معراج خطابت

اصلاح کتب

مؤلف: مولانا عابد عسکری
امام حسین(علیہ السلام)


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


معراج خطابت

مصنف: مولانا عابد عسکری


رضائے الٰہی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ اِبْتِغَاء مَرْضَاة اللّٰهِ وَاللّٰهُ رَ ءُ وْفٌ بِالْعِبَادْ ) ۔

ارشادِ حضرتِ احدیت ہے کہ دیکھو! انسانوں میں ایک ایسا بھی ہے جو اپنی جان کو رضائے پروردگار کی خاطر فروخت کردیتا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔

یہ آیت جس موقع سے تعلق رکھتی ہے، وہ تمام شرکائے مجلس کے ذہن میں ہوگا۔ اب یہ بیع یعنی فروخت کرنا کیا کسی لفظی معاہدہ کے ساتھ ہوا؟ کیا کسی موقعِ خاص پر انہوں نے یہ کہا کہ میں نے بیچا؟ اور اللہ نے پھر کہا کہ میں نے خریدا۔ کبھی اس طرح کی بات چیت نہیں ہوئی۔ تو آخر یہ جو خالق ارشاد فرمارہا ہے کہ انسانوں میں ایک ایسا ہے جو اپنے نفس کو بیچ دیتا ہے۔ تو یہ بیچنا کیا چیز ہے؟ یہ درحقیقت ان کے ایک عمل کی تعبیر ہے کہ انہوں نے جو ایک عمل انجام دیا، اُسے خالق نے نفس کا بیچنا کہا۔یعنی وہ عملی بیع تھی، کوئی لفظی بیع و شرا نہیں تھی۔ اس عملی بیع و شرا کی ابتداء اُس وقت ہوئی کہ جب مشرکین نے یہ فیصلہ کیا کہ اس رات کو پیغمبر خدا کی زندگی کا خاتمہ کردیں۔

اس کے بعد خالق کا یہ حکم ہوا کہ پیغمبر خدا شہر چھوڑ کر مدینہ چلے جائیں۔ اسی کو ہجرت کہتے ہیں جو تاریخ اسلامی میں اتنی اہم بات سمجھی جاتی ہے کہ سال کا آغاز اسی نسبت سے ہوتا ہے۔ جب یہ واقعہ اتنا اہم ہے تو اس واقعہ میں جن شخصیات کا نمایاں کردار ہوا، اُسے بھی فطرتاً نہیں بھولنا چاہئے۔ یہ اور بات ہے کہ مصلحتاً بھول جائیں۔ ہجرت سے متعلق ایک غلط فہمی ہے اور وہ یہ ہے کہ رسولِ خدا کی جان لینے کا منصوبہ بنا تو حکمِ الٰہی یہ ہوا کہ آپ ہجرت کیجئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خطرئہ جان کی بناء پر رسولِ خدا کو چلے جانے کا حکم ہوگیا۔ یعنی ہجرت بربنائے خطرئہ جان ہوئی ہے۔ لہٰذا جو بھی کسی خطرہ سے اپنے مرکز سے ہٹے،وہ مہاجر ہوگیا۔ مگر اب اس کا ایک نتیجہ جو ہوتا ہے، اس پر بھی غور کرلیجئے کہ اگر کوئی خطرئہ جان کی بناء پر میدانِ جنگ سے ہٹے تو اس کو بھی مہاجر کہہ دیجئے۔

لیکن نہیں، ہر خطرئہ جان سے جگہ چھوڑنے والے کو مہاجر نہیں کہنا چاہئے۔ حقیقت میں نوعیت ہجرت کے سمجھنے میں غلطی ہے۔ صورتِ واقعہ یہ تھی کہ پیغامِ اسلام پھیلا تو یہ چرچا مدینہ تک پہنچا۔ مدینہ کے اصل باشندے تو اہلِ مکہ کے ہم مسلک تھے یعنی بت پرست تھے۔ وہاں آکر یہودی پناہ گزیں کی حیثیت سے مقیم ہوئے تھے اور سودکے کاروبار کے نتیجہ میں انہوں نے تھوڑے ہی عرصہ میں جائیدادیں خرید لیں اور بڑی طاقت کے مالک بن گئے۔کبھی کبھی ان دونوں میں جھگڑا بھی ہوتا تھا۔ یہودی چونکہ ایک حد تک آسمانی کتابوں کا علم رکھتے تھے، اس لئے آخری رسول کے آنے کی خبریں دے کر دھمکایا کرتے تھے کہ تم اب تو چاہے جتنا ہمیں ستا لو، لیکن جب آخری رسول آئے گا تو پھر وہ ساری دنیا سے بت پرستی کا خاتمہ کردے گا اور تم یہاں سے نکلنے پر مجبور ہوجاؤ گے۔ قرآن مجید میں اس کا تذکرہ ہے۔

یہ یہود کے کردار کا تذکرہ ہے کہ پہلے یہ آئندہ فتح کی خوشخبری دیا کرتے تھے، اُن کافروں پر جو وہاں تھے لیکن جب وہ رسول آیا تو کافر مسلمان ہوگئے اور یہ سختی کے ساتھ کافر ہوگئے۔ تو یہودیوں کی زبان سے آخری رسول کی اطلاع اہلِ مدینہ تک پہنچتی رہتی تھی۔ باشندگانِ مدینہ کے دو قبیلوں اوس اور خزرج میں نزاع رہا کرتی تھی۔ جنگ ہونے والی تھی۔ ان میں سے ایک قبیلہ کے آدمی مکہ والوں سے مدد حاصل کرنے کیلئے مکہ آئے اور وہاں کے ایک بہت بڑے سردار کے پاس پہنچے۔ اُس نے یہ کہا کہ آجکل میں خود ایک بہت بڑی مصیبت میں گرفتار ہوں، اس لئے تمہاری مدد سے مجبور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مصیبت کیا ہے؟

اُس نے کہا کہ یہاں ایک آدمی نے رسالت کا دعویٰ کیا ہے اور وہ ہمارے خداؤں کو بُرا کہتا ہے۔ یہ بات سن کر وہ لوگ نا اُمید ہوئے۔ سوچا کہ اب مکہ آگئے ہیں تو کعبہ جاکر طواف کرلیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ تم کعبہ جاؤ۔کہنے لگے کہ اتنی دور سے آئے ہیں، جو اصل مقصد تھا، وہ بھی پورا نہیں ہوا اور ہم بغیر کعبہ کی زیارت کے چلے جائیں؟آخر کیوں منع کرتے ہو؟

انہوں نے کہا کہ کعبے کے پاس وہ آدمی ہوتا ہے ، وہاں وہ جو کہتا ہے کہ میرے اوپر اُترا ہے، اُسے پڑھا کرتا ہے۔ اُسے سننا خطرناک ہے ، لہٰذا ہماری رائے نہیں ہے کہ تم وہاں جاؤ۔ یعنی حق کی بات سننا ہمیشہ اہلِ باطل کو خطرناک معلوم ہوتا ہے۔ جنہیں اپنے حق پر اعتماد ہوگا، وہ کبھی نہیں روکیں گے کہ وہاں نہ جاؤ۔ جنہیں احساس ہوگا اپنے عقائد کے کارخانہ شیشہ گری کا، وہ سنگ تحقیق سے ڈریں گے۔اس لئے انہیں اندیشہ ہوگا کہ کہیں اس میں ذوقِ تحقیق نہ پیدا ہو جائے۔

اُنہوں نے کہا:نہیں! ہم ضرور جائیں گے۔ وہ جو کچھ پڑھتا ہے، پڑھتا رہے، ہمیں کیا مطلب؟ جب یہ نہیں مانے تو انہوں نے کہا کہ جاؤ گے تو ہم ذرا انتظام کردیں۔ تو وہ روئی لائے اور بڑی کوشش کے بعد روئی اُن کے کانوں میں ٹھونسی۔ دبا دبا کر کانوں کو بند کیا اور کہا کہ اب جاؤ۔

اب میں کہتا ہوں کہ توفیقِ الٰہی ان کے شاملِ حال تھی اور پہلے سے کچھ نہ کچھ ذوقِ تحقیق ان کے ضمیر میں موجود تھا کہ یہاں سے تو وہ اس اہتمام کے ساتھ گئے لیکن راستے میں آپس میں ہر ایک نے کہا کہ یہ بہت بے عقلی کی بات ہے۔ یہ اس شہر کا نیا واقعہ ہے، اب اپنے شہر میں جائیں اور اس واقعہ کو نہ سنائیں۔ لہٰذا راستے میں انہوں نے وہ روئی کانوں سے نکالی۔ اب جو وہ کعبہ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ حضرت کلامِ الٰہی پڑھ رہے ہیں۔ اُسی وقت ایسا اثر ہوا کہ جو خطرہ ان کے ناصحین کو تھا، وہی ہوا کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا۔ اب یہ دو آدمی جب واپس ہوئے تو مبلّغِ اسلام ہوکر۔

ان کے اثر سے دوسرے لوگ متاثر ہوئے۔ کچھ نے قبول کیا، کچھ مشتاقِ تحقیق ہوئے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ دوسری مرتبہ وہاں سے سات آدمی آئے۔ یہ سات آدمی پیغمبر اسلام کی خدمت میں شرفیاب ہو کر گئے تو یہ ساتوں مبلغ ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ کے ہر گھر میں اسلام داخل ہوگیا۔یعنی ہر گھر کے ایک دو آدمی مسلمان ہوگئے۔ اتنی کثرت سے وہاں مسلمان ہوگئے کہ تیسری دفعہ وہاں سے ستّر آدمیوں کا وفد حضرتِ پیغمبر خدا کی خدمت میں آیا اور ان ستّر آدمیوں نے اسلام قبول کرلیااور اسی وقت حضور کو مدینہ کی دعوت دی کہ آپ مدینہ تشریف لائیے، ہم آپ کی مدد کیلئے ہر طرح تیار ہیں۔

یہ دور وہ تھا کہ جنابِ ابو طالب (ع)کاسایہ سر سے اُٹھ چکا تھااور یہی وقت پیغمبر خدا پر کٹھن تھا۔ متفقہ تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت ابو طالب (ع) کی حیثیت آپ کے لئے قلعہ کی سی تھی۔ وہ قلعہ نہ رہا تو پھر ہر طرح کی اذیتیں اور تکالیف آپ کو پہنچائی جارہی تھیں۔

ان لوگوں کی پیشکش کا تذکرہ آپ نے اپنے خاندان کے افراد سے کیا کیونکہ جنابِ ابو طالب (ع) کے اثر کی وجہ سے جو لوگ بظاہر اسلام میں داخل نہیں بھی ہوئے تھے، وہ بھی پیغمبر خدا کے حامی و مدد گار تھے۔ عباس نے، جو حضرت کے چچا تھے، کہا کہ وہ لوگ آئیں تو مجھے بلا لینا، میں بھی اس گفتگو میں شریک ہوں گا۔

چنانچہ جب وہ لوگ دوبارہ آئے ، جواب لینے کیلئے، تو جنابِ عباس بھی موجود تھے۔ جنابِ عباس نے اپنی خاندانی فصاحت سے کام لیتے ہوئے ان سے کہا کہ اگر دعوت دے رہے ہو تو پورے طور پر سمجھ لو ، میں تمہیں یہ بات سمجھا دوں کہ پورے عرب سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ تمام عرب تمہارے دشمن ہوجائیں گے۔اگر پورے طور سے حمایت کرسکو تو لے جاؤ ورنہ جس طرح اب تک ہم نے حفاظت کی ہے، (انہوں نے ہم میں ابو طالب (ع)کو بھی داخل کرلیا کیونکہ کردار ایک شخص کا ہوتا اور وہ پورے قبیلہ کیلئے باعث فخر ہوجاتا ہے)۔

تو ہم نے جس طرح اب تک ساتھ دیا ہے، اسی طرح آئندہ بھی مقابلہ کرتے رہیں گے۔ مدینہ کے وفد میں اس بیان سے جوش و جذبہ کا اضافہ ہوا، انہوں نے کہا کہ ہم آخری قطرئہ خون تک بہانے کیلئے تیار ہیں ۔

اسی وقت ہجرت کا منصوبہ بن گیا مگر پیغمبر خدا(معاذاللہ) لیڈر نہیں تھے کہ قوم کو خطرہ میں چھوڑ جائیں اور خود نکل کر چلے جائیں۔اس لئے آپ نے اصحاب کو بھیجنا شروع کردیا۔ دس دس بیس بیس اصحاب کے قافلے جانے لگے۔ صورتِ واقعہ تاریخ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہجرت کے موقع تک چند آدمی رہ گئے تھے جو نہیں گئے تھے یا وہ جو بالکل مجبور تھے مثلاً کسی کے دائرئہ غلامی میں تھے اور ظلم کا شکنجہ اتنا سخت تھا کہ وہ جاہی نہیں سکتے تھے، جیسا کہ جنابِ بلال  وغیرہ۔تو یہ رہ گئے اور باقی تمام اصحاب جا چکے تھے۔

اب مشرکین نے دیکھا کہ یہ سب تو وہاں چلے جارہے ہیں اور عنقریب یہ بھی چلے جائیں گے۔ اگر انہیں ذات سے عداوت ہوتی تو اطمینان کا سانس لیتے کہ جسے ہم پسند نہیں کرتے، وہ ہمارے درمیان سے جارہا ہے مگر انہیں ذات سے عداوت نہ تھی، پیغام سے عداوت تھی۔ لہٰذا انہوں نے طے کرلیا کہ انہیں ہم وہاں تک نہ پہنچنے دیں گے۔ ان کے پیغام کیلئے جو زمین ہموار ہے، وہاں تک یہ نہ پہنچنے پائیں۔ تو بس ایک جملہ اس غلط فہمی کے دُور کرنے کیلئے کافی ہے کہ منصوبہ ہجرت خطرئہ جان سے نہیں پیدا ہوا بلکہ خطرئہ جان منصوبہ ہجرت سے پیدا ہوا ۔

اب ہجرت کرکے جو جارہا ہے، وہ اپنی جان بچانے کیلئے نہیں جارہا ہے بلکہ خالق کے منصوبہ کو بچانے کیلئے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال رہا ہے اور جو ان کے بستر پر سوئے گا، وہ اپنے چچا زاد بھائی کی جان بچانے کیلئے نہیں سویا ہے بلکہ مقصد خالق کی حفاظت کیلئے سویا ہے۔

انہوں نے منصوبہ بنایا، رات مقرر کردی گئی۔ اس کیلئے دارالندوة میں اجتماع ہوا۔ ہر شخص نے اپنی رائے پیش کی۔ کسی نے کہا کہ ایک آدمی کا قتل کردینا کونسا مشکل ہے، کوئی جاکر قتل کر دے۔ کسی نے کہا کہ نہیں! بنی ہاشم پھر انتقام لئے بغیر نہیں رہیں گے اور ایک مدت تک جنگ و جدل کا سلسلہ جاری رہے گا۔کسی نے کہاکہ قید کردو۔انہوں نے کہا کہ بنی ہاشم چھڑوا کر لے جائیں گے۔ آخر میں ایک جہاندیدہ، بظاہر بہت ہی سن رسیدہ تجربہ کار آدمی نے یہ بات کہی کہ کوئی ایک آدمی نہیں ، ہر قبیلہ کا ایک ایک آدمی چن لو، وہ سب جاکر اجتماعی طور پر اس کام کو انجام دیں تاکہ تمام قبیلوں پر خون تقسیم ہوجائے۔ پھر بنی ہاشم کس کس کا مقابلہ کریں گے۔ یعنی یہ چیز کہ نمائندے مل کر جمع ہوں تو جو کام کیا جائے، اُس کی ذمہ داری تقسیم ہوجائے۔ یہ شروع اُس وقت سے ہوا۔

رات معین ہوگئی۔ ان کے مقابلہ میں خالق نے منصوبہ بنایا اور میں نے جیسے یکساں الفاظ صرف کئے ہیں، بالکل وہی قرآن نے صرف کئے ہیں۔ انہوں نے ایک ترکیب کی اور ہم نے بھی ایک ترکیب کی۔ یعنی لطافت تو جبھی ہوتی ہے کہ اس طرح کام انجام دیا جائے کہ دوسرا سمجھے نہیں۔

تو خالق نے جو ترکیب کی، اس میں گویا انہیں بیوقوف بنانے کا پورا اہتمام کیا۔ خالق کی طرف کا پورا منصوبہ یہ کہ رسولِ خدا کو حکم ہوا کہ آپ تو چلے جائیے اور ایک خاص نام بتا دیا کہ اس شخص کو ، جس پر آپ کا گمان ہو سکے، بستر پر لٹا جائیے۔اور ہم ترکیب یہ بتارہے ہیں تو یہ بھی بتادیں کہ یہ آپ کا بال بھی بیکا نہ کرسکیں گے۔ جو ہمارا مقصد ہے کہ آپ مدینہ پہنچ سکیں، وہ پورا ہوگا۔

یہ کام آپ انجام دیجئے۔ اب رسول نے بلایا اُسے، جس کیلئے کہا گیا تھا اور ارشاد فرمایا کہ حکمِ الٰہی یہ ہوا ہے کہ میں چلا جاؤں اور اس رات تم کو اپنے بستر پر لٹا جاؤں۔ تو انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ میرا کیا ہوگا؟ یہ پوچھا کہ حضور کی زندگی تو محفوظ رہے گی؟

میں کہتا ہوں کہ یہ کیوں پوچھ رہے ہیں کہ حضور کی زندگی تو محفوظ رہے گی؟ اس لئے کہ اپنی جان کی قیمت پوچھنا ہے۔

نہ انہوں نے پوچھا کہ میرا کیا ہوگااور نہ رسول نے یہ بتایا کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا! انہوں نے پوچھا کہ حضور کی زندگی تو محفوظ رہے گی؟ جو پوچھا تھا، اُس کا جوا ب دے دیا کہ مجھ سے حفاظت کا وعدہ ہوا ہے یعنی خالق نے ذمہ داری لے لی ہے۔

بس اب یہ سننا تھا، دیکھئے علم نبوت اور علم امامت کو درمیان میں لائیں گے تو تاریخ کا کوئی واقعہ سمجھ میں نہیں آئے گا۔بس یہ سننا تھا کہ انہوں نے اپنا سر سجدئہ شکر میں رکھ دیا کہ خدا کا شکر ہے کہ اُس نے مجھے اپنے حبیب کا فدیہ بنایا۔

اسے جناب شاہ عبدالحق محدث دہلوی ”مدارج النبوة“ میں، جو فارسی زبان میں ہے، تحریر فرماتے ہیں کہ یہ پہلا سجدئہ شکر ہے جو روئے زمین پر ہوا۔ سجدئہ شکر جزوِ سنت ہے یعنی اب شریعت میں سجدئہ شکر کا وجود ہے۔ تو میں کہتا ہوں کہ قرآن کی آیت سے سجدئہ شکر نہیں بنا ہے، قرآنِ ناطق کے عمل سے بنا ہے۔

شکر کا سجدہ کیا کہ اللہ نے مجھے فدیہ قرار دیا۔ میں کہتا ہوں کہ یہی سجدئہ شکر جان کا بیچ دینا تھا۔ ان کا آج کا کردار شروع یہاں سے ہوا کہ جب سجدئہ شکر کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے اپنی جان بیچ دی۔ چنانچہ انہوں نے جو منصوبہ بنایا تھا، وہ عمل میں لاکر دکھایا۔

چاروں طرف سے محاصرہ کرلیا گیا اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس محاصرہ سے پہلے پیغمبر خدا کو اپنے گھر سے برآمد ہونے پر مامور کردیتا۔جب محاصرہ مکمل ہو گیا تو حکم ہوا کہ اب آپ اس محاصرہ کے اندر سے چلے جائیے۔ یعنی رسول ان کے درمیان سے تشریف لے گئے تو اب دنیا دیکھے کہ خدا کو جب کسی کی حفاظت کرنا ہوتی ہے تو غیبت ہی سے کام لیتا ہے۔

ہر صاحب عقل سمجھ سکتا ہے کہ خدا کی قدرت کیلئے ایک گھڑی کی غیبت اور ایک ہزار برس کی غیبت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پیغمبر خدا ان کے محاصرہ کے مکمل ہونے کے بعد ان کے درمیان سے تشریف لے گئے اور انہوں نے نہیں دیکھا۔حضرت علی (ع)اسی وقت رسول کے بستر پر چادرِ رسول اوڑھ کر لیٹ گئے۔ عرب کے مکانوں کی نیچی نیچی دیواریں،وہ دیکھ رہے تھے کہ رسول ہیں اور نظر آتا تھا کہ واقعی ہیں۔

لہٰذا اطمینان سے گھیرے رہے۔اطمینان سے محاصرہ کئے رکھا۔اب ایک پہلو پر غور کیجئے کہ حکم ہوا تھا بستر پر لیٹنے کا۔ سونے کا حکم نہیں تھا اور عقلی طور پر حکم لیٹنے کا ہی ہوسکتا ہے، سونے کا نہیں ہوسکتا۔کام افعالِ اختیاری سے وابستہ ہوتے ہیں۔ لیٹ رہنا انسان کا ارادی فعل ہے۔ سو جانا انسان کا ارادہ فعل نہیں ہے۔ لہٰذا یہ حکم ہوہی نہیں سکتا تھا کہ سوجاؤ۔یہی حکم ہوسکتا تھا کہ لیٹ رہو۔ارادی کام یہی تھا، اس کے بعد جاگنا اور سونا، یہ نفس کی کیفیت سے متعلق ہے۔ اگر نفس مضطرب ہے تو جاگتا رہے گا، اگر نفس مطمئن ہے تو سو جائے گا۔

ہر صاحب فہم غورکرے کہ علی (ع)،علی ہوتے ہوئے تو اتنے خطرہ میں نہ تھے جتنے رسول بن کر لیٹنے میں خطرہ تھا۔ہم نے دنیا میں بھیس بدلے ہوئے دیکھے ہیں، عموماً بھیس وہ بدلتے ہیں جو خطرہ سے دور ہوں، مثلاً مرد عورتوں کا لباس پہن کر خطرہ سے نکلا کرتے ہیں ۔ مگر یہ نیا بھیس بدلنا دیکھا کہ جس کے قتل کا منصوبہ ہو، اُس کے بستر پر لیٹا جائے اور اس کی چادر اوڑھی جائے۔

اب ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلاؤں کہ خطرہ میں جو ذرا کمی تھی، اُس کو اللہ نے اپنی قدرت سے پورا کردیا۔ یعنی خطرہ کو بڑھا دیا کیونکہ متفق علیہ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں حلیے بھی لکھے ہوئے ہیں کہ پیغمبر خدا کا قدوقامت اور طرح کا تھا اور حضرت علی علیہ السلام کا قدوقامت اور طرح کا تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ وہ جو گھیرے ہوئے تھے، وہ کوئی اغیار تو نہیں تھے،اسی قبیلہ کے لوگ جن کے درمیان تریپن( ۵۳) برس وہ رہ چکا جو گیا ہے اور تئیس( ۲۳) برس یہ رہ چکا جو لیٹا ہے۔

شاعر کی زبان میں یوں کہوں کہ جو گھیرا ڈالے ہوئے ہیں، وہ خوب اندازِ قد سے واقف ہیں مگر بیوقوف رات بھر سمجھتے رہے کہ رسول بستر پر ہیں اور اگر نہ سمجھتے تو اسی وقت تعاقب میں چلے کیوں نہ جاتے؟اسی وقت سمجھ لیتے تو خدا کا منصوبہ شکست کھاجاتا۔ مگر واقعہ یہی ہے کہ رات بھر نہیں سمجھے۔

اب کیوں نہیں سمجھے؟آجکل تو سائنس کی دنیا ہے، کسی بات کو بے سمجھے نہیں مانا جاتا۔ واقعہ یہ ہے کہ رات بھر ڈھونڈنے نہیں گئے، صبح کو گئے ۔ جب چادر ہٹائی تب سمجھے کہ رسول نہیں ہیں، علی (ع) ہیں۔ تو آخر یہ رات بھر کیوں نہیں سمجھے؟ سائنس کی دنیا غور کرے یا جو میں کہوں، اُسے قبول کرے۔ میں کہتا ہوں کہ یا تو یہ بات ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ بستر پر لیٹو ۔ تو لیٹنا اُن(ع) کا کام تھا اور اللہ نے رات بھر کیلئے رسول بھی بنا دیا۔

قرآن مجید کہہ رہا ہے:

( قُلْنَا یَانَارُکُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلَامًا عَلٰی اِبْرَاهِیْم ) ۔

”ہما را قول ہوا کہ اے آگ! سرد ہوجا اور سلامتی رہے ابراہم (ع) پر“۔

کیا جتنی دیر میں مَیں نے یہ آیت پڑھی اور ترجمہ کیا، اتنی دیر میں اُس نے یہ آیات پڑھیں؟ یہ تو جب ہوتا جب متکلم زبان و دہن سے بات کرتا ہوتا اور جب وہاں زبان و دہن سے کلام نہیں ہے، وہ جسم و جسمانیات سے بری ہے، یہ قول بھی لفظی نہیں ہے کہ یہ الفاظ اُس نے کہے جس میں اتنی دیر لگے، بلکہ یہ ایک اشارئہ قدرت اور اس کی لفظی تعبیر ہے۔

تو کیا اسی طرح کے ایک اشارہ میں وہ رات بھر کیلئے علی (ع)کو رسول نہیں بنا سکتا؟اور پھر قرآن کے ماننے والے کو میری اس بات پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے، نہ انکار کرنا چاہئے۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت کیلئے ایک دشمن کو عیسیٰ(ع) کی شکل دے دی جائے تو اپنے آخری رسول کی حفاظت کیلئے اگر ان کے نفس کو وہی صورت دے دی جائے تو اس میں حیرت کی کونسی بات ہے؟

یہ کوئی ایسی قابل انکار بات نہیں یا پھر میرے ذہن میں ایک بات آتی ہے ، سائنس والوں کی سمجھ میں آنے کی یہ بات بھی نہیں ہے، اگر یہ بات بھی نہیں ہے اور وہ بات بھی نہیں ہے تو پھر کیا بات ہے؟سب اندھے ہوگئے تھے؟ کیا کوئی پہچان نہیں رہا تھا جبکہ دونوں کے

قدو قامت سے خوب واقف!

تو یا تو وہ بات ہے جو میں نے کہی یا پھر رسول کی چادر کی کرامت ہے کہ جب رسول اوڑھیں تو ان کے جسم پر راست اور جب علی (ع) اوڑھیں تو اُن(ع) کے جسم پر راست او رجب پانچوں آجائیں تو وہ پانچوں کیلئے کافی۔میرا تصور یہ ہے کہ یہ چادر قدوقامت پر نہیں ناپی گئی تھی، یہ نورِ واحد پر بیونتی گئی تھی۔

بعد میں حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جیسی گہری نیند ہجرت کی رات سویا، ویسی گہری نیند کبھی نہیں سویا۔ ہمارے لئے تو ان کا ارشاد آمنّاوصدّقنا کہنے کیلئے کافی ہے لیکن دنیا بر بنائے واقعہ اس پر غور کرے کہ عرب کے نیچے نیچے مکان، وہ دیکھ رہے تھے کہ سامنے ہیں اور آپس میں باتیں ہورہی تھیں۔ یہ بھی تاریخ میں ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ابھی حملہ کردو، داخل ہوجاؤ۔ کوئی کہتا ہے کہ نہیں، صبح تک انتظار کرو، جلدی کیا ہے؟ اب کوئی بھاگ کر تو نہیں جائیں گے؟ یہ سب چرچے آپس میں ہورہے ہیں، نیزے بھی لٹک رہے ہیں، تلواریں بھی چمک رہی ہیں اور یہ سب آپس میں باتیں بھی کررہے ہیں۔

میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی نفس غیر مطمئن ہوتا تو رات بھر یہ راز راز رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ بار بار چادر اُلٹ کر دیکھتا کہ آتو نہیں رہے! یہ رات بھر راز رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تو سو رہے تھے، انہیں تو مطلب ہی نہیں تھا کہ آرہے ہیں یا نہیں آرہے اور گہری نیند سو رہے تھے۔وہ سب آپس میں باتیں کیا کریں، یقینا ہمارے لئے خلافِ فطرت ہے یہ گہری نیند۔ ہمارے ہاں تو محلہ میں کھٹکا ہوجائے تو نیند اُڑ جائے، چہ جائیکہ اپنے گرد کھنچا ہوا تلواروں اور نیزوں کا حصار ہو اور اس میں گہری نیند آئے۔

دوسری بات یہ کہ جسے رات کو سونے کی عادت نہ ہو، اُسے کیونکر نیند آئے گی۔ ان(ع) کی رات تو محرابِ عبادت میں جاگ کر گزرتی تھی، تو یہ کبھی سوتے نہیں تھے۔آج کیونکر نیند آگئی۔اس لئے بھی خلافِ فطرت۔ اس کے علاوہ نفسیاتی طور پر جو کسی عبادت کا ذوق رکھتا ہو اور اُسے کسی وجہ سے بجا نہ لا سکے تو اسے قلق ہوجاتا ہے، اسے صدمہ ہوتا ہے، بے چینی ہوتی ہے۔ تو پھر ان کو کیوں ایسا اطمینان ہے؟

میں کہتا ہوں کہ یہ بے چینی اُسے ہوتی جس کی عبادت بر بنائے عادت ہوتی لیکن جس کی عادت بر بنائے احساسِ فرض ہو ؟ تو میں کہتا ہوں کہ گہری نیند سونے کا راز ہی یہی ہے یعنی یہ احساس کہ جس کی خاطر روز جاگتا تھا، اُسی کی خاطر آج سو رہا ہوں۔

تو حضورِ والا! یہی راز ہے ان کے گہری نیند سونے کا اور دوسرا راز میرے موضوعِ بیان سے متعلق ہے۔ میں کہتا ہوں کہ نیند اُس کی اُڑے جو جان کو اپنی جان سمجھتا ہو اور جو جان کو فروخت کر چکا ہو، اُسے کیوں فکر ہو؟ میں کہتا ہوں کہ یہ ایک بہت ہی عام محاورہ ہے۔ جو شخص بہت ہی غافل نیند سوئے، اُسے کہتے ہیں گھوڑے بیچ کر سو رہا ہے۔تو جو گھوڑے بیچ کر سوئے، وہ تو گہری نیند سوئے گا اور جو جان بیچ کر سوئے___؟

دیکھئے اس وقت سجدئہ شکر کیا جب کہا گیا کہ بستر پر سوؤ۔ اب اللہ نے حفاظت کی اور ایک روایت کے مطابق جبرئیل (ع) و میکائیل (ع)بھیجے گئے کہ دیکھو، اس کی حفاظت کرو۔میں کہتا ہوں کہ کیا یہ فرشتے جو بھیجے ہیں، وہ اس لئے کہ ان کی جان کو گزند نہ پہنچے؟ انہوں نے تو جان دے دی۔ اب یہ جو اس نے فرشتوں کو بھیجا ہے، یہ اپنے کام سے بھیجا ہے کہ ابھی اس جان سے اُسے کچھ کام لینے ہیں تو اپنے مقصد کیلئے ان کی حفاظت کا بھی سامان کیا۔ لیکن وہ ہم ہیں جنہیں جان کے بچنے کی خوشی ہو۔ یہ تو شاید جب زندہ و سلامت بستر سے اٹھتے تو کچھ ملول ہوتے، صدمہ ہوتا کہ میں نے جان دی تھی اور وہ جیسے قبول نہیں ہوئی۔ میرا مقصد پورا نہ ہوا۔ذہنیتوں کے اختلاف سے اثر بدلتا ہے، کوئی اور ہوتا تو خوش ہوتا۔انہیں ممکن ہے کہ صدمہ ہوتا تو خالق نے یہ آیت اُتاری کہ:”( مِنَ النَّاسِ )

میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک یہ آیت اُتری ہو، ہو سکتا ہے کہ صدمہ رہا ہو۔ اس عالم الغیب نے ان(ع) کے نفس کی کیفیت دیکھ کر یہ آیت اُتاری:

( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَه ابْتِغَامَرْضَاتِ اللّٰهِ )

”دیکھو! انسانوں میں ایک یہ بھی ہے جو ہماری مرضی کی خاطر اپنی جان کو فروخت کر دیتا ہے“۔

اس وقت یہ کہتا ہوں کہ قرآن کی یہ آیت دراصل جان کی رسید ہے کیونکہ بظاہر تو جان انہی کے جسم میں رہی۔ تو خالق نے یہ رسید قرآن میں اُتار دی کہ تم نے جان دی اور ہم نے پائی۔ اب ہمارے ہو کر زندہ رہو۔

اب اُن (ع)کی پوری زندگی آیت کی تفسیر ہے۔اب انہیں دوسروں کے عمل کو نہیں دیکھنا ہے۔ اُحد کا میدان ہے، ہوا کرے۔ جس کی جان اپنی ہو، وہ بچانے کی فکر کرے۔ جب یہ جانتے ہیں کہ میری جان میری نہیں ہے، کسی اور کی ہے ، خدا کی ملکیت اب ان کی امانت ہے اور امین افراد کیلئے امانت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اب یہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا امانت دار سمجھ رہے ہیں کہ یہ میرے جسم میں میری جان اللہ کی امانت ہے۔تو جب تک امانت رہے، انسان کو فکر ہوتی ہے۔ کسی کو شب ہجرت کی فکر ہوتی، انہیں عمر بھر فکر ہے۔اس لئے بس ایک سجدئہ شکر مجھے صفحہ تاریخ پر ملا۔عمر بھر مجھے سجدئہ شکر نہیں ملا۔ یہ بڑا اہم دعویٰ میں نے کیا ہے کیونکہ روایات میں ڈھونڈنے سے غلط سے غلط بات مل جاتی ہے مگر بعض اوقات سچائی اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ جھوٹ کو قدم رکھنے کا موقع نہیں ملتا۔جس جس موقع پر دنیا سجدئہ شکر کرتی، ان کے ہاں مجھے نہیں ملتا۔

شب ہجرت حصار سے جب نکلے، تب سجدئہ شکر کرتے۔ کوئی ضعیف سے ضعیف روایت نہیں کہ سجدئہ شکر کیا ہو۔ بدر میں کیسا خطرناک موقع، ہزاروں کے مقابلہ میں تین سو تیرہ آدمی، بے سروسامانی ایسی کہ صرف تیرہ تلواریں۔ وہاں سے فاتحانہ شان سے واپس ہوئے تو گھر آکر سجدئہ شکر کیا ہوتا کہ ایسے خطرناک موقع سے زندہ واپس ہوا۔ مگر بدر کے اختتام پر سجدئہ شکر نہیں کیا۔

اُحد میں تنہا رہ گئے، سترزخم جسم پر آئے مگر زندہ و سلامت واپس آئے، پھر سجدئہ شکر کیا ہوتا۔ اتنا خطرناک موقع اور پھر بھی زندہ واپس ہوا، اس وقت سجدئہ شکر کرتے۔ارے! خود سجدئہ شکر نہ کرتے، سیدہ (ع) عالم سے کہتے کہ شکر کریں۔ مگر کوئی جھوٹی روایت بھی نہیں ملتی۔ نہ خود شکر کرتے ہیں نہ کسی اپنے سے کہتے ہیں کہ شکر کرو۔

خندق کا خطرناک موقع جہاں ایک سورما ایسا آیا جو ہزار کے مقابلے میں ایک تھا اور جنگ شروع ہونے سے پہلے لوگ سوچ میں پڑے ہوئے تھے کہ اس سے کون مقابلہ کر سکتا ہے؟ یہ اس کے مقابلے میں باوجودیکہ زخمی ہوئے، اس کی تلوار سر مبارک پر پڑی۔

ایک یہ سورما ہے جس کا وار علی علیہ السلام پر چل گیا اور اس نے زخمی کیا، اس سے ایک بڑی حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ علی (ع) جنگ میں کبھی قوتِ امامت سے نہیں لڑے، ورنہ کبھی زخمی ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ ہمیشہ انسانی قوت اور انسانی فن سے لڑے۔ کبھی قوتِ امامت سے نہیں لڑے اور وہ جو ہزار کے مقابلے میں ہو، جتنا کسی کا ہاتھ طاقتور ہوگا، اُتنی ہی اُس کی ضرب بھی طاقتور ہوگی۔ پھر بھی وہ تلوار جیسی بھی تھی، آپ(ع) فتح کرکے اور دشمن کو تہہ تیغ کرکے واپس ہوئے تو اب موقع تھا کہ سجدئہ شکر کرتے کہ اتنے بڑے غنیم کے مقابلہ میں فتح پائی ۔ لیکن کسی تاریخ میں، کسی موقعہ پر مجھ کو نظر نہیںآ تا کہ سجدئہ شکر کیا ہو۔ اگر کسی کی نظر سے گزرے تو مجھے بتا دے تاکہ میری معلومات میں اضافہ ہو اور میں اتنی قوت کے ساتھ پھر انکار نہ کروں۔

تو جناب! عمر بھی میں نہیں دیکھتا کہ کبھی سجدئہ شکر کیا ہو۔ خیبر سے واپس آکر، حنین سے واپس آکر، اور پھر پیرانہ سالی میں جمل سے واپس آکر، صفین سے واپس آکر، نہروان سے واپس آکر، کبھی نہیں کیا ، عمر بھر نہیں کیا سجدئہ شکر، بلکہ احساس ہے ایک بارِ امامت کا۔ جب فتح کرکے واپس آتے ہیں ، سجدئہ شکر نہیں کرتے کہ ابھی راستے میں ہوں، منزل ابھی دور ہے، لیکن ایک حملہ ہے جس میں روح سجدئہ شکر کرتی ہے، وہ کونسا؟ جب تلوار سر پر پڑی، تو اب کہا:

فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَةِ “۔ ”خدا ک ی قسم! میں کامیاب ہوگیا“۔

بخدا! اس جملہ میں وہی ہے جو الحمدللہ میں ہے۔ اس جملہ میں وہی ہے جو سجدئہ شکر میں ہے۔ اب سمجھے کہ وقت آگیا امانت کو مالک تک پہنچانے کا۔ اس کا سامان ہوگیا۔ سجدئہ شکر ان الفاظ میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ کیسی ضربت تھی یہ؟ اس محل پر ہزار کے مقابل کا جو سورما تھا، اس کی تلوار پڑی تھی، اسی محل پر یہ تلوار پڑی ہے، یہ تلوار کیسی قیامت خیز تھی کہ فاتح خیبر کا یہ عالم ہوگیا کہ بیٹوں سے کہتے ہیں کہ گھر لے کر چلو، مجھے گھر لے کر چلو۔ ان الفاظ میں کتنی بے بسی ہے۔

اربابِ عزا! لے چلنے کا ایک تصور تو یہ ہوتا ہے کہ سہارہ دے کر لے چلے،اس کے بعد یہ کہ بغلوں میں ہاتھ دے کر لے چلے لیکن صورت لے چلنے کی یہ بتائی ہے کہ ایک چادر لائی جاتی ہے، اس میں لٹایا جاتا ہے یعنی کسی کا جنازہ ایک دفعہ اُٹھا ہوگا، ان(ع) کا جنازہ دو دفعہ اُٹھا۔

اس چادر میں گھر لائے جاتے ہیں۔ خود محسوس کرلیا تھا کہ اب میں جانبر نہیں ہوسکتا، اسی لئے اپنے الفاظ میں سجدئہ شکر کیا تھا۔ جبھی تو شکرانہ ادا کیا کہ الحمدللہ ، میں کامیاب ہوا۔یہ علی علیہ السلام کا انتہائے سفر زندگی پر سجدئہ شکر ہے۔


جو اُسوہِ رسول ہے

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( لَقَدْکَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةحَسَنَة ) ۔

ارشاد ہورہا ہے تمام فرزندانِ اسلام کو مخاطب کرکے کہ تمہارے لئے اللہ کے رسول میں عمل کا بہترین نمونہ ہے۔ ہم اطاعت کے بھی معنی کہہ دیتے ہیں پیروی اور اتباع کے بھی معنی کہہ دیتے ہیں پیروی۔ لیکن پیروی کے معنی درحقیقت نقش قدم پر چلنا اور افعال و اعمال کو نمونہ بنا کر عمل کرنا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ کی اطاعت کا حکم ہے لیکن پیروی کا حکم ، نقش قدم پر چلنے کا حکم، پیغمبر خدا کے سلسلہ میں ہے۔ یہاں یہ نہیں کہا جارہا کہ تمہارے لئے خدا اور رسول میں پیروی کا موقعہ ہے بلکہ یہ کہا جارہا ہے کہ:

( لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰه ) ۔

”تمہارے لئے اس کے رسول میں“۔

ہمارے کانوں کو سننے کی عادت ہے خدا ورسول، ہمیں ایک دھماکہ سے محسوس ہوتا ہے کہ خدا کا نام نہیں آیا اور بس رسول کا ہی نام آیا۔ تمہارے لئے خدا کے رسول میں۔یہ نہیں کہا گیا کہ اللہ اور اُس کے رسول میں۔ بس اللہ کے رسول میں۔

بات یہ ہے کہ بندے اللہ کی پیروی کیونکر کرسکتے ہیں، اس کیلئے ضرورت ہے کہ شاہراہِ عمل میں کسی انسان کے قدم ہوں مگر انسان ایسا ہو کہ اس کے قدموں سے جو نشان بنیں، وہ راہِ رضائے پروردگار ہوں۔

پیغمبر خدا کی اطاعت کا بھی حکم اور ان کی پیروی کا بھی حکم۔ اطاعت کا حکم کہاں، جہاں اللہ کی اطاعت کا حکم ہے، وہاں وہاں پیغمبر خدا کیا طاعت کا حکم ہے۔ ہر جگہ :

( اَطِیْعُوااللّٰهَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ )

اور پیروی کے حکم میں اللہ کا نام ہے ہی نہیں۔بس رسولِ خدا کو مرکز قرار دیا ہے۔ اس بناء پر مسلم نقطہ نظر مشترک طور پر یہ ہوگیا کہ میعارِ سنت یہ ہے کہ قولِ رسول ہو یا عملِ رسول ہو یا تقریر رسول ہو۔

قول و عمل اُردو میں اتنے استعمال ہوتے ہیں کہ ہر اُردو دان آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ قول کلام اور عمل کام لیکن تقریر مختلف ہے۔ تقریر ہم اُسے سمجھتے ہیں جو سٹیج پر ہوتی ہے یا منبر پر ہوتی ہے۔ تقریر جو لیکچر کے معنی میں ہے، وہ قول میں داخل ہے۔ یہ الگ سے کیونکر ہوئی کہ قولِ رسول عملِ رسول اور تقریر رسول! تقریر کے معنی یہ ہیں کہ کسی مسلمان نے رسول کے سامنے کوئی کام کیا یا کوئی بات کہی اور پیغمبر خدا نے اس سے منع نہیں فرمایایا اس کی رَد نہیں کی۔

اگر کوئی عمل کسی نے غلط کیا تھا تو حضرت کو بحیثیت رہنما یہ فرمانا چاہئے تھا کہ تم یہ کیوں کررہے ہو؟ اور اگر اُس نے کوئی بات غلط کہی آپ کے سامنے تو آپ کو رَد فرمانا چاہئے تھا کہ یہ بات غلط ہے جو تم کہہ رہے ہو۔ رسول نے اگر خاموشی اختیار فرمائی اور اس عمل سے منع نہیں کیا اور اس قول کی رَد نہیں فرمائی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اس عمل سے راضی ہیں۔

جس طرح قولِ رسول کا معیار سنت ہے، جس طرح عملِ رسول کا معیار سنت ہے، اسی طرح تقریر رسول بھی معیارِ سنت ہے۔ اب سنت کا مطلب یہ ہے کہ ناجائز نہیں ہے، اس کی قسمیں ہو سکتی ہیں۔ جو بات رسول نے کہی، وہ واجب بھی ہوسکتی ہے اور مستحب بھی ہوسکتی ہے، مثلاً وضو میں ناک میں پانی ڈالنا سنت ہے یا کُلّی کرنا سنت ہے۔ یہ سنت واجب کے مقابلے میں ہے۔ مستحب کومسنون کہتے ہیں تو وہ بات جو رسول نے ارشاد فرمائی یا عمل کیا، وہ عمل واجب بھی ہوسکتا ہے، مستحب بھی ہوسکتا ہے اور کم از کم جائز ہوسکتا ہے، مباح ہوسکتا ہے۔

یعنی جائز کام ہیں ۔جو واجب یا مستحب نہ ہوں، وہ بھی حضرت عمل میں لاتے تھے۔ پیاس لگی ہے تو پانی پئیں گے، بھوک لگی ہے تو کھانا کھائیں گے۔ قولِ رسول، اگر حکم دیا ہے تو واجب ہوگا یا مستحب ہوگا اور اگر عمل ہے تو وہ عمل واجب بھی ہوسکتا ہے اور مستحب بھی ہوسکتا ہے، مباح یعنی جائز بھی ہوسکتا ہے، ناجائز نہیں ہوسکتا۔

عملِ رسول سے جواز یقینا ثابت ہوگا اور جواز ہی کی اقسام ہیں واجب، مستحب اور مباح۔ اسی طرح سے رسول کی تقریر یعنی کسی نے کوئی کام کیا اور رسول نے منع نہیں فرمایا، اس میں بھی یہی تینوں اقسام آئیں گی کہ بہرحال اس نے جو کیا، وہ غلط نہیں تھا۔ جو اُس نے کیا، وہ ناجائز نہیں تھا، ورنہ رسول کا فرض تھا کہ وہ اس کو منع فرماتے اور فرماتے کہ یہ ناجائز ہے۔ جب حضرت نے اُس کو منع نہیں فرمایا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ کم از کم مباح تو ہے ہی۔ ہو سکتا ہے کہ مستحب ہو، واجب ہو یا جائز ہو۔

اسی طرح اس نے کوئی بات کہی اور حضرت نے اس کی رَد نہیں فرمائی تو ا س کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ ناجائز نہیں ہے، غلط نہیں ہے۔ اگر وہ بات غلط ہوتی اور باطل ہوتی تو پیغمبر خدا منع فرماتے۔ تو یہ چیزیں معیارِ سنت ہیں: قولِ رسول، عملِ رسول اور تقریر رسول۔جو چیزان میں داخل نہ ہو، اس کی بھی اقسام ہیں۔ سنت کے مقابلہ میں ہے بدعت۔ جو چیز سنت نہیں ہے، وہ بدعت ہے یعنی جو بدعت ہو وہ سنت نہیں ہوسکتی۔ لیکن سنت اگر نہیں ہے تو بدعت ضرور ہے۔

اس کو میں نے بلا جھجک نہیں کہا۔اس میں ذرا نقطہ نظر کا فرق ہے۔ اس میں ہمارا محاورہ یہ ہے کہ جو بات سنت میں داخل نہ ہو، یعنی نئی ہو، وہ اگر آدمی جزوِ دین سمجھ کر کرے تو وہ بدعت ہوگی۔بدعت کی تعریف ہمارے نقظہ نظر سے یہ ہے :

اِدْخَالُ مَالَیْسَ فِی الدِّیْن وَاِخْرَاجُ مَاهُوَفِی الدِّیْن مِنَ الدِّیْن “۔

”جو چیز دین میں داخل ہے، اُسے خارج کرنا اور جو چیز دین میں داخل نہیں ہے، اُس کو دین میں داخل کرنا، یہ معیارِ بدعت ہے“۔

تو دین کا جزو قرار دے کر اگر کوئی نئی بات کرے تو وہ بدعت ہوگی۔ لیکن اگر یونہی کیا تفریحاً یا عادتاً ،جزوِ دین سمجھ کر نہیں کیا ۔تو بس اس کویہ دیکھنا ہے کہ ممانعت تو نہیں ہے۔ اگر ممانعت ہے تو ناجائزاور اگر ممانعت نہیں ہے اور جزوِ دین سمجھ کر نہیں کیا، یونہی تفریحاً کیا ہے تو پھر جائز ہے۔ اگر کوئی فائدہ سمجھ میں نہیں آتا تو مہمل بات ہے مگر اُسے بدعت کہنا درست نہیں ہے، جبکہ دین کا جزو سمجھ کر نہیں کیا جارہا۔

فرض کیجئے کہ ذرا اونچی جگہ سے چھلانگ لگائی تو اگر اُسے جزوِ دین سمجھ کر کرے تو بدعت ہوگا اور اگر ایسا نہیں ہے تو زیادہ سے زیادہ فضول کام ہوگا، خلافِ عقل ہوگا، مہمل کام ہوگا۔ مگر اُسے بدعت نہیں کہہ سکتے۔ بدعت اس وقت ہے جب جزوِ دین سمجھ کر کیا جائے یعنی جو چیز دین میں شامل نہیں ہے، اُسے دین میں شامل کیا جائے اور جو داخل ہے، اُسے خارج کیا جائے۔ جیسے صبح کی نماز میں اضافہ کرے اور دو کی بجائے تین رکعت پڑھے۔ دل میں ذوقِ عبادت ہو، میں انگریزی الفاظ نہیں بولتا مگر یہاں کہتا ہوں کہ اس دن نماز کا موڈہو، دو رکعت کی بجائے تین رکعت نماز پڑھ دے، تو چونکہ عبادت ہمیشہ وہ ہوتی ہے جو رضائے الٰہی کیلئے ، قصد قربت کے ساتھ ہو، جب قصد قربت کے ساتھ اُس نے یہ کام کیا، یعنی اُس نے جزوِ دین بنایا تو صبح کی سہ رکعتی نمازبدعت ہو جائے گی ۔

اب کوئی صاحب تھکے ہوئے ہوں تو کہیں کہ آج ایک ہی رکعت پڑھوں گا، اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک رکعت کو انہوں نے خارج کردیا، یہ بدعت ہے۔لیکن نماز تو انہوں نے دو رکعت ہی پڑھی ہے، صبح کی نماز کی نیت سے ، لیکن دل چاہا اور انہوں نے اس کے بعد دوچار دفعہ کھڑے ہوکر، بیٹھ کر رکوع و سجود کی مشق کرلی،یہ کیا؟

کہا کہ اس وقت دل چاہتا ہے کہ نماز کے اجزاء کو مزید ادا کروں، اس وقت کچھ جسم کا تقاضا بھی ایسا ہے کہ اس قسم کا کام کروں۔ یہ رکو ع و سجود نما عمل انہوں نے کر دیا۔ لیکن بہ نیت جزوِ نماز نہیں کیا تو یہ فضول بات ہوگی یا ورزش ہوجائے گی۔ چونکہ عبادت کی نیت سے یہ عمل نہیں کیا ہے، تو بدعت نہیں ہوگی۔ ہاں! اگر جزوِ نماز سمجھ کر کرے تو بدعت ہوگی۔ غالباً اکثریت کا معیار یہ ہے کہ اگر کوئی نئی بات ہے یعنی نہ قولِ رسول میں ہے اور نہ عملِ رسول میں ہے، نہ تقریر رسول میں ہے، تو وہ بدعت ہوگئی ۔ میں اس وقت اسی نقطہ نظر کے ماتحت یعنی قولِ رسول، عملِ رسول اور تقریر رسول کو بنیاد بنا کر معیارِ سنت و بدعت کو موضوعِ گفتگو بناؤں گا۔

ایک بڑے حلقے کی طرف سے شرک شرک کی آوازیں بہت بلند ہوتی ہیں۔ بدعت کی آوازیں بھی بہت بلند کی جاتی ہیں۔ اس بناء پر جو معیار ہے، بدعت اور سنت کا، اس پر چند ایسی باتوں کو جانچوں گا جن میں اکثر بدعت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ان کو جانچوں گا کہ وہ سنت میں داخل ہیں یا بدعت میں۔

بدعت اور سنت کا معیار یہ ہوا کہ جو چیز قولِ رسول، عملِ رسول یا تقریر رسول میں ہو، وہ سنت اور جو اس میں داخل نہ ہو، وہ بدعت۔اس جگہ اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ جو چیز قولِ رسول، عملِ رسول یا تقریر رسول میں ہو تو سنت ہے ، ورنہ بدعت۔تو میں کہتا ہوں کہ ہم سب کے لباس بھی بدعت اور ہماری غذائیں بھی بدعت اور ہمارے سفر سب بدعت۔ اس لئے کہ جو غذائیں اس وقت ہم کھاتے ہیں، یہ رسول نے کبھی نہیں نوش فرمائیں، نہ انہوں نے ان کے کھانے کا حکم دیا، نہ کسی نے ان کے سامنے ان غذاؤں کو کھایا تھا کہ وہ خاموش رہتے اور تائید ثابت ہوتی۔ تو ہماری کوئی غذا ایسی نہیں ہے،تقریباً سارے ہندوستان کی۔اگر یہ ہے تو ہماری غذائیں سب بدعت۔

جس طرح کے لباس ہم پہنتے ہیں،یہ لباس رسول کے زمانہ میں کسی نے نہیں پہنے کہ تقریر رسول ہوتی، خود رسول نے یہ لباس نہیں پہنا کہ عملِ رسول ہوتا۔ آپ نے ان کے پہننے کا حکم بھی نہیں دیا۔ یہ چیزیں اس زمانہ میں ہوتی ہی نہیں تھیں تو ان کا حکم کیا دیتے! لہٰذا یہ قولِ رسول نہ عملِ رسول۔تو ہمارے لباس سب بدعت ۔

اور جناب! کسی او ر سفر کا کیا ذکر، حج کا سفر جو فریضہ ادا ہوتا ہے، وہ اس وقت اونٹ کی پشت پر ہوتا تھا، گھوڑے پر ہوتا تھا، اب موٹروں پر، ہوائی جہازوں پر اور بحری جہازوں پر ہوتا ہے۔اس وقت تک تو مرکب یا سواری بدعت تھی اور اب تو راہ بھی بدعت ہوگی کہ سفر ہوتا تھا زمین کے اوپر یا دور دراز کا ہو تو سمندر میں یا دریا میں یہی چیزیں اس وقت ہیں بحروبر۔خشکی یا تری، یہی دو سفر ہوتے تھے۔ ہوا کا سفر اس وقت کہاں ہوتا تھا؟ اب جو سفر کرتے ہیں، میں کہتا ہوں کہ اب حاجی صاحبان زمین پر پیر ہی نہیں رکھتے، پرواز کرکرکے پہنچتے ہیں۔ وہ حج جو عبادت ہے، کیا وہ بھی بدعت ہوجائے گا؟

وہاں جاکر دیکھئے تو صفا او رمروہ کے درمیان چھت ہوگئی ، وہ کیا بدعت نہیں ہوئی؟ پہاڑیوں کو اُڑا کر زینے بنا دئیے تو وہ بدعت نہیں ہوئی؟ اور جس جس طرح سے وہاں سعی ہوتی ہے، اظہارِ تشخص کیلئے سعی بجائے پیروں کے موٹروں پر ہوتی ہے، یہ بدعت نہیں ہوئی؟ تو اگر ہر نئی چیز بدعت ہے تو کونسی چیز بدعت نہیں ہے؟

اسی بناء پر جب اینڈرسن صاحب نے فوٹو کھینچنے کے موقع پر مجھ سے کہا کہ یہ بدعت تو نہیں ہے؟ تو میں نے کہا کہ میں خود ہی بدعت ہوں۔ معلوم ہوا کہ اس معیار پر اگر دیکھئے کہ نئی بات یعنی جو اس وقت نہیں تھی، جو فعلِ رسول ، قولِ رسول یا تقریر رسول میں نہیں ہے تو زمین آسمان ہمارا بدعت ہوگا۔ پوری زندگی ہماری بدعت میں گھری ہوئی ہوگی او رکوئی اس سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔

یہ نہیں ہے کہ یہ شکل ہو تو پھر کیا ہے، میں جو معیارِ سنت عرض کررہا ہوں، اس پر ہر صاحب عقل مسلمان غور کرے کہ یہ دیکھنا چاہئے کہ کام جو ہم کررہے ہیں، اس شکل سے اس کام کیلئے قولِ رسول ہے، فعلِ رسول ہے یا تقریر رسول ہے یا نہیں ہے؟ اگر اس کام کا رسول نے حکم دیا ہے تو پھر اس شکل میں ہوتا تو سنت ہوتا۔ اس شکل میں ہے او رکام وہی ہے تو سنت ہے۔

عملِ رسول: جو کام کیا تھا رسول نے، اگر کام ہم وہی انجام دے رہے ہیں مگر پیغمبر خدا نے جس صورت سے انجام دیا تھا، ہم اس کام کو اس صورت سے انجام نہیں دے رہے ہیں تویہ پھر بھی سنت ہوگا، اس لئے کہ کام وہی ہے۔ چاہے اس شکل میں ہوتا، چاہے اُس شکل میں ہے۔ اسی طرح تقریر رسول: کسی دوسرے نے کام یہ انجام دیا اور رسول اللہ نے منع نہیں فرمایا تو اب وہی کام اگر ہم کررہے ہیں تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ رسول ہوتے تو ہمیں منع نہ کرتے۔ انہوں نے کام اُس وقت کے رواج کی صورت سے کیا تھا، ہم اِس وقت کے رواج کی صورت سے کر رہے ہیں، مگر کام نہیں بدلا ہے، کام وہی ہے جو ہوا تھا۔

تو اگر صورت اور شکل بدل گئی ہے تو وہ سنت ہوگا۔ مثلاً تحصیلِ علم۔یہ دیکھنا ہے کہ تحصیلِ علم خدا و رسولِ خدا کو مطلوب ہے یا نہیں۔ ہم نے دیکھ لیا کہ تحصیلِ علم قرآن اور حدیث دونوں کی رو سے ہر ایک کا کسی حد تک فریضہ ہے اور جو فریضہ نہیں بھی ہے، تو امر مستحسن ہے اور ترغیب دی گئی ہے اور تحریص کی گئی ہے۔تو تحصیلِ علم خواہ تعلیم علم ہو، یہ بہرحال مطلوبِ خدا و رسول ہے۔

اب اُس وقت میں تعلیم چٹائی پر ہوتی تھی، اب وہ تعلیم میز اور کرسی پر ہوتی ہے۔ تو میز اور کرسی نہ ڈھونڈئیے بلکہ یہ دیکھئے کہ تعلیم ہے یا نہیں۔اگر تعلیم دینی فریضہ ہے یا کم از کم مستحسن ہے تو وہ چٹائی پر ہوتی تو مستحسن او رکرسی میز پر ہو تو مستحسن۔ یہ نہیں ہے کہ میز کرسی پر تعلیم ہورہی ہے تو نئی چیز ہوگی، لہٰذا یہ بدعت ہوگئی۔نہیں! اگر وہ تعلیم فرشِ خاک پر بیٹھ کر عبادت تھی تو یہ تعلیم جو کرسی اور میز پر بیٹھ کردیں، یہ بھی عبادت ہوگی۔ ورنہ تو جناب ہمارا دنیا بھر میں کوئی دارالعلوم بدعت سے خالی نہ ہوگا۔یہ امتحانات، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ کب ہوتے تھے؟ پیغمبر خدا کی جو درس کی مجلس تھی، اس میں کیا امتحانات ہوتے تھے؟ امتحانات ہونے کے بعد نمبر دئیے جاتے تھے؟ کیا رسول کے زمانہ میں فیصدی نمبر، ڈویژن اور درجے ہوتے تھے؟ کونساہمار ادارالعلوم ہے جو کتنا ہی سنت کا درس دیتا ہو ، جو ان طریقوں سے خالی ہو؟

معلوم ہوا کہ طریقے بہ اعتبارِ رواج بدلتے ہیں اور کام وہی ہے جو اس وقت ہوتا تھا۔ اگر وہ عبادت ہے تو یہ بھی عبادت ہے۔ یہ دیکھئے کہ جامع مسجد میں اب کام ہورہا ہے ، یہ نماز ہی ہے یا کچھ اور ہے؟جامع مسجد میں جمعہ یا عید یا روز کی نمازہو تو کیا اتنا بڑا مجمع کبھی رسول کے زمانہ میں نمازِ جماعت میں ہوا تھا؟تو صرف اس لئے کہ تعداد بدل گئی تو بدعت ہوجائے گا؟

حضور! اب دو آدمی ہوں اور نمازِ جماعت ہو تو جماعت ہے اور دو لاکھ آدمی ہوں، تب بھی جماعت ہے۔ مجمع کی تعداد سے سنت بدعت میں نہیں بدلتی ۔ کم سے کم جس فقہ سے میں واقف ہوں، اس میں تو ایک امام اور ایک ماموم سے جماعت ہو سکتی ہے۔ اس میں جمع ہونے کی ضرورت نہیں ہے، صرف ایک عدد ماموم ہو تو بھی اقتداء کرسکتا ہے اور وہ نمازِ جماعت ہوجائے گی۔ تعداد کے بدلنے سے عمل اگر نہیں بدلا ، کام وہی ہے تو اگر دو آدمی کررہے تھے تو عبادت اور اگر دس آدمی کررہے ہوں ، تب بھی عبادت بلکہ انہی حضرات نے ارشاد فرمایا کہ جتناجماعت کا مجمع بڑھے، اتنا ہی فرد کی نماز کے ثواب میں اضافہ ہوگا۔ حالانکہ دوسرے جو آئے ہیں، وہ اُن کا عمل ہے لیکن اُن کی وجہ سے وہ ایک آدمی جو شروع میں آیا ہے، اس کے بھی ثواب میں اضافہ ہوگا۔

میں کہتا ہوں کہ یہ ذرا ذرا سے جو احکام ہیں، ان میں بھی کتنی حکمتیں مضمر ہیں کہ جب یہ مسئلہ معلوم ہو گیا تو ہر آدمی اپنی خود غرضی کیلئے کوشش کرے گا کہ زیادہ لوگوں کو آمادہ کرے کہ وہ جماعت میں شریک ہوں۔ ان کی خیر خواہی میں نہیں بلکہ اپنی خود غرضی کیلئے کہ میرے ثواب میں اضافہ ہوجائے۔

اسی طرح میں ریل سے بمبئی گیا، وہاں سے میں جہاز میں بیٹھا اور جدہ اُترا۔وہاں سے موٹر میں بیٹھا اور اس کے بعد مکہ گیا۔ تو اس طرح جو کام ہوا، وہ بھی حج تھا۔ حج کیلئے میں گیا تھا۔ نیت میری موٹر پر بیٹھنے کی نہیں تھی، نیت تو میری حج کی تھی اور وہ جو ہوا ، اُس کا نام حج ہی ہے۔

اس طرح سے اس نے بھی حج کیا، جو ہوائی جہاز سے اُڑ کر پہنچا ہے۔وہ بھی کس لئے پہنچا ہے؟ حج کیلئے گیا ہے۔ ہوائی جہاز کی خاطر حج نہیں کیا ہے، حج کی خاطر سے ہوائی جہاز میں بیٹھا ہے۔ جس وقت اصل مقصد وہی رہا، کام وہی رہا، وہ چاہے بحری جہاز سے ہو، تو فریضہ ادا ہوا اور ہوائی جہاز سے گئے تو وہ فریضہ ادا ہوا۔

معلوم ہوا کہ وحدتِ عمل معتبر ہے، شکلِ خاص تو رواجوں سے بدلتی ہے، دَور کے بدلنے سے بدلتی ہے۔ بس اب جن جن چیزوں کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے،ان کو اس معیار پر پرکھ لینا چاہئے۔ فرض کیجئے کہ سیرت کا جلسہ ہے، نام بدلتا رہتا ہے، ایک وقت میں محفلِ میلاد کہلاتا تھا، اب سیرت کا جلسہ ہوتا ہے۔نام کے بدلنے سے بھی بدعت نہیں ہوتی۔ کام وہی ہونا چاہئے ، چاہے اُس نام سے ہو، چاہے اِس نام سے ہو۔ مجھے دوسرا نام زیادہ پسند ہے یعنی میلادِ اقدس۔ اس میں صرف ہماری خوشی کا پہلو ہے لیکن ہمارے لئے درس کا پہلو نہیں ہے ۔ ہماری زندگی سے اس کا تعلق نہیں ہے لیکن یہ جو جلسہ سیرت نام ہوگیا، یہ کردار سازی کا ایک رُخ رکھتا ہے، خواہ میلادِ مقدس ہو یا سیرت کا جلسہ ہو، روشنی کا اہتمام زیادہ ہوگیا تو یہ تصو رہوگیا کہ یہ بدعت ہے۔ اتنی روشنی؟

میں کہتا ہوں کہ ایک بلب ہوتا تو کیا سنت تھا؟ اور یہ دس ہوگئے ہیں،اس لئے بدعت ہوگیا؟ تو وہ ایک عدد بھی رسول کے زمانہ میں دکھادیجئے کہ کب تھا؟ تو روشنی کے کم ہونے یا زیادہ ہونے سے یا قمقمے لگ جانے سے یا جھنڈیاں لگ جانے سے یا سامانِ آرائش زیادہ استعمال کرنے سے اس سب کو آپ انوکھے پن کی وجہ سے کہیں کہ یہ بدعت ہے، یہ سب بدعت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس سب کے بعد کام اس محفل کا کیا ہوگا؟ ذکر رسول ہی تو ہوگا۔

اب یہ دیکھ لیجئے کہ ذکر رسول خدا کو پسند ہے یا نہیں؟ اگر پتہ چل جائے کہ ذکر رسول خدا کو پسند ہے تو ذکر رسول اندھیرے میں ہوتا تو خدا کو پسند ہوتا اور روشنی میں ہوگیا تو پسند ہوگا۔اگر وہ فرشِ خاک پر ہوتا تو خدا کو پسند ہوتا اور قالینوں کے فرش پر ہورہا ہے تو پسند ہوگا۔

تو پسند ہے جب چیز وہی جو خدا اور رسول کو پسند ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید میں دیکھئے کہ ان کے ذکر کیلئے خدا کو کیا منظو رہے، ارشاد ہوتا ہے:

( رَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ ) ۔

”ہم نے آپ کے ذکر کو اُونچا کیا“۔

ایک پہلو پر توجہ دلادوں کہ بہت جگہ قرآن مجید میں آتا ہے ، میں نے یہ کیا، میں نے یہ کیا اور بہت جگہ آتا ہے کہ ہم نے یہ کیا۔ حالانکہ ہمیں شانِ وحدت” مَیں“ میں زیادہ نظر آتی ہے۔ ”ہم“ میں سے تو جیسے بوئے شرکت غیر آتی ہے۔یعنی میں ایسی بات اللہ کیلئے کہوں تو شرک کا پہلو پیدا ہوگا تو اللہ کیوں ہم کہہ رہا ہے؟کیا کوئی اور اس کے ساتھ شریک ہے؟ میں نے جو غور کیا تو ”میں“ اور” ہم“ میں مَیں نے یہ فرق محسوس کیا کہ جہاں اظہارِ انفرادیت مطلوب ہوا، وہاں ”مَیں“ کہا ہے:

( اِنَّمَااَنَااِلٰهٌ وَاحِدْ )

”میں ایک خدا ہوں“۔

یہاں ”ہم“ کا محل نہیں تھا۔

( اِنَّمَااَنَااِلٰهٌ وَاحِدْ ) “۔

”بے شک میں ایک خدا ہوں“۔

( اَنَارَبُّکَ ) “۔

”میں تمہارا پروردگار ہوں“۔

جہاں اظہارِ انفرادیت منظور ہوا ہے، وہاں”مَیں“ کہا ہے او رجہاں قوتِ عمل دکھانا ہے، وہاں ہم کہا ہے:

( اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَاالذِّکْرَ وَاِنَّالَهُ لَحَافِظُوْنَ ) ۔

”ہم نے یہ قرآن اُتارا ہے اور ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں“۔

( اِنَّااَنْزَلْنَاهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ ) ۔

”ہم نے اس کو شب قدر میں اُتارا ہے“۔

یہ جو ہم ہم ہوتا ہے، اس میں مخالف قوتوں کو چیلنج ہوتا ہے کہ ہم نے یہ کیا ہے، ہم نے یہ قرآن اُتارا ہے اور ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اب کوئی دنیا میں قرآن کو مٹا تو دے۔ ویسے ہی جہاں جہاں یہ ”ہم“ ہے:

( اِنَّااَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرْ ) ۔

”ہم نے آپ کو کثرتِ نسل عطا کی ہے“۔

بنی اُمیہ اور بنی عباس کی طاقتیں اس نسل کو ختم تو کردیں! اسی طرح یہ:

( رَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکْ ) “۔

”ہم نے آپ کے ذکر کو اونچا کیا ہے“۔

اب لاکھ بدعت کے فتوے لگیں، کوئی نیچا تو کردے۔

ذکر کی بلندی کیا ہے؟ جتنے نمایاں ہونے کے اسباب زیادہ ہوں، سب خالق کا مقصود ہیں۔ اب جولوگ کہ روشنی کررہے ہیں، آرائش کررہے ہیں، جو لوگ بڑے سے بڑا پنڈال بنا رہے ہیں، ان سب کو سمجھئے کہ وہ خالق کے مقصد کے آلہ کار ہیں۔

جناب! یہ ہماری جماعت میں رواج ہے بھی نہیں بلکہ کسی اور کا رواج ہوگا ۔ کوئی اعتراض کررہا ہے،میں تو عقلی جائزہ لئے بغیر بدعت نہ کہوں گا۔ مثلاً میلاد شریف میں ایک محل پر ہوگیا کہ وہاں جب رسول کا ذکر آئے گا تو مجمع کھڑا ہوجائے گا:

قِیَامُ عِنْدَذِکْرِنَبِیْ “۔

یہاں بڑے زور سے آواز آئے گی کہ بدعت ہے، بدعت ہے۔ میں نے دیکھا کہ سب کھڑے ہوئے۔ تو بعض حضرات نہیں کھڑے ہوئے۔ میں نے کہا کہ میرے ہاں رواج نہیں ہے مگر میں کھڑا ہوجاتا ہوں۔ کچھ حضرات تو اس معاملہ میں بڑے سخت ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ قیام کیا ہے؟ یہ تعظیم کی نیت سے ہے۔ یہ جو کھڑا ہوا تھا، اس نے کیا کام کیا؟ مظاہرئہ تعظیم کیا۔ کام یہ کیا اور طریقہ اس کا یہ اختیار کیا کہ نام سن کر کھڑا ہوگیا۔تو کام اُس نے جو کیا، وہ رسولِ خدا کی تعظیم ہے۔ قرآن میں یہ دیکھ لیجئے کہ تعظیم رسول اللہ کو پسند ہے یا نہیں؟ اللہ نے رسول کی تعظیم کا حکم دیا ہے یا نہیں، اگر رسول کی تعظیم کا حکم دیا ہے تو جو شکل اختیار کی جائے ، وہ تعظیم ہے۔

تو وہ واجب تو نہیں ہے لیکن جو اُس نے عمل کیا، اس کو بدعت نہ کہئے، اُسے غلط نہ کہئے۔ اُس نے وہی کام کیا جو اللہ کو مد نظر ہے۔

میں کہتا ہوں کہ رسول کی تعظیم دیکھئے کہ اللہ کو مد نظر ہے یا نہیں؟تعظیم نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ جو سب کے ساتھ برتاؤ ، وہی رسول کے ساتھ۔ اب قرآن میں دیکھئے کہ کیا وہ چاہتا ہے کہ اس طرح ہورسول کے ساتھ جو دوسروں کے ساتھ ارشاد ہورہا ہے:

( لَا تَجْعَلُوْادُعَاالرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَاءِ بَعْضِکُمْ )

”دیکھو خبردار! ہمارے رسول کو اس طرح نہ پکارا کرو جیسا آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو“۔

آپ کہتے تھے کہ جو سب کے ساتھ برتاؤ، وہی رسول کے ساتھ اور قرآن کہہ رہا ہے کہ ہرگز وہ برتاؤ نہ کرو رسول کے ساتھ جو دوسروں کے ساتھ کرتے ہو۔ اس طرح نہ پکارو جس طرح دوسروں کو پکارتے ہو۔

میں کہتا ہوں کہ ہم کو حکم دیا تو خود اُس نے بھی رسول کو اس طرح نہیں پکارا جس طرح دوسروں کو پکارا۔ ارے! ہر کس و ناکس کو وہ پکارنے ہی کیوں لگا؟ وہ پکارتا ہے انبیاء کو، مرسلین کو۔ ان کو پکارتا ہے۔ مگر جس رسول کو بھی پکارا ہے، ہمارے پیغمبر کے علاوہ، بلا استثنیٰ نام

لے کر پکارا:

( یَااٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّة ) ۔

”اے آدم! تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو“۔

”اے نوح!اُترو سلامتی کے ساتھ“

نام لے کر پکارا۔

( یَااِبْرَاهِیْمُ قَدْصَدَّقْتَ الرُّوْیَا ) ۔

”اے ابراہیم ! تم نے خواب سچ کردکھایا“۔

نام لے کر پکارا۔ اب اور آیات کیوں پڑھوں؟ میں نے کہا کہ بلا استثنیٰ ہر نبی و رسول کا نام لے کر پکار لیا۔ جب میں نے بلا استثنیٰ کہہ دیا تو اگر کسی کے پاس اس کے خلاف سند ہو تو وہ کوئی آیت پڑھے۔ مجھے سب آیات پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس نبی و رسول کو پکارا، نام لے کر پکارا اور ہمارے رسول کو بلا استثنیٰ کبھی نام لے کر نہیں پکارا، کبھی عہدہ کو سرنامہ خطاب بنایا:

”یَااَیُّهَاالنَّبِیّ ُ“۔یَااَیُّهَاالرَّسُوْلُ “ ۔

جو عہدہ تھا، اُس کو سرنامہ خطاب بنا لیا۔ کبھی اوصافِ کمال کو، طٰحٰہ ہے، طیّب و طاہر ہے، یٰسین ہے، سیّد و سردار ، کبھی بتقاضائے محبوبیت جس وقت جو لباس ہوا، اس کو سرنامہ خطاب بنا لیا:

یَااَیُّهَاالْمُزَمِّلُ “ ۔

”اے چادر اوڑھے ہوئے“۔

یَااَیُّهَاالْمُدَثِّر ُ“ ۔

”اے کملی میں لپٹے ہوئے“۔

معلوم ہوتا ہے کہ ذات اتنی محبوب ہے کہ محب کی نظر ان کے لباس پر بھی پڑ گئی۔

اس نے خود ان کی تعظیم کیلئے یہ انداز اختیار کیا تو کوئی دوسرا تعظیم کرے گا تو اُسے ناپسند کیونکر ہوسکتا ہے؟ قیام اگر کوئی کرتا ہے تو وہ وہی کام انجام دے رہا ہے جو اللہ کا پسند ہے۔ ہاں! یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ جگہ کی کیا خصوصیت ہے، جب بھی رسول کا ذکر آئے تو کھڑے ہوں۔ یہ چند جگہ کیوں؟ اس کیلئے بعض چیزیں ہیں جو پرانے زمانہ میں نظر سے نہیں گزری تھیں۔ ذہن میں مثال نہیں آتی تھی۔

بینک میں ایک دن گئے، دیکھا کہ بینک کھلا ہوا ہے، سب لوگ ہیں مگر ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں، کام کچھ نہیں کررہے ۔ہم نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ بینک تو کھلا ہوا ہے مگر کام نہیں ہو رہا؟ انہوں نے کہا کہ آج ہڑتا ل ہے۔ دوسرے دن گئے، دیکھا کام ہو رہا ہے، ہم نے کہا کہ ہڑتال ختم ہوگئی؟انہوں نے کہا: جی! وہ بس کل کی علامتی ہڑتال تھی، اصل ہڑتال کل ہوگی۔

آج کہتے ہیں کہ آپ کو رسول کی تعظیم کا حکم ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ ہر دفعہ کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟ میں کہتا ہوں کہ یہ ہمارا قیام اصل تعظیم نہیں بلکہ علامتی ہے، اپنے جذبہ کا اظہار ہے، وہ ہماری عملی کوتاہی ہے یا مجبوری ہے کہ ہر دفعہ نہیں کھڑے ہوسکتے۔

تو اب ایک دفعہ ہم نے جو عمل کیا ہے، اس سے آپ کو خوش ہونا چاہئے، نہ یہ کہ آپ بدعت بدعت کی آوازیں بلند کردیتے ہیں۔جب اصل عمل تعظیم رسول خدا کو پسند ہے تو وہ جس شکل میں ہو، جس صورت میں ہو، وہ قابلِ تائید سمجھا جائے گا ، نہ کہ قابلِ مخالفت۔ اس کو سنت ہی سمجھنا پڑے گا ، نہ کہ بدعت۔

اس کے بعد میلادوں سے بڑھ کر سوال پہنچتا ہے ہماری مجالس تک۔یہ عجیب بات ہے کہ کسی سلسلہ میں کوئی اجتماع ہو، وہاں چاہے جو ہو، اس پر کبھی سنت بدعت کی بحثیں نہیں ہوتیں۔ جب یہ رسول اور آلِ رسول ہی کے بارے میں ہو تو یہ مباحث ہوتی ہیں۔لغت کے اعتبار سے تو محفل، مجلس سب کے معنی اجتماع کے ہیں۔ اس لئے ریڈیو پر بھی مجلس ہی ہوتی ہے، محفل سماع بھی ہوتی ہے مگر ہمارے محاورے کے مطابق ذکر فضائل جب ہو تو اُسے محفل کہتے ہیں اور جب آخر میں ذکر مصائب ہو تو اسے مجلس کہتے ہیں، ورنہ لغت کے اعتبار سے ہر محفل مجلس ہے اور ہر مجلس محفل ہے۔ مگر طریقہ استعمالِ الفاظ میں یہ امتیاز ہوگیا ہے۔ محفل اور مجلس جو ہوتی ہے، اس میں کیا ہوتا ہے؟ کام دیکھئے کہ کیا ہورہا ہے؟

ہم دیکھتے ہیں کہ محفل میں بھی کچھ خاص ہستیوں کا ذکر ہوتا ہے، حالانکہ اب جو معیار ہے محفل یا مجلس کا، وہ کچھ خاص ہستیوں ہی سے متعلق نہیں ہوتا بلکہ خدا سے لے کر قیامت تک ہر چیز کا بیان ہوتا ہے۔اس ذکر کی بدولت ہوجاتا ہے۔یہ دینیات کا بڑا مدرسہ بن گیا ہے ، یہ محفلیں یا مجالس ایک مدرسہ ہیں۔ یہاں بہرحال سب کا ذکر ہوتا ہے لیکن کوئی شبہ نہیں کہ نقطہ مرکزی کچھ ہستیاں ہیں آلِ رسول کی۔ محفلوں میں بھی رسول تا آلِ رسول۔

کون کہتا ہے کہ ہم رسول کی مجلس نہیں کرتے؟ تو رسول اور آلِ رسول کے بیانِ فضائل اور بیانِ مصائب سے زیادہ تر مجلس تشکیل پاتی ہے۔اب بس یہ دیکھ لیجئے کہ ان ہستیوں کا ذکر خدا و رسول کو مطلوب ہے یا نہیں۔ ذکر ان کا جس شکل میں اس وقت ہوتا تھا اور اس وقت ہوتا ہے، یہ نہ دیکھئے بلکہ یہ دیکھئے کہ ذکر ہے یا نہیں کیونکہ کونسا ہمارا کام ہے جو بالکل اسی شکل سے ہوتا ہو؟یہ دیکھئے کہ ذکر فضائل و مصائب جو معیارِ محفل و مجلس ہے، وہ مطلوبِ خدا و رسول ہے یا نہیں؟

ذکر رسول کے لئے تو میں نے کہہ دیا ، قرآن مجید کی آیت پیش کردی۔ اب ذکر آلِ رسول؟آلِ رسول جو ہستیاں ہیں، انہیں دیکھ لیجئے کہ رسول نے ان کا ذکر کیا یا نہیں کیا؟ پیغمبر خدا نے طرح طرح سے ان کا تذکرہ فرمایا یا نہیں؟ احادیث متفق علیہ ہیں۔ ذکر رسول ان حضرات کیلئے متفق علیہ ہے۔ بس نگاہ کا پھیر ہے۔ بعض ان کو یہ کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کیلئے یہ فرمایا، اپنی بیٹی کیلئے یہ فرمایا، اپنے نواسوں کیلئے یوں اظہارِ محبت فرمایا۔

میں کہتا ہوں کہ باتیں تو بڑی معصوم ہیں، بالکل سچی ہیں۔ جو بیٹی ہے، وہ غیر تو نہیں ہوسکتی، جو بھائی ہے یا داماد ہے، وہ غیر تو نہیں ہوسکتا۔ جو نواسے ہیں، وہ ہیں تو نواسے ہی۔ مگر بس یہ ذرا نگاہ کاپھیر ہے کہ رسول جو فضائل بیان فرماتے تھے، وہ کیا اس لئے کہ یہ بیٹی یا داماد یا نواسے ہیں ؟ یا رسول اس لئے بیان فرماتے تھے کہ وہ ہستیاں ایسی ہیں کہ جن کے فضائل کوبیان کرنا چاہئے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ یہ تقاضائے بشریت تھا یا تقاضائے رسالت تھا؟

ظاہر ہے احادیث تو بے شمار ہیں ان حضرات کے تذکرے میں، ان سب کو کہاں بیان کرسکتا ہوں۔ چند چیزوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں ہر صاحب کی کہ ذرا غور کریں کہ بحیثیت اپنے رشتے کے حضرت یہ باتیں فرمابھی سکتے تھے یا نہیں؟ مسلمان تو رسول کو اس درجہ پر جانتا ہے کہ بعد از خدا بزرگ توئی، قصہ مختصر۔مگر میں تو بہت ہی گھٹا کر لفظ پیش کرتا ہوں کہ ہمارے رسول ذمہ دار فرد تو تھے، دیکھئے! اپنے چھوٹے بھائی کو یا جسے گود میں پالا ہو، بنظر محبت جان و روح کہہ سکتے ہیں، بنظر محبت لخت جگر کہہ سکتے ہیں،بنظر محبت میوئہ دل کہہ سکتے ہیں مگر اپنے چچازاد بھائی کو شہر علم کا در کہتے ہیں۔

رسول کی شان کو محفوظ رکھتے ہوئے بتائیے کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے ؟ چھوٹے بھائی کو اپنے گھر کی رونق کہہ دیں، وہ بالکل صحیح ہے مگر جنت کا سردار کہہ دیں اپنے بچوں کو یا انہیں کہہ دیں کہ یہ جنت و نار کے تقسیم کرنے والے ہیں یا بیٹی کو کہہ دیں کہ یہ جنت کی خاتون ہے!

صحیح بخاری میں نہایت اختصار کے ساتھ تین احادیث ہیں، ان میں سے ایک ہے:

سَیَّدَة نِسَاءِ اَهْلِ الْجَنَّة “۔

کہ یہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔ اس سے تمام مسلمانوں میں بلا تفریق محاورہ ہو گیا، خاتونِ جنت۔ یہ پیغمبر خدا کی حدیث کا مفہوم ہے۔

سَیَّدَة نِسَاءِ اَهْلِ الْجَنَّة “۔

اب ہر صاحب عقل مسلمان جو بشریت اور رسالت میں حد فاصل بھی قائم رکھتا ہو، مجھے اس سے سوال یہ کرنا ہے کہ جنت کے بارے میں جو کہا جائے گا، وہ بشر کے اعتبار سے کہا جائے گا یا رسول کے اعتبار سے؟

یعنی ان ہستیوں کے بارے میں کوئی بات جنت سے ادھر ٹھہرتی ہی نہیں۔ بیٹی ہے تو وہ سردارِ زنانِ جنت ہے، نواسے ہیں تو وہ سردارِ جوانانِ جنت ہیں اور جو داماد ہے، وہ:

قَسِیْمُ النَّارِوَالْجَنَّة

ہے۔ کوئی بات جنت سے اِدھر نہیں رُکتی۔اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی بات رسول بحیثیت بشر نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ بحیثیت رسول کہہ رہے ہیں۔

سَیَّدَاشَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّة “۔

بلاغت رسول کو مد نظر رکھتے ہوئے کہئے کہ یہ حالیہ عمر کے اعتبار سے کہہ رہے ہیں۔ تو کیا جنت کے بچوں کا سردار کہنا چاہئے؟ بچوں کو جوانانِ جنت کا سردار کہہ رہے ہیں رسول، ان کا سن دیکھ رہے ہیں کہ یہ بچے ہیں اور رسول فرمارہے ہیں کہ جوانانِ جنت کا سردار۔اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں والی جوانی پیش نظر نہیں ہے ، وہاں والی جوانی پیش نظر ہے۔

جناب! یہاں والی عمریں نہ دیکھئے کہ کون بچہ ہے ، کون جوان ہے، کون بوڑھا ہے! وہاں رسول نے کہہ دیا کہ سب جوان ہوں گے، بوڑھوں کا بوڑھے ہوتے ہوئے گزر ہی نہیں ہے۔اب جناب جو جنّتی ہے، اس کے سردار ہیں، چاہے اس وقت بچہ ہو ، چاہے جوان ہو، چاہے بوڑھا ہو۔

اب جب ان کا ذکر پیغمبر خدا برابر فرمارہے ہیں تو وہ ذکر جس طرح سے بھی ہو، عبادت ہی ہوگا، سنت ہوگا، بدعت نہیں ہوسکتا۔یہ نہ دیکھئے کہ اُس وقت دس آدمیوں کے سامنے رسول فرما رہے تھے۔اب فرض کیجئے کہ ایک ہزار آدمیوں کے سامنے ذکر ہو رہا ہے تو جب نمازِ جماعت میں شرکاء کی تعداد اسے بدعت نہیں بناتی تو محفل ذکر میں شرکت کرنے والوں کی کثرت اِس ذکر کو کیونکر بدعت بنا دے گی؟

یہ تو ذکر فضائل تھا اور اب ذکر مصائب کے بارے میں یہ سوال ہے کہ ذکر مصائب رسول نے فرمایا یا نہیں؟ جس وقت سے بچہ گود میں لاکر دیا گیا، اُسی وقت پیغمبر خدا کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔ کسی نے کہا: یا رسول اللہ! یہ تو خوش ہونے کا موقعہ ہے،آپ رو رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تمہیں معلوم نہیں کہ اس پر کیا مصائب گزریں گے؟

مجھے معلوم ہے کہ گریہ کے مقابلہ میں کیا کیا سوال ہوتے ہیں۔ ہم سے پوچھا جاتا ہے کہ زندئہ جاویدکو کیوں روتے ہو؟ میں کہتا ہوں کہ اس وقت دنیا رسول سے پوچھے کہ زندہ کو کیوں رو رہے ہو؟ ارے! وہ شہداء کی زندگی تو عالمِ معنی کی زندگی ہے۔اس وقت تو حسین جیتی جاگتی زندگی کے ساتھ ، سانس لیتی ہوئی زندگی کے ساتھ پیغمبر خدا کی گود میں موجود تھے اور پھر رسول گریہ فرما رہے تھے۔

اب تو دنیا کو سمجھنا چاہئے کہ فقط موت پر گریہ نہیں ہوتا ہے ، مصائب پر بھی گریہ ہوتا ہے۔ اگر رسول کو اُس زندگی میں رونے کا حق تھا تو ہمیں اِس زندگی میں رونے کا حق ہے۔

یہ تو ایک مرتبہ ہے ولادت کے بعد۔ اس کے بعد بار بار مختلف مواقع پر اس کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ایک دفعہ ذکر ہوجاتا تو معلوم ہوجاتا۔ یہ بار بار کیا ہے؟ یہی کہی ہوئی باتوں کو دُہرانا ، یہی مجالس کا موقف ہے، یہاں تک کہ اُمِ سلمہ سے روایت ہے اوروہ صحاحِ ستّہ میں ہے۔صحیح ترمذی میں روایت ہے جنابِ اُمِ سلمہ کی۔ یہ روایت اتنی مقبول ہے کہ شاہ عبدالعزیز دہلوی، جو تحفہ اثناء عشریہ کے مصنف ہیں، ان سے پوچھا کہ روزِ عاشور آپ کا عمل کیا ہوتا ہے؟

فتاویٰ عزیزیہ میں مطبوعہ شکل میں موجود ہے، انہوں نے جواب میں تحریر فرمایا کہ میرا عمل یہ ہے کہ عصر کے وقت میرے احباب اور معتقدین میرے ہاں جمع ہوتے ہیں اور الفاظ یہ ہیں کہ فقیر منبر پر جاتا ہے۔ یعنی میں منبر پر جاتا ہوں اور وہ احادیث جو فضائل حسنین میں ہیں، وہ بیان کرتا ہوں جیسے خبر اُمِ سلمہ، اُسے بیان کرتا ہوں اور پھر حالاتِ شہادت بیان کرتا ہوں۔ پھر کچھ مرثیے جو جنات کے تھے، کچھ مرثیے جن کے پڑھنے والے نظر نہیں آتے تھے، اور خواتین بنی ہاشم نے سنے ہیں، وہ مرثیے ان کتابوں میں درج ہیں، وہ مرثیے بھی پڑھتا ہوں۔ اس وقت لازماً فقیر پر بھی گریہ طاری ہوتا ہے۔جوحاضرین ہیں، وہ سب بھی گریہ کرتے ہیں۔

یہ ہے خبر روایت اُمِ سلمہ کہ حضرت پیغمبر خدا آئے اور ایک حجرے کی طرف تشریف لے جانے لگے اور یہ فرمایا: اُمِ سلمہ! وحی نازل ہونے والی ہے، میں جارہا ہوں۔ کوئی میرے پاس نہ آئے۔ آپ تشریف لے گئے اور دروازہ بند کرلیا۔ جنابِ اُمِ سلمہ بیان کرتی ہیں کہ تھوڑی دیر میں حسین آئے، چاروں طرف دیکھا اور پوچھاکہ جد بزرگوار کہاں ہیں؟

جنابِ اُمِ سلمہ نے جو واقعہ تھا، وہ بیان کیا کہ حجرہ میں تشریف لے گئے ہیں اور فرما گئے ہیں کہ کوئی میرے پاس نہ آئے۔ اس کے بعد جو الفاظ میری سمجھ میں آتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ انہوں نے یہ کہا۔ تو حسین نے یہ کہا کہ ہمیں منع فرمایا ہے؟

بہرحال کچھ ایسا کہا کہ پیغمبر نے آواز سن لی ، ارشاد فرمایا کہ حسین کو آنے دو۔حجرے میں داخل ہوئے، دروازہ بند کرلیا گیا۔ کچھ دیر میں جنابِ اُمِ سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے محسوس کیا کہ رسول گریہ فرمارہے ہیں۔ہر صاحب عقل غور کرے کہ رسول حجرے کے اندر ہیں، اُمِ سلمہ حجرہ کے باہر ہیں۔ جو کمرہ سے باہر ہو، وہ صرف آنسوؤں کا گریہ محسوس نہیں کرسکتا۔ ماننا پڑے گا کہ صدائے گریہ تھی۔ اب جیسے انہیں تاب نہ رہی ، وہ دروازے پر آئیں اور کہا: کیا میں حاضر ہوسکتی ہوں؟

حضرت نے فرمایا:اب آسکتی ہو، وحی اُتر چکی ہے۔

اُمِ سلمہ آئیں۔ یہ سب صحیح ترمذی میں ہے کہ دیکھا کہ شہزادہ پیغمبر کے سینہ مبارک پر ہے اور ہاتھ میں رسول کے کوئی چیز ہے اور آپ زاروقطار گریہ فرمارہے ہیں۔ انہوں نے سبب پوچھا تو ارشاد فرمایا کہ میرا بچہ جو آیا اور میرے سینے سے لگا ، میرے دل کو بڑا سکون ملا تو ایک مَلک آیا۔(اب یہ بعد میں پتہ چلے گا کہ مَلک کیوں آیا)۔

تو مَلک آیا اور کہا کہ کیا آپ اس بچے کو جانتے ہیں؟ میں اب بتاؤں کہ مَلک کیوں آیا؟ میں کہتا ہوں کہ وقت ولادتِ حسین سے ذکر ہوچکا تھا ، اطلاع دینے تو نہیں آیا، بس اگر پہلے ذکر نہ ہوا ہوتا تو میں سمجھتا کہ یہ مَلک آیا ہے واقعہ کربلا کی اطلاع دینے ۔ مگر جب وقت ولادت حسین پر پیغمبر خدا خود اس کی خبر دے چکے ہوں تو اب یہ مَلک اطلاع دینے تو آیا نہیں۔

تو اب میری سمجھ میں آتا ہے ، وہ یہی ہے کہ یہ مَلک مجلس حسین برپا کرنے آیا ہے کیونکہ مجلس کی حقیقت یہی ہے کہ بیان کئے ہوئے واقعات دُہرائے جاتے ہیں، اُس واقعہ کی یاد تازہ کرنے کیلئے۔یہ مجلس حسین برپا کرنے آیا ہے۔

میں کہتا ہوں کہ یہ حقیقت میں نہیں ہے بلکہ مجلس کی تمہید ہے۔ جیسے ہمارے ہاں ذکر فضائل ہوتا ہے، پھر ربط مصائب ہوتاہے۔ ویسے ہی یہ تمہید مجلس ہے۔

آپ اس بچے کو بہت چاہتے ہیں؟ پیغمبر خدا فرماتے ہیں: خدا گواہ ہے کہ کتنا چاہتا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر نانا نواسے کو چاہتے ہیں تو اس میں خدا کو گواہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی فریضہ رسالت ہے کہ پیغمبر اللہ کو گواہ کرکے کہہ رہے ہیں کہ اللہ جانتا ہے کہ میں کتنا چاہتا ہوں۔

اب تمہید ختم ہوئی، ربط مصائب۔مَلک کہتا ہے کہ یہی بیٹا جو ہے، یہی آپ کا فرزند۔ یہ آپ کے دین کی خاطر قربان ہوگا۔


اطاعتِ خداوندی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰه ) ۔

پیغمبر خدا سے ارشاد ہورہا ہے کہ کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔

کل میں نے عرض کیا کہ پیغمبر خدا کی اطاعت کا بھی حکم ہے اور اتباع کا بھی حکم ہے اور یہ عرض کیا کہ اطاعت ہوتی ہے اقوال کی اور اتباع ہوتا ہے افعال کا۔ اب سوال یہ ہے کہ اطاعت اور اتباع کا حکم کیا بس پیغمبر خدا کے زمانہ کے مسلمانوں کیلئے تھا؟ انہی پر اطاعت کا فریضہ تھا اور انہی پر اتباع کا فریضہ عائد تھا؟ یہ تو اس وقت ہوتا جب پیغمبر خدا کی رسالت اسی دورِ حیات سے متعلق ہوتی۔ تو بے شک اطاعت کا حکم بھی اسی وقت کے لوگوں کیلئے ہوتا اور اتباع کا حکم بھی اُسی دور کے لوگوں کے لئے ہوتا۔ پھر ہم اور آپ بالکل آزاد تھے ، نہ ہمارے لئے اطاعت، نہ اتباع۔ پھر جتنے احکامِ شریعت ہیں، ان سب سے آزادی، اس لئے کہ تمام احکامِ شرع یا اطاعت کے ماتحت ہیں یا اتباع کے ماتحت ہیں۔ جب اطاعت و اتباع اُسی دور کے لوگوں کیلئے ہے تو پھر ہمارے واسطے نہ کوئی واجب ، نہ کوئی حرام۔ تمام احکام ہم سے برطرف۔

لیکن یہ تو ہر مسلمان بلا تفریق فرقہ ، اس کے نزدیک یہ تصور غلط ہے۔ آپ کی رسالت اُس دورِ حیات ہی سے متعلق نہ تھی اور جب اُسی دورِ حیات سے متعلق نہ تھی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حکمِ اطاعت بھی تاقیامت ہے اور حکمِ اتباع بھی تا قیامت ہے۔

کل تفصیل سے بیان ہوا اور اس کا حوالہ میں نے دیاکہ اطاعت ہوتی ہے اقوال کی اور اتباع ہوتا ہے افعال کا۔لہٰذا اقوالِ رسول کو بھی تا قیامت محفوظ رہنا چاہئے اور افعالِ رسول کو بھی تاقیامت محفوظ رہنا چاہئے کیونکہ اگر اقوال محفوظ نہ رہے تو اطاعت نہیں ہوسکتی اور اگر افعال محفوظ نہ رہے تو اتباع نہیں ہوسکتا۔

اب اقوال کیونکر محفوظ رہیں؟ وہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ اقوال کی حفاظت کرتی ہیں کتابیں اور جب میں کہتا ہوں کتابیں، تو سرفہرست ہے کتاب اللہ۔ کوئی کہے کہ بات تو اقوالِ رسول کی تھی، یہ سر فہرست کتاب اللہ کیونکر ہوگئی؟

میں کہوں گا کہ میں نے بھولے سے نہیں کہا ہے، سمجھ بوجھ کر کہا ہے، میرا بھی ایمان ہے کہ یہ کتاب اللہ ہے مگر جسے ہم اور آپ اور ہر مسلمان کتاب اللہ کہتا ہے، سمجھتا ہے اور مانتا ہے، اس کو لوحِ محفوظ سے اُترتے ہم نے نہیں دیکھا۔ ہم نے تو قرآن کو بھی اسی زبان سے سنا جس زبان سے حدیثوں کو سنا۔ ارے! ہم نے تو کچھ بھی نہیں سنا۔ جس جس نے سنا، قرآن کو بھی اُسی زبان سے سنا جس زبان سے حدیثوں کو سنا۔ خدا کی قسم! یہ تو اُن کی زبان کا اعتبار ہے جسے اللہ کا کلام کہہ دیا، اُسے قرآن مان لیا، جس کو اپنا کلام کہا، اُس کو حدیث سمجھ لیا۔

ورنہ ہم کیا جانتے کہ کون کلام اللہ اور کون اُن کا اپنا کلام۔ اب یہ سیرت سے متعلق بات ہے، میں کہتا ہوں ، بخدا! یہ بھی امانتداری تھی ان کی کہ زبان پر ان کی کلام آرہا تھا اور کہہ رہے تھے کہ میرا نہیں ہے، اسی زبان پر قرآن آیا، اسی زبان پر حدیثیں آئیں۔ جسے انہوں نے کلام اللہ کے طور پر پیش کیا، یہ کہہ کر کہ یہ کلام اللہ ہے،اُسے ہم نے قرآن مانا ، جسے اپنا کلام کہہ کر پیش کیا، اُسے حدیث مانا۔

اسی لئے یہ ایک جملہ ہے، اسے چاہے محفوظ کرلیجئے اور بوقت فرصت اس پر غور کیجئے گا کہ یہ صحیح ہے یا نہیں۔ میں کہہ رہا ہوں کہ جب تک ان کی زبان پر اعتبار نہ ہو، قرآن پر ایمان ہو ہی نہیں سکتا۔ تو قرآن مجید ہو یا کتب حدیث، یہ سب مجموعہ ہیں ان اقوال کا جو حضرت کی زبانِ مبارک پر آئے۔جو اقوال بحیثیت کلام اللہ آئے، ان کا مجموعہ قرآن مجید، جو بحیثیت اپنے کلام کے آئے، اُن کا مجموعہ کتب احادیث ہیں۔

تو یہ کتب تو اقوال کی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ افعالِ رسول کیونکر محفوظ رہیں؟ رواروی میں کوئی شخص جواب دے گا کہ افعالِ رسول بھی راوی بیان کریں اور وہ کتابوں میں درج ہوجائیں، اس طرح افعالِ رسول بھی محفوظ ہوجائیں گے۔ مگر ذرا سی باریک بات ہے، اربابِ فہم مجمع میں ہیں، انشاء اللہ کسی کو کوئی دشواری نہیں ہوگی کہ فعلِ رسول راوی کی زبان پر آیا تو قول ہوگیا، فعل نہیں رہا۔فعل تو اُسی وقت تک فعل ہے جب تک فاعل سے ہے اور جب اس کا بیان کسی سے ہوا تووہ قول ہوا، فعل نہیں رہا۔ یوں تو کسی اور راوی کا کیا ذکر، قرآن مجید میں حضرت ابراہیم کے اقوال بھی موجود ہیں، حضرت نوح، حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ، سب کے اقوال بھی ہیں، افعال بھی ہیں۔ قرآن مجید نے بیان کئے ہیں۔ تو کیا ان سب انبیاء کے افعال ہم تک پہنچے؟ افعال نہیں پہنچے، ان کا بیان ہے جو بذریعہ قرآن ہم تک پہنچا ہے۔ اسی طرح اگر حضرت کے افعال کو راویوں نے بیان کیا تو یہ اُن کا بیان ہے جو ہم تک پہنچا، افعالِ رسول کہاں پہنچے ہیں؟

یاد رکھئے! کتاب فعل کو کبھی نہیں دکھاتی، فعل کو آئینہ دکھایا کرتا ہے۔ میرا ہاتھ جنبش کرے گا، آئینے میں نظر آئے گا۔ بے شک آپ فعل کو دیکھ رہے ہیں۔ میرا ہاتھ ساکن ہوگا، آئینے میں نظر آئے گا۔ بے شک آپ فعل کو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن ان دنیا والے آئینوں میں ایک بڑی خرابی ہے اور وہ خرابی یہ ہے کہ اس میں عکس اُسی وقت تک نظر آتا ہے، جب تک اصل سامنے رہے۔ اِدھر اصل نظر سے اوجھل ہوااور عکس بھی غائب ہوا۔ ہمیں ایسے آئینے نہیں چاہئیں، ہمیں ایسے آئینے چاہئیں کہ پیغمبر خدا تشریف لے جائیں اور افعالِ پیغمبر خدا ہمیں نظر آتے رہیں۔

ایک اور نقص اس آئینہ میں ہے کہ یہ آئینہ اسی عمل کو دکھائے گا جو وقوع میں آگیا۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے حرکت کی ہاتھ سے اور وہ آئینہ میں نظر آگئی۔ ہاتھ کو ساکن کیا، وہ سکون آئینہ میں نظر آگیا۔ جو کام وقوع میں آجائے، وہ نظر آئے گا مگر افعالِ رسول بمقتضائے اسباب ہوتے تھے۔ جیسا سبب جس وقت ہوا، ویسا عمل وقوع میں آیا۔ جب تک وہ سبب پیدا نہ ہوگا، اُس وقت تک رسول کا وہ عمل نہ ہوگا ورنہ خلافِ عقل ہوگا، خلافِ حکمت ہوگا۔

مثال کے طور پر کوئی مسلمان پیغمبر خدا کے ساتھ ابتدائے بعثت سے ہجرت تک جو تیرہ برس کی مدت ہے، یعنی دورِ رسالت کا آدھے سے زیادہ حصہ، کیونکہ ۲۳ میں سے ۱۳ آدھے سے زیادہ حصہ ہیں۔ ۱۰ آدھے سے کم ہے۔ تو تیرہ برس پیغمبر خدا کے ساتھ رہتا اور کسی وقت جدا نہ ہوتا، ایسا خاص صحابی ہوتا کہ کسی وقت جدا نہ ہوتااور وہ قسمیں کھا کر کہہ سکتا کہ میں ہر وقت رسول کے ساتھ رہا، تیرہ برس مسلسل، کسی وقت میں نے آپ کا ساتھ نہ چھوڑا، آپ کی سیرت حیات میں تلوار اُٹھانا نہیں ہے۔

اُس کا یہ بیان بالکل صحیح ہوگا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا میں سیرتِ رسول کے دائرہ میں تلوار اُٹھانا نہیں ہے۔ اب اس میں سے کوئی نتیجہ نکالے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے رسولِ مطلق عدم تشدد کے قائل ہیں۔ جیسا کہ دنیا کے بعض رہنماؤں کا اصول ہے لیکن اب جب ہجرت کرکے آپ مدینہ تشریف لائے تو اب اس کے بعد ایک سال اسی میں شامل کیجئے، اب ہوگئے چودہ برس۔

۲ ھ میں دیکھئے، بدر دیکھئے، اُحد دیکھئے، خندق دیکھئے، خیبر دیکھئے تو تلوار نظر آئے گی ان کے ہاتھ میں۔ ظاہر نہ سہی مگر کسی ایسے ہاتھ میں جو انہی کا ہاتھ ہے۔ بہرحال اب تلوار ہے۔ تو معلوم ہوا کہ سیرتِ رسول کا ایک گوشہ تھا جو چودہ برس تک پردے میں رہا اور جب وہ اسباب ہوئے ، تب وہ سیرت کا گوشہ سامنے آیا۔ یہ مسلمان جو سیرتِ نبوی مرتب کررہا تھا، اس نے اب تک ایک سطر کا اضافہ کیا کہ ہاں! ان کی سیرت میں تلوار اُٹھانا بھی ہوتا ہے۔ اب اسی مسلمان سے پوچھئے کہ جن سے جنگ ہورہی ہے، کیا پیغمبر اِن سے کبھی صلح بھی فرمائیں گے؟

یاد رکھئے جتنا اُسے بظاہر جوشِ ایمانی زیادہ ہوگا اور جتنا ایمان کی شدت کا زعم زیادہ ہوگا، اُتنی شدت سے وہ انکار کرے گا۔ توبہ توبہ، بھلا رسول اور مشرکین سے صلح فرمائیں؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ارے! وقوع میں آجانے کے بعد جب بہت سے مسلمانوں کے حلق سے یہ چیز نہ اُترتی ہو تو پہلے کیونکر تصور میں آسکتا تھا کہ یہ صلح بھی فرمائیں گے مشرکین کے ساتھ۔

لیکن اب آنے دیجئے ۶ھ اور حدیبیہ کی منزل اور دیکھئے کہ پیغمبر خدا صلح کرکے واپس تشریف لے جاتے ہیں مکہ سے یا نہیں؟ اب اس نے کہا کہ ہاں صاحب! بے شک سیرتِ نبوی میں صلح کرنا بھی ہے۔اب حساب لگائیے کہ تیرہ برس وہ قبل ہجرت اور ۶ھ میں یہ واقعہ ، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ بعد بعثت۱۹برس تک سیرت کا یہ گوشہ پردہ میں رہا اور سامنے نہیں آیا کیونکہ وہ اسباب نہیں ہوئے تھے جن اسباب سے سیرت کے عمل کا تعلق تھا۔

اب اسی مسلمان سے یہ پوچھئے یا اور مسلمانوں سے جو اس کے ساتھ ہوں کہ خیر صلح ہوگئی، اب اگر یہ لوگ عہد شکنی کریں اور شرائط صلح کی خلاف ورزی کریں اور پھر رسول فاتحانہ طور پر مکہ میں داخل ہوں تو ان لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ اب پھر وہی بات کہ جتنا اپنے ایمان کا دعویٰ زیادہ ہوگا، اُتنی شدت کے ساتھ سزا تجویز کرے گا۔ اب جتنے الفاظ آپ کے نزدیک لغت میں زیادہ سخت ہوں۔

ارے! پرخچے اُڑا دیں گے، پرزے پرزے کردیں گے ان کم بختوں کے۔ یہی سب وہ کہتا اور اُسے تقاضائے ایمان سمجھتا لیکن اب آنے دیجئے ۸ھ میں فتح مکہ اور دیکھئے کہ رسول کے سامنے وہی جماعت ہے اور پیغمبر خدا ان کے ساتھ کیا رویہ اختیار فرماتے ہیں۔

تو سیرت کا نیا باب سامنے آیا یا نہیں؟ اب اسی مسلمان سے پوچھئے کہ پیغمبر خدا اپنے مخالفین سے تلوار کے علاوہ کسی اور طریقے سے بھی جنگ کرتے ہیں؟ تو وہ کہے گا کہ یہ تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ جنگ ہو اور تلوار کے بغیر ہو۔ لیکن آنے دیجئے ۹ھ میں مباہلے کا میدان کہ جنگ بھی ہورہی ہے اور تلوار کہیں نہیں ہے۔

اب معلوم ہوا کہ سیرت کا ایک باب آج سامنے آیا۹ھ اور ۹ھ کے بعد۱۰ھ۔ اس مسلمان سے پوچھئے کہ اگر پیغمبر خدا کو کوئی مجمع ایسا ملے کہ اتنا بڑا مجمع نہ اس سے پہلے رسول کے سامنے ہوا ہو، نہ اس کے بعد کبھی ہوگا۔ اتنا بڑا مجمع ہو، ایک لاکھ کے قریب مسلمان رسول کے سامنے ہوں تو اس موقع پر پیغمبرخدا کیا فرمائیں گے؟

یہ کہے گا کہ وہی فرمائیں گے جو عمر بھر فرماتے رہے، نماز پڑھو، روزے رکھو، حج کرو، زکوٰة دو۔ جو ہمیشہ کہتے رہے، وہی وہاں بھی کہیں گے ۔ مگر اب آنے دیجئے ۱۰ھ میں، وہ بھی آخری مہینہ، ذی الحجہ کا مہینہ اور اس کی اٹھارہ تاریخ۔ اس میں رسول کی سیرت کے کتنے گوشے ہیں؟ ہمیشہ دیکھتے تھے وہ منبر ، آج نیا منبر دیکھا۔ہمیشہ دیکھتے تھے مسجد میں اور آج کھلا میدان دیکھا۔ اس کے بعد رسول منبر پر تشریف لے گئے۔ اس کے بعد ایک نئی بات دیکھی کہ ہمیشہ منبر پر اکیلے جاتے تھے، آج کسی کو منبر پر اپنے پاس بٹھا لیا اور اب نفسیاتی طریقہ پر دیکھئے کہ یہ نئی بات جو ہورہی ہے، تو اب مجمع جو ہے، وہ خطبے کے الفاظ کم سن رہا ہے اور یہ صورت زیادہ دیکھ رہا ہے۔

یہاں چند جملے ہیں، یہ یہاں کیسے؟ذہنوں میں تصورات تہہ و بالا ہیں کہ کوئی خاص بات ہے۔ یعنی پورا جملہ ہوا میں جارہا ہے۔ آخری جملہ کا انتظار ابھی سے ہے۔

تو جناب! یہ سب باتیں آج نئی نظر آرہی ہیں۔ اس کے بعد پورا خطبہ ہوجاتا ہے جو لوگوں نے غور سے نہیں سنا ہے۔ اسی لئے تمام مسلمانوں کی تاریخیں دیکھ لیجئے تو وہ پورا خطبہ کہیں ملتا بھی نہیں۔ سنا کس نے تھا غور سے؟

اب وہ وقت آیا جس کیلئے پاس بٹھایا تھا۔ تب پیغمبر نے وہ تاریخی الفاظ فرمائے:

مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَهٰذَاعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “۔

”جس کا میں مولا ہوں، اُس کا یہ علی بھی مولا ہے“۔

ماشاء اللہ! صاحبانِ فہم بھی ہیں، تو جنابِ والا!

فَهٰذَاعَلِیٌّ مَوْلَاهُ “۔

عربی میں تعیین کیلئے اُن میں سے ہر لفظ کافی ہے۔ اشارہ کردیا تو یقین فردِ واحد کا ہوگیا اور نام لے دیا تو تعیین شخص واحد کی ہوگئی۔ رسول نے دو طریقے صرف کردئیے۔ فھذا بھی ، علیٌ بھی۔ معنی یہ ہیں کہ اگر حاضر ہوں تو یہ دیکھو اور غائب ہوں تو نام سنو۔

پیغمبر خدا کی سیرت کا نیا باب سامنے آیا یا نہیں؟ اس کے بعد مدینہ منورہ واپس ہوئے تو علیل ہوگئے۔ دو مہینے کے بعد وفات ہوگئی۔ تو اب پیغمبر خدا کی وفاتِ طیبہ کا جو سال آیا ، وہ سیرت کا ایک نیا باب کھولتا ہوا آیا۔ اب جو کتابِ سیرت اپنے عمل سے مرتب کررہا تھا، اس میں برابر اضافہ ہورہا تھا۔ وہ شخصیت وفات کے ذریعہ سے ہمارے سامنے سے ہٹ گئی، چلی گئی اور رسالت ہے تا قیامت۔

تاریخ کے طالب علم بھی یہاں ہوں گے۔ تاریخ کا مسلمہ اصول ہے کہ تاریخ رواں دواں رہتی ہے، وہ ایک نقطہ پر نہیں پڑتی۔

گونا گوں حالات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔

تو حضورِ والا!کیا تاریخ کا یہ اصول یہاں ٹوٹ گیا؟ یعنی اب۱۱ھ سے لے کر قیامت تک تاریخ کی سوئی ایک نقطہ پر منجمد ہوگئی کہ ابھی تک تو ہر سال نئے نئے حالات پیدا ہو رہے تھے اور اب کوئی نئی صورتِ حال پیدا نہیں ہوگی؟

یہ خلافِ عقل بات ہے۔ یقینا زندگی کے کتنے دوراہے ایسے ہوں گے کہ پیغمبر خداکے اُس دَورِ حیات میں پیش نہیں آئے تو اس دورِ حیات میں پیغمبر کا عمل کیا ہوتا؟ وہ پردہ میں رہ گیا۔ لہٰذا اب ہمیں وہ آئینے نہیں چاہئیں جو وقوع میں آئے ہوئے افعالِ رسول کو دکھائیں۔ ہمیں وہ آئینے چاہئیں جو ملکاتِ نفس پیغمبرخدا کو جذب کرلیں۔

ماشاء اللہ لاہور کی سرزمین ہے اور یہاں علمی ذوق بلند پایہ ہے ۔مگر پھر بھی میں محسوس کرتا ہوں کہ بہت سے لوگوں کیلئے یہ الفاظ قابلِ فہم نہیں ہیں۔ ایک بات توجہ سے سن لیجئے۔ جو ہر وقت ہوتا ہے، وہ فعل ہوتا ہے اور وہ طاقت جو فعل کو کرواتی ہے، اُسے مَلِکہ کہتے ہیں۔ یعنی پردئہ شب میں جس نے نفس سے اس فعل کو کروایا، یہ فعلِ سخاوت ہے اور خود سخاوت وہ ملکہ ہے جس نے نفس سے اس فعل کو کروایا۔

بر وقت فعل وہ کام ہے جو منتظرِ سبب رہتا ہے اور ملکہ نفس کی وہ طاقت ہے جو قائم ہوتی ہے ، راسخ ہوتی ہے اور بر وقت اس عمل کو کرواتی ہے۔

تو اب یہ جملہ غالباً سمجھ میں آگیا ہوگا۔ ہمیں وہ آئینے نہیں چاہئیں جو افعالِ رسول کو دکھائیں بلکہ ہمیں وہ آئینے چاہئیں جو ملکاتِ نفس رسول کو جذب کرلیں۔ اُردو زبان میں اس کو میں کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں وہ آئینے نہیں چاہئیں جو یہ دکھائیں کہ رسول نے کیا کیا؟ ہمیں وہ آئینے چاہئیں وہ یہ دکھائیں کہ رسول ہوتے تو کیا کرتے! وہ آئینے ہمارے لئے مفید نہیں ہیں جو یہ دکھائیں کہ رسول نے کیا کیا کِیا۔ہمیں وہ آئینے درکار ہیں جو یہ دکھائیں کہ پیغمبر ہوتے تو کیا کرتے! اس کیلئے خالق نے اپنے رسول کو آئینے عطا فرمائے۔ اگر یہ آئینے دُور دُور کے ہوتے تو کسی وقت کا عکس لیتے اور کسی وقت کا عکس نہ لیتے۔ لہٰذا حکمت الٰہی ا س کی متقاضی ہوئی کہ یہ آئینے رسول کی گود میں رکھ دئیے جائیں تاکہ ملکاتِ نفس پیغمبر خدا کو جذب کرلیں۔

کیا کہنا ان آئینوں کا!جوہر رکھے ہوئے اللہ کے، جِلا دی ہوئی تربیت رسول کی۔ گویا پیغمبر کا کاشانہ آئینہ خانہ بنا ہوا تھا۔ بیچ میں پیغمبر، چار طرف چار آئینے۔

حدیثیں جتنی پڑھوں گا، وہ متفق علیہ ہوں گی۔ ایک آئینہ قد آدم ، تقریباً برابر کا۔پیغمبر نے اپنا عکس دیکھا، بالکل مکمل نظر آیا۔

عَلِیٌّ مِنِّیْ وَاَنَامِنْهُ “۔

”یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں“۔

عَلِیٌّ مِنِّیْ وَاَنَامِنْهُ “۔

خالق نے فرمایا: ”اَنْفُسَنَا

یہ تو ہمارا نفس ہے اور ابھی میں فعل اور ملکہ کا فرق بتا چکا۔ یاد رکھئے کہ افعال کا مرکز اعضاء ہوتے ہیں اور مَلِکہ کا مرکز نفس ہوتا ہے۔ جہاں تک الفاظ کی منزل ہے، فعل جدا، فاعل جدا۔ اٹھانا ہاتھ کا کام، پیروں سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ کہنا زبان کا کام، ہاتھوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ چلنا پھرنا پیروں کا کام ہے، کانوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ سننا کانوں کا کام، زبان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ افعال کی منزل میں فعل الگ، فاعل الگ مگر نفس کی منزل میں سب افعال ایک۔

دیکھا آنکھوں نے ، آپ نے کہا: میں نے دیکھا۔ اُٹھایا ہاتھوں نے، آپ نے کہا: میں نے اُٹھایا۔ راستہ طے کیا پیروں نے، آپ نے کہا: میں نے راستہ طے کیا۔ سنا کانوں نے، آپ نے کہا: میں نے سنا۔سب افعال ایک کے ہوگئے۔ جب تک لسان اللہ کہا، زبان کی گفتگو اپنی ہوئی۔ جب تک اذن اللہ کہا، سماعت اپنی ہوئی۔ جب تک جنب اللّٰہ کہا،پناہ دینا اپنا ہوا۔ لیکن جب نفس کہہ دیا تو افعال ان کے نہیں رہے، خد اکے ہوگئے۔

دوسراآئینہ نسبتاً چھوٹا مگر اپنے شعبہ میں مکمل۔ پیغمبر نے سند عطا فرمائی، مسلّم الثبوت، صحیح بخاری میں ہے ، بنظر اختصار، فاطمہ کے فضائل میں صرف تین عدد احادیث،اس میں سے ایک یہ ہے کہ:

فَاطِمَة بَضْعَة مِنِّیْ

”فاطمہ میرا ٹکڑا ہے“۔

میرا ایک جزو ہے۔ حضورِ والا! جزو کون ہوتا ہے؟ جزو وہ ہوتا ہے جسے نکال لیجئے تو چیز نامکمل ہوجائے۔ ملا دیجئے تو اس کی تکمیل ہوجائے۔ یہ سند خاص فاطمہ کیلئے ہے۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کیلئے بھی نہیں ہے۔ حسن و حسین کیلئے بھی نہیں ہے۔صرف حضرتِ فاطمہ زہرا کیلئے یہ الفاظ ہیں۔”بَضْعَة مِنِّیْ “، میرا ایک جزو۔

میں کہتا ہوں ، میرے گزشتہ بیان کی روشنی میں اس جزو کی حقیقت پر غور کیجئے کہ کیا رسالت پیغمبر صرف مردوں کیلئے ہے؟ وہ تو تمام نوعِ بشر کیلئے ہے۔ اس میں مرد بھی ہیں، عورتیں بھی ہیں۔ اور میں نے کہا کہ فریضہ رسالت دو چیزوں سے ادا ہوتا ہے ، اقوال سے اور افعال سے۔ اقوال کیلئے اطاعت واجب اور افعال کیلئے اتباع واجب۔ اقوالِ رسول تو سب کیلئے ہو سکتے ہیں، مرد اور عورت دونوں کیلئے۔ افعالِ رسول دونوں کیلئے نہیں ہوسکتے، چاہے موجودہ ترقی پسند زمانہ کتنا ہی کہے کہ ہر میدان میں مردو عورت دوش بدوش مگر میں کیا کروں، اسلام میں تو نماز تک میں دوش بدوش نہیں، حالانکہ نماز کوئی معاشرتی چیز نہیں، وہ تو مابین خدا و خود ایک عبادت ہے۔

مگر اس میں بھی مرد کی نماز اور طرح اور عورت کی نماز اور طرح۔ ہمارے ہاں دینیات کی کتاب مولوی فرمان علی صاحب مرحوم کی ایک وقت میں رائج تھی، بچوں کو پڑھائی جاتی تھی۔ مردوں کیلئے کچھ نمازیں جہری ،کچھ اخفات کے ساتھ۔لیکن عورت کیلئے جو نمازیں جہری بھی ہیں، وہ بھی اخفات کے ساتھ یعنی آہستہ ۔

اب ماشاء اللہ آپ صاحبانِ فہم و نظر ہیں، ذرا غور کیجئے کہ نماز میں بڑی ضرورت ہے رجوعِ قلب کی اور رجوعِ قلب کا انتہائی درجہ ہے محویت۔اس کا معیار اور کمال آپ نے سنا ہوگا کہ تیر کھینچ لیا جاتا ہے اور پتہ نہیں ہوتا۔یہ محویت کا عالم ، یہ استغراق کا عالم ۔ اور یہ روح ہے نماز کی مگر اب میں اہلِ فہم سے، اہلِ عقل سے ، صاحبانِ علم و نظر سے ، سب سے پوچھتا ہوں کہ اگر آدمی میں ایسی محویت ہوئی کہ مرد اپنا مردہونا بھول گیا، عورت اپنا عورت ہونا بھول گئی تو احکامِ شریعت پر عمل ہی کیونکر ہوسکتا ہے؟ معلوم ہوا کہ خالق کی نظر میں جتنی اہمیت نماز میں استغراق کو ہے، اُتنی ہی خصوصیت اس کی نگاہ میں ہے اپنی خصوصیت صنفی کے باقی رکھنے کی کہ مرد یاد رکھے کہ میں مرد ہوں اور عورت یاد رکھے کہ میں عور ت ہوں۔

تو پھر کیا مشکل ہے کہ نماز میں یاد رکھے اور زندگی کے سب کاموں میں بھول جائے۔ اس کے بعد لباسِ نماز میں زمین آسمان کا فرق۔ مرد کیلئے اتنا لباس کہ جس کے بغیر نماز باطل ہوگی۔ بہت مختصر، بس اتنا کہ برہنہ نہ ہو اور عورت کیلئے سوا چہرے کے، گٹوں سے لے کر انگلیوں تک اور ہاتھوں کے باقی تمام اجزاء پوشیدہ ہوں۔ صحت نماز کیلئے ضروری۔

کتنی ہی ترقی یافتہ خاتون کیوں نہ ہو، لیکن اگر نماز پڑھتی ہو تو اس وقت یہی لباس اختیار کرنا ہوگا اور اب ایک پہلو کی طرف توجہ دلاؤں اور صاحبانِ علم کیلئے بعد میں توضیح ہوگی۔ یہ نامحرم کی وجہ سے نہیں ہے۔ اپنے مکان میں، پردئہ شب میں، گھر کے دروازے بند کرکے ، سامنے پردے ڈال کربھی نماز ہو تو اس سے زیادہ کوئی جزو جسم کا بے پردہ ہو تو نماز باطل ہے۔

میں کہتا ہوں کہ اس سے خالق کا منشاء سمجھئے کہ جو خالق اپنی بارگاہ میں عورت کو بے پردہ دیکھنا نہ چاہتا ہو، وہ بھلا اسے کیسے پسند کرے گا کہ بولہوس مردوں کے سامنے وہ بے پردہ پھرے۔ ترقی پسند لوگوں نے عورتوں کو یہ درس دیا ہے کہ دیکھو! اسلام نے عورتوں کو مصیبت میں ڈالا ہے، مردوں کو آزادی دی ہوئی ہے۔ حج پر جاکر دیکھئے کہ مردوں کیلئے مصیبت ہے یا عورتوں کیلئے۔ مرد ذرا سا بھی سایہ سر پر نہیں رکھ سکتے اور وہ اطمینان سے اپنے سر پر چادریں تانے ہوئے ۔ مرد ایسا لباسِ خاص اختیار کریں کہ جس سے مُردہ اور زندہ میں بہت کم فرق محسوس ہوتا ہے۔ ہمارے لئے ضرورت ہے کہ ایسا لباس ہو اور عورتوں کیلئے جو عام لباس ان کا ہے۔

یہ وقار خواتین کا تحفظ ہے جو ان کا عام لباس ہے، اُسی لباس میں ان کا احرام صحیح ہے۔ ان کیلئے یہ شرط نہیں ہے اور عام احکام میں ان کیلئے کتنی آزادیاں ہیں، ہمارے لئے کتنی مصیبت ہے۔ ہم ایک چھلا سونے کا نہیں پہن سکتے، وہ بقدرِ برداشت پہن سکتی ہیں۔ ہم خاص لباس بھی ریشم کا نہیں پہن سکتے، وہ سر سے پاؤں تک ریشمی لباس پہنیں، کوئی مضائقہ نہیں۔

یہ کیا ہے؟یہ حقیقت میں خالق کی طرف سے صرف احساس باقی رکھنا ہے اور پھر ان کے وقار کا تحفظ ہے، ان کی عزت و ناموس کا تحفظ ہے۔ یہ تمام مقاصد ہیں ، ورنہ اسے ہم کو مصیبت میں ڈالنا نہیں ہے اور نہ انہیں آرام پہنچانا ہے۔ یہ تو جب ہوتا کہ جب ان کا کوئی رشتہ اُس سے زیادہ ہوتا ، ہم سے کم ہوتا۔

خالق کے نہ تو بیٹا ہے، نہ بیٹی ہے۔ خواتین کو ایک حقیقت کی طرف متوجہ کروں گا کہ جس رسول کی زبان سے یہ احکام پہنچے ہیں، اُسے اللہ نے بیٹا نہیں عطا کیا، بیٹی ہی عطا فرمائی ہے۔ ہم تو ان کے ہر حکم کو حکمِ الٰہی سمجھتے ہیں۔ لیکن جو شخص رسالت کامنکر ہو، وہ بھی ان کے قانون میں یہ تصور نہیں کرسکتا کہ عورتوں کے لئے ناانصافی ہوئی ہوگی اور مردوں کو کچھ ان کے حق سے زیادہ دے دیا ہوگا۔

تو اب وہی بات آگئی کہ جب احکام شریعت کے الگ الگ ، حج کا طریقہ الگ الگ، نماز کا طریقہ الگ الگ اور جانے کتنی باتوں میں الگ الگ تو رسول کا عمل مردوں کیلئے تو نمونہ ہوسکتا ہے، عورتوں کیلئے نمونہ نہیں بن سکتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عورتوں پر حجت خدا تمام ہی نہیں ہوتی اور مقصد رسالت ہے حجت تمام کرنا۔

قرآن کہہ رہا ہے:

( رُسُلاً مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لَئِلَّایَکُوْنَ لِلنَّاسِ حُجَّة بَعْدَالرُّسُلِ ) ۔

پیغمبر اس لئے بھیجے گئے ہیں کہ خلقِ خدا کے پاس پیغمبروں کے آجانے کے بعد کوئی عذر نہ ہو، اپنی کوتاہی روزِ قیامت پیش کرنے کیلئے۔ تو اگر فقط رسول کی ذات ہو تو عورتیں بارگاہِ خداوندی میں روزِ قیامت کہہ سکتی ہیں کہ بارِ الٰہا! ہم اگر ایمان و عمل میں ناقص رہے تو ہمارا قصور نہیں ہے، ہماری ہدایت ہی پوری نہیں ہوئی، اس لئے کہ مردوں کیلئے تو اقوال بھی رہے اور افعال بھی رہے اور ہمارے لئے تو بس اقوال ہی اقوال رہے۔ عمل کا کوئی بے داغ نمونہ ہمارے سامنے آیا ہی نہیں۔ تو جب حجت تمام نہیں ہوئی تو مقصد رسالت کی تکمیل نہیں ہوئی۔

اس لئے ضرورت تھی کہ پیغمبر کے خزانہ رسالت میں کوئی گوہر بے بہا ایسا ہو کہ اس کا کردار عورتوں کیلئے ویسا ہی معصوم نمونہ عمل ہو جیسا خود رسول کا کردار مردوں کیلئے نمونہ عمل ہے۔ اس کیلئے خالق نے اپنے رسول کوحضرتِ فاطمہ سلام اللہ علیہا جیسی بیٹی کرامت فرمائی۔ اس معنی سے پیغمبر نے فرمایا ہے کہ فاطمہ میرا ایک جزو ہے۔ یعنی اگر فاطمہ نہ ہوں تو میرے فرائض کی تکمیل نہیں ہوتی۔فاطمہ میرے ساتھ مل جائیں تو میرے فرائض رسالت مکمل ہوتے ہیں، بغیر ان کے میرے مقصد رسالت کی تکمیل نہیں ہوتی۔

اب معلوم ہوا کہ یہ فاطمہ تھیں جو حضرت پیغمبر خدا تعظیم کو کھڑے ہوتے تھے۔ بیٹی ہونے کا تقاضا ہی نہیں ہے کہ باپ تعظیم کو کھڑا ہو، یہ عمل خود بتاتا ہے کہ فاطمہ صرف بیٹی ہی نہیں ہیں بلکہ کچھ اور بھی ہیں۔ تو یہ فاطمہ کی تعظیم نہیں ہے، اس منصب کی تعظیم ہے جوجنابِ فاطمہ کے سپرد ہے۔

اس سے ایک مشکل میری حل ہوجاتی ہے، اپنی کوتاہیِ معلومات کے اقرار کے ساتھ یہی عرض کروں گا کہ میری کوتاہ نظری ہے کہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی وسیع النظر ہو، اس کے سامنے کوئی مآخذ ہو جس کے فضائل بے شمار، جس کے فضائل کی کوئی انتہا نہیں۔ مگر مجھے حضرت علی علیہ السلام کیلئے نہیں ملتا کہ پیغمبر خدا تعظیم کو کھڑے ہوتے ہوں۔ یہ مشکل نہیں ہے یا نہیں؟ اب جو حل اس کا میری سمجھ میں آتا ہے، وہ عرض کرتا ہوں۔ میری سمجھ میں جو آیا، وہ یہ کہ فضائل کا بے شمار ہونا اور بات ہے مگر علی کاجو منصب ہے، وہ بعد رسول ہوگا، فاطمہ کا جو منصب ہے، وہ حیاتِ رسول میں ہے۔

اب جناب دوآئینے ہوگئے۔ ایک آئینہ قد آدم، دوسرا آئینہ میں نے کہا کہ اپنے شعبہ میں مکمل۔اب دو چھوٹے چھوٹے آئینے، مگر جناب آئینے میں ایک خصوصیت ہے، وہ تو اُس آئینے میں بھی ہے جسے میں بیکار کہہ چکا ہوں۔ جسے میں نے کہا کہ مجھے کوئی فائدہ نہیں مگر وہ خصوصیت اس آئینہ میں بھی ہے کہ آئینہ خواہ چھوٹا ہو مگر تصویر پوری دکھاتا ہے بلکہ آئینہ کے اگر ٹکڑے بھی ہوجائیں توہر ٹکڑا آئینہ ہوگا۔

ان چھوٹے چھوٹے آئینوں کیلئے میں کہتا ہوں کہ پیغمبر نے ان میں جھک کر اپنا نقشہ دیکھا، تصویر مکمل نظر آئی۔ سند عطا فرمادی ایک۔ دونوں کو مشترک:

اَبْنَایَ هَذَانِ اِمَامَانِ قَامَااَوْقَعدَا “۔

”میرے یہ دونوں بیٹے امام ہیں، چاہے کھڑے ہوں،چاہے بیٹھے ہوں“۔

یہ امام کہنے پر قرآن مجید کے ماننے والوں کو تو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ قرآن نے بتایا کہ گہوارہ کا بچہ کہہ رہا ہے:

( اِنِّیْ عَبْدُاللّٰهِ اَ تَانِیَ الْکِتَابَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا ) ۔

”میں اللہ کا بندہ ہوں، اُس نے کتاب عطا کی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے“۔

صیغہ ماضی ہے۔ تو اب جمہورِ ملت کی زبان میں بات کرتا ہوں کہ اگر اُممِ سابقہ میں گہوارے کا بچہ نبی ہوسکتاہے تو افضل الامم میں چار یا پانچ برس کے بچے امام کیوں نہیں ہوسکتے؟

اس لئے امام کہنے میں اور سمجھنے میں مجھے کوئی دُشواری نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی مشکل درپیش نہیں آتی۔ لیکن ہاں! یہ آخر کا جملہ کہ یہ دونوں امام ہیں، چاہے کھڑے ہوں، چاہے بیٹھے ہوں۔یہ سمجھ میں اُس وقت نہ آسکتا کیونکہ یہ تو انسان کے حالات ہیں، کبھی جاگتا ہے، کبھی سوتا ہے، کبھی اُٹھتا ہے، کبھی بیٹھتا ہے۔ اس کا امامت سے کیا تعلق ہے؟ مگر جب مستقبل نے حالات کے رُخ سے پردہ اُٹھایا اور اب وہ اس وقت کا مستقبل میرے لئے ماضی بن گیا تو سمجھ میں آیا کہ پیغمبر خدا اللہ کے دئیے ہوئے علم میں سے ماضی کے پردہ پر مستقبل کا نقشہ دیکھ رہے تھے۔ پیغمبر کا مقصد یہ تھا کہ میرے ان دونوں بچوں کا طرزِ عمل نگاہِ ظاہر میں متضاد ہوگا۔ ایک صلح کرکے بیٹھ جائے گا، ایک تلوار لے کر کھڑا ہوجائے گا۔ کچھ لوگ اس کی صلح پر معترض ہوں گے، کچھ لوگ اس کی جنگ پر معترض ہوں گے۔ اس لئے پیغمبر نے پہلے سے کہہ دیا کہ یہ میرے دونوں بیٹے امام ہیں، چاہے کھڑے ہوں ، چاہے بیٹھے ہوں۔

یعنی حسین تلوار لے کرکھڑا ہوجائے تو اعتراض نہ کرنا اور حسن صلح کرکے بیٹھ جائے تو اعتراض نہ کرنا۔وہ اُٹھنا بھی حکمِ خدا سے ہے اور یہ بیٹھنا بھی حکمِ خدا سے ہے۔ وہ بھی امامت کا ایک انداز ہے اور یہ بھی امامت کا ایک شیوہ ہے۔

پھر ایک سند خصوصی چھوٹے کو عطا فرمائی:

حُسَیْنُ مِنِّیْ وَاَنَا مِنَ الْحُسَیْنِ

”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں“۔

یہ خاص حضرت امام حسین علیہ السلام کیلئے ہے۔ صحاحِ ستہ میں ہے، ترمذی بھی صحاح میں ہے، اس کی حدیث ہے کہ حسین مجھ سے ہے او رمیں حسین سے ہوں۔اگر دوسرا جملہ نہ ہوتا تو پہلا بالکل صاف تھا کہ حسین مجھ سے ہے ۔ وہ نانا ہیں، یہ نواسے ہیں۔ نانا کا وجود اسباب میں سے ہوتا ہے، نواسے کے وجود کیلئے۔

یہ بالکل سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن اب دوسرا جملہ کہ میں حسین سے ہوں۔پیغمبر خدا کے کلام کی ایک خصوصیت ہے کہ

اُوْتِیْتُ جَوَامِعَ الْکَلِمْ “۔

یعنی مختصر جملے ہوتے ہیں اور اس میں کتنے ہی پہلو ہوتے ہیں۔ اکثر جملے تو ایسے ہیں کہ جتنے اوصافِ کمال ہے پیغمبر کے، ایک جملے سے وہ سب ظاہر ہوجاتے ہیں۔ یہ کلامِ رسول کی خصوصیت ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔

ان دونوں جملوں میں آخر ربط کیا ہے؟ پہلے میں کچھ اور ہو اور دوسرے میں کچھ اور ہو تو وہ تو ایسے ہے جیسے شعردولخت ہوتا ہے۔ ویسے بے جوڑ فقرے ہوجائیں گے۔ لہٰذا ضرورت اس کی ہے کہ دونوں میں کوئی مناسبت ہو۔ اس وقت جو پہلو عرض کرنا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک ہوتا ہے شے کا وجود او ر ایک ہوتی ہے شے کی بقا۔ پہلا جملہ جو ہے کہ حسین مجھ سے ہے، وہ وجود کے لحاظ سے ہے، دوسر اجملہ جو ہے ، وہ بقا کے لحاظ سے ہے۔ یعنی حسین کا وجود میرے وجود سے ہے اور میری بقا حسین کی وجہ سے ہے۔

اب میں اُردو میں ایک جملے میں ترجمہ کرسکتا ہوں کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں یعنی اگر میں نہ ہوتا تو حسین نہ ہوتا اور اگر حسین نہ ہوتا تو میں نہ رہتا۔


حجتِ خدا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰهِ حُجَّة )

چھٹے پارے کی آیت ہے۔ ارشاد ہورہا ہے کہ پیغمبرہم نے بھیجے ہیں مبشر اور منذر یعنی خوشخبری دینے والے اور عذاب سے ڈرانے والے تاکہ لوگوں کے پاس اللہ کے سامنے ، اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے۔اگر یہ نہ بھیجے جاتے تو لوگوں کے پاس حجت ہوتی۔ اب یہ بھیج دئیے گئے تو اب اللہ کے پاس حجت ہوگئی اور اس لئے ان ہستیوں کو حجت خدا کہتے ہیں۔ حجت خدا وہ ہے جو خالق کی طرف سے رہبری کیلئے مقرر ہو۔ پہلے اس کا نام نبی ہوا، وہ حجت خدا بنامِ نبی رہا۔ پھر اس کا نام رسول ہوا، حجت خدا بنامِ رسول رہا۔اس کے بعد حضرت ابراہیم سے اس کا نام ان کے ساتھ تبدیل ہوا یعنی نبی بھی تھا، رسول بھی تھا اور اب امام ہوا۔

یہیں یہ جزو کل میں نے عرض کیا تھا کہ نبی ہوئے ہیں۔ایسے جو کسی ایک قوم کیلئے نبی ہیں، رسول ہوئے ہیں ایسے جن کی رسالت محدودہے، کسی ایک دائرے میں، مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کیلئے ہے، حالانکہ وہ اولوالعزم رسول ہیں مگر تحقیق یہ ہے کہ ان کی رسالت صرف بنی اسرائیل کے دائرے میں تھی۔ بنی اسرائیل کیلئے وہ رسول تھے۔ اس دائرے کے باہر ان کی رسالت نہیں تھی اور اسی لئے حضرت خضر اِن کے دائرئہ رسالت سے باہر تھے۔ ان کی رسالت صرف بنی اسرائیل کیلئے تھی۔ تو نبی جنات کیلئے ہوئے ہیں۔ رسول وہ کسی ایک قسم کیلئے، کسی ایک قبیلہ کیلئے ہوئے ہیں۔ امامت جہاں سے شروع ہوئی تو:

( اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا ) ۔

”میں تمہیں تمام انسانوں کا امام بناتا ہوں“۔

اب انسان کسی بھی خطہ ارض پر ہوں، کسی بھی زمین پر ہوں بلکہ کسی بھی جہاں میں انسان بستے ہوں تو ان سب کیلئے امام ہو اور جب امامت آگے بڑھ کر خاتم المرسلین تک پہنچی تو اب ”للنّاس“ کے لفظ میں ارتقاء ہوا۔ وہاں تھا”للنّاس“ اور انہیں کیا کہا:”( رَحْمة لِلْعَالَمِیْنَ ) ‘ ‘۔ یہ رحمت ہیں تمام عالمین کیلئے۔ اب یہ عالمین کا دائرہ کتنا وسیع ہے۔اسے اس سے سمجھ لیجئے کہ اپنی ربوبیت کی حدودجب بتائے تو یہی کہا:

( اَلْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعالَمِیْنَ ) ۔

”حمد ہے اللہ کیلئے جو تمام عالمین کا رب ہے“۔

اور ان کو کہا:

( وَمَااَرْسَلْناکَ اِلَّارَحْمَة لِّلْعَالَمِیْنَ ) ۔

اس کا مطلب ہے جہاں تک خدا کی خدائی ، وہاں تک ان کی بحیثیت رسول رہبری۔ اب حضرت ابراہیم سے تو آغاز ہوا تھا۔ وہاں پر اس نقطے میں امامت ”للنّاس“ تھی تو اُن کے براہِ راست جو نائب ہوئے، وہ نائب بھی ”لِلنّاس“ ہوئے،صرف انسانوں کیلئے ہوئے اور جب امامت بڑھ کر للعالمین کے دائرے تک پہنچ گئی تواب جو نائب ہوں گے، وہ سب عالمین کیلئے ہوں گے۔

اب میں نے کل عرض کیا ، بات یہاں تک پہنچی تھی کہ نبوت ختم ہوجانے والی شے ہے، اس لئے نبوت میں جانشین کوئی نہیں ہوگا۔ رسالت ختم ہوجانے والی چیز ہے، لہٰذا رسالت میں کوئی جانشین نہیں ہوگا۔اب معلوم نہیں کہ دنیا کس بات میں جانشین کی تلاش میں ہے۔ رسول کا جانشین ڈھونڈ رہی ہے، نبی کا جانشین ڈھونڈ رہی ہے ؟ تو جو جگہ ختم ہوگئی، کیا اس کا الیکشن ہوتا ہے؟

تو نبوت کی جانشینی کے کوئی معنی نہیں، رسالت کی جانشینی کے کوئی معنی نہیں۔ ہاں! امامت ہے کہ جو برقرار ہے، لہٰذا امامت میں جو جانشین ہوگا، وہ امام کہلائے گا۔ اب تمام مسلمان متفق ہیں کہ ہمارے رسول آئے تو سب کے بعد۔ لیکن ہر نبی ، ہر رسول اپنے دور میں ان کی اطلاع دیتا رہا۔ آدم سے لے کر ہمارے رسول کے قبل تک ہر ایک ادھر کا رہنما آخری رسول کے آنے کی اطلاع دیتا رہا، خبر دیتا رہا اور خبر ہی نہیں دیتا رہا بلکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی اُمتوں سے عہدوپیمان لیتے رہے کہ اس آخری رسول کو مانو گے۔اس آخری رسول کو تم تسلیم کرو گے۔ تو یہ ہے کہ ہر نبی اُس آخری رسول کی خبر دیتا رہا۔ تو اب پیغمبر خدا کے بعد وحی کا دروازہ بند ہے۔ لہٰذا جو کچھ اس کے پیغام ہوں، وہ انہیں پہنچانا ہیں۔ لہٰذا اب ان کو اپنے بعد تک کا سب کا تعارف کروادینا چاہئے کہ میرے بعد کون لوگ ہوں گے۔

اب یہاں علم الغیب کی بحث نہیںآ سکتی، اس لئے کہ گزشتہ دور کے انبیاء علم الغیب اگر نہیں رکھتے تھے تو آخری رسول کی خبر کیوں دے رہے تھے؟ تو ان سے افضل جو ذات ہے، وہ اگر قیامت تک کے رہنماؤں کی اطلاع دے دے!

آدم واقف ہوسکتے ہیں محمد مصطفےٰ کے نام سے،نوح ان کے نام سے واقف ہوسکتے ہیں، عیسیٰ واقف ہوسکتے ہیں۔قرآن میں موجود ہے:

( اِنِّیْ مُبَشِّرابِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُه اَحْمَد ) ۔

انہوں نے کہا بشارت دیتا ہوں ایک ایسے رسول کی جس کا نام احمد ہوگا۔

اسی قرآن میں احمد کے ساتھ غلط کا لفظ نہیں ہے کہ احمدی ہے۔تو عیسیٰ نام جانتے تھے ۔ تو جو فخر عیسیٰ ہو، جو حضرت ابراہیم کا فخر ہو، کوئی کہے کہ یہ تو آلِ ابراہیم میں سے ہیں تو ابراہیم کافخر کس طرح ہوسکتے ہیں؟ میں کہتا ہوں کہ ابراہیم بھی تواولادِ آدم میں سے ہیں۔ اگر وہ ابراہیم ،آدم کی اولاد کا فخر ہوگئے تو یہ آلِ ابراہیم کا فخر ہوں تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟

تو جو اُن سے افضل و برتر ہے، وہ اگر بعد کے افراد کا نام بتا دے ، سب کا نام بہ نام تصریح کردے تو اس میں کسی کو، قرآن کے ماننے والے کو،ارے اپنے رسول کی رسالت کو ماننے والے کو،چونکہ ان کی خبر تو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء نے دی تھی، اگر ان سب کو مان لیا تو اگر یہ اپنے بعد والے افراد کے نام بتادیں تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ میں کہتا ہوں کہ آدم سے لے کر ان کے پہلے تک کے جتنے تھے، وہ محمد اوّل کا نام بتاتے رہے اور جو پہلا محمد آیا، وہ اپنے آخری ہمنام کی اطلاع دیتا ہوا آیا۔ اب یہ حدیث، بغیر نام کی گنتی والی تو بالکل متفق علیہ صحاحِ ستّہ میں بھی ہے اور غیر صحاحِ ستہ کتنی مستند کتابوں میں بھی ہے کہ پیغمبر خدا نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد بارہ سردار ہوں گے۔ کہیں بارہ سردار، کہیں بارہ جانشین۔ اثناء عشر خلیفہ، میرے بعد بارہ جانشین، یہ بھی الفاظ ہیں۔

ایک عیسائی نے صحاح و سنن کے تمام کی فہرست مرتب کی ہے یورپ میں۔ اس میں اثناء عشر کے لفظ کے تحت اُس نے ان تمام حدیثوں کے حوالے درج کر دئیے ہیں جس میں کہیں بارہ سردار، کہیں بارہ خلیفہ لکھا ہے۔یہ حدیث متفق علیہ کہ حضرت نے اطلاع دی۔اب اس کے بعد کہیں ہے:

کُلُّهُمْ مِنْ قُرَیْش “۔”وہ سب قریش میں سے ہوں گے“۔

اور میری نظر سے گزرا ہے کہ آپ نے فرمایا:

کُلُّهُمْ مِنْ وُلْدِ فَاطِمَه “۔”وہ سب فاطمہ ک ی نسل سے تعلق رکھتے ہوں گے“۔

بہرحال وہ بارہ جانشین تو سب کے نزدیک متفق علیہ ہیں اور اب کوئی زیادہ مطالعہ کرے تو اسے بائبل میں بھی بارہ سردار ملیں گے اولادِ اسماعیل میں سے۔ قرآن کہہ رہا ہے ، قرآن نے بتایا ہے کہ بنی اسرائیل میں بارہ اسباط تھے اور ان کی بائبل بتا رہی ہے کہ اسماعیل کی اولاد میں بارہ سردار ہوں گے۔ اب اسماعیل کی اولاد وہ بنی اسرائیل سے الگ ہے۔ وہ تو ہمارے رسول سے شروع ہوئی ہے۔ اسماعیل کی اولادکے وہ افراد جن سے دنیا متعارف ہے، وہ تو ہمارے رسول سے شروع ہوتے ہیں۔ تو وہاں ہے بارہ سردار۔ بائبل میں بھی ہے بارہ سردار اس کی اولاد میں سے یعنی اسماعیل کی اولاد میں سے مقرر کروں گا۔

اب ہمارے رسول فرمارہے ہیں کہ بارہ سردار ہوں گے یا بارہ جانشین میرے ہوں گے۔جمہور نے جو فہرستیں مقرر کی ہیں یعنی مسلمانوں کی اکثریت، اسے ہم جمہور کہتے ہیں تو اس نے جو فہرستیں مرتب کیں تو ایک حد بندی کی راشدین کی، تو وہ چار سے آگے نہ بڑھے۔ راشد، غیر راشد کو ملالیا تو درجنوں ہوگئے۔ غرض اکثریت کو بارہ سرداروں کے خواب کی تعبیر نہ ملی۔ بارہ کسی طرح نہیں ہوتے یا چار ہی ہوتے ہیں اور یا بہت ہوجاتے ہیں۔بارہ تو ایک درجن ہوتا ہے۔ میں نے تو کہا کہ بہت درجن۔ تو اب یہ بارہ کہاں سے ملیں؟ معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ کی پہلی کڑی ہی ہاتھ سے چلی گئی ہے تو وہ سلسلہ کہاں سے ملے؟

اب بحمدللہ ہم کو معلوم ہے یعنی دنیا کو ، اب میں کہتا ہوں کہ احسان ماننا چاہئے اس جماعت کا جو کوئی سے بارہ پیش کرسکے، رسول کی سچائی کے ثبوت کیلئے۔

بحمدللہ وہ افراد جنہیں ہم جانتے ہیں اور پہچانتے ہیں بقدرِ امکان جتنا کہ ایمان لانے کیلئے ضروری ہے، ورنہ دنیا خدا کو کب پہچانتی ہے؟ پھر بھی خدا کو مانتی ہے۔ رسول کو اُن کے حقیقی مرتبے کے ساتھ کون پہچانتا ہے؟پھر بھی مانتا ہے تو اگر مکمل پہچاننا شرطِ ایمان ہو تو کوئی خدا پر ہی ایمان نہیں رکھتا، اس لئے کہ مکمل معرفت خدا کی کس کو ہے؟ہم اور آپ کیا ہیں؟ جس نے ہم کو ایمان کی بھیک دی ، وہ کہتا ہوا دنیا سے گیا:

مَاعَرَفْنَاکَ حق مَعْرِفَتِکَ “۔

”ہم نے تجھے جو معرفت کا حق ہے، نہیں پہچانا“ ، تو حقِ معرفت الگ ہوتا ہے اور معرفت بقدرِ امکان الگ ہوتی ہے۔اس کو میں کبھی کبھی سیرت کے جلسوں میں ، مشترک سیرت کے جلسوں میں ، جو بین الاسلامی ہوں، کہا کرتا ہوں کہ پیغمبر خدا کو حقیقی مراتب کے ساتھ پہچاننا ممکن نہیں ہے۔ لیکن اگر سوئی سمندر کے اندر ڈال دیں تو سمندر سوئی کے ناکے میں سمائے گا نہیں، لیکن بقدرِ ظرف تو یہ لے ہی لے گی۔ ویسے ہی دریائے معرفت محمد وآلِ محمد میں اپنے ذہن کی کشتی کو ڈال دیجئے، پھر جتنا ظرف میں صلاحیت ہوگی، آجائے گا۔ تو اب وہ جملہ ،چونکہ وہ لفظ میری زبان سے نکل گئے تھے کہ جنہیں ہم جانتے اور پہچانتے ہیں، یہ” پہچانتے ہیں“بڑی تعلّی کا جملہ تھا، اس لئے مجھے اتنا کہنا پڑا، تو بقدرِ ظرف جتنا جانتے اور پہچانتے ہیں، تو ان میں سے حضور گیارہ افراد تو دنیا کی آنکھوں کے سامنے رہے اور بحمدللہ! ہماری ہی کتابوں میں اُن کے حالات نہیں ہیں بلکہ دنیا کی کتابوں میں ، علماء کی کتابوں میں ، ہر دور کے، ان کے حالات موجود ہیں اور ان کی بعض کتابیں تو مستقل اُن کے حالات میں لکھی گئی ہیں۔

یہ چیزیں دُہرائی جانا چاہئیں۔ اتحاد بین المسلمین کیلئے فائدہ مند ہیں کہ علمائے اہلِ سنت نے جو کتابیں آئمہ اہلِ بیت کے بارے میں لکھی ہیں، ان کے ناموں سے لکھنے والے کا عقیدہ نمایاں ہوتا ہے۔جو میرے قریب ہیں، انہی سے شروع کروں۔ یہاں ماشاء اللہ لکھنو کے بہت حضرات ہوں گے۔ فرنگی محل سے کون واقف نہیں؟ وہ علماء کا مرکز رہا ہے تو ہمارے فرنگی محل کے قدیم عالم مولانا محمد مبین ، جن کی کتاب شرحِ سُلَّم منطق کے کورس میں بھی ایک وقت پڑھائی جاتی تھی، اب بھی مطالعہ تو ضرور کرتے ہیں جو ذوقِ مطالعہ رکھتے ہیں، شرح سُلَّم، مختصر طور پر تو ملا مبین ہی کہلاتی تھی، وہ ملا مبین ہوگئی۔ جیسے ملا حسن، ویسے ملا مبین۔ تو وہ ملا مبین فرنگی محلی، وہ فارسی زبان میں کتاب لکھتے ہیں جسے منشی نول کشور نے اپنے مجمع میں چھاپ دیا تھا یعنی مطبع بالکل غیر جانبدار ہے۔

وہ کتاب چھپی تھی، وہ اب بھی کتب خانوں میں محفوظ ہے۔ اس کا نام دیکھئے، انہی آئمہ کے حالات میں ہیں اور نام اس کا کیا ہے؟ ”وسیلة النجات“۔ نجات کا وسیلہ۔ اب دنیا چیخے۔ یہ نام ہی خود شرک ہے مگر وہ اسے شرک سمجھتے تو یہ نام کیوں رکھتے”وسیلة النجات“، نجات کا وسیلہ۔ یہ حنفی عالم ہیں، ہمارے فرنگی محل کے علماء ہیں۔ انہوں نے یہ کتاب لکھی، انہی حضرات کے حالات میں علامہ عبدالقادر شافعی یمن کے عالم، انہوں نے کتاب لکھی”ذخیرة المال فی مناقب الآل“۔ اس کا بھی نام مٰال، یعنی انجامِ کار کا ذخیرہ مطلب وہی ہوا جو وسیلة النجات کا مطلب تھا۔وہی اس کا مطلب ہوا کہ مٰال کیلئے انجام دینے کیلئے یہ ذخیرہ ہے۔

مزید سب کتابیں جو ہیں، وہ دنیا کیلئے ہیں، یہ آخرت کیلئے ہے۔جناب کمال الدین محمد ابن طلحہ شافعی کتاب لکھتے ہیں”مطالب السئول فی مناقب آلِ رسول“اور حافظ محب الدین طبری، حافظ، یہ قرآن کے یاد رکھنے والے کا نام نہیں جو زبانی یاد کریں۔یہ علم حدیث کی اصطلاح تھی کہ جو ایک لاکھ حدیثیں مع متن و سند یاد رکھتا تھا، اس کوحافظ کہتے تھے۔ تو یہ حافظ محب الدین علمائے اسلام میں ۱۴ سو برس میں علمائے اہلِ سنت میں آٹھ، دس ہیں صرف، جن کو حافظ کہاجاتا ہے۔ حافظ ابن حجر، حافظ جلال الدین سیوطی، بس چند آدمی ہیں جو حافظ کہے جاتے ہیں۔ تو وہ لکھتے ہیں ، جناب حافظ محب الدین طبری، ذخائر العقبیٰ فی مناقب ذوی القربیٰ، یعنی عقیدہ بھی ظاہر، آیہ مودت کی تفسیر بھی نام سے ظاہر، ذخائر العقبیٰ، عقبیٰ کیلئے ذخیرہ فی مناقب ذوی القربیٰ۔

تو یہ تمام علماء ہر دور میں کتابیں لکھتے رہے تو ان کے حالات میں دیکھ لے جو کوئی، جہاں ضمنی آئے ہیں، وہ اور بے شمار۔یہ تو اتنی کتابیں وہ میں نے کہیں جو مستقل اسی میں لکھی گئیں، ورنہ علامہ ابن حجر مکی نے جو کتاب شیعوں کی رَد میں لکھی”صواعق محرقہ“، اس میں بھی ان حضرات کے حالات ، صواعق محرقہ میں بھی اور اسی طرح سے اور علماء، انہوں نے جو اپنی کتابوں کے درمیان درمیان لکھے ہیں، ابن خلکان نے دفایات الاعیان میں حالات لکھے ہیں ۔ تو جو عرض کررہا ہوں ، وہ یہ کہ جو کوئی کسی ایک کتاب میں ، خواہ ان کے حالات میں لکھی گئی ہو، خواہ ضمناً حالات آئے ہوں توہر امام کے حالات دیکھئے تو لکھنے والے متفق ہیں کہ ان کے دَور میں ان سے بڑھ کر کوئی عابد نہ تھا۔اپنے دَور میں ان سے بڑھ کر کوئی عالم نہیں تھا۔ اپنے دَور میں ان سے زیادہ کوئی زاہد نہیں تھا۔ یعنی جتنی صفات ہوتی ہیں نبوت کی، وہ تمام صفات ہر دور میں ہر امام کے اندر موجود ہیں۔ جتنی صفات ہیں، کمالاتِ رسالت کی، ان میں سے ہر ایک میں کہہ رہے ہیں کہ اپنے زمانہ میں سب سے بڑے عالم، اپنے زمانہ میں سب سے بڑے زاہد، اپنے زمانہ میں سب سے بڑے متقی، اپنے زمانے میں سب سے بڑے عابد۔ ان تمام صفات پر دنیا متفق ہے گیارہ اماموں تک۔ وہ تو آنکھوں کے سامنے رہے، حالانکہ میں فطرتِ انسانی کو گواہ کرتا ہوں کہ جتنے تاریخ کے عالم ہوں، اسے دیکھ لیجئے کہ ایک نسل میں پانچ درجے تک کمالات یکساں نہیں آتے۔

بیٹا نمایاں ہوا، پوتا اس سے کم ہوا۔ پھر پڑپوتا بڑھ گیا، پھر اس کے بعد کمی ہوگئی۔ یہ یکساں کمالات پانچ پشتوں تک نہیں آتے،

چہ جائیکہ آنکھوں کے سامنے گیارہ تک ۔ رسول کی سچائی ثابت ہوگئی کہ ہر دور کا وہ انسان جو ایک جماعت، جسے امام کہہ رہی ہے، وہ انہی صفات کا حامل ہے جو امام میں ہونا چاہئے۔ہر ایک ان صفات پر متفق، گیارہ تک آنکھوں کے سامنے۔

بس میں کہتا ہوں کہ گیارہ تک آنکھوں کے سامنے آگئے، اب صرف ایک فرد کیلئے اس سچے کی سچائی کو مشکوک کرو گے؟ مگر جتنی منطق اور فلسفے کی مباحث ہیں، وہ سب آخری فرد میں آجائیں گی۔ وہی حقیقت میں موضوع رکھنے والوں کی مراد ہے حجت خدا سے۔

سب مباحث وہیں پر آجائیں گی، حالانکہ وہ تو سلسلہ کی آخری کڑی ہے۔ مجھے یہاں نام لے دینا چاہئے، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جس کی جو بات ہو،وہ اُس کا حوالہ دے کر بیان کی جائے کہ ایک عالم آئے تھے، نجف اشرف سے، ۲۵،۳۰ برس بلکہ زیادہ ہوئے ہوں گے، جب ڈاکٹر اقبال زندہ تھے، وہ شیخ اسد اللہ زنجانی لکھنو میں راجہ صاحب محمودآباد کے مہمان ہوئے تھے، اس وقت تک آپ کا پاکستان نہیں بنا تھا، وہ وہیں تھے، قیصر باغ میں اُن کے مہمان ہوئے تھے اور وہ یہاں لاہور بھی آئے تھے۔ ان کے عصمت انبیاء کے موضوع پر تبادلہ خیالات ہوئے اور وہ مطمئن ہوئے۔ چنانچہ اُن کی کتاب نجف اشرف میں چھپی ہے۔ اس میں اس گفتگو کا حال ہے جو ڈاکٹر اقبال سے ہوئی تھی۔ تو ان کا یہ جملہ ہے کہ یہ ایک مناظرے کا اصول ہے کہ اصل مسئلہ امامت پر تو بحث نہیں کرتے اور آجاتے ہیں بارہویں امام پر کہ صاحب! سمجھا دیجئے ہم کو، یہ کیونکر ہوسکتا ہے؟ ہر چیز کا اصول یہ ہے کہ جو بنیادہو اُس کی، وہاں سے مانئے۔ خدا کو آپ نہیں مانتے اور رسول پر بحث کیجئے۔ اس کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ رسول ہی کا کوئی قائل نہیں ہے، ایمان پر بحث کیجئے، تو کوئی معنی ہی نہیں ہیں۔

وہ پورا سلسلہ چھوڑ کر آپ آخری فرد پر بحث کررہے ہیں۔ تو یہ بحث بے اصول ہے۔ تو جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے مسکرا کر کہا:

”شما یازدہ را قبول بکنید، دوازدھم از شما نمی خواہیم“۔

”آپ ان گیارہ ہی کو مان لیجئے، بارہویں کو معاف کردیں گے ہم، نہ مانئے“۔

تو حقیقت یہ ہے کہ یہ اصول جب مان لے گا کہ جس کی وجہ سے گیارہ امام ہیں، تو وہ لازماً کشاں کشاں مان لے گا اس بارہویں کو۔ مگر پورے سلسلے کو چھوڑ کر جب اس نقطے پر آکر گفتگو کریں گے تو بات اُلجھ جائے گی۔

تو حضور!گیارہ فرد آنکھوں کے سامنے رہے۔ اب اس فرد کے بارے میں گفتگو ہے،کیوں گفتگو ہے؟ اس لئے کہ غائب ہے، آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ میں کہتا ہوں کہ پورے قرآن کے حافظ نہ بنئے، سورئہ بقرہ کو ہی یاد کرلیجئے۔ ارے پوری سورئہ بقرہ بہت مشکل ہے۔ آپ اس کی ابتدائی آیت یاد کرلیجئے۔ کیا کہاجارہا ہے:

( هُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ الَّذِیْنَ یُومِنْوْنَ بِالْغَیْبِ ) ۔

”یہ ہدایت ہے ان پرہیزگاروں کیلئے جو غیب پر ایمان لائیں“۔

کون پرہیزگار؟ پرہیزگار وہ ہوتے ہیں جو غیب پر ایمان لائیں۔ معلوم ہوتا ہے ،کتنا ہی افعال و اعمال پرہیزگارانہ رکھئے، جب تک غیب پر ایمان نہیں ہوگا، قرآن بھی دامن چھڑا لے گا۔ کوئی منطقی اعتراض نہیں، کوئی عقلی اعتراض نہیں۔ بس یہ کہ آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے، کیونکر مانیں؟میں کہتا ہوں کہ آپ نے اصولِ دین میں سے کونسی چیز آنکھوں سے دیکھ کر مانی ہے؟

یاد رکھئے! جب تک غیب پر ایمان نہ لائیے، دین کا کوئی ستون قائم نہیں ہوسکتا۔ دین کی بنیاد ہی قائم نہیں ہوسکتی۔ ایمان لائیے، سب سے پہلے اللہ کو مانا، میرے نزدیک تو آنکھ سے دیکھ لیتے تو اللہ ہی نہ ہوتا اور پھر کسی کو خود نہ دیکھا ہو،کسی نے تو دیکھا ہوگا۔ یہاں وہ ات ہے جس کو کسی اس کی طرف دعوت دینے والے نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں نے دیکھا ہے۔ کسی کو بیداری میں نہ دیکھاہو، خواب میں تو دیکھا ہو مگر اس کو میں کہتا ہوں کہ خواب میں بھی نہیں دیکھ سکتے۔

ایک عقلی اصول عرض کرتا ہوں کہ خواب میں بھی وہی چیز دیکھی جاسکتی ہے جو بیداری میں بھی دیکھی جاسکے۔ خوشبو خواب میں بھی سونگھی جائے گی، دیکھی نہیں جائے گی۔آواز خواب میں بھی سنی جائے گی، دیکھی نہیں جائے گی۔ نرمی سختی خواب میں بھی چھونے سے معلوم ہو گی، دیکھی نہیں جائے گی۔ نوعیت حادثہ نہیں بدلتی، صرف عالمِ حادثہ بدل جاتاہے۔ سونگھنے کی چیز خواب میں بھی سونگھی ہی جاتی ہے اور سننے کی چیز خواب میں بھی سنی ہی جاتی ہے۔ اور جو نہ سننے کی چیز ہو، نہ دیکھنے کی چیز ہو، وہ خواب میں کیونکر دکھائی دے گا؟

میں کہتا ہوں کہ اگر دیکھا ہو تو کسی اور کو دیکھا ہوگا۔ مجھے معلوم ہیں ایسے دعویدار جنوں نے دیکھا ، کہا کہ ہم نے خواب میں دیکھا۔ خواب میں دیکھنے کے دعویدارمجھے معلوم ہیں۔ کتاب میں مَیں نے پڑھا ہے، وہی ہمارے اور وہ اب بھی ہمارے ملک کے رہے۔ ہمارے ملک میں جو نبی پیدا ہوئے، بٹوارے کے بعد بھی وہ ہماری قسمت میں گئے۔

تو جناب! وہ ہمارے ملکی نبی ، ان کی کتاب میں مَیں نے خود پڑھا ہے کہ میں نے اللہ سبحانہ کو خواب میں دیکھا، خواب میں جو دیکھا تو دوات و قلم و کاغذ بھیج دیا۔ بڑھا دیا۔ خیر اللہ سبحانہ کے سامنے دوات، قلم بڑھا دیا ۔ یہی بہت بڑی بات ہے مگر اپنے مطلب کی بات لکھوانا تھی، اس لئے بڑھادیا۔ اگر خطرہ ہوتا کہ ہمارے خلاف لکھیں گے تو کبھی نہ بڑھاتے۔ دوات و قلم آگے بڑھادیا کہ جو دعویٰ کرنا تھا،اس کا پروانہ لکھ دیجئے، نبوت کا پروانہ۔تحریک کرکے لکھوا رہے ہیں، یہ لکھ دیجئے۔ انہوں نے بلاتکلف قلم اٹھایا۔

اب بیچ بیچ میں تبصرے کے جو الفاظ ہوں گے، وہ میرے ہوں گے۔ مضمون ان کا ہے کہ بعض اوقات آپ نے دیکھا ہوگا کہ قلم میں روشنائی زیادہ آجاتی ہے تو کیا کرتے ہیں؟ جھٹکتے ہیں۔فاؤنٹین پین والے بھی بعض اوقات جھٹکتے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ نب کو روشنائی میں ڈبویا تو ایسے بے اٹکل پن سے کہ روشنائی زیادہ آگئی۔ اس کے بعد جھٹکا تو ایسی بد تمیزی سے کہ چھینٹے پڑے۔ آنکھ کھل گئی۔ اب نتیجہ جو ہے ، وہ میرے الفاظ میں سنئے کہ پروانہ تو نہ تھا، دامن پر دھبے موجود تھے۔ اب وہ کرتہ موجود تھا جس پر نشان ہیں روشنائی کے اور ہر سال وہاں زیارت ہوتی تھی اس کی، اُس ملک میں، اب یہاں پھر ہونے لگی ہوگی جو اس کے پہلے مرکز تھا۔ تو ہر سال زیارت ہوتی تھی اسے دھبوں کی جو نہیں معلوم کس نے ڈالے ہیں؟

تو حضور! پھر وہ اصل بات یہ ہے کہ میں نے کہا کہ خواب میں بھی عقلاً ناممکن ہے اسے دیکھنا تو ایسا غیب اور اسے مان رہے ہیں۔ جب تک نہ مانیں مسلمان ہی نہ ہوں گے۔ اس کے بعد لوگ کہیں گے کہ اصل بیچ میں سے چھوڑ دی۔ نہیں، جسے سب مانتے ہیں ،اس فہرست کو کہہ رہا ہوں کہ رسولِ خدا سے جب آگے بڑھے تو رسالت، تو رسالت کو آنکھ سے دیکھ کر مانا ہے۔ ارے ہم نے تو کسی کو نہیں دیکھا۔ جب دیکھا ، جس نے دیکھا، واقعی رسالت کو آنکھ سے دیکھ کر مانا۔ارے صاحب! سامنے تو چہرئہ مبارک ہے، سامنے تو گیسوئے مبارک ہیں، سامنے تو دندانِ مبارک ہیں۔ مشاہدات تو یہ ہیں مگر ایمان کیا اس گیسو پر لانا ہے؟ ایمان اس چہرے پر لانا ہے؟ایمان اس دندانِ مقدس پر لانا ہے؟ ایمان لانا ہے رسالت پر۔ رسالت کے معنی ہیں بھیجنا۔ جب بھیجنے والے کو نہیں دیکھا تو بھیجنا کہاں دیکھیں گے۔

تو رسالت وہ جو جزوِ ایمان ہے۔ وہ غیب کی چیز ہے ، جبرئیل امین کو آتے نہیں دیکھا، لوحِ محفوظ سے قرآن کو اُترتے نہیں دیکھا۔ وہ سب غیب کی باتیں ہیں۔ اس کے بعد آخر میں پہنچ جائیے۔ تین مشترک اصل ہیں کہ توحید کے بعد رسالت، رسالت کے بعد قیامت، قیامت کو آنکھ سے دیکھ کر مانا؟دیکھ لیتے تو قیامت ہو ہی نہ جاتی؟ تو قیامت کو بغیر دیکھے مانا اور قیامت کے ساتھ غیب کا کارخانہ مانا، صراط کو مانا، میزان کو مانا، نامہ اعمال کو مانا، جنت کو مانا، دوزخ کو مانا، ایک دنیا مانی غیب کی۔ ہر مسلمان نے مانی۔

اب میں کہتا ہوں کہ جس کے کہنے پر اتنے غیب مان لئے، ایک غیب کی خاطر اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہو؟ اب اس کے بعد اُن کے ارشادات اور قرآن کی آیات لے لیجئے۔ تو یہ حضور قرآن کیا کہہ رہا ہے؟

( کُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْنَ ) ۔

”صادقین کے ساتھ رہو“۔

مکمل صادق سوائے معصوم کے کوئی نہیں ہوسکتا۔تو کہا جارہا ہے کہ صادقین کے ساتھ رہو کہ ایک صادق کبھی ہوا تھا، اب تم ڈھونڈ ڈھونڈ کر اُس کے اقوال پر عمل کیا کرو۔ تو میں کہتا ہوں کہ صادقین کی کیا ضرورت ہے، ایک صادق تو تھا ہی جسے مشرکین بھی صادق کہتے ہیں۔ تو یہ صادقین کی کیا ضرورت ہے؟ جب اسی رسول کی زبانی کہا گیا کہ صادقین کے ساتھ رہو تو معلوم ہوا کہ اس کے علاوہ ایک سلسلہ ہے جو اسی معیار کے صادقین کا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تک وہ افراد باقی ہیں، جن سے کہا جارہا ہے، وہ پوری اُمت مسلمہ ہے ، جب تک مسلمان اُمت کاوجود ہے، تب تک صادقین کا بھی وجود رہے گا۔

اب اس پرابھی مزید تبصرہ کروں گا ۔ یہ قرآن نے کہا ، اس کا بھی تقاضا یہ کہ قیامت تک رہیں گے۔رسول نے فرمایا:

اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْن “۔

”میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑتا ہوں“۔

اللہ کی کتاب ، دوسری میری عترت جو میرے اہلِ بیت ہیں۔متفق علیہ حدیث ہے:

مَااِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا “۔

”جب تک ان دونوں سے تمسک رکھو گے“۔

لَنْ تَضِلُّوْابَعْدِیْ “۔

”میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوگے“۔

وَاِنَّهُمَالَنْ یَّفْتَرِقَا “ ۔

”اور یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے“۔

اب مسلمانوں سے سوال ہے کہ اس وقت قرآن ہے، کون کہے گا کہ نہیں ہے۔ قرآن ہے۔ میں کہوں گا جو قرآن کے ساتھ تھے، ان میں سے کوئی ہے؟اگر کہے نہیں ہے تو ہمارے آپ کے رسول نے کہا تھا کہ رہے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جدا نہیں ہوں گے۔ جدا ہوگئے۔ اور اب میں کوئی سخت جملہ کہنے کا عادی نہیں ہوں۔ بس میں یہ کہتا ہوں کہ یہ رسول وہ ہے جسے مشرک بھی صادق کہہ رہے تھے۔ اب مسلمان ہوکر آپ کو اختیار ہے کہ جو چاہے ، کہئے۔

الحمدللہ پورا بیان ہوگا۔ یہ تو اپنے ہاتھ کی بات ہے۔ یہی موضوع پانچ دن میں بیان ہوسکتا تھا، یہی ایک دن میں بیان ہوگیا۔ اب میں کہتا ہوں کہ قرآن نے بھی کہا کہ قیامت تک صادقین کا سلسلہ رہے گا۔ انہوں نے بھی کہا کہ کبھی جدا نہیں ہوں گے۔ اگر کہے کہ نہیں ہیں تو جدا ہوگئے، رسول کی سچائی ختم ہوگئی بلکہ قرآن کی صداقت ختم ہوگئی۔ اگر کہے کہ ہیں تو مَیں کہوں گا کہ آنکھ سے دکھائیے کہ کہاں ہیں؟ اگر آنکھ سے نہ دکھا سکے تو غائب مانتے۔

چونکہ ماشاء اللہ صاحب فہم ہیں،جو کچھ عرض کررہا ہوں، آپ کیلئے جملے کافی ہیں، مختصر یہ کہ غیب وہ نہیں ہے، جو ہو ہی نہ۔ غیب وہ نہیں ہے جو آنکھوں کے سامنے ہو۔ غیب ایک ثبوت اور ایک نفی سے مل کر بنتا ہے۔ عینی ہو اور آنکھوں کے سامنے نہ ہو۔ تو میں کہتا ہوں کہ ہونا تو سچے خدا اور رسول ، اُن کے کہنے سے ثابت اور سامنے نہ ہونا آنکھوں سے ثابت۔

اب غیب کا کون جزو محتاجِ ثبوت رہا؟بس اب دنیا یہ کہتی ہے کہ اب غیب، ہاں خیر! غیب کو تو مانتے ہیں، بغیر غیب کو مانے تو نہ تو خدا کو مان سکتے ہیں۔ یہ سب باتیں بالکل ٹھیک ہیں مگر آدمی بشر اتنے دنوں تک زندہ رہے، یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ کسی کو ہم نے اتنے دن زندہ رہتے نہیں دیکھا۔ میں کہوں گا کہ دنیا میں بے شک کسی کو میں نے بھی زندہ رہنے نہیں دیکھامگر مجھے دنیا سے کیا کام؟ جس سلسلہ کے بارے میں میری گفتگو ہے، اس میں سے کسی ایک کو مرتے نہیں دیکھا۔ کوئی ایک تو اپنی موت سے دنیا سے گیا ہوتا۔میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی مرتے نہیں دیکھا۔ ہمیشہ خارجی حربے اپنا کام کرتے تھے۔ یا زہر یا تلوار۔

اب میرے الفاظ صاحبانِ علم محفوظ رکھ سکتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ تقاضائے بقا ہر ایک کی ذات میں تھا، یہ مانع خارجی تھا جو اس مقتضی کو اثر کرنے سے روکتا تھا۔ بس جسے اللہ کو باقی رکھنا ہے، اس کے سلسلہ میں کوئی کام اسے نہیں کرنا۔ فقط حربوں کی زد سے الگ رکھنا ہے۔

اب دنیا کہتی ہے کہ غائب ہونے سے بڑی مصیبت ہوگئی۔ مصیبت نہ ہوتی تو ہم کیوں روتے؟ ہم کیوں بار بار فریادیں کرتے، استغاثے کرتے، عریضے کیوں بھیجتے؟ کوئی ہمیں پسند ہے غَیبت؟ مگر کیا کریں جن کے باعث یہ غیبت ہوئی، وہ کہہ رہے ہیں کہ کیوں غَیبت ہوئی؟ میں کہتا ہوں کہ دنیا اپنے گریبان میں منہ ڈال کر کیوں نہیں دیکھتی؟ گیارہ کے ساتھ کیا کیا ؟ جو کہتے ہو کہ بارہواں کیوں غائب ہوا؟ میں تو دیکھتا ہوں کہ جیسے خالق اور مخلوق میں جنگ ہوگئی تھی، وہ کہہ رہا تھا کہ صادقین کے ساتھ رہو، یعنی قیامت تک سچے رہیں گے۔ دنیا والوں نے کہا کہ رہنے دینا تو ہمارا کام ہے۔ ہم رہنے ہی نہیں دیں گے تو کیونکر رہیں گے؟

اب جو الفاظ کہتا ہوں، اُنہیں محفوظ رکھئے۔ جب تک خزانہ حکمت باری میں صادقین کا ذخیرہ رہا، اُس نے حربوں کو کام کرنے دیا۔ اچھا یہ نہیں ، ابھی دوسرا ہمارے پاس ہے۔ چاہے کسی عمر کا ہو، اس سے مطلب نہیں کیونکہ صادقین میں عمر کو کوئی قید نہیں۔یہ مباہلے ہی میں رسول نے دکھا دیا۔

اسے تم نے نہیں رہنے دیا؟ کوئی بات نہیں۔ ابھی ہے ہمارے پاس۔ اچھا! اسے بھی نہیں رہنے دیا؟ اچھا نہ سہی۔اور ہے۔ مگر اب جب مقصد ا لٰہی کا ایک فرد میں انحصار ہوگیا، اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا اور مخلوق کی جنگ۔ اس کا آخری نتیجہ فتح و شکست کا ایک فرد کی بقا و فنا میں ہوگیا کہ اگر یہ رہتا ہے تو خدا کی بات پوری اور اگر یہ بھی ختم ہوجاتا ہے تو دنیا کامیاب اور اللہ ناکام(نعوذُ باللہ)۔

اب دنیا یہ بتائے کہ کیا قادرِ مطلق عاجز بندوں کے مقابلہ میں اپنی شکست مان لیتا؟ اب دنیا کو ختم کرنا ہوگا تو بھیج دے گا ، یہ طے کر کے کہ یہ نہیں تو اب کچھ نہیں۔میں کہتا ہوں کہ دنیا نے کربلا میں کوئی کمی اُٹھا رکھی تھی اس سلسلہ کو ختم کرنے کی؟ وہ تو خالق نے اپنے مقصد کے تحفظ کیلئے وہاں بھی غیبت سے کام لیا۔ ذرا باریک بات ہے مگر ماشاء اللہ آپ توجہ سے سن رہے ہیں۔وہاں بھی غیبت سے کام لیا۔ غیبت کے معنی تو یہ ہیں کہ ہم انہیں دیکھ نہیں رہے۔ اُس نے غیبت یوں طاری کی کہ دن بھر انہیں غش میں رکھا کیونکہ اگر غش میں نہ ہوں تو باپ کی نصرت واجب ہوجائے۔اگر نصرت نہ کریں تو کردارِ امامت کے خلاف ہو۔ پھر علی اکبر سے ان کی منزل پیچھے رہ جائے۔ امام کیسا جو اپنا فرض نہ ادا کرے۔ ورنہ میرا ایمان ہے کہ ان حضرات کو غش بیہوش نہیں کرسکتا، مرض بیہوش نہیں کرسکتا۔ یہ مشیّت ربانی ہے، مصلحت کردگار ہے کہ دن بھر بیہوش رہے اور اس کا ثبوت مَیں بر بنائے واقعات عرض کروں گا کہ دن بھر بیہوش رہے۔ جب تک فریضہ جہاد ادا ہورہا تھا، تب تک بیہوش رہے۔


مودّت فی القربٰی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًااِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) ۔

کہہ دیجئے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ اپنی خدمات کا نہیں مانگتا ، سوائے صاحبانِ قرابت کی مودت کے۔ گزشتہ دو تقاریر کا خلاصہ یہ ہے کہ عمل کی بلندی وابستہ ہے شخصیت کی بلندی سے۔ اسلام میں شخصیت کی بلندی عمل ہی کی بلندی سے تو ہوتی ہے۔یہ ایک جزو تھا۔ دوسرا جزو یہ ہے کہ تمام کائنات میں انبیاء افضل ہیں اور تمام سلسلہ انبیاء میں ہمارے رسول بلند درجہ رکھتے ہیں اور سب سے افضل ہیں۔

ایک عام سوال جس کا بظاہر موضوع کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ وہ نیک عمل زیادہ بلند ہے جس کے ساتھ کوئی معاوضہ شریک ہو یا وہ عملِ خیر جس کے ساتھ کسی معاوضہ کا سوال نہ ہو۔ ہر شخص اس کا جواب یہی دے گا کہ وہ عمل بالاتر ہے جس کے ساتھ کوئی معاوضہ شریک نہ ہو اور وہ عملِ خیر اُتنا اونچا نہیں ہے جس کے ساتھ کسی معاوضہ کا تصور ہو۔ معاوضہ ضروری نہیں کہ روپیہ پیسہ ہی ہو۔ انسان کو فائدہ پیش نظر ہو تو وہ بھی معاوضہ ہے۔ لیکن اگر عملِ خیر کے ساتھ نہ کوئی فائدہ ہے، نہ کوئی مفاد ہے، صرف عملِ خیر ہے ۔ اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ نیک عمل ہے۔ تو اس میں بلاشبہ بلندی زیادہ ہوگی۔

مثال کے طور پر پردئہ شب میں سائل آیا آپ کے پاس ، جو کچھ اُس وقت تھا، وہ اُسے دے دیا۔ مقدار تو کم ہے لیکن عمل بے لوث ہے۔ یہ معلوم ہے کہ یہ اخباروں میں شائع نہیں ہوگا اور اس بات کے بظاہر اسباب نہیں ہیں کہ یہ کسی وقت مجھے صلہ دے۔ اس کو شہرت نہیں ملے گی، اس کا چرچا بھی لوگوں تک نہیں پہنچے گا۔ جو کچھ دیا ہے، بے غرضی کے ساتھ دیا ہے۔ یہ مقدار قلیل ہوگی مگر عمل بلند ہوگا۔ دوسری طرف فرض کیجئے کہ حکومت نے چندہ کا مطالبہ کیا ہے۔ بڑے کارِ خیر اور نیک مقصد کیلئے ہے۔ اس کیلئے اجتماع ہوا ہے۔ اس اجتماع میں ایسے ایسے لوگ بلائے گئے ہیں جن کا اس مقصد کیلئے مدد دینا وقیع ہو۔ بلاشبہ وہ لوگ جو دیں گے ، وہ بہت ہوگا بلکہ شاید پوچھ پوچھ کر دیا جائے کہ کس نے کتنا دیا؟ اس لئے اس سے زیادہ دینے کی کوشش کی جائے گی ۔ مگر معلوم ہے کہ فہرست عطایا کی اخباروں میں شائع ہوگی۔ حکومت کے ریکارڈ میں بھی محفوظ رہے گی۔ غرض یہ کہ جو اس وقت دیا ہے، نہ جانے کس کس وقت کام آئے گا۔ تو یہ مقدار تو زیادہ ہوگی لیکن اس کے ساتھ بہت سے معاوضوں کا تصور ہے۔ اس میں ہر ضمیر محسوس کرتا ہے کہ اتنی بلندی نہیں ہوگی۔ اس سے یہ فیصلہ ہوجاتا ہے کہ عمل کہ بلندی یا پستی مقدارِ عمل سے وابستہ نہیں ہے۔ لہٰذا کسی ضربت کو اگر ترجیح دے دی جائے ، کسی وقت ثقلین کی عبادت پر، تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہے۔

بس ہر ایک نے اس کا جواب یہی دیا کہ جس میں معاوضہ شریک ہو، وہ عملِ خیر اتنا اونچا نہیں ہوتا جتنا وہ کہ جس میں معاوضہ کا تصور نہ ہو۔ کل کے پورے بیان کو اس کڑی کے ساتھ وابستہ کرکے دیکھئے کہ ہمارے سامنے قرآن مجید میں تمام انبیاء کی آوازیں ہیں۔روایات نے نہیں پہنچائیں، اس قرآن مجید نے پہنچائی ہیں۔ قرآن مجید میں تذکرہ ہے ہر نبی کا۔ ہر ایک یہ کہہ رہا ہے:

( لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا ) ۔

”میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا“۔

اور بس اس کے بعد خاموش ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ کوئی اجر نہیں ، کوئی معاوضہ نہیں۔ ایسے ایسے انبیاء جو اولوالعزم نہیں ہیں، صاحب شریعت و کتاب نہیں ہیں بلکہ نبی ہیں۔ رسول ہونا ان کا ثابت نہیں مگر قرآن مجید میں ان سب کی صدائیں ہیں کہ:

( لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا ) ۔

”میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا“۔

جنابِ نوح یہی کہتے ہیں اور جنابِ شعیب یہی کہتے ہیں۔ جو نبی ہے، وہ یہی کہہ رہا ہے ، اس کو تلاش کرلیجئے سورئہ قصص میں بھی یہی ہے، سورئہ انبیاء میں بھی ہے، سورئہ ھود میں بھی ہے۔ جو نبی ہے، وہ یہ کہہ رہا ہے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ نہیں چاہتا اور اس کے بعد چپ ہوجاتا ہے ، خاموش ہوجاتا ہے اور ہمارے نبی جو افضل المرسلین ہیں، وہ شروع تو یونہی کرتے ہیں کہ:

( لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ ) ۔

وہی الفاظ ہیں کہ میں تم سے کچھ نہیں مانگتا، میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا۔ جب ہم نے یہ الفاظ سنے تو ہم کو کوئی تعجب نہیں ہوا کہ جو ہر نبی نے کہا، جو ہر رسول نے کہا، وہی یہ بھی بھی فرمائیں گے اوروہی فرمانا چاہئے ان کوکیونکہ قرآن میں کہا ہے کہ کہہ دیجئے ۔ میں پیغمبروں میں کوئی انوکھا تو نہیں ہوں یعنی جو سب کی تعلیم رہی ہے، وہی میری تعلیم ہے۔ اس لئے جو سب کا پیغام ہے، وہی میرا پیغام ہے۔

تو جس طرح ان کا پیغام تھا، اسی طرح کا اِن کا بھی پیغام ہے۔ لہٰذا ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوتا کہ جو سب فرماچکے ہیں، اسی طرح یہ بھی فرمارہے ہیں۔ان کو اسی طرح سے فرمانا چاہئے لیکن اب بظاہر حیرت کی بات ہوجاتی ہے کہ ہر نبی ”اجراً“ کہہ کر چپ ہوگیا تھا اور یہ تو افضل المرسلین ہیں اور جب افضل المرسلین ہیں تو ان کا کردار بھی سب سے بالاتر ہونا چاہئے۔ ان کا عمل بھی سب سے اونچا ہونا چاہئے۔ یہ ”اجراً“ کہہ کر خاموش نہیں ہوتے۔ فن قراءت و تجو ید میں یعنی قرآن مجید کی قراءت کے جو اصول ہ یں، کہ وقف کا معیار سانس ہے، اگر متکلم نے سانس لے لی تو وقف ہے اور اگر متکلم نے سانس نہیں لی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سلسلہ کلام جاری ہے۔ ہر پیغمبر”اجراً“ کہہ کر سانس لے لیتا ہے، اس لئے بات مکمل ہوجاتی تھی او ریہ ہمارے پیغمبر جوافضل المرسلین ہیں، یہ ”اجراً“ کہہ کر سانس نہیں لیتے بلکہ فوراً ایک ”الّا“کہہ دیتے ہیں۔

پس ادھر”الّا“ کہا اور ہماری سمجھ میں آیا کہ کچھ نہ کچھ تو ہے۔ ابھی چاہے بعد کی بات ہم نہ سنیں کہ کیا ہے مگر صرف”الّا“ کا لفظ سننے سے ہماری سمجھ میں یہ آگیا کہ کچھ عجب ہے کیونکہ اس ”الّا“ سے ہمارا سابقہ بہت دُور سے پڑا ہے۔ جس وقت سے کلمہ پڑھا ، اسی وقت اگر ”لاالٰہ “ کہہ کر چپ ہوجاتے تو دہریوں کا کلمہ ہوتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا ہے ہی نہیں لیکن جب بات پوری نہیں ہوئی ، اس کے بعد الااللہ آگیا تو پتہ چلا کہ خدا ہے۔ کون ہے؟ اللہ ہے۔ اور آگے بڑھئے:

( وَمَااَرْسَلْنٰکَ ) ۔

اگر اتنے پر ہی بات ختم ہوجاتی تو رسالت کی نفی ہوجاتی کہ ہم نے آپ کو بھیجا ہی نہیں۔ مگر جب اس کے بعد:

( اِلّارَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْن ) ۔

”مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کیلئے“۔

تو معلوم ہوا کہ بھیجا بھی ہے اور ہمہ گیر رحمت بنا کر۔”الّا“ کی خاصیت معلوم ہوگئی کہ یہ جب کسی عام بات کے بعد آتا ہے تو اس کے عموم میں شگاف پیدا کردیتا ہے۔نفی کے بعد آئے گا تو ثبوت پیدا کردے گا۔ زمین نفی و اثبات میں انقلاب برپا کردے گا۔ جو چیز نفی تھی، وہ اثبات بن جائے گی۔ وہاں تھا: لا اِلٰہ اِلااللہ۔ پہلے نفی،”اِلّا“ نے آکر ثبوت فراہم کردیا۔ وہاں”( وَمَااَرْسَلْنٰکَ ) “، نف ی کردی ”اِلّا“ نے آکر کہ بھیجا ہے اور تمام عالمین کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ اسی طرح ”( لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا ) “۔ وہ نف ی کہ میں تم سے کچھ نہیں چاہتا، بات یہاں ختم ہوجاتی تو بے شک اجر کی نفی تھی لیکن جب اس کے ساتھ ”الّا“ آگیا،”( اِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) “، اس کے معنی یہ ہیں کہ نفی قائم نہیں رہی، کچھ اجر ہے۔اجر کا ثبوت ہوگیا۔

میں کہتا ہوں کہ ایک ساخت ہے۔لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰه کلمہ توحید۔( وَمَااَرْسَلْنٰکَ اِلَّارَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْن ) ، بالکل وہی ترکیب ہے۔ یہ کلمہ رسالت ہے اور( لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًااِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) ، یہ کلمہ ولایت ہے۔

اب بعد میں جو کچھ کہا ہے، وہ نہ بھی سنتے تو”الّا“ کا لفظ بتاتا ہے کہ آگے اثبات ہے۔ اس کے بعد فرمایا تو یہ فرمایا:( اِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) ۔ صاحبانِ قرابت کی محبت، صاحبانِ قرابت کے معنی اپنے قرابت دار۔ ہم جو معنی سمجھتے ہیں، اسی کے مطابق ترجمہ میں کہتے ہیں کہ میں تم سے کچھ اجر نہیں چاہتا سوائے اپنے قرابت داروں کی محبت کے۔

مسلمانوں میں ایک طبقہ نے یہ غور کیا کہ یہ بات شانِ رسالت کے خلاف ہے کہ آپ اپنے قرابت داروں کی محبت کو معاوضہ قرار دیں اپنی خدمات کا۔”اِلَّا “کو بیچ سے ہٹایا نہیں جاسکتا تھا۔ مودت کے معنی لغت میں جو ہیں یعنی محبت، اس کو بدلا نہیں جاسکتا تھا۔ لہٰذا پورا زور کلامِ قربیٰ پر صرف ہوگیا۔چونکہ خیر خواہ مسلمان شانِ پیغمبر کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں، انہیں خدا سے زیادہ پیغمبر خدا کی شان کو محفوظ رکھنے کی فکر ہے، لہٰذا پوری طاقت قربیٰ کے مفہوم پر صرف ہوگئی کہ کسی طرح یہ اپنے عزیز نہ رہیں۔ لہٰذا کچھ اور ہوجائے۔

علمائے کرام دُور دُور کی کوڑیاں لانے لگے۔ کچھ نے کہا کہ یہ مشرکین عرب سے کہا گیا ہے یعنی اب مسلمان مخاطب نہیں ہیں۔ یہ ایک احتیاطی طریقہ ہوگیا کہ مسلمانوں کو سوچنا نہیں ہے کہ ہم سے کچھ کہا جارہا ہے۔ مشرکین مکہ مخالفین اسلام مخاطب ہے اور ان سے کہا جارہا ہے کہ میں تم سے کچھ معاوضہ تو چاہتا ہی نہیں ۔ مگر بھئی مجھ میں اور تم میں جو عزیز داری ہے، جو قرابت داری ہے، اس کا پاس اور لحاظ تو کرو۔یہ علمائے کرام کے نزدیک شانِ رسول کے مطابق بات ہے کہ وہ ابوجہل کو اپنی قرابت کا واسطہ دیں، ابو لہب کو اپنی قرابت کا واسطہ دیں کہ بھئی میری قرابت کا لحاظ تو کرو۔ جو پیغام میں پہنچا رہا ہوں، اس کو اتنی بیدردی سے رَد نہ کرو۔ میرے ساتھ جو رویہ اختیار کئے ہوئے ہو، یہ رویہ اختیار نہ کرو۔ گویا مشرکین کو اپنی قرابت کا واسطہ دیا جارہا ہے۔ علمائے اسلام یہ مفہوم قرار دے رہے ہیں۔ اصولی حیثیت سے، بافہم مجمع سے میرا سوال ہے، معاذاللہ، رسول کا مطلب یہ ہو یعنی رسول اپنی قرابت کا واسطہ دے کر انہیں دعوتِ اسلام دیں تو پھر ابوجہل کو کیوں حق نہیں ہے کہ وہ اپنی قرابت داری کا واسطہ دے کر یہ نہ کہے کہ ہمارے معبودوں کو بُرا نہ کہئے۔ جب اصول کی بات نہیں رہی، حقانیت کی بات نہیں رہی ، قرابت داری کا پاس ہوگیا تو آپ تو ہماری قرابت داری کا لحاظ نہ کریں اورہم آپ کی قرابت داری کا پاس کریں؟آپ تو بیدردی سے ہمارے معبودوں کو نشانہ بنائیں اور ہم آپ کے ساتھ قرابت داری کے لحاظ سے رعایت برتیں۔

معاذ اللہ ، رسول ایسی بے اصول بات مشرکین مکہ سے نہیں کہہ سکتے تھے۔ انہوں نے خود بتایا ہے کہ حق کے معاملہ میں قرابت داری کوئی چیز نہیں۔ ان کو حق کہہ کر پیش کرنا ہے یا قرابت داری کے واسطے سے، بنظر ترحم ان سے منوانا ہے۔

غور فرمائیے! اصل مرکز سے ہٹانے کیلئے کتنی معقول اور غیر معقول کوششیں کرنا ضروری سمجھی جارہی ہیں کہ جو اصل مقصد ہے، وہ حاصل نہ ہو۔ یہ ایک رُخ تھا جسے کچھ لوگوں کے ضمیر نے قبول نہیں کیا۔ دوسرا پہلو یہ پیش کیا گیا کہ بے شک قرابت دار کہے گئے ہیں اور مشرکین سے خطاب نہیں ہے ، مسلمانوں سے ہی ہے، مسلمانوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ میں تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگتا، سوائے اس کے کہ تم اپنے قرابت داروں سے محبت کرو۔بس مقصد حاصل ہوگیا۔ بجائے رسول کے ، وہ ہمارے قرابت دا رہوگئے۔

میں کہتا ہوں کہ اس سب کے بعد بھی وہ ”اِلَّا “ اپنی جگہ سے نہیں ہٹا یعنی رہا ۔ تو کچھ نہ کچھ اب یہ کہ تم اپنے قرابت داروں سے محبت رکھو، دوستی رکھو۔ آئیے اس کو قرآن کے معیار پر جانچیں تو قرآن کریم کی ایک مہم یہ تھی کہ حق کی راہ میں قرابت داری کی محبت کو دلوں سے کھرچ کر دُور کرے۔

ارشادِ الٰہی ہے کہ کسی جماعت کو ، جو اللہ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتی ہے، تم نہ دیکھو گے کہ وہ ایسے سے محبت کرے جو اللہ اور رسول کے خلاف ہے۔ چاہے وہ باپ دادا ہوں، چاہے وہ بیٹے ہوں، چاہے وہ شریک حیات ہوں، بھائی ہوں، قبیلے کے لوگ ہوں ، کوئی بھی لوگ ہوں۔یہ وہ ہیں جو صاحبانِ ایمان ہیں۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے کہ کہہ دیجئے کہ اگر تم اپنے باپ دادا کو ، اپنے بھائیوں کو، اپنی اولاد کو اور ان اموال کو جنہیں تم جمع کرتے ہو، ان سب کو تم خدا ،رسول اور ان کی راہ میں خدمات انجام دینے سے زیادہ عزیز رکھتے ہو تو پھر عذابِ الٰہی کے منتظر رہو۔

قرآن مجید ،جس کی یہ مہم ہو اور اس وقت اسلام کی راہ میں یہی محبتیں رکاوٹ تھیں، ان کا استدلال قرآن کے خلاف یہی تھا، اسلام کے خلاف یہی تھا، پیغمبر اسلام کے خلاف یہی تھا کہ ہم نے باپ دادا کو اسی راستے پر دیکھا ہے اور ہم اسی راستے پر چلے جائیں گے۔بڑی مشکل یہ تھی کہ ایک بھائی اگر حالت کفر میں ہے اور دوسرے بھائی کی سمجھ میں اگر اسلام آبھی گیا ہے تو بھی وہ اس راستے پر نہیں آتا کہ بھائی کو چھوڑنا پڑے گا۔ اگر شریک حیات مسلمان ہونا چاہتا ہے اور زوجہ حالت کفر میں ہے تو اس کی محبت اس کے سد راہ ہوتی ہے۔

قرآن کی مہم یہ تھی کہ مسلمانوں کو حق کے معاملہ میں ان تعلقاتِ قرابت کو دل سے نکالنا ہے۔ تو کیا وہ یہ کہتا ہے کہ میں اپنی خدمات کا معاوضہ یہ چاہتا ہوں کہ تم اپنے قرابت داروں سے محبت کرو؟ اب ایک اور اصولی بات ہے کہ ان میں سے کوئی قول ایسا نہیں جس کی تائید میں کوئی قولِ رسول ہو، حدیث رسول ہو۔ لیکن جو بحمدللہ ہم سمجھتے ہیں، اس کی تائید میں متفقہ طور پر حدیث رسول موجود ہے۔ مسلمانوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! وہ قربیٰ کون ہیں؟

علامہ محمد ابن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں لکھا ہے اور تفسیر کی کتابوں میں بھی ہے مسلمانوں نے پیغمبر خدا سے سوال کیا کہ یہ آپ کے قرابت دارکون ہیں؟ رسول نے فرمایا:

عَلِیٌّ وَفَاطِمَه وَاَبْنَاهُمَا “۔

”علی و فاطمہ اور ان کے دونوں بچے“۔

جب خود رسولِ اکرم نے اس کی تفسیر کردی تو اب مسلمانوں کو اس کے خلاف سوچنے کا کیا حق ہے؟ مگر جو باتیں میں نے پیش کی تھیں ، وہ تو اپنی جگہ پر رہیں کہ افضل المرسلین ہیں اور پھر ان کا کردار سب سے اونچا ہونا چاہئے۔ ہر نبی کہتا رہا کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا مگر ہمارے رسول یہ کہہ رہے ہیں کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا مگر، اور”مگر“ کے بعد اپنے قرابت دار اور قرابت داروں کے بعد ان کی محبت۔ تو کیا میں سمجھوں کہ اور تمام انبیاء کا عمل بے لوث تھا اور ان کے عمل میں(معاذاللہ) غرض شریک ہوگئی۔ تو ان کا کردار اتنا اونچا نہ رہا۔ اگر کردار اونچا نہ رہا تو اس کے معنی ہیں کہ ان کی شخصیت دوسرے انبیاء سے اونچی نہ رہی۔ہمارے سارے مسلمات بدل گئے۔ یہ مشکل کیوں پیش آرہی ہے؟

میں کہتا ہوں کہ یہ سب مشکل ایک لفظ کے نظر انداز کردینے سے پیش آرہی ہے۔ یاد رکھئے کہ ہر نبی نے خود اُمت سے خطاب کیا تھا، خود آئے او ر کہا کہ میں کوئی اجر نہیں چاہتا۔ صالح آئے اور کہا کہ میں کوئی اجر نہیں چاہتا۔ نوح آئے اور انہوں نے یہی کہا کہ کوئی اجر نہیں چاہتا۔خالق نے بس قول کو نقل کردیا۔ ہمارے پیغمبر بھی اگر منبر پر تشریف لے جاتے اور اپنی طرف سے کوئی خطبہ پڑھتے اور مسلمانوں کو پیغام اپنی جانب سے دیتے تو یہ بھی اتنا ہی کہتے جتنا ہر نبی نے کہا۔ یہ بھی کہتے کہ میں کوئی اجر نہیں چاہتا۔ مگر یہ کب آئے منبر پر؟ کب انہوں نے کوئی خطبہ پڑھا؟کب انہوں نے قوم کو مخاطب کیا؟

وہ تو جس کے رسول ہیں، اُس نے کہا: ”قُل“۔اُس نے ارشاد کیا کہ ”قُل“۔ کہئے او ریہ کہئے۔ الفاظ بھی اس کے سکھائے ہوئے، الفاظ بھی اس کے بتائے ہوئے اور اب اگریہ اس کے رسول ہیں تو اس میں تصرف جائز ہی نہیں۔ انہیں اس میں نہ کمی جائز نہ زیادتی جائز۔ جب اس نے کہا کہ یہ کہئے کہ :

(( لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًااِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) ۔

کوئی اجر نہیں چاہتا اور اسی لئے تو قرآن کے ساتھ رسول کی ضرورت تھی کہ اگر قرآن اس طرح اترتا مکتوبی شکل میں لکھا ہوا تو بیچ میں سانس لینا نہ لینا پڑھنے والے کا کام ہوتا۔ پھر خدا بھی اس کا ذمہ دار نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لئے خدا نے قرآن کو بھیجا اور ایک سانس لینے والے انسان کو ساتھ بھیجا۔اب جس طرح وہ قرآن کی صحت کا ذمہ دار ہے، اسی طرح اس کے پڑھنے کے طریقہ کا بھی ذمہ دار ہے۔وہ کہہ رہاہے کہ کہئے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا، سوائے اپنے قرابت داروں کی محبت کے۔

اب آپ کو بر امعلوم ہوتا ہے کہ رسول اپنے قرابت داروں کو کیسے کہہ رہے ہیں؟تو میں کہتا ہوں کہ رسول کب کہہ رہے ہیں اپنے قرابت داروں کو؟ یہ کب کہہ رہے ہیں اپنے قرابت داروں کیلئے؟ وہ کہلوا رہا ہے۔ اب رسول سے قرابت داری نہ ڈھونڈئیے، اُس سے رشتہ ڈھونڈئیے۔

رشتہ کو قرابت کہتے ہیں۔ اللہ سے قرابت ڈھونڈئیے۔ قرابت کے لفظ سے کسی کو وحشت نہ ہو، جیسی اُس سے قرابت ہوسکتی ہے۔ آپ نماز میں کہیں”قُرْبَةً اِلَی اللّٰه “تو صحیح اور میں قرابت کہہ دوں تو غلط؟

اب اس سے سمجھئے کہ یہ ہستیاں فقط رسول سے رشتہ نہیں رکھتیں، یہ اللہ سے بھی رشتے رکھتی ہیں۔ تو اب جہاں جہاں”قل“ ہے:

( قُلْ هُوَاللّٰهُ اَحَد ) ۔

”کہے کہ اللہ ایک ہے“۔

تو اب اللہ کو ایک کہنا ان کا فرض ہوا یا نہیں؟

( قُل اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اَلَیْکُم ) ۔

”کہئے کہ میں اللہ کا رسول ہوں“۔

تو یہ کہنا ان کا فرض ہوا یا نہیں؟ وہ کہتا ہے کہ کہئے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا، سوائے قرابت داروں کی محبت کے تو اب یہ کہنا ان کا فریضہ ہے یا نہیں؟ اب آپ یہ چاہتے ہیں کہ یہ ہمارے لکھنو والے تکلف سے کام لیتے تو میں کہتا ہوں کہ اگر اس تکلف سے کام لینا ہوتا تو جب اُس نے کہا تھا کہ کہئے کہ میں رسول ہوں تو کہتے کہ پروردگار! اپنے منہ سے کیا کہوں کہ میں رسول ہوں۔قرابت دار تو اصل میں اپنی وجہ سے قرابت دار ہوتے ہیں۔ اصل محبت تو ذات سے ہوتی ہے۔ جب کہا جاتا کہ آپ اپنی رسالت کی تبلیغ کیجئے تو کہتے کہ اپنے منہ سے کیا کہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس لکھنو کے تکلف کا تقاضا تو یہ تھا کہ کوئی پوچھتا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں؟ تو رسول فرماتے کہ میں کس قابل ہوں، یہ تو آپ کی محبت ہے۔

یاد رکھئے کہ خدا کی طرف کے عہدوں میں تکلف روانہیں ہے۔ نبی اور امامت کا کیا ذکر ہے، کسی مجتہد سے پوچھا جائے کہ آپ مجتہد ہیں؟ تو اگر واقعی مجتہد ہیں تو ان کو کہنے کا حق نہیں ہے کہ مجتہد نہیں ہوں۔ یہ حقیقت خلافِ شانِ رسالت ہے کہ رسول بارگاہِ الٰہی میں یہ کہیں کہ پروردگار! میں اپنے منہ سے کیاکہوں کہ میں رسول ہوں۔ یہ اگر تکلف کرتے تو کیا واقعی رسول ہوتے؟

ارشادِ الٰہی ہوتا کہ ماشاء اللہ! رسول آپ ہیں تو کیا آپ کی رسالت کی تبلیغ کیلئے کوئی اور رسول آئے گا؟جب آپ رسول ہیں تو میری وحدانیت کا منوانا بھی آپ کا کام اور اپنی رسالت کو منوانا بھی آپ ہی کا کام۔تو جب اپنی ذات کے بارے میں ان کے لئے تکلف روا نہیں تھا تو قرابت داروں کے بارے میں تکلف کیونکر ہوسکتا تھاکہ بارگاہِ الٰہی میں عرض کریں کہ پروردگار! یہ میں کیونکر کہوں؟ اپنی بیٹی کیلئے کہوں، اپنے داماد کیلئے کہوں،اپنے نواسوں کیلئے کہوں؟

اپنے لئے کہہ سکتے تھے، اپنی بیٹی کیلئے نہیں کہہ سکتے تھے۔ ہاں! جیسے آپ واقعی رسول ہیں، ویسے ہی آپ کی بیٹی بھی اُس کے ہاں کوئی درجہ رکھتی ہے۔آپ کا فرض ہے کہ کہئے اور اگر آپ کا داماد اور آپ کے نواسے اس کی طرف سے کسی منصب کے حامل ہیں تو جیسے اپنی رسالت کی تبلیغ کرنا آپ کا فرض تھا، ویسے ہی ان کی امامت کی تبلیغ کرنا بھی آپ کا فرض ہے۔

ذرا نازک بات ہے کہ میں کہتا ہوں کہ جب اُس نے کہا کہ:

( قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًااِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) ۔

”کہئے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا سوائے قرابت داروں کی محبت کے“۔

واقعی یہ قرابت داروں کی محبت ان کی ان خدمات میں ہوگئی جن کا اجر یہ اسی سے لیں گے۔ اُس نے جب کہا:

( قُلْ هُوَاللّٰهُ اَحَد ) ۔

تو یہ اُس کی توحید کا پیغام ہوگیا۔ اُس نے کہا:

( قُل اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اَلَیْکُم ) ۔

”میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں“۔

توان کی رسالت کا پیغام ہوگیا۔ وہاں خلق خدا کو توحید کا قائل ہونا پڑا، یہاں رسالت کا قائل ہونا پڑا۔ اس کے بعد جب اُس

نے کہا:

( قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًااِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) ۔

”کہئے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا“۔

دیکھئے! ”قل“ ، یا کہئے کہ ساتھ جو بات آرہی ہے وہ اصولِ دین میں داخل ہے تو کہئے:

( هُوَاللّٰهُ اَحَد ) ۔

توحید اصولِ دین میں۔ کہئے کہ:

( اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اَلَیْکُم ) ۔

تو رسالت جزوِ دین اور اب جب وہ کہہ رہا ہے:

( لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا ) ۔

تو جن ہستیوں کیلئے وہ کہہ رہا ہے، اُن کی ولایت بھی جزوِ دین ہوگی۔ وہ جو سلسلہ ہے، اس کی پہلی کڑی جو ہوگی، اس کا نام لے کر رسول اس کی ولایت کا اعلان فرمائیں گے اور مراد وہ پورا نظام ہوگا جس کی یہ پہلی کڑی ہے۔گویا پہلی کڑی کو ہاتھ میں دے دینا ہے خدا و رسول کو کہ اب اس حلقہ تک پہنچ جاؤ گے تو پھرآگے بڑھتے چلے جانا۔ پورا سلسلہ تمہارے سامنے آجائے گا۔

تو یاد رکھئے کہ اُس نے کہا:

( قُلْ هُوَاللّٰهُ اَحَد ) ۔

انہوں نے تبلیغ کی، اللہ احد۔ ہم نے کہا:

( لَا اِلٰهَ اِلَّااللّٰه ) “۔

خدا نے کہا:

( قُل اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اَلَیْکُم ) ۔

”کہئے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں“۔

انہوں نے اس کی تعمیل میں کہا:

اَنَا رَسُوْلُ اللّٰه “۔

”میں اللہ کا رسول ہوں“۔

ہم نے فوراً کہا:

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰه “۔

اُس نے کہا:

( قُلْ لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًااِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) “۔

انہوں نے اس کی تعمیل کی کہ:

( لَا اَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًااِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) ۔

ہم نے کہا:

عَلِیٌّ وَلِیُّ اللّٰ ہ“۔

پس جب خدا نے کہا کہ کہئے ، تو اب ان سے قرابت نہیں ہے، اُس سے رشتہ ہے۔ اسی طرح جو ہم نے رشتہ ملایا: لاالہ الااللہ، یہ بھی اللہ کی طرف رُخ۔”مُحَمَّدٌرَّسُولُ اللّٰه “ کا مرکز بھی اللہ اور ”عَلِیٌّ وَلِیُّ اللّٰه “ کہہ کر ہم رسول سے کوئی رشتہ نہیں بتارہے ہیں۔

رسول، رسول ہیں مگر عبداللہ کے بیٹے بھی ہیں، عبدالمطلب کے پوتے بھی ہیں، ہاشم کے پڑپوتے بھی ہیں۔ مگر کیا ہم جو کلمہ پڑھتے ہیں، وہ اس لئے کہ ہاشم کے پڑپوتے ہیں یا عبدالمطلب کے پوتے ہیں یا عبداللہ کے بیٹے ہیں؟ کلمہ جو پڑھتے ہیںِ وہ اس لئے کہ اللہ کے رسول ہیں۔ وہ الگ سے معلوم ہے کہ کس کے پوتے ہیں، کس کے بیٹے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ وہ ہستیاں بھی بہت اونچی ہیں جن کے بیٹے ہیں۔ وہ بھی بہت بلند ہیں جن کے پوتے ہیں۔ وہ بھی بہت بلند ہیں مگر ہمارا کلمہ پڑھنا اس وجہ سے نہیں ہے کہ ان کے بیٹے اور ان کے پوتے ہیں۔ ویسے ہی جس جس کو مانتے ہیں، وہ اس لئے نہیں مانتے کہ رسول کی بیٹی ہیں، وہ رسول کے داماد ہیں، رسول کے نواسے ہیں۔ نہیں! ہم تو اس لئے مانتے ہیں کہ خدا کی طرف سے جو منصب ہے، یہ اُس پر فائز ہیں۔ان کی حیثیت دو طرح کی ہوگی، ایک رشتہ جو رسول سے ہے اور ایک رشتہ جو خدا سے ہے۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ رسول فضائل اس لئے بیان کرتے تھے کہ وہ بھائی ہیں اور یہ بیٹی ہیں اور یہ نواسے ہیں۔ فضائل سب تسلیم ، پیغمبر خدا کی سب احادیث تسلیم،لیکن اس کی اہمیت کم کرنے کیلئے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کو بہت چاہتے تھے، اپنی بیٹی کو بہت چاہتے تھے، اپنے نواسوں کو بہت چاہتے تھے۔ اس طرح وہ فضیلت کی ساری حدیثیں گویا محبت پر مبنی قرار دے دی گئیں کہ یہ سب اپنے عزیزوں کی محبت تھی۔ فضائل اس لئے بیان کرتے تھے کہ بیٹی تھیں۔ تو ہم چاہے مانیں یا نہ مانیں، دنیا کے نزدیک تو بیٹیاں اور بھی تھیں۔

ان لوگوں سے میں کہتا ہوں کہ اگر پیغمبر خدا فضائل بیٹی ہونے کی بناء پر بیان کرتے تھے تو ان بیچاری بیٹیوں نے کیا قصور کیا تھا کہ ان کیلئے کچھ بیان نہیں فرماتے؟ جنابِ والا! صحیح بخاری ، جنابِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، اس باب میں ہے، بابِ مناقب فاطمہ ، مگر بنظر اختصار، بنظر احتیاط، بنظر مصالحت ، کتنی نظروں سے ، صرف تین احادیث ہیں یعنی پورے بڑے صفحے پر صرف تین عدد حدیثیں ہیں۔ مگر وہ تین عدد بھی کیسی کیسی کہ فرماتے ہیں:

سَیَّدَةُ نِسَاءِ اَهْلِ الْجَنَّة “۔

”یہ میری بیٹی زنانِ اہلِ جنت کی سردار ہے“۔

بہشت کی عورتوں کی سردار ہے، بہشت کوئی بنی ہاشم کی خاندانی جاگیر نہیں ہے۔ بہشت وہ ہے جو ایمان و عمل کی جزا کیلئے خلق کی گئی ہے، مہیا کی گئی ہے۔ تو اب بیٹی کو جو فرمارہے ہیں کہ اہلِ جنت کی عورتوں کی سردار ہے۔ ایک مکتب خیال رسول کے اقوال و افعال کی بھی تقسیم کرتا ہے۔ بشریت اور رسالت میں کہ کچھ باتیں بحیثیت بشر فرماتے تھے ، کچھ باتیں بحیثیت رسول فرماتے تھے۔ جو بحیثیت بشر فرمائیں، وہ تو عام آدمیوں کی طرح ہیں، ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور جو باتیں بحیثیت رسول فرمائیں، ان کی دینی اہمیت ہے۔ اس مکتب خیال کے لحاظ سے، اسی مکتب والوں سے پوچھوں گا کہ بہشت کے بارے میں جو بات ہے، وہ بشر کی حیثیت سے ہے یا رسول کی حیثیت سے ہے؟

اہلِ جنت کی خبر بحیثیت بشر ہوہی نہیں سکتی۔ بھیجے گئے ہیں جنت کی اطلاعیں دینے کیلئے تو جنت کے بارے میں جو فرمائیں ، وہ تو بحیثیت رسول ہے، چاہے کئی ہزار باتیں بحیثیت بشر ہوں مگر جنت کے سلسلہ میں جو بات ہوگی، وہ تو بحیثیت بشر ہو ہی نہیں سکتی۔ بحیثیت رسول ہی ہوگی۔تو اب بیٹی کو جو فرمارہے ہیں کہ زنانِ اہلِ جنت کی سردار ہیں اور جنت خلق ہوئی ایمان و عمل کی جزا کیلئے تو ارشادِ رسول کے معنی یہ ماننا پڑیں گے کہ جو میعار ہے جنت میں جانے کا، وہ میری بیٹی میں اتنی بلندی پر ہے کہ قیامت تک کی کسی عورت کو بھی جنت میں جانا ہو تو وہ فاطمہ کے پیچھے چل کر جاسکتی ہے، آگے چل کر نہیں جاسکتی۔

اب نواسوں کے بارے میں جو احادیث ہیں، صحیح ترمذی کی حدیث کہ پیغمبر خدا فرماتے ہیں:

اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَاشَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّة “۔

یعنی ان افراد کے بارے میں کوئی حدیث جنت سے ادھر تو رکتی ہے ہی نہیں۔ ماں سردارِ زنانِ جنت اور نواسوں کیلئے فرمارہے ہیں کہ سردارِ جوانانِ بہشت۔

یاد رکھئے کہ اگر بچوں کی حالیہ عمر پیش نظر ہوتی تو بچوں کا سردار کہتے۔ جوانوں کا سردار کہنا خلافِ بلاغت تھا۔ یہ کب جوان ہیں جو ان کی مدح میں کہا جائے کہ سردارِ جوانانِ جناں؟ بعد میں جوان ہوں گے تو کہا جائے گا۔ اس وقت جوان کہاں ہیں؟ بہت دور ہے جوانی! اگر ارشادِ رسول میں اس وقت کی عمر معتبر ہو تو سردارِ اطفالِ جنت کہیں، جنت کے بچوں کا سردارفرمائیں۔ لیکن جب یہ ارشاد فرمارہے ہیں کہ سردارِ جوانانِ اہلِ جناں، تو ماننا ہوگا کہ یہاں والی عمر سامنے نہیں ہے، بہشت والی عمر، بہشت والا دورِ حیات سامنے ہے۔خود ہی فرماچکے ہیں کہ بہشت میں ہر ایک جوان ہی جائے گا تو آپ نے اہلِ جنت کے جوانوں کے سرداربتایا ہے تو جناب! جو کوئی بھی بہشت والا ہے، چاہے جوان ہو، چاہے بوڑھا ہو، اگر جنت میں جانا ہے تو ان کی سرداری ماننا پڑے گی۔

صرف متکلم مستثنیٰ ہوتا ہے اور پھر ایک ہستی جسے خود رسول نے ، ایک تتمہ ہے اس کا:

اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَاشَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ وَاَبُوْهُمَاخَیْرٌ مِنْهُمَا “۔

”یہ میرے دونوں بچے جوانانِ جنت کے سردار ہیں اور ان کے بابا ان سے بہتر ہیں“۔

یوں کہئے کہ سرداروں کے سردار۔ اب یہ ہستیاں ہیں جن میں سے ہر ایک ذووجہین ہے یعنی دو رُخ رکھتا ہے۔ ایک رُخ رسول سے قرابت کا اور ایک رُخ اللہ سے قرابت کا۔ اس لئے پیغمبر کے افعال بھی دو طرح کے ہوگئے، کچھ اپنی قرابت سے اور کچھ اللہ کے رشتہ سے۔بیٹی کو گلے لگانا اپنی قرابت کی بناء پر درست ہے۔ جب کسی غزوہ پر جاتے تھے ، سب سے آخر میں جنابِ فاطمہ زہرا سے رخصت ہوتے تھے۔جب آتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا سے ملاقات فرماتے تھے۔یہ بیٹی ہونے کی وجہ سے تھا۔

مگر حضور! تعظیم کو کھڑے ہونا، یہ تو اپنی بیٹی ہونے کا تقاضا ہی نہیں ہے۔ یہ عمل خود بتاتا ہے کہ فاطمہ صرف بیٹی نہیں ہیں، کچھ اور بھی ہیں۔ چونکہ میں جنابِ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی فضیلت کی ایک حدیث جو صحیح بخاری میں ہے، بیان کرچکا اور آپ کے ساتھ جو برتاؤ ہے، وہ بھی عرض کرچکا، میں نے عرض کیا کہ جب آپ سمجھتے ہیں کہ اور بھی بیٹیاں ہیں تو اتنی نہیں ، اس سے کم درجہ کی کوئی حدیث؟مگر ان بیچاریوں کے بارے میں کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔

میرے نزدیک تو دینی اہمیت اس چیز کی کوئی ہے ہی نہیں کہ اور بیٹیاں تھیں یانہیں تھیں۔ یہ علم انساب کا مسئلہ ہے، علم تاریخ کا مسئلہ ہے۔ حضور!اور بیٹیاں ہوں یا نہ ہوں مگر نساء کے اندر تو ایک ہی تھیں۔ نصاریٰ نجران کے مقابلہ میں مباہلہ کی منزل میں ایک ہی تھیں۔ سردارِ زنانِ جنت ایک ہی تھیں۔ تو ہوا کریں بیٹیاں۔ جب خدا اور رسول نے انہیں اہمیت نہیں دی تو ہم انہیں کیوں اہمیت دیں؟

رہی دوسری شخصیت تو معلوم ہے مجھے کہ انساب کے لحاظ سے ان کے دو رشتے ہیں۔نسبی رشتہ بھی ہے، سببی رشتہ بھی ہے۔ نسبی رشتہ چچازاد بھائی ، تو حضور مسلمہ تاریخ کی بات ہے کہ اور بھی چچازاد بھائی تھے۔ خود ان کے سگے بھائی ہیں۔ وہ کیا رشتہ میں فرق رکھتے ہیں؟ تین اور تھے ، علی تو عمر میں سب سے چھوٹے تھے۔ یہ تاریخ کی حقیقت ہے کہ عمر میں سب سے چھوٹے تھے۔ سب سے بڑے طالب، طالب سے چھوٹے جعفر اور جعفر سے چھوٹے عقیل، عقیل سے چھوٹے آپ اور ہر ایک میں دس دس برس کا فرق۔طالب سے دس برس چھوٹے جعفر، جعفر سے دس برس چھوٹے عقیل، عقیل سے دس برس چھوٹے جنابِ امیر علیہ السلام۔ حضرت علی رسول سے تیس برس چھوٹے تھے۔ یہ دس برس کے تھے تو بعثت ہوئی ، رسول کی گود میں پلے تھے، اسی گود میں اسلام آیا تو ان میں اور اسلام میں وہ ربط ہوا جو ایک مربی کی آغوش میں پلنے والے دوبچوں کا ہوتا ہے یعنی اسلام نے آنکھ کھول کر ان کی صورت دیکھی۔

پس چچازاد بھائی تو اور بھی تھے مگر ان میں سے کسی اور کے بارے میں احادیث کیوں نہیں ہیں؟ ان کے بارے میں بھی احادیث ہیں، لیکن ہر ایک اپنی منزل میں ہے۔ طالب، طالب ہیں۔ جعفر، جعفر ہیں۔ عقیل، عقیل ہیں اور علی ، علی ہیں۔جو دوسرا رشتہ داماد کا ہے، ظاہر ہے کہ بیٹیاں ہیں تو داماد بھی ہوں گے۔ جو کسی بیٹی کو نہیں مانتا، وہ داماد کو بھی نہیں مانتا۔ جس کے نزدیک اور بیٹیاں ،اُس کے نزدیک داماد بھی اور ہیں۔ جب داماد کئی ہیں تو اوروں کی فضیلت کی تعریفیں بھی ہونی چاہئیں لیکن نہیں ہیں۔

اچھا! جب بیٹی ہوگئی، داماد ہوگئے تو پھر نواسوں کی کیا کمی ہے؟ لیکن وہی جو بیٹی کے سلسلہ میں کہہ چکا کہ وہ سب ہوا کریں۔ سردارِ جوانانِ بہشت تو یہی دو نواسے ہیں۔ یہ نواسے ہونے کا تقاضا نہیں ہے، ورنہ پھر کسی اور نواسے کیلئے کچھ او رہوتا۔ یہیں سے علی کی نماز کے بارے میں گفتگو ہوجائے۔ علی نے انگلی سے اشارہ کردیا ، وہاں بحثیں اٹھائی جاتی ہیں کہ رجوعِ قلب کے خلاف ہے۔ یعنی نماز ہے ،خدا کی فکر ان کو ہے۔ جس کی نماز ہے، وہ تاجِ ولایت اسی سر پر رکھے دیتا ہے۔ ان کو فکر ہے نماز کی۔ انگلی سے اشارہ کیا۔ اس پر بہت مباحث ہیں کہ یہ خلافِ رجوعِ قلب تو نہیں ہے اور پیغمبر نے جو سجدہ کو طول دیا، وہاں کسی صاحب نے بحث نہیں اٹھائی۔ ظاہر ہے کہ خبر ہوئی کہ کون پشت پر آیا ، تبھی تو سجدہ کو طول دیا۔

میں کہتا ہوں کہ کردارِ رسول کی بلندی کے لئے یہی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اگر اپنا نواسہ ہونے کی بناء پر طول ہوتا تو خلافِ شانِ سجود ہوتا لیکن رسول نگاہِ فرض شناس کی ترازو میں مرضیِ الٰہی کے معیار پر تول رہے ہیں ، ایک پلڑے میں نماز کو، نہیں! عام رفتار نماز کو اور ایک پلڑے میں حسین ۔ اور حسین کا وزن رسول نے مرضیِ الٰہی کی ترازو پر تولا تو عام رفتار نماز پر ان کی خاطرداری کو،مرضیِ الٰہی کے معیار پر قابلِ ترجیح سمجھا۔ چونکہ ترازو کہا ہے، اس لئے ایک لفظ استعمال کروں گا ، میں کہوں گا کہ یہ مقاصد الٰہی کے ماتحت حسین کا وزن تھا کہ رسول کا سر نہیں اُٹھ سکا۔ پیغمبر خدا کے پیش نظر تھا کہ یہ میری ایک وقت کی نماز اور اس کا سجدہ ہے اور یہ بچہ وہ ہے جس کی بدولت قیامت تک نماز قائم رہے

گی۔میں کہتا ہوں کہ حسین نے کربلا میں اپنے عمل سے ثابت کردیا کہ میرے ساتھ میرے نانا نے جو بچپن میں کیا تھا، اُس کا میں حقدار تھا۔ جیسے تہہ خنجر یہ اُن کے پیش نظر تھا کہ نانا نے میری خاطر سجدہ جو طول دیا تھا تو سہی، جو یہی سجدہ ہو اور گلے پر خنجر ہو؟

اور یہ جو میں نے کہا کہ ان کی بدولت قیامت تک نماز قائم ہوئی، یہ میں نہیں کہہ رہا، ہم جو آئمہ کی سکھائی ہوئی زیارت پڑھتے ہیں:

اَشْهَدُاَنَّکَ قَدْاَقَمْتَ الصَّلوٰةَ “۔

”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نمازکو قائم رکھا“۔

میں کہتا ہوں کہ نماز بھی جیسی کربلا میں پڑھی گئی، تاریخ عالم میں نہیں پڑھی گئی۔ پیغمبر نے ان کیلئے سجدہ کو طول دیا۔ کوئی بتائے کہ نماز کے کسی عمل کو کب تک طول ہوتا ہے؟ ہر عمل کو طول ہوتا ہے جب تک دوسرا عمل نہیں ہوتا۔ رکوع ہوااور قیام نہیں ہوا تو قیام کے وقت تک رکوع قائم رہا۔ قیام تھا اور پھر سجدہ میں نہیں گئے تو اس وقت تک قیام کو طول ہوا ۔ یعنی طول ہوتا ہے جب تک اس کے مقابل دوسرا عمل وجود میں نہ آئے۔رسول نے جتنا طول دیا، وہ تو ہم کو معلوم ہے، اس کی پیمائش ہم کرسکتے ہیں۔ کہا کرتے ہیں کہ ستّر مرتبہ ذکر سجود کی نوبت آئی۔ اتنی دیر طول دیا لیکن حسین نے سجدہ جو کتنا طول دیا؟ میں نے کہا کہ کوئی عمل اتنا طول پاتا ہے جب تک کہ اس کے خلاف عمل نہ ہو۔ بخدا! انہو ں نے تو سر سجدہ میں رکھ دیا، پھر سر کو اٹھایا نہیں۔ اب اس سجدہ کی عمر میں کہاں بتاسکتا ہوں۔

میں حسین کے عزاداروں کو مخاطب کرکے کہتا ہوں کہ خنجر یاد ہے اور سجدہ یاد نہیں؟ حالانکہ خنجر شمر کا تھا اور سجدہ حسین کا ہے!


