں تھی مجلس

***

زمیں سب خدا کی ہے گلزار انہیں سے

زمانہ کا ہے گرم بازار انہیں سے

ملے ہیں سعادت کے آثار انہیں سے

کھلے ہیں خدائی کے اسرار انہیں سے

انہیں پر ہے کچھ فخر ہے گر کسی کو

انہیں سے ہے گر ہے شرف آدمی کو

***

انہیں سے ہے آباد ہر ملک و دولت

انہیں سے ہے سر سبز ہر قوم و ملت

انہیں پر ہے موقوف قوموں کی عزت

انہیں کی ہے سب ربع مسکوں میں برکت

دم ان کا ہے دنیا میں رحمت خدا کی

انہیں کو ہے پھبتی خلافت خدا کی

***


انہیں کا اجالا ہے ہر رہگزر میں

انہیں کی ہے یہ روشنی دشت و در میں

انہیں کا ظہورا ہے سب خشک و تر میں

انہیں کے کرشمے ہیں سب بحر و بر میں

انہیں سے یہ رتبہ تھا آدم نے پایا

کہ سر اس سے روحانیوں نے جھکایا

***

ہر اک ملک میں خیر و برکت ہے ان سے

ہر اک قوم کی شان و شوکت ہے ان سے

نجابت ہے ان سے شرافت ہے ان سے

شرف ان سے فخر ان سے عزت ہے ان سے

جفا کش بنو گر ہو عزت کے خواں

کہ عزت کا ہے بھید ذلت میں پنہاں

***

مشقت کی ذلت جنہوں نے اٹھائی

جہاں میں ملی ان کو آخر برائی

کسی نے بغیر اس کے ہر گز نہ پائی

فضیلت نہ عزت نہ فرمانروائی

نہاں اس گلستاں میں جتنے بڑھے ہیں

ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں

***


حکومت ملی ان کو صفار تھے جو

امامت کو پہنچے وہ قصار تھے جو

وہ قطبِ زماں ٹھہرے عطار تھے جو

بنے مرجعِ خلق نجار تھے جو

اولو الفضل یاں اٹھے سراج کتنے

ابو الوقت یاں گزرے حلاج کتنے

***

نہ بو نصر تھا نوع میں ہم سے بالا

نہ تھا بو علی کچھ جہاں سے نرالا

طبعیت کو بچپن سے محنت میں ڈالا

ہوئے اس لیے صاحبِ قدر والا

اگر فکرِ کسبِ ہنر تم کو بھی ہو

تمہیں پھر ابو نصر اور بو علی ہو

***

بڑا ظلم اپنے پہ تم نے کیا ہے

کہ عزت کی یاں جس ستوں پر بنا ہے

ترقی کی منزل کا جو رہنما ہے

تنزل کی کشتی کا جو ناخدا ہے

قوی پشت تھیں جس سے پشتیں تمہاری

ہوئی دست بردار قوم اس سے ساری

***


ہنر ہے نہ تم میں فضیلت ہے باقی

نہ علم و ادب ہے نہ حکمت ہے باقی

نہ منطق ہے باقی نہ ہتئپ ہے باقی

اگر ہے تو کچھ قابلیت باقی

اندھیرا نہ چھا جائے اس گھر میں دیکھو

پھر اکسا دو اس ٹمٹا تے دیے کو

***


مسدسِ (۴۲)

