پیغمبر اکرمؐ کی شناخت(عقل و سنت کی روشنی میں)

اصلاح کتب

مؤلف: حجت الاسلام محسن غرویان
رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


پیغمبر اکرمؐ کی شناخت(عقل و سنت کی روشنی میں)

تالیف: حجۃ الاسلام محسن غرویان

ترجمہ: سید خادم حسین رضوی بلتستانی

تصحیح :مولانامحمد یعقوب بشوی


انتساب

السَّلام عَلَیک یَا فاطمةَ الزَّهراء یَا بنتَ رَسول اللّه یَا قرَّةَ عَین المصطَفی

ولایت و امامت کے دفاع میں شہید ہونے والی اسلام کی اس پہلوشکستہ بی بی

حضـــــــــرت فــــاطــــمه زهرا سلام الله علیها

کے نام کہ جنہوں نے دفاع ولایت کی خاطر ایسے ایسے مصائب برداشت

کئے کہ اگر روشن دنوں پر پڑتے تو وہ سیاہ راتوں میں تبدیل ہو جاتے ۔


فصل اول

پیغمبر شناسی کی ضرورت

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نبوت کا موضوع اور وحی کا مسئلہ ایک راستے کے طورپر خداوندعالم نے جس کے ذریعہ انسان کو سعادت اور کمال کا راستہ دیکھاتا ہے ، اس راہ کے وجود کی ضرورت اور اس کی کیفیت اور اسی طرح اس راستہ کا اشتباہ اور تحریف سے محفوظ رہنا، اور اسی طرح حاملین کی شناخت کے طریقے اور تاریخ رسالت میں وحی کا بے ہمتا ہونا، بہت قیمتی مباحث میں سے ہیں۔

ہم اس کوشش میں ہیں تاکہ مقدمہ کے طور پر ، وحی کو حاصل کرنے والے جو گزشتہ زمانے میں مشعل ہدایت کے مالک تھے ، کچھ گفتگو کریں۔ اور موضوع گفتگو کو نبی اور حاملین وحی قرار دے دیں۔ اور ہم یہاں دو موضوع کے بارے میں گفتگو کریں گے۔

الف: پیغمبروں کے بارے میں عمومی مباحث جو ان میں سے کسی بھی فرد سے مختص نہیں ہیں۔

ب: پیغمبر اکرمﷺ کے بارےمیں کچھ ابحاث بیان کریں گے اور ساتھ ہی اس بحث میں پیغمبر اکرمﷺ کی خصوصیات زندگی کو مدنظر رکھتےہوئے ان کی رسالت کے دور کو الگ موضوع قرار دیں گے ۔

پیغمبروں کے بارے میں کلی ابحاث:

مندرجہ بالا موضوع میں ہم اپنی بحث کو تین مراحل میں تقسیم کریں گے :

پہلا مرحلہ: انبیاء کی اجتماعی خصوصیات۔

دوسرا مرحلہ: پیغمبروں کی انفرادی خصوصیات ۔

تیسرا مرحلہ: کچھ کلی موضوع کے بارےمیں۔

پہلا مرحلہ عام عناوین:

اس مرحلہ کو عام عناوین کے ذکر سے آغاز کریں گے :

۱ ۔ ۲ ۔ نبی ورسول:

یہ دو عنوان ان عناوین میں سے ہیں جو قرآن کریم میں سارے انبیاء پر اطلاق ہوا ہے۔ جیسے نمونہ کے طور پر مندرجہ ذیل آیات پر غور کریں:

( كاَنَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّنَ مُبَشِّرِينَ وَ مُنذِرِين ) (۱)

“لوگ ایک ہی دین (فطرت) پر تھے، (ان میں اختلاف رونما ہوا) تو اللہ نے بشارت دینے والے اور تنبیہ کرنے والے انبیاء بھیجے”۔

( قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَ ما أُنْزِلَ عَلَيْنا وَ ما أُنْزِلَ عَلى‏ إِبْراهيمَ وَ إِسْماعيلَ وَ إِسْحاقَ وَ يَعْقُوبَ وَ الْأَسْباطِ وَ ما أُوتِيَ مُوسى‏ وَ عيسى‏ وَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَ نَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ) (۲)

کہدیجیے: ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور جو ہماری طرف نازل ہوا ہے اس پر بھی نیز ان (باتوں ) پر بھی جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئی ہیں اور جو تعلیمات موسٰیؑ و عیسٰیؑ اور باقی نبیوں کو اپنے رب کی طرف سے ملی ہیں (ان پر ایمان لائے ہیں )،ہم ان کے درمیان کسی تفریق کے قائل نہیں ہیں اور ہم تو اللہ کے تابع فرمان ہیں۔

( اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّه وَالْمُؤْمِنُوْنَ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللهِ وَمَلٰائكَتِه وَكُتُبِه وَرُسُلِه لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِه وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْر ) (۳)

رسول اس کتاب پر ایمان رکھتا ہے جو اس پر اس کے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور سب مومنین بھی، سب اللہ اور اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں (اور وہ کہتے ہیں ) ہم رسولوں میں تفریق کے قائل نہیں ہیں اور کہتے ہیں : ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی،پالنے والے ہم تیری بخشش کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے

( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ) (۴)

اور بے شک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرو۔

جیساکہ آپ نے ملاحظہ فرمایا! یہ دو تعبیریں نبی و رسول اور تمام انبیاء کے لئے استعمال ہوئی ہیں اور کسی نبی کے ساتھ مختص نہیں ہیں۔ یہاں ضروری ہے کہ ان دونوں کلمات کا مفہوم اور ان دو کلمات کا رابطہ مصداق کے اعتبار سے واضح کیا جائے لفظ نبی صفت مشبہ اور فعیل کی وزن پر ہے۔ اگر یہ کلمہ نبوۃ کے مادہ سے مشتق ہو اور رفعت و بلندی مقام کے معنی میں آجائے تو نبی کا معنی بلند مرتبہ اور اس کا مفہوم آگاہ اور مطلع ہوگا؛ البتہ یہ عنوان کیونکہ اللہ کے پیغام لانے والوں کے لئے استعمال ہوگیا ہے تو دوسرا معنی اس کے لئے مناسب اور بہتر ہوگا، یعنی ہم یہ ضرور کہتےہیں کہ نبی ایسا شخص ہے کہ خود آسمانی پیغامات سے آگاہ ہو ، اوردوسروں کو بھی ان پیغامات سے آگاہ کرے ؛ لہذا اس بنا پر رفعت مقام نبی کی نبوت کا لازمہ ہوگا نہ کہ اس کا مساوی معنی؛ لذا نبی وہ ہے جو وحی الٰہی سے آگاہ اور با خبر ہو لیکن لفظ رسول کا معنی ہے پہنچانے والا چاہئے اس کی رسالت پیغام پہنچانا ہو یا ایک قسم کا کام انجام دینا جیساکہ قرآن کریم میں حضرت مریم کی قصہ میں ملائکہ کی زبان سے ارشاد ہوتا ہے:

( قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ لِاَهبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا ) (۵)

لیکن ہم چونکہ لفظ رسول کو اردو میں پیغمبر پیغام لانے والا کے ساتھ ترجمہ کرتےہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ یہ لفظ تمام انبیاء الٰہی جو بشر کی ہدایت کے لئے آئے ہیں ان سب کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔

یہ تو واضح ہے کہ ان کی رسالت یعنی اللہ کا پیغٖام لوگوں تک پہنچانا ہوتاہے(۶) ۔اس توضیح سے یہ معلوم ہوا کہ نبی اور رسول کا مفہوم متباین اور دو الگ الگ مفہوم ہیں۔ یہ مفہوم ایک دوسرے سے الگ اور جدا ہیں اور ان دونوں مفہوم کے درمیان کوئی مشترکہ رابطہ مفہومی موجود نہیں ہے(۷) لیکن ارتباط مصداقی کے لحاظ سے ضروری ہے کہ ہم قرآن کریم کی آیات کی طرف رجوع کریں تاکہ یہ دونوں الفاظ کے استعمال کے موارد پر توجہ کرکے یہ دیکھیں کہ کیا لفظ رسول سے مراد نبی کے علاوہ کوئی اور شخص ہے یانہیں؟ بلکہ یہ دو الفاظ متصادق ہیں اور ایک دوسرے کے جگہ پر استعمال ہوئے ہیں؟ مذکورہ آیات اور مشابہ آیات سے واضح کرسکتےہیں کہ یہ الفاظ متصادق ہیں ان تمام آیات کا ظہور جس میں رسول کا عنوان ذکر ہوا ہو یا نبی کا ۔ تمام انبیاء و رسل الٰہی کو شامل ہے اس موضوع میں فقط کچھ آیات اس استظہار کےخلاف کو ثابت کرتی ہیں ۔ ایک آیت میں آیاہے:

( وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰٓى اِنَّه كَانَ مُخْلَصًا وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا ) (۸)

ایک اور آیت میں آیا ہے:( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ ..) ۔(۹)

جیسا کہ آپ ملاحظہ کر رہے ہیں ان دو آیات میں رسول اور نبی کو ایک دوسرے کے ساتھ لایا گیا ہے جو ظاہرا مصداق کے اعتبار سے ایک دوسرے سے الگ اور متفاوت ہیں کیونکہ اگر یہ دونوں الفاظ ایک مصداق کے مالک ہوتے تو ہم دونوں آیات میں ایک لفظ کو ذکر کرنے سے دوسرے لفظ سےبے نیاز ہوجاتے تھے ۔(۱۰)

شاید پہلے والے استظہارکو تقویت دے کر اور ان آیات کے ظہور کو توجیہ کرنے کے بعدہی ان دونوں لفظوں کے اختلاف کو مٹا سکیں؛ اس طریقے سے کہئے کہ یہ دوعنوان رسول اور نبی ان عناوین میں سے ہیں کہ ہر وقت ایک ساتھ ذکر ہوجائیں تو الگ الگ اور تنافی کا معنی دیتے ہیں جیسا کہ مذکورہ دو آیتوں کی طرح ۔ اس صورت میں رسول کےعنوان کو ایک مختص اور الگ خصوصیت کے ساتھ ملاحظہ کیا جائے گا اور یہ خصوصیت نبی پر صدق نہیں آئے گی یعنی رسول جو پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچانے کے علاوہ کوئی اور رسالت بھی دوش پر لئے ہو، اور جب تک دونوں الفاظ باہم نہ آجائیں، متصادق ہے، یعنی دو مفہوم ملکر ایک مصداق پر اشارہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ آیتوں کی طرح جو موضوع کے ابتداءمیں ذکر ہوئیں۔(۱۱)

جو اب تک بیان ہوا وہ ان دو الفاظ کے لغوی مفہوم اور اس کے استعمال کے مواردتھے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہوا تھا، لیکن روایات اور اسلامی احادیث کی طرف رجوع کرنے کے بعد دو اور مفہوم رسول اور نبی کے لئے ملتے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ نبی وہ ہے جو پیغامِ پروردگار کو عالم خواب میں حاصل کرے اور رسول وہ ہے کہ وحی کا فرشتہ اس کے پاس حاضر ہوکر پیغام الٰہی کو بیداری کی حالت میں اس تک پہنچادے، مثال کے طور پر ان روایات پر توجہ فرمائیں:

امام محمد باقر (ع) سے رسول ، نبی اور محدّث کے بارے میں سوال ہوا : جواب میں آپ (ع)نے فرمایا: رسول وہ ہے جو فرشتہ وحی اس کے پاس حاضر ہوتا ہے جس طرح کہ آپ اپنے ساتھی سے گفتگو کرتے ہیں ، اور نبی وہ ہے جو فرشتہ وحی کو عالم خواب میں دیکھتا ہے جیساکہ وہ چیزیں جو حضرت ابراہیم نے عالم رؤیا میں دیکھی ۔ امام (ع) سے سوال پوچھا گیا: نبی کو کیسے معلوم ہوتاہےجو عالم رؤیا میں دیکھا ہے، وہ صحیح ہے اور حقانیت کی بنا پر ہے؟ امام صادقؑ نے فرمایا: اللہ تعالی اس مطلب کو اس پر آشکار کرتا ہے اور رسول اکرمؐ نبی بھی ہیں ۔ محدث وہ ہے کہ پیغام الہی کی آواز جس کی کانوں تک پہنچے مگر کسی کو نہ دیکھے ۔(۱۲)

زرارہ کہتا ہے: میں نے امام باقر (ع) سے اللہ تعالی کے اس کلام کے بارے میں جو فرمایا ہے:

وَ كانَ رَسُولاً نَبِيًّا ۔ پوچھا اور ان دونوں کے فرق کے بارے میں پوچھا ؛ امامؑ نے جواب میں فرمایا:

نبی وہ شخص ہیں جو وحی کےفرشتہ کو خواب میں دیکھتے ہیں اور ان کی آواز کو بھی سنتے ہیں لیکن عالم بیداری میں ان سے ملاقات نہیں کرتے ہیں اور رسول وہ ہے جو بیداری کی حالت میں اس فرشتہ کو دیکھتے بھی ہیں اور بات بھی کرتے ہیں ۔ زرارہ کہتا ہے: میں نے امامؑ سے امام کا مقام کے حوالےسے پوچھا: تو فرمایا: امام فرشتہ الٰہی کی آواز کو سنتا ہے لیکن نہ خواب میں اور نہ بیداری میں اس کو دیکھتے ہیں اس وقت اس آیت کو تلاوت فرمایا: وما ارسلناک من رسول ولا محدث ۔(۱۳)

۳ ۔ ۴ ۔ بشیرونذیر :

( كاَنَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّنَ مُبَشِّرِينَ وَ مُنذِرِين ) (۱۴)

لوگ ایک ہی دین (فطرت) پر تھے، (ان میں اختلاف رونما ہوا) تو اللہ نے بشارت دینے والے اور تنبیہ کرنے والے انبیاء بھیجے۔

نذیر کا معنی ہے ڈرانے والا اور بشیر کا معنی بشارت اور خوشخبری دینے والا یہ دونوں لفظ وہ عمومی عناوین میں شامل ہیں جو انبیاءالٰہی کے بارے میں وارد ہوئے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ بشیر کا عنوان کبھی قرآن کریم میں تنھا استعمال نہیں ہو اہے اور ہمیشہ نذیر کے عنوان کے ساتھ آیاہے ، لفظ نذیر کے برعکس جو تنہا بھی استعمال ہوا ہے "ًوَ إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلاَّ خَلا فيها نَذير (۱۵) یہ فرق ایک تربیتی مطلب کی طرف اشارہ کررہا ہے وہ یہ ہے کہ تہدید کے عنصر کا نقش موضوع تربیت میں عنصر امید سے زیادہ مؤثر ہے ، خصوصا ایسے شرائط میں جو ہم انسان سے چاہتےہیں کہ ایسے واقعات کے سامنے جو ان کے ساتھ کوئی تعلق بھی نہیں ہے ظاہری طور پر سرتسلیم خم کرکے ان سے یہ چاہتےہیں کہ اپنے نفسانی خواہشات سے صرف نظرکرے، تو ان حالات میں عامل تہدید کا کردار بہت ہی اساسی اور اہمیت کےحامل ہوتا ہے ۔

۵ ۔ مبیّن وحی: وحی بیان کرنے والا:

لوگوں کے لئے وحی الٰہی کی تبیین اور تشریح کرنا ، مرتبہ اور ذمہ داریوں میں سے ایک اور مرتبہ اور ذمہ داری ہے جو انبیاءکے لئے شمار کئے ہیں اس معنی کےاعتبار سے کہ انبیاء ذمہ دار ہیں پیغام الٰہی کو ابلاغ کرنے کے علاوہ لوگوں کے لئے اس پیغام کی گہرائیاں اور مبہم نقاط کو تشریح کرلیں تاکہ پروردگار عالم کا مقصود لوگوں کے لئے واضح ہوجائے۔

اس مقام کو بعض آیات کی اطلاقات کے ذریعہ سے انبیاء کے لئےاستفادہ کرسکتے ہیں :

( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِه لِيُبَيِّنَ لَهمْ فَيُضِلُّ اللهُ مَنْ يَّشَاءُ وَيَهدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهوَالْعَزِيْزُالْحَكِيْم ُ ) (۱۶)

ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی قوم کی زبان میں تاکہ وہ انہیں وضاحت سے بات سمجھا سکے پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتاہے ہدایت دیتا ہے اور وہی بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔

اس آیت میں وحی کاتبیین اور تشریح بطور مطلق انبیاء الٰہی کے ذمہ داری میں شمار ہوگئی ہے اس صورت میں بدیہی ہے ان کے توضیحات اور تشریحات پیغام الٰہی کی تفسیر کےحوالے سے معتبر ہو اور اس اساس پر عمل پیرا ہونا ہمارے لئے ضروری ہے۔

۶ ۔ قضاوت اورفیصلہ :

انبیاء کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری لوگوں کے حوالے سے جو لوگوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں ان کے درمیان قضاوت اور فیصلہ کرنا ہے ۔ قاضی وہ ہے جولوگوں کے درمیان اختلاف اورجھگڑے کی صورت میں احکام کلی کو جزئی موضوعات پر تطبیق کرے اوراپنے حکم سے نزاع کی سرنوشت کو تعیین کرتا ہے۔ توواضح رہے کہ اس طرح کا کام تمام لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ کام انجام دینے کے لئے صلاحیت علمی کے علاوہ خواہشات نفسانی سے دوری اختیار کرنا بھی شرط ہے۔ بعض انبیاء کے اس مقام کی طرف آیات قرآن کریم واضح طور پر روشنی ڈالتی ہیں:

( يٰدَاودُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ ) (۱۷)

اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلہ کریں۔

۷ ۔ حکومت:

حکومت اور معاشرے کا چلانا پیغمبروں کی ذمہ داریوں میں سے شمار کیا گیا ہے۔ بغیر تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت اور سوسائٹی کی مدیریت معاشرت کی ایک ضرورت ہے کوئی معاشرہ ایک ایسے حاکم کے وجود سے جو اعلیٰ سوچ رکھنے والا اور جس کا فرمان سب کے لئے نافذ ہو، بےنیاز نہیں ہے ، انسانی معاشر ے میں قوانین آسمانی اجراء کرنے کے لئے ایک صالح مجری کی ضرورت ہے تاکہ ان قوانین کو معاشرے میں اجرا کر سکے ۔

قرآن کریم اس مقام کو بعض انبیاء الٰہی کے بارےمیں صراحتا ذکر فرماتا ہے، ایک آیت میں فرمایا ہے:

( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللهِ ) (۱۸)

اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس لیے بھیجا ہے کہ باذن خدا اس کی اطاعت کی جائے ۔

شاید اس آیت کی اطلاق سے اور تنقیح مناط کے ذریعہ سے اس منصب کو عمومی طور پر تمام انبیاء کے لئے اثبات کرسکے۔ واضح ہے کہ انبیاء کے فرامین پر عمل کرنا سب پر لازم ہے اور ان کے حکومتی اوامر بھی ان کے فرامین میں شامل ہے۔

۸ ۔ امامت اور رہبری:

انبیاءکے منصبوں میں سے ایک اور منصب منصب امامت ہے ۔ بعض انبیاء نبوت کے علاوہ مقام امامت پر بھی فائز تھے۔

قرآن کریم حضرت ابراہیم کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:

( وَ اِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهیمَ رَبُّه بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ ) (۱۹)

اور ( وہ وقت یاد رکھو)جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور انہوں نے انہیں پورا کر دکھایا، ارشاد ہوا : میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں ، انہوں نے کہا: اور میری اولاد سے بھی؟ ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا ۔

امام کا معنی لغت میں پیشوا، رہبر اور مقتدا کے ہیں۔ اور امام جماعت اور امام جمعہ وہ ہے جو لوگ نماز میں اس کی پیروی کرتے ہیں اور معاشرے میں بھی امام اسی معاشرے کے پیشوا اور رہبر پر اطلاق ہوتا ہے؛ یعنی وہ شخص جو مختلف شرائط میں معاشرے کی ہدایت اسی کے ہاتھوں میں سپرد کیاگیا ہو۔ چاہئے ہدایت اور رہبری سعادت و صلاح کی طرف ہوجیساکہ قرآن کریم میں فرمایاہے:

( وَجَعَلْنٰهمْ اَئِمَّةً يَّهدُوْنَ بِاَمْرِنَا ) (۲۰)

یاکہ گمراہی اور فساد کی مسیرمیں ہوجیساکہ قرآن کریم میں فرمایاہے:

( وَجَعَلْنٰهمْ اَئمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ) ۔(۲۱)

اور ہم نے انہیں ایسے رہنما بنایا جو آتش کی طرف بلاتے... ۔

وہ چیز جو حضرت ابراہیم کی امامت کی آیت میں مورد نظر ہے ، مفہوم لغوی کے علاوہ کوئی اور خصوصیات کی حامل ہے؛ کیونکہ علاوہ اس کے کہ یہ مقام لوگوں کے ساتھ مرتبط رہتا ہے، ایک ایسے مرتبے کا مالک ہے جو نبوت اور امامت سے بھی بالاتر ہے اور ایسا مقام ہے جو نبوت کے بعد حضرت ابراہیمعلیہ السلام کے بڑھاپے اور کہولت سنی کی دور میں اسے عطا ہوا ہے اس مطلب کی مؤیّد اس آیت میں ہے جو حضرت ابراہیم کی زبان سے بیان ہوئی ہے :

( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ اِنَّ رَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَاءِ ) (۲۲)

ثنائے کامل ہے اس اللہ کے لئے جس نے عالم پیری میں مجھے اسماعیل اور اسحق عنایت کیے، میرا رب تو یقینا دعاؤں کا سننے والا ہے ۔

اور اسی طرح مورد بحث والی آیت بھی حضرت ابراہیمعلیہ السلام کی امامت کی طرف ہمیں متوجہ کراتی ہے جوان کو سخت امتحانات کے بعد ملی اور اس اہم نکتہ کو مدنظر رکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذبح مشکل ترین آزمائشوں میں شمار ہوتی ہے جو اللہ کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہوئی تھی اس تشریعی مقام کی خصوصیات میں سے جیساکہ لفظ امام کے اطلاق سے لزوم و فرمانبرداری اور لوگوں کی اطاعت بطور مطلق اس صاحب منصب اور مقام کی رفتار و گفتار سے مختلف عرصوں میں جیسے حکومت، قضاوت اور احکام الٰہی کی تبیین کرنے کو سمجھ میں آتا ہے، اگرچہ نبوت کی مباحث میں تمام انبیاء کی رفتار و گفتار سے پیروی کرنے کی لزوم پر اشارہ ہوا ہے لیکن وہاں دامن بحث تبیین وحی کی حد سے جو انبیاء کے توسط سے ہوتی ہے اسے آگے نہیں بڑھایا جا سکا ؛ لیکن مقام امامت کی شان کے مطابق مسئلہ لزوم پیروی از امامت میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ حکومت کےموضوع اور قضاوت اور زندگی کی باقی جہات بھی اس مسئلہ میں شامل ہوتی ہیں؛ کیونکہ امام معاشرے کے لئے نمونہ عمل ہیں اور لوگوں پر لازم ہے اپنے زندگی کے ہر میدان اور مختلف جہات میں اس الگو کو اپنائے اور عملی طور پر سارے فردی و اجتماعی فعالیتوں میں اس کو اپنے لئے نمونہ اور پیشوا سمجھے ۔

۹ ۔ انبیاء ماسبق کی تصدیق:

ہر پیغمبر تمام انبیاء ماسبق اور ان کی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والے تھے(۲۳) یہ ان کے درمیان ایک مشترکہ خصوصیت شمار ہوتی ہے جوسب انبیاء میں ایک دوسرے کے قبال میں انجام دے رہے تھے۔ اس بارے میں قرآن کریم کی متعدد آیات کو ہم دیکھ سکتے ہیں ہم کچھ مورد بیان کرتے ہیں:

( وَاِذْ اَخَذَ اللهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِه وَلَتَنْصُرُنَّه ) (۲۴)

اور جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر آئندہ کوئی رسول تمہارے پاس آئے اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اس کی تصدیق کرے تو تمہیں اس پر ضرور ایمان لانا ہو گا اور ضرور اس کی مدد کرنا ہو گی ۔

( وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ كِتٰبَ اللهِ وَرَاءَ ظُهوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْن ) ۔(۲۵)

اور جب اللہ کی جانب سے ان کے پاس ایک ایسا رسول آیا جو ان کے ہاں موجود (کتاب)کی تصدیق کرتا ہے تو اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا گویا کہ اسے جانتے ہی نہیں ۔

( وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ ) (۲۶)

اور یہ کتاب جو ہم نے نازل کی ہے بڑی بابرکت ہے جو اس سے پہلے آنے والی کی تصدیق کرتی ہے ۔

۱۰ ۔ پیغمبر خاتم کی آمد کی خوشخبری :

وحی کا پیغام لانے والوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک اور ذمہ داری اپنے بعد میں آنے والے بعض دیگر انبیاء کےظہور کی بشارت دینا ہے ۔ قرآن کریم ایسے انبیاء کو یاد کرتا ہے جو انہوں نے اپنے پیروکاروں کو ان کے بعد آیندہ آنے والے پیغمبر کے ظہور کی بشارت دیں:

( وَاِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰیةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْ بَعْدِي اسْمُهٓ اَحْمَدُ ) (۲۷)

اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور اپنے سے پہلے کی (کتاب) توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جن کا نام احمدہو گا۔

پیغمبر اعظم ﷺ کی انسان ساز اور مبارک بعثت کے بارے میں انبیاء ماسلف کی بشارت اس طرح تھیں کہ اہل کتاب آنحضرت کو پہچانتے تھے جیساکہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے۔ آیندہ مباحث میں ان بشارتوں میں سےکچھ نمونے ذکر کریں گے اور یہاں صرف اسی ایک مورد پر اکتفا کرتے ہیں۔


دوسری فصل

انبیاء الٰہی کے معنوی اور روحانی رتبے

قرآن کریم میں انبیاء کے لئے کچھ رتبے ذکر ہوئے ہیں جو ہم ذیل میں بیان کریں گے:

۱ ۔ صالح:

متعدد آیات میں انبیاء کی وصف صالح سے توصیف ہوئی ہے ۔

( وَوَهَبْنَا لَهٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ ) (۲۸)

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب بطور عطیہ دیے اور ہم نے ہر ایک کو صالح بنایا ۔

( وَزَكَرِيَّا وَيَحْيٰى وَعِيْسٰي وَاِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ) (۲۹)

اور زکریا، یحیی، عیسیٰ اور الیاس کی بھی، (یہ سب صالحین میں سے تھے ۔

صالح اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو کسی چیز کی اہلیت اور لیاقت رکھے وہ چیز چاہے معنوی امور میں سے ہو یا مادی امور میں سےہو، بطور مثال جب ہم کہتے ہیں کہ حسن ایک صالح شخص ہے فلاں ٹرسٹ کو چلانے کے لئے ، یعنی وہ اس ٹرسٹ کو چلانے کی صلاحیت اور قابلیت رکھتا ہے ۔یہ کہ جب ہم کہتے ہیں وہ فلاں اموال کی حفاظت کرنے کے لئے ایک صالح فرد ہے یعنی اس میں اموال کی حفاظت اور حراست کے لئے قابلیت ہے۔ اور اس وقت جب اس خصلت کو عمومی طور پر اور ہر قسم کے قید سے مبرا کسی کے لئے استعمال کرتے ہیں، تو غالبا اسی معنی میں ہے جو شخص شایستہ اور لیاقت رکھتا ہے تاکہ اپنے پروردگار کی رحمت سے فیضیاب ہوجائے اور یہ بدیہی ہے کہ اس قابلیت کے مختلف مراتب و درجات ہیں جو ہر شخص اپنے کمالات کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتاہے اور فائدہ اٹھاتاہے۔

۲ ۔ صدّیق:

صدیق، انبیاء کی صفات میں سے ایک صفت ہے جو قرآن کریم میں آئی ہے اور مبالغہ کا صیغہ ہے، مادہ صدق سے ۔یہ سچائی اور درستی کا معنی دیتاہے۔لہذا صدیق یعنی وہ ہے جو رفتار و کردار میں سچا ہو ، سارے انبیاء ایسے تھے جو بھی بولتے تھے سچ اور صحیح تھا اور اپنے گفتار پر عمل بھی کرتے تھے، اب آیات میں سے دو نمونہ پر توجہ فرمائیں:

( وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهيْمَ اِنَّه كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا ) (۳۰)

اور اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر کیجیے، یقینا وہ بڑے سچے نبی تھے ۔

( وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ اِنَّه كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا ) (۳۱)

اور اس کتاب میں ادریس کا (بھی) ذکر کیجیے، وہ یقینا راستگو نبی تھے ۔

۳ ۔ خلیل:

خصلتوں میں سے ایک خصلت جو حضرت ابراہیمعلیہ السلام کے بارےمیں صراحتا ذکر ہوئی ہے صفت خلیل ہے( وَاتَّخَذَ اللهُ اِبْرٰهيْمَ خَلِيْلًا ) (۳۲)

اور ابراہیم کو تو اللہ نے اپنا دوست بنایا ہے ۔

خلیل، خلّت کے مادہ سے فقر اور تنگدستی کا معنی دیتاہے اور ایک شخص کا خلیل وہ ہے جو اپنی تمام حاجتوں اور خواہشات کو اس سے طلب کرے اور اپنے سارے امورکو اس پر چھوڑدے، حضرت ابراہیمعلیہ السلام نے اپنے سارے کاموں کو اللہ تعالی پر موکول کیا، اپنے کاموں میں خداوند متعال کے علاوہ کسی اور سے طلب نہیں کیاکرتے تھے اور پروردگارعالم نے بھی اس کے تمام امور کو بہترین طریقے سے منزل مقصود تک پہنچا دیا۔

۴ ۔ مخلص:

ایک اور صفت جو انبیاءکے لئے آئی ہے مخلص ہے ، بطور مثال مندرجہ ذیل آیت میں ارشاد ہوتاہے:

( وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰٓى اِنَّه كَانَ مُخْلَصًا وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا ) (۳۳)

اور اس کتاب میں موسیٰ کا ذکر کیجیے، وہ یقینا برگزیدہ نبی مرسل تھے ۔

کچھ اور آیات میں یہی صفت دوسرے انبیاء کے لئے ذکر ہوئی ہے ۔ یہ خصلت عصمت کی صفت کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے اور انبیاء الٰہی کی عصمت کے ابحاث میں مورد بحث واقع ہوتی ہے ۔

۵ ۔ صابر:

صابر کا معنی استقامت اور بردباری ہے یہ صفت ان طاقتوں کے مقابلے میں استعمال ہوتی ہے جو انسان کو اپنے آخری ہدف اور انسانی کمال سے دور کرتی ہے ، یہ صفت بھی انبیاء الٰہی کی خصوصیات میں شمار ہوتی ہے۔

قرآن کریم میں حضرت ایوب علیہ السلام کے لئے بھی یہی صفت بیان ہوئی ہے:

( ...و انّا وجدناه صابراً...) (۳۴) ..ہم نے انہیں صابر پایا... ۔

۶ ۔ علم و آ گاہی:

جیساکہ کلام کی کتابوں میں علم انبیاء کے موضوع میں ذکر ہوچکا ہے ۔ علم اور آگاہی سارے انبیاء کی خصوصیات میں سے شمار ہوتی ہے، البتہ معمولی اور عادی طریقے سے اس علم کو حاصل نہیں کرسکتے اور اس علم کی سطح میں بھی سارے انبیاء مساوی اور برابر نہیں ہیں، قرآن کریم نے متعدد آیات میں علم انبیاء کی طرف اشارہ کیا ہے من جملہ حضرت داؤدعلیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوا ہے:

( وَ لَقَدْ آتَيْنا داوُدَ وَ سُلَيْمانَ عِلْماً ) ۔(۳۵) اور بے شک ہم نے داوود اورسلیمان کو علم اور آگاہی بخشی ہے ۔

۷ ۔ مسلم:

بعض آیات میں بڑے انبیاء جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مسلم کے عنوان سے یاد کیا ہے:

( مَا كَانَ اِبْرٰهيْمُ يَهوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ) (۳۶)

ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی بلکہ وہ یکسوئی کے ساتھ مسلم تھے اور وہ مشرکین میں سے ہرگز نہ تھے ۔

قرآن کی نگاہ میں صحیح اور مقبول دین فقط اسلام ہے اور جو اسلام کے بغیر کوئی دوسرا دین اختیار کرلے تو پروردگار عالم کی بارگاہ میں قابل قبول نہیں ہے۔

( وَمَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَفِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ) (۳۷)

اورجو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا خواہاں ہو گا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گااور ایساشخص آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گا ۔

لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام سے مراد اس کے لغوی مفہوم ہے یعنی پروردگار کے سامنے تسلیم رہنا، جو اس کی حد نصاب توحید کے ابواب میں تفصیل سے بیان ہوگا۔ لہذا اگر کہا جائے کہ حضرت ابراہیم اور باقی تمام انبیاء دین اسلام کی پیروی کرتےتھے ، اس کا معنی یہ ہے کہ بغیر قید و شرط کے احکام و فرامین الٰہی کے سامنے تسلیم تھے۔ اور بعض آیات سے یہ نکتہ بطور روشن واضح ہوتاہے:

( اِذْ قَالَ لَه رَبُّهٓ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) (۳۸)

(ابراہیم کا یہ حال بھی قابل ذکر ہے کہ) جب ان کے رب نے ان سے کہا: (اپنے آپ کو اللہ کے) حوالے کر دو، وہ بولے: میں نے اپنے آپ کو رب العالمین کے حوالے کر دیا ۔

قرآن کریم انبیاء کے کچھ اور خصلتوں کو بھی ہمیں یاد دلاتا ہے جیسے صادق الوعد عہد و پیمان پر وفادار افراد اخیار نیک اور پسندیدہ لوگ، حلیم بہت صابر و بردبار، اوّاب اللہ تعالی کی طرف بہت زیادہ توجہ رکھنے والا، اسی طرح سے اور بہت کچھ فضائل اور کمالات ہیں لیکن بحث طولانی ہونے کی وجہ سے ہم ان کے ذکر کرنے سے صرف نظر کرتے ہیں۔


تیسری فصل

انبیاء کی دعوت کے بارے میں کلی مباحث

پیغمبر اسلام (ص) کا وجود ساری امتوں کے لئے :

کیا ہر زمان اور ہر مکان میں اللہ کی طرف سے پیغمبر مبعوث ہواہے؟

ممکن ہے بعض آیات و روایات کی رو سے اس مطلب کو استفادہ کرسکیں کہ انبیاء کی کثرت اور کوئی برہۂ زمانی حجت الٰہی سے خالی نہ رہنے کی حکایت کرے جو اس سوال کے لئے مثبت جواب شمار ہوتاہے لیکن توجہ کی بات یہ ہے کہ جو چیزیں قرآن کریم میں تصدیق اور تاکید کا مورد قرار پائی ہے وہ یہ ہے کہ ہر امت کے لئے اللہ کی طرف سے انبیاء و رسل الٰہی کی بعثت ہے:

( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا ) (۳۹)

اور بتحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے ۔

کسی اور جگہ پر فرماتے ہیں:( وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ ) (۴۰)

اور کوئی امت ایسی نہیں گزری جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو ۔