صبرواستقامت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( کَمْ مِنْ فِئٍَ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ عَلٰی فِئَةٍ کَثِیْرَةٍ وَاللّٰهُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ) ۔

ارشادِ حضرتِ اقدس ہے کہ کتنے ہی کم تعداد کے گروہ ہیں جو بڑی تعداد کے گروہ پر غالب آجاتے ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ صبر کا لفظ اگرچہ عربی ہے مگر اتنی کثرت سے زبان پر جاری ہے کہ اُردو زبان کا جزو بن گیا ہے۔ یہ لفظ طرح طرح سے زبانوں پر آتا ہے۔ کوئی سانحہ ہوگیا تو کہا گیا کہ صبر کرنا چاہئے۔ کبھی کسی نے کسی کام میں جلدی کی تو کہہ دیا کہ تم بڑے بے صبرے ہو۔ مختلف انداز سے صبر کا لفظ زبان پر آیا کرتا ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی کثرت سے جو لفظ زبانوں پر آتا ہے، اس کے اصل معنی بہت سے حضرات کے ذہنوں سے دور ہیں۔ اس لئے صبر کے مفہوم کے بارے میں طرح طرح کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک نئی روشنی کے دلدادہ ترقی پسند گروہ، جو کہ زیادہ تر اقدام پسند ہوتے ہیں، ان کی زبانوں پر یہ ہے کہ صبر بزدلی کی تعلیم ہے اور چونکہ یہ ترقی پسند افراد مذہب سے زیادہ تر دور رہتے ہیں اور ہر چیز میں دنیاوی سیاست کو شریک کردیتے ہیں، ہر چیز کو اسی معیار پر پرکھتے ہیں، اس لئے ان کا نظریہ یہ ہے کہ صبر کی تعلیم اہلِ مذہب نے کمزوروں کی قوتِ مقاومت کو سلب کرنے کیلئے دی ہے تاکہ طاقتور لوگوں کے مقابلہ میں کھڑے نہ ہوں۔

اس کیلئے صبر کی دعوت دی گئی ہے کہ جو حربہ ہو ،اُسے چپکے سے برداشت کرلو۔ جو زیادتی ہو، اُسے سہہ لو۔ صبرکرو، صبر کرو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ان ظالموں کے مقابلہ میں نہ کھڑے ہو۔ پس اس گروہ نے صبر کے معنی یہ قرار دئیے کہ چپکے سے ہر حربہ کو برداشت کرلینا۔ یہ تو ترقی یافتہ جدید روشنی کے زیر سایہ تصور پروان چڑھا اور اب قدیم روشنی والے علماء کا ایک مکتب خیال، اس نے صبر کے ایک دوسرے معنی اپنے مذاق کے مطابق قرار دے لئے ہیں، مثلاً صبر یہ ہے کہ احساسِ غم ہی نہ ہو۔ کوئی بھی غم پڑے، اس کا آدمی پر کوئی بھی اثر نہ ہو۔یہ صبر کا معیار ہے۔ کچھ نے یہ صبر کرلیا کہ ہر غم کا احساس تو ہو مگر آنکھ سے آنسو نہ نکلے۔جتنے بھی مصائب ہوں، تم پتھر بنے کھڑے رہو۔ ادھر آنکھ سے آنسو نکلااورانہوں نے کہ تم صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہو۔ یعنی اوّل تا آخر صبر یہی ہے کہ آدمی روئے نہیں، آنسو نہ بہائے۔

اس لئے صبر کے زیر سایہ یہ نعرے اس زمانہ میں بہت بڑھ جاتے ہیں جب اشکباری کا موسم آتا ہے۔ اس وقت ان کو اس سیلابِ اشک پر بند باندھنے کی بہت زیادہ ضرورت ہوجاتی ہے۔ یہ تعلیم بہت زورشور سے جاری ہوجاتی ہے کہ یہ مناسب چیز نہیں ہے۔ مسلمان کو صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔مسلمان کو صبر کرنا چاہئے۔ میرے سامنے وہ جدید محاذ بھی ہے اور یہ قدیم محاذ بھی ہے۔ دونوں سے میرا یہ خطاب ہے کہ صبر کا لفظ اب آپ کی اُردو زبان کا جزو ہے لیکن یہ لفظ آپ نے سیکھا کہاں سے ہے؟

یاد رکھئے کہ آپ مذہب سے کتنے ہی باغی کیوں نہ ہوں لیکن یہ لفظ آپ نے مذہب سے ہی یاد کیا ہے۔ اسی سے آپ مذہب والوں کو کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے کمزوروں کی قوتِ مقاومت کو سلب کرنے کیلئے یہ تلقین کی ہے ۔ گویا ظالموں کو بااطمینان ظلم کرنے کا موقع دیا ہے۔ تو یہ لفظ جب آپ نے مذہب والوں سے سیکھا ہے تو کم از کم اسلامی مذہب کی سب سے بڑی دستاویز تو قرآن ہے۔ قرآن نے صبر کو جس جس معنی میں استعمال کیا ہو، اُسے دیکھئے اور اس کے بعد یہ فیصلہ کیجئے کہ یہ تصورات صحیح ہیں یا غلط۔ خواہ وہ جدید تصورات ہوں یا قدیم۔ قرآن کی کسوٹی پر پرکھ کر دیکھ لیجئے اور درمیان میں حدیث بھی ضمناً پڑھ دوں گا۔ اصل بنیاد قرآن ہے۔ تو جو قرآن کو کافی سمجھتا ہے، اُسے تو سر جھکا ہی دینا چاہئے۔

میں جب قرآن مجید میں صبر کے موارد دیکھوں تو نہ وہ جدید تصور صحیح دکھائی دیتا ہے ، نہ قدیم تصور درست قرار پاتا ہے۔ وہ دونوں قرآن کی کسوٹی پر ناقص قرار پاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے کسی نے صبر کے معنی سمجھے ہی نہیں۔ دیکھئے قرآن مجید کو اور جو آیت میں نے سرنامہ کلام قرار دی ہے، وہ اسی سے متعلق ہے کہ اس صبر کا مطالبہ میدانِ جنگ میں کیا گیا۔ بہت سے چھوٹے گروہ ہیں جو بڑے گروہ پر غالب آجاتے ہیں اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

تو معلوم ہوتا ہے کہ صبر کوئی ایسی چیز ہے جو بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکرا دینے کی دعوت دے رہا ہے کہ تمہاری کتنی ہی کم تعداد ہو لیکن اس سے نااُمید نہ ہو اور جو دوسری جماعت تمہارے مد مقابل ہے، اس کی کثرتِ تعداد اور اس کی طاقت کو دیکھ کر مرعوب نہ ہو۔

تو اب کیا میدانِ جنگ کا صبر یہ ہے کہ جب تلوار کا وار ہو تو چپکے سے سر جھکا دو؟ نیزہ آئے تو خاموشی سے سینہ بڑھا دو؟ آخر یہ جو قدیم افراد نے صبر کی تفسیر کی یا نئی روشنی والوں نے ،وہ منطق یہاں کہاں ملتی ہے؟ یہاں تو مجملاً کہا کہ اکثر چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں۔ قرآن مجید کی ایک آیت دیکھئے کہ اس میں دعوت دی جارہی ہے کہ دس گنا مقابلہ سے نہ گھبراؤ۔ ارشاد ہورہا ہے رسول سے:

اِرْغَبِ الْمومنین عَلَی الْقِتَالِ “۔

”اہلِ ایمان کو قتال کی ترغیب و تحریص کیجئے“۔

قتال پر آمادہ کیجئے۔ حضور! جہاد تو جدوجہد سے ہے۔ اس میں گنجائش ہیں کہ بغیر تلوار کے ہو لیکن قتال جس چیز کا نام ہے، اس کے تو معنی ہی جان لیوا مقابلہ کے ہیں۔ جس میں قتل میں مقابلہ ہو تو کون کسے زیادہ قتل کرتا ہے؟ تو قتال میں گنجائش نہیں ہے کہ اسے کسی اور قسم کے مقابلہ پر محمول کیا جائے۔ تو اب کہاجارہا ہے کہ مومنین کو قتال کی دعوت دیجئے یعنی خونریز جنگ کی ، خونریز مققابلہ کی۔ اور اس کی تفصیل کیا ہے؟ کہ مومنین کو بتائیے کہ :

( اَنْ یَکُوْنُوْا مِنْکُمْ عِشْرُوْنَ صَابِرْوْنَ یَغْلِبُوْامِئَتَیْنِ ) ۔

”اگر تم میں بیس صبر کرنے والے ہوں تو انہیں دوسو پر غالب آنا چاہئے“۔

( وَاِنْ یَکُوْنُوْا مِنْکُمْ مِئَةٌ صَابِرَةٌ یَغْلِبْوْااَلفًا بِاِذْنِ اللّٰه ) ۔

”اگر تم میں سو صبر کرنے والے ہوں تو ایک ہزار پر غالب آنا چاہئے“۔

اور تتمہ وہی کہ:

( وَاللّٰهُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ) ۔”اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔

معلوم ہوا کہ یہ جو ہر صبرہے کہ دس گنا مقابلے کی طاقت دے رہا ہے۔

قرآن مجید میں اس کے بعد بلافاصلہ دوسری آیت ہے ۔ مگر مضمونِ آیت سے ظاہر ہوگا کہ یہ بلافاصلہ اُتری نہیں ہے۔ اسی سے ثابت ہوجائے گا کہ ترتیب مطابق تنزیل نہیں ہے۔ جہاں ذرا جوڑ ملتا ہوا دیکھا، خواہ واقعی جوڑہویا اپنے حسب مصلحت ہو، وہاں پر آیت رکھ دی۔ اس سے بحث نہیں کہ جب نازل ہوئی تھی تو بیچ میں کتنی مدت گزری تھی، کتنا فاصلہ تھا اور کیا اس درمیان کی مدت میں اگر کئی سال کی ہے تو کوئی اور آیت اُتری ہی نہیں۔ اب مضمونِ آیت دیکھئے کہ یہ مطالبہ ہوا اور اس کے بعد یہ آیت ہے کہ اب یہ ثابت ہوگیا:

( اَ لْاَنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْکُمْ عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضُعْفًا ) ۔

”اب اللہ تم سے تخفیف کئے دیتا ہے“۔

یہ دورِ رسول کے مسلمانوں سے خطاب ہے اور ان مسلمانوں کا جو معزز لقب ہے، وہ آپ جانتے ہی ہیں۔ ان سے خطاب ہورہا ہے کہ”الان“۔ تو یہ اب ہے ۔ کیا آیت کے فوراً بعد ابھی حکم دیا اور پتہ چل گیا کہ تم اس پر پورے نہیں اُترے۔ ماننا پڑے گا کہ وہ آیت اُتری، اس کے بعد کوئی معرکہ ہوا جس میں مسلمان پورے نہیں اُترے، اس معیار پر، تب یہ آیت اُتری:

( اَ لْاَنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْکُمْ ) ۔

”اب اللہ تم سے تخفیف کرتا ہے“۔ یعنی ہلکا کرتا ہے اور:

( عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضُعْفًا ) ۔”پتہ چل گ یا کہ تم میں کمزوری ہے“۔

اب یہ کمزوری کونسی ہے؟ مادّی حیثیت سے کمزوری تو یہ اسی سے ظاہر تھی کہ یہ دس ہیں اور وہ سو ہیں۔ یہ بیس ہیں ، وہ دو سو۔ یہ سو ہیں تو وہ ایک ہزار ہیں۔اب یہ کمزوری جو ہے، وہ ایمان کی کمزوری ہے۔ آپ ہر دَور میں سب کو معراج پر ہی پہنچا دیجئے۔ یہ آپ ذمہ دار ہیں۔مگر قرآن بتا رہا ہے کہ اس وقت وہ مطالبہ کیوں ہوا؟معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو اپنے استحکامِ ایمان کا زعم بہت تھا۔ تو وہ آیت اُتری تاکہ خود اپنے کردار کے آئینے میں دیکھ لیں کہ کتنے پانی میں ہیں۔ پھر دوسری آیت اُتری کہ:

( فَاِنْ یَکُوْنُوْا مِنْکُمْ مِئَةٌ صَابِرَةٌ یَغْلِبُوْامِئَتَیْنِ ) ۔

”تم میں سو صبر کرنے والے ہوں تو دو سو پر غالب آئیں اور اگر تم میں ایک ہزار ہوں تو دو ہزار پر غالب آئیں“۔

دوگنا مقابلہ تو ضرور ہونا چاہئے ۔ پھر ایک آیت کے تتمہ میں یہ ہے:

( ذَالِکَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا یَفْقَهُوْن ) ۔

”اس لئے کہ وہ جماعت ایسی ہے کہ کثرت میں زیادہ سہی مگر عقلِ ایمانی نہیں رکھتی“۔

یعنی تمہاری قلت تعداد کے توازن کو تمہاری بصیرتِ ایمانی کے ساتھ پورا ہونا چاہئے۔

اب جو یہ پہلے مطالبہ ہوا کہ تم دس گنا پر غالب آؤ، دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ دوگنے پر غالب آکر دکھاؤ، اس لئے کہ وہ اس بصیرتِ ایمانی سے محروم ہیں۔معنی یہ ہیں کہ آخر کچھ تو مسلم اور غیر مسلم کا فرق ہو۔ اگر برابر کا مقابلہ ہوا تو تمہارا امتیاز کیا ثابت ہوگا؟ کم از کم دوگنے مقابلے سے تو نہ گھبراؤ۔

میدانِ جنگ میں صبر کا مطالبہ ہورہا ہے۔اب میں ان جدیداور قدیم دونوں نظریات کو اس کسوٹی پر پرکھتا ہوں۔ جدید کیلئے تو یہ عرض کرچکا کہ کیا یہ معنی ہیں کہ چپکے سے سب حربے سہہ لو تو پھر غالب آجاؤ گے؟ حضور! قرآن سمجھنے کیلئے عقل کو خیر باد کہنے کی تو ضرورت نہیں ہے۔قرآن تو عقل والوں کیلئے ہے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ غور کرو۔ تو اب یہ میدانِ جنگ میں جو غلبہ حاصل کریں گے تو کیا سب حربوں کو چپکے سے برداشت کرکے کریں گے؟ وہ تصور کیسے صحیح رہا کہ صبر بزدلی کی تعلیم دیتا ہے؟ صبر تو اتنی بڑی بہادری کی تلقین ہے کہ دس ہزار پر غالب آنے کی ہمت رکھو۔

وہ دوسرے مکتب خیال کے علمائے کرام جو تعریفیں کررہے تھے اور جسے عوام نے حفظ کرلیاکہ صبر یہ ہے کہ روؤ نہیں۔ بس ادھر آنسو نکلا اور انہوں نے کہا کہ صبر کا دامن چھوٹا۔ میں کہتا ہوں کہ کیا یہاں میدانِ جنگ میں صبر کے معنی یہ ہیں کہ روؤ نہیں؟ چاہے میان سے ہنستے ہوئے چلے جاؤ۔ نہ وہ معنی یہاں بنتے ہیں، نہ یہ معنی یہاں بنتے ہیں۔ اس کے بعد اسی صبر کا مطالبہ ہوتا ہے ، ان مصائب میں جو بقضائے الٰہی ہوتے ہیں کہ کسی کا عزیز جدا ہوگیا۔ بیٹے نے باپ کو داغِ جدائی دے دیا۔ باپ کا سایہ بیٹے کے سر سے اُٹھ گیا۔ بھائی ، بھائی سے جداہوگیا۔ وہاں ہر ایک ہی کہتا ہے کہ صبر کرو۔ وہ بھی اپنی طرف سے نہیں کہتا، قرآن مجید نے وہاں بھی یہی کہا ہے:

( وَبَشِّرِالصَّابِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَااَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالُوْااِنَّالِلّٰهِ وَاِنَّااِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ ) ۔

”ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دو کہ جب ان پر کوئی مصیبت آئے تو ان کا قول یہ ہو کہ ہم اللہ کے ہیں اور اللہ کی طرف ہمیں جانا ہے“۔

میں عرض کرتا ہوں کہ اس آیت کے زیر سایہ یہ بھی اسلامی تہذیب ہوگئی کہ جب مصیبت پڑے، یہ الفاظ زبان پر بھی جاری کردو۔ اسی آیت کی تلاوت کردو۔ یہ درحقیقت اس کی اصل تعمیل نہیں ہے۔ یہ رمز ہے اس جذبہ کا ورنہ اصل، اسی لئے میں نے یہ ترجمہ نہیں کیا کہ جب مصیبت آئے تو یہ کہیں۔ میں نے ترجمہ یہ کیا ہے کہ جب مصیبت آئے تو ان کا قول یہ ہو۔قول کے معنی ہیں نقطہ نظر۔ یہ لفظی قول نہیں ہے۔ یہ تصور ہے، خیال ہے، عقیدہ ہے، یقین ہے کہ ہم اللہ کے ہیں۔ یعنی بھائی اُٹھ جائے تو ذہن میں اس کے یہ ہو کہ ہم اللہ کے ہیں۔ بیٹا چلا گیا تو سمجھے کہ ہم اللہ کے ہیں۔ یہاں ”ہم“ کے معنی یہ ہیں کہ میں بھی اسی کا ہوں ، جو گیا وہ بھی اُسی کا تھا۔ میں بھی اسی کی مِلک ہوں، وہ بھی اس کی مِلک ہے۔یہ تصور ذہن میں ہو، یہ عقیدہ ذہن میں ہو ، تب اللہ سے شکوہ نہیں ہوگا۔ تب تقدیر الٰہی پر اعتراض نہیں ہوگا۔ اور اصل معیارِ صبر یہاں یہی ہے ان مصائب میں ۔

جو وہ حضرات کہتے ہیں کہ چپکے سہہ لینا ، تو بتائیے کہ ان مصائب میں چپکے سے سہے گا؟ نہیں، تو اور کیا کرے گا؟یا جنگ کیجئے گا۔ کتنے ہی بڑے باغی ہوں، اس کے سامنے تو سرجھکانا ہی پڑتا ہے۔ عزیز داغِ جدائی دے رہا ہے، تو کیا یہ جائیں گے اس سے جنگ کرنے؟ سر نہ جھکائیں گے تو کیا کریں گے!سلطنت الٰہی کے کتنے ہی بڑے باغی کیوں نہ ہوں ، لیکن بہرحال اس کے مقابلہ میں بغاوتوں کا نشہ ہرن ہوجائے گا۔بغاوت پر آج ایک طبقہ کو بہت ناز ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میں تو اُس وقت مانوں گا کہ آپ بہت بڑے باغی ہیں کہ جب وہ آپ کو بھیجے تو آپ آئیں نہیں اور جب وہ بلائے تو جائیں نہیں۔

حالانکہ کتنے ہی ترقی یافتہ ذہن کے باغی ہوں لیکن جب اس نے بھیجا ، تب آئے تھے۔ خیر کہہ لیں کہ اُس وقت تک شعورِ بغاوت نہیں ہوا تھا لیکن اب تو ماشاء اللہ پروبال نکل آئے ہیں۔ پَر پرواز پیدا ہوگئے ہیں۔ اب جب وہ بلائے تو جائیے نہیں۔ مگر جب اُس نے بھیجا، تب آئے اور جب وہ بلائے گا، تب چلے جائیں گے۔ جب آئے تھے تو کم از کم روئے تو تھے ، جب جائیں گے، تب تو سانس بھی نہیں لیں گے، چپکے سے چلے جائیں گے۔یہ ہے اس انسانِ ضعیف البنیان کا دعوائے بغاوت۔

تو یہاں اگر سہے گا نہیں تو اور کیا کرے گا؟ تو وہ تصور یہاں پر بھی غلط ثابت ہوتا ہے کہ چپکے سے سہہ لو اور مقابلہ نہ کرو۔ یہاں مقابلے کا سوال کیا؟ پھر علماء سے پوچھئے کہ مفسرین نے صبر کیلئے کہا ہے کہ یہ اتنا جامع لفظ ہے ، جتنے احکامِ شریعہ ہیں، وہ سب صبر میں داخل ہیں۔پوری شریعت صبر میں داخل ہے۔ اس لئے کہ صبر کی دو اقسام ہیں: ایک صبر علی المتروک اور ایک صبر علی المحبوب۔ ناگوارِ طبع بات پر صبر اور گوارائے طبع یعنی محبوبِ نفس چیز سے صبر۔اس کے وجود پر صبر، اُس کی جدائی پر صبر۔ واجبات کی جتنی پابندی ہے۔ وہ سب صبر علی المکروہ میں داخل ہے، کیوں؟ اسلئے کہ خود پابندی نفس انسانی پر شاق ہے۔ نفس انسانی پر بار ہے۔ اسی لئے احکامِ شریعہ کو تکلیف کہتے ہیں کہ وہ اوامر و نواہی کی پانبدی باعث تکلیف طبع ہے،خود نفس انسانی پر۔

عام نفس کا ذکر ہے، اُن ہستیوں کاذکر نہیں ہے جو بے نفس ہوگئیں اور اپنی رضا کو رضائے الٰہی کا پابند بنالیا۔ ان کی تو نہ خوشی کچھ رہی اور نہ ناخوشی کچھ رہی۔ لیکن عام افرادِ انسانی کیلئے یہ پابندی خود ناگواری کا باعث ہے۔ کچھ افراد تفریح کے عادی ہوں، فرض کیجئے آپ ایک سڑک پر تفریح کیلئے جایا کرتے تھے اور واقعی ہوا خوری سے تفریح ہوا کرتی تھی۔لیکن جس دن سے وہاں کوئی کام ہوجائے گا، اُس کی وجہ سے اب جانا ضروری ہوگیا تو اُسی دن سے تفریح ختم ہوجائے گی اور وہ جانا بارِ خاطر ہوجائے گا۔ یہ انسان کا نفسیاتی تقاضا ہے کہ پابندی بارہے۔ تو اب اگر انسان نے واجبات کی پابندی کی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حکمِ الٰہی کی وجہ سے ایک ناگوارِ طبع چیز یعنی پابندی کو برداشت کیا۔ پھر یہ کہ بعض اوقات پانبدی واقعی باعث تکلیف ہوتی ہے۔حضور! گرمی میں دوپہر کا وضو تو ٹھیک ہے انسان کیلئے، باعث آرام ہے، جو گرمی لگ رہی تھی، اس میں وضو کرنے سے ذرا سکون ہوجائے گا۔ لیکن سردی میں اور نمازِ صبح کا وضو ، وہ کون ہے جس کیلئے باعث تکلیف نہ ہو۔

اب اگر حکمِ الٰہی کے دباؤ سے کسی نے اس کو برداشت کیا تو بلاشبہ یہ امر صبر میں داخل ہے۔ صلیبی لڑائیاں جو ہورہی تھیں، ان میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ایک فوج کے سالار نے شام میں ایک عیسائی فوجی کیمپ قائم کیا تھا اور وہ خیمے کے در پر کھڑا دیکھ رہاتھا کہ ایک عرب آیا۔ سامنے نہر بہہ رہی تھی اور نہر کے اوپر برف جمی ہوئی تھی۔ وہ عرب آیا اور اس نے اس برف کو اپنے ہاتھ سے توڑا اور نیچے سے جو پانی برآمد ہوا،

اس نے اُس سے وضو کیااور سبزے پر کھڑے ہوکر نمازِ صبح ادا کی۔تو اس عیسائی فوجی نے اپنی فوج والوں سے کہا کہ دیکھو! جس قوم میں ایسی بات ہو،اُسے دنیا کی کوئی طاقت مغلوب نہیں کرسکتی۔

جو جملے اُس نے کہے ہیں، وہ بڑے دُوررس ہیں کہ میں تمہارا سالار تمہاری آنکھوں کے سامنے موجود ہوں ۔ میں اس وقت تم میں سے کسی سے کہوں کہ وہاں چلے جاؤ، تم سردی کا عذر کروگے اور ان کا سردار جس نے حکم دیا تھی، وہ کئی صدیاں ہوئیں، اس دنیا سے چلا گیا اور یہ اُس کے حکم کی تعمیل اس وقت کررہے ہیں۔ تو بتاؤ ان سے بڑھ کر قوتِ عمل کس میں ہوگی؟ آجکل کے مسلمان نوجوان دیکھیں، جو یہ کہتے ہیں کہ نماز، روزہ سے کیا ہوتا ہے! دیکھئے جو حقیقت رس ہیں، وہ اس نماز میں کیا طاقت محسوس کرتے ہیں۔اس کے دو جملوں پر آپ کو اور توجہ دلاؤں گا کہ میں تمہارا سالار ، تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوں اور میں تمہیں حکم دے رہا ہوں ، تم مشکل سے تعمیل کرو گے اور ان کا سالار سامنے نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ایمان بالغیب کی طاقت کا اندازہ لگایا۔ یہ تو میں نے وضو کی مثال پیش کی۔اس کے بعد روزہ ، وہ جاڑوں کا روزہ تو خیر، وہاں گرمی کا وضو خیر تھا، یہاں جاڑے کا روزہ خیر۔ مگر گرمی کا ، مئی او رجون کا روزہ جس میں دن کی طوالت بھی زیادہ ہوجاتی ہے اور پھر گرمی کی تپش۔ حکمِ الٰہی کی تعمیل میں آدمی روزہ رکھتا ہے۔ روزے رکھنے والے جو واقعی ہیں، وہ کیا گرمی اور جاڑے میں کوئی فرق کرتے ہیں؟ جس طرح جاڑے میں رکھتے ہیں، اُسی طرح گرمی میں بھی رکھتے ہیں۔ بے شک اس میں مشقت ہے، اس میں بڑی ناگواری ہے۔ اصل ذوقِ شاعری کے کچھ مذہب ہوتے ہیں کہ شاعر چاہے کسی مذہب کا ہو، مگر جب شعر کہے گا تو اسی مذہب کے کہے گا۔

مثال کے طور پر خود شراب سے کتنا ہی پرہیز کرتا ہو، مگر شاعر ہوکر اسے شراب کی تعریف کرنا ضروری ہے۔ بغیر اس کے شعر نہیں ہوگا۔”بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کے بغیر“۔ ہمیں معلوم ہے کہ زندگی میں کبھی شراب کی طرف رُخ نہیں کیا لیکن شراب کی تعریف کرنے میں انہیں کیسا مزہ آتا ہے!اسی طرح خود واقعی کتنے ہی زاہد و متقی ہوں لیکن شعر میں آکر زاہدوں پر چوٹ ضرور کریں گے۔ پرہیزگاروں پر چوٹ ضرور کریں گے۔چاہے مطلب کچھ بھی ہو لیکن اب مسلک شاعری ہے، وضع شاعرانہ ہے۔ اشعار سے کسی کے مذہب کا پتہ نہیں چل سکتا۔

یہاں ایک لطیفہ یا دآگیا کہ زمانہ خلفائے عباسیہ میں ایک شخص نے شعر میں ا پنے جنسی تعلقات کا ذکر کیا۔ اُسے پکڑ کر دربارِ خلافت میں پیش کردیا گیا کہ اس نے خود اقرار کیا ہے اس جرم کا جس کی سزا سنگسار ہونا ہے۔اُس سے پوچھا: بتاؤ یہ الزام تم پر ہے۔ اُس نے کہا کہ میں اپنی صفائی میں بس قرآن کو پیش کرسکتا ہوں۔ سب حیران ہوئے کہ قرآن میں اس کی صفائی کہاں سے آئے گی؟ اُس نے کہا کہ قرآن کی یہ آیت یاد کرلیجئے کہ شعراء کی تعریف میں یہ کہا ہے کہ:

( یَقُوْلُوْنَ مَالَایَفْعَلُوْنَ ) ۔

”وہ کہتے ہیں جو وہ کرتے نہیں ہیں“۔

اس کی صفائی بہت کارگر ہوئی اور وہ چھوٹ گیا۔ قرآن نے اُسے چھڑوا دیا۔اسی طرح ایک شاعر نے طنز کیا ہے ان پر جو شراب سے پرہیز کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ارے تم نے پی ہی نہیں؟ یعنی تو جو اتنا پرہیزگار بناہوا ہے تو ذائقہ ہی سے واقف نہیں ہے؟ تجھے کیا معلوم کہ اس میں کیا کیف ہوتا ہے؟ تو نے تو پی ہی نہیں۔

چبھتا ہوا جملہ ہے۔میں شکر کرتا ہوں کہ مجمع میں سے زیادہ تر ایسے ہیں کہ واقعی کبھی ان کا دل نہیں چاہا ہوگا ۔ ایسے ماحول کو اللہ کی نعمت سمجھنا چاہئے کہ کتنا ہی ان لوگوں کے ساتھ رہے، تعریف سنی لیکن پینے کے خیال نہیں آیا کہ ہم بھی ذرا اس ذائقہ سے روشناس ہوں۔ لیکن اب میں اس شاعر کو بلاؤں گا ماہِ رمضان میں کہ اب جو پابندی کررہے ہیں، اب ان سے کہو کہ تم نے پانی پیا ہی نہیں، تم نے کھانا کھایا ہی نہیں، روزے کا یہی سب سے سب سے بڑا امتحان ہے کہ جن چیزوں کے ذوق کا خوگر ہے انسان، انہی سے حکمِ الٰہی کی تعمیل میں بچنا ہے۔ا س لئے قرآن مجید میں اسی روزہ کیلئے صبر کا لفظ ہے۔ اکثر علماء ومفسرین کے ارشاد کے مطابق:

( وَاسْتَعِیْنُوْابِالصَّبْرِوَالصَّلوٰةِ ) ۔”مدد حاصل کرو نماز اور صبر کے ذریعہ سے“۔

تو بظاہر صبر اور نمزا دو غیر متعلق چیزیں ہیں۔ بعض علماء کے مطابق صبر سے مراد صوم ہے۔ روزہ کا نام بھی صبر ہے۔ پھرگرمی کا روزہ جو ہے، امیرالمومنین علیہ السلام کے ایک ارشاد سے اس کا اندازہ ہوتا ہے :

اَلصَّوْمُ فِی الْحَرِّ جِهَادٌ “۔

ایک اور جگہ:

اَلصَّوْمُ فِی السَّیْفِ جِهَادٌ فِی الشِّتَاءِ غَنِیْمَةٌ بَارِدَةٌ “۔

فرماتے ہیں”گرمی کا روزہ وہ جہاد ہے کہ علی جیسا مجاہد اس کو جہاد تسلیم کررہا ہے کہ گرمی کا روزہ جہا دہے اور جاڑے کا روزہ؟ وہ تو غنیمت باردہ ہے“۔

وہ برودت بھی ہے کہ موسم ہی برودت کا ہے اور اس کے ساتھ بغیر لڑے بھڑے کا مالِ غنیمت ہے یعنی زحمت کوئی نہیں۔دن چھوٹا ہے، دھوپ بھی زیادہ نہیں ہے۔ سحر سے افطار تک اتنا فاصلہ ہے جتنا گرمی میں دو کھانوں کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے یا ذرا زیادہ ہے۔ بغیر لڑے بھڑے کا مالِ غنیمت ہے کہ فریضہ ادا ہوگیا، چاہے زحمت کتنی ہی کم ہو۔ جو روزہ نہیں رکھتے، وہ جاڑے میں بھی نہیں رکھتے۔ یہ ہے صبر علی المکروہ۔ اور محرمات سے پرہیز جو ہے، ناجائز کاموں سے ، وہ صبر علی المحبوب میں داخل ہے یعنی پسند طبع چیز کی جدائی پر صبر۔ جیسے وہاں پابندی ناگوارِ طبع، ویسے ہی یہاں جس چیز سے منع کیا جائے، اس چیز کو جی چاہنے لگتا ہے:

اَ لْاِنْسَانُ حَرِیْصٌ عَلَی ماَ مُنِعَ “۔

کسی چیز کو کبھی دل نہ چاہتا ہو مگر جس دن سے ڈاکٹر صاحب پرہیز بتادیں گے، اس دن سے اسی چیز کو دل چاہنے لگے گا۔یہ انسان کی فطرت ہے۔ اگر انسان نے اس کی پابندی کی تو یہ بے شک صبر ہے ۔ تو پوری شریعت بے شک صبر میں داخل ہے۔ وہ تعریف اس پر منطبق کیجئے کہ چپکے سے ہر حربہ کو سہہ لو۔ یہ تعبیر منطبق کیجئے کہ روؤ نہیں۔

معلوم ہوا کہ دنیا صبر صبر چلّا رہی ہے اور صبر کے معنی معلوم ہی نہیں ہیں۔میں نے کئی مواقع پیش کئے کہ میدانِ جنگ میں بھی صبر ہے اور قضائے الٰہی میں جو مصائب ہیں، ان میں بھی صبر ہے اور احکامِ شریعہ کی پابندی بھی صبر ہے۔ اب علمی حیثیت سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ صبر کا لفظ مشترک ہے۔ ایک معنی اس کے وہ ہیں ، ایک معنی یہ ہیں۔ اس کو ہر جگہ الگ معنی سے کہا جاتا ہے۔جہاں تک غو رکیا جاتا ہے،ایسانہیں ہے۔میں جہاں تک سمجھ سکا ہوں ،صبر کا وہ مفہوم یہ ہے کہ کوئی سخت سے سخت ناگواری اور شدت تمہیں فرض کے جادے سے نہ ہٹائے۔اب فرض کیا ہے؟ اسے الگ سے سمجھنے کی ضرورت ہوگی۔ جہاں جو فرض ہو، اس پر عمل کرے، مثلاً قضائے الٰہی سے جو مصائب ہوں، وہاں فریضہ یہ ہے کہ قضائے الٰہی پر اعتراض نہ ہو، تقدیر الٰہی سے اظہارِ ناراضگی نہ ہو۔ ضرورت یہ سمجھنے کی ہے کہ جو ہوا ہے، اس پر رونے کا حق ہے۔

بھائی اگر چھوٹ گیاتو بھائی پر رونے کا حق ہے۔ باپ کا سایہ اُٹھ گیا تو سعادت مند بیٹے کو رونے کا حق ہے۔ بیٹا داغِ جدائی دے گیا تو جو فطرت کا تقاضا ہے، یعنی باپ کو رونے کا حق ہے۔ مگر جب رو رہا ہے ، اس وقت بھی یہ سمجھ رہا ہے کہ جو ہوا ہے، وہ غلط نہیں ہے۔ بس یہ ایمان کا مطالبہ ہے ، مجملاً یہ سمجھنا چاہئے ، یہ اصول سامنے رکھ کر کہ جس کے ہاتھ میں تقدیر کا قلم ہے، وہ میرا دشمن نہیں ہے اور جاہل نہیں ہے۔چونکہ دشمن نہیں ہے، اس لئے جان کر برائی نہیں کرے گا اور چونکہ جاہل نہیں ہے، اس لئے بے جانے برائی نہیں کرے گا۔

دو ہی اقسام ہیں برائی کرنے والوں کی۔ یہ اگر پیش نظر رہے تو ”رِضًابِقَضَائِه تَسْلِیْمًا لِاَمْرِه “کی حقیقت یہی ہے اور رونے کا حق ہے۔ وہ حضرات جو کہہ رہے ہیں کہ صبر کا تقاضا یہ ہے کہ روئیں نہیں، یہ غلط فہمی زمانہ رسول میں بھی موجود تھی اور رسول نے اس کو رَد کردیا۔ مگر نہ جانے کیا ہوا کہ چودہ سو برس کی مسافت طے کرکے وہ تصور آیا ہے جسے رسول نے غلط کہا ہے۔ وہ تصور نہ آیا جس کی رسول اصلاح کی تھی۔ جس وقت ابراہیم فرزند رسول کا وقت احتضا ر تھا،ان کا سر پیغمبر رسول کے زانو پر تھا اور حضرت کی چشم ہائے مبارک سے آنسو رواں تھے جو ان کے رخساروں پر ٹپک رہے تھے۔ تو مذکورہ تصور کے مورثانِ اعلیٰ وہاں تھے۔ رسول کے پاس بیٹھ کر اس حالت میں ان کی انسانیت متقاضی ہوئی کہ پیغمبر کے عمل پر تعجب خیز اور اعتراض کے ساتھ سوال کریں۔

میں کہتا ہوں کہ اس عالم میں ایسے اعتراض کی انسانیت متقاضی ہوہی نہیں سکتی۔ مگر مجسم خلق عظیم کے پاس رہنے والے وہ افراد ایسا غیر انسانی عمل کررہے ہیں کہ عین اس وقت جب ابراہیم حالت احتضار میں ہیں، (آپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو) کہنے لگے:

اَنْتَ یَارَسُوْلَ اللّٰهِ وَتَبْکِیْ “۔یا رسول اللہ! آپ رو رہے ہیں؟“

کیا مطلب ہوا؟ یعنی گویا رونا آپ کی شان کے خلاف ہوا۔ صحابہ کا فرض یہ تھا کہ ہر وقت رسول کو شان یاد دلاتے رہیں، ان کو خدا نے ان کی شان کے سنبھالنے کیلئے رکھا تھا۔ تو یا رسول اللہ ! آپ گریہ فرماتے ہیں؟ تو پیغمبر خدا نے جو اس کا جواب دیا، اس کا ابھی عقلی تجزیہ کروں گا ، آپ نے ارشاد فرمایا :

اِنَّ الْقَلْبَ لِیَحْزُنَ وَاِنَّ الْعَیْنَ لِتَدْمَعَ وَ لکِنْ لَا نَقُوْلُ اِلَّامَایَرْضٰی “۔

”دیکھو! دل تو رنجیدہ ہوتا ہے اور آنکھ اشکبا رہوتی ہی ہے لیکن ہماری زبان سے ایسا کوئی کلمہ نہیں نکل سکتا جو رضائے رب کے خلاف ہو“۔

تو اب یہ تصور ہوا ۔ اب عجیب بات ہے کہ ہماری وراثت میں غلط تصور آئے اور صحیح تصور نہ آئے۔ اس کا کیا مقصد ہے کہ دل تو رنجیدہ ہوتا ہی ہے؟ میں کہتا ہوں کہ صبر کا وہ تصور کہ احساسِ غم ہی نہ ہو، آجکل ڈاکٹروں نے ایسی دوائیں ایجاد کردی ہیں کہ بیہوشی سنگھانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ایسا کرتے ہیں کہ وہ حصہ بے حس ہوجائے ، کتنا ہی نشتر بھونکا جائے، کتنی ہی سوئی چبھوئی جائے، اس میں کچھ اثر ہی نہ ہو۔ ڈاکٹر صاحب نے کچھ عمل کرلیا ہے کہ مریض نے آپریشن کے درمیان اُف نہیں کی۔ کچھ بھی نہیں کہا۔ تو جناب! یہ اُف نہ کرنا کوئی کارنامہ ہے؟ ارے جب جسم کا وہ حصہ بے حس ہوگیا ہے،تو اب جتنا چیرا پھاڑا گیا، تو وہ کچھ نہیں بولا۔ تو یہ کونسی قابلِ تعریف صفت ہے۔

جنابِ والا! اگر دل اور دماغ ایسے ہی ماؤف ہوگئے ہیں کہ خوشی اور غم کا احساس ہی نہیں ہوتا تو یہ صبر کا کارنامہ کب ہوا؟ اس کے بعد یہ تصور کہ آنکھ سے آنسو نہ نکلیں۔ احساسِ غم ہو یا نہ ہو، آنکھ سے آنسو نہ نکلیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ دل اور آنکھ میں تعلق کس نے رکھا ہے کہ دل کو رنج ہوتا ہے تو ہاتھ تو نہیں پسیجتا۔پیر میں تو کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ یہ آنکھ ہی سے آنسو کیوں نکلتے ہیں؟معلوم ہوتا ہے کہ جو دل اورآنکھ کا خالق ہے، اس نے کوئی درمیان میں رابطہ رکھا ہے کہ جب دل پر اثرہوگا، تو آنکھ سے آنسو نکلیں گے۔اب اگر دل اور آنکھ دونوں مزاجِ معتدل پر رہیں تو یہ اثر ضرور نمودار ہوگا۔ وہ کیفیت ہے ، کوئی عمل نہیں ہے جس پر کوئی فتویٰ دیا جاسکے۔ اس سے کوئی شدید سے شدید حالت ہٹانہ سکے ، یہ ہے معیارِ صبر۔

اُن مصائب میں جو بقضائے الٰہی ہوتے ہیں، اپنے بس کی بات جو ہے، وہ یہ ہے کہ ایمان کے تقاضے کے خلاف کوئی عمل نہ ہو۔ خیال بھی ذہن میں نہ آئے۔ یہ ایمان کا تقاضا ہے۔ میدانِ جنگ میں ثباتِ قدم۔اصل اختیاری کام یہی ہے۔ نہ غازی ہونا اپنے بس کی بات، نہ شہید ہونا اپنے اختیار کی بات۔ اپنے اختیار میں ثابت قدم رہنا ہے۔ بس وہاں جس صبر کا مطالبہ ہے، وہ ثابت قدمی ہے۔ احکامِ شریعہ میں جو صبر ہے، وہ اس کی پابندی ہے۔ چاہے کتنی ناگواری ہو، جو صبر کا تقاضا ہے، وہ انجام دو۔

دیکھئے! ایک ہی معنی ہیں جو سب جگہ بنتے ہیں یا نہیں؟ ضرورت اس کی نہیں ہے کہ الگ الگ معنی قرار دیں۔ جہاں صلح کرکے بیٹھ جانا فرض کا تقاضا ہو، وہاں کھڑا ہوجانا بے صبری ہوگا۔ جہاں کھڑا ہوجانا فرض کا تقاضا ہو، وہاں لوگ لاکھ مشورے اس کے خلاف دیں، فلاں صاحب نے مشورہ دیا، فلاں صاحب نے مشورہ دیا، اتنے خیر خواہ تھے اور فلاں صاحب نے مشورہ دیا اور انہوں نے اس پر عمل نہ کیا۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اس پر عمل نہ کیا۔ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ (معاذاللہ) بڑے ضدی تھے۔بہت ضد تھی مزاج میں ۔ میں کہتاہوں یہ نقطہ نظر کے ساتھ الفاظ بدلتے ہیں۔ جسے آپ ضد کہتے ہیں، وہی ثباتِ قدم ہے۔ جس کے مطلب کے ساتھ وہ ثباتِ قدم ہوتا ہے، وہ اسے ضد قرار دیتا ہے۔ اب چونکہ آپ اسی ثباتِ قدم کو ضد کہہ رہے ہیں تو میں اس لفظ کو اپنا لوں گا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اسی کا نام ضد ہے تو کون نبی ہے جو ضدی نہ تھا؟ کون رسول ہے جو ضدی نہ تھا۔ چونکہ راہِ حق میں ثباتِ قدم کبھی پھولوں کی سیج نہیں ہے، ہر نبی کو مصائب برداشت کرنا پڑے ہیں۔ ہر پیغمبر کو مشکلات برداشت کرنا پڑ ی ہیں۔ مشکلات سے گھبرا کر اور مصائب سے دل برداشتہ ہوکراگر ہٹ جایا جائے تو پھر حق ہم تک کیونکر پہنچتا؟

اب اس لفظ کو استعمال کرکے کہتا ہوں کہ یہ امانت حق جو ہمارے ہاتھوں تک پہنچی ہے،یہ ان کی ضدوں کا صدقہ ہے۔ پیغمبر خدا نے کیا مشکلات برداشت نہیں کیں؟ تیرہ برس تک جسم مبارک پر پتھر کھائے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ مخالف جماعت کا طرزِ عمل ہے کہ وہ کافر تھے مگر ان کے ہاتھوں میں پتھر تھے، تیر نہیں تھے۔کسی وقت مسلمان ہوں اور ان کے ہاتھوں میں تیر ہوں تو صابر کا کردار ایک ہی ہے۔ رسول کے مقابلہ میں پتھر تھے، وہ اُسے برداشت کررہے تھے۔ ان کے مقابلے میں تیر تھے، یہ اُسے برداشت کررہے تھے۔ صابر کے کردار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ آدم سے لے کر خاتم تک سب کا معیار یہی ہے اور یہی وہ میراث ہے جس کے لحاظ سے معصوم نے فرمایا:

اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِثَ آدَمَ صِفْوَةِ اللّٰهِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَاوَارِثَ نُوْحَ نَجِیِّ اللّٰه اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا وَارِثَ اِبْرَاهِیْمَ خَلِیْلِ اللّٰه “۔

سب کے وارث کہے جارہے ہیں۔ یہ کیا وراثت نسبی ہے، خاندانی ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اگر وراثت نسبی ہوتی تو اس فہرست میں موسیٰ کا نام نہ آیا، عیسیٰ کا نام نہ آتا کوینکہ وہ ان کے شجرہ میں نہیں ہیں۔ ماننا پڑے گا کہ یہ وراثت نسبی نہیں ہے، یہ وراثت منصبی ہے۔ حفاظت حق کا بار جو آدم کے کاندھوں پر تھا، وہ دوش بدوش منتقل ہوتا ہوا آپ کے کندھے تک آیا اور آپ کو وہ کردار اختیار کرنا ہے۔رسول سے کہا گیا:

( فَاصْبِرْکَمَاصَبَرَاُولُوالْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ) ۔

”پیغمبر! اسی طرح صبر کیجئے جس طرح آپ سے پہلے صاحبانِ عزم پیغمبروں نے صبر کیا“۔

تو یہ صبر کا کردا رجسے دنیا ضد کہہ رہی ہے، یہ تمام انبیاء و مرسلین کی وراثت ہے۔ اب میں الفاظ بدلتا ہوں ، اقبال کی زبان میں کہ انہوں نے کہا:

موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید

ایں دو قوت از حیات آمدپدید

حقیقت میں ضرورتِ شاعری کے ماتحت اس میں دو نام آسکے، اُدھر اور اِدھر کے۔ دورِ قدیم سے موسیٰ آسکے اور پھر دورِ جدید میں شبیر آسکے۔اُدھر دورِ قدیم میں فرعون آسکا اور اِدھر دورِ جدید میں یزید(ملعون) آسکا۔وہاں انہوں نے دو دو نام لئے مگر بعد میں کیا کہا؟

زندہ حق از قوتِ شبیری است

باطل آخر داغِ حسرتِ میری است

یہاں موسیٰ کا نام نہیں ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ حقیقت، جس کے موسیٰ حامل تھے، وہ بھی شبیریت تھی اور وہ حقیقت جس کا فرعون حامی تھا، وہ بھی یزیدیت تھی۔ یعنی یہ نام شخصی نہیں ہیں بلکہ یہ نام گویا صفت کے ہیں کہ ان صفات کا آدمی جس درجہ کا ہو، وہ شبیر ہوتا ہے اور اس صفت کا آدمی جس درجہ کا ہو، وہ یزید ہوتا ہے۔


فلسفہ جہاد

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( وَکَاَیِّنْ مِنْ نَبِی قٰتَلَ مَعَه رِبِیُّوْنَ کَثِیْرٌ فَمَاوَهَنُوْالِمَااَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَمَاضَعُفُوْاوَمَا اسْتَکَانُوْاوَاللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ ) ۔

چوتھے پارے کی آیت ہے، ارشاد ہورہا ہے کہ کچھ نبی ایسے ہیں کہ جن کے ساتھ مل کر اللہ والوں نے جنگ کی(جن کی معیت میں) وہ سست نہیں ہوئے ان نتائج سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پیش آئے اور نہ انہوں نے کمزوری دکھائی اور نہ انہوں نے سر جھکایا اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

قرآن مجید ایک مرقع جماعت کے اوصاف پیش کررہا ہے جونبی کی معیّت میں راہِ خدا میں جہاد کررہے ہیں۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جو انہیں مصائب درپیش ہوئے، اس سے ان میں سستی پیدا نہیں ہوئی۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فریق مخالف کے مقابلہ میں ان کی طاقت کم تھی۔تعداد میں ان سے کم ہوں گے اور سامانِ جنگ میں ان سے کم ہوں گے ، تبھی تو ان کے مقابلہ میں مصائب پیش آئے اور ان مصائب کی وجہ سے ان میں کمزوری پیدا نہیں ہوئی۔ اس راہ میں مصائب کا پیش آنا دلیل ہے مادّی حیثیت سے ان کے کمزور ہونے کی۔

مادّی حیثیت سے یہ طاقتور نہیں تھے ورنہ یہ ہوتا کہ یہ وہ ہیں کہ جنہوں نے بڑے شدّومد کے ساتھ حملہ کیااور مخالف کے پرخچے اڑا دئیے۔ مگر قرآن یہ نہیں کہہ رہا ، یہ کہہ رہا ہے کہ جو مصائب درپیش ہوئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان میں طاقت اتنی نہیں تھی کہ یہ مادّی حیثیت سے ان کا مقابلہ کرسکتے۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ”( مَاضَعُفُوْا ) “،م یں نے اس کا ترجمہ نہیں کیا کہ وہ کمزور نہیں ہوئے۔ اگر کمزور نہ ہوتے تو مصائب کیوں پیش آتے۔ میں نے ترجمہ یہ کیا کہ کمزوری نہیں دکھائی انہوں نے۔ کمزوری دکھانا کردار سے متعلق ہے۔ کمزور ہوناکیفیت ہے۔ پہلا لفظ کمزوری کا ثبوت دے چکا ہے کہ مصائب انہیں بہت پیش آئے تو دوسرے جملے کے معنی یہ ہوئے کہ انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی۔اس کے بعد”( مَااسْتَکَانُوْا ) “،انہوں نے سر نہ یں جھکایا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی مطالبہ تھا سامنے اور اس مطالبہ کو انہوں نے قبول نہیں کیا ورنہ قبل کے جملوں کے بعد یہ”( وَمَااسْتَکَانُوْا ) “، انہوں نے عاجزی نہیں دکھائی، سر نہیں جھکایا۔

اس پورے کردار کو سمیٹ کر ایک لفظ جو ادا کیا ہے، وہ صبر ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ صبر کے معنی از روئے قرآن یہ ہوئے کہ جو پہلے بیان ہوا ہے اور پھر فرمایا ہے کہ:

( وَاللّٰهُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ) ۔

”اللہ دوست رکھتا ہے ایسے صبر کرنے والوں کو“۔

معلوم ہوتا ہے کہ صبر ایک اجمالی لفظ ہے جس کے تحت میں یہ کردار مضمر ہے جس کا قبل میں ذکر کیا گیا ہے۔یہ قرآن مجید کی آیت ہے اور ا س کی سچائی میں کسے شبہ ہوسکتا ہے لیکن قرآن نے یہ کہا ہے کہ نبی ہیں اور ان کے ساتھ یہ جماعت ہے۔تو مجھے کہیں تاریخ کے صفحات پر وہ جماعت نظر بھی توآئے کہ وہ جماعت جس کے کردار کا یہ ذکر ہورہا ہے، یہ جماعت آخر کس معرکہ میں تھی؟ کس جنگ میں یہ جماعت سامنے آئی؟ تاریخ میں اس کا تلاش کرنا بیکار ہے کیونکہ یہ وہ دَور ہے جس میں تاریخ نگاری رائج نہیں ہوئی تھی۔ ہماری تو قدیم سے قدیم تاریخ بھی دورِ اسلام کی ہے۔ قبل اسلام کے حالات اشعار میں، قصائد میں موجود ہیں جو عرب متعلق ہیں اور جسے انہوں نے نظم کیا ہے۔ اس لئے مقولہ ہے :

اَلشِّعْرُدِیْوَانُ الْعَرَبْ “۔

شعر گویا عرب کا تمام کیفیات ، حالات اور جذبات معلوم کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ اس کے سوا وہ صاحب تالیف نہیں تھے، صاحب تصنیف نہیں تھے۔ تو اس وقت کے حالات ہم تک کیسے پہنچیں؟ بس وہ دورِ جاہلیت کے اشعارِ عرب ہیں۔ ان سے ماقبل اسلام کی تاریخ معلوم ہوتی ہے۔ اس بناء پر تاریخ میں تلاش کرنے کا تو کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔صحیح طریقہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب قرآن مجید نے مجمل طور پراس جماعت کا تذکرہ کیا ہے تو پھر قرآن ہی میں تلاش کریں۔ شروع سے آخر تک۔ شاید یہ جماعت مل جائے۔ میں نے تلاش کیا۔ قرآن کا کام واقعہ نگاری تو ہے نہیں۔ قرآن مجید واقعات کو ضمنی مقصد سے پیش کرتا ہے کہ ان سے جوسبق حاصل ہوتے ہیںِ دنیا وہ سبق محفوظ کرے۔دلچسپی کی خاطر تو واقعات بیان کرنا قرآن کو ہیں نہیں۔درس ہے، نتیجہ ہے جو اس اُمت کے لئے کارآمد ہے۔ پس میں نے تلاش کیا کہ جہاں کہیں کوئی جنگ قرآن مجید نے بیان کی ہوگی، اس جنگ کے ذیل میں ہوگا کیونکہ”قٰتَلَ“ وہاں تھاکہ انہوں نے قتال کیا۔

قتال کا مطلب خونریز جنگ کا ہوتا ہے،لہٰذا جہاں کہیں کسی خونریز جنگ کا تذکرہ قرآن مجید میں ہوگا، وہیں یہ جماعت مجھے ملے گی۔میں نے قرآن میں تلاش کیا تو دوسرے ہی پارہ میں ایک جنگ کا ذکر مجھے مل گیا جس کی پہلی ہی سطر میں نبی کا لفظ ملا۔ مجھے بہت اُمید ہوئی کہ وہاں یہی کہا گیا تھا:

( کَاَیِّنْ مِنْ نَبِی ) ۔

کوئی نبی ہے۔ یہ نبی کی جنگ ہمیں مل رہی ہے تو وہ جماعت بھی یہیں ملے گی۔ اسے پڑھنا شروع کیا اور اس واقعہ میں ہمارے لئے بصیرتوں کا اتنا سرمایہ ہے کہ تقریباً متوسط سائز کے قرآن میں دوصفحوں میں وہ واقعہ درج ہوا ہے۔ ارشاد ہوا:

( اَلَمْ تَرَاِلَی الْمَلَاءِ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی اِذْقَالُوْالِنَبِی لَهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰه ) ۔

”کیا تم نے نہیں دیکھا، ترجمہ میں کچھ اختلاف ہے۔ بعض لوگ جو خطاب ہو، واحد کا، اس کا مخاطب پیغمبر خدا کو قرار دے لیتے ہیں اور لکھ دیتے ہیں: ”اے محمد“۔ مجھے اس سے اختلاف ہے۔جو آیت کا مضمون ہو، اس کے لحاظ سے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ مخاطب خود رسول ہیں یا نہیں۔ بعض جگہ تو مخاطب رسول ہیں جیسے:

( قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰه ) ۔

وہ سوا رسول کے کون ہے جس سے یہ کہا جائے۔ اسی طرح اور بہت سی آیات ہیں:

( قُلْ لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًااِلَی الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) ۔

اور جگہ بلکہ زیادہ جگہ جو یہ واحد کا خطاب ہے، اس سے خاص رسول مخاطب نہیں ہیں جیسے آجکل کے طرزِ تحریر میں بھی رائج ہے۔ لکھنے والا لکھتا ہے: کیا تم نہیں دیکھتے ہو؟ یہ کسی خاص آدمی سے متعلق نہیں ہے۔ جو اس کلام کو پڑھے، وہ مخاطب ہے۔ہر ناظر یا دیکھنے والا، اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا مخاطب ہے۔اسی طرح سے:

( اَلَمْ تَرَ ) “۔

قرآن میں آیا ہے:

( اَرَاءَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْن )

کیا تم نے نہیں دیکھا۔ ہر جگہ اس سے رسول کو مخاطب سمجھنا درست نہیں ہے اور بعض جگہ اس کا مضمون بالکل شانِ رسول کے خلاف ہے۔رسول قطعاً مخاطب نہیں ہیں بلکہ عام مخاطب ہے کہ جو بھی چشم بینا و گوشِ شنوا رکھتا ہو، اس سے خطاب ہے۔ اس لئے میں نے یہ علامت قرار دی ہے اپنے نقطہ نظر کی کہ جہاں مخاطب رسول ہیں، وہاں اپنے معیارِ تہذیب کے لحاظ سے ہیں۔ ترجمہ آپ کے ساتھ کرتا ہوں:

( قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰه ) ۔

”کہئے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میرے نقش قدم پر چلو“۔

( قُلْ لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًااِلَی الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) ۔

”کہئے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا سوائے صاحبانِ قرابت کی محبت کے“۔

یہ جہاں میں نے ترجمہ کیا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ میں مخاطب رسول کو سمجھ رہا ہوں اور ایسی آیات جہاں میرے نزدیک یہ نہیں ہیں، وہاں تم کے ساتھ ترجمہ کرتا ہوں جیسے میں نے ابھی یہ ترجمہ کیا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا اس جماعت کو؟

( اَرَاءَ یْتَ الَّذِیْ یُکَذِّبُ بِالدِّیْن ) ۔

”کیا تم نے دیکھا اس کو جو قیامت تک کی تکذیب کرتا ہے“۔

آخرت کا انکار کرتا ہے۔ جہاں میں ترجمہ تم کے ساتھ کرتا ہوں، وہی جیسے ”جزایں نیست “میں مَیں نے کہا تھا کہ قبل کی اُردو اور تھی۔ وہاں تم اور آپ نہیں تھا۔ ہر ایک کا ترجمہ ”تو“ کے ساتھ تھا۔ کیا تو نے نہیں دیکھا؟ مگر اب ہماری اُردو پرانی نہیں رہی۔ ہم ہر ایک کیلئے تو نہیں کہتے۔ جہاں رسول مخاطب ہیں، وہاں آپ کے ساتھ ترجمہ مناسب ہے اور جہاں دوسرے مخاطب ہیں، وہاں تم کے ساتھ ترجمہ کروں گا۔اگر کوئی اور نبی ہو تو میں پھر بھی تم کے ساتھ ترجمہ کردوں مگر جس کو اُس نے حبیب کا درجہ دیا ہو، میرے نزدیک تہذیب کا تقاضا یہ ہے کہ اُسے آپ سے مخاطب کیا جائے۔

غرض یہاں ترجمہ یہ ہوگا”( اَلَمْ تَرَ ) “، ”ک یا تم نے نہیں دیکھا“۔ بنی اسرائیل کے عمائد کے گروہ میں”مَلَا“ کہتے ہیں، ممتا ز آدمیوں کی جماعت۔

( اِلَی الْمَلَاء مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلِ ) ۔

بنی اسرائیل کے عمائد اور بڑے لوگ ، ان کو نہیں دیکھا کہ جب وہ آئے،

( اِذْقَالُوْالِنَبِی لَهُمْ ) ۔

اپنے نبی سے جو اس وقت تھا یہ کہا ۔ الفاظ بہت اُمید افزا ہیں کہ وہ جماعت یہاں ملے گی۔ انہوں نے یہ کہا:

( اَبْعَثْ لَنَامَلِکًا نُقَا تِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰه ) ۔

ہمارے لئے ایک سردار مقرر کر دیجئے کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ اُمید بڑھی کہ اتنا ذوقِ جہاد رکھنے والے لوگ ہیں کہ خود اپنے رسول سے تقاضا کررہے ہیں ، خواہش کررہے ہیں۔ اتنا ان کا دل بیتاب ہے راہِ خدا میں جنگ کرنے کیلئے تو ضرور وہی جماعت ہوگی۔ مگر اب نتیجہ جو ہے، عملی طور پر، وہ بہت مایوس کرے گا لیکن یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ چونکہ اس نبی کے دَور کے لوگ تھے اور اس کے گردوپیش کے آدمی تھے، تو وہ اتنا مانتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جنگ بغیر اُدھر کے سردار کے نہیں ہوسکتی۔ فقط جنگ کرنا ہوتی تو نبی سے آکر کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ خود ہی کانفرنس کرتے، خود ہی شوریٰ سے اجماع سے کسی کو اپنا سردار مقرر کرلیتے۔ لیکن جیسے بے بسی ہے، مجبوری ہے،کیونکہ اللہ کی راہ میں جنگ کرنا ہے، تو بیچارے سب آکر نبی سے کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ایک ایسا سردار مقرر کردیجئے، مقرر کردیجئے یعنی اللہ سے مقرر کروا دیجئے۔ اللہ سے آپ کہہ دیجئے کہ مقر رکردے۔ بعد میں بتادیجئے گا کہ اللہ نے مقرر کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ” مقرر کیجئے “کے معنی یہ نہیں تھے کہ آپ مقرر کیجئے۔

اس سے ایک اور عملی نتیجہ ہمارے لئے پیدا ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی سردار کو مقرر کرنا اللہ کا کام تھا جس کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ جبھی تو رسول نے یہ کہا کہ اللہ نے مقرر کیا۔مطلب ان کا یہی تھا مگر اس مطلب کے حاصل کرنے کیلئے نبی سے کہا کہ آپ مقرر کر دیجئے۔ اسی طرح اگر دل میں یہ ہے کہ اللہ روزی دینے والا ہے لیکن ہم اس کے کسی مقرر سے کہیں کہ آپ ہمیں روزی دے دیجئے تو یہ شرک نہیں ہوگا۔

شرط یہی ہے کہ دل و دماغ میں یہ ہو کہ اصل عطا کرنے والا اللہ ہے تو پھر اگر دل و دماغ میں یہ ہے ، عقیدئہ ایمان یہی ہے تو الفاظ سے شرک نہیں ہوگا۔

( اَبْعَثْ لَنَا مَلِکًانُقَا تِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰه ) ۔

”ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں گے“۔

اس کیلئے سردار مقرر کردیجئے۔ اندازقرآن مجید کی اور آیات میں بھی یہی ہے۔ خود ہمارے رسول کے ذریعہ سے بھی جو پیغام پہنچائے گئے ہیں کہ جو بات ہونے والی ہو، علم الٰہی میں اس کو رسول کی زبان سے بطور خطرہ پیش کیا جاتا تھا۔ کہیں ایسا نہ ہو، یہ ”کہیں ایسا نہ ہو“ کا انداز نتیجہ سے یہ ثابت کرتا تھاکہ یہ ہونے والا ہے اور اس کیلئے ایک نظیر قرآن کی پیش کردوں۔

قرآن میں کہا گیا ہے ، اس اُمت کو مخاطب کرکے، کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب ہمارے رسول کی وفات ہوجائے یا قتل ہوجائیں تو تم پچھلے پیروں لوٹ جاؤ۔ میں نے کہا کہ سنت کلامِ الٰہی یہ ہے کہ جو بات ہونی ہوتی ہے، اس کو قبل میں رسول یوں کہا کرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو۔ یہ خطرہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ خطرہ کااظہار اِتمامِ حجت ہوتا ہے کہ اب تو ہوشیار رہیں کہ ایسا نہ ہونے پائے۔کہا جارہا ہے کہ انہوں نے یہ کہا تو نبی نے کیا کہا:

( قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ اَ لَا تُقَاتِلُوْا ) ۔

نبی نے کہا کہ ابھی گویا یہ میری طرف سے تبصرہ ہے کہ شکر خدا کرو کہ ابھی جنگ کا فریضہ ادھر سے عائد نہیں ہوا لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تم درخواست کررہے ہو۔ غرض کررہے ہو او رپھر اُدھر سے فریضہ عائد ہوجائے جنگ کا تو تم جنگ نہ کرو۔

جوش کے عالم میں آدمی نتائج پر کہاں غو رکرتا ہے! خود اپنے متعلق غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے۔ لہٰذا انہوں نے یہ کہا تو ان کی آتش عزم میں برافروختگی پیدا ہوگئی اور ان کے جوش میں اور زیادہ طوفانی کیفیت پیدا ہوگئی۔ انہوں نے جو یہ کہا کہ:

( هَلْ عَسَیْتُمْ ) ۔

”کہیں ایسا نہ ہو کہ“

( اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ )

”جنگ کا فریضہ عائد ہوتو تم“

( اَ لَا تُقَاتِلُوْا ) ۔

”جنگ نہ کرو“۔

تو وہ کہنے لگے:

( قَالُوْاوَمَالَنَا اَلَّانُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَقَدْاُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَاوَاَبْنَائِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْااِلَّا قَلِیْلًا مِنْهُم ) ۔

”ہمیں کیا ہوجائے گا کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ نہ کریں جبکہ ہم گھر اور اہل و عیال کو چھوڑ کر نکلے ہوں گے“۔

یعنی اسی مقصد سے روانہ ہوں گے تو یہ ہوہی کیونکر سکتا ہے کہ ہم جنگ نہ کریں یعنی اس خطرہ کو سننے کے بعد انہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہرگز یہ نہیں ہوگا۔ ممکن ہی نہیں ہے ، ہو ہی نہیں سکتا۔ مگر اب باوجودیکہ تفصیل پھر بیان کرے گاقرآن ،لیکن آپ کی زحمت انتظار کو کم کرنے کیلئے خالق سمیٹ کر نتیجہ کا اعلان کئے دیتا ہے:

( فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْااِلَّا قَلِیْلًا مِنْهُمْ ) ۔

جب جنگ کا فریضہ عائد ہوا تو سن لو ابھی سے ،تفصیل بعد کو سننا ابھی سے نتیجہ سن لو کہ جب فریضہ عائد ہوتو ”تَوَلَّوا“جتنے تھے ، سب نے پیٹھ پھرائی،( اِلَّا قَلِیْلًا مِنْهُمْ ) سوائے تھوڑے سے آدم یوں کے۔ قلیل خود بھی کم ہے اور قلیلاً میں ترمیم تقلیل آئی ہے کہ کم اور بہت ہی کم۔ سب کے سب نے پیٹھ پھرائی، سوائے بہت کم کے۔ اور بہت ہی کم کے سوا ان میں سے۔ اب مسلمان یہیں بتادیں کہ حق ان کم کے ساتھ تھا یا زیادہ کے ساتھ تھا؟

”تَوَلَّوا“سب نے پیٹھ پھرائی،( اِلَّا قَلِیْلًا مِنْهُمْ ) سوائے بہت تھوڑے آدم یوں کے،

( وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَ ) ۔

”اور اللہ ظالموں کو پہلے سے جانتا تھا“۔

یعنی میدانِ جنگ سے فرار کرنے والوں کو اللہ نے ظالمین کا لقب دیا اور بلا تبصرہ قرآن کی ایک آیت یاد کرلیجئے:

( لَایَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ ) ۔

”میرا عہد ظالموں کو کبھی نہیں پہنچتا“۔

آیت اتنے پر ہی ختم نہیں ہوجاتی تو روداد پوری مکمل جیسے ہم نے سن لی ہوتی کہ خود مطالبہ کیا اور متنبہ بھی کردیا گیا۔ خطرہ کا اظہار کردیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جتنے تھے، سب روگرداں ہوجائیں۔ ہم کو بصیرت اتنے میں بھی حاصل ہوجاتی مگر نہیں، زحمت انتظار کو ختم کرنے کیلئے یہ نتیجہ سنا دیا گیا۔لیکن ابھی واقعہ بیان کرنا ہے۔ انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہمارے لئے سردار مقرر کر دیجئے۔

( اِذْقَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا ) ۔

ان کے نبی نے یہ کہا کہ سنو! تم نے خود درخواست کی ہے تو تمہاری دعا قبول کی جاتی ہے، تمہاری عرضداشت منظور کی جاتی ہے۔ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو سردار مقرر کیا ہے۔

بس جناب! خود ہی تو کہا تھا کہ مقرر کروا دیجئے اور اب جو نامزدگی ہوئی تو بُرا منانے لگے یعنی اگر کہہ دیا جاتا کہ تم اپنی پسند کا سردار مقرر کرلو تو خوش ہوجاتے۔ نہیں اُدھر سے نامزدگی ہوگئی۔

( اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ ) ۔

تمہارے لئے طالوت کو سردار اُس نے مقرر کردیا ۔ تو اب کہنے لگے:

( قَالُوْااَنّٰی یَکُوْنُ لَهُ الْمُلْکُ عَلَیْنَا ) ۔

اس کو ہم پر سرداری کا حق کہاں سے ہوگیا؟

( وَنَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْکُ مِنْهُ ) ۔

اورہم اس سے زیادہ سرداری کے حقدار ہیں“۔

دیکھئے! عہدہ کی جاذبیت کیا کرواتی ہے۔ اب ماضی کو نہ دیکھئے۔ جب تک عہدہ کا سوال بیچ میں نہ آیا، کیسے اطاعت گزار ثابت ہورہے تھے، کیسے سعادت مند نظر آرہے تھے۔”( اَنّٰی یَکُوْنُ ) “ ۔”اَنّٰی“ کے معنی”( مِنْ اَیْنَ ) “ کے ہوتے ہیں۔کہاں سے اس کیلئے سرداری ہوگئی اور:

( نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْهُ ) ۔

اور ہم اس سے زیادہ سرداری کے حقدار ہیں۔

( وَلَمْ یُوْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ ) ۔

ارے اس کے پاس پیسہ تو ہے ہی نہیں، مفلس آدمی ہے اور وہ سردار بنے گاہمارا؟

یہ مفلسی کا سوال تو پیغمبر خدا کے مقابلہ میں اٹھایا جاتا تھا۔ وہ بھی قرآن میں ہے:

( وَقَالُوْالَوْنُزِّلَ هٰذَاالْقُرْآنُ عَلَی رَجُل مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمْ ) ۔

آخر یہ قرآن مکہ اور مدینہ کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ اُترا۔ یہ بڑے آدمی کا محاورہ اتنی مسافت طے کرکے نہ جانے کن کن راستوں سے ہم تک بھی پہنچ گیا کہ ہم دولت مندوں کو بڑا آدمی کہتے ہیں۔یہی ہماری زبان کا جزو ہے۔ یہ ان کی زبان تھی کہ انہوں نے کہا کہ یہ مکہ اور مدینہ کے کسی لکھ پتی، کروڑ پتی پر کیوں نہ اُترا۔ اگر اس پر اُترتا تو ہمیں ماننا آسان ہوجاتا کیونکہ ہماری طبیعت میں دولت مندوں کے سامنے ہی جھکنا ہے۔ یہ اس نے منتخب بھی کیا تو ایک ایسے یتیم کو کہ جس کے باپ کا دادا کے سامنے انتقال ہوگیا۔ اس لئے اپنی خاندانی وراثت سے بھی وہ محروم ہوگیا۔ ایسے کو اللہ نے اپنا پیغام پہنچانے کیلئے منتخب کیا تو وہاں کہا گیا:

( نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْکِ مِنْهُ وَلَمْ یُوْتٰی سَعَةً مِنَ الْمَالِ )

اُسے پیسے میں وسعت تو دی ہی نہیں گئی ہے۔ دولت تو اس کے پاس ہے ہی نہیں۔ تو اب پیغمبر نے جوا ب دیا۔ تین ٹکڑے ہیں :

( قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰهُ عَلَیْکُمْ ) ۔

یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اللہ نے اس کو منتخب کیا ہے۔ کہاں سے حق ہوا؟ اللہ کی طرف سے ہوا۔ اللہ نے اسے منتخب کیا ہے۔ تم کیا کہہ رہے ہو؟ تم ہی نے تو کہا تھا کہ اللہ سے منتخب کروادیجئے۔ اس نے منتخب کیا۔ اب یہ جو ہے کہ پیسہ نہیں ہے ، اس کے مقابل میں کہا جارہا ہے کہ اللہ نے بلاوجہ منتخب نہیں کیا ہے:

( وَزَادَهُ بَسْطَةً فِیْ الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ) ۔

اللہ نے اس کو علم اور جسمانی طاقت یعنی شجاعت میں فوقیت دی ہے۔ یعنی پیسہ نہ دیکھو، علم کی دولت دیکھو، شجاعت دیکھو۔ اب کسی کے مقابلہ میں دنیا کہے کہ پیسہ نہیں تھا، کسی کے مقابل میں کہے کہ زر کم ہے، اس سے کچھ نہیں بنے گا، علم کو دیکھئے اور شجاعت کو دیکھئے کہ

کتنی ہے۔

اور ابھی تو شخصی حکم تھا کہ اس کو منتخب کیا اور اس کی وجہ بتائی کہ کیوں منتخب کیا! رسول کا اعلان:

( وَاللّٰهُ یُوْتِیْ مُلْکَهُ مَنْ یَشَاءُ ) ۔

یہ اختیار اللہ کو ہے کہ وہ اپنی طرف سے اقتدار کو جسے چاہتا ہے، عطا کرتا ہے۔ اس میں دوسروں کی رائے کا دخل نہیں ہوا کرتا۔

( وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلَیْمٌ ) ۔

اور اللہ قادر بھی ہے اور علیم بھی ہے۔

یعنی بلاوجہ انتخاب نہیں کیا کرتا۔ کچھ ہوتی ہیں وجوہِ اختیار جس کی بناء پر وہ انتخاب کیا کرتا ہے۔ اس کے بعد مزید اطمینان کیلئے کہا جاتا ہے:

( وَقَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اَنَّ اٰیَةَ مُلْکِه اَنْ یَاتِیَکُمْ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَکِیْنَةٌ وَبَقِیَّةٌ مِمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوْسٰی وَاٰلُ هَارُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰئِکَةُ ) ۔

دیکھو! اس کی، اللہ کی طرف سے سرداری کی نشانی یہ ہے ۔ قرآن کی زبان میں معجزے کو آیت کہاجاتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ، میں تمہیں بتاتا ہوں ایک معجزہ، وہ دلیل ہوگا اس کی کہ اس کو اللہ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے۔ اس کی سرداری کی اُدھر کی طرف سے علامت اور پہچان یہ ہے کہ تابوتِ سکینہ آئے گا ۔ تابوتِ سکینہ میں الواح توریت تھے اور تبرکاتِ انبیاء تھے۔ یہ سب جب بیت المقدس پر بت پرستوں کا حملہ ہوا تو لوٹ لیا گیا تھا۔ چنانچہ توریت بھی غائب ہوچکی تھی ۔مدتوں پتہ ہی نہیں چلا کہ توریت کیا ہوئی؟اس لئے کہ پورا صندوق ہی لے جایا گیا تھا اور کئی سو برس وہ غائب رہا۔ پتہ نہیں چلا کہ اس کا کیا ہوا؟ انہوں نے معجزہ یہ بتایا ، ثبوتِ انتخابِ الٰہی یہ بتایا کہ وہ تابوت یا صندوق جو تمہارا گم شدہ ہے، وہ تمہارے پاس آجائے گا اور اس میں سکون کا سرمایہ ہوگاتمہارے پروردگار کی طرف سے اورجتنا بچا کھچا سرمایہ ہے، آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون کا۔ تبرکات جتنے رہ گئے ہیں، وہ تابوت کے اندر تم تک پہنچ جائیں گے اور اُسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ کوئی آدمی کا ذریعہ نہیں ہوگا۔

اتنا نمایاں معجزہ ہے۔ اس سے علمائے اسلام کے درمیان کی ، علم کلام کی ایک بحث طے ہوجاتی ہے کہ پتہ چلتا ہے کہ معجزہ انبیاء سے مخصوص نہیں ہے بلکہ جو اُدھر کا عہدہ ہو، اس کیلئے معجزہ ہوتا ہے۔

ملائکہ اُسے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ کوئی آدمی نظر نہ آئے تو مان لیں گے کہ ملائکہ آرہے ہیں اور بعض روایات میں ہے کہ واقعی ملائکہ انہیں نظر آئے تھے یعنی وہ یہ محسوس کررہے تھے کہ یہ عام انسان نہیں ہیں جو لارہے ہیں۔

( اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰ یَةٌ لَکُمْ ) ۔اس م یں تمہارے لئے نشانی ہے۔ ایک نمایاں معجزہ ہے۔

( اِنْ کُنْتُمْ مُو مِنِیْنَ ) ۔

اگر تم صاحبانِ ایمان ہو۔ یعنی اب ان کا ایمان اس کے تسلیم کرنے اور صبر کا کردار برقرار رکھنے سے وابستہ ہے۔ اتنا معجزہ بھی دیکھ لیا۔ لوگوں کو حیرت ہوئی ہے کہ ایسے ایسے بیانات رسول سے دنیانے سنے اور ایسے ایسے رسول کے ثبوتِ حقانیت دیکھے اور پھر بھی راہِ راست سے منحرف ہوئے۔ جب قرآن کی روشنی میں دیکھا کہ ہوا ہے ایسا تو پھر حیرت باقی نہیں رہتی۔

( فَلَمَّافَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ ) ۔

جب طالوت افواج کو لے کر چلے ۔ ماشاء اللہ مجاہدین کی کثرت وہ ہے کہ فوج نہیں ہے۔ قرآن کی زبان میں افواج ہے۔ جُند ایک فوج کو کہتے ہیں اور یہاں جنود ہے۔جب طالوت لشکروں کو لئے ہوئے ، فوجوں کو لئے ہوئے روانہ ہوئے تو پہلے ایک آزمائش کا اعلان کردیا کہ ایک تمہارا امتحان ہونا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایک نہر سامنے بہہ رہی ہوگی۔ امتحان یہ ہے کہ اس کے پانی کو پینا نہیں۔ گویا تمہارا امتحان عطش ہوگا۔ باوجود نہر کے سامنے ہونے کے:

( اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْکُمْ بِنَهْر فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ ) ۔

جو اس میں سے پی لے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ جو اس میں سے پی لے گا، کچھ بھی تو مجھ سے اس کا کوئی ربط نہ ہوگا۔

( وَمَنْ لَمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهُ مِنِّیْ ) ۔

جو بالکل نہیں پئے گا، وہ مجھ سے تعلق رکھتا ہوگا۔ قرآن کا جملہ میں پڑھوں گا اور مستقبل کے کردار کا مرقع آپ کی نظروں کے سامنے پھر جائے تو میں کیا کروں۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ پئے نہیں، سوا اس کے کہ چلّو میں پانی لے کر پھینک دے۔

( اِلَّا قَلِیْلًا مِنْهُمْ ) ۔

سب نے پانی پی لیا، سوائے کم بہت ہی کم لوگوں کے۔ انہی سے پتہ چل گیا مستقبل کے نتیجہ کا جو پہلے اعلان ہوچکا:

( فَلَمَّاجَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْامَعَهُ ) ۔

جب وہاں سے آگے بڑھے وہ، یعنی طالوت اور جو اُن کے ساتھ اہلِ ایمان تھے تو ان سب نے کہا:

( قَالُوْالَا طَاقَةَ لَنَااَلْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهِ ) ۔

مقابل کا نام جالوت تھا۔ اسی کے وزن پر ادھر والے کا نام طالوت ہوگیا تھا۔ پس انہوں نے کہا کہ ہم میں طاقت نہیں ہے جالوت اور اس کے ساتھ والوں سے مقابلہ کرنے کی۔

( قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُلٰقُوااللّٰهَ ) ۔

ان لوگوں نے جنہیں کچھ گمان تھا کہ اللہ کو منہ دکھانا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس پوری جماعت کو تو تصور ہی نہیں تھا کہ اللہ کو منہ دکھانا ہے۔ ان لوگوں نے جن کو گمان تھا کہ وہ اللہ سے ملاقات کریں گے، وہ جو اللہ کو منہ دکھانے کا ذرا تصور رکھتے تھے، انہوں نے یہ کہا:

( کَمْ مِنْ فِئَة قَلِیْلَة غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیْرَة بِاِذْنِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ) ۔

ارے بھئی ہمت کیوں ہارتے ہو۔ بہت ممکن ہے کہ تھوڑی سی جماعت ہو اور وہ کثیر جماعت پر غالب آجائے اللہ کے حکم سے اور اصل ے ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

( وَلَمَّابَرَزُوالْجَالُوْتُ وَجُنُوْدُهُ ) ۔

جب جالوت اور اس کا لشکر نکلے تو اب اس جماعت نے جو ثابت قدم تھی اور کہہ رہی تھی کہ کم تعداد والے زیادہ تعداد والوں پر غالب آسکتے ہیں، انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھادئیے:

( قَالُوْا رَبَّنَا اَفْرِغ عَلَیْنَاصَبْرًاوَثَبِّتْ اَقْدَامَنَاوَانْصُرْنَاعَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ) ۔

پروردگار! ہم پر اپنی طرف سے صبر انڈیل دے اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافروں کی قوم کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔

اس چھوٹی سی جماعت کے ثباتِ قدم کا نتیجہ یہ تھا کہ:

( فَهَزَمُوْاهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ وَقَتَلَ دَاودُجَالُوْتَ ) ۔

اللہ کے حکم سے ان کو شکست دے دی۔ حضرت داؤد جالوت کی فوج میں سپاہی کی حیثیت سے آئے تھے۔

اب نتیجہ آپ کے سامنے پیش کرنا ہے کہ مجھے نبی تو مل گیا، وہ جماعت نہیں ملی۔ اب میں نے خیال کیا کہ یہ نبی تو ایسے تھے کہ ان کا نام تک ہمیں نہیں معلوم ۔ نبی تھے اور رسول ہونا بھی اس معنی سے نہیں ثابت۔ اگر کوئی رسول ہو ، اولوالعزم ہو تو وہاں وہ جماعت بھی دستیاب ہوگی۔ میں نے مزید ورق گردانی کی تو بہت زیادہ ورق نہیں الٹنے پڑے۔ اب مجھے حضرت موسیٰ مل گئے ۔ میں نے کہا کہ یہ تو کلیم اللہ ہیں، اولوالعزم ہیں، صاحب شریعت و کتاب ہیں۔لہٰذا ان کے ساتھ کی جماعت تو اس معیار پر ضرور ہوگی کیونکہ جتنا بڑا رسول ہو، ویسے ہی گویا اس کے ساتھ والے ہوتے ہیں۔

یہ حضرت موسیٰ ہیں۔ ان کا کیا کہنا تو ان کے ساتھ کی جماعت کا کیا کہنا۔ لیکن اب قرآن مجید کو پڑھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ اُسے بھی قرآن نے تفصیل سے پیش کردیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ جن کے اچھے اوصاف ہوں، ان کا ذکر کرنے سے فائدہ ہے لیکن کوئی کیسا تھا، اس کا ذکر کرنے سے کیا فائدہ؟ میں تو دیکھتا ہوں ایسے تاریک مرقعوں کو قرآن زیادہ پھیلا کر بیان کرتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ قرآنی نقطہ نگاہ سے اس میں درس زیادہ ہے کہ آدمی ایسوں سے بچنے کی کوشش کرے۔

ہمارے قبلے بیت المقدس پر اس وقت بھی دوسروں کا قبضہ تھا۔ارشاد ہورہا ہے کہ موسیٰ نے اپنے ساتھ والوں سے کہا:

( اُدْخُلُواالْاَ رْضَ الْمُقَدَّسَةِ الَّتِیْ کَتَبَ اللّٰهُ لَکُمْ ) ۔

دیکھئے! یہاں ان کی ہمت ڈھارس اور اطمینان بلند کرنے کے سامان کئے گئے ہیں کہ انہیں پہلے سے بتائے دیتے ہیں کہ آخر میں قلم تقدیر جاری ہوچکا ہے۔ آخر میں وہ زمین تمہارے قبضہ میں آئے گی۔ بس تمہارا کام یہ ہے کہ داخل ہوجاؤ اس ارضِ مقدس میں۔

( اَلَّتِیْ کَتَبَ اللّٰهُ لَکُمْ ) ۔جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ د ی ہے۔

فیصلہ تقدیر کا اعلان کردیا۔ اگر علم غیب نہ ہوتا تو اعلان کیونکر کرتے؟ فیصلہ تقدیر کا۔ مگر شرط یہ ہے :

( وَلَا تَرْتَدُّوْاعَلٰی اَدْبَارِکُمْ ) ۔

دیکھو! پچھلے پاؤں پلٹنا نہیں، فرار نہ کرنا۔اگر فرار ہوئے تو اللہ کو وعدہ یاد دلا کر شکوہ نہ کرنا کہ تو نے یہ وعدہ کیا تھا، یہ بجلی ہمارے خرمن پر کیوں گری؟ تو پچھلے پاؤں پلٹ نہ جانا ، فرار نہ کرنا۔ مطلب وہی ہے:

( فَتَنْقَلِبُوْاخٰسِرِیْنَ ) ۔

ورنہ پھر گھاٹا ہوگا ، ورنہ پھر خسارہ ہوگا، خرمن پر بجلیاں گریں گی۔ یہ اعلان کردیا کہ جاؤ، داخل ہوجاؤ ۔ مگر یہ چلے تو کیا ہوا؟ حضرت موسیٰ سردار ہیں اور ان کے ہمت بڑھانے سے آگے بڑھے ہیں بیت المقدس کے بارے میں پتہ کرنے کیلئے۔وہاں پہنچے تو وہاں کے قد آور آدمی نظر آئے تو کہنے لگے کہ جناب! یہ تو بہت ہی قد آور لوگ ہیں۔ ہمیں ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں ہے۔ ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

( وَاِنَّالَنْ نَدْخُلَهَا حَتّٰی یَخْرُجُوْامِنْهَا ) ۔

انہوں نے کہا تھا کہ داخل ہوجاؤ۔ پھر وعدہ کرتاہوں کہ اللہ تمہیں فتح دے دے گا۔ مگر وہ کہتے ہیں ”( لَنْ نَدْخُلَهَا ) “، ہم ہرگز داخل نہ یں ہوں گے۔”( حَتّٰی یَخْرُجُوْامِنْهَا ) “، جب تک وہ نکل نہ جائیں۔

سبحان اللہ! جہاد کرنے لگے ہیں، یہ عجیب داخل خارج ہے کہ وہ خارج ہوجائیں تو ہم داخل ہوجائیں گے۔ یعنی مالِ غنیمت لوٹنے میں ہم آگے بڑھ جائیں گے۔

( فَاِنْ یَخْرُجُوْامِنْهَافَاِنَّادَاخِلُوْن ) ۔

اگر وہ نکل جائیں گے تو یقین مانئے کہ ہم اس میں داخل ہوجائیں گے۔ بڑا کارنامہ کریں گے۔وہاں تو پھر بھی قرآن نے کچھ پردہ رکھا تھا کہ”( اِلَّا قَلِیْلًا ) “۔ سوائے تھوڑے سے، بہت ہی کم سہی لیکن خیال ہوتا ہے کہ جب افواج تھیں تو کم بیس ہوسکتے ہیں، تیس ہوسکتے ہیں، پچا س ہوسکتے ہیں۔ وہ بھی کم اور بہت کم ہوئے لیکن یہاں تو قرآن نے شمار کرکے بتا دیا ہے کہ:

( قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ ) ۔

صرف دو عدد آدمیوں نے جو اللہ کا خوف رکھتے تھے، یعنی پوری جماعت اللہ کا خوف نہیں رکھتی تھی۔

( قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ ) ۔

کہا دو آدمیوں نے، جو اللہ کا خوف رکھتے تھے۔

( اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ) ۔

جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا۔ قرآن کی تفسیر نہیں کررہا ہوں کہ تفسیر بالرائے ہو مگر ایک آیت سے دوسری آیت یاد آجائے تو کیا کروں کہ قرآن نے ان دو کو کہا ہے کہ جن پر نعمت اپنی خاص اُتاری تھی۔

اب ہم دعا کرتے ہیں سورئہ حمد میں:

( صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ) ۔

راستہ ان کا جن پر تو نے اپنی نعمت اُتاری ہے۔ تو ہم تو ثابت قدم لوگوں کو سمجھتے ہیں کہ ان پر اللہ کی نعمت ہے۔ انہی کے ساتھ ہونے کی دعا کرتے ہیں۔

دو آدمیوں نے ، جو اللہ کا خوف رکھتے تھے، اور جن پر ہماری نعمت خاص ہوئی تھی، انہوں نے کہا کہ تم آگے تو بڑھو۔

( اُدْخُلُوْاعَلَیْهِمُ الْبَابَ ) ۔دروازہ کے اندر تو داخل ہو۔

( فَاِذَادَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ ) ۔

ہم یقین دلاتے ہیں کہ اگر تم داخل ہوجاؤ گے تو غلبہ تمہارا ہی ہوگا یعنی نبی کی بات غلط نہیں ہوسکتی۔ یہ دو آدمی تھے صرف جو یہ کہہ رہے تھے:

( فَاِذَادَخَلْتُمُوْهُ فَاِنَّکُمْ غٰلِبُوْنَ وَعَلَی اللّٰهِ فَتَوَکَّلُوْااِنْ کُنْتُمْ مومنین ) ۔

اللہ پر بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو۔ مگر ان بیچارے دو کی صدا، صدابصحرا ہوگئی اور انہوں نے وہی کہا جو پہلے کہا تھا اور بڑے دل شکن انداز میں یعنی گستاخی کی پیغمبر کے ساتھ اور خدا کے ساتھ۔انہوں نے کہا:

( قَالُوْایَامُوْسٰی لَنْ نُدْخُلَهَااَبَدًامَادَامُوْافِیْهَا ) ۔

پورے عزم بالجزم کے ساتھ یہ اعلان کیا کہ ہم ہرگز داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اس میں ہیں، اس وقت تک ہم داخل نہیں

ہوں گے۔

( فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ ) ۔

نبی سے رسول کہہ رہے ہیں کہ آپ جائیے اور آپ کا پروردگار چلاجائے یعنی نہ وہ ان کو رسول مان رہے ہیں ، نہ اس کو پروردگار مان رہے ہیں۔ بس وہ انہی کا، حضرتِ موسیٰ کا پروردگار ہے۔آپ اور آپ کا پروردگا ردونوں چلے جائیے۔”فَقَا تَلَا“۔ بس آپ دونوں جنگ کرلیجئے، آپ قتال کرلیجئے۔ ہم یہیں پر ”قَاعِدُوْن “، ہم یہیں پر بیٹھے ہوں گے۔ یہ دل شکن طرزِ تخاطب وہ تھا کہ رسول کا دل ٹوٹ گیا اور بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھادئیے اور خدا سے یہ کہا:

( قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَااَمْلِکُ اِلَّانَفْسِیْ وَاَخِیْ ) ۔

اے پروردگار! تو دیکھ رہا ہے انہیں مجھے قابو نہیں ہے۔سوا اپنے نفس کے اور اپنے بھائی کے۔

معلوم ہوا کہ جب دنیا پلٹ گئی تب بھی بھائی ساتھ رہا۔ مجھے نہیں قابو کسی پر بھی سوا اپنے نفس کے اور اپنے بھائی کے۔

( فَافْرِقْ بَیْنَنَاوَبَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ ) ۔

بس تو ہی اب فیصلہ کردے ہمارے درمیان اور اس فاسق گروہ کے درمیان۔ شروع میں اللہ نے ظالمین کا لقب دیا تھااور اب دوسرا تحفہ ملا، رسول کی زبانی فاسقین کا اور اگر خالق ایسے لوگوں کو فاسقین کہہ رہا ہے ، کوئی پوری جماعت کو عدول کہہ دے کہ سب عادل ہیں تو وہ اپنے فیصلے کا ذمہ دار ہے۔ میں نے پھر تلاش کرڈالا ، نہ کہیں جنگ کا مجھے ذکر ملا کسی نبی کے بیان میں اور جب جنگ کا ذکر نہیں ملا تو وہ جماعت مجھے کہاں ملتی ؟ تو کیا کروں کہ الفاظِ قرآنی تو تشنہ تصدیق عمل رہے۔ اس نے ایک اوصاف کا مرقع پیش کیا۔

نبی مجھے ملا مگر جماعت نہیں ملتی ۔ تو وہ جماعت کونسی ہے جس کے اوصاف یہاں بیان کئے۔مایوس ہوا۔جس دَور کی تاریخ ہے ہی نہیں، اس کی تلاش کیسے کروں؟جہاں سے تاریخ ملی، اسے تلاش کیا تو قرآن میں جماعت نہیں ملی۔ تاریخ میں مل گئی۔ اب وہاں جماعت نظر آرہی ہے تو نبی نظر نہیں آتا۔ اب اگر قرآن کو ماننا ہے اور ان اوصاف کے مصداقِ اکمل کو مشاہدہ کے طور پر ایک جماعت میں آپ دیکھ رہے ہیں تو آپ کو ماننا پڑے گا کہ چاہے نبی سامنے نظر نہ آرہا ہو، مگر جماعت وہ یہی ہے جو نبیوں کی ساتھی ہے۔ وہ نبی نہیں ہیں مگر جس کے ساتھ ہے، وہ نمائندئہ قوم انبیاء کا ہے۔

ہر متن قرآن کی شرح مجھے مل جائے گی۔ جب اس جماعت کے کردار کو دیکھوں گا ۔ اس نے کہا تھا جو مصائب آئیں راہِ خدا میں، اس کی وجہ سے عمل میں سستی پیدا نہیں ہوئی۔وہ مصائب تو تعداد میں ایسے ہیں، بے سروسامانی ہے۔ سب ایک طرف۔ پانی بند ہوگیا مگر ان کی قوتِ عمل میں کوئی سستی پیدا نہیں ہوئی۔ جو اللہ کی راہ میں ان کو مصیبت پیش آگئی، اس سے ان میں سستی پیدا نہیں ہوئی اور”( مَاضَعُفُوْا ) “،

انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی۔ لوگ کہتے ہیں کہ بہتر( ۷۲) کو فوج کیوں کہاجاتا ہے ۔ کہیں بہتر( ۷۲) کی فوج ہوتی ہے؟ میں کہتا ہوں کہ مولا اگر ان کو فوج نہ سمجھتے تو ترتیب لشکر کیوں کرتے؟


یقین کی آخری منزل

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( یَااَیَّتُهَاالنَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّة اِرْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَرْضِیَّة فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ فَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ) ۔

سورئہ فجر کی آخری آیت ہے۔ ارشاد ہورہا ہے کہ اے اطمینان سے بھرے ہوئے نفس! پلٹ آ اپنے پروردگار کی طرف، اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔ تو داخل ہوجا میرے بندگانِ خاص میں اور میری بہشت میں داخل ہوجا۔

اطمینان کے مقابل چیز ہے اضطراب۔ ہم چونکہ ، جو ہر اطمینان سے ناشناس ہیں، اس لئے اطمینان کے تقاضوں کو ہم اتنا واضح طور پر بیان نہیں کرسکتے۔ لیکن چونکہ اضطراب ہم کو درپیش ہواکرتے ہیں، اس لئے اضطراب کے تقاضوں کو ہم زیادہ واضح طور پر بیان کرسکتے ہیں اور چونکہ اطمینان اس کے مقابل چیز ہے، لہٰذا اضطراب کے تقاضوں کے تصور سے ہم اس کے مقابل کے اطمینان کے تقاضوں کو محسوس کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ پر سکون حالات ہوں تو اضطراب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آرام ہے، آسائش ہے، کوئی خطرہ نہیں ہے، مصیبت درپیش نہیں ہے۔ کوئی اندیشہ فردا نہیں ہے۔ تو یہاں امتیاز ہی نہیں ہوسکتا کہ کون مضطرب ہے اور کون مطمئن۔اس لئے کہ سبب اضطراب کوئی نہیں ہے۔ تو سب ہی مطمئن ہیں۔ جس طرح سے کہ صبر اور عدم صبر۔ صابر اور غیر صابر کا امتیاز ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ مصیبت نہ آئے۔ جب مصیبت آئے ہی نہیں تو ہر ایک کو صبر کا دعویٰ کرنے کا حق ہے۔ ہر ایک کہے کہ میں بھی میدانِ صبر میں کوئی پیچھے رہنے والا نہیں ہوں۔لیکن جب مصیبت آئے اور پھر آدمی صبر کرنے والا ثابت ہو اور پھر کوئی بے صبرا ثابت ہو، تب امتیاز ہوگا صابر اورغیر صابر میں۔

اسی طرح ہر میدان میں پیغمبر اسلام کو ، ہر غزوے میں بلا مزاحمت فتح ہی ہوتی چلی جائے تو سب مجاہدین برابر کے بہادر ہیں۔ جو حقیقی بہادر ہے، اس کا تعارف تو نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ کوئی کٹھن وقت آئے۔ ضرورت ہے کہ کوئی سخت حالات کا جھونکا ایسا چلے کہ جس میں فرض کیجئے سو میں سے پچاس کے قدم اکھڑ جائیں تو ان سو میں امتیاز ہوجائے گا۔ سو میں جو صابر ثابت ہوئے ہیں، سو میں سے پچاس۔اس طرح امتیاز ہوجائے گا کہ کون ثابت قدم اور کون غیر ثابت قدم۔

اب فرض کیجئے کہ علم الٰہی میں ان پچاس میں سے چند ہیں جو ثابت قدم ہیں ۔ تو ضرورت ہے کہ وقت زیادہ کٹھن ہوتاکہ ان میں جو ممتاز ہیں، وہ آنکھوں کے سامنے آجائیں اور اب بھی اگر دس بیس میں مشترک ہے ثباتِ قدم تو ان میں جو ممتا زہے، وہ ابھی پردے میں ہے۔ لہٰذا کچھ اور سختی وقت میں اضافہ ہو، تب ان میں سے بھی بہت سوں کے قدم اُکھڑ جائیں۔ یہاں تک کہ صفحہ میدان سادہ ہوجائے اور بس ایک فرد رہ جائے تو پتہ چلے گا کہ وہ فردِ فرید ہے۔ پھر ملک کو بھی کلمہ پڑھنا پڑے گا:

لَافِتٰی اِلَّا عَلِیْ لَاسَیْف اِلَّا ذُوالْفِقَار “۔

اسی طرح اضطراب اور اطمینان میں فرق کیسے ہوسکتا ہے! اگر بالکل متوازی حالات رہیں اور بالکل ہی خوشگوار ماحول ہو اور کوئی وجہِ اضطراب نہ ہو تو اطمینان کا سوال ہی نہیں۔ اطمینان تو اُسی وقت نمایاں ہوسکتا ہے جب اسبابِ اضطراب ہوں اور کوئی مضطرب نہ ہو۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اندھا ہونا صرف بصارت نہ ہونے کا نام ہے تو یہ دیوار کیوں اندھی نہیں کہلواتی۔ دیوار میں بھی تو بصارت نہیں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اندھا ہونا صرف بصارت نہ ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ ایسا جس میں بصارت ہو، ہونا چاہئے اور پھر بصارت نہ ہو، تب وہ اندھا ہے۔ ویسے ہی اگر پر سکون حالات ہیں، اس وقت تو سب ہی ٹھہرے ہوئے ہیں، پرسکون ہیں۔ سب ہی کے دل قرار کے ساتھ ہیں۔ کسی کا دل پریشان نہیں ہے۔ اس وقت کہاں پتہ چلے گا کہ کون مطمئن ہے۔نہیں! جس وقت میں کہ ایسے حالات ہوں کہ جن کی وجہ سے اضطراب ہونا چاہئے او رپھر کسی میں اضطراب نہ ہو تو پتہ چلے گا کہ وہ مطمئن ہے۔

اب اضطراب کے تقاضے میں زیادہ وضاحت کے ساتھ پیش کرسکتا ہوں۔ اسی سے سمجھئے گا کہ جو مطمئن ہوگا، اس کی کیا کیفیت ہوگی۔ایک پریشانی کی منزل آئی یعنی مشکلات درپیش ہوئیں اور انسان نے سوچنا شروع کیا کہ یہ جو مشکلات درپیش ہوئیں تو کیا کرنا چاہئے؟ اگر ایک دو دن میں، ہفتہ دو ہفتہ میں کچھ سمجھ میں آگیا تو خیر اور اگر سمجھ میں نہ آیا تو کچھ ہمدرد جن کی عقل اور سوچ پر بھی بھروسہ ہے، ان کو جمع کیا، ان کے سامنے اپنی مشکل پیش کی اور ان سے کہا کہ آپ افراد میرے ہمدرد بھی ہیں اور صاحبانِ عقل و ہوش بھی ہیں، آپ بتائیے کہ اس مشکل کا کیا حل ہے؟کیا صورتِ عمل اختیار کی جائے؟

یہ دوسری منزل ہے جو اضطراب کی صورت میں طے کی جائے گی۔ اب فرض کیجئے کہ انہوں نے کوئی رائے دی اور وہ مشکل ابھی حل نہیں ہوئی ہے تو نیند اُڑی ہوئی ہے، سو نہیں سکتے۔ رات جاگ کر بسر ہورہی ہے۔ یہ تیسری علامت اضطراب ہے۔ وہ سوچ میں وقت گزارنا پہلی علامت اضطراب تھی۔ دوسری علامت اضطراب کچھ لوگوں کو بلا کر مشورہ کرنا کہ کیا کرنا چاہئے۔ یہ تیسری منزل ہے کہ جب مصیبت آگئی تو راتوں کونیند اُڑ گئی۔ اب ایک ایک سے اپنی مصیبت بیان کررہے ہیں ۔ شاید کہیں سے کوئی روشنی کی کرن آجائے اور کوئی کسی طرح کی مدد دے سکے۔ یہ اضطراب ہر ایک محسوس کرسکتا ہے۔ اب اگر ماحول ایسا ہے کہ جس میں اضطراب ہونا چاہئے اور چونکہ ہماری طبیعت میں اضطراب ہے، تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ محلِ اضطراب ہے اور پھر کوئی مطمئن نظر آئے، مطمئن نظر آئے یعنی یہ باتیں نہ کرے۔ اسے سوچنے کیلئے مہلت کی ضرورت نہ ہو بلکہ بغیر زحمت تفکرکے راہِ عمل متعین ہو، معلوم ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ ذہن ایک جادے پر مطمئن ہے۔ تزلزل اُسے ہو جسے احساسِ فرض میں تردد ہو اور جسے ایک فرض ادا کرنا ہے، اُسے پھر تردد میں وقت گزارنا کیسا؟

تو وہ کوئی وقت تردد میں نہیں گزارے گا کہ کیا کریں۔ معلوم ہے کہ یہ کرنا چاہئے۔ تو اب وقت کی ضرورت کیا ہے؟ اس فکر میں کہ کیا کرنا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں ہوا، معلوم ہوا کہ یہ مطمئن نہ تھا۔ اچھا صاحب! دوسری منزل کہ خود سمجھ میں نہیں آیاتو ہمدردوں سے مشورہ لیا۔ دیکھا کہ نہیں، یہ شخص تودوسروں سے مشورہ بھی نہیں لیتا کیونکہ مشورہ وہ لے جسے اپنے زاویہ نظر کی حقانیت میں شک ہو اور جب اسے معلوم ہے کہ مجھے کیا راستہ اختیار کرناچاہئے تو وہ دوسروں سے مشورہ کیوں لے؟ اور اگر کچھ لوگ بنظر ہمدردی یا مظاہرئہ ہمدردی کیلئے رضاکارانہ طور پر از خود آکر مشورے دیں تو وہ ان مشوروں پر عمل بھی نہ کرے۔ چاہے دنیا مدتوں تک کہتی پھرے کہ بڑا ضدی آدمی تھا کہ بس جو طے کرلیا، وہ کیا۔ حالانکہ فلاں نے یہ مشورہ دیا تھا، فلاں نے یہ مشورہ دیا۔ایسے ایسے صاحبانِ عقل اور ہمدر ، انہوں نے یہ مشورے دئیے اور انہوں نے عمل نہ کیا تو حضور! وہ ان مشوروں پر عمل اُس وقت کرتا جب اُسے اپنے موقف کی حقانیت پر شک ہوتا۔

مشورے دیا کریں لوگ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ احساسِ اضطراب کررہے ہیں جو مشورے دے رہے ہیں اور جو مشورہ نہیں لے رہا، اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اطمینان سے بھرا ہوا ہے۔ اس کو اضطراب ہے ہی نہیں کہ وہ مشورہ لے اور یہ مشورے دے رہے ہیں۔ تو بربنائے تخیل اضطراب دے رہے ہیں۔تو وہ ان مشوروں پر عمل کیوں کرے؟

اب ظاہر ہے کہ مشورے نہیں لئے اس نے تو اس سے متعلق کیا ہر ایک شخص دوسرے سے شکوہ نہیں کرے گا؟ ایک دوسرے سے دکھڑا نہیں روئے گا؟ ایک دوسرے سے اس مصیبت کا تذکرہ نہیں کرے گا کہ یہ مصیبت آئی ہے اور دیکھو کتنی مشکل مجھے پیش آگئی ہے ۔ اب یہ کردار وہ ہوگا جس کو ہم نے اضطراب کے تقاضوں کی بناء پر پہلے سمجھ لیا تھا۔اب ہم یہ سمجھے کہ یہ اطمینان کے تقاضے ہیں۔ بس اب جبکہ آپ کے سامنے اضطراب کے تقاضے پیش کرچکا اور اس کے مقابل اطمینان کے تقاضے تو ب دو مواقع پیش کرتا ہوں۔ ایک موقع کو سمجھ لیجئے فضائل اور ایک موقع تمہید ہوگا مصائب کی۔

پہلا موقع تو یہ ہے کہ ایک مشاورتی اجتماع ہوتا ہے اور اس میں طے ہوجاتا ہے کہ اس مقرر کردہ رات کو پیغمبر خدا کی شمعِ زندگی کو خاموش کردیا جائے۔ ظاہر ہے کہ جب مجلس مشاورت تھی تو طرح طرح کی آراء دی گئیں۔ کسی نے یہ کہا کہ مشکل ہی کیا ہے، قتل کردیا جائے۔ تو کسی دوسرے صاحب فکر نے کہاکہ بنی ہاشم کی تلوار معلوم ہے؟ مدتوں خون کا بدلہ لینے میں سلسلہ جدال و قتال جاری رہے گا۔ لہٰذا گویا یہ رائے مسترد کردی گئی۔اس نے کہا کہ چلو قتل نہ کروکہ بدلہ لینے کیلئے سلسلہ جنگ شروع ہوجائے گا۔قید کردیا جائے، بند کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بنی ہاشم چھڑواکر لے جائیں گے، یعنی بنی ہاشم سے لوگ پہلے سے متاثر تھے تو پھر کیا کیا جائے؟ایک بہت ہی لال بھجکڑ قسم کا آدمی کوئی تھا، جسے اس وقت تک لوگ پہچانتے بھی نہیں تھے، وہ کھڑا ہوا، تاریخوں میں یہ ہے کہ وہ ایک نجدی بوڑھا تھا۔ ایک شیخ نجد تھا۔ مورخین چونکہ اسلام کے مورخین ہیں، وہ کہتے ہیں کہ شیطان اس لباس میں آیا تھا۔ یعنی شیطان کو بھی حلیہ یہی پسند تھا۔ بہرحال شیطان آیا ہو یا واقعی وہ شیخ نجد ہو، اُس نے جو رائے پیش کی، وہ پاس ہوئی۔

دو مواقع تاریخ میں ایسے ملتے ہیں جسے لوگ شیطان کے سر منڈھتے ہیں۔ ایک تو یہ جس نے یہ رائے دی ، کہتے ہیں کہ شیطان تھا جو اس شکل میں آیا تھا اور ایک اُحد میں جس نے آواز بلند کی تھی کہ رسول قتل ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ شیطان نے یہ آواز بلند کی تھی۔میں کہتا ہوں کہ جو ویسا کام کرے یا ایسی غلط آواز بلند کرے، وہ شیطان ہوا۔ بہرحال شیخ نجدی نے یا انسان نما شیطان نے یہ رائے پیش کی کہ کیوں کہتے ہو کہ بنی ہاشم بدلہ لیں گے۔ میں ترکیب بتاتا ہوں۔ مخالف تو بہت سے ہیں نا۔سبھی مخالف ہیں سوائے بنی ہاشم کے۔ ہر قبیلہ کا ایک نمائندہ چنو اور ایک ایک آدمی جب ہر قبیلہ کا لے لو گے تو خون تمام قبیلوں پر تقسیم ہوجائے گا۔ تو بنی ہاشم کس کس سے مقابلہ کریں گے؟یعنی اُس نے یہ

اصول سب سے پہلے پیش کیا کہ بہت سے نمائندے مل کر اگر کوئی جرم کریں تو پھر وہ جرم ہلکا ہوجاتا ہے۔ جرم ، جرم ہی نہیں رہتا۔یہ رائے پاس ہوگئی ۔ کیا کہنا، واہ واہ۔سب کچھ طے ہوگیا۔

قرآن مجید نے اُسے ”کید“ سے تعبیر کیا ہے کہ انہوں نے اپنا منصوبہ بنایا ۔ وہ سب اسی جماعت کے لوگ تھے ، یہاں کا مخبر تو کوئی نہیں تھا۔ وہ رات قریب آگئی اور ان لوگوں نے پورا بندوبست کیا تھاکہ وہ راز باہر نہ جائے۔ مگر قدرت کی لاسلکی اور لاسلکی نہیں، تو جو اس کی طرف کا قاصد ہے یعنی ملک آیا پیغمبر خدا کے پاس اور ان کا پورا منصوبہ آپ کو بتایا کہ آج رات کو آپ کی زندگی کا خاتمہ کرنے کیلئے تمام لوگ آئیں گے اور گھر کو گھیر لیں گے۔اس کے بعد اس منصوبہ کا توڑ جس کو بلاغت قرآنی نے اسی لفظ سے تعبیر کیا ہے کہ انہوں نے اپنی ترکیب کی اور ہم نے اپنی ترکیب کی۔ جو لفظ ادھر صرف کیا گیا، وہی اپنی طرف صرف کیا ہے کہ انہوں نے :

مَکَرُوْامَکْرًاوَمَکَرْنَامَکْرًا “ ۔

انہوں نے ایک ترکیب کی اور ہم نے اپنی ترکیب کی۔ تو جو کسی چیز کا توڑ ہو، وہ اسی لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ اصولِ بلاغت ہے۔ اب خالق نے کیا ترکیب کی اور ترکیب کا لفظ اس لئے ہوتا ہے کہ وہ ایک خفیہ شکل ہو کہ جس کو دوسرا محسوس نہ کرسکے۔اسی کو ”کید“ یا مکر سے قرآن میں تعبیر کیاجاتا ہے۔

خالق نے کیا ترکیب کی؟ ارشاد ہوا کہ اب ہم آپ کو یہ ہدایت کرتے ہیں کہ آپ چلے جائیے اور یہ ہمارا ذمہ ہے کہ آپ کے جانے کی ان کو خبر نہیں ہوگی۔ یہ بات ہمارے ذمہ ہے ، آپ چلے جائیے۔ مگر اپنے بستر پر علی کو سلاجائیے۔متفق علیہ ہے، ہر جگہ قول مل جاتا ہے کہ وہ نہیں وہ۔ مگر یہاں دنیائے تاریخ سنسان ہے۔ یہاں بس ایک ہی نام ہے۔ جو فرشتے نے نام لیا، وہی ہر مورخ نام لے گا کہ علی کو اپنے بستر پر سلاجائیے۔ ترکیب قدرت کی طرف کی یہ ہے کہ رات بھر وہ سمجھتے رہیں کہ رسول بستر پر ہیں اور اب اس نے ایک ذات کو منتخب کیا کہ ذات ایسی ہو جس پر رسول ہونے کا دھوکہ ہوسکتا ہو۔

جناب! یہ تو پیغام خدا کی طرف سے پیغمبر خدا تک پہنچا۔ ان کو اگر خود عمل کرنا ہوتا تو کسی سے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔ مگر اس ہدایت کا جزو ایک دوسری شخصیت سے متعلق ہے۔ لہٰذا دوسری شخصیت کو بلانا لازمی تھا۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام بلائے گئے او رجو صورتِ واقعہ تھی، وہ بیان کی گئی کہ خالق کی طرف سے یہ اطلاع آئی ہے کہ گھیرا جائے گا یعنی مکان کا محاصرہ ہوگا، میرے قتل کے ارادہ سے، اور خالق کی ہدایت پر میں چلاجاؤں گا اور تمہیں اپنے بستر پر لٹاجاؤں گا۔ اب ہر دل و دماغ رکھنے والا آدمی غور کرے کہ یہ منزلِ تقاضائے اضطراب ہے یا نہیں؟ یہ صورتِ حال ایک عام انسان کیلئے اضطراب پیدا کرنے والی ہے یا نہیں؟ ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ بڑا سخت محلِ اضطراب ہے۔

اب ایک لفظ میں اس محلِ اضطراب کوواضح کردوں کہ علی عام حالت والے علی ہوتے تو اتنے سخت خطرہ میں نہیں تھے جتنے رسول بن کر لیٹنے میں خطرہ میں ہیں۔

ہم نے دنیا میں بھیس بدلتے ہوئے دیکھے ہیں مگر عموماً وہ بھیس بدلا جاتا ہے جو خطرہ سے دور ہو۔ یہ نیا بھیس بدلنا دیکھا کہ جس کے قتل کا منصوبہ ہے، اس کی چادر اوڑھی جائے۔ یہی کہہ دیتے کہ بستر پر لیٹ رہو مگر کھلے بندوں کہ ہر ایک دیکھ سکے کہ کون ہے؟ ارے لیٹو اور چادرِ رسول اوڑھو اور بستر رسول پر لیٹو۔ رسول نما ہوکر لیٹو۔

تو کتنا صبر آزما ہے۔ پھر یہ صبر آزما تو عام لفظ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اطمینان آزما محل ہے۔ اب اضطراب کے تقاضے تو عرض کرچکا۔ اتنی اہم اور خطرناک منزل ۔ مجھے ملے کسی غلط سے غلط تاریخ میں۔ کسی دمشق کے کارکانے کی صحیح ڈھلی ہوئی ۔ اگرچہ دعویٰ ذرا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ہر غلط سے غلط بات خرمن احادیث میں مل جاتی ہے اور بنامِ صحاح ملتی ہے۔ مگر بعض جگہ سچائی اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ جھوٹ کو قدم رکھنے کا موقع نہیں ملتا۔

تو صاحب!کوئی غلط سے غلط روایت نہیں ملتی کہ انہوں نے یہ سن کر کہا ہو کہ مجھے کچھ مہلت دیجئے سوچنے کیلئے۔ انکار نہ کرتے مگر کچھ مدت تو مانگتے، کچھ مہلت تو طلب کرتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ سوچنے کیلئے ہی سہی ، مہلت طلب نہ کی۔ پھر اگر مہلت مل بھی جاتی تو پہلے خود سوچتے، پھر اس کے بعد یہ کوئی یکہ و تنہا اپنے گھر کے آدمی نہیں تھے، تین بھائی ان سے بڑے تھے اور ان سب میں دس دس برس کا فاصلہ۔ آپ سے دس برس بڑے عقیل۔ عقیل سے دس برس بڑے جعفر او رجعفر سے دس برس بڑے طالب، جن کے نام پر کنیت ہوئی ابوطالب۔ وہ سب میں بڑے۔ اب آپ عمر کا حساب کیجئے کہ یہ جب چوتھے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ طالب تو پیغمبر خدا کے ہم عصر تھے۔ یعنی بوقت بعثت حضورکی عمر چالیس برس اور طالب کی عمر بھی چالیس ہی برس ہوسکتی ہے۔ ان سے چھوٹے جعفر رسول سے دس برس چھوٹے، ان سے چھوٹے عقیل ، رسول سے بیس برس چھوٹے، ان سے چھوٹے علی ، رسول سے تیس برس چھوٹے۔

تیس برس پر ایک واقعہ یاد آگیاکہ جب پیغمبر خدا کی ولادت ہوئی، جنابِ آمنہ بنت وہب آپ کی والدہ ہیں تو جنابِ فاطمہ بنت اسد موجود تھیں۔ عموماً ایسے مواقع پر خاندان کی بزرگ جوخواتین ہیں، وہ آجاتی ہیں۔ ولادت کے بعد جنابِ ابوطالب کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا کہ آمنہ کہ ہاں ایسا بیٹا پیدا ہوا۔ جو شروع سے شکل و شمائل سے اندازہ ہوتا تھا ، وہ بتایاکہ آمنہ کے ہاں ایسا بیٹا پیدا ہوا ہے۔ یہ ہمارے ہاں کافی کلینی کی روایت ہے جو عرض کررہا ہوں کہ جنابِ ابوطالب نے فرمایا: تیس برس اور صبر کرو تو ایسے ہی بچے کی میں تمہیں خوشخبری دیتا ہوں۔ اسی لئے آجکل کی متمدن دنیا میں لوگ اولاد کی تعداد کو محدود بنانا چاہتے ہیں۔ ہر ملک میں تمدن کی نشانی یہ ہے کہ اولاد کی تعداد کو محدود بنایا جائے۔ہمارے ہاں ایک وقت میں دیواروں پر لکھاہوتا تھا کہ ایک گھر میں تین بچے اچھے۔ اس کے بعد وہ مٹ گیا اور یہ نکلا کہ ہم دو ہمارے دو۔بہت خوبصورت جملہ ہے ، ہم دو ہمارے دو۔

میں نے کہا کہ بس ! اس کے بعد منزلِ توحید ہے۔ یہ ہوگیا کہ تین سے بات چلی اور دو تک پہنچی۔ اس کے بعد ایک کی نوبت نہیں آئی کیونکہ ایک تک تو دنیا بہت دیر میں پہنچتی ہے۔اب مَیں حقیقت تاریخی کی بناء پر عرض کرتا ہوں کہ یہ چوتھے فرزند ماں باپ کے، اور جو یہ ہیں، وہ کوئی قبل والا نہیں ہے۔ سب سے چھوٹے ہیں مگر فردِ اکمل یہی، یعنی حاصلِ حیاتِ ابو طالب وہی ہیں جو اپنے ماں باپ کی چوتھی اولاد ہیں۔ تو دنیا اگر اس نظامِ تمدن پر چلتی ہوتی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا فردِ اکمل کے فیض سے محروم رہ جاتی۔یہ مشاہدہ سب سے بڑی دلیل ہے اس فلسفے کے بطلان کی۔ یعنی اس فلسفے نے یہ طے کیا ہے کہ قبل والے افراد کارآمد ہیں اور بعد والے بیکار ہیں۔ جب ہمارے سامنے یہ ہے کہ

اصل کام کا وہی آخری فرد ہے جس کو آنے سے آپ نے روک دیا، اپنے منصوبہ کی بناء پر تو ہم اس کی حقانیت پر کیونکر ایمان لائیں۔

غرض یہ کہ اتنے بھائی ، سب سے بڑے طالب، ان سے چھوٹے جعفر، ان سے چھوٹے عقیل۔ تو کسی اور سے رائے نہ لیتے، اپنے بھائیوں سے تو جمع کرکے رائے لیتے کہ یہ پیغام مجھے ملا ہے، آپ حضرات کی کیا رائے ہے؟ مگریہ وہ کرتا جو مضطرب نفس رکھتا ہو۔اس سے ہم واقف ہیں ، اس کا تقاضا یہ ہے ۔ مگر یہاں ایک لمحے کی مہلت طلب نہیں کی جاتی۔ جب مہلت طلب نہیں کی جاتی تو نہ خود سوچنے کا سوال اور نہ رائے اور مشورہ کا سوال۔ بس جواب دینے سے پہلے ایک سوال کئے دیتے ہیں اور وہ سوال یہ ہے کہ میرے بستر پر سورہنے سے حضور کی زندگی تو محفوظ رہے گی؟ پیغمبر خدا فرماتے ہیں کہ ہاں! خدا نے مجھ سے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔

میں کہتا ہوں کہ انہوں نے یہ سوال کیوں کیا؟ مجھے تو اس حقیقت کے اظہار کیلئے یہی الفاظ ملتے ہیں کہ بس اپنی جان کی قیمت پوچھ رہے ہیں۔پیغمبر خدا نے جب فرمادیا کہ ہاں! مجھ سے حفاظت کا وعدہ ہوا ہے۔ انہوں نے نہ اپنے لئے پوچھا تھا، نہ انہوں نے ان کیلئے بتایا۔انہوں نے ان کیلئے پوچھا تھا کہ آپ کی زندگی تو محفوظ رہے گی؟ اور انہو ں نے اپنے لئے فرمادیا کہ مجھ سے حفاظت کا وعدہ ہواہے۔ بس یہ سننا تھا کہ سر سجدئہ خالق میں رکھ دیا۔

شاہ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں ، مدارج النبوة فارسی زبان میں ہے،اس میں تحریر فرماتے ہیں کہ دنیا میں یہ سب سے پہلا سجدئہ شکر ہے جو اس موقع پر حضرت علی علیہ السلام نے کیا تھااور شریعت اسلام میں سجدئہ شکر جزوِ مسنون ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کچھ عمل ہیں جو بلند افرا دکے کردار سے جزوِ شریعت ہو گئے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پہلا سجدئہ شکر انہوں نے کیا۔ محدث دہلوی لکھ رہے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ یہ شریعت میں جزوِ مسنون ہے۔ تو دو پہلو ا س کے پیش کئے دیتا ہوں۔ یا تو یہ کہ لوحِ محفوظ میں یہ پہلے سے شریعت کا جزو تھا اور مانئے کہ علی قبل از نزولِ قرآن دیکھ رہے تھے اور یا یہ مانئے کہ دیگر احکام قرآنِ صامت کے حکم سے ہیں اور یہ حکم قرانِ ناطق کے حکم سے ہے۔

بہرکیف علی علیہ السلام کے کردار میں اضطراب کا پہلو نظر نہیں آیا، نہ سوچنے کیلئے وقت کی مہلت مانگی، نہ عزیزوں اور ہمدردوں سے مشورہ کیا۔ باپ بے شک اس وقت نہیں تھے لیکن تین بھائی بڑے اور ایک ان میں سے باپ کے برابر عمر رکھتے ہیں۔ وہ موجود تھے لیکن کسی سے رائے نہیں لی گئی۔ معلوم ہوا کہ نفس مطمئن ہے۔

اب بستر پر لیٹ گئے۔ذرا غور کیجئے کہ بستر پر لیٹے تو اضطراب کا تقاضا یہ ہے کہ نیند اُڑجائے۔ ہمارے نزدیک اضطراب کے علاوہ اور بھی بہت سے اسباب ہیں نیند کے اُڑنے کے۔ جسے رات کو کبھی سونے کی عادت نہ ہو، کوئی کسی عبادت کا ذوق رکھتا ہواور وہ مجبوری سے اُسے انجام نہ دے سکے تو اُسے قلق ہوتا ہے، اضطراب ہوتا ہے، بے چینی ہوتی ہے جس کی وجہ سے نہ سو سکے۔ فرض کیجئے کہ اس وقت کوئی صاحب مجلس میں آنے کا ارادہ رکھتے ہوں اور بر وقت کوئی رکاوٹ ایسی پیدا ہوجائے کہ وہ نہ آسکیں تو یہ بستر پر بار بار یاد آئے گا کہ دیکھو! میں مجلس میں جانا چاہتا تھا مگر نہیں جاسکا۔

ان کی پوری رات محرابِ عبادت میں گزرتی تھی، جاگ کر بسر ہوتی تھی۔ رات کو سونا کہاں تھا او رپھر ذوقِ عبادت ان کا۔ رات بھر ان کو تصور رہنا چاہئے تھا کہ اب میں نماز پڑھتا ہوتا، اب میں تہجد پڑھتا ہوتا۔ اب میں فلاں عبادت کرتا ہوتا۔ آج فرض کے شکنجے کی زنجیر یں ڈال کر مجھے لٹا دیا گیا ۔ تو انہیں نفسیاتی طور پر قلق ایسا ہونا چاہئے تھا کہ نیند اُڑے گی۔ا س قلق اور اضطرا ب کو وہ محسوس کرے گا جس کی عبادت بربنائے عادت ہو اور جو حقیقت عبادت سے واقف ہو۔اُسے قلق نہیں ہوگا کہ جس کے کہنے سے روز عبادت کرتا تھا، اُسی کے کہنے سے تو آج لیٹا ہوں۔

لیکن حکم لیٹنے کا تھا، سونے کا نہیں تھا۔ رسول نے فرمایا تھا کہ حکم خدا یہ ہے کہ تم میرے بستر پر لیٹ جاؤ۔ حکم لیٹنے کا تھا، سونے کا نہیں تھا اور عقلاً ہو بھی نہیں سکتا ، اس لئے کہ تکالیف شریعہ اور احکام افعالِ اختیاری سے متعلق ہوتے ہیں۔آدمی کے اختیار میں لیٹناہے، سونانہیں ہے۔تو عقلاً حکم لیٹنے ہی کا ہوسکتا ہے، سونے کا نہیں ہوسکتا۔ مگر خود فرمایا ہے کہ جیسی گہری نیند شب ہجرت سویا، ایسی کبھی نہیں سویا تھا۔

گہری نیند کیوں آئی؟ حکم فقط لیٹنے کا ہے، سونے کا نہیں ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سونا نہ سونا نفس کی کیفیت سے متعلق ہے۔ اگر نفس مضطرب ہوتا تو جاگ کے رات کٹتی بلکہ شاید رو کر کٹتی مگر یہ نفس مطمئن ہے۔

بہرحال اطمینان سے سوتے رہے اور بربنائے روایت بھی میں کہتا ہوں کہ ہمارے لئے تو ان کا کہہ دینا کافی ہے اور اصولِ عقلی کے اعتبار سے ایسی بات جو خود انسان کے بیان سے معلوم ہوسکے، اس میں اس کا بیان معتبر ہے۔ وہاں گواہیاں بھی نہیں ہوتیں۔ گواہ لیٹنا دیکھ سکتے ہیں، سونا نہیں دیکھ سکتے۔ تو جو چیز خود آدمی ہی کے بیان سے ظاہر ہو، اس میں اس کا بیان مستند ہے۔ اس میں گواہ کی ضرورت نہیں ہے۔ تو ہمارے لئے ان کا کہہ دینا کافی ہے کہ میں شب ہجرت جیسی گہری نیند سویا، کبھی نہیں سویا۔ مگربربنائے واقعہ ہر صاحب فہم کومیں دعوت دیتا ہوں کہ درایتاً غور کرے کہ یہ سو رہے تھے یا نہیں؟

حضور! عرب کی نیچی نیچی دیواریں ، لٹکتے ہوئے نیزے، کھنچی ہوئی تلواریں، آپس میں چرچے ہورہے ہیں کہ ابھی حملہ کردیں یا انتظا رکریں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ابولہب بھی تھا محاصرین میں۔اُس نے یہ کہا کہ یہ بھاگ نہیں سکتے، صبح ہونے دو، صبح کو حملہ کرنا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ دیواریں اتنی نیچی تھیں کہ ان کے آنے میں وہ سد راہ نہیں تھیں۔ صبح کو جب چاہا ، آگئے چھلانگیں لگا کر۔کسی نے جاکر دروازہ تو نہیں کھولا تھا۔ تو چرچے ہورہے ہیں کہ جائیں یا نہ جائیں۔ رات گزر رہی ہے۔ اب ہر صاحب عقل غو رکرے کہ اگر نفس مضطرب ہوتا تو رات بھی راز راز ہی نہیں رہ سکتا تھا۔ بار بار چادر اُلٹ کر دیکھتا کہ آتو نہیں رہے، آتو نہیں رہے۔یہ رات بھر راز رہنا بتاتا ہے کہ یہ تو سورہے تھے۔ان کو اس سے مطلب ہی نہیں تھا کہ آرہے ہیں یا نہیں آرہے۔

میں ایک عام مثل دہراتا ہوں ، یہ سنجیدہ آدمی نہیں بولتے ہیں۔ہوسکتا تھا کہ میں شاید بالائے منبر ا س مثل کو استعمال نہ کروں مگر مجھے یہاں مطلب اسی سے ہے۔ چونکہ مثل کے اندر ایک حقیقت مضمر ہوتی ہے، اس لئے پست سہی مگر میرے کام کی وہی ہے۔ میں گہری نیند کا فلسفہ بتانا چاہتا ہوں جو انہوں نے فرمایا۔ جیسی گہری نیند سویا، حضور! مثل مشہور ہے کہ جب گہری نیند کسی کو آئے تو کہتے ہیں کہ گھوڑے بیچ کر سوئے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جو گھوڑے بیچ کر سوئے، وہ تو گہری نیند سوئے گا او رجو جان بیچ کر سوئے؟

معلوم ہوا کہ ان کے کردار نے بتایا کہ یہ ہے نفس مطمئن۔اب یہ باپ کا اطمینانِ نفس ہے اور بیٹے کی منزل آئی اور اس کے سامنے مرحلہ یہ درپیش ہے کہ یزید طلبگارِ بیعت ہے۔ بیعت نہ کرنے کے نتائج ہر صاحب عقل کے سامنے ہیں۔ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ بیعت نہ کرنے کے نتائج کیاہوسکتے ہیں؟ اب یہ مشکل منزل ہے یا نہیں؟

تو جو اضطراب کے تقاضے وہاں بتلاچکا ہوں، وہی یہاں بھی ہیں کہ پیغام ملا تو کوئی روایت نہیں بتاتی کہ انہوں نے ہمدردوں کو جمع کیا ہو۔ بھی ہاشم جن سے ہم کربلا میں متعارف ہیں۔ اسی وقت تو ان کے علاوہ بھی بہت سے افراد موجود ہیں ۔ جنابِ محمد حنفیہ ہیں، جنابِ عبداللہ ابن عباس ہیں جو انتہائی مدبر ہیں۔ بہت ہی صاحب ہوش و خرد اور ہوشیار مانے جاتے تھے۔ لوگ ان کو بلاتے تھے اور مشورہ لیتے تھے۔مگر کوئی روایت نہیں بتاتی کہ ان لوگوں کو بلا کر ان سے مشورہ لیا ہو کہ کیا کرنا چاہئے۔ ارے جبکہ سمجھے ہوئے ہیں کہ بیعت یزید میرے لئے ناروا ہے تو پھر مشورہ کیوں لیتے؟

لوگوں نے آآکر بنظر ہمدردی مشورے دئیے، کچھ نمائشی ہمدرد، کچھ حقیقی ہمدرد۔ مگر مصلحت امام سے بے خبر۔ جنابِ عبداللہ ابن عمر نے بھی مشورہ دیا اور عبداللہ ابن مطیع، جو جنابِ مختار کے نکلنے کے وقت کوفے کے گورنر تھے، ان سب نے مشورہ دیا۔ آج ان مشوروں کو پیش کیاجاتا ہے اور انہوں نے کسی مشورے پر عمل نہیں کیا۔ کچھ لوگ جو چاہتے ہیں کہ الزام ہم عائد نہ کریں، وہ تقدیر کے سپرد کرتے ہیں۔بڑ ے بڑے ممتاز اہل قلم لکھتے ہیں کہ وہ تو مشیت کا فیصلہ تھا یعنی صحیح تو یہی لوگ کہتے تھے مگر کیا کیا جائے کہ تقدیر میں یہی تھا۔مشیت اسی کی متقاضی تھی۔ کچھ لوگ کھلم کھلا کہتے ہیں کہ بڑی ضد تھی اور بڑی کد تھی۔اتنے ہمدردوں کا مشورہ تھا اور اس کا نہ مانا مگر میں اب پوری ذمہ داری کے ساتھ ان لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکہتا ہوں کہ جتنے مشورے آپ لوگ پیش کررہے ہیں، ان سب مشوروں کو لائیے اور میرے سامنے پڑھئے کہ کیا کیا مشورہ کس کس نے دیا ۔ تو جتنے مشورے تھے، وہ یہ کہ یہاں سے جارہے ہیں آپ تو عراق نہ جائیے، طائف چلے جائیے، یمن چلے جائیے او رکسی دوسری جگہ چلے جائیے۔ جبل طے، طے کے پہاڑوں پر مشورہ دیا گیا کہ جائیے۔ بڑے مشہور قلعے ہیں، آپ کی حفاظت ہمارا قبیلہ کرے گا۔یہ مشورے کہ آپ جاتے ہیں تو بچوں اور عورتوں کو کیوں لئے جاتے ہیں؟یہ ہیں مشورے ان لوگوں کے مگر کسی مشورہ دینے والے نے یہ نہیں کہا ہے کہ یزید کی بیعت کرلیجئے۔

یہ پورے مطالعہ کی ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ کسی کا یہ مشورہ نہیں ہے کہ وہ یہ کہتا کہ آپ یزید کی بیعت کرلیجئے۔ اس لئے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یزید کی بیعت تو دھندلی نگاہ والوں کو بھی ان کیلئے ناروامعلوم ہورہی ہے۔ اب آجکل دنیا کہہ رہی ہے کہ بیعت کیوں نہ کرلی؟ یہ سب کچھ ہوگیا اور بیعت نہیں کریں گے۔ انکارِ بیعت میں اتنی شدت؟ یہ تو ضد ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر صحیح راستے پر قائم ہونا ضد ہے تو کونسا نبی ہے جو ضدی نہ ہو۔ کونسا رسول ہے جو ضدی نہ ہو۔خدا کی قسم! صدائے حق کا ہم اور آپ تک پہنچنا ان کی ضدوں کا صدقہ ہے۔

پھر ذرا انصاف کیجئے آپ، اس رُخ پر سوال کرتے ہیں کہ ان کو بیعت سے اتنا انکار کیوں ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اسے کیوں نہیں سوچتے کہ یزید کو بیعت پر اتنا اصرا رکیوں ہے؟ جبکہ تمام عالم اسلام نے بیعت کرلی تو اگر یہ بیعت نہ کریں تو یزید کا کیا بگڑتا؟ جبکہ اصولِ جمہوریت یہ ہے کہ کثرتِ رائے سے ہر بات طے ہو۔ تو اقلیت کی رائے ناقابل اعتبار ہے۔ اس سے اصل مقصد کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔کچھ

لوگ نہیں مانتے ، نہ مانیں۔یہ پوری طاقت کیوں صرف کی گئی کہ ان سے بیعت لی جائے؟ یہ آخر یزید کو اتنا اصرا رکیوں ہے؟

میں سمجھتا ہوں کہ حسین ایک فرد نہیں ہیں، فرد اہمیت حاصل کرتا ہے کسی نظام کا نمائندہ ہوکر۔ ایک فردِ عرب ہوتا تو کتنے گوشہ و کنار میں آدمی ہوں گے جنہو ں نے بیعت نہ کی ہوگی۔ ارے خود ان کے اور بھائی تھے،کسی اور نے بیعت کی؟ جنابِ محمد حنفیہ بھی تو علی کے بیٹے تھے، ان سے بیعت کیوں نہ طلب کی؟ عبداللہ ابن جعفر بھی خاندان کے بزرگ تھے، ان سے کیوں بیعت طلب نہ کی؟ آخر یہ انہی سے اصرار کیوں ہے کہ بیعت طلب کی جائے؟

معلوم ہوتا ہے کہ حسین سے بیعت بحیثیت ایک فردِ عرب کے نہیں تھی، بحیثیت ایک نمائندئہ خاندانِ بنی ہاشم کے نہ تھی بلکہ حسین سے بیعت اس شریعت کا نمائندہ ہونے کے لحاظ سے تھی۔ یزید جانتا تھا کہ جب تک حسین نے بیعت نہ کی، اس وقت تک شہنشاہیت کے سامنے شریعت کا محاذ قائم ہے او رجس دن یہ بیعت کرلیں گے، اس دن شریعت کا محاذ ہمیشہ کیلئے سیاست کے راستے سے ہٹ جائے گا۔ اس لئے حسین سے بیعت کیلئے پورا اصرار تھا۔

توایک جملہ آپ کیلئے کافی ہے ، میں کہتا ہوں کہ یزید حسین کو پہچانتا تھاکہ یہ کون ہیں اور حسین خود اپنے آپ کونہ پہچانتے کہ میں کون ہوں؟یہ جانتے تھے کہ اس وقت میرے بھائی حسن مجتبیٰ ہوتے تو مجھ سے نہ کہا جاتا۔ جو کچھ کہنا تھا، اُن سے کہاجاتا۔اگر ہمارے پدرِ بزرگوارہوتے تو جو کچھ مقابلہ کرنا تھا، ان سے کیا جاتا۔ہم سے براہِ راست کوئی مطلب نہ ہوتا۔ مزید آگے بڑھئے کہ اگر ہمارے نانا رسول اللہ ہوتے تو جو کچھ سند جوازِ حکومت کی مانگنا ہوتی، وہ ان سے مانگی جاتی، ہم سے نہ مانگی جاتی۔ مگر چونکہ میرے نانا نہیں ہیں اور میں ہوں، اس لئے مجھ سے بیعت طلب کی جارہی ہے۔ تو میرے بیعت کرنے کے معنی یہ ہیں کہ میرے بڑے بھائی ہوتے تو بیعت کرلیتے، میرے والد ہوتے اور وہ ہتھیار ڈال دیتے، میرے نانا ہوتے اور وہ مہر تصدیق ثبت کردیتے۔

میں کہتا ہوں کہ اب فقط ان کی بات نہیں ہورہی، اب ان کا بیعت کرنا ان سب کا بیعت کرنا تھا اور ان کا بیعت سے انکار ان سب کا انکارِ بیعت ہے اور جب رسول تک بات پہنچ گئی تو میں کہتا ہوں کہ ان کا بیعت کرلینا شریعت الٰہی کا سرجھکا دینا ہے۔


تہذ یبِ اسلامی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰی مِنَ الْمومنین اَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةیُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَقفوَعْدًاعَلَیْهِ حَقًّافِی التَّوْرٰاة وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ ) ۔

ارشاد ہورہا ہے کہ اللہ نے خرید لیا مومنین سے ان کے جان و مال کو، ا س کے عوض میں ان کیلئے جنت ہے۔وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں تو قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوبھی جاتے ہیں اور یہ اللہ پر لازمی طور پر وعدہ ہے، توریت، انجیل اور قرآن سب کتابوں میں اور اللہ سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے۔

اعلان ہوا خریداری کا۔ کس چیز کی خریداری؟ نفوس اور اموال کی خریداری۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مال کو بھی ذلیل نگاہ سے نہیں دیکھنے کے۔ جس طرح جان کا خریدار وہ ہے، اسی طرح مال کا خریدار بھی وہ ہے۔ شرط یہ ہے کہ جان بھی اس قابل ہو کہ وہ خریداری کرسکے۔

کوئی ظاہردار اس دنیا میں ایسا ہوسکتا ہے جو کہے کہ ارے مجھے تو مال کی ضرورت نہیں، پیسے کی ضرورت نہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ کہنا کہ صدقِ دل سے بھی ہو۔ یعنی ملتا ہو اور پھر کہے کہ ضرورت نہیں ہے۔ تو پھر ایک بات ہے اور جب نہیں ہے اور کہہ دیا کہ ضرورت نہیں ہے تو ا سکی کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ لیکن بہرحال اگر سچائی کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ مال کی ضرورت نہیں ہے تو میں عرض کرتا ہوں کہ ازروئے قرآن مجید یہ کوئی صحیح بات نہیں ہے کہ مال کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر خالق کی زندگی میں مثالی زندگی انسان کی یہ ہوتی کہ مال اس کے پاس ہو ہی نہیں تو ہر جگہ قرآن مجید میں ”( یُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰةَ ) “ کے ساتھ”( یُوْتُوْنَ الزَّکوٰةَ ) “ نہ ہوتا ، حالانکہ ہم قرآن مجید میں یہ دیکھ رہے ہیں کہ جہاں جہاں جس جس انداز میں صلوٰة کا ذکر ہے، زیادہ تر اسی اندا زمیں زکوٰة کا ذکر ہے۔ اگر مدح کے طور پر ہے کہ”( اَقَامُواالصَّلوٰ ) ة“ تو اسی کے ساتھ ہے”( اَتُواالزَّکوٰة ) “۔ اگر ”( اَلْمُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰة ) “ہے، اس کے ساتھ ہے”( مُعْطُوْنَ الزَّکوٰة ) “ ہے۔

تو جہاں جہاں صلوٰة کا ذکر، وہاں وہاں زکوٰة کا ذکر۔ اب خیر ماشاء اللہ، یہاں کے بارے میں تو خیر معلوم نہیں مگر ہندوستان میں تو بالکل اپنی ذاتی معلومات کی بناء پر کہتا ہوں کہ نماز تو ہر آدمی پر واجب ہے لیکن زکوٰة جن پر واجب ہے، ان کو میں پوری مردم شماری کے لحاظ سے تناسب قائم کروں تو ممکن ہے کہ فیصد میں کوئی نہ نکال سکوں۔فی ہزار نکالوں، تو اگر معاشرہ ایسا ہوا کہ فی ہزار میں ایک پر۔ اس کے پاس اتنا ہوا کہ اس کیلئے شرائط عائد ہوں تو بلاغت قرآن کے خلاف ہے کہ ہر جگہ صلوٰة کے ساتھ زکوٰة کا نام لے۔ اگر سو جگہ فرض کیجئے صلوٰة کا ذکر ہوتا تو دو ایک جگہ زکوٰة کا ذکر ہوجاتا کیونکہ یہ ہر ایک کی ضرورت کی چیز نہیں ہے۔ شاذونادر کوئی ہو کہ جس پر زکوٰة واجب ہو۔ تو ان کیلئے دو ایک جگہ حکم آجاتا لیکن یہ کہ ہر جگہ جہاں صلوٰة کا ذکر ، وہاں زکوٰة کا ذکر۔ا س کے معنی یہ ہیں کہ خالق کی نظر میں یعنی اسلام جس معاشرہ کی بنیاد

رکھنا چاہتا تھا، وہاں کوئی قلاش معاشرہ نہیں تھا۔ وہ کوئی مفلوک الحال معاشرہ نہیں تھا۔ وہ ایسا معاشرہ تھا جس میں ہر شخص پر جس طرح صلوٰة واجب ہے، اسی طرح زکوٰة واجب ہے۔ یہاں تک کہ جن کی ہستی ہمارے لئے بہت بڑی مثال ہے ترکِ دنیا کی یعنی حضرت امیرالمومنین علیہ السلام، ان کے بارے میں وسائل الشیعہ میں، ایک معتبر حدیث کی کتاب ہے ہماری کتابوں میں،اجازے جو علماء کے ہوتے ہیں، ان میں جن کتب احادیث کا نام لیا جاتا ہے کہ جن احادیث کی ہم نے روایت کی۔ جس طرح متقدمین کی کتابیں ہیں، کافی، تہذیب، من لایحضرہ الفقیہ ،استبصار۔اسی طرح بعد کے علماء کی جو کتابیں ہیں، ان میں وسائل الشیعہ بھی ہے۔

تو وسائل الشیعہ میں یہ حدیث ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنی قوتِ بازو کی کمائی سے چار سو غلام راہِ خدا میں آزاد کئے۔اب اس زمانہ میں کتنی ہی کم قیمت فرض کیجئے غلام کی لیکن پھر بھی چار سو غلاموں کیلئے ظاہر ہے کہ زرِ خطیر کی ضرورت ہے۔ مگر یہ کہہ دیا گیا کہ جتنے بھی غلام خرید کئے گئے، وہ اپنی ذاتی محنت کے پیسے سے خرید کر آزاد کئے۔

تو معلوم یہ ہوا کہ مال پیش خدا اتنی اہمیت رکھتا ہے۔ اس آیت میں کہا گیا ، برابر سے دونوں چیزوں کو ، کہ جان کا بھی وہ خریدار اور مال کا بھی وہ خریدار۔ لیکن اب ایک خاص چیز سوچنے اور سمجھنے کی جو اس آیت میں مجھے محسوس ہوئی ہے کہ اس پر تبصرہ ضروری ہے۔ وہ یہ ہے کہ خریداری کا درجہ فروخت کے بعد ہے اور فروخت کرنا بندوں کا کام ہے۔قرآن مجید میں حکم ہونا چاہئے تھا کہ تم فروخت کرو۔ جب ہم فروخت کرتے تو وہ ارشاد فرماتا کہ ہم نے خریدا۔ پھر وہ اگر حکم دیتا کہ فروخت کرو تو فروخت کرنا یا نہ کرنا ہمارے اختیار سے وابستہ ہوتا۔ کہا تو اس نے سب سے ہے کہ نماز پڑھو،کیا سب نماز پڑھتے ہیں؟ کہا تو اُس نے سب سے ہے کہ روزہ رکھو، کیا سب روزہ رکھتے ہیں؟اس کی طرف کا حکم سب کیلئے ہے کہ ایمان لاؤ، کیا سب نے ایمان اختیار کیا ہے؟اس کا حکم ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، کیا سب اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ جتنے احکام اس کی طرف سے ہیں، وہ تمام احکام ایسے ہیں کہ کچھ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور کچھ اس کی تعمیل نہیں کرتے بلکہ تعمیل کرنے والے کم ہوتے ہیں اور تعمیل نہ کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں۔

یہ کیوں ہے؟ اس لئے کہ اس نے اطاعت جبری نہیں چاہی تھی۔ اگر جبری اطاعت کروانا ہوتی تو قرآن مجید میں جو یہ کہہ دیا ہے:

( لَوْ شَاءَ ) “۔”اگر وہ چاہتا تھا تو“۔

( لَاٰمَنَ مَنْ فِیْ الْاَرْضِ کُلُّهُمْ جَمِیْعًا ) “۔

”جتنے بھی روئے زمین پر ہیں، سب ہی ایمان لے آتے“۔

اگر وہ چاہتا، تو کیا وہ چاہتا نہیں ہے؟ چاہتا ہے مگر یہ چاہتا ہے کہ بندہ ارادةً ایمان لائے۔ یہ نہیں چاہتا کہ وہ جبر سے کام لے۔ جبری طور سے، یعنی خود مومن بنا دے۔ ایمان کے راستے کا دکھانا اس کا کام ہے اور ایمان کو دل میں ڈال دینا، جبری طور سے، یہ اُس کا کام نہیں ہے۔ یہ تو بہت ہی معرکة الآرا مسئلہ ہے جبرواختیار کا علمِ کلام میں، اس پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں مگر اس وقت تو میں ایک جملہ کہتا ہوں کہ فردِ نافرمان کا وجود خود دلیلِ اختیار ہے۔

تو اگر وہ جس نے نماز کا حکم دیا، روزہ کا حکم دیا، اسی طرح حکم دیتا کہ تم فروخت کرواپنے جان و مال کو تو پھر ہمارے بس میں ہوتا کہ فروخت کریں یا نہ کریں۔ اگر ہم فروخت کرتے، تب وہ قیمت کا اعلان کرتا کہ تم نے اپنا جان و مال فروخت کیا، اب میں بتاتا ہوں کہ اس کی قیمت جنت ہے تاکہ تمہارا جان و مال اس کے قبضہ میں جائے اور اس کی جنت وقت آنے پر ہمارے قبضہ میں آئے۔ اگر ہم فروخت نہ کرتے تو ہماری جان ہمارے پاس، اُس کی جنت اُس کے پاس۔ہم جاکر جنت کا دعویٰ نہ کرتے کیونکہ ہم نے وہ معاملہ ہی نہیں کیا جس کی قیمت میں جنت ملتی۔ مگر یہ تو مجھے عجیب بات معلوم ہورہی ہے کہ ہم سے نہیں کہتا کہ فروخت کرو اور خریداری کا اعلان کئے دیتا ہے۔ جو بعد کی منزل ہوتی ہے، اس کا اعلان اورجو قبل کی منزل ہے، اس کا ذکر ہی نہیں۔ تو اب یہ کچھ انوکھی بات ہوئی کہ اللہ نے خرید لیا۔

اب ایک پہلو کی طرف توجہ دلاؤں تو مسئلہ حل ہوجائے کہ کن سے خریدا؟ یہ تو نہیں کہا کہ لوگوں سے خریدا۔”ناس“ کا لفظ یہاں نہیں ہے۔

( اِنّ اللّٰهَ اشْتَریٰ مِنَ الْمومنین ) “۔”اللہ نے خرید کیا مومنین سے ان کے جان و مال کو“۔

اس بناء پر کہ ان کیلئے جنت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس وقت ایمان لائے، اسی وقت ہم نے اپنے جان و مال کو فروخت کردیا۔ بس ادھر ہم نے اقرارِ ایمان کیا اور یہ کہا کہ ہم اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں۔ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے یہ اقرار کر لیا کہ اب ہمارا مال ہمارا نہیں ہے، ہماری جان ہماری نہیں ہے۔ یہ جان بھی اُس کی ہے اور یہ مال بھی اُس کا ہے۔

حقیقت میں جتنی پابندیاں ہیں احکامِ شریعت کی، وہ تمام پابندیاں اب اس بیع کے تقاضے پر ہیں۔ ہم نے اپنی جان کو فروخت کر دیا، اب وہ ہم سے مطالبہ رکھتا ہے کہ دن میں اتنا وقت تم میرے اس کام میں صرف کرو جس کا نام نماز ہے اور ہم اس پر عمل نہیں کرتے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اتنی دیر ہم اپنی جان اور اپنے اوقاتِ حیات پر تصرفِ غاصبانہ کررہے ہیں۔اُس نے کہا گیارہ مہینے شوق سے کھانے پینے کی چیزیں کھاؤ لیکن دیکھو! ایک مہینے میں ، اور وہ بھی رات کو نہیں ، دن کو ہماری طرف سے یہ پابندی ہے کہ ان چیزوں کو استعمال نہ کرو۔ اب یہاں ظاہر ہے کہ جو چیز ہم نے کھائی ہے، وہ مال سے خریدی ہے تو وہ مال بھی مِلکِ غیر تھا، اس لئے یہ تصرفِ ناجائز ہوا اور دن بھر جو کام ہم نے روزے کے تقاضے کے خلاف کئے اور روزہ نہیں رکھا تو وہی بات ہوگئی کہ ہم نے تصرفِ غاصبانہ کیا۔ جتنے بھی احکامِ شرع ہیں، وہ اسی کے تحت آتے ہیں۔ اسی طرح جو محرمات ہیں، جو ناجائز چیزیں ہیں، ہمارا اچھے کپڑے پہننا خالق کا ناپسند نہیں ہے۔ وہ کوئی دوسرا دین ہوگا جس میں

لٹا پٹا رہنا خالق کے تقرب کا باعث ہوتا ہے، یہاں تو ایک مقدارمیں لباس جزوِ صحت نماز بن گیا۔

اب نہ جانے کن چور دروازوں سے مسلمانوں میں بھی یہ تصورات داخل ہوگئے ہیں کہ برہنہ رہنا مقتضائے ولایت خدا ہوگیا۔ یہاں تو نماز صحیح نہیں ہوگی جب تک کہ اتنا لباس نہ ہو کہ جس کے بعد آدمی برہنہ نہ کہلائے۔ یہ تو مرد کیلئے لباس ہے، عورت کی نماز تو اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک ہاتھوں اور چہرے کے سوا سب اعضاء چھپے ہوئے نہ ہوں۔

تو معلوم ہوا کہ ہمارا لباس پہننا خالق کو ناپسند نہیں ہے۔ یہ نہیں ہے کہ لباس پہنو تو بوسیدہ اور خراب پہنو۔جی نہیں! کہا گیا کہ جب نماز کیلئے آؤ تو جو بہتر سے بہتر لباس تمہارے پاس ہو، وہ پہن کر آؤ۔ اُسے ہماری پریشان حالی منظور ہوتی تو عطر لگا کر نماز پڑھنے کا ثواب کیوں ہوتا؟ آجکل بال پریشان رکھنا اور گویا ہر وقت مصیبت زدہ ہونے کا ثبوت پیش کرنا گویا ترقی پسندی کی علامت بن گیا ہے اور وہاں آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگوں کی جاء نمازوں میں کنگھا موجود ہوتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ محاسن میں شانہ کرنا شامل ہے یعنی آراستہ ہوکر بارگاہِ الٰہی میں آئے، پریشان حالی کفرانِ نعمت الٰہی ہے۔

ہاں! کسی بلند مقصد کی خاطر انسان پیوند والا لباس پہنے تو صحیح ہے۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام بے شک پیوند دار لباس پہنتے تھے۔ آپ نے اس کا فلسفہ نہج البلاغہ میں خود بتایا ہے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک نے، عاصم ابن زیاد حارثی نے حاضر ہوکر عرض کیاکہ میرے بھائی نے گھر کے کپڑے پہننے چھوڑ دئیے ہیں، گھر میں پکاہوا کھانا چھوڑ دیا ہے، ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے ہیں اور روکھا سوکھا کھانا کھا لیتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں آؤں گا اور اُسے سمجھاؤں گا، نصیحت کروں گا۔

آپ خوش نہیں ہوئے کہ اس نے بڑا اچھا کیا۔ حضرت تشریف لائے اور بڑے سخت انداز میں کہا: اے شخص! یہ کیا زندگی اختیار کی ہے ؟ کیاتیرے گھر میں پکنے والی غذا مالِ حرام سے ہوتی ہے؟ کیا تیرا پہننے کا لباس مالِ ناجائز سے ہے؟ پھر یہ کس طرح کی زندگی تو نے اختیار کرلی؟ پھر خود ہی فرمایا: کیا تم خیال کرتے ہو کہ خدا نے خود ہی لذائذ اور طیبات کو حلال قرار دیا ہے اور پھر خود ہی ان پر سزا بھی دے گا۔یہ عدلِ الٰہی کے خلاف ہے۔ یہ کیونکر ممکن ہے؟

اتنے سخت الفاظ میں کہا کہ اُسے تابِ مقاومت نہ رہی۔ فوراً کہا:”سَمْعاً وَطَاعَةً “۔

جو آپ ارشاد فرمارہے ہیں، اُس پر عمل کروں گا۔جو کھانا کھاتا تھا، وہی کھاؤں گا، جو کپڑا پہنتا تھا، وہی پہنوں گا۔

دیکھئے! مقتضائے اطاعت یہی ہے کہ حکم کی تعمیل تو کیجئے، پھر اگر اس کی مصلحت کو سمجھنا بھی ہے تو اُسے سمجھتے رہئے۔ مگر اطاعت کو اس سمجھنے پر موقوف نہ رکھئے۔ اس نے فوراً اقرارِ اطاعت کیا اور حضرت کا غیظ و غضب کا انداز بدل گیا۔ مگر اصحابِ رسول اور اصحابِ آئمہ طالب علم بھی تو تھے اور طالب علم کو حق ہے کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے، وہ پوچھ لے۔پس جب اقرارِ اطاعت کرلیا تو اُس نے دبی زبان سے کہا:

”حضور !میں نے اقرار تو کرلیا مگر یہ حضرت کا لباس جو ہے؟“

دیکھئے! کتنی بڑی خلش آپ کے ذہن کی بھی اُس نے دُور کروادی۔ یہ آپ جو اس روکھی سوکھی غذا اورپرانے لباس میں نظر آتے ہیں، یہ کیا ہے؟ بظاہر پھر حضرت کی تیوریوں پر بل آگئے۔ فرماتے ہیں:”اے شخص! میری تیری برابری نہیں ہے“۔

اب ایک بات کہوں گا کہ حضرت نے کیا معیار مقرر فرمایا؟ میں کہتا ہوں یہی جملہ کہ ہماری تمہاری برابری نہیں ہے۔ آپ دنیا کے کسی بھی ملک میں جائیے اور بڑے بڑے عہدیداروں سے اور بڑے بڑے مسند اقتدار پر بیٹھنے والوں سے پوچھئے کہ سرکارِ والا! یہ آپ کے پاس اتنی کوٹھیاں اور ہمارے پاس رہنے کو مکان نہیں ہے؟ وہ یہاں کہیں گے کہ کیا ہماری تمہاری برابری ہے؟

کسی سے یہ کہئے کہ آپ کے پاس اتنی موٹریں ہیں اور ہمارے پاس سائیکل تک نہیں ہے۔ وہ کہیں گے کیا ہماری تمہاری برابری ہے؟محلِ استعمال اس جملے کا دنیا میں یہ ہے۔ مگر امیرالمومنین علیہ السلام کے ارشاد فرمارہے ہیں؟ ارے جنہیں اقتدار حاصل ہوجائے، ان سے اللہ کا عہدوپیمان یہ ہے کہ وہ اپنا معیارِ زندگی اپنی رعایا میں سے کمزور ترین فرد کے برابر رکھیں۔ آپ نے اپنے انفرادی عمل کا جو فلسفہ بتایا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ دیگر معصومین نے اس پر عمل کیوں نہیں کیا، حالانکہ وہ سب نورِ واحد تھے، ایک سلسلہ کی کڑی تھے مگر ہر دفعہ امیرالمومنین علیہ السلام کا کردار اس محل پر کیوں پیش ہوتا ہے؟

اب اس ارشاد کی روشنی میں میرا ذہن گیا اپنے حدودِمطالعہ کی طرف کہ یہ سادگی کے جتنے واقعات ہیں، سب کوفہ کے ہیں۔ یعنی اس دَور کے نہیں ہیں جب گوشہ نشین تھے۔یہ زندگی جو جزوِ تاریخ بنی ہے، یہ اُس دَور کی ہے جب آپ کرسیِ اقتدار پر متمکن تھے۔ آپ کے سامنے دو نمونے موجود ہیں کہ ایک سائل آیا مسجد میں اور اُس نے سوال کیا۔ حضرت ے بھوسی بھرا ہوا جَو کا آٹا، جو آپ نوش فرمارہے تھے، وہی اس کی طرف بڑھا دیا۔ اُس نے کہا :”اے بندئہ خدا! یہ تو میرے حلق سے نہیں اُترے گا“۔

آپ نے فرمایا: یہ مجھ کو دے دو، میں ہی اس کو کھاؤں گا۔ میرے پاس تو یہی ہے اور اگر اچھی غذا کی تلاش ہے تو حسن مجتبیٰ کے دروازے پر جاؤ، وہاں مہمانوں کیلئے غذائے لذیز موجود ہوگی“۔

توآپ سنا کرتے ہیں لیکن چونکہ ذکر علی ابن ابی طالب علیہما السلام میرے لئے اور آپ کیلئے بھی باعث ثواب ہے ، لہٰذا بیان کرتا ہوں کہ وہ وہاں گیا اور فوراً اُس کیلئے کھانا آگیا۔وہاں کے معیارِ زندگی کے لحاظ سے وہ پر تکلف کھانا تھا۔ اس نے کھانا اس طرح کھایا کہ ایک نوالہ کھاتا ہے اور ایک رکھتا جاتا ہے۔ حضرت نے توجہ کی اور کہا کہ یہ کیا کررہے ہو؟اگر تمہارے ساتھ اہل و عیال ہیں تو یہاں کوئی ممانعت نہیں ہے، تم لیتے جانا۔ اُس نے کہا کہ میں اکیلاآیا ہوں مگر مسجد میں ایک سائل کو دیکھ کر آیا ہوں۔ ایک محتاج کو دیکھ آیا ہوں۔ میں نے سوال کیا تو وہ سخی تو ایسا تھا کہ جو اُس کے پاس تھا، وہ اُس نے اٹھا کر مجھے دے دیا مگر میں نے دیکھا تو بھوسی بھرا ہوا آٹا ہے جسے میں کھا ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ میں اُس کیلئے لئے جارہا ہوں۔

اس فقیر کیلئے آپ نے ارشاد فرمایا کہ ارے وہ فقیر نہیں ہیں، وہ تو مالک دین و دنیا ہیں۔ہمارے والد بزرگوار حضرت علی علیہ السلام ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ ایک ہی وقت میں دونوں نمونے موجود ہیں۔ اگر (معاذاللہ) یہ ترکِ اولیٰ بھی ہوتا تو امیرالمومنین کے علم و رضا کے ساتھ امام حسن علیہ السلام کے ہاں وہ غذائیں تیار کیوں ہوتیں اور آپ سائل کو وہاں کیوں بھیجتے؟اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی حکمِ شرعی

بحد احتساب نہیں تھا بلکہ یہ آپ کا انفرادی عمل تھا، آپ کے موقف کے لحاظ سے۔

اسی لئے یہ بھی یاد رکھئے کہ یہ بڑا نازک مرحلہ ہے کہ کہہ دیں کہ اتباع کرنا چاہئے، اتباع کرنا چاہئے۔کسی ایک معصوم کا نام لے دیا کہ اتباع کرنا چاہئے۔مثلاً کوئی ہنگامہ ہوا ، کہا کہ امام حسن علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔

یاد رکھئے!آنکھیں بند کرکے اتباع بھی نہیں کرنا چاہئے ، اس لئے کہ چودہ سیرتیں ہیں۔وہ سب محمد تھے۔اس لئے جس محل پر جس معصوم کی سیرت کا اتباع ضروری ہے، اس کیلئے بھی وہ نظر حقیقت شناس ہونی چاہئے جس کا اصطلاحی نام اجتہاد ہے کہ کس محل پر کس معصوم کی سیرت پر عمل ضروری ہے کیونکہ سیرتیں سب صحیح ہیں مگر ہر ایک ہر ایک محل کے لحاظ سے صحیح ہے۔ ہر ایک کے موقف کے لحاظ سے ٹھیک ہے۔ کسی ایک کو لے لینا اور ہر جگہ اسی کا حوالہ دے دینا ، یہ کُل کو جزو میں محدود کرنا ہے۔

غرض یہ کہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ ہمارا اچھا پہننا اللہ کو ناپسند نہیں ہے مگر پھر بھی کچھ پابندیاں عائد کردیں۔ خالص ریشم نہ ہو، آرائش کرو مگر سونا نہ پہنو،وہ بھی مردوں کیلئے۔ عورتوں کیلئے یہ حکم نہیں ہے۔اسی طرح ہمارا اچھا کھانا اُسے ناپسند نہیں ہے۔ اُس نے کہا ہے:

”تمہارے لئے سب طیبات حلال ہیں“۔

یہ اور بات کہ کسی کو حرام ہی میں مزہ ملے۔ ورنہ جو حلال غذائیں ہیں، ان میں ذائقے کی کمی نہیں ہے۔ اس میں لذیذ سے لذیذ تر غذائیں کھانے کا آپ کو حق ہے او ر کوئی الزا م نہیں، مکروہ نہیں ہوگا۔سوائے چند خاص چیزوں کے کہ جنہیں کہہ دیا کہ مکروہ ہیں۔یہ نہیں ہے کہ لذیذ کھانا مکروہ ہے۔ یہ کسی عالم نے نہیں کہا ہوگا۔پس ہمارا اچھا کھانا اُسے ناپسند نہیں ہے۔ پھر بھی کچھ پابندیاں ہیں۔ گوشت حلال ہے مگر ذبیحہ کا ہونا چاہئے، تب جائز ہوگا۔ یہ سب کیا ہے؟ سب چیزیں پسندیدہ ہیں۔ اللہ کو ناگوار نہیں ہیں مگر اس میں پابندیاں ہیں۔ یہ صرف اس لئے کہ تمہیں مطلق العنان ہونے کا احساس نہ ہو کہ جان ہماری ہے، مال ہمارا ہے۔ جو چاہیں کھائیں، جوچاہیں پئیں۔

ہر وقت ایک بالادست صاحب اقتدار کا احساس ہونا چاہئے۔ اسلام نے اپنے حکیمانہ نظامِ شریعت کے لحاظ سے وہ مشکل کام انجام دیا کہ دنیا میں جو ہمیشہ متضاد چیزیں سمجھی گئیں، ان کو اکٹھا کردیا یعنی ہمیشہ جسم اور روح دو الگ الگ چیزیں سمجھی گئیں۔ہمیشہ جسمانی ترقی کو روحانی ترقی کے خلاف سمجھا گیا۔ روحانی ترقی ہے تو پھر جسم کے تقاضے محفوظ نہیں رہیں گے۔ اسی کا ایک رُخ ہوگیا دنیا اور دین ، کہ دنیا و دین ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔ یا دنیا کو لو یا آخرت کو لے لو۔یا دنیا کو لو یا دین کو لو۔ یہ تصور عام تھا لیکن اسلام نے اپنے حکیمانہ نظامِ شریعت کے لحاظ سے اس کو بدلا۔اس کا تقاضا یہ تھا کہ جب دو چیزیں الگ الگ ہوگئیں تو کچھ کے ماہر اور ہوئے اور کچھ کے ماہر اور ہوئے۔ ا س کے معنی یہ ہوئے کہ علومِ دنیا کے ماہر بالکل الگ ہوں گے اور علومِ دین کے ماہر بالکل الگ ہوں گے۔پھر حکومتیں بھی الگ الگ ہوگئیں۔ دنیاوی حکومت کے سربراہ اور ہوں گے، دینی حکومت کے سربراہ اور ہوں گے۔ عیسائیت میں رہبانیت تھی۔ لہٰذا وہاں کا وہ مقولہ بالکل صحیح کہ جو قیصر کا حق ہے، وہ قیصر کو دیتے ہیں، جو پوپ کا حق ہے، وہ پوپ کو دیتے ہیں کیونکہ یہ دونوں شعبے الگ الگ ہیں۔ تو ہر ایک کے تقاضے الگ الگ ہوئے۔ اسلام نے دین و دنیا کو بالکل سمو کر ایک ایسا مزاجِ معتدل پیدا کیا جس کی وجہ سے معیارِ دین بالکل بدل گیا۔

دنیا میں ہر جگہ پیشہ کوئی اور ، اور مذہب کوئی اور یعنی ایک عیسائی ڈاکٹر ہے تو چھ دن تک ڈاکٹر ہے، ساتویں دن جب وہ گرجا جائے گا، تب معلوم ہوگا کہ عیسائی ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے ڈاکٹر ہونے میں عیسائیت کا کوئی دخل نہیں ہے۔ایک تاجر جب دوکان پر ہے تو اس وقت اس کے مذہب کا کوئی سوال نہیں۔ ہاں! جب وہ عبادت کیلئے جائے گا تو اس وقت مذہب کا سوال ہوگا۔

اسی طرح ان کی عبادت بس گرجا میں جاکر ہوگی، اپنے گھر میں نہیں ہوسکتی، نہ روز ہوسکتی ہے۔ جب گرجا پہنچیں گے تو وہاں عبادت کریں گے۔ وہاں پھر خدا کو یاد کریں گے۔ اسلامی نظام نے یہ کام کیا کہ خدا کو یاد کیا نہیں جاتا، بلکہ خدا کو یاد رکھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ تم ڈاکٹر ہو تو بھی مسلمان ڈاکٹر ہو۔ اگر تم تاجر ہو تو تم کو مسلمان تاجر ہونا ہے۔ اگر تم کسی اور شعبہ کو اختیار کئے ہوئے ہو ، تو بھی تم کو مسلمان ہونا ہے۔

لہٰذا ہر شعبہ حیات میں یادِ الٰہی کارفرما ہوگئی۔ دیکھئے! روز مرہ کی زندگی میں کہ آپ بزاز کی دکان پر گئے اور اس سے کہا کہ اچھے سے اچھا کپڑا دکھاؤ۔ نئے ڈیزائن دکھاؤ، نئی وضع دکھاؤ۔ اس سے مطلب نہیں کہ خوشنما ہے یا بد نما ہے۔اس نے نئی وضع دکھانا شروع کی۔ اب تک جتنا کام ہورہا ہے، یہ مادّی ضرورت کیلئے یعنی تن آسانی کی خاطر۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ لیکن ادھر ایک کپڑا آیا اور اگر آپ پابند شرع ہیں اور آپ نے پوچھا کہ یہ خالص ریشم تو نہیں ہے؟ بس پتہ چل گیا کہ انسان اپنی تن پوشی کی راہ میں خالق کو نہیں بھولا ہے۔

اسی طرح بازار گئے، طرح طرح کی لذیذ غذائیں نظر آئیں۔ پوچھا کہ یہ ذبیحہ ہے؟ پتہ چل گیا کہ شکم پُری کی خاطر اللہ کو فراموش نہیں کیا جارہا۔ یہ تو روز مرہ کی بات ہے۔ اب ایک شعبہ ہے، جس کا مجھے تجربہ تو نہیں ہے مگر اندازہ تو ہے ہی کہ کچھ لوگوں کو شکار کا شوق ہوتا ہے۔ شکار پر گئے، شکار ملا، کتنی دوڑ دھوپ اور تگ و دَو کے بعد۔فوراً گئے، جاکر دیکھا کہ ارے یہ تو مرگیا۔تو اِدھر کہا کہ ارے یہ تو مر گیا، اس کے معنی یہ ہیں ضرورتِ مادّی کے اس تگ و دَو کے عالم میں بھی بندہ خدا کو نہیں بھولا۔

اور جناب! اب وہ ناقابلِ بیان مرحلہ،میرا تجربہ نہیں ہے اور یہ مقام منبر کا تقاضا بھی نہیں ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ایسی نفسانی خواہش جس کی تکمیل میں انسان اور حیوان میں بہت کم فرق رہ جاتا ہے۔ اس خواہش کی تکمیل کیلئے تمام شرائط حاصل اور تمام موانع ختم اور اس کے ساتھ تراضی طرفین حاصل، دونوں بالکل آمادہ لیکن فوراً احساس ہوتا ہے کہ جب تک خاص الفاظ زبان پر جاری نہ کریں، اس وقت تک ایک پردہ درمیان میں ہے۔ جب ایجاب و قبول کے صیغے جاری ہوں گے، تب جاکر یہ ہمارے لئے حلال ہے۔

بس معلوم ہوگیا کہ طوفانی خواہشات کے اس تموّج میں بھی بندہ خدا کو نہیں بھولا۔میں کہتا ہوں کہ ناجائز تعلقات بھی تو کبھی دائمی رہتے ہیں۔ عمر بھر ناجائز تعلقات رہے، کیا ایسا نہیں ہوتا؟ تو جو فرق دائمی ناجائز تعلقات میں اور عقد دائمی میں ہے، وہی فرق عارضی ناجائز تعلقات اور عقد عارضی میں ہے۔ اس کے وقتی ہونے سے خصوصیت نہیں پیدا ہوتی۔ فرق باضابطہ اور بے ضابطہ ہونے کا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اپنے کو مطلق العنان نہ سمجھو۔یہ سمجھو کہ ہماری جان اصل میں کسی اور کی ہے اور ہمارا مال اصل میں کسی اور کا ہے۔

جس وقت ایمان اختیار کیا، اُسی وقت اقرار ہوگیا کہ اب ہمارا مال نہیں ہے اور ہماری جان ہماری نہیں ہے۔ اسی میں در حقیقت اسلامی سیاست بھی مضمر ہے۔ جس وقت ایمان لے آئے، اس وقت اقرار ہوگیا کہ اس کے مقابلہ میں نہ ہماری جان ہماری، نہ ہمارا مال ہمارا۔ تو اس کے اقتدار کے مقابلہ میں نہ شوریٰ کا حق رہا، نہ اجماع کا حق رہا۔اس لئے کہ شوریٰ میں چھ سات آدمی جمع ہوئے ، وہ سب کیا ہیں؟ ایمان لائے ہوئے ہیں یا نہیں؟ اگرایمان لائے ہوئے نہیں ہیں تو ان کے شوریٰ کو معتبر نہیں سمجھتا، خواہ پانچ چھ ہوں ۔

اب عدد یہی یاد ہے کیونکہ تاریخ میں یہی آیا ہے۔ پس خواہ پانچ ہو یا چھ ہوں، سو دو سو ہوں، ہزار دو ہزار ہوں، دس ہزار ہوں۔ جتنی مردم شماری اس وقت کی کوئی سمجھے، اس کا نام اجماع ہو۔سوال یہ ہے کہ یہ سب ایمان رکھنے والے بحمدللہ، بہ اقرارِ خود سب مومن ہیں ورنہ مسلم ہی نہیں ہیں کیونکہ بغیر اقرارِ ایمان کوئی مسلمان بھی نہیں ہوتا۔ اگر مسلمان ہے تو مدعیِ ایمان ضرور ہے۔ جب مدعیِ ایمان ہے یعنی جماعت ہے

مومنین کی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس وقت ایمان لائے تھے، اسی وقت اللہ کے مقابلہ میں بے اختیار ہوگئے تھے۔ بے اختیار با اختیار۔

با اختیار کیا ہے؟ ثبوتِ اختیار۔ بے اختیار کیا ہے؟نفی اختیار۔تو اب وہ دس ہزار ہوں یا دس لاکھ ہوں، دس کروڑ ہوں ، دس ارب ہوں، وہ سب بے اختیار، بے اختیار۔تو بے اختیاروں کے مجمع سے بااختیار کیونکر نکلے گا؟ اس کو معمولی ریاضی کے طالب علم حساب پڑھنے والے بچے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ بڑے سے بڑا تختہ کاغذ کا ہو، اس پر جتنے زیرو بن سکتے ہیں، بنا دیجئے تو جو عدد بنے گا، وہ صفر ہی ہوگا۔

تو جناب! اپنی جان اپنی نہیں، اپنا مال اپنا نہیں۔ یہی فلسفہ قربانی ہے۔ اپنا نہیں ،اُس کا ہے تو اُس کی راہ میں خرچ ہونا چاہئے۔ اس لئے حقیقت میں ہر حکمِ شرع ایک حد تک قربانی کا مطالبہ ہے۔نماز جو ہم پڑھتے ہیں،اس میں بھی کچھ اپنے اوقات، کچھ اپنی مصروفیات او رکچھ اپنے مشاغل کی قربانی ہے۔ روزے میں کتنی خواہشوں کی قربانی ہے۔ اسی طرح زکوٰة میں کچھ مالی قربانی ہے اور حج میں تو ہر قسم کی قربانی ہے۔ مالی قربانی الگ، رکھ رکھاؤ اور وقار کی قربانی الگ۔ اپنی وضع قطع اور اپنے لباس کی قربانی الگ۔

معاف کریں آجکل کے نوجوان! بال بڑھانے پر کچھ لوگ بڑے ریاض کرتے ہیں، بڑی محنت کرتے ہیں۔ طرح طرح سے بناتے ہیں۔ حج کیا تو منیٰ میں جاکر فارغ البال ہونا پڑے گا۔ یہ سب چھوٹی چھوٹی قربانیاں ہیں جن کا پوری زندگی مطالبہ ہے اور اگر انسان اسے پورا کررہا ہے تو وہ حقیقت میں قربانیاں پیش کررہا ہے۔ اگر محل شہادت نہیں آیا تو یہی قربانیاں اس کو پیش خدا بلند سے بلند مرتبے حاصل کروانے کیلئے کافی ہیں کیونکہ شہادت تو وابستہ ہے ایسے کچھ حالات سے جو سینکڑوں برس پیدا نہیں ہوتے اور اگر انسان نے شوقِ شہادت میں کوئی اپنی طرف سے ایسا کام کیا جو اُس کے خیال میں اس کے تقاضائے شہادت کو پیدا کرے تو یاد رکھئے کہ پھر وہ ہلاکت ہوگی، شہادت نہیں ہوگی۔

بڑا نازک مرحلہ ہے۔ شوقِ شہادت میں اگر کوئی غلط قدم اُٹھ گیا تو شہادت کی منزل دور ہوگئی، ہلاکت ابدی رہ گئی۔ جان جب حقیقت میں اس کی دی ہوئی ہے تو جتنی قربانی جس وقت وہ چاہ رہا ہے، اتنی ہی کرو۔اگر اس سے زیادہ قربانی کرو گے تو وہ تو اپنے جی کی خاطر ہوگی۔ یعنی شوقِ شہادت میں قربانی پیش کررہے ہیں تو وہ تو آپ کے شوق کی راہ میں قربانی ہوئی، وہ اللہ کی خاطر تو نہیں ہوئی۔ تو شوقِ شہادت کوئی غلط قدم نہ اٹھوائے ورنہ پھر شہادت کی منزل بہت دور ہوجائے گی۔

مجھے یہ بات اس لئے کہنے کی ضرورت ہوئی کہ جب تک کوئی ہوا چلتی ہے، تو لوگ اندھا دھندقدم آگے بڑھاتے ہیں۔ ایک لفظ چلا شوقِ شہادت کا۔ ہر جگہ اگر یہ ہوا چلنے لگی تو نہ جانے کتنے غلط قدم اٹھ جائیں گے۔ وہ بڑا خطرناک ہوگا۔ اس کی وجہ سے ہلاکت ابدی ہوسکتی ہے۔ لہٰذا بہت سمجھ بوجھ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ شہادت کا مرحلہ اتنا آسان نہیں ہے۔ یاد رکھئے کہ خونریزی سے بہت لوگوں کو نفرت ہوگئی ہے۔ ارے خونریزی؟ میں کہتا ہوں کہ اگر معرکہ جہاد میں آنا ہے تو ہر آدمی کو قاتل ہونے کیلئے آنا چاہئے۔ اگر شوقِ شہادت میں کوئی کمی رہ گئی ، قاتل ہونے کی کوشش میں، تو پھر وہ ہلاکت ہوگی، شہادت نہیں ہوگی۔ ہم زیادہ سے زیادہ افراد کو تہہ تیغ کریں گے اور اگر ہم نے کوئی کمی کردی کہ بہت اچھا ہے کہ شہید ہوجائیں اوربہت بُرا ہوگا کہ شہید نہیں ہوں گے۔یہ بڑی سخت منزل ہے، اسی لئے ہر منزل پر ضرورت ہے زندہ رہنما کی۔


حقوق العباد

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( هَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِلِمْ یَکُنْ شَيْئًامَذْکُوْرًا ) ۔

اس آیت کے پہلے الفاظ کی مناسب سے اس کا نامهَلْ اَتٰی ہوگیا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ اس سورة کا پس منظر یہ ہے کہ شہزادے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین بیمار ہوئے۔ میرا ایمان ہے کہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ہستی ایسی تھی کہ اگر صرف وہ بارگاہِ الٰہی میں دعا کردیتی تو خداوند عالم ان کی دعا کو قبول فرماتا اور حصولِ مقصد کیلئے ان کی دعا کافی ہوتی۔مگر ہمیں ایک اجازت کا ذریعہ سکھانے کیلئے یہ سب کچھ ہے۔ پیغمبر خدا کے ارشاد کے مطابق بعض روایات میں یہی ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ تم تین روز ے نذر کرو۔اس کو عرفِ عام میں منت ماننا کہتے ہیں۔ یہ نذر کرو کہ خداوند عالم حسنین کوصحت عطا فرمائے گا تو ہم تین روزے رکھیں گے۔

خداوند عالم نے صحت عطا فرمائی۔ ہم اکثر منتیں مان لیتے ہیں اور نذریں کرلیتے ہیں لیکن اس وقت نذر کرلینے میں تو اپنی ضرورت ہوتی ہے۔ وفائے نذر میں پھر تاخیر سے کام لیتے ہیں۔ طرح طرح کے حیلے حوالوں سے یہ یہ بات ہوجائے تو اس نذر کو پورا کریں گے اور وہ بات ہوجائے تو اس نذر کو پورا کریں گے۔ لیکن یہ آلِ رسول ہیں۔ بالکل نمایاں چیز جو ہمارے ذہنوں میں تاخیر کی متقاضی ہے، وہ یہ کہ ابھی تو صحت ہوئی ہے، صحت کے بعد ایک قوت آنے کی منزل ہوتی ہے کہ مریض میں طاقت آجائے۔ مگر وہاں چونکہ نذر صحت کی تھی، طاقت آنے کی تو شرط نہیں تھی۔ لہٰذا ابھی میں عرض کروں گا کہ بچے کتنے ناتوان ہیں، کمزور ہیں لیکن وفائے نذر کی فکر ہوگئی۔

اب ایک پہلو پر اہل نظر غور کریں کہ شہزادوں کی صحت کیلئے نذر کی تھی ماں باپ نے۔ خود شہزادوں نے تو نذرنہیں کی تھی مگر یہ ان کا ذوقِ عبادت ہے کہ نذر کرنے والی صرف دو ہستیاں تھیں اور وفائے نذر میں خود وہ شہزادے بھی شریک ہوگئے جن کی صحت کیلئے نذر مانی گئی تھی۔اب اس گھر میں رہنے کا صدقہ ہے کہ وفائے نذر میں گھر کی کنیز بھی شریک ہوگئی یعنی جنابِ فضہ جو اس گھر کی کنیز خاص ہیں۔

اس زمانہ میں اس قسم کے رشتہ کا نام کنیز ہی ہوتا تھا ورنہ ظاہر ہے کہ دنیا کی بہت سی ملکاؤں کے نام ہمیں یاد نہیں ہیں مگر خانہ سیدہ کی اس کنیز کا نام لوحِ دل پر نقش ہے اور اگر خود فضہ سے پوچھا جاتا کہ تمہیں تاجدار ہونا پسند ہے یا یہاں کی کنیز ہونا تو وہ بھی اس کنیزی کو ترجیح دیتیں۔

تو اب تین روزے رکھنے میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے وفائے نذر کیلئے گویا بس اتنی آسانی اختیار فرمائی کہ معلوم تھا کہ تین روزے رکھنے ہیں اور تین دن افطار ہوگا۔ لہٰذا اب روز کہاں انتظام کرتا پھروں گا۔ ایک دم سے تین روزوں کے افطار کا سامان پانچ آدمیوں کا کرلیاجائے۔ اب اس کیلئے آلِ رسول کی وہ زندگی کہ جس طرح سے یہاں انتظام ہوتا تھا، اسی طرح امیرالمومنین نے انتظام فرمایا۔ ایک یہودی کے ہاں تشریف لے گئے اور وہاں سے صوف بہ اُجرت حاصل فرمایا کہ اس کو درست کیا جائے گا اور اس کے معاوضہ میں اتنا اناج جو تین دن تک پانچ روزہ داروں کیلئے کافی ہو، وہ حاصل کیا گیا ۔ وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے سپرد ہوگیا۔ وہ اناج بھی اور وہ صوف بھی۔

میں کہتا ہوں کہ ان ہستیوں کے جو روزمرہ کے کام ہیں، انہی سے ہمارے لئے وہ نظامِ حیات مرتب ہوتا ہے جو درحقیقت نظامِ اسلام کا جزو ہے۔ دنیا کہتی ہے کہ اسلام نے پردہ میں رکھ کر ایک طبقہ کو بیکار بنا دیا۔ میں کہتا ہوں کہ دنیا دیکھے کہ بیکار کوئی طبقہ نہیں ہوتا، صرف نظامِ عمل میں تقسیم عمل ہے اور وہ یہاں بھی نمایاں ہے کہ گھر کے باہر کا جتنا کام تھا، وہ حضرت علی علیہ السلام نے کیا اور گھر کے اندر کا جتنا کام تھا، وہ حضرت فاطمہ زہرا کریں گی۔کون کہہ سکتا ہے کہ وہ غذا جو دہن تک پہنچے گی، اس میں فقط امیرالمومنین علیہ السلام کی کارگزاری شریک ہے اور اس میں حضرتِ خاتونِ جنت کی کارگزاری شریک نہیں ہے۔یہی نظامِ عمل ہے کہ مرد مرد رہتے ہوئے کارآمد ہو اور عورت عورت رہتے ہوئے کارآمد ہو۔

حضورِ والا! یہ تو ہر ایک کی سمجھ میں آئے گا اور وہ تائید کرے گا کہ مرد کیلئے یہ کمال نہیں ہے کہ اس میں مردانگی پیدا ہوجائے بلکہ مرد مرد رہتے ہوئے ترقی کرے اور عورت عورت رہتے ہوئے ترقی کرے۔ اس کے لحاظ سے جو مناسب ہو، وہ کام کرے اور جو اس کے مناسب حال ہو، یہ وہ کام انجام دے۔ اناج اور صوف یہ دونوں چیزیں رکھ لی گئیں۔ حضرت فاطمہ نے صوف کے تین حصے کئے اور اناج کے بھی تین حصے کئے۔ ایک حصہ صوف کا دن بھر میں درست فرمایا اور ایک حصہ اناج کا درست کیا اور غذا بننے کی حد تک جو منزلیں ہیںِ وہ سب سیدہ نے طے فرمائیں۔ اس کے بعد افطار ،وہی روٹیاں جو اس اناج کی تھیں اور اس کے ساتھ کوئی چیز رکھ دی گئی سامنے۔ اب افطار کرنا چاہتے ہیں کہ دروازے پر سے آواز آئی:

اَنَا مِسْکِیْنٌ مِنْ مَسَاکِینِ الْمَدِیْنَه “۔

”میں ایک مسکین ہوں مدینہ کے مساکین میں سے“۔

بس یہ آواز آنا تھی کہ روزہ داروں نے ہاتھ روکے۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنی روٹی کی طرف ہاتھ بڑھایا، سید ئہ عالم نے اپنی روٹی اٹھائی، حسنین نے اپنی روٹیاں بڑھائیں اور فضة جب روزہ کی منزل میں مالکوں سے پیچھے نہیں رہی تھیں تو اِنفاق کی منزل میں کیوں پیچھے رہتیں۔ لہٰذا فضہ نے بھی اپنی روٹی بڑھائی۔

کوئی ضروری نہیں کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے ہر ایک سے کہا ہو کہ تم بھی اپنی روٹی دے دو۔اس لئے کہ سائل ایک تھا۔ اس کے سوال کو پورا کرنے کیلئے ایک آدمی کی غذا کافی تھی مگر یہ تو ماشاء اللہ علمی درسگاہ ہے۔ شعراء بھی ممکن ہے کہیں بیٹھے ہوں۔ شاعری میں جناب ایک ہوتا ہے ”توارد“ یعنی وہی مصرع کسی ایک نے کہا اور وہی کسی دوسرے شاعر کے ہاں بھی آگیا۔ اگر واقعی یہی ہو کہ اس کو اس کا علم نہیں تھا تو کہتے ہیں یہ” توارد“ ہوگیا۔یعنی ایک ہی مصرع اتفاق سے دونوں کے ذہن میں آیا۔ اس نے بھی وہی کہا، اُس نے بھی وہی کہا۔ تو وہ تو ہوتا ہے شاعری میں توارد۔ میں کہتا ہوں چونکہ ان سب کی نیتیں یکساں تھیں ، ان سب کی فطرت ایک ہی تھی، ان سب کا ذوقِ عبادت ایک ہی تھا تو یہ

”تواردِ“ عمل ہے۔ یہاں ضرورت ایک کو دوسرے کے تحریک کرنے کی نہیں ہے کہ یہ ان سے کہیں کہ تم اپنی روٹی انہیں دے دو اور وہ ان سے کہیں کہ تم اپنی روٹی اسے دے دو۔ یہ کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اس کی ضرورت تو ایک ہی روٹی سے پوری ہوجاتی مگر ایک ساتھ ہر ایک انفاق پر تیار ہے۔

تو اب سوال یہ کہنے کا نہیں ہے کہ ایسا کرو، اب تو مانع خِیر ہونے کا سوال ہے کہ کوئی دوسرے کو روکے کہ نہیں تم نہ دو، ضرورت کیا ہے؟ تو ان میں سے کوئی مانع خِیر ہونے والا بھی نہیں تھا۔ لہٰذا ایک روٹی کے سائل کو پانچ روٹیاں چلی گئیں۔ پانچ آدمیوں کی غذا چلی گئی۔ روزہ پانی سے افطارکرلیا گیا۔

اب دوسرا دن ہوا۔ یہاں ایک پہلو پر توجہ فرمائیے کہ ابھی اناج رکھا ہوا ہے۔ کیا سیدہ عالم اپنے بچوں کی بھوک کو دیکھتے ہوئے (معاذاللہ) محنت سے جی چراتیں اس وقت؟ ظاہر ہے کہ رات اتنی طولانی ہوتی ہے کہ سحر کے وقت تک دوسرا حصہ غذا کاتیار ہوسکتا تھا لیکن یاد رکھئے کہ یہ حقوق الناس کی اہمیت ہے۔ چونکہ وہ اُجرت عمل میں نہیں لائے ہیں، یعنی جتنا عمل ہوا ہے، اتنے ہی ملکیت میں آئے ہیں۔ باقی اناج گھر میں رکھا ہوا ہے۔ مگر اپنی مِلک نہیں ہے۔ لہٰذا یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اس کو اس وقت اپنے پیٹ بھرنے کیلئے استعمال کیا جائے۔ لہٰذا روزے پر روزہ ہوگیا۔ اب دوسرا روز جب ہوا تو وہی منزلیں عمل کی طے ہوئیں اور پھر افطار کے وقت سامان آیا اور عین افطار کے وقت دروازے پر سے آواز آئی :

( اَنَا یَتِیْمٌ مِنْ یَتَامٰی الْمَدِیْنَه ) “۔

”میں مدینہ کے یتیموں میں سے ایک یتیم ہوں“۔

اندازہ فرمائیے کہ آلِ محمد یتیم کی آواز سنیں اور انہیں قرارآئے! لہٰذا جو پہلے دن ہواتھا، وہی آج دوسرے دن ہوا اور وہ روٹیاں اس یتیم کو دے دی گئیں۔پھر پانی سے افطار ہوا۔اب تیسرا دن ہوا ۔ یہاں اندازہ فرمالیجئے کہ ہر دن جو دوسرا آیا ہے، اس میں بھوک کا ایک درجہ اونچا ہورہا ہے۔ یعنی پہلے دن جتنی غذا کی خواہش تھی، اس سے دوسرے دن زیادہ خواہش غذا ہے اور اب یہ جو تیسرا دن ہے تو اس سے بھی زیادہ خواہش غذا ہے جو انتہائی نقطہ ہے غذا کی خواہش کا۔مگر آج جب افطار کا وقت آتا ہے تو دروازہ پر سے آواز آتی ہے:

( اَنَااَسِیْرٌمِنْ اُسَارٰی الْمَدِیْنَه ) “۔

”میں مدینہ کے اسیروں میں سے ایک اسیر ہوں“۔

قرآن مجید نے اسی ترتیب کے ساتھ اس بات کو بیان کیا ہے:

( یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّه مِسْکِیْنًاوَیَتِیْمًاوَاَسِیْرًا ) ۔

”کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت میں“۔

اب مفسرین میں اختلاف ہے کہ اللہ کی محبت میں یا طعام کی محبت میں۔ یعنی یہ ضمیر طعام کی طرف راجع ہے کہ باوجود خواہش طعام کے ، باوجودیکہ بھوکے ہیں، پھر بھی کھلاتے ہیں۔ کس کو؟ پہلے دن چونکہ مسکین آیا تھا، تو پہلے لفظ مسکین ، دوسرے دن یتیم آیا تھاتو دوسرے نمبر پر لفظ یتیم اور تیسرے دن اسیر آیا تھا تو تیسرے نمبر پر اسیر۔

یہاں ایک پہلو پر غور کرلیجئے۔ ادب کی ایک اصطلاح ہے اور معنی و بیان ہمارے طلبہ کو بھی پڑھایا جاتا ہے ۔ اس میں ایک صفت ہے لف و نشر مرتب یعنی چند چیزیں ایک ساتھ بیان ہوں اور اس کے بعد اس کے متعلق جو چیزیں ہوں، دوسری جگہ وہ اسی ترتیب سے بیان ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ ان معصومین کے عمل اور قرآن مجید کے الفاظ میں لف و نشر مرتب ہے۔لف ہے ان کے عمل میں ، نشر ہے قرآن کے الفاظ میں۔

ماننا پڑے گا کہ خدا نے یا تو اپنے علم وجوبی کے آئینہ میں ان کے کردار کی تصویر دیکھتے ہوئے قرآن کے الفاظ رکھے یا ماننا پڑے گا کہ تنزیل سے پہلے یہ الفاظِ قرآن کو دیکھ رہے تھے۔

مگر زیادہ صحیح یہی پہلی توجیہہ ہے کہ آنا تو دوسروں کا کام ہے۔ پہلے دن مسکین آیا، دوسرے دن یتیم آیا اور تیسرے دن اسیر آیا۔تو اس لئے یہی صحیح ہے کہ اللہ اپنے علم غیب سے ان کے عمل کی ترتیب کو دیکھ رہا تھا، لہٰذا اُس نے لوحِ محفوظ میں جو ان کا عمل ہوگا، اسی ترتیب سے الفاظ درج فرمادئیے۔

اب ایک خاص پہلو کی طرف توجہ دلانا ہے کہ مسکین کے معنی تو معلوم ہیں، عرفی معنی تو مطلق غریب ہونے کے ہیں۔ ایک فقہی اصطلاح ہے مسکین اور فقیر کی۔ اس میں کیا فرق ہے؟ یہ سب فقہ کی باتیں ہیں جو ہمارے طلبہ پڑھتے ہوں گے۔ تو اُسے اس وقت پیش کرنا نہیں ہے لیکن عام طور پر غریب آدمی کو مسکین کہتے ہیں۔ غرض یہ کہ وہ جس معنی سے بھی مسکین ہو، پہلے دن مسکین تھا، دوسرے یتیم۔ یتیم کے معنی بھی سب عام طور پر جانتے ہیں۔ تیسرے دن کون ہے؟ اسیرہے۔اسیر کسے کہتے ہیں؟ عام تصور یہ ہے کہ قیدی۔ لیکن کسی جرم کی سزا میں قید کیاجائے تو اسے اصطلاحِ قرآن میں اور عربی میں اسیر نہیں کہتے۔ اسیر کہتے ہیں جنگ کے قیدی کو۔جنگ میں جو قید ہو، اُس کو اسیر کہا جاتا ہے۔

اب ایک او رپہلو کی طرف توجہ فرمائیے۔ ایک تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پیغمبر خدا کے زمانہ میں جیل خانہ نہیں تھا ورنہ جو جیل خانے میں ہو، وہ کہاں آئے گا۔ تو اس زمانہ میں جیل خانہ نہیں تھا۔ قیدی کے معنی تھے بس کچھ حدود میں جسے نظر بند کہتے ہیں کہ اس سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔اس کے بعد وہ عام قیدی نہیں ہے۔ اسیر ہے یعنی جنگی قیدی ہے۔ اسیر جنگ جو ہوتا تھا، اس کو بھی بند کرکے نہیں رکھا جاتا تھا بلکہ وہ کچھ حدود کے اندر مقید ہوتا تھا۔ اب ان حدود کے اندر چاہے تو محنت مزدوری کرکے کسب معاش کرے،چاہے تو کسی سے سوال کرکے پیٹ بھرے۔ بہرحال اگر وہ بند کرکے رکھاجاتا تو غذا کی ذمہ داری اس بند کرنے والے پر تھی۔ چونکہ وہ آزاد رکھاجاتا تھا، حدودِ خاص کے اندر۔ تو ہ اپنا اپنا ذوق تھا۔ آج بھی ہے۔کچھ محنت کرکے کھاتے ہیں، کچھ سوال کرکے کھاتے ہیں۔ تو ایسا ہی اس وقت بھی تھا۔

اب جو خاص پہلو ہے توجہ دلانے کا، وہ یہ کہ زمانہ رسول میں جنگ کا قیدی کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب اسیر ہے تو کوئی غیر مسلم ہے۔ تو جناب! وہاں تو میں اتقادکھاسکا یتیم کے معاملہ میں، لب و لہجہ سے میں نے اتقاد کھایا کہ آلِ محمد یتیم کی آواز سنیں اور انہیں قرارآئے۔ مگر آج تیسرا روزہ ہے اور معراج ہے خواہش غذا کی۔ دو دن تھا امتحان حقِ ایمانی کا اور آج ہے امتحان حقِ انسانی کا۔ یہ چیزیں غیر مسلم دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ہیں کہ یہ ہے اسلام کی فراخ حوصلگی اور یہ ہے رہنمایانِ دین کی فیاضی۔ جس طرح خالق کی عطا مومن و کافر نہیں دیکھتی، اسی طرح یہ اس کے نمائندے ہیں جن کی عطا مومن و کافر نہیں دیکھتی۔

اب ایک چیز پر غور، الفاظِ قرآنی پر غور کرنے سے جو چیز سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ کہ اصل نذر تھی روزہ رکھنے کی۔ کھانا کھلانے کی نذر نہ تھی۔ا س کے معنی ہیں وفائے نذر تو ہوگئی روزوں سے۔ یہ فاضل عمل ہے جو اس صورت سے ہورہا ہے۔ ماشاء اللہ آپ حضرات صاحبانِ عمل ہیں اور یہ مرکز تدریس ہے۔ یہاں ان باتوں کی طرف زیادہ توجہ کیوں نہ ہو! ارشاد ہوتا ہے:

( یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِوَیَخَافُوْنَ یَوْمًاکَانَ شَرُّه مُسْتَطِیْرًا ) ۔

”یہ لوگ نذر پوری کرتے ہیں اور اندیشہ آخرت رکھتے ہیں“۔

اگر کھاناکھلانا متعلق نذر ہوتا تو پھر بیچ میں واؤ نہ آتا۔ یوں کہا جاتا کہ:

( یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِوَیَخَافُوْنَ یَوْمًاکَانَ شَرُّه مُسْتَطِیْرًایُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ ) ۔

تب یہ اطعام یہاں ہوتا اسی وفائے نذر کا کہ وہ نذر پوری کرتے ہیں اور کس طرح کہ وہ کھانا کھلاتے ہیں۔ مگر چونکہ نذر کے پورا کرنے میں تو روزے ہوگئے۔ اب یہ مزید اطاعت تھی خالق کی۔ لہٰذا بیچ میں واؤ آئی یعنی وفائے نذر ایک عمل ہے اور اطعامِ طعام ، یہ دوسرا عمل ہے۔ اب اس کے بعد ایک نتیجہ نکلے گا تھوڑی دیر کے بعد اور تھوڑی دور پر۔ اس کو ابھی سے ذہن نشین رکھئے گا کہ وفائے نذر روزوں کے ساتھ ہے اور یہ کھانا کھلانا جو ہے، یہ بغیر نذر ہے۔یہ مزید طاعت و عبادت ہے جو اس صورت سے انجام پائی۔

اب اس کے بعد خالق نے جزائیں بیان کرنا شروع کیں اور جتنی نعماتِ جنت ہیں، سب کو سمیٹ کر۔ قرآن مجید میں یہ سب نعمتیں متفرق طور پر مذکور ہیں ۔ کہیں حوریں ہیں، کہیں قصور ہیں، کہیں چشمے ہیں۔ لیکن یہاں سب ایک جگہ جمع ہوگئی ہیں جتنی نعماتِ جنت ہیں، سب اکٹھی کردی گئی ہیں۔ لیکن باریک بین نگاہوں نے جو دیکھا تو اس سورة میں سب نعمتیں جمع ہیں مگر حور کا ذکر نہیں ہے۔ تو اب فکر ہوئی کہ یہ کیا بات ہے کہ جنت کی تمام نعمتوں کا ذکر ہے مگر یہاں اس سورة میں حور کا ذکر نہیں ہے۔ تو سمجھ میں یہ آیا کہ چونکہ صاحبانِ کردار میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی تھیں ، اس لئے حور کا تذکرہ خلافِ بلاغت تھا۔

جہاں سے جزائیں شروع ہوئیں، وہاں سے ایک نقطہ ہے:

( جَزَاهُمْ بِمَاصَبَرُوْا ) ۔

”اللہ نے انہیں جزامیں عطا کیا اس کی کہ انہوں نے صبر کیا“۔

اب اس کے بعد سب نعماتِ جنت کی فہرست ہے۔ایسے چشمے، ایسے قصر، ایسے لباس ، ایسے زیور۔ سب تفصیلات ہیں۔ کس چیز کی یہ جزا ہے؟ ”بِمَاصَبَرُوْا “۔اب اصطلاحِ قرآن د یکھی تو پتہ چلا کہ صبر روزہ کا نام ہے۔

( یَااَیُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْااسْتَعِیْنُوْابِالصَّبْرِوَالصَّلوٰةِ ) ۔

”اے صاحبانِ ایمان! صبر و صلوٰة سے سہارا حاصل کرو“۔

تو صلوٰة کے تناسب سے وہ صبر جو میدانِ جنگ کا ہے، وہ تو کچھ مناسب نہیں معلوم ہوتا تھا ۔ پتہ چلا کہ صبر صوم کا نام ہے۔تو اب جو ارشاد ہوا کہ:

( جَزَاءً بِمَاصَبَرُوْا ) “۔

”اللہ نے یہ سب جزا ان کے صبر کے بدلہ میں دی“۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ جنت کی سب نعمتیں تو روزوں کی جزا میں صر ف ہوگئیں، وہ تمام نعمتیں ختم ہوگئیں صرف روزہ کی جزا میں مگر کردار تو ابھی ان کا فاضل ہے۔اس کے بعد بھی سب نعمتیں بیان کرکے یہ مناسبت ہے ابتدائے خطاب میں”جزاءً بما صبروا“۔ جزا سے جو سلسلہ شروع کیا تھا، وہ پورا ہوا۔

اب اس سلسلہ کے بعد کیا کہاجارہا ہے:

( اِنَّ هٰذَاکَانَ لَکُمْ جَزَاءً ) “۔

ابھی تک تو غائب کے انداز میں بات ہورہی تھی، یہ وہ انداز ہے جو سورئہ الحمد میں ہے کہ پہلے اللہ کا ذکر بطور غیبت:

( اَلْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَاَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْممَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن ) ۔

معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اللہ کی بارگاہ سے بندہ غیر حاضر ہے۔ اس کی تعریف کررہا ہے، اس کے اوصاف بیان کررہا ہے لیکن اوصاف بیان کرتے کرتے گویا اس کے تقرب کا درجہ اتنا اونچا ہوگیا، گویا معبود کا جلوہ بالکل سامنے نظر آرہا ہے اور یہ بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوگیا۔ تو کہتا ہے:

( اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن ) ۔

”ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں“۔

اب اس غیبت نے حضور کی شکل اختیار کرلی۔ بالکل اسی طرح یہاں یہ اُدھر سے ہے کہ ابھی تک تو ان بندوں کا بطورِ غیبت ذکر ہورہا تھا، سب الفاظ غائب کے تھے۔

( یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ ) “۔

جمع مذکر غائب کا صیغہ اور ”( جَزَاهُمْ بِمَاصَبَرُوْا ) “جمع مذکر غائب کا ص یغہ۔ اب تذکرئہ جزا میں بندہ کا تقرب نظر قدرت میں ایسا سمایا کہ آپ اسے مخاطب بنالیا۔

( اِنْ هَذَاکَانَ لَکُمْ ) “۔

ابھی تک تو ان کا ذکر ایسے ہورہا تھا جیسے کسی اور سے کیا جارہا ہے۔ مگر اب خود انہیں مخاطب کرکے کہاجارہا ہے”( اِنْ هَذَاکَانَ لَکُمْ“،”لَهُمْ“ ) نہ یں ہے۔ ان کیلئے نہیں، اے آلِ رسول۔ یہاں مخاطب فقط رسول نہیں ہیں بلکہ سب ہیں ۔ تو اب جو وحی آئی ہے ، یہ ایک ذات پر نہیں ہے۔

اب خالق خود ان سے مخاطب ہوکر کہہ رہا ہے :

( اِنْ هَذَاکَانَ لَکُمْ جَزَاءٌ ) “۔

اے آلِ محمد! یہ تمہارے لئے۔ یاد رکھئے کہ آیہ تطہیر میں منزلِ آیہ تطہیر جو ہستیاں ہیں، ان میں پیغمبرخدا بھی شامل ہیں۔ لیکن( هَلْ اَتٰی ) کی منزل میں پیغمبر خدا شامل نہیں ہیں۔

ماشاء اللہ عربی دان حضرات کیلئے تو کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ آپ حضرات کیلئے توضیح کی ضرورت ہے کہ اس جملے کے دو انداز ہوسکتے تھے: ایک یہ کہ ”( اِنْ هَذَاجَزَائٌکُمْ ) “،” یہ تمہاری جزا ہے“۔ان الفاظ کے معنی یہ ہوتے کہ جزا پوری مل گئی۔ ارے تم نے یہ کیا تھا ، لو یہ تمہاری جزا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جزا کا حق ادا ہوگیا۔ لیکن متکلم قرآنی الفاظ کا اضافہ بلاوجہ نہیں کرسکتا۔ یہ نہیں کہاجارہا ہے کہ یہ تمہاری جزا ہے۔ عربی میں تنوین ہوتی ہے تقلیل کیلئے۔”( رِضْوَانٌ مِنَ اللّٰهِ ) “، یعنی اللہ کی ذرا سی مرضی بڑی سے بڑی چیز ہے۔ یہ ذرا سی کس چیز کے معنی ہوئے؟ یہ ”رضوانٌ“ میں جو دو پیش ہیں، اس تنوین سے یہ صورت پیدا ہوئی کہ تھوڑی سی مرضی بھی۔

اب ذرا دیکھئے کہ وہی تنوین ہے”( اِنْ هَذَاکَانَ لَکُمْ جَزَاءٌ ) “۔ اے آلِ رسول! یہ تو تمہاری تھوڑی سی جزا ہوئی۔

کیا عادل خالق بندہ کے پلّے کو گراں رہنے دے اور اس کے عوض میں کچھ عطا نہ کرے۔ مگر سرمایہ جزا تو ختم ہوگیا۔ اب اور کچھ کہاں سے آئے؟ تو عادل نے توازن قائم کیا:

( کَانَ سَعْیُکُمْ مَشْکُوْرًا ) “۔

تمہاری کوشش قابل شکرگزاری ہے۔

بابِ فضائل میں یہ تین دن( هَلْ اَتٰی ) والے اور بابِ مصائب میں تین دن کربلا والے۔ وہ بھی بس تین دن ہی تھے کیونکہ تین روزے ختم ہوگئے۔ اب چوتھا دن ہوا تو اب روزہ تو نہیں ہے لیکن غذا بھی تو ابھی نہیں ہے۔ پھر امیرالمومنین علیہ السلام انتظام فرمائیں گے۔ تب غذا ہوگی۔ تو یہ چوتھا دن بھی شامل ہے۔ یہ روایت بین الفریقین مسلّم ہے۔ یہاں تکہ امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں بھی یہ پورا واقعہ درج کیا ہے۔ تفسیر میں درج تو کردیا ہے لیکن لوگوں نے اس کو اصل منزل سے ہٹانے کیلئے اوپر مکیہ لکھ دیا ہے۔اٹھا کر دیکھئے قرآن مجید، کہیں کے بھی چھپے ہوئے ہوں، تو ا س کی پیشانی پرسورئہ دھر کے نیچے مکیہ لکھا ہوا ہے تاکہ جو اصل منزل ہے، اُس سے دور ہوجائے۔ تلاش کرنے سے مل جاتے ہیں ایسے قرآن جن میں مدنیہ لکھا ہوا ہے۔ مگر عام طور پر مکیہ لکھ دیا گیا ہے تاکہ ذہن شانِ نزول کی طرف جائے ہی نہیں۔مفسرین مجبور ہیں کہ اس کے ضمن میں شانِ نزول کا تذکرہ کریں۔

بہرحال اب چوتھا دن ہے۔ روایت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ باوجودیکہ پیغمبر خدا روز بیت الشرف میں تشریف لاتے تھے، فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ، مگرجیسے یہ بھی قدرت کا انتظام ہے کہ اس تین دن میں، میں کہتا ہوں کہ جب یہ حضرات راہِ عمل میں تھے، پیغمبر خدا تشریف نہیں لائے۔ چوتھے روز حضور تشریف فرما ہوئے۔ اب حفظ آداب ہے اس گھرانے کا کہ جونہی رسول اللہ تشریف لائے تو سب تعظیم کیلئے کھڑے ہوئے۔ تو یہاں میں نے حوالہ دیا تھا کہ بچے کتنے ناتواں ہیں، یہ بعد میں پتہ چلے گا۔ تو اب سب کھڑے ہوئے ہیں تعظیم کو۔ حسن اور حسین بھی کھڑے ہوئے ہیں۔ یہاں راوی نے ان کی کیفیت بیان کی ہے کہ حسن اور حسین جو کھڑے ہوئے تو ان کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، تھرتھرا رہے تھے۔

پیغمبر خدا نے بچوں کی جو یہ کیفیت دیکھی ، میں کہتا ہوں کہ راوی کی نظر جو پہلے پیروں پر پڑی تو پیغمبر خدا کی نظر بھی پہلے پیروں ہی پر پڑی ہوگی۔ اس کے بعد سب کے چہرے دیکھے ہوں گے تو اس کے بعد خاص تغیر محسوس ہوا ہوگا۔ فرمایا: یہ کیا عالم ہے؟ امیرالمومنین نے عرض کیاکہ خدا و رسول زیادہ واقف ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ وہ اپنی رودادِ عمل خود سناتے؟ کہا کہ خدا و رسول زیادہ واقف ہیں۔ اتنی دیر میں جبرئیل امین بسم اللہ سمیت ۳۱ آیاتِ مدحیہ لئے ہوئے اُترے اور وہ سورة پڑھ کر پیغمبر خدا نے تمام اہل بیت کو سنایاکہ تم لوگ بیان کرو یا نہ کرو، خالق نے تمہاری ساری روداد سنا دی ہے۔

اب بتائیے جن کا ذکر خدا رسول سے کرے، ان کا ذکر اگر ہم کریں تو عبادت نہ ہوگی؟


معرفتِ امام

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( هَوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیِّیْنَ رَسُوْلًامِنْهُمْ یَتْلُوْاعَلَیْهِمْ اٰیٰتِه وَیُزَکِّیْهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَة وَاِنْ کَانُوْامِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُبِیْن ) ۔

وہ وہ ہے جس نے پیغمبر بھیجا، انہی میں سے جو اُن کے سامنے آیاتِ الٰہی کی تلاوت کرتا ہے اور ان کے نفوس کو سدھارتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ اگرچہ وہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔

میں نے عرض کیا ہے کہ یہ مضمون اس سے پہلے قرآن میں تین جگہ ہے مگر یہاں اس کی شان عجیب ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا تعارف کروایا جارہا ہے یہ کہہ کر کہ وہ وہ ہے جس نے ایسا رسول بھیجا۔ اب اس رسول کی عظمت کا کیا اندازہ کیا جاسکتا ہے اور اُس کی معرفت حاصل کرنا انسان کیلئے کیونکر ممکن ہے۔ اس کیلئے میں ایک عام اصول آپ کے سامنے پیش کردوں ، اُسے فرصت کے لمحات میں دیکھئے گا کہ صحیح ہے یا نہیں کہ منزلِ کمال پر پہنچ کر نقص کو سمجھنا آسان ہے مگر منزلِ نقص سے کمال کو دیکھنا اور سمجھنا، یہ تقریباً ناممکن ہے۔ اس کی روز مرہ کی دو مثالیں میں آپ کے سامنے پیش کرسکتا ہوں۔ ایک یہ کہ بوڑھا سمجھتا ہے کہ جوانی کیا تھی اور جوان جانتا ہے کہ بچپنا کیا تھا۔ مگر بچہ سمجھ سکے گا کہ شباب کیا ہوتا ہے؟ یہ ناممکن ہے۔ دوسری مثال جو زیادہ روزمرہ کی ہے، وہ یہ ہے کہ جب جاگتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ سورہے تھے لیکن سوتے میں یہ تصور کرنا کہ جاگیں گے تو کیا ہوگا، یہ ناممکن ہے۔سوتے میں آدمی خواب دیکھتا ہے تو اسی کو بیداری سمجھتا ہے۔ لیکن خواب کے عالم میں بیداری کا تصور نہیں ہوسکتا۔ بیدار ہونے کے بعد خواب کا تصور ہوسکتا ہے ۔ لہٰذا ایک غیر معصوم کیا سمجھ سکتا ہے کہ معصوم کیا ہوتا ہے؟

یہ تو میں نے عام الفاظ کہے ہیں، غیر معصوم اور معصوم۔ اب اس کے آگے یہ کہ عام آدمی کیا سمجھ سکتا ہے کہ نبی کیا ہے اور انبیاء کیا سمجھ سکتے ہیں کہ خاتم الانبیاء کیا ہے؟

تو اب کیا کوئی مجھ سے سوال کرنے کا حق رکھتا ہے کہ جب ان کو پہچانا ہی نہیں جاسکتا ، ان کی معرفت ہی نہیں ہوسکتی تو پھر آپ منبر پر آکر یہ کوشش کیا کرتے ہیں اور غوروفکر کس لئے ہوتا ہے؟ اب اس کے ماوراء دینی دلیل عرض کردوں کہ مذکورہ بات کا خلاصہ یہ تھا کہ بالاتر ہستیوں کی معرفت ممکن ہی نہیں۔مگر یہ دینی حقیقت ہے کہ معرفت خدا واجب ہے۔ ہر بندہ کا فرض ہے کہ معرفت خدا حاصل کرے۔تو جب خدا کی معرفت حاصل کرے گا ، حکم ہمیں ہے، تو معرفت رسول اور معرفت امام کا حکم کیوں نہ ہوگا؟ یہ تو مشہور حدیث ہے :

مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِه فَقَدْ مَاتَ مَیْتَةً جَاهِلِیَّة “۔

” جو مرگیا اور اُس نے اپنے زمانہ کے امام کی معرفت حاصل نہ کی، وہ جاہلیت کی موت مرا“۔

تو اب معرفت ممکن چیز ہے، تبھی تو اس کا حکم ہوا۔ ناممکن چیز کا تو حکم نہیں ہواکرتا۔ اب یہ دونوں باتیں متضاد ہوگئیں۔ ابھی تو یہ تھا کہ معرفت ممکن ہی نہیں ہے، ابھی یہ ہو گیا کہ معرفت ممکن ہے اور واجب ہے۔ تو اب یہ دونوں باتیں کیونکر سمجھ میں آئیں؟ اس کیلئے کوئی منطقی اور فلسفیانہ تقریر کرنا مقصود نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر ایک سوئی کو سمندر کے اندر ڈالئے تو سمندر سوئی کے ناکے میں سما نہیں جائے گا۔مگر جتنا اس کا ظرف ہے، اُتنا تو سمندر اس کے اندر آہی جائے گا۔ بس مکلف ہم اسی کے ہیں کہ اپنی ذہن کی کشتی کو ان کے کمالات کے سمندر میں ڈال دیں، جتنی ظرف میں وسعت ہوگی، اُتنا ہی وہ معرفت حاصل کرے گا۔

اسی لئے ان باتوں پر بحث کرنا اور لڑنا بیکار ہے، اس لئے کہ سب اگر یکساں معرفت رکھتے تو ایمان کے درجے کیوں ہوتے؟ حضرت پیغمبر خدا نے اپنے اصحابِ خاص میں ایمان کے درجوں کو مقرر کرکے ہمیں بتایا۔ اب کچھ افراد تو قابل ذکر ہی نہ تھے۔ جہاں سے کہ قابل ذکر سمجھے ، وہاں سے ہمیں درجے بتائے کہ ایمان کے دس درجے ہیں۔ان میں سے آٹھویں درجہ پر مقداد، نویں درجہ پر ابوذر اور دسویں درجہ پر حضرت سلمان فائز ہیں۔تو کیا یہ درجاتِ ایمان درجاتِ معرفت سے الگ ہیں؟ وہ ایک ہی ہے کہ جب تک معرف کامل نہ ہوگی، ایمان کیسے کامل ہوگا؟ تو جب رسول نے اس میں درجے مقرر کردئیے تو وہ تو آپس میں نہیں لڑتے تھے۔ تو اس طرح جو زیادہ سمجھا ہے، اُسے مبارک ہو ، جو کم سمجھا ہے، اُسے بھی مبارک ہو۔ اس میں لڑنے کی ضرورت نہیں۔

مگر اب یہ تین ہستیوں کا ذکر آگیا تو ایک حقیقت کی طرف میں آپ کی توجہ دلاؤں کہ زبان ہے پیغمبر خدا کی۔ جب اس پر یہ تین نام آئے ہیں تو یہ تین خاص نام ہیں کہ ہمیشہ ساتھ آئے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ( مجالس کے فیض سے) جب مقدادکا نام آئے گا تو فوراً ابوذر ذہن میں آئیں گے اور فوراً سلمان ذہن میں آئیں گے۔ یعنی یہ شخصیات لازم و ملزوم ہوگئی ہیں۔ ایک سے دوسرے کا تصو رہونے لگا۔ تو جو حدیثیں ہیں پیغمبر کی ، یہ تین نام ان میں آتے ہیں۔ اب ایک حدیث متفق علیہ، جتنی حالاتِ صحابہ کی کتابیں ہیں، سب میں درجے مذکور ہیں اور حالاتِ صحابہ میں ایک ایک ہزار سے زیادہ صفحات کی کتابیں موجود ہیں جو عام طور سے متداول کتابیں ہیں۔ ان میں سب سے قدیم علامہ عبدالبرکی استیعاب ہے جو بنو اُمیہ کے دارالسلطنت قرطبہ کے عالم تھے۔ اس کے بعد حافظ ابن حجر کی اصابہ ہے اور بھی بہت سی کتابیں ہیں، ان میں متفق علیہ ایک حدیث ہے اور وہ یہ کہ:

اِنَّ الْجَنَّة تَشْتَاقُ اِلٰی ثَلٰثٍ سَلْمَانَ وَاَبِیْ ذَرٍ وَمِقْدَادَ “۔

یعنی ایک مسلمان مشتاقِ جنت ہوتے ہے، پیغمبر خدا فرمارہے ہیں کہ تین ہستیاں وہ ہیں کہ جنت جن کی مشتا ق ہے ۔

اب ماشاء اللہ آپ صاحبانِ فکرونظر ہیں اور صاحبانِ فہم ہیں کہ جنت وابستہ ہوتی ہے آخری انجام سے۔ جب پیغمبر نے جنت کی بات کی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے دئیے ہوئے علم سے آخری نفس حیات تک کا جائزہ لے کر سند عطا کی ہے۔ تو ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت تین افراد کی مشتاق ہے۔ وہی تین : سلمان، ابوذر اور مقداد۔ان کی مشتاق ہے ۔ تو بس یہ بات تو ضمناًآگئی ہے۔ا س کو پھیلانا نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پیغمبر نے ایک ترازو دے دی ہے مسلمانوں کے ہاتھوں میں حق و باطل کے امتیاز کی کہ دیکھو! میرے بعد کوئی دوراہا آجائے تو یہ دیکھو کہ یہ تینوں کدھر ہیں؟

اب سب سے بڑی ذات اللہ کی اور میں نے کہا کہ اللہ کی معرفت واجب مگر اللہ کی معرفت کیلئے قرآن مجید نے خود کیا طریقہ اختیار کیا ہے؟ اُس نے بقراط اور ارسطو کی دلیلیں نہیں پیش کی ہیں، فلسفے کے دور و تسلسل میں قرآن نہیں پڑا ہے، اُس نے یہ کہا ہے کہ اگر اسے سمجھنا چاہتے ہو تو اس کے آثارِ عملی کو دیکھو۔ اس کی صنعتوں کو دیکھو، اس کی کاریگریوں کو دیکھو یعنی آثار کو دیکھ کر اس کا پتہ لگاؤ۔

میں کہتا ہوں کہ آج جو علوم و فنون ہیں اور دنیا جن کی دعویدار ہے کہ ہم کسی بات کو بے دیکھے نہیں مانتے تو میں کہتا ہوں کہ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا واقعی آپ ہر چیز کو دیکھ کر مانتے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب آئے تو انہوں نے تھرمامیٹر لگا کر کہاکہ اتنے ڈگری بخا رہے۔ کیا بخار تھرمامیٹر میں آگیا ہے اور دکھائی دیا ہے؟

تو حضورِ والا!اس کااثر آپ کو معلوم ہے کہ اتنے ڈگری بخار ہو تو پارہ یہاں تک پہنچتا ہے۔ وہ تلازم آپ کو معلوم ہے تو اس لئے اثر کو دیکھ کر موثر کو سمجھتے ہیں۔ حکیم صاحب نبض کو دیکھتے ہیں تو کیا اس کا بخار سمٹ کر نبض میں آجاتا ہے اور نبض کو بھی دیکھتے نہیں ہیں، ہاتھ کلائی پر رکھتے ہیں تو محسوس کرتے ہیں نبض کی رفتار کو۔ انہیں اپنے فن کے لحاظ سے وہ تعلق معلوم ہے جو بخار کو نبض کی رفتار سے ہوتا ہے۔ نبض کی رفتار بتاتی ہے کہ کتنا بخا رہے؟ تو آپ کسی چیز کو دیکھ کر نہیں سمجھتے، ہر ایک کے آثار دیکھتے ہیں اور ان آثار سے کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا۔ تو ہم کب کہتے ہیں کہ خدا کو بے دیکھے مانو، اس کے بھی آثار دیکھو اور مانو۔

تو ا س کی معرفت کا ذریعہ یہی ہے کہ اس کے کام دیکھئے اور کاموں کے ذریعے سمجھئے کہ وہ ذات کیسی ہوگی جس نے ایسے کام انجام دئیے۔ قرآن مجید نے اپنے پیغمبر کے اوصاف بیان کرنے کیلئے کہ یہ رسول کیسا ہے؟ اس آیت میں یہی طریقہ اختیار کیا ہے کہ وہ کام بیان کئے ہیں جو خدا کی طرف سے ان کے ذمہ ہیں اور اس کے بعد انسانی ذہن پر بار ڈالا ہے کہ اب سوچو کہ ان کاموں کے کرنے کیلئے کیسا چاہئے؟جب اُس نے یہ کام ان کے سپرد کئے ہیں تو اب اس ذات کا اندازہ کرو جس کے سپرد اللہ نے یہ کام کئے ہیں۔ اس آیت قرآن کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ان کاموں کی تفصیل درج ہے جو خالق کی جانب سے خاتم الانبیاء کے سپرد ہیں۔ تو ان میں سے پہلا کام تلاوتِ آیات ہے۔ اس کی کتاب کی تلاوت کرنا۔ آیاتِ الٰہی کی تلاوت کرنا۔ دوسرا کام نفوس کو پاک و پاکیزہ بنانا۔نفوس کی اصلاح کرنا۔ یہ دوسرا کام۔تیسرا کام جو ہے، اس میں دو کام ہیں۔ الفاظ ایک ہیں معنی دو ہیں۔ ایک کتاب کی تعلیم دینا ، دوسرے حکمت کی تعلیم دینا۔تو ایک کام ہوا، کتاب کی تعلیم اور ایک کام حکمت کی تعلیم۔یہ چار کام اس نے اپنے رسول کے ذمے کئے ہیں۔

میں کہتا ہوں کہ ان کاموں ہی سے ایک بحث کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ اگر قرآن کافی ہوتاتو فریضہ رسول صرف”( یَتْلُوْاعَلَیْهِمْ اٰیٰتِه ) “ پر ختم ہوجاتا۔ جب تلاوتِ آیات کردی تو وہ کتاب پہنچ گئی۔ اب وہ کتاب کافی ہے تو رسولکا اس کے آگے کوئی کام ہونا بھی نہیں چاہئے۔ مگر یہاں بات اور آگے بڑھے گی۔ یہ تو گویا ابجد ہے تعلیم رسول کے نفاذ کی۔

( یَتْلُوْاعَلَیْهِمْ اٰیٰتِه ) “۔

”یہ اس کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں “۔

اس کے بعد یہ ہے:

( یُزَکِّیْهِمْ ) “ ۔

”ان کے نفوس کو پاک و پاکیزہ بھی بناتے ہیں“۔

یہ دوسر اکام ہوا۔تیسرا کام ان کا یہ ہوا کہ تعلیم دیتے ہیں کتاب کی۔ اب کیا یہ کوئی اور کتاب ہے؟ وہی تو کتاب ہے جس کی آیات یہ سناتے تھے۔ اور جس وقت سنارہے تھے، وہ سب اہل زبان تھے، عربی دان تھے۔ خود عرب۔ اس کے باوجود تلاوتِ کتاب کرتے ہیں۔اس کی آیتوں کو پڑھتے ہیں او رپھر تعلیم بھی دیتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اہل زبان جو عرب تھے، وہ بھی بغیر رسول کی تعلیم کے قرآن کو نہیں سمجھتے تھے۔

آجکل کے حضرات ترجمے دیکھ کر سمجھتے ہیں۔ قرآن کا ترجمہ پڑ ھ لیا، سمجھ گئے ، علم قرآن حاصل ہوگیا۔ ابھی دو منٹ کی بات ہے ، ایک صاحب تشریف لائے اور مجھ سے کہا کہ میں تفسیر قرآن لکھ رہا ہوں ۔ میں نے کہا کہ آپ عربی سے واقف ہیں؟ کہا : جی نہیں۔ عربی سے واقف نہیں۔ تو میں نے کہا کہ وہ قرآن کی تفسیر نہیں ہوگی، ترجموں کی تفسیر ہوگی۔

جو اہل زبان تھے، وہ بھی رسول کی تعلیم کے بغیر نہیں سمجھتے تھے، کتاب کی تعلیم رسول نے دے دی لیکن پھر بھی کچھ باقی رہ گیا۔جس کیلئے تعلیم کتاب کے بعد چوتھی کلاس تعلیم حکمت کی قائم ہوئی۔ یہ حکمت وہ فلسفہ نہیں ہے جس کے ارسطو وغیرہ عالم تھے۔ یہ حکمت وہ ہے جو اسرارِ کتاب ہیں۔ جو رموزِ کتاب ہیں۔ آخر چار درجے کیوں قرار دئیے گئے؟ا س کے معنی یہ ہیں کہ یہ طالب علموں کی صلاحیت کے لحاظ سے ہے۔ ایک کلاس عام ہے، وہ تلاوتِ کتاب کی ہے۔ اس میں تو مومن و کافر کی بھی تفریق نہیں۔ پیغمبر خدا کعبے میں جاکر جتنے لوگ گردوپیش ہیں، انہیں قرآن پڑھ کر سناتے ہیں۔تو اس میں تو دیکھا نہیں جاتا کہ کون سن رہا ہے اور اگر سنائیں نہیں تو حجت کیونکر قائم ہو؟ پھر کافر پر کفر کا الزام کیونکر آئے؟ پھر اُسے سزائے کفر کیوں ملے؟ اب جب آپ نے قرآن پڑھ کر سنایا تو اس سے کچھ نے اثر لیا۔ کچھ نے اثر نہ لیا۔ جنہوں نے کچھ بھی اثر نہ لیا، وہ کافر کے کافر رہے۔ تو اب جب انہوں نے اسلام قبول ہی نہیں کیا تو فرائض رسول ان کی نسبت ختم ہوگئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مدرسہ ہدایت رسول سے ان کا نام خارج کردیا گیا۔ لیکن جنہو ں نے اثر قبول کیا، یعنی مسلمان ہوگئے، اب وہ دوسری کلاس میں داخل کئے گئے جو تزکیہ نفوس کی کلاس ہے۔اب ان کے نفوس کی اصلاح کی جائے گی۔ عبادات کے احکام تزکیہ نفس کیلئے ہیں۔ اسی لئے عبادت کا حکم دیا جارہا ہے تو کہاجارہا ہے:

( اِنَّ الصَّلوٰة کَانَتْ عَلَی الْمومنین کِتَابًا مَوْقُوْتًا ) ۔

نماز مومنین پر فرض ہے جو بہ اعتبارِ اوقات مقرر ہے۔ روزہ کا حکم دیا جاتا ہے:

( یَااَیُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ ) ۔

اے صاحبانِ ایمان! تم پر روزہ فرض ہے۔

اب ہر جگہ انہیں پکارا جارہا ہے جو پہلی کلاس پاس کرچکے ہیں اور وہ ، وہ ہیں جو ”( ایهاالذین اٰمنوا ) “میں کم سے کم بقلم خود شامل ہیں۔ اب ان کیلئے یہ فریضہ ہوگیا۔ ان کو احکام دیجئے ، ان کے نفو س کے تزکیہ کیلئے جو سامان ہیں، ذرائع ہیں، وہ انہیں بتائیے اور سکھائیے۔

تو فریضہ رسالت ان کیلئے آگے بڑھا۔”( یُزَکِّیْهِمْ ) “کہ یہ ان کا تزکیہ نفس بھی کریں۔ ان کے نفوس کی اصلاح بھی کریں۔ جب پہلی کلاس میں ہر ایک نے دیکھ لیا کہ ہر ایک نے اثر قبول نہیں کیا۔ ارے اگر ہدایت پیغمبر میں ایسی کیمیاوی تاثیر ہوتی کہ جبری طور پرتبدیلی ہےئت کردے، ماہیت بدل دے تو فوراً سب مومن کیوں نہ ہوجاتے؟ معلوم ہوا کہ جیسے ہدایت الٰہی میں جبرکارفرما نہیں ہے، ورنہ کافر کا وجود نہ ہوتا، اسی طرح ہدایت پیغمبر میں وہ کیمیاوی اثر نہیں دیا گیا ہے کہ ایک دم سننے والا بدل جائے۔ جبھی تو سننے کے بعد کچھ مسلمان ہوئے، کچھ نہیں ہوئے۔

تو جب پہلے فیض میں، پہلے درجہ تعلیمی میں، پہلی کلاس میں ہم نے دیکھ لیا کہ کچھ نے اثر قبول کیا، کچھ نے نہیں کیا تو دوسرے درجہ میں یہ کیسے ہوگا کہ جب مسلمان ہوگئے تو سب برابر ہوگئے؟ اب اس کلاس میں بھی کچھ پر پورا اثر وہگا، کچھ پر ناقص اثر ہوگا، کچھ پر بالکل نہ ہوگا۔قرآن کہہ رہا ہے کہ پیغمبر کے جلسے میں شریک ہوتے ہیں، نماز کے بعد حضرت کی تقریر سنتے ہیں۔ اگر مسلمان نہ ہوتے تو پھررسول کا خطبہ کیوں سنتے؟مگر جونہی وہاں سے اٹھتے ہیں تو، قرآن کہہ رہا ہے، کوئی روایت نہیں بیان کررہا ہوں، کہ فوراً آپس میں کہتے ہیں؟ یہ ابھی کیا کہا تھا؟”ماذاقال“۔ یہ ابھی کیا کہا تھا؟ ارے خود سن رہے تھے، دوسرے سے کیوں پوچھ رہے ہو کہ ابھی کیا کہا تھا؟

معلوم ہوتا ہے کہ اُچاٹ ذہن کا طالب علم ہے جو کلاس میں بیٹھتا ہے مگر ذہن کہیں اور ہوتا ہے۔ یہ قرآن مجید کردار بیان کررہا ہے۔ اس معزز گروہ کا جو پیغمبر کے آس پاس ہے اور حضرت کا خطبہ سن رہا ہے اور اسی وقت پوچھ رہا ہے کہ ابھی کیا کہا تھا؟یعنی ابھی سنا تھا ، ابھی بھول گئے کہ کیا کہا تھا۔ سمجھے ہی نہیں کہ کیا کہا تھا؟

تو اب بتائیے ان پر اثر ہوگا؟ تو اب جب اثر نہ ہوا تو فریضہ رسول ان کی نسبت ختم ہوگیا۔ اب وہ تیسری کلاس میں، جو علم الکتاب کی ہے، اس میں داخل نہیں کئے جائیں گے۔ اب یہ الفاظ یاد کرلیں۔کتاب کے معنی ان تک نہیں پہنچ سکتے۔علم الکتاب کی کلاس میں یہ داخل نہیں کئے گئے کیونکہ اس کی پہلی کلاس ہی میں میں فیل ہوگئے۔ اب وہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی اور انہوں نے علم الکتاب سے فیض حاصل کرلیا، وہ اس لائق ہوں گے ، چنے ہوئے حضرات جنہیں رموزِ کتاب بتائے جائیں، انہیں اسرارِ کتاب بتائے جائیں۔ وہ چوتھا درجہ ہے حکمت کا۔ا س کے بارے میں قرآن نے کہا ہے:

( مَنْ یُوْتِی الْحِکْمَةَ فَقَدْاُوْتِیَ خَیْرًاکَثِیْرًا ) ۔

جسے حکمت عطا ہوگئی، اُسے بہت بڑی خیر عطا ہوگئی۔

اب مجھے ایک اور مکتب خیال یاد آگیا جو کہتا ہے کہ پیغمبر خدا کی حیثیت، میں تو معاذاللہ کہہ کر ہی کہوں گا، کہ آپ کی حیثیت معاذاللہ ایک چٹھی رساں کی سی تھی۔ارے خدا کی کتاب ان کے نزدیک چٹھی کی سی ہے۔ میں کہتا ہوں یہ بات اس وقت صحیح ہوتی اگر فریضہ رسول

(( یَتْلُوْاعَلَیْهِمْ اٰیٰتِه ) پر ختم ہوجاتا۔ تلاوتِ آیات کردی ، چٹھی پہنچا دی۔ اب جاکر اطمینان سے گھر بیٹھیں۔ مگر ان کا کام تو ختم نہیں ہوا۔ قرآن نے کہا:”( یُزَکِّیْهِمْ ) “ ۔ یہ ان کے نفوس کا تزکیہ کرتے ہیں۔ تو کیا چٹھی رساں کا کام یہ بھی ہے کہ وہ ہر ایک کے گھر جاکر پوچھے کہ کون ان میں سے سچ بولتے ہیں ، کون جھوٹ بولتے ہیں؟ کون امین ہیں؟ کون خائن ہیں؟ کون نمازی ہیں؟ کون غیر نمازی ہیں؟ کیا چٹھی رساں کا یہ کام بھی ہے؟

اس کے بعد یہی نہیں بلکہ علم الکتاب کے بھی بتانے کے ذمہ دا ریہ ہیں۔چٹھی رساں تو بعض اوقات اس زبان کو بھی نہیں جانتا جس میں لکھا ہوا خط اس نے لاکر دیا ہے۔ تو کیا چٹھی رساں کو روک کر آپ کہئے گا کہ ارے بھئی! یہ خط پڑھتے بھی تو جاؤ۔ وہ کہے گا کہ میرا کام چٹھی پہنچانا تھا، میرا کام اس خط کو پڑھنا نہیں تھا۔ مگر خالق کہہ رہا ہے:

( یُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ ) ۔

ارے یہ کتاب کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ علم الکتاب بھی ان کے ذریعہ سے ملے گا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس چٹھی رساں سے پوچھئے کہ اصل مطلب لکھنے والے کا کیا ہے؟ اس کے راز بھی بتائیے، اس کے رموز بھی بتائیے تو برائے خدا بتائیے کہ اگر کتاب کو کافی سمجھتے ہیں تو جتنا کتاب میں ہے، اُسے تو مانئے۔

لیجئے! اب ایک اور بات یاد آگئی، وہ ایک ہی بات ہے، اُسے غلاف میں لپیٹ لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے ۔ کبھی کسی دوسرے نعرے کی صورت میں کہہ دیا ، کبھی کسی فلسفے کی صورت میں کہہ دیا کہ مآخذ دین فقط کتا ب ہے، سنت نہیں۔ ہے وہی بات کہ کتاب کافی ہے۔ یہ وہی نعرہ ہے جو پروان چڑھ رہا ہے مختلف صورتوں میں کہ مآخذ دین بس کتاب ہے، سنت نہیں ہے۔میں کہتا ہوں کہ اسی ایک آیت سے اس کا بھی فیصلہ ہوجاتا ہے ۔ تلاوتِ آیات کرتے ہیں۔ لیجئے جناب ! کتاب تو پہنچ گئی۔اب”( یُزَکِّیْهِمْ ) “، یہ تزکیہ نفس کرتے ہیں۔ اب وہ الفاظ جن سے تزکیہ نفس ہوتا ہے، وہ کب جزوِ کتاب ہیں، وہ آپ ہی کے اقوال سے ہوں گے اور آپ ہی کے افعال سے ہوں گے جو سب جزوِ سنت ہیں اور اس کے بعد اتناہی نہیں،”( یُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ ) “، یہ کتاب کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ تو اب تعلیم کیلئے جو تشریحات یہ کرتے ہیںِ وہ جزوِ کتاب ہوتے تو تلاوت میں پہنچ نہ جاتے۔ معلوم ہوا کہ وہ سب ان کے ارشادات ہی ہیں جن کے ذریعہ سے کتاب کی تعلیم دی گئی۔اس کے بعد حکمت کی تعلیم بھی یہ دیتے ہیں۔

اب جن الفاظ کی مدد سے حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، وہ بھی جزوِ سنت ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کتاب تو ایک چوتھائی دین کی حامل ہوئی۔ جس نے کتاب کو لے کر سنت کو چھوڑ دیا، اُس نے ایک چوتھائی دین اختیار کیا، تین چوتھائی دین چھوڑ دیا۔

تو غرض یہ چار کام ہیں جو پیغمبر خدا کے ذمہ ہیں جن کی تفصیل میں نے بتائی۔ اب یہ معلم کی سوجھ بوجھ پر منحصر ہے کہ اس نے ہر درجہ کیلئے ان لوگوں کو منتخب کیا جن پر اثر ہوا۔معلوم ہوا کہ یہ سب پیغمبر خدا کی سوجھ بوجھ پر منحصر ہے۔

یاد رکھئے کہ کتاب بے زبان ہے۔ وہ اس سوجھ بوجھ کو نہیں رکھ سکتی۔ پہلا کام جو پیغمبر خدا کے سپرد کیا گیا، وہ دیکھئے کہ کتنا اہم ہے! تلاوتِ آیات، یہ بظاہر ہمارے نزدیک بہت آسان ہے۔ قرآن اُٹھاتے ہیں اور پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔ تلاوت کہتے کسے ہیں؟ الفاظ جو نازل شدہ ہیں، انہی کو پڑھے، تب تلاوت ہوگی۔میں ترجمہ پڑھ کر سناؤں تو کیا وہ تلاوت ہوگا؟ یہ عیسائیوں کا تصور ہے کہ ہر زبان والی بائبل ہے۔ ہمارے نزدیک تو یہ تصور نہیں ہے۔ اصل قرآن تو وہی ہے، یہ سب ترجمے ہیں۔ تو یہ ترجمہ سنانا ہوگا، تلاوت نہیں ہوگی۔کیوں؟ اس لئے کہ زبان بدل گئی۔ وہ عربی تھی، یہ اُردو ہوگئی۔

اچھا! زبان بھی وہی رہے لیکن الفاظ بدل جائیں، تب بھی آپ کہیں گے کہ یہ تلاوت نہیں ہوئی۔ اب یہ نیت پر ہے یا وہ تشریح ہوگی یا تحریف ہوگی۔ الفاظ بالکل وہی رہیں، ترتیب بدل جائے!

( فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِه خِیْفَةً مُوْسٰی ) ۔

اب ماشاء اللہ صاحبانِ علم موجود ہیں کہ عربی قواعد میں فعل کے بعد پہلا درجہ فاعل کا ہے، پھر مفعول کا درجہ ہوتا ہے۔اب کوئی اُستاد طالب علم کو بتانے کیلئے یوں کہے:

( فَاَوْجَسَ مُوْسٰی خِیْفَةً فِیْ نَفْسِه ) ۔

کوئی لفظ گھٹا ہے نہ بڑھا ہے۔ بالکل وہی الفاظ ہیں جو آیت میں تھے۔ صرف موسیٰ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ رکھ دیا گیا ہے۔ تو اس طرح بات تو وہی ہے لیکن یہ پیغام بھیجنے والے کا کلام نہیں ہے۔فرض کیجئے کہ ایک صاحب کو کسی نے کوئی پیغام پہنچانے کیلئے دیا۔ اب وہاں تک جاتے جاتے بیچارے ایک لفظ بھول گئے مگر مطلب سمجھ لیا تھا، اس لئے فوراً ذہن میں اس کی جگہ دوسرا لفظ سوچ لیااور جاکر کہہ دیا کہ یہ پیغام دیا ہے۔ اب اگر پیغام دینے والے کو پتہ نہیں چلا تو خیر مگر اب یہ واپس آئے اور انہوں نے کہا کہ کیا کہا تھا؟ اب انہیں اپنے الفاظ یاد تھے، کہا: میں نے یہ کہا ہے۔ کہا:میں نے یہ تو نہیں کہا تھا؟ میں نے تو یوں کہا تھا۔ تو وہ تصدیق نہیں کریں گے کہ میرا کلام پہنچایا۔

اب یہ دیکھئے کہ یہ رسول نہیں فرمارہے ہیں کہ میں تلاوت کرتا ہوں، آیاتِ خدا کی، بلکہ جس کا کلام ہے، وہ کہہ رہا ہے کہ یہ ہماری آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ پھر ماشاء اللہ صاحبانِ علم موجود ہیں۔ ماضی کا صیغہ نہیں ہے جو ایک واقعہ خاص کا پتہ دے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کی تلاوت کردی، بلکہ مضارع ہے جو استمرار کا پتہ دیتا ہے۔ یہ ہماری آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ یعنی ان کا طریقہ یہی ہے ، ان کی شان یہی ہے، ان کا شیوہ یہی ہے کہ ہماری آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس میں ماضی بھی داخل ہے، اس میں حال بھی داخل ہے اور مستقبل بھی داخل ہے۔سب زمانے داخل ہیں۔ وہ تصدیق کررہا ہے کہ یہ ہماری آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں، نہ اس میں کمی ہوتی ہے، نہ زیادتی ہوتی ہے۔ نہ اُدھر کا لفظ اِدھر ہوتا ہے اور نہ اِدھر کا لفظ اُدھر ہوتا ہے۔

میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی دلیل عقلی نہ ہوتی اور کوئی دلیل نقلی بھی نہ ہوتی تو آیت کا یہ جزو رسول کے سہوونسیان سے بری ہونے کیلئے کافی تھا۔اس ایک جزو”( یَتْلُوْاعَلَیْهِمْ اٰیٰتِه ) “میں کتنی رفعت ہے، کتنی بلندی ہے اور اس کے بعد”( یُزَکِّیْهِمْ ) “ ۔ ان کے نفوس کا تزکیہ کرتے ہیں۔ یاد رکھئے کہ کوئی صفت دوسرے تک نہیں پہنچائی جاسکتی جب تک کوئی اس صفت کا خود حامل نہ ہو۔خالق کہہ رہا ہے کہ یہ دوسروں کے نفوس کو طاہر کرتے ہیں، پاک کرتے ہیں تو یہ تنہا”یُ( زَکِّیْهِمْ ) “خود ایک آیت تطہیر ہے۔

یہ اس کی تصدیق ہے کہ ان کا نفس پاک ہے، اس کے معیار پر پاک ہے۔ یہاں جناب! ”پاک کرے گا “ نہیں ہے، کہ کوئی سمجھے کہ کچھ ہے، جب تک پاک کیا۔”پاک کرے گا“ نہیں ہے، پاک ہے اور اس کے بعد”( یُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ ) “، انہ یں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ کتاب کی تعلیم دیتے ہیں ،ایک کام اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، دوسرا کام۔ اور یہ کام جب تک کیلئے ہے کہ جب تک ان کی رسالت ہے۔ کتاب کی تعلیم بھی، حکمت کی تعلیم بھی۔تو اب یہ معلم ہیں نوعِ انسانی کے ، کب تک؟ جب تک رسالت ہے اور رسالت پیغمبر کب تک؟ قیامت تک۔ میں کہتا ہوں کہ قیامت تک کہنا بھی ہمارے حدودِ تعبیر کی کوتاہی ہے۔ کون کہتا ہے کہ قیامت کے آنے سے ان کی رسالت ختم ہے؟ اگر قیامت کے آنے سے ان کی رسالت ختم ہے تو شفاعت کس اعتبار سے؟

تو رسالت میں تو میرے نزدیک قیامت کی قید لگانا درست نہیں ہے۔ رسالت تو لامحدود ہے۔ مگر ہاں! تعلیم۔ اسے کہہ لیجئے کہ قیامت تک ان کے ذمہ ہے کیونکہ جب تعلیم حاصل کرنے والے نہیں رہے تو کلاس کن کیلئے۔ لہٰذا کتاب و حکمت کی تعلیم تا قیامت۔

صاحب علم حضرات کو مخاطب کرکے کہتا ہوں کہ معلم کسی کلاس کا کیسا ہونا چاہئے؟ اب اس کی ذرا تشریح کروں گا کہ اگر کوئی معلم ایسا ہے کہ چھ مہینے تک تو بچوں کواس سے پڑھنے کی ضرورت ہوتی ہو اور چھ مہینے کے بعد بچے اس کے برابر آجاتے ہوں اور دو مہینے کے بعد اس سے زیادہ سمجھنے لگتے ہوں تو کیا یہ معلم اس لائق ہے کہ اس درجہ کا معلم ہو؟سب سمجھ گئے کہ نہیں، اس لائق نہیں ہوسکتا۔ اب اگر کسی معلم سے پانچ برس تک کی تعلیم متعلق ہے ، تو یہ اگر ایساہے کہ سال بھر کے بعد طالب علم برابرآجاتا ہو ، پھر آگے بڑھ جاتا ہو ، کیا وہ معلم اس لائق ہے؟ اب پانچ سے دس اور دس سے بیس برس تک کی بات کریں۔ ایک اصول قائم ہوگیا۔ وہ اصول کیا قائم ہوا؟ کہ جتنے بھی زمانے کیلئے کوئی شخص معلم ہو، جتنی ممکن ترقی طالب علموں کے دماغوں کی، اتنے زمانہ میں ہوسکتی ہو، معلم کو اُس سے بالا تر ہونا چاہئے۔ جب وہ معلم بنایا گیا، اُسی وقت ورنہ وہ مستحق نہیں ہے کہ معلم بنایا جائے۔اب جسے خالق نے قیامت تک کیلئے معلم بنایا ہو، تو بربنائے اصولِ تعلیمی ، قائل ہونا پڑے گا کہ عالم الغیب خدا کے علم میں جتنی امکانی ترقی نوعِ بشر کی قیامت تک ہے، اُس سے یہ معلم اونچا ہوگا، جب اس نے معلم بنایا ہے۔

اب انسان روزِ قیامت تک کتنی ترقی کرسکتا ہے؟ وہ ہم اور آپ اس وقت سمجھ بھی نہیں سکتے۔ ارے جس لائن میں ترقی کررہا ہے، ہے تو ذہن کی ترقی، چاہے مصرف غلط ہو۔ ترقی کا انکار تو نہیں کیاجاسکتا۔تو انسان کتنی ترقی کرسکتا ہے؟ اس کی رفتار یہ ہے کہ اس کو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ دس برس بعد کیا ہوگا اور بیس برس بعد کیا ہوگا؟ جبکہ ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ تیس برس پہلے کہا جاتا تھا کہ یہاں بیٹھ کر تم دہلی کی آواز سنو گے او رکوئی نہیں مانتا تھا۔ آج تو راستہ چلتے دنیا بھر کی آوازیںآ رہی ہیں۔

ارے کسی وقت تو چائے خانوں ، ہوٹلوں میں جانے کی ضرورت تھی، اب تو ساتھ لئے پھرتے ہیں اور جہاں ہیں، وہاں دنیا بھر کی آوازیں سن رہے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے کتنے تھے کہ صرف آواز سن رہے ہوں۔ جہاں کی بات سنو گے، وہاں کی تصویر بھی دیکھ لو گے۔اسے اگر دس بیس برس پہلے کہاجاتا تو کوئی تسلیم نہ کرتا۔ کہنے والے کو دیوانہ کہا جاتا۔ لیکن اب؟ پہلے تو ذرا کمیاب تھا، بعض گھروں میں تھا۔اب تو ہر گھر میں یہ بھی ہوگیا کہ یہاں سے بیٹھ کر پورا منظر دیکھئے، چاہے دیکھنے کا ہو ، چاہے دیکھنے کا نہ ہو۔وہ الگ بات ہے۔ تو یہ بات ابھی دس بیس برس پہلے سمجھ میں نہ آتی۔ تو اب جب رفتارِ ترقی یہ ہے تو دس برس بعد کیا ہوگا، بیس برس بعد کیا ہوگا اور سو برس بعد کیا ہوگا؟ اس کا اندازہ کون کرسکتا ہے؟ مجھے تو آسانی اس میں محسوس ہوئی کہ یہ ترقیاں جوہورہی ہیں اور بہت سی ہوچکی ہیں، یہ کن لائنوں پر ہورہی ہیں؟ کس چیز میں یہ ترقیاں ہورہی ہیں؟ تو میری تو سمجھ میں یہ آیا کہ یہ تمام ترقیاں دو چیزوں میں ہورہی ہیں: ایک سرعت رفتار ، ایک شدتِ اختصار ۔ مہینوں کی مسافت ہفتوں میں طے ہونے لگی، پھر ہفتوں کی مسافت دنوں میں۔ اس کے بعد دنوں کی مسافت منٹوں میں طے ہونے لگی۔ اس کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ وہ ثانیوں اور دقیقوں میں طے نہ ہوگی۔بہت سے کام جو ایک جماعت مل کر ایک عرصہ میں کرتی، وہ ابھی تھوڑی دیر میں مشینوں کی مدد سے ہوجاتے ہیں۔

تو تمام ترقیاں ان دوچیزوں میں: ایک سرعت رفتار، دوسری شدتِ اختصار۔تو جو معلم بناکر بھیجا گیا ہے، اس کے واقعاتِ حیات میں کوئی مثال ایسی ہونی چاہئے تھی کہ دنیا لاکھ ترقی کرجائے ، پھر بھی پیچھے رہے، آگے نہ جاسکے۔اور اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ جاکر ہوآئے اور زنجیر ہلتی رہے۔

یاد رکھئے کہ جب وہ دنیا میں تشریف لائے تھے تو اس وقت انسان کی سمت سفر چار تھیں:مشرق، مغرب، شمال او رجنوب۔ اگر اسی وقت کے معلم ہوتے تو اسی دنیامیں گھما پھرا کر پہنچا دئیے جاتے۔ مگر بھیجنے والے کو معلوم تھا کہ انسان کی سمت سفر بدلے گی۔ یہ چاند تک پہنچے گا اور ستاروں تک پہنچنے کی کوشش کرے گا او رکون کہہ سکتا ہے کہ نہیں پہنچے گا۔جب چاند تک پہنچ گیا تو اور ستاروں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ تو اب سمت سفر ادھر ہوگئی۔تو جسے معلم بنا کر بھیجا گے اہے، اس کیلئے لازم ہے کہ اُسے اتنی دور تک پہنچا دیا جائے کہ اب لاکھ انسان اونچا ہوجائے، پھر بھی پیچھے رہے، آگے نہ جاسکے۔

میں تو کہتا ہوں کہ ابھی انسان چاند تک گیا ہے، جسے ہمارے پرانے ریاضی والے کہتے تھے کہ فلک الدنیا پر ہے۔ فلک الدنیا یعنی سب سے نیچے کا آسمان جو بس ہمارے اوپر ہے۔ وہاں تک ابھی انسان کی پرواز ہوئی ہے مگر اس کے آگے اب یہ چاہے جہاں جائے، ستارہ مریخ تک جائے، زہرا تک جائے، عطارد تک جائے، اب میں کہتا ہوں کہ ستارہ زحل تک پہنچ جائے۔ ستارہ زحل سب سے اونچا ہے ان میں۔ وہاں تک بھی پہنچ جائے تو میں کہوں گا کہ ہمارے رسول کا روندا ہوا راستہ ہے۔

ایک بڑی بحث ہے، اس کاتجزیہ اسی سے ہوجاتا ہے، اتنے ہی سے ہوجاتا ہے۔ عقلی ضرورت جو معراج کی ہے۔ اب غور کرلیجئے کہ یہ جو چاند تک گئے ہیں ، یہ اگر روحانی طور پر گئے ہوں تو معراجِ روحانی مان کر بات بن جائے گی اور اگریہ سب جسم سمیت گئے ہوں تو اپنے رسول کو ان سے پیچھے نہ سمجھئے۔ یہ منزل تھی ان کی جو افضل المرسلین قرار دئیے گئے، خاتم النبیین قرار دئیے گئے اور ان کا مرتبہ تمام رسولوں میں برتر ہوا۔عام طو رپر تو ذہن میں آتا ہوگا کہ یہاں سے بابِ مصائب بہت دور ہے لیکن فضائل و مصائب اتنے دست و گریباں ہیں کہ مجھے

منتقل ہونے میں کبھی کوئی دقت نہیں ہوئی۔

یہی وہ حقیقت ہے کہ جس پر شاہ عبدالعزیز دہلوی کی کتاب ”سر الشہادتین“ کی پوری بنیاد قائم ہے۔ اہل علم حضرات واقف ہوں گے کہ خاندانِ ولی اللہ کو ایک خاص عظمت و اہمیت حاصل ہے۔ یہ ان کی اولاد ہیں شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی۔ سب سے منفرد تھے۔ان کے تعارف کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ صاحب تحفہ اثناء عشریہ ہیں یعنی اس کتاب کے مصنف جس کے نہ معلوم کتنے ایڈیشن چھپ چکے ہیں،ان کی ایک کتاب”سرالشہادتین“ ، جتنے شہادت نامے اس وقت ہیں، چاہے یہاں ہوں، چاہے وہاں ہوں، سب کا مآخذ ، سب کی بنیاد اسی پر قائم ہوتی ہے ۔ اسی کے ترجمے ہوئے:”ذکر الشہادتین“،” تقریرالشہادتین“،”تحریر الشہادتین“، مختلف زبانوں میں۔ تو سر الشہادتین کی بنیاد اسی چیز پر ہے یعنی بنیادفضیلت رسولپر ہے۔ سرالشہادتین کا ترجمہ ہے”دوشہادتوں کا راز“۔ ابھی تو شاید سمجھ میں نہ آئے کہ دو شہادتوں کا راز اور اس کی بنیاد فضیلت پیغمبر خداپر ہے ۔ مگر پوری کتاب کی داغ بیل اسی بنیاد پر ہے کہ ہمارے پیغمبرتمام پیغمبروں سے افضل ہیں۔کوئی فضیلت کسی رسول یا نبی کو نہیں ملی مگر یہ کہ اس کی مثل یا اس سے بہتر فضیلت ہمارے رسول کو حاصل ہوئی ہے۔ بالکل خلاصہ عرض کررہا ہوں۔ ان فضائل میں جو پیغمبر خدا کو حاصل ہوئے، ایک فضیلت شہادت بھی ہے یعنی بہت سے انبیاء ایسے ہیں جوراہِ خدا میں شہید ہوئے ہیں، جنابِ زکریا، جنابِ یحییٰ۔ ہماری مجالس میں ذکر ہوتا رہتا ہے ، ہماری مجالس بھی بہت بڑا مدرسہ ہیں دینیات کا۔ ہمارے پیغمبر پر اگر کسی دشمن کا حربہ کارگر ہوجاتا اور وہ نمایاں طور پر شہید ہوجاتے تو شاہ عبدالعزیز کا خیال یہ ہے کہ لوگ خوفزدہ ہوجاتے اور اسلام کی ترقی میں رکاوٹ ہوجاتی۔ جیسے ان کے تحت الشعور میں یہ بات ہے کہ جو گردوپیش کے لوگ ہیں، ان میں ابھی خامی ہے۔ بہرحال وہ حقیقت ان کے ذہن میں ہے۔

میں کیا کروں کہ ان کا بیان ہے کہ پھر اسلام کی ترقی رک جاتی۔ یعنی بہت سے لوگ جو توقعات لئے بیٹھے ہیں، خوشگوار اُمیدوں میں ہیں، ان کو مایوسی ہوجاتی، اسلام کی ترقی رُک جاتی۔ حکمت ربانی ا س کی متقاضی نہیں تھی کہ براہِ راست ان پر دشمن کا ظاہر بظاہرکوئی حربہ کارگر ہو۔ لیکن اگر یہ فضیلت فضائلِ رسول میں شامل نہ ہوتی تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کادرجہ دوسرے انبیاء سے گھٹ جاتا۔لہٰذا منظورِ قدرت ہوا کہ براہِ راست تو حضرت پر کسی کی تلوارکا وار نہ لگے ، کسی کا نیزہ کام نہ کرے مگر یہ فضیلت آپ کے فضائل میں شامل بھی ہوجائے۔ اس کیلئے خالق نے پیغمبر خدا کو دو نواسے عطا فرمائے اور شروع سے یہ اہتمام کیا کہ ان کی خصوصیت پیغمبر خدا سے نمایاں سے نمایاں تر ہوتی چلی جائے۔ جو بھی شخص ہے ، وہ اپنے باپ کی اولاد کہلائے گا، نسبت اسی کی طرف ہوگی۔ فرزند اپنے باپ کا ہوگا۔ یہ ہیں نواسے لیکن خدا نے ان کو اُن کابیٹا قرار دیا۔ یہ ان کی خصوصیت رکھی کہ یہ فرزند رسول ہیں۔

اس کے علاوہ ہر ایک غذا شیر مادر سے ہوتی ہے لیکن ان کی غذارسول کے لعابِ دہن سے ہوئی تاکہ اجزائے جسم رسول ان کے جسم میں شامل ہوجائیں۔ یہ اہتمام خالق نے کیا۔ میں کہتا ہوں کہ جب حضرت نے یہ سب اس مقصد کی تکمیل کیلئے کیا تو ہم بھی جب مجالس کریں تو اُسے بدعت نہ کہئے۔ یہ سب اہتمام ہوا اور اس کے بعد آخری بات یہ کہ شہادت کی دو اقسام ہیں: ایک شہادتِ سرّی اور ایک شہادتِ جہری۔ شہادتِ سرّی یعنی خفیہ شہادت۔ وہ زہر سے ہوتی ہے اور شہادتِ جہری یعنی کھلم کھلا۔یہ شہادت تلوار سے ہوتی ہے۔یہ دونوں اقسام کی شہادتیں دونوں نواسوں میں تقسیم ہوگئیں۔ شہادتِ سرّی حسن مجتبیٰ کے حصہ میں آئی اور تلوار والی شہادت حسین کے حصہ میں آئی۔اسی طرح فضیلت شہادت دونوں نواسوں کے ذریعہ سے فضائل رسول میں شامل ہوگئی۔

یہ ان کی کتاب کا خلاصہ میں نے عرض کیا۔ اب نتیجہ نکالنا میرا کام ہے۔ خود تشریف فرماہوتے تو ان کی کتاب کا خلاصہ ان کو سنا کر تصدیق کرواتا ۔ اب آپ دیکھئے کہ جو نتیجہ نکل رہا ہے، وہ صاف ہے یا نہیں ہے؟ نتیجہ یہ ہوا کہ شہادتِ حسن بھی شہادتِ رسول ہے اور شہادتِ حسین بھی شہادتِ رسول ہے۔بس اب بہت ادب سے عرض کرتا ہوں کہ جب آپ نے یہ کہہ دیا تو اب اتنا بتا دیجئے کہ حسن کا قاتل کس کا قاتل؟اور حسین کا قاتل کس کا قاتل؟پھر اس قاتل کے بارے میں کچھ کہنے سننے میں اختلاف نہ رکھئے اور جو رسول کے قاتل کو کہنا جائز ہو، وہ حسین کے قاتل کو کہنا جائز سمجھئے اور جو رسول کے قاتل کیلئے کہنا جائز ہو، وہی حسن کیلئے قاتل کیلئے کہنا جائز سمجھئے۔

ایک اعتراض جو مجالس پر ہوتا ہے او ر تمام منطق و فلسفہ اور شریعت و قرآن و حدیث کے حربے صرف کئے جاتے ہیں۔ سوچ سوچ کر ہماری عزاداری پر اعتراض کئے جاتے ہیں۔ یعنی روتے ہم ہیں اور تکلیف دوسروں کی آنکھوں کو ہوتی ہیں۔ سینوں پر ماتم ہم کرتے ہیں اور درد دوسروں کے سینوں میں ہوتاہے۔ اعتراض یہ ہے کہ تم وفاتِ رسول کا غم اتنا کیوں نہیں کرتے؟ میں کہتا ہوں کہ یہ اعتراض اس وقت تک ہے جب کہو کہ وفاتِ رسول اور شہادتِ حسین ۔ لیکن شاہ صاحب کے ارشاد کی روشنی میں سال میں دو تاریخیں ہیں: ایک وفاتِ رسول کی ، ایک شہادتِ رسول کی۔ اب یہ آپ فیصلہ کیجئے کہ وفات کی یادگار منائیں یا شہادت کی۔وفات کی یاد میں ہمارے لئے کوئی عملی نمونہ نہیں ہے مگر شہادت کی یاد میں جو اختیاری اقدامات ہیں، وہ ہمارے لئے نمونہ ہیں۔

تو اب بتائیے حیاتِ اسلام کیلئے کون زیادہ مفید ہے؟ ہم سے کیا پوچھنا، اسے آسمان سے پوچھنا چاہئے کہ وفاتِ رسول پر کیوں خون کی بارش نہیں ہوئی اور شہادتِ حسین پر کیوں خون کی بارش ہوئی؟ اب اسے دیکھ لیجئے علامہ ابن حجر مکی کی کتاب صواعق محرقہ میں، جو ہماری رَد میں نہایت سخت طریقہ سے لکھی گئی ہے، مطالب السئول میں دیکھ لیجئے، علامہ کمال الدین محمد ابن طلحہ شافعی اس کے مصنف ہیں، تذکرہ خواص الامة علامہ سبط ابن جوزی کی تصنیف میں دیکھئے کہ شہادتِ حسین پر چالیس دن تک جو کپڑا زیر آسمان پھیلایا جاتا تھا، اس پر خون کے نشان نظر آتے تھے۔ ہمارے شعراء مبالغہ کے طور پرکہتے ہیں ”خون کے آنسو“۔حقیقت میں کائنات نے چالیس دن تک خون کے آنسو بہائے ۔ اس کے معنی ہیں کہ عاشور کے دن ہی اس نے یومِ غم نہیں منایا بلکہ اربعین کی تاریخ بھی اس نے مقرر کر دی۔ بیس صفر تک چالیس دن پورے ہوتے ہیں جس میں کائنات سوگوار رہی ہے۔

کوئی کہے کہ راویوں نے بعد میں بیان کیا کہ خون کی بارش ہوئی مگر جناب! سب سے قدیم تاریخ کربلا کی طبری ہے، طبری نے بڑی تفصیل کے ساتھ واقعہ کربلا بیان کیا ہے۔


وسیلہ اور شفاعت

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

(( وَابْتَغُوْااِلَیْهِ الْوَسِیْلَة ) ) ۔

اللہ کی بارگاہ میں وسیلہ تلاش کرو۔ کل اس پہلو کو عرض کیا کہ اس کی بارگاہ میں وسیلہ ایمان اور عملِ صالح ہے۔ اس وسیلہ کے بارے میں جو اکثریت ہے یا جو اقلیت ہے، مسلمانوں کا کوئی بھی مکتب خیال ہے، اسے اختلاف نہیں ہے۔ لیکن اس وسیلہ کے لفظ سے ایک چیز ہے جس کا نام ہے توسّل۔ اس توسّل کے معنی ہوتے ہیں، مثلاً پیغمبر خدا بلاتفریق فرقہ تمام مسلمانوں کیلئے متبرک ہیں اور پھر آلِ طاہرین ہمارے لئے۔ ایک طبقہ مسلمانوں ہی کا جو پیغمبر خدا سے توسّل کا قائل ہے، وہ خصوصیت کے ساتھ اس تصور کو نہ رکھتا ہو جو ہمارے آئمہ طاہرین کے بارے میں ہے مگر وہ دوسرے الفاظ میں اولیاء اور مقربین بارگاہِ الٰہی سے توسل کا قائل ہے۔ اس عنوان کے تحت وہ ہمارے ساتھ آئمہ طاہرین کے بارے میں بھی توسّل کا قائل ہوجائے گا۔ اس منصب کے لحاظ سے نہیں جس کے ہم قائل ہیں لیکن اس عام عنوان کے تحت کہ مقربین بارگاہِ الٰہی ایسی ہستیاں ہیں کہ اصطلاحی حیثیت سے کوئی اس عہدہ کا قائل ہو یا نہ ہو لیکن مقربِ الٰہی ہونے میں کسی کو شک نہیں۔

اس لئے جو پیغمبر خدا سے توسّل کا قائل ہوگا، وہ لازماً اس نقطہ پر بھی ہمارے ساتھ شریک ہوگا کہ ایک طبقہ جس کا اصل مرکز نجد میں تھا اور اس کے بعد اس کی حدود بڑھ کو پورے حجاز پر چھائیں اور بالواسطہ تمام دنیا پر دولت کی بنیاد پر اس کے اثرات پہنچ رہے ہیں، وہ اس کا مخالف ہے۔ اس کا مسلک یہ ہے کہ توسّل کرنا ان معنی سے کہ دعا میں رسول کو واسطہ قرار دینا اور طلب حاجت میں ان کی بارگاہ میں جاکر یہ سمجھنا کہ(روضہ پر) پہنچنے سے اور دعا کرنے سے ہماری حاجت پوری ہوگی، یہ سب وہ کہتے ہیں کہ شرک ہے اور وہ ایسا شرک نہیں جو خفی ہو۔ ایک بلند معنی کے لحاظ سے ریاکاری بھی شرک کہلاتی ہے۔ مگر وہ شرکِ خفی ہے۔ یہ شرک ان کے نزدیک ایسا شرکِ جلی ہے کہ اپنی جماعت کے سوا تمام دنیا کو واجب القتل سمجھتے ہیں۔چاہے بتقاضائے سیاست ان کی آواز میں دھیما پن پیدا ہواہو لیکن اصل مسلک ان کا یہی ہے کہ ان کی جان بھی مباح یعنی جان کا بھی احترام کوئی نہیں اور تمام مسلمانانِ عالم کا جان و مال محترم نہیں ہے۔

ان کا قتل کرنا بھی جائز، مال لوٹنا بھی جائز۔ یہاں تک کہ ان کی عورتوں کو کنیز بنانا بھی جائز۔ یعنی جو مشرکین کے احکام ہیںِ وہی تمام دنیا کے مسلمانوں کے احکام ان کے نزدیک ہیں۔ اس بناء پر کہ وہ توسّل کے قائل اور اس پر عامل ہیں۔ توسّل ان کے نزدیک ویسا ہی شرک ہے جیسا مشرکین مکہ لات و منات کی پرستش کرتے تھے۔ چونکہ ان حضرات کے روضے توسل کا مرکز ہیں، اس لئے سب روضوں کو وہ اصنام سمجھتے ہیں، بت سمجھتے ہیں اور ان کی زبان میں روضہ رسول سب سے بڑا بت ہے۔صنمِ اکبر۔ مگر اتنے طویل عرصہ میں تقیہ سے کام لے کر اس کو باقی رکھا ہے۔ آج اس چیز کا بیان ہے جسے وہ شرک قرار دیتے ہیں اور اسے ہم عبادتِ الٰہی سمجھتے ہیں۔ اسی توسّل کے تحت حقیقت میں مسئلہ شفاعت بھی ہے۔ بلاواسطہ اللہ سب کام کردیتا ہے تو آخر کسی کو اُسے شفیع قرار دینے کی ضرورت کیا ہے؟

چنانچہ ایک رحجان یہ ہے کہ شفاعت کا تصور غلط ہے۔ اس کیلئے قرآن مجید کی آیتیں پیش کی جاتی ہیں کہ:

( لَیْسَ لَهُمْ وَلِیٌ وَلَا شَفِیْع ) ۔

ان کیلئے نہ کوئی ولی ہے نہ کوئی شفیع ہے۔

اور پھر روزِ قیامت کے ذکر میں قرآن مجید میں ہے کہ اس دن نہ تو فدیہ ہوگا، نہ شفاعت ہوگی۔ ایک وقت میں ایک صاحب نے کتاب لکھی تھی ، ان کا نقطہ نظر انکارِ شفاعت تھا۔ انہوں نے پورے قرآن سے چودہ آیتیں لکھی تھیں ، نفی شفاعت میں ایسی:

( وَا تَّقُوْایَوْمًالَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَیْئًاوَلَا یُقْبَلُ مِنْهَا شِفَاعَة ) ۔

کہیں پر

( لَا تَنْفَعُهَاشَفَاعَة ) ۔

ہے۔اس طرح چودہ آیتیں انہوں نے مسلسل لکھی تھیں۔ اس کی رد میں امامیہ مشن لکھنو سے رسالہ شائع ہوا تو اس میں مَیں نے بالکل صحیح حساب کے ساتھ ۲۸ آیتیں ثبوتِ شفاعت میں پیش کیں۔ علم غیب کے بارے میں ایک دفعہ کہا تھا کہ اگر دس جگہ ہے کہ ایسا نہیں ہے اور ایک جگہ قرآن نے کہہ دیا کہ ایسا نہیں ہے سوا۔ تو ادھر ایک عدد سواآیا، ایک آیت میں ادھر ، یہ سوا ان سب آیتوں میں لگ جائے گاکیونکہ اس نے بتادیا کہ وہ حکمِ عام نہیں ہے۔ اس میں خصوصیت ہے۔ تو جب یہ خصوصیت ہے تو جہاں جہاں وہ عام حکم ہے، وہ اس خاص پر محمول ہوگا کیونکہ خاص صریح ہوتا ہے اپنے مفہوم میں اور عام تو ایک اپنے الفاظ کی لپیٹ میں لیتا ہے ۔ خاص جب حکم آجائے خصوصیت کے ساتھ تو وہ ہر عام میں تخصیص پیدا کردے گا۔ جہاں جہاں شفاعت کی نفی ہے، (اُن چودہ آیتوں کا انکار نہیں) مگر اٹھائیس آیتوں میں ”اِلَّا “ موجود ہے۔ کوئی قید موجود ہے تو وہ ”اِلَّا “ اور وہ قید جاکران سب آیتوں کو مقید بنا دے گی ۔ تو وہ اٹھائیس آیتیں ثبوتِ شفاعت کی دلیل بن جائیں گی۔

اب قرآن مجید میں دیکھ لیجئے کہ کس کس طرح شفاعت کا اثبات ہوا ہے۔ کہیں ایک جماعت کے بارے میں کہا گیا:

( لَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی ) ۔

وہ لوگ شفاعت نہیں کریں گے ۔ وہ سے مراد بعض فرشتوں کو قرار دیتے ہیں۔ بعض ان افرادِ انسانی کو شفیع قرار دیتے ہیں جو پیش خدا شفاعت کا حق رکھتے ہیں۔ تو وہاں یہ جملہ ہے:

( لَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی ) ۔

وہ شفاعت نہیں کریں گے مگر اس کی جو اللہ کو پسند ہو ۔ تو اب شفاعت نہ کرنے کے ساتھ ”اِلَّا “ آگیا تو معلوم ہوا کہ کچھ ایسے ہیں جن کی شفاعت اللہ کو پسند ہوگی۔

ایک جگہ قرآن مجید میں ہے، میں قسمیں بیان کررہا ہوں ، نمونہ کے طور پر ایک ایک آیت ایسی جس میں قید ہے ، پیش کرتا ہوں ۔ یہاں دیکھئے کہ یہاں آیا:

( لَا یَشْفَعُوْنَ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی ) ۔

( اِلَّا ) “ آیا تو اس نے نفی میں انقلاب پیدا کرکے اس کو ثبوت بنایا۔اس کے علاوہ آپ دوسری جگہ دیکھئے کہ وہاں کوئی شفیع نہیں ۔

( مَامِنْ شَفِیْعٍ ) “۔

کوئی شفیع نہیں ہے۔ابھی تک نفی ہے۔

( اِلَّا بِاِذْنِه ) “۔

مگر اس کی اجازت سے ۔ تو اب جب”( اِلَّابِاِذْنِه ) “ آگ یا توکلی نفی شفاعت کہاں ہوا؟ ”( اِلَّابِاِذْنِه ) “ ثبوت شفاعت ک ی دلیل بن گیا۔ایک جگہ ہے کہ”( مَامِنْ حَمِیْمٍ وَلَا شَفِیْعٍ یُطَاعُ ) “، اس کے ہاں کوئی مدد گار نہیں ہے اور کوئی شفاعت کرنے والا ایسا نہیں ہے جس کی وہ اطاعت کرے۔ یعنی کوئی حکم شفاعت کرے، ایسی کوئی بالا دست طاقت نہیں ہے جو اس کو گویا مجبو رکرسکے ، ایسا کوئی شفیع نہیں ہے۔

اس کو ایک مفسر نے بڑے بلیغ انداز میں دو الفاظ میں کہا ہے کہ ایسے شفیع نہیں ہیں جن کی وہ اطاعت کرے، ایسے شفیع ہیں جن کی دعا کو وہ قبول کرے۔ کہیں یہ کہہ دیا کہ شفاعت وہاں فائدہ نہیں دے گی مگر یہ کہ ”( اِلَّالِمَنْ اَذِنَ لَه ) “ جس ک یلئے اس کا اذن ہو۔

تو اب جب اٹھائیس آیتیں اس قسم کی آگئیں کہ جس میں کہیں ”( اِلَّا ) “ کہہ کراستثنیٰ کیا گیا ہے اور کہیں شفیع میں قید لگا کر اس کے دائرے کو محدود بنایا گیا ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن نفی شفاعت کو نہیں، ثبوتِ شفاعت کو بتا تا ہے۔

اب جو تصورات نفی شفاعت میں ہیں، ہوتا یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن میں ایک بات طے کرتا ہے کہ یوں ہے یا یوں نہیں ہے۔ پھر وہ آیتیں تلاش کرتا ہے کہ اس کی تائید میں آیتیں کونسی ہیں۔ اس لئے ایسے شخص کو چودہ آیتیں نظر آئیں، اٹھائیس آیتیں نظر نہیں آئیں کیونکہ اس نے تو اپنی جگہ یہ طے کیا تھا کہ ہمیں نفی شفاعت کرنی ہے۔ اس لئے وہ آیتیں مطلب کی نہ تھیں جن میں ثبوتِ شفاعت کا پتہ چلتا تھا۔ یہ آیتیں مطلب کی تھیں۔ یہ دلیل ہے اس کی کہ ایسے لوگوں کو قرآن کا تابع نہیں ہوناہے بلکہ قرآن کو اپنا تابع بنانا ہے۔ کسی غرض کے تحت مطالعہ قرآن ہے، اس لئے نہیں ہے کہ قرآن سے حقیقت سمجھیں۔ یہی عموماً ہوا کرتا ہے کہ ہر ایک مناظر اپنے مطلب کی آیتیں سوچ کر پیش کرتا ہے، اس لئے کہ مطلب تو اس کے ذہن میں قرآن کو دیکھے بغیر طے شدہ ہے۔ہمیں ایک جماعت کو عادل سمجھنا ہے تو اب اس کیلئے تلاش ہے دلائل کی۔بات تو ہم اپنی جگہ طے کئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح سے کسی کی فضیلت کا انکار کرنا ہے تو وہ انکار تو جذباتی طور پر ہے لیکن قرآن سے سند کوئی پیش کرنا ہے۔یا یہ کہ طے تو یہ ہے کہ ہم کسی خاص حقدار کو وراثت نہیں دیں گے، اب اس کیلئے تلاش سے بھی آیت نہیں ملتی تو حدیث کا سہارا لیا جاتا ہے، چاہے خلافِ قرآن ہو۔

تو اب اصل دلائل نفی شفاعت کے قرآن میں نہیں ہیں بلکہ ذہن میں ان کے پاس کچھ باتیں ہیں جن کی وجہ سے وہ شفاعت کا انکار کررہے ہیں۔ تو دیکھا جائے کہ اصل باتیں کیا ہیں تو یہ کہہ کر اگر وہ قابل معافی ہے تو خدا معاف کر ہی دے گا۔ بے معنی چیز ہے ، ایک صورت میں بے ضرورت ہے، ایک صورت میں بیکار ہے۔ اگر وہ قابل مغفرت ہے تو وہ بے ضرورت ہے اور اگر قابل مغفرت نہیں ہے ہے تو بیکار ہے۔ لہٰذا شفاعت کیوں ہے؟ یہ دلیل بظاہر تو عقلی حیثیت سے بہت مضبوط نظر آتی ہے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ شفاعت سے کہاں مخصوص ہے؟ یہ تو ہر دعا کی قبولیت میں ہے کیونکہ وہ کام ہونا ہے تو دعا بے ضرورت ہے ،اگر نہیں ہونا ہے تو دعا بیکار ہے۔لہٰذا دعا کیوں؟ مگر دعا کا منکر کوئی نہیں ، اس لئے کہ قرآن حکم دے رہا ہے کہ:

( فَادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) ۔

مجھ سے دعا مانگو۔ تو میں کہتا ہوں کہ شفاعت در حقیقت ایک قسم کی دعا ہے ۔ جب وہ اصل دعا کے منکر نہیں ہیں تو شفاعت کے کیونکر منکر ہوتے ہیں؟ جو مطلق دعا کی صحت کاپہلو ہوسکتا ہے، وہی شفاعت کا پہلوہوسکتا ہے۔ مگر کوئی کہے کہ یہ تو ہم پر مسلمے کا دباؤ ڈال کر منوالیا۔ اچھا! ہم کہتے ہیں کہ وہ دعا ہی کیوں؟ مطلق دعا کیوں؟ قرآن میں کیوں ہے؟ تو یہ حقیقت میں مسئلہ تقدیر سے متعلق چیز ہے اور تقدیر بڑی گہری بات ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر مطلق فیصلہ ہو ہونے کا تو بے شک دعا بیکار اور بے ضرورت اور اگر مطلق فیصلہ ہو، نہ ہونے کا تو دعا بیکار۔ وہی بات اس صورت میں بے ضرورت اور اِس صورت میں بیکار۔وہاں طے شدہ ہے کہ یہ بات ہوگی ، دعا کریں یا نہ کریں تو دعا بے ضرورت اور یہاں طے شدہ ہے کہ نہیں ہوگا تو دعا بیکار۔لیکن جب اس فاعل حکیم نے دعا کا حکم دیا ہے تو یہ کیوں نہ سمجھئے کہ کچھ مقدرات کو اس نے مشروط کیا ہے ہماری دعا سے۔ یعنی فیصلہ از اوّل یہ ہے کہ اگر دعا کرے گا تو اس طرح ہوگا اور اگر دعا نہیں کرے گا تو یہ کام نہیں ہوگا۔ اب اگر ہم نے دعا نہ کی تو اس محرومی کے ذمہ دار ہم ہوئے اور پھر غور کیجئے تو وہ دعا سے مخصوص نہیں، وہ تصور جو ہے کہ ایک صورت میں بے ضرورت اور ایک صورت میں بیکار، وہ جتنی تدابیر آپ کرتے ہیں، ان سب میں ہے۔ہر شخص اپنے مقصد کیلئے تدابیر کرتا ہے ۔تو اگر وہ ہونے والی بات ہے تو آپ کی تدابیر بے ضرورت اور اگر ہونے والی با ت نہیں ہے تو آپ کی تدبیر بیکار۔

جو بات دعا کی تھی، وہ آپ کی تدبیر میں بھی ہے اورپھر علاج ،ڈاکٹروں کو، حکیموں کوسب کو نظر اندا زکردیجئے، اس لئے کہ اچھا ہونے والا ہے تودوا بے ضرورت، اچھا ہونے والا نہیں ہے تو دوا بیکار۔ اب بحمدللہ وہ چیز ہمارے ہندوستان میں ختم ہوگئی، جب سے میں عراق سے آیا ہوں تو اس وقت پورے جاہ و جلال کے ساتھ ہمارے ملک میں اور خصوصاً یوپی میں بہت زیادہ تھا کہ لوگ کسب معاش میں یعنی تجارت وغیرہ کو ذلت سمجھتے تھے۔شرفاء فاقے کرتے تھے مگر یہ کہ محنت مزدوری یا تجارت نہیں کرتے تھے۔ بھلا میر صاحب ہوکر دوکان کریں؟یہ بہت شدت کے ساتھ تھا۔

چنانچہ وہاں سے آکر میرے جو بیانات ہوئے، وہ تین دن مدرسہ الواعظین میں تجارت اور اسلام کے موضوع پر ہوئے تھے اور وہ امامیہ مشن سے چھپے بھی تھے۔”تجارت اور اسلام“۔ تو وہ گویا افرادِ ملت میں ایک نئی چیز سمجھی گئی۔تواس میں مَیں نے عرض کیا تھا،اس میں دلائل جو تھے، ترکِ تجارت اور ترکِ ذرائعِ معاش کے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ کسی سے کہا ارے بھئی! اس عالم میں ہو تو کچھ کرو؟ انہوں نے کہا: ہمارے مقدر میں فاقے لکھے ہیں تو پھر کیا کریں؟ مقدر میں فاقے ہیں، پھر کیا کریں؟ اور ایک مسئلہ تھاکہ اللہ رزق کا ضامن ہے تو بہرحال وہ رزق تو ہمیں ملے گا۔ پھر محنت مزدوری کرکے کیاکریں؟ایک تصور یہ اللہ کی رزاقیت کا تھا۔ ایک تصور وہی عزت و شرافت کا تھا کہ ابھی میر صاحب کہلاتے ہیں، اگر تجارت شروع کردی تو اس چیز کا نام لے کر کہا جائے گا کہ پان والے،بسکٹ والے اور مختلف چیزوں والے۔ تو گویا عزتِ خاندانی ختم ہوجائے گی۔ غرض یہ سب تصورات تھے جن کی بناء پر شرفاء بھوکے مرتے تھے اور تجارت نہیں کرتے تھے۔

میرے جو بیانا ت ہوئے، تو جناب! اب ایک لہر جیسے دوڑی کہ نئی ایک بات سامنے آئی۔لوگوں نے دوکانیں کھولنا شروع کیں ، تجارت شروع کی اور اس کے اشتہار میں لکھا کہ انہوں نے یعنی میں نے ایسے بیانات دئیے تھے، لہٰذا اس پر عمل کرنے کیلئے ہم نے یہ کاروبار شروع کیا ہے۔ تب میں نے ایک بیان میں کہا کہ اگر آپ کو تجارت کرنے کا ذوق ہوا ہے ، توفیق ملی ہے تو اُسے آپ ایک مصلحانہ شان سے کیوں کرتے ہیں؟ آپ کہئے کہ ہماری قومی ضرورت ہے۔ میرے بیان کا حوالہ دے کر گویا ایک خدمت قومی کے طور پر اُسے کرنا، اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنی جگہ اُسے ذلیل کام سمجھ رہے ہیں۔

اب اس تقدیر والی بات کو اس بیان میں مَیں نے کہا کہ جناب اگر آپ اس اصول کے زندگی کے تمام شعبوں میں قائل ہوں، تو میں چاہے اس اصول کو غلط سمجھتا ہوں، لیکن آپ کو بے اصول نہیں سمجھوں گا۔ یعنی وہی کہ بیمار ہو بچہ لیکن آپ نہ جائیں ڈاکٹر کے ہاں، اس لئے کہ مقدرات میں اگر ہے اچھا ہونا تو ہوجائے گا اور اس سے آگے یہ ہے کہ مقدمہ عدالت میں ہو لیکن پیروی نہ کیجئے۔ کہئے کہ جائیداد اگر ملنی ہے تو مل ہی جائے گی۔پیروی سے کیا فائدہ؟

ایک معمولی سی بات یہ ہے کہ میرا یہ بیان آپ کو سننا تھا تو آپ اپنے گھر میں بیٹھے رہتے کہ مقدر میں سننا ہے تو سن ہی لیں گے مگر آپ نے کب سے اپنے پروگراموں کو تبدیل کیا ا س مجلس کی خاطر؟ اور کس طرح سے وقت مقررہ پر تیا رہوئے اور پھر ایک ایک قدم کی صورت میں کتنے مراحل طے کرکے اس بیان میں شرکت کی؟ تو اگر یہ سب باتیں آپ نے خلافِ عقل نہیں کیں تو طلب رزق کی کوشش کیلئے تقدیر کی سپر استعمال کرنا کہاں تک معقولیت ہے؟معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر کے آپ قائل نہیں ہیں بلکہ تقدیر کو اپنے بے عملی کا بہانہ بنا رہے ہیں۔ وہی صورت یہاں ہے کہ جناب دوا کرتے وقت یہ نہیں سوچتے کہ یہ بیکار ہے تو دعا کرتے وقت کیوں سوچتے ہیں کہ یہ بیکار ہے؟ہونے والا ہے تو ہوگا ۔

اب میں مختصر الفاظ میں عرض کردوں کہ فلسفہ دعا کیا ہے؟ فلسفہ اس کا یہ ہے کہ خالق کی مشیت صرف ایک حاکم کی تو ہے نہیں کہ اس کو غرض تعلیم احکام سے ہو ، اس لئے وہ ایک فہرست احکام سنا دے اور اس کے بعد مخالفت کرو گے تو سزا دی جائے گی۔ اس کی حیثیت وہ بھی ہے جو ناقص درجہ پر ایک باپ کی اپنی اولاد کے ساتھ ہوتی ہے۔ تو باپ کی یہ شان نہیں ہوگی کہ وہ بس آرڈر دے دے اور پھر بے فکر ہوجائے کہ اگر خلاف کرے گا تو سزا دیں گے۔ جی نہیں! وہ حکم بھی دیتا ہے اور جیسے اس کے دل کو لگی ہوتی ہے کہ یہ اس پر عمل کرے۔ لہٰذا وہ محرکاتِ عمل مہیا کرتا ہے اپنی طرف سے۔ ورنہ اگر یہ نہ ہوتا تو ثواب اور عذاب کے اعلانات بھی نہ ہوتے۔ خصوصاً ثواب کے اعلانات تو ہوتے ہی نہیں۔ لیکن وہ تو چاہتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے یہ اطاعت گزار ہیں کیونکہ اولاد میں بھی طبیعت الگ الگ ہوتی ہے۔ کوئی بچہ ایسا ہوتا ہے کہ اگر اس کو کہا جائے کہ یہ چیز تم کو دیں گے تو ہو چڑ جائے گا، اُس کی خودداری کے خلاف ہوگا۔ کوئی ایسا ہوگا کہ اس سے سزا کا ذکر کیجئے تو وہ بُرا مانے گا۔ اُسے کد ہوجائے گی۔ تو باپ اگر دانش مند ہے تو بچوں کی طبیعت کے لحاظ سے جسے دیکھے گا کہ کڑے تیوروں سے متاثر ہوگا، اُس کیلئے سزا کا

اعلان کرے گاکہ اگر تم نے یہ کیا تو مار کھاؤ گے۔ جسے بلند نظر پائے گا، اس کیلئے نہ ثواب کہے گا ، نہ عذاب کہے گا۔ کہے گا کہ ہم تم سے خوش ہوں گے ۔ تو وہ محرکاتِ عمل بھی پیدا کرتا ہے۔ یہ یادِ الٰہی اس کی اپنی غرض کیلئے تو ہے نہیں۔ ہم یاد کریں گے تو اس کا کیا فائدہ؟ اگر ہم بھولے رہیں گے تو اس کا کیا نقصان؟ یہ یادِ الٰہی ہماری تعمیر حال و مستقبل کیلئے اکسیر ہے کہ اس کی وجہ سے ہم ہیں۔احساسِ فرض پیدا ہوتا ہے ۔اس کی وجہ سے ہم برائیوں سے بچتے ہیں۔ تو یادِ الٰہی کا اس نے حکم اپنے فائدہ کیلئے نہیں دیا ہے، ہماری تعمیر حیات کیلئے دیا ہے۔

تو اب اس نے محرکاتِ عمل پیدا کئے ہیں خدا کو یاد کرنے کے۔ لہٰذا ا سکی ایک تجویز یہ تھی ، ایک صورت یہ تھی ، ایک ترکیب یہ تھی کہ دنیاوی ضرورتوں کو ہم اس کی دعا کے ساتھ وابستہ کردیں تاکہ اپنی دنیا کی تعمیر کیلئے بھی ہمیں نہ بھولے۔

کسی شاعر نے طنزیہ طور پر یہ کہا ہے۔ جناب اُمید لکھنوی کا شعر ہے ، ایک طنز ہے عبادت گزاروں پر، اپنے اوپر رکھ کر کہا ہے:

گر پڑھی بھی کبھی ہم نے تو نمازِ حاجت اپنے مطلب کیلئے یادِ خدا بھی آئی

ایک اور شعر یاد آگیا:

گلشن دہر کی ہر شے سببِ حسرت ہے

ہاتھ ملوانے کو دنیا میں حنا بھی آئی

دردِ عصیاں جو تھا عارض تو دوا بھی آئی

قبر میں ساتھ میرے خاکِ شفا بھی آئی

انہوں نے تو طنزیہ طور پر یہ تحریر فرماے مگر میں کہتا ہوں کہ درحقیقت اسی لئے تو دعا کاحکم دیا گیا ہے کہ اپنے مطلب کیلئے ہی سہی، ہماری یاد تو آئے۔ وہ تو ہمارے آئمہ نے تمثیلی طور پر اس کیلئے ایک واقعہ بھی نقل فرمایا ہے کہ ایک بندہ کبھی سجدہ ہی نہیں کرتا تھا۔ ملائکہ اس کی بداعمالی پر گویا بارگاہِ الٰہی میں فریادی ہوئے کہ خداوندا! یہ تیرا بندہ، تیری طرف سے برابر اس کو رزق مل رہا ہے اور یہ کبھی تجھے یاد نہیں کرتا تو ارشادِ قدرت ہوا کہ ہاں ٹھیک ہے، مگر ایک جزو ذرا ا س کے نظامِ حیات کا بدل دو، ایک رگ کا نظام بدل دو۔ اب جو تکلیف ہوئی تو سر سجدہ میں رکھ کر اس نے کہا یارب!تو صدائے قدرت آئی کہ ارے میں تو مدت سے منتظر تھا کہ تو مجھے پکارے۔

تو دعا کا فلسفہ یہ ہے اور مقصد دعا ایسا عظیم ہے کہ جس میں ذرا سا بھی کلام ،دو حرفی کلام بھی ہوتو وہ مبطل نماز ہوجائے اور دعا ہر محل پر ہوسکتی ہے۔ ایک تو جگہ مقرر کردی گئی قنوت میں جو جمہورِ اُمت کے ہاں نہیں ہے۔ ہمارے ہاں ہے تو وہ قنوت دعا کا محل خاص ہے اور اس کے بعد کلیةً کسی مقام پر بھی کلام کرنا ناجائز مگر یہ کہ دعا ہر محل پر جائز ہے۔ ہر جگہ پر دعا صحیح ہے اور دعا نہ کرنے والوں کی مذمت میں قرآن میں کہا گیا:

( اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ ) ۔

جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیںِ گھمنڈ سے کام لیتے ہیں ، میری عبادت کے مقابلہ میں، تو معصومین نے اس کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہاں عبادت سے مراد وہ دعا ہے کہ جیسے اپنی کسر شان سمجھتے ہیں، اللہ کی بارگاہ میں التجاکرنے کو، تو ان کیلئے کہا گیا کہ ان کیلئے جہنم ہے جو تکبر کرتے ہیں میری عبادت سے۔معصوم نے فرمایا ہے:

اَلدُّعَااَفْضَلُ الْعِبَادَة “۔

دعا عبادات میں سب سے افضل ہے۔ اور ایک حاضر نے معصوم سے سوال کیا کہ دو شخص مسجد میں داخل ہوئے، ایک شخص نے کثرت کے ساتھ نمازیں پڑھیں ، ایک نے کثرت کے ساتھ دعائیں مانگیں تواس میں سے کس کا عمل افضل ہے؟ حضرت نے پہلے مجملاً فرمایا کہ اس کا عمل بھی ٹھیک ہے ، اُس کا عمل بھی ٹھیک ہے۔ اُس نے کہا کہ ٹھیک ہونے کو میں پہچانتا ہوں، میں تو افضل کو پوچھ رہا ہوں کہ ان میں افض کون ہے؟ تو حضرت نے فرمایا کہ وہ جس نے دعائیں زیادہ مانگیں، وہ خدا کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ نماز بقدرِ ضرورت پڑھ لی، واجب ادا کرنا تھا، کرلیا، پھر دعائیں مانگیں۔تو اس کی فضیلت زیادہ ہے۔

تو اب جب دعا کرنا ہی ہے بارگاہِ الٰہی میں تو اگر وہ ہستیاں کسی دوسرے کی مغفرت کیلئے دعا مانگیں تو اسی کا نام شفاعت ہے۔

تو آپ کسی دعا میں نہیں سوچتے کہ دعا میں کیا فائدہ اور وہاں شفاعت میں سوچ رہے ہیں کہ شفاعت کرنے سے کیا فائدہ؟ایک صورت میں ضرورت کیا اور ایک صورت میں حاجت کیا؟ وہ جو ایک تصو رتھا جس کو عرض کیا، دوسری بات یہ کہ ایک تصور ہے کہ شفیع کے معنی ہیں فرد ایک اور شفیع دو۔ اسی وجہ سے نمازِ شب میں آٹھ رکعات تو نمازِ شب کہلاتی ہے او ردو رکعات جو ہوتی ہیں، وہ شفعِ نماز کہلاتی ہیںَ تو شفع کے معنی دو۔ جیسے طاق اور جفت اور ایک وتر ہے یعنی اکیلی نماز ۔اس کے بعد قرآن مجید میں”وَالشَّفِعْ وَالْوِتْرِ “م یں قسم دو کی اور ایک کی۔ اب ایسی ہی چیزیں ہیں جہاں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کافی ہے قرآن ، تو سمجھئے کہ دو کون ہے اور ایک کون ہے؟

غرض اب تصور یہ ہے کہ اسے آپ کہہ رہے ہیں شفیع، اور شفع کے معنی وہ جو دوسرا ہو، اس کا مطلب یہ ہوا کہ خد اکے مقابلہ میں وہ گویا مد مقابل ہے، اس لئے شرک ہے۔ اس میں تصورِ شرک یوں پیدا ہوا کہ یہ خدا کا دوسرا ہے۔ تو جو اصل بنیاد ہے، لغوی مفہوم کی، وہ مسلّم۔ بے شک شفع کے معنی دو ہوے ہیں اور شفیع یعنی دوسریا۔ مگر ذرا عقل سے کام لیجئے ، کس کا دوسرا ہے، حقیقت میں اس صاحب حاجت کا دوسرا ہے کہ ابھی تک وہ ایک کی حاجت تھی ، اب دو کی ہوگئی۔ اس لئے شفاعت شرک نہیں بلکہ شرک شکن ہے۔

ان وجوہ کی بناء پر شفاعت کا انکار غلط۔ قرآن میں صراحتاً شفاعت کاثبوت ہے اور”شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْنَ “آپ کا ایک لقب ہے مستند احادیث کی رو سے۔لہٰذا کسی کے بارے میں وہ شفاعت کاانکار کریں مگر بربنائے حدیث صحاح پیغمبر کو شفیع مانیں۔پھر یہ بھی ایک صورت ہے کہ وہ شفاعت کو شرک قرار نہیں دیتے بلکہ توسّل کو شرک قرار دیتے ہیں۔ وہاں بھی ذرا لفظی بحث کرتے ہیں کہ ان سے نہ کہو کہ آپ ہماری شفاعت کیجئے بلکہ اللہ سے کہو کہ ان کو ہمارا شفیع بنا دے۔ یعنی یوں ناک نہ پکڑو، یوں پکڑو۔ ان سے نہ کہو کہ آپ شفاعت کیجئے ، اللہ سے کہو کہ ان کو ہمارا شفیع بنا دے۔تو اگر شفاعت کرنا ان کا شرک ہے تو خدا سے کہنا کہ اپنا تو شریک قرار دے۔ یعنی اگر وہ غلط ہے تو یہ تمنا بھی غلط ہے۔غرض یہ کہ شفاعت کے متعلق وہ منکر نہیں ہوسکتے۔ مجبوری ہے ،قرآن میں ہے۔ احادیث صحاح میں بھی ہے۔قرآن میں کچھ

ترکیب ہوجاتی ہے لیکن صحاح کو کیا کیا جائے کہ بخاری اور مسلم میں شفاعت کاذکر موجود ہے۔

اُوْتِیْتُ الشَّفَاعَة “۔

مجھ کو شفاعت کا درجہ حاصل ہوا ہے۔

قرآن مجید کی آیت ہے ،اس کی بھی تفسیر شفاعت کے ساتھ ہے کہ وہ مقامِ محمود جس پر اللہ نے کہا ہے کہ ہم نے آپ کو فائز کیاہے، وہ شفاعت کا درجہ ہے۔ تو اب یہ تو مجبوری ہے ، شفاعت کا انکار نہیں ہوسکتا۔لیکن توسّل کا انکار ہے یعنی ان کے ذریعہ سے دعا مانگنا اور ان کو واسطہ قرار دینا کہ تجھے واسطہ ہے محمد و آلِ محمد کا۔اس طرح سے توسّل کرنا یا ان کے روضوں پر جاکر دعا مانگنا۔یہ سب جو ہے، وہ شرک ہے۔

تمام دنیا کے مسلمان واجب القتل ہیں ان باتوں کی وجہ سے۔ لیکن اب میں کہتا ہوں کہ آپ کہتے ہیں کہ رسول کے پاس جاکر یا کسی روضہ پر جاکر دعا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ دعا مانگنی ہے تو اللہ سے مانگ لو۔ تو اب قرآن مجید کی آیت پڑھتا ہوں۔ قرآن مجید کی آیت ہے جس میں راوی کا کوئی سوال نہیں ہے، قرآن کہہ رہا ہے کہ ایسا کیوں نہ ہواکہ:

( اِذْظَلَمُوْااَنْفُسَهُمْ ) ۔

جبکہ انہوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا۔

اصطلاحِ قرآنی میں اپنے نفس پر ظلم کرنا گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے۔ یعنی گناہ کرکے وہ کسی اور کا نقصان نہیں کرتا، اپنا نقصا ن کرتا ہے تو( اِذْظَلَمُوْااَنْفُسَهُمْ ) ، یعنی جنہوں نے گناہ کئے تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ:

( جَاوکَ فَسْتَغْفَرُوااللّٰهَ وَاسْتَغْفِرْلَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوااللّٰهَ تَوَّابَارَّحِیْمًا ) ۔

اگر ایسا ہوتا کہ جب انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا یعنی گناہوں کے مرتکب ہوئے تو آپ کے پاس آتے۔

قرآن کہہ رہا ہے، میں نہیں کہہ رہا ہوں۔ ”جَاوُکَ“،آپ کے پاس آتے۔ فَ۔ف ہوتا ہے ترتیب کیلئے۔ پرانے زمانہ میں اس ”ف“ کا ترجمہ پس ہوتا تھا۔ آپ کے پاس آتے، پس اللہ سے مغفرت کے طلبگار ہوتے۔ اب ہماری اُردو پس والی نہیں رہی۔اب ہم ترجمے میں اس کا مفہوم یوں ادا کرتے ہیں کہ آپ کے پاس آکر اللہ سے مغفرت کے طلبگا رہوتے یعنی اپنی جگہ پر مغفرت کے طلبگار ہونے سے کام نہیں چلے گا۔آپ کے پاس آتے، آکر اللہ سے طالب مغفرت ہوتے، پھر پیغمبر ان کیلئے استغفا رکرتے’ل( َ وَجَدُوااللّٰهَ تَوَّابًارَّحِیْمًا ) ‘،

تو اللہ کو توبہ قبول کرنے والا اور رحیم پاتے۔

یعنی بجائے خود تو ہے ہی توّاب۔ بجائے خود تو ہے ہی رحیم۔ مگر ان کیلئے اُس صفت توابیت و رحیمیت کا مظاہرہ موقوف ہے کہ وہ پیغمبر خدا کی خدمت میں آکر ان سے توسّل کریں۔ صرف اللہ کی طرف رجوع کرکے آپ کے سامنے کہنا کافی نہیں ہوگا بلکہ خود رسول سے بھی کہیں کہ آپ ہمارے واسطے استغفار کیجئے۔ تو اللہ کو( تَوَّاب وَرَحِیْم ) پائیں گے۔ہے تو وہ مگر یہ اس وقت پائیں گے تواب بھی اور رحیم بھی۔ تو اگر توسّل کوئی چیز نہ ہوتا تو رسول کے پاس آنے کی کیا ضرورت تھی ؟ یہ توسّل کوئی نئی چیز نہ تھا جو قرآن نے کہا ہو۔ اس توسّل کا انبیائے سلف کے دَور میں بھی تصو رموجود تھا۔ قرآن کو دیکھئے ، سورئہ یوسف میں کہ فرزندانِ یعقوب کیوں ان سے آکر کہتے:

( یَاَبَانَااَسْتَغْفِرْلَنَاذَنُوْبَنَا ) ۔

اے ہمارے باپ! ہمارے گناہوں کیلئے،جرائم کیلئے استغفار کر دیجئے۔ اور وہ اس پر بجائے اس کے کہ تنبیہہ کریں کہ استغفار کرنا ہے تو خود کرو۔ میں کیوں کروں؟ وہ وعدہ کئے لیتے ہیں کہ :

( سَوْفَ اَسْتَغْفِرْلَکُمْ رَبِّی ) ۔

میں اپنے پروردگار سے عنقریب تمہارے لئے استغفار کروں گا۔

معلوم ہوتا ہے کہ توسّل پر انبیائے سلف کا اجماع قائم تھا۔

قرآن کہہ رہا ہے کہ آپ کے پاس جاتے اور آپ ان کیلئے طالب مغفرت ہوتے ، تب وہ اللہ کو تواب اور رحیم پاتے۔ یعنی رحمت الٰہی کی توجہ اس شرط کے ساتھ ہے کہ آپ ان کیلئے استغفا رکریں۔ اب جو توسّل کے شواہد ہیں، وہ انشاء اللہ کل عرض کروں گا۔

پس ایک آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بعد اس کے معیار پر حدیثیں منتخب کرکے، حاکم ایک اپنے وقت کے امام فن حدیث تھے۔انہوں نے مستدرک لکھی۔ وہ مستدرک حاکم کہلاتی ہے۔اس میں ایک حدیث ہے کہ جب جنابِ آدم سے ترکِ اولیٰ ہوا، کوئی مجرم کیا روئے گا اپنے جرم پر جیسے انبیاء ترکِ اولیٰ پر روتے تھے اور گڑگڑاتے تھے اور بارگاہِ الٰہی میں مثل بید کانپتے تھے۔

تو وہ گناہ ہوتا تو نظر رحمت پھر جاتی مگر وہ گناہ تو ہوتا نہیں، وہ ان کی بلندی منزل کے لحاظ سے ہوتا تھا جس پر خدا تنبیہہ کرتا تھا کہ تم نے بہت براکیا اور اس پر یہ ایسے لرزتے تھے جیسے کوئی ملزم بھی نہ لرزے گا۔ تو نظر توجہ سلب نہیں ہوتی ہے۔اب اس کیلئے میں نے کہا کہ دلیل اس کی کہ وہ گناہ نہیں تھا۔ جو بھی ہوا، آدم سے، نوح سے، ابراہیم سے، کسی سے بھی، کوئی اس قسم کا فعل جس کو ہم ترکِ اولیٰ کہتے ہیں اور دنیا اس کو خلافِ عصمت کہتی ہے، ہم عجیب ہیں کہ ہمیں اللہ کی طرف سے صفائی پیش کرنا ہے اور انبیاء کی طرف سے، آدم سے لے کر خاتم تک سب کی وکالت بھی ہمیں کرناہے۔

تو جناب! اب ہم کہتے ہیں کہ ترکِ اولیٰ گناہ نہیں ہے۔ میں بس ایک مختصر سا معیار پیش کرتا ہوں کہ اگر اس عمل پر جس پر سخت سے سخت تنبیہہ ہوئی ہے، عہدہ سلب ہوگیا ہوتو گناہ ہے اور اگر عہدہ برقرار رہا تو سمجھئے کہ یہ سب ان کے مزید کمالِ نفس کیلئے محرک کے طور پر تھا۔یہ سب عتاب جو تھا، وہ محرک کے طور پر تھا ورنہ سزایافتہ کو پھر عہدہ نہیں دیا جاتا۔ اسی معیار پر آدم کو دیکھئے کہ ترکِ اولیٰ تھا یا نہیں، انہیں پھر زمین پر بھیجا گیا۔ آپ اسے کہتے ہیں کہ جنت سے نکالا جانا سزا تھا۔ میں کہتا ہوں کہ سزا اس وقت مانوں گا کہ جب زمین پر بھیجے گئے تو وہ منصب سلب کرلیا جاتا۔ زمین پر آئے تو اُسی منصب پر آئے ۔ تو اس لئے اسے سزا تو کہا نہیں جاسکتا۔خاصیت اُس عمل کی کہاجاسکتا ہے کہ مزید شاید جنت میں رہتے ، اس عمل کی وجہ سے ، جلدی جانا پڑا۔ مگر آئے وہ جہاں کیلئے تھے، جہاں کے صاحب منصب تھے۔ اعلان یہی ہوا تھا کہ:

( اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَ رْضِ خَلِیْفَة ) ۔

جنت کیلئے پیدا ہوئے ہی نہیں تھے، زمین کیلئے پیدا ہوئے تھے۔

اب حدیث جو پڑھوں گا، وہ درحقیقت تفسیر قرآن ہے کہ اب اس منزل پر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر گناہ ہوتا اور یہ سب بطورِ سزا ہورہا ہوتا تو خالق کو کیا ضرورت کہ ترکیب بتائے معافی کی۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ نظر رحمت مڑی نہیں ہے۔یہ تڑپ رہے ہیں، اس تنبیہ کی بناء پر رو رہے ہیں کہ میری خطا معا ف کردے۔ قرآن کہہ رہا ہے:

( فَتَلَّقٰی آدَمُ مِنْ رَبِّه کَلِمَات فَتَابَ عَلَیْهِ ) ۔

آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھے یعنی خدا نے سکھایا کہ یوں کہو تو تمہاری توبہ قبول ہوگی۔ ارے تم بے چین ہو کہ تم مجرم ہو تو میں تمہیں ترکیب بتائے دیتا ہوں تاکہ تمہاری خطا معاف ہوجائے۔ میں تمہیں سکھاتا ہوں۔ ارے معاف کرنا تھا تو یونہی معاف کردیتا۔مگر نہیں۔ ان کے دل کے زخم پر مرہم رکھنے کیلئے خود ترکیب بتاتا ہے ۔ ارشاد ہوا کہ کچھ کلمات اللہ نے سکھائے، جب ہی تو انہوں نے سیکھے۔ وہ نہ سکھاتا تو کیونکر سیکھتے؟ ”( تَلَّقٰی آدَمَ ) “آدم نے سیکھے۔”( مِنْ رَبِّه ) “، اپنے رب سے کچھ کلمات یعنی اُستاد نے ابھی نظر توجہ ہٹائی نہیں ہے۔ انہوں نے سیکھے اپنے اللہ سے ، اپنے معلم سے، اپنے مرکز فیض سے کچھ کلمات۔”( فَتَابَ عَلَیْهِ ) “، وہ کلمات سیکھے تو اللہ نے توبہ قبول کی۔

یعنی کلمات اپنی زبان پر جاری نہ رکتے تو وہ نتیجہ مرتب نہ ہوتا۔ یہ کلمات اُسی نے سکھائے، پھر یہ کلمات زبان پر جاری ہوئے تو اس نے توبہ قبول کی۔

( اِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْم ) “۔

”وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے“۔

ہے توبہ قبو ل کرنے والا تو اس نے بتائی یہ ترکیب۔ خود ہی ترکیب بتائی۔ اب وہ ترکیب کیا تھی؟ قرآن کو کافی کہنے والے وہ ترکیب بتائیں کہ کیا تھی؟

اور جب نہیں بتاسکے تو کہیں کہ نہیں بتاسکتے۔ پھر ہم بتائیں گے کہ وہ کلمات کیا تھے۔ تو اس مستدرک حاکم کی حدیث میں ہے جو معیارِ صحیحین پر پوری اترتی ہے کہ جناب وہ کلمات جو تھے، وہ یہ تھے کہ بارگاہِ الٰہی میں انہوں نے عرض کیا:

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍاَنْ تَغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ “۔

”اے میرے پروردگار! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں محمد کے حق کا واسطہ ، میری توبہ قبول فرما“۔

یہ الفاظ تھے جو جاری کئے۔ میں کہتا ہوں کہ ان الفاظ کو توبہ کا ذریعہ قبول کیوں قرار دیا؟ میں کہتا ہوں کہ جس کا واسطہ دلوانا تھا، اس کے درجہ کو نمایاں کرنے کیلئے۔ تو آدم ابوالبشر کے وقت سے سنت توسّل قائم ہوئی او رانہوں نے ان کے وسیلہ سے دعا کی۔

اب ایک بہت ہی نازک بات عرض کررہا ہوں جسے کوئی بہت ہی حد سے بڑھا ہوا سمجھ سکتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ براہِ راست خداہدایت نہیں کرسکتا، اپنے کمالِ ذات کی وجہ سے۔ لہٰذا رسول کی ضرورت ہوئی۔ حضور! کوئی کام براہِ راست ہم نہ کرسکیں، اس میں کسی سے ذریعہ طلب کرنا ہوتا ہے۔ ذریعہ کے معنی وسیلہ کے ہیں۔خالق نے ان کو اپنے اور ہمارے درمیان واسطہ بنایا۔ بغیر اس کے کام نہیں چلتاتھا۔ بس میں ایک دم کہہ دوں جو کہنا ہے کہ جب اللہ نے ان کو اپنے مطلب کا وسیلہ بنایاتوہم انہیں اپنے مطلب کا وسیلہ کیوں نہ بنائیں؟

بس ایک جملہ کہہ دوں کہ وہ اپنے کمال کی وجہ سے ہم تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ ہم اپنے نقص کی وجہ سے اُس تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔ لہٰذا اُسے بتقاضائے کمال وسیلہ کی ضرورت ہوئی اور ہمیں بتقاضائے نقص وسیلہ کی ضرورت ہے۔ اور پھر انہوں نے ہمیں دوسرے وسیلے بتائے۔ اگر دوسرے وسیلے نہ بتانا ہوتے تو کیوں کہتے :

اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ “۔

میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑتا ہوں، ایک کتاب اللہ اور ایک میری عترت جو میرے اہلِ بیت ہیں۔

مَااِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَالَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِیْ “۔

جب تک تم ان دونوں سے تمسک رکھو گے، کبھی گمراہ نہ ہوگے۔

وَاِنَّهُمَا لَنْ یَفْتَرِقَاحَتّٰی یَرِدَاعَلَیَّ الْحَوْض “۔

یہ کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔

میں کہتا ہوں کہ دنیا کے سامنے دو چیزیں رکھیں کہ یہ دو چیزیں چھوڑتا ہوں اور ان کیلئے کہاکہ ان سے تمسک رکھو۔ مگر اب میں کیا کہوں اُمت مسلمہ کے کردار کو کہ مقامِ ہدایت میں جیسے ایک دوسرے سے جدا نہ تھے ، اسی طرح مقامِ مظالم میں بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں رہے اور یہ مظالم کرنے کیلئے دنیا کی کوئی غیر قوم نہیں آئی۔ میں نے کہا تھا کہ انہی کے ہاتھوں قرآن بھی موردِ مظالم بنا اور اہل بیت بھی موردِ مظالم بنے۔ایک ظلم تو واقعی حقیقتاً دونوں پر ہے کہ جس میں پناہِ بخدا ہم بھی داخل ہیں۔ ایک تو قرآن پر ظلم یہ ہے کہ اس کو اپنی کتاب کہنے والے اس پر عمل نہ کریں تو اس ظلم میں کہیں ہم نہ شریک ہوں کہ ان کو اپنا امام کہنے والے ان کی تعلیمات پر عمل نہ کریں ۔ تو وہ اگر قرآن پر ظلم ہے تو یہ اہل بیت پر ظلم ہے۔ اس کے بعد جو ظاہری مظالم ہوتے ہیں، ان میں بھی قرآن اہل بیت کے ساتھ ہے اور اہل بیت قرآن کے ساتھ شریک ہیں۔

اب دو تین باتیں مسلّماتِ تاریخی ہیں کہ قرآن جلایا بھی گیا، نیت سے بحث نہیں۔ یہ بات مسلّم ہے کہ قرآن جلایا گیا۔ تو اب جو قرآن کے ساتھ تھے، اس میں خانہ سیدہ پر جمع شدہ لکڑیاں دیکھئے ، خواہ کربلا میں بلند ہوتے ہوئے شعلے دیکھئے ۔ ہاں اربابِ عزا! قرآن پر بھی تیر برسائے گئے ہیں۔ سلسلہ بنی اُمیہ کا ایک حکمران ولید ابن عبدالمالک۔ اس نے قرآن سے فال دیکھی اور فال میں یہ آیت نکلی:

( وَیْلٌ لِّکُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ) ۔

”وائے ہو ہر جبار سرکش کیلئے“۔

توبس قرآن پر غصہ آگیا۔ قرآن کو سامنے رکھ کر اپنے ہاتھ میں تیر کمان لے کر تیر چلائے گئے جس سے اوراقِ قرآن پارہ پارہ ہوکر منتشر ہوگئے۔ اس کے بعد کچھ اشعار کہے۔ یہ مسلمان صاحب اقتدار ہے جو ایک مقدس نام کے ساتھ حکومت کررہا ہے۔ پیغمبر خدا کی طرف نسبت دے کر حکومت کررہا ہے اور وہ یہ اشعار پڑھتا ہے جس میں خدا پر بھی طنز ہے اور قیامت پر بھی طنز ہے۔ سب کا انکار ان میں مضمر ہے۔ وہ قرآن سے مخاطب ہوکرکہتا ہے:

( اَتُوْعِدُ کُلَّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ فَهَا اَنَا ذَاکَ جَبَّارٌ عَنِیْدُ اِذَامَاجِئْتَ رَبَّکَ یَوْمَ حَشْرٍفَقُلْ یَارَبِّ مَزَّقَنِیْ الْوَلِیْدُ ) )

نام بھی اپنا درج ہے کہ سندرہے۔ تو دھمکایا کرتا ہے ہر جبار و سرکش کوتو لے یہ میں جبار وسرکش ہوں۔ جب اپنے پروردگار کے پاس حشر کے دن آنا تو کہہ دینا کہ مجھے ولید نے پارہ پارہ کیا تھا۔

دیدہ دلیری دیکھ رہیں مسلمان مجرم کی۔ تو معلوم ہوا کہ تیرباراں ہوا قرآن پر۔ اب میں کہتا ہوں کہ جو قرآن کے ساتھی تھے، ان کیلئے تیروں کو تلاش کرنا ہے۔ چاہے جنازئہ حسن پر تیروں کی بارش دیکھ لیجئے اور چاہے کربلا میں تیروں کو دیکھ لیجئے۔ مجھے مصائب میں آگے بڑھنا ہے ورنہ وہ تیر یاد دلاتا جو عاشور کے دن کے تھے۔ وہ سب آپ کے پیش نظر ہیں۔

اب تیسرا پہلو پیش کرتا ہوں کہ قرآن نیزوں پر بھی بلند کیا گیا اور ہر غیر جانبدار صاحب نظرمنصف مورخ سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا یہ ہنگامی ایک ترکیب تھی؟ وقتی جو اس وقت سوجھ گئی؟

جناب! پہلے سے منصوبہ بناہوا تھا ورنہ مسجد جامع دمشق کا وہ قرآن جس کو ایک آدمی اکیلا اٹھا نہیں سکتا تھا، اس کو میدانِ جنگ میں ساتھ لانے کی ضرورت کیا تھی؟ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے سے یہ روزِبد پیش نظر تھا کہ جب ہماری جنگ کی تمام ترکیبیں ختم ہوجائیں گی تو آخر میں قرآن سے کام لیں گے ور نہ اس کو ساتھ لینا خلافِ فطرت ہے۔کہاں شام اور کہاں میدانِ صفین جو عراق کی حدود میں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ پہلے سے طے شدہ منصوبہ تھا۔ اس کے لئے بڑا قرآن ساتھ لایا گیا تھا۔ تو اب میدانِ صفین کا ایک منظر ہے اور شایدمستقبل کا ایک منظر بھی بغیر میرے بیان کئے ہوئے آپ کے ذہن میں آجائے ۔ دھندلکا تھا ، اس وقت پوری روشنی نہیں ہوئی تھی۔ اس دن یقین تھا کہ آج میدان میں ہماری فوج نہیں رک سکتی ، شکست ہوگی۔ ایسا وقت کہ ابھی چیزیں صاف طور پر نظر بھی نہیں آرہی تھیں۔ پوری طرح صبح نہیں ہوئی تھی۔ اندھیرا تھا کہ اس اندھیرے میں یہ منظر نظر آیا کہ بہت سے قرآن مختلف قدوقامت کے نیزوں پر بلند ہیں اور سب سے آگے ایک قرآنِ اعظم جس کو ایک آدمی اٹھانہیں سکتا تھا، وہ جامع دمشق کا قرآن تھا۔ اُسے کئی آدمی مل کر اٹھائے ہوئے ہیں۔ وہ سب سے آگے ہے۔

میں کہتا ہوں کوئی منظر آپ کے سامنے آیا کہ کوفہ و دمشق کا راستہ ہے اور مختلف نیزوں پر ، میں تو یہی محسوس کرتا ہوں کہ مختلف قدو قامت کے قرآن ہیں۔ کوئی جوان کا سر ہے، کوئی نوجوان کا سر ہے اور کوئی بچے کا سر ہے۔مختلف قدوقامت کے قرآن نیزوں پر بلند ہیں ایک ایک طویل نیزہ پر قرآنِ اعظم وہ ہے جس کو سب سے آگے رکھا ہے۔ بالکل صفین کا مرقع ہے جو آج کھنچا ہوا ہے۔

اربابِ عزا!انہوں نے کوفہ کے بازاروں میں نیزے پر بھی ثابت کردیا اپنے نانا کے ارشاد کی سچائی کو کہ دیکھو ہم سے قرآن کبھی جدا نہیں ہوتا۔ سر اور گردن الگ الگ ہوگئے لیکن ہم سے قرآن الگ نہیں ہوا۔ اس کے گواہ ہیں صحابیِ رسول زید بن ارقم جنہوں نے اپنے بالا خانے پر سے جو سرِ راہ تھا، یہ سنا کہ قرآن مجید کی آواز آرہی ہے اور یہ آیت ہے:

( اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّ اَصْحَابَ الْکَهْفِ وَالرَّقِیْمِ کَانُوْامِنْ اٰیٰتِنا عَجَبًا ) ۔

تم سمجھتے ہو کہ اصحابِ کہف کا واقعہ کوئی عجیب ہے تو فوراً ان کی زبان پر آیا کہ نہیں، آپ کا واقعہ اس سے زیادہ عجیب ہے۔ تو یہ نیزہ پر سر ہے اور زبان پر تلاوتِ قرآن ہے۔ دیکھے دنیا کہ قرآن جدا نہیں ہوا۔ سروگردن علیحدہ علیحدہ ہوگئے ۔

اب میں کہتا ہوں کہ وہ سجدئہ آخر تھا جو عصر کو ہوا تھا اور یہ اس کے تعقیبات ہیں جو نیزے پر ادا ہورہے ہیں۔ بہرحال انہوں نے ثابت کردیا کہ قرآن ہم سے جدا نہیں ہوتا۔


دینِ اسلام ۱

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰهِ الْاِسْلَامْ ) ۔

یقینا دین حقیقی اللہ کے نزدیک بس اسلام ہے۔ دین کے متعلق جو مختلف سوالات پیدا ہوتے رہے ہیں، اُن میں سے ایک یہ چیز ہے کہ کہا جاتا ہے کہ دین ہماری آزادی کو سلب کرتا ہے۔ انسان آزاد پیدا ہوا ہے، اُسے آزاد رہنا چاہئے اور دین پابندیاں عائد کرتا ہے۔ اس لئے دین کو چھوڑ دینا چاہئے۔

میں عرض کرتا ہوں کہ آزای کی قدرومنزلت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن بس سوال یہ ہے کہ کیا ہر قسم کی آزادی اور ہر قید سے آزادی؟ میں جہاں تک غور کرتا ہوں، یہ مطلق آزادی تو اس وقت تک نصیب نہیں ہوسکتی جب تک انسان قید زندگی سے رِہا نہ ہو اور یہ کوئی شاعرانہ جملہ نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وجود خود پابندیوں کا متقاضی ہے اور جتنا وجود کا درجہ اونچا ہوگا، اتنا پابندیوں میں اضافہ ہوگا۔ ہمارے سامنے جو چیزیں ہیں، جہاں سے درجہ بندی شروع کی گئی ہے، سب سے نیچے جمادات مانے جاتے ہیں۔ اس سے اوپر نباتات ، اس کے اوپر حیوانات ، اس کے اوپر انسان۔ تو جمادات ، یہ گویا ادنیٰ درجہ ہے۔ ان کا کمال محدود ہے۔ بس اپنے سرمایہ وجود کو اکٹھا رکھتے ہیں۔اس میں آگے بڑھنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ تو اب ان کا کمال مختصرہے۔ تو ان کی پابندیاں بھی مختصر ہیں۔ بس ایک جگہ ہو جس پر ٹھہریں ۔ ایک فضا ہو، جس میں سمائیں۔ بس اس کے آگے ان کی ضرورتیں کچھ نہیں ہیں۔پتھر کبھی آپ سے پانی کے طلبگار نہیں ہوتے، آپ سے غذا نہیں مانگتے۔ سرمایہ کمال مختصر ہے تو پابندیاں بھی مختصر۔

اب اس کے بعد ایک درجہ اونچا ہوا، نباتا ت کی منزل آئی۔ تو اب اس اونچے درجے پر پہنچ کر کچھ آزادی نصیب ہوتی مگر نہیں۔ جو پابندی پتھروں پر تھی، وہ بھی قائم رہی ۔اس کیلئے بھی جگہ کی ضرورت رہی، اس کے لئے بھی فضا کی ضرورت اور مزید اپنے کمالِ نباتی کے قائم رکھنے کیلئے مزید پابندیاں عائد ہوگئیں۔ اب جناب جس پودے کی جو غذا ہو، وہ اس کو ملے، پانی ملے ۔ چاہے زراعت ہو، چاہے درخت ہو، اُسے پانی چاہئے، روشنی چاہئے، ہوا چاہئے۔ جب یہ سب باتیں ہوں ، تب وہ پودا یا کھیتی برقرار رہے گی۔اگر ان میں سے کوئی ایک ضرورت پوری نہ کی جائے، تو وہ فنا ہوجائے گی۔ اب یہیں فنا کے معنی سمجھ لیجئے کیونکہ مادہ، اہل مادہ کہتے ہیں کہ فنا کوئی چیز نہیں ہوتی۔ مادہ جتنا تھا، اتنا ہی رہتا ہے۔ اس میں نہ رتی بھر کمی ہوتی ہے، نہ رتی بھر زیادتی ہوتی ہے۔ حالانکہ معلوم ہوا کہ اب تحقیق بدل گئی ہے ۔ اب کہاجاتا ہے کہ ایک منزل ایسی ہوتی ہے کہ مادہ بھی لہروں کی شکل میں آکرفنا ہوجاتا ہے۔ مگر ابھی تک یہی کہاجاتا تھا کہ مادہ فنا نہیں ہوتا۔

تو اب یہ جو میں کہہ رہا ہوں کہ اگر پانی نہ دیا جائے، اگر ہوا نہ ہو، اگر فضا نہ ہو تو وہ پودا فنا ہوجائے گا، یہیں سمجھ لیجئے کہ اس فنا کے معنی کیا ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ خاک ہو کر مٹی میں مل جائے گا۔ وہ اس کا ارتقائی درجہ جو پودے کی حیثیت سے تھا، وہ برقرار نہیں رہے گااور اصل شے کی بقا اس کے اسی امتیازِ نوعی کی بقا سے ہے۔

اب جناب نباتات سے آگے بات بڑھی، منزلِ حیوانات آئی۔ اب دو درجہ ترقی ہوگئی تو اب کچھ آزادی نصیب ہو۔ جی نہیں۔ جو جمادات پر پابندی تھی، وہ بھی رہی۔ جو نباتات پر پابندی تھی، وہ بھی برقرار رہی، اسے بھی غذا کی ضرورت، اسے بھی غذا کی ضرورت۔ اسے بھی پانی کی ضرورت، اسے بھی ہوا کی ضرورت اور مزید برآن کمالِ حیوانی کے برقرار رکھنے کیلئے مزید پابندیاں عائد ہوگئیں۔ اب حیوانیت وابستہ ہے احساسات کے ساتھ۔ جتنے احساسات ہیں، ہر ایک کی کچھ شرائط ہیں۔ آنکھ ہے اور کا کام دیکھنا ہے۔ مگر شکل ہو، رنگ ہو اور نہ حد سے زیادہ قرب ہوا ور نہ حد سے زیادہ بُعد ہو۔ جب ایسا ہو تب آنکھ اپنا کام کرے۔ کانوں کا کام سننا۔ اس کیلئے بھی شرائط۔ آواز ہو،درمیان میں ایک فضا ہو کہ ہوا سفارت کا کام انجام دے کر صدا کو پردئہ گوش پر ٹکرائے۔ اگر فاصلہ اتنا کم ہو کہ ہوا کو تموّج کا موقع ہی نہ ملا تو سنائی نہیں دے گا۔ اگر اتنی دور ہوگئی کہ پہنچتے پہنچتے ہوا کی لہریں کمزور پڑ گئیں تو سنائی نہ دے گا۔ تو جو حاسّہ ہے، وہ اپنے ساتھ شرائط کی دنیا رکھتا ہے کہ اگر وہ ضروریات پوری نہ ہوں تو کمالِ حیوانی بروئے کار نہ آئے گا۔

پھر ایک بہت بڑی شرط ہے، وہ شرط یہ ہے کہ اگر زندگی قائم رکھنا ہے تو زندگی کے کام جاری رہنا چاہئیں۔ آپ کے ہاں شاید یہ نمونہ نہ ہو مگر پاس کے ملک میں کبھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایک شخص نے اپنا ہاتھ خشک کرلیا تو اپنے نقطہ نظر سے بہت بڑی عبادت کی۔ اپنا ایک ہاتھ خشک کرلیا۔ یہ ہاتھ خشک کیسے ہوگیا؟ جب ایک عرصہ تک اس ہاتھ سے کام نہ لیا گیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ کُل نے برکاتِ حیات کو سلب کرلیا۔

اب خون اپنے مرکز سے چلتا ہے، تمام جسم میں گردش کرتا ہے مگر یہاں آکر اپنا راستہ بدل دیتا ہے ۔ حرارتِ حیات تمام جسم میں پھیلتی ہے مگر اس جزو کو محروم کردیتی ہے۔ معلوم ہوا کہ اگر زندگی قائم رکھنا ہے تو زندگی کے کام جاری رکھئے۔ اب اسے چاہے آزادی کہئے ، چاہے پابندی کہئے۔ جن لوگوں کے ہاتھ کو ڈاکٹر باندھ دیتے ہیں کسی وجہ سے، وہ کہتے ہیں کہ انگلیوں کو ذرا ہلاتے رہو۔ گردش دیتے رہو۔ ظاہر میں تو بیکار یہ حرکت دے رہا ہے مگر معلوم ہوا کہ تعطل دشمنِ حیات ہے۔ تو ہم نے سنت کائنات یہ دیکھی کہ ہر ترقی کا قدم اپنے ساتھ کچھ پابندیاں لایا۔ آزادی مطلق کسی منزل پر حاصل نہیں ہوئی۔

اب حیوان سے بالاتر کون ہے؟ انسان۔ اور ماشاء اللہ لوگ تعلیم یافتہ ہیں۔ ہم تو انسان کو ایک الگ چیز ہی سمجھتے ہیں مگر وہ سات سمندر پار کا فلسفہ جو انسان کو اسی نسلِ حیوان کا ترقی یافتہ ایک نقطہ سمجھتا ہے، میں اس کو اپنی خالص اردو زبان میں یوں کہوں گا کہ کائنات کے جوڑ توڑ میں بس ایک جھول جو پیدا ہوا، وہ انسان تھا۔وہ نظریہ بھی جو ہمارے نزدیک قابل قبول ہے مگر وہ بھی انسان کو نقطہ ارتقاء مانتا ہے، نقطہ تنزّل نہیں مانتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ حیوان سے انسان کو بالاتر تو سبھی مانتے ہیں۔ اب جب انسان حیوان سے بالا تر ہے تو ہم نے دیکھا کہ ہر ترقی کا قدم اپنے ساتھ آزادی نہیں لایا بلکہ پابندی لایا۔

اب انسان کے درجہ پر پہنچ کرآزادی کا مطالبہ کامل کیوں ہوا ہے؟ اُمید یہی کرنا چاہئے کہ جو ترقیاں، جو پابندیاں پتھروں میں تھیں، وہ بھی برقرار رہیں گی یعنی انسان جگہ کا محتاج ، انسان بھی فضا کا محتاج۔ جو پابندیاں نباتات میں تھیں،وہ بھی برقرار رہیں گی۔ انسان بھی غذا کا محتاج، انسان بھی ہوا کا محتاج، انسان بھی روشنی کا محتاج۔ جو پابندیاں حیوان پر تھیں، وہ بھی برقرار رہیں گی۔ انسان بھی اپنی زندگی کی بقاء کیلئے ،احساسات کے قائم رکھنے کیلئے اسی طرح محتاجِ عمل ہے جس طرح حیوان محتاجِ عمل ہے۔وہ تمام پابندیاں جو اس کی آنکھ پر ہیں، کان پر ہیں،ناک پر ہیں، تمام احساسات پر ہیں، وہی پابندیاں سب اس پر بھی ہیں۔ تو جتنی پابندیاں پہلے تھیںِ وہ سب برقرار رہیں گی۔

اب اُمید یہ رکھنا چاہئے کہ کمالِ انسانی کی بقاء کیلئے کچھ مزید پابندیاں عائد ہوں گی کہ اگر اس کے تقاضے نہ پورے ہوں گے تو شاید بحیثیت جسم باقی رہے، شاید بحیثیت نشوونما باقی رہے، چاہے بحیثیت حوان باقی رہے مگر انسانیت کا شرف ختم ہوجائے گااور یاد رکھنا چاہئے کہ انہی پابندیوں کا، جو انسان پر اس کی انسانیت کی بقاء کیلئے عائد ہیں، اسی کا نام مذہب ہے۔ اب یہ کتنی غیر منطقی بات ہے کہ انسان ان پابندیوں کے خلاف احتجاج نہیں کرتا جو جسمانی حیثیت سے عائد تھیں۔

ارے اس میں احتجاج کرنا کیسا؟ پرانے زمانہ کے انسان کیلئے چھوٹا سا مکان کافی ہوجاتا تھا۔ اب ماشاء اللہ جتنا بڑا مکان چاہئے، وہ سب کو معلوم ہے۔ تو ان میں تو اور مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ جو پابندیاں بحیثیت نباتات عائد تھیں، اس پر احتجاج نہیں کرتا۔یہ کیا مجبوری ہے کہ دوپہر کو بھی کھائیں اور شام کو بھی کھائیں۔ کم سے کم ایک ہی وقت آزاد ہوکر دیکھ لیں۔مگر ماشاء اللہ مغربی تہذیب کے دلدادہ جانتے ہیں کہ پہلے کھانے کے دو وقت تھے، اب تو ماشاء اللہ پانچ وقت ہوگئے ہیں۔

تو جو نباتاتی حیثیت سے پابندیاں ہیں، اس پر احتجاج نہیں ہے، مزید اضافہ ہے۔جو حیونات کے لحاظ سے پابندیاں تھیں، اس پر کوئی بندش نہیں ہے۔ کوئی احتجاج نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ شادی بیاہ جو ہے، یہ ضرورتِ حیوانی کے پورا کرنے کی صورت ہے۔ یہ وہ ضرورت ہے جو حیوان اور انسان دونوں میں مشترک ہے۔ مگر ان باتوں پر جو حیوانات کیلئے ہیں، ان پر کوئی احتجاج نہیں ، جتنا احتجاج ہے وہ اس پر جو بحیثیت انسان پابندیاں عائد ہیںَ اس پر فریاد و واویلا ہے۔

میں کہتا ہوں کہ یہ انسان سابق کی پابندیوں سے آزاد نہیں ہوتا، اس میں اور اُلجھتا جاتا ہے۔ لیکن میرے سامنے ایسی روایات ہیں اور آپ نے بھی برابر مجالس کے فیض سے سنی ہوں گی کہ جو آخری خصوصیت کو، ضرورت کو یعنی انسانی تقاضے کو بحد کمال پورا کرتے ہیں ، وہ قبل کی پابندیوں سے بہت حد تک آزاد ہوجاتے ہیں۔ ہم جب تک آنکھ نہ کھولیں ، دیکھ نہیں سکتے۔مگر رسول کی حدیث ہے کہ میں خواب میں بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح بیداری میں دیکھتا ہوں۔ ہم سامنے کی چیز کو دیکھتے ہیں۔پس پشت کی چیز کو نہیں دیکھتے ۔ لیکن پیغمبر خدا کی فریقین میں متفق علیہ حدیث ہے کہ حضرت نے فرمایا: میں تمہیں پس پشت سے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جس طرح سامنے دیکھتا ہوں۔

تو معلوم ہوا کہ آخری تقاضے کو جو پورا کرے، وہ پھر قبل کی پابندیوں سے بہت حد تک آزاد ہوجاتا ہے۔ ہمارا جسم فضا میں معلق نہیں ہوسکتا لیکن جو اس ضرورت کو پورا کئے ہوئے ہیں، وہ فضائے ہوا میں سفر کرتے ہیں۔ وہ پانی کے اوپر سفر کرتے ہیں اور فضائے ہوا میں سفر کرکے کہاں تک جاتے ہیں، وہ تو آپ کو معلوم ہے۔

( دَنٰی فَتدلّٰی قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی ) ۔

اور وہ لوگ جو اس عزتِ انسانی کی بلندی کا اندازہ ہی نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں بشر ہوتے ہوئے کیونکر گئے؟میں کہتا ہوں کہ قرآن نے یہ کب کہا ہے کہ یہ گئے؟ قرآن تو کہہ رہا ہے کہ وہ لے گیا۔ وہی سائنسدان لوگ جن کی سمجھ میں مذہب نہیں آیا، انہوں نے ہی طرح طرح کے اعتراضات کے پہاڑ کھڑے کردئیے۔ سابق زمانہ کا فلسفہ ، اُس زمانہ میں سائنس بھی فلسفے کا جزو ہوتی تھی۔ تو اس وقت اعتراضات اور تھے، وہ بھی مجھے معلوم ہیں۔ اس وقت یہ اعتراضات تھے کہ کیونکر مانیں ۔ اس لئے کہ اگر مان لیں عالم بالا کی معراج تو فلک میں خرق و التیام لازم آئے گا۔ یعنی آسمان ایک دفعہ جانے سے پھٹے اور پھر دوبارہ آنے سے پھٹے ۔

تو کہتے ہیں کہ خرق و التیام فلک میں محال ہے، اس لئے معراج کیونکر ہوسکتی ہے؟ اب ماشاء اللہ تعلیم یافتہ افراد ہیں، میں کہتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں آسمان ہوگیا حد نظر کا نام۔تو اس حیثیت سے تو معراج کا راستہ صاف ہوگیا مگر اب اور طرح کے اعتراضات ہیں ۔ کہتے ہیں کہ اتنی دور پر درجہ حرارت اتنا ہوتا ہے ،اس میں کوئی ذی روح بسر نہیں کرسکتااور اتنی دور درجہ حرارت اتنا ہوتا ہے اور اتنی دور ہوا کا دباؤ یوں ہوتا ہے اور وہ آکسیجن ایسی ہوجاتی ہے، غرض چکر وہی رہا کہ کیونکر گئے؟

میں کہتا ہوں کہ قدیم سائنس اور جدید سائنس کے اعتراضات سے گھبرا کر ایک جماعت اسلام نے کہا کہ معراج روحانی تھی۔ ارے بھئی بخشو! جسم گیا ہی کب تھا؟ وہ تو روح گئی تھی۔ اب نہ آسمان پھٹے گا، نہ جڑے گا۔ نہ سانس لینے میں دشواری ہوگی، کچھ نہیں ہوگا۔اس لئے ایک طبقہ معراجِ روحانی کا قائل ہوگیا۔ مگر یہ طبقہ تو ماشاء اللہ علمائے اسلام کا ہے ۔ تو اس طبقے سے میں کہتا ہوں کہ آخر معراج کے ماننے کی ضرورت کیا ہے؟ جو آپ اس جھگڑے میں پڑتے ہیں۔ ضرور یہی ہے نا کہ قرآن میں ہے تو کیونکر نہ مانیں؟ ورنہ کون آپ کا گلا گھونٹ رہا ہے کہ مانئے۔ تو میں کہتا ہوں کہ جب مجبوری یہ ہے کہ چونکہ قرآن میں ہے، اس لئے ماننا ہے تو جو قرآن میں ہو، اُسے مانئے۔ اب دیکھئے کہ قرآن کیا کہہ رہا ہے:

( سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِه لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ ) ۔

پاک ہے وہ پروردگار جو لے گیا۔ کسے؟جو لے گیا اپنے بندے کو۔ اب بندہ بحالت حیات نام فقط روح کا ہوتا ہے تو معراج روحانی مانئے اور اگر بندہ روح و جسد کے مجموعے کا نام ہو تو معراج روحانی مان کر کام نہیں چلے گا۔ اب یہ کہ کیونکر گئے؟ وہ مسئلہ پہلے بھی تھا ، اب بھی ہے تو اس کیلئے میں ابھی کہا کہ قرآن کب کہہ رہا ہے کہ یہ گئے۔ قرآن کہہ رہا ہے:

( سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی ) “۔

پاک ہے وہ پروردگار جو لے گیا۔ اس میں اپنی اُردو زبان میں یوں کہوں گا کہ بشر ہوتے ہوئے یہ نہیں گئے، خدا ہوتے ہوئے وہ لے گیا۔

اور اس لئے یہ گئے ہوتے تو ان کی تعریف ہوتی کہ کتنا بڑا وہ بندہ ہے جو گیا۔ تعریف بھی ان کی نہیں ہورہی۔ وہ اپنی تعریف کررہا ہے کہ”( سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِه ) “، پاک ہے وہ پروردگار جو لے گ یا۔

بس اب میرا ایک مختصر سوال ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اللہ کے سب کاموں کو آپ نے سمجھا ہوکہ کیونکر ہوتے ہیں تو اسے بھی سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ جتنی بھی سائنس نے ترقی کی ہے، بس اب تک یہ معلوم کررہے ہیں کہ یہ ہے اور یہ ہوتا ہے اور یہ ایک بات انہیں بھی معلوم نہیں کہ کیوں ہے اور کیوں ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ جو روز کی باتیں ہیں، ہمیں یہ معلوم ہے کہ پانی سے پیا س بجھتی ہے، لیکن یہ پیاس کیوں لگتی ہے اور پانی سے کیوں بجھتی ہے، اسے نہ پیاسا جانتا ہے اور نہ سیراب۔مگر انسان کی کچھ طبیعت یہ ہے کہ جو بات روز مرہ سنتا ہے، اس میں غور نہیں کرتا۔ مگر جو کبھی کبھار سن لیتا ہے، تو لڑنے کیلئے تیار ہوتا ہے کہ یہ کیونکر آفتاب مشرق سے روز نکلتا ہے۔ کوئی صاحب نہیں سوچتے کہ کیونکر نکلا؟ ایک دفعہ سن لیا کہ رسول کی دعا سے اُن کے وصی کیلئے مغرب سے نکلا تھا تو لڑنے کیلئے تیار کہ یہ کیونکر میں کہتا ہوں جو روز کی بات ہے، وہ آپ بتادیجئے کہ کیونکر ہوتی ہے؟ تو ایک دفعہ کی بات میں بتادوں گا۔

تو بس ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں گا کہ حضور! یہ تو اپنا اپنا زاویہ نظر ہے ۔ مجھے حیرات ہے کہ یہاں کیونکر رہے اور جاکر پھر کیونکر ہو آئے؟آپ کو یہ حیرت ہے کہ وہاں کیونکر گئے؟ جس کا مرکز یہاں ہو، اُس کا وہاں جانا تعجب ہے اور جس کا مرکز وہاں ہو، اس کا تو یہاں رہنا تعجب ہے۔ غرض یہ کہ یہ آزادی کا تصور میں کہتا ہوں کہ آزادی بڑی اچھی چیز ہے ۔ کسی ایک دن تو آزاد ہوکر دکھائیے۔ میں سیاست کی دنیا کا آدمی نہیں ہوں، سیاسی زبان یہ ہے کہ اس وقت کا ذکر نہیں جب غلام تھے۔ اب تو ماشاء اللہ آزاد ہوگئے ہیں۔تو اب اس آزادی کے دور میں دیکھوں کہ آپ کتنے آزاد ہیں۔

حضور!اب تو بڑے راستوں کے اوپر خود کار روشنیاں ہوگئی ہیں لیکن ابھی تھوڑے عرصہ پہلے خودکار روشنیاں چوراہوں کیلئے ایجاد نہیں ہوئی تھیں اور اب بھی میں سمجھتا ہوں کہ بعض راستے ایسے ہوں گے کہ جہاں یہ نہ ہوں۔تو جہاں یہ نہیں ہوتے اور جب تک یہ نہیں تھے، اس وقت تک چوراہوں کے اوپر چبوترے بنے ہوئے تھے۔ اس چبوترے پر ایک ستون ہوتا تھا۔ اس ستون کے پاس ایک آدمی کھڑا ہوتا تھا اور وہ آنے جانے والوں کو اشارے کرتا رہتا تھا۔ کبھی یوں ہاتھ کردیا، کبھی یوں ہاتھ کردیا۔ اس کا مطلب سب سمجھتے تھے کہ آگے بڑھ جاؤ، رُک جاؤ۔ وہ سب اشارے کرتا رہتا تھا۔ اب بھی ہمارے ہاں بعض شہروں میں ، یہاں بھی بعض ترقی یافتہ جو شہرہیں، وہاں ہوگا۔ یہاں بھی بعض محلوں میں شاید ۔ تو میں کہتا ہوں کہ اس کی کیا ضرورت ہے؟ ارے صاحب! اپنے ملک کی سڑک اور آزادی سے نہیں طے کرسکتے۔

ارے صاحب! ہمارا ملک آزادہوگیا۔ بحمد للہ! ہم بھی آزاد ہیں تو ایک سڑک تو آزادی سے چلنے دیجئے۔ مگر نہیں جناب، کیوں آزاد نہیں دی جاسکتی؟ اس لئے کہ سڑک ہے ایک، رہرو بہت ہیں اور وہ راستہ چلنے والے ہر ایک کو اپنی فکر ہے، اپنی دھن ہے۔ ہر ایک سمجھتا ہے کہ مجھ ہی کو سب سے پہلے پہنچنا ہے اور ذرائع مختلف ہیں۔ کوئی موٹر نشین ہے، کوئی تانگہ نشین ہے، کوئی سائیکل نشین ہے، کوئی بیچارہ اپنے پیروں پر ہی چل رہا ہے۔ طاقتیں بھی مختلف ہیں۔ کوئی بوڑھا ہے، کوئی بچہ ہے، کوئی جوان ہے۔ تو اگر ان کو آزادی سے چلنے کیلئے چھوڑ دیا جائے تو موٹر نشین پیادوں کو پامال کردیں گے، کچل دیں گے اور جوان ضعیف العمر افراد کو دھکے دیں گے۔ خواتین کی بے حرمتی ہوگی۔ بچے پیروں کے نیچے آجائیں گے۔ حالانکہ یہ ایک سڑک ہے ۔ اس کا وہ سرا بھی آنکھوں کے سامنے ہے، یہ سرا بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ راستہ چلنے والے بھی

آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اس کے باوجود ایک سڑک آزادی سے نہیں طے ہوتی۔قانون ہے ہر ایک جو آئے، سواریاں اگر ہوں، مجھے معلوم ہے کہیں بائیں جانب کا قانون ہوتا ہے، کہیں دائیں جانب کا۔ وہ جدھر بھی ہے، پابندی ہے۔ وہ دائیں بائیں سے کوئی فرق نہیں ہوگا۔

تو وہ قانون مقرر ہیں اور اس قانون کی پابندی کے بغیر وہ سڑک طے نہیں ہوسکتی۔ اب میں کہتا ہوں کہ ایک سڑک جس کا وہ سرا بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، یہ سرا بھی آنکھوں کے سامنے اور وہ بغیر قانون طے نہیں ہوتی تو یہ عظیم شاہراہِ حیات جس پر چلنے والے افراد نہیں، اقوام، اس کیلئے مطالبہ ہے کہ یہ بغیر قانون کے طے ہوجائے؟

اور یہیں ایک پہلوپر غور کیجئے کہ اچھا صاحب! کوئی کہے کہ قانون تو ٹھیک ہے، قانون ہونا چاہئے مگر وہ قانون لکھ کر اس کھمبے پر چسپاں کردیا جاتا۔ آنے جانے والے اسے پڑھ لیتے۔ یہ سپاہی کھڑے کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

معلوم ہوتا ہے کہ ایک سڑک بھی فقط تحریری قانون سے طے نہیں ہوتی۔ جب تک عمل کروانے والے نہ ہوں تو ایک سڑک کیلئے قانون کافی نہ ہو اور عظیم شاہراہِ حیات کے قانون کیلئے کتاب کافی ہوجائے؟ اور اب یہیں ایک اور پہلو پر غور کرلیجئے کہ کبھی ایسا ہوا ہو کہ اُس سپاہی نے کہا ہو یوں اور آپ نے پوچھا ہو کیوں؟ آجکل تو ماشاء اللہ نئی روشنی والے حضرات کہتے ہیں کوئی بات، ہم سمجھے بغیر نہیں مانتے تو وہ جب کہے یوں تو آپ کہئے کیوں؟

مجھے معلوم ہے کہ آپ نے کبھی نہیں پوچھا اور دل چاہے تو کبھی پوچھ کے دیکھ لیجئے کہ وہ بتاتا ہے یا نہیں؟ اگر وہ بتانے لگے گا تو اتنی دیر میں موٹر آجائے گی او روہ کچل دے گی اور وہ اپنے منصب سے ہٹادیا جائے گا۔ بس ایک بات کہتا ہوں کہ یہ دیکھ لیجئے کہ جو اس کھمبے کے پاس کھڑا ہے، وہ اس حکومت کا نمائندہ ہے یانہیں؟صاف الفاظ میں کہوں کہ یہ سمجھ لیجئے کہ کوئی وردی پہن کر خود سے یا راستہ چلنے والوں کے اجماع سے کوئی کھڑا تو نہیں ہوگیا ہے۔ اگر پتہ چلے کہ ایساکوئی کھڑا ہوگیا ہے تو ہرگز تسلیم نہ کیجئے بلکہ رپورٹ کرکے خود اُسے گرفتار کروادیجئے۔ لیکن جب سمجھ میں آجائے کہ اُدھر کا نمائندہ ہے، اس کیلئے جو علامتیں ہوتی ہوں، نمبردیکھ لیجئے، تمغے جو خاص ہوتے ہیں، وہ دیکھ لیجئے۔جب پتہ چل جائے تو اب آپ کا کام عمل کرنا ہے۔ اب آپ کا کام سمجھنا نہیں ہے۔ سمجھنا یہاں تک ہے کہ یہ ہے صحیح آدمی او رجب صحیح آدمی سمجھ لیا !

اسی لئے دین کے معاملہ میں انبیاء و مرسلین کے صرف دعویٰ پر ماننے کی پابندی نہیں ہے، ماننے کا حکم نہیں ہے ، جو علامات ہوں سچائی کی، معجزے کی ضرورت اسی لئے ہوئی کہ دیکھ لیجئے کہ نشان کیا ہیں۔ دیکھ لیجئے کہ اس کے دعویٰ پر حقانیت کی دلیلیں کیا ہیں اور جب ثابت ہوجائے ان دلائل سے کہ یہ بے شک ادھر کا نمائندہ ہے، ادھر کا رہنما ہے، تو اب اس کے احکام میں یہ بحثیں کہ صبح کی دو رکعت کیوں ہیں اور مغرب کی تین رکعتیں کیوں ہیں اور عشاء کی چار رکعات کیوں ہیں؟ یہ درحقیقت خود خلافِ عقل بات ہے۔بے شک بے سمجھے نہ مانئے ۔

اب وہ چیز ہے جو گزشتہ مجالس میں اس موضوع کے تحت میں عرض کرچکا ہوں کہ اسی لئے دعوائے رسالت چالیس برس کی عمر میں کیا۔ لیکن قوم کو اپنی سچائی کا تجربہ دعوائے رسالت سے پہلے کروایا تاکہ جب دعوائے رسالت ہو تو بلا دلیل نہ ہو۔ چالیس برس کا کردار، اس کی سچائی کیلئے ثبوت ہو اور وہ چالیس برس میں کیا اثر تھا کہ لوگ نام کی بجائے صادق کہنے لگے۔ نام کی بجائے امین کہنے لگے ، حالانکہ میرے نزدیک اخلاقِ رسالت کا ہر پہلو بے مثال تھا۔ جتنی صفاتِ حمیدہ ہیں، آپ سے بڑھ کر حلیم بھی کوئی نہ تھا، جتنی اوصافِ حمیدہ ہیں، سب میں

آپ بے مثال تھے۔ مگر یہ سب وصف رہے ، لقب نہیں بنے۔ صابر تھے مگر نام کی بجائے صابر نہیں کہے جانے لگے۔ حلیم تھے مگر نام کی بجائے حلیم کے لفظ سے یاد نہیں کیا جانے لگا۔ لیکن دو صفات اتنی نمایاں ہوئیں کہ انہوں نے نام کی جگہ حاصل کرلی۔ لقب بن گئیں، ایک صادق اور ایک امین۔

یہ ان دو صفات کی کیا خصوصیت ہے، میری سمجھ میں تو بس یہی آتا ہے کہ یاد رکھئے کہ ان دو صفات کو دعویٰ کی صحت میں دخل ہے۔ جو صادق ہو، وہ جھوٹا دعویٰ کیوں کرنے لگا؟ اور جو امین ہو ، وہ پیغام کے پہنچنانے میں ٹال مٹول کیوں کرنے لگا؟ تو صادق کہنے کے معنی یہ ہیں کہ جو دعویٰ آپ کیجئے گا، وہ سچا ہے اور امین کہنے کے معنی یہ ہیں کہ جو پیغام آپ پہنچائیں گے، وہ صحیح ہے۔

اب جب آپ نے فرمایا کہ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے لشکر آرہا ہے تو مانو گے یا نہیں؟ حد نظر کے سامنے جتنا مجمع تھا، اُس نے کہا کہ کیوں نہ مانیں گے کہ اس زبان سے سوائے سچ کے ہم نے کچھ نہیں سنا۔ اب اس کے بعد پیغام پہنچایا تو ظاہر ہے کہ اس وقت تو نہیں مانا اور نہ سبھی مسلم ہوجاتے مگر وہ خود ان کا جملہ کہ کیوں نہیں مانیں گے ، وہ ضمیر کے اندر نشتر بن کر چبھتا تو رہے گا۔ اس وقت یہ تھا کہ کیوں نہیں مانیں گے اور اب اندر سے کوئی کہہ رہا ہے کیوں نہیں مانتے ؟

اب ایک پہلو کی طرف توجہ دلاؤں کہ جب نہیں مانا تو کیا کیا کہاانہوں نے؟ قرآن مجید نے سب بتا دیا ہے کہ کیا کیا کہا؟شاعر کہا، کاہن کہا اور سب سے زیادہ سخت بات یہ کہ مجنوں کہا۔ اب ایک پہلو پر توجہ دلاتا ہوں کہ کم بخت وہ کہنے والے ہمیں نہیں معلوم مگر قرآن نے ان تمام گستاخیوں کو محفوظ کردیا۔مجھے راستے میں کوئی گالی دے تو میں آکر بیان نہیں کروں گا کہ مجمعِ عام میں مجھے فلاں نے یہ گالی دی ہے۔ مگر قرآن ان کی ان سب غلط باتوں کو محفوظ کررہا ہے کہ کیا کہا۔ یہ کہا، یہ کہا۔

میں کہتا ہوں کہ یہ قرآن کیوں محفوظ کررہا ہے؟ جو میری سمجھ میں آیا، وہ عرض کرتا ہوں۔ یاد رکھئے کہ یہ سب جو وہ کہہ رہے تھے، یہ ظلم ہی تو تھا، ایک معلمِ عقل کو دیوانہ کہہ رہے تھے۔ ظلم ہی تو تھا ۔ ایک سنجیدہ انسان کو شاعر کہہ رہے تھے، ظلم ہی تو تھا۔تو قرآن نے ان تمام الفاظ کو محفوظ کرکے یہ اصول قائم کردیا کہ مظالم کے ذکر سے مظلوموں کی توہین نہیں ہوتی۔ چونکہ ہم پر زمانہ عزا میں طرح طرح کے اعتراضات کئے جاتے ہیں، روتے ہم ہیں ۔ دل دوسروں کا دکھتا ہے۔ ماتم ہم کرتے ہیں،دل دوسروں کا دکھتا ہے۔ تو جتنے منطق و فلسفے کے اوزار ہیں، وہ سب کہیں نہیں آتے، اسی غمِ حسین کے سامنے وہ تمام لائے جاتے ہیں۔ تو انہی میں سے ایک یہ ہے کہ یہ سب ہوا تھا، جانے دو کہ ہوا تھا۔

میں کہتا ہوں کہ جانے دو۔یعنی آپ محفوظ رہیں، ارے جانے دو، ذکر کرنے سے ،یہ تو ان کی شان کے خلاف ہے۔ (معاذاللہ) ان کی ہستی ہو، طوق پہنایا گیا ہو، بیڑیاں پہنائی گئی ہوں۔ یہ تو اعتراض کا ڈھب ہے۔ کبھی ہمدرد بن کر دشمنی کی جاتی ہے تو یہ کہا جاتا ہے۔ تو میں کہتا ہوں کہ وہ سب ظلم تھا تو ظاہر ہے کہ ظلم کی یاد سے ظالموں کی توہین ہوتی ہے۔مظلوموں کی توہین نہیں ہوتی۔طرح طرح کی باتیں ہیں۔ ان سے عرض کرتا ہوں، مصائب اسی میں آجائیں گے۔ کہتے ہیں کہ زندئہ جاوید ہیں وہ شہید۔ وہ مردہ ہیں کہیں؟ لہٰذا انہیں کیوں روتے ہو؟

میں کہتا ہوں کہ متفق علیہ کتابوں میں جو روایات ہیں، انہیں دیکھو کہ حسین  پیدا ہوئے ہیں ، رسول کی گود میں لاکر دئیے گئے ہیں اور پیغمبر خدا کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔ ہم سے بعد میں پوچھنا، رسول سے پوچھ لو کہ زندہ کو کیوں روتے ہیں؟ ارے یہ زندگی شہداء کی تو عالم معنی کی زندگی ہے، وہ تو اس وقت جیتی جاگتی شکل سے سانس لیتی ہوئی زندگی کے ساتھ نانا کی گود میں موجود تھے اور رسول گریہ فرمارہے تھے۔تو اب تو تمہاری سمجھ میں آنا چاہئے کہ مرنے پر گریہ نہیں ہوتا، مصائب پر گریہ ہوتا ہے۔ اگر رسول کو اُس زندگی میں رونے کا حق تھا تو ہمیں اِس زندگی میں رونے کا حق ہے۔


دینِ اسلام ۲

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰهِ الْاِسْلَامْ ) ۔

میں نے کل یہ عرض کیا تھا کہ اصل دین کچھ حقیقتوں کا نام ہے جنہیں جانا اور مانا جاتا ہے۔ حقیقتوں میں فائدے کا سوال ہی نہیں۔ حقیقت اس لئے مانی جاتی ہے کہ حقیقت ہونا متقاضی ہے کہ اُسے مانا جائے۔ اب اس کے بعد یہ کہ کیا فائدہ ؟ تو اس کے معنی صرف یہ ہوسکتے ہیں کہ پھر اس پر سوچنے ہی سے کیا فائدہ؟یعنی ان چیزوں کو کہ جنہیں دین پیش کرتا ہے، سوچیں ہی کیوں کہ کچھ سمجھ میں آئے۔

تو میں کہتا ہوں کہ سوچنے کا ڈرکس چیز کا ہے؟ گھبراکیوں رہے ہیں؟ کیا اس لئے کہ یہ اندیشہ ہے کہ اگر سوچیں تو سمجھ میں نہ آجائے کہ یہ حق ہے۔ تو بس ادھریہ اندیشہ ذہن میں پیدا ہوا ،اُدھر اب سوچئے یا نہ سوچئے، حجت آپ پر تمام ہوگئی۔ اب یہ نہ سوچنا خود جرم ہے۔ لہٰذا نہ سوچنے سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ سوچ لیجئے تو بہتر ہے کہ سوچ لینے میں تو یہ امکان ہے کہ سمجھ میں یہی آئے کہ کچھ نہیں ہے اور اگر اب میں نہیں سمجھ سکتا کہ دوسرے حضرات مجھ سے اس جملہ میں متفق ہوں گے یا نہیں مگر میں چونکہ اپنے اللہ کو عادل جانتا ہوں، اس لئے میں کہتا ہوں اور اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ اگر صدقِ دل سے سوچنے پر ذہن کی کوتاہی سے واقعی یہی سمجھ میں آئے کہ کچھ نہیں ہے تو ہمارا خداسزا نہیں دے گا جبکہ دیوانے کو اس نے بری کردیا۔

دیوانہ کچھ مانتا ہے؟ کچھ بھی نہیں مانتا۔ مگر اُسے کچھ سزا نہیں ۔ تو اگر قصورِ عقل سے واقعی اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا،علمِ الٰہی میں یہ کوتاہی کا مرتکب نہ ہوا۔ اُس کے معیارِ نگاہ میں اس نے خود اختیاری ، کوئی کمی نہیں کی ہے۔ جوکچھ کوتاہی ہے، وہ غیر ارادی طور پر ، تو پھر اس کو سزا دینا عدلِ الٰہی کے خلاف ہے۔ لہٰذا اب تو عقل کا تقاضا سوچنا ہی ہے کہ نہ سوچنے میں سزا یقینی ہے اور سوچنے میں کچھ امکان ہے بری ہوجانے کا۔ لہٰذا سوچ ہی لیجئے او رپوری کوشش کر لیجئے تو بہتر ہے۔

اس کے بعد ماشاء اللہ مجالس میں نوجوان اور جوان کثرت سے ہوتے ہیں۔ایک بڑی خوشگوار تبدیلی ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی ہوئی ہے کہ ایک دَور ایسا آیا تھا کہ مجلس کے شرکاء میں سن رسیدہ افرادزیادہ ہوتے تھے، بوڑھے لوگ زیادہ ہوتے تھے۔ نوجوانوں اور جوانوں کو دوسرے مراسمِ عزا سے زیادہ دلچسپی ہوتی تھی،مثلاً سینہ زنی، نوحہ خوانی اور اس طرح کی باتیں۔ مگر مجالس میں اور خصوصاً علماء کا بیان، جس میں نہ کوئی نغمہ ہو نہ کوئی لَے ہو، تو یہ بوڑھے بنظر ثواب مجلسوں میں زیادہ تر شریک ہوتے تھے اور دوسرے افراد بھی آتے تھے تو دور دور بیٹھ جاتے تھے اور اس انتظار میں کہ بس ختم ہو اور ہمارے مشغلہ کا وقت آئے۔ لہٰذا اگر اتفاقِ وقت سے یہ منبر کے قریب ہوگئے تو پھر مجلس ناکام ہوجائے گی کیونکہ وہ توجہ سے سنیں گے ہی نہیں۔ انہیں تو جلدی ہوگی ۔ تو یہ تھا ۔ مگر اب مجھے وہاں بھی اور یہاں بھی یہ انقلاب آنکھوں سے بحمدللہ نظر آرہا ہے کہ مجمع میں ماشاء اللہ نوجوان اور جوان اور تعلیم یافتہ افراد کثرت سے ہوتے ہیں۔ اور اب میں کہتا ہوں کہ اب اگر ہم ان کے کام کی باتیں نہ کریں تو روزِ قیامت ہم سے بازپرس ہوگی۔

تو اب اس طبقہ کیلئے میں عرض کرتا ہوں اور انہیں توجہ دلاتا ہوں ۔ تو غور فرمائیے کہ یہ تصور، ان حقیقتوں پر جو مذہب کی ہیں کہ ہم سوچیں کیوں؟ یہ کہاں تک خاص اس دَور کے تقاضے کے مطابق ہے؟ ہماری یونیورسٹیوں کے موضوع دیکھئے جن پر ریسرچ ہوتی ہے ، جن پر سندیں ملتی ہیں، جن پر کامیابی کا دارومدار ہوتا ہے۔ فلاں سمندر کی گہرائی کتنی ہے؟ جس میں ہمیں کبھی نہیں اُترنا ہے۔یہ ہمارے امتحانوں کے سوالات ہوتے ہیں۔ فلاں پہاڑ کی بلندی کتنی ہے؟ جس پر ہمیں کبھی نہیں چڑھناہے۔ملک روم میں اتنے ہزار برس قبل تہذیب کیا تھی؟ جبکہ نہ وہ برس اب واپس آنے والا ہے، نہ اس تہذیب سے ہمارا واسطہ کبھی پڑنے والا ہے۔ اہرامِ مصر سے متعلق یہ تحقیق کرلیجئے کہ وہاں کے پتھر کہاں کہاں سے آئے تھے اور اتنی اونچائی پر کس طرح پہنچائے گئے تھے؟

جس نے کسی نئی بات کو معلوم کرلیا تو وہ بہت بڑے محقق اور بہت بڑے انعام کے مستحق ہوگئے۔ یہ ہیں ہمارے علوم کے موضوعات۔ اس میں کبھی کوئی نہیں سوچتا کہ اس سے کیا فائدہ ہے؟ اور اب یہ ملاحظہ کیجئے کہ اس پہاڑ کی بلندی کتنی ہے کہ جس پر ہمیں چڑھنا نہیں ہے، اس دریا کی گہرائی کتنی ہے جس میں ہمیں اُترنا نہیں ، اُس بر اعظم کی پہنائی کتنی ہے جسے ہمیں کبھی طے نہیں کرنا۔ یہ سب تو گویا کارآمد علوم ہیں۔ہم یہ سوچیں کہ ہمارا خالق کون ہے تو یہ دقیانوسی سی بات ہوگئی اور کہا جائے کہ اس کے جاننے سے کیا فائدہ؟ اہرامِ مصر کا بنانے والا کون ؟ فرعون تھا۔ وہ آپ کا علمی مسئلہ ہے اور اس کائنات کا خالق کون ہے؟ یہ آپ کے نزدیک بیکار بات ہے۔ اُس ملک کی پیداوار کیا کیا ہے؟ جہاں ہمیں نہیں جانا ہے۔بظاہر اسباب مگر وہ سوال ہے کہ وہاں کیا کیا چیزیں پیدا ہوتی ہیں؟ وہ ہمارے علم کا ایک مسئلہ ہے لیکن خود ہمارا انجامِ کار کیا ہوگا، ہمیں آئندہ کہاں جانا ہے اور وہاں کی کیا ضروریات ہیں؟ یہ ہم کہیں تو دنیا کہے کہ بیکار بات ہے۔

تو یہ تو وہی بات ہوگی کہ خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد۔اب یہاں ذرا تبدیلی کردوں کہ جو چاہے آپ کی عقلِ کرشمہ ساز کرے۔ تو اب وہ سوال شروع کررہا ہوں کہ دین ایک ہوتا تو مان بھی لیتے لیکن یہ اتنے دین ہیں ،اس جھمیلے میں کون پڑے؟ تو میں عرض کرتا ہوں کہ اصل میں دین تو ایک ہی ہے۔ وہ آیت ہی یہی ہے:

( اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰهِ الْاِسْلَامْ ) ۔

میرے نزدیک دین تو ایک ہی ہے۔ جب میرے اللہ کے نزدیک ایک ہی ہے تو دین تو اصل میں ایک ہی ہے۔ بنامِ دین بہت سے ہیں۔اب جو نام اس کا پرانا لے لیجئے ،مذہب مسلک ، طریقے چاہے نیا نام رکھ لیجئے ، ازم، تو بنام دین بہت سے چل رہے ہیں ۔ اب اس کی وجہ سے آپ پریشان ہیں کہ اتنے دین ہیں تو خواہ مخواہ اس جھگڑے میں کون پڑے۔ اس کے لئے مجھے کچھ زیادہ عقلی بحث نہیں کرنا ہے۔ صرف آپ کی فطرت، آپ کی عادات ، آپ کے دستور کو میں پیش کروں گا کہ جو صاحب بھی کہہ رہے ہیں ، اگر ان کا اصول یہ ہو کہ جب بھی راستہ میں چوراہہ پڑے تو وہ گھر واپس آجایا کریں ، پھر آگے نہ جائیں کہ ایک راستہ ہوتا تو چلے بھی جاتے۔ اب یہ اتنے ہیں تو کیا کریں، جاکر گھر ہی واپس آجائیں۔ کہیں جانا ہو، سٹیشن جائیں، ادھر اُدھر پلیٹ فارم پر دو گاڑیاں کھڑی ہوں تو فوراً سٹیشن سے واپس آجائیں کہ ایک گاڑی ہوتی تو چلے بھی جاتے۔ اب یہ دو گاڑیاں کھڑی ہیں تو کیا کریں جاکر؟ کوئی مقدمہ عدالت میں ہو۔ کہئے شہر میں ایک وکیل ہوتا تو کر بھی لیتے، یہ اتنے وکیل ہیں تو کون اس جھمیلے میں پڑے ، بلا سے ہار جائیں مگر اس جھگڑے میں نہیں پڑیں گے۔ کوئی بیمار ہو تو کہئے کہ ایک ڈاکٹر ہوتا تو علاج کر بھی لیتے ، اِتنے ڈاکٹر ہیں اور پھر اتنے ڈاکٹر ہی نہیں ہیںِ اتنے طریقے ہیں علاج کے تو اس جھگڑے میں کون پڑے۔ لہٰذا مرجائیں ، علاج نہ کریں گے اور یہی اختلاف کی چیز نہیں ہے۔میں کہتا ہوں کہ ضروریاتِ حیات ایک ہی غذا دنیا میں ہوتی تو کھا بھی لیتے، اب اتنی قسم کی غذائیں ہیں اور پھر جب کبھی مہمان ہوں تو مصیبت ہے تو اب کچھ بھی نہ کھائیں گے۔ اس جھگڑے میں کون پڑے کہ کیا کھائیں اور پھر غذاؤں میں وہ چاہے آپ کے ملک میں نہ ہو، آپ کے ہاں بھی عادتوں میں تو ہوگا ہی فرق لیکن ہمارے پاس کے ملک کو ہی لے لیجئے ، ایک وقت میں توجزو ہی تھا ایک دوسرے کا ۔ یہ تو اب سیاسی کرتبوں نے حد بندی کردی ہے تو جناب وہ غذامیں فقط غذاؤں کا فرق نہیں ہے، طریقوں کا بھی فرق ہے۔ کوئی سبزی خور ، کوئی گوشت خور۔

تو اب ایک غذا سب کھاتے تو خیر کھا بھی لیتے، اب جب کوئی سبزی کھارہا ہے ، کوئی گوشت کھا رہا ہے، تو ہم اچھے ہیں کہ ہوا ہی کھائیں گے۔ اب کچھ بھی نہیں کھائیں گے۔ لباس ایک ہی طرح کا ہوتا تو پہن بھی لیتے۔ وہ جناب مصیبت ہے کوئی۔ وہ تنگ موری والا پہنتا ہے، کوئی ڈھیلی شلوار پہنتا ہے، کوئی کچھ پہنتا ہے۔ لہٰذا کون اس جھمیلے میں پھنسے۔ تو اگر کوئی اپنے تمام نظامِ حیات میں اس کا پابند ہو تو میں اُسے کتنا ہی غیر معتدل ذہن والا سمجھوں مگر مذہب میں بھی معاف کردوں گا کہ بھئی اس کا طریقہ ہی یہی ہے۔ یہ غیر متوازن انسان ہے۔ تو اب یہ سوچ کر کہ مذہب اتنے ہیں، میں کیا کروں۔اس نے سب کو چھوڑ دیا ہے۔ تو اس بیچارے نے تو لباس بھی چھوڑ دیا ہے۔ اس بیچارے نے تو کھانا بھی چھوڑ دیا ہے۔ اور وہ رہے ہی گا کیوں جو میں اُس پر فتویٰ لگاؤں ، وہ تو چند ہی دن میں ختم ہوجائے گاکیونکہ تمام ضروریاتِ حیات اس نے چھوڑ دئیے، اس لئے کہ وہ ایک طریقہ نہیں، بہت سے طریقے ہیں۔

تو معلوم ہوا کہ یہ کوئی بھی عقل کے مطابق نہیں سمجھتا۔جب عقل کے مطابق نہیں سمجھتا تو کرتا کیا ہے؟ جہاں صرف عادتوں کا فرق ہے، وہاں فقط اپنے ذوق کو دیکھتا ہے۔ ارے بہت سے کھانے ہیں، ہوا کریں، میں دیکھوں کہ مجھے کیا پسند ہے؟ جہاں مسلک کا فرق ہے، وہاں تو بہرحال اپنے ذہن سے سمجھنے کی کوشش کرے گا کہ سبزی کھانا اچھا ہے یا گوشت کھانا بہتر ہے۔گوشت خوری پر جو جو اعتراضات ہیں، انہیں جانچے گا کہ یہ اعتراضات درست ہیں یا نہیں۔ وہاں سٹیشن پر جائے گا، دو گاڑیاں کھڑی ہیں تو جو واقفانِ راہ ہیں، اُن سے پوچھے گا۔ جو ریلوے کے کارگزار ہیں ان سے دریافت کرے گا۔ان سے پوچھنے پر اگر غلطی ہوجائے تو قسمت کی بات ہے ۔ پھر یہ موردِ الزام نہ بنے گا۔ لیکن اگر پوچھا ہی نہ ہو، اندھادھند سوار ہوگیا یا بے پوچھے گھر واپس آگیاتو ہر صاحب عقل اُسے دیوانہ سمجھے گا۔ مریض ہے تو تحقیق کرے لوگوں سے جنہوں نے علاج کئے ہیں کہ کون ڈاکٹر ایسا ہے کہ جس کے علاج سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

بہرحال کچھ نہ کچھ ہر شعبہ میں تحقیق کرے گا تو پھر سب جگہ یہی اصول ہے تو یہ دین بہت سے ہیں تو اس کی وجہ سے وہ دین حق کے اختیار کرنے کی ذمہ داری سے تو نہیں بچے گا۔ لہٰذا اس کا فریضہ یہ ہے کہ بہت سے دین ہیں تو اس میں تحقیق کرے۔ اللہ نے عقل اسی لئے دی ہے ۔ وہ سوچنا اسی کی خاطر ہے۔ اگر دین بہت سے نہ ہوتے تو بھی پھر آگے سوچنے کی ضرورت نہ ہوتی جیسے شروع میں اصلِ ضرورت دین

کیلئے سوچنے کی ضرورت، ویسے ہی اب انتخابِ دین کیلئے سوچنے کی ضرورت اور عقل سوچنے کی خاطر دی ہے۔ اب عقل جن افراد کی طرف بتائے کہ ان سے پوچھو تو پتہ چلے گا ، ان افراد کی طرف رجوع کرنا ، وہ عقل کے فیصلہ سے ہے، مثلاً کوئی بیمار ہوا اور عقل نے کہا کہ کسی حکیم کا علاج کرو ، ڈاکٹر کا علاج کرو۔ اب ڈاکٹر کے پاس گیا۔ ڈاکٹر نے نسخہ لکھا تو اس کے پاس عقل ہی کے کہنے سے تو آیا تھا۔ اب اس کے نسخے میں چون چرا کرنا بے عقلی ہوگی۔ ویسے عقل اگر کسی رہنما کے ہاتھ میں ہاتھ دے دے کہ یہ سچا رہنما ہے، اس کے پیچھے چلو تو اب اس رہنما کی ہدایات میں ہر منزل پر عقل سے کام لینا، یہ خود عقل کے تقاضے کے خلاف ہے۔ تحقیق اتنی ضروری چیز ہے کہ اصولِ دین میں تقلید حرام ہے یعنی دین کو اس لئے اختیار کرنا کہ ہم اسی مذہب والوں کے ہاں پیدا ہوئے ہیں،یہ اللہ کے ہاں بری الذمہ نہیں بنائے گا۔ دین کو اس لئے اختیار کرنا کہ ہمارے ماں باپ نے ہمیں یہی بتایا ہے، یہ دیندار نہیں بنائے گا۔ دین کے معاملہ میں خود سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ حق ہے ، تحقیق واجب ہے، تقلید حرام ہے اصولِ دین میں۔

اسلام نے یہ نہیں کہا کہ قرآن کو مانتے کیوں نہیں؟ اس نے شکایت یہ کی کہ :

( اَفَلایَتَدَبِّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا ) ۔

ارے یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ ہاں وہ دوسرے مذاہب ہیں ۔ مجھے معلوم ہے جنہوں نے اپنے پیروؤں سے کہا ہے کہ خبردار! غور نہ کرنا، خبردار! عقل سے کام نہ لینا۔ مجھے یہ جملے یاد ہیں ایک رہنمائے مذہب کے، بنامِ مذہب جو تحریکیں چلی ہیں کہ اندھے بنو تو میرا جلوہ دیکھو، بہرے بنو تو میری آواز سنو۔ تو یہ کوئی کہے اسلام کو تو شکایت یہ ہے کہ آنکھیں ہیں اور یہ دیکھتے نہیں، کان ہیں اور یہ سنتے نہیں، عقل ہے اور یہ غور نہیں کرتے۔

( اَفَلایَتَدَبِّرُوْنَ الْقُرْآنَ ) ۔

یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ کیا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں اور دلوں پر کیا مطلب؟ یہ وہ دل نہیں ہے جو ڈاکٹری میں فیل ہوجاتا ہے۔ قرآنی اصطلاح میں دل ذریعہ شعور کا نام ہے۔ ذریعہ تعقل کا نام ہے۔ تو وہ ان کے پاس طاقتیں ہیں سمجھنے کی اور پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے، سوچتے نہیں ہیں اور اسلام کی راہ میں تقلید آباؤ اجداد سنگ گراں بنی ہوئی تھی۔ وہ لوگ یہی عذر کرتے تھے، کہتے تھے:

(( وَجَدْنَاآبَاءَ نَاعَلٰی اُمِّةٍ وَاَنَاعَلٰی آثَارِهِمْ مُهْتَدُوْنَ ) ۔

ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستہ پر چلتے دیکھا ہے، لہٰذا ہم بھی اسی راستہ پر چلے جائیں گے“۔

وہ یہی عذر پیش کرتے تھے ۔ اس کے جواب میں قرآن نے کیا کہا ہے:

( اَوَلَوکَانَ آباوهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَيْئًاوَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَ ) ۔

گویا خود ان کے خوابیدہ ضمیر کو بیدار کرکے یہ سوال کیا ہے کہ کیا اپنے بزرگوں کے آباؤ اجداد کے راستے پر چلے جاؤ گے ، چاہے انہوں نے خود عقل سے کام نہ لیا ہو؟ مطلب یہ کہ آباؤ اجداد کا کہنا ضمانت نہیں ہے، مطابق عقل ہونے کی۔

ہوسکتا ہے کہ اللہ نے ان کو عقل دی ہو او رانہوں نے سوچا نہ ہو۔ لہٰذا تم کو خود کس لئے عقل دی ہے ، تم کو خود سوچنا چاہئے کہ تمہارے آباؤ اجداد صحیح راستے پر تھے یا غلط راستے پر تھے اور چونکہ دعوتِ دین تحقیق کی متقاضی ہے، لہٰذا قرآن مجید نے اپنے ماننے والوں کیلئے اپنی جماعت کیلئے یہ نہیں کہا کہ اِدھر اُدھر کی صدائیں نہ سنو۔ یہ جنہیں کمزوری محسوس ہوتی ہے، وہ ہدایت کرتے ہیں کہ دوسرے کے مجمع میں نہ جاؤ، دوسروں کی باتیں نہ سنو۔

قرآن مجید کی آیت پڑھ رہا ہوں،مدح کررہا ہے صاحبانِ ایمان کی:

( اَلَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَه )

اہل ایمان کی شان یہ ہے کہ ہر ایک کی بات کو توجہ سے سنتے ہیں۔”( یَسْمَعُوْنَ ) “کے معنی ہیں سنتے ہیں اور ”( یَسْتَمِعُوْنَ ) “کے معنی ہیں توجہ سے سنتے ہیں۔( اَلَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ ) ، وہ ہر ا یک کی بات کو توجہ سے سنتے ہیں۔ پھراس میں جو بہتر ہوتا ہے، اُسے اختیار کرتے ہیں۔

تو حضورِ والا!دین آ پ سے اس کا متقاضی نہیں ہے کہ بے سمجھے مان لیجئے، اس لئے کہ راستے الگ الگ ہیں۔ بنامِ دین اسی لئے تحقیق واجب ہے، اسی لئے تقلید حرام ہے، اسی لئے سوچنے اور سمجھنے کی طاقتوں کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے اور انبیاء و مرسلین آئے ہیں اسی لئے ، وہ شریعت میں تو احکام بتانے کیلئے آئے ہیں اور اصولِ دین میں عقل کے چھپے ہوئے فیصلوں کو سامنے لانے کیلئے آئے ہیں۔ چھپے ہوئے کیا مطلب؟ یعنی عقل کے وہ بے لوث فیصلے جس پر روایات کی خاکستر جم گئی ہے، جس پر تقلید آباؤ اجدادکا انبار لگ گیا ہے، اس کو اُبھار کر سامنے لانے کیلئے۔

ایک جملہ میں اس حقیقت کو حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے ظاہر فرمایا ہے۔ بڑا بلیغ جملہ ہے۔انبیاء مرسلین کا مقصد بعثت کیا ہوتا ہے؟ حضرت نے اُسے نہج البلاغہ میں ارشاد فرمایا ہے:

لِیَصِیْرُوْاَدْفَائِنَ الْعَقُوْلِ “۔

دفینہ کون ہوتا ہے؟ جو اوپر سے نہیں دکھائی دیتا۔ اس پر مٹی کے انبار ہوتے ہیں۔ لیکن جب کھودا جاتا ہے تو برآمد ہوتا ہے۔ تو یہی الفاظ امیرالمومنین نے اپنے اس معیارِ بلاغت پر جو تحت کلام الخالق اور فوق کلام المخلوق ہے، اس کو پیش فرمایا ہے۔ارشاد فرماتے ہیں کہ انبیاء و مرسلین اس لئے آئے ہیں کہ دنیا کیلئے عقل کے دفینوں کو برآمد کریں۔ یہاں نہج البلاغہ کا ایک جملہ میں نے پڑھا ہے اور میں نے عرض کیا کہ تحت کلامِ الخالق اور فوق کلامِ المخلوق ،یہاں پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا ”جنابِ سید ھبة الدین شہرستانی“ ان کا قیام کاظمین میں تھا اور وہ بہرحال علومِ دنیا میں بھی عالم کا درجہ رکھتے تھے۔مگر اس کے علاوہ انہوں نے جدید ریاضی اور جدید فلسفہ پر معلومات حاصل فرما کر ایک کتاب ”وَالَهَيْئَةُ وَالْاِسْلامُ “لکھ ی جس کا ترجمہ مولام محمد ہارون صاحب مرحوم نے اس دَور میں البدر التمام کیا تھا اور جو آپ ہی کے ہاں اب اس وقت کے لحاظ سے آپ ہی کے ہاں یعنی پنجا ب ہی میں البرہان سے شائع ہوئی تھی۔ البدرالتمام۔ تو وہ بڑے جامع العلوم و فنون آدمی تھے اور حکومت عراق میں وزیر معارف بھی رہے تھے۔ اب چونکہ وزیر معارف تھے، تو جو مستشرقین آتے تھے باہر سے، وہ ان سے ملاقات کیلئے آیا کرتے تھے۔ تو ایک بڑا مستشرق آیا۔ انہوں نے یہ واقعہ مجھ سے بیان فرمایا تھاکہ ایک مستشرق آیا اور وہ ان کی ملاقات کو آیا۔ عراق و ایران میں جو کوئی آتا ہے، تو اس کو دید کہتے ہیں ، پھر جاتے ہیں تو بازدید اُسے کہاجاتا ہے۔

وہاں اصول یہ ہے کہ جو مسافر ہو، اُس کی دید کو لوگ آئیں اور وہ بازدید کے لئے جائے:

اَلْقَادِمُ یُزَارُوَلَایَزُوْرُ “ ۔

جو کہیں وار دہوا ہو، اس کے پاس لوگ آئے پہلے۔ وہ پہلے نہیں جائے گا۔ مگر آپ کو معلوم ہے کہ انگریزی تہذیب یہ ہے کہ جو آتا ہے، وہی دید کرے اور پھر اس کی بازدید ہو۔ غرض وہ اپنے طریقہ پر پہلے آیا او ریہ بازدید کیلئے اس کے ہاں تشریف لے گئے۔ تو اس نے کہا کہ میرا کتب خانہ چل کر دیکھئے۔ عیسائی مستشرق تھا۔ انہوں نے جاکے اس کے کتب خانہ دیکھتے دیکھتے دیکھا کہ ایک جگہ بہت جلی حروف میں ، سنہری حروف کے ساتھ نہج البلاغہ لکھا ہوا ہے۔ انہوں نے اس سے کہا کہ یہ بھی آپ کے ہاں ہے؟ نہج البلاغہ بھی ہے؟ خوش ہوکر، اُسے جیسے جوش آگیا، اُس نے کہا: جی ہاں، یہ میرے ہاں نہ ہوتی ؟

اس کے بعد اُس نے یہ کہا کہ یہ تو ایسے دَور میں پیدا ہوئے تھے کہ جب لوگ ان کی بات سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تھے۔ اگر اس دَور میں ہوتے تو مسجد کوفہ میں خطبہ پڑھتے ہوتے تو:

کَاَنَّ یَمُوْدُالْمَسْجِدَ بِشَبْقَاتٍ “۔

شبقیہ کہتے ہیں ہیٹ کو، انگریزی ٹوپی ، تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پھر زیر منبر یہ عمامے نہ ہوتے، ہیٹ ہی ہیٹ ہوتے۔ یعنی دنیا بھر کے پروفیسر ، تمام دنیا کے اساتذہ ، علماء ، وہ سب ان کے زیر منبر ہوتے ۔ فرماتے تھے کہ اس پر تو میں خوش ہوا ۔ اس نے تعریف کی، مجھ میں بالیدگی پیدا ہوئی۔ مگر اب اس نے ایک بات ایسی کہہ دی جو مجھ کو بہت بار ہوگئی اور اب مجھ پر ذمہ داری ہوگئی اس پر کچھ کہنے کی۔ اُس نے کہا کہ یہ آپ لوگ مسلمان جو تھے، آپ لوگوں نے قرآن مجید کو بطورِ معجزہ پیش کیا۔ قرآن میں ہے:

( یٰاَ یُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ ) ۔

تم پر روزہ فرض ہے، تمہارے لئے قصاص کا قانون ہے تو یہ سب اس میں ہے تو اسے آپ نے بطور معجزہ پیش کیا ہے۔ اگر

نہج البلاغہ کو آپ بطور معجزہ پیش کرتے تو دنیا مان لیتی۔ تمام دنیائے علم جدید ، تمام دنیائے تمدن اس کو مان لیتی۔ انہوں نے کہا۔ اب وہ میری بالیدگی ختم ہوگئی۔ اس سے اسلام پر ضرب ہوگئی۔ میں نے ذہن میں سوچا کہ اب اس سے کیا کہوں؟ اس ظالم نے قرآن مجید میں سے تو

( ٰ اَ یُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ) منتخب ک یا، نہج البلاغہ کو اس کے بعد زبانی اس نے ،خطبہ اشباح ایک بڑا معرکة الآرا خطبہ ہے، اس کی کئی سطریں زبانی سنا دیں، تو وہ کہتے تھے کہ اس نے قرآن مجید میں سے تو( یٰاَ یُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ ) منتخب کیا اور نہج البلاغہ میں سے اس نے خطبہ اشباح پیش کیا۔ اب میں اس سے کیا کہوں؟ وہ تو بہت طویل گفتگو کا میدان ہوجائے گا ۔ تو اب میں گویا میدان میں کترا گیا۔میں نے کچھ اور گفتگو شروع کردی۔ اس کے بعد پھر برسرمطلب آکر میں نے پوچھا،جن کی اتنی تعریف کی ہے، وہ آپ کے نزدیک صاحب عقل تو تھے۔ کچھ اب اُسے ناگوار ہوا اور اب اُس نے اور جوش و خروش کے ساتھ کلماتِ حمدوثناء۔ یہ کیا سوال کیا؟ عجیب؟ صاحب عقل؟ ارے وہ تو ایسے تھے ، ایسے تھے کہ انہوں نے ہی قرآن کو معجزہ مانا ہے۔ وہ کہنے لگا ، اس وقت اس کا کوئی جواب میرے پاس نہیں ہے۔اس کو نہج البلاغہ پوری یاد تھی تو وہ خطبے بھی یاد ہوں گے جہاں قرآن مجید کی حضرت نے اپنے اُسی جوش وخروش کے ساتھ تعریف و توصیف فرمائی ہے۔

وہ سب بھی اُسے یاد تھا تو انکار کیسے کرتا! اُس نے کہا کہ اب یہ بات تو سمجھ میں نہیں آتی۔ اب اس پر پھر غور کروں گا۔ اب وہ عمر بھر غور ہی کرتا رہے گا۔ غرض یہ کہ اصولِ دین بے سمجھے ماننا اُس کا مطالبہ نہیں ہے۔ صرف اس لئے کہ ہم ایسے خاندان میں پیدا ہوئے ہیں، یہ کوئی حجت نہیں ہے، خود سمجھنا چاہئے ۔ ہاں! اپنے معیارِ عقل کے مطابق جس زبان میں دلیل اپنے کو مطمئن کرسکے، چاہے وہ بحث دوسرے سے نہ کرسکے۔ بہت سی باتیں آدمی خود محسوس کرتا ہے لیکن دوسرے کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے اور خصوصاً بحث تو ایک فن ہوگیا ہے۔بڑے بڑے صاحبانِ علم بحث میں بند ہوجاتے ہیں، حالانکہ وہ سمجھے ہوئے ہیں مذہب کو مگر دوسرے کو سمجھا نہیں سکتے۔ تو وہ تو ایک فن ہے مگر اپنی جگہ پر اس کے پاس کوئی دلیل ہونی چاہئے ۔

چنانچہ ہمارے پاس ہمارے آئمہ ہی نے مختلف انداز سے دلائل پیش کر کے اس حقیقت کو بتایا ہے کہ دلیل کی نوعیتیں کتنی مختلف ہوتی ہیں۔ اب یہاں تو میں نے کہا کہ خود سمجھنے والا اپنے معیارِ فکر کے مطابق وہ دلیل اپنے لئے کوئی نہ کوئی رکھتا ہو، لیکن اس کا انداز ان کیلئے ظاہر ہے ۔ دلیل کی ضرورت نہیں چونکہ دلیل وہاں ہوتی ہے جہاں پردہ ہو۔ ان کیلئے دلیل و مدلول سب بے پردہ تھا۔ لہٰذا ان کا علم دلیل سے نہیں ہوتا تھا مگر دلیل سے وہ اس علم کوحاصل کرنا سکھا دیتے تھے۔ تو جن کو سکھاتے تھے، ان کا تو پیمانہ نظر مختلف ہے۔ ان کی توسطحِ ذہن الگ ہے۔ لہٰذا جتنے طریقے کے سائل جس جس معیار کے آئے، ویسا ویسا راستہ انہوں نے اختیار کیا۔

اب ایک آیا عام صحرائی عرب، عربوں کی زندگی آپ جانتے ہیں ، سفر اور وہ بھی پشت شتر کے اوپر۔ اب ایک صحرائی عرب امام کے پاس آیا اور امام سے پوچھتا ہے کہ مجھ کو اللہ کاوجود سمجھا دیجئے۔ تو اب اس کے سامنے گہری باتیں پیش کی جائیں تو وہ بیچارہ بجائے سمجھنے کے سمجھنے سے توبہ کرلے گا۔ وہ پھر اُسی نقطہ پر آجائے گا کہ کون اس جھمیلے میں پڑے۔ لہٰذا اب وہ صحرائی عرب ہے اور اس کی زندگی اسی میں گزر رہی ہے۔ تو جو اس کی زندگی ہے، اسی کے ماحول سے دلیل۔ ان میں بعض علوم بھی تھے جو اب نہیں ہیں، حالانکہ دَورِ جاہلیت تھا مگر بعض اُس وقت کے علوم اِ س وقت اِ س نقطہ پر نہیں مثلاً فن قیافہ، آج کل لوگ قیافہ سمجھتے ہیں ناک نقشہ سے کچھ سمجھنا۔؟ذہن ہے یا کند ذہن ہے، اب ایک ہوگیا ہے۔ ہاتھ دیکھنا، اس سے حکم لگائے جاتے ہیں ، وہاں قیافہ۔نقش قدم کو دیکھ کر یہ بتادیتے تھے کہ یہ کس قبیلہ کا آدمی ہے، کس عمر کا آدمی ہے، کس سن کا آدمی ہے۔ جو کسی شے سے ناواقف ہو، وہ پھر سمجھ ہی نہیں سکتا کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے؟ مگر یہ ہوتا تھا اور ہماری تاریخ اسلام میں ہوا ہے۔ شب ہجرت جب پیغمبر خدا تشریف لے گئے ہیں تو انہوں نے قیافہ شناسوں کی خدمات حاصل کی تھیں۔ اب اس پورے واقعہ کو تو عرض نہیں کرتا، کچھ عرض کرچکا ہوں، کسی مجلس میں کہ رات بھر تو پھنسے رہے اُلجھن میں ، سمجھتے رہے کہ رسول ہیں۔ اب صبح کو جب راز کھلا تو چلے تعاقب کیلئے کہ جلدی چلو، معلوم نہیں کہ کدھر گئے ہیں؟ تو قیافہ شناسوں کی خدمات حاصل کیں ۔ ان کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور انہوں نے

خانہ پیغمبر خدا سے نقش قدم دیکھنا شرو ع کئے اور صحیح رہنمائی کرتے رہے کہ یہاں تک گئے، یہاں تک گئے ، اِدھر گئے، اُدھر گئے۔ بالکل صحیح لے جاکر ایک منزل پر انہوں نے کہہ دیا کہ اب رسول تنہا نہیں ہیں، کوئی ہمراہ بھی ہے۔

مجھے اس وقت اس پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا ہے اور میری عادت بھی نہیں ہے کہ ایسی باتوں پر تبصرہ کروں۔ تو جناب! وہ دیکھتے ہوئے نقش قدم پر چلے گئے غار کے دروازے تک اور بالکل صحیح حکم لگا دیا کہ یہاں سے آگے نہیں گئے ہیں۔ دیکھا آپ نے ان کے فن کا کمال! تو یہ تھی ان کی زندگی!

تو جنابِ والا! یہ ہے ان کا ماحول، یہ ہیں ان کے علوم ۔ تو اب امام اس سے دلیل وجودِ خدا کی فرماتے ہیں، ارشاد فرماتے ہیں:

اَلْبِعْرَةُ تَدُلُّ عَلَی الْبَعِیْرِوَالرُّوْثَةُ تَدُلُّ عَلَی الْحَمِیْرِوَآثَارُالْقَدَمِ تَدُلُّ عَلَی الْمَسِیْرِ “۔

فرماتے ہیں : ارے بھئی جس قسم کا جانور گیا ہو، جانور تو تمہارے سامنے نہیں ہے لیکن اگر راستے میں مینگنیاں کسی جانور کی مل جاتی ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ وہ جانور گیا ہے۔ ”آثَارُالْقَدَمِ تَدُلُّ عَلَی الْمَسِیْرِ “، نقش قدم خبر دیتا ہے کہ ادھر سے کون گیا ہے۔ اب اس کو میں علمی زبان میں کہتا ہوں، تم روزِ اثر سے موثر کا پتہ لگایا کرتے ہو مگر یہ اثر اور موثر کہاجاتا تو وہ نہ سمجھتا۔ فرمایاکہ وہ مینگنیاں اس جانور کا پتہ دیتی ہیں۔ وہ نقش قدم راستہ چلنے والے کا پتہ دیتے ہیں۔ تو یہ اتنا بڑا آسمان، اتنی بڑی زمین اپنے بنانے والے کا پتہ کیوں نہیں دیں گے۔ سطحی ذہن کا آدمی تھا، اس کو اس طرح سمجھایا اور ہمارے دوسرے آئمہ نے اسی سطح زمین کی مثال دے کر فرمایا:

عَلَیْکُمْ بِدِیْنِ الْعَجَائِز “۔

تمہارا فریضہ اتنا ہی دین ہے جتنا بوڑھوں کا بھی ہوسکتا ہے۔ بڑھیا عورتیں جاہل، ظاہر ہے جن کے مرد ایسے جاہل ہوں، ان کی خواتین کیسی ہوں گی۔ مگر وہ بھی اپنے لئے دلیل رکھتی ہیں۔ ایک بڑھیا سے پوچھا گیا کہ اللہ کو تونے کیسے پہچانا؟ اُس نے کہا: اپنے اس چرخہ سے۔ میں جب تک اس چرخے کو چلاتی ہوں، چلتا ہے ، جب ہاتھ روک دیتی ہوں تو رُک جاتا ہے۔ تو ایک چرخہ بغیر کسی کے چلائے نہیں چلتا، اتنا بڑا کارخانہ بغیر کسی کے چلائے کیسے چل سکتا ہے؟

ذہین طالب علم یا اُستاد جس سے پوچھو: صاحب! ہمیں اتنی فرصت کہاں کہ ہم اتنی دلیلوں میں پڑیں۔ تو میں تو کہوں گاکیا آپ اس چرخہ چلانے والی بڑھیا سے بھی گئے گزرے ہیں کہ وہ تو اپنے ہی ماحول کی دلیل سے سمجھ لے اور آپ جس ماحول کو دیکھتے ہیں، اُس سے کچھ سمجھ ہی نہیں سکتے۔ ایک وقت تھا کہ فلسفی قائل ہوتے تھے اللہ کے اور سائنس دان منکر ہوتے تھے اور یہ دَور ایسا ہوگیا ہے کہ بات اُلٹ گئی ہے۔سائنس دان قائل ہوتے جاتے ہیں، کتابیں لکھ رہے ہیں وجودِ خدا پر۔

ایک صاحب تھے شمس آباد کے، بہت صاحب مطالعہ تھے۔ نواب محمد عباس صاحب سالک ، انہوں نے مجھے پروفیسر جوگ کی کتاب دی تھی،ثبوتِ خدا کی، کوئی پانچ سو صفحات کی اور وہ سائنس دان آدمی ہے۔ تو ایک وقت میں فلسفی مقر تھے جو بے دیکھے کُلّیوں پر حکم لگاتے تھے ۔ یہ مشاہدہ پرست تھے۔ سائنس دان تو یہ غیب کے منکر تھے اور اب یہ مشاہدہ پرست جو ہیں، وہ غیب پر ایمان لانے لگے ہیں۔وہ آنکھیں بند کرکے سوچنے والے ، وہ منکر ہورہے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ توفیق ربانی کے پلڑے ہیں۔ فلسفی جو تھے، وہ سائنس دانوں کے انکار سے مرعوب ہوگئے تو منکر ہونے لگے یعنی انہوں نے تحقیق کی بجائے تقلید اختیار کرلی اور سائنس دانوں کو سائنس نے تحقیق پرمائل کردیا۔

اپنے مشاہدہ کی ناکامی کا احساس انہیں کسی کارساز کے تصور کی طرف لے گیا۔ تو حضور! اس بڑھیا کا معیارِ نظر جو تھا، اس کے پاس بھی دلیل تھی۔ اب ایک فلسفی آگیا ، اُس نے کہا کہ اللہ کا ثبوت بتائیے کہ کیا ہے؟ اب اس سے اس کی زبان میں بات کرنا ہے۔اس کے معیارِ نظر کے مطابق بڑے دعویٰ سے آیا تھا کہ میں آج انہیں قائل کردوں گا۔ اب جو آیا، پوچھا کہ بتائیے وجودِ خدا کی دلیل ؟ آپ نے فرمایا : بس ایک سوال ہے میرا، اس کا جواب دے دو، اس کے بعد گفتگو آگے بڑھے گی کہ تم موجود ہو یا معدوم؟ یعنی ہو یا نہیں ہو؟ اگر ہو تو بتادو کہ خود تم نے اپنے کو بنایا یا کسی اور نے ؟ اگر تم کہوکہ خود میں نے تو بتادیا کہ جب تم نے اپنے کو بنایا تو اس بناتے وقت تم تھے یا نہیں تھے؟ بس یہ سوالات جو اس پر وارد ہوئے تو کچھ دیر سوچ میں رہا اور بغیر کچھ کہے، اُٹھ کے چلاگیا۔

حضرت کے اصحاب میں سے، جو ان کو اپنے ساتھ لائے تھے، انہوں نے اس سے پوچھا کہ ارے بھئی کہاں؟ تم نے کوئی بات ہی نہیں کی؟ اس نے کہا کہ کیا بتاؤں ، وہ سوالات ہی ایسے تھے ۔ ہو، نہیں ہو،اگر” نہیں ہو “ کہوں تو غلط ہے کہ ہوں۔ اب انہوں نے کہا کہ کوئی اور ہے جس نے تم کو بنایا۔ اب اگر کہہ دوں کہ ہے تو ان کا مطلب حاصل ہوگیا۔ تو جس کے پوچھنے کو آیا تھا، وہ ثابت ہوگیا۔اور اگر کہوں کہ میں نے خود ، تو پھر دوسرا سوال جو میرے سر پر ہے کہ جب تم نے اپنے آپ کو بنایا ہے تو تم تھے یا نہیں تھے۔ تو میں یہاں جو بھی کہتا، غلط ہوتا۔ یہ کہوں کہ تھا ، میں موجود پہلے بھی تھا تو پھر بعد میں بنایا۔ کہئے قطعی ناممکن ہے۔ اگر میں کہوں کہ نہیں تھا،تو معدوم عطائے وجود کیونکر ہوسکتا ہے؟ یہ بات غلط ہوتی۔ لہٰذا اب ماننے کے سوا چارہ ہی نہیں تھا تو اب بات کرکے کیا کرتا۔

دیکھا آپ نے! اب یہاں نہ نقش قدم ہے، نہ جانور ہے۔ اب آجکل تو علم النفس یونیورسٹیوں کا مستقل موضوع ہوگیا ہے۔ مگر یاد رکھئے کہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، علم کو نیا نہیں ہوتا، وہ داخلِ فطرت ہوتا ہے، اگر کوئی علم ہے، جس وقت سے کتابیں لکھی جانے لگی ہیں، کتابیں مدوّن ہوجاتی ہیں، علم ہوجاتا ہے۔ ورنہ اصولِ علم ہمیشہ سے ہوتے ہیں۔

اب ایک ماہر نفسیات آیا۔ اُس نے پوچھا کہ اللہ کے وجود کی کیا دلیل ہے؟ آپ نے فرمایا: بس میرے کچھ سوالوں کا جواب دے دو۔ کبھی سمندر کا سفر تم نے کیا ہے؟ اُس نے کہا کہ جی ہاں، سفر کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ دریا میں طوفان آیا ہو؟ کہا : جی ہاں، ایسا بھی ہوا۔ کہا: کبھی ایسا بھی ہوا کہ کشتی شکستہ ہوگئی ہو، تختے الگ ہوگئے ہوں؟ اُس نے کہا: جی ہاں، ایک دفعہ تو ایسا بھی ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ پھر تختے پر تم بیٹھے ہوئے چلے، اب نہ کوئی ساحل ہے، نہ سامنے کوئی دوسری کشتی ہے، کوئی نہیں ہے سامنے؟ کہا: جی ہاں، ایسا بھی ہوا ہے۔آپ نے فرمایا: بس سچ سچ بتاؤ، اس وقت بھی دل کہتا تھا کہ اب بھی بچ سکتا ہوں؟ اُس نے کہا: ہاں، کچھ تو تھی اُمید کی کرن۔ آپ نے فرمایا:بس! جو اس وقت بھی سہارا دیتا ہے، اسی کو خدا کہتے ہیں۔

بس ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں، آپ نے دیکھا امام۔ آپ نے دیکھا رہنما۔ایک سوال کیا ، ہر ایک نے جیسا اُس کا ذہن ہے، اس کے معیارِ ذہن کے مطابق جواب۔میں کہتا ہوں کہ بس یہی بات قرآن سے نہیں ہوسکتی۔ بتادیا کہ دلیل مختلف ذہن کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ تو میں کہتا ہوں کہ اب اگر کچھ شخصیات ہوں جو وجودِ باری کی دلیل ہیں تو ان شخصیات کا ذکر عبادت نہ ہوگا؟ ارے اب ایک شخصیت جو بحمدللہ باوجودِ اختلافِ فرقہ تمام مسلمانوں میں سر تسلیم خم کروانے کیلئے کافی ہے۔ وہ ہستی، اس کیلئے قرآن کی مثال پیش کردوں ، سورئہ جمعہ،ماشاء اللہ یہاں نمازِ جمعہ مختلف مقامات پر ہوتی ہوگی اور حضرات شرکت کرتے ہوں گے۔ سورئہ جمعہ میں تقریباً دوسری آیت ہے:

( هُوَالَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُ مِّیِیِیْنَ رَسُوْلًا مِنْهُمْ ) ۔

ذرا آیت کا محل دیکھئے۔ سورہ شروع ہوا ہے اللہ کے تعارف سے۔

( یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ مَلِکِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِالْحَکِیْم )

اللہ کی تسبیح کرتی ہے ہر شے جو آسمان پر ہے اور زمین پر ہے۔ کون؟ جو سلطنت کا حقیقی مالک، کون اللہ؟ جو تمام نقائص و عیوب سے بری،کون الٰہ؟ جو عزت و حکمت کا مالک۔

اب اس سلسلہ میں ارشاد ہورہا ہے کہ وہ وہ ہے جس نے اُمِّیِین میں ایسا رسول بھیجا ، اس کے معنی یہ ہیں کہ رسول کا تعارف کروایا جارہا ہے کہ اللہ وہ ہے جس نے ایسا رسول بھیجا ۔یہ وہ تھیں کہ جن کی پہلی کڑی یہ ہے کہ ان کا وجود دلیلِ وجودِ خدا تھا۔ انہیں دیکھ کر خالق کی ہستی کا پتہ چلتا تھا۔ شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی ، وہ چاہے ہوائے سیاست ان کے خلاف ہی ہو لیکن یہ کہ متعارف تو ان سے سبھی ہیں، سب جانتے ہیں اور وہ مشہور بھی ہیں۔ ان کا کلام بہت سا ایسا ہے جس میں انکارِ خدا ہے ۔ میرے سامنے ایسے جملے انہوں نے کہے ہیں کہ جن کی وجہ سے میں انہیں مسلمان سمجھتا ہوں۔ مجھے انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کا گواہ بنا لیا ہے۔ لیکن یہ کہ ان کا کلام بہت سا ایسا ہے۔ اس میں مضحکہ ہے، تمسخر ہے، گستاخیاں ہیں۔ سب کچھ ہے۔ بحیثیت منکر خدا وہ مشہور و معروف ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ وہ ان کا معرکة الآرا مسدسِ حسین اور انقلاب دیکھئے ، تو وہ اس میں کیا کہہ رہے ہیں؟

ہاں وہ حسین جس کا ابد آشنا ثبات

کہتا ہے گاہ گاہ حکیموں سے بھی یہ بات

یعنی درونِ پردئہ صد رنگ کائنات

یہ کہہ رہا ہے ان کا ابد آشنا ثبات

یعنی اس صد رنگ پردئہ کائنات کے پیچھے دیکھئے ،غیب پر ایمان ہوگیا۔ اس پردئہ صد رنگ کائنات کے پیچھے ایک باشعور ذہن ہے، ایک کارساز ذات۔ ان کے قدموں کے ثبا ت کو دیکھ کر وہ خدا کے وجود کا پتہ لگارہے ہیں۔

ارے غور سے ان کے چہرے کو دیکھتے تو بہت پہلے قائل ہوجاتے۔ یعنی ورائے پردئہ صد رنگ کائنات، اِک باشعور ذہن ہے۔ علم اور قدرت دونوں پر ایمان ہے۔ ایک باشعور ذہن، یہ علم ہوگیا۔ ایک کارساز ذات، یہ قدرت ہوگئی۔ یہی صفاتِ ثبوتیہ کے دو افراد ہیں۔ ایک باشعور ذہن ہے، ایک کارساز ذات۔ اور بیت اس کے بعد کہی ہے:

سجدوں سے کھینچتا ہے جو مسجود کی طرف تنہا جو اک اشارہ ہے معبود کی طرف اب آگے نہیں بڑھوں گا۔ بس! بخدا نماز بھی جیسی تاریخ کربلا میں ہوئی ہے، ایسی تاریخ عالم میں کبھی نہیں ہوئی۔ جو نمازی ہیں، وہ بھی جب پریشانی کا ہنگام ہو تو کچھ شرع کی رعایتوں کا فائدہ اٹھا لیتے ہیں، مثلاً کوئی ہے جو اوّل وقت نماز کا پابند ہے، کسی دن خدانخواستہ کسی کی حالت خراب ہوگئی، حالت احتزار ہے، آج واجبی نمازبھی ذرا دیر میں پڑھی اور نوافل بھی نہیں پڑھے اور بعد میں خود افسوس بھی کیا کہ دیکھو! اتنی مدت سے پابند تھا نماز کا اور نوافل کا، آج ایسا بدحواس ہوا ۔ ایسا وقت تھا ،کوئی اعتراض نہیں کرے گا۔ کیسا ہی پابند شرع عالم دین ہو،اعتراض نہیں کرے گا۔ ہمدردی محسوس کرے گا کہ وقت کا تقاضاہی یہی تھا۔ مگر کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے مثال پیش کی کہ جتنا وقت سخت ہو، عبادت میں کمی نہ کرو۔ کوئی اضافہ ، کوئی خصوصیت رکھ دو، خصوصیت بڑھا دو۔ روزِ عاشورہ کی صبح کی نمازکی خاص اہمیت ہے کیونکہ یہ آخری نماز ہے جو مولا نے سب جماعت کے ساتھ پڑھی۔ بہت سے اصحاب کی زندگی کی آخری نماز، صبح کی نماز۔ تو آج کیا خصوصیت برتی کہ روز کے موذن حجاج ابن مسروق جعفی او ریہ آج کی نماز؟ فرماتے ہیں: بیٹا علی اکبر !آج اذان تم دے دو۔ یہ کیا ہے؟ مولا جانتے ہیں کہ میر اعلی اکبر بھلانے کی چیز نہیں ہے،وہ چاہتے ہیں کہ جب تک میرے علی اکبر کی یاد قائم رہے، تب تک اس نماز کی یاد قائم رہے۔

ماشاء اللہ جو نمازی ہیں، ان کیلئے بھی بار صبح ہی کی نماز ہوتی ہے۔ بہت سے ایسے ہیں جو سب نمازیں وقت پر پڑھتے ہیں لیکن صبح کو آنکھ نہیں کھلی۔ قضا پڑھتے ہیں۔ تو مولا نے صبح کی اذان علی اکبر سے دلوائی کہ اس وقت کوئی علی اکبر ہی کا ماتم کرنے والا جوان، اس کی بستر پر آنکھ کھل جائے تو اس وقت اُسے یاد آجائے کہ اس وقت میرا شہزادہ کہہ رہا ہے :”حی علی الصلوٰة“۔ تو اب یہ دیکھنا ہے کہ علی اکبر کی آواز پر کون کون آتاہے؟


دینِ اسلام ۳

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰهِ الْاِسْلَامْ ) ۔

دین کے بارے میں جو طرح طرح کے عذر کئے جاتے ہیں، ان کی پہلی بات کل عرض ہوئی کہ اگر ایک دین ہوتا تو مان بھی لیتے۔ جب بہت سے دین ہیں تو اس جھگڑے میں کون پڑے۔ اس کے بارے میں مَیں نے عرض کیا کہ زندگی کہ ہر شعبہ میں بہت سی شکلیں ہوتی ہیں تو یہ تو نہیں انسان کرتا کہ چونکہ شکلیں بہت ہیں، لہٰذا اس چیز ہی کو چھوڑ دیں بلکہ کبھی اپنے ذوق کی مناسبت کو دیکھتا ہے، کبھی جوواقف کار ہیں، ان سے دریافت کرتا ہے، ان سے پتہ لگاتا ہے کہ کونسا راستہ ہے جو منزل تک جائے گا۔ سٹیشن پر پوچھتا ہے کہ کونسی گاڑی ہے جو اُس جگہ جارہی ہے جہاں مجھے جانا ہے۔ تو جب ہر شعبہ حیات میں انسان ایسا ہی کرتا ہے تو دین کے بہت ہونے سے اصل دین کو چھوڑنا، یہ کہاں کی معقولیت ہے؟ بلکہ انسان تحقیق کرے، غور کرے اور سمجھنے کی کوشش کرے کہ کونسا دین درست ہے۔

اب اس بات کا دوسرا پہلو پیش کرتے ہوئے یوں کہاجاتا ہے کہ دینوں کی وجہ سے تفرقہ پیدا ہوتا ہے۔ جب بہت دین ہوئے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی کسی دین کا پیرو ہے ، کوئی کسی دین کا۔ لہٰذا ایسی چیز سے کیا فائدہ جو لوگوں میں تفرقہ پیدا کرے۔ تو اس کے جواب میں مَیں یہ کہوں گا کہ اس کا حل آپ نے جو تجویز کیا ہے کہ لادینیت اختیار کریں تو اس لادینیت سے تفرقہ کیونکر ختم ہوگا؟ بلکہ آپ کی لادینیت نے ایک فرقہ کا اضافہ کردیا ہے۔آپ کے ابھی تک دین کی وجہ سے فرقہ تھے۔ ایک ایک دین کا ایک دوسرے دین کا۔ اب وہ فرض کیجئے پچاس تھے، اکیاونواں گروہ پیدا ہوگیا لادینیت کا۔ تو اس سے تفرقہ میں کمی تو نہیں ہوئی اور زیادتی ہوگئی۔ جب سب بے دین ہوجائیں گے تو تفرقہ مٹ جائے گا۔

تو میں کہتا ہوں کہ یہ خواب جو آپ دیکھ رہے ہیں، اگر شرمندئہ تعبیر بھی ہوا اور اس ترکیب سے آپ تفرقہ مٹائیں کہ سب بے دین ہوجائیں تو میں یہ کہتا ہوں کہ ہر دین تفرقہ مٹا سکتا ہے، اس طرح کہ سب اُس دین کو اختیار کرلیں۔اس لئے تفرقہ ہوتا ہے تو اب آپ کا نسخہ ہے ، وہ بھی مرض کو بڑھانے والا ہے۔ اس میں تفرقہ میں اور اضافہ ہوگا، کمی تو نہیں ہوگی۔ اب اسی کا اور جدید تر پہلو یہ ہے کہ دین دنیا میں جنگیں کرواتا ہے، لڑائیاں کرواتا ہے اور دین کی وجہ سے کتنے خون گزشتہ دَور میں بہہ چکے ہیں اور اب بھی کبھی کبھی بہتے ہیں۔تو ایسی چیزسے کیا فائدہ جو خونریزی کروائے، جنگیں کروائے۔ تو میں کہتا ہوں کہ وہ دین تو کوئی سا بھی نہیں ہے جنگ کی دعوت دے خود سے۔ یہ جنگیں جو ہوتی ہیں، یہ اس لئے کہ دین کے نام پر تحریکیں اٹھائی جاتی ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ شاطر سیاست دان جانتا ہے کہ دین میں جتنی جاذبیت ہے، اتنی کسی اور چیز میں نہیں ہے۔ تو اس بناء پر اپنی تحریکوں پر دین کا غلاف چڑھایا جاتا ہے اور جھنڈے پر دین کا نام لکھ دیا جاتا ہے اور دین کا نعرہ لگایا جاتاہے۔ با ت کیا ہے؟

بات یہ ہے کہ ملمّع اس چیز کا کیا جاتا ہے جو قیمتی ہو، لوہے کا ملمّع نہیں کیا جاتا۔ چونکہ سونے چاندی کی قیمت ہے، اس لئے اس کا ملمّع چڑھائیں گے۔شیشے کا مصنوعی تیار نہیں کریں گے، لعل و یاقوت چونکہ قیمت رکھتے ہیں، لہٰذا اُن کا مصنوعی تیار کیا جاتا ہے۔ تو اب جو عرض کرتا ہوں ، اس کو عقل کی بارگاہ میں پیش کرکے دیکھئے کہ چونکہ سونے چاندی کا ملمّع چڑھا کر بہت سے لوگوں کو دھوکا دیا جاتا ہے، لہٰذا دنیا سے سونے چاندی کو ختم کردیا جائے۔ چونکہ لعل و یاقوت کا مصنوعی تیار کیا جاتا ہے، بہت سے لوگوں کو ٹھگ لیا جاتا ہے، لہٰذا لعل و یاقوت کو دنیا سے نابود کردیا جائے تاکہ لوگوں کو دھوکا نہ ہو۔ چونکہ اصلی گھی کے نام پر لوگوں کے ہاتھ بناسپتی گھی فروخت کیاجاتا ہے، لہٰذا یہ ہے کہ اصلی گھی کو دنیا سے ختم ہی کردیا جائے۔ تو یاد رکھئے کہ ان ملمّعوں کی وجہ سے جو کسی کا نقصان ہوتا ہے، تو اس میں قصور اُس اصل چیز کا نہیں ہے۔ ریگستانوں میں بالو پانی کی طرح چمکتی ہے، اُسے سراب کہتے ہیں۔ بہت سے پیاسے دھوکہ کھاکر دوڑتے ہیں تو پیاس میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ قریب پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ پانی تھا ہی نہیں۔ تو کیا دنیا سے پانی فنا کردینے کے قابل ہے؟ اس لئے کہ سراب بہت سوں کو دھوکہ دیتا ہے؟

اب میں ایک عام بات کہوں، یاد رکھئے کہ جھوٹ جھوٹ ہے ہی نہیں جب تک سچ کا لباس نہ پہنے۔ اگر جھوٹ کہہ کر بولا جائے تو جھوٹ ہوگاہی کہاں؟تو جھوٹ اس وقت تک جھوٹ ہے جب تک سچ کا لباس نہ پہنے۔ تو کیا دنیا سے سچائی ختم کردینے کے قابل ہے؟ اس لئے کہ جھوٹ بہت سوں کو دھوکہ دیتا ہے۔ تو اگر یہ سب باتیں غیر معقول ہیں تو اسی طرح اگر مذہب کے نام پر بہت سے لوگ دھوکہ کھاتے ہیں تو اس میں اصل دین کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ اب ان سب کا کیا علاج ہے؟ان سب کا علاج یہ ہے کہ نگاہِ امتیاز پیدا کیجئے جو اصل اور نقل کا فرق محسوس کرسکے۔علامتوں پر نظر کیجئے جوسراب اور آب میں فرق محسوس کرسکے۔عقل و شعور سے کام لیجئے کہ سچ اور جھوٹ کا امتیاز کرسکے۔ تو اسی طرح اگر دنیا میں بنامِ مذہب فساد ہوتے ہیں تو اس کا علاج یہ نہیں ہے کہ دین کو فنا کردیجئے بلکہ اس کا علاج یہ ہے کہ قوتِ امتیاز پیدا کیجئے۔ دین کی معرفت زیادہ حاصل کیجئے تاکہ کسی غلط نعرے سے دھوکہ میں نہ آجائیں اور یوں تو انسان کا یہ ذوقِ خوں آشامی۔

جب تک دنیا مذہب کے نام پر قبضے میں آتی تھی، تب تک مذہب کے نام پر تحریکیں چلیں، لڑائیاں ہوئیں لیکن جب سے گویا دین کا تصور فیشن کے خلاف ہوگیا، جب سے موجودہ دَور کی ہوا چلی کہ لوگوں کی نگاہ میں دین کی وہ جاذبیت باقی نہ رہی، تو اب دین نہ رہے ”ازم“ ہو گئے ۔ مختلف نظام ہائے حیات ہوگئے۔ اب جو لوگ زیادہ معلومات رکھتے ہیں، وہ اعدادوشمار سے ثابت کرسکتے ہیں جو عرض کررہا ہوں ، میری عمر کے آدمیوں کے سامنے تو دو عظیم جنگیں ہوئیں جس کو ہم لوگ جنگ ہفتِ اقلیم کہتے تھے۔ ایک ۱۴ ء کی جنگ جس میں ایک طرف حریف قیصر ولیم تھا۔ اس وقت تک ہٹلر کا وجود نہیں تھا۔ ایک جنگ وہ۔ ایک جنگ جو بہت سے مجھ سے کم عمر والوں کے سامنے کی بات ہے، ہٹلر جس میں فریق تھا۔ ہٹلر کا نام جس میں آیا تویہ جنگ عظیم۔تو اب اعدادو شمار دیکھئے کہ شروع سے بنامِ مذہب جو جو لڑائیاں ہوئی ہیںِ ان سب کو ملا کر مقتولین زیادہ ہیں یا ان عظیم جنگوں میں؟ طرفین کے جتنے مقتول ہوگئے، تو یہ خونریزی مذہب کے نام پر ہورہی ہے؟ دونوں طرف ایک ہی مذہب کے لوگ اور ان میں جنگ ہورہی ہے۔

تو یہ معلوم ہوا کہ مذہب بہانہ ہوتا ہے اور جب مذہب نہیں ہوتا تو دوسرے بہانوں سے آدمی لڑتا ہے اور یہ ذوقِ جنگ آزمائی تو ایسا تھا جو فرشتوں نے اس وقت پیش کیا تھا جب انسان کے عالم وجود میں آنے کا اعلان ہوا تھا اور عطائے منصب کا سوال تھا۔ قرآن مجید میں اس کا تذکرہ ہے کہ ارشاد ہورہا ہے:

( اِذْقَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَة اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَة ) ۔

جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک جانشین مقرر کرنا چاہتا ہوں۔

اب مستقل طور پر تو یہ آیت موضوعِ بیان نہیں ہے مگر جتنا سمجھنے کیلئے ضروری ہے، اتنا تو کہنا ضروری ہے کہ ہمارے مفسرین پہلے تو اس میں الجھ گئے کہ جانشین کس کا؟ کیونکہ قرآن کے الفاظ میں فقط اتنا ہے کہ میں جانشین مقرر کرنا چاہتا ہوں۔اب یہ کس کا جانشین؟ یہ لفظوں کے اندر نہیں ہے۔ تو اب مفسرین اُلجھے ہوئے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ارے بھئی ! کیوں اُلجھے ہوئے ہو، قرآن تو موجود ہے، کافی ہے، تو کس کا جانشین؟ تو اب قرآن کے حل کرنے کیلئے تاریخ عالم دیکھئے جو حدیثوں سے ثابت ہوتی ہے کہ انسانوں کے آنے سے پہلے شیطان اور جنات زمین میں بستے تھے۔ انہی میں سے تو یہ ابلیس تھا۔ اس قوم کو جنات و نسناس کہا جاتاہے۔ کتابوں میں تو جب ان جنات و نسناس پر عذاب نازل ہوا ، میں اپنی زبان میں کہہ رہا ہوں، وہ بے دخل کئے گئے تو اب زمین خالی ہوگئی۔ تو یہ ارشاد ہورہاہے ، گویا اب یہ مطلب نکلا ہے کہ خالق ارشاد فرمارہا ہے کہ ان شیاطین و جنات کی بجائے ، جو یہاں بستے تھے، اب میں ایک دوسرے کو پیدا کرنا چاہتا ہوں۔

واہ! فکرہرکس بقدر ہمت اوست۔ میں کہتا ہوں سبحان اللہ! قرآن کی آیت کا مضمون آگے بھی تو پڑھئے۔ جنات و شیاطین کی جانشینی اور ملائکہ کا رشک کرنا کہ ہم ہی کو کیوں نہیں مقرر کردیاجاتا؟ یہ تو ملائکہ کا سوال بتا رہا ہے کہ یہ کوئی بہت اونچا منصب ہے۔ اور اب میرے اوپر ذمہ داری ہے کہ میں مفہوم اس کا بیان کروں۔ میں کہتا ہوں کہ اس کیلئے کوئی اِدھر اُدھر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے محاورات پر غور کیجئے۔ کسی دن آپ دھوپ میں آئے ہوں، کسی اپنے دوست کے ہاں اور کہیں کہ بھئی بڑی پیاس لگی ہے۔ وہ پوچھے گا کس کو؟کوئی صاحب ملے، آپ نے کہا، مثلاًبھائی صاحب ملتان سے آگئے۔ وہ پوچھے گا کس کے؟ کوئی صاحبزادے ہیں، انہوں نے کہا والد ماجد نے یہ فرمایا ہے۔ آپ پوچھیں گے کس کے؟ معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی اور کا ذکر ہو تو متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ کس کا اور جب اپنے متعلق بات ہو تو متعلق نہیں بیان کیا جاتا کہ کس کا۔

تو کسی نے کہا کہ پیاس لگی تو آپ نہیں پوچھتے کہ کس کو، کسی نے کہا کہ بھوک لگی ہے تو آپ نہیں پوچھتے کس کو۔کسی نے کہا بھائی آگئے تو آپ نے پوچھتے کس کے۔ کسی نے کہا کہ والد فرماتے ہیں، آپ نہیں پوچھتے کہ کس کے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں جانشین مقرر کرنا چاہتا ہوں تو آپ کہتے ہیں کس کا؟ میں کہتا ہوں کہ اگر کسی اور کا ہوتا تو اس کا نام لیا جاتا تاکہ کس کا جانشین ؟ جب یہ نہیں کہا گیا کہ کس کا تو سمجھئے کہ جو اعلان کررہا ہے، وہ اپنی طرف نسبت دے رہا ہے کہ میں اپنا جانشین مقرر کرنا چاہتا ہوں ۔ مگر مجھ سے اب اس عقلی سوال کا ہر ایک کو حق ہے کہ اللہ کے جانشین کے کیا معنی ہیں؟ جانشین وہ بنائے جس سے جگہ خالی ہو یا زمانہ خالی ہو اور وہ ذات جس کا نقل و انتقال ممکن نہیں، جو جسم و جسمانیات سے بری، تو وہاں جانشینی کے کیا معنی؟ تو میں تو پہلے عرض کرچکا ہوں کہ اصل میں اس آیت کو تو بیان نہیں کررہا ہوں لیکن مجمل طور پر اس کے دو پہلو عرض کروں گا۔

ایک بات خفی ہے جسے ہر ایک آدمی بہت زیادہ غور کے بغیر سمجھ سکتا ہے ۔ دوسرا نکتہ گہرا ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ بے شک اللہ لامکان ہے لیکن عالم اعلیٰ کا جو اس کی ذات کے ساتھ تعلق مانا جاتا ہے، وہ عالم ادنیٰ یعنی زمین کا نہیں مانا جاتا۔ اسی لئے دعا میں ہاتھ اٹھاتے ہیں، جھکاتے نہیں ہیں۔ موسیٰ بھی کلام کیلئے طور کی بلندی ڈھونڈتے تھے اور قرآن مجید کے محاوروں پر نظر کر لیجئے ، وہ آیتیں نہیں پڑھوں گا کیونکہ موضوع مستقل نہیں ہے کہ جو جو چیزیں اُدھر کی ہیں، ان کیلئے آتا ہے اُتارنا۔ بارش اُتاری، لوہا اُتارا۔ تو جو چیز اُدھر سے آتی ہے، اس کیلئے آتا ہے اُتارنا۔ جو اِدھر سے چیز جاتی ہے، اس کیلئے ہے چڑھنا۔ عملِ صالح بلند ہوتا ہے ، دعائے مومن بلند ہوتی ہے۔ نمازی کی پُرخلوص نماز بلند ہوتی ہے۔

تو معلوم ہوتا ہے کہ بلند حصہ کو جو تعلق مقامِ نسبت میں ہے، یعنی عرش جو پایہ تخت ہے، اس کو( اَسْفَلُ السَّافِلِیْن ) میں نہیں مانا گیا ہے۔ اعلیٰ علیین میں مانا گیا ہے حالانکہ میں نہیں مانتا کہ وہاں اللہ سبحانہ بیٹھتا ہے۔ یہ تو اس وقت ہو کہ جب مکان کا محتاج ہو اور اس کو ایک روزمرہ کی مثال میں کہ یہاں بھی تو بیت اللہ ہے، خانہ کعبہ اللہ کا گھر ہے جس کے حج کیلئے جاتے ہیں۔ تو اس کا گھر ہے مگر کیا وہ کبھی رہا ہے؟ تو جس کو رہنے کیلئے جگہ کی ضرورت نہیں، اس کو بیٹھنے کیلئے بھی جگہ کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی مقامِ شرف میں ایک نسبت ہے، وہ بھی مقامِ اعزاز میں ایک نسبت ہے۔ مگرجیسی نسبت ہوتی ہے، اس کو اپنے عمل سے نبھایا جاتا ہے۔ وہ ہے اللہ کا تخت سلطنت، گھر کی نسبت کسی شخص کی طرف انفرادی و ذاتی یعنی نجی ہے اور تخت سلطنت کی حیثیت منصبی ہوتی ہے۔ تو جب گھریلو کام لینا ہو، زچہ خانہ بنانا تو اُسے منتخب کیا ، کسی کو سرکاری مہمان بنانا ہو تو وہاں بلایا گیا۔ وہ کیوں؟ کہ جس حیثیت سے عرش اس کا پایہ تخت ہے، اس حیثیت سے زمین اس شرف سے محروم ہے۔ اسی وجہ سے قرآن میں”( اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ ) “ہے۔ اب اس کو م یں اپنے الفاظ میں کہتا ہوں ، گویا خالق فرشتوں سے کہہ رہا ہے کہ اے فرشتو! یہاں تو میں ہوں،مگر جس حیثیت سے عرش میر اپایہ تخت ہے، زمین اس شرف سے محروم ہے۔ لہٰذا ایک ایسے کو میں پیدا کرتا ہوں کہ زمین سے اس کو وہی نسبت ہو جو عرش کو مجھ سے ہے۔ جیسے یہ میرا پایہ تخت ہے، ویسے زمین اس کا پایہ تخت ہو ۔

اب جو دوسرا پہلوجسے میں نے کہا تھا کہ ذرا تھوڑے سے غور کی بات ہے، تو میں کہتا ہوں کہ یہ بات ہی غلط ہے کہ جانشین وہ مقرر ہوتا ہے جس سے جگہ خالی ہو یا زمانہ۔ نہیں! ایک اور صورت ہے جانشین مقرر کرنے کی ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی معزز مہمان کسی جگہ جاتا ہے تو اس کے اعزاز میں جلسہ ہوتا ہے۔اس میں سپاسنامہ پیش کیا جاتا ہے۔ اس مہمان کیلئے اخلاقی طور پر اور آئینی حیثیت سے اس سپاسنامہ کا جواب دینا خود اسی کا کام ہے۔ کوئی خود سے کھڑا ہوجائے جواب دینے تو اس کا فریضہ نہیں پورا ہوگا۔ مگر مشکل یہ ہے کہ وہاں کے لوگوں کی زبان اور ہے اور یہ جو مہمان آیا ہے، اس کی زبان دوسری ہے۔اگر یہ اپنی زبان میں پڑھے تو وہ نہیں سمجھیں گے ۔ ان کی زبان سے یہ واقف نہیں ہے۔ ان کی زبان میں یہ پیش نہیں کرسکتا۔ لہٰذا جواب باوجودیکہ جلسہ میں وہ موجود ہے، اپنی جانب سے کسی کو اپنا نائب مقرر کرے گا۔ لیکن وہ بیچ والا ایسا ہو جو اُس کی زبان سے بھی واقف ہو اور ان کی زبان سے بھی۔ان کی زبان میں ان تک پہنچائے ۔ تو بس یہاں جانشین کی ضرورت ہے کہ اس کا کمال براہِ راست ہم تک پہنچنے میں سد راہ ہے، ہمارا نقص اس تک پہنچے سے مانع ہے۔ لہٰذاضرورت ہے کہ کوئی بیچ والا جو کچھ اس سے ملتا ہو اور کچھ ان سے ملتا ہو۔

تو جنابِ والا! اب یہ ہے اتنا بڑا منصب کہ ملک کی نگاہِ طلب جاتی ہے کہ منصب سے محروم رہ کر پاس رہنا وہ بلندی نہیں رکھتا جو منصب پاکر دور چلاجانا بلندی رکھتا ہے۔ تو کیا کہتے ہیں:

( اَتَجْعَلْ فِیْهَا مَنْ یُفْسِدُفِیْهَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاءَ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَ نُقَدِّسُ لَکَ ) ۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ فرشتوں نے اعتراض کیا۔ مگر یہ بے سمجھی ہوا لفظ ہے۔ یاد رکھئے کہ فرشتہ ہے جس کیلئے خالق نے کہہ دیا ہے:

( لَایَسْبِقُوْنَه بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِاَمْرِه یَعْمَلُوْنَ ) ۔

وہ اللہ پر بات کرنے میں سبقت نہیں کرتے۔ وہ اس کے حکم پر عامل ہیں۔ عصمت فطری کی منزل پر فائز ۔

تو یہ جو کہہ دیا کہ اعتراض کیا، یہ ٹھیک نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ملک نے سوال کیا ہے اور ملائکہ بارگاہِ قدس کے طالب علم ہیں اور طالب علم کو اپنی تسلی کیلئے سوال کا حق ہے اور میرے نزدیک تو سوالِ ملک کسی مقصد الٰہی کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔اسی لئے ان کے دل میں یہ تصور پید اکیا کہ ہمیں سوال کرنا چاہئے۔ کوئی اللہ کا مطلب ان کے سوال میں مضمر ہے تو ابھی تو یہی سمجھ لیجئے جو میں نے عرض کیا کہ منصب کی بلندی کا اظہار ہے کہ دیکھو! منصب اتنا بلند ہے کہ فرشتے کے بھی دل میں اس کی آرزو ہوتی ہے۔ اب اسے کبھی ارزاں نہ بنالینا اور اب فرشتہ کیا کرتا ہے؟ انسان کی زندگی کا ایک تاریک پہلو جو ہے، وہ بھی اُسے اللہ کے دئیے ہوئے علم سے معلوم ہے۔ وہ خود کیا جانے ، اللہ جو بتاتا رہاہے انہیں ،وہ ان کو معلوم ہے۔ تو وہ کہہ رہا ہے کہ اُسے پیدا کیا جائے گا جو خونریزی کرے اور فساد کرے ۔ تو اسی لئے میں نے اس موضوع میں سے عرض کیا کہ یہ خونریزی تو گویا فطرتِ انسانی کا ایک تقاضا تھا جسے فرشتے نے اس وقت محسوس کیا اور اس کو پیش کیا سوال کے محل پر۔

تو انسان کی زندگی کا یہ پہلو لیا اور اپنی زندگی کا روشن پہلو کہ:

( نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ) ۔

ہم تیری بارگاہ میں تسبیح و تقدیس کرتے ہیں۔

اس میں کونسا جزو غلط ہے؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ انسان خونریزی نہیں کرتا؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ملک تسبیح و تقدیس نہیں کرتے؟ کونسا جزو غلط ہے؟بس ملا کے پوچھ لیا کہ ہمیں نہیں مقرر کیا جاتا اور اس نوع میں سے مقرر کیاجاتا ہے؟ تو ارشاد ہوتا ہے جواب میں:

( نِّیْ اَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَ ) ۔

”میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے“۔

مجمع میں طالب علم بھی ہیں، اُستا دبھی ہیں، کوئی طالب علم اُستادسے کچھ پوچھے ، وہ کہے جو میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔ تو یہ کوئی جواب ہوا؟ حالانکہ خود قرآن سے ثابت ہے کہ بعد میں جواب کا انتظام کیا جائے گا۔ وہ تعلیم اسماء ، وہ سب اس وقت تو عرض نہیں کرنا ہے۔ کبھی انشاء اللہ مستقل طور پر اُسے عرض کیا جائے گا تو جواب دیا جائے گا اس کا۔ مگر ابھی جواب نہیں دیا جاتا۔ اس کو جواب تو نہیں کہتے، سوال کا ٹھکرا دیاجانا کہتے ہیں۔

تو میں کہتا ہوں : بارِالٰہا! جب جواب آپ کو دینا ہی ہے تو اسی وقت فرشتے کے سوال کا جواب کیوں نہیں دے دیا؟ مگر جو میری سمجھ میں آیا، وہ عرض کرتا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ ابھی خالق سمجھانے لگتا کہ یہ مصلحت ہے ، یہ مصلحت ہے ، یہ مصلحت ہے تو ایک صورتِ شوریٰ قائم ہوجاتی۔ سوال کے جواب میں یہ کہا کہ جو میں جانتا ہوں، تم نہیں جانتے۔ اب اس کا مطلب میرے الفاظ میں یہ ہے کہ منصب میرا، مقرر کرنا میرا کام، تم کون؟تواب سوالِ ملک میں ایک دوسرا راز سمجھ میں آیا کہ خالق نے دکھا دیا کہ دیکھو! یہ منصب وہ ہے جس میں ملک کے معصوم مشورہ کا بھی کوئی دخل نہیں ہوتا۔ جو اصول اس وقت واضح ہوگیا، تو اب طالب علموں کی تسلی کیلئے جو فریضہ تعلیمی ہے، اُسے بعد میں انجام دے دیا جائے گا۔ جلدی اسے ہوتی ہے جسے وقت کے نکلنے کا اندیشہ ہو۔ لہٰذا وہ تعلیم اسماء ، وہ سب امتحان ہوا اور ملک نے کہا کہ ہمیں تو اتنا معلوم ہے جتنا تو نے بتادیا ہے۔ اس کے آگے نہیں معلوم۔

اب اس سے جو نتائج نکلتے ہیں، وہ پھر انشاء اللہ جب اس کا بیان ہوگا۔ اب خالق نے اس دن کے سوال کا حوالہ دے کر گویا اپنی فتح کا اعلان کردیا کہ”( اَلَمْ اَقُلْ لَکُمْ ) “، کہ اب سمجھے م یں نے نہیں کہا تھا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے؟ مگر ظاہر ہے کہ وہ خود اس نے کہا کہ جتنا تو نے ہمیں علم عطا کیا، اتنا ہمیں حاصل ہے۔ جتنے جتنے اس کے سامنے نمونے زیادہ آتے گئے اور اللہ علم دیتا گیا، اتنا اتنا اس کے علم میں اضافہ ہوتا گیا۔اب کہاں تو خونریزی کو کہا تھا ، ایسے کو جو خونریزی کرے گا، کہاں ایک ایسی منزل آگئی کہ بدر میں خود سپاہی بن کر آگیا۔

اب کہاں وہ ملائکہ کہ معترض ہوئے تھے عرش پر ، کہاں میدان میں ملائکہ کی فوجیں تھیں(قرآن)۔فوجیں ان کی مدد کیلئے آئیں بدر میں اور فقط نمائشی طور پر نہیں آئے تھے۔ قرآن مجید میں ہے کہ انہیں اصولِ جنگ بتائے گئے۔ ارے وہ اسی مدرسہ کے طالب علم ہیں تو انہوں نے سپہ گری کہاں سیکھی تھی؟ لہٰذا خالق نے انہیں اصول بتائے(آیت) دیکھو! ہم بتاتے ہیں کہ گردنوں پر تلوار لگانا۔ قرآن مجید کی آیت ہے کہ انگلیوں پر ضرب لگانا۔ فنونِ جنگ سکھائے جارہے ہیں۔

ماشاء اللہ یہاں ایسے افرا دہوں گے جو فن سپہ گری کے قدیم طور پر یا جدید طور پر واقف ہوں گے۔ تو میں کہتا ہوں کہ سر کے وار سکھائے گئے ہیں اور انگلیوں کو کاٹنا سکھایا گیا ہے۔اب یہ جنگ کررہے ہیں۔ممکن ہے کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ سب آئے تھے، بھیجے گئے تھے او رجنگ بھی انہوں نے کی، کمزور دل والے مسلمانوں کی ڈھارس کیلئے۔ قرآن کہہ رہاہے کہ دیکھو! کبھی اپنی قلت تعداد سے نہ گھبرانا۔کبھی ہماری مصلحت ہوگی تو ہم فرشتے بھی بھیج سکتے ہیں۔ یہ نمونہ پیش کرکے دلوں کو ڈھارس دی گئی ۔ میں کہتا ہوں کہ دوسروں کے دلوں کو تو ڈھارس ہوئی اور جو حقیقی مجاہد تھا، اس کے ذوقِ شجاعت پر بار ہوگیا کہ میرے ہوتے ہوئے فرشتے آئے۔ میری موجودگی میں فرشتے آئے؟اس کی طبیعت پر جیسے بار سا ہوگیا۔ میں کہتا ہوں کہ اب یہ آیتیں جو آئی ہیں کہ ہم نے یہ بھیجے ہیں، ایسے لوگوں کی وجہ سے جو کمزور دل والے ہیں۔ سب تو تمہارے جیسے نہیں ہیں۔ ان کے دلوں کی تسلی کیلئے ہم نے بھیجے ورنہ ضرورت نہیں تھی۔ اس میں یہ مضمر ہے کہ ضرورت تھی

نہیں ، ہم نے ان کے دل کی تسلی کیلئے ، ڈھارس دینے کیلئے بھیج دئیے ہیں۔لیکن اچھا! تمہاری طبیعت پر بار ہے تو اب اس کے بعد جو جنگ ہوگی، تو چاہے جو ہوجائے، اب نہیں بھیجیں گے اور اُس نے جس نے بار محسوس کیا تھا، اُس نے جنگ سر کرکے دکھا دی۔ بگڑی ہوئی جنگ بنا کر دکھا دی اور اب اس وقت تو ملک نہیں آیا۔

اب جب ، اپنی زبان میں کہتا ہوں ،محا ورہ ہے یوپی کا، وارے نیارے ہوگئے تو اب جنابِ جبرئیل امین تشریف لائے ہیں۔ شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے مدارج النبوة میں تحریر فرمایا ہے، فارسی زبان کی کتاب ہے، بڑے جلیل القدر عالم ہیں اہل سنت والجماعت کے، محدث محقق انہوں نے مدارج النبوة میں لکھا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اس فوج کو بھگایا اور آپ نے آکر رسول کے زخموں کو دھلوایا اور آپ کو کھڑا کیا۔ اتنی دیر میں اِدھر اُدھر سے فوج آنا شروع ہوگئی۔ مختلف دستوں کی شکل میں، گروہ در گروہ، اِدھر سے ، اُدھر سے۔ پیغمبر اشارہ فرمارہے ہیں کہ دیکھو! یہ آرہے ہیں۔ دیکھو یہ آرہے ہیں۔ دیکھو یہ آرہے ہیں اور علی ابن ابی طالب چاروں طرف گھوم کر اُن کو دفع کررہے ہیں۔ تو اب جنابِ جبرئیل تعریف کررہے ہیں :

اِنَّ ذِیْ لَهِیَ الْمُوَاسَاتُ “۔

یہی جملہ ہے تاریخ کا، یا رسول اللہ! ہمدردی تو اسے کہتے ہیں، غمخواری تو اسے کہتے ہیں اور رسول کہتے ہیں:

کَیْفَ لَاهُوَمِنِّیْ وَاَنَا مِنْهُ “۔

”کیونکر نہ ہو کہ وہ مجھ سے ہے اور میں اُس سے ہوں“۔

حضرتِ جبرئیل تو عجب دلچسپ ہیں، وہ کہہ دیتے ہیں”اَنَا مِنْکُمَا “م یں آپ دونوں سے ہوں۔

ایک دن راولپنڈی میں کہہ چکا ہوں کہ مجھے فرشتوں سے باتیں کرنا تو آتی نہیں، وہ الفاظ بھی نہیں آتے لیکن اپنی زبان میں جنابِ جبرئیل سے یہ کہوں گا کہ آپ بھی عجیب آدمی ہیں۔ جب دو کی بات ہورہی ہو تو آپ کہیں میں دونوں سے ہوں اور جب پانچوں آجائیں تو آپ کہیں کہ میں چھٹا کیوں نہ ہو جاؤں!

