پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور جلد 1

اصلاح کتب

مؤلف: سلطان الواعظین آقائے سید محمد شیرازی
مناظرے

پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ

خورشید خاور ترجمہ شبہائے پشاور

مصنف

حجة الاسلام وسلطان الواعظین آقائے سید محمد شیرازی

مترجم

الحاج مولانا سید محمد باقر صاحب باقری رئیس جوارس ضلع بارہ نیکی

تجدید نظر

سید اعجاز محمد ( فاضل)


باسمہ سبحانہ،

من لم یشکر الناس لم یشکر اﷲ

ہم ان سطور میں محسن ملت، مبلغ مذہب ، مروج شیعیت ناشر حقائق دین اسلام، ناصر اہل بیت طاہرین علیہم السلام ، فخر المحققین، سید المدققین علامہ سید محمد باقر صاحب نقوی مد اﷲ ظلہ علی رؤوس الموالی بدوام الایا وللیالی کے اعماق قلب سے شکر گزار ہیں کہ آپ نے اپنے مطیع اصلاح کھجوا کی مطبوعات قیمہ و تصنیفات ثمینہ بلکہ بے بہا جواہر و لئالی میں سے حقیقت مذہب شیعہ میں نادر روز گار عظیم الشان تحقیقی شاہکار کتاب مستطاب خورشید خاور ترجمہ شبہائے پشاور کی جلد اول کی نشر و اشاعت اور طباعت کے جملہ حقوق مکتبہ الہمدانی سرگودھا کو مرحمت فرماکر ہم پر احسان عظیم فرمایا جس کے لیے ہم ہمیشہ آپ کے ممنون احسان رہیں گے۔ بے شک جو شخص کسی محسن کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ منعم حقیقی کے شکر کی سعادت سے بھی محروم رہتا ہے۔ اس کتاب میں ایران کے عالم متبحر آقائے سلطان الواعظین اور ہندوستان و کابل کے جلیل القدر علماء کی شہر پشاور میں مذہب شیعہ سے متعلق دلچسپ اور دوستانہ گفتگو ، جس کا سلسلہ دس راتوں تک رہا اور جس میں مذہب شیعہ کے تمام اصول و فروع پر محققانہ بحثین ہوئیں ۔ ہر مسئلہ پر سلطان الواعظین نے مذہب شیعہ کی حقیقت ایسے دلائل ساطعہ و براہین قاطعہ سے ثابت کی کہ علمائے اسلام بھی اعتراف پر مجبور ہوگئے۔انہی مباحثوں کو سلطان الواعظین نے شبہائے پشاور کے نام سے مرتب فرمایا جس کا اردو میں ترجمہ فخرالحجاج والزائرین جناب مولانا الحاج سید محمد باقر صاحب رئیس جوارس ضلع بارہ نیکی نے کیا اور ادارہ اصلاح کھجوا نے بڑے اہتمام سے شائع کیا۔

چونکہ پاکستان کے اکثر لوگ اس کتاب کی افادیت ، انفرادیت، اہمیت دندرت سے ناواقف تھے اس لیے ہم نے مکرم و محترم علیجناب علامہ سید محمد باقر صاحب مدﷲ ظلہ وہ فقہ سے اس کی نشر و اشاعت و طباعت کے لیے اجازت حاصل کی۔

چنانچہ علامہ موصوف مدظلہ نے بڑی وسعت قلبی کیساتھ اجازت مرحمت فرمائی۔ جیسا کہ حقائق مذہبیہ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ان کا شعار اور معارف دینیہ کا زیادہ سے زیادہ پرچار ان کا وثار ہے۔

مهتمم مکتبة الهمدانی سرگودھا


اشارہ

بسم اﷲ والحمد ﷲ علی نواله والصلوٰة والسلام علی محمد وآله

میں اپنے حبیب لبیب جناب مولانا سید محمد باقر صاحب مدیر اصلاح اور مکرمی جناب سید محمد صاحب کنز رویٹر فار لیسٹ پٹنہ کی فرمایش کی بنا پر برادرانِ ایمانی کی خدمت میں زیر نظر ترجمہ پیش کرتے ہوئے بجا طور پر فخر محسوس کرتا ہوں کیونکہ اس کا تعلق شب ہائے پشاور ایسی مبسوطہ اور جامع و مانع کتاب سے ہے اور جو آقائے سلطان الواعظین دام ظلہ کے ان بے نظیر اور ایمان افروز مذاکرات علمیہ کا مجموعہ ہے جن کو نگاہ حق و انصاف سے مطالعہ کرلنے کے بعد کوئی شخص مذہب حق کی تلاش میں گمراہی اور دھوکے کا شکار نہیں ہوسکتا ۔ مجھ کو یقین ہے کہ یہ کتاب باطل کی تاریکی کو دور کرنے اور منزل حقیقت کو روشن کرنے میں انشاء اﷲ آفتاب نصف النہار کا کام کرے گی چنانچہ اسی خیال کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے اس ترجمہ کا نام “ خورشید خاور” تجویز کیاہے۔

تھوڑے سے افسوس کیساتھ یہ بھی عرض کرودوں کی اختصار کا لحاظ رکھتے ہوئے مجبورا آقائے موصوف کے مقدمات دیباچہ اور درمیان کتاب سے کچھ مضامین مفید ہونے کے باوجود حذف کردینا پڑے ہیں۔ پھر بھی اس بات کا پورا خیال رکھا گیا ہے کہ اصل کتاب کا کوئی ایسا جز کم نہ کیا جائے جس سے مباحثے کی افادیت و جامعیت پر کوئی مضر اثر پڑے ۔ امید ہے کہ ناظرین اس قہری کوتاہی کو نگاہ در گذر سے دیکھتے ہوئے خیال خاکسار مترجم محترم مدیر اصلاح اور مکرمی جناب سید محمد صاحب نیز سلطان الواعظین دام ظلہم کے لیے دعائے خیر میں بخل نہ فرمائیں گے۔ والسلام

عاصی

محمد باقرالباقری الجواسی عفی عنہ


بسم اﷲ الرحمن الرحیم

آغازِ سفر

ماہ ربیع الاول سنہ1345ہجری میں جب میں اپنی زندگی کی تیسویں منزل طے کر رہا تھا زیارت عتبات عالیات سے مشرف ہوکر ہندوستان کے راستے سے ضامن ثامن حضرت امام رضا علیہ السلام کی عتبہ بوسی کے لیے روانہ ہوا کراچی اور ببئی پہنچنے کے بعد خلاف امید خاص خاص جرائد اور اخبارات نے میری آمد کی خبر شائع کی۔ میرے پرانے دوستوں اور خلوص احباب ایمانی نے مطلع ہوکر اطراف ملک سے دعوت نامے بھیجنا شروع کیے مجبورا تعمیل حکم کرتے ہوئے دہلی ، آگرہ، سیالکوٹ ، کشمیر، حیدر آباد ، بہاول پور، کوئٹہ اور دوسرے شہروں میں حاضر ہوا۔ اور جہاں بھی وارد ہوا ۔ بلا تفریق قوم، ملت پوری تعظیم و تکریم کیساتھ استقبال ہوا اور اکثر شہروں میں دوسرے مذاہب کے علماء کی طرف سے باب مناظرہ باز رہا۔ مخصوص جلسوں میں سے ایک وہ مناظرہ تھا۔ جو ہندوستان کے قومی پیشوا گاندھی جی کے سامنے علمائے اہل ہنود اور برہمنوں سے منعقد ہوا۔ اور اخبارات و رسائل میں اس کی تفصیل شائع ہوئی ۔ چنانچہ توفیق الہی اور حضرت خاتم الانبیاء کی تائید خاص سے میں کامیابی کیساتھ مقدس دین اسلام اور مذہب حقہ جعفریہ کی حقانیت ثابت کردی۔ پھر زیر صدارت جناب ابوالبشر سید عنایت علی شاہ مدیر محترم اخبار ہفتہ وار اردو در نجف، انجمن اثنا عشریہ “ شہر سیالکوٹ کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا، اور میں اس طرف روانہ ہوگیا۔ حسن اتفاق سے میرے قدیم و صمیم دوست جناب سردار محمد سرور خان رسالدار فرزند رسالدار محمد اکرم خاں مرحوم و برادر کرنل محمد افضل خان نے جو پنچاب میں ہندوستان کے خاندان قزلباش کے نامی سرداروں میں سے تھے۔ سنہ1339 و سنہ1340 ہجری میں کربلا و کاظمین اور بغداد میں افسر رہ چکے تھے۔ خاندان قزلباش کے شریف و مشہور، مومن و محوش عقیدہ اور پاکدامن افراد میں سے تھے اور شہر سیالکوٹ میں رئیس ادارہ عالیہ اور عام طورپر احترام و بندگی کے مالک تھے مختلف طبقوں کے کثیر مجمع کیساتھ میرا شاندار استقبال کیا اور میں ان کے دولتکدہ پر مہمان ہوا ۔ جب اخبارات کے ذریعہ پنجاب میں میرے آنے کی خبر پھیلی تو باوجودیکہ میں ایران کی طرف روانہ ہونے کے لیے کوشش اور اصرار کر رہا تھا چاروں طرف سے مسلسل دعوت نامے


پہنچنے لگے۔ بالخصوص حجة الاسلام جناب مولانا سید علی الحائری ، صاحب تفسیر لوامع التنزیل شہر لاہور کی طرف سے جو پنجاب کے نامور علمائے شیعہ میں سے تھے مجبورا میں برابر سفر اور زیارت برادرانِ ایمانی میں مصروف رہا ۔ من جملہ مومنین و برادران خاندان قزلباش کے جو پنجاب کے مخصوص شیعہ روسا میں سے ہیں افغانستان کے قریب آخری بڑے سرحدی شہر پشاور میں بھی مدعو ہوا۔ چنانچہ جناب محمد سرور خان کے اصرار سے اس کو منظور کر کے چودھویں رجب کو ادھر روانہ ہوا ۔ وہاں پہنچنے پر انتہائی اکرام و احترام کے بعد وعظ و تقریر کا تقاضا کیا گیا ۔ ( چونکہ میں ہندوستانی زبان سے بخوبی واقف نہیں ہوں۔ لہذا ہندوستان کے کسی شہر می منبر پر نہیں گیا۔ لیکن اہل پشاور عموما فارسی زبان سے اچھی طرح سے جانتے ہیں اس لیے میں نے قبول کر لیا اور ایک مدت تک مرحوم عادل بیگ رسالدار کے امامباڑے میں مخصوص طور پر مجالس کی تشکیل ہوتی رہی اور میں مختلف ادیان و مذاہب والوں کے کثیر مجمع کے سامنے اپنا فریضہ ادا کرتا رہا۔ چنانچہ ان لوگوں کے محترم علماء نے جو تبلیغی مجالس میں شریک ہوتے تھے خصوص نشست کی فرمائش کی گئی راتوں تک وہ حضرات میری قیام گاہ پر تشریف لاتے رہے اور گھنٹوں بحث و مباحثہ ہوتا رہا ۔ ایک روز جب میں منبر سے اترا تو معلوم ہوا کہ اکابر علمائے کابل میں سے دو عالم حافظ محمد رشید اور شیخ عبدالسلام ضلع ملتان سے تشریف لائے ہیں اور ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے وقت دیا اور وہ حضرات پے در پے در راتوں تک نماز مغرب کے بعد تشریف لاتے رہے ، ہر شب کا فی دیر تک جو غالبا چھ اور سات گھنٹہ کی مدت ہوتی تھی، اور بعض راتوں میں طلوع صبح کے قریب تک، ہمارا وقت مباحثوں اور مناظروں میں گذرتا تھا، یہاں تک کہ آخری شب کے خاتمے پر اہل سنت کے بزرگان و رؤسا اور اعناف محترم میں سے چھ افراد نے مذہب حقہ، شیعہ اختیار فرمایا۔

چونکہ اخبارات و رسائل کے نامہ نگاروں میں سے چار اشخاص ، فریقین ( شیعہ و سنی ) کی تقریبا دو سو نمایاں شخصیتوں کے سامنے طرفین کے مناظرات اور مقالات کو لکھتے تھے اور سدوسرے دن اخبارات و رسائل میں شائع کرتے تھے۔میں ان اشاعتوں سے ہر شب کے مقالات اور بحثیں جمع کرتا رہا اور اب سای مجموعے کو قارئین کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس وجہ سے اس کتاب کا نام، شبہائے پیشاور، رکھا جو کچھ صاحبان علم و ادب کے سامنے پیش ہو رہا ہے اس میں اس خیرا اندیش پر خور دہ گیری نہ فرمائیں۔ کیونکہ مناظرے کے موقع پر کوئی شخص الفاظ اور زیبائش کلام کی طرف توجہ نہیں رکھتا بلکہ ساری توجہ مطالبات اور حقائق کی طرف رہتی ہے جس طرح سے رسالوں میں چھپ چکا ہے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ بعینہ وہ عبارتیں آپ کے سامنے پیش کی جارہی ہیں۔

ان مناظروں میں جن مطالب پر بحث و گفتگو ہے وہ آیات قرآن مجید ، معتبر احادیث و اخبار ، محققین و اساتذة کلام و علماء بزرگ اور پیشوایان دین کے بیانات اور تائیدات غیبی سے مستنبط ہیں۔

من بسر منزل عتقا نہ بخو و بروم راہ قطع این مرحلہ یا مرغ سلیمان کردم


مجلسِ مناظرہ

پیشاور کے سربرآوردہ رئیس اور میرے میزبان عالیجناب مرزا یعقوب سب علی خان قزلباش کا دولت خانہ چونکہ وسیع تھا اور اس میں ایک بڑے مجمع کے لحاظ سے ہر طرح کی سہولتیں مہیا تھیں لہذا مجلس مناظرہ کے لیے اسی کو تجویز کیا گیا جہاں پوری دس راتوں تک جلسہ منعقد رہا اور انہوں نے انتہائی خلوص کیساتھ اس پورے مجمع کی خاطر تواضع کی۔

پہلی نشست

شب جمعہ 23 رجب سنہ1345ہج

مولانا حافظ محمد رشید ، شیخ عبدالسلام ، سید عبدالحق اور مختلف طبقوں میں سے ان کے چند دوسرے علماء و بزرگان ملت رات کی پہلی ساعت میں وارد ہوئے ہیں ان حضرات سے انتہائی گرم جوشی اور خندہ پیشانی کے ساتھ ملا، اگرچہ وہ لوگ بہت دل گرفتہ اور ناخوش تھے لیکن چونکہ میں جاہلانہ تعصب و عناد کی نظر نہیں رکھتا تھا لہذا اپنے اخلاقی فریضے پر عمل کرتا رہا۔ فریقین کے محترم افراد کی کثیر جماعت کے سامنے مذاکرات شروع ہوئے ۔ رسی طور پر فریق صحبت جناب حافظ محمد رشید تھے لیکن کبھی دوسرے بھی اجازت لے کر داخل گفتگو ہوجاتے تھے۔ رسالوں اور اخباروں میں مجھ کو “ قبلہ و کعبہ کے عام سے تعبیر کیا ہے جو ہندوستان کے کے اندر روحانیت کے اہم مروجہ القاب میں سے ہے لیکن یا دواشت کے ان صفحات میں میں اس کلمے کو بدل کر اپنے لیے “ خیر طلب” اور حافظ محمد رشید صاحب کےلیے “ حافظ ” کا لفظ استعمال کرتا ہوں۔

حافظ : قبلہ صاحب ! آپ کے پیشاور تشریف لانے کے وقت سے اور برسر منبر تقریر کرنے سے اب تک بحث و مناظرہ اور اختلاف کے کافی جلسے ہوچکے ہیں۔ چونکہ ہم لوگوں پر لازم ہے کہ رفع اختلاف کے لیے کھڑے ہوں۔۔۔۔۔۔ لہذا شبہات کے دفع کرنے کے لیے مسافت طے کر کے پیشاور آئے اور آج امام باڑے میں آپ کے کلمات اور بیانات پورے طور سے سنے آپ کا سحر بیان جیسا سنا تھا۔ اس سے زیادہ پایا۔ آج کی رات بھی ہم آپ کی ملاقات سے فیض حاصل کرنے آئے چنانچہ اگر آپ اگر آپ کی مرضی ہوتو شامل صحبت ہو کر آپ کے ساتھ کچھ بنیادی گفتگو کریں۔


خیر طلب : میں بہت خوشی کیساتھ آپ کے کلمات و ارشادات سننے کے لیے حاضر ہوں۔ لیکن ایک شرط کیساتھ کہ براہ کرم دیدہ تعصب و عادت کو بند رکھیں ہم لوگ وہ بھائیوں کو طرح انصاف اور علم و منطق کا نگاہ سے شبہات کوحل کرنے کے لیے گفتگو کریں اور مجادلات و تعصبات قومی کو الگ رکھ دیں۔

حافظ : آپ کا ارشاد بالکل بجا ہے میں بھی ایک شرط رکھتا ہوں، امید ہے کہ آپ قبول کیجئے گا ۔ اور وہ یہ کہ با ہمی بات چیت میں ہم قرآنی دلائل سے تجاوز نہ کریں۔

خیر طلب : آپ کا یہ تقاضا عقلا اور علماء کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے یعنی علمی اور عقلی حیثیت سے غلط ہے کیونکہ کہ قرآن مجید ایک ایسی مجمل و مختصر مقدس کتاب ہے جس کے بلند مطالب مفسر کی تشریح کے محتاج ہیں۔ اور ہم مجبور ہیں کہ قرآنی کلیات کے ذیل میں معتبر اخبار و احادیث کے ذریعے ثبوت پیش کریں۔

حافظ : یہ درست ہے یہ ایک سلجھی ہوئی فرمایش ہے لیکن میرا تقاضا ہے کہ جب ایسا کرنا ضروری ہو تو ہم متفق علیہ اخبار و احادیث سے ہی استدلال کریں اور عوام کے کلمات اور سنی سنائی باتوں سے پر ہیز کریں اور غصہ اور تعصب سے الگ رہیں تاکہ دوسروں کے لیے مضحکہ نہ بن جائیں۔

خیر طلب : بسر وچشم ، آپ نے بہت صحیح فرمایا ۔ صاحبان علم و عقل اور بالخصوص میرے لیے جس کو سیادت اور رسول اﷲ(ص) سے انتساب کا فخر حاصل ہے قطعی مناسب نہیں کہ اپنے جد بزرگوار رسول خدا(ص) کی سیرت اوع سنت سے اںحراف کرے جو پورے حسن اخلاق پر فائز اور آیہ مبارکہ و إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِيمٍ (1) کے مخاطب تھے اور قرآنی ہدایات کے خلاف عمل کرے جیسا کہ ارشاد ہے:

"ادْعُ إِلى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ- وَ جادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ " (2)

حافظ :- معاف فرمائے گا چونکہ آپ نے آپنی تقریر کے ضمن میں رسول اللہ(ص)کے ساتھ اپنی نسبت ظاہر کی۔اور اسی طرح سے مشہور بھی ہے ،کیا یہ ممکن ہے کہ میری گزاش قبول کرتے ہوئے ہماری مزید واقفیت کیلئے اپناشجرہ نسب بیان فرمائیے تاکہ ہم دیکھیں کہ آب کا نسب کس سلسلے سے پیغمبر تک ملتی ہے ۔

خاندانی نسب کا تعین

خیرطلب:- میرے خاندان کا نسب حضرت امام موسی کاظم کے ذریعے اس سلسلے سے رسول

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 ـ یعنی یقینا تم صاحب خلق عظیم ہو۔

2 ـ یعنی (ائے میرے رسول (ص)) خلق کو حکمت برہان اور اچھے موعظے کیساتھ راہ خدا کی طرف دعوت دو اور ان سے بہترین طریقے اور اچھے انداز سے مجادلہ کرو۔ ( آیہ 126 سورہ نجل)


اللہ (ص)تک منتہی ہوتا ہے ۔

محمد ابن علی اکبر(اشرف الواعظین)بن قاسم(بحرالعلوم)بن حسن ابن اسماعیل مجتہد الواعظ بن ابرہیم بن صالح بن ابی علی محمد(معروف بہ مروان)بن ابی القاسم محمد تقی بن (مقبول الدین)حسین بن ابی علی حسن بن محمد فتح اللہ بن اسحاق بن ہاشم بن ابی محمد بن ابراہیم بن ابی الفتیان بن عبد اللہ بن الحسن بن احمد(ابی الطیّب)بن ابی علی حسن بن ابی جعفر محمد الحائری(نزیل کرمان بن ابراہیم (معروف بہ مجاب)بن امیر محمد العابدین امام موسی الکاظم بن امام جعفر الصادق بن امام محمد الباقر بن امام علی زین العابدین بن امام ابی عبداللہ الحسین (سید الشہدا)الشہید بالطف بن امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب علیھم السلام ۔

حافظ:- یہ جو شجرہ آپ نے بیان فرمایا ہے امیر المؤمنین علی کرّم اللہ وجھہ تک منتہی ہوتا ہے درانحالیکہ آپ نے اپنے کو رسول خدا(ص)سے منسوب کیا تھا ۔ حق تو یہ ہے اس سلسلہ نسب سے آپ کو چاہیئے تھا کہ اپنے آپ کو اقربائے رسول(ص)سے کہتے نہ کہ آں حضرت(ص)کی اولاد ،کیونکہ اولاد وہی ہے جو رسول اللہ (ص)کی ذریت سے ہو۔

خیرطلب:- ہمارا نسب رسول اللہ تک صدّیقہ کبرای فاطمہ زہرا(س)کی طرف سے پہنچتا ہے کہ جو جضرت امام حسین علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہے ۔

حافظ :- تعجب ہے آپ کے اوپر کہ اہل علم وخبر ہوکر بھی ایسی بات منہ سے نکالتے ہیں ،حالانکہ خود جانتے ہیں کہ آدمی کہ سلسلہ نسب اور نسل اولاد ذکور کی طرف سے ہے نہ کہ اناث کی طرف سے ، اور حضرت رسول خدا(ص)کا بیٹوں سے کوئی سلسلہ نہیں لہذا آپ رسول اللہ کے نواسے اور دخترزادے ہیں نہ آنحضرت(ص)کی اولاد ۔

خیرطلب :- مجھ کو یہ خیال نہیں تھا کہ آپ حضرات اس بات میں اتنی ضد کریں گے ورنہ میں جواب ہی نہ دیتا ۔

حافظ:- آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ، میری گفتگو میں کوئی ضد نہیں تھی بلکہ میری رائے یہی ہےجیسا کہ بہت سے علما ء بھی میرے ہم خیال ہیں کہ نسل اورذریّت اولاد ذکورسےچلتی ہے اناث سے نہیں ۔

چنا نچہ شاعر کہتاہے :-

بنونا بنو ابنائنا و بنا تنا ----بنو هن ابناء الرّجال الاباعد (1)

اگر آپ اس بات کے خلاف اس بات پر کوئی دلیل رکھتے ہوں کہ رسول (ص)کی بیٹی کی اولاد آں حضرت (ص)ہی کی اولاد شمار ہوتی ہے، تو بیان کیجئے ۔ اگر آپ کا استدلال مکمل ہوگا تو یقینا ہم لوگ مان لیں گے ،بلکہ ممنون بھی ہوں گے ۔

خیر طلب قرآن مجید اور فریقین کے اخبار معتبرہ سے بہت قوی دلیلیں موجود ہیں ۔

-----------------

(1):- (ہمارے بیٹوں کے بیٹے بیٹیاں ہم سے ہیں لیکن ہماری بیٹیوں کے بیٹے بیٹیاں دور کے مردوں سے ہیں)(یعنی ہم سے نہیں ہیں)


حافظ :- میں متمنّی ہوں کہ بیا ن کیجئے تاکہ ہم مستفیض ہوں ۔

خیرطلب :-یہ آپ کی گفتگو کے ضمن میں مجھ کو وہ مناظرہ یاد آیا جو اسی موضوع پر ہارون رشید خلیفہ عباسی اور حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے درمیان واقع ہوا تھا ۔اور حضرت نے ہارون رشید کو ایسا کافی جواب دیا تھ کہ خود اس نے بھی اس کی تصدیق کی تھی ۔

حافظ:- وہ مناظرہ کیونکر ہوا ہے ؟!بیان کیجئے میں مشتاق ہوں ۔

ذریت رسول (ص)کے بارے میں بارون رشید اور امام موسی کاظم (ع)کا سوال وجواب

خیر طلب:- ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین بن موسی بن بابویہ قمی ملقب بہ صدوق نے جو چوتھی صدی ہجری می اکابر علماء ،فقہائے شیعہ میں سے تھے ،علم حدیث کے نقّاد اور حالات رجال کے ماہر تھے ،علمائے قم اور خراسان کے درمیان حافظے اور کثرت علم میں ان کا مثل پیدا نہیں ہوا ۔ تین سو تصا نیف کے مالک تھے جن میں سے ایک کتاب "من لا یحضرہ الفقیہ "شیعوں کی ان چار کتابوں میں سے ہے جن پ ر ہر زمانے میں انحصار رہا ہے ۔ سنہ 381 ھ میں ایران کے موجودہ پائتخت طہران کے قریب رے میں وفات پائی اورآپ کی قبر شریف اب تک اہل طہران اور باہر سے آنے والوں کے کی زیارت گاہ ہے ۔ اپنی معتبر کتاب "عیون اخبار الرضا"میں ابو منصور احمد بن علی طبرسی نے کتاب "احتجاج"میں مناظرے کی مفصّل کیفیت لکھی ہے کہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام ایک روز ہارون رشید کے دربار میں تشریف لے گئے ،اس نے چند سوالاد کئے اور ان کے جوابات سنے ۔۔الی آخر ۔من جملہ اس کے سوالوں کے یہ سوال بھی تھا کہ اس نے کہا ۔

"کیف قلتم انا ذرّیة النّبی والنّبی لم یعقب وانّما العقب للذّکر لا للا نثی وانتم ولد البنت ولا یکون له عقب " (1)

حضرت نے اس کے جواب میں سورہ انعام کی یہ آیت نمبر ) 84-85) تلاوت فرمائی: -ومن ذرّیته دا‎‎ؤد وسلیمان وایّوب ویوسف وموسی وهارون وکذالک نجزی المحسنین وذکریا ویحیی وعیسی والیاس کل من الصالحین "(2)

--------------

(1):- تم یہ کیوں کر کہتے ہو کہ ہم اولاد رسول ہیں ؛ حالانکہ پیغمبر (ص)کوئی نسل نہیں رکھتے تھے اور یہ مسلّم ہے کہ نسل لڑکے سی چلتی ہے ،لڑکی سے نہیں ۔تم بیٹی کی اولاد ہو اور آں حضرت (ص)نے کوئی نسل نہیں چھوڑی (یعنی اولاد ذکور سے)۔

(2):- اور پھر ابراہیم علیہ السّلام کی اولاد میں داؤدعلیہ السّلام ,سلیمان علیہ السّلام ایوب علیہ السّلامً یوسف علیہ السّلام,موسٰی علیہ السّلام ,اور ہارون علیہ السّلام قرار دئیے اور ہم ا ِسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں ۔ اور زکریا علیہ السّلام,یحیٰی علیہ السّلام,عیسٰی علیہ السّلام اور الیاس علیہ السّلام کو بھی رکھا جو سب کے سب نیک کرداروں میں تھے ۔


اور اس سے استدلال فرماتے ہوئے ہارون رشید سے کہا کہ من ابو عیسٰی ؟یعنی عیسٰی کا باپ کون ہے ،ہارون رشید نے جواب دیا کہ لیس لعیسٰی اب یعنی عیسٰی کا کوئی باپ نہیں تھا ۔حضرت نے فرمایا "انّما الحقه بذراری الانبیاء علیهم السلام من طریق مریم ولذالک الحقنا بذراری النّبی من قبل امّنا فاطمة"

یعنی سوا اس کے کوئی بات نہیں کہ خدائے تعالی نے ان کو مریم کے سلسلے سے انبیاء کی ذریّت میں داخل فرمایا اور اسی طرح سے ہم کو ہماری ماں جناب فاطمہ (س)کی طرف سے رسول خدا (ص)کی ذریّت میں قراردیا ۔ امام فخر الدّین رازی بھی تفسیر کبیر جلد چہارم میں صفحہ نمبر124میں اس آیت کے ماتحت مسئلہ پنجم میں کہتے ہیں کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسن او رحسین (ع) رسول اللہ(ص)کی ذریّت ہیں کیونکہ خدانے اس آیت میں عیسٰی کو جناب ابراہیم (ع)کی ذریّت سے قرار دیا ہے ،درانحالیکہ عیسٰی کا کوئی باپ نہیں تھا ؛ یہ انتساب ماں کی طرف سے ہے چنانچہ حسنین(ع)بھی اسی طرح سے ماں کی جانب سے ذریّت رسول(ص) ہوتے ہیں ۔جیسا کہ حضرت باقر العلوم امام پنجم نے بھی حجّاج کے سامنے اسی آیت سے استدلال فرمایا ہے۔

پھر حضرت(امام موسی کاظم علیہ السلام نے ہارون رشید کو)نے فرمایا کہ کیا تمہارے لئے کوئی اور دلیل بیان کروں ؟ہارون رشید نے عرض کیا کہ بیا ن کیجئے تو آپ نے آیت مباہلہ پڑھی جو سورہ مبارکہ آل عمران کی آیت 61 ہے ۔

"فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةَ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ " (1)

اور فرمایا کہ کسی شخص نے یہ دعوی نہیں کیا ہے کہ مباہلے کے موقع پر پیغمبر (ص)نے نصاری کے مقابلے میں حکم خدا سے سوا علی ابن ابی طالب ،فاطمہ ، حسن اورحسین علھیم السلام کے کسی اور کو کساء کے نیچے داخل کیا لہذا مطلب یہی نکلتا ہے کہ انفسنا سے علی ابن ابی طالب ،نسائنا سے فاطمہ زہراء اور ابنا ئنا سے حسن حسین (ع)مراد ہیں جن کو خدا نے اپنے رسول کے فرزند فرمایا ہے ۔ جوں ہی ہارون نے یہ واضح دلیل سنی بے اختیار بول اٹھا "احسنت یا ابا الحسن " چنانچہ ہارون کے مقابلے میں امام موسی کاظم کے اس استدلال سے" حسنین (ع)فرزند رسول خدا(ص)ہیں "ثابت ہوتا ہے ۔

--------------

(1)پیغمبر علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند, اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں ۔


اس بات پر کافی دلائل کہ اولاد فاطمہ (س)اولاد رسول(ص)ہیں

چنانچہ ابن ابی الحدید معتزلی جوآپ کے سربرآوردہ علماء میں سے ہے شرح نہج البلاغہ میں اور ابو بکررازی اپنی تفسیر میں عیسٰی کو ان کی ماں مریم کی طرف سے اولاد جناب ابراہیم میں داخل فرمایا ۔

محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب میں ،ابن حجر مکی صواعق محرقہ صفحہ 74-93 میں طبرانی سے اور وہ جابر بن عبداللہ انصاری سے اور خطیب خوارزمی مناقب میں ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم (ص)نے فرمایا "انّ الله عزّوجلّ جعل ذریة کل نبی فی صلبه وجعل ذریتی فی صلب علی ابن ابی طالب " یعنی خدائے عزوجل نے ہر پیغمبر کی ذریت خود اسے کے صلب میں قرار دیا اور میری ذریت علی ابن ابی طالب میں رکھی ہے ۔

خطیب خوارزمی مناقب میں ،میر سید علی ہمدانی شافعی مودۃ القربی میں ،امام احمد بن حنبل جو آپ کے کبار علماء میں سے ہیں اور سلیمان حنفی بلخی نے ینا بیع المودۃ میں نقل کرتے ہیں کہ (الفاظ کی تھوڑی کمی بیشی کے ساتھ)کہ رسول اکرم(ص)نے فرمایا "هذان ریحانتان من الدنیا ابنای لهذان امامان قاما او قعدا" یعنی میرے یہ دونوں فرزند( حسن اور حسین)دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔ اور میرے یہ دونوں فرزند امام ہیں خواہ امر امامت پر قائم ہوں یا خاموش اور قاعد ۔ اورشیخ سلیمان بلخی نے ینا بیع المودۃ کا باب 57 اسی موضوع کیلئے مخصوص قراردیا ہے ۔اور مختلف طریقوں سے بکثرت حدیثیں اپنے جلیل القدر علماء جیسے طبرانی، حافظ عبدالعزیز ،ابن ابی شبیہ ،خطیب بغدادی،حاکم، بیقہی،بغوی، اورطبری وغیرہ سے مختلف الفاظ اور عبارت کے ساتھ نقل کی ہیں کہ حسن اور حسین(ع)رسول خدا(ص)کے فرزند ہیں ۔ اسی باب کے آخر میں ابو صالح ،حافظ عبد العزیز الاخضر،ابو نعیم اور طبری سے ،اور ابن حجر مکّی صواعق محرقہ صفحہ 112 میں محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب کے سو بابوں کے بعد فصل اوّل کے آخر میں اور طبری نے ترجمہ حالات حضرت امام حسن علیہ السلام میں، خلیفہ ثانی عمر بن خطّاب سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا "انّی سمعت رسول الله یقول کل حسب ونسب فمنقطع یو م القیامة ما خلا حسبی و نسبی وکل بنی انثی عصبتهم لابیهم ما خلا بنی فاطمة فانی انا ابو هم و انا عصبتهم " یعنی میں نے رسول خدا(ص) سے سنا کہ آپ نے فرمایا "ہر حسب ونسب قیامت کے دن منقطع ہو جائے گا سوائے میرے حسب ونسب کے اور ہر دختری اولاد کا سلسلہ نسب باپ کی طرف سے ہے سوائے اولاد فاطمہ (س)کے کہ


میں ان کا باپ اورنسب ہوں ۔ شیخ محمد بن محمد عامر شبیراوی شافعی نے کتاب "الاتحاف لجب الاشراف "میں اس حدیث کو بیہقی سے اور دار قطنی نے عبداللہ ابن عمر سے اور انہوں نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے ۔جلا ل الدین سیوطی نے اپنی کتاب "احیاء اہلبیت بفضائل اہلبیت "میں اوسط طبرانی سے نقل کرتے ہوئے خلیفہ عمر سے نقل کرتے ہیں اور سید ابو بکر شہاب الدین علوی نے "رشقتہ الصاد من بحر فضائل النبی الہادی" مطبوعۃ مطبع اعلامیۃ مصر سنہ 1303 ھ کے صفحہ 21 باب 3 میں صفحہ 43 تک نقل واستشہاد کیا ہے کہ اولاد فاطمہ(س) اولاد رسول (ص)ہیں لہذا شاعر کا شعر جو آپ نے پیش کیا ہے وہ تمام مضبوط دلائل کے سامنے مہمل ہوجاتا ہے ۔ جیسا کہ محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب کے سویں باب کے بعد فصل کو اسی شعر کے جواب میں اس مطلب سے مخصوص کیا ہے کہ پیغمبر(ص)کے دخترزادے آں حضرت (ص)کے فرزند ہیں ۔ اور یہ شعر زمانہ کفر کے شاعر کا ہے جس نے اس کو اسلام سے قبل نظم کیا ہے ۔ جیسا کہ صاحب جامع الشواہد نے نقل کیا ہے اسی قبیل سے کثرت کے ساتھ ایسی دلیلیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ فرزندان فاطمہ صدیقہ سلام اللہ علیہا فرزندان رسول اللہ (ص)ہیں لہذا جب ہمارا سلسلہ نسب حضرت امام حسین علیہ السلام تک ثابت ہوگیا تو ہم بیان کرچکے معتبر دلائل کی بنا پر ثابت ہے کہ ہم لوگ فرزندان و اولاد رسول خدا ہیں اور ہمارا سب سے فخر اسی بات پر ہے کہ اور کسی شخص کو سو اذریت رسول (ص)کے ایسا افتخار حاصل نہیں ہے کیا خوب کہا ہے فرزدق شاعر نے ؟

اولئک آبائی فجئنی بمثلهم ----اذاجمعتنا یا جریر الجامع (1)

خلاصہ یہ کہ ابنائے زمانہ اور اہل دنیا میں سے کوئی شخص اپنے اجداد کی بزرگی پر فخر مباہات نہیں کرسکتا ہے ، سوا شرفاءاور سادات کے جن کی نسبت خاتم الانبیا اور علی المرتضی صلوات اللہ وسلامہ علیھما تک منتہی ہوتی ہے ۔

حافظ :- آپ کے دلائل بہت تسکین بخش اور مکمّل تھے جن سے ضدّی اور متعصّب اشخاص کے قطعا کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا میں ممنون ہوں کہ آپ نے حقیقت کو بے نقاب کرکے ہم لوگوں کو مستفیض فرمایا جس سے بڑا شبہ رفع ہوگیا

اتنے میں مسجد سے نماز عشاء کے لیے موذن کی اذان کی آواز بلند ہوئی کیونکہ برادران اہل سنت بصورت نماز ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو ایک دوسرے سے الگ اور اس کے وقت فضیلت پر بجالاتے ہیں ۔ بر خلاف شیعوں کے جو رسول خدا(ص) اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی جمع اور تفریق کے درمیان مختار ہیں) وہ حضرات

--------------

(1) (یعنی یہ ہیں میرے آباء واجداد پس لاؤ میرے سامنے ان کی مثل جس وقت محفلوں اور انجمنوں میں ہم اکھٹے ہوں۔)


مسجد جانے اور فریضہ ادا کرنے کے لیے آمادہ ہوئے لیکن بعض صاحبان نے کہا کہ اگر واپس آنے اور مباحثہ جاری رکھنے کا قصد ہے تو مسجد جانے اور آنے میں نشست کا کافی وقت نکل جائیگا۔ لہذا بہتر یہ ہےکہ جب تک اس صحبت کا سلسلہ ہے نماز عشاء اسی جگہ ادا کی جائے فقط مولوی سید عبدالحی امام جماعت مسجد چلے جائیں اور مسجد میں لوگوں کو نماز پڑھا کر واپس آئیں ۔ یہ رائے سب حضرات نے قبول کی لہذا ساری مدت مناظرہ میں یعنی دس راتوں تک اسی مقام پر نماز عشاء ہوتی رہی چنانچہ وہ حضرات ایک دوسرے بڑے ہال میں چلے گئے اور نماز پڑھ کر مناظرے والے کمرے میں واپس آئے۔

نواب:- نواب عبد القیوم خان نے جو ا ہ ل تسنن ک ے شرفاءاور رؤساء م یں سے اور بال ک ی کھ ال نکالن ے اور جستجو کرن ے وال ے انسان ت ھے ، ک ہ ا ک ہ قبل ہ صاحب اگر آپ اجازت د یں تو جب تک حضرات چائے نوش فرمائ یں میرے دل موضوع بحث سے خارج ا یک سوال ہے اس کو عرض کرو ں۔

خیر طلب:- فرمایئے میں سننے ک یلئے تیار ہ و ں ۔

نواب :- میرا سوال بہ ت مختصر ہے چونک ہ مدتو ں س ے م یرے دل میں تھ ا ک ہ باخبر ش یعہ حضرات سے پوچ ھ و ں گا ، ل یکن کوئی موقع ہ ات ھ ن ہ آ یا اور اب اس کا مناسب محل آگیا ہے ل ہ ذا عرض کرنا چا ہ تا ہ و ں ک ہ حضرات ش یعہ سنت رسول خدا (ص)کے خلاف نماز ظ ہ ر وعصر ا ور مغرب وعشاء کو ملا کر کس لئے پ ڑ ھ ت ے ہیں ؟ ۔

پیغمبر(ص)نماز ظہ ر ین و مغربین جمع وتفریق دونوں طرح س ے پ ڑھ ت ے ت ھے

خیر طلب :- اول یہ کہ آپ حضرات (علمائ ے جلس ہ ک ی طرف اشارہ ) جانت ے ہیں کہ فروع ی مسائل میں علماء کے درم یان بہ ت اختلاف ہے ج یسا کہ آپ ک ے چارو ں امام ب ھی آپس میں بہ ت ز یادہ اختلاف رکھ ت ے ہیں دوسرے یہ کہ آپ ن ے فرما یا "شیعوں کا عمل سنت رسول کے خلاف ہے "تو اس امر میں آپ کو اشتباہ ہ وا ہے ک یونکہ آں حضرت (ص) نماز یں کبھی یکجا اور کبھی الگ الگ ادا فرماتے ت ھے ۔

نواب :- (اپنے علماء ک ی طرف رخ کرکے ) ک یا یہ صحیح ہے ک ہ رسول الل ہ (ص)جمع اورتفر یق دونوں طرح س ے نماز بجا لات ے ت ھے ؟-

حافظ:- فقط سفر اور ،عذر کے مواقع ج یسے بارش وغیرہ میں اسی طرح سے عمل فرمات ے ت ھے ۔ تاک ہ امت تعصب اور مشقت م یں مبتلا نہ ہ و،ورن ہ حضر م یں ہ م یشہ الگ الگ پڑھ ت ے ت ھے م یرا خیا ل ہے ک ہ قبل ہ صاحب ن ے غلط ی سے سفر کو حضر سمج ھ ل یا ہے ۔

خیرطلب :- نہیں مجھ کو مغالط ہ ن ہیں ہ وا ،بلک ہ یقین رکھ تا ہ و ں یہ ا ں تک کہ آپ حضرات ک ی روایتوں میں


بھی موجود ہے ک ہ کب ھی حضر میں اور بغیر کسی عذر کے ب ھی بصورت جمع ادافرماتے ت ھے ۔

حافظ:- میں خیال کرتا ہ و ں ک ہ آپ ن ے غلط ف ہ م ی سے ش یعہ روایات کو ہ مار ی روایات سمجھ ل یا ہے ۔

خیر طلب :- شیعہ راوی تو اس مقصد پر متفق ہی ہیں گفتگو ہ و ر ہی ہے آپ ک ے راو یوں پر ،اس بارے م یں میں متعدد صحیح روایتیں صحاح اور آپ کی معتبر کتا بوں م یں وارد ہیں ۔

حافظ:- ممکن ہے آپ ک ی نظر میں ہ و ں تو ان کا حوال ہ ب یان کیجئے

خیر طلب :-مسلم ابن حجاج نے اپن ی صحیح کے اندر "باب الجمع بین الصلواتین فی الحضر " میں روایوں کا سلسلہ نقل کرت ے ہ و ئ ے ابن عباس س ے روا یت کی ہے ک ہ ان ہ و ں ن ے ک ہ ا "صلّ ی رسول اللہ الظ ھ ر و العصر جمعا والمغرب والعشاء جمعا ف ی غیر خوف ولا سفر " (یعنی رسول خدا(ص) نماز ظہ ر و عصر اور مغرب وعشا ءکو بغ یر خوف اور سفر کے ملا کر ادا فرماتے ت ھے ) ۔

اور پھ ر ابن عباس س ے نقل ک یا ہے ک ہ ان ہ و ں ن ے ک ہ ا " صلّیت مع النّبی ثمانیا جمعا و سبعا " (یعنی میں نے رسول خدا (ص) ک ے سات ھ آ ٹھ رکعت (نماز ظ ہ ر وعصر)اور سات رکعت (مغرب وعشاء) کو ملا کر پ ڑھ تا ت ھ ا ۔ اور اس ی حدیث کو اما م احمد بن جنبل نے اپن ی مسند کے جز ء اول صفحہ نمبر 221م یں نقل کیا ہے ۔ علاو ہ اس دوسر ی حدیث کے ابن عباس ن ے ک ہ ا " صلّی رسول الله فی المدینة مقیما غیر مسافر سبعا وثما نیا " (یعنی رسول خدا(ص) نے مد ینے کے اندر حالت اقامت م یں بغیر مسافرت کے سات رکعت اور آ ٹھ رکعت یعنی مغرب وعشاء اور ظہ ر وعصر کو ملا ک ے نماز پ ڑھی )۔

امام مسلم اسی طرح کی کئی حدیثیں نقل کرتے ہیں یہ ا ں تک کہ لک ھ ت ے ہیں کہ عبد الل ہ بن شف یق نے ک ہ ا ک ہ ا یک روز عبد اللہ ابن عباس عصر ک ے بعد ہ مار ے سامن ے خطب ہ پ ڑھ ر ہے ت ھے اور شریک صحبت تھے یہ ا ں تک کہ آفتاب ن ے غروب ک یا ستارے ظا ہ ر ہ و گئ ے لوگ وں نے " الصّلواة الصّلواة " کی آواز دینا شروع کی لیکن ابن عباس نے اعتنا ن ہ ک ی اسی وقت بنی تمیم میں سے ا یک شخص نے بلند آواز م یں کہ ا " الصّلواة الصّلواة " ابن عباس نے ک ہ ا " اتعلّمنی بالسنّة لا ام ّ لک رایت رسول الله یجمع بین الظهر و العصر والمغرب والعشاء " (یعنی تم مجھ کو سنت ک ی یاد دلاتے ہ و حالانک ہ م یں نے خودد یکھ ا ہے ک ہ رسول الل ہ (ص) ن ے نماز ظ ہ ر عصر اور مغرب وعشاء کو جمع فرما یا ) عبد اللہ ک ہ تا ہے ک ہ اس کلام س ے م یرے دل میں خدشہ پ یدا ہ وا اور م یں نے جاکر ابو ہ ر یرہ سے در یافت کیا تو انہ و ں ن ے ب ھی تصدیق کی اور کہ ا حق یقت وہی ہے جو ابن عباس ن ے ب یان کی ۔

اور دوسرے طر یقے سے ب ھی عبداللہ بن شف یق عقیل سے نقل کرت ے ہیں کہ ا یک مرتبہ منبر پر عبد الل ہ ابن عباس ک ی تقریر نے طول ک ھینچی یہ ا ں تک کہ اند ھیرا پھیل گیا ،ایک شخص نے پ ے در پ ے ت ین بار " الصّلواة الصّلواة " کی آواز دی ۔ ابن عباس ج ھ نج ھ لا گئ ے اور کہ ا "لا امّ لک اتعلّمنا بالصلواة وکنّا نجمع بین الصلواتین علی عهد رسول الله "


( یعنی ۔۔۔ مج ھ کو نماز ک ی تعلیم دیتا ہے ؟حالانک ہ ہ م زمان ہ رسو ل خدا (ص) م یں دو نمازوں کو ملا کر پ ڑھ ا کرت ے ت ھے یعنی ظہ ر کو عصر ک ے سات ھ اور مغرب کو عشاء ک ے سات ھ ۔

زرقانی بھی جو آپ کے اکابر علماء م یں سے ہیں ،شرح موطاء مالک کے جزء اول "باب جمع ب ین الصلواتین "میں صفحہ 363 پر نسائ ی سے بطر یق عمرو بن ہ رم اب ی شعشاء سے نقل کرت ے ہیں کہ ابن عباس بصر ہ م یں نماز ظہ ر وعصراور مغرب وعشاء پ ڑھ ت ے ت ھے بغ یر اسکے ک ہ ان ک ے درم یان کوئی فاصلہ یا کوئی چیز حا ئل ہ وت ی ہ و اور ک ہ ت ے ت ھے ک ہ رسول خدا (ص) اس ی طرح نماز ادا فرماتے ت ھے ( یعنی ظہ ر کو عصر ک ے سات ھ اور مغرب کو عشاء ک ے سات ھ جمع فرمات ے ت ھے ) ۔

نیز مسلم نے صح یح میں ، مالک نے موطاء "باب جمع ب ین الصلا تین میں امام احمد بن جنبل نے مسند سلسل ہ روا یات کو نقل کرتے ہ وئ ے س عید ابن جبیر کرے ذر یعے ابن عباس سے روا یت کی ہے ک ہ ان ہ و ں ن ے ک ہ ا "صلّی رسول الله الظهر و العصر جمعا بالمدینة فی غیر خوف و لا مطر " (یعنی رسو ل اللہ مد ینے میں نماز ظہ ر اور عصر کو ملا کر پ ڑھی بغیر خوف اور بارش کے ) ابو زب یر کہ تا ہے ک ہ م یں نے ابو سع ید سے سوال ک یا کہ پ یغمبر (ص)کس وجہ س ے نماز جمع فرمات ے ت ھے " تو ابو سع ید نے ک ہ ا ک ہ یہی سوال میں نے ابن عباس س ے ک یا تھا تو انہ و ں ن ے جواب د یا کہ "اراد ان لا یحرج احدا من امته" ( یعنی اسلئے جمع فرمات ے ت ھے ک ہ آ ں حضرت (ص)ک ی امت میں سے کوئ ی شخص سختی اور مشقت میں نہ پ ڑے اور چند دوسر ی روایتوں میں بھی نقل کرتے ہیں کہ ابن عباس ن ے ک ہ ا "جمع رسول الله بین الظهر والعصر والمغرب والعشاء فی غیر خوف ولا مطر"( یعنی رسول اللہ (ص)ن ے ظ ہ ر وعصر اور مغرب وعشاء ک ے درم یان جمع فرمایا بغیر اسکے ک ہ کوئ ی خوف ہ و یا بارش ہ وت ی ہ و) ۔ اس بار ے م یں میں روایتیں کثرت سے نقل ک ی ہیں لیکن جمع بین الصلاتین کے جواز پر سب س ے واضح دل یل یہی جمع بین الصلواتین کے نام ک ے سات ھ ابواب ک ی تعیین اور اسی باب میں احادیث جمع کرنا ہے تا ک ہ یہ مطلقا جمع کے جائز ہ ون ے کی دلیلیں بنیں ۔ ورن ہ ا یک مخصوص باب میں حضر میں اور ایک باب سفر میں نمازوں کو جمع کرن ے پر قائم کرت ے ،چنانچ ہ یہ منقولہ روائت یں صحاح اور آپ کی دوسری معتبر کتابو ں م یں سفر وحضر دونوں م یں اس کے جائز ہ ون ے س ے تعلق رک ھ ت ی ہیں ۔

حافظ:- ایسا کوئی باب یا نقل روایات صحیح بخاری میں موجود نہیں ہے ۔

خیرطلب :-اولا جب سارے ارباب صحاح ج یسے مسلم، نسائی، احمد ابن حنبل ،صحیحین مسلم وبخاری کے شارح ین اور آپ کے دوسر ے ب ڑے علماء ن ے نقل ک یا ہے تو یہی ہ مار ے مطلب اور مقصد ک ے لئ ے کاف ی ہے ۔

دوسرے امام بخاری نے ب ھی انہیں روایات کو جنہیں دوسروں ن ے نقل ک یا ہے اپن ی صحیح میں درج کیا ہے ل یکن پوری چالاکی کے سات ھ ان ک ے محل یعنی جمع بین الصلواتین سے دوسر ے محل پر منتقل کرد یا ہے ،چنانچ ہ


"باب تاخ یر الظھ ر ال ی العصر من کتاب مواقیت الصلواۃ" "باب ذکرالعشاء والعمتہ "اورباب "وقت المغرب " کا مطالع ہ ک یجیئے اور ان کا جائزہ ل یجیئے تویہ جمع بین الصلواتین کی ساری حدیثیں نظر آجائیں گی نتیجہ یہ کہ جمع ب ین الصلواتین کی اجازت اور رخصت کے عنوان ک یساتھ ان احادیث کا نقل کرنا بتا تا ہے ک ہ یہ جمہ ور علمائ ے فر یقین کا عقیدہ ہے ۔ ا یسی صورت میں کہ اپن ے صحاح ک ے اندر ان حد یثوں کی صحت کا اقرار بھی کیا ہے چنانچ ہ علاّم ہ نوو ی نے شرح صح یح مسلم میں عسقلانی اور قسطلانی ،زکریا رازی نے ان شرحو ں م یں جو انہ و ں ن ے صح یح بخاری کی لکھی ہیں ،زرقانی نے شرح موطاء مالک میں اور آپ کے دوسر ے علماءن ے یہ احادیث اورخصوصا حدیث ابن عباس کو نقل کرنے ک ے بعد ان ک ی صحت اور اس کا اعتراف کیا ہے ک ہ یہ حدیثیں حضر میں جمع بین الصلاتین کی اجازت ورخصت کی دلیل ہیں تا کہ امت وال ے حرج اور مشقت م یں مبتلا نہ ہ و ں ۔

نواب :- یہ کیونکر ممکن ہے ک ہ زمان ہ رسول خدا(ص)س ے یہ حدیثیں جمع کے عمل پر مرو ی ہ و ں ل یکن علماء حکم اور عمل میں ان کے خلاف راست ہ اخت یار کریں ؟۔

خیرطلب :- یہ صرف اسی موضوع سے مخصوص ن ہیں ہے ،بعد کو آپ ک ی سمجھ م یں آئے گا اس ک ی مثالیں بہ ت ہیں ۔ خاص اس موضوع م یں بھی حضرات فقہ اء ا ہ ل تسنن ن ے یا تو غور وفکر کے تصور س ے یا کسی اور سبب سے جو مج ھ کو معلوم ن ہیں ہے ان معتبر حد یثوں کی ان کے ظا ہ ر ی کے خلاف م ہمل تاویلیں کی ہیں۔ ج یسا کہ ک ہ ت ے ہیں "شاید یہ حدیثیں عذرکے مواقع س ے تعلق رک ھ ت ی ہ و ں مثلا خوف وب یم ، بارش اور آندھی وغیرہ چنانچہ آپ ک ے اکابر متقدم ین میں سے ا یک جماعت جیسے امام مالک ،امام شافعی ، اور مدینے کے چند فق یہ و ں نے اس ی تاویل کے سات ھ فتو ی دیا حالانکہ اس عق یدے کو ابن عباس کی حدیث رد کررہی ہے جو صاف صاف ک ہ ت ے ہیں کہ "من غ یر خوف ولا مطر"یعنی بغیر خوف اور نزول باراں ک ے نماز کو جمع پ ڑھ ت ے ت ھے ۔

بعض دوسروں ن ے یہ خیال آرائی کی ہے ک ہ غالبا ابر گ ھ را ہ وا ت ھ ا اس وج ہ س ے وقت کو ن ہیں پہ چانا اور ج یسے ہی نماز ظہ ر تمام ک ی ابر چھٹ گ یا تو دیکھ ا کہ عصر کا وقت ہے ل ہ ذا عصر ب ھی پڑھ لی اور اس طرح سے ظ ہ ر عصر با ہ م جمع ہ وگئ یں ۔

میں نہیں سوچ سکتا کہ اس س ے ز یادہ کمزور تاویل بھی گھڑی جاسکتی ہے گو یا تاویل کرنے والو ں ن ے غور ہی نہیں کیا کہ نماز پ ڑھ ن ے وال ے رسول الل ہ (ص) ت ھے اور رسول خدا(ص) ک یلئے ابر کا ہ ونا ن ہ ہ ونا کوئ ی فرق نہیں رکھ تا ت ھ ا ۔ ک یونکہ آنحضرت (ص)کا علم اسباب ظاہ ر ی کا محتاج نہیں تھ ا ،بلک ہ اسباب و آثار پر حاو ی تھ ا اس س ے قطع نظر ک ہ یہ کم فہ م جماعت ا یسی صورت حال پید ہ ون ے پر کوئ ی دلیل اپنے پاس ن ہیں رکھ ت ی اور علاوہ اس ک ے ک ہ یہ بات احادیث کے ک ھ ل ے ہ وئ ے مطالب کے خلاف ہے اس تاو یل کا باطل ہ ونا نماز مغ رب وعشاء کو جمع کرنے س ے


ب ھی ثابت ہ وتا ہے ک یونکہ اس وقت ابر کے موجود ہ ون ے اور بر طرف ہ ون ے س ے کوئ ی اثر نہیں پڑ تا ۔

جیسا کہ م یں نے عرض ک یا حدیث ابن عباس (خیر امت) میں اس کی صراحت موجود ہے ک ہ ان ک ے خطب ے ن ے اتنا طول ک ھینچا کہ سامع ین نے کئ ی مرتبہ " الصّلوا ۃ الصّلواۃ "کی آوازبلند کی یعنی یاد دلایا کہ ستار ے ظا ہ ر ہ وگئ ے ہیں اور نماز کا وقت ہ وگ یا ہے اس ک ے باوجود وہ نماز مغرب م یں عمدا تاخیر کرتے ر ہے یہ ا ں تک کہ نماز عشاء کا وقت آگ یا اور دونوں کو ملا ک ے ادا ک یا اور ابو ہ ر یرہ نے ب ھی اس کی تصدیق کی رسول اللہ (ص) اس ی طرح عمل فرماتے ت ھے ۔یقینا اس طرح کی تاویلیں ہ مار ے نزد یک باطل ہیں ، بلکہ آپ ک ے ب ڑے بڑے علماء نے ب ھی ان کو رد کیا ہے اور تاو یلات کو ظواہ ر احاد یث کے برخلاف جان ا ہے ج یسا کہ آپ ک ے اکابر علماء م یں سے ش یخ الاسلام انصاری نے "تحف ۃ الباری فی شرح صحیح البخاری " باب الصلواۃ الظھ ر مع العصر والمغرب والعشاء"آخرصفح ہ 292 جزءدوم م یں اسی طرح علّامہ قسطان ی نے "ارشاد السار ی فی شرح صحیح بخاری"صفحہ 293 جزءدوم م یں اور صحیح بخاری کے دوسر ے شارح ین اور آپ کے علماء محقق ین کے ا یک جم غفیر نے لک ھ ا ہے ک ہ اس قسم ک ی تاویلیں ظواہ ر احاد یث کیخلاف ہیں اور اس بات کی قید لگانا کہ ہ ر نماز حتم ی طور پر الگ الگ پڑھ نا چائ یئے ترجیح بلا مرجح اور تخصیص بلا مخصص ہے ۔

نواب :- پھ ر یہ اختلاف کہ ا ں س ے آ یا کہ مسلما ں ب ھ ائ یوں کے دوگرو ہ آپس م یں ایک دوسرے ک ی جان کے درپ ے ہ وگئ ے با ہ م عداوت ک ی نظر سے د یکھ ت ے ہیں او راعمال کی مذمت اور قدح کرتے ہیں ؟۔

خیر طلب :- اولا ! یہ کہ آپ ن ے فرما یا ہے مسلمان دو گرو ہ آپس م یں ایک دوسرے کو عداوت ک ی نگاہ س ے د یکھ ت ے ہیں ، تو میں مجبور ہ و ں ک ہ ش یعیان اہ ل ب یت طہ ارت وخاندان رسالت ک ی طرف سے دفاع کرو ں ک ہ ہ م ش یعوں کی جماعت برادران اہ ل تسنن ک ے علماء اور عوام م یں کسی ایک کو بھی حقارت یا عداوت کی نگاہ س ے ن ہیں دیکھ ت ی ہے بل کہ ان کو اپن ے مسلمان ب ھ ائ ی سمجھ ت ی ہے البت ہ ہ م کو ب ہ ت افسوس ہے ک ہ غ یروں ،خارجیوں ، ناصبیوں اور امویوں کے غلط پروپ یگنڈے اور شیاطین جن وانس کی تحریکیں برادران اہ ل سنت ک ے دلو ں م یں کس لئے گ ھ ر کر ل یتی ہیں ؟ یہ ا ں تک کہ اپن ے ش یعہ بھ ائ یوں کو جو قبلہ ، کتاب ، نبوت ، تمام احکام اور واجبات و مستحبات پر عمل اور کبائر ومعاص ی کے ترک م یں ان کے سات ھ شر یک ہیں رافضی ،مشرک اور کافر جانتے ہیں ۔ اپن ے س ے جدا قرارد یتے ہیں اور بغض وعداوت کی نظر سے ان ک ی طرف دیکھ ت ے ہیں ۔

ثانیا ! آپ نے فرمایا ہے ک ہ " یہ اختلاف کہ ا ں س ے آ یا ؟" تو میں سوز دل کے عرض کرتا ہ و ں :-

آتش بجاں شمع فتد ک یں بنا نہ اد

ابھی یہ عرض کرنے کا وقت ن ہیں ہے ک ہ اس قسم ک ے اختلاف کا چشم ہ ک ہ ا ں س ے پ ھ و ٹ ا ۔ شا ید انشا اللہ آ یندہ راتوں م یں موقع محل کی مناسبت سے اس ک ی نقاب کشائی ہ و جائ ے اور آپ خود اصل حق یقت کی طرف متوجہ ہ و جائ یں ۔


ثالثا ! نماز جمع و تفریق کے بار ے م یں حضرات فقہ اء ا ہ ل تسنن ن ے مذکور ہ روا یتوں کو جو مطلقا نماز ظہ ر وعصر ومغرب وعشاء کو ملا کر پ ڑھ ن ے ک ی اجازت اور جواز پر دلالت کرتی ہیں ، امت کی سہ ولت و راحت اور سخت ی ومشقت و حرج سے بچان ے ک ے لئ ے نقل ک یا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ کس وج ہ س ے فضول تاو یلیں کرتے ہیں اور بغیر عذر کے نمازو ں کو اک ھٹ ا پ ڑھ ن ے کو جائز ن ہیں جانتے بلک ہ ان م یں سے بعض ج یسے ابو حنیفہ اور ان کے تاب عین مطلقا جمع کرنے کو منع کرت ے ہیں چاہے عذر ک یساتھ ہ و یا بغیر عذر کے ،سفر م یں ہ و یا حضر میں لیکن دوسرے شافع ی ،مالکی ، اور جنبلی علماء نے باوجود سار ے اصول و فروع م یں باہ م ی اختلافات کے سفر مباح کر ے اندر ج یسے حج ،عمرہ اور جنگ وغ یرہ میں اس کی اجازت دی ہے ۔

البتہ شیعہ فقہ اء ائم ہ طا ہ ر ین آل محمد علیھ م السلام کی پیروی میں جو ارشاد رسول (ص) کی بنا پر حق وباطل کے درم یان فرق کرنے وال ے اور عد یل قرآن ہیں مطلقا اس کے جواز کا حکم د یتے ہیں ،خواہ سفر م یں یا حضر میں ،عذرکے سات ھ یا بغیر عذر کے ، چا ہے تقد یم کے ساتھ جمع کرے یا تاخیر کے سات ھ اور یہ جواز اختیار مصلی کے سات ھ ہے یعنی نماز گزار اگر چاہے تو نماز ظ ہ ر وعصر اورمغرب وعشاء چارو ں کو س ہ ولت اور آرام ک ے لئ ے ا یک نشست میں پڑھے یا ظہ ر ومغرب کو اول وقت فض یلت میں پڑھے اور نماز عصر وعشاء کو بھی انہیں کے اول وقت فض یلت میں ادا کرے اس کو اخت یار ہے ہ ا ں ہ ر ا یک کو الگ الگ اور اپنے اپن ے وقت فض یلت میں بجا لانا جمع کرنے س ے افضل ضرور ہے ج یسا کہ فق ہ اء ش یعہ کی استدلالی کتابوں اور عمل یہ رسالوں م یں اس کا مکمل ذکر کیا گیا ہے ۔ ل یکن چونکہ لوگ اکثر مشاغل اور بہ ت س ی پریشانیوں میں گرفتار رہ ت ے ہیں اور ممکن ہے ک ہ ت ھ و ڑی سی غفلت میں نماز ان سے فوت ہ و جائ ے ل ہ ذا س ہ ولت اور رفع زحمت وحرج ک ے لئ ے (جو شارع مقدس کا مقصد ہے ) ش یعہ تقدیم یا تاخیر کے سات ھ جمع پ ڑھ ت ے ہیں میرا خیا ل ہے ک ہ حضرات محترم کا ذہ ن روشن ہ ون ے اور دوسر ے برادران ا ہ ل سنت ک ے لئ ے جو ہ م کو غ یض وغضب ک ی نگاہ س ے د یکھ ت ے ہیں اسی قدر جواب کافی ہ وگا چونک ہ دوسر ے ا ہ م بن یادی مطالب پیش نظر ہیں ۔ ل ہ ذا ب ہ تر ہے ک ہ ہ م لوگ سابق اصل مذاکرات ک ی طرف واپس ہ و ں ک یوں کہ جب خاص خاص اصول ی مطالب حل ہ وجائ ینگے تو ان کے سات ھ فروعات خود بخود واضح ہ و جائ ینگے ۔

حافظ:-مجھ کو ب ہ ت مسرت ہے ک ہ م یں نے پ ہ ل ی ہی نشست میں قبلہ صاحب ک ے معلومات کا پت ہ لگال یا اور یہ جان لیا کہ م یرافریق صحبت وہ شخص ہے جو ز یادہ محدود نہیں اور ہ مار ی کتابوں س ے پور ی طرح باخبر ہے ج یسا کہ آپ ن ے فرما یا بلکل بجا ہے ک ہ ہ م اس ی پہ ل ی گفتگو کی طرف رجوع کریں ۔

آپ کی اجازت سے میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ جب آپ نے فصیح و بلیغ بیان سے ثابت کردیا کہ آپ حجازی و ہاشمی اور ایسے پاک نسب کے حامل ہیں تو یہ کیونکر ہوا کہ جو سنیوں کے مرکز ایران میں آبسے چنانچہ اس ہجرت کا سبب اور تاریخ بیان فرمائیے۔


ہم لوگ مسرور ہوں گے۔

( اس محل پر قبلہ سلطان الواعظین نے اپنے اجداد کی ہجریت کا سبب اور مفصل تاریخ بیان فرمائی ہے۔ جو اختصار کا لحاظ رکتے ہوئے حذف کی جاتی ہے۔ لیکن اسی سلسلے میں ضمنا ظہور قبرامیرالمومنین (ع) کا بھی ذکر آگیا ہے جس کے بارے میں گفتگو کا ترجمہ درج کیا جاتا ہے۔ 12 مترجم)

حافظ : لیکن امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہ کی قبر اس زمانہ تک کس حال میں تھی کہ ڈیڑھ سو سال کے بعد ظاہر ہوئی۔

خیر طلب : چونکہ امیرالمومنین علیہ السلام کی شہادت ،خلافت معاویہ اور بنی امیہ کی فتنہ انگیزی کے زمانے میں واقع ہوئی لہذا حضرت نے وصیت فرما دی تھی کہ آپ کا جسد مبارک رات کے وقت پوشیدہ طریقہ پر دفن کیا جائے یہاں تک کہ کوئی علامت بھی قبر پر باقی نہ رہے ۔ صرف چند اصحاب خاص اور ان حضرت کے فرزند دفن کے موقع پر حاضر تھے اور اکیسویں رمضان کے صبح کو اس لیے کہ دشمنوں پر معاملہ مشتبہ ہوجائے اور وہ قبر مبارک کی جگہ معلوم نہ کرسکیں دو محملیں تیار کی گئیں۔ ایک کو مدینہ کی طرف اور ایک کو مکہ کی جانب روانہ کیا گیا اسی وجہ سے ان حضرت (ع) کی قبر مبارک برسوں پوشیدہ رہی اور سوا حضرت کے فرزندوں اور خاص خاص اصحاب کے کوئی شخص ان جناب کے مدفن اور قبر سے واقف نہ تھا۔

حافظ : اس وصیت اور قبر کو پوشیدہ رکھنے کی کیا وہ تھی؟

خیر طلب : غالبا بنی امیہ بے دین کے خوف سے ایسا ہوا چونکہ یہ لوگ ظالم و باغی اور مخصوص طور پر آل محمد علیہم السلام کے شدید دشمن تھے لہذا ممکن تھا کہ قبر مبارک کے ساتھ بے ادبی کریں اور یہ ظلم سارے مظالم سے سخت ہوتا ۔

حافظ : یہ آپ کیا فرمارہے ہیں ؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ مرنے اور میت کے قبر میں دفن ہونے کے بعد کوئی مسلمان چاہے وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو ایسا قبیح عمل انجام دے؟

بنی امیہ کے دلدوز حرکات

خیر طلب : غالبا آپ نے بنی امیہ کی رسوائے زمانہ تاریخ اور ان کے شرمناک اور دلدوز حرکات کا مطالعہ نہیں فرمایا ہے کہ اس شجرہ ملعونہ اور جماعت خبیثہ نے جس روز سے خلافت اور امارت مسلمین کی لجام ہاتھ میں لی۔ اسی دن سے مسلمانوں کے اندر ظلم و تعدی اور فساد کا دروازہ کھل گیا کیا کیا ظلم انہوں نے نہیں کیئے


کتنے کتنے خون نہیں بہائے کیس کیسی عزتیں برتباد نہیں کیں، یہ رسوا بے وقعت قوم کسی چیز کی پابند نہیں تھی چنانچہ ان کی بد اعمالوں کو آپ کے بڑے بڑے علماء اور مورخین انتہائی خجالت کے ساتھ ضبط تحریر میں لائے ہیں۔

واقعہ شہادت زیدبن علی علیہ السلام

خصوصیت کیساتھ علامہ صفر یزی ابوالعباس احمد بن علی شافعی نے جو آپ کے اکابر علماء میں سے ہیں اپنی کتاب ، مقریزی النزاع والتخاصم فیما بنی بنی ہاشم و بنی امیہ میں ان کی دل سوز حرکتوں اور بد اعمالیوں کو تفصیل کے ساتھ درج کیا ہے کہ وہ زندہ اور مردہ میں بھی فرق نہیں کرتے تھے نمونہ کے لیے اس بدنام زمانہ قوم (بنی امیہ) کے دل دوز اعمال کی نشانیاں اور وہ اہم تاریخی واقعے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں تاکہ آپ حضرات تعجب نہ کریں۔ اور یہ سمجھ لیں کہ جو کچھ میں عرض کررہا ہوں سند اور بنیاد کے ساتھ ہے وہ اہم واقعے حضرت زید بن علی بن الحسین علیہما السلام اور ان کے فرزدن یحیٰ کی شہادتیں ہیں جن کو فریقین کے جملہ مورخین نے لکھا ہے ۔ کہ جب ہشام بن عبد الملک ابن مروان سنہ115ہ میں تخت خلافت پر بیٹھا ہے اور یہ بہت قصی القلب اور مغلوب الغضب شخص تھا۔ ) تو اس نے ظلم و تعدی شروع کی اور مخصوص طور پر بنی ہاشم کے حق میں تو خود اس نے اور اس کے پیروں نے تکلیف دہی اور ایذا رسانی کی انتہا کر دی آخر کار یکتائے زمانہ سخی شریف عالم عابد و زاہد فقیہ اور متقی جناب زید بن علی خلیفہ کے پاس فریاد کے لیے تشریف لے گئے اور زصافہ میں ہشام سے ملاقات کی قبل اس کے کہ آپ اپنے آنے کی غرض بیان فرمائیں وہ بجائے اس کے کہ اپنے تازہ وارد مہمان اور وہ بھی رسول اﷲ(ص) کے پارہ تن کی امداد و دادرسی اور خاطر داری کرتا پہنچتے ہی سخت توہین کے ساتھ پیش آیا اور ایسی فحش گالیوں کیساتھ جن کو میں اپنی زبان پر جاری نہیں کرسکتا ۔ آپ کو دربار خلافت سے نکال دیا چنانچہ ہمارے اور آپ کے بڑے بڑے مورخین جیسے امام مسعودی مروج الذہب جلد دوم ص181 میں ، علامہ مقریزی النزاع و التخاصم فیما بین بنی ہاشم و بنی امیہ میں ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ میں اور دوسرے لوگ تفصیل کے ساتھ لکھتے ہیں کہ شدید گالیاں اور شدید چوٹیں کھانے اور خلیفہ کے پاس سے نکالے جاتے کے بعد آپ مجبورا شام سے کوفہ تشریف لے گئے اور دفع ظلم کے لیے ہویوں کے خلاف ایک پارٹی تیار کی حاکم کوفہ یوسف بن عمر ثقفی ایک بڑے لشکر کے ساتھ مقابلہ پر آیا وہ جناب ہاشمی شجاعت اور دلیری کے ساتھ جنگ کر رہے تھے اور رجز میں یہ اشعار پڑھتے تھے۔

اذل الحیات و عز الممات و کلا اراه طعاما وبیلا


فان کان لا بد من واحد فسیری الی الموت سیرا جمیلا

( یعنی ذلت کی زندگی اور عزت کی موت دونوں لقمے بہت تلخ معلوم ہوتے ہیں لیکن اگر دونوں سے ایک لازمی ہوجائے تو اے نفس خوشی کے ساتھ موت کی طرف بڑھ ۔ مترجم) اچانک دشمن کا ایک تیر پیشانی مبارک پر پڑا اور آپ نے شربت شہادت نوش فرمایا ۔ آپ کے فرزدن جناب یحیٰ شیعوں کے ہمراہ اس ہنگامے میں اپنے پدر بزرگوار کا جسد مبارک خفیہ طریقہ پر اٹھا لے گئے، شہر کے کنارے پانی کی نہر کے درمیان قبرکھودی کر دفن کیا اور لحد بند کرنے کے بعد اوپر سے پانی جاری کردیا تاکہ دشمنوں کو پتہ نہ چلے کہ قبر مبارک کہاں پر ہے لیکن شرارت پسند مفسدوں نے یوسف کو خبر دی اس نے چند آدمی بھیجے جو ان جناب کی قبر کھود کر میت کو باہر لائے اور سر اقدس کاٹ کر ہشام کے پاس شام کی طرف روانہ کیا ۔ اس کینے اور بد اصل ملعون نے یسف حاکم کو فہ کو لکھ اکہ جناب زید کے جسم کو عریاں کر کے سولی پر لٹکا دیا جائے ان ملاعین نے اسی پر عملدا آمد کیا اور ماہ صفر سنہ 121ھ میں ذریت رسول (ص) کا بدن برہنہ کر کے دار پر آویزاں کیا پورے چار سال تک اسی عالم و زاہد اور رسول اﷲ(ص) کے پارہ تن کا جسم مبارک سولی پر رہا یہاں تک کہ سنہ126 ھ میں جب ولید بن یزید بن عبدالملک بن مروان خلیفہ ہوا تو اس کے حکم سے ان بزرگوار کے استخوان دار سے اتار کر آگ میں جلا دے گئے اس کے بعد ان کی خاکستر ہوا میں اڑا دی گئی۔

شہادت جناب یحیٰ

اور یہی سلوک اس ملعون نے جناب یحی بن زید کے جسم کے ساتھ جرجان (1) میں کیا جو بلاد خراسان میں سے ہے ( اور اب گرگان کہا جاتا ہے۔) کیونکہ ان بزرگوار نے بھی بنی امیہ کے ظلم و جور کے خلاف مقاومت کی ( جس کی مفصل تاریخ موجود ہے) اور میدان جنگ میں شہید ہوئے۔ آپ کے سر کو بدن سے جدا کر کے شام بھیجا گیا اور پدر بزرگوار کی طرح آپ کا جسم بھی دار پر لٹکا دیا گیا جو چھ سال تک اسی طرح آویزاں رہا اور دوست دشمن یہ حال دیکھ کر روتے تھے۔ یہاں تک کہ ولید واصل جہنم ہوا۔ اور ابو مسلم خراسانی نے جو بنی عباس کی خیر خواہی میں بنی امیہ کے مقابلہ پر اٹھا تھا ۔ اس اولاد رسول(ص) کے جسم کو راہ ظلم سے نجات دے کر جرجان ( گرگان) میں دفن کیا۔ آپ کی قر اب تک عام طور پر زیارت گاہ اور مسلمانوں کے لیے محل احترام ہے۔

(سارے اہل جلسہ یہ واقعات سن کر متاثر ہوئے بلکہ رونے لگے اور بے اختیار ان ملاعین پر لعنت کی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 ـ ابو الفرح ، اصفہانی اور بعض دوسروں کے نزدیک یحی کی قبر جو زنجان میں ہے جو کہ گورگان کا مغرب ہے۔


لہذا اس خبیث و لعین خاندان کے ایسے اقدمات کے پیش نظر جن کا ایک نمونہ ذکر کیا گیا ہے۔کوئی تعجب نہیں تھا ۔ کہ اگر ان لوگوں کو موقع ملتا ہتو امام بر حق حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے جسم مطہر کیسا تھ بھی اس قسم کا برتاؤ کرتے چنانچہ حسب وصیت ان حضرت کا جنازہ رات کے وقت دفن ہوا اور قبر پر کوئی علامت تک بھی نہیں چھوڑی گئی یہ قبر مبارک زمانہ ہارون رشید تک عام طور پر نگاہوں سے مخفی رہی۔ یہ عباسی خلیفہ ایک روز صحرائے

نجف میں جو ایک نیستان اور ہرنوں کی قیامگاہ تھا شکار کے لیے آیا تازی کتوں اور چیتوں نے ہرنوں کا پیچھا کیا۔ انہوں نے تل نجف (1) کے اوپر پناہ لی لیکن کتے اور چیتے ٹیلے کے اوپر نہیں گئے کئی مرتبہ یہی اتفاق ہوا۔ یعنی جب کتے واپس آجاتے تو ہرن نیچے اترتے تھے اور جیسے ہی حملہ ہوتا تھا وہ پھر ٹیلے پر پناہ لے لیتے تھے خلیفہ نے سوچا کہ اس مقام پر کوئی ایسا راز ہونا چاہئے جس کی وجہ سے کتے اوپر نہیں چڑھتے ۔ چنانچہ آدمیوں کو بھیجا جو وہاں کے باشندوں میں سے ایک بوڑھے شخص کو خلیفہ کے پاس بلا لائے اس نے پوچھا کہ اس ٹیلے میں کیا راز ہے کہ کتے ہرنوں کے تعاقب میں اوپر نہیں جاتے؟

قبر علی علیہ السلام کا ظہور

بوڑھے نے کہا کہ میں اس کا راز جانتا ہوں لیکن کہتے ہوئے ڈرتا ہوں ۔ خلیفہ نے اس کو امان دی تو اس نے بتایا کہ میں ایک مرتبہ اپنے باپ کے ہمراہ آیا۔ اس نے اس ٹیلے پر زیارت اور نماز ادا کی میں نے پوچھا کہ یہاں کیا چیز ہے؟ تو اس نے کہا کہ ہم لوگ اسی جگہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ زیارت کو آئے تھے ، اور ان حضرت نے فرمایا تھا کہ اس مقام پر ہمارے جد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی قبر ہے جو عنقریب ظاہر ہوگی۔

خلیفہ کے حکم سے وہ جگہ کھودی گئی یہاں تک کہ ایک قبر کی علامت ملی اور وہیں پر ایک لوح نظر آئی جس پر سریانی خط می دو سطریں تھیں ترجمہ کیا گیا تو یہ مضمون ظاہر ہوا۔ "بسم اللّه الرحمن الرحيم هذا ما حفره نوح النبىّ لعلىّ وصىّ محمد قبل الطوفان بسبعمأة عام منه " ( 2 )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 ـ نجف لغت میں اس پشتے اور بلندی کے معنی میں ہے جس پر پانی نہ پہنچے اور پشت کوفہ پر ایک پانی کے بند کا نام ہے جو اس کے گھروں اور قبروں تک سیلاب کے پہنچنے میں حائل ہے اور اسی بند کے قریب حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی قبر مبارک ہے جیسا کہ فیروز آبادی نے قاموس کے اندر لغت نجف کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔

2 ـ یہ وہ قبر ہے جسے نوح(ع) پیغمبر نے حضرت محمد مصطفی (ص) کے وصی علی (ع) کے لیے طوفان سے سات سو برس قبل تیار کیا۔


ہارون نے اس کا احترام کیا اور حکم دیا کہ مٹی اپنی جگہ پر ڈال دی جائے پا پیادہ ہوا وضو کیا دو رکعت نماز پڑھی کافی گریہ کیا اور اپنے کو قبر مطہر کی خاک پر غلطاں کیا ۔ پھر اس کے حکم سے یہ کیفیت مدینہ میں امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں لکھی گئی۔ اور معاملہ کی حقیقت دریافت کی گئی حضرت نے جواب میں لکھا کہ ہاں اسی مقام پر میرے جد بزرگوار امیرالمومنین علیہ السلام کی قبر ہے، چنانچہ ہارون کے حکم سے ان حضرت (ع) کی قبر مطہر پر ایک پتھر کی عمارت بنی جو حجر ہارونی کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ خبر چاروں طرف مشہور ہوگئی اور مومنین سامان سفر مہیا کر کے حضرت کی زیارت کے لیے پہنچنے گے لہذا جناب سید ابراہیم مجاب وجد سلطان الواعظین ۔۔۔۔ بھی موقع ملتے ہی شیراز سے عازم زیارت ہوئے اور زیارت سے فارغ ہونے کے بعد کربلائے معلے میں واطی اجل کو لبیک کہی۔ اپنے جد ب

زرگوار حضرت ابو عبداﷲ الحسین (ع) کے جوار میں دفن ہوئے انکی قبر شریف رواق حضرت کے شمالی مغربی گوشہ میں دوستوں کی زیارتگاہ ہے۔

مدفن امیرالمومنین علیہ السلام میں اختلاف

حافظ : میرا خیال ہے کہ جو فیصلہ آپ نے فرمایا ہے اس کے باوجود مولانا علی کرم اﷲ وجہ کی قبر نجف میں نہیں ہے۔ کیونکہ علماء کو اس میں اختلاف ہے بعرض کہتے ہیں کہ کوفہ کے دارالامارہ میں بعض نے کہاہے قبلہ مسجد جامع کوفہ میں بعض نے لکھا ہے مسجد کوفہ کے باب کندہ میں بعض کا قول ہے رحبہ

کوفہ میں اور بعض دوسروں کا بیان ہے کہ قبرستان بقیع کے اندر فاطمہ(س) کے پہلو میں ہے۔ ہمارے افغانستان میں کابل کے نزدیک بھی ایک مقام مزار علی(ع) کے نام سے موسوم ہے مشہور ہے کہ مولانا علی کرم اﷲ کا جسد لوگوں نے ایک صندوق میں رکھ کر اور اونٹ کی پشت پر باندھ کے مدینہ کیطرف روانہ کیا ، ایک جماعت اس خیال سے کہ صندوق کے اندر قیمتی چیزیں ہوں گی اس کو چھین لے گئے۔ جب کھولا اور ان حضرت کا جسد مبارک دیکھا تو کابل میں لاکر اسی مقام پر دفن کردیا اور اس وجہ سے عام طور پر لوگ اس بقعہ کا احترام کرتے ہیں۔

خیر طلب : یہ سارے اختلافات ان حضرت کی وصیت کے نتیجہ میں پیدا ہوئے کیونکہ آپ نے پوشیدہ رکھنے کا حکم فرمایا تھا اور جس کی تفصیل مٰں نے ضروری نہیں سمجھی تھی، چانچہ امام بحق ناطق حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنی رحلت کے وقت اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام سے فرمایا کہ مجھ کو نجف میں دفن کر دینے کے بعد میرے لیے چار مقامات پر چار قبریں تیار کرانا۔ 1۔ مسجد کوفہ میں 2۔ رحبہ میں 3۔ خانہ جعدہ ہیرہ میں 4۔ غرمی میں تاکہ کوئی شخص میری قبر سے آگاہ نہ سکے۔

اور در اصل یہ اختلاف آپ کے علماء کے درمیان ہے جو دوسرے اشخاص کی باتوں سے اثر پذیر ہوتے ہیں ورنہ علماء شیعہ کی جماعت اس قول پر متفق ہیں کہ ان حضرت کی قبر مبارک نجف اشرف میں ہے کیونکہ انہوں نے جو


کچھ اہل بیت طہارت(ع) سے حاصل کیا ہے وہ یقینی چیز ہے ۔ ا ه ل البيت ادری بما فی البيت ( یعنی گھر والے سب سے زیادہ گھر کی چیزوں سے واقف ہوتے ہیں۔)

لیکن جو آپ نے یہ فرمایا کہ حضرت علی(ع) کا مزار کابل کے قریب ہے تو یہ بہت مضحکہ خیز بات ہے اور یہ شہرت مکمل طور پر غلط ہے یہ قضیہ ایک صحیح خبر کے مقابلہ میں اضافے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ۔

مجھ کو تعجب تو آپ کے علماء پر ہوتا ہے جنہوں نے ہر محل پر عترت طاہرہ (ع) اور ان کے اقوال سے جدائی اختیار کی ہے۔ یہاں تک کہ اس پر بھی آمادہ نہ ہوئے کہ باپ کی قبر کی جگہ اس کے فرزندوں سے دریافت کریں تاکہ اختلاف نہ پیدا ہو کیونکہ اہل الیبت ادری بما فی البیت ۔ یقینی بات ہے کہ دوسروں کے مقابلے میں اولاد باپ کی قبر اور مدفن سے زیادہ آگاہ ہوتی ہے اگر ان شہرتوں میں سے کوئی بھی درست ہوتی تو یقینا ائمہ طاہرین علیہم السلام اپنے شیعوں کو اس کی اطلاع دیتے حالانکہ ان کے برعکس نجف اشرف کے لیے تقویت فرمائی ہے۔ بلکہ خود تشریف لے گئے ہیں اور شیعوں کو بھی نجف اشرف میں ان حضرت(ع) کی زیارت کی ترغیب و تحریص کی ہے سبط ابن جوزی نے تذکرہ ص103 میں اختلاف اقوال کا ذکر کیا ہے یہاں تک کہ کہتے ہیں۔

" والسادس انه علی النجف فی المکان المشهور الذی يزار فيه وهو الظاهر و قد استفاض---"

یعنی چھٹا قول یہ ہے قبر علی ابن ابی طالب علیہ السلام نجف اشرف میں اسی مقام پر ہے جس کی آج کل عام طور سے زیارت کی جاتی ہے اور بظاہر اس میں کوئی غلطی نہیں ہے اور یہی زبان زد خلائق بھی ہے۔ اسی طرح آپ کے دوسرے علماء جیسے خطیب خطیب ؟؟؟ نے مناقب میں خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں ، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں، فیروز آبادی نے قاموس میں لغت نجف کے تحت میں اور دوسروں نے نقل کیا ہے کہ ان حضرت (ع) کا مدفن نجف اشرف ہے۔

یہاں سے قبلہ سلطان الواعظین نے پھر اپنے اجداد کی ہجرت اور تاریخ کی طرف رجوع کیا ہے جس کو بنظر اختصار حذف کیا جاتا ہے ۔ (مترجم)

" جب مذاکرات یہاں تک پہنچے تو مولوی سید عبدالحی نے گھڑی دیکھ کر فرمایا کہ رات کافی گذر چکی ہے لہذا اب اجازت دیجئے ، بقیہ گفتگو انشاء اﷲ کل شب میں ہوگی ہم لوگ جلد ہی آجائیں گے تاکہ بات چیت کے لیے زیادہ وقت مل سکے، “میں نے تبسم اور خندہ پیشانی کے ساتھ تائید کی وہ حضرات چائے وغیرہ کے بعد رخصت ہوئے اور ہم نے خلوص و محبت کے ساتھ کچھ دور چل کر وداع کیا۔"


دوسری نشست

شب شبنہ 24 رجب سنہ 1345 ھ

مغرب کے بعد سب حضرات تشریف لے آئے وہی کل رات والا مجمع تھا سوا چند محترم افراد کے جن کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ تجار اور رؤسا میں سے تھے صاحب سلامت کے بعد جناب حافظ صاحب نے سلسلہ کلام شروع کیا۔

حافظ : قبلہ صاحب بغیر کسی چاپلوسی کے میں سچ کہتا ہوں کہ کل رات ہم شیریں خیالات اپنے ساتھ لے گئے جب آپ کی خدمت سے رخصت ہوئے تو راستے بھر ہمرائیوں کیساتھ آپ کی صحبت کا تذکرہ رہا۔ واقعا آپ کی جاذبیت اتنی قوی ہے کہ ہم سب کو آپ نے اپنی صورت و سیرت میں جذب کر لیا ہے۔ بہت کم ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ کسی شخص میں حسن صورت اور حسن سیرت دونوں یک جا ہو جائیں۔

اشهد انک ابن رسول اﷲ حقا ( میں گواہی دیتا ہوں کہ یقینا آپ اولاد رسول(ص) ہیں۔ خصوصیت کیساتھ آج صبح جب میں کتب خانہ گیا تو انساب و تاریخ کی کئی کتابیں بالخصوص ہزار مزار اور آثارت عجم کو سادات جلیل القدر کے انساب میں مطالعہ کیا اور آپ کے کل ارشادات کے بارے میں غورکیا ۔ راقعی میں نے خط اٹھایا ۔۔۔۔ اور لذت حاصل کی بلکہ حقیقتا اس نسب شریف پر مجھ کو غبط ہوا اور کافی دیر تک سوچتا رہا اس غور و فکر کے بعد میں بہت متاثر اور رنجیدہ ہوا کہ جناب عالی کا ایسا شریف اور صحیح انسل انسان اس حسنِ صورت و سیرت کے باوجود کیونکر اسلاف کی ذلیل اور احمقانہ عادتوں کا شکار ہوسکا اور اپنے بزرگوار اجداد کے مضبوط طریقہ سے منحرف ہوکر مجوسی ایرانیوں کے رویہ کو قبول کر لیا۔

خیر طلب : پہلے تو میں جناب عالی کے حسن ظن اور نگاہ لطف کا ممنون و متشکر ہوں اور بغیر انکسار کے کہتا ہوں کہ واقعا میں وہ ذرہ ہوں جس کا کوئی شمار نہ ہو، دوسرے یہ کہ آپ نے چند آپس میں مخلوط اور مبہم جملے ارشاد فرمائے ہیں جن کو دعا گو نہیں سمجھ سکا ۔ آپ کا مطلب و مقصد کیا ہے ، متمنی ہوں کہ جملوں کو الگ الگ بیان فرمائیے تاکہ اصل حقیقت ظاہر ہو۔

گذشتہ لوگوں کی احمقانہ اور ذلیل عادتیں کوںسی ہیں؟ میرے بزرگوار اجداد کا مضبوط طریقہ کیا چیز ہے، جس سے منحرف ہوگیا ہوں ، ( اور ایرانیوں کا سیاسی رویہ کیا ہے جس کی میں نے پیروی کی ہے؟


حافظ : اسلاف کی ذلیل اور احمقانہ عادات سے میری مراد وہ اصول و عقائد اور بدعتیں ہیں جو یہودی مخالفین کے ہاتھوں دین حنیف اسلام میں داخل ہوگئی ہیں۔

خیر طلب : ممکن ہے مہربانی فرماکر مزید وضاحت فرمائیے تاکہ معلوم ہو کہ وہ کونسی بدعتیں ہیں جن کی میں نے پیروی کی ہے۔

مذہب شیعہ پر اشکال پیدا کرنا

حافظ : یقینا آپ کا دل تاریخ کی شہادت کے بعد بخوبی قائل ہوگا کہ انبیائے بزرگ میں سے ہر ایک کی رحلت کے بد دشمنوں نے اس دین کی اصل مٰں جو ان کی کتاب تھی، جیسے توریت و انجیل مداخلت کی اور بکثرت تحریفیں کر کے اس دین کو ضائع اور درجہ اعتبار سے ساعط کردیا ۔ لیکن قرآن حکیم کے محکم ہونے کی وجہ سے چونکہ اس پر قادر نہیں ہوسکے لہذا یہودیوں کے ایک گروہ نےجو ہمیشہ سے حیلہ ساز اور مکار رہے ہیں اور ان کی تاریخ زندگی فریب و تزویر سے --- رہ چکی ہے ۔ جیسے عبداﷲ بن سبا صنائی ، کعب الاخبار اور وہب ابن منبہ وغیرہ نے اسلام قبول کر کے زہر پھیلانا شروع کیا اور جو باطل عقائد ان کی رائے اور عقیدے کے موافق تھے، ان کو ارشاد پیغمبر کے نام سے مسلمانوں کے درمیان شائع کیا خلیفہ سوم عثمان رضی اﷲ عنہ نے ان کا پیچھا کیا وہ لوگ خلیفہ کے خوف سے بھاگ کھڑے ہوئے اور مصر کو اپنا ہیڈ کواٹر بنایا ۔ آہستہ آہستہ عوام کی ایک جماعت کو فریب دیکر کچھ پیرو پیدا کیئے “ شیعہ” کے نام سے ایک پارٹی کی تشکیل کی خلیفہ عثمان کے مقابلہ میں علی(ع) کی کرامات و خلافت کا پروپیگنڈا کیا اور اپنے مصنوعی مقصد کے مطابق اس مفہوم کی چند حدیثیں وضع کیں کہ پیغمبر(ص) نے علی (ع) کو خلیفہ اور امام قرار دیا ہے۔

اس فرقے کے قائم ہونے کے نتیجے میں کثرت سے خون بہائے گئے یہاں تک کہ انجام خلیفہ عثمان مظلوم کے قتل اور مسند خلافت پر علی(ع) کے تقرر تک فتح ہوا۔ ایک اور جماعت نے بھی جو عثمان سے کدورتیں رکھتی تھی علی(ع) کی جنبہ داری اختیار کی ۔ چنانچہ اسی زمانہ سے گروہ شیعہ نے اپنی شکل و صورت قائم کی لیکن خلافت بنی امیہ اور حضرت علی (ع) کی اولاد و اصحاب کے قتل عام کے دور میں یہ گروہ بظاہر روپوش ہوگیا، البتہ چند افرد سلمان فارسی ابوذر غفاری اور عمار یاسر علی کرم اﷲ وجہ کی موافقت میں پوری کوشش سے تبلیغیں کرتے رہے جب کہ علی(ع) کی روح اس قسم کے تبلیغات سے قطعا بیزار تھی۔ یہاں تک کہ ہارون الرشید اور بالخصوص اس کے فرزند مامون الرشید عباسی کے زمانہ خلافت میں جو ایرانیوں کی مدد سے اپنے بھائی محمد امین پر غالب آیا اور اس کا تخت خلافت مضبوط


ہوا ان لوگوں نے علی ابن ابی طلاب (ع) کو ناحق خلفائے راشدین پر فضیلت دینے سے اس طریقے کی تقویت کرنا شروع کی۔ ایرانی بھی چونکہ عربوں سے بد ظن تھے کیونکہ ان کی سلطنت عربوں کے دست اقتدار کے تصرف میں آچکی تھی اور ان کی آزادی سلب ہوچکی تھی ۔ لہذا وہ اس کا بہانہ تلاش کر رہے تھے کہ دین کے نام پر ایک ایسا راستہ ڈھونڈ نکالیں جس کے ذریعہ عربوں کے مقابلہ پر کھڑے ہوسکیں چنانچہ اس باطل روئیے کو پسند کر کے اس کی پیروی کی بلکہ چاروں طرف سے اس (شیعہ) فرقے نے ایک ہنگامہ برپا کردیا یہاں تک کہ دیالمہ کے دور میں ان کو تقویت حاصل ہوئی با اقتدار صفوی سلطنت میں انہوں نے رسمیت پیدا کی یعنی فرقہ شیعہ ایک با قاعدہ مذہب کے نام سے مشہور ہوگیا اور مجوسی ایرانی بھی اب تک از روئے سیاست اپنے مذہب کو شیعہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، نتیجہ یہ کہ مذہب شیعہ ایک سیاسی اور نو زائیدہ مذہب ہے جس کی ایجاد عبداﷲ بن سبا (1) یہودی کے ہاتھوں ہوئی

الصبر مفتاح الفرح ( صبر خوشحالی کی کنجی ہے۔ اس کے بعد جناب حافظ صاحب کے جواب میں کہا)

مخالفین کی اشکال تراشیوں کا جواب

خیر طلب : آپ کے لیے ایسے ذی علم انسان سے یہ بعید تھا کہ گھڑی ہوئی مہمل موہوم اور بے اصل باتوں سے استدلال کرتے جو سوا منافقین و خوارج اور ناصبی اور اموی متعصب دشمنوں کے اور کسی کے لیے زیبا نہیں۔

-------------

1 ـ عبداﷲ بن سبا کے متعلق مکمل تحقیقات دفتر اصلاح کی کتاب عبداﷲ بن سبا میں ملاحظہ کریں۔

ورنہ پہلے اسلام کے اندر شیعہ مذہب کا کوئی نام و نشان نہٰیں تھا ۔ آپ کے جد بزرگوار نبی اکرم صلعم قطعا اس نام سے بیزار ہیں کیونکہ ان کی منشاء کے خلاف اس راہ میں قدم اٹھایا گیا ہے اور فی الحقیقت کہا جاسکتا ہے کہ شیعہ فرقہ یہودیوں کے مذہب اور ان کے عقائد کی ایک شاخ ہے ۔ اسی وجہ سے میں تعجب کرتا ہوں کہ آپ کا ایسا شریف انسان ایسے پاک نسب کے ساتھ کیوں کر ہوسکتا ہے کہ از روئے عادت اور اسلاف کی تقلید میں بغیر دلیل و برہاں کے اپنے جد بزرگوار کے طریقے یعنی اسلام کے پاک دین کو چھوڑ دے اور یہودیوں کے بدعتی روئے کی پیروی کرے در حالیکہ آپ اس کے لیے سب سے زیادہ اولی اور احق ہیں کہ پوری سعی کیساتھ قرآن اور اپنے جد رسول خدا(ص) کی سنت کے پیرو رہیں میں نے دیکھا کہ اہل جلسہ اور ذی شرف ہندی مومنین خصوصا پر جوش اور غیرت ند قزلباش حضرات جو ہندوستان کے با اثر شیعوں میں سے ہیں جناب حافظ صاحب کے بیانات سے بہت جھنجھلائے ہوئے ہیں اور ان کے چہروں کا رنگ متغیر ہوگیا ہے۔ چنانچہ میں نے ان کو تھوڑی نصیحت کی اور صبر و حوصلہ اور تحمل کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں یہ مثل مشہور ہے کہ شاہنامے کا آخر اچھا ہے لہذا صبر کرو۔


اب اگر اجازت ہو تو مطلب واضح کرنے کے لیے وقت جلسہ کا لحاظ کرتے ہوئے مختصر طور پر آپ کے بے بنیاد بیانات کا جواب پیش کروں تاکہ یہ معمہ حل ہو اور حقیقت ظاہر ہوجائے۔

حافظ : فرمائیے ۔ میں آپ کی باتیں سننے کے لیے حاضر اور ہمہ تن گوش ہوں۔

خیر طلب : اول یہ کہ آپ نے دو بالکل بے ربط چیزوں کو باہم ایک دوسرے سے مخلوط کردیا ہے اگر منافق ملعون عبداﷲ بن سبا یہودی جس کی شیعہ حدیثوں میں شدید مذمت کی گئی ہے اور علی الاعلان منافقین و ملاعین میں شمار کیا گیا ہے نے چند روز تک حضرت علی علیہ السلام کی دوستی کا سہارا لیا جو عام طور پر لوگوں کو محبوب تھے۔ تو اس کو شیعہ امامیہ سے کیا ربط ہے ۔ اگر کوئی بھیڑیا بکری کی کھال اوڑھ کے یا کوئی چور روحانیت اور اہل علم کا لباس پہن کر منبر اور محراب میں جلوہ گر ہو اور اس کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کو کچھ نقصانات پہنچیں تو کیا آپ کا یہی فرض ہے کہ اصل علم اور روحانیت بد ظن ہوجائیں اور سارے اہل علم کو چور اور بہرو پیا کہنے لگیں واقعا آپ نے بے اںصافی کی جو شیعوں کے پاک مذہب کو ملعون عبداﷲ بن سبا سے وابستہ کردیا۔ بہت تعجب کی بات ہے کہ آپ نے برحق شیعہ مذہب کو سبک کر کے سیاسی گروہ کا نام دیا اور اس کو ملعون عبداﷲ بن سبا کے آثار میں سے اور زمانہ عثمان کی ایجاد قرار دیا۔

حقیقتا آپ نے سخت غلطی کی کیونکہ شیعہ کوئی گروہ نہیں تھا بلکہ مذہب و طریقہ حقہ تھا۔ یہ خلافت عثمان کے زمانہ میں پیدا نہیں ہوا بلکہ خود کاتم الانبیاء (ص) کے عہد میں اور آں حضرت(ص) کے فرمان و ارشادات سے پھیلا۔

اگرچہ آپ خورج عامہ اور نواصب کی گھڑی ہوئی باتوں سے استدلال کرتے ہیں لیکن میں قرآن مجید کی آیات اور آپ کی معتبر روایات سے ثبوت پیش کرتا ہوں تاکہ حق وباطل میں امتیاز ہوجائے میں آپ کو توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیشہ گفتار و کردار میں غور و فکر سے کام لیجئے تاکہ حقیقیت ظاہر ہونے کے بعد شرمندگی کا باعث نہ ہو۔

چنانچہ اگر اس دعا گو کے بیانات ناگوار خاطر نہ ہوں تو اجازت دیجیے کہ آپ کی باتوں کا جواب دیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ جو کچھ آپ نے فرمایا ہے حقیقت اس کے خلاف ہے۔

حافظ : ضرور فرمائیے اس جلسہ کا انعقاد اور ہم لوگوں کے حاضر ہونے کا مقصد ہی یہی ہے حقائق واضح ہوں اور شبہات رفع ہوں ۔ ہم لوگ آپ کے استدلالی بیانات سے قطعا رنجیدہ اور متنفر نہ ہوں گے۔


شیعہ اور حقیقت تشیع کے معنی

خیر طلب : آپ حضرات یہ تو جانتے ہی ہیں کہ لغت میں شیعہ کے معنی پیرو کے ہیں اور شیعہ الرجل مرد کے پیرو اور مددگار ہیں فیروز آبادی جو آپ کے اکابر علماء میں سے ہیں۔ قاموس اللغات میں کہتے ہیں:

" و قد غلب هذا الاسم على كل من يتولى عليا و أهل بيته حتّى صار اسما لهم خاصا " (1)

اور ابن اثیر نے نہایہ اللغہ میں لکھے ہیں۔

لیکن آپ کو جو اشتباہ ہوا ہے یعنی عمدا یا سہوا یا تفاسیر و اخبار پر پوری اطلاع نہ ہونے اور اسلاف کی گفتگو سے متاثر ہونے کی وجہ سے بغیر دلیل و برہان کے فرما دیا کہ لفظ شیعہ اور اس کا اطلاق حضرت علی(ع) اور اہل بیت رسالت علیہم السلام کے پیرووں پر عثمان کے زمانے سے شروع ہوا اور اس کے موجد عبدا ﷲ ابن سبا یہودی تھا حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ بلکہ آپ کی کتب تفاسیر میں مندرج معتبر روایتوں کے مطابق شیعہ اصطلاحی علی بن ابی طالب (ع) کے پیرو کے معنی حضرت خاتم الانبیاء کے زمانہ سے تھے اور پیروان علی(ع) کے لیے لفظ شیعہ کے موجد آپ کے ارشاد کے خلاف خود حضرت رسالت ماب(ص) کی ذات اقدس تھی۔ یہ کلمہ خود صاحب وحی کی زبان پر جاری ہوا۔ انہیں پیغمبر نے جن کے بارےمیں خدا نے سورہ 53 ( النجم) کی آیت نمبر3 میں فرمایا ۔

" وَ ما يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى إِلَّا وَحْيٌ يُوحى " (2)

حضرت علی علیہ السلام کے اتباع اور پیرووں کو نجات یافتہ اور جنتی فرمایا ہے۔

حافظ : ایسی چیز کس مقام پر ہے جس کو ہم لوگوں نے اب تک نہیں دیکھا ہے؟

خیر طلب : آپ لوگوں نے دیکھا نہیں ہے یا دیکھنا نہیں چاہا ہے ۔ یا دیکھا ہے اور حقیقت کا اعتراف اپنی مصلحت وقت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ یا پھر اپنے مقلدین اور مریدوں کا لحاظ کر رہے ہیں۔ لیکن میں نے دیکھا ہے اور حق کو چھپانا اپنی دین و دنیا کی مصلحت کے خالف جناتا ہوں کیونکہ خدائے تعالی نے قرآن مجید کی دو آیتوں میں

صریحی طور پر حق کے چھپانے والوں کو ملعون اور جہنمی فرمایا ہے۔ اول سورہ 2 ( بقرہ) کی آیت نمبر154 میں فرمایا ہے۔

--------------

1 ـ پھرشیعہ لفظ کے غالب معنی یہ ہوگئے کہ وہ شخص جو علی(ع) اور ان کے اہل بیت(ع) کو دوست رکھے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں کا نام ہی شیعہ ہوگیا۔

2 ـ پیغمبر(ص) ہرگز اپنی خواہش نفس سے کوئی بات نہیں کہتے ان کا کلام سوا وحی خدا کے اور کچھ نہیں ہوتا۔


"إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ ما أَنْزَلْنا مِنَ الْبَيِّناتِ وَ الْهُدى مِنْ بَعْدِ ما بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتابِ أُولئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ " (1)

اور دوسرے اسی سورے کی آیت نمبر166 میں فرماتا ہے۔

"إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ ما أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتابِ وَ يَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَناً قَلِيلًا أُولئِكَ ما يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَ لا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ وَ لا يُزَكِّيهِمْ وَ لَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ " (2)

حافظ : آیات شریفہ حق ہیں اور یقینا اگر کوئی شخص ان آیات کو چھپائے تو ان آیات کےتحت آجائے گا

لیکن ہم نے اب تک کسی ایسے حق کو نہیں پہچانا ہے جس کو چھپارہے ہوں ۔ البتہ کسی بھی حق کو پہچان لینے کے بعد اگر پوشیدہ کریں تو ہم بھی انہیں آیات کے حکم میں ہوں گے ۔ اور ہماری تمنا ہے کہ کسی وقت بھی ان آیات کے ذیل میں نہ آئیں۔

خیر طلب : اب خداوند علام کے لطف و عنایت اور حضرت خاتم الانبیاء کے خاص توجہات سے جہاں تک مجھ ممکن ہے اس حق کو بے نقاب کرتا ہوں ، جو اظہر من الشمس ہے اور برادران عزیز پر ( حاضرین جلسہ اہل تسنن کی طرف اشارہ) ظاہر کرتا ہوں کہ غالبا دونوں مذکورہ آیتیں برابر ہماری نگاہوں کے سامنے رہیں گی تاکہ خدا نکردہ ایسا نہ ہو کہ عادت اور تعصب غالب آجائے اور کسی امر حق رپ پردہ ڈال دیا جائے۔

حافظ : میں خدا کو گواہ کرتا ہوں کہ جس وقت کوئی حق بات مجھ پر ظاہر ہوجاتی ہے تو میں بے جا حجت نہیں کرتا چونکہ آپ کو میرے ساتھ رہنے ک اتفاق نہیں ہوا اور میرے اخلاق سے واقف نہیں کہ میں کیسا عزم رکھتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ خواہش نفس پر غالب آؤں جب آپ دیکھیے کہ میں کسی بیان کے مقابلے میں خاموش ہوگیا تو سمجھ لیجیئے کہ میں اس موضوع میں پوری طرح سے مطمئن ہوگیا ہوں اگر میرے پاس بے جا حجت ، مغالطہ دیتے اور مطالب میں غالب رہنے کا کوئی حیلہ ہو بھی جب بھی میں مجادلہ نہیں کرتا ہوں ۔ اور اگر ایسا کروں تو قطعا ان دونوں آیتوں کی زد میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 ـ جو لوگ ان واضح آیتوں کو جو ہم نے ہدایت خلق کے لیے نازل کی ہیں چھپاتے ہیں اور بعد میں اس کے کہ ہم نے ان لوگوں کی ہدایت کے لیے کتاب میں جو کچھ بیان کیا ہے ۔ پوشیدہ کرتے ہیں خدا اور( تمام جن و انس اور ملائکہ ) ان پر لعنت کرتے ہیں۔

2 ـ جو لوگ ان آیات کو چھپاتے ہیں ۔ اور ان پر پردہ ڈالتے ہیں جن کو ہم نے آسمانی کتاب سے نازل کیا ہے اور ان کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں تو سوا آتش جہنم کے ان کی کوئی غذا نہیں اور روز قیامت غیظ و غضب کی وجہ سے خدا ان سے بات نہیں کرے گا ۔ ان کو نجاست معصیت سے پاک نہیں کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔


آجاؤں گا ۔ اب میں آپ کے بیانات حقہ سننے کے لیے حاضر ہوں اور امید کرتا ہوں کہ خدا ہم کو اور آپ کو حق کی طرف راہنمائی کرے گا۔

خیر طلب : حافظ ابونعیم اصفہانی احمد بن عبداﷲ جو آپ کے اجلہ علمائے عظام محدثین فخام اور محققین کرام میں سے ہیں۔ اور ابن خلکان نے وفیات الاعیان میں ان کی تعریف کی ہے کہ اکابر حفاظ ثقات میں سے ہیں اور اعلم محدثین ہیں اور ان کی کتاب “ حلیة الاولیا” کی دس جلدیں بہترین کتابوں میں سے ہیں۔

اور صلاح الدین خلیل بن بیک الصفدی دانی بالوفیات میں ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ تاج المحدثین حافظ ابو نعیم علم و زہد اور دیانت میں امام تھے روایات کے نقل وفہم اور حفظ در روایات میں بلند و بالا منزلت کے مالک تھے اور ان کی بہترین تصنیفات میں سے حلیة الاولیاء کی دس جلدیں ہیں۔ جو صحیحین سے مستخرج ہیں اور احادیث بخاری و مسلم کے علاوہ بہت سی ایسی حدیثیں نقل کی ہیں کہ گویا ان کو اپنے کانوں سے سنا ہے۔

اور محمد بن عبداﷲ الخطیب رجال مشکوة المصابیح میں ان کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ

" هو من مشائخ الحديث الثقاة المعمول بحديث ه م المرجوع الی قوم ه م کبير القدر ول ه من العمر ست و تسعون سن ه "

خلاصہ یہ کہ ایک ایسے چھیانوے سال کے عالم حافظ اور محدث جو آپ کے علماء کے نزدیک محلِ وثوق اور مایہ ناز ہیں اپنی معتبر کتاب “ حلیة الاولیا” میں اپنے اسناد کے ساتھ خیر امت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ۔

مقام تشیع کی تشریح میں آیات و روایات

جب سورہ 98 ( البینہ کی آیت نمبر6)

"إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ أُولئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ جَزاؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ خالِدِينَ فِيها أَبَداً رَضِيَ اللَّه عَنْهُمْ وَ رَضُوا عَنْهُ "

یعنی جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیکو کار ہیں وہ یقینا بہترین اہل عالم ہیں ان کی جزا خدا کے نزدیک بہشت عدن کے باغ ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ لوگ اس بہشت میں ہمیشہ نعمات سے بہرہ اندوز ہوں گے۔ خدا ان سے راضی ہے ۔ اور وہ خدا سے خوش ہیں) نازل ہوئی تو رسول اﷲ(ص) نے علی ابن ابی طالب (ع) سے خطاب کیا اور فرمایا کہ۔


"يَا عَلِيُّ انت و شيعتك تاتي انت و شيعتك يوم القيامة راضيين مرضيين "

یعنی یا علی(ع) آیت مبارکہ میں خیر البریہ سے تم اور تمہارے شیعہ مراد ہیں روز قیامت تم اور تمہارے شیعہ اس حالت میں آئیں گے کہ خدا تم سے راضی ہوگا اور تم بھی خدا سے راضی و خوشنود ہوگے۔

ابوالموئد موفق بن احمد خوارزمی نے مناقب کی سترھویں فصل میں حاکم ابوالقاسم عبیداﷲ الحسکانی نے جو آپ کے مفسرین بزرگ کے فحول احلام میں سے ہیں کتاب شواہر التنزیل فی قواعد التفصیل میں محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت المطالب کے ص116 میں، سبط ابن جوزی نے تذکرہ خواص الامہ فی معرفتہ الائمہ کے صفحہ 31 میں ( بہ حذف آیت) اور منذر بن محمد منذر نے اور مخصوص طور پر حاکم نے روایت کی ہے کہ حاکم ابو عبداﷲ حافظ نے ( جو آپ کے اکابر علماء میں سے ہیں ) ہم کو کبر دی ایسے اسناد کیساتھ جو مرفوع ہیں یزید بن شراعیل اںصادی کاتب حضرا امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہ کی طرف کہ انہوں نے کہا کہ میں نے ان حضرت سے سنا کہ آپ نے فرمایا حضرت خاتم الانبیاء کی رحلت کے وقت آں حضرت کی پشت مبارک میرے سینے پر تھی۔ اس وقت فرمایا:

"يا علي ، ألم تسمع قول الله تعالى: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ أُولئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ؟ هم شيعتك، و موعدي و موعدكم الحوض إذا اجتمع الأمم للحساب تدعون غرا محجلين."