لفظ امت کے موارد استعمال کے لحاظ سے قرآن کریم میں حتی حیوانات کے بارے میں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے(۴۱) فقط یہ نکتہ ہمیں ملتا ہے کہ یہ لفظ انسانوں یا غیر انسانوں کے ایک گروہ اور معین دستہ پر اطلاق ہوتا ہے، اما یہ سوال جو اس گروہ کی مشترک خصوصیت اور ا ن کے درمیان موجودہ وحدت کا عنصر کیا ہے؟ کیا زمان مشترک ، مکان واحد،، وحدت ہدف یا کوئی اور چیزیں ہیں؟ یہ وہ مطالب ہیں جو مذکورہ آیات سے استفادہ نہیں کرسکتے ہیں، لہذا تمام زمانوں میں یا تمام مکانوں میں ہرقوم کے درمیان ایک ہی پیغمبر کے مبعوث ہونے پر کوئی دلیل موجودنہیں ہے، البتہ اس مطلب کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ ہر زمان و مکان میں ایک گروہ کے لئے حجت الٰہی کی موجودگی کا امکان نہ ہو بلکہ روایات کی تصریح اور قرآن کریم کی روشنی میں جو عقلی براہین سے مورد تائید بھی ہے کسی وقت بھی زمین حجت الٰہی کی وجود سے جو لوگوں کو ہدایت اور کمال کی راہ دکھاتا ہے خالی نہیں ہوجائےگا، لیکن اس موضوع میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ خدا کا حجت پیغمبر ہی کا ہونا لازمی نہیں ہے، بلکہ احتمال یہ ہے کہ اس حجت الٰہی سے مراد جانشین پیغمبر اور حتی آسمانی کتاب ہو۔

ایک وقت میں دو پیغمبر:

جو قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے بعض ادوار میں دو پیغمبر لوگوں کے درمیان موجودتھے مثلاً حضرت ابراہیم اور لوط یہ دو نبی ایک ہی زمانے میں تھے اور اسی طرح حضرت موسی اور اس کا بھائی ہارون قوم بنی اسرائیل کے درمیان ایک زمان میں اللہ کے دو پیغمبر تھے ۔ البتہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان موارد میں ہمیشہ دو نبیوں میں سے ایک نبی دوسرے نبی کے پیروتھے۔

انبیاء کی دعوت کا مقصد :

جیساکہ اس سے پہلے ذکر ہوچکا، انبیاء الٰہی کی دعوت کا محتویٰ ، زمانی اور مکانی تفاوت اور اجتماعی شرایط کے باوجود برابر اوریکساں ہے اور ان سب نے لوگوں کو خدا کی پرستش اور و طاغوت سے دوری اختیار کرنے کی طرف دعوت دی ہے:

( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ) (۴۲) اور بے شک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرو ۔

( اِذْ جَاءَتْهُمُ الرُّسُلُ مِنْ بَيْنِ اَيْدِيْهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللهَ ) (۴۳)

جب ان کے پاس پیغمبر آگئے تھے ان کے سامنے اور پیچھے سے کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔

انبیاء کا مرد ہونا:

سارے انبیاء جنس مذکر میں سے تھے اور عورتوں میں سے کوئی بھی نبوت کے لئے مبعوث نہیں ہوئی ہے:( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى ) (۴۴)

اور آپ سے پہلے ہم ان بستیوں میں صرف مردوں ہی کو بھیجتے رہے ہیں جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے ۔

( وَمَآ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْٓ اِلَيْهِمْ ) (۴۵)

اور ہم نے آپ سے پہلے بھی مردان (حق) ہی کی طرف وحی بھیجی ہے ۔

انبیاء کا اپنی قوم کی زبان میں گفتگو کرنا:

تمام انبیاء جس قوم کے درمیان رسالت پر مبعوث ہوئے تھے اسی قوم کی زبان میں بات کرتے تھے:

( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِه لِيُبَيِّنَ لَهُمْ ) (۴۶)

ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی قوم کی زبان میں تاکہ وہ انہیں وضاحت سے بات سمجھا سکے ۔

انبیاء کے وظائف کے مطابق جو یہ حضرات انسانی معاشرے کے افراد کے لئے معلم اور سعادت و کمال کی راہ دکھانے والے ہیں اور ان کے لئے وحی کی محتویٰ کو تبیین کرتےتھے اور دستورات الٰہی بیان کرکے لوگوں کو تعلیم دیتے تھے اوران کے نفوس کو تہذیب دیتے تھے، اس نکتہ کی حکمت لوگوں کےساتھ رہنا بطور وضوح عیاں ہوتا ہے؛ کیونکہ اگر ہر پیغمبر اپنی قوم کے زبان نہ جانے تو بدیہی ہے کہ اپنے وظایف میں کامیاب نہیں ہوجائے گا، اور لوگ اس کے باتوں کو نہیں سمجھیں گے لہذا ان کے آپس میں تفاہم وجود میں نہیں آئے گا، اور یہ رسالت اور بعثت کی ہدف کے ساتھ سازگار نہیں ہوتا ہے۔

یہی حکمت ان نبیوں کےبارے میں جو ان کی دعوت ایک خاص گروہ پر منحصر نہیں ہے بلکہ ان کی دعوت کا دامن ساری دنیا کو شامل ہوتا ہے، جیسے پیغمبر اکرمﷺ کی عالمی رسالت کی طرح کچھ اور بیان کے ساتھ موجود ہے۔ یہ انبیاء ایک خاص قوم کے درمیان قیام کیا ہے اور اپنی دعوت کواسی قوم سے شروع کیا ہے اور تدریجاً ان کی دعوت اور نبوت کا چرچا دنیا کے دوسرے جگہوں تک پہنچا ہے، لوگ ان کی طرف ملحق ہوئے ہیں ان نبیوں کے لئےبھی تفاہم اور اپنے قوم کا اعتماد اپنی طرف جلب کرنا یعنی جنہوں نے دوسرے لوگ سے پہلے ان حضرات کی دعوت کو سن کر، ان کے سامنے تسلیم ہوگئے ہیں، ان کی دعوت کامیاب ہونے کے بعد اس کو پھیلانے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے، اس لئے لازم تھا کہ اپنے قوم کی زبان سے واقف ہو، اسی زبان سے بات کرے اور اپنی رسالت کو اپنے قوم کے درمیان ابلاغ کرے اور دعوت الٰہی کی بنیاد مستحکم ہونے کے بعد بہت سارے مبلغین اور رسولوں کو مختلف زبان اور گریشوں کے ساتھ، مختلف جگہوں پر بھیج کر لوگوں کو اپنی رسالت پر آگاہ کردے، جیساکہ پیغمبر اکرمﷺ اپنے عالمی دعوت کے بارے میں اسی طرح عمل کیا ہے۔

انبیاء کا صلہ (اجر):

انبیاء کو ابلاغ رسالت کی راہ میں جتنی زحمات و سختیاں اور دشواریاں اٹھانی پڑیں ، اور ان پر مشکلات اور سختیاں پہنچانے کے باوجود آخر لوگوں سےکسی قسم کی اجر اور مزدوری رسالت نہیں چاہتےتھے، اور اس نکتہ کو ہمیشہ لوگوں کویاد دلاتے رہے تھے کہ ہم تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتے ہیں اور ہمارے اجر اور جزاء صرف اللہ پر ہیں،

قرآن کریم متعدد نبیوں کی قول سے ان میں سے حضرت نوح ، ہود، صالح، لوط، شیعب اور پیغمبر

اکرم ﷺ کے قول سے اس نکتہ کو نقل کیاہے ۔(۴۷)

ایک آیت میں پیغمبر اکرمﷺ سے مخاطب ہوکر فرماتےہیں:

( قُلْ مَآ اَسْألُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ ) (۴۸)

کہدیجیے: میں تم لوگوں سے اس بات کا اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی میں بناوٹ والوں میں سے ہوں ۔

البتہ انبیاء کی طرف سے اجر کی طلب اور تقاضا انسان کی توقع سے خارج نہیں ہے، انہوں نے اس بھاری اور مشکل مسؤلیت کو اس عہد و پیمان کی وجہ سے عہدیدار ہوگئے ہیں جو اپنے پروردگار کے ساتھ کئے ہیں لہذا اس مسؤلیت اور ذمہ داری کو انجام دینے میں کسی قسم کی کوشش سے دریغ نہیں کئے ہیں نہایتاً اسی راہ میں اپنی جانیں خالصانہ طور پر پیش کردیئے ہیں اور بدیہی ہے کہ اپنے اجر اور انعام کو خداوند سے چاہے اور اس کے سوا تھوڑی چیز سے قانع نہ ہوجائے ، جو اس بارے میں توجہ کی بات ہے وہ آیات ہیں جو پیغٖمبر اکرمؐ کی طرف سے اجر و پاداش کے بارےمیں ہونے والے تقاضا پر دلالت کرتے ہیں :

( قُلْ لَّآ اَسْألُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ) (۴۹)

کہدیجیے: میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا سوائے قریب ترین رشتہ داروں کی محبت کے... ۔

دقت کی ضرورت ہے کہ اس آیت میں استثناء حقیقی نہیں ہے یعنی یہ پاداش دیگر پاداشوں کے خلاف، اجر لینے والے پیغمبر کے لئے ذاتی فائدہ نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کی نفع خود اجر رسالت دینے والوں کی طرف لوٹتی ہیں، جیساکہ کوئی دوسری آیت میں فرمارہے ہیں:( قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَلَكُمْ ) (۵۰)

کہدیجیے: جو اجر (رسالت) میں نے تم سے مانگا ہے وہ خود تمہارے ہی لئے ہے ۔

ایک اور آیت پر توجہ کرنے کے بعد جو بھی خداوند کی طرف جانے کے ایک راستہ کے عنوان سے یاد کیا ہے، اہلبیت پیغمبر اکرمﷺ کی دوستی اور محبت کی تاکید کا راز معلوم ہوجا تاہے کہ اس اجر کا سود اور فائدہ خود لوگوں کو نصیب ہوجائےگا:

( قُلْ مَآ اَسْألُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَاءَ اَنْ يَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّه سَبِيْلًا ) (۵۱)

کہدیجیے: اس کام پر میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا مگر یہ (چاہتا ہوں ) کہ جو شخص چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے ۔

انبیاء کے مراتب:

انبیاء کے مراتب فضل اور کمالات کے عنوان سے برابر نہیں ہے، بلکہ بعض انبیاء کے لئے بعض دیگر عناوین کے اعتبار سے برتری حاصل ہے۔

قرآن کریم اس بارے میں فرماتےہیں:( تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنا بَعْضَهُمْ عَلى‏ بَعْضٍ ) (۵۲)

انبیاء اور ان کی عالمی رسالت:

غالبا انبیاء کا ذکر قرآن کریم کی آیات میں ان کے اپنے خاص قوم کے نام کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جو اس نبی سے مرتبط تھے جیسے قوم لوط، قوم ہود، قوم ثمود، قوم عاد وغیرہ ۔۔۔۔، انہی آیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ انبیاء ہر ایک اپنے قوم پر مبعوث ہوگئے تھے ۔

اب یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا انبیاء الٰہی کے درمیان ایسے انبیاء بھی ہیں جو ساری دنیا کے لوگوں پر مبعوث ہوچکے ہو؟ اور ان کی دعوت ایک خاص قوم تک محدود نہ ہو؟ اسی سوال کا جواب بطور واضح بیان کرنے کے لئے اس کو دو قسموں میں تقسیم کریں گے۔

الف: کیا انبیاء کے درمیان ایسے نبی موجود ہیں جو پیغام الٰہی کو سارے لوگوں تک پہنچانے کا ذمہ دار ہو؟

ب: کیا وہ احکامات اور دستورات جو ایک پیغمبر نے ابلاغ کرنے ہیں ، فقط اس کی قوم کے لئے مختص ہیں اور دوسرے لوگ اس کی شریعت پر ایمان لانے کا حق نہیں رکھتے ہیں؟

پہلا سوال کا جواب مثبت ہے اور اس کا غیر قابل تردید مصداق خود پیغمبر اکرمﷺ کی ذات ہے، جیساکہ دعوت ناموں سے جو حضرت نے مختلف ملکوں کے عہداروں اور حکمرانوں کے لئے لکھے تھے بطور واضح معلوم ہوتا ہے اور جیسا کہ آئندہ آنے والے ابحاث میں بیان کریں گے، کہ حضرت کی دعوت حتی انسانوں تک محدود نہیں رہی ہے، بلکہ جنّات بھی شامل ہوتی ہیں، لیکن باقی انبیاء کے بارے میں تو واضح دلیل ہمارے پاس نہیں ہے جو ان کی رسالت کی عمومیت پر دلالت کرے۔ اور شاید بعض آیات کے ظاہر سے ان کی دعوت کا عام نہ ہونے پر استفادہ ہوگا، جیسے وہ آیات جو ایک خاص گروہ پر رسولوں کی رسال ہونے کے بارے میں یاد کرتی ہے ۔(۵۳)

دوسرے سوال کا جواب منفی ہے، وہ آئین او رمذہب جو انسان کو ایک آسمانی اور پیغمبر الٰہی عطا کرتا ہے فقط اسی قوم کے لئے مختص نہیں ہے، بلکہ جو بھی اس آئین سے مطلع ہوجائے اس پر لازم ہے کہ اسی نبی پر ایمان لائے، کیونکہ وہ چیزیں جو مبحث وحدت دین الٰہی اور انبیاء کے دین کی وحدت اور یگانگی جو حقیقت میں وہی اسلام ہے اور نیز انبیاء الٰہی کے درمیان تفکیک ناپذیر ہونا اور بعض نبیوں پر ایمان لانا اور بعض پر ایمان نہ لانا اس مبحث میں بیان ہوچکے ہیں۔

واضح اور روشن ہے کہ جو بھی کسی پیغمبر کی نبوت سے آگاہ ہوجائے اور اس کی سچائی پر گمان پیدا کرے، اس کے لئے ضروری ہے کہ اسی پر ایمان لائے ، البتہ اس مطلب سے لازم نہیں بنتی ہے کہ کوئی نبی اپنے قوم کے لئے خاص احکامات اور دستورات نہ لایا ہو جس طرح سے دوسرے لوگوں کو ان دستورات کی پیروی کرنالازم نہ ہو، جیساکہ بنی اسرائیل کے بارے میں یہی مسئلہ واقع ہوا ہے(۵۴) ،لیکن بہرحال انبیاء کے قوانین اور دستورات کا عمدہ اور بڑا حصہ جو لوگوں کے لئے پیش کرتے ہیں فقط ان کے قوم کے لئے مختص نہیں بلکہ سب کے لئے عمومی ہے۔

پیغمبروں کی رسالت اور جنّات :

ہم جانتے ہیں کہ قرآن کریم جن ّ کوبھی انسان کی طرح ایک مکلف موجود مسؤل بتا رہا ہے، لہذا اس نوع کے افراد بھی جب کسی پیغمبر کی نبوت سے مطلع ہوجائے اور اس کی ادعا کی سچائی پہ یقین پیدا کرے تو ان پر بھی لازم ہے کہ اس نبی پر ایمان لائے ، اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا کوئی پیغمبر اس قوم پر مبعوث ہوا ہے؟ جس طرح کہ اس پر واجب و لازم ہو کہ اپنی رسالت کو انہیں ابلاغ کرے؟

اس سوال کاجواب رسول اکرمؐ کے بارے میں تو روشن اور واضح ہے، کیونکہ ہمیں آیات اور روایات سےجو ملتے ہیں وہ یہ ہے کہ رسول اکرمؐ دونوں گروہ جن و انس پر مبعوث ہوئے ہیں(۵۵) ۔لیکن دوسرے نبیوں کے بارے میں اس سوال واضح اور روشن جواب ہمارے پاس موجود نہیں ہے۔

انبیاء الٰہی کی دعوت اور لوگوں کا جواب:

لوگوں کے برتاؤ اور ان کے عکس العمل انبیاء الٰہی کی آسمانی دعوت کے بارے میں قابل توجہ موضوعات میں سے ہیں۔ قرآن کریم کی وہ آیات جو اس موضوع کے حوالے سے ہمارے آنکھوں کے سامنے نظر آتی ہیں، سب کے سب لوگوں کی طرف سے انبیاء کی اور ان کا انکار اورنیز ان کی طرف سےانبیاء پر تہمتیں لگانے پر دلالت کرتی ہیں، بعض آیات میں اس انکار کو سارے لوگوں کی طرف نسبت دی گئی ہے جیساکہ فرماتاہے :

( اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ وَالَّذِيْنَ مِن بَعْدِهمْ لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللهُ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرَدُّوْٓا اَيْدِيَهُمْ فِيْٓ اَفْوَاههِمْ وَقَالُوْٓا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِه وَاِنَّا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ ) (۵۶)

کیا تمہارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں (مثلا) نوح، عاد اور ثمود کی قوم اور جو ان کے بعد آئے جن کا علم صرف اللہ کے پاس ہے؟ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے توانہوں نے اپنے ہاتھ ان کے منہ پر رکھ دیے اور کہنے لگے: ہم تو اس رسالت کے منکر ہیں جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو اور جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو اس میں ہم شبہ انگیز شک میں ہیں ۔

لیکن دوسرے متعدد آیات سے یہ واضح ہوتاہے کہ انبیاء الٰہی کے مخالفین اور منکرین کو بطور معمول معاشرے کے ایک خاص گروپ سے بنتے ہیں جو کبھی معاشرے میں اپنے اثرو رسوخ چلاکر مختلف حیلوں اور طریقوں کو استعمال کرکے دوسرے گروہوں کو بھی اپنے ساتھ انبیاء کی مخالفت کی راہ میں ڈال دیتے تھے۔

قرآن کریم نے ایسے گروہ کو ملا، مترف، اور مستکبر کے عنوان سے یاد کیا ہے، قوم نوح کےبارے میں فرمایا ہے:( قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٓ اِنَّا لَنَرٰیكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ) ۔(۵۷)

ان کی قوم کے سرداروں نے کہا :ہم تو تمہیں صریح گمراہی میں مبتلا دیکھتے ہیں ۔

ایک اور آیت میں ہے:( وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّذِيْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْهَآ اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِه كٰفِرُوْنَ ) (۵۸)

اور ہم نے کسی بستی کی طرف کسی تنبیہ کرنے والے کو نہیں بھیجا مگریہ کہ وہاں کے مراعات یافتہ لوگ کہتے تھے: جو پیغام تم لے کر آئے ہو ہم اسے نہیں مانتے ۔