مگر اس میں ایک بڑی حقیقت مضمر ہے کہ یہ انسان وہ ہیں کہ انہوں نے فرشتہ ہونے کی کبھی تمنا نہیں کی ہے مگر یہ اتنے اونچے ہیں کہ فرشتے ان میں شامل ہونے کی تمنا کرتے ہیں۔ اور یہ تو بدر کی باتیں ہیں، آپس کی گفتگو تھی۔یہی جبرئیل امین یا کوئی اور فرشتہ ، وہ ایک دفعہ میں کہتا ہوں کہ منبر ہواپر مابین زمین وآسمان بلندی پر جاکر اُس نے قصیدئہ منقبت پڑھا اور کہا:

لَافَتٰی اِلَّا عَلِیْ لَا سَیْفَ اِلَّاذُوالْفِقَار “۔

”کوئی جوان نہیں سوائے علی اور کوئی تلوار نہیں سوائے ذوالفقا رکے“۔

میں کہتا ہوں کہ اب وہاں کی بات مجھے یاد آئی کہ حضرت! آپ کو تو خونریزی سے نفرت ہے۔ انیس اعلی اللہ مقامہ تلوار کی تعریف کریں تو ٹھیک ، ہمارے مرزا دبیر صاحب مرحوم تلوار کی تعریف کریں تو ٹھیک، لیکن یہ آپ اور تلوار کی تعریف؟ ارے سپر کی تعریف کرتے کہ اس کا کام روکنا ہوتا ہے، تلوار کا تو کام ہی خون بہانا ہے۔ یہ آپ تلوار کی تعریف کررہے ہیں؟ تو شاید جبرئیل امین یا جو فرشتہ یہ صدا بلند کررہا ہو، وہ مجھ سے کہے کہ خاموش ، ناسمجھی کا سوال نہیں۔ تلوار خطاکاروں کے ہاتھ میں آکر خطاکار ہوتی ہے، معصوم کے ہاتھ میں آکر معصوم ہوتی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ آنکھ بندکرکے نہ خونریزی کو اچھا سمجھا جاسکتا ہے، نہ خونریزی کو برا سمجھا جاسکتاہے۔

چند مہینے پہلے کی بات ہے، الٰہ آبا دگیا۔ اکثر لوگ موضوع کا اعلان میرے پہنچنے سے پہلے کردیتے ہیں جیسے آپ کے ہاں اعلان ہوگیا تھا۔جب آیا تو پتہ چلا کہ پہلی مجلس کا اعلان تھا” اسلام خونریزی کا حامی نہیں ہے“۔میرے ذہن میں یہ سوال تھا کہ یہ موضوع رکھا کیوں گیا ہے؟ پہلے تو میں نے ان سے جنہوں نے موضوع رکھا تھا، کہا کہ یہ موضوع غلط عنوان سے ہے۔ ماشاء اللہ یہاں تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ ایک ہوتا ہے ڈیبیٹ( debate )۔ مکالمہ، اس میں اس طرح کا موضوع ہوتا ہے۔ ایک رُخ اس میں ہوتا ہے اور پھر کوئی موافق تقریر ہوتی ہے ، کوئی مخالف تقریر ہوتی ہے۔ لیکن کسی جلسہ میں کسی مقرر کو جو موضوع دیاجائے، وہ جملہ ناتمام ہونا چاہئے، مثلاً اسلام اور خونریزی۔ اب یہ اس کا کام ہے کہ وہ کہے کہ اسلام حامی ہے یا مخالف ہے۔

میں نے کہا کہ جن صاحب نے یہ موضوع رکھا ہے، وہ خود ہی تقریر بھی کرلیں۔ بہرحال وہ پورا بیان میں نے کیا۔ اس میں مَیں نے یہ کہا کہ اگر ذرا سی اصلاح اس موضوع میں دی جائے تو وہ صحیح ہوجائے کہ اسلام ناحق خونریری کا حامی نہیں ہے۔ تو یہ انسان کا ذوقِ خوں آشامی ہے۔ کبھی غلط راستوں سے خونریزی ہوتی ہے، کبھی حق کی حفاظت کیلئے خونریزی ہوتی ہے۔ وہ وہاں اس موضوع میں جہاد پیش کرچکا، قتال کیلئے شرائط کیا ہیں؟ ابتدائے جنگ ہے۔ اُس کے بعد اجازت دی گئی ہے قتال کرنے کی۔ تو اب دوسرا خونریزی کیلئے جاتا ہے تو اب ادھر والا خونریزی نہ کرے تو کیا کرے؟ یا یہ فرض کیجئے کہ کوئی ہزاروں کی جانیں لے چکا ہے، اب اس کی جان چلی جائے اور آپ کو رحم آئے تو ان ہزاروں پر رحم نہ آیا ۔اس ایک پر رحم آرہا ہے۔ اس میں کوئی معقولیت نہیں ہے، کلیہ کوئی نہیں ہوسکتاخونریزی کے بارے میں۔

تو یہ انسان مذہب کے نام کو لے کر اگر خونریزی کرے تو اصل دین پر اس سے کوئی حرف نہیں آتا اور کتنی چیزیں ہیں جن کا غلط استعمال ہوتا ہے۔ کتنے مقدس نعرے ہیں جو آپ لوگ لگاتے ہیں لیکن یہ نعرے کیا ہمیشہ مقدس رہتے ہیں؟ ۲۵ برس قبل کی بات ہے جب وہ کلوکیم ہوا تھا۔ لاہور میں ، دنیا بھر کے پروفیسر آئے تھے تو اس میں مَیں بحیثیت شرکاء کے مدعو تھا۔ تقریر میری نہیں تھی اس میں۔ وہاں کا ایک موضوع تھا ”تمدنِ اسلام“۔

ماشاء اللہ بڑے بڑے پروفیسر وہاں موجود تھے۔ انہوں نے جو جو کہا کہ وہ محرابیں جو ہیں، وہ اسلامک کلچر ہیں اور یہ گنبد جو ہیں، یہ اسلامی کلچر ہیں۔وہاں کی چیزیں سن کر میرا دل پک گیا تھا۔ یہاں ایک تقریر برکت علی ہال میں ہوئی تو میں نے اسی موضوع پر وہاں تقریر کی۔ وہ تقریر امامیہ مشن پاکستان سے چھپ بھی گئی ہے۔ تو ایک جزو اس کا میں کہتا ہوں کہ یاد رکھئے کہ اسلامی کلچر شکل و صورت سے نہیں ہوتا۔ اصل اسلامی کلچر اہلیت سے ہوتا ہے۔ گنبد لے جا کر آپ بت کدے میں بنادیجئے تو ہو گنبد بھی اسلامی کلچر ہے؟ نہیں، جو مسجد کا گنبد ہو، وہ ہوگا اسلامک کلچر۔اس کے محل استعمال سے ہوتا ہے۔ یہ اللہ اکبر کا نعرہ بھی صحیح محل پر لگے تو اسلامی کلچر ہوگا۔ اگر بے گناہوں کے گھر جلانے میں اللہ اکبر کے نعرے لگیں تو وہ اللہ اکبر کا نعرہ بھی اسلامی کلچر نہیں ہوگا۔ تو مقصد کا صحیح ہونا شرط ہے۔ ظاہری شکل سے نہیں ہوتا۔ بس اب بابِ مصائب ہے کہ کہاں کہاں ہم نے اللہ اکبر کے نعرے سنے ہیں۔ بس ایک عرب شاعر کا شعر پڑھتا ہوں۔ حضرت امام حسین علیہ السلا م کو

مخاطب کرکے اُس نے شعر کہا ہے:

وَیُکَبِّرُوْنَ بِاَنْ قُتِلْتَ وَاِنَّمَا

قَتَلُوْابِکَ التَکْبِیْرَا وَتَهْلِیْلَا

ارے یہ آپ کو شہید کرکے تکبیر کے نعرے لگارہے ہیں، حالانکہ آپ کے ساتھ انہوں نے تکبیر و تحلیل کے گلے پر چھری چلائی ہے۔

اور یاد رکھئے کہ یہی کام امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے جہاد میں سب سے بڑا کیا اور اس کو مختصر طور پر یوں عرض کروں گا کہ بد نصیبی سے ادھر کی جماعت بھی اپنے کو مسلمان کہتی تھی اور جس جس چیز کو سمجھ لیجئے اسلامک کلچر۔ ظاہری طور پر اس سب کو وہ اختیار کئے ہوئے تھی۔اتنی بڑی جماعت جہاں کی نمائندہ تھی، وہاں اونچے اونچے محل تھے۔ اونچے اونچے عالیشان مینارے تھے۔ قصر ابیض و قصر حمر ا و قصر خضرا، وہ سب وہاں تھے۔ مجھے بہت باتیں ڈاکٹر اقبال کی پسند ہیں مگر جہاں انہوں نے ان قصروں کو یاد کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ وہاں وہ جاہ و جلالِ دنیا سے مرعوب ہیں۔

ارے مسجد مدینہ کو نہیں یاد رکھتے اور قصر حمرا و قصر خضرا پر فخر کرتے ہو۔ مگر جو عرض کررہا ہوں ا س پر غور کیجئے کہ اگر کوئی غیر مسلم واقعی تحقیق کی غرض سے بھی تاریخ کی دوربین لگا کر اسلامی تہذیب کا پتا لگانا چاہتا تو ہو قصر خضراء جاتا، قصر حمرا جاتا ، دمشق کے عالیشان محل میں جاتا اور جب وہاں جاتا تو حریروزیبا کے پردے نظر آتے۔ سونے چاندی کے برتن کھنکتے ہوئے نظر آتے۔ غلام سنہری ڈابیں ، طلائی پٹکے کمر پر باندھے ہوئے نظر آتے او رپھر اور آگے بڑھتا تو شراب کے جام کھنکتے ہوئے نظر آتے۔ تو وہ اسلامک کلچر اسی کو سمجھتا۔

وہ کہاں جاتا محلہ بنی ہاشم میں اُس نیچی دیواروں والے مکان میں جس کے دروازے پر ثابت پردہ بھی نہیں۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں یہ کہا کہ میں ان کے اسلام کے مقابلہ میں ایک اسلام کا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کردوں اور آفتاب کی روشنی میں ان کو سچے مسلمانوں کا ایک گروہ دکھا دوں اور اپنے کردار کو اتنا اونچا لے جاؤں کہ دمشق کے مینارے دب جائیں اور میرے اللہ اکبر کی صدا دنیا کے دل میں گھر کرے۔ اس کیلئے حضرت امام حسین علیہ السلام نے اسلحہ جنگ لئے۔اگر فوجی عسکری فتح حاصل کرنا ہوتی تو قدآور جوان ساتھ لیتے، بلند وبالا قامت والے سورما ساتھ لیتے۔ مگر ان کو اس طرح کی جنگ نہیں لڑنا تھی۔

جنگ کے کتنے نمونے آپ کے سامنے ہوں گے۔فوج میں عمر کی حدیں مقر رہیں، اس سے کم عمر کا نہیں لیا جائے گا۔ اس سے زیادہ عمر کا نہیں لیا جائے گا۔ قد ناپا جاتا ہے، سینہ ناپا جاتا ہے۔ تب فوج میں لیا جاتا ہے۔ مگر امام حسین کے سپاہیوں میں نہ کم عمر کی قید نہ زیادہ عمر کی قید۔ یہاں ۷۰ برس کے حبیب ابن مظاہر بھی فوج کے سپاہی ہیں اور نابالغ بچہ قاسم بھی فوج کا سپاہی ہے۔

اور کہنے دیجئے کہ ۶ مہینے کا بچہ بھی ان کے مقصد کا بہت بڑا سپاہی ہے۔ تو اسی سے سمجھ میں آتا ہے کہ وہ جنگ انہیں نہیں لڑنا ہے۔اب ان کی فتح و شکست کو اس پیمانہ پر نہ ناپئے، انہوں نے بھی انتخاب کیا سپاہیوں کا۔ اب زیادہ تفصیل سے نہیں عرض کرنا ہے کہ سپاہی وہ لئے جو انسانیت اور اسلام کی کسوٹی بن سکیں۔ انہیں قدآور سپاہی نہیں چاہئیں۔انہیں ایسے سپاہی چاہئیں کہ کوئی حافظ قرآن ہے، کوئی عابد شب زندہ دا رہے، حبیب ابن مظاہر وہ ہیں کہ جن کے بارے میں روایت ہے کہ ایک سجدہ میں قرآن ختم کرتے تھے۔ بریر ہمدانی وہ ہیں جو

کوفے کے بچوں کو حفظ قرآن کرواتے تھے۔سیدالقراء ان کا خطاب تھا۔ ایسے ایسے سپاہی لائے ہیں۔ کیوں؟ تاکہ مسلمانوں کی آنکھیں کھلیں کہ اسلام پر کے وقت پڑ گیا ہے کہ ایسے لوگ تلواریں لے کر میدان میں آگئے ہیں۔

اس کے بعد اربابِ عزا!خاندانِ رسالت کا پورا سرمایہ ہے۔ میں نے دو الفاظ کہے تھے، انسانیت اور اسلام کی کسوٹی۔ میں کہتا ہوں کہ انسان مختلف ہیں، کسی کو جوان پر رحم آتا ہے، کسی کو بچے پر رحم آتا ہے، کسی کو کسی خاتون پر رحم آجاتا ہے۔ امام اپنے ساتھ ہر نمونہ لائے تھے کہ اگر ان میں انسانیت کا کوئی شائبہ ہوگا تو کبھی جوان کے مقابلہ میں ہاتھ رُکے گا، کبھی بچے کے مقابلہ میں ہاتھ رُکے گا، کبھی کسی خاتون پر رحم آئے گا ۔ جب یہ نہیں ہوا تو دنیا سمجھ لے کہ اس اسلام کے برقع کے پیچھے کیسے لوگ چھپے ہوئے ہیں؟ اس اسلام کی نقاب کے پیچھے کون سے مسلمان ہیں؟ اور اسی کا نتیجہ ہے کہ کربلا کے جہاد کی نوعیت بالکل مختلف ہوگئی ۔


دینِ اسلام ۴

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰهِ الْاِسْلَامْ ) ۔

کل اس پر گفتگو ہورہی تھی کہ کہاجاتا ہے کہ دین آزادی سلب کرتا ہے۔ اب میں اس وقت ایک پہلو کی طرف اس سلسلہ میں توجہ دلاتا ہوں کہ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آزادی انسان کا حق ہے۔ میں کہتا ہوں کہ انسان ایک آدمی کا تو نام نہیں ہے۔ انسان ایک پوری نوع ہے جس میں ہر فرد آدمی ہے، ہر فرد انسان ہے اور آزادی کا مطلب آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ جو چاہیں، وہ کرلیں۔ جو دل چاہے، وہ عمل میں لے آئیں۔ یہ ہیں آپ کے نزدیک آزادی کے معنی جس کا مطالبہ کررہے ہیں؟ تو یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کی خواہشیں ہیں لامحدود۔ کسی نقطہ کے اوپر انسان کی خواہش نہیں ٹھہرتی۔ اسے میں روزمرہ کی دو تین مثالوں سے واضح کروں گاجو ماشاء اللہ سن رسیدہ افرا دہیں، میں خود الحمدللہ اسی جماعت میں داخل ہوں تو اس جماعت پر طنز و تعریض میرا نصب العین تو ہو نہیں سکتا، مگر یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کچھ دن بڑے بوڑھوں کے پاس رہئے اور ان کی بات چیت سنئے تو اکثر یہ کہتے ہوئے وہ آپ کو ملیں گے کہ خدا نے سب حسرتیں پوری کردیں، بس یہ ایک حسرت اور ہے ۔ اب مثلاً کوئی صاحبزادے ابھی کمسن ہیں، آخری عمر کی اولاد تھی، اس لئے ابھی وہ چھوٹے ہی ہیں۔ کہتے یہ سنا کہ الحمد للہ سب حسرتیں پوری ہوگئیں، بس اس بچے کو، اب یہ ہمارے ہاں کی اُردو ہے،کہ ہاتھ منہ کا دیکھ لیں یعنی خود مکتفی ہوجائے۔ اچھا! خدا کا شکر اللہ نے عمر میں برکت عطا کی۔ یہ حسرت پوری ہوگئی مگر اب ہم نے سنا کہ سب حسرتیں پوری ہوگئیں۔ بس اب اس کے سر پر سہرا بھی دیکھ لیں۔ الحمدللہ تھوڑے دنوں میں سہرا بھی بندھ گیا۔ تو اب یہ کہتے سنا کہ الحمد للہ ، اللہ نے ساری حسرتیں پوری کردیں، بس اب سہرا تو بندھ ہی چکا ہے،شادی ہوچکی ہے تو بس اللہ اس کا ہنستا کھیلتا بچہ دکھادے۔

اب یاد رکھئے کہ یہ حسرت اگر پوری ہوگئی تو اس بچے میں وہی سلسلہ شروع ہوگا۔ غرض پوری عمر گزر جائے گی اور یہ ایک عدد حسرت رہ جائے گی۔ اسی کو معاشیات کے دائرے میں لے جائیں تو وہ کلرک جس کو کسی زمانہ میں ۵۰ روپے تنخواہ ملتی تھی اور اس زمانہ میں ۵۰ روپے اچھی تنخواہ ہوتی تھی، تو اس کو ہم نے کہتے سنا کہ خداکا شکر ہے گزر بسر ہوجاتی ہے مگر ایک دس روپے اور بڑھ جائیں تو آرام سے گزر ہونے لگے۔ اب ظاہر ہے دفتروں میں ترقیاں ہوتی ہیں۔ کچھ دن میں وہ دس روپے بڑھ گئے تو پھر یہی سنا کہ خداکا شکر ہے، گزر بسر ہوجاتی ہے ، بس ایک دس روپے اور بڑھ جائیں ۔ غرض کتنی دفعہ ۱۰ روپے بڑھے مگر وہ دس روپے کی کمی باقی رہی۔ اب جن کی آمدنی دسوں کے لحاظ سے ہے، ان کو دس کی کمی محسوس ہوتی ہے اور جن کی آمدنی سینکڑوں کے لحاظ سے ہے، ان کو پورے سو کی کمی محسوس ہوتی ہے اور جہاں بحمد للہ ہزاروں کے وارے نیارے ہیں، وہاں پورے ایک ہزار کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

غرض یہ وہ پیاس ہے جو جتنی بجھتی ہے، اُتنی بھڑکتی ہے۔ یہی چیز جب اونچے حلقوں میں جاتی ہے تو فتح ممالک کے جذبہ کے تحت اُبھرتی ہے ۔ جس کے پاس ایک ملک ہے، اب وہ یہ کیا کہے کہ میری ضروریات کیلئے ناکافی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میری رعایا کیلئے یہ ناکافی ہے۔ خواہ خود کتنا رعایا کا خون چوس لے۔ اس وقت رعایا کی ہمدردی پر زور ہوتا ہے۔ تو اس لئے اب وہ اپنی رعایا کی خاطر پاس والے ملک پر حملہ کرتا ہے۔ پھر جب ایک حصہ لے لیتا ہے تو اتنی ہی کمی اور محسوس ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جہاں میں جہاں تک جگہ پائیے، عمارت بناتے چلے جائیے اور وہ بڑی طاقتیں جن کا اس دنیا میں کسی نہ کسی طرح سے اثر ہر طرف چھاگیا، معاہدوں سے سہی، میثاقوں سے سہی، کسی صورت سے یہاں ہر طرف اثر چھاگیا تو اب نگاہ گئی کہ چاند میں بھی آبادی ہے یا نہیں۔مریخ میں بھی آبادی ہے یا نہیں۔ کوئی کہے کہ یہ تو بیچارے تحقیقات کیلئے جارہے ہیں، اس میں فتح کے جذبے کا کیا سوال ہے؟ میں کہتا ہوں کہ یہ تو سابق زمانہ کا غیر سیاست دان حملہ آور ہوتا تھا جو حملہ حملے کے نام سے کرتا تھا۔ فتح فتح کے نام سے کرتا تھا۔ آج کی سیاست تو کسی نہ کی بھیس میں اپنے اقتدار کو بڑھاتی ہے۔

ہمیں اور اس ہم میں دونوں ملکوں کے عوام داخل ہیں کیونکہ اس وقت تو سب ہی ایک تھا۔ ہمیں اس کا پورا تجربہ ہے۔ صاحب بہادر آئے تھے تجارت کرنے مگر تجارت کرنے آئے اور یہاں کی مخلوق نابالغ نظر آئی ۔ ولی بننے کا شوق ہوا اور یہ لاکھ کہیں ہمیں ضرورت نہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ تمہیں ہماری ضرورت ہے۔جب اس لائق ہوجاؤ گے تو چلے جائیں گے۔ حالانکہ جب تک رہے، ممکن ہے یہ کام کیا ہو کہ چلے بھی جائیں تو بغیر ہمارے یہ حکومت نہ کرسکیں۔ ہمارے ہمیشہ محتاج رہیں۔ یہ ہے اس دنیا کا سیاست دان کہ اگر عالم بالا پر گیا تو میں کہتا ہوں کہ جیسے شاعر نے اسی دن کیلئے یہ شعر کہا تھا:

توکارز میں رانکو ساختی

کہ باآسماں نیز پرداختی

اس دنیا میں آپ نے امن کے بادل خوب برسائے ہیں، جو اب عالم بالا پر جائیے اور وہاں سے خیروبرکت کی بارش کی اُمید کریں۔ توغرض یہ کہ انسانی خواہشات لامحدود ہیں اور آزادی کے معنی یہ آپ سمجھتے ہیں کہ ہر ایک کی خواہش پوری ہو تو اب یا تو ایک کو آزاد کردیاجائے اور باقی سب کو قید تو یہ تو وہ کرے گا جس کی اس ایک سے کوئی رشتہ داری ہو اور یا پھر یہی صورت ہے کہ آزادی کے حق کو تقسیم کردیا جائے۔ یعنی ہر ایک اس حد تک آزاد جہاں تک دوسروں کے حقوق کو صدمہ نہ پہنچے اور جہاں سے دوسروں کے حقوق کو صدمہ پہنچے، وہیں سے مقیّد۔ یہ قید فرد کیلئے قید ہے مگر تمام نوع کیلئے آزادی ہے۔یہ تمام نوع کو جنس آزادی سے بہرہ ور بنانے کا ذریعہ ہے ۔

مگر یہ حقوقِ آزادی کو تقسیم کون کرے؟ یاد رکھئے کہ اگر اس تقسیم کا مرکز کوئی مادی ہوا، یعنی کسی خاندان کا آدمی، کسی نسل کا آدمی، کسی ملک کا آدمی تو ایک تو جو اس سے قریب ہیں، اُن کی ضرورتوں کا احساس زیادہ ہوگا، دوسروں کی ضروریات کی اس کو خبر نہ ہوگی۔ دوسرے اس کو ہمدردی بھی ایک سے زیادہ ہوگی۔ دوسروں سے وہ ہمدردی نہ ہوگی۔ لہٰذا عدلِ کلی قائم نہیں ہوسکتا۔

توضرورت ہے کہ مرکز تقسیم آزادی ایک ایسی ذات ہو جو خود کسی ملک کا نہیں، جو خود کسی خاندان کا نہیں ہے، جو خود کسی نسل کا نہیں ہے۔جب اس کی طرف سے حقوقِ آزادی کا قانون بنے گا تو ہر ایک کا ضمیر مطمئن ہوسکے گا کہ میرے ساتھ انصاف ہوا ہے۔ اور یاد رکھئے کہ مذہب وہی قانون پیش کرتا ہے کہ جس سے تمام نوعِ انسانی کو اطمینان پیدا ہو کہ یہ اس کی طرف سے ہے جو ہم سب کا خالق ہے، ہم سب کا پیدا کرنے والا ہے۔اس لئے اس میں کسی کسی کے ساتھ ناانصافی کا سوال نہیں اور ظاہر ہے کہ یہ موضوع ایسا ہے جو مشترک مجمعوں میں بیان ہوتا ہے کیونکہ مذہب و ملت کا سوال نہیں ہے۔ مذہب کی جنگ ہرطبقے میں ہیں تو وہاں میں یہ چیز پیش کرتا ہوں۔

غور کیجئے ، میں کہتا ہوں کہ تمام دنیا کی قوموں کو مسلمانوں کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہئے کہ جس جس چیز کو خدا کی طرف سے مان لیا، پھر اس میں اختلا ف نہیں ہوا۔ قبلہ کو خدا کی طرف سے مان لیا تو دو کعبے نہیں ہوئے۔کتاب کو خدا کی طرف سے مان لیا تو دو قرآن نہیں ہوئے۔ رسول کو خدا کی طرف سے مان لیا تو دو پیغمبر نہیں ہوئے۔ جس جس چیز کو خدا کی طرف سے مان لیا، اس میں اختلاف نہیں ہوا۔ جہاں سے انسانوں نے اپنا اختیار صرف کردیا۔

اس کی طرف سے جو قانون پیش ہوتا ہے، اسی کا نام شریعت اسلام ہے۔میں نے پہلے کہا تھا کہ کچھ دن دین اور کچھ دن اسلام۔ اب حساب سے تقریباً برابر کی تقسیم ۔ آج پانچویں مجلس ہے تو پانچ دن تک دین ہی دین رہا اور آج پانچویں دن سے اسلام شروع ہوا۔ تو جب اس کی طرف سے کوئی قانون ہوگا تو ہر ایک کا ضمیر مطمئن ہوسکتا ہے اور یاد رکھئے کہ بے چینی سب ضمیر کے عدمِ اطمینان سے پیدا ہوتی ہے۔ گھر والوں میں ہر ایک کو اطمینان ہو کہ ہمارے ساتھ انصاف ہوگا تو آپس میں کوئی رنجش نہیں ہوگی۔ محلے والوں کو سب کو اطمینان ہو کہ ہمارے ساتھ انصاف ہوگا کہ محلے کے اندر کوئی کشمکش نہیں ہوسکتی۔ اب قرآن مجید کو دیکھیں، وہ کیا کہہ رہا ہے:

( اَ لَا بِذِکْرِاللّٰهِ تَطْمَعِنَّ الْقُلُوْبُ ) ۔

یاد رکھو کہ اللہ کو یاد رکھنے سے دلوں میں سکون ہوتا ہے۔

جب تک اس ایک کو یہ نہ مانیں گے، اس وقت تک اس مرکز کا تصور نہیں ہوگا جس سے سب کو رشتہ ہے۔ میں نے کہا کہ مرکز اگر کوئی محدود ہوا، کسی ایک سے قریب ، ایک سے دور تو عدلِ کلی قائم نہیں ہوسکتا۔ آجکل تو سکول اور کالج میں ابتدائی درجوں میں بھی کچھ نہ کچھ ریاضی پڑھائی جاتی ہے۔ریاضی کے بہت سے شعبے ہیں۔ کچھ گنتی سے متعلق ہیں، کچھ مقدا ر سے متعلق ہیں۔ ہر ایک کے الگ الگ نام ہیں۔ تو ریاضی کا ابتدائی مسئلہ کہ مختلف شکلیں ہوتی ہیں، کوئی مثلث، کوئی مربع، کوئی مسدس، جتنی بھی شکلیں ہوتی ہیں، ان میں جو نکتہ مانئے گا، وہ کسی طرف سے قریب ہوگا، ایک طرف سے دور ہوگا۔بس ایک شکل ہے دنیا میں کہ جس میں ایک نکتہ ایسا مانا جاسکتا ہے کہ جتنے خطوط کھینچے جائیں، وہ سب برابر ہوں۔اس میں کوئی فرق نہ ہو۔ وہ شکل دائرہ کی ہے۔ اس جسم کو کرہ کہتے ہیں اور اس نقطہ کو جس سے سب خط برابر ہوں، مرکز کہتے ہیں۔

اب یہاں بچے بھی جتنی تھوڑی سی ریاضی پڑھے ہوئے ہیں اور بڑے بھی اپنے معیار پر ، جنہوں نے ریاضی پڑھی ہے، سمجھ سکتے ہیں کہ یاد رکھئے مرکز سے ہٹے ہوئے نقطے بے شمار ہوسکتے ہیں مگرمرکز دائرہ کا ایک سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔اگر مرکز کئی ہوں تو دائرے کئی ہوں گے۔ ایک دائرہ کا مرکز ایک سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔ اب یہیں سے ایک اور حقیقت پر توجہ کیجئے اور وہ کیا ہے کہ مرکز ایک اورصرف ایک ہوتا ہے اور ایسا ایک جو ناقابل تقسیم ہو۔واحد غیر منقسم، اس لئے کہ اگر اس کے اجزاء ہوئے تو کوئی جزو کسی طرف سے قریب ہوگا ، کسی طرف سے دور ہوگا تو وہ مرکز نہ بن سکے گا۔ لہٰذا مرکز ہوتا ہے وہ نقطہ جو واحد غیر منقسم ہو ۔ اب اسی کا ایک اور نتیجہ اور وہ یہ کہ مرکز آنکھ سے نہیں دکھائی دیتا،

اس لئے کہ میری اور آپ کی باریک سے باریک نب سے جو نقطہ بنے، وہ نقطہ نہیں ہوتا، جسم ہوتا ہے۔ اس میں اجزاء ہوتے ہیں اور مرکز وہ نقطہ ہے جس میں اجزاء نہ ہوں۔ لہٰذا یہ فقط مرکزی کبھی آنکھ سے نہیں دکھائی دیتا۔ مگر دائرہ کا وجود بے دیکھے مرکز کو منواتا ہے۔

اب میں یہ کہتا ہوں کہ یہ چھوٹا سادائرہ جو میرے یا آپ کے پرکار سے بن جائے، اس کا مرکزبھی دکھائی نہ دے مگر بے دیکھے اُسے ماننا پڑے اور اس دائرئہ کائنات کیلئے مطالبہ ہے کہ مرکز کو آنکھ سے دیکھیں گے تو مانیں گے۔دنیا میں امن کے جھنڈے بلند رہتے ہیں اور ہر ایک امن عالم کا علم بلند کئے رہتا ہے۔ آج دنیا میں کوئی ایک نہیں جو بدامنی کا داعی ہو، جتنے ہیں سب امن کے علمبرداراور امن کے داعی۔اس کیلئے امن کانفرنس ہوتی ہے۔ اس کیلئے بڑے بڑے افراد کی گفتگو ئیں ہوتی ہیں۔ مجھے بھی دیکھتے دیکھتے اخباروں سے بہت سے الفاظ یاد ہوگئے ہیں ۔ دو طاقتی کانفرنس، سہ طاقتی کانفرنس، چار طاقتی کانفرنس اور ایک محاورہ یہ کچھ عرصہ سے نکلا کہ چوٹی کانفرنس اور اس کے بعد گول میز کانفرنس۔ کوئی کہے بھلاے یہ گول میز کیا ہوتی ہے؟ یہ بھی اسی لئے ہوتی ہے کہ اگر میز گول نہ ہوتی تو سوال اوّل و آخر کا پیدا ہوگا کہ کون پہلے بیٹھا ہے ، کون بعد میں؟

جب گول میز ہوگی تو ہر اوّل آخر ہے ۔ جہاں سے خط چلے گا، وہیں گھوم کر آئے گا۔ اس کے معنی ہیں کہ ضرورت مرکز کی سب کے ذہن میں ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ جسمانی طور پر میز گول بنالی مگر ذہن میں مرکز کا تصور نہیں ہے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ زیادہ تر گفتگوئیں ناکام ہوتی ہیں بلکہ میں تو دیکھتا ہوں ، جہاں تک میرے تجربے ہیں، ایسی کانفرنسوں کے زمانے کے ، کہ ہرامن کی ہر کوشش تمہید جنگ ہوتی ہے۔ یہ کیوں جنگ کی تمہید بنتی ہے؟ اس صرف اس لئے کہ جو لوگ گفتگو میں شریک ہوتے ہیں، وہ چاہے گول میز پر بیٹھے ہوں، ان کے پہلو سے پہلو ملے ہوئے ہوں، کاندھے سے کاندھا جڑا ہوا ہے، مگر دل و دماغ سب کے الگ ہیں۔ کاغذ پر امن ہے۔

ماشاء اللہ اُردوزبان ہے، میں تجربہ کرلیا کرتا ہوں ، یہاں کا مجمع واقف ہے کہ زبان پر امن ہے، کاغذ پر امن ہے، تقریر میں امن ہے،تحریر میں امن ہے اور دل میں ہر ایک کے امن ہے۔یہ جو امن کی کوشش ہوتی ہے، امن کی گفتگو ہوتی ہے، عموماً یہ بھی ایک نوعیت کی جنگ ہوتی ہے۔ کوئی کہے کہ یہ جنگ کس طرح ہے؟ یہ جنگ اس طرح ہے کہ کون اتنا بڑا سیاست دان ہے کہ اپنی ذاتی قومی ، اپنی پارٹی کے مفاد پر اتنا گہرا ملمع چڑھاسکے کہ دوسرے بیوقوف بن کر مان لیں اور جناب جب تک گفتگوئیں ہوتی رہیں، تو اتنے الفاظ اخباروں میں دیکھے ہیں کہ مجھے حفظ ہوگئے ہیں۔

یہ اطلاع آتی رہی کہ معاملات ترقی پذیر ہیں۔ فلاں صاحب نکلے تو مسکرا رہے تھے، فلاں صاحب نکلے تو ہنس رہے تھے۔ اخبار نویسوں کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ارے ابھی جلدی کیا ہے؟ بتائیں گے۔ انہوں نے ہنس کر کہا تھا۔ یہ سب قرائن ہیں اور کچھ عرصہ میں یہ آیا کہ اب ایک فریق نے دوسرے کے معاملے کو ، باتوں کو سمجھ لیا ہے ۔غنیمت ہوئی کہ اتنی دیر میں بھی سمجھا۔ جب تک کانفرنس ہوتی رہی، یہ خبریں آتی رہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی ایسا شاطر سیاست دان ثابت ہوا کہ اُس نے بڑا گہرا ملمّع چڑھادیا تو یہ ہوا کہ ہوگیا، ہوگیا، ہوگیا۔مگر ملمع کتنے دن رہے گا؟ تھوڑے عرصہ میں دوسرے کو محسوس ہوا کہ ارے اس سے تو ایک زیادہ فائدہ اٹھا لے گا۔ بس اب وہیں سے معاہدہ شکنی کی فکر ہوئی مگر اس طرح کہ الزام دوسرے پر آئے، ہمارے اوپر الزام نہ آئے اور اگر فرض کیجئے کہ دونوں شاطر سیاست دان ہوئے، برابر کی جوڑی ہوئی تو اعلان ہوا کہ کچھ طے نہیں پایا۔ پھر ملیں گے، گفتگو ہوگی۔

اب یہ سنی سنائی کشتی کا ایک لفظ مجھے یاد ہے حالانکہ میں نے تمام عمر دنگل ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا کہ یہ اعلان ہوگیا کہ کچھ نہیں طے ہوا، اس کے معنی یہ ہیں کہ کشتی برابر کی ہوئی۔ کوئی ایک دوسرے کو مغلوب نہیں کرسکا۔ یہ کیو ں ہے؟ اس لئے کہ کوئی مشترک مقصد سامنے نہیں ہے۔ بہبودی خلق کا کوئی نقطہ نظر سامنے ہو تو سب اس نقطہ پر جمع ہوسکیں۔ ہر ایک کو اپنے مقاصد کی فکر ہے۔ لہٰذا کوئی کوشش بارآور نہیں ہوئی۔ لہٰذاامن عالم کا پیغام لے کر جو اسلام آیا تھا اور ہمارے نزدیک تو اسلام شروع ہی سے تھا، آدم بھی جسے لے کر آئے تھے، وہ اسلام ہی تھا۔ نوح بھی جسے لے کر آئے تھے، وہ اسلام ہی تھا۔ حضرتِ ابراہیم اور تمام انبیاء اسلام ہی کی دعوت دیتے رہے۔ یہ اور بات ہے کہ قرآن مجید نے کہا ہے کہ نام اسلام تھا، حضرت ابراہیم کے وقت سے شروع ہوا۔

( هُوَسَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ ) ۔

مگر یہ کہ حقیقت اسلام ہر ایک نبی کے دور میں تھی۔ شریعت بدلتی رہی، دین تبدیل نہیں ہوتا۔ دین سب کے دَور میں ایک ہی تھا اور وہ اسلام تھا۔ سب سے آخر میں اس کی تکمیل کیلئے اس کو پورے طور پر قوت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے کیلئے حضرت پیغمبر اسلام محمد مصطفےٰ تشریف لائے۔ اب آپ نے دنیا کے سامنے آکر یہ پیغام جو پہنچایا تو اس کے بنیادی اصول کیا تھے؟ ہر ایک مسلمان کو میں دعوت دیتا ہوں کہ آپ نے کھڑے ہوکر جو کلمہ پڑھوایا، وہ محمد رسول اللہ نہیں تھا۔ یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ :

( قُوْلُوْا مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰه ) ۔

وہ تو ان کے کہنے سے جب اسے پڑھ لیں گے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ مان لیا۔ مگر انہوں نے یہ نہیں کیا ، ان کی آواز تو یہ تھی:

( قُوْلُوْالَااِلٰهَ اِلَّااللّٰه تُفْلِحُوْا ) ۔

بالکل جیسے ایک نصیحت کرنے والے کی صدا ہوتی ہے کہ”لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰه “، کہو تمہارابھلا ہوگا او رکہو کے یہ معنی نہیں ہیں کہ زبان سے کسی وقت کھڑے ہوکر نعرہ لگا لو، نہیں۔ یہ کہو وہ ہے کہ جیسے آپ کہتے ہیں کہ میرا قول یہ ہے ۔ میں تو اس کا قائل ہوں یعنی تمہارا نقطہ نظر یہ ہونا چاہئے کہ کوئی خدا نہیں ہے، سوائے اللہ کے۔

اگر عرب سے یہ کلمہ پڑھواتے کہ”اللّٰہ اِلٰہٌ “، اللہ خدا ہے تو پورا عرب کلمہ پڑھ لیتا، اس لئے کہ اللہ کو تو وہ مانتے تھے۔ خود قرآن کہہ رہا ہے مگر اللہ کے سوا بھی بہت سوں کو مانتے تھے۔ تو یہاں یہ نہیں کہاجارہا ہے کہ کلمہ پڑھو اللہ الٰہ ہے۔ یعنی فقط اللہ کی دعوت نہیں دی جارہی ہے،یہ نہیں کہاجارہا کہ کہو اللہ خدا ہے۔ کہاجارہا ہے کہ”لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰه “کوئی خدا نہیں ہے سوائے اللہ کے،”تُفْلِحُوْا “، تمہارا بھلا ہوگا۔ اب اس وقت کے جاہل عرب ک یا سمجھتے کہ بھلا ہوگا تو اس کا ہوگا جس کے رقیبوں کا خاتمہ کریں گے ۔ مگر رسول فرما رہے تھے کہ اللہ کو ایک کہو تو تمہارا بھلا ہوگا ۔ تو اس وقت کے جاہل عرب نہ سمجھے۔ اب نئی روشنی والے تو سمجھیں ، اب بجلی کی روشنی والے تو سمجھیں کہ نوعِ انسانی کا کیا بھلا ہے؟ یاد رکھئے کہ اس وقت دنیا تڑپ رہی ہے دو چیزوں کیلئے، ایک اخوت اور ایک مساوات۔ اخوت کے معنی برادری اور مساوات کے معنی برابری۔ تمام دنیا ان دوچیزوں کیلئے تڑپ رہی ہے اور اس لئے مختلف ”ازم“ چل رہے ہیں۔یہ دولت کی برابر تقسیم کس لئے ہے؟ اسی لئے کہ دولت مند غریب کو دباتا ہے۔ لہٰذا برابر سے تقسیم کردو کہ نہ غریب رہے، نہ فقیر۔ نہ دولت مند رہے، نہ غریب۔ تو سب ایک ہوجائیں۔ سب برابر ہوجائیں۔

مگر ماشاء اللہ صاحبانِ فہم ہیں، تعلیم یافتہ ہیں، میں کہتا ہوں کہ یہ جو علاج تجویز کیا جارہا ہے ، کیا یہ واقعی مرض کا صحیح علاج ہے؟ یاد رکھئے کہ نوعِ انسانی میں تفرقہ اگر دولت اور غربت کاہوتا تو آپ دولت کو برابر تقسیم کرکے سمجھ لیتے کہ مساوات قائم ہوگئی۔ مگر نوعِ انسانی میں تفرقہ فقط دولت کا تو نہیں ہے، بازوؤں کی طاقت میں بھی فرق ہے۔ ایک قوی ہیکل ہوتا ہے، دوسرے لوگ ناتواں ہوتے ہیں۔وجاہت اور اثر میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ایک بااثر ہوتا ہے، دوسرے لوگ بے اثر ہوتے ہیں۔ قوم و قبیلے کی کثرت میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ایک کا خاندان بڑا ہے، اس کی آواز پر بہت لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں، ایک بیچارہ یوسف بے کارواں ہے، اس کا ساتھ دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔ دماغی فوقیت میں بھی فرق ہوتا ہے۔ ایک آدمی ذہین ہوتا ہے، باقی لوگ کند ذہن ہوتے ہیں۔ جس طرح دولت مند اپنی دولت سے غریبوں کو دباتا ہے، اسی طرح سے صاحب طاقت اپنے بازوؤں کی قوت سے دوسرے کمزوروں کو دباتا ہے۔ کسی محلہ میں اگر کوئی پہلوان صاحب ہوں تو دیکھئے کہ سب ان کے رحم و کرم پر ہوجاتے ہیں۔ ایک صاحب قوم و قبیلہ اپنے قبیلے کی کثرت سے دوسروں کو دباتا ہے۔

ارے کسی زمانہ میں خاندان و قبیلہ ہوتا تھا، اب پارٹی سہی ۔ جس کی پارٹی بڑی ہوتی ہے، وہ ان کو دباتا ہے جن کی پارٹی چھوٹی ہوتی ہے اور دماغی فوقیت! ذہین افراد ایسی سکیمیں بناتے ہیں کہ دوسرے لوگ بیوقوف بن کر ان کے قبضہ میں آجائیں۔ وہ اپنا مطلب پورا کریں۔

تو حضور! دولت تو ہے باہر کی چیز ۔ اسے آپ چھین کر برابر تقسیم کردیں۔ وہ تو دولت کی تصویر حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرما چکے ہیں:

اِنْ کَانَ بَقِیَ لَکَ فَلا تَبْقٰی لَهَا “۔

اگر یہ تمہارے لئے رہ بھی جائے تو تم اس کیلئے نہیں رہو گے“۔

یہ دولت تو چور لے جاتے ہیں، ڈاکو لے جاتے ہیں۔ ہم آپ اگر قانون بنا کر چھین لیں گے تو کارنامہ کیا ہوگا؟ لیکن بازوؤں کی طاقت کا کیا کیجئے گا، اسے بھی کیا طاقتوروں کے بازوؤں سے کھینچ کر کمزوروں کے جسم پر تقسیم کیجئے گا اور خاندان اور قبیلے کا کیا کیجئے گا؟ کیا افرادِ خاندان کو بھی تقسیم کیجئے گا کہ کسی کے حصہ میں باپ چلا جائے، کسی کے حصہ میں بیٹا چلا جائے۔ دماغی فوقیت کا کیا کیجئے گا ؟ کیا اُسے بھی ذہین افراد کے دماغوں سے نکال کر سادہ لوحوں پر ، بھولے بھالوں پر تقسیم کیجئے گا۔ آپ سمجھئے گا کہ برابرسے سب عقلمند ہوگئے اور میں سمجھوں گا کہ سب برابر کے بیوقوف ہوگئے۔ جب یہ سب نہیں ہوسکتا تو دولت کو برابر تقسیم کرکے یہ سمجھ لینا کہ مساوات ہوگئی اور عدالت قائم ہوگئی۔ یہ طفل تسلی نہیں تو کیا ہے؟ اسلام جو نباضِ فطرتِ بشر تھا او رکیوں نہ ہوتا جبکہ خالق بشر کی طرف کا پیغام تھا ۔ اس نے محسوس کیا کہ بیرونی مساوات تو قائم نہیں ہوسکتی ، ارے زمینیں سب برابر نہیں ہوسکتیں، کوئی سخت ہے، کوئی نرم۔ پہاڑ سب برابر نہیں ہیں۔ کوئی اونچا ہے، کوئی نیچا۔درخت سب برابرنہیں ہیں، دریا سب برابر نہیں ہیں۔ کوئی گہرا ہے، کوئی اتھلا۔ تو اسی طرح سے انسانوں میں صلاحیتیں مختلف ہیں، قابلیت مختلف ہے اور انہی صلاحیتوں کا اختلاف ہے جو دولت و غربت کی شکل میں ابھرا ہے۔

تو خارجی مساوات تو قائم نہیں ہوسکتی لیکن ذہنیت کی تعمیر ایسی کرو کہ ایک بازوؤں کی طاقت والا اپنے بازوؤں کی طاقت کو دوسروں کو دبانے میں صرف نہ کرے بلکہ کمزوروں کا محافظ بن جائے۔ ایک صاحب قوم و قبیلہ اپنے قبیلے کی کثرت یا پارٹی کی کثرت سے دوسرے بے نوا افراد کو دبانے کا کام نہ لے بلکہ ان کا پاسبان بن جائے، ان کا حامی بن جائے اور ایک ذہین فرد اپنے ذہن کو تعمیری کاموں میں صرف کرے، تخریبی کاموں میں صرف نہ کرے۔

اگر یہ بات ہوجائے تو ایک فرد کو دی ہوئی اللہ کی نعمت پوری قوم کا سرمایہ بن جائے او رپھر دولت مندی بھی لعنت نہ رہے اور اگر اس ذہنیت کی تعمیر نہیں ہوتی تو لاکھ دفعہ دولت کو برابر سے تقسیم کردیجئے، عدلِ کلی قائم نہیں ہوگا اور ظلم کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

لہٰذا یہ ذہنیت بننے کی ضرورت ہے ۔ اب یہ ذہنیت کیونکر بنے۔ اس ذہنیت کو بنانے کی صورت اخوت ہے۔ دنیا مساوات قائم کرکے اخوت لانا چاہتی ہے۔ ذہن میں اخوت پیدا کرو۔ احساسِ اخوت، پھر مساوات کیلئے قانون کے دباؤ کی ضرورت نہ ہوگی۔ خود ذہنیت تعمیر پسند ہوجائے گی۔ تو اب اخوت کیونکر ہو؟ اب جناب یہ اخوت عربی کا لفظ ہے۔ ماشاء اللہ آپ اتنی عربی جانتے ہیں مگر اب اس کو اردو میں کہیں تو بھائی چارہ ، فارسی میں لے جائیں تو برادری۔کتنی دفعہ یہ زبانوں سے آپ کہیں،یہ زبانوں پر آپ کی آئے ۔تقریر کیلئے کھڑے ہوئے۔ ارے روزمرہ کی گفتگو میں بھیا، بھائی صاحب اور پھر تقریر کیلئے کھڑے ہوئے تو وہاں بھی کہاکرتا ہوں کہ بھائیو، بہنو۔ آجکل کے دستور کے مطابق بہنو، بھائیو، چاہے وہ ہو، چاہے یہ، مجھے اس وقت اس سے بحث نہیں ۔ تو یہ بھائی کا لفظ اتنی دفعہ زبان پر آتا ہے لیکن کبھی آپ نے سوچا بھی ہے کہ یہ بھائی ہوتا کیونکر ہے؟

جو میں کہتا ہوں ، دیکھئے اور فرصت کے لمحات میں غور کیجئے۔ مجلس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ بس خوش ہوئے، چلے گئے۔ اپنی جگہ بھی سوچئے، دیکھئے کہ بھائی آخر کیونکر ہوتے ہیں؟ ایک کلیہ میں کہتا ہوں کہ ابھی شاید عربی کے الفاظ اکثریت نہ سمجھیں۔ لیکن جب تشریح کروں گا تو سمجھیں گے کہ جب کوئی کثرتِ وحدت سے منسوب ہو تو اُس کے اجزاء میں برادری بھی پیدا ہوجائے گی، برابری بھی پید اہوجائے گی۔ کثرت کے معنی ایک سے زیادہ ہونا۔ وحدت کے معنی ایک ہونا۔جب کوئی کثرت کسی وحدت سے منسوب ہو، اب مثالوں سے واضح ہوجائے گا۔ یہ سگے بھائی بہن کیوں بھائی بہن ہیں؟ کیونکہ ایک ماں باپ کی اولاد ہیں تو ایک ماں باپ کی اولاد دس ہوئی تو دس بھائی بہن ، پچاس ہوئی تو پچاس بھائی بہن۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ نہ دیکھئے کہ کثرت کتنی بڑ ی ہے۔ یہ دیکھئے کہ وحدت نے کتنوں کو سمو دیا ہے۔

اب ہمارے ہندوستان کے دیہاتوں میں یہ محاورہ ہے ، شاید یہاں بھی ہو کہ کہاجاتا ہے کہ یہ ہماری برادری کے ہیں۔ تو برادری کا کیا مطلب ہے؟ یعنی اپنا ۔ اپنا باپ تو الگ مگر پانچ پشت پر ، چھ پشت پر جاکر کوئی ایک مورثِ اعلیٰ ہے جس کی اولاد میں ہم بھی ہیں اور آپ بھی ۔ مثلاً ماشاء اللہ خواجگان نارووالی سب ایک برادری۔ تواب محسوس کیجئے کہ کتنی ہی دور جاکر ایک کاتصور پید اہو، وہیں سے برادری قائم ہوتی ہے۔

اب جناب! دنیانے اور ترقی کی ، اب یہ خیال پید اہواکہ یہ ہمارے ہم وطن ہیں۔ ہم وطن کے کیا معنی ؟ ایک دیس کے باشندے۔ اس میں کتنا جذب ہوتا ہے کہ پردیس میں کبھی اپنے ہم وطن کو دیکھ لیا تو جب وہاں تھے تو کبھی صاحب سلامت نہ تھی۔ اب دوسرے ملک میں دیکھا تو دل چاہا کہ جائیں او رکچھ اپنی کہیں، کچھ اُن کی سنیں۔ یہ ہوتا ہے جذب ہم وطن ہونے کا۔ ہم وطن ایک معلوم ہوا، ایک کا قدم آیا اور الفت پیدا ہوئی۔ اب دنیا نے اور ترقی کی۔ احساس ہوا سمتوں کا، یہ ایشیا ہے، وہ یورپ ہے۔ یہ مشرق ہے، وہ مغرب ہے۔اب مسائل پر غور ہونے لگا کہ کون مغرب کیلئے زیادہ مفید اور کون مشرق کیلئے زیادہ مفید۔ حالانکہ ملک اپنے الگ الگ ، لیکن چونکہ سمت آفتاب کے لحاظ سے ایک، لہٰذا سب کے مفادات ایک ۔ معلوم ہوتا ہے جیسے دنیا تڑپ رہی ے اُس ایک کیلئے جو زیادہ سے زیادہ افرا د کو ایک بنا سکے۔

مگر یاد رکھئے کہ ہر اتحاد افتراق کا پیش خیمہ ہوتا ہے کیونکہ جب ایک باپ کی اولاد میں ایکا ہوگا تو دوسرے باپ کی اولاد کے مقابلہ میں محاذ ہوگا۔ جب ایک برادری کا ایکا ہوگا تو دوسری برادری کے مقابلہ میں ایکا ہوگا۔ جب ایک ملک والوں میں ایکا ہوگا تو دوسرے ملک والوں کے مقابلہ میں محاذ ہوگا۔ جب ایک سمت والوں میں اتحاد ہوگا تو دوسری سمت والوں کے مقابلہ میں محاذ ہوگا۔کیوں؟ اس لئے کہ اتحاد کی دیواریں عالم انسانیت کے بیچ میں سے کوئی اٹھائی جارہی ہیں۔ لہٰذا ہر دیوار اِدھر والوں کو ایک کرتی ہے، اُدھر والوں سے جدا کرتی ہے۔

اسلام جو کہ ایک عالمگیر برادری کا پیغام لے کر آیا تھا، اس نے یہ کام کیا کہ درمیان کی اتحادکی دیواروں کو ڈھاکر اور ڈھاکرنہیں تو بلند مقاصدکیلئے نظر اندا زکرکے ایک ایسا احاطہ اتحاد قائم کیا جائے جس میں نہ نسل کی تفریق ہو ، نہ رنگ کی تفریق ہو۔ نہ ملک کی تفریق ہو اور آخر میں جس میں سمت کی تفریق بھی نہ ہو اور وہ خدائے واحد کا ایکا ہے۔ اب کسی بھی مذہب و ملت کا آدمی ہو، میں اس کے سامنے کہتا ہوں کہ کونسی منطق ہے کہ ایک باپ کی اولاد بھائی بھائی ہوگئی ۔ ایک مورثِ اعلیٰ کی نسل کے آدمی بھائی بھائی ہوگئے۔ ایک دیس کے باشندے بھائی بھائی ہوگئے۔ایک سمت کے رہنے والے بھائی بھائی ہوگئے تو ایک خدا کے پیدا کئے ہوئے بھائی بھائی کیوں نہ ہوئے؟

مگر یاد رکھئے کہ بھائی کے حقوق فقط وہی سمجھے گاجو باپ کو یاد رکھے۔ جو باپ کو بھول جائے تو بھائی کے حقوق کیسے؟ اب سمجھ میں آیا کہ اسلام نے پوری طاقت اس پر کیوں صرف کردی کہ اللہ کو ایک مانو اور یاد رکھئے کہ یہ مقصد صرف اللہ کے ماننے سے پورا نہیں ہوسکتا۔ جب تک کہ اُسے ایک ہی نہ مانا جائے، اس لئے یہ کہا:

( قُوْلُوْالَااِلٰهَ اِلَّااللّٰهُ ) “۔

”کہو کہ کوئی خدا نہیں سوا ئے اللہ کے“۔

پس ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں گا ، صرف اس جملے کو یاد رکھئے تو پورا بیان یاد رہے گا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ توحید خالق کا پیغام ، اتحاد خلائق کا سنگ بنیاد ہے اور اب اس کے ذیل میں اشارتاً کہہ چکا کہ اگر کلمہ پڑھوایا جاتا”اللّٰہ اِلٰہٌ“، اللہ خدا ہے تو پورا عرب کلمہ پڑھ لیتا مگر یہاں اللہ کو اِلٰہ کہنے سے مسلمان نہیں ہوتا ۔ یہاں تو یہ ہے”لااِلٰہاِلَّا اللّٰہ“۔

وہ اللہ کو مانتے تھے۔ قرآن میں ہے اور ان سے عام طو رپر میں کہہ دوں جو تین سو ساٹھ کو مانتے تھے، ان کیلئے تین سو اکسٹھ کو ماننے میں کیا عذر تھا؟ یہاں ایک سادہ سا اُردو کا جملہ کہتا ہوں، الٹ پھیر سے مطلب میں فرق ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ایک خدا کے ماننے میں عذر نہ تھا، خدا کو ایک ماننے میں عذر تھا۔یہی قرآن کہہ رہا ہے:

( اَجَعَلَ اَلِهَةَ اِلَهً وَاحِدًااِنَّ هٰذَالَشَی عُجَابْ ) ۔

انہوں نے بہت سے خداؤں کو ایک کردیا۔ یہ عجیب بات ہے“۔

بس وہ نفی ان کیلئے بہت دشوار تھی۔ تو اب میں ایک حقیقت کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ قربانیاں جو رسول نے اتنی پیش کیں، وہ ”اِلَّا “ کے بعد جو اللہ ہے، اس کی راہ میں نہیں ہیں بلکہ”اِلَّا “ سے پہلے جو اِلٰہ ہے، اس کی راہ میں تمام قربانیاں ہیں۔ پورا جہادِ پیغمبر اس کے لئے ہے اور اب خواجہ غریب نواز کے ایک شعر کے معنی سمجھ میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا:

حقا کہ بنائے لاالٰہ است حسین

آجکل لوگ ہر ایک پر اعتراض کردیتے ہیں کہ انہوں نے لااِلٰہ کیا کہا؟ لااِلٰہ اکیلا تو کلمہ کفر ہے۔ لااِلٰہ کی بنیاد بنا دیا حالانکہ فقط ان بیچارے نے تو نہیں کہا تھا۔ ڈاکٹر اقبال صاحب نے بھی تو کہا:

پس بنائے لا اِلٰہ گردیدہ است

انہوں نے بھی تو آدھا لیا۔ پس بنائے لااِلٰہ گردیدہ است تو وہ تو چھ صدی پہلے تھے۔ یہ تو ابھی کل تھے اور زندہ۔ گویا اپنی نیک نامی کے لحاظ سے زندہ شاعر ہیں۔ تو جناب! ان کے ہاں ہیں یہ الفاظ”پس بنائے لااِلٰہ گردیدہ است“۔ تو لوگ یوں بھی کہہ دیتے ہیں کہ صاحب وہ تو شعر کی مجبوری تھی کہ پورا کلمہ موزوں نہیں ہوتا تھا۔ تو کسی صاحب نے کہا ضرورتِ شعری سے میں نے کہا ہے ۔ کسی نے کہا کہ شعر کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ تو میں نہیں مانتا۔ ہاں! ضرورتِ شعر بھی ہے لیکن ضرورتِ شعر کفر کو ایمان نہیں بناسکتی۔ ایک کلمہ کفر کو کلمہ ہدایت نہیں بناسکتی۔ تو یہ نہیں ہے۔

میں کہتا ہوں کہ ۶۰ ھ میں بھی لااِلٰہ خطرہ میں نہیں تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مسجدیں تو آباد تھیں،اذانیں ہورہی تھیں۔ خانہ کعبہ میں حج تو ہورہے تھے۔ وی لااِلٰہ جس کیلئے رسول نے قربانیاں پیش کیں، وہی لااِلٰہ خطرہ میں تھا۔ جب دنیا پتھر کے بتوں کو پوج رہی تھی، اب گوشت پوست سے بنیا ہوا یزید حکمِ الٰہی کے خلاف لوگوں سے اپنی اطاعت لے رہا تھا۔ حقیقت میں وہی لااِلٰہ خطرہ میں تھا اور حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی جو اتنی قربانیاں پیش کیں، وہ اسی لااِلٰہ کی خاطر تھیں۔

اب کوئی کہتا ہے کہ قربانیوں کا نتیجہ کیا ہوا؟ میں آنکھوں سے دکھا سکتا ہوں اور آپ کے موچی دروازے کے باہر وہ شاندار حسین ڈے ہوا تھا جو دونوں حکومتوں کے اہتمام سے ہوا تھا۔ حکومت ہند نے بھی اس میں حصہ لیا تھا اور حکومت پاکستان نے بھی۔ ان دونوں ملکوں کے تعلقات قریب لانے کیلئے ہوا تھا۔ کاش! اس نسخے کو چھوڑا نہ گیا ہوتا تو مستقل طور پر تعلقات خوشگوار ہوجاتے۔ تواس میں مَیں نے ، بعض حضرات ایسے ہوں گے جو اس میں موجود تھے، اس میں ہر مکتب خیال کے علماء موجود تھے اور آپ کو تو یاد ہوگا کہ سٹیج اس کا اتنا بڑا تھا جتنا یہ ہمارا ھال ہے۔اس میں تمام مذاہب کے علماء موجود تھے اور جب علماء ہر مذہب کے موجود تھے تو ہر نقطہ نظر کے مسلمان موجود تھے۔

تو میں نے اس پورے مجمع سے پوچھا تھا کہ بتاؤ آج یزید جیسا کوئی شخص رسول کا جانشین ہونے کا دعویٰ کرے تو مانو گے؟ اور

حد نظر کے سامنے جتنا مجمع تھا، سب چیخ اٹھا تھا کہ ہرگز نہیں مانیں گے۔ میں نے کہا تھا کہ ۶۰ ھ میں مان رہے تھے۔ میں نے سب علماء کو گواہ کیا۔ ان سے پوچھ لیجئے ۶۰ ھ میں تمام مسلمان مان رہے تھے۔ اگر نہ مان رہے ہوتے تو تاریخ شمار کرکے کیوں بتاتی کہ کس کس نے نہیں مانا؟ یہ تاریخ کا شمار کرلینا بتاتا ہے رسول کے اتنے بعد ۶۰ ھ میں صرف پچاس برس بعد سب مان رہے تھے یزید جیسے شخص کواور آج تیرہ چودہ سو برس گزرنے کے بعد آپ نہیں مان رہے ۔

تو ماننا پڑے گا کہ حسین نے اپنے خونِ ناحق سے بیہوش احساساتِ اسلامی پر جو چھینٹا ڈالا تھا، وہ مٹنے پر بھی آج تک اس طرح باقی ہے اور اس طرح ، بس ایک جملہ کہوں، وہ بھی یاد رکھنے کا ہے اور اس کے بعد آگے بڑھوں گا مصائب کی طرف آؤں گا کہ حضورِ والا! حضرت امام حسین علیہ السلام نے صرف اس یزید کے مقابلہ میں فتح حاصل نہیں کی جو ایک خاص باپ کا بیٹا تھا ، جو ایک خاص شہر کے تخت پر متمکن تھا، اس یزید کے مقابلہ میں فتح حاصل نہیں کی ہے بلکہ قیامت تک ہریزید کے مقابلہ میں فتح حاصل کی ہے۔


دینِ اسلام ۵

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰهِ الْاِسْلَامْ ) ۔

میں نے عرض کیا کہ آزادی کا جو مطالبہ ہورہا ہے، کہاجاتا ہے کہ انسان آزاد پیدا ہو ہے، لہٰذا آزاد رہنا چاہتا ہے اور اسے آزاد رہنا چاہئے۔ تو انسان کسی ایک فرد کا نام تو نہیں ہے۔ انسان ایک پوری نوع ہے جس میں سے ہر ایک انسان ہے اور آزادی کا مطلب یہ سمجھاجارہا ہے کہ جو دل چاہے، وہ کرسکیں۔ تو یاد رکھنا چاہئے کہ انسان کی خواہشات لامحدود ہیں۔ اسے میں نے مثالوں سے عرض کیا۔اب آزادی کسے دی جائے؟ یا تو ایک کو آزاد کردیاجائے بس اور سب کو مقیّد ، تو یہ اُس ایک کے ساتھ جس کی رشتہ داری ہو، وہ کرے گا یا پھر یہی شکل ہے کہ آزادی کی جنس کو حصہ رسدی تقسیم کیاجائے۔ یعنی ہر ایک اس حد تک آزاد ہوجس حد تک دوسروں کے حقوق کو صدمہ نہ پہنچے اور جہاں سے دوسروں کے حقوق کو صدمہ پہنچے، وہاں سے مقید۔ یہ قید ہر فرد کیلئے قید ہے مگر تمام نوعِ انسانی کو آزادی کے حقوق سے بہرہ ور کرنے کا ذریعہ ہے۔ مگر ان حقوقِ آزادی کو تقسیم کون کرے؟ اگر مرکز اس تقسیم کا کوئی مادّی ہوا تو وہ کسی نسل کا ہوگا، کسی ملک کا ہوگا، کسی زبان کا بولنے والا ہوگا تو سب کی ضرورتوں کا اُسے احساس بھی نہیں ہوگا اور اس کو اس پر اعتماد بھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا اطمینانِ قلب ہر ایک کو حاصل نہیں ہوسکتا اور بے اطمینانی ہی تصادم کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ لہٰذا مرکز تقسیم حقوق ایسی ذات ہونی چاہئے جو خود کسی ملک کی نہیں، خود کسی نسل کی نہیں، خود کسی رنگ کی نہیں، کسی سمت کی نہیں۔ جب اس کی طرف سے تقسیم ہوگی، تو ہر ایک کا ضمیر مطمئن ہوسکتا ہے کہ میرے ساتھ انصاف ہوا ہے، میرے ساتھ عدل ہوا ہے۔

یہ اُن لوگوں کیلئے جو اتفاق سے کل نہ شریک ہوئے ہوں، مختصر خلاصہ ربط کیلئے بیان کیاجاتا ہے۔ تو میں نے کہا کہ اس کا تجربہ خود مسلمانوں کو ہے اور وہ مشاہدہ خود دنیا کیلئے مثال ہے کہ جس جس چیز کو مسلمانوں نے خدا کی طرف سے مان لیا، پھر اس میں اختلاف نہیں ہوا۔ کعبہ کو خدا کی طرف سے مان لیا تو دو قبلے نہیں ہوئے۔ جس جس چیز کو خدا کی طرف سے سب نے مان لیا، اس میں اختلاف نہیں ہوا۔ جہاں سے ایک طبقہ نے اپنے اختیار کو صرف کردیا، وہیں سے اختلاف ہوگیا۔ اب اس کی طرف جو حقوق تقسیم ہوتے ہیں، اس میں پھر کسی کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی،مثلاً پابند شرع گھرانوں میں جہاں شرع کے اعتبار سے میراثیں تقسیم ہوتی ہیںِ وہان کبھی کسی لڑکی کو شکایت نہیں ہوتی کہ ہمیں آدھا ملااور ہمارے بھائی کو دوگنا ملا۔ اس لئے کہ وہ جانتی ہے کہ میرا حصہ اللہ کی طرف سے یہی ہے۔ لہٰذا اُسے کوئی ناانصافی کا شکوہ نہیں ہوگا۔ ہاں! جو حصہ مقرر ہے اللہ کی طرف سے، وہ نہ دیا جائے تو پھر وہ ظلم ہوگا۔ جیسے ایک وقت کا حال مجھے معلوم ہے کہ پنجاب میں لڑکی کو حصہ نہیں دیا جاتا تھا، عدالتوں میں پوچھا جاتا تھا کہ تم شریعت کے مطابق فیصلہ چاہتے ہو یا رواج کے مطابق؟

اس کے معنی یہ ہیں کہ شریعت الگ ہے اور رواج الگ ہے۔ بہت سے ایسے ہوتے تھے جو یہ کہہ دیتے تھے کہ ہمیں رواج کے مطابق فیصلہ چاہئے۔تو میں کہتا ہوں کہ گو وسعت شرع میں کفر کا فتویٰ جاری نہ ہو مگر حقیقت کے لحاظ سے جب شریعت کے مقابلہ میں آپ نے اعلان کردیا کہ ہم رواج کے پابند ہیں تو اس شعبہ میں غیر مسلم ہونے کا اعلان کردیا۔ تو کبھی جہاں شریعت کے مطابق فیصلہ ہو ، اس میں لڑکی کو یہ شکوہ نہیں ہوگا کہ مجھے آدھا حصہ کیوں ملا۔

ہاں! آجکل کے نئی روشنی والے ، وہ بلاوجہ عورت کے ہمدرد بن کے کہتے ہیں کہ اسلام نے دیکھو مرد اور عورت میں کتنی تفریق کردی ہے؟ لڑکے کو دُہرا دیا ہے اور لڑکی کو آدھا دیا ہے۔ میں اس وقت اصولی طور پر اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا مگر میں ایک نئے رُخ سے دنیا کو سمجھانا چاہتاہوں ۔ میں کہتاہوں کہ ذرا غور کیجئے جو عرض کررہا ہوں کہ اسلام اور کفر میں فرق کیا ہے؟ یہ ہے کہ اسلام قانون کو اللہ کی طرف سے مانتا ہے ، کفر جو ہے، وہ پیغمبر کاساختہ مانتا ہے۔ جو شخص پیغمبر کا ساختہ مانتا ہے، ارے یہی قرآن میں فرق ہے۔جو کلامِ خدا مانتاہے، وہ مسلمان ہے او رجو کلامِ بشر مانتا ہے، رسول کا کلام مانتا ہے، وہ کافر ہے۔تو ویسے ہی جو مسلمان ہے، وہ مانے گا کہ اصل قانون بنایا ہوا صرف اللہ کا ہے۔ یہ صرف اس کے مبلّغ تھے اور جو اللہ کی طرف کا نہیں مانتا، وہ یہ کہتا ہے کہ یہ قانون آپ نے بنایا۔

میں کہتا ہوں کہ جو کافر ہے، وہ مجھ سے پہلے اپنے ہی مسلمے کوسامنے رکھ کربات کرے کہ اس میں اصول کے سوا کیا کسی جذبہ کا دخل ہے؟ قانون وہ نافذ کررہا ہے جسے خدا نے بیٹی ہی دی ہے۔ ارے کوئی ایسا نبی ہوتا جسے اللہ نے بیٹا دیاکرامت فرمایا ہوتا اور بیٹی اس کے ہاں نہ ہوتی تو کہنے کو ہوتا کہ انہیں بیٹی کی قدر کیا تھا؟

ارے جناب! وہ رسول جس کا اللہ نے بیٹا آخر حیات تک زندہ رکھا ہی نہیں، بیٹے تھے جنابِ خدیجہ کے لیکن یہ کہ پھر بیٹا آپ کے ہاں نہیں تھا۔ ایک بیٹا آخر میں ہوا جنابِ ماریہ کے بطن سے، وہ بھی باقی نہیں رہا۔بیٹی ہی کرامت فرمائی تھی۔ ہاں! بیٹے بھی پھر اسی کے ذریعہ سے عطا کردئیے۔ تو اللہ نے اسے بیٹی ہی عطا فرمائی۔ تو اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ انہیں بیٹی کی کیا قدر؟میں کہتا ہوں کہ بیٹی کی قدر تو ایسی کی کہ دنیا میں کسی باپ نے نہیں کی۔ کوئی باپ بیٹی کی تعظیم کیلئے کھڑا نہیں ہوا۔ لیکن پیغمبر خدا بیٹی کی تعظیم کیلئے کھڑے ہوتے تھے۔ حالانکہ وہ تعظیم میں غلط سمجھتا ہوں۔ یہ کہنا کہ وہ بیٹی ہونے کی وجہ سے تھی، بیٹی ہونے کی وجہ سے وہ تعظیم نہیں تھی، وہ بیٹی کچھ ایسی تھی اور اس کا میرے پاس ثبوت ہے۔ یہ مسلّمہ اصولِ اسلامی ہے کہ جو عملِ رسول ہے، اس کی پیروی یا واجب ہوگی یا مستحب ہوگی۔ بہرحال جزوِ سنت ہوگی۔یہ عملِ رسول تمام کتابوں میں موجود ہے۔ صحاح ستہ کا جزو ہے۔ صحیح ترمذی اور اس میں یہ حدیث موجود ہے کہ کوئی فرقہ اسلامی اس کا انکار نہیں کرسکتا ۔ ایک عملِ رسول متفقہ موجود ہے لیکن کسی مکتب اسلامی کی فقہ میں مَیں نے نہیں دیکھا کہ باپ کیلئے سنت ہے کہ بیٹی کی تعظیم کیلئے کھڑا ہو۔ ایک عملِ رسول مسلّمہ موجود ہے اور چودہ سو برس کے علماء میں کوئی نہیں لکھ رہاکہ یہ سنت ہے ۔ کسی تحفة العوام میں آپ نے نہیں دیکھا ، کہیں نہیں دیکھا۔ اچھا آجکل تو ریسرچ کا دَور ہے۔ ریسرچ کے معنی ہیں ایک نئی بات کوئی کہے کہ ان علماء نے نہیں لکھا، بھول گئے ۔ ہم اب سے لکھیں گے۔میں کہتا ہوں اچھا قلم آپ کے ہاتھ میں ہے، جب چاہے لکھ دیجئے گا۔ لیکن اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ صحابہ رسول میں سے کسی نے اس سنت پر عمل کیوں نہ کیا؟ کئی کئی ہزار صفحات کی کتابیں حالاتِ صحابہ میں موجود ہیں لیکن کسی نے کسی صحابی کے حالات میں نہیں لکھا کہ وہ اپنی

صاحبزادی کی تعظیم کیلئے کھڑے ہوجاتے ہوں۔یہاں تک کہ ایسی صاحبزادیاں جو کسی حیثیت سے واجب التعظیم بھی ہوگئی ہوں، ان کی تعظیم کو کھڑے نہیں ہوتے ۔ اچھا اب کوئی کہہ دے ہم میں سے تو ہر فرد بے تکلف کہہ دے گا کہ صحابہ معصوم نہیں تھے۔

اب دنیا چاہے یوں نہ کہئے لیکن پھنسنے پر تو کہے گا کیونکہ مانتا کوئی نہیں معصوم۔تو یہاں کہہ دے کہ معصوم نہیں تھے۔ اچھا مان لیجئے مگر اب ہم تو بحمدللہ رسول کے بعد بھی بقائے رسالت کے قائل نہیں۔ بقائے عصمت کے قائل ہیں۔ نبوت و رسالت ختم ہوگئی، عصمت ختم نہیں ہوئی۔ تو اب ہمارے ہاں جو معصومین ہیں اور جن کے گھر کی روایت تھی ، جن کے گھر کی بات تھی، ان میں سے کسی کے حال میں نہیں ملتا کہ کوئی اپنی بیٹی کی تعظیم کیلئے کھڑا ہوتا ہو۔ کیسی کیسی صاحب صفات بیٹیاں ، حضرتِ زینب سلام اللہ علیہا کیلئے ممکن ہے کہ بعض ذاکرین سے آپ نے سنا ہو ، میں سمجھتا ہوں کہ کبھی آپ نے سنا ہوگا، اگرچہ دیکھا میں نے بھی اسے کسی کتاب میں نہیں ہے لیکن آپ نے سنا ہوگا کہ امام حسین تعظیم کو کھڑے ہوتے تھے۔ یہ ہو تو بڑی بات ہے مگر وہ بات تو نہ ہوئی۔ بہن بھائی کا رشتہ تو برابر کاہوتا ہے، خواہ عمر کا فرق ہو۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کیوں نہیں کھڑے ہوتے تھے؟ جن کی سیرت ہمارے نزدیک جزوِ سیرتِ رسول تھی۔ تو وہ تعظیم کو نہیں کھڑے ہوتے تھے۔

تواب تویہ ماننا پڑے گاکہ چودہ سو برس کے علماء میں سے کوئی یہ نہیں لکھتا کہ یہ سنت ہے۔ صحابہ میں سے کوئی اس کی پیروی نہیں کرتا۔ ان کی اولادِ طاہرہ میں سے کوئی ان کی پیروی اس بارے میں کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ تو بس اس معمہ کا حل میرے نزدیک صرف یہ ہے کہ چودہ سو برس کے علماء صرف یہی سمجھے ، صحابہ یہی سمجھے ، آئمہ معصومین یہی جانتے تھے کہ یہ تعظیم بیٹی ہونے کی وجہ سے نہیں ہے، شخصیت فاطمہ کی وجہ سے ہے۔لہٰذا اصول اپنی جگہ قائم ۔ بحیثیت بیٹی ہونے کے ہوتی تو مجھے بھی وہ تعظیم مستحب ہوتی اپنی بیٹی کیلئے کم سے کم۔ لیکن وہ تعظیم تو خصوصی حیثیت سے شخصیت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کیلئے تھی۔ لہٰذا وہ پیروی واجب اور اس کے نتیجہ میں قیامت تک کیلئے فاطمہ کی تعظیم واجب ہوگی۔ اپنی بیٹی کی تعظیم کرکے اتباعِ رسول نہیں ہوگا۔تو ایسی بیٹی جس کی ہو، وہ یہ حکم نافذ کررہا ہے کہ بیٹی کا حصہ آدھا اور بیٹے کا حصہ دُہرا۔ تو اب تو غیر مسلم بھی ماننے پر مجبو رہے کہ اس میں صرف کوئی اصول ہے، جذبات کا دخل نہیں ہے۔

ایک بہت بڑا معرکة الآرا مسئلہ جو اس زمانہ میں ہوتا ہے، فرمائشیں ہوتی ہیں کہ رسالہ اس موضوع پر لکھئے ،حالانکہ میں نے اسی لئے ایک رسالہ اسلامی قانونِ وراثت میں لکھا ہے جو امامیہ مشن پاکستان سے بھی کبھی شائع ہوا ہے۔ تو وہ کیا ہے؟ بیٹے کے ہوتے ہوئے پوتے کا محروم ہونا اس قدر واویلا ہے، بڑی بے چینی ہے۔ ارے صاحب! پوتا بیچارہ، ایک تواس کے سر سے باپ کا سایہ اُٹھ گیا اور اس کے بعد اپنی خاندانی جائیداد سے بھی محروم ہوجائے۔ تو (معاذاللہ) یہ کتنی بڑی بے انصافی ہے۔ ہمارے ہاں جو آجکل صدرِ جمہوریہ صاحب ہیں، صدر نہیں، نائب صدر جمہوریہ جسٹس عبیداللہ ، انہوں نے ایک دفعہ کھل کر، ایک سوال ہے پرسنل لاء کی ترمیم کا، میری ایک کتاب کئی سو صفحات کی چھپ چکی ہے کہ اسلامی پرسنل لاء قابل تبدیلی نہیں۔ اس موضوع پر دس دن کا بیان ہے۔ وہ کتابی شکل میں شائع ہوچکا ہے۔ تو اس میں اس سے متعلق جتنے موضوعات ہیں، تفصیل سے آئے ہیں اور یہ بھی جزو آیا ہے اس میں تفصیل سے اور اسلامی قانونِ وراثت میں اس کا اصول درج ہے۔

تو کہتے ہیں بیچارہ۔ میں کہتا ہوں ادھر بیچارہ آپ نے کہااور جذبات کا دخل ہوگیا اور اب ظاہر ہے کہ اس کتاب میں تفصیل سے لکھا ہے۔ اس وقت اس تفصیل سے عرض نہیں کرنا ہے۔ ادھر آپ نے بیچارہ کہا اور اس بیچارے کے لفظ سے جذبات کا تعلق ہوگیا۔ قانونِ میراث بیچارے پن سے نہیں ہے، بے چارہ پن سے زکوٰة ملتی ہے، خمس ملتا ہے۔ بے چارہ پن سے میراث نہیں ملتی۔اگر بیچارہ بھائی فاقہ کش ہو اور بیٹا لکھ پتی ہو تو یہ نہیں ہوگا کہ میراث بھائی کو دے دی جائے۔ اس لئے کہ بیچارہ مفلوک الحال ہے اور لڑکے کو نہ دی جائے ، اس لئے کہ لکھ پتی ہے۔ تو میراث میں معلوم ہوا کہ بیچارے کا دخل نہیں ہے۔ قرابت کی قربت کا دخل ہے۔ اگر بیچارے پن کو دخل دیجئے تو یہیں پر کیوں بالکل برابرکا رشتہ ہے، بیٹا اور پوتا اور باپ اور دادا۔ یہ ادھر سے بلاواسطہ اور بیک واسطہ ، وہ اُدھر سے بلاواسطہ اور بیک واسطہ۔ تو اگر آپ کی منطق بیچارے پن کی یہاں درست ہو تو یہاں بھی کہئے کہ باپ تو بہرحال ممکن ہے کہ ابھی برسرِ کار ہو اور دادا تو بیچارہ ریٹائر ہوگا۔لہٰذا یہ کیا کہ باپ کے ہوتے ہوئے دادا کو نہ ملے۔ اگر آپ وہاں بیچارے کے فلسفہ کے قائل نہیں ہیں تو وہی نسبت بیٹے او رپوتے کی یہاں ہے۔آپ کیوں بیچارے پن کو دخل دیتے ہیں۔

تو یہ اصل اصول تھے جو میں نے ایک لمحہ فکریہ پیدا کردیا۔ آپ اپنی جگہ چاہے جتنا غور کیجئے، اتنے سمجھ میںآ تے جائیں گے تمام اصولِ میراث۔ قانونِ وراثت رسالہ بھی ہے جس میں قرابتوں کی گویا پیمائش کی گئی ہے کہ کون کتنا قریب ہے اور کون کتنا دور ہے اور کس طرح سے جو قریب ہے، اس کے ہوتے ہوئے بعید کو محروم کیا گیا ہے۔ تو اصول اس قرب و بُعد کا رشتہ داری پر ہے ۔ اس کی بنیاد بیچارہ پن پر ہے ہی نہیں۔لہٰذا آپ بیچارہ پن کو دخل دے کر بے اصولی کررہے ہیں اور اس کے بعد جو میں نے بیٹی کے بارے میں کہا تھا کہ ابھی میں ایک غیر مسلم کے سامنے کہوں گا کیونکہ جس رسول نے یہ قانون نافذ کیا ہے، وہ خود اس قسم میں داخل رہا ہے کہ اس کے باپ کا انتقال دادا کے سامنے ہوگیا تو اس سے بڑھ کر کون اس بیچارے کی مجبوریوں سے واقف ہوسکتا ہے؟ لہٰذا اصولِ میراث میں حق نہ قائم کیجئے۔ ہاں! باپ نہیں رہا تو دادا پوتے کے ساتھ وہ کرے جو جنابِ عبدالمطلب نے جنابِ رسولِ اکرم کے ساتھ کیا اور اسی طرح سے ہر ایک چچا اپنے بھتیجے کے ساتھ وہ کرے جوجنابِ ابو طالب نے اپنے فرزند برادر کے ساتھ کیااور کس شان سے پرورش کی ، یہ روزمرہ کی باتیں ہیں مگر جب تک کوئی غیر معمولی کیفیت نہ ہو، اس وقت تک تاریخ کا جزو نہیں بنتی ۔

اور اب میں کہتا ہوں جو چیز ہے، ابھی عرض کروں گا۔جنابِ ابوطالب سے زیادہ اس میں جنابِ فاطمہ بنت اسد کا دخل ہے۔ یہ معاملے عورتوں سے زیادہ متعلق ہوتے ہیں۔ طبری سے زیادہ مقدم تاریخ ہمارے ہاتھ میں موجود ہے۔ طبقاتِ ابن سعد ، وہ تقریباً طبری سے ایک صدی مقدم ہے اور ہمارے اپنے مسلمان مطابع نے اُسے نہیں چھاپا ہے، ہالینڈ کے شہر لیڈن میں اور جرمنی میں شائع ہوئی ہے۔ تو اسی طبقات ابن سعد میں دیکھئے۔ میں نے کہا کہ روز مرہ کی باتیں ہیں۔ مگر انوکھا پن پید انہ ہوتو جزوِ تاریخ نہیں بنتی۔اس میں ہے (ترجمہ عربی) ابو طالب کے بچے نظر آتے ہیں کہ بال بکھرے ہوئے ہیں، چہرہ گرد آلود ہے جیسے بچے گھر کے اندر کھیلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ابو طالب کے بچے تو اس شان سے کبھی کبھی نظر آئے ہیں مگر محمد کو جب دیکھا تو آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا اور بال آراستہ کئے ہوئے ۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ایسی ہی شکلیں ہوتی ہیں۔ خود ابو طالب کی اولاد اگر بال پریشاں ہوتی تو کوئی نہ کہتا کہ بیچارے کی صورت سے یتیمی ٹپک رہی ہے لیکن یہ ایک دفعہ

بھی اس طرح نظر آتے تو دنیا کہتی کہ بیچارہ یتیم ہے۔ ابو طالب اور فاطمہ بنت اسد نے دنیا کو احساسِ یتیمی نہیں ہونے دیا۔ مگر خالق یتیم کے درجہ کو اتنا اونچا جانتا تھا کہ اُس نے قرآن جیسی ادبی کتاب میں اُس یتیمی کو یاد کیا۔

( اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاَویٰ ) ۔

اپنے احساسات میں کہا جارہا ہے کہ کیا ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے آپ کو یتیم پاتا تو پناہ کا انتظام کردیا۔ یہاں ہر نقطہ نظر کا مفسر لکھنے کو تیار ہے، مجبور ہے ،تیار چاہے دل سے نہ ہو۔ آیت کے تحت میں کوئی مفسر ماں کا نام نہیں لیتا۔ ارے خالق کی طرف کا انتظام جسے احسان میں پیش کرے اور چھ برس کی عمر میں اٹھ جائے اُس کا سایہ، کوئی نہیں لکھتا ماں کا نام۔ چھ برس تک تو ماں بھی موجود تھیں۔ کوئی نہیں لکھتا دادا کا نام۔ داداابھی تو آٹھویں برس دنیا سے اٹھ گئے۔ ہر مفسر یہاں مجبور ہے اور لکھتا ہے:

بِعَمِّه اَبِیْ طَالِب “۔

اللہ نے پناہ کا انتظام کیا ان کے چچا ابو طالب کے ذریعے۔اب جناب! میں نے بہت ہی توقف کرکے ترجمہ کیا اور پھر بھی ترجمہ پورا نہیں کیا۔ لفظی معنی ہیں ”آوا“ کے پناہ دی۔لوگ ترجمہ کرتے ہیں”پناہ دلوائی“۔ میں کہتا ہوں کہ پناہ دلوائی لفظی معنی نہیں ہیں۔ معنی یہ ہیں کہ آپ کو یتیم پایا تو پناہ دی۔ لفظی معنی یہی ہیں۔ اب میں ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں گا کہ یہ بڑی بلند منزل ہے کہ کسی کے کام کو اللہ اپنا کام کہے۔ ارشاد ہے:

( وَمَارَمَیْتَ اِذْرَمَیْتَ وَلَکِنَّ اللّٰهُ رَمٰی ) ۔

وہ آپ نے سنگریزے نہیں پھینکے، اللہ نے پھینکے۔ یعنی رسول کے کام کو اپنا کام کہا تو یہ ایسی منقبت ہے جو رسول کی شان کے لائق ہے اور اب آپ یہاں دیکھ لیجئے کہ پناہ دینا کس کا کام ہے؟ ابو طالب نے پناہ دی۔ اللہ کہہ رہا ہے کہ ہم نے پناہ دی۔توبہرحال اصل محل گفتگو یہ ہے کہ جب خدا کی طرف سے کوئی قانون ہوجائے تو پھر اس میں جذبات کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ پھر وہ حق ماننا پڑتا ہے۔ غیر مسلم معترض ہوں پوتے کی میراث پر یا فرض کیجئے کہ آجکل کی نئی روشنی والے اعتراض کریں ۔ وہ بہت سے حقائق اسلام پر معترض ہیں لیکن کوئی پابند شریعت پوتا ہو تووہ احساس نہیں کرے گا کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ کوئی لڑکی یہ احساس نہیں کرے گی کہ مجھے آدھا ملا تو مجھ پر ظلم ہوا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف کا قانون ہے اور یہ خصوصیت اسلام کی یعنی اس کا اللہ کی طرف کا دین ہونا، یہ ایسی خصوصیت ہے جواس کے نام سے ظاہر ہے۔ دنیا کے مذاہب کا نام دیکھئے، کوئی دین کسی کی شخصیت کی طرف منسوب کوئی دین کسی قطعہ ارض کی طرف زمین کے حصے کی طرف منسوب مثلاً جو بڑے بڑے آجکل ادیان ہیںِ غیر اسلام ، انہیں دیکھئے کہ خود اپنے کو مثلاً عیسائی کہیں مسیحی، کہیں یعنی شخصیت کی طرف نسبت ، حضرت عیسیٰ کی طرف نسبت۔ ارے وہ نصرانی کہیں جو قدیم اصطلاح تھی، تو ناصریہ ایک مقام تھا وہاں پیدائش ہوئی تھی۔ ناصرہ، اُس جگہ کی طرف نسبت کرسچین یعنی کرسٹ مسیح کی طرف نسبت۔

تو غرض جس زبان میں بھی اس دین کا نام پوچھئے، کسی آدمی کا تعلق نمایاں ہوگا ۔ تو اب جیسے اس آدمی سے کوئی خاص تعلق نہ ہو، وہ بلا تکلف کہہ سکتا ہے کہ میں اس دین سے منحرف ہوں۔مجھ کو اس سے کیا مطلب؟ اب وہ قرآن نے ان کی سچائی مان لی ورنہ عیسائی اپنی پوری طاقت صرف کردیتے۔ تب بھی مسلمانوں سے حضرت عیسیٰ کی رسالت نہیں منواسکتے تھے اور جتنے معجزات کہیں گے، وہ سب ہمارے سامنے کہاں ہیں؟ اسی کے بیان کئے ہوئے ہیں۔مردے اس وقت وہ کب زندہ کررہے ہیں؟ کورمادرزاد کو اس وقت وہ شفا دے رہے ہیں؟ معجزات سب وقتی تھے جو وقت کے ساتھ چلے گئے۔ دیکھنے والوں کیلئے وہ قطعی تھے۔ وہ بعد والوں کیلئے روایت بن گئے۔ دین کی بناء روایا ت پر نہیں ہوتی، قطعی باتوں پر ہوتی ہے۔وہ تو ہمارے قرآن نے تصدیق کردی ان کی رسالت کی اور ان کے معجزات کو محفوظ کردیا تو ہم بربنائے ایمان بالقرآن مجبور ہوگئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے پر اور ان کے معجزات کو بھی ماننے پر مجبو رہوگئے۔ یہود کی جماعت پوری طاقت اگر صرف کردے تو وہ حضرت عیسیٰ کی رسالت ہم سے نہیں منوا سکتی۔ عیسائی یہودیوں سے کب منواسکے؟ آج تک جو ہم سے منوالیتے ، اب عیسیٰ نے بھی چونکہ توریت کی تصدیق کردی، اس لئے بیچارے عیسائی بھی حضرت موسیٰ کو مانتے ہیں۔ تو ہم سے یہودی نہیں منواسکتے تھے۔حضرت موسیٰ کی رسالت قرآن نے منوائی ۔

مجھے یاد ہے جس کسی کی کوئی بات ہو، اس کا نام لے کر میں پابند ہوں۔ وہ صاحب یادگارِ حسینی میں میرے ساتھ اکثر جلسوں میں ہوتے تھے۔کلجگانندا چھوت، لیڈر، بڑی پرزور تقریر کرتے تھے اور یادگارِ حسینی کے جلسوں میں بڑی پرزور تقریریں انہوں نے کیں۔ وہ اچھوت لیڈر تھے۔ سالِ گزشتہ کراچی میں مجھے ملے تھے ۔بہت ہی ضعیف ہوگئے تھے۔ اب کے نہیں ملے تو معلوم ہوا کہ وہ رخصت ہوگئے۔ تو وہ اچھوت لیڈر پہلے بھی تھے، اب بھی ہیں۔ لطف یہ ہے کہ پاکستان میں بھی وہ اچھوت لیڈر ہی رہے۔ مگر ایک جملہ انہوں نے کہا جو اُن سے پہلے تقریروں میں نہیں سنا تھا ۔ پہلے تو اس ضعیف العمری میں اپنا ایک پمفلٹ مجھے دیا۔ پھر زبانی مجھ سے کہا کہ یہودیوں کا آج تک اعتراض ہے پاکدامنیِ حضرت مریم پر اور حضرت عیسیٰ کے ساتھ انتہائی گستاخی وہ کرتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ سیاست کی ستم ظریفی ہے کہ اب عیسائیت ان کی نازبردار بن گئی ہے۔ وہ جنابِ عیسیٰ کے ساتھ شدید ترین گستاخی روارکھتے ہیں۔ ان کے فرزند جائز ہونے کو معرضِ بحث میں لاتے ہیں۔ اس کا جواب دنیائے عیسائیت کے پاس نہیں ہے۔ وہ انجیل ، جو ان کی کتاب ہے، میں نے دیکھی ہے، انہوں نے نسب نامہ حضرت عیسیٰ کا حضرت آدم تک پہنچایا ہے۔ یوسف نجارکے ذریعہ سے ، جن سے منگنی ہوئی تھی، شادی نہیں ہوئی تھی،یوسف نجار کی ولدیت قرار دے کر رشتہ پہنچایا ہے۔ جنابِ آدم تک پوراشجرہ لکھ دیا ہے۔ اب جو انہوں نے کہا ہے ، وہ بعد میں کہوں گا۔ اب اپنی طرف سے یہ میں بیان کردیتا ہوں۔

جب نصارائے نجرا ن آئے ہیں، پیغمبر سے بحث کیلئے، سب باتوں کے قائل ہوگئے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ آپ اللہ کا بیٹا مانتے ہیں یا نہیں؟ تو مجبوراً رسول نے یہی فرمایا ، اصول کی بات تھی کہ نہیں مانتے۔ بڑے درجہ کا رسول مانتے ہیں، بہت بڑا نبی مانتے ہیں، صاحب معجزا ت مانتے ہیں۔ یہ نہیں مانتے۔تو انہوں نے فوراً کہا کہ جب اللہ کا بیٹا نہیں مانتے تو پھر وہ کس کے بیٹے تھے؟ اب جو جواب قرآن میںآ یا ہے، وہ آپ میں سے کچھ حضرات تو جانتے ہی ہیں۔ پھر میں بھی بیان کروں گا وہ۔ تو جواب ہے قرآن کا اور اب حضرت عیسیٰ کی بات جان لیجئے کہ اس سوال کی غیر منطقیت کا ذرا اندازہ کیجئے کہ اللہ کے بیٹے نہیں ہیں تو پھر کس کے بیٹے ہیں؟ یعنی جس کے باپ کا پتہ نہ ہو، اُسے اللہ کا بیٹا مان لو۔

تو اگر رسول کو انہیں مناظرانہ طور پر چپ کروانا ہوتا تو صرف لاجواب کرنا ہوتا تو مجھے معلوم ہے کہ رسول بائبل کو پیش کرتے۔ کہتے کہ مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ شجرہ تمہارے ہاں موجود ہے۔ تو ان کے پاس کچھ جواب تھا؟ مگر یاد رکھئے کہ داعیِ حق کا کام نہیں ہے کہ وہ غیر کی باطل بات کو فائدہ اٹھانے کیلئے استعمال کرے۔ وہ خاموش رہتے مگر اصل حقیقت تو چھپی رہتی اور ایک رسولِ الٰہی کا دامن مجروح رہتا۔لہٰذا ان کے جواب میں یہ نہیں کہا گیا۔ جو اصل بات تھی، وہ کہہ کر انہیں سمجھایا گیا۔

( اِنَّ مَثَلُ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰهِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَه مِنْ تُرَابٍ فَقَالَ لَه کُنْ فَیَکُوْنُ ) ۔

ان کے باپ فقط نہیں ہے مگر آدم کے تو ماں بھی نہیں تھی، باپ بھی نہیں۔ پھر انہیں تم اللہ کا بیٹا کیوں نہیں مانتے؟یہ تو اللہ کی قدرت ہے جسے چاہتا ہے، بغیر ماں باپ کے پیدا کرتاہے، جسے چاہتا ہے بغیر باپ کے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے عام نظامِ فطرت کے ماتحت پیدا کرتا ہے۔ یہ تو اس کی قدرت کی نشانی ہے۔ اب وہ آیت اس وقت عرض نہیں کرنا ہے۔ وہ جملہ جو بھول نہیں گیا ہوں،وہ کہنا ہے۔ انہوں نے مجھ سے پہلے زبانی کہا، پھر مختصر پمفلٹ بھی دیا جس میں انہوں نے اسے چھاپا ہے کہ یورپ کا ایک قومی کردار ہے کہ رومال گر گیا ، آپ نے اٹھایا ، انہوں نے کہا”تھینک یو“۔شکریہ۔ بہت ارزاں ہے یہ جملہ۔ بس ذرا سی بات کردیجئے، چاہے آپ کی نظرمیں کوئی قیمت اس کی نہ ہو لیکن وہ فوراً کہیں گے”شکریہ“۔رومال اٹھادیں آپ تو تھینک یو کہنا ضروری سمجھیں اور قرآن نے اور اسلام نے ان کے نبی کے دامن کو اتنے بڑے الزام سے بچادیا، انہوں نے کہا کہ چودہ سو برس سے عیسائیوں نے تھینک یو نہیں کہا ۔

تو غرض یہ کہ جتنے دین ہیں دنیا میں ،عیسائیت تو میں نے بتایا، یہودیت۔یہودا جنابِ یعقوب کے ایک بیٹے تھے۔ ان کی طرف نسبت ہے یہودیت کی۔ اسرائیلی کہہ لیجئے تو وہ اسرائیل جنابِ یعقوب کا لقب تھا۔ اس کی طرف نسبت ہے۔ جیسے قرآن میں بنی اسرائیل ہے۔ وہ اسرائیلی کہے جانے لگے اوران کا کیا نام ہے؟ آخر کوئی بتائے کہ نام کیا ہے ان کا؟ شخصیت کی طرف نسبت ہے۔

ارے ہمارے ملک کا اکثریتی کیش جوہے، حالانکہ حقیقت ہے ، سیاست کی بات توہے نہیں، جو اس کے کہنے میں کوئی عذر کروں کہ قرآن مجید نے بت پرستی کو کوئی دین تسلیم نہیں کیا ہے۔ لیکن خیر دین کے طور پر مانا جارہا ہے اور پھر یہ کہ کسی حیثیت سے کتاب کا بھی دعویٰ ہے اور وہ کتاب، جو کتابیں ہم مانتے ہیں، وہ کب اصلی حالت میں ہیں جوہم سمجھیں کہ وہ کتابیں نہیں ہیں کیونکہ ان میں ایسا ایسا ہے۔ ان کتابوں میں کیسا کیسا ہے، پھر بھی ہم مانتے ہیں کہ اصل میں تھی ، بعد میں تبدیلی ہوگئی۔ تو پھر ہوسکتا ہے کہ جو نام لئے جاتے ہیں، وہ واقعی اللہ کی طرف سے رسول ہوں۔ جب ہمارے قرآن نے کہہ دیا کہ ہر ملک میں، ہر قوم میں ایک رہنما ہم نے بھیجا ہے تو ہمیں نفی کا حق اپنے پیغمبر سے پہلے نہیں ہے۔ اگر پیغمبر کے بعدکوئی دعویٰ کرے تو دعویٰ ہی خود جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔ چونکہ ختم نبوت کا اعلان ہوچکا ہے، لیکن اس سے پہلے کسی ملک والا، کسی پرانے کا نام لے تو ہوسکتا ہے کہ وہ نبی ہو۔ اس لئے کہ ایک مسلمان کی شان نہیں ہے کہ ان کا نام سن کر کوئی گستاخی کرے۔ بس کہہ دے گا کہ ہم پر نبوت ثابت نہیں۔ ہم پر رسالت ثابت نہیں ورنہ اس کے آگے ہم نفی نہیں کرسکتے۔

تو اب بہرحال اس کا مذہب جو اس دیس کا ، اس دھرم کا جو نام ہے، ہندو، تو وہ بھی ایک ملک کی طرف نسبت رکھتا ہے یا کسی مکان کی طرف یا کسی مکین کی طرف اور جب شخصیت محدود ہوگئی تو دین لامحدود نہیں ہوسکتا۔ جو شخصیت سے تعلق نہ رکھے، وہ بلاتکلف کہنے کا حق رکھتا ہے کہ ہم اس دین کو نہیں مانتے جو اس سرزمین سے کوئی دلچسپی نہ رکھے۔ وہ بلاتکلف کہہ سکتا ہے کہ ہم کو اس دین سے کوئی دلچسپی نہیں ، کوئی تعلق نہیں۔ دنیا کا ہر دین کسی شخصیت سے منسوب ہے۔

ایک غلط فہمی دور کردوں کہ اب ہمارے اسلام کو بھی غیروں نے اپنے دین کے ردیف قافیے پر لاکر دین محمدی کہنا شروع کیا جس سے دھوکے میں آکر کچھ مغرب زدہ مسلمان بھی اس لفظ کو استعمال کرنے لگے۔ یہ غیروں کا طلسم تھا ورنہ رسول نے کبھی اس دین کا بحیثیت دین محمدی تعارف نہیں کروایا یا آلِ رسول نے کبھی اس دین کا بحیثیت دین محمدی تعارف نہیں کروایا۔یہ دین کیا ہے؟ اسلام اور اسلام کس کیلئے؟ اللہ کیلئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ دین کسی محدود شخصیت سے وابستہ نہیں ہے بلکہ یہ نام اس ذات کی طرف منسوب ہے جو میں نے کہا تھا کہ مرکز تقسیم حقوق لامحدود ذات ہونی چاہئے۔ تو یہ نام بھی اسی لامحدود ذات کی طرف نسبت رکھتا ہے۔

اب میں کہتا ہوں کہ کسی خطہ ارض میں اتنی وسعت سمجھئے کہ وہاں ایک پورا مجمع ہو جو صرف خدا کی مخلوق کا ہے اور ہزاروں مذاہب و ملت پر تقسیم ہوا اور اس کے سامنے میں کہوں کہ تم میں سے کونسی جماعت ہے جو اللہ کے قانون کو نہ مانے؟ تو اس مجمع میں سے کسی میں دم ہے، اگر اللہ کو مانتا ہے کہ وہ کہے کہ ہم نہیں مانتے کیونکہ ذات وہ پیش ہوگئی جو کسی ایک جماعت سے تعلق نہیں رکھتی۔لہٰذا اس کی طرف جس دین کی نسبت ہو، اُس سے انحراف صرف وہی کرے گا جو اس حقیقت سے واقف نہ ہو۔ میں نے ان الفاظ میں کہا تھا کہ کون ہے تم میں سے جو اس قانون کو نہ مانے؟ ارے چاہے عمل نہ کرتا ہو لیکن کہے گا کوئی نہیں کہ ہم اس قانون کو نہیں مانتے۔

معلوم ہوا کہ اسلام کی جو حقیقت ہے، اس کی سرتابی کی ہمت کوئی خدا کا ماننے والا نہیں کرسکتا۔ اس لئے کہ اس کا تعلق اُس اللہ کے ساتھ ہے اور اسلام کے معنی ہی ہیں اللہ کے قانون کے سامنے سر جھکانا۔اسلام کے لغت میں دو معنی ہیں، ایک سرنہادن بہ طاعت اور دوسرے سپردن، اطاعت کیلئے سرجھکانا اور اپنے کو سپرد کردینا۔ اسلام خواہ اس معنی سے اصطلاح ہو ، خواہ اُس معنی سے۔ اگر وہ معنی ہیں تو سرِ اطاعت جھکانا مکمل اطاعت اور اگر یہ معنی ہیں تو اس کے یہ معنی ہیں اپنے آپ کو سپرد کردینا۔ سپرد کردینے کے معنی ہیں کہ اپنی مرضی کچھ رہی نہیں۔ یہ خود اقرار اطاعت کا اور اونچا درجہ ہے کہ اپنی مرضی کچھ نہیں رہی، دوسرے کے حوالے ہوگئی۔ اسی لئے قرآن کہہ رہا ہے کہ اسلام دین کائنات:

( لَهُ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَ رْضِ ) ۔

اس کیلئے اسلام لاتے ہیں جتنے آسمان میں ہیں اور زمین میں ہیں۔

یعنی ہر مخلوق کا عالم اعلیٰ اور ہر مخلوق کا عالم اسفل۔ عالم بالا سے لے کر عالم پست تک سب اسلام لائے ہوئے ہیں اور اسلام کا مکمل اظہار عمل سے سجدہ ہے۔”لِلّٰهِ یَسْجُدُ “، اللہ کیلئے سجدہ ریز ہے ہر چیز جو آسمان ہیں اور جو زمین ہے۔ یہ کیا اطاعت ہے؟ اس کے قانون کی پابندی۔ دنیا کی ہر گاڑی لیٹ ہوتی ہے لیکن کبھی سورچ اور چاند کی گاڑیوں کو دیکھا کہ لیٹ ہوجائیں۔ جس وقت پر انہیں جس نقطہ پر پہنچا ہے، اسی نقطہ پر جائیں گی۔ ستاروں کا طلوع وغروب کبھی اپنے نقطہ سے ہٹ نہیں سکتا۔ یہ کیا ہے؟ یہ سب اطاعت کی زنجیروں میں مسخر ہیں۔ انسان بھی جب پیدا ہوتا ہے تو اسی کی اطاعت کرتا ہوا۔ ورنہ دنیا کی تمام طاقتیں صرف ہوجاتیں اور ایک بچے کو غذا حاصل کرنا نہ سکھاتیں۔ اس لئے کہ سکھایا جاتا ہے یا لفظوں میں یا اشاروں میں۔ لفظوں کے معنی وہی سمجھتا ہے جو موضوع”لَہُ“سے واقف ہو۔ یعنی یہ لفظ کس کیلئے ہے؟ اشاروں کو وہی سمجھتا ہے جو قرارداد سے واقف ہو۔

وہ بچہ جس نے مکتب وجود میں پہلی دفعہ قدم رکھا ہو، وہ نہ کسی لفظ کے معنی سے واقف، نہ کسی اشارہ سے واقف۔ تو اس کی زندگی ختم ہوجاتی اور دنیا کی طاقتیں ختم ہوجاتیں مگر غذا حاصل کرنا اُسے نہ سکھا سکتی تھیں۔ اس کیلئے اس حاکم کی ضرورت تھی جو براہِ راست دل و دماغ سے رابطہ قائم کرے۔ جس کیلئے کسی زبان کی ضرورت نہ ہو اور وہ اس کی طرف کا الہام ہے، اس کی طرف کا القا ہے، اس کی طرف کی تعلیم ہے جس کی بناء پر بچہ اپنی غذائے فطری حاصل کرتا ہے۔ تو یہ کیا ہے؟ یہ اس کے قانون پر چلنا ہے اور اسی لئے ابھی تک اس قانون پر چلنے میں کسی گھرانے ، کسی جماعت ، کسی گروہ کا دخل نہیں ہے۔ عیسائی کا بچہ ہو تو اسی طرح غذا حاصل کرے گا۔ یہودی کا بچہ ہو، ایک ہی طرح غذا حاصل کرے گا۔مسلمان کا بچہ ہو تو اسی طرح غذا حاصل کرے گا۔

معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب تفرقے بعد میں قائم ہوئے ہیں۔ شروع میں سب کا دین ایک ہے۔ اب آپ سمجھے۔” کل مولودِ یولد علی فطرة الاسلام“،ہر مولود فطرتِ اسلام پر پید اہوتا ہے۔ پتھر اسی کی اطاعت کررہے ہیں، درخت اسی کی اطاعت کررہے ہیں، حیوان اسی کی اطاعت کررہے ہیں۔ انسان بھی جس وقت پید اہوتا ہے، اسی کی اطاعت کرتا ہے۔ اب اگر اسے صرف پتھروں ، درختوں اور حیوانوں ہی کے درجہ پر رکھنا ہو تو بس یہی اطاعت عمر بھر لی جاتی رہتی۔ یہ اطاعت ہے تسخیری یعنی اللہ کی قوتِ قاہرہ خود اطاعت کرواتی ہے۔ ایسی عمر بھر یہ اطاعت کرتا رہتا تو بس درختوں کے برابر ہوتا، پتھروں کے برابر ہوتا، اشرف المخلوقات نہ ہوتا۔ مگر پھر اس کے پیدا ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اس کو تو پیدا ہی اس لئے کیا تھا کہ ایک مخلوق تو ایسی بھی ہو جو جہادِ نفس کے ساتھ اطاعت کرے۔

اب پھیلا کے عرض کرنے کا وقت نہیں ہے۔ پوری مجلس ہوچکی ہے وقت کے لحاظ سے،لہٰذا بس مجمل تشریح انشاء اللہ پھر کل ۔اب یہ خود سمجھنے لگتا ہے کہ یہ اچھا ہے یا بُرا ہے۔ تو اب سوال اس کے خود اپنے اختیار کا ہوتا ہے کہ ہم اِدھر چلیں یا اُدھر چلیں اور اس وقت ان چیزوں میں ، اس شعبہ میں جس حد تک اختیار دیا ہے، اب اللہ مجبور نہیں کرتا۔ اب یہ اپنے اختیار سے راستہ اختیا رکرتا ہے۔ کوئی کہے اب کہ صاحب! اطاعت کرتا ہوا آیا ہی ہے اور جس وقت آکر میں نے کہا کہ اللہ نے دست جبر و قہر کھینچ لیا، جب بھی کہا یہ آزاد ہوگیا بالکل، عین اس وقت کہ جب یہ کافر ہے ، تب بھی جتنی اطاعت اسے لینا ہے، جبری طور پر وہ لے رہا ہے۔ دل کی دھڑکن اس کی تابع ہے، ہاتھ کی جنبش اس کی تابع ہے، نبض کی رفتار اس کی تابع ہے۔ایک زبان اس کے اپنے قبضہ میں ہے چاہے حق کہے، چاہے باطل۔ ایک ہاتھ اپنے قبضہ میں ہے ۔ جب تک اس نے اپنے قبضہ میں دے رکھا ہے، چاہے عدل کرے، چاہے ظلم ۔لیکن وہ شل کردے تویہ حرکت دے لے۔ معلوم ہوا جس وقت انکار کررہا ہے، جب بھی اطاعت کررہا ہو، زبان انکار کر رہی ہے۔ اندرونِ جسم اس کے سب اجزاء اور طاقتیں اس کی اطاعت کررہی ہیں۔ یعنی کافرزبانی ہے اور اندرونی حصہ جو ہے، وہ ہمہ تن اسلام ہے۔ پھر کوئی کہے کہ جب اسلام ایسا ہے تو پھرمطالبہ کس چیز کا ہے؟

بس ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں گا، تشریح انشاء اللہ کل کروں گا۔ میں کہوں گا کہ یہ بس شرافت انسانی کا امتحان ہے کہ جس کی اطاعت جبراً کرنی ہی ہے، اُس کی اطاعت اختیاراً بھی کرلو ورنہ اطاعت اختیار نہ کرو گے۔ اختیاراً اطاعت نہ کرو گے تو جس نے لینی ہے اطاعت، وہ تو لے ہی لی جائے گی اور جتنی مخالفت کرو گے، اس کی سزا ملے گی اور جبری جتنی اطاعت کروگے، اس کی جزا نہیں ملے گی۔

اگر اپنے اختیار سے اطاعت کرلو تو پھر اس کا ثواب بھی ملے گا۔ لہٰذا اسی لئے علماء کہتے ہیں یعنی علمِ کلام میں ہے کہ یہ جو احکامِ شریعہ ہیں، یہ ہم پر مہربانی ہے تاکہ ہم مستحقِ جزاء بنیں اور جتنا اختیاری عمل ہے، وہ اگر غلط ہوا تو قہری کیفیات اگر اچھی نمودا رہوں تو کوئی فائدہ نہیں۔ اختیار طو رپر ظلم کررہا ہے اور مصائب کو دیکھ کر آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ ظلم اختیاری ہے، یہ کیفیت قہری ہے۔ وہ اختیاری عمل ہے، یہ مصیبت کا اثر ہے اور اب آپ کے سامنے واقعات مجالس میں سے آہی گئے ہوں گے کہ کن محل پر ظالم روئے ہیں ۔ مگر وہ رونا کیا قیمت رکھتا ہے جو ظلم سے باز نہ رکھے۔ ظلم کررہے ہیں ، مظلومہ کے زیور اُتار بھی رہا ہے اور رو بھی رہا ہے۔ کہا: کیوں روتے ہو؟کہا: آپ کی مظلومی پر۔ کہا: زیور کیوں اُتار رہے ہو؟ کہا: اس لئے کہ میں نہ اُتاروں گا تو کوئی اور اُتار لے گا۔ میں ہی فائدہ اُٹھا لوں ۔

تو بتائیے اس رونے کی کیا قیمت ہے؟ بس یاد رکھئے کہ وہ مصیبت تو ایسی ہے کہ ظالم روئے ۔ اب اگر ہم مصیبت کے اثر سے روئے تو اس رونے کی کیا قیمت ہوگی۔ اگر ہمارے اختیا رمیں جو چیزہے یعنی اطاعت، وہ نہ کریں۔صاحب! یہ مستقل موضوع ہے۔ چند جملے کہہ رہا ہوں، حالانکہ آپ کیلئے ناخوشگوار ہیں یہ باتیں ۔آپ کیلئے تو بہت خوش آئند اس کے مخالف پہلو ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ ناز ہے ہمیں، بڑا کارنامہ محبت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ محبت ہمارا کارنامہ ہے؟ جو قابل محبت ہے، اس کا حسن ہے جو متقاضیِ محبت ہوتا ہے۔ محبت کرنے والے کا کوئی کارنامہ نہیں ہوتا۔ محبت کرنا ، جو ہستیاں محبت کے قابل ہیں، ان سے ہم محبت کرتے ہیں تو احسان کیا ہے؟ بس محبت کرتے ہیں قابل محبت سے۔ تو اس شعبہ میں ظلم کے مرتکب نہیں ہیں۔اس کے آگے یہ کارنامہ کیا ہے کہ ہم محبت کرتے ہیں؟

اسی طرح سے ہم ان کے مصائب پر روتے ہیں۔ مصائب ہیں ہی ایسے کہ ان پر پتھر روئے، ہم روئے تو کیا کمال؟ بس اب یہ بابِ مصائب ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ہم تو آنسوؤں سے روتے ہیں۔ کائنات نے تو شاعروں کے مجاز کو حقیقت بنا دیا۔ خون کے آنسوؤں سے روئی محمد ابن طلحہ شافعی کی کتاب ”مطالب السئول“ ہے، علامہ سبط ابن جوزی کی کتاب ”تذکرئہ خواص الآئمہ“ ہے اور علامہ ابن حجر مکی کی کتاب ”صواعق محرقہ“ ہے۔ ہر ایک لکھ رہا ہے کہ واقعہ کربلا کے چالیس دن تک جو کپڑا زیر آسمان پھیلایا جاتا تھا، اس پر خون کے نشان ہوجاتے تھے کیونکہ آپ کا عشرہ اسی زمانے میں ہورہا ہے تو میں کہتا ہوں کہ اس رعایت سے میں سمجھا ، میں نے محسوس کیا کہ عشرہ کا دن ہی روزِ مصیبت اس کی طرف کا مقرر کردہ نہیں ہے بلکہ اربعین تک کا زمانہ عزا،یہ بھی اُدھر کا مقرر کردہ ہے کیونکہ چالیس دن پورے ہوتے ہیں بیس صفر کو۔ تومعلوم ہوتا ہے کہ یہ چہلم کی تاریخ بھی اُدھر سے مقرر ہوئی ہے۔ دنیا ہم سے کہتی ہے کہ تم روتے کیوں ہو؟ میں کہتا ہوں کہ آسمان سے جاکر پوچھو کہ کیوں روتا ہے؟زمین سے پوچھو کہ کیوں روتی ہے؟

ایک عجیب سوال کرتے ہیں کہ رسول کا ماتم کیوں نہیں کرتے؟ حسین کا ماتم کیوں کرتے ہو؟میں کہتا ہوں کہ خیر اگر ہم رسول کا ماتم نہیں کرتے تو ہم تھوڑی دیر کیلئے مان لیتے ہیں کہ یہ ہماری کوتاہی ہے۔ مگر آپ کو احساس ہے تو آپ ہی کیجئے ان کا ماتم۔ یہ ہمارے روکنے کیلئے آپ کو رسول یاد آتے ہیں۔ آپ رسول کا ماتم کیجئے، ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کے ساتھ آکر شریک ہوں گے۔ تقسیم عمل ہوجائے۔ آپ رسول کا ماتم کیجئے، ہم فرزند رسول کا ماتم کریں۔

یونہی سہی۔ یہ آپ ماتمی ہونے سے گھبراتے کیوں ہیں؟ آپ بھی غم کیجئے۔ ماتم کے معنی ایک خاص طرز نہیں ہے۔ جس طرز سے آپ چاہیں، ہمارے ہاں ہر جگہ عزاداری ایک ہی عنوان سے ہوتی ہے۔ وہ تو فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے۔نالہ پابند لَے نہیں ہے۔جس کی سمجھ میں جو آیا ہے، جذبہ ہے اظہارِ سوگواری کا۔


دینِ اسلام ۶

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰهِ الْاِسْلَامْ ) ۔

میں نے عرض کیا کہ اسلام کے معنی دو ہیں، سرجھکانا اطاعت کے ساتھ اور اپنے کو سپرد کردینا ۔ اب یہ دونوں باتیں کس ذات سے متعلق ہیں؟ وہ ذات خالق کائنات کی ہے۔ اس لئے قرآن مجید میں جہاں جہاں اسلام کے ساتھ”مُتَعَلَقَ“کا ذکر ہے”( وَلَهُ اَسْلَمَ ) “اللہ ک یلئے اسلام لائے ہیں۔ بعض جگہ الفاظِ قرآنی سے پتہ چلتا ہے کہ دوسرے معنی زیادہ اس میں ملحوظ ہیں یعنی سپرد کردینا۔ یہودونصاریٰ کا مقولہ تھا:

( نَحْنُ اَبْنَاُاللّٰه واَحِبَّاهُ ) ۔

ہم اللہ کے بیٹے ہیں او ر اس کے لاڈلے ہیں، چہیتے ہیں۔

اب قرآن مجید نے اُن کے اسی مقولے کو نقل کیا کہ یہودونصاریٰ کا یہ قول ہے ۔ پہلے تو طنزیہ انداز میں اُن کے اس تصور کی خامی کا اظہار کیا۔ ارشاد کیا:

( قُلْ فَلِمَایُعَذِّبکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ ) ۔

”کہئے کہ پھر بھلا وہ تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا کیوں دینے لگا؟“

مطلب یہ کہ جس جماعت کو یہ تصور ہوجائے کہ ہمارا اللہ کے ساتھ کوئی خاص رشتہ ہے، وہ اصلاحِ عمل کا جذبہ ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد جو اصل بات تھی، وہ کہی:

( وَاَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ ) ۔

بلکہ تم بھی آدمی ہو اُن میں سے جو اُس نے پیداکئے جیسے سب اس کی مخلوق ہیں، ویسے ہی تم بھی اُس کی مخلوق ہو۔ جیسے یہ ان کا مقولہ ہے اور قرآن مجید نے اس کو درج کرکے رد کیا، اسی طرح ایک مقولہ ان کا اور تھا:

( قَالُوْالَنْ یَدْخُلَ الْجَنَّة اِلَّا مَنْ کَانَ هُوْدًااَوْنَصَاریٰ )

”وہ کہتے ہیں کہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا سوائے اُس کے جو یہودی و نصاریٰ ہو“۔

یہ ”یا“ کہہ کر اُن سے کوئی نہیں کہتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہودی کہتے ہیں کہ وہی داخل ہوگا جو یہودی ہو۔ عیسائی کہتے ہیں کہ وہی داخل ہوگا جو عیسائی ہو کیونکہ قرآن نے ان دونوں کے مقولے کو سمو کر بیان کردیا ہے۔ اس لئے یا یا ہوگیا کہ ان دونوں کا نتیجہ یہ ہے ، وہ یا یہودی ہو یا نصرانی ہو۔

اُن کے قول کے مطابق یہودی ہو، ان کے قول کے مطابق نصرانی ہو۔اب اہل اسلام غور کریں، کسی بھی فرقے کے ہوں کہ اس کے مقابل میں قرآن ہمارے مذاق کے مطابق اُسے کیا کہنا چاہئے تھا جو ہم یہ سمجھتے ہیں،یہ کہا جاتاکہ نہیں، سوا اس کے جو مسلمان ہو، کوئی جنت میں نہیں جائے گا۔ مگر صرف مسلمان کہا جاتا تو مسلمان لقب ہوجاتا جیسے مردم شماری کے رجسٹر میں مذہب کے خانے میں مسلمان لکھا جاتا ہے کہ اس کے جواب میں مسلمانوں کی طرف سے جو حقیقت پیش کی جارہی ہے، اس میں مسلمین یہاں نہیں کہاجاتا ورنہ جماعتی نظام بن جائے گا۔ لوگ سمجھیں گے کہ ایک فرقے کا نام ہے۔ جیسے یہودی ہونا۔ بس ضمانت ہے چاہے کردار جیسا بھی ہو۔ جیسے نصرانی ہونا ضمانت ہے، چاہے کردار جیسا بھی ہو۔ویسا ہی مسلمانوں کا تصور ہوگا کہ بس مسلمین جائیں گے ۔ جوابِ ترکی بہ ترکی کا تقاضا تو یہی تھالیکن قرآن نے اُس کے جواب میں کیا کہا ہے؟ قرآن نے یہ کہا کہ وہاں جو کہاتھاانہوں نے، کہ اللہ ہمارا رب ہے یعنی دنیا اسلام کی فراخی و حوصلگی کو دیکھے اور بات یہ ہے کہ تنگ نظری آتی کہاں سے جبکہ وہ پیغام اُس کا ہے جو سب کا ہے۔ وہ اگر کسی محدود ذات کا ہوتا تو وہاں تنگ نظری ہوتی۔ تو وہ وہاں کہہ رہے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اُس کے چہیتے ہیں۔ اُس کے جواب میں مسلمانوں سے یہ کہلوا دیاجاتا۔ جو ابِ ترکی بہ ترکی کا تقاضا یہ تھا کہ نہیں، ہم خاص اُس کے، ارے بیٹا نہ کہتے ، محبوب کہہ لیتے۔ ہم خاص اُس کے پیارے ہیں۔ یہ کہاجاتا مگر مسلمانوں کی زبان سے یہ نہیں کہاجارہا ہے کہ وہ ہمارا ہی ہے بس۔ مسلمانوں کی زبان سے اللہ نے اعلان کروایا:

( وَهُوَرَبُّنَاوَربُّکُمْ ) “ ۔

”وہ ہمارا بھی مالک ہے، تمہارا بھی مالک“۔

( لَنَااَعْمَالُنَاوَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ) “۔

”ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں، تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں“۔

اور وہ جو وہ کہہ رہے تھے کہ سوائے یہودونصاریٰ کے کوئی نہیں جائے گا۔ اُس کے جواب میں بھی جماعتی نام لے کر نہیں کہا جائے گا کہ نہیں، بس مسلمان جائیں گے۔ نہیں! اُ س کے جواب میں کہا جارہا ہے،اس کو میں نے پیش کرنے کیلئے منتخب کیا ہے۔ اب مسلمین نہیں کہا جاتا:

( بَلٰی مِمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهُه لِلّٰهِ وَهُوَمُحْسِنٌ فَلَه اَجْرُه عِنْدَ رَبِّه وَلَاخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَاهُمْ یَحْزَنُوْنَ ) ۔

کہاں ان کا وہ زور شور کہ سوائے یہودی و نصاریٰ کے کوئی نہیں جائے گا اور کہاں اس کتاب میں جو گویا مسلمانوں کی طرف سے وکالت کا ذمہ دار ہونا چاہئے۔ تو میں کہتا ہوں کہ بڑے دھیمے انداز میں کہاجارہا ہے : بھئی یہ کیوں کہتے ہو کہ کوئی نہیں جائے گا۔ بھلاکوئی نہیں۔

( مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَه لِلّٰ ) ہِ“۔

اب یہاں وہ” سرنہادن بطاعت“ بنتا ہی نہیں۔اس لئے میں نے یہ آیت پیش کی ۔ یہاں وہی معنی بنتے ہیں جو اپنی شخصیت کو اللہ کے سپرد کردے”( مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَه لِلّٰهِ ) “اس سے پتہ یہ دے دیا خود مسلمانوں کو کہ مسلم کہنے سے مسلم نہیں ہوتا، صفت کے ہونے سے مسلم ہوتا ہے۔ جو اپنی شخصیت کو اللہ کے سپرد کردے، درآنحالیکہ حسن عمل بھی رکھتا ہو، فقط دعویٰ سے کام نہیں چلتا۔ فقط نامِ اسلام ہو، اس میں ایمان سے کام نہیں چلتا، اس کے ساتھ حسن عمل رکھتا ہو توپھر بھی آنکھ بند کرکے نہیں کہاجارہا ہے کہ بس اُس کیلئے جنت ہے۔ کہاجارہا ہے کہ اس کیلئے جو اس کا اجر یعنی جتنی محبت کی ہو، جتنا کام کیا ہو، جتنا حسن عمل کیاہو، اس کیلئے اس کا اجر ہے جو ہوتا ہو اُس کا اللہ کے یہاں۔

( وَلَاخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَاهُمْ یَحْزَنُوْنَ ) “ ۔

”تو نہ اُن کیلئے کوئی خوف ہوگا، نہ حزن و ملال ہوگا“۔

تو اب آپ نے دیکھا کہ اسلام کے یہاں وہی معنی ہیں ”سپرد کرنا“۔ اب یہ چیز جو ہے اصل دین اسلام اور اسلام ”سرنہادن بطاعت“،”اپنے کو سپرد کردینا“۔ اور میں نے کہا زیادہ یہی پہلو ملحوظ ہے مگر کس کے؟ اللہ کے۔

اور میں نے یہ کہا کہ انسان جب سے پیدا ہوا، یہ صفات لئے ہوئے آیا۔ اس کی اطاعت کرتا ہوا آیا۔ یہ جو اپنی ضروریاتِ حیات پوری کررہا ہے، اس کو یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ میری ضروریاتِ حیات ہیں۔ یہ تو بس کسی مالک کی اطاعت کررہا ہے۔ اور میں کہتا ہوں کہ اس کے بعد ضرورریاتِ حیات پوری کیجئے مگر اس لئے نہیں کہ میری ضروریاتِ حیات ہیں بلکہ اس لئے کہ اس کی مرضی ہے۔ کھانا بھی کھائیے تو یہ سمجھ کر کہ مجھے حکم ہے۔ پانی بھی پیجئے تو یہ سمجھ کر مجھے حکم ہے۔ تمام نظامِ زندگی کے کام کیجئے مگر یہ سمجھ کر کہ اس کا حکم ہے۔

تو یہ یاد رکھئے کہ دنیا کا ہر کام عبادت ہوجائے گا۔ تو جنابِ والا! یہ دونوں صورتیں تو لئے ہوئے انسان پیدا ہوتا ہے مگر بس فرق اتنا ہے کہ اس وقت یہ دونوں صفات جبر قدرت سے، اللہ کے ارادئہ تکمیل ہی کے ماتحت ہیں۔ تکمیل کیا مطلب؟ کہ وہ ”کُن“والا،”ہوجا“، ہوگیا۔ یعنی وہ اُس کے ارادے کا ظہور، ورنہ کیا وہ لفظ”کُن“بولتا ہے، یہ تعلق ارادہ کی ایک لفظی تعبیر ہے اور اسی لئے یہ لفظ”کُن“ ہے جو ایک منزل پر آکر اتنا لمبا جملہ بنا:

( یَانَارُکُوْنِیْ بَرْدًاوَسَلامًا عَلٰی اِبْرَاهِیْمَ ) ۔

توکیا جتنی دیر میں مَیں نے کہا، کیا اتنی دیر میں اللہ تعالیٰ نے یہ کہا۔ یہ وہی حکمِ”کُن“ہے جو یہاں، کیونکہ متعلق اس کا یہ ہے کہ آگ نقطہ اعتدال برودت پر آئے یعنی سردی بھی اتنی نہ ہو جو حیاتِ انسانی کیلئے خطرناک ہے ، تو جب وہ الفاظ کے قالب میں آیا تو اتنا بڑا جملہ بنایاکہ:

( یَانَارُکُوْنِیْ بَرْدًاوَسَلامًا عَلٰی اِبْرَاهِیْمَ ) ۔

تو اب یہ اللہ کا حکم جوہوتا ہے، تو پھر کائنات کی ہر شے اس کی اطاعت کرتی ہے۔ جو اطاعت عمومی ہیں، وہ روزمرہ ہورہی ہیں اور جو خصوصی حکم ہوجاتا ہے، تو وہ خصوصی ہوجاتا ہے۔ یہ آگ اپنی فطرت دکھاتی ہے جلانے کی۔ یہ بھی اطاعت ہے۔ یہ اس کے حکمِ عام کی تعمیل ہے اور ایک موقع پر نہیں جلایا، یہ اُس کے حکمِ خاص کی تعمیل ہے۔دواجواثر کررہی ہے، وہ بھی اُس کے حکم کی اطاعت کرتی ہوئی اور جو بے اثر ہوجاتی ہے، وہ بھی اُس کے حکم کی تعمیل کرتی ہوئی۔ یہ معنی ہیں اس کے کہ:

لَایَتَحَرَّکُ ذَرَّة اِلَا بِاِذْنِه “۔

”کوئی ذرّہ حرکت نہیں کرتا مگر اللہ کے ارادے سے“۔

دنیا نے لاکر اس مقولے کو منطبق کیا وہاں جہاں انسان مجبور بننا چاہے۔ بس یہ جس بات میں اپنا مطلب نکلے، اگر جبر ثابت ہو جائے تو پھر کسی کو بُرا کہنے کی ضرورت نہ ہو۔ یہ بڑا خطرناک ہے اختیار کہ یہاں بہت سی شخصیات معرضِ بحث میں آجاتی ہیں اور اگر جبر کا عقیدہ عام ہوجائے تو ہر شخص سمجھے ، وہ بیچارہ کیا کرے؟ وہ تو اللہ نے جو کروایا، وہ اُس نے کیا۔

تو ا س کیلئے روایات گھڑی یں کارخانوں میں ۔ عقائد بھی ڈھلے ہیں کارخانوں میں ۔ عوام کے ذہنوں کو مغطّل کرنے کیلئے کہ غور کرنا چھوڑدیں کہ یہ اچھا ہے یا برا ہے۔جب سب اللہ کرتا ہے تو سوچنا کیا کہ کون اچھا کررہا ہے ، کون برا کررہا ہے اور فعل اللہ کے قرار دئیے اور اللہ کے فعل میں یہ اصول بنانا کہ نہ اچھا ہوتا ہے ، نہ برا ہوتا ہے۔اللہ کرتا ہے، لہٰذا اچھا ہی ہے، برے کا سوال ہی نہیں۔ تو پورا قلعہ علم کلام کا تعمیر ہوگیا۔

نظامِ سیاست کے اوپر تو حضورِ والا”ولایتحرک ذرہ“بالکل صحیح ، وہ ہواسے پتہ ٹوٹ کر گرا تو ہوا نے اطاعت کس کی کی؟ اُس کی۔ اگر کسی وقت ہوا چلتی رہے اور پتہ نہ گرے تو معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ پتے کو کوئی خاص حکم اب آیا ہے تو اس حکمِ خصوصی کی پیروی کررہا ہے۔ یاد رکھئے کہ یہی احکامِ خاص اللہ کے جب کچھ انبیاء و اولیاء کے ذریعے سے ہوجاتے ہیں تو اُن کا معجزہ قرار پاتے ہیں کیونکہ وہ فعل و عمل ایک نبی کے ہاتھ پر اُس کے دعوے کی تصدیق کیلئے ہوا، اس لئے معجزہ اسی رسول کا ہے مگر فعل اللہ کا ہے۔ یعنی اللہ نے اس کے ہاتھ پر اس معجزے کو ظاہر کیا۔ تو معجزے کی نسبت اسی کی طرف درست ہے جس کے ہاتھ پر ظاہر ہوا۔مگر فعل وہ اللہ کا ماننا پڑے گا۔ ہاں! اس کے اذن سے اس کا فعل بھی مانا جاتا ہے۔ورنہ قرآن میں نہ ہوتا عیسیٰ کیلئے کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ یہی کہہ دیا ہوتا کہ میں تمہارے ہاتھ سے مردوں کو زندہ کرتا تھا۔ مگر اُسے اندازِ تکلم ہمیں طرح طرح کے سکھانا بھی تھے کہ وہ بھی کہہ سکتے ہو ، یہ بھی کہہ سکتے ہو۔ تم مردوں کو زندہ کرتے تھے میرے حکم سے۔

بس یاد رکھئے یہ باذن اللہ۔ذہن میں رہے کہ اللہ کے اذن سے ہے۔ تو جس فعل کی نسبت دیجئے، وہ شرک نہیں ہوگا کیونکہ مسلمانوں میں ایک مدت سے ،کم سے کم دو برس سے ایک گروہ ہے کہ جس کو ہرچیزمیں شرک نظر آتا ہے اور اس کے الفاظ یہ ہوتے ہیں کہ یہ نہ کرو ، نہیں تو شرک ہوجائے گا، یہ نہ کرو نہیں تو شرک ہوجائے گا۔تو اس کے جوا ب میں مَیں یہ کہتا ہوں کہ ہم نہیں کریں گے تو شرک کیونکر ہوگا؟

تو حضورِ والا! اللہ کا تصور ذہن میں ہو، اس کے حکم کی اطاعت کائنات کی ہر شے کررہی ہے۔ یہ انسان بھی پید اہوتا ہے اس کے حکم کی اطاعت کرتا ہوا اور ابھی جو میں نے کہا کہ کبھی قانونِ عام کی اطاعت ہوتی ہے، کبھی قانونِ خاص کی ۔ وہ اس منزل پر بھی میں دکھادوں کہ ہر بچہ جب اُسے فطری غذا ملے تو وہ رُخ کردے گا۔ یہ رُخ جو کیا تو یہ قانونِ عام کے ماتحت ہے او رموسیٰ جو رُخ نہیں کررہے ہیں، وہ قانونِ خاص کے ماتحت ہے اور خالق نے کہا ہے کہ اپنے قانون کے اجرکو:

حَرَّمْنَاعَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ “۔

ارے وہ رُخ کرتے کیونکر، ہم نے اُن پر تمام دودھ پلانے والیوں کا دودھ حرام کردیا تھا بہت پہلے۔

اور ابھی تو میں نے دُور کی مثال دی اور بحمدللہ دُور کی مثال سے بھی آپ محظوظ ہوئے۔ مگر اب میں قریب کی مثال بھی دے دوں کہ اگر فطری غذا کی طرف بچہ رُخ کرے تو قانونِ عام کے ماتحت ہے اور اگر نانا کی زبان کو لے کر منہ میں چوسنے لگے تو یہ قانونِ خاص کے ماتحت ہے۔

توحضور! جیسے آیاتِ قرآن متشابہ ہیں، اُس میں بہت سے معنی ہیں۔ کہیں تو خود سمجھ میں نہیں آتے او رمعنی پیدا ہی نہیں ہوتے۔ کہیں سوچنے پر کچھ معنی مگر کسی دوسرے کے سوچنے پر کچھ اور معنی۔اسی طرح بعض آیات میں تیس اقوال، چالیس اقوال مفسرین کے ہوجاتے ہیں۔ تو وہ آیاتِ متشابہات ہیں۔ اسی طرح احادیث میں بھی بعض متشابہات ہوتی ہیں کہ اس میں بھی سوچنے والے طرح طرح کے معنی پیدا کرلیتے ہیں۔ چنانچہ یہ حدیث جو ہے کہ:

کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُعَلٰی فِطْرَةِ الْاِسْلامِ “۔

”ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پید اہوتا ہے“۔

ا س کی بھی تشریح ہر ایک ، ایک ہی طرح نہیں کرتا اور لوگ سوالات کرتے ہیں کہ اس کے کیا معنی ہیں؟ تو اس میں بھی ممکن ہے کوئی کچھ جواب دے ، کوئی کچھ دے۔ جو جس کے ذہن میں جس کا مفہوم۔میرے ذہن میں جو مفہوم اس کا ہے، وہ اجمالاً عرض کرچکا یعنی اسلام وہی مطالبہ کرتاہے جو ازروئے فطرت ہے۔ فطرت کے ماورا کوئی مطالبہ اسلام کا نہیں ہے۔ وہ کام جو انسان کرتا ہوا دنیا میں آتا ہی ہے، اُسی کا پھر انسان سے اسلام مطالبہ کرتا ہے ۔ کوئی بھی اپنی اطاعت کا مطالبہ کرے، وہ غیر فطری ہوگا، اس لئے کہ فطرت کے اوپر ایک بار ہے، کوئی حاکم کہے کہ میری اطاعت کرو، فطرت کے ماوراء مطالبہ ہے۔ جب یہ پیدا ہوا تھا، آکے کہتا کوئی کہ اطاعت کرو۔ دیکھوں کہ یہ اطاعت کرنا معلوم ہوتا ہے کہ فطرت کے اوپر الگ سے ایک بوجھ ہے جو رکھا جارہا ہے۔ لہٰذا ہر غیر خدا کی اطاعت غیر فطری ہے کیونکہ پیدائش کے بعد سے ان میں سے کوئی قادر نہیں تھا اس سے اطاعت کروانے پر۔ا س وقت اس پر کوئی حکم نہیں چلا سکتا تھا۔اب جو بعد میں آیا ہے حکم چلانے تو یہ اس کی فطرت سے ماوراء ایک بوجھ ہے جوا س پر لادا ہے ۔ لہٰذا غیر فطری۔

اسلام کسی اور کی اطاعت نہیں کرواتا سوائے اس کے۔ ہاں! ذہن میں آسکتاہے کہ اسلام میں یہ جو بعض اطاعتوں کا ذکر ہے، میں کہتا ہوں کہ جس کی بھی اطاعت ہے، وہ اس کے حکم سے ہے۔ لہٰذا اس کی اطاعت ہے اور اسی لئے کوئی بھی اطاعت ہو، جو اُس کی اطاعت سے ٹکراجائے تو اطاعت حرام۔ہے تو وہی حکم دینے والا مگر اب وہ نہیں اطاعت کررہاہے۔ اگر قانون کا پابند ہے ، اگر واقعی عملاً مسلم ہے تو اب نہیں اطاعت کررہا۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس وقت جو اطاعت کررہا تھا، یہ سمجھ رہا تھا کہ میری اطاعت کررہا ہے مگر اصل میں ایک اور بالادست طاقت کی اطاعت کررہا تھا کیونکہ اس کا حکم اس کے حکم سے ٹکرا نہیں رہا تھا۔ اب جو ٹکرا گیا اور اس کے حکم کی مرضی کچھ اور ہوگئی تو پتہ چل گیا کہ یہ ظاہر میں اِس کو حاکم مان رہا تھا، اصل میں حاکم کسی اور کو مان رہا تھا۔

تو جو اطاعت ہے، ماں باپ کی اطاعت، اولاد پر بے شک واجب ہے۔ ارے بڑی عظیم الشان، قرآن میں خدا نے ماں باپ کا نام اپنے نام کے ساتھ لیا ہے، ارشاد ہوتاہے:

( قَضٰی رَبُّکَ اَنْ لَا تَعْبُدُوْااِلَّااِیَّاهُ وَبِالْوَالِدیْنِ اِحْسَانًا ) ۔

تمہارے پروردگار کا قطعی فیصلہ ہے کہ عبادت تو سوائے اس کے کسی اور کی نہ کرو مگر ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک۔

مطلب کیا ہوا؟ آئمہ معصومین نے اس کی طرف توجہ دلائی ہے کہ والدین کی اہمیت اتنی ہے کہ اپنے نام کے بعد بلافاصلہ ماں باپ کا نام لیا ہے ۔ یعنی بس میرا حق یاد کرو اور پھر کوئی حق ہے ، بلافصل، تو وہ والدین کا۔

تو جناب! والدین کی اطاعت میں بڑا زور ہے۔ اتنی طاقت ہے کہ اللہ کے کسی حکم غیر الزامی سے اگر کوئی متصادم ہوتو اطاعت واجب رہے گی یعنی کسی مستحب کو منع کردیں تو حرام ہوجائے ، کسی مکروہ کا حکم کریں تو واجب ہوجائے۔ارے کوئی بڑے سے بڑا کارِ خیر، فرض کیجئے کسی وقت نمازِجماعت کیلئے آپ مسجد میں جانا چاہتے ہوں اور کسی وجہ سے ماں یا باپ حکم دے کر منع کردے تو جانا حرام ہوجائے گا، نماز باطل ہوجائے گی ۔ گھرمیں ہی پڑھ لیجئے ، کوئی وجہ ہی ہوگی جس کی وجہ سے ماں باپ یہ حکم دیں گے تو تعمیل واجب ہوجائے گی اور اسی طرح بڑے سے بڑا کوئی عملِ صالح، نیک مستحب کاموں میں سے لیجئے تو اگر منع کردیں تو حرام ہوجائے گا۔ مگر بس اتنی طاقت ہے ۔ لیکن اگر کسی واجب کے ترک کو کہیں تو اب ا طاعت حرام۔ مگر بعض بخیالِ خود بڑے چاہنے والے ماں باپ ہیں کہ بچہ ہوگیا ہے بالغ اور شرعاً پندرہ برس کی عمر میں لڑکا بالغ ہوجاتا ہے، نو برس میں لڑکی بالغ ہوجاتی ہے۔ مگر ہمارے عرفِ عام میں تو بہت دن بچہ رہتے ہیں۔ سولہ برس کا لڑکا بچے کے سواکہلاتا ہے کچھ اور؟کونسی دس برس کی لڑکی بچی کے سوا کچھ اور کہلاتی ہے؟ بس جب شرعاً وہ بالغ ہوگیا ، اب اس پر قلم تکلیف شرعی رواں ہوگیا۔ کاتبانِ اعمال اب اعمال لکھنے لگے۔ اب آیا ماہِ رمضان۔ ماں باپ بنظر محبت فرماتے ہیں: بیٹا! تم روزہ نہ رکھو۔ ارے تم؟ تمہاری بساط کیا ہے؟ یہ عام باتیں ہیں جو میں عرض کررہا ہوں۔ اپنے نزدیک محبت کررہے ہیں بچے کو۔

فرض کیجئے، اتفاق سے، اُسے شرعی مسئلہ معلوم ہوگیا ، وہ کہتا ہے کہ مجھ پر واجب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نہیں، تم ابھی بچے ہو۔ وہ سمجھتے ہیں کہ محبت کررہے ہیں۔ وہ درحقیقت عداوت ہے کیونکہ روزِقیامت سوال تو اس سے کیا جائے گا: تم نے روزہ کیوں نہیں رکھا؟ اس دن یہ ماں باپ شفاعت کیلئے نہیں جاسکیں گے۔ خود ان کو سزا ملے گی کہ تم نے کیوں روکا تھاایک عملِ خیر سے۔ تو یہاں حکم عدولی اللہ کی ہے جس سے ٹکرارہی ہے ان کی ہدایت۔ اب یہاں حکم کی تعمیل حرام ہے۔

دوسرے شعبوں میں بھی اس کی مثالیں ہواکرتی ہیں کہ جناب خوش دامن صاحبہ بہو سے خفا ہوئیں ۔ یہ تو نہیں کہتیں صاحبزادے سے کہ طلاق دے دو کیونکہ طلاق ہے شرافت خاندانی کے خلاف ، مگریہ حکم چلاتی ہیں کہ خبردار! اس کے پاس نہیں جانا۔اب حکم کی تعمیل حرام ہے کیونکہ بیوی ہوتے ہوئے اس کے حقوق اللہ کی طرف سے عائد کئے ہوئے ہیں۔ اب یہ والدہ صاحبہ اس کے حکم کے مقابلہ میں اپنا حکم چلانا چاہتی ہیں۔ توغرض اصول یہ ہوگا کہ :

”خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں“۔

تو اب جو جو اطاعتیں ہم کررہے ہیں، وہ سب مشروط ہیں کہ اللہ کے احکام سے نہ ٹکرائیں۔ اب اگر قرآن نے کسی کی اطاعت کا غیر مشروط طور پر حکم دیا ہو تو ماننا پڑے گا کہ اس کا حکم خدا کے حکم سے نہیں ٹکراتا۔تو اب قرآن میں دیکھ لیجئے:

( اَطِیْعُوااللّٰهَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَ مْرِمِنْکُمْ ) ۔

”اللہ کی اطاعت کرو“۔

آیت ختم ہوگئی؟ جی نہیں ، اور”اَطِیْعُواالرَّسُوْلَ “، رسول کی اطاعت کرو۔ کوئی قید ہے اس میں؟ جیسے اللہ کی اطاعت کا حکم مطلق، ویسے ہی رسول کی اطاعت کا حکم مطلق۔ کہاجارہا ہے کہ رسول کی اطاعت کرو۔مطلق اطاعت کا حکم ہے۔ تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ رسول کا حکم اللہ کے حکم سے کبھی نہیں ٹکراتا۔ ہر مکتب خیال کے تصورات بھی کچھ نہ کچھ آپ کے ذہن میں ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ان کا حکم اللہ کے حکم سے کبھی نہیں ٹکراتا، نہ بھولے نہ چوکے۔ اب اگر کوئی حافظ قرآن ہوتو اُسے تو زبانی یاد ہوگا اور اگر کوئی حافظ قرآن نہیں، ناظرہ خواں ہو تو وہ قرآن سے نکال سکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں بھی ہے تو بحمدللہ مجالس ہیں۔

یاد رکھئے کہ مجالس لا شعوری طور پر درسِ قرآن بھی ہیں اور درسِ حدیث بھی ہیں۔ یہ سب مفادات اس سے حاصل ہوجاتے ہیں۔ ضمناًبشرطیکہ صحیح کام لیا جائے مجالس سے۔ تو جنابِ والا!بہرحال یہ آیت تو آتی ہے سامنے کہ اگر اب اللہ اور رسول کے ساتھ بھی کوئی نام لیا گیا ہے؟ارے کسی ایک جگہ لیا گیا ہو، اس لئے کہ قرآن مجید کے حکم میں یہ قید نہیں ہے کہ چار دفعہ ہو تو تعمیل واجب۔ کسی ایک جگہ بھی اگر نام لیا گیا ہے اور اب جسے یاد نہ ہو، وہ یاد کرے اور جسے یاد ہے، وہ دہرائے کہ:

( اَطِیْعُوااللّٰهَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَ مْرِمِنْکُمْ ) ۔

”اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی جو تم میں سے ہے“۔

اب اللہ ہے، رسول ہے اور اولی الامر ہے۔ مستقل طور پر یہ آیت پڑھنا مقصود نہیں۔ انشاء اللہ کبھی یہ آیت مستقل سرنامہ کلام ہوگی تو اب اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ اولی الامر کون ہیں۔ ہاں! ترجمہ کردوں جو میرے نزدیک صحیح ہے۔خالق نے”آمِریْن “ نہیں کہا ہے۔ اتنی عربی میں جانتا ہوں ۔ اگر کہاجاتا کہ:

( اَطِیْعُوااللّٰهَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَ مْرِیْنَ مِنْکُمْ ) ۔

”اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور تم میں سے جو حکمران ہوں، جو حکم چلانے والے ہوں“۔

جو چاہے ترجمہ کرلیجئے۔ ہمارے ہندوستان میں آجکل جو اُردو ہے، اس کے لحاظ سے جو اپنا حکم لاگو کردیں، تو جناب یہ نہیں ہے ، آمرین نہیں کہاجارہا۔ حالانکہ وہ لفظ مختصر تھا۔ بلاغت قرآنی بلاوجہ الفاظ کا اضافہ نہیں کرتی۔اگر اس لفظ سے مطلب حاصل ہوجاتا تو اضافے کی کیا ضرورت تھی؟ ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی ۔

اب جو میں ترجمہ کروں، اُس کا میں ذمہ دار ہوں اور ان لوگوں کی جو حکم چلانے کے حقدارہیں۔کوئی ”م( ِ نْکُمْ ) “ کا لفظ سے فائدہ اٹھاسکتا ہے؟ کہاجارہا ہے کہ اول ی الامر جو تم ہی میں سے ہیں یعنی ہمارے ہی بھائی بند ہیں۔میں کہتا ہوں کہ یہ قرآن ہے۔ آپ کو جانے نہیں دے گا۔ یہ قرآن ہے، کوئی اور کلام نہیں ہے۔ارے یہی ”( مِنْکُمْ ) “ اور ”م( ِ نْهُمْ ) “ضم یروں کا اختلاف ہے۔ ترتیب تو ایک ہی ہے۔ ارے یہی ”منھم“ تو رسول کے لئے کہا گیا ہے۔

( وَبَعَثَ فِی الْاُ مِّیِیْنَ رَسُوْلًا مِنْهُمْ ) ۔

”امین رسول بھیجا انہی میں سے“۔

اولی الامر کو کہاجارہا ہے کہ اولی الامر جو تم ہی میں سے ہیں ۔ تو رسول بھی انہی میں سے تھے۔ مگر اُن کے منتخب کردہ نہیں تھے۔اولی الامر بھی انہی میں سے ہیں۔ مگر تمہارے منتخب کردہ نہیں ہیں۔ پس مختصر یہ کہ جس کا منتخب کردہ رسول ہے، اسی کے منتخب کردہ یہ ہیں۔

اب نقطہ حقیقت واضح تو ہوگیا مگر ظاہر ہے کہ آیت جب مستقل عنوانِ کلام ہو تو اس میں تفصیلات آسکتی ہیں بہت زیادہ۔بس اب ایک اُردو زبان میں جملہ کہہ دوں کہ اللہ کی اطاعت غیر مشروط، رسول کی اطاعت غیر مشروط اور میں نے کہا کہ اس کا نتیجہ یہ کہ رسول کا حکم اللہ کے حکم سے کبھی نہیں ٹکراتا۔اب میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ اولی الامر کون ہیں؟ کون ہیں نہیں، ایک منفی تصور تو مسلماً پیش کئے جاتا ہوں۔ اولی الامر کوئی بھی ہوں، مگر وہ نہیں ہیں جن کے احکام کو ہم نے دیکھا ہے۔ خدا کے احکام سے ٹکراتے ہوں۔

تو معلوم ہوا کہ غیر مشروط اطاعت اللہ کے سوا کسی کی نہیں ہوسکتی۔ سوائے ایسے شخص کے جس کے حکم ،حکمِ خدا و رسول سے کبھی نہ ٹکرائے۔ یاد رکھئے کہ اسی کو سمیٹ کرہم اصطلاحی لفظ میں جب کہتے ہیں تو یہ ہے کہ معصوم ہو۔ اب ایک پہلو پر غور کیجئے۔ ماشاء اللہ قانون دان حضرات بھی ہوں گے اور اتنا قانون ہر ایک اپنی عقل سے سمجھ سکتا ہے کہ حضور! جو چیز اپنی جگہ غلط ہو تو کیا اُس کا معاہدہ صحیح ہوگا؟ جب کوئی چیز غلط ہے تو اُس کا معاہدہ بھی غلط ہوگا۔ چوری غلط ہے، چند آدمی مل کر معاہدہ کریں چوری کا تو وہ معاہدہ بھی غلط ہوگا۔تو جو چیز خودغلط ہے، اس کا عہد بھی غلط ہے۔اب میں نے کہا کہ غیر اللہ کی اطاعت ، کسی دوسرے کی غلط، سوائے اس کے کہ جس کی اطاعت عین مطابق حکمِ خدا ہو۔ جب حکم کبھی نہیں ٹکراتا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی اطاعت اللہ کی اطاعت۔

تو بس ایسے کی اطاعت یعنی معصوم کی اطاعت صرف غیر مشروط طریقے پر ہوسکتی ہے اور کسی کی اطاعت نہیں ہوسکتی۔غلط ہے، جب غلط ہے تو عہد اس کا کہ میں اطاعت کروں گا، یہ عہد بھی غلط اور یاد رکھئے کہ اسی عہد کا نام ہے بیعت۔ تو جس طرح اطاعت غیر خدا کسی کی نہیں ہوسکتی، ویسے ہی بیعت بھی کسی ایسے کی نہیں ہوسکتی جس کا حکم اللہ کے احکام سے الگ ہو اور اسی لئے میں جو قرآن مجیدکی آیت کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمان رسول کے ہاتھ پر بیعت کرتے تھے۔ وہ قرآن مجید میں بھی ذکر ہے اور تاریخ میں بھی مسلّم ہے۔ ہاں! یہاں ایک چیز جو ہوائے زمانہ کے کتنی ہی خلاف ہو، وہ میں کہنا ضروری سمجھتا ہوں۔ اب ذہن میں بھی توجہ ہوگئی کہ حضور! مرد بھی بیعت کرتے تھے ، عورتیں بھی بیعت کرتی تھیں۔ مگر طریقہ دونوں کی بیعت کا مختلف تھا۔ حالانکہ پیغمبر خدا معصوم ہیں۔ہواوہوس کا غیر محل پر صرف ہونا غیر ممکن لیکن پھر بھی مردوں سے اطاعت کا طریقہ یہ کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھیں ۔ لیکن عورتوں کی بیعت کیلئے گوشہ عبا کو بڑھادیا جاتا تھا تاکہ جسم رسول سے کسی نامحرم کا جسم مس نہ ہو۔

اب احکامِ اسلام یہی ہیں ۔ ترقی یافتہ دور کے تقاضے جو بھی ہوں، گوشہ عبا بڑھا دیا جاتا تھا کیونکہ گوشہ عبا کو تھام لیں۔بس یہی اُن کی بیعت کی علامت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ عمل جس مقصد کیلئے تھا، وقارِ خواتین کے تحفظ کیلئے۔ اس کے ساتھ ضمناً میں یہ کہتا ہوں کہ ان کا طریقِ بیعت زیادہ شاندار ہوگیا یعنی تمسک کے معنی ہیں دامن تھامنا۔ تو یہ بات تو ضمناً یاد آگئی تھی۔ بہرحال بیعت تھی۔ رسول سے مسلمان کرتے تھے۔ مگر قرآن مجید کیا کہہ رہا ہے:

( اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ یَدُاللّٰهَ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ ) ۔

یہ جو آپ سے بیعت کررہے ہیں، یہ اللہ سے بیعت کررہے ہیں۔ یہ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے۔

آخر اس کہنے کی ضرورت کیا ہوئی؟ یہ صرف مسلمان کے دماغ سے کھرچ کر نکالنا تھا غیر اللہ کی بیعت کا کہ رسول کی بھی بیعت کرو یہ سمجھ کر کہ اللہ کی بیعت ہے۔ اور اب جب یہ بات غلط ہے تو کسی بھی معصوم کیلئے یہ تصور کہ وہ کسی غیر کی بیعت کرے گا، یہ غلط ہے۔

چنانچہ سب مسلمانوں سے جو ہستی بحمدللہ سب کے نزدیک معصوم ہے، ارے وہ تفصیلات میں فرق ہو ، وہ اس وقت خارج از بحث ہے مگرآنکھ بند کرکے کسی مسلمان سے پوچھئے ، کہیں گے ہاں۔ رسول اللہ نے کبھی کسی کی بیعت کی تو ہر مسلمان کہے گا۔ فرض کیجئے کہ ایک مجمع ایسا ہو ہمارے وہی بیرون موچی دروازہ والے حسین ڈے کی طرح کا۔ تمام فرقِ اسلامیہ کا اجتماع ہو اور اس میں مَیں پوچھوں کہ رسول نے کسی کی بیعت کی تو پورا مجمع چیخ اُٹھے گا کہ نہیں نہیں ،کبھی رسول نے بیعت نہیں کی۔ میں کہوں گا تقریر کرتا ہوا کہ پھر سوچ لیجئے، غور کرلیجئے۔ زندگی کے کسی دور میں کبھی کسی دوسرے کی بیعت کی؟ اب اور زیادہ زور سے کہیں گے ، غصہ آئے گا سب کو۔کہیں گے صاحب! کہہ تو دیا بیعت لیتے تھے، بیعت کرتے نہیں تھے۔ نہیں! عمر میں کبھی کسی سے بیعت نہیں کی۔

اب میں اسی مجمع سے کہوں گا کہ پیغمبر نے حدیبیہ میں صلح فرمائی تھی مشرکین سے۔ اب وہ مجمع چونک کر کہے گا ، ہاں! صلح تو کی تھی۔ میں کہوں گا صاحبو! آپ سب نے میرے پہلے سوال پر کہہ دیا کہ رسول نے کبھی بیعت نہیں کی اور اب آپ سب مل کر کہہ رہے ہیں میرے یاد دلوانے پر کہ رسول نے صلح فرمائی تھی۔تو اب مان لیجئے کہ بیعت اور ہوتی ہے ، صلح اور ہوتی ہے۔میں فرق بتادوں ، یہ بھی مستقل موضوع ہے۔ کبھی انشاء اللہ”صلح اور بیعت“۔تو میں فرق بتادوں کہ بیعت تو وہی غیر مشروط اطاعت کا عہد۔ ارے وہ کسی خصوصی طور پر قید کے ساتھ بیعت ہو جیسے وہاں خریدوفروخت میں بھی ، وہ بیع اسی بیعت سے ہے یعنی ایک معاہدہ ہوتا ہے کہ یہ چیز ہم تمہیں دیتے ہیں۔ وہاں بھی ہاتھ پر ہاتھ مارا جاتا تھاعرب میں۔ اسی لئے فقہ کی کتابوں میں سفق کا لفظ ہے جس کا مطلب تالی بجانا ہے کیونکہ اس میں بھی ہاتھ پر ہاتھ ماراجاتا تھا۔ آجکل بھی ہمارے عوام میں ہے ”ہاتھ لاؤ“۔

یہ تو ہے بیعت اور صلح ایک درمیانی راستہ دوفریق میں ایسا پیدا ہونا جس میں تصادم ختم ہوجائے او رکسی کے اصول کو صدمہ نہ پہنچے۔ اس کا نام صلح ہے۔اس کیلئے عمومی حکم قرآن میں دیا ہے رسول کو:

( اِنْ جَنَحُوٰ لِلْسِلْمِ ) “۔

”جب بھی یہ جھکیں صلح کی طرف تو فوراً آپ بھی جھک جائیے “۔

اور توکل علی اللہ۔پھر اس سے بحث نہ رکھئے کہ یہ عمل کریں گے یا نہیں ۔ اس کو اللہ کے سپرد رکھئے تو رسول اللہ نے صلح فرمائی۔ حضرت امام حسن نے بھی صلح فرمائی۔ امام حسین علیہ السلام کے سامنے تھا بیعت کا سوال۔ یہ تو بنی اُمیہ کا پروپیگنڈہ تھا کہ بھائیوں کے مزاج ہی میں فرق ہے۔ وہ حسن صلح پسند ہیں اور یہ حسین شروع ہی سے جنگ پسند ہیں۔ یہ تو دشمنوں کا پروپیگنڈہ تھا مگر حقیقت کے لحاظ سے ۶۰ ھ میں حسن مجتبیٰ ہوتے تو وہ یہی کرتے جو حضرت امام حسین نے کیا۔ اگر ۴۰ ھ میں حسین برسراقتدارِ امامت ہوتے تو وہ وہی کرتے جو حسن مجتبیٰ نے کیااور ۶۰ ھ میں وہ ہوتے تو وہ یہی کرتے جو حضرت امام حسین نے کیا۔ یہ ذات کا اختلاف کیسا؟ وقت کا اختلاف ہے، فرض کا اختلاف ہے۔ اب بیعت بھی کس سے؟ یزید ایسے شخص سے۔ ان کے سامنے تھا بیعت کا سوال ۔

اب دنیا والے آج یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ارے یہ سب کچھ برداشت کیا او ر بیعت نہیں کی۔ یہ بیعت سے اتنا انکار کیوں تھا؟ تو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ آپ اُدھر سے سوچتے ہیں کہ اِن کو بیعت سے اتنا انکار کیوں تھا؟ اُدھر سے کیوں نہیں سوچتے کہ یزید کو بیعت پر اتنا اصرار کیوں تھا؟ ارے جب پورا عالم اسلام بیعت کرچکا تھا، سب مان چکے تھے تو اگر ایک فرد بیعت نہ کرتا تو یزید کا کیا بگڑتا؟ کیا نقصان ہوتا؟ جبکہ آپ کا نظامِ جمہوریت یہی ہے کہ اکثریت مان لے تو اقلیت کی بات غیر معتبر۔پوری طاقت سلطنت صرف کردی جائے ان سے بیعت حاصل کرنے کی کوشش میں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یزید سمجھتا تھا کہ یہ ایک فرد کا معاملہ نہیں ہے، فرد اہمیت حاصل کرتا ہے کسی اصول کا نمائندہ بن کر۔ مختصر طور پر اس وقت عرض کرنا چاہتا ہوں ۔

وہ سمجھتا تھا کہ جب تک حسین نے بیعت نہیں کی، تب تک حکومت کے مقابلہ میں شریعت کا محاذ قائم ہے اور اگر یہ بیعت کرلیں تو ہمیشہ کیلئے حکومت کے راستے سے شریعت ہٹ جائے گی۔ اب حسین کی بیعت کا سوال نہیں تھا، شریعت کی بیعت کا سوال تھا اور بیعت کے معنی ہیں جھک جانے کے۔ صاحب شریعت کا جھک جانا۔ تو میں کہتا ہوں کہ اللہ کو، اگر اس کی شریعت دوسرے کے سامنے جھک جائے تواس کے معنی ہیں کہ س کا قانون دنیا کے قانون کے سامنے جھک جائے۔

تو اب حسین کے لباس میں فقط حسین کی عزت نہیں ہے،اللہ کی عظمت کا سوال ہے ۔ ارے کہہ رہاہوں زبان سے نہیں ہے، یعنی عمل سے ثبوت دے دیا کہ بیعت نہیں کروں گا۔اب بیعت نہیں کروں گا تو کیا کروں گا؟

خدا کی قسم! عمل سے حسین کرکے نہ دکھاتے تو ہمیں تصور ہی نہیں ہوتا۔ ہاں! جس دن کہا ، جس وقت کہا کہ بیعت نہیں کروں گا۔ اسی وقت تمام امکانات کا جائزہ لے کر،سامنے رکھ کر انہیں واقعی مان کر کہا کہ بیعت نہیں کروں گا۔دنیا کو اُن تفصیلات کا علم نہیں تھا۔ ان کے اس اجمال میں پوری تفصیل مضمر تھی۔ اب مجھے تو علم ہوگیا کچھ تفصیلات کا۔ مطلب یہ ہے کہ بیعت نہیں کروں گا،چاہے وطن چھوڑنا پڑے، بیعت نہیں کروں گا۔چاہے دربدر پھرنا پڑے، بیعت نہیں کروں گا۔ چاہے خانہ خدا میں پناہ بھی نہ ملے، بیعت نہیں کروں گا۔چاہے ہزاروں کا لشکر چاروں طرف سے گھیر لے، بیعت نہیں کروں گا۔

اور ہاں اہل عزا!بیعت نہیں کروں گا چاہے پانی بند ہوجائے۔ چاہے چھوٹے چھوٹے بچے صدائے العطش بلند کرتے ہوں، چاہے سکینہ پیاس سے تڑپ رہی ہو اور پھر روزِ عاشور اور بعد عاشور جو جو ہوا، وہ سب سامنے تھا۔ اب یہ کہہ دیا کہ بیعت نہیں کروں گا۔


دینِ اسلام ۷

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰهِ الْاِسْلَامْ ) ۔

حقیقی دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے۔ میں نے کہا اسلام کا مطلب ہے اللہ کی مرکزیت اور اسی مرکزیت کے ماتحت توحید ہے۔”لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰه “کی آواز اس توحید کی مظہر ہے۔صحیح طور پر ایک مسلمان کا نظامِ تمدن بھی اسی”لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰه “کے تحت ہے اور نظامِ سیاست بھی۔ جو صحیح نظامِ سیاست ہے، وہ اسی”لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰ ہ“ کے ماتحت ہے۔ اب ظاہر ہے کہ صرف آج کی ایک مجلس باقی ہے اس سلسلہ بیان کی اور یہ باتیں میں نے جو پیش کیں، اُن کیلئے ہر ایک کے واسطے ایک مجلس درکار تھی۔ مگر اس کی تو گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا مختصر طور پر

نظامِ تمدن۔ تمدن کے معنی ہیں آپس میں مل جل کر رہنا اور تعلقاتِ انسانی کو نبھانا۔ عقلی طور پر انسان سے سب سے زیادہ نزدیک اس کی ذات ہے۔ لہٰذا اصل مرکز محبت تو خود اپنی ہی ذات ہوگی۔ پھر اپنی ذات سے رشتے چلیں گے تو قریب کے جو رشتے قائم ہوئے، وہ یہ کہ یہ ہماری ماں، یہ ہمارا باپ۔اس میں بیچ میں کوئی فاصلہ نہیںآ یا۔ بس اپنی ذات سے جوخط کھنچا تو دوسری ذات تک جو پہنچا، وہ باپ ہے اور ماں ہے۔ اس لئے سب سے زیادہ مرکز اُلفت وہ دونوں ہستیاں ہوئیں ابتدائے عمر سے۔

اب اس کے بعد مثلاً چچا، پھوپھی، ماموں ، خالہ۔ یہاں دو واسطے بیچ میں ہوگئے یعنی میرا باپ ، میری ماں اور پھر میرے باپ کا بھائی تو وہ چچا ہوا۔ میری ماں کا بھائی تو وہ ماموں ہوا۔ میرے باپ کی بہن، وہ پھوپھی ہوئی۔ میری ماں کی بہن، وہ خالہ ہوئی۔ تو اس کا قرابت میں رشتہ ذرا سا دور ہوا۔ تو اتنا ہی فرق محبت و اُلفت میں پیدا ہوگیا۔ جتنا انسان ماں باپ سے محبت کرے گا، اُتنا تو چچا اور پھوپھی اور ماموں اور خالہ سے محبت نہیں کرے گا۔ انہی ماں باپ سے یہ خط جو پہلو میں کھنچا تھا،اس سے چچا اور پھوپھی وغیرہ ہوئے اور اسی سے جو خط اوپر گیا، اس سے دادا ہوا، باپ کا باپ۔ تو وہ ادھر جو کھنچا تو چچا ہوا، اُدھر جو کھنچا تو دادا ہوا۔ اب اس کے بعد وہ دادا کا باپ ، وہ پردادا ہوگیا۔ اب واسطے بڑھتے جارہے ہیں۔ اب سکڑ دادا تک تو کوئی عام نظام جو ہے، یعنی عمر کا معیار اس کے لحاظ سے، وہ جزوِ تاریخ بن جاتا ہے، سابقہ نہیں پڑتا سکڑ دادے سے۔

پردادا تک تو واسط پڑ جاتا ہے لیکن سکڑ دادا سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔ اب جتنا جتنا خط بڑھ رہا ہے، اتنی محبت کی لہریں کمزور پڑرہی ہیں باپ کا ذکر آئے گا تو بہت سے سعادت مند بیٹوں کی آنکھوں میںآ نسو آجائیں گے۔ مگر دادا کاذکر ہوگا تو اتنی بات نہیں پید اہوگی۔ پھر پر دادا کا ذکر ہوگا تو جیسے پہلے ہنس رہے تھے، ویسے ہی اس کے بعد بھی ہنستے رہیں گے۔ کوئی فرق ہی نہیں پیداہوگا۔جتنا دور ہورہے ہیں، محبت کی لہریں گھٹ رہی ہیں۔ اب اس کے بعد جناب آٹھ پشتوں پر جاکر کوئی ہیں سلسلہ اجداد میں، وہ بھی۔ لیکن پوچھا آپ کے دادا ؟کہ جی نہیں، وہ دادا نہیں تھے، وہ ہم سب کے مورثِ اعلیٰ تھے۔ لیجئے! اب وہ دادا ہونے کا بھی انکار ہوگیا۔ اب وہ مورثِ اعلیٰ باپ کے باپ کے باپ کے باپ کے، جتنے واسطے درمیان ہیں آئے، لہریں ایسی کمزور ہوئیں کہ احساسِ قرابت ہی نہ رہا۔ تو معلوم ہوا کہ اپنے سے خط کھنچا تو جتنا قریب تھا، اُتنا طاقتور ہوا، جتنا دور ہوا، اُتنا کمزور ہوا۔ اسی طرح سے جب ادھر ادھر خط کھنچے تو یہ تو احساس ہوا کہ یہ ہمارے چچا ہیں، یہ ہمارے باپ کے بھائی ۔ جب ادھر خط آیا تو ہوا کہ بھائی ہیں یعنی باپ کا بیٹا۔ وہ بھی ایک واسطے سے ہے قرابت بھائی سے کہ باپ کا بیٹا یا ماں کا بیٹا۔ تو وہ ہوگیا بھائی۔ اب اس کے بعد وہ کہے گا بھائی کا بھتیجا۔ پھر دور ہوتا چلا گیا۔تو اب کچھ نہیں ، چچا کا بھائی۔ دادا کا بھائی۔ سکڑ دادا کا بھائی۔

اب وہاں پوچھا کہ ان کی آپ کے ساتھ کیا قرابت داری تھی؟ کہا: کچھ نہیں، میرے سکڑ دادا کے بھائی ہوتے تھے۔ ان کی قرابت ہوگئی۔ یہ ہوا اپنی ذات کو بیچ میں رکھ کر جو خطوط کھینچے۔ اب اسی کی بناء پر حقوق کی تقسیم ہونے لگی۔ جب خود کسی فوائد کا مرکز بن گئے تو باپ کو زیادہ فوائد پہنچے۔ بیٹے کو فائدہ زیادہ پہنچے۔ بھائی کو فائدہ زیادہ پہنچے۔ اب اور جتنی اپنے ساتھ شراکت زیادہ ہو، پڑوسی کو فائدہ پہنچے۔ ہم قبیلہ کو فائدہ زیادہ پہنچے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک نظامِ تمدن ایسا بنا جس میں کچھ کے حقوق رہ گئے ، کچھ کے حقوق ختم ہوگئے۔ اسلام بھی اس فطرت کے تقاضے کو الگ نہیں کرتا۔ اپنے سے ذات کو نہیں الگ کرسکتا۔ وہ عقلاً قریب ہے اپنے سے۔ تواسلام خلافِ عقل کوئی عمل نہیں کرتا۔مگر اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ جب تم اپنے سے خط آگے بڑھاتے ہو تو نیچی سطح پر اِدھر اُدھر کیوں لے جاتے ہو؟ یہ خط جو تمہاری ذات سے نکلے ، اس کو ایک دفعہ اوپر کی طرف لے جاؤ۔ تو اب میں ہوں اور اب تصور جب عالمِ بالا کی طرف گیا تو وہاں تھا میرا باپ، وہاں تھی میری ماں، وہاں تھا میرا بھائی۔ اب ہوگیا میں اور مَیں سے تصور آگے بڑھا تو میرا خدا، میر اپیدا کرنے والا کیونکہ باپ خود محدود شخصیت تھی، اس لئے باپ کا خط گیا تو قرابت محدود ہوئی اور یہ نقطہ جب پہنچ گیا عالمِ بالا میں تو اب لامحدودذات بیچ میں آگئی۔

لہٰذا اب جومحبت کا مرکز تقسیم کرے گا، اپنے حقوق کو تو اس میں نہ نسل کی تفریق ہوگی، نہ رنگ کی تفریق ہوگی، نہ ملک کی تفریق ہو گی۔ تو دیکھئے نظامِ تمدن میں کتنا فرق پید اہوگیا۔ اب اس کی ذات کو درمیان میں لاکررشتہ لگائے جارہے ہیں۔ تو اُس کی سب مخلوق ہیں اور اب جب اس کی سب مخلوق ہیں تو اس کے سائے میں جو تمدن پرورش پائے گا، اس میں پھر اپنی بیٹی اور کنیز میں فرق نہیں ہوگا۔

جب اپنی ذات سے خط کھینچ کر اس ذات کی طرف چلا گیا تو اب رشتے سب اُس کے لحاظ سے قائم ہورہے ہیں۔ تو اب اپنے دوست اور دشمن کی بھی کوئی تفریق نہ ہوگی، حقوقِ انسانی میں، کیونکہ وہ میرا دشمن سہی مگر میرے خدا کی مخلوق ہے۔ لہٰذا انسان حقوقِ عامہ میں دوست اور دشمن کی تفریق نہ کرے گا اور ابھی تو ابتدائے بیان ہے۔ مصائب نہیں پڑھنا ہیں۔ مگر یہ کہ یاد دلاؤں آپ کو کہ دشمن کہنا ہوتو یہی کہیں گے کہ ارے وہ تو میرا قاتل ہے۔ اب جہاں یہ مجاز حقیقت بنا ہو اہو، واقعی قاتل ہے مگر فوراً اس کا دل اپنے قاتل کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ جیسا دودھ میرے لئے لائے ہو، ویسا ہی میرے قاتل کیلئے لاؤ۔

بس اب اس سے زیادہ نہیں، امامیہ مشن لکھنو سے ایک رسالہ چھپ گیا ہے اسلامی نظامِ تمدن ،تو اس میں تفصیل سے اس کو درج کیا گیا ہے ۔اب آگے میں نے کہا کہ اسی”لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰه “، اسی اللہ کی مرکزیت نے۔اور میں کہتا ہوں کہ اسلام کے جو لفظی مفہوم ہیں، اس کے تحت میں اسلامی صحیح سیاست ہے۔میں نے کہا تھا اسلام کے دو معنی ہیں: ایک سرنہادن بطاعت، اطاعت کے لئے سرجھکا دینا اور دوسرے

اسی کا کامل درجہ ہے، اپنے کو بالکل سپرد کردینا۔اب انسان اگر واقعی مسلم ہے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ سرجھکائے ہوئے ہے اللہ کے سامنے اور دوسرے معنی سے اپنے کو سپرد کئے ہوئے ہے اللہ کے۔

تو اب اللہ کے مقابلہ میں نہ اُس کی انفرادی رائے کچھ ہوگی نہ اجتماعی۔جب یہ اس بالا دست طاقت کے سامنے سرجھکائے ہوئے ہے تو اب اُس کے احکام کے مقابلہ میں یہ اپنی رائے سے کام نہیں لے گا کہ میری رائے تو یہ ہے، اس کے معنی ہیں کہ اس نے اپنے کو سپرد نہیں کیا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے اپنی اطاعت کیلئے سرنہیں جھکایا۔اب اگر ایک فرد ایسا کرے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ ایک فرد حقیقت اسلام سے دور ہے اور پوری جماعت مل کے شوریٰ کرے اس کے خلاف تو اس کے معنی یہ ہیں کہ پوری جماعت اس حقیقت اسلام سے دور ہے یعنی ”لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰ ہ“کا لفظ زبان پر ہے مگر ذہن کے اندر نہیں ہے۔ اب پیغمبر خدا نے جو کہا تھا”لَااِلٰہَاِلَّا اللّٰہ“کہو، اس کے معنی یہ نہیں تھے کہ تم کسی وقت کھڑے ہوکر یہ نعرہ لگالیا کرو۔تم کسی خاص وقت کے ورد کرلیا کرو”لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰ ہ“ کا۔نماز کی تعقیبات نہیں سکھائے جارہے تھے کہ تم ہر نماز کے بعد”لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰه “کا وظیفہ پڑھو۔ نہیں ، یہ جو کہاجارہا تھا : کہو”لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰه “، یہ” کہو“ نہیں تھا۔یہ ویسے ہے جیسے آپ کہتے ہیں ”میراتو قول یہ ہے یعنی یہ نصب العین ہے۔ یہ لائحہ عمل ہے۔ یہ ہدفِ نگاہ ہے کہ کوئی خدا نہیں سوائے اللہ کے۔

تو جب کوئی خدا نہیں ہے سوائے اللہ کے تو اس کے احکام کے سوا کوئی حکم نہیں اور قرآن مجید نے صاف اعلان کردیا کہ :

”کسی صاحب ایمان مرد اور کسی صاحب ایمان عورت کو یہ حق نہیں ہے ، جب اللہ اور اُس کا رسول کوئی فیصلہ کردے تو خود اس کو اپنے معاملہ میں کوئی اختیار رہے“۔

معاملہ اپنا ہے مگر یہ کہ اختیار ان کو نہیں ہے۔ جب اللہ و رسول کا فیصلہ ہوگیا تو اب اس کے بعد ان کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اب اکیلے اکیلے بھی اختیار نہیں ، مل جل کے بھی اختیار نہیں۔ اس کو ابتدائی حساب کے طالب علموں کی زبان میں کہہ سکتا ہوں کہ میں کہتا ہوں یہ نفی ہے، اپنا ختیار کچھ نہیں۔ اختیار کچھ نہیں تو میں کہتا ہوں کہ جتنے ہزار جمع ہوجائیں، جتنے لاکھ جمع ہوجائیں،صفر جتنے بھی جمع ہوں، اس سے کوئی عدد نہیں بنتا ۔ تو مجمع کی کثرت دیکھناکیا ہے؟ دیکھنا یہ ہے کہ جو جمع ہوئے ہیں، چاہے کتنے لاکھ ہوں، ان میں سے ہر ایک صاحب اختیار ہے کہ نہیں۔اگر ہر ایک غیر صاحب اختیارہے تو بے اختیار آدمیوں کے جمع سے اختیار کہاں سے بنے گا؟ اور اس کی بناء پر چونکہ اللہ کے احکام رسول کی زبانی دنیا تک پہنچے ہیں، اس لئے قرآن مجید نے اعلان کیا:

( اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمومنین مِنْ اَنْفُسِهِمْ ) ۔

”نبی کو مومنین پر خود ان کے نفوس سے زیادہ اختیار حاصل ہے“۔

یہ اعلانِ عام کردیا اور اسی سے رسول نے شروع ہی سے کام لینا بھی شروع کردیا۔ ارے ابھی تو بعثت ہوئی ہے۔ اعلانِ عام ہوا بھی نہیں ہے۔ حکم آیا:

( اَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَ قَرْبِیْنَ ) ۔

اب اپنے قریبی رشتہ داروں کو پیغامِ حق پہنچائیے۔

ا س کیلئے وہ دعوتِ عشیرہ ہوئی، جمع کئے گئے۔ کہتے کہ اعلانِ رسالت کیلئے میں تمہیں بلاتا ہوں تو کون آتا؟ نہیں ، کھانے کیلئے بلایا۔ اب دنیا کو اختیار ہے ، تقیہ کہہ لے۔ کارڈ میں یہی ہے کہ مثلاً عشائیہ ہے، تشریف لائیے۔ اب جتنے ہیں، سب کھانے کی دعوت پر آگئے۔ مگر کسی دعوت میں یہ شرط نہیں ہوتی کہ سوائے کھانے کے کوئی اور بات نہیں ہوگی۔ ارے کھانا نہ کھلاتے تو وعدہ خلافی تھی۔ لیکن جب کھانا کھلا دیا تو اب بلانے والا جو اُسے کہتا ہے، اگر کچھ تو وہ کہتا بھی ہے، گفتگو بھی کرتا ہے وہ تو انگریزی میں بھی میزپر کی گفتگو۔ اس کا ایک نام ہے تو وہ جناب! اب جب کھانا کھا چکے تو اب ان کو جس مقصد کیلئے واقعی آپ نے بلایا تھا، وہ پیغام پہنچایا ۔ مگر اس وقت پوری بات نہیں سنی، کھانا تو کھا ہی چکے تھے، مطلب نکل گیا تھا۔ لہٰذا بغیر پوری بات سنے ہوئے اٹھ کر چلے گئے۔

دوسرے دن پھر آپ نے دعوت کی ، مقصد تو آج پورا نہیں ہوا تھا مگر معلوم تھا کہ کھانے کا ذوق ایسا تھا کہ پھر بھی آئے اور اب تو تجربہ کرکے آئے تھے، لہٰذا اپنے دل کو تول کر آئے تھے کہ بھئی! آج سننا بھی ہے۔ اب تو دو دفعہ کا حقِ نمک ہے۔ لہٰذا سنیں گے آج کہ پوری بات کیا کہتے ہیں؟ لہٰذا آج منتشر نہیں ہوئے، بیٹھے رہے۔ اب وہی کھانا ہوچکاجب تو پھر وہی بات شروع کی گئی:

” مجھے اللہ نے رسول بنایا ہے اور تمہاری ہدایت کیلئے بھیجا ہے۔ میرے پیش نظر ایک مہم ہے، اُس کی طرف سے“۔

اب یہاں کیونکریہ واقعاتِ اسلامی کا ایک جزو ہے، لہٰذا جزوِ تاریخ ہے۔ چونکہ ایک ارشادِ رسول اس کے تحت میں آیا ہے، لہٰذا جزوِ حدیث ہے ۔ چونکہ ایک آیت قرآن کی تعمیل میں ہوا ہے، لہٰذا جزوِ تفسیر ہے۔مفسر بھی لکھتے ہیں ، محدث بھی لکھتے ہیں،مورخ بھی لکھتے ہیں اور اب جو لفظ کہوں گا، وہ پورے مطالعہ کی ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہر جگہ وہی الفاظ ہوں گے،نہ اس میں ایک لفظ کی کمی ہوگی نہ ایک لفظ کی زیادتی ہوتی۔ وہ کیا؟ کہ آپ نے فرمایا ،جب اپنے عہدے کا اعلان فرماچکے اور جو اصل پیغام تھا، وہ پہنچا چکے اور اب یہ دیکھ لیا کہ وہاں مجمع میں اتنا سہارا ہوگیا کہ وہ بہرحال اتنا اُس نے صبرکیا۔ تو اب یہ سوال کہ:

اَیُّکُمْ یُوَازِرُنِیْ هَذَاالْاَمْر “۔

”تم میں سے کون اس مہم میں میرا ساتھ دیتا ہے؟“

سوال اتنے پر ختم نہیں ہوا۔ نتیجہ اس کے ساتھ ساتھ موجود ہے۔ تم میں سے کون اس مہم میں میرا ساتھ دیتا ہے؟

حَتّٰی یَکُوْنَ وَصِیْ وَوَزِیْرِیْ وَخَلِیْفَتِیْ “۔

”تاکہ میرا وصی ہو، میرا وزیر ہو، میرا خلیفہ ہو“۔

تابڑ توڑ تین الفاظ ہیں مسلسل۔ اب آج کے ہر روشن خیال، ہر قانون دان، کسی بھی مکتب فکر کامسلمان ہو، اُ س سے میں پوچھوں کہ جس بات کا حق جمہور کو ہو، اُس کے متعلق رسول کو معاہدے کا حق کیا ہے؟ پیغمبر خدااعلان فرمارہے ہیں اور مجمع میں سے ایک بھی بیوقوف سیاست دان نہیں ہے جو یہ کہے کہ جنابِ والا! یہ آپ کے بعد کی بات ہے۔ اِ س وقت کیوں؟ جب وہ منزل آئے گی تو پنچایت کریں گے۔ جو پنچ تجویز کردیں تو وہ ہوجائے گا۔ یہ آپ اس وقت یہ معاہدہ کیوں کررہے ہیں؟

مگر نہیں،کوئی نہیں بولتا۔ اس کے معنی ہیں کہ کافر ہیں مگر نبوت کا نام تو سنتے رہے ہیں۔ یہ جانتے ہیں ، مانتے نہ ہوں چاہے مگر جانتے ہیں کہ نبی کا وصی بھی ہمیشہ وہی مقرر کرتا ہے جو نبی کو مقرر کرے۔

تو حضورِ والا! فرمارہے ہیں کہ کون میرا ساتھ دے گا؟ اب یہاں ماشاء اللہ انگریزی دان طالب علم تو خود ان کتابوں کو براہِ راست دیکھے ہوئے ہوں گے۔ انگریز مورخین نے یہ موقعہ درج کیاہے ، بڑی مصوری کے ساتھ اپنے اندازِ تحریر میں کہ وہ ایک تیرہ برس کا بچہ کھڑا ہوگیا اور اُس نے کہا : اگرچہ میری عمر کم ہے ، میرا قد چھوٹا ہے، اگرچہ میری ٹانگیں پتلی ہیں مگر میں آپ کا ساتھ دوں گا۔

اب ماشاء اللہ قانون دان حضرات ایک پہلو پر غور کریں اور غیر قانون دان بھی اپنی عقل سے کہ رسول نتیجہ کا اعلان تو پہلے فرماچکے کہ کون میرا ساتھ دے گا۔ اب ایک نے کھڑے ہوکر کہہ دیا کہ میں ساتھ دوں گا۔ تو اگر رسول خاموش بھی رہیں تو معاہدہ مکمل۔ دھندلی نگاہوں والوں کیلئے ذرا صاف کرنا ہوتا ہے۔ خاموش بھی رہتے تو کام چل جاتا مگر نہیں، اب کہاں تو کلیہ تھا کہ جو میرا ساتھ دے، اب انہوں نے کھڑے ہوکر کہا: میں۔ تو اب کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا:

هَذَاوَصِیُّ وَوَزِیْرِیْ وَخَلِیْفَتِیْ “۔

اچھا! اب تم سب کو معلوم ہو کہ یہ میرا وصی ہے، یہ میرا وزیر ہے ، یہ میرا خلیفہ ہے۔

سب وہی الفاظ یہاں طے کردئیے۔ میں کہتا ہوں کہ رسول سب الفاظ کہہ چکے ہیں۔ اب کوئی الیکشن کروانا ہو تو کوئی نئے الفاظ تلاش کیجئے گا ورنہ جتنے عہدے تھے، وہ سب تو ایک کو مل گئے، جگہ ہی خالی نہیں ہے تو الیکشن کس چیز کا ہوگا؟خدا اور رسول نے اپنا اختیار صرف کردیا۔ اب قرآن کہتا ہے: جب اللہ اور رسول صرف اختیار صرف کردیں تو پھر نہ کسی مومن کو حق رہ جاتا ہے ، نہ کسی مومنہ کو۔اب ایسی کانفرنس کیجئے جس میں نہ کوئی مومن ہو، نہ کوئی مومنہ۔

میں کہتا ہوں مجمع میں سے سب ہیں، جتنےعَشِیْرَة الْاَقْرَبِیْن ہیں، سب ہیں۔ رسول یہ اعلان فرماتے ہیں اور یہ ہوتا ہے معاملہ۔ علی اقرار کرتے ہیں اور رسول اعلان کردیتے ہیں کہ علی میرا وصی، میرا وزیر ، میرا خلیفہ۔ یہ ہوگئی بات۔اب ایک جزو تاریخ میں اور ملتا ہے اور وہ یہ کہ مجمع اب اٹھا، ہنستا ہوا اورجنابِ ابو طالب سے مذاق کرنے کی گنجائش پیدا کی ۔کہنے لگے کہ لیجئے! اپنے صاحبزادے کی اطاعت کیجئے۔

میں کہتا ہوں کافر سہی مگر یہ سمجھتے ہیں ، نکتہ رس ہیں کہ یہ آج کے اعلان میںمُفْتَرضُ الْاَطَاعة ہونا مضمر ہے کہ یہ اطاعت واجب ہو جاتی ہے۔ اب اس کے بعد ایک تاریخی اور حدیثی، تاریخ زیادہ تر توحدیث کے اوپر بنیاد قائم کرتے ہیں کہ حضورِ والا! میں کہتا ہوں کہ آخر مجمع میں تو ابولہب بھی تھا۔ اب عباس بھی تھا۔ تھے، اب وہ بعد میں ”تھے“ ہوگئے ہیں۔ تو ابو لہب بھی تھا، عباس بھی تھے اور جتنے رشتہ دار ہیں، سب تھے۔ یہ آخر جنابِ ابو طالب ہی سے کیوں مذاق کیا اور جنابِ ابو طالب نے بھی مذاق کو سہہ لیا۔بگڑ کے یہ نہیں بولے کہ مجھ سے کیوں کہتے ہو؟ یہ نہیں کہا کہ مجھ سے کیوں کہتے ہو؟ معلوم ہوتا ہے کہ کافر سہی مگر ان سے مذاق نہیں کرتے کہ وہ تو ہم ہی میں سے ہیں۔مذاق ان سے کرتے ہیں، جانتے ہیں کہ یہ تو شامل ہوچکے ہیں اس جماعت میں۔

اب جناب! یہ اعلان ہوا محدود مجمع میں۔ عشیرة الاقربین تھے۔ بعد میں کچھ ان میں سے مرگئے، کچھ سن رسیدہ لوگ جو تھے، وہ بعد میں نہیں رہے۔دوسرے لوگ، وہ کسی کو یاد رہا ہو یا نہ یاد رہا ہو۔اب بار بار پیغمبر اسلام مختلف انداز میں اسی کی تجدیدکرتے ہیں۔

فرماتے رہے کبھی یہ ، کہ دیکھو رکوع میں کس نے انگوٹھی دی ہے؟ مگر وہ بھی ایک محدود افراد نے دیکھا جا کے کہ کس نے انگوٹھی دی ہے؟ انہوں نے کچھ دوسرے لوگوں سے بیان کردیا لیکن اب وہ وقت آیا کہ جب رسول حج آخر کر کے مدینہ جارہے ہیں اور علم الٰہی میں یہ ہے کہ اب پیغمبر دنیا میں دو تین مہینے سے زیادہ تشریف فرما نہیں رہیں گے اور یہ تو علم الٰہی میں ہے اور یہ حقیقت تاریخی ہر آدمی سمجھ سکتا ہے کہ اتنا بڑا مجمع رسول کو نہ اس سے پہلے کبھی ملا ہے ، نہ اس کے بعد کبھی مل سکتا ہے۔ کئی لاکھ مسلمانوں کا مجمع جو اس حج میں شریک ہوا تھا، حضرت کے ساتھ، اب وہ نکل کے آرہے ہیں۔ باہر خالق بھی انتظار کررہا ہے کہ حج کے تمام مناسک ختم ہوجائیں ۔ اگر ابھی تبلیغ کا حکم آئے تو لوگوں کے اشغال الگ الگ ہیں، کوئی کہے گا ہم منیٰ میں تھے، کوئی کہے گا کہ ہم مقامِ ابراہیم میں تھے۔ غرض بہانے بہت ہیں بھولنے کے۔ لہٰذا خالق نے انتظارکیا کہ حج تمام کرکے فرصت کے ساتھ نکل آؤ۔

اب گھروں تک پہنچنے کی جلدی ہو، اب جس مقصد کیلئے سفر کھوٹا کیا جائے اورلوگوں کو روکا جائے، وہ بھول نہیں سکتے۔اب جلدی ایسی ہے کہ قافلے کے کچھ لوگ آگے جاچکے ہیں، کچھ پیچھے ہیں اور اب حکمِ الٰہی آتا ہے کہ ذرا ٹھہرئیے اور جو حکم ہورہا ہے، پہلے سے آیا ہے ، اس کی تبلیغ فرمادیجئے۔اب اگر ایسا نہ کیا تو کچھ کیا ہی نہیں۔اس کو تفصیل سے نہیں عرض کرنا ہے ورنہ جو مستقل بیان ہے ، کبھی انشاء اللہ عید غدیر قریب ہوئی اور اُس زمانے میں آنا ہوا تو تفصیل سے عرض کیا جائے گا۔

تو جو حضورِ والا!اب اعلان ہوتا ہے، رسول اتر پڑتے ہیں، اعلان ہوتا ہے کہ جو آگے بڑھ گئے ہیں، وہ پیچھے آئیں۔ جو پیچھے رہ گئے ہیں، وہ آگے بڑھیں۔ یہ ضرورت کے تحت اکٹھے کئے جارہے ہیں۔ مگر اس اعلان میں بڑی حقیقت مضمر ہے کہ یہ وہ نقطہ حق ہے جس سے آگے بڑھ کر بھی گمراہ ہوتا ہے ، پیچھے رہ کر بھی گمراہ۔ اب جناب سب رک گئے۔ سب اکٹھے ہوگئے۔ گرمی کا وقت، دوپہر۔

تاریخ طبری میں ہے کہ زمین اتنی گرم کہ عبائیں لپیٹ لپیٹ کر پیروں میں لوگ بیٹھے ، اوپر سے عرب کا سورج، وہ تپارہا ہے اور یہاں، اب وہاں کوہِ صفا تھا۔ یہاں صفا تو ہے نہیں ۔ لہٰذاپالانِ شتر کا منبر بنایا جاتا ہے اور اب خطبے کیلئے جاتے ہیں۔ وہ چند الفاظ نہیں ہیں، وہ بڑا بسیط خطبہ تھا مگر لوگوں نے اُس کے کچھ اجزاء نقل کئے، کچھ اجزاء درج کئے ۔تو بس اصل جملہ جو ہے، وہ تو متفق علیہ ہے۔ لیکن اور باقی اجزاء ، کیا کیا فرمایا؟ آپ نے خدمات بیان کیں اور بہت طولانی بسیط خطبہ تھا مگر وہ خطبہ جو پڑھ رہے ہیں،آج ایک نئی بات کی کہ ایک ہستی کو اپنے منبر پر بٹھالیا ہے۔اب آپ تو خطبہ پڑھ رہے ہیں اورلوگ باربار اس صورت کو دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیا بات ہے ، یہ کیا بات ہے اور دل میں آرہا ہے کہ ہو نہ ہو، آخر میں کچھ اُن کی نسبت۔ اب سب اجزائے خطبہ چاہے نہ سنے ہوں ، یہ جملہ تو ضرور سنیں گے۔

صورت خود بتارہی ہے، بار بار ادھر دیکھ رہے ہیں۔ یہ آج ان کو کیوں لاکے بٹھایا ہے منبر کے نیچے؟ بارباراُدھر دیکھ رہے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ بڑے خلوصِ دل سے آج یہ عبادت ہورہی ہے۔ اب وہ محل آیا جو اصل میں رسول کو کہنا تھا۔ تو ابھی کچھ کہتے نہیں۔ جیسے جب اعلانِ عام رسالت کا کیا تو پہلے کچھ نہیں کہا، پہلے سوال کیا کہ اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے سے لشکر آرہا ہے تو مانو گے یا نہیں؟انداز بتارہا ہے کہ اگر مجمع کہہ دے کہ نہیں مانیں گے تو آگے کچھ نہیں کہا جائے گا۔مگرمجمع نے جب اقرار کرلیا کہ ہم ضرور مانیں گے ، تب جو کہنا تھا، کہا۔ویسے ہی آج ابھی کچھ نہیں کہتے۔ بس یہ پوچھتے ہیں:

اَلَسْتُ اَوْلٰی بِکُمْ مِنْ اَنْفُسِکُمْ “۔

”کیا میں تم سب سے تمہارے نفوس پر زیادہ حقوق نہیں رکھتا؟“

تم سب سے زیادہ اختیا رکے میں تمہارے نفوس پر نہیں رکھتا ہوں؟ دیکھئے! رسالت نے سیاست کو کیسے شکنجہ پر کسا ہے۔ قرآن نے پہلے ہی صاف کہہ دیا کہ نبی مومنین پر اُن کے نفوس سے زیادہ اختیار رکھتا ہے۔ اب اس اصول کو تو طے کروانا نہیں ہے۔ کام بس یہ کیا کہ رسول کی جگہ مَیں کہہ دیا ہے اورمومنین کی جگہ تم کہہ دیا۔قرآن نے کہا: رسول مومنین پر اُن کے نفوس سے زیادہ حق رکھتا ہے۔

پیغمبر پوچھ رہے ہیں کہ کیا میں تم پر تمہارے نفوس سے زیادہ حق رکھتا ہوں یا نہیں؟ مطلب کیا ہوا؟ مطلب ہ ہوا کہ بتاؤ میں رسول اور تم مومن ہو یا نہیں؟

اب بڑے سے بڑے دین میں جمہوریت کو صرف کرنے والے افراد مگر کریں کیا ، کیا کہیں کہ آپ رسول نہیں،تو اسلام جائے، کہیں کہ ہم مومن نہیں تو اقرارِ کفر ہو۔ لہٰذا پورا مجمع چیخ اٹھا”بلٰی“، کیوں نہیں، کیوں نہیں۔ یعنی یقینا آپ کو ہم پر ، ہمارے نفوس سے زیادہ اختیار ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس پورے مجمع نے بالا جماع طے کردیا کہ رسول کو اختیار ہے ، ہمیں نہیں ہے۔اب اصولی جمہوریت کے مطابق بھی جب تک اتنا ہی بڑا مجمع کیوں نہ ہو، وہ آج کا فیصلہ مسترد نہیں کرسکتا۔

بس ماشاء اللہ اب تو آپ کے دل ایسے لگے ہوئے ہیں کہ رات گزر جائے، حالانکہ دن بھر کے آج آپ تھکے ہوئے تھے مگر یہ آپ کا ذوقِ ایمانی ہے کہ بحمدللہ، تو ایک پہلو کی طرف اور ایک جزو اور آپ کے سامنے پیش کروں گا، اس کے بعد آگے بڑھوں گا کہ حضورِ والا! بس جب اصل جملہ آیا جو کہنا ہے، مجمع نے کہہ دیا کہ ضرور آپ کو ہم پر ہم سے زیادہ اختیا رہے۔ اب جب یہ اقرار لے لیا تو وہ جس لئے بٹھایا تھا پہلو میں، اس کو دونوں ہاتھوں میں لے کر اب اونچا کیا۔ بحمدللہ فرزندانِ اسلام ہیں، مَیں کہتا ہوں کہ یہ پیغمبر اسلام کی طاقت ہے کہ جس نے خیبر کو ہاتھ پر اٹھایا، یہ اُسے اٹھائے ہوئے ہیں۔

اب میں کہتا ہوں کہ ذرا چشم تصور سے دیکھئے اور عقل سے تصور کیجئے کہ ایک بچے کو آدمی اپنے سامنے لے تو بچے کا قد چھوٹا، انسان کا جسم بڑا، لہٰذا بس تھوڑا سا جسم چھپے گا۔ لیکن ایک پورا انسان ، پورے انسان کو اپنے سامنے ہاتھوں پر لے لے تو کیا اب وہ ذات جس نے اٹھایا ہے، وہ نظر آئے گی؟ میں کہتاہوں رسول الفاظ الگ کہیں گے، اپنے عمل سے الگ ثابت کررہے ہیں کہ جب میں چھپ جاؤں تو یہ ہیں۔

بظاہر تو میں فضائل کی اس منزل پر ہوں جہاں مصائب بہت دور ہیں مگر اُن کے فضائل و مصائب ایسے دست و گریباں ہیں کہ مجھے کبھی فاصلہ نظر نہیں آتا کہ آج بابِ فضائل میں رسول نے ایک علی کو ہاتھوں پر بلند کیااورکربلا میں حسین نے ایک علی کوہاتھوں پر بلند کیا۔اب عشرئہ محرم کی مجلس ہوتی تو میں مصائب عرض کردیتا مگر یہ کہ ابھی تو آخری تاریخ ہے چہلم کی تو اس لئے میں کہتا ہوں کہ ایک علی غدیر میں رسول کے ہاتھوں کے اوپر، ایک علی کربلا میں حسین کے ہاتھوں کے اوپراور ایک علی ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ، پیروں میں بیڑیاں، گلے میں طوقِ خاردار اس عالم میں جارہا ہے اور اہل عزا! عطش میں ایک بیان کرچکا کہ جو ساتویں سے پیاس شروع ہوئی تھی، وہ ختم نہیں ہوئی۔

بہ اطمینان آیا ہی نہیں پانی جو پیاس بجھے۔ ملتا رہا پانی مگر پیاس جاتی نہیں اور میرے سامنے اب ایک منزل ہے کہ زندانِ شام میں ایک دن حضرت سید الساجدین نے حضرت زینب کبریٰ کو دیکھا کہ بیٹھ کر نمازِ شب پڑھ رہی ہیں تو پوچھا کہ پھوپھی! یہ آج آپ نمازِ شب بیٹھ کر کیوں پڑھ رہی ہیں؟ فرمایا: جانے دو، کیا کرو گے پوچھ کر۔عرض کیا: نہیں، میں سمجھنا چاہتا ہوں ، جاننا چاہتا ہوں۔ ویسے وہ علم امامت الگ ہوتا ہے مگر ہمیشہ سوالات ہوتے ہیں ،دریافت کیا جاتا ہے، بتائیے ۔

کہتی ہیں: پوچھتے ہو تو سنو کہ یزید کے ہاں سے کھانا پانی اتنا کم آتا ہے کہ وہ میرے بھائی کے بچوں کیلئے کافی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اکثر میں اپنے حصے کا بھی بچوں کو کھلا دیتی ہوں تو اب اتنی طاقت نہیں رہی کہ ہر نماز کھڑے ہوکر ادا کروں۔


شعائرِ الٰہیہ ۱

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

(”( وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰهِ فَاِنَّهَامِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب ) “) ۔

ارشادِحضرتِ احدیت ہے، سورئہ حج میں ارشاد ہوا کہ جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے، تو یہ عمل دلوں کی پرہیزگاری کا ایک جزو ہے۔ ابھی فرض کیجئے کہ اللہ کے شعائر کے معنی معلوم نہ ہوں کیونکہ شعائر کا لفظ ان عربی الفاظ میں سے نہیں ہے جو اُردو کا جزو بن گئے ہیں۔ بہت سے عربی کے الفاظ اُردو میں اس طرح استعمال ہوتے ہیں جیسے اصلاً وہ اُردو ہوں مگر شعائر کا لفظ ایسا ہے جو بس مجالس وغیرہ میں اور اہل علم سے سنا ہوگا۔عام طور پر اردو میں استعمال نہیں ہوتا۔ تو ہوسکتا ہے کہ کوئی اس ترجمہ سے شعائر کے معنی نہ سمجھے۔ میں بھی اسے شاید آج بیان نہیں کروں گا، کل اس کی نوبت آئے گی کہ میں شعائر کے مفہوم کی تشریح کروں ۔ مگر جب یہ الفاظ سنے کہ جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے، تو یہ عمل تقویٰ و پرہیزگاری کا جزو ہے، تو اسی سے ہر صاحب فہم مسلمان کو یہ نتیجہ نکال لینا چاہئے کہ تعظیم میں عبادت نہیں ہے، اس لئے کہ عبادت کیلئے کہا گیا ہے :

( لَا تَعْبُدُ وْااِلَّااِیَّاهُ ) “۔

”سوا اللہ کے کسی اور کی عبادت کبھی نہ کرنا“۔

اور تعظیم کیلئے کہاجارہا ہے کہ اللہ کے شعائر کی تعظیم تقویٰ کا جزو ہے۔ اور یہ ہر زبان کے لحاظ سے صاف ظاہر ہے کہ اضافت جس سے اُردو میں”کا، کے اور کی“ پیدا ہوتے ہیں، یہ اضافت کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ تو وہ اضافت خود پتہ دیتی ہے کہ مضاف اور ہے اور مضاف علیہ اور ہے۔ میں کہوں میرا لباس تو میں اور ہوں ، لباس اور ہے۔ میرا مکان تو میں اور ہوں ، مکان اور ہے۔ میرا عزیز، میں اور ہوں، عزیز اور ہے۔ اور یہاں میرے بھی نہیں۔ میرے یعنی اللہ کے شعائر تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے، شعائر اس کے ایک سے زیادہ ہیں۔ بہرحال وہ چاہے دوچار ہوں، چاہے دس بیس ہوں، چاہے سو پچاس ہوں ، لیکن ایک سے بہرحال زیادہ ہیں جبھی تو جمع ہیں۔

تو جب یہ کہا گیا کہ جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تعظیم اللہ سے مخصوص نہیں ہے، عبادت اللہ سے مخصوص ہے۔تو جو مخصوص ہو اللہ سے، وہ اور چیز ہے ، جو عام چیز ہے۔ اللہ کے سوا بھی ہوسکتی ہے اور اس سے الگ چیز ہے تو عبادت کیلئے قرآن میں نہیں آسکتا کہ اللہ کے سواکسی اور کی عبادت کرو کیونکہ غیر اللہ کی عبادت شرک ہے اور شرک کیلئے کہا گیا ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ تو اللہ شرک کا نہ حکم دے گا، نہ شرک کی اجازت دے گا۔ اللہ اپنے بندوں کے کفر سے راضی نہیں ہے تو شرک سے کہاں راضی ہوگا؟یعنی اللہ کے سوا کسی کی عبادت کی دعوت تو دی ہی نہیں جاسکتی۔ مگر اللہ کے سوا اور کچھ ہے۔

میں نے ابھی کہا کہ شعائر کے معنی نہیں معلوم، تو اللہ کے سوا کچھ چیزیں ہیں کہ جن کی تعظیم کو اس نے جزوِ تقویٰ کہا ہے۔ تو اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہر قسم کی تعظیم کو شرک سمجھنا غلط ہے۔ ادھر کسی چیز کی تعظیم ہوئی اور کہا کہ یہ شرک ہے۔اسے میں فطرت کے تقاضے پر بھی جانچنا چاہتا ہوں۔ فطرت کسی مذہب کی بھی ملک نہیں ہے۔ پھر قرآن کے معیار پر جانچنا چاہتا ہوں جو تمام مسلمانوں کی مشترک ہے، ایک مرکز ہے۔پھر حدیث کے معیار پرجانچنا چاہتا ہوں۔ حدیث میں کچھ متفق علیہ ہیں، کچھ مختلف بھی ہوسکتی ہیں۔ مگر قرآن کا تو کوئی جزو ایسا نہیں جس میں اختلاف ہو۔ مفہوم میں اختلا ف ہو وہ اور بات ہے ۔ اصل قرآن کی آیت میں کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ اُسے(معاذاللہ) غیر معتبر کہے۔

تو اب پہلے فطرت کے تقاضے پر غور کیجئے کہ کیا تعظیم شرک ہے؟ تعظیم کا مطلب کیا ہوتاہے؟ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہئے لیکن کسی ایک کے ساتھ ایسا برتاؤ کہ جو اس کے امتیاز کا، بلندی کا، بزرگی کا پتہ دے تو وہ تعظیم ہے۔ اب کوئی ادنیٰ درجہ کی تعظیم ہوگی، کوئی اعلیٰ درجہ کی تعظیم ہوگی۔ ادنیٰ درجہ کی تعظیم ہے تو چھوٹا شرک ہوگا۔ اونچے درجہ کی تعظیم ہے تو بڑا شرک ہوگا۔ لیکن شرک تو پھر ہر ایک کا ہوگا۔تو اب یہ اصول کہ ادھر اپنے عمل سے کسی کے ساتھ امتیاز نمایاں کیا اور بس شرک ہوگیا۔

تو اب جناب! جو صاحب جس نقطہ نظر کے حامی، جس مکتب خیال کے آدمی یہ کہتے ہوں کہ تعظیم مطلق تعظیم شرک، میں کہتا ہوں کہ خود ان کے گھر پر جاکر پہلے ان سے تعلقات قائم کیجئے، بلاوجہ کے مہمان ہوجائیے گا۔ان سے پہلے کچھ دوستانہ بڑھائیے، پھر جاکر ان کے ہاں مہمان ہوجائیے۔ کسی بات کے غلط ہونے کا سب سے بڑا معیار یہ ہے کہ جو اس کا علمبردار ہے، وہ خود اس پر عمل نہ کرسکے۔ جو خلافِ فطرت بات ہوگی، اس پر کوئی عمل نہیں کرسکے گا۔

تو کسی بھی شرک شرک کی آواز بلند کرنے والے کے ہاں جاکر مہمان ہوجائیے ، دوچار دن اور یہ اندازہ لگائیے کہ جس انداز سے وہ اپنے نوکر سے بات کرتا ہے، اسی انداز سے اپنے والد ماجد سے بھی بات کرتا ہے۔ اگر ذرا سا بھی اس نے فرق کیا تو وہیں سے پھر شرک شروع ہوا کیونکہ وہ فرق ظاہر ہے اظہارِ بزرگی کیلئے ہی ہوگا۔ وہ فرق احساسِ عظمت کیلئے ہی ہوگا۔ لہٰذا وہ تعظیم ہوگا اور جب تعظیم ہوگا تو شرک ہو جائے گا۔ اب یہ چیزیں رواج کے لحاظ سے بدل سکتی ہیں۔ میں یوپی کا ہوں، وہ بھی لکھنو کا رہنے والا۔ یہاں مجمع میں بہرحال ، وہ ہجرت کی جو ہوا چلی تھی،اُس کے لحاظ سے بہت سے یوپی کے بھی حضرات ہوں گے اور ممکن ہے لکھنو کے بھی ہوں۔ممکن ہے کچھ باتیں وہاں رائج ہوں، پنجاب میں ان پر عمل نہ ہوتا ہو مگر کچھ باتیں تو ضرور مشترک ہوں گی دونوں جگہ۔

تو حضور! میں اپنے ہاں کے جو محاورات ہیں، ان کے لحاظ سے پہلے کہوں، جس پر بہت سے یہاں کے بھی حضرات عامل ہوگئے کہ جناب کوئی چھوٹا بچہ آیا، اس سے تُو کہہ کر بات کی، اب اپنے برابر کے ساتھ کے رفیق آئے، سکول کالج کے، ان سے تم کہہ کر بات کی۔ بس ادھر تُو سے تم کی تبدیلی ہوئی اور شرک شروع ہوا۔ جب تم سے آپ ہوا تو شرک میں اضافہ ہوا اور جب جناب، قبلہ و حضرت و سرکار ہوگیا تو لیجئے شرکِ عظیم ہوگیا۔

بچہ اپنا آیا، پیر پھیلائے ہوئے لیٹے تھے ، لیٹے رہے ۔ اب آگئے اپنے بزرگوار کوئی اُستاد، ارے اُستاد نہ سہی، حاکمِ ضلع آگیا، کمشنر صاحب آگئے۔ تو اب اسی طرح لیٹے رہیں گے؟ اب اگر ان کو آتے ہوئے دیکھ کر ذرا بھی اپنی جگہ سے جنبش کی تو شرک ہوگیا۔ یہ اٹھ کے بیٹھ گئے یا کھڑے ہوگئے تو بہت بڑا شرک ہوگیا۔

تو اب دیکھنا یہ ہے کسی بھی نقطہ نظر کا آدمی، کسی بھی متمدن ماحول میں، کسی بھی مہذب فضا میں اس اصول کا پابند ہے کہ سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کرے، سب کے ساتھ یکساں سلوک کرے۔ ذرا بھی امتیاز کسی کے ساتھ، اپنے قول و عمل میں، اندازِ گفتگو میں، طریق معاشرت میں ظاہر نہ ہونے دے تو یہ ایسی چیز ہوگی جس پر اس مہذب دنیا کا کوئی فرد عامل نہیں ہے۔ اور میں تو سمجھتا ہوں ، ہم ان میں رہے سہے نہیں ہوں، اس لئے نہیں بتاسکتے کہ شاید جنگلوں میں، پہاڑوں کے رہنے والوں میں بھی اپنے اندازِ معاشرت کے لحاظ سے کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہو، چھوٹے اور بڑے کا۔ کچھ نہ کچھ فرق ہوتا ہو ایسے کا جس کی نظروں میں عزت زیادہ ہو۔

اب چونکہ ہم اس معاشرت سے واقف نہیں ہیں، ہم نہیں بتا سکتے ورنہ جہاں سے شعور کی ابتداء ہوئی، وہیں سے یہ فرق مراتب لازمی طور پر پید اہوجائے گا۔تو معلوم ہوا کہ یہ ایک ایسا تصور ہے کہ مطلق تعظیم شرک ہو کہ جو دوروحشت کے ساتھ شاید سازگار ہو لیکن دورِ تہذیب و تمدن کے ساتھ یہ سازگار نہیں۔ فطرتِ بشری اور شعورِ انسانی کے تقاضوں کے خلاف ہے کہ سب کے ساتھ یکساں برتاؤ کیا جائے۔

اب آئے قرآن مجید میں دیکھیں کہ قرآن مجید کیا کہہ رہا ہے ماں باپ کیلئے دیکھئے۔ آغاز وہی ہے جو خود اس اصول کو تقویت

پہنچاتا ہے:

)( قَضٰی رَبُّکَ اَنْ لَا تَعْبُدُوْااِلَّا اِیَّاهُ ) ( ۔

”تمہارے لئے اللہ کا یہی فیصلہ ہے عبادت تو سوا اس کے کسی اور کی نہ کرو“۔

تو اب جو جو کہا گیا ہے، وہ عبادت تو ہے نہیں، اب اسے سمیٹ کر یوں کہا کہ تمہارے رب کا فیصلہ ہے کہ عبادت سوا اس کے کسی کی نہ کرو مگر ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو۔ احسان کے معنی وہ نہیں ہیں کہ کسی کو اپنا ممنونِ کرم بنا کر اس کی گردن کو جھکائیں۔ احسان کے معنی ہیں اچھا سلوک، حسن عمل۔

تو والدین کے ساتھ حسن سلوک سے کام لو۔ اب یہ ان کے حسن سلوک کی اہمیت ہے کہ عبادتِ الٰہی کے بعد بلافاصلہ اس کا حکم دیا جاتا ہے۔ یعنی اب حقیقی کے بعد ذہن کو مجازی کی طرف موڑاجاتا ہے۔ دیکھو! عبادت تو بس اس کی ہے جو حقیقی ہے۔ مگر یہ ماں باپ، ان کے ساتھ حسن سلوک، مگر حسن سلوک کو مبہم نہیں چھوڑا جاتا۔

)( وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرُاَحْدُهُمَااَوْکِلَا هُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَااُفٍ وَلَا تَنْهَرْهُمَاوَقُلْ لَهُمَاقَوْلًا کَرِیْمًا ) ( ۔

دیکھو! ان میں سے دونوں یا ایک کبرسنی کی منزل تک پہنچ جائیں تو ان سے اُف بھی نہ کرو۔ اب ماشاء اللہ صاحبانِ عمل ہیں او راہل فہم ہیں۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی کبرسنی کی منزل تک پہنچ جائے ، یہ درحقیقت قید حکم نہیں ہے یعنی کوئی صاحب ہوں کہ ان کے والد صاحب ابھی بوڑھے نہیں ہوئے ہوں،بعض ہوتے ہیں کہ ابتدائے عمر میں صاحبزادے متولد ہوئے تھے، اب بعد میں اتنا فرق نمایاں نہیں ہوتا دیکھنے والے کو کہ وہ رشتہ بھی محسوس کرے کہ وہ باپ ہیں ، یہ بیٹے ہیں۔ بعض جگہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ بڑے بھائی ہیں۔ اسی طرح یہ خواتین میں زیادہ ہوتا ہے، بعض اوقات ان میں فرق اتنا کم محسوس ہوتا ہے کہ ماں بیٹی معلوم نہیں ہوتیں۔ ناواقف آدمی سمجھتا ہے کہ وہ بڑی بہن ہیں، یہ چھوٹی بہن ہیں۔ تو اب اگر ایسے صاحبان ہیں جن کے ماں باپ میں کچھ زیادہ فرق پید انہیں ہوا ہے تو وہ کہیں کہ جناب قرآن مجید میں جو کلیہ ہے، وہ تو انہیں یاد تھا کہ جو ماں باپ سن رسیدہ ہوجائیں۔ ہمارے ماں باپ یا مادرِ محترمہ تو ابھی کبرسنی کی منزل تک نہیں پہنچے ہیں تو اس لئے ہم جو چاہیں کریں۔

تو حقیقت میں یہ قید شرط نہیں ہے۔ نفسیاتی طور پر غور کیجئے کیونکہ کبر سنی میں یہ زیادہ ہوا کرتا ہے کہ ان کی باتیں تکلیف دہ ہو جائیں۔ضعیف العمری کی وجہ سے بے جا خفا بھی ہونے لگتے ہیں۔ کبر سنی کی وجہ سے بے بات کے غصہ بھی کرنے لگتے ہیں۔ یہ چونکہ انسان میں کبرسنی کی وجہ سے ہوتا ہے، تو اس لئے کہا گیا کہ اگر کبرسنی کی وجہ سے یعنی ایسی باتیں ہونے لگی ہیں کہ تمیں ناگوار گزرتی ہیں تو دیکھو، ہم جانتے ہیں کہ تمیں تکلیف پہنچتی ہے، تمہیں اذیت ہوتی ہے مگر چونکہ ماں کے ہاتھ سے ہے ، باپ کے ہاتھ سے ہے، لہٰذا خبردار! اُف بھی نہ کرو۔

اب اہل فہم غور کریں کہ اُف کہنا کوئی اذیت پہنچانا نہیں ہے۔ اپنی اذیت کااظہار ہے مگر چونکہ ماں باپ کے ہاتھ سے وہ سلوک ہورہا ہے تو اپنی اذیت کا اظہار بھی نہ کرو۔ اب اس دَور کے تعلیم یافتہ اور ترقی پسند جوانانِ روزگار غور کریں کہ وہ ماں باپ سے کس کس طرح بات کرتے ہیں۔ ایک ادنیٰ انداز تو یہ ہے ، مشاہدات میں ہر ایک کے، ایک ادنیٰ انداز یہ ہے کہ آپ ان باتوں کونہیں سمجھتے۔ ہمارے معاملات میں آپ دخل نہ دیا کیجئے۔یہ والد ماجد سے بہت ہلکی بات ہے جو کہہ دی جائے اور اس سے آگے آپ جس زمانہ کے آدمی ہیں، آپ کیا جانیں ہمارے معاملات کو؟لہٰذا آپ جو ہر چیز میں دخل دیا کرتے ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے۔

اور دَور تو وہ آگیا ہے کہ صاحبزادیوں کو، اگر فرض کیجئے کہ کسی کے آنے جانے کو وہ روکیں تو وہ کہہ دیتی ہیں کہ ہمارے نجی معاملات میں آپ کو دخل دینے کا حق نہیں ہے۔ تو یہ دنیا کا تقاضا جو ہے، مجھے اس سے بحث نہیں مگر قرآن تو یہ کہہ رہا ہے کہ ماں باپ سے اذیت بھی پہنچ رہی ہے، کبر سنی کی وجہ سے تو خبردار! اُف نہ کرواور ان سے جھڑک کر بات نہ کرو۔

اب یہ جھڑکنا کیا ہے؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ الفاظ سخت نہیں ہیں، بس کہنے کا انداز سخت ہے۔ کاغذ پر وہ الفاظ آئیں توان میں کوئی برا نہیں ہے۔ مگر اندازِ گفتگو میں درشتگی ہے اور سختی ہے۔ اسے منع کیا جارہا ہے:

( لَا تَنْهَرْهُمَا ) “۔

”انہیں جھڑکو نہیں“۔

( وَقُلْ لَهُمَا ) “۔

یہ تو منفی احکام تھے اور اب اس کے مقابل میں ”( قُلْ لَهُمَا قَوْلًاکَرِیْمًا ) “، ان سے بات کرو اس طرح جس سے ان کی بزرگی نمایاں ہوتی ہو اور دیکھو ، ان کے ساتھ عاجزی کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکائے رکھو۔ یعنی بیٹھو تو اس انداز سے کہ تمہارے بیٹھنے سے ظاہر ہو کہ چھوٹا بڑے کے سامنے بیٹھا ہے۔ ان کے ساتھ کھڑے ہو تو اس طریقہ سے کہ تمہارے کھڑے ہونے کے انداز سے پتہ چلے کہ تم اپنے کو چھوٹا سمجھتے ہو۔ ان کے ساتھ راستہ چلو تو اس طرح کہ معلوم ہو کہ چھوٹا بڑے کے ساتھ راستہ چل رہا ہے۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی نہ سمجھو کہ حق ادا ہوا، تو اب ہم سے کہو”و( َ قُلْ ) “، اور یہ کہو کہ :

)( رَبِّ ارْحَمْهُمَاکَمَارَبَّیَانِیْ صَغِیْرا ) ( ۔

اور اب یہ قرآن مجید کے الفاظ کے وہ پہلو ہیں جن پر بغیر تدبر کے انسان کی توجہ نہیں ہوسکتی۔ آغاز ہوا ہے آیت کا”( قَضٰی ربک ) “، ”( قَضٰی اللّٰهُ ) “ نہیں کہا گیا ہے،”( قَضٰی رَبُّکَ ) “۔ رب کے معنی ہیں تربیت کرنے والا۔ تمہارے پروردگار نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ عبادت بس اسی کی کرو مگر ماں باپ کے ساتھ یہ سلوک کرو اور جب مناجات بتائی تو کہا: اب ہم سے کہو کہ ”رَبِّ“، اے ہمارے حقیقی رب۔

بھئی یہ رب یہاں کیوں آیا؟”( وَارْحَمْهُمَا ) “، ان پر رحمت شامل حال فرما۔”( کَمَارَبَّیَانِیْ صَغِیْرا ) “۔جیسا کہ انہوں نے بچپن میں ہماری تربیت کی، اس کا مطلب یہ ہے مناجات کا کہ پروردگار! یہ تربیت کرنا اصل میں تیرا کام تھا جو ان کے ہاتھوں انجام کو پہنچا۔ لہٰذا ہم انہیں کہاں صلہ دے سکتے ہیں تو تُو ہی ہے جو انہیں صلہ عطا فرمائے گا۔

تو خیر جھڑکو نہیں، اُف نہ کہو اور قول میں بھی ان کی بزرگی مد نظر رکھو۔عملاً بھی ان کے سامنے جھکے رہو۔ یہ تعظیم کی دعوت نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اور شروع میں کہہ دیا کہ عبادت سوائے اس کے کسی اور کی نہ کرو۔ تو اسی سے صاف ظاہر ہے کہ عبادت اور ہے اور تعظیم اور ہے۔ عبادت اس سے مخصوص ہے اور تعظیم ہر ایک کی ہے جس کو وہ کہے۔

اس کے بعد یہ عجیب بات ہے کہ کوئی کسی گورنر کی تعظیم کو کھڑا ہوجائے تو کوئی شرک کی آواز بلند نہیں کرے گا اور دوسرے جو حکام ہوں ، کوئی ان کے لئے کھڑا ہوتو کوئی شرک کی آوازبلند نہیں کرے گا۔لیکن یہ بات زیادہ تر رسول اور آلِ رسول ہی کے بارے میں صرف ہوتی ہے۔ہمارے ہاں تو زیادہ رواج نہیں ہے۔مگر ہمارے مسلمانوں کی اکثریت میں میلاد شریف اور سیرت کے جلسوں میں ایک بڑا مسئلہ قیام کا ہوگیا ہے۔ یہ ایک رواج بن گیا ہے کہ ایک خاص محل پر جب حضرت کا نام آتا ہے ، سلام کے موقع پر تو تہذیب قرار دی گئی ہے کہ مجمع کھڑا ہو جائے۔ اب وہ بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے کہ ایک پورا گروہ اسے بہت بڑی اورعظیم معصیت قرار دیتا ہے اور معصیت نہیں بلکہ وہی شرک۔ وہاں کوئی معصیت نہ شرک سے ادھر اُدھر تو رہتی ہی نہیں۔

تو جناب! یہ شرک پیغمبر خدا کا نام سن کر کھڑا ہونا، یہ تعظیم ہے اور اگر تعظیم جائز نہیں ، یہ شرک ہے۔ تو حضور! تعظیم کاہر درجہ واجب تو نہیں ہوا کرتا۔ اس لئے ہم اس پر عامل نہیں ہیں مگر میں یہاں وکالت کرتا ہوں اس جماعت کی جو اس پر عامل ہے کہ وہ جو یہ کررہے ہیں، وہ عبادت ہے یا تعظیم ہے۔ عبادت ہے تو شرک ہے۔ لیکن اگر تعظیم ہے تو شرک نہیں ہے۔تو آپ یہ رسول ہی کے بارے میں سب سے زیادہ جو شرک کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کے ساتھ وہ برتاؤ کیا جائے جو سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی حضور کی بزرگی کے اظہار کیلئے جو طریقہ اختیا رکیا جائے تو وہ شرک ہوجائے گا۔ تو اس کا یہ مطلب ہے کہ رسول کے ساتھ وہی برتاؤ ہو جو سب کے ساتھ ہوتا ہے۔

میں کہتا ہوں کہ یہ توحید آپ نے کس سے سیکھی ہے؟ قرآن کے علاوہ کسی اور کتاب سے؟ توحید کا ذکر آپ نے قرآن و حدیث ہی سے سنا۔انہی کے خلاف انہیں صرف کررہے ہیں۔ تو جناب! یہ کھڑا ہونا توحید کے خلاف ہے ، شرک ہے۔ یعنی رسول کے ساتھ کوئی برتاؤ ایسا نہیں کرنا چاہئے جو دوسروں کے علاوہ ہو۔ جو سب کے ساتھ برتاؤ ہو، وہی رسول کے ساتھ ۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کی بات مانیں یا قرآن کی؟

آپ کہتے ہیں وہی برتاؤ کرو جیسا سب کے ساتھ اور قرآن کہہ رہا ہے :دیکھو! ہمارے پیغمبر کو اس طرح نہ پکارا کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ وہ کہتا ہے جیسا دوسروں کے ساتھ سلوک کرتے ہو، ویسا پیغمبر کے ساتھ سلوک نہ کرو۔آ پ کہتے ہیں جو سب کے ساتھ سلوک کرو، وہی رسول کے ساتھ سلوک کرو۔تو اب قرآن کی بات مانیں یا آپ کی بات مانیں؟ صاف کہہ رہا ہے قرآن۔ نہ قرار دو ہمارے رسول کے پکارنے کا طریقہ وہ جو آپس میں ایک دوسرے کا طریقہ قرار دو۔

اور جناب! ہم سے یہ کہا کہ اس طرح نہ پکارو جیسے سب کو پکارتے ہو۔ تو خود بھی اس طرح کبھی نہیں پکارا جس طرح اوروں کو پکارتا ہے۔ ارے وہ ہر کس و ناکس کو پکارنے ہی کیوں لگا؟ وہ انبیاء کو پکارتا ہے، مرسلین کو پکارتا ہے۔ماشاء اللہ مجمع میں ممکن ہے کہ حافظ قرآن بھی ہوں، جو حافظ قرآن ہوں، وہ حافظہ کی مدد سے دیکھ لیں، جو ناظرہ خواں ہوں، وہ ورق گردانی کرکے تلاش کرلیں ، جو عرض کررہا ہوں، اس کی تصدیق جتنی تلاش کریں گے، مکمل ہی ہوگی۔ اس کے خلاف ثابت نہیں ہوگا کہ وہ بس انبیاء کو پکارتا ہے مگر جس نبی کو پکارا، بلا استثنیٰ نام لے کر پکارا او رجب بلا استثنیٰ میں نے کہہ دیا تو مجھے آیتیں پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ مگرجتنی رواروی میں یاد ہیں، اتنی پڑھ بھی دوں گا۔

)( یَاآدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّةَ ) ( ۔

”ارے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو“۔ نام لے کر پکارا۔

)( یَانُوْحُ اِهْبِطْ بِسَلامٍ ) ( ۔

”اے نوح! چلو سلامتی کے ساتھ“۔نام لے کر پکارا۔

)( یَااِبْرَاهِیْمُ قَدْ صَدَقْتَ رُویَاکَ ) ( ۔

”اے ابراہیم ! تم نے خواب سچ کردکھایا“۔ نام لے کر پکارا۔

)( یَادَاوداِنَّاجَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ ) ( ۔

”اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں حاکم بنایا“۔ نام لے کر پکارا۔

جس نبی کو پکارا، نام لے کر پکارااور ہمارے رسول کو بلااستثنیٰ ، کبھی نام لے کر نہیں پکارا۔ جتنی طاقت سے وہاں بلااستثنیٰ کہہ سکتا تھا، اتنی ہی طاقت سے یہاں بلا استثنیٰ کہہ سکتا ہوں کہ ان کو بلا استثنیٰ کبھی نام لے کر نہیں پکارا بلکہ کبھی تو صفات کو مرکز خطاب قرا ردیا ہے۔”اے طیب و طاہر“، ”اے یٰسین“، ”اے سید و سردار“۔کبھی جو عہدہ تھا، اسی کو مرکز خطاب بنا لیا،”( یَااَیُّهَاالنَّبِیُّ ) “،”( یَااَیُّهَاالرَّسُوْلُ ) “، نبی اور رسول ان کا عہدہ ہے۔ اسی عہدے کو عنوانِ خطاب بنا کر جب ایک تبلیغِ خاص کا حکم آیا تو پھر وہاں نہ طٰہٰ کہا گیا، نہ یٰسین کہا گیا۔ وہاں کہا گیا:”( یَااَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ ) “، ”اے رسول! “

)( بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ) ( ۔

جو آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے، اس کی تبلیغ کردیجئے۔

یہاں ”( یَااَیُّهَاالرَّسُوْلُ ) “ہے اور اس خطاب ہی سے نمایاں ہے کہ سرکاری فرمان ہے۔ لہٰذا ضابطہ کا اندازِ خطاب، جو عہدہ ہے ان کا ، اسی عہدے کو سرنامہ کلام قرار دے دیا اور کبھی تقاضائے محبوبی، جو لباس پہنے ہوئے ہیں،اسی اندا ز کو عنوانِ خطاب بنا لیا۔”( یَااَیُّهَا الْمُزَمِّلُ ) “،”( یَااَیُّهَاالْمُدَثِّرْ ) “، اے چادرمیں لپٹے ہوئے، اے عبا اوڑھے ہوئے۔

معلوم ہوتا ہے کہ ذات اتنی محبوب ہے کہ اس کے لباس پر بھی نظرمحب پڑرہی ہے۔

صاحبانِ فہم محسوس کریں گے کہ لباس کا تعلق جسم کے ساتھ عارضی ہوتا ہے۔ خصوصاً اوپر کا لباس جیسے عبا، جیسے چادر۔ یہ تعلق تو بالکل وقتی ہوتا ہے۔ لباس تو ہوسکتا ہے کہ چند دن جسم پر رہے یا ہرروز بدلتا ہو آدمی ، تو ایک دن تو رہے گا لیکن یہ اوپر کا لباس جیسے ہماری عبا وغیرہ، تو وہ تو بس تھوڑی دیر کیلئے زیب جسم ہے اور اس کے بعد اُتار دی۔ تو جسم کے ساتھ عارضی تعلق ہوتا ہے۔ تو جو ذات اتنی محبوب ہو کہ عارضی تعلق اس کے جسم کے ساتھ جو ہو، وہ مرکز نظرپروردگار ہوجائے تو قبر مطہر جس سے جسم کا مقام تصور میں دائمی تعلق ہوتا ہے، وہ قبر مطہر مرکز نظر پروردگار نہیں ہوگی اور کیا اس کی ذرا سی بھی تعظیم و تکریم شرک ہوجائے گی؟

)( لَا تَرْفَعُوْااَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ ) ( ۔

”دیکھو! رسول کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کیا کرو۔ یہ تعظیم سکھانا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ ہاں! میں نے کہا یہ میں دوسرے حضرات کی وکالت کررہا ہوں۔ میں تو عادی نہیں ہوں اور ہمارے مجمع میں اکثر وہ طریقہ نہیں ہے۔ یعنی ایک خاص محل پر اسم شریف سن کر کھڑا ہونا ، ہم اس جذبہ تعظیم کو بآوازِ بلند درود کے وسیلہ سے انجام دیتے ہیں۔ لیکن میں تو اس وقت وکالت کررہا ہوں اس طبقہ کی جو اس پر عمل کرتا ہے ۔ تو جسے وہ بات ناگوار گزرتی ہے، وہ طرح طرح کی باتیں کرتا ہے تو وہاں یہ کہاجاتا ہے۔ یہ کیا کہ ایک خاص محل پر حضرت کا نام آئے تو وہاں کھڑے ہو یعنی ایسا ہی ہے تو پھر جب بھی آپ کا نام آئے تو کھڑے ہوجایا کرو۔

بعض چیزیں ایسی ہیں کہ پرانے زمانہ میں اس کا نمونہ یا مثال دوسرے کے سمجھانے کو ہم بھی پیش کرسکتے تھے مگر جو جدید مشاہدات ہیں، اس سے بہت سی چیزوں کا سمجھانا آسان ہوگیا ہے۔ اب میں اپنے ہاں کا جانتا ہوں، وہاں میں نے دیکھا ہے مگر ظاہر ہے جو ایک جگہ ہوتا ہے، وہ دوسری جگہ بھی ہوتا ہے۔ ایک دن ہم بینک گئے۔ وہ دن ہمارے علم میں ایسا نہیں تھا کہ بینک بند ہو، کام نہ ہورہا ہو۔وہاں جاکر دیکھا، مثلاً کہ سب اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں۔کوئی کام نہیں ہورہا۔ ہم نے کہا: ارے صاحب! کیا آج کوئی چھٹی ہے؟ کہا: نہیں چھٹی تو نہیں ہے۔ ہم نے کہا: پھر کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ آج علامتی ہڑتا ہے۔ علامتی ہڑتال کیا ہے؟کہا کہ اصل ہڑتال تو بعد میں ہوگی، اگر مطالبات پورے نہ ہوئے۔ یہ آج تھوڑی دیر کیلئے علامتی ہڑتا ل ہے یعنی اپنی ناراضگی کا ثبوت دینے کیلئے،مثلاًدوپہر تک کام نہیں کریں گے۔یہ ابھی ہڑتال مکمل نہیں ہے۔یہ علامتی ہڑتال ہے۔

اب میں نے وہاں سے یہ لفظ یاد کرلیا۔ ایک دفعہ یہ لفظ سنا تو مجھے اپنے مطلب کا معلوم ہوا۔ میں نے اُسے یاد کرلیا۔ اب جناب! یہ سوال جو قیام کا ہے، قیام بوقت سلام، انہوں نے یہ کہا کہ یہی کیا خصوصیت ہے؟جس وقت بھی حضرت کا نام آیا کر ے تو کھڑے ہوجایا کرو۔ تو میں کہتا ہوں کہ بے شک اگر ہر وقت کھڑے ہواکریں تو بہت اچھا مگر یہ اپنے امکان کی کمی ہے کہ ہر دفعہ کھڑے ہوا کریں۔ میں کہتا ہوں یہ تعظیم نہیں ہے، علامتی تعظیم ہے۔ (اگر ہر مرتبہ ان کا نام آنے پر کھڑے ہوں) تب بھی حقِ تعظیم کہاں ادا ہوگا؟

معلوم ہوا کہ پیغمبر خدا کیلئے قرآن دعوتِ تعظیم دے رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کرو جو ان کی عظمت شان کے لائق ہے۔ ان کو اس طرح پکارا نہ کرو۔اپنی آواز کو ان کی آواز پر بلند نہ کیا کرو۔ یہ سب تعظیم کی دعوت ہے۔ اب کچھ ان کا عمل، میں نے عرض کیا تھا کہ فطرت پھر قرآن ، پھر سنت۔

تو حضورِ والا! متفق علیہ تاریخ ہے اور تاریخ کے ذیل میں جو ارشادِ رسول آئے،وہ حدیث ہے، اس لئے جو عرض کرتا ہوں، وہ تاریخ بھی ہے اورحدیث بھی ہے۔ جنگ خندق کے بعد پیغمبر واپس ہوئے، جنابِ سعد ابن معاذ ، وہ انصارِ مدینہ میں سے بڑے سابق الایمان تھے، یعنی جبکہ ابھی ہجرت نہیں فرمائی تھی ،جو لوگ مکہ معظمہ گئے تھے اور حضرت کی خدمت میں شرفیاب ہوچکے تھے، ان میں سے یہ سعد بن معاذ تھے اور وہ جو ان کے ہاں دو قبیلے تھے اوس اور خزرج، ان میں سے یہ ایک کے سردار تھے۔ وہاں سے دو قبیلے نکالے جاچکے تھے، بنی قریظہ وہاں رہ گئے تھے مدینہ میں۔ تو یہودیوں نے بڑے بڑے قلعے اپنے بنالئے تھے۔ نیت تو ان کی اچھی نہیں تھی۔ جنگ کا ارادہ پہلے ہی سے تھا۔ کچھ دن محصور رہے قلعوں میں اور اس کے بعد اب کچھ انہوں نے کہا کہ اب ہم قلعہ سے باہر آئیں گے ، ہمیں اطمینان دلایا جائے کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟

تو جناب! سعد ابن معاذ کے ان سے زمانہ قبل اسلام سے بڑے اچھے تعلقات تھے، بہت روابط تھے۔ تو آپ نے فرمایا کہ تم کسی کو ثالث بنادو۔ وہ طے کردے گا کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے!۔ تو آپ نے سعد ابن معاذ سے فرمایا کہ تم طے کردو۔ وہ بڑے خوش ہوئے کہ یہ تو ہمارے بڑے پرانے دوست ہیں۔ وہ اپنی حماقت سے یہ نہیں سمجھے کہ ایمان میں پرانی اور نئی دوستی کچھ نہیں ہوتی، ایمان کے تقاضے جو ہیں، وہ تو پورے ہوں گے اور تھے وہ بڑے جلیل المرتبہ صحابی۔انہوں نے کہا کہ سعد ابن معاذ جو فیصلہ کردیں، ہمیں وہ منظور ہے۔

آپ نے سعد کے بلوانے کیلئے آدمی بھیج دیا۔ وہ ایک مرکب پر سوار ہوکر آئے پیغمبر خدا کی خدمت میں،وہ جو آئے تو یہ ایک جملہ ہے، پورا واقعہ نہیں عرض کرنا ہے، جسے دیکھنا ہے تاریخ اسلام میں دیکھ لے کہ وہ جو آئے تو حضرت نے انصار کے اس قبیلے سے فرمایا کہ دیکھو! تمہارا سردار آیا ہے، کھڑے ہوجاؤ۔ یہ دعوتِ تعظیم نہیں تو اور کیا ہے؟

یہ پیغمبر نے حکم دیا کہ تمہارا سردار آیا ہے، کھڑے ہوجاؤ۔ تو معلوم ہوا کہ رسول کی تعظیم یہ نہیں ہے کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرو۔ بس اب ایک جزوعرض کروں گا۔آج تو اس سلسلہ کی پہلی مجلس ہے۔ پھر انشاء اللہ اور اجزاء تفصیل کے ساتھ بیان ہوں گے کہ یہ تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم کھڑے ہوجاؤاور اب فوراً آپ کا عمل۔ حضور معتبر ترین کتابیں صحاحِ ستہ مانی جاتی ہیں۔ اس صحاحِ ستہ میں ایک صحیح ترمذی ہے ، چونکہ صحاح میں ہے، اس لئے ترمذی شریف کہلاتی ہے۔ جیسے بخاری شریف، مسلم شریف، ویسے ترمذی شریف۔تو وہ بھی ادنیٰ درجہ کی روایت نہیں ہے۔ صحیح ترمذی میں ہے تو صحاحِ ستہ میں ہے۔ اس میں دیکھئے کہ صحیح ترمذی میں رسول کا عمل کیا ہے:

اِذَادَخَلَتْ فَاطِمَة “۔

”جب بھی فاطمہ زہرا آتی تھیں“۔

ایک دفعہ کی بات نہیں ہے کہ راوی نے دیکھا ہو کہ فاطمہ زہرا آئیں او رپیغمبر خدا کھڑے ہوگئے۔ایک دفعہ کھڑے ہوں تو بہت سے اسباب ہوسکتے ہیں ، خلافِ توقع کوئی آجائے تو آدمی کھڑاہوجاتا ہے۔ یہ نہیں کہ آئیں اور پیغمبر خدا کھڑے ہوگئے۔جب بھی آتی تھیں فاطمہ زہرا ، تو:

قَامَ اِلَیْهَارَسُوْلُ اللّٰهِ “۔

”حضرت پیغمبر خدا ان کی تعظیم کو کھڑے ہوجاتے تھے“۔

یہی جملہ ایسا اونچا تھا کہ ہماری تحریروتقریر کی ساری قوتوں کو اس نے جذب کرلیا۔ ہم ہمیشہ اتنا ہی بیان کرتے رہے کہ حضور حضرتِ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی تعظیم فرماتے تھے۔ مگر ارشادِ رسول اور آگے بڑھتا ہے۔ جو تیسرا جملہ آئے گا، وہ اگر پہلے جملے سے بالاتر نہیں ہے تو اس سے کمتر بھی نہیں ہے۔ارشاد ہورہا ہے یعنی راوی کہہ رہا ہے،”قام الیھارسول اللّٰہ“، حضرت رسولِ خدا کھڑے ہوجاتے تھے۔

”رَحَبَھَا“،مرحبا فرماتے تھے یعنی خوش آمدید کہتے تھے۔

وَاَجْلَسَهَا فِیْ مَکَانِه “۔

”اور انہیں اپنی جگہ بٹھاتے تھے“۔

اب اس عظمت کا میں تو تصور بھی نہیں کرسکتا۔ تجزیہ اگر کریں تو اس جملے کے مفہوم کے سوااس کے اور کوئی معنی ثابت ہی نہیں ہوں گے کہ جب تک فاطمہ زہرا بیٹھی ہیں، پیغمبر خدا نہیں بیٹھیں گے۔ جب فاطمہ زہرا اٹھ کر جائیں گی، تب اپنی جگہ حضرت تشریف فرما ہوں گے۔ تو یہ فاطمہ زہرا کی تعظیم نہیں ہے تو اور کیا ہے؟اور میں کہتا ہوں کہ اس عملِ رسول سے ثابت ہے کہ فاطمہ فقط بیٹی نہیں ہیں، کچھ اور بھی ہیں۔فاطمہ علاوہ بیٹی کے کچھ اور بھی ہیں ورنہ بیٹی ہونے کا تو تقاضا ہی نہیں ہے کہ باپ تعظیم کو کھڑا ہو اور ماشاء اللہ صاحبانِ علم ہیں آپ حضرات میں اور ممکن ہے کہ ہر نقطہ نظر کے کچھ اصحاب ہوں۔ غور فرمائیے کہ اصول یہ ہے کہ جو عملِ رسول ہے، وہ جزوِ سنت ہے۔ جو تقریر رسول ہے، وہ بھی جزوِ سنت ہے۔ تقریر کے معنی عام لوگ نہیں سمجھیں گے یعنی کوئی دوسرا رسول کے سامنے کوئی عمل کرے ، رسول اس کو منع کردیں، وہ بھی جزوِ سنت اور یہ اصول ہے کہ سنت رسول کی پیروی یا واجب ہوگی یا مستحب۔

ہوسکتا ہے کہ واجب ہوا ور ہوسکتا ہے کہ مستحب ہو۔ ہم جسے واجب کے مقابلہ میں سنت کہتے ہیں، وہ واجب نہ ہو، سنت ہو یعنی مستحب ہو۔ یہ ایک عملِ رسول ہے جو بالاتفاق موجود ہے اور اصول ہے کہ عملِ رسول کی پیروی سنت۔ مگر مجھے کسی فقہ میں نظر نہیں آیا کہ باپ کیلئے سنت ہو کہ وہ بیٹی کی تعظیم کیلئے کھڑا ہوا کرے۔ کسی کتاب میں آپ نے دیکھا ، کسی عالم سے سنا کہ باپ کے لئے مستحب ہو۔ واجب نہ ہو، مستحب ہو کہ اپنی بیٹی کی تعظیم کرے۔ تحفة العوام وغیر ہ ہی نہیں، دنیا کی کسی کتابِ فقہ میں۔ مطالعہ کی پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ میں نے دنیا کی کسی فقہ کی کتاب میں نہیں دیکھا کہ باپ کیلئے سنت ہو کہ بیٹی کی تعظیم کرے۔

آجکل آسان ہے یہ کہہ دینا۔ کوئی کہے کہ ان سب علماء نے غلطی کی۔ ارے صاحب! ریسرچ کا تقاضا یہ ہے کہ ایک بات آج سمجھ میں آئی۔ تو چاہے ہم سے کسی نے پہلے نہیں کہا ہو، ابھی تک کسی نے نہیں لکھا۔ اب ہم جو کتاب لکھیں گے،کیونکہ دلیل ہمارے سامنے موجود ہے۔ صحیح ترمذی کی حدیث شریف ہے۔ اب سے ہم لکھا کریں گے اور خصوصاً ہمارے طبقہ کے لوگ ، فضیلت کا ایک پہلو بھی ہے تو ہم کہاں بھول سکتے ہیں۔ لہٰذا ہم کہیں گے کہ واقعی ہم نے اس طرف ابھی تک توجہ ہی نہیں کی تھی۔اب سے ضرور ہم اپنی بیٹی کی تعظیم کیا کریں گے۔

تو صاحب! اب تک تو یہ علماء کا عمل ہے کہ کتابوں میں نہیں لکھا۔ بیچارے علماء غیرمعصوم ہیں،کہہ دیجئے کہ غلطی کی سب نے۔ لیکن اب اس سے بالاتر ہے، مشترک اسلامی نقطہ نظر سے۔اور خود ہمارے معتقدات کی روشنی میں کسی نے بھی ، جو سنت رسول کی پیروی کرنے کا دعویدار تھا۔ کبھی اس سنت رسول پرعمل نہیں کیا۔حضور کے صحابہ کرام میں کیسے کیسے لوگ تھے جو سنت پیغمبر ایک ایک یاد رکھتے تھے۔ خود حالاتِ صحابہ کی کتابوں میں یہ بھی ہے کہ عبداللہ ابن عمر، انہیں کسی نے دیکھا کہ اس درخت کے نیچے جاکر نمازپڑھی۔اس درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے ہیں، اِدھر اُدھر پھر کر نمازیں پڑھ رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ آپ یہ کیا کررہے ہیں؟کہا: جہاں جہاں کبھی رسول کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا، وہاں نماز پڑھ رہا ہوں۔ یہ اتباعِ سنت کی مثال میں پیش کیا جاتا ہے۔ تو اتباعِ سنت کا اتنا ذوق و شوق۔ یہ ویسے بڑی اچھی بات ہے۔ ایک ایک ہزار صفحہ کی کتابیں حالاتِ صحابہ میں ہیں لیکن کسی صحابی کے حالات میں نظر نہیں آتا کہ وہ اپنی صاحبزادی کی تعظیم کرتے ہوں او ر کھڑے ہوجاتے ہوں۔

ماشاء اللہ صاحبانِ فہم ہیں۔ ارے ایسی ایسی صاحبزادیاں جو کسی حیثیت سے واجب التعظیم بھی ہوچکی ہیں مگر ان کے پدرانِ نامداران کی تعظیم کیلئے نہیں کھڑے ہوتے۔ تو یہ کیا معاملہ ہے؟ حالانکہ صحاحِ ستہ ، صحیح ترمذی میں حدیث موجود اور برابر نقل بھی ہوتی رہی۔ یہ نہیں کہ اسے بھول گئے ہوں۔ اچھا صحابہ تو غیر معصوم تھے۔ کوئی مسلمان نہیں مانتا کہ اصحاب معصوم تھے۔ عام مسلمانوں کے نقطہ نظر سے جیسے رسالت ختم ہوگئی، عصمت بھی ختم ہوگئی۔ یا یوں کہئے کہ جتنی حد تک رسول کے لئے عصمت مانی ، اتنی رسول کے بعد ختم ہوگئی۔ مگر ہمارے ہاں نبوت ختم ہوگئی، رسالت ختم ہوگئی، عصمت ختم نہیں ہوئی۔ اب جو خدا کی طرف کا رہنما ہو، چاہے بنامِ امام ہو، وہ امامت جو اصولِ دین میں ہے، اس امامت کا حامل جو بھی ہو، وہ معصوم ہے۔ عصمت ختم نہیں ہوئی ، وہ تاقیامِ قیامت قائم ہے ، تو صحابہ کے بارے میں تو ہمارے افراد بے جھجک کہہ دیں گے کہ ان کا عمل ہمارے لئے سند نہیں ہے۔ لیکن بحمدللہ! آپ اور ہم معصوم مانتے ہیں۔جن کی سیرت ہمارے نزدیک جزوِ سیرتِ رسول ہے۔اُن میں سے کوئی اپنی صاحبزادی کی تعظیم کو کیوں نہیں کھڑا ہوتا۔حالانکہ کیسی کیسی صاحب صفات صاحبزادیاں ، میں کہتا ہوں کہ امیرالمومنین علیہ السلام حضرت زینب کی تعظیم کیوں نہیں فرماتے؟

کوئی روایت آپ نے سنی ہے، مجھے معلوم ہے کبھی یہ سنا ہوگا کہ امام حسین بہن کی تعظیم کو کھڑے ہوتے تھے۔ اگر ایسا ہے تو ہے اونچی بات یہ بھی۔ مگر وہ بات تو نہ ہوئی، بھائی بہن تو ایک برابر کا رشتہ ہے۔باپ بیٹی کی تعظیم کیلئے کھڑا ہوجاتا ہو، وہ نظیر نہیں ملتی۔اس کی مثال نہیں ملتی۔امیرالمومنین علیہ السلام تعظیم کیلئے کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟ امام حسین نے جنابِ سکینہ کیلئے اظہارِمحبت میں جو جملے ارشاد فرمائے ہیں، وہ ہم تک پہنچے ہیں۔لیکن یہ بات ہم تک نہیں پہنچی کہ حضرت امام حسین جنابِ سکینہ و فاطمہ کی تعظیم کو کھڑے ہوتے تھے اور جنابِ معصومہ قم، باوجودیکہ فہرست معصومین میں ہیں لیکن جلالت قدر وہ ہے کہ آپ معصومہ کہنے لگے۔معصومہ قم کا محاورہ آپ کے درمیان رائج ہے۔ مگر یاد رکھئے کہ معصومہ کہہ دینے سے فہرست معصومین میں داخلہ نہیں ہوجاتا۔تو معصومہ قم کہنے لگے، وہ الگ بات ہے۔لیکن چودہ معصوم وہ ہیں کہ دلیلِ عصمت جن پر قائم ہے۔

بہرکیف کچھ ایسا جذبہ احترام پیش نظر ہے کہ امام رضا علیہ السلام کی بہن کو معصومہ قم کہاجانے لگا۔میں کہتا ہوں کہ امام رضا کی بہن ہیں تو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ان کی تعظیم کو کھڑے ہوں۔ جنابِ حکیمہ خاتون جو اتنی محل اعتماد تھیں کہ رازِمنتظر کی امانت دار قرار پائیں مگر امام محمد تقی علیہ السلام ان کی تعظیم کو نہیں کھڑے ہوتے تھے۔ تو اب یہ معمہ ہوگیا کہ ایک عملِ رسول مسلماً موجود اور چودہ سو برس کا کوئی عالم نہیں لکھ رہا کہ یہ مستحب ہے۔صحابہ عمل نہیں کررہے۔ جن کے گھر کی بات ہے، ان میں سے بھی کوئی عمل نہیں کررہا۔تو کیا وہ اصول ٹوٹ گیا؟ عملِ رسول کی پیروی میں فضیلت نہیں رہی۔

تو بس جو میں جواب دوں، اُسے دنیا قبول کرے ورنہ جو حل اس کے سامنے ہو، وہ پیش کردے۔میں کہتا ہوں کہ چودہ سو برس کے علماء نے یہی سمجھا ، صحابہ رسول یہی سمجھے۔ جن کے گھر کی بات تھی، ان آئمہ معصومین نے یہی جانا کہ فاطمہ کی یہ تعظیم بحیثیت بیٹی کے نہیں ہے۔ یہ شخصیت فاطمہ کے لحاظ سے ہے، عظمت فاطمہ کے لحاظ سے ہے۔اب میں کہتا ہوں کہ اصول قائم ہے۔ سنت رسول کی پیروی لازم ہے مگر قیامت تک کے مسلمان کیلئے فاطمہ کی تعظیم واجب ہے۔ اپنی بیٹی کی تعظیم سے سنت ادا نہیں ہوگی۔

اب سیدہ عالم کی اتنی تعظیم کس بناء پر ہے اور کس حیثیت سے ہے؟ وہ بہت تشریح طلب ہے اور آفتاب کی کرنیں مجھ کو پیغامِ الوداع دے رہی ہیں ۔لہٰذا میں آگے نہیں بڑھوں گا۔ سیدہ عالم کی تعظیم پیغمبر خدا فرمارہے ہیں۔ سیدہ عالم کی منزل کیا ہے کہ رسول نے فرمایا:

فَاطِمَة بَضْعَة مِنِّیْ “۔

”فاطمہ میراایک جزو ہے“۔

یہ جزو جسم کا جزو نہیں ہے۔مجھے معلوم ہے کہ بعض ذاکر یہ ترجمہ کردیتے ہیں لخت دل، پارئہ جگر۔ اس سے بات محبت پر ڈھل جاتی ہے۔ رسول نے جو فرمایا ہے، ا س میں نہ دل ہے، نہ جگر۔پیغمبر نے فرمایا :”میرا ٹکڑا“،تو ”میرا ٹکڑا ہے“، اس کے معنی یہ ہیں کہ میرے فرائض کی تکمیل نہ ہوتی بغیر فاطمہ کے۔او رپھیلا کے عرض کرنے کا موقع نہیں۔ مگر یاد رکھئے کہ فرمانِ رسول جو زبانی ہے، وہ تو ہدایت خلق کرسکتے تھے اقوال سے۔ سیرتِ رسول مقامِ اتباع میں کافی نہیں ہوسکتی، اس لئے کہ رسول مردوں کیلئے نمونہ بن سکتے تھے، خواتین کیلئے نمونہ عمل نہیں بن سکتے تھے۔ لہٰذا ضرورت تھی کہ خزانہ رسالت میں ایک گہر بے بہا ہو جس کا کردار خواتین کیلئے ویسا ہی معصوم نمونہ ہو جیسا رسولکا کردار مردوں کیلئے معصوم نمونہ ہے۔ اس کیلئے خالق نے فاطمہ زہرا جیسی بیٹی کرامت فرمائی اور میرے نزدیک تو رسول اسی لئے تعظیم کو کھڑے ہوتے تھے۔ وہ فاطمہ کی تعظیم نہیں تھی،اس منصب کی تعظیم تھی جو فاطمہ کے سپرد تھا اور میں نے عرض کیا کہ تفصیل سے عرض کرنا کا موقع نہیں ہے۔مگر ایک خیال میرے ذہن میں مدتوں رہا ہے، میں انکار نہیں کرتا۔اپنی کوتاہیِ علم کا اقرار کرتا ہوں کہ حضرت امیرالمومنین کے فضائل بے شمار مگر مجھے کہیں نہیں ملاکہ رسول اللہ حضرت علی علیہ السلام کی تعظیم کو کھڑے ہوئے ہوں۔ کسی اور کا کیا ذکر ، علی کیلئے نہیں ملا کہ رسولِ خدا تعظیم کو کھڑے ہوتے ہوں۔ مگر فاطمہ کیلئے مل رہا ہے۔

میں نے اس پر غور کیا ہے کہ آخر یہ کیا بات ہے؟ نہیں، فضائل کا زیادہ ہونا اور چیز ہے،اوصاف کا بلند تر ہونااور چیز ہے۔ تو یقینا امیرالمومنین علیہ السلام کی جو منزل ہے، وہ ان کے ساتھ مخصوص ہے۔ مگر جو عرض کررہا ہوں، اُس پر غور کیجئے۔ خود اپنے معتقدات کی روشنی میں۔ بھئی اوصاف اور چیز کمالات اور چیز مگر علی کاجو منصب ہے، وہ بعد رسول ہوگااور فاطمہ کا جو منصب ہے، وہ رسول کی موجودگی میں ہے۔

گزشتہ دور میں ہمیں ایک معصومہ معلوم ہیں حضرتِ مریم۔ مگر حضرتِ مریم کی زندگی رہنمائیِ خلق کیلئے کافی نہیں ہے کیونکہ وہ کسی کی شریک نہیں۔ عورتوں کیلئے جو اصل زندگی ہے، اُس کیلئے مثال نہیں بن سکتیں۔ تو مریم کے بعد فاطمہ کی ضرورت تھی۔تعلیم یافتہ طبقے میں بہت مقبول ہے ڈاکٹر اقبال کا کلام۔تو انہوں نے کہا:

مریم از یک نسبت عیسیٰ عزیز

از سہ نسبت حضرتِ زہرا عزیز

تو انہوں نے تو عزت کے اعتبار سے کہا، میں دوسری حیثیت سے کہہ رہا ہوں کہ بحیثیت نمونہ عمل کے حضرتِ مریم بیٹی ہونے کا نمونہ بن سکتی ہیں، ماں ہونے کا نمونہ بن سکتی ہیں مگر شریک حیات کی حیثیت سے جو فرائض ہیں، اس کا نمونہ نہیں بن سکتیں۔ اس کیلئے ضرورت تھی حضرتِ فاطمہ زہرا کی۔ یہاں تینوں پہلو مکمل ۔ بحیثیت بیٹی باپ کے ساتھ شریک، عملِ مباہلہ میں بحیثیت زوجہ کے امیرالمومنین کی شریک حیات عمر بھر اور بحیثیت ماں کے چاہے حسن وحسین کا نام لے لیجئے،زینب و اُمِ کلثوم کا۔ یہاں تینوں شعبے مکمل مگر اب مصائب عرض کرنا ہیں۔ میں خود بارگاہِ سیدہ عالم میں عرض کروں گا کہ بے شک آپ کی زندگی مکمل(معاذاللہ) آپ کی سیرت میں کوئی نقص نہیں۔ مگر قدرت نے آپ کو بھائی عنایت نہیں کیا تھا۔ لہٰذا اس رشتے کے تقاضے کیا ہوتے ہیں؟ وہ آپ نہیں ظاہر فرماسکیں۔ جس طرح مریم کے بعد آپ کی ضرورت تھی، وہاں آپ کے بعد مخدومہ عالم ، آپ کی بیٹی کی ضرورت تھی۔ آپ شریک جہادِ مباہلہ، یہ شریک جہادِ کربلا۔


شعائرِ الٰہیہ ۲

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

(”( وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰهِ فَاِنَّهَامِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب ) “) ۔

جو شعائر اللہ کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ کا ایک جزو ہے۔ میں نے عرض کیا کہ عبادت اللہ کے ساتھ ہے۔ کسی اور چیز یا کسی اور شخص کیلئے عبادت نہیں ہو سکتی۔ مگر جہاں تک تعظیم کا تعلق ہے، تو اس کیلئے کہا جارہا ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم پرہیزگاری کا ایک جزو ہے۔ تو اس سے یقینا معلوم ہوتا ہے کہ عبادت اور چیز ہے اور تعظیم اور چیز ہے۔ پیغمبر خدا کی تعظیم کی دعوت جس طرح دی گئی ہے، اس کیلئے میں نے دو آیتیں پڑھی تھیں:

)( لَا تَجْعَلُوْادُعَاالرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَأِبَعْضِکُمْ بَعْضًا ) ( ۔

”اس طرح نہ پکارا کرو جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو“۔

)( لَا تَرْفَعُوْااَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتَ النَّبِیِّ ) ( ۔”اپنی آوازوں کو رسول کی آوازسے اونچا نہ کیا کرو“۔

اب ایک اور آیت:

)( اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیِّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَه مَکْتُوْبًاعِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰة وَالْاِنْجِیْلِ یَأمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ یُحِلِّلُ لَهُمُ الطَّیِّبَاتِ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبَائِثَ وَیَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْهِمْ ) ( ۔

ارشاد ہورہا ہے ، تائید کی جارہی ہے کہ وہ جو پیروی کرتے ہیں اس نبی اُمی کی۔ اس وقت ہر ہر لفظ کی تشریح منظور نہیں ہے جسے لکھا ہوا دیکھتے ہیں خود اپنے پاس۔ یعنی اہل کتاب خود اپنے پاس لکھا ہوا دیکھتے ہیں۔ توریت اور انجیل میں اور یہ انہیں نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے اور ان کیلئے اچھی صاف ستھری پاک غذاؤں کو حلال قرار دیتا ہے اور جو خبیث چیزیں ہیں، انہیں منع کرتا ہے، انہیں حرام قرار دیتا ہے اور جو بوجھ ان پر تھے، ان کو دور کرتا ہے اور جو زنجیریں ان کے پیروں میں پڑی ہوئی تھیں، ان کو دور کرتا ہے۔

یہ ایک طویل آیت ہے۔ اس کے ہر جزو کی تشریح نہیں کرنا ہے۔تو جن لوگوں نے اس پر ایمان اختیار کیا، ”( آمَنُوْابِه ) “ کے معن ی ہیں، اس کے بعد ہے”ع( َ زَّرُوْهُ ) “۔ اس کے بعد ہے”( نَصَرُوْهُ ) “۔ اب ”( عَزَّرُوْهُ ) “کے معن ی لغت میں دیکھئے کیا ہیں؟ ”( آمَنُوْابِه ) “کے معن ی سب جانتے ہیں۔’ ’( نَصَرُوْهُ ) “کے معن ی سب جانتے ہیں۔ نصرت کے معنی ہیں مدد کرنا۔ مگرلغت میں دیکھئے تو ”ع( َ زَّرُوْهُ ) “کے معن ی ہیں ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ جو لوگ ان پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے ساتھ آیا ہے۔ یہی لوگ دین و دنیا کی بہتری حاصل کرتے ہیں۔ تو وہ تو خصوصی انداز سے جن کو میں کہتا ہوں کہ ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ تعظیم ہے۔ یعنی نام اس طرح نہ لو جیسے اوروں کا نام لیتے ہو۔ لیکن یہاں تو”( عَزَّرُوْهُ ) “کے معن ی ہیں”ان کی تعظیم کرتے ہیں“۔اب جو جو چیز داخلِ تعظیم ہو، وہ مطلوبِ خالق ہوگی۔ جب تک کہ استثنیٰ نہ ہو، کسی ایک طریقہ تعظیم کو خاص طور پر منع کردیا جائے تو وہ اور بات ہے لیکن جب تک کہ استثنیٰ نہ کیا جائے ، اس وقت تک جو بھی طریق تعظیم ہوگا، وہ اس حکمِ الٰہی میں داخل ہوگا اور یاد رکھنا چاہئے کہ تعظیم ایک عنوان ہے جس کے تحت میں جو جو طریقے ہیں، وہ بہ اختلافِ زمانہ بہ اختلافِ ملک بدلتے رہتے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ ایک وقت میں کوئی طریقہ تعظیم کا نہ ہو اور دوسرے وقت میں وہ طریقہ تعظیم کا رواج پاجائے جس طرح توہین۔ وہ جو اس کا مقابل رُخ ہے، وہ بھی ملک ، آب و ہوا اور زمانہ کے اعتبار سے بدلتی ہے۔ایک جگہ ایک بات توہین نہیں ہوتی ، دوسری جگہ وہ توہین ہوتی ہے۔جہاں تک میرا خیال ہے،اگر شہروں میں نہیں تو دیہاتوں میں پنجاب کے۔ تو اور تم کہہ کر بات کرنا خاص طور پرکوئی توہین نہیں ہے۔ بعض جگہ گفتگو کا انداز ہی یہی ہے۔ لیکن مثلاً ہمارے ہاں ہندوستان میں اور خصوصاً یوپی میں ، تم یا تُو کہنا یہ تذلیل اور توہین قرار پاتا ہے۔ ویسے بھی تعظیم کے انداز مختلف ملکوں میں ، مختلف زمانوں میں بدلتے رہتے ہیں۔

تو جو حکم خالق کی طرف سے سب کیلئے آئے، وہ ہر ملک کے لحاظ سے اس کی تہذیب کے اعتبار سے اس کے تمدن کے اعتبار سے جو طریقہ تعظیم ہو، اس پر حاوی ہوتا ہے اور ہر ملک کے لحاظ سے جو طریقہ توہین ہو جو طریقہ اہانت ہو، وہ حرام ہوجائے گا بلکہ کفر ہوجائے گا۔ تو اس مصداق کے طریقے بدلتے رہ سکتے ہیں مگر اصل حقیقت اپنے حال پر قائم رہے گی کہ خالق کی طرف سے تعظیم کا حکم ہے۔ جیسے میں نے کہا کہ ذکر رسول کے دوران قیام بعض جماعتوں میں رائج نہیں ہے۔ بعض جماعتوں میں رائج ہے لیکن رائج جن جماعتوں میں ہے، وہ کس بناء پر؟ تعظیم کی بناء پر۔لہٰذا وہ قابل اعتراض نہیں ہوگا۔ وہ اسی تعظیم و احترام میں داخل ہوگا جس کا خالق نے حکم دیا ہے۔

اب ایک اور بات۔ کل کا بیان تھا جس کو میں نے سرنامہ کلام قرار دیا ہے ابتداء ہی میں۔ میں نے کہا کہ تعظیم اور ہوتی ہے، عبادت اور ہوتی ہے۔ یعنی تعظیم اور عبادت ایک چیز نہیں ہے مگر اب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسی تعظیم جو حکمِ الٰہی سے ہو، وہ یقینا عبادت ہے۔ مگر فرق صرف اتنا ہے کہ تعظیم کسی کی ہے، عبادت کسی کی ہے۔ تعظیم شعائر اللہ کی ہے اور عبادت اللہ کی ہے، تعظیم رسول کی ہے او رعبادت اللہ کی ہے کیونکہ عبادت اس کی ہے جس کے حکم سے تعظیم ہے اور تعظیم اسی کی ہے جس کی تعظیم کا اس نے حکم دیا ہے تو متعلق تعظیم اور ہے ، متعلق عبادت اور ہے۔ تو تعظیم بہرحال شرک نہیں ہوسکتی ۔ اگر حکمِ خدا سے ہو تو عبادت ہوگی۔ اگر از خود ہے یا کسی محرکِ دنیاوی کے لحاظ سے تو وہ عبادت نہیں ہوگی۔ جیسے بہت سے کام ہمارے جو اس کے حکم کی بناء پر نہ ہوں، خود سے ہوں۔ فرض کیجئے کہ کسی حاکمِ ضلع کی تعظیم کررہے ہیں یا اپنے کسی بزرگ کی تعظیم کررہے ہیں۔ ماں باپ کی تعظیم کررہے ہیں۔تو اگر اس وقت تصور ہو حکمِ خدا کا تو عبادت ہے کیونکہ اس نے حکم دیا ہے تعظیم کا۔

اسی طرح فرض کیجئے اپنے اُستاد کی تعظیم کررہے ہیں تو وہ بھی اس نے کہا ہے کہ جو تمہیں تعلیم دے، وہ ایسا ہے جیسے تمہارا آقاو مولا عالم دین کی تعظیم کریں کہ وہ اس دین کا عالم ہے۔ تو یہ سب تعظیم عبادت ہو گی۔اگر کسی امیر کبیر کی اس کی دولت کی وجہ سے تعظیم کریں تو وہ بس تعظیم ہوگی، عبادت نہیں ہوگی۔ اگر کسی بوڑھے کی اس کے بزرگ ہونے کی وجہ سے بہ اعتبارِ سن تعظیم کی تو وہ بھی حکمِ خدا سے ہے۔ کہا گیا ہے کہ تم میں سے جو سن رسیدہ بڑے لوگ ہیں، ان کی توقیر کرو۔ تو اگر اس کا حکم پیش نظر ہے تو وہ بھی عبادت ہوگی۔

غرض یہ کہ اگر اس کے حکم کے ماتحت تعظیم ہے تو وہ تعظیم بھی ہے اور عبادت بھی ہے۔مگر تعظیم کسی کی ہے، عبادت کسی کی ہے۔ عبادت ہے خالق کی۔ اب جو طریقے تعظیم کے ہوں، اکثر نام لے لے کر ان کو شرک کہاجاتا ہے، مثلاًجا کر روضہ نبوی کی ضریح کو بوسہ دیا تو بہت زیادہ زبان ہی سے شرک شرک نہیں ہوا بلکہ پشت پر تازیانہ بھی پڑگیا۔ گویا پاداشِ شرک یہیں مل گئی۔اسی طرح سے اور اسی طرح کے کاموں کو جو شرک کہاجاتا ہے، سجدہ گاہ پر ہم نے سجدہ کرلیا، آواز آئی شرک۔ جب ضریحِ نبوی کا بوسہ لینے پر شرک کا حکم لگ گیا تو پھر ظاہر ہے کہ کسی عَلَم کو، ضریح کو، تعزیہ کو، جو ایامِ عزا میں ہوتے ہیں، اس کا بوسہ لے لیں ، تو وہ بھلا کہاں توحید کے دائرے میں ہوگا؟

تو یہ جو ان کاموں کو ترک کروایا جاتا ہے ، میری سمجھ میں تو اس کے معنی ہی نہیں آتے۔رَد کرنا تو اور بات ہے، وہ تو اس وقت ہے جب مفہوم سمجھ میں آئے اور جب کسی چیز کے معنی ہی سمجھ میں نہ آئیں تو اس کی رَد کیا ہو؟ اب میں عرض کرتا ہوں ، خانہ کعبہ کا طواف ہوتا ہے۔ اب فرض کیجئے کہ کوئی بنظر عقیدت کسی ضریح کا طواف کرے تو بڑی شدت سے آواز آئے گی کہ” شرک“۔ اسی طرح حجر اسود کا بوسہ متفق علیہ ہے لیکن کسی عَلَم کو کوئی بوسہ دے تو آواز آئے گی” شرک“۔ اور ایک چیز ابھی کہہ چکا کہ ہم نے سجدہ گاہ پر سجدہ کرلیا ، کہا گیا کہ” شرک“۔ اوّل تو ایک اصولی بات عرض کروں، وہ خشک بات، یہ ہے اصولی کہ جو شرک ہو، اس میں استثنیٰ کی گنجائش نہیں۔ میری زبان سے لوگ خشک باتیں سن لیتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ ہم کہیں کہ شرک ظلم عظیم ہے تو کیا اس میں ”اِلَّا “کی گنجائش ہے کہ سوائے اس کے شرک؟ جیسے اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ اب اس میں سوا نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح شرک حرام یا کفر یا ظلم عظیم۔ اس میں ”اِلَّا “کی کی گنجائش کوئی نہیں ہے کہ سوا ا س کے۔

تو میں کہتا ہوں کہ جن جن چیزوں کو میں نے متفق علیہ کہا۔ طوافِ خانہ کعبہ، جزوِ حج سب کے نزدیک۔ تو اگر کسی چیز کا طواف شرک ہے تو کیا خانہ کعبہ کو شریک بنانے پر وہ راضی ہوگیا؟ اسی طرح حجر اسود کو بوسہ دینا متفق علیہ ہے۔ وہ جہاں گویا کارخانہ ہے شرک سازی کا، وہ خود بھی اس پر عامل ہیں۔ حالانکہ ہر صاحب فہم غور کرے کہ شباہت بھی ڈرنے کی چیز ہے۔ مثلاً کوئی کہے کہ یہ چیز شرک نہیں ہے مگر تصور ہوتا ہے۔ یعنی ملتی جلتی ہوئی ہے شرک سے۔تو یہ ملتا جلتا ہوا ہونا بھی محرک ہوسکتا ہے ہولناک بنانے کا۔ تو اب میں ہر صاحب فہم کو دعوت دیتا ہوں کہ یہ حجر اسود کو بوسہ دینے کا جو حکم ہوا تو یہ تو پتھر ہے اور انہی پتھروں کو تو پوجتے تھے یعنی جنس اور نوع کے اعتبار سے اسی شرک کی قسم ہے جو مشرکین کرتے تھے۔ مگر پھر بھی یہ ہی نہیں کہ حرام نہیں بلکہ جزوِ حج۔ یعنی امکان ہو تو بوسہ دے، نہ امکان ہو تو استیلام کرے۔مجمع کی کثرت کی وجہ سے رسائی نہ ہو تواستیلام کرے یعنی ہاتھ سے یوں کرے اور وہ پاس نہ جاسکے تو دور سے۔

ارے ہمیں لوگ کہتے ہیں کہ اتنی دور سے زیارت پڑھنے کا کیا فائدہ؟ وہاں نہیں سوچتے کہ دو گز سے یوں کیا اور پھر یوں کرلیا، اس سے کیا فائدہ؟ میں کہتا ہوں کہ یہ عمل جذبہ احترام کا مظہر ہے۔ اب یہ سب کے نزدیک عبادت حالانکہ جو واقعی شرک تھا، اس سے صورت و شکل میں کتنا قریب ہے۔ اب وہاں ایک بام ودر ہوا۔ حجر اسود کو جاکر بوسہ دیا تو دیکھتے رہے۔وہاں بھی تو کوڑے چلتے ہیں مگر وہاں وہ روکنے کیلئے نہیں، اس لئے کہ دوسروں کو موقع دیں۔

بس! بعض ہیں کہ لپٹے ہوئے ہیں او رہٹنے کا نام نہیں لیتے۔ تو ان کے لئے کوڑا چلتا ہے کہ بس تم بوسہ لے چکے، اب ہٹو۔اب دوسروں کو موقع دو۔ تو وہاں یہ ترغیب و تحریص ہے۔ گویااس کیلئے دوسروں کو موقع دینا، یہ امدا دہے، اس کی اعانت ہے۔ اس عملِ خیر میں مگر اسی وقت رکن یمانی کو ، جو اس کے مقابل میں رُخ ہے، گوشہ ہے خانہ کعبہ کا،اس کو اگر بوسہ دے لیا تو پھر چاروں طرف سے اعتراض کی آوازیں آنے لگیں۔ تو اس گوشہ کا بوسہ لینا روا، اس گوشہ کا بوسہ لینا ناروا۔

یہاں فقہ کا اختلا ف ہے۔ ہمارے ہاں مستحب ہے رکن یمانی کا بوسہ لینا، ان کے ہاں استیلام تو ہے اس کا بھی لیکن وہ جو بوسہ لینا ہے، وہ نہیں۔ میں نے کہا جو شرک ہے اس میں، استثنیٰ کی گنجائش نہیں۔ اگر شرک ہے تو پھر حجر اسود کا بوسہ لینا بھی ناروا ہونا چاہئے اور جب

حجر اسود کا بوسہ لینے کی اجازت ہی نہیں ہے بلکہ حکم ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ شرک تو نہیں ہے ، زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اس کا حکم نہیں ہے۔ تو جس بات کا حکم نہ ہو، وہ حرام تو نہیں ہوجاتی۔ اب جو جو غذائیں آپ کھاتے ہیں، ان کے کھانے کا کہاں حکم ہے؟ جو آپ پیتے ہیں ، ان کے پینے کا کہاں حکم ہے؟ تو حکم ہونا اور بات ہے ،ممانعت ہونا اور بات ہے۔جب تک ممانعت نہ ہو، اس وقت تک جائز ہے۔ حجر اسود کا بوسہ لینے کا حکم ہے۔ اس کے غیر کے بوسہ لینے کا حکم نہیں ہے۔

تو اچھاصاحب!آپ عبادت نہ مانئے اس کو، عبادتِ خدا نہ مانئے لیکن وہ شرک کیونکر ہوجائے گا؟ جو شے شرک ہو، وہ کسی وقت میں بھی نہیں ہے۔ ہاں! میں نے کہا تھا کہ کسی طریقہ تعظیم کی کسی طور سے ممانعت ہوجائے، وہ بھی شرک نہیں ہوگا، گناہ ہوگا۔شرک میں اور گناہ میں فرق ہے اور میں صاف طور پر کہوں کہ سجدہ طریقہ تعظیم، اسے ہمارے سوادِ اعظم کا ایک طبقہ یعنی صوفیاء کا ایک گروہ جائز سمجھتا ہے اور بڑا گروہ مخالف ہے۔ہمارے ہاں بھی شرعاً سجدہ جائز نہیں ہے کسی کو۔ اس کیلئے احادیث ہیں پیغمبر خدا کی۔دو قسم کی حدیثیں میری نظر سے گزریں۔ ایک حدیث یہ ہے کہ اگر سجدہ غیر اللہ کو جائز ہوتا ، اب یہ بات آج کے ترقی پسند زمانہ کے تقاضوں کے خلاف ہے، مگر کیا کیا جائے کہ ہمارے رسول اتنے ترقی پسند نہیں تھے۔ اگر سجدہ غیراللہ کو جائز ہوتا تو میں بیویوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں۔ اگر سجدہ جائز ہوتا۔اس سے نتیجہ نکلا کہ جائز نہیں ہے۔اب یہ بھی میں نے دیکھا ہے کہ اگر سجدہ غیراللہ کو جائز ہوتا تو میں شاگردوں کو حکم دیتا کہ وہ اُستاد کو سجدہ کریں۔ اب کوئی فقیہ اگر جراءت استنباط رکھتا ہو تو اس سے یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ جب شاگرد کو حکم دیا کہ وہ اپنے اُستاد کو سجدہ کرے تو پھر بیٹے کو بھی حکم دیتا کہ وہ اپنے باپ کو سجدہ کرے کیونکہ اُستاد کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ آبائے ثلاثہ یعنی تین قسم کے باپوں میں سے ہیں۔ تو باپ ہونے کی حیثیت سے اس کی عزت ہے تو جب اس کیلئے سجدہ جائز ہوتا تو جو واقعی باپ ہے، اس کیلئے سجدہ کیوں نہ جائز ہوتا؟

لیکن اگر یہ ہوتا ، اگر ہوتا، اسی نے بتادیا کہ جائز نہیں ہے۔ لہٰذا ہم سجدئہ تعظیم کوجائز نہیں سمجھتے۔ مگر شرک کہنا غلط ہے۔ سجدہ بھی اگر بنظر تعظیم کرے تو وہ میرے نزدیک گناہ ہے، شرک نہیں ہے۔اس کی دلیل، میں نے کہا کہ جو شرک ہے، اس میں استثنیٰ کی گنجائش نہیں ، تو جو شرک ہے، اس میں شریعت کی تبدیلی کا بھی اثر نہیں کیونکہ:

)( اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَاللّٰهِ الْاِسْلامُ ) ( ۔

اصولِ دین تمام انبیاء میں ایک ہے۔ توحید اور شرک اصولِ دین سے متعلق۔ ثواب اور گناہ ، یہ فروعِ دین سے متعلق۔ تو اگر شرک ہوتا تو آدم کو سجدہ کرنے کا حکم نہ دیتا۔ اگر شرک ہوتا تو برادرانِ یوسف اور یعقوب، یعقوب کی آنکھوں کے سامنے اور ان کی مرضی سے یوسف کو سجدہ نہ کرتے اور یہ سب باتیں قرآن سے ثابت۔

ہمارے اوپر وہ سندیں پیش نہیں کی جاسکتیں کیونکہ ہم کہیں گے کہ اب ہم شریعت اسلام کے پیرو ہیں۔ اس وقت سجدئہ تعظیمی جائز تھا اور اس وقت پیغمبر اسلام نے کہہ دیا ہے کہ جائز نہیں ہے۔ مگر شریعتوں میں تبدیلی ہوتی ہے،اصولِ دین میں تبدیلی نہیں ہوتی۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اب جب ناجائز ہوگیا ہے ، تب بھی گناہ ہے، شرک نہیں ہے۔ شرک ہوتا تو کسی دور میں بھی جائز نہ ہوسکتا۔

اب جو بات میں نے شروع کی تھی، بیچ میں اس کا دوسرا جزو آگیا، میں نے کہا کہ میری سمجھ میں تو اس کے معنی ہی نہیں آتے۔ اب یہیں سے شروع کروں، کہتے ہیں کہ سجدہ گاہ پر سجدہ کرنا شرک ہے۔میں کہتا ہوں سجدہ گاہ کی حقیقت کیا ہے؟یعنی پیشانی کے نیچے۔ اس کیلئے ایک تمہید کی ضرورت ہے۔ وہ یہ ہے کہ شرک ہوتا کیا ہے؟جو بات خدا سے خاص ہو، اسے کسی دوسرے کیلئے صرف کرنا مثلاً خداوند عالم خالقِ حقیقی ہے۔ اب کسی دوسرے کو خالق مانیں، اس کے ذاتی ارادہ و اختیار سے خود اس کی ذاتی طاقت سے تو وہ شرک ہوجائے گا۔اللہ بطورِ معجزہ کسی کے ہاتھ میں خلق کروادے، وہ اور بات ہے۔ لیکن خالقِ حقیقی بس ایک رازقِ حقیقی، بس ایک ربِ حقیقی، بس ایک۔یہ باتیں کسی دوسرے کیلئے ثابت کردی جائیں تو وہ شرک ہوجائے گا۔یا جیسے میں نے کہا کہ عبادت جس سے خاص ہے، عبادت کسی دوسرے کی کرے۔اب عبادت کے معنی کیا ہیں؟ اللہ ہونے کا تصور کرکے کوئی عمل کرے۔ اس کا نام عبادت۔ کسی دوسرے کیلئے اسی تصور کے ساتھ کرے تو وہ شرک ہوجائے گا۔ لیکن جو بات اللہ کیلئے ہو ہی نہ سکتی ہو، اُسے غیر اللہ کیلئے ثابت کریں تو وہ شرک کیونکر ہوگا؟

اللہ کیلئے کوئی بات ہوتی ہو اور اُسے غیر اللہ کیلئے ثابت کریں تو سمجھ میں آتا ہے کہ شرک ہے اور جوبات ہوتی ہو غیر اللہ کیلئے،اُسے غیراللہ کیلئے ثابت کریں، مثلاً کسی باپ ماں سے پید اہونا، یہ غیراللہ سے خاص ہے۔ تو اب ہم کسی کی ولادت، وہ چاہے کعبہ میں ہو، وہ ولادت بیان کریں یہ کہہ کر کہ خدا کے گھر میں ہوئی تو گھر خدا کا ہے مگر ولادت تو غیراللہ ہی کی ہوگی۔ اسے کیونکر کہا جائے گا ”شرک“۔یہاں تیرہ رجب کی محفل تھی، ولادتِ جنابِ امیر علیہ السلام کا بیان تھا تو ایک صاحب نے پوچھ لیا کہ اگر یہ بہت بڑی فضیلت ہے تو آخر رسول کیوں نہیں پیدا ہوئے کعبہ میں؟ اللہ نے یہ بات رسول کے لئے کیوں نہیں رکھی؟ انہی کو کیوں کعبہ میں پیدا ہونے کا موقع دیا؟

بظاہر تو سوال مشکل تھا مگر میں نے جو عرض کیا کہ ہاں، یوں تو خد اکی باتیں خدا ہی جانے۔ بندہ ایک راز کی بات کو کیونکر سمجھ سکتا ہے؟ مگر کچھ میری سمجھ میں بھی آتا ہے ، وہ یہ ہے کہ رسول کو بعد میں خدا کہنے والی کوئی جماعت پید اہونے والی نہیں تھی علم الٰہی میں مگر اس کے علم میں اس بندے کیلئے بعد میں خد اکہنے والے پیدا ہونے والے تھے۔ اس لئے اس کی ولادت کو نمایاں کرنے کی ضرورت تھی کہ دیکھو! یہ خدا نہیں ہیں، یہ تو پیدا ہوئے ہیں۔

تو ولادت چونکہ غیراللہ کیلئے خاص چیز ہے، تو اگر ہم کسی کی ولادت کو کتنا ہی فضیلت کے ساتھ بیان کریں تو یہ تو ثبوت ہے اس کا کہ ہم نے انہیں خدا نہیں سمجھا ہے۔ اس میں شرک کا تصور ہو ہی نہیں سکتا۔ جو بات غیر اللہ کیلئے خاص ہے، اس کو ثابت کریں غیراللہ کیلئے تو شرک کیسے ہوگا؟

تو اب دیکھئے کہ سجدہ گاہ پیشانی کے نیچے ہے، کیا یہ بات اللہ کیلئے ہوسکتی ہے؟ کیا ہماری پیشانی کے نیچے اُس کا دست حق پرست آسکتاہے؟کبھی(معاذاللہ) اس کا کوئی جسم کا حصہ۔ جسم ہی وہاں کہاں ہے جو ہماری پیشانی کے نیچے ہو۔ ہماری پیشانی کے نیچے جوہوگا، کوئی جسم کا حصہ ہوگا۔ تو یہ بات تو غیراللہ کیلئے خاص ہے تو کسی غیراللہ کیلئے ہم وہ عمل کریں تو شرک کہاں سے ہوگا؟ یعنی اگر آپ اپنے کپڑے پر سجدہ کرلیں تو وہ شریک خدا نہ ہو،ماشاء اللہ قالین پر سجدہ کرلیں تو وہ شریک خدا ہو اور ہم خاکِ شفا پر، ارے مٹی کی جنس پر سجدہ کریں ، جو خاکساری کا نشان ہے، قالین پر سجدہ میں تو پھر بھی امارت پسندی کا ایک پہلو ہے، خاک پر سجدہ بوریا نشینوں کی علامت ہے۔ جتنی قیمتی چیزیں بچھی ہوئی ہوں ، چاہے وہ ریشم کا فرش ہو، چاہے وہ زرتار ہو، اس میں سونا لگا ہوا ہو، جواہر لگے ہوئے ہوں۔ مگر جب نماز پڑھیں گے تو خاک کی ٹکیہ لائیں گے ۔ دنیااسے خا ک کی ٹکیہ ہی کہے گی۔بہرحال ہم اُسے پیشانی کے نیچے رکھیں گے۔ یعنی یہ ایک اظہار ہوگاکہ ہم ان تمام اسبابِ ثروت کو ذلیل سمجھتے ہیں اور اس کی ہمارے نزدیک کوئی عزت نہیں۔اُسے بوسہ نہیں دیتے، اسے بوسہ دیتے ہیں، اسے قابل احترام سمجھتے ہیں۔

اب تو بنظر شرف کربلا کی خاک کہتے ہیں ورنہ مسئلہ حقیقی کے لحاظ سے کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ وہ تو ایک اصول ہے۔ درخت کا پتہ لے لیتے ہیں۔ پنکھا ہوتا ہے، وہ رکھ لیتے ہیں، چٹائی ہوتی ہے، اس پر سجدہ کرلیتے ہیں۔اگر خاکِ شفا ہے تو اُسے ترجیح دے دیتے ہیں۔ اسے شرک کہنے کے کیا معنی ہیں؟ کس چیز کا شرک؟یعنی بوسہ دیا ضریح کو، وہ بہت بڑا شرک۔میں کہتا ہوں بوسہ دینے کی کیا حقیقت ہے؟ہمارے لب کسی جسم سے متصل ہوں، یہی معنی تو بوسے کے ہیں۔تو وہی بات کہ کیا ہمارے لب اللہ سبحانہ کے کسی جزو سے متصل ہوسکتے ہیں؟ یہ جب بھی ہوگا کسی جسم کے ساتھ ہوگا۔کسی مخلوق کے ساتھ ہوگا۔ اب میری عمر ایسی نہیں، ان باتوں کو پیش کرنا اور پھر جلالت منبر مانع ہے، اگر منبر کا حق کوئی سمجھتا ہو توبڑی نازک منزل ہے۔ عرفی نے اس قصیدہ میں،جونعت رسول میں کہا تھا، بڑامعرکہ آرا قصیدہ، اس میں کہا تھا:

ھشدار کہ پابرسر تیغ است قلم را

”ہوش رکھو کہ قلم کا پیر تلوا رپر ہے“۔

بادشاہوں کی تعریف کرلینا آسان ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کی تعریف کرنا جو شایانِ شان ہو، وہ بڑی نازک منزل ہے۔ قلم کا پاؤں تلوار پر ہے۔ تو اب اس میں ذرا سے تصرف کے ساتھ میں یہ کہوں گا کہ اگر منبر کے محل کی عظمت کا احساس ہو تو ہر خطیب اپنے دل سے کہے ”ھشدار کہ پابرسر تیغ است زبان را“۔”ہوش رکھو کہ زبان کا پاؤں تلوار کی دھار پر ہے“۔یہ مقامِ منبر نہ مذاق کامتقاضی ہے، نہ بے فائدہ باتوں کامتقاضی ہے۔ اس میں حقیقت ہونی چاہئے۔ اس میں وہ ہونا چاہئے جو منبر کے شایانِ شان ہو۔ مگر اپنی غیر شاعرانہ زبان میں کہوں گا کہ جناب! بوسہ لینا جذباتِ نفس کی تحریک سے ہو تو شرک نہ ہو اور ازروئے عقیدت ہو تو شرک ہوجائے۔ اب طواف کرنا، میں

نے کہا کہ خانہ کعبہ میں متفق علیہ، کوئی امام بارگاہ کا طواف کرے ، کوئی ضریح کا طواف کرے، کوئی روضہ حسینی کا طواف کرے،کوئی کہے غضب کیا، غضب کیا۔ میں کہتا ہوں کہ غضب کیا کیا؟ طواف کیا ہوتا ہے؟ بیچ میں کوئی شخص یا کوئی چیز اور اس کے گرد چکر لگانا۔ تو کیا کبھی آپ کو اللہ سبحانہ ملے گا کہ اس کے گرد چکر لگائیے۔ کوئی زبان سے کہے یا نہ کہے مگر جسمانیت کے تقاضے ثابت کرتا ہے۔ تو وہ بھی اس کی عظمت کا تصور یہ رکھتا ہے کہ عرش پر نہیں سماتا۔تو پھر آپ کیا چکر لگائیں گے؟ مگر ہم تو کہتے ہیں کہ جسمانیت سے بری ہے۔ تو وہاں تو چکر لگانے کا تصور ہوہی نہیں سکتا۔ کسی عمار ت کے گرد ، کسی شے کے گرد چکر لگائے جائے گا تو کوئی معنی ہی نہیں طواف کو عبادت سمجھنے کے۔

ہاں! ہر چیزمیں معنی پیدا ہوجائیں گے اگر جس کا چکر لگا رہے ہیں، اسے خدا سمجھ لیں۔ا گر جس کا بوسہ لے رہے ہیں،اُسے خدا سمجھ لیں تو شرک ہے۔ یاد رکھئے کہ یہ شرک بوسہ لینے سے نہیں ہوا ہے، خدا سمجھنے سے ہوا ہے اور ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں کہ خدا سمجھ کر آنکھ سے ایک اشارہ ہوگا تو شرک ہوگااور بغیر خدا سمجھے ہوئے سجدہ بھی ہوگا تو شرک نہیں ہوگا۔

جناب! تعظیم کے تقاضے سب جانتے ہیں۔ تعظیم کبھی براہِ راست ہوتی ہے اور کبھی اضافتوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ تو اب میں مثالوں سے ثابت کروں گا کہ اضافتوں کے ساتھ جو تعظیم ہے، وہ بڑے درجہ کی تعظیم ہوتی ہے۔

ایک صاحب، کوئی عالم دین، کوئی صاحب دولت آئے، حاکمِ ضلع آئے، آپ کھڑے ہوگئے تعظیم کیلئے، مگر اب وہ نہیں آئے، ان کا چھوٹا سا بچہ آگیا مگر اب اس بچے کو دیکھ کرآپ تعظیم کیلئے کھڑے ہوگئے۔ کسی نے پوچھا یہ آپ اس بچے کی تعظیم کررہے ہیں؟آپ نے کہا: جانتے نہیں کس کا بچہ ہے؟ تو بتائیے جب خود ان کیلئے آپ کھڑے ہوئے تھے، وہ بڑے درجہ کی تعظیم تھی یا یہ بڑے درجہ کی تعظیم ہوئی؟

جناب! وہ خود بھی نہیں آئے، نہ بچے کو بھیجا۔ ارے ان کا نوکر آگیا۔نوکر صورت شکل سے کوئی دیہاتی آدمی ہے۔ آپ اس کی تعظیم کیلئے کھڑے ہوگئے۔ کسی نے کہا: ارے آپ اس دہقانی کی تعظیم کرتے ہیں؟ آپ نے کہا: اسے نہ دیکھو، یہ دیکھو کس کا نوکر ہے۔

اب دیکھئے! بیٹے کی تعظیم کو جو کھڑے ہوئے تھے، اُس سے بھی یہ تعظیم بڑھ گئی۔ اور اب جناب! وہ ان کا بھیجا ہوا کوئی بھی نہیں۔ ڈاکئے نے لاکر ان کا خط دیا۔ روز ڈاکئے سے خط لیتے تھے، چپکے بیٹھے رہتے تھے۔ آج ڈاکئے نے خط دیا اور آپ سروقد کھڑے ہوگئے دیکھتے ہی۔کسی نے کہا: ارے بھئی کیا ہوا؟ کہا: یہ فلاں قبلہ کا خط ہے۔ تم جانتے ہو یہ کس کا خط ہے؟ حالانکہ یہ تو بے جان ہے۔ مگر یہ تعظیم اُن سب تعظیموں سے بڑھی ہوئی ہے۔ معلوم ہوا کہ جتنا رشتہ دور کا ہو، اور پھر بھی جذبہ تعظیم باقی رہے ، وہ اس مرکز کی سب سے بڑی تعظیم ہوگی۔

میری عادت نہیں کہ کسی کی نسبت بدگمانی سے کام لوں۔ میں کہتا ہوں کہ کوئی جماعت ہے جس میں جذبہ ہے اللہ کی تعظیم کا۔ مگر اقبال کی زبان میں کہوں کہ ہزاروں سجدے جبینوں میں تڑپتے رہے اس انتظا رمیں کہ وہ ملے تو سجدے کریں۔نہ وہ ملے گا، نہ سجدے ہوں گے۔ ارے ایک طبقہ کو اُمید ہے کہ اس دارِ دنیا میں نہ سہی، وہاں سہی۔ ایک طبقے کو اُمید ہے کہ ملے گا۔ مجھے ہمدردی ہے کہ وہ اس دن کے منتظر ہیں کیونکہ مجھے انتظار کرنے والوں سے ہمدردی ہوا کرتی ہے اور اس سے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ قسمت مسلم میں انتظار لکھا ہوا ہے۔ہر ایک منتظر ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی منتظر ہے ناممکن بات کا اور کوئی منتظرہے ممکن بات کا۔

تو جناب!یہ بس انتظار میں ہے کہ وہ ملے۔ اب ایک جماعت ہے بیچاری جسے وہ نہیں ملتا اور جذباتِ تعظیم ہیں۔ اب اس تک نہیں پہنچتے۔ اتفاق سے چودہ سو برس پہلے پیدا ہوئے تھے۔ اس لئے حضرت رسولِ خدا کے سامنے حاضر ہوگئے۔ آپ کے دست حق پرست کوبوسہ دیا۔ اب وہ جو پنجاب کا طریقہ ہے، مثلاً پائے مبارک کو بوسہ دیا۔ جو کچھ ممکن تھا، فرض کیجئے طواف بھی کرلیا۔ اب آپ نے کہا”شرک“۔میں کہتا ہوں کہ اسے سے پوچھئے کس کے ہاتھ کو بوسہ دے رہا ہے؟ اگر وہ کہے کہ خاندانِ بنی ہاشم کے تاجدار کے ہاتھ کو بوسہ دے رہا ہوں تو دنیا دار ہے، اگر کہے کہ حاکمِ عرب کو بوسہ دے رہا ہوں تو میں سمجھوں گا کہ دنیا پرست ہے۔ لیکن اگر وہ کہے کہ اللہ کے رسول کے ہاتھ کو توسمجھ لیجئے کہ وہ عظمت خد اہے جو اس عمل کو اُس سے کروارہی ہے۔

تو ایک درجہ اونچا ہے اس کی تعظیم کا۔ اور اب کوئی شخص ہے جو بعد میں پیدا ہوا اور پیغمبر خدااس کے سامنے نہیں ہیں۔ ایک آلِ رسول ہے، اولادِ رسول۔ اب اس نے جو جذباتِ محبت و عقیدت تھے، ان کو صرف کیا ان کی خدمت میں۔ کیوں؟ اس لئے کہ رسولِ خدا کے یہ نور سے ہیں۔ یہ بیٹے ہیں، رسولِ خدا کی اولاد ہیں۔ تو دیکھئے! وہ جذبہ محبت اور جذبہ عقیدت اور جذبہ تعظیم خدا کا ہے جو وہاں تک پہنچ رہا ہے اور اب بدنصیبی سے اس دَور میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ اب ان کی ضریح مطہر سامنے ہے اور ضریح مطہر کوجاکر بوسہ دیتا ہے۔ تو میں کہتا ہوں کہ جاہل سے جاہل دیہات کا رہنے والا آج کا مسلمان ، اس سے پوچھئے کہ کس کی زیارت کو آئے ہو؟ کیا وہ کہے گا کہ خاندانِ بنی ہاشم کے ایک بڑے آدمی کی زیارت کو آیا ہوں؟ کیا وہ کہے گا کہ تاجدارِ مدینہ؟ ، مجازاًآپ کہہ لیں کہ مدینہ کے بادشاہ کی زیارت کو آیا ہوں۔ کیا وہ کہے گا کہ قومِ عرب کے سردار کی زیارت کو آیا ہوں؟جاہل سے جاہل آدمی بھی کہے گا کہ رسول اللہ کی قبر کی زیارت کو آیاہوں۔

دنیا کہتی ہے کہ قبر پرستی ہے، قبر پرستی ہے۔ارے قبر پرستی ہوتی تو ہمارے ملک میں قبروں کی کوئی کمی تھی؟ یہ ہم اتنی مسافت طے کر کے وہاں کیوں جاتے؟ معلوم ہوا کسی قبر کی پرستش نہیں ہے، صاحب قبر کا رشتہ ہے جولے آیاہے۔

اب فرض کیجئے کہ ہم دور افتادہ ہیں، ہماری رسائی کربلا تک نہیں ہے۔ رکاوٹیں ایسی ہوگئی ہیں کہ پہنچنا اب اس دَور میں تو آسان نہیں رہا ہے۔ میں بھی دعا کرتا ہوں، آپ سب بھی دعا کریں کہ سب رکاوٹیں پروردگارِ عالم دور کرے تو یہ ہماری تمنا ہے کہ وہاں پہنچیں۔اب وہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔ ویسے بھی ہر دور میں ہر ایک کے حالات تو نہیں ہوتے کہ وہاں ہر وقت پہنچ سکے۔ لہٰذا اس نے قبر کی شبیہ تیار کی، ضریح کی شبیہ تیار کی۔ اب وہ اس کا احترام کررہا ہے، اس کا طواف کررہا ہے، اس کو بوسہ دے رہا ہے۔ آپ کہتے ہیں :اوہ! شرک ہوگیا۔

میں کہتا ہوں کہ یہی اجزائے ضریح دوکان پر بھی تو تھے۔ ہم نے وہاں جاکر ان کی تعظیم کیوں نہ کی؟ جب ان میں ایک شکل پیدا ہوئی کہ کسی خاص ضریح کی شبیہ بن گئے تو معلوم ہوا کہ وہی جذبہ ہے۔ اب یہ جذبہ کی قوت پر انحصارہے کہ کتنی دور تک لہریں جاتی ہیں جن کا جذبہ محبت قوی ہے۔ان کیلئے رسول کا حکم رہنمائی کیلئے ہے۔

فتاویٰ قاضی خاں، ان میں یہ حدیث ہے کہ ایک شخص پیغمبر خدا کی خدمت میں آیا اور اُس نے یہ کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے او رایک روایت میں ہے کہ میں نے نذر کی ہے کہ میں پیشانی حورعین اور جنت کی چوکھٹ پر بوسہ دے رہا ہوں۔ چوکھٹ پر جنت کی اور پیشانی پر حورعین کی۔اوّل تو ماشاء اللہ آپ ہر موقع پر نکتہ رس ثابت ہوئے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ پہلے رسول کو یہ کہنا چاہئے کہ یہ تمہارا خواب

شیطان کا دکھایا ہوا ہے۔ بھلا بوسہ بھی کہیں ہوتا ہے ؟ یعنی گویا خواب میں بھی یا ا س نے نذر کی شرک کی۔ تو پیغمبر کا کام ہی ہے توحید کی طرف بلانا۔ تو آپ کو پہلے ہی اس کی زبان پکڑنا چاہئے کہ ارے یہ کیا؟ یہ شرک تم نے خواب میں دیکھا یا شرک کی تم نے نذر کی؟

تو جناب!اُس نے یہ کہا کہ پیشانی حورعین او رجنت کی چوکھٹ کو بوسہ دے رہا ہوں۔ ارشاد فرمایا کہ تمہیں یہ کرنا چاہئے کہ باپ کی پیشانی اور ماں کے قدموں کو بوسہ دے لو۔اُس نے کہا کہ حضور! میرے ماں باپ زندہ نہیں ہیں، وفات پاچکے ہیں۔آپ نے فرمایا: ان کی قبریں ہیں؟ دونوں کی قبروں کوجاکر بوسہ دے لو۔

دیکھئے! کیا رسول اللہ قبر پرستی کی تعلیم دے رہے ہیں؟ فرمایا: اگر دونوں کی قبریں ہیں تو دونوں کی قبروں کا جاکر بوسہ لے لو۔اُس نے کہا: حضور! قبروں کا پتہ نہیں ہے۔ میں کم سن تھا، دونوں اس وقت دنیا سے اٹھ گئے۔ مجھے معلوم نہیں کہ قبریں کہاں ہیں؟ آپ نے فرمایا: دو لکیریں کھینچو، ایک پر اس کا نام لکھو، ایک پر اُس کا نام لکھو اور ان کو بوسہ دے لو۔

میں کہتا ہوں یہ بھی ہمارے مولا نے نہیں لکھوایا کہ کسی زیارت کے مشتاق ہو تو شبیہ کو دیکھ کر زیارت کا شوق پورا کرلو۔کچھ حضرات کا ذہن منتقل ہوگیا ہوگا ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ہمارے امام کو اللہ تعالیٰ نے رسول کی ایک زندہ شبیہ عطا کی تھی۔ وہ کون؟ شہزادہ علی اکبر ۔ اسی وجہ سے یہ علی اکبر کی خصوصیت ہے کربلا میں، کسی کے جاتے وقت حسین نے اللہ کو گواہ نہیں بنایا۔ مگر جب علی اکبر جارہے ہیں تو ہاتھ اٹھادیتے ہیں دربارِالٰہی میں:

اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ عَلٰی هَولَاءِ الْقَوْمِ فَقَدْ بَرَزَاِلَیْهِمْ غُلَامٌ وَاَشْبَهُ النَّاسِ خَلْقًا وَ خُلْقًا وَمَنْطَقًابِنَبِیِّکَ وکُنَّااِذَااشْتَقْنَا اِلٰی نَبِیِّکَ نَظِرْنَا اِلٰی وَجْهِه “۔

”خداوندا! تو گواہ رہنا اس قوم کے ظلم پر کہ اب وہ جارہا ہے “۔

ماشاء اللہ آپ غور سے سن رہے ہیں۔ امام کیا کیا کہہ سکتے تھے۔ کون جارہا ہے؟ یہ کہہ سکتے تھے کہ میری ضعیفی کا سہارا جارہا ہے۔ یہ کہہ سکتے تھے کہ بھرے گھر کی رونق جارہا ہے۔ یہ کہہ سکتے تھے کہ پھوپھی کا اٹھارہ برس کا ریاض جارہا ہے۔ یہ کہہ سکتے تھے کہ ماں کے دل کی ڈھارس جارہی ہے۔ ارے ! کہہ سکتے تھے کہ میرا کڑیل جوان جارہا ہے۔ مگر مولا نے یہ نہیں کہا۔کہتے ہیں:

”پروردگار! گوہ رہنا کہ وہ جارہا ہے جو صورت و سیرت، گفتار و رفتار میں تیرے رسول سے دنیا میں سب سے زیادہ مشابہ ہے۔ پروردگار! جب ہم تیرے نبی کی زیارت کے مشتاق ہوتے تھے تو اپنے اس جوان کو دیکھ لیتے تھے“۔

میں کہتاہوں کہ جب سے علی اکبر پیدا ہوئے، امام نے کتنی مرتبہ علی اکبر کو دیکھاہوگا۔ مگر آج امام نے اپنی پوری عمر کی سیرت کی تفسیر کردی۔ اس پوری عمر میں جب بھی بیٹے کو دیکھا تو بنظر عبادتِ خدا دیکھا ہے۔ ہمیشہ رسول کی شبیہ ہونے کی حیثیت سے دیکھا ہے۔


شعائرِ الٰہیہ ۳

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

(”( وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰهِ فَاِنَّهَامِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب ) “) ۔

جو شعائر اللہ کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ کا ایک جزو ہے۔ دو دن اس سلسلہ بیان کے گزر گئے اور شعائر کے معنی میں نے بیان نہیں کئے۔ میں نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ چاہے شعائر کے معنی ہمیں معلوم نہ ہوں، تب بھی الفاظ سے کہ اللہ کے شعائر کی تعظیم کرو، یہ پتہ چل گیا کہ ہر تعظیم عبادت نہیں ہے۔ عبادت اور چیز ہے اور تعظیم دوسری چیز ہے۔ دو دن یہی بیان رہا۔ اب آئیے شعائر کے معنی دیکھیں۔ اب شعائر کی تشریح میں یہ کہنا لازمی ہے کہ شعائر جمع ہے شعیرہ کی۔ لیجئے اب اُردو دان طبقے کیلئے او رمشکل ہوگی۔ مجلسوں میں شعائر کا لفظ تو سنا ہوگا کہ کچھ نہ کچھ ذہن میں اس کا مفہوم آجاتا تھا مگر یہ واحد جو اس کا معلوم ہوا شعیرہ۔ تو یہ ذہن کیلئے بالکل اجنبی چیز ہے۔ مگر میں عرض کروں کہ ابھی پتہ چلے گا کہ یہ ذہن سے کچھ زیادہ دو رنہیں۔ شعیرہ کے معنی لغت میں علامت کے ہیں جیسے نقش قدم کسی جانے والے کی علامت ہے۔ جیسے دھواں آگ کی علامت ہے۔ تو ویسے ہی شعیرہ کے معنی علامت کے ہیں۔ اب علامت کو علامت کیوں کہتے ہیں؟ علامت کو علامت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ ذریعہ علم ہوتی ہے۔ اب علم کے معنی سب کو معلوم ہیں جاننا۔

تو چونکہ علامت ذریعہ علم ہوتی ہے، اس لئے اُسے علامت کہتے ہیں۔ تو جس طرح علامت کو علامت اس لئے کہتے ہیں کہ وہ ذریعہ علم ہے۔اسی طرح علامت کے معنی ہیں شعیرہ۔ لغت میں آیا ہے کیونکہ یہ ذریعہ شعور ہے کیونکہ شعور کے معنی علم کے ہیں۔ علامت کی جمع ہیں علائم۔ شعیرہ کی جمع ہے شعائر۔ اب علامت کون ہوتی ہے؟ جو جانا پہچانا لفظ ہے، اُسے دیکھیں ۔ شعیرہ ہوتی ہے علامت۔ شعائر یعنی علائم۔ اب علامت کون ہوتی ہے؟ علامت وہ ہوتی ہے جس کے ذریعہ سے ذہن کسی اور کی طرف جائے۔

اب نئے دور کی مثال دے دوں۔ تھرمامیٹر میں پارے کو دیکھا کس نقطے پر ہے؟ کہا کہ اسے اتنا بخار ہے۔ تو اس کا بخار اس تھرمامیٹر میں نہیں آیاہے۔ یہ اس کی علامت ہے، پارے کا وہاں پہنچنا، یہ علامت ہے اس بخار کی۔پرانے زمانے میں حکماء نبض دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ اتنا بخار ہے۔ تو نبض میں بھی اس کا بخار نہیں آتا تھا۔جیسے پارے کے چڑھنے میں ذہن منتقل ہوا بخار کی طرف، اسی طرح نبض کی تیزی نے بخار کا پتہ دیا۔ وہ اسے سمجھتے تھے نبض سے۔ یہ اس کو دیکھتے ہیں تھرمامیٹر میں پارے کی رفتار سے۔اب رفتار کی یہاں ایک اور بات یاد آئی ہے۔ دنیا والے کہتے ہیں کہ ہم کسی چیز کو بغیر دیکھے نہیں مانتے۔ میں کہتا ہوں کہ کس چیز کو آپ دیکھ کر مانتے ہیں؟ بخار کو آپ دیکھتے ہیں جو مانتے ہیں؟ دیکھتے تو پارے کو ہیں اور رائے قائم کرتے ہیں بخار کی۔ اسی طرح دنیا میں آجکل جتنے ذرائع ہیں کسی چیز کو سمجھنے کے۔ تو علامت کو دیکھتے ہیں۔ اب میں تواس چیز کی حقیقت سے واقف نہیں ہوں۔ مگر اخباروں سے کچھ نہ کچھ ذہن میں آیا کہ وہ ہوائی جہاز جو بھیجے گئے ہیں، جن پر بہت سی دنیا احتجاج کررہی ہے تو دشمن کا ہوائی جہاز دکھائی تو نہیں دیتا۔ اس کے اڑنے کی کچھ علامت ہے جو اس میں نمودار ہوتی ہے۔ اس علامت کو دیکھ کر جو چیز نہیں دیکھی، اس کے متعلق رائے قائم کرتے ہیں کہ دشمن کا جہاز اڑا۔ تو دیکھتے نہیں ہیں، بے دیکھے علامات کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ خدا کو بے دیکھے مانئے۔ آفتاب کو دیکھئے ، اُسے مانئے۔ چاند کو دیکھئے، اُسے مانئے۔ کائنات کو دیکھئے، اُسے مانئے۔ میں بھی کہتا ہوں کہ اثر کو دیکھئے ، موثر کو مانئے اور اس کے بعد اب ایک او رمنزل ہے۔ میں یہیں سے اس کو عرض کروں گا کہ قرآن مجید میں ہے :

)( مَاکَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبُهُمْ وَاَنْتَ فِیْهِمْ ) ( ۔

رسول سے کہا گیا ، قرآن کی آیت ہے کہ”اللہ ان پر عذاب عام نہیں کرے گا“۔

یعنی جیسے دنیا کی قومیں تہس نہس ہوئیں، برباد ہوئیں،، اس طرح یہ قوم برباد نہیں ہوگی، درآں حالیکہ آپ اس میں ہیں۔قرآن نے کہا ہے کہ آپ کے وجود کا اثر ہے کہ یہ قوم قائم ہے۔ اب اگر دکھائی دیتا ہو کہ آج بھی قائم ہے تو سمجھ لیجئے کہ رسول کا کوئی جزو برقرار ہے۔

تو حضورِوالا!علامت، جس کو دیکھ کرکسی طرف ذہن جائے تو وہ اس شے کی علامت۔ تو اب اللہ کے شعائر کون ہوں گے جن کو دیکھ کر ذہن اس کی طرف جائے۔وہ اس کی علامت ہوں گے تو جن جن چیزوں کی نسبت اس کی طرف قائم ہے، اس نسبت کی وجہ سے۔ ان کو دیکھنے سے ذہن اس کی طرف جاتا ہے ، مثلاً اپنے گھر کو دیکھیں گے تو خدا یاد نہیں آئے گا۔ لیکن اگر خانہ کعبہ جائیں گے۔ کہا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: خانہ خدا۔ اللہ کا گھر۔ قرآن نے کہا: بیت اللہ۔ تو اللہ کا گھر۔ جب کہا خانہ خدا، بیت اللہ ، تو ذہن کس کی طرف گیا؟خدا کی طرف۔

لہٰذا کعبہ ہوا شعائر اللہ میں۔ یہ ان علامتوں میں سے ہوا جو ذہن کو اللہ کی طرف لے جاتی ہیں۔ اب اسی بیت اللہ کا ترجمہ ہے

خانہ خدا اور اس میں تو اس دنیا کا آدمی نہیں ہوں۔ مگر اخباروں میں بہت شور تھا کہ ایک فلم آئی ہے خانہ کعبہ۔ ہندوستان میں آئی تھی۔ یہاں بھی آئی ہوگی۔ وہ خانہ خدا فلم تھی۔ اس میں جناب حج کے مناظردکھائے گئے تھے۔بیت اللہ کا ترجمہ خانہ خدا کیا اور فلم کا نام رکھ دیا۔ تو اب کسی فلم کے دیکھنے پر کبھی علماء کا جلسہ نہیں ہوا۔ مگر وہ فلم جو آئی تو بڑی بڑی کانفرنسیں علماء کی ہمارے ہوئیں۔ اب مجھے ذرا تعجب ہوا کہ صاحب! کبھی کسی فلم پر تو احتجاج نہیں ہوا۔ شرعاً تو علماء کسی فلم سے راضی نہیں تھے۔تو اس سے پہلے کبھی کسی فلم پر اعتراض نہیں ہوا۔ یہ آخر اس کے خلاف کیوں احتجاج ہورہا ہے۔ تو میں نے دریافت کیالوگوں سے کہ اس فلم میں کیا بات ہے؟ تو معلوم ہوا کہ اس میںآ لِ رسول کا ذکر ذرا زیادہ ہے اور ہماری نماز ، ہماری جماعت اور ہمارے بہت سے طریقے اس میں نظر آتے ہیں۔

تو اب پتہ چلا کہ یہ احتجاج ہورہا ہے کہ جنہیں ہم دنیا کے ذہنوں سے بھلا دینا چاہتے تھے، یہ فلم انہیں یاد دلاتی ہے۔ یہ احتجاج اس پر ہورہا ہے۔ اب میں نے لوگوں سے اس فلم کی اور خصوصیات دریافت کیں تو لوگوں نے کہ کہا کہ نہیں، اس میں تو گانا بجانا بھی بہت کم ہے۔ مہملات جو فلموں میں ہوا کرتے ہیںِ وہ تو اس میں تقریباً بالکل نہیں ہیں اوربس یہی ہیں۔ تو میں سمجھ گیا کہ بس اسی سے ناراضگی ہے۔

اب جناب! چونکہ بات بہت چل گئی ہے۔ ہمارے پاس بھی سوالات آنے لگے استفتاء کے کہ صاحب! فلم خانہ خدا کا دیکھنا جائز ہے یا نہیں؟ اب ان سوال کرنے والوں پر بھی ہنسی آئی کہ کسی اور فلم کے دیکھنے کو کبھی نہیں پوچھا۔ ہمیشہ شوقیہ جاتے اور دیکھتے۔ مگر اس فلم کے بارے میں پوچھ رہے ہیں کہ جائز ہے یا نہیں۔ تو میں آزادی سے یہ لکھ کر دیتا کہ فلم جائز ہے، جائیے دیکھئے۔ تو وہ کہتے کہ انہوں نے فلم دیکھنے کی اجازت دے دی۔ تو اس سے فائدہ پھر اور بھی اٹھاتے کہ صاحب فلم دیکھنا جائز ہے۔ان کا فتویٰ موجود ہے۔

غلط فائدے بھی تواٹھائے جاتے ہیں۔ غلط استعمال ہوتا ہے فتوے کا۔ تو میں نے یہ لکھا جواب میں کہ جو شخص فلم دیکھنے کا عادی نہیں ہے، اس کیلئے بہتر ہے کہ اسے بھی نہ دیکھئے اور جو فلم دیکھنے کا عادی ہے، اس کیلئے بہتر یہ ہے کہ اس کو بھی دیکھے۔

تو اب خانہ خدا جب کہا تو خدا کا تصور لازماً ہوا یا نہیں ہوا؟ اور بیت اللہ تو وہی ہے بنص قرآن۔ مگر ہم اپنے ہاں کی مسجد کو بھی خانہ خد اکہتے ہیں۔ خانہ خدا کا جو محاورہ ہے، وہ مکہ والے کعبہ کیلئے نہیں ہے بلکہ اپنے ہاں کی مسجد کو بھی خانہ خدا کہتے ہیں۔

اب میں ایک طبقہ سے پوچھوں گا کہ وہ ہے بیت اللہ اور یہ بھی ہے خانہ خدا تو اس میں کونسی بات درست ہے؟ وہ بیت اللہ ہے، یہ خانہ خدا ہے اور اسی بیت اللہ کا ترجمہ خانہ خدا ہے۔ اسی خانہ خدا کی عربی بنائیے تو بیت اللہ ہے۔ تو اب میں لفظ بدل کر کہتا ہوں کہ یہ مسجد بیت اللہ ہے یا نہیں؟ تو وہ کہیں گے کہ عربی کے لحاظ سے تو بیت اللہ ہے۔ اگر ذرا سی بھی عربی جانتے ہوئے تو کہیں گے کہ ہاں خانہ خدا ہے۔ اس کے معنی ہوئے کہ بیت اللہ۔ تومیں کہوں گا کہ پھر اتنی دور جانے کی کیا ضرورت ہے؟ اسی کا حج کر لیجئے۔تو وہ کہیں گے کہ نہیں صاحب! حج تو وہیں ہوگا ، یہاں نہیں ہوگا۔میں کہوں گا ، پھر نہیں ہے بیت اللہ۔کھل کر کہہ دیجئے کہ جیسے ہمارا گھر، ویسے وہ بھی ہم نے بنوایا۔ یہ بھی ہم نے بنوایا تو یہ بیت اللہ نہیں ہے۔ آپ نے کہہ دیا کہ نہیں ہے۔ تو جب نہیں ہے تو نجاست اس کے اندر لے جائیے۔ ارے وہ کسی ایک میں اختلاف ہے کہ نجس ہے کہ نہیں۔ اُسے لے گئے ہوں کبھی معلوم ہے لیکن یہ کہ جسے سب نجس سمجھتے ہیں، اُسے تو کوئی نہیں لے جائے گاورنہ یہ ہمارے ہاں ہندوستان میں ابھی ابھی فساد ہوا تھا ، وہ کس چیز پر ہوا تھا۔ ارے ایک جانور ہے جسے سب نجس سمجھتے ہیں، وہ آگیا تھا مسجد میں۔

تو ایک جانورکے چلے جانے سے کتنے آدمیوں کی جان چلی گئی۔ معلوم ہوا کہ جو نجاست ہے، وہ مسجد میں نہیں آسکتی۔تو یہ کیوں؟ اگر یہ نہیں ہے بیت اللہ ، عام گھر ہے تو پھر یہ کیوں؟ آپ کے گھرمیں آجاتا تو خونریزی نہ ہوتی اور مسجد کے اندر آگیا تو خون بہہ گئے۔یہ آخر کیا ہے؟ تو اب اگر ذرا بھی سمجھ ہے تو میری بات کا صرف ایک جواب ہوسکتا ہے کہ اصل بیت اللہ تو وہی ے، خانہ کعبہ، مگر یہ بھی گویا اس کی نقلیں ہیں، اس کی شبیہات ہیں جو ہر جگہ ہیں۔ وہ اصل جو ہے، وہ ابراہیم و اسماعیل انبیاء نے بنایا تھا۔ اسے ہم خود بنالیتے ہیں مگر چونکہ بحیثیت

خانہ خدا بناتے ہیں، تو احترام اس کا بھی ہے کیونکہ وہ اصل ہے ،لہٰذا یہ نقل۔اس لئے پورے احکام تو اس کے اس پر جاری نہیں ہیں۔ حج تو اس کا نہیں ہوسکتا لیکن طہارت کی ضرورت یہاں بھی ہے۔ نجاست کا لانا بھی ناجائز ہے۔

بس میں کہوں گا کہ اسے یاد رکھئے کہ کچھ اصل ہوتی ہے، کچھ نقلیں ہوتی ہیں۔ اصل احکام جو ہیں، وہ اصل ہی پر جاری ہوتے ہیں مگر وہ نقل بھی قابل احترام ہوتی ہے۔ہمیں بھی معلوم ہے کہ کربلا سرزمین عراق پر ہی ہے ، اس لئے زیارت کا ثواب ہمیں وہاں جاکر ملے گا لیکن کوئی بھی عمارت بنامِ کربلا بن گئی ہے تو احترام اس کا بھی ہے اور وہ جو شبیہات ہم بناتے ہیں، اس میں اب یہ نہ کہئے گا کہ ارے خود ہی تو بنائی ہیں۔ کاغذ ہیں اور کھپچیاں ہیں اور یہ ہے اور وہ ہے۔ اس کا نام رکھ لیا تعزیہ اور اس کا نام ضریح رکھ لیا۔تو خود ہی تو ابھی بنایا ہے اور خود ہی اُسے مرکز تعظیم سمجھنے لگے کہ اس کا احترام کرنا چاہئے۔ خلافِ احترام کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔ اب ہمارے چڑانے کو اس کو پوجنا کہنے لگے۔ورنہ کون جاہل ہے جو کہے کہ میں تعزیے کو پوجتا ہوں۔ جو کہے گا، وہ کہے گا کہ احترام کرتا ہوں، تعظیم و تکریم کرتا ہوں۔ عبادت کوئی نہیں کہے گاکہ میں عبادت کرتا ہوں۔ عبادت کرے تو کافر۔ وہ چاہے اپنے بنائے ہوئے نہیں، خدا کے بنائے ہوئے کسی آدمی کی عبادت کرے تو کافر۔عبادت تو خالق سے خاص ہے۔ مخلوق جو بھی ہو، چاہے اُسی کی مخلوق ہو، عبادت اس کی بھی نہیں ہے۔ تو اپنے ہاتھ کے بنائے ہوئے کی عبادت کیا ہوگی؟

عبادت کسی کیلئے نہیں ہے۔ مگر یہ کہنے سے احترام ختم نہیں ہوگا کہ ہم ہی نے تو بنایا ہے۔ قرآن بھی تو ہم لکھتے ہیں۔مسجد بھی تو ہم بناتے ہیں۔ ہمارے بنانے سے اس کا احترام ختم نہیں ہوگا۔یہ دیکھئے کہ ہم نے کس نیت سے بنایا ہے۔ ایک لفظ بھی اگر ہم نے اپنی تقریر کی روانی میں کہا جو قرآن میں بھی ہے اتفاق سے، تو وہ لکھا جائے تو وہ قرآن نہیں ہوگا۔ اس کا چھونا بلاوضو جائز ہوگا لیکن وہی لفظ اگر قرآن کے قصد سے لکھ دیا گیا تو پھر بغیر وضو چھونا حرام۔

تو معلوم ہوا کہ حقیقت ایک ہے مگر قصد کے بدلنے سے احکام بدلتے ہیں۔ تو اسی طرح سے یہ بھی بات ہے کہ گھر بھی میں بناتا ہوں مگر اس نیت سے کہ میرا گھر ہے۔مسجد بھی میں بناتا ہوں مگر اس نیت سے یہ خانہ خدا ہے۔ اب اس کا احترام ہے۔ فقہ اسلام کی رو سے اس کا احترام واجب ہے۔اس لئے نہیں واجب کہ میں نے بنایا ہے، اس لئے واجب ہے کہ خانہ خدا ہے،چونکہ میں نے خانہ خدا کے قصد سے بنایا ہے۔ تو اسی طرح سے یہ کہنا بے معنی ہے کہ تعزیہ تم ہی تو بناتے ہو ، ضریح تم ہی تو بناتے ہو ، تابوت تم ہی تو بناتے ہو،خود ہی بناتے ہو اور خود ہی تعظیم کرتے ہو۔تو ہاں! چونکہ بنایا ہے، روضہ مقدس کی شبیہ کے قصد سے ،عَلَمِ اسلام کی شبیہ کے قصد سے بنایا ہے، اس لئے اس کا احترام۔ تو ہمارے بنانے سے یہ نہیں ہوگا کہ اس کااحترام ختم ہوجائے۔ تو اب کعبہ بیت اللہ ، اس کی تعظیم ، اس کا احترام بلکہ اس کی طرف رُخ کرکے نماز بنص قرآن اور یہ اجماعِ اہل اسلام جزوِ شریعت۔ یہ اللہ کا گھر ہے۔ یہ ایک دن کسی مجلس میں کہہ چکا ہوں کہ کیا اللہ اس گھرمیں رہتا ہے؟ سکونت تو کوئی نہیں رکھتا۔ کوئی قائل نہیں کہ اللہ اس میں سکونت رکھتا ہے۔ تو پھر کیا نسبت ہے ؟ جیسے مہینے سب اس کے ہیں مگر ایک مہینے کو کہہ دیا ”شہراللہ“، اللہ کا مہینہ۔ وہ ہے ماہِ رمضان۔

اسی طرح گھر بھی اس کا ہے۔ جب ہم اس کے ہیں تو کیا ہمارا گھر اس کا نہیں ہے؟ اور پھر ہم گھر کہاں بنائیں گے؟ گھر کے اجزاء سب اس کے ہیں۔ زمین اس کی ہے، چاہے ملک ظاہر میں اس کے قانون کے مطابق کسی کا کہلائے مگر اصل میں تو سب اسی کا ہے۔ پوری زمین اللہ کی ہے۔ تو جناب! ہر چیز اسی کی ہے۔ میرا گھر بھی اس کا ہے مگر یہ کہ جسے اس نے نسبت دے دی کہ یہ میرا گھر ہے۔

)( طَهِرَ بَیْتِیَ لِلطَّائِفِیْن وَالْعَاکِفِیْن وَالرُّکَّعِ السُّجُوْد ) ( ۔

ابراہیم و اسماعیل سے کہا کہ میرے گھر کو پاک۔ بس وہ موضوع عرض نہیں کرنا ہے۔ کبھی انشاء اللہ وعدہ ہے۔ اس سفر میں نہیں کرنا ہے۔ مگر ایک جزو اس کا۔ تو میں نے آیت پڑھ دی تو ترجمہ اس کا کرنا ہے۔ تو اب علمائے اسلام سے پوچھوں گا کہ”( طَهِرَ بَیْتِیَ ) “۔

ابراہیم و اسماعیل سے کہا جارہا ہے کہ میر گھر کو ”( طَهِرَ بَیْتِیَ ) “،مصدر اس کا تطہیر۔ اب ان سب سے پوچھوں گا کہ”( طَهِرَ بَیْتِیَ ) “ کے معنی کیا ہیں؟ یہ کہیں گے میرے گھر کو پاک کرو۔ تو کیا نجاست تھی اس میں؟ ارے جس گھر کا معمار خلیل ہو اور بحیثیت مزدور ذبیح نے کام کیا ہو، بت بھی کبھی اور لاکر رکھے گئے، ابھی تو بتوں کا پتہ نہیں تووہاں نجاست کہاں سے آئی؟ تو ماننا پڑے گا کہ”( طَهِرَ بَیْتِیَ ) “ ، اس کا ترجمہ کرنا پڑے گا کہ میرے گھر کو پاک رکھو۔ پاک کرو نہیں، پاک رکھو۔ میں کہوں گا کہ بس جو معنی بیت میں آیہ تطہیر کے لیجئے، وہی معنی اہل بیت میں آیہ تطہیر کے لیجئے۔

( طَهِرَ بَیْتِیَ ) “، تم نے معنی کہے کہ میرے گھر کو پاک رکھو تو پھر”( یُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیْرًا ) “۔ وہاں بھی معنی یہ رکھئے کہ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ تم کواے اہل بیت پاک رکھے۔ یہ کیوں کہتے ہو کہ پاک کرے۔ یہ کہو کہ اللہ کا ارادہ ہے کہ تم کو اے اہل بیت پاک رکھے۔ وہ آیہ تطہیر ہے بیت کیلئے، یہ آیہ تطہیر ہے اہل بیت کیلئے۔

بس ایک فرق مجھے محسوس ہوتا ہے کہ بیت کی تطہیر انبیاء کے ذمہ کردی اور اہل بیت کی تطہیراپنے ذمہ رکھی۔ بس اسی وجہ سے نتیجہ مختلف ہوگیا۔ اس کی تطہیر انبیاء کے ذمہ کردی تھی اور انبیاء اس کی تطہیر کے ذمہ دار ہوئے اور دنیا اس میں نجاست لانے پر قادر ہوئی۔ لیکن جن کی تطہیر اپنے ذمہ رکھی تھی، سلطنتوں کی طاقت ختم ہوگئی مگر ان کے دامن پر کسی قسم کا داغ نہ لگایا جاسکا۔

تو یہ میرا گھر، جس کی بناء پر آپ کہتے ہیں بیت اللہ۔یہ فقط نسبت ہی تو ہے۔ وہ جاکر وہاں رہتا نہیں ہے۔ بودوباش نہیں رکھتا اور دنیا کے ہر حصے سے دنیا کھنچ کھنچ کر آتی ہے او ریہ خدا کا وعدہ ہے کہ جو پورا ہورہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ دنیا کی آنکھوں کے سامنے جس طرح قرآن زندہ معجزہ ہے، ویسے ہی خانہ کعبہ کی مرجعیت بھی ، مرکزیت بھی، یہ زندہ معجزہ ہے۔ابراہیم و اسماعیل سے کہہ دیا گیا تھا ،جنابِ ابراہیم سے مخاطب ہوکر:

اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ “۔

”لوگوں میں حج کا اعلان کرو“۔

( اَذِّنْ ) “کے معنی ہیں اعلان کرنا۔ اسی سے اذان ہے۔ اذان بھی ایک اعلان ہے۔”( وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ ) “، لوگوں م یں حج کا اعلان کرو۔ اور لوگوں میں کہاں، مکہ کی سرزمین پر جو بے آب و گیاہ میدان۔ تو وہاں لوگ کہاں رہے؟ اعلان کرو لوگوں کیلئے۔مجازی جملہ ہوگا، کنایہ مگر مجھے تو اس وقت حقیقت نظر آرہا ہے ۔ صدا بصحرا پر محمول کررہا ہے مگر خود وعدہ کرتا ہے کہ تم صدا بلند کرو، پہنچانے کا میں ذمہ دار ہوں۔ اس صدا کو پہنچاؤں گا اور اپنی توحید کیلئے ذمہ داری نہیں لی ہے کہ ہر ایک مان بھی لے گا یا کسی دور میں ہر ایک مان لے گا یا اکثریت مان لے گی۔ مگر یہ جو حکم دیا دیا تھا، اس کی ذمہ داری لے لی۔

میں سوچ رہا ہوں وہ صدا بصحرا۔حضرت ابراہیم کو تصور نہ ہوتا کہ کیا فائدہ یہاں اذانِ حج دینے سے، اعلانِ حج کرنے سے؟تو ضمانت دے رہا ہے۔”( یَا تُوکَ ) “، میں کہتا ہوں کہ آئیں گے اس آواز پر اور حال کیلئے وعدہ نہیں ہے، مستقبل کیلئے ”یَا تُوکَ“، آئیں گے تمہاری آواز پر۔”رِجَالًا“، پاپیادہ بھی آئیں گے۔”وکل علی ضامر“اور ہر دبلے پتلے جانور پر آئیں گے۔ ماشاء اللہ تعلیم یافتہ افراد ہیں، صاحبانِ فہم ہیں، صاحبانِ علم ہیں، تو وہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ دبلے پتلے سے کوئی محبت ہے۔ عرب میں دبلا پتلا ہونا گھوڑے کی تیز رفتاری کی علامت تھا۔ جب گھڑ دوڑ ہوتی تھی تو بھوکا رکھا جاتا تھا گھوڑوں کو او رجہاں مشق کروائی جاتی تھی، اس میدان کا نام تھا”مضمار“ یعنی دبلا کرنے کی جگہ۔ تو یہ دبلا ہونا تیز رفتاری کا کنایہ ہے۔

اب میں کہتا ہوں کہ یہ اجمالِ قرآنی کہ ہر تیز رفتار سواری پر۔ اب جتنا ارتقائے زمانی کے ساتھ تیز رفتاری کی منازل بڑھتی جائیں گی، وہ سب قرآن کی آواز کی تصدیق ہے۔ہر تیز رفتار سواری پر۔ اب موٹرپر سوار ہوئے تو وہ وعدئہ قرآنی کی تکمیل کا ایک درجہ۔ ریل پر سوار ہوئے تو وہ ا س کے وعدہ کا ایک درجہ۔ اب دنیا سوچتی رہے، یہ سواریاں نئی ہیں تو بدعت۔ میں کہوں گا کہ اعلانِ قرآنی کی تصدیق ہے تو عبادت۔ شکل نہ دیکھئے کہ نئی ہے۔ یہ دیکھئے کہ کام وہ ہے یا نہیں؟ تو کہاں تھا کہ ہر تیز رفتار مرکب پر آئیں گے۔ اب یہ تیز رفتاری میں جتنی زیادتی ہو، اتنا ہی سمجھئے کہ اعلانِ قرآنی کی تصدیق ہے۔

ہمارے ہاں تو مجاز تھا، اس وقت تو یہ حقیقت ہے کہ دنیا اُڑ اُڑ کر جارہی ے۔ پرواز کرکے جارہی ہے تو یہ کہہ دیا گیا تھا کہ یہ سب آئیں گے۔ بحمدللہ حجاج کی تعداد جو اخبار میں آتی ہے۔ وہ لاکھوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ تو یہ سب جو جاتے ہیں، تو میں کہتا ہوں کہ کیوں جارہے ہیں؟ کس لئے جارہے ہیں؟ وہاں جاکر کسی کی زیارت ہوگی، وہاں جاکر کسی کی قدم بوسی ہوگی، وہاں جاکر کسی کے دست حق پر بوسہ دیں گے۔ایک مکانِ بے مکیں۔ ایسا گھر جس میں رہنے والا کوئی نہیں۔ یہ تمام دنیا جاتی ہے اس مکان کیلئے ۔ تو کیا ہوتا ہے؟ صرف ایک شب کا اعزاز ، صرف ایک شب کا احترام۔ ہمارا ہمدرد بن کر بھی ہمیں بہت سمجھایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں دیکھو! یہ جو سب کچھ تم کرتے ہوتو بہت دولت تمہاری جیبوں سے خرچ ہوجاتی ہے، بیکار، یہ اتنی دولت تم تعمیری کاموں میں لگاؤ۔ادارے قائم کرو او رجو کام کی باتیں ہیں، وہ کرو۔ یہ بیکار اتنی دولت تمہاری جیب سے چلی جاتی ہے۔

میں اس دنیا سے کہتا ہوں کہ یہ جتنی دولت ہمارے ہاں ہر جگہ صرف ہوتی ہے ، کیا وہ اس کے برابر ہے جتنی تمام مسلمانوں کی جیبوں سے دولت صرف ہوجاتی ہے، ہر سال حج کو جاتے ہیں اور وہاں جاکر کیا ملتا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ نسبتوں کے اعزاز میں معاشی پہلوؤں پر نظر نہیں کرنا چاہئے۔میں کہتا ہوں کہ کچھ نہیں ملتا۔ مگر یہی کیا کم ہے کہ ہم وفادار بندے ثابت ہوتے ہیں۔ فرض کیجئے کہ جس جس چیز پر ہم پیسہ صرف کرتے ہیں، آپ کا دل دکھتا ہے، آپ ہمارے بڑے خیر خواہ ہیں۔ ہمیں خیر خواہی کا پتہ تاریخ سے معلوم ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ ہم چاہے کتنے ہی سادہ لوح ہوں، کند ذہن ہوں، ہم افادیت اپنے ان شعائر کی نہ سمجھیں مگر آپ کی مخالفت سے ہم سمجھ رہے ہیں کہ یہ ہماری زندگی کیلئے کوئی ضروری چیز ہے۔

تو جناب! یہ تمام دولت جو صرف ہوتی ہے، ایک ایسے گھر کو دیکھنے پر جہاں رہتا کوئی نہیں۔ اس کے بعد خیر یہیں تک غنیمت۔لیکن یہ دسویں ذی الحجہ کو عوام منیٰ میں قربانی بھی کرتے ہیں۔ ارے صاحب! حج تو کرلیا، اتنا روپیہ آپ نے صرف کردیا۔ اب یہ ایک بیچارے کی جان بھی لیں اور اپنا پیسہ بھی صر ف کریں۔ آجکل تو حقوقِ حیوانات کیلئے ادارے قائم ہیں، وہ بھی فریادکریں اور آپ بھی مل کر فریاد کریں کہ یہ ایک جانور کی جان بھی جاتی ہے اور ہماری جیب سے روپیہ بھی جاتا ہے۔ تو یہ کتنا پیسہ اس کے خون کے ساتھ زمین پر بہہ جاتا ہے۔

مگر کیا کیا جائے کہ کسی فقہ اسلام کی رو سے اگر حج کرنا ہے تو پھر یہ قربانی بھی کرنا ہے۔ اور میں کہتا ہوں کہ ذرا غو رکیجئے کہ یہ قربانی ہے کیا؟ وہاں تو میں نے کہا تھا کہ ایک نسبت کا احترام ہے، وہ خدا کی طرف کی نص ہے مگر یہ قربانی آخر کیا ہے؟ اور پھر وہ بھی منیٰ میں ہو اور پھر دس ذی الحجہ کو ہو۔

پتہ چلتا ہے کہ یہ اس کے خلیل کی جو قربانی تھی، اُس کی یاد ہے۔ اب یہ اللہ کی یاد نہیں۔ خاص براہِ راست اس کے خلیل کی یاد ہے۔ چونکہ دس ذی الحجہ کو انہوں نے اپنے فرزند کو حکم الٰہی سے ذبح کرنا چاہا تھا تو اب قیامت تک کے مسلمانوں کو حکم ہوگیا اور وہاں تو حج میں واجب ہے۔ لیکن جو حج کو نہیں گئے، تو اپنے اپنے گھروں پر۔ وہ بھی سنت۔ اور پھر اس کے مسلمان ایسے پابند کہ بہت سے واجبات چھوڑ دیں گے مگر اس قربانی کو ضرور کریں گے۔

تو صاحب! اب دیکھئے کہ کتنی دولت جیب سے جارہی ہے اس قربانی کے حکم کی بدولت۔وہ حج کا جزو، جو قربانی ہے، وہ بھی او ریہ جو بقرعید پر اپنے اپنے گھر میں قربانی کرتے ہیں، وہ بھی۔ اس میں کتنی دولت چلی جاتی ہے اور یہ قربانی ہے کیا؟ چونکہ خلیل اللہ نے قربانی کی تھی،تو اب نہ خلیل اللہ ہیں، نہ وہ قربانی اس وقت ہے۔یہ یادگار ہی تو ہے۔ یہ خلیل اللہ کی یادگار میں اتنی قربانیاں اسی تاریخ میں ہوجاتی ہیں۔ اور اب میں آپ سے پوچھوں گا کہ ذرا غور کیجئے۔ ہر نقطہ نظر کے مسلمان کی متفقہ روایت کہ کیا واقعہ وہ قربانی عمل میںآ گئی تھی؟ ہر مسلمان جانتا ہے کہ وہ قربانی عمل میں نہیں آئی۔ بعد میں فدیہ آگیا تو بس ٹھنڈے دل سے غور کیجئے ، ہر مسلمان جو رسول کو مانتا ہے، وہ غور کرے کہ سابق دَور کے رسول کی ملتوی شدہ قربانی تو یاد رکھنے کے قابل ہو اور اپنے رسول کے گھر کی وقوع میںآ ئی ہوئی قربانی ، وہ فراموش کرنے کے قابل ہو۔

ارے میں کہتا ہوں کہ ایک ہی مہینے کا فرق ہے۔ وہ قربانی دس ذی الحجہ کو ، یہ قربانی دس محرم کو۔ اس قربانی کی یادگار پر اتنا زور دیتا ہے اور اس قربانی کے خلاف فتوے دیتا ہے۔ آخر اس کی یادگار نے کیا قصور کیا ؟ اب یہ دیکھئے کہ حسین کی قربانی اور ابراہیم کی قربانی۔ادھر سے ابراہیم کی قربانی پہلے اور حسین کی قربانی بعد میں۔یوں کہہ دیجئے ، ان میں اتنا بڑا فرق ہے ، وہاں ابراہیم کا کردار اور ہے، اسماعیل کا کردار اور ہے۔ ابراہیم کا کردا رہے قربانی کرنا اور اسماعیل کا کردا رہے قربان ہونا۔ اور کربلا میں حسین بیک وقت واحد خلیل بھی ہیں اور ذبیح بھی۔

یہ ذبیح ہیں رسول اللہ کی نسبت سے اور خلیل ہیں علی اکبر و علی اصغر اور سب قربانیوں کے لحاظ سے جو انہوں نے پیش کیں۔تو یہ اہمیت ہے اس قربانی کی۔

اب یہاں سے ایک سوال کا میں جواب دوں، دنیا کہتی ہے کہ ہاں صاحب! یادگار قائم کی جائے مگر غم کیوں کیا جائے؟ ارے اونچے درجہ پر فائز ہوئے شہادت کے تو اس پر خوش ہونا چاہئے۔ یہ غم کیوں کیا جائے؟ میں کہتا ہوں اصول بدلتا نہیں ہے۔ نتیجہ دیکھئے ، اسماعیل کی قربانی اور حسین کی قربانی میں فر ق ہے۔پہلے جو منطقی صورت ہے، وہ عرض کروں، پھر تشریح کروں گا۔ ماشاء اللہ اربابِ فہم تو اُسی سے سمجھ جائیں گے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر روزِ عید قرباں غم کیا جاتا، مسلمانوں میں تو پھر ہم عاشور کے دن خوشی کرتے۔ مگر روزِ قربانیِ اسماعیل عید ہے۔ نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں، عیدیں ملی جاتی ہیں۔ تو میں کہتا ہوں کہ یہ عید کس چیز کی ہے؟ اب مصائب کے انداز میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ

عید کس چیز کی ہے؟ اس کی ہے کہ نبی زادہ بچ گیا۔ تو عاشور کے دن غم کیجئے کہ رسول زادہ قتل ہوگیا۔اور رسول زادہ نہیں، ارے پیغمبر کا پورا گھر لوٹ لیا گیا۔ پورا باغ قطع کرلیا گیا۔

بس ہوسکتا تھا کہ میں یہیں مصائب عرض کروں مگر ایک ضروری پہلو اور عرض کرنا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ روزِ عید قرباں یاد رکھنا ہے تو مسلمان جمع ہوتے ، تذکرئہ قربانیِ اسماعیل ہوجاتا۔ جن قرآنی آیت میں یہ ذکر ہے، ان کی تلاوت ہوجاتی۔ خطبہ عید الاضحی میں وہ آیتیں پڑھی جاتی ہیں جن میں ذکر قربانی ہے۔ یہ کافی تھا لیکن آخر یہ اتنے جانور کیوں ذبح کئے جاتے ہیں؟ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ لفظی تذکرہ کا ذہن پر اتنا اثر نہیں پڑتا جتنا اثر عملی شبیہ کا پڑتا ہے۔تو جس شرع نے یہ حکم دیا ہے، اُسی اصول پر آپ قائم رہتے۔ پھر ہم سے نہ کہتے کہ تذکرئہ حسین میں بس مجالس کافی ہیں۔ یہ سب مظاہرات کیوں ہوتے ہیں؟ یہ سب شبیہات کیوں بنائی جاتی ہیں؟ عید قرباں کے دن جس لئے جتنی قربانیاں کی جاتی ہیں، وہ منیٰ میں جزوِ حج کی حیثیت سے۔

بس اسی لئے شبیہات بنائی جاتی ہیں کہ لفظی بیان میں وہ طاقت نہیں ہے جتنی کہ شبیہ میں ہوتی ہے۔ اب ماشاء اللہ اس سوال کا جواب تو ہوگیا ۔ آپ حضرات مطمئن ہوگئے۔ اب آخر میں ایک پہلو کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ یہ شبیہ کس چیز کی ہے؟ کس کی شبیہ ہے؟ یہ رواروی میں کہہ دیجئے گا کہ جنابِ اسماعیل کی۔میں کہوں گا کہ ذرا غور کر کے بتائیے کہ یہ شبیہ جنابِ اسماعیل کی ہے؟وہ تو ذبح نہیں ہوئے، پھر یہ شبیہ کس کی ہے؟ اگر غور کیجئے تو یہ جنابِ اسماعیل کی شبیہ نہیں ہے،یہ اُس گوسفند کی شبیہ ہے جو جنابِ اسماعیل کے بدلہ میں آیا۔وہی تو ذبح ہوا تھا۔

تو بس ایک اصول یاد رکھئے کہ اگر جانور بھی نبی زادے کے کام آئے تو وہ یاد رکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ اب اگر ہم ذوالجناح نکالیں تو نہ کہئے گا کہ اس کے کیا معنی ہیں؟ ہم وفادار ہیں، ہم اُس جانور کو بھی یاد رکھتے ہیں جو آلِ رسول کے کام آیا۔ اب انسان اگر نہ کام آئے ہوں اس وقت پر تو ہم انسانوں کو بھول جائیں گے مگر اس جانور کو یاد رکھیں گے جو آلِ رسول کے کام آیا۔ ذوالجناح نے کس نازک وقت پر حسین کا ساتھ دیا۔


شعائرِ الٰہیہ ۴

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

(”( وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰهِ فَاِنَّهَامِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب ) “) ۔

دو دن بغیر شعائر کے لفظ کے معنی سمجھا ئے ہوئے اور بتائے ہوئے اصولاً عبادت اور تعظیم کے فرق کا بیان ہوا۔ کل تیسرے دن شعائر کے لغوی مفہوم پر تبصرہ ہوا۔ اب آج یہ دیکھنا ہے کہ قرآن مجید نے جو حکم دیا ہے کہ شعائر اللہ کی تعظیم کرو تو خود قرآن مجید سے بھی کچھ رہنمائی ہوتی ہے کہ آخر شعائر اللہ ہوتے کیا ہیں؟ تو یہاں یہ پہلے سے پیش نظر رکھنا چاہئے کہ قرآن مجید نے کہیں کوئی جامع فہرست شعائر اللہ کی بیان نہیں کی ہے۔ اگر کوئی فہرست شعائر اللہ کی بیان کردی جاتی تو پھر کوئی بھی کسی چیز کو شعائر اللہ میں سے کہتا یا بتاتا تو اُس سے اس مطالبے کا حق ہوتا ہر ایک کو کہ قرآن نے تو اس فہرست میں اس چیز کو بیان نہیں کیا ہے، یہ تم اسے کیونکر شعائر اللہ میں قرار دے رہے ہو؟ لیکن اگر قرآن مجید کے اندازِ بیان سے یہ ظاہر ہو کہ اسے شعائر اللہ کی کوئی فہرست پیش کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ انسانی ذہن کی رہنمائی کیلئے بطور مثال کچھ شعائراللہ کا تذکرہ کرنا ہے جس سے تمہیں یہ مددملے، یہ سمجھنے میں کہ کس قسم کی چیزیں شعائر اللہ ہواکرتی ہیں۔ تواس کیلئے مجھے قرآن مجید میں دو آیتیں ملتی ہیں۔ دونوں جگہ ایک ہی جیسے الفاظ ہیں جن سے ہر ایک، اس کیلئے عربی دانی کی ضرورت نہیں۔جب اس کا لفظی ترجمہ کیا جائے تو اسے ہر غیر عربی دان بھی اسی طرح سمجھ سکتا ہے جس طرح کہ میں نے عرض کیا۔تو ایک آیت یہ ہے :

)( اِنَّ الصَّفَاوَالْمَرْوَة مِنْ شَعَائِرِاللّٰهِ ) ( ۔

”یقینا صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں“۔

یہ ”مِنْ “نہ ہوتا تو یہ معنی ہوتے کہ یہ دونوں شعائر اللہ ہیں۔مگر جیسے اُستاد شاگرد کو سمجھانے کیلئے دو ایک مثالیں دے دیتا ہے۔ تو ارشاد ہوتا ہے کہ صفا او رمروہ شعائر اللہ میں سے ہیں اور یہ جن جمادات میں سے ایک چیز منتخب کی، جیسے حجر اسود کے بیان میں ایک دن کہہ چکا ہوں کہ یہ بت پرستی سے بہت مشابہ تھا۔ وہ بھی پتھروں کو پوجتے تھے اور یہ بھی پتھر تھا۔مگر شباہتوں سے حقیقت کا تعلق نہیں ہوتا۔ یہ پہاڑ کیا ہوتا ہے؟ پتھروں کا مجموعہ، تو انہی جمادات میں سے ایک چیز منتخب کی اور اُسے بیان فرمایا کہ صفا او رمروہ یہ دو پہاڑیاں شعائر اللہ میں سے ہیں۔

اب دونوں آیتیں ایک ساتھ پیش کئے دیتا ہوں ۔ مگر تبصرہ الگ الگ ہوگا۔ یہ جمادات میں سے ایک قسم ، نام دو لے دئیے۔ اس کے بعد نباتات کی صنف کو چھوڑ دیا۔ نباتات کی نوع میں سے کوئی چیز مجھے نہیں ملتی جسے کہا گیا ہو۔ اب حیوانات کو لیا تو حیوانات کیلئے کہا:

)( وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهاَلَکُمْ مِنْ شَعَائِرِاللّٰهِ ) ( ۔

جو الفاظ وہاں ، وہی الفاظ یہاں۔ ”دیکھو! یہ قربانی کے جانور، یہ شعائر اللہ میں سے ہیں“۔

تو یہاں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ یہ قربانی کے جانور شعائر اللہ ہیں بلکہ وہی الفاظ استعمال کئے گئے کہ قربانی کے جانور شعائر اللہ میں سے ہیں۔ اب ہمارے لئے دعوتِ فکر ہوگئی کہ ہم غور کریں کہ آخر صفاو مروہ میں کیا بات ہے کہ یہ دونوں شعائر اللہ میں سے ہوگئے اور یہ جانور، ان میں کیا بات ہوگئی کہ یہ شعائر اللہ میں سے ہوگئے اور ان کی تعظیم کو کہا گیا کہ تقویٰ کا جزو ہے جیسے کہا گیا کہ:

)( اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰهِ اَ تْقٰکُمْ ) ( ۔

”تم میں سب سے زیادہ عزت اُس کی ہے پیش خدا جو سب سے زیادہ تقویٰ رکھتا ہو“۔

تو میں کہتا ہوں کہ دونوں کو ملائیے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ پیش خدا اس کی عزت زیادہ ہے جوشعائر اللہ کی زیادہ تعظیم کرتاہے۔

اب جناب! یہ صفا اور مروہ میں کیا خصوصیت ہے۔ابتداء سے سنتے رہے کہ کوہِ صفا اور کوہِ مروہ،کوہ کے معنی پہاڑ۔ عربی میں جبل، فارسی میں کوہ، اُردو میں پہاڑ۔ پہاڑوں سے ہمارے ذہن میں تصور عظمت جسمانی کا آیا۔پہاڑ تو پہاڑ ہی ہے۔ تو ہم سمجھے کہ کوئی اتنے اونچے پہاڑ ہوں گے کہ ان کی جسامت کے لحاظ سے اللہ نے ان کو شعائر اللہ میں سے قرار دیا۔ لیکن مجمع میں ماشاء اللہ بہت افراد ہوں گے جو فریضہ حج سے سبکدوش ہوئے ہوں یا جو عمرے کو گئے ہوں اور پھر سب نے برابر سنا ہے کہ یہ پہاڑیاں ہیں۔تو پہاڑ ہیں۔ ورنہ ہم نے جیسے جیسے پہاڑ دیکھے ہیں، اس کے لحاظ سے وہ کیا ہیں؟ ہمارے ہاں تو بعض ٹیلے اس سے زیادہ اونچے ہیں،جتنے زیادہ اونچے وہ پہاڑ ہیں۔لہٰذا اگر عظمت جسمانی کا معیار ہوتا شعائر اللہ میں سے ہونے کا تو میں تو ہندوستانی ہوں، ہمارا ہمالیہ زیادہ حقدار تھا جس کی بلندی حد معلوم کرنے کیلئے یا اس کی بلند چوٹی پر پہنچنے کیلئے آجکل دنیائے متمدن مشغول ہے اور اس کو معیار ارتقائے انسانی سمجھتی ہے ۔

تو جناب! اب وہ پہاڑیاں کیاہیں؟ جب گیا ہوں حج کیلئے تو اسی سال ڈائنامائٹ سے وہ پہاڑیاں اڑائی گئی تھیں کیونکہ میں پہلے بھی ہوائی جہاز سے گیا تو اتفاق سے سب سے پہلا جہاز جوجارہا تھا، اسی سے میں گیا تو ڈیڑھ مہینہ پہلے پہنچ گیا۔ تو جب میں گیا ہوں تو اڑائی جارہی تھیں۔ ایک طرف سے ایک حصہ باقی تھا ۔ تو شاید میں یا میرے ساتھ کے چند آدمی آخری فرد ہوں گے جو پہاڑی کی شکل میں اس پر چڑھے ہوں گے اور ان کے بعد پھر میرے ہی سامنے پھر سیڑھیاں بن گئیں۔ اب سنا ہے کہ ڈھلان ہوگئی ہے۔ وہ سیڑھیاں بھی ختم ہوگئی ہیں۔ ایسی باتوں کو کوئی نہیں سوچتا کہ یہ بدعت ہے۔ وہ تو پہاڑ پر چڑھنے کا حکم تھا، اب وہ پہاڑ رہا ہی نہیں۔ اب ان سیڑھیوں پر چڑھ کر وہ چوٹی تصور کرلی کہ آگئی۔ اونچے زینے پر چڑھ کر۔وہاں سے اس ڈھلان پر چڑھ کر وہ ہوگیا کہ جناب یہ بلندی ہے اس کی۔ ہمارے ہاں کا بڑا منبر سات زینوں کا ہوتا ہے۔ تو بس اتنی بلندی کوہِ صفا کی ہے اور اسی کیلئے کبھی ممکن ہے ، کہہ چکا ہوں کہ جب تبلیغِ عام کیلئے رسول کوہِ صفا پر تشریف لے گئے تو یہ کوہِ صفا پر جانا نہ تھا تبلیغِ رسالت کیلئے ایک منبر کی تلاش تھی۔جہاں صفا موجود تھا، وہاں اُسے منبر بنا لیا۔جہاں صفا نہ تھا، وہاں پالانِ شتر کو منبر بنالیا۔

تو اب جسامت کے لحاظ سے تو یہ ہے کہ وہ پہاڑ مجھے تو معلوم نہ ہوتا کہ پہاڑ ہے۔پہلے سے معلوم تھا کہ پہاڑ ہے تو سمجھا کہ پہاڑ ہے۔ اس کے بعد پھر وہ کیوں ہے شعائر اللہ میں سے؟ کیا(معاذاللہ) اللہ تعالیٰ کے جلوہ کا ظہور کبھی اس پر ہوا ہے؟

تو حضورِ والا! ہم اُسے لامکان سمجھتے ہیں، جسم و جسمانیت سے بَری۔ کسی کو اوتار ماننا بھی شرک سمجھتے ہیں ، کسی جگہ اس کے جلوئہ ذات کا ظہور بھی ناممکن سمجھتے ہیں۔ تو یہ بات نہیں ہوسکتی کہ وہاں کبھی اس کا جلوہ نمودار ہوا ہو۔ تو پھر آخر کیا بات ہے کہ یہ پہاڑیاں شعائر اللہ میں سے ہوگئیں۔ اس کا جواب مجھے مذہب کی تاریخ سے ملا اور وہ تاریخ مذہب جو حدیث سے مرتب ہوئی کیونکہ اس دور کی باتیں تاریخ نویسوں کے حدودِ علم سے باہر ہوتی ہیں۔ ماوراء التاریخ کا دَور ہے تو اس لئے دنیا کو جو حدیثوں سے ثابت ہوتا ہو، اسی کو تاریخ ماننا پڑے گا۔

تو جناب! تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ پر توکل کرنے والی ایک بی بی ، وہ کون؟ جنابِ ہاجرہ، خلیل اللہ کی شریک حیات،جنابِ اسماعیل ان کے فرزند۔ ابھی صغر سنی کی منزل میں، دودھ پیتا ہوا بچہ اور اب یہاں دنیا کے عام الفاظ یا عام تصور یہ کہ پہلی بیوی جو تھیں، جنابِ سارہ، انہوں نے کہا کہ میں یہاں ان کا رہنا گوارہ نہیں کرتی، ان کو لے جائیے۔تو گویا بیوی کی فرمائش سے مجبور ہو کر دوسری بیوی کو لے کر نکل آئے اور ہوسکتا ہے کہ اس بیوی کی فرمائش بہانہ بن گئی ہو کسی مقصد الٰہی کی تکمیل کا کیونکہ وہ بیوی کوئی معمولی بیوی نہیں تھی۔خاندانِ رسالت سے تھی وہ بیوی اور ایسی بیوی تھی ، قرآن مجید سے پتہ چلتا ہے کہ فرشتوں نے اُسے اہل البیت کہہ کر خطاب کیا۔ بیوی اہل البیت میں داخل ہونے کے قابل نہیں ہوتی۔ اُمِ سلمہ جیسی بیوی اہل البیت میں داخل نہیں کی جاتی مگر اُسے ملائکہ نے اہل البیت کہہ کر خطاب کیا تو وہ اس لئے نہیں کہ رسول کی بیوی ہے بلکہ اس لئے کہ وہ بیت رسالت سے ہے اور کچھ خاص صفات کی حامل ہے۔ میرے پاس ان کی جلالت قدر کے شواہد احادیث سے موجود ہیں کہ جس منزل پر مثلاً جنابِ سیدہ عالم کی ولادت میں روایت ہے کہ جنابِ خدیجہ سے پیغمبر اسلام کی شریک حیات ہونے کی وجہ سے تمام خواتین مکہ نے قطع تعلق کرلیا تھا۔ تو اب ان کے ہاں ولادت ہونے والی تھی تو کوئی مکہ کی عور ت تیار نہیں تھی کہ وہ مدد کو آئے۔

تو قدرت کی طرف سے کچھ خواتین بھیجی گئیں۔ ان خواتین میں سارہ کا بھی نام ہے اور اسی طرح سے اور مواقع پر خاندانِ رسالت کے، مثلاً حورانِ جناں آئی ہیں۔ یاوہاں حوا ہیں اور ان کے ساتھ سارہ کا نام بھی ہے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ سارہ کوئی معمولی عورت نہیں تھیں۔ بلند مرتبہ خاتون تھیں۔ اسی طرح اس بلند مرتبہ فہرست میں کلثوم، خواہر موسیٰ کا نام آیا۔ یہ بھی عام طور پر معلوم نہیں عام لوگوں کو کہ کلثوم نام تھا جنابِ موسیٰ کی بہن کاتو وہ بھی ایسی ہی خواتین میں سے ہیں جوایسے محل پر آئیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ خواتین بھی وہ ہیں جو ایک طرح کی زندگی کی مالک ہیں۔ زندہ نہیں ہیں تو وہ کیونکر آئیں مدد کو۔ وہ آرہی ہیں ، مدد کررہی ہیں خالق کے حکم سے۔

تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ خواتین بھی بلند پایہ خواتین ہیں۔ ان میں سے ہیں جنابِ سارہ۔ تو بہرحال انہوں نے کہا ہو یا نہ کہا ہو، بہرحال ہے یہی کہ ان کے کہنے سے یہ گئے۔ اب یہ لے جاتے کسی شہر میں، لے جاکر پہنچاتے، مگر یہ انہیں ایک بے آب و گیاہ میدان میں لے آئے، وہ کونسا؟ جہاں کعبہ ہے اور وہاں لاکر انہیں رکھ دیا۔ ایک خاتونِ محترمہ اور ان کا ایک بچہ صغیر، ایک کوزئہ آب اور دو تین روٹیاں پاس رکھ گئے۔ وہ کہاں تک فاقہ کرتیں؟ اب یہاں ایک جملہ جو عرض کروں گا، اُس سے پتہ چلے گا کہ کیا بیوی کے کہنے سے لائے؟ جب چلنے لگے، ہاجرہ نے پوچھا: یا خلیل اللہ! کس پر چھوڑا؟ کہا: جس کے حکم سے لایا ہوں۔

چلے گئے، اب وہ روٹی ختم ہوگئی، پانی ختم ہوگیا۔ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ پہلے ماں پر پیاس کا غلبہ ہوا، بھوک او رپیاس کا اور وہ غلبہ اتنا ہوا کہ بچے کا جو فطری ذخیرئہ غذا ہے، وہ ختم ہوگیا۔ شرو ع میں بچے کی غذا روٹی نہیں ہوتی۔ تو اب جب یہ منزل پہنچی تو بچے پر پیاس کا غلبہ ہوا، بھوک کا غلبہ ہوا۔ جب تک اپنی بھوک اور پیاس رہی، برداشت کیا لیکن جب بچہ تڑپنے لگا تو اب اپنی جگہ سے اٹھیں، ممکن ذریعہ کیا تھا؟ چاروں طرف دیکھا تو کہیں پانی کا نشان نہیں۔ ایک طرف کوہِ صفا نظر آیا اور دوسری طرف کوہِ مروہ نظر آیا۔ چونکہ بلندی پر جانے سے حد نظر میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے، لہٰذا پہاڑ پر گئیں کہ کہیں تو چشمہ ہوگا اُدھر تو نظر آئے گا۔ اُدھر گئیں کہ کہیں اِدھر ہوگا تو نظر آئے گا۔ مگر وہاں ہوتا تو نظر آتا ۔کہیں دور دور تک پانی نہیں۔ اب صورتِ واقعہ یہ بتاتی ہے کہ پانی تلاش کرنے کیلئے جاتی ہیں۔ مگر پھر تصور یہ ہوتا ہے کہ بچہ اکیلا ہے تو اُتر کر آجاتی ہیں بچے کے پاس۔ پھر اس کی تڑپ دیکھی نہیں جاتی۔ تو گویا اپنی نگاہ کو جھٹلاتی ہیں کہ پھر جاؤں ، پھر دیکھوں تو چشمہ نظر آئے یا کوئی قافلہ آتا ہوا نظر آئے اتفاق سے تواس سے پانی دستیاب ہو۔

غرض سات مرتبہ گئیں صفا سے مروہ تک اور مروہ سے صفا تک۔ تو جناب! وہ عمل ان کا اللہ کو اتنا پسند آیا کہ قیامت تک کیلئے جزوِ حج بنادیا۔ وہی سعی، سعی کے معنی ہیں دوڑنا۔ ظاہر ہے کہ صورتِ حال یہ ہے کہ اپنی ممکن تیز رفتاری سے چل رہی ہوں گی۔ تو وہ جزوِ حج بنادیا۔ سعی کے نام سے۔ ہر حاجی کسی بھی نقطہ نظر کا ہو لیکن حج اگر کرے گا تو وہ سعی بھی کرے گا۔ تو اب ان حاجی صاحب سے پوچھئے کہ کیا یہ بھی پیاسے ہیں؟ ان سے پوچھئے کہ کیا یہ بھی تلاشِ آب کررہے ہیں؟ تو نہ یہ پیاسے ہیں، نہ یہ تلاشِ آب کررہے ہیں۔اس کے معنی ہیں کہ اصل مقصد کا تعلق پہلے صاحب عمل سے ہوتا ہے۔ دوسرے احکام جو ہیںِ وہ اس کی یاد کو قائم رکھتے ہیں اور اگر شعوری طور پر ذہن میں اس کی یاد رہے گی تو پھر اس مقصد کی اہمیت بھی ذہن میں ضرور رہے گی جس کیلئے اس نے وہ کارنامہ انجام دیا۔تو اس کو جزوِ حج بنادیا۔

اب ایک اور پہلو کی طرف بافہم مجمع کو مخاطب کروں ، متوجہ کروں کہ وہ قادرِ مطلق جس نے بعد میں انتظام کیا، جو ابھی عرض کروں گا، وہ کیا اس پر قادر نہیں تھا کہ پہلے ہی وہ انتظام کردیتا سیرابیِ اسماعیل کا؟ کیا اسے اچھا معلوم ہوتا تھا کہ ایک فاقہ زدہ خاتون اتنی تگ و دو کرے، اتنی جدوجہد کرے مگر اسے تو قیامت تک کے افراد کو یہ سبق دینا تھا کہ جب تک سعی نہیں کرو گے، نتیجہ حاصل نہ ہوگا۔ اگر دنیا چاہتے ہو تو بغیر سعی کے نہیں ملے گی اور اگر آخرت چاہتے ہو تو بغیر سعی کے نہیں ملے گی۔ صرف نعرے لگادینے سے ، صرف کچھ نام لے لینے سے یہ اُمید نہ کرو کہ بہتر سے بہتر نتیجہ مل جائے گا۔اس کی راہ میں جدوجہدبھی کرنا ہوگی۔

صورتِ واقعہ یہ بتاتی ہے کہ یہ ہم تروتازہ جاتے ہیں، سات دفعہ چکر لگاتے ہیں۔ تھوڑا سا تھک جاتے ہیں۔چہ جائیکہ وہ بی بی جو نہ جانے کتنے دن سے بھوکی تھی اور کتنے دن سے پیاسی تھی۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ امکانی طاقت اتنی ہی تھی۔ اب جیسے تھکن سے چور ہوگئی تھیں اور اب جیسے کچھ نااُمید سی ہوگئی تھیں۔ تو بس جہاں انسانی طاقت ختم ہوئی، وہاں سے خدا کی قدرت شروع ہوئی۔ بس اب ساتویں دفعہ کے بعد جو پلٹیں تو دیکھا کہ جہاں بچہ ریت پر ایڑیاں رگڑ رہا ہے، وہیں سے پانی اُبل رہا ہے۔ اب یہ تفصیل توقرآن مجید میں نہیں ہے، روایتوں میں ہے۔ اب خلافِ توقع، خلافِ اُمید ایسی مایوسی کے عالم میں پانی نظر آرہا ہے تواب یہ انسانی تصور کی کمزوری ہے۔ اضطراب ہے کہ پانی چلا نہ جائے تو اپنی زبان سے کہا کہ ”زم زم“، یعنی تھم تھم۔ روایت بتاتی ہے کہ اگر زم زم نہ کہا ہوتا تو نہ جانے کہاں تک نہر بن کر جاتا کیونکہ اللہ کی خاص خاتون جو اس کے ہاں مقبول تھی، اس نے زم زم کہہ دیا تو گویا پانی اس کی اطاعت کررہا ہے۔ اب وہ وہیں رُک گیا۔ کنواں کہا جانے لگا۔ چاہِ زمزم ہوگیا ورنہ وہ چشمہ زمزم ہوتایا نہر زم زم ہوتی۔ خصوصیت زمزم کی کیا ہے؟ ماشاء اللہ حجاج کرام اندازہ کرسکتے ہیں، جو نہیں گئے ہیں، انہوں نے سنا ہوگا۔ اب تو سنا ہے کہ کچھ ایسا کردیا ہے کہ بند ہوگیا ہے، وہاں تک رسائی ہی نہیں ہے۔ لیکن جب تک رسائی تھی، اس وقت تک وہ لاکھوں آدمی، لاکھوں سے کم تو بحمدللہ مردم شماری ہوتی ہی نہیں حاجیوں کی۔ تو وہ لاکھوں آدمی پیتے ہیں ہر وقت، سقّے مشکیں بھرے ہوئے زمزم کا پانی پلاتے پھرتے ہیں جس کے پیسے وہ وصول کرتے ہیں اور لوگ اس زمانہ میں اب نہیں کرسکتے ہوں گے۔ اپنے کپڑے دھوتے ہیں، چادریں دھودھو کر لے جاتے ہیں اس سے۔ کفن اس سے دھوتے ہیں۔ دنیا والی چادریں بھی اور عقبیٰ والی چادریں بھی اور ڈبوں میں ، مشکوں میں جتنا ظرف ہو جس کے پاس، اتنا پانی ہر ایک بھر لیتا ہے۔ لیکن کبھی سننے میں نہیں آیا کہ زمزم نے بخل کیا ہو۔ کسی وقت سنا ہو کہ زمزم خشک ہوگیا۔

اب وہ پانی اس میں سے نہیں نکل رہا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ عالم امکان میں اللہ تعالیٰ نے نقشہ پیش کردیا ہے اپنے خزانہ عطا کا کہ یہ میرا مخلوق ایک چشمہ فیض ہے کہ اس میں سے جتنا لو گے، وہ دے گا۔ اس میں کمی نہیں ہوگی۔ تو میرا خزانہ عطا کہاں ختم ہوتا ہے۔ تو یہ ہے بس جو تاریخ مذہب سے ہمیں ملی۔

اب ہر صاحب فہم غور کرے کہ کوئی روایت نہیں بتاتی کہ جنابِ ہاجرہ کے پیر سے خون کا کوئی قطرہ اس زمین پر گر گیا ہومگر اللہ کی راہ میں جو چلی بھی تو اس بی بی کے قدم سے تھوڑی دیر کیلئے جو پہاڑیاں مس ہوگئیں ، وہ شعائر اللہ میں داخل ہوگئیں بنص قرآن۔ تو برائے خدا بتائیے کہ وہ زمین جہاں شہیدوں کا خون جذب ہوجائے، ہم اگر اُسے خاکِ پاک کہیں اور اس کا احترام کریں تو اُسے شرک کہا جائے؟ اگر وہ پہاڑیاں شعائر اللہ میں ہوسکتی ہیں تو پھر کربلا کی زمین بھی شعائر اللہ میں سے ہم کہیں تو اُسے قبول کیجئے۔

اس کے بعد وہ دوسری آیت میں نے پڑھی تھی:

)( وَالْبُدْنَ جَعَلْنَاهاَلَکُمْ مِنْ شَعَائِرِاللّٰهِ ) ( ۔

”وہ جانور کون جو قربانی کیلئے رکھے گئے ہیں، وہ شعائر اللہ میں سے ہیں“۔

اب اسی ترجمہ سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ابھی وہ قربان ہوئے نہیں ہیں مگر چونکہ قربانی کی نیت سے وہ رکھے گئے ہیں، اسی غرض سے وہ ساتھ رکھے گئے ہیں، لہٰذا بحالت حیات بھی وہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ بس اب عقل سے کام لیجئے اور یاد رکھئے کہ دین انہی کے لئے ہے جن کے پاس عقل ہو۔ وہ کوئی اور مذاہب ہوں گے جو عقل کے اوپر پہرے لگاتے ہیں۔ قرآن تو ہر جگہ صاحب عقل کو پکارتا ہے۔ارے بے عقلوں کو تو اس نے تکلیف شرعی سے ہی بری کردیا ہے۔مگر فطری طور پر بے عقل ہو، جان بوجھ کر بے عقل نہ ہو۔ ان کے خلاف وہ عقل ہی حجت ہوگی۔ عقل رکھتے تھے مگر تم نے عقل سے کام نہ لیا۔ تو اب دیکھئے کہ حیوان جو راہِ خدا میں خدا کے حکم سے یعنی حج کی راہ میں ہیں، لہٰذا راہِ خدا ہی کہہ سکتے ہیں۔اس کا قربانی کا حکم ہے، لہٰذا حکمِ خدا ہی ہوا۔حکمِ خدا سے قربان کرنے کیلئے ساتھ رکھے گئے ہوں تو وہ اپنی حیات میں بھی شعائر اللہ ہیں اور اسی سے سمجھ میں آئے گا کہ جب قربانی ہوجائے ، تب بھی وہ قابل احترام ہیں، شعائر اللہ ہیں۔

تو بتائیے حیوان راہِ خدا میں بحالت حیات شعائر اللہ ہوں تو وہ انسان جو راہِ خدا میں قربان ہوجائیں، وہ انسان شعائر اللہ میں نہ ہوں گے؟ ان کی تعظیم کیجئے تو شرک ہوجائے ، جانوروں کی تعظیم خدا کا حکم ہے اور انسانوں کی تعظیم شرک قرار پائے، جنہوں نے اپنی پوری زندگیاں راہِ خدا میں قربان کردی ہوں ۔

ماشاء اللہ صاحبانِ فہم ہیں، ذرا غور کیجئے جو میں عرض کررہا ہوں کہ شہید ہونا اپنے اختیار کی بات نہیں ہے ۔شہید ہونا قسمت سے وابستہ ہے۔ اپنے اختیار کی بات تو میدانِ جنگ میں جمے رہنا ہے۔ تو حضور! وہ جانور شعائر اللہ ہوں اور انسان شعائر اللہ نہ ہوں۔ میں نے کہا کہ وہ جانور ابھی ذبح نہ ہوئے ہوں، بحالت حیات شعائر اللہ ، تو اب نتیجہ نکالئے ، اگر عقل ہو تو پھر وہ انسان جو راہِ خدا میں قربان ہونے والے ہوں، وہ بعد شہادت ہی شعائر اللہ نہیں ہیں بلکہ وقت ولادت ہی سے شعائر اللہ ہیں اور اس کے بعد آپ کے جانے پہچانے ہوئے واقعات سب کے ہاں ہیں کہ رسول اللہ بچوں کے بوسے لیتے تھے۔

بلاشبہ ہے، روایت، وہ میں اب نہیں سمجھ سکتا اور فیصلہ نہیں کرسکتا کہ یہ بچوں سے محبت تھی یا شعائر اللہ کا احترام تھا۔ فیصلہ یہ نہیں کرسکتا، اس لئے کہ دین اسلام دین فطرت ہے۔ لہٰذا بچوں سے محبت بھی کوئی خلافِ شان با ت نہیں ہے۔بچوں سے محبت کرنا بھی منظورِ قدرت ہے۔ ہمیں بھی اپنے بچوں سے محبت ہونی چاہئے ۔ تو خلافِ شان ہوتا تو میں شک کا اظہار نہ کرتا، یقین کے ساتھ تو میں فیصلہ نہیں کرسکتا کہ یہ بچوں کی محبت ہے یا شعائر اللہ کا احترام ، مگر اب جو روایتیں گوشِ زد ہیں اور آپ کے بھی گوش زد ہیں او رمیری نظر سے بھی کتابوں میں گزری ہیں، ان کے پیش نظر ابھی تک تو میں شک کا اظہار کررہا تھا لیکن اب میں اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ نہیں، بچوں کی محبت محرکِ بوسہ نہ تھی بلکہ شعائراللہ کا احترام ہی مد نظر تھا۔

اس کا ثبوت کیا ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اگر بچوں کی محبت ہو تو پیشانی بھی اپنے بچے کی ہے، رخسارے بھی اپنے بچے کے ہیں، ہاتھ بھی اپنے بچے کے ہیں، سینہ بھی اپنے بچے کا ہے۔ مگر کیا بات ہے کہ جب بوسے لیتے ہیں تو ایک کے دہن کے بوسے لیتے ہیں اور ایک کے گلے کے بوسے لیتے ہیں؟ میں پوری ضمانت کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ سند کیسی ہے ، کس درجہ کی روایت ہے مگر بہرحال یہ روایت آپ نے سنی ہوگی کہ بعض وقت بچے کو ذرا یہ بات محسوس ہوئی۔ یہ آپ نے سنا ہوگا۔ ایک دفعہ سیدہ عالم کے پاس گئے اور یہ کہا کہ مادرِ گرامی ! ذرا دیکھئے ہمارے منہ سے کیا بدبو آتی ہے؟

سیدہ عالم نے کہا کہ تمہیں یہ تصور کیوں ہوا؟ تمہارے دہن سے تو مشک و عنبر سے بہتر خوشبو آتی ہے۔ یہ تم پوچھ ہی کیوں رہے ہو؟ تو کہا: بس اس لئے پوچھ رہے ہیں کہ ہم بھی نانا کی گود میں ہوتے ہیں اور جب ہماری باری آتی ہے تو ہم اپنا دہن بڑھاتے بھی ہیں تو نانا ہمارے منہ کو ہٹا کر گلے کے بوسے لے لیتے ہیں۔

سیدہ عالم حقیقت سے تو واقف تھیں مگر فرمایا کہ چلو، تمہیں تمہارے نانا جان سے ابھی پوچھ دیتی ہوں۔حسین کو ساتھ لیا اورآئیں بابا کی خدمت میں اور ممکن ہے بالکل الفاظ نہ ہوں۔اُس دن نقل بالمعنی کے متعلق عرض کرچکا ہوں۔ حقیقت حال وہی ہواور ممکن ہے کہ الفاظ ہمارے ہوں کہ وہ سیدہ عالم نے جیسے فرمایا کہ بابا جان! آپ ہی تو کہتے ہیں کہ حسین کے رونے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے ، مگر کیا بات ہے کہ آپ ہی کے عمل سے کوئی بات ایسی ہوجائے کہ اس کی آنکھیں اشک آلود ہوجائیں؟

فرمایا: کیوں، کیا ہوا؟ کہا: اس نے ابھی جاکر مجھ سے یہ کہا ہے۔

تو میں تو محسوس کرتا ہوں کہ رسول نے فرمایا ہو کہ ارے فاطمہ ! جانے دو، سن کر کیا کرو گی؟ انہوں نے کہا ہو کہ نہیں، میں تو چاہتی ہوں اس کو اطمینان دلانا۔ فرمایا: تو پھر سنو کہ حسن کے لب کے بوسے لیتا ہوں، اس لئے کہ زہردغا متصل ہے اس کے لبوں سے۔ اس کے گلے کے بوسے لیتا ہوں، اس لئے کہ خنجر جفا متصل ہے اس کے گلے سے۔

بس! اس روایت سے سمجھ میں یہی آتا ہے کہ وہی قربانی پیش نظر ہے جس کی بناء پر بوسے لے رہے ہیں۔ اور اب یہ سلسلہ برابر قائم ہے۔ یہ بھی روایت میں ہے کہ حسین آتے ہیں اور رسول فرماتے ہیں کہ یا علی ! ذرا پیرہن اٹھاؤ، حسین کے جسم سے۔

جناب شیخ جعفر شستری  نے لکھا ہے ”خصائص حسینیہ“ میں، پیرہن اٹھاتے ہیں، اب جابجا رسول بوسے لیتے ہیں اور علی بھی کہتے ہیں: یا رسول اللہ! یہ آپ کیا کررہے ہیں؟ فرماتے ہیں:

اُقَبِّلُ مَوَاضِعَ السُّیُوْفِ وَاَبْکِیْ “۔

”جہاں جہاں تلواریں پڑیں گی، وہاں وہاں بوسے لے رہا ہوں“۔

اب وہ تو ہر دن کچھ نہ کچھ اس سلسلہ میں عرض کرنا ہے کہ ہمارے گروہ پر مختلف سوالات ہوتے رہتے ہیں تو ان میں سے ایک یہ سوال بہت بڑا ہے جسے ایک شاعر نے کہا کہ زندہ کو رویا جاتا ہے۔

روئیں وہ جو قائل ہوں مماتِ شہداء کے

ہم زندئہ جاوید کا ماتم نہیں کرتے

یہ گویا بہت مشہور شعر ہے ۔ تو میں کہتا ہوں کہ ہم سے تو بعد میں پوچھنا چاہئے۔ وہ بچہ جب پیدا ہوا اور رسول کی گود میں لاکر دیا گیا ، اسی وقت پیغمبر اسلام کی آنکھوں میں آنسوآگئے اور گریہ فرمانے لگے۔ تو کسی نے کہا کہ رسول اللہ! یہ تو خوش ہونے کا موقع ہے، آپ رو کیوں رہے ہیں؟ آپ فرماتے ہیں: تمہیں نہیں معلوم اس پر مصائب کیا پڑیں گے؟ تو میں کہتا ہوں کہ ہم سے آپ پوچھ رہے ہیں کہ زندہ کو کیوں روتے ہو؟ اسی وقت رسول اللہ سے یہ پوچھتے کہ زندہ کو کیوں رو رہے ہیں؟ ارے یہ زندگی تو عالمِ معنی کی ہے، آنکھوں کے سامنے والی زندگی نہیں ہے اور وہ تو اس وقت حیاتِ عنصری کے ساتھ ،سانس لیتی ہوئی زندگی کے ساتھ رسول کی گود میں تھے اور اس کے باوجود رسول گریہ فرما رہے تھے۔

تو اب تو سمجھے کہ گریہ موت پر نہیں ہوتا، مصائب پر ہوتا ہے۔اگر پیغمبر خدا کو اس کی زندگی میں رونے کا حق تھا تو ہمیں اس

نوعِ زندگی میں رونے کا حق ہے۔ یہ کیا کہ زندہ کاماتم نہیں ہوتا، زندہ کو رویا نہیں جاتا۔ میں کہتا ہوں کہ جنابِ یوسف بھی تو زندہ تھے اور روایت کی بات نہیں ہے، نص قرآن کی بات ہے۔ قرآن سے ثابت ہے کہ انہیں اطلاع مل گئی تھی کہ زندہ ہیں، بعد میں کہا کہ جو میں جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔ تو بتایا جاچکا تھا انہیں کہ زندہ ہیں اور اس کے بعد کتنا روئے ہیں۔

)( اَبْیَضَّتْ عَیْنَاهُ ) ( ۔

”آنکھیں سفید ہوگئیں روتے روتے“۔

اب وہ ہر وقت رنج و غم سے خامو ش رہتے تھے۔ معلوم ہے کہ زندہ ہیں۔ تو یہ نہیں کہ مرنے کا غم ہوتا، جدائی کا بھی غم ہوتا ہے۔ مصائب پر بھی رونا ہوتا ہے۔ مختلف صورتیں ہیں گریہ کی۔ اب جو چیز عرض کررہا ہوں، وہ چاہے مختصر ہو مگر آپ کیلئے بڑے مرثیے کے برابر ہے۔ میں کہتا ہوں کہ عقلی اصول کے لحاظ سے(میں کہیں عقل کا دامن نہیں چھوڑتا)، کہ اگر ایک بھائی کے لب شعائر اللہ ہیں ، ایک بھائی کی گردن شعائر اللہ میں داخل ہے تو ماننا پڑے گا کہ ایک بہن کے بازو بھی شعائر اللہ میں سے ہیں اور وہ بھی بابِ مصائب میں جو روایات بیان ہوتی ہیں، اس میں ضمانت نہیں ہوتی صحت سند کی۔ بس کتاب میں ہوں۔ہاں! وہ چیز روا نہیں ہے کہ منبر پر جاکر بروقت تصنیف ہو۔

گویا ایک چیز جس کا کہیں وجود نہ ہو اور میں نے تو دیکھا کہ زیادہ تر یہی ہوتا ہے ، اس کیلئے کوئی وجہ جواز نہیں بلکہ وہ”( اِفْتَرَاعَلَی اللّٰهَ وَالرَّسُوْل ) “م یں داخل ہے، جو اگر حالت روزہ ہو تو روزے کو باطل کردیتی ہے۔ تو وہ حدیث کربلا میں بیان ہوئی ہے اور بڑے سخت وقت میں بیان ہوئی ہے۔


شہید کی جو موت ہے ۱

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًابَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْن ) ) ۔

ارشادِ الٰہی ہے کہ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو، وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کی بارگاہ میں رزق پاتے ہیں۔ عام طور پر جسے سب زندگی سمجھتے ہیں، وہ اس جسم سے روح کے ظاہری تعلق کا قائم ہونا ہے اور موت اس تعلق کا قطع ہوجانا ہے اور چونکہ موت طبعاً ناپسند ہے اور زندگی پسندیدہ چیز ہے، اس لئے خطروں سے قدم پیچھے ہٹائے جاتے ہیں۔ جب جان جانے کا اندیشہ ہو تو خطرہ سے دامن بچانے کیلئے پیچھے ہٹ جایا جاتا ہے۔ مگر اسلام نے زندگی اور موت کے مفہوم کو بدل دیا۔ اُس نے یہ بتایا کہ جسے تم زندگی سمجھتے ہو، ضروری نہیں کہ وہ زندگی ہو اور جسے تم موت سمجھتے ہو، ضروری نہیں ہے کہ وہ موت ہو۔بہت ممکن ہے کہ جسے تم زندگی سمجھتے ہو، وہ موت ہو اور جسے تم موت سمجھتے ہو، حقیقت میں وہ زندگی ہو۔

قرآن مجید کے مطالعہ سے ہمیں زندگی میں موت کے نقشے بھی نظر آتے ہیں۔ چلتے پھرتے ہوئے انسان، ہنستے بولتے ہوئے انسان، سانس لیتے ہوئے انسان۔مگر قرآن مجید انہیں زندہ تسلیم نہیں کرتا۔ ارشاد ہوتا ہے:

( لَایَسْتَوِی الْاَحْیَاءُ وَالْاَ مْوَاتُ ) ۔

”جو مردہ ہیں اور جو زندہ ہیں، دونوں برابر نہیں ہیں“۔

یہ زندہ او رمردہ وہ نہیں ہیں جو زندہ یہاں ہیں اور مردہ قبرستانوں میں ہیں بلکہ انہی افراد میں جو سامنے نظر آتے ہیں، کچھ زندہ ہیں اور کچھ مردہ ہیں۔ ایک آیت ہے ، ارشاد ہورہا ہے:

( یَااَیُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْااسْتَجِیْبُوْالِلّٰهِ وَالرَّسُوْل اِذَادَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ) ۔

”اے صاحبانِ ایمان! لبیک کہو اللہ اور رسول کی آواز پرجب وہ تمہیں دعوت دیں اس شے کیلئے جو تمہیں زندہ کردے گی“۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ ابھی مردہ ہیں۔ جب اس پیغام کو سنیں گے ، سمجھیں گے تو زندہ ہوجائیں گے۔

( اِنْ هُمْ اِلَّاکَالْاَ نْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلَا )

مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ اس سے بدتر ہیں۔ چوپائے تو پھر بھی ایک طرح کی زندگی رکھتے ہیں، جیسا کہ لفظ حیوان سے ظاہر ہے مگر سورئہ منافقون میں زندہ انسانوں کے بارے میں ارشاد ہورہا ہے :

( کَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُسَنَّدُةٌ ) ۔

”یہ لکڑیاں ہیں جو ہوا میں لگاکر کھڑی کردی گئی ہیں“۔

یہاں زندگی کا نام و نشان بھی نہیں ہے، یہاں تک کہ وہ زندگی جو حیاتِ نباتی کہلاتی ہے، جو پودوں میں ہوتی ہے، وہ بھی نہیں ہے کیونکہ وہ زندگی شاخ میں اس وقت ہوتی ہے جب تک اصل سے متصل ہو۔ جب اصل سے جدا ہوگئی اور خشک لکڑی کی صورت میں وہ کھڑی کر دی گئی تو اس میں اس زندگی کا پتہ بھی نہیں ہے۔ یہ تو زندگی میں موت ہے۔

شہدائے راہِ خدا، ان کی روح اور جسم میں تعلق کیسا؟ سر اور گردن میں بھی ارتباط نہ رہا مگر قرآن مجید کہہ رہا ہے کہ انہیں مردہ نہ کہو۔ دوسرے پارے میں سورئہ بقرہ میں یہی الفاظ ہیں:

( لَا تَقُوْلُوْالِمَنْ یُقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتابَل اَحْیَاءٌ وَ لٰکِن لا تَشْعُرُوْن ) ۔

”جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں، تمہیں شعور نہیں ہے“۔

یہاں جو الفاظ ہیں ان سے سطحی نظر رکھنے والا دھوکہ کھا سکتا ہے ۔ یعنی یہ کہا گیا ہے کہ مردہ نہ کہو تو اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ ہیں تو مردہ مگر مردہ کہناادب کے خلاف ہے۔ یعنی جیسے تہذیب لفظی سکھائی جارہی ہے۔ بہت سے الفاظ کے معنی درست ہوتے ہیں لیکن محاورہ کے لحاظ سے ان کا استعمال غلط ہوتا ہے۔ تمیز کے خلاف ہوتا ہے۔ جیسے کوئی چھوٹابڑے کو یہ لکھ دے ”سَلَّمُکَ اللّٰہُ“۔معنی کے لحاظ سے درست ہے ۔ کیا بڑوں کو سلامتی کی ضرورت نہیں ہے؟ لیکن کسی بڑے کو لکھ کر دیکھئے، ناراض ہوجائے گا کہ یہ صاحبزادے مجھ کو”سَلَّمُکَ اللّٰهُ “لکھتے ہیں۔اس کے معنی یہ ہیں کہ معانی کے لحاظ سے درست ہے لیکن محاورہ کے لحاظ سے ان کی شانِ بزرگی کے خلاف ہے کہ ان کو ”سَلَّمُکَ اللّٰہُ“ لکھا جائے۔

کراچی میں ایک مجلس میں ایک صاحب مجھ سے بہت کم عمر تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: اللہ عمر دراز کرے۔اب الفاظ چاہے درست ہوں، بڑا چھوٹے کیلئے کہے گا کہ عمر دراز ہو۔ چھوٹا بڑے کیلئے یہ نہیں کہے گا۔ اسی طرح خیال آتا ہے کہ شاید یہی قرآن مجید نے سکھایا ہو ہم کو کہ شہدائے راہِ خدا کو مردہ نہ کہو۔حالانکہ اسی میں آخر میں ایک لفظ ہے جو اس غلط فہمی کو دور کرتا ہے کہ زندہ ہیں، تمہیں شعور نہیں ہے۔ تو شعور کا تعلق کسی حقیقت سے ہوتا ہے، لفظی تہذیب سے نہیں ہوتا۔مگر جس آیت کو میں نے سرنامہ کلام قرار دیا ہے، اس میں یہ نہیں کہا جارہا کہ انہیں مردہ نہ کہو بلکہ یہ ارشاد ہورہا ہے کہ جو راہِ خدا میں قتل ہوگئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو۔

یہ سمجھنا اور نہ سمجھنا الفاظ سے متعلق نہیں ہے۔ کتابِ حقیقت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر حقیقت کو حقیقت سمجھنے کی دعوت دے۔ جب اس نے مردہ سمجھنے سے منع کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حقیقت میں وہ مردہ نہیں ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ زندگی کیا ہے او ریہ موت کیا چیز ہے؟ یہ زندگی اور موت کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ تمام اشیائے کائنات میں یہ زندگی اور موت کارفرما ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ جمادات ہیں، اس کے بعد نباتات ہیں، اس کے بعد حیوانات ہیں، اس کے بعد انسان ہے۔ زمین تو جمادات میں داخل ہے۔ مگر قرآن مجید میں دیکھئے تو زمین کی بھی دو حالتیں ہیں، ایک وہ حالت جب وہ مردہ ہے اور دوسری وہ حالت جبکہ وہ زندہ ہوگئی۔ ایک آیت میں نہیں، بہت سی آیتوں میں ایک ساتھ یہ الفاظ ہیں:

( یُحْیِ الْاَ رْضَ بَعْدَمَوْتِهَا ) ۔

”اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے“۔

تو ایک وقت میں وہ عالم موت میں ہوتی ہے اور دوسرے وقت میں اللہ اس کو زندہ کرتا ہے تو اس کو حیات مل جاتی ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ وہ، وہ ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے۔

( بَشِیْرًابَیْنَ یَدَیْهِ رَحْمَتَه )

”اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری دیتا ہوا وہ ہواؤں کو چلاتا ہے“۔

ہوائیں بادلوں کو لاتی ہیں ۔ان بادلوں کو ہم لے جاتے ہیں ایک زمین مردہ کی طرف اور وہاں پانی برساتے ہیں تو وہ زمین نباتات کو روئیدہ کرتی ہے۔ دیکھو! یوں ہم مردوں کو زندہ کرتے ہیں۔

تو زمین ایک وقت میں مردہ ۔ تو زمین مردہ کون؟ وہ بنجر زمین جس میں نباتا کے روئیدہ کرنے کی صلاحیت نہ ہو، جس میں زراعت نہ ہوسکے۔ وہ زمین مردہ اور زمین زندہ کون؟ جس میں نشوونما پیدا ہوجائے۔ قوتِ نامیہ کارفرما ہوجائے۔ سادہ زبان میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ذرا دیکھئے یہ نشوونما کیا چیز ہے؟یہ دانے اور بیج آپ کے ہاتھ میں رہتے تو جتنے تھے، اُتنے ہی رہتے۔ ان میں اضافہ نہیں ہوسکتا تھا۔ کسی صندوق میں رکھ دیتے ، صندوق کو مقفل کردیتے، صندوق کو کمرے میں رکھ دیتے۔ بہت سے قفل کمرے پر ڈال دیتے، پہرے لگا دیتے، یہ سب حفاظت کا سامان کرتے مگر جتنے تھے، اُتنے ہی رہتے۔ مگر یہی دانے اور بیج، زمین کی تھوڑی سی مٹی نکال کراگرزمین کو تہوں میں ان کو چھپا دیا جائے او رپانی سے تر کردیا جائے تو میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ جسے دنیا کے ہاتھ دباتے ہیں، اُسے اللہ اُبھارتا ہے۔ جسے دنیا خاک میں ملاتی ہے، اُسے اللہ پروان چڑھاتا ہے۔ تھوڑے ہی دن میں وہ بیج کونپلوں کی شکل میں زمین سے برآمد ہوتا ہے۔

غور فرمائیے ، یہ نرم و ملائم کونپلیں اور زمین کا سخت جگر۔ ایسی ملائم کونپل جو قطرئہ شبنم کا بار برداشت نہ کر سکے،جو ہوا کی ذرا سی جنبش سے متاثر ہوجائے۔ اتنی سخت زمین میں اس نے شگاف ڈال دیا۔تو یہ زبانِ بے زبانی میں جوا ب دے گی۔ اگر میرے سامعہ فہم میں طاقت ہو تو میں سنوں کہ وہ یہ کہے گی کہ یہ میری ذاتی طاقت نہیں ہے۔ یہ کسی اور طرف کی طاقت ہے جس سے میں نے یہ شگاف ڈال دیا۔

میں کہتا ہوں کہ اگر ایک کونپل میں اللہ کی طاقت کارفرما ہوجائے تو وہ پتھر میں شگاف ڈال دے تو اگر کسی کامل و اکمل و مکمل انسان کی انگلیوں میں اس کی طاقت کارفرما ہوجائے اور وہ لوہے کے در میں در آئیں تو حیرت کی کیا با ت ہے؟

غرض وہ دانے اور بیج تھوڑے عرصہ میں اتنے بڑھے کہ ممکن ہے کہ ایسا سایہ دار درخت ہوگیا کہ قافلے اس کے سائے میں پناہ لیں۔ ممکن ہے ایسی وافر زراعت ہو جائے جو پورے خاندان کی پرورش کرسکے۔ تو سب سے پہلے قابل غور بات یہ ہے کہ یہ اجزاء کہاں سے آئے؟ کہاں یہ اتنی پھیلی ہوئی زراعت اور کہاں وہ بیج! دوسری با ت یہ کہ جب ہم نے وہ دانے اور بیج زمین میں ڈالے تھے تو زمین خاک کے ذرّوں سے پٹی ہوئی تھی۔ اس دانے اور بیج کی خاطر کچھ مٹی ہمیں نکالنا پڑی ، تب اس کی جگہ ہوئی۔ تو بعد میں اس کو گنجائش کیونکر ملی؟ یہ جگہ کیونکر ملی کہ اندر ہی اندر اتنے پاؤں پھیلا لئے۔ جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ تمام اجزاء الگ سے نہیں آئے ہیں۔ زمین ہی میں قدرت نے کچھ ایسے اجزاء ودیعت کئے ہیں جو اپنے سے مافوق یعنی نباتات کے کام آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ زمین امانت داری کے ساتھ خدا کے ودیعت کئے ہوئے ان ذرّات کو محفوظ رکھتی ہے، ایک حقدار کے آنے کے انتظار میں۔ جب وہ حقدار آجاتا ہے تو زمین اللہ کی ودیعت کی ہوئی اس امانت کو ، ان اجزاء کو پیش کردیتی ہے اپنے سے بالا تر مخلوق کیلئے۔ بنیادی اجزاء وہی ہیں ۔ پھر مجھ کو معلوم ہے کہ کچھ فیض آفتاب سے کچھ فیض ہوا، کچھ فیض آب سے اور ذرات آآکر شریک ہوتے جاتے ہیں۔ مگر بنیادی اجزاء وہی ہیں جو خود زمین پیش کرتی ہے اُس پودے کیلئے ۔

اب ہر صاحب فہم غور کرے کہ یہ زمین کے اجزاء جو اس پودے میں شامل ہوگئے، یہ اپنی حدودِ وجود میں فنا ہوئے۔ یعنی اب وہ خاک میں نہیں رہے۔ اب وہ مٹی میں نہیں رہے۔ جو ان کے وجود کا ذریعہ تھا،اس کے لحاظ سے وہ فنا ہوگئے۔لیکن یہ فنا بلند تر بقا کا ذریعہ بنی۔ پہلے وہ خالی زمین تھی، اب جو ذرات خاک کے اس نبات کی ہستی میں شامل ہوگئے تو اب رزق میں اس کے ساتھ شریک ہوگئے۔اب جو اس پودے کی غذا ہوگی، وہ اس تک آپ پہنچائے گا۔

تو معلوم ہوا کہ یہ فنا تمہید بقا بن گئی اور بقا فقط بقا نہیں بلکہ بلند تر بقا۔یعنی جب تک فنا نہیں ہوئے تھے، تب تک وہ جمادات میں داخل تھے اور جب فنا ہوگئے اس بلند تر کی خاطر تو انہوں نے ایک نوع کی سرحد کو طے کرکے دوسری نوع میں قدم رکھ دیا۔ یعنی اب وہ نباتات میں داخل ہوگئے۔ جمادات کی منزل سے آگے بڑھ گئے۔اب یہ درخت کے پتے، یہ چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں، انہیں یونہی چھوڑ دیا جائے تو کیا یہ باقی رہیں گی؟نہیں، تمازتِ آفتاب سے خشک ہوجائیں گی اور اگر ان صورتوں سے ختم ہوگئیں تو ہوگئیں لیکن اگر یہ کسی ذی روح کی غذا بن گئیں ، کسی حیوان یا انسان کے کام آگئیں تو فنا تو اب بھی ہوئیں لیکن یہ فنا بلند تر بقا کا ذریعہ بنی۔ یعنی وہ ایک حیوان کے جسم میں لہو بن کر دوڑنے لگیں۔

معلوم ہوا کہ جب اپنے بالا تر کیلئے فنا ہو تو وہ فنا اپنے سے ترقی یافتہ بقا کی شکل حاصل کرتی ہے۔یہاں تک تو عقلائے زمانہ متفق ہیں۔ زمین نباتات کے کام آئے تو کسی کو اعتراض نہیں، نباتات حیوان کے کام آئیں تو کسی کو اعتراض نہیں۔ اب ہے حوان اور انسان کی منزل۔ یہاں بعض رحم دل جماعتوں کو رحم آتا ہے کہ حیوان کی قربانی انسان کیلئے کیوں ہو؟ یعنی زمین نباتات کے کام آئی، کسی کو رحم نہ آیا۔ نباتات حیوانات کے کام آئے تو کسی کو رحم نہ آیا۔ اب یہ حیوان کی قربانی انسان کی خاطر ہورہی ہے تو اب رحم آنے لگا کہ اس کی یہاں زیادہ ضرورت نہیں ہے۔

میں یہ کہتا ہوں کہ جذبہ ترحم قابل قدر ہے ، بحیثیت جذبہ کے رحم یقینا قابل قدر چیز ہے بشرطیکہ اس کا نتیجہ یہ ہو کہ جوجانور کی جان نہ لینا چاہے گا، وہ بھلا انسان کی جان کیوں لینا چاہے گا!بلاشبہ جذبہ ترحم قابل قدر ہے لیکن اصول جذبات کے پابند نہیں ہوتے۔اصولاً میرا سوال یہ ہے کہ زمین نباتات کے کام آئی تو ظلم نہ ہوا اور نباتات حیوان کے کام آئے اور انسان کے کام آئے تو ظلم نہ ہوا۔ حیوان انسان کے کام

آجائے گا تو ظلم ہوجائے گا ، کیوں؟وہ سب کیوں ظلم نہیں ہے اور یہ کیوں ظلم ہے؟ اس کاجو جواب ملے گا، وہ مجھے معلوم ہے کہ پتھروں اور زمین میں اذیت کا احساس نہیں ہے، انہیں درد اور دکھ سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ لہٰذا وہ ظلم نہیں ہے اور نباتات کو تکلیف اور درد کا شعور نہیں ہے۔ لہٰذاوہ ظلم نہیں ہے اور یہ حیوان بلبلاتا ہے، تڑپتا ہے، بے چین ہوتا ہے، لہٰذا یہ ظلم ہے۔

تو پہلے میں اصولاً یہ دریافت کروں گا کہ کیا ظلم کی بنیاد احساسِ اذیت پر ہے؟ ایک اصولی سوال ہے کہ کیا ظلم کی بنیاد احساسِ اذیت اور شعورِ تکلیف پر ہے؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی ڈاکٹر ہوش و حواس کے عالم میں آپریشن کردے تو ظلم ہوگا اور کوئی قاتل بیہوش کر کے قتل کردے تو ظلم نہیں ہوگا۔ تو دنیا کے قانونِ تعزیرات میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر قاتل ہوش و حواس کی حالت میں کسی کو قتل کرے تو ظلم ہے اور قابل سزا جرم ہے لیکن اگر کسی کو غشی کی حالت میں بیہوش کرکے قتل کردے تو ظلم نہ ہوگا، جرم نہ ہوگا۔جب ظلم نہیں تو جرم کیوں؟ لیکن دنیا کے قانونِ تعزیرات میں یہ شرط نہیں ہے۔ ہاں! مجھے معلوم ہے کہ ہوش و حواس کی ضرورت ہے جرم کیلئے مگر قاتل کے ہوش و حواس کی ضرورت ہے ، مقتول کے ہوش وحواس کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ سہی زمین کو احساسِ اذیت، نہ سہی نباتات کو شعورِ اذیت، آپ کو تو شعور ہے ، آپ کو کیا حق ہے کہ پھولوں کو جلاوطن کیجئے؟ آپ کیا حق ہے کہ شاخوں کو قلم کیجئے؟آپ کو کیا حق ہے کہ زمین کے سینے پر ہل چلائیے؟ آپ کو کیا حق ہے کہ اس کے اجزائے وجود کو منتشر اور تہہ و بالا کیجئے؟ اُسے اذیت کا احساس نہ ہو ، آپ کو تو ہے۔آپ کیوں ایسا کرتے ہیں؟

دوسری بات یہ ہے کہ کسی وقت میں یہ کہا جاتا تھا کہ پودوں میں احساسِ اذیت نہیں ہے، تو قابل قبول تھا۔ جب ہمارے ہندوستان کے سائنس دان نے یہ انکشاف کردیا کہ پودوں میں احساسِ اذیت ہے، احساسِ تکلیف ہے، پودوں سے بھی رونے کی آواز بلند ہوتی ہے۔ ہاں! ہنسنے کی آواز کسی نے کبھی نہیں سنی، رونے کی آواز پودوں سے بھی سنائی دی اور پودے کو سانس لیتے ہوئے تو میں نے خود ایک نمائش میں دیکھا۔ اب جب ان سے ثابت ہوگیا کہ احساسِ اذیت ہے تو جب تک تو اطلاع نہیں تھی، تب تک تو خیر ، مگر اس کے بعد سے تو نباتات سے بھی غذا حاصل کرنا موقوف ہونا چاہئے۔ اب معلوم ہوگیا کہ انہیں بھی اذیت ہوتی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ جیسی نمایاں اذیت حیوان کو ہوتی ہے، ویسی تو نباتات کو نہیں ہوتی۔ تو جب معلوم ہوگیا کہ ہوتی ہے تو چاہے نمایاں ہو، چاہے غیر نمایاں، اصولاً بات ایک ہی ہے۔

میں عرض کرتا ہوں کہ جب تک خوردبین ایجاد نہیں ہوئی تھی، اس وقت تک کوئی یہ کہہ لیتا کہ ہمارا اصول ہے کہ کسی ذی روح کو صدمہ نہ پہنچائیں۔خوردبین ایجاد ہوئی تو پتہ چل گیا کہ ایک پانی کے قطرے میں کتنے ذی روح ہیں جو ہم پی لیتے ہیں تو اس کے نظامِ حیات میں خلل پڑتا ہے ۔ ایک سانس جو ہم لیتے ہیں، اُس سے فضائے ہوا میں جو ذی روح مخلوق ہے، وہ کس قدر ہمارے ایک سانس کا شکار ہوجاتی ہے ۔ تو اس کے بعد تو اپنی زندگی تج دینا پڑے گی یا میرے ساتھ مل کر اس اصول کا قائل ہونا پڑے گا کہ اس نظامِ کائنات کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ ہر ناقص کامل کے کام آئے اور یہ ناقص کی فنا نہیں ہے بلکہ درحقیقت اس کے مقصد وجود کی تکمیل ہے۔

اب ظلم کا معیار مجھ سے سنئے کہ ظلم کی بنیاد احساسِ اذیت پر نہیں ہے، ظلم کی بنیاد اقدامِ ناحق پر ہے۔ یہ اقدامِ ناحق ذی شعور کے ساتھ ہوگا تو ظلم ہوگا اور غیر ذی شعور کے ساتھ ہوگا تو بھی ظلم ہوگا۔ اب دنیا کو یہ حقیقت خود معلوم نہ ہو تو ہمارے بتانے سے معلوم ہوجانی چاہئے کہ ہمارے نزدیک وہ حیوات ذلیل ہیں جو انسان کی غذا نہیں بنتے اور وہ حیوان عزت دار ہیں ، شریف ہیں ، اپنی نوع میں ، جو انسان

کے کام آتے ہیں۔ یہ تفریق آخر کیوں ہے؟ طب یونانی میں اور روزمرہ کی زندگی میں کہ ہر زمین اس لائق نہیں ہوتی کہ اس میں نباتات روئیدہ ہوسکیں۔ کچھ شورہ دار زمینیں ایسی ہیں کہ اگر ان میں بیج ڈال دئیے جائیں تو جل کر خاک ہوجائیں۔ ہر پودااس لائق نہیں کہ اس سے حیوان کا تغذیہ ہو۔ بعض پودے ایسے زہریلے ہوتے ہیں کہ اگر حیوان اور انسان کھالے تو زندہ نہ رہ سکے۔وہ کسی اور حیثیت سے انسان کے کام آئیں ،دواوغیرہ میں ، یہ اور بات ہے۔ خدا نے بیکارپیدا نہیں کئے ہیں۔

اسی طرح ہر حیوان کو نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ ضرور انسان کی غذا بن سکتا ہے۔ انسان کے علاوہ جتنی چیزیں ہیں، ان سب میں جسمانی پہلو ہے۔ لہٰذا ان میں سے کون مفید ہے، کون مضر، یہ تجربہ سے معلوم ہوسکتا ہے۔ حیوانات کچھ زہریلے ہیں کہ انسان کی زندگی کیلئے مضر ہیں لیکن انسان میں ایک مزاجِ روحانی بھی ہے ۔ روحانی حیثیت سے کون اس کیلئے مفید ہے اور کون مضر، اسے یہ جسمانی اطباء و حکیم اور ڈاکٹر نہیں بتاسکتے۔ جنہوں نے روح ہی کو نہ سمجھا ہو،وہ مزاجِ روح کو کیا سمجھیں گے؟ لہٰذا اس کیلئے طب روحانی کی ضرورت ہے جس کا نام شریعت ہے۔ اس شریعت نے بتایا ہے کہ کون حیوان اس کے مزاجِ اخلاقی کیلئے سازگار ہیں،کون حیوان اس کے مزاجِ روحانی کیلئے مناسب ہیں، کون نامناسب۔ اس لئے حیوانوں میں تفریق ہوگئی ، کچھ حرام جانور ہوئے، کچھ حلال جانور۔ اس کوفقہ کی زبان میں کہتے ہیں کچھ ماکول اللحم ہوئے، کچھ غیر ماکول اللحم ہوئے۔

اس کے بعد وہی دوا اور کیفیت استعمال کے بدلنے سے اثر بدل جاتا ہے۔ بادام مسلّم کھایا جائے تو اور اثر اور اگر پیس کرکھایا جائے تو اور اثر۔ جتنا باریک پیسا جائے، اُتنا زیادہ مقوی، کوئی جز گھٹا بڑھا نہیں، وہی ایک چیز ہے، کیفیت استعمال کے بدلنے سے اثر بدل جاتا ہے۔ اس طرح کوئی تعجب نہ کیجئے کہ حیوان جو ذاتی طور پر حلال لیکن ایک خاص طرح سے اس کے رگ ہائے گردن قطع ہوں، تب وہ حلال رہے گا اور اگر کسی اور طرح چوٹ کھا کر مرجائے تو زندگی میں حلال تھا مگر اب وہ حرام ہوگیا۔ یعنی کیفیت کے بدلنے سے اثر بدل گیا۔

ایک تجربہ مجھے ہندوستان میں ہوا۔ کانپور چمڑے کے کاروبار کا مرکز ہے۔ وہاں چمڑے کا کاروبار کرنے والوں نے ایک بات مجھے بتائی کہ ہم تو چمڑے کو دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ ذبیح کا ہے یا نہیں۔ اب ہر صاحب فہم غور کرے کہ خون کا تعلق کھال سے اتنا نہیں ہے جتنا گوشت سے ہے۔ جب ذبح کرنے سے کھال کی کیفیت میں فرق آجاتا ہو تو گوشت کی خاصیت میں فرق ہوجائے تو حیرت کی کیا بات ہے۔ تو جو روح سے واقف تھے، انہوں نے بتایا کہ اس طرح سے ذبح ہو تو حلال ہوگا اور اس طرح سے ذبح ہو تو پھر حرام ہوگا۔ اب اگر وہ ذاتی طور پر بڑا معزز حیوان تھا لیکن چونکہ اس کی موت اس طرح سے نہیں ہوئی کہ وہ اپنے سے مافوق یعنی انسان کے کام آسکے تو اب وہ ذلیل ہوگیا، پھینکنے کے ابل ہوگیا۔

اب ایک حقیقت کی طرف اشارہ کردوں کہ اگروہ اس طرح گیا کہ غذائے انسان بن سکے تو وہ میت نہیں ہے، اس کا نام ہے ذبیحہ۔ موت سے تو میّت کا لفظ ہے مگر میّت کہنا اس کو غلط۔ میّت وہی جس کی خریدوفروخت ناجائز ہو۔ اس کا نام ہے ذبیحہ اور فقط نام کا فرق نہیں ہے، احکام کا بھی فرق ہے۔ اگر ذبیحہ ہے تو طاہر ہے اور حلال ۔ اگر میّت ہے تو جونہی جسم سرد ہوا، نجس ہوگیا۔ چاہے کتنا ہی صاحب اوصاف انسان ہو۔زندگی میں تعظیم کو کھڑے ہوجاتے ہوں لیکن جونہی جسم سرد ہوا، نجس ہوگیااور فقہ جعفریہ کی رُو سے اور نجاستوں سے بڑی نجاست۔ کسی دوسری نجاست کو اگر چھو لیجئے تو صرف ہاتھ پاک کرنا ہوگا۔ وہ بھی تری کی صورت میں ، لیکن میّت کو اگر چھولیں تو تری کی شرط نہیں ہے، ہاتھ بھی خشک ہے، جسم بھی خشک ہے لیکن پھر بھی وہی حکم اور فقط ہاتھ کا پاک کرنا نہیں بلکہ غسل واجب ہوگا۔

یہ شرفِ انسانی کا رخنہ ہے کہ وہاں بھی نجاست تھی اور یہاں سخت تر نجاست آئی۔ لیکن اس نجاست کے دفع کرنے کی کوئی ترکیب نہیں تھی لیکن یہاں پر قربةً الی اللہ ایک عبادت کردو یعنی غسل دے دو۔ دس دفعہ سمندر میں غوطے دے دیجئے تو پاک نہیں ہوگا، جب تک قربةً الی اللہ کی نیت نہ ہو۔نہلانا نہیں ہے، غسل دینا ہے۔ وہ نہلانا جو قربةًّ الی اللہ ہو اور اسی ترکیب سے ہو جو اُدھر سے مقرر ہوئی ہے، اس طرح سے ہو تو پھر پاک ہو گا۔ پس یہ غسل اس نجاست کو دفع کرتا ہے جو موت کی وجہ سے آئی ہو۔لیکن اگر شہید ہے تو غسل کی ضرورت نہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دم نکلنے کے ساتھ نجاست نے قدم ہی نہیں رکھا۔ جیسے وہ زندگی میں طاہر تھا، ویسے ہی روح نکلنے کے بعد طاہر رہا اور اتنا ہی نہیں کہ غسل ضروری نہیں، کفن بھی ضروری نہیں۔ اسی لباس میں اُسے دفن کردو بلکہ لباس سے اس خون کے چھڑانے کی بھی ضرورت نہیں۔ جو میدانِ جنگ میں بہا تھا کیونکہ یہ خون شہیدارنِ راہِ خدا کی زینت ہے۔

اب مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ جن کے سامنے راہِ خدا میں موت کا یہ انجام ہو، کیا وہ موت سے ڈریں گے؟ اسی کا نتیجہ یہ کہ جوانی کا زمانہ، تئیس( ۲۳) سال کی عمر۔ یہ عنفوانِ شباب کہلاتا ہے۔ جب زندگی بہت مرادوں والی ہوتی ہے۔ دل تمناؤں کا مرکز ہوتا ہے۔ مگر اس ۲۳ برس کی عمر میں پیغام ملتا ہے کہ بستر پر سو رہو، نیزوں کے حصار میں اور تلواروں کے محاصرہ میں ،تو فوراً سجدئہ شکرادا کیا جاتا ہے یعنی وہ موت جیسے حاصل حیات ہو۔ تو جو اس موت کو موت سمجھے گا، وہ رنجیدہ ہوگا او رجو اس موت کی حقیقت سے واقف ہے کہ یہ موت بلند تر زندگی ہے تو وہ تو اسے اپنے لئے ایک نعمت نعمت سمجھتا ہے۔کوئی اورہوتا تو صحیح سلامت اٹھنے پر سجدئہ شکر کرتا مگر انہوں نے بڑے بڑے معرکوں سے واپس آنے پر بھی سجدئہ شکر نہیں کیا کیونکہ وہ اس زندگی کو اصل زندگی سمجھتے ہی نہ تھے۔ اصل زندگی وہی تھی جو مقصد زندگی بن سکے۔

یہ زندگی ذریعہ ہے اُس زندگی کا۔ تو جو اُس زندگی کو اصل زندگی سمجھتا ہو، وہ بھلا اس زندگی کی بقا پر کیوں سجدئہ شکر کرے گا!پیغمبر خدا نے ماہِ رمضان کی آمد کے موقع پر خطبہ ارشاد فرمایا :

قَدْاَقْبَلَ اِلَیْکُمْ شَهْرُاللّٰهِ بَرَکٰتُه وَرَحْمَتُه وَمَغْفِرَتُه “۔

”تمہاری طرف اللہ کا مہینہ آرہا ہے، رحمت کے ساتھ، مغفرت کے ساتھ، مرضیِ الٰہی کے ساتھ“۔

آپ نے ماہِ رمضان کے بارے میں سنا ہوگا:

شَهْرٌهُوَعِنْدَاللّٰهِ اَفْضَلُ الشَّهُوْرِ “۔

”وہ مہینہ جو اللہ کے نزدیک تمام مہینوں سے افضل ہے“۔

تو اسی طرح بہت سے فضائل ماہِ رمضان کے بارے میں بیان کئے۔ حضرت علی علیہ السلام بھی خطبہ میں موجود تھے۔ انہوں نے ایک سوال کیا تو رسول نے اس کا جواب دیا۔ اس سوال و جواب کی وجہ سے رسولِ خدا حضرت علی کی طرفمتوجہ ہوگئے ۔تو فرمایا:

کَیْفَ صَبْرُکَ یَاعَلیُّ “۔

یا علی ! تمہارے صبر کا عالم کیا ہوگا،جب اس مہینے میں تمہارے سر کو زخمی کرکے تمہاری ریش کو خضاب کیا جائے گا؟

یہ متفق علیہ ہے، آپ نے قاتل کے بارے میں ارشادفرمایا کہ ”اَشَقُّ الْاُمَّةِ “،اُمت م یں سے شقی ترین انسان اٹھے گا اور تمہارے سر کو زخمی کرکے خون سے خضاب کردے گا۔ رسول نے گویا آزمائشی سوال کیا تھاکہ تمہارا صبر کیسا ہوگا؟علی جواب نہیں دیتے بلکہ ایک سوال کرتے ہیں:

اِذَالِکَ فِیْ سَلَامَة مِنْ دِیْنِیْ “۔

کیوں یا رسول اللہ! یہ میرے دین کی سلامتی کے عالم میں ہوگا نا؟

اب ہمیں محسوس کرنا چاہئے سلامتیِ دین کی نزاکت کہ علی پوچھ رہے ہیں”اذالک“۔ یہ اصول کا اعلان ہے کہ ہر موت پسندیدہ نہیں ہے۔ جو موت محبوب ہے، اس کا معیار ظاہر کرنا ہے کہ”اذالک فی سلامۃ من دینی“۔ یہ میرے دین کی سلامتی کے عالم میں ہوگا نا؟ اور رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ ہاں ہاں یا علی !اس میں کیا شک ؟ دین کی سلامتی کے عالم میں ہوگا۔

تو اب علی علیہ السلام جوا ب دیتے ہیں۔ سوال یہی تھا کہ صبر کیسا ہوگا؟ علی جواب دیتے ہیں:

اَذْلَیْسَ هُوَمِنْ مَوَاقِعِ الصَّبْرِبَلْ هُوَمِنْ مَوَاقِعِ الشُّکْرِ “۔

پھر وہ وقت صبر کا نہیں ہوگا بلکہ وہ وقت شکر کا ہوگا۔

دیکھئے! جب قاتل کی تلوار لگی تو

فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَة “۔

شکر کاانداز ہے، قسم کے ساتھ کہا: پروردگارِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوا۔


شہید کی جو موت ہے ۲

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًابَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْن ) ۔

”جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں ، اپنے پروردگار کے ہاں رزق حاصل کرتے ہیں“۔

انسان اگر پست مقاصد کیلئے جان دے گا تو یہ سنت کائنات کی مخالفت ہوگی۔ لہٰذا اس کا نام ہلاکت ہوگا۔ اُسے شہادت نہیں کہیں گے۔ شہادت اسی وقت ہے جب بلند تر مقاصد کیلئے جان دی جائے اور انسان سے بلند عالم کائنات میں کوئی نہیں ہے۔مگر یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ دنیا انسان کو نہیں سمجھی کہ انسان کیا ہے حق یقت میں شرک کی جتنی اقسام ہیں، سب انسان کو نہ سمجھنے سے پیدا ہوئی ہیں۔یعنی دنیا کی باتیں انسان نے سمجھ لیں لیکن اپنے آپ کو نہ سمجھ سکا۔ اگر یہ سمجھتا کہ انسان کیا ہے تو پتھروں کے سامنے کیوں جھکتا؟ اگر یہ سمجھتا کہ انسان کیا ہے تو نباتات کے سامنے کیوں جھکتا؟اگر یہ سمجھتا کہ انسان کیا ہے تو حیوانات کے سامنے نہ جھکتا۔اور حقیقت میں اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے سامنے جھکنے کا مطلب انسان کے سامنے جھکنا نہیں ہے، یہ نام کو انسان کے سامنے جھکتا ہے لیکن یہ دراصل اُس دولت کے سامنے جھکتا ہے جو دوسرے انسان کے پاس ہے۔ اس شہرت کے سامنے جھکتا ہے جو دوسرے انسان کو حاصل ہے۔ اس عہدہ و منصب کے سامنے جھکتا ہے جو دوسرے انسان کے پاس ہے۔ یہ سب چیزیں انسان سے پست ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان چیزوں کی وجہ سے کسی کی عزت کی تو یہ دولت کو اپنے سے زیادہ معزز سمجھا۔ یعنی پتھروں سے خود کو نیچا سمجھا۔ اُس نے سلطنت کو اپنے سے اونچا سمجھا۔ تو حقیقت میں یہ جو شرک کی سب اقسام ہیں، وہ انسان ناشناسی کی وجہ سے ہیں۔ اگر انسان اپنے آپ کو سمجھتا تو اپنے سے بالاتر کے آگے جھکتا اور اپنے سے بالا اس کو خالق کے سوا کوئی اور نہ ملتا۔تو چاہے نام نہ لے سکتا مگر مانتا اسی کو۔ کہتا کہ میں بس اسی کو مانتا ہوں جو سب سے اونچا ہے، اسی کو مانتا ہوں جو سب کا پید اکرنے والا ہے۔ جتنا سمجھتا، اپنے الفاظ میں کہہ دیتا۔

یاد رکھئے کہ حقیقت الفاظ سے وابستہ نہیں ہے تو نجات بھی الفاظ سے وابستہ نہیں ہے۔مگر اس نے سمجھا ہی نہیں کہ میں کیا ہوں؟ تو نتیجہ یہ ہے کہ ہر چیز کے سامنے جھکنے لگا۔اسی لئے ارشاد ہوا:

مَنْ عَرِفَ نَفْسَه فَقَدْ عَرِفَ رَبَّه “۔

”جس نے اپنے آپ کو پہچانا، وہ اپنے پروردگار کو بھی پہچان لے گا“۔

اس کے بہت سے رُخ ہیں، بہت سے پہلو ہیں۔کلامِ رسول کی جامعیت یہ تھی کہ الفاظ مختصر ہوتے تھے لیکن ان کے دامن میں معنی کا سمندر ہوتا تھا۔کوزہ میں سمندر سمایا ہواہوتا تھا۔ اس وقت جو مفہوم میرے بیان سے مطابقت رکھتا ہے، وہ یہ ہے کہ اگر سمجھ لے کہ میں کون ہوں تو یہ سمجھ لے گا کہ میرا مالک کون ہونا چاہئے۔ میرا پروردگار کون ہوناچاہئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ خود شناسی خداشناسی کا ذریعہ ہے۔اسی طرح قرآن مجید میں دیکھئے کہ اس نے جو اپنے وجود کی نشانیوں کا پتہ دیا تو ارشاد کیا کہ:

( سَنَرِیْهِمْ اٰیَاتِنَافِی الْاَ فَاقِ وَفِیْ اَنْفُسِهِمْ ) ۔

”ہم اپنی نشانیاں آفاق میں اور ان کے نفوس میں دکھاتے ہیں“۔

یعنی ایک پلڑے میں تمام آفاق جس میں آسمان ، زمین ، چاند، سورج، ستارے، ثوابت و سیار سب شامل ہیں اور ایک پلڑے میں انسان۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ جو مقصد پوری کائنات سے پورا ہوتا ہے، وہ انسان کیلئے (خدا شناسی کی منزل میں) انسان سے پورا ہوتا ہے۔

دنیا میں جتنی چیزیں ہیں، وہ حواس سے متعلق ہیں، مثلاً سورج چمک رہا ہے ، اس کا تعلق آنکھ سے ہے۔ نغمے خوش آئندہیں، اس کا تعلق کان سے ہے۔ پھول کی خوشبو بھینی بھینی ہے، اس کا تعلق مشام سے ہے۔ غرض جتنی آیاتِ الٰہی آفاق میں ہیں،ان سب کا تعلق احساسات سے ہے۔فرض کیجئے کہ کوئی شخص کال کوٹھڑی میں پیدا ہوا اور اسی میں عمر بھر رہاتو اگر اللہ کی نشانیاں آفاق ہی میں مضمر ہوتیں تو اس پر حجت خدا تمام نہ ہوتی۔سورج اور چاند اگر خدا کی نشانیاں ہیں تو اسے تو دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اگر پھولوں کی خوشبو میں اس کی قدرت کے نمونے ہیں تو نہ پھول اس کو نظر آئے نہ ان کی خوشبو سونگھنے کا موقع ملا۔اس طرح اس کے تمام حواس میں سے کسی کو کام کرنے کا موقع ملا ہی نہیں۔ لہٰذا حجت خدا اس پرتمام نہیں ہوتی، اس لئے ضرورت تھی کہ خدا کی ایک ایسی دلیل ہو جس کیلئے نہ دیکھنے کی ضرورت، نہ کانوں سے سننے کی ضرورت، نہ ہاتھ سے چھونے کی ضرورت۔ اور وہ انسان کا خود اپنا وجود ہے۔ آپ نے اپنے آپ کو کیا آئینے میں دیکھ کر جانا کہ میں ہوں؟ کیا اپنی آواز سن کر سمجھا کہ میں ہوں؟ کیا اپنے آپ کو چھو کرسمجھا کہ میں ہوں؟ آپ نے اپنے کو احساسات سے نہیں سمجھا ہے بلکہ وجود نے اپنی پہچان کروائی ہے۔اس کیلئے الگ سے کسی احساس کی ضرورت نہیں تھی۔

اب جس وقت نہ آنکھوں کو دیکھنے کا موقع ملے، نہ کانوں کو سننے کا موقع ملے، تمام آیاتِ الٰہی اس سے پردے میں ہیں لیکن سب سے بڑی آیت جو خود اس کا نفس ہے، وہ تو اس کے پاس موجود ہے۔ لہٰذا اس کیلئے بھی حجت خدا تمام ہوئی۔ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری ہدایت نہیں ہوئی۔مگر یاد رکھئے کہ اس اندر والی رہنمائی کا تعارف صرف اُدھر والے رہنماؤں نے کروایا ہے ور نہ دنیا ،جس نے عقل اور ضمی کو سمجھا ہی نہیں، جس نے دین سے عقل کو بے دخل کردیا، وہ اس باطنی رہنما کی قدر کیا جانیں؟ یہ اُدھر والے رہنما ہیں جنہوں نے یہ کہا کہ:

اَلرَّسُوْلُ عَقْلٌ مِنْ ظَاهِرٍوَالْعَقْلُ مِنْ بَاطِنٍ “۔

”رسول جو ہوتا ہے، وہ عقل ہے جو سامنے دکھائی دیتا ہے اور عقل وہ رسول ہے جو اندر سے رہنمائی کرتی ہے“۔

میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کا خلاصہ میں اپنے الفاظ میں یوں کرتا ہوں کہ رہنما اگر سامنے آجائے تو رسول یا امام ہے اور پردہ میں چلا جائے تو عقل ہے۔

اسی لئے جو ہماری سب سے بڑی کتاب ہے، اس کا نام کافی ہے۔ اس کا پہلا باب عقل و علم ہے۔ اس لئے کہ جو دین کی پہلی منزل ہے یعنی اللہ ، اسکو اس وقت تک نہیں پہچانا جاسکتا جب تک عقل کو بروئے کار نہ لایا جائے، اس لئے کہ آنکھوں سے نہیں دکھائی دیتا، غیب الغیوب ہستی۔ اور یہی بات ہے جو دین سے عقل کو بے دخل کردیں گے، وہ کبھی غیب پر ایمان نہیں لائیں گے۔اس لئے کہ غیب کا تعلق مشاہدات سے ہے اور غیب پر وہی ایمان لائیں گے جو عقل کی رہنمائی کے قائل ہوں گے اور اللہ کی معرفت انہی کو ہوسکتی ہے جو غیب پر ایمان لانے کیلئے تیار ہوں کیونکہ اگر کوئی غیب پر ایمان نہیں لائے تو وہ اس ذات کو کیا سمجھے گا جو مکمل غیب ہے۔ یعنی کوئی غیب وہ ہوگا جس کو ہماری آنکھوں نے نہ دیکھا ہو لیکن ہمارے بزرگوں نے دیکھنے کا دعویٰ نہیں کیا۔ آدم سے لے کر خاتم تک کسی نے نہیں کہا کہ میں نے اُسے دیکھا ہے۔ کسی کو آنکھ سے نہ دیکھیں ، خواب میں دیکھیں۔ لیکن یہ وہ ذات ہے جو خواب میں بھی کبھی نہیں دکھائی تیی۔

میں کہتا ہوں کہ خواب میں دکھائی بھی نہیں دے سکتا۔ ایک اصولِ عقلی یہ ہے کہ خواب میں وہی چیز دیکھی جاسکتی ہے جو بیداری میں دیکھی جاسکے۔ خوشبو خواب میں بھی سونگھی جائے گی، دیکھی نہیں جائے گی۔نغمہ خواب میں بھی سنا جائے گا، دیکھا نہیں جائے گا۔ جو چیز چھونے سے متعلق ہے، وہ خواب میں بھی چھونے سے سمجھ میں آئے گی۔ تو نوعیت احساس خواب میں نہیں بدلتی۔خواب میں بھی دیکھنے کی چیز دیکھی جاتی ہے، سننے کی چیز سنی جاتی ہے۔ جو ذات بیداری میں نہ دیکھنے کے قابل ہو، نہ سننے کے وابل ہو، نہ چکھنے کے قابل ہو، نہ چھونے کے قابل ہو، وہ خواب میں احساسات کی اسیر کیونکر ہوگی؟ اگر خواب میں کسی نے دیکھا ہے تو وہ نہیں ہوگا۔ مجھے معلوم ہے کہ ہمارے علاقہ میں پیدا ہونے والے نبی کی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا۔ فرماتے ہیں کہ جب میں نے خواب میں دیکھا تو قلم بڑھا دیا کہ سند دے دیجئے، ثبوت کا پروانہ دے دیجئے۔ خیر اس وقت قلم دوات دے دیا اپنے مطلب کیلئے۔ اُس کا کوئی مطلب ہوتا تو نہ دیتے۔

خیر! قلم دوات دے دئیے۔ اس نے شکریہ ادا کیا۔ اس زمانہ میں فاؤنٹین پین تو ہوتا نہیں تھا، قلم سیاہی میں ڈبویا۔ روشنائی نب میں زیادہ آگئی ،ا سے قلم کی زبان کہا کرتے تھے تو زبانِ قلم میں سیاہی زیادہ ہوگئی۔ انہوں نے قلم کو جھٹک دیا تو اتنی تمیز داری سے جھٹکا کہ چھینٹے اُن کے کرتہ پر آکر گرے۔ الفاظ میرے ہیں، مطلب ان کا ہے۔ تو چھینٹے ان کے دامن پر پڑے۔ان کی قمیص پر پڑے۔ اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔پروانہ تو کوئی نہ تھا ، دامن پر داغ موجود تھا۔ہرسال ایک دن مقرر تھا جب اس کی زیارت کروائی جاتی تھی۔ بعض صوفیاء اور مشائخ کے ہاں بھی یہ موجود ہے کہ میں نے ستّر مرتبہ خدا کی زیارت کی لیکن میں کسی طرح بھی اس کو ممکن نہیں سمجھتا۔ وہ ذات ایسی غیب الغیوب لیکن اس کو جب تک نہ مانیں، اس وقت تک دین کی ابتدائی سطر بھی طے نہیں ہوتی۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

اَوَّلُ الدِّیْنِ مَعْرِفَتُه “۔

”دین کی پہلی منزل اس کو سمجھنا ہے“۔

غیب کا اگر کوئی منکر ہوتو اس کو نہ مانے گا۔ جتنی منزلیں اس کے بعد دین کی ہیں، چلئے جو سب کے نزدیک مسلّم ہیں، توحید کے بعد رسالت۔ میں کہتا ہوں کہ نبوت کو کیا آنکھوں سے دیکھ کر مانا ہے؟ کوئی کہے گا کہ ہم نے نہ سہی، جو حضرات تھے اس وقت موجود، انہوں نے دیکھ کر مانا ہے؟ میں نے کہا جوحضرات اس وقت تھے اور جنہوں نے مانا، کیاانہوں نے بھی نبوت کو دیکھا ؟روئے مبارک سامنے تھا، زلف مبارک سامنے تھی، دندان مبارک سامنے تھے۔ یہ سب چیزیں سامنے تھیں مگر رسالت سامنے نہیں تھی۔ نبوت سامنے نہ تھی۔

اور یاد رکھئے ذکر رسول یوں تو ہر طرح عبادت ہے مگر ایمان جو لانا ہے، وہ گیسوئے مبارک پر نہیں ہے، روئے مبارک پر نہیں ہے، دندان مبارک پر نہیں ہے، ایمان لانا ہے رسالت پر اور رسالت کے معنی بھیجا ہوا ہونا۔

تو جب بھیجنے والے کو نہیں دیکھا تو بھیجنا کہاں دیکھا؟ پھر جبرئیل امین کو نہیں دیکھا جو وحی لائے۔ ان کو قرآن سناتے ہوئے نہیں دیکھا۔ یہ سب باتیں رسول کی زبان کے اعتبار پر مانیں۔انہوں نے کہا کہ جبرئیل آتے ہیں،اس لئے مانا۔ انہوں نے کہا کہ وحی اُترتی ہے، اس لئے مانا۔ آنکھوں سے دیکھ کر منوانا ہوتا تو چالیس برس کے انتظار کی ضرورت نہ تھی۔ یہ چالیس برس کے انتظار کی ضرورت اس لئے محسوس ہوئی کہ پہلے زبان کا اعتبار قائم کردیا جائے تاکہ پھر جب غیب کی خبریں دوں تو دنیا ماننے کیلئے تیار ہوجائے۔ معلوم ہوا کہ رسالت جس کا نام ہے، وہ بھی بغیر دیکھے مانی۔

اس کے بعد مسلمانوں سے پوچھتا ہوں کہ تیسری چیز قیامت ہے۔ تو قیامت کو کیا آنکھوں سے دیکھ کر مانا؟ اگر آنکھوں سے دیکھ لیتے تو قیامت ہو ہی نہ جاتی۔ قیامت کو بھی بغیر دیکھے مانا اور قیامت کو ماننے کے ساتھ کیا کیا مانا؟ ایک پورے کارخانہ قدرت کو مانا۔ صراط مانا، میزان مانا، نامہ اعمال کو مانا اور سب سے زیادہ دل پسند چیز بہشت کو مانا اور سب سے زیادہ خوفناک چیز دوزخ کو مانا۔یہ سب بغیر دیکھے ہوئے مانا۔ تو میں تو بڑے دردمندانہ طور پر مسلمانوں سے کہتا ہوں کہ اتنی باتیں جس کے کہنے سے مان کر مسلمان ہوئے، اب ایک کو نہ مان کر اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالتے ہو؟ غیب کے ماننے کا ذریعہ صرف عقل ہے اور عقل کو اگر کوئی نہ مانے تو غیب کو ماننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ دین میں اگر عقل کی کوئی اہمیت نہ ہوتی تو جس کو اس نے عقل نہیں دی، ا س کو تکلیف شرعی سے بری کیوں کردیتا؟دیوانے پر حرام فعل کا گناہ، نہ اس کیلئے آخرت کی سزائیں۔ بتائیے کیوں بری کردیا ، اس لئے کہ عقل نہیں ہے۔ معلوم ہوا کہ دین کیلئے عقل کی ضرورت ہے۔

اس لئے جو باہر سے حقیقت میں عقل تھے، اس لئے انہوں نے ارشاد فرمایا:

لَادِیْنَ لِمَنْ لَا عَقْلَ لَه “۔

”اس کیلئے دین نہیں ہے جس کے پاس عقل نہیں ہے“۔

کافی میں ایک حدیث ہے، بطورِ تمثیل بیان کیا ہے کہ ایک عابدایک جزیرہ میں رہتا تھا۔ جزیرہ بہت سرسبزوشاداب تھا۔ دن رات عبادت کرتا تھا۔ ایک فرشتے کا اُدھر سے گزر ہوا۔ فرشتے نے جب اس کی عبادت کو دیکھا تو اس کو بہت بڑی چیز سمجھا کہ دن رات عبادت کرتا ہے۔اسے اشتیاق ہوا کہ اس کے ثواب کو میں دیکھوں کہ اسے کتنا ثواب ملے گا۔ خالق سے دعا کی، دعا مستجاب ہوئی اور اس عابد کا ثواب فرشتے کی نظروں کے سامنے آگیا۔ فرشتے نے اس کے عمل کی کثرت کا توازن کیا اور اس ثواب کو اُس کیلئے کم سمجھا۔یہ اتنی عبادت کرتا ہے اور اسے اتنا ثواب ملے گا؟ اس نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی: پروردگار! (ملائکہ عالم قدس کے طالب علم ہیں، طالب علم کی سمجھ میں جو کچھ نہ آئے، اُسے اُستاد سے پوچھنے کا حق ہے) تو اُس نے عرض کی کہ پروردگار! اس کی عبادت تو اتنی عظیم ہے اور اس کا ثواب اتنا کم؟ آخر یہ کیا راز ہے؟

تو ارشادِ قدرت ہوا کہ تھوڑے دن اس کے پاس رہو، تمہیں اس کا راز معلوم ہوجائے گا۔وہ فرشتہ بصورتِ انسان اس کے پاس گیا اور اس کے برابر مصلیٰ بچھادیا۔ اس عابد کو برا معلوم ہوا کہ میری عبادت میں خلل اندازی ہوگی۔ اُس نے جب ان کی شانِ عبادت دیکھی، جب استغراق دیکھا تو جانا کہ یہ مجھ سے بالا تر عبادت کرتے ہیں۔ انہیں دلچسپی پیدا ہوگئی۔ اپنا رفیق سمجھنے لگے کہ یہ عبادتِ خدا میں میرا معاون ہے، مددگار ہے۔ مجھے اپنے عمل سے شوق دلاتا ہے۔جب مانوس ہوگیا تو گفتگو شروع کی کہ تمہارے لئے یہ عبادت کا کتنا موزوں مقام ہے۔ اس کی سرسبزی و شادابی کی انہوں نے تعریف کی۔

ہمارے ہاں یہ روایت ہے کہ بعض جانوروں کے نام کو ہم غیر شائستہ سمجھتے ہیں حالانکہ جانور سب مخلوقِ الٰہی ہیں۔ انہوں نے کہا: بے شک، بہت اچھا مقام ہے مگر یہاں ایک خرابی ہے کہ اتنی گھاس اور سبزہ بے وجہ برباد ہورہا ہے۔ ہمارے خدا کے پاس اتنے درخت ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ کوئی جانور ایسا نہیں ہے جو اس سب کو چر جائے۔انہوں نے یہ سن لیا۔ وہاں تو لاسلکی ہے۔بات چیت کیلئے توقف کی ضرورت نہیں۔ اُدھر سے خطاب ہوا کہ اب کچھ سمجھ میں آیا کہ اس عبادت کا ثواب کیوں کم ہے؟

اب جس اصول کیلئے یہ واقعہ پیش کیاگیا کہ میں بقدرِ عقل ثواب دیتا ہوں۔ بس ایک اصول قائم ہوگیا۔ یہ بقدرِ عقل کیا؟عقل اصل میں سرمایہ معرفت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ عبادت بے معرفت کتنی زیادہ ہو لیکن اس میں وہ قدروقیمت نہیں جتنی عبادتِ بہ معرفت میں ہے۔یعنی مقدارِ عبادت دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، مقدارِ عبادت معیار نہیں ہے بلکہ وہ محرکاتِ عبادت جو ذہن میں پس منظر ہے عبادت کا، وہ عبادت میں وزن پیدا کرتا ہے۔ اب کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے اگر رسول ایک پلڑے میں تول کر عبادتِ ثقلین کو رکھ دیں اور ایک پلڑے میں ایک ضربت کو۔

تو جو سلسلہ کلام تھا کہ ایک پلڑے میں تمام آفاق اور ایک پلڑے میں صرف انسان کا نفس، اسی طرح ایک پلڑے میں ان کی ضربت اور ایک پلڑے میں ثقلین کی عبادت۔ ویسے ہی ایک پلڑے میں تمام کائنات اور ایک پلڑے میں انسان کا نفس۔ یعنی جس کیلئے تمام کائنات دلیلِ معرفت بننے سے قاصر ہو، اس کیلئے یہ نفس انسانی دلیلِ معرفت بنتا ہے۔ وہ ان سب کی جانشینی کرتا ہے، ان سب کی قائم مقامی کرتا ہے۔

اب ایک دوسرا پہلو عرض کرتاہوں اور وہ پہلو یہ ہے کہ ایک ہوتا ہے جاننا اور ایک ہوتا ہے پہچاننا۔میری کتابیں آپ نے دیکھی ہیں، مگر اتفاق سے آپ نے کبھی میری تصویر نہیں دیکھی، نہ مجھے دیکھا تو اگر کوئی شخص آپ سے پوچھے کہ فلاں شخص کو آپ جانتے ہیں؟ آپ کہیں گے کہ جی ہاں، جانتا ہوں۔ میں نے یہ کتاب پڑھی ہے، یہ کتاب پڑھی ہے۔اگر پوچھا جائے کہ آپ پہچانتے ہیں تو فرمائیں گے کہ نہیں، مجھے کبھی ملنے کا اتفاق نہیں ہوا اور نہ میں نے کبھی کوئی تصویر دیکھی ہے۔لیکن اگر مجھے دیکھا ہے یا میری کوئی تصویر کبھی دیکھی ہے، اب پوچھا جائے کہ جانتے ہیں؟ جی ہاں۔ پھر تصانیف کا نام لیں گے۔ پہچانتے بھی ہیں؟ ہاں ہاں، میں نے ٹی وی پر تصویر دیکھی تھی۔فلاں جگہ مجلس پڑھتے دیکھا تھا۔

آپ نے دیکھا کہ جاننا اور ہوتا ہے جبکہ پہچاننا اور ہوتا ہے۔کائنات میں نفس انسانی کے علاوہ جتنی بھی چیزیں ہیں، وہ جاننے کا ذریعہ ہیں۔ جس طرح نقش نقاش کو بتاتا ہے ، جس طرح تصویر مصور کو بتاتی ہے، جس طرح تصنیف مصنف کو بتاتی ہے، اسی طرح کائنات کی ہر چیز خدا کو جاننے کا ذریعہ ہے۔ لیکن انسان اپنے جسم کے ساتھ تو جاننے کا ذریعہ ہے مگر اپنے نفس کے ساتھ یہ اس کے پہچاننے کا بھی ذریعہ ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اُس نے عالم امکان میں اپنی بہت سی صفات کی اس کو جلوہ گاہ بنایا ہے۔مثلاً آپ سے میں پوچھوں کہ آپ کے اس جسم میں نفس ہے؟ آپ کہیں گے ، یقینا۔میں آپ کا ہاتھ اٹھاکر کہوں کہ اس میں ہے؟ آپ کہیں گے، نہیں۔یعنی خالی ہاتھ ہیں۔آپ سے کہوں پیر میں ہے؟ آپ کہیں گے، نہیں۔ اور اسی طرح جتنے اجزائے جسم ہیں، ایک ایک حصہ پر ہاتھ رکھ کر میں کہوں، یہاں ہے؟ آپ کہیں گے نہیں۔ اچھا تو وہ پورے جسم میں تقسیم ہے یعنی تھوڑا ہاتھ میں ہے، تھوڑا پیر میں ہے، تھوڑا آنکھوں میں ہے، تھوڑا سر میں ہے، پورے جسم میں تقسیم ہے یعنی ہاتھ کٹ گیا تو اتنا حصہ اس کا کم ہوگیا۔اگر پیٹ کٹ گیا تو ایک حصہ اس کا کم ہوگیا۔ کہیں گے، نہیں۔ تقسیم بھی نہیں۔ تو اسی جسم میں ہے اور آپ نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں ہے، نہ پورے جسم میں بتاسکتے ہیں کہ تقسیم ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ امکانی دائرہ میں لامکان ہونے کا نقشہ ہے۔

یونہی آپ اس ممکن نمونہ سے واجب نمونہ کو سمجھ لیجئے کہ وہ حجاز میں ہے، عراق میں نہیں ہے۔ مشرق میں ہے، مغرب میں نہیں ہے۔ وہ دائیں طرف ہے، بائیں طرف نہیں ہے۔ تو وہ غلط۔ یہ کہئے کہ وہ سب میں تقسیم ہے، کچھ وہاں ہے، کچھ وہاں ہے، کچھ وہاں ہے، وہ بھی غلط۔تو آپ نے دیکھا کہ یہ عالم امکان میں وجوبِ لامکانی کا نقشہ کھنچ گیا۔ راستہ چلتے میں سر میں ٹکر لگی۔ دروازہ نیچا تھا، فوراً آپ کو خبر ہوئی۔ سیتے ہوئے سوئی انگلی میں چبھی، اُسے خبر ہوئی۔ پیر میں ٹھوکر لگی یا کانٹا چبھا ، فوراً اُسے خبر ملی۔کیا کوئی مخبر گیا جس نے اطلاع دی ہو؟ اچھا کہیں جلدی خبر ہوئی ہو، کہیں دیر میں ۔ میں یہ کہتا ہوں کہ عالم امکان میں یہ حاضر وناظر ہونے کا نقشہ ہے۔

جس طرح تمہارے نفس کو تعلق ہے، تمہارے چھوٹے سے جسم سے، ویسے ہی خالق کا تعلق تمام کائنات سے ہے۔ لہٰذا اُسے مغرب کی بھی خبر، مشرق کی بھی خبر۔ تہہ زمین کی بھی خبر، بالائے آسمان کی بھی خبر۔ کائنات میں جتنے اجزاء ہیںِ انہیں جاکر خبر کرنے کی ضرورت نہیں۔ رپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں۔ تمام کائنات پر اس کا علم محیط ہے۔

( وَسِعَ کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا ) ۔

”ہر شے پر اس کا علم محیط ہے“۔

آپ کے جسم کے اندر اس کا نمونہ پیش کردیا۔ اِسے دنیا سمجھ لیتی ہے، اُسے نہیں سمجھتی۔ یہ دنیا کی ستم ظریفی ہے کیونکہ نفس انسانی کو امکانی حد تک اپنی صفات کی جلوہ گاہ بنایا ، اس لئے کائنات جاننے کا ذریعہ اور نفس پہچاننے کا ذریعہ۔ فرق کو محسوس کیجئے ۔ وہ عطا کرنے والا ہے، اس سے فیض حاصل کرنا پڑتا ہے۔ وہ بذاتِ خود کامل ہے، یہ اس کے کامل بنائے ہوئے ہیں۔

کوئی درجہ ہوگا کہ نفس بس آپ کا نفس رہے اور کوئی مرتبہ کمال اسی نفس انسانی اور انسان کا ہوگا کہ وہ اپنا نفس کہہ دے۔

انسان اگر انسان کی منزل کو سمجھ لے تو پھر خدا کو سمجھ لے گا۔ اور اس کو یوں کہا جائے کہ جتنا اپنے کو سمجھے گا، اُتناخدا کوسمجھے گا اور جتنا اپنے نفس کو سمجھے گا، اُتنا خدا کو سمجھے گا۔ تو وہ بلند تر نفوس جن کو اس نے اپنا نفس قرار دیا ہے،اس کی معرفت ان کی معرفت کے بغیر کیونکر ہوگی؟

اسی لئے انداز مختلف ہے، الفاظ مختلف ہیں۔ کسی اعتبار سے نفس کہہ دیا، کسی اعتبار سے وجہہ یعنی چہرہ کہہ دیا۔ کیوں؟ اس لئے کہ چہرہ پہچاننے کا ذریعہ ہوتا ہے ، کوئی چادر اوڑھے ہوئے ہوں، صرف ہاتھ باہر ہوں تو شاید نہ پہچان سکیں۔ پیر باہر ہوں تو شاید نہ پہچانیں۔لیکن اگر چہرہ باہر ہے تو فوراً پہچانیں گے کہ کون ہے؟ تو چہرہ پہچاننے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ تو اس لئے ان حضرات کو کبھی وجہہ اللہ کہہ دیا گیاکہ یہ اللہ کا چہرہ ہیں اور ارشاد ہوا:

( کُلُّ شَیْ ءٍ هَالِکٌ اِلَّاوَجْهُه ) ۔

”ہر شے ہلاک ہونی ہے، فانی ہے سوائے اُس کے چہرہ کے“۔

تو اب دنیا والوں نے چہرہ کے معنی وہی سمجھے۔ جب قرآن کو لغت سے حل کیا جائے تو یہی ہوگا۔ لغت میں دیکھ کر جو معنی سمجھے تو سمجھ لیا کہ یہ چہرہ ہے۔ اور جب چہرہ ہے تو ہاتھ بھی ہیں، پیر بھی ہیں، سب کچھ ہے۔اب کیا ہوا؟ زیر سایہ اسلام جو تصور آیا ہے، قرآن کو کافی سمجھنے کا نتیجہ، قرنِ اوّل کا تصور، کسی امام کے سامنے، معصوم کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی کہ سوائے اس کے چہرے کے ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ امام سے معنی پوچھے۔ امام نے فرمایا:لوگ کیا معنی سمجھتے ہیں؟

لوگ سے مراد اس زمانہ کے علماء تھے۔ سوال کرنے والے نے کہا کہ وہ تو ایسی باتیں کرتے ہیں ، میری ہمت نہیں ہوتی کہ آپ کے سامنے نقل کرسکوں۔ آپ نے جب کہا کہ بتاؤ۔ اس پر صحابی یہ کہنے لگے کہ وہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ قیامت مدتِ دراز کے بعد آئے گی اور اتنا زمانہ گزر جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ ازلی سرمدی، جس کی ابتداء کو ہم نہیں جانتے ، جان ہی نہیں کستے۔ تو امتدادِ زمانہ سے بس اللہ کا چہرہ ہی رہ جائے گا۔

اس سے مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ ایک دفعہ ایک صاحب اپنے مقتداء کی فضیلت میں بیان کررہے تھے کہ کھڑے ہوکر جو عبادت شروع کی تو دن رات میں کبھی بھی نقل و حرکت نہیں کرتے تھے۔ برسوں گزر گئے، یہاں تک کہ سینے سے اوپرتک دیمک نے کھالیا۔ جب فضیلتیں بنائی جاتی ہیں تو ان میں ایسی ہی بد سلیقگی ہوتی ہے۔ یہ میں نے خود ایک عقیدت مند کی زبان سے سنا۔ اس بزرگ کا نام تو یاد نہیں رہا جو دیمک کے کھائے ہوئے تھے۔ یہ مشرکانہ تصور تھا۔ آپ نے ابھی دیکھا کہ قرآن کو کافی سمجھنے کا نتیجہ۔ دیمک نہ سہی، کسی طرح گھس کر سب ختم ہوجائے گا اور صرف چہرہ باقی رہ جائے گا۔ بالکل لفظی معنی کے مطابق ہے:

( کُلُّ شَیْ ءٍ هَالِکٌ اِلَّاوَجْهُه ) ۔

”ہر شے فنا ہونے والی،سوائے اس کے چہرہ کے“۔

سب ختم ہوجائے گا سوائے چہرہ کے۔ اور چہرہ ٹھہرا ہوا کس پر ہے؟ اس کا تعلق عقل سے ہے اور عقل سے کام لینا نہیں ہے۔ یعنی سوائے قرآن کے سب چیزوں کے چھوڑنے کا جو شوق ہوا ، اس میں بیچاری عقل بھی گئی۔ قرآن کافی ہے، لہٰذا عقل کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ قرآن نے ہر جگہ اپنا مفہوم سمجھنے کیلئے کہا کہ صاحبانِ عقل سمجھیں گے۔ تو جب عقل سے کام نہ لیا جائے گا تو جس کا دامن تھاما تھا، وہی دامن چھڑواکر چلا جائے گا کیونکہ خود کہہ چکا کہ یہ قرآن ان کیلئے ہے جو عقل سے کام لیں۔ اس کو شکایت یہی ہے کہ:

( اَفَلا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَفْقَالُهَا ) ۔

جیسے غصہ میں کوئی کہتا ہے، اس طرح ارشاد ہورہا ہے، جھلائے ہوئے اندا زمیں۔”یہ قرآن پر غور کیوں نہیں کرتے، کیا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں؟“

تالے پڑے ہوئے ہیں۔ اسے شکایت یہ نہیں ہے کہ حفظ کیوں نہیں کرتے، شکایت یہ ہے کہ عقلوں سے کام کیوں نہیں لیتے؟ غور کیوں نہیں کرتے؟

حضورِ والا!امام کو اس سے اتنی تکلیف ہوئی کہ جہاں لگے ہوئے بیٹھے تھے، تشریف فرما تھے، سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ اللہ بالاتر ہے، اس سے جو یہ ظالم لوگ کہتے ہیں، بہت اونچا ہے ، برترہے اور اس کے بعد ارشادفرمایا جواصل حقیقت تھی، سننے والال اس لائق تھا کہ اسے بتایا جائے:

(نَحْنُ وَجْهُ اللّٰهِ الْبَاقِیَه

”ہم وہ چہرے ہیں جو باقی رہنے والے ہیں“۔

اب یہ ذکر آگیا ہے تو قرآن مجید کی دو آیتیں یاد آتی ہیں، دو جگہ صور پھونکنے کا ذکر ہے۔ ایک جگہ ہے:

یَوْمَ یُنْفَخُ “ ۔

صور پھونکا جائے گازمین و آسمان میں جتنے ہیںِ سب گھبرا جائیں گے۔ خوف و دہشت طاری ہوجائے گا۔ اس صور سے جو آدمیوں کے دھماکے سے خوف و دہشت طاری ہوتا ہے۔ یہ خوف اس سے مختلف ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا دھماکہ ہوگا۔خوف و دہشت طاری ہوجائے گا۔

اِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰهُ “۔

”سوائے ان کے جن کو اللہ چاہے“۔

معلوم ہوا کہ عام طور پر گھبراہٹ مگر اس میں استثنیٰ ہے کہ سوائے ان کے جنہیں اللہ چاہے۔ دوسرے صور کا ذکر وہ ہے ،سورئہ فنا جسے کہنا چاہئے۔صور پھونکا جائے گا تو جتنے آسمان اور زمین میں ہیں، سب بے حس و حرکت ہوکر گرجائیں گے۔ یہ معنی صور کے سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی موجود”اِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰهُ “۔سوا ان کے جنہ یں اللہ چاہے۔ پہلا صور وہ تھا جس سے عالم گھبراہٹ طاری ہوجائے گی مگر نفوسِ مطمئنہ ہیں کہ ان پر اس صور کا اثر نہیں۔ دوسرا صور وہ ہے جس سے سب ختم ہوجائیں گے مگر کچھ نفوسِ باقیہ ہیں، ان پر اس صور کا بھی اثر نہیں ہوگا۔اب وہی ہستیاں ہیں جو وجہہ اللہ کی مصداق ہیں۔ وہی ”اِلَّا مَنْ شَاءَ اللّٰهُ “کے استثن یٰ کا مصداق ہیں جو ہر صور کے اثر سے مستثنیٰ ہیں۔

اب اس کے سوا تیسرے صور کا مجھے پتہ نہیں۔ تیسرا صور وہ ہے کہ جو مرگئے تھے، اُس سے وہ جی اٹھیں گے۔ تو جی کر اٹھیں گے وہی جو مرے ہوں گے۔یہی نفس ہیں بلند انسان کے جن کو اُس نے اپنی دلیل قرار دیا۔اس میں جتنا درجہ بلند ہے، جتنا نفس کامل تر ہے، اتنا ہی اس کو اپنا نفس کہہ دیا کہ یہ ہمارا نفس ہے۔ اس کے ذریعہ ہمیں پہچانا جاسکتا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ شہداء کیلئے جو زندگانیِ جاوید کی بشارت دی گئی ہے، اس کا انحصار صرف تلوار سے شہید ہونے والوں پر نہیں ہے، اس کیلئے ایک لفظی دلیل کہ دوآیتیں ہیں حیاتِ شہداء کی”لَا تَقُوْلُوْا

اور ایک”لَا تَحْسَبَنَّ “جو م یں پیش کرچکا ہوں۔ دونوں جگہ کلمہ حصر یعنی”اِنَّمَا “نہیں ہے۔”اِنَّمَا “کلمہ حصرہوتا ہے جو قرآن مجید میں ہے:

( اَنَّمَایُرِیْدُاللّٰهُ عَنْکُمُ الرِّجْسَ ) ۔

”اِنَّمَا“سے انحصار ہوتا ہے کہ ان کے سوا اور کوئی نہیں۔ لیکن یہاں بس یہ کہا گیا کہ ان کو مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں۔ مگر یہ نہیں کہا گیا کہ بس یہی زندہ ہیں۔ کلمہ حصر”اِنَّمَا“ان میں کہیں نہیں ہیں۔ دنیا حیاتِ نبی میں اُلجھ رہی ہے کہ زندہ ہیں یا نہیں۔ قرآن مجید سے ان تمام نفوس کا زندہ ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ رسول سے کیا مخصوص ہے؟ وہ تمام افراد زندہ ہیں۔ ان میں تلوار والی شہادت ایک ہی ذات کیلئے ہے۔ مگر ذاتِ جاودانی میں کم سے کم میرا ایما ن یہی ہے کہ سب شریک ہیں۔کوئی ایک نہیں جو اس حیاتِ جاودانی سے محروم ہو۔ رسول کے بارے میں دنیا بحث کرتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ شہادت ہے کیا چیز؟ شہادت پیغمبر اسلام کی ایک تعلیم پر عمل کرنے کا نام ہے۔ تو جس کی ایک تعلیم سے حیاتِ جاودانی ملتی ہو، تو جو خود مرکز فیض ہو، اُس کیلئے فنا ہوگی؟

میں کہتا ہوں کہ بے شک شہادت بہت بڑا مرتبہ سہی مگر جب رسول کی ایک تعلیم پر عمل کرنے کا نام ہے تو میں یوں کہوں گا، یہ کوئی نہ کہے کہ شہیدوں کی شان کے خلاف، ان کی شان رسول کی شان کے سامنے نہیں آسکتی۔ میں کہتا ہوں کہ جس کے دروازہ سے زندگانیِ جاوید کی بھیک تقسیم ہورہی ہو، وہ خود محرومِ زندگیِ جاوید کس طرح ہوسکتا ہے؟

میں تصور نہیں کرسکتا کہ پیغمبر اسلام اس حیات سے محروم ہوں جو شہداء کیلئے بنص قرآن ثابت ہے اور جس کے وہ بھی قائل ہیں جو حضور کی حیات کے قائل نہیں ہیں۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ حضور کی حیات معرضِ بحث میں لیکن شہیدوں کی حیات کے سب قائل۔

ایک سوال جو خواہ مخواہ کیا جاتا ہے ، وہ بھی غلط کہ جو زندئہ جاوید ہو، اس کا ماتم نہیں کرنا چاہئے۔مجھ جیسا جاہل آدمی رسول کو زندہ سمجھ رہا ہے تو کیا رسول کی بیٹی اس حقیقت سے واقف نہیں تھیں کہ میرے بابا زندئہ جاوید ہیں؟ لیکن واقعہ ہے کہ دنیا میں کوئی بیٹی باپ کواتنا نہیں روئی ہوگی جتنا سیدہ عالم اپنے باباکو روئی ہیں۔اور عالم یہ کہ نہ دن کو چین ، نہ رات کو آرام۔ گریہ سے روکنے کی ابتداء اسی وقت ہوگئی تھی مگر ذرا تمیز و بدتمیزی کا فرق تھا۔ لیکن ابتداء اسی وقت ہوگئی تھی۔ اگر محلہ کے کسی گھر میں کوئی مصیبت ہوجائے تو کہرام سے نیند تو بے چین ہوگی۔ کھانا تو خوشگوار نہیں ہوگا۔ چاہے شناسائی نہ ہو،غم وہ ہے جوغیر متعلق کو متعلق بنا دیتاہے۔خوشی میں وہی شرکت کرتا ہے جو پہلے سے شناسائی رکھتا ہو لیکن غم میں فطری طور پر وہ بھی شریک ہوجاتا ہے جس کی شناسائی نہ ہو۔

تو اگر کسی غیر کے ہاں بھی گریہ ہورہا ہو تو آپ کو ہنسنے میں دلچسپی نہیں ہوگی، قہقہے لگانے کو دل نہیں کرے گا۔باوجود اجنبی ہونے کے ایک ملال کی فضا تو آپ کے گھر میں بھی ہوجائے گی۔نہ کھانے میں مزا ہوگا ، نہ سونے میں ۔لیکن چودہ سو برس کے اخلاق کی پستی کے باوجود آج کسی کی انسانیت یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ گھر پر جائے اور جاکر یہ کہلوائے کہ تم لوگوں کے رونے سے ہماری نیند بے چین ہوتی ہے۔ تمہارے رونے سے ہمیں کھانے میں مزا نہیں آتا۔ آج اخلاق کی انتہائی پستی کے باوجود انسانیت ہرگز اجازت نہیں دیتی۔

لیکن میں کیا کروں کہ اس خلق عظیم اور انسانیت کے معلم کے دنیا سے اٹھنے کے ساتھ ہی آس پاس والوں نے ، جو فاطمہ زہرا کے ہمسائے تھے تو کیا وہ رسول کے ہمسائے نہیں تھے؟اس کے معنی یہ ہیں کہ پاس رہنے سے کوئی اثر نہیں ہوتا جب تک صلاحیت ظرف نہ ہو۔ اس وقت یہ مثال سامنے آتی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس پورا وفد آتا ہے اور کہتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سے کہئے کہ دن رات وہ گریہ کرتی ہیں تو نہ ہمیں رات کو نیند آتی ہے، نہ ہمیں کھانے پینے میں مزا ملتا ہے۔ ہماری طرف سے یہ کہئے کہ یا دن کو روئیں یا رات کو۔ یعنی ابھی تک کم از کم گریہ کے بدعت ہونے کا تصور نہیں ہوا تھا ورنہ یہی کہہ دینا کافی تھا ۔ مگریہ اپنی زحمتوں کا ذکرکر رہے ہیں کہ یا دن کو گریہ کریں، رات کو خاموش رہیں یا رات کو گریہ کریں، دن کو خاموش رہیں۔ مجھے اور آپ میں سے ہر ایک کو اس فرمائش کے سننے سے تکلیف ہوئی تو علی کے دل پر کیا گزری ہوگی؟

مگر وہ اُس امین کے جانشین تھے کہ انہوں نے اس پیغام کو پہنچانا بھی ضروری سمجھا۔ گئے اور بتقاضائے احتیاط کتنا ہی ہلکا کرکے ارشادفرمایا ہو لیکن جو اصل بات تھی ، وہ تو کہنی ہی تھی۔ پہلے تو سیدہ عالم نے یہ جواب دیا کہ ان سے کہہ دیجئے کہ تمہاری زحمتوں کی عمر طولانی نہیں ہے، مجھے میرے بابا خبر دے چکے ہیں کہ میں بہت جلد اُن کے پاس چلی جاؤں گی۔ جواب تو یہ دے دیا اور کہا کہ میں کوشش بھی کروں گی ان کی شکایت کو دور کرنے کی۔

گریہ پر بس تو نہ تھا کہ اس کیلئے اوقات کا تعین کرسکتیں مگر صبح ہوئی تو حسنین کا ہاتھ پکڑ کر جنت البقیع میں چلی جاتی تھیں۔ جنت البقیع زیادہ دور نہیں ہے۔ صرف درمیان میں بنی ہاشم کا محلہ ہے۔ حسنین کا ہاتھ پکڑ لیتی تھیں او رجنت البقیع میں چلی جاتی تھیں۔ ہوتا یہ تھا کہ ادھر فاطمہ زہرا نے رونا شروع کیا، اُدھر بچے شریک گریہ ہوگئے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر وقت مسلسل مجلس برپا رہتی تھی۔تو اس لئے سیدہ عالم نے چاہا کہ جب میں جاؤں تو میرے ساتھ جو شریک غم ہیں، جو ہم نوائے نالہ و فریاد ہیں،انہیں بھی اپنے اتھ لے جاؤں۔ اس لئے حسنین کو اپنے ساتھ لے کر جاتی تھیں اور دن بھر روتی رہتی تھیں۔شروع میں کوئی سایہ نہ تھا، زیر سایہ آفتاب بیٹھی رہتی تھیں۔ تو امیرالمومنین علیہ السلام نے ایک حجرہ بنادیا جس کا نام بیت الحزن تھا۔ جب تمام روضے جنت البقیع کے برباد ہوئے تو سیدہ عالم کی وہ یادگار بھی مسمار کردی گئی۔


شہید کی جو موت ہے ۳

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًابَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْن )

”جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں ، اپنے پروردگار کے ہاں رزق حاصل کرتے ہیں“۔

یہ آیت شہیدوں کے زندئہ جاوید ہونے کو بتاتی ہے۔ یعنی حیاتِ شہداء کا ثبوت دیتی ہے۔ مگر ایک پہلو غور طلب ہے کہ ہمیں ان ہستیوں کا نام معلوم ہے کہ انہیں شہید کہتے ہیں اور اس کی جمع شہداء ہے۔ اسی لئے ہم نے کہا کہ یہ حیاتِ شہداء سے متعلق ہے۔ لیکن اس آیت میں شہداء کا لفظ استعمال نہیں ہوا، حالانکہ بلاغت کا تقاضا یہ ہے کہ اگر مختصر لفظ سے مفہوم ادا ہوجائے تو اُسے پھیلا کر کئی الفاظ میں ادا نہیں کرنا چاہئے۔ بہتر یہ تھا کہ کہاجاتا کہ شہداء کو مردہ نہ سمجھو۔کیا یہ ہماری بنائی ہوئی اصطلاح ہے کہ ہم ان لوگوں کو شہداء کہتے ہیں؟ یہ بات بھی از روئے قرآن غلط ثابت ہے۔ یہ اصطلاح علماء کی وضع کردہ نہیں ہے بلکہ قرآن مجید میں یہ لفظ ان معنی میں موجود ہے:

( مَنْ یُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه فَاُولٰئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّ یْقِیْنَ وَالشُّهَداءِ وَالصَّالِحِیْنَ ) ۔

”جو اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن کو اس نے اپنی نعمت خاص سے نواز اہے۔ وہ نبیین ، صدیقین ، شہداء صالحین“۔

دیکھئے! یہاں شہداء کا لفظ موجود ہے۔ تو پھر یہ تصور تو غلط ثابت ہوا کہ یہ محاورہ علماء کا قرار دیا ہوا ہے۔ قرآن مجید میں یہ اصطلاح موجود ہے تو پھر لفظ شہداء کیوں نہ کہا گیا؟ شہداء کے لفظ کی بجائے یہ اتنا جملہ کیوں لایا گیا:

( اَلَّذِیْنَ قُتِلُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰه ) ۔

تو اس پر غور کیا جائے تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ بعض الفاظ کو اگر اکیلا استعمال کیا جائے اور ان کی تشریح نہ کی جائے تو ان کی القاب کی سی حیثیت ہوجاتی ہے۔ اگر کہاجاتا کہ شہیدوں کو زندئہ جاوید سمجھو یا شہیدوں کو مردہ نہ سمجھو تو شہید کا لفظ ہمارے ذہن کی پیداوارکا پابند ہوجاتا کہ جسے ہم شہید سمجھ لیں، بس پھر وہ زندئہ جاوید ہے۔ یعنی شہداء کے لفظ کی تشخیص کرنا کہ کون کون شہداء ہیں؟ پھر وہ ہمارا کام ہوجاتا کہ ہم بتائیں کہ کون کون شہداء ہیں۔ قرآن بھیجنے والے کو تو معلوم تھا کہ شہادت کا لفظ اتنا ارزاں ہوجائے گا کہ جو بھی کسی بھی صورت میں قتل ہو، اُسے شہید ہی قرار دے دیا جائے گا۔ اسے دیکھا ہی نہیں جائے گا کہ کس راہ میں شہید ہوا یعنی قتل کس راہ میں ہوا؟ بس ادھر قتل ہوا، اُدھر شہید ہوگیا۔ چاہے جس وجہ سے قتل ہو۔ بلکہ اکثر تو اس مشاہدہ کی بھی ضرورت نہیں کہ یہ قتل ہوا، بس ایک قبر دیکھ لی اور اُسے مرجعیت دینا ہوئی تو کہہ دیا کہ شہید کی قبر ہے۔ نذرانے چڑھنے لگے، چڑھاوے آنے لگے۔ تو گویا لفظ شہید ہمارے محاورات کا پابندہوجاتا ۔لہٰذا خالق نے دونوں آیتوں میں لفظ شہید استعمال ہی نہیں کیا بلکہ معیارِ شہادت بتایا کہ ہم سے سنو کہ اصل شہادت کا نتیجہ زندگیِ جاوید کیونکر بنتا ہے؟ قتل ہو اللہ کی راہ میں۔ اب قتل ہونا تو آنکھ دیکھ سکتی ہے مگر اللہ کی راہ کو آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ ہم آپ تڑپتا ہوا لاشہ دیکھ سکتے ہیں ، زخمی جسم دیکھ سکتے ہیں، زخموں کو شمار کرسکتے ہیں ، گولیوں کے نشان دیکھ سکتے ہیں لیکن ہم آپ اللہ کی راہ کو نہیں دیکھ سکتے اور جب تک اللہ کی راہ کو نہیں سمجھیں گے، اس وقت تک شہید کہنے کا حق نہیں ہے اور نہ ہی شہید سمجھنے کا حق ہے اور جب شہید سمجھنے کا حق نہیں ہے تو زندئہ جاوید سمجھنے کا حق بھی نہیں ہوگا۔وہ تو اسی سے متعلق ہے جو اللہ کی راہ میں قتل ہو۔ بغیر مقصد کو دیکھے ہوئے ہم کسی مقتول کو شہادت کی سند نہیں دے سکتے۔

بات یہ ہے کہ اللہ کی نظر میں جان کی کوئی قیمت نہ ہوتی تو ہماری جان تھی،جب چاہے دے دیتے اور جس صورت سے یہ جان جاتی، صلہ مل جاتا ۔ لیکن اس جان کی بھی پیش خدا قیمت ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہماری جان ہے، لہٰذا جب چاہیں دے دیں۔ اس کیلئے ایک مختصر دلیل یہ ہے کہ اگر اپنی جان ہوتی تو خود کشی جرم ہی نہ ہوتی۔خود کشی کا گناہ اور جرم ہونا ثبوت ہے اس کا کہ یہ جان اپنی نہیں ہے۔ متفق علیہ اسلامی قانون کی روشنی میں دیکھئے۔ اگر جان کی قیمت نہ ہوتی تو یہ حکم ہوتا کہ روزہ رکھو او رمکمل کرو۔ زیادہ سے زیادہ مرہی تو جائیں گے۔ خدا کے ایک حکم کے سلسلہ میں جان جائے گی تو کیا کہنا۔لیکن جی نہیں!جان کی قیمت اس کی نظر میں ہے کہ روزہ اگر مضر ہے تو ناجائز۔اگر اندیشہ ہے کہ بیمار ہوجاؤ گے، تب بھی روزہ نہ رکھو۔ اگر بیمار ہواور اندیشہ ہو کہ بیماری میں طول ہوجائے گا، تو بھی روزہ نہ رکھو۔اگر روزہ رکھا تو وہ باطل ہو گا اور فاقہ ہوگا،روزہ نہیں ہوگا۔ضعیفی ہے، اولاد منع کرتی ہے کہ روزہ نہ رکھئے، آپ کیلئے نقصان دہ ہے۔ ڈاکٹر بھی بتاتے ہیں کہ روزہ رکھنا صحت کیلئے مضر ہے۔ عالم دین سے پوچھا تو انہوں نے بھی روزہ نہ رکھنے کیلئے کہا تو روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔مگر وہ کہتے ہیں کہ عمر بھر تو روزے رکھتے رہے، اب جب دنیا سے چل چلاؤ ہے، تو روزہ نہ رکھیں؟ یعنی اس عبادت کو آخر وقت میں ترک کریں؟ ہماری طبیعت اس کیلئے آمادہ نہیں ہے۔

احکامِ شرع کی روشنی میں مَیں تو یہ کہوں گا کہ عمر بھرتو عبادت کرتے رہے اور اب چلتے وقت بھی گناہ نہ کریں۔ وضو مضر ہے، نہیں وضو نہ کرو، شرع کا حکم ہے تیمم کرلو۔جیسے روزہ ساقط تھا، یہاں وضا کا نائب رکھ دیا گیا کہ اگر وضو نہیں کرسکتے تو تیمم کرلو۔ نماز وہی مرتبہ رکھے گی جو وضو کے ساتھ ہوتی۔ نمازی حضرات کہتے ہیں کہ تیمم سے نماز دل کو نہیں لگتی۔ بعد میں قضا کرکے پڑھ لیں گے۔ توبعد میں پڑھ لیں گے تو یہ ترکِ نمازگناہ ہوگا۔وہ جو آپ کے دل کو نہیں لگتی، وہ خدا کو قبول ہے۔ تو اگر آپ دل کی خاطر نماز پڑھاکرتے ہیں تو ٹھیک ہے، تیمم کرکے نماز نہ پڑھئے اور اگر خدا کے حکم سے نماز پڑھتے ہیں تو جب اس کا حکم وضو کا تھا، وضو کیجئے اور جب اس کا حکم تیمم کا ہے تو تیمم کیجئے۔آپ کا دل کیا چیز ہے؟ عبادت کا تعلق اللہ کے حکم سے ہے، آپ کے دل سے نہیں ہے۔اگر غسل کی ضرورت ہے اور غسل نہیں ہوسکتا تو غسل کا بدل وہی تیمم۔ حالانکہ اگر یہاں دنیاوی عقل سے کام لیا تو پھر دل یہ کہے گا کہ صاحب! غسل میں تو تمام جسم صاف ہوتا، اگر غسل نہیں ممکن ہے تو وضو ہی اس کا قائم مقام ہوجاتا، کم از کم اتنا حصہ تو صاف ہوجاتا لیکن شریعت کیا کہتی ہے کہ اگر دس دفعہ وضو کرلوگے غسل کے بدلے تو کام نہیں چلے گا، ایک

دفعہ تیمم کرلو۔

یہاں دیکھئے کہ طبیعت پر کتنا بار ہے کہ بجائے صاف وضو کے میلے ہوجاؤ اور مٹی مل لو۔مگر غسل ممکن نہیں ہے۔ تو ہم اپنی عقل سے وضو کو اس کا قائم مقام نہیں بنا سکتے جسے اُس نے قائم مقام بنایا۔ایک اپنا عمل اُس کا جانشین تو ہم نہیں بنا سکتے اور اس کے رسول کا جانشین ہم بنالیں!