یعنی یا علی(ع) کیا تم نے یہ آیت شریفہ نہٰں سنی ہے؟ ( صاحبان ایمان واعمال صالحہ اور خیر البریہ) وہ تمہارے شیعہ ہیں اور میری اور تمہاری وعدہ گاہ حوض کوثر ے کنارے ہوگی جس وقت کل مخلوق حساب کے لیے جمع ہوگی تو تم غر محجلین کہہ کے پکارے جاؤ گے یعنی روشن اور سفید چہرے والو۔

جلال الدین سیوطی جو آپ کے مایہ ناز علماء میں سے ہیں اور نویں صدی ہجری میں ان کو طریقہ سنت و جماعت کا مجدد مانا گیا ہے ( جیسا کہ صاحب فتح المقال نے لکھا ہے) اپنی تفسیر در المثور فی کتاب اﷲ بالماثور، کے محل وثوق ہیں ۔ ( جیسا کہ ابن خلکان نے وفیات الاعیان میں ذہبی نے تذکرہ الحفاظ میں خوارزمی نے رجال مسند ابی حنیفہ اور طبقات شافعیہ میں حافظ ابوسعید نے اپنی تاریخ میں ان کی تعریف وتوثیق ی ہے۔ کہ ابن عساکہ فخر شافعیہ او اپنے زمانہ مٰں امام اہل حدیث تھے ۔ کثری العلم عزیز الفضل ثقہ صاحب تقوی اور سنہ550 ھ میں علماء اہل سنت وجماعت کے درمیان مشہور تھے) بروایت جابر بن عبداﷲ اںصاری جو حضرت رسول خدا کے کبار صحابہ میں سے تھے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ۔ میں خدمت رسول اکرم میں حاضر تھا کہ اتنے میں علی بن ابی طالب وارد ہوئے پیغمب نے فرمایا ۔

"و الذي نفسي بيده، إن هذا و شيعته هم الفائزون يوم القيامة فنزلت إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ أُولئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ. "


یعنی قسم اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے یہ مرد ( اشارہ علی (ع) کی طرف) اور اس کے شیعہ قیامت کے روز نجات یافتہ ہیں اس وقت آیت مذکورہ نازل ہوئی۔

اور اسی تفسیر میں ابن عدی سے بروایت ابن عباس ( خیر امت) نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا میں خدمت رسول (ص) میں تھا کہ آیت مذکورہ نازل ہوئی ، رسول اﷲ (ص) نے امیرالمومنین علیہ السلام سے فرمایا ۔

"تاتي انت و شيعتك يوم القيامة راضيين مرضيين "

یعنی تم اور تمہارے شیعہ قیامت کے روز اس صورت سے آئیں گے کہ خدا سے راضی ہوں گے اور خدا تم لوگوں سے راضی ہوگا۔

مناقب خوارزمی فصل نہم میں بسند جابر بن عبداﷲ اںصاری نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا میں رسول اﷲ کی خدمت میں تھا۔ علی علیہ السلام ہم لوگوں کے پاس آئے تو آں حضرت (ص) نے فرمایا ۔ قد اتاکم اخی یعنی تمہاری طرف آیا ہے میرا بھائی و علی(ع)) اس کے بعد کعبہ کی طرف رخ کیا اور علی (ع) کا ہاتھ پکڑ کے فرمایا ۔

"و الذي نفسي بيده، إن هذا و شيعته هم الفائزون يوم القيامة"

یعنی قسم اس خدا کی جس کے قبضے میں میری جان ہے یہ علی(ع) اور اس کے شیعہ قیامت کے روز نجات یافتہ ہیں۔

پھر فرمایا کہ یہ علی (ع) تم سب سے پہلے ایمان لائے عہد خدا میں تم سب سے زیادہ با وفا ہیں رعایا کے درمیان تم سب سے زیادہ اںصاف کرنے والے اور تم سب سے زیادہ عادلانہ تقسیم کرنے والے ہیں اور پروردگار کے نزدیک تم سب سے زیادہ ان کا مرتبہ بلند ہے اسی وقت مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ اس کے بعد علی (ع) کسی مجمع کے اندر آتے تھے تو اصحاب پیغمبر(ص) کہتے تھے جاء خير البري ه یعنی تمام لوگوں سے بہتر انسان آگیا۔

نیز ابن حجر نے صواعق میں اور ابن اثیر نے نہایہ جلد3 میں اس آیہ شریفہ کی شان نزول میں یہی روایت نقل کی ہے۔

جب اس کے علاوہ ابن حجر نے صواعق کے باب 11 میں حافظ جمال الدین محمد بن یوسف زرندی مدنی سے جو آپ کے فحول فقہاء علماء میں سے ہیں نقل کیا ہے کہ جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو رسول اکرم(ص) نے علی(ع) سے فرمایا :

" ي ا عَلِي أَنْتَ وَ شِيعَتُكَ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ ، تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْتَ وَ شِيعَتُكَ رَاضِينَ مَرْضِيِّينَ وَ يَأْتِي عَدُوُّكَ غُضَّاباً مُقْمَحِينَ .فقال من عدوی قال من تبرئ منک ولعنک"

یعنی یا علی (ع) تم اور تمہارے شیعہ کل مخلوقات سے بہتر ہیں تم اور تمہارے شیعہ قیامت کے روز اس حالت سے آئیں گے کہ خدا بھی تم سب سے راضی ہوگا۔ تمہارے دشمن غصے میں بھرے ہوئے آئیں گے اور ان کے ہاتھ گردنوں سے بندھے ہوں گے پھر امیرالمومنین (ع) نے عرض کیا کہ میرا دشمن کون ہے؟ فرمایا جو شخص تم سے بیزاری اختیار کرے اور تمہارے اوپر لعن کرے۔


علامہ سمہودی جواہر العقدین میں حافظ جمال الدین زرندی مدنی اور نورالدین علی بن محمد بن احمد مالکی مکی مشہور بہ ابن صباغ سے جو آپ کے اکابر علماء اور فحول فقہاء میں سے ہیں فصول المہمہ ص122 میں ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ آیت مذکورہ نازل ہوئی تو رسول اکرم(ص) نے علی(ع) سے فرمایا۔

" هو أَنْتَ وَ شِيعَتُكَ تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْتَ وَ هم رَاضِينَ مَرْضِيِّينَ وَ يَأْتِي اعدائكَ غُضَّاباً مُقْمَحِينَ . "

یعنی وہ ہترین مرد تم اور تمہارے شیعہ ہیں تم اور وہ لوگ روز قیامت اس طرح آئیں گے کہ خدا سے راضی ہوں گے اور خدا ان سے راضی ہوگا اور تمہارے دشمن اس صورت سے آئیں گے کہ غم غصہ سے بھرے ہوئے اور ان کے ہاتھ ان کی گردنوں سے بندھے ہوں گے۔

میر سید علی ہمدانی شافعی جو آپ کے متمد علماء میں سے ہیں کتاب مودة القربیٰ میں اور ابن حجر متعصب صواعق محرقہ میں رسول اﷲ کی زوجہ محترمہ ام المومنین ام سلمہ سے نقل کرتے ہیں کہ آں حضرت(ص) نے فرمایا۔

"ي ا علی انت و اصحابک فی الجنه انت و ش ي عتک فی الجنه"

یعنی یا علی(ع) تم اور تمہارے اصحاب اور تمہارے شیعہ جنت میں رہیں گے۔

خوارزم کے اخطب الخطباء موفق بن احمد مناقب کی انیسویں فصل میں مسند کے ہاتھ حضرت رسول خدا (ص) سے نقل کرتے ہیں کہ علی(ع) سے فرمایا

" مَثَلُكَ فِي أُمَّتِي مَثَلُ الْمَسِيحِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ "

یعنی تمہاری مثل امت میں حضرت مسیح عیسی بن مریم(ع) کے مثل ہے جن کی قوم کے تین فرقے ہوگئے ایک فرقہ مومنین کا جو حوارین تھے۔ ایک فرقہ ان کے دشمن کا جو یہود تھے اور ایک فرقہ غلات کا جنہوں نے ان جناب کے بارے میں غلو کیا ( یعنی ان کو خدا اور خدا کا شریک قرار دیا) اور میری امت بھی تمہارے بارے میں فرقہ پر منقسم ہوجائے گی۔ ( فرقة شيعتک و ه م المومنون ) یعنی ایک فرقہ تمہارے شیعوں کا ہے اور وہی مومنین ہیں۔ ایک فرقہ تمہارے دشمنوں کا ہے ۔ اور ناکثین اور تمہارے عہد اور بیعت کو توڑنے والے ہیں اور ایک فرقہ تمہارے بارے میں غلو کرنے والوں کا ہے۔ جو منکر حق اور گمراہ ہیں۔

" يَا عَلِيُّ وَ شِيعَتُكَ فِي الْجَنَّةِ وَ مُحِبُّو شِيعَتِكَ فِي الْجَنَّةِ وَ عدؤُكَ وَ الْغاَل فِيكَ فِي النَّارِ."

یعنی تم یا علی اور تمہارے شیعہ تمہارے شیعوں کے دوست بہشت میں ہوں گے۔ اور تمہارے دشمن اور تمہارے بارے میں غلو کرنے والے آتش جہنم میں جلیں گے۔

اس موقع پر نماز عشا کے لیے موذن کی آواز آئی اور سب حضرات نماز کے لے اٹھے نماز سے فراغت اور چائے نوشی کے بعد مولوی سید عبدالحی صاحب جو نماز جماعت کے لئے مسجد گئے تھے واپس ہوئے اور فرمایا کہ چونکہ میرا مکان قریب تھا لہذا چند کتابیں اپنے ساتھ لیتا آیا ہوں ۔ جو تفسیر سیوطی مودة القربی ، مسند امام احمد بن حنبل اور مناقب خوارزمی ہیں ( یہ کتابیں جلسوں کی آخری شب تک میرے پاس رہیں گی کتابیں کھول کر وہ حدیثیں اور ان کے علاوہ چند دوسری حدیثیں جو اسی مطلب کی تائید میں تھیں پڑھی گئیں۔ مولوی صاحبان کے چہروں کا رنگ متغیر ہو رہا تھا۔ اور میں خاص طور سے دیکھ رہا تھا کہ اپنے پیروؤں کے سامنے شرمندہ ہو رہے ہیں) جس وقت مودة القربی


میں حدیث بالا کو پڑھا تو اس کے علاوہ ایک دوسری حدیث بھی نظر آئی۔ انہوں نے پڑھا کہ ام المومنین رسول اکرم(ص) سے روایت کرتی ہیں کہ آں حضرت(ص) نے فرمایا :

"يا علي ستقدم على اللَّه أنت و شيعتك راضين مرضيين، و يقدم عل ي ه عدوك غضاباً مقمحين. "

یعن ی یا علی( ع) عنقریب تم اور تمہارے شیعہ اس صورت سے خدا کے سامنے آئیں گے کہ خدا سے راضی ہوں گے۔ اور ان سے راضی ہوگا اور تمہارے دشمن خدا پر غصے میں بھرے ہوئے وارد ہوں گے اس حالت سے کہ ان کے ہاتھ ان کی گردنوں پر بندھے ہوں گے۔

خیر طلب : یہ تھا ایک مختصر نمونہ ان محکم دلائل میں سے جن کو کتاب خدا اور معتبر اخبار و روایات کی تائید حاصل ہے جو آپ کے اکابر کی کتابوں میں موجود ہے علاوہ ان روایات کے جو علمائے شیعہ کی تمام کتابون اور تفسیروں میں منقول ہیں۔ اگر میں چاہوں تو پروردگار کی تائید و توفیق سے صرف اپنی یاد داشت پر انہیں کتابوں کے ذریعہ سے جو آپ کے سامنے رکھی ہوئی ہیں، صبح تک برابر اس مقصد پر دلیلیں پیش کر سکتا ہوں، لیکن میرا خیال ہے کہ نمونے اور رفع اشتباہ کے لیے اسی قدر روایات کا نقل کرنا کافی ہوگا۔ تاکہ آپ حضرات اس کے بعد معاندیں کی بے سرو پا باتیں زبان پر نہ لائیں اور خارجیوں ، ناصبیوں اورا مویوں کے جگھڑے ہوئے جملوں سے بے خبر عوام کو یہ دھوکا نہ دیں کہ لفظ شیعہ کا موجد ملعون یہودی عبداﷲ ابن سبا تھا۔

حضرات محترم ! ہم شیعہ یہودی نہیں ہیں بلکہ محمدی ہیں اور پیروان علی (ع) کے لیے لفظ شیعہ کا موجد بھی ملعون عبداﷲ ابن سبا نہیں تھا ۔ بلکہ رسول اکرم(ص) کی ذات مبارک تھی نیز ہم لوگ عبداﷲ کو ایک منفاق اور ملعون شخص سمجھتے ہیں۔ اور کسی فرد یا جماعت کی تقلید بغیر دلیل و برہان کے نہیں کرتے جیسا آپ نے فرمایا ہے کہ زمانہ عثمان کے بعد سے پیروان علی(ع) پر لفظ شیعہ کا اطلاق کیا گیا ہے بلکہ خود پیغمبر(ص) کے زمانہ میں آں حضرت (ع) کے خاص خاص صحابہ کو شیعہ کہا جاتا تھا، جیسا کہ حافظ ابو حاتم رازی کتاب “ الزینتہ” میں جو انہوں نے صاحبان علوم کے درمیان مروجہ الفاظ کیتشریح مٰں لکھی ہے۔ لکھتے ہیں کہ پہلا نام جو زمانہ رسول خدا(ص) میں اسلام کے اندر وجود میں آیا وہ شیعہ تھا اور صحابہ میں سے چار افراد اس لقب کے حامل تھے۔ ابوذر غفاری، سلمان فارسی، مقداد ابن ابود کندی اور عمار یاسر۔ آپ حضرات غور فرمائیں کہ بھلا یہ کیونکر ممکن ہے ،کہ پیغمبر(ص) کے زمانہ میں خاص بلکہ خدا و رسول(ص) کے محبوب صحابہ میں چار افراد لقب شیعہ کے ساتھ یاد کیجئے جائیں اور پیغمبر(ص) سمجھتے ہوں کہ لفظ شیعہ بدعت ہے۔ پھر بھی لوگوں کو منع نہ فرمائیں چنانچہ معلوم ہوتا ہے۔ کہ ان لوگوں نے خود پیغمبر(ص) سے سنا تھا کہ علی(ع) کے شیعہ نجات یافتہ ہیں لہذا اس کو ذریعہ افتخار سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ ان حضرات کو کھلم کھلا شیعہ کہتے تھے۔


سلمان و ابوذر اور مقداد و عمار کی منزل

اس بیان سے قطع نظر آپ حضرات عمل اصحاب کے حجت سمجھتے یں اور آں حضرت(ص) سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ فرمایا :

"ان اصحابی کالنجوم باي ه م اقتديتم ا ه تديتم ۔" یعنی بہ تحقیق میرے اصحاب مثل ستاروں کے ہیں ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے ) تو کیا ابو الغداء نے اپنی تاریخ میں نہیں لکھا ہے کہ یہ چار نفر جو اصحاب پیغمبر یں سے تھے۔ سقیفہ بنی ساعدہ کے روز علی(ع) کی ہمراہی میں ابوبکر کی بیعت پر تیار نہیں ہوئے۔ پھر آپ حضرات کس وجہ سے ان کے عمل اور بیعت سے انحراف کو حجت نہیں سمجھتے ہیں؟ باوجودیکہ خود آپکے علماء نے لکھا ہے کہ یہ حضرات خدا اور رسول(ص) کے محبوب تھے۔ چنانچہ ہم لوگ بھی انہیں کی پیروی کرتے ہیں، کیونکہ وہ حضرت علی (ع) کے پیرو تھے، لہذا خود آپ ہی کی منقولہ حدیث کے ماتحت ہم ہدایت کے راستے پر ہیں۔

آپ حضرات کی اجازت سے وقت کا لحاظ کرتے ہوئے آپ کے لیے چند روایتیں نقل کرتا ہوں حافظ ابو نعیم اصفہانی کے علیة الاولیاء جلد اول ص172 میں اور حجر مکی نے ان چالیس حدیثوں میں سے جو انہوں نے صواعق محرقہ کے اندر حضرت علی(ع) کے فضائل میں لکھی ہیں۔ پانچویں حدیث میں ترمذی اور حاکم نے بریدہ سے نقل کیا ہے۔ کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا :

"ان اﷲ امرنی بحب اربعة و اخبرنی ان ه يحب ه م ۔" یعنی خدا نے مجھ کو چار شخصوں کی دوستی کا حکم دیا ہے اور مجھ کو خبر دی ہے کہ وہ بھی ان کو دوست رکھتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اﷲ(ص) وہ چار نفر کون ہیں؟ تو فرمایا ۔ علی ابن ابی طالب(ع)، و ابوذر و مقداد و سلمان۔

ابن حجر نے حدیث ںمبر 39 میں ترمذی سے اور حاکم نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے کہ آں حضرت (ص) نے فرمایا :

"إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ عَلِيٍّ وَ عَمَّارٍ وَ سَلْمَانَ ."

یعنی بہشت تین شخصوں کی مشتاق ہے اور وہ تین علی(ع) و عمار اور سلمان ہیں۔

تو کیا رسول اﷲ(ص) کے ان اصحاب خاص کا طیرقہ اور طرز عمل جو محبوب خدا اور رسول(ص) اور جتنی ہیں سند نہن ہے او حالی قابل اعتماد نہیں ہے تاکہ مسلمانوں کے لیے قابل قبول اور لائق تقلید بن سکے ! ایک شرمناک بات نہیں ہے کہ آپ کی نظر میں اصحاب پس وہی لوگ ہیں جنہوں نے سقیفہ کے کھیل سے موافقت کی اور بقیہ رسول اﷲ(ص) کے پاک صحابہ جنہوں نے اہل سقیفہ کے مقصد سے مخالفت کی وجہ سے اعتبار سے ساقط اور بے اثر بن جائیں ؟ ایسی صورت میں تو بہتر یہ تھا کہ جو حدیث آپ حضرات نے نقل کی ہے اس کو عمومیت کیساتھ نہ کہتے بلکہ یہ کہتے کہ


ان بعض اصحابی کالنجوم ۔ تاکہ اس مصیبت میں گرفتار نہ ہوتے اور ہم لوگوں کو بھی دائرہ ہدایت سے خارج نہ کہتے۔

خلفاء دیالمہ اور غازاں خان اور شاہ خدا بندہ کے زمانہ میں

ایرانیوں کی توجہ اور تشیع کا سبب

لیکن آپ نے جو یہ فرمایا کہ شیعہ مذہب ایک سیاسی مذہب ہے اور مجوس ایرانیوں نے عربوں کی سلطنت اور اقتدار سے جان بچانے کے لیے اسی کو سیاست کے نظریہ سے قبول کیا ہے تو آپ نے بڑا ظلم کیا کہ بغیر توجہ اور غور و فکر کے اسلاف کی پیروی میں ایسا فرما دیا اس لیے کہ میں اس سے قبل ثابت کرچکا ہوں کہ شیعہ ایک اسلامی مذہب ہے اور ایک ایسا طریقہ ہے جس کو خاتم الانبیاء نے خدا کے حکم سے امت کے سامنے رکھا۔ ہم لوگ آں حضرت (ص) ہی کے حکم سے امیرالمومنین حضرت علی (ع) اور ان کی اولاد طاہرین علیہم السلام کی پیروی کرتے ہیں اور حق کی امید میں ان ہدایات کے مطابق جو ان حضرات نے ہم کو دیئے ہیں، ہم ان پر عمل کرتے ہیں اور اپنے کو نجات کا مستحق سمجھتے ہیں بلکہ جن لوگوں نے بغیر رسول اﷲ(ص) کسی چھوٹی ہدایت کے سقیفے کی بنیاد قائم کی وہ البتہ سیاسی تھے نہ کہ پیغمبر(ص) کے ارشاد سے عترت طاہرہ کی پیروی کرنے والے کیونکہ عترت و اہل بیت رسالت کی پیروی کے لیے تو آں حضرت (ص) سے ہدایت مل چکی ہے اور آپ کی معتبر کتابوں میں کثرت سے اس کا ذکر موجود ہے لیکن سقیفہ اور اہل سقیفہ کی پیروی میں خلیفہ سازی کے عنوان سے کبھی کوئی فرمان صادر نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ منزل ولایت امیرالمومنین و اہل بیت طاہرین علیہم السلام کی طرف ایرانیوں کی توجہ کے بارے میں حضرات اہل تسنن نے عناد و تعصب کے تحت یا عادت کی مطابق خلفاء عن سلف بغیر غور تحقیق کے فیصلہ کیا ہے اور اسی طرح دوسرے مصنفین کو جو اہل تسنن کیساتھ رہنے سہنے اور ان کی کتابوں کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے دھوکے میں مبتلا ہوگئے ہیں، تنہا پیش قاضی روی راضی آئی، کہ مشہور مثل کے موافق یہ خیال پیدا ہوگیا کہ ایرانیوں نے از روئے سیاست مذہب حق تشیع اختیار کیا ہے۔

در حقیقت یا تو چاہا نہیں ہے یا ممکن نہیں ہوسکا کہ غور کریں اور عادت و تعصب سے الگ ہوکر امیر المومنین (ع) اور ان کے اہل بیت (ع) کی طرف ایرانیوں کی توجہ اور ان کے ساتھ وابستگی کی اصل وجہ دریافت کریں ورنہ اگر تھوڑے سے دقت اور غور و تامل سے کام لیتے تو حقیقت تک رسائی ہوجاتی اور سمجھ لیتے کہ کوئی بھی فرد یا قوم اگر کوئی عمل سیاست کے نظریہ سے انجام دیتی ہے تو وہ وقتی ہوتا ہے۔ اور نتیجہ بر آمد ہوجانے اور مطلب و مقصد حاصل کر لینے کے بعد


جس راستے سے آئی تھی اسی راہ پر پلٹ جاتی ہے ۔ نہ یہ کہ ہزاروں سال اس عقیدہ حقہ پر قائم رہیں ، اس راہ میں جان بازیاں دکھائیں یہاں تک کہ لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کے بعد اپنے خون سے کلمہ علی ولی اﷲ کی حفاظت کریں اور اس پر فخر کریں۔

اب میں تاریخ کو روشن کرنے کے لیے آپ حضرات کی اجازت سے اور وقت کا لحاظ کرتے ہوئے مختصر اشارے کے ساتھ دوسرے رہنمایاں اقوام کے درمیان ان حضرت اور ان کے اہل بیت طاہرین(ع) کیساتھ ایرانیوں کی وابستگی کا حقیقی سبب عرض کرتا ہوں تاکہ آپ یہ سمجھ لیں کہ ان لوگوں نے سیاست کے نقطہ نظر سے تشیع کا اظہار نہیں کیا بلکہ حقیقت و برہان اور قلبی لگاؤ کی جہت سے تشیع کا حق مذہب اختیار کیا۔

اولا ایرانیوں کو عقل و زکاوت کا یہ تقاضا ہے کہ اگر جہالت اور عادت و تعصب مانع نہ ہوتو حق اور حقیقت کو جلد سمجھ لیتے ہیں اور دل و جان سے قبول کر لیتے ہیں چنانچہ ہیں جب عرب مسلمانوں نے ایرانیوں کو فتح کیا تو باوجودیکہ ان لوگوں کو کامل آزادی دے رکھی تھی اور مقدس دین اسلام کو قبول کرنے کے لیے کوئی جبر و تشدد نہیں کرتے تھے پھر بھی مسلمانوں کیساتھ معاشرت اور وقت نظر کیساتھ تحقیق کرنے کے نتیجہ میں جیسے ہی حقیقت اسلام کا سراغ لگا لیا فورا کئی ہزار سال کے دین مجوسیت اور آتش پرستی کو باطل قرار دے دیا اور اور انتہائی شوق و رجحان اور قلبی تعلق کے ساتھ ( خداؤں اہرمن ویزداں) کے عقیدے سے منہ موڑ کے دین وحدانیت کو اختیار کر لیا اور اسی طرح جس وقت مذہب شیعہ یعنی حضرت علی علیہ السلام کی پیروی کے برحق ہونے پر ٹھوس دلیلیں نظر آئیں تو عقل و دانش کے حکم سے اس کے اتباع اور پیروی کو فرض سمجھا۔

نیز آپ کے بہت سے کم فہم مصنفین کے قول کے بر خلاف مقام ولایت پر ایرانیوں کی توجہ اور امیرالمومنین علیہ السلام سے ان کا ربط خلافت ہارون و مامون کے زمانے میں پیدا نہیں ہوا بلکہ خود رسول اﷲ(ص) کے عہد سے تخل مودت نے ایرانیوں کے دل میں اپنی جڑیں پھیلائیں۔

کیونکہ جب کوئی ایرانی مدینے آتا تھا۔ اور مسلمان ہوتا تھا تو مخصوص ایرانی ذکاوت اور ہوشمندی کی بنا پر حضرت علی(ع) میں حق اور حقیقت کا مطالبہ کرتا تھا ۔ لہذا رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ و سلم کے حکم اور راہنمائی سے ولایت علی(ع) کی حبل متین اور ریسمان محکم سے متمسک ہو جاتا تھا ، اس سلسلے کی پیلی کڑی سلمان فارسی تھے جو ایمان کے سارے درجات اور مراتب پر فائز ہوئے یہاں تک کہ خاتم الانبیاء نے جیسا کہ فریقین کے علماء نے لکھا ہے ان کے بارے میں فرمایا سلمان منا اہلبیت ۔ یعنی سلمان ہم اہل بیت سے ہیں ۔ اور وہ اسی زمانے سے سلمان محمدی مشہور ہوئے یہ سلمان خالص شیعوں میں سے ولایت امیرالمومنین (ع) سے متمسک اور سقیفہ کے شدید مخالفین میں سے تھے جن کی پیروی آپ کی کتابوں میں منقول حدیث کے حکم سے شاہراہ ہدایت ہے۔ اس لیے کہ حضرت علی(ع) کے بارے میں انہوں


نے قرآن مجید کی آیات اور رسول اﷲ(ص) کے بیانات سنے تھے اور عین الیقین کے ساتھ سمجھ لیا تھا کہ علی(ع) کی اطاعت خدا اور رسول (ص) کی اطاعت ہے کیونکہ رسول برحق(ص) کو بار بار یہ فرماتے ہوئے سنتے تھے کہ

" من اطاع علیا فقد أطاعني و من أطاعنى فقد اطاع اللّه. و من خالف عليا فقد خالفني و من خالفني فقد خالف اللّه"

یعنی جس نے علی(ع) کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس شخص نے علی(ع) کی مخالفت کی اس نے میری مخالفت کی اور جس نے میری مخالفت کی اس نے خدا کی مخالفت کی اس کے علاوہ جو ایرانی بھی مدینے پہنچا اور مسلمان ہوا خواہ پیغمبر(ص) کے زمانے میں ہو یا بعد کے عہدوں میں وہ ان حضرت کے سلسلے اور اطاعت میں داخل ہو جاتا تھا اس وجہ سے خلیفہ ثانی کو سخت تعصب پیدا ہوا اور ان لوگوں پر پابندیاں لگانے کا تہیہ کر لیا۔ چنانچہ انہیں پابندیوں اور سختیوں نے ان کے دلوں میں کینہ اور عداوت پیدا کر دی اور وہ لوگ بہت متاثر ہوئے کہ رسول اﷲ(ص) کی سیرت اور ہدایات کیخلاف خلیفہ نے ہم کو کس لیے راندہ درگاہ اور حقوق اسلام سے محروم بنا دیا ہے ان باتوں کے علاوہ جس چیز نے سب سے زیادہ ایرانیوں کو حضرت علی(ع) کی بلند منزلت اور ان کی عترت طاہرہ کی طرف متوجہ کیا کہ انہوں نے آں حضرت (ص) کے بارے میں پوری تحقیقات کی اور آپ کی محبت ان کے دلوں میں جاگزیں ہوگئی وہ مقید ایرانی شاہزادوں کے لیے امیرالمومنین علیہ السلام کی مکمل طرفداری تھی کیونکہ جس وقت مدائن ( میسفون) کے قیدی مدینے لائے گئے تو خلیفہ ثانی نے حکم دیا کہ ساری مقید عورتوں کو مسلمانوں کی کنیزی میں دیدیا جائے امیرالمومنین علیہ السلام نے منع کیا اور فرمایا کہ بادشاہوں کی اولاد مستثنی اور لائق احترام ہے۔ یزد جرد شہنشاہ ایران کی دو لڑکیاں بھی اسیروں میں ہیں، ان کو کنیزی میں نہیں دیا جاسکتا ۔ خلیفہ نے کہا پھر کیا کرنا چاہئے۔ حضرت نے فرمایا کہ ان کو حکم دیجئے کہ اٹھیں اور مسلمانوں میں سے جس شخص کو چاہیں آزادی کے ساتھ اپنی شوہری کے لیے منتخب کر لیں چنانچہ آں حضرت کے ارشاد کی مطابق ان دونوں لڑکیوں نے اٹھ کر اصحاب کے درمیان ایک نظر ڈالی، شاہ زنان نے محمد ابن ابی بکر کو ( جو حضرت کے پروردہ اور ربیب تھے) اور شہر بانو نے سبط رسول(ص) حضرت رسول(ص) حضرت امام حسین(ع) کو انتخاب کیا اور عقد شرعی کے ساتھ ان کے گھروں میں گئیں۔ شاہ زنان سے خدا نے محمد کو ایک فرزند عطا فرمایا جن کا نام قاسم فقیہ تھا اور یہ امام ششم حضرت صادق آل محمد علیہ السلام کی مادر گرامی ام فروہ کے پدر بزرگوار ہیں۔ اور شہر بانوں سے ( امام چہارم حضرت زین العابدین علیہ السلام متولد ہوئے۔ جس وقت یہ خبر اور ایرانی شاہزادیوں کے لیے حضرت کی طرفداری کی اطاعت ایران والوں کو پہنچی تو ان کو آپ کی وفات مبارک سے ایک خاص ربط پیدا ہوگیا اور یہی معاملہ اور حضرت کے ساتھ تعلق خاطر اس کا سبب بناکہ وہ آپ کے بارے میں گہری جانچ پڑتال کریں۔ خصوصیت کےساتھ مسلمانوں کے ہاتھوں ایران کے فتح ہونے کے بعد جب ان سے قریب ہوئے تو دلائل حقہ ےساتھ ان حضرت کی ولایت و امانت اور خلافت بلا فصل پر ایمان لائے اور پوری قبلی توجہ حاصل کی اور جیسے ہی مانع برطرف ہوا اور موقع ہاتھ آیا اپنے عقائد اور قلبی تعلق کا اعلان


اور اپنے مذہب کا اظہار کر دیا۔

لہذا جیسا آپ نے فرمایا ہے اس عقیدے کا ظہور اور مذہب کی آزادی ہارون و مامون کے زمانہ خلافت یا سلطنت صفویہ کے دور سے کوئی ربط نہیں رکھتی بلکہ سلطنت صفویہ کے ظاہر ہونے سے سات سو سال قبل ( یعنی چودھویں صدی ہجری میں) تشیع کا مذہب حق ایران میں جلوہ گر ہوا۔ جب زمام اختیار آل بویہ کے ہاتھوں میں آئی تو اس حقیقت کا چہرہ بے نقاب ہوگیا اور ایرانیوں نے پوری طرح سے آزاد ہوکر علی الاعلان اپنی نسبت کا اظہار کیا اور دلی عقائد کو نمایاں کر دیا۔

مغلوں کے دور میں تشیع کا ظہور

یہاں تک کہ سنہ694 ھ میں جب ایران جکی سلطنت فازاں خان مغل کے ( جس کا اسلامی نام محمود تھا) ہاتھوں میں پہنچی تو اس نے اہل بیت علیہم السلام کے طرف خاص توجہ کی اور تشیع کا مذہب حق اور زیادہ نمایاں ہوگیا۔ اس کی وفات کے بعد سنہ 707 ھ میں جب سلطنت فاذاں خان کے بھائی محمد شاہ خدا بندہ کو ملی تو جیسا کہ حافظ و عالم اور مورخ شافعی ہمدانی نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے۔

قاضی القضاة کے ساتھ علامہ حلی کا مناظرہ

ان مباحثوں اور مناظرون کے نتیجہ میں جو دربار شاہی میں باد شاہ کے سانے ممتاز زمانہ اور اس دور کے مایہ ناز شیعہ عالم جمال الملة والدین علامہ کبیر حسن بن یوسف بن علی مطہر علی اور اس زمانہ کے علماء اہل سنت میں افضل و اعلم خواجہ نظام الدین عبدالملک مراغی القضاة شافعی کے درمیان واقع ہوئے اور اس سلسلے میں امامت کا مبحث موضوع گفتگو قرار پایا ۔ جس میں جناب علامہ نے محکم اور قاطع دلائل و براہین اور ایسی وضاحت کے ساتھ امیرالمومنین علیہ السلام کی امامت و خلافت بلافصل کو ثابت اور دوسروں کے دعوے کو رد فرمایا کہ حاضرین دربار سے کسی کو شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی یہاں تک کہ خواجہ نظام الدین نے کہا کہ جناب علامہ کی دلیلیں بہت روشن اور قوی ہیں لیکن چونکہ ہمارے اسلاف ایک راستے پر گامزن رہے ہیں۔ لہذا ہم کو بھی چاہیئے کہ عوام کو خاموش کرنے اور کلمہ اسلام میں تفرقہ اندازی سے بچنے کے لیے اسی راہ پر چلتے رہیں اور پردہ فاش نہ کریں چونکہ اس موقع پر بادشاہ کے دل میں تعصب نہیں تھا اور گوش تحقیق سے دونوں طرف کی دلیلیں سن رہا تھا۔ لہذا مباحثات


کے خاتمے پر مذہب شیعہ کی حقیقت اس پر ظاہر اور روشن ہوگئی اور اس نے مذہب حقہ امامیہ اختیار کر لیا۔ اور تمام بلاد ایران میں شیعہ مذہب کی آزادی کا اعلان نافذ کردیا ۔ اور اسی وقت سے سارے حکام اور ولایتوں کے گورنروں کو اطلاع دے دی کہ ساری مسجدوں اور مجمعوں میں امیرالمومنین علیہ السلام اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے نام کا خطبہ پڑھیں اور حکم دیا کہ دیناروں پر تین متوازی سطروں میں کلمہ طیبہ" لا اله الا اﷲ محمد رسول اﷲ علی ولی اﷲ" کو سکہ نقش کیا جائے۔

جناب علامہ حلی کو جنہیں ایک اختلافی مسئلہ حل کرنے کے لیے جلہ سے بلوایا تھا ( اور اسی کی بنا پر اس جلسے میں مناظرہ کا دروازہ کھل گیا ۔ اور تشیع کی حقیقت ظاہر ہوئی) اپنے پاس ٹھہرا لیا آپ کے لیے مدرسہ سیارہ تعمیر کرایا اور طالبان علوم آپ کے گرد جمع ہوگئے چونکہ آپ بلا تقیہ اور کھلم کھلا حقائق کو بیان فرماتے تھے لہذا بے خبر لوگوں نے بھی طریقہ حقہ امامیہ کا پتہ لگا لیا، ولایت کا آفتاب درخشان ابر خفا سے باہر آگیا اور اسی زمانے سے مذہب حقہ، شیعہ کی روشنی جہالت و نادانی کا پردہ چاک کر کے ظاہر اور نمایاں ہوئی۔

تقریبا سات سو سال کے بعد با اقتدار صفوی بادشاہوں کی حمایت اور اس زمانے کی مکمل تبلیغات کے اثر سے باطل تیرہ و تار بادل بالکل چھٹ گئے اور ولایت و امامت کا آفتاب عالمگیر ضیا پاشی کرنے لگا۔

چنانچہ ایرانی اگر چہ ایک روز مجوسی اور دو خداؤں ( یزادن و اہرمن) کے معتقد تھے لیکن جس وقت سے انہوں نے اہل اسلام کے عقلی دلائل و براہین کو سنا ان کو دل و جان سے قبول کیا اور اب تک پورے خلوص کے ساتھ اپنے اسلامی عقیدے پر ثابت قدم ہیں۔

اگر ایرانیوں میں چند افراد ایسے پیدا ہوجائیں جو مجوسی ہوں یا کسی طریقے کے پابند نہ ہوں یا غلات کے سلسلے میں شامل ہوکر حضرت علی(ع) کو ان کی منزل سے بلند کر کے الوہیت کے درجے پر پہنچا دیں اور ان کو بندوں کا خالق و رازق سمجھنے لگیں ۔، حلول و اتحاد اور وحدت وجود کے قائل ہوں تو اس کو پاک نفس ایرانیوں کی اصل جماعت اور اکثریت سے کوئی ربط نہیں ہے۔

اس طرح کے غیر مناسب اور بے عقل و خرد افراد ہر قوم و ملت میں پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن شریف و عقلمند ایرانی قوم کی اکثریت وحدانیت حق تعالی اور نبوت خاتم الانبیاء پر مضبوط عقیدے سے اور ایمان کی حامل ہے۔ اور رسول اﷲ(ص) کے حسب الحکم سب امیرالمومنین علیہ السلام اور ان حضرت کے گیارہ فرزندوں کے پیرو ہیں۔

حافظ : آپ کے ایسے حجازی ، مکی اور مدنی بزرگ سے تعجب ہے کہ چند روز کے لیے ایران میں قیام کر لیا تو ایرانیوں کی اس قدر طرفداری کررہے ہیں۔ اور ان کو علی کرم اﷲ وجہ ، کا پیرو سمجھتے ہیں باوجودیکہ علی (ع) خود خدائے تعالی کے مطیع و فرمانبردار بندے تھے لیکن ایرانی شیعہ سب کےسب آپ کو خدا سمجھتے ہیں اور


خدا سے جدا نہیں جانتے اور اپنے اشعار میں آپ کو بمنزلہ حق بلکہ عین حق قرار دیتے ہیں۔

چنانچہ ان کے دلوں اور مکتوبات میں ا س طرح کی کفریات واضح طور پر موجود ہیں کیا ۔ اس قسم کے اشعار ایرانی شیعہ عارفین سے وارد نہیں ہیں جنہیں علی کرم اﷲ وجہ کی زبان سے نقل کرتے ہیں ۔ ( حالانکہ علی(ع) قطعا اس قسم کے عقیدے سے بیزار ہیں۔)

من طلسم عیب و کنز لاستم چون بہ کنیز لارسی الاستم

یعنی از اﷲ ولا بالا ستم نقطہ ام بار بار گویا ستم

کثرت تاترات پندارت کند

مظہر کل عجائب کیست من مظہر سرِ غرائب کیست من

صاحب عون نواسب کیست من در حقیقت ذاب واجب کیست من

ایک دوسرے شخص نے کہا ہے۔

در مذہب عارفان آگاہ ( گمراہ) اﷲ علی، علی است اﷲ

خیر طلب : آپ سے تعجب ہے کہ بغیر تحقیق کے قوم ایرانی شیعوں کو غالی اور علی پرست سمجھتے ہیں اور اس قسم کی باتوں سے بے خبر سنی بھائیوں کے سامنے معاملے کو شبہ کر کے برادر کشی کا دروازہ کھولتے ہیں ، چنانچہ افغانستان ، ہندوستان، ازبکستان اور تاجکستان وغیرہ میں اس قدر شیعہ مسلمانوں کو قتل کیا گیا کہ خون کے دھارے بہہ گئے۔

ازبکستان اور ترکستان کے مسلمان اپنے علماء کے بھڑکانے سے کہتے تھے کہ شیعہ علی پرست مشرک اور کافر ہیں اور ان کا قتل واجب ہے ان سبھوں نے ایرانی مسلمانوں کا اس کثرت سے خون بہایا کہ تاریخ کے صفحات کو داغدار بنا دیا۔

بے چارے سنی عوام آپ کے ایسے بزرگ علماء کی رہنمائی میں ایرانی مسلمانوں کو نگاہ کینہ بلکہ کفر و شرک اور ارتداد کے خیالی سے دیکھتے ہیں۔

گذشتہ زبانوں میں ترکمان لوگ خراسان کے راستے میں سر راہ ایرانی قافلوں کو گرفتار کر کے قتل و غارت میں مشغول ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ جو شخص سات عدد رافضیوں ( شیعوں ) کو قتل کردے اس پر بہشت واجب ہوجاتی ہے۔

قطعی طور پر جان لیجئے کہ اس طرح کے افعال اور قتل عام کی جواب دہی آپ ہی جیسے حضرات کے ذمے ہے جو ان کے کانوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ شیعہ علی(ع) پرست مشرک اور کافر ہیں اور بے خبر عقیدت مند سنی عوام


اس کو قبول بھی کر لیتے ہیں ۔ لہذا بقصد ثواب اس قسم کی حرکتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔

اسلام نے نسلی تفاخرات کو جڑ سے کاٹ دیا

پہلے میں آپ کے جملہ اول کا جواب عرض کرتا ہوں تاکہ ہم لوگ اصل مطلب تک پہنچیں۔ آپ نے جو یہ فرمایا کہ تم حجازی ، مکی اور مدنی ہو کر ایرانی بھائیوں کی طرفداری کس لیے کرتے ہو؟ تو یہ بدیہی بات ہے کہ مجھ کو اپنے مکی مدنی اور محمدی ہونے پر فخر ہے لیکن نسلی تعصب جو جہالت اور نادانی کے آثار میں سے ہے میں اپنے دل مین نہیں رکھتا ہوں۔ اس لیے کہ میرے جد بزرگوار حضرت خاتم الانبیاء (ص) نے باوجودیکہ ہر ملت کی قومیت اور وطنیت کی حفاظت ملحوظ رکھی ہے۔ اور جملہ حب الوطن من الایمان کے ساتھ ہر قوم و ملت کو محب وطن کی ہدایت کی ہے ۔ لیکن آں حضرت (ص) نے النافوں کے اتحاد اور ہر فرد بشر کے دل سے ہر طرح کے بیہودہ خیالات دور کرنے کے لیے جو بڑے قدم اٹھائے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ نسلی تفاخرات اور جاہلانہ تعصبات کو کلی طور پر جڑ سے کاٹ دیا اور ایک بلند اور موثر آواز کے ساتھ دنیا والوں کو اپنے اس اعلان کی طرف متوجہ فرمایا کہ

"لافخر للعرب علی العجم ولا للعجم علی العرب ولا للابيض علی الاسود ولا للاسود علی الابيض الا بالعلم و التقی ۔" (1)

اور نیز اس لیے کہ عالم اور متقی اشخاص کو اشتباہ نہ پیدا ہوجائے کہ آں حضرت (ص) کے ارشاد سے سند لے کر تواضع اور خاکساری سے ہٹ جائیں اور دوسروں پر کبر و خودی کا اظہار کرنے لگیں فرمایا ۔

" انا من العرب ولا فخروا فاسيد ولد الآدم ولا فخر ۔ " (2)

نتیجہ کلام یہ کہ میں باوجودیکہ عرب اور سید آدم ہوں لیکن اس نسل اور منزلت سے دوسروں پر کوئی فخر و مباہات نہیں کرتا۔

پیغمبر(ص) کا فخر صرف اس بات پر تھا کہ پروردگار کے اطاعت گذار بندے ہیں۔ آں حضرت(ص) مقام مناجات میں عرض کرتے تھے۔

" کفی بی فخرا ان اکون لک عبدا " یعنی میرے لیے یہی فخر ومباہات کافی ہے کہ تجھ ایسے پروردگار کا بندہ ہوں۔

خدا تعالی سورہ نمبر49 ( حجرات) آیت نمبر13 میں ارشاد فرماتا ہے:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 ـ عرب کو عجم پر عجم کو عرب پر ، سفید کو سیاہ پر اور سیاہ کو سفید پر کوئی فخر و مباہات نہیں ہے سوا علم و تقوی کے۔

2 ـ میں قوم عرب سے ہوں لیکن ان پر فخر نہیں کرتا میں اولاد آدم کا سردار ہوں۔ لیکن اس پر فخر نہیں کرتا ہوں۔


" يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْناكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَ أُنْثى وَ جَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقاكُمْ " (الحجرات، 13) (1)

اس نے فضل و شرف اور بزرگی تقوی میں قرار دی ہے۔ نیز اسی سورے کے آیت نمبر 10 میں فرمایا ہے:

" إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَ اتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ "( الحجرات ، 10)

یعنی سوا اس کے نہیں ہے کہ سب مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں لہذا ہمیشہ اپنے ایمانی بھائیوں کے درمیان اگر کوئی نزاع پیدا ہو تو صلح کرا دیا کرو ) چنانچہ ایشائی ، افریقی، یورپی اور امریکی سفید و سیاہ ، سرخ و زرد شہرستانی اور کوہستانی نسلوں کے جملہ افراد لوائے اسلام اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ کے ماتحت آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ایک دوسرے پر کوئی فخر و مباہات نہیں رکھتے۔

اسلام کے عظیم المرتب قائد حضرت خاتم الانبیاء نے عملی طور پر اس کا ثبوت دیا ہے عجم سے سلمان فارسی کو روم سے صہیب رومی کو اور حبش سے بلال سیاہ کو اپنے آغوش محبت میں قبول فرمایا لیکن اپنے شریف النسل چچا ابولہب کو جو عرب کی بہترین نسل سے تھا اپنے سے دور فرمادیا اور اس کی مذمت میں ایک سورہ نازل ہوا جس میں صریح طور پر ارشاد ہے ۔ تبت یدا ابی لھب۔ ( یعنی ابولہب کے ددنوں ہاتھ قطع ہوجائیں ( جو رسول اﷲ(ص) کے درپے آزار تھے۔)

سارے فسادات اور لڑائیاں نسلی تفاخرات کی بنا پر ہوتی ہیں

انسانوں کے تمام فتنہ و فساد اور جنگ و جدال انہیں نسلی تفاخرات اور جاہلانہ تعصبات کی بنا پر ہیں۔ جرمنی کے باشندے کہتے ہیں کہ آرین اور جرمنی نسلی سب سے بلند ہے ۔ جاپانی کہتے ہیں کہ سرداری کا حق ان کی زرد نسل کو حاصل ہے اور یورپ والے کہتے ہیں کہ سفید فام لوگ حاکم اور سب کے اوپر افسر ہیں۔ امریکہ کے متمدن ممالک میں اب تک سیاہ فام لوگ اجتماعی حقوق سے محروم ہیں ۔ یہاں تک کہ سفید فاموں کے کیفے ، سینما اور مہمان خانوں میں داخل ہونے کا حق نہیں رکھتے اور سیاہ فام عیسائی کو سفید فاموں کے کلیساء میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے تعجب خیز بات یہ ہے کہ عبادت گاہ میں بھی ایک دوسرے کے برابر بیٹھنے کے حقدار نہیں ، سیاہ کھال کے علماء اور افاضل اگر سفید کھال کے دانشمندوں کے جلسوں میں جاتے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ جوتے اتارنے کی جگہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 ـ اے انسانو ! ہم نے سب کو مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے ۔ اور ان میں مختلف شاخیں اور قبیلے قرار دیئے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو( اور سمجھ لو کہ اصل ونسب اور نسلی سرمایہ افتخار نہیں ہے بلکہ خدا کے نزدیک تم سب میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو تم لوگوں میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔


بیٹھیں ، ان کو سفید فاموں کے سامنے علم و ہنر کا اظہار نہ کرنا چاہئیے ایک بوڑھے سیاہ فام عالم کو چاہیئے کہ سفید فام جوان کے سامنے تعظیم بجالائے اور مطیع و فرمانبردار رہے۔ سفید فام اساتذہ سیاہ فاموں کو اپنے مدرسوں میں داخل نہیں کرتے ، یہاں تک کہ ریلوے اسٹیشنوں پر اگر کوئی سیاہ فام چھوٹ گیا ہو تو ان کو سفید فاموں کے مسافر خانوں میں گھسنے کا اختیار نہیں۔ خلاصہ یہ کہ امریکہ میں سیاہ فام لوگ باوجود ان کوششوں کے جو ان لوگوں کی آزادی کے لیے عمل میں لائی جاتی ہیں) حیوانات میں شمار ہوتے ہیں اور سفید فاموں کی طرح وسائل تمدن سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔ (1)

لیکن مقدس دین اسلام نے سارے بیہودہ اور موہوم عقائد کو تیرہ سو سال پہلے ہی درمیان سے اٹھادیا تھا، اس کا اعلان ہے کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں چاہے جس نسل اور قبیلے سے تعلق رکھتے ہوں ۔ یورپ ، ایشا، امریکہ اور افریقہ کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ ایک دوسرے کے لیے خلوص و محبت کا آغوش کھلا رکھیں اور دنیا کے جس مقام پر بھی ہوں، ہمیشہ ایک دوسرے کے یار و غمگسار رہیں۔ اسلام حجازی، مکی اور مدنی مسلمانوں اور دوسرے ممالک کے مسلمین میں کوئی فرق نہیں کرتا ۔ چنانچہ اگر میری نسل حجازی ، قریشی ، ہاشمی اور محمدی ہے تو جائز نہیں ہے کہ سچی بات کو چھپاؤں اور مہمل خیالات کی بنا پر حق کو پس پشت ڈال دوں ۔ میں قطعی طور پر حجازی گمراہوں سے متنفر اور ایرانی شیعوں کا دوستدار ہوں۔

مادروں را بنگریم و حال را نے درون را بنگریم و قال را

دوسری چیز یہ ہے کہ آپ نے ایرانی غالیوں کو بغیر کسی مناسبت اور دلیل و برہان کے پاک باز موحد اور خالص شیعوں کے ساتھ مخلوط کردیا ہے۔

غالیوں کے عقائد، ان کی مذمت اور لعن بر عبد اﷲ ابن سبا

امیرالمومنین علی علیہ السلام کے شیعہ سب کے سب حق تعالےٰ کے خالص بندے ہیں۔ خدا اور اس کے بندے و رسول محمد(ص) کے مطیع و فرمانبردار ہیں اور علی ابن ابی طالب (ع) کے بارے میں پیغمبر(ص) نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس کے علاوہ نہ اور کچھ کہتے ہیں نہ ہی عقیدہ رکھتے ہیں ۔ ہم لوگ حضرت علی(ع) کو پروردگار کا عبد صالح اور رسول اﷲ(ص) کا وصی اور خلیفہ مںصوص سمجھتے ہیں۔ اور جو شخص اس کے خلاف عقیدہ رکھتا ہو اس کے مردود اور اپنے سے الگ جانتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 ـ اٹلی کے قائد اور پیشوا مسولینی نے حکم دیا تھا کہ اس کا نمائندہ ادارہ مجلس اقوام سے نکل آئے۔ اس کا عذر یہ تھا کہ میرے لیے باعث ننگ ہے کہ میرا نمائندہ ایسے مجمع میں بیٹھے جہاں حبشی سیاہ فاموں کا نمائیندہ بیٹھا ہوا ہو۔ لیکن اسلام کے عظیم المرتبت پیغمبر(ص) نے چودہ سو برس پہلے) بلال سیاہ و حبشی کو اپنے آغوش محبت میں لے لیا اور فرماتے تھے کہ ارحنا یا بلال ! یعنی اے بلال میرے سامنے قرآن پڑھو اور مجھ کو شاد و مسرور کرو ۔ اب ناظرین محترم انصاف کریں اور دیکھیں کہ تفاوت راہ کہاں تک ہے۔


جیسے مسلمانوں میں سے غلات از قبیل سائیبہ ، خطابیہ، غرابیہ، علیادیہ مخمہ وبزیفیہ اور انہیں کے امثال جیسے نصیریہ جو ایران کے بعض شہروں اور قریوں اور دوسرے بلاد میں مثل موصل اور شام کے اہل حق کے نام سے متفرق طور پر آباد ہیں۔

شیعہ بالعموم ان سے علیحدہ اور ان کو کافر و مرتد اور نجس سمجھتے ہیں ۔ فقہ کی ساری کتابوں اور عملیہ رسالوں میں فقہائے امامیہ نے غلات کو کافروں میں شمار کیا ہے کیونکہ وہ لوگ بے شمار فاسد عقیدوں کے حامل ہیں جن میں سے کچھ کہتے ہیں کہ چونکہ جسم کے قالب میں روح کا ظہور محال نہیں ہے ۔ جیسے کہ جبرائیل وحبہ کلبی کی صورت میں پیغمبر(ص) کے سامنے ظاہر ہوتے تھے۔لہذا خدا کی حکیمانہ مصلحت کا تقاضا ہوا کہ اس کی ذات اقدس انسانی قالب میں ظاہر ہو چنانچہ علی(ع) کی صورت اور جسم میں نمایاں ہوا، اسی سبب سے علی(ع) کی منزل کو رسول اﷲ(ص) کی مقدس منزل سے بلند تر سمجھتے ہیں اور خود انہیں حضرت کے زمانے میں شیاطین جن و انس کے بہکانے سے ایک جماعت اس عقیدے کی قائل تھی۔ ہند اور سوڈان کے باشندون کی ایک جماعت آئی اور اس نے آپ کی الوہیت کا اقرار کیا۔ حضرت نے ہر چند ان لوگوں کو نصیحت کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آخر کار جس طریقے سے کہ کتب اخبار میں درج ہے آپ کے حکم سے دھویں کے کنووں میں ہلاک کردئیے گئے۔ چنانچہ اس قبیلے کی مفصل تشریح علامہ جلیل ملا محمد باقر مجلسی علیہ الرحمہ کی تالیف بحار الانوار جلد ہفتم میں لکھی ہوئی ہے۔

حضرت امیرالمومنین (ع) اور ائمہ معصومین سلام اﷲ علیہم اجمعین نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی ہے اور ان سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ مثلا جو ہماری معتبر کتابوں میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے نقل ہوا ہے۔ کہ فرمایا :

" اللَّهُمَّ إِنِّي بَرِي ءٌ مِنَ الْغُلَاةِ كَبَرَاءَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مِنَ النَّصَارَى اللَّهُمَّ اخْذُلْهُمْ أَبَداًوَ لَا تَنْصُرْ مِنْهُمْ أَحَداً."

یعنی خداوندا میں گروہ غلات سے بری ہوں ۔ جیسے عیسی بن مریم نصاری سے بیزار تھے ۔ خداوندا ان کو ہمیشہ ذلیل و خوار رکھ۔ اور ان میں سے کسی کی مدد نہ فرما۔

دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا :

" يَهْلِكُ فِيَ اثْنَانِ وَ لَا ذَنْبَ لِي مُحِبٌّ مُفْرِطٌ وَ مُبْغِضٌ مُفَرِّطٌ وَ أَنَا أَبْرَأُ إِلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى مِمَّنْ يَغْلُو فِينَا وَ يَرْفَعُنَا فَوْقَ حَدِّنَا كَبَرَاءَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ع مِنَ النَّصَارَى "

یعنی میرے بارے میں دو گروہ ہلاک ہوتے ہیں اورمیرے ذمے کوئی گناہ نہیں ہے (یعنی چونکہ میں ان کے عمل سے راضی نہیں لہذا گنہگار نہیں ہوں) ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جو میری محبت میں حد سے بڑھ جاتے ہیں اور غلو کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو بلا سبب مجھ سے بغض و عداوت رکھتے ہیں یقینا میں ان لوگوں سے خدا کی طرف بیزاری اختیار کرتا ہوں جو ہمارے بارے میں غلو کرتے ہیں اور ہم کو ہماری حد سے بڑھاتے ہیں جس طرح سے عیسی بن مریم(ع) نے ںصاری سے بیزاری اختیار کی۔


نیز فرمایا ہے۔" يَهْلِكُ فِيَ اثْنَانِ مُحِبٌّ غَالٍ وَ مُبْغِضٌ قَالٍ. " ( یعنی میرے بارے میں دو طرح کے لوگ ہلاک ہوتے ہیں، ایک ایسے دوست جو محبت میں غلو کرتے ہیں اور دوسرے وہ دشمن جو مجھ کو میری منزل سے گھٹاتے ہیں۔

اسی وجہ سے شیعہ امامیہ اثنا عشریہ ہر اس شخص سے بیزاری اختیار کرتے ہیں جو نظم و نثر میں امیرالمومنین (ع) اور ان کے اہل بیت اطہار (ع) کے لیے غلو کرے اور مقام تعریف میں ان کو منزل سے بلند قرار دے جو خدا و رسول(ص) نے ان کے لیے معین فرمائی ہے اور بندگی سے خدائی پر پہنچا دے جو لوگ اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہوں وہ ہم میں سے نہیں ہیں بلکہ غالی اور ملعون ہیں۔ آپ اثنا عشریہ شیعہ امامیہ جماعت کا معاملہ ان سے الگ سمجھئے کیونکہ غالی فرقوں کے کفر و نجاست پر علمائے امامیہ کا اجماع ہے اور اگر آپ فقہاء شیعہ کی استدلالی کتابوں جیسے جواہر الکلام اور مسالک وغیرہ اور عملیہ رسالوں جیسے مرحوم آیتہ اﷲ یزدی قدس سرہ کی عروة الوثقی اور آیتہ اﷲ اصفہانی اعلی اﷲ مقامہ کی وسیلہ النجات کے باب طہارت باب زکوة ، باب ازدواج اور باب ارث کی طرف رجوع کریں تو ہمارے فقہاء کے فتوے ان لوگوں کے کفر ونجاست پر ملیں گے اور آپ دیکھیں گے کہ سب نے یہی فتوی دیا ہے کہ ان کے غسل و دفن میں شرکت جائز نہیں ہے ۔ ان کے ساتھ نکاح حرام ہے ( باوجودیکہ متعہ کی صورت سے اہل کتاب کیساتھ تزویج کو جائز جانتے ہیں۔) اور مسلمانوں کا حق وراثت ان کو نہیں دیا جاتا ہے یہاں تک کہ ان کو صدقات و زکوة کادینا بھی ممنوع ہے۔

فرقہ ناجیہ شیعہ کی فن کلام اور عقائد کی کتابوں میں تفصیل اور استدلالی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے کہ یہ فرقہ فاسد اور کافر ہے ہر مسلمان پر اور خاص طور سے خالص العقیدہ شیعوں پر ان سے تبرا اور بیزاری واجب و لازم ہے۔

غلات کی مخالفت اور رد میں آیات و اخبار سے کافی مضبوط اور مکمل دلیلیں وارد ہوئی ہیں جن میں سے بعض کی طرف میں نے اشارہ کر دیا ہے ۔ سورہ نمبر5( مائدہ) آیت نمبر81 میں کھلا ہوا ارشاد ہے :

" قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لا تَغْلُوا في دينِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ وَ لا تَتَّبِعُوا أَهْواءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَ أَضَلُّوا كَثيراً وَ ضَلُّوا عَنْ سَواءِ السَّبيلِ "( المائدة ، 77 )

یعنی کہہ دو( اے رسول(ص)) کہ اے اہل کتاب غلو مت کرو اپنے دین میں کہ وہ حق نہیں ہے اور اس قوم کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو خود گمراہ ہوئے بہتوں کو گمراہ کردیا اور راہ راست سے دور جا پڑے۔

مرحوم علامہ مجلسی علیہ الرحمہ نے بحار الانوار جلد سوم میں ( جو شیعہ امامیہ فرقے کا دائرة المعارف (انسائیکلو پیڈیا) ہے ، ان کی مذمت اور ان لوگوں کے مدعا سے خاندان رسالت کے دور ہونے میں بہت سی روائتیں نقل کی ہیں، من جملہ ان کے امام بحق ناطق حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں۔ کہ آپ فرمایا :

" و ما نحن الا عبيد الذي خلقنا و اصطفانا، ما لنا على اللّه من حجة، و لا معنا من اللّه براءة، و انا لميتون، و موقوفون، و


مسئولون، من احب الغلاة فقد ابغضنا و من ابغضهم فقد احبنا الغلاة كفّار و المفوضة مشركون، لعن اﷲ الغلاة ۔۔۔۔۔۔ "

( خلاصہ مطلب یہ کہ ہم اس خدا کے بندے ہیں جس نے ہم کو پیدا کیا اور مخلوقات میں سے منتخب کیا۔ در حقیقت غالیوں کو دوست رکھے وہ ہمارا دشمن ہے اور جو شخص ان کو دشمن رکھے وہ ہمارا دوست ہے غلات کافر اور ملفوضہ مشرک ہیں۔ خدا کی لعنت ہو غلات پر)

نیز انہیں حضرت سے شیعوں کے ایک بڑے پیشوا نے نقل کیا ہے کہ فرمایا :

" لعن اللّه عبد اللّه بن سبأ إنه ادّعى الربوبية في أمير المؤمنين و كان و اللّه أمير المؤمنين عبدا للّه طائعا، الويل لمن كذب علينا، و إن قوما يقولون فينا ما لا نقوله في أنفسنا نبرأ إلى اللّه منهم نبرأ إلى اللّه منهم "

(یعنی لعنت خدا کی، عبداﷲ بن سبا پر جس نے امیرالمومنین (ع) کےلیے ربوبیت اور خدائی کا دعوی کیا ۔ خدا کی قسم وہ حضرت خدا کے مطیع بندے تھے ، وائے ہو ان لوگوں پر جنہوں نے ہم پر افترا کیا، ایک گروہ ہمارے بارےمیں وہ باتیں کہتا ہے جو ہم خود اپنے بارےمیں نہیں کہتے ہم بیزاری اختیار کرتے ہیں ، ان سے خدا کی طرف ہم بیزاری اختیار کرتے ہیں ان سے خدا کی طرف۔

صدوق ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین بن موسی بن بابویہ قمی قدس سرہ نے جو جلیل القدر فقہائے امامیہ میں سے ہیں کتاب عقائد میں ایک روایت زرارہ بن اعین سے جو موثق شیعہ راوی ، حافظ علم اہل بیت(ع) اور حضرت باقر العلوم و صادق آل محمد علیہم السلام کے اصحاب میں سے تھے نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا میں نے حضرت صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ عبداﷲ بن سبا کی اولاد میں سے ایک شخص تفویض کا قائل ہے ۔ فرمایا تفویض کیا؟ میں نے عرض کیا وہ کہتا ہے:

"إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ خَلَقَ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ وَ عَلِيّاً- عَلَيْهِ السَّلَامُ- ثُمَّ فَوَّضَ الْأَمْرَ إِلَيْهِمَا، فَخَلَقَا، وَ رَزَقَا، وَ أَحْيَيَا، وَ أَمَاتَا."

( یعنی خدائے عزوجل نے محمد (ص) و علی(ع) کو پیدا کیا پھر بندوں کے امور ان کے سپرد کردئیے چنانچہ وہی خالق ہیں وہی رازق ہیں وہی زندہ کرتے ہیں ۔ وہی مارتے ہیں ) حضرت نے فرمایا کذب واﷲ جھوٹ بولتا ہے دشمن خدا جب تم پلٹ کر اس کے پاس جاؤ تو سورہ رعد کی یہ آیت پڑھو :

"أَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ قُلِ اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْ ءٍ وَ هُوَ الْواحِدُ الْقَهَّارُ " ( الرعد ،16)

“ یعنی کیا مشرکین نے خدائے تعالیٰ کے کچھ شریک قرار دیئے کہ خدا کا پیدا کیا ہوا کون اور ان شرکاء کا پیدا کیا ہوا کون ہے۔ کہدو (اے محمد(ص)) کہ ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ صرف خدائے تعالیٰ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی الوہیت میں یکتا ہے جس کا ارادہ ساری کائنات پر غالب ہے۔”

یہ آیت خود توحید باری تعالی کی تصریح کر رہی ہے۔ زرارہ کہتے ہیں کہ جس وقت میں اس کے پاس گیا اور یہ آیت حسبِ


ارشاد امام(ع) میں نے اس کے سامنے پڑھی تو گویا میں نے اس کے منہ پر پتھر مار دیا وہ مبہوت ہو کے رہ گیا۔

اس طرح کی روایتیں ہماری معتبر کتابوں میں آئمہ طاہرین سلام اﷲ علیہم اجمعین اور شیعوں کے برحق پیشواؤں کی طرف سے گروہ غلات کے لیے لعن و طعن اور بر کہنے میں کثرت سے وارد ہوئی ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ جس طرح ہم آپ کے علماء کی کتابیں پڑھتے ہیں آپ بھی علمائے شیعہ کی معتبر کتابیں پڑھا کیجئے تاکہ ایسے الفاظ زبان سے نہ نکالیے جو بے چارے عوام کو بہکانے والے ہوں۔ اور آپ بھی خدا کے دربار عدالت میں گرفتار ہوں۔

حضرات محترم! میں آپ سے انصاف چاہتا ہوں ۔ آیا ایسی صورت میں جب کہ ہمارے ائمہ نے اپنے شیعوں کی رہنمائی کے لیے ایسے بیانات ارشاد فرمائے ہیں اور سچے شیعہ علی (ع) واولاد علی(ع) کے پیرو اپنے مقتداؤں سے ان روایتوں کے سنے ہوئے ہیں اس کے بعد بھی ان کو خدا یا خدائی کی جگہ پر قرار دیں گے؟ غالیوں کا گروہ ہم سے بالکل الگ اور ہم ان لوگوں سے بیزار اور علیحدہ ہیں۔ چاہے وہ بظاہر تشیع کا دعوی کریں۔ لیکن خدا اور رسول(ص) علی و اولا علی علیہم السلام سب کےسب ان سے بیزار اور سارے شیعہ بھی ان سے بیزار اورالگ ہیں۔

چنانچہ ہمارے مولا امیرالمومنین علیہ السلام نے رئیس غلات عبداﷲ بن سبا ملعون کو تین روز تک مقید رکھا اور توبہ کا حکم دیا جب اس نے قبول نہ کیا تو مجبورا اس کو آگ میں جلوا دیا۔ آپ کو خدا کے سامنے اس سے شرم آنا چاہئیے کہ آپ کے علماء تعصب و عادت اور اسلاف کی پیروی میں یہ لکھیں کہ تشیع کی بنیاد قائم کرنے والا یہی عبداﷲ ملعون تھا جو حضرت علی(ع) کے حکم سے جلا دیا گیا۔ حالانکہ علمائے شیعہ نے ساری متعلقہ کتابوں میں اپنے ائمہ کی پیروی کرتے ہوئے عبداﷲ بن سبا کو ملعون بتایا ہے۔ لہذا عبداﷲ کے پیرو بھی ملعون ہیں کیونکہ وہ غلات میں سے ہیں نہ کہ آل محمد(ص) اور عترت طاہرہ پیغمبر(ص) کے محبت خالص شیعوں مین سے اس لیے کہ وہ س خداندان جلیل کے بارے میں غلو کی وہ سے دور اور مطرود ہیں۔

اگر تشیع کی بنیاد قائم کرنے والا عبداﷲ ملعون ہوتا اور شیعہ اس کے پیرو ہوتے جیسا کہ آپ کے متعصب علماء نے لکھا ہے اور دوسرے ان کی اندھی تقلید کر کے جلسوں میں اس کو نقل کرتے ہیں تو کم سے کم شیعوں کی کسی ایک ہی کتاب میں اس کی کچھ تعریف درج ہونا چاہئیے تھی۔ اگر آپ علماء شیعہ امامیہ کی کسی ایک ایسی کتاب کا پتہ دے دیجئے جس میں عبداﷲ ملعون کی کوئی تعریف کی گئی ہو تو میں آپ کی ساری باتیں ماننے کے لیے تیار ہوں اور اگر یہ پتہ نہ دیں ( اور ہرگز نہیں دے سکتے ہیں) تو روز حساب اور محکمہ عدل الہی سے ڈرئیے ، پاک و موحد شیعوں کو عبداﷲ ملعون کا پیرو نہ کہیئے اور حقیقت کو بیخبر عوام کی نگاہوں میں مشتبہ نہ بنائیے۔

اس کے علاوہ میں آپ سے برادرانہ التماس کرتا ہوں کہ آپ چونکہ اہل علم ہیں لہذا ہمیشہ قاعدہ علم و منطق اور حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے گفتگو فرمائیں اور خلاف عقل و حقیقت باتوں اور بے بنیاد شہرتوں کا سہارا نہ لیں۔


جن کو دشمنوں نے ضد اور عناد کی وجہ سے شیعوں کی طرف منسوب کیا ہے۔

حافظ : آپ کی برادرانہ نصیحتیں ہر عقلمند کے لیے قابل قبول و توجہ ہیں لیکن اجازت دیجئیے کہ میں بھی فرمائش کے طور پر چند جملے عرض کروں۔

خیر طلب : میں بہت ممنوں ہوں گا فرمائیے!

حافظ : آپ اپنے بیانات میں برابر یہی فرمارہے ہیں کہ ہم اماموں کے بارے میں غلو نہیں کرتے اور غلات کو مردود و ملعون اور جہنمی جانتے ہیں لیکن ان دو راتوں میں آپ کی زبان سے بار بار اماموں کے حق میں ایسے الفاظ سنے جارہے ہیں کہ آپ ہی کے بیان کیئے ہوئے قواعد کی روسے وہ حضرات اس قسم امور پر راضی نہیں ہیں ۔ لہذا ممکن ہو تو آپ بھی بات چیت کے موقع پر اس کا لحاظ رکھیں تاکہ مطعون نہ ہوں۔

خیر طلب : میں خشک و تنگ نظر اور متعصب و جاہل انسان نہیں ہوں ، بہت ممنون ہونگا کہ اگر میری گفتگو میں کوئی لغزش پائی جاتی ہو تو اس کی یاد دہانی فرما دیجئیے چونکہ انسان سہو و نسیان کا مرکز ہے لہذا تمنا رکھتا ہوں کہ ان دو راتوں میں جوکچھ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہوکہ ائمہ ہدی علیہم السلام کے خلاف مرضی کہا گیا ہے اور علم و عقل و منطق سے مطابقت نہیں کرتا اس کو بیان فرمائیے۔

حافظ : میں نے ان دو شبوں میں مکرر آپ سے سنا ہے کہ جس موقع پر اپنے اماموں کا نام لیتے ہین تو بجائے اس کے کہ رضی اﷲ عنہم کہیں ، سلام اﷲ علیہم اور صلوات اﷲ علیہم کہا ہے در آںحالیکہ خود جانتے ہیں کہ سورہ احزاب کی آیہ شریفہ کے حکم سے جس میں ارشاد ہے :

" إِنَّ اللَّهَ وَ مَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوا تَسْليماً" ( الاحزاب، 56 )

یعنی خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر کی روح پاک پر درود بھیجتے ہیں۔ اے اہل ایمان تم بھی ان پر درود بھیجو اور سلام کرو ( اور ان کے فرمان کو تسلیم کرو) آیت نمبر56 سورہ نمبر133 ( احزاب) سلام اور صلوة صرف رسول خدا(ص) سے مخصوص ہے چونکہ آپ اپنے بیانات میں اماموں کے لیے بھی صلوات و سلام کا ذکر کرتے ہیں ۔ لہذا بدیہی چیز ہے کہ یہ عمل قرآن مجید کی ںص صریح کے خلاف ہے۔

آپ کے اوپر جو اعتراض کئیے جاتے ہیں ان میں سے ایک موضوع یہ بھی ہے کہ کہتے ہیں یہ امر بدعت ہے اور اہل بدعت اہل ضلالت ہیں۔

آل محمد علیھ م السلام پر سلام اور صلوات بھیجنے کے بار ے م یں مناظرہ

خیر طلب :- جماعت شیعہ نے ہ رگز کوئ ی عمل نص کے خلاف ن ہ ک یا ہے ن ہ کرت ے ہیں ۔ ہ وا یہ کہ گذشت ہ


صد یوں میں خوارج و نواصب ،بنی امیہ اور ان کے پ یرووں نے ح یلہ سازیاں شروع کیں اور شیعوں کو اہ ل بدعت نام زد کرنے ک یلئے فرضی دلیلیں قائم کیں جن کا بڑے ب ڑے ش یعہ علماء نے مکمل جواب د یا اور ثابت کیا ہے ک ہ ہ م ا ہ ل بد عت ن ہیں ہیں ۔ چونک ہ دشمن ک ے ہ ات ھ و ں م یں قلم ہے ل ہ ذا تن ہ ا قاض ی بن کر جو چاہ ت ے ہیں لکھ ت ے ہیں ۔ اس موضوع پر ب ھی مفصّل جواب دیا جاچکا ہے ۔ ل یکن چونکہ وقت کاف ی گزر چکا ہے ۔ ل ہ ذا تفص یلی جواب سے قظع نظر کرتا ہ و ں محض اس لئ ے ک ی آپ کی فرمائش بغیر جواب کے ن ہ ر ہ جائ ے اور حضرات ا ہ ل جلس ہ اور م یرے برادران عزیز کے سامن ے حق یقت امر مشتبہ ن ہ ر ہے مختصر طور س ے عرض کرتا ہ و ں ، اوّل تو یہ کہ اس آیت میں کسی دوسرے پر سلام وصلوات ب ھیجنے کو منع نہیں کیا گیا ہے ۔ فقط حکم د یا جاتا ہے ک ہ مسلمانو ں کو لازم ہے ک ہ آ ں حضرت (ص) پر صلوات ب ھیجیں ۔

دوسرے جس خدائے بر تر ن ے یہ آیت نازل فرمائی ہے و ہی سورہ 37 (صافات)آ یت 130میں فرماتا ہے ۔ سلام عل ی آل یاسین (یعنی سلام ہ و یسین کی آل پر )خاندان رسالت کی اہ م خصوص یات میں سے ا یک یہ بھی ہے ک ہ قرآن مج ید میں ہ رجگ ہ مخصوص طور پر انب یائے کرام پر سلام ہے و ہ ف رماتا ہے ۔ "سلام عل ی نوح فی العالمین"،"سلام علی ابراہیم "،"سلام علی موسی وھ ارون" (سور ہ صافات ) ل یکن کسی مقام پر اولاد انبیا ء کے ل یئے سلام نہیں آیا ہے ،سوا اولاد خاتم الانب یاء کے جن ک ے لئ ے ارشاد ال ہی ہے ، سلام عل ی آل یا سین ، یاسین بھی رسول خدا(ص) کا ایک نام ہے ۔

"یس "کے معن ی اور یہ کہ "س"پ یغمبر صلّی اللہ عل یہ وآلہ کا نام مبارک ہے

آپ کو معلوم ہے ک ہ قرآن مج ید میں پیغمبر(ص)کے بار ہ نامو ں م یں سے پانچ نام امت ک ی مزید معرفت کیلئے ذکر کئے گئ ے ہیں اور وہ پانچ مقدس اسماء محمد، احمد، عبدالل ہ ، نون اور یاسین ہیں ۔ سور ہ نمبر 36 ک ے شروع م یں فرماتا ہے " یس و القرآن الحکیم انّک لمن المر سلین " یا حرف ندا اور "س"آنحضرت (ص) کا نام مبارک اور آنحضرت (ص) کی ظاہ ر ی وباطنی معتدل حقیقت اور مساوات کی طرف اشارہ ہے ۔

نواب:- اس کا کیا سبب ہے ک ہ حروف ت ہ جّ ی میں "س" آنحضرت (ص) کا نام مبارک قرار پایا ؟

خیر طلب :- میں نے عرض ک یا کہ آنحضرت(ص) ک ے عالم معنو ی اورحقیقت اعتدال کی طرف ایک اشارہ ہے ۔ ک یونکہ منزل خاتمیت کی حقدار وہی ذات ہے جس کا وجود حد اعتدال کو پ ہ نچا ہ وا ہے یہ اس وقت ممکن ہے جب اس کا


ظا ہ ر وباطن یکساں ہ و اور یہ مرتبہ آ ں حضرت (ص) ک ے وجود مق دس کو حاصل تھ ا ،ل ہ ذا حرف "س" ک ے سات ھ اس ح یثیت کا اظہار فرمایا ۔

عام عقلوں س ے قر یب تر بیان یہ ہے ک ہ حروف ت ہ جّ ی کے درم یان صرف "س" ہی ایسا ہے جس کا ظا ہ ر وباطن برابر ہے اس معن ی سے ک ہ ا ٹھ ائ یس حرفوں م یں سے ہ ر ا یک کے لئ ے علمائ ے علم اعداد ک ے نزد یک ایک زبر اور ایک بیّنہ ہے اور حرف ک ے زبر و ب یّنہ کا تطابق کرنے م یں قطعی طور پر یا اس کا زبر زیادہ ہ وتا ہے یا بیّنہ ۔

نواب :- قبلہ معاف فرمائ یے گا میں جسارت کر رہ ا ہ و ں ۔ چونک ہ م یں گہ ر ے مضام ین کو سمجھ ن ے س ے معذور ہ و ں ل ہ ذا استدعا ہے ک ہ ان راتو ں م یں مطالب کو سادہ اور واضح طر یقے سے ب یان فرمائیے تاکہ ہم سب کے لئ ے لائق توج ہ اور قابل قبول ہ و ں چونک ہ ہ م لوگو ں ن ے زبر وب یّنہ ک ے معن ی نہیں سمجھے ،ل ہ ذا م یں متمنی ہ و ں ک ہ ساد ہ ب یان کے سات ھ وضاحت فرمائ یے تاکہ یہ معمّا حل ہ و جائ ے ۔

خیرطلب :-بسرو چشم ،زبر سے حرف ک ی صورت مراد ہے جو کاغذ پر لک ھی جاتی ہے ا ور بیّنہ سے و ہ ز یادتی ہے جو بولن ے ک ے وقت ظا ہ ر ہ وت ی ہے "س" کاغذ ک ے اوپر ا یک حرف ہے ل یکن تلفظ کے وقت ت ین حرف ہ وجات ے ہیں ۔ س ۔ی ۔ ن ۔ بولن ے ہیں اس پر یا اور نون کا اضافہ ہ وجاتا ہے ۔ اورا ٹھ ائ یس حروف تہ ج ی میں صرف "س" ہی وہ حرف ہے ک ہ حساب ک ی مطابقت کرنے م یں اس کا زبر اور بیّنہ برابر رہ تا ہے "س" ک ے عدد سا ٹھ ہیں اور اس کا بیّنہ بھی جس سے " ی"اور"ن"مراد ہیں ساٹھ عدد کا حامل ہے " ی" کے (10)اور"ن"ک ے (50)مل کر سا ٹھ ہ وئ ے اس ی وجہ سے قرآن مج ید میں خاتم الانبیاء کوآنحضرت (ص)کے ظا ہ ر و باطن ک ی طرف اشارہ کرت ے ہ وئ ے " یس"کہہ کر مخاطب ک یا ۔یعنی اے و ہ شخص جو ظا ہ ر وباطن دونو ں ح یثیتوں سے اعتدال پر ہے ۔

آل یاسین سے مراد آل محمد(ص) ہیں

اب چونکہ حضرت کا نام مبارک "س" ہے ل ہ ذا اس آ یہ مبارکہ م یں فرماتا ہے "سلام عل ی آل یسین "یعنی سلام آل محمد(ص) پر۔

حافظ:- یہ ایسے مطالب ہیں جن کو آپ اپنے جادو ب یانی سے ثابت کرنا ہ ت ے ہیں ورنہ علماء ک ے درم یان اس کا ذکر نہیں آیا ہے ک ہ آل یا سین پر سلام ہ و ۔


خیر طلب :- میں متمنی ہ و ں ک ہ انکار ک ے مواقع پر قطع ی طور سے کوئ ی بات نہ ک ہہ د یا کیجیئے بلکہ ترد ید کی صورت میں فرمایا کیجئے تاکہ جواب ک ے وقت آپ کو پچ ھ تان ے ک ی ضرورت نہ ہ و ۔ اگر آپ اپن ے علماء ک ی کتابو ں س ے ب ے خبر یا واقف ہیں لیکن تصدیق کرنے ک ے خلاف سمج ھتے ہیں تو میں آپ کی کتابوں س ے باخبر ہ و ں اور حق س ے من ہ ب ھی نہیں موڑ تا ہ و ں ۔

آپ کے ب ڑے ب ڑے علماء ک ی کتابوں م یں کثرت سے اس معن ی کی طرف اشارہ ک یا گیا ہے ،منجمل ہ ان ک ے متعصب ابن حجر ن ے صواعق محرق ہ ک ے اندر جو آ یات فضائل اہ ل ب یت علیھ م السلام میں نقل کی ہے ان م یں سے ت یسری آیت کے ذ یل میں لکھ ا ہے ک ہ مفسّر ین کی ایک جماعت نے مفسّر اور خ یر امّت ابن عباس سے نقل ک یا ہے ک ہ "المراد بذالک سلام عل ی آل محمد"یعنی الیاسین سے مراد آل محمد(ص) ہیں لہ ذا آل یاسین پر سلام کا مطلب ہے سلام آل محمد(ص) پر اور لک ھ ت ے ہیں کہ اما م فخر الد ین رازی نے ذکر ک یا ہے ۔ ان اهل بیته صلّی الله علیه وآله وسلّم یساوونه فی خمسة اشیاء ،فی السلام قال" السلام علیک ایها النبی" و قال" سلام علی الیاسین "، فی الصلواة علیه علیهم فی التشهد وفی الطهارة قال الله تعالی "طه یا طاهر "وقال " یطهرکم تطهیرا "،و فی تحریم الصدقة ،وفی المحبة قال تعالی "قل ان کنتم تحبّون الله فاتبعونی یحببکم الله وقال قل لا اسئلکم علیه اجرا الا المودة فی القربی"

(یعنی رسول کے ا ہ ل ب یت علیھ م السلام پانچ چیزوں میں آنحضرت (ص) کے برابر ہیں اول سلام میں فرمایا سلام پیغمبر بزرگوار اور یہ بھی فرمایا سلا م آل یاسین پر (یعنی سلام آل محمد پر۔ )دوسر ے صلوات م یں تشہ د نماز م یں۔ ت یسرے طہ ارت م یں خدائے تعال ی نے فرمایا ہے ط ہ یعنی اے طا ہ ر اور ان حضرات ک ے بار ے م یں آیت تظہیر نازل فرمائی ۔ چوت ھے تحر یم صدقہ م یں کیونکہ پیغمبر اور ان کے ا ہ ل ب یت پر صدقہ حرام ہے ،پانچو یں محبت میں ،ک یوں کہ خدائ ے تعال ی نے فرما یا (محمدص) کہہ دو(امت س ے )م یں تم سے کوئ ی اجر اور مزدوری نہیں چاہ تا ہ و ں سوا م یرے ذوی القربی اور اہ لب یت سے محبت ک ے ) ۔

سید ابو بکر بن شہ اب الد ین علوی کتاب "شفتہ الصاد ی من الصادی من بحر فضائل بنی النبی الھ اد ی(مطبوعہ مطبع ہ اعلام یہ مصر سنہ 1303 ھ ک ے باب اول صفح ہ 24 پر مفسر ین کی ایک جماعت سے بروا یت ابن عباس ونقاش کلبی سے اور باب 2 صفح ہ 42 پر نقل ک یا ہے ک ہ آ یت میں آل یاسین سے مراد آل محمد(ص) ہیں اور امام فخرالدین رازی نے تفس یر کبیر جلد ہ فتم صفح ہ 163 م یں اسی آیت شریفہ کے ما تحت آ یت کے معن ی میں کئی وجہیں نقل کی ہیں اور وجہ دوم م یں کہ ا ہے ک ہ ال یا سین سے مراد آل محمد سلام الل ہ عل یھ م اجمعین ہیں نیز ابن حجر نے صواعق محرق ہ م یں ذکر کیا ہے ک ہ مفسر ین کی ایک جماعت نے ابن عباس سے نقل ک یا ہے ، ان ہ و ں ن ے ک ہ ا "سلام عل ی الیاسین" سلام آل محمد (ص) پر۔


لیکن اہ ل ب یت علیھ م السلام پر صلواۃ بھیجنا تو ایک ایسا امر ہے جو فر یقین کے درم یان مسلم ہے یہ ا ں تک کہ بخار ی اور مسلم بھی اپنی صحیحین میں تصدیق کرتے ہیں کہ پ یغمبر نے فرما یا میرے اور میرے اہ ل ب یت علیھ م السلام کے دوم یان صلواۃ میں جدائی نہ ڈ الو ۔

آل محمد(ص) پر صلوات بھیجنا سنت اور تشہ د نماز م یں واجب ہے

مخصوص طور پر بخاری اپنی صحیح کی جلد سوم میں مسلم اپنی صحیح کی جلد اول میں اور سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ میں حتی ابن حجر ایسے متعصب نے صواعق م یں اور آپ کے دوسر ے ب ڑے علماء کعب بن عجز ہ س ے نقل کرت ے ہیں کہ جب آ یت "انّ اللہ و ملائکت ہ یصلون علی النبی "(سورہ احزاب 43) ہ وئ ی تو ہ م لوگو ں ن ے عرض ک یا کہ یا رسو ل اللہ آپ پر سلام کرن ے کا طر یقہ تو ہ م کو معلوم ہ وا ل یکن "کیف یصلی علیک ؟" آپ پر صلواۃ کس طرح بھیجیں ؟ آں حضرت ن ے فرما یا صلوات اس طریقے سے ب ھیجو" اللھ م صلّ عل ی محمد وآل محمد اور دوسری روایتوں میں یہ بھی ہے ک ہ "کما صلّ یت علی ابراھیم و آل ابراھیم انّک حمید مجید "

امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ 797 م یں نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم (ص) س ے لوگو ں ن ے سوال ک یا کہ ہ م آپ پر کس طرح س ے صلوا ۃ بھیجیں ؟ آنحضرت (ص) نے فرما یا کہ و " اللهم صلّ علی محمد و علی آل محمد کما صلّیت علی ابراهیم وعلی آل ابرا هیم وبارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراهیم و علی آل ابراهیم انّک حمید مجید.

اور ابن حجر نے ت ھ و ڑے س ے لفظ ی اختلاف کے سات ھ یہی روایت حاکم سے نقل ک ی ہے اس ک ے بعد اپن ے عق یدے اوررائے کا اظ ہ ار کرت ے ہ و ے ک ہ ت ے ہیں ۔ "وف یہ دلیل ظاھ ر عل ی ان الامر بالصلوات علیہ الصلوات علی آلہ " یعنی حدیث میں اس پر کھ ل ی ہ وئ ی دلیل ہے ک ہ پ یغمبر (ص)پر صلوات بھیجنے کا حکم آنحضرت (ص)کی آل پر بھی صلوات بھیجنے کے لئ ے ہے ۔ ن یز روایت کی ہے ک ہ فرما یا "لا تصلّوا علیّ الصلواة البتراء" یعنی مجھ پر بترا اور دم بر یدہ صلوات نہ ب ھیجو لوگوں ن ے عرض ک یا یا رسول اللہ صلوا ۃ بتراء کون ہے ؟ فرما یا اگر کہ و "اللھ م صلّ عل ی محمد "لہ ذا یوں کہ و"الل ھ م صلّ عل ی محمدو علی آل محمد۔

اس کے علاو ہ د یلمی نے نقل ک یا ہے ک ہ رسول اکرم (ص)"الدعا ء محجوب حت ی یصلی علی محمد وآلہ " ۔ دعا پرد ے م یں رہ ت ی ہے (اور قبول ن ہیں ہ وت ی )جب تک محمد وآل محمد پر درود نہ ب ھیجیں ۔ اور اما م شافع ی سے نقل ک یا ہے ک ہ ان ہ و ں ن ے ک ہ ا :


یا اهل بیت رسول الله حبکم ----- فرض من الله فی القرآن انزله

کفاکم من عظیم القدر انکم ----- من لم یصل علیکم لا صلواة له

(یعنی اے ا ہ ل ب یت رسول اللہ (ص) تم ہ ار ی دوستی خدا نے قرآن مجید میں واجب کی ہے ،تم ہ ار ی بزرگی ،منزلت اور مرتبے ک یلئے یہی کافی ہے ک ہ جو شخص تم پر صلوا ۃ نہ ب ھیجے اس کی نماز قبول نہیں ہ وت ی ، شافعی کی مراد تشہ د نماز م یں صلوات ہے ، جس کو اگر عمدا ترک کرد یں تو نماز باطل اور غیر مقبول ہے ۔)

رسول اکرم(ص)کے اس ارشاد ک ے پ یش نظر کہ "الصلواة عمود الدین ان قبلت قبل ما سواها وان ردّت ردّ ما سواها "( یعنی نماز دین کا نگہ بان اور ستون ہے اگر نماز قبول ہ وجائ ے تو اس ک ے علاو ہ دوسر ے تمام اعمال ب ھی قبول ہ وجات ے ہیں ، اور اگر نماز رد ہ وجائ ے تو دوسر ے اع مال بھی رد ہ وجات ے ہیں ۔ تمام اعمال ک ی قبولیت نماز سے وابست ہ ہے اور جو روا یتیں پیش کی گئی ہیں ، ان پر نظر کرتے ہیں ہ وئ ے نماز ک ی قبولیت بھی محمد وآل محمد (ص) پر صلوات بھیجنے میں منحصر ہے ج یسا کہ شافع ی نے خود اقرار ک یا ہے ۔

سید ابو بکر شہ اب الد ین نے کتاب "شفت ہ الصاد ی من بحر فضائل بنی النبی الہ اد ی"باب 2 میں صفحہ 29-35 تک محمد وآل محمد پر صلوات ب ھیجنے کے وجوب م یں کئی بیانات درج کئے ہیں اور دلائلی نے نسائ ی سے دارقطن ی ،ابن حجر اور بہیقی نے ابوبکر طوس ی سے ان ہ و ں ن ے ابو اسحاق مروزی اور سمہ ود ی سے ، نوو ی نے تنق یح میں اور شیخ سراج الدین قصیمی یمنی نے نقل ک یا ہے ک ہ نماز ک ے تش ہ د م یں محمد صلی اللہ عل یہ وآلہ وسلم ک ے نام مبارک ک ے بعد آل محمد پر صلوات ب ھیجنا واجب ہے ۔

چونکہ وقت کافی گزر چکا ہے ل ہ ذا مفصل ب یان سے قطع نظر کرتا ہ و ں اور ف یصلہ آپ حضرات کے پاک ضم یر پر چھ و ڑ تا ہ و ں ۔

چنانچہ آپ حضرات اس کی تصدیق فرما ئیں کہ ا ہ ل ب یت پیغمبر پر درود سلام بدعت نہیں بلکہ سنت اور ا یسی عبادت ہے جس ک ے لئ ے خود رسول (ص) ک ی تاکید ہے اور اس ک ی حقیقت سے کوئ ی انکار نہیں کرسکتا سوا خوارج و نواصب اور ضدی کینہ تو پرور اور دشمن متعصبین( خذلھ م الل ہ )ک ے جن ہ و ں ن ے اصل ی بات کو برادران اہ ل سنت ک ی نگاہ و ں پر مشتب ہ بنا د یا ہے اور بنات ے ر ہ ت ے ہیں ۔

یہ بدیہی بات ہے ک ہ جو ہ ست یاں اس حکم میں خاتم الانبیاء (ص) سے اس قدر قر یب ہیں اور ذکر میں دوسروں پر مقدم ہیں ان کا دوسروں پر ق یاس کرنا اور دوسروں کو ان ک ے اوپر ترج یح دینا سوا سفاہ ت اور ج ہ الت یا تعصب کے وب ے خبر ی کے اور ک یا ہے ؟

اس موقع پر چونکہ آدھی رات گزرچکی تھی۔ اور بعض حاضرین جلسہ کے چہروں پر کسل مندی کے


آثار ظاہر تھے ۔ لہذا ہم لوگوں نے نشست کو ختم کردیا اور چائے نوشی اور اس اقرار کے بعد کہ کل شب میں ذرا سویرے تشریف لائینگے سب حضرات متفرق ہوگئے -

تیسری نشست

شب یک شنبہ 25 رجب سنہ1345ھ

ہم لوگ نماز مغرب سے فارغ ہوچکے تو مولوی صاحبان تشریف لے آئے اور معمولی صاحب سلامت کے بعد چاء نوش میں مشغول ہوئے میں بھی نماز عشاء ختم کرنے کے بعد اطمینان کے ساتھ ان حضرات کی گفتگو سننے کے لیے حاضر ہوا۔

حافظ : قبلہ صاحب کا شب میں جب ہم لوگ اپنے گھروں کو واپس گئے تو میں نے اپنے کو بہت ملامت کی کہ ہم دوسری قوموں کے عقائد میں اس لیے زیادہ غور فکر نہیں کرتے اور (بقول آپ کے) صرف بعض متعصب لوگوں کی کتابوں پر اکتفا کر لیتے ہیں جس سے حقیقت ہم پر ظاہر نہیں ہوتی۔

خیر طلب : جیسا کہ خدائے تعالی نے سورہ نمبر5( انعام ) ، آیت ص150 میں ارشاد فرمایا ہے کہ قل ﷲ الحجة البالغہ ۔ (1) کل شب کی نشست بھی خدائی دلیلوں میں سے ایک دلیل تھی تاکہ اس کے ذریعہ سے آپ حضرات ابتدائے صحبت ہی میں کسی قدر اپنی عادت سے ہٹ کے اور دیدہ انصاف و علم و عقل کے ساتھ میری گزارش پر توجہ کر کے یہ جان لیں کہ جو کچھ میں عرض کررہا ہوں وہ علم عقل اور منطق و حقیقت کی میزان پر تلا ہوا ہے۔اور جو

باتیں پہلے سے آپ حضرات کے سمع مبارک میں پہنچائی گئی ہیں، اور جنہوں نے آپ کے ذہن کو غلط راستہ پر ڈال دیا ہے اور خود غرض متعصب لوگوں کے عناد اور ضد کا نتیجہ ہیں۔

میں خدا کو گواہ کرتا ہوں کہ ان جلسوں میں میرا نظر یہ قطعی طور پر یہ نہیں ہے ۔ کہ گفتگو میں خود غالب رہوں اور آپ حضرات کو مغلوب کروں بلکہ ہمیشہ کی طرح میرا مقصد اور نقطہ نظر حریم تشیع کی طرف سے دفاع اورحق و حقیقت کو نمایاں کرنا ہے۔

حافظ : کل شب کے بیانات میں آپ کے فقرات سے ظاہر ہوا کہ شیعوں کے مختلف طبقے ہیں، تو آپ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ کہدو اے پیغمبر کہ خدا کے لیے کامل حجت ہے۔


شیعوں کے کس طبقے کو برحق اور ان کے اقوال و عقائد کو صحیح سمجھتے ہیں ؟ اگر ممکن ہوتو مطلب واضح ہونے کے کیے ان طبقات کو بیان فرمائیے تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ کس گروہ کے بارے میں ہم کو بحث کرنا چاہیے۔

خیرطلب : میں نے گذشتہ شب میں یہ تو عرض نہیں کیا ہے کہ شیعوں کے مختلف طبقے ہیں بلکہ شیعہ کی جس معنی کے ساتھ میں نے تشریح کی ہے یعنی خدا و رسول(ص) کے فرمانبردار بندے اورآں حضرت(ص) کے حکم سے خاندان رسالت کے پیرور دہ ایک طبقے سے زیادہ نہیں ہیں۔ البتہ چند شعبدہ باز فرقوں نے تشیع کے نام پر اپنی نمائش کر کے بے خبر جاہل لوگوں کو اپنے گرد جمع کر لیا۔ مقدس شیعہ نام سے غلط فائدہ اٹھایا اور باطل عقائد بلکہ کفر و بے دینی کو اس نام سے لوگوں کے درمیان رائج کیا لہذا نا واقف اشخاص نے جو حقائق کی تشخیص نہٰیں کرتے ہیں تاریخ میں لفظ شیعہ سے ان کو موسوم کیا ہے ۔ ان لوگوں کے بنیادی طبقے چار ہیں جن میں صرف دو باقی رہ گئے ہیں اور دو بالکل فنا ہوچکے ہیں۔ اور ان کے ہر طبقے سے اور دوسرے فرقے پیدا ہوئے ان چار فرقوں سے مراد ہیں زیدیہ ، کیسانیہ، قداحیہ اور غلات۔

عقائد زیدیہ

پہلا فرقہ زیدیہ ہے اور وہ ایسے لوگ ہیں جو زید ابن علی ابن الحسین علیہما السلام کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں اور امام زین العابدین علیہ السلام کے بعد زید کو امام مانتے ہیں ، زیدیہ فرقے والے فی الحال یمن اور اس کے اطراف میں کثرت سے ہیں ، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو علوی اور فاطمی شخص عالم و زاہد اور شجاع ہو ، اس کے علاوہ تلوار کے ساتھ خروج کرے اور لوگوں کو اپنی طرف دعوت دے وہ امام ہے اور چونکہ جناب زید نے ہشام ابن عبدالملک اموی کے زمانہ خلافت میں بنی امیہ کے ظلم اور چیرہ دستی کی وجہ سے کوفہ میں خروج کیا اور شربت شہادت نوش فرمایا۔ جیسا کہ پرسوں کی شب میں میں نے ایک موقع پر ان بزرگواروں کی مفصل کیفیت عرض کی ہے۔ لہذا ان کو امام سمجھ کر ان کی پیروی اپنے اوپر لازم جانتے ہیں۔ حالانکہ جناب زید کی منزل اس سے کہیں الگ ہے کہ ان کی طرف ایسی نسبت دیں ۔ جناب زید بنی ہاشم کے بزرگ سادات میں سے تھے۔ زہد، علم، فضل ، فہم، دینداری، پرہیزگاری، عبادت ، شجاعت اور سخاوت میں قوم کے اندر نمایاں اور ہمیشہ قائم اللیل اور صائم النہار تھے۔

رسول اکرم(ص) آں جناب کی خبر شہادت دے چکے تھے جیسا کہ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا :

" وضع رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله و سلّم يده على صلبي فقال: يا حسين يخرج من صلبك رجل يقال له زيد يقتل شهيدا إذا كان يوم القيامة يتخطّى هو و أصحابه رقاب الناس، فيدخلون الجنة "

( یعنی رسول اﷲ(ص) نے اپنا دست مبارک میری پشت پر رکھا اور فرمایا کہ اے حسین(ع)


عنقریب تمہاری صلب سے ایک مرد پیدا ہوگا۔ جس کا نام زید ہوگا وہ شہید قتل ہوگا۔ اور جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ اور اس کے اصحاب لوگوں کی گردنوں پر قدم رکھتے ہوئے بہشت میں داخل ہوں گے۔)

( اور یہ بدیہی بات ہے کہ اصحاب سے وہی لوگ مراد ہیں جنہوں نے خروج کے موقع پر ظلم بنی امیہ کے مقابلے میں ان جناب کے ہمراہ مقاومت کی لیکن خود جناب زید نے کبھی امامت کا دعوی نہیں کیا۔ اور یہ ایک تہمت ہے جو ان پر لگائی گئی ہے ورنہ وہ خود اپنے کو اپنے برادر بزرگوار حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی امامت کا تابع اور مطیع سمجھتے تھے۔ البتہ ان جناب کے بعد چند شعبدہ باز اس اصول کے قائل ہوگئے کہ:

"ليس الامام من جلس في بيته و أرخى عليه ستره، بل الامام كل فاطمي عالم صالح ذي رأي يخرج بالسيف."

