آسمان (منتخب نعتیہ کلام)

مؤلف: از : سعادت حسن آس
شعری مجموعے


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


آسمان

(منتخب نعتیہ کلام)

سعادت حسن آس

تشکر : شاکر القادری، القلم پبلشرس، اٹک، پاکستان عملِ لفظی اور ای بُک: اعجاز عبید اردو لائبریری ڈاٹ آرگ، کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ ڈاٹ کام اور کتب ڈاٹ ۲۵۰ فری ڈاٹ کام کی مشترکہ پیشکش http://urdulibrary.org, http://kitaben.ifastnet.com, http://kutub.۲۵۰free.com


انتساب

عاشقان سرور کونین کے نام انتساب

جن کی الفت سے ملا مجھ کو یہ حسن انتخاب

٭

آسماں عنوان اس کا آس بھی اور مان بھی

فیصلہ کیجئے کہاں تک میں ہوا ہوں کامیاب

٭٭٭


اظہار تشکر

رات کے دو بج کر تیس منٹ،ذی الحج کا مہینہ سوموار منگل( ۲۴،۲۳ جنوری سن ۲۰۰۶) کی درمیانی رات۔ ا ن پر کیف اور مسحور کن ساعتوں کا بے حد ممنون ہوں جنہوں نے اس نفسا نفسی کے دور میں سرکارِ دو عالم(ص) کی یادوں کو سنوارنے سجانے میں میرا ساتھ دیا۔ان پر نور لمحوں کا بھی احسان مند ہوں جن میں نور کی ایک ایک کرن چنتے چنتے اتنا ذخیرہ اکٹھا کر لیا ہے کہ اس سے سرکار دو عالم(ص) کے کئی عشاق کے سینے منور ہو جائیں گے۔ انشاء اللہ

سرکار کی یادوں میں گزری ہوئی ان ساعتوں کا بھی ممنون ہوں جو سفر میں حضر میں میرے دامن گیر رہیں۔ اور اس اضطراب دل کپکپاتے اور تپتے ہونٹوں چشمِ نم کا بھی مشکور ہوں جن کی بدولت مجھے یہ دولت سمیٹنا نصیب ہوئی۔

اس عظیم تحفہ کی عطا پر آس، مان اور سمان عطا کرنے والے پروردگار کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے۔ کہ کہاں مجھ سا ناچیز خاکسار اور کہاں مدحت شہ خیر الوریٰﷺ۔

اس گراں قدر خدمت میں اپنے ان تمام دوستوں کا بھی تہہ دل سے ممنون ہوں جنہوں نے اس کی ترتیب تدوین میں میرا ساتھ دیا۔ اور اپنے حصے کا کچھ وقت مجھے دیا۔خصوصاً جناب شاکر القادری جنہوں نے مجھے یہ انتخاب نعت منظر عام پر لانے کا مشورہ دیا۔انہی کے مشورہ سے میں نے اس انتخاب نعت میں چار محترم اہل ہنر کی مدد لی، میں خصوصی طور پر جناب عبداللہ راہی، جناب مشتاق عاجز،جناب محسن عباس اور جناب شوکت محمود شوکت کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مسودہ کو دقت نظر کے ساتھ دیکھا اور"آسمان" میں شامل کرنے کے لیے نعتوں کا انتخاب کیا۔موجودہ انتخاب انہی چار صاحبان نظر کا مرہون منت ہے۔


میں نوائے وقت کے جناب محمد رشید اور جاذب سہیل کا بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے نعت گوئی کے سفر میں میرا بھر پور ساتھ دیا اور مجھے "نوائے وقت" میں بھرپور انداز میں چھاپتے رہے۔ اس کے علاوہ اس کام کو سراہنے والے اہل قلم جناب نذر صابری ، ارشد محمود ناشاد، پروفیسر غلام ربانی فروغ، نزاکت علی نازک،زاہد حسین زاہدی، معصوم شاہ اور مجاہد حسین نقوی کا بھی شکر گذار ہوں۔ وہ احباب جن کے نام نا دانستہ رہ گئے ہوں اور ان کا تعاون میرے شامل حال رہا ہو میں ان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کیونکہ سبھی دوستوں کی حوصلہ افزائی سے ہی مجھے آج ایوان ادب میں چوتھی بار داخل ہونا نصیب ہوا۔۔۔۔ "آقا ہمارے۔"، "آس کے پھول" اور"آدھا سورج" قبل ازیں منظر عام پر آ چکے ہیں اور آدھا سورج پر بہترین نظم ایوارڈ بھی وصول کر چکا ہوں۔

اب "آسمان" لے کر حاضر ہوں۔اس بار میں کہاں تک کامیاب ہوا۔ اس کا فیصلہ آپ کریں گے۔امید ہے آپ۔۔۔۔۔۔ "آسمان" کو بھی پذیرائی بخشیں گے۔ اپنے مفید مشوروں سے ضرور نوازیں گے۔ کیونکہ:

" میں جتنا بھی لکھوں کچھ کمی محسوس ہوتی ہے"

سعادت حسن آس

۱۱/ اپریل ۲۰۰۶ عیسوی

بمطابق ۱۲/ ربیع الاول


مقدمہ(از: سیّد شاکر القادری)

درویش منش، سادہ طبیعت اور دھیمے لب و لہجے میں بات کرنے والے سعادت حسن آس سے میری جان پہچان آج سے کم و بیش تیس سال پہلے ہوئی جب و ہ مدنی میلاد پارٹی اور بزم چراغِ مصطفےٰ اٹک کے لیے ان کی فرمائشی دھنوں پر نعتیں لکھا کرتے تھے۔ اس وقت سے ان کی نعت گوئی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے بڑی اور کیا سعادت ہو سکتی ہے کہ ان کے جذبے نے اظہار کے لیے شعر کا جو روپ دھارا وہ محض لذت گفتار اور وصفِ لب و رخسار سے متشکل نہیں ہوتا بلکہ جذبے کی شدت،فکر کی سچائی اور احساس کی شیفتگی سے عبارت ہے۔سعادت حسن اس نے اپنے فنی سفر کے لیے سعادت ابدی کا وہ راستہ منتخب کیا ہے جس پر چلنے والا مسافر کبھی بھی گم کردہ راہِ منزل نہیں قرار پا سکتا۔ انہوں نے نعت گوئی کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔میں یہاں پر یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ سعادت حسن آس نے غزل بالکل نہیں کہی، انہوں نے غزل کو بھی ذریعۂ اظہار بنایا ہے تاہم ان کی غزل میں بھی ایسے معنوی حوالے مل جاتے ہیں جن کا تاثر ہمیں مولائے کائنات (ص) کی جانب کھینچ کر لے جاتا ہے۔

نعت کا موضوع بظاہر بڑا آسان، عام فہم اور سادہ لگتا ہے لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے۔ اس میں ذرہ بھر کوتاہی کی گنجائش نہیں۔ذرا سی لغزش ہوئی اور نعت گو کے سارے اعمال اکارت ہوئے اور ضلالت و گمراہی کے عمیق گڑھے اس کا مقدر بن گئے۔عرفی جیسا خود پسند اور متکبر شاعر بھی جب اس میدان میں آتا ہے تو کانپ اٹھتا ہے اس کے نزدیک نعت گوئی تلوار کی دھار پر چلنے کے مترادف ہے:

عرفی مشتاب این رہِ نعت است نہ صحراست

آہستہ کہ رہ بر دمِ تیغ است قدم را

٭


مولانا احمد رضا خان بریلوی کے نزدیک نعت گوئی انتہائی مشکل کام ہے۔ گویا تلوار کی دھار پر چلنا ہے ذرا سا آگے بڑھے تو الوہیت کی حدود میں داخل ہو گئے اور ذرہ برابر بھی کمی کی تو تنقیص ہو گئی۔ گویا نعت شریف میں دونوں جانب سخت حد بندی ہے۔مجید امجد کے خیال میں جناب رسالت مآب (ص) کی تعریف میں ذرا سی لغزش نعت کو حدود کفر میں داخل کر سکتی ہے۔ ذرا سی کوتاہی مدح کو قدح میں بدل سکتی ہے۔ ذرا سا شاعرانہ غلو ضلالت کے زمرے میں آ سکتا ہے اور ذرا سا عجز بیان اہانت کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ" نعت کے اشعار میں فنی محاسن و معائب تلاش کرنا اس مقدس جذبے کی توہین ہے جو اس کی تخلیق کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے"۔ لیکن موضوع کے احترام کا یہ تقاضہ ہرگز نہیں کہ کلام کی بے کیفی و بے رونقی کی پردہ پوشی کی جائے اور ناقد، شاعر کی باز پرس میں صرف اس لیے متامل ہو کہ نعت عقیدت کا اظہار ہے۔ اس طرح شاعر کو فنی کمزوریاں چھپانے کے لیے اپنے معتقدات کی آڑ مل جاتی ہے۔ فارسی کا یہ مقولہ"نعت گو پوچ گو" ایسے ہی شعراء پر صادق آتا ہے جو عقیدت کے نام پر بے کیف اور بے تاثیر اشعار تخلیق کرتے رہتے ہیں۔

میرے اس موقف کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ سید و سرور ِعالم(ص) پر نازل ہونے والی کتاب قرآن حکیم بھی معجز نما فصاحت وبلاغت، شوکتِ الفاظ،حسنِ بیان، اثرو نفوذ اور معنوی کیف و کم کے اعتبار سے رہتی دنیا تک ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ خود سرورِ عالم (ص) کے اقوال کے بارے میں آپ(ص) کا ارشادِ عالی ہے" انااوتیت بجوامع الکلم" مجھے جامع کلمات عطا کیے گئے ہیں،جن کے الفاظ کم اور معانی وسیع ہیں، اور بہترین کلام وہی ہوتا ہے جو مختصر ہونے کے باوجود وسیع معانی کا حامل بھی ہو اور زور دار بھی۔چنانچہ آپ (ص) کی احادیث مبارکہ ،کلام موزوں، ایجاز کلام، نظمِ بیان، حسنِ ترتیب اور خوش اسلوبی جیسی خوبیوں سے مالامال ہیں اور آپ(ص) کے اکثر و بیشتر ارشادات عربی ادب میں ضرب الامثال بن چکے ہیں۔


آپ(ص) نے دوسرے لوگوں کے ایسے موزوں اور برجستہ کلام کی بھی تعریف فرمائی ہے جو واقعیت و صداقت کے خلاف نہ ہو اور یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ مشرکین مکہ کے مخالف شعراء کی جانب سے خلاف واقعہ ، غلط، گمراہ کن اور نفس و شیطان کی انگیخت پر کی گئی ہجویات پر مبنی شاعری کی موثر اسلوب اور شاعرانہ حسن و ادا کے ساتھ تردید کرنے کا حکم بھی آپ(ص) نے جاری فرمایا،چنانچہ حضرت حسان بن ثابت مخالفین کے مطاعن،تنقیصی ہزلیات و ہجویات سے سرورِ عالم(ص) کا دفاع کرنے پر مامور ہوئے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مدح سرور عالم(ص) اپنی تمام تر فنی خوبیوں، بیان کی مرصع کاری اور معانی کی وسعت و صداقت کے ساتھ ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ وہ نظم کی صور ت میں ہو یا نثری انداز میں۔

جہاں تک نعت گوئی کے آداب کا تعلق ہے تو اس ضمن میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ نعت گوئی جس قدر والہانہ عقیدت و شیفتگی کا تقاضا کرتی ہے اسی قدر ادب و احترام کی بھی متقاضی ہے۔

"با خدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار"

٭

کامیاب نعت گوئی کے لیے جہاں سوز و گداز، تڑپ، عشق اور سرشاری کی ضرورت ہے وہاں حد درجہ احتیاط، حفظِ مراتب اور شریعت کی پاسداری کی بھی ضرورت ہے۔

ادب گاہیست زیرِ آسمان از عرش نازک تر

نفس گم کردہ می آید جنید و با یزید این جا

٭


میرے نزدیک نعت گوئی کا سب سے بڑا تقاضا وہ ادب و احترام ہے جو سرورِ کائنات (ص) کی ذات ستودہ صفات کے لیے مخصوص ہے جس کی تاکید قرآن حکیم نے ان الفاظ میں کی ہے:

"لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی "

یعنی( اے ایمان والو!) اپنی آواز کو نبی (ص) کی آواز سے بلند نہ کرو۔ (الحجرات: ۴۹)

اس ضمن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ قول بھی ملاحظہ ہو کہ ہم رسول اللہ (ص) کی مجلس میں ایسے بیٹھتے تھے کہ"کان علے رؤسنا الطیر"گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں (کہ سر اٹھانے سے ان کے اڑنے کا احتمال ہو۔)

بارگاہ رسالت کا ادب و احترام ہمارے ایمان کا خاصہ ہے لہذا ضروری ہے کہ اظہارِ نعت اور اس کی پیشکش میں ادب رسالت کو باتمام و کمال ملحوظ خاطر رکھا جائے کیونکہ سرورِ کائنات (ص) کے ادب و احترام میں ذرا سی بے احتیاطی نعت گو کے افکار و خیالات تو کیا اس کے ایمان و اعمال تک کو ضائع کر دیتی ہے۔

ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب

ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبیست

٭

احترامِ رسالت ہی سے متعلقہ ایک اور نازک معاملہ جو نعت گو شاعر سے حد درجہ احتیاط اور ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ وہ لفظوں کا انتخاب ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سرورِ کائنات(ص) کی توجہ اور رعایت حاصل کرنے کے لیے"راعِ۔ن۔َا" کا لفظ بولا کرتے تھے جبکہ منافقین اور یہودی اس لفظ کے ذریعہ نعوذ باللہ آپ (ص) کو "رعونت" سے متہم کرتے لیکن وہ اسے بولتے اس طرح جس سے یہ ابہام پیدا ہو کہ وہ" راعنا" کہتے ہیں جس کے معنی ہیں "ہماری رعایت فرمایئے" لیکن اللہ تبارک و تعالی تو دلوں کے احوال جانتا ہے۔ چنانچہ قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے اس بات کے انسداد کے لیے ارشاد فرمایا:


یا ایها الذین آمنوا لا تقولوا راعنا و قولوا انظرنا واسمعوا و للکافرین عذاب الیم " یعنی اے اہل ایمان گفتگو کے وقت پیغمبر (ص) سے "راعنا "نہ کہا کرو،" انظرنا" کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے۔(بقرہ: ۱۰۴)

اس حکمِ ربانی کے ذریعہ تمام مومنین کو ہر ایسے قول یا فعل سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہے جس میں غلط اور صحیح ملتبس ہو جانے کا اندیشہ ہو اور حق و باطل کا امتیاز واضح نہ ہو سکے ، لہذا کسی بھی قول یا فعل سے اگر اہانتِ رسول یا نقصِ ادب کا شائبہ تک پیدا ہوتا ہو اس سے بچنا چاہیے اور محض نیک نیتی کو اس کے جواز کے لیے آڑ نہیں بنانا چاہیے۔ مسلمانوں کی ہر بات اور ہر فعل کو صاف ، واضح اور بیّن ہونا چاہیے۔ بالخصوص نعتیہ شاعری کا دامن اس قسم کے کسی التباس سے آلودہ نہیں ہونا چاہیے۔اسی ضمن میں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ تشبیہات و استعارات فن شعر گوئی کا لازمہ ہیں اور ان کے بغیر اچھا شعر تخلیق نہیں ہوتا۔ نعت گو کے لیے لازم ہے کہ وہ تشبیہ اور استعارہ کے معاملہ میں بھی اس پاکیزہ اور مقدس موضوع کے جملہ آداب اور احترامات کو ملحوظ رکھے، ایسی تشبیہات اور استعاروں سے گریز کرے جن سے نعت گوئی کی پاکیزگی، شائستگی اور تقدس مجروح ہوتے ہوں۔

نعت گوئی میں سرور کائنات (ص) سے خطاب کی روایت شروع ہی سے موجود ہے۔

چنانچہ امام زین العابدین علیہ السلام کی مشہور عالم نعت کا یہ شعر:

یا رحمةاللعالمیں ادرک لزین العابد ین

محبوس ایدی الظالمیں فی الموکب والمزدحم

٭


نبی اکرم (ص) سے خطاب کی یہ روایت آج تک تسلسل کے ساتھ جاری ہے اس معاملہ میں بھی اس بات کا پورا پورا خیال رہنا چاہیے کہ کوئی ایسا پیرایۂ خطاب استعمال نہ کیا جائے جس سے شانِ رسالت مآب میں گستاخی کا شائبہ بھی پیدا ہوتا ہو۔غرض یہ کہ نعت گوئی میں ادب و احترام کے بہت سے پہلو ہیں جو موضوع، زبان و بیان، انتخاب الفاظ، درست تشبیہات و استعارات کا استعمال اور اندازِ خطاب سے تعلق رکھتے ہیں اور ان تمام چیزوں کا اہتمام ہی نعت کی مجموعی فضا اور تاثر کو پاکیزگی سے مزین کرتا ہے۔