اگر ہماری جان اس کی نظر میں کوئی قیمت نہ رکھتی تو کیوں یہ حکم ہوتا او رکہا جاتا کہ مرجاؤ مگر روزہ رکھو۔ چاہے مرجاؤمگرغسل وضو ضرور کرو۔معصومین کے زمانہ میں ایسے جاہل قسم کے بخیالِ خود عبادت گزار تھے۔ ایک شخص بیمار تھا۔ تیمارداروں کو معلوم ہوا کہ اسے غسل کی ضرورت ہے۔ وہ اتنا بیمار تھا کہ خود غسل بھی نہیں کرسکتا تھا۔تیمارداروں نے اس کو غسل دے دیا، نہلا دیا۔اُس سے اُس کی تکلیف بڑھ گئی۔نہلانے سے بہت ہی مہلک مرض اسے ہوگیا۔ کسی نے جاکر امام سے بیان کیا کہ یہ ہوا ہے۔ آپ نے اس کے تیمارداروں کیلئے یہ جملہ ارشاد فرمایا:

قَتَلُوْهُ قَتَلَهُمُ اللّٰهُ “۔”انہوں نے اس کو قتل کیا، اللہ انہیں قتل کرے گا“۔

یہ تہذیب معصومین میں سخت ترین جملہ ہے جو ارشاد فرمایا اس جاہلانہ ذوقِ عبادت پر۔ تو جان ہماری اس کے نزدیک کوئی وقعت نہ رکھتی ہوتی تو یہ حکم کیوں ہوتا؟ اسی طرح حج۔ اگر راستہ غیر مامون ہے، خطرئہ جان ہے تو حج ضروری نہیں۔شرائط استطاعت میں امنیت راہ داخل کہ راستہ پُر امن ہو، غیر معمولی خطرئہ جان نہ ہو۔ تو ان تمام احکامات میں جان کی حفاظت پیش نظر رکھی۔اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری جان اس کے نزدیک قیمت رکھتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اندھا دھندجان نہیں دینی کہ کیا ہوگا؟ گولی ہو تو کھالیں گے، لوگ کہیں گے کہ بہت بہادر ہیں۔

یاد رکھئے کہ دنیا کے مقابلہ میں بہادری بہت قابل تعریف ہے۔ اللہ کے مقابلہ میں بہادری قابل تعریف نہیں ہے۔ اگر موقع ایسا ہے کہ حفاظت جان واجب ہے تو یہ بہادری نہیں ہے۔یہ در حقیقت احکامِ الٰہی کے مقابلہ میں جراءت ہے۔ یوں تو بڑا بہادر شیطان تھا جس نے (معاذاللہ) اس کے منہ پر کہہ دیا۔آجکل اس کو اخلاقی جراءت کہا جاتا ہے۔ اس بے باک ی کو اخلاقی جراءت کہتے ہ یں۔ یقینا شیطان بڑی اخلاقی جراءت رکھتا تھا کہ اللہ تعال یٰ کے سامنے اس نے صاف صاف کہہ دیاکہ نہیں ، یہ نہیں ہوسکتا کہ مٹی کے پتلے کے سامنے میں سر جھکاؤں۔ مجھ سے کہتا ہے کہ میں اس کو سجدہ کروں جبکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے، یہ خاک سے پیدا ہوا ہے۔تو میں اس کے سامنے سر کیونکر جھکاؤں؟تو کتنا عذابِ الٰہی نازل ہوا کہ ہمیشہ ہمیشہ کے واسطے راندئہ درگاہ ہو گیا حالانکہ بیچارہ اپنے خیال میں ایک طرح کے شرک سے بچ رہا تھا۔ اللہ کو بے شمار سجدے کرچکا تھا۔ غیر اللہ کے سامنے سجدہ کرنے سے بچ رہا تھا تو خالق اتنا ناراض کیوں ہوا؟ سمجھتا کہ اس نے مجھ کو بہت سجدے کئے ہیں ،خیر اس کے سامنے سجدہ نہیں کرتا تو نہ سہی، اب بھی میرے سامنے سجدے کا وقت آئے گا تو ضرور سجدہ کرے گا۔واقعی کرتا۔

میں کہتا ہوں کہ جب لڑرہا تھا، اس وقت بھی رب رب کہہ رہا تھا۔ میرے مالک! میرے پروردگار! یعنی اسے برابر مانے جارہا تھا۔اس کی خدائی کا قائل تھا۔ فرعون نہیں تھا کہ دعوائے خدائی کردے۔ نمرود نہیں تھا کہ دعوائے اُلوہیت کردے۔ برابر اس کی ربوبیت کو سرنامہ خطاب قرار دے رہا ہے۔ رب رب ہر قدم پر۔ ہر جملے میں رب کہہ رہا تھا۔ مگر خدا نے کہا کہ مجھے ایسے سجدے نہیں چاہئیں جن کے سامنے جھکنے کیلئے کہوں تو ان کے سامنے جھکنے سے انکار کرے۔ یعنی منظورِ نظر افراد سے سرتابی مجھ سے سرتابی ہے۔

انسان اس کے احکام سے سرتابی کرے، اپنے ذوق کی بناء پر، اپنے دل کی خاطر کہ میری طبیعت کو یہ نماز نہیں لگتی۔میرے دل کو یہ وضو نہیں لگتا۔ یہ احکامِ خدا سے سرتابی ہے، انحراف ہے۔ معلوم ہوا کہ ہماری جان اس کی نظر میں قیمت رکھتی ہے۔ اب میں کہتا ہوں کہ جان اندھادھند نہیں دینا ہے۔جب جان جانے کا خطرہ ہو تو یہ دیکھنا ہے کہ جان جائے گی تو سوارت ہوگی یا اکارت جائے گی۔یہ سوارت اور اکارت ہونے کا تعلق مقصد سے ہے۔ اگر پست مقصد کیلئے یا بلا مقصد ہوگئی تو اکارت گئی اور بلند مقصد کی خاطر جان گئی تو سوارت ہوئی۔

میں نے کل عرض کیا تھا کہ انسان سے بالا تر بس خالق ہے۔ پس اگر اللہ کی راہ کے سوا کسی دوسرے مقصد کیلئے جان گئی تو وہ اکارت گئی اور ہلاکت ہوئی اور اگر اللہ کے مقصد کی خاطر جان گئی ، وہ سوارت ہوئی۔وہ سنت کائنات کے مطابق ہے۔یعنی سنت کائنات یہ ہے کہ پست بلند پر قربان ہو۔ جمادات نباتات پر قربان ہوئے، نباتات حیوانات پر قربان ہوئے اور حیوانات انسان پر قربان ہوئے۔ تو اب اگر انسان قربانی پیش کرے تو اپنے سے بالا ترکی خاطر اور اسے بالا تر صرف اللہ ہے۔

مگر اب صاحبانِ فہم غور کریں کہ اب ایک مشکل ہے کہ اس سے پہلے ہر ایک شے جو اپنے سے بلند کی خاطر قربان ہوتی تھی، وہ بلند محتاج ہوتا تھا یعنی پودے غذا کے محتاج ہیں، اجزاء کے محتاج ہیں۔ زمین نے اس ضرورت کو پوراکرنے کیلئے ان اجزاء کو جو اس لائق تھے کہ پودے کا جزو بن سکیں، اس کی خاطر پیش کردیا، یہ قربانی ہوئی۔تو پودا محتاج تھا ان ذرّات کا۔ اگر یہ ذرات اس میں شامل نہ ہوتے تو پودے کی ہستی قائم نہ ہوتی۔ اس ضرورت کو زمین نے پورا کیا تو قربانی ہوئی۔

اسی طرح نباتات انسان اور حیوان کے کام آئے۔ تو حیوان محتاجِ غذا تھا۔ اگر غذا نہ ملے تو یہ ہلاک ہوجائے۔پودوں نے اس ضرورت کو پورا کردیا۔ اپنی ہستی کو فنا کردیا، اس کی غذا رسانی کیلئے۔پھر بقا حاصل ہوئی اور ترقی کا درجہ ملا۔ حیوان میں شامل ہوگئے۔پس حیوان محتاجِ غذا تھالیکن انسان سے جو بلند تر ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ہے، نہ اُسے کوئی ضرورت ہوتی ہے ، نہ اس کے دامن پر گردِ تغیر و زوال و انتقال آسکتی ہے۔تمام دنیا مل کر اس کے سامنے سربہ سجود ہوجائے، تو اس کے جاہ و جلال میں ذرّ ہ بھر اضافہ نہیں اور سب مل کر منکر ہوجائیں تو اس کے جاہ و جلال و جبروتِ قدرت میں ذرّہ بھر کمی نہیں۔ اس کیلئے فوج و لشکر کی ضرورت نہیں۔ فوج و لشکر سب مخلوق ہیں، وہ جب چاہے ان کو تباہ کردے۔ اس کی ذات ان کی محتاج نہیں ہے۔ ایسی بے نیاز مطلق ہستی ہے کہ نہ انکار سے اس کا نقصان، نہ اقرار سے اس کافائدہ۔

ہم نے ایک ملک کے متعلق سنا ، صحیح و غلط کا پتہ نہیں۔ اس ملک والوں نے یہ کہا کہ ہم نے خدا کو اپنے ملک سے نکال دیا ہے۔ اب خبریں آنے لگیں کہ وہاں مدرسے اور مسجدیں کھل گئے یعنی ہواں عبادت کی آزادی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا آگیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ ہم نے خدا کو اپنے ملک سے نکال دیا۔ زبان ان کے منہ میں ہے، جو مرضی کہہ دیں۔ لیکن ان کے کہنے سے کیا واقعی وہ نکل ہی گیا؟ یہ تو ان کا کہنا ہے کہ نکال دیا لیکن واقعی کیا وہ ان کے ملک سے نکل گیا، چلا گیا؟یہ اُس ملک والوں نے کہا۔ جس شخص نے بھی سائنس پڑھ لی تو

ترقی کی نشانی یہ سمجھ لی کہ میری سمجھ میں تو خدا کا وجود نہیں آیا، حالانکہ ذہن کے اندر نہ اقرار ہے ، نہ انکا رہے۔ لیکن اس بات کا اظہار فیشن کی بناء پر ہے کہ میں فلسفی ہوں، میری سمجھ میں خدا کا وجود نہیں آیا۔ باغی ہونا بہت ترقی کی نشانی ہے۔ سماج سے باغی ، ماں باپ سے باغی، روایاتِ خاندانی سے باغی اور سب سے بڑی اور اعلیٰ قسم یہ کہ خدا سے باغی۔

مجھے اس وقت فلسفے اور منطق کی کوئی بحث نہیں کرنی ہے، مجھے یہ کہنا ہے کہ آپ بڑے باغی ہیں تو جب جانوں کہ جب آپ پورے باغی ہوں، جب وہ بھیجے تو آئیے نہیں اور جب وہ بلائے تو جائیے نہیں۔حالانکہ کتنے ہی بڑے بلند بانگ دعوے بغاوت کے کرنے کے عادی ہوں، جب اُس نے بھیجا، تب آئے اور جب وہ بلائے گا تو چلے جائیں گے۔اس وقت بغاوت بھول جائیں گے۔میں کہتا ہوں کہ جس وقت آئے تھے تو کم از کم روئے تو تھے اور جب جانا ہوگا تو سانس تک نہ لیں گے، چپکے سے چلے جائیں گے۔یہ ہے انسان، ضعیف البیان کی حقیقت بغاوت۔یہ کیا بغاوت کرسکتا ہے؟اگر وہ اپنے اختیار کو سلب کرلے، اُس نے زبان اس کے دہن میں دے رکھی ہے تو اقرار کرے یا انکار کرے۔لیکن وہ اس زبان کو خاموش کردے تو یہ بات تو کرے؟ اُس نے ہاتھ دئیے ہیں اور اس کے ارادے کے تابع بنا رکھے ہیں تاکہ اس کا جوہر اختیار نمودار ہو۔ لیکن وہ اس ہاتھ کو بے حس و حرکت کردے تو یہ جنبش تو کرے۔ اس نے پاؤں دئیے ہیں اور اس کے ارادے کے تابع بنا رکھا ہے کہ چاہے یہ ان پیروں سے صحیح راستہ پر چلے ، چاہے غلط راستے پر چلے۔ لیکن وہ اس پیر کو معطل کردے تو یہ ایک قدم چل کر تو دکھائے۔عین اس وقت جب یہ کہہ رہا ہے کہ میں خدا کو نہیں مانتا، عین اسی وقت دل کی دھڑکن اطاعت کررہی ہے، نبض کی جنبش اس کی اطاعت کررہی ہے، خون کی روانی اس کی اطاعت کررہی ہے۔ جتنی اطاعت اسے لینی ہے، وہ تو لے رہا ہے۔ ایک زبان اس کے قبضے میں ہے، زبان کے اس قبضہ سے ناجائز فائدہ اٹھاکر اس کے دئیے ہوئے اختیار کو اس کے خلاف استعمال کرکے انکار کررہا ہے تو حقیقت میں اُس سے اسلام کا مطالبہ جو ہے، وہ صرف شرافت کا مطالبہ ہے کہ جس کی اطاعت جبری کرنی ہے، اس کی اطاعت اختیاری کرلو تو تمہارا جوہر انسانیت نمودار ہوگا ورنہ جو اطاعت اُسے لینا ہے، وہ تو وہ لے ہی لے گامگر وہ اطاعت ایسی ہوگی جیسی پتھروں کی اطاعت ہے، جیسے درختوں کی اطاعت ہے، جیسے جانوروں کی اطاعت ہے۔اگر انسانی اطاعت کرنا ہے تو اپنے ارادہ سے اطاعت کرلو۔ اس صورت میں اگر اطاعت کرو گے تو جزا کے مطالبہ کا تمہیں کوئی حق نہیں ہوگا اور ارادہ کے ساتھ اگر اطاعت کرو تو پھر جزا ہوگی۔

یہاں ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ دنیا کی حکومتوں میں مخالفت کی سزا ہے مگر موافقت کی جزا نہیں ہے۔ ایک دفعہ قانون کی خلاف ورزی کرے تو پکڑا جائے لیکن اگر عمر بھر قانون کے مطابق عمل کرے تو کوئی صلہ نہیں ملے گا۔کہاجائے گا کہ یہ تو رعایا ہونے کا لازمی تقاضا ہے اور وہ کہ جس کی ذاتی حکومت ہے، وہاں مخالفت کی سزا اور موافقت کی جزا ہے۔

میں پوری ذمہ داری کے ساتھ قرآن و حدیث کے مطالعہ کی بناء پر عرض کررہا ہوں کہ اگر سزا کا اعلان ہے تو وہ ٹل بھی سکتا ہے مگر جزا کا اعلان ٹلنے والا نہیں ہے۔دوسرا فرق یہ ہے کہ سزا عمل سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ جتنا گناہ ، اُتنی سزا۔ جزا کیلئے کم از کم دس گنا کا اعلان کہ ایک نیک کام کرو گے تو دس گنا اس کی جزا ملے گی۔

کسی نے مجھے مدعو کیا، میں نے سوچا کہ پتہ نہیں مجھے کیوں مدعو کیا ہے؟ وہ وقت مقررہ پر آئے اور مجھے لے گئے۔ بعض لوگ بہت سے لوگوں کو مدعو کرتے ہیں تو جو بھی یاد آتا ہے، اُسے اپنے تعلقات کی وسعت کے مظاہرہ کے لئے بلا لیتے ہیں۔آجکل جو احکامِ الٰہیہ پر عمل ہوتا ہے، اس میں بھی اپنے تعلقات کی نمائش ہوتی ہے، یہاں تک کہ افطارِ صوم کی دعوت ہے تواس میں اکثر روزہ دارنہیں بلائے جائیں گے۔ جو بڑے لوگ ان سے متعلق ہیں، یعنی ان کے شایانِ شان ہیں، جن سے تعلقات قائم کرنا ہیں، انہیں مدعو کیا جائے گا۔معلوم ہوا کہ انہیں روزہ سے کوئی مطلب نہیں، اس کے معنی یہ کہ نام ہے افطارِ صوم کا اور مقصد اپنی دوستی اور تعلقا ت کامظاہرہ کرنا ہے۔ ایسے ہی اکثر نذر نیاز وغیرہ کی جاتی ہے اور ان سے جو مقصدامدادِ غریباں کا ہے، وہ فوت ہوجاتا ہے۔غریب آئیں تو ان کے کپڑوں کے میلے پن کو دیکھ کر رد کردیا جاتا ہے اور جو ان کے حسب حیثیت ہیں، ان کو مدعو کیا جاتا ہے۔معلوم نہیں کہ یہ نذر بارگاہِ معصومین میں قبول ہوگی یا نہیں اور خدا اسے قبول کرے گا یا نہیں کیونکہ اصل قبول کرنا تو اسی کو ہے۔ نذراُن کیلئے ہوئی مگر قبول کرنے والااللہ تعالیٰ ہے۔

پس انسان جو کچھ بھی کرتا ہے، اس میں بہت زیادہ نمودونمائش ہوتی ہے۔ جنابِ امیر علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں ایک گورنر کو بڑا سخت خط لکھا ہے کہ بصرہ میں ایک شخص نے تمہیں مدعو کیا، روسائے بصرہ میں سے ایک آدمی نے، اور تم وہاں بڑی تیزی سے گئے۔ یہ عتاب کا انداز ہے کہ بڑی تیزی سے ،بڑے ذوق و شوق سے وہاں گئے۔ مجھے تم سے یہ توقع نہ تھی کہ تم ایسے افراد کے ہاں دعوت میں جاؤ گے جہاں دولت مندوں کو بلایا جاتا ہے اور محتاجوں کو واپس بھیج دیا جاتا ہو۔امیرالمومنین علیہ السلام نے جس بات پر تنبیہہ فرمائی تھی، وہ بات ہمارے ہاں ہورہی ہے، اکثر عبادات کے انجام دینے میں۔اس سے جو دینی فوائد ہیں، وہ مفقود ہوجاتے ہیں اورلوگوں کی نظر میں مادّی فوائدکا حصول ہی ساری اہمیت حاصل کرلیتا ہے۔ پس جو جان رضائے الٰہی کے سوا کسی اور مقصد میں صرف ہوتو وہ جان ضائع اور برباد ہوگی۔

پس جان دینے میں بہت سوجھ بوجھ کی ضرورت ہوگی۔ جس کو خالق نے یوں کہا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہو۔ مشکل یہ درپیش آئی کہ ہر چیزمحتاج تھی۔ لہٰذا قربانی کا تصور تھا۔ لیکن انسان سے بالا تر جو ذات ہے، وہ کسی کی محتاج نہیں ہے۔ اس کی خاطر کیونکر قربان ہوں۔ اس کیلئے کس طرح جان دیں؟ اس مشکل کو آیہ قرآن نے ایک لفظ سے حل کیا اور وہ یہ کہ مقصد قربانی کوان الفاظ میں ادا کیا:

اَلَّذِیْنَ قُتِلُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ “۔”جو اللہ کی راہ میں قتل ہوں“۔

ہر صاحب عقل سمجھ سکتا ہے کہ راہ عین منزل نہیں ہوتی۔منزل او رہوتی ہے، راہ اور ہوتی ہے۔ ہاں! راہ پر چل کر منزل ملا کرتی ہے۔راہِ خدا کا مقصد یہ ہے کہ ان مقاصد کی خاطر جان دے جو اللہ کو پسند ہیں۔ ان مقاصد کی خاطر جان دینا فی سبیل اللہ جان دینا ہوا۔ مگر اللہ کی راہ کیونکر معلوم ہو؟ اگر منزل مادّی ہو یعنی جسمانی تو اشارہ سے بتائی جاسکتی ہے ، مثلاً کوئی پوچھے کہ ماڈل ٹاؤن کہاں ہے؟ تو اگر وہیں جا رہا ہے تو کہہ سکتا ہے کہ میرے پیچھے پیچھے آجاؤ اور اگر اُدھر نہیں جارہا تو اشارے سے بتاسکتا ہے کہ اُدھر چلے جاؤ۔لیکن یہاں جس کا راستہ ہے، وہ جسم و جسمانیت سے بری، آنکھوں سے دکھائی نہیں دے سکتا۔ کسی سمت خاص میں نہیں کہ اُدھر اشارہ کیا جائے، کسی مکان میں مقید نہیں کہ ادھر بتایا جائے۔ کوئی سمجھے کہ کعبہ ہے، اُدھر رُخ کرکے کہے کہ یہ ہے۔ تو ہر مسلمان جانتا ہے ، جتنے لوگ خانہ خدا سمجھتے ہیں، وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہاں اللہ رہتا ہے۔ بودوباش کا تصور کسی کو نہیں ہے۔ حالانکہ بیت اللہ کہتے ہیں اور بیت اللہ صرف نام کو نہیں کہتے۔دور دراز سے وہاں حج کو جاتے ہیں۔لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ اللہ وہاں رہتا ہے۔ تو جسے بیت اللہ کہا، اس کیلئے تو نہیں کہتے کہ اللہ یہاں رہتا ہے اور جسے اُس نے عرش کہہ دیا، اس کیلئے کہتے ہیں کہ اللہ وہاں بیٹھتا ہے۔

ایک عقلی بات کہتا ہوں، ہر ایک فیصلہ کرے کہ جسے بیٹھنے کیلئے جگہ کی ضرورت ہوگی، اُسے رہنے کیلئے مکان کی بھی ضرورت ہوگی اور جسے رہنے کیلئے مکان کی ضرورت نہیں، اُسے بیٹھنے کیلئے جگہ کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔یہ بھی نسبت ہے اللہ کا گھر اور وہ بھی نسبت ہے اللہ کا عرش۔مگر جیسی نسبت ہوتی ہے، ویسا ہی اس کے ساتھ عمل بھی ہوتا ہے۔ یہ ہے اللہ کا گھر اور وہ ہے اللہ کا عرش۔ گھر کی نسبت کسی شخص کی طرف نجی اور ذاتی ہوتی ہے اور عرش کی نسبت تخت سلطنت، یہ منصب کی ہوتی ہے۔ تو جسے گھر کہا تھا، جب نجی کام لینا ہوا، گھریلو، کسی کا زچہ خانہ بنانا تو اُسے منتخب کیا اور جب کسی کو سرکاری مہمان بنانا ہوا ، وہاں بلا لیا۔

کسی طرح معلوم ہو اللہ کا راستہ؟ اشارہ کردیں تو کیا وہاں ہے؟ ادھر کہہ دیں تو کیا وہاں ہے؟ کون بتائے اللہ کا راستہ؟ اشارے سے بتایا نہیں جاسکتا۔ اب سادہ الفاظ میں ایک اصول بتاتا ہوں کہ جادہ شناس وہی ہوگا جو منزل شناس ہو۔ جو منزل کو جانتا ہوگا، وہی راستہ کو بھی جانتا ہوگا۔اللہ کی راہ کو وہ جانے جو اللہ کی پوری معرفت رکھتا ہو۔ جب اللہ کی معرفت کامل رکھنے والا، جسے اُس نے رہنما بنایا ہے، وہ معرفت نہ رکھتا ہوتا تو رہنما کیوں بنایا جاتا؟ ہاں! ہم رہنما بناتے تو شاید وہ منزل سے واقف نہ ہوتا۔جو اللہ کے بنائے ہوئے رہنما ہوتے ہیںِ وہ معرفت کامل رکھتے ہیں۔وہی اس کی راہ کو بتا سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ فقہ جعفریہ میں یہ اصول ہوگیا کہ بغیر اذنِ امام کے جہاد نہیں ہوتا۔اب اگر امام سامنے ہیں، رسائی ہے ان تک، تو خاص انہی سے پوچھا جائے گا۔ پھر جتنے عالم ہیں جن کی امام تک رسائی ہے، جس طرح آپ عالم سے مسئلہ پوچھنے کے محتاج، اسی طرح عالم امام سے مسئلہ پوچھنے کے محتاج۔ لیکن غیبت کے زمانہ میں ، اوصاف کے لحاظ سے جنہیں انہوں نے حقوق دئیے ہوں، جن کے بارے میں کہا ہو کہ جب ہم تک رسائی نہ ہو تو یہ اوصاف جن میں پائے جائیں، وہ ہماری طرف سے ہمارے نائب ہیں۔

اس لئے جب وہ حضرات سامنے تھے، پیغمبر خدااپنے دَور میں اور ان کے بتائے ہوئے نامزد جانشین ہمارے آئمہ معصومین جب تک رہے، جب تک ان کے حکم سے جہاد نہ ہو، وہ جہاد نہیں ہوگا، جنگ نہیں ہوگی۔ وہ جنگ چاہے کسی مفادِ اسلامی کیلئے ہی ہو، جہاد اُسی وقت ہوگا جب ان کااذن ثابت ہو۔اس لئے بڑے بڑے صاحب اوصاف افراد نے بنی اُمیہ سے ٹکر لی اور شہید ہوئے ۔

تو شہید اس معنی میں تو ہیں کہ مقتولِ ظلم ہیں لیکن وہ شہادت جو اصطلاحی شہادت ہے، جس میں غسل و کفن نہیں ہوتا، وہ صرف اسی وقت ہوگی جب میدانِ جنگ میں امام کی اجازت سے ہو۔ معصوم کی اجازت سے ہو۔ اسی لئے ان لڑائیوں کو ، جو چاہے مظلوم حیثیت سے لڑی گئی ہوں، بنی اُمیہ کے مقابلہ میں، لیکن چونکہ ثابت نہیں ہے کہ ہمارے آئمہ کی تائیداس میں شامل ہے، اس لئے ہم نے ان لڑائیوں کو وہ درجہ نہیں دیا جو اُن لڑائیوں کو دیا ہے جن میں معصومین شریک تھے۔


شہید کی جو موت ہے ۴

بسْم اللّٰه الرَّحْمٰن الرَّحیْم

( لَا تَحْسَبَنَّ الَّذیْنَ قتلوْافیْ سَبیْل اللّٰه اَمْوَاتًابَلْ اَحْیَاءٌ عنْدَ رَبهمْ یرْزَقوْن ) ۔

”جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں ، اپنے پروردگار کے ہاں رزق حاصل کرتے ہیں“۔

میں نے عرض کیا تھا کہ شہید کیلئے غسل و کفن نہیں ہے۔ تو پوچھا یہ گیا ہے کہ جو نائب امام کے حکم سے جہاد شروع کیا جائے ، کیا اس میں شہید ہونے والے کیلئے بھی غسل و کفن نہیں ہوگا؟تو جواب یہ ہے کہ جب اس میں شرع کی تمام شرائط پوری ہوگئیں تو جہاد ہے اور اس میں شہید ہونے والے کیلئے غسل و کفن نہیں ہے۔ فقہی احکام اسی شہید کے ساتھ مخصوص ہیں جو اس قسم کے جہاد کے معرکہ جنگ میں شہید ہو۔لیکن اگر کوئیظالم خواہ خدمت دین کی بناء پر کسی کو قتل کردے تو وہ مقتول طلم کے معنی میں شہید ہے لیکن فقہ کے احکام اس آیت میں جو اعلان حیات جاودانی کیلئے کیا گیا ہے،وہ اس شہید کے ساتھ وابستہ ہیں جس پر فقہ کے اصول مرتب ہوں۔ اس حیات جاودانی کا معیار”قتلوْافیْ سَبیْل اللّٰه “ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہو۔

فرض کیجئے کسی شخص کو نصرت دین کی وجہ سے کسی نے نشانہ ظلم بنادیا۔ اگرچہ معرکہ جنگ میں شہید نہیں ہے لیکن قتل ہونا راہ خدا میں یقینی ہے، لہٰذا قرآن مجید کا اعلان اس کیلئے بھی ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے راہ خدا میں جدوجہد اتنی کی کہ جس کی بناء پر اس کے قویٰ متحمل نہ ہوسکے اور وہ زیادہ زندہ نہ رہ سکاتو وہ قتل تو نہیں ہوا ہے مگر موت اس کی راہ خدا میں ہے۔ یہ حیات جاودانی کی جو آیا ت ہیں، ان میں ”انَّمَا“کے معنی ہوتے ہیں ایک شے کا ثبوت اور اس کے غیر کی نفی۔

( انَّمَاوَلیّکم اللّٰه وَرَسوْلَه وَالَّذیْنَ اٰمَنوْاالَّذیْنَ یقیْموْنَ الصَّلوٰةالخ ) ۔

اس ”انَّمَا“کے معنی یہ ہے کہ بس یہی ولی ہیں اور دوسرا کوئی ولی نہیں ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور کو ولی ماننا غلط ہے۔ ایک بہت بڑے ادیب تھے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ کیا بات ہے کہ آپ کے ہاں اولیاء نہیں ہوتے؟ یعنی ہمارے گروہ میں اولیاء نہیں ہوتے۔یہ کیا بات ہے؟ میں کہا کہ اولیاء ہمارے ہاں کوئی الگ قوم نہیں ہے۔ جو ایمان و عمل کے جتنے درجہ پر فائز ہے، اتنے درجہ اس کو ولایت الٰہی حاصل ہے اور یوں بحیثیت منصب ولی وہ ہے جسے وہ خود مقرر کرے۔

آیہ تطہیر میں کلمہ حصر ہے:

( انَّمَایریْداللّٰه لیذْهبَ عَنْکم الرجْسَ اَهْلَ الْبَیْت وَیطَهرَکمْ تَطْهیْرًا ) ۔

اسی طرح یہ آیت جو میں نے سرنامہ کلام بنائی، چوتھے پارے میں ہے ۔ اس میں”انَّمَا“کلمہ حصر نہیں ہے۔ اس آیت کا پس منظر کچھ یوں ہے، مختصراً عرض کرنا ہے۔معرکہ احد کا نتیجہ کچھ یوں ہوا کہ کثرت سے لوگ شہید ہوئے اور جنہیں جان زیادہ عزیز تھی، انہوں نے ایسی تدابیر اختیا رکیں کہ جان بچ جائے۔بہت محتاط الفاظ میں بیان کروں تو بھی حقیقت تو سامنے آئے گی۔ قرآن مجید کی آیات ہیں، کوئی روایت تونہیں ہے۔ ناموں کا سوال نہیں، قرآن مجید میں نام نہیں ہیں اور میں بھی نام کب لے رہا ہوں ، اور جو ایک اجتماعی عمل ہو، اس میں نام کہاں کہاں تک لئے جائیں۔

جنگ ختم ہوگئی، بہت لوگ شہید ہوگئے۔ جو لوگ میدان سے ہٹے ہیں، ان کی آپس میں گفتگوئیں ہیں۔یہ گفتگوئیں اس میدان سے ہٹنے کے عمل سے زیادہ خطرناک ہیں، دینی حیثیت سے، یعنی میدان جنگ سے جان بچانے کیلئے ہٹنے کو تو ایک بشری کمزوری کہاجا سکتا ہے لیکن اس گفتگو سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ دلوں میں ایمان ہے ہی نہیں۔اس کو اس عمل سے چسپاں کیجئے تو اس عمل کا پس منظر ان لوگوں کی آپس کی گفتگو سے معلوم ہوجاتا ہے جسے حضرت علی علیہ السلام نے ایک جملے سے تجزیہ کرکے بر وقت بتادیا تھا۔

وہ جملہ وہ ہے جسے شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے ، جو بیہقی ہند کہلاتے ہیں، مدارج النبوة میں تحریر کیا ہے۔ یہ کتاب فارسی زبان میں ہے۔ ہندوستان میں منشی نولکشور نے چھاپی ہے جو ایک غیر جانبدارمطبع ہے۔ شاہ عبدالحق نے اس موقع پر لکھا ہے کہ میدان جنگ میں صرف ایک ذات رہ گئی تھی ، حضرت علی علیہ السلام کی،آپ پیغمبر خدا کو تلاش کرتے ہوئے ایک گڑھے کے قریب پہنچے تو انہیں اس گڑھے میں زخمی حالت میں دیکھا۔ نفسیاتی طور پر چند جملے ہیں کہ اگر ان کا پس منظر سامنے نہ ہوتو وہ سمجھ میں نہیں آئیں گے کہ کیوں ارشادفرمائے۔

میں کہتا ہوں کہ جماعت کے کردار پر پیغمبر کا غیظ و غضب اتنا تھا کہ اب علی جو سامنے نظر آئے تو فرماتے ہیں: ”تم بھی کیوں نہیں چلے گئے؟“ہر شخص اس جملے کی روح کو دیکھ سکتا ہے۔ دل کی کس کیفیت کا مظہر ہے کہ”تم بھی کیوں نہیں چلے گئے؟“بس علی جیسامزاج شناس رسول ہونا چاہئے کہ ایک جملے سے پیغمبر خداکی کیفیت مزاج کو بدلا۔ علی نے جواب دیا:

اَاَکْفربَعْدَالْایْمَان “۔

”کیا ایمان لانے کے بعد کافر ہوجاتا؟“

میں کہتا ہوں کہ علی علیہ السلام کا یہ کہنا اور پیغمبر خدا کا تائیدی سکوت فرمانا بلکہ خوش ہوجانا ، اس نے آج قراروفرار کو میعار کفرو ایمان بنا دیا۔اس سے قبل کی لوگوں کی جو آپس کی گفتگو ہے، قرآن میں درج ہے۔کسی راوی کی بیان کردہ نہیں ہے۔وہ عجیب و غریب ہے۔ طولانی گفتگو ہے۔ غور سے دیکھئے، میں خلاصہ سنا رہا ہوں۔

جن حضرات نے، جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ دوچار افراد نہیں ہیں کہ آپ کا ذہن خاص افراد کی طرف جائے، وہ کثرت جو میدان سے ہٹی تھی، بجائے اس کے کہ اپنے عمل پرشرمندہ ہو اور جو شہدائے احد ہیں، ان کی تعریفیں کریں، وہ آپس میں اپنے عمل پر گویا نازش کررہے تھے کہ دیکھو! اگر یہ لوگ بھی ہماری طرح کرتے تو ”مَاقَتَلوْا “، پھر قتل نہ ہوتے۔ یعنی (معاذاللہ) یہ سب احمق تھے جنہوں نے جانیں دے دیں۔ ہماری طرح عقل سے کام لیتے اور دنیا نے تو عقل کا معیار یہی رکھا ہے۔ اگر ہماری طرح عقل سے کام لیتے تو”مَاقَتَلوْا “، پھر قتل نہ ہوتے۔پ یغمبر خدا ہم سے کبھی رائے نہیں لیتے تھے۔ آجکل دنیا کہتی ہے کہ رسول ہر بات رائے سے کرتے تھے اور قرآن ان کی زبانی شکایت یہی کررہا ہے کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم سے تو رائے لی ہی نہیں جاتی۔ ہم سے تو کوئی مشورہ لیتا ہی نہیں۔اگر ہم سے مشورہ لیا جائے تو ایسے روزہائے بد کیوں دیکھنا پڑیں۔ آخر ہمیں بھی ان معاملات میں کوئی دخل ہے یا نہیں؟ آخر ہم جمہور ہیں تو ہمارا دخل ہونا چاہئے ان باتوں میں۔

( لَوْکَانَ منَ الْاَ مْرشَيْئًامَاقتلْنَا ) “۔

”اگر ہمیں کوئی اس امر میں دخل ہوتا تو ہم کیوں قتل ہوتے؟“

اب ان قتل ہونے والوں میں اپنے کو بھی شامل کرلیا۔ وہ کبھی ان میں شامل نہیں ہوتے، یہ ان میں شامل ہوگئے۔”مَاقتلْنَا “، تو اس طرح سے ہم قتل نہ ہوتے۔ یہ ہے پس منظر جس میں پہلے یہ کہا گیا ہے کہ تم ہٹنے کے بعد کیا موت سے بچے رہو گے؟ اس سے قبل کی آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ جب ہم جانیں جب تم اپنے گھروں میں رہ کر موت سے بچ جاؤ۔ کیا اگر تم گھروں کے اندر رہے تو تمہیں موت نہیں آئے گی؟ جب ہم جانیں کہ تم بچ جاؤ اوررہ گئے یہ کہ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو۔

( بَلْ اَحْیَاءٌ عنْدَرَبهمْ یرْزَقوْنَ ) ۔

”بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے ہاں رزق حاصل کرتے ہیں“۔

تو اصل میں یہ لوگ جو تصور کررہے تھے کہ شہداء نے بیکار جانیں دیں ، ان کی جانیں فضول گئیں، اس کے مقابلہ میں قرآن مجید میں شہداء کیلئے یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے علاوہ جو عمر صرف کرے ، راہ خدا میں، وہ زندئہ جاوید نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کو جو راہ خدا سے جان بچائیں، اس خیال سے کہ اس طرح ہماری زندگی بچ گئی، ان کے مقابلہ میں کہا جارہا ہے کہ تمہاری زندگیاں بچی ہوئی نہیں ہیں۔ تم تو جب مرنا ہوگا، مروگے اور مروگے تو ہلاکت ہی ہوگی۔ ہاں! یہ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو۔ چونکہ اصل گفتگو انہی میں تھی، ان کیلئے ان کا تصور یہ تھا کہ بیکار مرگئے۔اس لئے کہا گیا کہ ان کو مرا ہو ا نہ سمجھو۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو میدان جنگ میں اس طرح سے نہ جائے، وہ مردہ ہے۔ وہ تو جب کوئی دلیل حصر ہوتی ، انحصار کا ثبوت ہوتا۔ یہاں نہ پس منظر ہے ، نہ انحصار۔

اب میں عقلی طور پرپہلے آپ کے سامنے اس سوال کو پیش کرتا ہوں ، ماشاء اللہ صاحبان عقل و فہم ہیں، دو آدمی میدان جنگ میں آئے، دونوں نے بھرپور جنگ کی۔ ایک پر مقابل کاوار کام کرگیا، ایک پر دشمن کا وار کام نہیں کرسکا۔یاد رکھئے کہ جزائے اخروی اعمال اختیاری پر منحصر ہوتی ہے۔ جب اختیاری کارنامہ عمل میں دونوں یکساں ہیں تو وار کا چلنا یا نہ چلنا اتفاق ہے۔ اللہ کے ہاں جزا اتفاق سے وابستہ نہیں ہوتی۔

اب جو عرض کررہا ہوں، فرصت کے لمحات میں اس پر غور کیجئے گا ، میدان جنگ میں آکر اختیاری بات تو ثابت قدم رہنا ہے۔ مسلمانوں میں دو معزز لقب ہیں غازی او رشہید۔یعنی زندہ رہے تو غازی، مرگئے تو شہید۔اپنے بس میں قائم رہناہے ، برقرار رہناہے ، ثابت قدم رہناہے۔غازی ہونا بھی اپنے بس کا نہیں اور شہید ہونا بھی اپنے بس کا نہیں۔ثابت قدم رہے، اگر ہمارا وار چل گیا دشمن کو ختم کرکے زندہ واپس آگئے تو غازی ہوگئے۔ اگر اس کا وار چل گیا اور ہم گر گئے زخمی ہوکر تو شہید ہوگئے۔ نہ غازی ہونا اپنے اختیار میں، نہ شہید ہونا اپنے اختیار میں۔ جما رہنا اپنے اختیار میں ہے۔

ایک بڑی حقیقت ہے جسے صاحبان فہم اپنی فہم کے اعتبار سے جانچ لیں عقلی طورپر کہ صحیح ہے یا نہیں! وہ یہ عرض کررہا ہوں دینی حقیقت کہ اگر شہادت کے شوق میں میدان جنگ میں کوئی کمی ہوگئی دشمن کے مقابلہ میں تو یاد رکھئے کہ شہادت کی منزل دور ہوجائے گی۔یعنی میدان جنگ میں ہر مجاہد کو یہ طے کرکے آنا چاہئے کہ ہمیں قاتل ہونا ہے ، حالانکہ لوگ خونریزی سے بہت گھبرانے لگے ہیں۔کچھ عرصہ سے یہ مسئلہ بہت زورشور سے پیش کیا جارہا ہے کہ اسلام میں خونریزی جائز نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اسلام میں خونریزی نہ ہوتی تو جہاد کا حکم ہی نہ ہوتا۔ میں ایک مرتبہ الہ آباد گیا۔ یہ قضیے تارہ تازہ تھے۔ میری اطلاع کے بغیر موضوع کا اعلان کردیا گیا۔ جب میں گیا تو معلوم یہ ہوا کہ اسلام میں خونریزی نہیں ہے۔ میں سمجھ گیا کہ اس کا پس منظر کیا ہے۔اسلام خونریزی کا حامی نہیں ہے۔ اعلان ہوگیا۔

تو مجھے اس پر تقریر تو کرنا تھی۔ پہلے تو ایک اصولی بات کہی کہ ایک ( debate )ہوتی ہے۔ اس قسم کا یک رخا موضوع ڈیبیٹ کا ہوتا ہے کہ کوئی موافق تقریرکرے، کوئی مخالف تقریر کرے۔ اس کے بعد رائے شماری ہوتی ہے، ووٹ لئے جاتے ہیں۔ وہ ڈیبیٹ کا موضوع ہوتا ہے۔ لیکن ایک مقرر کو جو موضوع دیا جائے، اسے جملہ ناتمام ہونا چاہئے۔ مثلاً اسلام اور خونریزی۔ اب یہ اس مقرر کا کام ہے کہ اسلام حامی ہے یا نہیں ہے۔ جب آپ نے خود ہی طے کرلیا کہ اسلام خونریزی کا حامی نہیں ہے تو پھر تقریر بھی خود ہی کرلی ہوتی۔ میری کیا ضرورت تھی؟میں نے کہا کہ اگر اس میں ایک لفظ اور بڑھا دیا جائے تو پھر میں اس موضوع کی موافقت میں تقریر کرنے کیلئے تیار ہوں اور وہ لفظ یہ ہے کہ اسلام ناحق خونریزی کا حامی نہیں ہے۔

اب میدان جنگ میں جو شخص آئے، اسے یہ طے کرکے آنا چاہئے کہ ہم زیادہ سے زیادہ دشمنوں کی جان لیں گے اور قتل کریں گے۔ پھر اتفاق سے اگر دشمن کا وار چل جائے اور قتل ہوجائیں تو شہید ہیں اور اگر دشمن کے سامنے کھڑے ہوکر اس شوق میں کچھ رعایت کردی کہ شہید ہوجائیں تو یاد رکھئے کہ یہ شوق شہادت باعث ہلاکت ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل معیار ثابت قدم رہنا ہے اور میدان جنگ میں کوتاہی نہ ہونا ہے۔ اب اگر کوتاہی نہ ہوجانے کے باوجود دشمن کی تلوار کام کرجائے تو پھر شہید ہوگا۔

اگر آپ غور کریں تو آپ خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ جو بات اپنے بس کی نہ ہو، اس پر احکام شرع مرتب نہیں ہوسکتے، نہ خالق کی جزا ایسے امر سے متعلق ہوسکتی ہے جو اپنے اختیار سے وابستہ نہ ہو۔اب میں آپ کے بالکل جانے پہچانے واقعات کو پیش کرکے آپ سے فیصلہ کروانا چاہتا ہوں کہ کیا ہر میدان میں جو شہید ہوجائے، اس کا رتبہ اونچا ہے اور جو شہید نہ ہو، اس کا رتبہ نیچا ہے؟

سب سے پہلی لڑائی بدر ہے غزوات اسلامی میں۔اس میں ادھر سے تین سورماآئے۔ عرب کے بڑے منجھے ہوئے بہادر۔ عتبہ، شیبہ اور ولید ادھر سے نکلے۔ تینوں کے تعارف کیلئے ایک ہی گھر کا حوالہ کافی ہے۔وہ جو عتبہ ہے، وہ امیر شام کا نانا ہے۔ شیبہ عتبہ کا بھائی ہے اور ہمارے محاورات میں نانا کا بھائی بھی نانااور ولید اسی عتبہ کا لڑکا ہے۔ جو نانا کا لڑکا ہے، وہ ماموں ہوتا ہے۔ ہوگیا تعارف!

ادھر سے تین انصاری آئے۔ وہ تو بیڑا اٹھا چکے تھے نصرت کا۔ انہوں نے اپنے عمل سے اس کو نبھایا کہ ادھر سے تین انصاری گئے، مدینہ کے باشندے۔انہوں نے کہا تمہارا نام؟ انہوں نے کہا: معاذ، معوذ اور تیسرے نے نام بتایا۔ انہوں نے کہا: ہم تم سے جنگ نہیں کرنا چاہتے۔ جاہلیت میں نسب کا غرور ہوتا تھا۔ کہنے لگے کہ ہم تم سے جنگ نہیں کریں گے۔ تم ہمارے برابر والے نہیں ہو۔ پیغمبر اسلام سے کہو کہ ہمارے برابر والوں کو بھیجیں۔وہ واپس آگئے۔ یہاں سے جناب حمزہ، پیغمبر کے چچا، ایک عبیدہ ابن حارث ابن عبدالمطلب، تیسرے علی ابن ابی طالب علیہما السلام۔ رشتہ میں جناب حمزہ سب سے بڑے تھے۔ یہ دونوں چچا زاد بھائی تھے، وہ چچا تھے۔ جناب عبیدہ عمر میں ان سب سے بڑے تھے۔پیرانہ سالی کی عمر میں تھے۔ ان سے چھوٹے حمزہ تھے، پیغمبر خدا کے ہم عمر تھے۔عمر میں سب سے چھوٹے حضرت علی علیہ السلام تھے جن کے بارے میں اس کے بعد بھی مدتوں کہا گیا کہ یہ تو بچے ہیں۔ بچے کو بوڑھا بنانے کا شوق مجھے نہیں ہے۔جو جس کی عمر ہے، وہ تو ہے۔ دنیا عمر کو پیدائش کے لحاظ سے گنتی ہے۔ جب سے یہ خلق ہوئے ہیں، اس وقت سے عمر نہیں دیکھی جاتی، وہ تو اس پیدائش کے لحاظ سے دیکھتی ہے۔ لہٰذا بے شک بچے ہیں مگر بچے کے معنی یہ ہیں کہ چوبیس پچیس برس کے۔ان لوگوں میں سب سے کم عمر ہیں۔

اس سے پہلے پیغمبر اسلام کے مکہ کے دور میں جنگ کا سوال ہی نہیں تھا۔ لہٰذا انہیں تلوار چلانے کا موقع کب ملا۔ مدینہ آکر پہلی جنگ ہے۔ تو جناب حمزہ توآزمودہ کار سپاہی ہوں گے۔ عبیدہ کی عمر حمزہ سے بھی زیادہ تھی تو وہ عرب کی اور لڑائیوں میں شریک ہوئے ہوں گے۔لیکن حضرت علی علیہ السلام تو بالکل نمایاں بات ہے کہ پہلی دفعہ میدان جنگ میں گئے ہیں۔ مگر ان دونوں کے ساتھ ساتھ رسول نے انہیں بھیجا ہے۔ یعنی رسول کے لئے ان کی صفات محتاج تجربہ نہیں ہیں۔

انہوں نے ان کا نسب پوچھا۔ انہوں نے بتایا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، برابر کی لڑائی ہے۔ ایک ہی خاندان کے ہیں۔ یہ بے شک ہمارے مد مقابل صحیح بھیجے ہیں۔ایک اصول ان کے ہاں تھا کہ مقابلہ میں عمر کا تناسب بھی کرتے تھے۔ لہٰذا عبیدہ کا مقابلہ ہوا ان میں سے سب سے سن رسیدہ پہلوان سے۔ مگر وہ فنون جنگ میں بھی سب سے زیادہ ماہر تھا۔ ان کا اس سے سخت مقابلہ ہوا۔ جناب حمزہ کا مقابلہ ہوا عتبہ سے اور جناب علی علیہ السلام کا اس سے مقابلہ ہوا جو امیر شام کا حقیقی ماموں تھا۔ اسی پس منظر میں بعد کے سب واقعات ہیں۔ جناب حمزہ نے اپنے مقابل کو تہہ تیغ کیا۔ حضرت علی علیہ السلام نے جو سب سے جوان تھاولید، اس کو تہہ تیغ کیا۔ جناب عبیدہ نے شیبہ کو زخمی کیا۔ وار چونکہ کاری نہیں تھا، اس لئے زخمی ہونے کے بعد وہ نہیں گرا۔ اس نے جو وار کیا، اس سے جناب عبیدہ گر گئے۔اس طرح وہ بدر کے پہلے شہید ہو گئے۔علی ابن ابی طالب علیہما السلام اپنے حریف سے فارغ ہوچکے تھے۔ آپ کی زبان میں کہوں کہ نمٹ چکے تھے۔لہٰذا وہی تلوار لے کر، جو کھنچی ہوئی تھی،اس حریف کی طرف چلے گئے جو زندہ کھڑا تھا۔اب اسے تہہ تیغ کیا۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ پہلے ہی معرکہ میں حمزہ کا کردار اکہرا رہ گیا، ان کا کردار دہرا ہوگیا۔

اب آپ سے سوال ہے ، آپ کے ضمیر انسانی اور ضمیر ایمانی سے کہ نتیجہ آپ کے سامنے جو مسلّماً ہے، وہ میں نے پیش کردیا۔ اب آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا عبیدہ کا مرتبہ اس لئے اونچا ہوگیا کہ وہ جنگ کو سر نہ کرسکے اور علی کا کردار(معاذاللہ) اس قصور میں گھٹ گیا کہ انہوں نے اپنے دونوں حریفوں کو تہہ تیغ کردیا اور صحیح سلامت واپس ہوئے فتح یاب ہوکر؟ کیا عدل الٰہی کا یہی تقاضا ہے کہ وہ علی کے کارنامہ کو پست کرے اور عبیدہ کے کارنامے کو بڑھائے؟کسی کا ضمیر انسانی اس کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ تو کیا جو شید ہوگیا، اس کا درجہ اونچا ہے؟ یا جو زندہ رہا، اس کا درجہ اونچا ہے؟

اب آئیے دوسری جنگ عظیم احد۔ کتنے شہید ہوگئے۔ میں نے ابھی کہا کہ کارواں ہے شہیدوں کا اس میں۔ صرف جناب حمزہ نہیں ہیں۔ وہ اتنے ہیں کہ ان کے نام بھی ہمیں نہیں معلوم۔ناموں کا معلوم نہ ہونا دلیل کثرت ہوتاہے۔ان سے کم جو میدان سے ہٹے مگر پھر بھی اتنے ہیں کہ ایک جماعت ہے او رکافی اچھی بڑی ہے جو میدان جنگ میں شہید ہوئی۔ اب صفحہ میدان کے سادہ ہونے کے بعد، دونوں طرح سادہ ہوا، جو بیچارے شہید ہوگئے، ان سے بھی خالی ہوگیا اور جنہوں نے نقل مکانی کرلی، ان سے بھی خالی ہوگیا۔اب میدان جنگ سادہ ہے اور ایک فرد واحد ہے جس نے بگڑی ہوئی جنگ کو بنا دیا۔ جس نے بظاہر اس فتحیاب جماعت کو پھر ایسی مکمل شکست دی اور اتنی دور بھگا دیا کہ اطمینان کے ساتھ رسول کے پاس آئے۔ ان سے باتیں کیں، گفتگو کی۔

میں کہتا ہوں کہ ذرا غور کیجئے، میں کہوں گا کہ معیارفہم انسانی پر غور کیجئے۔ معیار عقل ایمانی پر بھی غور کیجئے کہ کیا وہ سب شہدائے احد افضل ہیں اور علی جو جنگ کو سرکرکے واپس آئے(معاذاللہ) ان کا اس لئے درجہ گھٹ گیا کہ اسلام کو فتحیاب کرکے واپس ہوئے؟ آپ کا عقل و ضمیر کیا فیصلہ کرتا ہے؟یقینا ان کا کردار بلند تر ہے۔ت ومرتبہ عمل بھی بلند تر ہے اس کے لحاظ سے جزا بھی بلند تر ہے۔اب آپ فیصلہ کیجئے یا نہ کیجئے، میں کہتا ہوں کہ فرشتہ کو میں کیا کہوں کہ اس نے شہید ہونے والوں کا کلمہ نہیں پڑھا، جو زندہ واپس آگیا، اس کا کلمہ پڑھا:

لَا فَتٰی الاَّ عَلیْ لَا سَیْفَ الَّا ذوالْفقْار “۔

اس کے بعد پھر بڑی لڑائی ہے، جنگ خندق، جنگ احزاب۔ ادھر وہ ہزار کے مقابل والا ایک آگیا جس طرح عبیدہ وہاں زخمی ہوئے تھے، بے شک یہ ایک سورما ایسا ہے کہ جس نے حضرت علی علیہ السلام کو زخمی کردیا۔ یقینا جو وہاں اس کا رعب جما رہے تھے کہ ہزار کے مقابلہ میں ایک ہے، اس سے کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ تو اس نے اپنے فنون جنگ کا مظاہرہ کرکے ثابت کردیا۔ یعنی معلوم ہوتا ہے دنیائے کفر میں اس کا جواب نہیں تھا۔ ایک بات تو یہ کہ علی علیہ السلام کا کوئی بھی مد مقابل ایک وار کی آمدورفت سے زیادہ نہیں ٹک سکا ہے۔ بس ایک وار۔ مگر یہ شخص حضرت علی کے سامنے اتنا جما ہے کہ ستّر ضربوں کے ردّوبدل کی نوبت آئی۔ ارے اگر دنیائے کفرمیں ممتاز نہ ہوتا تو رسول کل کفر کیوں کہتے! ستّر ضربوں کے ردوبدل کی نوبت آئی۔

تاریخ نے مرقع کشی کی ہے کہ دونوں طرف کے بہادر۔دونوں طرف کے سورما۔ ایک جیسے الفاظ استعمال ہوں۔ تو دونوں ادھر ادھر کے گرد کے حصار میں چھپ گئے تھے۔ بس تلوار کی ایک چمک دکھائی دے رہی تھی اور کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔تمام بہادر ہکابکا باپردہ دیکھ رہے تھے کہ کیا ہورہا ہے۔ یہ دیکھ ہی نہیں رہے تھے، دیکھتے دیکھتے کچھ دہل بھی رہے تھے کہ اب وہ کہیں یہاں تک نہ آجائے اور کچھ یوں محبت میں بشری حیثیت سے، غرض یہ کہ سب کی نظریں لڑی ہوئی تھی اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ بھی دلیل ہے کہ قوت امامت سے جنگ نہیں کی جاتی تھی، فنون جنگ سے مقابلہ کیا جاتا تھا۔ انسانی طاقت سے لڑاجاتا تھا۔ طاقت امامت اور علم وہبی کو استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔اس کی مجال تھی کہ اتنی دیر تک رک سکے۔ ستّر مرتبہ ردوبدل کی نوبت آئی اورستّر مرتبہ کے بعد اس نے تلوار ماری تو سر مبارک تک پہنچ گئی۔امیرالمومنین کے وار ہمیں معلوم ہیں کہ ہمیشہ سر پر تلوار ماری ہے اور دوپارہ کردیا ہے۔مرحب کے سر پر تلوار ماری اور خود کو کاٹا ، سینے تک پہنچی۔حضور سر پر وار کرتے تھے، دوپارہ کرتے تھے۔ یہ ان کا خاص وار تھا مگر یہ بھی دلیل ہے اس کے امتیاز خاص کی، اپنے شعبے میں کہ علی کو وار بدلنا پڑا۔یعنی جو اسے بھی معلوم تھا کہ خاص وار یہ ہے۔ وہ اس سے بچتا رہا اور اس وار کا اس نے موقع نہ دیا جو ان کا خاص وار تھا۔

لہٰذا علی علیہ السلام نے سر کو دکھا کر کمر پر تلوار ماری۔ یہ وہ واحد شخص ہے جسے کمر پر تلوار مار کر زخمی کیا اور ا س کے زخمی ہوکر گرنے کے بعد حضرت کو ضرورت ہوئی کہ اس کے سر کو قلم کریں۔ابھی اس میں اتنی جان تھی کہ لعاب دہن اس نے روئے مبارک پر پھینکا۔یہ اس کی بہادری کی دلیل ہے کہ اتنی جنگ کرنے کے بعد اور ہلاکت کے قریب ہوجانے کے بعد خوف سے منہ خشک ہوجاتا ہے مگر لعاب دہن کا باقی ہونا اس کی انتہائی بے جگری کی دلیل ہے کہ اس نے لعاب دہن چہرئہ مبارک پر پھینکا۔ حضرت اتر گئے اور پھر اس کا سر قلم کیا تاکہ اس کا قتل کرنا بالکل اللہ کی راہ میں ہو۔

اب واپس ہوئے تو زندہ واپس ہوئے ہیں۔اسے قتل کرکے واپس ہوئے ہیں۔ زخمی سہی مگر یہ کہ صحیح سلامت واپس ہوئے ہیں۔ تو کیا اس لئے یہ کارنامہ غیر وقیع ہوگیا کہ یہ شہید نہیں ہوئے، زندہ واپس ہوئے ہیں؟معاذاللہ، اس لئے کارنامہ ہلکا ہوگیا ؟ کیا آپ کا دل اس کی گواہی دیتا ہے؟ اور میں کیا کروں کہ رسول اس ضربت کی تعریف کررہے ہیں جس میں علی نے جان لی ہے، ان کی جان گئی نہیں ہے۔

ضَرْبَة عَلیٍّ یَوْمَ الْخَنْدَق اَفْضَل منْ عبَادَة الثَّقَلَیْن “۔

”علی کی یہ ضربت جو روز خندق ہے، ثقلین کی عبادت سے قیامت تک کیلئے افضل ہے“۔

میں پوچھتا ہوں کہ شہیدوں کی عبادت، عبادت ثقلین میں شامل ہے یا نہیں؟

معلوم ہوتا ہے کہ ثابت قدم رہنا معیار ہے ، شہیدہوجانا معیار نہیں ہے۔ اگر کسی نے خطروں کا منتظر رہتے ہوئے زندگی گزاری، ہر وقت تیار رہا ہے کہ جان راہ خدا میں جائے لیکن کوئی قاتل نہیں آیا تو کیا ظالم کے عمل سے اس کی بلندی عمل وابستہ ہے کہ قاتل آتا تو اس کا درجہ اونچا ہوجاتا اور چونکہ قاتل نہیں آیا، اس لئے اس کا درجہ نیچا ہوگیا؟

اب سمجھ میںآ جاتے ہیں پیغمبر خدا کے ارشاد کے معنی جوعلامہ فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں ، جو حدیث ڈیڑھ صفحے میں درج فرمائی ہے اور وہ بھی آیہ مودة کے تحت( قلْ لَا اَسْئَلکمْ عَلَیْه اَجْرًاالَّا الْمَوَدَّةَ فی الْقرْبٰی ) ،جو حدیث تفسیر میں درج کی ہے، اس کا ایک جملہ، ایک سلسلہ ہے :

مَنْ مَاتَ عَلٰی حب آل محَمَّدٍ “۔

”جو آل رسول کی محبت میں دنیا سے گیا“،

مَاتَ کَامل الْایْمَان “۔

اسلوب شاعری میں یہ ہوتا ہے کہ آدھا مصرعہ ہر شعر میں آتا ہے اور آدھا مصرعہ بدلتا رہتاہے۔ اسی طرح ایک صفحے کے قریب سلسلہ کلام یوں ہے کہ ”من مات علی حب آل محمد“، اس کے ساتھ کا جزو بدلتا رہتا ہے:

مَنْ مَاتَ حب آل محَمَّدٍ مَاتَ کَامل الْایْمَان “۔

”جو آل محمد کی محبت میں مرا، کامل الایمان مرا“۔

مَنْ مَاتَ عَلٰی حب آل محَمَّدٍ مَاتَ مَغْفوْرًا “۔

”جو آل محمد کی محبت میں دنیا سے گیا، وہ بخشا ہوا گیا“۔

مَنْ مَاتَ عَلٰی حب آل محَمَّدٍکتبَ بَیْنَ عَیْنَیْه “۔

”جو آل رسول کی محبت میں دنیا سے گیا، اس کی پیشانی پر آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہوگا کہ یہ رحمت خدا کا حقدار ہے“۔

اس طرح کے فقرں کا صفحہ ہے اور پھر یوں صفحہ ہے:

مَنْ مَاتَ عَلٰی بغْض آل محَمَّدٍ “۔

ارے ایک جماعت کے مذاق کے مطابق کہتا ہوں، یہ علامہ رازی کو کیا ہوگیا تھا؟ رسول کو کیا کہوں مگر نقل کرنا تو ان کا کام تھا۔ ایک رخ کہہ دیتے، دوسرا رخ کیوں کہہ رہے ہیں؟ لوگ کہتے ہیں کہ بس تَوَلّا تک ٹھیک ہے۔

میں کیا کروں امام فخری الدین رازی نے پیغمبر خدا کی حدیث نقل کی ہے۔ جتنے فقرے پہلے اسلوب کے تھے، اتنے ہی فقرے بعد کے اسلوب کے ہیں۔

مَنْ مَاتَ عَلٰی بغْض آل محَمَّدٍ “۔

”جو آل محمد کے بغض میں دنیا سے گیا“۔

جو بھی ہو، وہ:

مَاتَ یَائس منْ رَحْمَة اللّٰه “۔

”رحمت خدا سے مایوس ہوگیا“۔

ہر فقرہ کے مقابل میں فقرہ ہے۔ پہلے سلسلے کا ایک فقرہ عرض کرنا ہے۔

مَنْ مَاتَ عَلٰی حب آل محَمَّدٍ مَاتَ شَهیْدًا “۔

”جو محبت آل محمد میں دنیا سے گیا،وہ شہید گیا“۔

کیا پیغمبر خدا یہ کسی تاریخی واقفیت کا اظہار فرمارہے ہیں کہ جو محبت آل محمد رکھتا ہے، وہ ضرور کسی نہ کسی معرکہ جنگ میں گیا ہوگا یا جائے گا؟پیشین گوئی ہے اور ضرور وہ دشمن کے حربہ کا شکار ہوگا، شہید ہوگا۔ کیا رسول یہ اطلاع تاریخی دے رہے ہیں۔اگر یہ نہیں ہے تو کیا مطلب کہ جو محبت آل محمد میں دنیا سے گیا، وہ شہید ہوگیا۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک چیز ہوتی ہے کنایہ۔ ”نکلا ڈکارتا ہوا ضیغم کچھا ر سے“۔کیا واقعی اس چیز سے دلچسپی ہے کہ انہیں شیر کہا جائے؟ یاد رکھئے کہ شیر حوانات میں داخل ہے۔ ایک عام انسان اس سے بالاتر ہے۔ تو کسی خاص انسان کو شیر کہنا اسے درجہ سے گرانا ہے۔ تو شیر کہنے سے حیوان کہنا منظور نہیں ہے۔ جو اس کے لوازم میں سے ہے ذہن انسانی میں، شجاعت، اس شجاعت کو پیش کرنا ہے۔ لازم سے ملزوم کی طرف اس کو ذہن میں لانا منظور ہے۔ ویسے ہی رسول نے فرمایا کہ جو محبت آل رسول میں دنیا سے گیا، وہ شہید ہوگیا۔تو قرآن میں دیکھو کہ شہید کا لازمہ کیا بتایا ہے؟شہید کا لازمہ یہ بتایا گیا ہے زندگی جاوید کہ انہیں مردہ نہ سمجھو۔تو رسول فرمارہے ہیں کہ جو آل محمد کی محبت میں دنیا سے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو، نہ مردہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں ، اپنے پروردگار کے ہاں رزق حاصل کرتے ہیں۔ جو لوازم قرآن نے شہادت کے بیان کئے ہیں، رسول فرمانا چاہتے ہیں کہ اس کیلئے معرکہ جنگ کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر محبت آل محمد میں آخر رمق حیات تک گیا، قائم رہا، برقرار رہا، تو قاتل آیا ہو یا نہ آیاہو،معرکہ جنگ میں گیا ہو یا نہ گیا ہو،اسماعیل بھی ذبح نہیں ہوئے تھے مگر لقب مل گیا ذبیح اللہ۔تو جس وقت میں محبت آل رسول قتل ہونے کی ضمانت تھی، جو محبت آل رسول پر قائم رہا،وہ ہر وقت خنجر کے نیچے رہا یا نہیں؟

اب کوئی حجاج بن یوسف ثقفی پیدا نہیں ہوا تو اس کی وجہ سے کیا اس کے صلہ میں کمی ہوجائے؟ جب یہ آخر دم تک خطروں کو محسوس کرتے ہوئے اسی راستہ پر رہا جس کا نتیجہ ہمیشہ شمشیر و دار رہے، عنوان شمشیر و دار کے بدلتے ہوں، محبت اہل بیت کب پھولوں کی سیج رہی ہے؟ اگر کوئی اس سب کے باوجود اس راستے پر قائم رہا تو عدل الٰہی کے خلاف ہے کہ اس کو شہادت کا درجہ نہ دے۔

ایک طبقہ کی طرف سے کہا جاتا تھا کہ فاتحہ دلواتے ہو، اس میں غذا رکھتے ہو، تو کیا مرنے والاغذا کھائے گا؟ میں کہتا ہوں کہ اگر کھاتا نہیں ہے تو خدا نے کیوں کہا ہے کہ رزق حاصل کرتا ہے؟ جو کھاتا نہ ہو تو رزق کی کیا ضرورت ہے؟ اعتراض کے الفاظ بدلیں گے کہ کھاتا تو ہے مگر یہ کھانے نہیں کھاتا جو تم اس کے سامنے پیش کرتے ہو۔اس کیلئے ایک جدید دنیا کی بات کرنا ہے۔بہت آسان ہوگیا ہے میرا سمجھانا کہ آجکل کی دنیا کے جو معاشی قوانین ہیں، اس میں دو ملکوں کے درمیان انتقال زر ممنوع ہے۔ اکثر ملکوں میں ممنوع ہے۔ خاص طور پر وہاں جہاں افراط زر ہو۔ انتقال زر کا ایک قانون ذریعہ مجھے معلوم ہے ورنہ غیر قانونی تو بہت سے لوگوں کو معلوم ہوگا۔قانونی ذریعہ یہ ہے کہ کوئی بینک ہے جس کا رابطہ یہاں سے بھی ہے اور وہاں سے بھی ہے یا یہاں سے ہے اور وہاں کے کسی بینک سے ہے۔ آپ یہاں داخل کیجئے اور وہ اسے وہاں کے بینک سے مل جائے گا جو ان کا حساب ہے، اس کے حساب سے۔

اب ذرا اس بات پر غور کیجئے ، یہاں تو آپ وہی کرنسی داخل کریں گے جو آپ کے پاس ہے مگر وہ بینک اگر وہی کرنسی وہاں بھیج دے تو وہاں بیکار ہوگی۔لہٰذا امانت داری کے ساتھ ، عقل سے کام لیتے ہوئے اور وہ عقل عمومی ہے، وہ بینک اس کرنسی کو جو آپ نے داخل کی ہے، اس ملک کی کرنسی میں بدل کے اپنی امانت داری کے تقاضے سے پہنچا دے گا۔اگر یہی کرنسی پہنچا دے تو امانت داری تو ہوگی مگر حماقت ہوگی۔ اگر نہ پہنچائے تو امانت داری نہیں ہوگی۔ اس کو امانت داری سے کام بھی لینا ہے اور عقل سے بھی کام لینا ہے۔

لہٰذا یہاں آپ سے آپ کی کرنسی لے گا اور وہاں اس کی کرنسی میں ادائیگی کرے گا۔میں دنیا والوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا جتنی عقل آپ کے بینکوں کو ہے، (معاذاللہ) اتنی عقل بھی اللہ کو نہیں ہے؟ ہم اپنے محبت کے جذبہ کے تحت اس کو تحفہ بھیجنا چاہتے ہیں مگر ہمارے پاس تو وہی کھانے ہیں جو ہمارے ہاں پکتے ہیں۔ ہم تو وہی دیں گے لیکن ہمارے ایمانی جذبہ کی قدر کرتے ہوئے ، محبت کے جذبہ کی قدر کرتے ہوئے، اسے کسی کی محبت ناگوار نہیں ہے۔ہماری محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے ہاں کے کھانے اسے پیش کریں تو خدائے کریم کیا اس پر قادر نہیں ہے کہ اس عالم کے کھانوں کی شکل میں منتقل کرکے ہمارے پیش کردہ ہدیہ کو اس تک پہنچا دے۔

یہ سمجھ کر نہ کیجئے کہ شرع نے یہ طریقہ بتایا ہے ورنہ وہ بدعت ہوجائے گی۔شرک نہیں ہوگی، بدعت ہوجائے گی۔ کون ۲۲/ رجب کو پوریاں پکاتا ہے تو سمجھتا ہے کہ یہ شرع میں آئی ہیں ؟ کون عید کے دن سویّاں کھاتا ہے تو سمجھتا ہے کہ یہ شرع میں آئی ہیں؟ بس عید کے دن سے سویاں مخصوص ہوگئیں اور ۲۲/ رجب سے پوریاں مخصوص ہوگئیں۔اس کو رواج کے ماتحت کیجئے تو بدعت نہیں ہوگا۔ حکم شرع سمجھ کر کیجئے تو بدعت ہوگا۔

تو بس یہ سمجھنا کہ زندگی جاوید اسی وقت ہوسکتی ہے جب ہم میدان جنگ میں جائیں، حالانکہ میدان جنگ میں جانا صدیوں نہیں ہوسکتا۔ وہ حالات کئی کئی سو برس نہیں پیدا ہوتے جن میں میدان جنگ میں جانا ہو۔ تو کیا یہ ان جزاؤں سے محروم رہے؟ صرف اس وجہ سے کہ اس کے دَور میں کوئی موقع ایسا نہیں آیا؟ موقع آنا نہ آنا تو اس کے بس میں نہیں تھا تو جو اس کے بس میں تھا، اس سے اس کا صلہ کیوں وابستہ ہو؟ میں اس کو آیہ قرآنی سے ثابت کرچکااور حدیث سے ثابت کرچکا۔

امیرالمومنین علیہ السلام ، جمل کا معرکہ ہے، فتح حاصل ہوئی، اصحاب جمع ہیں۔ نہج البلاغہ میں ہے، اصحاب میں سے ایک شخص نے اپنے دوست کا نام لے کر کہا کہ کاش! وہ فلاں شخص بھی یہاں ہوتا اور جنگ میں شریک ہوتا اور اس فتح کو دیکھتا ۔ اس کے نہ ہونے پر افسوس کیا تو امیرالمومنین نے دریافت کیا: یہ بتاؤ کہ تمہارے اس بھائی کی محبت ہمارے ساتھ ہے؟ وہ ہمارے دوستوں میں سے ہے؟ اس نے کہا: بے شک وہ آپ کے دوستوں میں سے ہے۔ تو ارشادفرمایا: جب وہ ہمارے دوستوں میں سے ہے تو یقین جانو کہ وہ ہمارے ساتھ شریک ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کا کیا ذکر ، اس جنگ میں ہمارے ساتھ وہ بھی ہیں جو ابھی اپنے آباؤ اجداد کی پشت میں ہیں۔ جو ابھی شکم ہائے مادر میں ہیں۔ وقت آئے گا کہ زمانہ انہیں سامنے لائے گا اور ان کے ذریعہ سے اس دَور میں ایمان کو قوت ہوگی اور اس دَور سے اللہ حق کی نصرت کرے گا۔ تو جوجو ہمارے ساتھ نہیں ہیں، صدیوں بعد میں، وہ بھی ہمارے ساتھ معرکہ میں شریک ہیں۔


ہوجاو سچوں کے ساتھ ۱

بِسمِ اللّٰه ِ الرَّحمٰنِ الرَّحِ یمِ

( یَااَیُّهَاالَّذِینَ اٰمَنُواا تَّقُواللّٰهَ وَکُونُوامَعَ الصَّادِقِینِ ) ۔

ارشادِ حضرتِ اقدس ہے کہ اے صاحبانِ ایمان! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو“۔”( ا تَّقُواللّٰهَ ) “کا عام ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ سے ڈرو۔ یعنی تقویٰ کا ترجمہ ڈرنے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ مگر جب دوسرے محل پر ان الفاظ کو دیکھتے ہیں جو اس سے ملتے جلتے ہیں تو ترجمے مختلف سامنے آتے ہیں کہ ڈرنے کے ساتھ اس کا ترجمہ نہیں ہوتا، مثلاً”( ا تَّقُوا ) “، یہ فعل امر ہے جس کا ہم نے ترجمہ کیا کہ ڈرو، مگر اب اسی کے ہم معنی یعنی اسی لفظ کا اسم فاعل اور اس کی جمع”( هُدًی لِّلمُتَّقِینَ الَّذِینَ ) “، یہ قرآن ہدایت ہے ان متقین کیلئے جو، یہ متقین وہی چیز ہے ، وہاں”( ا تَّقُوا ) “تھا، یہاں متقین کا لفظ ہے۔ اسم فاعل کی جمع ہے۔ اس کا ترجمہ یہ نہیں کیا جاتا کہ ہدایت ہے ڈرنے والوں کیلئے۔

”ا تَّقُوا“کا ترجمہ اگر تھا کہ اللہ سے ڈرو تو پھر”( هُدًی لِّلمُتَّقِینَ ) “کا ترجمہ ہونا چاہئے کہ ہدایت ہے ڈرنے والوں کیلئے۔ مگر یہاں لفظ بدلا جاتا ہے۔ یہاں یہ آتا ہے کہ ہدایت ہے پرہیزگاروں کیلئے۔ اب متقین کا ترجمہ اگر پرہیز گار ہے تو پھر”ا تَّقُوا“کے معنی ہیں پرہیزگاری اختیار کرو۔ مگراس ”ا تَّقُوا“کے ساتھ اللہ کا لفظ جو ہے،تو اُردو نہیں بنتی ، یعنی اللہ کا لفظ مفعول ہے۔ تو” پرہیزگاری اختیار کرو“ کے ساتھ اللہ کا جوڑ کس طرح لگے؟ اللہ سے پرہیزگاری اختیار کرو۔ اس لئے وہاں پرہیزگاری نہیں لائی جاتی بلکہ ”ڈرو“ لایا جاتاہے تاکہ اللہ کے ساتھ اس لفظ کا ربط قائم ہوسکے۔ وہاں پر چونکہ لفظ ”متقین“ تھا، اس کا کوئی متعلق نہیں تھا، اس لئے وہاں پرہیزگاری بن گیا۔

یہاں ”( ا تَّقُوا ) “ سے مطالبہ ہے کہ اللہ سے کرو، کیا کرو؟ پرہیزگاری اختیار کرو یا اللہ سے پرہیز کرو۔ کیا مطلب؟ پس وہاں پرہیزگارکے ساتھ ترجمہ تھا اور یہاں ”اللہ سے ڈرو“ ترجمہ ہوگیا۔ اب جن سے”ا تَّقُوا“ اور متقین کے الفاظ بنے ہیں، اسی سے تقویٰ ہے۔ اب تقویٰ کے معنی پرہیزگاری ہوجاتے ہیں۔

( اِنَّ اَکرَمَکُم عِندَاللّٰهِ اَتقٰکُم ) “۔

”تم میں سب سے زیادہ عزت اُس کی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو“۔

سب سے زیادہ عزت اُس کی ہے جو سب سے زیادہ فرض شناس ہو۔سب سے زیادہ عزت اُس کی ہے جو سب سے زیادہ فرائض کا ادا کرنے والا ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک عربی لفظ ہے اور اس کا ترجمہ نہیں بنتا یعنی ترجمہ کا خواب پریشان ہورہا ہے او رکوئی ایک متعین ترجمہ اس کا ہر محل پر نہیں ہوتا۔ ایک لفظ کا ترجمہ کرنا تو مشکل ہورہا ہے اور پھر قرآن کافی ہے۔

میں جب عرب کے محاورات دیکھتا ہوں تو پتہ چلتاہے کہ نہ ڈرنا اس کا صحیح ترجمہ ہے اور نہ پرہیز کرنا اس کا صحیح ترجمہ ہے۔ اس لفظ کے جو استعمال کے مقامات ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز سے بچنا۔ اس کیلئے عربی اشعار کے شواہد پیش کئے جاسکتے ہیں۔ اس سے ”وَقَایَہ“کا لفظ بھی آتا ہے جو بچاؤ کا ذریعہ ہو، اُس کو کہتے ہیں۔ اس بناء پر میں نے کبھی کبھی متقین کا ترجمہ کیا ہے”فکر نجات رکھنے والے“۔ یعنی آخرت کے برے نتائج سے بچاؤ کی فکر تقویٰ ہے۔

اب معیارِ نظر کے اعتبار سے محل بدل جائے گا۔ جو سزا کے خو ف سے متاثر ہوتاہے، اس کیلئے سزا سے بچاؤ کی فکر اور جو اتنا بلند نظر ہے کہ اس کو سزا کی فکر نہیں ہے، ناراضگی کی فکر ہے ، تو پھر معنی ہوں گے ”اُس کی ناراضگی سے بچاؤ کی فکر“۔ اب ”( ا تَّقُوااللّٰه ) “کے معنی ہیں ”اُس کی ناراضگی سے بچو“۔

( یَااَیُّهَاالَّذِینَ اٰمَنُواا تَّقُوااللّٰ ) ہ“کے معنی ہوں گے:”اے صاحبانِ ایمان! اللہ کی ناراضگی سے بچو، اللہ کے غضب سے بچو“۔

اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی سزا سے بچو اور اب جو یہ کہا گیا کہ( هُدًی لِّلمُتَّقِینَ ) ، ہدایت ہے متقین کیلئے ، جس کا ترجمہ ہم کررہے ہیں”ہدایت ہے پرہیزگاروں کیلئے“۔ مطلب یہ ہے کہ جن کو آخرت کی فکر ہی نہیں ہے، وہ قرآن میں غورکیوں کریں گے؟ یہ اترا تو سب کیلئے ہے لیکن اس سے صحیح فائدہ اٹھائیں گے وہی جو فکر نجات رکھتے ہیں۔

( هُدًی لِّلمُتَّقِینَ ) “، ہدایت ہے متقین کیلئے۔ قرآن مجید نے کہنا شروع کیا، کون متقین؟( هُدًی لِّلمُتَّقِینَ الَّذِینَ ) ، سب سے پہلے”( یُومِنُونَ بِالغَیبِ ) “، جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں،”( وَیُقِیمُونَ الصَّلوٰ ) ة“، اور نماز کو قائم رکھتے ہیں،( وَمِمَّارَزَقنٰهُم یُنفِقُونَ ) ، او ر جو ہم نے ان کو عطا کیا ہے، اس میں سے خیرات کرتے ہیں۔

پھر ایک سلسلہ شروع ہوا اوصاف کا کہ:

( وَالَّذِینَ یُومِنُونَ بِمَااُنزِلَ اِلَیکَ وَمَااُنزِلَ مِن قَبلِکَ وَبِالآخِرَة هُم یُوقِنُونَ )

”اور وہ جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ پر نازل ہوا اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل ہوا اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں“۔

( اُولٰئِکَ عَلٰی هُدًی مِن رَّبِّهِم وَاُولٰئِکَ هُمُ المُفلِحُونَ ) ۔

”وہ لوگ جو راہِ ہدایت پر ہیں اپنے پروردگار کی طرف سے اور یہ لوگ فلاح پانے والے ہیں“۔

یہ جو کہا گیا ہے کہ ہدایت ہے ان متقین کیلئے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، یہ ان متقین کیلئے۔ صفت دو طرح کی ہوتی ہے، ایک صفت ہوتی ہے جو دائرہ کو محدود بناتی ہے، مثلاً ایسے معالج کا علاج کرو جو تجربہ کار ہو، یہ وصف ہے کہ جو تجربہ کار ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو تجربہ کار نہیں ہے، اناڑی ہے، اس کا علاج نہ کرو۔ اسے قید احترازی کہتے ہیں۔ یعنی ایک دوسری چیز کو الگ کرنے کیلئے یہ قید لگتی ہے،دائرہ کو محدود بنانے کیلئے۔اسے قید احترازی کہتے ہیں۔ پس یہاں جو صفات ہیں کہ ان متقین کیلئے ہدایت ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، اگر اس طرح کی قید ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ متقین کچھ ایسے ہیں جو غیب پر ایمان نہیں رکھتے مگر ہیں متقین۔متقین ایک وہ ہیں جو غیب پر ایمان نہیں رکھتے مگر ہیں متقین۔ وہ ہیں تو متقین مگر قرآن سے انہیں فائدہ نہیں پہنچتا۔

اسے کوئی اپنے مطلب کی بات سمجھے کہ ہاں! ہم ایسے ہی متقین ہیں جو غیب پر ایمان نہیں رکھتے۔ ہم سے غیب کا مطالبہ نہ کیجئے مگر ہیں ہم متقین۔ خیر! اگر اسے کوئی اپنے مطلب کی سمجھے۔ آپ آگے بڑھئے کہ ہدایت ہے ان متقین کیلئے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ یعنی کچھ متقین ایسے ہیں جو سرے سے نماز ہی نہیں پڑھتے اور پھر بھی متقین ہیں۔ اب وہ غیب سے بے نیازہوکرمتقین بننے والے سوچیں گے کہ پھر نماز کو بھی چھوڑیں کیونکہ متقین ہونے میں تو کوئی کمی نہیں ہوگی۔ہم ویسے متقین بنیں جو نماز نہیں پڑھتے۔ اب اسے کوئی طبقہ اپنے مطلب کی بات سمجھے جو نماز سے بے توجہی اختیار کرنا چاہتا ہے، وہ کہے کہ ہمیں ویسے ہی متقین سمجھے کہ جو نماز نہیں پڑھتے۔پھر بھی ہمارے تقویٰ میں تو کمی نہیں ہے۔تو اب آگے بڑھئے:

( مِمَّارَزَقنٰهُمُ یُنفِقُونَ ) ۔

”جو کچھ ہم نے عطا کیا ہے، اس میں سے خیرات کرتے ہیں“۔

یہ محبت زر رکھنے والے اپنے مطلب کی بات سمجھیں کہ صاحب! ٹھیک ہے کچھ متقین ہیں جو خیرات کرتے ہیں۔ ہم وہ متقین ہیں جو پیسے کو عزیز رکھتے ہیں، لہٰذا خیرات کا ہم سے مطالبہ نہ کیجئے۔ آگے بڑھئے:

( اَلَّذِینَ یُومِنُونَ بِمَااُنزِلَ اِلَیکَ وَمَااُنزِلَ مِن قَبلِکَ ) ۔

”وہ جو ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپ پر اترا اوراس پر بھی جو پہلے اترا ہے“۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ کچھ متقین وہ ہیں جو نہ آپ پر نازل شدہ چیز پر ایمان رکھتے ہیں ، نہ اس پر جو آپ سے پہلے نازل ہوا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آدم سے لے کر خاتم تک جتنے انبیاء کی تعلیمات ہیں، سب کے منکر ہیں، کسی پر ایمان نہیں رکھتے اور پھر بھی ہیں متقین۔ اس کے بعد:

( بِالآخِرَةِ هُم یُوقِنُونَ ) “۔

”آخرت کا یقین رکھتے ہیں “۔

یعنی کچھ متقین وہ ہیں جو آخرت کا یقین بھی نہیں رکھتے او رپھر بھی متقین ہیں۔ تو اب اچھے متقین ہوئے کہ نہ وہ غیب پرایمان رکھتے ہیں، نہ وہ نماز پڑھتے ہیں، نہ خیرات دیتے ہیں، نہ رسالت پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، پھر بھی متقین ہیں۔تو اب کسی کا بھی ضمیر اس کو گوارہ نہیں کرے گا۔ ہر ایک سمجھے گا کہ نہیں، اس کا مفہوم یہ نہیں ہوسکتا۔

تو اب معلوم ہوا کہ یہ قید ویسی نہیں ہے ، اوریہ وصف ایسا نہیں ہے جو احترازی ہو یعنی بچاؤ کا ہو۔

دوسری قید ہوتی ہے تشریحی۔اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو پہلے ایک مجمل لفظ ہے، اس کی تفصیلات بیان ہورہی ہیں۔ اس کی تشریح کی جارہی ہے۔ اس کی علمی مثال یہ ہے کہ:

اَلجِسمُ طَوِیلٌ عَرِیضٌ عَمِیقٌ یَحتَاجُ اِلَی المَکَانِ “۔

”جسم جو طول بھی رکھتا ہے، عرض بھی رکھتا ہے، گہرائی بھی رکھتا ہے، اُسے بہرحال ٹھہرنے کیلئے کسی جگہ کی ضرورت ہے“۔

اب جسم کہتے ہی اُسے ہیں جس میں طول بھی ہو، عرض بھی ہو، عمق بھی ہو۔ اگر طول ہی طول ہے، عرض نہیں ہے تو وہ خط ہے، جسم نہیں ہے۔ اگر طول اور عرض ہے لیکن موٹائی نہیں ہے، تو وہ سطح ہے، جسم نہیں ہے۔ اگر طول ، عرض، عمق کچھ نہیں ہے، تو نہ وہ نقطہ ہے، نہ خط ہے، نہ سطح ہے، نہ وہ جسم ہے۔جسم وہی ہے کہ جس میں طول بھی ہو، عرض بھی ہو، عمق بھی ہو۔ تو جسم ایک مجمل لفظ تھا ، یہ طویل ، عریض، عمیق۔ جو طویل ، جو عریض، جو عمیق۔ یہ جو”جو“ کا لفظ ہے، یہ اس جسم کے بیان کرنے کیلئے ہے کہ جسم یہ ہوتا ہے۔

اب دیکھئے کیا مطلب ہوتا ہے”( هُدًی لِّلمُتَّقِینَ ) “، یہ قرآن متقین کیلئے ہدایت ہے۔ اب گویا متکلم قرآنی کہتا ہے کہ ہم سے پوچھو۔ متقین کون ہوتے ہیں، ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ متقین کون ہوتے ہیں؟ متقین وہ ہوتے ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہوں۔ تمام اوصاف کا سرنامہ سب سے پہلے غیب پر ایمان ہے۔جو غیب پر ایما ن نہ رکھتا ہو، وہ قرآن سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔وہ متقین کا مصداق نہیں ہوتا۔ اس کے بعد متقین وہ ہیں جو نماز قائم کرتے ہوں۔ متقین وہ ہیں جو خیرات بھی کرتے ہوں۔ متقین وہ ہیں جو ازل سے لے کر رہنمایانِ دین پر جو نازل ہوا ہے، اس سب پر ایمان رکھتے ہوں اورآخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔ یہ ہیں متقین۔

معلوم ہوا کہ متقین کی تشریح ان الفاظ سے ہورہی ہے ۔ تو اب متقین کے معنی نہ تو ڈرنے والے ہوئے، نہ پرہیز کرنے والے ہوئے، متقین کے معنی ہوئے فکر نجات رکھنے والے۔

تواب میری تشریح کے لحاظ سے آیت کے معنی یہ ہوئے کہ اے ایمان لوانے والو! غضب الٰہی سے بچاؤ کی فکر رکھو۔غضب الٰہی سے بچنے کا سامان کرو۔وہ جو عام ترجمہ ہے، اللہ سے ڈرو، یہ ڈرنے کا لفظ ہزار طریقہ سے ہماری اور آپ کی زبانوں پر روزمرہ آتا ہے۔ کسی کو نصیحت کرنا ہو، کہا اللہ سے ڈرو۔کسی کی مذمت کرنی ہوئی، کہا:اُسے خوفِ الٰہی بالکل نہیں ہے۔اللہ سے بالکل نہیں ڈرتا۔بہرحال لفظ بدل کر خوف کے لفظ کا استعمال بھی اللہ نسبت قرآن اور حدیث میں ہے۔ معصومین کے خوفِ الٰہی کے واقعات بیان ہوتے ہیں۔ یہ خوف کے لفظ کی نسبت اللہ کی طرف صرف ”اِتَّقُوا“کے ترجمہ کے سلسلہ میں تھی۔ یہ بات کہ اللہ سے ڈرو، بالکل قابل اعتراض نہیں ہے مگر اب سوچنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ اللہ سے ڈرنے کا مطلب کیا ہے؟

حضور! یہ ڈر کا لفظ جس جس محل پر استعمال ہوتا ہے، وہ اس چیز کی کسی بلندی اور رفعت کا پتہ نہیں دیتا۔دیکھئے کن کن چیزوں سے ڈرتے ہیں! ایک تو ڈراجاتا ہے ان چیزوں سے جن کی طبیعت میں ایذارسانی ہوتی ہے۔ مثلاً سانپ اور بچھو سے آدمی ڈرے گا۔ شیر اور بھیڑئیے سے ڈرے گا۔ ایسی چیز سے ڈرے گا جس کی فطرت میں ایذارسانی ہو۔ ایک ڈر کا محل استعمال یہ ہے کہ جو اجنبی ہو، جس سے سابقہ نہ پڑا ہو،نیا حاکم آیا ہے، ڈر معلو م ہوتا ہے ، نہ جانے کس بات پر خفا ہوجائے۔ معیارِ طبیعت نہیں معلوم۔ تو جس سے کوئی سابقہ نہ ہو، اس سے آدمی ڈرتا ہے۔تیسرا محل ڈر کے استعمال کا کیا ہے؟ مہیب او رکریہہ المنظر چیز سے ڈر لگتا ہے جس سے بنا”ڈراؤنی چیز“۔یہ ڈراؤنا پن یا پہلے بیان کردہ چیزوں میں سے کوئی ایسی ہے جسے اللہ کی طرف نسبت دی جاسکے۔ کوئی معنی ڈر کے ایسے نہیں ہیں جن کو بغیرمعاذاللہ کے خدا کے ساتھ کہہ سکیں۔ان چیزوں سے ڈراجاتا ہے جوایذارساں ہوں اور وہ کہ:

سَبَقَت رَحمَتُه غَضَبَه “۔

”جس کی رحمت غضب کے آگے آگے ہے“۔

اس کے کہنے والے نے کہہ دیا کہ رحمت حق بہانہ می جوید۔ تو جو ایسی کریم ذات ہو، اُس سے ڈرنا کیسا۔یا معاذاللہ وہ عقرب صفت ہو کہ نیش زنی اس کا کام ہو یا وہ معاذاللہ شیر اور بھیڑئیے کی طرح پھاڑ کھانے والا ہے؟ کیا وہ معاذاللہ سانپ کی طرح سے ڈسنے والا ہے؟ یہ تو وہ مفہوم ہے جو کسی طرح سے خدا کے شایانِ شان نہیں ہے کہ اس کی طرف ڈر کی نسبت دی جائے۔ وہ تو بارگاہِ الٰہی میں (رحمت حق سے) مایوس ہونے کو بھی کفر قرار دیتا ہے۔ کہا گیا ہے کہ رحمت حق سے مایوس ہونا بھی کفر ہے۔ تو جو ایسی رحیم اور کریم ذات ہو اور جس کیلئے مذہبی روایات میں واقعات موجود ہیں۔

قارون نے سرکشی کی، جنابِ موسیٰ نے دعائے بد کی اور اس پر غضب الٰہی نازل ہوا اور وہ مع اپنے خزانوں کے ، اپنی دولت سمیت، جس پر اُسے ناز تھا، زمین میں دھنسنے لگا توا للہ نے اُسے عذاب لانے کے بعد بھی موقع دیا کہ اب بھی اس کی آنکھیں کھل جائیں۔ پہلے گھٹنوں تک دھنسا۔ اُس نے کہا: ارے موسیٰ ! رحم کرو۔اب میں باز آیا۔ جنابِ موسیٰ نے کہا: اب جبکہ پوری عمر سرکشی میں گزار دی۔ خالق نے زمین کو جنابِ موسیٰ کے قبضہ میں دیا اور کہا کہ اس سے جو مرضی ہو، کام لو۔انہوں نے پھر کہا: نگل لے۔اب زمین نے کمر تک نگلا۔ اس نے پکار کر کہا: موسیٰ! رحم کرو۔انہون نے زمین سے کہا کہ نگلتی کیوں نہیں؟ آخر میں جا کر پورا غرق ہوا۔ یہی چیزیں ہیں جو گناہ نہیں ہیں مگر ترکِ اولیٰ انہی کا نام ہوتا ہے۔ جو گناہ نہ ہوں مگر کسی بلند شخصیت کے تقاضے کے خلاف ہوں۔

اب جب کوہِ طور پر مناجات کیلئے جاتے ہیں تو ایک دفعہ صدا دیتے ہیں ، جواب نہیں آتا۔ دوسری دفعہ آواز دیتے ہیں، تیسری دفعہ تڑپ کر آواز دی کہ میں نے کیا قصور کیا؟ جواب آیا کہ موسیٰ! وہ ہر مرتبہ تمہیں پکارتا رہا، اگر ایک مرتبہ مجھے پکار لیتا تو کبھی رَد نہ کرتا۔

معصومین نے یہ سب واقعات اُس کی رحمت کو نمایاں کرنے کیلئے ہمارے سامنے بیان کئے ہیں ورنہ ہمیں کیونکر معلوم ہوتے اور پھر آخرت کے بہت سے واقعات بیان کئے ہیں کہ یوں ہوگا، یوں ہوگا۔ یہ صرف دلچسپی کیلئے نہیں بیان کئے گئے۔ ہمیں متاثر کرنے کیلئے بیان کئے ہیں کہ مایوس ہونا بھی آدمی کو بیباک بنادیتا ہے کہ جب ہمیں دوزخ میں جانا ہی ہے تو اب جو چاہیں کریں۔نا اُمیدی بھی اصلاح کیلئے مضر ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے:

اَ لاِیمَانُ نِصفَانِ نِصفٌ خَوفٌ وَنِصفٌ رِجَاءٌ “۔

”ایمان کے برابر کے دو ٹکڑے ہیں، آدھا خوف ہے، آدھا اُمید ہے“۔

اسے روزمرہ کی مثال سے واضح کرتا ہوں کہ کوئی طالب علم ہے اور اُسے یقین ہے کہ چاہے جتنی محنت کروں مگر میرا فیل ہونا ضروری ہے۔ تو وہ کیوں محنت کرے گا؟ سمجھتا ہے کہ محنت کرے گا ، تب بھی فیل ہوگا۔ ایک ہے جسے کچھ اسباب سے یقین ہے کہ میں چاہے کچھ نہ کروں، لیکن میں فیل ہو ہی نہیں سکتا۔تو بھی کیوں محنت کرے گا؟ وہ محنت نہ کرے گا بیکار سمجھ کر، یہ محنت نہ کرے گا، بے ضرورت سمجھ کر۔ یونہی سمجھ لیجئے کہ اگر کسی بندے نے اللہ کی رحمت کو سامنے رکھا اور یہ کہا کہ مجھے سزا مل ہی نہیں سکتی، بھلا وہ مجھے کہاں سزا دے گا؟ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ پھر جو دل چاہے گا، کرے گا کہ مجھے سزا مل ہی نہیں سکتی۔ مجھے تو بہرحال جنت میں جانا ہے۔ ہمارے بہت سے عوام اسی خیال میں ہیں کہ جنت کے دروازے ہمارے منتظر ہیں۔ بس ادھر پہنچے ، اُدھر دروازے خودبخود کھل گئے۔

تو جب اتنا اعتماد کرلیا کہ بہرحال ہماری بخشش ہونی ہے تو پھر کیوں ضبط نفس کریں؟ کیوں اپنے من مانے کام نہ کریں؟ کیوں اپنی نفسانی خواہشات کو پورا نہ کریں؟یہ چیز بھی اصلاحِ نفس کیلئے سمِ قاتل ہے اور اگر کسی واعظ نے آکر اتنے دوزخ کے عذاب دکھا دئیے اور اتنا نااُمید بنادیا کہ سننے والے یہ سمجھے کہ ہمیں کو کسی طرح نجات مل ہی نہیں سکتی، لہٰذا کوئی نیک عمل کرکے کیا لیں گے۔

پہلے کی مثال اُس طالب علم کی ہوگئی جسے کامیابی کے یقین کی بناء پر محنت نہیں کرنا تھی، یہ اس طالب علم کی طرح ہوگیا جسے کامیابی سے نا اُمیدی کی وجہ سے محنت بیکا رمعلوم ہوئی۔ لہٰذا وہ نہ اپنے کو اچھا آدمی بنا سکا، نہ یہ بنا سکا۔تو اُس کی رحمت کا اُمیدوار رہنا چاہئے اور اپنے گریبان میں منہ ڈال کر اپنے کردار پر تھوڑا سا غور کرنا چاہئے۔ تھوڑا سا اندیشہ بھی ہونا چاہئے ۔ میں کہتا ہوں کہ بے شک بڑی ہستیاں ہیں جو ہماری سفارش کرنے والی ہیں لیکن اپنے کردار کی وجہ سے منہ ایسا رکھئے کہ ان سے کہہ سکیں۔

بہرحال خوف کا لفظ اس کیلئے ناقابل انکار ہے مگر مطلب تو سمجھنا چاہئے ۔ جس جس قسم کے ہم نے خوف دیکھئے، سب اللہ کی شان کے خلاف ہیں۔ اُس چیز سے ڈرتے ہیں جو ایذارساں ہو۔ تو میں نے کہا کہ اس کی رحمت اس کے غضب سے آگے ہے۔ اس سے ڈرنا کیسا؟ اُس سے ڈرتے تھے جس سے سابقہ نہ پڑا ہو، جیسے نیا حاکم آگیا۔مگر جس کی آغوشِ رحمت میں آنکھ کھولی ہو، جس کے گہورائہ تربیت میں پرورش پائی ہو، ارے ماں باپ کے دل میں اولاد کی محبت بھی اُس نے پیدا کی ، پرورش کا جذبہ بھی اُس نے پیدا کیا ۔لہٰذا اصل مربی تو وہ ہے ۔

اسی لئے ایک فرق ہے مسلمانوں اور عیسائیوں کی اصطلاح میں کہ عیسائی اُسے اَب کہتے ہیں یعنی باپ اور مسلمان اُسے رَب کہتے ہیں یعنی پروردگار۔یہ اَب یعنی باپ کہنا صرف سبب وجود کو بتاتا ہے، سبب بقا کو نہیں بتاتا۔سبب وجود رشتہ ماضی ہے۔ بہت سے افرا دہیں جو پید اہوئے ہیں اور باپ ان کے بچپن میں دنیا سے اٹھ گئے۔ خود ہمارے پیغمبر نے باپ کے اٹھنے کے بعد اس دنیا میں قدم رکھا۔ آپ کی ولادت باپ کی وفات کے بعد ہوئی۔ تو باپ صرف سبب وجود ہوتاہے، سبب بقا نہیں ہوتا۔

لیکن رب کے معنی ہیں پرورش کرنے والا۔ اَب ماضی کا رشتہ تھا، رَب حال کا رشتہ ہے۔ یعنی ہر سانس اُس کی ممنونِ احسان ہے۔ ایک ذرا سی اس کی نگاہ توجہ ہٹے تو ہم ہست سے نیست ہوجائیں۔ ہمارا وجود ختم ہوجائے۔ پس ربوبیت رشتہ حال ہے۔ اب جس کے گہوارئہ تربیت میں سانس لے رہے ہیں، وہ کوئی اجنبی زات ہے کہ اُس سے ڈریں؟

اور پھر اُس سے ڈرتے تھے جو کریہہ المنظر ہو، ڈراؤنی شکل رکھتا ہواور وہ جو کمالِ مطلق ہے، جمالِ محض ہے، جہاں حسن کے سوا قبح کا گزر نہیں ، جہاں خیر کے سوا کسی کشر کی آمیزش کا کوئی پہلو نہیں۔

حضورِ والا! ایسی ذات سے ڈرنا کیسا؟ معلوم ہوتا ہے کہ ڈر کالفظ ہم کہہ رہے ہیں مگر ڈر کے معنی نہیں سمجھتے۔میں جو تلاش کیا تو صرف ایک محل استعمال ڈر کے لفظ کا مجھے ملا، اس لئے ہم سمجھ سکتے ہیں اس ڈر کے معنی جو اللہ کی ذات کے ساتھ ہے۔یہ بھی ہماری زبان کا محاورہ ہے کہ فلاں بیٹا اپنے باپ سے بہت ڈرتا ہے۔ یہ بیٹا جو باپ سے ڈرتا ہے، یہ طبعاً ایذا رساں ہونے کی وجہ سے ڈرتا ہے، نہ اس لئے ڈرتا ہے کہ کبھی سابقہ نہیں پڑا ، نہ اس لئے ڈرتا ہے کہ کریہہ المنظر ہے۔ اس ڈر کا سبب ہے احساسِ عظمت۔

بس جس مفہوم کے لحاظ سے سعادت مند بیٹا اپنے باپ سے ڈرتا ہے، جو نیک بیٹا ہو، وہ کس طرح اپنے باپ سے ڈرتا ہے، اس کی عظمت کے احساس کی وجہ سے۔ بس اس کا کمال ہے جس کی وجہ سے بندے کو اپنے پروردگارسے ڈرنا چاہئے۔ اسی لئے جو بڑے سے بڑے مجرم اور گناہگار ہیں، وہ بالکل نہیں ڈرتے لیکن جن کے دامن عصمت پر کسی قسم کے گناہ کا داغ نہ تھا، وہ سب سے زیادہ ڈرتے تھے۔

خوفِ الٰہی میں ان کے مظاہر ہیں جو آنکھوں کے سامنے آئے۔ خوفِ الٰہی کے واقعات ہیں ، یہاں تک کہ بعض اوقات ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کی نوعیت کیا ہے؟ امام زین العابدین علیہ السلام کی دعائیں صحیفہ سجادیہ میں، امیرالمومنین علیہ السلام کے کلام میں دعائے کمیل کی نوعیت، الفاظ دیکھئے۔ صحیفہ کاملہ کی دعائیں دیکھئے۔ یعنی مجھے تو اُردو زبان میں اس کیفیت کے بیان کرنے میں جو عربی الفاظ سے نمایاں ہوتی ہے، دقت ہوتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جبار و قہار حاکم کے سامنے کوئی مجرم کھڑا ہو ،تھر تھر کانپ رہا ہو۔ وہ تضرع و زاری اور بارگاہِ الٰہی میں التجا اپنی خطاؤں کے معاف کرنے کیلئے۔اس کی نوعیت بعض اوقات سمجھ میں نہیں آتی، یہاں تک کہ لوگ سوال کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ سائل کی تسلی ہوجاتی ہو، ممکن ہے کہ تسلی نہیں بھی ہوئی اور وہ لاجواب ہوجاتا ہو، چپ ہوگیا ہو۔مگر کیا واقعی جو ہم نے اسے سمجھایا ہے، تو ہم خود بھی اُسے سمجھے ہیں۔

میں کہتا ہوں اس کا تجزیہ کیجئے۔ اس جواب کا کہ ہمارے بتانے کیلئے، ہمارے سمجھانے کیلئے یہ باتیں ہیں۔تو تجزیہ کیجئے۔ تجزیہ اُس کا یہ ہوتا ہے کہ حقیقت میں یہ کیفیات طاری نہیں ہوتی تھیں۔ امیرالمومنین علیہ السلام کیلئے ہے کہ مارگزیدہ کی طرح تڑپتے تھے اور نوحہ کرتے تھے اور اس طرح روتے تھے ۔ تو اس جواب کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ کیفیات واقعی نہیں پیدا ہوتی تھیں، یہ مصلحتاً ہمارے سکھانے کیلئے، ہمارے سمجھانے کیلئے اپنے میں پیدا کی جاتی ھتیں۔ یہ تجزیہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔یہ گویا مصنوعی کیفیات ہوتی تھیں، ہمیں سکھانے کیلئے، ہمیں بتانے کیلئے۔

ایک تو یہ پہلو اس وقت عرض کررہا ہوں کہ ہمیں سکھانے کیلئے (معاذاللہ) یہ کیفیت انہوں نے پیدا کرلی اور وہاں ہمارے اصولِ دین میں شبہ پیدا ہوگیا جو آج بے چین ہوکر لوگ پوچھنے لگے کہ یہ کیا کہا؟ اس نفع کے ساتھ یہ نقصان بھی تو ہوا اس مصنوعی کیفیت کی وجہ سے۔

صاحب! میں کہتا ہوں کہ واقعات کا جائزہ لیجئے۔ ابودردا نے دیکھا کہ امیرالمومنین سجدئہ خالق میں ہیں اور جسم مثل چوبِ خشک بے حس و حرکت ہے۔ وہ روتے ہوئے خانہ سیدہ عالم پر آئے او رکہا کہ امیرالمومنین نے دنیا سے رحلت فرمائی۔حضرتِ سیدہ عالم پریشان نہیں ہوئیں لیکن اس کا سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ رسول کے ارشادات سے معلوم تھا کہ آپ کی شہادت کس طرح ہوگی! آپ نے یہ کہلوایا کہ یہ تو

تم نے رائے قائم کی ہے، یہ اطلاع جو تم دے رہے ہو کہ وفات ہوگئی ہے، کیفیت جو دیکھی ہے، وہ بتاؤ۔تب انہوں نے کہا کہ کیفیت یہ ہے کہ سجدئہ خالق میں ہیں، جسم مثل چوبِ خشک ہے، بے حس و حرکت ، سانس بھی بالکل بند ہے۔

جب انہوں نے یہ کیفیت بتائی تو سیدہ عالم نے فرمایا کہ ابوالحسن کی محرابِ عبادت میں اکثر یہ حالت ہوجاتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ابودردا نے عمر میں ایک مرتبہ دیکھا اور سیدہ عالم جیسی صدیقہ نے گواہی دی کہ اکثر محرابِ عبادت میں یہ حالت ہوجاتی ہے۔تو اب کیا حقیقت رہی اس جواب کی کہ ہمارے سکھانے کو، سمجھانے کیلئے ایسا تھا؟دیکھنے والے نے تو عمر میں ایک مرتبہ دیکھا اور اکثر وہ حالت ہوجاتی ہے جس کی رازدار صرف سیدہ عالم ہیں۔ تو اب کیا حقیقت رہی اس جواب کی کہ یہ ہمارے سمجھانے کیلئے تھا؟ ہمارے بتانے کیلئے، ہمارے دکھانے کیلئے تھا؟

دوسرا واقعہ اس کا عکس ہے یعنی سیدہ عالم کا جب وقت رحلت قریب پہنچا اور امیرالمومنین علیہ السلام تشریف لائے ہیں تو جو وصیتیں سیدہ عالم نے کی ہیں، ان میں سے ایک وصیت بیان نہیں ہوتی ہے کہ سیدہ عالم نے ایک بوتل امیر المومنین علیہ السلام کے سپرد کی اور یہ وصیت کی کہ اسے میرے ساتھ قبر میں رکھ دیجئے گا۔ دیکھئے! علم امامت الگ چیز ہے لیکن عام طور پر نظامِ حیات اسبابِ ظاہری والے علم پر مبنی تھا۔اس لئے دریافت کی جاتی تھی ، تحقیق کی جاتی تھی ، گواہیاں لی جاتی تھیں۔ یہ سب آئین کے تحت میں تھا۔

تو امیرالمومنین نے پوچھا کہ شیشے میں کیا ہے؟ تو سیدہ عالم نے فرمایا کہ میں نے اپنے پدرِ بزرگوار سے سنا تھا کہ آخرت میں ایک منزل ہے جس سے وہی لوگ گزریں گے جو خوفِ خدا میں روئے ہوں۔تو اے ابوالحسن !یہ میرے وہ آنسو ہیں جو میں نے خوفِ خدا میں بہائے ہیں۔

اب ہر صاحب عقل غو رکرے کہ فطری طور پر جو آنسو بہیں گے، وہ سب شیشی میں نہیں آسکتے۔ کچھ رواں ہو کر چلے جائیں گے اور شیشی میں بہت تھوڑے آئیں گے۔ تو جو محفوظ ہوسکے، وہ اتنے ہیں کہ شیشی میں ان کا ذخیرہ ہے اور یہ آنسو اس طرح بہائے گئے تھے کہ اسبابِ ظاہری سے امیرالمومنین تک سے راز تھے ورنہ آپ پوچھتے کیوں کہ اس میں کیا ہے!

تو اب میں کیونکر کہوں کہ یہ کیفیات فقط ہمارے دکھانے کیلئے ہوتی تھیں، یہ کیفیات ہمارے سمجھانے کیلئے ہوتی تھیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحیح تجزیہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چونکہ عظمت الٰہی کا احساس ان میں تھا، تو اپنے تمام سرمایہ عصمت کے ساتھ جو اطاعت ہے، اس کو اس کی بارگاہ میں کم سمجھتے تھے۔ لہٰذا اس طرح تڑپتے تھے جس طرح کوئی مجرم اپنی کوتاہیوں پر تڑپتا ہے۔ یہ احساسِ عظمت الٰہی ہے جس سے یہ کیفیات پیدا ہورہی ہیں۔


ہوجاو سچوں کے ساتھ ۲

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( یَااَیُّهَاالَّذِینَ اٰمَنُواا تَّقُواللّٰهَ وَکُونُوامَعَ الصَّادِقِینِ ) ۔

اے اہل ایمان! اللہ کی عظمت کے تقاضوں کو محسوس کرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ پہلے جزو کے متعلق عرض ہوچکا کہ سچوں کے ساتھ رہو، ایک ہی لفظ ہوتا ہے مگر متکلم بدلنے سے اس کی سطح مختلف ہوجاتی ہے۔ ہم جس وقت کسی آدمی کو کہیں کہ وہ سچا ہے تو ہمارا علم محدود، ہماری نگاہ محدود۔ لہٰذا بس اُس کی دو چار خبروں کو دیکھا کہ جو کچھ اُس نے بتایا تھا اور جو اُس نے اطلاع دی تھی، وہ صحیح نکلی۔ ہم نے کہہ دیا کہ آدمی سچا ہے۔ مگر ہمیں نہیں معلوم کہ جو وعدہ وہ کرتا ہے ، اُسے پورا بھی کرتا ہے یا نہیں۔ تو ہمیں صادق مخبر کہنے کا حق تھا، صادق القول کہنے کا حق نہیں ، چہ جائیکہ پورے آدمی کو سچا کہہ دیں۔

فرض کیجئے کہ وعدوں کو بھی دوچار مرتبہ دیکھ لیا کہ جو وعدہ کیا، وہ ٹھیک نکلا۔ اب ہم نے کہا کہ سچا ہے مگر ہمیں یہ نہیں معلوم کہ اس کے عمل میں ظاہروباطن یکساں ہے یا نہیں۔ اگر ظاہر وباطن اس کے عمل میں یکساں نہیں ہیں تو کردار کی سچائی کہاں رہی اور یہ ہمارے بس کی بات بھی نہیں کیونکہ ظاہر ہمارے حدودِ ادراک میں ہے اور باطن ہمارے حدودِ ادراک سے خارج ہے۔ تو ہم ظاہر و باطن میں کیونکر مطابقت کریں؟ مگر ہم اس پر غور ہی نہیں کرتے ، ہم آدمی کو سچا کہہ دیں گے۔ اس سے بحث نہیں کہ اس کے کردار میں ظاہروباطن کی یک رنگی ہے یا نہیں ہے۔ فرض کیجئے کہ کچھ قرائن سے بھی محسوس کرلیا کہ یہ بے لوث آدمی ہے اور اس کے کردار میں دو رنگی نہیں ہے۔ لیکن ہمیں کیا معلوم کہ اس کے تصورات کیا ہیں؟ اس کے خیالات کیا ہیں؟ اس کے ذہن کی تمام گردشیں صحیح خطوط پر جاتی ہیں یا نہیں؟ جب تک ہم نے یہ محسوس نہیں کیا، اس وقت تک ہمارا یہ کہنا کہ یہ آدمی سچا ہے، کہاں قیمت رکھتا ہے؟ مگر یہ تو اس وقت ہے جب ہم کسی کو سچا کہیں اور وہ جو عالم الغیب ہے، وہ کسی کو سچا کہے تو اس کے معنی ہیں کہ اپنے علم غیب کے آئینہ میں اس نے اس کے قول کو بھی آزما لیا ، اس کے عمل کو بھی دیکھ لیا اور اس کے ذہن کی گردشوں کو بھی اس نے پیش نظر رکھا۔ اس کے بعد اُس کو سچا کہا۔

اب جب اُس نے سچا کہا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی گفتار بھی بالکل صحیح ، اس کا کردار بھی بالکل صحیح، اس کا پندار بھی بالکل صحیح۔ نہ اُس کو کوئی قول ایسا ہے جو حقیقت سے جدا ہو، نہ اس کا کوئی قول و عمل، نیت، تصور اور عقیدہ ایسا ہے جو نقطہ حقیقت سے جدا ہو۔ یہ صادق کہنا اس کے قول و عمل و تصورات سب کی صحت کا ضامن ہوگا۔ اب اگر وہ ایک کو کہے گا صادق تو وہ ایک ایسا ہوگا ۔ اگر وہ کسی جماعت کو کہے صادقین تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ پوری جماعت ایسی ہوگی جن کے قول و عمل اور تصور و خیال کی صحت کا وہ ضامن ہے۔ اب وہ جتنے ہوں، چاہے پانچ ہوں، چاہے بارہ ہوں، چودہ ہوں اور اس منزل میں اس سے زیادہ مجھے یاد نہیں ہے۔

اب عقلی حیثیت سے ایک پہلو پر غور کیجئے، وہ یہ کہ دو اشخاص ہوں اور ان میں اختلا ف ہو۔ ایک کچھ کہتا ہو، دوسرا کچھ کہتا ہو۔ ایک کچھ سوچتا ہو، دوسرا کچھ سوچتا ہو۔ ان میں باہم قول و عمل و تصور میں اختلاف ہو تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ دونوں غلط ہوں، نقظہ صحت کچھ اور ہو مگر یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ دونوں صحیح ہوں۔یہاں پوری ایک جماعت ہے جسے وہ کہہ رہا ہے ”صادقین“۔ تو ماننا پڑے گا کہ وہ جماعت جتنے آدمیوں کی ہے، جتنے افراد اس جماعت کی کڑی میں منسلک ہیں، وہ سب ایسے ہیں کہ نہ ان کے قول میں اختلاف ہے، نہ ان کے عمل میں اختلاف ہے۔ صورتِ حال میں اختلاف ہوسکتا ہے ، حقیقت عمل میں اختلاف نہیں ہوسکتا۔

حضورِ والا! جب ایسے چودہ ہوں گے کہ جن کے قول و عمل و فعل میں اختلاف نہ ہوا، اس کا مطلب یہ کہ آنکھیں چودہ ہوں گی مگر نگاہ ایک ہے۔ ہاتھ چودہ کے ہیں مگر کام ایک ہے۔ قدم چودہ کے ہیں مگر اقدام ایک ہے اور دل چودہ کا ہے مگر ارادہ و مقصد ایک ہے۔ اب ایسے چودہ جب ہوں گے تو چودہ ہونے کی وجہ سے ان میں کثرت ہے۔ لہٰذا رنگ بھی کچھ الگ الگ ان میں ہوسکتا ہے۔مختلف رنگت میں بھی ہر ایک معیارِ حسن میں کامل ہوسکتا ہے۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ اسب کی رنگت ایک ہو۔قدوقامت بھی الگ ہوسکتا ہے۔ شکل و شمائل بھی اپنے معیار پر کمال کے ساتھ الگ ہوسکتے ہیں۔ جب شکلیں الگ الگ اور صورتیں الگ الگ ہیں ، شخصیات جدا جدا ہیں تو نام بھی الگ الگ ہوں گے اور ذاتی و طبعی حیثیت سے کچھ مزاج بھی الگ الگ ہوسکتا ہے مگر کردار کا وہ سانچہ جسے صادق کہتے ہیں، سب کا ایک ہوگا۔

اب نام الگ الگ اور بہ اعتبارِ ظرفِ زمانہ جس کو جس صفت کے اظہار کا زیادہ موقع ملا، اس کے اعتبار سے لقب بھی الگ الگ۔ کسی کو علوم کے باطنی اسرارورموز کے نمایاں کرنے کا موقع زیادہ ملا، اس کا لقب باقر ہوگیا۔ کسی کی سچائی کا دشمنوں کو بھی اعتراف ہوا، اس کا نام صادق ہوگیا۔ کسی کو عمر بھر غصے ہی کو ضبط کرنا ہوا، اس کا لقب کاظم ہوگیا۔تو نام بھی الگ الگ، کنیت بھی الگ الگ اور لقب بھی الگ الگ۔ مگر وہ کردار کا ایک سانچہ ، اس کے لحاظ سے جب رسول نام بتائیں گے تو کہیں گے:

اَوَّلُنَامُحَمَّدٌوَاَوْسَطُنَامُحَمَّدٌوَآخِرُنَامُحَمَّدٌوَکُلُّنَامُحَمَّدٌ “ ۔

مگر یہ تو مجھے کہیں سے کچھ تعداد بھی معلوم ہے ، کچھ نام بھی معلوم ہیں، کچھ کنیت بھی معلوم ہے جو میں نے اتنا آپ کے سامنے عرض کیا۔ مگر میں نے تو کہا کہ ایک صادق کی شناخت ہم نہیں کرسکتے کیونکہ عالم الغیب نہیں ہیں اور ظاہر و باطن میں مطابقت نہیں کرسکتے اور تصورات و خیالات کا جائزہ نہیں لے سکتے۔ تو ایک صادق کو ہم نہیں پہچان سکتے، چہ جائیکہ ایک جماعت صادقین ، تو اب جس نے کہا کہ سچوں کے ساتھ رہو، اسی کو بتانا چاہئے کہ وہ سچے کون ہیں؟ ورنہ کہہ دیا کہ سچوں کے ساتھ رہو اور ہم سچوں کی تشخیص نہیں کرسکتے۔ وہ بتاتا نہیں تو پھر تو آیت بس تلاوت و حفظ کیلئے رہ سکتی ہے، عمل کیلئے نہیں ہوسکتی۔

حکیم علی الاطلاق کہہ رہا ہے ہم سے، مخاطب ہم ہیں، یوں ہیں ، ایسے اجزاء مقطعاتِ قرآن ہیں، ہمارے نزدیک کچھ پیغام ہیں جو خاص رسول کے لئے تھے۔ ہم سے صیغہ راز میں ہیں۔ پھر اس کے مخاطب بھی ہم نہیں ہیں۔ مگر ایک چیز ہے کہ مخاطب ہم کو کیا جارہا ہے:

( یَااَیُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ) “۔”اے صاحبانِ ا یمان“۔

اب وہی ترجمہ کروں گا کہ اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ہم سے کہہ رہا ہے کہ سچوں کے ساتھ رہو اور بتاتا نہیں ہے کہ سچے کون ہیں؟ تو حکیم علی الاطلاق کے تقاضائے حکمت کے مطابق یہ نہیں ہے ۔ پھر میں چودہ سو برس اور ساڑھے چودہ سو برس کے بعد یہ سوچ رہا ہوں کہ وہ اگر نہ بتائے تو ہم کیونکر عمل کریں گے۔آخردورِ رسالت کے مسلمان بھی تو سمجھدار تھے اور براہِ راست انہی کو پکار کر کہا جارہا تھا تو آخر انہوں نے کیوں نہیں پوچھا کہ یہ سچے کون ہیں جن کے ساتھ رہنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے؟ تو اگر پوچھا ہو تو کوئی روایت بتائے ، کوئی دکھائے کہ کیا پوچھا؟ کب پوچھا؟ اور پھر رسول نے کیا کہا؟ ہماری بھی معلومات میں اضافہ ہو، کوئی ہمیں ایسی روایت بتائے اور اگرکوئی ایسی روایت نہ ملے کہ لوگوں نے پوچھا تو ماننا پڑے گا کہ بتایا لیکن عام لوگوں نے بھلا دیا۔

تو اب دنیا بھلا دے ، بہرحال اگر ہمیں یاد ہے تو ہم دیکھیں کہ یہ بتایا۔ یاد رکھئے کہ بتانے کے دو طریقے ہیں۔یہ دونوں طریقے مقصد کے حصول میں کارگر ہیں۔ پہلی صورت تو سیدھی سادی یہ ہے کہ جو صادقین ہیں، کہیں پر لاکر ان کی صورتیں دکھائی جائیں کہ دیکھو! یہ ہیں۔ یہ ایسا طریقہ ہے کہ کند ذہن آدمی بھی سمجھ لے گا۔ اس میں کوئی غوروفکر اور نکتہ رسی کی ضرورت نہیں ہے۔ بالکل صاف ، آنکھوں کے سامنے لاکر دکھایا جائے کہ یہ صادقین ہیں۔ کم سے کم اس سلسلہ کے جتنے افراد ہیں، اس وقت موجود ہیں، ان کو ایک جگہ پر دکھایا جائے ۔ پھر ہر صادق اپنے بعد والے کا تعارف کرواتا رہے گا اور سلسلہ قیامت تک قائم رہے گا۔

مجھے زیادہ کدوکاوش کے بغیر مل گیا ہے۔ رسول نے آفتابِ نیم روز کی روشنی میں ان افراد کو سامنے لا کر دکھادیا اور قرآن کی آیت نے اور رسول کے عمل نے مل کر بتادیا کہ یہ افرا دہیں جو صادقین ہیں۔ نصاریٰ یمن کا نجران ایک مرکز تھا۔ وہاں جو پیغامِ اسلام پہنچا تو انہوں نے تحقیق کیلئے ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا کہ ان کا پیغام کیا ہے۔ چنانچہ ستر آدمیوں کا وفد آیا جس میں تمام علمائے راہب شامل تھے اور میں ان کی معقولیت کی داد دوں گا کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ دین کا معاملہ ہے، فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو اس میدان کے شہسوار ہیں، انہیں بھیجا جائے۔ جو مزاجِ دین سے واقف ہیں، جو کھوٹے اور کھرے اور سچے اور جھوٹے کا امتیاز نگاہ سے کرسکیں، ان کو بھیجا جائے۔ عام تصور تو یہ ہے کہ یہ لوگ تحقیق کیلئے بھیجے گئے تھے اور اس قوم کو تحقیق کا شوق ہے مگر صورتِ واقعہ پر غور کیجئے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر وہ صرف تحقیقاتی وفد ہوتا تو اُسے کوئی سمجھوتہ کرنے کا حق نہ ہوتا، کسی معاہدے کا حق نہ ہوتا۔ ان کا کام صرف یہ ہوتا کہ جاکر رپورٹ دے دیں۔ لیکن صورتِ واقعہ بتا تی ہے کہ وہ معاہدہ کرکے واپس ہوئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ بااختیار وفد تھاکہ جو مناسب سمجھنا، وہ تم کرنا۔صرف حالات کا جائزہ لینے کیلئے تم نہیں بھیجے گئے تھے مگر جو جائزہ لینے کے بعد ان کی رائے ہو، اس کے مطابق عمل بھی ان کے ذمہ تھا۔

وہ روانہ کئے گئے۔ میں نے ان کی معقولیت کی تعریف کی مگر میں اب اس قوم کو پکار کر کہتا ہوں کہ تم اتنے معقول تھے اور میں نے تمہاری معقولیت کی تعریف کی۔ لیکن اب اس معقولیت کا دامن کیوں چھوڑ دیا؟ تم ہی نے اس رسول کی تصویر کھینچی کہ ایک ہاتھ میں تلوار، ایک ہاتھ میں قرآن۔ میں کہتا ہوں یہ کیوں معقولیت کا دامن چھوڑا؟ اگر ان کا کام یہی ہوتا کہ یہ تلوار سے دین کو پھیلاتے تو تمہارے مقابلہ میں تلوار کیوں نہ کھینچی؟ تمہارے مقابلہ میں تلوار کا نہ آنا اس کا ثبوت ہے اور تمہاری معقولیت کا تقاضا ہے کہ تم اس کو مانو کہ تلوار اُن کے مقابلہ میں کھنچتی تھی جو تلواریں لے کر آئیں۔ تم تلواریں لے کر نہیں آئے تو تمہارے مقابلہ میں تلوار نہیں کھینچی۔

بہرحال وہ مدینہ آئے اور تمام تفصیلات اس کی آپ کی نظر میں ہیں۔ انہوں نے یہ سنا تھا کہ ہم تاجدارِ مدینہ کے پاس جارہے ہیں او ریہ ہزاروں برس کا محاورہ سینہ بہ سینہ ہم تک پہنچا ہے اور گویا پیغمبر کے انقلاب میں یہ بڑی فضیلت والا لقب ہے ”تاجدارِ مدینہ“۔اسی سے مسلمانوں کی ذہنیت ظاہر ہوجاتی ہے۔

جناب! یہ تصور اس وقت تھا اور وہ یہ تصور کیوں نہ کرتے جب تک مسلمانوں کے درمیان آج تک یہ تصور باقی ہے۔ تو انہوں نے ایسے لباس بنائے جوبادشاہوں کے دربار میں جانے کیلئے موزوں ہوں۔ حریرودیبا کے کپڑے پہن کر آئے۔ وہ جو آئے تھے تو سن چکے تھے چرچے کہ رسول کے اخلاق ایسے ہیں۔ مگر پیغمبر خدا مصروفِ گفتگو رہے۔ آپ نے ادھر رُخ ہی نہیں کیا۔ تھوڑی دیر کھڑے رہے ۔ یہ خیال کرکے کہ شاید اتفاقاً نظر نہ پڑی ہو۔ جب اتفاق کی گنجائش نہ رہی ، سمجھے کہ ارادی بات ہے تو واپس ہوئے۔ آپس میں یہ بات کرتے ہوئے کہ ہم نے تو ان کے اخلاق بہت بلند سنے تھے مگر ہمیں جو تلخ تجربہ ہوا ہے، اس کی تو ہمیں کسی بد اخلاق سے بھی اُمید نہ تھی۔ مگر حسن اخلاق کے چرچوں کا تواتر اتنی قوت رکھتا تھا کہ مشاہدہ ان کے مقابلہ میں ٹک نہیں رہا تھا ورنہ رکنے کی ضرورت کیا تھی؟ اسی وقت واپس جاتے اور جاکر کہتے کہ اب کیا تحقیق کریں؟یہی خبر غلط نکلی ۔ ان کے تو اخلاق ایسے ہیں۔ مگر حسن اتفاق کے چرچوں کا دباؤ ذہن پر تھا کہ محسوس ہورہا تھا کہ نہیں ، کوئی بات ہے ۔ وہ بات کیونکر معلوم ہو؟ تو جو ان کے مزاج شناس ہوسکتے ہیں، ان کے دربار کے حاضر باش ہوسکتے ہیں، ان سے دریافت کیا جائے کہ اس میں راز کیا ہے؟

اب کئی اصحاب سے پوچھا اور آخر میں اس ذات کے پاس پہنچ گئے جس کیلئے دنیا کا گویا مقدر تھا کہ ہر طرف سے ٹھوکریں کھا کر وہاں پہنچے۔ جو لوگ جواب نہیں دے سکتے تھے، وہ بھی ساتھ ساتھ تھے کہ جب جواب نہیں ملے گا تو ہماری بھی سمجھ میں آجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ان سے پوچھو۔ یہ بچپن سے رسول کے ساتھ ہیں۔ آپ سے دریافت کیا۔وہاں سے سیدھے آئے تھے۔ لباس کی تبدیلی کا موقع بھی نہیں ملا تھا۔آپ نے غور سے ان کے لباس کو دیکھا اور ارشاد فرمایا کہ کیا یہی کپڑے پہن کر تم گئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی، یہی تو کپڑے پہن کر ہم گئے تھے۔ یعنی کوئی خلافِ شانِ دربار بات ہم نے نہیں کی، یہی کپڑے پہن کر گئے تھے۔

آپ نے ارشاد فرمایا: تم تو راہب ہو، تارک الدنیا ہو۔ یہ تم نے کیا سوانگ رچایا ہے؟ جو اصلی کپڑے ہیں، ان میں جاؤ اور دیکھو۔ اوّل تو ان کے ذہن نے قبول کرلیا کہ ہاں، یہ بات ہوسکتی ہے۔ دوسرے یہ کہ عقل نے کہا ہوگا کہ انہوں نے ایک نسخہ تو بتایا، اسے آزما کر دیکھو۔ چنانچہ گئے او روہ کپرے بیچاروں نے پھینکے اور وہیں سے اپنے کپڑے پہنے اور دوسرے دن پیغمبر خدا کے پاس آئے اور دیکھتے ہی رسولِ خدا تعظیم کو کھڑے ہوگئے۔

ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں، دیکھئے قرآن کا کیا ذکر، عملِ رسول بھی کافی نہیں ہوتا، جب تک شرح کرنے والا نہ ہو۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ کیسے آپ لوگ آئے؟ انہوں نے بتایاکہ تحقیق کرنے کیلئے آئے ہیں اور آپ کے پیغام کو سننا چاہتے ہیں ۔ جو جو آپ نے کہا، وہ ان کی عقل قبول کرتی گئی کہ ہاں! بالکل صحیح ہے۔ہر چیز کو اُن کا ذہن مان رہا تھا لیکن آخر میں بات یہ آگئی کہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

سورئہ آلِ عمران اس سلسلہ میں نازل ہوا۔ ان کی ولادت کا تذکرہ رفعت و بلندی وغیرہ اس میں تھی۔ انہوں نے کہا: صحیح ہے۔ آپ ان کو نبی مانتے ہیں، رسول مانتے ہیں۔ صاف صاف یہ بتائیے کہ خدا کا بیٹا مانتے ہیں یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ جواب یہی تھا کہ نہیں، ہم نہیں مانتے۔انہوں نے اپنے نزدیک یہ بہت بڑی دلیل پیش کردی کہ اگر آپ خدا کا بیٹا نہیں مانتے تو بتائیے کہ وہ کس کے بیٹے ہیں؟گویا لاجواب کردیا۔

میں کہتا ہوں کہ اگررسولِ خدا ہمارے اصولِ مناظرہ کے پابندہوتے توبائبل میں حضرت عیسیٰ کاپورا شجرہ موجود ہے۔یوسف نجار کے ذریعہ سے حضرت آدم تک ان کے نسب کو پہنچا دیا گیا ہے۔ فرمادیتے کہ ہم سے کیا پوچھتے ہو، تمہاری کتابوں میں ان کا پورا شجرہ لکھا ہوا ہے۔ مگر حضور! یہ مناظرہ کا فن ہوتا ہے۔ حقیقت شناسی یہ نہیں ہوتی کہ باطل کو باطل سے رَد کیا جائے۔ جب ہم اُسے صحیح تسلیم نہیں کرتے تو اس کو ان کے مقابلہ میں سند میں کیوں پیش کریں۔ جو اصل واقعہ ہے، اس کو پیش کرنا ہے۔ اس پر یہ آیت اُتری:

( اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰهِ کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ کُنْ فَیَکُوْنَ ) ۔

ان سے کہہ دیجئے کہ مثال حضرت عیسیٰ کی مثل حضرت آدم کے ہے، یہاں تو کم از کم ایک فریق موجو دہے جس سے ولادت ہوئی ہے، وہاں تو نہ ماں اور نہ باپ۔ تو جو خدا اس پر قادر ہے ، وہ اس پر بھی قادر ہے کہ بغیر باپ کے وہ پیدا کرے۔ جہاں تک دلیل کا تعلق ہے تو جواب تو کوئی نہیں تھا۔ اس کو وہ رَد نہیں کرسکتے تھے کیونکہ آدم کی خلقت مسلّم ہے ۔ اُسے عیسائی بھی مانتے ہیں، اُسے یہودی بھی مانتے ہیں۔ ان کا طریقِ خلقت سب کے نزدیک ایک ہی ہے۔ اب جواب تو کوئی نہیں تھا، مگر جو نہ ماننا چاہتاہو، اُسے خدا اور رسول بھی قائل نہیں کرسکتے۔ اب آیت تیور بدل کر اُتری۔ آیت کی اٹھان بڑی ہی ہولناک ہے:

( فَمَنْ حَاجَّکَ فِیْهِ مِنْ بَعْدِ مَاجَاءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ ) ۔

اب اتنے علمی دلائل آنے کے بعد نہ مانے تو اب معلوم ہوتا ہے کہ ”ہمیں گوو ہمیں میدان“۔مگر وہ میدان دوسرا ہے۔ ارشاد ہورہا ہے کہ پھر بھی نہ مانے تو آپ یہ کہہ دیجئے:

( قُلْ تَعَالَوْانَدْعُ اَبْنَاءَ نَاوَاَبْنَاءَ کُمْ وَنِسَاءَ نَاوَنِسَاءَ کُمْ وَاَنْفَسَنَاوَاَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ ) ۔

ان سے کہہ دیجئے کہ پھر آجاؤ، ہم اپنے بیٹوں کو لائیں، تم اپنے بیٹوں کو لاؤ، ہم اپنی عورتوں کو لائیں ،تم اپنی عورتوں کو لاؤ، ہم اپنے نفوس کو لائیں ،تم اپنے نفوس کو لاؤ، پھر مباہلہ کرلیں۔مباہلے کے معنی ہیں اللہ سے لَو لگانا، رجوع الی اللہ۔اللہ کی طرف رجوع کریں اور پھر فیصلہ ہوجائے۔ یہ انداز اختیار کیا گیا کہ اگر یہ اب بھی نہ مانیں، علمی دلائل آنے کے بعد، یہ علمی دلائل کیا ہیں؟ یہ قرآن ہے۔ اگر مگر کا سوال نہیں ہے۔ اب واقعہ قرآنی ہے کہ جب قرآن کافی نہیں ہوتا تو یہ لوگ لائے جاتے ہیں۔

آخر کا جملہ میں نے نہیں پڑھا کہ ”( نَبْتَهِلْ ) “۔اللہ سے لَو لگائ یں، رجوع کریں۔

( فَنَجْعَلْ لَعْنَة اللّٰهِ ) “۔

”پھر اللہ کی لعنت قرار دیں“۔

کن پر؟ یاد رکھئے، ضد سے ضد پہچانی جاتی ہے۔ اگر کہا جاتا”( فَنَجْعَلْ لَعْنَة اللّٰهِ عَلَی الْکَافِرِیْنَ ) “، تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ جو اِدھر سے لائے جارہے ہیں، وہ مومنین ہیں ۔ اگر کہا جاتا”( فَنَجْعَلْ لَعْنَة اللّٰهِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ ) “، تو پتہ چلتا کہ ادھر سے جو آئے ہیں، وہ سب عادلین ہیں۔ حالانکہ قرآن میں لعنت ظالمین پر بھی ہے۔ قرآن میں لعنت کافرین پربھی ہے۔ اب یہ الگ بات ہے ۔ یہ مسلمانوں کے سوچنے کی بات ہے کہ خدا سے بڑھ کر کس کی تہذیب ہوگی۔ خدا سے بڑھ کر کون مہذب ہے اور خدا سے بڑھ کر سنجیدہ کلام اور دشنام کے امتیازات کو جاننے والا کوئی دوسرا ہوسکتا ہے؟

بہرحال قرآن میں کافرین پر لعنت ہے، ظالمین پر بھی لعنت ہے مگر یہاں نہ کافرین کہا جارہا ہے، نہ ظالمین کہا جارہا ہے۔یہاں کہا جارہا ہے:

( فَنَجْعَلْ لَعْنَة اللّٰهِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ ) “۔

”اللہ کی لعنت قرار دیں کاذبین پر“۔

میں کہتا ہوں کہ اب نظر جما دیجئے میدانِ مباہلہ پر کہ جو ادھر سے لائے جائیں گے، وہ صادقین ہوں گے ۔ تو اب میرے بیان کا خلاصہ یہ ہوا کہ یہ منزل تعارفِ صادقین کی ہے۔ وہ آیت کہہ رہی ہے کہ صادقین کے ساتھ رہو اور یہاں لاکر دکھا دیا گیا ہے کہ صادقین اس وقت یہ ہیں۔ اب منطق میں اس کی کیا تعریف ہے، جب یہ سوال کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ کیا شے ہے؟ تو اس کے جواب میں جو شے حقیقت ہو، بتانے کیلئے اُسے تعریف کہتے ہیں۔ تو تعریف کی شے کی جامع و مانع ہونی چاہئے۔جامع کے معنی ہیں کہ کوئی فرد چھوٹ نہ جائے اور مانع کے معنی یہ ہیں کہ کوئی غیر مرد شامل نہ ہوجائے۔

مثلاً پوچھا جائے کہ انسان کون ہوتا ہے؟ اور کوئی کہے کہ جو گورا چٹا ہو، اس کے معنی یہ ہیں کہ بیچارے جتنے کالے ،سانولے ہیں، وہ تو سب خارج ہوگئے اور یورپ کی زبان میں تو ہم سب خارج ہوگئے کیونکہ ہمارا گورا بھی ان کے نزدیک کالا ہے۔تو وہ تو قوم کا نام گورا ہے اور ہمارا نام ہی کالا ہے۔ بہرحال اس کے معنی یہ ہیں کہ تعریف جامع نہیں ہے ۔ یعنی سب انسان اس میں نہیں ہیں اور اگر کہا جائے کہ جو زمین پر چلتا پھرتا ہو، تو لیجئے جتنے کیڑے مکوڑے تھے، وہ سب داخل ہوگئے۔زمین پر چلنے والے سب جانور داخل ہوگئے۔ تو تعریف مانع نہ رہی۔ تو تعریف غلط ہوجائے گی۔تعریف کو جامع ہونا چاہئے اور مانع ہونا چاہئے۔

یہاں میں نے کہا کہ یہ درحقیقت صادقین کے تعارف کی منزل ہے ۔ تو جامع ہونے کیلئے تو یہ اہتمام کیا گیا کہ کوئی فردچھوٹ نہ جائے۔ یہاں تک کہ جس کا گھر سے نکلنے کا دستور تک نہ ہو، وہ بھی اس منزل میں ضرور آئے اور بچے اگرہیں تو انہیں بھی نہ چھوڑا جائے۔ اگر وہ اس سلسلہ کے افراد ہیں تو وہ بھی لائے جائیں۔ یہ تو جامع ہونے کا اہتمام ہے اور مانع ہونے میں۔ مانع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پتہ چلے کہ بس یہی ہیں، کوئی دوسرا نہیں ہے کہ جو یہاں آسکے۔صرف یہی افراد ہیں جن کو پیغمبر خدا لائے۔ اس کیلئے خدا ورسول دونوں نے اہتمام کیا، مانع ہونے کے ثبوت کیا۔ دونوں نے یوں کیا کہ اس کا قول اور ان کا عمل۔دونوں نے مل کر اس مقصد کو پورا کیا کہ خالق نے ہر جگہ جمع کا لفظ استعمال کیا۔

ہمارے ہاں اُردو میں تو بس دومنزلیں ہیں، واحد اور جمع۔فارسی میں بھی آمد اور آمدند۔ آیا اور آئے۔ مگر عربی میں تین منزلیں ہیں۔ سنسکرت میں بھی تین منزلیں ہیں۔ واحد، تثنیہ اور جمع واحد۔ ایک تثنیہ دو اور جب دو سے زیادہ ہوں تو جمع۔ یہاں جتنے الفاظ ہیں، ان کا واحد بھی مجھے معلوم ہے، تثنیہ بھی مجھے معلوم ہے کہ ایک ہو تو ابن ، دو ہوں تو ابنان اور دو سے زیادہ ہوں تو ”اَبْنَاء “۔ اس کے بعد ا یک عورت ہو تو امراة، دو ہوں تو امراتان۔ یہاں تو لفظ وہی رہا۔ جب کئی ہوں تو نساء۔ سب حرف بدل گئے۔ جمع ہو، تب نساء ۔ اسی طرح ایک عدد ہو تو نفس، دو ہوں تو نفسان۔ جب دو سے زیادہ ہوں تو ”انفس“۔ تو خالق نے ہر جگہ جمع کا لفظ استعمال کیا اور رسول کسی ایک جگہ بھی جمع نہ لے گئے۔ ابناء کی منزل میں دو عدد، تثنیہ کی حد تک پہنچے ، جمع تو نہیں ہوئے اور نساء کی منزل میں بس ایک فردِ فرید اور انفس کی منزل میں بس ایک نفس نفیس۔ تو کیا مجھ ایسا جاہل تو عربی کے لفظ کے تقاضے جانتا ہے اور پیغمبر عرب ، عربی کے لفظ کے تقاضوں کو نہیں جانتے۔ اب دوسرا رُخ کہ کیا خالق اپنے پیغمبر کے پیمانہ عمل کو نہیں جانتا تھا؟اب یہ اس کے لفظوں کی حدود سے واقف، وہ ان کے عمل کی حدود سے واقف۔ تو پھر لازماً ماننا پڑے گا کہ کوئی اس میں حکمت ربانی ہے کہ وہ ہر جگہ جمع استعمال کرے۔ مگر یہ ایک جگہ بھی جمع نہ لیجائیں او روہ حکمت جو میری سمجھ میں آتی ہے، وہ یہی ہے کہ اگر وہ اس میں واحد کے الفاظ استعمال کرتا تو سوچنے والا سوچ سکتا تھا کہ لانے کے قابل اور بھی لوگ تھے۔

لہٰذا اتفاق سے جو پاس تھے، اور وہ تو رہے ہی تھے پاس، ان کو لے گئے۔ ضرورت کیا تھی کسی کو بلواکر لے جانے کی؟ تو مانع ہونے کا یعنی انحصار کا مقصد واضح نہ ہوتا کہ بس یہی ہے ۔ لہٰذا خالق نے جمع کے الفاظ صرف کئے جن کی تعمیل بشرطِ امکان دو ایک سے ہو ہی نہ سکے۔ اب اگر فرض شناس رسول جمع کہیں نہ لے گئے بلکہ دو اور ایک لے گئے تو پھر تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ ظرفِ وجود کی کوتاہی تھی کہ ان سے بڑھ کر موجود ہی نہ تھے ورنہ فریضہ آئینی و قانونی ہوتا کہ یہ آدمی بھیج بھیج کر بلوائیں تاکہ تعمیل حکمِ الٰہی ہو۔

اب جو نہیں لے گئے تو ماننا پڑے گا کہ بس یہی تھے اور کوئی تھا ہی نہیں ا س معیار پر۔ اسی کیلئے خالق نے ایک اور طریقہ بھی اختیار کیا کہ ”ابناء نا “، یہ لفظ تو رشتہ کا نمائندہ ہے۔ بیٹا ایک رشتہ ہے مگر اس کے بعد معلوم ہے ہمیں کہ واحد کو اگر جمع بھی بنانا تھا تو سیدہ عالم بیٹی تھیں، ”بَنَا تُنَا “کہہ دیا جاتا۔مناسب مراة النظیر بھی تھی کہ ”اَبْنَاء نا وبناتنا “۔ جوڑ تھا ، مناسبت لفظ ی بھی تھی مگر”اَبْنَاء “ لفظ رشتے کا نمائندہ۔اس کے بعد لفظ بدل د یا”نِساء نَا “۔اب ”نِساء نَا “ لفظ رشتہ کا نمائندہ نہیں ہے،صنف کا نمائند ہ ہے۔اس میں حکمت ربانی دیکھئے ۔ اگر کہا جاتا ”بَنَا تُنَا “۔ ایک مطلب تو ہمارا پھر بھی نکل ہی آتا کہ خالق نے بنات کہا ہے تو اگر ایک کے علاوہ کوئی اور بیٹی ہوتی تو رسول کو لازم تھا کہ لے جائیں۔ یہاں اُس نے ”بَنَا تُنَا “ نہیں کہا، ”نساء نا “کہا۔عورتوں کی منزل میں اگر اُس نے ”بَنَا تُنَا “ کہا ہوتا تو دنیا سوچ سکتی تھی کہ خالق نے رشتہ مقرر کردیا تھا۔ اس لئے دوسرے رشتہ کی خواتین میں لانے کے قابل افراد تھے۔ مگر کیا کیا جائے کہ جو رشتہ وہاں مقرر کردیا گیا تھا، جو فرد اس رشتہ کا نمائندہ تھا، وہی لایا گیا۔ لہٰذا خالق نے یہاں ممکن بندوں کا منہ بند کرنے کیلئے قیامت تک لفظ بدل دیا۔”بَنَا تُنَا “ نہیں۔ یعنی

کوئی رشتہ یہاں پر نہیں چاہتا۔”نساء نا “، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں۔ اب اگر ایک ہی آئے تو سمجھ لو کہ کسی رشتہ کا کوئی اس صنف کا فرد کہیں نہیں ہے جو اس منزل میں آنے کے قابل ہو۔

معلوم ہوا کہ اب یہ افراد لاکر بالکل صادقین کی تعریف مکمل کردی گئی۔ جامع اور مانع کہ اس وقت ان کے علاوہ کوئی دوسرا فرد موجود نہیں ہے جو اس منزل پر آئے۔ جو آنے کے قابل تھے، ان میں سے کسی کو چھوڑا نہیں گیا اور جو نہیں لے گئے، بس سمجھو کہ اس منزل میں خدا اور رسول کی نگاہ میں وہ نہیں ہیں جو آسکیں۔یوں تمہاری نگاہ میں صادق بنیں۔ اس سے بڑھ کر بھی کوئی لفظ ہوسکتا ہے؟ لیکن اللہ کی زبان میں جو اس کا معیار ہے، وہ بس انہی افراد میں ہے کہ جو منزلِ مباہلہ میں آئے ہیں۔ ان کے سوا اور کوئی دوسرا اس منزل میں نہیں ہے۔

تو معلوم ہوا کہ صادقین کا تعارف اب مکمل ہوگیا۔ بس اس کے علاوہ ہر اقدام میں بہت سے مصالح ہوتے ہیں کہخالق کا مقصد پورا ہوکہ ایک آیت اس کی جو ابھی تک تشنہ تکمیل رہتی، اس کی تشخیص ہوگئی۔ ان افراد کا تعارف ہوگیا ۔ تو ایک آیت کے ساتھ دوسری آیت بھی کارآمد ہوگئی۔ تو اس کا مطلب بھی پورا ہوا اور پھر پیغمبر خدا نے ان افراد کو اپنے ساتھ لاکر یہ دکھادیا کہ دیکھو! جو میراکارِ تبلیغ ہے، اس وقت تو میں ہوں، میں نے اپنے ساتھ شریک کرکے تمہیں دکھا دیا۔ جب میں نہ ہوں تو بس یہی افراد ہوسکتے ہیں جو میرے مشن کوآگے بڑھائیں۔ یہی افراد ہوسکتے ہیں جو میرے مقصد کی تکمیل کریں۔

دوسرے الفاظ میں کہوں کہ شریک منصب نہیں ہیں مگر شریک کار ہیں۔بس اب چشم دل سے دیکھئے کہ میدانِ مباہلہ میں سب سے آگے کون ہے؟ اگر کہئے تو لفظ بدل دوں ، یہ نہ کہوں کہ سب سے آگے کون ہے؟ یہ کہوں کہ یہ دیکھئے کہ سب سے آگے کس کا چہرہ ہے؟روایت بتاتی ہے کہ یہی چہرے تھے جن کو دیکھ کر ادھر کے سردار نے کہا : ہرگز مباہلہ نہ کرنا:

اِنِّیْ اَریٰ وُجُوْهًا “۔

میں وہ چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر خدا کی طرف رُخ کرکے کہہ دیں تو پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائے۔اگر ان سے مباہلہ کرو گے تو کوئی عیسائی روئے زمین پر باقی نہیں رہے گا۔اسی وجہ سے مباہلہ نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ آگے کونسا چہرہ ہے؟ بے شک پیغمبر خدا، سیدہ عالم سلام اللہ علیہا بے شک ہیں، مگر یہی کیا کم ہے کہ تعمیل حکمِ الٰہی کیلئے کہ وہ بیت الشرف سے باہر آئی ہیں؟ لیکن کوئی ضرورت نہیں کہ وہ برقعہ و چادر میں نہاں نہ ہوں۔ سر سے پیر تک برقعہ و چادر میں نہاں نہ ہوں۔ پھر آگے آگے حجابِ رسالت، پیچھے پیچھے حجابِ امامت۔ درمیان میں یہ عصمت کبریٰ، اس شان سے آئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کا چہرہ کہاں سامنے ہے؟ میں تو کہتا ہوں کہ پردہ کی ضرورت کے تحت فاطمہ سب سے پیچھے، عقب میں امیرالمومنین ہیں۔

تواب آگے کونسا چہرہ ہے؟ ہاں! رسول اللہ آگے ہیں۔ ہاں! حسن مجتبیٰ بھی ہیں ان کے ساتھ ساتھ۔ مگر قد چھوٹا ہے، انگلی تھامے ہوئے نانا کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ وہی دیکھے گا جو قریب آئے لیکن ایک بچہ ہے جسے رسول گود میں لئے ہوئے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ اس ستارئہ سحری کی طرح جو آمد آفتاب کی خبر دیتا ہے، حسین کا چہرہ ہے جو دشمن کی نگاہ کے سامنے آگے ہے اور یہ حسین ہی کو سب سے آگے کیوں رکھا ہے؟ میرا دل تو یہ کہتا ہے کہ آج کی مثال کو دُہرانے کا وقت انہی پر آئے گا۔یہ جب جارہے تھے تو لوگ کہہ رہے تھے کہ جب آپ جاتے ہیں تو عورتوں اور بچوں کو کیوں لئے جاتے ہیں؟اس کیلئے جواب میں ان کے پاس بدر کی مثال نہ تھی، اُحد کی مثال نہ تھی، خندق و خیبر کی مثال نہ تھی۔ بس مباہلہ کی مثال تھی کہ نانا نے بھی ا س جہاد میں کسی صنف کی نمائندگی نہیں چھوڑی تو میں بھی کسی صنف کی نمائندگی نہیں چھوڑوں گا۔

اگر نانا اپنے ساتھ میرے بابا علی علیہ السلام کو نہ لائے ہوتے تو میں اپنے بھائی ابوالفضل العباس کو نہ لاتا۔اگر میرے نانا مجھے اور میرے بھائی حسن مجتبیٰ کو نہ لائے ہوتے تو میں علی اکبر و علی اصغر کو نہ لاتا۔ اگر میرے نانا میری والدہ فاطمہ زہرا کو نہ لائے ہوتے تو میں اپنی بہنوں زینب و اُمِ کلثوم کو نہ لاتا۔ نہ وہاں کسی کی نمائندگی چھوڑی گئی، نہ یہاں کسی کی نمائندگی چھوٹے گی۔

مثال وہی تھی جسے دُہرایا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ وقت کے بدلنے سے بڑا ارتقاء ہوگیا۔ مباہلہ پُرامن مقابلہ تھا ۔ ارے خطرہ انہیں ہوگا جنہیں حقانیت میں شک ہو۔ آنے والے ان افراد میں سے کسی کو خطرہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کا تصور بھی کفر ہے کہ انہیں خطرہ ہو۔تو پُر امن مقابلہ مگر پھر بھی لانے کیلئے کوئی غیر نہ ملا اور کربلا جہاں تباہی و بربادی کا یقین، وہاں کم سے کم بہتر( ۷۲) ساتھ آگئے۔ ان میں انساب کی حقیقت ہے جو غیر کہتا ہوں ورنہ جہاں تک کربلا کا تعلق ہے، مجھے تو یگانہ و بیگانہ کا فرق نہیں معلوم ہوتا۔

بس ایک پہلو اور ، میدانِ مباہلہ میں جو آئے تھے، کوئی روایت نہیں بتاتی کہ وہ سیروسیراب نہ ہوں مگر کربلا کے میدان میں تین دن کے بھوکے اور پیاسے تھے۔


ہوجاو سچّوں کے ساتھ ۳

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( یَااَیُّهَاالَّذِینَ اٰمَنُواا تَّقُواللّٰهَ وَکُونُوامَعَ الصَّادِقِینِ ) ۔

اے صاحبانِ ایمان! اللہ سے ڈر و اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ ہم ایک سچے کی شناخت نہیں کرسکتے، چہ جائیکہ ایک جماعت کی شناخت کریں۔ لہٰذا جس نے کہا ہے کہ سچوں کے ساتھ رہو، اسی کی طرف سے سچوں کا تعارف ہونا چاہئے۔ اس کے سمجھنے کے دو ذرائع ہیں۔ پہلا ذریعہ یہ ہے کہ ان اشخاص کو جو اس وقت صادقین کے مصداق ہیں، ہمارے سامنے لاکر دکھادیا جائے کہ یہ صادقین ہیں۔ دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ جس میں ذہن کے صرف کرنے کی ضرورت ہے، غوروفکر سے کام لینے کی ضرورت ہے کہ جس نے یہ کہا کہ صادقین کا ساتھ دو، اسی کے اور کلام اور اس کی طرف سے آئے ہوئے الفاظ کو ملا کر پتہ چلایا جائے کہ صادقین کون ہوسکتے ہیں۔

اس کیلئے ایک مختصر تمہید یہ ہے کہ کلامِ الٰہی میں آپس میں تضاد نہیں ہوسکتا، ٹکراؤ نہیں ہوسکتا کہ ایک دفعہ کچھ کہے اور پھر اس کے خلاف کوئی بات کہے۔ کیا کلامِ الٰہی میں ایسا ہوسکتا ہے؟ نہیں،ہرگز نہیں۔ہر صاحب عقل کہے گا کہ کلامِ الٰہی میں ایسا نہیں ہونا چاہئے اور ایسا نہیں ہوسکتا۔ ارے ہمارے اور آپ کے کلام میں بھی ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ اگر ہم کہتے ہیں اور بھول جاتے ہیں اور ہمیں یاد نہیں رہتا کہ پہلے کیا کہا تھا تو اس کے بعد دوسرے وقت ایسی بات کہہ دی جو اس سے مختلف ہو، اس سے ٹکراجائے۔ یہ ہمارے ہاں امکان ہے۔ ایک اور قسم ہے سیاست دانوں کی کہ وہ جان بوجھ کر بھولتے ہیں۔ اکثر باتیں بھولنے کی خاطر ہی کہتے ہیں۔ جس وقت کہہ رہے ہوتے ہیں، اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ اسے بھول جائیں گے۔ہمارا خدا نہ بھولنے والا ہے، نہ اس معنی کا سیاست دان ہے۔ جب میں خدا کیلئے یہ کہنے کو تیار ہوں کہ وہ اس معنی کا سیاست دان نہیں ہے تو اگر اس کے کسی مقرب بارگاہِ خاص بندے کیلئے دنیا کہے کہ سیاست نہیں جانتے تھے تو میں برا نہیں مانوں گا۔

اس قسم کی سیاست سچائی کے ساتھ جمع ہو ہی نہیں سکتی جو بھی صادقین کا فرد ہوگا، وہ ایسا سیاست دان نہیں ہوگا۔صادقین کا کوئی فرد ایسا نہیں ہوسکتا تو اصدق الصادقین بھلا ایسا کیوں ہونے لگا؟ لہٰذا اس کے کلام میں تضاد نہیں ہوسکتا۔

اچھا! اب دوسرا جزو کہ کیا پیغمبر اسلام کے کلام میں تضاد ہوسکتا ہے کہ رسول ایک وقت میں کچھ کہیں اور دوسرے وقت میں کچھ؟ روایتوں میں یہ ہوتا ہے۔ رسول نے ان میں سے ایک ہی بات کہی ہے۔راویوں نے حضرت کی طرف دوسری بات منسوب کردی۔ لیکن واقعی جو حضرت کا کلام ہے، میرے نزدیک اُس میں تضاد نہیں ہوسکتا۔

اب وہ ایک جماعت جو رسول کو کہتی ہے کہ چونکہ بشر تھے تو بھولنا چوکنا بشریت کا تقاضا ہے جبکہ بنص قرآن حضرت بشر تھے تو پھر بھولنے کا امکان بھی ہے، چوکنے کا امکان بھی ہے۔تو حقیقت میں ان لوگوں نے منزلِ بشریت کو سمجھا ہی نہیں ہے۔یہ بشر ناشناسی کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ بھولنا چوکنا بشریت اور انسانیت کا لازمہ ہے۔ یہ زیادہ تر اپنی بھول چوک کو حق بجانب بتانے کیلئے بیچاری انسانیت پر حرف لایا جاتا ہے کہ چونکہ انسان ہیں، لہٰذا بھولیں گے بھی۔اپنی غلطیوں کو غیر اہم قرار دینے کیلئے کہ وہ زیادہ قابل اعتراض نہیں ہیں، اس استدلال کا استعمال ہے۔ایسے افراد کو جنہیں خود کوگھٹانا منظور نہیں ہے، بڑھانا منظور ہے، لیکن ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ غلطیاں کرتے ہیں۔

میں کہتا ہوں کہ کیا واقعی بھول چوک انسانیت کا لازمی حصہ ہے کہ جو انسان ہو، اُسے بھولنا ضرور چاہئے؟ جو انسان ہو، اُسے غلطی ضرور کرنی چاہئے؟ جو چیز کسی چیز کا لازمہ ہو، تو جتنی وہ چیز زیادہ کامل ہو، اتنا اس لازمہ کو بڑھنا چاہئے۔ روشنی کا کام ہے تاریکی کو دور کرنا تو جتنی روشنی زیادہ کامل ہوگی، تاریکی اتنی ہی زیادہ دور ہوگی۔ تو اگر یہ تصور صحیح ہو کہ بھولنا چوکنابشریت کا لازمہ ہے ، لوازمِ انسانیت میں سے ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جتنا کامل انسان ہو، اُتنا زیادہ بھولے گا ، حالانکہ ہر بڑے آدمی کے حالات میں یہ لکھا جائے گا کہ حافظہ بہت قوی تھا، بھولتے بہت کم تھے۔ صاحب الرائے تھے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسانیت کی بڑائی ان چیزوں کے بڑھنے میں نہیں ہے، گھٹنے میں ہے۔

تو اب سمجھ میں ااتا ہے کہ بھولنا چوکنا لوازمِ انسانیت میں سے نہیں ہے، ناقص انسانیت کے لوازم میں سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسانیت کا نقص ہے۔لہٰذاجتنی انسانیت نقطہ کمال پر ہوگی، اتنی ہی بھول بھی ختم ہوگی، چوک بھی ختم ہوگی۔یہاں تک کہ اس کا کامل نقطہ وہ ہوگا جہاں ایک شائبہ بھی بھول کا نہ ہو۔ اسی کو ہم معصوم کہتے ہیں۔

جنابِ پیغمبر اسلام کے کلام میں بھی بھول کا سوال نہیں۔ آپ کے کلام میں بھی تضاد نہیں ہوسکتا۔ ایک دوسری بات یہ کہ جو بھول کا تصور بھی کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسالت کے کام میں بھول نہیں ہوتی۔بشری باتیں جو ہیں، اس میں بھول ہوسکتی ہے، رسالت کے فرائض ادا کرنے میں بھول کا سوال نہیں ہے۔ اب جو بات خدا کی طرف سے کہی جائے، وہ تو رسالت کا کام ہے۔ لہٰذا اس میں تو کسی کے نزدیک بھی بھول نہیں ہونی چاہئے تو اس میں تضاد نہیں ہوسکتا۔میرے خیال میں تو یہ کوئی الگ بات نہیں ہے ۔ یہ پیغامبر ہیں تو جو اُن کی زبان پر آتا ہے، وہ خدا کا پیغام ہوتا ہے۔ جب خدا کے کلام میں تضاد نہیں ہوسکتا تو اس کے پیغمبر کے کلام میں تضاد کس طرح ہوگا!

تیسرا سوال یہ کہ کیا قرآن اور حدیث میں ٹکراؤ ہوسکتا ہے؟تضاد ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں ہوسکتا، اس لئے کہ قرآن اس کا کلام اور حدیث اس کا پیغام۔جب اُس کے کلام میں تضاد نہیں، اُس کے پیغام میں تضاد نہیں تو اس کے کلام اور پیغام میں تضاد کیونکر ہوگا؟ لہٰذا معلوم ہوا کہ نہ قرآن میں تضاد ہوسکتا ہے اور نہ حدیث رسول میں تضاد ہوسکتا ہے اور نہ قرآن اور حدیث میں آپس میں تضاد ہوسکتا ہے۔

دوآیتیں پڑھتا ہوں۔شروع میں ممکن ہے کہ ایک دوسرے سے ربط یا تعلق سمجھ میں نہ آئے تو سمجھئے کہ بنظر ثواب قرآن کا پڑھنا بھی ثواب اور حدیث رسول کاپڑھنا بھی باعث ثواب۔تو دو آیات پڑھنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں اور دو حدیثیں پڑھنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں۔آیت ایک یہی ہے جو سرنامہ کلام ہے:

( یَااَیُّهَاالَّذِینَ اٰمَنُواا تَّقُواللّٰهَ وَکُونُوامَعَ الصَّادِقِینِ ) ۔

”اے صاحبانِ ایمان! اللہ کی عظمت کے تقاضوں کو محسوس کرو اور سچوں کے ساتھ رہو“۔

یہ ایک آیت ہے، دوسری آیت:

( یَااَیُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْااَطِیْعُوااللّٰهَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُوْلِی الْاَ مْرِمِنْکُمْ ) ۔

”اے صاحبانِ ایمان! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اولی الامر جو تم میں سے ہیں“۔

یہ دوسری آیت۔ حدیث ایک یہ ہے کہ:

اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ کِتَابَ اللّٰهِ وَعِتْرَتِیْ اَهْلُبَیْتِیْ مَااِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِیْ “۔

”میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور ایک میری عترت جو میرے اہل بیت ہیں۔ جب تک ان دونوں سے تمسک رکھو گے، گمراہ نہیں ہوگے“۔

یہ ایک حدیث، دوسری حدیث:

مَثَلُ اَه لُبَ ی ْ تِی ْ کَمَثَلِ سَفِی ْ نَة نُو ْحٍ مَنْ رَکَبَ ه َانَجٰ ی وَمَن ْ تَخَلَّفَ عَنَّاغَرِقَ وَ ه ُو یٰ

”میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کی سی ہے، جو اس پر سوار ہوا ، اُس نے نجات پائی اور جس نے تخلُّف کیاوہ ڈوبا اور گیا“۔

دو وہ آیتیں اور دو یہ حدیثیں ہیں۔ اب ذرا مضمون کو دیکھئے کہ وہ آیت کہتی ہے کہ سچوں کے ساتھ رہو، بلاقید، کوئی اس میں شرط نہیں، کوئی قید نہیں۔وہ آیت کہتی ہے کہ اللہ اور رسول کے بعد اولی الامر کی اطاعت کرو۔ یہ بھی بلا قید، بلا شرط۔وہ حدیث کہتی ہے کہ میرے اہل بیت سے تمسک رکھو۔ قرآن کے ساتھ ساتھ میرے اہلِ بیت تمسک رکھو۔ اس میں بھی کوئی شرط، کوئی قید نہیں ۔ یہ حدیث کہتی ہے کہ میرے اہلِ بیت ، میری عترت کی کشتی پر سوار ہو اور اگر سوار نہ ہوئے تو ڈوب جاؤ گے۔ اس میں بھی کوئی قید نہیں، کوئی شرط نہیں کہ اگر ایسا ہو تو کشتی پر سوار اور اگر ایسا نہ ہو تو کشتی پر سوار نہ ہو۔ ایسی کوئی قید نہیں بلکہ یہ کہ جو کشتی پر سوار ہوگا، وہ نجات پائے گا۔

بس اب ہر صاحب عقل غو رکرے اور مسلمان کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جو عقل کو خیر باد کہہ دے ۔ تو ہر صاحب عقل اس پر غور کرے بلکہ میں اس منزل میں غیر مسلم کے فیصلہ پر بھی عمل کرنے کیلئے تیار ہوں۔ میں اس سے بھی فیصلہ کروانے کیلئے تیار ہوں۔ کوئی کہے کہ قرآن و حدیث کا معاملہ ہے، کوئی غیر مسلم کیا فیصلہ دے گا؟ میں کہتا ہوں کہ مجھے تو الفاظ کا تقاضا پوچھنا ہے۔ جج وقف نامہ کے الفاظ کو دیکھتا ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ واقف کا ہم مذہب بھی ہو۔ وہ کہتا ہے کہ اس وقف نامہ کے الفاظ کا نتیجہ یہ ہے۔ وصیت نامہ دیکھتا ہے، اُس کا مذہب کچھ اور، اِس کا مذہب کچھ اور۔ یہ بھی اس کی وصیت کے لحاظ سے کہتا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن اور حدیث کو صحیح مانتا ہو یا نہیں، میں کہتا ہوں کسی نے اک دفعہ یہ کہا ہو ، ایک دفعہ یہ پیغام دیا ہو تو آپ فیصلہ کردیجئے کہ اس کا نتیجہ کیا ہونا چاہئے۔ اس میں مذہب اور ملت کا سوال نہیں۔ میں اس کے سامنے بھی یہ مقدمہ پیش کرسکتا ہوں۔

تو اب ہر صاحب عقل غور کرے، چاہے مسلمان ہو، چاہے غیر مسلم کہ اگر صادقین کوئی اور ہوں اور اولی الامر کوئی اور ہوں، عترت کوئی اور ہو اور اہل بیت کوئی اور ہوں تو کیا عقلاً یہ ہوسکتا ہے کہ ہم ان کے ساتھ رہیں؟ ان کی اطاعت کریں؟ ان سے تمسک رکھیں؟ ان کی کشتی پر سوار ہوں؟

اب دنیا میں لوگ اولی الامر کے کچھ بھی معنی سمجھیں، اس کے پیش نظر یہ کہہ رہا ہوں کہ یا تو ”صادقین کے ساتھ رہو “ میں کوئی قید ہوتی کہ صادقین کے ساتھ رہو، جب تک اولی الامر کے احکام کے خلاف نہ ہو اور جب اولی الامر کے احکام کے خلاف ہونے لگے تو صادقین کا ساتھ چھوڑ دو۔وہاں قید ہوتی یا یہاں قید ہوتی کہ اولی الامر کی اطاعت کرو جب تک صادقین کا ساتھ نہ چھوٹے اور جب صادقین کا ساتھ چھوٹنے لگے تو اولی الامر کی پروانہ کرو، وہ کچھ بھی کہتے ہیں، یہاں قید ہوتی۔اب جس کو جو پسند ہو، صادقین کا ساتھ منظور ہے۔ تو اولی الامر کو بلاقید نہ رکھے اور اولی الامر کی اطاعت کرنا ہے تو پھر صادقین کا ساتھ چھوٹنے کی پروا نہ کرے ، جسے جو پسند ہو ۔مگر وہاں تو نہ اُس میں قید ہے اور نہ اِس میں قید ہے۔

اسی طرح یہ حکم کہ عترت کے ساتھ تمسک رکھو، جب تک اولی الامر کے احکام کے خلاف نہ ہو اور جب اولی الامر کے احکام کے خلاف ہونے لگے تو عترت کا ساتھ چھوڑ دو، چاہے گمراہ ہوجائے کیونکہ گمراہ ہونا تو پھر یقینی ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ جب تک تمسک رکھو گے، گمراہ نہیں ہوگے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمسک چھوڑا اور گمراہ ہوئے۔ مگر اولی الامر کی خاطر گمراہ ہونا پسند کرلیں ۔ تو یہاں قیدہوتی، شرط ہوتی یا وہاں قید ہوتی کہ میرے اہل بیت کی کشتی میں شوار ہو، جب تک اولی الامر کے احکام کے خلاف نہ ہو اور جب اولی الامر کے احکام کے خلاف ہونے لگے تو کشتی سے اُتر جاؤ، چاہے ڈوب جاؤ کیونکہ ڈوبنا پھر یقینی ہے۔مگر اولی الامر کی خاطر اگر ڈوب جائیں تو کیا بُرا ہے۔لہٰذا ڈوب جاؤ۔ مگر نہ وہاں شرط نہ قید، نہ یہاں شرط نہ قید۔چاروں حکم بلا قید۔ وہ آیت کہتی ے کہ سچوں کے ساتھ رہو۔ وہ آیت کہتی ہے کہ اولی الامر کی اطاعت کرو۔ یہ حدیث کہہ رہی ہے کہ عترت سے تمسک رکھو اور یہ حدیث کہہ رہی ہے کہ اہل بیت کی کشتی پرسوار ہو۔

قرآن کی آیتوں میں تو کہنے کی ضرورت نہیں کہ متفق علیہ لیکن حدیثوں کیلئے میں ضمانت دیتا ہوں کہ متفق علیہ یعنی ایک ہی فرقے کے علماء کی بیان کی ہوئی نہیں ہیں بلکہ فریقین کے علماء کی درج کردہ ہیں۔ تو اب یہ متفق علیہ حدیثیں اور بلا قید۔ یہ آیتیں اور حدیثیں ٹکراؤ سے بچ نہیں سکتیں۔ جب تک کہ یہ نہ مانئے کہ جوصادقین ہیں، وہی اولی الامر ہیں، وہی عترت ہیں، وہی اہل بیت ہیں۔

کہئے کہ الفاظ بدل بدل کر کیوں کہا جارہا ہے؟میں اس کی مثال دوں کہ کسی وقت میں کہوں کہ سمیع و بصیر کی عبادت کرو، کسی وقت کہوں کہ رحمٰن و رحیم کی عبادت کرو، کسی وقت کہوں کہ خالقِ سماوات و ارضین کی عبادت کرو، کسی وقت کہوں کہ رب العالمین کی عبادت کرو۔ تو کے میں نے شرک کی دعوت دی؟کوئی نہیں کہے گا کہ یہ شرک ہوا۔ وہ ایک ہی ذات ہے جس کو اس کے کمالات اور کارناموں کے مختلف رُخوں کے لحاظ سے مختلف الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے۔ مختلف اسمائے حسنیٰ سے۔ بس یہی سمجھ لیجئے کہ بہت وسیع مفہوم کو سمیٹ کر دوچار الفاظ میں آپ کے سامنے کہنا چاہتا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ وہ ایک ہی جماعت ہے جس کو اس کی صفاتِ ذات کے لحاظ سے دیکھا گیا تو صادقین کہا۔ اللہ کے دئیے ہوئے منصب کے لحاظ سے دیکھا تو اولی الامر کہا، پیغمبر کے رشتے سے دیکھا تو ذریت و عترت کہا۔ اصل چیز وہی ہے کہ”( کُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْنَ ) “۔ یعنی وہ ذاتیں کیسی ہیں، ان کو صادقین بتا رہا ہے۔ یہی کمالِ ذات جو معیار ہے صادقین کا، یہی سبب ہے اولی الامر ہونے کا اور اسی بناء پر ذریت اور اہل بیت کہہ کر سندیں دی گئی ہیں۔ یعنی ذریت ہونے کی وجہ سے انہیں یہ عہدے نہیں ملے، صادقین ہونے کی وجہ سے ملے ہیں۔

یہ آیتیں سب کے پیش نظر ہیں۔ سچوں کے ساتھ رہو، صاحبانِ ایمان سے کہا جارہا ہے ۔ تو اب کیا کیا جائے ، الفاظِ قرآن بدلے نہیں جاسکتے تو کہہ دیا کہ صادقین کے ساتھ رہو۔ تو کیا اجماع کے ساتھ رہو؟ میں صاحب عقل کو دعوت دیتا ہوں، ہر ذی فہم غور کرے کہ اہل ایمان سب ہیں جن سے الگ الگ کہا جارہا ہے ۔ یہ نہیں ہے کہ غیر اہل ایمان سے کہا جارہا ہے۔ اہل ایمان ہی کو پکارا کر کہا گیا ہے کہ تم سچوں کے ساتھ رہو اور جن کے ساتھ رہو، وہ صادقین ہیں۔ تو کیا صادقین غیر اہل ایمان ہیں؟اہل ایمان کا ہی مجموعہ ہے صادقین۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ فرداً فرداً اہل ایمان تو مخاطب ہیں، ان میں سے ہر ایک بیچارہ غیر صادق ہے لیکن جو مجموعہ ان کا ہے جس کا نام ہے اجماع، وہ وہ ہے جس کو کہا گیا ہے کہ سچوں کے ساتھ رہو۔ تو ہر صاحب فہم غور کرے کہ غیر صادق افراد کا مجموعہ۔غیر صادق کے معنی ہیں صادق کی نفی۔نفی کو ظاہر کرنے والی چیز ہے زیرو۔ تو جتنے افراد ہیں، ان میں سچائی کے لحاظ سے زیرو رکھا گیا ہے۔اب ہر بچہ غور کرے کہ دس لاکھ زیرو بھی جمع ہوں تو کیا کوئی عدد بنے گا؟ اب فرض کیجئے کہ میں اس ریاضی کے مسئلہ کو بھول جاؤں۔ چاہے زیرو بہت سے ہوں، ان کے اجتماع سے کوئی عدد نہیں بنے گا۔ اچھا! بن جائے گا ایک عدد خواہ مخواہ۔ جب طے کرناہے ، حدیثوں سے بن جائے گا۔

لَا تَجْتِمَعُ اُمَّتِیْ عَلَی الضَّلالَةِ “۔

”میری اُمت ضلالت پر اکٹھی نہیں ہوسکتی“۔

الگ الگ تو گمراہ ہوسکتے ہیں مگر اکٹھے نہیں ہوسکتے۔دوسرا پہلو ہے کہ یہ بھی سوچنے کی بات نہیں ہے۔اس کا جواب بہت صاف ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جب سب غیر صادق ہیں، ان سب کا مجموعہ بقول آپ کے صادق ہے۔ تو وہ سب کا مجموعہ ایک عدد صادق ہوا یا صادقین ہوئے؟ افراد صادقین ہوتے تب وہ صادقین ہوسکتے تھے۔ صادقین کے ساتھ رہو۔ معلوم ہوا کہ کسی مکسچر کو نہیں کہہ رہا ہے، وہ ہر ہر جزو کیلئے حکم دے رہا ہے۔ اب زورِ علم صرف ہوا یہاں تو انجام ظاہر ہوگیا ۔زورِ علم صرف ہوا۔

( اَطِیْعُوااللّٰهَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُوْلِی الْاَ مْرِمِنْکُمْ ) ۔

”اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اولی الامر کی جو تم میں سے ہیں“۔

یہ بڑے مطلب کی بات ”منکم“، تم میں سے ہیں۔ تم میں سے ہیں یعنی ہمارے بھائی بند ہیں۔ ٹھیک ہے، تم میں سے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ رسول کو بھی تو کہا گیا ہے”منھم“۔

( بَعَثَ فِی الْاُمِّیِیْنَ رَسُوْلًامِنْهُمْ ) ۔

اُمیین میں سے رسول بھیجا، انہی میں سے۔ وہی انہی میں سے۔ یہاں تم ہی میں سے۔ بس دونوں کا کم فرق ہے ورنہ ”من“تو دونوں میں ہے۔ تو رسول انہی میں سے تھا مگر ان کا منتخب کیا ہوا نہیں تھا۔ اسی طرح میں بھی کہتا ہوں اولی الامر تم ہی میں سے ہیں مگر تمہارے چنے ہوئے نہیں ہیں۔

اب باری آئی”انی تارک فیکم الثقلین “، اس میں ان الفاظ کے ہوتے ہوئے کام نہیں چل رہا تھا ،لہٰذا ڈھونڈ ڈھونڈ کر لفظ کو بدلاگیا۔

اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ کِتَابَ اللّٰهِ وَسُنَّتِیْ “۔

”میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑتا ہوں ، ایک کتاب اللہ اور ایک میری سنت“۔

مجھے خیر سنت کے مضمون سے اختلاف تو نہیں ہے مگر جو روایتی حیثیت ہے، اُسے عرض کردوں کہ جتنے طرق ہیں اس کے، ان سب میں”عِتْرَتِیْ “ ہے۔ صرف ایک راوی ہے ، ایک طریقہ ہے جس میں”سُنَّتِیْ “درج ہے اور باقی جتنے ہیں، ان سب نے ”عِتْرَتِیْ “ لکھا ہے۔بہت سے طرق ہیں اس کے۔ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں ، جو ردِ شیعہ میں لکھی گئی ہے، اس میں ان طرق کو اکھٹا کیا ہے اور مختلف مواقع پر، جن پر حضرت نے ارشادفرمایا ہے، وہ مواقع درج کئے ہیں۔ اچھا! اگر کسی حدیث کا راوی صرف ایک ہو تو اُسے احاد کہا جاتا ہے۔ شہرت و تواتراس کو مانا جاتا ہے جو کئی راویوں نے بیان کیا ہو اور ایک راوی نے کوئی لفظ کہا ہے تو اس کو شاذ مانا جاتا ہے، یہ اُس کے مقابلہ میں معتبر نہیں ہوتا۔

اس کے بعد میں کہتا ہوں کہ اچھا صاحب! آپ کی خاطر میں کہتا ہوں ”کِتَابَ اللّٰهِ وَسُنَّتِیْ “۔ اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ تو یہ تو پھر بھی بات رہی کہ کتاب کافی نہیں ہوئی۔ کتاب اگر کافی ہوتی تو اس کے بعد”سُنَّتِیْ “ کیوں آتا؟”سُنَّتِیْ “ کی ضرورت کیوں ہوتی؟ لہٰذا کتاب کافی تو پھر بھی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد ذرا ہیر پھیر کر منزل کی طرف آنا پڑاکہ اگر ”سُنَّتِیْ “ ہے تو ”سُنَّتِیْ “ میں وہ اور سب حدیثیں بھی ہیں جو عترت اور اہل بیت کے بارے میں ہیں۔

ارے بھئی!”سُنَّتِیْ “ ہے تو کیا اس میں ”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ “ نہ یں ہے؟آپ نے ہماری ذرا سی مسافت بڑھا دی، نتیجہ تو پھر بھی وہی رہے گا۔

جناب! چوتھی چیز یعنی دوسری حدیث کہ میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کی سی ہے ، جو اس پر سوار ہوا، اُس نے نجات پائی اور تخلف کا ترجمہ ہی نہیں ہوا۔ جس نے تخلف کیا۔ یہ تخلف کیا ترجمہ ہوا؟یہ تو عربی ہی رہی۔اس میں تھا”مَنْ تَخَلَّفَ “، آپ نے یہ کہہ دیا جس نے تخلف کیا۔ آپ نے یہ ترجمہ کرکے کونسا تیر مارا۔ یہ میری اُردو زبان کی کوتاہی ہے کہ میں ایک مفرد لفظ میں اس کا ترجمہ نہیں کرسکتا۔ ”جو تخلف کرے“، ا س کے معنی میں لفظوں میں نہیں بلکہ جملوں میں بتا سکتا ہوں۔ ”جو تخلف کرے“ یعنی یا تو کشتی پر بیٹھے نہیں یا بیٹھنے کے بعد کہیں اُتر جائے۔ کسی منزل پر اُتر جائے یعنی کہا گیا کہ تخلف کرے یعنی جو شروع سے نہ بیٹھے، اس کا بھی وہی انجام ہے کہ ڈوب گیا اور بیٹھا مگر چھٹی منزل پر اُتر گیا، ساتویں منزل پر اُتر گیا، کہیں بھی اُتر گیاتو سمجھئے کہ ڈوب گیا۔

اب تخلف کے معنی ہوئے جس کو میں نے دو جملوں میں کہا کہ جو بیٹھے ہی نہیں یا بیٹھ کر اُتر جائے۔ مگر اب یہ تشریح کردی تو ایک لفظ میں ذرا سے تصرف کے ساتھ کہ مثبت کو منفی بنا کر، ثبوت کو نفی بنا کر، میں ایک جملہ میں بھی ترجمہ کرسکتا ہوں کہ کیا معنی ہوئے:”مَنْ تَخَلَّفَ “، جو اس کشتی پر بیٹھا نہیں رہا، اب بیٹھا نہیں رہا۔ یا تو شروع ہی سے نہیں بیٹھا یا بیٹھا مگر بیچ میں اُتر گیا۔ یہ مطلب ہے کہ بیٹھا نہیں رہا ، وہ ڈوبا اور گیا ۔ یہ تو تشریح تھی۔ یہاں پر زورِ علم کیا صرف ہوا؟ زورِ علم یہ صرف ہوا کہ الفاظ بھی سب صحیح اور اس کا مطلب بھی یہی ہے لیکن یہ کہا ہے کہ میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کی سی ہے۔ بے شک کشتیِ نوح کی سی ہے۔ جو اس میں بیٹھا، اس نے نجات پائی لیکن کشتی ستاروں کے سہارے سے چلتی ہے۔ ایک معزز جماعت کو پیغمبر نے فرمایا ہے کہ ان کی مثال ستاروں کی سی ہے۔

لہٰذا بس کشتی ذریعہ ہدایت ہے۔لیکن ستارے اس کے ساتھ ضروری ہیں۔ حدیث میں مانے لیتا ہوں ، اس پر بحث نہیں کرنا ہے حالانکہ متفق علیہ نہیں ہے، ایک طبقہ میں ہے یہ حدیث، لیکن میں یہاں اس پر بحث نہیں کروں گا۔ کہا جاتا ہے کہ کشتی ستاروں کے سہارے سے چلتی ہے، لہٰذا یہ کشتی ہے، وہ ستارے ہیں۔ تو ستاروں کی ضرورت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میرا کلام ہوتا تو ٹھیک ہے مگر پیغمبر خدا نے یہ نہیں کہ کہ میرے اہل بیت کی مثال کشتی کی سی ہے، انہوں نے یہ فرمایا ہے کہ میرے اہل بیت کی مثال کشتیِ نوح کی سی ہے۔ اب کشتیِ نوح کو یہ دیکھنا ہے کہ ستاروں کے سہارے چلی تھی یا نہیں؟

پہلے تو بالکل کھلا ہوا پہلو یہ ہے کہ یہ دیکھنا ہے کہ کشتیِ نوح دن کو چلی تھی یا رات کو۔اگر گرات کو چلی ہو تو ستاروں کا سوال ہے۔ اگر دن کو چلی ہو تو دن کو تارے کس کو نظر آئیں گے؟ دوسری بات یہ ہے کہ دن اور رات سے قطع نظر کیجئے۔ مگر کشتیِ نوح جب چلی ہے تو قرآن سے پوچھئے کہ آسمان سے موسلا دھار بارشک ہورہی تھی۔ گھٹا چھائی ہوتی تھی، ستارے تو خود غائب تھے۔ ستاروں کے سہارے کیونکر چلتی؟ پھر آئیے قرآن سے پوچھیں کہ کشتیِ نوح کس کے سہارے چلی تھی؟قرآن نے کشتی بنانے کا ذکر بھی کیا ہے، کشتی کے چلنے کا ذکر بھی کیا ہے۔ ارشاد ہورہا ہے:

( وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَاوَبِوَحْیِنَا ) ۔

”اے نوح! کشتی بناؤ ہماری نگاہوں کے اشارے پر اور ہماری وحی کے مطابق“۔

معلوم ہوا کہ جو کشتیِ نجات ہو، اسے پیغمبر اپنی رائے سے بھی نہیں بناتا۔ یہ تو کشتی کے بنانے کا حال ہوگیا اور کشتی کے چلنے کا حال بھی قرآن میں موجود ہے۔ ارشاد ہورہا ہے:

( تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا ) “۔

”وہ کشتی ہماری نگاہوں کے اشارے سے چلتی تھی“۔

تو اب جنہیں کشتیِ نوح کہا ہے، ایسی ہی ان کی کیفیت ہوگی۔ اب یہ کشتی دنیا کے علم میں بنائی جائے گی تو کہا جائے گا:

( بَلِّغْ مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ ) “۔

وہ کشتی وہ تھی کہ”( تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا ) “ہماری نگاہوں کے اشارے سے چلتی تھی۔ اب جنہیں کشتیِ نوح کہا جائے گا انہیں وہی کہے گا:

( وَمَاتَشَاءُ وْنَ اِلَّا یَشَاءَ اللّ ) ٰہُ“۔

”تم تو چاہتے ہی نہیں ہو سوائے اس کے جسے اللہ چاہے“۔

جناب! لذیذ غذا کے ساتھ تلخ دوا کی بھی ضرورت ہوتی ہے، بقائے زندگی کیلئے۔ہم سنا کرتے ہیں یہ سب چیزیں”( کُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْنَ ) “، سچوں کے ساتھ رہو۔ پورا زورِ بیان ہمارا صرف ہوگیا اور آپ کا ذوقِ سماعت کہ سچے کون ہیں؟مگر یہ بھی تو دیکھئے کہ ہم سے کیا کہا گیا ہے ۔ اسی طرح اولی الامر پر زورِ بیان صرف ہوگیا کہ اولی الامر کون ہے؟ لیکن یہ بھی دیکھئے کہ اولی الامر ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ ہیں۔ اب ہم سے کہا گیا ہے کہ عترت سے تمسک ضروری ہے، گمراہی سے بچانے والا ہے۔ تو ہم پر کیا ذمہ داری ہے؟ اور کشتیِ اہل بیت پر سوار ہونا چاہئے۔اہل بیت یہ ہیں اور یہ ستاروں کے محتاج نہیں ہیں۔

یہ سب تو ٹھیک ہوگیا لیکن اب ہم سے کہا گیا ہے، جناب! اس پہلو سے ہم کتراتے ہیں ، اس کو سوچنے کیلئے تیار ہی نہیں اور ہمارا خطیب ، ہمارا مقرر بھی اس جزو سے نکل جاتا ہے کہ یہ بیان کروں گا تو نعرے موقوف ہوجائیں گے۔ پھر لوگ مراقبے میں چلے جائیں گے۔ میرے نزدیک یہ جزو نہ ہو تو بیان لاحاصل اور اصل میں اس آیت کا پیغام وہی ہے۔ یہ سچے ہیں مگر قرآن کیا کہہ رہا ہے”( کُوْنُوْامَعَ الصَّادِقِیْنَ ) “، سچوں کے ساتھ رہو۔ اب ہر آدمی غور کرے کہ کیا جھوٹے ہوکر سچوں کے ساتھ ہوں گے؟مانا کہ ہم ا س معیار کے سچے نہ سہی، یہ اس میں بھی سوال ہوتا ہے کہ رسول کی زبانی یہ پیغام پہنچوایا گیا کہ میرے نقش قدم پر چلو تو ہم سوچتے ہیں کہ ہم ان کے نقش قدم پر کہاں چل سکتے ہیں۔ بھلا کہہ کر چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے بس چند جملے کافی ہیں۔

میں کہتا ہوں کہ دیکھئے! اگر رفتار سست ہو مگر سمت سفرصحیح ہوتو کبھی نہ کبھی منزل تک پہنچنے کی اُمید ہے۔ لیکن اگر سمت سفر غلط ہوگئی تو جتنا چلیں گے، اُتنا ہی منزل سے دور ہوجائیں گے۔ منزل سے قریب نہیں ہوسکتے۔مانا کہ ہم ویسے سچے نہ سہی لیکن جھوٹ کو کارنامہ تو نہ سمجھیں۔محفلوں میں بیٹھ کر فخریہ تو نہ کہیں کہ دیکھو! فلاں کو کیسا چکمہ دیا اور اسے کیسی چوٹ دی۔ جب چوٹ دینے پر فخر کررہے ہیں ، چکمہ دینے پر ناز کررہے ہیں تو اس کے معنی ہیں کہ ان کے ساتھ ہیں جو ویسے سیاست دان تھے۔ ان کے ساتھ نہیں ہیں جوواقعی سچے تھے۔ اس کے بعد”( یَااَیُّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ) “پورا ب یان ہوگیا کہ اولی الامر یہ ہیں۔

میں کہتا ہوں کہ اگر یہ نہ جانتے کہ اولی الامر کون ہیں تو شاید یہ کہہ کر چھوٹ بھی جاتے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا ۔ لیکن جتنا زیادہ سنتے رہے کہ اولی الامر کون ہیں یعنی خوب پہچان لیا کہ اولی الامر یہ ہیں اور پھر ہم سے کہا گیا تھا کہ اطاعت کرو۔اطاعت میں رہ گئے صفر، تو بتائیے کہ وہ جاننا ہمارے خلاف حجت بن گیا کہ تم جانتے تھے کہ یہ اولی الامر ہیں، پھر بھی تم نے اطاعت نہ کی اور وہاں کہا گیا تھا:

مَااِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَالَنْ تَضِلُّوْابَعْدِیْ “۔

”جب تک ان دونوں سے تمسک رکھو گے، گمراہ نہیں ہوگے“۔

میں کہتا ہوں کہ برابر کی دوچیزیں تھیں، قرآن اور اہل بیت ۔دونوں سے جب تمسک رکھو گے تو وہاں سوچ لیجئے ، وہاں آزادی کے ساتھ فیصلہ کیجئے گا۔ میں کہتا ہوں قرآن حفظ کرلیاتو کیا تمسک ہوگیا؟آپ کہیں گے کہ نہیں تمسک نہیں ہوا۔ یہ نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ کوئی کہتا رہے قرآن میری کتاب ہے۔ میں قرآن کو مانتا ہوں، تویہ کہنے سے کیا تمسک ہوگیا؟آپ کہیں گے کہ نہیں ہوا۔ قرآن دن رات روزانہ پابندی سے کوئی تلاوت کرتا رہے تو کیا تمسک ہوگیا؟آپ کہیں گے کہ قرآن پر عمل بھی تو کرے۔

تو جناب! میٹھا میٹھاھپ ھپ ،کڑواکڑوا تھوتھو۔ یہ تو نہیں ہونا چاہئے، اصول تو اصول ہے۔ جو غیر کے بارے میں فیصلہ سنائیے، وہی اپنے بارے میں سنئے۔اگر قرآن کو کہنا کہ میری کتاب ہے، تمسک نہیں ہے تو ان کو کہنا کہ یہ ہمارے امام ہیں، یہ تمسک کب ہے؟ اگر قرآن کا حفظ کرلینا تمسک نہیں ہے تو اماموں کے ناموں کا یاد کرنا تمسک کب ہے؟اگر صرف اس کی تلاوت کرنا تمسک نہیں ہے تو پھر ان کے فضائل کو سننا یا بیان کرنا، یہ کیسے تمسک ہوگیا؟وہاں تو سب کو کہہ دیا کہ یہ نہیں تمسک، یہ نہیں تمسک، عمل کرنا چاہئے اور یہاں اصول بدل گیا۔ یہاں بھی کہئے کہ اس وقت تک تمسک نہیں ہے، جب تک ہم قرآن کی تعلیمات پر عمل نہ کریں۔

اب چوتھی منزل بیان کی کہ حدیث سفینہ۔کہا گیا ہے کہ جو اس کشتی پر سوار ہوا؟ تو کیا یہاں اس قسم کی کشتی ہے اور اس قسم کا سوار ہونا ہے؟غور کیجئے یہ یہ استعارہ ہے۔ استعارہ کی بنیاد تشبیہہ پر ہے۔ جس سے تشبیہہ دیں وہ مشبہ بہ کہلاتا ہے اور جسے اس کے مثل قرار دیں، وہ مشبہ کہلاتا ہے۔ وہ بات جو دونوں میں پائی جاتی ہو، وہ وجہ شبہ کہلاتی ہے۔ یہاں کوئی چیز ہے جسے کشتی پر بیٹھنا کہا گیا یعنی کشتی پر بیٹھنا مشبہ بہ ہے اور ہمارا کوئی عمل شبہ ہے اور کوئی چیز مشترک ہے دونوں میں، اس کی وجہ سے اسے کشتی پر بیٹھنا کہا گیا ہے۔حضور! کشتی پربیٹھنے میں کیا ہوتا ہے؟ اس کا پتہ لگائیے کہ وہ چیز کیا ہے؟ کیونکہ وہی مشترک ہوگی دونوں میں۔ کہئے ہماری سمجھ میں جواب نہیں آتا۔ کشتی پر گئے اور بیٹھ گئے۔ میں کہوں گا کہ وہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ بیٹھ گئے لیکن بیٹھنے سے بات کیا پیدا ہوئی؟

میں تجزیہ کرتا ہوں۔ ہم ساحل پر ہیں اور کشتی دریا میں ہے۔ساحل ہی سے کھڑے کھڑے کہنے لگے کہ کتنی اچھی کشتی ہے! کتنی عمدہ کشتی ہے! کتنی حسین کشتی ہے، کتنی جمیل کشتی ہے! اگر واقعی حسین ہے تو یہ آپ کی تعریف اس لئے صحیح ہے کہ آپ اچھے کو اچھا کہہ رہے ہیں۔ اچھا نہ کہتے تو ظلم ہوتا۔اس ظلم سے بحمدللہ بری ہیں۔ اچھے کو اچھا کہہ رہے ہیں۔ لیکن یہ تعریفیں کرنا کشتی پر بیٹھنا تو نہیں ہے۔ساحل پر کھڑے ہوکر کہنے لگے کہ ہم اس کشتی کو بہت چاہتے ہیں۔ ہمیں اس سے بہت محبت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ محبت نہ ہوتی تو آپ کی تعریف صحیح نہ ہوتی۔ محبت ہونا اس کا تقاضائے حسن ہے، آپ کا کمال نہیں ہے۔اگر کشتی حسین ہے تو آپ کو محبت ہونی چاہئے۔ یہ محبت بھی بالکل صحیح ہے لیکن ساحل پر کھڑے کھڑے کشتی سے محبت رکھنا بھی کشتی میں بیٹھنا تو نہیں ہے۔

تیسری نازک تر منزل آئی۔ وہ جزو تو محفوظ ہے کہ ہم ساحل پر کھڑے ہیں اور کشتی دریا میں ہے۔ اب وہ کشتی بادِ مخالف کے تھپیڑوں میں پڑی، وہیں ساحل پر کھڑے کھڑے ہم آنسو بہانے لگے کہ افسوس! ایسی حَسِین کشتی تباہ ہورہی ہے۔میں کہتا ہوں یہ آنسو قابل قدر ہیں، اس لئے کہ دردِ دل کی دلیل ہیں۔ یہ مقتضائے انسانیت ہیں۔ مگر ساحل پر کھڑے کھڑے یہ آنسو بھی کشتی پر بیٹھنا نہیں ہیں۔وہ سوال اپنی جگہ پر رہا کہ کشتی پربیٹھنے میں کیا ہوتا ہے۔ جو میری سمجھ میں آیا ہے، وہ یہ کہ جب جاکر کشتی پر بیٹھ گئے تو اپنی ذاتی حرکت کچھ نہ رہی اور اپنا

ذاتی سکون بھی کچھ نہ رہا۔ کشتی چلے تو ہم چلے، کشتی رُکی تو ہم رُکے۔یہ معنی ہیں کشتیِ اہل بیت پر بیٹھنے کہ کہ اپنے حرکت و سکون کو تابعِ اہل بیت بنادیا۔اگر اس معنی سے کشتیِ اہل بیت پر بیٹھنا ہے تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کشتی منزل پر پہنچے او ریہ شخص نہ پہنچے، اگر کہیں اُتر نہیں گیا ہے۔

میں کہتا ہوں کہ نجات تو ایک عام چیز ہے،نجات تو ایک مبہم چیز ہے۔ اگر کشتی پر بیٹھا رہا تو جہاں کشتی پہنچے گی، وہاں یہ پہنچے گا۔ یہی کہا گیا ہے اپنے خاص ماننے والوں کو:

فِیْ دَرَجَتِنَایَوْمَ الْقِیَامة “۔

”ہمارے شیعہ یومِ قیامت ہمارے درجہ میں ہوں گے“۔

مگربندہ پرور! پانی پیاس بجھاتا ہے، کاغذ پر لکھا ہوا پانی کا نام نہیں ۔ غذا بھوک کو ختم کرتی ہے، غذا کا نام نہیں۔اسی طرح سے بے شک محبت اہل بیت نجات کی ضامن ہے مگر محبت ہو بھی تو۔ جن سے ہمیں محبت ہے، وہ اصولِ کافی میں کہہ رہے ہیں:

مَنْ اَطَاعَ اللّٰهَ فَهُوَلَنَا مُحِبٌّ وَمَنْ عَصَی اللّٰهَ فَهُوَ لَنَاعَدُ وٌّ “۔

”جو اللہ کی اطاعت کرے، وہ ہمارا دوست ہے اور جو اللہ کی نافرمانی کرے، وہ ہمارا دشمن ہے“۔

جن سے محبت کا دعویٰ ہمیں ہے، وہ ہم کو مخاطب کرکے کہہ رہے ہیں:

کُوْنُوْالَنَازَیْنًاوَلَا تَکُوْنُوْالَنَاشَیْنًا “۔

”دیکھو! ہمارے لئے سبب آرائش بنو، ہمارے دامن کا داغ نہ بنو“۔

حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ذمہ داری ہماری ہے کردار کے لحاظ سے۔ اس کی ایک عام مثال دیتا ہوں کہ سکول کے مختلف درجے ہوتے ہیں اور درجوں میں ترقی کرتا ہوا آدمی بالآخر یونیورسٹی تک پہنچتا ہے۔ چھوٹے درجہ کا طالب علم کوئی غلطی کرے تو بڑے درجہ کے طالب علم کو ہنسنے کا حق نہیں ہے کیونکہ اس کا معیارِ تعلیم ہی پست ہے۔ لیکن اگر اونچے درجہ کا طالب علم ،بڑے اُستاد کا شاگرداگر کوئی غلطی کرے تو بچے تک کو ہنسنے کا حق ہے۔اسی طرح آدم کے وقت سے ایک درس گاہِ تعلیماتِ الٰہی قائم ہوئی تھی۔ آدم کے بعد نوح آئے۔ تو جس نے نوح کو نہ مانا یعنی کافر رہا، وہ گویا درسگا ہ سے نام کٹوا کر نکل گیا۔ جس نے نوح کو بھی تسلیم کیا، اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کا معیارِ تعلیم اونچا ہوا۔ اب اس پرآدم کی تعلیمات کی بھی ذمہ داری تھی اور نوح کی تعلیمات کی بھی ہے۔حضرت ابراہیم خلیل اللہ آئے، جنہوں نے ان کو تسلیم نہیں کیا، ایمان نہیں لائے، اس کے معنی ہیں کہ پھر درس گاہ سے وہ نکل گئے۔ ان پر ان کی تعلیمات کی ذمہ داری نہیں رہی۔ جو حضرتِ ابراہیم پر ایمان لائے، ان کا نصابِ تعلیم اور اونچا ہوا ، یہاں تک کہ جب حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفےٰ تشریف لائے تو نصابِ تعلیم کیا ہے کہ:

یُومِنُوْنَ بِمَااُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَااُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ “۔

آدم سے لے کر خاتم تک جتنے انبیاء کی تعلیمات ہیںِ سب کے ورثہ دار یہ ہیں، ان تمام درجوں کو طے کر کے یہاں تک آئے ہیں۔ جب ایمان اختیار کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خاتم الانبیاء کے حلقہ درس میں داخل ہوئے۔ افضل المرسلین کے درس میں شامل ہوئے۔

تو اب اس کے معنی یہ ہیں کہ دنیا کی جتنی قوتیں ہیں، جتنے مذاہب ہیں، وہ سب مسلمانوں کے نزدیک ناقص تعلیمات کو لئے ہوئے ہیں او ریہ ہیں جنہوں نے مکمل تعلیم حاصل کی اور افضل المرسلین کے نصاب میں داخل ہوئے ہیں۔ تو ان کو یہود کے کردار کا جائزہ لینے کا حق نہیں ہے، ان کو نصاریٰ پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، ان کو بت پرستوں پر اعتراض کا حق نہیں ہے۔ مگر خود ان کے عمل پر اعتراض کرنے کا دنیا کو حق ہے۔

میں خاتم الانبیاء کے نظام تک پہنچ گیا تو کہتا ہوں کہ جب ایک طبقہ ہے جو یہ کہتا ہے کہ رسول کے بعد کوئی معصوم نہیں ہے، اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے نزدیک تعلیمی کلاسیں ختم ہوگئیں۔ اب درسگاہ کا کوئی درجہ اس کے نزدیک ہے ہی نہیں۔ لہٰذا اب اس کی ذمہ داری بس یہیں تک رہی لیکن اگر کوئی طبقہ اس کا قائل ہے کہ نظامِ ہدایت قیامت تک ہے اور ان کے بعد بھی ایک سلسلہ ہے معصوم رہنماؤں کا، اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کیلئے درسگاہ کے ابھی اور درجے ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ علی سے کیا حاصل کیا، حسن سے کیا حاصل کیا، حسین سے کیا حاصل کیا؟ اگر کچھ لوگ ہیں جو چھ درجوں کے بعد چلے گئے تو پھران کی ذمہ داری ختم ہوگئی اور جنہوں نے کہا کہ ہم بارہ کو الحمدللہ مانتے ہیں ، اب ان پر پورے نظامِ تعلیم کی ذمہ داری ہے کہ اپنے کردار سے ثابت کریں کہ اتنے رہنماؤں سے انہوں نے کیا حاصل کیا!

میرے سامنے ایک روایت ہے ، یہ شاہد ہے کہ جب جنابِ مسلم ہانی کے گھر میں تھے اور ابن زیاد آیا ہے ، اس کو فکر تھی کہ جنابِ مسلم کہاں ہیں؟ اس نے اپنے غلام معقل کو چارہزار دینار دئیے۔ یہ طبری سے بھی مقدم ایک تاریخ ہمارے ہاتھ میں ہے”الاخبارالطوال“، اس میں یہ واقعہ درج ہے کہ اس نے چار ہزار دینار دے کر کہا کہ جاکر پتہ لگاؤ کہ مسلم کہاں ہیں۔ اس دشمنِ اہل بیت معقل کا بیان ہے کہ میں مسجد میں آیا، اتفاق سے جنابِ مسلم ابن عوسجہ اس وقت مصروفِ نماز تھے تواس نے ان کے شکل و شمائل کو دیکھا اور بیٹھ کر ان کی نماز کو دیکھا۔

نمازوں کاسلسلہ تھا جو جاری تھا۔اس معقل کا بیان ہے کہ:

قُلْتُ فِیْ نَفْسِیْ “۔”میں نے اپنے دل میں کہا“۔

یہ غیر شیعہ کی کتاب میں ہے، جملہ دشمن اہل بیت کا کہ یہ شیعہ لوگ نمازیں بہت پڑھتے ہیں اور رکوع و سجود بہت طولانی کرتے ہیں۔لہٰذا ہوں نہ ہوں، یہ اس جماعت کے ہیں۔ اس بناء پر وہ آیا اور پہنچا جنابِ مسلم تک اسی ذریعہ سے۔میں کہتا ہوں کہ ایک وقت میں کثرتِ نماز ہماری پہچان تھی، اس کے بعد نہ جانے کس وقت ہوائے انقلاب ایسی چلی کہ ہم ان صفات سے عاری ہوگئے۔ ہر ایک کو فکر ہوتی ہے کہ جس سے ہمیں محبت ہے، سب سے آخری جملہ اس نے کیا کہا؟اس کو یاد رکھنا چاہئے اور اس پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ اہل بیت ہیں جنہوں نے تعلیماتِ الٰہی کو اور شریعت اسلام کو اپنی زندگی کا جزو بنایا تھا۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے حالات میں ہے کہ جب آپ کا وقت وفات قریب پہنچا ہے اور اردگرد اصحابِ خاص ، اولاد اور عزیز تھے تو آخری لفظ جو مولا کی زبان سے نکلا ہے، جس کے بعد قرآنِ ناطق خاموش ہوگیا ہے، وہ یہ تھا کہ تین مرتبہ فرمایا:

اَلصَّلوٰة، اَلصَّلوٰة، اَلصَّلوٰة “۔

دیکھو! نماز کو نہ بھولنا۔ جس سے محبت کا دعویٰ ہے، وہ آخری وقت تک نماز کو یاد رکھتے ہیں۔ اس کے بعد ہم فراموش کردیں۔ دیکھئے کربلا سے بڑھ کر مصائب اور پریشانیوں کا وقت کیا ہوگا؟ مگر کربلا میں کیا اہتمام کیا گیا کہ روز کے موذن حجاج ابن مسروق اور عاشور کی نمازِ صبح کے وقت مولا فرماتے ہیں: بیٹا علی اکبر ! آج تم اذان دو۔ مولا جانتے ہیں کہ میرا علی اکبر بھولنے کی چیز نہیں ہے۔جب تک دنیا علی اکبر کو یاد رکھے، تب تک اس نماز کو بھی یاد رکھے۔

میں کہتا ہوں کہ مولا نے بھی صبح کی اذان دلوائی ہے کیونکہ جو نمازی بھی ہیں، ان کیلئے سب سے زیادہ دشوار صبح کی نماز ہوتی ہے۔ اکثر پڑھتے بھی ہیں تو قضا کرکے پڑھتے ہیں۔ مولا نے صبح کی نماز کی اذان اس لئے دلوائی کہ کوئی جوان و نوجوان علی اکبر کا ماتم کرنے والا، علی اکبر کا نوحہ پڑھنے والااگر بستر پر یاد کرے کہ میرا شہزادہ کہتا ہے:”حَیَّ عَلَی الصَّلوٰة “،تو شاید علی اکبر کی آوا ز پرآجائے۔ یہ صبح کی نماز ہے۔ اور خدا کی قسم! کربلا میں نماز بھی جیسی ہوئی ہے، ویسی تاریخ عالم میں کبھی نہیں ہوئی۔ ظہر کی نماز میدانِ جنگ میں، تیر برس رہے ہیں اور گرمی ہے، آگ برس رہی ہے، خون کی بارش ہے۔ اس عالم میں ظہر کی نماز کس وقت آیا۔ اصحاب جو گردوپیش ہیں، ان کی کوشش یہ ہے کہ مولا خود حکم نہ دینے پائیں کہ ہم اپنے ذوقِ عبادت کا نذرانہ پیش کردیں۔

ابوتمامہ ساعدہ، اگر یہ واقعہ نہ ہوتا توہم ان کا نام بھی نہ جانتے ، یہ ویسے ممتاز صحابہ میں نہیں ہیں، ان کا نام صرف ا س نماز کی بدولت ہم نے سنا، کہتے ہیں : مولا ! دشمن بہت قریب آگئے ہیں، تمناہے کہ یہ نماز آپ کے ساتھ با جماعت ہوجائے۔ امام دعائیں دینے لگتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

ذَکَرْتَ الصَّلوٰة جَعَلَکَ اللّٰهُ مِنَ الْمُصِلِّیْنَ الذَّاکِرِیْنَ “۔

”تم نے خود سے نماز کو یاد کیا، اللہ تمہارا شمار نمازیوں میں کرے“۔

عزادارانِ حسین ! میں کہتا ہوں کہ اگر مولا کی دعائیں لینی ہیں تو نماز کو نہ بھولئے۔ کیا کہنا اس نماز کا کہ ادھر نماز ہورہی ہے، اُدھر دو صحابی تیر کھارہے ہیں۔ سعیدابن عبداللہ اور زہیر ابن قین۔ انہیں کھڑا کیا ہے کہ جو تیر آئے، اپنے اوپر روکو۔یوں تو کربلا کا پورا جہاد نماز کی خاطر ہے، عبادت کی خاطر ہے، شریعت کی خاطر ہے مگر یہ وہ قربانیاں ہیں جو بلاشائبہ مجاز، نماز کی خاطر ہوئی ہیں۔ اب جس نماز پر مولا اپنے دو جاں بازوں کو قربان کردیں، اس نماز کو ہم اپنے عمل سے پامال کریں تو مولا ہمیں اپنا دوست سمجھ سکتے ہیں؟اپناصحیح عزادار سمجھ سکتے ہیں؟

اربابِ عزا! عصر کی نماز کا وقت ہے۔ میری مجال نہیں ہے کہ میں اس نماز کی خصوصیات عرض کروں کہ کس عالم میں رکوع تھا، کس عالم میں سجود تھا، کس عالم میں قیام تھا؟ مگر سجدہ تو تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ کہنے والے نے بھی کہہ دیا کہ :

اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے

اِک ضربِ یداللّٰہی اِ ک سجدئہ شبیری

تو سجدئہ شبیری تو یادگار ہے مگربڑی تلخ حقیقت ہے، بڑی سخت بات ہے کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمیں خنجر یاد رہے اور سجدہ یاد نہ رہے۔ ارے خنجر تو شمر کا تھا، سجدہ ہمارے مولا حسین کا تھا۔

بس ایک پہلو کہ یہ سجدہ طولانی کتنا ہوا، ارے ان کی نظر میں تھا کہ میرے نانا نے میری خاطر سجدہ کو طول دیا تھا، تو میں اپنے عمل سے یہ ثابت کروں کہ میں آپ کے دین کی خاطر کب سجدہ کرتا ہوں۔ میں کہتا ہوں دیکھئے! نماز کا ہر عمل کب تک طولانی ہوگا؟ رکوع اس وقت تک طولانی ہوگا جب تک انسان کھڑا نہ ہو۔ اگر کھڑا نہیں ہوا تو اس کے یہ معنی کہ رکوع باقی ہے۔ یہ قیام کب ختم ہوگا؟ جب سجدہ ہوجائے، اگر سجدہ نہیں ہوا تو قیام ہی قیام ہے۔سجدہ کا اس وقت اختتام ہوگا جب سجدے سے سر اٹھایا جائے۔ اگر سر نہیں اٹھایا تو سجدہ قائم ہے۔ رسول نے اتنا طولانی سجدہ کیا کہ ستّر مرتبہ ذکر سجود کی نوبت آئی۔ حسین نے کہا کہ میں ایسا سجدہ کروں گا کہ سر اٹھاؤں گا ہی نہیں۔خدا کی قسم! حسین نے سجدہ سے سر نہیں اٹھایا، کوئی اور تھا جس نے سر جدا کردیا۔


مقصدِ حیات

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( وَالْعَصْرِاِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍاِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْابِالْحقِّوَتَوَاصَوْبِالصَّبْرِ ) ۔

قرآن مجید کامختصر سورہ ہے۔ اس میں بسم اللہ کے بعد ارشاد ہورہاہے : قسم ہے عصر خاص کی کہ یقینا انسان نقصان میں ہے۔ مگر وہ جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں اور ایک دوسرے کو حق کی ہدایت کریں اور ایک دوسرے کو صبر کی دعوت دیں۔ عام طور پر ہم جب کسی بات کا یقین دلانا چاہتے ہیں تو اس بات کو قسم کھا کر کہتے ہیں۔ مگر یہ کلام اس کا ہے کہ جو اُسے مانتا ہے، وہ سوائے سچائی کے کوئی دوسرا تصوراس کے بارے میں کرہی نہیں سکتا۔ لہٰذا اُسے یقین دلانے کیلئے قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر قرآن مجید میں جابجا کیوں قسمیں کھائی جاتی ہیں۔ تو میں سمجھتا ہوں اور آپ غور کیجئے تو یہی ذہن نشین پہلو ہے کہ اس بات کی اہمیت ظاہر کرنے کیلئے کہ جو کہنی ہے، قسمیں کھائی جاتی ہیں۔ یعنی بات رواروی میں کہنے کی نہیں۔

مگر جنابِ والا! ایک مجبوری ہے اور مجبوری کبھی نقص کے سبب سے ہوتی ہے ، کبھی کمال کے سبب سے ہوتی ہے۔ مثلاً خالق مجسم ہوکر کبھی سامنے نہیںآ سکتا۔ یہ مجبوری کسی نقص کی بناء پر نہیں ہے بلکہ کمال کی بناء پر ہے۔ ویسے ہی یہ جو میں نے کہا کہ مجبوری ہے توایسی ہی مجبوری ہے ، وہ مجبوری یہ ہے کہ عموماً جس چیز کی قسم کھائی جاتی ہے، وہ قسم کھانے سے کچھ اونچا درجہ رکھتی ہے۔ جیسے آپ معصومین کی قسم کھاتے ہیں۔ حضرت ابوالفضل العباس کی قسم کھاتے ہیں اور جو قسم شرعی ہے یعنی احکامی قسم۔ کفارہ وغیرہ جس پر جاری ہے، وہ اللہ کی قسم ہے۔ تو جو چیز اپنی نظر میں اپنے سے بالا تر ہوتی ہے، اس کی قسم کھائی جاتی ہے۔

مگر یہاں متکلم وہ ہے جس سے بالاتر کوئی ہے ہی نہیں۔ تو وہ ایسے کو تو نہیں لاسکتا جو اس سے بالاتر ہو۔وہی تو میں مجبوری کہی تھی۔ اس سے بالاتر عالم تصور میں کوئی چیز ہے ہی نہیں ۔ تو اب یہ جزو محفوظ نہیں رہ سکتا مگر جس چیز کی قسم کھائی جائے، وہ اپنی جنس میں امتیازی چیز ہونی چاہئے۔ یعنی جس طرح اُس بات کی اہمیت ثابت ہوتی ہے قسم کھانے سے، اسی طرح جس کی قسم کھائے، اس کی بھی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ اب ان قسموں سے ایک اور تصور ختم ہوتا ہے۔ وہ ایک مکتب خیال کا تصور ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی قسم کھانا بھی شرک ہے۔جہاں بہت سی باتوں پر شرک کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، اسی طرح یہ بھی ہے کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کی قسم کھانا، یہ شرک ہے۔لیکن اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا اگر شرک ہو تو پھر اللہ کے کلام میں تو اللہ کے سوا کسی کی قسم نہیں ہونی چاہئے تھی۔ جو چیز ہمارے لئے شرک ہو، اللہ خود اس کو کیسے گوارہ کر سکتا ہے؟تو قسمیں جو کھائی جاتی ہیں،وہ کبھی اس شے کی عظمت کے اظہارکیلئے اور کبھی بنظر محبوبیت بھی کھائی جاتی ہیں۔ جیسے تمہارے سر کی

قسم، یہ قسم آپ کی زبان پر جاری ہے یا نہیں؟آپ کے سر کی قسم۔ تو مجھے قرآن مجید میں اس کی بھی نظیر ملتی ہے۔ خالق نے رسول سے خطاب کرکے کہا ہے، سورئہ حجر میں، چودہواں پارہ”لعمرک“،”قسم آپ کی جان کی،یہ گمراہ لوگ اپنی گمراہی کے ایک عجیب نشے میں مبتلا ہیں“۔ یہ خالق نے قسم کیوں کھائی ہے؟خود رسول سے خطاب کرکے بالکل محبت کا انداز ہے۔ معلوم ہوتاہے کہ محب حبیب سے بات کررہا ہے۔

تو اب اگر خالق ایسے کی قسم کھاتا ہے جو اُسے محبوب ہے تو ہم بھی ان کی قسم کھا سکتے ہیں جو ہمیں ا س کے حکم سے محبوب ہیں۔ تو اب ایک قسم تو بنظر محبت قسم کی ہے جو”لَعَمْرُکَ “م یں ہے، رسول سے خطاب۔اس کے علاوہ وہی، جو شے اپنی جنس میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہو، مخلوقاتِ الٰہیہ میں آفتاب وماہتاب کو قسم کھانے کیلئے منتخب کیا گیا۔

( وَالشَّمْسِ وَضُحٰهَاوَالْقَمَرِاِذَاتَلٰهَا ) ۔

بے شک سورج اور چاند اپنی جنس میں ایک امتیازی درجہ رکھتے ہیں مگر کبھی چھوٹا بھی اعزاز میں بڑوں کے برابر ہوجاتا ہے،کسی خاص خصوصیت کی بناء پر ۔چنانچہ ارشاد ہوا:

( وَالنَّجْمِ اِذَاهَویٰ )

مگر کب ؟ جب وہ کسی آستانے کی طرف جھک رہا تھا۔

تو جس طرح بہت سی چیزوں کو یہ شرف دیا گیا کہ ان کی قسم کھائی جائے، اسی طرح ظرفِ مکان کو اس شرف سے محروم نہیں کیا گیا۔ مگر ہر مکان نہیں۔ مکانِ خاص:

( وَهٰذَالْبَلَدُالْاَ مِیْن ) ۔

”قسم ہے اُس شہر کی جو محل امن و امان ہو“۔

یعنی امن اُسے اتنا پسند ہے کہ جو محل امن ہو، اس کی قسم کھاتاہے۔ مگر دوسری جگہ بتا دیا کہ یہ مکان کو شرف بہ اعتبارِ مکین ملا ہے۔ ارشاد فرمایا:

( لَااُقْسِمُ بِهٰذَاالْبَلَدْ وَاَنْتَ حِلٌّ بِهٰذَالْبَلَدِ ) ۔

اس شہر کی یونہی قسم نہیں ہے بلکہ اس لئے کہ آپ اس شہر میں مقیم ہیں۔

اب جس طرح ظرفِ مکان کو یہ عزت عطا ہوئی ، اسی طرح ظرفِ زمان کوبھی اس شرف سے محروم نہیں رکھا گیا۔ مگر جیسے مکان ہر مکان نہیں بلکہ وہ مکان جو اس کے حبیب خاص سے تعلق رکھتا ہو، اسی طرح عصر جس کے معنی زمانے کے بھی ہیں اور دن کے ایک خاص حصہ کا بھی نام عصر ہے۔اب قرآن میں تو لفظ عصر ہے۔ اپنی طرف سے کہنے کا حق ہیں ہے کہ وہ ہے یا یہ ہے۔ بہرحال عصر جو بھی ہے، لیکن ہر عصر نہیں بلکہ عصر خاص ۔ اسی لئے ترجمہ میں مَیں نے یہی کہا کہ قسم ہے عصر خاص کی۔ کوئی کہے یہ خاص کے معنی کس لفظ سے پیدا ہوئے۔ میں کہتا ہوں کہ لفظ عصر پر جو یہ الف لام داخل ہے، عصر کوئی سا زمانہ اور العصر، عصرِ خاص۔کوئی کہے اس کی نظیر؟ تو نظیر آپ کی جانی پہچانی ہوئی ہے۔ یوم، کوئی سا دن اور الیوم، کیا الیوم کیلئے یاد دلانے کی ضرورت ہے؟

( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ) ۔

تو یہ کیا ترجمہ ہوتا ہے کہ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کیا ہے۔

اب ہر مکتب خیال کا انسان غور کرے کہ کتنا ہی حفظ کرلیجئے ان الفاظ کو، آج( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ) ، اس لفظ کو حفظ کر لیجئے ، ترجمہ بھی حفظ کرلیجئے۔ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کردیا۔ لیکن اگر تاریخ نہ دیکھئے کہ وہ آج کونسا ہے؟ تو کیا قرآن سے سمجھ میںآ ئے گا؟ بتائے کوئی قرآن کو کافی سمجھنے والا۔

قرآن کہہ رہا ہے ”( اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ ) “۔ آج م یں نے تمہارے دین کو مکمل کیا ہے۔ اگر معلوم نہ ہو کہ وہ آج کونسا دن ہے؟ تو بتائیے قرآن سے کیا سمجھ میں آئے گا؟ میں کہتا ہوں کہ کاش! قرآن کے سمجھنے ہی کی خاطر اس دن کو یاد رکھتے۔تو بس جیسے یوم کوئی سا دن،اور یہ الف لام اشارہ کیلئے ہوتا ہے۔کسی فردِ خاص کی طرف۔ اسی سے معنی پیدا ہوئے کہ آج کا دن۔ اسی طرح عصر کوئی سا عصر اور جب کہا”وَالْعَصْرِ “، تو وہ عصرِ خاص ہوا۔تو اب یہ عصرِ خاص وہی ہوسکتا ہے جو اس کے حبیب خاص سے خاص تعلق رکھتا ہو۔ خواہ کوئی زمانہ ان سے خاص تعلق رکھتا ہو، خواہ کوئی وقت عصر خاص تعلق رکھتا ہو۔

اب میں نے کہا کہ قسم کھائی جاتی ہے، اس بات کی اہمیت ظاہر کرنے کیلئے جو کہی جارہی ہے، تو دیکھنا یہ ہے کہ وہ بات کیا ہے۔ وہ ہے:

( اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ) “۔

میں نے ترجمہ یہ کیا کہ انسان نقصان میں ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ نقصان کونسا ہے؟ ایک نقص تو وہ ہے جو ممکنات کی ہر شے میں ہے۔ سوائے اللہ کے باقی ہر چیز کمالِ ذاتی سے محروم ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ جب وجود اپنا نہیں ہے، تو یہ غیرہے اور جب وجود ہی غیر ہے تو پھر کونسا کمال اپنا ہوگا؟ وجودکمال کا سرچشمہ ہے۔جب وجود اللہ کا عطاکردہ ہے تو ہر کمال بھی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ تو اس بناء پر کائنات کی ہر شے میں یہ نقص ہے یعنی وہ کامل بالذات نہیں ہے۔ تو اگر یہ نقص ہے تو پھر انسان کی کیا خصوصیت ہوئی جو کہا گیاکہ:

( اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ) “۔

”یقینا انسان گھاٹے میں ہے“۔

پھر اگر یہ نقص ہوتا امکانی نقص تو استثنیٰ کی گنجائش نہیں تھی کہ:

( اِلَّاالَّذِیْنِ اٰمَنُوْا ) “۔

سوااُن کے ، وہ ایمان بھی لے آئے، عملِ صالح بھی کئے۔پھر خدا تو نہیں ہوجائیں گے، رہیں گے تو مخلوق ہی۔ تو اگر وہ نقص امکانی ہوتا تو اس میں یہ استثنیٰ کیسا؟ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نقص امکانی نہیں ہے۔ پھر یہ کیا ہے؟ حقیقت میں قرآن مجید میں تو نقص کا لفظ ہی نہیں ہے۔ذرا غور فرمائیے ، میں ترجمہ میں وہاں نقص کہا اور اب بھی بے جھجک قرآن مجید میں جو لفظ ہے، وہ نہیں کہوں گا کیونکہ وہ لفظ ہمارے ہاں تو ایک رشتہ کا نام ہے۔”خ س ر“۔ اس کا جو مجموعہ ہوتا ہے، وہ ہمارے ہاں ایک خاص رشتہ کا نام ہے۔ تو اسی لئے جب آیت پڑھتا ہوں تو بھی وقف نہیں کرتا۔

( اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ) “۔

کہہ رہا ہوں تاکہ ہمارے اُردو والے لفظ سے شباہت نہ ہوجائے۔ تو حقیقت میں وہاں نقص نہیں ہے۔ وہاں تو ”خ س اور ر“ ہے۔اب اس لفظ کی جو خصوصیات ہوں، ان کو دیکھنا چاہئے۔ تو جب اس لفظ کی خصوصیت پر ہم نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت میں کاروباری اصطلاح ہے تجارت کی۔ مجمع میں ضرور ماشاء اللہ تجارت کرنے والے افراد بھی ہیں۔ تو ایک حقیقت ہے، ان کو خوش کرنے کیلئے نہیں ہے کہ تجارت کچھ ایسی اللہ کو محبوب ہے کہ اس نے شروع سے آخر تک قرآن میں تجارتی اصطلاحیں استعمال کی ہیں۔یہاں تک کہ ایمان کا پیام دیا تو یہ کہا:

( یَاَیّهَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاهَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَة تُنْجِیْکُمْ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْم ) ۔

کیوں صاحبانِ ایمان! کیا میں تمہیں بتاؤں ایسی تجارت جو تمہیں عذابِ الٰہی سے بچائے، وہ یہ ہے کہ ایمان لاؤ۔ یہ کیا ہے؟ یہ اس لئے ہے یعنی ان سے کہہ رہا ہے کہ تمہیں ایسی تجارت بتاؤں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایسی قوم سے خطاب نہیں ہے جو بیکار رہنے کی عادی ہو بلکہ وہ قوم ہے جو ذوقِ تجارت رکھتی ہو۔ان سے انہی کی زبان میں بات کی جارہی ہے۔ تو اب یہ لفظ جو ہے، یہی”خ س اور ر“، جسے میں اُردو میں نہیں کہہ رہا ہوں۔ یہ لفظ حقیقت میں تجارت کی اصطلاح ہے۔جب آپ تجارت کرتے ہیں تو شروع میں پیسہ ہوتا ہے جو تجار ت میں لگاتے ہیں۔ اس کو عربی میں راس المال کہتے ہیں اور فارسی میں اُسے سرمایہ کہتے ہیں اور ہمارے ہاں اصل پونجی جس سے کہ تجارت شروع کی جاتی ہے۔ اب کچھ دن کے کاروبار کے بعد ایک صورت یہ کہ اس میں اضافہ ہوگیا۔رقم بڑھ گئی۔ مثلاً ہزار روپے لگائے تھے، اب اس کی مالیت دس ہزار ہوگئی۔ اسے عربی میں کہتے ہیں رِبح۔ بڑی ح سے۔ جیسے قرآن مجید میں ہے:

( فَمَارَبِحَتْ تِجَّارَتُهُمْ ) “۔

سب وہی تجارت کی زبان میں بات ہورہی ہے۔ ان کی تجارت نے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ تو عربی میں اسے رِبح کہیں گے۔ فارسی میں اسے سود کہیں گے۔ ہم تو بیاج کو سود کہنے لگے اُردو میں۔ تو بیاج کو سود نہیں کہتے۔ اصل میں وہ تجارت کا نفع ہے جسے سود کہتے ہیں فارسی میں۔ ہم اسے تجارت کا نفع کہتے ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی؟ نفع تو دوا کا بھی ہوتا ہے۔ یہ کوئی مفرد لفظ ہوا۔ اس کے معنی ہیں کہ ہمارے پاس کوئی مفرد لفظ نہیں ہے اس معنی کو ادا کرنے کیلئے۔ یہ تو اس صورت میں ہے جب اضافہ ہوجائے۔دوسری صورت یہ ہے کہ کچھ دن میں جتنا تھا، اس سے کم ہوگیا یا ختم ہی ہوگیا۔ تو اسے گھاٹا کہیں گے اور فارسی میں زیاں کہیں گے۔ ”برتراز اندیشہ سودوزیاں ہے زندگی“۔سود جب اضافہ ہو، زیاں جب نقصان ہو۔ اس نقصان کو عربی میں کہتے ہیں”خ س اور ر“۔اور یہ ایک ایسا لفظ ہے جسے کہتے ہوئے میں ڈر رہا ہوں۔ ایک ذرا سے فرق میں وہ ہمارا جانا پہچانالفظ ہوجائے گا۔ یعنی اس کے بیچ میں ایک عدد الف لے آئیے اور آخر میں ”ہ“ لگا دیجئے تو ہوجائے گا خسارہ۔ اب یہ خسارہ ہم بھی سمجھ لیں گے ، حالانکہ وہ ”خ س اور ر“ اس میں بھی ہے۔ اب راز یہ ہے ، خسارہ وہی ہوگا جہاں کوئی چیز ایسی ہو جس میں اضافہ کا بھی امکان ہو، کمی کا بھی امکان ہو۔وہ بجائے بڑھنے کے گھٹ جائے تو وہ خسارہ ہوگا۔

انسان کے علاوہ کائنات میں اور جتنی چیزیں ہیں، وہ یا اتنی پست ہیں کہ بلند نہیں ہوسکتیں یا اتنی بلند ہیں کہ پست نہیں ہوسکتیں۔ ایک طرف ہیں جمادات، نباتات ، حیوانات۔ یہ سب نقص کے کچھ دائروں میں اسیر ہیں کہ اس سے اُبھر نہیں سکتے بلکہ یہ نام ان کے اسی نقص کے پہلو کے ہیں یعنی جمادات کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز ہے اس میں جسمیت ہے۔ اپنے اجزائے وجود کو سمیٹے رہنا۔ اگر ا س کا نام جمادات ہوتا تو پودے بھی جمادات ہوتے کیونکہ ان میں بھی جسمیت ہے۔ پھر حیوان بھی جمادات میں ہے، ان میں بھی جسمیت ہے۔انسان بھی جمادات ہے، اس میں بھی جسمیت ہے۔ پھر جمادات کون؟ جس میں بس جسمیت ہے اور کچھ نہیں۔ جسمیت ہے اور بس۔ یعنی نشوونما نہیں ہے، احساس اور ارادہ نہیں ہے۔ اس نقص کے پہلو کا نام ہے جمادات۔

اس کے بعد نباتات کون؟ جن میں نشوو نما کی قوت ہو۔ جسم بھی ہیں اور نشوونما بھی رکھتے ہیں۔ جسمانی طور پر بڑھنے کی قوت۔ جسے پودے کا پھیلنا کہتے ہیں۔اب اگر اس کا نام ہوتا نباتات تو حیوان بھی نباتات میں ہوتا، انسان بھی نباتات میں ہوتا لیکن یہ تو الگ بات ہے، دوسری نوع ہے۔ تو ماننا پڑے گا کہ نباتات اس کا نام نہیں ہے کہ نشوو نما رکھتا ہو۔ اس کا نام ہے کہ نشوو نما رکھتا ہو اور بس۔بس کے معنی یہ ہیں کہ احساس و حرکت کا جوہر نہیں ہے۔بس اس نقص کے پہلو کا نام نباتات ہے۔یہ کمال کے پہلو کا نام نہیں ہے۔

نباتات کسے کہتے ہیں؟ جس میں نشوو نما ہو۔اگر نشوو نما ہونے سے نباتات ہوتا ہے تو پھر حیوان بھی نباتات میں ہے اور انسان بھی نباتات میں ہے۔پھر نباتات الگ کیوں ہیں؟ نباتات اس لئے الگ ہیں کہ نباتات میں بس نشوو نما ہے اور کچھ نہیں ہے۔ یعنی احساس و حرکت ارادی نہیں ہے۔اب حیوان ، مگر وہ ارسطو والا حیوان نہیں، اس کے نزدیک انسان بھی حیوان ہے۔ میں عام اُردو میں یہ کہوں کہ حیوان جانور کے معنی میں، جاندار کے معنی میں نہیں۔ وہی تو ہے جو انسان سے پست ہے ۔ جو انسان سے پست ہے، وہی حیوان۔ اس کا ذکر ہے۔تو وہ حیوان ایک جوہر رکھتا ہے یعنی حیات۔ احساس و حرکت ارادی۔ لیکن احساس و حرکت ارادی کا نام حیوان ہوتا تو پھر وہی یعنی انسان بھی حیوان ہوتا۔مگر حیوان انسان سے پست ہے تو کیا معنی؟ وہ حیوان کون ہے جو انسان سے پست ہے؟ یعنی احساس و حرکت ارادہ رکھتا ہے بس۔ بس کے معنی ہیں کہ وہ عقل و شعورِ خیر و شر نہیں رکھتا۔ اچھائی اور برائی کا احساس نہیں رکھتا۔تو اس نقص کے پہلو کا نام حیوان ہے۔

تو یہ سب نقص کے دائروں میں گرفتار ہیں کہ اس سے آگے بڑھ نہیں سکتے۔ تو کوئی سرمایہ ہی نہیں تو خسارہ کیا ہوگا؟ جب بڑھنے کی صلاحیت نہیں تو جتنے ہیں، وہی رہیں گے۔خسارہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ تو ایک طرف ہیں جمادات، نباتات، حیوانات۔ دوسری طرف ہیں فرشتے۔ ان کے بلند ہونے میں کوئی شک نہیں۔ جوارِ اقدس کے رہنے والے، عالم بالاکے مکین، معصوم، بے ضرر ہستیاں، بے گناہ ہستیاں۔تو ان کی بلندی میں کوئی شک نہیں مگر ان کی بلندی خود اختیاری نہیں ہے۔ پیدا کئے گئے ہیں بلند، لہٰذا بلند ہیں۔ان کی صفاتی بلندی ایسی ہے جیسے جسمانی بلندی ہے آفتاب کی۔جیسے جسمانی بلندی آفتاب کی کہ پیدا کیا ہی گیا ہے بلند۔ ویسے ہی ان کی بلندی اوصاف والی۔

بے شک بڑی اچھی مخلوق۔ بے گناہ ہے مگر بے گناہ ہے باایں معنی کہ وہ دل نہیں جس میں اُمنگیں پیدا ہوتی ہیں۔ جذبات نہیں۔ وہ تقاضے نہیں جو گناہ کی طرف لے جاتے ہیں۔ لہٰذا معصوم ہیں۔ان کی عصمت قابل مدح صفت ہے ، کارنامہ نہیں ہے، قابل شکریہ۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بڑی اچھی مخلوق ہے ، کسی کو ستاتی نہیں ، کسی کو آزار نہیں پہنچاتی، ہمہ تن اطاعت پروردگار ہے۔بڑا کام کرتے ہیں جو گناہوں سے بچے رہتے ہیں۔ یہ کارنامہ نہیں ہے۔

ماشاء اللہ ذوقِ ادب رکھنے والے تو یہ آسانی سے سمجھ لیتے ہیں۔ دوسرے افراد بھی میرے بیان کے پس منظر سے سمجھ ہی لیں گے کہ اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ ہے مگر کتنا ہے، اتنا ہی ہے ، اس میں اضافہ نہیں ہوسکتا۔ یعنی مایہ دار ہیں، سرمایہ دار نہیں ہیں۔

تو جب بڑھنے کا امکان نہیں تو پھر خسارہ بھی کیا ہوگا۔ نہ گھٹنے کا تصور، نہ بڑھنے کا امکان۔ جتنا اللہ نے دیا، اُتنا ہی ہے۔ اس سے آگے نہیں ہے۔ اب انسان۔ انسان کی خاصیت ہے کہ یہ طاعت و معصیت کے دوراہے پر پیدا کیا گیا ہے۔لچکدار مخلوق۔ یہ گھٹتا ہے تو بدبخت حیوانوں سے بدتر ہوجاتا ہے۔اسی لئے قرآن مجید میں کہا گیا:

( اُوْلٰئِکَ کَالْاَ نْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلَّ سَبِیْلًا )

”یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ ان سے بد تر ہیں“۔

میں اگر اس طرح کی بات کہوں ، یہ جملہ اس طرح کا کہوں تو تُو سمجھ میں آئے گا کہ میں نے پہلے کہہ دیامثل چوپایوں کے اور پھر چونک کر کہا بلکہ بدتر۔مگر یہ کلام اس کا ہے جس کے ہاں سہوونسیان کی گنجائش نہیں ۔ اس لئے کہ سہوونسیان بھی ایک طرح کا نقص ہے، وہ نقص عارضی سہی۔ جو عالم بالذات ہے، اس کے ہاں سہوونسیان کا سوال نہیں۔ارے ہم اُس کے اونچے بندوں کو سہوونسیان سے بری جانتے ہیں تو اللہ کا کیا ذکر!