بہت ہم میں اور تم میں جوہر ہیں مخیے

خبر کچھ نہ ہم کو نہ تم کو ہے جن کی

اگر جیتے جی ان کی کچھ نہ خبر لی

تو ہو جائیں گے مل کے مٹی میں مٹی

یہ جوہر ہیں ہم میں امانت خدا کی

مبادا تلف ہو ودیعت خدا کی

***

یہی نوجواں پھرتے آزاد جو ہیں

کمینوں کی صحبت میں برباد جو ہیں

شریفوں کی کہلاتے اولاد جو ہیں

مگر ننگِ آبا و اجداد جو ہیں

اگر نقدِ فرصت نہ یوں مفت کھوتے

یہی فخرِ آبا و اجداد ہوتے

***

یہی جو کہ پھرتے ہیں بے علم و جاہل

بہت ان میں ہیں جن کے جوہر ہیں قابل

رذائل میں پنہاں ہیں ان کے فضائل

انہیں ناقصوں میں ہیں پوشیدہ کامل

نہ ہوتے اگر مائلِ لہو و بازی

ہزاروں انہیں میں تھے طوسی و رازی

***


یہی قوم، ہے جس میں قحط آدمی کا

جہاں شور ہے ہر طرف ناکسی کا

نہیں جہل میں جس کے حصہ کسی کا

کبھی علم و فن پر تھا قبضہ اسی کا

وہ تھیں برکتیں سعی و کوشش کی ساری

وہی خوں ہے ورنہ رگوں میں ہماری

***

حکومت سے مایوس تم ہو چکے ہو

زر و مال سے ہاتھ تم دھو چکے ہو

دلیری کو ڈھک ڈھک کے منہ رو چکے ہو

بزرگی بزرگوں کی سب کھو چکے ہو

مدار اب فقط علم پر ہے شرف کا

کہ باقی ہے تر کہ یہی اک سلف کا

***

ہمیشہ سے جو کہتے آئے ہیں سب یاں

کہ ہے علم سرمایۂ فخرِ انساں

عرب اور عجم ہند اور مصر و یوناں

رہا اتفاق اس پہ قوموں کا یکساں

یہ دعویٰ تھا اک جس پہ حجت نہ تھی کچھ

کھلی اس پہ اب تک شہادت نہ تھی کچھ

***


جواہر تھا اک سب کی نظروں میں بھاری

پرکھنے کی جس کے نہ آئی تھی باری

فضائل تھے سب علم کے اعتباری

نہ تھی طاقتیں اس کی معلوم ساری

پہ اب بحر و بر دے رہے ہیں گواہی

کہ ہے علم میں زورِ دستِ الٰہی

***

کیا کوہساروں کو مسمار اس نے

بنایا سمندر کو بازار اس نے

زمینوں کو منوایا دوار اس نے

ثوابت کو ٹھہرایا سیار اس نے

لیا بھاپ سے کام لشکر کشی کا

دیا پتلیوں کو سکت آدمی کا

***

یہ پتھر کا ایندھن ہے جلوانے والا

جہازوں کو خشکی میں چلوانے والا

صداؤں کو سانچے میں ڈھلوانے والا

زمیں کے خزانے اگلوانے والا

یہی برق کو نامہ بر ہے بناتا

یہی آدمی کو ہے بے پر اڑاتا

***


تمدن کے ایواں کا معمار ہے یہ

ترقی کے لشکر کا سالار ہے یہ

کہیں دستکاروں کا اوزار ہے یہ

کہیں جنگ جویوں کا ہتیار ہے یہ

دکھایا ہے نیچا دلیروں کو اس نے

بنایا ہے روباہ شیروں کو اس نے

***


مسدسِ (۴۳)