( یعنی وہ شخص اور امام نہیں ہے جو گھر میں بیٹھ رہے اور اپنے کو لوگوں سے پوشیدہ رکھے بلکہ ہر وہ عالم، صالح اور صاحب رائے فاطمی امام ہے۔جو خروج بہ شمشیر کرے۔)

لوگوں کو آپ کی امامت کی طرف دعوت دی اور نئی نئی شکلیں ایجاد کر کے اپنے مقاصد حل کرنے کے لیے ایک وکان کھول دی یہ لوگ پانچ فرقوں میں تقسیم ہوئے ۔ مغیریہ ، جارودیہ، ذکریہ، خشییہ اور خلقیہ۔

عقائد کیسانیہ

دوسرا فرقہ کیسانیہ ہے یہ لوگ کیسان غلام و آزاد کردہ علی ابن ابی طالب کے اصحاب شمار کیے جاتے ہیں۔ یہ حسنین علیہما السلام کے بعد امیرالمومنین علیہ السلام کے سب سے بڑے فرزند محمد ابن حنفیہ کی امت کے قائل تھے ۔ لیکن جناب محمدخود ایسا دعوی نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ ان کو سید لتابعین کہا جاتا تھا اور علم زہد ورع و تقوی اور امر مولیٰ کی اطاعت میں مشہور تھے بعض بازی گروہ نے حضرت زین العابدین علیہ السلام کے ساتھ آپ کی مخالفتوں کے قضیہ کو حیلہ بنایا اور آپ کے دعوی امامت کی دلیل قرار دیا ۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ نہیں تھی کہ آپ امامت کے مدعی تھے بلکہ ان مخالفتوں سے جناب محمد کا مقصود امام چہارم حضرت سید سجاد علیہ السلام کی منزل ظاہر کرتا تھا تاکہ اس طریقہ سے اپنے جاہل مریدین اور سادہ لوح معتقدین کو متوجہ فرما دیں کہ میں اس منصب پر فائز نہیں ہوں چنانچہ اسی مسجد الحرام کے اندر حجر اسود کے سامنے ثبوت حق اور حضرت سید سجاد علیہ السلام کی امامت کے بارے میں حجر اسود کے اقرار کے بعد جیسا کہ کتب اخبار و تاریخ میں اس کی تفصیل موجود ہے، ابو خالد کابلی نے ان جناب کے معتقدین کا راس و رئیس تھا محمد حنیفہ کو امام ماننے والوں کی ایک جماعت کے ساتھ ان جناب کی پیروی کرتے ہوئے امامت حضرت سید سجاد علیہ السلام کا اعتراف کیا، لیکن چند مکاروں نے بے عقل اور بے خبر عوام کے ایک گروہ کو اسی عقیدے پر باقی رکھا۔ اور


بہانہ یہ بنایا کہ جناب محمد نے انکسار سے کام لیا ہے اور بنی امیہ کے مقابلہ میں سیاست کا یہی تقاضا بھی تھا ورنہ ان کی امامت مسلم ہے آپ کی وفات کے بعد بھی یہ لوگ اس پر جمے رہے اور کہا کہ جناب محمد مرے نہیں بلکہ جبل رضوی کے غار میں پوشیدہ ہوگئے ہیں ایک زمانہ میں ظاہر ہوں گے اور دنیا کو عدل و داد سے بھر دیں گے ۔ ان کے چار فرقے تھے۔ مختاریہ، کربیہ، اسحاقیہ اور حربیہ، لیکن آج اس عقیدے پر کوئی شخص باقی نہیں ہے۔

عقائد قداحیہ

تیسرا گروہ قداحیہ ہے ان لوگوں کے مذہب کی بنیاد بظاہر تشیع مگر باطنا محض کفر ہے۔ اس مذہب کی اصل تشکیلات میمون ابن سالم یا ( ویصان) معروف بہ قداح اور عیسی جہار لختان کے ہاتھوں مصر میں شروع ہوئیں اور انہوں نے قرآن مجید و اخبار میں اپنی خواہش کے مطابق تاویلات کا دروازہ کھولا ۔ شریعت کے لیے ایک ظاہر اور ایک باطن قرار دیا اور کیا کہ باطن شریعت کی خدا نے پیغمبر کو پیغمبر نے علی(ع) کو انہوں نے اپنے فرزندوں کو اور خالص شیعوں کو تعلیم دی۔ ان کا قول ہے کہ جن لوگوں نے باطن شریعت کو سمجھ لیا وہ ظاہری طاعت و عبادت ی قید سے آزاد اوربے فکر ہوگئے۔

انہوں نے مذہب کی بنیاد سات ستونوں پر قائم کی۔ سات پیغمبروں کے معتقد ہیں۔ سات امام مانتے ہیں اور ساتویں امام کا غائب جانتے ہیں۔ اور ان کے ظہور کے منتظر ہیں۔ یہ دو جماعتوں پر متقسم تھے۔

ناصریہ : مذہب خسرو علوی کے اصحاب جنہوں نے اپنے اشعار و گفتار اور کتابوں میں شیعہ کے نام پر بہت سے لوگوں کو کفر و الحاد کی طرف کھینچ لیا اور طبرستان میں کافی پھیلے ہوئے تھے۔

صباحیہ : یہ دوسری جماعت حسن صباح کے اصحاب تھے جو در اصل معرکا باشندہ تھا لیکن ایران میں آکر قزوین کے اندر واقعہ اسفناک اور الموت کا فتنہ عظیم پرپا کیا اور بکثرت قتل و خونریزی کا باعث بنا جس کی تفصیل تاریخ میں موجود ہے لیکن اس مختصر مجلس میں اس کے مفصل تاریخی حالات بیان کرنے کی گنجائش نہیں۔

عقائد غلات

چوتھی جماعت غالیہ ہے جو تمام قوموں اور فرقوں سے زیادہ پست ہے یہ لوگ تشیع کے نام سے مشہور ہوگئے لیکن یہ سب کےسب کافر نجس اور فاسد و مفسد ہیں ان کے اصلی فرقے سات میں سبائیہ، منصوریہ، غرابیہ،


بزیعینہ، یعقوبیہ، اسماعیلیہ، اور ازدریہ، ان کے حالات اور پیدائش کی تشریح کل کی شب میں مقتضائے مجلس کے لحاظ سے مختصر طور پر عرض کرچکا ہوں ۔ ہم شیعہ امامیہ اثنا عشریہ کی پوری ملت بلکہ دنیا کے سارے مسلمان ان سے اور ان کے عقائد سے بیزار ہیں ہم ان کو ہر نجس سے زیادہ نجس کافر ملحد اور بے دین سمجھتے ہیں۔

کفر والحاد کے قاعدے پر جو عقیدہ بھی صراحتہ یا کنایة شیعوں کے نام سے زبانوں پر مشہور اور بعض کتابوں میں عمدا یا سہوا درج ہوا ہے، وہ زیادہ تراسی گروہ سے ہے جو اپنے کو شیعہ علی کہتا ہے لیکن جماعت شیعہ امامیہ اثنا عشریہ جو دنیا میں اسی کروڑ سے زیادہ تعداد کے مالک ہے ان فاسد عقائد سے دور ہے بلکہ اصلی دین، پاکیزہ مذہب اور شریعت کا لب لباب جو باب علم رسول امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام سے حاصل ہوا ہے انہیں لوگوں کے پاس ملتا ہے۔

عقائد شیعہ امامیہ اثنا عشریہ

پانچواں گروہ شیعہ امامیہ اور فرقہ فقہ اثناعشریہ ہے جو عقل و نقل کے مطابق شریعت کے لب و لباب کا حامل ہے اور در اصل حقیقی شیعہ یہی لوگ ہیں اور وہ چار فرقے فرضی شیعہ ہیں۔

ان میں حقیقی شیعوں کے اعتقاد کا خلاصہ فہرست کے طور پر آپ کے سامنے پیش کیئے دیتا ہوں تاکہ بعد کو ان کی طرف غلط باتیں منسوب نہ کیجئے۔

شیعہ امامیہ کی پوری جماعت ذات واجب الوجود خداوند جل و علا کا اعتقاد رکھتی ہے کہ وہ ایسا واحد یکتا ہے جو اپنا شبیہ و عدیل اور نظیر نہیں رکھتا نہ جسم ہے نہ صورت نہ جوہر ہے نہ عرض ، جملہ صفات مکانیہ سے مبرا و معرا ہے بلکہ سارے اعراض و جواہر کا خالق ہے اور خلق موجودات اور ان پر فیوض نازل کرنے میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بعض عارفین نے پروردگار کی صفات سلبیہ کو شعر میں اس طرح نظم کیا ہے۔

نہ مرکب بود نہ جسم نہ جوہر نہ عرضبے شریک است و معانی تو غنی داں خالق

چونکہ ذات واجب الوجود ہرگز اس قابل نہیں ہے کہ دیکھا جا سکے اور دوسری طرف مخلوق کی ہدایت و رہنمائی بھی ضروری تھی۔ لہذا قوم انسانی سے معیار کے لحاظ سے کامل انبیاء و مرسلین منتخب کر کے ہر زمانہ والوں کے حالات و ضروریات کے مطابق دلائل و براہین ، معجزات ، بینات اور کافی ہدیات سپرد کر کےبھیجے ۔ جن کی تعداد بہت اور بے شمار ہے یہ سب کے سب ان پانچوں اولوالعزم پیغمبروں کے احکام کے ماتحت


نوع بشر کے ہادی و رہنما تھے۔ نوح(ع) شیخ الانبیاء ابراہیم (ع) خلیل الرحمن، موسی (ع) کلیم اﷲ، عیسی(ع) روح اﷲ، اور پیغمبر آخرالزمان خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفے صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم جن کا دین اور شریعت تا روز قیامت باقی اور برقرار ہے۔

جماعت شیعہ کا اعتقاد ہے کہ : "حلال محمّد حلال إلى يوم القيامة، و حرامه حرام إلى يوم القيامة و شريعته مستمرة الی يوم الق ي م ه "

( یعن ی حلال محمد(ص) حلال ہے روز قیامت تک اور حرام آں حضرت(ص) حرام ہے روز قیامت تک اور آپ کی شریعت باقی رہنے والی ہے روز قیامت تک۔)

خدائے تعالی نے سارے نیک و بد اعمال کے لیے ایک جزا اور سزا معین فرمائی ہے جو بہشت یا دوزخ میں بندوں کو دی جائے گی۔

اعمال کی سزا و جزا کے لیے جو دن مقرر ہوا ہے اس کو یوم الجزاء کہتے ہیں کیونکہ دنیا کی عمر ختم ہونے کے بعد خدا اولین و آخرین میں سے تمام نیک و بد مخلوقات کو اسی بدن عںصری جسمانی کیساتھ زندہ کر کے صحرائے محشر میں جمع کرے گا اور حساب و کتاب اور جانچ پڑتال کے بعد ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔

چنانچہ آسمانی کتابوں میں بالعموم اور توریت و انجیل و قرآن مجید میں بالخصوص خبر دی گئی ہے اور ہماری ثابت و محکم اور محقق سند یہی قرآن مجید ہے جو بغیر تحریف و ترمیم کے زمانہ رسول(ص) سے متواتر سند کے ساتھ ہم تک پہنچا ہے ہم اس کے احکام پر حامل ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ عنداﷲ ماجور ہوں گے ہم ان تمام احکام واجبہ کے معتقد ہیں جو اس کتاب مقدس میں درج ہیں جیسے نماز روزہ، زکوة ، خمس اور جہاد وغیرہ۔

اسی طرح جو واجبات و فروعات اور مستحبات و ہدایات رسول خدا(ص) کے ذریعہ ہم کو پہنچے ہیں، ان کے معترف ہیں اور توفیقات الہی سے ان پر عمل کرنے کا عزم بالجزم رکھتے ہیں اور جملہ معاصی اور گناہاں کبیرہ وصغیرہ سے جیسے شراب نوشی، قمار بازی ، زنا ، لواط، سود خوری قتل اور ظلم وغیرہ جن سے قرآن مجید اور احادیث و اخبار میں منع کیا گیا ہے پرہیز کرتے ہیں۔

ہم سب شیعہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جس طرح خدائی احکام و ہدایات کا ایک لانے والا ہوتا ہے جس کو خدا نے منتخب کیا ہو اور آدمیوں کے درمیان پہنچایا ہو اسی طرح وصی و خلیفہ اور دین کا محافظ بھی خدا کی طرف سے منتخب ہونا چاہئیے جو پیغمبر (ص) کے ذریعہ امت میں پہچنوایا جائے چنانچہ سارے انبیاء نے خدائے تعالی کے حکم سے اپنے ؟؟؟؟؟ تعارف کرایا اور پیغمبر خاتم (ص) نے بھی جو ان سب سے زیادہ اکمل و افضل تھے فساد و اختلاف سے بچانے کے لیے امت کو اس حال پر نہیں چھوڑا بلکہ سنت جاریہ کے مطابق پروردگار کے حکم سے امت والوں کے درمیان اپنے اوصیاء کا اعلان فرما دیا۔

رسول اکرم(ص) کے ان منصوص اوصیاء کی تعداد جو خدا کی طرف سے معین ہوئے ، بارہ ہے۔


یعنی ان میں اول سید الاوصیا علی ابن ابی طالب(ع) دوسرے حسن(ع) تیسرے حسین(ع) چوتھے علی زین العابدین(ع) پانچویں محمد باقر(ع) چھٹے جعفر صادق(ع) ساتویں موسی کاظم (ع) آٹھویں علی رضا(ع) نویں محمد تقی (ع) دسویں علی نقی(ع) گیارہویں حسن عسکری(ع) اور بارہویں محمد مہدی(عج) جو حجتہ قائم ہیں آپ نگاہوں سے غائب ہیں لیکن دنیا موجود ہیں اور اﷲ ان کے ذریعہ زمین کو اس طرح عدل و داد سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے پر ہوچکی ہوگی۔(مترجم)

شیعہ امامیہ کا اعتقاد یہ ہے کہ یہ بارہ امام برحق خدا کی جانب سے پیغمبر(ص) کے ذریعہ ہم کو پہنچنوائے گئے ہیں جن سے بارہویں امام نے واضح اور متواتر اخبار کی بنا پر جو آپ کے علماء سے بھی بکثرت منقول ہیں۔ غیبت اختیار فرمائی جیسا کہ دوسرے انبیاء و اوصیاء کے زمانوں میں بھی غیبت واقع ہوتی رہی ہے۔ اس مقدس وجود کو خدا نے رفع ظلم اور اشاعت عدل کے لیے محفوظ رکھا ہے۔ یہ وہ مصلح کل ہے کہ سارے اہل عالم ایسے مصالح کے ظہور کا انتظار کر رہے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ جماعت شیعہ ان جملہ احکام کی جو قرآن مجید میں موجود ہیں اور ان اخبار صحیحہ کی معتقد ہے جو معتبر راویوں کے ذریعہ اہل بیت طہارت(ع) و عترت رسول(ص) اور آں حضرت کے نیک سیرت اور مومن اصحاب خاص کے سلسلے سے اس کو پہنچے ہیں اول باب طہارت سے لےکر آخر باب دیات تک میں خدائے تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھ کو اس کی توفیق عطا فرمائی کہ ماں باپ کی تقلید میں نہیں بلکہ تحقیق و منطق اور برہان کے ذریعہ ان مقدس عقائد کا معتقد ہوں اور اس دین و مذہب پر فخر کرتا ہوں جو شخص اس دین و مذہب میں کلام رکھتا ہو --- شک و شبہ اور فریب میں مبتلا ہو تو میں خدا کی مدد سے شبہات کو دور کرنے و حقائق کو ثابت کرنے کے لیے -- اتنےمیں موذن کی آواز بلند ہوئی اور نماز کا وقت آگیا نماز سے فراغت اور چائے نوشی کے بعد جناب حافظ صاحب نے سلسلہ کلام شروع کیا۔)

حافظ : قبلہ صاحب میں بہت ممنون ہوا کہ آپ نے شیعہ فرقوں کے حالات کی تشریح فرمائی لیکن آپ کی کتب اخبار و ادعیہ میں ایسے مطالب وارد ہوئے ہیں جو بظاہر آپ کی گفتگو کے بر خلاف خاص طور پر اثناء عشری شیعوں کے کفر و الحاد کو ثابت کرتے ہیں۔


خیر طلب : بہتر ہے کہ وہ اخبار و ادعیہ اور اشکال کے مواقع بیان فرمائیے تاکہ حق ظاہر ہو جائے۔

حدیث معرفت پر اعتراض

حافظ :- میں نے ب ہ ت س ی حدیثیں دیکھی ہیں لیکن جو اس وقت پیش نظر ہے ک ہ و ہ یہ ہے ک ہ تفس یر صافی میں جو آپ کے ا یک جلیل القدر عالم اور مفسر فیض کاشانی کی لکھی ہ وئ ی ہے ۔ ا یک حدیث نقل کرتے ہیں کہ ا یک روز حضرت حسین شہید کربلا اپنے اصحاب ک ے سامن ے ک ھڑے ہ وئ ے اور فرما یا ۔ "ا یھ ا الناس ان اللہ تعال ی جل ذکرہ ما خلق العباد الا ل یعرفوہ فاذا عرفوہ عبدو ہ واذا عبدو ہ استغنو بعبا دت ہ عن عباد ۃ من سواہ قال رجل من اصحاب ہ باب ی انت واخی یابن رسول اللہ فما معرف ۃ اللہ ؟قال معرف ۃ اھ ل کل زمان امام ھ م الذ ی تجب علیھ م طاعتہ " ۔ ( یعنی اے لوگو خداوند عالم جلّ ذکرہ ن ے خلق ن ہیں کیا ہے بندو ں کو ل یکن اپنی معرفت کے لئ ے اور جب بندو ں ن ے اس کو پ ہ چان ل یا تو اس کی عبادت کی اور جب اس کی عبادت کی تو اس کی عبادت کی وجہ س ے اس ک ے ما سوا ک ی عبادت سے مستغن ی ہ وگئ ے آپ کے اصحاب م یں سے ا یک شخص نے عرض ک یا کہ م یرے باپ بھ ائ ی آپ پر فدا ہ و ں ا ے فرزند رسول (ص) ،معرفت ال ہی کی حقیقت کیا ہے ؟ فرما یا ہ ر زمان ے والو ں کا اپن ے اس امام کو پ ہ چاننا جس ک ی اطاعت ان پر فرض ہے ۔

اعترض کا جواب

خیر طلب:- سب سے پ ہ ل ے تو حد یث کے سلسل ہ اسناد ک ی طرف توجہ کرنا چائ یے کہ آ یا یہ حدیث صحیح ہے یا موثق ومعتبر ،حسن ہے یا ضعیف ،قابل توجہ ہے یا مردود ؟ اگر فرض کر لیا جائے ک ہ صح یح ہے تو توح ید کے بار ے م یں آیات قرآن مجید اورآل اطہ ار وائم ہ ہ د ی علیھ م السلام کے سلسل ے میں احادیث متواترہ ک ے نصوص صر یحہ کو خبر واحد کی وجہ س ے اپن ے ک ھ ل ے ہ وئ ے مطلب س ے پ ھیرا تو نہیں جاسکتا ۔

آپ توحید کے بار ے ان سار ے اخباروآحاد یث ،ائمہ د ین کے ارشادات اور ان ک ے مناظرو ں جو ہ مار ے بزرگان د ین اور ائمہ اثناعشر ن ے مناسب موقعو ں پر مادّ یین اور دہ ر یین سے فرمائ ے ہیں اور خالص توحید کو ثابت فرمایا ہے ک یونکہ نہیں دیکھ ت ے اور ان پر پرتوجہ ک یوں نہیں دیکھ ت ے ؟ اور ان پر توجہ ک یوں نہیں فرماتے ؟ درآنحال یکہ شیعوں کی تمام خاص خاص


تفسریں اور کتب اخبار جیسے توحید مفضل وتو حید صدوق اوربحار الانوار علامہ مجلس ی علیہ الرحمۃ کی کتاب توحید اور دیگر بڑے ب ڑے علمائ ے ش یعہ امامیہ کی کتب توحید یہ اہ ل ب یت طاہ ر ین(ص)کی متواتر حدیثوں سے چ ھ لک ر ہی ہیں ۔

آپ چوتھی صدی کے مفاخر علمائ ے ش یعہ میں سے ابو عبد الل ہ محمد بن نعمان معروف ب ہ "مف ید" متوفی سنہ 413 ھ کا رسال ہ "النّکت الاعتقاد یۃ"اور انہیں بزرگوار کی تالیف "اوائل المقالات فی المذاھ ب والمختاران"کا مطالع ہ ک یوں نہیں فرماتے ن یز ہ مار ے ش یخ اجل ابو منصور احمد بن علی ابن ابی طالب الطبرسی کی کتاب "احتجاج"کی طرف کیوں رجوع نہیں کرتے تاک ہ آپ کو پت ہ چل ے ک ہ امام برحق حضرت امام رضا عل یہ السلام نے مخالف ین ومنکرین توحید کے مقابل ے م یں کس طرح خالص توحید کو ثابت فرمایا ہے ن ہ ک ہ آپ اس ی فکر میں پڑے ہ وئ ے ہیں کہ کچ ھ واحدو متشابہ خبر یں ڈھ ون ڈ نکال یں اور انہیں کا سہ ارا ل ے کر ش یعوں پر لعن طعن کریں ۔

کیا خوب کہ تا ہے شاعر عرب :

اتبصر فی العین منی القذی ----- وفی عینک الجذع لاتبصر

(یعنی آیا میری آنکھ کاتنکا ڈھ ون ڈھ ت ے ہ و اور اپن ی آنکھ کا ش ہ ت یر نہیں دیکھ ت ے ؟کنایہ یہ ہے ک ہ م یرا چھ و ٹ ا ع یب دیکھ ت ے ہ و اور اپنا ب ڑ ا ع یب نظر نہیں آتا یہ مثل اس لئے پ یش کر رہ ا ہ و ں ک ہ آپ اپن ی کتابوں پر غور ن ہیں فرماتے تاک ہ ان ک ے اندر ا یسے خرافات ومو ہ وما ت بلکہ کفر یات نظر آئیں ۔ " یضحک بہ الثکل ی" (یعنی جس پر پسر مردہ عورت ب ھی ہ نس د ے :مترجم) اورپ ھ ر شرم ک ی وجہ س ے سر ن ہ ا ٹھ ائ یں یہ ا ں تک کہ آپ ک ی معتبر صحاح کے اندر ب ھی اس قدر مضحکہ خ یز روایتیں منقول ہیں کہ عقل مب ہ وت اور ح یران ہ وجات ی ہے ۔

حافظ:- مضحکہ خ یز در اصل آپ کے الفاظ ہیں کہ ا یسی کتابوں پر ع یب لگارہے ہیں جو عظمت وبزرگی میں اپنا جواب نہیں رکھ ت ی ہیں خصوصیت کیساتھ صحیح بخاری اور صحیح مسلم جن کے بار ے م یں عام طور سے ہ مار ے علماء کا اتفاق ہے ک ہ ان ک ے اندر جتن ی حدیثیں ہیں وہ سب قطعی طور پر صحیح ہیں ۔ اوراگر کوئ ی شخص ان دونوں کتابو ں کا اوران ک ے اندر مندرج ہ اخبار کا انکار کر ے اور ان کو غلط بتائ ے تو درحق یقت اس نے اصل مذ ھ ب سنت وجماعت کا انکار ک یا ،کیونکہ قرآن مجید کے بعد ا ہ ل سنت ک ے اعتبار کا دارومدار ان ہیں دونوں بزرگ کتابو ں پر ہے جیسا کہ اگر آپ ک ی نظرسے گزرا ہ و تو ابن حجر مک ی نے صواعق محرق ہ ک ے شروع م یں لکھ ا ہے ۔ "الفصل ف ی بیان کیفیتھ ا رای کیفیۃ خلافۃ ابی بکر روی الشیخان البخاری ومسلم فی صحیحھ ا الذین ھ ما اصح الکتب بعد القرآن اجماع من یعتد بہ "(فصل اس ک یفیت کے ب یان میں (یعنی کیفیت خلافت ابی بکر)شیخین یعنی بخاری ومسلم نے اپن ی صحیحین میں جو با اجماع امت قرآن کے بعد تمام کتابو ں م یں سے سب س ے ز یادہ صحیح ہیں کیونکہ امت نے ان ک ی قبولیت پر اجماع کیا ہے


اور جس چ یز پر امت کا اجماع ہ و و ہ قطع ی ہے ل ہ ذا بخار ی اور صحیح مسلم میں جتنی حدیثیں درج ہیں وہ قطع ی طور پر صادر ہ وئ ی ہیں ۔ ل ہ ذا کوئ ی شخص یہ کہ ن ے ک ی جرات کیونکر کر سکتا ہے ک ہ ان دونو ں کتابو ں م یں کفریات اور خرافات وموہ ومات موجود ہیں ؟

صحیحین بخاری ومسلم میں خلاف عقل روایتیں

خیرطلب :- اول تو آپ کے ب یان میں اس جملے پر ک ہ دونو ں کتاب یں ساری امت کی نظر میں قابل قبول ہیں ،علمی اعتراضات قائم ہیں اور ابن حجر کے حوال ے س ے آپ کا یہ دعوی دس کروڑ صاحبان علم وعمل مسلمانو ں ک ے نزد یک علمی عملی ،منطقی طور سے بلکل ب ے وقعت ہے ل ہ ذا اس موقع پر امت کا اجماع ویسا ہی ہے اجماع ہے جس ک ے آپ صدر اسلام م ین امر خلافت کے لئ ے قائل ہیں ۔

دوسرے جو کچھ م یں کہہ ر ہ ا ہ و ں دل یل اور برہ ان ک ے سات ھ ہے ۔ آپ حضرات ب ھی اگر خوش عقیدگی کی آنکھ س ے ن ہیں بلکہ حق یقت ہیں نگاہ س ے ان کتابو ں کو ملاحض ہ فرمائ یں تو جو کچھ م یں دیکھ رہ ا ہ و ں و ہی آپ کو بھی نظر آئے گا ۔ اور ہ مار ے اور سار ے ا ہ ل عقل ک ی طرح ان کے مندرجات س ے متح یر ومتبسم ہ و ں گ ے ۔ ج یسا کہ آپ ک ے ب ہ ت س ے اکابر علماء ج یسے دار قطنی و ابن حزم اور شہ اب الد ین احمد بن محمد قسطلانی" ارشاد الساری"میں ، علامہ ابو الفضل جعفر بن ثعلب شافعی "کتاب الامتاع فی احکام السماع " میں ، شیخ عبد القادر بن محمد قریشی حنفی" جواہ ر المض یۃ فی طبقات الخفیہ " میں ،شیخ الاسلام ابو زکریا ئے نوو ی" شرح صحیح" میں شمس الدین علقمی" کوکب منیر شرح جامع الصغیر" میں اور ابن القیم "زاد المعاد فی ہ د ی خیر العباد " میں بلکہ سار ے حنف ی علماء اور دوسرے سن ی اکابر صحیحین کی بعض احادیث پر تنقید اور نکتہ چ ینی کر چکے ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ صح یحین کے اندر ب ہ ت س ی ضعیف اور غیر صحیح حدیثیں موجود ہیں چونکہ بخار ی اور مسلم کا مطمع نظر حدیثوں کو جمع کرنا تھ ا ن ہ ک ہ ان ک ی صحت پر غور وخوص کرنا ۔ آپ ک ے ب عض محقق علماء جیسے کما ل الدین جعفری ثعلب نے صح یحین کی روائتوں ک ے فضائح و قبائح ب یان کرنے اور ان ک ے مثالب ومعائب ظا ہ ر کرن ے م یں سعی بلیغ کی ہے اور اس بار ے م یں روشن اور آشکار دلائل وبراہین قائم کئے ہیں ۔

لہ ذا تنہ ا ہ م ہی مطالب کی تحقیق نہیں کرتے ہیں بلکہ آپ ک ے نشان ہ ملامت ن ہیں بلکہ آپ ک ے اکابر علماء ن ے ب ھی جو حقیقتوں کی جانچ کرتے ہیں اسی طرح کے ب یانات دیئے ہیں۔

حافظ :- بہ تر ہے اپن ے دلائل وبرا ہین حاضرین جلسہ ک ے سامن ے ب یان کیجیئے تاکہ صح یح فیصلہ کر سکیں ۔


خیر طلب :- اگر چہ اس وقت ہ مار ی بحث کا موضوع یہ نہیں تھ ا اور اگرم یں اس بحث میں پڑ نا چا ہ و ں تو آپ ک ے سوال کا سلسل ہ چ ھ و ڑ نا پ ڑے گا ل یکن مقصد ثابت کرنے ک ے لئ ے مختصر طور پر چند نمونو ں ک ی طرف اشارہ کئ ے د یتا ہ و ں ۔

رویت باری تعالی کے بار ے م یں اہ ل سنت ک ی چند روایتیں

اگر آپ حلول واتحاد کے کفر آم یز روایات اور خدائے تعال ی کی جسمانیت اور رویت کا عقیدہ کہ و ہ باختلاف عقائد دن یا میں دیکھ ا جاتا ہے یا آخرت میں دیکھ ا جائے گا ۔ (ج یسا کہ جنبل ی اور اشعری سنیوں کا ایک گروہ اس کا قائل ہے )مطالع ہ کرنا چا ہیں تو اپنی معتبر کتابوں ک ی طرف رجوع کیجیئے خصوصا صحیح بخاری جلد اول "باب فضل السجود من کتاب الاذان "صفحہ 175 پر آپ کو کاف ی ذخیرہ ملے گا ۔ م یں نمونے ک ے طور پر ان ہیں ابواب میں سے دو روا یتیں آپ کے سامن ے پ یش کرتا ہ و ں ۔ ابو ہ ر یرہ سے روا یت کرتے ہیں "ان النّار تذف وتتقظ تقیظا شدیدا فلا تسکن حتی یضع الرب قدمہ ف یھ ا فتقول قظ قظ حسبی حسبی" ۔ ( یعنی جہ نم ک ے شعلو ں ک ی آواز اور جوش وخروش بڑھ تا جاتا ہے اور اس م یں سکون نہ ہ وگا یہ ا ں تک کہ خدا اس م یں اپنا پاؤں ڈ ال د ے گا تو ج ہ نم ک ہے گا بس بس م یرے لئے کاف ی ہے م یرے لئے ک افی ہے ۔

نیز ابوہ ر یرہ نے روا یت کی ہے ک ہ لوگو ں ک ی ایک جماعت نے رسو ل الل ہ س ے سوال ک یا "هل تری ربنا یوم القیمة قال نعم هل تضارون فی رو یة الشمس بالظههیرة صحوا لیس معها سحاب قالوا لا یا رسو ل الله وهل تضارون فی رویة القلم لیلة البدر صحوا لیس فیها سحاب قالوا لا یا رسول الله قال ما تضارون فی رویة الله یو م القیامة الا کما تضارون فی رویة احدهما اذا کان یو م القیامة اذن مؤذن لتبع کل امة ما کانت تعبد فلا یبقی احد کان یعبد غیر الله من الاصنام الانصاب الا یتسا فظون فی النار حتی اذا لم یبق الا من کان یعبد الله من برونا جر اتاهم رب العالمین فی ادنی صورة من التی را ‎‎ ؤه فیها فیقول انا ربّکم فیقولون نعوذ بالله منک لا نشرک با الله شیئا بینکم وبینه ایة فتعرفون فیها فیقول انا ربکم فیقولون نعم فیکشف الله عن ساق ثم یرفعون روؤسهم وقد تحول فی صورة التی راؤه فیها اول مرّة فقال انا ربکم فیقولون انت ربنا "

(یعنی کیا ہ م لوگ ق یامت کے روز اپن ے پرور دگار کو د یکھیں گے ؟ فرما یا ہ ا ں ،ک یا ظہ ر ک ے وقت جس روزآسمان پر ابر ن ہ


ہ و آفتاب کو د یکھ ن ے سے تم کو کوئ ی نقصان پہ نچتا ہے ؟لوگو ں ن ے عرض ک یا نہیں ، فرمایا جن راتوں م یں آسمان پر بادل نہ ہ و ک یا ماہ کامل د یکھ ن ے سے تم ہ ا را کوئی ضرر ہ وتا ہے ۔ عرض ک یا نہیں ،فرمایا تو قیامت کے دن الل ہ کو د یکھ ن ے سے ب ھی تم کو کوئی ضرر نہیں پہ نچ ے گا ج یسا کہ ان دونو ں ک ے د یکھ ن ے سے تم ہ ارا کوئ ی نقصان نہیں ہ وتا ۔ جب ق یامت کا دن ہ وگا تو خدا ک ی طرف سے اعلان ہ وگا ک ہ ہ ر گرو ہ اپن ے معبود کی پیروی کرے ،پس الل ہ ک ے سوا بتو ں ک ی پرستش کرنے والا کوئ ی شخص ایسا باقی نہ ر ہے گا جو ج ہ نم م یں نہ ج ھ ونک د یا جائے ۔ یہ ا ں تک کہ ن یک و بد لوگوں م یں سے سوا ان افراد ک ے جن ہ و ں ن ے الل ہ ک ی پرستش کی ہ وگ ی اور کوئی جہ نم س ے با ہ ر ن ہیں رہے گا ، اس وقت پروردگار عالمین ایک خاص صورت میں ان کے پاس آئ ے گا ک ہ و ہ سب اس کو د یکھیں پھ ر فرمائ ے گا ک ہ م یں تمہ ارا خدا ہ و ں مومن ین عرض کریں گے ک ہ ہ م ت یری خدائی سے خدا ک ی طرف پناہ مانگت ے ہیں ۔ہ م و ہ لوگ ن ہیں ہیں جو خدا کے سوا کس ی اور کی عبادت کریں خدا کہے گا کہ آیا تمہ ار ے اور خدا ک ے درم یان کوئی ایسی نشانی ہے جس کو د یکھ کر تم اسے پ ہ چان لو ؟ و ہ ک ہیں گے ہ ا ں اس وقت الل ہ اپن ے پاؤ ں ک ی پنڈ ل ی کھ ول د ے گا( یعنی اپنے پاؤ ں کو عر یان کرکے نشان د ہی کے گا)اور مومن ین اپنے سر ا ٹھ ائ یں گے تو الل ہ کو اس ی صورت میں دکھیں گے جس میں پہ ل ی بار دیکھ ا تھ ا پ ھ ر و ہ ک ہے گا ک ہ م یں تمہ ارا پروردگار ہ و ں اور و ہ سب ب ھی اقرارکریں گے ک ہ تو ہ مارا خدا ہ و ۔

آپ کو خدا کا واسطہ انصاف ک یجئے کیا اس طرح کی باتیں کفر انگیز نہیں ہیں ۔ ک ہ خدا اپن ے کو مجسم اور عنصر ی صورت میں انسان کے سامن ے پ یش کرے اور اپن ی پنڈ ل ی کھ ول ے ؟ ہ مار ی گفتگو کے ثبوت م یں سب سے ب ڑی دلیل یہ ہے ک ہ مسلم ابن حجاج ن ے اپن ی صحیح میں رویت باری تعالی کے اثبات م یں ایسے با ب کا افتتاح کیا ہے ۔ اور ابو ہ ر یرہ ،زید ابن اسلم، سوید ابن سعید وغیرہ سے ا یسی گھڑی ہ وئ ی روائتیں نقل کی ہیں کہ آپ ک ے ب ڑے ب ڑے علماء ج یسے ذہ ب ی نے " م یڑ ان الاعتدال "میں ،سیوطی نے کتاب" اللئال ی المصنوعۃ فی احادیث الموضوعۃ ّ "میں ، سبط ابن جوزی نے "الموضوعات " م یں ان کے وضع ی ہ ون ے کو دلائل ک ے سات ھ ثابت ک یا ہے ۔ اگر ان لوگو ں ک ے روا یات کو باطل ثابت کرنے وال ی دلیلیں نہ ب ھی ہ وت یں ،تو قرآن مجید کی بکثرت آئتیں صریحی طور پر رویت کی نفی کر چکی ہیں مثلا سورہ 6 (انعام) آیت 103 میں ارشاد ہے "لا تدرکوا الابصار وهو یدرک الابصار وهو اللطیف الخبیر" ( یعنی اس کو کوئی آنکھ درک ن ہیں کرتی ہے اور و ہ سب آنک ھ و ں کا مشا ہ د ہ فرماتا ہے اور و ہ لط یف وغیرمرئی اور ہ رچ یز سے آگا ہ ہے ) ن یز سورہ 7(اعراف)آ یت 139 میں قصّہ موس ی علیہ السلام و بنی اسرائیل کے سلسل ے م یں نقل فرماتا ہے ک ہ جس وقت بن ی اسرائیل کے دباؤ س ے مجبور ہ وکر حضرت موس ی علیہ السلام نے مقام مناجات م یں عرض کیا "ربّ ارنی انظر الیک قال لن ترانی " (یعنی خداوندا اپنے کو م یرے سامنے تاک ہ ظا ہ ر فرما د ے تاک ہ م یں تجھ کو مشاہ د ہ کرو ں ، تو خدا ن ے جواب م یں ارشاد فرمایا کہ تم مج ھ کو ہ ر گز ابد تک ن ہیں دیکھ و گے ۔


سید عبد الحی :- (امام جماعت اہ ل تسنن)ک یا مولا علی کرم اللہ وج ہ س ے منقول ن ہیں ہے ک ہ آپ ن ے فرما یا "لم اعبد ربا لم ارہ "( یعنی میں ایسے خدا کی عبادت نہیں کرتا ہ و ں جس کو د یکھ ا نہ ہ و، ل ہ ذا معلوم ہ وتا ہے ک ہ خدا د یکھ ن ے کے قابل ہے ک ہ عل ی ایسا فرما رہے ہیں ۔

اللہ تعالی کے عدم رو یت پر دلائل اخبار

خیر طلب:- جناب نے حد یث کے صرف ا یک جملے ک ی طرف اشارہ فرما یا ہے ، م یں آپ حضرات کی اجازت سے پور ی حدیث پڑھ ر ہ ا ہ و ں ۔ جس س ے آپ کو خود ہی اپنا جواب معلوی ہ وجائ ے گا ۔ اس حد یث کو شیخ بزرگ ثقۃ الاسلام محمد بن یعقوب کلینی نے "اصول کافی" کتاب توحید "باب ابطال الروئۃ ا للہ "م یں امام بحق ناطق حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے اس طرح نقل ک یا ہے ک ہ آپ ن ے فرما یا ۔ "جاء حبر الی امیر المومنین فقال یا امیر المومنین هل رایت ربک حین عبدته ؟ فقال ماکنت اعبد ربا لم اره ،قال وکیف ریته؟ قال لا تدرکه العیور فی مشاهدة الابصار ولکن راته القلوب بحقائق الایمان " ( یعنی ایک(یہ ود ی)عالم نے ام یر المومنین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ یا امیر المومنین آیا عبادت کے وقت آپ ن ے خدا کو د یکھ ا ہے ؟ حضرت ن ے فرما یا میں ایسے خدا کی عبادت نہیں کرتا جس کو دیکھ ا نہ ہو۔ اس ن ے عرض ک یا آپ نے اس کو ک یون کر دیکھ ا ؟ فرمایا اس کو ظاہ ر ی اور مادی آنکھیں نہیں دیکھ ت ی ہیں دل اس کو حقائق ایمان کے نور س ے د یکھ ت ے ہیں ) چنانچہ ام یر المومنین کے اس جواب س ے ظا ہ ر ہ وتا ہے ک ہ عنصر ی اور جسمانی آنکھ س ے ن ہیں بلکہ ا یما ن قلبی کے نور س ے د یکھ نا مراد ہے اور یہی مطلب خود کلمہ "لن" س ے ظا ہ ر ہے ک یونکہ جیسا آپ کو معلوم ہے "لن" نف ی ابدی کے لئ ے استعمال ہ وتا ہے اور اس آ یہ شریفہ میں تاکید ہے ک ہ "لا تدرک ہ الابصار "ک ے سات ھ یعنی خدا ہ رگز د نیا و آخرت میں کسی صورت سے د یکھ ا نہیں جاتا ۔

اس مقصد پر اتنے عقل ی اور نقلی دلائل وبراہین قائم ہیں کہ علاو ہ علمائ ے محقق ین اور مفسرین شیعہ کے خود آپ ک ے اکابر علماء ج یسے قاضی بیضاوی اور جار اللہ زمخشر ی نے اپن ی تفسیر میں ثابت کیا ہے ک ہ الل ہ تعال ی کو دیکھ نا محال عقلی ہے ۔

اور جو شخص کیا وہ دن یا اور کیا آخرت میں خدا کی رویت کا معتقد ہ و اس ن ے قطعا خدا کو اپن ی نظر میں محدود قرار دیا اور


اس کی ذات بابرکات کے لئ ے جسمان یت کا قائل ہ وا ک یونکہ جب تک جسم عنصری نہ ہ و ظا ہ ر ی اور عنصری آنکھ و ں س ے د یکھ ا نہیں جا سکتا اور اس طرح کا عقیدہ قطعی کفر ہے ج یسا کہ ہ مار ے اور آپ ک ے ب ڑے ب ڑے علماء ن ے اپن ی تفسیروں اور علمی کتابوں م یں ذکر کیا ہے ، ل یکن چونکہ اس وقت یہ ہ مار ی بحث کا موضوع نہیں لہ ذا بطور ثبوت چند جمل ے عرض کر دئ ے گئ ے ہیں ۔

البتہ ان ڈھیروں خرافات وموہ ومات ک ے سلسل ے م یں جو آپ کی معتبر کتابوں م یں درج ہیں میں نے نمون ے ک ے طور پر دو روا یتوں کا خلاصہ نقل کرتا ہ و ں تاک ہ آپ حضرات بعض واحد خبرو ں ک ے ذر یعے جو تشریح وتاویل کے قابل ہیں شیعوں کی کتابوں س ے ا یراد نہ فرمائ یں ۔

آپ کا خیال ہے ک ہ صحاح ست ہ اور بالخصوص صح یح بخاری اور صحیح مسلم کتاب وحی کے مانند ہیں لیکن میں التماس کرتا ہ و ں ک ہ آپ حضرات ت ھ و ڑی دیر کے لئ ے تعصب س ے ہٹ کر نگا ہ انصاف س ے ان ک ی احادیث وروایات پر غور فرمائیں تاکہ اس قدر غلو ک ی نوبت نہ آئ ے ۔

خرافات صحیحین کی طرف اشارہ

بخاری نے اپن ی صحیح کتاب غسل "باب من اغتسل عریانا "میں ،مسلم نے اپن ی صحیح جزء دوم "باب فضائل موسی "میں ،امام احمد بن حنبل نے اپن ی مستند جزء دوم صفحہ 315 م یں اور آپ کے دوسرے علماء ن ے ابو ہ ر یرہ سے نقل ک یا ہے ک ہ بن ی اسرائیل کے درم یان یہ رسم تھی کہ سب لوگ مل کر برہ ن ہ پان ی میں جاتے ت ھے اور اس حالت س ے ن ہ ات ے ت ھے ک ہ آپس م یں ایک دوسرے ک ی شرمگا ہ ک ی طرف بھی نظر کر تے ت ھے یہ عمل ان کے یہ ا ں معیوب نہ ت ھ ا البت ہ ان م یں صرف حضرت موسی علیہ السلام تن تنہ ا پان ی میں اترتے ت ھے تا ک ہ کوئ ی شخص ان کی شرمگاہ کو نہ د یکھے ۔ بن ی اسرائیل کہ ت ے ت ھے ک ہ موس ی اس وجہ س ے اک یلے نہ ان ے ک ے لئ ے جات ے ہیں اور ہ م لوگو ں س ے عل یحدہ رہ ت ے ہیں عکہ ان ک ے اندر نقص ہے او ر قطعی طور پر وہ فتق(فتق ،خص یہ بڑ ا ہ ون ے ک ی بیماری ۔ہ رن یا )کے عارض ے م یں مبتلا ہیں ،لہ ذا یہ نہیں چاہ ت ے ک ہ ہ م لوگ ان کو د یکھیں ایک روز حضرت موسی غسل کرنے ک ے لئ ے در یا کے کنار ے گئ ے کپ ڑے اتار کر ا یک پتھ ر پر رک ھ د یئے اور پانی میں اتر گئے "ففرّ الحجر بثوب ہ فجمع موس ی باثرہ یقول ثوبی حجر ،ثوبی حجر حتی نظر بنو اسرائیل الی سواۃ موسی فقالوا واللہ ما بمو سی من باس فقام الحجر بعد حتی نظر فاخذ موسی ثوبہ فطفق بالحجر ضربا فوالل ہ ان بالحجر ندبا ست ۃ او سبعۃ "(یعنی پتھ ر موس ی کے کپ ڑے ل ے ب ھ اگ ک ھڑ ا ہ وا ،موس ی اس کے پ یچھے جھ پ ٹے اور یہ کہ ت ے جار ہے ت ھے ا ے پت ھ ر م یرے کپڑے ،ا ے پت ھ ر م یرے کپڑے ( یعنی میرا لباس کہ ا ں لئ ے ب ھ اگا جاتا ہے ؟) و ہ پت ھ ر اتنا ب ھ اگا اور موس ی اس قدر برہ ن ہ دو ڑے ک ہ بن ی اسرائیل نے ان ک ی شرمگاہ د یکھ لی اور کہ ا خدا کا ک ی


قسم موسی کے اندر کوئ ی عیب نہیں ہے یعنی فتق نہیں ہے اس ک ے بعد پت ھ ر ک ھڑ ا ہ وگ یا ، اور جناب موسی نے اپن ے کپڑے ل ے لئ ے پ ھ ر کو ڑے س ے اس کو انتا مارا ک ہ خدا ک ی قسم وہ چ ھے یا سات مرتبہ چ یخ چیخ کے رو یا ۔

آپ کو خدا کی قسم ذرا انصاف کیجئے کہ اگر اس ی طرح کا کوئی عمل آپ حضرات میں سے کس ی کے سات ھ پ یش آئے تو کس قدر ذلت ک ی بات ہے ک ہ آپ لوگو ں ک ے درم یان اس طرح سے بر ہ ن ہ اپن ے لباس ک ے پ یچھے دوڑیں کہ سب آپ ک ی شرمگاہ د یکھ لیں۔ فرض ک یجئے کہ اگر ا یسا اتفاق پیش آجائے تو آدمی کہیں کنارے ب یٹھ جاتا ہے تاک ہ لوگ جا کر اس کا لباس ل ے آئ یں نہ یہ کہ بغ یر کسی ستر پوش کے آدم یوں کے ب یچ میں گھ س پ ڑے تاک ہ سب اس ک ی شرمگاہ د یکھیں ۔ آ یا عقل باور کرتی ہے ک ہ موس ی کلیم اللہ ا یسے انسان سے ا یسی حرکت سرزد ہ وئ ی ہ و ۔ کیا یہ یقین آتا ہے ک ہ ک ہ ب ے زبان پت ھ ر حرکت کر ے اور موس ی کے کپ ڑے ل ے ب ھ اگ ے ؟

سید عبد الحی :- آیا پتھ ر ک ی حرکت زیادہ اہ م ہے یا عصا کا اژدہ ا ہ و جانا ؟ پت ھ ر ک ی حرکت بڑی چیز ہے یا وہ نو معجز ے جن ک ی خدا خبر دے ر ہ ا ہے ؟

خیر طلب :-مثل مشہ و ر ہے "خوب ورد ی آموختہ ا ید، لیک سوراخ دعا گم کردہ ا ید"(یعنی آپ نے ورد خوب س یکھ ا ہے ل یکن دعا کا سوراخ کھ و د یا ہے ) جناب محترم ! م یں معجزات انبیاء علیھ م السلام کا منکر نہیں ہ و ں بلک ہ قرآن مج ید کے حکم س ے معجزات او ر خرق عادت پر ا یمان رکھ تا ہ و ں ل یکن آپ تصدیق کریں گے ۔ ک ہ معجزات او رخرق عادات کا ظ ہ ور مقام تحد ی پر ہ وتا ہے تاک ہ اس مظا ہ ر ہ عمل ک ے مقابل ے م یں فریق مخالف کو عاجز اور حق کو ظاہ ر کرد یا جائے تو اس عمل م یں کون سی تحدی کا یاحق کا ظہ ور ت ھ ا ؟ سوا اس ک ے ک ہ رسوائ ی کا سامنا ہ وا اور خدا ک ے رسول ک ی شرمگاہ خلقت ک ے درم یان عریان ہ وئ ی ۔

سید عبد الحی :- اس سے ب ڑھ کر کون سا حق ت ھ ا ک ہ حضرت موس ی کی صفائی پیش کی جائے تاک ہ لوگ سمج ھ ل یں کہ آپ فتق ن ہیں ہے ۔

خیرطلب :-فرض کر لیا جائے ک ہ جناب موس ی علیہ السلام کو فتق ہی تھ ا اس س ے آپ ک ے منصب نبوت کو ک یا نقصان پہ نچ ر ہ ا ت ھ ا پ یغمبروں کے لئ ے جو چ یز عیب ہے و ہ ذات ی نقائص ہیں جیسے اندھ ا ،ب ہ ر ہ ،چ ھ انگل یوں والا،چار انگلیوں والا ، فحش گو ،مفلوج یا مادر زاد مثل ہ ونا وغ یرہ ورنہ جسمان ی نقائص جو عوارض کی وجہ س ے پ یدا ہ وت ے ہیں جیسے کثرت گریہ کے نت یجے میں حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام کا نابینا ہ وجانا ،حضرت ا یوب علیہ السلام کے جسم پر زخم ، جنگ احد م یں حضرت خاتم الانبیاء (ص) کے سر ودندان ک ی شکستگی اور اس طرح کی دو سری چیزیں منصب نبوت کو کوئی ضرر نہیں پہ نچا ت ی ہیں ۔

فتق بھی ایک جسمانی مرض ہے جو بعد کو عارض ہ وتا ہے ل ھ ذا اس م یں کون سی اہ م یت تھی کہ کس ی ایسے معجز ے


اور خرق عادات کے ذر یعہ اس سے برات ثابت ک ی جائے جو پ یغمبر کی ہ تک حرمت اور کشف عورت تک منجر ہ و،تا ک ہ بن ی اسرائیل ان کی شرمگاہ پر نظر کر یں۔ آیا ایسی روایات خرافات و موہ ومات م یں سے ن ہیں کہ جناب موس ی علیہ السلام بغیر ساتر عورتین کے لباس ک ے پ یچھے دوڑیں ، اس قدر غصّہ م یں بھ ر جائ یں اور پتھ ر کو اس طرح س ے مار یں کہ و ہ چ ھ یا سات مرتبہ فر یاد کرے ؟ کتن ے تعجب ک ی بات ہے ک ہ پ یغمبر خدا (ص) کو اتنا بھی نہ معلوم ہ و ک ہ پت ھ ر آنک ھ ، کان اور تاثر ک ی حس نہیں رکھ تا ہے ک ہ اس کو زد وکوب کر یں اور جما د سے نال ہ بلند کرآئ یں۔ نعوذ بالل ہ من ھ ذ ہ الخرافات

ملک الموت کے چ ہ ر ے پر موس ی علیہ السلام کا تھ پ ڑ مارنا

اس خیال سے ک ہ جناب مولو ی سید عبد الحی ابو ہ ر یرہ یا بخاری اور مسلم کی طرف سے جن ہ و ں ن ے اس طرح ک ی گھڑی ہ وئ ی مہ مل روا یتیں نقل کی ہیں ، دفاع اور صفائی کی کوشش نہ فرمائ یں ،ایک اس سے ز یادہ مضحکہ خ یز روایت کی طرف اشارہ کرتا ہ و ں تاک ہ آپ حضرات یقین کر لیں کہ صحاح ک ے بار ے م یں جس طرح غلو کیا گیا ہے و ہ ا یسی میں نہیں ۔

بخاری نے اپن ی صحیح جلد اول صفحہ 158 اور جلد دوم صفح ہ 163 پرا یک تو "باب من احب الدفن فی الارض المقدسۃ من ابواب الجنائز" میں دوسرے "باب وفات موس ی "جلد دوم میں اپنے عق یدے کیمطابق صحیح اسناد کے سات ھ ابو ہ ر یرہ سے ن یز مسلم نے اپن ی صحیح جلد دوم صفحہ 309 ابو ہ ر یرہ سے ا یک عجیب مہ مل خبر نقل ک ی ہے ک ہ ان ہ و ں ن ے ک ہ ا "جاء ملک الموت ال ی مو سی علیہ السلام فقال لہ اجب ربک ،قال ابو ہ ر یرہ فلطم موسی عین ملک الموت فقفاھ ا ،فرجع الملک ال ی اللہ تعال ی فقال انک ارسلتنی الی عبد لک لا یرید الموت فقفا عینی ، قال فردّ اللہ ع ینہ و قال ارجع الی عبدی فقل الحیاۃ ترید فان کنت ترید الحیواۃ فضع یدک علی متن ثور فما توارت بیدک من شعرہ فانک تع یش بھ ا سن ۃ"۔ ( یعنی ملک اللموت موسی علیہ السلام کے پاس آئ ے اور ک ہ ا ک ہ اپن ے پروردگار ک ی دعوت قبول کیجئیے ! اس پر حضرت موسی نے ان ک ی آنکھ پر ا یسا تھ پ ڑ لگا یا کہ ان ک ی آنکھ پ ھ و ٹ ہی گئی اور وہ کا ن ے ہ وگئ ے ۔ چنانچ ہ ملک اللموت خدا ک ے پاس واپس گئ ے اور ک ہ ا ک ہ ت و نے مج ھ کو اپن ے ا یسے بندے ک ے پا س ب ھیجا جو مرنا ہی نہیں چاہ تا اور م یری آنکھ الگ پ ھ و ڑ د ی ۔ خدا ن ے ان ک ی آنکھ پ ھ ر پل ٹ ا د ی اور فرمایا کہ م یرے بندے ک ے پاس واپس جاؤ اور ک ہ و ک ہ اگر زندگ ی چاہ ت ے ہ و تو ب یل کی پیٹھ پر اپنا ہ ات ھ رک ھ و جتن ے بال تم ہ ار ے بات ھ م یں آجائیں گے ہ ر با ل ک ے عوض ا یک سال زندہ ر ہ وگ ے ۔)


اور امام احمد بن حنبل نے اپن ی مسند جلد دوم صفحہ 315 م یں اور محمد ابن جریر طبری نے اپن ی تاریخ کی جلد اول "تذکرہ وفات موس ی " کے ضمن م یں ابو ہ ر یرہ سے یہی روایت اتنی زیادتی کے سات ھی نقل کی ہے ک ہ زمان ہ حضرت موس ی تک ملک الموت بندوں ک ی روح قبض کرنے کے لئے ظا ہ ر بظا ہ ر اور ک ھ لم ک ھ لا آت ے ت ھے ل یکن جب سے موس ی نے ان ک ے چ ہ ر ے پر ت ھ پ ڑ مارا اور ان ک ی ایک آنکھ پ ھ و ٹ گئ ی اس کے بعد س ے پوش یدہ اور چھ پ کر ک ے آن ے لگ ے (غالبا اس خوف س ے ک ہ جا ہ ل لوگ ک ہیں ان کی دو آنکھیں نہ پ ھ و ڑ د یں ) اس پر مجمع کے اندر ب ہ ت س ے لوگ قہ ق ہ لگا کر ہ نس پ ڑے ۔

اب آپ حضرات سے انصاف چا ہ تا ہ و ں ک ہ ک یا یہ روایت خرافات اور موہ ومات م یں سے ن ہیں ہے ؟جس کو سن کر آپ ہ نس ر ہے ہیں مجھ کو تو ا یسی خبر کے لک ھ ن ے والو ں اور نقل کرن ے والو ں پر تعجب ہ وتا ہے جن ہ و ں ن ے بغ یر سوچے سمج ھے ان ب یہ ود ہ اور موہ وم مطالب کو سپرد قلم کیا ہے ۔

انصاف موجب معرفت اور سبب سعادت ہے

آیا کسی صاحب عقل یہ قبول کر تی ہے ک ہ موس ی کلیم اللہ ج یسا کوئی اولو العزم پیغمبر معاذا اللہ اس قدر ب ے معرفت او ر بد مزاج ہ و ک ہ حکم خدا ک ی اطا عت کے بد ل ے اس ک ے قاصد کو اتنا زور دار ت ھ پ ڑ لگائ ے ک ہ اس ک ی آنکھ ہی جاتی رہے ؟

خدا کے لئ ے بتائ یے کہ اگر کوئ ی شخص یہ کہے ک ہ جناب حافظ صاحب کو ا یک بزرگ شخص نے م ہ مان ی کی دعوت دی ہے اور ان ہ و ں ن ے بجائ ے دعوت قبول کرن ے ک ے پ یغام لا نے وال ے کو ت ھ پ ڑ مار ک ے اس ک ی آنکھ پ ھ و ڑ ڈ ال ی تو کیا آپ کو ہ نس ی نہیں آئیگی اور حافظ صاحب یہ نہیں فرمائیگے کہ ا یسا کہ نا م یری تو ہین ہے ک یونکہ تحصیل علم اور تزکیہ نفس میں ایک عمر صر کردینے کے بعد ک یا میرے اندر اتنا سمجھ ن ے ک ی صلاحیت بھی پیدا نہیں ہ وئ ی کہ پ یغام لا نے وال ے ک ی کوئی خطاء نہیں ہ وت ی ! بلکہ اس ن ے تو م یرا احترام کرتے ہ و ے ایک بزرگ شخصیت کی طرف سے دعوت نام ہ پ یش کیا ۔ جب کس ی کمینے جاہ ل اور سنگدل انسان س ے ب ھی ایسی حرکت سرزد نہیں ہ وت ی تو اولوالعزم پیغمبر کلیم اللہ ن ے جو معرفت ال ہی میں کہیں اولی اور اعلی تھے ک یونکر ممکن ہے ک ہ خدا ک ے طلب کو ناقابل توج ہ سمجھیں بلکہ پ یغام لا نے وال ے فرشت ے کو جس ک ی سوا اپنا فرض ادا کرنے کے اور کوئ ی خطا نہ ت ھی ،تھ پ ڑ مار یں اور کانا بنائیں ۔

پیغمبر وں کو مبعوث کرن ے کا مقصد تو یہ ہے ک ہ و ہ لوگو ں ک ی ہ دا یت کریں اور ان کو حیوانی حرکتوں س ے باز رک ھیں تاکہ و ہ نفس ب ہیمی کے قابو م یں نہ آجائ یں اور ان سے درندگ ی کے آثار ظا ہ ر ن ہ ہ و ں ظلم وتعد ی تو جانوروں پر ب ھی ایک جاہ ل اور ب یوقوف آدمی کی طرف سے ب ھی بری چیز ہے ۔ ن ہ ک ہ اولو العزم پ یغمبر کی طرف سے ا یک ملک مقرب پر جو خدا


کا فرستادہ اور پ یام لانے والا ہ و ۔

ہ ر سننے والا سمج ھ ل ے گا ک ہ ا یسی روایت سراسر جھ و ٹ اور ب ہ تان ہے اور علا و ہ منصب نبوت ک ے عدم معرفت اور ا ہ انت ک ے یا انبیاء عظام کو سارے انسانو ں ک ی نظروں م یں حقیر وذلیل بنانے ک ے قطعا اس ک ے گ ھڑ ن ے والو ں ک ی اور کوئی غرض نہ ت ھی ۔

میں ابو ہ ر یرہ کے ا یسے لوگوں س ے تعجب ن ہیں کرتا ہ و ں ک یونکہ یہ وہ آدم ی تھے جن ک ے متعلق خود آپ ک ے علماء ن ے لک ھ ا ہے ک ہ معاو یۃ کے روغن ی اور لذیذ دسترخوان سے اپنا پ یٹ بھ رن ے ک ے لئ ے حد یثیں وضع کرتا تھ ا اور خل یفہ عمر نے اس ی طرز عمل پر ان کو ایسا تازیانہ لگایا کہ پ یٹھ لہ و ل ہ ان ہ وگئ ی لیکن مجھ کو ح یرت تو ان اشخاص پر ہے جو علم ودانش ک ی بلند منزل پر فائز تھے ک ہ ان ہ و ں ن ے بغ یر سوچے سمج ھے ک یونکر اس طرح کی بے تک ی رویتیں اپنی کتا بوں م یں درج کردیں ۔

اور پھ ر جناب حافظ صاحب ک ے ا یسے دوسرے علماء نس ان کتابو ں کوکلام خدا ک ے قدم ب ہ قدم قرارد یدیا اور بغیر غور و مطالعہ ک ے ک ہ ت ے ہیں "ھ ما اصح الکتب بعد القرآن " یہ دونوں یعنی صحیح بخاری و صحیح مسلم قرآن کے بعد سار ی کتابوں س ے ز یادہ صحیح ہیں (مترجم)) لہ ذا جب آپ ک ی سب سے اونچ ی کتابوں م یں ایسی مہ مل روا یتیں درج ہیں تو آپ کو شیعوں کی کتابوں اور ان اخبار ک ے متعلق جو ان م یں درج ہیں ،اور زیادہ تر توجہیہ و تاویل کے قابل ہیں زبان اعتراض کھ ولن ے کا کوئ ی حق نہیں ہے ۔

میں معذرت کرتا ہ و ں ک ہ ضمن ی باتو ں م یں کافی وقت لگ گیا کیونکہ "الکلام یجر الکلام" بات میں بات نکلتی ہے (مترجم )۔

اب پھ ر اصل مقصد ک ی طرف رجوع کرتا ہ و ں جو حد یث آپ نے نقل ک ی ہے اس ک ے بار ے م یں بحث کرتا ہ و ں اور د یکھ تا ہ و ں ک ہ آ یا یہ خبر قابل حل ہے یا نہیں ۔ بد یہی بات یہ ہے ک ہ اگر کوئ ی نیک اور منصف مزاج عالم اس طرح کی واحد اور مبھ م حد یثوں کو دیکھ تا ہے (جو ہ مار ی،آپ کی کتابوں م یں بکثرت ہیں) تو ہ زارو ں صح یح السند اور صریح خبروں ک ے پ یش نظر اگر یہ قابل اصلاح ہیں ،تو اصلاح کردیتا ہے ورن ہ رد کرد یتا ہے یا کم ازکم خاموشی ہی اختیار کر لیتا ہے ن ہ یا کہ ان کو تکف یر کاحربہ بنا کر اپن ے د ینی بھ ائ یوں پر حملہ ک رے۔

اب اس حدیث کے بار ے م یں چونکہ یہ ا ں تفسیر صافی موجود نہیں ہے ہ م اس ک ے سلسل ہ اسناد س ے ب ھی واقف نہیں ہیں ،نہ یہ معلوم ہے ک ہ کس مقام پر اور کس صورت س ے نقل ک یا ہے ، اور آ یا خود اس کے اوپر کوئ ی نوٹ د یا ہے یا نہیں ہ م کو غور کرنا چائیے کہ قا بل اصلاح ہے یا نہیں ؟ میں تو اپنی کمزور عقل کے مطابق اس حد یث کے لئ ے یہی سمجھ ر ہ ا ہ و ں ک ہ ان حضرات کا ارشاد یا تو متکلمین کے درم یان اس مشہ ور قائد ے پر محمول ہے ک ہ معلول کا پورا علم کو یا علّت کا پورا علم ہے ۔یعنی جب امام کو بحیثیت امام پہ چان ل یا گیا ۔ تو یقینا خدا کو بھی پہ چ ہ ان ل یا ۔


یا مبالغے پر محمول ہے ج یسے کوئی شخص کہے ک ہ جو شخص وز یر اعظم کو پہ چان ل ے گو یا اس نے بادشا ہ کو پ ہ چان ل یا ۔

اور اس مبالغے ک ے لئ ے ا یک قرینہ سورہ توح ید ،ودیگر قرآنی آیات اور وہ اخبار کث یرہ میں جو خود حضرت امام حسین علیہ السلام اور دوسرے ائم ہ معصوم ین علیھ م السلام سے خالص توح ید کے اثبات م یں مروی ہیں لہ ذا ک ہ ا جاسکتا ہے ک ہ اس حد یث سے مراد یہ ہے ک ہ ام ام کی معرفت ان جلیل القدر عبادتوں م یں سے ہے جو جن و انس ک ی غرض خلقت ہیں اور ائمہ معصوم ین علیھ م السلام تے ماثور ز یارات جامعہ م یں "محال معرفۃ اللہ " ک ے یہی معنی ہیں ۔

ہ م ایک دوسرے طر یقے سے ب ھی اس کے معن ی کو بیان کرسکتے ہیں ،جیسا کہ محقق ین نے اس ی طرح کے امور م یں مطلب بیان کیا ہے ک ہ ہ ر فعل کا فاعل اور ہ ر بنا ک ے استحکام س ے پہ چانا جا سکتا ہے چنانچ ہ اس ک ی ہ ر بنا اور ہ ر اثر اسک ے حالات ک ے کس ی پہ لو ک ے لئ ے کامل دل یل ہے چونکہ رسو ل خدا(ص) اور آپ ک ی آل پاک صلوات اللہ عل یھ م اجمعین امکان کے سار ے بلند منازل پر فائز ت ھے ،ل ہ ذا ان س ے ز یادہ محکم اثر اور ان سے ز یادہ جامع مخلوق کوئی اور نہیں تھ ا ۔ نت یجہ یہ کہ معرفت ال ہی کے لئ ے ان س ے ز یادہ واضح اور جامع راستہ کوئ ی اور موجود نہ ت ھ ا ۔ ل ہ ذا محل معرفت خدا یعنی جن بندوں ک ے لئ ے معرفت ممکن ہے ،ان ک ے سوا کوئ ی دوسرا نہیں ہے ۔ اب جس شخص نس ان کو پ ہ چانا گو یا خدا کو پہ چانا ۔ چنانچ ہ ان حضرات ن ے خود فرما یا ۔ "بنا عرف الل ہ بنا عبد الل ہ " یعنی ہ مار ے ذر یعے سے خدا کو پ ہ چانا گ یا اور ہ مار ے ہی ذریعے سے اس ک ی عبادت کی گئی ہے ) یعنی حق تعالی کی معرفت وعبادت کا راستہ ہ مار ے قبض ہ م یں ہے خلاص ہ یہ ہے ک ہ خدا ئ ے تعال ی کی معرفت کے لئ ے واحد اور آخر ی ذریعہ یہی جلیل القدر خاندان ہے اگر بغ یر اس خانوادے ک ی رہ بر ی کے انسان کوئ ی راہ پ یدا کرے تو وادی ضلالت میں حیران و سرگرداں ہ وگا ۔ اور ب ہ ت دشوار ہے یہ بات کہ واد ی ضلالت و حیرت میں بھٹ کا ہ و شحص بغ یر ہ دا یت کے منزل سعادت تک پ ہ نچ جائ ے یہی وجہ ہے ک ہ فر یقین کی متفق علیہ حدیث میں وارد ہے ک ہ رسول اکرم(ص)ن ے فرما یا "یا ایھ ا النّاس انی تارک فیکم الثقلین ما ان اخذتم بھ ما لن تضلوا کتاب الل ہ عزو جل و عترت ی اھ ل ب یتی" (یعنی اے لوگو م یں تمہ ار ے درم یان دوچیزیں چھ و ڑ تا ہ و ں اگر ان دو نو ں س ے حاصل کروگ ے ( یعنی ضرورت کی باتیں) تو ہ رگز گمرا ہ ن ہ ہ وگ ے ،ا یک عزوجل کی کتاب اور ایک میری عترت اور اہ ل ب یت علھیم السلام ہیں)۔

حافظ :-کچھ اس ی حدیث پر انحصار نہیں ہے ک ہ آپ اس ک ی اصلاح کی کوشش کریں بلکہ آپ ک ی کتابوں وارد تمام دعاؤ ں ک ے اندر کفر وشرک ک ے نمون ے ملت ے ہیں جیسے بغیر ذات پرور دگار عالم یک طرف توجہ کئ ے ہ وئ ے امامو ں س ے حاجت یں طلب کرنا اور یہ غیرخدا ہے حاجت طلب کرنا خود ہی شرک کی ایک مکمل دلیل ہے ۔

خیرطلب :-آپ کی ذات سے یہ بات بہ ت بع ید تھی کہ اپنے اسلاف ک ی پیروی کرتے ہ وئ ے ا یسی فضول اور بے جا بات من ہ س ے نکال یں ،واقعی آپ بہ ت ب ے انصاف ی کرتے ہیں یا پھ ر اس پر توج ہ ن ہیں کرتے ہیں کہ ک یا فرما رہے


ہیں یا بغیر شرک کے معن ی پر غور کئے ہ وئ ے ب یان کرتے ہیں میں متمنی ہ و ں پ ہ ل ے شرک اور مشرک ک ے معن ی بیان فرما یئے تا کہ حق یقت ظاہ ر ہ و ۔

شیعوں کی طرف شرک کی نسبت دینا

حافظ:- مطلب اتنا واضح ہے ک ہ م یرے خیال میں تشریح کی ضرورت ہی نہیں ، بدیہی چیز ہے ک ہ خدائ ے بزرگ کا اقرار کرت ے ہ وئ ے غ یر خدا کی طرف توجہ کرنا شرک ہے اور مشرک و ہ شخص ہے جو غ یر خدا کی طرف رخ کرے اور اس س ے حاجت طلب کر ے ۔

جماعت شیعہ جیسا کہ مشا ہ د ہ ہے کب ھی خدا کی طرف توجہ ن ہیں رکھ ت ی ہے اور بغ یر خدا کا نام لئے ہ وئ ے اپن ے سار ے مقاصد اپن ے امامو ں س ے عرض کرت ی ہے یہ ا ں تک کہ م یں دیکھ تا ہ و ں کہ ش یعہ فقراء گزرگاہ و ں اور دروازو ں ا ور دکانوں پر آت ے ہیں ، تو کہ ت ے ہیں ۔ یا علی ، یا امام حسین یا امام رضائے غر یب یا حضرت عباس اور ایک مرتبہ ب ھی نہیں سنا گیا کہ یا اللہ ک ہیں ۔یہ باتیں خود شرک کی دلیل ہیں کیونکہ جماعت شیعہ کبھی خدا کی طرف توجہ ن ہیں کرتی بلکہ اپن ی تمام تر توجہ غ یر خدا سے وابست ہ رک ھ ت ی ہے ۔

خیر طلب:- میری سمجھ م یں نہیں آتا کہ آپ ک ی اس طرح باتوں کا ک یا مقصد سمجھ و ں ،آ یا ان کو ہٹ د ھ رم ی کی دلیل سمجھ و ں ک ہ قصدا تجا ہ ل عارفان ہ کر ر ہے ہیں یا حقائق کی طرف توجہ ن ہ کرن ے کا نت یجہ ہے ؟ م یں امید کرتا ہ و ں ک ہ آپ ہٹ د ھ رم ی کرنے والو ں م یں سے ن ہ ہ و ں گ ے ۔

چونکہ ایک عالم باعمل کے شرائط م یں سے انصاف ب ھی ہے ل ہ ذا جو شخص حق س ے واقف ہ و اور اپن ی مطلب برآوری کے لئ ے حق کش ی کرے و ہ انصاف س ے دور ہے اور جس ک ے پاس انصاف ن ہیں وہ عالم بلا عمل ہے ، حد یث رسول میں ارشاد ہے "العالم بلا عمل کا الشجر بلا ثمر"( یعنی عالم بے عمل بغ یر میوے کے درخت ک ی مثل ہے )آپ جو بار بار اپن ے جملو ں م یں شرک اور مشرک کے الفاظ زبان پر جار ی کر رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ اپن ے لغو اور ب ے مغز دلائل س ے موحد ش یعوں کو مشرک ثابت کریں تو ممکن ہے ک ہ آپ ک ے ب یانات بے خبر سن ی عوام پر اثر انداز ہ و جائ یں اور وہ ش یعوں کو مشرک سمجھ ل یں (جیسا کہ اب تک ان پر غلط اثر پ ڑ تا ر ہ ا ہے ۔ ) ل یکن یہ محترم حاضرین جلسہ ش یعہ حضرات آپ کی تقریر سے سخت ناراض اور ناخوش ہیں اور آپ کو ایک مطلب پرست اور افترا پرداز عالم سمجھ ر ہے ہیں کیونکہ یہ اپنے عقائ د سے واقف ہیں اورسمجھ ت ے ہیں کہ آپ ن ے ان الزامات م یں سے ا یک بھی ان کے اندر موجود ن ہیں ہے ۔ ل ہ ذا اپن ے الفاظ اور ب یانات میں ایسے جملے ادا ن ہ کرن ے ک ی کوشش فرمائیے کہ ان پر سچ ی بات واضح ہ و اور ان ک ے دل آپ ک ی طرف کشش محسوس کریں۔


میں مجبو ر ہ و ں ک ہ آپ اجازت د یں تو حاضر و غائب بردران اہ ل سنت ک ے ساد ہ ذ ہ نو ں کو روشن کرن ے ک ے لئ ے وقت ک ے لحاظ س ے مختصر طور پر شرک اور مشرک ک ے بار ے م یں اسلام کے بزرگ محقق ین حکماء وفقہ اء اور علماء ج یسے علامہ حل ی ، محقق طوسی ،علامہ مجلس ی علیھ م الرحمۃ جو اکابر و مفاخر علمائے ش یعہ میں سے ہیں ،اور دوسرے حکماء اورصاحبان تحق یق جیسے صدر المتالہین شیرازی ،ملا نوروز علی طالقانی ،ملا ہ اد ی سبزواری اور جناب صدر کے دونو با عظمت خوش مرحوم ف یض کاشانی و فیاض لاہیجانی رحھ م الل ہ کا آ یات قرآنی اور ارشادات ائمہ طا ہرین علیھ م السلام کی روشنی میں جو کچھ عق یدہ ہے و ہ آپ ک ے سامن ے پ یش کروں تاک ہ حاضر ین جلسہ یہ نہ سمج ھ ل یں کہ شرک ک ے معن ی وہی ہیں جو آپ مغالطہ د ے کر ب یان کررہے ہیں ۔

حافظ:- غصے ک ے سات ھ فرمائ یے ۔

نواب :-قبلہ اس جلس ہ ک ی بنا چونکہ ب ے سواد لوگو ں ک ے سمج ھ ن ے ک ے لئ ے ہے ل ہ ذا پ ہ ل ے ب ھی عرض کر چکا ہ و ں ، متمن ی ہ و ں ک ہ اپن ے ارشادات م یں انتہ ائ ی سادگی کا لحاظ رکھ ئ ے آپ ک ی نظر صرف حضرات علماء اور ان کی عقل کے مطابق جواب د ینے پر نہ ر ہ نا چائ یے بلکہ ا ہ ل مجلس کی اکثیریت با الخصوص ہ ند اور پ یشاور کے باشندو ں ک ی رعایت ضروری ہے جو ا ہ ل زبان ن ہیں ہے گزارش ہے ک ہ پ یچیدہ اور مشکل مطالب بیان نہ فرمائ یے گا ۔

خیر طلب :- جناب نواب صاحب آپ کی یاد دھ ان یاں میرے پیش نظر ہیں ،اور کچھ اس ی صحبت پر منحصر نہیں ہے بلک ہ ج یسا کہ پ ہ ل ے عرض کرچکا ہ و ں م یری عادت ہی یہ ہے ک ہ جس مجمع م یں کچھ عوام اور ب ے خبر افراد موجود ہ وت ے ہیں وہ ا ں قطعا اپنا روئ ے سخن خواص پر موقو ف نہیں رکھ تا ہ و ں ،اس لئ ے ک ہ پ یغمبروں کی بعثت اور کتابوں ک ے نزول ک ی غرض بے خبر لوگو ں کو متنب ہ کرنا ت ھ ا اور یہ نظریہ ہ ر گز عمل ی جامہ ن ہیں پہ ن سکتا جب تک حقائق جس طرح س ے آپ ن ے فرما یا سادہ طور پر اور قوم ک ی زبان میں بیان نہ ہ و ں چنانچ ہ حد یث میں رسول اللہ (ص) کا ارشاد ہے ک ہ "نحن معاشر الا نب یاء نکلم النّاس علی قدر عقولھ م"( یعنی ہ م پ یغمبروں کی جماعت لوگوں س ے ان ک ے عقلو ں ک ے مطابق گفتگو کرت ی ہے ) یقینا آپ کی خواہ ش اصول ی اور برابر میرے پیش نظر ہے ۔ ام ید کرتا ہ و ں ک ہ آپ ک ی منشاء کے مطابق پ ہ ل ے س ے زیادہ عمل کرسکوں گا اور متمن ی ہ و ں ک ہ جس مقام پر س ہ وا غفلت ہ وجائ ے و ہ ا ں آپ حضرات توج ہ فرماد یجئے گا ۔

شرک کے اقسام

خیر طلب :- جہ ا ں تک آ یات قرآنی کے خلاص ے ، اخبار کث یرہ اور محققین علماء کی تحقیقات کا ملہ س ے اور بالخصوص ان ا ہ م تشر یحات سے جو صدر المتال ہین اور فاضل طالقانی نے فرمائ ی ہیں معلوم ہ وتا ہے شرک ک ی دو قسمیں ہیں اور دوسرے


اقسام شرک ان ہیں دونوں قسمو ں م یں پوشیدہ ہیں ۔ اول جل ی اور آشکار ،دوسرے شرک خف ی و پو شیدہ ۔

شرک جلی

شرک در ذات

شرک جلی کا مطلب کا مطلب یہ ہے ک ہ آدم ی ذات یا صفات یا افعال یا عبادت میں خدائے تعال ی کا کوئی شریک قراردے۔ شرک در ذات یہ ہے ک ہ حق تعال ی کے مرتب ہ الو ہیت اور ذات میں شریک قرار دے اور زبان س ے اس کا اعتراف کر ے ج یسے (بت پرست)اور مجوس جو اصل ومبداء،نوروظلمت ،یزداں اوراہ رمن ک ے قائل ہیں اور نصاری جو اقانیم ثلاثہ ک ے قائل ہ وئ ے اور ذات خداوند ی کو تین اجزا یعنی باپ بیٹ ا اور روح القدس میں تقسیم کیا ،ان میں سے بعض کا عق یدہ یہ ہے ک ہ روح القدس ک ے عوض مر یم ہیں۔ ان ت ینوں میں سے ہ ر ا یک کے لئ ے ا یک خاصیت کے معتقد ہ وئ ے جو باق ی دو میں موجود نہیں ہے ۔ اور جب تک یہ تینوں اکھٹ ا ن ہ ہ و ں ذات خداوند ی کی حقیقت مکمل نہیں ہوتی جیسا کہ سور ہ نمبر 5(مائد ہ )آ یت نمبر77 میں خدا نے ان ک ے قول ک ی تردید اور اپنی وحدانیت کا اثبات فرمایا ہے "لقد کفر الذین قالوا ان الله ثالث ثلاثة وما من اله الا اله واحد" ( یعنی یقینا وہ لوگ کافر ہ وگئ ے جن ہ و ں ن ے خدا کو ت ین میں سے ا یک جانا (یعنی تین خدا کے قائل ہ وئ ے باپ ب یٹ ا ،روح القدس) حالانکہ سوائ ے خدا ئ ے واحد ک ے اور کوئ ی خدا نہیں)۔

عقائد نصاری

اس آیہ مبارکہ م یں نصاری کے فرقو ں م یں نسطوریہ ،ملکائیہ اور یعقوبیہ کا بیان کیا گیا ہے جن ہ و ں ن ے ثنو یہ اور بت پرستوں س ے یہ عقیدہ حاصل کیا (کتاب الوثنیہ فی الدیانیۃ النصرانیۃ ۔ مؤلف تنیر بیرونی کی طرف رجوع کیا جائے ) خلاص ہ یہ کہ نصار ی ثنویہ اور مجوس کی طرح مشرک ہیں کیونکہ اقانیم ثلاثہ ک ے قائل ہیں اس میں سے ز یادہ واضح الفاظ میں وہ لوگ ک ہ ت ے ہیں کہ الو ہیت خدا،مریم اور عیسی کے درم یان مشترک ہے ان م یں سے بعض کا عق یدہ ہے ک ہ خدا ،ع یسی اور روح میں سے ہ ر ا یک خدا ہے ۔ اور الل ہ جل جلا ل ہ ان ت ین میں سے ایک ہے ،و ہ ک ہ ت ے ہیں کہ پ ہ ل ے س ے خدا ت ین تھے ۔ اقنوم الاب ، اقنوم الابن ،روح القدس(سر یانی زبان میں اقنوم کے معن ی وجود ہ ست ی ہیں) اس کے بعد یہ تینوں اقنوم ایک ہ وگئ ے اور و ہ مس یح ہیں اس میں کوئی شبہ ن ہیں کہ عقل ی ،نقلی دلائل سے دلائل اتحاد کا باطل ہ و نا ثابت ہے ۔ اور اس معن ی سے اتحاد حق یقی محال ہے حت ی کہ غ یر ذات واجب الوجود میں بھی اسی وجہ س ے آخرت م یں فرماتا ہے ۔ "وما من ال ہ الا ال ہ واحد" ( یعنی کوئی ایسی ذات واجب جو عبادت کی مستحق ہ و سواخدا ئ ے


یکتا کے موجود ن ہیں ہے جو وحدان یت محض سے موصوف ہے ۔ شرکت کے و ہ م س ے بالاتر ہے اور سار ے ممکن موجودات کا مبداء و ہی ذات وحدہ لا شر یک ہے ۔

شرک درصفات

شرک درصفات یہ ہے ک ہ خدائ ے تعال ی کے صفات ج یسے حکمت ،قدرت اورحیات وغیرہ کو قدیم لیکن زائد ذات سمجھیں جیسے اشعری جو ابو الحسن علی ابن اسماعیل اشعری بصری کے اصحاب م یں جیسا کہ آپ ک ے اکابر علماء مثلا عل ی ابن احمد بن حزم الظاہ ر ی نے کتاب فصل جزء چ ہ ارم صفحہ نمبر 207 میں اور مشہ ور فلسف ی ابن رشد محمد بن احمد اندلسی نے کتاب "الکشف من منا ہ ج الادق ۃ فی عقائد الملۃ"صفحہ نمبر 58 م یں نقل کیا ہے ک ہ یہ لوگ معتقد ہیں کہ الل ہ ک ے صفات زائد بر ذات اور قد یم ہیں ۔ چنانچ ہ جو شخص صفات خداوند ی کو حقیقتا اس کی ذات اجل پرزائد سمجھے یعنی اس کو صفت عالمیت ،وہ مشترک ہے ا س لئے ک ہ اس ن ے قدم م یں اس کے لئ ے کفو وقر ین اور ہ مسر ثابت ک یا حالانکہ سوا حق تعال ی کی ذات ازلی کے کائنات م یں کسی قدیم کا وجود نہیں ہے اور صفات خداوند ی اس کی عین ذات ہیں جیسے شیرینی اور چکنا ہٹ الگ ک ی کی چیزیں نہیں ہیں جو شکر اور روغن کی ذات پر وارد ہ وئ ی ہ و ں بلک ہ جس وقت خدا ن ے شکر اور روغن کو پ ید کیا ، تو پھ ر و ہ شکر اور روغن ہی نہ ر ہیں گے ۔ "تلک الامثال نضرب ھ ا للناس وما یعقلھ ا الا العالمون" یہ مثالیں ذہ نو ں کو ملتفت کرن ے ک ے لئے ہیں تاکہ ہ م جس وقت بو ل یں خدا یعنی عالم ،حی ،قادر، حکیم، وغیرہ تو یہ سمجھ ل یں کہ صفات خداوند ی اس کی ذات پر زائد نہیں ہیں۔

شرک در افعال

افعال میں شرک یہ ہے ک ہ خدا کو حق یقی طو رپر متوحد اور متفرد با لذات نہ سمج ھے ،اس صورت س ے ک ہ مخلوقات م یں سے کس ی ایک فرد یا افراد کو خدا کے افعال اور تدب یروں میں مؤثر یا مؤثر کا جزء سجھے یا یہ کہ خلقت ک ے بعد امور کو مخلوق ک ے سپرد جان ے جس ک ے یہ ود ی قائل تھے ک ہ خدان ے مخلوقات کو خلق ک یا اس کے بعد امور ک ی تدبیر سے بازر ہ ا ۔


سارا کام خلق ک ے ذم ہ چ ھ و ڑ د یا اور خود علیحدگی اختیار کر لی ۔

چنانچہ ان لوگوں ک ی مذمت میں سورہ نمبر 5 (مائد ہ )آ یت نمبر26 میں ارشاد ہے "وقالت ال یھ ود یداللہ مغلولۃ غلت ایدیھ م ولعنوا بما قالوا بل یداہ مبسوطتان ینفق کیف یشاء"(یعنی یہ ود یوں نے ک ہ ا ک ہ خدا ک ے ہ ات ھ بند ھے ہ وئ ے ہیں( اب وہ خلقت م یں کوئی تغیر نہیں کرے گا او ر نہ کوئ ی چیز پید کرے گا اس ج ھ و ٹی بات کی وجہ س ے )ان ک ے ہ ات ھ بند ھ گئ ے اور و ہ خدا ک ی لعنت میں گرفتار ہ وئ ے ۔ بلک ہ خدا ک ے دونو ں ہ ات ھ ( یعنی اس کی قدرت اوررحمت)کھ ل ے ہ وئ ے ہیں وہ جس طرح چا ہ تا ہے نفق ہ د یتا ہے )

اور مشرکین غلات جن کو مفوضہ ب ھی کہ ت ے ہیں قائل ہیں کہ خدا ن ے امامو ں کو امور تفویض کردیئے ۔ و ہی پیدا کرتے ہیں اور روزی دیتے ہیں ۔یہ بدیہی چیزیں ہیں کہ جو شخص افعال خداوند ی میں کسی طریقے سے کس ی کودخیل سمجھے ،جز مؤثر ک ی صورت سے یا انبیاء یا امتوں یا اماموں کو تفویض امور کی حیثیت سے قطعا شرک ہے ۔

شرک در عبادت

اور شرک در عبادت یہ ہے ک ہ عبادت ک ے موقع پر ظا ہ ر ی توجہ یا دل کی نیت غیر حق کی طرف رکھے مثلا نماز م یں خلق کی طرف توجہ کر ے یا اگر نذر کرتا ہے تو خلق ک ے لئ ے کر ے اور اس طرح عبادتو ں م یں نیت کی ضرورت ہے اگر عمل ک ے وقت ن یت غیر خدا کے لئ ے ہ و تو و ہ مشرک ہے کیونکہ سورہ نمبر81(ک ہ ف)آ یت نمبر110 میں صریحی طور پر اس طرح کے عمل (شرک )س ے منع ک یا گیا ہے ۔ قول ہ "فمن کان یرجو لقاآربہ فل یعمل عملا صالحا ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا "( یعنی جو شخص لقائے رحمت پروردگار کا ام ید وار ہے اس کو چائ یے کہ و ہ ن یکو کار بنے ( یعنی پاک اور پسندیدہ عمل کرے )اور اپن ے خدا ک ی عبادت میں ہ رگز کس ی کو اس کا شریک نہ بنائ ے ۔

عمل اور عبادت کے وقت چائ یے ک ہ غیر خدا کی طرف توجہ ن ہ کر ے ،پ یغمبر یا امام یا مرشد کی صورت نظر کے سامن ے ن ہ رک ھے اس طر یقے سے ک ہ نماز ،روز ہ ، حج، خمس، زکا ۃ اور نذر وغیرہ ہ ر قسم ک ی واجب یامستحب عبادت کا ظاہ ر عمل خدا ک ے لئ ے ہ و ل یکن دل اور باطن میں توجہ غ یر خدا کی طرف رہ ے یعنی شہ رت اور لوگو ں کو اپن ی طرف مائل کرنے ک ے لئ ے یا کسی اور مقصد سے ۔

اس لئے ک ہ عمل م یں ریا حدیث کی زبان میں شرک اصغر کہ ا گ یا ہے جو ہ ر عامل کو برباد کرن ے والا ہے چنان چہ


حضرت رسول(ص) الل ہ خدا س ے منقول ہے ک ہ "اتقوا الشرک الاصغر" یعنی پرہیز کرو چھ و ٹے شرک س ے لوگو ں ن ے عرض ک یا یا رسول اللہ چ ھ و ٹ ا شرک کون ہے ؟فرما یا "الریاء والسمعۃ"ریا اور سمعہ ( یعنی دکھ ان ے اور سنان ے ک ے لئ ے عبادت کرنا (مترجم) )شرک اصغر ہے ۔

نیزآنحضرت (ص)سے مرو ی ہے ک ہ فرما یا " ان اخوف ما اخاف علیکم الشرک الخفی ایا کم والشرک السر فان الشرک اخفی فی امتی من دبیب النمل علی الصفا فی اللیلة الظلماء" (یعنی بد ترین چیز جس سے م یں تمھ ار ے لئ ے ڈ رتا ہ و ں و ہ پوش یدہ شرک ہے ۔ ل ہ ذا مخف ی شرک سے دور ر ہ و ک یونکہ میری امت میں شرک اندھیری رات میں سخت پتھ ر پر چون ٹی کے ر ینگنے سے ب ھی زیادہ پو شیدہ ہے پ ھ ر فرما یا جو شخص ریا کے سات ھ نمازپ ڑھے و ہ مشرک ہے ۔ جو شخص ر یا سے روز ہ رک ھے یا ریا سے صدق ہ د ے یا ریا سے حج کر ے یا ریا سے غلام آزاد ک ے و ہ ب ھی شرک ہ وگا ۔ اور یہ آخری قسم چونکہ قلب ی امور سے متعلق ہے ل ہ ذا شرک خف ی میں شامل کی گئی ہے ۔

حافظ:- ہ م آپ ہی کے ب یان سے سند ل ے ر ہے ہیں کیونکہ آپ نے فرما یا ہے ک ہ اگر کوئ ی شخص خلق کے لئ ے نذر کر ے تو و ہ مشرک ہے ل ہ ذا ش یعہ بھی مشرک ہیں ،اس لئے ک ہ ہ م یشہ امام اور امام زادے ک ے لئ ے نذر کرت ے ہیں اور چونکہ یہ نذر غیر خدا کے لئ ے ہے ل ہ ذا یقینا شرک ہے ۔

نذر کے بار ے م یں

خیرطلب :- عقل اور علم منطق کا قاعدہ یہ ہے ک ہ اگر کس ی قوم وملت کے عقائد م یں فیصلہ کرنا چائیں تو جاہ ل اور ب ے خبر لوگو ں ک ے اقوال یا افعال پر فیصلہ نہیں کیا کرتے بلک ہ اس قوم ک ے قوان ین اور ان کی معتبر کتابوں پر پورا تبصر ہ کرت ے ہیں ۔

حضرات محترم اگر آپ شیعوں کے عقائد ک ی تہ تک پ ہ نچنا چا ہ ت ے ہیں تو بے خبر ش یعہ عوام کے اقوال وافعال پر توج ہ ن ہ کرنا چا ہ ئ یے کہ اگر ب ے پ ڑھے لک ھے فق یروں نے راستو ں م یں یا علی یا امام رضا کی صدا لگادی تو آپ ان الفاظ کو ان کے یا تمام شیعوں کے شرک ک ی دلیل قرار دیں یا اگر ایک جاہ ل محض نا واقف یت میں امام یا امام زادے ک ے لئ ے نذر کر ے تو آپ اس کو اپن ے مقابل کو ز یر کرنے ک ے لئ ے حرب ہ بنا ل یں ۔ اس لئ ے ک ہ جا ہ ل اور لا ابال ی افراد تو ہ ر قوم ک ے عوام م یں پیدا ہ وت ے ہیں ۔

البتہ آپ کی نیت خالص ہے ،ب ہ ان ہ ساز ی اور عیب جوئی کے درپ ے ن ہیں ہیں اور عقلمندی کے سات ھ سمج ھ نا چا ہ ت ے ہیں تو شیعوں کی فقہی کتابوں ک ی طرف رجوع کیجئیے جو عام طور پر دستیاب ہ وت ی ہیں اور ہ ر کتب


خان ے م یں ان کی کوئی نہ کوئ ی جلد او رنسخہ موجود ہے ۔

چنانچہ اگر فقہ ک ی استدلالی کتابوں اور عمل یہ رسائل کامطالعہ ک یجئے تو آپ دیکھیں گے ک ہ علاو ہ اس ک ے ک ہ کوئ ی شرک کاطریقہ موجود نہیں ہے ،احکام ب ھی مہ مل اور ب ے قاعد ہ ن ہیں ہیں بلکہ فق ہ جعفر ی کے باطن س ے توح ید کا لب لباب ظاہ ر و آشکار ہے ۔

شرح لمعہ اور شرائع الاسلام سار ے کتب خانو ں م یں موجود ہیں ان کامطالعہ ک یجیے تو اسی باب نذر میں نیز جملہ فق ہ ائ ے ش یعہ کے عمل یہ رسالوں م یں ملے گا ۔ نذر چونک ہ خدا ک ے لئ ے کس ی عمل کو اپنے اوپر لازم کرن ے ک ی وجہ س ے ابواب عبادت م یں سے ا یک باب ہے ل ہ ذا اس ک ے لئ ے حت می طور پر دو شرطوں کا لحاظ رک ھ نا ضرور ی ہے ۔ ک یونکہ اگر ان دونوں م یں سے کوئ ی مفقود ہ وگ ی تو نذر منعقد نہ ہ وگ ی ،اول:- نیت متصل بہ عمل ، اور دوسر ی :- صیغہ چاہے و ہ جس زبان م یں ہ و ۔

جب مسلمان یہ سمجھ ل ے گا ک ہ اس ک ی نذر بغیر ان دو شرطوں ک ے صح یح نہ ہ وگ ی تو کوشش کرے گا ک ہ پ ہ ل ے ان دونو ں کامطلب اور نوع یت سمجھ ل ے اس ک ے بعد نذر کر ے جس وقت کس ی فقیہ سے سوال کر ے گا یا کوئی رسالہ پ ڑھے گا تو اس کو معلوم ہ وگا ک ہ اولا سار ی عبادتوں م یں بالخصوص نذر میں نیت اللہ ک ے بار ے م یں اور اللہ ک ی خوشنودی حاصل کرنے ک ے لئ ے ہ ونا چا ہ ئ یے لہ ذا غ یر خدا کے لئ ے ن یت کا سوال یہ ختم ہ و جاتا ہے ۔

دوسری شرط جو پہ ل ی شرط کا تتمہ ہے اور اس کو مضبوط کرن ے وال ی ہے ، یہ ہے ک ہ نذر کن ے وال ے کو نذر ک ے وقت ص یغہ پڑھ نا لازم ی ہے اور ص یغہ میں جب تک خدا کا نا م نہ ہ و ص یغہ جاری نہیں ہ وتا ،مثلا روز ے ک ی نذر کرنا چاہ تا ہے ۔ تو ک ہے "لل ہ عل یّ ان اصوم"

یا شراب ترک کرنا چاہ تا ہے تو ک ہے "لل ہ عل یّ ان اترک شرب الخمر" اور اسی طریقے سے دوسر ی نذریں ہیں۔

اگر فارسی یا اردو وغیرہ بولنے وال ے ک ے لئ ے عرب ی صیغہ جاری کرنا آسان نہ ہ و تو ہ ر قوم والا اپن ی زبان میں صیغہ جاری کر سکتا ہے اس شرط س ے ک ہ ا س ک ے معن ی مذکورہ ص یغہ سے مطابق ہ و ں ، اور اگر ن یت میں غیر خدا ہ و یا کسی اور زندہ یا مردہ کو خدا ک ے نا م ک ے سات ھ شامل کر لے ۔ چ ہ ل ہے پ یغمبر یا امام یا امام زادے ہی کا نام ہ و تو قطعا و ہ نذر باطل ہے اور اگر عمدا جان بوج ھ کر ا یسا کرے تو مشرک ہے ک یونکہ مذکورہ آ یت میں کھ لا ہ و ا ارشاد ہے "ولا یشرک بعبادۃ ربہ احدا" البت ہ ا ہ ل علم پر لازم ہے ک ہ نا واقف لوگو ں کو سمج ھ ا ئ یں کہ ن ذر قطعا خدا کے نام پر اور خدا ہی کے لئ ے ہ ونا چا ہیئے ،چنانچہ واعظ ین اور مبلغین برابر اپنا فرض انجام دیتے رہ ت ے ہیں ۔ اور ش یعہ فقہ ا عموما ب یان کیا کرتے ہیں کہ نذر ہ ر زند ہ یا مردہ ک ے لئ ے چا ہے و ہ پ یغمبر یا امام ہی ہ و باطل ہے اور اگر سمج ھ ک ے عمدا ا یسا کرے ت و مشرک ہے ۔


نذر صرف خدا کے لئ ے کر یں اس کے مصرف ک ے تع ین میں اختیار ہے ۔ مثلا نذر کر ے ک ہ خدا ک ے لئ ے کوئ ی گوسفند فلاں مکان یا عبادت خانے یا بقعہ امام وغ یرہ میں لے جا کر قربان ی کرے گا ۔یا کوئی رقم یا لباس خدا کے لئ ے فلا ں س یّد یا عالم یا یتیم یا فقیر کو دے گا تو کوئ ی حرج ن ہی ں ہے ،ل یکن اگر پیغمبر یا امام یا امام زادہ یا عالم یا یتیم یا محتاج وغیرہ کے لئ ے نذر کر ے تو حتما باطل ہے اور علم وقصد ک ے سات ھ قطعا شرک ہے ۔ ہ ر رسول ،فق یہ ،عالم، واعظ اور مبلغ کا فرض لکھ نا اور ب یان کرنا ہے "وما علی الرسول الا البلاغ" یعنی پیامبر پر سوا مکمل طریقے سے پ ہ نچا د ینے کے اور کوئ ی ذمہ دار ی نہیں ہے ۔ سور ہ نور آ یت 54۔

اور لوگوں کا فرض سننا اور عمل کرنا ہے اگر کوئ ی شخص یا اشخاص احکام دین کے س یکھ ن ے اور سکھ ان ے ک ی کوشش نہ کر یں اور ہ دا یات کے مطابق اپن ے مذ ہ ب ی فرائض پر عمل نہ کر یں تو ان کے اصل عق یدے اور اصول وقواعد میں کوئی نقص نہیں پیدا ہ وتا ۔

میرا خیال ہے ک ہ اس ی قدر جواب سے حق یقت ظاہ ر ہ وگئ ی ہ وگ ی اور اس کے بعد آپ حضرات ش یعوں کو مشرک کہہ کر عوام کو غلط ف ہ م ی میں مبتلا نہ کر یں گے ۔

شرک خفی

بہ تر ہے ک ہ ہ م لوگ پ ہ ل ی گفتگو کی طرف رجوع کریں اور مطلب پورا کریں ۔ دوسر ی قسم شرک خفی و پوشیدہ ہے اور و ہ شرک در اعمال اور طاعات وعبادات میں رہ ا ہے اس قسم ک ے شرک اور شرک در عبادت ک ے درم یان جس کو ہ م ن ے شرک جل ی میں شمار کیا ہے فرق یہ ہے ک ہ بند ہ سرک عب ادت میں خدا کے لئ ے شر یک قرار دیتا ہے اور مقام عبادت م یں اس کی پر ستش کرتا ہے ،مثلا اگر نماز یمں غیر خدا کو مد نظر رکھے جیسے شیاطین کے ب ہ کان ے س ے مقام ولا یت کی صورت نگاہ م یں لائے یا کسی مرشد کو مر کز توجہ بنائ ے تو قطعا و ہ عمل باطل اور شرک خف ی ہے ، عبادت میں سوا ذات وحدہ لاشر یک کے انسان ک ے ذ ہ ن وفکر م یں اور کسی کو دخل نہ ہ ونا چا ہیئے ورنہ شرک جل ی میں داخل ہ وجاتا ہے ۔

حضرت رسول خدا(ص) سے مرو ی ہے ک ہ فرما یا "یقول الله تعالی من عمل عملا صالحا اشرک فیه غیری فهو له کله وانا منه برئ وانا اغنی الاعنیاء عن الشرک" یعنی خدائے تعال ی فرماتا ہے ک ہ جو شخص کوئ ی نیک عمل کرے اور اس م یں میرے غیر کو شریک کرلے تو سارا عمل اس ی کے لئ ے ہے اور م یں اس (عمل یا عامل) سے ب یزار ہ و ں اور م یں تمام اغنیا سے ز یادہ شک سے غن ی ہ و ں۔


ن یز روایت میں ہے ک ہ ارشاد فرما یا جو شخص نماز پڑھے یا روزہ رک ھے یا حج کرے اور اس کا نظر یہ یہ ہ و ک ہ لوگ اس عمل پر اس ک ی مدح کریں "فقد اشرک فی عملہ "تو یقینا اس نے ا س عمل میں خدا کے لئ ے شر یک قرار دیا۔

نیز کاشف اسرار حقائق حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے ک ہ "لو ان عبدا عمل عملا یطلب به رحمة الله والدار الآخرة ثم ادخل فیه رضا احد من الناس کان مشرکا" (یعنی اگر کوئی بندہ رحمت خدا اور جزائ ے آخرت ک ی طلب میں کوئی عمل کرے اور اس م یں کسی انسان کی رضامندی کو شامل کرے تو و ہ عامل مشرک ہ و جائ ے گا) ۔

شرک خفی کا دامن بہ ت وس یع ہے ک یونکہ کسی عمل میں غیر خدا کی طرف ایک مختصر سی توجہ ب ھی مشرک بنا دیتی ہے ۔

شرک در اسباب

اس شرک کی قسموں م یں سے ا یک شرک در اسباب ہے ج یسا کہ اکثر لوگ صرف اسباب اور خلق پر ام ید وخوف کی نظر رکھ ت ے ہیں ، یہ بھی شرک ہے ل یکن شرک در اسباب سے مراد یہ ہے ک ہ اسباب ہی میں اثر سمجھے مثلا آفتاب اش یا کی تربیت میں اثر انداز ہ وتا ہے اگر اس اثر کو ب غیر مؤثر حقیقی کی طرف توجہ کئ ے ہ وئ ے خود آفتاب کی جانب سے سمج ھیں تو شرک ہے اور اگر اس کا مؤثر حک یم مطلق کو اور آفتاب کو فیض رسانی کا ذریعہ جانیں تو ہ رگز شرک ن ہیں ہے ،بلک ہ یہ تو ایک طرح کی عبادت ہے ک یونکہ حق کی نشانیوں پر توجہ کرنا خود حق ک ی طرف توجہ کرنے کا پ یش خیمہ ہے ؛ج یسا کہ قرآن مج ید کی بہ ت س ی آیتوں میں اس امر کی جانب اشارہ موجود ہے ک ہ آ یات الہی پر غور کرو اس لئے ک ہ فکر ونظر خود خدائ ے تعال ی کی طرف توجہ کا مقدم ہ ہے ۔

اسی طرح اسباب میں سے ہ ر سبب ک ی طرف جیسے تاجر کی تجارت کی طرف ،کاشتکار کی زراعت کی طرف ،باغبان کی باغبانی کی طرف ،پیشہ ور کی پیشہ ور کی طرف اور منتظم کی اپنے انتظام ک ی طرف یہ ا ں تک کہ کس ی قسم کا کام کرنے وال ے ک ی اپنے شغل اور عمل ک ی طرف مستقل اور خاص توجہ مشرک بناد یتی ہے اور اگر سبب و اسباب پر اس ک ی نظر اس نیت سے ہ و ک ہ "لا مؤثر ف ی الوجود الا اللہ " یعنی اثر دینے والا سوا خدا کے کوئ ی اور نہیں ہے تو کوئ ی قباحت نہیں ہے اور شرک ن ہ ہ وگا ۔

شیعہ کسی پہ لو س ے مشرک ن ہیں

اس مختص تمھید کے بعد جس س ے مطلب واضح ہ وگ یا ہے اور ہ م اصول شرک اور اس ک ے معان ی وآثار بیان کرچکے ہیں ، اب اجازت دیجئے کہ اپن ے ب یانات سے نت یجہ نکالیں اور دیکھیں کہ ہ م ن ے شرک جل ی و خفی کے جو طر یقے بیان


کئے ہیں ان میں سے کس ک ے ماتحت آپ ش یعوں کو مشرک کہ ت ے ہیں ۔ آ یا کہ ا ں اور کس پ ڑھے لک ھے یا جاہ ل ش یعہ سے آپ ن ے سنا ہے ک ہ و ہ خدائ ے تعال ی کی ذات وصفات اور افعال میں کسی شریک کا قائل ہ و؟ یا پروردگار کی عبادت میں کسی دوسرے معبود کو پ یش نظر رکھ تا ہ و ؟ یا شیعوں کی کونسی کتب اور اخبار واحادیث میں دیکھ ا ہے ک ہ اصول وفروع اور عقائد ک ے بار ے م یں ان بزرگان دین اور ائمہ طا ہ ر ین سے کوئ ی ایسی بات یا حکم منقول ہ و جو شرک ک ے ان طر یقوں سے ملتا ہ و جو م یں نے عرض ک یئے ؟۔

اب رہ ا شرک خف ی اور اس کے اقسام ج یسے لوگوں کو دک ھ ان ے اور ان کو متاثر کرن ے ک ے لئ ے کوئ ی عمل کریں یا اسباب سے ربط او ر ام ید قائم کریں تو یہ بات تنہ ا ش یعوں سے مخصوص ن ہیں ہے بلک ہ ش یعہ اور سنی سبھی عالم اجسام میں گرفتار ہیں اور بہ ت س ے عقل ومعرف ت ،تزکیہ نفس اور کامل توجہ ن ہ ہ ون ے ک ی وجہ س ے کب ھی کبھی شیطان کے وسوسو ں م یں مبتلا ہ و کر ر یائی عمل کرتے ہیں ،یا سرتا پا اسباب میں محو ہ وجات ے ہیں اور حق کی اطاعت سے ہٹ کر اطاعت ش یطان کرنے لگت ے ہیں اور جیسا عرض کیا جاچکا ہے اگر چ ہ یہ طرز عمل شرک ک ے مف ہ وم م یں آجاتا ہے ل یکن شرک مغفور ہے اور یقینا معانی اور چشم پوشی کے قابل ہے ک یونکہ تھ و ڑی روحانی توجہ س ے اس ک ی تلافی ہ وجات ی ہے ۔ پ ھ ر آپ کس پ ہ لو س ے ش یعوں کو مشرک سمجھ ت ے ہیں ؟ اور عوام کو دھ وک ے م یں ڈ الت ے ہیں ،جیسا کہ ف ی الحال آپ نے اشار ہ ک یا ہے ۔

حافظ:- آپ کی ساری باتیں صحیح ہیں لیکن میں نے عرض ک یا کہ اگر آپ غور فرمائ یے تو خود تصدیق کیجئے گا کہ امامو ں س ے حاجت طلب کرنا اور ان کا وس یلہ اختیار کرنا شرک ہے چونک ہ ہ م ک و انسانی واسطے ک ی ضرورت نہیں ہے ل ہ ذا جب ب ھی خدا کی طرف توجہ کر یں گے نت یجہ حاصل ہ وجائ ے گا ۔

خیرطلب :- بڑے تعجب کا مقام ہے ک ہ آپ کا ا یسا منصف اور ہ وش یار عالم کیونکر بغیر تحقیق کے اپن ے اسلاف ک ی عادتوں ک ے ز یر اثر رہ کر ا یسے بیان دیتا ہے ،غالبا آپ سور ہے ت ھے یا میری گزارشوں ک ی طرف کوئی توجہ ن ہیں تھی کہ ان مقدمات کو ذکر کرن ے کا اور مطالب ک ی تشریح کردینے کے بعد ب ھی آپ یہ بات دہ را ر ہے ہیں کہ امامو ں س ے حاجت چا ہ نا شرک ہے ۔

جناب محترم! کیا مطلقا مخلوقات سے حاجت طلب کرنا شرک ہے ؟ اگر ایسا ہے تو سارا عالم مشرک ہے اور کب ھی کوئی موحد مل نہیں سکتا ۔ اگر خلق س ے حاجت چا ہ نا اور ان س ے مدد ک ی خواہ ش کرنا شرک ہے تو انب یاء کس لئے خلائق س ے امداد مانگت ے ت ھے ؟ ب ہ تر ہ و گا ک ہ آپ ح ضرات کسی قدر قرآن مجید کی آیتوں پر بھی غورفرمائیں تاکہ حق یقت واضح ہ وجائ ے ۔


آصف بن برخیا کا سلیمان کے پاس تخت بلق یس لانا

ضرورت ہے ک ہ سور ہ نمبر27(نمل)ک ی آیات نمبر 38 تا 40 پر توجہ فرمائ یے جن میں ارشاد ہے " قَالَ يَا أَيُّهَا المَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ ٭ قَالَ عِفْريتٌ مِّنَ الْجِنِّ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَ وَإِنِّي عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ أَمِينٌ ٭ قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرّاً عِندَهُ قَالَ هَذَا مِن فَضْلِ رَبِّي لِيَبْلُوَنِي أَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ ٭ "( یعنی جناب سلیمان نے حاضر ین مجلس سے ک ہ ا ک ہ تم م یں سے کون شخص بلق یس کا تخت میرے پاس لائے گا ، قبل اس ک ے ک ہ و ہ لوگ م یرے سامنے اطاعت گزار بن ک ے آئ یں ؟ جنا ت میں سے ا یک دیو بولا کہ م یں اس کا تخت لے آن ے پر ا یسا قادر اور امین ہ و ں ک ہ آپ ک ے دربار س ے ا ٹھ ن ے س ے پ ہ ل ے ہی لا کر حاضر کردوں گا ، اس شخص ن ے جس کو ت ھ و ڑ ا سا علم کتاب معلوم ت ھ ا ( یعنی آصف بن برخیا جو اسم اعظم جانتے ت ھے ) ک ہ ا ک ہ م یں آپ کی پلک جھ پکن ے سے قبل اس کو یہ ا ں لے آؤ ں گا ۔ جب سل یمان نے و ہ تخت اپن ے پاس د یکھ ا تو کہ ا ۔ یہ طاقت میرے پروردگار کے فضل س ے ہے ۔۔ ال ی آخر) بدیہی چیز ہے ک ہ بلق یس کا اتنا بڑ ا تخت اتن ی طویل مسافت سے پلک ج ھ پکن ے س ے قبل سل یمان کے پاس ل ے آنا عاجز مخلوق کا کام ن ہیں ہے اور مسلّم ہے ک ہ ا یک خلاف عادت امر ہے ل یکن حضرت سلیمان نے یہ سمجھ ت ے ہ وئ ے ب ھی کہ یہ کام خدائی قدرت چاہ تا ہے تخت منگوان ے ک ی درخواست خدا سے ن ہیں کی بلکہ ا یک عاجز مخلوق سے حاجت روائ ی اور امداد کی خواہ ش ک ی اور اہ ل دربار س ے فرمائش ک ی کہ و ہ ع ظیم الشان تخت میرے لئے منگوادو، ل ہ ذا خود جناب سل یمان کا عاجز بندوں س ے یہ تقاضا کرنا کہ تم م یں سے کون اپن ی خدا داد قوت سے یہ کام انجام دے سکتا ہے اور تخت بلق یس کو اس کے آن ے س ے پ ہ ل ے م یرے سامنے حاضر کرسکتا ہے ؟ اس بات کا ثبوت ہے ک ہ مخلوق س ے مطلق حاج ت چاہ نا شرک ن ہیں ہے ۔ خدا ن ے دن یا کو عالم اسباب قرار دیا ہے ۔ شرک ب ھی ایک قلبی امر ہے اگر اس شخص کو جس س ے حاجت طلب کر رہ ا ہے خدا یا خدا کا شریک نہ سمج ھے تو اس س ے مدد ل ینے میں کبھی کوئی حرج نہیں جیسا کہ عام طور پر لوگو ں م یں رواج ہے ک ہ ہ م یشہ زید ،عمر وبکر کے درواز ے پر جاکر بغ یر خدا کا نام زبان پر جاری کئے ہ وئ ے امداد کا تقاضا کرت ے ہیں ۔

چنانچہ اگر کوئی مریض طبیب اورڈ اک ٹ ر ک ے درواز ے پر جاکر ک ہے ک ہ ڈ اک ٹ ر صاحب م یری فریاد کو پہ نچئ ے ،ب یماری مجھ کو مار ے ڈ الت ی ہے تو ک یا یہ مریض مشرک ہے ؟ ۔

اگر کوئی دریا میں ڈ وبن ے والا ہ و فر یاد کرے ک ہ لوگو م یری مدد کو پہ نچو اور مج ھ کو بچاؤ اور خدا کا نام ن ہ ل ے تو ک یا وہ مشرک ہے ؟ ۔


اگر کسی ظالم نے کس ی بے گنا ہ مظلوم کا پ یچھ ا کیا اور اس نے وز یر اعظم کے در پر جا ک ے ک ہ ا جناب وز یر صاحب میری فریاد رسی کیجئے ۔ م یں آپ کا دامن نہ چ ھ و ڑ و ں گا ک یونکہ مجھ کو سوا آپ ک ے اور کس ی سے ام ید نہیں جو مجھ کو اس ظالم ک ے پنج ے س ے چ ھٹ کارا دلائ ے تو ک یا وہ مشرک ہے ؟ ۔

اگر کسی کے گ ھ ر کوئ ی چور جان یا مان یا عزت کے قصد س ے داخل ہ وا اور و ہ کو ٹھے پر چ ڑھ ک ے اپن ے پ ڑ وس یوں کو مدد کے لئ ے پکار ے اور رسما ک ہے ک ہ لوگو م یری مدد کو دوڑ و اور اس چور س ے بچاؤ ل یکن اس وقت خدا کا نا بالکل نہ ل ے تو ک یا وہ مشرک ہے ؟

قطعا جواب نفی میں ہ وگا اور کوئ ی عقلمند آدمی ایسے کو مشرک نہیں کہے گا بلک ہ جو لوگ مشرک ک ہیں وہ یا تو بیوقوف ہیں یا پھ ر ان ک ی کوئی غرض ہے ۔

محترم حضرات ! انصاف کیجئے اور غلط فہ م ی نہ پ ھیلائے ، بالعموم سارے ش یعہ اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئ ی شخص آل محمد کو خدا سمجھے یا ان کو خدائی ذات وصفات او رافعال میں شریک جانے تو و ہ قطع ی مشرک ہے ۔ اور ہ م لوگ اس س ے ب ے ب یزاری اختیار کرتے ہیں ۔ اگر آ پ نے مص یبتوں میں شیعوں کو" یا علی ادرکنی " یا حسین ادرکنی" کہ ت ے ہ وئ ے سنا ہے تو اس ک ے معن ی یہ نہیں ہیں کہ " یا علی اللہ ادرکن ی" یا حسین اللہ ادرکن ی" بلکہ دن یا چونکہ دار اسباب ہے ک یونکہ "ابی الله ان یجری الامور الا باسبابها" یعنی اللہ ن ے امور کو ب غیر ان کے اسباب نافذ کرن ے س ے انکار ک یا ہے (مترجم)۔ ل ہ ذا ش یعہ اس خاندان جلیل کو وسیلہ اور اسباب نجات سمجھ ت ے ہیں اور انہیں حضرات کے ذر یعے سے خدا تک رسائ ی کی کوشش کرتے ہیں ۔

حافظ:- مستقل طور پر خدا ہی سے ک یوں حاجت طلب نہیں کرتے ک ہ وس یلہ اور واسطہ ک ے پ یچھے دوڑ ر ہے ہیں ؟

خیر طلب :-طلب حاجات اور رنج وغم کے دف یعہ میں ہ مار ی مستقل توجہ پروردگار ہی کی یکتاذات سے مخصوص ہے ل یکن قرآن مجید جو ایک محکم آسمانی کتاب ہے ہ م کو ہ دا یت کررہ ا ہے ک ہ خدا ک ی جلیل بارگاہ م یں وسیلے کے سات ھ حاضر ہ ونا چا ہ ئ یے چنا نچہ سور ہ نمبر 5 (مائد ہ )آ یت نمبر36 میں ارشاد ہ وتا ہے "یا ایهاالذین آمنوا اتقوالله وابتغوه الیه الوسیلة" (یعنی اے ا یمان والو خدا سےڈ رو اور اس ک ی بارگاہ م یں پہ نچن ے ک ے لئ ے (اول یائے حق کا) وسیلہ اختیار کرو (تاکہ مطلب برآئ ے ) ۔

آل محمد (ع)فیض الہی کے ذر یعے ہیں

ہ م شیعہ اہ ل ب یت طاہ ر ین علیھ م السلام کو امور کے حل وعقد م یں قادر مطلق نہیں سمجھ ت ے بلک ہ ان حضرات کو خط ک ے صالح بند ے اور ف یض خداوندی کاواسطہ جانت ے ہیں اور اس جلیل القدر خاندان کے سات ھ ہ مارا توسل رسول الل ہ


ک ے حکم س ے ہے ۔

حافظ:- کس مقام پر رسول اکرم (ص) نے ان س ے توسل اخت یار کرنے کا حکم د یا ہے اور ک ہ ا ں س ے معلوم ہ و ا ک ہ واسط ے س ے مراد آل محمد (ص) ہیں ؟ ۔

خیرطلب :-بکثرت حدیثوں میں حکم دیا ہے ک ہ خطرات اور م ہ لکو ں س ے نجات حاصل کرن ے ک ے لئ ے م یری عزت اور اہ ل ب یت سے متوسل ہ و ۔

حافظ:- یا یہ ممکن ہے ؟ اگر ا یسی حدیثیں آپ کی نظر میں ہیں تو ہ مار ے سامن ے ب ھی بیان فرما دیجیئے۔

خیرطلب :-آپ نے جو یہ فرمایا کہ ک ہ ا ں س ے معلوم ہ و ا ک ہ وس یلے سے مراد عترت اور ا ہ ل ب یت پیغمبر (ع) ہیں ؟ تو آپ کے اکابر علماء ج یسے حافظ ابو نعیم اصفہ ان ی "نزول القرآن فی علی " میں حافظ ابو بکر شیرازی "ما نزل من القرآن فی علی "میں اور امام احمد ثعلبی اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ آ یہ شریفہ میں وسیلہ سے مراد عترت و ا ہ ل ب یت رسول(ع)ہیں ۔ چنانچ ہ علماء م یں سے شرح ن ہ ج البلاغ ہ جلد چ ہ ارم صفح ہ 79 م یں حضرت صدیقہ کبری فاطمہ ز ہ را سلام الل ہ عل یھ ا کا وہ خطب ہ نقل ک یا ہے جو جناب معصوم ہ ن ے قض یہ فدک کے سلسل ے م یں مہ اجر ین انصار کے سامن ے ارشاد فرما یا تھ ا چنانچ ہ خطب ے ک ے شروع ہی میں ان مظلومہ ن ے مندرج ہ ذ یل عبارت کے سات ھ اس آ یت کے معن ی کی طرف اشارہ فرما یا ہے "واحمدالل ہ الذ ی بعظمتہ ونور ہ یبتغی من فی السموات والارض الیہ الوسیلۃ ونحن وسیلتہ فی خلقہ "( یعنی میں حمد کرتی ہ و ں اس خدا ک ی جس کی عظمت اور نور کی وجہ س ے آسمانو ں اور زم ینوں کے ر ہ ن ے وال ے اس ک ی طرف وسیلہ تلاش کر تے ہیں ، اور ہ م ہیں اس کا وسیلہ مخلوقات کے اندر ۔

حدیث ثقلین

عترت رسول اور اہ لب یت طاہ ر ین علیھ م السلام سے تمسک و توسل اور ان ک ی پیروی کے جواز پر مضبوط دل یلوں میں سے ا یک حدیث ثقلین بھی ہے جو فر یقین کے نزد یک صحیح اسناد کے سات ھ توا تر ک ی حد تک پہ نچ ی ہ وئ ی ہے ک ہ رسول الل ہ (ص) س ے ارشاد فرمایا "ان تمسکتم بهما لن تضلوا بعدی" (یعنی اگر ان کے سات ھ تمسک رک ھ و گ ے تو م یرے بعد ہ رگز گمرا ہ ن ہ ہ وگ ے ) ۔

حافظ:- میرا خیا ل ہے ک ہ آپ ن ے د ھ وکا ک ھ ا یا ہے جو اس حد یث کو صحیح الاسناد اور متواتر کہہ د یا ہے ۔ اس لئ ے ک ہ یہ مقصد ہ مار ے اکابر علماء ک ے نزد یک غیر معلوم ہے اور اس بات پر دل یل یہ ہے ک ہ ہ مار ے ش یخ بزرگ اور مذہ ب


سنت وجماعت ک ے قبل ہ وکعب ہ محمد بن اسماع یل بخاری نے اپن ی معتبر صحیح میں جو قرآن کریم کے بعد تمام کتابو ں س ے ز یادہ صحیح ہے اس کا ذکر ن ہیں کیا ہے ۔

خیر طلب :-اول تو یہ کہ م یں نے د ھ وکا ن ہیں کھ ا یا ہے بلک ہ اس حد یث مبارک کا صحیح اور معتبر ہ و نا آپ ک ے علماء ک ے نزد یک مسلم ہے یہ ا ں تک کہ ابن حجر مک ی نے اتن ے سخت تعصب ک ے بعد اس ک ی صحت کا اعتراف کیا ہے ۔ ضرورت ہے ک ہ اپن ے ذ ہ ن کو روشن کرن ے ک ے لئ ے صواعق محرق ہ فصل دوم با ب 11 ذیل آیہ چہ ارم صفح ہ 89-90 ک ی طرف رجوع کیجئے جہ ا ں و ہ ترمذ ی ،امام احمد بن جنبل ،طبرانی ،اور مسلم سے روا یتیں نقل کرنے ک ے بعد ک ہ ت ے ہیں "اعلم ان لحدیث التمسک با الثقلین طرقا کثیرۃ و وردت من نیف و عشرین صحابیا "(یعنی جان لو کہ ثقل ین (عترت رسول اور قرآن مجید)سے تمسک کرن ے ک ی حدیث بہ ت طر یقوں سے مرو ی ہے یہ بیس سے ز یادہ اصحاب رسول (ص)سے نقل ہ وئ ی ہے ) ۔

پھ ر کہ ت ے ہیں کہ حد یث کے طرق م یں تھ و ڑ ا سا اختلاف ہے کس ی میں کہ ت ے ہیں کہ حج ۃ الوداع میں عرفات کے اندر ، کس ی میں مرض الموت کے عالم م یں مدینے کے اندر جب حجر ہ صحاب ہ س ے ب ھ را ہ وا ت ھ ا کس ی ،میں ملتا ہے غد یر خم کے اندر اور کس ی میں درج ہے ک ہ طائف س ے وا پسی کے بعد کا ذکر ہے اس ک ے بعد خود ہی تبصرہ کرت ے ہ وئ ے ک ہ ت ے ہیں کہ ان اختلافات م یں کوئی منافات نہیں ہے اور بلکل ممکن ہے ک ہ رسول اکرم (ص)نے قرآن کر یم اور عترت طاہ ر ہ ک ی عظمت وشان ثابت کرنے ک ے لئ ے ان سار ے مقامات پر بار بار اس حد یث کو ارشاد فرمایا ہ و ۔

بغیر تعصّب کے بار یک بینی سعادت کا سبب ہے

دوسرے آپ نے یہ فرمایا ہے ک ہ بخار ی کا اپنی صحیح میں نقل نہ کرنا اس حد یث کے صح یح نہ ہ ون ے ک ی دلیل ہے تو آپ کا یہ بیان بہ ت س ی وجہ و ں س ے قابل رد اور علماء ک ے نزد یک لائق نفرت ہے ک یونکہ یہ حدیث مبارک اگرچہ بخار ی نے اپن ی صحیح میں درج نہیں کی ہے ،ل یکن آپ کے اکابر علماءن ے بالعموم اس کو نقل ک یا ہے یہ ا ں تک کہ بخار ی کے ہ مسر مسلم بن حجاج اور سار ے ارباب صحاح ست ہ نس اپن ی معتبر کتابوں م یں تفصیل کے سات ھ ذکر ک یا ہے ۔