اس کے ہاں بدلُ الغلط کا امکان نہیں ہے۔ ماننا پڑے گا کہ حکمت کلام متقاضی ہے کہ یوں بات کہی جائے۔ تو اب میری نظر میں اور نظیریں بھی ہیں۔ اب آپ کا بہت دل پسند موضوع۔ مگر ابھی سے کہہ دوں کہ اس موضوع کو پیش نہیں کرنا ہے:

( دَنٰی فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی ) ۔

قریب ہوئے اور قریب ہوئے ، یہاں تک کہ دو کمان یا اس سے بھی کم۔

وہی بات کہ اگر میرا جملہ ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ بھئی صحیح طور پر ہم اندازہ نہیں لگا سکتے۔ یعنی متکلم کو شک ہے۔ بس یوں سمجھ لو کہ دو کمان یا اس سے کچھ کم۔ٹھیک ٹھیک ہم نہیں بتا سکتے۔ مگر وہ جو”مِثْقَالَ کُلِّ ذَرَّة “سے واقف، اس کے ہاں(معاذاللہ) اندازے ک ی غلطی کا کیا سوال؟ تو وہی ماننا پڑے گا کہ حکمت کلام متقاضی ہے کہ یوں کہا جائے۔اب وہ ایک ہی حکمت ہے دونوں میں اور وہ ایک ہی چیز ہے۔ علماء کہتے ہیں کہ اگر ”بَل“کے معنوں میں ہے۔ دو کمان بلکہ اس سے کم تر، تو اب ”اَو“، ”بَل“کے معنوں میں ہوگیا۔ تو بالکل نظیر اسی کی ہو گئی۔مثل چوپایوں کے بلکہ اس سے بدتر۔

میں کہتا ہوں کہ وہ پستی کی تعبیر تھی، یہ بلندی کی تعبیر ہے۔ایک ہی انداز میں ہے۔ وہ مثل چوپایوں کے بلکہ بدتر۔ یہاں کہا جارہا ہے کہ وہ اتنے قریب کہ دو کمان بلکہ اس سے کم تر۔تو اب ”اَو“اور ”بَل“ایک ہی قبیل کی چیزیں ہوگئیں۔ تو اب جو حکمت کلام ہے، اپنے فہم کے مطابق عرض کروں گا ، وہ دونوں جگہ جاری ہوگی۔ کبھی متکلم کا حکیمانہ تصور یہ محسوس کرتا ہے کہ ایک دم سے حقیقت کہی جائے تو ممکن ہے نذر تغافل ہوجائے۔ لہٰذا حقیقت کو ایک ایک گھونٹ کرکے پلاؤ۔ جرعہ بہ جرعہ ، تدریجاً۔ تو اگر شروع میں ، اگر ذرا متوجہ نہیں بھی ہے تو رفتارِ کلام کے آگے بڑھنے کے ساتھ متوجہ ہوجائے گا۔

مگر اب جب کلام اس کا ہے جو اصدق الصادقین ہیں تو جو پہلا جزو کہا، وہ بھی اپنی جگہ صحیح ہونا چاہئے اور پھر اس پر مزید اضافہ جو ہے، وہ اپنی جگہ صحیح ہونا چاہئے۔تو اب:

( اُوْلٰئِکَ کَالْاَ نْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ ) “۔

یہ چونکہ اصل موضوع سے متعلق ہے، لہٰذا اسے بعد میں عرض کروں گا۔پہلے اسی کو جسے بطورِ نظیر پیش کیا تھا:

( قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی ) “۔

چونکہ رفعت کا اظہار الفاظ میں ہو نہیں سکتا ، لہٰذا خالق محسوسات کی مدد دے کر ذہن کو اس درجہ تقرب تک پہنچانا چاہتا ہے ۔ اس لئے لفظوں کے سہارے سے ایک قریب ترین نکتے تک، پیمانے تک، جو دو کمانوں کا ہے۔اس کو پہنچا دیا گیا۔ اب گویا خالق کہنا چاہتا ہے کہ دیکھو! اتنا ہی نہ سمجھنا یعنی اگر دو کمان کہہ کر خاموش ہوجائے تو رفعت محمدی پر حد قائم ہوجائے۔

تو حضورِ والا!اب الفاظ کا سہارہ دے کر دو کمانوں تک پہنچایا گیا تو اس پر خاموش ہوجائے تو ان کی رفعت پر حد قائم ہوجائے۔ لہٰذا آگے بڑھتا ہے اور متکلم جسم و جسمانیت سے بری ہے۔ مگر یہ کہ جو حقیقت ہے، وہ بغیر جسم و جسمانیت کے لفظوں کے ادا کیونکر ہو کیونکہ الفاظ وہاں کیلئے بنے ہی نہیں ہیں۔ آپ دیکھ لیجئے قرآن میں کہ قاب قوسین کے اوپر کوئی وقف نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ”ج“ بھی نہیں ہے جس کے معنی ہیں وقف جائز۔ کسی طرح کا وقف نہیں ہے۔وقف کا معیار یہ ہے کہ جہاں سانس لی جائے، وہاں وقف۔جہاں سانس نہ لی جائے، آگے بڑھا جائے، وہ ہے غیر وقف۔ تو ہمیں وقف کرنے سے منع کیا گیا ہے۔یعنی وہاں وقف نہیں ہے۔تو اس کے معنی یہ ہیں کہ متکلم نے بغیر سانس لئے ہوئے آگے بات بڑھائی ہے۔ اب ہمیں قبل والے جملے سے نتیجہ نکالنے کا حق نہیں ہے۔

( قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی ) “۔

جب با ت مکمل نہیں ہوئی تو ہمیں رائے قائم کرنے کا کیا حق! اب کہہ دیا کہ”( اَوْاَدْنٰی ) “، یعنی اس سے کم تر۔

ماشاء اللہ صاحبانِ فہم ہیں، صاحبانِ نظر ہیں، میں کہتا ہوں کہ اب کم تر کی حد نہیں بتائی کہ کتنا کم۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اب جتنا وہم و فہم و تخیل میں گنجائش ہو، اتنا آگے بڑھ جاؤ تو خدا خدا رہے، بندہ بندہ رہے۔

یہ تو روشن پہلو ہے جسے میں نے نظیر میں پیش کیا۔ میرا اصل موضوع وہ ہے کہ انسان گرتا ہے تو:

( اُوْلٰئِکَ کَالْاَ نْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا ) “۔

یہ لوگ مثل چوپایوں کے ہیں بلکہ اس سے بدتر ہیں۔

تو جب کہا مثل چوپایوں کے ، تو یہ بھی صحیح ہونا چاہئے۔ کسی حیثیت سے اُنہیں مثل چوپایوں کے ہونا چاہئے۔جب کہا بدتر تو کسی حیثیت سے انہیں بدتر ہونا چاہئے۔ پھر نتیجہ کے طور پر بدتر ہی ہوں گے۔ تو میں جب غور کرتا ہوں کہ انسان کردار کے اعتبار سے جب گرتا ہے تو عملاً ہوتا ہے مثل چوپایوں کے۔

حضور! چوپائے دو قسم کے ہوتے ہیں، کچھ چرندے ، کچھ درندے۔ چرندے کون؟ چرنے والے، گائے بھینس وغیرہ، جنہیں آپ مویشی کہتے ہیں۔ درندے کون؟ شیر ، بھیڑئیے جن کا نام سن کر ہَول آئے۔تو چرندے جو ہیں ، ان بیچاروں کا مقصد پیٹ بھرنا ہے۔ کسی نہ کسی طرح پیٹ بھر جائے۔ جو سبزہ زار سامنے آئے، چرجائیں۔ اس سے بحث نہیں کہ مالک راضی ہے یا ناراض ہے۔ غذا جس طرح ملے، کھا لیں۔ اس سے بحث نہیں کہ باعزت مل رہی ہے یا با ذلت۔

اگر انسان ایسا ہی ہوگیا کہ اسے پیٹ بھرنے کے مقصد میں، شکم پری کی راہ میں حلال و حرام کا امتیاز نہ رہا، جائز و ناجائز کا امتیاز نہ ہو، صحیح وغلط کا امتیاز نہ ہو تو پھر اس میں اور چرندے میں کیا فرق ہوا؟اب دیکھئے کہ ۹۰ فیصد اورممکن ہے ۹۵ فیصد اور ممکن ہے ۹۸ فیصد، یہ سب اسی قسم میں داخل ہیں یا نہیں۔ میں نے کہا تھا کہ مجمع میں ماشاء اللہ تاجر بھی ہوں گے۔ تجارت ایک پیشہ تو ہے ہی۔ حضور! پیشہ ور وہی ہوتے ہیں جو کاسب ہیں، تاجر ہیں۔ تو اس کیلئے ایک مقولہ تراش لیا، نظریہ، کہ یہ تو ہمارا پیشہ ہے یعنی جب یہ کہئے کہ یہ صحیح ہے یا غلط ے، جواب یہ ملے گا کہ ہمیں اس سے کیا مطلب؟ یہ تو ہمارا پیشہ ہے۔گویا پروانہ صحت مل گیا۔

فرض کیجئے کہ ایک صاحب ہیں جو جھوٹا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ آپ انہیں جانتے ہیں۔ اتفاق سے آپ کو بھی کسی کام سے کچہری جانا پڑ گیا۔ آپ نے ایک ٹیکسی والے کو روکا، آپ نے دیکھا کہ وہ ٹیکسی والا آپ ہی کا محلہ دا رہے اور وہ انہیں کچہری لے جارہا ہے۔ آپ نے ٹیکسی والے سے علیحدگی میں کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ صاحب جھوٹا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔تو تم انہیں اپنی ٹیکسی میں لئے جاتے ہو؟وہ فوراً جواب میں کہے گا کہ جناب! مجھے اس سے کیا مطلب کہ سچا مقدمہ لڑنے جارہے ہیں یا جھوٹا لڑ رہے ہیں، میرا تو پیشہ یہی ہے۔ اب چپکے سے آپ قائل ہوجائیے تو بہتر ہے ور نہ اگرراہگیر جمع ہوگئے تو سب اس ٹیکسی والے کی طرف ہوں گے۔ آپ کی طرف کوئی نہیں ہوگا بلکہ گھر پر جاکر وہ گھر والوں سے یا عزیزوں ، دوستوں سے کہیں گے کہ آج ایک سنکی ملا تھا۔

ہمیشہ صاحبانِ عقل کو دیوانہ کہا گیا ہے۔ایک سنکی ملا تھا، وہ ٹیکسی والے سے جھگڑ رہا تھا کہ تم جھوٹا مقدمہ لڑنے والی سواری کو کیوں کچہری لئے جارہے ہو؟ سب ہنسیں گے کہ واقعی دیوانہ تھا، واقعی سنکی تھا۔سب اس کی طرف ہوں گے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ آج انسانیت نے بیعت کرلی ہے حیوانیت کے ہاتھ پر۔یہ میں نے ٹیکسی والے کی مثال دی، جتنی چاہیں مثالیں لے لیجئے۔ خواہ مخواہ آپ کا وقت ضائع کرنے کو دل چاہے تو میں چاہے جتنی مثالیں دے دوں۔بہرحال ایک اور سہی۔

فرض کیجئے کسی کا پریس ہے اور وہاں سے ایک مخربِ اخلاق پوسٹر شائع ہوا ہے۔ آپ نے جاکر اس پریس والے سے کہا کہ تم نے ایسا مخربِ اخلاق پوسٹر کیوں اپنے ہاں سے شائع کیا ہے؟ وہ کہے گا کہ ہم کوئی دیکھتے ہیں کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ سائز کتنا ہے، عبارت کتنی ہے۔ اس کا ناپ جو مقرر ہے، وہ دیکھا، اُجرت بتائی کہ اتنے میں لکھا جائے گا، اتنے میں چھپے گا۔ اس نے وہ سب دینے کا اقرار کیا، ہم نے چھاپ دیا۔ ہمیں اس سے کیا مطلب کہ اس کے اندر کیا ہے؟ یہ مخربِ اخلاق ہے یا مصلح اخلاق ہے۔ ہمیں اس سے کیا مطلب؟ وہ یہی جواب دے گا اور ایسا ہی جس کا جو پیشہ ہے۔

علی گڑھ میں ایک صوفی صورت آدمی ، معلوم ہوا کہ ان کے مرید بھی ہیں۔ان کی پان کی دوکان ہے۔ ماہِ رمضان میں ایک نوجوان نے آکر ان سے پان مانگا، انہوں نے پان بنا کر اُسے دے دیا۔ چونکہ وہ صورت سے مجھے صوفی صافی نظر آرہے تھے، لہٰذا نوجوان کے جانے کے بعد میں نے کہا کہ ماہِ رمضان میں آپ پان بنا بنا کر نہ دیا کیجئے۔ وہ بڑے چیں بہ جبیں ہوئے۔ فرمانے لگے: صاحب !ہماری دوکان ہے، ہمیں اس سے کیابحث؟ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم خود روزہ رکھیں لیکن اگر کوئی ہمارے ہاں سے پان خریدنا چاہے اور ہم اُسے پان نہ دیں تو پھر ہماری دوکان تو ختم ہی ہوجائے گی۔

تو یہ سب وہی ہے کہ پیشہ میں جائز و ناجائز کا سوال نہیں۔ اسی کو ایک جماعت نے پورا روٹی کا فلسفہ بنا دیا کہ گویا زمین و آسمان پیٹ بھرنے سے قائم نہیں۔ روٹی ہی سب کچھ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جیتے جی روٹی کی اہمیت سے انکار کیونکرسکتا ہوں، یقینا روٹی کی اہمیت ہے مگر بس طے یہ کرنا ہے کہ روٹی کی اہمیت کس حد تک ہے۔ذریعہ حیات کی حد تک یا مقصد حیات تک۔ اگر ذریعہ حیات کی حد تک آپ کہتے تو میں بھی آپ کے ساتھ متفق ہوں کہ زندگی کیلئے روٹی ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر زندگی کس چیز کیلئے ہے؟ روٹی تو برائے زندگی مگر زندگی برائے چہ؟

یاد رکھئے کہ ہر ذریعہ سے مقصد اہم ہوتا ہے ،لہٰذا اب تین درجے قائم ہوں گے۔ جس طرح ریاضی میں سکھایا جاتا ہے”ا ب ج“، تو” الف“ روٹی اور” ب“ اس سے اوپر خود زندگی اور” ج“ اس سے اوپر مقصد زندگی۔تو جب زندگی کی خاطرروٹی ہے تووہ روٹی جو زندگی کو نقصان پہنچائے ، کیا وہ حاصل کرنے کے قابل ہے؟ اُردو زبان میں کہوں کہ جسے کھا کر ہیضہ ہو، کیا وہ بھی حاصل کرنے کے قابل ہے؟یہاں سب عقلائے زمانہ روٹی کے نظام والے بھی، میرے ساتھ مل کر یہی کہیں گے کہ نہیں، اس روٹی کو چھوڑ دیجئے، پھینک دیجئے۔ کسی کو دے دیجئے۔ بہرحال اس روٹی کو استعمال نہ کیجئے۔ تو اب اگر وہ روٹی چھوڑنے کے قابل ہے جو زندگی کو نقصان پہنچائے تو وہ روٹی بھی چھوڑنے کے قابل ہے جو مقصد زندگی کو نقصان پہنچائے۔وہ روٹی جسے کھا کر ہیضہ ہو، وہ اس لئے چھوڑنے کے قابل کہ زندگی کو نقصان پہنچاتی ہے اور وہ روٹی جو یتیم کا گلا کاٹ کر ملے اور وہ روٹی جو فسادکرکے ملے اور وہ روٹی جو خلقِ خدا کو گمراہ کرکے ملے، وہ روٹی جو خونریزی کرکے ملے، وہ اس لئے کھانے کے قابل نہیں کہ مقصد زندگی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

اب اگر یہاں تک کوئی روٹی کے نظام والا میرے ساتھ آگیا تو اس کے معنی ہیں کہ یہیں سے رزق میں حلال و حرام کی تفریق ہو گی۔یہیں سے دیکھنا پڑے گا کہ کون جائز ہے، کون ناجائز ہے؟اگر یہ نہیں ہے تو وہی حیوانیت ہے جسے فلسفہ کا لباس پہنا دیا گیا ہے، جس کو ایک بڑا نظریہ بنا کر پیش کردیا گیا ہے۔

اب دیکھ لیجئے کہ کتنے فیصد ہیں جن کا نصب العین صر ف پیٹ بھرنا ہے۔اب معاف کریں مجھ کو جوان او ر نوجوان۔ماشاء اللہ بہت بڑا انقلاب ہے کہ ایک وقت میں مجلس میں زیادہ تر بوڑھے ہوا کرتے تھے، نوجوان تو منتظر رہتے تھے کہ جب ماتم ہوگا، تب چلیں گے۔ مگر الحمد للہ! مجھے ہر جگہ یہ خوشگوار تبدیلی محسوس ہوئی ہے کہ جوان اور نوجوان مجلسوں میں شریک ہوتے ہیں۔ غور سے سنتے ہیں اور اس سے نتیجہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اب اس وقت انہی کو، کیونکہ بوڑھے اس منزل سے گزر چکے ہیں، سابقہ نوجوان ہی سے ہے، نوجوانوں ہی سے گفتگو ہے۔ اب انہوں نے جس دن سے ڈگری لی ہے، جس دن سے تعلیم میں حد کمال تک پہنچے، اس وقت سے اخباروں پر نظر ہے کہ کونسی جگہ کہاں خالی ہے۔ کس جگہ کا اشتہار نکلا ہے۔ اشتہار پڑھا، تنخواہ کی مقدار دیکھی اور ترقی کا سکیل دیکھا کہ اس میں امکانات کہاں تک آگے جانے کے ہیں اور بس درخواست بھیج دی۔ اس سے مطلب نہیں کہ کام کیا کرنا ہے! وہ کام صحیح ہے یا غلط ہے۔ اس نقطہ نظر سے کبھی جانچ کی ہی نہیں جاتی۔ ادھر تصور جاتا ہی نہیں ، اس لئے کہ یہ گویا خارج از بحث چیز ہے۔ ہمیں پیٹ بھرنا ہے۔ ہمیں یہ کیا دیکھنا ہے۔ ہمیں تو تنخواہ کی مقدار دیکھنی ہے۔

تو یہ جناب وہی حیوانی فلسفہ ہے۔ تو اگر انسان اسی راستہ پر گامزن ہوگیا تو اس میں اور چرندوں میں کیا فرق رہا؟ یہ تو ہیں چرندے، اس کے بعد ہیں درندے۔ درندے کون ہیں؟ درندے وہ ہیں جن کے افعال بتقاضائے غضب ہوں۔ جواِن کے غصہ کی زد پر آجائے، شکار ہوجائے، اس سے مطلب نہیں کہ جوان ہے یا بوڑھا ہے یا بچہ ہے۔ اس سے مطلب نہیں کہ گناہگار ہے یا بے گناہ ہے۔ اگر انسان بھی ایسا ہی ہوجائے کہ جب جذبہ انتقام پیدا ہو تو اس سے مطلب نہیں کہ فریق مخالف کا یہ بچہ ہے یا فریق مخالف کا یہ جوان ہے یا فریق مخالف کا بوڑھا ہے ، قصور وار ہے یا بے قصور ہے۔اس سے مطلب ہی نہ رہے، تو پھر انسان میں اور اس درندے میں کیا فرق ہوا؟

اب یہ دیکھ لیجئے کہ عام نوعِ انسانی تقسیم ہے انہی دو حصوں میں یا نہیں!کچھ چرندے اور کچھ درندے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بیچارے قسم کے جولوگ ہیں ، بقدرِ ہمت، وہ چرندے ہوتے ہیں اور جواولوالعزم لوگ ہیں، وہ درندے ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ انسان گرتا ہے تو مثل چوپایوں کے ہوتا ہے اور نتیجہ کے طور پر چوپایوں سے بدتر ہوتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ چوپائے اگر پستیِ کردار میں مبتلا تھے تو ان کے پاس وہ شعور نہیں ہے جو حق و باطل کا امتیاز کرسکے جس کا نام عقل ہے۔ وہ تمیز نہیں کہ جائز و ناجائز میں فرق محسوس کرسکے۔اب انسان عقل رکھتے ہوئے ، شعور رکھتے ہوئے ،صحیح وغلط کے پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہوئے ، پھر بھی عملاً حیوان بنتا ہے تو یہ اس سے زیادہ موردِ سزا ہے یعنی یہ حیوان بھی ہے اور مستحقِ ملامت بھی ہے۔ جیسے وہاں میں نے کہا تھا فرشتوں میں کہ ان کی عصمت قابل مدح ہے لیکن کارنامہ نہیں ہے قابل شکریہ، ویسے ہی یہاں ہے کہ جتنی برائیاں ہیں، وہ برائیاں صفات ہیں قابل مذمت۔ لیکن کردارقابل ملامت نہیں ہیں ۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اے بکری! تو نے یہ مالِ غیر کیوں کھالیا؟ ان کو ملامت نہیں کرسکتے کیونکہ انہیں کھانے کا یہی طریقہ معلوم ہے۔ کہنے والے نے کہہ دیا۔

نیش عقرب نہ از پئے کین است

مقتضائے طبیعتش این است

”بچھو کو ڈنک مارنا کوئی عداوت کی وجہ نہیں ہے، یہ تو اس کی طبیعت کا تقاضا ہے“۔

عربی کورس میں ادب کی ایک کتاب تھی، بچوں کو پڑھائی جاتی تھی”سُلَّمُ الادب“،اس میں شروع میں کچھ حکایتیں تھیں اور آخر میں کچھ مختصر سے قطعے تھے۔اشعار نصیحت آمیز تھے۔ ان میں سے دو اشعار کا مضمون یہ ہے کہ میں نے ایک بچھو کو دیکھا کہ وہ پتھر پر ڈنک ماررہا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ تیرا ڈنک ہے نرم اور یہ پتھرسخت ہے۔ تیرے ڈنک کاا س پر کیا اثر ہوگا؟اس نے کہا: مجھے اس سے کیا مطلب کہ اس پر اثر ہوگا یا نہیں ہوگا۔ میں تو یہ ثابت کررہا ہوں کہ میں بچھوہوں۔تو ان کے افعال بتقاضائے طبیعت ہوتے ہیں۔لہٰذا موردِ مذمت ہیں، موردِ ملامت نہیں ہیں۔

لیکن یہ بدبخت انسان جب جرم کی طرف قدم بڑھاتا ہے کہ اندر سے کوئی کہتا ہوتا ہے کہ غلط ہے، ایسا نہ کرو ۔لیکن یہ اس کی آواز کو سنااَن سنا کردیتا ہے۔ ضمیر کے فیصلہ پر عمل نہیں کرتا۔ دوسری دفعہ اُس کی آواز ذرا دھیمی ہوجاتی ہے کیونکہ پہلی مرتبہ اُس کی دل شکنی ہوگئی۔ اگرتوجہ کرلی ہوتی تو پھر اور قوت اس میں پیدا ہوجاتی۔ لیکن جب توجہ نہیں کی تو دوسری مرتبہ اس کی آواز کمزور پڑگئی۔یہاں تک کہ تیسری منزل وہ آگئی کہ جب پھر بھی توجہ نہیں کی تو اس نے صدا دینا چھوڑ دی۔ یہ وہ منزل ہے جسے قرآن نے کہا ہے:

( خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰی سَمْعِهِمْ وَعَلٰی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ) ۔

اصلاح سے یہ نااُمیدی اپنے ہاتھوں پید اہوئی ہے۔ لہٰذا جرم سے بری نہیں ہوسکتے۔

تو باوجود ضمیر کی طاقت رکھنے کے، باوجود بُرے اور اچھے کے احساس کے ، پھر بھی یہ عملاً چوپائے رہے تو نتیجہ کے طور پر چوپایوں سے بدتر ہیں۔ اسی لئے دوزخ ان چوپایوں کیلئے نہیں پیدا کیا گیا ہے، دوزخ انہی انسانوں کیلئے پیدا کیا گیا ہے جو ان سے بدتر ہیں۔ یہ موردِ سزا بھی ہیں، موردِملامت بھی ہیں۔

یہ تو اس وقت ہے جب انسان گھٹتا ہے۔ جب بڑھتا ہے تو جو انسان بلندی پر ہوتا ہے، وہ عملاً تو فرشتے کا مثل ہوتا ہے، اس لئے کہ فرشتہ بھی بے گناہ، یہ انسان بھی بے گناہ۔ بے گناہ کے معنی ہیں زیرو۔ زیرو میں درجے نہیں ہوتے۔ یہاں بھی نفی گناہ، وہاں بھی نفی گناہ۔ یہ انسان جو ہے اس میں بھی گناہ نہیں۔تو عملاً تو فرشتوں کی مثل ہوتا ہے مگر نتیجہ کے طور پر فرشتوں سے بہتر ہوتا ہے۔ اس دلیل سے جس دلیل سے گرنے میں مثل چوپایوں کے ہوا تھا اور نتیجہ کے طور پر چوپایوں سے بد تر ہوا تھا۔کیوں؟ اس لئے کہ یہ عقل رکھتے ہوئے چوپایہ رہا۔ ویسے ہی بڑھنے میں اسی دلیل سے فرشتہ نہیں ہوتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ فرشتے اگر معصوم ہیں تو کمال کیا ہے؟ یہ جذبات رکھتے ہوئے، بھوک پیاس رکھتے ہوئے، تکلیف کا احساس رکھتے ہوئے، پھر بھی عملاً فرشتہ رہا تو یہ فرشتوں سے بالا ترہے۔ یعنی ملک عصمت جو فرشتوں کیلئے عطیہ خسروانہ تھا، وہ اس کا قوتِ بازو سے فتح کیا ہوا ملک ہے۔ اسی لئے جب یہ عصمت اختیاری کے قدموں سے بلند ہوتا ہے اور اب اس کا کردار اس منزل پر آجاتا ہے کہ فرشتہ حیران ہوجاتا ہے۔

یاد رکھئے ! حیرت اسی چیز پر ہوتی ہے جس کی مثال پہلے سامنے نہ آئی ہو۔ عمر ملک دیکھئے یعنی اس کی خلقت ظاہری آدم ابوالبشر سے قبل، مدتوں پہلے۔جس کی پیمائش ہم اپنے پیمانوں سے کر بھی نہیں سکتے کہ کتنا پہلے۔ تو اس کی کتنی عمر ہے اور نوعِ انسانی کی ابتداء بھی مجھے نہیں معلوم۔بعض تاریخوں میں آتا رہتاہے کہ آدم سے اب تک اتنے ہزار برس۔اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ تو عمر انسانی کی مدت بھی نہیں معلوم۔ مگر جتنے کردا رہیں، وہ سب مَلک کی نگاہوں کے سامنے آئے ہیں۔ آدم سے لے کر خاتم تک۔ہر ایک کا کردار اس کی نظروں کے سامنے آیا ہے۔ اب اس کے بعد اگر کبھی اس کو حیرت ہوجائے تو وہ مجموعی حیثیت سے افضل ہستیاں ، یقینا میں مانتا ہوں، عقیدت کے طور پربالا تر ہستیوں کا ماننا جزوِ دین ہے ۔ لیکن یہ کہ کسی شعبہ کردار میں ایسا نمونہ سامنے آیا ہے جس کی مثال اس کو اس وقت تک نظر نہیں آئی تھی۔ آدم سے لے کر تا ایں دم۔کوئی مثال اس کی آنکھوں کے سامنے نہیں آئی تھی۔

اب مجھے معصوم کی زبان کا ایک جملہ یاد آرہا ہے جو سید الشہداء کو مخاطب کرکے آپ نے کہاہے:

عَجَبَتْ مِنْ صَبْرِکَ مَلٰئِکَةُ الْمُقَرَّبِیْن “۔

اے حسین ! آپ کے صبر سے ملائکہ مقربین ششدر رہ گئے۔

یعنی ان کے تصور سے بالا تر نمونہ صبرکا ان کے سامنے آیا۔ اب صرف حدیث، جو زیارتیں معصومین نے بتائی ہیں، وہ بھی ایک قسم کی حدیث ہیں۔ تو وہ جملہ تو بس اتنا ہی ہے۔ مگر اب مجھے تلاش ہوئی ہے کہ وہ کربلا کے مرقع کا کونسا موقع ہوگا، وہ کونسا زاویہ ہوگا جہاں فرشتوں کو حیرت ہوئی ہوگی۔میرے سامنے کردارِ کربلا کے جو مرقع آرہے ہیں، تو بخدا شاعر نے تو کسی اور مرقع کیلئے کہا تھا مگر میں اسے یہاں استعمال کررہا ہوں کہ ”کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا اینجا است“۔مرقع کا ہر گوشہ مجھے ایسا ہی نظر آرہا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ فرشتے کو یہیں حیرت ہوگئی ہو۔ ہوسکتا ہے کہ اس پر بھی حیرت ہوئی ہو۔پھر حیرت میں اضافہ ہوتا چلاگیا ہو۔


امربالمعروف،نہی عن المنکر

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( وَالْعَصْرِاِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍاِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْابِالْحقِّوَتَوَاصَوْبِالصَّبْرِ ) ۔

قسم ہے عصر خاص کی کہ یقینا انسان خسارہ میں ہے۔ اگر بات اتنے پر ختم ہوجاتی تو اس کا مطلب یہ تھا کہ سبھی خسارے میں ہیں۔ چاہے انبیاء ہوں، چاہے اصفیاء ہوں، چاہے اولیاء ہوں، معصومین ہوں، سبھی خسارے میں ہیں۔ لیکن کلامِ الٰہی اتنے پر ختم نہیں ہوا بلکہ اس سے آگے بڑھا:

( اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُواالصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْابِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْبِالصَّبْرِ ) ۔

سب خسارے میں ہیں مگر جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں اور ایک دوسرے کو حق کی ہدایت کریں اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں۔ اب جب”( اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ) “کہنے کے بعدبلا فاصلہ یہ جملہ آگیا”( اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ) “کا، تو ہم یں اس ”اِلَّا “کی خصوصیت بہت شروع سے معلوم ہے کہ یہ ”اِلَّا “کا لفظ عربی میں کیا کام کرتا ہے۔ وہ یہ کام کرتا ہے کہ زمین نفی و اثبات میں انقلاب پیدا کردیتی ہے۔ یعنی اگر قبل میں نفی ہے تو بعد میں ثبوت ہوجاتا ہے اور اگرقبل میں ثبوت ہے تو بعد میں نفی ہوجائے گی۔ شروع سے میں نے کہا، کیوں؟ دین کی پہلی منزل”( لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰه ) “۔ اب اگر بات اتنے پر ختم ہوجائے ،ماویین کا کلمہ ہو، دہریوں کا کلمہ ہو تو خاص الخاص سات سمندر پار کے کمیونسٹوں کا کلمہ ہو اور یہ قیدیں اتنی کیوں لگائیں ،اس لئے کہ وہ ہیں خاص الخاص کمیونسٹ اور باقی اور جگہ جو ہوتے ہیں، وہ بربنائے فیشن ہوتے ہیں۔ یعنی ایک وضع اب چلی ہوئی ہے، گویا ترقی پسندی کی علامت ہے تو اس بناء پر اصل منکر خدا تو وہی ہوتے ہیں جو وہاں خاص الخاص ہیں۔تو ان سب کا کلمہ یہ ہوتا۔ مگر جب اس کے ساتھ آگیا ”اِلَّا اللّٰہ“، تو اب نفی ثبوت سے بدل گئی او رمعنی یہ ہوگئے کہ خدا ہے اور وہ کون ہے؟ اللہ ہے۔ اور آگے بڑھئے:

( وَمَااَرْسَلْنٰکَ اِلَّارَحْمَة لِّلْعٰالَمِیْن ) ۔

اگر بات اتنے پر ختم ہوجائے تو رسالت کی نفی ہوجائے۔ جس کا کام نبیوں کا بھیجناہے، وہ کہتا ہے کہ ہم نے آپ کو بھیجا ہی نہیں ہے لیکن جب اس کے ساتھ آگیا ”اِلَّارَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْن “، نہیں بھیجا ہے ہم نے آپ کو مگر رحمت بنا کر تمام جہانوں کیلئے۔تو معلوم ہوا کہ بھیجا بھی ہے اور ہمہ گیر رحمت بنا کر بھیجا ہے۔

اس کے بعد آگے بڑھئے:

( لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا ) “۔

”میں تم سے کوئی اجر چاہتا ہی نہیں“۔

تو اگر بات اتنے پر ختم ہوجائے تو بس کوئی اجر نہیں چاہئے۔ مگر جب ”( اِلَّاالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) “، سوائے صاحبانِ قرابت کی محبت کے ، تو معلوم ہوا کہ اجر چاہتے ہیں مگر خود نہیں ، خدا کے حکم سے۔مگر وہ ہے کیا؟ صاحبانِ قرابت کی محبت۔ تو اب ایک ہی ساخت کے تینوں جملے آپ کے سامنے آگئے۔ ”( لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰه ) “، کلمہ توحید۔ اس میں بھی نفی کے بعد ”( اِلَّا ) “ کے ساتھ ثبوت۔”( وَمَااَرْسَلنٰکَ اِلَّارَحْمَة لِّلعٰالَمِیْنَ ) “،کلمہ رسالت۔ اس میں بھی نفی کے بعد”اِلَّا “کے ساتھ ثبوت۔”( لَااَسْئَلُکُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا ) “، کلمہ ولا یت۔ اس میں بھی نفی کے بعد ”( اِلَّا ) “ کے ساتھ ثبوت۔

اب ان سب میں تو پہلے نفی تھی تو ”( اِلَّا ) “ کے ساتھ ثبوت ہوگیا۔یہاں پہلے ثبوت ہے:

( وَالْعَصْرِاِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ ) “۔

بے شک انسان خسارہ میں ہے۔ تو اب ”اِلَّا “ آیا تو اگر آگے سنیں بھی نہیں تو پتہ چل گیا کہ کچھ تو ہیں جو خسارے میں نہیں ہیں ورنہ ”اِلَّا “ آتا ہی نہیں۔اب وہ کون ہیں؟وہ یہ ہیں۔ تو اس ”اِلَّا “ کا قاعدہ ہوتا ہے کہ یہ آجائے تو نتیجہ پورے جملے کا نکالا جائے تو ہدایت ہوتی ہے اور”اِلَّا “ کے پہلے سے نکالا جائے تو ضلالت ہوتی ہے۔”اِلَّا “ کے پہلے بات ختم ہوجائے تو کفر ہوتا ہے،”اِلَّا “ کے بعد والی بات ملائی جائے تو ایمان ہوتا ہے۔ تو اب یہاں نتیجہ قبل والے سے نہیں نکالا جاسکتا کہ انسان خسارے میں ہے جب تک اس کے ساتھ ”اِلَّا “ نہ رکھا جائے۔تو اب”اِلَّا “ کے بعد نتیجہ یہ ہے کہ تمام نوعِ انسانی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ کچھ وہ ہیں جو خسارے میں ہیں، کچھ وہ ہیں جو خسارے میں نہیں ہیں۔خسارے میں وہ ہیں جو”اِلَّا “ کے بعد والے لوگوں کے علاوہ ہوں اور جو ”اِلَّا “ کے بعد ہیں، وہ خسارے میں نہیں ہیں۔

تو اب جب دو قسم کے لوگ ہیں تو ذہن یہ کہتا ہے کہ پھر یوں کیوں ہوا کہ خسارہ میں ہیں؟ مگر وہ جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں وغیرہ وغیرہ۔یوں ہوجاتا کہ سب انسان نفع میں ہیں، سوائے ان کے جو کافر ہوں، جو بداعمال ہوں ، جو باطل کی طرف لے جائیں، جو بے صبری کی دعوت دیں۔ کوئی کہے جب بات ایک ہی ہے، دونوں کا مطلب ایک ہے تو دل یہ کیوں چاہ رہا ہے کہ یوں ہوتا۔ یعنی کچھ خواہش ہے کہ یوں ہوتا ، جبھی تو یہ تصور پیدا ہوا۔تو یہ آخر دل کیوں چاہ رہا ہے کہ یوں ہوتا؟

تو اب یاد رکھئے کہ ذرا سی تبدیلی میں کلام کا نفسیاتی اثر بہت بدل جاتا ہے۔ اگر اس طرح ہوتا کہ سب نفع میں ہیں سوائے ان کے جو باطل کی طرف لے جائیں اور بداعمال ہوں ، تو اصل کلام ہوتا بشارت۔جونہی ہم سنتے کہ سب نفع میں ہیں، دل خوش ہوجاتا، طبیعت کھِل جاتی اور بالیدہ ہوجاتے۔ اب آیا کرتا کہ وہ جو کافر ہیں اور بداعمال ہیں تو ہم اسے غور سے سنتے بھی نہیں کہ وہ کوئی ہوں گے۔ہم سے کیا مطلب؟ لیکن جب یہ ہوا کہ سب انسان خسارے میں ہیں تو طبیعت بجھ گئی، دل افسردہ ہوگیا، ذہن پریشان ہوگیا۔اب بعد میں آرہا ہے کہ مگر جو ایمان لائیں، نیک اعمال کریں، جو حق کی ہدایت کریں، جو صبر کی تلقین کریں۔ وہ سب بعد میں آگیا تو وہ جو افسردگی پیدا ہوئی، وہ جو پژمردگی چھاگئی، وہ جو غم کے بادل اُمڈ آئے، وہ ایک دم کہاں دور ہوئے۔ کہنے والے نے کہہ دیا۔تھمتے تھمتے تھمیں گے آنسو۔ رونا ہے ، کوئی ہنسی نہیں ہے۔ ہنستی تو ایک دم سے ختم ہوجاتی ہے مگر رونا جو ہے، وہ ایک دم سے ختم نہیں ہوتا۔

تو اب جو غم طبیعت پر چھا گیا، تو بعد میں استثنیٰ ہوا بھی تو کیا؟ تو آخر وہ کیوں نہ ہوا؟ تو جو انسان کا دل چاہتاہے، اس کیلئے دلائل بھی اس کے ذہن میں آجاتے ہیں۔اب قرآن کی ایک آیت بھی جیسے ہمت بڑھارہی ہے کہ ہاں ! اگر یوں ہوتا تو جیسے زیادہ مناسب تھا۔ کیوں؟ اس لئے کہ قرآن میں ہے:

سَبَقَتْ رَحْمَتُه غَضَبَه “۔

”اُس کی رحمت غضب سے آگے آگے ہے“۔

تو جو تقاضائے رحمت ہے، وہ پہلے بیان ہونا چاہئے اور جو تقاضائے غضب ہے، وہ بعد میں بیان ہونا چاہئے۔ مگر صاحب! اب کیا کیا جائے کہ یوں نہیں ہے۔ اسی طرح ہے۔ کلام اس کا ہے جس کے بارے میں یہ کہہ نہیں کستے کہ (معاذاللہ) غلط ہے۔ ارے بھئی! انبیاء کی منزل تک ترکِ اولیٰ بھی ہوسکتا ہے۔ خداکے ہاں تو ترکِ اولیٰ کی گنجائش بھی نہیں ہے۔

تو جو ہے، وہی سب سے بہتر ہے۔ یہ سوچنا ہی غلط ہے او ریہ تو عرفِ عام میں کچھ جملے ہیں ۔ تو یاد رکھئے وہ اگر سمجھ کر کہے جائیں، ارادتاً، تو وہ کفر بن جائیں۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بطورِ تکیہ کلام ہے۔یہ جیسے ایک محاورے کے طور پر ہے۔ بے سمجھے ہے، اس لئے کوئی فتویٰ جاری نہیں ہوتا۔ مثلاً بہت سی باتوں کو کہہ دیتے ہیں کہ کیا بے وقت یہ چیز ہوئی ہے۔ کسی کی موت کو کہہ دیا ، کیا بے وقت یہ موت ہوئی ہے۔ بارش کو کہہ دیا کہ یہ بے وقت بارش ہوئی ہے۔ یاد رکھئے کہ یہ بے وقت اور با وقت کا جائزہ ہمارا کام نہیں ہے۔ جو فاعل حکیم ہے اور اُسے باوقت سمجھ رہا ہے، اُسے ہمیں بے وقت سمجھنے کا کیا حق ہے؟

تو اب یہ تصور نہیں ہوسکتا۔ کلامِ الٰہی سمجھنے کے بعد یہ سوچنے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اب یقینا پھر کوئی بات ہے کہ اس طرح نہ کہنا اور اُس طرح کہنا۔ تو اب جو میں نے سوچا تو سمجھ میں آیا کہ جو کہا گیا ہے، وہ بالکل عام اصول کے مطابق ہے۔ عام اصول یہ ہے کہ جو اکثریت کیلئے بات ہو، وہ بطورِ عموم بیان ہوتی ہے۔ جو اقلیت کیلئے ہو، وہ بطورِ استثنیٰ بیان ہوتی ہے۔ اگر یہ ہوتا کہ کفر کے مقابلہ میں ایمان زیادہ اور بداعمالی کے مقابلہ میں حسنِ عمل زیادہ اور باطل کے مقابلہ میں حق زیادہ اور بے صبری کے مقابلہ میں صبر کے نمونے زیادہ ہوتے تو اس طرح ہوتا۔ لیکن اس طرح اس لئے نہیں ہوا کہ کفر کے مقابلہ میں ایمان کم، بد اعمالی کے مقابلہ میں حسنِ عمل کے نمونے کم، باطل کے مقابلہ میں حق کم اور بے صبری کے مقابلہ میں صبر کم۔

میں کہتا ہوں کہ اس سے یہ فیصلہ ہوجاتا ہے کہ اکثریت حقانیت کی دلیل نہیں ہے کیونکہ اگراکثریت حقانیت کی دلیل ہو تو ایمان کے مقابلہ میں کفر حق، حسنِ عمل کے مقابلہ میں بد اعمالی حق، حق کے مقابلہ میں باطل حق اور صبر کے مقابلہ میں بے صبری حق۔ ہاں غلط فہمی نہ ہو۔ یہ میں نہیں کہنا چاہتا کہ اقلیت حقانیت کی دلیل ہے کہ کوئی ایسا باطل جسے اتفاق سے ماننے والے کم ملے ، وہ اسے اپنی دلیل بنالے۔میں کہتا ہوں کہ حق حق ہے،چاہے ماننے والے زیادہ ہوں ، چاہے کم ہوں۔ یہ اکثریت اور اقلیت تو ہوا کے جھونکوں کی طرح بدلتی ہے۔ ایک دفعہ جسے زیادہ رائے ملتی ہے، دوسری دفعہ اُسی کو کم ملتی ہے۔یا اُس دفعہ اکثریت غلطی پر تھی یا اِس دفعہ غلطی پر ہے۔تو یہ تو ہوا کے جھونکوں کی طرح بدلتی ہیں اور حق وہ شے ہے جس میں تبدیلی نہیں ہے۔تو یاد رکھئے کہ جو بدلنے والی چیز ہے، اس کا معیار وہ ہونا چاہئے جو برقرار ہو۔ جو برقرار چیز ہے، اس کا معیار بدلتی ہوئی چیز نہیں ہوسکتی۔

اسی لئے یہ تصور غلط ہوگا کہ بہت سے لوگ دینی تعلیمات کو سائنس کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں اور بعض حامیانِ دین، دین کی خدمت یہی سمجھتے ہیں کہ جو سائنس کا نظریہ ہو، ثابت کرو کہ دین بھی یہی کہہ رہا ہے۔ مگر یہ بالکل غلط ہے، اس لئے کہ ہر سائنس دان کو معلوم ہے کہ سائنس کتنی کروٹیں بدلتی ہے۔سائنس میں کتنی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایک وقت اگر قرآن نے اس وقت کی سائنس کی تائید میں آپ کے ثابت کرنے سے سمجھا کہ وہ اس کے حق میں ہے تو جب وہ نظریہ بدل جائے گا تو اب آپ کو قرآن بدلنا پڑے گا اور قرآن وہ ثابت حقیقت ہے جس میں تبدیلی ممکن نہیں اورسائنس وہ چیز ہے جو بدلتی رہتی ہے۔ لہٰذا جو بدلنے والی چیز ہے، اس کو ثابت حق کی کسوٹی پر پرکھئے۔

یہ اندازِ بیانِ قرآنی خود بتارہاتھا کہ یہ جماعت کتنی کم ہے کہ اس کا بیان بطورِاستثنیٰ ہوتا ہے ۔اب اس کے بعد عربی میں دو حرفِ عطف ہیں۔ ہیں تو بہت سے مگر مجھے جن سے مطلب ہے، وہ دو ہیں۔ ایک”اَوْ “ اور ا یک”واؤ“، بغیر الف کے۔ ان دونوں کے کیا معنی؟ ”اَوْ “ معن ی یا۔ یا یہ یا یہ۔ واؤ کے معنی اور۔ آپ کے ہاں بھی بہت مثالیں ہیں۔ تو ان میں اگر کسی صورت سے یوں ہوتا۔ وہاں دل چاہ رہا تھا اس طرح۔ اب یہاں دل چاہ رہا ہے کہ اس طرح ہوتا:

( اِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْااَوْعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ اَوْتَوَاصَوْابِالْحَقِّ اَوْتَوَاصَوْابِالصَّبْرِ ) ۔

سب خسارے میں ہیں سوا ان کے جو ایمان لائیں یا نیک اعمال کریں یا حق کی ہدایت کریں یا صبر کی تلقین کریں۔

تو یوں ہوتا تو پھر بھی اتنی اقلیت نہ رہتی۔ دوسرے لفظوں میں کہوں کہ بہشت اتنی خالی نہ رہتی۔اس کی آبادی میں کچھ تو اضافہ ہو جاتا، اس لئے کہ ہر جگہ ایمان لائیں یا نیک اعمال کریں یا حق کی ہدایت کریں۔ تو میری تو چونکہ عمر درسگاہ میں گزری ہے، ۲۷ برس لکھنو یونیورسٹی میں رہا، ۱۵ برس مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں رہا۔ تو میرا سابقہ طلباء ہی سے رہا ہے۔ ان کی مثالیں بھی یاد آتی ہیں۔تو جناب بی اے وغیرہ کے امتحان میں بعض مضامین لازمی ہوتے ہیں، بعض اختیاری ہوتے ہیں اور وہ مضامین جو اختیاری ہوتے ہیں، ان میں ہر ایک کو لینے کا بھی حق ہے، ہر ایک کو چھوڑنے کا بھی حق ہے۔ اب ان اختیاری مضامین میں سے کسی نے اس کو لیا اور کسی نے اُس کو نہیں لیا۔ تو کسی کو اعتراض کا حق نہیں کہ تم نے اسے کیوں لیا اور کسی نے اُس کو کیوں نہیں لیا۔کہا کہ ہمیں یہی پسند ہے، یہی آسان ہے۔کسی نے اس کو لیا، اس کو نہیں لیا تو کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے، اُس کیلئے وہی آسان ہے، اس کو وہی پسند ہے۔

اس طرح سے پرچے جو دئیے جاتے ہیں، تو چونکہ مقصود تو اساتذہ کا یونیورسٹی کے کرتا دھرتا حضرات کا یہ نہیں ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ فیل ہوں، اس میں ادارہ کی بھی بدنامی ہے اور پھر طلباء کیلئے آسانیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ دس سوال دئیے جاتے ہیں کہ ان میں سے کم سے کم پانچ سوالوں کے جواب مطلوب ہیں۔ اب وہ طالب علم اس وقت دیکھتا ہے کہ میرے لئے کون سے آسان ہیں یا مجھے کون سے یاد ہیں۔اب جو آسان ہوئے یا جو یاد ہوئے ، ان پر اس نے لال پنسل سے نشان بنا دیا کہ مجھے یہ کرنے ہیں۔ دوسرے طالب علم نے کسی دوسرے پر نشان بنادئیے جو اُسے یاد ہیں۔ نہ اُسے اس سے جھگڑا کرنے کا حق، نہ اُسے اس پر اعتراض کرنے کا حق۔اسے وہ پسند ہیں، اسے یہ پسند ہیں۔اس کو اس میں آسانی ہے، اُسے اس میں آسانی ہے۔

تو اگر یہ ہوتا کہ ایمان لائیں یا نیک اعمال کریں یا حق کی دعوت دیں یا صبر کی تلقین کریں، تو جناب میں تو اپنی کہتا ہوں، اس میں غور آپ بھی کریں کہ آپ اس میں شریک ہیں یا نہیں۔ میں تو لال پنسل سے”اٰمَنُوْا “پر نشان بناد یتا۔ یہی زیادہ آسان ہے کیونکہ دل کو شگافتہ کرکے کون دیکھے گا کہ ایمان ہے یا نہیں؟ تو ایمان کا مضمون لے لیتا۔ اب جب ایمان کا مضمون لے لیا تو اب کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ نماز کیوں نہیں پڑھتے کیونکہ وہ تو عملِ صالح کا جزو ہے۔ ہم نے وہ مضمون لیا ہی نہیں ہے۔ اب آپ ہم سے کیوں کہہ رہے ہیں کہ نماز بھی پڑھو؟ آپ ہم سے نہ کہئے کہ روزہ کیوں نہیں رکھتے، اس لئے کہ وہ بھی عملِ صالح ہے۔ ہم نے عملِ صالح چھوا ہی نہیں ہے۔ہم نے اس پر نشان ہی نہیں لگایا ہے اور اسی طرح اور منھیات۔یہ نہ کہئے کہ دوسرے کا مال کیوں لیتے ہو؟ یہ تو سب عملِ صالح کا جزو ہیں۔ کچھ منفی ہیں، کچھ مثبت ہیں۔کچھ اوامر ہیں، کچھ نواہی ہیں۔ ہم نے وہ شعبہ ہی نہیں لیا ہے جو اس مصیبت میں پھنسیں۔ لہٰذا بس یہ دیکھ لیجئے کہ”اٰمَنُوْا “۔

بحمدللہ! ہماری پوری جماعت کا لقب ہے مومنین کرام۔ تو ادھر مردم شماری کے رجسٹر میں اس فرقہ میں نام آیا۔خانہ مذہب میں اپنا نام آیا۔ ادھرمومنین تو ہوگئے او رجب مومنین ہوگئے تو پھر عملِ صالح سے کیا واسطہ۔ لیکن اگر آپ نے یہ جزو پسند کرلیا اور اپنے ذمہ لے لیا تو پھر دوسرے کو حق ہے کہ وہ نشان عملِ صالح پر لگائے۔ پھر اب اس سے ایمان کا مطالبہ نہ کیجئے گا۔ یہ دیکھ لیجئے کہ مسجدیں تو خالی نہیں رہتیں۔ یہ دیکھئے کہ نماز کے وقت کیسی تیزی سے دوڑتے ہیں۔ یہ دیکھئے کہ حج میں کتنے آدمی جاتے ہیں۔ اب یہ نہ کہئے گا کہ کیا فائدہ؟ ایمان تو ہے نہیں، جی! آپ کو ایمان سے فائدہ ہوگیابغیر عملِ صالح کے او رکسی کو عمل صالح سے فائدہ نہ ہوا بغیر ایمان کے۔اصول تو ایک ہوتا ہے۔ آپ کو یہ مضمون پسند ،کسی کو دوسرا مضمون پسند۔ اس نے عمل صالحات لے لیا ہے، ایمان سے بحث نہیں ہے۔ اگر بحث نہیں ہے تو آپ کو کیا ہے؟ اور ابھی بات ختم نہیں ہوئی ہے۔

اَوْتَوَاصَوْابِالْحَقِّ “ ۔

اب ہمارے جیسے واعظانِ بے عمل کیلئے بڑی آسانی ہے جس کو اللہ نے قوتِ تقریر عطا کی، وہ گیا اورد عوتِ حق دینا شروع کردی، اس لئے کہ اللہ نے زبان عطا کی ہے اور زبان میں قوتِ تقریر ہے اور دعوتِ حق تو زبان سے ہوتی ہے۔ دیکھ لو کہ ہماری زبان دعوتِ حق دینے سے رُکتی تو نہیں ہے ۔اب یہ نہ دیکھو کہ ہم بھی حق پر ہیں یا نہیں۔ اب ہم میں ایمان تلاش نہ کیجئے گا اور ہم میں عمل صالح بھی تلاش نہ کیجئے گا کہ ہم نے تیسرے مضمون پر لکیر لگائی ہے۔ ہم نے اسے اپنایا ہے۔ اب جب”( تَوَاصَوْابِالْحَقِّ ) “ہے اور اس پر ہمارا عمل ہے تو ہم یں نہ ”( اٰمَنُوْا ) “ سے مطلب نہ ”( عَمِلُوْاالصّٰلِحٰت ) “سے غرض، نہ ”( تَوَاصَوْابِالصَّبْرِ ) “سے مطلب۔ صرف”( تَوَاصَوْابِالْحَقِّ ) “د یکھئے۔کتنا عمدہ ہوجاتا ہے ، کتنی عمدہ ہم تقریر کرلیتے ہیں، حق کی دعوت دیتے ہیں۔

اب اس کے بعد جانچ نہ کیجئے گا ہمارے کسی اعتقاد و عمل کی۔ اب اس کے بعد”( تَوَاصَوْابِالصَّبْرِ ) “۔ ا یک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ اب جو مطلب صبر کا ہم سمجھیں۔ کسی کو آنسو بہاتے ہوئے دیکھا ، کہا: خبردار! صبر کرو، آنسو بہانا خلافِ صبر ہے۔زبان سے آہ سنی، انہوں نے کہا: ہائیں! خلافِ صبر ہوگیا۔اب عمر گزری دعوتِ صبر دیتے ہوئے۔ اب آپ ہم سے ایمان بھی چاہتے ہیں، عمل صالح بھی چاہتے ہیں، وصیت حق بھی چاہتے ہیں۔ اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ ہم نے تو صبر کے شعبہ کو لیا ہے۔ وصیت صبر دوسروں کو کرتے ہیں، چاہے خود کتنے ہی بے صبرے کیوں نہ ہوں۔

تو اب جب یہ سب میں نے عرض کردیا تو آپ میں سے کسی کا ضمیر یہ قبول نہیں کرتا کہ یہ ٹھیک ہے۔ ”( اَوْ ) “، ”( اَوْ ) “ کہنے کے بعد تو یہ آسانیاں ہوتیں لیکن اب میں کیا کروں کہ وہاں تو ہے:

( اٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْبِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْابِالصَّبْرِ )( )

سب خسارہ میں ہیں سوا ان کے جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں اور ایک دوسرے کو حق کی ہدایت کریں اور ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں۔

اب ”اور“ کے معنی ہوتے ہیں مطالبہ اجتماع۔ میں کہوں کہ آپ اور آپ کل تشریف لائیے گا تو میں آپ سے ایک خاص بات کہوں گا۔ اب دوسرے دن اکیلے آپ آئے ہیں۔ میں کہوں گا جناب! میں نے تو کہا تھا کہ آپ اور آپ ۔اب وہ شرط تو پوری نہیں ہوئی۔

وصیت حق بھی ہو بقدرِ ضرورت۔ یہ ضرورت نہیں ہے کہ وہ منبر پر جاکر ہی خطبہ پیش کرسکے، نہیں۔جیسی زبان سے ، جیسے انداز سے وہ حق کی طرف دعوت دے سکتا ہو، اس انداز سے وہ دعوت دے اور”( تَوَاصَوْابِالصَّبْرِ ) “، دوسروں کو بھ ی صبر کی دعوت دے۔ اگر مزید کہیں بیان ہوا تو عرض کروں گا کہ صبر کی دنیا کتنی وسیع ہے۔ اس میں کتنی چیزیں داخل ہوتی ہیں۔ تو اب یہ تمام چیزیں ہوں تو خسارے سے بچاؤ اور اگر ان میں سے ایک بھی نہ ہو تو آئینی طور پر تو حکمِ سابق بحال۔ ہاں تفضل خالق پر مجھے پہرہ لگانے کا حق نہیں۔ خسارے سے بچنے کا استحقاق نہیں ہوسکتا۔

تو چاروں ہوں ،ایمان بھی، عمل صالح بھی، ایک دوسرے کو حق کی ہدایت بھی اور ایک دوسرے کو حق کی تلقین بھی، یہی ”تَوَاصَوْابِالصَّبْر “جو ہے، وہ امربالعمروف اور نہ ی عن المنکر ہے کہ جس راستے کو تم صحیح سمجھتے ہو، تو دوسرے کو بھی اس کی دعوت دو۔دوسرا کوئی غلط راستے پر جارہا ہے تو اُس کو بتاؤ کہ یہ غلط راستہ ہے۔ اُسے روکنے کی کوشش کرو۔ یہ سب چیزیں ”( تَوَاصَوْابِالصَّبْر ) “کے تحت ہ یں۔ تو یہ سب باتیں ہر آدمی کا فریضہ عینی ہیں کہ ایمان بھی شرط، عمل صالح بھی شرط، حق کی طرف ہدایت بھی شرط اور صبر کی تلقین بھی شرط۔ یہ تمام چیزیں بحیثیت مجموعی شرائط میں سے ہیں، خسارے سے بچنے کیلئے۔

جب میں غور کرتا ہوں تو یہ سب اوصاف آپس میں دست و گریباں نظر آتے ہیں۔ ایمان اور عمل صالح میں باہمی تعلق کیا ہے؟وہ تو وہ ہے کہ ہمارے علماء نے بچوں تک کو سکھانے کے واسطے محاورہ قائم کیا ہے،اصولِ دین اور فروعِ دین۔کیا معنی؟ بچوں کو معنی بھی اس کے بتائے جاتے ہیں۔اصولِ دین: دین کی جڑیں۔ فروعِ دین: دین کی شاخیں۔اب جڑ اور شاخ میں جو باہمی تعلق ہے، وہ اصولِ دین اور فروعِ دین میں ہے۔ اصولِ دین کو دیکھئے تو وہ نمایاں طور پرعقائد کا مجموعہ ہے اور فروعِ دین کو دیکھئے تو وہ تمام اعمال کا مجموعہ ہے۔ گویا وہ ”( اٰمَنوْا ) “کے ل فظ کی تشریح ہے اور یہ ”عملواالصلحٰت“کے لفظ کی تمثیل ہے۔دونوں جیسے وہاں برابر کے جملے، ویسے ہی یہ دونوں برابر کے حکم، اصولِ دین اور فروعِ دین۔

تو اب یہ جڑیں اور شاخیں۔ ان کی خصوصیات دیکھئے۔ جڑیں عموماً پردئہ زمین میں تہہ خاک پھیلتی ہیں۔ اس کے رگ و ریشے زیر زمین پھیلتے ہیں ۔ آنکھوں کے سامنے جو ہوتی ہیں، وہ شاخیں ہوتی ہیں۔ یونہی عقائد حقہ دل و دماغ کی اندرونی زمین میں ، ان کے رگ و ریشہ میں پھیلتے ہیں اور اعمالِ صالحہ ہے جو شاخوں کی صورت میں اعضاء و جوارح سے نمودار ہوتے ہیں۔ تو اب صدقِ دل سے سوچئے کہ اگر شاخیں خشک ہیں یا وجود ہی نہیں رکھتیں تو کیا اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جڑیں ہی کمزور ہیں یا وجود ہی نہیں رکھتیں۔

ارے جناب! آثار سے موثر پہچانا جاتا ہے۔ نتائج کو دیکھ کر اسباب کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ جب شاخیں نظر نہیں آرہی ہیں تو لازمی طور پر ماننا پڑے گا کہ دل و دماغ کی زمین میں اصول نہیں ہیں۔ اب اگر عقائد حفظ ہیں تو یہ باپ دادا کے سکھائے ہوئے زبان پر ہیں اور اگر افعال اس کے مطابق ہیں ، وہ رسم و رواج کے ماتحت ہیں۔ ورنہ اگر دل و دماغ کی تہوں میں وہ تصورات مضمر ہوں تو ممکن ہی کیونکر ہے کہ اعضاء و جوارح سے اس کی زندگی کا اثر نمودار نہ ہو۔

اب ہر ایک اندازہ کرے کہ جب شاخیں افسردہ ہوں ، پژمردہ ہوں تو کیا پانی لا کر اس میں شاخوں کو ڈبویا جاتا ہے؟ کچھ نہیں ہوگا۔ شاخیں اگر کمزور ہیں تو جڑ کی خبر لیجئے۔ جو کچھ پانی دینا ہو تو جڑ کو دیجئے۔ جب اس میں زندگی ہوگی تو خود بخود شاخیں پید اہوجائیں گی۔ یاد رکھئے کہ اگر صحیح مصرف میں استعمال ہوں تو یہ ہماری مجالس جڑوں ہی میں پانی دینے کیلئے ہیں۔

مگر وہی بات ہے کہ اگر ہم مجالس بھی کررہے ہیں او رپھر بھی شاخیں خشک ہی نظر آرہی ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری مجالس رسمی طور پر ہیں۔ ہماری مجالس بھی اس مقصد کو حاصل نہیں کررہی ہیں جو مقصد اِن مجالس کا تھا۔ یہ تو اس صور ت میں ہے کہ جب اصل پژمردہ ہے۔ یہ ثابت ہوگیا کہ شاخوں کے پژمردہ ہونے سے یا شاخوں کے نہ ہونے سے اور اگر اصل نہیں ہے یعنی ایمان دل و دماغ کے اندر نہیں ہے اور شاخیں ہیں بڑی تروتازہ، بڑی گھنی، تو یاد رکھئے کہ پھر یہ شاخیں نمائشی ہوں گی۔ وہ شاخیں جو اصل سے متصل نہیں ہیں، وہ شاخیں نمائشی ہوں گی اور نمائشی شاخوں کی خاصیت ہے کہ بیکار نہیں ہوتیں۔وہ نمائشی شاخیں بھی زینت چمن کا کام دیتی ہیں۔ رونق گلزاراِن سے ہوجاتی ہے۔ لیکن یاد رکھئے کہ وہ حوادثِ زمانہ کے تیز و تند جھکڑکو برداشت نہیں کرسکتیں۔ متوازن حالات رہیں تو وہ شاخیں لگی رہیں گی، برقرار رہیں گی اور ذراا گرکٹھن منزل ہوئی ، کوئی انقلاب کا سخت جھونکا آیا تو وہ شاخیں تتر بتر ہوجائیں گی۔کوئی کہیں ، کوئی کہیں ۔ معلوم ہوگیا کہ شاخیں تھیں مگر جڑیں نہیں تھیں۔

تو حضورِ والا! یہ ہوں گی وہ شاخیں جو بغیر اصول ہوں اور دوسری خاصیت یہ ہے کہ چمن کی رونق ہو جائے گی، زینت کاشانہ ہو جائے گی لیکن ان شاخوں سے ثمرحاصل نہیں ہوسکتا۔ ثمر انہی شاخوں سے حاصل ہوسکتا ہے جن کا تعلق جڑوں سے ہو۔ پھر جیسی شاخیں ہوں، اگر پژمردہ ہیں تو ثمر بھی اس کے پژمردہ ہوں گے۔ اگر زندہ شاخیں ہیں تو ثمر بھی زندہ ہوں گے۔تو ثمر ان شاخوں سے نہیں مل سکتے جو بغیر اصول ہوں۔ مگر اصل سے بھی ثمر ملے گا تو شاخوں کے ذریعہ ہی ملے گا۔

اسی بناء پر دیکھئے جو جو چیزیں ہیں۔ جنت ہے، ہر مسلمان کی تمنا اور نعماتِ جنت ، وہ سب جنت کے ساتھ ، حوروقصور ، کوثر و تسنیم۔ جو کچھ بھی ہے، سب کچھ۔ جنت بھی ہری بھری چیز ہے اور تمناؤں کے سبز باغ بھی ہرے بھرے ہیں۔ توکون مسلمان ہے جو ان سبز باغوں کو نہیں دیکھ رہا ہے۔ جنت وہاں دیکھے گا، سبز باغ یہاں دیکھ رہا ہے۔ وہاں کی خبر خدا جانے، یہاں کی خبر خود اس کے ہاتھ میں ہے کہ تمنائیں ہیں، آرزوئیں ہیں، ہر ایک مسلمان کی۔بہشت، عنبر، سرشت، کس مسلمان کی آرزو نہیں مگر میری ایک کتاب بھی نکلی ہے”وعدئہ جنت“۔ اس میں ۹۳ آیتیں قرآن مجید کی جمع کرکے میں نے پیش کی ہیں کہ ہر جگہ جنت کا وعدہ عمل صالح کے ساتھ مشروط ہیں اور کوئی ایک آیت مجھے نہیں ملی جس میں تنہا ایمان پر عمل صالح کے بغیر جنت کا وعدہ ہو۔

تو صاحب! جس کے ہاتھ میں جنت ہے، اُس نے وعدہ تو ان دو شرائط کے ساتھ کیا ہے۔ اب ہم کس دستاویز سے جنت کا مطالبہ کریں گے؟ تو ایمان اور عمل صالح دونوں درکار ہیں۔ اب مسلمان بہرحال سہولت پسند آدمی ہے۔ لہٰذا تمام مسلمانوں نے متفقہ طور پر اپنا لقب اُمت مرحومہ رکھ لیا ہے۔بحیثیت مسلمان ہمارا محاورہ ہے۔ بحمدللہ اُمت مرحومہ میں سے ہونے کا میں بھی دعویدار ہوں۔تو سب اُمت مرحومہ۔پوری اُمت، اُمت مرحومہ۔تو دل کو لگتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ رحمة للعالمین کی بدولت ہم سب اُمت مرحومہ قرار پاتے ہیں۔ تو یہ جبھی تو ہوگا کہ جب ہمارا اور رحمة للعالمین کا راستہ ایک ہو۔ یعنی جس طرح ان کا رُخ ہے، ہمارا رُخ بھی اسی طرف ہو۔ تب تو جو رحمت الٰہی کی گھٹا اُٹھے گی اور ان پر برسے گی، تو کچھ نہ کچھ ہم تک بھی آجائے گی۔لیکن اگر خدانخواستہ ہمارا اور ان کا راستہ الگ ہوگیا ، وہ اُدھر جارہے ہیں اور ہم اِدھر جارہے ہیں، تو اب بتائیے رحمت الٰہی آئے گی تو اُدھر جائے گی یا اِدھر آئے گی؟پھر یہ کہ اُمت ہونا ایک رشتہ ہی تو ہے۔ تو اگر ہم خود کو رسول کی اُمت کہیں تو رسول بھی تو ہمیں اپنی اُمت مانیں ورنہ یک طرفہ دعویٰ ہوگا۔ ہم لاکھ کہہ رہے ہیں کہ ہم رسول کی اُمت ہیں اور پیغمبر ہمیں اپنی اُمت نہیں سمجھتے۔رسول کی زبانی ایک اعلان ہے:

مَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّه مِنِّی “۔

”جو میری پیروی کرے، وہ مجھ سے تعلق رکھتا ہے“۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ جو پیروی نہ کرے، وہ مجھ سے تعلق ہی نہیں رکھتا۔ تو اُمت ہونے کا کیا ذکر؟ اس کے بعد ایک سخت تر منزل ہے۔ نازک تر منزل۔وہ یہ کہ پیغمبرخدا فرمابھی دیں ”میری اُمت“، تو اللہ بھی تو مانے پیغمبر کی اُمت۔چونکہ نجات اُس کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی کہے کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ پیغمبر خدا فرمائیں میری اُمت اور اللہ اس کونہ مانے۔ اُن کی اُمت نہ سمجھے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہ نہیں ہوسکتا تو حضرت نوح بھی تو پیغمبر تھے اور اولوالعزم پیغمبر تھے۔ وہ بارگاہِ الٰہی میں کہہ رہے تھے:

( اِنَّ اِبْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ ) “۔

”میرا بیٹا میرے اہل سے ہے“۔

دُہری دُہری نسبتیں اپنی طرف دے رہے تھے۔ بیٹا ہونے ی نسبت بھی، میرا بیٹا۔ دوسری نسبت اہل کی کہ میرا اہل۔ تو خالق نے پہلی نسبت کی نفی نہیں فرمائی،یہ نہیں فرمایا کہ :

( اِنَّه لَیْسَ بِاِبْنِکَ ) “۔

”یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے“۔

وہ نسبت برقرار۔ یعنی بے شک ہے تمہارا بیٹا لیکن:

( اِنَّهُ عَمَلٌ غَیْرُصَالِحٍ ) “۔

”یہ اعمال اچھے نہیں رکھتا“۔

معلوم ہوا کہ عمل غیر صالح ایسی چیز ہے جو بیٹے کو اہل سے خارج کردیتا ہے۔ تو اُمت ہونا کیا چیز ہے؟ اب یوں ماشاء اللہ آپ کی محبت اور توجہات اور پھر احساس اور شعور بھی ایک حد تک بیدار ہوگیا ہے۔کارآمد چیزیں بھی کبھی کبھی سن لینی چاہئیں اور آپ سن رہے ہیں۔ لیکن یہ کہ وہ بہت تلخ باتیں ہیں جو ابھی تک کرتا رہا ہوں۔ اب ذرا ذہن آپ کا متوجہ کردوں، آپ کے ایک مطلوبہ شیعہ بیان کی طرف،وہ بھی حقیقت ہے اور حق ہے۔ میں کہتا ہوں جس رسول کی زبانی یہ اعلان ہوا کہ بیٹااس لئے اہل نہیں ہے کہ اس کے اعمال صحیح نہیں ہیں، تو اب رسول اگر سبز چادر کے نیچے لے کر کسی کو اگر کہے گا کہ پروردگار! یہ میرے اہل ہیں تو وہ صرف رشتہ داری کی بناء پر نہیں ہوگا۔ وہ ان کے عمل کے معیار کو دیکھ کر ہوگا۔

تو حضورِ والا! میں نے قرآن سے مثال پیش کردی ہے اور ہم میں ہر فرد بحمدللہ مسلمان ہے اور قرآن کو مانتا ہے۔لہٰذا شاید لاجواب تو ہوجائے، کہے کچھ نہیں۔ لیکن یہ بات حلق سے اُترے گی نہیں یعنی دین میں کچھ ایسے ہوگا کہ ہاں!حضرت نوح تک تو یہ ہوگیا۔ اب کیا کریں قرآن میں ہے تو ماننا پڑے گا کہ ایسا ہوگیا۔ لیکن ہمارے رسول کہیں میری اُمت اور پھر اللہ نہ مانے ان کی اُمت۔ یہ کیونکر ہوسکتا ہے؟ایک مسلمان کا دل شاید اب بھی قبول نہ کرے۔ مگر آئیے ہمارے اور آپ کے رسول ، صحاحِ ستہ میں، یہ لفظ اعتما دکیلئے کافی ہے۔ اس کی وقعت جمہورِ اُمت میں مسلّم ہے۔ پھر صحیحین ، اور مرتبہ اونچا ہوا اور ان میں بھی صحیح بخاری۔ یوں تو تمام صحاح کی متفقہ ہے مگر صحیح بخاری میں مختلف ابواب میں بمناسبت، تیرہ جگہ یہ حدیث موجود ہے۔ اب میں الفاظِ حدیث پڑھ رہا ہوں، چونکہ تیرہ جگہ ہے یہ حدیث،لہٰذا کسی راوی نے کسی لفظ کو کسی طرح کہا ہے، کسی نے کسی طرح۔ مگر مضمون ایک ہی ہے اور جو الفاظ مجھے یاد ہے، وہ صحیح بخاری میں بھی ہیں۔ وہ پڑھ رہا ہوں کہ پیغمبر خدا ارشاد فرمارہے ہیں:

یَرِدُ عَلَیَّ اُنَاسٌ مِنْ اُمَّتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ “۔

صحاحِ ستہ کا لفظ تو وقعت پیدا کرنے کیلئے ہے ور نہ شہرتِ عام کے لحاظ سے کہہ رہا ہوں کہ مشکوٰة شریف میں بھی ہے جو نصاب میں بھی داخل ہے۔اُمت کے کورس میں ہے۔

”میرے پاس روزِ قیامت میری اُمت کے کچھ افراد لائے جائیں گے“،

اُمتی کا لفظ سب کیلئے ہے۔ بلا استثنیٰ پوری جماعت کیلئے اُمتی کا لفظ ہوگیا۔ رسول کی طرف سے نسبت ہوگئی۔ مگر اب کیا ہوتا ہے؟

”میری اُمت میں سے کچھ لوگ میرے پاس لائے جائیں گے“۔

یاد رکھئے وہ عام برتاؤ جو ہے مسجد میں آنے دینا، اپنے پہلو میں بیٹھنے کی اجازت دینا، اپنے گردوپیش انہیں وقت دینا، جتنا وقت چاہیں، صرف کریں، وہ سب رسالت کے فریضہ کا آئین ہے جس میں اسبابِ ظاہری پر حکم مبنی ہوتا ہے اور یہ قیامت کے سلسلہ میں جو بات ہے، وہ علم غیب پر مبنی ہے جو اللہ کا دیا ہوا ہے۔ٹکرائیے گا کہ یہاں تو یہ کہہ رہے ہیں ، وہاں اپنی جماعت میں شامل کئے ہوئے تھے۔ وہ ان کے آئین کا تقاضا ہے، یہ ان کے علم کا تقاضا ہے۔ فرمارہے ہیں:”میرے پاس روزِ قیامت میری اُمت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے“، کہاں؟ حوضِ کوثر پر۔ جس اُمید سب کو ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی کسی کو ساقی کہے، کوئی کسی کو کہے۔ مگر پیاس سب کو ہے، تشنگی بھی سب کو ہے۔تو جناب! حوضِ کوثر پر میرے پاس میری اُمت میں سے کچھ لائے جائیں گے۔ آئیں گے یا آنا چاہیں گے؟ظاہر ہے کہ حوضِ کوثر پر کیوں آئیں گے؟ اس لئے کہ پیاسے ہیں۔ اس لئے کہ پانی کے طلبگار ہیں۔

فَیُحَالَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَهُمْ “ ۔

”لیکن میرے اور ان کے درمیان حائل ہوجایا جائے گا“۔

یعنی کچھ رکاوٹیں بیچ میں ڈال دی جائیں گی۔ اب پردے پڑجائیں۔ فرشتوں کی صفیں بیچ میں حائل ہوجائیں، کیا ہو؟ اللہ جانے۔

پیغمبر نے صحیفہ مجہول استعمال فرمایا ہے ۔”فیحال“حائل سے۔ سد راہ۔”بینی و بینھم“، میرے اور ان کے درمیان حائل ہوجایا جائے گا۔ نتیجہ یہ ہے کہ پہنچنے نہ دیا جائے گا۔

فَاَقُوْلُ یَارَبِّ اَصْحَابِیْ اَصْحَابِیْ “۔

”میں کہوں گا: پروردگار! یہ تو میرے اصحاب ہیں، میرے اصحاب ہیں“۔

او ر کہوں گا:

یَارَبِّ اَصْحَابِیْ اَصْحَابِیْ ثَلا ثاً“۔

تین مرتبہ کہوں گا”فَیُقَالُ“، مگر کہا جائے گا:

”آپ تو آئین کے پابند رکھے گئے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا ہے؟یہ لوگ پچھلے پیروں اپنے پرانے طریق پر پلٹ گئے تھے“۔

اب دیکھا آپ نے رسول دہری دہری نسبت دے رہے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہیں، یہ اس لائق نہیں ہیں کہ آپ تک پہنچیں۔تو اب رسول ہمیں اپنی اُمت کہہ دیں ، اللہ اسے نہیں مانتا، کیا کیا جائے؟ تو یہ تو اُمت مرحومہ کے تصورات کا جائزہ تھا۔ اب اُمت مرحومہ میں سے ایک فرقہ نے اپنا لقب ناجیہ قرار دے لیا ہے۔ وہ فرقہ جو بحیثیت جماعت نجات کا حقدار ہے۔ تو میں نے اُمت مرحومہ سے جرح کی۔فرقہ ناجیہ ہونے کا بھی بحمد للہ مجھے ادعا ہے۔اس کو یونہی چھوڑدوں، ان سے جرح نہ کروں کہ آپ کو کیا حق ، صرف آپ فرقہ ناجیہ کیسے ہوگئے؟ جیسے اُمت مرحومہ کی نمائندگی میں مَیں نے اس کی وجہ بیان کی تھی۔لہٰذا اس کی وجہ بیان کرنے کا بھی حق ہے اور یہ بہت طاقتور وجہ ہے۔ میرے سامنے پیغمبر خدا کی دو حدیثیں ہیں اور دونوں متفق علیہ۔ ایک حدیث میرے گزشتہ بیان کی بھی دلیل ہے اور وہ متواتر ہے:

سَتَفْتَرِقُ اُمَّتِیْ عِلٰی ثَلاثٍ وَسَبْعِیْنَ فِرْقِةِ کُلُّهُمْ فِی النَّارِاِلاَّوَاحِدَةٌ “۔

”میری اُمت کے تہتر فرقے ہوں گے“،

دیکھئے! اُمتی کی نسبت سب کیلئے ہے۔ گزشتہ حصہ بیان سے بھی متعلق ہے۔یہ نہیں ہے کہ آدمیوں کے تہتر گروہ ہوں گے۔ اُمتی۔

”میری اُمت کے تہتر فرقے ہوں گے”کُلُّهُمْ فِی النَّارِ اِلَّاوَاحِدَةٌ “، سب دوزخ میں ہوں گے سوائے ایک کے“۔

ایک کون؟ یعنی ایک فرقے کے ۔ ۷۳ فرقے ہوں گے، سب آگ میں ہوں مگر بس ایک۔اس حدیث سے بھی ہم سمجھے کہ صرف اُمت ہونا کافی نہیں ہے۔ اُمت کا وہ ایک فرقہ ہونا چاہئے۔ یہاں سے تو فرقہ کا لفظ آیا۔ خود ساختہ نہیں ہے۔

اب ہر صاحب عقل غور کرے کہ جس رسول نے یہ بتا دیا کہ ۷۳ فرقے ہیں اور سب دوزخ میں مگر ایک۔ اسی رسول کا تو یہ فرض بھی ہے کہ اس ایک کی کچھ پہچان بتائے۔ صدقِ دل سے ہر مسلمان۔ صبروسکون کے لمحات میں غور کرے جو عرض کررہا ہوں کہ اگر پیغمبر نہ بتائیں تو ہر مسلمان کو دامن تھام کر اس مطالبہ کا حق ہے کہ آپ نے یہ تو بتا دیا کہ ۷۳ فرقے ہیں، ڈرا تو دیا کہ بس ایک نجات کا حقدار ہے اور اس ایک کی پہچان اب بتا نہیں رہے۔یہ کہہ دیا کہ چوراہا ہ اور ایک راستہ کی پہچان نہ بتائی، چہ جائیکہ ہفتاد و سہ راہا۔ آپ وہاں ہمیں چھوڑ کر جارہے ہیں اور یہ بتاکر نہیں جاتے کہ وہ ایک آخر کون ہے؟ تو یہ ہر مسلمان کو حق ہے کہ وہ پیغمبر سے پوچھے اور اگر کوئی ضعیف روایت بھی نہ ملے کہ کسی نے پیغمبر سے نہ پوچھا ہو تو ماننا پڑے گا کہ پیغمبر نے بتایا۔

اب جو بحمدللہ مجھے معلوم ہے ، وہ میں بتاؤں تو یا دنیا اُسے تسلیم کرے یا خود بتائے کہ کیا بتایا۔ مجھے جو معلوم ہے، وہ بھی متفق علیہ حدیث ہے کہ پیغمبر نے اس ایک کی پہچان بتائی:

’مَثَلُ اَهْلُبَیْتِیْ کَمَثَلِ سَفِیْنَةنُوْحٍ مَنْ رَکَبَهَانَجٰی وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَاغَرِقَ وَهَوَا

”میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی کی سی ہے ، جو اس پر سوار ہوا، اُس نے نجات پائی اور جس نے تخلف کیا، وہ ڈوبا اور گیا“۔

کوئی کہے کہ یہ کیا ترجمہ ہوا؟ ”تَخَلُّفْ “ کا ترجمہ”تَخَلُّفْ “، عرب ی سے عربی۔ میں عرض کروں گا کہ میں کیا کروں ، مجھے اُردو میں لفظ نہیں ملا۔ لہٰذا جملوں سے سمجھاؤں گا کہ جو کشتی پر بیٹھاہی نہیں یا بیٹھ کر کہیں اُتر گیا۔اب میں ”تَخَلُّفْ “کا منف ی لفظوں میں اس تشریح کے بعد ترجمہ بھی کرسکتا ہوں کہ ”مَن تَخَلُّفْ “جو اس کشت ی پربیٹھانہ رہا، وہ غرق ہوا، وہ ڈوبا اور ختم ہوا۔جو بھی تفسیر کرلیجئے۔

تو جناب! وہاں سے فرقہ کا لفظ آیا اور یہاں سے ناجیہ کا لفظ آیا۔ جو کشتیِ اہل بیت پر سوار ہوا، اس جماعت کو یقینا فرقہ ناجیہ کہلانے کا حق حاصل ہے۔ مگر اب سوال یہ ہے کہ کشتی پر بیٹھنے کے کیا معنی ہیں؟ یہاں کوئی جسمانی کشتی تو ہے نہیں، نہ (معاذاللہ) اس طرح کابیٹھنا ہے۔ وہ تو مذمت کا پہلو ہے۔ یہ تو کوئی عمل ہے جس کو استعارہ کے طور پر کشتی میں بیٹھنا کہا گیا ہے۔استعارہ کی بنیاد تشبیہہ پر ہوتی ہے۔ تشبیہہ میں ایک مشبہ ہوتا ہے۔ جس کو تشبیہہ دی اور ایک مشبہ بہ ہوتا ہے جس سے تشبیہہ دی اور ایک مشترک چیز ہوتی ہے دونوں میں کہ جو اس میں بھی ہے ، اُس میں بھی ہے۔ وہ وجہ شبہ کہلاتی ہے۔ آدمی کو کہہ دیا شیر تو یہ آدمی حقیقت میں شیر تو ہے نہیںَ شیر کیوں کہا؟ استارہ کے طور پر کہا ہے۔ یعنی شجاعت ایک مشترک چیز ہے۔ جو شیر کی بھی نمایاں چیز ہے اور اس انسان میں بھی نمایاں چیز ہے۔ لہٰذا شیر کہہ دیا۔تو مشترک جو چیز ہو ،وہ وہ ہوتی ہے شبہ۔ تو اب کوئی بات ایسی ہے جو ہمارے کسی عمل اور کشتی پر بیٹھنے میں مشترک ہے۔۔

اب تلاش کرنا ہے۔ کشتی پر بیٹھنے میں کیا خاص بات ہوتی۔ تو کوئی کہے کہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ جاتے ہیں، کشتی پربیٹھ جاتے ہیں۔ جہاز ہو، کچھ بھی ہو۔ بہ اختلافِ زمانہ جو چیز بھی ہو، اس پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس میں کیا ہوتا ہے؟ یہ عجیب سوال ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میرے اس تجزیہ سے شاید آپ محسوس کریں کہ میرا مطلب کیا ہے۔ کشتی پر بیٹھنے سے کیا ہوتا ہے؟ آپ ساحل پر کھڑے ہیں اور کشتی دریا میں جارہی ہے۔ آپ ساحل ہی سے کھڑے کھڑے کہنے لگے کہ کتنی اچھی کشتی ہے! کتنی عمدہ کشتی ہے! کتنی حسین کشتی ہے، کتنی جمیل کشتی ہے! اگر واقعی حسین ہے تو یہ آپ کی تعریف اس لئے صحیح ہے کہ آپ اچھے کو اچھا کہہ رہے ہیں۔ اچھا نہ کہتے تو ظلم ہوتا۔اس ظلم سے بحمدللہ بری ہیں۔ اچھے کو اچھا کہہ رہے ہیں۔ لیکن یہ تعریفیں کرنا کشتی پر بیٹھنا تو نہیں ہے۔ساحل پر کھڑے ہوکر کہنے لگے کہ ہم اس کشتی کو بہت چاہتے ہیں۔ ہمیں اس سے بہت محبت ہے۔ میں کہتا ہوں کہ محبت نہ ہوتی تو آپ کی تعریف صحیح نہ ہوتی۔ محبت ہونا اس کا تقاضائے حسن ہے، آپ کا کمال نہیں ہے۔اگر کشتی حسین ہے تو آپ کو محبت ہونی چاہئے۔ یہ محبت بھی بالکل صحیح ہے لیکن ساحل پر کھڑے کھڑے کشتی سے محبت رکھنا بھی کشتی میں بیٹھنا تو نہیں ہے۔

تیسری نازل تر منزل آئی۔ وہ جزو تو محفوظ ہے کہ ہم ساحل پر کھڑے ہیں اور کشتی دریا میں ہے۔ اب وہ کشتی بادِ مخالف کے تھپیڑوں میں پڑی، وہیں ساحل پر کھڑے کھڑے ہم آنسو بہانے لگے کہ افسوس! ایسی حسین کشتی تباہ ہورہی ہے۔میں کہتا ہوں یہ آنسو قابلقدر ہیں، اس لئے کہ دردِ دل کی دلیل ہیں۔ یہ مقتضائے انسانیت ہیں۔ مگر ساحل پر کھڑے کھڑے یہ آنسو بھی کشتی پر بیٹھنا نہیں ہیں۔وہ سوال اپنی جگہ پر رہا کہ کشتی پربیٹھنے میں کیا ہوتا ہے۔ جو میری سمجھ میں آیا ہے، وہ یہ کہ جب جاکر کشتی پر بیٹھ گئے تو اپنی ذاتی حرکت کچھ نہ رہی اور اپنا ذاتی سکون بھی کچھ نہ رہا۔ کشتی چلے تو ہم چلے، کشتی رُکی تو ہم رُکے۔یہ معنی ہیں کشتیِ اہل بیت پر بیٹھنے کہ کہ اپنے حرکت و سکون کو تابعِ اہل بیت بنادیا۔اگر اس معنی سے کشتیِ اہل بیت پر بیٹھنا ہے تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کشتی منزل پر پہنچے او ریہ شخص نہ پہنچے، اگر کہیں اُتر نہیں گیا ہے۔

میں کہتا ہوں نجات تو ایک عام لفظ ہے، نجات سے انسان کو پورا تصور کہاں ہوتا ہے۔میں کہتا ہوں کہ اگر کشتیِ اہل بیت پر سوار ہیں تو جہاں کشتی پہنچے گی، وہاں ہم پہنچیں گے۔ یہ کہا ہے معصوم نے کہ:

شِیْعَتُنَافِیْ دَرَجَتِنَایَوْمَ الْقِیَامَةِ “۔

”ہمارے شیعہ یومِ قیامت ہمارے درجہ میں ہوں گے“۔

اب ظاہر ہے کہ کوئی عظیم آدمی کہیں جاتا ہے تو اس کے ساتھ بہت سے اس کے تابعین ہوتے ہیں،اس کے ہمراہی کے طور پر۔ تو جس مکان میں اس کا قیام ہوگا، اسی مکان میں ان کا قیام کروایا جائے گا۔یہ اس کے اعزاز کا تقاضا ہے۔ وہاں جاکر یہ اس کے برابر نہیں ہو جائیں گے۔ جب اس کی بدولت یہ ٹھہرائے جارہے ہیں تو پھر بھی اصل تو وہی رہے گا۔ ان کا اعزاز تو تابع ہونے کا ہے۔ ان کا متوسل ہونے کا اعزاز ہے۔ شیعہ کے معنی ہی ہیں اتباع کرنے والے۔

تو جناب بس! ایک عام بات کہ پانی پیاس بجھاتا ہے، کاغذ پر پانی کا نقش نہیں۔ روٹی پیٹ بھرتی ہے، روٹی کا نام نہیں۔اسی طرح بلا شبہ محبت اہل بیت نجات کی ضامن ہے۔مگر محبت اہل بیت ہوتو۔ جس کا نام محبت ہے، حقیقت وہ ہے۔ اب دیکھئے کہ ہم محب اہل بیت زیادہ یا سلمان فارسی؟ ہم محب اہل بیت زیادہ یا ابوذر غفاری۔ہم محب اہل بیت زیادہ یا حبیب ابن مظاہر۔خدا کی قسم! ہم میدانِ محبت میں ان کے قدموں کی خاک تک بھی تو نہیں پہنچ سکتے۔ مگر یہ دیکھئے کہ جتنا محبت اہل بیت کادعویٰ زیادہ تھا، اتنا ہی انہماک عبادتِ الٰہی میں ان کا زیادہ تھا یا نہیں؟ اتنی ہی عبادتِ الٰہی میں ان کی سرگرمی زیادہ تھی یا نہیں؟ یہاں تک کہ وہ عام زندگی تو ایک طرف، نماز بھی جیسی کربلا میں ہوئی ہے، ایسی تاریخ عالم میں کہیں نہیں ہوئی۔

یوں تو ایک عام اصول یہ ہے کہ ذرا پریشانی کا وقت ہو تو آدمی کچھ شرع کی رعایتوں کا فائدہ اٹھائے گا۔ آدمی اوّل وقت نماز پڑھنے کا عادی ہے تو خدا نخواستہ اگر کسی مریض کی طبیعت گھر میں خراب ہوئی، ابھی ڈاکٹر آیا ہے، آج اوّل وقت نماز نہیں ہوئی، قضا نہیں ہونے پائی۔دیر سے ہوئی۔ بعد میں افسوس کیا کہ دیکھو! اتنے برس سے میں اوّل وقت نماز کا پابند تھا لیکن آج اس وقت پڑھ رہا ہوں۔تو کوئی معترض نہیں ہوگا۔ ہر ایک ہمدرد ہی ہوگا کہ بے شک ہنگامی حالات کا تقاضا یہی تھا۔ کوئی شخص ہے نوافل کا پابند ہے،خدانخواستہ کوئی جنازہ گھر سے نکل رہا ہے، اس دن واجب نماز ہی پر اکتفا ہوگئی۔ بعد میں افسوس کیا کہ دیکھو! آج نوافل نہیں پڑھ سکا۔ کوئی ہرگز معترض نہیں ہوگا۔ ہمدردی محسوس کرے گا۔

مگر امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں یہ مثال قائم کی کہ جتنا وقت سخت ہو، اُتنا عبادتِ الٰہی میں اضافہ کردو، کمی نہ ہونے پائے۔یوں تو یہ آلِ رسول تھے۔ ہر ایک ان میں سے نمازِ تہجد کا پابند تھا مگر خود پیغمبر خدا کو خالق کی ہدایت یہ ہے کہ پوری رات جاگنے کی ضرورت نہیں:

قُمِ اللَّیْلِ اِلَّا قَلِیْلًا “۔

نصف شب یا کم و بیش عبادت کیجئے، باقی آرام کیجئے۔عموماً آلِ رسول کا بھی یہی عمل تھا۔ لیکن جو زندگی کی آخری رات ہے، اور ابھی اس رات کی مزید قدر بتاؤں کہ وہ رات جو مانگ کر حاصل کی گئی ہے۔ پہلے ہی امام نے اس رات کے مانگنے کا مقصد بتادیا تھا۔ جب ابوالفضل العباس سے کہا کہ جاؤ، ان سے ایک رات کی مہلت لو۔ طبری کے صفحات پر بھی یہ الفاظ ہیں:

اَللّٰهُ یَعْلَمُ اِنِّیْ اُحِبُّ الصَّلوٰة وَذِکْراً لَه “۔

”خدا ہی جانتا ہے کہ اس کی نماز اور عبادت سے مَیں کتنی محبت رکھتا ہوں“۔

یاد رکھئے کہ فطرتِ محبت ہے کہ اپنا محبوب جس شے سے محبت رکھتا ہو، اُس سے اس کو بھی محبت ہو۔یہ تو نئی محبت ہماری ہوگی کہ ہم حسین سے محبت کا دعویٰ کریں اور نماز سے ہم کو محبت نہ ہو۔ نماز سے فرار ہو۔ اس کے معنی ہیں کہ محبت کا بھی دعویٰ ہمارا غلط ہے۔ فرماتے ہیں کہ دیکھو! اللہ گواہ ہے کہ اس کی نماز اور اس کی عبادت کو میں کتنا دوست رکھتا ہوں۔

اس کے بعد پوری رات یونہی گزری اور یہ خصوصیت ہے اور میرا مستقل موضوع ہے۔ گنگا پرشاد میموریل ہال میں تقریر ہوئی تھی کہ ”واقعہ کربلا کی تاریخی اہمیت“۔اس میں مَیں نے تفصیل سے اس کو کہا ہے۔ اب وقت نہیں ہے۔ واقعہ کربلا کی یہ خصوصیت ہے کہ جو چیز کبھی جزوِ تاریخ نہیں بنتی،اس نے اسے جزوِ تاریخ بنا دیا۔ میں کہتا ہوں کہ ایک دم کم ۵۷ برس کی عمر میں امام حسین علیہ السلام نے کتنی نمازیں پڑھی ہیں؟ مگر کوئی نماز جزوِ تاریخ نہیں بنی۔ مگر کربلا کی نمازیں جزوِ تاریخ ہیں۔ یعنی حسین نے رزمِ کربلا کو شریعت اسلام کی یادگار بنا دیا کہ جب تک میرا یہ معرکہ یاد ہے، تب تک خدا کی عبادتیں بھی یاد رہیں گی۔

اب یہ ہمارے ذہن کا تضاد ہوگا کہ ہم معرکہ کربلا کو یاد رکھیں اور وہ سجدے ہمیں یاد نہ رہیں ، وہ نمازیں یاد نہ رہیں، وہ عبادتیں یاد نہ رہیں۔ تو یہ کچھ عجیب ذہنی تضاد ہوگا۔

اربابِ عزا! یہ پوری رات کس طرح گزاری جارہی ہے، تاریخ کا جزو ، کبھی تاریخ نے یہ صدائیں کیوں نہ سنیں؟ کبھی تاریخ نے یہ منظر کیوں نہ دیکھے اور محسوس نہ کئے؟ یہ کربلا کا صدقہ ہے جو یہ تمام مناظر جزوِ تاریخ بن رہے ہیں۔ طبری کا مورخ لکھتا ہے:

بَا تُوْابَیْنَ رَاکِعٍ وَقَائِمٍ وَسَاجِدٍ “۔

”پوری جماعت نے یوں رات گزاری کہ کوئی رکوع میں ہے، کوئی قیام میں ہے ، کوئی سجدے میں ہے“۔

لَهُمْ دَوِیٌ کَدَوی النَّحْلِ “۔

”اس رات کے سناٹے میں ان کی تسبیح و تہلیل و مناجات کی آوازیں یوں گونج رہی ہیں جیسے شہد کی مکھی کے چھتے سے آوازیں آیا کرتی ہیں“۔

کبھی تاریخ نے نہ یہ آوازیں سنیں، نہ تاریخ نے یہ سجدے دیکھے، نہ یہ رکوع دیکھے۔ رکوع کرنے والے بھی یہی تھے، سجدے کرنے والے بھی یہی تھے۔ کوئی بھی ان کا رکوع و سجود جزوِ تاریخ نہیں بنا۔ مگر آج کا سجدہ بھی ، آج کا رکوع بھی جزوِ تاریخ بن گیا۔ پوری رات یوں گزاری جارہی ہے۔ ذرا دلوں کے تقاضے دیکھ لیجئے ۔ سب کو معلوم ہے کہ کل روزِ قربانی ہے تو بہنوں کی تمنا ہوگی کہ بھائی آج زیادہ سے زیادہ وقت ہمارے پاس گزاریں۔ مائیں جن کے بچے کل تہہ تیغ ہوجائیں گے، ان کی آرزو ہوگی کہ ہمارے بیٹے آج رات بھر ہماری آنکھوں کے سامنے رہیں۔ وہ خواتین جو کل بیوہ ہوجائیں گی، اُن کی تمنا ہوگی کہ آج وارث ہمارے پاس بیٹھ کر بعد کیلئے ہمیں کچھ ہدایات کرجائیں۔

اور اہل دل! وہ بیٹی جو باپ کے سینے پر سونے کی عادی ہوگی، اس کا تو دل چاہ رہا ہوگا کہ آج پوری رات باپ کے سینے پر گزار دے۔ مگر ان تمام تمناؤں کے بالکل برخلاف یہاں پوری جماعت یوں رات گزار رہی ہے کہ رکوع و سجود میں مصروف ہے،نمازوں میں مصروف ہے۔مجھے معلوم ہے کہ ایک روایت آپ سنتے رہے ہوں گے۔ یہ نہیں ہے کہ بے بنیاد ہے، بعض کتابوں میں بھی ہے لیکن میرے دل نے کبھی قبول نہیں کی ہے اور اس کیلئے قرائن بھی ابھی پیش کروں گا۔میرا دل تو یہ کہتا ہے کہ لیلیٰ رات بھر انتظار میں رہیں کہ میرا علی اکبر آجائے تو میں جی بھر کر صورت دیکھ لوں۔ مگروہاں پوری جماعت اس طرح رکوع و سجود میں مصروف ہے تو ممکن کہاں تھا کہ علی اکبر تو سیرت میں بھی نبی کی تصویر ہیں۔یہ کب ممکن تھا کہ وہ سب مصروفِ عبادت ہوں او ریہ مصروفِ خواب ہوں۔ہرگز میرا دل قبول نہیں کرتا۔

اب اس کا قرینہ میرے پاس موجود ہے کہ جو رات بھر مصروفِ عبادت رہے ہوں، وہ نماز کو بالکل اوّل وقت میں پڑھیں گے۔ یعنی تہیہ نماز کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ کچھ وقت وضو میں صرف ہوتا ہے، اسبابِ نماز میں۔ نہیں نہیں، فوراً نماز پڑھیں گے اور آج کی صبح کی نماز میں مولا نے خصوصیت یہ برتی کہ روز کے موذن حجاج بن مسروق اور آپ آج کی نمازِ صبح کے وقت فرماتے ہیں: بیٹا علی اکبر ! آج کیاذان تم دو۔

دیکھا آپ نے،بیٹا باپ کے پاس موجود ہے۔ فرماتے ہیں: آج صبح کی اذان تم دے دو۔ اس میں نفسیاتی احترام بھی ہوسکتا ہے۔ خدا کی قسم! اسلام دین فطرت ہے۔ یہ اولاد کی محبت کو دل سے نکالنے کیلئے نہیں آیا۔ یہ بھائیوں کے دل سے بھائیوں کی محبت نکالنے کیلئے نہیںآ یا ہے۔ حسین کو خبر ہے کہ لیلیٰ کے دل کی تمنائیں کیا ہوں گی۔ رات بھر صورت نہیں دیکھی تو اس وقت آواز ہی اپنے جوان کی سن لیں۔

ماشاء اللہ،اَجْرُکُمْ عَلَی اللّٰه ۔میں کہتا ہوں ایک بڑی مصلحت ہے امام کی۔ اور وہ کیا ہے؟ امام جانتے ہیں کہ میرا علی اکبر بھولنے کی چیز نہیں ہے۔دنیا علی اکبر کو یاد رکھے گی۔امام عالمِ نفسیات بھی ہیں۔ جانتے ہیں کہ تمام نمازوں سے زیادہ امتحانی نماز صبح کی ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ جو نمازوں کے عادی بھی ہیں، وہ اکثر صبح کی نماز، نمازِ ظہر کے ساتھ قضا پڑھتے ہیں۔ شرع کی رعایتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

تو جنابِ والا! حسین نے صبح کی نماز کی اذان علی اکبر سے دلوائی ہے۔دنیا میں جوانی کی نیند مشہور ہے۔ مولا کا یہ مقصدہے کہ اگر کسی نوجوان کی بستر پر آنکھ اس وقت کھل جائے اور اُسے تصور ہو جائے کہ میرا شہزادہ اس وقت کہہ رہا ہے”حَیَّ عَلَی الصَّلوٰة“ تو دیکھنا ہے کہ علی اکبر کی آوازپر کون کون آتا ہے!(ہاں جناب! یہ صبح کی نماز ہے) جس کی تعقیبات میں کربلا کا جہاد ہے۔

ادھر صف نمازمنتشر ہوئی، اُدھر صف جہادمرتب ہوگئی اور اب راہِ خدا میں جدال و قتال ہے۔ راہِ خدا میں قربانیاں پیش ہورہی ہیں۔ اس عالم میں ظہر کی نماز کا وقت آتا ہے اور ظہر کی نماز کے وقت ابوثمامہ ساعدی حاضر ہوتے ہیں ، کوئی عزیز نہیں آیا ہے، ایک صحابی ہیں۔ محبت اہل بیت کے ایک دعویدار ہیں۔وہ آئے ہیں۔ یہ کیا ہے؟ یہ ، یہ ہے کہ جہاد ہورہا ہے اور نگاہ آفتاب پر ہے۔ کوشش یہ ہے کہ مولا حکم نہ دینے پائیں کہ ہم اپنے ذوقِ عبادت کا نذرانہ پیش کردیں۔ عرض کرتے ہیں: مولا ! دشمن بہت قریب آگئے ہیں اور تمنا یہ ہے کہ یہ نماز آپ کے ساتھ با جماعت ادا ہوجائے۔ امام فرماتے ہیں:

ذَکَرْتَ الصَّلوٰة جَعَلَکَ اللّٰهُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ “۔

”تم نے اس وقت نماز کو یاد کیا، اللہ تعالیٰ تمہارا شمار نمازیوں میں کرے“۔

یہ اوّل وقت نماز ہے۔ ا س کے معنی یہ ہیں کہ اس سے پہلے تو وقت آیا ہی نہیں تھا۔ادھر وقت آیا اور ادھر انہوں نے درخواست پیش کردی۔ مولا نے فرمایا کہ یہ اوّل وقت نماز ہے۔ مولا دعائیں دے رہے ہیں کہ تم نے نماز کو خود سے یاد کیا، اللہ تعالیٰ تمہارا شمار نمازیوں میں کرے۔


حقوق اللّٰہ اور حقوق العباد

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( وَالْعَصْرِاِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍاِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْابِالْحقِّوَتَوَاصَوْبِالصَّبْرِ ) ۔

”قسم ہے عصر خاص کی کہ یقینا انسان خسارے میں ہے سوااُن کے جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں اور ایک دوسرے کو حق کی ہدایت کریں اور ایک دوسرے کو صبر کی دعوت دیں“۔

( اِلَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ ) “کے متعلق کل عرض ک یا، ابھی دو چیزیں باقی ”( وَتَوَاصَوْابِالْحقِّوَتَوَاصَوْبِالصَّبْرِ ) “۔ م یں نے عرض کیا تھا کہ یہ چاروں جزو در حقیقت دست و گریباں ہیں۔”( اٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰتِ ) “کا باہم ی تعلق اصولِ دین اور فروعِ دین کی تشریح کے ماتحت بیان ہوچکا۔ اب یہ ”( وَتَوَاصَوْابِالْحقِّوَتَوَاصَوْبِالصَّبْرِ ) “، اِن دونوں کا باہم ی تعلق قبل کی دو صفات کے ساتھ کیا ہے۔اسلام کسی فیض ،کسی نعمت ، کسی عطائے پروردگار کیلئے یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ ایک ذات میں محدود رہے بلکہ اس فیض کو دوسروں تک پہنچنا چاہئے۔یہ خود غرضی کہ ہم راہِ ہدایت پر ہیں ، تو اب ہمیں دوسروں سے کیا مطلب؟ ہم نیکوکار ہیں تو بس اب ہمیں کیا غرض کہ کون کیا کررہا ہے؟ دینی حیثیت سے یہ خود غرضی روا نہیں ہے۔ تو وہاں جو دو وصف تھے، یعنی”( اٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰلِحٰت ) “، تو ایمان کے کیا معنی؟ دین حق پر قائم و برقرار رہنا۔ یہ صفت جب متعدی ہوئی غیر تک ، یعنی بحمد للہ ہم جب حق پر ہیں تو ہم نے بھی یہ کوشش کی کہ دوسرے بھی دین حق سے متعارف ہوجائیں۔ تو یہ”( تَوَاصَوْابِالْحقِّ ) “ہوا اور ”عَمِلُواالصّٰلِحٰت“، یہ گویا اپنے کو کردار کے ایک زیور سے آراستہ کرنا تھا۔ ہم نمازی ہیں، ہم روزہ دار ہیں۔ فرض کیجئے ہم راست باز ہیں، ہم امانت دار ہیں۔ سب صفات اپنے میں اختیا رکرلیں تو ان سب کا مجموعہ تو ہوا”عَمِلُواالصّٰلِحٰت“، اب اس عمل صالح کے وصف کو غیر کی طرف متعدی ہونا چاہئے۔ دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ تو وہ در حقیقت ”( وَتَوَاصَوْبِالصَّبْرِ ) “ہے۔

اس کو معنی و بیان میں کہتے ہیں کہ ایک لف و نشر مرتب ہے۔ لف و نشر مرتب یہ ہوتا ہے کہ دو چیزیں ایک ساتھ بیان ہوئیں اور پھر دونوں سے متعلق جو بات ہے، وہ اسی ترتیب سے پھر بیان ہوئی۔ مثلاً اس عالم کو کیا پوچھتے ہو، بادل تھا اور پانی شدت سے گرج رہا تھا اور شدت سے برس رہا تھا۔ تو وہاں بادل اور پانی دو چیزیں ایک ساتھ کہی تھیں۔ اب اسی ترتیب سے گرج رہا تھا، برس رہا تھا۔ ایک بادل سے متعلق ، دوسرا پانی سے متعلق۔ جس ترتیب سے پہلے دو چیزیں تھیں، اسی ترتیب سے بعد میں دو چیزیں ، جن میں سے پہلی چیز کا پہلے جملے کی پہلی چیز سے تعلق اور دوسری چیز کا پہلے جملے کی دوسری چیز سے تعلق۔ اسی طرح وہاں پہلے ”( اٰمَنُوْا ) “تھا۔ اس کے بعد ”( عَمِلُواالصّٰلِحٰت ) “ تھا۔ اس ی ترتیب سے”( تَوَاصَوْابِالْحقِّ ) “۔”( اٰمَنُوْا ) “کا ف یض جاری ہوااور”( وَتَوَاصَوْبِالصَّبْر ) “صالحات کا عمل متعد ی ہوا۔

اب کوئی کہے کہ یہ صبر کے معنی جو ہم جانتے ہیں، وہ تو یہ ہیں کہ ایک مصیبت پڑی اور بس مصیبت کو برداشت کیا، اس کا نام صبر ہے۔تو وہ پورے ”( عَمِلُواالصّٰلِحٰت ) “ کے مقابل میں کیونکر یہ”( وَتَوَاصَوْبِالصَّبْر ) “آگ یا؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لفظ باوجودیکہ اتنا کثیرالاستعمال ہے کہ ہمیں اُردو زبان کا لفظ معلوم ہونے لگا ، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ غیر بھی جو اُردو بولتے ہیں، وہ بھی چاہے لفظ غلط کہیں ”( صَبَرْ ) “کہ یں لیکن صبر وہ بھی کہتے ہیں۔ تو لفظ تو اتنا عام ہے مگر اس کے معنی میں دیکھتا ہوں کہ خوابِ پریشاں کی طرح مختلف ذہنوں میں الگ الگ ہیں۔لفظ اتنا قریب اور معنی اتنی دور۔

چنانچہ اب جو مجھے معلوم ہے ، ایک طبقہ ترقی یافتہ، ماشاء اللہ اس دَور کا ہے، وہ کہتا ہے کہ صبر بزدلی کی تعلیم ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس نے صبر کے معنی یہ سمجھ لئے ہیں کہ ہر حربے کے سامنے، ہر تشدد کے سامنے سر جھکادو۔جو بھی تمہارے ساتھ ہوچکا ہو، چپکے سے برداشت کرلو۔یہ معنی چونکہ صبر کے انہوں نے سمجھے ہیں ،لہٰذا وہ یہ کہتے ہیں کہ طاقتوروں نے پیشوایانِ دین کو آلہ کار بنا کر صبر کی تلقین کروائی ہے تاکہ کمزوروں میں قوتِ مدافعت نہ پیدا ہو۔ تو جیسے مذہب کو ایک ملک میں کہا جاتا ہے کہ افیون ہے۔ایسے اب کہا جاتا ہے کہ صبر بھی بے حس بنانے کیلئے ایک افیون ہے تاکہ جو کچھ ہورہا ہے، اس کے سامنے سر جھکا دیا جائے کہ ہم تو صابر ہیں۔

تو یہ ایک معنی صبر کے ہیں جو ترقی یافتہ ذہنوں میں ہیں۔ ایک معنی صبر کے بڑے مذہبی حلقہ میں ہیں کہ صبر یہ ہے کہ بس آنکھ سے آنسو نہ نکلیں۔ ادھر آنکھ سے آنسو نکلا اور انہوں نے کہا کہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہو! صبر کرنا چاہئے۔ تو ان کے نزدیک صبر کا معیار یہ ہے کہ بس آنکھ سے آنسو نہ نکلے۔ پتھر بنے کھڑے رہو۔ اس کے علاوہ ایک اور معنی بھی صبر کے مراد لئے جاتے ہیں کہ صبر یہ ہے کہ مصیبت کا احساس ہی نہ ہوا، مصیبت کا اثر ہی نہ ہو۔افسردگی بھی نہ ہو تو کیا کہنا، گویا ایسا شخص سب سے زیادہ صابر ہو۔یہ بھی صبر کا ایک مفہوم ہے۔ معلوم ہوا کہ لفظ صبر زبان پر ہے لیکن صبر کے معنی ذہن میں نہیں ہیں۔

تو مجھے ابھی آگے ایک بہت وسیع بیان کرنا ہے، لہٰذا اس چیز کو بہت بسیط طور پر پیش نہیں کرسکتا۔بس مختصر جائز ہ پیش کردیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ صبر کا لفظ آپ کو یاد کہاں سے ہوا ہے؟ سب سے پہلے آپ نے یہ لفظ قرآن میں سنا، پھر تشریح کرنے والوں کی زبان سے یہ لفظ آپ کو معلوم ہوا۔ ورنہ یہ صبر کا لفظ آپ کو بولنا ہی نہ آتا۔ قرآن کی بدولت یہ صبر کا لفظ دنیا تک پہنچا ہے۔ تو جوقرآن نے صبر کی تشریح کی ہو، کسی کو حق نہیں کہ اس کو بدلے۔ نہ بیگانے کو نہ یگانے کو، نہ دور والے کو ، نہ قریب والے کو، نہ روشنی والے کو، نہ تاریکی والے کو۔کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ قرآن کے خلاف صبر کے لفظ کی تشریح کرے۔

تو اب قرآن مجید میں جہاں جہاں صبر کا اطلاق ہے، اس میں ایک جگہ نہیں ، بہت جگہ۔ میدانِ جنگ میں صبر کا مطالبہ ہے تو وہ کیا ہے کہ نیزہ آتا ہو تو سینہ بڑھا دو؟ تلوار آتی ہو تو سر جھکا دو؟ کیا وہاں صبر کے یہ معنی ہیں؟ میدانِ جنگ میں صبر کے کیا معنی؟ اگر صبر کے یہ معنی ہوتے کہ عاجزی سے سر جھکا دو تو پھر جنگ کا تصور ہی کہاں ہوتا اور میدانِ جنگ میں صبر کا مطالبہ ہی آخر کیوں ہوتا؟اب صبر کا مطالبہ جو قرآن مجید کررہا ہے، وہ کیا ہے؟

( اِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ عِشْرُوْنَ صَابِرُوْنَ یَغْلِبُوْامِئَتَیْنِ ) ۔

”اگر تم ۲۰ صبرکرنے والے ہو تو ۲۰۰ پر غالب آؤ“۔

( وَاِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِئَةٌ )

”اگر تم سو( ۱۰۰) صبر کرنے والے ہو تو

( یَغْلِبُوْااَلْفًامِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ) ۔

تو ایک ہزار پر غالب آؤ۔

قرآن کے سادہ لفظوں میں بڑے بڑے فلسفے مضمر ہیں۔

( ذَالِکَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا یَفْقَهُوْنَ ) ۔

بات یہ ہے کہ تعداد میں دس گنا سہی لیکن ان کو ایمانی شعور نہیں ہے۔ لہٰذا تمہاری تعدادی کمزوری کا توازن تمہاری قوتِ ایمانی کے ساتھ قائم ہونا چاہئے۔اب جناب دیکھئے! ۲۰ صبر کرنے والے ہوں، وہاں بھی صبرکی قید اور سو صبر کرنے والے ہوں تو یہاں بھی صبر کی قید۔ تو اب وہ ترقی پسند دنیا دیکھئے کہ صبر وہ چیز ہے جو دس گنا مقابلہ کے دعوت دیتا ہے تویہ بزدلی کی تعلیم کب ہوئی؟اب چونکہ یہ آیت میں نے پڑھ دی، بلا فاصلہ اس کے بعد دوسری آیت ہے۔ ہم تو جتنا بھی زیادہ حفظ ہو، اتنی ہی تیزی سے ایک آیت کے بعد دوسری آیت پڑھ دیں گے مگر اب مضمونِ آیت دیکھئے کہ پہلی آیت نازل ہونے کے بعد کوئی سخت معرکہ ہوا جس میں مسلمان اس معیار پر پورے نہیں اُترے؟ یہ کوئی روایت نہیں ہے، یہ قرآن کی آیت ہے۔ اسی لئے میں نہیں بتاسکتا کہ وہ کونسا معرکہ تھا۔ بہرحال مضمونِ آیت سے ظاہر ہے ۔ میں وہ آیت ابھی پڑھوں گا۔ بیچ میں ایک معرکہ ہوا اور مسلمان اس معرکہ میں اس معیارِ قرآنی پر پورے نہیں اُترے۔

( اَ لَانَ قَدْ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْکُمْ ) ۔

”اب اللہ تم سے تخفیف کرتا ہے“۔

یعنی اس فریضہ کو ہلکا کرتا ہے۔

( عَلِمَ اَنَّ فِیْکُمْ ضُعْفًا ) ۔

اب اللہ تم سے تخفیف کرتا ہے، بس پتہ چل گیا کہ تم میں کمزوری ہے۔ تم کون؟ وہی معزز طبقہ جو مخاطب ہے۔ اب کمزوری کیا مادّی کمزوری؟ وہ تو پہلے ہی ثابت تھا کہ مقابل کے دس گنا ہونے کی وجہ سے کمزور تھے۔ اب یہ کمزوری وہی ایمان والی کمزوری ہے۔ پھر کہئے کہ پہلا حکم کیوں آیا تھا؟ اس وقت کیا اللہ نہیں جانتا تھا ۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کو اپنی قوتِ ایمانی کا زعم زیادہ تھا۔ تو اس لئے خود پتہ چلانے کیلئے نہیں، ان کو پتہ بتانے کیلئے۔ پہلے وہ حکم آیا اور اب ارشاد ہورہا ہے کہ دیکھو! پتہ چل گیا تم میں کمزوری ہے۔

( فَاِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ ) “۔

اب اس کے بعد:

( اِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ مِئَة صَابِرَة یَغْلِبُوْنَ ) “ ۔

اگر تم میں سو صبر کرنے والے ہوں تو دو سو پر غالب آئیں۔

( اِنْ یَکُنْ مِنْکُمْ اَلْفٌ ) “۔

اب دیکھئے اس معیار سے آٹھ درجہ قدم پیچھے ہٹایا گیا ہے کہ”( ان یکن منکم الفٌ ) “، اگر تم میں ہزار ہوں تو بس:

( یَغْلِبُوْااَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰ ) ہ“۔

تو دو ہزارپر غالب آئیں۔ یعنی کم از دوگنامقابلہ سے تو نہ گھبراؤ یعنی کچھ تو کفر وایمان میں فرق ہو۔ پھر آخر میں:

( وَاللّٰهُ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ) “۔

”اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔

یعنی تم صبر کرو گے تو اللہ کی مدد بھی شامل حال ہوگی۔ تو معلوم ہوا کہ یہ صبر وہ چیز ہے جو مثالی مقابلہ تو دس گنا کے ساتھ کرتا ہے اور کم از کم دوگنا مقابلہ کی دعوت تو ضرورہے کہ گھبراؤ نہیں، اگر مخالف فریق دوگنا ہے کیونکہ وہ اس بصیرتِ ایمانی سے محروم ہے جس کے تم دعویدار ہو۔ اب اگر تم اس سے بھی گھبرائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تمہارے اندر بصیرتِ ایمانی کسی درجہ پر ہے ہی نہیں۔ اب جو کچھ بھی ہے، وہ بقلم خود ہے۔تو کیا اب وہ تصور صحیح رہا کہ صبر بزدلی کی تعلیم ہے۔

اب آئیے اس پر کہ احساسِ غم ہی نہ ہو۔ میں عرض کرتا ہوں کہ یہ احساس شعور کا نتیجہ ہے۔ انسان کی کوئی صفت مدح وہ نہیں ہوسکتی جو شعور وعلم سے ٹکرائے۔ آجکل ڈاکٹروں نے ایسی دوائیں ایجاد کرلی ہیں کہ وہ دوالگادی تو وہ حصہ بے حس ہوگیا۔اب جو نشتر لگایا تو خبر ہی نہیں ہوئی۔ اب جس کے وہ دوا لگادی اور اس کے نشتر لگا گیا تو خبر ہی نہیں ہوئی۔اس نے اُف نہ کی۔ تو یہ اُف نہ کرنا کونسا کارنامہ ہے؟یہ تو دوا کا اثر ہے۔ اسی طرح اگر دل و دماغ ایسے ماؤف ہوئے کہ احساسِ رنج ہی نہ ہوا تو یہ کونسی قابل تعریف صفت ہوئی۔ یہ تو ایک کیفیت مزاج ہے کہ اثر غم ہوتا ہی نہیں۔ یہ کوئی کارنامہ نہیں ہوگابلکہ میں کہتا ہوں کہ جتنا ادراک قوی ہوگا، اُتنا ہی اثر مصیبت زیادہ ہوگا۔ اتنا ہی احساسِ اذیت و الم زیادہ ہوگا۔ لہٰذا یہ کونسا کارنامہ ہوا؟

اب تیسری بات کہ آنسو نہ نکلیں۔ اب یہ تو بحمدللہ بالکل پکے مسلمان ہیں۔ وہ ترقی یافتہ تو دعویدارِ اسلام تھے، یہ تو ذمہ دارِ اسلام ہیں۔ یہ تو اسلام کے ٹھیکیدا رہیں۔ تو صاحب! ان کی بات کو تو قرآن کے معیار پر جانچناہی ہے۔ تو جناب!آپ یہ کہتے ہیں کہ صبر یہ ہے کہ آنکھ سے آنسو نہ نکلیں۔ تو جناب وہ جو میدانِ جنگ میں صبر کا مطالبہ ہے، اس کا مطلب کیایہ ہے کہ روؤ نہیں ،چا ہے ہنستے ہوئے میدان سے نکل جاؤ؟ایک بات اور کہہ دوں۔ یہ تو میں نے قرآن مجید کے معیار پر اس تصور کو جانچا ہے۔اب کوئی ترقی یافتہ بھی اس تصور کو اختیار کے کہ ہاں! آنسو نکلنا تو بالکل خلافِ صبر ہے تو میں یہ کہوں گا کہ یہ آنکھ اور دل میں تصور کس نے قائم کیا ہے؟ کیا بات ہے کہ رنج ہوتا ہے تو ہاتھوں میں تو پسینہ نہیں آتا، پیر میں تو کوئی کیفیت پیدا نہیں ہوتی، یہ آنکھ ہی سے آنسو کیوں نکلتے ہیں؟ معلوم ہوتا ہے کہ جو آنکھ اور دل کا خالق ہے،اُس نے کوئی باہمی ربط قائم کیا ہے کہ جب دل کو صدمہ پہنچے گا تو آنکھ سے آنسو نکلیں گے۔

تو بس ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں گا کہ اگر دل اور آنکھ دونوں بالکل مزاجِ معتدل پر ہیں تو اس کیفیت کا پیدا ہونا دین فطرت میں جرم نہیں ہوسکتا۔مگر اب مجھ سے ہر ایک کومطالبہ کا حق ہے کہ پھر آخرصبر کیا ہے؟ وہ صبر غلط ترقی یافتہ ذہنوں والا۔ یہ تصور صبر کا غلط پرانی درسگاہوں والا۔ تو پھر آخر صبر کیا ہے؟

تو صاحب!جب ہم دیکھتے ہیں تو پہلے اس کی جامعیت کو عرض کروں کہ یہی صبر ہے کہ بتقاضائے الٰہی جو مصائب آتے ہیں ، اس میں ا س کا مطالبہ ہے۔ مثلاًکسی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا، کسی کا بھائی جدا ہوگیا، کسی کو اولاد کا داغ لگا۔ وہاں بھی کہا جاتا ہے کہ صبر کرو۔ تو وہاں کیا معنی ہیں؟ پھر یہ کہ حق کی راہ میں خود اختیاری طور پر جو مصائب آئیں، خود اختیاری یوں ہے کہ جو راستہ حق کا چھوڑ دے تو سب مصیبتیں ختم ہوجائیں۔ تو ان مصائب کو سمجھنا پڑے گا کہ خود اختیاری ہیں۔تو اگر وہ معنی ہیں کہ روؤ نہیں تو وہ بھی نہیں بنتے۔ اگر وہ معنی ہیں کہ چپکے سے سر جھکاؤ تو وہ بھی نہیں بنتے۔ تو پھر آخر کیوں؟ کون سے معنی ہیں؟ تو اب یوں سمجھیں کہ صبر کے بہت سے معنی ہیں۔ ایک معنی سے وہ صبر ہے، ایک معنی سے یہ صبر ہے۔

یاد رکھئے کہ یہ کئی معنی بس مجبوری کی صورت میں مانے جاتے ہیں جبکہ کوئی ربط باہم نہ ہو۔ جیسے عین آنکھ بھی ہے اور عین آفتاب بھی ہے اور چشمہ بھی ہے عربی میں۔ تو ان میں کوئی مشترک چیز ہمیں نظر نہیں آئی کہ وہ آنکھ پر بھی صادق ہو، چشمے پر بھی صادق ہو۔ مجبوراً یوں کہہ دیتے ہیں کہ یہ لفظ سب میں مشترک ہے۔ اس کے سب معنی ہیں۔ عربی میں کہتے ہیں کہ عین کے چالیس معنی ہیں۔ تو اس کے اتنے کثیر معنی ہیں۔سب الگ الگ ہیں۔ تو اب اگر واقعی یہاں کوئی مشترک مفہوم سمجھ میں نہ آئے تو مجبوراً یہی کہیں گے جو آپ بتارہے ہیں کہ الگ الگ معنی ہیں۔اس صبر کے کچھ اور معنی ہیں جو مصائب آسمانی ، قضائے الٰہی کے نتیجہ میں ہوتا ہے اور اس صبر کے معنی اور ہیں جو میدانِ جنگ میں ہوتا ہے۔لیکن میری سمجھ میں جو ہے، وہ یہ ہے کہ صبر کے ایک معنی ہیں اور وہی ہر جگہ منطبق ہیں۔ وہ معنی صبر کے یہ ہیں کہ کوئی شدتِ وقت، کوئی مصائب کی آندھی ، کوئی سخت سے سخت صورتِ حال تم کو اس فریضہ کے جادہ سے نہ ہٹائے جس پر تم کو قائم رہنا چاہئے۔

یہ میدانِ جنگ ہی میں ثباتِ قدم نہیں ہے تاکہ مصائب آسمانی میں کوئی کہے کہ وہاں تو میدانِ جنگ ہے ہی نہیں او رمیدانِ جنگ کے ثباتِ قدم میں کوئی کہے کہ جنگ کا موقع نہیں۔ جی نہیں! میدانِ جنگ ہی میں ثباتِ قدم نہیں ہے، ثباتِ قدم ہے جادئہ فرائض پر۔ جادئہ فرائض علماء کی زبان ہے۔ عام الفاظ میں کہنا چاہئے ، جو کرنا چاہئے، ہر صورتِ حال میں وہی کرے۔کوئی سخت سے سخت موقع بھی اس راہ سے نہ ہٹائے جو صحیح ہو۔یہ صبر کے معنی ہیں۔ اب ہر جگہ فرض کیا ہے ، وہ فرض بتانے والوں سے پوچھئے جو اسی لئے بھیجے گئے تھے کہ وہ فرائض بتائیں۔اب ذرا صبر کی تھوڑی سی اور تشریح کردوں۔ ہمارے لکھنو میں ایک سڑک کا نام ہے ٹھنڈی سڑک اور ایسے ہی یہاں بھی سڑکیں ہوں گی کہ لوگ صبح کی ہواخوری کیلئے وہاں جاتے ہوں گے، تفریح ہوتی ہوگی۔ لیکن جس دن سے اس سڑک پر جانے میں کوئی کام سپرد ہوجائے گا تو اب اس سڑک پر جانا فریضہ ہوگیا۔

فرض کیجئے کہ والد صاحب نے حکماً کہہ دیا کہ دیکھو! تم کو اس سڑک پر روز جانا ہوگا یا کسی اور نے جس کے ہاں ملازم ہیں، اُس نے کہہ دیا یا اتفاق سے اس طرف کوئی دفتر کا کام ہوا، ڈیوٹی ہوگئی۔ تو بس جس دن سے پابندی عائد ہوجائے گی، اُس دن سے تفریح ختم ہوجائے گی اور ناگواری ہوجائے گی۔ حالانکہ وہی سڑک ہے، وہی ہوا ہے مگر احساسِ پابندی خود ناگواری کا پیمانہ ہے۔اسی وجہ سے احکامِ شریعہ کو تکلیفات کہتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ اس کا مکلف نہیں ہے۔تکلیف شرعی عائد نہیں ہے۔یہ تکلیف شرعی اسی لئے ہے کہ پابندی کلفت طبع کا باعث ہوتی ہے۔وہ خود ناگواری طبع کا سبب ہوتی ہے۔ تو اب اگر انسان نے اس پابندی کو قبول کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ایک ناگوار بات کو اس نے حکم کے دباؤسے برداشت کیا تو وہ ہوا”صَبْرٌعَلَی الْمَکْرُوْه “۔

دوسری طرف جس چیز سے منع کر دیا جائے، اسی کو دل چاہنے لگتا ہے۔ کوئی غذاآپ کبھی نہ نوش فرماتے ہوں مگر جس دن سے حکیم صاحب یا ڈاکٹر صاحب منع کردیں، اسی دن سے اس کو دل چاہنے لگے گا۔اس کیلئے مقولہ بھی ہوگیا ہے:

اَ لْاِنْسَانُ حَرِیْصٌ عَلٰی مَامُنِعَ “۔

”انسان کو جس شے سے منع کیا جائے، اُس کا لالچ ہوجاتا ہے“۔

تو محرمات جتنے ہیںِ یعنی جو چیزیں حرام ہیں، ان میں چونکہ ممانعت ہے، لہٰذا ممانعت کے سبب کی وجہ سے وہی چیزیں مرغوبِ طبع ہوجاتی ہیں۔ اب انہی کی خواہش ہوتی ہے، اس لئے کہ ممانعت ہے۔ اب اگر انسان نے فرمانِ حاکم کے احترام میں اس ممانعت کو برداشت کیا اور دل کی خواہش کے مطابق عمل نہ کیا تو یہ ’صَبْرٌ عَنِ الْمَحْبُوْبِ ‘ ہے، پسند طبع چ یز سے صبر، تو دنیائے شریعت پوری صبر میں داخل ہے۔

اب اس کے بعد خصوصی حیثیت سے کچھ ناگواریاں ہوتی ہیں ، اس لئے اب ایک دوسرا وسیع لفظ استعمال کروں۔ پوری شریعت قربانیوں کا مطالبہ ہے۔ میدانِ جنگ ہی میں قربانی نہیں ہے۔ یہ نماز کے احکام کیا ہیں؟ کیا اللہ کو اس کی ضرورت ہے کہ آپ اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوجائیے تو اس کے جاہ و جلال میں کچھ اضافہ ہوجائے گا؟نہیں، یہ دیکھنا ہے کہ تم اپنے مشاغلِ حیات میں سے کتنا حصہ ہمارے لئے قربان کرسکتے ہو۔اب اوقات کی پابندی سے دیکھئے کہ کتنا صبر آزما امتحان ہوگیا۔ مشاہدہ ہوگا آپ کا کہ بہت سے لوگ رمضان کے روزے کے پابند ہیں اور روز کی نماز کے پابند نہیں ہیں بلکہ روزوں کی بدولت پھر نماز کیلئے بھی ماہِ رمضان میں پابند ہوجاتے ہیں۔ تو کیا پتہ چلا؟ پتہ یہ چلا کہ وہ سال میں ایک مہینے کی بات ہے ، لہٰذاوہ اتنی ناگوار نہیں ہے لیکن یہ روز کی پانچ وقت کی بات ہے تو بہت ناگوار ہے۔

وہ چاہے جتنے منٹ میں نماز ہوجاتی ہو، مگر وہ چند لمحوں کو صرف کرنا اس پابندی وقت کے ساتھ، یہ انسان کی طبیعت پر ناگوار ہوتا ہے۔اسی لئے بہت سے اس سے زیادہ سخت احکام بجالے آئیں گے کہ جناب شب قدر کی مستحب نمازیں پڑھ لیں گے اور روز کی واجب نمازیں نہیں پڑھیں گے کیونکہ وہ سال بھر میں ایک دفعہ کی بات ہے اور یہ ہر روز کی بات ہے۔

اب اس میں بعض وقت صبر آزما منزل بھی آجاتی ہے کہ کوئی دور سے بچھڑے ہوئے عزیز آئے ہیں، اب وہ زمانہ سفر کی روداد سنا رہے ہیں اورنماز کا وقت جارہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عزیز کی محبت زیادہ ہے یا اللہ کا حکم زیادہ ہے۔ او رجناب! اس کے بعد صبح کی نماز، وہ خوابِ استراحت اور اب میری عمر کا تقاضا نہیں، مقامِ منبر کا تقاضا بھی نہیں ، اور بھی جو جاذبِ نظر چیزیں ہوتی ہیں، ان سب کو پیش کروں۔ ان سب کے باوجود اگر بندئہ خدا نے احساسِ وقت نماز رکھااور صبح کی نماز کیلئے اٹھ کھڑا ہوا تو بلاشبہ صبر کا مصداق ہونے میں شبہ ہی کیا ہے۔اس نے ان تمام چیزوں کو ٹھکرا دیا اور میدانِ عمل میں آگیا۔پھر خالق نے آپ کی فطرت کے احساس سے گویا تھوڑے سے احترام کی خاطر فریضہ صبح کی رکعات سب سے کم رکھی ہیں۔ارے ابھی تو نیند سے بیدار ہوئے ہو تو چلو دو رکعت ہی پڑھ لو۔ یعنی بستر سے اٹھ کر بارگاہِ الٰہی میں ایک سلام کرلو تاکہ پتہ چل جائے کہ تم باغیِ حکومت نہیں ہو۔

یہ بھی دین فطر ت ہے کہ واقعی اگر تمہاری آنکھ نہیں کھلی تو سوتے رہنے کی وجہ سے قضا کا گناہ نہیں ہوگا۔اس پر نامہ عمل میں کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا۔قضا پڑھ لینا لیکن اب خوابِ راحت کے عادی دیکھیں کہ ایسا تو نہیں ہوتا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ بہت دفعہ بہت سوں کے ساتھ ہوتا ہوگا کہ جناب! آنکھ کھلی مگر اٹھا نہیں جاتا۔

تو اب عمداً ترکِ نماز کا گناہ نامہ اعمال میں لکھا جائے گا۔دنیا سمجھ رہی ہے کہ سو رہے ہیں مگر یہ آپ خود سمجھ سکتے ہیں کہ اس دوران وقت میں آنکھ کھلی تھی یا نہیں۔ اسی لئے اس نے حساب اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ہم تو گواہی دے دیں گے کہ یہ سوتا ہوا ہوتا تھا تو اس کی نماز رہ جاتی تھی۔ ورنہ یہ نماز کا پابند تھا۔ہم نماز کے پابند ہونے کی گواہی دے دیں گے مگر جو جانتا ہے کہ یہ جاگ رہا ہے یا سو رہا ہے، اس کا علم کسی دوسرے دیکھنے والے کو نہیں ہوسکتا۔دوسرا تو بس لیٹنا دیکھ سکتا ہے، سونا اور جاگنا نہیں دیکھ سکتا۔یہ آدمی خود دیکھ سکتا ہے یا وہ دیکھ سکتا ہے جو سوتا ہی نہیں۔اس میں دوسرے لوگوں کومعتبر نہیں ماننا پڑے گا کہ وہ سور ہا تھا یا جاگ رہا تھا۔ اب اگر کسی نے خود کہا ہو کہ میں جیسی میٹھی نیند اس رات کو سویا، کبھی نہیں سویا تو دنیا کو گواہ طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔ گواہی وہیں ہوتی ہے جہاں دوسرے دیکھنے والے ہوں۔ جہاں آدمی خود ہی واقف ہو ، وہاں گواہ باہر سے کہاں آئیں گے؟اسی لئے اس بات کو جسے گھر والے ہی دیکھ سکتے ہوں، اس کے بارے میں گھر والوں ہی کی گواہی قبول کرنا ہوگی۔اب ایک باپ اپنی بیٹی کو کوئی چیز دیتا ہے تو باہر والے کہاں سے آئیں گے دیکھنے کو۔ گھر والے ہی گواہ ہوں گے۔

تو اب پوری دنیائے شریعت صبر میں داخل ہے۔ اسی لئے ایک عبادت ایسی کہ جس میں بہت سی خواہشوں سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔ وہ روزہ ہے۔ ہر عبادت میں ایک نفیس جذبہ سے مقابلہ ہوتا ہے۔ روزے میں بہت سے نفسیاتی خواہشات سے ٹکراؤ ہوتا ہے۔پانی جیسی ضرورت اور پر کشش چیز سے ایک معینہ وقت تک احتراز کرنا پڑتا ہے۔ یہ پینا اتنا پرکشش ہے کہ ایک نامعقول مشروب کو بعض افراد کا دل نہ بھی چاہتا ہو تو چاہنے لگتا ہے۔ مگر اس سب کے باوجود بحمدللہ اس اتنے بڑے مجمع میں کوئی ایسا نہیں کہ جس کا دل چاہا ہو، یہاں تک کہ وہ شاعر صاحب بھی جنہو ں نے تقلید شاعری کے طور پرخود بھی تعریفیں کی ہوں، ان کا بھی دل نہ چاہا ہوگا۔

درحقیقت اس سلسلہ میں اپنے بزرگوں کیلئے دعائے خیر کرنی چاہئے کہ ہمیں ماحول ایسا ملا کہ ہم ایک گناہ کے خوگر نہیں ہوئے۔ اس لئے کبھی دل نہیں چاہا ۔ کسی شاعر نے ہم پر طنز بھی کی تھی۔ ”تو نے پی ہی نہیں“۔اس کا طنز اس کے نزدیک چاہے کتنا ہی چبھتا ہوا ہو مگر ہم نے کہا: ”الحمدللہ“۔ہم کو اس پر خوشی ہوئی کہ اس نے ہم کو یہ سند عطا کی۔

تو صاحب! بہرحال ہمارے لئے یہ نہ پینا کوئی بڑا جہاد ہی نہیں ، اس لئے کہ جب ہمارا دل ہی نہیں چاہا تو کوئی بڑا جہاد ہم نے نہیں کیاجو ادھر ہم نہیں گئے۔ ہم کو تو اس کی بو سے تکلیف ہوتی ہے۔ اس سڑک سے گزرے ہیں تو ہمیں ناگواری محسوس ہوتی ہے۔مگر اب میں کہتا ہوں کہ ماشاء اللہ مجمع میں سب روزہ دار ہوں گے مگر روزہ دار پر کون طنز کرسکتا ہے۔ پانی کے بارے میں کون کہے کہ تو نے پیا ہی نہیں۔ یہ ہے روزہ میں عظیم امتحان کہ جن چیزوں کے ذائقہ سے واقف ہے، حکمِ الٰہی کے دباؤ سے ان سے باز رہتا ہے۔اسی لئے صوم کا ایک نام صبر ہوگیا۔ قرآن کی جو آیت ہے:

( وَاسْتَعِیْنُوْابِالصَّبْرِوَالصَّلوٰة ) ۔

”مدد حاصل کرو صبر اور نماز سے“۔

تو بظاہر ربط نظر نہیں آتا کہ صبر اور صلوٰة میں باہمی ربط کیا ہے۔ تو علماء نے کہا کہ یہاں صبر کے معنی صوم کے ہیں۔ تو بہت سی ایسی چیزیں ہیں کہ اس میں ناگواری ہوتی ہے۔ تو اگر حکمِ الٰہی کے ماتحت منہیات سے پرہیز رکھا اور واجبات کی پابندی کی تو پوری زندگی صبر ہو جائے گی۔پوری زندگی معیارِ صبر پر پوری اُترے گی۔اب پھر وہ بات آگئی کہ ”( عَمِلُواالصّٰلِحٰتِ ) “،وہی بات جب متعدی ہوئی تو ”( تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ) “ہوگئ ی کہ خود تو ہے ہی پابند، دوسروں کو بھی پابندی کی دعوت دیتا ہے۔ اب یہ الگ سے سمجھنے کی بات ہے کہ کس جگہ میعارِ صبر کیا ہے! ہوسکتا ہے کہ ہمارے رہنمایانِ دین جو تھے، ان کی زندگی میں بھی بظاہر نمونہ الگ الگ نظر آئے لیکن درحقیقت وہ ان کا صبر ہوگا۔ یہ ان کا صبر ہوگا۔ایک حسن مجتبیٰ کا صبر ہوگا اور دوسرا حسین مظلوم کا صبر ہوگا۔کردار دونوں کا ایک ہے۔ وہ بھی صابرین میں ہیں، یہ بھی صابرین میں سے ہیں۔

یہ چار وصف ہیں۔ ہمارے جتنے رہنمایانِ دین ہیں، ان میں سے سب میں ہر ایک وصف اپنے کمال پر ہے۔ مگر یاد رکھئے کہ مثال میں پیش کرنے کیلئے کوئی نمایاں تاریخی واقعہ ہونا چاہئے۔ لہٰذا میں عام رہنمایانِ دین کی زندگی کو سامنے رکھ کر ان اوصاف کا عملی مرقع پیش کروں تو مجھے شاید”( اٰمَنُوْا ) “ک ی مثالِ عمل دکھانے کیلئے زندگی کے ایک ورق کو پیش کرنا ہواور ”( عَمِلُواالصّٰلِحٰتِ ) “کیلئے بہت سے اوراق کو پیش کرنا ہو کیونکہ عمل صالح کے شعبے بھی تو بہت سے ہیں۔اس لئے میں نے کہا کہ بہت سے اوراق کو پیش کرنا پڑے۔”( تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ) “ م یں کوئی کہیں کی مثال پیش کروں اور”( تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ) “م یں کہیں کی مثال پیش کروں۔ لیکن ہمارا رہنما ایک ایسا ہے کہ اس نے ایک ظرفِ مکان اور ایک ظرفِ زمان میں تمام اوصاف کو سمیٹ کر اس طرح پیش کیا ہے کہ اگر”( اٰمَنُوْا ) “کا مظاہرئہ عمل مجھے دکھانا ہو تو کربلا جاؤں اور ”( عَمِلُواالصّٰلِحٰتِ ) “کے شعبوں کی مثالیں دکھانا ہوں تو کربلا جاؤں۔ اگر ”( تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ) “ ک ی مثالِ عمل دکھانا ہو تو کربلا جاؤں اور اگر ”( تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ) “ک ی مثالیں دکھانا چاہوں تو کربلا جاؤں۔

اب اس سے آپ یہ محسوس فرمارہے ہوں گے کہ یہ مصائب ہیں لیکن یہ کہ یہ باب کتنا وسیع ہے کہ اگر اس کو تفصیل سے بیان کیا جائے تو کئی مجلسوں کا وقت اس کیلئے درکار ہے۔ میں مجمل طریقہ پر ہر ہر وصف کو آپ کے سامنے پیش کرکے مجلس ختم کردوں گا۔ یہی اوّل ہے، یہی آخر ہے۔یہی آغاز ہے، یہی انجام ہے۔ اسی ترتیب کے ساتھ جو آیت کے الفاظ ہیں،”( اٰمَنُوْا ) “، ایمان ہے دل کے اندر کی چیز۔ دل کو شگافتہ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا مگر اس کا عملی مظاہرہ وہ ہوگا جو آنکھوں کے سامنے آئے اور مثال کیلئے پیش کیا جاسکے۔بدبختی سے اُدھر والے بھی دعویدارانِ ایمان تھے۔

یاد رکھئے کہ جب تک دعویدارانِ ایمان نہ ہوں ، مسلمان ہی نہیں ہوسکتے۔ مسلمان کے معنی ہیں اقرارِ ایمان کرنے والا۔ اگر دل سے ہے تو واقعی ایمان ہے، ورنہ کچھ اور ہے۔ لیکن ایمان کا دعویٰ تو اسلام کیلئے ضروری ہے۔ بغیر اس کے اسلام ہو گا ہی نہیں۔تو اُدھر والے بھی چونکہ مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہیں، لہٰذا دعویدارانِ ایمان ہیں۔اب مجھے کوئی مظاہرئہ عمل چاہئے جسے میں پیش کرسکوں۔ پتہ چلے کہ ان کا ایمان کس پر ہے؟ تو یاد رکھئے کہ اعمال میں یہ بھی ایک شریعت اسلام کا حکیمانہ باب ہے کہ عبادات میں نیت کر رکھ کر ایمان کو عمل صالح میں سمویا ہے۔ وہ ایمان نیت کرواتا ہے ، وہ عمل صالحہ کے راستے پر اعضاء و جوارح کو گامزن کرتا ہے۔ تو یہ نیت جو ہے ، درحقیقت بتقاضائے ایمان ہوتی ہے۔ جو اللہ پر ایمان رکھے گا، وہی قربةً الی اللہ کی نیت کرے گا ورنہ جس چیز کو مانتاہے، اُسی کیلئے عمل کرے گا۔ جو اللہ کو مانتا ہے، وہ اللہ کیلئے عمل کرے گا۔ جو دنیاوی طاقت کو مانتا ہے، وہ دنیاوی طاقت پر عمل کرے گا۔

اب نیت ہوتی ہے آغازِ عمل میں۔ اب مجھے دیکھنا ہے ، ادھر والے کا آغازِ عمل جب ہوتا ہے تو وہ تیر جوڑتا ہے چلّہ کمان میں۔ فوج والوں سے کہتا ہے کہ گواہ رہنا ،یہ کہاں کیلئے گواہیاں ہیں؟دربارِ حاکم کیلئے۔ پس معلوم ہوگیا کہ مقصد عمل حاکمِ وقت کی خوشنودی ہے، طاغوتِ باطل پر ایمان ہے۔اب مجھے تلاش ہوئی کہ ادھر والے نے بھی کبھی کسی کو گواہ کیا؟ تو اُدھر والے کا مقصد عمل وہ حاضروناظر ہے ۔اس لئے اس نے گواہ کیا مگر خود اسی کو گواہ کیا ، وہ کب گواہ کیا؟جب جوان بیٹا جانے لگا۔ ہاتھ اٹھا دئیے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا:

اَللّٰهُمَّ اَشْهَدْعَلٰی هٰولَاءِ الْقَوْمِ قَدْ بَرَزَاِلَیْهِمْ غُلَامٌ اَشْبَهُ النَّاسِ بِرَسُوْلِکَ مَنْطِقًاوَخَلْقًاوَخُلْقًاکُنَّااِذَااشْتَقْنَالِزِیَارَة نَبِیِّکَ فَنَظَرْنَااِلٰی وَجْهِه “۔

”پروردگار! گواہ رہنا کہ جو صورت و سیرت اور رفتار و گفتار میں تیرے رسول سے مشابہ ہے۔ خدا وندا! جب ہم مشتاقِ زیارتِ رسول ہوتے تھے تو اپنے اس جوان کو دیکھ لیتے تھے“۔

یہ اصول بھی ہمیں ہمارے مولا نے سکھایا ہے کہ کسی زیات کے مشتاق ہو اور وہاں نہ پہنچ سکو تو شبیہ کو دیکھ کر دل کی تسلی کرلو۔ حسین کو اللہ نے ایک جیتی جاگتی رسول کی شبیہ عطا کی تھی۔ جملہ دیکھئے۔ایک دفعہ کی بات نہیں ہے۔ ”کُنَّااِذَا “، ماضی استمراری،”کُنَّااِذَااشْتَقْنَا “، ہم جب تیرے رسول کے مشتاقِ زیارت ہوتے تھے۔ اب اس سے علی اکبر کی جلالت قدر دیکھئے کہ علی اکبر کی ولادت کے وقت مولا نے جب بھی دیکھا، رسول کی زیارت کی نیت سے دیکھا۔اسی لئے اب علی اکبر کی یہ خصوصیت ہوگئی کہ جب علی اکبر چلے تو مولا اپنی جگہ کھڑے نہ رہ سکے۔ کسی کو یہ سمجھنے کا حق نہیں کہ یہ صرف بیٹے کی محبت تھی۔ نہیں، یہ رسول کی شبیہ کا احترام تھااور یہ جو پکار رہے ہیں کہ جہاں تک سامنے رہے، اس وقت تک مڑ مڑ کر میری طرف دیکھتے جاؤ۔ یہ کیا ہے؟ جانتے ہیں کہ یہ تصویر اب کہاں ملے گی؟ لہٰذا جتنا زیادہ ممکن ہو، اتنا رسول کی زیارت کرلوں۔

بس اربابِ عزا! اب دوسرا شعبہ”( عَمِلُواالصّٰلِحٰتِ ) “۔ اس ایک لفظ کی دنیا اتنی وسیع ہے کہ عمل صالح میں حقوق اللہ بھی ہیں، حقوق الناس بھی ہیں۔ حقوق الناس میں زندوں کے بھی حق ہیں، مُردوں کے بھی حق ہیں۔دوستوں کے بھی حق ہیں، دشمنوں کے بھی حق ہیں۔ یعنی حقوقِ ایمانی بھی ہیں اور حقوقِ انسانی بھی۔ ہر طرح کے حق ہیں۔ یہ کربلا کا کارنامہ ہے اور مولا کا کارنامہ ہے کہ یہ فقط مرقعِ مصیبت ہی نہیں ہے جو ہمیں صرف اشک افشانی ہی کی دعوت دے سکے بلکہ یہ شریعت اسلام کا پورا مدرسہ ہے۔ایسے سخت ماحول میں حسین نے جتنی تعلیمات دینا ہیں، ان میں سے کسی کو تشنہ تکمیل نہیں چھوڑا۔ہر ایک کی کوئی مثال پیش کی۔ اب ”( عَمِلُواالصّٰلِحٰتِ ) “کی دنیا کتنی وسیع! تو حقوق اللہ میں کل عرض چکا کہ نماز جیسی کربلا میں پڑھی گئی، ویسی نماز تاریخ عالم میں کبھی نہیں پڑھی گئی۔ اس کے بعد حقوق الناس۔ کس نے پکارا اور مولا اُس کی لاش پر نہیں گئے ہیں؟ حالانکہ مقتل سے خیمہ گاہ کتنی دور ہے۔ مجاہد ہوتا تھا وہاں اور مولا ہوتے تھے یہاں۔ خیمہ گاہ جہاں ہے، وہاں سے وہ پکارتا تھا اور امام یہاں سے اُس کی لاش پر جاتے تھے۔ یہ کب ہورہا تھا، تین دن کی بھوک و پیاس میں ،عرب کی دھوپ میں، عراق کی گرمی میں۔

ہر شخص اندازہ کرسکتا ہے کہ ہوسکتا تھا کہ کسی آواز پر عباس سے کہیں کہ تم چلے جاؤ۔ کسی کی آواز پر علی اکبر سے کہیں کہ تم چلے جاؤ۔ خدا کی قسم! غلاموں کی صدا پر عباس چلے جاتے تو بھی اسے فخر ہوجاتا۔ علی اکبر چلے جاتے تو بھی اسے فخر ہوجاتا۔ مگر مولا سے کیونکر ممکن تھا کہ حبیب کی لاش پرخود جائیں اور جَون، غلام ابو ذر کی لاش پر کسی او رکو بھیج دیں؟ نہیں، جو بچپن کے دوست کی لاش پر گیا ہے، وہی غلام ترکی کی لاش پر بھی جائے گا، وہی غلامِ ابوذر کی لاش پر بھی جائے گا۔ او رجو علی اکبر کی لاش پر گیا ہے، وہی حُر کے لاشے پر بھی جائے گا۔اب کتنی پیاس مولا کی بڑھ گئی، کتنی مشقت بڑھ گئی۔مگر حقوق الناس میں یہ تفریق نہیں ہوسکتی۔

اس کے بعد بڑے سخت سے سخت ماحول میں حقوق الناس کی مثالیں پیش کی ہیں۔ ہمارے ہاں تو سلام کے معاملہ میں ہر چھوٹے اور بڑے کی تفریق ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔بڑا مستثنیٰ ہے۔ خیمے میں کون تھا جو مولا سے چھوٹا نہ ہو؟ مگر جب رخصت آخر کیلئے ، کیا رخصت آخر نزاکت وقت کو اتنا بتاسکتی ہے؟ میں کہتا ہوں کہ جب ابھی ایک چھوٹی سی قبر بناکر آرہے ہیں اور اس عالم میں حقو ق الناس کا یہ خیال کہ درِ خیمہ پر کھڑے ہو کر صدا دے رہے ہیں:”اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یَازَیْنَبُ،اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یااُمِ کُلْثُوْم “۔ یہ تو بہنوں کو سلام ہوگیا، اور ”اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یَا سَکِیْنَه ،اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یَا فَاطِمَه “۔ یہ بیٹیوں کو سلام ہوگیا۔ ”اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یَا لَیْلٰی،اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یاَرُبَابُ “۔ یہ بیویوں کو سلام ہوگیا۔

اَلسَّلامُ عَلَی اللِّوَاتِیْ قُتِلَ اَزْوَاجُهُنَّ وَاَوْلَادُهُنَّ فِیْ نُصْرَتِیْ “۔

”سلام ہو اُن خواتین پرجن کے شوہر اور جن کے عزیز میری نصرت میں جان نثار کرگئے“۔

لیجئے! اُم وہب کو سلام ہوگیا اور زوجہ مسلم ابن عوسجہ کو سلام ہوگیا۔ اب کیا فرماتے ہیں:

اَلسَّلامُ عَلَیْکِ یَا فِضَّة “۔

”ارے فضہ! تمہیں بھی میرا سلام ہو“۔

یہ حضرت فاطمہ زہرا کی کنیز ہیں۔فضہ کو سلام ہوگیا۔ یہ ہیں حقوق الناس۔ مگر بڑا سخت موقع ہے جو عرض کررہا ہوں۔ مجھے اسی پر مجلس ختم کردینی چاہئے مگر ابھی تھوڑا آگے بڑھنا ہے کہ مولا کے دل پر داغ تھا کہ اسلام میں اور مسلمانوں میں دفن کرنا سب سے اہم بات ہے مگر میں اپنے ساتھیوں کے لاشے دفن نہیں کرسکا ہوں۔ہاں! احترامِ میّت جتنا ممکن تھا، جہاں تک ممکن ہوا، کسی لاش کو میدان میں نہیں رہنے دیا۔ یہاں پر ذرا سی تفریق ہے۔ جب تک اصحاب رہے، لاشے اٹھوائے اور جب دل کے ٹکڑوں کی باری آئی تو خود اٹھائے ، خود لاشے اٹھائے۔کسی کو رہنے نہ دیا۔سوائے اس کے جس کی لاش نہ اٹھ سکتی ہو۔ورنہ بھلا مولا ، جو غلامِ ابوذر تک کی لاش کو اٹھوائیں، وہ عباس کے لاشے کو رہنے دیں؟

ماشاء اللہ ، اجرکم علی اللہ، مجلس ہوگئی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ چند لفظوں میں سورہ کی عملی تفسیر کو پورا کردوں۔ اربابِ عزا! احترام میّت جتنا ممکن تھا، اتنا کیا مگر مولا کو یہ صدمہ رہ گیا کہ دفن نہیں کرسکا۔ مگر دنیا کو دکھادیا کہ دیکھو! یہ وقت کی مجبوری ہے مگر میں اس فرض کو بھولا نہیں ہوں۔ اس لئے ایک چھوٹی سی لاش کو دفن کرکے میں فریضہ اسلامی کو بھی ادا کردوں گا۔ علی اصغر کی لاش کو بے دفن نہیں رہنے دوں گا۔

اب آگے بڑھتی ہے آیت کہ”( وَتَوَاصَوْابِالْحَقِّ ) “، ا یک دوسرے کوحق کی ہدایت کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! مولا نے جتنے خطبے پڑھے ہیں، اس میں اپنا تعارف کروایا ہے کہ میں کون ہوں؟ میں کون ہوں؟یہ ہرگز اُمید نہیں تھی کہ وہ راہِ راست پر آجائیں گے مگر یہ ”( وَتَوَاصَوْابِالْحَقِّ ) “، کو ادا کرنا تھا۔


فلسفہ قربانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْ ءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ ) ۔

تمام سلسلہ انبیاء میں ہمارے پیغمبر سے پہلے سب سے بالا تر ذات حضرتِ ابراہیم خلیل اللہ کی تھی۔اس لئے ان کا امتحان دہرا ہوا۔ ذات کے بارے میں بھی امتحان اور اولاد کے بارے میں بھی امتحان۔ ذا ت کے بارے میں امتحان ہوا کہ بھڑکتے ہوئے شعلوں میں ڈالے گئے۔ اس کا ذکر کل کرچکا۔ اب دوسرا امتحان اولاد کے بارے میں ۔ جب ہم قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں تو اُس سے ہمیں اس امتحان کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے کہ اتنا عظیم امتحان یعنی آگ میں پھینکا جانا اور اس کا گلزار ہوجانا۔ اس کا ذکر صرف دو جگہ ایک ایک اور دو دو آیتوں میں پیش کیا گیا ہے۔قرآن مجید میں اس کا ذکر اتنے اختصار کے ساتھ ہوا ہے اور یہ امتحان جو اولادکے بارے میں تھا، اس کا ذکر کئی آیتوں میں مسلسل، شروع سے لے کر آخر تک کی ترتیب کے ساتھ اس کی کڑیاں موجود ہیں۔ یہ میں بتاؤں گا کہ درمیان کی کڑیاں اکثر سننے والے کی سمجھ پر چھوڑ کی بنظر اختصار ترک کی گئی ہیں ورنہ آغازِ کار اور انجامِ کار اس سب کو قرآن مجید نے نہایت تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ سلسلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے:

( وَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِیْم ) ۔

”ان کو ہم نے ایک متحمل بیٹے کی بشارت دی“۔

اب اس بشارت کے لفظ سے کچھ لوگوں کو دھوکہ ہورہا ہے اور کچھ اس میں یہودونصاریٰ کا نظریہ ہمارے نظرئیے سے مختلف ہے۔ تو چونکہ دوسری جگہ ، دوجگہ اس کے علاوہ، جنابِ اسحاق کی بشارت کا ذکر ہے اور تفصیل کے ساتھ ہے۔ تو اب اہل کتاب یعنی یہودونصاریٰ کہتے ہیں کہ یہ قربانی کا واقعہ جنابِ اسحاق سے متعلق ہے۔مسلمان بظاہر تو سبھی مگر تلاش سے معلوم ہوتا ہے کہ علمائے اسلام بھی، مگر شاذونادر غالباً اسی بشارت کے ذکر سے دھوکہ کھاکے، انہوں نے بھی ایسا قول اختیار کرلیا کہ یہ جنابِ اسحاق سے متعلق ہے۔ طبری نے اپنی تاریخ میں ان علماء کا نام لے لے کر ذکر کیا ہے۔ا بتدائی صدیوں کے متعلق کہ وہ بھی ایسا ہی کہتے تھے کہ جنابِ اسحاق سے متعلق ہے۔مگر زیادہ تر علمائے اسلام کا نظریہ اور عام اسلامی تصور یہ ہے کہ یہ جنابِ اسماعیل سے متعلق ہے۔اب اگر انہی چند علمائے اسلام سے بحث کرتا ہوں جنہوں نے یہ قول اختیار کرلیا تو قرآن مجید کی آیتیں اور ہماری حدیثیں فیصلہ کن ہو سکتی ہیں لیکن یہاں چونکہ سامنے ایک جماعت غیر مسلمین کی ہے، لہٰذا فیصلہ قرآن مجید کی آیتوں سے تو ہو نہیں سکتا کیونکہ وہ قرآن مجید کو مانتے ہی نہیں۔ تو اب ان سے گفتگو میں فیصلہ کن چیزکیا ہو؟ میرے خیال میں دو ذریعے ہیں، ایک انہی کی بائبل اور دوسرے عقلی روایت کیونکہ عقل کسی ایک قوم کی ملکیت نہیں ہے۔ جو قرائن عقلی کا تقاضا ہو،اس میں مذہب و ملت کا سوال نہیں ہوتا۔

تو اب میں پہلے اس بحث کا فیصلہ بائبل سے چاہتا ہوں۔ ان لوگوں کیلئے جو ناواقف ہیں، ان کی واقفیت کیلئے عرض کروں کہ جنابِ اسماعیل پہلے متولد ہوئے تھے اور جنابِ اسحاق بعد میں پیدا ہوئے۔ وہ بڑے بھائی تھے اور یہ چھوٹے بھائی تھے۔ پھر جب بائبل ہی میں دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے اور پورااندازہ ہوتا ہے کہ جنابِ اسماعیل تیرہ برس بڑے تھے جنابِ اسحاق سے۔ اب جب یہ حقیقت سامنے آگئی تو اب جس کا دل چاہے، وہ بائبل کو اٹھا کر دیکھ لے۔ وہ تو ہر زبان میں ہے۔ ہم تو جو اور زبان میں ہیں، ان کو ترجمہ قرآن کہتے ہیں۔ مگر ان کے ہاں ہر زبان والی بائبل اصلی ہے کیونکہ ان کے پاس اصل کوئی اور ہے ہی نہیں۔آپ ان سے جاکر کہئے کہ بائبل دیجئے ، وہ یہی دیں گے ۔آپ کہیں گے کہ یہ تو ترجمہ ہے۔وہ کہیں گے: جی نہیں۔ یہی ہے اصل بائبل۔ تو وہ ہر ایک کیلئے وہی ہے اور دنیا کی سب سے زیادہ زبانوں میں جو ترجمہ ہوا ہے، وہ اسی بائبل کا ہے۔اس لئے کسی زبان کی بائبل دیکھ لیجئے کہ جس وقت جنابِ ابراہیم نے فرزندکی قربانی کرنے کا تہیہ کیا ، اس وقت کی ان کی ایک مناجات بارگاہِ الٰہی میں بائبل میں درج ہے۔اس کی مناجات میں وہ کہہ رہے ہیں:

”پروردگار! میں اپنا اکلوتا بیٹا تیری بارگاہمیں نذر کررہا ہوں“۔

اب ہر صاحب عقل سمجھ سکتا ہے کہ چھوٹا بھائی کبھی اکلوتا نہیں ہوتا۔ بڑا بھائی اس وقت تک اکلوتا رہتا ہے جب تک کہ چھوٹا بھائی پیدا نہ ہو۔ یہ اکلوتے کا لفظ قطعی طور پر اس کا ثبوت ہے کہ کہ جنابِ اسماعیل سے متعلق ہے اور جنابِ اسحاق سے متعلق نہیں ہے۔مگر اب یہ تو ان کے مقابلہ میں فیصلہ بائبل سے ہوگیا۔ میں نے کہا تھا کہ عقلی قرائن۔ تو عقلی قرائن یہ ہیں کہ اگر یہ جنابِ اسحاق سے متعلق ہوتا تو اس کی یادگاریں سرزمین شام میں ہوتیں ، اس لئے کہ جنابِ عیسیٰ اور جنابِ موسیٰ سے متعلق مقامات بیت اللحم وغیرہ ، وہ سب موجود ہیں تو انہی میں اس قربانی سے متعلق مقامات ہوتے۔ تو ایک طرف ظرفِ مکاں سرزمین شام ہوتی، دوسرے ان کی دینی رسموں میں کوئی دن اس کی یادگار کا ہوتا، مگر ایسا نہیں ہے۔اس کے متعلقہ مقامات جتنے ہیں، وہ سرزمین مکہ میں ہیں، منیٰ ہے۔ وہ کیا ہے اور وہ عرفات ؟ وہ کیا ہے؟ اور وہ مزدلفہ، وہ کیا ہے؟یہ تمام مقامات اسی قربانی سے متعلق ہیں اور اس لئے منیٰ ہی میں وہ قربانیاں کی جاتی ہیں جو روزِ عید قرباں وہاں ہوتی ہیں۔

عام طور پر ہمارے ہاں جو قربانیاں ہوتی ہیں، وہ مستحب ہیں مگر وہاں وہ جزوِ حج ہیں کیونکہ اصل قربانی کا مرکز وہی سرزمین منیٰ کی تھی۔تو وہ تمام مقامات سرزمین مکہ میں ہے۔ ملک شام میں نہیں ہیں۔ پھر یہ کہ اس سے متعلق جو دن ہیں، وہ اسلامی روایات میں ہیں۔ اگر ان کے ہاں کا یہ واقعہ ہے تو انہوں نے اس کی یادگار قائم کیوں نہ کی؟ہمارے ہاں عید قرباں ہے تو وہ اس کی یادگارہے۔ پورے حج کے جو مراسم ہیں، وہ اس کی یادگار ہیں۔صفا و مروہ کے درمیان سعی کیا ہے؟ یہ بھی اسی واقعہ کے متعلق یادگار ہے اور سالِ گزشتہ غالباً انہی مجالس میں:

(”( وَمَنْ یُعَظِّمْ شَعَائِرَاللّٰهِ فَاِنَّهَامِنْ تَقْوَی الْقُلُوْب ) “) ۔

یہ سرنامہ کلام تھا تو اس میں اس کو عرض کرچکا ہوں کہ یہ تمام چیزیں حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ سے نسبت رکھتی ہیں۔سب اس واقعہ قربانی سے متعلق ہیں۔ اب یہ توفیصلہ ان کے مقابلہ میں ہوگیا۔ یہ جو چند پرانے علمائے اسلام ہیں، وہ بھی اس کے قائل ہیں۔ تو اب ان کیلئے قرآن مجید پیش کردوں کہ یہ ”بشرناہ بغلام حلیم“، یہ پورا سلسلہ چلا اور قربانی کا ذکر ہوگیا اور اس قربانی کے ذکر کے بعد ہے”و بشرناہ باسحٰق“، پھر ہم نے ان کو اسحاق کی بھی بشارت دی۔ تو اب تو پتہ چل گیا کہ وہ پہلی بشارت کسی اور فرزند کی تھی۔

مگر جناب! یہودونصاریٰ کے اس اختلاف سے میری نظر میں ایک بڑا نتیجہ حاصل ہوا اور وہ یہ کہ یہ قربانی ایسی عظیم شے ہے کہ اسے ہر ایک اپنانا چاہتا ہے۔ آخر یہ شوق کیوں ہے؟ اگر قربانی کوئی عظیم چیزنہیں ہے تو دوسری جماعت کیوں کہہ رہی ہے کہ ہمارے ہاں ہے، ہمارے مورثِ اعلیٰ کا واقعہ ہے؟ معلوم ہوا کہ قربانی اتنی عظیم شے ہے کہ جہاں نہیں ہے، وہ بھی اسے اپنانا چاہتے ہیں۔ ا س کے بعد کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک قوم کے پاس عظیم قربانی ہو اوروہ اس کے ذکر پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرے۔

یہ تو پہلی آیت میں مَیں نے پیش کر دیا ”بشرناہ بغلام حلیم“۔ یہ اختلاف اور اس کا فیصلہ ۔ اب یہ تو تمہید تھی کہ ہم نے بشارت دی ایک متحمل فرزند کی۔ اب یہاں سے قربانی کا تذکرہ شروع ہوتا ہے ۔بشارت یوں دی۔ اب ظاہر ہے کہ درمیان کی کتنی کڑیاں کہ وہ متولد ہوئے۔ اسے سننے والے کے ذہن پر چھوڑا:

( فَلَمَّابَلَغَ مَعَه السَعْیَ ) ۔

اب نشوو نما ہوئی اور بڑے ہوئے اور اب وہ لڑکا جو پیدا ہوا، اس عمر کو پہنچ گیا کہ دوڑ دھوپ کرسکے۔ سعی کے معنی دوڑنا۔ تو( لَمَّابَلَغَ مَعَه السَعْیَ ) ۔ جب وہ اس حد تک پہنچ گیا کہ باپ کے ساتھ ذرادوڑ دھوپ کرسکے۔ اس میں دو چیزیں مضمر ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ابھی جوانی کی منزل تک نہیں پہنچا ہے۔ بس اتنا ہی اور ایک یہ کہ بہت کمسن بھی نہیں کہ جو باپ کی کوئی مدد نہ کرسکے۔درمیانی عمر ہے۔ بچپن اور شباب کے درمیان کی۔ بس اتنی کہ ابھی تھوڑا سا وہ چل پھر کر باپ کی خدمت کرسکتا ہے۔ تو جب یہ ہوا تو اب ہمارے علم میں کیا ہے کہ انہوں نے خواب دیکھا۔اب بنظر اختصار قرآن مجید خواب کا ذکر نہیں کرتا کہ انہوں خواب دیکھا اور وہ کیا دیکھا۔نہیں، بلکہ جب وہ سعی کی منزل تک پہنچا تو باپ نے بیٹے سے کہا کہ میں یہ خواب دیکھ رہا ہوں ۔ اب اسی سی سمجھ لیجئے کہ خواب دیکھا اور یہ بھی روایتیں بتاتی ہیں کہ تین روز مسلسل دیکھا۔یہ قرآن کے الفاظ سے نمایاں ہے۔ صیغہ ماضی نہیں ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا۔ اس کیلئے ہوتا:

( رَأیِتُ فِی الْمَنَامْ ) ۔

اس کے معنی ہوتے کہ میں نے خواب میں دیکھا۔ یہاں مضارع کا صیغہ ہے:

( اِنِّیْ اَریٰ فِی الْمَنَامِ ) ۔

میں خواب میں دیکھ رہا ہوں۔

دیکھ رہا ہوں کے معنی یہ ہیں کہ کئی دفعہ یہ دیکھا ہے۔ بس اب سمجھ لیجئے کہ خلیل کہہ رہے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا اور دیکھ رہا ہوں ۔ تو اس واقعہ کو جو نہیں بیان ہوا، تو سمجھ لیجئے کہ انہوں نے خواب دیکھا، جبھی تو بیان کیا کہ”( یَابُنَیَّ ) “، اے میرے بچے،”( اِنِّیْ اَریٰ فِی الْمَنَامِ ) “، م یں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ”( اِنِّیْ اَذْبَحُکَ ) “، کہ م یں تمہیں ذبح کررہا ہوں۔”( فَانْظُرْمَاذَاتریٰ“، ) ذرا تم دیکھو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟

میں بارگاہِ جنابِ ابراہیم میں عرض کروں گا کہ اے خلیل اللہ! خواب دیکھا ہے آپ نے، حکم ہوا ہے آپ کو۔اس کی تعمیل فرمائیے۔ یہ بیٹے سے رائے لینے کے کیا معنی کہ تم دیکھو کہ تمہاری رائے کیا ہے؟

مگر یاد رکھنا چاہئے کہ اگر بیٹے سے یوں ذکر نہ کرتے تو قربانی فقط کارنامہ ابراہیم ہوتی، کارنامہ اسماعیل نہ ہوتی اور جب بیٹے سے اس طرح ذکر کر لیا تو بیٹے نے وہ جواب دیا جو ابھی بیان ہوگا اور پھر قربانی ہوئی۔تو اب وہ دونوں کا کارنامہ ہے۔ باپ کا بھی کارنامہ ے اور بیٹے کا بھی کارنامہ ہے۔

اب جناب! ایک دوسرا سوال میرے ذہن میں پید اہوتا ہے اور وہ یہ کہ حکم اتنا شدید کہ طبیعت انسانی پر گراں ہے کہ اپنے بچے کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرے۔ تو حکم اتنا شدید اور ذریعہ حکم اتنا خفیف یعنی خواب۔ ہمیں معلوم ہے کہ کس طرح احکام آتے ہیں، فرشتہ آتا، پیغامِ الٰہی پہنچاتا۔ یہ عام طریقہ ہے۔ خواب بھی ایک وحی کی قسم ہے۔ مگر عام طریقہ تو یہ ہے حکمِ الٰہی پہنچانے کا۔ جی نہیں، اتنا عظیم حکم اور وہ صرف خواب کے ذریعہ؟ تو یہی میرے موضوعِ کلام کا ایک اہم رکن ہوگا۔ میں کہتا ہوں کہ امتحان جب ہے تو اُسے ذریعہ ایسا رکھنا ہے جسے ناقص نفوس خواب کہہ کر ٹال سکتے ہوں۔اب دنیا دیکھے کہ خلیلِ حق اس خواب کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اچھا! اس نے خواب دکھلایا ، کیا ابراہیم نہیں جانتے کہ یہ حکم ہے۔ مگر وہ بھی بیٹے سے خواب ہی کہہ کر بیان کرتے ہیں۔ یہ نہیں کہتے کہ مجھے حکم ہورہا ہے۔ یہی بیان کررہے ہیں کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں۔ اگر کہہ دیتے کہ حکم ہورہا ہے تو یہ ٹکڑا بے جوڑ ہوا کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ جب حکم ہوگیا تو رائے کا کیا سوال؟

پھر یہ کہ یہاں پر بڑا چھوٹے کا امتحان لیتا ہے۔ خالق اپنے خلیل کا امتحان لے رہا ہے اور اب خلیل اپنے فرزند اسماعیل کاامتحان لے رہے ہیں۔ یاد رکھئے کہ امتحان میں ایک پرچہ سوال کا ہوتا ہے۔ وہ پرچہ درسگاہ کے جو کرتا دھرتا ہیں، ان کے پاس آتا ہے اور وہ طالب علموں میں بانٹا جاتا ہے۔یہ ہوتا ہے سوال کا پرچہ۔ اس کے بعد طالب علم جواب کی کاپی لکھتا ہے۔وہ جواب کی کاپی طالب علم کے پاس سے جاتی ہے پہلے درسگاہ کے سربراہان کے پاس۔ وہاں سے ممتحن کے پاس۔ تو میں کہتا ہوں کہ اللہ نے خواب دکھادیا، یہ تو سوال کا پرچہ ہے جو خالق نے اپنے خلیل کے ہاتھ میں دے دیا۔ انہوں نے بیٹے سے مشورہ لیا، یہ ابھی سوال کا پرچہ ہی ہے جو باپ نے بیٹے کے ہاتھ میں دے دیا۔ جب تک سوال کا پرچہ رہا، تب تک لفظ خواب رہا اور جہاں سے جواب کی کاپی شروع ہوئی، اسماعیل نے لفظ بدل دیا، اسماعیل نے یہ نہیں کہا کہ جو خواب دیکھا ہے، اس کی تعبیر آپ سامنے لائیے۔ وہ اب خواب کا لفظ نہیں کہتے۔ وہ کہتے ہیں :

( یَااَبَتِ اِفْعَلْ مَا تُومَرُسَتَجِدُنِیْ اِنْشَاءَ اللّٰهُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ ) ۔

”بابا! جو حکم ہورہا ہے، اس کی تعمیل کیجئے۔ اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابرین میں سے پائیں گے“۔

اب گفتگو کے جو انداز ہوتے ہیں، اس کو ہر صاحب زبان سمجھ سکتا ہے کہ گھبراہٹ کے جواب کا طریقہ اور ہوتا ہے اور اطمینانی جواب کا طریقہ اور ہوتا ہے۔ جنابِ اسماعیل کے جواب کا یہ ٹھہراؤ کہ”اے بابا! جو حکم ہورہا ہے، اس کی تعمیل کیجئے، اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے“، الفاظ کا یہ ٹھہراؤ سکونِ نفس کا پتہ دے رہا ہے۔کوئی اضطراب نہیں ہے۔ نفس مطمئن ہے۔ بے شک بڑا عزم ثابت ہوتا ہے۔ الفاظ ہی سے ثابت قدمی ظاہر ہوتی ہے۔

مگر ایک حقیقت کی طرف توجہ دلاؤں کہ کہہ رہے ہیں:”اللہ نے چاہا تو مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے“۔ یعنی اتنے عظیم امتحان میں کامیابی کے بعد منفرد صابر ہونے کا دعویٰ نہیں ہے بلکہ کہتے ہیں کہ مجھے صابرین میں سے پائیں گے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ کوئی جماعت صابرین کی سامنے ہے جس سے ملحق ہوجانا اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ اب عزم کی منزل میں بات طے ہوگئی کہ باپ بھی تیار، بیٹا بھی تیار۔اب جب عمل کی منزل آئی تو اسے قرآن مجید نے کس طرح ادا کیا ، کتنی تفصیل سے تذکرہ کیا مگر یہاں انتہائی اختصار سے”( فَلَمَّا اَسْلَمَا ) “، یہ اس عظیم امتحان کی کامیابی کیلئے جب آئے ہیں باپ اور بیٹے دونوں، ”اسلما“تثنیہ کا صیغہ ہے۔ اگر الف نہ ہوتا تو واحد کا صیغہ ہوتا اور جب ”( اَسْلَمَا ) “ ہوگ یا تو دو کا صیغہ ہوگیا۔

مطلب یہ ہے کہ دونوں حکم کی تعمیل کیلئے آگئے۔ مگر اسے کس لفظ سے قرآن مجید نے ادا کیا ہے، وہ قیامت تک کے ہر مسلمان کیلئے قابل لحاظ ہے۔ کتنا عظیم امتحان اور اس کی تیاری کیلئے آنا اور اس کی تعمیل کیلئے آنا اور اس کو ایک لفظ میں”( فَلَمَّا اَسْلَمَا ) “،جب وہ دونوں عملاً مسلم ہوکر آگئے ، اس کے معنی یہ ہیں کہ قربانی اتنی اہم ہے کہ جزوِ اسلام ہے کہ ایسی عظیم قربانی کیلئے قرآن مجید لفظ اسلام کو منتخب کرتا ہے۔

( لَمَّا اَسْلَمَا ) “، جبکہ بالکل مسلم ہوکر وہ آگئے۔ پھر اس کے بعد”( وَتَلَّه لِلْجَبِیْنِ ) “، اس نے یعنی باپ نے اس کو یعنی بیٹے کو پیشانی کے بل زمین پر لٹایا۔خواب میں آپ سن ہی چکے ہیں کہ آپ کیا دیکھ رہے تھے؟”( اِنِّیْ اَذْبَحُکَ ) “، م یں تم کو ذبح کررہا ہوں۔ اب یہاں قرآن مجید گویا سننے والوں کے آبگینہ خاطر اتنے نازک دیکھ رہا ہے کہ اس منظر کا تذکرہ وہ لفظوں میں بھی نہیں سن سکتے، لہٰذابس یہاں پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ”( تَلَّه لِلْجَبِیْنِ ) “، پیشانی کے بل لٹایا۔ گویا خلاق یہ کہہ رہا ہے کہ اب ہم سے نہ سنو کہ کیا کیا؟ وہی کیا جو حکم ہوا تھا۔ اب اس کا کوئی ذکر نہیں۔ بس تمہید اس کی جو ہے کہ پیشانی کے بل لٹایا، اسی کا ذکر ہے۔

( تَلَّه لِلْجَبِیْنِ وَنَادَیْنَاهُ اَنْ یَااِبْرَاهِیْمُ ) “۔

اور بس جو حکم ہوا تھا، اس کی تعمیل کی اور ہم نے آواز دی کہ بس! اے ابراہیم ۔کیا؟

( قَدْصَدَقْتَ الرُّوْیَاء ) “۔

”تم نے خواب سچ کردکھایا“۔

بس بس۔ اب یہاں عام طور پر اکثر مقررین ممکن ہے کہ بعض واعظین سے بھی آپ نے سنا ہو ، یہ کہہ دیتے ہیں کہ خالق نے اپنا حکم اٹھا لیا یعنی منسوخ کردیا۔ حکم میں تبدیلی پیدا کردی۔ مگر مجھے اس سے قطعاً تعلق نہیں ہے۔ یہ تصور غلط ہے ،اس کو ازروئے عقل بھی میں آپ کے سامنے پیش کروں گا اور قبل میں جو خطاب ہوا تھا، اس کی بناء پر بھی عقل و قرآن کی شرکت سے بھی پیش کروں گا اور پھر تنہا قرآن سے بھی اس کو پیش کروں گا۔ عقلی بات تو یہ ہے ، ذراغور کیجئے کہ اکثر نتائج غیر اختیاری ہوتے ہیں کیونکہ اسباب کی آخری کڑی اپنے ارادہ سے ہوتی ہے۔لہٰذا آخر تک نتیجہ اس کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ اس کی مثال دینے میں مَیں نے دوسرے کی جان لینے میں آسانی سمجھی تھی جدید طریقے سے کیونکہ وہاں فاصلہ میں دکھا سکتا تھا کہ گولی بندوق سے رہا ہوگئی اور ابھی وہاں تک پہنچی نہیں۔ اب بیچ میں جتنا فاصلہ ہے، ابھی وہ شخص قتل نہیں ہوا مگر بے بس ہے۔

میں نے یہ طریقہ کیوں پسند کیا؟ اس لئے کہ چھری وغیرہ یا تلوار کے طریقہ میں فاصلہ میں نہیں دکھا سکتا تھا۔ وہاں خود کشی میں دریا والا طریقہ اپنے مطلب کا سمجھا کہ وہاں پل سے لے کر دریا تک ایک مسافت ہے اور یہاں میں نے یہ طریقہ اپنے مقصد کیلئے زیادہ مناسب سمجھا ہے ۔ مگر اب یہاں مجھے اس مشکل کو آسان کرنا ہے کہ میں ذبح کی منزل میں دکھاؤں کہ اختیار کہاں سلب ہوتا ہے اور بے اختیاری کی صورت میں نتیجہ کیونکت مرتب ہوتا ہے؟ وہاں میں ا س مشکل میں نہیں پڑا مگر یہاں مجبوراً اس مشکل میں پڑنا ہے۔

تو اب میں آپ سے فیصلہ چاہتا ہوں۔ مگر ایک عقلی بات کہ ہمیشہ تکلیف شرع اختیاری فعل سے متعلق ہوتی ہے جو انسان کے ارادے سے متعلق ہو۔تو دیکھئے کہ ذبح کی منزل میں جو افعال ارادے سے ہوں، وہ کیا کیا ہیں؟ جسے ذبح کرنا ہے، اُسے سامنے لٹائیے، ایک یہ کام۔ وہ کوئی دھاردار چیز ہاتھ میں لے جس سے رگ ہائے گردن قطع ہوں، یہ دوسرا کام جو ارادے سے متعلق ہے۔ تیسرا کام ہاتھ کو وہ جنبش دینا جس رگ ہائے گردن قطع ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اب ہر صاحب عقل جائزہ لے کہ ان میں سے کونسی بات جنابِ ابراہیم نے نہیں کی۔کیا بیٹے کو سامنے نہیں لٹایا؟کسی اور کولٹایا؟ تو قرآن کہہ رہا ہے کہ اسی کو”تَلَّه لِلْجَبِیْنِ “، اسی کو سامنے لٹایا۔ کیا چھری ہاتھ میں نہیں لی؟ کوئی نمائشی چیز ہاتھ میں لی؟ نہیںِ یہ غلط۔ پھر چھری ہاتھ میں لی۔ اب زیادہ نازک مرحلہ تیسرا ہے۔ کیا ہاتھ کو وہ جنبش نہیں د ی جس سے رگ ہائے گردن قطع ہوتے ہیں؟ اگر ہاتھ کو وہ جنبش نہیں دی تو وہ گوسفند بھی کیونکر ذبح ہوا جو فدیہ میںآ یا تھا؟اس لئے کہ اس گوسفند کے ذبح کی نیت تھی۔ اسی سے وہ گوسفند ذبح ہوا ہے۔

تو افعالِ ارادی تو سب عمل میں آگئے۔اب حکم منسوخ ہو کر کیا کرے گا؟ تو یہ عقلی بات ہوگئی کہ یہ تصور غلط ہے کہ حکم منسوخ ہوگیا۔ حکم منسوخ کرنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہاں حکم لفظی تو نہیں تھا کہ فرشتے نے آکر پیغام زبانی لفظوں میں پہنچایا ہو۔ یہاں تو حک بذریعہ خواب تھا۔ تو خواب دیکھئے کیا تھا؟ خواب یہ دیکھا ہوتا کہ میں بیٹے کو ذبح کرچکا ہوں تو عمل میں کچھ رہ گیا؟ اب خواب یہی دیکھا تھا کہ ذبح کررہا ہوں تو جو خواب دیکھا تھا، وہ عمل میں پورے طور پر لے آئے۔ اب اور حکم کہاں تھا جو منسوخ ہوگا؟ اب تیسری بات صاف طور پر قرآن سے پوچھوں کہ صدا کیا آئی؟ تو قرآن یہ کہہ رہا ہے، یہ نہیں کہتا کہ ہم نے پکار کر کہا کہ بس بس۔ اب ہم اپنا حکم اٹھاتے ہیں۔ جی نہیں۔ قرآن کہہ رہا ہے کہ ادھر سے یہ آواز آئی کہ بس بس! تم نے خواب سچ کردکھایا۔ یعنی جو حکم تمہیں ملا تھا، اس کی تعمیل تم نے کردی۔

جناب! دلیل وہ ہوتی ہے جو قطعی ہو اور بہت مستحکم ہو۔ کہاجاتا ہے کہ جنابِ ابراہیم نے آنکھوں پر پٹی باندھ لی تھی۔ اسے مصائب کربلا کے ساتھ موازنہ میں پیش کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بے شک یہ قربانی پیش کی مگر محبت فرزند کی بناء پرآنکھوں پر پٹی باند لی تھی۔ میں کہتا ہوں کہ مجھے اس واقعہ سے انکار کی ضرورت نہیں ہے۔ پٹی باندھ لی ہو تو کیا ہے؟ جو حکم ہوا تھا، اس کی تعمیل کیلئے آئے ہیں۔ اسلام دلوں سے آل اولاد کی محبت نکالنے کیلئے نہیں آیا ہے۔ یہ محبت بھی جزوِ اسلام ہے۔ لہٰذا اگر بیٹے ہی کی محبت میں آنکھوں پر پٹی باندھ لی ہو تو حکم کی تعمیل میں اس سے کیا اثر پڑتا ہے ۔ بہرحال اگر یہ واقعہ صحیح ہے ، اگرچہ مستند ماخذوں میں میری نظر سے نہیں گزرا ہے، اس لئے یہ اگر مگر کررہا ہوں۔ بہرحال یہ چیز جو میں نے بھی سنی ہے اور آپ نے بھی سنی ہوگی، اگر یہ بالکل صحیح ہے تو میں کہتا ہوں ، اب اس کو چاہے محاورہ کے طور پر دیکھ لیجئے، عقلی طور پر دیکھ لیجئے، اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو نتیجہ کو دیکھتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ کردارِ ابراہیم اور شاندار ہوگیا۔ اس لئے کہ انہوں نے تو آنکھ بند کرکے چھری چلائی ہے۔ اب کون ذبح ہوا؟ اس کی ذمہ داری ان پر نہیں ہے۔

ارشاد ہورہا ہے :

( یَااِبْرَاهِیْمُ قَدْصَدَقْتَ الرُّوْیَاء ) ۔

اصل بیانِ واقعہ میں تو اتنا اختصار ہوا تھا مگر اب یہاں قرآن مجید بسیط و تفصیل سے کام لے رہا ہے کہ ہم نے اس کا فدیہ دے دیا، ذبح عظیم کے ساتھ۔ ذبح عظیم کو ہم نے اس کا فدیہ قرار دے دیا۔تو اب مشکل یہ ہے کہ فدیہ میں کیا آتا ہے؟ وہ ہمیں معلوم ہے کہ کیا تھا۔ وہ گوسفند تھا۔ تو اب علمائے جمہور، بڑے بڑے اکابر علماء خواہ علامہ فخر الدین رازی ہوں، حافظ طبری ہوں، علامہ نیشاپوری ہوں، خوا ہ کوئی ہوں، بڑے بڑے علماء۔ دل میں خلش ہے کہ ذبح ہوتا تو نبی زادہ اور آئندہ ہونے والا نبی۔ فقط نبی زادہ نہیں بلکہ وہ جو سلسلہ انبیاء میں ہے، وہ ذبح ہونے والا ہے اور جو چیز فدیہ میں آئی ہے ، وہ ہے گوسفند۔تو گوسفند کو اللہ اس کے مقابلہ میں ذبح عظیم کہہ دے۔ ذہن میں آتا ہے کہ گویا اتنا عظیم نہیں تھا اور ہم نے اس کا فدیہ جو قرار دیا، وہ ذبح عظیم ہے۔ تو اب گوسفند کو ان کے مقابلہ میں عظیم کہا جارہا ہے۔

اب ا س کیلئے یہ بیچارے مفسرین اس گوسفند کی عظمت دکھاتے ہیں اور اس کی عظمت کے اظہار میں مصروف ہوگئے ہیں کہ وہ گوسفند جنت کا تھا اور وہ کوئی ہزار برس سبزہ زارِ جنت میں چرتا رہا تھا اور وہاں اس کی پرورش ہوئی تھی۔اس کو غذا جنت کی دی گئی تھی۔ وہ ایسا تھا ، اس لئے اس کو خالق نے ذبح عظیم کہہ دیا۔ مگر ان اکابرین مذہب اور علماء سے میرا یہ سوال ہے کہ جناب! وہ جنت کا تھا اور جنت کے میوے کھاتا رہا اور جنت کے سبزہ زار میں چرتا رہا، اس سب کے باوجود وہ گوسفند ہی رہا۔ تو پھر سوال تو باقی رہا کہ نبی زادے کے مقابل میں اسے ذبح عظیم کہہ دیا گیا؟یہ ایک پریشانی ہے اور ان بیچاروں کی پریشانی کے دور ہونے کا کوئی سامان نہیں ہے کیونکہ ان کے جتنے واری ہیں، وہ اس سے آگے بڑھتے ہی نہیں۔ اب ہمیں بھی بہرحال پریشانی تو ہونی چاہئے تھی لیکن ہماری پریشانی اپنے ہاں کی تفسیر کو دیکھ کر دور ہوگئی جو آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے وارد ہوئی ہے کہ ذبح عظیم سے مراد قربانیِ کربلا ہے۔ اب وہ خلش تو دورہوگئی۔

دوسرے مسلمان چاہے نہ چاہتے ہوں کہ انبیاء کے مقابلہ میں اور ہستیاں بھی افضل ہوسکتی ہیں مگر ہم تو بحمدللہ مانتے ہیں۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ اور ہستیاں نہیں جو خاتم الانبیاء کے اجزاء ہیں، وہ گزشتہ انبیاء سے افضل ہونے چاہئیں۔ لہٰذا ہمارا دل بالکل قبول کرلیتا ہے کہ بے شک وہ نبی ہیں اور نبی زادے میں سب کچھ ہے۔ لیکن یہاں ”سَیِّدَاشَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّة “ میں اور ان کی قربانی ہے اور حدیث متفق علیہ ہے ”سَیِّدَاشَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّة “ ۔ یہ بھی صحاحِ ستہ کی حدیث ہے۔ تو اب دبی زبان سے ان علماء سے جو اس میں تامل کرتے ہیں کہ انبیاء سے کیونکر افضل ہوسکتے ہیں، ان سے میں بس ایک سوال کروں گا کہ انبیاء بھی اہل جنت میں ہیں یا نہیں؟ بس اس سرداری کے دائرے سے بقائدئہ عقل ایک تو متکلم خارج ہوگا جو اس سرداری کا تاج پہنارہا ہے، وہ متکلم خارج ہوگایا بس وہ جسے وہی اپنے الفاظ سے مستثنیٰ کردے کہ اس کے ساتھ ایک تتمہ بھی ہے کہ ”اَبُوْهُمَاخَیْرٌمِنْهُمَ ا“، ان کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے۔ باقی اور کوئی اب اس سے مستثنیٰ نہیں ہوسکتا۔ جس کو ان کی سرداری کے دائرہ سے نکلنا ہو، وہ جنت سے استعفیٰ دے دے۔یہ پریشانی تو بالکل دور ہوگئی۔ بے شک ان کو اُن کے مقابلہ میں ذبح عظیم کہنا درست ہے۔

مگر جناب! کیا کروں کہ میرے ذہن میں ایک اور پریشانی پیدا ہوگئی، ایک خلش اور پیدا ہوگئی ، وہ یہ کہ جس کا فدیہ ہو، اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ مقصودِ اصلی ہے اور جو فدیہ ہے، وہ ثانوی طور پر مقصود ہے۔ تو یہ پریشانی کسی اور کو نہ ہوتی ، ہم ہی کو ہوسکتی ہے کہ جنابِ اسماعیل بڑے جلیل القدر سہی لیکن ان کا فدیہ سید الشہداء ہوجائیں، یہ کچھ ذہن میں آنے والی بات نہیں ہے۔اب یہ خلش بہت بڑی ہے۔ حقیقت میں یہ خلش ہے ترجمہ کی غلطی کی وجہ سے کہ ”ب“ کو صلہ اور تادیہ قرار دے لیا ہے کہ ذبح عظیم کو ہم نے فدیہ بنایا۔ اس سے یہ پریشانی پیدا ہوئی۔ مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ہے ہی نہیں۔یہ ”ب“ تادیہ اور صلہ کا نہیں ہے۔ یہ ”ب“ بائے سبب ہے۔ ”فَدَیْنَاهُ “، ہم نے فدیہ بھیج دیا۔ بات پوری ہوگئی۔ ہمیں معلوم ہے کیا ہے؟ وہ وہی گوسفند تھا۔ ”فَدَیْنَاهُ “، یہ جملہ گویا مکمل ہوگیا کہ امتحان ہوگیا، کامیابی حاصل ہوگئی۔ ہم نے کہا کہ ہم نے فدیہ بھیج دیا اور وہ جو بھیجا، وہ ہمیں معلوم ہے کہ گوسفند ہے۔ اب وہ گویا کہتا ہے کہ ہم سے پوچھو کہ ہم نے کیوں وہ فدیہ بھیج دیا؟

چونکہ سنت الٰہیہ یہ نہیں رہی ہے کہ وہ اپنے انبیاء و اولیاء کو خطروں سے بچایا کرے، اگر وہ انبیاء و اولیاء کو خطروں سے بچایا کرتا تو مثالِ استقلال کیونکر قائم ہوتی؟ زکریا کو آرے سے چیر ڈالا گیا تو آرے کو ان کے چیرنے سے نہیں روکا گیا۔اسی طرح یحییٰ کا سر قلم کیا گیا تو تلوار کو کند نہیں کیا گیا۔تو سنت الٰہیہ یہ رہی ہے کہ انبیاء پر اگر حربے ہوں تو وہ کارگر ہوں۔ بچانا اُس کا اصول نہیں ہے۔ تو یہ آخر کیوں بچایا؟ فدیہ کیوں بھیجا؟ وہ کہتا ہے : سنو! ہمارا مقصد تو ہے مثالِ قربانی پیش کرنا۔ یہ اس جملے کی شرح ہے جو میں کررہا ہوں۔ مقصد خالق کا ہے قربانی کی عظیم سے عظیم مثال پیش کرنا۔ اگر یہ انتہائے نقطہ قربانی ہوتا تو ہوجانے دیا ہوتا تاکہ قیامت تک کیلئے مثال رہے۔ فدیہ نہ بھیجا جاتا۔ لیکن چونکہ علم الٰہی میں ایک اس سے عظیم ترقربانی آنے والی تھی اور وہ عظیم تر قربانی اسی کی نسل میں آنے والی تھی، لہٰذا ضرورت تھی کہ اس وقت عبوری دَورِ دنیا میں ایک مثال قربانی کی عزم و جزم کی حد تک لاکر چھوڑ دی جائے تاکہ پھر وہ نسل آئے جو اس سے زیادہ قربانیوں کی تاریخ مرتب کرے گی۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ نبی زادے کو عافیت پسندی کیلئے نہیں بچایا بلکہ قربانی کو بلند تر قربانی کی خاطر روکا گیا تاکہ وہ بلند تر قربانی آجائے۔ اس وقت اس بیان سے”حُسَیْنُ مِنِّیْ وَاَنَامِنَ الْحُسَیْنِ “کے ایک خاص معنی سمجھ میں آتے ہیں۔ حسین مجھ سے ہے ، وہ تو نسبی طور پر، اور میں حسین سے ہوں، اگر حسین نہ ہوتے تو اسماعیل ذبح ہوگئے ہوتے یہ نسل ہی کب ہوتی۔تو اب میں’حُسَیْنُ مِنِّیْ وَاَنَامِنَ الْحُسَیْنِ “کا اُردو زبان میں ترجمہ کروں گا کہ حسین مجھ سے ہے ، یعنی میں نہ ہوتا تو حسین نہ ہوتے اور میں حسین سے ہوں یعنی حسین نہ ہوتے تو میں بھی نہ ہوتا۔

بس اہل عزا! اب اس سے الگ ایک خلش جو میرے دل کی تھی، وہ بھی دور ہوگئی۔ وہ خلش کیا تھی کہ اقبال نے تو ہمت کی شکوہ کرنے کی، ہر ایک کی ہمت نہیں ہوتی۔دل میں شکوے آتے ہیں، زبان سے کہنے کی جراءت نہ یں ہوتی۔ تو میرے تو ذہن میں تھا ایک احساس شکوہ کا پیدا ہوتا تھا کہ پروردگار! خلیل کے فرزند کا فدیہ بھیج دیا اور حبیب کے فرزند کا فدیہ تو نے نہیں بھیجا۔

اگر آپ محسوس کریں تو آپ کے ذہن میں بھی ، چاہے آپ اس کا اظہار نہ کریں۔ یہ خلش پیدا ہونی چاہئے تھی مگر میری گزشتہ تشریح کی بناء پر یہ خلش بھی ذہن سے دور ہوگئی۔ خلیل کے فرزند کا فدیہ آگیا، اس لئے کہ اس سے بالاتر درجہ قربانی اللہ کے علم میں تھا۔ حسین کا فدیہ نہ آیا، اس لئے کہ اس کے بعد اس سے اونچا درجہ قربانی اب علمِ الٰہی میں نہ تھا۔بس اب بابِ مصائب ہے۔

اربابِ عزا! وہ ہے قربانیِ اسماعیل اور یہ ہے قربانیِ حسین ۔ دیکھئے ! قربانیِ اسماعیل میں کس کا امتحان ہے؟ باپ کا امتحان ہے کہ وہ قربانی کررہا ہے۔ بیٹے کا امتحان ہے کہ وہ قربان ہورہا ہے۔ کربلا میں حسین بوقت واحد خلیل بھی ہیں اور ذبیح بھی ہیں۔یہ ذبیح ہیں رسول اللہ کی نسبت سے کہ پیغمبر خدا کی طرف سے یہ دین کی طرف سے قربان ہورہے ہیں اور یہ خلیل ہیں اپنے علی اکبر اور اپنے علی اصغر کے لحاظ سے بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ انہوں نے اٹھارہ اسماعیل راہِ خدا میں نذر کردئیے۔ کوئی کہے کہ کیا یہ سب اسماعیل تھے؟میں کہتا ہوں کہ میں کیا کروں؟ سید الساجدین علیہ السلام کی معصوم زبان پر عجیب جملہ ہے۔ جب منہال نے پوچھا کہ مولا کب تک گریہ کیجئے گا۔ تو سید سجاد نے فرمایا کہ یعقوب کے بارہ فرزند تھے، ایک فرزند نگاہ سے اوجھل ہوگیا تھا تو اتنا روئے کہ آنکھوں کی بصارت ختم ہوگئی اور میرے سامنے

بس یہ جملہ ہے جو عرض کرنا ہے۔ پوری روایت اس وقت عرض نہیں کرنی ہے۔ فرماتے ہیں: میرے سامنے تو اٹھارہ جوانانِ ہاشمی و عقیلی و جعفری ، جن کی مثل و نظیر روئے زمین پر نہ تھی، وہ سب قربان ہوگئے تو میں گریہ نہ کروں؟

تو اب آپ نے دیکھا کہ وہ اٹھارہ کیسے تھے؟ ایک اور پہلو کی طرف آپ کی توجہ دلاؤں۔ وہاں دکھا چکا ہوں سعی کی منزل میں کہ جب بچہ”( فَلَمَّا بَلَغَ مَعَه السَعْیَ ) “، جب وہ سعی کی منزل میں پہنچا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ اس میں دونوں پہلو ہیں۔ کمسنی کا پہلو بھی کہ ابھی وہ جوانی تک نہ پہنچا۔ ایک عمر کے بڑھنے کا بھی پہلو کہ ایسا چھوٹا نہ تھا۔ ایسا تھا کہ چل پھر سکے ، باپ کا مددگار ہوسکے۔ یہ دو پہلو تھے اسماعیل میں جسے قرآن نے ایک لفظ میں جمع کیا تھا۔ میں دو جملوں میں مصیبت کے دو دفتر کھولے دیتا ہوں کہ وہ جو ذرا عمر کے بڑھنے کاپہلو تھا، وہ ترقی کرکے علی اکبر تک پہنچا اور وہ جو کمشنی کا ہے، وہ ترقی کرکے علی اصغر تک پہنچا۔وہ ذرا باپ کے مددگا رہوسکتے تھے کہ چل پھر سکتے تھے اور وہ بیٹا اگر قربان ہو جو باپ کا دست و بازو بن چکا ہو، مکمل جوان ہو! مشہور روایت کے مطابق اٹھارہ برس اور کچھ علماء کے نزدیک پچیس برس اور عباس کی عمربتیس( ۳۲) برس یعنی دونوں تقریباً برابر کے جوان۔

میں نے کسی کتاب میں تو نہیں دیکھا ، عراق کے منبروں پر سنا ہے ، انہوں نے کہیں دیکھا ہوگا کہ یہ عباس و علی اکبر دونوں جوان اور نوجوان کیسے تھے کہ جب مدینہ کے بازار میں نکلتے تھے تو جب تک سامنے رہتے تھے، خریدوفروخت موقوف رہتی تھی۔سب کاروبار بند ہوجاتا تھا۔ لوگ دونوں جوانوں کو دیکھنے میں مصروف رہتے تھے۔ چچا بھتیجے ایسے برابر کے جوان تھے۔ اب حسین کے دل کی خبر لیجئے کہ عباس جاچکے اور علی اکبر سامنے کھڑے ہیں۔

عموماً عشرئہ محرم کے بعد وہ اثر نہیں رہتا جو عشرئہ محرم کی مجالس میں رہتا ہے۔ مگر بحمد للہ آپ ہر مجلس میں یہ ثبوت دیتے ہیں کہ آپ کیلئے وقت کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ ہر وقت آپ ویسا ہی اثر لے سکتے ہیں۔ ایک پہلو عرض کروں کہ خود کسی مصیبت کا ضبط کرنا اور اٹھا لینا آسان ہوتا ہے لیکن کسی تڑپتی ہوئی ماں کو دیکھنا ، کسی بلکتی ہوئی بچی کو دیکھنا، کسی روتی ہوئی بہن کو دیکھنا، یہ وہ ہے کہ جب صبروضبط کا بند ٹوٹ جاتا ہے۔ہم نے ایسے متحمل دیکھے ہیں کہ قبرستان میں جنازہ لے گئے ہیں، نہیں روئے۔ دفن کرکے آئے، نہیں روئے۔ مگر جب گھر پر آکر کسی بچی کو تڑپتا ہوا دیکھا، کسی ماں کو روتا ہوا دیکھ لیا تو اب گریہ طاری ہو گیا۔

اب ذرا غور کیجئے کہ جنابِ ابراہیم بڑے صاحب عزم مگر جب جانے لگے تو ماں کو نہیں بتایا کہ کہاں لئے جارہا ہوں۔ جنابِ ہاجرہ نے پوچھا کہ کہاں جارہے ہیں ؟ تو بالکل صحیح کہا کہ ایک دوست کے بلانے پر جارہا ہوں۔ خلیل اللہ تھے، ان کو یہ کہنے کا حق تھا کہ دوست کی فرمائش پر جارہا ہوں۔ اس کے بعد چھری اور رسی مانگی تو اب جنابِ ہاجرہ پریشان ہوئیں۔ کہا کہ یہ چھری اور رسی کیا کیجئے گا؟ کہا کہ دوست کے ہاں جارہا ہوں، ممکن ہے قربانی کی ضرورت پڑے۔پھر ہاجرہ خاموش ہوگئیں۔ اس کے بعد وہاں گئے، فدیہ آگیا۔ واپس آئے تو خیال کیا کہ اب بیا ن کر کے کیاکروں؟ اب تو روزِ قربانیِ اسماعیل عید بن چکا، اب ذکر کرکے کیا کروں!

چند دن کے بعد جنابِ ہاجرہ نے لباس کی تبدیلی کیلئے جو پیرہن اسماعیل کے جسم سے جدا کیا تو گلے پر ایک خط نظر آیا ، پوچھا:

یا خلیل اللہ! یہ خط کیسا ہے؟ اب جنابِ ابراہیم نے خیال کیا کہ اب تو کئی دن گزر گئے، پورا واقعہ بیان کردیا۔صاحب عقل بی بی تھیں، متوکل علی اللہ بی بی تھیں، کہا تو کچھ نہیں مگر نفسیاتی اثر یہ پڑا کہ اسی دن بیمار ہوگئیں اور اسی بیماری میں دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ یہ تصور کہ اگر فدیہ نہ آتا تو میرا بچہ ذبح ہوگیا ہوتا۔

میں کہتا ہوں کہ خبر لیجئے لیلیٰ کے دل کی۔ کیا جب علی اکبر چلے تو لیلیٰ کو نہیں بتایا کہ کہاں جارہے ہیں؟ خد اکی قسم! جانتی تھیں کہ جہاں سب گئے ہیں اور واپس نہیں آئے، وہیں علی اکبر بھی جارہے ہیں۔مگر یہ کارنامہ ہے ان کا ۔ ہوائے زمانہ کے خلاف باتیں ہیں۔ دنیا کردار کے ان پہلوؤں پر غو رنہیں کرتی کہ علی اکبر سا بیٹا چلا جائے ، جس کیلئے مولا اپنی جگہ کھڑے نہ رہ سکیں مگر لیلیٰ نے قدم خیمے سے باہر نہیں نکالا۔ ہاں! خیمے کے اندر بھی بیٹھا نہیں گیا، درِ خیمہ پر کھڑی رہیں۔


اسلام اور ادیانِ عالم ۱

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَالْاِسْلَامِ دِیْنًافَلَنْ یُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَفِی الْاٰخِرَة مِنَ الخَاسِرِیْنَ ) ۔

جو اسلام کے علاوہ کوئی دین اختیار کرے، وہ ہرگز قبو ل نہیں ہوگا اور وہ آخر ت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔ خصوصیاتِ اسلام میں سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا تعلق کسی شخص یا جگہ سے نہیں ہے بلکہ خالق کائنات سے تعلق ہے۔ اس لئے اس کے نام میں بھی ہمہ گیری ہے اور کام میں بھی ہمہ گیری ہے۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ دین کائنات ہے، دین فطرت ہے۔ فطرت کے علاوہ کوئی بار انسان پر ڈالنا مقصود نہیں ہے۔ جو کچھ وہ فطری طور پر، غیر اختیاری طور پر کررہا ہے، اسی کو اختیاری طور پر کرنے کا مطالبہ ہے۔ تیسری خصوصیت یہ ہے کہ انسان کو اسلام نے انسانیت شناسی کا تحفہ دیا۔ اسلام سے الگ ہٹ کر دنیا نے پہچانا ہی نہیں تھا کہ انسان کیا چیز ہے۔اس کے نہ پہچاننے کی وجہ سے وہ طرح طرح کی گمراہیوں میں مبتلا ہوا۔ عقیدہ کے اعتبار سے بھی اور عمل کے اعتبار سے بھی، ابتداء میں بھی ، انتہا میں بھی۔یعنی پرستش کا مرکز بھی پست قرار دیا اور قربانی کا مرکز بھی پست قرار دیا۔ یہ سب انسان ناشناسی کا نتیجہ تھا۔ انسان نے انسانیت کو بہت پست سمجھا اور انسان ہونااپنے لئے گویا بڑی ذلیل بات سمجھا۔ لہٰذا انبیاء و مرسلین کیلئے یہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایک انسان کیونکر نبی اور رسول ہوسکتا ہے؟ قرآن مجید کا ہم شروع سے آخر تک مطالعہ کرتے ہیں تو کفار اور مشرکین کا سب سے بڑا استدلال انبیاء کے مقابلہ میں یہ رہا کہ آپ بشر ہیں تو ہم کیونکر مانیں کہ آپ نبی اور رسول ہیں۔ اسی کو وہ طرح طرح سے کہتے تھے۔ کبھی کہتے تھے:

( مَاهٰذَااِلَّا بَشَرٌ مِثْلَکُمْ یَاکُلُ مِمَّاتَاکُلُوْنَ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ ) ۔

اس کو کیونکر مانیں ، یہ تو تمہارا ایسا ایک آدمی ہے، جو غذائیں تم کھاتے ہو، وہ یہ بھی کھاتا ہے ، جو پانی تم پیتے ہو، جس طرح پیتے ہو، اسی طرح وہی پانی بھی پیتا ہے۔ اس میں کیا خاص بات ہے جو اسے مانیں؟ کہیں کہ کہتے تھے:

( وَقَالُوْامَالِهٰذَاالرَّسُوْلِ یَاکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَ سْوَاقِ ) ۔

ارے یہ رسول کیسا ہے جو کھانا کھاتا ہے اور ہماری طرح سڑکوں پر بازاروں میں پھرتا ہے۔

کہیں یوں کہا، جب موسیٰ و ہارون آئے تو:

( فَقَالُوْااَنُومِنُ لِلْبَشَرَیْنِ مِثْلَنَاوَقَوْمَهُمَالَنَاعَابِدُوْنَ ) ۔

ارے ہم دو ایسے بشروں کو ، ایسے انسانوں کو مان لیں جو ہماری طرح کے بشر ہیں اور ان کی قوم تو ہمارے سامنے عبادت گزار ہے ارو وہ ہمارے سامنے نبی ہوکر، رسول ہوکر آئے ہیں۔

اسی طرح قبیلہ ثمودو عاد کی آوازیں ہیں:

( وَلَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًامِثْلَکُمْ اِنَّکُمْ اِذًالَّخٰسِرُوْنَ ) ۔

بھلا اس کی طرف خدا کی طرف سے کوئی پیغام آیا ہے اور اگر ہم ایک بشر کو مان لیں گے تو یہ بڑی گمراہی ہے ہماری کہ ایک بشر کو مان لیں۔

گویا ان کیلئے قبولِ حق میں بہت بڑی رکاوٹ تھی کہ ہم بشر کو کیونکر نبی اور رسول مان لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مقامِ بشریت کو اپنی سطح پر لاکر انہوں نے پست بنایا تھا کیونکہ خود انتہائی پستی میں گرفتار تھے۔ اس لئے سمجھے کہ بشر اتنا ہی پست ہوتا ہے۔ لہٰذا بشر میں بلندی کا تصور کرہی نہیں سکتے تھے۔ لہٰذا گمراہی کاسرچشمہ بشر ناشناسی تھی۔ صرف انسان کی منزل کو نہ پہچاننا کہ انسان کیا ہے؟لہٰذا انسان کو وہ بس اپنے جیسا سمجھتے تھے۔ اُن انسانوں کو دیکھ کر اپنے کو ان جیسا بنانے کی ہمت نہیں تھی۔ طرح طرح سے ہر پارے میں بعض جگہ تابڑ توڑ مسلسل سورتوں میں آپ کو یہ آوازیں ملیں گی۔ میں نے تو چند آیات پڑھ دی ہیں، وہ سب اکٹھی کی جائیں تو کافی تعداد میں ہوں گی کہ ہر دفعہ وہ یہی کہتے تھے کہ یہ کیا بات ہوئی!بہت آسان تھا ان کا جواب۔

اگر کسی رسول کی زبان سے کہلوایا جاتا اور جب ایک رسول کی زبان سے یہ کہلوایا جاتا تو ہر رسول یہی کہتا کہ بھئی ! یہ تمہاری نظر کا دھوکہ ہے کہ ہمیں بشر یا انسان سمجھ رہے ہو۔ ہم لباسِ بشری میں آئے ہیں، واقعتا بشر نہیں ہیں۔ تو اس طرح منکرین کی زبان بندی ہوجاتی اور پھر ان کے اعتراض کی کاٹ ہوجاتی۔ مگر خالق نے ایک دفعہ بھی کسی رسول کی زبانی یہ آسان طریقہ ان کی زبان بندی کا اختیار نہیں کیا بلکہ جو ان کے دل میں خلش تھی کہ یہ انسان ہیں، نبی کیونکر ہوسکتے ہیں، دور کرنے کی بجائے صرف انبیاء کی کوشش یہ تھی کہ جو ان کے ذہن میں نبوت اور انسانیت میں تضا دہے، اس کو ختم کیا جائے۔

رسولوں کی وکالت میں مَیں مناظر ہوتا تو فن مناظرہ کے لحاظ سے یہ قاطع جواب تھا، ان کی زبان بندی کرنے کیلئے کافی تھا کہ کہا جائے کہ یہ تم سے کس نے کہاکہ یہ بشر ہیں؟ کون کہتا ہے کہ یہ حقیقت میں انسان ہیں؟یہ انسان نہیں ہیں ، یہ مصلحتاً انسان بن کر تمہارے سامنے آئے ہیں ۔ اب دوسرے رُخ سے میں کہتا ہوں کہ جب یہی چیز ان کیلئے رکاوٹ تھی تو انسان کے لباس میں بھیجنے سے مصلحت کہاں ہوئی؟ مصلحت تو اس میں ہوتی ہے جس میں اچھا اثر پڑے اور جو اور مشکل بنا دے، اس سے کیا فائدہ؟ تو کسی نبی کی زبان سے آسان طریقہ اختیار نہیں کیا جاتا کہ یہ کہا جائے کہ یہ واقعتا آدمی نہیں ہیں، یہ واقعتا انسان نہیں ہیں، یہ دراصل کچھ اور ہیں۔ بس لباسِ انسانی میں تمہیں سدھانے کیلئے آئے ہیں۔

آخر انبیاء کی زبانوں کو قدرت کی طرف سے کیوں خاموش کر دیا گیاکہ یہ جواب نہ دو؟ یہ ان سے نہ کہو؟ نہیں، ان کے حلق سے یہی اُتارو کہ بشر ہیں اور پھر نبی بھی ہیں۔انسان ہیں اور پھر رسول ہیں کیونکہ اگر یہ کہہ دیا جاتا کہ یہ حقیقتاً انسان نہیں ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کی غلط فہمی جو مقامِ انسانیت کی پستی کے متعلق تھی، وہ تو قائم ہی رہتی اور یہ قدرت کے مقصد کے خلاف تھا کہ اپنے شاہکارِ عظیم کی توہین ہورہی ہے اور اُسے وہ برداشت کرے۔لہٰذا اس نے اپنی مہم یہ بنا لی۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ نبی اور رسول کیونکر ہوسکتے ہیں جبکہ بشر ہیں اور بشر کے ساتھ بھی وہ یہی کہتے تھے کہ ہمارا ایسا بشر۔ ان کے جواب میں یہ بجائے اس کے کہ نفی کریں ،و ہی کہتے ہیں کہ میں تو بس تمہارا جیسا بشر ہوں مگر مجھ پر وحی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بشر وہ نہ سمجھو جس پر وحی نہ ہوسکتی ہو بلکہ تصور کرو کہ بشر ہوسکتا ہے جس پر وحی ہوتی ہے۔

میں نے کہا کہ ایک سرچشمہ ان کی گمراہی کا یہ تھا کہ بشر اور انسان اتنا ہو ہی نہیں سکتا کہ اس کو رسالت ملے، اس کو نبوت ملے یا عام نبوت اور رسالت سے بالاتر درجہ ہمارے تصور میں ہے ، دنیا کے تصور میں نہیں ہے یعنی امامت ملے۔ بشریت تو بہت نیچی سطح ہے۔ بیچارہ بشر نبی کہاں ہوسکتا ہے؟ رسول کہاں ہوسکتا ہے؟ امام کہاں ہوسکتا ہے؟ لہٰذا اس بنیادی غلطی کی وجہ سے انہوں نے رسالت کا انکار کیا۔ اب اگر ہم یہ کہہ دیں کہ نہیں، بشر نہیں تھے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس گمراہی میں ہم ان کے ساتھ شریک ہیں۔ وہ بات کہ بشریت اور رسالت اور امامت ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں، اس غلط بنیاد کی وجہ سے انہوں نے رسالت کا انکار کیا۔ ہم بشریت کا انکار کررہے ہیں تو دنیاوی گمراہی میں ، تو ہم ان کے ساتھ شریک ہوگئے۔ اسلام کابڑا تحفہ دنیا کیلئے یہ ہے کہ اگر اس کا انکار کریں تو بڑا جوہر انسانیت گم ہوجائے گا ۔

میں کہتا ہوں کہ اسلام کا ایک بہت بڑا امتیاز گم ہوجائے گا اگر اس کے اس تحفہ کی قدر نہ کریں کہ اس نے انسان کی بلندی سمجھائی ، اس نے انسان کو سمجھایا کہ وہ کیا ہے اور جب سمجھے گا کہ کیا ہے توسمجھے گا کہ اُسے کیا ہونا چاہئے۔

اس کیلئے طرح طرح سے ، مختلف طریقوں سے اس نے انسان کی اہمیت انسان کو سمجھائی۔ کبھی یوں کہا:

( لَقَدْ خَلَقْنَاالْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْم ) ۔

”ہم نے انسان کو بہترین نقطہ اعتدال پر بہترین درستگی پر پیدا کیا“۔

ہر زبان والے جانتے ہیں کہ ابتدائی تعلیم میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ اچھے اور بُرے کے دو تین درجے ہیں۔ ایک اچھا اور ایک کسی سے اچھا اور ایک سب سے اچھا۔ ایک برا، ایک کسی سے برا اور ایک سب سے برا۔ یہ ابتدائی تعلیم میں سکھایا جاتا ہے ۔ ملاحظہ کیجئے کہ خالق نے تیسرا درجہ صرف کیا ہے یعنی انسان کو یہ نہیں کہا کہ وہ اچھا ہے، دوسرا درجہ بھی نہیں کہا کہ کس سے اچھا ہے، کس سے اچھا ہے، نہیں ہے، تیسرا درجہ بہترین کاریگری۔ یعنی جو اس کے ہم کہتے ہیں، اللہ اکبر۔سب سے بڑا۔ یہ اس کیلئے کہا۔ اس نے کہا کہ سب سے اچھا۔

مجھے تفصیل سے عرض نہیں کرنا ہے ، مجملاً عرض کرنا ہے ، غور کیجئے جو عرض کررہا ہوں کہ اس نے کہا ہے انسان کو کہ انسان بہترین اور بہترین کے آگے میں نے کہا کہ کوئی درجہ نہیں ہے ۔ جس طرح اللہ اکبر میں اب عظمت سے استثنیٰ کسی کا نہیں ہوسکتا۔کوئی مخلوق اس دائرہ میں مستثنیٰ نہیں ہوسکتی”( فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْم ) “، بہترین نقطہ پر۔ کچھ نہ کچھ منطق ہر ایک جانتا ہے۔ ایک کُلی ہوتا ہے اور ایک فرد ہوتا ہے۔ جیسے یہ آدمی۔ تو فرد انسان ہے اور خود انسان ایک کُلی ہے جس کے تحت یہ ہے۔ اس کو جُزی کہتے ہیں۔جو شخص ہوتا ہے، وہ نوع یا جنس ہوتی ہے۔ اب خالق کہہ رہا ہے کہ انسان درستگی کے بہترین نقطہ پر ہے۔ ا س نے کہا ہے ، خالق نے، مخلوقات کا جائزہ لے کر او رجائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب خلق کیا ہے تو جائزہ لئے ہوئے ہے یعنی ہم نے پیدا کیا اس نقطہ پر۔ ہوا نہیں ہے یہ اس نقطہ پر بلکہ پید اہی کیا گیا ہے۔خلق کیا گیا ہے بہترین نقطہ پر۔

تو حضورِ والا!جب خالق اُس کُلّی کو بہترین کُلّی کہہ رہا ہے، بہترین کہہ رہا ہے تو جو فرد کائنات کا بہترین ہو، اس کو اسی کے تحت میں داخل ہونا چاہئے۔اس نے تو اس کُلّی کو بہترین کہا اور مجھے معلوم ہیں وہ افراد کو بہترین ہیں اور وہ افراد جو بہترین ہیں، وہی مقصودِ کائنات ہیں۔ وہی حاصلِ کائنات ہیں۔تو جو حاصلِ کائنات افراد ہیں، انہیں ا س نوع میں درج ہونا چاہئے جس کا نام ہے انسان!

میں کہتا ہوں کہ یہ انہی کا صدقہ ہے جو اس کو احسن ہونے کی سند ملی ہے ورنہ کیا ان آدمیوں کے لحاظ سے یہ سند ملی ہے جوکیڑوں مکوڑوں سے بدتر ہیں۔ چونکہ وہ افراد اس کے اندر ہیں، اسی لئے اس کو سند ملی ہے۔دوسری جگہ کہا:آسمان پیدا کردیا، زمین پیدا کردی ، سورج پیدا کردیا، چاند پیدا کردیا۔ سب ایک ایک جملے ہیں۔ انسان کی خلقت کا جزو اکیلا بیان کیا کہ اس کو یوں بنایا، یوں بنایا:

( وَلَقَدْ خَلَقْنَاالْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِنْ طِیْنٍ ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍمَکِیْنثُمَّ خَلَقْنَاالنُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَاالْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَاالْمُضْغَةَ عِظٰمًافَکَسَوْنَاالْعِظَامَ لَحْمًاثُمَّ اَنْشَانٰهُ خَلْقًااٰخَرَفَتَبَارَکَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْن ) ۔

ارشاد فرمایا: ہم نے شروع میں تو مٹی سے پیدا کیا، وہ حضرت آدم ابوالبشر تھے جو الگ طرز پر پیدا ہوئے اور ا س کے بعد ہم نے انسان کو یوں پیدا کیا کہ نطفہ، پھر علقہ ، پھرمُضْغه ہے۔ حضور! اس کا کام کوئی تشریح الاجزاء ہے؟ اس کا کام کوئی طبی تحقیقات ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ اس کو اپنی اس مخلوق پر اتنا ناز ہے کہ اس کے تذکرہ میں گویا کہنے والے کو لذت محسوس ہورہی ہے۔

یہ کیا اور یہ کیا، اس طرح بنایا اور اس طرح بنایا اور نطفہ تھا اور علقہ تھا۔ یہ سب ہم سمجھ لیتے، ڈاکٹر ہوکر یا بغیر ڈاکٹر ہوئے۔ یہ سب وہ بیان کررہا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خالق کی نظر توجہ اس مخلوق کی طرف خاص ہے کہ اس کے ذکر کو وہ طول دے رہا ہے اور اب سب منزلیں طے کر لیں۔ کسی طبیب کو اپنے کسی نسخہ پر ناز ہوتا ہے تو وہ اس کے اجزاء اکثر صیغہ راز میں رکھتا ہے، بتایا نہیں کرتا مگر خالق کو اپنی تخلیق پر ناز ہے کہ سب اجزاء بتا رہا ہے کہ اب سب بتا دیا ہے ، بنا سکو تو بنالو۔

نسخہ تو میں نے پورابتا دیا ہے۔ یوں ہوا، یوں ہوا اور ترکیب اجزا بھی بتا دی کہ پہلے یہ بات تھی ، اس کے بعد یہ ہوا اور یہ ہوا۔نسخے کی سب ترکیب بتا دی۔مگر یہاں تک تو بتا دیا ، اب آخر میں جاکر کچھ تھا جو پردہ میں رکھ دیاکہ وہ غلاف بھی چڑھ گیا اور گوشت پوست بھی ہوگیا، سب کچھ ہوگیا۔

( ثُمَّ اَنْشَانٰهُ خَلْقًااٰخَرْ ) “۔

جیسے لفظوں نے ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ اب ہم نے کچھ اور بنادیا ۔ اب یہ کچھ اور جو بنایا ، یہ صیغہ راز میں رکھا۔ یہ کچھ اورکا، آخر کا ایک ایسا ارادہ تھا کہ ارادہ ایک تھا مگر آنکھوں میں نور آیا، پردئہ گوش میں سماعت آئی، زبان میں ذائقہ کی طاقت آئی، شامہ میں احساسِ قوت آئی۔ یہیں سے مادیت نے ہتھیار ڈال دئیے ۔ جو مادّی سبب ہوسکتا ہے، اس کے نتیجہ میں نیرنگی نہیں ہوسکتی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ایک جسم ہے مگر جہاں وہ چاہتا ہے، وہاں بصارت رکھتا ہے، جہاں وہ چاہتا ہے، سماعت رکھتا ہے، جہاں وہ چاہتا ہے، ذائقہ رکھتا ہے۔یہ تقسیم رزقِ وجود بہ اعتبارِ حکمت و مصلحت ہورہی ہے۔ یہ حکیم علی الاطلاق ہی کام ہے، کسی اور کا نہیں۔

اب یہاں پر پہنچا کہ”( اَنْشَانٰهُ خَلْقًااٰخَرْ ) “، پھر ہم نے اس کو کچھ اور ہ ی بنادیا ۔ اور کیا بتاؤں کہ کہنے والا جسم و جسمانیات سے بری ہے مگر یہ مصیبت ہے کہ الفاظ تو جسمانیات کیلئے ہیں۔ اب وہاں کسی حقیقت کا ادا کرنا ہوتو الفاظ کہاں سے آئیں؟ ارے پورا یہ کیا ، یہ کیا اور یہ کیا۔ اب محسوس ہوتا ہے جیسے صفت کا بنانے والا صناع اس تذکرہ سے جھوم گیا، اس نے کہا:

( فَتَبَارَکَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْن ) “۔

ارے کیا کہنا اُس اللہ کا جو بہترین خالق ہے۔

اب خلقت انسان پر اپنے کو احسن الخالقین کہا۔ دور کی بات ہے مگر اب یہاں ذکرآگیا ہے کہ کیسی کیسی روشن صنعتیں سورج ، چاند، ستارے اور کیا کیا، کیسے کیسے حسین گلاب کے پھول اور وہ تمام چیزیں جن کے تذکرے میں شاعروں کو وجد آتا ہے، سب اس نے بنائیں مگر اس نے کبھی ان سب کا ذکر کرکے اپنی تعریف نہیں کی اور جب اس کا ذکر آیا، تفصیل کے ساتھ ، تو آخر میں کہہ دیا کہ”( فَتَبَارَکَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْن ) “، بابرکت ہے وہ ذات جو بہترین خالق ہے۔ انسان کی خلقت پر اپنے کو بہترین خالق کہنے نے بتایا کہ یہ بہترین مخلوق ہے۔

اس کی ایک نظیر ہے۔ اس کو تفصیل سے پیش نہیں کرنا ہے، صرف آپ کے ذہن کو متوجہ کروں گا اور صرف متوجہ کرنا نہیں ہے ،ا س توجہ دہانی میں ایک بڑے مسئلہ کا حل ہے۔ جو کہاجاتا ہے ، اس کی رَد ہے کہ حضور رسولِ خدا کو اس نے کیسے کیسے حیرت انگیز معجزے عطا کئے تھے۔ ان کے ہاتھ میں ستاروں سے تسبیح کروادی مگر اس نے اس کا ذکر کوئی نہیں کیا اور اپنی تعریف نہیں کی۔یہ سب معجزاتِ رسول میں درج ہیں، متفق علیہ ہیں کہ درختوں سے صدائے سلام بلند کروادی۔راستہ چلتے ہیں ، دیواروں اور درختوں سے صدائے سلام آتی تھی اور اس کا ذکر نہیں کیا اور اپنی تعریف نہیں کی۔چاہِ شور کو لعابِ دہن سے شیریں کردیا، اس کا تذکرہ نہیں کیا اور اس پر اپنی کوئی تعریف نہیں کی۔ان کے ہاتھ میں لکڑی کو تلوار بنادیالیکن اس کا ذکر بھی قرآن میں نہیں کیا اور اپنی تعریف بھی نہیں کی۔طعامِ قلیل سے مجمعِ کثیر کو سیر کروادیا، تھوڑا سا کھانا اور ایک بڑی جماعت نے بڑے بڑے کھانے والوں نے کھالیا اور وہ کھانا ختم نہیں ہوا، مگر اس کاتذکرہ قرآن میں نہیں کیا اور اپنی تعریف نہیں کی۔ ان کی دعا سے ان کے وصی کیلئے سورج کو پلٹا دیا مگر اس کا ذکر قرآن میں نہیں کا اور اپنی تعریف نہیں کی۔

یہ تو سب بعد کی باتیں ہیں، ولادت کے وقت بحیرئہ ساوہ کو خشک کردیا، آتش کدئہ فارس کو گل کردیا۔ چودہ کنگرے قصر کسریٰ کے گرا دئیے، یہ سب کچھ کردیا۔ اپنے رسول کو ایسے ایسے معجزات دے دئیے اور اس کا یا تو ذکر ہی نہیں کیا یا ذکر کیا بھی تو اپنی کوئی تعریف نہیں کی۔وہ پیغمبر کو ایک خواب دکھا دیتا اور اپنی تعریف کرنے لگتا۔ اگر اس احسن الخالقین سے یہ سمجھ میں آیاکہ یہ بہترین شاہکارِ خلقت تھا جس کا ذکر خالق نے کیا تو اس اندازِ ذکر سے دنیا سمجھے کہ معراجِ رسول اس کی قدرت کا کوئی عظیم کارنامہ تھی، تبھی اپنا ذکر اس نے اس طرح کیا، تسبیح کے ساتھ۔ وہ کہتا ہے:

( سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْریٰ بِعَبْدِه ) “۔

”پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندہ کو“۔

اس بندہ کے لفظ سے بھی یہ مسئلہ حل ہوجاتا ہے ۔ آج اس اندازِ بیان سے کہتا ہوں کہ اب روحانی معراج مان کر قرآن کی بلاغت آسمان پر رہے گی یا زمین پر آجائے گی؟

میں کہتا ہوں وہ اپنی تسبیح کررہا ہے۔ ”پاک ہے وہ ذات“، اس میں سائنس والوں کے سب اعتراضات کا جواب ہے۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ بشر ہوتے ہوئے یہ کیونکر گئے؟ میں کہتا ہوں بشر ہوتے ہوئے یہ گئے ہی نہیں، خدا ہوتے ہوئے وہ لے گیا۔

یہاں بھی وہ خصوصیت قائم ہے کہ اتنا بڑا معجزہ یا اتنی بلندی عطا فرمائی جس کا نام معراج ہے۔ یہ بھی بحیثیت رسول نہیں دی، بحیثیت بشردی۔ اس لئے ”( بِرَسُوْلِه ) “ نہیں کہا، ”( بِعَبْدِه ) “کہا ہے۔ رسالت سے وحی آتی ہے، بشریت سے عبدیت ہوتی ہے۔اس سے بھی مقامِ بشریت نمایاں ہوتا ہے کہ انسانیت اتنی اونچی چیز ہے کہ عرش زیر نعلین آجاتا ہے۔

مقامِ بشر اتنا اونچا ہے کہ ملک کو اس عرض کے بعد ساتھ چھوڑنا پڑا تھا کہ اگر ذرا آگے بڑھوں تو نورِ جلال میرے پروں کو جلا کر راکھ کردے گا۔میں کہتا ہوں کہ اس کے بعد تو ملک کہنا ان کی توہین ہے۔ ارے خادم کو مخدوم بنا دیجئے تو یہ کوئی مخدوم کی عزت افزائی ہوئی؟ملائکہ تو ان کے گھر کے خادم ہیں۔ ان کو ملک کہہ کر کیا تعریف ہوسکتی ہے؟ زنانِمصر نے یوسف کوکہہ دیا تھا کہ بہت بڑا فرشتہ ہے۔ وہ ان کی نگاہ تھی ، ”فکر ہرکس بقدرِ ہمت اوست“۔وہ حسن صورت کو دیکھ رہی تھیں اور فرشتے اَن دیکھی چیز تھے۔ سمجھتے تھے کہ ان سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔لہٰذا انہوں نے مَلک کہہ دیا۔لیکن جو حقیقت شناس ہے، وہ ملک کہنا ان کی توہین سمجھے گا۔ملک تو ان کے خدمت گار بن کر آتے ہیں۔ یہ ہے مقامِ انسانیت!