اسی کی ہے اب چار سو حکمرانی

کئے اس نے زیر ارمنی اور یمانی

ہوئے رام دیوان ماژندرانی

گئے زابلی بھول سب پہلوانی

ہوا اس کی طاقت سے تسخیر عالم

پڑے سامنے اس کے چرکس نہ ویلم

***

یہ لاکھوں پہ ہے سینکڑوں کو چڑھاتا

سواروں کو پیادوں سے ہے زک دلاتا

جہازوں سے ہے زورقوں کو بھڑاتا

حصاروں کو ہے چٹکیوں میں اڑاتا

ہوا کوئی حربوں سے اس کے نہ سر بر

نہ ٹھہرے زرہ اس کے آگے نہ بکتر

***

جنہوں نے بنایا اسے اپنا یاور

ہر اک راہ میں اس کو ٹھہرایا رہبر

یہ قول آج کل صادق آتا ہے ان پر

کہ اک نوع ہی نوعِ انساں سے برتر

الگ سب سے کام ان کے اور طور ہیں کچھ

اگر سب ہیں انساں تو وہ اور ہیں کچھ

***


بہت ان کو معجز نما جانتے ہیں

بہت دیوتا ان کو گردانتے ہیں

پہ جو ٹھیک ٹھیک ان کو پہچانتے ہیں

وہ اتنا مقرر انہیں مانتے ہیں

کہ دنیا نے جو کی تھی اب تک کمائی

وہ سب جزو و کل ان کے حصہ میں آئی

***

کیا علم نے ان کو ہر فن میں یکتا

نہ ہمسر رہا ان کا کوئی نہ ہمتا

ہر اک چیز ان کی ہر اک کام ان کا

سمجھ بوجھ سے ہے زمانہ کی بالا

ضائع کو سب ان کی تکتے ہیں ایسے

عجائب میں قدرت کے حیراں ہوں جیسے

***

دئیے علم نے کھول ان پر خزانے

چھپے اور ظاہر نئے اور پرانے

دکھائے انہیں غیب کے مال خانے

بتائے فتوحات کے سب ٹھکانے

ہوا جیسے چھائی ہے سب بحر و بر پر

وہ یوں چھا گئے خاور اور باختر پر

***


پہ سچ ہے کہ ہے اصل تعلیم دولت

رہی ہے سدا پشتِ حکمت حکومت

ہوئی سلطنت جن کی دنیا سے رخصت

نہ علم ان میں باقی رہا اور نہ حکمت

نہ یونان محکوم ہو کر رہا کچھ

نہ ایران تاج اپنا کھو کر رہا کچھ

***

پہ اک خار کش صبر و ہمت میں کامل

یہ کہتا تھا محنت سے گھٹتا تھا جب دل

کہ"جن سختیوں کا اٹھانا ہے مشکل

وہی ہیں کچھ اے دل اٹھانے کے قابل

حلال آدمی پر ہے کھانا نہ پینا

نہ ہو ایک جب تک لہو اور پسینا"

***

نہیں سہل گر صید کا ہات آنا

تو لازم ہے گھوڑوں کو سر پٹ بھگانا

نہ بیٹھو جو ہے بوجھ بھاری اٹھانا

ذرا تیز ہانکو جو ہے دور جانا

زمانہ اگر ہم سے زور آزما ہے

تو وقت اے عزیزو یہی زور کا ہے

***


کرو یاد اپنے بزرگوں کی حالت

شدائد میں جو ہارتے تھے نہ ہمت

اٹھاتے تھے برسوں سفر کی مشقت

غریبی میں کرتے تھے کسبِ فضیلت

جہاں کھوج پاتے تھے علم و ہنر کا

نکل گھر سے لیتے تھے رستہ ادھر کا

***


مسدسِ (۴۴)

عراقین و شامات و خوارزم و توراں

جہاں جنسِ تعلیم سنتے تھے ارزاں

وہیں پے سپر کر کے کوہ و بیاباں

پہنچتے تھے طلاب افتان و خیزاں

جہاں تر عمل دین اسلام کا تھا

ہر اک راز میں ان کا تانتا بندھا تھا

***

نطامیہ نوریہ مستنصریہ نفیسیہ

ستیہ اور صاحبیہ

رواحیہ عزیہ اور قاہریہ

عزیزیہ زینیہ اور ناصریہ

یہ کالج تھے مرکز سب آفاقیوں کے

حجازی و کردی و قبچاقیوں کے

***

بشر کو ہے لازم کہ ہمت نہ ہارے

جہاں تک ہو کام آپ اپنے سنوارے

خدا کے سوا چھوڑ دے سب سہارے

کہ ہیں عارضی زور کمزور سارے

اڑے وقت تم دائیں بائیں نہ جھانکو

سدا اپنی گاڑی کو تم آپ ہانکو

***


بہت خوان بے اشتہار تم نے کھائے

بہت بوجھ بندھ بندھ کے تم نے اٹھائے

بہت آس پر ساز کی راگ گائے

بہت عارضی تم نے جلوے دکھائے

بس اب اپنی گردن پہ رکھو جوا تم

کرو حاجتیں آپ اپنی روا تم

***

تمہیں اپنی مشکل کو آساں کرو گے

تمہیں درد کا اپنے درماں کرو گے

تمہیں اپنی منزل کا ساماں کرو گے

کرو گے تمہیں کچھ اگر یاں کرو گے

چھپا دست ہمت میں زور قضا ہے

مثل ہے کہ ہمت کا حامی خدا ہے

***

سراسر ہو گو سلطنت فیض گستر

رعیت کی خود تربیت میں ہو یاور

مگر کوئی حالت نہیں اس سے بدتر

کہ ہر بوجھ ہو قوم کا سلطنت پر

ہو اس طرح ہاتھوں میں اس کے رعیت

کہ قبضے میں غسال کے جیسے میت

***


وہی گر تجارت کے اس کو سجھائے

وہی صنعت اور حرفت اس کو بتائے

وہی کاشتکاری کے آئیں سکھائے

وہی اس کو لکھوائے وہ ہی پڑھائے

ملا جس رعیت کو ایسا سہارا

کیا آدمیت نے اسے سے کنارا

***

یہی سلطنت کی ہے کافی اعانت

کہ ہو ملک میں امن اس کی بدولت

نفوس اور اموال کی ہو حفاظت

حکومت میں ہو اعتدال اور عدالت

نہ توڑا رعیت پہ بے جا ہو کوئی

نہ قانون چھٹ کار فرما ہو کوئی

***

جہاں ہو یہ انداز فرماں روائی

رعیت کی ہے واں نپٹ بے حیائی

کہ ہر کام میں آس ڈھونڈے پرائی

کرے آپ اپنی نہ مشکل کشائی

کھڑا ہو سہارے اک اڑوار کے گھر

ہٹی وہ جہاں، آ رہا یہ زمیں پر

***


گیا اب وہ دل تنگیوں کا زمانہ

کہ اپنوں کا حصہ تھا پڑھنا پڑھانا

برہمن کا پہنے اگر شدر بانا

تو اس پر نہیں کوئی اب تازیانا

ہوئے برطرف سب نشیب و فراز اب

سفید و سیہ میں نہیں امتیاز اب

***


مسدسِ (۴۵)

بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے

کہ جو کچھ ہے دنیا میں تعلیم ہی ہے

یہی آج کل اصل فرماندہی ہے

اسی میں چھپا سِرّ شاہنشہہی ہے

ملی ہے یہ طاقت اسی کیمیا کو

کہ کرتی ہے یہ ایک شاہ و گدا کو

***

سکھاتی ہے محکوم کو یہ اطاعت

سجھاتی ہے حاکم کو راہِ عدالت

دلوں سے مٹاتی ہے نقشِ عداوت

جہاں سے اٹھاتی ہے رسمِ بغاوت

یہی ہے رعیت کو حق دار کرتی

یہی ہے کہ دمہ کو ہموار کرتی

***

سنی غریبوں کی فریاد اسی نے

کیا ہے غلامی کو برباد اسی نے

رپبلک کی ڈالی ہے بنیاد اسی نے

بنایا ہے پبلک کو آزاد اسی نے

مقید بھی کرتی ہے یہ اور رہا بھی

بناتی ہے آزاد بھی با وفا بھی

***


تجارت نے رونق ہے یہ اس سے پائی

کہ ہیچ اس کے آگے ہے فرمانروائی

فلاحت کی یہ منزلت ہے بڑھائی

کہ فلاح کرتے ہیں معجز نمائی

ترقی یہ صنعت کو دی ہے بلا کی

کہ ہوتی ہے معلوم قدرت خدا کی

***

یہ نا اتفاقی ہے قوموں سے کھوتی

یہ قومی محبت کا ہے بیج بوتی

یہ آپس کے کینے دلوں سے ہے دھوتی

یہ دانے ہے سب ایک لڑ میں پروتی

یہ نقطوں پہ خط کی طرح ہے گزرتی

کروڑوں دلوں کو ہے یہ ایک کرتی

***

جہاں یہ نہیں واں نہ قوم اور نہ ملت

نہ ملکی حمایت نہ قومی حمیت

لجدا سب کے رنج اور جدا سب کی راحت

الگ سب کی عزت الگ سب کی ذلت

خبر واں نہیں یہ کہ ہے قوم شے کیا

چھپا سرّ حق اس تعلق میں ہے کیا

***


جنہوں نے کہ تعلیم کی قدر و قیمت

نہ جانی مسلط ہوئی ان پہ ذلت

ملوک اور سلاطیں نے کھوئی حکومت

گھرانوں پہ چھائی امیروں کی نکبت

رہے خاندانی نہ عزت کے قابل

ہوئے سارے دعوے شرافت کے باطل

***

نہ چلتے ہیں واں کام کاریگروں کے

نہ برکت ہے، پیشہ میں پیشہ وروں کے

بگڑنے لگے کھیل سوداگروں کے

ہوئے بند دروازے اگثر گھروں کے

کماتے تھے دولت جو دن رات بیٹھے

ہو ہیں اب دھرے ہات پر ہات بیٹھے

***

ہنر اور فن واں ہیں سب گھٹتے جاتے

ہنر مند ہیں روز و شب گھٹتے جاتے

ادیبوں کے فضل و ادب گھٹتے جاتے

طبیب اور ان کے مطب گھٹتے جاتے

ہوئے پست سب فلسفی اور مناظر

نہ ناظم ہیں سر سبز ان کے نہ تاثر

***


مسدسِ (۴۶)