یا تو آپ حضرات کوچاہیئے کہ تمام صحاح اور اپن ے علماء ک ی معتبر کتابوں کو د ھ و کر دور پ ھینک دیجیئے اور اپنے سار ے عقائد کو صرف بخار ی تک محدود رکھیئے یا اگر دوسرے علماء ک ی عدالت اور علم ودانش کے معترف م یں جواپنے دور ا ہ ل سنت ک ے درم یان علم وفہ م او ر تقو ی میں ممتاز ت ھے خصوصا صحاح ست ہ ک ے مؤلف ین تو آپ کا فرض ہ وگا ک ہ اگر کس ی خبر کو اپنی مصلحتوں ک ی بنا پر بخاری نے ن ہیں لکھ ا ہے اور دوسرو ں ن ے نقل ک یا ہے تو اس کو قبول فرمائ یے ۔


حافظ:- مصلحت کوئی بھی نہیں تھی صرف امام بخاری محتاط بہ ت ز یادہ تھے اور نقل اخبار م یں بہ ت جانچ پ ڑ تال کرت ے ت ھے چنانچ ہ جس روا یت کو سند یا عبارت کے لحاظ س ے مشکوک اور عقل ک یخلاف پایا اس کو نقل نہیں کیا ۔

خیر طلب :- قاعدہ "حب الشیء یعمی ویصم"(یعنی کسی چیز کی محبت آدمی کو اندھ ا اور ب ہ را بناد یتی ہے )ک ے مطابق اس مقام پر حضرات ا ہ ل سنت کو غلط ف ہ م ی ہ وئ ی ہے ک یوں کہ آپ ان ک ے بار ے م یں غلو رکھ ت ے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ امام بخار ی بہ ت بار یک بین تھے او ر جو روا یت انہ و ں ن ے اپن ی صحیح میں درج کی ہے و ہ انت ہ ائ ی معتبر اور وحی کی منزل کے مانند ہے حالانک ہ ا یسا ہے ن ہیں ، بخاری کے سلسل ہ اسناد م یں بکثرت مردود ،منفور کذاب اور جعال اشخاص موجو د ہیں۔

حافظ:- آپ کایہ بیان مردود ومنفور ہے اس لئ ے ک ہ آپ ن ے بخار ی کے مرتب ہ علم ودانش ک ی توہین کی ہے ( یعنی سارے ا ہ ل سنت وجماعت ک ی اہ انت ک ی ہے )-

خیرطلب :-اگر علمی تنقید اہ انت ہے تو آپ ک ے تمام ب ڑے ب ڑے علماء جن ہ و ں ن ے روا یات کی گہ ر ی تحقیق کی ہے اور آپ ک ی معتبر صحاح کی بلکہ مخصوص طور پر صح یح بخاری اور صحیح مسلم کی بہ ت س ی روایتوں کو ان کے سلسل ہ اسناد م یں مردود ،کذاب اور جعال شخص کے موجو د ہ ون ے ک ی وجہ س ے رد کرد یا ہے ، سب س ے مرتب ہ علم ودانش ک ی تو ہین کرنے وال ے اور مردود ت ھے۔

بہ تر ہ وگا آپ حضرات کتب اخبار م یں ذرا دقت نظر سے کام ل یں اور مطالعے ک ے وقت غلو ک ی نگاہ س ے ن ہ د یکھیں کہ چ ونکہ یہ بخاری یا مسلم ہیں لہ ذا جو کچ ھ نقل کرد یا ہے ہ ر ح یثیت سے صح یح اور یقینی ہے ۔

ضروری ہے ک ہ آپ ک ے و ہ علماء جو صحاح ست ہ اور بالخصوص صح یح بخاری اور صحیح مسلم کے بار ے م یں غلو کا عقیدہ رکھ ت ے ہیں پہ ل ے ان کتابو ں ک ی طرف رجوع فرما ئیں جو اخبار کی جرح وتعدیل میں لکھی گئی ہیں تا کہ امام بخار ی کی قدر منزلت اور نقل احادیث میں ان کی گہ ر ی تحقیق کی حقیقت معلوم ہ وجائ ے ۔ اگر آپ "اللئا ل ی المصنوعۃ فی احادیث الموضوعۃ" ،سیوطی "میزان الاعتدال" تلخیص المستدرک ذہ ب ی" تذکرۃ الموضوعات ابن جوزی " تاریخ بغدادمؤلفہ ابو بکر احمد ابن عل ی خطیب بغداد اور علم رجال میں اپنے دوسر ے بزرگ علماء ک ی ساری کتابیں پ ڑھیں تو پھ ر مج ھ پر اعتراض ن ہ کر یں اور یہ فرمائیں کہ تم ن ے حضرت بخار ی کی اہ انت ک ی ہے


بخاری اور مسلم نے مردود اور جعل سازرجال س ے روا یتیں نقل کی ہیں

آخر میں نے کون س ی بات عرض کی کہ آپ اس قدر غ ھہ م یں بھ ر گئ ے ؟م یری گذارش تو صرف یہی تھی کہ آپ ک ی صحاح یہ ا ں تک کہ صح یحین ،بخاری ومسلم میں بھی مردود اور کذاب رجال سے ب ھی روایات اور احادیث مروی ہیں۔ اگر آپ کتب رجال کو پ یش نظر رکھ ت ے ہ وئ ے صح یح بخاری کی روایتوں کا غور سے مطالع ہ فرمائ یں تو نظر آجائے گا ک ہ ان ہ و ں ن ے بکثرت جعّال ،وضّاع اور مردود رجال س ے خبر یں نقل کی ہیں جیسے ابو ہ ر یرہ کذّاب ،عکرمہ خارج ی،محمد بن عبد سمر قندی محمد بن بیان ، ابراہیم بن مہ د ی ابلی بنوس بن احمد واسطی ،محمد بن خالد حنبلی،محمد بن محمد یمانی،عبد اللہ بن واقد حرّان ی ابوداؤد سلیمان بن عمر کذّاب ،عمران بن حطّان اور ان کے علاو ہ دوسر ے مردود راو ی جن کی پوری فہ رست پ یش کرنے کا ن ہ وقت ہے ن ہ سب م یرے حافظہ م یں محفوظ ہے اگر آپ رجال ک ی کتابیں ملاحظہ فرمائ یں تو حقیقت امر ظاہ ر ہ وجائ ے گ ی کہ حضرت بخار ی ویسے نہیں ہیں جیسے آپ کی نگاہ و ں م یں پھ ر ر ہے ہیں ،یعنی غیر معمولی طور پر تحقیق اور احتیاط سے کام ن ہیں لیتے تھے بلک ہ نقل اخبار م یں اشخاص کے صرف ظا ہ ر ی حالات پر توجہ رک ھ ت ے ت ھے ۔ہ مار ی اصطلاح میں اپنی جگہ پر ب ہ ت خوش ف ہ م اور خوش عق یدہ تھے اور جس شخص سے ب ھی کوئی ایسی روایت سن لی جو بظاہ ر ٹھیک ہ و اس ک ی درج کر لیا۔

اس مطلب پر خود آپ کے علماء ک ی کتب رجالیہ گواہ ہیں جن میں سے بعض ک ی طرف میں اشارہ کرچکا ہ و ں ک ہ ان ہ و ں ن ے موضوع اور مردود روا یات کی چھ ان ٹ ک ے الگ کرد یا ہے اور بخار ی و مسلم کے سلسلہ روا یات میں محققانہ وقت نظر س ے کام ل یتے ہ وئ ے ان م یں سے ب ہ تو ں کا پرد ہ فاش کردیا ہے تاک ہ ہ مار ی اور آپ کی توجہ مبذول ہ و اور ان کتابو ں پر نظر رک ھ ت ے ہ وئ ے آج رات کو یہ نہ فرمائ یے کہ حد یث ثقلین اور عترت طاہ ر ہ ہے تمسک کو بخار ی نے اپن ی احتیاط کی وجہ س ے نقل ن ہیں کیا ۔ آ یا عقل باور کرتی ہے ک ہ ا یک محقق اور محتاط عالم غیرمؤثق ،کذّاب او ر وضّاع روایوں سے ا یسی فرضی روایتیں نقل کرے جو ا ہ ل علم اور ارباب عقل ودانش ک ے نزد یک مضحکہ بن ک ے ر ہ جائ یں کیاکلیم اللہ کا ملک الموت ک ے من ہ پر طمانچ ہ مارک ے ان کو اندھ ا بنا د ینا یا آپ کا پا برہ ن ہ بغ یر ساتر عورتین کے بن ی اسرائیل کے درم یان دوڑ نا جس ک ا تذکرہ م یں نے پ ہ ل ے کرچکا ہ و ں ،خرافات اور مو ہ ومات م یں سے ن ہیں ہے ؟

کیا قیامت کے روز خدا ک ی رویت یا اس کے زخم ی پاؤں یا اپنی پنڈ ل ی کھ ولن ے ک ی حدیثیں جو انہ و ں ن ے صح یح کے اندر نقل ک ی ہیں اور ان میں سے بعض ک ی طرف میں اشارہ ب ھی کر چکا ہ و ں کفر یات میں سے ن ہیں ہیں۔ ؟


صحیحین بخاری ومسلم میں مضحک روایت اور رسو ل(ص)کی اہ انت

کیا یہ بخاری کی سخت علمی اور عملی احتیاط ہی کا نتیجہ ہے ک ہ اپن ی صحیح جلد دوم "باب اللہ و با الحراب "صفحہ 120 م یں اسی طرح مسلم جلد اول "باب الرخصۃ فی اللعب الذی ما معصیۃ فیہ فی ایام السعید" میں ابو ہ ر یرہ سے نقل کرت ے ہیں کہ ا یک مرتبہ ع ید کے روز کچ ھ حبش ی سیّاح مسجد رسول (ص) میں جمع ہ وئ ے ت ھے اور ناچ کود ک ے فن س ے لوگو ں کو خوش کر ر ہے ت ھے رسو ل الل ہ (ص) ن ے عائش ہ س ے فرما یا کیا تم بھی دیکھ نا چاہ ت ی ہ و؟ ان ہ و ں ن ے عرض ک یا ہ ا ں یا رسول اللہ (ص) ۔ حضرت ن ے ان کو اپن ی پیٹھ پر اس طریقہ سے سوال ک یا کہ ان ہ و ں ن ے اپنا سر آن حضرت (ص)کے کاند ھے ک ے اوپ ر سے نکالا اور چ ہ ر ہ آپ ک ے چ ہ ر ہ مبارک پر رک ھ ل یا۔ آنحضرت(ص) عائش ہ کو محفوظ کرن ے ک ے لئ ے ان لوگو ں کو ترغ یب دے ر ہے ت ھے ک ہ اس س ے ب ہ تر نا چ دک ھ ائ یں ،یہ ا ں تک عائشہ ت ھ ک گئ یں تو ان کو زمین پر اتار دیا ۔

خدا کے لئ ے انصاف ک یجئے کہ اگر آپ حضرات م یں سے کس ی کی طرف ایسی بات منسوب کی جائے تو ک یا آپ ناراض نہ ہ و ں گ ے اور اس کو اپن ی توہین نہ سمج ھیں گے ؟ اگر کوئ ی جناب حافظ صاحب سے ک ہے ک ہ مج ھ س ے ا یک راوی نے ب یان کیا ہے ک ہ کل شب م یں جب حافظ صاحب کے مکان ک ی پشت پر بازی گروں کا ا یک دستہ سازندگ ی او ربازیگری میں مشغول تھ ا تو میں نے د یکھ ا جلیل القدر عالم جناب حافظ صاحب اپنی بیوی کو پیٹھ پر اٹھ ائ ے تماش ہ د یکھ ار ہے تھے بلک ہ باز یگروں سے یہ بھی کہہ ر ہے ت ھے ک ہ خوب ناچ ے جاؤ تاک ہ م یری بیوی اور لطف اندوز ہ و ۔ تو للل ہ سچ ک ہ ئ یے گا کہ یہ بات سن کر حافظ صاحب متاثر اور شرمندہ تو ن ہ ہ و ں گ ے ؟ اور اس کو ا یک مخلص خادم ہ ون ے ک ے بعد اگر کس ی شخص سے ا یسی خبر سنوں چا ہے و ہ بظا ہ ر معتبر ہی ہ و تو ک یا میرے لئے اس کونقل کرنا مناسب ہے ؟ اور اگر م یں بیان کردوں تو عقلمند لوگ یہ نہ سمج ھیں گے ک ہ فلاں جاہ ل ن ے ا یک بات کہ د ی تو آپ نے ہ وش یار ہ وکر ک یوں اس کو نقل کیا؟۔

اب ذرا بخاری کی روایتوں پر فیصلہ دیجئے کہ اگر و ہ واقع ی محقق اور اخبار کی چھ ان ب ین کرنے وال ے ت ھے تو فرض ک یجئے ایسی روایت انہ و ں سن ی تھی تو کیا مناسب تھ ا ک ہ اس کو اپن ی کتاب میں نقل بھی کریں اور پھ ر مولو ی صاحبان اس کتاب کو "اصح الکتب بعد القرآن "بتائیں ؟

لیکن حدیث ثقلین کو جس میں رسول اللہ (ص) اپن ی امت کو حکم دے ر ہے ہیں کہ م یرے بعد قرآن مجید اور میرے اہ ل ب یت طاہ ر ین علیھ م السلام سے تمسک کرو، نقل ن ہ کر یں (کیونکہ عترت کا نام بیچ میں ہے ) البتہ فرض ی گھڑی ہ وئ ی روایتیں جن کی پو ری تفصیل کا وقت نہیں اپنی کتابوں ک ے ابواب م یں درج کریں۔


ہ ا ں ایک پہ لو س ے م یں ضرور آپ کی تصدیق کرتا ہ و ں ک ہ علماء ا ہ ل سنت ک ے درم یان بخاری صاحب یقینا اس حیثیت سے ب ہ ت محتاط ت ھے ک ہ جس روا یت میں یہ نظر آیا کہ عنوان امامت و ولا یت کے لحاظ س ے ولا یت علی ابن ابی طالب علیھ ما السلام او ر حرمت اہ لب یت طاہ ر ین علیھ م السلام کے ثبوت م یں کوئی راہ نکل ر ہی ہے تو احت یاطا اس کو نقل نہیں کیا کہ ا یسا نہ ہ و کس ی روز عقلمندوں ک ے ہ ات ھ کا حرب ہ بن جائ ے اور و ہ حق و حق یقت کو ظاہ ر کرد یں ۔ چنانچ ہ جب ہ م صحاح ک ی جلدوں کا صح یح بخاری سے مقابل ہ کرت ے ہیں تو اس نتیجے تک پہ نچت ے ہیں ۔ کہ اس روشن موضوع پر کوئی روایت چاہے و ہ متواتر ،ضرور ی اور قرآن وآیات الہی کی تائید سے مضبوط ہی ہ و ان ہ و ں ن ے نقل ن ہیں کی ہے ج یسے آیات مبارکہ "یا ایها الرّسول بلغ ما انزل الیک من ربّک " ، "انما ولیکم الله و رسو له و الذین آمنو الذین یقیمون الصلواة و یوتون الزکا ة و هم راکعون"،"و انذر عشیرتک الاقربین" وغ یرہ کی شان میں بکثرت حدیثیں ،حدیث ولایت یوم الغدیر ، حدیث انذار ، حدیث مواخات ، حدیث، حدیث سفینہ ،حدیث با ب الحطہ اور دوسر ی حدیثیں جو اہ لب یت طہ ارت عل یھ م السلام کی حرمت وولایت کے اثبات س ے نسب ت رکھ ت ی تھیں انہ و ں ن ے احت یاطا نقل نہیں کیں ۔ ل یکن ہ ر و ہ حد یث جو انبیاء کرام او ر با لخصوص حضرت خاتم الا نبیاء (ص) کے وجود اقدس اور آنحضرت (ص) ک ی عترت طاہ ر ہ ک ے مقامات ومدارج عال یہ کی اہ انت کا کوئ ی پہ لو رک ھ ت ی تھی وہ (چا ہے کس ی جعّال ،کذّاب اور وضّاع ہی سے م نقول ہ و)بغ یر احتیاط کے نقل کرد ی جن میں بعض کی طرف اشارہ ہ و چکا ہے ۔

حدیث ثقلین کے اسناد

اب میں مجبور ہ و ں ک ہ آپ ک ی بعض کتابوں ک ی طرف اشارہ کرو ں تاک ہ آپ ب ھی جان لیں کہ حد یث مبارکہ ثقل ین کو اگر بخاری صاحب نے درج ن ہیں کیا ہے تو آپ ک ے دوسر ے اکابر وموثق ین علماء یہ ا ں تک کہ بخار ی کے ہ م پل ہ (ج یسا کہ آپ ب ھی مانتے ہیں )مسلم بن حجاج نے ب ھی نقل کیا ہے ۔

مسلم بن حجاج نے "صح یح مسلم"جلد ہ فتم صفح ہ 122 م یں ،ترمذی نے " صح یح " میں ، ابو داؤد نے "سنن "جزء دوم صفح ہ 207 م یں نسائی نے " خصائص "صفح ہ 30 م یں ، امام احمد بن جنبل نے "مسند "جلد سوم صفح ہ 14-17 وجلد پنجم صفح ہ 182-189 م یں ،حاکم نے مستدرک"جلد سوم صفح ہ 109 -148 میں ،حافظ ابو نعیم اصفہ ان ی نے "حل یۃ الاولیا " جلد اول صفحہ 355 م یں ،سبط ابن جوزی نے تذکر ۃ صفحہ 186 م یں ، ابن اثیر جوزی نے اسد الغاب ہ جلد دوم صفح ہ 12 وجلد سوم صفح ہ 147 م یں حمیدی نے جمع ب ین الصحیصین میں ، رزین نس "جمع بین الصحاح الستہ "م یں ، طبرانی نے "کبیر" میں ،ذہ ب ی نے " تلخیص مستدرک" میں ، ابن عبد ربہ ن ے "عقد الفر ید" میں محمد ابن طلحہ شافع ی نے "مطالب السئول" م یں ، خطیب خوارزمی نے " مناقب" م یں سلیمان بلخی


حنفی نے " ینابیع المودۃ"باب 4 میں ، میر سید علی ہ مدان ی نے "مود ۃ القربی " کی مودۃ دوم میں ، ابن ابی الحدید نے " شرح ن ہ ج البلاغ ۃ " میں ، شبلنجی نے " نور الابصار" صفح ہ 99 م یں ،نورالدین بن صباغ مالکی نے " فصول الم ہ م ہ "صفح ہ 25م یں ، حموینی نے فرائد السبط ین میں ،امام ثعلبی نے "مناقب "م یں ، محمد بن یوسف کنجی شافعی نے "کفا یت الطالب"باب اول بیان صحت خطبہ غد یر خم وضمن باب 62صفحہ 130 م یں ، محمد بن سعد کاتب نے " طبقات" جلد چ ہ ارم صفح ہ 8 م یں ، فخر الدین رازی نے " تفس یر کبیر "جلد سوم ضمن آیہ اعتصام صفحہ 18 م یں ابن کثیر دمشقی نے " تفس یر" جلد چہ ارم ضمن آ یہ مودت صفحہ 113 م یں ،ابن عبد ربہ ن ے "عقد الفر ید" جلد دوم صفحہ 158 ،346 میں ، ابن ابی الحدید نے " شرح ن ہ ج البلا غ ہ " جزء ششم صفح ہ 130 ،سل یمان حنفی نے ینابیع المودۃ صفحات115،95،34،32،31،30،29،25،18، 230،199،126، میں مختلف عبارتوں ک ے سات ھ ،ابن حجر مک ی نے صواعق محرق ہ صفحات 136،99،90،87،75، م یں مختلف عبارتوں ک ے سات ھ اور آپ کے دوسرے اکابر علماء ن ے جن ک ے سار ے اقوال کرنا اس مختصر جلس ہ م یں دشوار ہے الفاظ وعبارات ک ے مختصر اختلاف ک ے سات ھ اس حد یث مبارک کو جو نقل اقوال خاصہ وعام ہ ہے تواتر ک ی حد تک پہ نچ ی ہ وئ ی ہے رسول اکرم(ص) س ے نقل ک یا ہے ک ہ آپ(ص) ن ے فرما یا "انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله وعترتی اهلبیتی لن یفترقا حتی یردا علی الحوض من توسل(تمسک) بهما فقد نجی ومن تخلف عنها فقد هلک ما ان تمسکتم بهما لن تضلوا ابدا " ( یعنی بہ تحق یق میں تمہ ار ے درم یان دو گرانقدر چیزیں چھ و ڑ ر ہ ا ہ و ں ،الل ہ ک ی کتاب(قرآن مجید) اور میری عترت و اہ ل بیت یہ دونوں آپس م یں ایک دوسرے س ے جدا ن ہ ہ و ں گ ے یہ ا ں تک کہ حوض کوثر ک ے کنار ے م یرے پاس پہ نچ جائ یں جو شخص ان دونوں س ے توسل وتمسک رک ھے گا و ہ یقینا نجات یافتہ ہے اور جو شخص ان دونو ں س ے من ہ مو ڑے گا تو و ہ یقینا ہ لاک شد ہ ہے جب تک ان دونو ں س ے تمسک کروگ ے ہ رگز کبھی گمراہ ن ہ ہ و ں گ ے ) ۔

یہ ہ مار ی ایک محکم دلیل ہے ک ہ ہ م رسو ل (ص)ک ے حکم س ے قرآن کر یم اور اہ ل ب یت طاہ ر ین(ص) سے تمسک وتوسل رک ھ ن ے پر مجبور ہیں۔

شیخ:- اس حدیث کو صالح بن موسی بن عبداللہ بن اسحق بن طلح ہ بن عبدالل ہ القرش ی التیمی،الطلحی نے اپن ی سند کے سات ھ ابو ہ ر یرہ سے اس طرح نقل ک یا ہے ک ہ ۔ "انی قد خلفت فیکم ثنتین کتاب الله و سنتی الی آخر"

خیر طلب :- آپ نے پ ھ ر ا یک طرفہ ا یک بدکار ،متروک ، ضعیف اور ارباب جرح وتعدیل ، جیسے ذہ ب ی ،یحیی ،امام نسائی ،بخاری ،اور ابن عبد ربہ وغ یرہ کے نزد یک مردود فرد سے حد یث نقل کرکے وقت ضائع ک یا ۔

جناب من!

کیا آپ ہی کے اکابر علماء س ے اس قدر معتبر روا یتوں کا نقل کرنا آپ کے لئ ے کاف ی نہیں ہ وا جو آپ اپن ے نقاد


علماء ک ے نزد یک ایسی ناقابل قبول حدیث کا سہ ارا ڈھ ون ڈھ ا ؟ حالانک ہ فر یقین (سنی ،شیعہ)کا اس پر اتفاق ہے ک ہ رسول اکرم ن ے کتاب الل ہ و عترت ی فرمایا ہے ن ہ کہ سنت ی کیونکہ کتاب وسنت دونوں اپن ے لئ ے شارح چا ہ ت ی ہیں۔ اور جب سنت خود شارح ک ی محتاج ہے تو قرآن ک ی پوری شارح نہیں بن سکتی لہ ذا عد یل قرآن ،عترت اور اہ ل ب یت ہیں جو قرآن کی تفسیر کرنے وال ے بھی ہیں اور سنت رسول(ص)ظاہ ر کرن ے وال ے ب ھی ۔

حدیث سفینہ

اہ ل بیت رسول (ص) کے توسل پر ہ مار ی دلیلوں میں سے معتبر حد یث سفینہ بھی ہے جس کو آپ ک ے ب ہ ت ب ڑے ب ڑے علماء ن ے تقر یبا تواتر کی حد تک نقل کیا ہے ۔ جس قدر م یرے پیش نظر ہے آپ ک ے سو100 نفر س ے ز یادہ اکابر علماء نے اپن ی کتابوں م یں درج کیا ہے ،مثلا مسلم بن حجاج نے اپن ی "صحیح "میں ، امام احمد بن حنبل نے "مسند" م یں ،حافظ ابو نعیم اصفہ ان ی نے "حل یۃ الاولیاء" میں ، ابن عبد البر نے " است یعاب" میں ، ابو بکر خطیب بغدادی نے " تار یخ بغداد" میں ، محمد ابن طلحہ شافع ی نے " مطالب السئول" م یں ، ابن اثیر نے "ن ہ ا یہ" میں ، سبط ابن جوزی نے " تذکر ہ "م یں ، ابن صباغ مالکی نے "فصول الم ہ م ہ " م یں ،علامہ نورالد ین سمہ ود ی نے "تار یخ المدینہ" میں ، سید مومن شبلنجی نے "نور الابصار"م یں ، امام فخر الدین رازی نے "تفس یر مفا تیح الغیب"میں ، جلال الدین سیوطی نے "در المنثور "م یں امام ثعلبی نے "تفس یر کشف البیان" میں ، طبرانی نے "اوسط"م یں ،حاکم نے " مستدرک " م یں جلد سوم صفحہ 151 م یں ،سلیمان بلخی حنفی نے " ینابیع المودۃ" باب 4 میں ،میر سید علی ہ مدان ی نے "مودت القرب ی " مودت دوم میں ، ابن حجر مکی نے " صواعق محرق ہ " ذ یل آیت ہ شتم م یں ۔ طبر ی نے اپن ی "تفسیر اور تاریخ"میں ، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے "کفا یت المطالب "باب 233 اور آپ کے دوسر ے ب ڑے ب ڑے علماء ن ے نقل ک یا ہے ک ہ حضرت خاتم الانب یاء نے فرما یا " انما مثل اہ لب یتی کمثل سفینۃ نوح من رکب نجی ومن تخلف عنھ ا ھ لک"( یعنی سوا اس کے ن ہیں ہے ک ہ تم ہ ار ے درم یان میرے اہ ل ب یت کی مثال کشتی نوح کے مثل ہے ک ہ جو شخص پر سوار ہ و ا اس ن ے نجات پائ ی ۔ اور جس شخص ن ے اس س ے روگردان ی کی ہ لاک ہ وگ یا)۔

نیز امام محمد بن ادریس شافعی نے اپن ے اشعار م یں اس حدیث کی صحت کی طرف اشارہ ک یا ہے ۔ چنانچ ہ علام ہ فاضل عج یلی نے "ذخ یرۃ المال میں ان کو اسطرح سے نقل ک یا ہے ۔

ولمّا رایت النّاس قد ذهبت بهم ------ مذاهب هم فی ابحر الغیّ والجهل

رکبت علی اسم الله فی سفن النجاة ------ وهم اهل بیت المصطفی خاتم الرّسل

وامسکت حبل الله وهو ولاؤهم ------ کما قد امرنا بالتمسک بالحبل

اذا افترقت فی الدین سبعون فرقة ------ وینفا علی ما جاء فی اصح النقل

ولم یک ناج منهم غیر فرقة ------ فقل لی بها یا ذا الرجائة ولعقل


انی الفرقة الهلاک آل محمد ------ ام الفرقة اللاتی نجت منهم لی قل

فان قلت فی النّاجین فالقول واحد ------ وان قلت فی الهلاک حفت عن العدل

اذا کان مولی القوم منهم فاننی ------ رضیت بهم لا زال فی ظلّهم ظلّ

رضیت علیا لی اماما و نسله ------ وانت من الباقین فی اوسع الحل (1)

اگر آپ ان کھ ل ے ہ و ئ ے اور و ہ ب ھی اہ ل سنت و جماعت ک ے پ یشوائے بزرگ امام شافعی کے اشعار پر پور ی توجہ فرمائ یں تو دیکھیں گے ک ہ و ہ ک یونک کر اس کا اقرار کر رہے ہیں کہ اس س ے سف ینے کی سواری اور اس پاک خاندان سے تمسک اور تو سل ذر یعہ نجات ہے ک یونکہ امت مرحومہ ک ے ب ہ تر فرقو ں م یں سے ناج ی فرقہ صرف و ہی ہے جو آل محمد (ع) ک ے دامن س ے متمسک اور متوسل ہے اور ادربس چنانچ ہ ش یعہ خود رسول اللہ (ص) ک ے حسب الحکم خدا کی طرف اسی خاندان جلیل کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں ایک بات اور یاد آگئی کہ اگر آپ کے قول کے مطابق انسان واسط ے اور وس یلے کا محتاج نہیں ہے اور بارگا ہ خداوند ی میں اگر وسیلے کے سات ھ فر یاد و استغاثہ بلند کر ے تو گن ہ گار اور مشرک ہ وگا ۔ تو پ ھ ر خل یفہ عمر الخطاب کس لئے احت یاج اور اضطرار کے موقع پر واسط ے ک ے سات ھ خدا ک ی طرف رجوع کرتے ت ھے ا ور اس طرح استغاثہ کر ک ے کام یابی حاصل کرتے ت ھے ؟

حافظ:- ہ رگز خل یفہ عمر رضی اللہ عن ہ ن ے واسط ے ک ے سات ھ کوئ ی عمل انجام نہیں دیا اور یہ پہ لا موقع ہے جب م یں ایسے الفاظ سن رہ ا ہ و ں گزارش ہے ک ہ اس کا مجمل ب یان فرمائیے ۔

خیرطلب:- خلیفہ احتیاج کے مواقع پر بار بار ا ہ ل ب یت رسالت (ع) اور آنحضرت کی عترت طاہ ر ہ کا وس یلہ ڈھ ون ڈ ھ ت ے ر ہ ت ے ت ھے اور ان ہیں کے توسل س ے خدا ک ی طرف رجوع کرکے مطلب حاصل کرت ے ت ھے وقت کا لحاظ رکھ ت ے ہ وئ ے صرف دو موقع ے نمون ے ک ے طور پر پ یش کرتا ہ و ں ۔

(پہ لا)ابن حجر مک ی ،صواعق محرقہ م یں آیۃ نمبر14 کے بعد تار یخ دمشق سے نقل کرت ے ہیں کہ سن ہ 17 ہ جر ی میں دعائے بارش ک ے لئ ے لوگ کئ ی مرتبہ نکل ے ل یکن کوئی نتیجہ نہیں ہ و ا سب ب ہ ت متاثر اور پر یشان ہ وئ ے تو عمر ابن الخطاب ن ے ک ہ ا ک ہ اب م یں کل ضرور بالضرور اس شخص کے وس یلے سے طلب باران کرو ں گا جس ک ے واسط ے س ے حتم ی

--------------

(1):- (جب میں نے لوگوں کو جہل گمراہی کے دریا میں غرق دیکھا تو خدا کے نام پر نجات کی کشتیوں میں بیٹھا جو خاتم الانبیاءحضرت محمد مصطفی کے اہل بیت ہیں ۔میں نے جہل خدا سے تمسک کیا جو اسی خاندان کی دوستی ہے جیسا کہ ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ اس حبل سے متمسک رہیں ۔جس وقت دین کے اندر ستر سے زیادہ فرقے پیدا ہوگئے جیسا کہ حدیث میں واضح طور پر آیا ہے اور ان میں سواایک کے کوئی ناجی نہیں ہے تو مجھے سے کہو کہ اے صاحب عقل ودانش ! کہ آیا خاندان رسالت اور آل محمد علیھم السلام کسی فرقہ میں سے ہیں؟یا نجات کی پانے والے حق فرقے کے افراد ہیں؟اگر یہ کہو کہ فرقہ ناجیہ میں ہیں تو ہمارا اور تمہارا قول ایک ہے اور اگر کہو کہ باطل ہونے والے فرقوں کے ساتھ ہیں تو تم صراط مستقیم سے منحرف ہو گئے ۔ اگر قوم کا سردار ان حضرات(ع) میں سے ہو تو میں بخوشی ان کی اطاعت کے لئے آمادہ ہو رہا ہوں ۔ان کا سایہ ہمیشہ سروں پر قائم ہے ۔میں علی اور ان کی اولاد علیھم السلام کی امامت پر راضی ہوں ۔ جو حق پر ہے اور تم باطل فرقوں میں رہو اس روز تک جب حقیقت ظاہر ہو جائے )


طور پر خدا ہ م کو پان ی دے گا ۔ دوسر ے دن صبح کو خل یفہ عمر آن حضرت صلعم کے چچا عباس ک ے پاس گئ ے اور ک ہ ا "اخرج بنا حت ی نستسقی اللہ بک " (ہ مار ے سات ھ با ہ ر چلو تا ک ہ ہ م بارگا ہ ال ہی میں تمہ ار ے وس یلے سے پان ی طلب کریں۔

جناب عباس نے فرما یا تھ و ڑی دیر بیٹھ جاؤ تاکہ م یں وسیلہ مہیا کر لوں ،پ ھ ر کس ی کو بھیج کر بنی ہ اشم کو اطلاع د ی کہ اور پاک لباس پ ہ ن ک ے خوشبو لگا ک ے اس صورت س ے با ہ ر آئ ے ک ہ عل ی علیہ السلام عباس کے آگ ے امام حسن عل یہ السلام داہ ن ی طرف، امام حسین علیہ السلام بائیں طرف اور دوسرے بن ی ہ اشم پ یچھے پیچھے تھے اس وقت فرما یا کہ ا ے عمر کس ی اور شخص کو ہ مار ے سات ھ شامل ن ہ کر ۔ چنانچ ہ اس ی حالت سے مصل ے تک پ ہ نچ ے اور جناب عباس ن ے مناجات ک ے لئ ے ہ ات ھ کو بلند کر ک ے عرض ک یا ۔ پروردگار ا ! تو ن ے ہ م کم خلق فرما یا اور جو کچھ ہ م عمل کرت ے ہیں تو اس سے واقف ہے پ ھ ر عرض ک یا کہ "الل ھ م کما تفضلت عل ینا فی اولہ فتفضل عل ینا فی آخرہ " ( یعنی پر وردگار جس طرح تو نے ابتدا م یں ہ م پر فضل ک یا ہے اس ی طرح آخر میں ہ مار ے اوپر تفضل فرما)جابر ک ہ ت ے ہیں ان کی دعا تمام نہ ہ وئ ی تھی کہ بادل آنا شروع ہ وئ ے اور پان ی برسنے لگا ۔ اب ھی ہ م لوگ گ ھ رو ں تک ن ہیں پہ نچ ے ت ھے ک ہ بارش س ے ب ھیگ گئے ۔

نیز بخاری سے نقل کرت ے ہیں کہ ا یک مرتبہ قحط ک ے زمان ہ م یں عمر ابن خطاب عباس ابن عبد المطلب کے وس یلے سے بارگا ہ خداوند ی میں پانی کے لئ ے دعا کر ر ہے ت ھے اور ک ہ ت ے ت ھے "الل ھ م انا نتوسل ال یک بعم نبینا فاسقنا فیسقون" یعنی خداوندا ہ م ت یری طرف عم رسول (ص) کا وسیلہ اختیار کرتے ہیں ہ م کو سیراب کردے ،چنانچ ہ ان لوگو ں پر نزول بارا ں ہ وا )

(دوسرا)ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہ ج البلاغ ہ (مطبوع ہ مصر) جلد دوم صفح ہ 256 م یں نقل کرتے ہیں کہ خل یفہ عمر جناب عباس عم رسول(ص) کے ہ مرا ہ استسقاء ک ے لئ ے گئ ے اور اس طرح دعا ک ی "اللھ م انا نتقرب ال یک بعم نبیک وبقیۃ آبا ئہ وکبر رجال ہ فاحفظ الل ھ م نب یک فی عمہ فقد ولونا ب ہ ال یک مستشفعین ومستغفرین "(یعنی خداندا ! ہ م ت یری طرف وسیلہ ڈھ ون ڈ ت ے ہیں تیرے پیغمبر کے چچا اور ان ک ے آباء اور بزرگ مردو ں م یں سے باق ی ماندہ ک ے ذر یعے سے ، پس اپن ے پ یغمبر کی منزل ان کے چچا ک ے بار ے م یں محفوظ رکھ ک یونکہ ہ م ن ے ان ک ی وجہ سے تیری طرف ہ دا یت پائی تاکہ شفاعت طلب کر یں اور اسغفار کریں۔


حضرات اہ ل سنت اور پ یروان خلیفہ عمر کے حالات تو اس مش ہ ور مثل ک ے مطابق ہیں کہ "کاس ہ گرم تر از آش " " یعنی شوربے س ے ز یادہ پیالہ گرم " کیونکہ خلیفہ عمر دعا اور احتیاج واضطرار کے وقت عترت و ا ہ ل ب یت رسول(ص) کو اپنا شفیع قرار دیتے ہیں اور ان کے وس یلے سے بارگاہ ال ہی میں طلب حاجت کرتے ت ھے تو ان پر کوئ ی اعتراض نہیں ۔ ل یکن جس وقت ہ م ش یعہ اس برگزیدہ خاندان کو شفیع بناتے اور ان کا توسل اخت یار کرتے ہیں تو ہ م کو سخت اعتراض ک ے سات ھ کافر ومشرک ک ہ ا جاتا ہے ۔ اگر آل محمد (ص)اور عترت طا ہ ر ہ کو خدا ک ی طرف شفیع قرار دینا شرک ہے تو آپ ہی کے علماء ک ی روایتوں کے مطابق خل یفہ عمر ابن خطاب قطعا سب سے پ ہ ل ے مشرک ٹھہ رت ے ہیں اور اگر خلیفہ کا وہ عمل شرک ن ہیں تھ ا بلک ہ ب ہ تر ین کام تھ ا ۔ (ک یونکہ خلیفہ نے اس کاانتخاب ک یا تھ ا)تو یقینا شیعوں کے اعمال اور آل محمد عل یھ م السلام سے ان کا توسل ہ رگز شرک ن ہیں ہ و سکتا ۔

لہ ذا آپ حضرات کو چاہیے کہ قطع ی طور پر اپنی یہ باتیں چھ و ڑیں بلکہ استغفار کر یں (کیونکہ بے لوث اور موحد ش یعوں کی طرف ایسی غلط نسبت دی ہے )تاک ہ غضب ال ہی کے مستحق ن ہ بن یں اس لئے ک ہ جب خل یفہ عمربزرگان صحابہ ک ی ہ مرا ہی میں بھی چا ہے جس قدر دعا کر یں لیکن بغیر اہ ل ب یت رسول کے وس یلے کے کوئ ی نتیجہ برآمد نہ ہ وا تو آپ ک یونکر امید رکھ ت ے ہیں کہ ہ م بغ یر واسطے اور س ہ ار ے ک ے دعا کرک ے کام یاب ہ و جائ یں گے ۔

پس آل محمد سلام اللہ عل یھ م اجمعین عہ د رسول (ص) س ے ل ے کر ہ مار ے موجود ہ زمان ے تک ہ ر دور م یں خدا کی طرف بندوں ک ے وس یلے تھے اور ہیں اور ہ م لوگ ب ھی حاجت روائی میں ان کی خود مختاری کے قائل ن ہیں ہیں لیکن یہ ضرور ہے ک ہ ان کو خدا ک ے صالح بند ے برحق امام او ر درگاہ خدا م یں مقرب سمجھ ت ے ہیں لہ ذا اپن ے اور خدا ک ے درم یان واسطہ قرار د یتے ہیں۔

اس مقصد پر سب سے ب ڑی دلیل ہ مار ی دعاوؤں ک ی کتابیں ہیں کیونکہ ائمہ معصوم ین علیھم السلام سے تمام ماثور ہ اور دعاوؤ ں م یں ہ م جو کچ ھ م یں نے عرض ک یا ہے اس ک ے علاو ہ کوئ ی اور ہ دا یت ہی نہیں دی گئی ہے اور ہ م ن ے ب ھی اس طریقے کے خلاف ن ہ کوئ ی عمل کیا ہے ا ور نہ کر یں گے ۔

حافظ :- آپ کے یہ بیانات ہ مار ی سنی ہ و ی باتوں ک ے خلاف ہیں ۔

خیر طلب :- اپنی سنی ہ وئ ی باتوں کو چ ھ و ڑیئے اور مشاہ دات کا ذکر ک یجیئے ۔ ک یا آپ نے ہ مار ے ب ڑے علماء ک ی کچھ معتبر کتب ادع یہ کا مطالعہ ک یا ہے ؟

حافظ :- نہیں مجھ کو موقع ن ہیں ملا ۔

خیر طلب:-مناسب یہ تھ ا ک ہ پ ہ ل ے آپ اس قسم ک ی کتابیں ملاحظہ فرما ل یتے اس کے بعد اعتراض فرماتے اس وقت دعا وز یارت کی دو کتابیں میرے ہ مرا ہ ہیں ۔ ا یک علامہ مجلس ی علیہ الرحمہ ک ی تالیف ، زاد المعاد ،اور


دوسری "ہ د یۃ الزائرین " مؤلفہ فاضل محدّث وعال م متبحر آقائی حاج شیخ عباس قمی دامت برکاتہ یہ مطالعے ک ے لئ ے حاضر ہیں (میں نے دونو ں جلد یں مولوی صاحبان کی خدمت میں پیش کریں ۔ اور ان ہ و ں ن ے د یکھ نا شروع کیا ،ادعیہ توسل کو پڑھ ا اور غور ک یا لیکن کسی مقام پر خاندان رسالت کے لئ ے خود مختار ی کا ذکر نہیں کیا بلکہ ہ ر جگ ہ ان کو واسط ہ ک ہ ا گ یا ہے اس وقت مولو ی سید عبد الحیی نے دعائ ے تو سل کو جو علام ہ مجلس ی علیہ الرحمہ ن ے بسلسل ہ محمد ابن بابو یہ قمی علیہ الرحمہ ائم ہ طا ہ ر ین سلام اللہ عل یھ م اجمعین نے نقل ک ی ہے نمون ے ک ے طور پر آخر تک پ ڑھی جس کا شروع یہ ہے ۔

دعائے توسل

اللهم انّی اسئلک و اتوجه الیک بنبیک نبی الرحمة محمد صلی الله علیه وآله یا ابا القاسم یا رسول الله یا امام الرحمة یا سیدنا ومولانا انّا توجهنا و استشفعنا وتوسلنا بک الی الله وقد مناک بین یدی حاجاتنا یا وجیها عند الله اشفع لنا عند الله ٭ یا ابا الحسن یا امیر المومنین یا علی ابن ابی طالب یا حجة الله علی خلقه یا سیدنا و مولانا انّا توجهنا واستشفعنا و توسلنا بک الی الله وقدمناک بین یدی حاجاتنا یا وجیها عندالله اشفع لنا عند الله

جس نوعیت سے ام یر المومنین علیہ السلام کو خطاب کیا گیا ہے اس ک ے بعد اس ی طرح سے کل ائم ہ معصوم ین علیھ م السلام کے لئ ے ب ھی ہے اور خطاب م یں ان کو یا حجۃ اللہ عل ی خلقہ ک ہ ا جاتا ہے یعنی اے حجت خدا خلق خدا پر ۔۔۔۔ آخر دعا تک ائم ہ طا ہ ر ین میں سے ا یک ایک کا نام لے کر توسل اخت یار کیا گیا ہے اور اس طر یقے سے مخاطب ک یا گیا ہے ک ہ ا ے ہ مار ے س ید مولا ہ م آپ ک ے وس یلے سے خدا ک ی طرف توجہ وتوسل اور طلب شفاعت کرت ے ہیں ،اے خدائ ے تعال ی کے نزد یک صاحب عزت بارگاہ ال ہی میں ہ مار ی سفارش فرمائیے ۔یہ ا ں تک کہ آخر دع امیں سارے خاندان رسالت کو مخاطب کرک ے ک ہ ا ہے ۔

"یا ساداتی وموالی انی توجهت بکم ائمتی وعدتی لیوم فقری وحاجتی الی الله وتوسلت بکم الی الله واستشفعت بکم الی الله فاشفعوا لی عندالله و استنقذونی من ذنوبی عند الله فانّکم وسیلتی الی الله وبحبکم وبقربکم ارجو نجاة من الله فکونوا عند الله رجائی یا ساداتی یا اولیاء الله"

جس وقت وہ حضرات یہ دعائیں پڑھ ر ہے ت ھے بعض م ہ ذب اور محترم سن ی حضرات ہ ات ھ مارت ے ت ھے


اور باربار ک ہ ت ے ت ھے "لا ال ہ الا الل ہ سبحان الل ہ " کس طرح س ے غلط ف ہ م ی پھیلاتے ہیں۔

(میں نے ک ہ ا)م یں آپ حضرات سے انصاف چا ہ تا ہ و ں ۔ ان دعاو ؤ ں ک ی عبارتوں م یں کس مقام پر شرک کے آثار پائ ے جات ے ہیں ؟کیاہ ر جگہ خدائ ے تعال ی کامقدس نام موجود نہیں ہے ؟ ہ م ن ے دعا ک ی کون سی عبارت میں ان حضرات کو باری تعالی کا شریک قراردیا ہے ؟ آخر کس ل ئے آپ ہ م لوگو ں پر ت ہ مت لگات ے ہیں کس وجہ س ے موحد مسلمانو ں کو غال ی اور مشرک کہ ت ے ہیں ؟ کس غرض سے مسلمانو ں ک ے دلو ں م یں بغض وعداوت کا بیج بوتے ہیں ؟کس مقصد سے ناواقف لوگو ں ک ی نظر میں حقیقت کو مشتبہ بنات ے ہیں ؟تاکہ و ہ اپن ے د ینی ایمانی بھ ا یئوں کو کافر سمجھیں ۔ آپ ک ے کتن ے ناواقف اور متعصب عوام ب یچارے شیعوں کو اسی خیال سے قتل کرت ے ہیں کہ ہ م ا یک کافر کو قتل کیا لہ ذا جتن ی ہ وگئ ے ا یسے امور کا مظلمہ آپ ہی جیسے علماء کی گردنوں پر ہے ۔

بات یہ ہے ک ہ ش یعہ علماء او رمبلغین زہ ر ن ہیں پھیلاتے ۔ ش یعہ اور سنی کے درم یان عداوت کا بیج نہیں بوتے اور قتل نفس کو گنا ہ عظ یم سمجھ ت ے ہیں ،ہ م ش یعہ اور سنی کے درم یان ما بہ اختلاف مسائل کو علم ومنطق ک ی روشنی مین بیان کرکے ان کو حق یقت مذہ ب س ے با خبر کرتے ہیں لیکن گفتگو کے ضمن م یں ان کو یہ بھی سمجھ ا د یتے ہین کہ سن ی ہ مار ے مسلمان ب ھ ائ ی ہیں لہ ذا ش یعہ جماعت کو ان کی طرف کینے اوردشمنی کی نظر سے ن ہ د یکھ نا چاہیئے بلکہ برادران ہ طر یقے سے آپس م یں متحد رہ نا چا ہیئے تاکہ ہ م سب مل کر لا الہ الا الل ہ کاپرچم بلند کر یں۔

لیکن اس کے برعکس متعصب سنّ ی علماء کے طرز عمل س ے ہ م کو افسوس ہ وتا ہے ک ہ ابو حن یفہ ،مالک ابن انس، محمد ابن ادریس شافعی اور احمد ابن حنبل کے پ یروؤں کو باوجود یکہ ان کے درم یان کثیر اصولی اور فروعی اختلافات ہیں ہ ر مقام پر آزاد ی دیتے ہیں اور مسلمان بھ ائ ی کہ ت ے ہیں لیکن علی ابن ابی طالب اور امام صادق آل محمد علیھ ما السلام جو عترت و اہ ل ب یت رسالت ہیں ،ان کے پ یروؤں کو غالی ،مشرک اور کافر نامزد کرتے ہیں اور ان کی آزادی سلب کرتے ہیں تاکہ سن ی ممالک کے اندر ان ک ی جان ومال محفوظ نہ ر ہے ،کتن ے ز یادہ ہیں کہ ا یسے صاحبان علم وتقوی شیعہ جو سنی علماء کے فتو ے س ے ش ہید کئے گئ ے ل یکن اس کے برعکس ا یسا عمل شیعہ علماء کی طرف سے ک یا بلکہ عوام ش یعہ کی جانب سے ب ھی جن سے اس کا انجام پانا ز یادہ سہ ل ہے کس ی جاہ ل سن ی کے لئ ے ب ھی صادر نہیں ہ وا ہے آپ ک ے علماء بالعموم ش یعوں پر لعنت کرتے ہیں لیکن شیعہ علماء کی کسی کتاب میں یہ نہیں دیکھ ا گیا ہے ک ہ ان ہ و ں ن ے ا ہ ل تسنن لعن ھ م الل ہ لک ھ ا ہ و ۔

حافظ:- آپ زیادتی کر رہے ہیں ،کون سا صاحب علم وتقوی شیعہ ہ مار ے علماء ک ے فتو ے س ے قتل ہ وا ہے ک ہ


آپ بلا وج ہ جو ش دلا ر ہے ہیں ؟اور کس نے ہ مار ے علماء م یں سے ش یعوں پر لعنت کی ہے ۔

خیرطلب :- اگر آپ کے علماء اور عوام کے حرکات تفص یل سے ب یان کرنا چاہ و ں تو ا یک نشست نہیں بلکہ کئ ی مہینے درکار ہ و ں گ ے ل یکن نمونے اور اثبات ک ے لئ ے ان ک ے بعض اعمال اور اطوار ک ی طرف جو تاریخ کے صفات پر نقش ہیں کئے د یتا ہ و ں تاک ہ آپ کو معلوم ہ وجائ ے ک ہ جوش نہیں دلاتا ہ و ں بلک ہ حق یقت پیش کرتا ہ و ں ۔

اگر آپ بڑے ب ڑے متعصب علماء ک ی کتابیں غور سے مطالع ہ ک یجئے تو لعنت کے مواقع خود ہی نظر آجائیں گے نمون ے ک ے طور پر تفس یر امام فخر الدین رازی کی جلدیں ملاحظہ فرمائ یے کہ جس جگ ہ ان کو موقع ہ ات ھ آ یا ہے ج یسے" آیت ولایت و اکمال الدین" وغیرہ کے ذ یل میں مکرر ومکرر لکھ ت ے ہیں۔

"و اما الرافضة لعنهم الله هؤلاء الرافضة لعنهم ----اما قول الروافض لعنهم الله " ل یکن کسی شیعہ عالم کے قلم س ے عام بردران ا ہ ل سنت ک ے لئ ے بلک ہ خاص صورت م یں بھی ان کے لئ ے ا یسی عبارتیں نہیں نکلی ہیں۔

اس جماعت کے فتو ے س ے ش ہید اول کی شہ ادت

شیعہ ارباب علم کے سات ھ آپ ک ے علماء ک ی دردناک بدسلوکیوں میں سے ا یک وہ عج یب وغریب فتوی ہے جو ا یک بہ ت ب ڑے ش یعہ فقیہ کے واسط ے شام ک ے دوب ڑے قاض یوں (برہ ان الد ین مالکی و عباد بن الجماعۃ الشافعی) کی طرف سے صادر ہ وا ت ھ ا و ہ بزرگ فق یہ جو زہ د وورع ،تقوی اور علم وتفقہ م یں سارے ا ہ ل زمان ہ ک ے سردار ت ھے ۔ ابواب فق ہ پر احاط ہ رک ھ ن ے م یں اپنے دور ک ے اندر جواب ن ہیں رکھ ت ے ت ھے ان ک ی فقہی مہ ارت کا ا یک نمونہ کتاب لمع ہ ہے جو (بغ یر اس کے ک ہ سوا "مختصر نافع" ک ے اور کوئ ی فقہی کتاب آپ کے پاس موجود ر ہی ہ و) صر ف سات روز کے اندر تصنیف فرمائی اور حنفی ، مالکی ،شافعی اور جنبلی چاروں مذ ہ ب ک ے علماء ان ک ے حلق ہ تلامذ ہ م یں داخل ہ و کر ف یض علم سے س یراب ہ وت ے ت ھے جناب ابو عبدالل ہ محمد بن جمال الد ین مکو عاملی رحمۃ اللہ عل یہ تھے۔

باوجودیکہ سنیوں کی سخت گیری کی وجہ س ے آپ ز یادہ تر تقیہ میں رہ ت ے ت ھے ۔ اور با الاعلان تش یع کا اظہ ار ن ہیں فرماتے ت ھے ل یکن پھ ر ب ھی شام کے ب ڑے قاض ی "عباد بن الجماعۃ" نے ا یسے عالم ربانی سے حسد کابرتاؤ کرت ے ہ وئ ے وال ی شام (بید مر) کے پاس ان ک ی چغلی کھ ا ئی اور رفض و تشیع کا الزام لگا کر اس فقیہ عالم کوگرفتارکروایا ۔ ا یک سال تک قید خانہ م یں سخت تکلیفیں دینے کے بعد 9 یا 19 جمادی الاولی سنہ 786 م یں انہیں دو بڑے سن ی قاضیوں (ابن الجماعۃ وبرہ ان الد ین )کے فتو ے س ے پ ہ ل ے آپ کو تلوار س ے قتل ک یا پھ ر آپ کا جسم


سول ی پر چڑھ ا یا گیا اس کے بعد ان ہیں دونوں ک ی تحریک سے (1) اس نام پر ا یک رافضی مشرک سولی کے اوپر ہے عوام ن ے آپ ک ے بدن کوسنگ سار ک یا ۔ پ ھ ر ن یچے اتار کر آگ سے جلا یا اور خاکستر ہ وا م یں اڑ اد ی۔

-------------

(1):-ان قابل ذکر واقعات میں سے جنہوں نے مجھ پر ان تاریخی وقائع کو ثابت کردیا ایک دفعہ یہ بھی ہے جسکو میں اختصار کے ساتھ ذیل میں درج کرتا ہوں ۔

19جمادی الثا نیۃ سنہ 1371ھ میں جب میں زیارت بیت المقدس سے واپس ہو کر دمشق جارہا تھا ۔ ابتدائے شب میں شرق اردن کی مسجد جامع عمان میں (جو بہت خوبصورت مسجد ہے) نماز پڑھنے پہنچا ،اہل سنت مسلمانوں کی جماعت نماز ختم کرچکی تھی ۔کچھ لوگ جارہے تھے اور بعض لوگ ابھی نوافل پڑھنے میں مشغول تھے ، میں بھی مسجد کے ایک گوشہ میں جاکر فریضہ مغرب وعشاء اداکرنے میں مصروف ہوا ۔فریضہ اور نوافل سے فارغ ہونے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ ان میں سے بعض لوگ مجھ پر غضبناک ہیں خصوصا وہ عالم جوچند اشخاص کے ساتھقراءت قرآن میں مشغول تھے اور میری طرف شدید غصہ کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے میں تعقیبات ختم کرکے مسجد سے باہر نکل آیا اور گیراج میں جاکر موٹرچھو ٹنے کا انتظار کرنے لگا کھانا کھانے کے بعد جب مسجد میں نماز عشاءکی آذان شروع ہوئی تو مجھ کو خیال ہوا کہ روانہ ہونے کے بعد ممکن ہے موٹر راستہ میں نہ ٹھہرے اور نوافل شب پڑھنے کاموقع نہ ملے لہذا بہتر ہے کہ ابھی فراغت ہے مسجد میں جا کر نافلے ادا کرلوں پھر اطمینان سے سفر کی تیاری کروں ،چنانچہ تجدید وضو کرکے مسجد گیا اور عام بڑے پھاٹک سے داخل نہیں ہوا بلکہ عمارت کے آخری مغربی گوشے کے دروازے سے جاکر ایک بڑے ستون کے پہلو میں جو ایک اندھیری جگہ تھی وہاں جاکر مصروف نماز ہوا میں نے دیکھا کہ وہ عالم جو ایک گھنٹہ پہلے قراءت میں مشغول تھے اور غصے سے مجھ کو گور رہے تھے۔نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو جمع کئے ہوئے اور ان کے بیچ میں کھڑے ہوئے شرک اور مشرک کے بارے میں تقریر کر رہے ہیں ۔مقدمات کے بعد سلسلہ کلام اس مقام تک پہنچا کہ انتہائی جو ش اور سخن کے ساتھ کہا کہ تم سب مسلمانوں کو قیامت کے روز بازپرس کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اور جواب دینا پڑے گا ۔اس لئے کہ خدا نے فرمایا ہے مشرکین نجس ہیں ان کو مسجد میں نہ آنے دو لیکن ابھی ایک گھنٹہ پہلے ایک مشرک بت پرست نجس مسجد میں گھس آیا ہمارے سامنے بت کا سجدہ کیا اور تم لوگوں نے اس کو سزا نہیں دی میں قراءت میں مشغول تھا مگر تو لوگ کیامرگئے تھے ؟ کیا تمہارا فرض نہیں تھا کہ شرک کی نجاست کو مسجد سے دور کرتے اور بت پرست مشرک رافضی کو دفع کرتے یا اس کو قتل کردیتے کیونکہ اگر مشرک مسلمانوں کی مسجد میں بت پرستی کرے تو اس کو قتل کردینا واجب ہے ،بہر حال اپنی پر جوش تقریر سے ناواقف لوگوں کے جذبات اس طرح سے ابھارے کہ اگر میں اس جگہ موجود ہوتا تو یقینا قتل کردیا جاتا ۔تقری ختم ہونے کے بعد آدھے لوگ باہر جانے کے لئے عمارت کے آخری دروازے کے پاس آئے ، میں نماز وتر پڑھ رہا تھا چنانچہ بیٹھ گیا تاکہ ان لوگوں توجہ نہ ہو ،لیکن دفعتا میرے اوپر ان کی نظر پڑگئی ،فورا حملہ کرکے چاروں طرف سے گھیر لیا، بے شمار لاتیں اور گھونسے مجھ پر پڑرہے تھے اور برابر کہتے جاتے تھے کہ اٹھ اے مشرک !نکل اے مشرک! میں اپنی زندگی سے باکل مایوس ہو چکا تھا یہاں تک تشہد کا موقع آیا اور میں نے کہا" اشھد ان لا الہ الاّ اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ " اب ان کے درمیان اختلاف پید ا ہوگیا آپس میں کہنے لگے کہ یہ کیسا مشرک ہے جو وحدانیت خدا اور رسالت خاتم الانبیاء کی شہادت دے رہا ہے ؟ایک گروہ کہتا تھا کہ ہم نہیں جانتے قاضی کہتا تھا کہ یہ رافضی ہے اور مشرک ہے اور قاضی کی بات غلط ہوسکتی ہے وہ لوگ بحث اور اختلاف میں مصروف تھے اتنے میں میں نس سلام پڑھ کر کے نماز ختم کی کچھ جان میں جان آئی ،ہمت کرکے دفاع کے لئے آمادہ ہوا اور عربی زبان میں ایک مفصل تقریر کرکے جس کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں ان کو قائل اور لاجواب کیا اور اپنا ہمدرد بنایا اور اس ناخداشناس قاضی کو ایک جاسوس ثابت کیا جو مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر ظالم بیگانوں کو اہل اسلام پر غالب ،حاکم بنانے کے اسباب مہیا کرنا چاہتا ہے ۔خلاصہ یہ کہ ان لوگوں نے مجھ سے معذرت کی یہاں تک مجھ کو مہمان کرنے کیلئے سخت اصرار کیا لیکن میں نے یہ عذر کر کے سفر کے لئے بلکل تیار ہوں ان سے رخصت لی اور روانہ ہوا ۔یہ تھا ایک نمونہ علمائے اہل سنت کے ان سینکڑوں اقدامات میں سے جس میں انہوں نس ہمارے عوام کو دھوکہ دینے کے لئے معاملہ کو الٹ کے پیش کیا ہے اور مظلوم مسلمانوں کے قتل و اہانت کا بھی باعث ہوتا ہے ۔)))


"قاضی صیدا" کی بد گوئی سے ش ہید ثانی کی شہ ادت

دسویں صدی ہ ج ری میں بلاد شام کے اندر ش یعہ علماء اور مفاخر فقہ اء م یں سے ش یخ اجل فقیہ بے نظ یر" زین الدین ابن نور الدین علی ابن احمد بن عاملی قد سّ سرّہ " ت ھے جو علم و فضل وز ہ د و روع اور تقو ی میں دوست دشمن سبھی کے مرکز توج ہ اور کاف ی شہ رت ک ے مالک ت ھے ۔ ب اوجودیکہ شب و روز تالیف وتصنیف میں مصروف رہ ت ے ت ھے ۔ اور ہ م یشہ گوشہ نش ینی کی زندگی بسر کر تے ت ھے آپ ن ے مختلف علوم م یں اپنے قلم س ے دو سو س ے ز یادہ کتابیں چھ و ڑ د یں لیکن لوگوں س ے اس کنار ہ کش ی کے بعد ب ھی علمائے ا ہ ل سنت کو عداوت پ یدا ہ وئ ی اور آپ کی مقبولیت سے ان ک ے دلو ں م یں حسد کی آگ بھڑ ک ا ٹھی خصوصا بڑے قاض ی" صیدا "نے بادشا ہ آل عثمان "سلطان سل یم" کے پاس ا یک شکایت نامہ اس عنوان ک ے سات ھ لک ھ ا ک ہ "ان ہ قد وجد ببلاد الشام رجل مبدء خارج من المذا ھ ب الاربع ۃ "(یعنی یقینی طور پر ثابت ہ وا ہے ک ہ بلاد شام ک ے اندر ایک بدعتی شخص موجود ہے جوچارو ں مذ ہ بو ں س ے خارج ہے ) ۔

"سلطان سلیم" کی طرف سے ان عالم ،فق یہ کے لئ ے حکم صادر ہ وا ک ہ پ یشی کے لئ ے اسلامبول م یں حاضر کئے جائ یں ۔ چنانچ ہ مسجد الحرام ک ے اندر ان جناب کو گرفتار کرک ے چال یس روزتک مکہ معظم ہ م یں قید رکھ ا اس ک ے ب عد دریائی راستہ س ے دار السلطنت "اسلامبول "ک ی طرف روانہ کیا لیکن دربار تک پہ نچن ے س ے پ ہ ل ے ہی ساحل دریا پر آپ کا سر مبارک کاٹ ک ے جسم کو در یا میں پھینک دیا اور سر بادشاہ ک ے پاس ب ھیج دیا۔


محترم حضرات !

آپ کو خدا کی قسم انصاف کیجئے او رعادلانہ ف یصلہ کیجئے ! بھ لا کس ی تاریخ میں آپ نے پ ڑھ ا ہے یا سنا ہے ک ہ علمائ ے ش یعہ کی جانب سے ک ھ ب ی کسی سنی عالم بلکہ عام انسان ک ے لئ ے ب ھی ایسی بدنیتی اور بد کرداری کا مظاہ ر ہ ہ وا ہ و اور اس جرم م یں کہ و ہ ش یعہ مذہ ب س ے الگ ہے تو اس کو قتل کرد یا ہ و؟ خدا ک ے لئ ے بتائ یے یہ بھی جرم وگناہ ہ وگ یا کہ و ہ چارو ں مذا ہ ب س ے خارج ہے آپ ک ے پاس ک یا دلیل ہے ک ہ اگر کوئ ی شخص چاروں مذ ہ بو ں (حنف ی،مالکی، شافعی،حنبلی)سے انحراف کر ے تو کافر ہے اور اس کاقتل واجب ہے ؟آ یا جو مذاہ ب صد یوں کے بع د رائج ہ وئ ے ان ک ی اطاعت واجب ہے ل یکن جو مذہ ب رسول خدا (ص)کے زمان ے س ے مرکز توج ہ ت ھ ا و ہ باعث کفر اور اس ک ے پ یروؤں کاخون بہ انا جائز ہے ؟

انصاف پسند لوگوں کی توجہ کیلئے عمدہ بحث

خدا کے لئ ے سچ بتائ یے کہ ابو حن یفہ یا مالک ابن انس یا شافعی یا امام احمد بن حنبل کیا رسول اللہ (ص)ک ے زمان ے م یں تھے ؟اور اپن ے مذ ہ ب ک ے اصول وفروع بلاواسط ہ آنحضرت (ص) س ے اخذ کئ ے ت ھے ؟ ۔

حافظ:- ایسا دعوی تو کسی نے ن ہیں کیا کہ ائم ہ اربع ہ ن ے آ ں حضرت(ص) ک ی مصاحبت کا شرف حاصل کیا ہ و ۔

خیرطلب:- آیا امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیھ ما السلام صحبت میں بیٹھے اور آں حضرت کے علم کا درواز ہ ت ھے یا نہیں ؟

حافظ:- یہ تو بدیہی بات ہے ک ہ کبار صحاب ہ م یں سے بلک ہ بعض ح یثیتوں میں ان سے افضل ت ھے ۔

خیرطلب:-تو اس قاعدے ک ی رو سے اگر ہ م ک ہیں کہ عل ی ابن ابی طالب علیہ السلام کی پیروی اس لحاظ سے واجب ہے ک ہ پ یعمبر (ص)نے فرما یا علی(ع) کی اطاعت میری اطاعت ہے اور آپ آ ں حضرت (ص)باب علم ت ھے ،آن حضرت (ص)ن ے امت کو حکم د یا ہے ک ہ جو شخص م یرے علم سے ب ہ ر ہ اندوز ہ ون ا چاہ تا ہے اس کو چا ہیئے کہ عل ی (ع) کے درواز ے پر چل ے جائ ے۔ تو ہ مار ہ یہ دعوی سچا ہ وگا ۔ اور اگر ہ م ک ہیں کہ مذ ہ ب ش یعہ جو عین محمدی مذہ ب ہے ،اس لئ ے ک ہ خاتم الانب یاء نے اس ک ے پ یشواؤں کو عدیل قرآن فرمایا ہے اور ان س ے روگردان ی کو موجب ہ لاکت قرار د یا جیسا کہ حدیث ثقلین اور حدیث سفینہ سے جو متفق عل یہ فرقین(شیعہ وسنی) ہیں ، سے ثابت ہے ۔ چنانچ ہ اس س ے قبل ان ک ی طرف اشارہ ک یا جاچکا ہے اس س ے انحراف بدبخت ی کا باعث ہے تو ہ م حق پر ہ و ں گ ے اور ہ م دل یل کے سات ھ یہ کہہ سکت ے ہیں۔ ک ہ عزت طا ہ ر ہ ک ی نافرمانی گویا حکم رسول(ص) سے سرکش ی ،صراط مستقیم سے عل یحدگی اور حبل المتین سے جدائ ی ہے ۔

اس کے باوجود علماء ش یعہ کی طرف سے کس ی جاہ ل ا ہ ل س نت کی نسبت بھی ایسے حرکات سرزد نہیں


ہ وئ ے ن ہ ک ہ ان ک ے عالمو ں ک ے لئ ے ہ م ن ے جماعت ش یعہ کو ہ م یشہ یہی تعلیم دی ہے ک ہ ا ہ ل سنت ہ مار ے مسلمان ب ھ ائ ی ہیں ۔ ل ہ ذا ہ م سب کو آپس م یں متحد او ر متفق رہ نا چا ہ ئ یے ، لیکن اس کے خلاف آپ ک ے علماء برابر مومن و موحد پاک دامن اور اہ ل ب یت رسالت کے پ یروشیعوں کو اہ ل بدعت،رافض،غال ی،یہ ودبلک ہ کافر ومشرک کہ ت ے ر ہ ت ے ہیں اور اس جرم میں فقہ ا ئ ے اربع ہ ابو حن یفہ ،مالک ابن انس ،محمد ابن ادریس شافعی ،احمد ابن حنبل میں سے کس ی ایک کی تقلید کیوں نہیں کرتے ان کو کافر او ر رافض ی بناتے ہیں ۔ اور ان ک ے پاس کوئ ی دلیل بھی موجود نہیں ہے ک ہ مسلمان لازم ی طور پر ان چار وں م یں سے کس ی ایک کی پیرو ی کرنے پر مجبور ہیں ،حالانکہ اس ک ے برعکس جو لوگ حکم رسول س ے ا ہ ل ب یت رسالت اور عترت طاہ ر ہ ک ی پیروں کرتے ہیں اور حقیقت میں وہی نجات پانے وال ے ہیں۔

انہی بے جا فتاو ی اور بیہ ود ہ قسم کی گفتگو سے ان ہ و ں ن ے اپن ے عوام ک ے ہ ات ھ و ں م یں ایک بہ ان ہ د ے د یا کہ جب ب ھی موقع ہ ات ھ آئ ے و ہ سار ی حرکتیں جو کفار کے سات ھ ہ ونا چا ہیے بلکہ ان س ے ب ھی بد تر مومن و موحد شیعوں کے سات ھ عمل م یں لائی جائیں جیسے قتل وغارت اور ناموس اور ناموس کی ہ تک حرمت وغ یرہ ۔

ایرانیوں کے ساتھ ترکیوں ، خوارزمیوں ، ازبکوں اور افغانوں کا شرمناک رویہ

حافظ : آپ سے مجھ کو یہ امید نہیں تھی کہ ایسے جھوٹے اور غلط مطالب کے ذریعے جن کا کبھی دنیا میں وجود ہی نہیں رہا ہے جذبات کو ابھارئیے گا۔

خیرطلب :- آپ کو غلط فہمی ہوئی آپ یہ سجھتے ہیں کہ میں بغیر دلیل کے اور وہ بھی ایسے محترم جلسے میں اپنے مسلمان بھائیوں کو غلط الزام دے رہاں ہوں حالانکہ نمونے کے طور پر بزرگ شیعہ فقیہوں کے ساتھ سنی قاضیوں اور عالموں کا جو برتاؤ میں نے پیش کیا ہے اس سے قطع نظر اگر تاریخ میں ترکوں ، خوارزمیوں ، ازبکوں اور افغانوں کے حالات اور ایران پر ان کے مکرر حملوں کے واقعات کا مطالعہ کیجئے تو سمجھ میں آجائے گا کہ میں صحیح عرض کررہا ہوں بلکہ شیعہ جماعت کے ساتھ ان کا طرزعمل دیکھ کے آپ کو خجالت ہوگی کیونکہ جب بھی ان سے ممکن ہوا اور خارجی لڑائیوں یا اندرونی معاملات کے اثر سے ایرانیون کے حالاتدگرگوں دیکھے تو شمالی شرقی ایرانپر شدید حملے کئیےاور کبھی کبھی خراساں ، نیشاپور اور سبزدار حتی کہ شاہ سلطان حسین صفوی کے زمانے میں تو ایک مرتبہ اصفہان تک آگئے ، اس کے گردونواح میں کافی تاخت وتاراج کی اور کسی طرح کے عفت وانسانیت اور اسلام


منافی طرز عمل سےدریع نہیں کیاقتل وغارت ، مجبور شیعوں کے اموال کو نذر آتش کردینے اور ان کے ناموس کی ہتک حرمت کرنے کے بعد ایک کثیر تعداد کو اسیر کرکے لئے گئے اور کافر قیدیوں کی طرح دنیا کے بازاروں مین فروخت کردیا

چنانچہ ارباب تاریخ لکھتے ہیں کہ ترکستان کے شہروں میں ایک لاکھ سے زیادہ شیعہ فروخت کئے گئے اور کافر غلاموں بلکہ ان سے بھی بدتر اشخاص کی مانند ان کے ساتھ سخت رویہ برتا جاتا تھا ، اس طرح کے اقداماتوہ صرف اپنے علماء کے حکم اور فتوے سے عمل میں لاتے تھے

ایران مین خان خیوہ کے مظالم اور شیعوں کے قتل وغارت کے لئے علمائے اہل سنت کے فتوے

حافظ :-اس طرح کی جنگیں اور حملے سیاسی تھے اورمذہبی پیشواؤں کے فتاوے سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا ،

خیرطلب:- نہیں ایسا نہیکن ہےبلکہ اس قسم کے حملے قتل وغارت اور ہتک حرمت علمائے اہل تسسنن کے فتاوی اور فیصلوں ہی کا نتیجہ تھے چنانچہ مرحوم ناصرالدین شاہ قاجار کے اوائل سلطنت اور میرزا تقی خاں امیرنظام کی وزارت مین جب ایران کی فوج خراسان کے ہنگامے اور سالار کے فتنےمیں پھنسی ہوئی تھی امیر خوارزم محمد امین خاں ازبک معروف بہ خان خیوہ (خوارزم ) کو موقع ہاتھ آیا اس نے مرو اور خراسان پر ایک کثیر لشکر کے ساتھ حملہ کردیا ۔اور قتل وغارت اور کافی تباہ کاری کے بعد بہت بڑے جمع کو قید کرکے لے گیا ۔ سالار کا معاملہ ختم ہونے کے بعد حکومت خان خیوہ اور اس کی سرکوبی کی متوجہ ہوئیایرانکے مقتدر اور مدبر وزیر اعظم مرحوم امیرنظام کی تدبیر سے پہلے نرمی اور مدارات سے کام لیا گیا ، مرحوم رضاقلی خاں بزارجیریی متخلص بہ ہدایت کو جو ایرانی دربار کے بڑے عقلمندوں مین سے تھے سفیر بناکر خان خیونہ کے پاس بھیجا جس کی تفصیل بہت طولانی ہے اور یہاں اس کے ذکر کی گنجائش نہیںالبتہ جو میریگزارش ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ جس وقت مرحوم ہدایت خاں خیوہ کے پاس پہنچے توگفتگو کے سلسلے میں کہا تعجب ہے کہ ایران باشندے جب روم ، روس ہند اور فرنگ وغیرہ بیرونی ممالک میں جاتے ہیں تو وہاں عزت کے ساتھ رہتے ہیں اور امن وعافیت کے ساتھ واپس آتے ہیں لیکن آپ کے حدود سلطنت میں معاملہ برعکس ہے کیونکہ آپ کے آدمی کو لوٹنے پھونکنے ، قتل وغارت اور


ان کو قید کرکے فروخت کرنے میں کافر غلاموں کا ایسا سلوک کرتے ہیں اور طرح طرح کی ذلتیں پہنچاتے ہیں حالانکہ سب کے سب مسلماں ایک قبلہ ، ایک کتاب (قرآن مجید) ایک پیغمبر اور ایک خدا کے ماننے والے ہیںپھر بھی معلوم نہیں ایسے برتاؤ کا کیا سبب ہے ؟

اس نے جواب دیا کہ اس میں ہماریکوئی سیاسی غلطی نہیں ہے بلکہ مذہبی حیثیت سے بخارا اور خوارزم کے علماء مفتی اور قاضی صاحبان فتوی دیتے ہیں اور کہتے ہیں شیعہ چونکہ رافضی ، کافر اور اہلبدعتہین لھذا ان کی سزا یہی ہے چنانچہ کفار کی حیثیت سے ان کو قتل کرناان کے اموال غصب کرلینا ان کو لوٹنا اور قیدی بنانا واجب ولازم ہےجیسا کہ ان واقعات کی مفصل شرح تاریخ روضتہ الصفائے ناصری اور سفارت نامہ خوارزم مطبوعہ طہران مولفہ مرحوم رضا قلی خاں ہدایت میں درج ہے

شیعوں کے قتل وغارت پر علمائے اہل سنت کے فتوے اور خراسان پر عبداللہ خاں ازبککے حملے

نیز جس زمانے میں عبداللہ خاں ازبک نے شہر خراسان کا محاصرہ کیا تھا علمائے خراساں نے عبداللہ خان کو ایک مفصل تحریر لکھی اور اس کے حرکات پر اعتراض کئے کہ تم آخر کس لئے لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہنے والوں اور قرآن وعترت رسول کےپیروں کے قتل وغارت اورہتک حرمت پر آمادہ ہوئے ہو در آنحالیکہاسلام نے تم کو کفار کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرنے کی اجازت نہیں دی ہے

عبداللہ خاں نے مشہد کے علماء اور باشندوں کا یہ خط جواب کے لئے سنی عالموں اور قاضیوں کے سپرد کیا جو اس کے ہمراہ تھے ان لوگوں نے تفصیلی جواب لکھاپھر علمائے مشہد نے اس کا جواب الجواب دیا اور ان کو لاجواب کیاان خطوط کی تشریح ناسخ التواریخ میں درج ہے جو بہت طولانی ہےمیرے مطلب کا ثبوت یہ ہے کہ سنی علمائے ازبک نے اپنی تحریر میں لکھا تھا کہ شیعہ چونکہ رافضی اور کافر ہیں لہذا ان کا خون اور مال وحرمت مسلمانوں کے لئے مباح ہے ۔

افغانستان کے شیعوں سے افعانی امیروں کا سلوک

زمانہ ماضی میں اور بالخصوص میر دوست محمد خاں کہندل خاں ، شاہ شجاع الملک ، عبدالمومن خاں امیر عبدالرحمان خاں اور امیر حبیب اللہ خاں کی ریاست وحکومت کے زمانے میں کابل قندھار، ہرات اور ان


کے اطراف میں شیعہ جماعت کے ساتھ سنی افغانیوں نے جو سلوک کئے اور خاص وعام بلکہ بے گناہ بچوں کا بھی جو قتل عام کیا اگر ہم صرف اسی کا تذکرہ کرنا چاہیں تو انتہائی شرمناک اور اہل جلسہ کے لئے ناقابل برداشت ہوگا میرا خیال ہے کہ خود آپ حضرات نے بھی تاریخ کے سلسلے میں ان لوگوں کے لرزہ انگیز مظالم کا بخوبی مطالعہ کیا ہوگا اور محترمبا ہمت قزلباش حضرات ہندوستان میں بالخصوص پنجاب کے اندر افغانوں کے اثار ظلم کا ایک کھلا ہوا نمونہ ہیں جو مجبور راجلاوطنی اختیار کرکے یہاں پناہ گیر اور سکونت پذیر ہوئے

ارباب تواریخ نے ان سارے واقعات کو درج کیا ہےاور آنے والی نسلوں کو موقع دیا ہے کہ صحیح فیصلہ تک پہنچ سکیں

چنانچہ ان میں سے ایک دل سوز واقعہ سنہ 1267 ھ کا ہے عاشورہ محرمکو جمعہ کے روز قندھار کے شیعہ امام باڑوں میں جمع ہو کر عزاداری سید شہداء وعترت رسول میں سرگرم تھے ، دفعتا بہت سے متعصب اہل سنت طرح طرح کے اسلحے لئے ہوئے امام باڑے میں گھس پڑے اور نہتے شیعوں کے ایک کثیر مجمع کو یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی انتہائی دردناک طریقے سے قتل کیا اور ان کے اموال لوٹ لئے برسوں گزرگئے کہ شیعہ ذلت وحقارت کی زندگی بسر کررہے تھے اور آزادی عمل سے محروم تھے یہاں تککہ ایام عاشورہ میں دو دو تین تین افراد تہ خانوں کے اندر جاکر فرزند رسول اور شہدائے کربلا کی عزاداری کرتے تھے (یہاں پر مصنف دام مجدھم نے میرامان اللہ خاں کی رواداری اور انصاف پروردی کی تعریف فرمائی ہے جس کو بنظر اختصار حذف کرتا ہوں (مترجم) آپ حضراتتاریخ پر نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ اسی ہندوستان کے اندر مخالفین کی تحریک سے سنی وشیعہ آویزش کے نتیجہ میں کس قدر خون بہائے گئے اور کتنے صاحبان فضل وتقوی اورپاکدامن مومنین جاہلوں کی ہوسناکیوں کی بھینٹ چڑھ گئے

شہید ثالث کی شہ ادت

ان منحوس واقعات کے غم انگ یز خطوں م یں سے آگر ے کا قبرستان ب ھی ہے اس ی سفر کے سلسل ہ م یں جس وقت میں وہ ا ں پ ہ نچا تو خدا ہی جانتا ہے ک ہ متعصب لوگو ں ک ی حماقتوں اور ج ہ التو ں س ے کس قدر متاثر ہ و ا خصوصا جس وقت صاحب علم وتقو ی بے نظ یر فقیہ وعالم اور رسول اللہ (ص )کے پار ہ تن "قاض ی سید نوراللہ شوستر ی قدس سرّہ " ک ی زیارت سے مشرف ہ و ا ک یونکہ آپ بھی ملت اسلامی کے تعصب وعناد ک ی قربانیوں میں سے ا یک ہیں جنہ و ں ن ے سن ہ 1019 ھ م یں اس زمانے ک ے ب ڑے ب ڑے عالمو ں ک ی مخالفانہ کوششو ں ک ے نت یجے میں ہ ندوستان ک ے جا ہ ل ومتعصب مغل با شاہ "جہ انگ یر"کے حکم س ے رفض اور تش یع کے الزام پر خود سن ی علماء کے ہ ات ھ و ں 70 سال ک ے سن م یں شربت شہ ادت نوش فرما یا ۔


آپ کو خود معلوم ہے ک ہ آگر ے م یں ان بزرگوار سید جلیل القدر عالم کی قبر پر آج تک شیعہ مسلمانوں ک ی زیارت گاہ ہے ۔

ان کے سنگ قبر پر "جومرمر س ے بنا ہ وا ہے " م یں نے د یکھ ا کہ سنگ س یاہ سے نقش ک یا ہ وا ہے ۔

ظالمی جفائے نورالل ہ کرد-------قر ۃ العین نبی را سر برید

سال قتلش حضرت ضامن علی-------گفت نوراللہ شد ش ہید

حافظ:- آپ بلاوجہ ہ م کو مورد الزام قرارد یتے ہیں کیوں کہ ج ہ ال اور عوام ک ی زیادتیوں اور جفاکاریوں اور ان لوگوں ک ے افعال س ے جن کا آپ ن ے ذکر ک یا درحقیقت میں خود بہ ت متاثر ہ و ں ل یکن شیعوں کے اعمال ب ھی تو اس کے لئ ے معاون ہ وت ے ہیں ۔ اور ان کو ا یسی حرکتوں پر ابھ ارت ے ہیں۔

خیرطلب :- شیعوں کے کون س ے ا یسے اعمال سرزد ہ وت ے ہیں جو ان کے قتل وغارت اور ہ تک عزت ک ے باعث ہ و سک یں ؟

حافظ:- ایک ایک دن میں ہ زارو ں افراد مردو ں ک ی قبروں ک ے سامن ے ک ھڑے ہ وکر ان س ے حاجت یں طلب کرتے ہیں ، کیا شیعوں کا طریقہ مردہ پرست ی نہیں ہے ؟ علما ، آخر کس لئ ے ان کو منع ن ہیں کرتے ک ہ مردو ں ک ی زیارت لے نام پر کرو ڑ و ں اشخاص ان ک ی قبروں ک ے سامن ے چ ہ ر ہ خاک پ ر رکھ ک ے اور سجد ہ کرک ے مرد ہ پرست ی کرتے ہیں ۔ اور پاک نفس لوگو ں ک ے ہ ات ھ و ں م یں ایک بہ ان ہ د ے د یتے ہیں تاکہ وہ ز یادتیاں کریں اور تعجب تو یہ ہے ک ہ آپ ان اعمال کا نام توح ید کہ ت ے ہیں اور اس قسم کے اشخاص کو موحد ک ہ ت ے ہیں ۔

جب ہ م لوگ مشغول اور سرگرم گفتگو ت ھے تو حنف ی فقیہ مولوی شیخ عبدا لسلام کتاب ہ د یۃ الزائرین کے جو ان ک ے سامن ے رک ھی ہ وئ ی تھی اس طرح ورق الٹ ر ہے ت ھے اور مطالع ہ کر ر ہے ت ھے جس س ے ظا ہ ر ہ وتا ت ھ ا ک ہ و ہ کوئ ی اعتراض کا پہ لو پ یدا کرنے ک ی کوشش میں ہیں ،جب حافظ صاحب کا کلام یہ ا ں تک پہ نچا تو ان ہ و ں ن ے سر ا ٹھ ا یا اور ایک بھ ر پور وار کرت ے ہ وئ ے ج یسے کوئی بڑ ا س ہ ارا ڈھ ون ڈ ل یا ہ و مج ھ س ے فرما یا :-

شیخ کا اقدام، شبہہ ک ی ایجاد حملے ک ے لئ ے وس یلے کی تیاری-----اور---- اس کا دفاع

شیخ :- بسم اللہ د یکھ ئ ے اسی جگہ (کتاب ک ی طرف اشارہ )آپ ک ے علماء اور پ یشوا ہ دا یت دے ر ہے ہیں


کہ امامو ں ک ے حرم م یں زیارت ختم ہ ون ے ک ے بعد زائر ین دو رکعت نماز زیارت پڑھیں تو کیا نماز میں قصد قربت شرط نہیں ہے ؟ ورن ہ نماز ز یارت چہ معن ی دارد؟ آیا امام کے لئے نماز پڑھ نا شرک ن ہیں ہے ؟ زائر ین کے یہی اعمال کہ امام ک ی قبر کی طرف رخ کرکے ک ھڑے ہ وت ے ہیں ۔ اور نماز پ ڑھ ت ے ہیں ان کے شرک پر سب س ے ب ڑی دلیل ہیں اب اس موقع پر آپ کے پاس ک یاجواب ہے ؟ یہ سند صحیح ثابت اور خود آپ ہی کی معتبر کتاب ہے ۔

خیرطلب :- چونکہ وقت کاف ی گزر چکا ہے حضرات کسل مند اور پر یشان ہ ور ہے ہیں ۔ ل ہ ذا مناسب سمج ھ ئ ے تو آپ ک ے اور جناب حافظ صاحب ک ے ب یانات کاجواب کل پر رکھ ا جائ ے۔۔ (تمام ش یعہ ،سنی حاضرین جلسہ ن ے آواز یں دینا شروع کیں کہ جب تک جناب ش یخ صاحب کاجواب نہ د ے د یا جائے ا ور مردہ پرست ی کے معن ی نہ واضح ہ وجائ یں ہ م لوگ یہ ا ں سے ن ہ جائ یں گے ہ م کو بالکل تکان اور پر یشانی نہیں ہے ) ۔۔

(میں ہ نست ے ہ وئ ے حافظ صاحب ک ی طرف رخ کیا اور کہ ا ک ہ جناب ش یخ کا جوش چونکہ ب ہ ت زور پر ہے اور ان ہ و ں ن ے ا یک بہ ت ب ڑ ا حرب ہ ت یار کیا ہے ۔ ل ہ ذا اجازت د یجئیے کہ پ ہ ل ے ان کاجواب د ے دو ں پ ھ ر آپ کا جواب عرض کرو ں ) ۔

حافظ :- فرمائیے ہ م سنن ے ک ے لئ ے حاضر ہیں ۔

خیر طلب :- جناب شیخ صاحب ! واقعی آپ بچوں ک ی طرح بہ ان ے ڈھ ون ڈ ر ہے ہیں ۔ ک یا آپ زیارت کے لئ ے گئ ے ہیں اور زائرین کے عمل یات کو قریب سے د یکھ ا ہے ؟

شیخ :- نہیں ،نہ م یں گیا ہ و ں اور ن ہ م یں نے د یکھ ا ہے ۔

خیرطلب :- پھ ر آپ ک ہ ا ں س ے فرمار ہے ہیں کہ زائر ین قبر امام کی طرف رخ کرکے نماز پ ڑھ ت ے ہیں جس سے اس نماز وز یارت کو آپ نے مومن وموحد ش یعوں کے لئ ے شرک ک ی علامت قرار دیا ہے ۔

شیخ:- آپ کی اسی کتاب کی رو سے ،جس م یں لکھ ت ے ہیں کہ امام ک ے لئ ے نماز ز یارت پڑھ و ۔

خیرطلب :- مرحمت فرمائیے دیکھ و ں کس طرح سے لک ھ ا ہ وا ہے ۔ (جب کتاب ل یکے دیکھی تو اتفاق سے حضرت ام یر المومنین علیہ السلام کی زیارت کا طریقہ تھ ا )-

خیرطلب :- عجب حسن اتفاق ہے ک ہ آپ ن ے خود ہی اپنے خلاف ا یک تیز دھ ار کا حرب ہ م ہیا فرمالیا چونکہ خدا ہ م یشہ ہ مارا مدد گار ہے ۔ ل ہ ذا ہ ر مقام پر ہ مار ی کمک اور حمایت کے اسباب ووسائل اک ٹھ ا کرد یتا ہے ۔

اولا بہ تر ہے ک ہ اس کتاب م یں جو طریقہ زیارت درج ہے اس ک ے شروع ہے اس ک ے شروع س ے بلا امت یاز ہ ر حص ے ک ے چند جمل ے وقت ک ے لحاظ س ے پ ڑھ جاؤ ں یہ ا ں تک کہ نماز ک ی منزل تک پہ نچ جاؤ ں جو آپ کا موضوع بحث ہے تاک ہ حضرات حاضر ین جلسہ خود ہی فیصلہ فرمالیں اور جس مقام پر شرک کی علامت ملاحظہ فرمائ یں فورا ٹ وک د یں اور اگر اول


سے آخر تک ز یارت نامے م یں صرف توحید ہی کی علامت نظر آئے تو آپ شرمند ہ ن ہ ہ و ں بلک ہ یہ سمجھ ل یں کہ غلط ف ہ م ی ہ وگئ ی ۔ کتاب د یکھ آپ کے سامن ے ہے پ ھ ر آپ بغ یر دیکھ بال کے اور جانچ پ ڑ تال ک یے ہ وئ ے حمل ے کر ر ہے ہیں چنانچہ اس ی جگہ س ے حضرات ا ہ ل جلس ہ سمج ھ ل یں کہ آپ حضرات ک ے باق ی اعتراضات بھی اسی پھ س پ ھ س ے اعتراض ک ے مانند صرف د ھ وکا ہی دھ وکا ہے ۔

زیارت کے آداب

ملاحظہ فرمائیے ،قاعدہ یہ ہے ک ہ مولا ام یر المومنین علیہ السلام کا زائر جب کوفہ ک ی خندق پر پہ نچ ے تو ک ھڑ ا ہ وکر ک ہے "الله اکبر الله اکبر اهل الکبریاء والحمد والعظمة الله اکبر اهل التکبیر والتقدیس والتسبیح ووالا لا اله الا الله اکبر مما اخاف و احذر الله اکبر عمادی علیه اتوکل الله اکبر رجائی و الیه انیب الی آخر" جب درواز ہ نجف پر پ ہ نچ ے تو ک ہے " الحمد لله الذی هدانا لهذا و ما کنا لنهتدی لولا ان هدانا الله الی آخر " ۔ جب صحن ک ے دواز ے پر پ ہ نچ ے تو حمد بار ی تعالی کے بعد ک ہے "اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شریک له و اشهد ان محمد ا عبده ورسوله جاء بالحق من عند الله و اشهد ان علیا عبدالله واخو رسول الله ،الله اکبر الله اکبر الله اکبر لا الهه الا الله والله اکبر والحمد لله علی هدایته و تو فیقه لما دعاا لیه من سبیله الی آخر" جب در حرم و بقع ہ مبارک ہ پر پہ نچ ے تو ک ہے "اشهد ال لا اله الا الله وحده لا شریک له الی آخر" پ ھ ر خدا اور رسول اور ائم ہ طا ہ ر ین سے اذن و اجازت حاصل کرن ے ک ے بعد جب زائر حرم مط ہ ر ک ے اندر داخل ہ و تو مختلف ز یارتیں جو پیعمبر اور امیر المومنین علیھ ما الصلواۃ و السلام کے لئ ے س لام پر مشتمل ہیں پڑھے ۔ اور ز یارت سے فارغ ہ ون ے ک ے بعد حکم ہے ک ہ چ ھ رکعت نماز پ ڑھے دو رکعت ہ د یہ امیر المومنین علیہ السلام کے لئ ے اور چار رکعت ہ د یہ آدم ابو البشر اور نوح شیخ الانبیاء علیھ ما السلام کے لئ ے جو آن حضرت ک ے پاس مد فون ہیں ۔

نماز زیارت اور دعائے بعد از نماز

آیا نماز ہ د یہ شرک ہے ؟ آ یا ہ مار ے یہ ا ں والدین اور ارواح مومنین کے لئ ے نماز ہ د یہ کا دستو ر نہیں ہے ؟


تو ک یا یہ تمام قاعدے شرک ہیں ؟ اوراگر زائر امیر المو منین علیہ السلام کے لئ ے د ہ رکعت نماز ہ د یہ قربتا الی اللہ بجالائ ے تو ک یا یہ شرک ہے ؟

یہ ہ ر انسان ک ی انسانیت کا جز ہے ک ہ جب کوئ ی دوست کی ملاقات کو جاتا ہے ہے تو اس کے لئ ے کوئ ی تحفہ ل ے جاتا ہے ہے ج یسا کہ فر یقین کی ساری کتب احادیث میں مومن کو ہ د یہ کے ثواب م یں رسول اللہ (ص) س ے پورا ا یک باب موجود ہے جب زائر ین اپنے محبوب آقا ک ی قبر کے سامنے ک ھڑ ا ہ وجاتا ہے تو یہ سمجھ تا ہے ک ہ و ہ ب ہ تر ین چیز جو حضرت اپنی ساری زندگی میں زیادہ پسند فرماتے ت ھے ۔ نماز ت ھی ، لہ ذا ہ دا یت کی گئی ہے ک ہ زائر قرب ۃ الی اللہ دو رکعت نماز پ ڑھے اس ک ے بعد اس کا ثواب آن حضرت ک ی روح پر فتوح کو ہ د یہ کرے تو ک یا یہ عمل آپ کی نظر میں شرک ہے ؟ آپ ن ے نماز کا طر یقہ پڑھ ا ہے ؟ تو دعائ ے بع د از نماز کو بھی دیکھ لینا چاہیئے تا کہ آپ کو آپ ک ے شب ہے کا جواب مل جائ ے ۔ اگر آپ ن ے پ ڑھ ل یا ہ وتا تو قطعا ا یراد نہ کرت ے ؟ ۔ اب م یں آپ کی اجازت سے حاضر ین جلسہ ک ی توجہ ک ے لئ ے وہ دعا پڑھ تا ہ و ں تا ک ہ ش یعوں کے اعمال کو انصاف ک ی نگاہ س ے د یکھ ئ ے اور جان لیجئے ۔ ک ہ ہ م موحد ہیں مشرک نہیں ہیں اور کسی حالت میں خدا کو فراموش نہیں کرتے عل ی علیہ السلام کو بھی ہ م اس ی سبب سے دوست رک ھ ت ے ہیں کہ آپ خدا ک ے بند ہ صالح اور رسول الل ہ (ص) ک ے وص ی وخلیفہ ہیں ۔

دعا کادستور یہ ہے ک ہ نماز س ے فارغ ہ ون ے ک ے بعد ان حضرات ک ے سر ہ ان ے (برخلاف اس ک ے ک ہ جو ش یخ صاحب نے فرما یا کہ قبر ک ی طرف رخ کرکے پ ڑھ ت ے ہیں) رو بہ قبل ہ اس صورت م یں کہ قبر مبارک بائ یں بازو کی طرف ہ و یہ دعا پڑھے " اللهم انی صلیت ها تین الرکعتین هدیة منی الی سیدی ومولای ولیک واخی رسولک امیر المومنین وسید الوصیین علی ابن ابی طالب صلوات الله علیه وعلی اله اللهم فصلی علی محمد و آل محمد وتقبلها منی و اجزنی علی ذالک جزاء المحسنین اللهم لک صلیت ولک ورکعت ولک سجدت وحدک لا شریک لک الا انت تجوز الصلواة الرکوع و السجود الا لک لانک انت الله لا اله الا انت "

ما حصل مطلب یہ ہے ک ہ پروردگار ! اس دو رکعت نماز کو م یں نے ہ د یہ کیا اپنے س ید و مولا تیرے ولی اور تیرے رسول کے ب ھ ائ ی امیر المومنین و سید الوصیین علی ابن ابی طالب علیھ ما السلام کی طرف ،خدا وند محمد و آل محمد پر اپنی رحمت بھیج ۔ اس دو رکعت نماز کو میری طرف سے قبول فرما اور اس عمل پر مج ھ کو ن یکو کاروں ک ی جزا مرحمت فرما ۔ پروردگارا! م یں نے ت یرے لئے نماز پ ڑھی ،تیرے لئے رکوع و سجود ک یا ،تو ہی خدائے واحد ہے جس کا کوئ ی شریک نہیں کیونکہ نماز اور رکوع وسجود ،سواتیرے کسی اور کے لئ ے جائز ن ہیں ہے اور تو ہی وہ خدا ا یسے بزرگ ہے جس ک ے سوا


کوئ ی اور خدا نہیں ۔

حضرات محترم ! خدا کے لئ ے انصاف س ے کام ل یجئیے ۔ ا یسا زائر جو خاک نجف پہ لا قدم رک ھ ت ے ک ے بعد نماز ز یارت سے فارغ ہ ون ے ک ی آخری ساعت تک برابر یاد حق میں مشغول رہے ۔ نام خدا زبان پر جار ی رکھے عظمت و وحدان یت کے سات ھ اس کا ذکر کر ے عل ی کو بندہ صالح اور رسو ل اللہ کا ب ھ ائ ی اور وصی کہے اور زبان حال وقال س ے ان مطالب کا اعتراف کر ے ک یاوہ مشرک ہے ؟ پس اگر نماز پ ڑھ نا اور واحدان یت خدا کی گواہی دینا شرک ہے تو برا ہ کرم توح ید کا طریقہ بتا دیجئیے تاکہ ک ہ ہ م لوگ خدااور رسول خدا(ص) کا مذ ہ ب چ ھ و ڑ کر آپ ک ے راست ہ پ ر آجائیں ۔

شیخ :- تعجب ہے آپ د یکھ ت ے نہیں کہ اس جگ ہ لک ھ ا ہ وا ہے آستان ہ کو بو س ہ د ے کر حرم ک ے اندر داخل ہ و اس ی وجہ س ے ہ م ن ے سنا ہے ک ہ زائر ین جب اپنے امامو ں ک ے حرم ک ے دروازو ں پر پ ہ نچت ے ہیں تو سجدہ کرت ے ہیں ۔ آ یا یہ سجدہ عل ی کے لئ ے ن ہیں ہے ؟آ یا خدا کے کے بار ے م یں شرک نہیں ہے ؟ ک ہ اس ک ے غ یر کا سجدہ کر یں ؟۔

خیرطلب :- میں اگر جناب عالی کہ جگ ہ پر ہ وتا ت و صحیح او ر معقول جواب سن لینے کے بعد سار ی رات بلکہ اس مناظر ے کا سلسل ہ ختم ہ ون ے تک دوبار ہ بحث ن ہ کرتا اور خاموش ر ہ تا ل یکن تعجب تو آپ سے ہے ک ہ پ ھ ر ب ھی گفتگو کر رہے ہیں لیکن ایسی گفتگو کہ ہ ر سنن ے وال ے کو ہ ن سی آجائے (حاضر ین کا زوردار قہ ق ہہ)

ائمہ علیھ م السلام کے روضو ں پر آستان ہ بوس ی شرک نہیں ہے

میں مجبور ہ و ں ک ہ پ ھ ر ا یک مختصر جواب پیش کروں تاک ہ معلوم ہ وجائ ے ک ہ ائم ہ معصوم ین کے مقدس آستانو ں کا چومنا شرک ن ہیں وا کرتا اور آپ ن ے ب ھی مغالطہ د ینے کی کوشش کی ہے ک ہ چومن ے کو سجد ہ قرارد ے د یا ۔ جب آپ خود ہ مار ے سامن ے اس طرح س ے کتاب ک ی عبارت پڑھ ن ے کے بعد تحر یف کرسکتے ہیں تو معلو م نہیں جس وقت بے پ ڑھے لک ھے عوام ک ے پاس تشر یف لے جات ے ہ و ں گ ے تو ہ م پر ک یا کیا تمہ مت یں لگاتے ہ و ں گ ے ۔

اس کتاب اور دوسری کتب ادعیہ و زیارات میں ہ م کو جو ہ دا یت دی گئی ہے وہ یہ ہے ک ہ ج یسا آپ ملاحظہ فرمار ہے ہیں ۔ زائر اظ ہ ار ادب ک ے لئ ے آستان ہ پر بو س ہ د ے ن ہ یہ کہ سجد ہ کر ے ۔

پہ ل ی چیز تو یہ ہے ک ہ آپ ن ے کس قاعد ے ک ی رو سے چومن ے کو سجد ہ کرنا سمج ھ ل یا؟ دوسرے آپ ن ے قرآن مج ید اور اخبار واحادیث میں کہ ا ں د یکھ ا کہ پ یغمبر یا کسی امام علیہ م السلام کی درگاہ ک ی چوکھٹ کو چومن ے س ے منع ک یا گیا ہ و یا بو سہ د ینے


کو شرک کی علامت قرار دیا گیا ہ و؟ تو حاضر ین کا وقت ضائع نہ فرمائ یے ۔

لیکن جو آپ نے فرما یا کہ م یں نے سنا ہے ک ہ زائر ین سجدہ کرت ے ہیں تو یہ بلکل جھ و ٹ ہے

بسے فرق است ودیدن تاشنیدن ۔۔۔۔۔۔۔ شن یدن کے بود مانند د یدن

کیا خدا ئے تعال ی سورہ نمبر 94 (حجرات)آ یہ 6 میں ارشاد نہیں فرماتا؟ "ان جاءکم فاسق بنباء فتبینوا ان تصیبوا قوما بجهالة فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین" (یعنی جس وقت کوئی فاسق تمہ ار ے پاس کوئ ی خبر لائے تو (تصد یق کرنے س ے پ ہ ل ے )اس ک ی تحقیق کر لو ایسا نہ ہ و کہ نادان ی میں تم کسی قوم کم اس فاسق کی بات پر کوئی تکلیف پہ نچادو پ ھ ر اپن ے کئ ے پر پش یمان ہ ونا پ ڑے ) ۔ قرآن مج ید کے اس فرمان ک ے مطابق کلام فاسق پر عمل کرنا مناسب ن ہیں ہے تاک ہ ندامت ،خجالت کا باعث ن ہ ہ و ۔ بلک ہ تحق یق اور کشف حقیقت کی کوشش کرنا چاہیئے ۔ زحمت سفر برداشت کرک ے جائ یے اور دیکھ ئ ے اس کے بعد ا یراد و اشکال فرمایئے چنانچہ م یں جس وقت بغداد میں" ابو حنیفہ اور شیخ عبد القادر جیلانی " کی قبروں پر گ یا اور ان قبروں ک ے لئ ے عوام کر طرز عمل د یکھ ا (جو بدرجہ ا اس س ے ز یادہ سخت ہے جس ک ی آپ نے شیعوں پر تہ مت لگائ ی ہے ) تو ک ھ ب ی اس کو کسی مجلس یامحفل میں دہ را یا بھی نہیں ۔ خدائ ے بزرگ شا ہ د ہے چوک ھٹ ک ے بار بار زم ین کوچوم چوم رہے ت ھے اور خاک پر لو ٹ ت ے ت ھے ل یکن چونکہ م یں کینے اور عداوت کی نظر نہیں رکھ ن ا تھ ا ۔ اور اس عمل ک ی حرمت پر کوئی دلیل بھی نہیں دیکھی ہے ل ہ ذا اب تک اس کو ب یان کرنے ک ی بھی ضرورت نہیں سمجھی کیونکہ میں سمجھ تا ہ و ں ک ہ و ہ ازروئ ے محبت ا یسا عمل کررہے ت ھے ن ہ ک ہ ازروئ ے بندگ ی ۔

جناب محترم ! آپ یقین کیجیئے کہ کس ی (عارف یا جاہ ل )ش یعہ زائر نے ہ رگز سجد ہ ن ہیں کیا ہے اور ن ہ کرتا ہے ل یکن صرف خدا کے لئ ے اور آپ کا یہ فرمانا بالکل تہ مت و افترا اور ک ھ لا ج ھ و ٹ ہے ۔

ایسی صورت میں اگر سجدے ک ے ہی طرز پر ہ و جس کامطلب خاک پر گرنا اور چ ہ ر ہ و پ یشانی کو زمین پر ملنا ہے (بغ یر قصد بندگی کے ) تو کوئ ی حرج نہیں ہے اس لئ ے ک ہ کس ی بزرگ ذات کے سامن ے تعظ یم و تکریم کے خ یال سے (ن ہ ک ہ اس ک ی خدائی کی نیت سے خدا ک ے لئ ے شر یک قراردینے کے لئے ج ھ کنا ،)زم ین پر گرنا اور خاک پر منہ رک ھ نا ک ھ ب ی شرک نہیں ہ وتا بلک ہ محبوب س ے شد ید رابطہ تعظ یم خاک پر چہ ر ہ رک ھے اور بو س ہ د ینے کا سبب ہے ۔

شیخ:- یہ کیونکر ممکن ہے ک ہ خاک پر گر یں اور پیشانی زمین پر رکھیں پھ ر ب ھی سجدہ ن ہ ہ و؟ ۔

خیرطلب :-آپ سمجھ ت ے ہیں کہ سجد ے کا تعلق ن یت سے ہے ۔ اور ن یت ایک قلبی چیز ہے اور دلو ں اور


دل ک ی نیتوں کا جاننے والا صرف خد ا ہے ۔ بظا ہ ر ہ م د یکھ ت ے ہیں کہ کوئ ی شخص یا اشخاص سجدے ک ی نوعیت سے زم ین پر پڑے ہ وئ ے ہیں ۔ (اور یہ ٹھیک ہے ک ہ ا یسے انداز میں جو خدا ئے تعالی سے مخصوص ہے اس ک ے غ یر کے سامن ے حاضر ہ ونا مناسب ن ہیں ہے چا ہے بغ یر نیت ہی کے ہ و ں ،ل یکن چونکہ ہ م اس ک ی دلی نیت سے آگا ہ ن ہیں ہیں لہ ذا اس کو سجد ے پر محمول ن ہیں کرسکتے سوا مخصوص سجد ے ک ے اوقات ک ے جب ک ہ ظا ہ ر ی صورت کوبھی ہ م سجد ہ ک ہ ت ے ہیں ۔

بھائیوں کا یوسف(ع) کے لیے خاک پر گرنا اور سجدہ کرنا

پس تعظیم و تکریم کے عنوان سے سجدے کے طرز بغیر نیت سجدہ کے) خاک پر گرنا کفر و شرک نہیں ہے چنانچہ برادرانِ یوسف(ع) نے حضرت یوسف(ع) کے سامنے اسی طرح کا سجدہ کیا اور دو پیغمبر ( یعقوب و یوسف(ع)) موجود تھے لیکن ان کو منع نہیں کیا جیسا کہ سورہ نمبر12 یوسف آیت نمبر101 سے ظاہر ہے ارشاد ہے

" وَ رَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوا لَهُ سُجَّداً وَ قالَ: يا أَبَتِ هذا تَأْوِيلُ رُءْيايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَها رَبِّي حَقًّا "

(یعنی انہوں نے اپنے ماں باپ کے تخت پر بٹھایا اور وہ لوگ یوسف(ع) کے سامنے سجدے میں گر پڑے تب انہوں نے کہا اے بابا یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں پہلے دیکھ چکا ہوں ، واقعی خدا نے اس کوسچ کر دکھایا ۔ (1) نیز کئی مقامات پر کیا قرآن کریم آدم ابوالبشر کو فرشتوں کے سجدہ کرنے کی خبر نہیں دے رہا ہے؟ چنانچہ اگر آپ کا بیان صحیح ماں لیا جائے کہ سجدے کے طرز پر ( بغیر نیت عبودیت کے) خاک پر گرنا شرک ہے تو چاہئیے کہ ( معاذ اﷲ) برادران یوسف(ع) اور ملائکہ مقربین سب کے سب مشرک رہے ہوں اور صرف ابلیس ملعون موحد ہو جس نے سجدے سے انکار کیا۔ حالانکہ ( ایسا نہیں ہے بلکہ یہ سب موحد اور خدا پرست تھے۔

میری گذاش ہے کہ آپ حضرات جاہلانہ اعتراضات اور بے بنیاد سنی سنائی باتوں کہ جنہیں امویوں ، باقی ماندہ خارجیوں، ناصبیوں اور متعصب اشخاص نے نقل کیا ہے ایسی محترم بزم میں جو مخصوص طور پر حق کی گفتگو اور انکشاف حقیقت کے لیے منعقد ہوئی ہے موضوع بحث نہ بنائیں تاکہ باعث ندامت و تضییع وقت نہ ہو اور اپنے بھید کو ظاہر نہ کریں کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ شیعوں کے اوپر آپ کے ایرادات و اعتراضات ہمیشہ اسی قسم کے ہوا کرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ یہ خواب وہ ہے جس کی اسی سورے کے شروع میں خبر دیتا ہے کہ یوسف(ع) نے اپنے باپ سے عرض کیا کہ میں نے آفتاب و ماہتاب اور گیارہ ستاروں کو خواب میں دیکھا کہ مجھ کوسجدہ کر رہے ہیں اور حضرت یعقوب(ع) نے تعبیر دی کہ تم جلد ایک بلند منزل پر پہنچو گے اور تمہارے باپ ماں اور گیارہ بھائی تمہاری تعظیم کریں گے۔


اب ضروری ہے کہ جناب حافظ صاحب کا بھی ایک مختصر جواب دیدوں چونکہ وقت کافی گذر چکا ہے لہذا طولانی بحث کا موقع نہیں ہے۔

جسم کی فنا کے بعد روح کی بقا

آپ حضرات چونکہ صاحبان علم ہیں لہذا بہتر ہے کہ غور و فکر کیساتھ بات کہا کریں نہ کہ عادات ، خیالات، جذبات اور اسلاف کی گفتگو کے ماتحت جیسا کہ آپ فرمارہے ہیں کہ شیعہ قبور اموات کے سامنے کس لیے حاجت طلب کرتے ہیں تو کہیں آپ مادہ پرست اور نیچری لوگں سے ہم عقیدہ تو نہیں ہوگئےہیں جو مرنے کے بعد زندگی کے قائل نہیں ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اذا مات فات ، کیونکہ خداوند عالم سورہ نمبر23 ( مومنون) آیت نمبر39 میں ان کے اقوال نقل فرماتا ہے کہ وہ کہتے ہیں :

" إِنْ هِيَ إِلاَّ حَياتُنَا الدُّنْيا نَمُوتُ وَ نَحْيا وَ ما نَحْنُ بِمَبْعُوثِينَ "

یعنی سوا ہماری دنیاوی زندگی کے اور کوئی حیات نہیں ہے جس میں ہم مرتے ہیں اور زندہ رہتے ہیں اور ہم دو بارہ خاک سے نہیں اٹھائے جائیں گے۔

حضرات آپ بخوبی جانتے واقف ہیں کہ خدا پرستوں کے مضبوط عقائد میں سے ایک عقیدہ حیات بعد الموت بھی ہے کہ آدمی کی موت حیوانات کیخلاف ہوتی ہے جسم عنصری بے کار ہوجاتا ہے لیکن اس کی روح اور نفس ناطقہ باقی و پائدار ہے اور انہیں اجسام سے ملتے جلتے انتہائی لطیف جسموں کیساتھ عالم برزخ میں زندہ اور منتعم یا معذب رہیگا۔

خصوصا شہداء اور مقتولین راہ خدا، کیونکہ وہ حضرات اس سے کہیں زیادہ اضافوں کیساتھ زندہ، خدا کی نعمتوں سے متنعم اور اپنی جزا پر شاد و مسرور رہتے ہیں چنانچہ سورہ نمبر3 ( آل عمران) آیت نمبر169۔170 میں ارشاد ہے۔

"وَ لَا تحَْسَبنَ َّ الَّذِينَ قُتِلُواْ فىِ سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتَا بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ بِمَا ءَاتَئهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَ يَسْتَبْشرُِونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُواْ بهِِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيهِْمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُون "

( یعنی یہ ہرگز نہ سمجھنا کہ شہیدان راہِ خدا مردہ ہیں بلکہ وہ ہمیشہ زندہ ہیں، اپنے پروردگار کے پاس نعمات اور روزی پاتے ہیں خدا نے ان پر اپنا جو فضل و کرم نازل کیا ہے اس سے خوش و خرم ہیں اور جو مومنین ابھی ان سے ملحق نہیں ہوئے ہیں اور بعد کو ان کے پیچھے پیچھے پہنچیں گے ان کے لیے خوش خبری دیتے ہیں کہ نہ ان کے لیے کسی قسم کا خوف ہے نہ وہ رنجیدہ ہوں گے ۔)