مدح رسالت مآب میں تخلیق ہونے والے شعری سرمایہ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو اسے نعت کے دو مختلف اسالیب میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ایک رسمی اور دوسرا حقیقی۔ اول الذکر اسلوبِ نعت محض ایک شعری روایت کے طور پر اپنایا گیا اور مختلف شعراء نے اپنے دواوین کی ترتیب میں حمد و نعت سے آغاز کرنا ضروری سمجھا۔ اس روایت کے پس منظر میں وہ حدیث مبارکہ کار فرما ہے جس میں کہا کیا ہے کہ کوئی بھی مہتمم بالشان کام جس کا آغاز اللہ تعالیٰ کی تعریف اور مجھ ((ص)) پر درود بھیجنے سے نہ کیا جائے وہ یکسر ناقص اور خیر و برکت سے محروم ہے۔ اس کے بر عکس دوسرے اسلوبِ نعت میں محض ایک رسم نہیں نباہی گئی بلکہ اس میں پوری دلچسپی کے ساتھ اہتماماً سرورِ کائنات (ص) کی سیرت طیبہ، تعلیمات، معجزات اور عادات و خصائل غرضیکہ جملہ متعلقات سیرت کو والہانہ انداز میں بیان کیا گیا جس کی بنا پر یہ انداز نعت جذب و مستی اور اظہارِ محبت کا موثر ذریعہ بن گیا۔


"آسمان " کے شاعر سعادت حسن آس کے ہاں حمدِ ربِ کائنات تو شاید رسمی انداز میں موجود ہو لیکن مدحِ سرورِ کائنات (ص) کے معاملہ میں ایسا بالکل نہیں۔ انہوں نے محض حصول برکت و ثواب کے لیے نعت گوئی نہیں کی بلکہ ثنائے محمد(ص) کو حرزِ جاں بنا کر اپنی تمام تر توانائیاں اس کے لیے وقف کر دی ہیں۔

پھول نعتوں کے سدا دل میں کھلائے رکھنا

اپنی ہر سانس کو خوشبو میں بسائے رکھن

٭

میں جن کو روح کے قرطاس پہ محسوس کرتا ہوں

وہ جذبے کاش کاغذ پہ اتر جائیں تو اچھا ہو

٭٭٭

یہی وجہ ہے کہ ان کی نعت سادہ اور عام فہم ہونے کے باوجود کیف و سرور اور دلکشی کی کیفیت رکھتی ہے۔ سعادت حسن آس کی نعت جہاں سرور کائنات (ص) کے جمال ظاہری و باطنی، صورت و سیرت ،اخلاق و اوصافِ حمیدہ، اور معجزات کے بیان وغیرہ سے عبارت ہے وہاں عشقِ سرور عالم(ص) کے والہانہ تجربہ و واردات سے بھی مملو ہے۔

نصیبوں پر میں اپنے ناز جتنا بھی کروں کم ہے

ہر اک سینے میں ہوتا ہے تمہارا غم کہاں روشن

٭٭

عشقیہ اور تعریفی اندازِ نعت کے ساتھ ساتھ ان کی نعت میں گہری مقصدیت بھی پائی جاتی ہے اور وہ نعت کو محض سرورِ عالم(ص) کی ذات اقدس کے ساتھ اپنی جذباتی وابستگی کے اظہار کا ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے عصرِ موجود میں درپیش مسائل کو دیکھتے ہوئے کسی نہ کسی مقصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ ابتدائے اسلام ہی سے نعت کو دفاعِ رسولِ خدا (ص) اور تبلیغ اسلام جیسے اعلی و ارفع مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔


اس وقت سے لے کر آج تک صنفِ نعت کو حصولِ مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے یہ مقاصد خواہ ذاتی نوعیت کے ہوں یا اجتماعی،معاشی ، معاشرتی ، ملی اور آفاقی۔ سعادت حسن آس کی نعت میں بھی ہمیں واضح طور پر ایک مقصدیت نظر آتی ہے جس کا عکس ان اشعار میں نمایا ں ہے:۔

ان کے ارشاد دل و جاں سے مقدم رکھنا

ان کی سیرت پہ سدا سر کو جھکائے رکھنا

٭

کرتا نہیں دنیا میں اصولوں پہ وہ سوا

ہے آس محبت جسے سلطانِ عرب سے

٭

میں نے پورے کیے کیا حقوق العباد

اور مٹائے ہیں کیا جگ سے فتنے فساد

٭

کیا مسلماں میں پیدا کیا اتحاد

،کون سے مان لے کر مدینے چلا

٭

آس کیا منہ دکھاؤں گا سرکار کو،

اپنے ہمدرد کو اپنے غمخوار کو

٭


کیوں گراؤں میں فرقت کی دیوار کو

، کس لیے ہجر کے زخم سینے چل

٭

چھوڑ دو فرقہ بندی خدا را اس نے جاں کتنے بندوں کی لی ہے

ہر مسلمان ماتم کناں ہے گنگ انسانیت کی زباں ہے

٭

خدا کے گھر کا رستہ مصطفےٰ کے گھر سے جاتا ہے

وہاں سے جاؤ گے تو کوئی پیچ و خم نہیں ہوں گے

٭

سرور عالم (ص) سے استغاثہ و استمداد روزِ اول ہی سے نعت کے اجزائے ترکیبی میں ایک اہم جزو کے طور پر شامل رہا ہے چنانچہ گزشتہ صفحات میں سیدنا حضرت امام زین العابدین کے مشہور نعتیہ قصیدہ کا ایک شعر نقل ہو چکا ہے جس میں وہ اپنے نانا(ص) کے حضور رفع مشکلات و مصائب کے لیے فریاد کناں ہیں۔اردو نعتیہ ادب میں مولانا حالی کی نظم بہت مشہور ہے جس کا مطلع ہے:

اے خاصۂ خاصان رسل وقت دعا ہے

امت پر تری آ کہ عجب وقت پڑا ہے

٭٭٭


سعادت حسن آس بھی جب کسی ملی، معاشرتی یا سماجی سانحے سے دوچار ہوتے ہیں تو ان کے احساس کی شدت دربارِ رسالت میں استغاثے کی صورت اختیار کر لیتی ہے اور وہ بے اختیار پکار اٹھتے ہیں۔

اک چشم التفات ادھر بھی ذرا حضور(ص)

امت کی سمت بڑھ گئے مکر و ریا کے ہاتھ

٭

کشمیر ہو، عراق، فلسطیں کہ کوئی ملک

ہر کلمہ گو تو آس جڑا ہے حضور(ص) سے

٭

بنام مصطفےٰ ہو امن یا رب پھر کراچی میں

مرے کشمیر کے بھی دن سدھر جائیں تو اچھا ہو

٭

ظلم و ستم کے ہر سو چھانے لگے ہیں بادل

پھر دیکھتا ہے رستہ ہر کارزار تیرا

٭

کشمیر بھی تمہاری چشم کرم کا طالب

اقصیٰ کی آنکھ میں بھی ہے انتظار تیرا

٭


آخر میں یہ بات بہ تکرار کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ خواجۂ دو جہاں(ص) کے حضور حمد و ثنا کے گلدستوں کو جس قدر بھی قرینے، سلیقے اور حسنِ اہتمام کے ساتھ پیش کیا جائے وہ کم ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ثنائے خواجہ (ص) کا حق ادا ہو سکتا ہی نہیں ورنہ غالب جیسے آفاقی شاعر کو یہ بات نہ کہنا پڑتی:

غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گذاشتیم

کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است

٭٭٭

سعادت حسن آس نے بھی نعتِ سرور عالم(ص) کے پھولوں کو خیال و فکر، عقیدت و محبت،عشق و شیفتگی اور ادب و احترام کے دل کش رنگوں سے مزین کرنے کے ساتھ ساتھ فنی و تیکنیکی محاسن سے آراستہ کرنے پر حتی المقدور توجہ دی ہے تاہم اس انتخاب نعت کا قاری اگر کہیں زبان و بیان، اسلوب اور فنی نکتہ نگاہ سے تشنگی یا عدم سیرابی محسوس کرتا ہے تویہ سیرابی ممکن ہی نہیں کیونکہ" لفظوں کے مقدر میں کہاں اتنی رسائی" لفظ تو درماندہ و عاجز ہیں اور سرورِ کائنات (ص) کی مدح سرائی اندازۂ حرف و خیال سے ماورا، البتہ بہتری کی گنجائش تو موجود رہتی ہے۔

چاندنی، شفق، شبنم، کہکشاں، صبا ، خوش بو

آس کیا لکھے تجھ کو سب سے ماورا ہے تو

٭٭

سید شاکر القادری

۵/ اپریل ۲۰۰۶ ء

بمقام اٹک شہر


رائے از ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر

شعبہ اردو علامہ اقبال ااوپن یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان

’’آسمان‘‘سعادت حسن آس کا منتخب نعتیہ مجموعۂ کلام ہے۔ ان کے کلام میں جذبے کی فراوانی ایک ایسے معنوی آہنگ کو جنم دیتی ہے جو فکر کو جمالیات کے پس منظر میں مرتب کرتا ہے۔ ان کے ہاں جذبے کی کیفیاتی سچائی لفظ و معنی کے تناظر سے آگے کی خبر دیتی ہے تو ان کا لسانی شعور جذبے کی کوملتا کو پابند نہیں کر پاتا کیوں کہ جذبات کا وفور زبان و بیان کے آہنگ کا اسیر نہیں ہوتا۔

سعادت حسن آس کے کلام میں جذبے کی صداقت تجربے کی رنگینی سے فروزاں ہوتی اور ان کی نعت اس جذبۂ دروں کی سچائی سے مملو ہو کر لفظ و آہنگ کا پیکر اوڑھ لیتی ہے تو ان کا جذبہ ان کی شعر گوئی سے بلند ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن یہ کس قدر خوش نصیبی کی بات ہے کہ ان کا فکری اور معنوی منظر نامہ خوشبوئے رسول سے معطر ہے۔ ایں سعادت بزور بازو نیست۔

ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر


آس کا آسمان از مشتاق عاجز

جذبہ اظہار چاہتا ہے اور اظہار سلیقہ۔سلیقہ میسر نہ آئے تو اظہار ابلاغ سے محروم ہو جاتا ہے اور جذبہ وقار سے۔ بعض جذبے تو اتنے لطیف اور مقدس ہوتے ہیں کہ برسوں کی ریاضت کے بعد بھی سلیقہ ہاتھ نہیں آتا عشق بھی ایسا ہی لطیف اور مقدس جذبہ ہے مگر اس کی شدت اظہار میں جلد باز ہوتی ہے۔ضبط کا دامن تھامے رہنا عشق کو گوارا نہیں ہوتا اور جلد بازی حسن کو ،ضبط اگر اظہار کو سلیقہ عطا کر دے تو عشق بارگاہِ حسن میں نہ صرف باریاب ٹھہرتا ہے بلکہ با وقار بھی قرار پاتا ہے۔سلیقہ کیا ہے پاسِ ادب اور حسنِ طلب، ضبط جذبہ عشق کی تربیت کر دے تو حاصل ،پاسِ ادب اور شوق مؤدب ہو جائے تو نتیجہ حسنِ طلب۔پاسِ ادب اور حسنِ طلب الفاظ کو برتنے کا شعور عطا کر دیں تو زبان و بیان شاعری کی حدوں کو چھولے اور شاعری دربارِ حسن میں مقبول ہو۔

سلیقہ عشقِ مجازی کے ہاتھ لگا تو صحرا،بیلے،تھل اور چناب نے قصے بنے اور قیس مجنوں، رانجھے جوگی، مکران کے شہزادے، پنوں اور عزت بیگ مہینوال بنے۔حسن و عشق نے پیار کی لازوال رومانی داستانوں کو جنم دیا۔زمین رنگوں،روشنیوں اور خوشبوؤں سے بھر گئی اور فضا میں ماہیے،ٹپے گیت اور غزل کے بول بکھر گئے۔یہی سلیقہ عشقِ حقیقی میں در آیا تو بدن سولیوں پر اور سر نیزوں پر سج گئے کہیں حسین بن منصور حلاج امر ہو گیا تو کہیں محمد(ص) کا نواسہ حسین ابن علی۔ موت نے حیات جاودانی کی خلعت پہنی لفظ کو نئے مفہوم ملے،فضا میں انالحق اور لا الٰہ الا اﷲ کی گونج ابھری اور کائنات حمد و ثنا اور مرثیہ و سلام کے وجد آفریں نغموں سے معمور ہو گئی۔عشق و جنوں نے صفحہ ہستی پر ایثار کی بے مثال داستانیں رقم کیں اور تاریخ نے نشان راہ منزل اور نشانِ عبرت متعین کیے۔


جیسے جذبۂ عشق تکمیل حیات کے لیے ضروری ہے ایسے ہی لفظ عشق میری اس گفتگو میں ضروری ہے ورنہ میری بات کا ابلاغ نہ ہونے پائے گا۔کوئی پوچھے کہ عشق کیا ہے ؟ تو میں کہوں گا حسن کی ظاہری اور باطنی کشش کو محسوس کر کے اسے اپنا لینے اور اس کا ہو جانے کی لگن کا نام عشق ہے اور یوں حسن کا تذکرہ اس کی توصیف،اس کے ہجر کا کرب اس کے وصل کی لذت، عرض تمنا، امید اور التجا بھی عشق ہی کا حصہ قرار پاتے ہیں۔اب ضروری ہے کہ حسن کا مفہوم بھی واضح کر دیا جائے میرا علم کہتا ہے کہ حسن خود اﷲ ہے کہ اس نے خود کو جمیل کہا مگر کچھ غیر اﷲ بھی تو حسن کہلاتا ہے جسے اﷲ پسند فرماتا ہے گویا جو اﷲ کو پسند ہوتا ہے یا بالفاظ دیگر جو اﷲ کا محبوب ہے وہ بھی حسن ہے۔حسنِ مخلوقِ خدا نے عشقِ مجازی کو ظہور بخشا تو حسنِ خالقِ کائنات نے عشقِ حقیقی کو، مگر عشقِ محبوبِ خدا چیزے دگر است کہ وہ عشقِ مجازی سے بہت ارفع اور عشقِ حقیقی سے بہت قریب ہے۔

عشقِ نبی(ص) جب اظہار طلب ہوتا ہے تو ضبط کی کڑی شرط نرم پڑ جاتی ہے یہاں سلیقہ اکتسابی کم اور الہامی زیادہ ہوتا ہے۔ عشقِ رسول(ص) میں وارفتگی اور دیوانگی بھی دربار رسالت مآب میں مقبول ہوتی ہے اور سلیقہ بھی کہ یہاں محبوب کا جمال و جلال خود ہی پاسِ ادب عطا کرتا اور خود ہی حدِ ادب متعین کرتا ہے۔ سلیقۂ اظہار جب عشقِ نبی (ص) سے مملو ہوتا ہے تو ایوانِ کفر میں اذانِ بلال گونجتی ہے غزوہ کہیں مکہ کے نواح میں ہوتا تو دندانِ سلمان، فارس میں شہید ہوتے ہیں۔ خواب میں بخشی گئی ردا بدن سے مس ہو کر شفا عطا کرتی ہے حسان بن ثابت مدح سرا ہوتے ہیں اور نعت گوئی کی یہ روایت چودہ صدیوں کا سفر طے کرتی، دلوں کو گرماتی اور روحوں کو اجالتی سعادت حسن آس تک آ پہنچتی ہے۔سعادت حسن"آس کے پھول" لیے"آسمان" کی طرف محو پرواز ہوتے ہیں۔ان کے سینے میں موجزن عشقِ رسول(ص) ان کا طرز زندگی بدل دیتا ہے۔وہ بدلے ہوئے اسلوب حیات میں نعت نبی(ص) کو و سیلہ اظہار بناتے ہیں اور ان کا کردار حسن سیرت کا آئینہ دار ٹھہرتا ہے۔

دنیا ہی بدل دی ہے میرے ذوق نے میری

میں صاحب کردار ہوا تیرے سبب سے

٭٭٭


قدرت نے اظہار عشق رسول(ص) کے لیے سعادت حسن آس کو وہ سلیقہ ودیعت کیا ہے جو پاسِ ادب اور حسنِ طلب سے ایسا مزین ہے کہ وہ خموشی سے بھی زبان کا کام لینا چاہتے اور جانتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ اظہار عشق رسول(ص) محتاج حروف و صوت ہے نہ سزاوارِ نطق و زباں۔وہ خود سے مخاطب ہوتے ہیں شدت جذبات سے مخاطب ہوتے ہیں دیوانگی اور وارفتگی سے ہمکلام ہوتے ہیں اور کہتے ہیں:

ہے یہ دربارِ نبی(ص) خاموش رہ

چپ کو بھی ہے چپ لگی خاموش رہ

٭

بولنا حدِ ادب میں جرم ہے

خامشی سب سے بھلی خاموش رہ

٭

بھیگی پلکیں کر نہ دیں رسوا تجھے

ضبط کر دیوانگی خاموش رہ

٭٭٭


وہ اوصافِ محبوب (ص) بیان فرمانے لگتے ہیں تو مقام محبوب کم مائیگی کا احساس دلاتا ہے اور نعت خوان و نعت گو ہونے کے باوجود عجز بیان کا اظہار کرتے ہیں۔

اوصاف پاک آپ کے جس سے تمام ہوں بیاں

ایسا کوئی قلم نہیں ایسی کوئی زبان نہیں

٭٭٭

نعت نبی(ص) کہنے کا منصب کبھی ان کا مایہ ناز ہوتا ہے تو کبھی مقام عجز و نیاز نعت رسول(ص) لکھتے ہیں تو کبھی نگاہ مستی میں زمانہ ہیچ نظر آتا ہے اور کبھی سر نیاز شکر بجا لانے کو جھک جاتا ہے۔

میں لکھوں جو نعت حضور کی دل مضطرب کے سرور کی

کبھی چشم ناز بلند ہو کبھی سر نیاز سے خم رہے

٭٭٭

حبیب خدا کے عشق میں شہر حبیب کا ذکر بھی لازم ہے اور شہر بھی وہ جو یثرب سے مدینۃ النبی(ص) بنا ہو۔ بھلا کیسے ممکن ہے کہ" آس" اس کا ذکر نہ کریں وہ مدینۃ النبی(ص) کو اپنی حسین سوچوں کا محور مرکز قرار دیتے ہیں اور ان کی زندگی اسی شہر کے تصور سے مہکتی ہے۔

جن حسین سوچوں سے زندگی مہکتی ہے

آس ان کا ہوتا ہے رابطہ مدینے سے

٭٭٭


سعادت حسن آس کو خدائے محمد(ص) نے نعت گوئی کا مقدس فریضہ سونپا ہے تو اس فن کے اسرار و رموز اور اس کے ساری لطافتوں اور نزاکتوں کا شعور بھی عطا کیا ہے وہ بڑی مرصع نعت کہتے ہیں چونکہ خود خوش الحان نعت خواں بھی ہیں اور جشن میلاد النبی(ص) مناتے ہوئے ترنم سے نعت پڑھتے ہیں اس لیے ان کی نعتوں میں ترنم اور نغمگی کا وصف بھی بکثرت پایا جاتا ہے ان کے آسمان نعت پر ایسی متعدد نعتوں کے ستارے جگمگا رہے ہیں مثال کی طور پر ان کی ایک نعت کے صرف دو اشعار پیش ہیں:

یا رب میری حیات پہ اتنا کرم رہے

مدحت سدا حضور کی زیب قلم رہے

٭

اصحاب مصطفی کا مجھے راستہ ملے

آل نبی کے پیار کا سر پر علم رہے

٭٭٭

انہوں نے نعت کے مضامین کو صرف غزل کی ہیئت تک محدود نہیں رکھا بلکہ گیت کا اسلوب بھی اپنایا ہے اور درجنوں نعتیں اسی ہیئت میں لکھی ہیں جو نہایت مترنم ہیں ان نعتوں میں انہوں نے فن شعر گوئی پر اپنی دسترس کا ثبوت بھی دیا ہے سادگی کا جادو بھی جگایا ہے۔میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ نعت کے اشعار کو فن کی کسوٹی پر پرکھنا اور ان میں فنی محاسن و مصائب تلاش کرنا اس مقدس جذبے کی توہین ہے جو ان کی تخلیق کے پیچھے کارفرما ہوتا ہے۔نعت عقیدت کا اظہار ہے اور عقیدت کے اظہار میں جذبے کی صداقت اس کی شدت اور والہانہ پن بعض اوقات چھوٹی چھوٹی فنی پابندیوں سے صرف نظر کر کے بھی معتبر ہی ٹھہرتے ہیں۔سعادت حسن آس نعت گوئی اور اظہار کے سارے اسلوب اور قرینے جانتے ہوئے بھی کہتے ہیں:

کوئی اسلوب ،سلیقہ نہ، قرینہ مجھ میں

سوچتا ہوں انہیں کس طور سے، ڈھب سے مانگوں

٭٭٭


یہ ان کی انکساری ہے ان کا عجز ہے جو عشق رسول(ص) کے طفیل ان کی شخصیت کا حصہ بن گیا ہے جو سادگی اور انکساری ان کے مزاج میں ہے وہی ان کے کلام میں بھی نمایاں ہے تاہم نعت گوئی میں ان کی سادگی ایسے اشعار بھی تخلیق کرتی ہے۔

آپ سے مہکا تخیل، آپ پر نازاں قلم۔۔ اے رسول محترم

میری ہر اک سوچ پر ہے آپ کا لطف و کرم۔ اے رسول محترم

٭

آپ آئے کائنات حسن پر چھا یا نکھار۔ اے حبیب کردگار

بزم ہستی کے ہیں محسن آپ کے نقش قدم۔ اے رسول محترم

٭٭

ایک اور نعت کے دو اشعار ملاحظہ ہوں جن میں دوسرا شعر ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

یاد نبی(ص) میں کٹنے والی رات مقدس

ہونٹوں کی چپ ،آنکھوں کی برسات مقدس

٭

جان کے آنکھیں پھیرنے والو تم سے تو

اسم محمد لکھنے والے ہات مقدس

٭٭


دوسرے شعر میں جس واقعہ کا ذکر ہے اسے سعادت حسن جیسا عاشق رسول(ص) ہی شعر کر سکتا ہے ورنہ تو کئی کم نظروں نے اس واقعہ پر توجہ ہی نہیں دی اور کتنے ہی بدبختوں نے اس کا مذاق اڑایا واقعہ یوں ہے کہ اٹک کے ریلوے کالونی کے ایک سرکاری کوارٹر کے مکین محمد طارق نے اپنے کوارٹر کی دیوار کو قلعی کرایا۔دوسری صبح جب وہ نماز فجر ادا کر کے گھر آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی دیوار پر کسی نے "محمد" لکھ دیا ہے جب کہ اس کا آدھا نام"طارق" نہیں لکھا وہ دیوار کے قریب پہنچا تو لفظ "محمد" دھندلا گیا اس نے دوبارہ دور جا کر دیکھا تو اسم محمد پھر نمایا ں ہو گیا آخر کار کھلا کہ گھر کے قریب اگے ہوئے درخت کی کسی پڑوسی نے کاٹ چانٹ کی تھی اس کی ایک شاخ سے پیوست ایک نرم و نازک سی ٹہنی پر لگے کچھ پتوں کا سایہ دوسرے مکان کی دیوار پر لگے بلب کی روشنی سے اس دیوار پر پڑھ رہا ہے جس نے لفظ "محمد" کی شکل اختیار کر لی تھی اٹک شہر اور نواحی دیہات کے ہزاروں خواتین و حضرات اور بچوں نے اس مقدس سایہ کی زیارت کی جو شام کو بلب روشن ہوتے ہی محمد طارق کی اجلی دیوار پر اجاگر ہوتا اور صبح بلب بجھنے پر غائب ہو جاتا تھا۔عشاق محمد(ص) نے اسے کرشمہ قدرت گردانا اور محبوب خدا سے خدائے بر تر کی محبت کا ثبوت کہا جب کہ کم نظروں نے اسے درخور اعتنا نہ سمجھا اور ایک بدبخت تیسرے یا چوتھے روز موقعہ پا کر اس ٹہنی کو شاخ سے توڑ کر لے بھاگا۔وہ پتے جن کا سایہ دیوار پر اسم محمد(ص) لکھتا تھا اس شقی القلب نے نوچ لیے مگر جو نام لوح محفوظ پر کندہ اور دلوں پر رقم ہو وہ مٹائے کب مٹتا ہے۔ہزاروں عقیدت مندوں نے اس مذموم حرکت پر غم و غصہ کا اظہار کیا مگر سعادت حسن آس وہ واحد عاشق رسول ثابت ہوئے جنہوں نے اس واقعہ کو شعر کے قالب میں ڈھال کر نہ صرف اپنی عقیدت کا اظہار کیا بلکہ ان پتوں کی شان اور کور نگاہوں کی پست قامتی کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کر کے ایک تاریخی دستاویز بنا دیا۔

میری دعا ہے ہے کہ سعادت حسن کی ہر آس پوری ہو۔ ان کی مساعی کو دربار رسالت میں قبولیت حاصل ہو ان کا جذبہ و اظہار ان کی بخشش کا وسیلہ بنے اور ان کی نعت کے ستارے"آسمان" پر تا قیامت چمکتے رہیں۔آمین

مشتاق عاجر

(اٹک)

۸ مارچ ۲۰۰۶ ء


خوش قسمت انسان(از:شوکت محمود شوکت ایڈووکیٹ)

اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی شاعر یا ادیب(خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو) کی زندگی میں بعض ایسے مواقع آتے ہیں جب قدرت کلام جواب دے جاتی ہے آج سعادت حسن آس کے منتخب نعتیہ کلام‘ پر لکھتے ہوئے عجز بیاں کا ایسا ہی مرحلہ مجھے بھی درپیش ہے۔ اس کی دو وجوہ ہیں۔پہلی وجہ تو یہ ہے۔کہ سعادت حسن آس کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ بحیثیت نعت گو شاعرایک دنیا انہیں جانتی ہے۔اس سے قبل ان کے دو نعتیہ مجموعے "آقا ہمارے" اور"آس کے پھول" بالترتیب ۱۹۸۲ ء اور ۱۹۹۰ ء میں منصۂ شہود پر جلوہ گرہو کر علمی، ادبی اور مذہبی حلقوں سے بھرپور داد تحسین حاصل کر چکے ہیں۔اس کے علاوہ ان کا تیسرا مجموعہ کلام"آدھا سورج" ۱۹۹۶ ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوا (جس میں کچھ نعتیں اور کشمیر کے حوالے سے ایک خوبصورت طویل نظم بھی شامل ہے) پر انہیں "بزم علم و فن" اسلام آباد کی جانب سے ۱۹۹۶ ء کی بہترین نظم کے ایوارڈ" سید نعمت علی شاہ" ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ،آس صاحب ایک طویل عرصہ سے میلاد پارٹیوں سے بھی وابستہ ہیں۔انہوں نے اپنی ایک میلاد پارٹی بھی بنائی ہے۔جہاں ہر سال میلاد النبی(ص) کے موقع پروہ بحیثیت نعت خوان نعتیں بھی پڑھتے ہیں۔لہذا مجھ جیسا خطا کار اور کم علم شخص آس صاحب کی نعت گوئی پر کچھ لکھے۔ سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔اور دوسری وجہ، جو نہایت اہم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت ہی نازک مسئلہ بھی ہے۔ وہ ہے نعت رسول پاک پر کچھ لکھنا بقول میر

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

٭


مگر سعادت حسن آس کا حکم ہے کہ کچھ لکھوں تو حقیقتاً یہ میرے لیے سعادت ہے۔ آس صاحب کے اس چوتھے منتخب مجموعۂ کلام "آسمان" کا میں نے بہ غور مطالعہ کیا۔ شروع سے آخر تک تمام نعتیں اپنی مثال آپ ہیں۔خواہ وہ اردو زبان میں کہی گئی ہیں یا پنجابی میں۔ آس صاحب کی گرفت نعت گوئی پر دونوں زبانوں میں مضبوط معلوم ہوتی ہے۔ در اصل بات یہ ہے۔ کہ"نعت گوئی" ہر شخص کا مقدر ہو ہی نہیں سکتی۔ سرور کائنات(ص) خود ایسی ہستیوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ جو آپ کی مدح کرتے ہیں۔یا جن کو آپ (ص) کا غم عطا ہوتا ہے۔ آس صاحب کہتے ہیں

نصیبوں پر میں اپنے ناز جتنا بھی کروں کم ہے

ہر اک سینے میں ہوتا ہے تمہارا غم کہاں روشن

٭٭٭

اور واقعی آس صاحب کے دل میں "حضور پاک(ص) " کا غم روشن ہے۔ ( جو ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے) ہر گھڑی، ہر پل درود پاک پڑھنا ،آپ کا ذکر اور باتیں کرنا آس صاحب کا وطیرہ ہے:

پیارے نبی کی باتیں کرنا اچھا لگتا ہے

ان کی چاہ میں جی جی مرنا اچھا لگتا ہے

٭٭

المختصر یہ کہ آس صاحب، خوش قسمت انسان ہیں۔ جنہیں "غم رسول(ص)" اور"عشق رسول(ص)" ودیعت کر دیا گیا ہے وہ اس پر جتنا بھی ناز کریں کم ہے۔

۱۲/ فروری ۲۰۰۶ ء

شوکت محمود شوکت (ایڈووکیٹ)


سعادت حسن آس(از:الحاج صوفی محمد بشیر احمد شاہ)

سعادت حسن آس صاحب ایک خوش قسمت انسان ہیں جن کو وجہِ تخلیقِ کائنات،آقائے دو جہان، محبوب خدا(ص) کی شان کو حروف کے موتیوں میں پرونے کا سلیقہ عطا ہوا ہے۔ان کی محبت، عقیدت عاشق رسول حضرت خواجہ اویس قرنی رضی اللہ عنہ سے ہے جن کی یاد کو ہر سال عقیدت و احترام سے مناتے ہیں جس کے لیے انہوں نے اپنی جدو جہد سے شان مصطفیٰ(ص) کی ایک پارٹی بھی تیار کی ہوئی ہے جو کہ عقیدت کے پھول بڑے سوز و گداز سے نچھاور کرتے ہیں اور جس محفل میں ہوں اہلِ محفل کے دلوں کو محبتِ سرکار (ص) سے گرماتے ہیں۔ یہ سعادت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔

محبت ایک معجزہ ہے معجزے کب عام ہوتے ہیں

مخصوص دلوں پر عشق کے الہام ہوتے ہیں

٭٭٭

مصنف نے بڑے ہی عقیدت کے پھول خوبصورت سلیقہ سے نچھاور کیے ہیں جن سے ان کی محبت و عقیدت سرکار دوجہاں کا اظہار ہے جیسا کہ خود اپنے کلام میں لکھتے ہیں۔

اپنے کرم کی بھیک سے مجھ کو بھی سرفراز کر

تیرے سوا کوئی میرا دکھ درد آشنا نہیں

٭

یوں تو کھلے تھے آس کے سینے میں پھول سینکڑوں

آنکھوں میں آپ کے سوا کوئی مگر جچا نہیں

٭

دعاگو

الحاج صوفی محمد بشیر احمد شاہ ڈھوک فتح اٹک شہر


تبصرہ(از:سید عبدالدیان بادشاہ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کی محمد(ص) سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

٭

جناب سعادت حسن آس نعت کے حوالہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونی ممالک میں بھی جانی پہچانی شخصیت ہیں ۔ اُن کی نعتوں میں سرکار دوعالم(ص) کی عقیدت و محبت ایک دائرے میں رہ کر دلکش اندازمیںرقم کی گئی ہے۔ بعض نعتوں میں تو یوں لگتا ہے جیسے کسی ذات نے سرکار کی مدحت خود لکھوائی ہے۔ میرے سامنے اسوقت آس صاحب کا مجموعہ نعتیہ انتخاب۔’’ آسمان‘‘ کا مسودہ ہے ۔ میں سمجھتا ہوں اس میں شامل تمام کی تمام نعتیں عشاقِ مصطفےٰ کے دلوں کی ترجمان ہیں۔

اللہ تبار ک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آس صاحب کے’’ آسمان ‘‘ کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ اٰمین

آمین الُلھم ربناآمین یاربُ العالمین!