اگر اک پہننے کو ٹوپی بنائیں

تو کپڑا وہ اک اور دنیا سے لائیں

جو سینے کو وہ ایک سوئی منگائیں

تو مشرق سے مغرب میں لینے جائیں

ہر اک شے میں غیروں کے محتاج ہیں وہ

مکینکس کی رو میں تاراج ہیں وہ

***

نہ پاس ان کے چادر نہ بستر ہے گھر کا

نہ برتن ہیں گھر کے نہ زیور ہے گھر کا

نہ چاقو نہ قینچی نہ نشتر ہے گھر کا

صراحی ہے گھر کی نہ ساغر ہے گھر کا

کنول مجلسوں میں قلم دفتروں میں

اثاثہ ہے سب عاریت کا گھروں میں

***

جو مغرب سے آئے نہ مالِ تجارت

تو مر جائیں بھوکے وہاں اہلِ حرفت

ہو تجار پر بند راہِ معیشت

دکانوں میں ڈھونڈے نہ پائے بضاعت

پرائے سہارے ہیں بیوپار واں سب

طفیلی ہیں سیٹھ اور تجار واں سب

***


یہ ہیں ترکِ تعلیم کی سب سزائیں

وہ کاش اب بھی غفلت سے باز اپنی آئیں

مبادا رہِ عافیت پھر نہ پائیں

کہ ہیں بے پناہ آنے والی بلائیں

ہوا بڑھتی جاتی سرِ رہگزر ہے

چراغوں کو فانوس بِن اب خطر ہے

***

لیے فرد بخشیِ دوراں کھرا ہے

ہر اک فوج کا جائزہ لے رہا ہے

جنہیں ماہر اور کرتبی دیکھتا ہے

انہیں بخشتا تیغ و طبل و درا ہے

پہ ہیں بے ہنر یک قلم چھٹتے جاتے

رسالوں سے نام ان کے ہیں کٹتے جاتے

***

بس اب علم و فن کے وہ پھیلاؤ ساماں

کہ نسلیں تمہاری بنیں جن سے انساں

غریبوں کو راہِ ترقی ہو آساں

امیروں میں ہو نورِ تعلیم تاباں

کوئی ان میں دنیا کی عزت کو تھامے

کوئی کشتی دین و ملت کو تھامے

***


بنے قوم کھانے کمانے کے قابل

زمانے میں ہو منہ دکھانے کے قابل

تمدن کی مجلس میں آنے کے قابل

خطاب آدمیت کا پانے کے قابل

سمجھتے لگیں اپنے سب نیک و بد وہ

لگیں کرنے آپ اپنی اپنی مدد وہ

***

کرو قدر ان کی ہنر جن میں پاؤ

ترقی کی اور ان کو رغبت دلاؤ

دل اور حوصلے ان کے مل کر بڑھاؤ

ستوں اس کھنڈر گھر کے ایسے بناؤ

کوئی قوم کی جن سے خدمت ب آئے

بٹھائیں انہیں سر پہ اپنے پرائے

***

کرو گے اگر ایسے لوگوں کی عزت

تو پاؤ گے اپنے میں تم اک جماعت

بڑھائے گی جو قم کی شان و شوکت

گھرانوں میں پھیلائے گی خیر و برکت

مدد جس قدر تم سے وہ آج لے گی

عوض تم کو کل اس کا دہ چند دے گی

***


ترقی کے یوناں کے اسباب کیا تھے

ہنر پر جہاں پیر و برنا فدا تھے

تمدن کے میداں میں زور آزما تھے

وطن کی محبت میں یکسر فنا تھے

مقاصد بڑے اور ارادے تھے عالی

نہ تھا اس سے چھوٹا بڑا کوئی خالی

***


مسدسِ (۴۷)