آیا روزی حاصل کرنا ، سرور و شادمانی اور پروردگار کے فضل و کرم سے مستفید ہونا مردوں کے لوازم میں سے ہیں۔ یا زندوں کے ؟ علاوہ اس کے صریحی طور پر فرماتا ہے ۔“ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ فَرِحِينَ ” یعنی وہ لوگ زندہ ہیں اور قرب الہی میں روزی پارہے ہیں۔ آخر یہ اشخاص کیونکر زندہ ہیں اور روزی کس طرح سے کھاتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ جب رزق کھانے کے لیے منہ رکھتے ہیں۔ تو باتیں سننے کے لیے کان بھی رکھتے ہیں۔ اور جواب بھی دیتے ہیں ۔ لیکن ہمارے کانوں پر مادی پردے پڑٕے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ اسی وجہ سے ہم ان کی آواز نہیں سننتے ۔


بقائے روح میں اشکال اور اس کا جواب

اہل سنت میں سے ایک جدت پسند جوان معروف بہ داؤو پوری نے جو جلسہ کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے گفتگو سن رہے تھے اجازت لے کے سوال کے نام سے اس عبارت کے ساتھ ایک شبہ وارد کیا۔

داؤد پوری : مولانا صاحب آپ کا یہ بیان آج کے محیرا لعقول علمی انکشافات سے میل نہیں کھاتا البتہ گذشتہ زمانوں میں جب علوم طبیعی نے ترقی نہیں کی تھی۔ کچھ لوگ جہالت کی وجہ سے ایک پوشیدہ قوت کے معتقد تھے جس کا نام روح رکھتے تھے لیکن آج جب کہ علم و دانش کا زریں دور ہے۔ اور علوم طبیعی اپنی پوری ترقی پر ہیں اس قسم کے عقائد کا لبادہ بوسیدہ ہوچکا ہے خصوصا یورپ کے ممالک میں جو علمی ترقیوں کا گہوارہ ہیں۔ ارباب دانش جیسے انگلینڈ کے “ ڈارون” اور جرمنی کے “ تبخر” وغیرہ نے ایسے سڑے ہوئے عقائد اور مخصوص طور پر روح کے وجود اور اس کے بقا کے عقیدے کا باطل ہونا ثابت کردیا ہے۔

خیر طلب : عزیز من ! اس قسم کے اقوال نئے نہیں ہیں اور بقول آپ کے زریں دور سے مخصوص نہیں بلکہ تقریبا دو ہزار چار سو سال ہوگئے ارباب مادہ و طبیعت کے حلقہ عمل سے ان کا ظہور ہورہا ہے۔

اہل مادہ طبیعت کا ظہور اور حکیم سقراط سے ویمقراطیس کا مقابلہ

یعنی جس زمانے میں ویمقراطیس اور اس کے پیرووں نے یونان میں سقراط ، افلاطون، ارسطو اور اسی طرح کے دوسرے حکمائے الہی سے مقابلہ کیا مادے اور طبیعت کے قائل ہوئے صاحب علم و ارادہ و قدرت و شعور خدا کا انکار کیا اور کہا کہ بغیر میڑ یعنی مادہ و مادیات کے جو حواس خمسہ میں سے کسی ایک سے محسوس ہوسکے کوئی دوسری چیز عالم میں موجود نہیں ہے۔ اور سارے ضروری تاثیرات مادوں کی طبیعت سے پیدا ہیں تو اسی وجہ سے یہ لوگ طبیعی اور مادی کے نام سے مشہور ہوئے جن کا خلاصہ اورجوہر اصلی آج کمیونسٹ کے نام سے دنیا میں نمایاں ہے اسی طرح کے فاسد عقیدے جو با علم و ارادہ قدرت و شعور خالق کے وجود سے انکار کے لوازم


میں سے ہیں اسی کو تاہ نظر فرقے کے اندر ظاہر ہوئے اور علماء و فلاسفہ الہی نے زمانے کے ہر دور میں ان کے علمی منطقی جوابات دیئے ہیں۔ لیکن چونکہ آپ نے یورپ اور ڈروں ونجر کے نام لیے ہیں۔ لہذا میں مجبور ہوں کہ آپ جیسے تجدد پسند حضرات کو برادرانہ نصیحت کرتے ہوئے متوجہ کروں کہ علم و عقل اور منطق کا لازمہ یہ ہے کہ ہر کلام پر آنکھ بند کر کے ایمان نہ لے آئیے۔

اگر آپ نے ڈارون کے فلسفہ کا ( جو فرضیات ہیں نہ کہ فلسفہ) مطالعہ کیا ہے۔ تو ضروری ہے کہ اس کتاب اور اقوال و عقائد پر جو انتقادات اور تبصرے لکھے گئے ہیں ان کو بھی پڑھئیے اس کے بعد دانشمندانہ فیصلہ کر کے بہتر کا انتخاب کیجئے۔

چونکہ یورپ والوں کا علمی و عملی غلبہ اور سلطنت آپ لوگوں پر زیادہ رہی ہے لہذا جس وقت ڈارون اور نجز وغیرہ کی کوئی کتاب آپ لوگوں کے ہاتھ میں آتی ہے تو بہت بزرگ و شاندار نظر آتی ہے ۔ اور یہ سمجھ میں آتا ہے کہ در حقیقت سارا یورپ انہیں کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔ اور یہ کتاب تمام فلاسفہ یورپ کے عقائد کا نمونہ ہے ۔ در آںحالیکہ ایسا نہیں ہے ( اب اگر ایسا ہو بھی جائے تو اس کی کوئی عملی قدر و قیمت نہ ہوگی۔)

یورپ میں علمائے الہی کے اقوال

جس طرح سے آپ طبیعی ڈارون کا فلسفہ پڑھتے ہیں اسی طرح الہی فلاسفہ کی کتابیں بھی پڑھئیے جو عام طور پر دستیاب ہوتی ہیں جیسے فرانسیسی “ کامیل فلاماریون” کی کتابیں جو یورپ کے مشہور ریاضی علماء میں سے ہے اور اسی نے برسوں معرفت نفس میں غور کرنے کے بعد حق تعالی کی وحدانیت کے اثبات ، عظمت روح اور موت کے بعد اس کی بقا پر بہت سی کتابیں لکھی ہیں جیسے “ دیوان لاناتور” یعنی “ خدا اور طبیعت” اور مرگ و اسرار آں” کی جلدیں جن کا ایرانی اور مصری علماء نے فارسی اور عربی میں ترجمہ کیا ہے۔

ان کتابوں میں موت کے بارے میں تفصیلی کے ساتھ قلم فرسائی کی ہے اور صریحی طور پر کہتے ہیں کہ موت حقیقی کا فنا و نیستی کے معنی مین کوئی وجود نہیں ہے موت مراد ہے ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقل ہونے کا ۔ آدمی صرف اپنا قالب بدلتا ہے یعنی اس عنصر جسم سے نکل کر ایک اس سے زیادہ لطیف پیکر اور صورت میں چلا جاتا ہے کیونکہ روح ( سرمایہ حیات) کے لیے کبھی نہیں بلکہ یہ باقی اور پائیدار ہے یہ نظر یہ سالہا سال کے قطعی تجربات کے بعد قائم ہوا ہے کہ روح اس بدن کے علاوہ ایک چیز ہے جو خود معنوی طور پر استقلال رکھتی ہے جسم کے فنا ہونے کے بعد باقی رہتی ہے اور دیکھ بھال کرتی ہے۔


اس طرح کے علماء اور فلاسفہ الہی مثلا ہمعصر فیلسوف ، بروکسوں فرانسیسی “ فرانس کے مشہور دانش مند شاعر “ دیکتور ہوگو” جرمنی محقق “ نرمال” اور مشہور فرانسیسی فیلسوف “ دکارت” وغیرہ جن کے سارے اقوال نقل کرنا بلکہ ان سب کے ناموں کا تذکرہ کرنا بھی اس موقع پر ممکن نہیں بہت ہیں دانشمندان یوروپ ان کے وجود پر فخر کرتے ہیں نہ کہ طبیعی و مادی ڈارون اور نجز کے وجود پر۔

اولا چونکہ آپ جیسے روشن خیال جوان حضرات اہل مغرب کے اثرات کے ماتحت ان کی باتیں سننے پر مجبور ہیں لہذا کم از کم یہی کیجئے کہ صرف انگلینڈ کے ڈارون اور جرمنی کے نجز ہی کی کتابیں نہ دیکھئے بلکہ دوسرے فلاسفہ اور دانشمندان یورپ کی کتابیں پر بھی توجہ کیجئے۔

دوسرے دوںوں فرقے (الہی و طبیعی) کے عقائد پر غور و فکر کیجئے اور ان کی کتبون پر جو تبصرے اور انتقادات لکھے گئے ہیں۔ ان کو پڑھیئے تاکہ بہتر کا انتخاب کرسکے ۔ اگر آپ از روئے انصاف اور علم و عقل اور منطق کی نظر سے کتب فریقین ( الہی و طبیعی) کا مطالعہ کیجئے تو قطعی اور یقینی طور پر تصدیق کیجئے گا کہ انسان کا جسم چونکہ عالم خلق کے عناصر سے پیدا ہوا ہے) لہذا فنا ہوجاتا ہے اور روح عالم امر کی مخلوق ہے اس لیے زندہ ہے اور پائیدار ہے۔ یہ نہ مری ہے اور نہ مرے گی خصوصا شہدا اور حق و حقیقت توحید کی راہ میں نقل ہونے والے جو کتب آسمانی اور تعلیمات ربانی کے حکم کے علاوہ روحانی جنبے کے جسمانی حیثیت سے بھی زندہ اور گوش شنوا اور چشم بینا کے مالک ہوتے ہیں۔

چنانچہ زیارت حضرت سید شہدا علیہ الصلوة و السلام میں وارد ہے۔ اشہدانک تسمع کلامی و ترد جوابی یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ میرا کلام سنتے ہیں اور مجھ کو جواب دیتے ہیں۔ آیا آپ نے نہج البلاغہ کا خطبہ 83 نہیں پڑھا ہے جس میں رسول اکرم(ص) کی عترت طاہرہ(ع) کا تعارف کرایا گیا ہے ! فرماتے ہیں :

" أَيُّهَا النَّاسُ! خُذُوهَا مِنْ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ إِنَّهُ يَمُوتُ مَنْ يَمُوتُ مِنَّا وَ لَيْسَ بِمَيِّتٍ وَ يَبْلَى مَنْ بَلِيَ مِنَّا وَ لَيْسَ بِبَالٍ "

(یعنی اے لوگو ، اس مطلب کا خاتم النبیین (ص) سے حاصل کرو ( یعنی آںحضرت(ص) کا ارشاد ہے) کہ ہم میں سے جس کو موت آتی ہے ( در حقیقت وہ مردہ نہیں ہے اور وہ ہم میں سے سے جو بظاہر بوسیدہ ہوتا ہے وہ در حقیقت ) بوسیدہ نہیں ہے۔ یعنی ہم عالم انوار و ارواح میں ہمیشہ زندہ اور قائم رہتے ہیں ۔ جیسا کہ ابن ابی الحدید اور میثمی اور دیار مصر کے مشہور و معروف مفتی شیخ محمد عبدہ ان کلمات کی شرح میں کہتے ہیں کہ اہل بیت پیغمبر(ص) دوسروں کی طرح در حقیقت مردہ نہیں ہیں۔

چنانچہ اگر ہم بظاہر قبور ائمہ معصومین علیہم السلام کی سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو مردوں کی قبروں کے سامنے نہیں کھڑے ہوتے اور مردوں سے باتیں نہیں کرتے بلکہ ہم زندہ اور صاحبان حیات کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور زندوں ہی سے گفتگو کرتے ہیں پس ہم مردہ پرست نہیں ہیں بلکہ خدا پرست ہیں۔ کیونکہ خدا ہی ان حضرات کی روحوں اور جسموں کو زندہ اور محفوظ رکھتا ہے۔


آیا آپ حضرات امیرالمومنین علی ابن ابی طالبا(ع) یا سید الشہدا حضرت امام حسین علیہما السلام یا بدر و احد اور کربلا کے شہیدوں کو دین حق کے فدائی اور راہ خدا کے جانباز نہیں سمجھتے ؟ جنہوں نے قریش و بنی امیہ ، یزید اور یزیدیوں کے ( جن کا سب سے برا مقصد حقائق دین کا انکار اور اس کے آثار کا مٹانا تھا) خانماں سوز ظلم کا مقابلہ کیا اور مقدس دین اسلام اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اﷲ کی راہ میں اپنی جاںیں قربان کردیں۔ جس طرح سے صحابہ رسول(ص) کی مقاومت اور شہدائے بدر واحد و حنین کی جانبازیاں کفر و شرک کی شکست اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اﷲ کی بلندی کا سبب بنیں اسی طرح حضرت امام حسین علیہ السلام کے عزم و فداکاری نے دین حق کی تقویت میں پورا اثر دکھایا اگر حضرت (ع) مقابلہ نہ کرتے تو یزید پلید لع دین کی جڑکاٹ کے اپنے کفریات باطن اورعقائد فاسدہ کو جماعت مسلمین کے اندر جامہ عمل پہنا دیتا۔

معاویہ و یزید کی خلافت اور ان کے کفر کی طرف سے مخالفین کا دفاع اور اس کا جواب

شیخ : آپ سے سخت تعجب ہے کہ خلیفتہ المسلمین یزید ابن معاویہ کو کافر اور فاسد العقیدہ کہتے ہیں حالانکہ اتنا نہیں جانتے کہ یزید کو خلیفہ امیرالمومنین اور خال المومنین معاویہ بن ابی سفیان نے منصب خلافت پر قائم کیا اور معاویہ کو خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب اور خلیفہ ثالث عثمان مظلوم رضی اﷲ عنہما نے بلاد شام میں امارت مسلمین کے عہدے پر ںصب کیا اور ان کی لیاقت و قابلیت کی وجہ سے لوگوں نے ان کو رضا اور رغبت کیساتھ مقام خلافت کے لیے قبول کیا پس آپ جو خلیفتہ المسلمین کی طرف کفر اور ارتداد کی نسبت دے رہے ہیں تو علاوہ اس کے کہ آپ نے تمام مسلمانوں کی اہانت کی جنہوں نے ان کی خلافت کو تسلیم کیا ! بہت بڑی توہین ان پچھلے خلفاء کی بھی ہے جنہوں نے عہدہ امارت اور حقیقتہ ان کی خلافت کی منظوری دی ان سے فقط ایک لغزش و خطا اور ایک ترک اولی صادر ہوا کہ ان کے زمانہ خلافت میں ریحانہ رسول اﷲ کو لوگوں نے قتل کردیا اوریہ عمل چونکہ عفو اور چشم پوشی کے قابل تھا لہذا انہوں نے توبہ کر لی اور خداوند غفور نے بھی اس کو معاف کردیا چنانچہ امام غزالی اور دمیری نے اس مطلب کو تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے ۔ اور یزید کی طہارت و پاکدامنی کو ثابت کردیا ہے۔

خیر طلب : مجھ کو بالکل اس کی توقع نہیں تھی کہ جناب کا درجہ تعصب اس حد تک ہوگا کہ یزید عنید پلید کے وکیل صفائی بن جائیں گے آپ نےجو یہ فرمایا ہے کہ ان کے اسلاف نے ان لوگوں کی امارت کو درست سمجھا لہذا لا محالہ


مسلمانون کا فرض ہے کہ کورانہ اس کو تسلیم کریں اور ان کی اطاعت کریں تو آپ کا یہ بیان بہت کمزور ہے اور صاحبان عقل کے لیے مخصوص طور پر جمہوریت کے اس ( نام و نہاد) علم و حکمت کے دور ہیں قابل قبول نہیں اور ہمارے دلائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم کہتے ہیں خلیفہ کو معصوم اور من جانب اﷲ ہونا چاہیئے تاکہ ہم ان دشواریوں سے دوچار نہ ہوں دوسرے آپ کا یہ فرماں کہ امام غزالی یا دمیری وغیرہ نے یزید کے اعمال کی صفائی پیش کی ہے ۔ تو وہ بھی آپ ہی کے ایسے تھے جیسا کہ آپ کا تعصب آپ کے علم وعقل پر غالب آگیا ہے ورنہ کوئی عقلمند انسان اس پر تیار نہیں ہوسکتا کہ یزید پلید کا وکیل صفائی بنے کیونکہ بچاؤ کا کوئی راستہ ہی نہیں ہے۔

تیسرے آپ کا یہ قول کہ فقط ایک لغزش اور خطا اس سے صادر ہوئی اور وہ شہادت حضرت سید الشہدا سلام اﷲ علیہ تھی تو پہلی بات یہ ہے کہ رسول اﷲ(ص) کے پارہ جگر کو ستر چھوٹے بڑے افراد کے ساتھ بغیر کسی قصور کے شہید کرنا اور اسلام کے نوامیس بزرگ رسول اﷲ(ص) کی بیٹیوں کو روم و فرنگ کے قیدیوں کے مانند کھلم کھلا اسیر کرنا لغزش اور غلطی نہیں تھی بلکہ گناہاں کبیرہ میں سے ہے دوسرے اس کی بد اعمالیاں اور کفریات تنہا ان حضرات کی شہادت ہے سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ اس کے کفر و ارتداد کے ثبوت میں مختلف نظیریں موجود ہیں۔

نواب : قبلہ صاحب ! میری گذارش ہے کہ اگر یزید کے کفر و ارتداد پر کچھ واضح دلیلیں موجود ہیں تو ہم کو بھی آگاہ فرمائیے ممنون ہوں گے۔

یزید کے کفر ارتداد پر دلائل

خیر طلب : یزید کے کفر و ارتداد پر دلیلیں بہت روشن اور واضح ہیں۔ چنانچہ اپنے کلمات نظم و نثر میں وہ خود برابر اپنے باطنی کفریات کا اظہار کرتا رہتا تھا خصوصا اس کے اشعار خمریہ میں کھلے ہوئے دلائلی پائے جاتے ہیں ۔

وہ کہتا ہے۔

شمسية عدم بوجها فغر دنها فمشرقها الساقی و مغربها فمی

فان حرمت ي وما علی د ي ن احمدفخذها علی د ي ن المس ي ح ابن مر ي م

خلاصہ مطلب یہ کہ کہتا ہے ، انگوری شربت دست ساقی کے مشرق سے طالع ہوتی ہے اور میرے دہن کے مغرب میں غروب ہوتی ہے پس اگر شراب دین محمدی(ص) میں حرام ہے تو اس کو دین مسیح ابن مریم پر لے لو ( یعنی مسیح ابن مریم کے دین کی پیروی کرو ۔ نیز کہتا ہے:

اقول لصحب ضمّت الكاس شملهم و داعى صبابات الهوى يترنّم

خذوه بنص ي ب من ؟؟؟ ولذة فکل وان طال الهدی ي تصرم


ان اشعار میں ظاہر کرتا ہے کہ جو کچھ ہے یہی دنیا ہے ، اس عالم کےسوا اور کوئی عالم نہیں ہے لہذا یہاں کی نعمتوں اور لذتوں سے محروم نہ رہنا چاہیے ۔ یہ وہ اشعار ہیں جو اس کے دیوان میں درج ہیں اور ابوالفرج ابن جوزی نے کتاب الرد علی المتعصب الغلید میں ان کی شہادت دی ہے۔

من جملہ ان اشعار کے جو اس کے کفر و بے دینی اور الحاد پر گواہ ہیں وہ شعر بھی ہیں جو سبط ابن جوزی نے تذکرہ میں ان کے جد ابو الفرج نے تفصیل سے درج کئے ہیں ۔ ان کے مطلع میں کہتا ہے۔

عليه هاتی ناول ي نی و ترنمی حد ي ثک انی لا احب التناج ي ا

اپنی معشوقہ سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے ، اے میری محبوبہ قریب آ اور مجھ کو اپنے دلی مطالب سے کھل کر آگاہ کر کیونکہ میں تیرے آہستہ بولنے کو پسند نہیں کرتا ( یہاں تک کہ کہتا ہے)

فان الذی حدثت عن ي وم بعثنا احاد ي ث زور تترک القلب ساه ي ا

یعنی جو شخص قیامت کے قصے سے ڈرتا ہے تو یہ سب جھوٹی باتیں ہیں جو دل کو سازو آواز کے لطف سے محروم کرتی ہیں۔

چنانچہ ابراہیم ابن اسحق معروف “ دیک الجن” نے جو جلیل القدر شیعہ فقہاء و علماء اور فضلاء و ادباء میں سے تھے خلیفہ ہارون الرشید عباسی کے سامنے یہ سارے اشعار پڑھے تو اس نے بے اختیار یزید پر لعنت کی اور کہا زندیق نے خدا اور حشر و نشر کا پورا انکار کیا ہے۔

منجملہ ان اشعار کے جو اس کے کفر و الحاد پر دلالت کرتے ہیں وہ بھی ہیں جو وہ اپنے عیش و ترنم کے موقع پر پڑھا کرتا تھا :

ي ا معشر الندمان قوموا واسمعوا صوت الاغانی

واشربوا کاس مدامواترکوا ذکر المعانی

شغلتنی نغمة الع ي دان عن صوت الاذان

و نغوضت عن الحور عجوزا فی الدنان

ماحصل معنی یہ ہیں کہ اپنے ہم مشرب اور ہم پیالہ لوگوں سے کہتا ہے کہ اٹھو اور سازو آواز پر کان لگاؤ اور شراب ناب کے جام پیو اور دینی خرافات کو چھوڑو ، کیونکہ سازو نغمہ نے مجھ کو اذان کی آواز سے ہٹا کر اپنی طرف جذب کر لیا ہے اور میں بہشت کی حوروں کے عوض بوڑھی مغینہ عورتوں کو قبول کرتا ہوں۔

کتب مقاتل میں ہرجگہ منقول ہے اور سبط ابن جوزی نے بھی تذکرہ ص148 پر لکھا کہ جب اہل بیت رسالت(ص) شام میں لائے گئے تو یزید پلید اپنے محل کے بالا خانے پر جو محلہ جیروں کے سامنے تھا، بیٹھا اور یہ دو شعر پڑھ کر اپنے کفر کو ثابت کیا :


لما بدت تلك الحمول و اشرقت تلك الشموس على ربي جيرود

نعب الغراب فقتل نح او لا تنح فلقد قضيت من الغريم ديونى!

خلاصہ مطلب یہ کہ اسیران آل محمد(ص) کی محملیں ظاہر ہوئیں تو ایک کوے نے آواز دی ( کیونکہ عرب میں اس آواز کو شگونہ بد سمجھتے تھے) تو میں نے کہا ، اے کوئے تو بول یا نہ بول میں نے پیغمبر(ص) سے اپنے قرضے وصول کرلیے ۔

کنایہ اس بات کا ہے کہ پیغمبر(ص) نے میرے بزرگ اور اقارب کو بدر و احد اور حنین میں قتل کیا تھا لہذا میں نے بھی اس کا بدلہ لیا اور ان کی اولاد کو قتل کیا ۔ اور یزید کے کفر کی دلیلوں میں سے یہ بھی ہے کہ جب اس نے فرزند رسول(ص) کی شہادت پر جشن کی محفل منعقد کی تو مثالا اس نے عبداﷲ بن الزبعری کے کفر آمیز اشعار پڑھے یہاں تک کہ سبط ابن جوزی ابو ریحان بیرونی اور دوسرے لوگوں نے لکھا ہے کہ اس نے اپنے اجداد میں سے ان لوگوں کی موجودگی اور حیات کی تمنا کی جو سب کے سب مشرک اور کافر محض تھے اور خدا و رسول(ص) کے حکم سے بدر کبرے کی جنگ میں مارے گئے تھے بظاہر ان میں سے دوسرا اور پانچواں شعر خود یزید ہی کا ہے جو اس نے مسلمانوں، یہودیوں اور نصرانیوں کے مجمع عام کے سامنے پڑھے۔

ليت أشياخي ببدر شهدوا جزع الخزرج من وقع الأسل

فأهلّوا و استهلّوا فرحاثمّ قالوا: يا يزيد لا تشل

قد قتلنا القرم من ساداتهم و عدلناه ببدر فاعتدل

لعبت هاشم بالملك فلاخبر جاء و لا وحي نزل

لست من خندف إن لم أنتقم من بني أحمد ما كان فعل

قد اخذنا من علی ثارنا و قتلنا الفارس الل ي ث البطل

یعنی اے کاش میرے وہ بزرگان قبیلہ جو بدر میں قتل کئے گئے اور قبیلہ خزرج والوں کا ( جنگ احد میں) نیزے لگنے کی وجہ سے گریہ و زاری دیکھنے والے موجود ہوتے تو خوشی سے چیختے اور کہتے کہ اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں کیونکہ ہم نے ان کے بزرگان قوم اور سرداروں کو قتل کیا، اور یہ کام ہم نے بدر کے عوض میں کیا جو پورا ہوا۔ بنی ہاشم نےسلطنت کے ساتھ کھیل کھیلا ورنہ نہ آسمان سے کوئی خبر آئی نہ وحی نازل ہوئی۔ میں خندق کے خاندان سے نہیں تھا، اگر فرزندانِ پیغمبر(ص) سے ان کے افعال کا انتقام نہ لیتا۔ ہم نے علی(ع) سے اپنے خون کا بدلہ لیا اور شہسوار بہادر شیر کو قتل کیا۔)

آپ کے بعض علماء جیسے ابو الفرج ، شیخ عبداﷲ بن محمد بن عامر شیرازی شافعی کتاب الاتحاف بحب الاشراف ص18 میں ، خطیب خوارزمی مقتل الحسین(ع) جلد دوم میں اور دوسرے لوگ لکھتے ہیں کہ یزید لعین


ان حضرات کے لب و دندان کے ساتھ چھڑی سے بے ادبی کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہا تھا۔

یزید پلید(لع) کی لعن پر علمائے اہل سنت کی اجازت

آپ کے اکثر علماء نے اس ملعون زندیق کو کافر سمجھا ہے یہاں تک امام احمد بن حنبل اور آپ کے بہت سے اکابر علماء نے اس پر لعنت کرنے کو جائز قرار دیا ہے ، خصوصا عبدالرحمن ابوالفرج ابن جوزی نے اس بارے میں ایک مستقل کتاب موسوم بہ “ کتاب الرد علی المتعصب الغلید المانع عن لعن یزید لعنہ اﷲ ” لکھی ہے اور ابوالعلاء مصری نے اس باب میں کہا ہے :

أرى الأيّام تفعل كلّ نكر فما أنا في العجائب مستزيد

أليس قريشكم قتلت حسينا و كان على خلافتكم يزيد

( حاصل معنی یہ ہے کہ زمانہ ، توحید و اہل توحید کی ضد میں برابر شیطانی نقشے بناتا ہے اور اس طرح کے عجائبات اور مکاریوں پر مجھ کو تعجب نہیں کیا ایسا نہیں ہے کہ تمہارے قریش نے حسین(ع) کو قتل کیا اور اپنے امور اور خلافت کی باگ ڈور یزید ملعون کے ہاتھ میں دے دی) صرف آپ کے چند متعصب علماء جیسے غزالی نے یزید کی طرفداری کی ہے اور اس ملعون کی صفائی میں مضحکہ خیز اور مہمل عذرات تراشے ہیں در آنحالیکہ عام طور پر آپ کے علماء نے اس کے کفر آمیز اعمال اور ظالمانہ اطوار کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ کیونکہ وہ ملسمانوں کی مسند ریاست پر بظاہر تو خلافت کے عنوان سے قابض تھا لیکن عملی طور پر کوشش کرتا تھا کہ وین و توحید کی بساط ہی الٹ دے اور بڑے افعال کو نیک اعمال کے عنوان سے عمل میں لاتا تھا ۔ چنانچہ دمیری نے حیواہ الحیوان میں اور مسعودی نے مروج الذہب میں لکھا ہے کہ وہ بہت سے بندر پالے ہوئے تھا جن کو عمدہ قسم کے ریشمی لباس اور گردنوں میں سونے کے طوق پہنا کر گھوڑوں پر سوار کراتا تھا اسی طرح بہت سے کتوں کو طوق پہنچائے ہوئے تھا۔ ان کو اپنے ہاتھسے نہلاتا دہلاتا تھا ، سونے کے برتنوں میں ان کو پانی دیتا تھا اور ان کا پس خوردہ خود استعمال کرتا تھا ، مکمل طور پر شراب کا عادی تھا اور ہمیشہ مست و مخمور رہتا تھا۔

مسعودی مروج الذہب جلد دوم میں کہتے ہیں کہ یزید کی سیرت فرعون کی سیرت تھی بلکہ فرعون رعیت داری میں یزید سے زیادہ انصاف پرور تھا۔ اس کی سلطنت اسلام کے اندر انتہائی باعث ننگ تھی، کیونکہ اس کی بہت سی بداعمالیوں جیسے شراب نوشی، فرزند رسول(ص) کا قتل، وصی پیغمبر (ص) علی ابن ابی طالب(ع) پر لعنت


کرنا، خانہ خدا ( مسجد الحرام ) کو جلانا اور برباد کرنا، کثرت کے ساتھ خونریزی ( خصوصا اہل مدینہ کا قتل عام) اور بے شمار فسق و فجور وغیرہ جس کا حساب نہیں ہوسکتا ، اس کی عدم مغفرت اور جہنمی ہونے کو ثابت کررہی ہیں۔

نواب : قبلہ صاحب ! یزید کے حکم سے مدینے کے قتل عام کا کیا معاملہ تھا؟ متمنی ہوں کہ اس کو بیان فرمائیے۔

خیر طلب : عام طور پر مورخین اور بالخصوص سبط ابن جوزی تذکرہ صفحہ63 میں لکھتے ہیں کہ سنہ62ھ میں اہل مدینہ کی ایک جماعت شام کی طرف گئی ، جب وہاں ان لوگوں کو یزید کی بدکاریوں اور کفریات کا علم ہوا تو مدینہ واپس آکر اس کی بیعت توڑ دی ، بالاعلان اس پر لعنت کرنے لگے اور اس کے عامل عثمان بن محمد بن ابی سفیان کو نکال کر باہر کیا۔ عبداﷲ بن حنظلہ ( غسیل الملائکہ) نے کہا اے لوگو ہم لوگ شام سے واپس نہیں ہوئے اور یزید پر خروج نہیں کیا لیکن اس وقت جب ہم نے دیکھا کہ :

" ه و رجل لا دين ل ه ينکح الام ه ات والبنات والاخوات و يشرب الخمر ويدع الصلوة و يقتل اولاد النبيين ۔"

(یعنی وہ ایسا بے دین شخص ہے جو ماؤں بیٹیوں اور بہنوں سے حرام کاری کرتا ہے ، شراب پیتا ہے ، نماز نہیں پڑھتا ہے اور اولاد انبیاء کو قتل کرتا ہے۔)

یزید کی بیعت توڑنے کے جرم میں اہل مدینہ کا قتل عام

جب یہ خبر یزید کو پہنچی تو اس نے اہل شام کے ایک بھاری لشکر کے ساتھ مسلم ابن عقبہ کو اہل مدینہ کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا، اور ان لوگوں نے تین شبانہ روز مسلسل اہل مدینہ کا قتل عام کیا ابن جوزی اور مسعودی وغیرہ لکھتے ہیں کہ اس قدر کشت و خون کیا گیا کہ راستوں میں خون بہہ نکلا

" وخاض الناس فی الدماء حتی وصلت الدماء قبر رسول اﷲ صلی اﷲ علي ه و آله وسلم وامتلات الروضة والمسجد "

یعنی مدینے کے کوچوں میں اس کثرت سے خون جاری ہوا کہ لوگ خون میں شرابور ہوگئے تھے، یہاں تک کہ خون رسول اﷲ(ص) کی قبر تک پہنچ گیا اور روضہ رسول(ص) اور مسجد خون سے بھر گئی۔

اشراف قریش اورمہاجرین و اںصار میں سے سات سو محترم اور سربرآوردہ افراد کو قتل کیا اور عام مسلمانوں میں سے دس ہزار اشخاص تہ تیغ ہوئے مسلمانوں کی ہتک حرمت اور بے آبروئی کے حالات بیان کرتے ہوئے مجھ کو شرم محسوس ہوتی ہے لہذا تذکرہ سبط ابن جوزی صفحہ163 کی عبارتوں


میں سے صرف ایک کو نقل کرنے پر اکتفا کرتا ہوں جس کو ابوالحسن مدائنی سے نقل کرتے ہیں کہ “ ولدت الف امراة بعد الحرة من غير زوج ” یعنی واقعہ حرہ ( مدینہ کے قتل عام) کے بعد ایک ہزار کنواری عورتوں کے یہاں بچے پیدا ہوئے ( کنایہ یہ کہ فاتح لشکر کی عصمت دری سے وہ عورتیں حاملہ ہوئیں)۔

میں اس سے زیادہ اہل بزم کا وقت لینا اور ان کو متاثر کرنا نہیں چاہتا ۔ خیالات کو صاف کرنے کے لیے اسی قدر کافی ہے۔

شیخ : آپ نے جو کچھ بیان کیا ، یہ سب یزید کے فسق و فجور پر دلالت کرتا ہے اور ہر فاسق و گنہگار انسان کا عمل معافی اور چشم پوشی کے قابل ہے یزید نےقطعا توبہ کر لی اور خدا بھی غفار الذنوب ہے اس نے بخش دیا ، پھر آپ کس وجہ سے برابر اس پر لعنت کرتے اور اس کو ملعون کہتے ہیں؟

خیر طلب : بعض دعویداروں کے وکیل اس غرض سے کہ ان کو فیس وغیرہ ملتی رہے چار و ناچار آخری وقت تک اپنے موکل کی طرف سے پیروی کرتے رہتے ہیں چاہتے حق بات ان پر ظاہرہو ہی جائے۔ لیکن مجھ کو نہیں معلوم کہ جناب عالی کن فوائد کے پیش نظر اس لعین پلید کی وکالت میں اس قدر ثابت قدمی دکھا رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یزدی نے توبہ کر لی ہے۔ حالانکہ یزدی کیکفر آمیز گفتگو، اولیائے خدا کی شہادت اور اہل مدینہ کا قتل عام وغیرہ درایت ہے اور آپ کا یہ فرمانا کہ اس نے توبہ کر لی روایت ہے جو ثابت نہیں ہوسکی اور درایت کے مقابلے میں نہیں آسکتی۔

آیا مبدا و معاد اور وحی و رسالت سے انکار اور دین سے مرتد ہونا آپ کی نظر میں لعنت کا مستحق نہیں بناتا ۔ آیا خدا نے قرآن مجید میں ظالمین پر کھلی ہوئی لعنت نہیں فرمائی ہے؟

آیا آپ یزید کو ظالم نہیں سمجھتے ؟

اگر آپ کے ایسے یزید ابن معاویہ کے خاندانی پیروکار وکیل ( حاضرین کا پر زور قہقہہ ) کی نگاہ میں یہ دلائل کافی نہیں ہیں تو میں آپ کی اجازت سے آپ کے بزرگ علماء کے منقولات سے دو حدیثیں بھی نقل کرتا ہوں اور اس کے بعد اپنی گذارش ختم کرتا ہوں۔

بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحیں میں ، علامہ سمہودی نے تاریخ المدینہ میں، ابن جوزی نے کتاب الرد علی المتعصب العنید میں، سبط ابن جوزی نے تذکرة خواص الامہ میں۔ امام احمد بن حنبل مسند میں اور دوسروں نے حضرت رسول اکرم(ص) سے نقل کیا ہے کہ فرمایا :

"من أخاف أهل المدينة أخافه اللّه، و عليه لعنة اللّه و الملائكة و النّاس أجمعين لا يقبل اﷲ


منه يوم القيمة صرفا ولا عدلا"

یعنی جو شخص ظلم سے اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے خدائے تعالی، اس کو ( روز قیامت) خوف زدہ کرے گا ۔ اس پر خدا اور ملائکہ اور سارے انسانوں کی لعنت ہو۔ قیامت کے روز خدا ایسے شخص سے کوئی عمل قبول نہیں کرے گا۔

نیز فرمایا “ لعن اﷲ من اخاف مدینتی( ای اھل مدینتی) یعنی خدا کی ایسے شخص پر جو میرے شہر ( یعنی اہل مدینہ ) کو ڈرائے”

کیا مدینے کے اندر یہ سارا قتل عام ، ہتک حرمت او لوٹ مار وہاں کے باشندوں کے لیے ڈر اور خوف کا باعث نہیں تھا ؟ اور اگر تھا تو تصدیق کیجئے کہ وہ کمینہ اور پلید خدا و رسول(ص) ، ملائکہ اور تمام انسانوں کی زبان سے ملعون تھا اور قیامت تک رہے گا۔

آپ کے اکثر علماء یزید پلید پرلعنت کی ہے اور اس پر لعن کے جائز ہونے پر کتابیں لکھی ہیں من جملہ ان کے علامہ جلیل القدر عبداﷲ بن محمد بن عامر شبراوی شافعی کتاب الاتحاف بحب الاشراف ص20 میں لعن یزید کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ جس وقت ملا سعد تفتازانی کے سامنے یزید کا نام لیا گیا تو انہوں نے کہا " فلعنة اﷲ عليه و علی انصاره و علی اعوانه" ( یعنی لعنت ہو خدا کی اس پر اور اس کے اعوان و اںصاری پر) اور جواہر العقدین علامہ سمہودی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا

"اتفق العلماء علی جواز لعن من قتل الحسين رضی اﷲ عنه او امر بقتله او اجازه اور رضی به من غير تعيين"

یعنی عام طور پر علماء نے اس شخص پر لعنت کے جائز ہونے پر اتفاق کیا ہے جس نے حسین رضی اﷲ کو قتل کیا یا ان کے قتل کا حکم دیا یا اس کی اجازت دی یا اس پر رضا مند ہوا بلا تخصیص۔

اور ابن جوزی ، ابو یعلی اور صالح ابن احمد بن حنبل سے نقل کرتے ہیں کہ آیات قرآن وغیرہ کے دلائل پیش کرتے ہوئے یہ حضرات لعن یزید کو ثابت کرتے ہیں لیکن جلسہ کا وقت اس سے زیادہ گفتگو کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

نشست کافی لمبی ہوچکی ہے اور آدھی رات سے بھی کئی گھنٹے زیادہ گزر چکے ہیں، ورنہ یہ معمہ حل ہونا بہت ضروری تھا تاکہ آپ حضرات ان مقدمات سے اس عظیم حق کا پتہ لگائیں جو حضرت امام حسین (ع) اسلام اکھاڑ پھینکایا اپنے اپل بیت کے خون سے لا الہ الا اﷲ کے شجرہ طیبہ کی آبیاری کی جو بنی امیہ اور بالخصوص یزید پلید کے ظلم سے خشک ہونے کے قریب تھا، اور اسلام و توحید کو ایک نئی زندگی عطا کی۔

انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آپ بجائے اس کے کہ ان بزرگوار کے خدمات کی قدر کرتے


ان کے زائرین کے زیارت کے لیے جانے پر اعتراض اور نکتہ چینی کرتے ہیں ، اس کا نام مردہ پرستی رکھتے ہیں اور افسوس کرتے ہیں کہ کس لیے کروڑوں انسان ہر سال ان حضرات کے مرقد مطہر کی زیارت کو جاتے ہیں، مجلس عزا برپا کرتے ہیں اور ان مظلوم کی غریبی پر گریہ کرتے ہیں۔

گمنام جاں نثار

ہم کتب و رسائل اور اخبارات میں پڑھتے ہیں اور سیاحت کرنے والے بتاتے ہیں کہ دنیا کے متمدن ممالک کے مرکزی مقامات جیسے پیرس، لندن، برلن اور واشنگٹن وغیرہ میں“ گمنام جاں نثار ” کے نام سے کچھ محترم مزارات موجود ہیں۔

کہتے ہیں کہ اس جوانمرد نے وطن کی حفاظت میں ظالموں کے ظلم کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جان قربان کی ہے۔ لیکن اس کے جسم و لباس میں کوئی ایسی واضح علامت نہیں پائی گئی جس سے معلوم ہوتا کہ یہ کس قوم و قبیلہ اور شہر کا باشندہ ہے۔

باوجودیکہ وہ ایک گمنام اور بے نام و نشان شخصیت ہے لیکن صرف اس خیال سے کہ اس نے ظلم و ظالم کے مقابلہ میں اپنے خون کی قربانی دی ہے جب کوئی بادشاہ صدر جمہوریہ، وزیر یا کسی طبقے کا کوئی شریف و بزرگ انسان ان شہروں میں وارد ہوتا ہے تو احتراما اس گمنام۔۔۔۔۔ جاں باز کی زیارت کو جاتا ہے او پھولوں کا تاج اس کی قبر پر رکھتا ہے۔

قدر دانی کے نام پر ایک غیر معروف سپاہی کا اس قدر احترام اس لیے کرتے ہیں کہ اقوام عالم کے سامنے اپنی قومی حیثیتوں کا تحفظ کرسکیں۔

لیکن صاحبان اںصاف کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے کہ ہم مسلمان لوگ باوجودیکہ بہتر با نام و نشان سر فروش رکھتے ہیں جوسب کےسب عالم و عابد، صاحبان تقوی اور بعض ان میں سے قاری و حافظ قرآن تھے اور جنہوں نے دین و توحید ، حریم اسلام کے تحفظ اور عدل و انصاف کی راہ میں ظالموں کے ظلم کا مقابلہ کرتےہوئے جان دی اور ان میں سے زیادہ تر خدا و رسول (ص) اور عترت پیغمبر (ص) کی امانت تھے لیکن بجائے قدردانی اور لوگوں کو ان کی زیارت کا شوق دلانے اور ان کی قبروں کے احترام کا حکم دینے کے نکتہ چینی کی کوشش کرتے ہیں اور ایک دوسرے فرقے والے علاوہ عیب جوئی اور اعتراض کے اپنے متعصب علماء کے بھڑکانے سے ان کی قبروں کو برباد کرتے ہیں اور ان کے صندوق بالائے قبر کو


جلا کر قہوہ بناتے ہیں۔

چنانچہ سنہ1216 ہجری میں عید غدیر کے روز جب کربلا کے سارے باشندے ( سوا تھوڑے افراد کے) زیارت کے لیے نجف اشرف گئے ہوئے تھے نجدی وہابیوں نے موقع غنیمت سمجھ کر حملہ کر دیا۔ ضعیف وغیر ضعیف شیعوں کے قتل و غارت میں مشغول ہوئے اور دین کے نام پر فدائیاں دین توحید ( یعنی سید شہداء حضرت امام حسین (ع) اور آپ کے انصار) کی مقدس قبروں کو برباد اور زمین کے برابر کردیا ( تقریبا پانچ ہزار) باشندگان کربلا علماء اور ناتوان ضعفاء یہاں تک کہ شیعوں کی عورتوں اور بے گناہ بچوں کو قتل کیا۔ حضرت سید شہداء (ع) کا خزانہ لوٹ لیا، جواہرات ، سونے کی قندیلیں، قیمتی اشیاء اور بڑے بڑے پیش بہا فرش اٹھا لےگئے قبر مطہر کے اوپر کا قیمتی صندوق جلا کر اس سے قہوہ بنایا اور ایک کثیر جماعت کو قید کر کے اپنے ہمراہ لے گئے انا ﷲ و انا ال يه راجعون ۔ ( افسوس ہے ایسے اسلام پر)۔

واقعی بہت افسوس ناک بات ہے کہ تمام متمدن مملاک ، علماء سلاطین اور دانش مندوں کی یہاں تک کہ اپنے گمنام سپاہی کی قبروں کا احترام کریں لیکن مسلمان جو اپنے مایہ ناز افراد کے قبور کی حفاظت میں سب سے زیادہ اولی اور احق ہیں وہ آدم خور وحشیوں کی طرح ان کے مزارات کو مسمار اور تباہ و بردباد کریں حتی کہ مکہ اور مدینہ میں حضرت حمزہ سید شہداء (ع) جیسے شہدائے احد، پیغمبر (ص) کے آباء و اجداد جیسے جناب عبدالمطلب و عبداﷲ آں حضرت(ص) کے اعمام و اہل وقوم، فرزندان رسول خدا(ص) جیسے سبط اکبر حضرت امام حسن(ع) مسموم ، سید الساجدین حضرت امام زین العابدین (ع) ، باقر العلوم حضرت امام باقر(ع)، صادق آل محمد حضرت امام جعفر صادق علیہم السلام ، دوسرے بنی ہاشم ، علمائے اعلام اور مفاخر اسلام کی قبروں کو زمین کے برابر کر دیں اور اس کے بعد بھی اپنے کو مسلمان کہیں۔ ہاں اپنے بزرگوں اور بادشاہوں کے مقبرے البتہ بہت شاندار طریقے سے تعمیر کریں۔ حالانکہ ہمارے اور آپ کے علماء نے قبور مومنین کی زیارت پر راغب کرنے کے لیے کس قدر کثرت سے حدیثیں نقل کی ہیں تاکہ اس ذریعے سے مومنین کی قبریں حوادث زمانہ کی دستبرد سے محفوظ رہیں۔

خود رسول اﷲ(ص) قبور مومنین کی زیارت کو تشریف لے جاتے تھے اور ان کے لیے مغفرت طلب فرماتے تھے مسئلہ یہ کہ کچھ خفیہ مقاصد کے ماتحت مذہب کے نام پر اپنے ہی ہاتھوں اپنی قابل فخر ہستیوں کی قبریں خراب اور خاک کے برابر کریں اور ان کا نشان بھی دنیا میں باقی نہ رہنے دیں بات ختم کرتا ہوں ورنہ دل میں ابھی بہت کچھ ہے۔


شرح این ہجراں و ایں خون جگر ایں زمان بگزار تا وقت دگر

آل محمد(ص) شہدائے راہ خدا اور زندہ ہیں

آیا آپ اس جلیل القدر خانوادہ کو جس نے دین اور توحید کی راہ م ی ں جا نی ں دیں ، شہ ی د سمجھتے ہیں یا ن ہیں ؟ اگر کہئے کہ شہید نہیں ہیں تو اس پر آپ کی کیا دلیل ہے؟ اور اگر شہید ہیں تو پھر آپ انہیں مردہ کیوں سمجھتے ہیں؟ حالانکہ قرآن مجید میں کھلا ہوا ارشاد ہے " احياء عند ربهم يرزقون " یعنی وہ زندہ ہیں اور اپنے خدا کے پاس رزق پاتے ہیں۔ 12 مترجم) پس قرآنی آیات اور معتبر احادیث کی بنا پر مقدس ہستیاں زندہ ہیں، مردہ نہیں ہیں۔ چنانچہ ہم لوگ بھی مردہ پرست نہیں ہیں اور مردے پر سلام نہیں کرتے بلکہ زندوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔

علاوہ اس کے کوئی با سواد یا جاہل شیعہ ان حضرات کو حاجت روائی میں خود مختار نہیں سمجھتا بلکہ ان کو خدا کے نیک بندے اور معبود کی طرف ایک بلند مرتبہ واسطہ جانتا ہے ( جیسا کہ اسی کتاب کے صفحہ97 میں مذکور ہے)

ہم صرف اس لئے اپنی حاجتوں کو ان کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ وہ برحق ائمہ اور عالی منزلت صالحین ، خدا سے دعا فرمائیں تاکہ وہ ہم نا اہل انسانوں پر کرم فرمائے۔ اور اگر زبان سے یہ کہتے ہیں کہ یا علی ادرکنی ، یا حسین ادرکنی تو اس کی مثال بعینہ اسی آدمی کی ایسی ہے جو کسی با اقتدار بادشاہ سے کوئی حاجت رکھتا ہے تو وزیر اعظم کے دروازے پر جاتا ہے اور کہتا ہے کہ جناب وزیر صاحب میری فریاد کو پہنچئے۔ لیکن یہ کہنے والا وزیر کو ہرگز بادشاہ اور اپنی حاجت روائی میں خود مختار نہیں مانتا ہے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ چونکہ بادشاہ کی نظر میں با عزت ہیں۔ لہذا میری سفارش کردیجئے تاکہ میرا کام بن جائے۔

شیعہ بھی آل محمد علیہم السلام کو خدا اور خدائی کاموں میں شریک نہیں جانتے ہیں بلکہ ان کو اﷲ کے صالح بندے سمجھتے ہیں جو علاوہ اپنی پاک فطرت کے عبادت و تقوی اور دینی خدمات کے نتیجہ میں حق تعالی کے منظور نظر قرار پائے لہذا دونوں عالم میں ان کو امامت و ولایت کے عہدے اور بلند و بالا درجات عطا کیئے تاکہ پروردگار کے حکم اور اجازت سے موجودات میں تصرف کرسکیں۔ چونکہ یہ حضرات خدائے ذوالجلال کے امانت دار اور نمائندے ہیں اس بنا پر حاجت مندوں کے ضروریات خدا کی بارگاہ میں پیش


کرتے ہیں ، اگر سائل کی حاجت روائی مصلحت کے مطابق ہوتی ہے تو قبول فرماتا ہے ورنہ آخرت میں اس کا عوض دیتا ہے ۔ چنانچہ عملی طور پر ہم ایسا دیکھتے بھی ہیں اور نتائج بھی حاصل کرتے ہیں۔

یہ مشتے نمونہ از خود ؟؟؟؟؟؟؟؟ چند مختصر جملے تھے جو مجبورا آپ کی اس بات کے جواب میں عرض کئے گئے کہ مردے سے خطاب کیوں کرتے ہو اس مقام پر یہ نکتہ بھی بغیر کہے نہ رہ جائے کہ شیعہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی منزل اس سے بالاتر سمجھتے ہیں کہ دوسرے شہدائے اسلام کی طرح ان کےلیے بھی صرف ایک زندگی ثابت کریں۔

حافظ : آپ کے بیان میں یہ فقرہ ایک معمہ ہے جس کے حل کی ضرورت ہے ۔ آخر آپ کے اماموں میں دوسرے اماموں سے کیا فرق ہے؟ صرف سیادت کی منزلت اور رسول اکرم(ص) سے ان کی نسبت نے ان کو دوسروں کے مقابلے میں ممتاز بنا دیا ہے۔

خیر طلب : اس میں کوئی معمہ قطعی نہیں ہے صرف اس مطلب کا تصور آپ کےلیے دشوار ہے کیونکہ ساری زندگی منزل امامت کی معرفت سے دور رہے ہیں۔ سب سے پہلے ضرورت اس کی ہے کہ اپنی عادت اور تعصب سے الگ ہو کر علم و عقل اور منطق و اںصاف کی نظر سے مقام امامت کا مطالعہ فرمائیے اس کے بعد آپ کو اندازہ ہوگا کہ شیعہ اعتقاد کے لحاظ سے منصب امامت اور آپ کے عقائد کے مطابق امامت کے درمیان ایک بین اور واضح فرق یہ۔ اگر میں اس مقصد کو ثابت کرنے بیٹھوں تو صبح تک انتظار کرنا ہوگا۔ اب یہ اہم موضوع ایک اطمیانی نشست کے لیے ملتوی کرتا ہوں جس میں گفتگو کا پورا وقت ہو انشاء اﷲ۔

( اس کے بعد ہم لوگوں نے جلسہ برخاست کیا ۔ چونکہ اذان صبح کا وقت قریب تھا اور سلسلہ گفتگو طولانی ہوچکا تھا لہذا لوگوں نے کہا کہ اب امامت کا موضوع کل رات پر رہا ہم نے خوش طبعی اور مزاح کے ساتھ ان حضرات کو کچھ دور چل کر رخصت کیا اور وہ بخیر و عافیت تشریف لے گئے۔)


چوتھی نشست

شب دوشنبہ 26 رجب سنہ1345ھ

آپ نے حقیقت کا نکشاف کر کے ہم پر احسان کیا

مغرب کے اول وقت حضرات اہل سنت میں سے تین نفر تشریف لائے اور کہا کہ جلسہ شروع ہونے سے قبل ہم آپ کی اطلاع کے لیے عرض کرتے ہیں کہ آج غروب آفتاب تک مسجدوں ، مکانوں، دفتروں اور بازاروں میں ہر جگہ آپ ہی کا تذکرہ تھا جس جگہ کسی کے ہاتھ میں آج کا اخبار تھا وہاں چاروں طرف کثرت سے لوگ اکٹھا تھے اور آپ کی تقریروں کےبارے میں بحث کررہے تھے۔ ہم لوگوں کو آپ سے کافی تعلق خاطر پیدا ہوگیا ہے۔ ہم سب کے دلوں میں آپ نے گھر کر لیا ہے اور ہم پر آپ کا بہت بڑا حق ہے کیونکہ آپ ان شبہات کو حل کر رہے ہیں جن کو ہمارے پیشواؤں نے بچپن ہی سے ہم کو الٹے طریقے پر سمجھایا تھا۔ہم اس کے لیے تہ دل سے معذرت خواہ ہیں کہ ہم شیعہ جماعت کو مشرک سمجھتے تھے ہم کیا کریں ہم کو ہمیشہ سے تعلیم ہی یہی دی گئے ہے۔ امید ہے کہ خداوند غفور ہماری توبہ قبول کرے گا۔ ادھر چند روز سے ہر شب کی بحثیں رسالوں اور اخباروں میں شائع ہو رہی ہیں تو اکثر اخبارات کے خریداروں اور بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں، خصوصا ہم لوگ جو شریک جلسہ اور آپ کی لطیف گفتگو سے بہرہ اندوز ہوتے ہیں بہت متاثر ہوئے ہیں خاص طور پر گذشتہ شب کیونکہ آپ نے خوب خوب پردے اٹھائے اور پوشیدہ حقائق کو ظاہر فرمایا امید ہے کہ مزید انکشافات ہوں گے اور اس سے زیادہ حقیقتیں بے نقاب ہوں گی۔

دوسری بات جس کی طرف ہم آپ کی توجہ منذول کرانا چاہتے ہیں یہ ہے کہ ہم پر اور ہماری جماعت پر جو چیز سب سے زیادہ اثر انداز ہوئی ہے وہ جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں آپ کی واضح اور سادہ گفتگو ہے۔ کیونکہ آپ ہماری ہی زبان میں مطلب کو اس قدر مفصل اور عام فہم طریقے سے بیان فرماتے ہیں کہ ہمارے تمام بے سواد افراد کو اپنی طرف جذب کر لیتے ہیں ، آپ قطعی طور پر یہ پہلو پیش نظر رکھیں کہ ساری جماعت میں فی صد پانچ نفر سے زیادہ صاحبان علم و خبر نہیں ہیں۔ کورکورانہ طور بچپن سے جو کچھ سن رکھا ہے اس نے ان کے


قلب و دماغ میں جگہ پکڑ لی ہے اب تو انہیں صرف سادگی ہی کے ذریعے سمجھایا جاسکتا ہے ، چنانچہ آپ اسی بات پر عمل کر رہے ہیں اور امید ہے کہ پورا پورا نتیجہ حاصل ہوگا۔

اتنے میں حضرات علماء تشریف لے آئے اور ہم نے گرم جوشی اور خندہ پیشانی کےساتھ ان کو خوش آمدید کہا ۔ چائے نوشی اور معمولی خاطر تواضع کے بعد جلسے کی کاروائی شروع ہوئی۔

نواب : قبلہ صاحب گزشتہ رات طے پایا تھا کہ آج کی شب امامت کے بارے میں گفتگو ہوگی، ہم اس خاص موضوع کو سمجھنے کے لیے بہت مشتاق ہیں اور چونکہ اسی موضوع پر دوسرے مطالب کی بنیاد ہے لہذا ہماری تمنا ہے کہ صرف اسی مسئلے کو مورد بحث قرار دیں تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ ہمارے اور آپ کے درمیاں موضوع امامت میں کیا اختلاف ہے۔

خیر طلب : مجھ کو کوئی عذر نہیں ہے، چنانچہ اگر مولوی صاحبان اسی طرف مائل ہوں تو میں حاضر ہوں۔

حافظ : ( اڑے ہوئے رنگ اور اترے ہوئے چہرے کے ساتھ) ہماری طرف سے بھی کوئی اختلاف نہیں ہے آپ جس طرح سے مناسب سمجھیں بیان فرمائیں۔

امامت کے بارے میں بحث

خیر طلب : آپ حضرات کو بخوبی معلوم ہے کہ لغت اور اصطلاح کی حیثیت سے امام کے کئی معنی ہیں۔ لغت میں امام پیشوا کے معنی رکھتا ہے الامام هو المتقدم بالناس یعنی امام انسانوں کا پیشوا ہے۔ امام جماعت یعنی نماز جماعت میں لوگوں کا پیشوا۔ امام الناس یعنی امور سیاسی یا روحانی وغیرہ میں آدمیوں کا پیشوا۔ امام جمعہ یعنی جو شخص نماز جمعہ میں پیشوائی کرے۔

اہلسنت کے مذاہب اربعہ پر بحث اور کشف حقیقت

اس بنا پر جماعت اہل تسنن یعنی مذاہب اربعہ کے پیرو اپنے پیشواؤں کو امام کہتے ہیں جیسے امام ابو حنیفہ ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل۔ یعنی وہ فقہاء و مجتہدین جو امر دین میں ان کے پیشوا ہیں اور جنہوں نے اپنی عقل و فکر کے ذریعہ اجتہاد یا قیاس کے ساتھ ان کے لیے حلال و حرام کے احکام معین کئے ہیں۔


یہی وجہ سے کہ جب ہم آپ کے چاروں اماموں کی فقہی کتابون کا مطالعہ کرتے ہیں تو اصول و فروع کی حیثیت سے ان میں بہت اختلافات نظر آتے ہیں۔ اس طرح کے ائمہ اور پشوا تمام ادیان و مذاہب کے اندر ہیں۔ یہاں تک کہ مذہب شیعہ میں بھی علماء فقہاء وہی درجہ رکھتے ہیں جس کے آپ اپنے اماموں کے لیے قائل ہیں۔ لہذا وہ حضرت امام عصر عجل اﷲ فرجہ کی غیبت میں ہر عہد اور زمانےمیں موازین علمی کی روسے کتاب و سنت اور عقل و اجماع کے ادلہ اربعہ کے ساتھ فتوے دیتے ہیں۔ پھر بھی ہم ان کو امام نہیں کہتے ہیں کیونکہ امامت عترت طاہرہ(ع) سے بارہ اوصیاء کے ساتھ مخصوص ہے۔ ایک فرق یہ ہے کہ آپ کے بزرگوں نے بعد کے لیے اجتہاد کا دروازہ بند رکھا ہے یعنی پانچویں صدی ہجری سے جب کہ بادشاہ کے حکم سے علماء و فقہاء کی ایجاد کردہ رائیں جمع کی گئیں، صرف چار کے اندر منحصر کر کے مذاہب اربعہ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی کو رائج کیا گیا اور لوگوں کو مجبور کیا گیا ہے ان چاروں میں سے کسی ایک مذہب پر عمل کریں جیسا کہ اب تک رواج ہے معلوم نہیں کہ مقام تقلید میں ایک فرد کو دوسرے افراد پر کس دلیل و برہان سے ترجیح حاصل ہے۔ حنفیوں کے امام میں کیا خصوصیت ہے جو مالکیوں کو نہیں ملی اور شافعیوں کا امام کیا فضیلت رکھتا ہے جو حںبلیوں کے پاس نہیں۔

اگرملت اسلامی اس پر مجبور ہے کہ ان چاروں کے فتاوی سے باہر نہ جائے تو جماعت مسلمین بہت سخت جمود کے پنجے میں گرفتار ہوگئی ہے اور کبھی ان میں ترقی اور بلندی پیدا نہیں ہوسکتی ۔ حالانکہ مقدس دین اسلام کے خصوصیات میں سے ایک یہی ہے کہ ہر دور اور زمانے میں قافلہ تمدن کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور یہ مقصد لازمی طور پر ایسے فقہاء و مجتہدین چاہتا ہے جو ہر عہد میں موازین شرعیہ کے تحفظ کے ساتھ کاروانِ تہذیب کے ہمراہ آگے بڑھیں اور مذہب کی مرکزیت کو محفوظ رکھیں۔

کیونکہ بہت سے امور ایسے ہیں ج کے تجدد کی وجہ سے ان میں تقلید میت کی گنجائش نہیں ہے ۔ بلکہ حتمی طور پر زندہ فقیہ اور مجتہد کی طرف رجوع کرنا ان کی دماغی کاوش سے فائدہ حاصل کرنا اورا ن کے فتوی کو اپنا لائحہ عمل بنانا ضروری ہوتا ہے۔ باوجودیکہ بعد کے زمانوں میں آپ کے یہاں ایسے عالی منزلت مجتہدین اور فقہاء پیدا ہوئے جو ان چاروں اماموں سے بدرجہا اعلم اور افقہ تھے لیکن معلوم نہیں یہ ترجیح بلا مرجح ، مقام اجتہاد کو ان چار نفر کے اندر محصور کر دینا اور دوسروں کے علمی افادات کو ضائع کرنا کس مصلحت کی بنا پر تھا۔ البتہ جماعت شیعہ کے اندر ظہور امام آخرالزمان عجل ا ﷲ فرجہ تک ہر دور اور ہر زمانے میں تمام فقہاء اور مجتہدین کو فتاوی کا حق حاصل ہے اور ہم مسائل جدیدہ میں ابتداء تقلید میت کو ہرگز جائز نہیں سمجھتے ۔


مذاہب اربعہ کی پیروی پر کوئی دلیل نہیں ہے

تعجب ہے کہ آپ شیعہ فرقے کو تو بدعتی اور مردہ پرست کہتے ہیں جو اہل بیت رسول(ص) میں سے بارہ ائمہ(ع) کی ہدایتوں پر آں حضرت(ص) ہی کے حکم سے ( ان نصوص خاصہ کے ساتھ جو آپ کی کتابوں میں بھی تشریح کے ساتھ مندرج ہیں) عمل کرتے ہیں لیکن معلوم نہیں آپ حضرات کس دلیل سے مسلمانوں کو مجبور کرتے ہیں کہ اصول میں اشعری یا معتزلی مذہب پر اور فروع میں لازمی طور پر مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک پر عمل پیرا ہوں۔ اور اگر ان باتوں پر جو آپ بغیر دلیل کے کہتے ہیں عمل نہ کریں۔ یعنی اشعری یا معتزلی مذہب یا مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک کے پیرو نہ بنیں تو رافضی ، مشرک اور گردن زدنی قرار پائیں۔

اگر آپ پر ایراد کیا جائے کہ چونکہ ابو الحسن اشعری یا ابو حنیفہ ، مالک ابن انس، محمد ابن ادریس شافعی اور احمد بن حنبل کی پیروی کے لیے پیغمبر(ص) کا کوئی فرمان نافذ نہیں ہوا ہے اور یہ بھی من جملہ اور اسلامی علماء و فقہاء کے تھے لہذا صرف انہیں کی تقلید پر اںحصار کرنا بدعت ہے تو کیا جواب دیجئیے گا؟

حافظ : ائمہ اربعہ چونکہ زہد و ورع تقوی و امانت اور عدالت کے ساتھ ساتھ فقاہت اور علم و اجتہاد کی منزل پر فائز تھے لہذا ان کی پیروی ہم پر لازمی ہوگئی۔

خیر طلب : اول تو جو کچھ آپ نے فرمایا یہ ایسے دلائل نہیں ہیں جو حصر کا سبب بن جائیں کہ روز قیامت تک مسلمان ان کے طریقے کی پیروی کرنے پر مجبور ہوں۔ اس لیے کہ آپ اپنے سارے علماء و فقہاء کے لیے ان صفات کے قائل ہیں اور ان چاروں کے اندر اںحصار کرنا بعد کے علماء کے توہین ہے۔ کسی ایک فرد یا افراد کی پیروی پر اسی وقت مجبور کیا جاسکتا ہے جب کہ خاتم الانبیاء(ص) سے کوئی ہدایت یا نص مروی ہو حالانکہ آپ کے ائمہ اربعہ کے بارے میں ایسا کوئی حکم یا نص آنحضرت(ص) سے منقول نہیں ہے لہذا آپ نے کیونکہ مذاہب کو چار کے اندر محدود کردیا اور ان چار اماموں میں سے ایک کی پیروی کا لازمی ہونا حق سمجھتے ہیں؟

یہ عجیب معاملہ صاحبان عقل و اںصاف کے لیے قابل غور ہے

بہت مضحکہ خیز بات ہے کہ چند شب پہلے آپ نے شیعہ مذہب کو سیاسی قرار دیا اور کہا کہ یہ مذہب چونکہ رسول اﷲ(ص) کے زمانے میں نہیں تھا اور خلافت عثمان میں پیدا ہوا ہے۔ لہذا اس کی پیروی


جائز نہیں ہے۔ حالانکہ پرسوں شب میں نے عقلی و نقلی دلائل سے ثابت کردیا کہ مذہب شیعہ کی بنیاد رسول اﷲ(ص) کے زمانے میں آں حضرت(ص) ہی کی ہدایت سے قائم ہوئی اور شیعوں کے سردار امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے بچپن ہی سے دامن نبوت میں پرورش پائی۔ آں حضرت (ص) سے معالم دین کی تعلیم حاصل کی، ان روایات کے مطابق جو آپ کی معتبر کتابوں میں منقول ہیں آںحضرت(ص) نے آپ کو اپنے علم کا دروازہ فرمایا اور صراحت کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ علی(ع) کی اطاعت میری اطاعت ہے اور ان کی مخالت میری مخالفت ہے، ستر ہزار مسلمانوں کے مجمع میں آپ کو امارت و خلافت کے عہدے پر منصوب فرمایا اور عام مسلمانوں کو یہاں تک کہ عمر اور ابوبکر کو بھی حکم دیا اور ان لوگوں نے آپ کی بیعت کی۔

لیکن آپ کے چاروں مذاہب حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی کس بنیاء پر قائم ہوئے ہیں؟ آپ کے ان چار اماموں میں سے کس نے رسول خدا(ص) سے ملاقات کی ہے یا کس کے بارے میں آںحضرت(ص) کی طرف سے کوئی ہدایت جاری ہوئی ہے تاکہ مسلمان آنکھیں بند کر کے ان کی پیروی پر مجبور ہوں؟ جیسا کہ آپ بھی بغیر کسی دلیل کے اپنے اسلاف کے قدم بقدم چلتے ہوئے ان چار اماموں کی پیروی کر رہے ہیں جن کی امامت مطلقہ پر ایک دلیل بھی دلیل نہیں رکھتے سوا اس کے کہ آپ نے فرمایا وہ فقیہ، عالم، مجتہد، زاہد اور صاحبان تقوی تھے تو ہر ایک کے زمانے والوں کو صرف ان کی زندگی میں ان علماء کے فتاوی پر عمل کرنا چاہئیے تھا نہ یہ کہ ساری دنیا کے مسلمان روز قیامت تک ان کی اطاعت کے پابند بنا دیے جائیں۔

علاوہ ان باتوں کے اگر رسول اﷲ(ص) کے صریحی ارشادات کے ساتھ ساتھ یہ صفات بھی ہزاروں گنا زیادہ آں حضرت (ص) کی عترت میں جمع ہوگئی ہوں تو بدرجہ ادنی ان حضرات کا اتباع اور پیروی فرض ہے بہ نسبت ان لوگوں کے جن کے بارے میں قطعا کوئی نص یا فرمان نافذ نہیں ہوا ہے۔ آیا وہ مذاہب جن کا رسول(ص) کے زمانے میں کوئی نشان نہیں تھا اور ائمہ اربعہ میں سے کوئی ایک بھی آں حضرت(ص) کے عہد میں موجود نہیں تھا نہ ان کے بارے میں آں حضرت (ص) سے کوئی حکم منقول ہے اور ایک صدی کے بعد دنیا میں رونما ہوئے ، ایجاد بندہ اور سیاسی ہیں؟ یا وہ مذہب جس کے بانی رسول خدا(ص) اور جس کا پیشوا آں حضرت(ص) کے ہاتھوں میں تربیت پایا ہوا تھا؟ اور اسی طرح باقی گیارہ امام جن سب کے لیے فردا فردا حدیثیں مروی ہیں، ان کو عدیل قرآن قرار دیا ہے اور حدیث ثقلین میں صاف ارشاد فرمایا ہے کہ :

" من تمسک بهما فقد نجی و من تخلف عنهما فقد هلک ۔" (1)

جس نے ان دونوں سے تمسک کیا وہ یقینا نجات یافتہ ہے اور جس نے ان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ اسی کتاب کے صفحہ92 صفحہ93 میں اس کی اصل اور اسناد کی طرف اشارہ ہوچکا ہے۔


دونوں سے رو گردانی کی وہ یقینا ہلاک ہوا 12 مترجم) اور حدیث سفینہ میں فرمایا ہے کہ من تخلف عنهم فقد هلک (1) یعنی اور جس نے ان سے منہ موڑا پس وہ یقینا ہلاک میں گرفتار ہوا۔ 12 مترجم)

ابن حجر صواعق باب وحیتہ النبی صفحہ135 میں آن حضرت(ص) سے نقل کرتے ہیں کہ فرمایا “ قرآن اور میری عترت تمہارے درمیان میری امانت ہیں کہ اگر ان دوںوں سے ایک ساتھ تمسک اختیار کرو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے”

پھر ابن حجر کہتے ہیں کہ اس قول کی موید ایک دوسری حدیث ہے جو آں حضرت (ص) نے قرآن و عترت کے بارے میں ارشاد فرمائی ہے۔" فلا تقدموهما فتهلكوا، و لا تعلموهما فإنهما أعلم منكم." ( یعنی قرآن اور میری عترت پر پیش قدمی نہ کرو۔ اور ان کی خدمت میں کوتاہی نہ کرو۔ ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے۔ اور میری عترت کو تعلیم نہ دو۔ کیونکہ وہ تم سے زیادہ جاننے والے ہیں۔)

اس کے بعد ابن حجر نے تبصرہ کیا ہے کہ “ یہ” حدیث شریف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آں حضرت(ص) کی عترت اور اہل بیت(ع) مراتب علمیہ اور وظائف دینیہ میں دوسروں پر تقدم کا حق رکھتے ہیں۔” حیرت ہے کہ اس بات کا یقین رکھتے ہوئے بھی کہ عترت و اہل بیت رسول(ص) کو دوسروں پر مقدم ہونا چاہیئے بغیر کسی دلیل و برہان کے اصولی ہیں ابوالحسن اشعری کو اور فروع میں ان چاروں فقہا کو اس خاندان جلیلی پر مقدم قرار دیتے ہیں۔ در حقیقت فقیہ امام علم و ورع اور تقوی اور عدالت کی وجہ سے پیشوا قرار پائے تو ان میں سے ایک نے دوسرے پر فسق اور کفر کا فتوی کس لیے لگایا ہے؟

حافظ : آپ بہت زیادتی کرتے ہیں کہ جو کچھ آپ کے منہ میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں، یہاں تک کہ ہمارے فقہا اور اماموں پر تہمت لگاتے ہیں کہ یہ لوگ ایک دوسرے کی تردید و توہین یا تفسیق و تکفیر پر اتر آئے ہیں۔ آپ کا یہ بیان قطعا کھلا ہوا جھوٹ ہے۔ اگر ان کے بادے میں کوئی تردید یا تنقید کی گئی ہے تو وہ شیعہ علماء کی طرف سے ہے ورنہ ہمارے علماء کی جانب سے سوا تعظیم و تکریم کے جو ان حضرات کے شایان شان تھی ایک لفظ بھی نہیں لکھا گیا ہے۔

خیر طلب : معلوم ہوتا ہے کہ جناب عالی کو اپنے علماء کی معتبر کتابوں کے مندرجات پر کوئی توجہ نہیں ہے یا جان بوجھ کر انجان بنتے ہیں یعنی جانتے ہوئے مغالطہ دے رہے ہیں ، ورنہ آپ کے بڑے بڑے علماء نے ان کی رد میں کتابیں لکھی ہیں یہاں تک کہ خود چاروں اماموں نے ایک دوسرے کو فاسق اور کافر بنایا ہے۔

--------------

1۔ اسی کتاب کے صفحہ92 صفحہ93 میں اس کی اصل اور اسناد کی طرف اشارہ ہوچکا ہے۔


حافظ : فرمائیے وہ علماء کون ہیں اور ان کی کتابوں کے اندراجات کیا ہیں؟ اگر آپ کی نظر میں ہو تو بیان کیجئے۔

خیر طلب : اصحاب ابو حنیفہ اور ابن حزم ( علی ابن احمد اندلسی متوفی سنہ456ھ) وغیرہ برابر امام مالک اور محمد بن ادریس شافعی پر طعن کرتے رہے ہیں اور اسی طرح اصحاب شافعی جیسے امام الحرمین اور امام غزالی وغیرہ ابو حنیفہ اور مالک پر طعن کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ میں جناب عالی سے پوچھتا ہوں کہ فرمائیے امام شافعی، ابو حامد محمد بن محمد عزالی اور جار اﷲ زمخشری کیسے اشخاص ہیں؟

حافظ : ہمارے بزرگ ترین فقہاء و علماء میں سے ، ثقہ اور اہل سنت واجماعت کے امام ہیں۔

اہل تسنن کے علماء اور اماموں کا ابوحنیفہ کو رد کرنا

خیر طلب : امام شافعی کہتے ہیں ما ولد فی الاسلام اشام من ابی حنیفہ۔ ( یعنی اسلام کے اندر کوئی شخص ابو حنیفہ سے زیادہ منحوس پیدا نہیں ہوا) نیز کہا ہے

" نظرت في كتب أصحاب أبي حنيفة فإذا فيها مائة و ثلاثون ورقة خلاف الكتاب و السنة."

یعنی میں نے اصحاب ابوحنیفہ کی کتابوں میں نظر کی تو ان میں مجھ کو ایک سو تیس ورق کتاب خدا اور سنت رسول(ص) کے خلاف ملے۔)

ابو حامد غزالی کتاب متحول فی علم الاصول میں کہتے ہیں:

"فأمّا أبو حنيفة فقد قلب الشريعة ظهرا لبطن و شوّش مسلكها و غيّر نظامها، و أردف جميع قواعد الشريعة بأصل هدم به شرع محمّد المصطفى صلّى اللّه عليه و آله و سلم، و من فعل شيئا من هذا مستحلّا كفر، و من فعل غير مستحلّ فسق"

یعنی در حقیقت ابوحنیفہ نے شریعت کو پلٹ دیا، اس کے راستے کو مشتبہ بنا دیا، اس کے نظام کو بدل ڈالا اور قوانین شرع میں سے ہر ایک کو ایک ایسی اصل کے ساتھ جوڑ دیا جس کے ذریعے رسول اﷲ(ص) کی شرع کو برباد کر دیا۔ جو شخص عمدا ایسی حرکت کرے اور اس کو جائز سمجھے وہ کافر ہے اور جو شخص نا جائز سمجھتے ہوئے ایسا کرے وہ بدکار ہے۔ چنانچہ اس بزرگ عالم کے قول کے مطابق ابوحنیفہ یا کافر تھے یا فاسق۔ اس کے بعد اس باب میں ان کی طعن درد اور تفسیق میں بہت سی باتیں لکھی ہیں جن کا بیان میں ترک کرتا ہوں اور جار اﷲ زمخشری صاحب تفسیر کشاف نے جو آپ کے ثقات علماء میں سے ہیں ربیع الابرار میں لکھا ہے :

" قال يوسف بن اسباط رد ابو حنيفه علی رسول اﷲ اربعة مائة حديث او اکثر. "

یعنی یوسف بن اسباط نے کہا ہے کہ ابو حنیفہ نےرسول خدا(ص) پر چار سویا اس سے زیادہ حدیثیں روکیں۔ نیز یوسف کہتا ہے کہ ابو حنیفہ کہتا تھا لو ادرکنی


رسول اﷲ لاخذ بکثیر من قولی۔ یعنی اگر رسول اﷲ مجھ کو پاتے تو میرے بہت سے اقوال اختیار کرتے یعنی میری باتوں کی پیروی کرتے) ۔ اسی طرح کے بکثرت مطاعن ابو حنیفہ اور باقی تین اماموں کے بارے میں آپ کے علماء سے منقول ہیں جو غزالی کی کتاب متحول، شافعی کی کتاب نکت الشریف زمخشری کی ربیع الابرار اور ابن جوزی کی منتظم وغیرہ دیکھنے سے معلوم ہوسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ امام غزالی متحول میں کہتے ہیں :

" ان ابا حنيفه النعمان بن ثابت الکوفی يحق فی الکلام ولا يصرف اللغة والنحو ولا يعرف الاحاديث ۔"

( یعنی ابو حنیفہ نعمان بن ثابت کوفی کے کلام میں غلطیاں بہت ہیں۔ ان کو لغت و نحو اور احادیث کا علم نہیں تھا) نیز لکھتے یں کہ یہ چونکہ علم حدیث سے ( جو قرآن کے بعد دین کا ستون اور بنیاد ہے) واقف نہیں تھے لہذا فقط قیاس رپ عمل کرتے تھے، حالانکہ اول من قاس ابلیس یعنی سب سے پہلے جس نے قیاس پر عمل کیا وہ شیطان تھا۔ ( چنانچہ جو شخص قیاس پر عمل کرے اس کا حشر ابلیس کے ساتھ ہوگا۔)

اور ابن جوزی منتظم میں کہتے ہیں اتفق الکل علی الطعن فیہ۔ یعنی سارے علماء ابو حنیفہ پر طعن کرنے میں متفق ہیں نتیجہ یہ نکلا کہ طعن کرنے والے تین قسم کے ہیں۔ ایک گروہ نے ان کو اس لئے مورد طعن قرار دیا ہے کہ یہ اصول عقائد میں متزلزل تھے۔ دوسری جماعت نے کہا ہے کہ ان کے پاس حافظ اور ضبط روایات کی قوت نہیں تھی اور تیسری صنف کا اعتراض یہ ہے کہ یہ اپنی رائے اور قیاس سے کام لیتے تھے اور ان کی رائے ہمیشہ صحیح حدیثوں کی مخالفت ہوتی تھی۔

غرضیکہ آپ کے اماموں کے بارے میں آپ ہی کے علماء کی طرف سے اس طرح کی گفتگو اور مطاعن بہت ہیں۔ جن کے بیان کا فی الحال وقت نہیں ہے کیونکہ میں تردید اور انتقاد کی منزل میں نہیں تھا۔ آپ نے بات کا سلسلہ یہاں تک پہنچا دیا کہ فرمایا جو مطاعن منقول ہیں وہ صرف علمائے کی طرف سے ہیں اور جو کچھ تمہارے منہ میں آتا ہے کہہ دیتے ہو لہذا میں نے یہ بتا دینا چاہا کہ آپ کا اعتراض بے جا ہے اور آپ محض گریز کا راستہ تلاش کرنے کے لیے بغیر عقل و منطق کے مقابلہ کر رہے ہیں ورنہ اصلیت اسکے خلاف ہے جو کچھ میری زبان پر جاری ہوتا ہے وہ علم و عقل اور منطق کے مطابق اور تعصب سے خالی ہوتا ہے علماء شیعہ نے آپ کے چاروں اماموں سے سوا ان باتوں کے جو خود آپ کے علماء نے لکھی ہیں کوئی نئی چیز منسوب نہیں کی ہے اور نہ ان کی توہین ہی کرتے ہیں۔ لیکن آپ کے علماء کے بر خلاف علمائے شیعہ امامیہ کے درمیان ہمارے بارہ ائمہ (ع) کے مقامات مقدسہ کی نسبت کسی طرح کا کوئی ایراد یا اعتراض موجود نہیں ہے۔ اس لیے کہ ہم ائمہ طاہرین سلام اﷲ علیہم


اجمعین کو ایک ہی مدرسے کے شاگرد جانتے ہیں جن پر یکساں طور پر فیض خداوندی جارہی تھا اور یہ حضرات من اولہم الی آخرہم بالعموم قوانین الہیہ کے مطابق جو خاتم النبیین سے ان کو پہنچے تھے عمل فرماتے تھے۔ رائے و قیاس اور ایجاد بندہ پر کار بند نہیں تھے بلکہ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ پیغمبر(ص) کی طرف سے تھا لہذا بارہ اماموں کے درمیان کوئی اختلاف نہ تھا( جیسے کہ آپ کے چاروں اماموں کے درمیان سارے عقائد و احکام میں اختلاف موجود ہیں) کیونکہ یہ حضرات امام تھے۔ لیکن امام لغوی نہیں جس کے معنی صرف آگے چلنے والے کے ہوں۔

امامت شیعوں کے عقیدے میں ریاست عالیہ الہیہ ہے

بلکہ علم کلام کی اصطلاح میں جیسا کہ محققین علماء نے بیان کیا ہے یہ امامت ریاست عالیہ الہیہ کے معنی میں اور اصول دین میں سے ایک اصل ہے اور ہم بھی اسی عقیدے پر ہیں کہ : “ الامامة ہی الریاسة العامة الہیة خلافة عن رسول اﷲ فی امور الدین و الدنیا بحیث یجب اتباعہ علی کافة الامة” یعن امامت سارے خلائق پر ایک عمومی ریاست الہی ہے بطریق خلافت رسول اﷲ(ص) کی طرف سے امور دین و دنیا میں اس صورت سے کہ اس کی متابعت سارے انسانوں پر واجب ہے۔”

شیخ : بہتر تھا کہ آپ قطعی اور حتمی طور سے یہ نہ فرماتے کہ امامت اصطلاحی اصول دین میں سے ہے کیونکہ بڑے بڑے علمائے اسلام کہتے ہیں کہ امامت اصول دین میں سے نہیں ہے بلکہ مسلمہ فروعات میں سے ہے، جس کو آپ کے علماء نے بغیر دلیل کے اصول دین کا جز بنا دیا۔

خیر طلب : میرا یہ بیان صرف شیعوں سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ آپ کے اکابر علماء بھی اسی عقیدے پر ہیں من جملہ ان کے آپ کے مشہور مفسر قاضی بیضاوی کتاب منہاج الاصول میں بسلسلہ بحث اخبار انتہائی صراحت کے ساتھ کہتے ہیں :

" أن الإمامة من أعظم مسائل أصول الدين التي مخالفتها توجب الكفر و البدعة "

یعنی حقیقتا امامت اصول دین کے عظیم ترین مسائل میں سے ہے جس کی مخالفت کفر و بدعت کا سبب ہے۔

ملا علی قوشجی شرح تجرید مبحث امامت میں کہتے ہیں :

" «الإمامة رئاسة عامّة في أمور الدين و الدنيا خلافة عن النبيّ "

یعنی امامت ایک ریاست عمومی ہے امور دین و دنیا میں بطریق خلافت پیغمبر(ص) کی طرف سے) اور قاضی روز بہان جیسے آپ کے انتہائی متعصب عالم نے بھی اسی مفہوم کو نقل کیا ہے کہ امامت ریاست براست اور نیابت و خلافت رسول(ص)


ہے اس عبارت کے ساتھ کہ :" و الإمامة عند الأشاعرة: هي خلافة الرسول في إقامة الدين و حفظ حوزة الملّة، بحيث يجب اتّباعه على كافّة الأمّة."

یعنی امامت اشاعرہ کے نزدیک رسول اﷲ(ص) کی خلافت ہے دین کو قائم کرنے اور حلقہ ملت اسلام کی حفاظت کرنے میں، اس طرح سے کہ ساری امت پر اس کا اتباع واجب ہے۔

اگر امامت فروع دین میں سے ہوتی تو رسول اﷲ(ص) یہ نہ فرماتے کہ جو شخص بغیر امام کو پہچانے ہوئے مرے تو اس کی موت طریقہ جاہلیت پر ہے۔ چنانچہ آپ کے اکابر علماء جیسے حمیدی نے جمع بین الصحیحین میں، ملا سعد تفتازانی نے شرح عقائد نصفی میں اور دوسروں نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا :

"من مات و هو لا يعرف امام زمانه مات ميتة جاهلية" (1)

بدیہی چیز ہے کہ فروع دین میں سے کسی ایک فرع کی معرفت نہ ہوتا دین کے تزلزل اور طریقہ جاہلیت پر مرنے کا سبب نہیں ہوسکتا جیسا کہ بیضاوی صریحی طور پر کہتے ہیں کہ اس کی مخالفت کفر و بدعت کا سبب قرار پائے۔ پس ثابت ہے کہ امامت اصول دین میں داخل اور مقام نبوت کا تتمہ ہے۔ لہذا امامت کے معنی میں بہت بڑا فرق ہے ، آپ جو اپنے علماء کو امام کہتے ہیں جیسے امام اعظم ، امام مالک ، امام شافعی، امام احمد حنبل، امام فخرالدین ، امام ثعلبی امام غزالی وغیرہ تو یہ لغوی معنی کے لحاظ سے ہے۔ ہم بھی امام جمعہ اور امام جماعت رکھتے ہیں ، اماموں کی اس نوع کا دامن وسیع ہے اور ممکن ہے کہ ایک وقت میں سیکڑوں امام موجود ہوں، لیکن اس معنی میں جو میں نے عرض کیا امام ریاست عامہ مسلمین کے عہدے پر ہے۔ یہ ہر زمانے میں صرف ایک ہوتا ہے، ایسا امام کہ اس کو حتمی طور پر سارے صفات حمیدہ و اخلاق پسندیدہ کا حامل ، علم وفضل ، شجاعت ، زہد، ورع اور تقوی میں سارے انسانوں سے بہتر اور منزل عصمت پر فائز ہونا چاہیئے۔ اور کبھی روز قیامت تک زمین ایسے امام کے وجود سے خالی نہ رہے گی۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کا امام جو انسانیت کے تمام صفات حالیہ کا حامل ہو صفات روحانیت کے بلند ترین مقام پر ہوگا۔ اور یقینا ایسے امام کو خدائے تعالی کی طرف سے خصوص اور رسول اﷲ (ص) کی طرف سے منصوب ہونا چاہیئے کیونکہ یہ سارے ؟؟؟؟؟ حتی کہ انبیائے کرام سے بھی اعلی و ارفع ہوتا ہے۔

حافظ : ایک طرف تو آپ غالیوں کی مذمت کرتے ہیں اور دوسری طرف خود ہی امام کے بارے میں غلو کرتے ہیں اور اس کی منزل کو مقام بنوت سے بالاتر سمجھتے ہیں، حالانکہ عقلی دلائل کے علاوہ قرآن مجید نے بھی انبیاء کی منزل کو سب سے بلند قرار دیا ہے اور واجب و ممکن کے درمیان صرف انبیاء(ع) ہی کا مقام ہے آپ کا یہ دعوی چونکہ بلا دلیل ہے لہذا سراسر زبردستی اور نا قابل قبول چیز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ جو شخص اس حالت میں مرجائے کہ اپنے امام زمان کو نہ پہچانتا ہو تو وہ حقیقت میں جاہلیت کی موت مرا۔


مقام امامت نبوت عامہ سے بالاتر ہے

خیر طلب : ابھی جناب عالی نے دلیل پوچھی بھی نہیں اور یہ فرما دیا کہ دعوے بے دلیل ہے حالانکہ سب سے مضبوط دلیل کتاب محکم آسمانی قرآن مجید ہے جو خلیل خدا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سرگزشت بیان کررہا ہے کہ ( جان و مال و فرزند کے) تینوں امتحانوں کے بعد جیسا کہ تفاسیر میں تشریح کے ساتھ درج ہے خدائے تعالی نے ارادہ فرمایا کہ ان حضرت کو مزید بلندی عنایت فرمائے چونکہ نبوت و رسالت اولی العزمی اور خلت کے عہدوں کے بعد جن پر آپ فائز تھے بظاہر کوئی ایسا منصب نہیں تھا جو ان حضرت کو اور زیادہ رفعت عطا کرے سوا منزل امامت کے جو تمام روحانی مقامات سے بالاتر تھی لہذا سورہ بقرہ آیت نمبر118 میں رسول اﷲ کو خبر دیتا ہے :

"إِذِ ابْتَلى إِبْراهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِماتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قالَ إِنِّي جاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِماماً قالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِي قالَ لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ وَ الْعَهْدُ هُوَ الْإِمَامَةُ."

یعنی یاد کیجئے اس وقت کو جب خدا نے ابراہیم (ع) کو چند امور میں امتحان لیا اور انہوں نے سب کو پورا کر دکھایا تو فرمایا میں نے تم کو انسانوں کا امام قرار دیا ابراہیم(ع) نے عرض کیا کہ یہ امامت میری اولاد کو بھی عطا ہوگی ؟ تو فرمایا کہ میرا عہد یعنی امامت ظالم لوگوں کو نہیں پہنچے گی۔

اس آیہ مبارکہ سے مقام امامت کے اثبات میں متعدد نتائج اور فوائد حاصل ہوتے ہیں جو عظیم المرتبت عہدہ امامت کے دلائل میں سے ہیں کہ رتبے اور درجے کے لحاظ سے یہ منصب مقام نبوت سے بلند تر ہے کیونکہ نبوت و رسالت کے بعد حضرت ابراہیم(ع) کو خلعت امامت سے سرفراز فرمایا ، چنانچہ اسی دلیل سے مقامِ امامت مقامِ نبوت سے بالاتر ثابت ہوتا ہے۔

حافظ : پھر تو آپ کے قول کی بنا پر جب کہ علی کرم اﷲ وجہ کو امام جانتے ہیں ان کی منزل پیغمبر(ص) کی منزل سے بالاتر ہونا چاہیئے ۔ اوریہ وہی غلات کا عقیدہ ہے جس کو آپ خود بیان کر چکے ہیں۔

خیر طلب : مطلب وہ نہیں ہے جو جناب نکالی رہے ہیں کیونکہ آپ کو خود معلوم ہے کہ نبوت خاصہ اور نبوت عامہ کے درمیان بہت بڑا فرق ہے ۔ مقام امامت نبوت عامہ سے بالاتر اور نبوت خاصہ سے پست ہوتا ہے کیونکہ نبوت خاصہ ہی خاتمیت کی بزرگ دیر تر منزل ہے۔

نواب : قبلہ صاحب معاف فرمائیے گا کہ میں کبھی کبھی گفتگو میں دخل دے دیتا ہوں کیونکہ بعد کو میں بھول جاتا ہوں اس کے علاوہ ذرا جلد باز بھی ہوں اس لیے ذرا جسارت کرجاتا ہوں۔ یہ فرمائیے کہ انبیاء سب کے سب کیا خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہیں؟ اور یقینا رتبے اور منزل میں بھی سب کے سب یکساں ہیں جیسا کہ قرآن مجید


کا حامل بنایا گیا ہے( جو حقیقت انسانیت ہے) اگر علم و عمل سے اس کا تذکیہ ہو جائے تو عالم علوی کے موجودات کی شبیہ بن جاتا ہے جو اس کی خلقت کا اصلی مبدا ہے اور جب مقام اعتدال پر پہنچ جاتا اور مواد طبیعی سے پاک ہوجاتا ہے تو عوام علویہ والوں کا شریک ہوتا ہے اور اس وقت حیوانیت سے بلند ہوکر حقیقی انسانیت کی منزل پر فائز ہوتا ہے۔ ع “ صورتے در زیر دارد آنچہ در بالا ستے۔” آدمی اس ہیئت جسمانی کے علاوہ نفس ناطقہ رکھتا ہے اور وہی نفس موجودات پر برتری کا باعث ہوتا ہے لیکن ایک شرط کے ساتھ اور وہ یہ کہ اپنے نفس کو علم وعمل کی دونوں قوتوں کے ساتھ پاک و پاکیزہ بنائے کیونکہ انسان میں یہ دو موثر عامل پرندوں میں دو بازوؤں کے مانند ہیں جن کے ذریعہ وہ پرواز کرتے ہیں چنانچہ ان کے پروں میں جتنی زیادہ طاقت ہوتی ہے اسی قدر ان کی بالا روی اور بلند پروازی بڑھ جاتی ہے۔

آدمی بھی اپنے علم و عمل میں جتنا قوی تر ہوتا ہے اسی قدر کمال نفسانی پر فائز ہوتا ہے۔ کیا خوب لکھتے ہیں استاد شرین سخن شیخ سعدی شیرازی

طیران مرغ دیدی تو نہ پائے بند شہوت بدر آئے تابہ بینی طیران آدمیت

غرضیکہ عالم حیوانیت سے نکل کے انسانیت کی بلند منزل پر پہنچنا پورے طور پر کمال نفس سے وابستہ ہے اور جس شخص نے تکمیل نفس کی منزل میں علمی و عملی قوی کو اپنے اندر جمع کر لیا اور ان کے خواص ثلاثہ تک پہنچ گیا تو وہ مقام نبوت کے ادمی مرتبہ کو پا گیا اور جس وقت ایسا آدمی ذات حق تعالی کی خاص توجہ کا مورد بن جاتا ہے تو خلعت نبوت سے سر فراز کر دیا جاتا ہے۔

البتہ نبوت بھی ( جیساکہ ابواب نبوت میں مکمل اور مفصل ذکر ہوچکا) مختلف مدارج رکھتی ہی۔ یہاں تک کہ نبی اس مرتبے رپ پہنچ جائے جو مذکورہ خصائص قوائے ثلاثہ کا سب سے بلند درجہ ہے کہ جس سے قوی تر عالم امکان میں تصور ہی نہ کیا جاسکے اور یہ مرتبہ امکانی مراتب میں سب سے اونچا ہوتا ہے جس کو حکماء عقل اول کہتے ہیں اور جو معلول اول و صادر اول ہے وجود امکانی کے مراتب میں اس سے بالاتر کوئی مرتبہ نہیں ہے۔ اور یہی وجود ہے اس خاتم الانبیاء(ص) کا جن کا مقام اور منزلت مقام واجب سے پست اور تمام مراتب امکانیہ سے مافوق ہے۔ جب آںحضرت (ص) اس منزل پر فائز ہوگئے تو آپ کی ذات مبارک پر نبوت ختم ہوگئی۔

اور امامت مقام خاتمیت سے ایک درجہ پست اور تمام مراتب نبوت سے بلند ایک منزل ہے اور امیرالمومنین علی علیہ السلام چونکہ اوج نبوت کے حامل تھے اور خاتم الانبیاء(ص) کے ساتھ اتحاد نفسانی بھی رکھتے تھے لہذا خلعت امامت سے آراستہ اور انبیائے سلف پر افضل ہوئے ( اتنے میں مؤذن کی آواز آئی اور مولوی صاحباں نماز پڑھنے چلے گئے۔ واپسی میں چائے وغیرہ کے بعد حافظ صاحب نے


بات شروع کی)۔

حافظ : آپ اپنے بیانات میں برابر مطلب کو مشکل اور پیچیدہ تر بناتے جارہے ہیں۔ ابھی ایک مشکل حل نہیں ہوئی تھی کہ دوسرا اشکال پیدا کردیا۔

خیرطلب : ہمارے درمیان تو کوئی مشکل اور پیچیدہ امر نہیں ہے۔ بہتر ہوگا کہ جو کچھ آپ کی نگاہ میں مشکلی نظر آتا ہے بیان فرمائیے تاکہ اس کا جواب عرض کروں۔

حافظ : اپنے اس بیان کے آخر میں آپ نے چند بہت مشکل جملے فرمائے ہیں جن کا حل ناممکن ہے۔ اول یہ کہ علی ابن ابی طالب کرم اﷲ وجہہ مقام نبوت کے حامل تھے۔ دوسرے یہ کہ پیغمبر(ص) کے ساتھ اتحاد نفسانی رکھتے تھے۔ تیسرے انبیائے کرام پر افضلیت۔ آپ کے یہ زبانی دعوے صرف آپ کے حکم سے مان لئے جائیں یا ان کے ثبوت میں کوئی دلیل بھی ہے؟ اگر بے دلیل ہیں تو قابل قبول نہیں اور اگر کوئی دلیل ہے تو اس کو بیان فرمائیے۔

خیر طلب : آپ نے میرے بیانات کے متعلق جو یہ فرمایا کہ مشکل اور پیچیدہ ہیں اور ان کاحل کرنا ممکن نہیں تو یقینا آپ اور آپ کے ایسے ان حضرات کی نظر میں جو حقائق کو گہری نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہتے یہی صورت ہے لیکن محقق اور منصب علماء کے سامنے حقیقت ظاہر و آشکار ہے۔

اب میں آپ کے ہر ایک اشکال کو جواب پیش کرتا ہوں تاکہ عذر کا راستہ بند ہوجائے اور آپ یہ نہ فرمائیے کہ مشکل و پیچیدہ ہیں اور ان کا حل ناممکن ہے۔

حدیث منزلت سے حضرات علی (ع) کے لیے مقام نبوت کے اثبات میں دلائل

اولا اس بات کی دلیل کہ حضرت علی(ع) شان نبوت کے حامل تھے۔ حدیث شریف منزلت ہے جو کامل صحت اور تواتر کے ساتھ ہمارے اور آپ کے طرق سے الفاظ کی مختصر کمی بیشی کے ساتھ ثابت ہوچکی ہے کہ خاتم الانبیاء(ص) نے بار بار اور مختلف جلسوں میں کبھی امیرالمومنین علی علیہ السلام سے فرمایا :

"أما ترضى أن تكون منّي بمنزلة هارون من موسى إلّا أنّه لا نبيّ بعدي"

یعنی آیا تم خوش نہیں ہو اس پر کہ مجھ سے تمہاری وہی منزلت ہے جو ہارون کو موسی(ع) سے تھی سوا اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

اور کبھی امت سے فرمایا :" علىّ منّى بمنزلة هارون من موسى الخ "

حافظ: اس حدیث کی صحت ثابت نہیں ہے اور اگر صحیح فرض بھی کر لی جائے تو خبر واحد ہے اور


بر واحد کا کوئی اعتبار نہیں۔

خیر طلب : یہ جو آپ نے حدیث کی صحت میں شک وارد کیا ہے تو غالبا کتب اخبار کے مطالعے میں کمی کی وجہ سے ہے یا آپ نے قصدا غلط کہا ہے اور عقلی و منطق کے پابند نہیں بننا چاہتے ورنہ اس حدیث کی صحت مسلمات میں سے ہے اور اس خبر شریف کے صحیح ہونے سے انکار اور اس کو خبر واحد کہنا جیسا کہ میں عرض کرچکا اسی سبب سے ہوسکتا ہے کہ کتب اخبار پر آپ کی نظر نہیں ہے یا پھر عناد اور ضد مجبور کر رہی ہو حالانکہ میں یہی امید کرتا ہوں کہ ہمارے اس جلسے میں کسی ہٹ دھرمی اور عناد سے کام نہیں لیا جائیگا۔

حدیث منزلت کے اسناد طرق عامہ سے

میں مجبور ہوں کہ مطلب کی وضاحت اور حاضرین و غائبین جلسہ کی زیادتی بصیرت کے لیے جس قدر مجھ کو اس وقت یا ہے اس حدیث مبارک کے بعض اسناد آپ ہی کی معتبر کتابوں سے پیش کردوں تاکہ آپ سمجھ لیں کہ یہ خبر واحد نہیں ہے۔ بلکہ آپ کے بڑے بڑے جید علماء جیسے سیوطی اور حاکم نیشاپوری وغیرہ نے متعدد طریقوں اور کثیر و متواتر اسناد کے ساتھ اس کو ثابت کیا ہے۔

1۔ ابو عبداﷲ بخاری نے اپنی صحیح بخاری جلد سیم کتاب مغازی باب غزوہ توک ص54 اور کتاب بدا الخلق ص185 میں بسلسلہ مناقب علی علیہ السلام۔

2۔ مسلم بن حجاج نے اپنی صھیح مسلم مطبوعہ مصر سنہ 1290ھ جلد دوم کتاب فضل الصحابہ باب فضائل علی علیہ السلام ص 234 و ص737 میں۔

3۔ امام احمد بن حنبل نے مسند جلد اول وجہ تسمیہ حسنین ص 98، 188،؟؟؟ میں اور اسی کتاب کے حاشیہ جز پنجم ص31 میں۔

4۔ ابو عبدالرحمن نسائی خصائص العلویہ ص19 پر اٹھارہ حدیثیں نقل کی ہیں۔

5۔ محمد بن سورة ترمذی نے اپنی جامع میں

۔6۔ حافظ ابن حجز عسقلانی نے اصابہ جلد دوم ص507 میں۔

7۔ ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ باب 9 ص30، 34 میں ۔

8۔ حاکم ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ نیشاپوری نے مستدرک جلد سوم ص109 میں۔

9۔ جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفا ص65 میں۔

10۔ ابن عبدریہ نے عقد الفرید جلد دوم ص194 میں۔

11۔ ابن عبدالبر نے استیعاب جلد دوم ص473 میں ۔

12۔ محمد بن سعد کاتب الواقدی نے طبقات الکبری میں۔

13۔ امام فخرالدین رازی نے تفسیر مفاتیح الغیب میں۔

14۔ محمد بن جریر طبری نے اپنی تفسیر اور تاریخ میں۔

15۔ سید مومن شبلنجی نے نور الابصار ص68 میں۔

16۔ کمال الدین ابو سالم محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول ص17 میں

18۔ نور الدین علی بن محمد مالکی مکی معروف بہ ابن صباغ نے فصول المہمہ ص23، 165 میں۔

19۔ علی بن برہان الدین


شافعی نے سیرة الحلبیہ جلد دوم ص26 میں۔

20۔ علی بن الحسین مسعودی نے مروج الذہب جلد دوم ص49 میں۔

21۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودة باب نمبر179 میں اور بالخصوص باب6 میں اٹھارہ حدیثیں بخاری، مسلم ، احمد،ترمذی، ابن ماجہ، ابن مغازلی، خوارزمی اور حموینی سے نقل کی ہیں۔

22۔ مولوی علی متقی نے کنزالعمال جلد ششم ص152، 153 میں۔

23۔ احمد بن علی خطیب نے تاریخ بغدادی میں۔

24۔ ابن مغازلی شافعی نے مناقب میں۔

25۔ موفق ابن احمد خوارزمی نے مناقب میں۔

26۔ ابن اثیر جرزی علی بن محمد نے اسد الغابہ میں۔

27۔ ابن کثیر دمشقی نے اپنی تاریخ میں۔

28۔ علاء الدولہ احمد بن محمد نے عروة الوثقی میں۔

29۔ ابن اثیر مبارک بن محمد شیبانی نے جامع الاصول فی احادیث الرسول میں۔

30۔ ابن حجر عسقلانی نے تہذیب التہذیب میں۔

31۔ ابو القاسم حسین بن محمد ( راغب اصفہانی ) نے محاضرات الادباء جلد دوم ص212 میں اور آپ کے دوسرے محققین اعلام نے اس دحدیث شریف کو با الفاظ مختلفہ اصحاب رسول کی ایک بڑی جماعت سے نقل کیا ہے جیسے۔

1۔خلیفہ عمر بن الخطاب۔ 2۔ سعد بن ابی وقاص۔ 3۔ عبداﷲ بن عباس (خیرات) ۔ 4۔ عبداﷲ بن مسعود ۔ 5۔ جابر ابن عبداﷲ اںصاری۔ 6۔ ابوہریرہ ۔ 7۔ ابو سعید خذری۔ 8۔ جابر بن سمرہ ۔ 9۔ مالک بن حویرث ۔ 10۔ براء بن غازب ۔ 11۔ زید بن ارقم۔ 12۔ ابو رافع۔ 13۔ عبداﷲ بن ابی اوفی۔ 14۔ ابی سریحہ۔ 15۔ حذیفہ بن اسید۔ 16۔ انس بن مالک۔ 17۔ ابو ہریرہ سلمی۔ 18۔ ابو ایوب انصاری۔ 19۔ سعید بن مسیب۔ 20۔ حبیب بن ابی ثابت۔ 21۔ شرجیل بن سعد۔ 22۔ ام سلمیٰ زوجہ رسول(ص)۔ 23۔ اسماء بن عمیس ( زوجہ ابوبکر) ۔ 24۔ عقیل بن ابی طالب۔ 25۔ معاویہ بن ابی سفیان اور اصحاب کی ایک اور جماعت جن کے نام گنوانے کی نہ وقت میں گنجائش ہے نہ سب حافظے میں ہی محفوظ ہیں۔ خلاصہ یہ کہ سبھی نے حضرت خاتم الانبیاء(ص) سے الفاظ کے مختصر تفاوت کے ساتھ مختلف مواقع پر روایات کی ہے کہ فرمایا : " يا علىّ انت منّى بمنزلة هارون من موسى الا لا نبي بعدی" یعنی یا علی تم مجھ سے بمنزلہ ہارون ہو موسی سے سوا اس کے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہ ہوگا۔ آیا آپ کے یہ سارے خاص خاص علماء جن میں سے مشتے نمونہ از خردارے میں نے چند نام پیش کئے ہیں اور جنہوں نے اس حدیث مبارک کو مسلسل اسناد کے ساتھ اصحاب کی کثیر جماعت سے نقل کیا ہے آپ کے نزدیک اثبات یقین و تواتر کے لیے کافی نہیں ہیں؟ کیا آپ تصدیق کریں گے کہ آپ کو غلط فہمی تھی ، یہ خبر واحد نہیں ہے بلکہ متواتر حدیثوں میں سے ہے۔ چنانچہ خود آپ کے محققین علماء نے تواتر کا دعوی کیا ہے ۔ جیسے جلال الدین سیوطی نے رسالہ الازبار التنا فی الاحادیث المتواترة میں اس حدیث شریف کو متواترات میں سے لکھا ہے ، اور ازالہ الخلفا اور قرة العینین میں بھی تواتر کی تصدیق کی گئی ہے چونکہ آپ اپنی عادت کی بنا پر اس حدیث مبارک


کی صحت سند میں شک و شبہ وارد کر رہے ہیں لہذا بہتر ہوگا کہ اپنے بہت بڑے عالم محمد بن یوسف گنجی شافعی کی کتاب کفایت الطالب فی مناقب علی بن ابی طالب باب 7 کا مطالعہ فرمائیے جس میں ان حضرت کے دیگر فضائل کے ساتھ ساتھ چھ مستند حدیثیں ذکر کر نے کے بد صفحہ 49 میں تبصرہ فرمایا ہے اور حقائق کو بیان کیا ہے۔ اس لیے کہ اگر آپ ہمارے قول کو تسلیم نہیں کرتے تو اس ( غیر متعصب) شافعی عالم کا بیان آپ کے اوپر حجت تمام کردے گا لکھتے ہیں " ه ذا حديث متفق علی صحت ه روا ه الائمة الاعلام الحفاظ کابی عبداﷲ البخاری فی صحيح ه و مسلم بن حجاج فی صحيح ه و ابی داؤد فی سنن ه و ابی عيسی الترمذی فی جامع ه و ابی عبدالرحمن النسائی فی سنن ه و ابن ماجة القزوينی فی سنن ه و اتفق الجميع علی صحت ه حتی صار ذالک اجماعا من ه م قال الحاکم النيشاپوری ه ذا حديث دخل فی حد التواتر"

یعنی یہ وہ حدیث ہے جس کی صحت متفق علیہ ہے ائمہ اعلام و حفاظ نے اس کی روایت کی ہے۔ جیسے ابو عبدابخاری نے اپنی صحیح میں مسلم بن حجاج نے اپنی صحیح میں، ابو داؤد نے سنن میں، ابو عیسی ترمذی نے جامع میں، ابو عبدالرحمن نسائی نے سنن میں، ابن ماجہ قزوینی نے سنن میں اور ان سب نے اس کی صحت پر اتفاق کیا ہے یہاں تک اس پر ان کا اجماع ہوگیا ہے۔ اور حاکم نیشاپوری نے کہا ہے کہ یہ وہ حدیث ہے جو تواتر کی حد میں داخل ہوچکی ہے۔

میرا خیال ہے کہ اب کوئی ابہام اور اس حدیث شریف کی صحت و تواتر پر مزید دلائل کی پیش کرنے کی ضرورت باقی نہ ہوگی۔

حافظ : میں بے ایمان اور ضدی آدمی نہیں ہوں کہ آپ کے دلائل و براہین کے مقابلے میں جو انتہائی معتبر ہیں مجادلے سے کام لوں ۔ لیکن ذرا عالم فقیہہ ابو الحسن آمدی کی گفتگو پر بھی غور کیجئے جو متکلم اور متبحر علماء میں سے ہیں اور جنہوں نے اس حدیث کو چند دلائل کے ساتھ روکا ہے۔

خیر طلب: مجھ کو آپ جیسے نکتہ رس اور منصف عالم سے سخت تعجب ہے کہ آپ کے ان سارے اکابر علماء کے اقوال نقل کرنے کے بعد جو سب کے سب ثقہ اور آپ کے یہاں عام طور پر قابل اطمینان ہیں، آپ آمدی کے قول پر توجہ کر رہے ہیں جو ایک شریر و بد عقیدہ اور تارک الصلوة شخص تھا۔

شیخ : انسان اپنا عقیدہ ظاہر کرنے میں آزاد ہے۔ اور اگر کسی شخص نے کوئی عقیدہ ظاہر کیا ہے تو اس پر بدی کی تہمت نہ لگانا چاہئیے ۔ بلکہ آپ جیسے شریف اور مجسمہ اخلاق انسان کے لیے تو بہت بڑی بات ہے کہ منطقی جواب کے بدلے بد کلامی کے ساتھ ایک فقیہہ عالم کو متہم کیجئیے۔

خیر طلب : آپ کو دھوکا ہوا ہے۔ میں کسی کے لیے بد کالامی نہیں کرتا اور آمدی کے زمانے میں تو میں تھا بھی نہیں ۔ لیکن اس کے برے عقائد کو آپ ہی کے بڑے بڑے علماء نے نقل کیا ہے۔


شیخ : ہمارے علماء نے کس مقام پر ان کا بدی اور فاسد عقیدے کے ساتھ تذکرہ کیا ہے؟

آمدی کی مفصل کیفیت

خیر طلب : ابن حجر عسقلانی نے لسان المیزان میں لکھا ہے:

" السيف الامدی المتکلم علی بن ابی علی صاحب التصانيف و قد نفی من دمشق لسوء اعتقاد ه وصح ان ه کان يترک الصلوة."