قوم ثوم کے بارے میں فرماتا ہے:

( قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِه لِلَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّه قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِه مُؤْمِنُوْنَ ) (۵۹)

ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کمزور طبقہ اہل ایمان سے کہا: کیا تمہیں اس بات کا علم ہے کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے رسول ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا: جس پیغا م کے ساتھ انہیں بھیجا گیا ہے اس پر ہم ایمان لاتے ہیں ۔

لفظ ملا عہدیداروں اور معاشرے کے بھاگ ڈور چلانے والوں پر اطلاق ہوتاہے۔ لفظ مترف معاشرے کے عیاش اور خوشگزران طبقہ کو کہا جاتا ہے۔ اور مستکبر بھی ان افراد پر اطلاق ہوتا ہے جو خیال کرتےہیں کہ لوگ ان سے پست تر ہیں۔ یہ تین قسم کے افراد ایک گروہ سے حکایت کرتے ہیں اور یہ افراد سماج میں بانفوز، عیاش اور دوسروں کے سربراہ ہیں جو معاشرہ کے تمام امور کو اپنے ہاتھ میں لیکر اس چیز کی طرف جو ان کے ذاتی منافع کا تقاضا کرتی ہے ہدایت کرتی ہے اور اس راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ بنے مقابلہ کرتی ہے ، لہذا انبیاء الٰہی جو پیغام لانے والے اورعدالت و آزادی اور انسانوں کی شرافت کو فراہم کرنے والے ہیں ان کا ظہور ان کے ناخوشنودی کا موجب بن کر مخالفت کرتے ہیں، جس معاشرے میں فرامین پروردگار حاکم ہو اور لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت ہوجائے ایک نافرمان اقلیت گروہ کے لئے سرکشی اور بغاوت کا میدان نہیں رہے گا، اس توضیح سے انکار کرنے والوں کی نیت اور عزایم جو وہی بغاوت اور لوگوں پر برتری اور فوقیت طلبی ہے معلوم ہوتا ہے جیساکہ ہم نے بیان کیا یہ گروہ مختلف طریقوں سے لوگوں کو گمراہ کررہے تھے۔

ان کا ایک رائج اور مرسوم طریقہ جس کے ذریعہ عوام کو دکھ دیتے تھے وہ انبیاء اور ان کے ماننے والوں کو مسخرہ اور توہین کرتے تھے :( وَاِذَا رَاٰكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا اَهٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ ) (۶۰)

اور کافر جب بھی آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا بس استہزاء کرتے ہیں (ا ور کہتے ہیں ) کیا یہ وہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا (برے الفاظ میں ) ذکر کرتا ہے؟ ۔

دوسری آیت میں فرماتاہے:

( اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ وَاِذَا مَرُّوْا بِهِمْ يَتَغَامَزُوْنَ وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ وَاِذَا رَاَوْهُمْ قَالُوْٓا اِنَّ هٰٓؤُلَاءِ لَضَالُّوْنَ ) (۶۱)

جنہوں نے جرم کا ارتکاب کیا تھا، وہ مؤمنین کا مذاق اڑاتے تھے۔ جب وہ ان کے پاس سے گزرتے تو آپس میں آنکھیں مار کر اشارہ کرتے تھے۔اور جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتے تو اتراتے ہوئے لوٹتے تھے۔ اور جب ان (مومنین) کو دیکھتے تو کہتے تھے: یہ لوگ یقینا گمراہ ہیں ۔

اگر یہ طریقہ اثر نہ کرتا تو انبیاء پر تہمتیں اور افتراء نسبت دیتےتھے اور ان کو جادوگر، مجنون اور کاذب کہہ کر یاد کرتےتھے :

( كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ اَتَوَاصَوْا بِه بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ ) (۶۲)

قرآن کریم پیغمبر اکرمﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے:

اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کے پاس کوئی رسول نہیں آیا مگر اس سے انہوں نے کہا : جادوگر ہے یا دیوانہ۔ کیا ان سب نے ایک دوسرے کو اسی بات کی نصیحت کی ہے؟ (نہیں ) بلکہ وہ سرکش قوم ہیں۔

مخالفین جب اس راہ سے اپنے ہدف میں کامیاب نہیں ہوتے تھے اور انبیاء کو اپنی کوششوں سے نہیں روک سکتے تھے، بحث و جدال کا طریقہ اختیار کرتےتھے اور ناممکن اور غیر معقول مطلب بیان کرکے بہانہ تراشی کرتےتھے بطور مثال کہتےتھے: کیوں خدانے اپنے انبیاء کو نوع بشر میں سے قرار دیا ہے؟ کیوں پیغمبروں کو فرشتوں سے منتخب نہیں کیا ہے؟ کیوں خداوند بطور مستقیم و بغیر واسطہ ہم سے بات نہیں کرتے ہیں؟

قرآن کریم نے اس قسم کی بہانہ تراشی کی ہوئی موارد کو بطور مثال ذکر کرتا ہے:

اور کہنے لگے: ہم آپ پر ایمان نہیں لاتے جب تک آپ ہمارے لیے زمین کو شگافتہ کر کے ایک چشمہ جاری نہ کریں ۔ یا آپ کے لیے کھجوروں اور انگوروں کا ایسا باغ ہو جس کے درمیان آپ نہریں جاری کریں ۔ یا آپ آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دیں جیساکہ خو دآپ کا زعم ہے یا خود اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئیں ۔ یا آپ کے لیے سونے کا ایک گھر ہو یا آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ہم آپ کے چڑھنے کو بھی نہیں مانیں گے جب تک آپ ہمارے لیے ایسی کتاب اپنے ساتھ اتار نہ لائیں جسے ہم پڑھیں ، کہدیجیے: پاک ہے میرا رب، میں توصرف پیغام پہنچانے والا انسان ہوں ۔ اور جب لوگوں کے پاس ہدایت آگئی تو اس پر ایمان لانے میں اور کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ وہ کہتے تھے: کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے؟(۶۳)

ایک اور آیت میں فرماتاہے:

اور بے علم لوگ کہتے ہیں : اللہ ہم سے ہمکلام کیوں نہیں ہوتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی؟ ان سے پہلے لوگ بھی اسی طرح کی بات کر چکے ہیں ، ان کے دل ایک جیسے ہو گئے ہیں ، ہم نے تو اہل یقین کے لیے کھول کر نشانیاں بیان کی ہیں(۶۴)

ان کےمخالفت یہی پر ختم نہیں ہوتی ، جب یہ منکرین اپنے سارے مکر و فریب کی طریقوں سے مایوس ہوتےتھے تو تہدید اور دھمکیاں دینے کا موضع اختیار کرلیتے تھے ، کبھی انبیاء کو اپنے شہر و وطن سے نکالنے کی دھمکی دیتےتھے:( وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِيْ مِلَّتِنَا فَاَوْحٰٓى اِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِيْنَ ) (۶۵)

اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا: ہم تمہیں اپنی سرزمین سے ضرور نکال دیں گے یا بہرصور ت تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا ہوگا، اس وقت ان کے رب نے ان پر وحی کی کہ ہم ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دیں گے ۔

بعض موارد میں انبیاء کو اپنے مخالفین کی طرف سے سنگسار اور پتھراؤ کرنے کی دھمکی دیتےتھے:

( قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَاِنَّا لَنَرٰیكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ ) (۶۶)

انہوں نے کہا: اے شعیب! تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور بیشک تم ہمارے درمیان بے سہارا بھی نظر آتے ہو اور اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کر چکے ہوتے (کیونکہ) تمہیں ہم پر کوئی بالادستی حاصل نہیں ہے ۔

ایک اور آیت میں بیان ہوا ہے :

( قَالُوْٓا اِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهُوْا لَنَرْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِيْمٌ ) (۶۷)

بستی والوں نے کہا: ہم تمہیں اپنے لیے برا شگون سمجھتے ہیں ، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں ضرور سنگسار کر دیں گے اور ہماری طرف سے تمہیں دردناک عذاب ضرور پہنچے گا ۔

البتہ جب دشمنوں کی مخالفت یہاں تک پہنچی تھی لہذا جب کبھی انسانی معاشرے میں متصل ہدایت کی خاموشی اور ہدایت کا راستہ مسدود ہونے کا خطرہ فراہم ہوتاتھا تو ایک مہلک عذاب اس قوم پر آجاتا تھا۔ اور یہ اللہ کی تغییر ناپزیر سنت ہے۔

لوگوں کا پیغمبروں سے سلوک:

یہاں پر لازم ہے کہ سنت الٰہی جو لوگوں کے سلوک انبیاء کے ساتھ کس طرح تھے، اس بارے میں بطور اختصار، اشارہ ہوجائے ، قرآن کریم کی آیات کو بررسی کرنے کے بعد اس موضوع سے متعلق چند سنت اور قوانین الٰہی ہمیں ملتے ہیں جو یکی بعد دیگری متحقق ہواہے اور مختلف اقوام کے بارے میں تکرار ہوا ہے:

۱ ۔ لوگوں کا سختیوں میں مبتلا ہونے کا فلسفہ :

( وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ ) (۶۸)

اور ہم نے جس بستی میں بھی نبی بھیجا وہاں کے رہنے والوں کو تنگی اور سختی میں مبتلا کیا کہ شاید وہ تضرع کریں ۔

۲ ۔ ۳ ۔ قانون املاء اور قانون استدراج:

اگر لوگ زیادہ گناہ کرنے کی وجہ سے قساوت قلب سے دوچار ہوکر تسلیم نہ ہوجائے،تو پروردگار انہیں فرصت دے کر بطور تدریجی اپنے نعمتوں کو انہیں زیادہ سے زیادہ دے کر اس حد تک کہ وہ خوشی اور سرمستی میں غر ق ہوکر یاد خدا کو کامل طور پر بھلا دیتے ہیں وہ طغیان اور سرکشی میں ڈوب جاتےہیں کیونکہ اگر انسان خود کو بے نیاز دیکھے تو بغاوت کرنا شروع کردیتا ہے(۶۹)

لہذا آہستہ آہستہ وہ اپنے تاریک اور زیانبار سرنوشت کی طرف قریب ہوتا ہے، اس حدتک کہ پروردگار کی تیسرے قانون کا اجرا ہونے کا وسیلہ فراہم ہوتا ہے اور اچانک ان کو پانے گھیرےمیں لیکر نابود کرتے ہیں:

( ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰي عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَايَشْعُرُوْنَ ) (۷۰)

پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی میں بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوشحال ہو گئے اور کہنے لگے: ہمارے باپ دادا پر بھی برے اور اچھے دن آتے رہے ہیں ، پھر ہم نے اچانک انہیں گرفت میں لے لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی ۔

( فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِه فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّٰٓي اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ ) (۷۱) ۔

پھر جب انہوں نے وہ نصیحت فراموش کر دی جو انہیں کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر طرح (کی خوشحالی) کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ وہ ان بخششوں پر خوب خوش ہو رہے تھے ہم نے اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیا پھر وہ مایوس ہو کر رہ گئے ۔

( وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ وَاُمْلِيْ لَهُمْ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ ) (۷۲)

اور جو ہماری آیات کی تکذیب کرتے ہیں ہم انہیں بتدریج اس طرح گرفت میں لیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہو گی۔ اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، میری تدبیر یقینا نہایت مضبوط ہے ۔

قرآن کریم بہت سی قوموں کی سرنوشت کو یاد دلاتا ہے جو انتہائی دردناک انجام سےدوچار ہوچکےہیں کہ ان واقعات کا ہر لفظ غافلوں کے لئے ہشدار ہے، اور وعظ ونصیحت ہے ہوشیار دل والوں کےلئے۔

انبیاء الٰہی کی تعداد:

بہت سی روایات میں انبیاء کی تعداد کے بارے میں اشارہ ہوا ہے۔ ان روایات میں اختلاف کے باوجود اس موضوع میں مشہور نظریہ جو انبیاء الٰہی کی تعداد کو ایک لاکھ چوبیس ہزار نفر ہے ان روایات سےاخذ کرسکتے ہیں۔

چنانچہ علامہ مجلسی ، شیخ صدوق سے جو شیعہ بزرگ دانشوروں میں شمار ہوتے ہیں نقل کرتیں ہیں: ہمارے اعتقاد کے مطابق انبیاء کی تعداد ۱۲۴ ہزار اور ان کے اوصیاکی تعداد بھی یہی مقدار ہے او رہر پیغمبر کے لئے ایک وصی ہے۔(۷۳)

اب بعض روایات کے ترجمہ پر توجہ فرمائیں جو اس قول کی تائید کرتےہیں:

الف: امام رضاؑ اپنے آبا و اجداد طاہرین سے نقل کرتے ہیں: رسول اکرمؐ نے فرمایا: خداوند نے ۱۲۴ ہزار پیغمبر خلق کئے اور میں ان سب سے خداوند عالم کے نزدیک و برتر ہوں، لیکن میں اس پر فخر فروشی نہیں کرتا ہوں، اسی طرح خداوند نے ۱۲۴ ہزار وصی اور جانشین انبیاءکے لئے خلق کئے کہ علیؑ خداوند کے درگاہ میں ان سب سےبرتر ہیں(۷۴)

ب: امام صادقؑ رسول اکرمؐ سے نقل فرمارہے ہیں : انبیاء کا اولین وصی اور جانشین زمین پر ھبۃ اللہ فرزند آدم تھا اور کوئی پیغمبر دنیا سے رخصت نہیں ہوئے مگر اس کے لئے ایک وصی اور جانشین تھے اور انبیاء کی تعداد ۱۲۴ ہزار نفر ہیں جو ان میں سے پانچ نفر یعنی نوح، ابراہیم، موسی، عیسی اور محمدﷺ اولوالعزم ہیں اور علی بن ابی طالبؑ یقیناً محمد کے لئے ھبۃ اللہ ہے(۷۵) اور وہ تمام انبیاء کے جانشین اور تمام گزشتگان کے وارث ہے اور محمد تمام انبیاء اور فرستادگان جو ان سے پہلے آئے ہیں سب کے علم کا وارث ہیں(۷۶)

انبیاء کے اسمائے گرامی:

اگرچہ قرآن کریم میں بعض انبیاء کا نام آیا ہے لیکن قرآن میں اکثر انبیاء کا ذکر نہیں ہوتاہے جیساکہ خود قرآن کریم اس پر اشارہ کرتاہے۔کچھ موارد میں بعض پیغمبروں کی داستان کی طرف اشارہ کیا ہے (پیغمبر اس کے کہ ان کے نام کو ذکر کرے)اما روایات میں ان کے اسماء ذکر ہوا ہے، ہم یہاں پر انہی انبیاء کی تعداد پر جو قرآن میں آئی ہے ان پر اکتفا کریں گے:

( اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰي نُوْحٍ وَّالنَّبِيّنَ مِنْ بَعْدِه وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓي اِبْرٰهيْمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِيْسٰى وَاَيُّوْبَ وَيُوْنُسَ وَهٰرُوْنَ وَسُلَيْمٰنَ وَاٰتَيْنَا دَاودَ زَبُوْرً وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ وَكَلَّمَ اللهُ مُوْسٰى تَكْلِیمًا ) (۷۷)

(اے رسول)ہم نے آپ کی طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان کے بعد کے نبیوں کی طرف بھیجی، اور جس طرح ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق،یعقوب،اولادیعقوب،عیسیٰ،ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف (وحی بھیجی) اور داؤد کو ہم نے زبور دی۔ ان رسولوں پر (وحی بھیجی) جن کے حالات کا ذکر ہم پہلے آپ سے کر چکے ہیں اور ان رسولوں پر بھی جن کے حالات کا ذکر ہم نے آپ سے نہیں کیا اور اللہ نے موسیٰ سے تو خوب باتیں کی ہیں ۔

مذکورہ دو آیتوں میں بطور مجموع ۱۳ ، پیغمبروں کا نام لیا گیا ہے اور آیت کی خطاب شخص رسول اکرمؐ پر ہیں :

( وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ اٰتَيْنٰهَآ اِبْرٰهِيْمَ عَلٰي قَوْمِه نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاءُ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ وَوَهَبْنَا لَهٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ كُلًّا هَدَيْنَا وَنُوْحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِه دَاودَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وهٰرُوْنَ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ وَزَكَرِيَّا وَيَحْيٰى وَعِيْسٰي وَاِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَالْيَسَعَ وَيُوْنُسَ وَلُوْطًا وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ) (۷۸)

اور یہ ہماری وہ دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں عنایت فرمائی، جس کے ہم چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں ، بے شک آپ کا رب بڑا حکمت والا، خوب علم والا ہے۔ اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عنایت کئے، سب کی رہنمائی بھی کی اور اس سے قبل ہم نے نوح کی رہنمائی کی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کی بھی اور نیک لوگوں کو ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں ۔ اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کی بھی، (یہ) سب صالحین میں سے تھے۔ اور اسماعیل، یسع، یونس اور لوط (کی رہنمائی کی) اور سب کو عالمین پر فضیلت ہم نے عطا کی ۔ مذکورہ آیات میں ۱۸ انبیاء کا نام ذکر ہوا ہے۔

( وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِدْرِيْسَ وَذَاالْكِفْلِ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ ) (۷۹) ۔اور اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو بھی (اپنی رحمت سے نوازا) یہ سب صبر کرنے والوں میں سے تھے ۔اس آیت میں تین انبیاء کے نام آئے ہیں۔

اور بعض انبیاء سے باقی آیتوں میں بطور پراکندہ یاد ہوئی ہیں :

( وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُه اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ ) (۸۰)

اور عاد کی طرف ان کی برادری کے فرد ہود کو بھیجا، انہوں نے کہا : اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو،اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے،

( وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا ) (۸۱)

( وَاِلٰي مَدْيَنَ اَخَاهُمْ شُعَيْبًا ) (۸۲)

( مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ وَالَّذِيْنَ مَعَهٓ اَشِدَّاءُ عَلَي الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ) (۸۳)

محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت گیر اور آپس میں مہربان ہیں،

جیساکہ متعدد موارد میں حضرت آدم بھی قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے ، شایان ذکر ہے کہ بطور مجموع۲۳ پیغمبروں کے نام کا صراحتاً قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے ۔

آسمانی کتابیں :

آسمانی کتب کے بارے میں بھی جو انبیاء پر نازل ہوئی ہیں مسئلہ اسی طرح ہے بعض کتب کا نام جیسے تورات، انجیل، زبور اور قرآن بطور صریح ذکر ہوئی ہیں لیکن بعض کتاب جو بنی اسرائیل پر نازل ہو ئی ہیں قرآن میں ذکر ہوئی ہیں:

( كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِسْرَائِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاءِيْلُ عَلٰي نَفْسِه مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰیةُ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰیةِ فَاتْلُوْهَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ) (۸۴)

بنی اسرائیل کے لیے کھانے کی ساری چیزیں حلال تھیں بجز ان چیزوں کے جو اسرائیل نے توریت نازل ہونے سے پہلے خود اپنے اوپر حرام کر لی تھیں ، کہدیجیے: اگر تم سچے ہو تو توریت لے آؤ اور اسے پڑھو ۔

اس آیت میں تورات کا بنی اسرائیل پر نازل ہونے والی کتاب کے طور پر ذکر کیا ہے۔

( وَقَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرٰیةِ وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًى وَّنُوْرٌ ) ۔(۸۵)

( وَاٰتَيْنَا دَاودَ زَبُوْرً ا ) (۸۶)

ان آیتوں میں انجیل اور زبور کو حضرت عیسٰیؑ اور داوود کی آسمانی کتاب سے اشارہ کیا ہے ، قرآن کریم بھی رسول اکرمؐ کی آسمانی کتاب اور جاویدانہ معجزہ الٰہی ہے جو متعدد آیات میں متعدد عناوین کے ساتھ (شاید ۳۴ عنوان سے زیادہ) ذکر ہوئی ہیں ۔ ان میں سے بعض آیات کو ذیل ذکر کریں گے:

( اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا ) (۸۷)

( وَاُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِه وَمَنْ بَلَغَ ) (۸۸)

( اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ) (۸۹)

قرآن کی دوسرے آیتوں میں کتب آسمانی سے اسی طرح ذکر آچکے ہیں:

( اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى ) (۹۰)

( یا یحیٰ خذ الکتاب بقوّة ..) .(۹۱)

مذکورہ آیات بطور اجمالی کتب سماوی سے یاد کرتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے ناموں کی طرف اشارہ کرے، وہ جو آج کل آسمانی کتابوں کے درمیان جو لوگوں کی دسترس میں ہے اور آفاقی شہرت کا حامل تورات، انجیل اور قرآن کریم یہ تین کتابیں ہیں لیکن قابل توجہ کا موضوع یہ ہے کہ یہ تورات و انجیل جو یہودی اور مسیحی جوامع میں ان کے پاس مشہور ہے یہ دو کتابیں تحریف اور تزویر کا شکار ہوگئے ہیں، لیکن تاریخ کی نقل کے مطابق قرآن کریم ہر قسم کے تحریفات سے محفوظ رہا ہے ہم عدم تحریف قرآن کے بارے میں آیندہ الگ بحث شروع کریں گے اور ابھی تورات اور انجیل کے تحریف کے بارے میں مختصرسا مطلب پیش کرتےہیں تورات اور انجیل کی تحریف بہت واضح ہےکہ عہد قدیم اور عہد جدید کی کتب کے بارے میں تفصیلی بحث اور تاریخی بررسی کے لحاظ سے جو مجموعا پچاس سے زیادہ کتابیں پائی جاتی ہیں ، اگر اس بارے میں بحث کرے توبہت لمبی اور وسیع ہوجائے گی علاوہ اس کے کہ اسلامی دانشمنداوں نے ہمت کرکے اس موضوع پر کافی حد تک تحقیق کرچکے ہیں ہم ان کے روشنگرانہ کوششوں سے شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تحقیقات سے استفادہ کرکے موضوع کے بارے میں صحیح ترین نظریہ حاصل کرنے میں قریب ترین راستہ اختیار کرلیتےہیں۔

عہد عتیق کوبررسی کرنے سے اور اس بارے میں جو شواہد موجود ہیں ہم اس نتیجے پر پہنچتےہیں کہ عہد عتیق کو یعنی موجودہ تورات کو حضرت موسی سےنسبت دینا، زیادہ مورد تردید قرار پایاہے اور ہرگز نہیں کہہ سکتےہیں کہ یہ وہی تورات ہے جو حضرت موسی کی تعلیمات اور ان کے دستورات آسمانی کی متضمن والی کتاب ہو(۹۲)

تورات جو اہل کتاب کا دعویٰ ہیں کہ حضرت موسٰیؑ نے جمع آوری کی ہے ، اور اپنے زندگی کے آخری لمحہ میں بنی اسرائیل کے شیوخ کے ہاتھوں سپرد کیا تاکہ ہر سال میں ایک مرتبہ اس کو سب کے لئے پڑھیں، لیکن فساد اور تباہی جو ان حضرات کے بعد بلکہ خود حضرت کی حیات کے دوران بنی اسرائیل والوں کے درمیان رواج پیدا ہوا تھا اس اطمینان کو تورات تحریف ہونے سےمصون رہا ہے ہم سے سلب کئے گئے ہیں اس بارے میں تورات کےچند جملات پر توجہ کریں:

آپ لوگوں کے تمرد اور خلاف ورزی کو میں جانتا ہوں میرے ابھی زندہ ہوتےہوئے فتنہ اور فساد کرتےہو میں مرجاؤں تو اس سے بھی فاسدتر ہوجاوگے اور اس راستےسے جو میں نے تمہیں دکھایا ہےہٹ جاوگے(۹۳)

لیکن عہد عتیق کی کتابوں میں سے ایک کتاب کی نقل کے مطابق حضرت موسی کی یہ دھمکیاں مؤثر واقع نہیں ہوئیں اور بنی اسرائیل جو کہ بارہ قبیلے تھے، سرکشی و متمرد اور زنا کار و بت پرست بن گئے اور اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کوکنعان کے بتوں کے لئے قربانی کردیا ۔(۹۴)

جو کتب عہد قدیم سے ملتےہیں حضرت موسی کی تورات سےکچھ عرصہ تک بطور کلی لوگوں کے دسترس سے خارج ہو گئی تھی اور یوشیا کی بادشاہت کے آٹھویں سال میں اللہ کے گھر کو تعمیر کردیا اور بتوں اور ان کےقربانگاہوں کو ویران کرایا۔ حلقیاے کاہن نے یوشیا کو خبر دیا کہ خانہ خدا میں تورات ملی ہے اور اس نے اسے پادشاہ کے پاس بھیجا ، پادشاہ نے بھی اس کتاب کے چند جملے سننے کے بعد اپنے لاس کو چاک کردیا اور اس بات پر جو اس کے آبا و اجداد نے اس کتاب پر عمل نہیں کیا تھا بہت متاثر ہوئے، اس کے بعد حکم دیا اورشلیم کے سارے لوگ ایک جگہ پر اکٹھے ہوگئے اور اس نے اس کتاب کو ان کےلئے پڑھا اور ان کو پاپند کیا کہ اس پر عمل کرے ۔(۹۵)

اب سوال یہ ہے کہ حلقیاے کاہن کی صدق گفتار پر کیا دلیل ہے؟ وہ کتابیں جن پر گزشتگان عمل کرتےتھے کون سی کتابیں تھیں؟ بنی اسرائیل کے سرکردہ افراد جنہیں حضرت موسی نے تورات سپرد کی، تورات حقیقی کشف ہونے سے پہلے کیا کررہے تھے اور کیوں اس تورات سے آگاہ او رمطلع نہیں تھے؟ جالب بات یہ ہے کہ عہد قدیم کی بعض کتابیں بعض اور کتابوں کی تحریف ہونے پر اعتراف کرتےہیں کتاب ارمیا کے آٹھویں بند میں آیاہے کیسے بولتے ہو کہ ہم حکیم ہیں اور پروردگار کی شریعت ہمارے ساتھ ہے؟ یقینا جھوٹ بولنے والے کاتبوں کے قلم نے اسی شریعت کو تبدیل کیا ہے ۔(۹۶)

کتاب اشعیا کی انتیس ویں باب سولھویں بند میں یہ جملہ آیاہے وای تمہارے تحریف سے اور یہ جملہ بطور واضح تحریف کی رواج کو اس زمانے میں بتاتی ہے پطرس کا دوسرا رسالہ تیسرا باب آٹھویں بند ، اس کتاب کے تحریف ہونے پر جن موضوعات کے بارے میں جو ان کو سمجھا اسی کے لئے دشوار اور مشکل ہوگئی ہے ۔(۹۷)

رسالۂ پوسل باب اول چھٹی اور ساتھویں بند میں غلاطیان کو مخاطب ہو کر کہتاہے بے شک میں تعجب کرتا ہوں کہ اسی جلد میں تم اسی شخص سے منہ موڑ لیتے ہو اور کسی دوسری انجیل کی طرف جاتےہو جو تمہیں نعمت مسیح کی طرف دعوت دیتا ہے ۔ کوئی اور انجیل نہیں ہے مگر یہ کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ تم کو متزلزل کرکے مسیح کی انجیل کو تبدیل کریں ۔(۹۸)

ہم یہاں پر عہد قدیم اور عہد جدید کی کتابوں کے مطالب کے بارے میں چند نمونے نقل کرتےہیں اس کے بعد اس سوال کوبیان کرتےہیں کہ کیا یہ تورات و انجیل پر جو ہمارے درمیان موجود ہیں اس پر اعتماد کرسکتے ہیں اور انہیں حضرت موسی وحضرت عیسٰیؑ اور باقی انبیاء بنی اسرائیل کی تعالیم الٰہی اور انسان ساز تعالیم شمار کرسکتے ہیں یانہیں؟

ان سوالات کے جواب کو ہم قارئین کے عہدہ پر چھوڑ دیں گے۔

عہد قدیم کی کتابوں سے کچھ مثالیں :

کتاب حزقیل کے چوتھے باب میں اس سےخطاب ہوکر آیاہے جو کی روٹیاں جو تو کھاتا ہے ان روٹیوں کو ان یہودیوں کی تصرف سے تونے ان کو فضلات انسان کے ذریعے سے پکاتےہو اور خداوند نے فرمایا: اسی سوال پر بنی اسرائیل نجس روٹی کو ان امتوں کے درمیان جنہیں میں ان کے درمیان پراکندہ کروں گا ضرور کھاتےرہیں گے ۔(۹۹)

ہم کتاب ہوشح کے پہلی باب اور دوسرا بند میں پڑھتے ہیں خداوند نے ہوشح سےکہا: جاو ایک زناکار عورت اور اولاد زنا اپنے اختیار میں کروکیونکہ اس نے زمین خداوند سے منہ موڑلیا ہے اور سخت زناکار ہوگیاہے ۔(۱۰۰) کتب عہد قدیم میں لکھا ہے کہ اگر انبیاء جھوٹ بولیں تو یہ ان کے لئے جائز شمار کیا ہےاور ان کے لئے متعدد مصادیق بھی ان کتابوں میں نقل ہوئے ہیں ۔(۱۰۱)

یہاں پر اگر حضرت داؤد کےبارے میں ایک داستان سن لیں تو نامناسب نہیں ہوگا، اور بطور ضمن ہم ان تحریف گر افراد کی ارادت کو پیغمبروں کے ساتھ ہمیں معلوم ہوجاتے ہیں۔

کتاب سموئیل دوم کے گیارہویں باب میں چھٹی بند سے ستائیسویں بند تک اسی طرح آیاہے دوپہر کا وقت تھا داؤد اپنے تخت سےاٹھا اور بادشاہ کے گھر کی چھت کے اوپر ٹہل رہا تھا کہ اس وقت چھت سے ایک عورت کو دیکھا جو نہانے میں مشغول تھی اور وہ عورت بہت خوبصورت تھی لہذا داؤد نے کسی کوبھیجا اور اس کے بارےمیں تحقیق کی؛ بنی اسرائیل کے ایک آدمی نے بولا کیا وہ بتشیع کی بیٹی الیعام اوریای حتیکہ کی بیوی نہیں ہے؟ لہذا داؤ د نے قاصدوں کو بھیجا کہ اس کو پکڑ کرلائیں اور وہ اس کے پاس آکر اس کے ساتھ ہمبستر ہوگیا ، جبکہ وہ اپنی عادت حیض سے پاک تھی، لہذا اپنے گھر میں آئی اور وہ داؤد سےحاملہ ہوگئی اور کسی کو داؤد کے پاس بھیجا اسےخبر دی اور کہا میں حاملہ ہوں، داوود نے ایک قاصد بھیجا تاکہ اوریا کو جنگ سےواپس پلٹا دے اور اس کوحکم دیا کہ اپنےگھرچلے جائے یعنی اپنے بیوی کےساتھ ہمبستری کرے تاکہ کسی کو پتہ نہ ہو کہ یہ حمل داؤد سے ہے اوریا نے کیونکہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تمام علائق و لذائز سے دوری اختیار کردی تھی میدان جنگ میں خدا کی راہ میں تابوت کے ہمراہ تھے ان کے ساتھ ہمدردی کرکے واپس گھر نہیں آیا، اور جب اوریا جنگ کی طرف واپس گیا تو داؤدنے امیر لشکر کوخط لکھا کہ اوریا کو آگے جو سخت لڑائی کی جگہ پر قرار دے دیں اوروہ اسے وہاں چھوڑ کر پیچھے ہٹ جائیں اور اس کو وہاں نرغہ اعدا میں اکیلا چھوڑ دے تاکہ قتل ہوجائے اور انہوں نے ایسا ہی کیا لہذا اوریا قتل ہوا اور داؤد کو اسکی موت کی خبر پہنچی، لہذا داؤد نے اوریا کی بیوی کو طلب کیا اور اس کو اپنی بیویوں میں سے قرار دیا ، لہذا اس زنا سے ایک فرزند داؤد کے لئے اس عورت سے متولد ہوا اس کے بعد پروردگار نے ناتان پیغمبر کو داؤد کے پاس بھیجا اور اسے بولا ایک شہر میں دو مرد تھے ان دو میں سے ایک درویش تھا اس کے پاس فقط ایک گوسفند تھا جو اسکو بہت ہی عزیز تھا اور دوسرا شخص مالدار اور بہت سی گوسفند اور گائے کا مالک تھا لہذا مرد غنی نے شخص فقیر کی گوسفند کو اس سے چھین لیا اور اپنے مہمانوں کے لئے آمادہ کیا داؤد بولا اس مرد غنی کو ضرور قتل ہونا چاہئے اور مرد فقیر درویش کو چار گنابرابر گوسفند بد لے میں دیدیا جائےگا۔اس حکم کو بیان کرنے کے بعد داؤد کو کہا گیا یہ مثال تیرے لئے ہے اور اس کو اپنے کئے ہوئے اعمال پر خداوند کی طرف سے توبیخ اور مذمت کی اور کہا خداوند ترے ان اعمال کی تلافی کرےگا، اور تجھ پر اور تیرے اہلبیت پر ایک ایسا شخص مسلط کرےگا جو تمام بنی اسرائیل کے سامنے تیرے بیویوں کے ساتھ زنا کرے اور اسے خبر دی کہ زنا سے ایک فرزند تیرے لئے متولد ہوا ہے وہ عنقریب مرجائے گا اور جب اس کا فرزند بیمار ہوا داؤد نے روزہ رکھا اور خداوند سے اس کے لئے شفا طلب کی اور ساری رات صبح تک زمین پر سوگیا اور بھوکا رہا ۔

کتب عہد قدیم میں بہت بڑے گناہوں کو از جملہ بت پرستی کوحضرت سلیمان سےنسبت دی گئی ہیں، اور ایسع بنی اسرائیل کا ایک پیغمبر ہے اس پردروغگوئی کی نسبت دی ہے ، جبکہ تاکید کیاہےکہ یہ جھوٹ بولناضروری بھی نہیں تھا۔کسی اور جگہ قاس قبیح جملہ کو اریمای پیغمبر کی زبان سےنقل کرتےہیں کہ اس نےکہا خدایاتونے اس قوم کو سخت دھوکا دیاہے ۔(۱۰۲)

عہد جدید کی کتابوں کے بعض نمونے:

اگرچہ عہد جدید کی کتابوں میں میگساری اور شراب تحریم ہوگئی ہے، لیکن اس کے باوجود ان کتابوں میں حضرت عیسٰیؑ سےایک فرد جو شراب نوشی کو پسند کرتےتھے ذکر ہوئےہیں اور کہتے ہیں کہ آنحضرت ایک مجلس جشن میں شرکت کی تھی اور کیونکہ شراب ختم ہوئی تھی حضرت معجزہ کے ذریعے چھے بوتل شراب وجود میں لائے(۱۰۳) ۔ اسی طرح ان کتابوں میں جھوٹ بولنا ، ماں کے ساتھ بی اعتنائی کرنا، حتی اعمال منافی عفت کو حضرت مسیح کی طرف نسبت دی گئی ہے ۔(۱۰۴)

جیساکہ ہم نے بیان کیا ، متعدد موارد میں عہد جدید کی کتابوں کے محتویات ایک دوسرے کے ساتھ سازگار اور مطابقت نہیں رکھتے ہیں، بطور مثال اس موضوع کے بارے میں کہ حضرت عیسٰیؑ کس کی نسل سےتھا عہد جدید کی کتابوں میں مختلف نظریات بیان کی ہیں اور معلوم نہیں ہے ان میں سے کونسا صحیح ہے(۱۰۵) ۔اب ہم پوچھتےہیں کیا یہ ناشایستہ و ناروا الزامات کو ایک شریف انسان سے جو ان سے مبرّا ہے، آیاممکن ہے انبیاء الٰہی اور بشریت کے ہادیوں کی جانب نسبت دینا صحیح ہے؟