سبب کچھ نہ تھا اس کا جز قدردانی

کہ ہوتے تھے جو علم و حکمت کے بانی

ترقی مںت کرتے تھے جو جاں فشانی

حیات ان کو ملتی تھی واں جاودانی

وطن جیتے جی ان پہ قرباں تھا سارا

پس از مرگ پجتے تھے وہ آشکارا

***

اسی گر نے تھا جوش سب کو دلایا

کہ تھا اک جزیرہ نے رتبہ یہ پایا

اسی شوق نے تھا دلوں کو بڑھایا

اسی نے تھا یوناں کو یوناں بنایا

اس امید پر کوشش تھیں یہ ساری

کہ ہو قوم کے دل میں عظمت ہماری

***

جنہیں ملک میں اپنی رکھنی ہو وقعت

جنہیں سلطنت کی ہو مطلوب قربت

جنہیں تھامنی ہو گھرانے کی عزت

جنہیں دین کی ہو نہ منظور ذلت

جنہیں نسل و اولاد ہو اپنی پیاری

انہیں فرض ہے قوم کی غمگساری

***


بہت دل میں نرم ان دنوں ہوتے جاتے

کہ حالت پہ ہیں قوم کی امڈے آتے

تنزل پہ ہیں اس کے آنسو بہاتے

نہیں آپ کچھ کر کے لیکن دکھاتے

خبر بھی ہے دل ان کے جلتے ہیں کس پر

وہ ہیں آپ ہی ہات ملتے ہیں جس پر

***

رئیسوں کی جاگیرداروں کی دولت

فقیہوں کی دانشوروں کی فضیلت

بزرگوں کی اور واعظوں کی نصتںی

ادیبوں کی اور شاعروں کی فصاحت

جچے تب کچھ آنکھوں میں اہلِ وطن کی

جو کام آئے بہبود میں انجمن کی

***

جماعت کی عزت میں ہے سب کی عزت

جماعت کی ذلت میں ہے سب کی ذلت

رہی ہے نہ ہرگز رہے گی سلامت

نہ شخصی بزرگی نہ شخصی حکومت

وہی شاخ پھولے گی یاں اور پھلے گی

ہری ہوگی جڑ اس گلستاں میں جس کی

***


ذخیرہ ہے جب چیونٹا کوئی پاتا

تو بھاگا جماعت میں ہے اپنی آتا

انہیں ساتھ لے لے کے ہے یاں سے جاتا

فتوح اپنی ایک ایک کو ہے دکھاتا

سدا ان کے ہیں اس طرح کام چلتے

کمائی سے ایک اک کی لاکھوں ہیں پلتے

***

جب اک چیونٹا جس میں دانش نہ حکمت

بنی نوع کی اپنے بر لائے حاجت

معیشت سے ایک اک کو بخشے فراغت

کرے ان پہ وقف اپنی ساری غنیمت

تو اس سے زیادہ ہے بے غیرتی کیا

کہ ہو آدمی کو نہ پاس آدمی کا

***

غضب ہے کہ جو نوع ہو سب سے برتر

گنے آپ کو جو کہ عالم کا سرور

فرشتوں سے جو سمجھے اپنے کو بڑھ کر

خدا کا بنے جو کہ دنیا میں مظہر

نہ ہو مردمی کا نشاں اس میں اتنا

مسلم ہے مٹی کے کیڑوں میں جتنا

***


الٰہی بحقِ رسول تہامی

ہر اک فرد انساں کا تھا جو کہ حامی

جسے دور نزدیک تھے سب گرامی

برابر تھے مکی و زنگی و شامی

شریروں کو ساتھ اپنے جس نے نباہا

بروں کا ہمیشہ بھلا جس نے چاہا

***

طفیل اس کا اور اس کی عترت کا یارب

پکڑ جلد ہات اس کی امت کا یارب

اک ابر اس پہ بھیج اپنی رحمت کا یارب

غبار اس سے جو دھوئے ذلت کا یارب

کہ ملت و ہے ننگِ ہستی سے اس کی

ہوا پست اسلام پستی سے اس کی

***

انہیں کل کی فکر آج کرنی سکھا دے

ذرا ان کی آنکھوں سے پردہ اٹھا دے

کمیں گاہ بازیِ دوراں دکھا دے

جو ہونا ہے کل آج ان کو سجھا دے

چھتیں پاٹ لیں تاکہ باراں سے پہلے

سفینہ بنا رکھیں طوفاں سے پہلے

***


بچا ان کو اس تنگنائے بلا سے

کہ رستہ ہو گم رہ رو و رہنما سے

نہ امید یاری ہو یار آشنا سے

نہ چشمِ اعانت ہو دست و عصا سے

چپ و راس چھائی ہوئی ظلمتیں ہوں

دلوں میں امیدوں کی جا حسرتیں ہوں

***


عرض حال

بجناب سرور کائنات علیہ افضل الصلوات و اکمل التحیات

اے خاصۂ خاصان رسل وقت دعا ہے

امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے

*

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے

پر دیس میں وہ آج غریب الغربا ہے

*

جس دین کے مدعو تھے کبھی سیزر و کسریٰ