یعنی سیف آمدی متکلم علی بن ابی علی جو صاحب تصانیف تھا اس کو دمشق سے نکال دیا گیا تھا کیونکہ اس کا اعتقاد خواب تھا اور یہ بھی صحیح ہے کہ یہ تارک الصلوة تھا۔

نیز ذہبی نے جو آپ کے بزرگ علماء میں سے ہیں میزان الاعتدال میں اس قصے کو نقل کیا ہے اور مزید بر آں تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ مسلم ہے کہ آمدی اہل بدعت میں سے تھا۔

اگر آپ گہری نظر سے دیکھیں تو سمجھ میں آجائے گا کہ اگر آمدی اہل بدعت اور شریر و بے ایمان نہ ہوتا تو ہرگز اپنی بد باطنی کو اس طرح ظاہر نہ کرتا کہ تمام صحابہ رسول(ص) یہاں تک کہ اپنے خلیفہ عمر بن خطاب ( کیونکہ حدیث کے راویوں میں سے ایک یہ بھی ہیں) اور آپ کے تمام ثقات علماء اسلام کے بر خلاف آواز بلند کرے۔

سب سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ آپ حضرات شیعوں کو تو ملامت کرتے ہیں کہ صحیحین کی حدیثیں کس لیے قبول نہیں کرتے ( حالانکہ ایسا نہیں ہے) اگر صحیح الاسناد حدیثیں ہوں تو آپ کی صحاح کے اندر ہونے کے بعد بھی ہمارے لیے قابل قبول ہیں) لیکن جس مسلم حدیث کو بخاری و مسلم اور دوسرے ارباب صحاح نے اپنی اپنی صحیحوں میں نقل کیا ہے اس کو آمدی عادتا رد کرتا ہے اور آپ کے لیے قابل اعتبار بن جاتا ہے اگر آپ کے نزدیک آمدی میں کوئی عیب نہیں تھا تو یہی بات اس پر طعن کرنےکے لیے کافی تھی کہ اس نے آپ کی صحیحین کے برخلاف عقیدے کا اظہار کیا بلکہ در حقیقت خلیفہ عمر اور بخاری و مسلم کو جھٹلایا۔

اگر آپ چاہیں کہ اس حدیث شریف کے بارے میں زیادہ جانچ پڑتال کریں، مکمل دلائل اور اپنے بڑے بڑے علماء کی روایتوں سے تمام اسناد کاملہ کا مطالعہ کریں، مزید معلومات حاصل کریں اور آمدی جیسے لوگوں پر نفرین کریں تو جلیل القدر کتاب، طبقات الانوار” مؤلفہ عالم با عمل نقاد اخبار و احادیث محقق و متبحر علامہ سید حامد حسین صاحب لکھنوی اعلی اﷲ مقامہ کی جلدین ملاحظہ فرمائیے اور بالخصوص حدیث منزلت والی جلد کی طرف رجوع کیجئے تاکہ آپ کے سامنے یہ حقیقت ظاہر ہوجائے کہ اس بزرگ شیعی عالم نے اس حدیث کے اسناد و مدارک کو کس طرح آپ کے طرق سے جمع کر کے ان کی تشریح کی ہے۔


حافظ : آپ نے فرمایا کہ اس حدیث کے راویوں میں سے ایک خلیفہ عمر ابن خطاب رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ اگر آپ کے پیش نظر ہوتو اس کی سند بیان فرمائیے؟

حدیث منزلت کی سند عمر ابن خطاب سے

خیر طلب ابوبکر محمد بن جعفری الطبری نے اور ابو لیث نصربن محمد سمرقندی الحنفی نے کتاب مجالس میں محمد بن عبدالرحمن ذہبی نے ریاض النفریہ میں ، مولوی علی متقی نے کنزالعمال میں ، ابن صباغ مکی نے خصائص سے نقل کرتے ہوئے فصول المہمہ ص125 میں، امام الحرم نے ذخائر العقبی میں شیخ سلمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ خطبہ سوم ص258 میں نقض العثمانیہ شیخ ابو جعفر اسکافی نے مختصر اختلاف الفاظ کے ساتھ ابن عباس( خیرامت) سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ ایک روز عمر ابن خطاب نے کہا علی کا نام چھوڑو (یعنی اس قدر علی(ع) کی غیبت نہ کرو) اس لیے کہ میں نے پیغمبر(ص) سے سنا ہے کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا علی(ع) میں تین خصلتیں ہیں۔ کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھ کو ( یعنی عمر کو) حاصل ہوتی تو میرے لیے ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہوتی جس پر آفتاب چمکتا ہے۔ پھر کہا :

"کنت ونا و ابوبکر و ابو عبيده بن الجراح و نفر من اصحاب رسول الله وهو متکی علی علی بن ابی طالب حتی ضرب بيده منکبيه ثم قال انت يا علی اول المومنين ايمانا اولهم اسلاما ثم قال انت منی بمنزلت هارون من موسی و کذب علی من زعم انه يحبنی و يبغضک."

یعنی میں ، ابوبکر ، ابوعبیدہ جراح اور چند اصحاب رسول(ص) حاضر تحے، رسول اللہ (ص) علی ابن ابی طالب پر تکیہ کئے ہوئے تھے یہاں تک کہ علی(ع) کے شانوں پر ہاتھ مارا اور فرمایا علی(ع) تم ایمان کی حیثیت سے تمام مومنین سے اول ہو اور اسلام کی حیثیت سے تمام مسلمین سے آگے ہو، پھر فرمایا یا علی(ع) تم مجھ سے وہی منزلت رکھتے ہو جو ہارون کے موسی (ع) سے تھی اور جھوٹ باندھتا ہے مجھ پر جو یہ سمجھتا ہے کہ مجھ کو دوست رکھتا ہے در آنحالیکہ تم سے دشمنی رکھتا ہو۔

آیا آپ کے مذہب میں خلیفہ عمر کا قول رد کرنا جائز ہے؟ اگر جائز نہیں ہے تو پھر کس لئے آمدی جیسے آدمی کی فضول بات پر عقیدہ اور توجہ رکھتے ہیں؟

سنی مذہب میں خبر واحد کا حکم

ابھی آپ کے ایک اور جملے کا جواب باقی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا کہ یہ حدیث خبر واحد ہے


اور خبر واحد کا کوئی اعتبار نہیں۔ اگر ہم رجال کے اس معیار کے ساتح جو ہمارے یاں ہے اس طرح کی بات کہیں تو ٹھیک بھی ہے لیکن آپ کی زبان سے ایسے الفاظ سن کر تعجب ہوتا ہے کیونکہ آپ کے مذہب میں تو خبر واحد کا حجت ہونا ثابت ہے ۔ اس لئے کہ آپ کے محققین علماء خبرواحد کے منکر کو کافر یا فاسق سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ملک العلماء شہاب الدین دولت آبادی نے"ہدایت السعداء" کے مضمرات فی کتاب الشہادات میں کہا ہے :

"ومن انکر الخبر الواحد والقياس و قال انه ليس بحجه فانه يصير کافرا ولو قال هذا الخبر الواحد غير صحيح و هذا القياس غير ثابت لا يصير کافرا ولکن يصير فاسقا."

یعنی جو شخص خبر واحد اور قیاس کا انکار کرے اور کہے کہ یہ حجت نہیں ہے تو وہ قطعا کافر ہو جاتا ہے اور اگر کہے کہ یہ خبر واحد صحیح نہیں ہے اور یہ قیاس ثابت نہیں ہے تو وہ کافر نہیں ہوتا لیکن فاسق ہوجاتا ہے۔

حافظ : مجھ کو آپ کی خوش بیانی اور ہماری کتابون کے وسیع مطالعے سے بہت خوشی ہوئی بر خلاف اس کے کہ جیسا کہ سن چکا ہوں کہ حضرات علمائے شیعہ ہماری کتابوں کو دست پناہ یا کپڑے وغیرہ سے اٹھاتے ہیں تاکہ ان کا ہاتھ کتاب کی جلد سے مس نہ ہو تو یہ پھر کہاں ممکن ہے کہ ان کا مطالعہ کریں۔

خیر طلب : اس دعوی پر آپ کے پاس قطعا کوئی دلیل نہیں ہے ، اس لئے کہ در اصل بیگانوں ، بیگانہ پرستوں اور اندرونی شیاطین کے خفیہ ہاتھ برابر اس کوشش میں رہتے ہیں کہ پانی کو کیچڑ بنائیں اور مسلمانوں کے با ہمی نفاق سے خود نفع اٹھائیں لہذا اس قسم کی جھوٹی باتیں گھڑ کے مشہور کرتے ہیں تاکہ ایک کو دوسرے سے بد گمانی پیدا ہو اور ان کا مطلب حل ہوتا رہے ۔ ہمارا اور آپ کا مستقل فرض ہے کہ لوگوں کو قرآن مجید کی ہدایات عالیہ کی طرف متوجہ کرتے رہیں کہ مثلا اس بارے میں سورہ 49 (حجرات) آیت نمبر6 میں ارشاد ہے :

" إِن جَاءَكمُ ْ فَاسِقُ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُواْ أَن تُصِيبُواْ قَوْمَا بجَِهَالَةٍ فَتُصْبِحُواْ عَلىَ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِين "

یعنی جس وقت کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی اطلاع لے کر آئے تو پہلے اس کی تحقیق کر لو ورنہ کہیں (دھوکے میں آکر) نادانی کی وجہ سے کسی قوم کو نقصان نہ پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پشیمان ہونا پڑے۔ نہ یہ کہ ہم خود ہی ان ہدایتوں سے غافل رہیں اگر یہ اہم فرمان آپ حضرات کا نصب العین ہوتا تو دشمنوں کی باتیں آپ پر اثر انداز نہ ہوتیں جس سے آج ندامت ہو۔ ہم لوگ تو کفار و مشرکین اور مرتدین کی کتابوں کو بھی دست پناہ یا کپڑے سے نہیں اٹھاتے پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ مسلمان بھائیوں کی کتابوں کو حقارت کی نظر سے دیکھیں بلکہ آپ کے کہنے کے خلاف ہم تو آپ کے علماء کی معتبر کتابیں بہت غور سے دیکھتے ہیں اور ان کی صحییح الاسناد احادیث کو بھی قبول کرتے ہیں ۔ علمی و منطقی اختلافات عقیدے اور مذہب سےکوئی تعلق نہیں رکھتے ۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ شیعہ طالب علم صرف و نحو، معانی و بیان ، منطق ، لغت


تفسیر اور کلام کے علوم زیادہ تر آپ ہی کے علماء کی کتب و تالیفات سے حاصل کرتے ہیں پھران کتابوں کو دست پناہ اور کپڑے سے کس طرح اٹھائیں گے ؟ البتہ آپ کی منقولہ احادیث کے بعض راوی مقدوح ہیں اور ان کے اقوال قابل اعتبار نہیں جیسے انس، ابوہریرہ اور سمرہ وغیرہ جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہوں ( چنانچہ آپ کے بعض علماء بھی مثلا ابوحنیفہ وغیرہ ان لوگوں کو مردود سمجھتے ہیں) ہم بھی اس طرح کے راویوں سے منسوب حدیثوں کو مردود اور ناقابل قبول جانتے ہیں۔

ورنہ آپ کے محققین علماء ی معتبر کتابیں ہمارے سامنے رہتی ہیں اور بالخصوص میں نے تو پیغمبر(ص) اور ائمہ معصومین صلوات اللہ علیہم اجمعین کی سیرت میں زیادہ تر علمائے اہل سنت ہی کی معتبر کتابوں کا مطالعہ اور اسی سے اخذ سند کیا ہے۔

میرے ذاتی کتب خانے میں آپ کے بڑے بڑے علماء کی تفاسیر ، کتب اخبار اور معتبر تواریخ کی تقریبا دو سو (200) جلدیں قلمی اور مطبوعہ موجود ہیں جن سے میں استفادہ کرتا رہتا ہوں۔

اب یہ ضرور ہے کہ عملی طور پر ہم ایک مبصر صراف کی حیثیت رکھتے ہیں کہ ان میں سے کھرے کھوتے کو چھانٹ سکیں اور فخرالدین رازی جیسے حضرات کے شبہات و اشکالات اور ابن حجر ، روز بہان، آمدی اور ابن تیمیہ جیسے افراد کے مغالطوں سے دھوکہ نہ کھائیں اور ان کی غلط کاریوں کا اثر قبول نہ کریں۔

آپ یقین کیجئے کہ مجھ کو ائمہ معصومین(ع) اہل بیت رسالت اور ودایع رسول اللہ کے مقامات مقدسہ کا یقین اور درجات معرفت کی تکمیل زیادہ تر آپ ہی کے علماء کی معتبر کتابوں کا مطالعہ کرنے سے ہوتی ہے۔

حافظ : ہم مطلب سے دور جا پڑے ۔ یہ فرمائیے کہ آپ کے مقصد پر اس حدیث منزلت کی دلالت کس صورت سے ہے اور اس بات کا ثبوت کہاں سے ملتا ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ شان نبوت کے حامل تھے؟

خیر طلب : اس حدیث شریف سے جو تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچی ہے امیرالمومنین (ع) کے لئے تین خصوصیتیں ثابت ہوتی ہیں ایک تو مقام نبوت ہے جو معنوی اور باطنی حیثیت سے حضرت کو حاصل تھا۔ دوسرے رسول اللہ (ص) کے بعد آں حضرت کی خلافت و وزارت کا منصب او تیسرے سادی امت اور صحابہ وغیرہ پر ان حضرت کی افضلیت اس لیے کہ رسول خدا(ص) نے حضرت علی(ع) کو بمنزلہ ہارون بیان فرمایا اور حضرت ہارون منزل نبوت اور حضرت موسی(ع) کی خلافت پر فائز اور تمام بنی اسرائیل سے افضل تھے۔

نواب : قبلہ صاحب معاف فرمائیے گا کیا حضرت موسی(ع) کے بھائی حضرت ہارون نبی تھے؟

خیر طلب : ہاں وہ مقام نبوت پر فائز تھے۔

نواب : تعجب ہے میں نے اب تک نہیں سنا تھا ۔ آیا قرآن میں بھی کوئی آیت ایسی ہے جو اس


مطلب کی شاہد ہو؟

خیر طلب : ہاں کئی آیتوں میں خدائے تعالے نے ان جناب کی نبوت کی تصریح فرمائی ہے۔

نواب : ممکن ہو تو ہمارے معلومات میں اضافے کے لئے ان آیتوں کی تلاوت فرمادیجئے تاکہ ہم بھی مستفید ہوں۔

خیر طلب : سورہ ( نساء) آیت نمبر 163 میں ارشاد ہے :

" إِنَّا أَوْحَيْنا إِلَيْكَ كَما أَوْحَيْنا إِلى نُوحٍ وَ النَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ وَ أَوْحَيْنا إِلى إِبْراهيمَ وَ إِسْماعيلَ وَ إِسْحاقَ وَ يَعْقُوبَ وَ الْأَسْباطِ وَ عيسى وَ أَيُّوبَ وَ يُونُسَ وَ هارُونَ وَ سُلَيْمانَ وَ آتَيْنا داوُدَ زَبُوراً"

یعنی یقینا ہم نے تمہاری طرف وحی کی جس طرح نوح اور ان کے بعد والے انبیاء کی طرف وحی کی اور ابراہیم ، اسماعیل ، اسحق، یعقوب، اسباط ، عیسی، ایوب ، یونس ، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی بھیجی اور داود کو زبور عطا کی۔ اور سورہ (مریم) آیت نمبر 51۔53 میں فرماتا ہے :

"وَ اذْكُرْ فىِ الْكِتَابِ مُوسىَ إِنَّهُ كاَنَ مخُْلَصًا وَ كاَنَ رَسُولًا نَّبِيًّا وَ نَادَيْنَاهُ مِن جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَ قَرَّبْنَاهُ نجَِيًّاوَ وَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا"

یعنی اور یاد کرو کتاب میں موسی کو یقنا وہ خالص کئے ہوئے پیغمبر اور نبی تھے اور ہم نے ان کو طور ایمن کی جانب سے ندا دی اور ان کو ہمراز بنا کے نزدیک کیا اور ان کو اپنی رحمت سے ہارون سا بھائی عطا کیا جو نبی تھے۔

حافظ : پھر تو آپ کے اس قاعدے اور استدلال کی رو سے محمد(ص) و علی(ع) دونوں پیغمبر اور خلق پر مبعوث تھے ۔

خیر طلب : جس قسم کی تقریر آپ نے فرمائی ہے میں نے یہ نہیں کہا۔ البتہ آپ خود جانتے ہیں کہ انبیاء کی تعداد و شمار میں بہت اختلاف ہے۔ ایک لاکھ بیس ہزار تک اور اس سے زیادہ بھی لکھا ہے لیکن وہ سب اپنے اپنے زمانے کے مقتضا اسے ایک ایک گروہ کی صورت میں کسی صاحب کتاب و احکام پیغمبر کے تابع تھے جن میں سے پانچ نفر اولو العزم تھے، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسی، حضرت عیسی اور حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ جن کی منزل سب سے بالاتر تھی اور یہی مقام خاتمیت ہے۔

منازل ہارونی کا اثبات حضرت علی (ع) کے لئے

جناب ہارون ان پیغمبروں میں سے تھے جو امر نبوت میں مستقل نہیں تھے بلکہ اپنے بھائی حضرت موسی(ع) کی شریعت کے پابند تھے۔ حضرت علی(ع) بھی نبوت کی بلندی پر پہنچے ہوئے تھے لیکن مستقل طور پر نبی نہیں تھے ، بلکہ شریعت خاتم الانبیاء کے پابند تھے۔

اس حدیث شریف میں رسول(ص) کا مقصد اور غرض امت کو یہ سمجھانا ہے کہ جس طرح ہارون نبوت کی منزل پر


فائز تھے لیکن حضرت موسی جیسے ایک اولوالعزم پیغمبر کے تابع تھے حضرت علی (ع) بھی اوج نبوت کے حامل اور مقام و منصب امامت کے ساتھ خاتم الانبیاء کی شریعت باقیہ کے مطیع تھے اور یہ چیز اپنی جگہ پر ان حضرت کی ایک اہم خصوصیت ہے۔

ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں یہ حدیث نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ پیغمبر(ص) نے اس حدیث کے ساتھ اپنی زبان مبارک سے علی ابن ابی طالب(ع) کے لئے ان سارے منازل و مراتب کو ثابت کردیا جو ہارون کو حضرت موسی(ع) سے حاصل تھے۔ اگر حضرت محمد خاتم الانبیاء نہ ہوتے تو یقینا آپ آں حضرت (ص) کے امر پیغمبری میں بھی شریک ہوتے ، چنانچہ جملہ ان ه لا نبی بعدی سے ظاہر فرمارہے ہیں کہ اگر میرے بعد نبوت کا سلسلہ قائم رہتا تو علی(ع) اس عہدے پر فائز ہوتے۔ لہذا نبوت کو مسثنی کر دیا اور مراتب ہارونی میں سے نبوت کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان حضرت میں ثابت ہے، اسی طرح محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب الس ئول ص19 کے شروع میں منزلت ہارونی کے بیان میں چند اسرار کے انکشاف اور توضیحات کے بعد تبصرہ کیا ہے اور کہتے ہیں :

"فتلخيص منزله هارون من موسی انه کان اخاه و وزيره و عضده و شريکه فی النبوة و خليفته علی قومه عند سفره و قد جل رسول الله عليا منه بهذه المنزلة و اثباتها له الا النبوة فانه اسثناها آخر الخديث يقوله صل الله علیه انه لا نبی بعدی فبقی ما عدا النبوة المستثناه ثابتا لعلی من کونه اخاه و وزيره و عضده و خليفته علی اهله عند سفره الی تبوک و عنده من المعارج الشراف والمدارج الا زلاف فقد دل الحديث بمنطوقه و مقبوله علی ثبوت هذه المنزلة العلية لعلی وهو حديث متفق علی صحته."

یعنی بیانات کا خلاصہ یہ ہے کہ موسی سےہارون کی منزلت یہ تھی کہ ان کے بھائی ، وزیر ، قوت بازو شریک نبوت اور ان کی قوم پر سفر کے وقت ان کے خلیفہ تھے پس رسول اللہ (ص) نے بھی حدیث شریف میں علی(ع) کو مقام و منزلت ہارون کا مالک قرار دیا سوا نبوت کے جس کو آخر حدیث میں اپنے قول ان ه لا نبی بعدی سے مستثنی فرما دیا۔ لہذا آپ کے لئے نبوت کے علاوہ ہر بات ثابت ہے جیسے آں حضرت (ص{ کا بھائی وزیر، قوت بازو اور سفر تبوک میں قوم پر آں حضرت کا خلیفہ ہوتا اور یہ خصوصیت آپ کے بلند مراتب اور اعلی مدارج میں سے ہے۔ پس یہ حدیث اپنے مضمون اور مفہوم کے لحاظ سے حضرت علی (ع) کے لیے اس بزرگ فضیلت کے ثبوت پر دلالت کرتی ہے اور یہ وہ حدیث ہے جس کی صحت پر سب کو اتفاق اور یہی بیان فصول المہمہ ص29 من ابن صباغ مالکی کا بھی ہے۔ نیز آپ کے اور بڑے بڑے علماء نے بھی اس کو لکھا اور اس حقیقت کی تصدیق کی ہے جن میں سے ہر ایک کے نام اور عقیدے کا ذکر کرنا رات کے اس تنگ وقت میں بہت مشکل ہے۔


حافظ : میرا خیال ہے کہ یہ استثنا عدم نبوت کا ہے نہ کہ اصل نبوت کا۔

خیر طلب : آپ نے بہت بے لطفی کی بات کی کہ اپنے اسلاف کی پیروی کرتے ہوئے یہ ایراد وارد کیا اور اتنے کھلے ہوئے مطلب کا انکار کیا حالانکہ آپ کو شافعی کے بیان پر توجہ کرنا چاہئیے تھا جس کو میں نے ابھی پیش کیا کہ کہتے ہیں : ما عدا النبوة المستثناه ثابتا لعلی اور یہ بیان خود نص ہے اس بارے میں کہ حدیث شرفی میں مستثنی نبوت ہے نہ کہ عدم نبوت۔ دوسرے ان کے اس قول میں کہ " فانه اسثناها آخر الخديث يقوله صل الله عليه انه لا نبی بعدی " میں استثناہا کی ضمیر منصوب نبوت کی طرف پھرتی ہے اس طرح کی عبارتیں آپ کے علماء کی کتابوں میں بہت ہیں جو سب نبوت کے استثناء پر دلالت کرتی ہیں نہ کہ عدم نبوت پر، اور جو لوگ عدم نبوت کے قائل ہوئے ہیں ان کے پیش نظر سوا عناد، ہٹ دھرمی اور تعصب کے کچھ نہیں تھا نستج ي ر بالله من التعصب فی الدين ( یعنی ہم دین کے معاملے میں تعصب سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں ۔ مترجم۔)

حافظ : میرا خیال ہے کہ آپ کا یہ دعوی کہ اگر ہمارے پیغمبر خاتم الانبیاء(ص) نہ ہوتے اور نبوت کا سلسلہ آگے بڑھتا تو علی(ع) اس منصب پر فائز ہوتے، آپ ہی کی ذات سے مخصوص ہے ورنہ کسی اور نے ایسی بات نہیں کہی ہے۔

خیر طلب : یہ دعوی فقط میرے علمائے شیعہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ آپ کے بڑے بڑے علماء بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں۔

حافظ : ہمارے علماء میں سے کس نے ایسا دعوی کیا ہے ؟ اگر پیش نظر ہو تو بیان فرمائیے۔

خیر طلب: آپ کے بزرگ علماء اور محل وثوق علمائے رجال میں سے ایک ملا علی بن سلطان محمد ہروی قاری ہیں کہ جب ان کی خبر وفات مصر میں پہنچی ہے تو علمائے مصر نے چار ہزار سے زیادہ مجمع کے ساتھ ان کے لئے نماز غیبت پڑھی ہے یہ بکثرت تصنیفات و تالیفات کے مالک ہیں۔ چنانچہ مرقاۃ شرح مشکوۃ میں حدیث منزلت کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں فيه ايماء الی انه لوکان بعده نبيا لکان عليا یعنی اس حدیث میں اشارہ ہے اس طرف کی اگر خاتم الانبیاء کے بعد کوئی اور نبی ہوتا تو وہ علی(ع) ہوتے۔

اور آپ کے جن علمائے بزرگ نے اس مقصد کا اقرار کیا ہے ان میں سے علامہ شہیر جلال الدین سیوطی نے کتاب بنیۃ الوعاظ فی طبقات الحفاظ کے آخر میں جابر ابن عبداللہ اںصاری تک راویوں کا سلسلہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے امیرالمومنین(ع) سے فرمایا کہ:

" اما ترضی ان تکون منی بمنزلة هارون من موسی الا انه لا نبی بعدی ولو کان لکنته " خلاصہ یہ کہ اگر میرے بعد کوئی پیغمبر ہوتا


تو اے علی(ع) وہ تم ہوتے۔

نیز میر سید علی ہمدانی فقیہ شافعی نے مودۃ ششم مودۃ القربی کی حدیث دوم میں انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ پیغمبر (ص) نے فرمایا :

"ان الله اصطفانی علی الانبياء فاختارنی واختار لی وصيا و خيرة ابن عمی وصی يشد عضدی کما يشد عضد موسی باخيه هرون وهو خليفتی و وزيری ولوکان بعدی نبيا لکان علی نبيا و لکن لا نبوة بعدی."

یعنی در حقیقت خدا نے مجھ کو سارے انبیاء پر برگزیدہ کیا پس مجھ کو منتخب کیا اور میرے لئے ایک وصی اختیار کیا اور میرے ابن عم علی(ع) میرے خلیفہ اور وزیر ہیں اور اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو یقینا علی (ع) ہوتے لیکن میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔

پس ان مختصر دلائل کے ساتھ ثابت ہوا کہ حضرت علی(ع) کے لئے نبوت کا قول صرف ہماری ہی طرف سے نہیں ہے۔ بلکہ خود رسول خدا(ص) سے منقول ہے جیسا کہ خود آپ کے علماء نے بھی تصدیق کی ہے کہ آں حضرت(ص) کے ارشاد کی بنا پر حضرت علیہ علیہ السلام مقام نبوت پر پہنچے ہوئے تھے اور یہ کوئی پیچیدہ اور مشکل امر بھی نہیں تھا جس سے آپ کو تعجب ہوا اور چونکہ مراتب و منازل ہارونی سے استثنائے متصل کے ساتھ نبوت مستثنی ہوگئی لہذا جیسا کہ میں ذکر کرچکا ہوں آپ ہی کے علماء کی شہادت کی بنا پر اس کے علاوہ ہر منصب علی(ع) کے لئے باقی اور ثابت رہتا ہے جن میں سب سے بلند منزل خلافت اور افضلیت ہے۔ کیونکہ خلافت ہارون کے لئے قرآن مجید صراحت کر رہا ہے۔ سورہ 7 (اعراف) آیت نمبر142 میں ارشاد ہے :

"وَ قَالَ مُوسىَ لِأَخِيهِ هَرُونَ اخْلُفْنىِ فىِ قَوْمِى وَ أَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ"

یعنی موسی(ع) نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میری قوم میں میرے خلیفہ اور جانشین رہو، نیک راستے کی ہدایت کرو اور فساد برپا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلو۔

حافظ : باوجودیکہ گذشتہ آیات میں آپ بیان کرچکے ہیںکہ حضرت ہارون اپنے بھائی حضرت موسی(ع) کے ساتھ امر نبوت میں شریک تھے، پھر کیونکر ان کو خلیفہ قرار دے دیا حالانکہ یہ مسلم ہے کہ کسی انسان کے شریک کی منزل اس سے بلند ہے کہ اس کا خلیفہ اور جانشین بنے اور اگر شریک کو خلیفہ قرار دے دیں تو گویا اس کے مقام اور مرتبے سے گرادیا کہ کہ مقام نبوت مقام خلافت سے بالاتر ہے۔

خیر طلب : آپ حضرات میں سے کچھ لوگ بغیر غور و فکر کے اس شبہ میں مبتلا ہوگئے ہیں، حالانکہ اگر آپ تھوڑا سا غور فرمالیتے تو میرے جواب کی ضرورت ہی نہ رہتی ۔ آپ خود جانتے ہیں کہ حضرت موسی(ع) کی نبوت اصالتا اور حضرت ہارون کی نبوت ان کی تابع تھی گویا کہ یہ ان حضرت کے خلیفہ تھے ، اس نظریے کے ساتھ ساتھ کہ حضرت ہارون(ع) امر تبلیغ میں اپنے برادر بزرگوار حضرت موسی(ع) کے شریک کار تھے ۔ چنانچہ خود حضرت موسی(ع) کے سوال سے ظاہر ہے جیسا کہ سورہ 20 (طہ) میں آیت نمبر25 سے لے کر آیت نمبر33 تک


آپ کا قول نقل کیا گیا ہے:

"قَالَ رَبّ ِ اشْرَحْ لىِ صَدْرِى وَ يَسِّرْ لىِ أَمْرِى وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانى يَفْقَهُواْ قَوْلىِ وَ اجْعَل لىّ ِ وَزِيرًا مِّنْ أَهْلىِ هَارُونَ أَخِى اشْدُدْ بِهِ أَزْرِى وَ أَشْرِكْهُ فىِ أَمْرِى "

یعنی پرورگارا میرے لئے میرے سینے کو کشادہ کر دے میرے لئے میرے کام کو آسان بنادے ( جو تبلیغ رسالت ہے) میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ میری بات کو لوگ سمجھیں اور میرے اہل میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر قرار دے ، ان کے ذریعے میری پشت کو مضبوط کر اور ان کو میرے (تبلیغ رسالت) میں میرا شریک بنا دے)

اسی طرح حضرت علی علیہ السلام ہی وہ یکتا جوانمبرد تھے جو مقام نبوت خاصہ کے علاوہ تمام مراحل کاملہ اور صفات مخصوصہ میں رسول اکرم(ص) کے ساتھ شریک تھے۔

حافظ : میرا تعجب برابر بڑھتا جا رہا ہے جب میں دیکھتا ہوں کہ آپ علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں ایسا غلو کرتے ہیں کہ صاحبان عقل کی عقلیں دنگ اور حیران ہوجاتی ہیں، منجملہ ان کے یہی جملے ہیں جو ابھی آپ نے بیان کئے کہ علی کرم اللہ وجہہ پیغمبر(ص) کے تمام صفات و خصائص کے حامل تھے۔

خیر طلب : اول تو اس طرح کی باتیں غلو نہیں ہیں بلکہ عین واقع اور حقیقت ہیں کیونکہ پیغمبر(ص) کا جانشین قاعدہ عقلی کے رو سے تمام صفات میں پیغمبر(ص) کا نمونہ اور شبیہ ہونا چاہیئے ۔ دوسرے اس معاملے میں تنہا ہم ہی اس حقیقت کے مدعی نہیں ہیں بلکہ خود آپ کے بڑے بڑے علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں اس عقیدے کا اقرار کیا ہے۔

علی (ع) تمام صفات میں پیغمبر(ص) کے شریک و مماثل تھے

چنانچہ امام ثعلبی نے اپنی تفسیر میں اور عالم فاضل سید احمد شہاب الدین نے جو آپ کے بزرگ علماء میں سے ہیں کتاب توضیح الدلائل علی ترجیح الفضائل میں تشریح کے ساتھ اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے اور یہ عبادت لکھتے ہیں۔

" ولايخفی ان مولانا امير المومنين قد شابه النبی فی کثير بل اکثر الخصائص الرضيه و انفعال الزکيه و عاداته و عباداته و احواله العليه و قد صح ذالک له بالاخبار الصحيحه والاثار الصريحة ولا يحتاج الی اقامة الدليل ولبرهان ولا يفتقر الی ايضاح حجة و بيان قد عد بعض العلماء بعض الخصال لاميرالمومنين علی التی هو فيها نظير سيدنا النبی الامی"

یعنی پوشیدہ اور مخفی نہیں ہے یہ مطلب کہ ہمارے مولا امیرالمومنین علیہ السلام بہت سے بلکہ زیادہ تر اچھی خصلتوں، پاکیزہ، افعال، عادات عبادات اور اعلی حالات میں رسول اللہ (ص) سے مشابہت رکھتے ہیں، یہ بات اخبار صحیحہ اور آثار صریحہ کے ذریعہ پایہ صحت


کو پہنچی ہوئی ہے، اس کے لئے الگ سے کوئی دلیل و برہان قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ توضیح حجت اور بیان کی احتیاج ہے۔ بعض علماء نے امیرالمومنین(ع) کے ان خصائص میں سے چند کو شمار کیا ہے جن میں آپ پیغمبر خاتم(ص) کی نظیر ہیں۔

منجملہ ان کے اصل ونسب میں ایک دوسرے کی نظیر ہیں :

" نظيره فی الطهارت بدليل قوله تعالی: إِنَّما يُريدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهيراً "

یعنی آیہ تطہیر کی دلیل سے علی(ع) طہارت میں پیغمبر(ص) کی نظیر ہیں۔ ( جو پنچ تن آل عبا محمد، علی ، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کے لئے نازل ہوئی ہے۔)

" نظيره فی آيه ولی الامه بدليل قوله تعالی :

" إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذينَ آمَنُوا الَّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ"

اور آیت مذکورہ میں ولایت امت کی حیثیت سے بدلیل إِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ الخ آں حضرت(ص) کی نظیر ہیں۔ ( جو باتفاق فریقین حضرت علی(ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ اسی کتاب میں تفصیل سے اس کا ذکر آیا ہے۔)

" نظيره فی الاداء والتبليغ بدليل الوحی الوارد عليه يوم اعطاء سورة برائت لغيره فنزل جبريل قال لا يوديها الا انت هو منک فاستعادها منه فاداها علی رضی الله تعالی عنه فی الرسم. "

یعنی ادائے رسالت اور تبلیغ دین میں سورہ برائت کے موضوع اور خاتم الانبیاء پر نزول کی دلیل سے آں حضرت(ص) کی نظیر میں ( کیونکہ) آں حضرت(ص) نے سورہ برائت کی آیتیں ابوبکر کر دیں کہ ان کو لے جائیں اور موسم حج میں اہل مکہ کے سامنے تلاوت کریں، جیسا کہ اسی کتاب میں درج ہے( کہ جبرئیل نازل ہوئے اور عرض کیا کہ رسالت کی تبلیغ کوئی شخص نہیں کرسکتا سوا آپ کے یا اس شخص کے جو آپ ہی سے ہو، چانچہ آں حضرت(ص) نے آیات سورہ برائت کو ابوبکر سے لے کر بحکم الہی علی(ع) کے سپرد کیا اور آپ نے موسم حج میں ان کی تبلیغ کی۔

" نظيره فی کونه مولی الامة بدليل قوله « صل الله عليه و آله » من کنت مولاه فهذا علی مولاه "

اور مولائے امت ہونے میں آنحضرت(ص) کی نظیر ہیں بدلیل ارشاد رسول (ص) (غدیر خم میں جیسا کہ اس کتاب میں تفصیل سے ذکر موجود ہے) کہ میں جس شخص کے امور میں اولی بہ تصرف ہوں پس یہ علی(ع) بھی اس کے امور میں اولی بہ تصرف ہیں۔

" نظيره فی مماثلت نفسهما و ان نفسه قامت مقام نفسه وان الله تعالی اجری نفس علی علی مجری نفس النبی صلی الله عليه وسلم فقال :

" فَمَنْ حَاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ


مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَكُمْ وَ نِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَ أَنْفُسَنا وَ أَنْفُسَكُمْ "

اور اتحاد نفسانی میں آں حضرت(ص) کی نظیر ہیں کیونکہ علی(ع) کا نفس رسول(ص) کے نفس کا قائم مقام ہے چنانچہ خدائے تعالی نے آیہ مباہلہ میں ( باتفاقی فریقین جیسا کہ اس کتاب میں تشریح سے ذکر ہوا ہے) علی(ع) کو بمنزلہ نفس آںحضرت(ص) قرار دیا ہے۔

"ونظيره فی فتح بابه فی المسجد کفتح باب رسول الله و جواز دخول المسجد جنبا کحال رسول الله صلی الله عليه وسلم علی السواء ."

اور مسجد کے اندر آپ کا دروازہ باب رسول(ص) کے مانند کھلا رہنے میں ( کیونکہ پیغمبر(ص) کے حکم سے سوا خانہ پیغمبر(ص) و علی(ع) کے تمام گھروں کے دروازے جو مسجد میں کھلتے تھے بند کردیے گئے تھے) اور حالت جنابت میں مانند رسول(ص) مسجد کے اندر داخل ہونے کی اجازت میں آں حضرت(ص) کی نظیر ہیں۔

بردارون اہل سنت میں ایک ہمہمہ پیدا ہوا میں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ تو ان کی طرف سے جواب ملا۔

نواب : اتفاق سے اسی گذشتہ جمعہ کو ہم مسجد میں نماز پڑھنے گئے تو جناب حافظ صاحب نے خطبے میں بعض احادیث کو نقل کرتے ہوئے یہ مسجد کا دروازہ کھلا رکھنے کی فضیلت خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کےلئے مخصوص بتائی ، اس وقت جب آپ نے فرمایا کہ یہ علی کرم اللہ وجہہ کی خصوصیت ہے تو حاضرین کو حیرت ہوگئی اور ہماری یہ باتیں اس قضیے کے سلسلے میں تھیں۔ التماس ہے کہ یہ معما حل فرمائیے۔

خیر طلب : ( حافظ صاحب کی طرف رخ کر کےج) کیا آپ نے ایسی کوئی تقریر فرمائی ہے؟

حافظ : ہاں چونکہ ہماری صحیح حدیثوں میں ثقہ اور سچے صحابی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ تمام دروازے جو مسجد میں کھلے ہوئے تھے بند کردیے جائیں سوا در خانہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے جن کے متعلق فرمایا کہ ابوبکر مجھ سے اور میں ابو بکر سے ہوں۔

خیر طلب : یقینا آپ کی نظر سے گزر چکا ہوگا کہ بنی امیہ نے اس بات کی سعی بلیغ کی تھی کہ ہر اس فضیلت کے مقابلے میں جو مولا امیر المومنین علیہ السلام کے لئے مخصوص ہو خفیہ کام کرنے والوں اور معاویہ کے دسترخواں کی کاسہ لیسی کرنے والوں جیسے ابوہریرہ ، مغیرہ اور عمرو بن عاص وغیرہ کے ذریعہ ایک حدیث گھڑ لیں، اور ان کا یہ عمل برابر جاری تھا، ابوبکر کے ماننے والوں نے بھی اپنی اس انتہائی محبت اور ربط کی وجہ سے جو خلیفہ ابوبکر سے رکھتے تھے ان احادیث کو تقویت پہنچائی چنانچہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد اول میں اور خصوصیت کے ساتھ جلد سوم ص17 میں ان واقعات کو تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے اور کہتے ہیں کہ من جملہ موضوع احادیث کے سوا باب ابوبکر کے دوسرے دروازوں کا بند کرنا بھی ہے۔ " بدیہی بات ہے کہ اس موضوع حدیث کے مقابلے میں بکثرت صحیح حدیثیں موجود ہیں ( جو شیعوں کی آن معتبر کتابوں کے علاوہ ہیں جن میں


یہ حدیث تواتر اور اجماع کے ساتھ ہے ( خود آپ کے اکابر علماء کی معتبر کتب صحاح میں اس قید کے ساتھ کہ یہ صحیح حدیثوں میں سے ہے، نقل کیا گیا ہے کہ لوگوں کے گھروں کے تمام دروازے جو مسجد میں کھلتے تھے رسول اللہ (ص) نے بند کروا دیئے تھے سوا در خانہ علی علیہ السلام کے۔

نواب : چونکہ یہ واقعہ معرض اختلاف میں پڑ گیا ہے۔ جناب حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ خصائص ابوبکر رضی اللہ عنہ میں سے ہے اور جناب عالی فرماتے ہیں کہ خصائص مولانا علی کرم اللہ وجہہ میں سے ہے ، لہذا ممکن ہوتو ہماری کتابوں سے بعض اسناد کی طرف اشارہ فرمائیے تاکہ سننے والے حافظ صاحب کے اسناد سے مطابقت کر کے بہتر کا انتخاب کر لیں۔

حکم رسول(ص) سے مسجد میں تمام گھروں کے دروازے بند کردئیے گئے سوا خانہ علی(ع) کے دروازے کے

خیر طلب : احمد ابن حنبل نے مسند جلد اول ص 175 ، جلد دوم ص26 اور جلد چہارم ص369 میں ، امام ابو عبدالرحمن نسائی نے سنن میں اور خصائص العلوی ص13، 14 میں ، حاکم نیشاپوری نے مستدرک جلد سوم ص117، 125 میں اور سبط ابن جوزی نے تذکرہ ص24، 25 میں مفصل بیانات کے ساتھ اس حدیث کو ترمذی اور احمد کے طریق سے ثابت کیا ہے ابن اثیر جوزی نے اسنی المطالب ص12 ، ابن حجر مکی نے صواعق ص76 میں، ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری جلد 7ص12 میں، طبرانی نے اوسط میں، خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ جلد 7 ص205 میں، ابن کثیر نے اپنی تاریخ جلد ہفتم ص342 میں ، متقی ہندی نے کنزالعمال جلد ششم ص 408 میں ، شبیمی نے مجمع الزوائد جلد نہم ص65 میں، محب الدین طبری نے ریاض جلددوم ص192 میں ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص451 میں حافظ ابو نعیم نے فضائل الصحابہ میں اور حلیتہ الاولیاء جلد 4 ص183 میں جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء ص116 جمع الجوامع ، فضائل الکبری اور تعالی المصنوعہ جلد اولی ص181 میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں ؟؟؟؟؟ نے فرائد میں، ابن مغازلی نے مناقب میں منادی مصری نے کنوز الدقائق میں، سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ ص87 میں، باب 17 کو اسی مضمون کے لئے مخصوص کیا ہے ، شہاب الدین قسطلانی نے ارشاد الباری جلد ششم ص81 میں ، حلبی نے سیرۃ الحلبیہ جلد سوم ص373 میں اور محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئولی ص17 میں، یہاں تک کہ عام طور پر کبار صحابہ میں سے آپ کے بڑے بڑے علماء نے جیسے خلیفہ عمر بن خطاب،


عبداللہ بن عباس، عبداللہ ابن عمر، زید بن ارقم، براء بن عازب، ابو سعید خدری، ابو حازم اشجعی ، سعد بن ابی وقاص اور جابر ابن عبداللہ اںصاری وغیر ہم نے مختلف عبارتوں کے ساتھ رسول اللہ (ص) سے نقل کیا ہے کہ آں حضرت(ص) نے حکم دے کر مسجد میں سارے دروازوں کو بند کروا دیا سوا در خانہ علی(ع) کے اور خصوصیت کے ساتھ آپ کے بعض اکابر علماء نے بنی امیہ سے فریب کھائے ہوئے لوگوں کی بصیرت افروزی کے لئے کامل توضیحات دیے ہیں، مثلا محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب کے باب 50 کو اسی موضوع سے مخصوص رکھا ہے اور مستند احادیث نقل کرنے کے بعد ایک بیان اس عنوان کے ساتھ دیا ہے کہ «هذا حديث عالی» اس محل پر کہتے ہیں کہ چونکہ اصحاب کے مکانات کے متعدد دروازے مسجد میں کھلتے تھے اور رسول اللہ(ص) نے مساجد کے اندر حالت حیض و جنابت میں داخل ہونے اور ٹھہرنے کو منع فرمایا لہذا حکم دیا کہ مسجد کی طرف تمام گھروں کے دروازے بند کردیے جائیں البتہ علی(ع) کے گھر کا دروازہ کھلا رکھا جائے اسی عبارت کے ساتھ کہ

" سدوا الابواب کلها الا باب علی بن ابی طالب و اوما بيده الی باب علی عليه السلام."

یعنی تمام دروازوں کو بند کرو البتہ خانہ علی(ع) کا دروازہ کھلا رہنے دو اور دست مبارک سے در خانہ علی علیہ السلام کی طرف اشارہ فرمایا ۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ یہ حالت جنابت میں مسجد کے اندر داخل ہونے اور ٹھہرنے کا جواز حضرت علی علیہ السلام کا خاص شرف تھا لہذا یہ عمل اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہر جنب و حائض کا مسجدوں میں داخلہ اور توقف ہوسکے۔

" انما خص بذالک لعلم المصطفی بانه یتحری من النجاسة هو و زوجته فاطمة و اولاده صلوات الله عليهم و قد نطق القرآن بتطهيرهم فی قوله عزوجل انما يريد الله الخ."

خلاصہ مطلب یہ کہ پیغمبر(ص) کا علی(ع) کو مخصوص قرار دینا آپ کے لئے اس معنی سے ایک خصوصیت عظمی تھی کہ آں حضرت(ص) اس بات کا قطعی علم رکھتے تھے کہ علی (ع) و فاطمہ(س) اور ان کی اولاد نجاست سے دور اور پاک ہیں ، چنانچہ آیہ تطہیر اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ یہ خاندان جلیل جملہ رجس و نجاسات سے منزہ ہے۔ جو مکمل توضیح اس شافعی عالم نے پیش کی ہے اس کا جناب حافظ صاحب اس حدیث سے موازنہ کریں جو انہوں نے نقل کی ہے۔ اگر ابوبکر طہارت پر ان کے پاس کوئی دلیل ہے تو ہمارے سارے اسناد کے نظر انداز کرتے ہوئے اس خبر کو بیان کریں در آحالیکہ بخاری و مسلم نے بھی اپنی صحیحیں میں اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے اس باب میں کہ جنب مسجد میں داخل ہونے اور ٹھہرنے کا حق نہیں رکھتا ہے کیونکہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا ہے لا ينبعی لاحد ان يجنب فی المسجد الا انا و علی یعنی کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ مسجد میں جنب ہو سوا میرے اور علی(ع) کے۔)

معتبر اسناد کے ساتھ اس قسم کی حدیثیں ثابت کرتی ہیں کہ سوا باب علی علیہ السلام کے جملہ دروازے مسدود


کردیے گئے تھے ، کیونکہ علاوہ باب پیغمبر(ص) و علی(ع) کے اگر کوئی اور دروازہ کھلا رکھا گیا ہوتا تو ان دونوں بزرگواروں ( محمد و علی علیہما السلام ) کے علاوہ دوسرے کے لئے بھی حالت جنابت میں مسجد کے اندر آنا اور توقف کرنا جائز ہونا چاہئے تھا حالانکہ آں حضرت صریحی طور پر فرماتے ہیں :

" لا ينبعی لاحد ان يجنب فی المسجد الا انا و علی ."

پس یہ احادیث برہان قاطع ہیں( کیونکہ بخاری و مسلم نے بھی نقل کیا ہے) ان حدیثوں کے اوپر جن کو بنی امیہ اور عقیدتمندان ابوبکر اور دوسرے نے نقل کیا ہے کہ دوسروں کے لئے بھی دروازہ کھلا رکھا گیا تھا۔

قطعا اور یقینا مسلم ہے کہ مسجد کے اندر فتح باب علی علیہ السلام کے خصائص میں سے تھا اگر آپ اجازت دیں تو اس بارے میں اپنے معروضات کو ختم کرتے ہوئے خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب سے ایک حدیث پیش کروں، جس کو حاکم نے مستدرک جلد سیم ص125 میں سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ ضمن باب 56 ص210 میں ذخائر العقبی امام الحرم سے اور انہوں نے مسند امام احمد حنبل سے خطیب خوارزمی نے مناقب ص261 میں، ابن حجر نے صواعق ص76 میں، سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں، ابن اثیر جرزی نے اسنی المطالب میں اور دوسرے حضرات نے بھی الفاظ کی مختصر کمی و بیشی کے ساتھ نقل کیا ہے کہ خلیفہ عمر نے کہا :

"لقد اوتی (علی) ابن ابی طالب ثلاث خصال لان تکون لی واحدة منهن احب اتی من حمر النعم زوجه النبی صلی الله عليه وسلم بنته و سد الابواب الا بابه و سکناه المسجد مع رسول الله يحل له فيه ما يحل له ، و اعطاه الرايه يوم خيبر."

یعنی در حقیقت یقینا علی(ع) ابی طالب کو تین خصلتیں ایسی عطا ہوئیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھ کو حاصل ہوتی تو میرے لئے سرخ بالوں والے حیوانات (اونٹوں) سے بہتر ہوتی، (1) پیغمبر(ص) نے ان کے ساتھ اپنی دختر کی تزویج کی۔ (2) ( مسجد کے ) تمام دروازے بند کردئے سوا ان کے دروزاے کے، مسجد میں پیغمبر(ص) کے ساتھ آرام کیا اور مسجد میں جو کچھ پیغمبر(ص) کے لئے جائز ہے وہ ان کے لئے بھی جائز ہے (3) اور خیبر کے روز ان کو (اسلام کا ) علم عطا فرمایا۔

میرا خیال ہے کہ جناب نواب صاحب اور دوسرے برادران عزیز کے نزدیک معما حل ہوگیا ہوگا اور کوئی عذر کا راستہ باقی نہ ہوگا جناب حافظ صاحب کو بھی پورا اطمینان ہوگیا ہوگا۔ بہتر ہے کہ ہم اپنی سابق گفتگو اور سید شہاب الدین کے بقیہ بیانات کی طرف بھی رجوع کریں جو اپنی تحقیقات کے آخر میں کہتے ہیں :

"و من تتبع احواله فی الفضائل المخصوصه و تفحص احواله فی الشمائل المنصوصه يعلم انه کرم الله تعالی وجهه يلغ الغايه فی اقتفاء آثار سيدنا المصطفی و اتی النهايه فی اقباس انواره حيث لم يجد فيه غيره مقتضی. انتهی."

یعن اگر کوئی شخص آپ کے مخصوص


فضائل اور مںصوص شمائل میں حالات کا تفحص و تجسس کرے تو وہ دیکھے گا کہ آپ رسول اللہ(ص) کے قدم بہ قدم ہونے اور آپ حضرت(ص) کے انوار کا نمونہ بننے میں کمال کی آخری منزل پر پہنچے ہوئے ہیں اور ان خصوصیات میں کوئی دوسرا آپ کا شریک نہیں۔

یہ مولانا امیرالمومنین علیہ السلام کے مدارج عالیہ اور فضائل مخصوصہ کے سلسلے میں خود آپ کے علماء کے بیانات اور اعتراف کا صرف ایک نمونہ تھا تاکہ آپ حضرات سمجھ لیں کہ نہ میں نے غلو کیا ہے اور نہ بیجان دعوی پیش کرتا ہوں بلکہ جملہ شیعہ اول سے آخر تک بغیر دلیل و برہان کے کوئی بیان پیش نہیں کرتے ہمارے تمام دلائل و براہین وہی ہیں جن کی جڑ اور بنیاد آپ لوگوں کے پاس خود آپ کی معتبر کتابوں میں موجود ہے۔لیکن افسوس ہے کہ جس وقت آپ عوام اور نا واقف لوگوں کے درمیان بیٹھتے ہیں تو اپنے اسلاف کی پیروی میں اپنی حیثیت محفوظ رکھنے کے لیے عادتا یک طرفہ فیصلہ کرتے ہوئے رطب و یابس کو باہم مخلوط کر کے تہمتیں لگاتے ہیں اور ان کی نگاہوں اصلیت کو مشتبہ بناتے ہیں بس ان مقدمات کو ذکر کرنے کے بعد ثابت ہوا کہ علی علیہ السلام ساری حیثتیوں میں رسول اللہ(ص) کے شریک و نظیر تھے جیسے کہ ہارون حضرت موسی(ع) کے نسبت تھے۔ لہذا جب موسی(ع) نے ہارون کو تمام بنی اسرائیل کے درمیان اس منصب کے لیے ہر ایک سے زیادہ اہل اور لائق اور سب سے افضل پایا تو پروردگار عالم سے درخواست کی کہ ان کو میرا کام میں شریک قرار دے تاکہ وہ میرے وزیر بنیں اسی طرح خاتم الانبیاء نے بھی چونکہ ساری امت کے درمیان اس عہدے کے لیے کسی کو علی(ع) سے زیادہ قابل و لائق نہیں دیکھا جو کل امت سے افضل ہو لہذا خدائے تعالی سے درخواست کی کہ جس طرح تو نے ہارون کو موسی(ع) کا وزیر و شریک بنایا علی کو میرا وزیر و شریک قرار دے۔

نواب : قبلہ صاحب آیا اس بارے میں کچھ روایتیں اور بھی منقول ہیں؟

خیر طلب: ہاں علاوہ شیعوں کے اجماع کے اس موضوع پر آپ کی معتبر کتابوں میں بھی بہت سی روایتیں مروی ہیں۔

نواب : ان روایات میں سے جس قدر ممکن ہو ہم لوگوں کو بھی سنائیے ، ہم بہت ممنون ہوں گے۔

خیر طلب : میں حاضر ہوں ، اگر آپ حضرات بھی مائل ہوں(اشارہ ان کے علماء کی طرف )۔

حافظ : کوئی حرج نہیں ، کیونکہ نقل حدیث اور اسی طرح اس کا سننا بھی عبادت ہے۔

علی(ع) کو اپنا وزیر بنانے کے لئے پیغمبر(ص) کا سوال

خیر طلب :ابن مغازلی فقیہ شافعی نے مناقب میں، جلال الدین سیوطی نے تفسیر و منشور میں امام المحدثین احمد ثعلبی نے تفسیر کشف البیان میں، اور سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الامہ ضمن نزول آیہ ولایت میں نیز ص14 میں ابوذر عفاری


اور اسماء بنت عمیس زوجہ ابوبکر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا ایک روزہم لوگوں نے مسجد میں نماز ظہر پڑھی اور رسول اللہ (ص) بھی موجود تھے کہا ایک سائل نے اٹھ کر سوال کیا ،کسی نے اس کو کچھ نہیں دیا۔ علی علیہ السلام نماز میں رکوع کے اندر تھے ہاتھ سے اپنی انگلی کی طرف اشارہ کیا سائل نے آپ کی انگلی سے انگوٹھی اتار لی، پیغمبر(ص) نے یہ معاملہ دیکھا تو سر مبارک آسمان کی طرف بلند فرمایا اور عرض کیا :

" اللهم ان اخی موسی سلک فقال رب اشرح لی صدری ويسر لی امری الايه الی قوله. واشرکه فی امری فانزل عليه فلانا ناطقا سنشد عضدک باخيک و نجعل لکما سلطانا فلايصلون اليکما"

یعنی پروردگارا میرے بھائی موسی نے تجھ سے سوال کیا اور کہا خدایا میرے لیے میرا سینہ کشادہ کردے اور میرے لیے میرے کام کو ( تبلیغ رسالت میں) آسان کردے۔ یہاں تک کہ کہا میرے بھائی ہارون کو میرا شریک کار بنا دے۔ پس ان حضرت پر یہ آیت نازل فرمائی کہ ( اے موسی) ہم نے تمہاری دعا قبول کی تمہارے بھائی ہارون کی شرکت و وزارت سے تمہارا بازو مضبوط کرتے ہیں اور تم دونوں کو عالم میں ایسی قدرت و حکومت دیتے ہیں کہ وہ تم پر قابو نہ پاسکیں۔ پھر عرض کیا :

"للهم و انا محمد صفيک ونبيک فاشرح لی صدری ويسر لی امری واجعل لی وزيرا من اهلی عليا اشدد به ازری"

یعنی خداوندا میں محمد(ص) تیرا برگزیدہ اور پیغمبر ہوں پس میرا سینہ کشادہ کردے، میرے لیے میرا امر آسان بنادے اور میرے لیے میرے اہل میں سے ایک وزیر قرار دے اور وہ علی ہوں، ان کے وجود سے میری پشت مضبوط فرمادے) ابوذر کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ابھی پیغمبر(ص) کی دعا ختم نہیں ہوئی تھی کہ جبرئیل نازل ہوئے آيه انما وليکم الله و رسوله الخ آں حضرت(ص) کو پہنچائی، انتہی۔ معلوم ہوا کہ پیغمبر(ص) کی دعا مستجاب ہوئی اور علی(ع) ( مانند ہارون کے موسی کے لیے) وزارت رسول(ص) پر برقرار ہوئے۔ محمد بن طلحہ شافعی مطالب السئول ص19 میں مفصل شرح کے ساتھ اس مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

حافظ ابو نعیم اصفہانی نے کتاب منقبۃ لامطہرین میں، شیخ علی جعفری نے کنز البراہین میں امام احمد ابن حنبل نے مسند میں، سید شہاب الدین نے توضیح الدلائل میں، جلال الدین سیوطی نے درمنثور میں اور آپ کے دوسرے اکابر علماء نے جن کے ناموں کی تفصیل تنگی وقت کی وجہ سے نزظر انداز کرتا ہوں اپنی تصنیفات و تالیفات میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ بعض نے اسماء بنت عمیس (زوجہ ابوبکر) سے اور بعض نے دوسرے صحابہ سے یہاں تک کہ ابن عباس ( خیر امت) رضوان اللہ عنہ سے بھی روایت کی ہے کہ:

" اخذ رسول الله بيدی و بيد علی بن ابی طالب فصلی اربع رکعات ۔"

یعنی رسول خدا(ص) نے میرا ہاتھ اور علی(ع) کی ہاتھ پکڑا پھر چار رکعت نماز پڑھی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے عرض کیا:

" اللهم سئلک موسی بن عمران وأنا محمد اسئلک ان تشرح لی صدری و تيسر لی امری و انحل عقدة من لسانی يفقهم اقوالی واجعل لی وزيرا من اهلی عليا


اشدد به ازری اشرکه فی امری ۔ "

یعنی خداوند موسی ابن عمران نے تجھ سے سوال کیا ( اپنے بھائی ہارون کی ذرات اور امر نبوت و تبلیغ رسالت میں شرکت کے لیے) اور میں محمد(ص) ہوں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرا سینہ کشادہ کر دے ، میرے امر کو آسان بنادے، میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات کو سمجھیں اورمیرے اہل میں سے میرے لیے ایک وزیر علی(ع) کو قرار دے ان سے میری پشت کو مضبوط کر اور ان کو میرے کام میں شریک قرار دے ( جو رسالت اور حقائق کا پہنچانا ہے) ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے ایک منادی کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا ي ا احمد قد اوتيت ما سئلت یعنی اے احمد تم نے جو کچھ مانگا ہم نے تم کو عطا کیا۔ اس وقت رسول اللہ (ص) نے علی(ع) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاو اور اپنے خدا سے دعا کرو تاکہ تم کو کچھ عطا فرمائے ۔ پس علی(ع) نے ہاتھوں کو بلند کر کے عرض کیا۔ اللهم اجعل لی عند ع ه دا واجعلنی عندک ودا ۔ یعنی پروردگارا میرے لیے اپنے نزدیک ایک عہد قرار دے اور میرے لیے اپنے پاس محبت و مودت معین فرما پس جبرئیل نازل ہوئے اور یہ آیہ شریفہ ( آخر سورہ مریم کی) لائے :

" إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ- سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمنُ وُدًّا"

(یعنی جو لوگ ایمان لائے اور نیکو کار بنے خدائے رحمان ان کو محبوب قرار دیتا ہے (یعنی ان کی محبت و مودت کو مسلمانوں کے دلوں میں جاگزین کرتا ہے) اصحاب نے یہ معاملہ دیکھ کر تعجب کیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مما تعجبون ان القرآن اربعة ارباع فربع فينا اهل البيت خاصا وربع حلال و ربع حرام و ربع فرائض و احکام والله انزل فی علی کرائم القرآن یعنی تم کس چیز سے تعجب کرتے ہو؟ قرآن کے چار حصے ہیں ایک ربع ہم اہل بیت(ع) کے لیے مخصوص ہے ایک ربع حلال میں ایک ربع حرام میں اور ایک ربع فرائض و احکام میں ہے۔ خدا کی قسم قرآن مجید کی بزرگ آیتیں علی(ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔)

شیخ ، اگر اس حدیث کو صحیح بھی فرض کر لیا جائے تو علی کرم اللہ وجہہ سے اس کو کوئی خصوصیت نہیں بلکہ یہی حدیث دو عظیم الشان خلیفہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بھی صادر ہوئی ہے چنانچہ قزعہ بن سوید نے ابن ابی ملیکہ سے اس نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ابوبکر و عمر منی بمنزل ة هارون من موسی.

خیر طلب : اگر آپ حضرات تھوڑا غور کر لیتے اور رجال روات کی طرف رجوع کرتے تو اپنے کو خواہ مخواہ زحمت میں نہ ڈالتے کہ کبھی آمدی کے قول سے اور کبھی انہتائی جھوٹے اور جعل ساز قزعہ بن سوید کے قول سے استدلال کریں، حالانکہ خود آپ کے بڑے بڑے علماء نے اس امر کو مردود اور اس کی نقل کی ہوئی حدیثوں کو نا قابل قبول ٹھہرایا ہے۔ خصوصا علامہ ذہبی نے کتاب میزان الاعتدال کے اندر حالات قزعہ بن سوید و عمار بن ہارون کے ترجمے میں اس حدیث کا انکار کیا ہے اور کہتے ہیں هذا کذب یعنی یہ جھوٹ ہے 12 مترجم) پس جب قزعہ آپ کے علماء کے


نزدیک مردود ہے تو وہ حدیث بھی مردود ہے جو اس سے منقول ہو۔ اگر تھوڑی دیر کے لیے اس کو مان بھی لیا جائے تو آپ حضرات قزعہ کی روایت کا ذرا اس سلسلہ روایت سے موازنہ کیجئے جس کو تمام علمائے شیعہ سے قطع نظر جنہوں نے مسلم حیثیت سے تواتر کے ساتھ نقل کیا ہے ہم نے خود آپ ہی کے بزرگ ترین علماء سے نقل کیا ہے ۔ اس وقت اںصاف کے ساتھ فیصلہ کیجئے کہ ان دونوں حدیثوں میں سے کون سی ، ماننے کے قابل ہے۔

( جب گفتگو یہاں تک پہنچی تو ان حضرات نے گھڑیوں پر نظر کی اور کہا کہ ہم لوگ بات چیت میں ایسے محو ہوگئے کہ اپنی طرف خیال ہی نہ کیا ، توجہ ہوئی کہ آدھی رات گذر چکی ہے ۔ بہتر ہوگا کہ اسی موضوع پر بقیہ بحث کل شب پر رکھی جائے۔ اس کے بعد اٹھے اور شب بخیر کہہ کے بعافیت تشریف لے گئے۔)

پانچویں نشست

( شب سہ شنبہ 27 رجب سنہ1345 ہجری)

(آج مولوی صاحبان اول شب میں اور زیادہ مجمع کے ساتھ تشریف لائے اور چائے وغیرہ کے بعد حافظ صاحب نے بحث کا افتتاح کیا۔)

حافظ : آج میں کافی دیر تک آپ کی کل رات والی تقریروں پر غور کرتا رہا اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچا کہ آپ ماشاء اللہ بہت زیادہ زبان آور ہیں، اپنی جادو بیانی کے علاوہ آپ چاہتے ہیں کہ حسن تقریر کے ساتھ بات کا بتنگز بنا کے یہ ثابت کردیں کہ اس حدیث منزلت میں پیغمبر بزرگوار (ص) نے اپنے بیان مبارک سے علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت بلا فصل کا اعلان فرمایا ہے حالانکہ یہ حدیث ایک خصوصی پہلو رکھتی ہے اور غزوہ تبوک کے سفر میں ارشاد ہوئی تھی جس کی عمومیت پر کوئی دلیل نہیں ہے۔

منزلت کا لفظ عموم کا فائدہ دیتا ہے

خیر طلب : اگر حضرات حاضرین جلسہ میں سے کسی نے یہ اشکال پیش کیا ہوتا تو حیرت نہ ہوتی لیکن آپ جیسی شخصیت سے سخت تعجب ہے کہ اہل زبان اور ادبیات عرب اور اصول و قواعد کے عالم ہونے کے باجود کس لیے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں حالانکہ خود جانتے ہیں کہ اہل زبان کے متعارف کلمات میں ہر موقع پر استثناء


اور مستثنی منہ عموم پر دلالت کرتا ہے اور اس حدیث شریف میں بالخصوص کلمہ منزلت جو علم کی طرف مضاف ہے۔ قطعی اور یقینی طور پر صحت استثناء کی دلیل سے عموم کا فائدہ دیتا ہے اس لیے کہ الا انه لا نبی بعدی میں استثنائے متصل ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو معلوم ہے کہ اصولیین نے اس چیز کی تصریح کردی ہے کہ اسم جنس مضاف عموم کا فائدہ دیتا ہے خصوصا جس وقت الف لام کے ساتھ ہو پس آںحضرت(ص) کے کلام میں لفظ منزلت جو علم کی طرف مضاف ہے مقید عموم ہے اگرچہ بعض علماء اس نظریے کے خلاف گئے ہیں لیکن بڑے بڑے اور کامل اصولی علماء ہمارے ہی عقیدے کے حامل ہیں کہ مفرد جو معرفہ کی طرف مضاف ہوبنا بر اصح عموم کے لیے ہے اور اس حکم میں اس بات کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے کہ معرفہ علم ہو یا ضمیر اور استثناء کا وجود عموم پر دلالت کی شرط نہیں ہے بلکہ صحت استثناء عموم میں کافی ہے۔

پس اس بناء پر انت منی بمنزلة هارون من موسی الا انه لا نبی بعدی عموم پر دلالت کرتا ہے اور جملہ لا نبی بعدی حمل بر معنی ہے جو الا النبوة ہے اور حمل بر معنی کا قاعدہ مشہور اور معمول بہا قواعد میں سے ہے جو فصحاء بلغاء کے کلمات نظم نثر میں عام طور پر مشتمل ہے۔

حافظ : میرا خیال ہے کہ جناب عالی ذرا گہری نظر ڈالیں تو اس طرف متوجہ ہوں گے کہ انه لا نبی بعدی جملہ خبریہ ہے اور اس کو منازل ہارونی سے مستثنی نہیں کیا جاسکتا لہذا ان چیزوں سے ہٹ کر صراحت سے علیحدگی حمل بر معنی اور حذف کلمہ نبوت کا کیا مطلب ہے؟

خیر طلب : بڑی بے لطفی کی بات ہے کہ آپ نے کچ بحثی کا راستہ اختیار کیا ہے حالانکہ آپ جیسے شریف انسان سے یہ بات کچھ بھی نہیں معلوم ہوتی ۔ اگر آپ سابق جملوں پر تھوڑا غور فرمائیں تو سمجھ میں آجائے گا کہ جملہ خبریہ کا جواب عرض ہوچکا ۔ اب آپ نے جو یہ فرمایا کہ کس لیے معنی پر حمل کیا اور ظاہری لفظ سے مطلب ادا نہیں کیا تو آپ اس کو خود بہتر جانتے ہیں اور تجاہل عارفانہ کررہے ہیں، کیونکہ علمائے علم بیان کی نظر میں یہ چیز عام ہے کہ کلام کے اختصار اور حسن بیان کے لیے کلمے کو حذف کرتے ہیں اور بلغاء و فصحاء کے فقرات و کلمات میں کثرت سے اس کی نظیر موجود ہیں جن سے آپ خود اچھی طرھ واقف ہیں۔

اس کے علاوہ ہم کو اس وقت اس تحقیق کی ضرورت ہوگی جب حدیثوں میں نبوت کا لفظ آیا ہو حالانکہ آنحضرت(ص) نے کلمہ نبوت کے ساتھ علی علیہ السلام کے لیے مکرر اس منزلت کا اثبات کیا ہے اور کبھی اختصار کلام اور حسن بیان کی غرض سے کلمہ نبوت کو حذف کر کے مقصد کا اظہار فرمایا ہے ۔ بعض اوقات میں جملہ انه لا نبی بعدی اور حذف کلمہ نبوت سے اور کسی وقت کلمہ الا النبوة کے کھلے ہوئے بیان سے حقیقت کو ثابت فرمایا چنانچہ آپ کے بزرگ علماء نے دونوں کو درج کیا ہے ۔ نمونے کے طور پر چند حدیثیں پیش کرتا ہوں تاکہ حجت تمام ہوجائے۔

محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب 70 میں ، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب 6 میں ، ابن کثیر


نے اپنی تاریخ میں عائشہ بن سعد سے، انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے رسول خدا (ص) سے ، سبط ابن جوزی نے تذکرۃ ص12 میں مسند امام احمد اور مسلم وغیرہ سے اور انہوں نے ابوبریرہ سے، امام احمد ابن حنبل نے مناقب میں ، ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی نے ---- صحاح ستہ میں سے ہیں ) خصائص العلوی میں چار حدیثیں اپنے اسناد کے ساتھ سعد بن ابی وقاص سے اور عائشہ سے اور انہوں نے اپنے باپ سے اور خطیب خوارزمی نے مناقب میں جابر ابن عبداللہ انصاری سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ص) نے علی(ع) سے فرمایا :

" اما ترـی ان ت کون منی بمنزلة هارون من موسی الا النبوة."

یعنی آیا تم راضی نہیں ہو اس پر کہ محمد سے تمہاری وہی منزلت ہو جو ہارون کو موسی سے تھی علاوہ نبوت کے)۔

اور میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی مودۃ ششم میں ایک حدیث انس بن مالک سے نقل کی ہے جس کو مکمل طور پر کل شب میں عرض کر چکا ) اس کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے :

" ولو کان بعدی نبيا لکان علی نبيا ولکن لا نبوة بعدی."

میرا خیال ہے کہ نمونے کے لیے اسی قدر کافی ہوگا تاکہ آپ حضرات مغالطہ نہ دیں بلکہ سمجھ لیں کہ مستثنی نبوت ہے نہ کہ عدم نبوت اور اس معتبر حدیث سے ثابت ہے کہ جس طرح موسی کلیم اللہ نے اپنی چالیس روز کی غیبت میں امت کا معاملہ اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑا اور ہارون کو جو تمام بنی اسرائیل سے افضل تھے اپنا خلیفہ اور وصی مقرر فرمایا تاکہ امر نبوت آپ کی عدم موجودگی میں مختل نہ ہوا پیغمبر کا بھی جن کی شریعت کامل تر، جن کے ہدایات ہمہ گیر اور جن کے قوانین روز قیامت تک باقی اور پائدار ہیں، بدرجہ اولی یہ فریضہ تھا کہ جاہل لوگوں کو ان کے حال پر نہ چھوڑیں نادان خلقت کو حیرانی میں نہ ڈالیں اور شریعت کو جہال کے ہاتھوں میں نہ دے دیں تاکہ ہر شخص اس میں اپنی منشا کے مطابق تصرفات کرے۔ ایک شخص رائے اور قیاس پر عمل کرے تو دوسرا شریعت اور طریقت کے درمیان فرق قائم کرے اور تخریب پسند عناصر کو موقع ہاتھ آئے کہ ایک خالص اور سادہ ملت کو تہتر حصوں میں تقسیم کریں۔ لہذا اس حدیث شریف میں ارشاد فرماتے ہیں کہ علی (ع) مجھ سے بمنزلہ ہارون ہیں موسی سے یعنی سارے مدارج ہارونی کو ان حضرت کے لیے ثابت فرمایا کہ من جملہ ان کے تمام صحابہ و امت پر آپ کی افضلیت اور عہدہ وزارت و خلافت پر آپ کی تعیین ہے۔ یعنی جس طرح سے ہارون کو موسی نے اپنی غیبت میں خلیفہ قرار دیا تھا علی علیہ السلام بھی میری عدم موجودگی میں میرے خلیفہ ہیں۔

حافظ : آپ نے اس حدیث کی عظمت میں جو کچھ فرمایا وہ تصور سے بالاتر ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ تھوڑا غور فرمائیں تو اس بات کی تصدیق کریں گے کہ اس حدیث میں کوئی عمومیت نہیں ہے کیونکہ یہ صرف غزوہ تبوت سے مخصوص ہے جب کہ ایک معین مدت کے لیے رسول خدا(ص) نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو اپنا خلیفہ نامزد فرمایا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ ملاحظہ ہو اسی کتاب کا ص156۔


حدیث منزلت تبوک کے علاوہ بھی کئی مرتبہ وارد ہوئی ہے

خیر طلب: آپ کا یہ فرمانا اس وقت صحیح ہوتا جب یہ حدیث صرف غزوہ تبوک میں ہی صادر ہوتا جب یہ حدیث صرف غزوہ تبوک میں ہی صادر ہوئی ہوتی، حالانکہ اس حدیث کے فقرے متعدد بار اور مختلف مقامات پر پیغمبر(ص) کی زبان مبارک سے سنے گئے ہیں، منجملہ ان کے پہلی مواخات میں جب کہ مکہ معظمہ کے اندر مہاجرین و انصار کے درمیان برادری قائم فرمائی اور دوسری مرتبہ مدینہ منورہ میں جب علی علیہ السلام کو اپنا بھائی منتخب فرمایا تو ارشاد ہوا:

" انت منی بمنزلة هرون من موسی الا انه لا نبی بعدی."

حافظ : یہ ایک عجیب سا بیان ہے کیونکہ اب تک میں نے جہاں تک دیکھا اور سنا ہے ، حدیث منزلت غزوۃ تبوک میں صادر ہوئی تھی کیونکہ پیغمبر(ص) نے علی(ع) کو اپنی جگہ پر چھوڑا جس سے آپ دل تنگ ہوئے تو آنحضرت(ص) نے ان جناب کو ان الفاظ سے تسکین دی۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے اپنے بیان میں دھوکا کھایا ہے۔

خیر طلب : نہیں مجھ کو غلط فہمی نہیں ہوئی بلکہ اس پر یقین رکھتا ہوں ۔ علاوہ علمائے شیعہ کے اتفاق کے آپ کی بھی بہت سی معتبر کتابوں میں منقول ہے۔ من جملہ ان کے (فریقین کے نزدیک مقبول القول) مسعودی نے مروج الذہب جلد دوم ص49 میں، حلبی نے سیرۃ الحلبیہ جلد دوم ص126۔ 120 میں، امام ابو عبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی ص19 میں، سبط ابن جوزی نے تذکرہ ص13،14، سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب 9، 17 میں مسند امام احمد حنبل سے، عبداللہ بن احمد نے زوائد مسند میں، اور خوارزمی نے مناقب میں اس حدیث کو نقل کیا ہے یہاں تک کہ مواخات کے علاوہ دوسرے مواقع پر بھی ایسا ہوا ہے لیکن جلسے کا وقت ان سب کو نقل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

پس آپ حضرات تصدیق فرمائیے کہ یہ حدیث شریف کوئی محدود حیثیت نہیں رکھتی۔ بلکہ اس کی عمومیت ثابت ہے کیونکہ رسول اللہ (ص) نے اس کے ذریعے سے جس موقع پر مناسب سمجھا اپنے بعد علی (ع) کی خلافت کو اس عبارت کے ساتھ مضبوط فرمایا :

" علی منی بمنزلة هارون من موسی الا انه لا نبی بعدی " چنانچہ ان موارد میں سے ایک غزوہ تبوک بھی تھا۔

حافظ : یہ کیونکر ممکن ہے کہ اصحاب رسول(ص) نے اس حدیث کو عمومی حیثیت سے سنا ہو اور علی(ع) کو خلافت کے عنوان سے پہچان لیا ہو اس کے باوجود آن حضرت(ص) کے بعد مخالفت کر کے دوسرے کی خلافت کو قبول کیا اور اس کی بیعت کی؟

خیر طلب : آپ کے جواب کے لیے میرے پاس بہت سے مطالب اور شواہد موجود ہیں۔ لیکن بہترین دلیل جو


اس موقع کے لیے مناسب ہے وہی جناب ہارون کا قضیہ ہے۔

حضرت موسی(ع) کا اپنے بھائی ہارون کو خلیفہ بنانا اور سامری کا بنی اسرائیل کو گوسالہ پرستی کا فریب دینا

آیات قرآنی کی صراحت ہے کہ حضرت موسی کلیم اللہ نے جناب ہارون کو اپنا خلیفہ اور جانشین بنایا پھر بنی اسرائیل کو جمع فرمایا ( جو بعض روایات کی بنا پر ستر ہزاز تھے) اور ان کو تاکید کی کہ حضرت ہارون کی اطاعت کریں کیونکہ وہ آپ کے خلیفہ اور جانشین ہیں اس کے بعد کوہ طور پر خدا کی مہمانی میں گئے ابھی مہینہ بھی ختم نہیں ہوا تھا کہ سامری کا فتنہ اٹھ کھڑا ہوا اور بنی اسرائیل میں اختلاف ظاہر ہوگیا سامری نے سونے کا بچھڑا بنایا اور بنی اسرائیل حضرت موسی(ع) کے ثابت الخلافت خلیفہ ہارون کو چھوڑ کر گروہ در گروہ دغاباز سامری کے گرد اکھٹا ہوگئے، ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ انہیں عقیدتمند بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے حضرت موسی (ع) کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ہارون میری غیبت میں میرے خلیفہ ہیں۔ ان کے حکم کی تعمیل کرنا اور مخالفت نہ کرنا ، ستر ہزار افراد سامری کے بہکانے سے گوسالہ پرست ہوگئے، جناب ہارون نے ہرچند فریاد کی اور ان کو اس عمل شنیع سے منع فرمایا لیکن کسی نے نہیں سنا بلکہ ان کے قتل کے درپے ہوگئے ، چنانچہ سورہ (اعراف) کی آیت نمبر149 صراحت کررہی ہے کہ جب حضرت موسی(ع) واپس تشریف لائے تو جناب ہارون نے ان سے اپنا درد دل بیان کیا کہ" إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوني وَ كادُوا يَقْتُلُونَني" یعنی ان لوگوں نے مجھ کو حقیر و ذلیل بنادیا اور ( جب میں نے ان کی مخالفت کی اور روکا تو) قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں۔ آپ حضرات کو خدا کا واسطہ ذرا تعصب سے ہٹ کے انصاف کیجئے کہ بنی اسرائیل کا یہ عمل حضرت موسی(ع) کے احکام سے سرتاپی، ان کے منصوص خلیفہ جناب ہارون کو تنہا چھوڑ دینا اور شعبدہ باز سامری کے بہکانے سے گوسالہ پرست ہوجانا ۔ کیا خلافت ہارون کے باطل ہونے اور سامری اور اس کے بچھڑے کے برحق ہونے کی دلیل بن سکتی ہے؟ آیا بنی اسرائیل کے بچھڑا پرست لوگوں کی حرکتیں اسی چیز کی دلیل قرار دی جاسکتی ہیں کہ اگر خلافت ہارون برحق ہوتی اور لوگوں نے حضرت موسی(ع) سے اس بارے میں کوئی نص سنی ہوتی تو ہرگز ان کو تنہا نہ چھوڑتے اورسامری اور اس کے گوسالے کے پیچھے نہ دوڑتے؟

آپ حضرات قطعی طور پر جانتے ہیں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے جناب ہارون قرآن مجید کے حکم سے حضرت موسی(ع) کے منصوص خلیفہ تھے ، بنی اسرائیل نے خود انہیں حضرت کی زبان سے آپ کے بارے میں کھلی ہوئی نص سنی تھی لیکن بالآخر حضرت موسی(ع) کے چلے جانے کے بعد مکار سامری کو موقع ہاتھ آیا اور اس نے سونے کا بچھڑا تیار کر کے


جان بوجھ کر قصدا بنی اسرائیل کو فریب دیا اور ان لوگوں نے بھی یہ جانتے ہوئے کہ جناب ہارون حضرت موسی(ع) کے خلیفہ و جانشین ہیں اپنی بیوقوفی یا دوسرے مقاصد کی بنا پر سامری کی پیروی کی اور جناب ہارون کو یکہ و تنہا چھوڑا دیا۔

امیرالمومنین کے حالات کی مطابقت ہارون کے ساتھ

اسی طرح وفات رسول(ص) کے بعد انہیں لوگوں نے جو یار آں حضرت(ص) سے صراحتہ اور کنایۃ سن چکے تھے کہ علی (ع) میرے خلیفہ ہیں جس طرح سے ہارون موسی کے خلیفہ تھے ، خواہش اور اقتدار کی ہوس میں ، بعض نے بنی ہاشم کی عداوت میں اور ایک گروہ نے اس کینہ و عناد اور حسد و بغض کی وجہ سے جو وہ علی(ع) کی ذات سے رکھتے تھے آپ کو چھوڑ دیا اور مخصوص حالات پیدا کئے۔ چنانچہ امام غزالی نے سرالعالمین مقالہ چہارم کے شروع میں اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اور کھل کے لکھتے ہیں کہ انہوں نے حق کو پس پشت دال دیا اور پچھلی جہالت کی طرف پلٹ(1) گئے۔ اسی جہت سے ہارون اور امیرالمومنین(ع) کے درمیان مشابہت تھی۔ چنانچہ خود آپ کے محققین علماء اور مورخین جیسے دنیوی کے مشہور قاضی ابو محمد عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ باہلی دنیوری نے الامامتہ والسیاسہ جلد اول ص14 میں سقیفہ کا قضیہ تفصیل سے لکھا ہے یہاں تک کہ کہتے ہیں جس وقت علی(ع) کے دروازے پر آگ لے گئے، جبر و تشدد کے ساتھ حضرت کو مسجد میں لائے اور کہا کہ بیعت کرو ورنہ ہم تمہاری گردن مار دیں گے، تو حضرت نے اپنے کو قبر رسول(ص) تک پہنچایا اور وہی کلمات کہے جو قرآن مجید نے موسی کے مواجہے میں حضرت ہارون کی زبان سے نقل کئے ہیں کہ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَ كادُوا يَقْتُلُونَنِي

گویا کہ اس حدیث میں پیغمبر(ص) علی(ع) کو ہارون کی شبیہہ فرمارہے ہیں تو اس کا ایک پہلو امت کو یہ بتانا بھی

ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسی(ع) کی غیبت میں جو سلوک جناب ہارون کے ساتھ کیا تھا وہی سلوک میری وفات کے بعد لوگ علی(ع) کے ساتھ کریں گے۔ لہذا علی علیہ السلام نے جس وقت امت کی زبردستی اور بازیگروں کی سیاست بازی دیکھی کہ آپ کے قتل پر بھی آمادہ ہیں تو پیغمبر(ص) کی قبر مبارک سے خطاب کرتے ہوئے وہی آیت تلاوت فرمائی جس میں خدا نے موسی(ع) کے سامنے ہارون کی فریاد کا ذکر فرمایا ہے۔

( اہل جلسہ نے اپنے اپنے سرجھکالئے اور تھوڑی دیر تک سب کے اوپر سکتے کی سی کیفیت طاری رہی)

نواب : قبلہ صاحب اگر علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کی خلافت ثابت تھی تو پیغمبر(ص) ان الفاظ اور اشارات و کنایات کے ساتھ کس لیے فرماتے تھے، صاف صاف آپ کی خلافت کا اعلان کیوں نہیں کردیا کہ فرمادیتے

-----------------

1۔ اسی کتاب کے جلسہ نہم کی طرف رجوع کیجئے جس میں بسلسلہ حدیث غدیر امام غزالی کی اصل عبارت نقل کی گئی ہے۔


علی (ع) میرے خلیفہ ہیں تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہتا۔

خیر طلب: میں نے عرض کیا ہے کہ رسول اللہ (ص) نے دونوں طریقوں سے حقیقت کا اظہار فرمایا ہے ورن خلافت کے بارے میں کھلی ہوئی حدیثیں خود آپ کی معتبر کتابوں میں بھی کثرت سے موجود ہیں ، لیکن اس طرح کے کنایات میں صراحت سے زیادہ لطافت ہوتی ہے ۔ اہل ادب جانتے ہیں کہ الکناية ابلغ من التصريح ( یعنی کنایہ تصریح سے زیادہ بلیغ ہوتا ہے۔ 12 مترجم) اور وہ بھی اس قسم کا کنایہ جس میں معانی و مطالب کی ایک دنیا پوشیدہ ہے۔

نواب : جیسا کہ آپ فرما رہے ہیں خلافت کے بارے میں ان کھلی ہوئی حدیثوں سے جو ہمارے علماء کی کتابوں میں موجود ہیں اگر پیش نظر ہوں تو ہم کو بھی مستفیض فرمائیے تاکہ حقیقت ظاہر ہوجائے اس لیے کہ ہم سے مکرر یہ بتایا گیا ہے کہ قطعا ایسی کوئی حدیث جو ان جناب کی خلافت کو واضح کرتی ہو موجود نہیں ہے۔

خیر طلب : حضرت امیرالمومنین(ع) کی خلافت پر کھلی ہوئی حدیثیں آپ کے معتبر کتابوں میں میں بہت ہیں۔ لیکن جلسے کے وقت کا لحاظ کرتے ہوئے ان میں سے چند جو اس وقت مجھ کو یاد ہیں پیش کرتا ہوں۔

حدیث یوم الدار یوم الانذار اور پیغمبر(ص) کا علی(ع) کو خلافت پر معین فرمانا

تمام احادیث سے اہم حدیث الدار ہے اس لیے کہ پہلے ہی دن جب کہ خاتم الانبیاء نے اپنی نبوت کو ظاہر فرمایا تو علی(ع) کی خلافت کا اعلان بھی فرما دیا ۔ چنانچہ (رئیس الحنابلہ) امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند جلد اول ص159-161 وص333 میں ، امام شعلبی نے تفسیر آیہ انذار میں، صدر الائمہ موفق بن احمد خوارزمی نے مناقب میں، محمد بن جویر طبری نے اسی آیت کی تفسیر میں اور تاریخ الامم جزو دوم ص217 میں مختلف طریقوں سے ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد سیم ص263 ، ص281 میں نقض العثمانیہ ابو جعفر اسکافی سے نقل کرتے ہوئے ابن اثیر نے کامل جزء دوم ص22 میں مرسل طریقے سے حافظ ابونعیم نے حلیفۃ الاولیاء میں، حمیدی نے جمع بن الصحیحین میں، بیہقی نے سنن و دلائل میں، ابوالفداء نے اپنی تاریخ جزء اول صفحہ 116 میں، حلبی نے سیرۃ الحلبیہ جزء اولی ص281 میں، اما عبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی ص6 حدیث 65 میں ، حاکم ابوعبداللہ نے مستدرک جز سیم ص123 میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب 31 میں مسند امام احمد اور تفسیر ثعلبی سے محمد بن یوسف نجی شافعی نے کفایت الطالب باب51 میں، اور آپ کے دوسرے اکابر علماء نے الفاظ و عبارات کی مختصر کمی و بیشی کے ساتھ نقل کیا ہے کہ جس وقت سورہ 26 ( شعراء ) کی آیت نمبر214 " وَ أَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ " نازل ہوئی تو رسول اللہ (ص) نے قریش میں سے چالیس نفر اشراف و رووسا اور اپنے اعزہ کو اپنے چچا جناب ابو طالب کے گھر میں دعوت


دی اور ان کے سامنے گوسفند کی ایک ران ، تھوڑی روٹی اور ایک صاع دودھ پیش فرمایا ، وہ لوگ ہنسے اور کہا کہ محمد(ص) نے تو ایک آدمی کی خوراک بھی مہیا نہیں کی ( کیونکہ ان لوگوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو تنہا ایک اونٹ کا بچہ کھاجاتے تھے) آں حضرت (ص) نے فرمایا کلوا بسم الله خدائے تعالی کے نام کے ساتھ کھاو، چنانچہ جب انہوں نے کھایا اور سیر ہوگئے تو آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ هذا ما سحرکم به الرجل محمد نے اس غذا سے تم پر جادو کیا ہے ۔ اس وقت آں حضرت(ص) ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور ان تمہیدوں کے بعد جن کو مکمل طور پر نقل کرنے سے طول ہوگا اس طرح اپنے مقصد کا اظہار فرمایا : ِ

" يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً وَ بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ خَاصَّةً وَ أَنَا أَدْعُوكُمْ إِلَى كَلِمَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَيْنِ فِي الْمِيزَانِ تَمْلِكُونَ بِهِمَا الْعَرَبَ وَ الْعَجَمَ وَتَنْقَادُ لَكُمْ بِهِمَا الْأُمَمُ وَ تَدْخُلُونَ بِهِمَا الْجَنَّةَ وَ تَنْجُونَ بِهِمَا مِنَ النَّارِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَمَنْ يُجِبْنِي إِلَى هَذَا الْأَمْرِ وَ يُؤَازِرْنِي عَلَيْهِ وَ عَلَى الْقِيَامِ بِهِ يَكُنْ أَخِي وَ وَصِيِّي وَ وَزِيرِي وَ وَارِثِي وَ خَلِيفَتِي مِنْ بَعْدِي "

(یعنی اے اولاد عبدالمطلب خدائے تعالی نے مجھ کو تمام خلقت پر بالعموم اور تمہاری طرف بالخصوص مبعوث فرمایا ہے ۔ میں تم کو ایسے دو کلموں کی طرف دعوت دیتا ہوں جو زبان پر سبک اور آسان اور ترازوے اعمال پرسنگین و گراں ہیں، تم ان دو کلموں کے کہنے سے عرب وعجم کے مالک بن جاو گے۔ ساری قومیں تمہاری مطیع و منقاد ہوں گی ان کے ذریعے سے تم جنت میں جاو گے اور جہنم سے نجات پا جاو گے اور یہ دونوں کلمے خدا کی وحدانیت اور میری رسالت کی گواہی دینا ہیں ، پس جو شخص (سب سے پہلے) اس امر میں مجھ کو لبیک کہے اور اس کام میں میری اعانت کرے وہ میرا بھائی ، میرا وزیر، میرا وارث اور میرے بعد میرا خلیفہ ہوگا)۔ اس آخری جملے کی تین بار تکرار فرمائی اور تینوں مرتبہ سوا علی (ع) کے کسی نے جواب نہیں دیا۔ آپ نے عرض کیا " انا انصرک ووزيرک يا نبی الله" ( یعنی میں آپ کی مدد اور حمایت کروں گا اے پیغمبر خدا(ص)۔)

پس آنحضرت (ص) نے ان کو خلافت کی خوشخبری دی۔ آپ دہان مبارک ان کے دہن میں ڈ الا اور فرمایا :

" ان هذا أخي و وصيي و خليفتي و وليي فيكم.

یعنی یہ علی(ع) میرے بھائی اور تمہارے درمیان میرے وصی و خلیفہ ہیں اور انہیں میں سے بعض کتابوں میں ہے کہ خود علی(ع) کو مخاطب کر کے فرمایا أنت وصيّي و خليفتي من بعدی یعنی یا علی(ع) تم میرے بعد میرے وصی اور خلیفہ ہو۔

علاوہ شیعہ اور سنی علمائے اسلام کے دوسری قوموں کے غیر مورخین نے جنہوں نے تاریخ اسلام لکھی ہے مذہبی تعصب نہ رکھنے کی وجہ سے اکیوں کہ وہ نہ سنی تھے اور نہ شیعہ) اس جلسہ دعوت کی کیفیت نقل کی ہے ۔ منجملہ ان کے انگریز مورخ اور فیلسوف توماس کا دلیل ( ٹامس کار لائل) نے جو اٹھارہویں صدی عیسوی میں یورپ کے اندر عالمگیر


شہرت کا مالک تھا اپنی مشہور کتاب میں جس کا مصریوں نے الابطال و عبادۃ المبطولہ " کے نام سے عربی ترجمہ کیا ہے خانہ جناب ابو طالب(ع) میں قریش کے جلسہ مہمانی کی تفصیل لکھتی ہے ، یہاں تک کہ لکھتا ہے ، پیغمبر(ص) کی تقریر کے بعد علی(ع) نے اپنی جگہ سے اٹھ کے ایمان کا اعلان کیا اور وہ خلافت کا بزرگ منصب ان کو حاصل ہوا" پیرس کے دار الفنون کا معلم کوسیو پول ہو ژو فرانسیس ایک مختصر رسالے میں جو اس نے حضرت خاتم النبیین(ص) کے حالات میں لکھا ہے اور وہ پیرس کے اندر سنہ1884ء میں چھپ چکا ہے ، نیز انگل----- اور ہاشم نصرانی شامی مقالہ الاسلام مطبوعہ سنہ1891ء میں صفحہ 83 سے 86 تک -- اس تعصب اور مخالفت کے جو اس کو اسلام اور مسلمانوں سے تھی۔ اور خصوصیت کے ساتھ مسٹر جان ڈیون پورٹ جو ایک ----- انصاف وہ مولف تھا، اپنی قیمتی کتاب محمد و قرآن میں روشن خیال اور پاک دلی کے ساتھ اس کا اقرار کرتا ہے کہ پیغمبر(ص) نے تبلیغ رسالت کی ابتدا ہی میں علی علیہ السلام کو اپنا بھائی ،وزیر، وصی اور خلیفہ نامزد کردیا تھا ۔ اس حدیث شریف کے علماء اور بہت سے مقامات و اوقات میں اس مقصد کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

خلافت علی(ع) کے بارے میں واضح حدیثیں

1۔ امام احمد ابن حنبل مسند میں اور میر سید علی ہمدانی شافعی مودہ القربی آخر مودت چہارم میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے حضرت علی(ع) سے فرمایا "يا علي أنت تبرئ ذمتي، و أنت خليفتي على أمتي." یعنی اے علی(ع) تم میری طرف سے برائت ذمہ کرو گے اور تم میری امت پر میرے خلیفہ ہو۔

2۔ امام احمد نے مسند میں متعدد طریقون اور متفاوت الفاظ کے ساتھ ، ابن مغازلی فقیہہ شافعی نے مناقب میں اور ثعلبی نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے علی علیہ السلام سے فرمایا :

" أنت أخي و وصيي و خليفتي و قاضي ديني."

یعنی اے علی (ع) تم میرے بھائی ، وصی ، خلیفہ، اورمیرا قرض ادا کرنے والے ہو۔

3۔ ابو القاسم حسین بن محمد ( راغب اصفہانی) نے محاضرات الادباء و محاورات الشعراء والبلغاء ( مطبوعہ مطبع عامر شرفیہ سید حسین آفندی سنہ1376ھ ، جلد دوم ص213 میں انس بن مالک سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا :

" انّ خليلى و وزيرى و خليفتى في اهلى و خير من اترك بعدى يقضى دينى و ينجز موعدى على بن ابى طالب عليه السّلام"

( یعنی در حقیقت میرے دوست ، وزیر، خلیفہ اور بہترین شخص جس کو میں اپنے بعد چھورے جاتا ہون جو میرے قرض ادا کریں گے اور میرا وعدہ وفا کریں گے ، علی ابن ابی طالب ہیں)

4۔ میر سید علی ہمدانی مودۃ القربی اوائل مودت ششم میں خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب سے نقل کرتے ہیں کہ جب پیغمبر(ص) نے اصحاب کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کیا تو فرمایا :

" هذا علی اخی فی الدنيا والآخرة و خليفتی


فی اهلی و وصی فی امتی و وارث علمی و قاضی دينی ماله منی مالی منه نفعه نفعی و ضره ضری من احبه فقد احبنی ومن ابغضه فقد ابغضنی"

( یعنی یہ علی دنیا و آخرت میں میرے بھائی ---- میرے اہل میں میرے خلیفہ، میری امت میں میرے وصی، میرے علم کے وارث اور میرے قرض کو ادا کرنے والے ہیں۔ جو حقوق انہیں مجھ سے حاصل ہیں وہی حقوق مجھے ان سے حاصل ہیں ان کا نفع میرا نفع اور ان کا نقصان میرا نقصان ہے جس نے ان کو دوست رکھا اس نے مجھ کو دوست رکھا اور جس نے ان کو دشمنی رکھا اس نے در حقیقت مجھ کو دشمن رکھا۔

5۔ اسی مودت ششم میں انس بن مالک سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ میں پہلے پیش کرچکا ہوں ، اس کے آخر میں ذکر کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے صریحا فرمایا " وهو خليفتى و وزيرى " یعنی علی(ع) میرے خلیفہ اور وزیر ہیں۔

6۔ محمد ابن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں ابوزر غفاری سے روایت کی ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا :

" يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ رَايَةُ عَلِيٍ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ وَ قَائِدِ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ والخليفة من بعدی"

( یعنی حوض (کوثر) کے کنارے میرے پاس امیرالمومنین(ع) نورانی چہرے اور ہاتھ والوں کے پیشوا اورمیرے بعد میرے خلیفہ علی(ع) کا علم آئے گا۔

7۔ بیہقی ، خطیب خوارزمی اور ابن مغازلی شافعی نے اپنے مناقب میں نقل کیا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے علی علیہ السلام سے فرمایا :

" لا ينبغى ان اذهب الّا و انت خليفتى و أنت أوْلى بالمؤمنين من بعدي"

( یعنی یہ درست نہیں ہے کہ میں لوگوں کے درمیان سے اٹھ جاوں بغیر اس کے کہ تم (اے علی(ع)) میرے خلیفہ اورمیرے بعد تمام مومنین سے اولی ہو۔)

8۔ امام ابو عبدالرحمن نسائی نے جو ائمہ صحاح ستہ میں سے ہیں خصائص العلوی ضمن حدیث نمبر23 میں جس نے ابن عباس سے تفصیل کے ساتھ حضرت علی(ع) کے مناقب نقل کئے ہیں، درجات ہارونی کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے علی سے فرمایا " انت خليفتی يعنی فی کل مومن من بعدی " تم میرے خلیفہ ہو یعنی ہر مومن پر میرے بعد۔

بدیہی بات ہے کہ اس جملے اور آخری فقرے سے علی علیہ السلام کو سارے منازل و مراتب ہارونی عطا کرنے کے بعد آپ کی امارت پر نص جلی فرمائی ہے۔ یعنی تم اے علی میری امت اور تمام مومنین میں میرے بعد میرے خلیفہ ہو۔

اس حدیث اور دوسری مروی احادیث کے اندر پیغمبر(ص) کے بیان میں لفظ من یا من بیانیہ ہے یعنی میری موت کے بعد، یا من ابتدائیہ ہے یعنی تم میری امت میں میری وفات کے اول وقت سے میرے خلیفہ ہو۔ بہر حال دونوں صورتوں میں ان جملوں سے حضرت علی(ع) کی خلافت بلافصل ثابت اور متحقق ہوگئی کہ حضرت نص جلی و نص خفی کے ساتھ رسول اللہ (ص) کے بعد تمام امت پر خلیفہ الرسول(ص) تھے۔

9۔ حدیث خلقت ہے جو مختلف طریقوں سے نقل ہوئی ہے، من جملہ ان کے امام احمد ابن حنبل مسند میں،


میر سید علی ہمدانی مودۃ القربی میں ابن مغازلی شافعی مناقب میں اور دیلمی فردوس میں مختصر تفاوت الفاظ کے ساتھ سلسلہ روایات و اسناد صحیحہ سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا :

" خلقت أنا و علي من نور واحد قبل أن خلق اللّه آدم (عليه السّلام) بأربعة آلاف عام، فركّب ذلك فيه، و لم يزل في شي ء واحد حتى افترقنا في صلب عبد المطلب ففی النبوة و فی علی الخلافة"

( یعنی میں اور علی(ع) دونوں خلقت آدم(ع) سے چودہ ہزار سال پہلے ایک نور سے پیدا کئے گئے ، آدم(ع) کی پیدائش کے بعد خدا نے اس نور کو ان کی صلب میں قرار دیا پس ہم ہمیشہ بالکل ایک رہے یہاں تک کہ عبدالمطلب کے صلب میں ایک دوسرے سے جدا ہوئے چنانچہ مجھ میں نبوت اور علی میں خلافت آئی ۔)

10۔ حافظ ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی سنہ313ہجری کتاب الولایۃ میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ(ص) نے اوائل خطبہ غدیر میں فرمایا :

"و قد أمرني جبرائيل عن ربي أن أقوم في هذا المشهد و أعلم كل أبيض و أسود أن علي بن أبي طالب أخي و وصيي و خليفتي و الإمام بعدي "

پھر فرمایا " معاشر الناس ذلك فإن الله قد نصبه لكم ول ي ا إماما و فرض طاعته على كل أحد ماض حكمه جائز قوله ملعون من خالفه مرحوم من صدقه"

(یعنی جبرئیل نے پروردگار کی طرف سے مجھ کو حکم دیا کہ اس مقام پر ٹھہرجاوں اور ہر سفید و سیاہ کو آگاہ کردوں کہ علی بن ابی طالب میرے بھائی میرے وصی ، میرے خلیفہ اورمیرے بعد امام ہیں اے جماعت مردم خدا نے تم پر علی کو ولی و اولی بہ تصرف) اور امام مقرر فرمایا اور ان کی، اطاعت ہر فرد پر واجب کی، ان کا حکم نافذ ہے اور ان کا قول صحیح ہے۔ ملعون ہے وہ شخص جو ان کی مخالفت کرے اور خدا کا رحم ہے اس پر جو ان کی تصدیق کرے)

11۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ میں مناقب احمد سے اور وہ ابن عباس خیر امت) سے ایک روایت نقل کرتے ہیں جو علاوہ نام خلافت کے ان حضرت کے بہت سے مخصوص صفات پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ایک الگر الگ آپ کے مقام خلافت کے اثبات پر ایک قرینہ ہے لہذا آپ حضرات کی اجازت سے پوری حدیث پیش کرتا ہوں تاکہ حجت تمام ہو جائے اور سب صاحب سمجھ لیں کہ خاتم الانبیاء(ص) کی منزل رسالت کے بعد علی علیہ السلام کا مرتبہ تمام مقامات سے بالاتر ہے۔ خلاصہ یہ کہ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا :

" يا علي أنت صاحب حوضي ، و صاحب لوائي، و منجز عداتي و حبيب قلبي، و وارث علمي و أنت مستودع مواريث الأنبياء، و أنت أمين اللّه في أرضه، و أنت حجة اللّه على بريّته، و أنت ركن الإيمان، وعمود الاسلام و أنت مصباح الدجى و منار الهدى، و العلم المرفوع لأهل الدين، یا علی من تبعك نجا و من تخلف عنك هلك، و أنت الطريق الواضح، و أنت الصراط المستقيم، و أنت قائد الغرّ المحجّلين، و أنت يعسوب الدين، و أنت مولى


من أنا مولاه، و أنا مولى كل مؤمن و مؤمنة، لا يحبّك إلا طاهر الولادة و لا يبغضك إلا خبيث الولادة، و ما عرج بي إلى السماء و كلّمني ربي إلا قال لي: يا محمّد أقرئ عليّا مني السلام، و عرّفه أنه إمام أوليائي و نور أهل طاعتي، فهنيئا لك هذه الكرامة يا علي."

( یعنی اے علی(ع) تم میرے حوض کے مالک، میرے علم کے حامل، میرے دلی دوست، میرے وصی، میرے علم کے وارث اورمیرے خلیفہ ہو تم مجھ سے قبل کے سارے انبیاء کی میراثوں کے امانت دار ہو، تم زمین پر خدا کے امین اور تمام مخلوق پر اللہ کی حجت ہو، تم ایمان کے رکن اور اسلام کے محافظ ہو، تم ظلمت کے چراغ، ہدایت کے نور اور اہل دنیا کے لیے بلند کئے ہوئے علم ہو۔ اے علی (ع) جو تمہاری پیروی کرے وہ نجات یافتہ ہے اور جو شخص تم سے روگردانی کرنے وہ ہلاک ہونے والا ہے، تم راہ روشن اور صراط مستقیم ہو، تم سفید و سیاہ چہرے والوں کے پیشوا اور مومنین کے سلطان ہو۔ تم ہر اس شخص کے مولا و آقا ہو جس کا میں ہولا و آقا ہوں اور می ہر مومن و مومنہ کا مولا و آقا ہوں تم کو وہی دوست رکھتا ہے جو حلال زادہ ہے اور تم کو وہی شخص دشمن رکھتا ہے جو حرام زادہ ہے۔ خدا مجھ کو آسمان پر نہیں لے گیا اور مجھ سے کلام نہیں کیا لیکن یہ کہ فرمایا اے محمد(ص) علی(ع) کو میرا سلام پہنچاو اور ان سے بتا دو کہ وہ میرے دوستوں کے امام اورمیرے فرمانبرداروں کے نور ہیں۔ پھر آں حضرت نے فرمایا کہ مبارک ہو تم کو یہ کرامت یا علی(ع)۔)

12۔ ابو الموید موفق الدین اخطب خطباء خوارزمی نے کتاب فضائل امیرالمومنین(ع) ( طبع سنہ1313 ہجری) ص240 میں انیسویں فصل کے ضمن میں اپنے اسناد کے ساتھ حضرت خاتم الانبیاء(ص) سے نقل کیا ہے کہ فرمایا ۔ میں جس وقت معراج میں سدرۃ المنتہی پر پہنچا تو خطاب ہوا کہ اے محمد(ص) تم نے لوگوں کی آزمایش کی تو کس شخص کو سب سے زیادہ اپنا فرمانبردار پایا: میں نے عرض کیا علی(ع) کو "صَدَقْتَ يَا مُحَمَّدُ " ارشاد ہوا تم نے سچ کہا اے محمد(ص)، پھر فرمایا :

" فَهَلِ اتَّخَذْتَ لِنَفْسِكَ خَلِيفَةً يُؤَدِّي عَنْكَ وَ يُعَلِّمُ عِبَادِي مِنْ كِتَابِي مَا لَا يَعْلَمُونَ قَالَ قُلْتُ اخْتَرْ لِي قَالَ قَدِ اخْتَرْتُ لَكَ عَلِيّاً فَاتَّخِذْهُ لِنَفْسِكَ خَلِيفَةً وَ وَصِيّاً وَ تجليه عِلْمِي وَ حِلْمِي وَ هُوَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ حَقّاً لَمْ يَنَلْهَا أَحَدٌ قَبْلَهُ وَ لَا أَحَدٌ بَعْدَهُ."

(یعنی آیا تم نے اپنے لیے کوئی خلیفہ منتخب کیا ہے جو تمہارے مقاصد کو لوگوں تک پہنچائے اور میری کتاب میں سے میرے بندوں کو ان باتوں کیتعلیم دے جو ان کو نہیں معلوم ہیں؟ میں نے عرض کیا پروردگار تو جس کو انتخاب فرمائے اسی کو میں بھی منتخب کرتا ہوں۔ خطاب ہوا کہ میں نے تمہارے لیے علی(ع) کو منتخب کیا۔ پس ان کو تمہارا خلیفہ اور وصی قرار دیتا ہوں اور ان کو اپنے علم و حلم سے آراستہ کیا۔ وہ حقیقی امیرالمومنین ہیں کہ پہلے والوں میں سے اور بعد والوں میں سے کوئی شخص اس منزلت پر فائز نہیں ہوسکتا۔)


اس طرح کی حدیثیں آپ کی معتبر کتابوں میں بہت ہیں لیکن جتنی اس وقت مجھ کو یاد تھیں وہ یہ نے پیش کر دیں تاکہ جناب حافظ صاحب یہ جان لیں کہ میں شاخ و برگ کا اضافہ نہیں کرتا ہوں بلکہ اصل واقعہ اور حقیقت بیان کرتا ہوں۔ جیسا کہ خود آپ کے بعض اںصاف پسند اکابر علماء نے بھی اس مطلب کی تصدیق کی ہے۔ جیسے نظا بصری چنانچہ صلاح الدین صفوی نے وافی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ضمن الف ذیل حالات ابراہیم بن سیاد بن ہانی بصری معروف بہ نظام معتزلی میں کہا ہے کہ :

"نصّ النبيّ صلّى اللّه عليه و آله و سلّم على انّ الإمام عليّ و عيّنه و عرفت الصحابة ذلك و لكنّه كتمه عمر لأجل أبي بكر رضي اللّه عنهما"

( یعنی رسول اللہ (ص) نے علی (ع) کی امامت پر نص فرمائی ہے اور ان کو امام معین فرمایا ہے ، اور صحابہ بھی اس بات سے اچھی طرح واقف تھے لیکن عمر نے ابوبکر کی خاطر علی کی امامت و خلافت پر پردھ دالا۔

افسوس ہے کہ ہم نے رسول (ص) کا زمانہ نہیں دیکھا ہے لیکن آج جب ہم حق کا راستہ ڈھونڈھنا چاہتے ہیں تو مجبور ہیں کہ آیات قرآن اور متفق علیہ فریقین صحیح و صریح حدیثوں کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں قطعی طور پر جو ذات خدا کو محبوب تھی اور آیات قرآن مجید اور کثیر و متواتر احادیث رسول(ص) کے دلائل سے جس کو علم و فضل میں مقدم اور ساری امت سے افضل اور برتر ثابت کیا گیا ہے، ہم بھی بجا طور پر اس کی پیروی اور اطاعت کرتے ہیں۔

آپ ہی کی معتبر کتابوں میں جو حدیثیں درج ہیں ان میں بہت سے مقامات پر صراحت کے ساتھ خلافت و ولایت اور وصایت کے الفاظ آئے ہیں، اس کے علاوہ چونکہ علی علیہ السلام خصائص و فضائل کے مجموعہ تھے۔ جیسا کہ گزشتہ شبوں میں ہم نے کچھ اشارے کئے ہیں کہ آپ سوا نبوت خاصہ کے پیغمبر خاتم الانبیاء کے ساتھ تمام خصوصیات میں شریک اور ساری امت سے افضل تھے اور آیات قرآنیہ اور بکثرت اخبار متواترہ کے مطابق افراد بشر میں سے کوئی شخص ان بزرگوار کے فضائل و کمالات میں سے عشر عشیر بلکہ ہزار میں سے ایک پر بھی فائز نہیں ہے جیسا کہ خطیب خوارزمی نے مناقب میں بروایت ابن عباس جمہور سے ، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں، سبط ابن جوزی نے تذکرہ میں، ابن صباغ مالکی نے فصول المہمہ میں، سلیان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں اور میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی مودت پنجم میں خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب سےنقل کیا ہے اور سب نے الفاظ کے مختصر پس و پیش کے ساتھ لکھا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا :

" لو أنّ الرّياض أقلام، و البحر مداد، و الجنّ حسّاب، و الإنس كتاب، ما أحصوا فضائل عليّ بن أبي طالب عليه السلام."