دعا گو

فقیر سید عبدالدّیان بادشاہ

خطیب مرکزی جانع مسجد استقامت محلہ عید گاہ اٹک شھر۔


دعا

اے خالقِ کل سامنے اک بندہ ترا ہے

تو کر دے عطا تجھ سے یہ کچھ مانگ رہا ہے

٭

تو مالک و معبود بھی مسجود بھی تو ہے

میں جو بھی ہوں جو کچھ بھی ہوں سب تجھ کو پتا ہے

٭

احباب مرے کتنے ترے پاس گئے ہیں

تو بخش دے ان سب کی خطائیں یہ دعا ہے

٭

ہم مانتے ہیں حد سے بھی بڑھ کر ہیں گنہگار

تو پاک ہے کر معاف ہوئی جو بھی خطا ہے

٭

تو پاک ہے ہر عیب سے اے مالک و مولا

بندہ ترا ہر عیب کی حد سے بھی بڑھا ہے

٭

سرکارِ دو عالم کی میں امت سے ہوں مولا

میں جو بھی ہوں جو کچھ بھی ہوں تو دیکھ رہا ہے

٭


مالک مرے تو سیدھا عطا کر مجھے رستہ

وہ رستہ کہ جس پر ترا اکرام ہوا ہے

٭

میں اور میری اولاد ہو اسلام کی داعی

اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی یہ دعا ہے

٭

سرکار دو عالم کی عطا کر مجھے الفت

وہ کام کریں جس کے لیے تو نے کہا ہے

٭

اسلام کی دولت سے منور مجھے کرنا

ہر وقت یہ ہر لمحہ مری تجھ سے دعا ہے

٭

محروم ہیں جو ان کو بھی صالح ملے اولاد

اولاد ہو نیک ان کی کرم جن پہ ترا ہے

٭

مقروض ہیں بے کار ہیں معذور ہیں جو بھی

ان پر بھی کرم کر دے کہ تو سب کا خدا ہے

٭


یا رب مرے اس ملک میں نافذ ہو شریعت

ہر صاحب ایمان کی یہ تجھ سے دعا ہے

٭

یا رب ہمیں اسلام کا وہ داعی بنا دے

جس میں ترے محبوب کی اور تیری رضا ہے

٭

یا رب مجھے شیطان کے ہر شر سے بچانا

تو ظاہر و باطن کو مرے دیکھ رہا ہے

٭

ہم سے بھی وہی کام لے اے مالک و مولا

جو کام ترے نبیوں نے ولیوں نے کیا ہے

٭

ہم چاہنے والے ترے محبوب کے مولا!

وہ بھی ہو عطا جس کا نہیں ہم نے کہا ہے

٭

جو بیٹیاں بیٹھی ہیں جواں رشتوں کی خاطر

تو نیک سبب کر کہ تو ان کا بھی خدا ہے

٭


غافل ہیں ہدایت سے تری جو بھی مسلماں

تو ان کو ہدایت دے کہ تو راہ نما ہے

٭

مظلوم جہاں پر بھی مسلمان ہیں مولا

ان پر بھی کرم ہو کہ یہ دل ان سے جڑا ہے

٭

سرکار کے صدقے میں نہ رد ہوں یہ دعائیں

ہر شخص کا تو دستِ طلب دیکھ رہا ہے

٭

اے مالک و مولا ہو دعا آس کی مقبول

یہ بھی ترے محبوب کا اک مدح سرا ہے

آمین یا رب العالمین

٭٭٭٭


سلام

شانِ محبوبِ وحدت پہ لاکھوں سلام

نازِ ختم رسالت پہ لاکھوں سلام

٭

تاجدارِ نبوت پہ لاکھوں سلام

عدل، تقویٰ، صداقت پہ لاکھوں سلام

٭

یا نبی(ص) تیری سیرت پہ لاکھوں سلام

٭٭٭

ہر طرف تیرے انوار سے چاندنی

ہر طرف تیرے کردار سے روشنی

٭

ہر طرف تیری گفتار سے دل کشی

ہر طرف تیری سرکار سے زندگی

٭

تیری پر نور صورت پہ لاکھوں سلام

٭٭٭


ہر سحر میں ترے اسم سے رونقیں

ہر نظر میں ترے اسم سے رفعتیں

٭

ہر زباں پر ترے اسم سے لذتیں

ہر بدن میں ترے اسم سے نکہتیں

٭

اسم اقدس کی حرمت پہ لاکھوں سلام

٭٭٭

تیرے اعجاز کیا کیا کروں میں بیاں

تیری مٹھی نے دی کنکروں کو زباں

٭

تیری تحریم سے ہے زمیں، آسماں

تیری تجسیم ہے باعثِ دو جہاں

٭

تیری عظمت پہ رفعت پہ لاکھوں سلام

٭٭٭


سب رسولوں نے کی ہے تیری آرزو

دشمنوں نے بھی کی ہے تیری جستجو

٭

تجھ سے دونوں جہانوں میں ہے رنگ و بو

میرا بھی آسمانِ محبت ہے تو

٭

تیری رحمت پہ رافت پہ لاکھوں سلام

٭٭٭

تو ہی بحرِ کرم دستِ جود و سخا

کوئی ثانی ترا ہے نہ سایہ ترا

٭

اس نے پایا خدا جس کو تو مل گیا

لائقِ وصف ہے تو ہی بعد از خدا

٭

تیری عظمت پہ رفعت پہ پہ لاکھوں سلام

٭٭٭


اے حبیبِ خدا خاتمِ مرسلاں

اتنی بے انتہا ہیں تری خوبیاں

٭

کر سکا ہے بیاں کوئی اب تک کہاں

اک نظر آس پر، کر سکے کچھ بیاں

٭

تیری چشمِ عنایت پہ لاکھوں سلام

٭٭٭


نعتیں

عشق بس عشق مصطفےٰ مانگوں

عشق س عشق مصطفےٰ مانگوں

اور تجھ سے نہ کچھ خدا مانگوں

٭

اس دعا سے ڑی دعا کیا ہے

اس سے ڑھ کر میں کیا دعا مانگوں

٭

میرے سوزِ جگر کے چارہ رساں!

تجھ سے ہر زخم کی دوا مانگوں

٭

زندگی مجھ کو خشنے والے !

زندگی کا میں مدعا مانگوں

٭

اپنے آپے سے ہو کے اہر آج

تجھ سے میں تیرا دل را مانگوں

لوگ کہتے ہیں جن کو ے سایہ

ان کے سائے کا آسرا مانگوں

جاں ھی جائے تو آس دے کر میں

ان کے کوچے کی خاک پا مانگوں


پھول نعتوں کے سدا د ل میں کھلائے رکھنا

پھول نعتوں کے سدا د ل میں کھلائے رکھنا

اپنی ہر سانس کو خوشو میں سائے رکھنا

٭

ان کے ارشاد دل و جاں سے مقدم رکھنا

ان کی سیرت پہ سدا سر کو جھکائے رکھنا

٭

جانے کس پہر دے پاؤں وہ اتریں دل میں

اشک پلکوں پہ سرِ شام سجائے رکھنا

٭

چاہتے ہو تمہیں آقا کی غلامی مل جائے

فصل سینے میں محت کی اگائے رکھنا

٭

روشنی اتنی ہے منزل ھی دھواں لگتی ہے

آپ رہر ہیں مجھے راہ دکھائے رکھنا

٭

آرزو ہے! مرا خطہ یونہی آاد رہے

ار رحمت کے سدا اس پر جھکائے رکھنا

٭

آس ہو جائے گی آقا کی زیارت ھی نصی

ان کی راہوں میں نگاہوں کو چھائے رکھنا

٭٭٭


زمیں و آسماں روشن مکان و لا مکاں روشن

زمیں و آسماں روشن مکان و لا مکاں روشن

ظہورِ مصطفےٰ سے ہو گئے دونوں جہاں روشن

٭

گئی جن راستوں سے تھی سواری کملی والے کی

انہی رستوں کا ا تک ہے غار کارواں روشن

٭

نصیوں پر میں اپنے ناز جتنا ھی کروں کم ہے

ہر اک سینے میں ہوتا ہے تمہارا غم، کہاں روشن؟

٭

ستاروں سے پرے کے ھی مناظر دیکھ لیتی ہیں

جن آنکھوں میں نی کے پیار کی ہیں جلیاں روشن

٭

خدا سے آشنائی کا کسے معلوم تھا رستہ

وہ آئے تو ہوئے ہیں راستوں کے س نشاں روشن

٭

خدا نے خش دی ج سے سعادت نعت گوئی کی

ہوئیں اس دن سے میرے دل کی ساری ستیاں روشن

٭

مقدر کے اندھیرے آس اس کا کیا گاڑیں گے

ہے جس کے پاس یادِ مصطفےٰ کی کہکشاں روشن

٭٭٭


فضا میں خوشبو بکھر گئی ہے لبوں پہ میرے سلام آیا

فضا میں خوشو کھر گئی ہے لوں پہ میرے سلام آیا

مناؤ خوشیاں زمین والو! فلک سے خیر الانام آیا

٭

تمام راہیں ہوئیں وہ روشن جہاں سیرے تھے تیرگی کے

جھکے ہیں کیا کیا اٹھے ہوئے سر یہ کون ذی احترام آیا

٭

جو زم ہو شاہِ دوسرا کی وہاں اد کا لحاظ رکھنا

لند اپنی صدا نہ کرنا کلامِ حق میں پیام آیا

٭

نہ کوئی پانی پہ قتل ہوگا نہ کوئی زندہ گڑے گی یٹی

جہالتوں کو مٹانے والا شفیق ہر خاص و عام آیا

٭

درود کی ڈالیاں اترنے لگی ہیں مکہ کی وادیوں میں

لاسِ خاکی میں نورِ یزداں مثالِ ماہِ تمام آیا

٭

ولی ولی کی نی نی کی وہ پیاس ھی ہے وہ آس ھی ہے

ولی ولی کا قرار آیا نی نی کا امام آیا

٭٭٭


حقیقت میں وہی ذکرِ خدا ہے

حقیقت میں وہی ذکرِ خدا ہے

کہ جس کے ساتھ یادِ مصطفےٰ ہے

٭

مدینے جا نہیں سکتا تو کیا غم

مرے دل میں مدینہ س رہا ہے

٭

نظر جس پہ شہِ کونین کی ہو

دیا وہ ک کسی سے جھ سکا ہے

٭

نگاہوں میں ستارے جھلملائے

نی(ص) کا تذکرہ ج چھڑ گیا ہے

٭

مٹائے گا اسے کیسے زمانہ

نی کے نام پر جو مر مٹا ہے

٭

وہ رستے سجدہ گاہِ دل نے ہیں

نی کا نقش پا جن پر پڑا ہے

٭

کھی اپنی محت کم نہ کرنا

یہ میری آس ، میرا مدعا ہے

٭٭٭


چاند تاروں فلک پہ زمینوں میں بھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی

چاند تاروں فلک پہ زمینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی

ادشاہوں میں وری نشینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی

٭

کون سی آنکھ میں آپ کا غم نہیں کس کا سر آپ کے سامنے خم نہیں

دل سمندر کے پنہاں خزینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی

٭

مثل قرآن ہے آپ کی زندگی جزو ایمان ہے آپ کی پیروی

صادقوں غازیوں اور امینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی

٭

آپ لطف و عنایت کی معراج ہیں غمزدوں ے سہاروں کے سرتاج ہیں

چاہتوں کے مقدس قرینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی

٭

نور ہر اک نظر کو ملا آپ سے گلشن زندگانی کھلا آپ سے

میرے احساس کے آگینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی

٭

جن کی کرتا ہے مدحت خدا ہر گھڑی ان کی عظمت میں کیا ہو سکے گی کمی

س کے ہونٹوں پہ ھی س کے سینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی

٭

جو قلم آپ کے پیار میں جھک گئے ان کی تحریر پر وقت ھی رک گئے

آس ایسے قلم کی جینوں میں ھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی

٭٭٭


جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا نہیں

جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا نہیں

ایسا تو کائنات میں پھول کہیں کھلا نہیں

٭

کن الجھنوں میں پڑ گیا واعظ خدا کا نام لے

ان کی گلی کا راستہ کعہ سے تو جدا نہیں

٭

دامن ہی جس کا تنگ ہو اس کا گلہ فضول ہے

ورنہ درِ رسول سے کس کو سوا ملا نہیں

٭

سینے میں ان کی یاد ہو آنکھوں میں ان کی روشنی

اِس آرزو کے عد تو کوئی ھی التجا نہیں

٭

ھیجے خدا نے ان گنت زم جہاں میں انیاء

لیکن مرے حضور(ص) سا کوئی ھی دوسرا نہیں

٭

اپنے کرم کی ھیک سے مجھ کو ھی سرفراز کر

تیرے سوا کوئی میرا دکھ درد آشنا نہیں

٭

یوں تو کھلے تھے آس کے سینے میں پھول سینکڑوں

آنکھوں میں آپ کے سوا کوئی مگر جچا نہیں

٭٭٭


رات بھر چاندنی رقص کرتی رہی رات بھر آنکھ موتی لٹاتی رہی

رات ھر چاندنی رقص کرتی رہی رات ھر آنکھ موتی لٹاتی رہی

رات ھر دل کی دنیا مہکتی رہی رات ھر یاد آقا کی آتی رہی

٭

ہر طرف نور ہی نور تھا جلوہ گر میں تو اپنی خر سے ھی تھا ے خر

کتنا مسحور تھا ش کا پچھلا پہر صح تک رات جادو جگاتی رہی

٭

میرے دامن میں تارے اترتے رہے زندگی میں مری رنگ ھرتے رہے

عکس کیا کیا جنوں کے نکھرتے رہے نعت ج تک زاں گنگناتی رہی

٭

کتنی الجھی ہوئی تھی مری زندگی کر رہی تھی تعاق میرا تیرگی

آپ کے پیار کی ج پڑی روشنی ہر خوشی میرے قدموں میں آتی رہی

٭

آس کتنی ہوئی ان کی چشم کرم ج کھی ڈگمگائے ہیں میرے قدم

رکھ لیا میرے آقا نے میرا ھرم راستہ خود ہی منزل دکھاتی رہی

٭٭٭٭


حل ہے ہر اک مشکل کا

حل ہے ہر اک مشکل کا

یاد نی اور ذکر خدا

٭

صرف مری ہی ات نہیں

دنیا نے تسلیم کیا !

٭

اے ھولے ھالے انساں

جس کا کھا اس کے گن گا

٭

دل ہے تیرا گر تاریک

ذکر خدا کا دیپ جلا

٭

روح تیری گر سونی ہے

صل علیٰ کو ورد نا

٭

صرف نہیں میرا دعویٰ

ولی پیمر س نے کہا

٭

جس نے اطاعت کی ان کی

آس امر وہ شخص ہوا

٭٭٭


زندگی کا ہراک ہے سلسلہ مدینے سے

زندگی کا ہر اک ہے سلسلہ مدینے سے

دھڑکنوں کا سانسوں کا راطہ مدینے سے

٭

تم نے کچھ نہ پایا ہو تو تمہاری قسمت ہے

ہم کو تو ملا ر کا ھی پتا مدینے سے

٭

ارمغاں جو ملتے ہیں خاص خاص ندوں کو

ان سھی کا ہوتا ہے فیصلہ مدینے سے

٭

ہم کو اپنی ہستی سے ھی عزیز تر ہے وہ

دور سے ھی ہے جس کا واسطہ مدینے سے

٭

ظلمتِ زمانہ کو جس نے پاش کر ڈالا

مرحا وہی پایا رہنما مدینے سے

٭

ان کی مہرانی سے ار ہا ہوا یوں ھی

چل دیا مدینے کو آگیا مدینے سے

٭

جن حسین سوچوں سے زندگی مہکتی ہے

آس ان کا ہو تا ہے راطہ مدینے سے

٭٭٭


وصف سرکار کے بیاں کیجئے

وصف سرکار کے یاں کیجئے

اپنی تحریر جاوداں کیجئے

٭

مشعلیں جھلملائیں آنکھوں کی

مدحتِ شاہِ مرسلاں کیجئے

٭

ھیج کر ان پہ ار ار درود

اپنے سینے کو ضو فشاں کیجئے

٭

ج ھی مرجھائیں پھول ہونٹوں کے

۔"نام نامی کو حرزِ جاں کیجئے"