خود آج وہ مہمان سرائے فقرا ہے

*

وہ دین ہوئی بزمِ جہاں جس سے چراغاں

اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے

*

جو دین کو تھا شرک سے عالم کا نگہباں

اب اس کا نگہبان اگر ہے تو خدا ہے

*

لجو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے

اس دین میں جو تفرقہ اب آ کے پڑا ہے

*

جس دین نے غیروں کے تھے دل آ کے ملائے

اس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے

*


جو دین کہ ہمدردِ بنی نوعِ بشر تھا

اب جنگ و جدل چار طرف اس میں بپا ہے

*

جس دین کا تھا فقر بھی اکسیر غنا بھی

اس دین میں اب فقرے ہے باقی نہ غنا ہے

*

جو دین کے گودوں میں پلا تھا حکما کی

وہ عرضۂ تیغ جہلا و سفہا ہے

*

جس دین کی حجت سے سب ادیان تھے مغلوب

اب معترض اس دین پہ ہر ہرزہ سرا ہے

*

ہے دین ترا اب بھی وہی چشمۂ صافی

دینداروں میں پر آب ہے باقی نہ صفا ہے

*

عالم ہے سو بے عقل ہے جاہل ہے سو وحشی

منعم ہے سو مغرور ہے مفلس سو گدا ہے

*

یاں راگ ہے دن رات دواں رنگِ شب و روز

یہ مجلسِ اعیاں ہے وہ بزمِ شرفا ہے

*

چھوٹوں میں اطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میں

پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے

*


دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہے

اک دین ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے

*

ہے دین کی دولت سے بہا علم سے رونق

بے دولت و علم اس میں نہ رونق نہ بہا ہے

*

شاہد ہے اگر دین تو علم اس کا ہے زیور

زیور ہے اگر علم تو مال سے کی جلا ہے

*

جس قوم میں اور دین میں ہو علم نہ دولت

اس قوم کی اور دین کی پانی پہ بنا ہے

*

گو قوم میں تیری نہیں اب کوئی بڑائی

پر نام تری قوم کا یاں اب بھی بڑا ہے

*

ڈر ہے کہیں یہ نام بھی مٹ جائے نہ آخر

مدت سے اسے دورِ زماں میٹ رہا ہے

*

جس قصر کا تھا سر بفلک گنبدِ اقبال

ادبار کی اب گونج رہی اس میں صدا ہے

*

بیڑا تھا نہ جو بادِ مخالف سے خبردار

جو چلتی ہے اب چلتی خلاف اس کے ہوا ہے

*


وہ روشنیِ بام و درِ کشورِ اسلام

یاد آج تلک جس کی زمانے کو ضیا ہے

*

روشن نظر آتا نہیں واں کوئی چراغ آج

بجھنے کو ہے اب گر کوئی بجھنے سے بچا ہے

*

عشرت کدے آباد تھے جس قوم کے ہر سو

اس قوم کا ایک ایک گھر اب بزمِ عزا ہے

*

چاؤش تھے للکارتے جن رہگزروں میں

دن رات بلند ان میں فقیروں کی صدا ہے

*

وہ قوم کی آفاق میں جو سر بفلک تھی

وہ یاد میں اسلاف کے اب رو بقضا ہے

*

جو قوم کہ مالک تھی علوم اور حکم کی

اب علم کا واں نام نہ حکمت کا پتا ہے

*

کھوج ان کے کمالات کا لگتا ہے اب اتنا

گم دشت میں اک قافلہ بے طبل و ذرا ہے

*

بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہیں بنتی

ہے اس سے یہ ظاہر کہ یہی حکمِ قضا ہے

*


تھی آس تو تھا خوف بھی ہمراہ رجا کے

اب خوف ہے مدت سے دلوں میں نہ رجا ہے

*

جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتو ں کے ہیں کرتوت

شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلا ہے

*

دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت

سچ ہے کہ برے کام کا انجام برا ہے

*

کی زیب بدن سب نے ہی پوشاک کتاں کی

اور برف میں ڈوبی ہوئی کشور کی ہوا ہے

*

درکار ہیں یاں معرکے میں جوشن و خفتاں

اور دوش پہ یاروں کے وہی کہنہ ردا ہے

*

دریائے پر آشوب ہے اک راہ میں حائل