( یعنی اگر سب درخت قلم بن جائیں ۔ سمندر روشنائی ہوجائے سارے جنات حساب کریں اور کلی انسان لکھنے والے ہوں جب بھی علی ابن ابی طالب(ع) کے فضائل شمار نہیں کرسکتے ۔ کیا خوب کہا ہے فارسی کے شاعر نے

کتاب فضل ترا آب بہر کافی نیست کہ تر کنی سر انگشت و صفحہ بشماری

لہذا حضرت منصب خلافت اور جانشینی رسول (ص) کے لیے سب سے بڑھ کر سزاوار اور سب سے زیادہ حقدار تھے۔


شیخ صاحب پھر بھی بولتے ہیں

شیخ عبدالسلام:( حافظ محمد رشید صاحب کی طرف رخ کر کے کہا) اجازت دیجئے کہ مختصر طور پر میں بھی کچھ باتیں پیش کروں اور آپ بھی تھوڑی دیر دم لے لیں ( پھر میری طرف مخاطب ہوئے کہ) جناب ہم لوگ مولانا علی کرم اللہ وجہہ کے فضائل کے ہرگز منکر نہیں ہیں لیکن صرف انہیں حضرت پر انحصار کردینا نا معقول بات ہے کیونکہ پیغمبر(ص) خاص صحابہ یعنی خلفائے راشد رضی اللہ عنہم میں سے ہر ایک صاحب فضائل تھا اور سب کے سب آپس میں برابر تھے آپ چونکہ یک رخی گفتگو کررہے ہیں جس سے ممکن ہے کہ حاضر و غائب حضرات پر حقیقت مشتبہ ہوجائے اور وہ یہ سمجھیں کہ جو کچھ آپ فرمارہے ہیں وہی درست ہے لہذا اجازت دیجئے کہ ان حضرات کے فضائل میں جو احادیث ہیں کچھ ان میں سے بھی بیان کردوں تاکہ حق بے نقاب ہوجائے۔

خیر طلب : ہم خاص طور پر اشخاص کی طرف توجہ نہیں رکھتے بلکہ عقل و علم اور منطق کے پابند ہیں۔ ہم خود سے یک رخی گفتگو نہیں کرتے قرآنی آیتیں اور فریقیں کی متفق علیہ صحیح و صریح حدیثیں ہم کو یک طرفہ پتہ دے رہی ہیں۔ البتہ صحابہ کے بارے میں بھی خدا گواہ ہے کہ جاہلانہ محبت اور دشمنی نہیں رکھتا میں نے ہرگز ایک طرفہ تعصب اختیار نہیں کیا اور نہ کروں گا اور حضرات حاضرین جلسہ سے بھی درخواست ہے کہ جس جگہ پر میرا کوئی تعصب دیکھیں یا کوئی ایسی بات سنیں جو عقل و برہان اور منطق کے مطابق نہ ہو تو مہربانی کر کے توجہ دلا دیں ممنوں ہوں گا۔

یہاں فضیلت صحابہ سے انکار نہیں لیکن افضل کا انتخاب ہونا چاہیئے

البتہ یہ بالکل درست ہے کہ متفق علیہ اور مقبول الفریقین احادیث کو بیان کیجئے میں جان و دل سے قبول کروں گا کیونکہ میں نیکوکار پاک صحابہ کی فضلیت سے انکار نہیں کرتا۔ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر کسی فضیلت کا حامل ہو لیکن ضرورت تو اس کی ہے کہ ایسی ہستی تلاش کی جائے جو فریقین ( سنی شیعہ) کے نزدیک ساری امت سے افضل ثابت ہو، اس لیے کہ ہماری بحث صاحب فضل کے بارے میں نہیں ہے، کیونکہ فضلاء بہت ہیں بلکہ یہ پتہ لگانا ضروری ہے کہ رسول اکرم(ص) کے بعد کون شخص تمام امت سے افضل تھا تاکہ ہم اس کو عقل و نقل کی روشنی میں مقدم سمجھیں اور اسی کی پیروی کریں۔

شیخ : یہ تو آپ خواہ مخواہ کی قید لگا رہے ہیں کیونکہ آپ کی کتابوں میں تو ایک حدیث بھی خلفاء کے فضائل میں موجود نہیں ہے لہذا ہم متفق علیہ احادیث کہاں سے پیش کرسکتے ہیں۔


خیر طلب : اولا یہ اعتراج تو خود آپ ہی کی طرف پلٹتا ہے کہ پہلی شب کو بغیر مطالعہ کئے ہوئے کیوں بات چیت کی۔ اگر آپ کو یاد ہو تو شب اول جناب حافظ صاحب ہی نے یہ شرط رکھی تھی کہ مباحثے کے دوران میں ہمارا استدلال قرآن مجید کے آیات اور فریقین کے متفق علیہ احادیث سے ہوگا، میں بھی چونکہ آپ کی معتبر کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کرچکا تھا لہذا اس کو قبول کر لیا۔ آپ اورسارے حاضرین جلسہ گواہ ہیں کہ پہلی رات سے اب تک میں اس قرار داد سے الگ نہیں ہوا اور ثبوت میں صرف قرآن مجید کی آیتوں اور آپ کے موثق علماء کی معتبر کتابوں سے صحیح و اصریح احادیث ہی کو پیش کرتا رہا ہوں اور آئندہ جس وقت تک یہجلسے قائم رہیں گے اور آپ حضرات کی ملاقات سے مشرف ہوتا رہوں گا انشاء اللہ اس معاہدے سے باہر نہ جاوں گا۔ ثانیا جس وقت آپ نے یہ شرط معین کی تھی تو اس پر غور نہیں کیا تھا کہ ایک وقت خود ہی اسی مصیبت میں پھنس جائیے گا؟ پھر بھی میں اس قرارداد کو سخت گیری کا بہانہ نہیں بناتا ہوں، میں حاضر ہوں کہ آپ کی ایک طرفہ صحیح اور صریح حدیثوں کو جو گھڑی ہوئی نہ ہوں اور عقلی و نقلی دلائل کے موافق ہوں سنوں اور پھر ہم اور آپ مل کر انصاف کے ساتھ حق فیصلہ کریں، چنانچہ اگر حضرت علی علیہ السلام کی کثرت فضائل سے تقابل ہوجائے گا تو ہم ماں لیں گے۔

شیخ صاحب : نصوص خلافت کے سلسلے میں آپ نے حدیثیں نقل کیں لیکن اس سے غافل رہے کہ اس قسم کی احادیث خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے بہت آئی ہے۔

خیر طلب : اس بات کا لحاظ رکھتے ہوئے کہ خود آپ کے اکابر علماء جیسے ذہبی ، سیوطی اور ابن ابی الحدید وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ بنی امیہ اور ابوبکر کے ماننے والوں نے ابوبکر کے فضائل میں کثرت سے حدیثیں گھڑی ہیں ، نمونے کے طور پر جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے ان بہت میں سے کوئی ایک حدیث نقل فرمائیے تاکہ متعصب اور غیر متعصب فیصلہ کرنے والے اس پر فیصلہ دیں۔

فضیلت ابوبکر میں نقل حدیث اور اس کا جواب کہ یہ وضعی ہے

شیخ : ایک معتبر حدیث عمر بن ابراہیم بن خالد سے وہ عیسی بن علی بن عبداللہ بن عباسی سے وہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا عباس سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے اس بزرگوار سے فرمایا :

" يا عمی ان الله جعل ابا بکر خليفتی علی دين الله فاسمعوا له و اطيعوا تفلحوا "

( یعنی اے چچا در حقیقت خدائے تعالی نے ابوبکر کو اللہ کے دین پر میرا خلیفہ بنایا ہے پس ان کی بات سنو اور اطاعت کرو تاکہ نجات پاو۔)

خیر طلب : اس سے قطع نظر کہ یہ حدیث یک طرفہ ہے اور ہمارا معاہدہ یہ نہیں تھا کہ ایسی حدیثوں سے استدلال


کریں، یہی یک طرف حدیث اگر مردود نہ ہوتی تو ہم اس کے بارے میں بحث کرتے۔

شیخ : کس طرح مردود ہے ؟ آپ سبھی مطالب کو زبانی باتوں سے ثابت کرنا چاہتیے ہیں۔

خیر طلب : آپ کو دھوکا ہوا ہے۔ ہم لفاظی کرنے والے نہیں ہیں بلکہ صاحبان عمل ہیں۔ اس حدیث کو ہم نے رد نہیں کیا ہے بلکہ خود آپ کے بڑے بڑے علماء نے رد کیا ہے، اس لیے کہ اس کے راوی ان کی نظر میں سخت جھوٹے اور جعل ساز ہیں اور اسی وجہ سے اس کو باطل اور درجہ اعتبار سے ساقط سمجھتے ہیں، چنانچہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں ابراہیم بن خالد کی کیفیت لکھتے ہوئے اور خطیب بغدادی نے عمر بن ابراہیم کا حال درج کرتے ہوئے ( اپنی تاریخ میں تحریر کیا ہے کہ انه کذاب ( یعنی یہ بہت بڑا جھوٹا ہے 12 مترجم) پس کذاب اور دروغگو شخص کی حدیث باطل، مردود اور ناقابل قبول ہوا کرتی ہے۔

شیخ : اخبار صحیحہ میں ثقہ صحابی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرئیل پیغمبر(ص) پر نازل ہوئے اور عرض کیا کہ خدا آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں ابوبکر سے راضی ہوں ان سے پوچھو کہ آیا وہ بھی مجھ سے راضی ہیں یا نہیں؟

خیر طلب : یہ بہت ضروری چیز ہے کہ مقدمے کے طور پر ہم اس بات کو سمجھ لیں کہ نقل احادیث میں ہم کو بہت محتاط رہنا چاہیئے تاکہ صاحبان عقل کے اعتراض سے محفوظ رہیں ضمنا آپ کی توجہ یاد دہانی کے لیے ایک حدیث نقل کرتا ہوں جو آپ کے اکابر علماء جیسے ابن حجر نے اصابہ میں اور ابن عبدالبر نے استیعاب میں خود ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا :

" کثرت علی الکذاب و من کذب علی متعمدا فقد تبوع مقعده من النار کما حدثتم بحديث منی فاعرضوه علی کتاب الله."

( یعنی بہت ہوگئے مجھ پرجھوٹ باندھنے والے اور جو شخص مجھ پر عمدا جھوٹ بولے اس کی قیام گاہ آتش جہنم ہے ، جس وقت تمہارے سامنے میری طرف سے کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کو قرآن کے سامنے پیش کرو۔

یعنی اگر مطابق قرآن ہوتو قبول کرو ورنہ رد کردو۔ نیز فریقین کی متفق علیہ حدیث ہے جیسا کہ امام فخرالدین رازی نے بھی تفسیر کبیر جلد سیم ص371 میں آنحضرت(ص) سے نقل کیا ہے کہ فرمایا :

"إذا روي عني حديث فاعرضوه على كتاب الله تعالى فإن وافقه فاقبلوه و إلا فردوه."

(یعنی جس وقت تمہارے لیے میری طرف سے کوئی حدیث نقل کی جائے تو اس کو کتاب خدا پر پیش کرو۔ پس اگر وہ قرآن کے موافق ہو تو قبول کر دو ورنہ رد کردو) چنانچہ آپ کے اکابر علماء کی کتابوں میں وارد ہے کہ رسول اللہ (ص) کی زبانی حدیثیں گھڑنے والوں میں یہی ابوہریرہ مردود بھی تھے جن سے آپ نے یہ حدیث نقل کی ہے اور بلا وجہ ان کو ثقہ بتایا ہے۔

شیخ : آپ کے ایسے جلیل القدر مبلغ و عالم اولاد رسول (ص) سے یہ امید نہیں تھی کہ اصحاب پیغمبر(ص) کی نسبت طعن اور رد کیجئے گا۔

خیر طلب : اول تو آپ جانتے ہیں کہ صحابی کی لفظ سے مجھ کو مرعوب کریں حالانکہ یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ صرف صحابی ہونے کو فضل و شرف کا ضامن سمجھتے ہیں، یقینا رسول (ص) کی مصاحبت موثر اورفضل و شرف کا باعث


ہے، لیکن اس شرط سے کہ مصاحب آں حضرت(ص) کا مطیع و فرمانبردار بھی ہو۔ لیکن اگر آں حضرت(ص) کے احکام و ہدایات کے خلاف عمل کرے اور ہوا و ہوس کا تابع ہو تو قطعا مردود اور کبھی ملعون اور نار حجیم و عذاب الیم کا مستحق ہوگا۔ کیا وہ منافقین جن کی بد کرداری کا شہادت اور جنہمی ہونے کی خبر قرآن مجید کی آیتیں دے رہی ہیں رسول کے مصاحبین میں سے نہیں تھے کہ ملعون اور دوزخی قرار پائے ۔ پس آپ تعجب نہ کریں کہ ابو ہریرہ بھی انہیں مردود و ملعون اور جنہم کے مستحق لوگوں میں سے ہوں۔

شیخ : اول تو ان کا مردود ہونا ثابت نہیں ہے اور اگر فرض کر لیا جائے کہ بعض کے نزدیک مردود بھی ہوں ، تو ان کے جہنمی ہونے پر کیا دلیل ہے؟ کیا ہر مردود ، ملعون اور دوزخی ہوتا ہے؟ ملعون تو وہ شخص ہے جو قرآن کریم کی نص صریح یا پیغمبر(ص) کے ارشاد سے ملعون ہو۔

ابوہریرہ کی کیفیت اور ان کی مذمت

خیر طلب : ابوہریرہ کے مردود ہونے پر دلائل بکثرت اور اظہر من الشمس ہیں جن کی خود آپ کے اکابر علماء نے بھی تصدیق کی ہے من جملہ ان کے دلائل مردودیت کے یہ ہے کہ بقول رسول(ص) ملعون ابن ملعون شخص فرزند ابی سفیان کے ساتھیوں اور منافقین اور دورنگے آدمیوں میں سے تھے کیونکہ صفین میں بعض بعض روز نماز تو امیرالمومنین (ع) ے پیچھے پڑھ لیتے تھے لیکن تر لقمے معاویہ کے مرغن دستر خوان سے اڑاتے تھے ، چنانچہ زمخشری نے ربیع الابرار ، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں اور دوسروں نے بھی نقل کیا ہے کہ جب ان سے اس دوزخی سیاست کا سبب پوچھا جاتا تھا تو کہتے تھے :

"مضيرة (1) معاوية أدسم و أطيب و الصلاة خلف علي أفضل."

(یعنی معاویہ کا مضیرہ اور کھانا کافی روغن دار ہوتا ہے اور نماز علی(ع) کے پیچھے افضل ہے) یہاں تک کہ شیخ المضیرہ کے نام سے مشہور ہوگئے۔

علی (ع) حق اور قرآن سے جدا نہیں ہیں

حالانکہ ( علاوہ اجماع علمائے شیعہ کے) خود آپ کے علماء جیسے شیخ الاسلام حموینی نے فرائد باب37 میں خوارزمی نے مناقب میں، طبرانی نے اوسط میں، گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں، ابن قتیبہ نے الامامہ والسیاسہ جلد اول ص68 میں، امام احمد بن حنبل نے مسندمیں ، سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں، ابو یعلی نے مسند میں، متقی ہندی نے کنزالعمال

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ مضیرہ ایک کھانا جو دودھ کے ساتھ تیار ہوتا ہے اور یہ معاویہ کی مخصوص غذا تھی۔


جلد ششم ص157 میں، سعید بن منصور نے سنن میں، خطیب بغداد نے اپنی تاریخ جلد 4 ص32 میں، حافظ ابن مردویہ نے مناقب میں، سمعانی نے فضائل الصحابہ میں، امام فخر رازی نے تفسیر کبیر جلد اول ص111 میں، ابو القاسم حسین بن محمد ( راغب اصفہانی ) نے محاضرات الادباء جلد دوم ص113 میں اور دوسرے علماء نے بھی انہیں ابوہریرہ وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا :

" عَلِيٌ مَعَ الْحَقِ وَ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ يَدُورُ مَعَهُ حَيْثُمَا دَارَ."

( یعنی علی(ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق علی(ع) کے ساتھ ہے جو آپ کے ساتھ ہی ساتھ مڑتا ہے) اس کے بعد بھی یہ علی(ع) کو چھوڑ کے معاویہ کے گرد و پیش چکر لگائیں تو کیا مردود نہیں ہیں ؟ جو شخص

معاویہ کے افعال شنیعہ اور اس کا ظلم و ستم دیکھ کے خاموش رہے بلکہ مزید بر آں دنیاوی منافع حاصل کرنے اپنا پیٹ بھرنے اور جاہ و نصب تک پہنچنے کے لیے ان کا حاشنی نشین اور مددگار ہو تو کیا وہ مردود نہیں ہے؟

وہ ابو ہریرہ جو خود نقل کرتے ہیں جیسا کہ آپ ہی کے اکابر علماء جیسے حاکم نیشاپوری نے مستدرک جلد سوم ص124 میں امام احمد حنبل نے مسند میں، طبرانی نے اوسط میں، ابن مغازلی فقیہ شافعی نے مناقب میں، متقی ہندی نے کنزالعمال جلد ششم ص153 میں، شیخ الاسلام حموینی نے فرائد میں ابن حجر مکی نے صواعق ص74،75 میں، سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء ص116 میں، امام ابو عبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی میں اور دوسروں نے ان سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا :

" علي مع القرآن و القرآن مع علي لا يفترقان حتى يردا علي الحوض عليّ منّي و أنا من عليّ من سبّه فقد سبّني ، و من سبّني فقد سبّ اللّه"

( یعنی علی قرآن کے ساتھ اور قرآن علی(ع) کے ساتھ ہے ۔ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض (کوثر) پر میرے پاس آئیں علی(ع) مجھ سے اور میں علی(ع) سے ہوں ، جو شخص علی(ع) کو سب وشتم کرے اس نے مجھ کو سب وشتم کیا اور جس نے مجھ کو سب وشتم کیا اس نے خدا کو سب وشتم کیا( اور ساتھ ہی خود دیکھتے ہیں کہ معاویہ با اعلان اور کھلم کھلا بالائے منبر اور نماز جمعہ کے خطبے میں علی(ع) اور حسن و حسین علیہم السلام پر لعنت کرتا ہے نیز حکم دیتا ہے کہ تمام منبروں اور جلسوں میں ان حضرت پر لعنت کریں، تو جو شخص ایسے ملاعین کا ہم پلہ و ہم نوالہ ہو۔ ان کے عمل سے خوش ہو۔ پھر ان لوگوں کے ساتھ رہنے سہنے کے علاوہ حدیثیں گھڑ کے ان کی مدد کرے اور لوگوں کو ان حضرت پر لعنت کرنے کے لیے برانگیختہ اور مجبور کرے کیا وہ مردود نہیں ہے؟

شیخ : آیا یہ عقل میں آتا ہے کہ ہم ان تہمتوں کو قبول کر لیں کہ ایک پاک دل صحابی حدیثیں وضع کر کے لوگوں کو علی کرم اللہ وجہہ پر لعنت اور سب وشتم کے لیے مجبور کرے ؟ کیا اس قسم کی تہمتیں شیعوں کی تراشی ہوئی نہیں ہیں؟

خیر طلب : یقینا عقل میں نہیں آتا کہ ایک پاک دل صحابی ایسی حرکت کرے گا۔ اور اگر صحابہ میں سے کسی فرد نے ایسا کیا ہے تو یہ قطعی دلیل ہے اس بات پر کہ اس کا دل پاک نہیں تھا اور وہ حتمی طور پر منافق و مردود اور ملعون ہوگا۔ اس لیے کہ خدا و رسول(ص) کو سب وشتم کرنے والے قطعا مردود و ملعون اور جہنمی ہے ، کیونکہ اس پر بکثرت احادیث کی نص


موجود ہے جیسا کہ اجماع علمائے شیعہ کے علاوہ خود آپ کے اکابر علماء نے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا جو شخص علی(ع) کو سب کرے اس نے مجھ کو اور میرے خدا کو سب کیا لیکن آپ نے جو یہ فرمایا کہ اس قسم کی تمہتیں شیعوں کی تراشی ہوئی ہیں تو غالبا آپ نے دھوکے میں یہ سمجھ لیا کہ اپنے کسی عالم سے گفتگو کر رہے ہیں جو اپنا مطلب نکالنے کے لیے جھوٹ کے پل باندھتے اور پاک نفس شیعوں پر تہمتیں عائد کر کے بے خبر عوام کو گمراہ کرتے ہیں اور روز قیامت خدا کے سامنے بازپرسی ہونے کا کوئی خوف نہیں رکھتے۔

شیخ : حقیقتا جب آپ اصحاب رسول(ص) پر حدیثیں وضع کرنے کی تہمت لگاتے ہیں تو ہم کیا امید کریں کہ اہل اسلام کے ممتاز افراد اور بزرگ علمائے اہل سنت والجماعت کی طرف بری نسبت نہ دیجئے گا۔ آپ شیعہ لوگوں کی سب سے بڑی ہنرمندی بزرگوں کو برا الزام ، تہمت اور گالی دینا ہے۔

خیر طلب : آپ نے بہت زیادتی کی جو ہماری طرف ایسی نسبتیں دیں کیونکہ چودہ سو برسوں کی ( سنی اور شیعوں کی) اسلامی تاریخیں آپ کی گفتگو کے خلاف گواہی دے رہی ہیں۔

مخالفین کے مقابلے میں شیعوں کی مظلومیت

اسلام کے صدر اول اور امویوں کے زمانہ اقتدار سے لے کر اس وقت تک برابر ائمہ معصومین و اہل بیت طاہرین علیہم السلام کی بزرگ ہستیوں اور ان کے مظلوم شیعوں کو فحش باتیں کہنا، لعنت کرنا، گالی دینا اور تہمت لگانا ( سنی یعنی امویوں کی سنت وجماعت کے پیرو( سیاسی شعبدہ باز مسلمانوں کا مخصوص طریقہ رہا ہے اور اب تک آپ کے علماء میں سے نمایاں شخصیتیں اپنی معتبر کتابوں میں بے خبر عوام کو بہکانے اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ و جدائی ڈالنے کے لیے مظلوم شیعوں پر سینکڑوں ، تہمتیں اور بے سر پیر کے الزامات عائد کر کے ان کو رافضی کافر، مشرک اور غالی کہہ کر اور اپنے سابق پیشواوں کے قدم بہ قدم لعن و سب کر کے بے خبر اور صاف دل سنی بھائیوں کی نگاہوں مِیں ان کی قابل نفرت ثابت کرتے ہیں۔

شیخ : کس سنی عالم نے اپنی کتاب میں شیعوں پر تہمت لگائی اور جھوٹ باندھا ہے ؟ اگر آپ اس بات کو ثابت نہ کر سکے تو قطعا آپ کی شکست سمجھی جائے گی کیونکہ ہمارے علماء نے جو کچھ کہا اور لکھا ہے وہ بالکل حقیقت ہے شیعہ اپنے فاسد اعمال و عقائد کو چھوڑ دیں تاکہ محفوظ رہیں اور ان کی گرفت نہ کی جائے۔


شیعوں پر سنی علماء کی جھوٹی نسبتیں اور تہمتیں

خیر طلب : آپ نے مجھ کو مجبور کیا ہےکہ جس قدر مجھ کو یاد ہے اس میں سے مشتے نمونہ از خرزارے ان ہزاروں دروغ بافتوں بہتانوں اور تہمتوں میں سے اس محترم مجمع کے سامنے کچھ بیان کروں جو آپ کے اکابر علماء نے شیعوں پر عائد کی ہیں تاکہ ناواقف لوگوں کے خیالات صاف ہوں، اس کے بعد فیصلہ روشن ضمیر مسلمانوں کے پاکیزہ نفس پر چھوڑ دوں۔

شیعوں پر ابن عبد ربہ کی تہمتیں

آپ کے بزرگان علمائے ادب میں سے ایک صاحب شہاب الدین ابو عمر احمد بن محمد بن عبد ربہ قرطبی اندلسی مالکی متوفی سنہ328ھ تھے جنہوں نے عقد الفرید جلد اول ص269 میں موحد و پاک دل شیعوں کو جو اسلام و ایمان کے جوہر کے حامل ہیں ؛ یہ اس امت کے یہودی بتایا ہے اور لکھا ہے کہ جس طرح یہودی و ںصاری کو دشمن رکھتے ہیں اسی طرح شیعہ بھی اسلام کو دشمن رکھتے ہیں۔ اس کے بعد اسی عنوان کے ساتھ شیعوں پر بہت سی تہمتیں لگائی ہیں۔ مثلا کہتے ہیں کہ شیعہ یہودیوں کی طرح تین طلاقوں کا عقیدہ نہیں رکھتے ہیں۔ نیز طلاق کے بعد عدہ کے قائل نہیں ہیں۔

اسی وقت جو شیعہ حضرات جلسے میں موجود ہیں بلکہ خود آپ اور تمام وہ سنی صاحبان جو شیعوں کے ساتھ بود و باش رکھتے ہیں کیا ابن عبد ربہ صاحب کی ان تہمتوں پر نہ ہنسیں گے؟ اس لیے کہ ہماری تمام فقہی کتابیں اور عملی رسالے تین طلاق کے مسائل اور طلاق کے بعد عدہ رکھنے کے طریقے سے بھرے ہوئے ہیں جو علاوہ طلاق اور عدہ بعد از طلاق کے عملدرآمد کے اس ادیب بے ادب کے جھوٹ پر بھی بہت بڑی دلیل ہیں۔

نیز کہتے ہیں کہ شیعہ یہودیوں کی طرح جبرئیل کو دشمن رکھتے ہیں اس وجہ سے کہ وحی کو ہٹا کر پیغمبر(ص) کے پاس کیوں لائے در آنحالیکہ علی(ع) کے پاس لانا چاہئیے تھا۔ ( جلسے میں بیٹھے ہوئے سب شیعہ ہنس پڑے۔)

ملاحظہ فرمائیے کہ شیعہ حضرات اس بات کو سن کر ہی ہنس دیے تو یہ کب ممکن ہے کہ ایسے مہمل عقیدے کو اپنے دل میں جگہ دیں۔

اگر یہ شخص افریقہ کے گوشے سے آگے بڑھتا یا شیعوں کی کتابیں مہیا کرنے اور پڑھنے کی زحمت کرتا تو خود شرمندہ ہوتا، اور ایسی تہمت نہ لگاتا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عمدا ایسا کیا ہو تا کہ نا واقف لوگوں سے حقیقت پوشیدہ رہے اور مسلمانوں کے درمیان جدائی پڑ جائے۔


ہم شیعہ حضرت محمد مصطفی خاتم الانبیاء(ص) کو ایک مستقل اور برحق پیغمبر(ص) جانتے ہیں کہ آنحضرت(ص) پر وحی نازل ہونے میں ہرگز کوئی دھوکا نہیں ہوا اور جبرئیل امین کی منزل اس سے بالاتر جانتے ہیں جس کی طرف بے حقیقت شخص نے نسبت دی ہے اور ان علی ابن ابی طالب(ع) کے معتقد ہیں جن کی وصایت اور خلافت رسول(ص) کے لیے جبرئیل امین نے خدائے تعالی کی طرف سے اعلان کیا ہے۔ (1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ ایک مرتبہ جب میں ریل کے ذریعہ چند شیعہ زائروں کے ہمراہ کاظمین سے سامرہ جا رہا تھا تو ہمارے ڈبے میں موصل والوں کی ایک سنی جماعت بھی اپنے قاضیوں اور علماء میں سے دو شخصوں کے ساتھ سفر کررہی تھی ۔ وہ دونوں مسلسل ہم لوگوں پر نکتہ چینی اور تمسخر کررہے تھے اور تہمتیں لگارہے تھے ۔ ان کو یہ پتا نہیں تھا کہ میں عربی زبان سے واقفیت رکھتا ہوں اور ہم لوگ بھی خاموش بیٹھے رہے یہاں تک کہ ان میں سے ایک قاضی صاحب نے کہا کہ یہ رافضی لوگ بہت ہی فاسد اخلاق و عادات رکھتے ہیں اور سب کے سب بدعتی (بقیہ صفحہ قبل ) اور مشرک ہیں۔ مثلا ان کی ایک عجیب بدعت یہ ہے کہ نماز میں جب سلام دیتے ہیں تو ہاتھوں کو بلند کرتے ہیں اور تین مرتبہ کہتے ہیں خان الامین یعنی امین نے خیانت کی ۔ ان لوگوں نے پوچھا کہ امین کون تھا اور اس کی خیانت کیا تھی؟ شیخ نے کہا کہ شیعہ مذہب والے کہتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور علی(ع) جعفر کوہ حرا میں سو رہے تھے کہ جبرئیل امین خدا کی جانب سے مامور ہوئے کہ نبوت کی وحی علی کو پہنچائیں لیکن انہوں نے خیانت کی اور ان کے عوض خاتم الانبیاء کوپہنچا دی۔ یہی وجہ ہے کہ سارے شیعہ جبرئیل کے دشمن ہیں اور ہر نماز کے بعد تین مرتبہ کہتے ہیں کہ جبرئیل نے خیانت کی یعنی وحی کو علی(ع) کے بدلے خاتم الانبیاء(ص) کے سپرد کردیا یہ سن کر مجھ سے نہ رہا گیا میں نے کہا شیخ صاحب ، جھوٹ اور تہمت لگانا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ ؟ کہا کبیرہ ہے ، میں نے کہا پھر جناب عالی نے اتنی سفید داڑھی کے ساتھ کس لیے دو بڑے گناہ کئے اور شیعوں پر یہ غلط الزام لگایا؟ انتہائی تمکنت کے ساتھ جواب دیا کہ میں ٹھیک کہتا ہوں میں نے ان ان مولوی حضرات سے پوچھا کہ آپ فارسی جانتے ہیں؟ ان میں سے دو تین آدمیوں نے کہا ہاں، تو میں نے دس بارہ نفر بوڑھے اور جوان زائرین کو جو موضوع بحث سے واقف نہیں تھے ایک ایک کرکے آواز دی اور پوچھا کہ آپ لوگ سلام نماز کے بعد جب کانوں تک ہاتھ بلند کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم قبولیت نماز کے لیے تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے ہیں میں نے کہا شیخ صاحب اب آپ کو کچھ شرم آئی یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ تم نے ان لوگوں کو سکھا دیا ہے میں نے کہا ذرا خدا کا خوف کیجئے۔ میں تو آپ کے پہلو میں بیٹھا ہوا ہوں۔ نہ اپنی جگہ سے اٹھاہوں نہ ایک فقط زبان سے نکالا ہے۔ پھر میں نے ان موصلی حضرات کی طرف رخ کیا اور اور کہا کہ میں التماس کرتا ہوں کہ آپ صاحبان اٹھ کر دوسرے ڈبوں میں جایئے اور ان شیعہ زائرین سے جو اس گاڑی میں سفر کررہے ہیں، دریافت کیجئے چند ہوشیار اشخاص جو زبان سے واقف تھے گئے اور واپس آکر غصے کے عالم میں شخ صاحب پر برسی پڑے کہ اسی جھوٹ اور افتراء سے آپ کا کیا مطلب تھا؟ ہم لوگوں نے تمام دیہاتی اور شہری زائرین سے سوال کیا اور سب نے بالعموم یہی جواب دیا کہ ہم اللہ اکبر کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم نے کلمہ خان الامین کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو اس قسم کے کلمے سے واقف بھی نہیں ہیں۔ شیخ صاحب نے کہا میں نے بھی کتابوں میں پڑھا ہے کہ شیعہ اسی طرح کہتے ہیں۔ وہ جو ان لوگ چونکہ تحقیق کرچکے تھے۔ لہذا شیخ صاحب کو سخت وسعت کہنا شروع کیا کہ ایک عالم کو جب تک کسی چیز کی تحقیق نہ کرے اس وقت تک زبان سے نہ کہنا چاہئے۔ اس طرح کی حرکتیں ان تہمتوں میں سے ایک نمونہ ہیں جو بعض سنی عالم شیعوں پر تھوپتے ہیں تاکہ عام برادران اہل سنت کو ہم سے بدظن کردیں۔


نیز کہتے ہیں کہ شیعہ یہودیوں کے مانند ہیں جو سنت رسول(ص) پر عمل نہیں کرتے اور جس وقت کسی سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں السام علیکم یعنی موت ہو تم پر۔ ( شیعہ حضرات ن قہقہہ لگایا) شیعوں کا باہمی طرز عمل اور برادران اہل سنت کے ساتھ معاشرت کا طریقہ ان کی غلط بیانی پر سب سے بڑی دلیل ہے۔

سب سے زیادہ تعجب تو اس بات پر ہے کہ کہتے ہیں ، شیعہ یہودیون کی طرح تمام مسلمانوں کا خون حلال سمجھتے ہیں اور اسی طرح مسلمانوں کا مال ہضم کر لینا جائز جانتے ہیں ۔ حالانکہ آپ خود شیعوں کے اعمال کی گواہی دے سکتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہم کفار تک کے جان و مال تک کو حلال نہیں جانتے تو مسلمان بھائیوں کے جان و مال پر کیونکر تصرف کریں گے شیعہ مذہب میں حق الناس پر دست درازی بہت بڑا گناہ سمجھا گیا ہے اور قتل نفس بھی گناہان کبیرہ میں سے ہے۔

آپ کے بزرگ علماء میں سے ایک کے بعض اقوال پیش کئے گئے ہیں جلسے کا وقت اجازت نہیں دیتا کہ ان کے ہزلیات پر اس سے زیادہ توجہ کی جائے۔

ابن حزم کی تہمتیں

آپ کے اکابر علماء میں سے ایک صاحب ابو محمد علی ابن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی سنہ456ھ تھے جنہوں نے اپنی مشہور کتاب الفصل فی الملل و النحل میں عجیب عجیب تہمتوں اور دروغ بافیوں کے ساتھ شیعوں پر حملے کئے ہیں۔ خصوصیت کے ساتھ اس کتاب کی پہلی جلد ملاحظہ فرمائیے تو دیکھئے گا کہ اس میں کتنی مضحکہ خیز باتیں درج ہیں۔ من جملہ ان کے صاف صاف کہتے ہیں کہ شیعہ مسلمان نہیں ہیں بلکہ کافر اور ایسے درغ گو ہیں جنہوں نے یہود و نصاری کی پیروی اختیار کی ہے اور جلد چہارم ص182 میں کہتے ہیں کہ شیعہ نو عورتوں کے ساتھ نکاح جائز سمجھتے ہیں ۔ اس مرد کذاب کی افترا پردازی اور اس عجیب تہمت کے خلاف سب سے بڑی دلیل شیعوں کے صدیوں پرانی استدلالی کتاب اور عملیہ رسالے ہیں جن میں ہر جگہ یہی حکم ہے کہ چار عورتوں سے زیادہ کے ساتھ نکاح دائمی حرام ہے، اس کے متعلق تو فقہا اور صاحبان علم و عقل کے علاوہ تمام جاہل اور صحرا نشین شیعہ بھی جانتے ہیں کہ جیسا اس نے لکھا ہے ۔ ہرگز کبھی ایسا حکم موجود نہیں تھا۔ اگر آپ اس کتاب کے وہ حصے دیکھئے جن میں اس نے اس طرح کے غلط اقوال ، تہمتیں، فحش چیزیں اور بری باتیں شیعوں سے منسوب کی


ہیں تو واقعا آپ کو شرمندگی ہوگی۔ یہاں نمونے کے طور پر اسی قدر کافی ہے۔

ابن تیمیہ کی تہمتیں

آپ کے سارے علماء سے زیادہ بد تہذیب بلکہ بے دین احمد بن عبدالحلیم حنبلی معروف بابن تیمیہ متوفی سنہ 728ھ تھا جو شیعوں بلکہ مولا امیرالمومنین علیہ السلام اور عترت طاہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی حیرت انگیز بغض اور کینہ رکھتا تھا۔ اگر کوئی اس شخص کی کتاب منہاج السنہ کی جلدین پڑھے تو اس کی شدید عداوت دیکھ کر مبہوت ہو جاتا ہے، جس نے اسی ذہنیت کی بنا پر قطع نظر اس کسے کہ حضرت امیرالمومنین (ع) اور اہل بیت طاہرین علیہم السلام کے بارے میں تمام نصوص صریحہ اور فضائل عالیہ کی تردید و تکذیب کرتا ہے، مظلوم شیعوں پر ایسے عجیب و غیرب جھوٹ اور تہمتیں باندھی ہیں کہ ہر سننے والا متحیر اور انگشت بہ دندان رہ جاتا ہے۔ اگر میں ان میں سے ہر ایک کا جواب دینا چاہوں تو گفتگو کا سلسلہ بہت سی نشستوں کا محتاج ہوگا لیکن اس غرض سے کہ جناب شیخ صاحب یہ سمجھ لیں کہ تہمت اور جھوٹ شیعہ علماء کی نہیں بلکہ انہیں کے بعض علماء کی خصوصیات میں سے ہے نمونے کے طور پر بعض باتیں پیش کررہا ہوں۔ اور تعجب تو یہ ہے کہ ان جھوٹے الزامات کے باوجود جو خود شیعوں پر عائد کرتا ہے بے خبر عوام کو بہکانے کے لیے جلد اول ص15 پر یہ بھی لکھتا ہے کہ اہل قبلہ فرقوں میں شیعوں سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں ہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے صاحبان صحاح نے ان کی روایتوں کو نقل نہیں کیا ہے۔

جلد اول ص23 میں کہتا ہے کہ شیعہ اصول دین چار مانتے ہیں ، توحید، عدل، نبوت، اور امامت حالانکہ فرقہ امامیہ کی کتب کلامیہ بالعموم دستیاب ہوتی ہیں جن میں ہر جگہ لکھا ہوا ہے اور میں نے بھی پچھلی شبوں میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ شیعوں کے عقیدے میں تین اصول دین یعنی توحید ، نبوت، اور معاد ہیں عدل کو توحید اور امامت کو نبوت کا جز مانا گیا ہے۔

جلد اول ص131 میں کہتا ہے کہ شیعہ مسجدوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے ، ان کی مسجدیں مجمع سے خالی رہتی ہیں۔ ان میں جمعہ و جماعت قائم نہیں کرتے اور اگر کبھی نماز پڑھتے بھی ہیں تو فردی پڑھتے ہیں ( شیعوں کا پر زور قہقہہ)

جناب شیخ : خود آپ نے اور تمام حاضر و غائب برادران اہل سنت نے کیا شیعوں کی مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوئی اور ان میں منعقد ہونے والی جماعتیں نہیں دیکھی ہیں؟ بالخصوص ہمارے عراق و ایران میں جو شیعیت کے مرکز ہیں۔ اور ان کے علاوہ ہر ایک شہر کے اندر شاندار مساجد عبادت گذاروں سے پر رہتی ہیں۔ بلکہ شیعوں کے جس قریہ اور دیہات میں جائیے گا وہاں ایک مسجد نظر آئے گی جس میں ماہ رمضان المبارک کے علاوہ بھی روز و شب نمازیں اور جماعتیں ہوتی ہوئی ملیں گی۔

آپ جیسے اہل علم حضرات علماء شیعہ کی استدلالی کتب فقہ دیکھیں اور اسی طرح برادران اہل سنت ہمارے فقہاء کے عملیہ رسائل کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ نماز جماعت اور مساجد میں جانے کا کس قدر ثواب نقل کیا گیا ہے۔ یہاں تک


کہ گھر کی نسبت مسجدوں کے اندر نماز پڑھنے کا ثواب چند در چند زیادہ لکھا ہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے جہاں تک ممکن ہو شیعہ کوشش کرتے ہیں کہ نمازیں مسجد میں اور جماعت کے ساتھ ادا کریں۔

اس کے بعد اندازہ کیجئے کہ اس رسواکن اور کذاب شخص نے شیعوں کی طرف کتنی جھوٹی نسبتیں دی ہیں۔

نیز اسی صفحے میں کہتا ہے کہ مسلمانوں کی طرح شیعہ حج بیت اللہ کو نہیں جاتے ہیں بلکہ ان کا حج قبروں کی زیارت کرنا ہے۔حج قبور کو حج خانہ کعبہ سے بالاتر جانتے ہیں بلکہ ان لوگوں کو سب و لعن کرتے ہیں جو حج قبور کو نہیں جاتے ہیں ( شیعوں کا قہقہہ)

حالانکہ اگر شیعوں کے کتب و رسائل عبادات کو کھول کر دیکھئے تو نظر آئے گا کہ اس عبادت کے سلسلے میں ایک مخصوص فصل قائم کی گئی ہے( بنام کتاب الحج ۔ باب الحج) اس سے قطع نظر کہ ہر فقیہہ کی ایک کتاب مناسک حج میں موجود ہے۔ جس میں شیعوں کو ادائگی حج کے لیے خاص طور پر ہدایتیں دی گئی ہیں، یہاں تک کہ ائمہ معصومین علیہم السلام سے اس قسم کی حدیثیں بھی نقل کی گئی ہیں کہ مسلمان (شیعہ وسنی) اگر مستغنی ہو اور حج بیت اللہ کو ترک کرے تو دائرہ اسلام سے خارج ہے اور موت کے وقت:

" يقال له مت أي ميتة شئت إن شئت يهوديا و إن شئت نصرانيا و إن شئت مجوسيا."

( یعنی اس تارک حج سے کہا جاتا ہے تو جیسی موت چاہے مر۔چاہے یہودی چاہے نصرانی اور چاہے مجوسی دین پر)

آیا عقل باور کرتی ہے کہ ایسی ہدایتوں کے بعد شیعہ قوم حج بیت اللہ کو ترک کر دے گی؟ آپ ایک جاہل دیہاتی شیعہ سے جو عتبات عالیات سے مشرف ہوتا ہے اور قبور ائمہ اطہار (ع) کی زیارت بجالاتا ہے سوال کیجئے کہ عمل حج کہاں بجا لانا چاہیئے؟ تو سوا مکہ معظمہ کے اور کوئی جگہ نہ بتائے گا۔

اس کے بعد یہ خدا نہ شناس انسان ایک بزرگ شیعہ عالم شیخ اجل و اعظم محمد بن نعمان مفید علیہ الرحمہ پر بہتان رکھتا ہے کہ ان کی ایک کتاب " مناسک الحج المشاہد" کے نام سے ہے، حالانکہ شیخ علیہ الرحمہ کی کتاب " مناسک الزیارات" کے نام سے ہے جو عام طور پر پائی جاتی ہے اور جس میں دوسرے مزارات کی طرح ائمہ طاہرین صلوات اللہ علیہم اجمعین کے مقدس آستانوں سے مشرف ہونے اور زیارت بجالانے کے قواعد درج ہیں۔

اگر آپ کتب زیارات کا مطالعہ کریں تو ان کے شروع میں لکھا ہوا ملے گا کہ پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کی مقدس قبروں کی زیارت مستحب عبادتوں میں سے ہے۔ ( نہ واجب)

اور اس نا خدا ترس آدمی کی غلط بیانی پر سب سے بڑی دلیل شیعوں کا عمل ہے جو ہر سال ہزاروں کی تعداد میں حج بیت اللہ سے مشرف ہوتے ہیں اور وہاں سے واپسی کے بعد حاجی کہے جاتے ہیں جو ان کے لیے باعث فخر ہوتا ہے۔ (1)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ خود حقیر مترجم بھی بحمدہ اس شرف سے مشرف ہوچکا ہے اور بچشم خود دیکھا ہے کہ علاوہ عراق ویمن اور ہندو پاکستان وغیرہ کے صرف ایران سے پندرہ ہزار شیعہ حاجی آے ہوئے تھے 12 مترجم عفی عنہ۔




کتاب کے کل مطالب کا وزن سمجھ لیں اور اس نا اہل مولف کو پہچان لیں۔

وقائق و حالات اثنا عشریہ کے ضمن میں لکھتا ہے کہ حضرت امام محمد تقی(ع) کے بعد حضرت امام علی ابن ہادی محمد النقی (ع) ہیں اور ان کا روضہ اقدس قم میںہے۔ حالانکہ ہر عالم وجاہل حتی کہ دشمن اور بچے بھی جانتے ہیں کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی قبر مبارک اپنے فرزند ارجمند حضرت حسن عسکری علیہ السلام کے پہلو میں سامرہ کے اندر ہے جو بہت عالی شان طلائی گنبد اور حرم کی مالک ہے اور جس کو مطلا کرنے کا فخر مرحوم ناصر الدین شاہ قاجار کو حاصل تھا۔

میرے خیال میں اب اس سے زیادہ کلام کو طول دینے کی ضرورت نہیں ہے میں نے نمونے کے طور پر

ہزار میں سے ایک کی طرف اشارہ کر دیا ہے تاکہ جناب شیخ صاحب یہ نہ فرمائیں کہ شیعہ جھوٹ بولتے ہیں اور تہمت لگاتے ہیں بلکہ یہ سمجھ لیں کہ یہ کلام خود انہیں کے علماء کا ہے۔

اور اب یہ بتانے کی غرض سے کہ تنہا میں نے ہی جناب ابوہریرہ صاحب کی شان میں جسارت نہیں کی ہے اور کوئی الزام نہیں دیا ہے بلکہ اکابر علمائے اہل سنت نے بھی ان کے حالات و واقعات کو درج کیا ہے، اختصار کے ساتھ ان میں سے چند باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہوں۔

ابوہریرہ کی مذمت میں روایات اور ان کے حالات

ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ جلد اول ص358 نیز جلد چہارم میں اپنے شیخ اور استاد امام ابو جعفر اسکافی سے نقل کرتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان نے صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کو مامور کیا تھا کہ علی علیہ السلام پر طعن اور آپ سے بیزاری اختیار کرنے کی قبیح روایتیں گھڑی جائیں اور لوگوں میں مشہور کی جائیں ، چنانچہ وہ اشخاص برابر اسی کام میں مشغول رہتے تھے اور برائیوں کی اشاعت کیا کرتے تھے۔ من جملہ ان کے ( جو طعن و مذمت علی علیہ السلام میں احادیث قبیجہ وضع کرتے تھے ) ابوہریرہ عمرو عاص اور مغیرہ بن شیبہ بھی تھے۔

ان فقوں کی پوری تفصیل دیتے ہوئے ص359 میں اعمش سے روایت کی ہے کہ جس وقت ابوہریرہ معاویہ کے ساتھ مسجد کوفہ میں وارد ہوئے اور استقبال کرنے والوں کی کثرت دیکھی تو دونوں پنجوں کے بل کھڑے ہوگئے اور دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پیٹنے لگے ( تاکہ لوگ متوجہ ہو جائیں ) اس کے بعد کہا اے اہل عراق کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں خدا اور رسول (ص) پر جھوٹ بولوں گا اور اپنے لیے جہنم کی آگ مول لوں گا سنو مجھ سے جو کچھ میں نے پیغمبر(ص) سے سنا ہے کیہ فرمایا :

" إن لكل نبي حرما، و إن حرمي المدينة ما بين عير إلى ثور، فمن أحدث فيهما حدثا فعليه لعنة اللّه و الملائكة و الناس أجمعين، و أشهد باللّه أن عليا أحدث فيها"

( یعنی ہر پیغمبر کا ایک حرم ہے اور میرا حرم مدینہ ہے ۔ جو شخص مدینے


میں نئی بات پیدا کرے تو اس پر اللہ اور ملائکہ اور تمام انسانوں کی لعنت ہو اس کے بعد ابوہریرہ نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں کہ علی نے مدینے میں نئی بات پیدا کی ( یعنی لوگوں کو ابھارا لہذا قول رسول (ص) کے مطابق علی(ع) پر لعنت کرنا چاہئیے۔) جب معاویہ کو یہ خبر پہنچی ( کہ ابو ہریرہ نے ان کی ایسی خدمت انجام دی اور وہ بھی علی(ع) کے دارالخلافہ کوفہ میں تو کسی کو بھیج کر ان کو بلوایا، ان کی خاطر دارات کی، انعام دیا اور مدینے کا گورنر بنا دیا، انتہی ۔ آیا یہ اعمال ان کی مردودیت کی دلیل نہیں ہے؟ اور کیا یہ مناسب ہے کہ جس نے معاویہ کی خوشامد میں خلفائے راشدین کی ایک فرد بلکہ ان سب میں اکمل و افضل اور اشرف ہستی کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا ہو، ایسے آدمی کو محض اس بنا پر آپ نیک اور ممدوح سمجھیں کہ وہ کبھی رسول اللہ (ص) کے صحابہ میں رہ چکا ہے۔

شیخ : شیعوں کے پاس ان کے ملعون ہونے پر کیا دلیل ہے جو ان کو مردود و ملعون کہتے ہیں؟

خیر طلب : ہمارے پاس بہت سی دلیلیں ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ پیغمبر(ص) کو گالی دینے والا باتفاق فریقین حتما ملعون و مردود اور جہنمی ہے، بنا بر اس حدیث کے جو میں پہلے عرض کر چکا اور جس کو خود آپ کے اکابر علماء نے بھی نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا جو شخص علی(ع) کو گالی دے اس نے مجھ کو گالی دی اور جس نے مجھ کو گالی دی اس نے خدا کو گالی دی ، ظاہر ہے کہ ابوہریرہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھے جو علاوہ مولانا و مولی الموحدین امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام پر خود سب و لعن کرنے کے، جیسا کہ عرض کرچکا حدیثیں گھڑ گھڑ کے اور سب لوگوں کو بھی ان حضرت پر سب وشتم کرنے کے لیے مجبور کرتے تھے۔

مسلمانوں پر ظلم اور ان کے قتل عام میں بسر ابن ارطاۃ کے ساتھ ابوہریرہ کی شرکت

من جملہ ان دلائل کے یہ بھی ہے کہ آپ کے بڑے بڑے مورخین جیسے طبری، ابن اثیر، ابن ابی الحدید ، علامہ سمہودی، ابن خلدون اور ان خلکان وغیرہ نے لکھا ہے کہ جس وقت معاویہ بن ابی سفیان نے سفاک وخونخوار، قسی القلب اور شقی النفس بسر بن ارطاۃ کو شام کے چار ہزار جنگ آزما سپاہیوں کے ساتھ مدینے کے راستے سے اہل یمن اور شیعیان امیرالمومنین علیہ السلام کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا تو ان لوگوں نے مدینہ، مکہ، طائف، تبالہ ( تہامہ کا ایک شہر) نجران، قبیلہ ارحب ( جو ہمدان کے قبیلوں میں سے تھا ( صفا، حضرموت اور ان کے اطراف میں انتہائی درجہ کی (اہانت ) سفاکی، قتل عام، ظلم اور تعدی دکھائی، بوڑھے اور جوان بنی ہاشم اور شیعیان امیرالمومنین(ع) میں سے کسی کو باقی نہیں چھوڑا حتی کہ رسول اللہ کے ابن عم اور امیرالمومنین علیہ السلام کی طرف سے والی یمن عبید اللہ ابن عباس کے دو چھوٹے چھوٹے بچوں کو بھی قتل کردیا ۔ یہاں تک کہ اس ملعون کے حکم سے اس سفر میں قتل ہونے والوں کی تعداد تیس ہزار سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔ ان لوگوں سے تو زیادہ تعجب نہیں ہے اس لیے کہ بنی امیہ اور ان کے پیرو اس سے بھی زیادہ کر چکے ہیں، لیکن حیرت تو آپ کے منظور نظر جناب ابو ہریرہ


پر ہے جو اس لشکر کشی میں خونخوار و سفاک بسر بن ارطاۃ کی معیت اور معاونت میں حاضر اور ان دردناک مظالم کے نگران تھے۔ خصوصیت کے ساتھ اس ظلم و جور میں جو مدینہ منورہ والوں پر ڈھایا گیا اور وہ بے گناہ اور نہتے لوگ جیسے جابر ابن عبداللہ اںصاری اور ابو ایوب انصاری وغیرہ سب کے سب ترساں و لرزان کچھ ادھر ادھر بھاگ گئے اور کچھ گھروں میں چھپ گئے لیکن ان کے گھروں کو بھی مثلا ابو ایوب اںصاری کے مکان کو جو رسول اللہ (ص) کے خاص صحابہ میں سے تھے آگ لگا دی گئے ، ابوہریرہ یہ سب دیکھ رہے تھے اور کچھ نہ بولتے تھے بلکہ اس کے معاون و مددگار تھے۔

پھر اس رسوائے زمانہ لشکر کے مکہ معظمہ کی طرف کوچ کرنے کے بعد ابوہریرہ اسی عنوان نیابت کے ساتھ خاص طور پر وہاں مقیم رہے چنانچہ بعد کو بسرابن ارطاۃ کے ساتھ یہ کار گزاری اور ہمدردی دکھانے کے صلے میں معاویہ کی طرف سے مدینہ کے گورنر بنائے گئے۔ آپ کو خدا کا واسطہ اںصاف سے بتائیے کہ اس دنیا پرست انسان نے جو تین سال تک (1) رسول اللہ (ص) کی زیارت و مصاحبت سے مشرف رہا۔ اور پانچ ہزار سے زیادہ حدیثیں آن حضرت (ص) سے نقل کیں کیا وہ مشہور احادیث جن کو تمام علمائے فریقین جیسے علامہ سہمودی نے تاریخ المدینہ میں، احمد بن حنبل نے مسند میں، سبط ابن جوزی نے تذکرۃ ص163 میں اور دوسرے علماء نے سلسلہ اسناد کے ساتھ رسول اکرم(ص) سے نقل کیا ہے نہیں سنی تھیں کہ آنحضرت(ص) مکرر فرماتے تھے :

" من أخاف أهل المدينة أخافه اللّه، و عليه لعنة اللّه و الملائكة و النّاس أجمعين و لا يقبل اللّه منه صرفا و لا عدلا لعن الله من اخاف مدينتی لا يريد اهل المدينة احد بسوء الا اذا به الله فی النار ذوب الرصاص"

( یعنی جو شخص اہل مدینہ کو ظلم سے ڈرائے اس کو خدا ڈرائے اور اس پر خدا اور ملائکہ اور سارے انسانوں کی لعنت ہو، خدا اس سے قیامت کے روز کوئی چیز قبول نہیں کرے گا خدا لعنت کرے اس شخص پر جو میرے مدینہ والوں کو ڈرائے جو شخص بھی اہل مدینہ کے ساتھ کوئی بد ارادہ کرے گا خدا اس کو سیسے کی طرح آگ میں پگھلائے گا۔)

پس ایسی صورت میں کیونکر اس لشکر میں شریک ہوئے جس نے مدینے والوں پر اس قدر ظلم و تعدی کی اور ان میں خوف وہراس پھیلایا، قطع نظر اس سے کہ حدیثیں وضع کر کے خلیفہ برحق و وصی رسول(ص) اور آںحضرت(ص) کی عترت طاہرہ کی مخالفت کی اور لوگوں کو ایسے شخص پر گالیوں کی بوچھاڑ کرنے کی ترغیب دی جس کو سب وشتم کرنا پیغمبر(ص) نے اپنے اوپر سب وشتم کرنا قرار دیا تھا۔

خدا کے لیے اںصاف کیجئے کہ جو شخص رسول خدا(ص) کے نام سے جھوٹی حدیثیں تصنیف کرنے میں مشغول رہا ہو کیا وہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ طبقات ابن سعد اصابہ ابن حجر اور اکابر علمائے اہل تسنن کی دوسری معتبر کتابوں میں درج ہے کہ ابوہریرہ فتح خیبر میں مسلمان ہوئے اور بروایت نجاری ( باب علامات النبوۃ فی الاسلام میں) تین سال سے زیادہ رسول اللہ(ص) کی ملاقات سے موفق نہیں رہے۔ ابن حجر نے اصابہ میں، حاکم نے مستدرک میں، ابن عبدالبر نے المستطیب میں اور دوسروں نے روایت کی ہے کہ اٹھتر سال کی عمر میں سنہ57ھ میں وادی عقیق کے اندر مرے اور ان کا جنازہ مدینے لاکر بقیع میں دفن کیا گیا۔


خدا و رسول (ص) کی بارگاہ میں مردود نہ ہوگا۔

شیخ : آپ بے لطفی فرماتے ہیں کہ پیغمبر(ص) کے سب سے زیادہ موثق صحابی کو بے دین اور وضاع و جعلساز کہتے ہیں۔

ابوہریرہ کا مردود ہونا اور عمر کا ان کو تازیانہ مارنا

خیر طلب : تنہا میں نے ہی ابوہریرہ کے حق میں بے لطفی نہیں برتی بلکہ سب سے پہلے جس شخص نے اس طرح کی بے لطفی ان کے ساتھ کی وہ خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب تھے، کیونکہ ارباب تاریخ مثلا ابن اثیر نے حوادث سنہ23ھ میں ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سوم ص104 مطبوعہ مصر میں نیز اور حضرات نے نقل کیا ہے کہ جب خلیفہ عمر نے سنہ21ھ میں ابوہریرہ کو بحرین کا گورنر بنایا تو لوگوں نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے کثرت سے مال جمع کیا ہے او بہت سے گھوڑے خریدے ہیں۔ چنانچہ آپ نے ان کو سنہ23ھ میں معزول کردیا، یہ جیسے ہی دربار خلافت میں پہنچے تو خلیفہ نے کہا : " يا عدو الله و عدو كتابه أ سرقت مال الله" ( یعنی اے دشمن خدا اور دشمن کتاب خدا کیا تو نے مال خدا کی چوری کی ؟ انہوں نے کہا میں نے ہرگز چوری نہیں کی بلکہ لوگوں نے مجھ کو نذرانے دیے۔

نیز ابن سعد طبقات جلد چہارم ص90 میں، ابن حجر عسقلانی اصابہ میں اور ابن عبد ربہ عقد الفرید جلد اول میں لکھتے ہیں کہ خلیفہ نے کہا اے دشمن خدا جس وقت میں نے تجھ کو بحرین کا حاکم بنایا تھا تو تیرے پاوں میں جوتیاں تک نہ تھیں لیکن اب میں نے سنا ہے کہ تو نے ایک ہزار چھ سو دینار کے گھوڑے خریدے ہیں، یہ دولت تو کہاں سے لایا؟ انہوں نے کہا یہ لوگوں کے نذرانے ہیں جن کا نفع بہت ہوگیا۔ خلیفہ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور اٹھ کر ان کی پشت پر اتنے تازیانے مارے کہ خون بہنے لگا، اس کےبعد حکم دیا کہ بحرین میں جو اس نے دس ہزار دینار جمع کئے ہیں وہ اس سے وصول کر کے بیت المال کی تحویل میں دے دئے جائیں۔ اور صرف زمانہ خلافت ہی میں ان کو نہیں مارا بلکہ مسلم اپنی صحیح جلد اول ص34 میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) کے زمانے میں عمر ابن خطاب نے ابوہریرہ کو اس قدر مارا کہ یہ پیٹھ کے بل زمین پر گر پڑے۔

ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد اول اوائل ص360 میں کہتے ہیں:

"قال أبو جعفر: و أبو هريرة مدخول عند شيوخنا غير مرضى الرواية، ضربه عمر بالدرة و قال: قد أكثرت من الرواية، و أحرى بك أن تكون كاذبا على رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه و آله"

( یعنی ابوجعفر اسکافی ( شیخ معتزلہ ) نے کہا ہے کہ ابوہریرہ ہمارے شیوخ کے نزدیک بیہودہ شخص ہے۔ اس کی روایت ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے، عمر نے اس کو تازیانے سے مارا اور کہا تو نے روایت میں زیادتی کی ہے اور یقینا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جھوٹی باتیں منسوب کی ہیں۔)


ابن عساکر تاریخ کبیر اور متقی کنزلاعمال ص739 میں نقل کرتے ہیں کہ خلیفہ عمر نے ان کو تازیانے سے مارار اور ڈانٹ ڈپٹ کی اور رسول اللہ(ص) سے حدیث نقل کرنے کو منع کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ تو آن حضرت(ص) سے روایت زیادہ نقل کرتا ہے اور اسی لائق ہے کہ آن حضرت (ص) کی طرف سےجھوٹ بولے ( یعنی تیرے ایسے نا لائق سے یہی ہوسکتا ہے کہ آن حضرت(ص) سےغلط باتیں منسوب کرے) لہذا تجھ کو چاہیئے کہ رسول(ص) کی زبان سے حدیث نقل کرنا چھوڑ دے ورنہ میں تجھ کو زمین روس( یمن میں ایک قبیلہ ہے اور ابوہریرہ وہیں کے رہنے والے تھے) یا بندروں کی سرزمین پر یعنی اس پہاڑی علاقے میں جہاں بندر کثرت سے رہتے ہیں بھیج دوں گا۔

نیز ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد اول ص360 مطبوعہ مصر میں اپنے استاد امام ابو جعفر اسکافی سے نقل کیا ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا :

" ألا ان أكذب الناس أو قال: أكذب الاحياء على رسول اللَّه صلّى اللَّه عليه و آله أبو هريرة الدوسيّ."

( یعنی آگاہ ہو کہ رسول خدا(ص) پر آدمیوں میں سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والا یا یہ فرمایا کہ زندوں میں سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والا ابو ہریرہ دوسی ہے ( دوسی یمن میں ایک قبیلہ ہے)

ابن قتبیہ تاویل مختلف الحدیث میں، حاکم مستدرک جلد سیم میں، ذہبی نے تلخیص المستدرک میں اور مسلم اپنی صحیح جلد دوم فضائل ابوہریرہ میں سب کے سب نقل کرتے ہیں کہ عائشہ نے بار بار ان کی تردید کی اور کہتی تھیں کہ ابوہریرہ بہت بڑا جھوٹا ہے اور رسول اللہ(ص) سے منسوب کر کے بہت حدیثیں گھڑتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ بوہریرہ کو تنہا میں نے مردود نہیں کہا ہے بلکہ خلیفہ عمر، مولانا امیرالمومنین ، ام المومنین عائشہ اور صحابہ و تابعین کے نزدیک بھی یہ مردود تھے چنانچہ شیوخ معتزلہ اور ان کے بعد حنفیوں کے علماء بالعموم ابوہریرہ کی حدیثوں کو مردود جانتے ہیں اور جس حکم کی سند ابوہریرہ تک منتہی ہوتی ہے اس کو باطل سمجھتے ہیں، چنانچہ نووی نے شرح صحیح مسلم میں بالخصوص جلد چہارم کے اندر اس پر تفصیل سے بحث کی ہے۔

آپ کی جماعت کے بڑٰے پیشوا امام اعظم ابو حنیفہ کہتے تھے کہ صحابہ رسول عام طور پر ثقہ اور عادل تھے، میں ہر ایک سے ہر سند کے ساتھ حدیث لے لیتا ہوں لیکن جس حدیث کی سند ابوہریرہ ، انس ابن مالک اور سمرہ بن جندب تک منتہی ہوتی ہو اس کو قبول نہیں کرتا ۔ پس آپ حضرات ہم پہ یہ اعتراج نہ کیجیئے کہ ابوہریرہ صحابی پر کیوں نکتہ چینی کرتے ہو؟ ہم انہیں ابوہریرہ پر نقد و تبصرہ کرتے ہیں جن کو خلیفہ ثانی عمر نے تازیانے مارے اور بیت المال کو چور اور کذاب کہا ہے۔ ہم انہیں ابو ہریرہ کی گرفت کرتے ہیں جن پر ام المومنین عائشہ، امام اعظم ابوحنیفہ، کبار صحابہ ، تابعین اور بڑے بڑے معتزلی اور حنفی شیوخ و علماء نے تنفقید کی ہے اور مردود کہا ہے۔

خلاصہ یہ کہ ہم انہیں ابوہریرہ کی تنقید کرتے ہیں جن کو مولانا و مولی المدحدین امیرالمومنین (ع) اور ائمہ اہل بیت طاہرین علیہم السلام نے جو عدیل قرآن ہیں کذاب اور مردود فرمایا ہے۔ہم انہیں ابو ہریرہ کی عیب گیری کرتے ہیں جو پیٹ کے بندے تھے۔ اور


امیرالمومنین(ع) کی افضلیت سے واقف ہوتے ہوئے ان حضرت سے کنار کشی کر کے معاویہ کے چرب و نرم دسترخوان کے حاشیہ نشین بنے تاکہ لوگ ان کی حدیث سازی کے بل پر امام المتقین اور خلیفہ المسلمین کو ( جن کو آپ بھی خلفائے راشدین میں سے مانتے ہیں) سب و شتم اور لعنت کریں۔

اب اس سے زیادہ جلسے کا وقت لینے کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی۔ نیز اس کی معافی چاہتا ہوں کہ آپ کا اتنا وقت صرف کیا۔ چونکہ آپ نے فرمایا تھا کہ ہم بے لطفی کرتے ہیں لہذا میں نے چاہا کہ یہ ثابت کردوں کہ ہم تنہا نہیں ہیں بلکہ خلفا وصحابہ اور خود آپ کے بڑے بڑے علماء بھی ان کی مردودیت کے مقر اور معترف ہیں۔ پس جب ایسے جعلساز اور وضاع افراد نے جاہ و منصب تک پہنچنے اور اپنی دنیا آباد کرنے کے لیے رسول اللہ(ص) کے نام سے حدیثیں گھڑ گھڑ کے صحیح احادیث میں مخلوط کر دی ہیں تو ایسی صورت میں ہر حدیث پر کیونکر اعتماد کیا جاسکتا ہے، چنانچہ اسی وجہ سے آنحضرت نے فرمایا ہے " کلما حدثتم بحديث منّی فاعرضوه على كتاب اللّه ،"( ترجمہ گذر چکا 12 مترجم)

( چونکہ ہم ایک خاص موضوع میں سرگرم بحث تھے ۔ لہذا مولوی صاحبان کی نماز میں قدرے تاخیر ہوگئی۔ جب گفتگو یہاں تک پہنچی تو وہ حضرات اٹھ گئے نماز عشاء اور چائے کے بعد بات چیت شروع ہوئی۔)

خیر طلب : سابق بیانات کے پیش نظر اب ہم اور آپ مجبور ہیں کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول احادیث میں سے کوئی حدیث سامنے آئے تو پہلے قرآن مجید کی طرف رجوع کریں، اگر قرآن کی کسی اصل سے مطابق ہوتو قبول کریں ورنہ رد کریں۔

اس فرضی حدیث کا جواب کہ خدا نے فرمایا میں ابوبکر سے راضی ہوں، وہ بھی مجھ سے راضی ہیں، یا نہیں

یہ حدیث جو آپ نے نقل کی ہے ( اگرچہ یک طرفہ ہے پھر بھی ) ہم قرآن مجید سے اس کی مطابقت کرتے ہیں اگر کوئی نقص مانع نہ ہوگا تو ہم قطعا مان لیں گے۔ چنانچہ ایک جماعت نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ خدائے تعالی سورہ نمبر50 (ق) آیت نمبر15 میں فرماتا ہے:

" وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسانَ وَ نَعْلَمُ ما تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ"

( یعنی ہم نے انسان کو خلق کیا ہے۔ اس کے نفس میں جو وسوسے آتے ہیں ان سے اچھی طرح واقف ہیں اور رگ گردن سے زیادہ اس سے قریب ہیں) آپ حضرات واقف ہیں کہ حبل الورید ایک مشہور مثل ہے جو انتہائی قربت کے معنی میں مستعمل ہے اور اس کا اضافہ بیانی ہے اور ممکن ہے کہ اضافہ لامی زینت کے لیے ہو۔ اور اس آیہ شریفہ کا اصل مفہوم


اس طرف راجع ہے کہ خدائے تعالی کاعلم انسان کے حالات پر اس طرح حاوی ہے کہ سینوں کے اندر چھپی ہوئی باتوں اور دلوں کے اسرار میں سے کوئی شئے اس کی ذات اقدس پر مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے۔

اور سورہ نمبر10 (یونس) آیت نمبر62 میں ارشاد ہے

" وَ ما تَكُونُ فِي شَأْنٍ وَ ما تَتْلُوا مِنْهُ مِنْ قُرْآنٍ وَ لا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوداً إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ وَ ما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَ لا فِي السَّماءِ وَ لا أَصْغَرَ مِنْ ذلِكَ وَ لا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتابٍ مُبِينٍ "

( یعنی اے ہمارے رسول(ص) ) تم کسی حال میں ہو، قرآن کی کوئی آیت تلاوت کرو اور تم اور تمہاری امت کوئی عمل بھی بجالاو ہم اسی وقت اس کا مشاہدہ کرتے ہیں اور زمین و آسمان میں کوئی ذرہ بھی تمہارے خدا سے پوشیدہ نہیں ہے اور اس میں سے ہر چھوٹا بڑا ذرہ جو کچھ بھی ہے کتاب مبین ( اور لوح علم الہی ( میں درج ہے۔)

ان آیات شریفہ کے حکم اور عقلی دلائل کی تائید کے پیش نظر کوئی قول و فعل خدا سے مخفی نہیں رہتا اور پروردگار عالم اپنے علم حضوری کے ساتھ بندوں کے تمام اعمال و افعال اور اقوال کا عالم ہے۔ اب ذرا اس حدیث کو ملاحظہ فرمائیے جو آپ نے بیان کی کہ ان دونوں آیتوں اور دوسری آیات شریفہ کے ساتھ ہم اس کو کس طرح مطابق کریں اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ ابوبکر کی رضا مندی اور نا رضامندی خدا سے پوشیدہ ہو یہاں تک کہ وہ خود ان سے دریافت کرنے کا محتاج ہو۔ علاوہ اس کے حق تعالی کی خوشنودی خوشنودی خلق سے وابستہ ہے، بندہ جب تک رضا کی منزل تک نہ پہنچے قطعا خدا کا محبوب نہیں ہوسکتا، پس خدا کیونکر ابوبکر سے رضامندی کا اعلان کررہا ہے حالانکہ ابھی اس کو یہ نہیں معلوم کہ ابوبکر مقام رضا پر پہنچے اور خدا سے راضی ہیں یا نہیں۔

ابوبکر اور عمر کی فضیلت میں احادیث اور ان کا رد

شیخ : اب اس میں تو کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا :

" إنّ اللّه يتجلّى للناس عامّة و يتجلّى لأبی بكر خاصّة"

( یعنی خدا تمام انسانوں کے لیے عام طور پر اور ابوبکر کے کیے خاص طور پر جلوہ دکھائے گا۔) نیز فرمایا ہے : "ما صبّ اللّه شيئا فى صدرى إلّا و صبّه فى صدر أبى بكر،" ( یعنی خدا نے میرے سینے میں جوئی چیز نہیں ڈالی لیکن یہ کہ وہی چیز ابوبکر کے سینے میں بھی ڈالی) نیز فرمایا " انا و ابوبکر کفرسی ؟؟؟ " ( یعنی میں اور ابوبکر ان دو گھوڑوں کی مثل ہیں جو گھوڑ دوڑ میں ایک دوسرے کے برابر ہوں) نیز فرمایا :

" ان فی السماء الدنيا ثمانين الف ملک يستغفرون لمن احب ابابکر و عمر و فی السماء الثانيه ثمانين الف ملک يلعنون من البغض ابابکر وعمر"

( یعنی آسمانی دنیا میں اسی ہزار فرشتے اس شخص کے لیے استغفار کرتے ہیں جو ابوبکر و عمر کو دوست رکھے


اور دوسرے آسمان میں اسی فرشتے لعنت کرتے ہیں اس شخص پر جو ابوبکر و عمر کو دشمن رکھے) نیز فرمایا ہے : " ابوبکر و عمر خير الاولين والآخرين " (یعنی ابوبکر و عمر اولین و آخرین میں سب سے بہتر ہیں۔) اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی عظمت منزلت اس حدیث سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے کہ فرمایا :

" خلقنی الل ه من نوره و خلق ابابکر من نوری و خلق عمر من نور ابی بکر و خلق امتی من نور عمر و خمر سراج اهل الجنة "

( یعنی خدا نے مجھ کو اپنے نور سے ا بوبکر کو میرے نور سے عمر کو ابوبکر کے نور سے اور میری امت کو عمر کے نور سے پیدا کیا اور عمر اہل جنت کے چراغ ہیں۔)

اس طرح کی حدیثین ہماری معتبر کتابوں میں بہت وارد ہیں جن میں سے نمونے کے طور پر میں نے بعض کی طرف اشارہ کر دیا ہے تاکہ آپ مقام خلفاء کی حقیقت واضح اور روشن ہوجائے۔

خیر طلب : سب سے پہلے تو ان احادیث کے نمایاں مطالب خود ہی ان کے فساد ور کفر پر پوری دلالت کررہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان مبارک سے ایسے مضامین صادر نہیں ہوئے اس لیے کہ پہلی حدیث تجسم کو ثابت کررہی ہے اور خدائے تعالی کی جسمانیت پر عقیدہ رکھتا قطعا کھلا ہوا کفر ہے۔ دوسری حدیث بتاتی ہے کہ رسول اللہ(ص) پر جو کچھ نازل ہوتا تھا ابوبکر اس میں شریک تھے۔ تیسری حدیث کا یہ مطلب ہے کہ خاتم الانبیاء(ص) کو ابوبکر پر کوئی فوقیت حاصل نہ تھی کیونکہ دونوں آپس میں مساوی تھے۔ چوتھی اور پانچویں دونوں حدیثیں ان بے شمار حدیثوں کے خلاف پڑتی ہیں جن پر فریقین کا اجماع ہے کہ اہل عالم میں سب سے بہتر محمد و آل محمد سلام اللہ علیہم اجمعین ہیں۔ اور آخری حدیث قرآن مجید کی مخالف ہے۔ کیونکہ سورہ نمبر73 (دہر) آیت نمبر13 میں ارشاد ہے " لا يَرَوْنَ فِيها شَمْساً وَ لا زَمْهَرِيراً" ( یعنی بہشت آفتاب و ماہتاب کی جگہ نہیں ہے بہشت کے شجر و حجر مکانات اور در دیوار سب روشن اور نورانی ہیں، یہ دنیا والے ہیں جو چراغ کے محتاج ہیں ورنہ اہل جنت کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔

علاوہ ان کھلی باتوں کے خود آپ کے بڑے بڑے علمائے درایت و رجال جیسے عالم جلیل القدر مقدسی نے تذکرۃ الموضوعات میں، فیروز آبادی شافعی نے کتاب سفرالسعادات میں، حسن بن کثیر ذہبی نے میزان الاعتدال میں، ابوبکر احمد بن علی خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں، ابوالفرج ابن جوزی نے کتاب الموضوعات میں اور جلال الدین سیوطی نے الئالی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ میں ان احادیث کے موضوع اور فرضی ہونے کا فتوی دیا ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں صاف صاف کہتے ہیں کہ سلسلہ روایت و اسناد کے لحاظ سے یہ حدیثیں جعلی اور گھڑی ہوئی ہیں اس لیے کہ علاوہ ان نا اہل ، جعلساز اور جھوٹے افراد کے جو ان کے راویوں کے سلسلے میں موجود ہیں ان کا باطل ہونا عقلی قواعد و قرآنی آیات سے بھی ظاہر اور واضح ہے۔

شیخ : اچھا اس حدیث میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا

" أبو بكر و عمر سيّد الكهول


أهل الجنّة"

( یعنی ابوبکر اور عمر دونوں جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔

اس حدیث کا جواب کہ ابوبکر و عمر دونوں جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں

خیر طلب : اس حدیث میں بھی اگر ہم تھوڑا غور و فکر کریں تو قطع نظر اس سے کہ خود آپ کے علمائے درایت و رجال اس کو وضعی احادیث میں سے سمجھتے ہیں، اس کی عبارت بھی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ رسول کا ارشاد نہیں ہوسکتا اسی لیے کہ یہ چیز مسلمات میں سے ہے کہ جنت ضعیفوں اور بوڑھوں کی جگہ نہیں ہے اور وہاں دنیا کی طرح تدریجی ارتقاء نہیں ہے کہ آدمی جوانی سے پیری کی عمر کو پہنچے تاکہ کمال سیادت پر فائز ہو۔

ہماری اور آپ کے روایات میں اس مطلب کی تصدیق کرنے والے کافی اخبار موجود ہیں جن میں سے ایک اشجعیہ کا واقعہ ہے کہ ایک بوڑھی عورت خدمت رسول(ص) میں حاضر ہوئی آں حضرت نے دوران گفتگو میں فرمایا " أنّ الجنّة لا تدخلها العجائز" (یعنی بوڑھی عورتیں بہشت میں داخل نہ ہوں گی، وہ عورت بہت متاثر ہوئی اور رو رک عرض کیا یا رسول اللہ(ص) پھر تو میں جنت میں نہ جاوں گی۔ یہ کہہ کر باہر گئی تو آنحضرت(ص) نے فرمایا " اخبروہا انہا لیست یومئذ بعجوز۔" یعنی اس کو اطلاع دے دو کہ اس روز وہ بوڑھی نہ ہوگی بلکہ سارے بوڑھوں کو خلعت جوانی سے آراستہ کر کے بہشت میں داخل کریں گے۔ اس کے بعد سورہ نمبر56 (واقعہ) کی آیت نمبر36 تلاوت فرمائی کہ خدا فرماتا ہے :

" إِنَّا أَنْشَأْناهُنَّ إِنْشاءً فَجَعَلْناهُنَّ أَبْكاراً عُرُباً أَتْراباً. لِأَصْحابِ الْيَمِينِ "

( انشاء صیغہ ماضی میں تحقیق وقوع کی جہت سے ہے یعنی ہم نے بہشت کی عورتوں کو انتہائی حسن و زیبائی کے ساتھ پیدا کیا ہے جن کو ہمیشہ کے لیے باکرہ اور دوشیزہ ، اپنے شوہروں کی عاشق و وفا دار ، ناز --- والی، شیرین کلام ، ہمسن اور اصحاب یمین کے لیے مخصوص قرار دیا ہے) اور ہمارے اور آپ کے طریقوں سے مروی حدیث میں وارد ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا

" يدخل أهل الجنّة الجنّة جردا مردا بيضا جعادا مكحّلين، أبناء ثلاث و ثلاثين."

( یعنی اہل بہشت جب بہشت میں داخل ہوں گے تو ہمیشہ کے لیے بے ریش و بروت نو جوان، سفید فام گھونگھریالے بالوں والے آنکھوں میں سرمہ لگا ہوئے تیس بتیس سال کی عمر میں ہوں گے۔)

شخ : آپ کے یہ بیانات اپنی جگہ پر صحیح ہیں لیکن اہل بہشت کے لیے یہ ایک حدیث محض ہے۔

خیر طلب : میں جناب عالی کے ارشاد کا مطلب نہیں سمجھا ۔ یہ حدیث مخصص کیا چیز ہے یعنی خدا ایک جماعت کو جنت میں بورھا ہی داخل کرے گا تاکہ ابوبکر و عمر کو ان کا سردار بنائے حالانکہ اگر فرض کیا جائے کہ ابوبکر وعمر جنت میں داخل ہوں گے تو خدا ان کو بھی جوان بنادے گا نہ یہ کہ دوسروں کو بوڑھا بنائے تاکہ ان دونوں کی سرداری ثابت ہو۔ اس کے علاوہ میں نے عرض کیا کہ خود آپ کے اکابر علمائ نے اس حدیث کو موضوعات میں شمار کیا ہے اور رسول اکرم(ص) نے ہماری رہنمائی کے لیے


ایک معیار معین فرمایا ہے تاکہ ہمارے خیال کو یکسوئی حاصل ہوجائے جیسا پہلے عرض کرچکا ہوں کہ جو حدیث بھی قرآن سے مطابقت نہ کرے وہ مردود ہے، لہذا ہمارے علمائے رجال اور صاحبان درایت بھی ایسی بہت سی حدیثوں کو جو رسول ائمہ طاہرین صلوات اللہ علیہم اجمعین کے نام سے خود ہمارے طریق سے وارد ہوئی ہیں آن حضرت کے اس حکم کے ماتحت کہ :

" إذا روي لکم عني حديث فاعرضوه على كتاب الله فإن وافقه فاقبلوه و إلا فردوه."

( یعنی جس وقت مجھ سے کوئی حدیث تمہارے لیے روایت کی جائے تو اس کو قرآن مجید کے سامنے پیش کرو اگر اس کے موافق ہوتو قبول کرو ورنہ رد کرو) رد کردیتے ہیں اور قبول نہیں کرتے ۔

اور اس سے قبل عرض کرچکا ہوں کہ خود آپ کے بڑے بڑے ارباب جرح و تعدیل علماء نے بھی موضوع احادیث کی رد میں مبسوط کتابیں تالیف و تصنیف کی ہیں۔ مثلا شیخ مجدالدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی ( صاحب قاموس) نے کتاب سفر السعادۃ میں) جلال الدین سیوطی نے کتاب الئالی میں، ان جوزی نے موضوعات میں، مقدسی نے تذکرۃ الموضوعات میں اور شیخ محمد بن درویش مشہور بہ حوت بیروتی نے کتاب اسنی المطالب ص123 میں لکھا ہے کہ حدیث " أبو بكر و عمر سيّد الكهول أهل الجنّة" کی سند میں یحی بن عتبہ بھی ہے اور ذہبی کہتے ہیں کہ یحی ضعیف راویوں میں سے ہے۔ اور ابن حبان نے کہا ہے کہ یحی حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔ پس علاوہ ان دلائل کے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے خود آپ کے نقاد علماء کے بیان سے بھی جو ارباب جرح و تعدیل ہیں یہ حدیث موضوع ثابت ہوتی ہے۔ در حقیقت قوی احتمال یہی ہے کہ یہ بکری یا اموی گروہ کی گھڑی ہوئی ہے کیونکہ وہ بنی ہاشم اور عترت طاہرہ و اہل بیت رسول (ص) کو حقیر بنانے کے لیے ان احادیث میں سے جو خاندان رسالت کی مدح اور عظمت میں فریقین کے نزدیک ثابت ہیں ہر حدیث کے مقابلے میں ایک فرضی حدیث تیار کر دیتے تھے اور ابوہریرہ جیسے لوگ بھی بنی امیہ کے باطل اقتدار کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرنے کے لیے برابر اس کام میں کوشش کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ اس کینے اور عداوت کی بنا پر جو لوگ آل محمد(ص) سے رکھتے تھے اس معتبر حدیث شریف کے مقابلے میں جس کو علاوہ اجماع علمائے شیعہ کے آپ کے اکابر علماء نے بھی نقل کیا ہے یہ حدیث بھی وضع کی گئی ہے۔

نواب : وہ مسلم حدیث کون سی ہے جس کے مقابلے میں یہ حدیث گھڑی گئی؟

اس حدیث کا ذکر کہ حسن(ع) و حسین(ع) دونوں جوانان اہل جنت کے سردار ہیں

خیر طلب: وہ معتبر اور مسلم حدیث شریف یہ ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا :

" الحسن و الحسين سيدا شباب اهل الجنة و ابوهما خير منهما"

اور آپ کے بہت سے علماء نے اس کو نقل کی اہے جیسے خطیب خوارزمی نے مناقب میں، میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی مودت ہشتم میں، الامام ابو عبدالرحمن نسائی نے تین حدیثیں خصائص العلوی میں،


ابن صباغ مالکی نے فصول المہمہ ص159 میں، سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب 54 میں ترمذی ، ابن ماجہ اور احمد ابن حنبل سے سبط ابن جوزی نے تذکرہ ص124 میں، امام احمد حنبل نے مسند میں، ترمذی نے سنن میں اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب14 میں یہ حدیث نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ امام اہل حدیث ابو القاسم طبرانی نے معجم الکبیر کے اندر شرح حال امام حسن علیہ السلام میں بہت سے صحابہ پیغمبر سے اس حدیث شریف کے سارے طرق کو جمع کیا ہے مثلا امیرالمومنین علی ابن ابی طالب خلیفہ ثانی عمر بن خطاب ، حذیفہ یمانی، ابو سعید خدری، جابر ابن عبداللہ انصاری، ابو ہریرہ، اسامہ بن زید اور عبداللہ بن عمر اس کے بعد محمد بن یوسف نےتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک حسن حدیث ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا

" الحسن و الحسين سيدا شباب اهل الجنة و ابوهما خير منهما"

اور بعض روایتوں میں ہے افضل منہما ( یعنی حسن(ع) و حسین(ع) دونوں جوانان اہل جنت کے سردار ہیں، اور ان کے باپ ان سے بہتر و افضل ہیں) اور اس حدیث کے اسناد کا باہمی تسلسل اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔ نیز حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیہ میں، ابن عساکر نے تاریخ کبیر جلد چہارم ص206 میں حاکم نے مستدرک میں، ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ ص82 میں، غرضیکہ آپ کے اکابر علماء نے بالاتفاق کہا ہے کہ یہ حدیث رسول خدا(ص) کی زبان مبارک پر جاری ہوئی ہے۔

شیخ : اچھا اس حدیث سے تو کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا " لا ينبغي لقوم فيهم أبو بكر أن يتقدّم عليه غيره" یہ حدیث خود عام حیثیت سے امت پر ابوبکر کی فوقیت کی دلیل ہے اس لیے کہ فرمایا کسی قوم کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ ابوبکر اس کے درمیان موجود ہوں اور وہ دوسرے کو ان پر مقدم کرے۔

خیر طلب : مجھ کو افسوس ہے کہ آپ حضرات ہر ایک حدیث کو بغیر غور و فکر کے کیوں قبول کر لیتے ہیں۔ اگر یہ حدیث رسول اللہ(ص) کی فرمائی ہوئی تھی تو اس پر خود کیوں عمل نہیں فرماتے تھے کہ ابوبکر کی موجودگی میں علی علیہ السلام کو مقدم رکھتے تھے ؟ معاملے کے موقع پر کیا ابوبکر موجود نہیں تھے جو علی کو ان پر مقدم فرمایا ؟ جنگ تبوک میں ابوبکر کے ایسے تجربہ کار بوڑھے کی موجودگی میں کس لیے علی(ع) کو اپنا خلیفہ مقرر فرمایا ؟ سفر مکہ میں ابلاغ رسالت اور سورہ برائت کی قرائت کے لیے کس واسطے ابوبکر کو معزول کر کے علی(ع) کو نصب فرمایا ؟ مکے میں ابوبکر کے ہوتے ہوئے کس وجہ سے بت شکنی کے لیے علی(ع) کو اپنے ساتھ لے گئے یہاں تک کہ اپنے شانے پر سوار کیا اور ہبل بت کو توڑنے کا حکم دیا۔ ابوبکر کی موجودگی میں اہل یمن کی حکومت وہدایت کے لیے علی(ع) کو کیوں بھیجا؟ اور ان سب کے علاوہ ابوبکر کے ہوتے ہوئے علی(ع) کو اپنا وصی کس واسطے بنایا؟

شیخ : ایک بہت مضبوط حدیث رسول اللہ(ص) سے مروی ہے جس کا ہرگز انکار نہیں ہوسکتا کہ عمرو بن عاص نے کہا ایک روز میں نے پیغمبر(ص) سے عرض کیا یا بنی اللہ(ص) دنیا کی عورتوں میں آپ سب سے زیادہ کس کو چاہتے ہیں؟ فرمایا عائشہ کو، میں نے عرض کیا مردوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے فرمایا عائشہ کے باپ ابوبکر۔ پس اس لحاظ سے کہ آپ پیغمبر کے محبوب ہیں تمام امت پر فوقیت کا حق رکھتے یں اور یہ خود خلافت ابوبکر رضی اللہ پر ایک قاطع دلیل ہے۔


اس حدیث کا جواب کہ ابوبکر اور عائشہ پیغمبر(ص) کے محبوب تھے

خیر طلب : یہ حدیث علاوہ اس کے کہ بکری گروہ کی ساختہ و پرداختہ ہے، فریقین کے نزدیک مسلم اور معتبر احادیث کے بھی خلاف ہے لہذا اس کی مردودیت ثابت ہے۔

اس حدیث میں دو پہلووں سے غور کرنا چاہیے۔ اول ام المومنین عائشہ کی جہت سے اور دوسرے خلیفہ ابوبکر کی جہت سے چنانچہ عائشہ کی محبوبیت میں اس حیثیت سے کہ رسول اللہ(ص) کے نزدیک ساری عورتوں سے زیادہ محبوب ہوں اشکال ہے جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں یہ قول صحیح و معتبر احادیث کے خلاف ہے جو فریقین ( شیعہ و سنی) کی معتبر کتابوں میں درج ہیں۔

شیخ : کن حدیثوں کے معارض ہے؟ ممکن ہو تو بیان کیجئے تاکہ ہم مطابقت کر کے عادلانہ فیصلہ کریں۔

خیر طلب : آپ کے قول کے برخلاف آپ کے علماء روایت کے طرق سے بکثرت حدیثیں حضرت صدیقہ کبری ام الائمہ جناب فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہا کے بارے میں منقول ہیں۔

فاطمہ(س) زنان عالم میں سب سے بہتر ہیں

من جملہ ان کے حافظ ابوبکر بیہقی نے تاریخ میں، حافظ ابن عبدالبر نے استیعاب میں، میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی میں اور آپ کے دوسرے علماء نے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم(ص) بار بار فرماتے تھے "فاطمة خير نساء امّتي " ( یعنی فاطمہ(س ) میری امت کی عورتوں میں سب سے بہتر ہیں۔

امام احمد بن حنبل نے مسند میں حافظ ابوبکر شیرازی نے نزول القرآن فی علی میں محمد ابن حنفیہ سے انہوں نے امیر المومنین علیہ السلام سے ابن عبدالبر نے استیعاب میں بسلسلہ نقل حالات فاطمہ سلام اللہ علیہا و ام المومنین خدیجہ عبدالوارث ابن سفیان اور ----- حالات ام المومنین خدیجہ کے ضمن میں ابوداوود سے ابوہریرہ و انس بن مالک سے نقل کرتے ہوئے شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب55 میں، میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی مودت سیزدہم میں انس بن مالک سے نیز بہت سے ثقات محدثیں نے اپنے طرق کےساتھ انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا :

"خير نساء العالمين أربع : مريم بنت عمران، و ابنة مزاحم امرأة فرعون، و خديجة بنت خويلد، و فاطمة بنت محمّد صلى اللّه عليه و آله و سلم."

( یعنی عالمین کی عورتوں میں سب سے بہتر چار ہیں۔ مریم دختر عمران و آسیہ دختم مزاحم خدیجہ دختر خویلد اور فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطیب تاریخ بغداد میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ(ص) نے ان چار


عورتوں کو دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر شمار فرمایا ہے اس کے بعد فاطمہ کو دینا و آخرت میں ان پر فضیلت دی ہے۔

محمد بن اسماعیل بخاری صحیح میں اور امام احمد حنبل مسند میں عائشہ بنت ابوبکر سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فاطمہ(س) سے فرمایا

" يا فاطمه البشری فان الله اصطفيک و طهرک علی نساء العلمين و علی نساء الاسلام وهو خير دين."

( یعنی اے فاطمہ(س) خوشخبری اور بشارت ہو تم کو کہ خدا نے تم کو برگزیدہ کیا عالمین کی عورتوں پر بالعموم ، اور زنان اسلام پر بالخصوص پاکیزہ قرار دیا اور اسلام ہر دین سے بہتر ہے۔)

نیز بخاری نے اپنی صحیح جز چہارم ص64 میں مسلم نے اپنی صحیح جز دوم باب فضائل فاطمہ(س) میں، حمیدی نے جمع بین الصحیحن میں، عبدی نے جمع بین الصحاح الستہ میں ابن عبدالبر نے استیعاب ضمن حالات حضرت فاطمہ(س) میں، امام ابن حنبل نے مسند جز ششم ص283 میں، محمد بن سعد کاتب نے طبقات جلد دوم مرض و بستر بیماری میں ارشادات رسول(ص) کے ذیل میں اور جلد ششم میں جناب فاطمہ(س) کے حالات نقل کرتے ہوئے ایک طولانی حدیث کے سلسلے میں (جس کو مکمل طور پر نقل کرنے کی وقت میں گنجائش نہیں) ام المومنین عائشہ کی سند سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

" يا فاطمة الا ترضين ان تکونی سيدة نساء العالمين "

(یعنی اے فاطمہ(س) آیا تم خوش نہیں ہو اس سے کہ زنان عالمین کی سردار ہو۔)

ابن حجر عسقلانی نے اسی عبارت کو صابہ میں حالات جناب فاطمہ(س) کے ضمن میں نقل کیا ہے۔ یعنی تم عالمین کی عورتوں میں سب سے بہتر ہو۔ نیز بخاری و سلم نے اپنی صحیحیں میں امام شافعی نے تفسیر میں، امام احمد ابن حنبل نے مسند میں، طبرانی نے معجم الکبیر میں، سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب42 میں تفسیر ابن ابی حاتم و مناقب و حاکم و و سبط و اسدی حلیۃ الاولیاء حافظ ابونعیم اصفہانی و فرائد حموینی سے، ابن حجر مکی نے صواعق کے-- چہاردھم کے ذیل میں احمد سے ، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں، طبری نے تفسیر میں واحدی نے اسباب النزول میں، ابن مغازل شافعی نے مناقب میں، محب الدین طبری نے ریاض میں، شبلنجی نے نورالابصار میں ، زمخشری نے تفسیر میں، سیوطی نے در المنثور میں، ابن عساکر نے تاریخ میں، علامہ سرودی نے تاریخ المدینہ میں فاضل نیشاپوری نے تفسیرمیں، قاضی بیضاوی نے تفسیر میں، امام فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر میں، سید ابوبکر شہاب الدین علوی نے شفتہ الصاری باب اول میں ص23 سے ص 24 تک تفسیر -- و ثعلبی و سیرہ ملاو مناقب احمد کبیر و اوسط طبرانی -- سے ، شیخ عبداللہ بن محمد بن عامر شہرادی شافعی نے کتاب الاتحاف ص5 میں حاتم و طبرانی -- جلال الدین سیوطی نے احیاء المیت میں تفاسیر ابن منذر و ابن ابی حاتم و ابن مرودیہ و معجم الکبیر طبرانی سے، اور ابن ابی حاتم اور حاکم نے یہاں تک کہ عام طور پر آپ کے جملہ اکابر علما نے (سوا چند تھوڑے سے متعصبین بنی امیہ کے پیرو اور دشمنان اہل بیت کے ) ابن عباس خیر امت ، اور دوسروں سے نقل کیا ہے کہ جس وقت سورہ نمبر42 ( سورہ شوری) کی آیت نمبر23 "قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى وَ مَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيها حُسْناً"

(یعنی کہہ دو امت سے ) کہ میں تم سے اجر رسالت سوا اس کے اور کچھ نہیں چاہتا کہ میرے گھر والوں سے محبت رکھو، اور جو شخص نیک کام انجام دے گا ہم اس کی نیکی میں اضافہ کرویں گے) نازل ہوئی تو اصحاب کی ایک جماعت نے عرض کیا :

"يا رسول اللّه ، من


قرابتك ؟ قال: «عليّ و فاطمة و الحسن و الحسين "

یعنی آپ کے قرابتدار کو ن ہیں جن کی دوستی اور مودت خدا نے ہم پر واجب فرمائی ہے؟ ( یعنی اس آیہ مبارک میں) تو آنحضرت (ص) نے فرمایا کہ وہ افراد علی(ع) و فاطمہ(س) اور حسن(ع) و حسین(ع) ہیں۔ اور بعض روایات میں وابناهما وارد ہے یعنی ان کے دونوں فرزند۔

اسی طرح کے اخبار و احادیث آپ کے معتبر کتابوں میں بہت وارد ہوئے ہیں جن سب کو ذکر کرنے کی وقت میں گنجائش نہیں ہے اور آپ کے علماء کے نزدیک یہ مطلب حد شیاع تک پہنچا ہوا ہے۔

محبت اہل بیت(ع) کے وجوب میں شافعی کا اقرار

یہاں تک کہ ابن حجر ایسے متعصب نے بھی صواعق محرقہ ص88 میں، حافظ جمال الدین زرندی نے معراج الوصول میں، شیخ عبداللہ شبراوی نے کتاب الاتحاف ص26 میں، محمد بن علی صبان مصری نے اسعاف الراغبین ص119 میں اور دوسرے علماء نے امام محمد بن ادریس شافعی سے جو آپ کے ائمہ اربعہ میں سے اور شافعیوں کے رئیس ہیں نقل کیا ہے کہ آپ کہتے تھے۔

يا أهل بيت رسول اللّه حبكم فرض من اللّه في القرآن أنزله

كفاكم من عظيم القدر أنكم من لم يصلّ عليكم لا صلاة له

( یعنی اے اہل بیت رسول خدا (ص) آپ کی محبت اور دوستی خدا کی جانب سے واجب ہوئی ہے جو قرآں میں نازل ہوئی ہے( آیت مذکورہ کی طرف اشارہ ) آپ کی عظمت منزلت میں یہی کافی ہے کہ جو شخص آپ ( آل محمد(ص)) پر صلوات نہ بھیجے اس کی نماز قبول نہ ہوگی) اب میں آپ حضرات سے اںصاف کے ساتھ پوچھتا ہوں کہ آیا وہ ایک طرفہ حدیث جس کو آپ نے نقل کیا ہے، ان ساری صحیح و صریح اور متفق بین الفریقین شیعہ و سنی بے شمار حدیثوں اور آیتوں کے مقابلے میں آسکتی ہیں؟ آیا اس کو عقل قبول کرتی ہے کہ جس کی محبت و مودت کو خدائے تعالی نے قرآن مجید میں لوگوں پر فرض قرار دیا ہو رسول اللہ(ص) اس کو چھوڑ دیں اور دوسروں کو اس پر ترجیح دیں؟

آیا آنحضرت (ص) کے لیے ہوا و ہوس کا تصور ہوسکتا ہے کہ ہم کہیں آپ اپنی خواہش نفس کی بناء پر عائشہ کو جن کی افضلیت پر کوئی دلیل نہیں ہے ( سوا اس کے کہ رسول خدا(ص) کی زوجہ اور تمام ازواج پیغمبر کی طرح ام المومنین تھیں) جناب فاطمہ(س) سے زیادہ دوست رکھتے ہوں گے جن کی محبت و مودت کو خدائے تعالے نے قرآن مجید میں فرض اور واجب قرار دیا ہے۔ جن کی شان میں آیت تطہیر نازل ہوئی ہے اور جن کو بحکم قرآن مباہلے میں شامل ہونے کا فخر حاصل ہے۔ آپ خود جانتے ہیں کہ انبیاء و اولیاء ہوائے نفس کی پیروی نہیں کرتے اور سوائے خدا کے کسی پر نظر نہیں رکھتے، بالخصوص خاتم الانبیاء حضرت رسول خدا(ص) جو حقیقتا حب فی اللہ اور بغض فی اللہ کے حامل تھے اور قطعا اسی کو دوست رکھتے تھے جس کو خدا دوست رکھتا تھا اور اسی شخص کو دشمن رکھتے تھے


جس کو خدا دشمن رکھتا تھا۔

یہ کیوں کر ممکن ہے کہ آں حضرت (ص) آں فاطمہ(س) کو چھوڑ دیں جن کی محبت و مودت کو خدا نے فرض اور واجب کیا اور دوسرے کو ان ترجیح دیں۔ بس اگر جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کو دوست رکھتے تھے تو محض اسی وجہ سے کہ خدا ان کو محبوب رکھتا تھا۔

آیا عقل باور کرتی ہے کہ آں حضرت(ص) اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کو محبت کے معاملے میں اس ذات پر ترجیح دیں جس کے متعلق خود یہ فرماتے تھے کہ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا اور ان کی محبت کو انسانوں پر فرض قرار دیا ہے؟ اب آپ کو چاہیے کہ یا تو ان تمام اخبار صحیحہ و صریحہ کو جو اکابر علمائے فریقین کے یہاں مقبول ہیں اور آیات قرآن مجید ان کی تائید کر رہی ہیں رد کیجئے یا جو یہ حدیث آپ نے بیان کی ہے اس کو طے نشدہ، جعلی حدیثوں میں شمار کیجئے، تاکہ یہ تناقض ختم ہوجائے ۔ اور خلیفہ ابوبکر کے بارے میں جو آپ نے فرمایا کہ آںحضرت (ص) نے ارشاد فرمایا، میرے نزدیک مردوں میں سب سے زیادہ محبوب ابوبکر ہیں تو یہ آن بکثرت معتبر روایات کے خلاف ہے جو خود آپ ہی کے بڑے بڑے ثقہ راویوں اور عالموں کے طریقوں سے منقول ہیں کہ پیغمبر(ص) کے نزدیک امت کے مردوں میں سب سے زیادہ محبوب علی علیہ السلام تھے۔

پیغمبر(ص) کے نزدیک علی(ع) تمام مردوں سے زیادہ محبوب تھے

چنانچہ شیخ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودت باب 55 میں ترمذی سے بریدہ کی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا " کان احب النساء فی رسول الله فاطمة و من الرجال علی "

( یعنی پیغمبر کے نزدیک عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ(س) اور مردوں میں علی علیہ السلام تھے)

محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب باب 91 میں ام المومنین عائشہ کی سند سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا " ما خلق الله خلقا کان احب الی رسول الله من علی ابن ابی طالب " ( یعنی خدا نے کسی ایسی مخلوق کو پیدا نہیں کیا جو رسول اللہ کے لیے علی (ع) سے زیادہ محبوب ہو) اس کے بعد کہتے ہیں کہ یہ وہ حدیث ہے جس کو ابن عساکر نے اپنے مناقب میں اور ابن عساکر دمشقی نے ترجمہ حالات علی علیہ السلام میں روایت کیا ہے۔

محی الدین ( امام الحرم احمد بن عبداللہ شافعی ذخائر العقبی میں ترمذی سے نقل کرتے ہیں کہ عائشہ سے لوگوں نے پوچھا کہ رسول اللہ(ص) کے نزدیک کون عورت سب سے زیادہ محبوب تھی؟ انہوں نے کہا فاطمہ(س) پھر پوچھا کہ مردوں میں آںحضرت(ص) کو کون محبوب تر تھا؟ تو کہا کہ " زوجہا علی ابن ابی طالب" یعنی ان کے شوہر علی ابن ابی طالب۔

نیز مخلص ذہبی اور حافظ ابو القاسم دمشقی سے اور وہ عائشہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا :

" ما رائيت رجلا احب الی النبی صلی الله عليه وآله وسلم من علی ولا احب اليه من فاطمة "

یعنی میں نے کسی مرد کو رسول (ص) کے


نزدیک علی (ع) سے زیادہ محبوب نہیں دیکھا اور نہ فاطمہ(س) سے محبوب تر دیکھا۔

نیز حافظ خجندی سے اور وہ معاذۃ الغفاریہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ کہتی ہیں کہ میں عائشہ کے یہاں خدمت رسول(ص) میں مشرف ہوئی اور علی علیہ السلام گھر کے باہر موجود تھے، آںحضرت(ص) نے عائشہ سے فرمایا:

" انّ هذا احبّ الرجال الىّ و اكرمهم علىّ فاعرفى له حقّه و اكرمى مثواه"

یعنی یہ علی(ع) میرے نزدیک مردوں میں سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ ۔۔۔۔ باعزت ہیں لہذا انکا حق پہچانو اور ان کے مرتبے کی تعظیم و توقیر کرو) شیخ عبداللہ بن محمد بن عامر شبراوی شافعی جو آپ کے جلیل القدر علماء میں سے ہیں کتاب الاتحاف بحب الاشراف ص9 میں، سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودت میں اور محمد بن طلحہ شافعی مطالب السئول ص6 میں ترمذی سے اور وہ جمیع بن عمیر سے نقل کرتے ہیں کہ کہ انہوں نے کہا میں اپنی پھوپھی کے ہمراہ ام المومنین عائشہ کے پاس گیا اور ہم لوگوں نے ان سے پوچھا کہ رسول خدا(ص) کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب شخص کون تھا؟ عائشہ نے کہا کہ عورتوں میں فاطمہ(س) اور مردوں ان کے شوہر علی ابن ابی طالب۔

اسی روایت کو میر سید علی ہمدانی شافعی نے مودۃ القربی مودت یازدہم میں اتنے فرق کے ساتھ نقل کیا ہے کہ جمیع نے کہا میں نے اپنی پھوپھی سے دریافت کیا تو یہ جواب ملا۔

نیز خطیب خوارزمی نے مناقب فصل ششم کے آخر میں جمیع بن عمیر سے اور انہوں نے عائشہ سے اس خبر کو نقل کیا ہے ۔ ابن حجر مکی صواعق محرقہ فصل دوم کے آخر میں حضرت علی علیہ السلام کے فضائل میں چالیس حدیثیں نقل کرنے کے بعد عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا :

" کانت فاطمة احب النساء الی رسول الله صلی الله عليه و آله و زوجها احب الرجال "

یعنی پیغمبر(ص) کے نزدیک عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ(س) اور مردوں میں سب سے زیادہ محبوب ان کے شوہر علی ابن ابی طالب(ع) تھے) نیز محمد بن طلحہ شافعی مطالب السئول ص7 میں اس موضوع پر چند مفصل روایتیں نقل کرنے کے بعد اس عبارت کے ساتھ اپنے عقیدے اور تحقیق کا اظہار کرتے ہیں۔:

" فثبت بهذه الاحاديث الصحيحة والاخبار الصريحه ان فاطمة کانت احب الی رسول الله من غيرها و انها سيدة نساء اهل الجنة و انها سيدة نساء هذه الامة و سيدة نساء اهل الجنة "

یعنی احادیث صحیحہ اور اخبار صریحہ سے ثابت ہوا کہ فاطمہ(س) رسول اللہ(ص) کو اپنے علاوہ ہر ایک شخصیت سے زیادہ محبوب تھیں اور یقینا وہ بہشت کی عورتوں کی سردار اس امت کی عورتوں کی سردار اور مدینے کی عورتوں کی سردار تھیں۔)

پس یہ مطلب عقلی و نقلی دلائل سے ثابت ہے کہ علی و فاطمہ علیہما السلام سارے مخلوقات میں رسول اللہ(س) کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔ اور پیغمبر(ص) ک نزدیک علی کی محبوبیت اور دوسروں پر فوقیت کے ثبوت میں ان تمام روایات سے زیادہ اہم مشہور و معروف حدیث طیر ہے جس سے مکمل طور پر ثابت ہوتا ہے کہ حضرت علی آں حضرت (ص) کو ساری امت میں سب سے زیادہ محبوب تھے اور یقینا آپ خود بھی خوب جانتے ہیںکہ حدیث طیر فریقین ( سنی شیعہ) کے درمیان اس قدر مشہور ہے کہ اس کو سند نقل کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن محترم حاضرین جلسہ کی وسعت نظر کے لیے تاکہ ان پر حقیقت مشتبہ نہ رہ جائے اور ان کو


یہ خیال پیدا نہ ہو کہ شیعہ اس قسم کی حدیثوں کو وضع کرتے ہیں اس کے بعض اسناد جو اس وقت میری نظر میں ہیں عرض کرتا ہوں۔

حدیث طیر

بخاری ، ترمذی، نسائی، اور سجستانی نے اپنی معتبر صحاح میں، امام ابن حنبل نے مسند میں ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں، ابن صباغ مالکی نے فصول المہمہ میں اور سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ کے باب 8 کو حدیث طیر اور اس کے روایات کے نقل سے مخصوص کیا ہے اور احمد بن حنبل ، ترمذی، موفق ابن احمد، ابن مغازلی ، سنن ابی داوود ، رسول کے غلام سفینہ، انس بن مالک اور ابن عباس سے روایت کی ہے یہاں تک کہ کہتے ہیں حدیث طیر کو چوبیس راویوں نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے اور خصوصیت کے ساتھ مالکی نے فصول المہمہ میں اس عبارت کے ساتھ لکھا ہے کہ

" وذالک انه صح النقل فی کتب الاحاديث الصحيحه والاخبار الصريحه عن انس بن مالک "

جس کا مطلب یہ ہے کہ کتب احادیث صحیحہ اور اخبار صریحہ میں انس بن مالک سے حدیث طیر کی نقل مسلسل طور پر صحیح ہے ۔ سبط ابن جوزی نے تذکرہ ص23 میں فضائل احمد اور سنن ترمذی سے اور مسعودی نے مروج الذہب جلد دوم ص49 میں حدیث کے آخری حصے کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں پیغمبر(ص) کی دعا اور اس کی قبولیت ہے امام ابو عبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی حدیث نہم میں اور حافظ بن عقدہ و محمد بن جریر طبری دونوں سے ہر ایک نے اس حدیث کے تواتر اسانید میں کہ اس کو پینتیس صحابہ نے انس سے روایت کیا ہے ایک مخصوص کتاب لکھی ہے اور حافظ ابو نعیم نے اس باب میں ایک ضخیم کتاب لکھی ہے خلاصہ یہ کہ آپ کے سارے اکابر علماءنے اس حدیث شریف کی تصدیق کی ہے اور اپنی معتبر کتابوں میں درج کیا ہے، چنانچہ صاحب زہد و ورع محقق و ثقہ علامہ سید حسین صاحب اعلی اللہ مقامہ نےجن کے علم و عمل اور تقوی کو جو ہندوستان میں اظہر من الشمس تھا آپ حضرات قریب ہونے کی وجہ سے اچھی طرح جانتے ہیں اپنی کتاب طبقات الانوار بڑی بڑی جلدوں میں سے ایک عظیم وضخیم جلد حدیث طیر سے مخصوص کر رکھی ہے اور اس میں آپ کے بزرگ علماء کی خاص کتابوں میں سے تمام معتبر اسناد جمع کردیے ہیں۔ اس وقت میں یہ نہیں بتا سکتا کہ اس حدیث کو کتنی سندوں کےساتھ نقل کیا ہے البتہ اس قدر یاد ہے کہ اس کے اسناد پڑھنے کے وقت میں ان سید بزرگوار کی زحمتوں اور اہم دینی خدمتوں کو دیکھ کر مبہوت ہوگیا تھا کہ ایک چھوٹی سی حدیث کو صرف آپ کے طریقوں سے کس طرح تواتر کےساتھ ثابت کیا ہے۔ان تمام اخبار کا خلاصہ اور نتیجہ یہ ہے کہ جملہ شیعہ و سنی مسلمانوں نے ہر دور اور ہر زمانے میں اس حدیث کی صحت کا اقرار و اعتراف اور تصدیق کی ہے کہ ایک روز کوئی عورت ایک بنا ہوا طائر ہدیے کے طور پر جناب رسول اللہ(ص) کی خدمت میں لائی ، آں حضرت(ص) نے اس کو تناول فرمانے سے پہلے بارگاہ الہی میں دست دعا بلند فرمائے اور عرض کیا

" اللّهم ائتني بأحبّ خلقك إليك يأكل معي من هذا الطير فجاء عليّ فأكل معه."