ایک اور پہلو عرض کرنا ہے تاکہ مقامِ بشریت سمجھ میں آئے کہ ان ہستیوں کو جو ہمارے نزدیک کائنات میں سب سے افضل تھیں، ان کی تعریفیں قرآن نے انسان کہہ کہہ کر کی ہیں۔ بس چند مواقع یاد دلاؤں گا۔ایک خدا کا بندہ اس کی رضا کیلئے رسول کی چادر اوڑھ کر فداکاری کی منزل طے کرتا ہے۔ فداکاری کیلئے تو ذہن میں میدان ہے کہ میدان میں فداکاری ہوتی ہے۔ مگر یہ تنگنائے چادر کے اندر فداکاری؟اور مجھے معلوم نہیں کہ بدرواُحد کے میدان کی فداکاریوں پر کبھی خدا نے فخر کیا ہو مگر آج یہ فداکاری جو زیر چادر ہورہی ہے، اس پر اللہ فخر کرتا ہے۔اس فداکاری کی قیمت عام افراد کو سمجھاؤں جوعام اسباب کی بناء پر اتنی اونچی باتیں نہیں سمجھ سکتے۔ علی کھلے ہوئے علی ہوتے تو اتنے خطرہ میں نہیں تھے جتنے رسول بن کر لیٹے ہیں۔ عموماً بھیس وہ بدلا جاتا ہے جو خطرہ سے دور ہو، مثلاً مرد عورتوں کا لباس پہن کر مجمعوں سے نکلا کرتے ہیں۔ لیکن یہ نیا بھیس بدلنا دیکھا کہ جس کے قتل کا منصوبہ ہو، اس کی چادر اوڑھی جائے، اس کے بستر پر لیٹا جائے۔

اُس نے حکم دیا تھا کہ لیٹو اور کیوں لٹایا تھا؟ اس لئے کہ رسول کا جانا پردے میں رہے ، یعنی دنیا یہ نہ سمجھے کہ رسول چلے گئے ہیں ورنہ اسی وقت چلے جائیں گے تلاش کرنے کیلئے۔ یہ انتظام کیا گیا تھا کہ رسول جب تک اس جگہ تک نہ پہنچ جائیں جہاں خدا نے حفاظت کا انتظام کر دیا ہے، اس وقت تک مشرکین اُلجھے رہیں اور سمجھتے رہیں کہ پیغمبر خدا بستر پر ہیں۔

اس لئے رسول نے لٹایا تھاخدا کے حکم سے۔تو جب خدا کے حکم سے تھے تو کہوں گا کہ خدا نے لٹایا تھا اور اس لئے بستر پر لٹایا تھا۔ مگر شعراء کی زبان میں دو ایک جملے کہنا چاہتا ہوں کہ جو گھیرے ہوئے تھے، وہ اجنبی لوگ نہیں تھے، اسی قوم و قبیلہ کے لوگ تھے جس میں ۵۳ برس وہ زندگی گزار چکا، جو گیا ہے اور ۳۲ برس یہ زندگی گزار چکا جو لیٹا ہے۔یعنی جو گھیرے ہوئے ہیں، وہ خوب اندازِ قد سے واقف اور پھر شمائل دونوں کے کتابوں میں موجود ہیں کہ دونوں بزرگوں کا قد یکساں نہیں تھا، قامت عصمت ایک تھامگر قدوقامت جسمانی میں فرق تھا۔ تو یہ بیوقوف رات بھر سمجھتے رہے اور حقیقت نہیں سمجھے تو بیوقوف نہیں تھے تو اور کیا تھے؟واقعتا بیوقوف نہ ہوتے تو اسلام کیوں نہ لے آتے؟ تو بیوقوف رات بھر سمجھتے رہے کہ رسول لیٹے ہوئے ہیں۔ یہ کیا راز ہے؟

حضور! میری سمجھ میں تو دو باتیںآ تی ہیں ورنہ اسی وقت چلے گئے ہوتے۔ یہ تو ہر ایک روایتاً،درایتاً اصول سے ماننے پر مجبو رہے۔ وہ کیوں نہیں سمجھے؟ دو وجوہات ذہن میں آتی ہیں۔ جو واقعہ کو سمجھے، وہ اگر یہ دو وجوہات نہ سمجھے تو تیسری سائنسی وجہ میرے سامنے پیش کردے۔میری سمجھ میں دو وجوہات آئی ہیں ، دونوں بہرحال سائنس کی حدود سے آگے ہیں۔

ایک پہلو یہ ہے کہ خدا نے حکم دیا کہ بستر پر لیٹ جائیں۔ تو پھر رات بھر کیلئے اس نے ہوبہو رسول بنا بھی دیا ورنہ اس کے مقصد کو شکست نہ ہوجاتی؟ ہوبہو رسول بنا بھی دیا۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن کے ماننے والے کو اس میں عذر نہیں ہونا چاہئے۔ اگر عیسیٰ کی حفاظت کیلئے ایک دشمنِ خدا کو ایک دشمنِ عیسیٰ کی صورت دی جاسکتی ہے تو ان سے افضل ذات محمد مصطفےٰ کی حفاظت کیلئے غیر کو نہیں، ان کے نفس کو ان کی صورت کیوں نہیں دی جاسکتی؟

حضورِ والا! یہ ایک پہلو ہے جو میری سمجھ میں آتا ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ میں کہتا ہوں کہ یہ اس چادر کی کرامت ہے ، حضور کی طرف سے کرامت ہوگی ، مگر یہ چادر کی کرامت ہے کہ جب پیغمبر اوڑھیں تو ان کے جسم پر بالکل صحیح اور جب علی اوڑھیں تو ان کے جسم پر بالکل راست اور جب پانچوں آجائیں اور پھر بھی گنجائش رہے! ورنہ اُمِ سلمہ آنے کی کوشش ہی کیوں کرتیں اور جبرئیل امین کیوں داخل ہوجاتے؟ تو یہ چادر کی کرامت تھی اور دوجملے کہتا ہوں ، یہ بہرحال چادر کی خصوصیت معلوم ہوتی ہے، اس لئے میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ بہرحال چادر کی خصوصیت معلوم ہوتی ہے۔ اس لئے میں محسو س کرتا ہوں کہ یہ چادر قدموں پر نہیں ناپی گئی تھی، یہ نورِ واحد پر بیونتی گئی تھی۔

تو اتنا بڑا فداکاری کاکارنامہ، اس پر سند قبولیت لے کر جو آیت اُتری، وہ آیت کیا ہے”من المومنین“نہیں،

( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَامَرَضَاتِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ رَوفٌ بِالْعِبَادِ ) ۔

دیکھو! انسانوں میں ایک یہ بھی ہوتا ہے جو اپنی جان کو رضائے پروردگار کیلئے فروخت کردیتا ہے۔اصولِ قرآنی یہ ہے کہ فرد کی مدح کرنی ہوتی ہے مگر صیغے جمع کے صرف کئے جاتے ہیں۔ رکوع میں انگوٹھی دینے والا ایک فرد تھا مگر قرآن کی آیت کے صیغے سب جمع کے۔

( وَالَّذِیْنَ اٰمَنُواالَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰة وَیُوتُوْنَ الزَّکوٰة وَهُمْ رَاکِعُوْنَ ) ۔

سب جمع کے صیغے، اصولِ قرآنی یہی ہے واحد کی مدح ہوگی ، جمع کے صیغے ہوں گے۔مگر یہ خاص وہ محل ہے کہ خالق نے بھی انفرادیت نمایاں کی ہے۔

( مِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْریْ ) “۔

انسانوں میں ایک وہ بھی ہے یعنی اس مقامِ فداکاری میں کہیں پر بھی کوئی دوسرا نہیں ہے۔ انسانوں میں ایک یہ بھی ہے۔ یہ ایک اتنی اونچی منزلِ کردار پر بھی جاکر کہتا ہے کہ انسانوں میں ایک یہ بھی ہے۔ اس کے بعد کون ہے جو مقامِ انسانیت کو پست سمجھے؟ میں کہتا ہوں کہ یہ وحدت نمایاں ہوگئی کہ دیکھو! انسانوں میں ایک ایسا بھی ہے ۔ میں کیا کروں کہ اس کے بعد وحی کا دروازہ بند ہوگیا۔ میں کوئی آیت اُترتی ہوئی دکھلا نہیں سکتا ، مگر میرا تصور یہ ہے کہ اگر دس محرم ۶۱ ھ کو کوئی آیت اُترتی تو شاید واحد کا صیغہ جمع کا لباس اختیارکرتا۔اُس روز کہا جاتا کہ دیکھو! ایسے بھی انسان ہوتے ہیں۔ کچھ کی جبینِ عقیدت پر شاید شکن آجائے اور ذرابارِ خاطرہوجائے کہ کہاں امیرالمومنین کی منزل او رکہاں کربلا میں جتنے ہیں، سب کو کہہ دیا کہ اگر آج آیت اُترتی تو سب کو کہتی ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ مجھے بھی فرقِ مراتب معلوم ہے۔ ارے سب عرب بھی نہیں، غیر عرب بھی ہیں، سب قرشی نہیں ، غیر قرشی بھی ہیں، سب آزاد بھی نہیں، غلام بھی ہیں۔ اتنا زمین وآسمان کا فرق بہ اعتبارِ صفات و افعال ہے، قومیت کے اعتبار سے فرق ہے۔

مگر جہاں تک کردارِ کربلاکا تعلق ہے، قرشی و غیر قرشی کا کیا ہاشمی و غیر ہاشمی کا کیا؟ میں تو کہتا ہوں کردارِ کربلا میں مجھے معصوم و غیر معصوم کا فرق نظر نہیں آتا۔ ایک بے داغ مرقعِ کردار ہے ورنہ معصوم اپنی پاک زبان سے سب کو یکساں طور پر کیوں کہتے:

بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ طِبْتُمْ وَطَابَتُ الْاَ رْضِ الَّتِیْ دُفِنْتُمْ فِیْهَا وَفُزْتُمْ فَوْزًاعَظِیْمًا

میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم بھی پاک ہوئے اور وہ سرزمین بھی پاک ہوئی جس میں تم دفن ہوگئے۔ اب معصوم اپنی تمام کارنامہ ہائے عصمت والی زندگی کے ساتھ کہہ رہے ہیں:

یَالَیْتَنِیْ کُنْتُ مَعَکُمْ فَاَفُوْزُفَوْزًاعَظِیْمًا “۔

کاش! میں تمہارے ساتھ اس کامیابی میں شریک ہوتا اور اس عظیم کامیابی کو حاصل کرتا۔

ہمیں بھی سکھایا یہی گیا ہے کہ تم جب واقعہ کربلا کو یاد کرو تو یہ کہو:

یَالَیْتَنِیْ کُنْتُ مَعَکُمْ فَنَفُوْزُفَوْزًاعَظِیْمًا “۔

”کاش! ہم آپ کے ساتھ ہوتے اور اس عظیم کامیابی کو حاصل کرتے“۔


اسلام اور ادیانِ عالم ۲

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَالْاِسْلَامِ دِیْنًافَلَنْ یُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَفِی الْاٰخِرَة مِنَ الخَاسِرِیْنَ ) ۔

اس موضوع سے متعلق جو میں عرض کررہا ہوں، قرآن مجید کی ایک آیت ہے:

( اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَالَّذِیْنَ هَادُوْاوَالنَّصَارٰی وَالصَّائِبِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِوَعَمِلَ صَالِحًافَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَاخَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَلَاهُمْ یَحْزَنُوْنَ ) ۔

یہ مضمون قرآن مجید میں دو مقامات پر ہے۔ ایک جگہ یہ ہے جو الفاظ میں نے پڑھے اور ایک جگہ اتنا فرق ہے کہ یہاں نصاریٰ پہلے اور صائبین بعد میں ہے اور وہاں صائبین پہلے ہے اور نصاریٰ بعد میں ہے۔ذرا گرائمر کا فرق ہے کہ یہاں صائبین منصوب ہے اور وہاں صائبون مرفوع ہے۔ مطلب دونوں کا ایک ہے۔ لفظی ترجمے کے لحاظ سے ایسا ذہن میں آتا ہے کہ نجات کیلئے اسلام کی خصوصیت نہیں ہے۔ ترجمہ یہ ہے کہ جو ایمان لائے اور عیسائی اور صائبی ، یہ ستارہ پرست ہوتے تھے اور یہودی، یہ سب جو ایمان لائیں اللہ اور روزِ آخرت پر اور نیک اعمال کریں تو ان کیلئے ان کا اجر ہے ان کے پروردگار کے ہاں اور خوف اور حزن ان کو نہیں ہے۔

اب کوئی کہے کہ آپ یہ کہہ رہے ہیں اور قرآن کی آیت یہ تھی کہ جو اسلام کے علاوہ کوئی دین اختیار کرے، وہ قبول نہیں ہوگا اور گھاٹا اٹھائے گا اور یہاں دو جگہ قرآن کہہ رہا ہے کہ یہودی اور نصرانی اور آتش پرست یہ سب۔ میں کہتا ہوں کہ یہ نام بھی بطورِ مثال ہیں یعنی کسی بھی مذہب کا ہو اور نیک اعمال کرے تو وہ نجات پائے گا اور اُسے اجروثواب حاصل ہوگا۔ آپ کی توجہ اس طرف مبذول کروانا ہے کہ اگر ان سب ناموں کے بعد صرف”( مَنْ عَمِلَ صَالِحًا ) “ہوتا ، یہودی، نصرانی، صائبی اور مسلمان ، جو نیک اعمال کرے، تب وہ مطلب نکلتا جس کی خاطر یہ آیت پیش کی جارہی ہے۔ مگر یہاں”( مَنْ عَمِلَ صَالِحًا ) “نہیں ہے بلکہ مومن و یہودی و نصرانی و صائبی و مجوسی یا جو بھی نام آپ کو یاد آئیں مذاہب کے، وہ سب ۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ سب اگر نیک اعمال کریں ، کہا جاتا ہے کہ یہ سب جو ایمان لائیں اللہ اور روزِ آخرت پر اور پھر نیک اعمال کریں ۔

جب قرآن کا مطالعہ کیجئے تو اللہ اور آخرت کے معنی ہیں اسلام یعنی یہ دوسرے ہیں عقائد کے ایک مبداء اور ایک معاد۔ایک اللہ اور ایک آخرت۔ کہاں سے آئے؟ وجود کیونکر ہوا؟ یعنی آغازِ حیات اور انجامِ حیات۔ رسالت اور امامت سب اس کے درمیان میں ہے جیسے سماو ارض کے مابین تمام کائنات ہے، ایسے مبداء و معاد میں تمام اسلام ہے۔اس لئے آپ قرآن میں اکثر دیکھیں گے کہ اظہارِ ایمان و اسلام کیلئے صرف ”( یُومِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) “، اللہ پر اور آخرت پر ا یمان لائیں ۔یہی ہے، یہ گویا محاورئہ قرآنی ہے ایمانِ مکمل کیلئے کہ

( اَ لْاِیْمَانُ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) “، اللہ پر اور روزِ آخرت پر ا یمان۔

اب ایک اور موضوع کی با ت آگئی ذہن میں کہ اگر قرآن سے کلمہ مرتب کرنا ہے تو اللہ اور قیامت کا کلمہ پڑھئے۔ اس لئے کہ قرآن میں یہی دو چیزیں اکٹھی ہیں۔ قرآن میں شروع سے لے کر آخر تک کہیں بھی یکجا”لَآاِلٰهَ اِلَّااللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّ ٰہ“نہ یں ہے۔ قرآن میں اللہ کے ساتھ یومِ آخر ہے۔تو اگر قرآن کو کافی بنا کر کلمہ پڑھنا ہے تو بس اللہ اورقیامت کو لیجئے۔ معلوم ہوا کہ کلمہ قرآن سے نہیں پڑھاگیا اور نہ قرآن نے کلمہ سکھایا ہے اور رسول بھی جب مسلمان بناتے تھے تو لفظ”قولوالَآاِلٰهَ اِلَّااللّٰه “کہتے تھے کہ ”لَآاِلٰہَاِلَّا اللّٰہ“کہو۔ تو اگر رسول کے کہنے سے کلمہ پڑھنا ہے تو عمر بھر یہی پڑھتے جائیے۔ رسول تو فقط ”لَآاِلٰهَ اِلَّااللّ ٰہ“ پڑھواتے تھے۔ آگے کوئی جملہ نہیں کہتے تھے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کلمہ نہ قرآن سے بحیثیت مجموعی مرتب ہوا ہے، نہ حدیث سے بحیثیت مجموعی مرتب ہوا ہے بلکہ اپنے خصوصیاتِ امتیازی ، جو عقیدہ کے لحاظ سے ہیں، ان کے اظہار کا ذریعہ کلمہ ہے۔

اب رسول نے فرمایا”قُوْلُوالَآاِلٰهَ اِلَّااللّٰ ہ“۔ بس”لَآاِلٰهَ اِلَّااللّٰ ہ“، تو ہم نے رسول کے کہنے سے کہا مگر چونکہ ان کے کہنے سے کہا، اس کے معنی ہیں رسالت کو مانا۔ تو ہم نے خود کہہ دیا”مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰه “، اور جب غد یر میں اعلان کیا”مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ “، تو ہم نے کہہ دیا”عَلِیٌّ وَلِیُّ اللّٰهِ “۔

تو جناب! یہ تو ہے نہیں کہ جو یہ سب کرے، وہ سب نیک اعمال کرے بلکہ اس کے بعد کہا گیا”مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ “ اور روزِ آخرت پر ا یمان لائے اور نیک اعمال کرے۔یہ دو چیزیں ہیں یعنی صرف عمل صالح پھر بھی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ عقیدہ کا ایک جزو ہے جس کا نام ”اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ “ ہے اور اس کے بعد پھر عمل صالح ہے۔

اب جو شروع میں سب نام لئے تھے، اس کا کیا مطلب؟ جو مطلب میں سمجھا ہوں، اس کے سوا کوئی مطلب نہیں ہوسکتا، وہ یہ ہے، شروع میں بھی تو ایک عدد”الَّذین اٰمنوا“موجود ہے کہ وہ جو ایمان لائے۔ جو ایمان لائے اور یہودی و نصرانی و صائبی، جو ایمان لائے ، اللہ اور روزِ آخرت پر، تو اس لائن میں بھی ایمان لائے ہے اور پھر معیارِ نجات میں بھی ایمان لائے اور نیک اعمال کرے۔ کیا مطلب؟ وہ ایمان کونسا ہے اور یہ ایمان کونسا ہے جو یہودی و نصرانی کے ساتھ”اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “کہا ہے، وہ پھرک یا ہے؟ او ربعد میں جو قید لگائی ہے کہ ایمان لائے اور نیک اعمال کرے، یہ کیا ہے؟

تو اب جو میں کہتا ہوں ایمان کا مطلب، اس کے بعد دیکھئے کہ نتیجہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ماضی کو نہیں دیکھا جائے گا۔خواہ شروع سے مسلمان ہو، یہ شروع والا”اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ہے۔ یعنی یہ نہیں ہے کہ پہلے یہودی تھا، یہ نہیں کہ پہلے نصرانی تھا، یہ نہیں کہ پہلے صائبی تھا۔ جی نہیں! یعنی وہ جو پیدائشی مسلمان ہے۔ یہ پہلا”اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا “ہے جو شروع سے مسلمان ہ یں اور جو یہودی ہیں، نصرانی ہیں، ہیں اب نہیں، یعنی پہلے تھے ماضی میں، خواہ شروع سے مسلمان ہو، خواہ پہلے یہودی ہو، نصرانی ہو، صائبی ہو، آتش پرست ہو یا ستارہ پرست ہو، جوبھی وہ پہلے تھا، اب معیارِ نجات سب کیلئے ایک ہے۔ وہ یہ کہ:

مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِوَعَمِلَ صَالِحًافَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ “۔

ماضی جس کا جو بھی ہو لیکن حال میں اگر دونوں شرطیں حاصل ہیں یعنی ایمان ہے اللہ اور روزِآخر ت پر، جس کے معنی ہیں اسلام اور نیک اعمال ہیں تو اس کیلئے اس کا اجر ہے یعنی نجات ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حال میں معیارِ نجات سب کا ایک ہے اور وہ اسلام با عمل ہے۔

جناب! تین عدد حقائق بیان ہوچکے ۔ ایک یہ کہ اسلام کا براہِ راست اللہ سے تعلق ہے، کسی محدود ذات سے یا محدود مکان سے تعلق نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ دین فطرت ہے اور تیسرے جو آخر میں عرض کیا گیا۔ یہ تین خصوصیات بیان ہوچکیں۔ تیسری یہ تھی کہ انسان کو انسان کی معرفت کروائی۔ چوتھا تحفہ جو اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، وہ وحدتِ الٰہ کا ہے۔اللہ کے ایک ہونے کا تصور۔ جتنے بھی پیغمبر آئے، آدم سے لیکر خاتم تک، ایک لاکھ چوبیس ہزار ، وہ سب یہی دعوت دیتے رہے کہ اللہ کو ایک مانو اور یہی امیرالمومنین نے توحید کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔انبیاء کے پیغام کو توحید کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔

منطقی طور پر یہ ذرا انوکھی بات ہے کہ رسالت تو توحید پر مبنی ہے تو رسالت سے توحید کیونکر ثابت ہوگی؟ مگر دیکھئے کہ کس رُخ سے امیرالمومنین علیہ السلام ثابت فرمارہے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے۔ جو نبی آتا ہے، اسی کی بات کرتا ہے ۔اس کے علاوہ اگر کوئی اور خدا ہوتا تو اس کی بھی تو کوئی بات کرتا۔ اگر کوئی اور خدا ہوتا تو اس کے بھی رسول آتے۔یہ بیچارہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے ہوئے جو بیٹھا ہے، تو گویا اعزازی خدا ہے، عملاً تو وہ ایک ہی ہے۔ وہ اگر کوئی ہیں جو اعزازی خدا بنے بیٹھے ہیں تو وہ تو بت ہیں ، کام کچھ نہیں کرسکتے۔ مگر نام کے خدا بنے بیٹھے ہیں۔

حضورِ والا! یہ توحید الٰہی اسلام کی خصوصیت خاص ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ توحید آئی تو آدم کے وقت سے تھی مگر پیغمبر اسلام نے اس توحید کو ایسے جاہ و جلال کے ساتھ پیش کیا ہے کہ ان کا لقب اگر ہم پیغمبر توحید کردیں تو تاجدارِ مدینہ سے بہتر ہے۔لفظ تاجدارِ مدینہ تو بہت ہی محدود نگاہ کا ترجمان ہے۔تو یہ توحید کے پیغمبر حضرت محمد مصطفےٰ نے اس شان و شوکت و جاہ و جلال و جبروت کے ساتھ پیغامِ توحید پیش کیا ہے کہ جہاں جہاں شرک کا شائبہ تھا، وہ اپنے اس شرک سے گویا شرمانے لگے اور کسی نہ کسی طور پر توحید کے پردہ میں چھپانے لگے۔

جہاں تثلیث تھی کہ تین ہیں، توحید نے اتنا زبردست اثر ذہن پر ڈالا کہ انہوں نے نیا پہاڑہ ایجاد کرلیا کہ تین اکم تین۔ایک تیا ایک۔ توحید فی التثلیث اور تثلیث فی التوحید۔ جب آپ سے بحث ہوگی تو وہ یوں کہیں گے کہ ہم وحدت کے منکر نہیں ہیں۔ ہم بھی توحید کے قائل ہیں۔ مگر وہ توحید ہے تثلیث میں اور تثلیث ہے توحید میں۔ یہ کیونکر ہے؟ بس وہ اللہ جانے کہ کیونکر ہے۔

اینڈرسن صاحب سے تثلیث پر گفتگو ہوئی۔ وہ کہنے لگے کہ نجف میں گیا تھا اور علامہ شیخ محمد حسین الغِطا سے ملنے گیا۔انہوں نے چائے کا انتظام کیا تھا مگر میں نے کچھ کھایا پیا نہیں،اس لئے کہ بغداد کے جو لوگ میرے ساتھ تھے، انہوں نے بتا دیا تھا کہ یہ تم کو نجس سمجھتے ہیں۔ یہ تمہیں چائے پلا رہے ہیں مگر تمہیں نجس سمجھتے ہیں۔ خیر! میں خاموشی سے سنتا رہا اگر وہ مجھ سے تبصرہ نہ چاہتے۔بتائیے یہ کیا واقعہ ہے؟ میں نے کہا کہ آپ کو چائے پینے میں کیا حرج تھا؟ زیادہ سے زیادہ وہ برتن پاک کروالیتے؟ کوئی برتن بیکار تو نہیں ہوجاتے۔ان کو کئی نقصان نہ ہوتا۔ ان کا دل چاہتا ، وہ پاک کروالیتے۔اس بات پر بات ختم ہوجاتی تو غنیمت تھا۔ انہوں نے کہا: آخر ہم کیوں نجس ہیں؟میں نے بہت آہستہ سے ، دھیمی آواز میں جتنا کہ تہذیب کے پردہ میں دھیما ہوا جاسکتا تھا ، کہا کہ قرآن نے کہہ دیا ہے:

اِنَّمَاالْمُشْرِکُوْنَ نَجَسٌ “۔

مشرکین نجس ہیں۔ یہ دشواری ہے۔ کہا: ہم کیوں مشرک ہیں؟دیکھ لیجئے! شرک سے شرمانے لگے۔میں نے پھر بہت ہی آہستہ سے ، بہت ہی سست الفاظ میں کہا: بھئی تثلیث کی وجہ سے۔ تثلیث کی وجہ سے۔ فوراً جو چھاٹاسا جاہل بچہ کہے گا کہ وہی معلوم ہوا کہ پروفیسر کہتا ہے کہ وہ تو توحید ہے فی التثلیث اور تثلیث ہے فی التوحید۔

اب میں نے پھر رواداری برتی اور بعد میں افسوس ہوا کہ میں نے صاف کیوں نہ کہا۔ میں نے کہا کہ یہ چیز ہماری عقل میں نہیں آتی”توحید فی التثلیث اور تثلیث فی التوحید“۔یہ ہماری عقل میں نہیں آتی۔ میری اس تہذیب اور رواداری سے انہوں نے غلط فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بس! بات یہی ہے کہ یہ آپ کی عقل میں نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ کسی عاقل کی عقل میں نہیں آتی۔ مگر اب جو بات انہوں نے کہا اس کے بعد، اس کا جواب میں نے دے لیا ۔ اگر کوئی اور مسلمان عالم ہوتا تو میں نہیں سمجھتا کہ اتنی آسانی سے نکلتا۔انہوں نے کہا کہ جناب! ہم تو تین کا مجموعہ مانتے ہیں اور آپ کے ہاں تو ایک ذات اور نو صفات ہیں۔صفات زائد بر ذات ہیں، دنیا کے نزدیک، یعنی مسلمان اکثریت کے نزدیک کہ خدا ہے اور پھر ایک چیز ہے علم اور ایک چیز ہے قدرت، ایک چیز ہے حیات۔ بچوں کو آٹھ صفاتِ ثبوتیہ سکھائے جاتے ہیں۔ تو ایک خدا اور آٹھ عدد صفات۔

تو آپ تو نو کا مجموعہ مانتے ہیں ۔ اب مجھے اس جملے کا بدلہ لینے کا موقع مل گیا اور میں نے کہا کہ افسوس ہے کہ آپ اسلامیات کے پروفیسر ہیں، اتنی بڑی جگہ اور آپ کو یہ نہیں معلوم کہ جس سے آپ بات کررہے ہیں، وہ نہیں مانتا صفات کو زائد بر ذات۔ ہم تو صفات کو عین ذات مانتے ہیں، ہمارے نزدیک تو ذات کے علاوہ اور کچھ ہے ہی نہیں۔چند برس کے بعد دہلی میں ایک مجلس مکالمہ تھی جس میں تمام دنیا کے پروفیسر جمع تھے۔ اس میں وہ دور بیٹھے تھے، اُٹھ کر آئے اور خلوص کے ساتھ مصافحہ کیا۔ اس کا مطلب تھا کہ انہوں نے اس ناگواری کو محسوس نہیں رکھا۔

تو حضورِوالا! غور فرمائیے کہ توحید الٰہی کو اس طرح پیش کیاکہ جہاں جہاں توحید نہیں ہے، یہ بعد میں نہیں ہوا، اسی وقت مشرک اپنے شرک کو سمجھانے لگے ۔ اگر ایسانہ ہوتا تو اپنی بت پرستی کی تاویل کیوں کرتے کہ:

مَانَعْبُدُهُمْ اِلَّالِیُقَرِّبُوْااِلَی اللّٰه زُلْفًا “۔

ہم ان کی عبادت نہیں کرتے ہیں مگر اس لئے کہ یہ ہم کو اللہ سے قریب کریں، ہمیں تقرب عطا کریں۔

ہم درحقیقت اللہ ہی کے طلبگار ہیں۔ ان کو گویا بالکل برابر برابر نہیں سمجھتے۔ ایک مسلمان میں اور ان میں یہ فرق ہے کہ وہ جس چیز کی تعظیم کرتا ہے، اس سے اگر پوچھئے کہ تم عبادت کرتے ہو تو وہ کہے گا : نہیں نہیں، ہم اس کی عبادت کرتے ہی نہیں، ہم اس کی تعظیم کرتے ہیں،عبادت خدا کی کرتے ہیں۔

بس! جب اس نے عبادت اور تعظیم میں فرق کیا، وہ شرک کے دائرے سے نکل گیا۔وہ تاویل کررہے ہیں مگر نسبت عبادت کی انہی کی طرف دے رہے ہیں کہ ان کی ہم عبادت کرتے ہیں، اس لئے کہ اللہ سے ہمیں قریب کریں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ معبود وہ ان کو مانتے ہیں اور ایک مسلمان ، اگر وہ صحیح مسلمان ہے، تو وہ کسی کی بھی تعظیم کرے مگر معبود اسے نہیں مانے گا۔ وہ عبادت ان کی کرنے سے انکار کرے گا۔ کسی سے کہئے کہ عَلَم کو جو اس بوسہ دیا ہے، تو اس کی عبادت کی ؟ وہ کہے گا: توبہ توبہ، میں عَلَم کی عبادت نہیں کرتا ہوں، میں احترام کرتا ہوں، تعظیم کرتا ہوں۔بس اس کے ذہن میں احترام اور عبادت میں فرق ہے ۔

یہ قضیہ عرض کردوں کہ عبادت کسی نوعیت عمل کا نام نہیں ہے۔ اگر ایک اشارہ کیا جائے خدا سمجھ کر تو وہ عبادت ہے اور شرک ہے اور اگر سجدہ بھی کرلیا جائے، بغیر نیت عبادت کے ، تو وہ چاہے شرعِ اسلامی میں گناہ ہو مگر شرک نہیں ہوگا۔اس لئے میں نے کہا کہ سجدہ غیر اللہ کیلئے اسلام میں ممنوع ہے۔ممنوع ہونے کے یہ معنی ہیں کہ گناہ ہے لیکن عبادت نہیں ہے۔ عبادت اگر ہوتی تو پھر کسی دَورِ رسالت میں نہ ہوتی، اس لئے کہ شریعت بدلتی ہے، اصولِ دین نہیں بدلتے۔اگر سجدہ غیر اللہ کو عبادت ہوتا تو آدم کو بھی سجدہ نہیں کروایا جاسکتا تھا۔یوسف کے سامنے یعقوب اور ان کے بھائی بھی سجدہ نہیں کرسکتے تھے کیونکہ توحیدکا اصول ازل سے ایک ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ یہ گنا ہے، عبادت نہیں ہے۔ شرک نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک سجدہ غیر اللہ کیلئے جائز نہیں ہے۔اس کیلئے رسول کی حدیثیں ہیں کہ اگر سجدہ غیر اللہ کیلئے جائز ہوتا تو میں زوجہ کو حکم دیتا کہ وہ شوہر کو سجدہ کرے۔ (یہ حدیث آجکل کے ترقی یافتہ دَور کے تقاضوں کے خلاف ہے)۔دوسری حدیث ہے کہ اگر سجدہ غیر اللہ کو جائز ہوتا تو میں شاگرد کو حکم دیتا کہ اُستاد کو سجدہ کرے۔ آجکل تو دورِ حاضر کے ترقی یافتہ طلباء اُستاد کے خلاف ہر قسم کی تشدد آمیز کارروائی کیلئے تیار رہتے ہیں، خصوصاً کالج اور یونیورسٹی کے طالب علم۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تو ہماری وجہ سے اُستاد ہوا ہے۔ یعنی ہم اس کیلئے نہیں ہیں، یہ ہمارے لئے ہے۔یہ ان کی منطق ہے ۔اگر یہ منطق صحیح ہو تو میں کہتا ہوں کہ اُمت کے افراد رسولوں کیلئے نہیں ہیں، رسول اُمت کے افراد کیلئے ہیں۔ وہ بھی تو سکھانے کیلئے ہوتے ہیں۔ تو اُمت کے افراد کہیں کہ وہ ہمارے لئے ہیں تو ہم اونچے ہیں اور (معاذاللہ) وہ نیچے ہیں۔

حضور!یہ دیکھئے کہ خالق نے اُستاد کو معلم کا درجہ دیا ہے جو خود خالق کا درجہ ہے، وہ معلم خلائق ہے اور اس نے شاگردوں کو وہ حیثیت دی ہے جو بندوں کو پروردگار کے ساتھ ہے۔ ملائکہ بھی بارگاہِ قدس کے طالب علم ہیں۔

میں کہہ رہا تھا کہ پیغمبر اسلام نے توحید کی آواز اتنی بلند آہنگی کے ساتھ پیش کی کہ جہاں جہاں کسی میں شرک کی کوئی قسم تھی، وہ اپنے شرک سے شرمانے لگا اور اس کو توحید کے پردوں میں چھپانے لگا۔ یہاں توحید ہی پر پورا زور تھا کیونکہ اگر یہ کہا جاتا کہ اللہ خدا ہے تو پورا عرب کلمہ پڑھ لیتا کیونکہ جو تین سو ساٹھ کو مان رہے تھے، ان کو اکسٹھویں( ۶۱) کے ماننے میں کیا عذر ہوتا! مگر یہاں یہ کلمہ نہیں سکھایا جارہا تھا کہ کہو کہ اللہ خدا ہے۔ یہ کلمہ سکھایا جارہا تھا ”لَآاِلٰہَاِلَّا اللّٰہ“، کوئی خدا نہیں سوائے اللہ کے۔ اللہ کو ماننا مشکل نہیں تھا، غیر اللہ کو نہ ماننا مشکل تھا۔

اُردو زبان میں یوں کہہ سکتا ہوں کہ ان کو ایک خدا کے ماننے میں عذر نہ تھا، خدا کو ایک ماننے میں عذر تھا اور یہاں یہ تھا کہ ایک خدا کو ماننے سے بات نہیں بنے گی۔ خدا کو ایک مانو۔ بہت سے خداؤں کو انہوں نے ایک خدا بنا دیا۔یہ عجیب بات ہے۔ عجیب کے معنی روایاتِ قدیمہ کے خلاف۔ یعنی بڑی دلیل ان کی یہی تھی کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی راستے پر دیکھا ہے توہم اسے مانے چلے جائیں گے۔ بہت سی غلط باتوں کیلئے ہمارے عوام بھی اسی قسم کی دلیل پیش کرتے ہیں۔ صاحب! ہم نے اپنے باپ کو یہی کرتے دیکھا، اپنے دادا کو یہی کرتے دیکھا۔ قرآن نے اس کے جواب میں یہی کہا ہے کہ باپ دادا کے حوالے دینے سے کام نہیں چلے گا۔ اگر وہ بھی عقل نہ رکھتے ہوں تو ؟ یعنی تمہیں خود اپنی عقل سے سوچنا چاہئے کہ یہ صحیح ہے یا نہیں۔ باپ دادا کی عقل کی عینک لگا کر سوچنا غلط ہے۔خود اپنی عقل کی آنکھ سے دیکھنا چاہئے کہ یہ صحیح ہے یا نہیں۔ ان کو بڑی مشکل یہی تھی۔یہاں یہی کہنا تھا کہ کہو”لَآاِلٰهَ اِلَّااللّٰ ہ“،اس وقت کے جاہل عرب نہ سمجھتے ہوں کہ اللہ کو ایک کہنے سے ”تُفْلِحُوْا “، ”تمہارا فائدہ ہوگا“۔اللہ کو کہ یں ایک اور فائدہ ہوگا ہمارا۔ یہ اور بات ہے۔ فائدہ ہوگا اُس کا ہوگا، نہ ہوگااُس کا نہ ہوگا جس کے رقیبوں کا خاتمہ کریں گے۔اُسے ایک کہیں اور فائدہ ہو ہمارا!

مگر دیکھئے ! انداز تبلیغِ رسول کا تحکمانہ نہیں ہے۔ کہہ رہے ہیں کہ یہ کہو۔ ناصح کے انداز میں کہہ رہے ہیں۔ درد مند کے انداز میں کہہ رہے ہیں کہ تمہارے فائدے کیلئے کہتا ہوں کہ”لَآاِلٰهَ اِلَّااللّٰه “کہو۔ مانو۔کہو یہ کوئی وظیفہ نہیں ہے جو سکھایا جارہا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مانو۔اس قول کو اختیار کرو۔ یہ کہنا وہ ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ ہمارا قول یہ ہے۔ یہ کوئی وقت خاص پر کہنے والی بات نہیں ہے۔ لوگ کلمے کو وقت خاص پر کہنے کی بات سمجھتے ہیں ۔اسی لئے روایتیں وضع کی ہیں کہ اس وقت پر کہا کہ کہیں۔ انہوں نے نہیں کہا۔میں کہتا ہوں کہ یہ کہنے کی چیز نہیں ہے، یہ ماننے کی چیز ہے۔ یہ دیکھئے کہ وہ مانتے تھے یا نہیں۔ اگر مانتے نہ ہوتے تو بیٹے سے کیوں کہتے کہ ان کے ساتھنماز پڑھو ؟ اگر مانتے نہ ہوتے تو اس پیغام کی حمایت میں عمر بھر جان کیوں لڑائے رکھتے؟جب ماننے کا سوال طے ہوگیا تو کہنے کی اہمیت کیا ہے؟ کہا نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ جس کا ایمان سب پر مسلّم ہے، چاہے جس عمر میں، آپ باپ کے بارے میں یہ حدیث سوچتے ہیں کہ کب کہا ، کلمہ کب پڑھا؟

میں کہتا ہوں کہ بیٹے کیلئے ثابت کیجئے کہ علی نے کبھی کلمہ پڑھا؟ بس آئے اور نما زپڑھنے لگے۔ دوسرے بھائی جعفر آئے، کچھ دن کے بعد وہ نماز پڑھنے لگے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب وہ تھے جو بغیر کلمہ پڑھے پہلے سے مسلمان تھے کیونکہ نماز بغیر اسلام کے ہوتی ہی نہیں۔ جب نماز پڑھنے چلے تھے، اس وقت رسول کو کلمہ پڑھوانا چاہئے تھا۔ جب نہیں پڑھوایا تو سمجھئے کہ یہ کلمہ پڑھنے سیمستغنی ہیں ۔میں کہوں گا کہ جب پہلی دفعہ وحی آئی او رجبرئیل امین آئے تو انہیں اقراء لے کر نہیں آنا چاہئے تھا، کلمہ لے کر آنا چاہئے تھا۔ تو جب رسول ہوجاتا ہے بغیر کلمہ پڑھے تو مومن بغیر کلمہ پڑھیکیوں نہ ہوگا؟

پس پورا پیغام یہ ہے:

قُوْلُوْالَآاِلٰهَ اِلَّااللّٰه “۔

اس وقت جاہل عرب یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اللہ کو ایک ماننے سے کیا فائدہ ہے؟ میں کہتا ہوں کہ آجکل جب ذہن کی بہت ترقی ہو چکی، اب دنیا سمجھے کہ اللہ کو ایک کہنے سے ، ایک ماننے سے ہمارا کیا فائدہ ہے؟ یاد رکھئے کہ تمام دنیا تڑپ رہی ہے دو چیزوں کیلئے، ایک اخوت اور ایک مساوات۔ یعنی برابری اور برادری۔ان دونوں چیزوں کیلئے پریشان ہے۔ اسی لئے یہ دولت کی برابر تقسیم کا نظریہ ہے۔ امیروں سے چھینو اور غریبوں کو دے دو۔اس لئے کہ دولت مند اپنی دولت سے غریبوں کو پامال کرتا ہے۔ جب برابر سے تقسیم کردیں گے ، نہ امیر رہے گا، نہ غریب، سب یکساں ہوجائیں گے تو کون کس کو دبائے گا؟مقصد تو ٹھیک ہے مگر علاج کا طریقہ درست نہیں ہے۔

میں کہتا ہوں کہ نوعِ انسانی میں اگر تفرقہ فقط دولت و غربت کا ہوتا تو دولت کو برابر سے تقسیم کرکے آپ سمجھ لیتے کہ مساوات قائم ہوگئی مگر نوعِ انسانی میں تفرقہ فقط دولت و غربت کا نہیں ہے، بازوؤں کی طاقت میں بھی فرق ہے۔ ایک قوی ہیکل ہوتا ہے ، دوسرے بیچارے دھان پان سے ہوتے ہیں۔ اور جناب! ایک چیز ہے وجاہت۔ ایک بااثر ہوتا ہے، دوسرے بے اثر ہوتے ہیں۔ ایک چیز ہے قوم و قبیلہ۔ ایک کا جتھا بڑا ہوتا ہے، خاندان بڑا ہوتا ہے، ایک بیچارہ یوسف بے کارواں ہوتا ہے۔ اس کے قبیلے اور خاندان کے افراد ہے ہی نہیں یا کم ہیں۔ ایک چیز ہے دماغی فوقیت۔ ایک ذہین ہے، دوسرے لوگ سادہ لوح ہیں، بھولے بھالے ہیں اور اکثریت انہی کی ہوتی ہے۔

جس طرح دولت مند اپنی دولت سے غریب کو دباتا ہے، اسی طرح بازوؤں کی طاقت والا اپنے بازوؤں کی طاقت سے کمزوروں کو دباتا ہے۔کسی محلے میں کوئی پہلوان صاحب ہوں تو دیکھئے جتنے اہل محلہ ہیں، وہ ان سب کے رحم و کرم پر ہوجاتے ہیں یا نہیں؟اس لئے کہ وہ بحمد للہ اتنے طاقت و قوت کے تیس مارخاں ہیں۔ وہ سب ان سے ڈریں گے۔ اسی طرح جو قوم و قبیلے والا ہے، وہ اپنے قوم و قبیلہ کی کثرت کے برتے پر دوسرے لوگوں کو دباتا ہے۔

ارے ایک زمانہ میں قوم و قبیلہ ہوتا تھا، اب پارٹی ہوتی ہے۔ جس کی پارٹی بڑی ہے، وہ اپنی پارٹی کی کثرت کی بناء پر دوسرے لوگوں کو دباتا ہے۔ایک دماغی فوقیت والا اپنی ذہانیت سے ایسی ترکیبیں بنالیتا ہے کہ دوسرے لوگ ہمدرد سمجھ کراس کے قبضے میں چلے جاتے ہیں اور سب اس کو اپنا راس و رئیس مان لیتے ہیں۔یہ سب ہوتا ہے۔ دولت تو باہر کی چیز ہے، وہ آدمی کا جزو نہیں ہوتی۔ اس کی تصویر کشی امیرالمومنین علیہ السلام نے اس طرح کی ہے:

اَنْ یَبْقٰی لَکَ فَلا تَبْقٰی لَه  “۔

”یہ دولت تمہارے لئے رہ بھی جائے تو تم اس کیلئے نہیں رہو گے“۔

ہو تو سکتا ہے کہ یہ آدمی رہے اور دولت ہی کسی طرح چلی جائے اور ہوسکتا ہے کہ دولت رکھی رہے اور یہی چل بسیں۔ یا وہ وفا نہ کرے گی یا یہ وفا نہ کریں گے۔تو جب بیرونی چیز ہے دولت، تو اس کا برابر سے تقسیم کرنا کونسا مشکل ہے۔ دولت کو آرام سے تقسیم کرسکتے ہیں لیکن بازوؤں کی طاقت کا کیا کیجئے گا۔کیا طاقتوروں کے بزوؤں سے طاقت کو کھینچ کر کمزوروں میں تقسیم کیجئے گا؟ یہ ہوسکتا ہے کہ ایسی غذائیں کھلائیے کہ سب کمزور ہوجائیں لیکن جس تناسب سے وہ طاقتور کمزور ہوگا، اسی تناسب سے وہ کمزور قبر کے کنارے پہنچے گا۔ تو اس تفرقہ کو آپ مٹانہیں سکتے اور وجاہت کا کیا کیجئے گا؟ کیا اُسے بھی نمایاں افراد ے لے کر غیر نمایاں افراد میں تقسیم کیجئے گا؟ قوم و قبیلہ کا کیا کیجئے گا؟ کیا افرادِخاندان کو بھی تقسیم کیجئے گا؟ دماغی فوقیت کو کیا کیجئے گا؟ کیا اُسے ذہین افراد کے دماغ سے لے کر کسی انجکشن کے ذریعہ سے سادہ لوحوں میں اور بیوقوفوں میں تقسیم کیجئے گا؟

آپ سمجھیں گے کہ سب برابر کے عقل مند ہوگئے اور میں سمجھوں گا کہ سب برابر کے بیوقوف ہوگئے۔جب یہ سب کچھ نہیں ہوسکتا تودولت کو برابر سے تقسیم کرکے یہ سمجھ لینا کہ مساوات ہوگئی، طفل تسلی نہیں تو او رکیا ہے؟ وہ اسلام جو خالق کائنات کی طرف سے تھا، اس سے بڑھ کر مزاجِ بشر سے واقف کون ہے؟اس نے محسوس کیا کہ عملی طور پر یکسانی کے ساتھ مساوات قائم کردینا ناممکن ہے۔ ارے زمینیں یکساں نہیں ہیں، کوئی بلند ہے، کوئی پست، کوئی زرخیز، کوئی بنجر۔پہاڑ سب یکساں نہیں ہیں، کوئی بلند ہے، کوئی پست۔ درخت سب یکساں نہیں ہیں، کوئی طویل کوئی قصیر۔ حیوان سب یکساں نہیں ہیں، کوئی طاقتور ہے ، کوئی کمزور۔تو جب کائنات میں مساوات یکسانی کے معاملہ میں مماثلت کے معنی میں نہیں ہے تو انسانوں میں کیونکر ہوسکتی ہے۔ یہ تو سنت تخلیق کے خلاف ہے ۔ لہٰذا یہ فرقے تو نہیں مٹ سکتے مگر ذہنیت کی تعمیر ایسی ہونی چاہئے کہ ایک بازوؤں کی طاقت والا اپنی طاقت سے کمزوروں کو دبائے نہیں بلکہ ان کا محافظ ہوجائے اور ایک صاحب قوم و قبیلہ اپنے قبیلے کی کثرت سے یا پارٹی کی کثرت سے بے نوا اور بیکس افراد کو پامال نہ کرے بلکہ ان کا پاسبان بن جائے ۔ ایک دماغی فوقیت والا اپنی ذہنیت کو دوسروں کی تخریب میں صرف نہ کرے بلکہ تعمیر میں صرف کرے۔

یہ بات ہوجائے تو ایک فرد کو اللہ کی دی ہوئی نعمت تمام نوع کا سرمایہ بن جائے اور اگریہ ہوجائے تو دولت مندی بھی لعنت نہ رہے اور اگر ذہنیت کی تعمیر نہیں ہوتی ہے تو ہزار مرتبہ دولت کو برابر تقسیم کردیجئے، عدلِ کُلّی قائم نہیں ہوگا اور ظلم کا خاتمہ نہیں ہوگا۔لیکن یہ تعمیر ذہنیت کیونکر ہوا، اس کیلئے احساسِ اخوت کی ضرور ت ہے۔دنیا قانون کے دباؤ سے مساوات قائم کرکے بھائی بھائی بنانا چاہتی ہے، لہٰذا وہ عمارتِ بے بنیاد ہے۔ ذہنیت کی تشکیل اگر اس طرح ہوجائے کہ ہر انسان دوسرے انسان کو اپنا بھائی سمجھے تویہ عمارت پائیدار ہوگی۔

اب یہ بات کہ اخوت کیونکر پیدا ہو، برابری کیونکر پیدا ہو، اس کیلئے ہر آدمی غور کرسکتا ہے کہ اس راز کو دیکھئے اور سمجھئے کہ بھائی ہوتا کیونکر ہے؟ یہ سگے بھائی کیوں بھائی ہیں؟ اس لئے کہ ایک ماں باپ کی اولاد ہیں۔ تو ایک ماں باپ کی اولاد دس ہوئے تو دس بھائی بہن ، اور پچاس ہوئے تو پچاس بھائی بہن۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ نہ دیکھئے کہ کثرت کتنی بڑی ہے، یہ دیکھئے کہ وحدت نے کتنے افراد کو پرویا ہے۔ اس کے بعد یہ دیکھئے کہ دیہاتوں میں یہ محاورہ ہے کہ یہ ہماری برادری کے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ باپ تو اپنا الگ الگ ہے مگر پانچ چھ پشت پر کوئی مورثِ اعلیٰ ہے کہ اس کی اولاد میں دونوں ہیں۔

اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ جتنی بھی دور جاکر ایک کا احساس پیدا ہو، وہیں سے برادری قائم ہوتی ہے۔ اس کے بعد غور کیجئے، یہ ہمارے ہم وطن ہیں۔ یہ کیا ایک دیس کے باشندے ، اور اگر کسی دوسرے وطن میں اپنے وطن کے آدمی کو دیکھ لیا تو چاہے وہاں کبھی شناسائی بھی نہ ہو لیکن دل چاہا کہ قریب آئیں، کچھ اپنی کہیں، کچھ ان کی سنیں۔ یہ وطن کا احساس ہے۔ دنیا نے اور ترقی کی تو یہ سمتوں کا احساس قائم ہوا کہ یہ مغرب ہے اور یہ مشرق ہے۔ لہٰذا مسائل پر یوں غور ہونے لگا کہ کون یورپ کیلئے کارآمد و مفید ہے او رکون ایشیاء کیلئے مفید ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ دنیاتڑپ رہی ہے، اُس ایک کیلئے جو زیادہ سے زیادہ رقبہ کو ایک بنا سکے۔ مگر جتنی اکائیوں کا تصور ہوا، یہ سب تفریق کا پیش خیمہ ہے کہ جب ایک باپ کی اولاد میں ایکا ہوگا تو دوسرے باپ کی اولاد کے مقابلہ میں محاذ ہوا۔جب ایک برادری والوں میں ایکا ہوگا تو دوسری برادری والوں کے مقابلہ میں محاذ ہوا۔ جب ایک ملک والوں میں ایکا ہوگا تو دوسرے ملک والوں کے مقابلہ میں محاذ ہوا۔جب ایک سمت والوں میں ایکا ہوگا تو دوسری سمت والوں کے مقابلہ میں محاذ ہوگا۔ ہر اتحاد افتراق کا پیش خیمہ ہے کیونکہ اتحاد کے مرکز عالم انسانیت کے بیچ میں اٹھائے جارہے ہیں، لہٰذا ہر دیوار ادھر والوں کو ایک کرتی ہے ، اُدھر والوں سے جدا کرتی ہے۔

اسلام جو ہمہ گیر برادری کا پیغام لے کر آیا تھا، اس نے یہ کام کیا کہ درمیان کی اتحاد کی دیواروں کوڈھا کر نہیں بلکہ بلند مقاصد کیلئے نظر انداز کرکے ایک احاطہ اتحاد کا ایسا تعمیر کیا جس میں نہ زبان کی تفریق ہے، نہ ملک کی تفریق ہے، نہ رنگ کی تفریق ہے، نہ نسل کی تفریق ہے، نہ سمت کی تفریق ہے اور وہ خدائے واحد کا ایکا ہے۔ کوئی مجھے بتائے کہ ایک باپ کی اولاد بھائی بھائی ہے، ایک مورثِ اعلیٰ کی نسل کے لوگ بھائی بھائی ہیں۔ ایک ملک کے باشندے بھائی بھائی ہیں۔ ایک سمت کے رہنے والے بھائی بھائی ہیں۔ ایک خدا کی مخلوق کیوں بھائی بھائی نہیں ہیں مگر اصول وہی ہے کہ بھائی کے حقوق کو وہی یاد رکھے گا جس نے باپ کو یاد رکھا ہوگا۔ اور جو باپ کو بھول جائے، تو پھر بھائی کے حقوق کیسے؟ یہ وجہ تھی کہ پیغمبر اسلام نے پوری طاقت اس ایک کے یاد دلانے پر صرف کردی۔ تمام عالم انسانیت بغیر تفریق اسلام و غیر اسلام غور کرے کہ یہ وحدت خالق کا پیغامِ اتحاد خلائق کا سنگ بنیاد ہے۔ اسی بناء پر اسلام دین مساوات ہوا یعنی وہ تمدن جو زیر سایہ توحید قائم ہوتا ہے، اس کا نام ہے مساوات اور اس مساوات کی خصوصیت یہ ہے کہ گورے اور کالے میں کوئی فرق نہیں۔ ایک قوم اور دوسری قوم میں کوئی فرق نہیں۔ دیسی اور بدیسی میں کوئی فرق نہیں۔ سب خد اکے پیدا کردہ ہیں۔ لہٰذا سب کے حقوق و فرائض برابر ہیں۔ یہ وحدتِ خالق کے زیر سایہ جس تمدن کی تشکیل ہوتی ہے، اس کا نام مساوات ہے۔ اس کے زیر سایہ جو تمدن ہوتا ہے، اس میں اور تفریقوں کا کیا ذکر، اپنے دوست اور دشمن کی بھی تفریق نہیں ہوتی۔قرآن مجیدنے کہا:

لَایجْرِمَنَّکُمْ شَنَانُ قَوْمٍ اَ لَا تَعْدِلُوْا “۔

یہ اس وقت کیلئے ہدایت ہے جب مسلمان برسر اقتدار ہوں۔

ارشاد ہورہا ہے کہ دیکھو! کسی قوم کی عداوت تمہیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ تم انصاف نہ کرو۔ عدل تمہارا فریضہ ہے ، چاہے یگانے کے مقابلہ میں ہو چاہے بیگانے کے مقابلہ میں ہو۔اب اس کے زیر سایہ جو اس تمدن کی تعمیر ہوتی ہے، اس میں پھر اپنا بھائی بھی اپنے حق سے زیادہ مانگتا ہے۔ تو اس کی فرمائش کی تعمیل نہیں ہوتی چاہے وہ خفا ہو کر غیر سے مل جائے۔ یعنی نظر ظاہر میں یہ سیاسی شکست برداشت کرلی جائے گی مگر مساواتِ اسلامی کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ ظاہر ہے سیاسی طورپر گویا یہ کتنی بڑی ادھر کی فتح ہے کہ سگا بھائی میری طرف آگیا۔ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔

مشہور روایت کے مطابق عرض کررہا ہوں کہ جو گیا تھا،اس میں عملی کمزوری تھی، اعتقادی کمزوری نہیں تھی۔فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی مگر اس نے اپنے اعتقادی استحکام سے اُسے ناکام بنا دیا۔ جنابِ عقیل سے کہا کہ منبر پر جاؤاور بتاؤ کہ تمہارے بھائی نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا؟یہ بلا تکلف اقرار کرلیتے ہیں۔ بے شک صاف صاف کہوں گا کہ میرے ساتھ کیا کیا۔ بہت خوشی ہوئی کہ دیکھو! سگا بھائی جب منبر پر جاکر کہے گا تو دنیا سمجھے گی ، بڑی خوشی ہوئی، بلا تکلف منبر پرجانے دیا۔ انہوں نے جا کر کہا:اے لوگو! گواہ رہنا کہ میں نے بہت کوشش کی کہ میرا بھائی اپنے دین پر مجھے ترجیح دے دے مگر ایسا نہیں ہوسکا۔ اُس نے اپنے دینی تقاضے پر مجھے ترجیح نہیں دی۔ تم سب گواہ رہنا کہ اِنہوں نے مجھے اپنے دین پر ترجیح دے دی۔

یہ مساوات ہے کہ دشمن کیلئے ہماری لغت میں قاتل سے بڑھ کر کوئی لفظ نہیں ہے۔ جب ہم کسی کو اپنانتہائی دشمن کہیں گے تو کہیں گے:ارے وہ تو میرا قاتل ہے۔ لیکن اب دیکھئے کہ زیر سایہ توحید جو مساوات قائم ہوتی ہے،اس میں کیا ہوتا ہے؟ کبھی کی ضرب ہو، جس کا زخم بھر چکا ہو ، وہ اور بات ہے لیکن جس نے ابھی ضرب لگائی ہے جس کے اثرات ابھی پورے جاہ و جلال کے ساتھ موجود ہیں اور وہ گرفتار ہوکر سامنے آتا ہے، تو پہلے نگاہ اس کے بندھے ہوئے ہاتھوں پر چلی جاتی ہے ، حالانکہ یہ ان کی طرف کا آدمی تھا۔ لہٰذا اس نے رسیوں سے نہیں باندھا تھا، ہتھکڑیاں نہیں ڈالی تھیں ، اپنے رومال سے دونوں ہاتھوں کو کس کر باندھ دیا تھا ۔ فوراً کہا کہ اس کے ہاتھ کیوں بندھے ہیں؟ اس کے ہاتھ کھلوا دئیے۔ اس کے بعد اس کے ضمیر پر اتمامِ حجت کیلئے ایک سوال کیا کہ کیوں کیا؟ میں تمہارا اچھا امام نہیں تھا؟ اس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ بس بات ختم ہوگئی۔ اب حسن مجتبیٰ سے فرمارہے ہیں کہ جاؤ! یہ تمہارا قیدی ہے۔یعنی شہنشاہِ ملت اسلامیہ اور ہمارے نزدیک دین و دنیا کا شہنشاہ۔ مگر ان کا قاتل جیل نہیں بھیجا جاتا۔ اپنے گھر کے ایک کمرہ میں رکھا جاتا ہے کہ اس کو رکھو ، یہ نظر بندی ہے۔ علی کے دَور میں جیل خانہ نہیں تھا۔ فرماتے ہیں: لے جاؤ، یہ تمہارا قیدی ہے۔

مگر حسن سے کہہ رہے ہیں کہ جو خود کھانا ، وہ اسے کھلانا۔ جو پانی خود پینا، وہ اس کو پلانا۔ یہ کوئی کرسکتا ہے سوائے اس کے جس کے پیش نظر اللہ کا رشتہ ہو، جو زیر سایہ توحید عمل کررہا ہو۔ اس کے سوا کون کرسکتا ہے؟

توحضورِ والا! یہ مساوات زیر سایہ توحید قائم ہوئی ہے۔ اس احساسِ مساوات کا راز وحدتِ خالق کا پیغام ہے۔ دنیا والے جو مساوات مساوات کا نعرہ لگاتے ہیں، وہ یہ سمجھے ہیں کہ یہ ضرب المثل ہے کہ اسلام دین مساوات ہے۔ مگر قرآن کو میں دیکھتا ہوں ، شروع سے آخر تک، تو مجھے زیادہ آیتیں یہ ملتی ہیں کہ یہ برابر نہیں ہے، یہ برابر نہیں ہے، یہ برابر نہیں ہے۔برابر ہونے پر اتنا زور نہیں جتنا برابر نہ ہونے پر زور ہے۔ اگر میں صرف دو آیتیں دیکھوں تو اسلام مجھے دین عدم مساوات نظر آتا ہے۔

لَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْر “۔

اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے۔ دھوپ اور سایہ برابر نہیں ہے۔

هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَایَعْلَمُوْنَ “ ۔

کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہوسکتے ہیں؟ آبِ شور اور آبِ شیریں برابر نہیں ہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رد منظور ہے کہ کوئی کمالات کو نظر انداز کرکے سب کو ایک لکڑی ہنکائے۔اس لئے قدم قدم پر عدم مساوات کااعلان ہورہا ہے۔ لہٰذا مساوات کسی معنی سے ہے اور کس معنی سے نہیں ہے، دیکھئے کتنا بڑا موضوع ہے کہ اسلام دین مساوات ہے۔ ان غلط امتیازات کے اعتبار سے جو دنیا والوں نے قائم کئے ہیں، ان خطوطِ امتیاز کو اسلام نے مٹایا۔ غربت و دولت کو وجہ بلندی و پستی بتایا تھا، اُسے اسلام نے مٹایا۔ نسبت کو معیارِبلندی و پستی بتایا تھا، اُسے مٹایا۔ ملک کو بلندی و پستی کا معیار بتایا تھا، اُسے مٹایا۔ رنگت کو معیارِ بلندی و پستی بتایا تھا، اُسے مٹایا۔ ان سب کے مقابلہ میں مساوات قائم کی اور پھر اپنی طرف سے خطوطِ امیتاز کھینچے جو کردار پر مبنی ہیں، عمل پر مبنی ہیں، جو تقویٰ پر مبنی ہیں۔

اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰهِ اَ تقٰکُمْ “۔

”تم میں سب سے زیادہ عزت اُس کی ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگا رہے“۔

یہ مساوات ہے کہ مسجدکا موذن بلال حبشی کو بنا دیا جاتا ہے ۔ یہ بات خاندانی عربوں پر گراں گزرتی ہے کیونکہ احساساتِ جاہلتے مٹتے مٹتے مٹیں گے۔خو بو ایک دم سے نہیں بدلتی ہے۔ مگر اب رسول سے کیا کہیں کہ یہ تو حبشی ہے؟ کیونکہ ان کی زبان سے سنتے رہے ہیں کہ اسلام میں یہ تفرقے نہیں ہیں، لہٰذا اپنی ناگواری کا اظہار ایسے الفاظ میں ہو کہ ان کے مزاج کے مطابق ہو۔تو اب دل میں تو یہ ہے کہ یہ حبشی ہے، رسول سے آکر کہا کہ یہ تو”اَسْهَدُاَنْ لَآاِلٰهَ اِلَّااللّٰ ہ“کہتے ہ یں،”اَشْهَدُاَنْ لَآاِلٰهَ اِلَّااللّٰ ہ“نہیں کہہ سکتے۔ شین صاف نہیں کہتے۔ مَیں کہتا ہوں یقینا کہا ہوگا ۔ ہمارے ہاں فصاحت کے اظہار کیلئے یہ محاورہ ہے کہ فلاں شخص کا شین قاف درست ہے ، صاف ہے۔ وہ ضرور کہتے ہوں گے ”اَسْهَدُاَنْ لَآاِلٰهَ اِلَّااللّٰه “۔ سچ ی بات کہی مگر اپنے مطلب کے رنگ میں۔ یہ نہ سوچا کہ آخر پیغمبر نے بھی تو کبھی بولتے سنا ہوگا، یہ انکشاف ہم کیا کررہے ہیں؟انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ دلیل ایسی ہے کہ رسول ضرورمعزول کردیں گے، اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے کیونکہ ان کے نزدیک توفیصلہ بشر ہی کا ہے۔

اب رسول یہ نہیں کہتے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو، وہ تو ”اَشْهَدُاَنْ لَآاِلٰهَ اِلَّااللّٰ ہ“صاف کہتے ہ یں۔ واقعاً نہیں کہتے تھے۔ رسول کیا جواب دیتے ہیں؟ فرماتے ہیں کہ :

سِیْنُ بِلالٍ شِیْنٌ عِنْدَاللّٰه “۔

”بلال کا سین اللہ کے ہاں شین ہے“۔

فلسفہ کیا ہے؟ ہم تو ان کانوں سے سنتے ہیں ،لہٰذا اس زبان سے جو لفظ نکلتا ہے، وہی ہماری سمجھ میں آتا ہے اور اللہ جو دل کی صدا سنتا ہے، لہٰذاان کا سین وہاں شین ہوکر پہنچتا ہے۔ اب اس موذن بنانے کے فیصلے پر دنیا غور کرے ۔ امامِ جماعت کو وہی دیکھے گا جو مسجد کے اندر جائے گا۔ مگر موذن کی صدا وہ بھی سنے گا جو رہگزر سے جائے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ بلال کو موذن بنانا نہیں تھا، یہ مساواتِ اسلامی کا ایک علم تھا جو بلند کیا گیا تھا۔

یہ تو مساوات ہوئی۔ عدم مساوات یہ ہے کہ جب بیٹی آتی ہے تو تعظیم کو کھڑے ہوجاتے ہیں، حالانکہ دنیا میں کوئی باپ بیٹی کی تعظیم نہیں کرتا۔یہ تو عملِ رسول بتاتا ہے کہ فاطمہ فقط بیٹی نہیں ہیں، کچھ اور ہیں۔ کوئی اور منزل ہے۔ فاطمہ کی منزل یہ ہے کہ رسول کا عمل مردوں کیلئے نمونہ عمل ہے اور فاطمہ کا کردارخواتین کیلئے نمونہ عمل ہے۔حضرت علی علیہ السلام تک کیلئے”( فَاتَّبِعُوْنِیْ ) “کا پیغام ہے کہ میرے نقش قدم پر چلو۔ یعنی علی کیلئے بھی رسول کا نقش قدم نمونہ ہے۔ ان کا نقش قدم ان کے واسطے بھی اتباع کا مرکز ہے مگر فاطمہ کے نقش قدم کے آگے کسی کا نقش قدم نہیں۔

اس پہلو کی بناء پر ایک بڑی مشکل میرے ذہن کی حل ہوگئی کہ امیرالمومنین علیہ السلام کے فضائل بے شمار مگر میں نے کہیں نہیں دیکھا کہ پیغمبر خدا علی علیہ السلام کیلئے کھڑے ہوئے ہوں۔ لیکن فاطمہ زہرا کیلئے، صحاحِ ستہ کی حدیث ہے کہ پیغمبر خدا تعظیم کو کھڑے ہوتے تھے۔افضل شخص امیرالمومنین ، ان کیلئے یہ بات نظر نہیں آتی اور فاطمہ زہرا کی تعظیم کیلئے رسولِ خدا کھڑے ہوتے ہیں۔یہ ان کی خصوصیت نظر آتی ہے ۔ میں نے اس پر غور کیا تو بس یہی کچھ سمجھ میں آیاکہ کثرتِ فضائل الگ چیز ہے مگر عہدہ کے لحاظ سے علی کا جو منصب ہے، وہ رسول کے بعد ہوگا اور فاطمہ کا جو منصب ہے، وہ رسول کے ساتھ ساتھ ہے۔ یہ ان کا کردار ہے جو خواتین کے طبقہ کیلئے نمونہ عمل ہے، مثالِ عمل ہے۔

میں کہتا ہوں مقامِ اطاعت میں یہ رسول کے پیچھے ہیں مگر مقامِ اتباع میں یہ رسول کے پیچھے نہیں ہیں، ان کی صف میں ہیں، ان کے ساتھ ساتھ ہیں اور اب کہتا ہوں کہ مقامِ عمل میں جوکام تیرہ معصومین نے مل کر کیا، وہ اپنے طبقہ کیلئے تنہا فاطمہ زہرا نے کیا۔

اب انہیں مثال پیش کرنا تھی تو جتنے بھی رشتے خواتین کے تقاضے کے ہوتے ہیں، ان سب کو انہیں نمونہ مثال پیش کرنا تھا۔ ڈاکٹر اقبال نے تو عظمت و عزت کے لحاظ سے کہا ہے۔

مریم از یک نسبت عیسیٰ عزیز

از سہ نسبت حضرتِ زہرا عزیز

وہ عزت کے لحاظ سے ہے ۔ میں دوسرے رُخ سے ان کے اس تصور کو لیتا ہوں کہ حضرتِ مریم مثالِ عمل حضرت عیسیٰ کی نسبت سے ہیں اور حضرت زہرا تین نسبتوں سے تین رشتوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔

ماشاء اللہ صاحبانِ فہم ہیں۔ میں نے جہاں تک غور کیا، عورت کی زندگی کے تین پہلو ہیں۔ ایک بیٹی ہونے کا دَور، دوسرے بیوی ہونے کا دَور، تیسرے ماں ہونے کا دَور۔ یہ تین دَور ہیں جو عورت پر گزرتے ہیں۔عورت ہی بیٹی ہوتی ہے، عورت ہی زوجہ ہوتی ہے، شریک حیات ہوتی ہے، عورت ہی ماں ہوتی ہے۔یہ ہیں تین دَور۔میں کہتا ہوں کہ پہلا دَور بیٹی ہونے والا تمہید حیات ہے۔ وہ بیچ کا دور ہے، وہ مقدمہ زندگی ہے، یہ نتیجہ زندگی ہے اور اصل زندگی کا درمیان کا دَور ہے اور وہی درمیان کا خانہ حضرت مریم کے ہاں خالی ہے۔ وہ بے شک ماں باپ کی بیٹی ہیں۔ بے شک عیسیٰ ایسے بیٹے کی ماں ہیں لیکن وہ اصل زندگی نہیں ہے۔ شریک حیات ہیں ہی نہیں۔ لہٰذا اصل رہنمائی طبقہ خواتین کی نہیں کرسکتیں۔ میں کہتا ہوں کہ جس طرح عیسیٰ پر رسالت ختم نہیں ہوسکتی، اس لئے کہ وہ انفرادی زندگی کے نمائندہ ہیں، اسی طرح مریم پر اس سلسلہ کی رہنمائی ختم نہیں ہوسکتی۔ جس طرح عیسیٰ کے بعد ہمارے پیغمبر کی ضرورت تھی،اسی طرح مریم کے بعد فاطمہ زہرا کی ضرورت تھی۔انہوں نے تینوں رشتوں کیلئے مکمل مثالیں چھوڑیں۔ باپ کی شریک کار ہوکر مباہلے میں آئیں، شریک منصب نہیں کہہ رہا،شریک کارہوکر باپ کے ساتھ مباہلے میں آئیں اور شوہر کے ساتھ ساری زندگی شریک کار رہیں اور ایسے بچے چھوڑے ، حسن و حسین جیسے بیٹے، زینب و اُمِ کلثوم جیسی بیٹیاں۔

میں بارگاہِ سیدہ عالم میں خود دست بستہ عرض کروں گا کہ آپ بے شک مکمل نمائندہ ہیں ۔ بے شک آپ نے ہر شعبے میں مثال چھوڑی ہے مگر اے معصومہ عالم!اے خاتون جنت! اے مخدومہ دو جہاں!آپ کی سیرت کا نقص نہیں ہے مگر اللہ نے آپ کو کوئی بھائی نہیں عنایت کیا۔ اس رشتہ کے تقاضے آپ نہیں دکھا سکتی تھیں ۔لہٰذا جس طرح مریم کے بعد آپ کی ضرورت تھی، اسی طرح آپ کے بعد آپ کی بیٹی زینب کی ضرورت تھی۔اس رشتہ کا مکمل نمونہ حضرت زینب کبریٰ، انہوں نے اس رشتہ کے تقاضے کربلا میں پیش کردئیے۔


اسلام اور ادیانِ عالم ۳

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَالْاِسْلَامِ دِیْنًافَلَنْ یُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَفِی الْاٰخِرَة مِنَ الخَاسِرِیْنَ ) “۔

جو اسلام کے علاوہ کوئی دین اختیار کرے گا، وہ اُس سے قبول نہیں ہوگا اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

یہ اس کا ترجمہ ہے۔ کوئی مفہوم اس کا ایسا نہیں کہ ترجمہ کچھ اور ہو اور مطلب اس کا کچھ اورہو۔ ایک سوال اس موضوع سے متعلق مجھ سے کیا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ سوال کچھ اور ذہنوں میں بھی موجود ہو۔ لہٰذا اس کی مختصر تشریح کردوں۔ سوال یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی دین قبول نہیں ہوگا۔ بہت سے غیر مسلم ہیں جو ایسے گھرانوں میں پیدا ہوئے کہ انہوں نے اپنے دھرم کے سواکسی مذہب کی تعلیم سنی ہی نہیں۔ اسلام کی تعلیمات ان کے گوش زد ہوئے ہی نہیں۔ تو چونکہ ایک ماں باپ کے ہاں پیدا ہوئے تھے اور چونکہ ایک خاندان میں نشوو نما پائی تھی، لہٰذا وہ اپنے اُسی مذہب پر آخر تک قائم رہے۔ اس گھر میں پیدا ہونا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس ماحول میں نشوو نما پانا ان کے اختیار کی بات نہیں تھی۔ یہ اسباب ہوئے کہ مذہب حق سے روشناس نہ ہوسکے اور اپنے غلط مذہب پر آخر دم تک قائم رہے۔ ایسے افرادکیوں گھاٹا اٹھائیں؟ان کو آخرت میں خسارہ کیوں ہو؟

یہ بہرحال ایسا سوال ہے جو اس موضوع کاایک لازمی جزو ہے۔اس بناء پر میں نے اس سوال کو موضوعِ بیان قرار دیا۔ اب اس سوال کے حل کرنے کیلئے تمہیداً یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام میں دو نقطہ نظر ہیں: ایک نقطہ نظر تو ان افراد کا ہے جو اللہ کیلئے عدالت ضروری نہیں سمجھتے جنہوں نے اصولِ دین کو عدالت سے محروم کردیا ہے۔ ان کا تصور یہ ہے کہ اللہ قادرِ مطلق ہے۔ جب قادرِ مطلق ہے تو اس پر کسی کو پابندی عائد کرنے کا حق نہیں ہے کہ وہ ایسا ضرور کرے اور ایسا ہرگز نہ کرے۔یہ پابندیاں عائد کرنا اس شخص کیلئے ہیں جو عاجز ہو، مجبو رہو اور کسی دوسرے کے زیر اختیار ہو۔ لیکن جو خود قادرِ مطلق ہے، اس پر یہ پابندیاں عائد کرنا کہ وہ ایسا ضرور کرے اور ایسا ہرگز نہ کرے، غلط ہے۔لہٰذا چونکہ اس کی قدرت لامحدود ہے، اب جو شخص کوئی راستہ اختیار کرتا ہے تو اُسے قرآن سے بھی سند مل جاتی ہے۔ قرآن میں ہے:

لَا یُسْئَلُ عَمَّایَفْعَلُ وَهُمْ یُسْئَلُوْنَ “ ۔

اس سے کوئی سوال نہیں ہوسکتا ، جو وہ کرتا ہے کہ اس نے کیوں کیا۔ ہاں! دوسرے لوگوں سے یہ سوال کیا جائے گا کہ تم نے یہ کیوں کیا؟ خد اکے ہاں جب یہ ہے تو اس کے ہاں عدالت کی پابندی عائد کرنا صحیح نہیں ہے۔یہ ان کا نقطہ نظر ہے جس کو میں ں ے پوری قوت سے بیان کیا۔ اب رَد اس کی مفصل عرض نہیں کرنا ہے۔ مجملاً یہ ہے کہ انہوں نے خدا کی قدرت کو سلاطین بااقتدار کی لاٹھی سمجھا ہے کہ جس کے ہاتھ میں لاٹھی، اُس کی بھینس۔یہ وہ فلسفہ ہے جو طاقت کو حق سمجھتا ہو، یہ اس کا نظریہ ہے۔ چونکہ قادرِ مطلق ہے، لہٰذا جو چاہے کرے۔ تو سلاطین باقتدار کی طاقت کا جو تقاضا ہواکرتا ہے، اُسے اللہ پر مسلط کردیا ہے۔اب میں اپنے الفاظ میں کہہ رہا ہوں۔ وہ ان کے الفاظ میں ترجمانی تھی۔ میں کہتا ہوں کہ چونکہ وہ قادرِ مطلق ہے، لہٰذا اس کی نہ داد نہ فریاد۔ وہ جو چاہے کرے۔ چنانچہ ان کے ہاں یہ ہے کہ اگر کوئی عمر بھراطاعت کرے، بالکل ایک دفعہ بھی گناہ نہ کرے تو ممکن ہے کہ اللہ اُسے دوزخ میں ڈال دے او رجو عمر بھر نافرمانی کرتا رہے، اُسے جنت میں بھیج دے۔اپنے منظورِ نظر افراد کو جنت میں بھیجنے کیلئے کیسے کیسے چور دروازے تلاش کئے ہیں۔

جناب! اتفاق سے اکثریت اس نظریہ کے حامی افراد کی ہے مگر اس نظریہ کی بنیاد پر تو اس سوال کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہے۔اس نے کہہ دیا کہ جو اسلام کے علاوہ کوئی دین اختیار کرے تو وہ قبول نہیں ہوگا۔چاہے بس ہو، چاہے بے بسی کے ساتھ ہو۔ جو اُس نے کہہ دیا ہے، اُسے مانئے۔ اگر قرآن کو مانتے ہیں ، اس نے چونکہ یہ کہہ دیا ہے، لہٰذا اس سوال کا محل ہی نہیں ہے۔بالکل ٹھیک ہے، بالکل مجبو رہے، بالکل بے اختیار ہے، وہ بیچارہ ہے، اُس نے سنا ہی نہیں تھا مگر بہرحال اسلام کے علاوہ دوسرے راستہ پر ہے اور اُس کا کام ہے جنت اور دوزخ کو تقسیم کرنا اور اُس نے کہہ دیا ہے کہ ہم جنت میں اُسے بھیجیں گے جو مسلم ہو اور جو غیر مسلم ہوا، اُسے ہم ہرگز نجات نہیں دیں گے۔

تو اب چاہے وہ بے بس ہو، چاہے کچھ ہو، ہے توغیر مسلم۔تواس کے فرمان کے مطابق اس کیلئے یہی انجام ہے جو قرآن نے کہہ دیا۔یہ ان کے نقطہ نظر سے ہے یعنی پھر کسی زحمت تفکرکے اٹھانے کی حاجت نہیں ۔سوچنے کی حاجت نہیں۔ بس کہہ دیا آپ کا کیا اجارہ ہے۔ وہ اُسے دوزخ میں بھیج رہا ہے۔ وہ چیخے یا آپ فریاد کیا کیجئے۔نہ اُسے حق چیخنے کا ہے ، نہ آپ کو فریاد کرنے کا۔ یہ تو ان کے نقطہ نظر سے ہے اور اکثریت اسی نقطہ نظر کی ہے۔ وہ آسودہ ہے یعنی اس کو اس سوال کے جواب کی کچھ زحمت نہیں اٹھانا مگر اس بارے میں ہماری ذمہ داری بہت زیاد ہ ہے کہ ہم اللہ کو عادل مانتے ہیں تو ہم لوگ عجیب مصیبت میں گرفتار ہیں۔یہ کتنی کٹھن منزل ہے او رہماری تو جتنی منزلیں ہیں، سب ہی کٹھن ہیں۔

صاحب! ہم ایسے ہیں کہ ہم کو اللہ کی وکالت بھی کرنا ہے، جب کوئی اس کی بات کرے اور ہمیں یہ محسوس ہو کہ یہ اللہ بلندی کے خلاف ہے تو ہمیں اللہ کی طرف سے بھی وکالت کرنا ہے۔ آدم سے لے کر نبی تک ہر نبی کی وکالت کرنا ہے۔آدم کے دامن پر گناہ کا دھبہ آئے تو صفائی کیلئے ہم بڑھیں۔ یوسف کے دامن پر کوئی دھبہ آئے تو ہم بڑھیں۔ سب کے وکیل ہم ہیں۔ ہم پر ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے ثبوت کا بار ہے۔

اپنے آئمہ کیلئے ظاہر ہے کہ ہمیں ہی آگے بڑھنا ہے۔ جی نہیں! گناہ نہیں ہے۔ کسی نہ کسی رُخ سے ہمیں ثابت کرنا ہے کہ یہ گناہ نہیں ہے۔ وہ بہرحال معصوم ہیں۔ دنیا یہاں بھی آسودہ ہے یعنی کسی مسئلہ میں بحث کی ضرورت ہی نہیں۔کہیں کسی نبی کے کردار پر اعتراض ہو تو کہیں گے کہ گناہ کیا تو کیا ہوا، آدمی ہی تو تھے!ہمارے لئے بڑی مصیبت ہے۔ ہمیں اس مصیبت میں اعتماد نے ڈالا۔انہیں مصیبت سے رہائی دی، اپنی طرف کمزوری کے احساس نے۔ ہمارے اعتماد نے ہم کو مصیبت میں یوں ڈالا کہ ہم جنہیں مان رہے تھے، ان کے متعلق یہ بھروسہ تھا کہ ان کے دامن پر کوئی داغ نہیں ہے۔لہٰذا ہم نے جب وصی نبی کواس منزل پر مانا تو وہ رسول جس کے یہ جانشین ہوں، اُسے کیونکر گناہگار مان سکتے تھے۔

دیکھئے!ہم ادھر سے چلے ہیں کہ جب یہ معصوم ہیں تو ناممکن ہے کہ انبیاء و مرسلین گناہگار ہوں۔ لہٰذا اس تصور نے کہ یہ معصوم ہیں، اس اعتماد نے ہم پر ایک لاکھ چوبیس ہزار عصمتوں کا بوجھ ڈال دیا اور جب انبیاء معصوم ہیں، اللہ کے ہاں ایسی بات کیونکر ہوسکتی ہے کہ جو اس کے معیارِ عظمت کردار کے خلاف ہو۔ یاد رکھئے کہ اللہ کے ہاں عظمت کردارکانام عدالت ہے، انبیاء و آئمہ کے ہاں عصمت ہے۔

پس ہم اللہ کیلئے بھی وکالت پر مجبو رہوگئے ۔ یہاں سے ہم چلے تھے، وہاں پہنچے۔ وہ بھی یہیں سے چلے او رنہ جانے کہاں پہنچے؟ ایسے افراد سے مجھے ہمدردی ہے ۔ انہیں ایسے اشخاص کو بلندی دینا ہوئی یا ماننا پڑی کہ جن میں داغ دھبے ہیں۔

اب نگاہ میں یہ ہے کہ رسول کا جانشین ہے اور یہ ایسا ہے۔ اس با ت کی اہمیت کو نگاہ میں کم کرنے کیلئے یہ کہا کہ اس کا کیا ذکر ہے، اس کیلئے ضرورت ہی کیا ہے کہ وہ معصوم ہو؟ گویا ضمیر گوارا نہیں خرتا مطلق طور پر کہنے کو کہ انبیاء معصوم نہیں ہیں۔ جی ضرور معصوم ہیں مگراس میں ایک مگر آجاتا ہے۔معصوم ہیں مگر قبل بعثت نہیں ہیں یا یہ کہ وہ جو ارادة گناہ ہوتے ہیں، اس کے لحاظ سے معصوم ہیں۔ مگر ان سے سہوونسیان سے گناہ ہوجاتے ہیں۔ غرض یہ کہ ایک عدد ”مگر“ ضرور آجاتا ہے۔ بس انسان کو یہ سہارہ ہوجاتا ہے کہ جب رہنما میں یہ باتیں ہیں تو کوئی بات نہیں ہے۔ لہٰذا جب نبی کی سطح یہ مان لیں گے تو ظاہر ہے کہ ”وزیرے چنیں شہریارے چنیں“۔جب انبیاء کے ہاں عصمت پوری مکمل ضروری نہیں تو اللہ کے ہاں عدالت پوری مکمل کیوں ضرورت ہو؟ وہ جو چاہے کرے۔

مگر اب ہم ہیں سب کے وکیل۔ہمیں سب کی نمائندگی کرنا ہے۔ ہم اللہ کو عادل سمجھتے ہیں تو عدالت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ شخص جو اس ماحول میں پیدا ہو، اس ماں اور باپ کے ہاں پیدا ہو، اگر بالفرض ایسا ہو، حالانکہ اس دَورِ تمدن و تہذیب اور کثرتِ روابط و تعلقات میں ایسا ممکن نہیں ہے لیکن بالفرض کوئی ایسا ہو کہ کچھ گوش زد ہی نہ ہوا ہو، اس کو اپنے مذہب کے سوا، اس کے ذہن میں کبھی آیا ہی نہ ہو کہ کوئی مسلم بھی قوم ہے، اُسے پتہ ہی نہ چلا ہو کہ اسلام بھی کوئی چیز ہے اور اس نے آنکھ کھول کر جیسے کال کوٹھڑی میں ، بس تاریکی ہی تاریکی دیکھی۔اس نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو بس اپنے مذہب کو پایا۔ اس تک صدائے حق پہنچی ہی نہیں۔ اس تک نامِ اسلام گیا ہی نہیں۔ اس نے رہنمایانِ اسلام کا نام کبھی سنا ہی نہیں۔ اس کے ذہن میں کبھی یہ شبہ پیدا ہوا ہی نہیں کہ شاید اسلام حق ہو۔ کبھی اس کے ذہن میں یہ تصور ہی نہیں ہوا کہ ممکن ہے کوئی دوسرا راستہ اسلام ہی نہیں ، عیسائیت حق ہو،یہودیت حق ہو۔ایسی کوئی بات اس کے ذہن میںآ ئی ہی نہیں۔

اگر بالفرض ایسی مخلوق پائی جاتی ہو، ایسا آدمی موجود ہو تو چونکہ خدا ہمارا عادل ہے ، تو اس کو ہرگز سزا اس کے کفر کی نہیں ملے گی اگر وہ واقعی مجبو رتھا۔لیکن اگر اُس نے سب نام دوسرے مذاہب کے سنے اور پھر بھی دماغ آسانی کی بناء پر، ذہنی کاہلی کی بناء پر اپنے سابق مذہب سے محبت کی بناء پر ، اپنی آبائی روایات سے اُنس کی بناء پر، اس کی وجہ سے اس نے کبھی سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ کوئی دوسرا مذہب حق ہے، تو پھر ایسا منکراپنی کسی اختیاری کوتاہی کی بناء پر قابل معافی نہیں ہے۔ جب بہت سے راستے اس کے گوش زد ہوئے تو کیا رسول کی آواز سننے کی ضرورت نہیں تھی؟ قرآن کی آیتیں پہنچنے کی ضرورت نہیں تھی اس تک کہ کوئی حافظ قرآن جاکر اُسے قرآن سنائے یا کسی عالم کی ضرورت نہیں تھی کہ جاکر اُسے حدیثیں سنائے، جاکر اُسے رسول کا پیغام سنائے۔

اس کی جو عقل تھی، وہ اس کی طرف کا رہنما تھی جو اس پر یہ فریضہ عائد کرتی تھی کہ تم کو خود تحقیق کرنا چاہئے۔ جب بہت سے راستے ہیں تو تم کو تلاش کرنا چاہئے کہ کونسا راستہ صحیح ہے اور اگر ایسا نہیں کیا تو وہ اس رہنما کی نافرمانی کی وجہ سے ہے جسے خالق نے اسی لئے رکھا تھا۔

اس نے اس رہنما کو عقل کی صورت میں ہر ایک کے اندر رکھ دیا تھا۔ اس رہنما کی وجہ سے یہ اب موردِ عتاب ہوسکتا ہے اوراللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ وہ اُسے سزا دے کہ گوش زد تو ہوا اسلام کا نام تو پھر تم نے معلوم کیوں نہ کیا کہ اسلام کیا چیز ہے؟پھر تم نے دریافت کیوں نہ کیا کہ اسلام کسے کہتے ہیں؟ اوریہ وہ کافر ہی نہیں ہیں ، بہت سے مسلمان ہیں جو عمر گزرجاتی ہے ، نمازصحیح نہیں پڑھتے ، اس لئے کہ بیچاروں کو مسئلے معلوم نہیں ہیں، اس لئے کہ مسئلے معلوم کرنے کو دل ہی نہیں چاہتا۔عالم مل بھی گیا تواس سے پوچھیں گے کہ فلاں امام کی کتنی لڑکیاں تھیں؟ ا س سے یہ پوچھیں گے کہ فلاں شہزادے کی کتنی عمر تھی؟ یعنی سب کچھ وہ پوچھیں گے جس سے اپنے عمل کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن جو اپنا عمل ہے، اُسے کبھی نہیں پوچھیں گے کہ وضو کس طرح کریں تو صحیح ہوگا۔ غسل کس طرح کریں تو صحیح ہوگا۔نماز کس طرح پڑھیں تو صحیح ہوگی۔

تو یہ ہے تو سہی کہ کہیں بیچارے جاہل ہیں، بیچارے ناواقف ہیں لیکن ان کیلئے تو معصوم نے صراحتاً کہا ہے کہ روزِ قیامت اُسے بلائیں گے اور اس سے کہیں گے کہ تو نے صحیح عمل کیوں نہ کیا؟ وہ جواب میں کہے گا کہ مجھے علم نہیں ہوا۔ ارشاد ہوگا کہ تم نے علم حاصل کیوں نہ کیا؟ تم نے مسائل سے واقفیت حاصل کیوں نہ کی؟ اس کے بعد کوئی جواب نہیں۔ تو جوذرائع کے نہ موجود ہونے کی وجہ سے مجبوراً غلطی پر رہے۔ اس کو جاہل قاصر کہتے ہیں۔ وہ جاہل قاصر ہے اور اسے جاہل مقصر کہتے ہیں۔ قصور وار۔یعنی بہ اختیارخود تقصیر کرنے والا جاہل۔ یہ معاف نہیں ہے۔ تو کافر اگر قاصر میں داخل ہو تو اُسے سزا نہیں مل سکتی لیکن اگر وہ مقصر میں داخل ہے تو اس دورِ تمدن و تہذیب میں کوئی ایسا آدمی سوچنا مشکل ہے کہ جس تک آوازِ اسلام پہنچی ہی نہ ہو۔جس نے نامِ اسلام سنا ہی نہ ہو۔ آجکل ذرائع کی اتنی وسعت ہے ، لوگ اخبار پڑھتے ہیں۔ اس میں نام آتے ہیں۔ ریڈیو سنتے ہیں،اس میں نام آتے ہیں۔ ٹی وی پر مختلف لوگوں کے جلوس تفریحاً دکھائے جاتے ہیں۔ مگر اس سے اللہ کی حجت ہر ایک پر ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا اس دَور میں اس قسم کے کافر کا وجود نہیں ہے جس نے نامِ حق سنا ہی نہ ہو۔ اس صورت میں آجکل تو یہ کلیہ ہے:

وَمَنْ یَتْبغِ غَیْرَالْاِسْلَامِ دِیْنًافَلَنْ یُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَفِی الْاٰخِرَة مِنَ الخَاسِرِیْنَ “۔

جو اسلام کے علاوہ کسی دین کو اختیار کرے یا کسی دین پر قائم و برقرار رہے ، وہ ہرگز قبول نہیں ہوگا اور آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوگا اور حق بجانب طور پر ہوگا کیونکہ اس نے عملی کوتاہی کی۔

ہاں! فرض کیجئے کہ ذوقِ تخلیق پیدا ہوا مگر مذاہب اتنی کثرت سے ہیں کہ وہ تحقیق میں مصروف ہوگیا لیکن منزل تک نہ پہنچ سکا تو اب فقط یہ کہ سزا سے بچے گا بلکہ اس کی جدوجہد کا اجر بھی ملے گا۔

اتنا بیان تو اس سوال کی خاطر ہوا۔ اب اسلام کی خصوصیات پر آئیں۔ پہلی خصوصیت یہ کہ اس کا تعلق کسی محدود فرد یا محدودجگہ سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ذاتِ الٰہی سے ہے۔ لامحدود پیغام ہے اور ایسی ذات کی طرف سے ہے جس سے کوئی بیگانگی کا اعلان نہیں کرسکتا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لہٰذا اس میں صلاحیت خود اس کے نام میں ہمہ گیر ہونے کی ہے۔

دوسری خصوصیت یہ کہ اسلام دین کائنات ہے اور اسلام دین فطرت ہے۔ کوئی الگ سے بار نہیں ہے جو انسان پر عائد ہوتا ہو بلکہ وہی فطرت کا تقاضا جو ہے، اسی کا مطالبہ ہے یعنی جب پیدا ہوا تھا ، جب بھی قانونِ الٰہی کی اطاعت کرتا ہواآیا تھااور اسی کی اطاعت کا نام اسلام ہے۔یہ ایک مفہوم اس حدیث کا ہے۔ کلامِ رسول کی خصوصیت یہ ہے کہ کتنے ہی پہلو اس میں ہوتے ہیں اور کتنے ہی معنی اس میں پیدا ہوتے ہیں۔ ارشادِ رسول ہے:

کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی فِطْرَة الْاِسْلَامْ اِنَّمَااَبْوَاهُ یُهَوِّدَانِه اَوْ یُنَصِّرَانِه اَوْیُمَجِّسَانِه “۔

ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ یہ ماں باپ ہیں جو اُسے یہودی بنادیتے ہیں یا یہودی رکھتے ہیں یا نصرانی بنادیتے ہیں یا نصرانی رکھتے ہیں اور آتش پرست۔

یہ نام بھی بطورِ مثال ہیں کہ جو کوئی کسی غلط راستے پر قائم ہوتا ہے، سوائے اسلام کے ، وہ درحقیقت ماحول کا دباؤ ہے جیسے یہودیت، نصرانیت بطورِ تمثیل نام ہیں۔ ویسے ہی ماں باپ کا نام بطورتمثیل ہے۔ ماں باپ کے معنی صرف ماں باپ ہی نہیں ہیں بلکہ جو ماحول، جو بزرگ جس کے زیر سایہ اس نے نشوو نما پائی ہو، وہ اس میں مضمر ہیں۔ درحقیقت وہ اسے غلط راستوں پر لگا دیتے ہیں۔ یہ حدیث میں نے پڑھی کہ ہر بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے اور تربیت یا ماحول اُسے غلط راستے پر چلاتا ہے۔ تو جہاں تربیت فطرت سے ہم آہنگ ہو، اس کے متعلق اس سوال کی گنجائش کب ہوگی کہ کب اسلام لایا۔

وہ بچہ جس کے بچپن کی بناء پر سوال ہوتا ہے کہ چونکہ بچہ ہے، لہٰذا اس کے اسلام کی کیا اہمیت ہے۔ مگر اتفاق سے وہ بچپن ہی اس کا جوہر ہے۔ مجھے بھی بچے کو بوڑھا بنانے کا شوق نہیں ہے۔ جو بچہ ہے، وہ تو بچہ ہی ہے لیکن یہ کہ وہ بچہ ایسا ہے کہ پیغمبر کے زیر تربیت ہے۔ اس سے اس کی قدرتِ ادراک بھی نمایاں ہوتی ہے۔یعنی جو مربی عالم بننے والا ہے، اس کے آفتابِ تربیت کی تمام شعائیں اس ایک شخص پر مرتکز ہیں۔

کس طرح وہ ہر وقت ان کے ساتھ رہتے تھے۔ ہمارے اُردو ادیبوں کے ذہن پر یہ تشبیہ بار ہوسکتی ہے کہ اُردو میں اسے نظم کیا جائے تو وہ خوبصورت شعر نہیں ہوگا۔ لیکن کمالِ تشبیہ کا انحصار ماحول پر ہے۔ عرب کا ماحول، اس میں حضرت علی علیہ السلام ، جن کی فصاحت و بلاغت کیلئے اُدباء کا مقولہ یہ ہے کہ تحت کلام خالق و فوق کلام مخلوق۔خالق کے کلام کے نیچے ہے اور تمام مخلوق کے کلام کے اوپر ہے۔ امیرالمومنین یہ تشبیہ ارشاد فرماتے ہیں:

”میں اس طرح پیغمبر کے پیچھے پیچھے رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اونٹنی کے پیچھے پیچھے رہتا ہے“۔

اب اس بچپن میں جبکہ ہر وقت مربی پیچھے پیچھے رہتے ہیں، قوتِ ادراک و احساس کیا ہے کہ فرمارہے ہیں:

کُنْتُ اَرَاُنْوَرنُبُوَّة وَاَشْمُّ رِیْحَ الرِّسَالَة “۔

”میں نبوت کی روشنی میں دیکھتا تھا اور رسالت کی خوشبو سونگھتا تھا“۔

کوئی کہے کہ رسالت کی خوشبو ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ قرآن میں پڑھ کر آپ بتائیے کہ کیا قمیصِ یوسف کی کوئی خوشبو تھی؟ جیسی خوشبو ہوتی ہے، ویسا مشام چاہئے۔ پھولوں کی خوشبو جسمانی مشام والے سونگھیں گے اور نبوت کی خوشبو وہ ہے جونبوت کے ہم جنس منصب کا کوئی آدمی سونگھے۔

میں نبوت کی روشنی دیکھ رہا تھا اور رسالت کی خوشبو سونگھ رہا تھا۔ نبی کی خوشبو نہیں کہہ رہے ہیں، رسول کی خوشبو نہیں کہہ رہے ہیں۔ جی نہیں! جو جوہر ان میں ہے، نبوت کی روشنی اور رسالت کی خوشبو۔ تو جو قبل رسالت ، قبل بعثت نبوت کی روشنی دیکھتا اور رسالت کی خوشبو سونگھتا ہو، اس کیلئے پوچھئے گا کہ کب ایمان لایا اور اس نے کب اسلام اختیار کیا۔رسول کی بعثت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ چالیس برس کی عمر میں مامور ہوئے بلکہ چالیس سال کی عمر میں اعلانِ رسالت کا حکم ہوا۔دعوائے رسالت پر مامور ہوئے ورنہ نبی تو پہلے سے تھے۔ میں اس کی روشنی میں کہوں گاکہ تاریخ کی نگاہ مشاہدات کو دیکھتی ہے۔ ایمان کا تعلق غیب سے ہوتا ہے۔

اس لئے تاریخ میں یہ ہے کہ ستائیس رجب کو ۴۰ عام الفیل میں رسول مبعوث بہ رسالت ہوئے۔ یہ تاریخ والی رسالت ہے اور حقیقت کے لحاظ سے رسالت:

کُنْتُ نَبِیًّاوَاٰدَمُ بَیْنَ الْمَاءِ وَالطِّیْنِ “۔

”میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم کا پتلا آب و گل میں تھا“۔

بس میں کہتا ہوں کہ جس نوعیت کی رسالت ان کی تھی، اس نوعیت کا علی کا ایمان تھااور جس معنی سے یہ آج رسول ہوئے، اس معنی سے یہ آج ایمان لائے۔

فطرت آغازِ عمر انسانی سے جو عمل کرواتی ہے، اس کا نام اسلام ہے۔ بعدمیں الگ سے کوئی بوجھ نہیں پڑنا ہے، کوئی دباؤ نہیں پڑنا ہے۔ جو کام اب تک جبری طورپر کرتے رہے ہو، اب اختیاری طور پر کرو۔ اس کی اطاعت اب تک برابر کررہے تھے مگر اپنے شعورِ ادراک سے نہیں کررہے تھے۔ اب شعوری طور پراپنے اختیار و ادراک کے ساتھ اس کی اطاعت کو۔ اس کے پیغام کو قبول کرو تو اس کا نام آئینی اسلام ہوگا۔وہ حقیقی قدرتی اسلام تھا، یہ اختیاری اپنے عمل کا اسلام ہوگا جو اس وقت سے تم اختیار کرو گے۔اس لئے اُس وقت کی اطاعت کی کوئی جزا نہیں ہوگی۔ اس وقت جو اطاعت کروگے، اس کی تمہیں جزا بھی ملے گی اور جزا کا دینا بھی فضل کرم ہے ورنہ مخالفت میں سزا ہے، موافقت میں جزا کا استحقاق دنیا میں نہیں ہواکرتا۔ یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے موافقت میں جزا کا اعلان کیا۔یہاں تک کہ جو گناہوں سے توبہ کرے، توبہ کے معنی یہ ہیں کہ غلط راستے سے صحیح راستے پر آئے ۔ تو یہ نہیں ہے کہ وہ سزا ختم ہوجائے گی جو گناہوں کی تھی بلکہ یہ توبہ کرنا بھی ایک حسنہ ہے، ایک نیکی ہے جس کی جزا ملے گی۔

تیسری خصوصیت اسلام کی یہ ہے کہ اسلام نے انسان کو انسان سے متعارف کروایا۔ یعنی دنیا کے سامنے اس سے پہلے دور دور کی چیزیں تھیں مگر یہ نہ سمجھا تھا کہ انسان کیا چیز ہے۔ انسان شناسی کی منزل دور تھی۔ چونکہ انسان، انسان شناسی کی منزل سے دور تھا، اس لئے خدا شناسی سے دور تھا۔ ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ ”مَنْ عَرِفَ نَفْسَه فَقَدْ عَرَفَ رَبَّه “، جس نے اپنے کو پہچانا کہ م یں کون ہوں۔ وہ اپنے پروردگار کو بھی پہچان لے گا کہ وہ کیا ہے۔ بعض جگہ ہے کہ یہ کلامِ رسول ہے۔ بعض جگہ یہ ہے کہ یہ کلامِ امیرالمومنین ہے۔ بعض جگہ بلند حکماء کے نام ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ جملے کے بلند قیمت ہونے کا ثبوت ہے کہ ہر بڑے آدمی پر پورا اترتا ہے۔ جنابِ امیرالمومنین کا کلام ہو،تب بھی بالواسطہ رسول کا کلام ہے اور خود رسول کا ہے تو رسول کا ہے ہی۔ بہرحال جو اپنے کو پہچانے کہ میں کون ہوں، اس کے بہت سے رُخ ہیں اور کلامِ رسول کی خصوصیت یہ ہے کہ ایک جملہ ہوتا ہے اور اس میں معنی کے دفتر پنہاں ہوتے ہیں۔

مَنْ عَرِفَ “، جو اپنے کو پہچانے، اس کو میں اُردوکے الفاظ میں یوں کہوں گا کہ خود شناسی خداشناسی کا ذریعہ ہے۔ یہ کیونکر ہے؟ انسان نے یہ نہ سمجھا کہ انسان کیاہے؟ اس لئے پتھروں کے سامنے جھکا۔ انسان نے یہ نہ جانا کہ انسان کیا ہے، لہٰذا درختوں کے سامنے جھک گیا۔ انسان نے یہ نہ جانا کہ انسان کیا ہے، لہٰذا اپنے جیسے انسانوں کے آگے جھک گیا اور اپنے ایسے انسانوں کے آگے جھکا تو اگر جھکنا ہوتاتو گھر والوں کے سامنے کیوں نہ جھکا؟ اپنے محلے والوں کے سامنے کیوں نہ جھکا، خود اپنے سامنے کیوں نہ جھکا؟ جس انسان کے سامنے جھکا، اگر دولت مند کے سامنے جھکا تو انسان کے سامنے جھکنا نہیں ہے۔ اس دولت کے سامنے جھکنا ہے۔ اگر سلطان کے سامنے جھکا تو وہ انسان کے سامنے جھکنا نہیں ہے، سلطنت کے سامنے جھکنا ہے۔ اس نے کسی صاحب قوت کے سامنے جھکنا اختیار کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی قوتِ بازو کے سامنے جھکا۔وہ انسان کے سامنے جھکنا نہیں ہے اور انسان کے سامنے نہ جھکنے کا نتیجہ ہی ہے کہ انسان مرکز قربانی میں دھوکہ کھانے لگا کہ کس کی راہ میں اپنے آپ کو صرف کرے۔ اس لئے عمر گزاری دولت کے حاصل کرنے میں تو دولت پر جان دینے لگا۔عمر گزاری شہرت حاصل کرنے میں تو شہرت پر جان دینے لگا۔ عمر گزاری کسی منصب کے حاصل کرنے میں تو منصب پر جان دینے لگا۔اصولِ دین میں خدا شناسی کی منزل سے دور ہوا ، انسان ناشناسی سے اور کردار کی منزل میں غلط مصارفِ حیات میں اپنے جوہر کو صرف کرتا رہا۔

یہ بھی انسان کے نہ پہچاننے کا نتیجہ ہے ۔ اگر یہ سمجھتا کہ یہ انسان کیا ہے تو پہاڑوں کے سامنے نہ جھکتا،درختوں کے سامنے نہ جھکتا، حیوانوں کے سامنے نہ جھکتا، صاحب قوت، صاحب طاقت، صاحب زر کے سامنے نہ جھکتا۔ پھر ڈھونڈتا اُسے جو اس سے اونچا ہوتا تاکہ اس کے سامنے جھکے اور اپنے سے اونچا سوائے اپنے خالق کے کوئی اور نظر نہ آتا تو چاہے وہ نام نہ لے سکتا مگر اسی کے سامنے جھکتا اور اس کے سوا جو سامنے آتا، اس کے سامنے جھکنے سے انکار کردیتا۔ یاد رکھئے غیروں کا انکار، یہ بھی مرکز توحید ہے ورنہ کلمے کی ابتداء نفی سے نہ ہوتی، مثبت سے ہوتی۔

اس لئے صرف انسان کو پہچاننے سے چاہے نام کے ساتھ اللہ تک نہ پہنچتا مگر لااِلٰہ کی منزل کو تو طے کرہی لیتا۔ اگراِلَّا کہہ کرچاہے چپ ہوجاتا مگر زبانِ بیان چپ ہوتی، دل کی آواز چپ نہ ہوتی۔دل اسی کی طرف مڑتا جواِن سب سے بالا تر ہو اور وہ اللہ ہے اور اس کو ماننا کوئی کام کا محتاج نہیں ہے۔ ضمیر کسی کا نام نہیں ہوتا۔ وہ کہوں تو قبل میں جب تک ذکر نہ ہو تو پتہ نہیں چلے گا کہ ”وہ“ کون ہے۔لیکن صرف اللہ وہ ہے کہ جس کے ناموں میں”ھُوَ“ہے یا:

هُوَیَامَنْ لَا یُعْرِفُ اِلَّاهُوَیَامَنْ لَا یَعْلَمُ مَنْ هُوَ اِلَّاهُوَ “۔

اے وہ۔ یہ ان کیلئے ہے جو نام نہ لے سکتے ہوں۔ صرف اشارئہ ذہنی کرسکتے ہوں۔اب یہاں ایک جملے میں شروع والے سائل کا جواب کہ مَیں کہتا ہوں کہ اسلام کا نام اس بیچارے تک نہیں پہنچا، اس لئے اللہ اسے نہ آیا۔ لیکن ”وہ“ کا اشارہ تو اندر سے بلند ہوگا تو ”وہ“ کو مانا اور مسلم ہوا:

وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَالْاِسْلَامِ دِیْنًافَلَنْ یُقْبَلَ مِنْهُ “۔

”جو اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرے گا تو وہ قبول نہیں ہوگا“۔

اگر اپنے کو جان لیتا کہ میں کون ہوں تو منزلِ توحید تک پہنچ جاتا اور اگر اپنے کو جان لیتا کہ میں کیا ہوں تو مقصد قربانی میں غلطی نہ کرتا۔ ہر چیز اپنے سے بالاتر کی خاطر قربان ہوتی ہے۔ زروجواہر کی خاطر اس نے جان دی تو زروجواہر کیا ہیں؟ پتھروں کاذخیرہ۔ اصل دولت سونا ہے اور سونا جمادات میں داخل ہے۔ یہ رنگساز کی بات ہے کہ سرخ رنگت اسے دی ہے تو اس کا نام سونا ہوگیا۔ مگر حقیقت کے لحاظ سے جو ٹھوکروں میں آنے والے پتھر ہیں، وہی سونا ، وہی چاندی، وہی لعل و جواہر ہیں۔ حقیقت کے لحاظ سے جمادات ہیں۔ تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر دولت کی خاطر جان دی تو اپنے سے تین زینے اُتر کر قربانی پیش کی۔تو اگر شہرت کی خاطر جان دی تو شہرت ہے بے اصل چیز۔ وہ کوئی اصلیت رکھتی ہی نہیں۔ اور اگر عہدہ کی خاطر جان دی تو عہدہ امر اعتباری ہے۔ امر اعتباری کا مطلب یہ ہے کہ جب تک لوگ سمجھ رہے ہیں اور سمجھنا چھوڑ دیا تو نہ رہا۔مثلاً ممبر ہے، منبر نہیں۔ یہ منبر وجودِاصلی رکھتا ہے اور وہ ممبر وجودِ اختیاری رکھتا ہے۔ جب تک سمجھ رہے ہیں ممبر ہے اور جب سے سمجھنا چھوڑ دیا، تب سے آدمی رہ گیا،ممبر نہ رہا۔جب سمجھ رہے ہیں چےئر مین ہے، جب سے لوگوں نے سمجھنا چھوڑ دیا، آدمی رہ گیا، چےئر مین نہ رہا۔

اور حضورِ والا!وزیر ہے، جب تک سمجھا گیا کہ وزیر ہے،جب سے سمجھنا ختم ہو گیا، اس وقت سے وزیر نہ رہا۔ کوئی کہیں کا صدر ہے، جب تک لوگ سمجھ رہے تھے ، تب تک قرار داد تھی، اس وقت تک صدر رہا اور جس وقت سے قرارداد بدل گئی، اس وقت سے صدارت ختم ہوگئی، آدمی رہ گیا اور صدر نہ رہا۔

سرکارِ والا! عہدہ چلاگیا تو پھر آدمی رہ گیا، عہدہ نہ رہا۔یہ اس وقت ہے جب عہدہ ملنے کے بعد آدمی رہا ہو۔ اگر عہدہ ملتے ہی آدمی کو رخصت کردیا ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جب عہدہ گیا تو نہ عہدہ رہا، نہ آدمی رہا۔ بس آدمی کا مجسمہ رہ گیا اور کچھ نہ رہا۔سرکار! مرکز قربانی کا غلط استعمال انسان ناشناسی کا نتیجہ ہے۔ اگر سمجھتا کہ انسان کیا چیز ہے تو مرکز قربانی اسی کو بناتا جو اس سے بالا تر ہوتا اور اس سے بالاتر سوائے خالق کائنات کے کوئی چیز نہیں ہے۔ لہٰذا اسی کی راہ میں قربانی پیش کرتا۔ اسی لئے قرآن مجید نے کہیں نہیں کہاکہ جو قتل ہوئے ہیں، انہیں زندئہ جاوید سمجھو۔ ہرجگہ کہا:

اَلَّذِیْنَ قُتِلُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ “۔

جو قتل ہوئے اللہ کی راہ میں۔ قتل ہونا آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے ، اللہ کی راہ آنکھوں سے نہیں دیکھی جاسکتی۔بسمل کا تڑپتا لاشہ دیکھا جاسکتا ہے،جسم پر زخموں کے نشان دیکھے جاسکتے ہیں، سر کو قلم دیکھا جاسکتا ہے، بہتا ہوا خون دیکھا جاسکتا ہے مگر کس راہ میں ہے، یہ آنکھوں سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ اسی لئے ضرورت ہے کہ جب آدمی جان دے تو کسی ایسے کی اجازت سے دے کہ حد امکان تک ضمانت ہو کہ یہ جان اکارت نہیں جائے گی، سوارت ہوگی۔ اسی لئے شریعت حقہ میں جہاد مشروط ہوگیا۔ یا امام ہو یا نائب امام ہو، ان کی اجازت جب تک نہ ہو، اس وقت تک جنگ ہوگی، جہاد نہیں ہوسکتا۔کوئی ضمانت تو ہو کہ ہمارا خون رائیگاں نہیں جائے گا بلکہ کسی محفوظ ذخیرے میں جارہا ہے۔ جب اس طرح جائے تو جان گئی، نہیں رہی،حیاتِ فانی بدل گئی، حیاتِ باقی کے ساتھ اور یہ عمل مجازی نہیں ہے۔

ہرگز نمیرد انکہ دلش زندہ شد بعشق

ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما

یہ وہ شاعرانہ زندگی نہیں ہے بلکہ یہ وہ زندگی ہے کہ آثارِ زندگی قرآن نے مرتب کئے ہیں۔اگر فقط اتنا ہوتا :

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْافِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَاءٌ “۔

”وہ جو راہِ خدا میں قتل ہوئے ہیں، انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ زندہ ہیں“۔

کوئی کہتا یہ وہی حیاتِ جاوداتنی ہے جو کارناموں کے ساتھ ہوتی ہے۔ راہِ خدا میں جان دی تو حیاتِ جاودانی تو بے شک حاصل کی، ہمیشہ ان کا ذکر رہے گا، ہمیشہ ان کی یاد قائم رہے گی۔ یہ حیاتِ جاودانی بھی زندگی ہے مگر قرآن فقط اس زندگی کو نہیں کہہ رہا ہے جو مجازی زندگی ہے، وہ آثارِ زندگی مرتب کررہا ہے۔ کہتا ہے :

اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَ “ ۔

وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے ہاں رزق حاصل کرتے ہیں۔ اپنے پروردگار کے ہاں روزی حاصل کرتے ہیں۔ اب کھانا اور رزق تو زندہ سے متعلق ہے جو ویسی زندگی رکھتا ہو۔ اور اتنا ہی نہیں کہ وہ غذا حاصل کرتے ہیں، رزق حاصل کرتے ہیں:

فَرِحِیْنَ بِمَااٰتٰهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِه “۔

وہ خوش ہوتے ہیں اللہ کے اس فضل و کرم پر جو انہیں ملتا ہے۔

یہ احساسِ شعورِ زندگی جو خوشی اور انبساط کی صورت میں ہے، یہ دوسرا اثر زندگی ہے اور اتنا ہی نہیں کہ اپنے پس ماندگان سے بے خبر ہوجاتے ہیں بلکہ”فَرِحِیْنَ بِمَااٰتٰهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِه “۔ یہ روایت نہیں ہے جو ضعیف اور قوی کا خیال ہو۔ یہ قرآن کی آیت پڑھ رہا ہوں۔ اس کا صرف ترجمہ کررہا ہوں، تبصرہ بھی نہیں ہے۔

میں کہتا ہوں کہ خوش ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں نعمتیں عطا کی ہیں۔ یہ تو جو نعمتیں ان کو عطا ہوئی ہیں، اس پر خوش ہیں۔ اس کا ذکر ہے اس اپنے شعورِ حال کا ذکر ہے، لیکن اس کے بعد:

وَیَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْابِهِمْ “ ۔

اور یہ حالات دیکھ کر جو ان کے بعد دنیا میں رہ گئے ہیں، جو پس ماندگان ہیں ،ا ن کے حالات دیکھ کر اگر وہ قابل شکریہ ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں”یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْابِهِمْ “، اور ان کے حالات کو دیکھ کر جو ان کے بعد دنیا میں رہ گئے ہیں، پس ماندگان ہیں۔ان تک نہیں پہنچے یعنی دارِ دنیا میں زندہ ہیں ، انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کہ نہ ان کو خوف ہے ، نہ کوئی صدمہ ہے۔ یعنی بہ اطمینان زندگی ان کی بسر ہورہی ہے۔ وہ شہید کہیں ہوئے ہیں اور یہ پس ماندگان کہیں پر ہوں لیکن روایت نہیں، آیت کہہ رہی ہے کہ وہ ان کے حالات کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ تو یہ شہید ہیں، انہیں قرآن نے حاضر و ناظر نہیں کہا تو اور کیا کہا ہے؟ اگر وہ دیکھتے نہیں ہیں تو خوش کیسے ہوتے ہیں؟

اس کے معنی یہ ہیں کہ جو جہاں پس ماندگان میں سے ان کے ہے، ممکن ہے ایک کہیں ہو، دوسرا کہیں اور ہو۔ ایک کسی ملک میں ہو، دوسرا کسی اور ملک میں ہو۔ مگر ان سب کے حالات سے تعلق رکھتے ہیں، دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے حالات کا مشاہدہ کرتے ہیں ، اس سے متاثر ہوتے ہیں، خوش ہوتے ہیں۔

جنابِ والا! یہ شہید کیلئے قرآن کہہ رہا ہے تو رسول کے بارے میں یہ بحث کیسی کہ وہ حاضر و ناظر ہیں یا نہیں؟اسی سے حیات النبی کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔غیروں میں کتابیں لکھی جاتی تھیں۔ ایک حیات النبی ثابت کررہا ہے اور ایک حیات النبی کا انکار کررہا ہے۔ اس پر مناظرے ہوا کرتے تھے۔ اس سب کو ہم باہر سے تماشائی کے طور پر دیکھا کرتے تھے کیونکہ ہمارے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ہمارے اندر کوئی محاذ نہیں تھا۔ دوسروں کے حالات کو ہم دیکھتے تھے کہ ایک حیات النبی پر دلائل پیش کررہا ہے اور ایک حیات النبی کے خلاف دلائل پیش کررہا ہے۔ ہم چونکہ حیات النبی والوں کے ساتھ ہیں، اس بناء پر میں حیات النبی کے مسئلہ کو اسی سے طے کیا کرتا تھا کہ شہداء کیلئے قرآن نے کہا ہے۔

بنص قرآن جو حیات النبی کے منکر ہیں، وہ بھی حیات الشہداء کے قائل ہیں۔ تو شہداء کی زندگی کے وہ بھی قائل ہیں۔میں کہتا ہوں کہ شہداء کی زندگی کے آپ سب قائل ہیں۔ شہادت ہے کیا چیز؟ یاد رکھئے کہ شہادت ان کی ایک تعلیم پر عمل کرنے کا نام ہے۔ قرآن کے دباؤ سے شہید کی زندگی پر آپ مجبورہیں اور جس کے گھر سے زندگیِ جاوید کی بھیک بٹ رہی ہو، اس کو کہاجائے کہ زندہ ہے تو آپ کہیں کہ کوئی ثبوت اس کا نہیں ہے۔اسی طرح سے یہاں بھی کہتا ہوں کہ شہداء کیلئے قرآن سے ثابت ہے کہ جہاں جہاں اس کا عزیزہو، اس کے حالات پر وہ نگران ہے ، اس کا نام حاضرو ناظر ہے یا نہیں؟جب حاضر و ناظراس کا نام ہے تو شہید کیلئے یہ کہا گیا تو جو شہید ساز ہو، اس کے بارے میں یہ تصور، یہ بحث کیسی۔ ہاں! نہ وہ زندگیِ جاوید اپنی طرف سے ہے، نہ یہ حاضر و ناظر ہونا اپنی طرف سے ہے۔ اللہ کا دیا ہوا ہے، خدا کا عطاکردہ ہے۔ بس یاد رکھئے کہ ہر کمال کو کہہ دیا کہ ان کا ہے ،ذاتی طور پر خدا سے بے نیاز ہوکر تو شرک ہے۔ جب خدا کی طرف سے مان لیجئے تو عین توحید ہے۔

جب خدا کی راہ میں جان دی جائے تو تہذیب جہاد ہوگئی کہ امام سے اذن لیا جائے اور تہذیب اس لئے کہہ رہا ہوں کہ سب اس مقصد سے جمع ہیں۔ اسی مقصد سے آئے ہیں مگر یہ کہ جب کوئی آگے بڑھتا ہے تو اجازت لے کر بڑھتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ قرائن والی اجازت نہیں بلکہ باضابطہ اجازت کی ضرورت ہے اور اسے کیسے کیسے سخت مواقع پر نبھایا ہے کہ نابالغ بچہ ہے شہزادہ قاسم ۔ چونکہ ہر جہاد میں اب تک بچے الگ رکھے گئے تھے، بدر میں، اُحد میں، خندق میں ،خیبر میں، حالاتِ صحابہ میں کچھ صحابہ کے ذکر میں ملتا ہے کہ یہ جانا چاہتے تھے اُحد میں اور رسول نے کم عمر کہہ کر واپس کردیا کہ ابھی ان کی عمر اتنی نہیں ہے۔

ایک صحابی زادہ کا حال بہت پُر مزاح ہے جو خود انہوں نے بعد میں بیان کیا کہ فلاں جہاد میں جو لوگ کھڑے ہوئے اور رسول گویا معائنہ کررہے تھے بھیجنے سے پہلے ، تو کہتے ہیں کہ میں تڑپ رہا تھا کہ جہاد میں جاؤں۔ میں رسول کے سامنے گیا تو اپنی انگلیوں پر زور دے کر کھڑا ہورہا تھا کہ میرا قد جتنا ہے، اس سے زیادہ نظر آئے تاکہ رسول یہ نہ فرمائیں کہ یہ کم عمر ہے۔ رسول کو بھی اس کی تڑپ محسوس ہوئی۔ آپ نے اس کے کھڑے ہونے کا طریقہ دیکھا۔ آپ نے گویا استثناء کے طور پر ایک سنِ بلوغ کی حد تک پہنچے ہوئے ایک فرد سے کشتی لڑنے کیلئے کہا کہ میں تمہارا جذبہ و بیقراری دیکھ رہا ہوں، شوقِ شہادت دیکھ رہا ہوں۔ یہ بالغ ہے ، اس سے کشتی لڑو، اگراس کو تم نے پٹخ دیا تو میں تم کو اجازت دے دوں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ میں رسول کے سامنے اس سے کشتی لڑا۔

دیکھئے! علماء کو شوق ہو کشتی کا تو شانِ مولویت کے خلاف سمجھا جائے اور یہ رسول ہیں جو اپنے سامنے کشتی لڑوارہے ہیں۔ گویا ذوقِ جہاد کا امتحان بھی ہے اور طاقت و قوت کا اندازہ بھی ہے اور دوسرے بچوں کے شکایت کرنے کا سد باب بھی ہے۔غرضیکہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے سے بڑے کو مغلوب کردیا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ اچھا! میں تمہیں اجازت دیتا ہوں۔

اس سے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ روایت اسلام تھی کہ بچوں کو جہاد میں شریک نہیں سمجھا جاتا۔ مجھے یہ روایت معلوم ہے، جس گھرکا یہ بچہ ہے اور جس گھر کی یہ روایت ہے، اس بچے کو سب کچھ معلوم تھا۔ ظاہر ہے خاندانِ رسالت میں کربلا کے دن کا چرچا تو رہتا ہی تھا۔ تو نہ جانے کب کب شہزادے نے سوچا ہے کہ کہیں میری کمسنی سنگ راہ نہ ہوجائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری کمسنی باعث بد نصیبی ہو جائے۔ جنابِ شہزادہ قاسم کے بارے میں باقی روایات ہماری کتاب ”روایاتِ عزا“ میں ملاحظہ فرمائیں۔


امامت و خلافت ۱

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( اِذْقَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَة اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَ رْضِ خَلِیْفَه ) ۔

تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں اپنا ایک جانشین مقرر کرنے والا ہوں۔ تو انہوں نے کہا کہ کیا تو انہیں مقرر کرے گا جو اس میں فساد پیدا کریں اور خونریزی کریں، حالانکہ ہم تیری تسبیح و تحلیل کرتے ہیں۔ ارشاد ہوا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

میں نے عرض کیا کہ ملائکہ بارگاہِ قدس کے طالب علم ہیں۔ طالب علم کو حق ہے کہ جو بات اس کی سمجھ میں نہ آئے، وہ معلم سے پوچھ لے۔اب انہوں نے خالق کی بارگاہ میں سوال پیش کیا۔خالق نے کیا جواب دیا؟کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

اب مجمع میں ماشاء اللہ طالب علم بھی ہیں اور اُستاد بھی ہیں اور دوسرے تعلیم یافتہ افراد بھی ہیںَ طالب علمی اور معلمی کے جو تقاضے ہیںِ ان سے کون واقف نہیں ہے۔ کوئی طالب علم اُستاد سے کوئی سوال کرے، اُستاد کہے کہ جو میں جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔ تو کیا یہ اس سوال کا جواب ہوا؟ ارے جناب! طالب علم اگر جراءت رکھتا ہے تو وہ کہے گا کہ جنابِ والا! اس ی لئے تو پوچھتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں، ہم نہیں جانتے۔ اسی لئے تو ہم آپ سے دریافت کررہے ہیں۔ تو یقینا کوئی شخص یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اس سوال کا یہ جواب ہے۔ ہاں! اسے ہم سوال کا ٹھکرا دینا کہہ سکتے ہیں یعنی جواب نہیں دیا گیا۔ مگر جواب یہ کسی رُخ سے نہیں ہے۔ اب آخر اُستاد ہے اور شاگرد سوال کررہا ہے تو وہ کیوں اس کے سوال کو ٹھکرائے؟ حالانکہ اب اس کے بعد کی آیت پڑھئے تو پتہ چلتا ہے کہ خالق اس سوال کا جواب دے گا۔ وہ بھی جانتا ہے کہ جواب نہیں ہوا۔اگر جانے کہ جواب ہوگیا تو بعد میں پھر کیوں جواب دے؟ تو آخر جب جواب دینا ہی ہے تو ابھی کیوں نہیں جواب دے دیا گیا؟ وہ سوال کررہا ہے، اُسے جواب دے دیا جائے۔ پھر جواب بعد میں دیا گیا تو کب؟ تو ہم اس آیت کے بعد بلافاصلہ دوسری آیت پڑھتے ہیں:

( وَعَلَّمُ آدَمَ الْاَسْمَاءَ کُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَی الْمَلٰئِکَة فَقَالَ اَنْبِئُوْنِیْ بِاَسْمَاءِ هٰولٰاءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ قَالُوْا سُبْحَانَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَاعَلَّمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ قَالَ یَاآدَمُ اَنْبِعْهُمْ بِاَسْمَائِهِمْ فَلَمَّااَنْبَاهُمْ بَاِسْمَائِهِمْ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَکُمْ اِنِّیْ اَعْلَمُ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَاکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ) ۔

اب پوری آیت فوراً، اس کے آیت کے بعدیہ دوسری آیت، جتنی زیادہ روانی کے ساتھ پڑھو، اتنی ہی جلدی اس آیت کے بعد یہ آیت آجائے گی۔ مگر کیا خود مضمونِ آیت کو دیکھئے؟ یہ واقعہ فوراً اس کے بعد ہوا؟ وہ اس وقت کی بات ہے جب آدم کا پتلا ابھی آب و گل میں بھی نہیں ہے۔ یہ خلقت آدم کا سوال ہے ۔ تو یہ واقعہ جو بلافاصلہ اس آیت میں نظر آرہا ہے، یہ جب آدم کا پتلا بصورتِ انسان ذی روح عالم ظہور میں آئے گا، انسانِ مکمل کی شکل میں، جب وہ جلوہ آرا ہوچکے، تب وہ دوسرا واقعہ پیش آیا ۔تو میں کچھ اندازہ ہی نہیں کرسکتا کہ کتنے ہزار برس کا فاصلہ بیچ میں ہے۔کتنی مدت درمیان میں گزری؟ اُس وقت پھر اس وقت والے سوال کا جواب خالق دے گا۔ تو جب جواب دینا ہی ہے تو ابھی کیوں نہ جواب دے دیا جائے؟

مگر ماشاء اللہ اربابِ فہم ہیں، میں کہتا ہوں کہ اگر ابھی اللہ مصالح اور اسباب سمجھانے لگے تو ایک صورتِ شوریٰ قائم ہوجائے۔ تو جیسے اس موضوع پر تبادلہ خیالات ہونے لگا، انہوں نے سوال کیا ، اللہ سمجھانے لگا۔ یہ وجہ ہے کہ صورتِ شوریٰ قائم ہوجئے۔ تو اس وقت جواب نہیں دیا گیا۔ میں تواپنے انداز میں یوں کہہ سکتا ہوں کہ جیسے خالق نے کہا: منصب میرا، مقرر کرنا میرا کام، تم کون؟

اب اگر خطاکار انسان ہوتا تو جم جاتا کہ بغیر سمجھے نہیں ہٹوں گا۔ مگر یہ بیچارہ معصوم فرشتہ ہے۔ خالق نے کہا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اس نے اپنے گریبان میں منہ ڈالا کہ ہاں! منصب اس کا ہے، مقرروہ کررہا ہے، ہمیں نہیں بتانا چاہتا کہ اس کے کیا اسباب ہیں؟ تو اس میں دخل دینے کا ہمیں کیا حق؟ خاموش ہوگیا۔ مگر خالق کے ذمہ گویا فریضہ تعلیمی قرض رہا۔یعنی بحیثیت معلم جو اس کو جواب دینا چاہئے تھا، وہ نہیں دیا گیا۔

چنانچہ اب جب آدم عالمِ وجود میں آچکے تو اب خالق نے اس دن کے سوال کا جواب دینا چاہا۔ بڑے انتظام و اہتمام سے اور اس کیلئے گویا خاص انتظام کیا۔وہ کیا؟

( وَعَلَّمُ آدَمَ الْاَسْمَاءَ کُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَی الْمَلٰئِکَة فَقَالَ اَنْبِئُوْنِیْ ) ۔

قدم قدم پر مفسرین کو دقت پیش آتی ہے اور مجھے ان سے اختلاف کرنا پڑتا ہے۔

( بِاَسْمَاءِ هٰولٰاءِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) ۔

وہ جیسے خلیفہ میں الجھن پیدا ہوئی تھی کہ کس کا خلیفہ؟ اب یہاں کہا اللہ نے کہ آدم کو تمام اسماء سکھا دئیے۔ اب مفسرین نے اسماء دیکھا،”کلھا “دیکھا۔ اسماء پر جو الف لام ہے، اُسے نہیں دیکھا تو ترجمہ کردیا کہ سب نام سکھا دئیے۔اب سب کے نام سکھائے تو جناب! کیڑے مکوڑوں کے بھی نام ، جڑی بوٹیوں کے بھی نام، ہر خاروگل کے نام، ہر کس وناکس کے نام۔ غرض ایک ذرہ سے لے کر ستارہ ہائے فلک تک جو کچھ کائنات میں ہے، سب کے نام سکھادئیے۔یعنی ایک فرہنگ اور لغت آدم کو بتادی۔کیونکہ سب نام، اسماء بھی او رپھر”کلھا“ بھی۔ سب اور سب ہیں تو پھر سب۔جو جو ذہن میں آئے، وہ سب اور جو ذہن میں نہ بھی آئے، وہ بھی سب۔ چونکہ بتانے والا خدا ہے، وہ ہمارے ذہن کا پابند نہیں ہے۔ لہٰذا جتنے نام ہم نہیں بھی جانتے، وہ بھی۔ پھر ازل سے لے کر ابد تک سب نام آدم کوسکھا دئیے۔مگر اب بعد میں جو آئے گا، اس کے ساتھ یہ بات بالکل نہیں نبھتی۔

اب یہیں سے بتادوں کہ غلطی کہاں ہوئی؟ وہ میں نے ابھی اشارہ کیا تھا کہ انہوں نے الف لام کو نہیں دیکھا۔ اب دیکھئے، میں ترجمہ کرتا ہوں۔سب کے لفظ کو میں چھوڑوں گا نہیں۔ اس سے ٹکراؤں گا بھی نہیں۔پھر بھی دیکھئے کہ وہ سب محدود ہوجاتے ہیں یا نہیں!

الف لام کی اقسام عربی میں بہت سی ہیں۔ ایک ہوتا ہے استغراق کا خود، اس کے معنی سب کے ہوتے ہیں۔ اگر یہ استغراق کا ہوتا تو ”کلھا“کہا ہی نہ جاتا کیونکہ استغراق تو خود الف لام میں ہے۔ خصوصاً جب جمع پر داخل ہو۔عربی دان حضرات جانتے ہیں۔ تو وہ استغراق تو پھر اڑ جاتا ہے۔پھر ”کلھا“کہنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اب او ر جو قسمیں ہیں، اس سے بحث اس وقت نہیں۔ ایک الف لام کی قسم ہے عہد۔ عہد کے معنی ہوتے ہیں کچھ خاص اشیاء یا افراد کی طرف اشارہ۔ اس کی ایک روزمرہ کی مثال آپ کو دے دوں۔ یوم کے معنی کوئی سا دن اور الیوم کے معنی آج۔ یہ الیوم تو آپ بہت سنتے رہتے ہیں۔ایک جانی پہچانی آیت میں، الیوم ہی سے شروع ہوتی ہے۔ تو اس کا ترجمہ کیا ”آج“۔ یہ یوم کے معنی آج کہاں سے ہوگئے؟ یوم کے معنی آج کہیں نہیں ہیں۔کسی لغت میں یوم کے معنی آج کے آپ کو نہیں ملیں گے۔

تو یہ آج کے معنی پیدا ہوئے الف لام سے۔ بالکل لفظی معنی ہیں الیوم یعنی یہ سادن۔ اب یہ سادن فارسی میں ہو تو بالکل یہی ترجمہ ہے امروز۔ ہمارے ہاں اس کیلئے مفرد لفظ موجود ہے۔ یہ دن یعنی آج۔ تو اسی طرح الیوم کے معنی ہوئے آج۔تو جب الف لام کے یہ بھی معنی ہیں، اشارے کے، تو اب جو ترجمہ میں کروں، اُسے دیکھئے۔ آدم کو وہ سب نام سکھا دئیے۔ دیکھئے! سب گیا تو نہیں۔آدم کو وہ سب نام سکھا دئیے۔ وہ سب نام کیا؟ وہ نام جنہیں فرشتے لاکھوں مرتبہ دیکھ چکے تھے۔ کیونکہ ابوابِ جنت پر لکھے ہوئے تھے۔ عرش پر لکھے ہوئے تھے۔ حورعین کی پیشانیوں پر اکثر لکھے ہوئے تھے۔ تو ان ناموں کو تو فرشتے نہ جانے کتنی مرتبہ دیکھے ہوئے تھے۔ تو انہیں تو ملائکہ جانتے تھے۔ ناموں سے خوب واقف تھے۔ تو وہ نام تھے جو فرشتوں کو پہلے ہی سے معلوم تھے کیونکہ آدم مدرسہ قدرت میں آج طالب علم آیا ہے۔وہ پرانے طالب علم جو نام ان کے جانے پہچانے ہوئے تھے، وہ سب نام آدم کو بتائے۔وہ سب یعنی ان ناموں میں سے کسی کو نہیں چھوڑا۔

اور اسی سے اب بعد میں جنہوں نے شروع میں ٹھوکر کھائی اور بعد میں بھی ٹھوکر کھاتے چلے جائیں گے، تو اب جناب! انہوں نے کہا کہ سب نام۔اب اس کے بعد، بعد میں سمجھ ہی میں نہیں آئے گا۔

ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَی الْمَلٰئِکَة “۔

”پھر ان لوگوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا“۔

اب یہاں”هُمْ “انہ یں نظر ہی نہیں آیا۔ ”هُمْ “ذو ی العقول کی ضمیر ہے۔ چیزوں کو ”هُمْ “نہ یں کہتے، انسانوں کو ”هُمْ “کہتے ہ یں۔جو صاحبانِ عقل ہوں، جانوروں کو بھی ”هُمْ “ نہ یں کہتے۔صاحبانِ عقل کیلئے ضمیر ہے جس کا ترجمہ ہمارے ہاں لوگ ہی ہوئے۔ ان لوگوں کو پیش کیا۔ اب یہ لوگ کہتے تو پھنستے کہ آخر وہ کون لوگ ہیں۔ لہٰذا مصلحت یہی دیکھی کہ اس مقام پر سب عالم جاہل بن جائیں۔ جیسے ”هُمْ “ کے معن ی ہی نہیں جانتے۔ لہٰذا کہہ دیا کہ وہ سب نام ان کے سامنے پیش کرکے پوچھے کہ یہ نام بتاؤ۔اب یہاں جو میں نے عرض کیا، اُس سے قطع نظر کیجئے تو بڑا سوال ہے۔طالب علم کے ذہن میں ، ہر صاحب عقل کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر امتحان ایسا ہو کہ ایک طالب علم کو تو چپکے سے سب بتادیا اور اس کے بعد سب طالب علموں کو بلا کر پوچھا کہ بتاؤ یہ سب۔ تو یہ امتحان سازشی ہوگا یا نہیں؟ میری تو زندگی یونیورسٹیوں میں گزری ہے۔ تو ایک لفظ کہوں کہ ایک طالب علم کو پرچہ آؤٹ کردیا۔ مگر بس ایک کیلئے اور اسی کو بلا کر امتحان سب کا لے لیا کہ بتاؤ ۔ تو اس طرح کا امتحان جائز ہوگا؟ تو جو ہم ایسے ناقص معلّموں کیلئے جائز نہیں، وہ اس کامل معلم کیلئے جائز کیسے ہوسکتا ہے؟

پھر آدم کی بلندی کیسے ثابت ہوگی؟ تو یہ سب غلطی ہوئی یہ جو الف لام کو نہ سمجھا۔ سب نام سکھائے۔ تو سب نہیں، بلکہ وہ نام جو ان کے دیکھے ہوئے تھے۔ کوئی ثبوت بھی نہیں ہے از روئے قرآن۔اس کی ضرورت بھی نہیں کہ الگ ہٹا کر فرشتوں سے صیغہ راز میں وہ نام بتائے ہوں۔اس لئے فرشتوں کے سامنے ان کو وہ نام جو نام ان کومعلوم تھے، وہ بتا دئیے آدم کو۔

اور میں کہتا ہوں کہ اسی طرح بتاکر معیارِ تعلیم برابر کیا تاکہ جو انہیں معلوم ہے، وہ ان کو بھی تو معلوم ہوجائے۔اب اس کے بعد وہی نام نہیں پوچھے جارہے ہیں جو نام ابھی بتائے تھے۔وہ بتاؤتو!ماشاء اللہ یہ کیا محل ہے؟ یہ تو حافظہ کا امتحان ہوا یعنی ابھی ابھی تو بتائے ہیں نام اور ابھی پوچھ رہا ہے کہ نام بتاؤ کہ بھولے تو نہیں۔تویہ تو حافظے کا امتحان ہوتا ہے۔ مگر حافظے کے امتحان کا یہ محل ہی نہیں ہے کیونکہ امتحان کا ایک فرقی فرشتہ ہے۔ یعنی فرشتوں کی قوم ہے جن کے ہاں سہوونسیان کو کوئی صحیح نہیں سمجھتا۔ارے انبیاء میں سہوونسیان کو کوئی تصور کرتا ہو، ہم تو وہاں بھی تصور نہیں کرتے۔لیکن ملائکہ میں تو کوئی سہوونسیان کو داخل نہیں سمجھتا۔اب جب ایک فریق ایسا ہے جہاں بھولنے کا سوال ہی نہیں ہے تو اب حافظے کے امتحان کے کیا معنی؟ تو اب صورتِ واقعہ کیا ہے؟ اگر یہ صاحبانِ علم الفاظِ قرآن پر غور کرتے تو مسئلہ حل ہوجاتا۔الگ سے کسی تفسیر کی ضرورت بھی نہ تھی۔ چاہے پھر پورے طور پر معمہ حل نہ ہوتا۔ مگر اصل مفہوم تو سمجھ میں آہی جاتا۔آدم کو وہ سب نام سکھائے۔ اب وہ نام نہیں پوچھے جاتے”( ثُمَّ عَرَضَهمْ ) “۔ پھر ان اشخاص کو سامنے پ یش کیا گیا”فَقَالَ اَنْبِئُوْنِیْ “،اگر فقط نام پوچھے جاتے تو”هَذَالْاَ سْمَاءَ

کہا جاتا۔ پھر یہ نام بتاؤ جو میں نے سکھائے ہیں۔ دیکھو! ان لوگوں کے نام مجھے بتاؤ۔”اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ “، یہ قول والا صادق نہیں ۔یعنی اگر تمہارا خیال یہ ہے کہ تم زیادہ مستحق ہو۔ انہوں نے کب کہا تھا کہ ہم زیادہ مستحق ہیں؟مگر تمہارا تصور اگر یہ ہو ، اپنی کم علمی سے، ان کی عصمت عمل غلط کو مانع ہے۔ مگر احاطہ علمی ان کیلئے نہیں ہے۔

لہٰذا علم کی کمی کی بناء پر اگر تمہارا خیال یہ ہو کہ تمہیں حق ہے اس منصب کا تو ان لوگوں کے نام بتاؤ۔ میں نے کہا کہ چاہے بعد میں مفسرین کی سمجھ میں نہ آئے کہ وہ لوگ کون تھے؟ مگر لفظی معنی تو ہر صاحب علم کو سمجھنے چاہئیں۔میں کہتا ہوں کہ سمجھ میں نہ آئے کہ کون؟ کوئی تو تھے جن کو پیش کیا اور وہ جنہیں پیش کیا، آدم تو تھے نہیں۔ فرشتے بھی نہیں کیونکہ وہ معرضِ امتحان میں ہیں۔ تو ماننا پڑے گا کہ کسی نوعِ خلقت کے اعتبار سے آدم سے پہلے ملائکہ کے علاوہ کوئی صاحب عقل مخلوق موجود تھی۔تو اب کوئی نہ کوئی تو ہوگا۔ میں کہتا ہوں کہ اتنا تو سمجھ لو کہ وہ جو بھی ہیں، وہ ایسے ہیں کہ ان کی معرفت معیارِ فضیلت انسان ہوئی۔

اب امتحان بالکل با اُصول ہے۔ حافظہ کا امتحان نہیں ہے، ذہانت کا امتحان ہے۔ فرشتوں کو وہ نام پہلے سے معلوم ہیں۔ میں نے کہا کہ ابوابِ جنت پر دیکھ چکے، عرش پر دیکھ چکے۔ آدم کو ابھی بتائے ہیں۔ اس طرح نام تو سب سنائیے مگر صورتیں آدم کو نہیں دکھائی گئی ہیں۔ ارے کسی قدرتی انداز میں، کسی قدرتی انداز میں، وہ صلب ا دم میں آئیں گے۔ مگر یہ کہ ان کی صورتیں دیکھی نہیں ہیں۔ کسی عالم میں کچھ نور دیکھتے ہیں۔ مگر نام دیکھے تو الگ، صورتیں دیکھیں تو الگ دیکھیں۔ یہ کبھی نہ انہوں نے پوچھا، نہ بتایا گیا کہ کون کس کا نام ہے۔

اور جناب! ہمارے لئے یوں بھی مشکل ہے کہ ہم جو نام رکھتے ہیں، اس میں تناسب کا کوئی لحاظ نہیں ہوتا۔ مثل مشہو رہے”برعکس نہند نام زنگی کافور“۔ زنگی ہے ، کالا کافور ہے، سفید مگر زنگی کا نام کافور رکھ دیا۔ دیوان متنبی جنہوں نے پڑھا ہے، غالباً وہیں سے لوگوں نے ، کوئی متنبی کے دیوان کا حافظ تھا۔ وہیں سے لوگوں نے یہ مثل بنائی ہے نام زنگی کافور۔ اب میں یہاں جانے پہچانے دو نام بتاؤں۔ ہوسکتا ہے کہ مجمع میں کوئی اس نام کے ہوں مگر واقف نہیں ہوں۔ بطورِ مثال کہہ رہا ہوں، خدانخواستہ کسی پر چوٹ کرنا مقصود نہیں کہ پیدا ہوئے۔ماں باپ نے نام فدا الدین رکھ دیا۔ اب کیا ضروری ہے کہ بہادر بھی ہوں۔ یہ بعد میں ثابت ہوگا کہ بہادر ہیں یا نہیں ہیں۔ ماں باپ نے بس نام رکھ دیا اور وہ عمر بھر فداالدین کہلائیں گے۔ چاہے کارنامے بھی سامنے آجائیں۔ یا مثلاً بد صورت بچے کا نام شمس الدین رکھ دیا۔ آفتاب رکھ دیا۔ ماہتاب رکھ دیا۔ یا کچھ رکھ دیا۔ نام میں تناسب سے کوئی بحث نہیں لیکن یہ جب ہے ، جب ہم نام رکھیں۔او رجن کے نام بھی خدا رکھتا ہو؟

تو اس کیلئے واقعات بھی ہمارے سامنے ہوں کہ بچہ پیدا ہوا ہے اور بزرگِ خاندان نام نہیں رکھ رہے ہیں۔ وحی کا انتظار ہے۔ جو واقعی اس خاندان کا بزرگ ہے، وہ نام رکھے ۔ تو جناب! نام اسی کے رکھے ہوئے اور یہ وہ نام ہیں جو عرب میں نہیں ہوتے تھے۔ان میں سے کوئی نام کسی کا بعد میں صدیوں چلتا رہے تو کسی کو کہنے کا حق نہیں ہے کہ فلاں کے نام پر نام رکھا۔جو نام عمومی عرب میں ہوا کرتے تھے، ان میں سوال کیا کہ کس کے نام پر رکھا؟جو نام قدرت کی طرف سے کسی کو پہلے پہل دئیے گئے ہوں، وہ نام جب رکھے جائیں گے تو کہا جائے گا کہ فلاں کے نام پر نام رکھا۔لیکن جب خالق نام رکھے گا ، وہ بے جوڑ نہیں ہوسکتے۔ بس قوتِ نظر کی ضرورت ہے۔ دیکھنے والی نگاہ ہونی چاہئے۔ امتحان یہی ہے کہ ایک طرف تو نام بتادئیے اور اب یہ صورتیں تمہارے سامنے پیش کررہا ہوں۔ تمہارا امتحان یہ ہے کہ تم بتاؤ کہ کونسا کس کا نام ہے؟ یعنی اپنے ذہن سے اسم اور مسمیٰ میں مطابقت کرو۔ یہ بات بتائے ہوئے سبق سے باہر تھی ۔ جو بتایا تھا، اس سے باہر تھی۔

ہمارے ہاں کوئی سوال کورس سے باہر سے آجائے تو جاکر فریاد کرتے ہیں کہ جناب! یہ کورس کے اندر نہیں ہے۔ اب وہاں فرشتہ، ذہانت کا سوال! تو جناب! یہ سوال کیا گیا کہ ان کے نام بتاؤ۔ کونسانام کس کا ہے؟ بتاؤ۔بیچارے فرشتے نے کہا:

( لَاعِلْمَ لَنَااِلَّامَاعَلَّمْتَنَا ) ۔

ہمیں کچھ نہیں معلوم سوائے اس کے جتنا تو نے ہمیں بتایا ہے۔

اُسے بھولے ہوں تو مجرم! معلوم ہوا کہ سوال بتائے ہوئے سے باہر ہے۔ ”لَاعِلْمَ لَنَااِلَّامَاعَلَّمْتَنَا “۔سوائے اس کے جو تو نے ہم یں بتایا۔ تو بیچارہ فرشتہ ہماری عربی کی گرائمرجو مدرسوں میں پڑھائی جاتی ہے،وہ پڑھا ہوا نہیں ہے۔اسے بس ایک ہی ترکیب معلوم ہے۔ ایک ”لا“ اور ایک ”اِلَّا “۔ وہ ”لا“ اور”اِلَّا “کی ترکیب۔ بس ایک عدد”لَا“آیا، ایک عدد”اِلَّا “آیا،جملہ بن گیا۔”لَاعِلْمَ لَنَااِلَّامَا عَلَّمْتَنَا “، ہم کو کوئ ی علم نہیں، ہم کو سوا اس کے جو تو نے ہمیں بتایا۔ وہی جملہ اس نے اُحد میں کہہ دیا:

لَافَتٰی اِلَّا عَلِیْ لَا سَیْفَ اِلَّا ذُوالْفِقَار “۔

لَاعِلْمَ لَنَااِلَّامَاعَلَّمْتَنَا “۔

وہی معلوم ہے جو تو نے ہمیں بتایا۔

یہ ہمارے بس کی بات نہیں کہ ہم بتائے ہوئے سے زیادہ بتا سکیں۔ اب ارشادِ قدرت ہوا، للکارا فطرتِ انسانی کے نمائندہ کو۔ اے آدم! تو تو انسان ہے۔ تیری صفت خاص ہے ، معلومات سے مجہولات کا پتہ چلانا، فکرونظر کے معنی یہی ہیں کہ جو معلوم ہے، اس سے نامعلوم کا نتیجہ نکالنا۔فرشتوں کو بتا دے کہ کون کس کا نام ہے؟ بس آدم بڑھے اور انسانی ذہن سے فطرتِ انسانی سے انہوں نے اسماء اور مسمیات میں نسبت دیکھی، مناسبت دیکھی نام میں اور شخصیت میں اور فر فر بتادیا کہ یہ اس کا نام، یہ اس کا نام۔ کہیں پر کوئی غلطی نہیں کی کہ نمبر کٹ جائیں۔ بالکل کوئی نمبر نہیں کٹا۔ سو میں سے سو کامیابی۔سب ناموں کو مطابق کرکے بتادیا۔

اب وہ جو میں کہہ رہا تھا ، اس دن کے سوال کا جواب۔ خالق نے اب اس دن کے سوال کا جواب دیا۔ دیکھا تم نے”اَلَمْ اَقُلْ لَکُمْ “، ک یا میں نے تم سے نہیں کہا تھا؟ ماشاء اللہ! مجمع میں دو ایک کو تو پہنچانتا ہوں۔ ماشاء اللہ اہل منبر ہوں گے، مقررین ہوں گے، تو ان سب کو میں ایک حجت دے رہا ہوں۔ ہم اکثر حدیثیں بیان کرتے ہیں۔ مثلاً ایک جملے کی حدیث ہے اور اگر حضورنے مثلاً بیان کی، ترجمہ کیا،تو بہت سے جملے اس کے ساتھ استعمال کئے جو اس حدیث سے سمجھ میں آتے ہیں۔ مگر الفاظِ حدیث میں نہیں ہیں۔ کوئی بحث کرنے والا کہہ سکتا ہے کہ یہ جزو کس چیز کا ترجمہ ہے؟ وہ ایک جملہ ہے۔ آپ نے دس جملوں میں اس کا ترجمہ بیان کیا۔ تو تحت الفظی اعتبار سے کوئی ہم سے بحث کرے تو وہ ہماری زبان کیونکر پکڑ سکتا ہے کہ آپ نے کہا کہ ارشادِ رسول ہے۔ تو ارشادِ رسول تو بس اتنا ہے۔ تو آپ نے یہ سب کچھ جو کہہ دیا، یہ کہاں ارشادِرسول ہے؟

میں کہتا ہوں کہ یہاں روایت نہیں، آیاتِ قرآن میں، جو اس دن کہا تھا، وہ بھی ہمیں معلوم ہے اور اس دن جو یہ مختصر جملہ کہا تھا کہ:

( اِنِّیْ اَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَ ) ۔

”میں وہ جانتا ہوں، جو تم نہیں جانتے“۔

بس اتنا کہنا تھا ، خود اس نے بتایا ہے۔ یہ کلام بھی اس نے نقل کیا اور آج فرشتوں سے کہہ رہا ہے کہ کیا میں نہیں کہا تھا:

( اِنِّیْ اَعْلَمُ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَاکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ) ۔

یعنی اب یہاں جو اب میں زور جو لپٹا ہوا تھا، اُسے یہاں اجمال کو تفصیل سے بدل دیا۔وہاں”وہ“ کے لفظ میں جو لپٹا ہوا تھا، اُسے یہاں صاف کرکے کھول کر کہہ دیا۔ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اس دن اتنا کہا تھا اور آج کہہ رہا ہے کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ میں آسمان و زمین کے غیب بھی جانتا ہوں اور اسے بھی جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور اُسے بھی جانتا ہوں جو تم چھپاتے ہو۔

حضورِ والا! تمام اہل منبر یہ یاد رکھیں کہ ہمیں اور آپ کو نقل بالمعنی کا حق دے دیا گیا۔

مثال کے طور پر عرض کروں ایک جانی پہچانی حدیث قدسی، وہ یہ ہے کہ :

لَوْلَاکَ لِمَا خَلَقْتُ الْاَ فْلاکَ “۔

خالق کا خطاب ہے کہ اگر آپ نہ ہوتے ہمارے رسول، تو ہم آسمانوں کو پیدا نہ کرے۔

اب ہر صاحب فہم غورکرے کہ یہاں خاص آسمانوں کی کوئی خصوصیت بیان کرنا ہے کہ آسمان ایک ایسی چیز ہے کہ اگر آپ نہ ہوتے تو ہم آسمانوں کو پیدا نہ کرتے۔ تو اب جدید فلسفہ سائنس میں اگر آسمان کچھ ہے نہیں ،صرف حد نظر ہے تو پھر یہ افلاک ہی قابل بحث ہوگئے کہ ”لَوْلَاکَ لِمَا خَلَقْتُ الْاَ فْلاکَ “، کیا معنی؟ مگر یاد رکھئے کہ تصورِ انسانی میں افلاک محیط کل ہیں۔یعنی افلاک سب کو گھیرے ہوئے ہیں۔ تو یہ کہنا کہ اگر آپ نہ ہوتے تو افلاک کو پید انہ کرتا ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ نہ ہوتے تو کچھ بھی پیدا نہ ہوتا۔ جو شے سب پر حاوی ہے، اس کا نام لے کر سب کا مطلب ادا کیا۔ اب اصل حدیث اتنی ہے اور میں کسی دن اپنے زورِ بیان میں یہ کہہ دوں کہ خالق نے خطاب کیا کہ آپ نہ ہوتے تو زمین بھی نہ ہتی، کوہ نہ ہوتے، آفتاب نہ ہوتا۔ آپ نہ ہوتے توماہتاب بھی نہ ہوتا، ستارے بھی نہ ہوتے۔ اب کوئی میری زبان پکڑے، مجھ سے مطالبہ کرے کہ یہ کہاں ہے تو میں یہ کہوں گا کہ وہی ہیں جہاں”لَوْلَاکَ لِمَا خَلَقْتُ الْاَ فْلاکَ “ہے۔ وہ اجمال ہے ، م یں نے اُسے تفصیل سے بدل دیا۔

اب آجائیے اس پر کہ”اِنِّیْ اَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَ “ کہ جو م یں جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔ یعنی میں آسمان و زمین کے غیب کو جانتا ہوں ۔ جو تم چھپاتے ہو، وہ بھی جانتا ہوں اور جو تم ظاہر کرتے ہو، وہ بھی جانتا ہوں۔ فرشتہ بیچارہ ، وہ معصوم تو خاموشہے ہی،ارے اس دن بھی خاموش رہا تھا۔مگر اس دن خاموش رہا تھا ادب سے۔ آج خاموش ہوا ہے سمجھ کے۔ دل کی خلش دور ہوگئی۔ اس طرح سوال کا جواب آج دیا گیا۔ مگر فرشتے خاموش ہوگئے۔ میں ناقص انسان ہوں ، میں نہیں خاموش ہوتا۔ میں اب فرشتوں کا وکیل ہوجاتا ہوں۔فرشتوں کی طرف سے وکالت کرنے لگتا ہوں۔ وہ کیا؟ میرے ذہن میں ابھی خلش ہے۔ میں کہتا ہوں کہ سوالِ ملک میں دونوں پہلو عمل سے متعلق تھے۔ خونریزی اور فساد بھی کردار سے متعلق چیز اور تسبیح و تقدیس بھی کردار سے متعلق چیز۔ یہ امتحانِ آدم میں علمی بلندی ثابت ہوئی تو پھر بالواسطہ نتیجہ نکالیں کہ جس کا علم بلند ہوگا، اس کا عمل بھی بلند ہوگا۔ یہ بہت منطقی ہیرپھیر کا راستہ ہے کہ یہ نتیجہ نکالیں۔ حالانکہ چاہے کتنے مشاہدے ہوں، علمائے بے عمل بھی پھر نظر آتے ہیں ورنہ مذمت کیوں ہوتی حدیثوں میں علمائے بے عمل کی؟

بہرحال میں کہتا ہوں کہ علمی بلندی ثابت ہوئی۔ عمل میں بلندی اب ثابت نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ اتنا جواب تھا، فوراً دے دیا گیا۔ جلدی اُسے ہوتی ہے جسے وقت کے نکلنے کا ڈر ہواور وہ عالم الغیب ، وہ قادرِ مطلق،جو امکانات کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہے۔جسے وقت کے نکلنے کا اندیشہ نہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ وہ بھی جانتا ہے کہ پورا جواب نہیں ہوا۔ مگر اس میں بھی ہزاروں برس کا انتظار ہوا ہے۔ گویا کہہ رہا ہے کہ ہم سے بھی اگر، ہم میں سمجھ ہو تو آج آدم کے ذریعہ سے ہم نے علم میں بلندی ثابت کردی۔ اب آنے دو ایک فخر آدم کو۔تو اس وقت ، تو سہی جو ملک سے بھی عمل کی منزل میں اقرار لے لیا جائے کہ جو انسان کرسکتا ہے، وہ میں نہیں کرسکتا۔ وہاں تو ہزاروں برس، یہاں بھی ہزاروں برس سہی۔ آنے دو ایک ایسے کو۔ وقت آگیا جب شب ہجرت۔ اب یہاں میں نام نہیں لوں گا۔جو بحث ہے ملک اور انسان کی، وہی کہوں گا۔

وہ وقت آگیا جب شب ہجرت ایک انسان، علی کہنے میں وہ لطافت نہیں ہے جو انسان کہنے میں ہے۔ جب شب ہجرت ایک انسان جس کا نام علی ہے، ایک انسان رسول بنا ہوا حکمِ خدا سے پیغمبر کے بستر پر لیٹا ہے اور حکم تو تھا لیٹنے کا مگر یہ سو بھی گیا ہے۔حکم ادھر سے لیٹنے کا ہی ہوسکتا تھا۔ سونے کا حکم ہو ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ شریعت افعالِ اختیار یہ سے ہی متعلق ہوسکتی ہے۔ لیٹنا اپنے بس کی بات ہے، سونا اپنے بس کی بات نہیں ہے۔ لیٹناارادی فعل ہے، سونا ارادی فعل نہیں ہے۔لیٹ جانے کا حکم ہے مگر سو بھی جائے حکم سے ،یہ ناممکن ہے۔یہ سونا تو کیفیت نفس سے متعلق ہے۔اگر نفس مضطرب ہوگا تو نہیں سوئے گا اور نفس اگر مطمئن ہوگا تو سوجائے گا۔

اب مجھ سے کوئی گواہ مانگے ، تو میں کہتا ہوں کہ ایسی بات جو بس آدمی خود ہی جانتا ہو، دوسرے کو علم ہی نہ ہوسکے تو اس میں شرعاً بھی خود اس کا قول ہی معتبر ہوتا ہے۔گواہوں کا مطالبہ اس میں غلط ہے۔ راوی لیٹنا دیکھ سکتا ہے، راوی سونا نہیں دیکھ سکتا۔لیکن جو لیٹتا ہے، وہ خود بتائے گا کہ جاگ رہا تھا یا سو رہا تھا۔ تو خود اس نے بعد میں بتایا کہ جیسی نیند شب ہجرت آئی، ایسی کبھی نہیں آئی۔

ہمیں حیرت ہے کہ کیونکر سورہے ہیں؟ ہمارے ہاں تو محلے میں کوئی کھٹکا ہوجائے تو نیند اُڑ جائے، چہ جائیکہ اپنے گھر کے اندر کھنچی ہوئی تلواریں اور لٹکتے ہوئے نیزے اور اس میں ایسی گہری نیند کہ کبھی نہیں سوئے تھے ۔اور وہ جو رات کو کبھی سونے کا عادی نہ ہو، وہ کیونکر سویا؟ جس کی رات محرابِ عبادت میں گزرتی تھی، یہ آج لٹادئیے گئے۔ میں کہتا ہوں کہ یہی تو راز ہے سونے کا کہ جس کیلئے روز جاگتا تھا، آج اُسی کیلئے سورہا ہے۔ بس یہ سو رہے تھے اور جاگنے والا دیکھ رہا تھا۔ اُسے تو کبھی نیند آتی ہی نہیں:

( لَا تَاخُذُه سِنَةٌ وَّلَانَوْمٌ ) ۔

وہ دیکھ رہا ہے اور اب دیکھا کہ رئیس الملائکہ ، ان میں نسلیں بدلتی نہیں ہیں۔جو اس وقت تھے ، وہی اس وقت ہیں۔تو ان میں منتخب کیا جو ممتا زہیں،سید الملائکہ، جبرئیل اور ویسے ہی ممتاز جنابِ میکائیل۔ اب یہ جو عرض کررہا ہوں، یہ اِدھر اُدھر کی کتابوں کی بات نہیں، حافظ ابو نعیم اصفہانی حلیة الاولیاء میں ،یہ حافظ وہ حافظ قرآن نہیں،یہ حافظ علم حدیث کی اصطلاح ہے ، جو تیس ہزار، چالیس ہزار ، ستر ہزار حدیثیں متن و سند کے ساتھ حفظ رکھتا ہو، اُسے حافظ کہتے ہیں۔

چنانچہ چودہ سو برس کے علماء میں بڑے بڑے علماء ہیں، مگر حفاظ چند ہیں۔ صحاحِ ستہ کے مصنفین حافظ نہیں کہلاتے، جو فقہ میں امام کہلاتے ہیں، وہ حافظ نہیں کہلاتے۔حافظ صرف چند ہی ہیں۔ ابن حجر دو ہیں، ایک نویں صدی میں ہیں ، دسویں صدی تک۔ وہ علامہ ابن حجر مکی ،صواعق محرقہ کے مصنف اور ایک ان سے بھی پہلے ابن حجر عسقلانی۔ وہ ساتویں صدی کے آدمی ہیں، حافظ ابن حجر کہلاتے ہیں۔لوگ دھوکہ کھاتے ہیں، ان کوحافظ ابن حجر کہہ دیتے ہیں۔تو وہ ناواقف ہیں تو حافظ ابن حجر عسقلانی ہیں جواصابہ فی معرفة الصحابہ کے مصنف ہیں اور شرح صحیح بخاری کے مصنف ہیں اور بہت کچھ ہیں۔

سب سے آخر میں سیوطی، حافظ جلال الدین سیوطی۔ یہ دسویں صدی کے آخر کے ہیں۔ ان کے بعد سے کوئی حافظ نہیں ہے۔ حافظ سیوطی کو اپنے مطلب کی وجہ سے لوگ گھٹانے لگے ہیں کہ وہ رطب و یابس لکھ دیتے ہیں کیونکہ انہوں نے ہمارے مطلب کی باتیں زیادہ لکھی ہیں۔ لہٰذا دنیا والے کہتے ہیں کہ سیوطی ا کوئی اعتبار نہیں ، وہ تو سب کچھ لکھ دیتے ہیں۔ تو جو اپنے مطلب کی باتیں کم لکھے، کسی کے مطلب کی باتیں زیادہ لکھے، وہ گویا بس سب کچھ لکھنے لگا۔تو حافظ ان کا امتیازِ خاص ہے۔

تو اب یہ حافظ نعیم اصفہانی اور دوسرے شیخ مشائخ صوفیاء بھی ہیں اور علماء میں بھی بڑا درجہ رکھتے ہیں۔ امام غزالی، ان کے نام کے ساتھ امام ہے، حافظ بھی ہیں۔ ہمارے ہاں تو یہ لفظ وسیع ہوگیا ہے۔ مگر علمائے اسلام کی اصطلاح کے مطابق یہ ایک ہیں غزالی جن کا لقب حجة الاسلام ہے۔ ابوحامد غزالی اور حافظ ابو نعیم کی لکھی ہوئی بات ہے جو عرض کررہا ہوں۔ ظاہر ہے کہ ان کی بات بغیر پیغمبر کے بتائے ہوئے کسی تک نہیں پہنچ سکتی۔ چاہے بطورِ سند در ج نہ کیا ہو مگر یقینا وہیں سے چلی ہوئی بات ہے جو ان تک پہنچی ۔

تو وہ لکھتے ہیں کہ اس موقع پر جب علی رسول کے بستر پر آرام کررہے تھے تو خالق مخاطب ہوا ، جبرئیل و میکائیل کی طرف کہ جبرئیل و میکائیل! میں نے تم دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا اور تم میں سے ایک کی عمر دوسرے سے زیادہ قرار دی۔ ماشاء اللہ اہل فہم ہیں، میں کہتا ہوں ،یہ بتا دیا بس کہ ایک کی عمر زیادہ۔ یہ نہیں بتایا کہ کس کی عمر زیادہ؟ کیونکہ پھر پوچھ رہا ہے کہ تم میں سے کون ہے جو اپنی فاضل عمر کا حصہ دوسرے بھائی کو دے دے؟

اُس دن ملک نے سوال کیا تھا، خبر نہیں دی تھی۔ میں نے کہا تھا کہ خبر دیتا تو صحیح ہی بات ہوتی۔ جھوٹی خبر ملک نہیں دے سکتا۔ سوال کیا تھا جس میں سچ اورجھوٹ کا سوال نہیں۔آج خالق حکم دے رہا ہے کہ دے دو۔ ورنہ پھر عصمت ملک طاعت کروائے گی ، حکم نہیں دیتا، سوال کرتا ہے کہ تم میں سے کی عمر زیادہ ہے، ایک کی کم ہے۔ تم میں سے کون ہے جو اپنی فاضل عمر کا حصہ اپنے دوسرے بھائی کو دے دے؟ اگر بتادے کہ کس کی عمر زیادہ ہے تو امتحان ایک ہی کا ہوگا لیکن جب پردے میں رکھا تو اب جواب ہر ایک کو دینا چاہئے جس کی عمر زیادہ ہو، وہ کہے کہ ہاں۔تو ہر ایک کو بولنا چاہئے ۔ یہ بھی کہے کہ ہاں، وہ بھی کہے کہ ہاں۔ ہر ایک کہے کہ جس کی عمر زیادہ ہے، وہ دینے کیلئے تیار ہے۔ حکم نہیں دیا جارہا۔ فقط پوچھا جارہا ہے۔ تو ملک معصومانہ جواب دیتا ہے کہ بارِالٰہا!ہماری تو اصل تمنا یہ ہے کہ پوری عمر تیری عبادت میں صرف ہو۔

اس میں ایک بڑی حقیقت مضمر ہے کہ ملک کا تصور عبادتِ انفرادی و شخصی ہے۔ وہ بس نماز پڑھنے کو عبادت سمجھتا ہے۔ اسی کو فخر میں بھی پیش کیا تھا کہ ہم تیری تسبیح و تقدیس کرتے ہیں۔ بس یادِ الٰہی میں مصروف۔

امیرالمومنین علیہ السلام نے بھی تعریف کی ہے۔ کچھ رکوع میں ہیں جو سیدھے نہیں ہوتے، کچھ سجدے میں ہیں ۔ تو بس ان کی عبادت شخصی ہے، انفرادی ہے، اکیلی اکیلی عبادت ہے۔ اجتماعی عبادت کہ دوسرے کے کام آنا بھی عبادت ہے، یہ حدودِ تصورِ ملک سے بھی خارج ہے ورنہ اس سوال کا جواب سے جوڑ نہیں۔ وہ کہتا ہے کہ تم میں سے کون ہے جو اپنی عمر کا فاضل حصہ دے دے؟ یہ کہتے ہیں کہ ہماری تمنا تو یہ ہے کہ ساری عمر تیری عبادت میں صرف کریں۔یہ جواب سوال سے مرتبط اسی بناء پر ہے ۔ اس میں یہ مضمر ہے کہ ہم تو پوری زندگی تیری عبادت میں صرف کرتے ہیں، اگر فاضل عمر کا حصہ دوسرے کو دے دیں تو اتنی سے محروم ہوجائیں۔ اب جس کی جتنی عمر ہے، وہ تیری عبادت میں صرف کرے اور اگر اپنی فاضل عمر کا حصہ دوسرے کو دے دیں تو اپنے حصہ کی عبادت اپنے ہاتھ سے کھوئیں۔یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ جواب ہوگیا کہ ہم یہ نہیں کرسکتے۔

اب ارشاد ہوتا ہے کہ زمین کی طرف دیکھو۔ تبصرے میرے ہیں، اصل واقعہ پورا ان دونوں کتابوں میں ہے۔زمین کی طرف دیکھو۔ میں کہتا ہوں کہ زمین کی طرف دیکھو تو وہی بہت دفعہ دیکھا ہوا انسان نظر آیا۔مگر کبھی دیکھتے تھے ، اس وقت کھڑے ہوئے مگر اس وقت دیکھا تو لیٹے ہوئے۔ کبھی دیکھتے تھے جاگتے ہوئے، آج دیکھا تو سوتے ہوئے دیکھ لیا۔ارشادِ قدرت ہوا:

هَلْ لَاکُنْتُمْ مِثْلَ عَلِیِّ ابْنِ اَبِیْ طَالِبٍ فَقَدْفَدَااَخَاهُ بِنَفْسِه “۔

کیوں نہ ہوئے تم مثل علی کے جس نے اپنی جان اپنے بھائی پر فدا کردی ہے۔ ملک سمجھا کہ یہ عبادت ایسی ہے کہ میری عبادتوں کے معیار سے اونچی ہے۔ یہ نوعِ عبادت میری تمام عبادتوں سے بالاتر ہے۔ تو میں نے کہا کہ یہ کم عقلی کی تھی کہ تسبیح و تقدیس کو فخریہ پیش کیا تھا۔ دوسرا رُخ دیکھئے کہ اس نے پیش کیا تھا انسان کی زندگی کا تاریک رُخ کہ یہ انسان خونریزی کرتا ہے یعنی جانیں لیتا ہے۔ آج قدرت دکھا رہی ہے کہ تم نے جان کا لینا دیکھا، جان کا دینا نہیں دیکھا۔

معلوم ہوگیا اور واقعات آپ کے سامنے ہیں، صرف اشارہ کردینا کافی ہے کہ آج سے مستقل طور پر تصورِ ملک میں ترمیم ہوگئی۔ یعنی ملک سمجھ گیا کہ دوسروں کے کام آنا بھی، وہ اسی قابل ہوں کہ ان کے کام آیا جائے۔ملک نے سمجھ لیا کہ دوسروں کے کام آنا بھی عبادت ہے اور میری عبادتوں سے بالاتر ہے۔ لہٰذا اب جو کہاجائے گا کہ درزی بن کر جاؤ تو چلا جائے گا۔ اب کوئی ایک ہی واقعہ نہیں ہے۔ درزی بن کر کہا تو چلا جائے گا۔ وضو کیلئے پانی لے کر چلا جائے گااور لڑائی میں تلوار لے کر مدد کرنے چلا جائے گا۔اب کبھی نہیں کہے گا کہ یہ سب کروں اور عبادت نہ کروں؟

تو مستقل طور پر تصورِ ملک میں ترمیم ہوگئی۔ اب معلوم ہوگیا کہ عمل میں بھی انسان وہ کرسکتا ہے جو میں نہیں کرسکتا۔اب ارشادِ قدرت ہوا:

اچھا! تو اب جاؤ اور اس انسان کی حفاظت کرو۔ارے فقط ان کی حفاظت نہیں ہے۔ اس کی سنت یہ نہیں ہے کہ انبیاء و معصومین کوحربوں کی زد سے پرے ہٹایا جائے۔ نہیں، گویا وہ کہہ رہا ہے کہ ابھی میرے کچھ کام اس کی اس زندگی سے، میرے ابھی بہت کام ہیں جو ابھی مجھے اس سے لینے ہیں۔ لہٰذا جاؤ اور اس کی حفاظت کرو۔اب وہ دونوں فرشتے آئے اور اُترے۔ بس واقعہ بعد میں بیان کروں گا۔ بس ایک غلط فہمی کا دفعیہ۔ ان کو جو بھیجا جارہا ہے ، تو کیا(معاذاللہ) سزا کے طور پر بھیجا جارہا ہے؟ میں سزا کا محل اس لئے نہیں سمجھتا ہوں کہ اس وقت مقامِ معرفت میں ملک کچھ اور اونچا ہوچکا ہے۔ مقامِ علم میں اس کی بلندی ہوگئی تو سزا کس چیز کی دی جائے؟ یہ سزا نہیں ہے۔ ایک بڑی حقیقت ہے جسے دو جملوں میں مَیں کہوں گا اور آگے بڑھوں گا۔ میں کہوں گا کہ یہ نہ سمجھئے کہ جو شے اِدھر سے اُدھر جاتی ہے، اس کی معراج ہوتی ہے۔ جب وہاں والوں کومعراج ہوتی ہے تو یہاں بھیج دیا جاتا ہے۔

اب ایک فرشتہ سرہانے اور ایک پائین پا۔ آج یہ بھی ثابت ہوگیا کہ ان کا پیر بھی اتنا ہی اونچا ہے جتنا سر اونچا ہے۔ ایک ملک سرہانے اور ایک پائین پا۔ اب زبان پر کیاہے؟ کئی الفاظ مجھے معلوم ہیں۔”بَخٍ بَخٍ لَکَ “۔ یاد رکھئے لفظوں سے کچھ نہیں ہوتا۔کہنے والے کو دیکھنا ہے :

بَخٍ بَخٍ لَکَمَنْ مِثْلُکَ یَابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ فَقَدْ بَاهَ بِکَ اللّٰهُ مَلٰئِکَةَ السَّمَاء

مبارک ہو، مبارک ہو اے ابو طالب کے فرزند کہ آپ کے ذریعہ سے اللہ فرشتہ ہائے آسمان پر فخر کررہا ہے۔

بس روایت یہاں ختم ہوئی۔ میں کہتا ہوں”من مثلک“، دیکھئے کون ہے آپ کی مثل کلام کے حدود، حدود متکلم سے بدلتے ہیں۔ اگر انسان کوئی کہے کہ کون آپ کی مثل ہے تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ انسانوں ہی میں کوئی آپ کی مثل نہیں مگر غیر نوع کا ہر فرد یعنی ملک کہہ رہا ہے کون آپ کی مثل۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ مخلوقِ الٰہی کی کسی نوع میں، نہ انسانوں میں ، نہ جنات میں ،نہ فرشتوں میں ، کسی نوع میں ان کا مثل نہیں ہے۔ اگر ہے تو ان سے بالا تر وہ ہے کہ جس پر فدا ہو کر یہ مرتبہ مل رہاہے۔

اب ایک پہلو پر روشنی ڈالوں گا کہ اتنی بڑی تعریف کہ کسی نوعِ مخلوق میں آپ کا مثل نہیں۔ مگر اتنی بڑی تعریف میں، نہ ملک ان کا کوئی لقب کہہ سکتا ہے جو القاب ہمیں معلوم ہیں، تو کیا وہ ملائکہ کو نہیں معلوم؟ نہ ان کا کوئی وصف کہتا ہے، نہ ان کا رسول سے کوئی رشتہ بتاتا ہے؟ ارے نہ کہے کچھ اور ان کا نام ہی لے دے کہ ان کا نام علو کا پتہ دیتا ہے۔ بلندی تو ان کے نام میں مضمر ہے مگر ملک یہ کچھ نہیں کہتا۔ وہ تو کہتا ہے: یابن ابی طالب ۔ کون آپ کا مثل ہے؟ اے ابو طالب کے بیٹے! قرآن میں کہا جارہا ہے:

لَا یَسْبِقُوْنَه بِالْقَوْلِ “۔

اور یہ قول ہی ہے ، تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ انتخاب بھی ملک کا طبع زاد نہیں ہے۔ وہ اُدھر سے ہی القا ہے الفاظ کا۔ جو کچھ وہ کہہ رہا ہے، تو یہ کیا بات؟ فصاحت و بلاغت کسی زبان کی ملک نہیں ہے۔ چاہے آپ پنجابی ہوں، چاہے ہندوستانی۔ زبان مادری ہو۔ مقامِ مدح میں کوئی نسبت ایسی جو ذم کا پہلو رکھتی ہو، یہ بلاغت کے خلاف ہے۔ تو اتنی اونچی تعریف اور اس میں یہ کہنا کہ اے ابو طالب کے بیٹے!

ماننا پڑے گاکہ ابو طالب کوئی ایسا بڑا باپ ہے جس کی طرف نسبت اس جلالت مدح کے خلاف نہیں ہے۔

میری عادت کچھ کچھ یہ ہے کہ میں اپنے لئے مشکلات پیدا کرتا ہوں۔ میرے ذہن میں بھی ایک خلش ہے، وہ یہ کہ یہ ثابت ہوا کہ ہاں غلط نہیں، مگر ضرورت کیا تھی؟ ایک تو کھلی ہوئی بات یہ ہے کہ غلط فہمی دور کرنے کا یہی ذریعہ تھا۔ ایک طبقے کی غلط فہمی دور کی جائے۔ مگر اس کے علاوہ؟ آخر ضرورت کیا تھی؟ تو جناب! جو اس کا جواب مجھے تاریخ سے ملا، وہ شعب ابی طالب کا چار برس کا محاصرہ تھا ۔ اس میں ہر رات یہ خطرہ تھا کہ کہیں دشمن شب خون نہ مارے اور چراغِ عمرِ رسالت کو خاموش نہ کردے۔تو ابو طالب نے حفاظت رسول کا یہ انتظام کیا تھا کہ رسول کو ایک بستر پر نہیں رہنے دیتے تھے۔ کبھی طالب کو رسول کے بستر پر ، کبھی رسول کو طالب کے بستر پر۔ کبھی جعفر کو رسول کے بستر پر، کبھی رسول کو جعفر کے بستر پر۔کبھی عقیل کو رسول کے بستر پر، کبھی رسول کو عقیل کے بستر پراور کبھی علی کو رسول کے بستر پر، کبھی رسول کو علی کے بستر پر۔

آپ اس قربانی کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ چاہے جوبھی بیٹا میرا قتل ہوجائے، کسی ایک کو بھی تو مستثنیٰ نہیں کرتے۔ چاہے میرا جو بھی بیٹا قتل ہوجائے مگر رسول کی زندگی محفوظ رہے۔ اب میرے ذہن نے یہ فیصلہ کیا کہ ابو طالب کا بیٹا کہنے میں کیا راز ہے!قربانی کا یہ طریقہ، یہ باپ کی ڈالی ہوئی عادت تھی۔ اس کے بعد یہ حق شناس ملک تھا جس نے اس محل پر ابو طالب کو یاد کرنا ضروری سمجھااور یہ ناحق شناس انسان تھے کہ جنہوں نے اس کے بعد بھی ابو طالب کے ایمان میں شک کیا۔

اب جناب! پورا تبصرہ ہوگیا۔ مگر پھر میں نے اپنے لئے ایک مشکل پیدا کرلی۔ وہ یہ کہ میرا بیان بالکل بے قیمت ، اگر کوئی ایک لفظ مجھے قرآن کا مجھے شاہد نہ ملا ہو۔ اسی لئے تو میں نے کہا ں کا کہاں سے ربط ملایا ہے او رکہاں یہ بعثت خاتم الانبیاء کے بعد یہ ہجرت کی رات۔ تو یہ ربط کیا میں نے از خود ملادیا؟ تو یہ تو بہت بڑی جراءت ک ی بات ہے۔ اس میں تو کوئی وزن نہیں ہے۔جب تک کہ کوئی لفظ قرآن کا شاہد نہ ہو، وہ آیت جو اس کارنامہ علی پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہوئی آئی:

( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَا مَرَضَاتِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ رَوفٌ بِالْعِبَادِ ) ۔

اس آیت میں بھی اللہ نے نہ ان کا کوئی لقب کہا ہے، نہ ان کا کوئی وصف کہا ہے، نہ ان کا رسول سے کوئی رشتہ کہا ہے، نہ ان کا نام لیا ہے بلکہ بس ان کے کردار کو پیش کرکے، سرنامہ خطاب یہ ہے ، سرنامہ مدح یہ ہے ”ومن الناس“، انسانوں میں دیکھو ، یہ ایک شخص ہے جو اپنی جان کو رضائے الٰہی کیلئے دیتا ہے۔یہ اس سند میں انسان کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہ یہی ضرورت تھی کہ آج علی نوعِ انسان کا نمائندہ بنے ہوئے نوعِ ملک پر اس کی بلندی کو ثابت کررہے ہیں۔ اس لئے اس دستاویز میں انسان کہا گیا۔ ہاں! اس کے بعد عام طریقہ قرآن کا یہ ہے کہ فرد کی مدح ہوتی ہے مگر جمع کے صیغہ میں یہاں تک کہ آیہ ولایت میں بھی سب جمع کے صیغے ہیں:

( اِنَّمَاوَلِیُّکُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُه وَالَّذِیْنَ اٰمَنُواالَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰةوَیُوتُوْنَ الزَّکوٰةوَهُمْ رَاکِعُوْنَ ) ۔

مدح فرد کی اور الفاظ جمع کے۔ مگر یہاں خالق نے وحدت نمایاں کی ہے۔ ”وَمِنَ النَّاسِ“، انسانوں میں ایسے بھی ہیں ”( مِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِیْ ) “، دیکھو! انسانوں میں یہ ایک ایسا ہے۔ اب ا س منزلِ قربانی میں کوئی کہیں نہیں ہے۔”( مِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِیْ ) “، اہل علم جانتے ہیں ”مِن“میں گنجائش واحد و جمع دونوں کی ہے۔مگر نہیں، فعل جو لائے گئے ہیں، وہ سب واحد”( مِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِیْ ) “، انسانوں میں وہ ہے جو بیچ ڈالتا ہے۔ بیچ ڈالتے ہیں نہیں، ”( نَفْسَه هُوَ ) “، واحد ک ی ضمیر ،نفس بھی واحد، ”( اَنْفُسَهُمْ ) “نہ یں، اپنے نفوس کو۔حالانکہ مباہلہ میں ایک نفس لایا جائے گا۔ مگر ”( اَنْفُسَنَا ) “کہا گ یا ہے۔ عام سنت الٰہی یہی ہے کہ واحد کی مدح جمع کے صیغے سے کرتا ہے۔

مگر یہاں وحدت نمایاں ہے کہ دیکھوکہ یہ بھی ایک ہے جو اپنی جان کو بیچتا ہے۔بس مدح میں کہتا ہوں ، اب میں کیا کروں کہ اس کے بعد وحی کا دروازہ بند ہوگیا۔ اس کے بعد کوئی قرآن کی آیت اُترتی ہوئی نہیں دکھا سکتا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ اگر دس محرم ۶۱ ھ کو کوئی آیت اُترتی تو یہ وحدت جمع کی شکل اختیار کرتی اور آج فرشتے دیکھتے کہ ہاں! ایک جماعت ہے جو ایسا کچھ کرتی ہے کہ ہم نہیں کرسکتے۔اس وقت جمع کی شکل ہوتی کہ دیکھو! ایسے بھی انسان ہوتے ہیں ۔ کوئی یہاں کہہ سکتا ہے کہ یہ تو بہت حد سے بڑھی ہوئی با ت ہے۔ کہاں حضرت علی علیہ السلام اورکہاں یہ پورا مجمع؟یہ پوری جمعیت۔ کہاجارہا ہے کہ ان کیلئے کہا جاتا ۔

مگر میں کہتا ہوں ، وہ پوری جمعیت جس میں جتنا فرق ہے، وہ مجھے معلوم ہے۔ عصر تک کے جہاد میں اصطلاحی طور پر معصوم۔ تو بس ایک ذات ہے عصر تک کے جہاد میں۔ معصوم اصطلاحی ایک ذات، اس کے بعد سب عرب ہی نہیں، ان میں حبشی بھی ہیں، ترکی بھی ہیں۔ تو سب عرب بھی نہیں ۔ ارے سب آزاد بھی نہیں، ان میں غلام بھی ہیں۔تو اپنی جگہ تو جو فرق ہے،مجھے معلو م ہے اور زمین آسمان کا فرق ہے ۔ مگر جہاں تک کردارِ کربلا کا تعلق ہے، مجھے کوئی اور فرق کیا، مجھے اس کردار میں معصوم اور غیر معصوم کا فرق بھی نظر نہیں آتا۔اگر کردار کی منزل میں کوئی فرق ہوتا تو حجت خداسب کو مخاطب کرکے نہ کہتے کہ:

بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ یَا اَصْحَابَ الْحُسَیْنِ طِبْتُمْ وَطَابَتِ الْاَرْضِ الَّتِیْ دُفِنْتُمْ فِیْهَا ۔

معصوم ابن معصوم، حجت خدا ابن حجت خدا، وہ کہہ رہے ہیں میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، اے مجاہدین کربلا ! تم بھی پاک ہوئے اور وہ زمین بھی پاک ہوئی جہاں تم دفن ہوئے اور کاش! میں تمہارے ساتھ ہوتا اور اس عظیم کامیابی میں شریک ہوتا۔


امامت و خلافت ۲

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

( اِذْقَالَ رَبُّکَ لِلْمَلٰئِکَة اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَ رْضِ خَلِیْفَه ) ۔

سورئہ الحمد کے بعد پہلے ہی سورہ میں اور قرآن مجید کے بڑے اور وسیع تر سورہ میں پہلے ہی رکوع میں یہ آیت ہے کہ وہ موقع آیا جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک جانشین مقرر کرنے والا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیا اس زمین میں ان کو مقرر کیا جائے گا جو اس میں فساد کریں اور خونریزی کریں، حالانکہ ہم تیری تسبیح و تحلیل کرتے ہیں اور پاکیزگی کے ساتھ تجھے یاد کرتے ہیں۔ ادھر سے ارشاد ہوا کہ جو میں جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔ وہ موقع یاد رکھنے کا ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن مجید نے سابقہ واقعات صرف تفریحِ طبع کیلئے بیان نہیں کئے ہیں بلکہ اس لئے کہ اس میں اُمت کیلئے کچھ بصیرتیں موجود ہیں اور ان کی کچھ اہمیت ہے۔

جو میں نے عرض کیا کہ یہ موقع یاد رکھئے گا۔ اب اس کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے یہ کہا۔ کیا کہا؟ اب آنے والا ابھی ہم بتا بھی نہیں سکتے کہ کتنی مدت کے بعد آئے گا۔ چاہے سو برس ہیں، چاہے ہزار برس ہیں، اس کا بیان قرآن مجید میں بھی نہیں ہے، احادیث میں بھی نہیں ہے۔ بہرحال بہت پہلے سے کہا جارہا ہے کہ میں زمین میں ایک جانشین مقرر کرنا چاہتا ہوں۔اب چونکہ قرآن مجید میں یہ ہے کہ جانشین ، مگر کس سے تعلق ہے اس جانشینی کا؟ اس کا کوئی ذکر نہیں ۔ لہٰذا عام مفسرین اس میں پریشان ہوگئے ہیں۔ اس میں کہ جانشین بنانے والا ہوں۔ تو کسی کا جانشین؟ اب میں کہتا ہوں کہ دشواری کیا ہے؟ قرآن تو سامنے ہے، کافی ہے۔ مگر ذرا سی بات کے سمجھانے کیلئے کافی نہیں ہوتا۔ اب اُلجھے ہوئے ہیں کہ جانشین کس کا؟ تو کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ بہت دور کی کوڑی لائے۔ اب وہی تاریخ وغیرہ سے ،روایات سے۔ ورنہ اس وقت انہوں نے کہاں دیکھا تھا؟ تو یہ کہا کہ آدمی یعنی انسانی نسل سے پہلے اس زمین پر جنات و شیاطین آباد تھے جن کو عربی میں جنو نسناس کہتے ہیں۔آدمی ناس ہیں اور وہ نسناس۔ تو جنا ت و نسناس یعنی جنات و شیاطین۔یہ قوم اس دنیا میں بسی ہوئی تھی۔

اس کے بعد بداعمالیوں سے وہ تباہ و برباد کئے گئے۔ تو اب خالق کا مطلب یہ ہے کہ میں ان کی جگہ ، ان شیطانوں کی جگہ پر، جنات کی جگہ پر ایک مخلوق کو پیدا کرنا چاہتا ہوں۔ بڑے بڑے علماء غوروفکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ۔میں کہتا ہوں کہ فکر ہر کس بقدرِ ہمت اوست۔ ارے صاحب! بات یہاں پر ختم نہیں ہوئی، اس کے بعد فرشتے کہہ رہے ہیں کہ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں، یعنی کسی اور کی کیا ضرورت ہے؟ ہم ہی کو کیوں نہیں مقرر کیا جاتا؟

تو سبحان اللہ! جنات و شیاطین کی جانشینی اور ملائکہ کا رشک کرنا۔ملائکہ کو اس کی تمنا پیدا ہوئی کہ جنات و شیاطین کی جگہ پر ہم کو رکھ دیا جائے ۔ تو ہر صاحب عقل سمجھ سکتا ہے کہ یہ بات دل کو نہیں لگتی۔فرشتے، جوارِ اقدس میں بسنے والے، عالمِ بالا کے رہنے والے اور وہ اس کے قرب و جوار میں رہنے کی بجائے یہ طلب کریں کہ ہمیں شیطانوں کی جگہ اس دنیا میں بھیج دے۔ یہ خلافِ عقل ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کا فیصلہ ہر زبان کے محاورے سے ہوسکتا ہے۔ کوئی صاحب آپ میں سے دوپر کے وقت کہیں گئے ہوئے تھے، وہاں سے کسی دوست کے ہاں آئے اور کہا کہ ارے بھئی! بہت پیا س لگی ہے۔ تو وہ دوست پوچھے گا کہ کس کو پیا س لگی ہے؟ ارے صاحب! کسی اور کو پیاس ہوتی تو اُس کا نام لیا جاتا۔ جب اس کانام نہیں لیا گیا تو سمجھ لیجئے کہ جو کہہ رہا ہے، اُسی کو پیاس لگی ہے۔

کوئی اور زیادہ بے تکلف دوست ہواو ر کہے کہ بہت بھوک لگی ہے، تو ا س کا مطلب یہ ہے کہ مجھ کو بھوک لگی ہے اور مثلاً والد ماجد فرماتے تھے ، کیا کوئی پوچھے گا ، کس کے والد ماجد؟ کسی اور کے والد ماجد کا ذکر ہوتا تو اس کا نام ہوتا۔ جب کسی اور کی طرف اضافت نہیں دی تو سمجھئے کہ جو کہہ رہا ہے، وہ اپنے ہی والد کی بات کررہا ہے۔بھائی صاحب سفر سے آگئے ہیں،کہیں گئے ہوئے تھے۔کس کے بھائی صاحب؟ معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی اور کا ذکر ہوتو متعلق کیلئے اظہار کی ضرورت ہوتی ہے اور جب خود متکلم اپنی طر ف اضافت دینا چاہے تو پھر کسی متعلق کے ذکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔کوئی کہے کہ پیا س لگی ہے، کوئی نہیں پوچھے گا کہ کس کو؟ کہے بھوک لگی ہے تو کوئی نہیں پوچھے گا، کس کو؟ کہے کہ والد صاحب نے کہا تھا، وہ نہیں پوچھے گا ، کس کے؟ بھائی صاحب نے کہا ہے، نہیں پوچھے گا، کس کے؟

اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں جانشین مقرر کرنے والا ہوں۔ تو دنیا پوچھتی ہے کہ کس کا؟ ارے صاحب! جب نہیں بتایا کہ کس کا تو سمجھ لیجئے کہ جو کہہ رہا ہے، وہ اپنی ہی طرف اضافت دینا چاہتا ہے کہ میں زمین میں اپنا جانشین مقرر کرنا چاہتا ہوں۔ تو خدا اپنا جانشین کیوں بناتا ہے؟ ہماری سمجھ میں یہ آتا ہے کہ جانشین وہ بنائے جس سے مکان یا زمان خالی ہو۔مکان خالی ہو یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ جائے تو جانشین بنائے۔ یا زمانہ اس سے خالی ہو تو جانشین بنائے اور ذاتِ الٰہی جو زوال و انتقال سے بری ہو تو اس کی طرف سے جانشین بنانے کے کیا معنی؟ اس کو میں دورُخوں سے سمجھا ؤں گا۔ ایک رُخ تو بہت کھلا ہوا ہے جس میں زیادہ غور کی ضرورت نہیں ہے، نہ علمیت کی ا س میں کوئی ضرورت ہے۔اس میں ایک ذرا سی گہرائی ہے۔مگر ماشاء اللہ ہمارا مجمع بافہم ہے تو کوئی گہرائی محسوس نہیں ہوگی۔

تو پہلا حل یہ ہے کہ بے شک خالق کی طرف زمین وآسمان دونوں کی نسبت یکساں ہے، باایں معنی کہ دونوں مخلوق ہیں اس کی۔

رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ “۔

وہ آسمان کا بھی پروردگار اور زمین کا بھی پروردگار۔

مگر پھر بھی بلندی کے رُخ کو جو اس سے تعلق محسوس ہوتا ہے، وہ زمین کا نہیں ہے۔ تو تعلق زمین میں نہیں ہے۔دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں ،جھکائے نہیں جاتے۔ یہ کس کیلئے؟ حضرت موسیٰ کلام کرنے طور کی بلندی پر جاتے تھے۔ زمین کے کسی غار کے اندر نہیں جاتے تھے۔ قرآن کے محاورات دیکھ لیجئے۔ جو چیز اس کی طرف سے آتی ہے، اس کو اتارنا کہا گیا ہے۔ قرآن اس کی طرف سے آیا تو اس کیلئے کہا گیا”اَنْزَلْنَا “، ہم نے اُتارا۔ وحی اس کی طرف آئی ہے توا س کیلئے کہا جائے گا کہ وحی اُتاری۔ملک اس کی طرف سے آتا ہے تو اس کیلئے کہا جائے گا کہ ملک کو ہم نے اُتارا۔ اب یہ اور بات ہے کہ یہ سب تو ہر ایک کی سمجھ میں آجاتا ہے مگر قرآن میں ایک جگہ لوہے کو بھی کہا گیا ہے کہ ہم نے اُتارا۔ اب عرب کی زندگی کے اعتبار سے وہ لوہار تو نہیں تھے ، شمشیر زن تھے تو وہاں فولادی چیز جو ہوتی تھی، وہ تلوار ہوتی تھی۔ وہ کہہ رہا ہے کہ ہم نے لوہا اُتارا جس میں لوگوں کیلئے خوف و دہشت ہے۔ تو یہ خوف اور دہشت ہتھوڑے سے نہیں ہوتی، آری سے نہیں ہوتی۔ کوئی ایسی چیز، ایسا لوہا جس میں خوف و دہشت مضمر ہو، تو اب دنیا ڈھونڈے کہ کوئی تلوار جو ادھر سے اُتری ہو۔

تو جو اُدھر سے چیزیں آتی ہیں، ان میں کہا جاتا ہے اُترنااور جو چیزیں اِدھر سے جاتی ہیں، ان کیلئے کہاجاتا ہے بلند ہونا۔ دعابندے کی چڑھتی ہے، بلند ہوتی ہے۔عمل صالح انسان کا اگر مقبول ہے تو اوپر جاتا ہے، بلند ہوتا ہے ۔ یہ ہمارا ہی محاورہ نہیں ہے بلکہ قرآن مجید میں ہے، جو نیک عمل ہے، وہ اسے اونچا کرتا ہے۔ نماز اگر مقبو ل ہے تو یہی آیا ہے کہ آسمانوں پر جاتی ہے۔ تو جو اُدھر سے چیز آتی ہے، اس کو اترنا اور جو چیز ادھر سے جاتی ہے، اس کو چڑھنا ۔ یہ آخر محاورہ کیوں ہے؟ بات دراصل یہ ہے کہ عرش یعنی پایہ تخت کا تصور جس میں پیش کیا گیا ہے، تو یہ اس کا پایہ تخت ہے۔ اس کے لئے تصور یہ ہے کہ وہ عالمِ اعلیٰ کا بلند ترین نقطہ ہے۔ عرش زمین کے نیچے نہیں مانا جاتا۔ آسمانوں پر یہ تصور سے خارج بلندی ہے۔ اُسے عرش مانا جاتا ہے۔ اسے پایہ تخت مانا جاتا ہے۔ ہاں مگر پایہ تخت کہنے سے میں یہ نہیں مانوں گا کہ وہ اس پر بیٹھتا بھی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ وہ پایہ تخت ہے اور اگر اس پر وہ بیٹھتا بھی ہے تو ہماری زمین پر تو اس کا گھر ہے، تو کیا وہ اس گھر میں رہتا بھی ہے؟ مکہ معظمہ میں وہ مقدس گھر جس کا تمام دنیا جاکر طواف کرتی ہے، اس کیلئے کیا تصور ہے، بیت اللہ۔ تو وہ اللہ کا گھر ہے ۔ تو کیا اس گھر میں وہ سکونت فرماتا ہے؟وہ اس میں رہتا ہے؟اس کا کسی فرقہ کے مسلمانوں کو تصور نہیں ہے۔ تو جب اس گھر میں رہنے کا تصور نہیں تو عرش کیلئے یہ تصو رکیوں کہ وہ بیٹھتا ہے؟

اب ایک عقلی بات ہے جسے ہر شخص سمجھ سکتا ہے ۔ جسے بیٹھنے کیلئے تخت کی ضرورت ہو، اُسے رہنے کیلئے گھر کی بھی ضرورت ہوگی۔ جب اس کا گھر ہے مگر رہتا نہیں، تو آدمی غو رکرے کہ تخت میں یہ تصو رکیوں ہے کہ وہ اس پربیٹھتا ہے؟ میرے نزدیک تو یہ گھر بھی ایک نسبت ہے شرف اور عزت کو بڑھانے کیلئے اور وہ عرش کہنا بھی ایک نسبت ہے شرف اور عزت کو بڑھانے کیلئے۔ مگر جیسی نسبت ہوتی ہے، عملاً اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ بھی کیا جاتا ہے۔ یعنی اس نسبت کو اپنے عمل سے نبھایا جاتا ہے۔

صاحبانِ فہم! صاحبانِ عقل! سب سمجھ سکتے ہیں کہ گھر کی نسبت شخص کی طرف نجی اور انفرادی ہوتی ہے۔ تخت و سلطنت کی نسبت بادشاہ کی طرف منصبی ہوتی ہے۔ تو اسے کہہ رہا تھا اپنا گھر۔ اسے کہہ رہا تھا اپنا عرش۔ یہ ہے گھر تو جب گھریلو کام لینا ہوا، کسی کا زچہ خانہ بنانا تو اسے منتخب کیا اور جب کسی کو سرکاری مہمان بنانا ہوا تو وہاں بلالیا گیا۔

تو اب یہ دو الفاظ کہہ رہا ہوں ، اسے محفوظ رکھئے گا ، کوئی غلط فہمی نہیں ہوگی کہ جس حیثیت سے عرش اس کا پایہ تخت ہے، اُس حیثیت سے گویا زمین اُس سے خالی ہے۔ تو یہی تو کہاجارہا ہے کہ میں زمین میں ،جانشین مطلق نہیں کہا گیا، محض جانشین۔زمین میں جانشین مقرر کرنا چاہتا ہوں۔ تو اب اپنے الفاظ میں یوں کہوں گا کہ ملائکہ سے کہا گیا کہ سنو ملائکہ! یہاں عالمِ بالا میں تو مَیں ہوں، میرا عرش ہے لیکن عالمِ ادنیٰ یعنی زمین اس شرف سے محروم ہے۔ لہٰذا میں ایک ایسے کو بنانا چاہتا ہوں جس کا دارالسلطنت زمین اسی طرح ہو جس طرح میرا دارالسطنت عرش ہے ۔اور ذرا سے الفاظ بد ل کر کہوں گا کہ ایسے کو مقرر کرنا چاہتا ہوں جسے زمین سے وہی نسبت ہو جو مجھے عرش سے ہے۔

اب یہ منزل اتنی پرکشش ہے کہ ملک کی نگاہِ طلب پڑتی ہے کیونکہ صحبت میں رہے مگر منصب سے محروم رہے۔ تو یہ بلندی نہیں ہے۔ ظاہری طور پر دور بھی ہوجائے مگر منصب کا حامل ہوکر رہے تو اس میں بلندی ہے۔

یہاں ایک غلط فہمی دور کردوں کہ عرش اس کا پایہ تخت ہے مگر زمین اس کی ربوبیت سے خارج نہیں ہے۔ اسی طرح زمین اس کا پایہ تخت ہے مگر عالمِ بالا اس کی رسالت سے باہر نہیں ہے۔ لہٰذا جہاں بھی جائے گا، نمازیں پڑھاتا ہوا جائے گا۔اقتداء کرتا ہوا نہیں جائے گا۔ امامت کرتا ہوا جائے گا۔ تو یہ تھا ایک پہلو جانشینی کا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ بات ہی غلط ہے کہ جانشین وہ بنائے جس سے جگہ یا زمانہ خالی ہو۔ یہ بنیادی تصور ہی غلط ہے۔ ایک اور صورت ہے جانشین بنانے کی ، وہ یہ ہے کہ کام کرنے کا کسی کے ہو، یعنی کسی طرح سے فریضہ اس کا ہو مگر کسی وجہ سے وہ خود آکر انجام نہ دے سکتا ہو۔

اس کی مثال ایک میں یہ دے سکتا ہوں کہ کوئی معزز آدمی کہیں جائے تو اس کے اعزاز میں جلسہ ہوتا ہے۔ اس جلسہ میں اس کے اعزاز میں سپاسنامہ پڑھا جاتا ہے۔ آئینی طور پر سپاسنامہ کا جواب دینا اسی مہمان کے ذمہ ہے جس کے اعزاز میں وہ جلسہ ہے۔ وہ سپاسنامہ پڑھا گیا ہے مگر اتفاق سے جس جگہ وہ پڑھا گیا ہے اور مجمع میں جو لوگ ہیں، وہ اس کی زبان سے واقف نہیں ہیں۔ یہ ان کی زبان سے واقف نہیں ہے۔ تو ناواقفیت بھی سد راہ ہوسکتی ہے۔وہ ہماری زبان سے واقف نہیں، میں ان کی زبان سے واقف نہیں۔ کوئی سپاسنامہ کا جواب دینے اگر خود سے کھڑا ہوجائے تو میرا فرض ادا نہیں ہوگا۔ غیر آئینی ہے۔ اس کے جواب سے میں سبکدوش نہیں ہوں گا۔ لہٰذا ضرورت ہے کہ انہی میں سے کسی کو میں اپنا نائب بناؤں جو میری زبان سے بھی واقف ہو اور ان کی زبان سے بھی واقف ہو تاکہ وہ میرا جواب میری زبان میں مجھ سے سنے اور ان کی زبان میں ان تک پہنچائے۔ بس خالق کو خلیفہ بنانے کی اسی لئے ضرورت تھی۔ خلقِ خدا کی رہبری، سیدھے راستہ پر پہنچانا اس کا کام ہے بحیثیت رب۔اگر وہ فقط خالق ہوتا تو خالق کے معنی ہیں پیدا کرنے والا۔ تو پیدا کیا اور بس چھوڑ دیا۔لیکن وہ فقط خالق نہیں۔ یہی فرق ہے عیسائیوں کے محاورہ میں اور ہمارے محاورے میں ۔ وہ خدا کو کہتے ہیں”اَب“ یعنی باپ۔ ہم خدا کو کہتے ہیں رب یعنی پالنے والا۔ یہ با پ کا جو لفظ ہے، یہ سبب وجود کو بتاتا ہے۔ سبب بقا کو نہیں بتاتا۔

بہت سے بچے ہیں کہ باپ ان کے دنیا سے اٹھ گئے، تب وہ پروان چڑھے تو وجود میں باپ کا دخل ہے، بقا میں نہیں ہے۔لیکن رب، رب کے معنی ہیں پروان چڑھانے والا۔یہ بقا کے ہر لمحے میں اس کا رشتہ ہے ۔ انہوں نے”اب“ کہا ہے ۔ یہ رشتہ ماضی ہے اور ہم رب کہتے ہیں، یہ رشتہ حال ہے۔ یعنی ہمارا ہر نفس اس کی توجہ کا محتاج ہے۔ اس کی نگاہ ہم سے ایک لمحے کیلئے ہٹے تو ہماری ہستی نیستی میں بدل جائے۔ یہ سب ہے رب میں مضمر۔ تو اگر فقط خالق ہوتا تو ہدایت اس پر فرض نہ ہوتی۔ لیکن چونکہ وہ رب ہے، پروردگار ہے، اور تربیت کے معنی ہیں کسی شے کو اس کے ممکن درجہ کمال تک پہنچانا۔ لہٰذا اب صحیح اور غلط کا بتانا، اب اچھے اور برے کی تعلیم دینا۔ اب صحیح راستے پر چلانا، یہ سب فرائض تربیت میں سے ہیں۔ اب قرآن مجید کا ایک ایک لفظ وہ ہے کہ غور کیا جائے تو پردہ ہٹتا ہے کہ اس اعلان میں”قَالَ اللّٰهُ “، نہیں کہا گیا کہ اللہ نے یہ کہا بلکہ”قَالَ رَبُّکَ “تمہارے رب نے یہ کہا۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ جو اعلان ہے، وہ تربیت کے ماتحت ہے۔ تربیت اس کا کام ،لہٰذا ہدایت اس کا کام۔

قرآن مجید میں ہے:ہر چیز کواُس نے پیدا کیا، پھر ہدایت کی، مگر انسان کے علاوہ جس جس چیز کی ہدایت ہے، وہ خلقی طور پر ارادئہ قاہرہ سے ہے۔ اس کا کام ہے اسے منزلِ ارتقاء تک پہنچانا۔ یعنی ایک قطرہ اس کی ہدایت سے گہر کی منزل تک پہنچتا ہے۔ایک بیج اس کی ہدایت سے ثمر تک پہنچتا ہے۔تو ہر چیز اپنے کمال کی منزل تک بہ ارادئہ الٰہی پہنچتی ہے۔ چیز کے اپنے ارادہ کا دخل نہیں ہے ۔ لیکن انسان کو اس طرح منزلِ کمال تک نہیں پہنچانا ہے ورنہ کوئی دنیا میں کافر ہی کیوں ہوتا؟اگر وہ اپنے ارادئہ قاہرہ سے ہر ایک کو مومن بنانا چاہتا ہو تو کافر دنیا میں رہتے ہی کیوں؟

اگر پروردگار چاہتا تو روئے زمین پر جتنے ہیں، سب مومن ہی ہوتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ قوتِ قاہرہ سے اس کو منزلِ کمال تک پہنچانا، یہ منظور نہیں ہے۔ اسے منزل تک پہنچانا تھا، اسے منزل بتاکر چلنے کی دعوت دینا ہے۔اس کیلئے یہ تھا کہ وہ اسے صحیح راستے پر چلائے۔ اس کیلئے یہ ضروری ہوا کہ صحیح راستہ بتائے اور اس سے کہے کہ ادھر چلو۔ وہ آگے آگے چل کر کیسے بتائے کہ میرے پیچھے آؤ۔اس کیلئے ضروری ہے کہ جسم رکھنے والے ، جسمانیات سے جو الگ نہیں ہیں، یعنی اسی خلقت میں سے کوئی ایسا ہو کہ جس میں ایسی صفائے جوہر ہوں کہ اُ س سے فیض لے سکے اور جسمانی طور پر ان کا ہم جنس ہو کہ ان کو پہنچا سکے۔ ایسی دو پہلو مخلوق کی ضرورت تھی جسے وہاں کہا گیا تھا کہ دونوں کی زبان جانتا ہو۔ تو ایسے دو پہلو مخلوق کی ضرور ت تھی جو گناہوں سے بری ہونے کی وجہ سے خود اس کا فیض حاصل کرنے کا مستحق ہو اور خلق خدا کو صحیح راستہ بتانے کیلئے ان کی ضروریات میں شریک ہو تاکہ ان پر حجت تمام کرسکے۔اگر اُسے بھوک نہ لگتی ہو اور وہ کہے کہ روزہ رکھو تو خلق خدا کہے گی کہ جناب! آپ کو بھوک کا مزہ ہی نہیں معلوم ۔آپ سمجھتے ہیں کہ روزہ رکھنا کوئی آسان ہے؟ آپ کیا جانیں کہ پیاس کیا چیز ہوتی ہے؟تو دن بھر پیاسا رہنا کہیں ہوسکتا ہے؟جو جو حکم وہ دے، دنیا کہے کہ جناب! ان تمام خواہشات سے آپ بری۔ آپ مثالِ عمل کہاں بن سکتے ہیں؟

تو خلق خدا پر حجت تمام نہ ہوتی۔ لہٰذا ایک ایسا ہونا چاہئے ، اور میں ایک لفظ پر اس کو ختم کرتا ہوں، دنیا کہتی ہے کہ کہا گیا کہ تمہاری ہی طرح بشر ہوں، تو ہم ہی جیسے ہیں۔ بالکل ہمارے جیسے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ کہا تھا کہ تمہارے جیسا بشر ہوں، یہ نہیں کہا تھا کہ تمہارے جیسا جاہل ہوں۔یہ کہا تھا کہ تمہارے جیسا بشر ہوں۔ یہ نہیں کہا تھا کہ تمہاری طرح خطا کارہوں۔تو بشریت پر ایمان لانا تو میں جزوِ دین سمجھتا ہوں، بشریت کا انکارمیں کفر سمجھتا ہوں۔ مگر بس دیکھنا یہ کہ کیسا بشر! میں کہتا ہوں کہ یہ بشر ایسے ہیں ، دنیا ملک کہنا ان کی تعریف سمجھتی ہے، میں ملک کہنا ان کی توہین سمجھتاہوں۔ یہ ملک اور انسان کی فضیلت کا جزو غالباً اسی سلسلہ بیان میں کل آپ کے سامنے عرض ہوگا۔

تو حضورِ والا! ایسا بشر ہو جو خالق سے اس کا فیض حاصل کرسکے اور ہم تک اس کے فیض کو اپنی زبان میں جو ہماری بھی زبان ہے، پہنچا سکے۔ تو اسے وہ اپنا جانشین بنائے، اپنا نائب بنائے کیونکہ نائب ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اس کا کام اُس کا کام ہوجائے۔اب یہ جو ہدایت کرے گا، وہ اس کی ہدایت نہیں ہوگی بلکہ وہ اُس کی طرف کی ہدایت ہوگی جس نے نائب بنایا ہے۔ تو اب چاہے اس کو ہدایت کرنے والا کہئے، چاہے اُس کو ہدایت کرنے والا کہئے، اس لئے اس کو ہم کہیں گے ہادی اور قرآن کہے گا:

( اِنَّمَااَنْتَ مُنْذِرٌوَلِکُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ) ۔

کہ اے رسول! آپ منذر ہیں ، نبی اور رسول بھی ہیں لیکن انذار یعنی رسالت کا دروازہ بند ہوا ہے، ہدایت کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ ہر نسل، ہر طبقہ کیلئے ہادی ہیں ، یعنی رسالت ختم ہوئی ہے، ہدایت ختم نہیں ہوئی۔ ناموں سے حقیقت نہیں بدلتی۔ میں کہتا ہوں کہ کبھی ہدایت بنامِ رسالت ہوتی ہے، کبھی ہدایت بنامِ امامت ہوتی ہے۔ لیکن ہدایت کا سلسلہ ختم نہیں ہوتاا ور بس۔ گزشتہ بیان کی روشنی میں ایک جملہ کہہ کر آگے بڑھوں کہ جنابِ والا!جب میں نے عرض کیا کہ ہدایت تقاضائے ربوبیت ہے تو بس ایک جملہ کافی ہے یعنی جب تک اس کی ربوبیت ہے، تب تک ہدایت ہے۔ اب یہ اتنا بلند منصب ہے کہ ملائکہ نے کہا:

( اَتَجْعَلُ فِیْهَامَنْ یُفْسِدُفِیْهَاوَیَفْسِکَ الدِّمَاءَ ) ۔

کیا تو انہیں مقر رکرے گا جو فساد کریں اور خونریزی کریں؟بس بس۔ غیر متوازن الفاظ کبھی کبھی ناسمجھی سے استعمال کرلئے جاتے ہیں۔ شاید آپ نے سنا ہو یا کسی نے کہا ہو کہ ملائکہ نے اعتراض کیا۔ یاد رکھئے ملائکہ جو ہیں، وہ عصمت فطری کی منزل پر فائز ہیں اور قرآن کہہ رہا ہے:

( لَا یَسْبِقُوْنَه بِالْقَوْلِ وَهُمْ بِاَمْرِه یَعْمَلُوْنَ ) ۔

وہ اللہ پر بات کرنے میں سبقت ہی نہیں کرتے۔ وہ وہی کرتے ہیں جو اس کا حکم ہوتا ہے۔ تو اب فرشتوں کیلئے یہ کہنا کہ انہوں نے اعتراض کیا۔ تو میں ہرگز نہیں کہوں گا کہ اعتراض کیا۔ میں بس یہی کہوں گا کہ تعجب سے سوال کیااور اب ذرا سی علمی بات ہے کہ کوئی اطلاع دی جائے تو اس میں جھوٹ اور سچ کا سوال ہے۔ کوئی بات پوچھی جائے تو اس میں جھوٹ اور سچ کا سوال نہیں۔فرشتہ خود کچھ نہیں کہہ رہا،وہ تو ایک بات پوچھ رہا ہے۔ تو پوچھنے میں جھوٹ کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پھر فرشتے نے کام کیا کیا ہے؟ فرشتے نے کام یہ کیا کہ نوعِ انسان کی زندگی کا ایک تاریک رُخ لیا جو بلاشبہ ہے۔ کون کہہ سکتاہے کہ انسان فساد نہیں کرتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ انسان خونریزی نہیں خرتا۔ تو ایک تاریک رُخ لیا انسان کا جو اس کی نظر میں بہت تاریک تھا۔ فساد تو بلاشبہ تاریک ہے ہی اور خونریزی بھی ، جو بطورِ فساد ہو۔ اس کے تاریک ہونے میں کیا شبہ ہے؟ تو اس رُخ کو لیا جو بے شک ہے اور اپنی زندگی کا روشن پہلو لیا جو حقیقتاً ہے۔ لیکن انسان کی مجال ہے کہ وہ کہے کہ ملک تسبیح نہیں کرتا، تقدیس نہیں کرتا۔ جو اپنی صفت تسبیح و تحلیل کی بتائی، وہ حقیقتاً ہے ۔جو عام انسانوں کی صفت بتائی، فساد اور خونریزی، وہ بھی ہے۔ ہر جزو صحیح۔ بس کام یہ کیا کہ دونوں کو ملا کر پوچھ لیا۔ اپنی زندگی کا روشن رُخ ، ان کی زندگی کا تاریک رُخ۔ان دونوں کو ملا کر پوچھ لیا کہ کیا انہیں مقرر کیا جائے گا؟ہمیں نہیں؟

نتیجہ پھر ملک نے نہیں نکالا کہ ہم زیادہ حقدار ہیں کیونکہ یہ نتیجہ جھوٹ ہوتا۔یہ نتیجہ غلط ہوتا۔یہ نتیجہ ملک نے نہیں نکالا۔اسے سادہ لوح انسانوں پر چھوڑا کہ وہ یہ ہی نتیجہ نکالیں گے۔مگر یہ پوچھا ہی کیوں؟ میں نے کہا کہ یہ سوال ہی کیوں کیا؟ تو یاد رکھئے کہ سوال کرنے کا حق تو بہرحال انہیں یوں تھا کہ وہ بارگاہِ قدس کے طالب علم ہیں اور طالب علم کی سمجھ میں جو بات نہ آئے، اسے اُستاد سے پوچھنے کا حق ہے۔ متعلم ہونے کے ساتھ ساتھ یہ اجازت لازمی طور پر حاصل ہے ورنہ فریضہ تعلیمی ادا ہی نہیں ہوگا۔معلم ہونے کا رشتہ اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ طالب علم کو حق دے کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے، اسے مجھ سے پوچھنا۔ اور یہاں وہ پوچھنا کسی مقصد الٰہی کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔میرے نزدیک اگر وہ یہ نہ پوچھتے تو ایک مقصد الٰہی پورا ہونے سے رہ جاتا۔ وہ مقصد الٰہی کیا ہے؟ ایک تو جو میں پہلے کام لے چکا ان کے اس سوال سے ، وہ یہ ہے کہ مقصد کی جلالت نمایاں ہوئی کہ یہ منصب ایسا بلند ہے کہ ملک کی نگاہِ طلب بھی پڑتی ہے۔ اب خلق خدا کیلئے انتباہ ہے کہ اسے کبھی ارزاں نہ بنا لینا۔اتنا اونچا ہے یہ منصب۔اور وہ بھی اسی نام سے جسے تم نے ارزاں بنایا۔

یہاں اعلان جو کیا گیا، وہ اسی نام سے کہ اسے ارزاں نہ بنا لینا۔ یہ ایک مقصد ہے جو میں پہلے یہ کام لے چکا۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ ملک نے سوال کیا اور خالق نے وہ جواب دیا جو بعد میں دیا جائے گا۔ یہ تمام دنیا کو دکھانا ہے کہ دیکھو! اس منصب کا اختیار ایسا میری ذات سے خاص ہے کہ جس میں ملک کے معصوم مشورہ کو بھی دخل نہیں ہے، چہ جائیکہ خطاکاروں کا اجماع یا شوریٰ۔

بس اب آیت پوری پڑ ھ چکا ہوں، اس کے بعد اس کے اجزاء سے متعلق جو باتیں ہیں، وہ کل عرض ہوں گی،خالق نے جواب دیا:

( اِنِّیْ اَعْلَمُ مَالَا تَعْلَمُوْنَ ) ۔

میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اس پر تبصرہ کل ہوگا۔ مگر میں کہتا ہوں کہ اصولِ نیابت شروع یہاں سے ہوا۔ نائب ابھی میں نے کہا کہ وہ کام کرے جو اس کا کام ہو۔ جس کے کام کو وہ اپنا کام کہہ سکے اور جس کے کام کو دنیا اس کا کام کہہ سکے، وہ نائب ہے۔ تو انبیاء اللہ کے نائب ہیں، مرسلین اللہ کے نائب ہیں۔ ہمارے نزدیک آئمہ حق اللہ کے نائب ہیں۔آدم اپنے وقت میں خلیفۃ اللہ تھے۔ نوح اپنے دور میں خلیفۃ اللہ تھے۔ ابراہیم اپنے وقت میں خلیفۃ اللہ تھے۔موسیٰ و عیسیٰ اپنے اپنے وقت میں خلیفۃ اللہ تھے اور ہمارے پیغمبر بلاقید وقت خلیفۃ اللہ تھے۔

بہرحال عملی حیثیت سے اپنے دور میں جب اس دارِ دنیا میں تشریف رکھتے تھے تو جو جو ہدایات فرماتے تھے، وہ بحیثیت خلیفۃ اللہ کے تھیں اور جب دنیا سے تشریف لے گئے تو جو ان کی جگہ پر ہدایت خلق کے منصب پر ہو، وہ خلیفۃ اللہ ہے۔ اس طرح ایک بڑی مشکل جو اکثریت کو پیش آئی، وہ ہمارے ساتھ پیش نہیں آئی۔ یعنی اکثریت کو یہ مشکل پیش آئی ، متفقہ بات ہے کہ جب پیغمبر خدا دنیا سے اٹھے اور دنیا نے اپنا نظام بنامِ خلافت چلایا، تو اب پہلا فرد، تو انہوں نے کہنا شروع کیا، خلیفة رسول اللہ۔ بہت کھلی ہوئی بات ہے، غور کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ پیغمبر دنیا سے گئے ہیں۔ ہم ان کا جانشین بنا رہے ہیں تو خلیفة رسول اللہ۔تو اب جو آتا ہے ، وہ کہتا ہے:

اَلسَّلامُ عَلَیْکَ یَا خَلِیْفَة رَسُوْلِ اللّٰهِ “۔

سلام ہو آپ پر اے خلیفہ نبی۔ سلام ہو آپ پر اے رسول اللہ کے خلیفہ۔

اب اس وقت وہ بعد کی مشکل ذہن میں نہیں آئی تھی کہ بات کہاں تک پہنچے گی۔ کوئی دقت نہ ہوئی ، عمر گزر گئی۔مختصر تو ہوتی ہے عمر۔ وہ اتنے دن تک کہتے رہے خلیفة رسول اللہ۔ اب نمبر بڑھا۔ نمبر جو بڑھا تو خود صاحب اقتدار جو موجود تھے،اب ان کے ذہن میں دشواری پیدا ہوئی۔ خود ان کے ذہن میں کشمکش پید اہوئی کہ صاحب! اب میں کیا کہا جاؤں؟ اب وہ بیچ میں ایک کڑی آگئی۔ تو اب علم معنی و بیان کی ہمارے ہاں ایک اصطلاح ہے ”تتابُعِ اِضافات“۔یعنی پے در پے اضافت۔ تو اب رسول اللہ کا خلیفہ ، تاکہ رسول پہنچایا جائے۔ بغیر اس کے تع تقدس نہیں پیدا ہوگا۔ تو رسول اللہ کے خلیفہ کا خلیفہ۔

خیر صاحب! تھوڑی سی تو زحمت ہوئی ہے۔ یونہی سہی۔ اب آگے بڑھے تو دو اضافتیں آئیں۔ رسول اللہ کے خلیفہ کا خلیفہ۔ اب ذہن میں ہے کہ یہ تو سلسلہ رہے گا۔ اس وقت مصطفےٰ کمال پاشا کی کسے خبر تھی کہ وہ آکر اس سلسلہ کو ختم کردے گا۔ حوصلہ تو یہ تھا کہ رہے۔ تو صاحب! یہ بڑی زحمت بے جا ہے۔ تو کیونکر حل ہوا اس کا؟ مجمع کیا گیا۔ مجلس شوریٰ قائم ہوئی اور اس میں پیش کیا گیا کہ بھائیو!یہ بڑی مشکل ہے۔ تمہاری سمجھ میں اب تک نہ آئی۔ لیکن بحمد للہ میری سمجھ میں یہ مشکل آئی کہ اب کیا ہو۔ تم بتاؤ کہ اس کا حل کیا ہو؟ یعنی مشکل سمجھ میں آگئی ہے، حل سمجھ میں نہیں آیا ہے۔مشکل کے حل کیلئے مدد کی ضرورت ہے۔تو بتاؤ کہ کیا ہو؟نکتہ رسی سے کام لے کر اُسے نہیں بلوایا گیا تھا کہ جس کا کام ہی مشکل کشائی ہے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ احساس تھا کہ وہ جوبنیادی طور پر ، بنیادِ مشکل سے الگ ہے، اس سے متفق نہیں ہیں۔ بہرحال موجود لوگوں میں سے کوئی لال بھجکڑ تھا، سمجھ دار آدمی، ذہین۔ تو اس نے یہ کہا کہ صاحب! اس جھگڑے ہی کو چھوڑئیے۔ارے ہم مومنین ہیں، آپ ہمارے امیر ہیں۔

لہٰذا یہ خلیفہ کا جھگڑا ہی ختم کیجئے۔ مصطفےٰ کمال پاشا نے بعد میں ختم کیا۔ انہوں نے اسی وقت ختم کردیا کہ صاحب! یہ جھگڑا نہیں۔ تو سن لے آپ نے کہ ہم مومنین اور آ پ ہمارے امیر۔کہا: کیا عمدہ رائے تم نے تجویز کی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پہلے ہی قدم میں رسول سے تو رشتہ منقطع ہوگیا۔ اب جمہور سے رشتہ رہ گیا۔ تو جناب! اب یہ سلسلہ شروع ہو گیا اور نسل در نسل چلتا رہا اور ہر دَور میں چلتا رہا۔جب تک کہ وہ سلسلہ ختم نہیں ہوگیا۔ اور جناب! ہمارے لئے یہ مشکل نہ پہلے تھی، نہ بعد میں ہوئی۔ ہمارے نزدیک بیچ میں کسی مخلوق کا قدم آتا ہی نہیں۔ ہمارے نزدیک رسول اللہ بھی خلیفۃ اللہ ، علی مرتضیٰ بھی خلیفۃ اللہ، حسن مجتبیٰ بھی خلیفۃ اللہ، حسین بھی خلیفۃ اللہ۔ پورا سلسلہ ہے خلفائے خدا کا۔ سب نائب خدا ہیں اور نائب رسول بھی ہیں۔نائب کا نائب بھی نائب ہی ہوتا ہے ۔ لہٰذا اس کے خلاف بات نہیں ہے۔

تو وہ اصول کہ جو اس کا کام ہو، وہ اُس کا کام ہو۔ تو یہ نیابت کا تقاضا اور جو اس کے ساتھ عمل ہو، وہ اس کے ساتھ عمل۔ یہی نیابت کا تقاضا ہے۔ اب میں قرآن مجید کی آیتیں پڑھتا ہوں۔

( مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ ) ۔

”جس نے رسول کی اطاعت کی، اُس نے اللہ کی اطاعت کی“۔

یعنی پہلی اضافت ان کی طرف اطاعت کی۔ پھر وہی اس کی طرف اضافت۔ کیا مطلب؟ چونکہ نائب ہیں، لہٰذا جو اُن کی اطاعت وہ اُس کی اطاعت۔

( اِنَّ الَّذِیْنَ یّبَایِعُوْنَکَ اِذْیُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ یَدُاللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ ) ۔

یہ جو آپ سے بیعت کررہے ہیں ، وہ اللہ سے بیعت کررہے ہیں۔ بیعت ہے ان کے ہاتھ پر مگر وہ کہہ رہا ہے کہ میری بیعت ہے۔ یہ اللہ کا ہاتھ ہے ان کے ہاتھ پر ورنہ وہ جسم و جسمانیات سے بری، اس کے ہاتھ کہاں سے آئے؟اسی دن کیلئے تونائب بنایا ہے۔ تو جو اس کے ساتھ برتاؤ، وہ اس کے ساتھ برتاؤ۔ جو ان کی نافرمانی کرے، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ نیابت کا تقاضا یہاں نظر آرہا ہے۔

جنابِ والا! بس، یہ اصول سمجھ لیجئے کہ جو اس کے ساتھ ہے، وہ اُس کے ساتھ اور جو اس کا کام ، وہ اُس کا کام۔ اب جہاں جہاں یہ بات نظر آئے ، سمجھ لیجئے کہ یہ نیابت کی دوسری نظیر ہے یعنی نائب ہونے کا ثبوت ان الفاظ سے ہوتا ہے۔اب دیکھئے متفق علیہ حدیث، صحاحِ ستہ کی ہے کہ رسول نے کہہ دیا:

یَاعَلِْیُّ حَرْبُکَ حَرْبِیْ سِلْمُکَ سِلْمِیْ “۔

یا علی ! تمہاری جنگ میری جنگ،

اس دوسرے لفظ کا ترجمہ ذرا مشکل سے ہوتا ہے۔ لوگ ترجمہ کرتے ہیں، تمہاری صلح مگر صلح کے لفظ سے ذہن میںآ تا ہے ، لڑنے کے بعد صلح کرنا تو اس ے معنی ہیں کہ پہلے لڑے۔ شاعر نے کہا ہے کہ بڑا مزا اس ملاپ میں ہے جو صلح ہوجائے جنگ ہوکر ۔ اس سے وہ مفہوم ادا نہیں ہوگا جو رسول نے کہا ہے۔ ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لڑکر آدمی پھر صلح کرے بلکہ حرب کے مقابلہ میں جو چیز ہوتی ہے، تم سے جنگ، مجھ سے جنگ۔ اور اب میں اُردو زبان میں کہنے کی کوشش کروں کہ تم سے ملاپ رکھنا، ملاپ کرنا نہیں، تم سے ملاپ رکھنا، مجھ سے ملاپ رکھنا ہے۔ اور بعض الفاظ ہیں جو ہمارے محاورہ میں نہیں تھیں۔ مگر اخباروں سے یاد آتی ہیں ، وہ ادائے مطلب میں مجھے یہاں مدد پہنچائیں گی۔

تو جناب! یہ ہمارا محاورہ نہیں تھا مگر اخباروں میں بہت دیکھا ہے۔ وہ میرے مطلب کی با ت ہے۔ وہ کیا؟ کہ ان سے جنگ، مجھ سے جنگ اور تم سے ناجنگی، مجھ سے ناجنگی۔ یہ حرب اور سلم دونوں مصدر ہیں۔ اُردو میں مصدر کے آخر میں ”نا“ ہوتا ہے۔ حرب کے معنی لڑنا اور سلم کے معنی نہ لڑنا۔حرب اور سلم دونوں عربی زبان میں مصدر ہیں۔ ہر زبان میں مصدر کی اضافت کبھی فاعل کی طرف ہوتی ہے اور کبھی مفعول کی طرف۔

کوئی دوست آپ کے ایسے تھے کہ بچہ پر غصہ آیا تو بیدردی سے ماررہے ہیں۔ آپ ملاقات کو گئے۔ وہ بچے کو ایسی شدت سے مار رہے تھے کہ آپ ٹھہرے نہیں،واپس آگئے۔ دوسرے دن انہوں نے کہا:ارے بھئی! آپ آئے اور ٹھہرے ہی نہیں۔ تو ان کے جواب میں آپ کہئے گا کہ تمہاری مار سے مجھے ایسی اذیت ہوئی ، ایسی تکلیف ہوئی ، تمہاری مار سے کہ مجھ سے دیکھا نہ گیا، میں چلا گیا۔ کیا مطلب؟ یہ اضافت فاعل کی طرف ہے۔ تمہاری مارسے۔ یعنی تم جو ماررہے تھے اپنے بچے کو، یہ ہوئی اضافت فاعل کی طرف۔ اب خدانخواستہ کوئی آپ کے شناسا ،انہیں راستے میں کسی نے زدوکوب کردیا۔ آپ کو خبر پہنچی۔ آپ سے ملاقا ت ہوئی تو آپ نے بطورِ ہمدردی کہا کہ بھئی! تمہاری مار سن کر مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ اب ”تمہاری مار“ کے کیا معنی ہوئے؟یعنی تم پر جو مار پڑی ۔ تو یہ اضافت مفعول کی طر ف ہوئی۔ وہاں اضافت فاعل کی طرف تھی۔یہاں تماری مار جو لفظ ہے، اس کی اضافت مفعول کی طرف ہے۔ اب رسول فرمارہے ہیں: ”یَا عَلِیُّ حَرْبُکَ حَرْبِیْ “۔ حدیث ہے متفق علیہ۔ دونوں معنی ہیں۔ دنیا کو جو پسند ہوں۔ دونوں مفہوم پیش کئے دیتا ہوں۔ اگر اضافت فاعل کی طرف ہے تو یہ معنی ہوں گے کہ یاعلی ! تمہارا جنگ کرنا میرا جنگ کرنا ہے۔ تو اب جس جس سے بھی علی نے جنگ کی ہو، اُسے سمجھئے کہ رسول اللہ نے جنگ کی۔ اگر اضافت مفعول کی طرف ہو تو معنی ہو گئے کہ تم سے جنگ کرنا مجھ سے جنگ کرنا ہے۔

تو اب تاریخ میں دیکھ لیجئے کہ جس جس نے ان سے جنگ کی ہو، اب نہ رشتہ دیکھئے گا، نہ صنف دیکھئے گا۔ اب ایک خاتونِ معظمہ، وہ بھی متفق علیہ حدیث ہے کہ فرمایا:

فَاطِمَة بَضْعَة مِنِّیْ “۔

”فاطمہ میراایک جزوہے“۔

مَنْ اَذَاهَافَقَدْاَذَانِیْ “۔

”جس نے اسے تکلیف دی، اس نے مجھے تکلیف دی“۔

وَمَنْ اَغْضَبَهَافَقَدْ اَغْضَبَنِیْ “۔

”اورجس نے اسے غضبناک کیا، اُس نے مجھے غضبناک کیا“۔

میں نے ابھی کہا کہ یہ ترکیب کہ جو اس کے ساتھ ہو، وہ میرے ساتھ ہوا۔یہ نیابت کا پتہ دیتا ہے۔ اب چاہے اس نیابت کی اس قسم کا مجھے نام نہ معلوم ہو، ناموں سے فرق نہیں پڑتا۔ کبھی وہ نیابت بصورتِ نبوت ہوتی ہے۔ کبھی نیابت بصورتِ رسالت ہوتی ہے۔ کبھی نیابت بصورتِ امامت ہوتی ہے۔ اب اس نیابت کا خواہ مجھے نام معلوم نہ ہو، مگر ان الفاظ کی رو سے ماننا پڑے گا کہ یہ بھی نائب رسول ہیں اور بچوں کیلئے کہا:

مَنْ اَحَبَّهُمَا فَقَدْ اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَغْضَبَهُمَافَقَدْ اَغْضَبَنِیْ “۔

”جس نے ان سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان کو غضبناک کیا، اس نے مجھ کو غضبناک کیا“۔

جو نیابت کے تقاضے ہیں، سب نظر آرہے ہیں یا نہیں! یہ سب احادیث پیغمبرہیں۔اس سے پہلے قرآن مجید کی آیتیں تھیں جو رسول کی نیابت کے بارے میں مَیں نے پیش کیں۔ اب بہت جانی پہچانی شخصیت، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ، جن کی کتاب ردِ شیعہ میں تحفہ اثناء عشریہ، اپنے طبقہ کیلئے مایہ ناز کتاب ہے۔ اس کے مصنف، تو جناب ان کی کتاب ہے سرالشہادتین۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ خدا نے ہمارے رسول کووہ سب فضیلتیں عطا کیں جو تمام انبیاء کو ملیں بلکہ اس سے بالا تر۔ لیکن ایک صفت انبیاء کو ملی تھی جو براہِ راست ہمیں ان کے ہاں نظر نہیں آتا۔ وہ ہے شہادت۔ لہٰذا خالق کو یہ منظو رہوا کہ صفت شہادت ان کے فضائل میں رہ بھی نہ جائے اور براہِ راست ان پر کسی دشمن کا وار کام بھی نہ کرے۔ اس کیلئے اللہ نے ان کو ۲ نواسے عطا فرمائے اور شہادت کی دو اقسام ہیں۔ ایک شہادتِ سرّی اور ایک شہادتِ جہری۔

مخفی شہادت زہر سے ہوتی ہے اور اعلانیہ شہادت تلوار سے ہوتی ہے۔ دونوں شہادتیں دونوں نواسوں پر تقسیم ہوگئیں۔ حسن کے حصہ میں شہادتِ سرّی آئی اور حسین کے حصہ میں شہادتِ جہری آئی۔ یعنی کھلم کھلا شہادت۔ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے صفت شہادت کو فضائل رسول میں شامل کردیا۔

اس کا نتیجہ؟انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ میرے سامنے ہوتے تو میں بڑے احترام سے عرض کرتا۔ بہت بڑے آدمی ہیں، میں بڑے احترام سے عرض کرتا ہوں کہ یہاں تک تو آپ نے فرمادیا، جو میں سوال کروں ،اس کا جواب دیجئے کہ جب اِن کی شہادت اُن کی شہادت، تو جو اِن کا قاتل ہے، وہ اُن کا قاتل۔

اب جناب! نہ ہچکچائیے گا،جتنے زور سے آپ نے وہ بات کہی ، اتنے ہی زور سے میری بات کا جواب دے دیجئے گا اور سوائے ایک جواب کے دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔ آپ کو منطقی طور پر قبول کرنا پڑے گا کہ جو اِن کا قاتل، وہ اُن کا قاتل یعنی رسول کا قاتل۔اب یہ جملہ ان کا ابھی تک ہے مگر کھول کر دونوں ٹکڑے کہہ دیجئے کہ جو حسن کا قاتل، وہ رسول کا قاتل اور جو حسین کا قاتل، وہ بھی رسول کا قاتل۔اب کوئی بحث نہ کیجئے گا کہ حسین کے قاتل کو یہ یہ کہا جائے یا نہیں۔بس آپ جو جو رسول کے قاتل کو کہہ سکتے ہیں، وہ کہئے۔ ایک اور سوال کا جواب ہوجائے ۔ ہم سے یہ سوال کیا جاتا ہے ، طرح طرح کی منطقی باتیں سوچ سوچ کر ہماری عزاداری پر کہی جاتی ہیں۔ یعنی ہاتھ ہم اپنے سینوں پر مارتے ہیں، دل دوسروں کے دہلتے ہیں۔ روتے ہم ہیں، صدمہ دوسروں کو ہوتا ہے۔طرح طرح کے منطقی سوال سامنے آتے ہیں کہ وفاتِ رسول پر اتنا غم و ماتم نہیں ہوتا جتنا امام حسین کی شہادت پر ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ان کو رسول سے بڑھاتے ہو۔

تو اب اس کا جواب تو یہ ہے کہ میں یہ کہوں کہ اچھا صاحب! نواسے کو ہم نے حصہ میں لے لیا ہے، رسول کو آپ حصہ میں لے لیجئے۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اس میں ہم آکر آپ کے ساتھ شریک ہوں گے، آپ اس میں ہمارے ساتھ شریک ہوجائیں۔

جناب شاہ عبدالعزیز کے مطابق سال میں دو تاریخیں ہیں، ایک وفاتِ رسول کی، ایک شہادتِ رسول کی۔وہ ربیع الاوّل کی کسی تاریخ کو ہے اور یہ جو دس محرم کو ہے، یہ شہادتِ رسول کی تاریخ ہے۔اب آپ بتائیے کہ وفات کی یادگار قائم کریں یا شہادت کی؟ اور اب مصائب میں مَیں کہتا ہوں کہ اسے ہم سے کیوں پوچھتے ہیں؟ آسمان سے پوچھیں کہ وفاتِ رسول پر خون کیوں نہیں برسا؟ حسین کی شہادت پر کیوں خون برسا؟

اسے سید کمال الدین محمد ابن طلحہ شافعی کی ”مطالب السئول“ میں دیکھ لیجئے۔ علامہ ابن حجر مکی کی ”صواعق محرقہ“ میں دیکھ لیجئے، خواہ سبط ابن جوزی کی”تذکرئہ خواص الآئمہ“ میں دیکھ لیجئے کہ دس محرم کے بعد چالیس دن تک جو کپڑازیر آسمان پھیلایا جاتا تھا،اُس پر خون کے دھبے نظر آتے تھے۔ اہل عزا دیکھیں کہ عاشورے ہی کی تاریخ اِدھر سے مقرر نہیں ہوئی بلکہ چہلم کی تاریخ بھی اُدھر سے مقرر کی ہوئی ہے۔یعنی اس نے بیس صفر تک کائنات کو سوگوار رکھاہے۔ چہلم کے دن تک، بیس صفرتک خون برس رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ پیغمبر خدا کے غم میں سیدہ عالم رو رہی تھیں، علی رو رہے تھے، حسنین رو رہے تھے ، ارے صحابہ میں بھی جن جن کو رونے کی فرصت تھی، وہ رو رہے تھے۔ سب ہی سیاست دان نہیں تھے۔ شاہ عبدالحق محدث دہلوی نے ”مدارج النبوة“ میں کہا کہ بعض صحابہ گریبان پھاڑ پھاڑکرجنگلوں میں نکل گئے اور مدینہ میں کہرام برپا تھا۔ یہ تاریخ سے ثابت ہے۔ تو یقینا یہ سب رو رہے تھے۔ مگر حسین کے غم میں تو رسول اللہ رو رہے ہیں او رپھر دیکھئے کہ جنابِ اُم سلمہ نے خواب دیکھا اور ہ بھی متفق روایت ہے کہ جس نے خواب میں مجھ کو دیکھا، اس نے مجھ ہی کو دیکھا کیونکہ شیطان کی یہ مجال نہیں کہ میری صورت میں آئے۔یہ صحیح مسلم وبخاری کی متفق حدیث ہے۔ اب دیکھئے صحیح ترمذی میں کہ جنابِ اُمِ سلمہ،اب کوئی اور خواب دیکھتا تو کوئی یہ بحث پیدا کرسکتا تھا کہ وہ رسول کی صورت کو کیا جانے؟ لیکن جنابِ اُمِ سلمہ کے بارے میں تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ رسول نے ایک خاک دی تھی کہ اسے رکھ چھوڑو۔

یہ بھی صحیح ترمذی میں ہے کہ جب یہ خون ہوجائے تو سمجھنا کہ میرا فرزند حسین شہید ہوگیا ہے۔یہ خاک جب حسین کے سفر کے بعد دیکھتی تھیں تو دل کو ڈھارس ہوجاتی تھی کہ حسین زندہ ہیں۔


فہرست

رضائے الٰہی ۴

قدو قامت سے خوب واقف! ۱۱

جو اُسوہِ رسول ہے ۱۵

اطاعتِ خداوندی ۳۱

حجتِ خدا ۴۳

مودّت فی القربٰی ۵۵

صبرواستقامت ۷۰

فلسفہ جہاد ۸۳

یقین کی آخری منزل ۹۹

تہذ یبِ اسلامی ۱۱۰

حقوق العباد ۱۲۱

معرفتِ امام ۱۳۱

وسیلہ اور شفاعت ۱۴۵

دینِ اسلام ۱ ۱۶۱

دینِ اسلام ۲ ۱۷۰

دینِ اسلام ۳ ۱۸۴

دینِ اسلام ۴ ۱۹۶

دینِ اسلام ۵ ۲۰۹

دینِ اسلام ۶ ۲۲۲

دینِ اسلام ۷ ۲۳۵


شعائرِ الٰہیہ ۱ ۲۴۵

شعائرِ الٰہیہ ۲ ۲۶۰

شعائرِ الٰہیہ ۳ ۲۷۲

شعائرِ الٰہیہ ۴ ۲۸۲

شہید کی جو موت ہے ۱ ۲۹۲

شہید کی جو موت ہے ۲ ۳۰۲

شہید کی جو موت ہے ۳ ۳۱۵

شہید کی جو موت ہے ۴ ۳۲۴

ہوجاو سچوں کے ساتھ ۱ ۳۳۷

ہوجاو سچوں کے ساتھ ۲ ۳۴۷

ہوجاو سچّوں کے ساتھ ۳ ۳۵۸

مقصدِ حیات ۳۷۴

امربالمعروف،نہی عن المنکر ۳۸۸

حقوق اللّٰہ اور حقوق العباد ۴۰۷

فلسفہ قربانی ۴۲۰

اسلام اور ادیانِ عالم ۱ ۴۳۳

اسلام اور ادیانِ عالم ۲ ۴۴۳

اسلام اور ادیانِ عالم ۳ ۴۵۹

امامت و خلافت ۱ ۴۷۲

امامت و خلافت ۲ ۴۸۸

معراج خطابت

معراج خطابت

اصلاح کتب

مؤلف: مولانا عابد عسکری
قسم: امام حسین(علیہ السلام)
صفحے: 44