وہ افراد جنہوں نے تاریکیوں میں ہدایت کا چراغ جلایا ہے اور خود جل گئے ہیں تاکہ بشریت کو نور کی طرف جانے کا راستہ فراہم ہوجائے۔ وہ جنہوں نے اپنے آپکو منیت کی زنجیروں سے آزاد کردیا ہے اور اس راہ میں حتی اپنی ہستی سے بھی ہاتھ اٹھایاہے اسی راہ میں اپنے جان کو بعنوان قیمت، خالصانہ اور عاشقانہ دےدیا ہے تاکہ انسان کو ہدایت فراہم کرے۔

کیسے ممکن ہے کہ خود ہوائے نفسانی کے قفس میں گرفتار اور پھنس جائیں؟ کبھی بھی ایسا نہیں ہے پس قرآن کریم کی چندآیات سماعت فرمائیں تاکہ یہ اندھے لوگوں کی باتوں کی سیاہی ہمارے دلوں سے مٹ جائے۔

( وَمِنْ ذُرِّيَّتِه دَاودَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَهٰرُوْنَ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ ) (۱۰۶)

اور ان کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کی بھی اور نیک لوگوں کو ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں ۔

( وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاودَ ذَا الْاَيْدِ اِنَّهٓ اَوَّابٌ ) (۱۰۷) مارے بندے داؤد کا قصہ بیان کیجیے جو طاقت کے مالک اور (اللہ کی طرف) بار بار رجوع کرنے والے تھے ۔

( اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَه يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ ) (۱۰۸) ہم نے ان کے لیے پہاڑوں کو مسخر کیا تھا، یہ صبح و شام ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے ۔

( وَاِنَّ لَه عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ ) (۱۰۹) اور یقیناً ہمارے نزدیک ان کے لیے تقرب اور بہتر بازگشت ہے

( وَاِسْمٰعِيْلَ وَالْيَسَعَ وَيُوْنُسَ وَلُوْطًا وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ) (۱۱۰) اور اسماعیل، یسع، یونس اور لوط (کی رہنمائی کی) اور سب کو عالمین پر فضیلت ہم نے عطا کی ۔

( وَاذْكُرْ اِسْمٰعِيْلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ وَكُلٌّ مِّنَ الْاَخْيَارِ ) (۱۱۱) اور (اے رسول) اسماعیل اور یسع اور ذوالکفل کو یاد کیجیے، یہ سب نیک لوگوں میں سے ہیں ۔

حضرت موسی و حضرت عیسٰیؑ کے بارے میں شاہد لانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سراسر قرآن کریم ان دونوں کی شایستگی و برگزیدگی پر گواہ ہے۔ حضرت موسٰیؑ کے بارےمیں خداوند فرماتاہے:

( وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِيْ ) (۱۱۲) اور میں نے آپ کو اپنے لیے اختیار کیا ہے ۔

یہ جملہ خداوند کی خاص توجہ اپنے اس شایستہ بندہ کی طرف نشاندہی کر رہاہے۔

حضرت عیسٰیؑ کے بارے میں بھی قرآن حضرت کی زبان سے اس وقت جب حضرت بچپن کے دور میں تھے اور حضرت گہوارہ میں تھے ، فرماتےہیں:

بچے نے کہا: میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ اور میں جہاں بھی رہوں مجھے بابرکت بنایا ہے اور زندگی بھر نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا ہے ۔ اور اپنی والدہ کے ساتھ بہتر سلوک کرنے والا قرار دیا ہے اور اس نے مجھے سرکش اور شقی نہیں بنایا(۱۱۳)

بنابر این کیسےممکن ہے کہ اس طرح تابناک او رنورانی رخساریں عہدین کی کتابوں میں اندھیرا اور تاریک ترسیم ہوچکے ہیں؟

اس سوال کا جواب قرآن کریم سےسن لیجئے :

اور (یاد کرنے کی بات ہے کہ) جب اللہ نے اہل کتاب سے یہ عہد لیا تھا کہ تمہیں یہ کتاب لوگوں میں بیان کرنا ہو گی اور اسے پوشیدہ نہیں رکھنا ہو گا، لیکن انہوں نے یہ عہد پس پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اسے بیچ ڈالا، پس ان کا یہ بیچنا کتنا برا معاملہ ہے(۱۱۴)

پس ان کے عہد توڑنے پر ہم نے ان پر لعنت بھیجی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا، یہ لوگ (کتاب اللہ کے) کلمات کو اپنی جگہ سے الٹ پھیر کر دیتے ہیں اور انہیں جو نصیحت کی گئی تھی وہ اس کا ایک حصہ بھول گئے اور آئے دن ان کی کسی خیانت پر آپ آگاہ ہو رہے ہیں البتہ ان میں سے تھوڑے لوگ ایسے نہیں ہیں ، لہٰذا ان سے درگزر کیجیے اور معاف کر دیجیے، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے(۱۱۵)

اے اہل کتاب ہمارے رسول تمہارے پاس کتاب (خدا) کی وہ بہت سی باتیں تمہارے لیے کھول کر بیان کرنے کے لیے آئے ہیں جن پر تم پردہ ڈالتے رہے ہو اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرتے ہیں ، بتحقیق تمہارے پاس اللہ کی جانب سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے(۱۱۶)

نتیجہ یہ نکلتاہے کہ کبھی بھی یہی تورات اور انجیل پر (جو ہماری دسترس میں ہے اور اسی طرح کی باطل باتوں سے بنی ہوئی ہے)، ہم اعتماد نہیں کرسکتےہیں اور یہ کتابیں کتب سماوی میں سےشمار نہیں ہوتی ہیں۔

اولو العزم انبیاء:

انبیاء الٰہی کے درمیان بعض انبیاء اولوالعزم سے مشہور و معروف ہیں اور قرآن کریم و اسلامی روایات کی

روشنی سے اسی عنوان سے ان کو یاد کیاگیا ہے:

( فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ) (۱۱۷)

پس (اے رسول) صبر کیجیے جس طرح اولو العزم رسولوں نے صبر کیا ۔

بعض علماء شیعہ نے اس عنوان کلی کے مصداق کو پانچ نفر اس ترتیب سے حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسٰیؑ، حضرت عیسٰیؑ، وحضرت محمدﷺ پیامبر اعظم پر انطباق کیا ہے۔ اور ان پیغمبروں کی دعوت کی عمومیت اور ان کے آئین کو تمام انسانوں کے لئے ہونے کو اپنے مدعا کے لئے دلیل قرار دیاہے ۔ بعض روایات بھی اسی نظریے کی تائید کرتی ہیں،

امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں: اولوالعزم رسول پانچ نفر ہیں نوح، ابراہیم، موسٰیؑ ، عیسٰیؑ و محمد ۔

امام رضاؑ ایک حدیث کےضمن میں مذکور ہ نظریہ کی تائید کرتےہوئے انبیائے اولوالعزم کی تعداد کے بارے میں مذکورہ دلیل کی بھی تائید کرتےہیں ۔ بے شک بعض پیغمبروں کا نام اولوالعزم رکھا ہے کیونکہ وہ شریعت و آئین کے مالک تھے ہر پیغمبر جو حضرت نوح کے بعد تا حضرت ابراہیم کےدور تک تھے حضرت نوح کے تابع تھےاس کی کتاب اور دین کی پیروی کرتےتھے اسی طرح حضرت ابراہیم کی عصر سے لےکر بعثت حضرت موسٰیؑ تک جتنے انبیاءالٰہی تھے سب کے سب حضرت ابراہیم کی آئین و شریعت کے تابع تھے اور اس کی کتاب کی تبلیغ کرتےتھے اور زمان حضرت موسٰیؑ کے دور سے حضرت عیسٰیؑ کے دور تک سارے انبیاء حضرت موسٰیؑ کی پیروی کیاکرتےتھے اور نیز حضرت عیسٰیؑ سےبعثت پیامبر اکرمؐ اسلام، رسول اکرمؐ تک سارے انبیاء تابع حضرت عیسٰیؑ تھے اسی طرح یہ پانچ نفر اولوالعزم پیغمبر تھے اور باقی انبیاء سے برتر اور افضل ہیں اور حضرت محمد کا آئین روز قیامت تک قائم رہے گا اور حضور ﷺ کے بعد کسی کو مبعوث نہیں کیا ہے اور جو آنحضرت کے بعد ادعائے نبوت کرلے یا قرآن کے علاوہ کوئی اور کتاب آسمانی قرآن کریم کےمقابلے میں لائےبےشک اس کا خون بے ارزش ہوگااور وہ زندگی اور حیات کا مستحق نہیں رہے گا ۔(۱۱۸)

تفسیر علی بن ابراہیم میں ابتداء بحث کی آیت کے ذیل میں آیاہے کہ اولوالعزم نوح و ابراہیم و موسٰیؑؑ و عیسٰیؑ ومحمد ﷺ ہیں اور اس لئے اولوالعزم کا نام رکھا گیا ہے کیونکہ یہ حضرات حقانیت خداوند پر اقرار کرنے میں باقی انبیاء سے سبقت لیئے ہیں اور نیز جتنے انبیاء جو ان سے پہلے آچکے تھے اور جتنے انبیاء ان کے بعد میں مبعوث ہوگئے تھے ان سب کی نبوت کا اقرار کیا ہے۔اور مشرکین کے تکذیب و انکار کرنے کے مقابلے میں ہمیشہ وہ عزم و استقامت اور صابر تھے۔(۱۱۹) کیونکہ مفہوم لغوی عزم تصمیم ہے اس لئے وجہ تسمیہ اولوالعزم کے بارےمیں مناسب ہوگا، لہذا مذکورہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے نبی مشکلات کے مقابلے میں صبر و تحمل اختیار کرلو۔جیساکہ ہمارے اولوالعزم انبیاؑ جو آپ سے پہلے آئین الٰہی و اجرای حکام و دستورات خداوندی کے تحقق کے لئے آئے تھے، مشکلات اور سختیوں کے مقابلےمیں صبر و استقامت اختیار کیا ہے۔


چوتھی فصل

پیغمبر اکرمﷺکی زندگی اور رسالت

نوید سحر :

......بَعَثَهُ‏ حِينَ‏ لَا عَلَمٌ‏ قَائِمٌ وَ لَا مَنَارٌ سَاطِعٌ وَ لَا مَنْهَجٌ وَاضِح‏ (۱۲۰) ۔

بہت لمبا عرصہ ہوچکا تھا کہ انبیاء الٰہی کی ندای وحدانیت انسانوں کی کانوں تک نہیں پہنچ چکی تھی اور مشعل ہدایت کا نور سیاہ بادلوں کے پس پشت چھپ گیا تھا ، رات چھاگئی تھی ایسی رات جواستواءسے لمبا سارے لوگ حیرت اور سرگردانی میں مبتلا تھے، جاھل اور پست لوگ مقام حکمرانی پر انسانی شخصیت اور کرامت فساد وتباھی کی مرداب میں غوطہ ور تھے ، ناروائیاں اور برائیاں رائج ہوگئی تھیں، اخلاقی فضائل نگاہوں سے ہٹ چکے تھےخاص طورپر سعودی عرب کی سرزمین میں اخلاقی فساد اور ثقافتی انحطاط اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی،لوٹ مار ، قتل و غارتگری، قبائل عرب کے رائج کاموں میں سے شمار ہوتا تھا۔

امیرالمومنین علیؑ بعثت سےپہلے والے معاشرے کی اس طرح توصیف کرتےہیں: خدواند پیغمبر اعظم کو اس وقت رسالت پر منتخب کیا جو بہت سے عرصہ انبیاء ماسبق کی بعثت سے گزر ہوچکے تھے لوگ ایک گہری اور لمبی نیند میں ڈوبے ہوئے تھے، فتنہ و آشوب کےشعلے پوری دنیا میں جل چکے تھے تمام امور کا سررشتہ پراکندہ اور تتر بتر ہوچکے تھےجنگ کی آگ شعلہ ور، تاریکی ، جہل اور گناہ عام اور دھوکہ و فریب اور تزویر آشکار تھا بشر کی درخت زندگی کا پتہ زرد رنگ ہوچکا تھا ، اس سے ثمرہ ملنے کی امید ختم ہوچکی تھی ، سارا پانی زمینوں کے اندر گھس گیا تھا، ہدایت کا شعلہ ٹھنڈا اور خاموش ، ضلالت و گمراہی کا پرچم بلندتھا ، پستی اور بدبختی بشر پر ہجوم لائےتھے، اور اپنے مکروہ چہرہ کو بدنما کیا تھا بس بد اقبالی اور تیرہ ورزی سے فتنہ اور آشوب کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نہیں نکل آتا تھا لوگوں کے دلوں پر دہشت او وحشت طاری ہوکر خون بہانے والی تلوار کے سوا کچھ نہیں دیکھتے تھے(۱۲۱) ۔اور ایسے ماحول میں اچانک صبح کی روشنائی اور اس نور کی تلالؤ نورصبح ڈھونڈنےوالوں کو اپنے انوار تابناک میں غرق کردیا آسمان نبوت میں ایک پرنور سورج طلوع ہوا، ایسا سورج جس نے کبھی بھی غروب نہ کیا اور نہ کرےگا او رہمیشہ کے لئے تاریکی کوبشر کی زندگی کے فضا سے ہٹا دیا۔

اس دفعہ؛ایسا شخص جو پہاڑکی چوٹیوں کی طرح شان و شوکت کی بارش جس کے پیکرسے برس رہاتھا، وہ جو اس کو وجود عالم ہستی کی بڑی راز ہیں وحی کی ہمیان کو اپنے دوش پر لادکر اپنے پروردگار کے فرمان کی تعمیل کرتےہوئے زعامت اور رہبری کے بلند مقام پر ٹیک لگادیا اور بشریت سرگرداں کاروان کو سعادت و کمال کی طرف رہنمائی کی۔

ابھی پیغمبر کی عمر پربرکت سے چالیس برس نہیں گزرےتھے وحی کا قاصد حضرت پر نازل ہوکر، پیغام الٰہی کہ جو لوگوں کے انذار پر مبنی آیات ان تک پہنچایا:

( اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ) (۱۲۲)

(اے رسول) پڑھیے! اپنے پروردگار کے نام سے جس نے خلق کیا۔ اس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھیے! اور آپ کا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی۔ اس نے انسان کو وہ علم سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا ۔

پیغمبر اکرم ﷺ کی نبوت کا اثبات:

ہم پچھلے بحثوں میں دعویٰ نبوت کرنے والوں کی سچائی جاننے کے طریقوں کو اس ترتیب سےبیان کردیا:

۱ ۔ ماسبق نبیوں کی بشارت۔

۲ ۔ مدعی نبوت کے معجزات۔

۳ ۔ ایسے قطعی شواھد و قرائن جو اس کی نبوت پر دلالت کرلے۔

اب ہم یہ سارے طریقوں کو ایک ایک کرکے پغمبر اعظم کی رسالت کے بارے میں بررسی کرتے ہیں:

۱ ۔ گزشتہ انبیاءکی بشارت:

گزشتہ انبیاءکی مسلسل بشارتیں اہل تحقیق کے لئے مخفی نہیں ہے۔ہم یہاں چند نمونہ پر اکتفا کرتےہیں۔ کتاب درالنظم ماسبق انبیاء کی بشارتوں کو پیغمبر اکرم ﷺ کےظہور کے بارے میں ایک الگ فصل کھولنے کے ساتھ ، تورات کی سفر اول میں حضرت موسٰیؑ کی بشارتیں ، سفر دوم میں حضرت ابراہیم کی بشارتیں، پندرہ ویں اور پچاس ویں سفر میں مزامیر سے اور نیز عویدیا ،حیقوق،حزقیل، دانیال، شعیا کی بشارتیں جو یہ سارے انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں یا د کرتے ہیں ۔(۱۲۳)

ایک اور حدیث میں عبداللہ بن سلیمان سے جو ایک آگاہ اور گزشتہ آسمانی کتابوں سے واقف ایک شخص تھا نقل ہو اہے کہ اس نے کہا : میں نے ان جملات کو انجیل میں پڑھا ہے کہ اے عیسٰیؑ میرے امر کی تعمیل میں کوشاں رہو اور اس کو بے اہمیت نہ سمجھو، سن لو اور فرمان برداری کرو، اے پاکیزہ اور طاہر بکر ،(۱۲۴) بتول(۱۲۵) کا فرزند تو بغیر والد کے متولد ہوا ہے ، میں نے تجھےخلق کیا ہے تاکہ لوگوں کے لئے آیت اور دلیل رہیں اور صرف میری عبادت کرو اور مجھ پر توکل کرو، اس کتاب کو مضبوطی سے تھام لو اور اہم سور کے لئے سریانی زبان میں تفسیر کرو، وہ لوگ جوتیرے پاس ہیں اس بات کو پہنچا دوکہ میں خدائے لازوال اور ہمیشگی و سرمدی ہوں، تصدیق کرو تلمذ اختیار کرنے والے پیغمبر کو جو صاحب اونٹ اور جامہ پشمی اور تاج و عمامہ ہے اور صاحب نعلین و عصا ہے وہ موٹی آنکھیں اور گشادہ جبین والا ہے، اس کا چہرہ روشن ونورانی اور اس کا ناک نازک اور لمبا اور تھوڑا سا اس کے ناک کے بیج میں برآمدگی ہے، ان کے دانتوں کے درمیان فاصلہ، اس کی گردن چاندھی کی طرح ہے، گردن کی دونوں اطراف گویا سونے سے سجی ہوئی ہیں، سینہ سےناف تک بال اگے ہوئے ہیں، لیکن ان کے سینہ اور پیٹ پر کوئی بال نہیں ہیں ان کا رنگ گندمگوں ہےاور سینہ سے ناف تک بال کی ایک لکیر ہے جو نازک اور لطیف ہے ان کے ہاتھ اور پاوں بڑے طاقتورہیں، جب کسی کی طرف توجہ کرتےوقت اپنے پورے بدن سےاس کی طرف رخ کرتےہیں، چلتے وقت گویا پتھر سے اپنےپیر کو نکال لیتےہیں گویا ایک بلند جگہ سے نیچے اتر رہے ہیں(۱۲۶) مجمع کے درمیان میں ہو تو سب پر غالب آجاتاہے ، چہرےپر پسینہ کا دانہ، موتی کی طرح لگتا ہےاس پسینے سے مشک کی خوشبو دوسروں کے مشاموں میں پہنچتے ہیں، کوئی بھی اس سے پہلے اور اس کے بعد اس جیسا نہیں دیکھا گیا ہے، وہ خوشبو ہے اس کے لئے متعدد بیویاں ہیں ، اس کی اولاد کم ہے، اور اس کی نسل ایک بابرکت خاتون سے ہے جس کے لیے بہشت میں گھر مہیا ہے، وہاں پر فریاد بلند اور مشکلات نہیں ہے وہ آخرالزمان میں اس کے امورا کو اپنے عہدہ میں لے لیتےہیں اس خاتون سےنگہداری کرے گا جیسا کہ تیری ماں سےنگہداری کیا، اس کے دو بچے ہیں جو خدا کی راہ میں مارے جائیں گے، اس کا کلام قرآن اور اس کا دین اسلام ہے، خوش نصیب ہے وہ جو اس کے دوران کو درک کرے اس کے روزگار میں حاضر ہوکر اس کے باتوں کو مان لے ۔(۱۲۷)