٭

انکے صدقے میں کیا نہیں ملتا

ڈھنگ سے مدعا یاں کیجئے

٭

ان کی رحمت وہاں وہاں ہوگی

یاد ان کو جہاں جہاں کیجئے

٭

ڈو کر آس ان کی الفت میں

ذہن کو حر یکراں کیجئے

٭٭٭


تیرا ذکر صبح کا نور ہے تیری یاد رات کی چاندنی

تیرا ذکر صح کا نور ہے تیری یاد رات کی چاندنی

تیری نعت اے شہ دوسرا دل یقرار کی راگنی

٭

مجھے تیری یاد سے واسطہ تیرا پیار ہے میرا راستہ

تیرا نام میری اساس ہے تیرا تذکرہ مری ندگی

٭

میں تو داس ہوں تیرے نام کا میں غلام تیرے غلام کا

مری ات ات کا حسن تو میرا ناز ہے تیری شاعری

٭

جو نی کو میرے قول ہوں وہی کاش میرے اصول ہوں

وہی صر ہو وہی گفتگو وہی عاجزی وہی سادگی

٭

مری آس ھی تیری آس ہو میرا شوق ھی تیرا شوق ہو

میں نفس نفس میں لا شہ کروں تیری ذات کی پیروی

٭٭٭


اے شہ عرب شہ انبیاء تیری سب صفات میں چاندنی

اے شہ عر شہ انیاء تیری س صفات میں چاندنی

تو خدا کا پیار ا رسول ہے تیری ات ات میں چاندنی

٭

تیرا پیار جس کا نصی ہے وہ خدا کے کتنا قری ہے

وہ جہاں کہیں ھی چلا گیا رہی اسکی گھات میں چاندنی

٭

تیری یاد کا جو گزرا ہوا میرا دل ھی رشک قمر ہوا

تیری یاد ہی کا ہے معجزہ کھلی مری ذات میں چاندنی

٭

مرے دل کے دشت میں ہر گھڑی تیرا ذکر ہے تیرا فکر ہے

تیرے ذکروفکر نے کی عطا مجھے مشکلات میں چاندنی

٭

جو کھی ھی آس نہ ڈھل سکے جو نہ تیرگی میں دل سکے

در مصطفےٰ کے سوا کہیں وہ نہ آئے ہات میں چاندنی

٭٭٭


نظر میں گنبد خضرا بسا کے لے آنا

نظر میں گند خضرا سا کے لے آنا

درِ رسول کی یادیں سجا کے لے آنا

٭

جو مل سکے نہ تمہیں دو جہاں کی وسعت سے

وہ حاجیو! مرے آقا سے جا کے لے آنا

٭

جہاں جہاں پہ تمہاری نظر کرے سجدے

وہاں وہاں کے مناظر سما کے لے آنا

٭

میرا سلام ھی جا کر حضور سے کہنا

جو ا جو ملے اسکو چھپا کے لے آنا

٭

تمہارے ہاتھ جو طیہ کی خاک لگ جائے

اسے ہر ایک نظر سے چا کے لے آنا

٭

یہاں میں نعت کہوں اور وہاں سنی جائے

مرے نصی میں ایسا لکھا کے لے آنا

٭

تڑپ میں ان کی ہے مسرور زندگی کتنی

ذرا سی اور تڑپ آس جا کے لے آنا

٭٭٭


یہ جو میری آنکھیں ہیں میرے رب کی جانب سے مصطفےٰ کا صدقہ ہیں

یہ جو میری آنکھیں ہیں میرے ر کی جان سے مصطفےٰ کا صدقہ ہیں

یہ جو میرے کپڑے ہیں جو چھنی ہے ی ی سے اس ردا کا صدقہ ہیں

٭

یہ جو میرے آنسو ہیں شام کے شہیدوں کی ہر دعا کا صدقہ ہیں

ہونٹ اور زاں میری کرلا کے پیاسوں کی التجا کا صدقہ ہیں

٭

یہ جو دست و ازو ہیں مرتضیٰ کے یٹے کی ہر وفا کا صدقہ ہیں

یہ جو میرے چے ہیں اصغر و علی اکر کی صدا کا صدقہ ہیں

٭

پھول چاند تاروں میں دلنشیں نظاروں میں روپ یوں نہیں آیا

ر کے خاص ندوں کی لاڈلے رسولوں کی س ضیا کا صدقہ ہیں

٭

آس نعمتیں ر کی، میرے ر کی جان سے جو جہاں میں اتری ہیں

میں نے تو یہ جانا ہے پنج تنی گھرانے کی س سخا کا صدقہ ہیں

٭٭٭


یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے

یہ لوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی ے کلی ہے

ترے پیار کی دولت مجھے میرے ر نے دی ہے

٭

تیری یاد کے تصدق تیرے پیار کے میں قراں

تیری ندہ پروری سے مری آنکھ شنمی ہے

٭

مہہ و مہر کو ھی اتنی نہ ہوئی نصی شاید

جو تیری ضیا سے ہر سو مرے چاندنی کھلی ہے

٭

تیرا نام لے کے سونا تجھے یاد کر کے رونا

یہی مری زندگی ہے یہی مری ندگی ہے

٭

تیری نعت کے کرم نے اسے معتر کیا ہے

کہاں آس ہے وگرنہ کہاں اس کی شاعری ہے

٭٭٭


ملے جس سے قلب کو روشنی وہ چراغِ مدحِ رسول ہے

ملے جس سے قل کو روشنی وہ چراغِ مدحِ رسول ہے

نہیں جس میں یاد حضور(ص) کی وہ تمام عمر فضول ہے

٭

تجھے دل میں جس نے سا لیا تجھے جس نے اپنا نا لیا

یہ جہان اس کی نگاہ میں فقط اک سرا ہے دھول ہے

٭

جو ترا ہوا وہ مرا ہوا جو ترا نہیں وہ مرا نہیں

یہ کلام حق کا ہے فیصلہ یہ خدا کا واضح اصول ہے

٭

تری رفعتیں کروں کیا یاں ترے معترف سھی انس و جاں

ترا تذکرہ ہے جہاں جہاں وہاں رحمتوں کا نزول ہے

٭

کھی اس کا رنگ نہ اڑ سکا کھی اس کی اس نہ کم ہوئی

مری شاعری کی جین پر جو تمہاری نعت کا پھول ہے

٭

اسے تخت و تاج سے کیا عرض اسے مال و زر سے ہے کام کیا

جو پڑا ہے طیہ کی خاک پر جو گدائے کوئے رسول ہے

٭

وہی شمعِ محفلِ کن فکاں وہی دو جہانوں کا ناز ہے

جہاں کوئی آس نہ جا سکا وہاں ان کے قدموں کی دھول ہے

٭٭٭٭


ارض و سما میں جگمگ جگمگ لحظہ لحظہ آپ کا نام

ارض و سما میں جگمگ جگمگ لحظہ لحظہ آپ کا نام

گلشن گلشن ، صحرا صحرا ، مہکا مہکا ، آپ کا نام

٭

پرت پرت ، ادل ادل ، رکھا رکھا، آپ کا نام

جنگل جنگل، وادی وادی، قصہ قصہ، آپ کا نام

٭

تپتی زمیں پر رسی رحمت قیصر و کسریٰ خاک ہوئے

ملک عر میں جس دن اترا اجلا اجلا آپ کا نام

٭

کنکر کنکر کی دھڑکن سے سدرہ کی معراج تلک

سینہ سینہ، محفل محفل، جلوہ جلوہ، آپ کا نام

٭

آپ کی اتیں پیاری پیاری ماشاء اللہ سحان اللہ

قطرہ قطرہ، چشمہ چشمہ، دریا دریا، آپ کا نام

٭

نام خدا کے ساتھ ہے شامل لوح فلک سے ارض تلک

آنگن آنگن ، گوشہ گوشہ ، قریہ قریہ ، آپ کا نام

٭

جھلمل جھلمل تارے چمکے میری آس کی جھیلوں پر

من کے اندر ج ج مہکا پیارا پیارا آپ کا نام

٭٭٭


جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے

جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے

آسماں سے چلیں نور کی ڈالیاں پھر جہاں در جہاں پھول کھلنے لگے

٭

ایک پر نور قندیل چمکی ہے پھر میرے احساس میں میرے جذات میں

آنکھ پرنم ہوئی ہونٹ تپنے لگے روح میں جاوداں پھول کھلنے لگے

٭

ان کی رحمت سے پر نور سینہ ہوا مجھ گنہ گار کا دل مدینہ ہوا

دھڑکنیں مل گئیں میرے افکار کو سنگ کے درمیاں پھول کھلنے لگے

٭

آپ آئے تو تہذی روشن ہوئی اور تمدن میں اک انقلا آگیا

آدمیت کو انسانیت مل گئی گلستاں گلستاں پھول کھلنے لگے

٭

آس تاریکیوں میں ھٹکتا رہا، شکر صد شکر اے دامن مصطفےٰ!

تو ملا تو قلم کو ملی روشنی اس کی زیر زاں پھول کھلنے لگے

٭٭٭


ان کا ہی فکر ہو ان کا ہی ذکر ہو یہ وظیفہ رہے زندگی کے لیے

ان کا ہی فکر ہو ان کا ہی ذکر ہو یہ وظیفہ رہے زندگی کے لیے

سوزِ عشق نی میری میراث ہو کاش زندہ رہوں میں اسی کے لیے

٭

ان کے در سے مجھے سرفرازی ملے مال و اسا سے ے نیازی ملے

میں جیوں تو جیوں س انہی کے لیے میں مروں تو مروں س انہی کے لیے

٭

رشک کرتا رہے مجھ پہ سارا جہاں مجھ سے مانگیں پنہ وقت کی آندھیاں

میں غلامِ غلامانِ احمد (ص) رہوں اس سے ڑھ کر ہے کیا آد می کے لیے

٭

کاش یوں ہی مرے دل کا موسم رہے میری آنکھوں کی ارش کھی نہ تھمے

زندگی میں وہ پل ھی نہ آئے کھی میں انھیں ھول جاؤں کسی کے لیے

٭

ذات والا کا ہے مجھ پہ کتنا کرم میں کہاں اور کہاں مدحِ شاہِ امم

شکر تیر ا مجھے دورِ ے مہر میں ! چن لیا تو نے نعتِ نی کے لیے

٭

دونوں عالم کو تخلیق ر نے کیا ان کی پہچان کا ہے یہ س سلسلہ

صرف مقصود ہوتی اگر ندگی کم ملائک نہ تھے ندگی کے لیے

٭رنگ و و مجھ سے کرنے لگے گفتگو اک اجالا سا رہنے لگا چار سو

آس ج سے کیا ذہن کو ا وضو میں نے سرکار کی شاعری کے لیے

٭٭٭


ترا تذکرہ مری بندگی ترا نامِ نامی قرارِ جاں

ترا تذکرہ مری ندگی ترا نامِ نامی قرارِ جاں

اے حی ر اے شہِ عر ترا پیار ہے میرا آسماں

٭

تری ذاتِ پاک کے فیض سے سھی کائنات میں رنگ ہے

تری شان زینتِ زندگی تیرا ذکر رونقِ دو جہاں

٭

مرے دل میں ایک خدا رہا تو ملا تو کفر ہوا ہوا

تری ذاتِ پاک کے معجزے میں کہاں کہاں نہ کروں یاں

٭

کڑی دھوپ کا یہ کٹھن سفر مجھے جاں و دل سے عزیز تر

تری یاد جس میں ہے ہم سفر ترا ذکر جس میں ہے سائاں

٭

جو ملا وہ تیرے س ملا، جسے تو ملا اسے ر ملا

سھی فیصلوں پہ تو مہر ہے ترے در کے عد ہے در کہاں

٭

مرا دل دلوں کا ہے ادشہ کہ ملی اسے دولتِ ثنا

وہ نصی کا ہے غری دل تیری یاد جس میں نہیں نہاں

٭

تیری نعت پاک کے پھول جو مری چشمِ تر سے ہیں شنمی

یہ ترے ہی پیار کے رنگ ہیں مری آس، مان کے ترجماں

٭٭٭


وجہہ دونوں عالم کی میرے مصطفےٰ ہے تو

نازِ کریا ہے تو فخر انیاء ہے تو

وجہِ دونوں عالم کی میرے مصطفےٰ ہے تو

٭

ے وفا زمانے کو تو نے الفتیں انٹیں

کوئی ھی نہ تھا جس کا اس کا آسرا ہے تو

٭

روشنی ترا پرتو چاندنی ترا دہوون

کیا مثال دوں تیری کیا نہیں ہے کیا ہے تو

٭

قدر والی ش میں جو میں نے ر سے مانگی تھی

کپکپا تے ہونٹوں سے وہ مری دعا ہے تو

٭

زندگی تری اندی وقت ہے ترا خادم

جو ھی ہے زمانے میں اس کا مدعا ہے تو

٭

تذکرے ترے سن کر ان کے کھل اٹھیں چہرے

جن کی لو لگی تجھ سے جن کا دل را ہے تو

٭

چاندنی ، شفق ، شنم ، کہکشاں ، صا ، خوشو

آس کیا لکھے تجھ کو س سے ماورا ہے تو

٭٭٭


مدینے کی فضاؤں میں بکھر جائیں تو اچھا ہو

مدینے کی فضاؤں میں کھر جائیں تو اچھا ہو

ہم اپنی موت کو حیران کر جائیں تو اچھا ہو

٭

نہیں ہے حوصلہ روضہ تمہارا تکتے رہنے کا

جنوں کہتا ہے تکتے تکتے مر جائیں تو اچھا ہو

٭

مری نم ناک آنکھوں کا یہی ا تو تقاضہ ہے

تمہارے پیار کی حد سے گزر جائیں تو اچھا ہو

٭

جو ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں میرے سینے میں مہکتی ہیں

وہ اوروں کے دلوں میں ھی اتر جائیں تو اچھا ہو

٭

جسے سنتے ہی دل سرشار ہوں عشقِ محمد(ص) سے

رقم ایسی کوئی ہم نعت کر جائیں تو اچھا ہو

٭

نامِ مصطفےٰ ہو امن یا ر پھر کراچی میں

مرے کشمیر کے ھی دن سدھر جائیں تو اچھا ہو

٭


میں جن کو روح کے قرطاس پہ محسوس کرتا ہوں

وہ جذے کاش کاغذ پر اتر جائیں تو اچھا ہو

٭

وہاں کیسی محت دل جہاں سجدوں سے قاصر ہو

جینِ دل کو لے کر ان کے در جائیں تو اچھا ہو

٭

خیالوں میں کئی الفاظ نے آ کر تمنا کی !!

نی کی نعت سے ہم ھی سنور جائیں تو اچھا ہو

٭

اسی ہی آس میں رہتی ہیں اکثر منتظر آنکھیں

لاوا آئے، ہم ا چشمِ تر جائیں تو اچھا ہو

٭٭٭


سوادِعشق نبی کیا کمال ہوتا ہے

سوادِ عشق نی کیا کمال ہوتا ہے

دیارِ روح میں حسن و جمال ہوتا ہے

٭

جو اس چراغ کا پروانہ ن کے رہ جائے

اسے نہ کھال نہ جاں کا خیال ہوتا ہے

٭

سخاوتوں کے خزانے نثار ہوتے ہیں

عقیدتوں کا سفر لازوال ہوتا ہے

٭

پھر ایک ار زیارت سے جاں مشرف ہو

لوں پہ شام و سحر یہ سوال ہوتا ہے

٭

تمام وقت کے حاکم اسے سلام کریں

تمہاری راہ میں جو پائمال ہوتا ہے

٭

گزر کے اس کی محت کے امتحانوں سے

کوئی حسین (ع) تو کوئی لال ہوتا ہے

٭

نی کا ہو کے جسے آس موت آ جائے

وہ شخص مرتا نہیں لازوال ہوتا ہے

٭٭٭


لوں نام نبی قلب ٹھہرجائے ادب سے

لوں نام نی قل ٹھہر جائے اد سے

صد شکر یہ اعزاز ملا ہے مجھے ر سے

٭

دنیا ہی دل دی ہے مرے ذوق نے میری

میں صاح کردار ہوا تیرے س سے

٭

اے سرورِ کونین تیرے در کے تصدق

ملتا ہے یہاں س کو سوا اپنی طل سے

٭

احسان ترا کیسے ھلا دوں شہِ والا

پہچان ہوئی ر کی ہمیں تیرے س سے

٭

مشکل کوئی مشکل نہیں ٹھہری مرے آگے

مدحت شہِ لولاک کی ہاتھ آئی ہے ج سے

٭

اے خالقِ کونین دعا ہے مری تجھ سے

ٹوٹے نہ کھی راطہ اس عالی نس سے

٭

کرتا نہیں دنیا میں اصولوں کا وہ سودا

ہے آس محت جسے سلطانِ عر سے

٭٭٭


نبی کی چشمِ کرم کے صدقے فضائے عالم میں دلکشی ہے

نی کی چشمِ کرم کے صدقے فضائے عالم میں دلکشی ہے

گلوں میں کلیوں میں رنگ و نگہت ہے چاند تاروں میں روشنی ہے

٭

جو آپ آتے نہ اس جہاں میں وجودِ کونین ھی نہ ہوتا

س آپ کے دم قدم سے آقا جہاں کی محفل سجی ہوئی ہے

٭

ہوا ہے ظلمت کا چاک سینہ گرے ہیں جھوٹے خدا زمیں پر

کرن نوت کی پھوٹتے ہی جہاں کی قسمت دل گئی ہے

٭

کمالِ اہلِ ہنر سے اعلیٰ خیال اہلِ نظر سے الا

مثال جس کی کہیں نہیں وہ جمال حسنِ محمدی ہے

٭

شیر ھی ہیں نذیر ھی ہیں سراج ھی ہیں منیر ھی ہیں

رؤف ھی ہیں رحیم ھی ہیں انہی کی دو جگ میں سروری ہے

٭

کہیں پہ یٰسین کہیں پہ طہٰ کلام حق ہے ترا قصیدہ

تری ہر اک ات حکم ری خدا کا تو لاڈلا نی ہے

٭

خدا سے جو مانگنا ہے مانگو ہے آس ہر سو عطا کی ارش

خدا نہ ٹالے گا ات کوئی کہ آج میلاد کی گھڑی ہے

٭٭٭


دیوانہ وار مانگیے رب سے اٹھا کے ہاتھ

دیوانہ وار مانگیے ر سے اٹھا کے ہاتھ

آئیں گے پھول نعت کے تم تک صا کے ہا تھ

٭

لکھنے سے پہلے نعت کے آنکھیں ہوں ا وضو

آئیں گے ت ہی غی سے گوہر ثنا کے ، ہا تھ

٭

نتی نہیں ہے ات عطا کے نا کھی

آتا نہیں ہے کچھ ھی سوائے عطا کے ہا تھ

٭

اک چشم التفات ادھر ھی ذرا حضور(ص)