اور بیٹھ کے گھوڑ ناؤ پہ یاں قصد ثنا ہے

*

ملتی نہیں اک بوند بھی پانی کی جہاں مفت

واں قافلہ سب گھر سے تہی دست چلا ہے

*

یاں نکلے ہیں سودے کو ورم لے کے پرانے

اور سکہ رواں شہر میں مدت سے نیا ہے

*


فریاد اے کشتی امت کے نگہباں

بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے

*

اے چشمۂ رحمت بابی انت و امی

دنیا پہ ترا لطف سدا عام رہا ہے

*

جس قوم نے گھر اور وطن تجھ سے چھڑایا

جب تو نے کیا نیک سلوک ان سے کیا ہے

*

صدمہ درِ دنداں کو ترے جس سے کہ پہنچا

کی ان کیلئے تو نے بھلائی کی دعا ہے

*

کی تو نے خطا عفو ہے ان کینہ کشوں کی

کھانے میں جنہوں نے کہ تجھے زہر دیا ہے

*

سو بار ترا دیکھ کے عفو اور ترحم

ہر باغی و سرکش کا سر آخر کو جھکا ہے

*

جو بے ادبی کرتے تھے اشعار میں تیری

منقول انہی سے تری پھر مدح و ثنا ہے

*

برتاؤ ترے جب کہ یہ اعدا سے ہیں اپنے

اعدا سے غلاموں کو کچھ امید سوا ہے

*


کر حق سے عدا امتِ مرحوم کے حق میں

خطروں میں بہت جس کا جہاز آ کے گھرا ہے

*

امت میں تری نیک بھی ہیں لیکن

دلدادہ ترا ایک سے سیک ان میں سوا ہے

*

ایماں جسے کہتے ہیں عقیدہ میں ہمارے

وہ تیری محبت تری عترت کی ولا ہے

*

ہر چپقلش دہر مخالف میں ترا نام

ہتھیار جوانوں کا ہے پیروں کا عصا ہے

*

جو خاک ترے در پہ ہے جاروب سے اڑتی

وہ خاک ہمارے لئے داروئے شفا ہے

*

جو شہر ہوا تیری ولادت سے مشرف

اب تک وہی قبلہ تری امت کا رہا ہے

*

جس ملک نے پائی تری ہجرت سے سعادت

کعبے سے کشش اس کی ہر اک دل میں سوا ہے

*

کل دیکھئے پیش آئے غلاموں کو ترے کیا

اب تک تو ترے نام پہ اک ایک فدا ہے

*


ہم نیک ہیں یا بد ہیں پھر آخر ہیں تمہارے

نسبت بہت اچھی ہے اگر حال برا ہے

*

گر بد ہیں تو حق اپنا ہے کچھ تجھ پہ زیادہ

اخبار میں الطالح لی ہم نے سنا ہے

*

تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی

ہاں ایک دعا تیری کہ مقبولِ خدا ہے

*

خود جاہ کے طالب ہیں نہ عزت کے ہیں خواں

پر فکر ترے دین کی عزت کی سدا ہے

*

گر دین کو جوکھوں نہیں ذلت سے ہماری

اب دیکھ لیں یہ بھی کہ جو ذلت میں مزا ہے

*

ہاں حالیِ گستاخ نہ بڑھ حدِ ادب سے

باتوں سے ٹپکتا تری اب صاف گلا ہے

*

ہے یہ بھی خبر تجھ کو کہ ہے کون مخاطب

یاں جنبشِ لب خارج از آہنگ خطا ہے

٭٭٭٭


فہرست

پہلا دیباچہ ۴

١٢٩٤ ھ ۴

دوسرا دیباچہ ۱۰

متعلق بہ ضمیمہ ۱۰

١٣٠٣ ھ ۱۰

رباعی ۱۲

مسدس (۱) ۱۳

مسدسِ (۲) ۱۶

مسدسِ (۳) ۲۰

مسدسِ (۴) ۲۴

مسدسِ (۵) ۲۸

مسدسِ (۶) ۳۲

مسدسِ (۷) ۳۵

مسدسِ (۸) ۳۹

مسدسِ (۹) ۴۳

مسدسِ (۱۰) ۴۷

مسدسِ (۱۱) ۵۱

مسدسِ (۱۲) ۵۵


مسدسِ (۱۳) ۵۹

مسدسِ (۱۵) ۶۳

مسدسِ (۱۶) ۶۷

مسدسِ (۱۷) ۷۱

مسدسِ (۱۸) ۷۵

مسدسِ (۱۹) ۷۹

مسدسِ (۲۰) ۸۳

مسدسِ (۲۱) ۸۷

مسدسِ (۲۲) ۹۱

مسدسِ (۲۳) ۹۵

مسدسِ (۲۴) ۹۹

مسدسِ(۲۵) ۱۰۳

مسدسِ(۲۶) ۱۰۷

مسدسِ (۲۷) ۱۱۱

مسدسِ (۲۸) ۱۱۵

مسدسِ (۲۹) ۱۱۹

مسدسِ (۳۰) ۱۲۳

مسدسِ (۳۱) ۱۲۷

مسدسِ (۳۲) ۱۳۰

ضمیمہ ۱۳۰

مسدسِ (۳۳) ۱۳۴


مسدسِ (۳۴) ۱۳۸

مسدسِ (۳۵) ۱۴۲

مسدسِ (۳۶) ۱۴۵

مسدسِ (۳۷) ۱۴۸

مسدسِ (۳۸) ۱۵۲

مسدسِ (۳۹) ۱۵۶

مسدسِ(۴۰) ۱۶۰

مسدسِ (۴۱) ۱۶۴

مسدسِ (۴۲) ۱۶۸

مسدسِ (۴۳) ۱۷۲

مسدسِ (۴۴) ۱۷۶

مسدسِ (۴۵) ۱۸۰

مسدسِ (۴۶) ۱۸۳

مسدسِ (۴۷) ۱۸۷

عرض حال ۱۹۲

بجناب سرور کائنات علیہ افضل الصلوات و اکمل التحیات ۱۹۲