اسی طرح مزامیر میں آیا ہے: بے شک خداوند صہیول سے اکلیل و محمود کو ظاہر کرے گا اور صہیول سے مراد قوم عرب اور اکلیل یعنی نبوت اور محمود سےمرادمحمد ہے اس کے علاوہ آسمانی کتابوں سے آشنائی رکھنے والے ایک گروہ علما نے پیغمبر اعظم کی رسالت پر گواہی دی ہے۔ اور بہت واضح ہے کہ ان کی گواہی دینا خود دلیل ہے کہ انہوں نے آسمانی کتابوں پر استناد کیا ہے جویہ علما ان کتابوں سےآشنا تھے۔

پیغمبر اکرمﷺ کے ظہور کے بارے میں جو اخبار وارد ہوئے ہیں ان میں سے مشہور ترین خبر بحیرا نامی ایک مسیحی راہب کا ماجرا ہے پیغمبر اعظم کے ساتھ ملنے سے پہلے اور حضرت سلمان کا جستجو ہے پیغمبر اعظم سےملنے کے لئے اور ہم ان دو نوں واقعوں کو اختصار کے ساتھ بیان کرتےہیں۔

ایک تجارتی سفر میں رسول اکرمؐ اپنے چچا حضرت ابوطالب کے ساتھ شام کی سرزمین کی طرف روانہ ہوئے انہوں نے راستے میں بحیرا نامی ایک شخص کے صومعہ پر توقف کیا اور نبی اکرمؐ جو اس وقت کم عمر تھے ایک درخت کے نیچے سایہ میں جس پر شاخ و برک کم تھیں استراحت فرمایا اچانک اس درخت کے شاخ و برگ حرکت کرنے لگا، اگرچہ اس درخت پر کوئی حتی ایک دانہ میوہ بھی نہیں تھا، اس کے باوجود اس کے شاخوں پر تین قسم کے میوہ ظاہر ہوگئے ، میووں میں سے دو نوع موسم گرمی کا میوہ تھا اور ایک نوع موسم سرما کا میوہ تھا۔ بحیرا چونکہ ایک مسیحی راھب تھا اور انجیل سےآشنا تھا اس واقعہ کو دیکھ کر حضورکوپہچان لیا اور وہ علامات جو آسمانی کتابوں میں پیغمبر اعظم کے بارے میں تھیں اس نے پڑھ لیا تھا آنحضرت کا بطور وضوح مشاہدہ کیا وہ زیادہ مطمئن ہونے کے لئے کھانا بہت کم تیار کرکے سب کو دعوت دی اور حضور کو بھی دعوت دی ، سارے مہمان کھانا کم ہونے کے با وجود مکمل سیر ہوگئے اس کے بعد بحیرا نے آنحضرت کے خواب و بیداری ، رفتار و کردارکے بارے میں کچھ سوالات پوچھے اور سارے جوابات سن لئے اب بحیرا حضرت محمد کو بالکل پہچان گیا تھا، لہذا حضور کے پاوں پر گرپڑا اور باربار حضرت کے پاوں کو بوسہ دے کر رسول اکرمؐ کو بہت تمجید و ستایش کرتاتھا وہ کہتاتھا کہ ابراہیم کی دعا توہے ، عیسٰیؑ کی بشارت توہے، تو جاہلیت کی سارے پلیدی اور رزالتوں سےپاکیزہ ہے اور اگر تیری رسالت کے دوران تک میں زندہ رہوں تو آپ کے دشمنوں کے ساتھ جنگ کروں گا، اس کے بعد اس نے حضرت ابوطالب سے حضور کے بارے میں بہت سفارش کیا، اور حضرت ابوطالب سے درخواست کی کہ اس سفر کے بعد حضور کو اپنے ساتھ سفر میں نہ لے چلیں، تاکہ دشمنوں خصوصا یہودیوں کے شر سے امان میں رہے۔(۱۲۸)

سلمان فارسی کی جستجو:

سلمان کا پہلا نام روزبہ تھا اور بچپن سے ہی وہ حق وحقیقت کا پیاسا تھا اور ہر وقت وہ ایک زرتشتی خاندان میں متولد ہوا ایک مدت تک دوسروں سےارتباط برقرار رکھنے سے محروم تھا کچھ عرصہ کے بعد اپنی پہلی ملاقات میں ایک کلیسا میں گیا اور وہاں بعض مسیحیوں سے گفتگو کرنے کے بعد ان کے دین کو اپنے اجداد کے دین سے صحیح تر پایا، لہذا مسیحیت کی طرف مائل ہوا اپنے دین کو چھوڑ کر مسیحیت کا پیرو بن گیا اور اپنے والد کی مخالفت کے باوجود وہ سرزمین شام جو اس وقت مسیحیت کا مرکز تھی سفر کیا، اور کچھ سال تک چند مسیحی عالم کے پاس رہا، آخری مسیحی عالم جو روزبہ اس کی خدمت کر رہاتھا اس کے سوال کے جواب میں جو پوچھاتھا کہ اس کے بعد کس کے خدمت میں رہوں، تو اس عالم مسیحی نے پیغمبر اعظم کے ظہور کی نوید اس کو دیا اور آنحضرت کی کچھ علامتیں جیسےصدقہ قبول نہیں کرنا، ہدیہ قبول کرنا اور مہر نبوت آپ کے کاندھے پر منقوش ہونا، یہ علامتیں اس نے بتائیں اور اس سے چاہا کہ اگر ممکن ہوا تو مدینہ میں چلے جائے ، روزبہ اپنے دنوں اور راتوں کو بردگی و غلامی میں سپری کرتاتھا، لیکن وہ ہمیشہ اسلام کی طلوع اور پیغمبر اعظم کی زیارت کا مشتاق تھا یہاں تک کہ روزبہ کوحضور کے اپنےچند اصحاب کے ساتھ مدینہ کے قریب تشریف لانے کی خبر ملی ، سامان سفر مہیا کرکے خود کو پیغمبر کے محضر میں پہنچایا اور اطمینان خاطرہونے کے لئے اپنے ساتھ جو غذا تھی اس کا کچھ حصہ بطور صدقہ انہیں دیدیا اور متوجہ ہوا کہ پیغمبر نے اس غذا کواپنے اصحاب کے درمیان تقسیم کیا اور خود اس سے تناول نہیں فرمایا اور روزبہ نے جب اس منظر کو دیکھا، اس کا شوق اور بڑھ گیا ، لہذا مہر نبوت کو دیکھنا چاھا، نبی اکرمؐ روزبہ کی اس خواہش پر متوجہ ہوکر اپنے کاندھے کو جہاں پر مہر نبوت منقوش تھا اسے دکھایا جب روزبہ نے یہ دیکھا تو اسی جگہ پر اسلام قبول کیا اور سلمان کے نام کو اپنے لئے منتخب کیا ، اس کی غلامی سے آزاد ہونے کا وسیلہ بھی فراہم ہوا اور بہت جلدی حضرت پیغمبر اکرمﷺ کے قریب ترین اصحاب میں شمار ہوگیا ۔(۱۲۹)

قرآن کریم میں بھی ایسی آیات موجود ہیں جن میں گزشتہ انبیاء نے پیغمبر اکرمﷺ کی رسالت پر بشارت دیدی ہیں اور یہ مطلب جو اہل کتاب آپ کی خصوصیات اور صفات سےآشنا تھےان آیتوں میں آیا ہے:ایک آیت میں پڑھتے ہیں:جو لوگ اس رسول کی پیروی کرتے ہیں جو نبی امی کہلاتے ہیں جن کا ذکر وہ اپنے ہاں توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں(۱۳۰)

ایک اور آیت میں آیاہے:

اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور اپنے سے پہلے کی (کتاب) توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جن کا نام احمد ہو گا(۱۳۱)

اور تیسری آیت میں فرماتےہیں اہل کتاب رسول اکرمؐ کو جانتےتھے ، جس طرح اپنی اولاد کو جانتےتھے(۱۳۲) ۔یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب آنحضرت کی خصوصیات کے بارے میں بطور کامل آگاہ تھے لیکن قرآن کریم کے قول کی مطابق:

( وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِه فَلَعْنَةُ اللهِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ) (۱۳۳)

اور وہ پہلے کافروں پر فتح کی امید رکھتے تھے، پھر جب ان کے پاس وہ آگیا جسے وہ خوب پہچانتے تھے تو وہ اس کے منکر ہو گئے، پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہو ۔

پیغمبر اعظم کےمعجزات:(۱۳۴)

رسول اکرمؐ کے معجزات میں سے ایک معجزہ قرآن مجید ہے جو معجزہ جاویداں پروردگار عالم ہے اور انسان اور خالق کائنات کے درمیان ایک مضبوط رسی (عروۃ الوثقیٰ)کی حیثیت کی وجہ سے ایک اہم موقعیت و جائگاہ سے برخوردار ہے، لہذا اس کے لئے ایک علیحدہ بحث کی ضرورت ہے، لیکن اس سے پہلے پیغمبر اکرمﷺ کے کچھ اور معجزات بیان کرتےہیں:

شقّ القمر:

شیعہ و سنی روایات میں ملتا ہے ، چودہویں کی رات اور رات کا ابتدا ئی وقت تھا چاند آسمان میں ظاہر ہوا تھا، بعض مشرکین کے معجزہ کی درخواست کے بعد رسول اکرمؐ نےایک اشارہ سے چاند کو دو مساوی حصوں میں تقسیم کردیا اور کچھ مدت کے بعد دوبارہ دونوں ٹکڑوں کو پہلے کی طرح جوڑ دیا۔

سورہ قمر میں اس موضوع کے بارے میں اشارہ ہواہے:( بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَاِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِر ) (۱۳۵)

بنام خداوند رحمن و رحیم۔ قیامت قریب آ گئی اور چاند شق ہو گیا۔ اور (کفار) اگر کوئی نشانی دیکھ لیتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں : یہ تو وہی ہمیشہ کا جادو ہے ۔

جیساکہ ہم کہہ چکے ہیں کہ اس معجزہ کو قرآن کریم کی روسے اور نیز ان روایات کی بنا پر جو تشیّع اور تسنن کی طریق سے وارد ہوئی ہے ، انکار نہیں کرسکتےہیں۔اگرچہ تنگ نظر لوگ معجزہ انبیاء کو قبول نہیں کرتےہیں اور ہر وہ مسئلہ جن کےلئے علمی توجیہ کرنے سےعاجز ہوتےہیں ان کو تاویل کرکے انکار کرتےہیں، یہ لوگ اس مورد میں بھی تفسیربالرائے سے دوچار ہوکر کہتےہیں: اس آیت کا مقصد قیامت کے دن واقع ہونے والے انشقاق قمر ہے، اور ابتدائی آیہ شریفہ کو اپنے اس بات کی مؤید کےعنوان سے پیش کرتے ہیں جبکہ اس نظریہ کی بطلان عیاں ہیں، کیونکہ ابتدائی آیت میں فرماتے ہیں کہ، قیامت کا دن قریب ہے یعنی ابھی نہیں آیاہے اور اس کے بعد فرماتاہے چاند دوٹکڑے ہوگیایعنی ایک ایسا واقعہ پہلے ہی سےتو واقع ہوچکے تھے اور قرآن کریم اس کے بارےمیں خبر دے رہا ہے۔اس کے علاوہ دوسری آیت میں فرماتےہیں: جب مشرکین اس معجزہ کو دیکھتے ہیں وہ اس سے رخ موڑ لیتےہیں اور اس کو ایک جادو اور افسانہ تصور کرتے ہیں، لہذا قرآن کریم انشقاق قمر کو ایک معجزہ کے عنوان سے قبول کرتا ہے جبکہ ایسا واقعہ قیامت کے دن تو معجزہ نہیں ہے، اس کے علاوہ قیامت میں تو اس طرح کے واقعہ پر جادو اور سحر کا الزام لگاکر انکار نہیں کرسکتے ہیں۔

بعض نے کہاہے کہ انشقاق قمر سے مراد چاند کا زمین سے جدا ہونا ہے اور قرآن نے اس علمی فرضیہ کی طرف اشارہ کیاہے اور کہتا ہے کہ زمین سورج سے جدا ہوگیاہے اور چاند بھی زمین سےجداہوگیا ہے یہ تو بدیہی ہے کہ اس مفہوم قرآن کی تعبیر کے ساتھ جو اس واقعہ کو انشقاق سے تعبیر کیا ہےمنافات رکھتےہیں ، چونکہ جدا ہونا اور دو حصہ میں ٹکڑے ہونے میں بالکل فرق ہے ، ثانیاً ان کے اس معنی کو قبول کرنےکی صورت میں یہ جملہ اور آیت اور نیز بعد والی آیت کے آپس میں جو ارتباط اور مناسبت ہے وہ ختم ہوجاتی ہے ۔

سوال :ممکن ہے کہ کسی کی ذہن میں یہ سوال پیدا ہوجائےکہ کیسےقبول کرسکتے ہیں کہ چاند دو حصہ ہوچکے ہیں لیکن یہ واقعہ تاریخ میں ایک تاریخی حادثہ کےعنوان سےثبت نہیں ہوا ہے؟

اس سوال کا جواب بہت واضح ہے کیونکہ پہلا : یہ واقعہ بغیر پیش بینی اور اچانک و ناگہانی طور پر واقع ہوا ہے اور احتمال یہ ہے کہ ایک گنےچنے معدود افراد جو آسمان کی طرف چاند دیکھ رہےتھے اس واقعہ کو دیکھا ہے۔

دوسرا: جیساکہ ہم نے بیان کیا کہ چاند تازہ آسمان میں ظاہر ہواتھا اور شاید ابھی چاند پورے نیم کرہ ارض میں ظاہر نہیں ہوا تھا اور افق کے اختلاف کی وجہ سے چاند تمام نیم کرہ ارضی میں ابتدائے ساعات میں نظرنہیں آیاتھا۔

تیسرا: قدیم زمانےمیں لوگوں کے آپس میں رابطہ آج کل کی طرح مضبوط اور قوی نہیں تھے مثلا جب دنیا کے ایک کونے میں اگر چھوٹا سا واقعہ پیش آجائے فوراً دوسرے جگہوں پر گزارش کی جاتی ہے اور اس زمانہ میں ان اشخاص کے لئےجو شاہد واقعہ تھے ممکن نہیں تھا کہ بطور وسیع دوسروں کو بھی مطلع اور آگاہ کرے، لہذا یہ تو طبیعی ہے کہ یہ واقعہ بھی دیگر بہت سے واقعات کی طرح ہم اس سےآگاہ نہ ہوجائے اور تاریخی آنکھوں سے چھپے رہیں۔

دوسرے معجزات:

کچھ اور معجزات بھی پیغمبر اکرمﷺ کے لئے بیان ہوئے ہیں، از جملہ حضور کا بچاہوا وضو کا پانی جب چشمہ تبوک میں ڈالا جو خشک تھا تو اس چشمہ سےپانی جاری ہوگیا، اسی طرح ایک جنگ میں رسول اکرمؐ ایک مٹھی خاک اٹھاکردشمنوں کی طرف پھینک دی اور یہ غبار تمام دشمنوں کے آنکھوں میں گیا اور یہ آیت نازل ہوئی:

( وَ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَ لَاكِنَّ اللَّهَ رَمَى‏... ) (۱۳۸)

ایک اور واقعہ کے مطابق حضرت نے دو درخت کواپنے طرف بلایا وہ حضرت کے پاس آکر ایک دوسرے کےپاس کھڑے رہیں اور حضرت کے فرمان پر دوبارہ اپنےجگہوں پر گئے، جو نبی اکرمؐ نے غیبی اخبار بیان فرمایا تھا حضرت کی موارد اعجاز میں شمار ہوتاہے۔

بطور مثال حضرت نے عمار سے فرمایا تجھے ایک سرکش اور ستمگر گروہ قتل کریں گے ، نیز جب نجاشی حبشہ کابادشاہ دنیا سےچلا گیا رسول اکرمؐ نے مدینہ میں لوگوں کو اس واقعہ سے مطلع کیا اور وہاں مدینہ میں اس پر نماز پڑھی۔ اور کافی مدت کے بعد معلوم ہوا کہ نجاشی اسی وقت جو پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایاتھا فوت ہوا تھا ، نیز رسول اکرمؐ نے حضرت امیرالمومنینؑ کی شہادت کی کیفیت اور آنحضرت کا تین گروہ ناکثین، قاسطین اور مارقین کے ساتھ جہاد اور نیز امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی شہادت کی خبر، اور آنحضرت کے ایک فرزند کا مدفن شہر طوس ہونے کا اور امام رضاؑ اور ابوذر غربت اور تنہائی میں شہید ہونے کی خبر آنحضرت نے دے دی تھی۔(۱۳۹)