امت کی سمت ڑھ گئے مکر و ریا کے ہا تھ

٭

الفت ملی ہے آپ کی س کچھ عطا ہوا

ا کیا کمی رہی جو اٹھائیں دعا کے ہا تھ

٭

سیلا عشقِ شافعِ محشر ہے میرے گرد

"دیکھے تو مجھ کو نار جہنم لگا کے ہاتھ"

٭

وہ فیصلے خدا کی رضا آس ن گئے

جن فیصلوں کے حق میں اٹھے مصطفےٰ کے ہا تھ

٭٭٭


فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے

فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے

تیری مدحت کے چرچے پھر ھی آقا کم نہیں ہوں گے

٭

ہر اک فانی ہے شے اور ذکر لا فانی تیرا ٹھہرا

تیری توصیف ت ھی ہو گی ج آدم نہیں ہوں گے

٭

توسل سے انھی کے در کھلیں گے کامرانی کے

وہ جن پر ہاتھ رکھ دیں گے انہیں کچھ غم نہیں ہوں گے

٭

کروڑوں وصف تیرے لکھ گئے اور لکھ رہے ھی ہیں

کروڑوں اور لکھیں گے مگر یہ کم نہیں ہوں گے

٭

خدا کے گھر کا رستہ مصطفےٰ کے گھر سے جاتا ہے

وہاں سے جاؤ گے تو کوئی پیچ و خم نہیں ہوں گے

٭

کریں گے کس طرح سے سامنا وہ روز محشر کا

تاؤ آس جن کے سرورِ عالم نہیں ہوں گے

٭٭٭


تو روحِ کائنات ہے تو حسن کائنات

تو روحِ کائنات ہے تو حسن کائنات

پنہاں ہیں تیری ذات میں ر کی تجلیات

٭

ہر شے کو تیری چشمِ عنایت سے ہے ثات

ہر شے میں تیرے حسنِ مکمل کے معجزات

٭

کونین کو ہے ناز تیری ذاتِ پاک پر

احسان مند ہیں تیری ہستی کے شش جہات

٭

پژ مردہ صورتوں کو ملی تجھ سے زندگی

نقطہ وروں کو سہل ہوئیں تجھ سے مشکلات

٭

ظلمت کدوں میں نور کے چشمے ال پڑے

رحمت سے تیری ٹل گئی ظلم و ستم کی رات

٭

تاروں کو ضو فشانیاں تجھ سے ہوئیں نصی

پھولوں کی نازکی پہ تیری چشمِ التفات

٭


ہر شے میں زندگی کی کرن تیری ذات سے

افشا یہ راز کر گئی معراج کی وہ رات

٭

اپنے دل و نگاہ کے آئینے صاف رکھ

گر دیکھنے کی چاہ ہے تجھ کو نی کی ذات

٭

کن الجھنوں میں پڑ گیا واعظ خدا سے ڈر

الا ہے تیری سوچ سے سرکار کی حیات

٭

انکی محتوں کا گزر ہے خیال میں

یونہی نہیں ہیں آس کی ایسی نگارشات

٭٭٭


ہمیشہ مری چشمِ تر میں رہیں

ہمیشہ مری چشمِ تر میں رہیں

حضور(ص) آپ دل کے نگر میں رہیں

٭

مری سوچ کے دائروں میں رہیں

خیالات کے ام و در میں رہیں

٭

گماں فرقتوں کا میں کیسے کروں

کہ ج آپ(ص) ہر سو نظر میں رہیں

٭

مرے حرف میں میرے الفاظ میں

مرے شعر میرے ہنر میں رہیں

٭

مرے دن کی مصروفیت میں ہوں آپ

مری رات کے ہر پہر میں رہیں

٭

مری ش کی ہو اتدا آپ سے

مری انتہائے سحر میں رہیں

٭

تمنا ہے یہ آس وقتِ نزع

حضور آپ ہر سو نظر میں رہیں

٭٭٭


ہم بے کسوں پہ فضل خدا ہے حضور (ص)سے

ہم ے کسوں پہ فضل خدا ہے حضور (ص)سے

اسلام کا شعور ملا ہے حضور (ص) سے

٭

آدم کو اپنی ذات کی پہچان تک نہ تھی

انسان آدمی تو ہوا ہے حضور (ص)سے

٭

ے کیف ے سرور تھی ے نور زندگی

اس میں سکوں کا رنگ ھرا ہے حضور(ص) سے

٭

ہوں اہلِ یتِ پاک یا اصحا مصطفےٰ

وحدت کا س نے جام پیا ہے حضور سے

٭

کشمیر ہو عراق، فلسطیں کہ کوئی ملک

ہر کلمہ گو تو آس جڑا ہے حضور (ص)سے

٭٭٭


پیارے نبی کی باتیں کرنا اچھا لگتا ہے

پیارے نی کی اتیں کرنا اچھا لگتا ہے

انکی چاہ میں جی جی مرنا اچھا لگتا ہے

٭

ٹھنڈی ٹھنڈی مہکی مہکی ہلکی ہلکی آہٹ سے

یادِ نی کا دل میں اترنا اچھا لگتا ہے

٭

ج ہستی کی چاہت کا ہے محور تیری ذات

پل پل تیرا ہی دم ھرنا اچھا لگتا ہے

٭

میں ھی ثنا کے پھول سمیٹوں تم ھی درود پڑھو

پتھر دل سے پھوٹتا جھرنا اچھا لگتا ہے

٭

تجھ سے میری من نگری کے روشن شام و سحر

تیرے نام کی آہیں ھرنا اچھا لگتا ہے

٭

غوث، قلندر اور ولی ہیں تیرے عشق کے روگی

س کو تری توقیر پہ مرنا اچھا لگتا ہے

٭

ماتھے پر امید کا جھومر مانگ میں آس کی افشاں

ایسا مجھ کو ننا سنورنا اچھا لگتا ہے

٭٭٭


میں غریب سے بھی غریب ہوں مرے پاس دستِ سوال ہے

میں غریب سے ھی غری ہوں مرے پاس دستِ سوال ہے

اے قسیم راحتِ دو جہاں مری سانس سانس محال ہے

٭

تو خدائے پاک کا راز داں تیرا ذکر زینتِ دو جہاں

تیرے وصف کیا میں کروں یاں تیری ات ات کمال ہے

٭

میں ہوں ے نوا تو ہے ادشہ میرا تاجِ سر تیری خاکِ پا

میں ہوں ایک ھٹکی ہوئی صدا تری ذات حسنِ مآل ہے

٭

تو ہی فرش پر تو ہی عرش پر تیرا یہ ھی گھر تیرا وہ ھی گھر

جہاں ختم ہوتا ہے ہر سفر تیرا اس سے آگے جمال ہے

٭

تیری ذات عالی شہ عر کہاں میں کہاں یہ مری طل

جو ملا، ملا وہ ترے س مرا اس میں کیسا کمال ہے

٭

نہیں تیرے عد کوئی نی ہوئی ختم تجھ پر پیمری

تیری ذاتِ حسن و جمال کی نہ نظیر ہے نہ مثال ہے

٭

میں یہ کیوں کہوں کہ غری ہوں شہ دوسرا کے قری ہوں

میں تو آس روشن نصی ہوں غمِ مصطفےٰ مری ڈھال ہے

٭٭٭


سر جھکایا قلم نے جو قرطاس پر پھول اس کی زباں سے بکھرنے لگے

سر جھکایا قلم نے جو قرطاس پر پھول اس کی زاں سے کھرنے لگے

مدحتِ مصطفےٰ تیرا احسان ہے تجھ سے کیا کیا مقدر سنورنے لگے

٭

یہ تو ان کی عنایات کی ات ہے ورنہ کیا ہوں میں کیا میری اوقات ہے

جس کا دنیا میں پرسان کوئی نہ تھا اس کے دامن میں تارے اترنے لگے

٭

یونہی مجھ پر کرم اپنا رکھنا سدا اے مرے چارہ گر اے شہ دوسرا

تیری چشمِ کرم جس طرف کو اٹھی اس طرف نور سینوں میں ھرنے لگے

٭

قط و ادال غوث و ولی متقی س کی محسن ہے نورِ تجلی تیری

روشنی تیرے کردار کی پا کے س سینہ ٔ سنگ کو موم کرنے لگے

٭

عشق سچا اگر ہو تو دیدار کی قید کوئی نہیں فاصلے کچھ نہیں

ہو گئی جن کے دل کو صارت عطا لمحہ لمحہ وہ دیدار کرنے لگے

٭

کچھ عج وضع سے کر رہے ہیں سر تیرے عشاق س اپنے شام و سحر

جیتا دیکھا کسی کو تو جینے لگے مرتا دیکھا کسی کو تو مرنے لگے

٭

اے خدا آس کو وہ عطا نعت کر جو منور کرے س کے قل و نظر

ے سہاروں کو تسکین جو خش دے غم کے ماروں کے جو زخم ھرنے لگے

٭٭٭


لب کشائی کو اذنِ حضوری ملا چشمِ بے نور کو روشنی مل گئی

لب کشائی کو اذنِ حضوری ملا چشمِ ے نور کو روشنی مل گئی

ہاتھ اٹھاوں میں ا کس دعا کے لیے انکی نست سے ج ہر خوشی مل گئی

٭

ذوق میرا عادت میں ڈھلنے لگا زاویہ گفتگو کا دلنے لگا

ساعتیں میری پرکیف ہونے لگیں دھڑکنوں کو مری ندگی مل گئی

٭

ناز اپنے مقدر پہ آنے لگا ہر کوئی ناز میرے اٹھانے لگا

دھل گیا آئینہ میرے کردار کا ج سے ہونٹوں کو نعتِ نی مل گئی

٭

ان کی چشمِ عنایت کا اعجاز ہے ورنہ کیا ہوں میں کیا میری پرواز ہے

خامیاں میری نتی گئیں خویاں زندگی کو مری زندگی مل گئی

٭

میری تقدیر گڑی نائی گئی ات جو ھی کہی کہلوائی گئی

میں نے تو صرف تھاما قلم ہاتھ میں جانے کیسے کڑی سے کڑی مل گئی

٭

زندگی ج سے ان کی پناہوں میں ہے ایک تاندگی سی نگاہوں میں ہے

مجھ کو اقرار ہے اس کے قال نہ تھا ذاتِ وحدت سے جو روشنی مل گئی

٭

مدحتِ مصطفےٰ ہے وہ نورِ میں جس کا ثانی دو عالم میں کوئی نہیں

آس اس کی شعاعوں کے ادراک سے راہ ھٹکوں کو ھی رہری مل گئی

٭٭٭


اپنی اوقات کہاں، ان کے سبب سے مانگوں

اپنی اوقات کہاں، ان کے س سے مانگوں

ر ملا ان سے تو کیوں ان کو نہ ر سے مانگوں

٭

ان کی نست ہے ہت ان کا وسیلہ ہے ہت

کیوں میں کم ظرف نوں ڑھ کے طل سے مانگوں

٭

جس ضیا سے صدا جگ مگ ر ہے دنیا من کی

اس کی ہلکی سی رمق ماہِ عر سے مانگوں

٭

آندھیاں جس کی حفاظت کو رہیں سرگرداں

پیار کا دیپ وہ ازارِ اد سے مانگوں

٭

کوئی اسلو سلیقہ نہ قرینہ مجھ میں

سوچتا ہوں انھیں کسی طور سے، ڈھ سے مانگوں

٭

کارواں نعت کا اے کاش رواں یوں ہی رہے

اور میں نِت نئے عنوان اد سے مانگوں

٭

آس آاد رہے شہر مری الفت کا

ہر گھڑی اس کی خوشی دستِ طل سے

٭٭٭


جمال عکس محمدی سے فضائے عالم سجی ہوئی ہے

جمال عکس محمدی سے فضائے عالم سجی ہوئی ہے

قرارِ جاں ن کے زندگی میں انہی کی خوشو سی ہوئی ہے

٭

خدائے واحد کی ن کے رہاں حضور آئے ہیں اس جہاں میں

دکھوں سے جلتی ہوئی زمیں پھر ہر ایک غم سے ری ہوئی ہے

٭

نجانے کیسا کمال دیکھا نی(ص) کا جس نے جمال دیکھا

حواس گم سم نگاہ حیراں زاں کو چپ سی لگی ہوئی ہے

٭

سمندروں کی تہوں سے لے کر مقام سدرہ کی رفعتوں تک

مرے نی کے کرم کی چادر ہر اک جہاں پر تنی ہوئی ہے

٭

تمام چاہت کے روگیوں کا عجی ہم نے کمال دیکھا

جدا جدا صورتیں ہیں لیکن دلوں کی دھڑکن جڑی ہوئی ہے

٭

وہی حقیقت میں زندگی ہے وہی حقیقت میں ندگی ہے

جو میرے سرکار کی محت کے راستوں پر پڑی ہوئی ہے

٭

انگشتری میں نگینہ جیسے زمیں کے دل پر مدینہ جیسے

حضور(ص) اس طرح آس تیری، مری نظر میں جڑی ہوئی ہے

٭٭٭


رنگ لائی مرے دل کی ہر اک صدا لوٹنے زندگی کے خزینے چلا

رنگ لائی مرے دل کی ہر اک صدا لوٹنے زندگی کے خزینے چلا

میرے ر نے کیا مجھ کو منص عطا میں مدینے چلا میں مدینے چلا

٭

میری مدت کی یہ آس پوری ہوئی رشک کرنے لگا مجھ پہ ہر آدمی

ہونے والی ہے ا زندگی، زندگی سیکھنے زندگی کے قرینے چلا

٭

میرے گھر ملنے والوں کی یلغار ہے آج س کو مری ذات سے پیار ہے

آرزوؤں کے غنچوں کی مہکار ہے کس مقدس مارک مہینے چلا

٭

ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ میرے لیے جا کے روضے پہ رکھنا دعا کے دیے

اور یہ کہنا کہ چشم کرم اک ادھر ہر کوئی جام کوثر کے پینے چلا

٭

سوچتا ہوں سفر کا ارادہ تو ہے شوق جانے کا ھی کچھ زیادہ تو ہے

عشق کا معصیت پہ لادہ تو ہے پر میں کیا ساتھ لیکر خزینے چلا

٭

میں نے پورے کیے کیا حقوق ا لعاد اور مٹائے ہیں کیا جگ سے فتنے فساد

کیا مسلماں میں پیدا کیا اتحاد کون سا مان لے کر مدینے چلا

٭

آس کیا منہ دکھاؤں گا سرکار کو اپنے ہمدرد کو اپنے غم خوار کو

کیوں گراؤں میں فرقت کی دیوار کو کس لیے ہجر کے زخم سینے چلا

٭٭٭


مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم رہے

مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم رہے

مری ہر نگارشِ شوق پر اے کریم تیرا کرم رہے

٭

میں لکھوں جو نعت حضور(ص) کی دلِ مضطر کے سرور کی

کھی چشم ناز لند ہو کھی سر نیاز سے خم رہے

٭

مری سانس سانس مہک اٹھے مجھے روشنی سی دکھائی دے

میرا حرف حرف دعا نے مری آہ آہ قلم رہے

٭

یہ یقین ہے جو میں مر گیا تو کہیں گے س یہ ملائکہ

یہ ہے شاعرِ شاہِ دوسرا ذرا اس کا پاس، ھرم رہے

٭

یہ دعا ہے آس حضور(ص) کا کھی دل سے پیار نہ ہو جدا

مری زندگی کی جین پر سدا ان کا نام رقم رہے

٭٭٭


آپ(ص) سے حسن کائنات آپ کہاں کہاں نہیں

آپ(ص) سے حسن کائنات آپ کہاں کہاں نہیں

آپ کا ذکر نہ ہو جہاں ایسا کوئی جہاں نہیں

٭

ایک جاں سرور آگ سلگی ہے میری ذات میں

ہے یہ عجی ماجرا راکھ نہیں دھواں نہیں

٭

جن فیصلوں پہ آپ کی مہر ثت ہو گئی

اس کے عد ا خدا کوئی ھی این و آں نہیں

٭

اوصافِ پاک آپ کے جس سے تمام ہوں یاں

ایسا کوئی قلم نہیں ایسی کوئی زاں نہیں

٭

واعظ کی ات ھی پرکھ اپنے ھی من کی ات سن

جس سر سے اٹھ گئے وہ ہاتھ اس کی کہیں اماں نہیں

٭

حضرت لال دے گئے آس یہ ہم کو فلسفہ

جس کے نا ھی ہو سحر، ایسی اذاں، اذاں نہیں

٭٭٭


ہے یہ دربارِ نبی خاموش رہ

ہے یہ درارِ نی خاموش رہ

چپ کو ھی ہے چپ لگی خاموش رہ

٭

ولنا حدِ اد میں جرم ہے

خامشی س سے ھلی خاموش رہ

٭

ان کے در کی مانگ ر سے چاکری

تجھ کو جنت کی پڑ ی خاموش رہ

٭

ہے ذریعہ ہترین اظہار کا

اک زانِ خامشی خاموش رہ

٭

دل سے ان کو یاد کر کے دیکھ تو

پاس ہیں وہ ہر گھڑی خاموش رہ

٭

ھیگی پلکیں کر نہ دیں رسوا تجھے

ضط کر دیوانگی خاموش رہ

٭

جیسے کی ہے میرے آقا نے سر

ویسے تو کر زندگی خاموش رہ

٭


جس نے ھی دیکھا ہے جلوہ آپ کا

اس کو ہی چپ لگ گئی خاموش رہ

٭

نعت لکھواتی ہے کوئی اور ہی ذات

ورنہ جرأت آس کی خاموش رہ

٭٭٭


ہر طرف لب پہ صل علیٰ ہے ہر طرف روشنی روشنی ہے

ہر طرف ل پہ صل علیٰ ہے ہر طرف روشنی روشنی ہے

جشنِ میلاد ہے مصطفےٰ کا کیا معطر معطر گھڑی ہے

٭

آج سن لی ہے س کی خدا نے کھل گئے رحمتوں کے خزانے

جتنا دامن میں آئے سمیٹو ہر طرف رحمتوں کی جھڑی ہے

٭

چھٹ گئیں ظلمتوں کی گھٹائیں کیسے دن آج کا ھول جائیں

عید میلاد آؤ منائیں کون سی عید اس سے ڑی ہے

٭

ہم سے کہتا ہے خود ر اکر میں ثنا خوان ہوں مصطفےٰ کا

تم ھی ھیجو درود ان پہ ہر دم ان کی مدحت مری ندگی ہے

٭

اک خدا اک رسول ایک قرآں ایک کیوں کر نہیں پھر مسلماں

چھوڑ دو فرقہ ندی خدارا اس نے جاں کتنے ندوں کی لی ہے

٭

ہر مسلمان ماتم کناں ہے گنگ انسانیت کی زاں ہے

آپ محسن ہیں انسانیت کے آپ کے در سے ہی لو لگی ہے

٭

اپنے در پر ہی رکھنا خدارا غیر کا در نہیں ہے گوارا

آس مانا کہ عاصی ہت ہے پر حضور آپ کا امتی ہے

٭٭٭


ذکرِ نبی(ص) اسرارِ محبت صلی اللہ علیہ وسلم

ذکرِ نی(ص) اسرارِ محت صلی اللہ علیہ و سلم

حق کا پیمر ختم رسالت صلی اللہ علیہ و سلم

٭

صح ازل کی جان ھی ہے و ہ شام اد کی شان ھی ہے وہ

اس کی ثنا گو ہر اک ساعت صلی اللہ علیہ و سلم

٭

ذکر نی میں دل کی طر ہے دل کی طر خوشنودی ر ہے

ر کی رضا سرکار کی مدحت صلی اللہ علیہ و سلم

٭

کس کے تصدق چمکا ستارا چاند زمیں پر ر نے اتارا

ہم آزاد ہیں کس کی دولت صلی اللہ علیہ و سلم

٭

وحدت کی پہچان اسی میں خشش کا سامان اسی میں

کرتے رہو یہ ذکر سعادت صلی اللہ علیہ و سلم

٭

پاکستان کا پیارا خطہ آپ کی ہے نعلین کا صدقہ

آپ کے صدقے پائی یہ جنت صلی اللہ علیہ و سلم

٭

قرآں ہو دستور ہمارا چمکے آس نصی کا تارا

رہر ہو ج آپ کی سیرت صلی اللہ علیہ و سلم

٭٭٭


میں مریضِ عشقِ رسول ہوں مجھے اور کوئی دوا نہ دو

میں مریضِ عشقِ رسول ہوں مجھے اور کوئی دوا نہ دو

یہی نام میرا علاج ہے یہی نام لیتے رہا کرو

٭

مرے ہم سخن مرے ساتھیو مرے مونسو مرے وارثو

تمہیں مجھ سے اتنا ہی پیار ہے مرے ساتھ صلِ علیٰ پڑھو

٭

کوئی چھیڑو قصے حضور کے گریں ت زمیں پہ غرور کے

کھلیں ا عقل و شعور کے دل مضطر کو قرار ہو

٭

مری زندگی ھی ہو زندگی مری شاعری ھی ہو شاعری

کھلے دل کے شہر میں چاندنی درِ مصطفےٰ پہ چلیں چلو

٭

مری چشمِ ناز کا نور وہ مری نضِ جاں کا سرور وہ

نہیں پل ھی مجھ سے ہیں دور و ہ مری دھڑکنوں کی صدا سنو

٭

وہ خدا کا عکسِ جمال ہیں وہی رشکِ او ج کمال ہیں

وہ تو آپ اپنی مثال ہیں کوئی تم نہ ان کی مثال دو

٭

جسے ان کی ایک جھلک ملی وہ ہر ایک غم سے ہوا ری

اسے آس اس طرح چپ لگی کہ نہ جیسے منہ میں زان ہو

٭٭٭


ہر اک لب پہ نعت نبی کے ترانے ہر اک لب پہ صلِ علیٰ کی صدا ہے

ہر اک ل پہ نعت نی کے ترانے ہر اک ل پہ صلِ علیٰ کی صدا ہے

ہمارے نی جس میں تشریف لائے وہ رحمت کا پر نور دن آگیا ہے

٭

درودوں کے تحفے سلاموں کے ہدیے دعاؤں کے منظر عقیدت کے نعرے

مقدس مقدس ہر اک سمت جلوے معطر معطر ہر اک سو فضا ہے

٭

عطاؤں کی ارش دعا کی گھڑی ہے ہر اک شخص کی آپ سے لو لگی ہے

ہر اک آنکھ میں آنسوؤں کے سمندر ہر اک دل میں تعظیم کا در کھلا ہے

٭

خدا کی خدائی کے مختار ہیں وہ تمام انیاء کے ھی سردار ہیں وہ

خدا کی خدائی طلگار ان کی مقام ان کو ر نے عطا وہ کیا ہے

٭

اٹھے گی وہ چشمِ کرم غم کے مارو انہیں دل کی گہرائیوں سے پکارو

نچھاور کرو پھول ان پہ ثنا کے اسی میں ہی آس اپنے ر کی رضا ہے

٭٭٭


تری یاد کا سدا گلستاں مری نبضِ جاں میںکھلا رہے

تری یاد کا سدا گلستاں مری نضِ جاں میں کھلا رہے

مری سانس جس سے مہک اٹھے وہ قرار دل میں سا رہے

٭

میں پڑا رہوں تری راہ میں تری چاہتوں کی پناہ میں

مجھے ٹھوکروں کی نہ فکر ہو مرا زخم زخم ہرا رہے

٭

مری زندگی کا ہر ایک پل ترے پیار سے نے ا عمل

تری چاہتوں پہ جیوں مروں ترے غم کی دل میں جلا رہے

٭

رہے تیری یاد سے واسطہ کوئی اور نہ ہو مرا راستہ

مرے شعر میری قا نیں مرا رنگ س سے جدا رہے

٭

یہی آس ہے یہی آرزو تیری ہر گھڑی کروں گفتگو

مری آنکھ ہو سدا ا وضو یونہی مجھ پہ فضلِ خدا رہے

٭٭٭


نور سے اپنے ہی اک نور سجایا رب نے

نور سے اپنے ہی اک نور سجایا ر نے

پھر اسی نور کو محو نایا ر نے

٭

ان کی ہر ات میں رکھ رکھ کے محت کی مٹھاس

پیکرِ خُلق کا دیدار کرایا ر نے

٭

انیا ج تیرے دیدار کو ے تا ہوئے

پھر امامت کو سرِ عرش لایا ر نے

٭

پیکر حسن میں س خویاں اپنی ھر کر

تجھ کو قرآن کی صورت میں نایا ر نے

٭

تیری سیرت کی زمانے سے گواہی لینے

دیکھنے والی نگاہوں کو دکھایا ر نے

٭

اپنی قدرت کو دو عالم پہ اجاگر کرنے

ناز تخلیق کو پھر پاس لایا ر نے

٭


اور ھی یش ہا نعمتیں دی ہیں لیکن

دے کے محو یہ احسان جتایا ر نے

٭

شکر اس ذات کا جتنا ھی کروں کم ہے آس

مجھ کو ھی نعت کا انداز سکھایا ر نے

٭٭٭


بڑھتی ہی جارہی ہے آنکھوں کی بے قراری

بڑھتی ہی جا رہی ہے آنکھوں کی ے قراری

یا ر دکھا دے پھر سے صورت نی کی پیاری

٭

پھر دل کی انجمن میں جھنے لگی ہیں شمعیں

پھر ہجر کی تڑپ میں گزرے گی رات ساری

٭

جس میں کھلیں تمہاری الفت کے پھول آقا

اس دن کے میں تصدق اس رات کے میں واری

٭

ان راستوں کے ذرے نتے گئے ستارے

جن راستوں سے گزری سرکار کی سواری

٭

ہم کو ھی اس نظر میں رہنے کی آرزو ہے

جس کی ضیاء سے جگمگ ہے کائنات ساری

٭

مہکار يٹ رہی ہے جس میں محيتوں کی

وہ ہے نگر تمہارا وہ ہے گلی تمہاری

٭

جینے کی آس دل میں کچھ اور ڑھ گئی ہے

جب سے ہوئی ہیں نعتیں میرے لوں پہ جاری

٭٭٭


دیکھنے والی ہے اس وقت قلم کی صورت

دیکھنے والی ہے اس وقت قلم کی صورت

چومتا جاتا ہے کاغذ کو حرم کی صورت

٭

اس پہ تحریر ہوئی جاتی ہے آقا کی ثناء

ن رہی ہے مرے عصیاں پہ کرم کی صورت

٭

آپ کا پیار سنھالا جو نہ دیتا مجھ کو

اور ہی ہوتی مرے رنج و الم کی صورت

٭

شہر تو شہر ہے شیدائی مرے آقا کے

"دشت میں جائیں تو ہو دشت ارم کی صورت"

٭

مدح سرکار میں آنکھوں کا وضو لازم ہے

خود خود نتی ہے پھر نعت رقم کی صورت

٭

ہر کوئی اپنی نگاہوں پہ ٹھاتا ہے مجھے

اور کیا ہوتی ہے الطاف و کرم کی صورت

٭

آس سرکار کا دامان شفاعت ہو نصی

ت ہی محشر میں نے میرے ھرم کی صورت

٭٭٭


وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں

وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں

وہ الگ ہے ذات نماز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں

٭

یہ کہا زمیں سے حسیں کوئی مرے مصطفےٰ سے ھی ڑھ کے ہے

تو کہا یہ عجز و نیاز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں

٭

یہ کہا فلک سے کہ اور کوئی تیری رفعتوں سے ہے آشنا

تو کہا یہ اس نے ھی راز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں

٭

یہ کہا زمیں سے کہ معتر درِ مصطفےٰ سی کوئی جگہ

تو کہا یہ اس نے ھی ناز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں

٭

یہ کہا فلک سے کہ رفعتیں کسی اور نی کو ھی یوں ملیں

تو کہا یہ صیغۂ راز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں

٭

یہ کہا زمیں سے صعوتیں کسی اور کی آل کو یوں ملیں

تو کہا یہ سوز و گداز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں

٭

یہ کہا فلک سے کہ کہکشاں کسی اور کی گردِ سفر ھی ہے

تو کہا یہ آس کو ناز سے کہ نہیں نہیں خدا نہیں

٭٭٭


صبح بھی آپ(ص) سے شام بھی آپ (ص)سے

صح ھی آپ(ص) سے شام ھی آپ (ص)سے

میری منسو ہر اک گھڑی آپ (ص)سے

٭

میرے آقا میرا تو یہ ایمان ہے

دونوں عالم کی رونق ہوئی آپ (ص)سے

٭

آپ میرے تصور کی معراج ہیں

میرے کردار میں روشنی آپ (ص)سے

٭

گر گیا تھا خود اپنی نظر سے شر

آج اس کو ملی رتری آپ(ص) سے

٭

آپ(ص) خالق کی ے مثل تخلیق ہیں

کیسے لیتا کوئی رتری آپ(ص) سے

٭

کہکشاں ہی نہیں ان کی گردِ سفر

چاند کو ھی ملی چاندنی آپ(ص) سے

٭

قر میں آس عشق نی ساتھ ہو

اے خدا ا لتجا ہے یہی آپ (ص)سے

٭٭٭


ثناء خدا کی درود و سلام ہے تیرا

ثناء خدا کی درود و سلام ہے تیرا

لوں پہ ذکر مرے صح و شام ہے تیرا

٭

جو تم نہ ہوتے تو ستی نہ عالم ہستی

وجود کون و مکاں اہتمام ہے تیرا

٭

کوئی نہیں تیرا ہمسر نہ کوئی سایہ ہے

سروں پہ سایہ ہمارے دوام ہے تیرا

٭

دلوں میں عشق نی کا نہ دیپ جلتا ہو

تو پھر فضول سجود و قیام ہے تیرا

٭

تمہارے در کا ہے دران جرائیل امیں

"مسیح و خضر سے اونچا مقام ہے تیرا"

٭

قلم دیا مجھے اپنے نی کی مدحت کا

مرے کریم یہ کیا کم انعام ہے تیرا

٭

اسے ھی خسرو و محو سا ثناء گو کر

یہ امتی ھی تو آقا غلام ہے تیرا


٭

وہ ایک نقطہ جسے خود خدا ہی جانتا ہے

خدا کے عد جدا سا مقام ہے تیرا

٭

ملی ہے آس کو جس نام سے پذیرائی

وہ نام نامی تو خیر الانام ہے تیرا

٭٭٭


ان کی دہلیز کے قابل میرا سر ہو جاتا

ان کی دہلیز کے قال میرا سر ہو جاتا

کاش منظور مدینے کا سفر ہو جاتا

٭

لوگ مجھ کو ھی ڑے چاؤ سے ملنے آتے

محترم س کی نظر میں میرا گھر ہو جاتا

٭

میں ھی چل پڑتا دل و جاں کو نچھاور کرنے

پورا مقصد مرے جینے کا اگر ہو جاتا

٭

لیلۃ القدر ہر اک رات مری ہو جاتی

عید جیسا میرا ہر روز سر ہو جاتا

٭

مسجد نوی میں دل کھول کے لکھتا نعتیں

میرا ہر شعر وہاں جا کے امر ہو جاتا

٭

میرا ظاہر ھی عقیدت سے منور ہوتا

میرا اطن ھی محت کا نگر ہو جاتا


٭

مہک اٹھتے مرے ہونٹوں پہ درودوں کے گلا

میرا دامانِ طل اشکوں سے تر ہو جاتا

٭

زندگی میں نیا اک موڑ اجاگر ہوتا

میری آنکھیں مرا دل آپ کا گھر ہو جاتا

٭

اتنا مشکل تو نہ تھا ر کو منا لینا آس

حوصلہ سامنا کرنے کا اگر ہو جاتا

٭٭٭


آپ سے مہکا تخیل آپ پر نازاں قلم۔ ا ے رسول محترم

آپ سے مہکا تخیل آپ پر نازاں قلم۔ ا ے رسول محترم

میری ہر اک سوچ پر ہے آپ کا لطف و کرم۔ اے رسول محترم

٭

آپکا ذکر مقدس ہر دعا کا تاج ہے۔ غمزدوں کی لاج ہے

اسکے ن یکار ہر اک ندگی ر کی قسم۔ اے رسول محترم

٭

آپ آئے کائنات حسن پر چھایا نکھار۔ اے حی کردگار

زم ہستی کے ہیں محسن آپکے نقش قدم۔ اے رسول محترم

٭

آپ کے اعث جہاں میں آدمی مسرور ہے۔ زندگی پر نور ہے

آپ کی ذاتِ مقدس آدمیت کا ھرم۔ اے رسولِ محترم

٭

آپکی توصیف میں اترا ہے قرآن میں۔رحمت اللعالمین

آپ کا شیدا ہے شرق و غر اور عر و عجم۔! اے رسول محترم

٭

آپ کا دامانِ رحمت جس کو ہو جائے نصی۔کتنا وہ ر کے قری

پھر اسے خدشہ جہنم کا نہ ہو محشر کا غم۔ اے رسول محترم

٭

آس جگ میں اسکو پھر پرواہ نہیں انجام کی۔ صح کی نہ شام کی

جس کی جان آپ کا ہو جائے الطاف و کرم۔ اے رسول محترم

٭٭٭


سکون دل کے لیے جاوداں خوشی کے لیے

سکون دل کے لیے جاوداں خوشی کے لیے

نی کا ذکر ضروری ہے زندگی کے لیے

٭

مقام فیض کی تم کو اگر تمنا ہے

درود پڑھتے رہو اپنی ہتری کے لیے

٭

اسے ھی اذن حضوری کا شرف مل جاتا

تڑپ رہا ہے جو سرکار حاضری کے لیے

٭

خدائے پاک نے کیا کیا نہ اہتمام کیا

حی پاک(ص) سے ملنے کی اک گھڑی کے لیے

٭

حضور آپ ہی تخلیقِ وجہہ کون و مکاں

نی ہے عالم ہستی ھی آپ ہی کے لیے

٭

حضور(ص) عر و عجم آپ کے تمنائی

حضور شرق و غر ھی ہیں آپ ہی کے لیے

٭


نثار ان پہ کروں اپنی سانس سانس کا لمس

مرے وجود کی تاندگی انہی کے لیے

٭

تمام ساعتیں خشیں جو زندگی نے تمہیں

انہی کو وقف کرو آ س آج انہی کے لیے

٭

نی ہمارا نی وہ ہے انیاء جس کی

کریں خدا سے دعا انکے امتی کے لیے

٭

اگر حضور(ص) کی سچی لگن خدا دے دے

میں سر اٹھاؤں نہ سجدے سے اک گھڑی کے لیے

٭

حضور(ص) عد ولادت کے کر رہے تھے دعا

خدائے پاک سے امت کی خششی کے لیے

٭

حضور(ص) آس کو وہ اذنِ نعت مل جائے

نے وسیلہ جو خشش کا اخروی کے لیے

٭٭٭


اے شہ انبیاء سرورِ سروراں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں

اے شہ انیاء سرورِ سروراں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں

ر ملا کہہ رہے ہیں زمیں و زماں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں

٭

نور تو س گھرانہ تیرا نور کا تو سہارا ہے لاچار و مجور کا

ہادی اِنس و جاں حامی یکساں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں

٭

تو چلے تو فضائیں تیرے ساتھ ہوں ادلو ں کی گھٹائیں تیرے ساتھ ہوں

مٹھیوں سے ملے کنکروں کو زاں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں

٭

کوئی سمجھے گا کیا تیرے اسرار کو آئینے ھی ترستے ہیں دیدار کو

تیرے قدموں میں رکھتی ہے سر کہکشاں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں

٭

ذکر تیرا دعاؤں کا سرتاج ہے غمزدوں ے سہاروں کی معراج ہے

ہر فنا شے تیرا ذکر ہے جاوداں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں

٭

تیری انگلی کا جس سمت اِشارہ گیا چاند کو ھی اسی سو اتارا گیا

تاجور دیکھتے رہ گئے یہ سماں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں

٭

آس آنکھوں میں جگمگ ہے تیری ضیاء اے حی خدا خاتم الانیاء

اے شفیع الامم مرسلِ مرسلاں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں

٭٭٭


آؤ سوچوں ہی سوچوں میں ہم آقا کے دربار چلیں

آؤ سوچوں ہی سوچوں میں ہم آقا کے درار چلیں

مہکی یادوں کے پھول چنیں اشکوں کے لیکر ہار چلیں

٭

نہ کوئی روکنے والا ہو نہ کو ئی ٹوکنے والا ہو

روضے کے لمس کو جی ھر کر آنکھوں سے کرنے پیار چلیں

٭

جہاں مٹی سونا ہوتی ہے جہاں ذرے سورج نتے ہیں

اُن گلیوں کا اُن رستوں کا ہم ھی کرنے دیدار چلیں

٭

کہتے ہیں وہاں پُر شام سحر انوار کی ارش رہتی ہے

کہتے ہیں وہاں خوشو لینے س دنیا کے ازار چلیں

٭

ج شہر مدینہ جی ھر کر د ل کی آنکھوں سے دیکھ چکیں

پھر شاہ نجف کا در چُومیں غداد کے پھر ازار چلیں

٭

اس شہر محت کی خوشو کرتی ہے حفاظت انساں کی

جسکا یہ مقدر ن جائے اس پر نہ ریا کے وار چلیں

٭


کرل کے جن صحراؤں میں معصوموں کی فریادیں ہیں

ان صحراؤں سے صر و رضا کا سننے حال زار چلیں

٭

سنتے ہیں کہ در کے میداں میں ہے آج ھی رع و جلالیت

اصحا کا وہ میدانِ عمل ہم دیکھنے سو سو ار چلیں

٭

اے آس زمانے میں کتنا دشوار ہو جینا مرنا

آؤ سرکار سے اُمت کا یہ کہنے حالِ زار چلیں

٭٭٭


اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے

اے جسم ے قرار ثنائے رسول سے

جوڑ اپنے دل کے تار ثنائے رسول سے

٭

ہر صح پر وقار ثنائے رسول سے

ہر شام خوش گوار ثنائے رسول سے

٭

ھٹکا ہے ساری عمر سراوں کی چاہ میں

جوڑ ا تو دل کے تار ثنائے رسول سے

٭

کیا جانے سانس کا ہو سفر کس مقام تک

جی ھر کے کر لے پیار ثنائے رسول سے

٭

جن کو خر نہیں انہیں جا کر تایئے

دنیا کی ہے ہار ثنائے رسول سے

٭

وہ ذات، نامراد کو کرتی ہے ا مراد

تو زندگی سنوار ثنائے رسول سے

٭

گر تجھ کو لازوال محت کی آس ہے

جوڑ اپنے دل کے تار ثنائے رسول سے

٭٭٭


زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے

زمین جس پہ نوت کے تاجدار چلے

وہ چومنے کو نظر کاش ار ار چلے

٭

پڑیں نہ پاؤں تقدس کا یہ تقاضا ہے

وہ خاک جس پہ نی زندگی گزار چلے

٭

دلوں کو سجدہ روا اس مقام کا ھی ہے

نی کے دوش کے جس جا پہ شہ سوار چلے

٭

وہ حجرہ دیکھے جہاں عمر فیصلے کرتے

وہ خاک چومے جہاں حیدرِ کرار (ع) چلے

٭

وہ گھر ھی چومے جہاں تھے ایو انصاری

وہ راہ چومے جدھر ان کے یار غار چلے

٭

وضو غیر، تصور ھی جرم ہے لوگو

وہاں پہ جائے تو انسان اشک ار چلے

٭


وہ اغ دیکھے جو عثماں نے دین کو خشا

وہ غار دیکھے جہاں ان کے یار غار چلے

٭

یہ شوق ھی ہے تڑپ ھی ہے تشنگی ھی ہے

جو آس جائے تو پاؤں کہاں اتار چلے

٭٭٭


ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا

ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا

آقا نفس نفس میں مہکا ہے پیار تیرا

٭

تو نے جہالتوں سے انسان کو نکالا

انسانیت پہ احساں ہے ے شمار تیرا

٭

میری حیات جس کی رعنائیوں سے مہکی

وہ ہے سرور تیرا وہ ہے قرار تیرا

٭

ظلم و ستم کے ہر سو چھانے لگے ہیں ادل

پھر دیکھتا ہے رستہ ہر کارزار تیرا

٭

کشمیر ھی تمہاری چشم کرم کا طال

اقصیٰ کی آنکھ میں ھی ہے انتظار تیرا

٭

خالق خدا ہے، مالک دونوں کا تو ہے آقا

کل کائنات تیری، پروردگار تیرا

٭

وہ آس زندگی کی انمول ساعتیں ہیں

جن ساعتوں میں نام نامی شمار تیرا

٭٭٭


زندگی ملی حضور سے

زندگی ملی حضور سے

روشنی کھلی حضور سے

٭

ساری رونقیں حضور کی

ساری دلکشی حضور سے

٭

کائنات ہست و ود میں

کن کی ے کلی حضور سے

٭

زندگی گری پڑی ہوئی

معتر ہوئی حضور سے

٭

اسکو دو جہان مل گئے

جس کی لو لگی حضور سے

٭

اڑتی دھول کا نصی دیکھ

کہکشاں نی حضور سے

٭

آس اہتمام ذکر و نعت

س ہماہمی حضور سے

٭٭٭


محروم ہیں تو کیا غم دل حوصلہ نہ ہارے

محروم ہیں تو کیا غم دل حوصلہ نہ ہارے

طیہ کے ہوں گے اک دن اے دوستو نظارے

٭

رختِ سفر کسی دن اندھیں گے ہم ھی اپنا

ہم کو ھی لوگ ملنے آئیں گے گھر ہمارے

٭

آتے ہیں کام اس کے ایمان ہے یہ اپنا

مشکل میں جو کوئی ھی سرکار کو پکارے

٭

ج یاد ان کی آئی ے اختیار آئی

پلکوں پہ جھلملائے ہر رنگ کے ستارے

٭

جس شخص کو طل ہے جنت کو دیکھنے کی

سرکار کی گلی میں دو چار دن گزارے

٭

جس کا وکیل ر ہو آقا کی پیروی ہو

وہ کیسے استغاثہ انسان کوئی ہارے

٭

ہونٹوں پہ آس ہر دم جاری درود رکھنا

ناؤ تمہاری خود ہی لگ جائے گی کنارے

٭٭٭


کاش سرکار کے حجرے کا میں ذرہ ہوتا

کاش سرکار کے حجرے کا میں ذرہ ہوتا

ان کے نعلین کا جاں پر میری قضہ ہوتا

٭

حشر تک سر نہ اٹھاتا میں درِ اقدس سے

میری قسمت میں ازل سے یہی لکھا ہوتا

٭

ان کے جلوؤں میں مگن رات سر ہو جاتی

ان کو تکتے ہوئے ہر ایک سویرا ہوتا

٭

ان کی راہوں میں نگاہوں کو چھائے رکھتا

ان کی آہٹ پہ دل و جان سے شیدا ہوتا

٭

کھی پیشانی پہ حسنین کے پاؤں پڑتے

اور علی کا کھی سر پر میرے تلوا ہوتا

٭

ہر کوئی چومتا آنکھوں سے لگاتا مجھ کو

ان کی نست سے اد تک میرا چرچا ہوتا

٭


عمر، عثمان، اوکر ، حذیفہ، حمزہ

س صحاہ کو میری آنکھ نے دیکھا ہوتا

٭

یٹھ کر دل پہ میرے نعت سناتے حسان

ناز کا تاج میرے سر پہ سنہرا ہوتا

٭

ر کا احساں ہے کہ آقا کا سخنور ہوں آس

یہ ھی سرمایہ نہ ہوتا تو میرا کیا ہوتا

٭٭٭


فہرست

انتساب ۴

اظہار تشکر ۵

مقدمہ(از: سیّد شاکر القادری) ۷

رائے از ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر ۱۸

شعبہ اردو علامہ اقبال ااوپن یونیورسٹی اسلام آباد پاکستان ۱۸

آس کا آسمان از مشتاق عاجز ۱۹

خوش قسمت انسان(از:شوکت محمود شوکت ایڈووکیٹ) ۲۶

سعادت حسن آس(از:الحاج صوفی محمد بشیر احمد شاہ) ۲۸

تبصرہ(از:سید عبدالدیان بادشاہ) ۲۹

دعا ۳۰

سلام ۳۴

نعتیں ۳۸

عشق بس عشق مصطفےٰ مانگوں ۳۸

پھول نعتوں کے سدا د ل میں کھلائے رکھنا ۳۹

زمیں و آسماں روشن مکان و لا مکاں روشن ۴۰

فضا میں خوشبو بکھر گئی ہے لبوں پہ میرے سلام آیا ۴۱

حقیقت میں وہی ذکرِ خدا ہے ۴۲

چاند تاروں فلک پہ زمینوں میں بھی آپ کے پیار کی روشنی روشنی ۴۳


جس کو حضور آپ کا فیض نظر ملا نہیں ۴۴

رات بھر چاندنی رقص کرتی رہی رات بھر آنکھ موتی لٹاتی رہی ۴۵

حل ہے ہر اک مشکل کا ۴۶

زندگی کا ہراک ہے سلسلہ مدینے سے ۴۷

وصف سرکار کے بیاں کیجئے ۴۸

تیرا ذکر صبح کا نور ہے تیری یاد رات کی چاندنی ۴۹

اے شہ عرب شہ انبیاء تیری سب صفات میں چاندنی ۵۰

نظر میں گنبد خضرا بسا کے لے آنا ۵۱

یہ جو میری آنکھیں ہیں میرے رب کی جانب سے مصطفےٰ کا صدقہ ہیں ۵۲

یہ لبوں کی تھرتھراہٹ یہ جو دل کی بے کلی ہے ۵۳

ملے جس سے قلب کو روشنی وہ چراغِ مدحِ رسول ہے ۵۴

ارض و سما میں جگمگ جگمگ لحظہ لحظہ آپ کا نام ۵۵

جب چھڑا تذکرہ میرے سرکار کا میرے دل میں نہاں پھول کھلنے لگے ۵۶

ان کا ہی فکر ہو ان کا ہی ذکر ہو یہ وظیفہ رہے زندگی کے لیے ۵۷

ترا تذکرہ مری بندگی ترا نامِ نامی قرارِ جاں ۵۸

وجہہ دونوں عالم کی میرے مصطفےٰ ہے تو ۵۹

مدینے کی فضاؤں میں بکھر جائیں تو اچھا ہو ۶۰

سوادِعشق نبی کیا کمال ہوتا ہے ۶۲

لوں نام نبی قلب ٹھہرجائے ادب سے ۶۳

نبی کی چشمِ کرم کے صدقے فضائے عالم میں دلکشی ہے ۶۴


دیوانہ وار مانگیے رب سے اٹھا کے ہاتھ ۶۵

فنا ہو جائے گی دنیا مہ و انجم نہیں ہوں گے ۶۶

تو روحِ کائنات ہے تو حسن کائنات ۶۷

ہمیشہ مری چشمِ تر میں رہیں ۶۹

ہم بے کسوں پہ فضل خدا ہے حضور (ص)سے ۷۰

پیارے نبی کی باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ۷۱

میں غریب سے بھی غریب ہوں مرے پاس دستِ سوال ہے ۷۲

سر جھکایا قلم نے جو قرطاس پر پھول اس کی زباں سے بکھرنے لگے ۷۳

لب کشائی کو اذنِ حضوری ملا چشمِ بے نور کو روشنی مل گئی ۷۴

اپنی اوقات کہاں، ان کے سبب سے مانگوں ۷۵

جمال عکس محمدی سے فضائے عالم سجی ہوئی ہے ۷۶

رنگ لائی مرے دل کی ہر اک صدا لوٹنے زندگی کے خزینے چلا ۷۷

مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم رہے ۷۸

آپ(ص) سے حسن کائنات آپ کہاں کہاں نہیں ۷۹

ہے یہ دربارِ نبی خاموش رہ ۸۰

ہر طرف لب پہ صل علیٰ ہے ہر طرف روشنی روشنی ہے ۸۲

ذکرِ نبی(ص) اسرارِ محبت صلی اللہ علیہ وسلم ۸۳

میں مریضِ عشقِ رسول ہوں مجھے اور کوئی دوا نہ دو ۸۴

ہر اک لب پہ نعت نبی کے ترانے ہر اک لب پہ صلِ علیٰ کی صدا ہے ۸۵

تری یاد کا سدا گلستاں مری نبضِ جاں میںکھلا رہے ۸۶


نور سے اپنے ہی اک نور سجایا رب نے ۸۷

بڑھتی ہی جارہی ہے آنکھوں کی بے قراری ۸۹

دیکھنے والی ہے اس وقت قلم کی صورت ۹۰

وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں ۹۱

صبح بھی آپ(ص) سے شام بھی آپ (ص)سے ۹۲

ثناء خدا کی درود و سلام ہے تیرا ۹۳

ان کی دہلیز کے قابل میرا سر ہو جاتا ۹۵

آپ سے مہکا تخیل آپ پر نازاں قلم۔ ا ے رسول محترم ۹۷

سکون دل کے لیے جاوداں خوشی کے لیے ۹۸

اے شہ انبیاء سرورِ سروراں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں ۱۰۰

آؤ سوچوں ہی سوچوں میں ہم آقا کے دربار چلیں ۱۰۱

اے جسم بے قرار ثنائے رسول سے ۱۰۳

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے ۱۰۴

ہے نام دو جہاں میں وجہِ قرار تیرا ۱۰۶

زندگی ملی حضور سے ۱۰۷

محروم ہیں تو کیا غم دل حوصلہ نہ ہارے ۱۰۸

کاش سرکار کے حجرے کا میں ذرہ ہوتا ۱۰۹


آسمان (منتخب نعتیہ کلام)

آسمان (منتخب نعتیہ کلام)

مؤلف: از : سعادت حسن آس
زمرہ جات: شعری مجموعے
صفحے: 114