تمت بالخیر

والحمد للہ رب العالمین

حوالے

___________________

۱ ۔ بقرہِ، ۲۱۳۔

۲۔ آل عمران : ۸۴

۳۔ کچھ اور آیات بھی اسی بارے میں آیا ہے، ان میں سے: (فصلت، ۱۴، (مؤمنون،۴۴)، (اعراف،۳۵)۔

۴۔ نحل، ۳۶۔

۵۔ مریم، ۱۹۔ اس نے کہا: میں تو بس آپ کے پروردگار کا پیغام رساں ہوں تاکہ آپ کو پاکیزہ بیٹا دوں ۔

۶۔ البتہ یہ قابل اشکال نہیں ہے کہ رسالت کے ساتھ کوئی اور وظیفہ جو پیغام پہنچانے کے علاوہ ہو انجام دے۔

۷۔ البتہ یہاں ضروری ہےکہ یہ بات بیان کروں کہ رسول کا لفظ پیغام الٰہی لانے والوں کے بار ے میں ضروری جانتا ہے کہ یہ حضرات پیغام کے محتویٰ سے جو وہی وحی الٰہی ہے سے آگاہ ہونا بھی ضروری ہے۔تو اس صورت میں اسی لازمہ کی وجہ سے مفہوم نبی اور رسول عموم و خصوص مطلق ہوگا۔

۸۔ مریم، ۵۱۔ اور اس کتاب میں موسیٰ کا ذکر کیجیے، وہ یقینا برگزیدہ نبی مرسل تھے۔

۹۔ حج، ۵۲، اور (اے رسول) آپ سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول بھیجا اور نہ نبی ...۔

۱۰۔ اس کے علاوہ جیسا کہ پچھلے صفحہ کی حاشیہ میں سورہ مریم کی ۵۱،ویں آیت میں ذکر ہوا کہ دو مفہوم رسول اور نبی کے درمیان نسب اربعہ میں سے عام اور خاص مطلق کی نسبت پائی جاتی ہے اور خاص کے بعد عام ذکر ہوا ہے اور یہ قرآن کریم کی بلاغت کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔

۱۱۔ دو لفظ فقیر اور مسکین کے بارے میں بھی یہی ذکر ہوا ہے۔

۱۲۔ بصائر الدرجات، آٹھویں حصہ، ص/ ۳۶۸، ح۳۔

۱۳۔ ترجمہ۔۔۔۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ قرآن کریم میں لفظ ولامحدث موجود نہیں ہے و شایدیہ لفظ تفسیر اور توضیحی ہو جو امام آیت کی ذیل میں فرمایا ہو، البتہ اسی زمینہ میں متعدد روایات موجود ہیں۔ رجوع کیجئے: بصائر الدرجات، ص۳۶۸۔

۱۴ ۔ بقرہِ، ۲۱۳۔

۱۵ ۔ فاطر /۲۴

۱۶۔ ابراہیم، ۴۔

۱۷۔ ص،۲۶۔

۱۸۔ نساء، ۶۴۔

۱۹ ۔ بقرہ /۱۲۴

۲۰۔ انبیاء، ۷۳۔اور ہم نے انہیں پیشوا بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق رہنمائی کرتے تھے۔

۲۱۔ قصص، ۴۱۔

۲۲۔ ابراہیم، ۳۹۔

۲۳۔ معنوی مقامات کا مقصد انبیاء کی عرفانی حالات اور ان کے سیر و سلوک نہیں بلکہ جیساکہ مطالب کی تقسیم بندی اور آیندہ بیان ہونے والے توضیحات سے معلوم ہوتاہےوہ یہ ہے کہ مقصود ان کی بعض فردی فضیلتیں مراد ہیں جو دوسروں سے مرتبط نہیں ہیں۔

۲۴۔ آل عمران، ۸۱۔

۲۵۔ بقرہ، ۱۰۱۔

۲۶۔ انعام، ۹۲۔

۲۷۔ صف،۶۔

۲۸۔ انبیاء، ۷۲۔

۲۹۔ انعام، ۸۵۔

۳۰۔ مریم، ۴۱۔

۳۱۔ مریم، ۵۶۔

۳۲۔ نساء، ۱۲۵۔

۳۳۔ مریم، ۵۱۔

۳۴۔ یوسف،۲۴۔ ص۴۶۔

۳۵۔ ص،۴۴۔

۳۶ ۔ نمل /۱۵

۳۷۔ آل عمران، ۶۷۔

۳۸۔ آل عمران، ۸۵۔

۳۹۔ شایان ذکر ہے کہ اسلام کے لئے مختلف مراتب ہیں جو اس کی حد نصاب سے شروع اور آخر میں اس کے مراتب عالی تک پہنچتے ہیں اور یقیناً حضرت ابراہیم اپنی اس بلند شخصیت کے ساتھ مراحل عالی اسلام اور تسلیم پر فائز تھے ۔

۴۰۔ نحل،۳۶۔

۴۱۔ فاطر، ۲۴۔

۴۲۔ انعام ۳۸

۴۳۔ نحل، ۳۶۔

۴۴۔ فصلت، ۱۴۔

۴۵۔ یوسف، ۱۰۹۔

۴۶۔ انبیاء،۷۔

۴۷۔ ابراہیم،۴۔

۴۸۔ شعراء، ۱۰۹، ۱۲۷، ۱۴۵، ۱۶۴، ۱۸۰۔

۴۹۔ ص۸۶۔

۵۰۔ شوریٰ، ۲۳۔

۵۱۔ سباء، ۴۷۔

۵۲۔، فرقان، ۵۷۔

۵۳ ۔ بقرہ /۲۵۳ ۔

۵۴۔ ر- ک : ھود،/۵۰،۶۱۔ صف،/۵۔ شعراء۱۶،۱۷۔ اسراء،۳۔

۵۵۔ ر- ک: انعام،۱۶۰۔ آل عمران،۵۰۔

۵۶۔ ر -ک : انعام،۳۰۔ احقاف، ۲۹۔

۵۷۔ ابراہیم، ۹۔ نیز اسی موضوع کے بارے میں سورہ ابراہیم،۶، فاطر،۲۵،۲۶، میں بیان ہوئی ہے۔

۵۸ ۔ اعراف /۶۰ ۔

۵۹۔ سباء، ۳۴۔

۶۰۔ اعراف،۷۵۔

۶۱۔ انبیاء، ۳۶۔

۶۲۔ مطففین، ۲۹،۳۲۔

۶۳۔ الذاریات، ۵۲،۵۳۔

۶۴۔ اسراء، ۹۰۔۹۴۔

۶۵۔ بقرہ، ۱۱۸۔

۶۶۔ ابراہیم، ۱۳۔

۶۷۔ ھود، ۹۱۔

۶۸۔ یسن، ۱۸۔

۶۹۔ اعراف، ۹۴۔

۷۰۔ البتہ وفور اور زیادی نعمت ہمیشہ بعنوان استدراج نہیں ہے، بلکہ با فضیلت اور خودساختہ انسانوں کے لئے خداوند سے زیادہ شکر کرنے کا موجب ہوتی ہے نتیجتاً آخر میں کمال حقیقی اور برترتک پہنچنے کا سبب بنتی ہے۔اسی طرح استدراج اور املاء کا قانون کبھی شیطان کا ایک فریب اور ددھوکہ نہیں سمجھنا چاہئے ، کیونکہ شیطان کا مکر ضعیف ہے (نساء۷۴) بلکہ یہ ایک ایسا مکر اور الٰہی ترفند ہے جو پروردگار کی طرف سے لوگوں کے سرکشی اور عصیان جو دعوت انبیاء کے مقابل میں اسی طرح عاطفی طریقے مؤثر ثابت نہ ہونے کے بعد جیساکہ سختیوں میں مبتلا ہونا جو معمولاً تضرع اور خداوند کی طرف لوٹنے کا موجب بنتے ہیں استعمال ہوتےہیں اور یہ بہت قوی اور مؤثر تدبیر ہے۔

۷۱ اعراف /۹۵

۷۲۔ انعام،۴۴۔

۷۳۔ اعراف، ۱۸۲،۱۸۳۔

۷۴۔ بحارالانوار، ج۱۱، ص۲۸، بنقل از اعتقادات صدوق۔

۷۵۔سابقہ حوالہ، ص۳، ح۲۱۔

۷۶۔ یہ کنایہ ہے جیساکہ ھبۃ اللہ فرزند آدم اور اس کا جانشین تھا حضرت علیؑ بھی رسول اکرمؐ کا وصی اور جانشین ہے۔

۷۷۔ سابقہ حوالہ، ص۴۱، ح۴۲۔

۷۸۔ نساء، ۱۶۳،۱۶۴۔

۷۹۔ انعام۸۶، ۸۵، ۸۴،۸۳۔

۸۰۔ انبیاء ۸۵۔

۸۱۔ ھود، ۵۰۔

۸۲۔ ھود۔ ۶۱۔

۸۳۔ ھود، ۸۴۔

۸۴۔ فتح، ۲۹۔

۸۵۔ آل عمران،۹۳۔

۸۶۔ مائدہ، ۴۶۔

۸۷۔ نساء، ۱۶۳۔

۸۹۔ نساء۸۲۔

۹۰۔ انعام، ۱۹۔

۹۱۔ یوسف،۲۔

۹۲۔ اعلیٰ،۱۸،۱۹۔

۹۳۔ مریم، ۱۲۔

۹۴۔ ا س ادعا کی دلایل کے علاقہ مندوں سے گزارش ہے کہ عہد عتیق کی محتویات کے اساس پر کتاب اسلام آئین برگزیدہ جو الہدی الی دین المصطفی کا ترجمہ ہے مراجعہ کریں پانچویں اور چھٹی مقدمی اور تیرہ ویں مقدمہ کی ابتداق میں۔

۹۵۔خلاصہ، سیر تاریخی تورات، ص۶، انتشارات در راہ حق۔

۹۶۔ سابقہ حوالہ،نقل از مزامیر ، باب۱۰۶، بند۴۶،۳۶۔

۹۷۔ اسلام آئین برگزیدہ، ص۸۴،۸۰۔

۹۸۔ سابقہ حوالہ، ص۱۰۹

۹۹۔ سابقہ حوالہ، ص۱۰۹۔

۱۰۰۔ کتب عہد جدید بھی حسن کی محتویات کو دیکھ کر اور ان کے اند رجو تناقضات موجود ہیں لہذا قابل اعتماد نہیں ہے۔

۱۰۱۔ سابقہ حوالہ۔

۱۰۲۔ سابقہ حوالہ۔

۱۰۳۔سابقہ حوالہ، ص۱۴۳، ۱۳۳۔

۱۰۴۔سابقہ حوالہ،ص۲۶۴۔

۱۰۵۔ سابقہ حوالہ، ص۴۷۰، ۲۶۸۔

۱۰۶۔ سابقہ حوالہ۔

۱۰۷ سابقہ حوالہ۔

۱۰۸۔ اننعام۸۴۔

۱۰۹۔ ص،۱۷۔

۱۱۰۔ ص۔

۱۱۱۔ ص۲۵۔

۱۱۲۔ انعام۸۶۔

۱۱۳۔ ص۴۸۔

۱۱۴۔ طٰہ،۴۱۔

۱۱۵۔ مریم۳۰ تا ۳۲۔

۱۱۶۔ آل عمران ۱۸۷۔

۱۱۷۔ مائدہ، ۱۳۔

۱۱۸۔ مائدہ ۱۵۔

۱۱۹ ۔ احقاب /۳۵

۱۲۰۔بحار الانوار، ج۱۱، ص۳۴، ح۲۸۔

۱۲۱۔ معالم النبوۃ، ص۱۶۳۔

۱۲۲۔ نہج البلاغہ، فیض، خ۱۸۷، ص۶۲۲۔

۱۲۳۔ سابقہ حوالہ، فیض۸۸، ص۲۱۲۔

۱۲۴۔ علق۱تا۵۔

۱۲۵۔ علم الیقین، فیض کاشانی، ج۱، ص۴۲۳۔

۱۲۶۔ وہ عورت جس کی شادی نہیں ہوئی ہو۔

۱۲۷۔ اس عورت کو کہا جاتا ہے کہ جو عادت ماہانہ(حیض) سے پاک ہوئی ہو۔ اور یہ حضرت مریم اور نیز حضرت زہراؑکے القاب ہیں۔

۱۲۸۔یعنی راستہ چلتے وقت پاؤں اٹھاکے چلتےہیں، اور زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔ راستہ چلتے وقت ان کے سر مبارک نیچے کی طرف ہوتی ہے، جیسے بلندی سے نیچے اتر رہے ہیں۔

۱۲۹۔اثبات الہداۃ، ج۱،باب ۷، ص۳۳۷۔۳۳۵۔

۱۳۰۔علم الیقین ، فیض کاشانی، ج۱، ص۴۳۱۔۴۲۹۔

۱۳۱۔ سیرہ ابن ہشام، ج۱، ص۱۸۳۔۱۸۰۔

۱۳۲۔ اعراف۱۵۷۔

۱۳۳۔ صف،۶۔

۱۳۴۔ بقرہ / ۱۴۶ /۔ انعام/۲۰

۱۳۵۔ بقرہ، ۸۹۔

۱۳۶۔ شایان ذکر ہے کہ رسول اکرمؐ کے لئے نبوت سے پہلے حتی ولادت کے موقع پر بھی خوارق عادات ذکر ہوا ہےجو اصطلاح میں ارحاص کہا جاتاہے ازجملہ کاخ کسریٰ میں شگاف ہونا، اور آتشکدہ فارس بج جاناجو بہت سالیان سال سے جل رہا تھا جب آنحضرت کی ولادت ہوئی اور نیز پیغمبر کی دایہ حلیمہ کی سینہ دودھ سے لبریز ہونا اور باقی تحولات و برکات جو حضرت کی قدوم مبارک سے قبیلہ سعدیہ میں رونما ہوا اور اسی طرح بادل کا ایک ٹکڑا ہمیشہ آپ کے سر کے اوپر سایہ کرتاتھاتاکہ نورآفتاب کی تابش سے آپ محفوظ رہئے، اور باقی بہت سارے موارد جو تاریخ کی مختلف کتابوں میں مفصلا آچکے ہیں۔

۱۳۷۔ قمر،/ ۱۔۲۔

۱۳۸۔ انفال/،۱۷۔

۱۳۹ ۔ عبارات منقولہ کتاب علم الیقین فیض کاشانی ، ج۱، ص۴۷۶۔۴۷۳ سے اقتباس ہوا ہے۔ مزید مطالعہ کے لئے رجوع کیجئے کتاب مدینہ المعاجز اور بحارالانوار، ج۱۷ و ۱۸۔


فہرست

انتساب ۴

فصل اول ۵

پیغمبر شناسی کی ضرورت ۵

۱ ۔ ۲ ۔ نبی ورسول: ۶

۳ ۔ ۴ ۔ بشیرونذیر : ۸

۵ ۔ مبیّن وحی: وحی بیان کرنے والا: ۹

۶ ۔ قضاوت اورفیصلہ : ۹

۷ ۔ حکومت: ۱۰

۸ ۔ امامت اور رہبری: ۱۰

۹ ۔ انبیاء ماسبق کی تصدیق: ۱۲

۱۰ ۔ پیغمبر خاتم کی آمد کی خوشخبری : ۱۲

دوسری فصل ۱۴

انبیاء الٰہی کے معنوی اور روحانی رتبے ۱۴

۱ ۔ صالح: ۱۴

۲ ۔ صدّیق: ۱۴

۳ ۔ خلیل: ۱۵

۴ ۔ مخلص: ۱۵

۵ ۔ صابر: ۱۵

۶ ۔ علم و آ گاہی: ۱۶

۷ ۔ مسلم: ۱۶


تیسری فصل ۱۸

انبیاء کی دعوت کے بارے میں کلی مباحث ۱۸

پیغمبر اسلام  کا وجود ساری امتوں کے لئے : ۱۸

ایک وقت میں دو پیغمبر: ۱۹

انبیاء کی دعوت کا مقصد : ۱۹

انبیاء کا مرد ہونا: ۱۹

انبیاء کا اپنی قوم کی زبان میں گفتگو کرنا: ۱۹

انبیاء کا صلہ (اجر): ۲۰

انبیاء کے مراتب: ۲۱

انبیاء اور ان کی عالمی رسالت: ۲۲

پیغمبروں کی رسالت اور جنّات : ۲۳

انبیاء الٰہی کی دعوت اور لوگوں کا جواب: ۲۳

لوگوں کا پیغمبروں سے سلوک: ۲۷

۱ ۔ لوگوں کا سختیوں میں مبتلا ہونے کا فلسفہ : ۲۷

۲ ۔ ۳ ۔ قانون املاء اور قانون استدراج: ۲۷

انبیاء الٰہی کی تعداد: ۲۸

انبیاء کے اسمائے گرامی: ۲۹

آسمانی کتابیں : ۳۱

عہد قدیم کی کتابوں سے کچھ مثالیں : ۳۳

عہد جدید کی کتابوں کے بعض نمونے: ۳۵

اولو العزم انبیاء: ۳۷


چوتھی فصل ۴۰

پیغمبر اکرمﷺکی زندگی اور رسالت ۴۰

نوید سحر : ۴۰

پیغمبر اکرم ﷺ کی نبوت کا اثبات: ۴۱

۱ ۔ گزشتہ انبیاءکی بشارت: ۴۱

سلمان فارسی کی جستجو: ۴۳

پیغمبر اعظم کےمعجزات: ۴۵

شقّ القمر: ۴۵

دوسرے معجزات: ۴۶

حوالے ۴۷

پیغمبر اکرمؐ کی شناخت(عقل و سنت کی روشنی میں)

پیغمبر اکرمؐ کی شناخت(عقل و سنت کی روشنی میں)

اصلاح کتب

مؤلف: حجت الاسلام محسن غرویان
قسم: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 11