( یعنی پرودگارا جو شخص میرے اور تیرے نزدیک تیری مخلوق میں سب سے زیادہ


محبوب ہو اس کو میرے پاس بھیج دے تاکہ اس بھنے ہوئے طائر میں سے میرے ساتھ نوش کرے، اس وقت علی علیہ السلام آئے اور آں حضرت(ص) کے ساتھ اس کو تناول کیا۔

اور آپ کی بعض کتابوں میں جیسے فصول المہمہ مالکی، تاریخ حافظ نیشاپوری، کفایت الطالب گنجی شافعی اور مسند احمد وغیرہ جن میں انس بن مالک سے روایت کی ہےاس طرح ذکر کیا کہ انس نے کہا، پیغمبر(ص) اس دعا میں مشغول تھے کہ علی(ع) گھر میں آئے میں نے بہانہ کر دیا اور اس کو پوشیدہ رکھا، تیسری مرتبہ آپ نے پاوں دروازے پر مارا تو رسول خدا(ص) نے فرمایا ان کو آنے دو۔ جوں ہی علی(ع) پہنچے آنحضرت (ص) نے فرمایا " ماحسبک عنی یرحمک اللہ" خدا تم پر رحمت نازل کرے کس چیز نے تم کو میرے پاس آنے سے باز رکھا ؟ تو آپ نے عرض کیا کہ میں تین مرتبہ دروازے پر حاضر ہوا اور اب کی تیسری دفعہ میں آپ کی خدمت تک پہنچا۔ آںحضرت (ص) نے فرمایا اے انس تم کو کس چیز نے اس حرکت پر مجبور کیا کہ علی(ع) کو میرے پاس آنے سے منع کیا؟ میں نے عرض کیا کہ سچی بات یہ ہے کہ جب میں نے آپ کی دعا سنی تو یہ تمنا پیدا ہوئی کہ میری ہی قوم کا کوئی شخص اس درجے پر فائز ہو۔ اب میں آپ حضرات سے سوال کرتا ہوں کہ آیا خدائے تعالے نے اپنے رسول خاتم الانبیاء(ص) کی دعا قبول فرمائی یا رد کردی؟

شیخ : بدیہی چیز ہے کہ خدا نے قرآن کریم میں چونکہ دعائیں قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ گرامی منزلت پیغمبر(ص) ہرگز کوئی بے جا درخواست نہیں کرتے لہذا قطعا آن حضرت(ص) کی خواہش اور دعا کو منظور اور قبول فرماتا تھا۔

خیر طلب " پس اس صورت میں خدائے جل و علا نے اپنی مخلوق میں سے محبوب ترین فرد کو اختیار و انتخاب کر کے اپنے پیغمبر(ص) کے پاس بھیجا اور وہ ساری امت کے درمیان بزرگ و برتر محبوب جو کل مخلوقات میں سے چنا ہوا اور خدا و رسول کے نزدیک امت میں سب سے زیادہ محبوب تھا علی بن ابی طالب علیہ السلام تھے۔ چنانچہ خود آپ کےبڑے بڑے علماء نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ مثلا محمد بن طلحہ شافعی نےجو آپ کے فقہاء اور اکابر علماء میں سے تھے مطالب السئول باب اول فصل پنجم کے اوائل میں ص15 پر حدیث رایت اور حدیث طیر کی مناسبت سے تقریبا ایک صفحے میں شیرین بیانی اور دل نشین تحقیقات کے ساتھ تمام امت کے درمیان خدا و رسول(ص) کی محبوبیت کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کی عظمت و منزلت کو ثابت کیا ہے اور ضمنا کہتے ہیں

" و اراد النبی ان يتحقق الناس ثبوت هذه المنقبة المنسيئة والصفة العليه التی هی اعلی درجات المتقين لعلی الخ"

( یعنی پیغمبر(ص) نے ارادہ فرمایا کہ اس روشن منقبت اور بلند صفت کا جو پرہیزگاروں کےدرجات میں سب سے بالاتر ہے( یعنی خدا و رسول کا محبوب ہونا) علی (ع) کے اندر قائم ہونا لوگوں کی نگاہوں میں ثابت ہوجائے۔

نیز شام کے حافظ و محدث محمد بن یوسف گنجی شافعی متوفی سنہ658ھ کفایت الطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب علیہ السلام باب33 میں حدیث طیر کو اپنے معتبر اسناد کے ساتھ چار طریقوں سے اس اور سفینہ سے نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ محاملی نے اپنی جز نہم میں اس حدیث کو درج کیا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ اس حدیث میں کھلی ہوئی دلالت ہے اس بات پر کہ علی علیہ السلام


خدا کی بارگاہ میں کل مخلوق سے زیادہ پیارے ہیں اور اس مقصد پر سب دلیلوں سے اہم دلیل یہ ہے کہ خدا نے اپنے رسول (ص) کی وہ دعا قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے لہذا جب رسول اللہ(ص) نے دعا کی تو خدا نے بھی فورا قبول فرمایا اور محبوب ترین خلق کو آنحضرت(ص) کی طرف بھیج دیا اور وہ علی علیہ السلام تھے۔

اس کے بعد کہتے ہیں کہ انس سے منقول حدیث طیر کو حاکم ابوعبداللہ حافظ نیشاپوری نے چھیاسی راویوں سے نقل کیا ہے اور ان سب نے انس سے روایت کی ہے۔ پھر ان چھیاسی افراد کے نام بھی لکھے ہیں۔ ( شائقین کفایت الطالب(1) باب 33 کی طرف رجوع فرمائیں اب ذرا آپ حضرات انصاف فرمائیں کہ آیا جو حدیث آپ نے نقل کی ہے وہ معارض حدیثوں اور بالخصوص حدیث رایت اور اس با عظمت حدیث طیر کے مقابلے میں آسکتی ہے؟ قطعا جواب نفی میں ہوگا۔ پس ایک آپ کی یک طرفہ حدیث سے ان احادیث کے مقابلے میں جن کو آپ کے اکابر علماء نے سوا چند متعصب کینہ پرور لوگوں کے نقل کیا ہے اور ان کی صحت کی تصدیق کی ہے ہرگز سند نہیں لی جاسکتی بلکہ وہ ارباب تحقیق اور صاحبان جرح و تعدیل کے نزدیک مردود اور ناقابل اعتبار ٹھہرتی ہے۔

شیخ : میرا خیال ہے آپ نے یہ طے کر لیا ہے کہ جو کچھ ہم کہیں گے اس کو نہ مانیے گا اور کافی اصرار کےساتھ اس کو رد کیجئے گا۔

بیان حقیقت

خیر طلب : مجھ کو آپ جیسے عالم انسان سے سخت تعجب ہے کہ اتنے حاضرین جلسہ کے سامنے مجھ پر ایسا غلط الزام عائد کر رہے ہیں۔ کس وقت آپ حضرات ن علم و عقل اور منطق کے مطابق کوئی دلیل قائم کیجس کے مقابلے میں میں نے ضد سے کام لیا اور اس کو قبول نہیں کیا تاکہ اس کے نتیجے میں آپ کی سرزنش کا مستحق قرار پاوں ؟ میں خدا کی توفیق اور تائید سے محروم ہو جاوں اگر میرے اندر ہٹ دھرمی اور جاہلانہ تعصب و عناد کا شائبہ بھی ہو، یا برادران اہل سنت کے ساتھ عمومی یا خصوصی طور پر کوئی عداوت کا نظریہ رکھتا ہوں۔

میں خدا کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ یہود و ںصاری اہل ہنود اور برہمنوں ، ایران میں ناقابل بہائیوں ہندوستان میں قادیانیوں یا مادہ اور طبیعت کے پجاریوں اور دوسرے مخالفین کے ساتھ بھی مناظروں میں کبھی میں نے ضد وغیرہ سے کام نہیں لیا، ہر مقام پر اور ہر وقت خدا پر نظر رکھی اور ہمیشہ میرا منطق علم و عقل اور منطق انصاف کے روسے حقیقت کو ظاہر کرنا رہا ہے۔ جب میں نے کافر ، مرتد اور نجس لوگوں سے ہٹ دھرمی نہیں کی ہے تو آپ کے ساتھ ایسا کیوں کر کرسکتا ہوں کیونکہ آپ لوگ ہمارے اسلامی بھائی ہیں۔ ہم سب ایک دین ایک قبلہ ایک کتاب کے ماننے والے اور ایک پیغمبر(ص) کے احکام کے تابع ہیں، مقصد صرف یہ ہے کہ ابتداء سے آپ کے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ غالبا ی بات33 ہے جیسا کہ اس سے قبل کے حوالے میں موجود ہے۔ 12 مترجم۔


دماغ میں جو غلط فہمیاں راسخ اور عادت کی بنا پر طبیعت ثانیہ بن چکی ہیں ان کی کدورت منطق اور انصاف کے چھینٹوں سے بر طرف کردی جائے۔

خدا کے فضل سے آپ عالم ہیں اگر عادت ، اسلاف کی پیروی اور تعصب سے تھوڑا الگ ہوکر اںصاف کے دائرے میں آجائے تو ہم مکمل طور پر صحیح نتیجے تک پہنچ جائیں۔

شیخ : ہم نے شہر لاہور میں ہندووں اور برہمنوں کے ساتھ آپ کے مناظروں کاطریقہ روز ناموں اور ہفتہ وار اخبارات میں پرھا تھا جس سے ہم کو بہت خوشی ہوئی تھی اور باوجودیکہ ابھی آپ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی لیکن ایک قلبی تعلق محسوس کرنے لگے تھے۔ امید ہے کہ خدا ہم کو اور آپ کو توفیق دے تاکہ حق اور حقیقت ظاہر ہوجائے ۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ اگر روایات میں کوئی شبہ ہو تو جیسا کہ خود آپ نے فرمایا ہےقرآن کریم کی طرف رجوع کرنا چاہیئے ۔ اگر آپ خلیفہ ابوبکر کی فضیلت اور خلفائے راشدین کے طریقہ خلافت میں احادیث کو مشتبہ سمجھتے ہیں تو کیا آیات قرآن کریم کے دلائل میں بھی شک و شبہ وارد کیجئے گا؟

خیر طلب : خدا وہ دن نہ لائے کہ میں قرآنی دلائل یا صحیح احادیث میں شک کروں، فقط چیز یہ ہے کہ ہر قوم و ملت یہاں تک کہ دین سے منحرف و مرتد لوگوں سے بھی جب ہمارا مقابلہ ہوا ہے تو وہ بھی اپنی حقانیت پر قرآن کی آیتوں سے استدلال کرتے تھے چونکہ قرآن مجید کے آیات ذو معانی ہیں لہذا خاتم الانبیاء نے لوگوں کی افراط و تفریط اور مغالطوں کوروکنے کے لیے قرآن کو امت کے درمیان تنہا نہیں چھوڑا بلکہ باتفاق علمائے فریقین ( شیعہ وسنی) جیسا کہ پچھلی شبوں میں عرض کرچکا ہوں: " إنّي تارك فيكم الثقلين كتاب اللّه و عترتي ما إن تمسّكتم بهما فقد نجوتم " اور بعض روایات میں ارشاد ہے لن تضلوا ابدا ( یعنی در حقیقت میں تمہارے درمیان دو بزرگ چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ، کتاب خدا اور میری عترت اگر ان دونوں ( کتاب وعترت ) سے تمسک رکھوگے ت نجات پاو گے اور ہرگز گمراہ نہ ہوگے ( رجوع ہو اس کتاب کے ص92، 93 کی طرف )

لہذا قرآن کے مفہوم و حقیقت اور شان نزول کو خود رسول اللہ(ص) سے جو قرآن کے حقیقی شارح ہیں اور ان حضرت کے بعد عدیل قرآن سے جو آن حضرت(ص) کی عترت اور اہل بیت ہیں دریافت کرنا چاہئے۔ جیسا کہ سورہ نمبر21 (انبیاء) آیت 7 میں ارشاد ہے " فاسئلوا أهل الذّكر إن كنتم لا تعلمون" ( یعنی اے ہمارے رسول امت سے کہہ دیجئے کہ) اگر تم خود جانتے ہوتو اہل ذکر اور صاحبان علم( یعنی آل محمد(ص) جو سب سے زیادہ عالم ہیں) سے دریافت کرو۔)

اہل ذکر آل محمد(ص) ہیں

اہل ذکر سے مراد حضرت علی(ع) اور آپ کی اولاد میں سے ائمہ علیہم السلام ہیں جو عدیل قرآن ہیں چنانچہ شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودہ مطبوعہ اسلامبول باب39 ص119 میں امام ثعلبی کی تفسیر کشف البیان سے بروایت جابر ابن عبداللہ انصاری


نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا " قال علی ابن ابی طالب نحن اہل الذکر " یعنی علی علیہ السلام نے فرمایا ہم ( خاندان رسالت) اہل ذکر ہیں۔ چونکہ ذکر قرآن کا ایک نام ہے اور اس جلیل القدر خاندان والے اہل قرآن ہیں اسی وجہ سے ہمارے اور آپ کے علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے کہ علی علیہ السلام فرماتے تھے:

" سلونى قبل ان تفقدونى سلونى عن كتاب اللَّه تعالى فان ه ليس من آية الّا قد عرفت بليل نزلت ام نهارا ام فی سهل ام فی جبل و ما نزلت آية إلّا و قد علمت فيمن نزلت و فيما نزلت و إنّ ربّي وهب لي لسانا طلقا و قلبا عقولا"

(یعنی پوچھ مجھ سے قبل اس کے کہ مجھ کو نہ پاو کتاب خدا کے متعلق مجھ سے دریافت کرو کیونکہ قرآن کی کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کو میں نہ جانتا ہوں کہ رات میں نازل ہوئی ہے یا دن میں ہوا اور زمین میں نازل ہوئی ہے یا پہاڑ میں۔ خدا کی قسم کوئی آیت نازل نہیں ہوئی ہے لیکن یہ یقینا جانتا ہوں کہ کس بارے میں نازل ہوئی اور کہاں نازل ہوئی اور کس پر نازل کی گئی ہے اور در حقیقت خدا نے مجھ کو فصیح زبان اور دانش مند دل عنایت فرمایا ہے) پس قرآن کی جس آیت سے بھی استدلال کیا جائے اس کو حقیقی مفہوم اور مفسرین کے بیان سے مطابق ہونا چاہئیے ورنہ اگر کوئی شخص اپنی طرف سے اور اپنے ذوق و فکر اور عقیدے کے روسے آیات قرآنی کی تفسیر کریگا تو سوا اختلاف بیان اور خیالات کی پراگندگی کے کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہوگا اب اس تمہید کے پیش نظر میری درخواست ہے کہ اپنی منتخبہ آیات بیان فرمائیے اگر مقصد سے مطابقت کرے گی تو جان و دل سے قبول کر کے اپنے سر پر جگہ دوں گا۔

خلفائے اربعہ کے طریقہ خلافت میں نقل آیت اور اس کا جواب

شیخ : سورہ 38 (فتح) آیت نمبر29 میں کھلا ہوا ارشاد ہے :

"مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَ الَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَماءُ بَيْنَهُمْ تَراهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً- يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَ رِضْواناً سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ "

( یعنی محمد(ص) خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور ان کے ساتھی کافروں پر بہت سخت اور آپس میں ایک دوسرے پر شفیق ومہربان ہیں، ان کو تم زیادہ تر رکوع و سجود کے عالم میں دیکھو گے جو فضل و رحمت اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہیں، ان کی پیشانیوں پر سجدوں کے نشان پڑے ہوئے ہیں۔)

یہ آیہ شریفہ ایک طرف سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضل و شرف کو ثابت کررہی ہے اور دوسری طرف سے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے طریقہ خلافت کو معین کرتی ہے، بخلاف اس کے کہ جیسا کہ شیعہ فرقے والے دعوی کرتے ہیں کہ علی کرم اللہ وجہہ پہلے خلیفہ ہیں۔ یہ آیت صراحت کے ساتھ علی(ع) کو چوتھا خلیفہ ظاہر کرتی ہیں۔

خیر طلب : آیہ شریفہ کے ظاہر سے تو کوئی ایسی چیز و خلفائے راشدین کے طریقہ خلافت اور ابوبکر کی فضیلت پر دلالت کرتی ہو نظر نہیں آتی ، البتہ ضرورت اس کی ہے کہ آپ وضاحت کیجئے کہ یہ صراحت آیت میں کس مقام پر ہے جس کا پتہ نہیں چل رہا ہے۔


شیخ : خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت و شرافت پر آیت کی دلالت یہ ہے کہ آیت کے شروع میں کلمہ وَ الَّذِينَ مَعَهُ سے اس مرد بزرگ کی منزلت کی طرف اشارہ ہوا ہے جو آپ کو لیلۃ الغار میں پیغمبر(ص) کے ساتھ حاصل تھی ۔ اور خلفائے راشدین کا طریقہ خلافت بھی اس آیت میں پوری صراحت کےساتھ واضح ہے کیونکہ وَ الَّذِينَ مَعَهُ سے مراد ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں جو شب ہجرت غار ثور میں پیغمبر(ص) کے ہمراہ تھے، أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ سے عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ مراد ہیں جو کفار پر بہت سخت گیری کرتے تھے، رُحَماءُ بَيْنَهُمْ عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ ہیں جو بہت رقیق القلب اور رحم دل تھے ۔" سِيماهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ " علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ ہیں۔

امید ہے کہ یہ چیز آپ کے بے لوث خیال کے موافق ہوگی اور آپ تصدیق کیجئے گا کہ حق ہمارے ساتھ ہے جو علی(ع) کو چوتھا خلیفہ جانتے ہیں نہ کہ خلیفہ اول، کیونکہ خدا نے بھی قرآن میں ان کا ذکر چوتھے نمبر پر کیا ہے۔

خیر طلب: میں حیرت میں ہوں کہ جواب کس انداز میں عرض کروں تاکہ خود غرضی کا الزام عائد نہ ہو، اگر بغیر تعصب کے اںصاف کی ںظر سے دیکھیے تو تصدیق فرمائیے گا کہ کوئی غرض کار فرما نہیں ہے بلکہ مقصد صرف اظہار حقیقت ہے۔ علاوہ اس کے کہ از باب تفسیر نے یہاں تک کہ خود آپ کے علماء نے بڑی بڑی تفسیروں میں اس آیہ شریفہ کے شان نزول میں یہ مطلب بیان نہیں کیا ہے اگر یہ آیت قرآنی امر خلافت کے بارے میں ہوتی تو روز اول وفات رسول(ص) کے بعد حضرت علی علیہ السلام بنی ہاشم اور کبار صحابہ کے اعتراضات کے مقابلے میں فرضی شاخ بزرگ پیدا کرنے کی ضرورت نہ ہوتی بلکہ یہ آیت پیش کر کے مسکت جواب دے دیا جاتا۔ پس معلوم ہوا کہ آیت کے جو معنی آپ نے بیان کئے ہیں وہ ایجاد بندہ ہیں جو مدتوں بعد حضرت ابوبکر و عمر کے طرف داروں نے تصنیف کئے ہیں۔

اس لیے کہ خود آپ کے اکابر مفسرین جسیسے طبری، امام ثعلبی، فاضل نیشاپوری، جلال الدین سیوطی، قاضی بیضاوی، جار اللہ زمخشری اور امام فخرالدین رازی وغیرہ نے بھی یہ تفسیر بیان نہیں کی ہے پس میں نہیں جانتا کہ آپ کہاں سے یہ بات کہہ رہے ہیں اور یہ معنی کس وقت سے اور کن اشخاص کے ہاتھوں پیدا ہوئے؟ اس کے علاوہ خود آیہ شریفہ میں علمی ، ادبی اور عملی موانع موجود ہیں جو ثابت کررہے ہیں کہ جو شخص اس قول کا قائل ہوا ہے اس نے بے کار ہاتھ پاوں مارے ہیں اور اس بات کی طرف متوجہ نہیں ہوا ہے جس کو خود آپ کے بڑے بڑے علماء نے اپنی تفسیروں کے شروع میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آن حضرت(ص) نے فرمایا : " ؟؟؟؟ القرآن برایہ فمقعدہ فی النار" یعنی جو شخص قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرے تو اس کا ٹھکانہ آگ میں ہے( اگر آپ کہئیے کہ تفسیر نہیں ہے تاویل ہے تو آپ حضرات باپ تاویل کو مطلقا مسدود جانتے ہیں، علاوہ اس کے یہ آیت شریفہ علم و ادب اور اصطلاح کے رو سے آپ کے مقصد کے برخلاف نتیجہ دے رہی ہے۔

شیخ : جھ کو یہ امید نہیں تھی کہ جناب عالی اتنی واضح آیت کے مقابلے میں بھی استقامت دکھائیں گے البتہ اگر آپ اس آیت میں کوئی ایراد حقیقت کے برخلاف رکھتے ہیں تو بیان کیجئے تاکہ اصلیت ظاہر ہو۔


نواب : قبلہ صاحب میری خواہش ہے کہ جس طرح اب تک آپ ن ہماری درخواستوں کو قبول کیا ہے اور مطالب کو ایسے سادہ انداز میں بیان کیا ہے کہ تمام حاضرین جلسہ اور غیر حاضر اشخاص ان سے بہرہ مند ہوئے ہیں اس مقام پر بھی گفتگو میں انتہائی سادگی کا لحاظ فرمائیے ہم سب آپ کے ممنون ہوں گے کیونکہ یہی وہ آیت ہے جو برابر ہمارے سامنے پڑھی جاتی رہی ہے اور ہم سب کو اس کے ذریعہ حکم قرآن کا محکوم اور پابند بنایا گیا ہے۔

خیر طلب: پہلی چیز تو یہ ہے کہ آیت کی عظمت اور شعبدہ بازوں کے نقل قول نے آپ حضرات کو ایسا مبہوت بنا رکھا ہے کہ آیت کے حقیقی معنی اور رموز اسرار سے غافل ہوگئے ہیں، اگر آپ خود اپنی جگہ پر اس کے نحوی ترکیبات اور ادبی معانی پر تھوڑی توجہ کر لیتے تو معلوم ہوجاتا کہ یہ آیت آپ کے مقصد اور مراد سے ہرگز مطابقت نہیں کر رہی ہے۔

شیخ : التماس ہے کہ آپ ہی ضمائر و ترکیبات کو بیان کیجئے تاکہ ہم دیکھیں کیونکر مطابقت نہیں کرتی ہے۔

خیر طلب: ترکیبی جہت سے تو آپ خود بہتر سمجھتے ہیں کہ اس آیہ مبارکہ کی ترکیب یقینی طور پر دو حال سے خارج نہیں ہے۔ یا محمد مبتداء ہے ، رسول اللہ عطف بیان ، والذین معہ عطف بر محمد(ص) ، اشداء اس کی خبر اور جو کچھ اس کے بعد ہے وہ خبر بعد از خبر ہے۔ یا والذین معہ مبتداء ہے ، اشداء اس کی خبر اور جو کچھ اس کے بعد ہے وہ خبر بعد از خبر ہے۔

ان قواعد کے رو سے اگر ہم آپ کے عقیدے اور قول کے مطابق آیت کا ترجمہ کرنا چاہیں تو دو طرح کے معنی ظاہر ہوتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر و عمر، عثمان اور علی(ع) ہیں۔

اور اگر والذین معہ مبتداء ہو، اشداء اس کی خبر اور جو کچھ اس کے بعد ہے خبر بعد از خبر تو آیت کے معنی اس طرح ہوتے ہیں کہ ابوبکر، عمر، عثمان اور علی(ع) ہیں۔ بدیہی چیز ہے جس کو ہر مبتدی طالب علم بھی جانتا ہے کہ کلام کا یہ طریقہ غیر معقول اور نظم ادب سے خارج ہے۔

علاوہ اس کے اگر آیہ شریفہ سے خلفائے اربعہ مراد ہوتے تو ضرورت تھی کہ کلمات کے درمیان واو عطف رکھا جاتا تاکہ آپ کے مقصود سے مطابق ہوجاتے ، حالانکہ صورت اس کے برخلاف ہے۔

آپ کے جملہ مفسرین نے اس آیہ شریفہ کو تمام مومنین کے حق میں قرار دیا ہے یعنی کہتے ہیں کہ یہ تمام مومنین کی صفتیں ہیں۔ اور ظاہر آیت خود دلیل ہے کہ یہ کل مطالب ایک شخص کی صفتیں ہیں جو ابتداء سے پیغمبر(ص) کے ساتھ تھا نہ کہ چار نفر اور اگر ہم کہیں کہ وہ ایک فرد امیرالمومنین علی علیہ السلام تھے تو یہ دوسروں کی نسبت عقل و نقل کے مطابق کہیں زیادہ قابل قبول ہے۔

آیہ غار سے استدلال اور اس کا جواب

شیخ : تعجب ہے کہ آپ فرماتے ہیں میں کج بحثی نہیں کرتا حالانکہ اس وقت آپ مجادلہ ہی کررہے ہیں۔ کیا ایسا


نہیں ہے کہ خدا سورہ 9 ( توبہ) آیت نمبر40 میں صاف صاف فرماتا ہے:

" إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُما فِي الْغارِ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنا فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَ أَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْها."

( یعنی یقینا خدا نے ان کی ( رسول اللہ(ص) ) کی مدد کی جب کفار نے ان کو مکے سے خارج کردیا ، ان میں سے ایک(یعنی رسول اللہ(ص)) جو دونوں غار کے اندر تھے جس وقت اپنے ہم سفر سے ( یعنی ابوبکر سے جو مضطرب تھے) فرما رہے تھے غم نہ کرو یقینا خدا ہمارے ساتھ ہے۔ اس وقت خدا نے ان پر ( یعنی رسول اللہ پر) اپنی طرف سے سکون و وقار نازل فرمایا اور ان کی ان غیبی لشکروں سے امداد کی جن کو تم نے نہیں دیکھا۔)

یہ آیت علاوہ اس کے کہ آیت ، قبل کی موئد ہے اور والذین معہ کا مقصد ثابت کرتی ہے کہ ابوبکر غار میں شب ہجرت رسول اللہ(ص) کے ساتھ تھے خود یہ مصاحبت اور پیغمبر(ص) کی ہمراہی تمام امت پر ابوبکر کے فضل و شرف کی ایک بڑی دلیل ہے اس لیے کہ پیغمبر(ص) چونکہ علم باطن سے جانتے تھے کہ ابوبکر ان کے خلیفہ ہیں اور خلیفہ کا وجود ان کے بعد ضروری ہے اور اپنی ذات کے مانند ان کی بھی حفاظت کرنا چاہئے لہذا ان کو اپنے ہمراہ لے گئے تاکہ دشمن کے ہاتھ میں گرفتار نہ ہوجائیں۔ اور یہ بتاو مسلمانوں میں سے کسی اور کے ساتھ نہیں کیا، پس اسی جہت سے ان کے لیے تقدم خلافت کا حق ثابت ہوا۔

خیر طلب : اگر آپ حضرات کسی وقت سنیت کا لباس اتار کے اور تعصب وعادت سےالگ ہو کر ایک غیر جانبدار اور غیر متعصب انسان کے مانند اس آیہ شریفہ کے پہلووں پر غور کریں تو تصدیق کریں گے کہ جو نتیجہ آپ کے پیش نظر ہے وہ اس آیہ سے حاصل نہیں ہوتا۔

شیخ : بہتر ہے کہ اگر مقصد کے خلاف کچھ منطقی دلائل ہیں تو بیان فرمائیے۔

خیر طلب : میری خواہش ہے کہ اس موقع سے چشم پوشی فرمائیے کیونکہ بات سے بات پیدا ہوتی ہے، اس وقت ممکن ہے کہ بعض غیر منصف لوگ اسی کو عداوت کی نظر سے دیکھیں ، آپس میں رنجش پیدا ہو اور یہ خیال قائم کیا جائے کہ ہم مقام خلفاء کی اہانت کرنا چاہتیے ہیں، حالانکہ ہر فرد کی حیثیت اپنی جگہ پر محفوظ ہے اور ان کے لیے بے جا تفسیر و تاویل کی احتیاج نہیں۔

شیخ : میری درخواست ہے کہ بغلیں نہ جھانکئے اور مطمئن رہئے ، منطقی دلائل رنجش نہیں پیدا کرتے ہیں بلکہ ان سے پردے ہٹتے ہیں۔

خیر طلب: چونکہ آپ نے بغلیں جھانکنے کا نام لیا ہے لہذا میں مجبور ہوں کہ ایک مختصر جواب پیش کردوں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ میں بغلیں نہیں جھانک رہا تھا بلکہ گفتگو میں ادب کا لحاظ مقصود تھا۔ امید ہے کہ میری باتوں میں عیب جوئی نہ کیجئے گا اور اںصاف کی نظر سے دیکھئے گا اس لیے کہ اس بحث کا جواب محققین علماء نے مختلف طریقوں سے دیا ہے۔

اولا : آپ کا یہ جملہ سخت حیرت انگیز اور سطحی تھا کہ رسول اللہ(ص) چونکہ یہ جانتے تھے کہ ابوبکر کے بعد خلیفہ ہوں گے اور خلیفہ کا تحفظ آن حضرت(ص) پر لازم تھا لہذا ان کو اپنے ہمراہ لے گئے۔

آپ کے اس بیان کا جواب بہت سادہ ہے کیونکہ اگر پیغمبر(ص) کے خلیفہ صرف ابوبکر ہی ہوتے تو ایسا احتمال پیدا کیا


جاسکتا تھا لیکن آپ خود خلفائے راشدین کی خلافت پر اعتماد رکھتے ہیں اور وہ چار نفر تھے۔ اگر آپ کی یہ دلیل صحیح ہے اور خطرات سے خلیفہ محفوظ رکھنا لازم تھا تو پیغمبر(ص) کا فرض تھا کہ چاروں خلفاء کو جو مکے میں موجود تھے اپنے ساتھ لے جائیں ، نہ یہ کہ ایک کو لے جائیں اور دوسرے تین افراد کو چھوڑ دیں، بلکہ ان میں سے ایک کو تلواروں کے خطرے سے گھرے ہوئے مقام پر مقرر کریں، اور اپنے بستر پر لٹائیں جب کہ یقینی طور پر اس رات پیغمبر(ص) کا بستر خطرناک اور دشمنوں کے حملے کی زد میں تھا۔ (1)

دوسرے اس بیان کی بنا پر جو طبری نے اپنی تاریخ جز سیم میں درج کیا ہے ابوبکر آنحضرت(ص) کی روانگی سے واقف ہی نہ تھے بلکہ جس وقت علی علیہ السلام کے پاس آئے اور آنحضرت(ص) کا حال دریافت کیر تو حضرت نے فرمایا کہ وہ غار میں تشریف لے گئے ہیں اگر ان سے کوئی کام ہے تو دوڑ جاو۔ ابوبکر دوڑتے ہوئے چلے اور درمیان راہ میں آنحضرت(ص) سے ملے گئے چنانچہ مجبورا ایک ساتھ روانگی ہوئی۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر(ص) خود ان کو اپنے ہمراہ نہیں لے گئے بلکہ وہ بلا اجازت گئے اور راستے کے درمیان سے آںحضرت(ص) کے ساتھ ہوگئے۔

بلکہ دوسری روایتوں کی بنا پر ابوبکر کو لے جانا اتفاقیہ اور فتنے اور دشمنوں کو خبر دے دینے کے خوف سے تھا جیسا کہ خود آپ کے منصف مزاج علماء نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے منجملہ ان کے شیخ ابوالقاسم بن صباغ جو

آپ کے مشاہیر علماء میں سے ہیں کتاب النور البرہان حالات رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم میں محمد بن اسحق سے اور انہوں نے حسان بن ثابت اںصاری سے روایت کی ہے کہ میں آنحضرت (ص) کی ہجرت سے قبل عمرہ کے لیے مکہ گیا تو میں نے دیکھا کہ کفار قریش آنحضرت (ص) کے اصحاب کو سب و شتم کرتے ہیں چنانچہ اسی زمانے میں :

" امر رسول الله صلی الله عليه وآله عليا فنام فی فراشه و خشی من ابن ابی قحافه ابن يدلهم عليه فاخذه معه و مضي الی الغار "

( یعنی رسول خدا(ص) نے علی(ع) کو حکم دیا کہ آپ کے بستر پر سو رہیں اور اس بات سے ڈرے کہ ابوبکر کفار کو پتہ دے دیں گے اور آنحضرت (ص) کی طرف ان کی رہنمائی کردیں گے لہذا ان کو اپنے ساتھ لے کر غار کی طرف روانہ ہوئے)

تیسرے مناسب یہ تھا کہ آپ آیت میں محل استشہاد اور وجہ فضیلت کو بیان کرتے کہ رسول خدا(ص) کے ہمراہ سفر کرنا اثبات خلافت پر کیا دلیل قائم کرتا ہے۔

شیخ : محل استشہاد ظاہر ہے اول تو رسول اللہ کی مصاحبت اور یہ کہ خدا ان کو رسول اللہ(ص) کا مصاحب کہتا ہے دوسرے آںحضرت(ص) کے قول سے کہ خبر دیتے ہیں : ان اللہ معنا۔ تیسرے اس آیت میں خدا کی جانب سے ابوبکر پر نزول سکینہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ بلکہ اس سے تو ہمارے موافق ایک اور دلیل قائم ہوتی ہے کہ جو شخص حقیقتا خلیفہ رسول ہونے والا تھا خدا اس کو محفوظ رکھنے کا ذمہ دار تھا ۔ لہذا اس کو خطرے میں چھوڑ گئے اور جس کا وجود بعد رسول ضروری نہیں تھا وہ قتل بھی کیا جاسکتا تھا لہذا اس کو ساتھ لے لیا۔ 12 مترجم عفی عنہ۔


شرف کی بہت بڑی دلیل ہے ۔ اور ان دلائل کا مجموعہ ان کے لیے افضلیت اور تقدم خلافت کے حق کو ثابت کر رہا ہے۔

خیر طلب : یقینا کسی شخص کو ابوبکر کے ان مراتب سے انکار نہیں ہے کہ وہ بوڑھے مسلمان سن رسیدہ اصحاب میں سے اور رسول خدا کی بیوی کے باپ تھے لیکن آپ کے یہ دلائل فضیلت خاص اور خلافت میں حق تقدم کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اگر آپ چاہیں کہ اپنے ان بیانات سے جو آپ نے اس آیہ شریفہ کے بارے میں دیے ہیں ، کسی بے غرض اور غیر متعلق انسان کے سامنے ان کی کوئی خاص فضیلت ثابت کریں تو قطعی طور پر آپ اعتراض کی زد میں آجائیںگے کیونکہ وہ آپ کے جواب میں کہے گا کہ تنہا نیک لوگوں کی مصاحبت فضیلت و برتری کی دلیل نہیں ہوا کرتی کتنے زیادہ - ایسے ہیں جنہوں نے نیکوں کی مصاحبت کی اور وہ کتنے زیادہ کفار وہ ہیں جو مسلمانوں کے مصاحب تھے اور ہیں۔ چنانچہ یہ حقائق مسافرت میں اکثر و بیشتر سامنے آتے رہتے ہیں۔

شواہد اور مثالیں

غالبا آپ حضرت بھول گئے ہیں کہ سورہ 12 ( یوسف) آیت نمبر49 میں خدائے تعالے حضرت یوسف کا قول نقل فرماتا ہے :

" يا صاحِبَيِ السِّجْنِ أَ أَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْواحِدُ الْقَهَّارُ"

( یعنی اے میرے دونوں قید خانے کے رفیقو آیا متفرق خدا( جیسے اشنام و فراعنہ) اچھے ہیں ( جو پے حقیقت اور مجبور ہیں) یا خداے یکتا جو صاحب قہر و غلبہ ہے۔)

مفسرین نے اس آیہ شریفہ کے ذیل میں لکھا ہے کہ جس روز یوسف(ع) کو قید خانے میں داخل کیا، پانچ سال یہ تینوں افراد مومن و کافر) ایک دوسرے کے مصاحب رہے اور یوسف تبلیغ کے موقع پر ان کو اپنا مصاحب کہتے بھی ہیں جیسا کہ اس آیت میں خبر دی گئی ہے تو کیا پیغمبر(ص) کی مصاحبت ان دونوں کافر شخصوں کے لیے شرف اور فضیلت کی دلیل تھی ؟ یا دوران مصاحبت میں ان کے عقیدے کے اندر کوئی تغییر پیدا ہوا؟ صاحبان تفاسیر و تواریخ کی تحریریں تو یہی بتاتی ہیں کہ پانچ سال صحبت میں رہنے کے بعد بھی آخر کار اسی حالت میں ایک دوسرے سے الگ ہوئے ۔ نیز سورہ 18 ( کہف) آیت 45 کی طرف توجہ فرمائیے جس میں ارشاد ہے:

"قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَ هُوَ يُحاوِرُهُ أَ كَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلًا."

(یعنی اس کے ( باایمان اور فقیر) رفیق نے گفتگو اور نصیحت کے موقع پر اس سے کہا کہ کیا تو نے اس خدا کے ساتھ کفر اختیار کیا ۔ جس نے تجھ کو پہلے مٹی سے اس کے بعد نطفے سے پیدا کیا اور پھر ایک مکمل آدمی بنا دیا)

مفسرین نے عام طور سے لکھا ہے کہ دو بھائی تھے ایک مومن جس کا نام یہود اور دوسرا کافر جس کا نام راطوس تھا( جیسا کہ امام فخر رازی بھی جو آپ کے اکابر علماء میں سے ہیں اپنی تفسیر کبیر میں نقل کرتے ہیں) یہ دوںوں آپس میں کچھ بات چیت رکھتے تھے جس کو مفصل نقل کرنے کا وقت نہیں ہے۔ غرضیکہ خدا نے ان دو کافر فرد مومن کو ایک دوسرے کا مصاحب فرمایا ہے تو کیا


مومن بھائی کی مصاحبت کا ذکر فائدہ اور فیض پہنچا؟ ظاہر ہے کہ جواب قطعا میں سے۔

پس صرف مصاحبت فضیلت و شرافت ، اور برتری کی دلیل نہیں ہوا کرتی ، جس کے دلائل اور نظائر بہت ہیں۔لیکن وقت اس سے زیادہ بیان کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

اور جو آپ نے یہ فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا ان اللہ معنا لہذا اس لحاظ سے کہ خدا ان کے ساتھ تھا قطعا یہ بات بھی دلیل شرافت اورخلافت کو ثابت کرنے والی ہ۔

تو بہتر ہوگا کہ اپنے ان عقائد اور الفاظ پر ذرا نظر ثانی فرمالیجئے تاکہ اس اعتراض کا نشانہ نہ بن جائیے کہ خدائے تعالی کیا صرف مومنین اور اولیاء اللہ کے ساتھ رہتا ہے اور غیر مومن کے ساتھ نہیں رہتا؟ آیا کوئی ایسی جگہ بیٹھے ہوں تو کیا عقل باور کرتی ہے کہ خدا اس مومن کے ساتھ ہو لیکن کافر کے ساتھ نہ ہو؟ کیا سورہ 58( مجادلہ) آیت نمبر7 میں خدا نہیں فرماتا ہے کہ:

"الم تر ان الله يَعْلَمُ ما فِي السَّماواتِ وَ ما فِي الْأَرْضِ ما يَكُونُ مِنْ نَجْوى ما يَكُونُ مِنْ نَجْوى ثَلاثَةٍ إِلَّا هُوَ رابِعُهُمْ وَ لا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سادِسُهُمْ وَ لا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَ لا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ ما كانُوا"

( یعنی بطریق استفہام تقریری فرماتا ہے کہ آیا تم نے نہیں دیکھا اور نہیں جانا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین کے اندر ہے خدا اس سے واقف ہے چنانچہ اگر تین شخص آپس میں راز کی باتیں کریں تو خدا ان کا جو تھا ہوگا اگر باغ شخص ہوں تو خدا، ان کا چھٹا ہوا گا۔ اور نہ اس سے کم اور زیادہ ہوسکتے ہیں بغیر اس کے کہ چاہیے جہاں ہوں خدا ان کے ساتھ ہوگا (کیونکہ وجود الہی عالم کے ہر جزو کل پر احاطہ کامل رکھتا ہے، پس اس آیت اور دوسری آیات اور دلائل عقلیہ و نقلیہ کے پیش نظر خدائے تعالی دوست و دشمن ، مسلمان و کافر، مومن منافق ہر شخص کے ساتھ ہے۔ پس اگر دو نفر ایک جگہ ہوں اور ان میں سے ایک کہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے تو کسی شخص خاص کی فضیلت پر دلیل نہ ہوگی۔ جس طرح سے کہ وہ نیک آدمی اگر یک جا ہوں تو خدا ان کے ساتھ ہے اسی طرح دو برے آدمی یا ایک اچھا ایک برا اکٹھا ہوں تو قطعا خدا ان دونوں کے ہمراہ ہوگا چاہیے وہ سعید ہوں یا شقی، نیک ہوں یا بد۔)

شیخ : اس سے مراد کہ خدا ہمارے ساتھ ہے یہ تھی کہ چونکہ ہم خدا کے محبوب ہیں اس لیے کہ خدا کی یاد میں، خدا کے لیے اور دین خدا کی حفاظت کی غرض سے روانہ ہوئے ہیں لہذا لطف خداوندی ہمارے شامل حال ہے۔

اظہار حقیقت

خیر طلب : اگر یہ مطلب لیا جائے تب بھی قابل اعتراض ہے اور کہا جائے گا کہ ایسا خطاب ابدی سعادت پر دلیل نہیں بن سکتا کیونکہ خدائے تعالے اشخصاص کے اعمال دیکھتا ہے، کتنے ہی لوگ ایسے گزرے ہیں جو ایک زمانے میں نیک اعمال بجالاتے تھے اور لطف و رحمت خداوندی ان کے شامل حال تھی۔ اس کے بعد ان سے برے اعمال سرزد ہوئے


اور امتحان کے وقت نتیجہ برعکس نکلا تو پروردگار کے مبغوض ہوگئے اور لطف و رحمت الہی سے محروم ہو کر راندہ درگاہ اور مردود و ملعون ہوگئے۔ چنانچہ ابلیس ایک مدت تک خلوص نیت کے ساتھ عبادت خدا میں مشغول رہا تو الطاف و مراحم خداوندی سے سر فراز تھا لیکن جونہی اس نے سرکشی کی اور احکام الہی سےمنہ موڑ کر ہوائے نفس کا تابع ہوا تو مردود بارگاہ اور اس کی بے حساب رحمتوں سے محروم ہو کر خطاب :

" فَاخْرُجْ مِنْها فَإِنَّكَ رَجِيمٌ وَ إِنَ عَلَيْكَ لَعْنَتِي إِلى يَوْمِ الدِّينِ "

( یعنی سورہ نمبر15 ( حجر) آیت نمبر34 میں اس پر حق کامیاب ہوا کہ صفوف ملائکہ اور بہشت سے نکل جائے اور راندہ درگاہ ہوگیا اور تجھ پر روز قیامت تک حتمی طور پر ہماری لعنت ہے کہ ساتھ ملعون بدی بن گیا۔)

معاف فرمائیے گا مثل میں کوئی برائی نہیں ہے بلکہ یہ ذہنوں کو مطلب سے قریب لانے کے لیے ہے اور اگر ہم عالم بشریت پر نظر ڈالیں تو ایسے اشخاص کی بہت سی نظیریں ملیں گی جو درگاہ باری تعالی میں مقرب ہوئے لیکن امتحان کے موقع پر مردود و مغضوب پروردگار قرار پائے نمونے کے طور پر ہم دو شخصوں کا ذکر کرتے ہیں جن کی طرف قرآن مجید نے بھی انسانوں کی بیداری اور غافلوں کی تنبیہ کے لیے ارشاد فرمایا ہے۔

بلعم بن باعوراء

من جملہ ان کے بلعم بن باعوراء ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں اس قلہ مقرب الہی ہوا کہ خدا نے اس کو اسم اعظم عطا فرمایا چانچہ اپنی ایک دعا کے اثر سے اس نے حضرت موسی(ع) کو وادی میں تیہ میں سرگردان کردیا، لیکن امتحان کی منزل میں جب جاہ و ریاست طلبی نے اس کو خدا کی مخالفت اور شیطان کی پیروی پر آمادہ کردیا اور نار جہنم اس کا ٹھکانہ بن گیا۔

تمام مفسرین و مورخین نے تفصیل کے ساتھ اس کا حال لکھا ہے یہاں تک کہ امام فخررازی نے بھی اپنی تفسیر جلد چہارم ص463 میں ابن عباس ، ابن مسعود اور مجاہد سے اس کا قصہ نقل کیا ہے ۔ خدا سورہ نمبر7 (اعراف) آیت نمبر174 میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خبر دیتا ہے کہ :

" وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِى ءَاتَيْنَهُ ءَايَتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَنُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ"

( یعنی ( اے پیغمبر(ص)) ان لوگوں پر اس شخص ( یعنی بلعم بن باعوراء) کی حکایت بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ؟؟؟؟؟ عطا کیں پس اس نے ان آیات سے روگردانی کی چنانچہ شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں شامل ہوگیا۔)

برصیصائے عابد

دوسرا برصیصا عابد تھا جس نے اولا عبادت میں اس قدر کوشش کی کہ مستجاب الدعوات ہوگیا لیکن امتحان کے وقت


اس کا انجام خراب نکلا ، شیطان کے فریب میں مبتلا ہو کر ایک لڑکی سے زنا کیا، اپنی ساری محنتوں کو برباد کردیا، دار پر لٹکایا گیا اور دنیا سے کافر اٹھا ۔ چنانچہ سورہ59 ( حشر) آیت نمبر16 میں اس کے واقعے کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔

"كَمَثَلِ الشَّيْطانِ إِذْ قالَ لِلْإِنْسانِ اكْفُرْ- فَلَمَّا كَفَرَ قالَ إِنِّي بَرِي ءٌ مِنْكَ- إِنِّي أَخافُ اللَّهَ رَبَّ الْعالَمِينَ- فَكانَ عاقِبَتَهُما أَنَّهُما فِي النَّارِ خالِدَيْنِ فِيها- وَ ذلِكَ جَزاءُ الظَّالِمِينَ "

( یعنی یہ منافق مثل میں شیطان کے مانند ہیں جس نے انسان سے ( یعنی برصیصائے عابد سے) کہا کہ کفر اختیار کر اور جب وہ کافر ہوگیا تو اس سے کہا کہ میں تجھ سے بیزار ہوں کیونکہ میں پروردگار کے عذاب سے ڈرتا ہوں پس ان دونوں ( شیطان و برصیصا) کا یہ انجام ہوا کہ وہ دونوں ہمیشہ جہنم میں رہیں گے یہی دوزخ ظالمین کا بدلا ہے۔)

غرضیکہ آدمی سے اگر کسی زمانے میں کوئی نیک عمل صادر ہوا ہے تو یہ اس کا انجام بخیر ہونے کی دلیل نہیں ہے ، اس وجہ سے ہدایت ہے کہ دعا میں کہو " اللہم اجعل عواقب امورنا خیرا" یعنی خداوندا ہمارے امور کے نتائج نیک قرار دے۔

ان چیزوں کے علاوہ آپ خود جانتے ہیں کہ علمائے معانی و بیان کے نزدیک طے شدہ بات ہے کہ کلام میں تاکید کا ذکر اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک مخاطب شک اور شبہ میں مبتلا نہ ہو یا اس کے خلاف نہ سوچ رہا ہو، اور آیہ شریفہ کا تصریح سے جس نے اپنا کلام جملہ اسمیہ اور ان مشددہ کے ساتھ پیش کیا ہے دوسرے فریق کے عقیدے کا فساد ظاہر ہوتا ہے کہ متزلزل و متوہم اور شک و شبہ میں مبتلا تھا۔

شیخ : انصاف کیجئے، آپ جیسے انسان کے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ اس محل پر ابلیس بلعم بن باعوراء اور برصیصاء کی مثل پیش کریں۔

خیر طلب : معاف کیجئے ، شاید آپ نے سنا نہیں میں نے ابھی عرض کیا تھا کہ مثل میں کوئی برائی نہیں ہے ،کیونکہ علمی مباحثات اور مذہبی مناظرات میں ذہنوں کو قریب کرنے اور مقاصد کو ثابت کرنے کے لیے مثالیں بیان کی جاتی ہیں خدا شاہد ہے کہ شواہد و امثال کے ذکر میں میں نے کبھی اہانت کا قصد نہیں کیا بلکہ اپنے نظریئے اور عقیدے کے ثبوت میں جو ںظریں اور مثالیں سامنے آتی ہیں پیش کردیتا ہوں۔

شیخ : اس آیت کے اندر اثبات فضیلت کی دلیل خود آیہ کریمہ کا ایک قرینہ ہے کہ فرماتا ہے" فانزل اللہ سکینۃ علیہ " چنانچہ سکینہ کی ضمیر ابوبکررضی اللہ عنہ کی طرف ہونا دوسروں پر ان کی شرافت و فضیلت اور آپ جیسے لوگوں کا وہم دور کرنے کے لیے خود ایک واضح دلیل ہے۔

خیر طلب: آپ کو دھوکا ہو رہا ہے ، سکینہ کی ضمیر رسول اکرم صلی اللہ علی و آلہ وسلم کی طرف پھرتی ہے اور نزول سکینہ آنحضرت (ص) پر ہوا تھا نہ کہ ابوبکر پر، جس کا قرینہ بعد والے جملے میں موجود ہے کہ فرمایا " وایدہ بجنود لم تروہا" اوریہ حقیقت ہے کہ غیبی لشکروں کی تائید رسول اللہ (ص) کےلیے تھی نہ کہ ابوبکر کے لیے۔


شیخ : یہ مسلم ہے کہ جنود حق کی تائید رسول خدا(ص) کے لیے تھی لیکن، ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آنحضرت(ص) کی مصاحبت میں بے بہرہ نہ تھے۔

نزول سکینہ رسول خدا(ص) پر ہوا

خیر طلب : اگر الطاف و مراحم الہیہ میں دونوں ہستیاں شامل تھیں تو قاعدے کے رو سے آیہ شریفہ کے تمام جملوں میں تثنیہ کی ضمیریں ہونا لازمی تھا حالانکہ قبل و بعد کی تمام ضمیریں مفرد استعمال ہوئی ہیں تاکہ ذات خاتم الانبیاء (ص) کے مدارج ثابت ہوجائیں اور معلوم ہوجائے کہ پروردگار کی جانب سے جو کچھ ، جہت و مرحمت نازل ہوتی ہے وہ آں حضرت کی ذات سے مخصوص ہوتی ہے اور اگر آنحضرت(ص) طفیل میں دوسروں پر بھی نازل ہو تو ان کا نام ظاہر کیا جاتا ہے۔ لہذا سکینہ و رحمت کے نزول میں بھی اس آیت اور دوسری آیتوں میں صرف پیغمبر(ص) کو مورد عنایت قرار دیا ہے۔

شیخ : رسول خدا(ص) نزول سکینہ سے مستثنی تھے، ان کو اس کی کوئی احتیاج نہ تھی اور سکینہ ہرگز ان سے جدا نہیں ہوتا تھا پس نزول سکینہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مخصوص تھا۔

خیر طلب : آپ کیوں بے لطفی کی باتیں کرتے ہیں اور بار بار انہیں مطالب کو دہرا کے جلسے کاوقت لیتے ہیں۔ آپ کس دلیل سے کہتے ہیں کہ خاتم الانبیاء نزول سکینہ سے مستثنی تھے حالانکہ افراد خلائق میں سے پیغمبر(ص) و امت ،امام اور ماموم کوئی شخص بھی حق تعالی کے الطاف و عنایات سے مستغنی نہیں ہے ۔ کیا آپ سورہ نمبر9 ( توبہ) کی آیت نمبر26 کو بھول گئے ہیں جو حنین کے واقعے میں کہتی ہے "ثُمَ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلى رَسُولِهِ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ" ( یعنی اس وقت اللہ نے اپنے سکینہ و وقار ( یعنی شکوہ و سطوت اور جلال ربانی) کو اپنے رسول اور مومنین پر نازل فرمایا) نیز سورہ نمبر48 (فتح) کی آیت نمبر26 بھی اسی آیت شریفہ کے مانند ہے۔

جس طرح سے کہ اس آیت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد مومنین کی طرف اشارہ کیا ہے آیت غار میں بھی اگر ابوبکر ان مومنین کی ایک فرد ہوتے جن کو سکینہ و وقار میں شامل ہونا چاہیئے تو ضرورت تھی کہ تثنیہ کی ضمیر ہوتی یا علیحدہ ان کے نام کا ذکر کیا گیا ہوتا۔ یہ قصہ اتنا واضح ہے کہ خود آپ کے منصف علماء نے بھی اقرار کیا ہے کہ سکینہ کی ضمیر ابوبکر سے متعلق نہیں تھی۔ بہتر ہے کہ آپ حضرات کتاب نقض العثمانیہ مولفہ ابوجعفر محمد بن عبداللہ اسکافی کو جو آپ کے اکابر علماء اور شیوخ متعزلہ میں سے ہیں مطالعہ کیجئے تو دیکھئے گا کہ اس مرد عالم و منصف نے ابو عثمان بن حظ کی لا طائل باتوں کے جواب میں کس طرح حق کو آشکار کیا ہے، چنانچہ ابن ابی الحدید نے بھی شرح نہج البلاغہ جلد سیم ص253 تا ص281 میں ان میں سے بعض جواب نقل کئے ہیں۔


علاوہ ان چیزوں کے خود آیت میں ایک ایسا جملہ موجود ہے جس سے مکمل طور پر آپ کے مقصد کے بر خلاف نتیجہ نکلتا ہے ۔ اور وہ جملہ یہ ہے کہ رسول اللہ(ص) نے لا تحزن کہہ کے ابوبکر کو حزن و اندوہ سے منع فرمایا۔ اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوبکر اس حال میں غم زدہ تھے۔ تو ابوبکر کایہ حزن آیا کوئی اچھا عمل تھا یا برا؟ اگر عمل نیک تھا تو پیغمبر(ص) کسی کو عمل نیک اور اطاعت حق سے قطعا منع نہیں فرماتے اور اگر عمل بد اور گناہ تھا تو ایسے عمل والے کے لیے کوئی شرف و بزرگی نہیں ہوتی جس سے خدا کی رحمت اس کے شامل حال ہو اور وہ نزول سکینہ کا محل قرار پائے۔ بلکہ شرافت و فضیلت صرف مومنین اولیاء اللہ کے لیے ہوتی ہے۔

اور اولیاء اللہ کے لیے کچھ علامتیں ہوتی ہیں جن میں قرآن مجید کے بیان کی بناء پر سب سے اہم یہ ہے کہ حادثات زمانہ کے مقابلے میں ہرگز خوف و حزن اور غم و اندوہ کا اظہار نہ کریں بلکہ صبر و استقامت اختیار کریں، چنانچہ سورہ نمبر10 (یونس) آیت نمبر62 میں ارشاد ہے "أَلا إِنَ أَوْلِياءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لا هُمْ يَحْزَنُونَ ."

(یعنی آگاہ ہو کہ دوستان خدا کے دلوں میں ( آئندہ حادثات زمانہ کا ) کوئی خوف نہیں ہوتا اور نہ وہ ( دنیا کی اپنی گذشتہ مصیبتوں پر ) غم و اندوہ میں مبتلا ہوتے ہیں۔)

جب گفتگو یہاں تک پہنچی تو مولوی صاحبان گھڑیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ رات نصف سے کافی زیادہ گزر چکی ہے۔ نواب صاحب نے کہا کہ ابھی آیت کے بارے میں میں قبلہ صاحب کا بیان مکمل نہیں ہوا ہے اور کوئی آخری نتیجہ ہمارے ہاتھ نہیں آیا ہے ۔ ان حضرات نے کہا کہ ہم اس سے زیادہ زحمت دینا مناسب نہیں سمجھتے لہذا بقیہ باتین کل شب کے لیے ملتوی کی جاتی ہیں۔ چونکہ یہ اسلامی عیدوں میں سب سے بزرگ یعنی عید بعثت کی شب تھی۔ لہذا جلسے میں شربت اور مختلف اقسام کی شیرینی آئی اور مسرت و شادمانی کےساتھ یہ نشست تمام ہوئی۔)

چھٹی نشست

شب چہار شنبہ 28 رجب سنہ1345ھ

( قبل غروب جناب غلام امامین صاحب جو اہل تسنن میں سے ایک معزز تاجر اور شریف و متین انسان ہیں اور پہلی ہی شب سے شریک جلسے تھے تشریف لائے، انہوں نے بہت تہذیب کے ساتھ پر جوش انداز میں ایک مفصل بیان دیا جس کاخلاصہ یہ تھا کہ میں نے ذرا جلد آکر آپ کو اس لیے زحمت دی کہ آپ کی توجہ اس طرف مبذول کراوں کہ آپ نے اپنے مدلل بیانات کے ذریعہ ہم میں سے متعدد افراد کو جذب کر لیا ہے ، دل مکمل طور پر متاثر ہیں اور ایسی نئی نئی باتین سننے میں آئی ہیں جن کو تقیہ کی بنا پر دوسرے لوگ بیان کرنے سے پرہیز کرتے تھے ۔ ہم بھی ان تمام چیزوں سے بالکل بے خبر تھے لیکن


بحمداللہ آپ نے ہمت و شجاعت کے ساتھ پردے اٹھادیے اور ادب کے پیرائے میں ہم کو حقائق سے روشناس فرمایا۔گزشتہ شب جب ہم لوگ یہاں سے واپس ہوئے تو راستے میں کافی دیر تک حضرات علماء پر ہماری چوٹیں ہوتی رہیں اور آپس میں سخت گفتگو کی نوبت آگئی یہاں تک کہ ہم نے مشکل سے حالات کو درست کیا۔ ہمارے درمیان ایک عجیب دو رنگی پیدا ہوگئی ہے۔ آج کی شب مولوی صاحبان ہم سے بہت نالاں اور برگشتہ خاطر ہیں۔ اتنے میں نماز کا وقت آیا اور انہوں نے مغرب و عشاء کی نماز ہماری اقتداء میں پڑھی اور ہماری ہی طرح سےفریضہ ادا کیا۔ آہستہ آہستہ حضرات تشریف لائے چنانچہ معمولی خاطر و جواضع چائے نوشی اور از حد اظہار خلق و محبت کے بعد نواب عبدالقیوم صاحب کی طرف سے سلسلہ گفتگو شروع ہوا۔

نواب : قبلہ صاحب ہماری خواہش ہے کہ کل شب کے بیان کو مکمل کردیجئے تاکہ مطلب ناقص نہ رہ جائے ،اس لیے کہ ہم سب نتیجہ کلام اور آیت کے حقیقی مفہوم کے منتطر ہیں۔

خیر طلب : بشرطیکہ آپ حضرات (مولوی صاحبان کی طرف اشارہ ) آمادہ ہوں اور اجازت دیں۔

حافظ: ( ناراضگی کے ساتھ) کوئی حرج نہیں اگر ابھی کچھ باقی ہے تو فرمائیے ہم سننے کو تیار ہیں۔

خیر طلب : گزشتہ رات یہ کہنے والوں کے رد میں کہ یہ آیت شریفہ خلفائے راشدین کے طریقہ خلافت میں ذکر کی گئی ہے ہم نے ادبی دلائل پیش کئے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ مطالب کو دوسرے رخ سے زیر بحث لائیں تاکہ پردے ہٹیں اور حقیقت سامنے آجائے۔

جناب شیخ عبدالسلام نے گزشتہ شب میں فرمایا تھا کہ اس آیت کے اندر چار صفتین بتاتی ہیں کہ آیت خلفائے اربعہ اور ترتیب خلافت کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن اول تو فریقین کے بڑے بڑے مفسرین کی طرف سے اس آیہ شریفہ کی شان نزول میں ایسا کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے، دوسرے آپ خود بہتر جانتے ہیں کہ کوئی صفت ہر پہلو سے موصوف کے ساتھ مطابقت کرتی ہے تب لائق اعتنا ہوتی ہے اور اگر صفت موصوف سے مطابق نہ ٹھہرے تو حقیقت کا مصداق نہیں بن سکتی۔

اگر بغیر محبت اور عداوت کے ہم اںصاف کی نگاہ سے دیکھیں اور تحقیق کریں تو دیکھیں گے کہ مندرجہ آیہ مبارکہ کے صفات کے حامل صرف حضرت امیرالمومنین صلوات اللہ علیہ تھے اور ہرگز یہ صفتین ان حضرات سے میل نہیں کھاتیں جن کو شیخ صاحب نے بیان کیا ہے۔

حافظ : کیا یہ ساری آیتیں جو آپ نے علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں نقل کیں کافی نہیں تھیں جو آپ چاہتے ہیں کہ اس آیت کو بھی اپنی جادو بیانی کے زور سے علی(ع) کی شان میں ثابت کریں؟ فرمائیے دیکھیں کیونکر یہ خلفائے راشدین کی خلافت سے مطابقت نہیں کرتی۔


علی علیہ السلام کی شان میں تین سو آیتیں

خیر طلب : آپ نے جو یہ فرمایا کہ آیات قرآنی کو ہم نے مولانا امیرالمومنین علیہ السلام کی شان میں وارد کیا ہے، تو آپ نے یہ ایک عجیب خلط مبحث کیا ہے۔ کیا اس سے آنکھ بند کی جاسکتی ہے کہ خود آپ کی تمام بڑی بڑی تفسیروں اور معتبر کتابوں میں قرآن مجید کی ان کثیر آیتوں کو نقل کیا گیا ہے جو حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں؟ نہ یہ کہ اس کو ہم سے مخصوص بتایا جائے آیا حافظ ابونعیم اصفہانی جنہوں نے، ما نزل من القرآن فی علی کو اور حافظ ابوبکر شیرازی جنہوں نے نزول القرآن فی علی کو مستقل حیثیت سے لکھا ہے شیعہ تھے ؟ آیا تمام بڑے بڑے مفسرین جیسے امام ثعلبی، جلال الدین، سیوطی ، طبری ، امام فخرالدین رازی اور اکابر علماء جیسے ابن کثیر، مسلم ، حاکم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابودائود اور احمد ابن حنبل وغیرہ، بیان تک کہ ابن حجر ایسے متعصب جنہوں نے صواعق محرقہ میں ان قرآنی آیات کو اکٹھا کیا ہے جو ان حضرت کی شان میں نازل ہوئی ہیں، شیعہ تھے ؟؟؟ بعض جیسے طبرانی نے اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے باب62 کے شروع میں بسند ابن عباس اور محدث شام نے اپنی تاریخ کبیر میں نیز اور حضرات نے جو قرآن کی تین آیات تک ان حضرت کے بارے میں درج کی ہیں تو یہ شیعہ تھے یا آپ کے اکابر علماء اور پیشوا تھے

بہتر ہوگا کہ آپ حضرات تھوڑے غور و تامل کے ساتھ بیان کیا کریں تاکہ ندامت و پشیمانی کا باعث نہ ہو۔

ہم حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی منزلت ثابت کرنے میں کچھ گھڑنے اور وضع کرنے کے محتاج نہیں کہ زبردستی کسی آیت کو ان حضرت کی شان میں نقل کریں آپ کے مدارج آفتاب نصف النہار کی طرح ظاہر و ہویدا ہیں۔ یہ وہ خورشید تاباں ہے جو ابر کے پردے میں نہیں رہتا۔

امام محمد بن ادریس شافعی کہتے ہیں میں تعجب کرتا ہوں علی علیہ السلام سے کیونکہ ان حضرت کے دشمن ( بنی امیہ نواصب اور خوارج بغض و کینہ کی وجہ سے ان حضرت کے فضائل نقل نہیں کرتے اور دوستان علی(ع) بھی خوف و تقیہ کے سبب ذکر مناقب سے احتیاط کرتے ہیں اس کے با وجود کتابیں حضرت کے فضائل و مناقب سے پر ہیں جو ہر جگہ شمع محفل ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے موضوع میں ہم کسی سحر آمیزی کو دخل نہیں دیتے بلکہ ان حقائق کو بیان کرتے ہیں جو پر ہم نے خود آپ کی معتبر کتابوں سے استدلال کیا ہے اور کرتے ہیں۔

آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں کہ میں نے اب تک شیعہ روایات سے استدلال نہیں کیا ہے اور نہ انشاء اللہ آئندہ کروںگا میں نے منبروں پر اور تقریروں میں بار بار کہا ہے کہ اگر شیعوں کی تمام کتابیں درمیان سے ہٹائی جائیں تو میں صرف اکابر علمائے اہلسنت سے امیرالمومنین علیہ السلام کے مقام ولایت و خلافت اور اولویت کو بہترین طریقے پر ثابت کروں گا۔ چنانچہ اس آیہ شریفہ میں بھی میرا قول تنہا نہیں ہے کہ آپ کو سحر بیان میں مبتلا کروں بلکہ خود آپ کے علماء نے بھی اس مطلب کی


تصدیق کی ہے۔ مجھ کو اچھی طرح سے یاد ہے کہ فقیہ و مفتی عراقین محدث شام محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب43 میں حدیث تشبیہ کو نقل کرتے ہوئے کہ رسول خدا(ص) نے علی (ع) کو انبیاء(ع) کی شبیہ قرار دیا ہے، کہتے ہیں کہ علی(ع) کوجو حکم و حکمت میں نوح(ع) کی تشبیہ فرمایا تو اس کا سبب یہ ہے کہ

" انه کان شديدا علی الکافرين رئوفا بالمومنين کما وصفه الله تعالی القرآن بقوله والذين معه اشداء علی الکفار رحماء بينهم "

یعنی در حقیقت وہ کافروں پر سخت اور مومنوں پر مہربان تھے، جیسا کہ خدا نے قرآن میں اس آیت سے ان کی تعریف کی ہے کہ علی(ع) ہمیشہ پیغمبر(ص) کے ساتھی تھے کفار پر سختی اور مومنین پر مہربانی کرنے والے تھے۔ اور جو شیخ صاحب نے یہ فرمایا کہ والذین معہ ابوبکر کے بارے میں ہے اس دلیل سے کہ چند روز غار میں رسول اللہ(ص) کے قریب رہے تو (حالانکہ کل شب کو عرض کرچکا ہوں کہ خود آپ ہی کے علماء نے لکھا ہے کہ اتفاقیہ طور پر اور آئندہ خطروں سے بچنے کے لیے ان کو ساتھ لے گئے تھے) اگر فرض کر لیا جائے کہ آنحضرت(ص) مخصوص طریقے سے ان کو اپنے ہمراہ لے گئے تو کیا ایسا مسافر جو چند روز سفر کے عالم میں آں حضرت(ص) کے ساتھ رہا ہو مرتبہ میں اس شخص کی برابری کرسکتا ہے جو اوائل عمر ہی سے رسول اکرم(ص) کے ہمراہ اور آن حضرت(ص) کی تعلیم و تربیت میں رہا ہو؟

اگر انصاف و حقیقت کی نظر سے دیکھیے تو تصدیق کیجئے گا کہ حضرت علی علیہ السلام اس خصوصیت میں ابوبکر اور ان تمام مسلمانوں سے اولی ہیں جو اس آیت کے مصداق بن سکیں کیونکہ آپ نے بچپن ہی سے رسول اللہ(ص) کےساتھ اور آنحضرت(ص) کے زیر تربیت نشو و نما پائی۔ بالخصوص ابتدائے بعثت سے سوا علی علیہ السلام کے دوسرا آن حضرت(ص) کے ساتھ نہیں تھا۔ علی (ع) اس دن بھی پیغمبر(ص) کے ہمراہ تھے جب ابوبکر ، عمر ، عثمان، ابوسفیان، معاویہ اور تمام مسلمان دین توحید سے منحرف اور بت پرستی میں غرق تھے۔

رسول اللہ(ص) پر سب سے پہلے ایمان لانے والے علی(ع) تھے

چنانچہ آپ کے اکابر علماء جیسے بخاری ومسلم نے اپنی صحیحین میں، امام احمد بن حنبل نے مسند میں، ابن عبدالبر نے استیعاب جلد سیم ص32 میں، امام ابوعبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی میں، سبط ابن جوزی نے تذکرہ ص63 میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب13 میں ترمذی و مسلم سے، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول فصل اولی میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سیم ص258 میں، ترمذی نے جامع ترمذی جلد دوم ص314 میں، حموینی نے فرائد میں امیر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی میں، یہاں تک کہ ابن حجر متعصب نے صواعق میں اور آپ کے دوسرے جید علماء نے الفاظ کے مختصر کمی و بیشی ے ساتھ ابن بن مالک نیز اور لوگوں سے نقل کیا ہے کہ " بعث النبی فی يوم الاثنين و آمن علی يوم الثلاث " یعنی پیغمبر(ص) دو شنبے کے روز مبعوث ہوئے اور علی(ع) سہ شنبہ کو ایمان لائے نیز روایت کی ہے " بعث النبی فی يوم الاثنين و صلی علی معهيوم الثلاث " یعنی پیغمبر(ص) دو شنبہ کے روز مبعوث ہوئے اور سہ شبنہ کو علی نے ان کے ساتھ نماز پڑھی) اور


" انه اول من آمن برسول الله من الذکور " یعنی علی(ع) وہ پہلے مرد تھے جو رسول اللہ پر ایمان لائے۔

نیز طبری نے اپنی تاریخ جلد دوم ص241 میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سیم ص251 میں، ترمذی نے جامع جلد دوم ص215 میں، امام احمد نے مسند جلد چہارم ص368 میں، ابن اثیر نے کامل جلد دوم ص24 میں، حاکم نیشاپوری نے مستدرک جلد چہارم ص346 میں اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب 25 میں اپنے اسناد کے ساتھ ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اول من صلی علی ( اسلام کے اندر) جس نے سب سے پہلے نماز ادا کی وہ علی(ع) تھے۔ اور زید ابن ارقم سے روایت کی ہے کہ" اول من سلم مع رسول الله علی ابن ابی طالب " یعنی جو شخص سب سے پہلے رسول اللہ(ص) کےساتھ اسلام لایا وہ علی(ع) ابن طالب تھے اور اسی قسم کی روایتیں آپ کی معتبر کتابوں میں بھری پڑی ہیں۔ لیکن نمونے کے لیے اسی قدر کافی ہیں۔

علی(ع) بچپن ہی سے پیغمبر(ص) کی تربیت میں

خصوصیت سے آپ کو اس طرف توجہ کرنا چاہئیے کہ آپ ہی کے ذی علم فقیہہ نور الدین بن صباغ مالکی نے فصول المہمہ فصل تربیتہ النبی ص16 میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول فصل اول ص11 میں اور دوسروں نے نقل کیا ہے کہ جس سال مکہ معظمہ میں قحط پڑا تھا ایک روز رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ( جو ابھی ظاہری طور پر مبعوث برسالت نہ ہوئے تھے) اپنےچچا عباس سے فرمایا کہ آپکے بھائی ابو طالب کثیر العیال ہیں اور زمانہ بھی بہت سخت ہے لہذا ہم لوگوں چل کے ان کی اولاد میں سے جس کومناسب سمجھیں ایک ایک نفر کو ا پنی کفالت میں لے لیں تاکہ میرے عزیز چچا کو بار ہلکا ہوجائے۔ عباس نے منظور کیا۔ دونوں حضرات مل کے جناب ابو طالب کے پاس گئے اور اپنے آنے کی غرض بیان کی ۔ چنانچہ ابوطالب راضی ہوگئے۔ چنانچہ عباس نے جناب جعفر طیار کو اپنے ذمے لیا اور رسول خدا(ص) نے حضرت علی(ع) کی ذمہ داری لی، اس کے بعد مالکی یہ عبارت لکھتے ہیں کہ

" فلم يزل عليّ مع رسول اللّه صلّى اللّه عليه وآله وسلّم حتّى بعثه اللّه نبيّافاتّبعه علي ّوآمن به وصدّقه و کان عمره اذ ذاک فی السنه الثالثه عشر من عمره لم يبلغ الحلم و انه اول من اسلم و آمن برسول الله من الذکور بعد خديجة"

( یعنی علی(ع) ہمیشہ رسول اللہ(ص) کے ساتھ رہے یہاں تک کہ خدا نے آنحضرت(ص) کو مبعوث برسالت فرمایا تو علی(ع) نے ان کی پیروی کی ان پر ایمان لائے اور ان کی تصدیق کی، حالانکہ ابھی ان کی عمر کے صرف تیرہ سال گزرے تھے اور حد بلوغ میں نہیں پہنچے تھے، خدیجہ(ع) کے بعد مردوں میں آں حضرت(ص) پر سب سے پہلے اسلام و ایمان لانے والے یہی تھے۔)


اسلام میں علی(ع) کی سبقت

پھر مالکی اسی فصل میں امام ثعلبی کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے سورہ نمبر9 ( توبہ) کی آیت نمبر106 " وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهاجِرِينَ وَالْأَنْصارِ" کی تفسیر میں اس طرح روایت کی ہے کہ ابن عباس جابر ابن عبداللہ اںصاری، زید بن ارقم، محمد بن منکور اور بعیتہ الرائی کہتے ہیں کہ خدیجہ کے بعد جو شخص سب سے پہلے رسول خدا(ص) پر ایمان لایا وہ علی(ع) تھے ۔ اس کے بعد کہتے ہیں کہ علی کرم اللہ وجہہ نے اس بات کی طرف اپنے اشعار میں اشارہ فرمایا ہے جن کو ثقات علماء نے آپ سے نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں۔

محمّدالنبي أخي وصنوي وحمزةسيّدالشهداءعمي

وبنت محمّدسكني وعرسي من وطلحمهابدمي ولحمي

وسبطاأحمدولداي منهافأيكم له سهم كسهمي

سبقتكم الى الاسلام طراعلى ماكان من فهمي وعلمي

فأوجب لي ولايته عليكم رسولاللّه يوم غديرخم

فويل ثم ويل ثم ويل لمن يلقى الإله غدابظلمي

( یعنی محمد رسول اللہ(ص) میرے بھائی اور میرے چچا کے بیٹے ہیں، اور حمزہ سید الشہداء میرے چچا ہیں اور فاطمہ بنت رسول اللہ(ص) میری زوجہ اور شریک زندگی ہیں۔ اور پیغمبر(ص) کے دونوں نواسے میرے دو فرزند ہیں فاطمہ(س) سے، پس تم میں سے کون ہے جس کا حصہ میرے حصے کے برابر ہو، پس تم سب سے پہلے اسلام لایا جب کہ میں کم سن تھا اور حد بلوغ کو نہیں پہنچا تھا، اور پیغمبر(ص) نے میرے لیے اپنی ولایت کو تم پر غدیر خم کے روز واجب کیا، پھر تین مرتبہ فرمایا کہ وائے ہو اس پرجو کل (روز قیامت) اس حالت میں خدا سے ملاقات کرے کہ اس نے مجھ پر ظلم کیا ہو۔)

محمد طن طلحہ شافعی نے مطالب السئول باب اول فصل اول کے ضمن میں ص11 پر اور آپ کے بڑے بڑے علمائے مورخین و محدثین نے نقل کیا ہے کہ حضرت نے یہ اشعار اس موقع پر معاویہ کے جواب لکھے تھے جب اس نے اپنے خط میں ان حضرت کے مقابلے میں فخر و مباہات کیا تھا کہ میرا باپ زمانہ جاہلیت میں سردار قوم تھا اور اسلام میں اس نے بادشاہی کی، اور میں خال المومنین، کاتب وحی اور مصاحب فضائلی ہوں۔

حضرت نے خط پڑھنے کے بعد فرمایا " ابا الفضائل يفخر علی ابن آکلة الاکباد " یعنی آیا میرے سامنے جگر چبانے والی ( یعنی معاویہ کی ماں ہندہ جس کے لیے احد میں سید شہداء حمزہ کا جگر لایا گیا اور اس نے منہ میں رکھ کر چبایا ) کو لڑکا فضائل


فخر کرتا ہے۔ اس کے بعد مذکورہ بالا اشعار اس کو لکھے جن میں غدیر خم کی طرف اشارہ فرمایا اور ثابت فرمایا کہ آپ ہی امام و خلیفہ اور رسول خدا(ص) کے آں حضرت(ص) ہی کے حکم سے مسلمانوں کے امور میں اولی بہ تصرف ہیں۔ اور معاویہ باوجودیکہ آپ کا اتنا سخت مخالف تھا ان مفاخرات میں آپ کی تکذیب نہیں کرسکتا۔ نیز حاکم ابو القاسم اسکافی جو آپ کےبہت بڑے عالم اور آپ کے علماء کے معتمد علیہ ہیں آیہ مذکورہ کے ذیل میں عبدالرحمن ابن عوف سے نقل کرتے ہیں کہ قریش میں سے دس نفر ایمان لائے جن میں سب سے پہلے علی ابن ابی طالب(ع) تھے۔

آپ کے اکابر علماء جیسے احمد ابن حنبل مسند میں، خطیب خوارزمی مناقب میں اور سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ باب 12 میں انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ رسول (ص) نے فرمایا :

" لَقَدْصَلَّتِ الْمَلَائِكَةُعَلَيّ َوَعَلَى عَلِيِّ سَبْعَ سِنِين َوَذَلِكَ أَنَّهُ لَمْ تُرْفَعْ شَهَادَةُأَنْ لَاإِلَه إِلَّااللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّداًرَسُول ُاللَّهِ إِلَّامِنِّ يوَمِنْ عَلِيٍّ"

یعنی ملائکہ نے سات سال مجھ پر اور علی پر صلوات بھیجی کیونکہ اس مدت میں سوا میرے اور علی(ع) کے کسی اور کی طرف سے کلمہ شہادت آسمان کی جانب بلند نہیں ہوا۔

ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد اول میں ص375 سے ص378 تک آپ کے روایات و علماء کےسلسلوں سے بکثرت روایتیں نقل کی ہیں کہ علی علیہ السلام و ایمان میں سارے مسلمانوں سے آگے تھے اور تمام اخبار و اختلاف اقوال کے آخر میں کہتے ہیں :

" فدل مجم وعماذكرناعلى أن علياأول الناس إسلاماوأن المخالف في ذلك شاذوالشاذلايعتدبه انتهى كلامه."

یعنی یہ سب جو ہم نے ذکر کیا اس پر دلالت کرتا ہے کہ علی علیہ السلام سب سے پہلے اسلام لائے اور اس امر کے مخالف بہت کم ہیں اور قول شاذ قابل توجہ نہیں ہوتا۔

امام ابو عبدالرحمن نسائی نے جو ائمہ صحاح ستہ میں سے ایک ہیں خصائص العلوی کی پہلی چھ حدیثیں اسی موضوع میں نقل کی ہیں اور تصدیق کی ہے کہ سب سے پہلے رسول اللہ(ص) پر ایمان لانے والے اور آن حضرت(ص) کے ساتھ نماز پڑھنے والے علی علیہ السلام تھے۔

اور شیخ سلیمان بلخی حنفی نے یابیع المودۃ باب12 میں ترمذی، حموینی، ابن ماجہ، احمد حنبل، حافظ ابونعیم، امام ثعلبی، ابن مغازلی، ابوالموید خوارزمی اور دیلمی سے مختلف مضامین کےساتھ اکتیس (31) روایتیں نقل کی ہیں جن سب کا خلاصہ اور نتیحہ یہ ہے کہ علی علیہ السلام ساری امت سے پہلے اسلام و ایمان لائے یہاں تک کہ ابن حجر مکی جیسے متعصب نے بھی صواعق محرقہ فصل دوم میں انہیں مضامین کی روایتیں نقل کی ہیں، چنانچہ سلیمان بلخی حنفی نے بھی ینابیع المودۃ میں ان میں سے بعض رایتیں ان سے نقل کی ہیں اور ینابیع المودۃ باب14 کے آخر میں اپنے اسناد کےساتھ ابن زبیر مکی سے اور انہوں نے جابر ابن عبداللہ اںصاری سے مناقب کے سلسلے میں ایک مبارک روایت نقل کی ہے جس کو آپ حضرات کی اجازت سے ہیش کررہا ہوں تاکہ حجت تمام ہوجائے رسول اکرم (ص) کا ارشاد ہے:

"إِنَّ اللَّه َتَبَارَكَ وَتَعَالَى اصفَانِي وَاخْتَارَنِي وَجَعَلَنِي رَسُولًاوَأَنْزَل َعَلَيَّ سَيِّدَالْكُتُبِ فَقُلْتُ إِلَهِي وَسَيِّدِي إنَّكَ أَرْسَلْتَ مُوسَى إِلَى فِرْعَوْنَ فَسَأَلَ كَأَنْ تَجْعَلَ مَعَهُ أ َخاهُ هارُونَ وَزِيراً


تَشُدُّبِه ِعَضُدَهُ وَتُصَدِّقُ بِهِ قَوْلَهُ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ يَاسَيِّدِي وَإِلَهِي أَنْ تَجْعَلَ لِي مِنْ أَهْلِي وَزِيراًتَشُدُّبِهِ عَضُدِي فَجَعَل َاللَّهُ لِي عَلِيّاًوَزِيراًوَأَخاًوَجَعَل َالشَّجَاعَةَفِي قَلْبِهِ وَأَلْبَسَهُ الْهَيْبَةَعَلَى عَدُوِّهِ وَهُوَأَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي وَأَوَّلُ مَنْ وَحَّدَاللَّهَ مَعِي وَإِنِّي سَأَلْتُ ذَلِكَ رَبِّي عَزَّوَجَلَّ فَأَعْطَانِيهِ فَهُوَسَيِّدُالْأَوْصِيَاءِاللُّحُوقُ بِهِ سَعَادَةٌوَالْمَوْتُ فِي طَاعَتِهِ شَهَادَةٌوَاسْمُه ُفِي التَّوْرَاةِمَقْرُون ٌإِلَى اسْمِي وَزَوْجَتُهُ الصِّدِّيقَةُالْكُبْرَى ابْنَتِي وَابْنَاهُ سَيِّدَاشَبَابِ أَهْل ِالْجَنَّةِابْنَايَ وَهُوَوَهُمَاوَالْأَئِمَّةُبَعْدَهُمْ حُجَجُ اللَّهِ عَلَى خَلْقِهِ بَعْدَالنَّبِيِّين َوَهُمْ أَبْوَابُالْعِلْمِ فِي أُمَّتِي مَنْ تَبِعَهُمْ نَجَامِنَ النَّارِوَمَنِ اقْتَدَى بِهِمْ هُدِيَ إِلى صِراطٍ مُسْتَقِيمٍ لَمْ يَهَبِ اللَّه ُعَزَّوَجَلَّ مَحَبَّتَهُمْ لِعَبْدٍإِلَّاأَدْخَلَهُ اللَّه ُالْجَنَّةَ.انتهی. فاعتبروا يا اولی الالباب"

یعنی خدائے تعالی نے مجھ کو برگزیدہ او منتخب کیا ( مخلوقات میں سے ) مجھ کو پیغمبر بنایا اور مجھ پر سب سے بہتر کتاب نازل کی۔ پس میں نے عرض کیا اے میرے معبود اور مالک تونے موسی کو فرعون کی طرف بھیجا، تو انہوں نے تجھ سے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے تاکہ ان سے میرا بازو مضبوط ہو اور ان کے ذریعے میرے قول کی تصدیق ہو۔ چنانچہ اب میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ خداوندا میرے اہل میں سے میرے لیے ایک وزیر قرار دے جس سے میرا بازو مضبوط ہو۔ پس علی (ع) کو میرا وزیرا اور میرا بھائی بنا، شجاعت کو ان کے دل میں قائم کر اور ان کے دشمنوں کے مقابلے میں ان کو ہیبت عطا کر۔ علی(ع) وہ پہلے شخص ہیں جو مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کی او سب سے پہلے میرے ساتھ خدا کی وحدانیت کا اقرار کیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ میں نے خدا سے یہ سوال کیاتو اس نے مجھ کو عطا بھی فرمایا ( یعنی علی(ع) کو میرا وزیر اور بھائی قرار دیا) پس علی(ع) اوصیاء کے سردار ہیں، ان سے وابستہ ہونا سعادت اور ن کی اطاعت میں مرنا شہادت ہے، توریت میں ان کا نام میرے نام کے ساتھ ہے، ان کی زوجہ صدیقہ کبری میری بیٹی ہے، ان کے دو بیٹے جو جوانان جنت کے سردار ہیں، میرے فرزند ہیں علی(ع)، حسن(ع)، حسین(ع) اور ان کے بعد سارے امام انبیاء کے بعد تمام خلقت پر خدا کی حجت ہیں اور یہ حضرات میری امت میں علم کے دروازے ہیں جس شخص نے ان کی پیروی کی اس نے۔۔۔۔۔ آتش جہنم سے نجات پائی اور جس نے ان کی اقتداء کی اس نے صراط مستقیم کی ہدایت پائی۔ خدا نے جس بندے کو ان کی محبت عنایت فرمائی اس کو ضرور جنت میں داخل کرے گا ( لہذا اے صاحبان بصیرت عبرت حاصل کرو۔)

اگر میں چاہوں کہ بغیر کتب شیعہ کی سند کی صرف وہی سب روایتیں پیش کروں جو محض آپ ہی کے روات اور اکابر علماء کے سلسلوں سے اس بارے میں مروی ہیں تو ساری رات صرف ہوجائے گی۔ میرا خیال ہے کہ نمونے کے طور پر اسی قدر کافی ہے جس سے آپ حضرات سمجھ لیں گے کہ علی(ع) وہ شخص ہیں جو ابتدا سے رسول خدا (ص) کے ساتھ تھے لہذا اولی و احق بات یہ ہے کہ ہم انہیں بزرگوار کو والذین معہ کا مصداق سمجھیں نہ کہ اس کو جو غار کی مسافرت میں چند راتیں رسول(ص) کے ہمراہ رہا۔


علی(ع) کے ایمان طفلی میں اشکال اور اس کا جواب

حافظ : یہ بات تو ثابت ہے اور کسی نے اس حقیقت کا انکار نہیں کیا ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ ساری امت سے سابق الاسلام تھے لیکن یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ یہ سبقت دوسرے صحابہ پر علی کرم اللہ وجہہ کی فضیلت و شرافت کی دلیل نہیں ہے۔ یہ صحیح ہے کہ خلفائے معظم ابوبکر وعمر و عثمان رضی اللہ عنہم علی کرم اللہ وجہہ کے ایک مدت بعد ایمان لائے لیکن ان کا ایمان علی کے ایمان سے فرق رکھتا تھا اور قطعا ان کا ایمان علی(ع) کے ایمان سے افضل تھا کیوں کہ علی(ع) ایک نا بالغ بچے اور یہ لوگ سن رسیدہ اور کامل العقل تھے۔

بدیہی چیز ہے کہ ایک تجربہ کار جہاں دیدہ اور پختہ عقل رکھنے والے بوڑھے کا ایمان ایک نو خیز و نابالغ لڑکے کے ایمان سے افضل اور بالاتر ہے۔ اس کے علاوہ علی(ع) کا ایمان تقلیدی اور ان لوگوں کا تحقیقی تھا تقلیدی ایمان سے قطعا افضل ہے اس لیے کہ نابالغ اور غیر مکلف بچہ بغیر تقلید کے ہرگز ایمان نہیں لانا اور علی(ع) تیرہ سال کے ایک کم سن بچے تھے جن پر کوئی شرعی تکلیف نہیں تھی لہذا یقینا انہوں نے محض تقلید میں ایمان قبول کیا۔

خیر طلب : آپ جیسے علمائے قوم سے اس قسم کی گفتگو سن کے تعجب ہوتا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کی ان باتوں کا کیا مطلب سمجھوں۔ آیا یہ کہوں کہ آپ محض عناد کی بنا پر ہٹ دھرمی کررہے ہیں لیکن اس پر میرا دل آمادہ نہیں ہوتا کہ ایک عالم کی طرف ایسی نسبت دوں؟ تو کیا یہ کہوں کہ آپ بغیر سوچے سمجھے اپنے اسلاف کی پیروی میں اس قسم کی باتیں کرتے ہیں یعنی آپ صرف ( بنی امیہ کے زیر اثر خوارج و نواصب کی تقلید میں بول رہے ہیں اور اپنی تقریر میں کسی تحقیق سے مطلب نہیں رکھتے۔)

میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آیا بچپنے میں علی علیہ السلام کی ایمان اپنی خواہش اور ارادے سے تھا یا رسول اللہ(ص) کی دعوت پر ؟

حافظ: پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ طریقہ گفتگو سے کیوں متاثر ہوتے ہیں کیونکہ جب شبہ اور اشکال دل میں الجھن پیدا کرتا ہے تو اس کو زیر بحث لانا ضروری ہوتا ہے تاکہ حقیقتوں کا انکشاف ہو۔

دوسرے آپ کے جواب میں یہ طے شدہ امر ہے کہ علی(ع) رسول خدا(ص) کی دعوت پر ایمان لائے، اپنی خواہش اور ارادے سے نہیں۔

خیر طلب: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب علی علیہ السلام کو اسلام کی دعوت دی تو آپ یہ جانتے تھے کہ بچے کے اوپر بلوغ سے پہلے شرعی تکلیف نہیں ہے یا نہیں جانتے تھے؟ اگر یہ کہئے کہ نہیں جانتے تھے تو آپ نے آں حضرت (ص) کی طرف جہالت کی نسبت دی اور اگر جانتے تھے کہ چھوٹے بچے کے لیے کوئی دینی ذمہ داری نہیں ہے اس کے باوجود ان کو دعوت دی تو ایک لغو و مہمل اور بے محل کام کیا۔ بدیہی چیز ہے کہ رسول اللہ(ص) کی طرف لغو اور عبث کام کی نسبت دینا کھلا ہوا


کفر ہے کیونکہ پیغمبر(ص) لغو اور فصول باتوں سے پاک و مبرا ہے خصوصا خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیونکہ خدا سورہ53 ( النجم) آیت نمبر3 میں آنحضرت(ص) کے لیے فرماتا ہے۔ "وَمايَنْطِقُ عَنِ الْهَوى إِنْ هُوَإِلَّاوَحْيٌ يُوحى " ( یعنی رسول خدا(ص) اپنی خواہش نفس سے کوئی بات نہیں کہتے ہیں وہ از روئے وحی ہوتا ہے جو ان پر نازل ہوتی ہے۔)

بچپن میں علی(ع) کا ایمان ان کی عقل و فضل کی زیادتی کی دلیل ہے

پس قطعا آن حضرت(ص) نے علی (ع) کو دعوت دینے کے قابل اور اہل جان کے دعوت دی کیونکہ آنحضرت(ص) سے کوئی لغو عمل سرزد نہیں ہوتا اس کے علاوہ کم سنی کمال عقل کی منافی نہیں ہوتی، بلوغ وجوب تکلیف کی دلیل نہیں ہے۔ بلکہ صرف احکام شرعی میں اس کے لحاظ کیا جاتا ہے نہ کہ عقلی امور میں، اور ایمان ایک عقلی امر ہے تکلیف شرعی نہیں ہے لہذا" ایمان علی فی الصغر من فضائلہ" بچپن میں علی (ع) کا ایمان ان کی ایک فضیلت ہے، جیسا کہ حضرت عیسی بن مریم علی نبینا و آلہ وعلیہ السلام کے لیے جو ابھی نوزائیدہ بچے تھے خدائے تعالی سورہ نمبر19 ( مریم) آیت نمبر31 میں خبر دیتا ہے کہ انہوں نے کہا :

" قالَ إِنِّي عَبْدُاللَّهِ آتانِيَ الْكِتابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا"

(یعنی در حقیقت میں خدا کا ایک خاص بندہ ہوں، اس نے مجھ کو آسمانی کتاب عطا کی اور نبی بنایا ہے۔ ) اور حضرت یحی علیہ السلام کے لیے اسی سورے کی آیت نمبر13 میں فرماتا ہے " و آت ي نا الحکم صبيا" یعنی ہم نے یحی کو بچپنے ہی میں منصب نبوت عطا کیا۔

سید اسماعیل حمیری یمنی متوفی سنہ175 ہجری نے جو دوسری صدی ہجری کے مشہور شعراء میں سے تھے ان اشعار میں جو انہوں نے حضرت کی مدح میں کہے تھے اس پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:

وصي محمدوأب ابنيه ووارثه وفارسه الوفيا

وقدأوتي الهدى والحكم طفلاكيحيىي ومأوتيه صبيا

یعنی جس طرح یحی عالم طفلی میں نبوت پر فائز ہوئے اسی طرح جانشین پیغمبر(ص)، آپ کے فرزندوں کے باپ، آپ کے وارث اور جان نثار شہسوار علی علیہ السلام بھی بچپنے ہی میں ولایت و ہدایت کے حامل ہوئے۔

جو فضیلت و منزلت خدا عطا فرماتا ہے و سن بلوغ تک پہنچنے کی محتاج نہیں ہے بلکہ عقل کی پختگی اور صلاحیت طبع پاک طینت کا نتیجہ ہے جس سے فقط ہر سر د خفی کا جاننے والا خدا ہی واقف ہے لہذا اگر یحی(ع) بچپنے میں اور عیسی(ع) گہوارے میں نبوت تک اور علی(ع) تیرہ سال کے سن میں ولایت مطلقہ تک پہنچ جائیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ آپ کی اس گفتگو پر جس سے میں متاثر ہوا زیادہ تر تعجب یہ تھا کہ ایسے شبہات و اعتراضات نواصب و خوارج اور بنی امیہ کے پروپیگنڈے سے متاثر معنادین کے پرئووں سے سننے میں آتے ہیں جو علی علیہ السلام کے ایمان پر نکتہ چینی کرتے


ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا ایمان معرفت و یقین کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ تلقین و تقلید کی بنا پر تھا۔

اول تو آپ کےسارے موثق اکابر علماء اس فضیلت کے معترف ہیں، دوسرے اگر کم سنی کا ایمان ان حضرت کے لیے باعث فخر وبزرگی نہیں تھا تو آپ نے صحابہ کے مقابلے میں اس قدر فخر و مباہات کیوں فرمایا۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا آپ کے اکابر علماء جیسے محمد بن طلحہ شافعی، ابن صباغ مالکی، ابن ابی الحدید اور دوسروں نے بھی حضرت کے اشعار نقل کئے ہیں کہ آپ نے ضمنا فرمایا :

سبقتكم الى الإسلام طراصغيرامابلغت أوانحلمي

( یعنی میں نے اس وقت تم لوگوں پر اسلام میں سبقت کی جب کہ میں ایک چھوٹا بچہ تھا اور سن بلوغ کو نہیں پہنچا تھا۔ 12 مترجم عفی عنہ)

اگر بچپن ان حضرت کا ایمان کوئی فضل و شرف نہ ہوتا تو رسول خدا(ص) کو اس فضیلت کے ساتھ خصوصیت نہ دیتے اور آپ خود اس بات پر فخر و مباہات نہ کرتے، چنانچہ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ ضمن باب56 ص402 میں ذخائر العقبی امام الحرم احمد بن عبداللہ شافعی سے بسندخلیفہ ثانی عمر ابن خطاب نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں، ابوبکر، ابو عبیدہ جراح اور ایک جماعت خدمت رسول (ص) میں حاضر تھے کہ آں حضرت(ص) نے اپنا دست مبارک علی(ع) کے شانے پر رکھا اور فرمایا :

"ياعلي أنت أول المؤمنين إيمانا،وأول المسلمين إسلاما،وأنت مني بمنزلةهارون من موسى."

( یعنی یا علی(ع) تم ایمان و اسلام میں تمام مومنین و مسلمین سے اول ہو اور تم میرے لیے بمنزلہ ہارون ہو موسی کے لیے۔)

نیز امام احمد ابن حنبل مسند میں ابن عباس ( خیر امت) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں، ابوبکر، ابو عبیدہ بن جراح اور دوسرے صحابہ کا ایک مجمع پیغمبر(ص) کی خدمت میں حاضر تھے کہ آں حضرت(ص) نے علی بن ابی طالب(ع) کے شانے جپر دست مبارک رکھ کے فرمایا :

"فَقَالَ يَاعَلِيُّ أَنْتَ أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ إِسْلَاماًوَأَنْتَ أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَاناًوَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِهَارُونَ مِن ْمُوسَى كَذَبَيَ اعَلِيُّ مَنْ زَعَم َأَنَّهُ يُحِبُّنِي وَيُبْغِضُكَ"

(یعنی تم اسلام و ایمان میں تمام مسلمانوں اور مومنوں سے آگے ہو۔ اور تم میرے لیے بمنزلہ ہارون ہو موسی(ع) سے ۔ اے علی(ع) جھوٹ کہتا ہے وہ شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ مجھ کو دوست رکھتا ہے در آنحالیکہ تم کو دشمن رکھتا ہو۔)

ابن صباغ مالکی فصول المہمہ ص145 میں اسی طرح کی روایت کتاب خصائص سے بروایت ابن عباس نیز امام ابو عبدالرحمن نسائی خصائص العلوی میں نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے عمر ابن خطاب ( خلیفہ ثانی) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ علی(ع) کا ذکر نیکی کے ساتھ کرو کیونکہ میں نے پیغمبر(ص) سے سنا ہے کہ فرمایا : علی(ع) میں تین خصلتیں ہیں میں ( یعنی عمر) چاہتا تھا کہ ان میں سے ایک ہی مجھ کو حاصل ہوتی کیونکہ ان صفتوں میں سے ہر ایک میرے نزدیک ہر اس چیز سے زیادہ محبوب ہے جس پر آفتاب چمکتا ہے پھر کہا کہ ابوبکر ابوعبیدہ اور صحابہ کا ایک گروہ بھی حاضر تھا کہ آں حضرت(ص) نے علی(ع) کے شانے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:


(عبارت مذکورہ بالا) اور ابن صباغ نے ان کلمات کو دوسروں سے زیادہ نقل کیا ہے کہ فرمایا :

" وَمَنْ أَحَبَّكَ فَقَدْأَحَبَّنِي وَمَن ْأ َحَبَّنِي فَقَدْأَحَبَّه اللَّهَ وَ مَن أَحَبَّه اللَّهَ ادخله الجنة وَمَنْ أَبْغَضَكَ فَقَدْأَبْغَضَنِي وَمَنْ أَبْغَضَنِي فَقَدْأَبْغَضَه اللَّهُ تَعَالی أَدْخَلَهُ النَّارَ"

( یعنی جو شخص تم کو دوست رکھے اس نے مجھ کو دوست رکھا اور جس نے مجھ کو دوست رکھا اس کو خدا دوست رکھتا ہے اور جس کو خدا دوست رکھتا ہے اس کو جنت میں داخل کرے گا اور جو شخص تم کو دشمن رکھے اس نے مجھ کو دشمن رکھا اور جس نے مجھ کو دشمن رکھا اس کو خدا دشمن رکھتا ہے اور اس کو جہنم میں داخل کرے گا۔)

پس عالم طفلی میں علی علیہ السلام کا ایمان عقل و خرد کی زیادتی کو ثابت کرتا ہے اور حضرت کے لیے ایک ایسی فضیلت ہے کہ لم یسبقہ احد من المسلمین جس میں مسلمانوں میں سے کسی نے آپ پر سبقت نہیں کی ہے۔

طبری اپنی تاریخ میں محمد بن سعد ابن ابی وقاص سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ آیا ابوبکر سب سے پہلے مسلمان ہیں؟ کہا نہیں " وَلَقَدْأَسْلَمَ قَبْلَهُ أَكْثَرُمِنْ خَمْسِينَ رَجُلًاوَلَكِنْ كَانَ أَفْضَلَنَاإِسْلَاماً ."( یعنی ابوبکر سے پہلے پچاس آدمیوں سے زیادہ اسلام لاچکے تھے لیکن وہ اسلام کی حیثیت سے ہم سے افضل تھے۔ نیز لکھا ہے کہ عمر ابن خطاب پینتالیس (45) مردوں اور اکیس عورتوں کے بعد مسلمان ہوئے "و لکن اسبق الناس اسلاما و ايمانا فهو علی بن ابی طالب" ( یعنی لیکن اسلام و ایمان کی حیثیت سے تمام انسانوں سے سابق تر علی ابن ابی طالب(ع) تھے)

علی(ع) کا ایمان کفر سے نہیں تھا، فطری تھا

علاوہ اس کے کہ علی(ع) تمام مسلمانوں سے پہلے ایمان لائے ان کے لیے اس سلسلے میں ایک فضیلت اور ہے جو تمام فضائل میں اہم اور ان کے مخصوص صفات میں سے ہے کہ " اسلامه عن الفطرة و اسلامهم عن الکفر " یعنی علی(ع) کا اسلام فطرت سے ہے اور دوسروں کا اسلام کفر سے تھا۔ امیرالمومنین علی علیہ السلام ایک چشم زدن کے لیے بھی کفر وشرک کی طرف مائل نہیں ہوئے۔ بر خلاف عام مسلمین اور صحابہ کے جو کفر وشرک اور بت پرستی سے نکل کے اسلام لائے ( کیونکہ آپ قبل بلوغ ہی دعوت پیغمبر(ص) پر ایمان لے آئے ) چنانچہ حافظ ابو نعیم اصفہانی نے مانزل القرآن فی علی میں اور میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربی میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ:

" وَاللَّهِ مَامِنْ عَبْدٍآمَنَ بِاللَّهِ إِلَّاوَقَدْعَبَدَالصَّنَمَ فَقَال َوَهُوَالْغَفُورُلِمَن ْتَابَ مِنْ عِبَادَةِالْأَصْنَامِ إِلَّاعَلِيَّ بْنَ أَبِيطَالِبٍ فَإِنَّهُ آمَنَب ِاللَّهِ مِنْ غَيْرِأَنْ عَبَدَصَنَماً"

( یعنی قسم خدا کی بندوں ( یعنی امت) میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جو ایمان لانے سے پہلے بت پرستی نہ کرچکا ہو سوا علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے کیونکہ آپ بغیر بت کی برستش کئے ہوئے خدا پر ایمان لائے۔)

محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب باب24 میں اپنے اسناد کے ساتھ رسول اللہ(ص) سے نقل کرتے ہیں کہ


فرمایا :

"سبّاق الامةثلاثةلم يشرکواباللّه طرفةعين: عليّ بن أبيطالب،وصاحب ياسين،ومؤمن آل فرعون ،فهم الصدّيقون ،حبيب النجارمؤمن آل يسوحزقيل مؤمن آل فرعون وعلي بن أبيطالب وهوأفضلهم."

( یعنی تمام امتوں میں ( ایمان و توحید کی دوڑ میں) سبقت لے جانے والے تین شخص ہیں جنہوں نے چشم زدن کے لیے بھی خدا کے ساتھ شرک نہیں کیا، علی ابن ابی طالب(ع) صاحب یاسین اور مومن آل فرعون، پس یہی لوگ سچے ہیں یعنی نجیب بخار مومن آل یاسین حزقیل مومن آل فرعون اور علی ابن ابی طالب(ع) اور آپ ان سب میں، فضل ہیں۔)

چنانچہ نہج البلاغہ میں ہے کہ حضرت نے خود فرمایا : "فانى ولدت على الفطرةوسبق تالى الايمان والهجرة." ( یعنی میں فطرت توحید پر پیدا ہوا اور رسول خدا(ص) کےساتھ ایمان و ہجرت میں پیش قدمی کی۔)

نیز حافظ ابونعیم اصفہانی، شافعی اور آپ کے دوسرے علماء جیسے ابن ابی الحدید نے نقل کیا ہے: "إنّ عليّالم يكفرباللّه طرفةعين " ( یعنی حقیقتا علی علیہ السلام نے پلک جھپکنے کے برابر بھی خدا کے ساتھ کفر نہیں کیا، اور امام احمد بن حنبل نے مسند اور سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے زمعہ بن خارجہ سے کہا : " إِنَّ ه لَمْ يَعْبُدْصَنَماًوَلَاوَثَناًوَلَمْ يَشْرَبْ خَمْراً" ( یعنی علی علیہ السلام نے ہرگز بت کو سجدہ نہیں کیا اور کبھی شراب نہیں پی اور تمام انسانوں سے پہلے اسلام لائے۔)

آپ جو یہ کہتے ہیں کہ شیخین کا ایمان علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے ایمان سے افضل تھا تو کیا آپ نے یہ حدیث شریف نہیں دیکھی ہے جس کو ابن مغازلی شافعی نے فضائل میں، امام احمد حنبل نے مسند میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں اور آپ کے دوسرے اکابر علماء نے رسول اکرم(ص) سے نقل کیا ہے کہ فرمایا :

"لَوْوُزِنَ إِيمَانُ عَلِيٍ وَإِيمَانُأ ُمَّتِيل َرَجَحَ إِيمَانُ عَلِيٍّ عَلَى إِيمَانِ أُمَّتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ."

(یعنی اگر علی(ع) کے ایمان کا میری امت ایمان سے وزن کیا جائے تو علی(ع) کا ایمان میری امت کے قیامت تک کے ایمان پر بھاری ہوگا۔)

نیز سید میر علی ہمدانی نے مودۃ القربی مودت ہفتم میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں اور امام ثعلبی نے اپنی تفسیر میں خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول خدا(ص) کو یہ فرماتے ہوئے سنا

"لَوْأَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِين َالسَّبْع وُضِعَن فِي كِفَّةمِيزَانِ وَوُضِعَ إِيمَانُ عَلِيٍ فِي كِفَّةمِيزَانِ لَرَجَحَ إِيمَانُ عَلِيٍّ."

یعنی اگر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو ترازو کے ایک پلے میں رکھیں اور علی(ع) کا ایمان دوسرے پلے میں تو یقینا علی(ع) کا ایمان سب پر بھاری پڑے گا۔

اور ایک مشہور شاعر سفیان بن مصعب بن کوفی نے اسی بنیاد پر اپنے اشعار میں نظم کیا ہے۔

أشهدبالله لقدقال لنامحمدوالقول منهماخفي

لوأن إيمان جميعالخلق ممن سكن الأرض ومن حلال سما


يجعل في كفةميزان لكي يوفى بإيمان علي ماوفى.

یعنی خدا کی قسم میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ (ص) نے ہم سے بیان فرمایا کہ کسی پر مخفی نہ رہے کہ اگر زمین و آسمان میں بسنے والے کل مخلوقات کا ایمان ترازو کے ایک پلے میں رکھا جائے اور علی(ع) کا ایمان دوسرے پلے میں تب بھی علی(ع) ہی کا ایمان وزنی ہوگا۔

علی (ع) تمام صحابہ اور امت سے افضل تھے

شافعی فقیہ و عارف میر سید علی ہمدانی نے کتاب مودۃ القربی میں اس سلسلے کی بکثرت ایسی روایتیں نقل کی ہیں جو دلائل و براہین اور احادیث صحیحہ کےساتھ علی علیہ السلام کی افضلیت ثابت کرتی ہیں۔ منجملہ ان کے مودت ہفتم میں ابن عباس ( خیر امت) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا :

"أفضل رجال العالمين في زماني هذاعلي عليه السلام"

( یعنی عالمین کے مردوں میں سب سے افضل میرے زمانے میں یہ علی علیہ السلام ہیں۔)

اور آپ کے اکثر منصف علماء علی علیہ السلام کی افضلیت پر عقیدہ رکھتے تھے، چنانچہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سیم ص40 میں لکھا ہے کہ فرقہ معتزلہ کے پیشوا ابوجعفر اسکافی کی ایک کتاب مجھ کو ملی جس میں لکھا ہوا تھا کہ بشر بن معتمر، ابوموسی، جعفر بن مبشر اور بغداد کے دوسرے علمائے متقدمین کا مذہب یہ تھا کہ

"أن أفضل المسلمين علي بن أبيطالب ثم ابنه الحسن ثم ابنه الحسين ثم حمزةبن عبدالمطلب ثم جعفربن أبيطالب الخ"

( یعنی تمام مسلمانوں سے افضل و برتر علی بن ابی طالب(ع) پھر آپ کے فرزند حسن(ع) پھر کے آپ کے دوسرے فرزند حسین(ع) پھر حمزہ بن عبدالمطلب پھر جعفر ابن ابی طالب(معروف بہ طیار۔)

ہمارے شیخ ابوعبداللہ بصری، شیخ ابوالقاسم بلخی اور شیخ ابوالحسن خیاط ( جو متاخرین علمائے بغداد کے شیخ تھے) ابوجعفر اسکافی کے اسی عقیدے پر تھے ( یعنی حضرت علی(ع) کو افضلیت تھی) اور افضلیت سے مراد یہ تھی کہ یہ حضرات خدا کے نزدیک تمام انسانوں سے بزرگ تھے، ان کا ثواب سب سے زیادہ تھا، اور روز قیامت ان کا درجہ سب سے بلند ہوگا۔ اس کے بعد شرح نہج البلاغہ کے اسی ص40 کے آخر میں معتزلی عقیدے کی تفصیل نظم کی ہے اور کہا ہے:

وخيرخلق الله بعدالمصطفى أعظمهم يوم الفخارشرفا

السيدالمعظم الوصي بعل البتول المرتضى علي

وابناه ثم حمزةوجعفرثم عتيق بعدهم لاينكر

( یعنی رسول خدا(ص) کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر اور اپنے شرف پر فخر کرنے کے روز سب سے بزرگ سید


بزرگوار، وصی پیغمبر(ص) اور شوہر بتول فاطمہ زہرا(س)، علی مرتضی(ع) ہیں اور ان کے بعد ان کے دونوں فرزند (حسن و حسین علیہما السلام) پھر حمزہ پھر جعفر ( طیار) تھے۔)

شیخ : اگر آپ نے خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی افضلیت ایمان کے ثبوت میں علماء کے اقوال دیکھے ہوتے تو ایسی باتیں نہ کہتے ۔

خیر طلب: آپ بھی اگر متعصب لوگوں کے اقوال سے منہ موڑ کے اپنے محقق اور منصف علماء کے بیانات پر توجہ کرتے تو دیکھتے کہ وہ سب کے سب افضلیت علی علیہ السلام کی تصدیق کرتے ہیں۔

نمونے کے لیے شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید معتزلی جلد سیم ص264 کی طرف رجوع کیجئے جس میں آپ کے اس بیان کو جاحظ سے نقل کیا ہے کہ ابوبکر کا ایمان علی علیہ السلام کے ایمان سے افضل تھا، اس کے بعد فرقہ معتزلہ کے بڑے عالم اور شیخ ابوجعفر اسکافی نے اس کے رد میں جواب دیا ہے اس کو تفصیل سے درج کیا ہے، چنانچہ عقلی و نقلی دلائل سے کئی صفحات میں ثابت کرتے ہیں کہ بچپن میں حضرت علی(ع) کا ایمان ابوبکر اور تمام صحابہ کے ایمان سے افضل تھا، یہاں تک کہ ص275 میں کہتے ہیں کہ ابوجعفر نے کہا ہے:

"إننالاننكرفضل الصحابةوسوابقهم ولكنناننكرتفضيلأحدمن الصحابةعلى علي بن أبيطالب انتهی"

( یعنی ہم صحابہ کے فضائل کا انکار نہیں کرتے لیکن ان میں سے کسی کو علی ابن ابی طالب(ع) سے برتر نہیں مانتے۔)

ان اقوال سے قطع نظر در اصل امیرالمومنین کا نام دوسرے صحابہ کے مقابلے میں لانا قیاس مع الفارق ہے کیونکہ ان حضرات کی منزل اس قدر بلند ہے کہ صحابہ وغیرہ میں سے کسی کےساتھ ہرگز اس کا موازنہ نہیں ہوسکتا جس سے آپ فضائل صحابہ کو چند یکطرفہ روایتوں کے سہارے ( اگر ان کو صحیح بھی مان لیا جائے) ان حضرات کے جامع و مانع کمالات کے مقابلے پر لانے کی کوشش کریں۔ چنانچہ میر سید علی ہمدانی مودۃ القربی کی مودت ہفتم میں احمد بن محمد الکرزی بغدادی سے نقل کرتےہیں کہ انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن احمد حنبل کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے باپ احمد ابن حنبل سے فضیلت صحابہ کا درجہ دریافت کیاتو وہ ابوبکر، عمر اور عثمان کا نام لے کر خاموش ہوگئے۔ " فقلت يا ابت اين علی بن ابی طالب قال هو من اهل البيت لايقاس به هئولاء" یعنی میں نے کہا اے پدر بزرگوار علی ابن ابی طالب (ع) کہاں ہیں؟ ( یعنی ان کا نام کیوں نہیں لیا) میرے باپ نے کہا کہ وہ اہل بیت رسالت میں سےہیں ان پر ان لوگوں کا قیاس نہیں ہوسکتا) یعنی جس طرح سے اہلبیت رسول (ص) کا مقام و مرتبہ آیات قرآنی اور ارشادات رسول کے حکم تمام مقامات و مراتب سے بلند تر ہے اسی طرح علی علیہ السلام کے مدارج تمام صحابہ وغیرہ سے بالاتر ہیں، چنانچہ آپ کا نام صحابہ کے شمار میں نہ لانا چاہیئے بلکہ وہ نبوت اور منصب رسالت کے ساتھ منسوب ہوگا۔

جیسا کہ آیہ مباہلہ میں حضرت کو نفس رسول(ص) کی جگہ پر بتایا گیا ہے۔

اس مقصد پر ایک دوسری حدیث بھی گواہ ہے جو اسی فصل اور مودت ہفتم میں بروایت عبداللہ ابن عمر ابن خطاب ابی وائل سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا ایک مرتبہ ہم نے اصحاب پیغمبر(ص) کو شمار کیا تو ابوبکر ، عمر اور عثمان کا نام لیا، ایک شخص نے کہا :

" يَابَاعَبْدِالرَّحْمَنِ فَعَلِيٌّ ما هوقَالَ: عَلِيٌ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ لَايُقَاسُ بِهِ احدٌ،هُومَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلیَ اللهُ عَليَه


وَ آلِه فِي دَرَجَتِهِ"

( یعنی اے ابو عبدالرحمن ( عبد اللہ ابن عمر کی کنیت) علی(ع) کا نام کیوں چھوڑ دیا؟ تو میں نے کہا علی(ع) اہل بیت رسالت میں سے ہیں کسی کا ان پر قیاس نہیں ہوسکتا وہ رسول خدا(ص) کے ساتھ ان کے درجے میں ہیں) یعنی علی علیہ السلام کا حساب امت اور صحابہ سے الگ اور خود پیغمبر(ص) کے ساتھ شامل ہے۔ آپ رسول اللہ(ص) کے ہمراہ آں حضرت کے درجے میں ہیں۔

اجازت دیجئے کہ اسی فصل اور مودت سے ایک حدیث اور پیش کروں ۔ جابر ابن عبداللہ انصاری سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ایک روز مہاجرین و انصار کے سامنے رسول اللہ(ص) نے حضرت علی(ع) سے فرمایا:

"ياعلي لوأنّ أحداعبداللّه حق عبادته ثم يشك فيك وأهل بيتك أنكم أفضل الناس كان في النار"

( یعنی اے علی(ع) اگر کوئی شخص خدا کی پوری عبادت کرے پھر تمہارے اور تمہارے اہل بیت کے تمام لوگوں سے افضل ہونے میں شک کرے تو وہ جہنم میں جھونک دیا جائیگا۔)

یہ حدیث سنتے ہی سارے اہل جلسہ خصوصا حافظ صاحب نے استغفار کیا کہ شک کرنے والوں میں شمار نہ ہوں۔

خلاصہ یہ کہ ان احادیث کثیرہ میں سے جو صحابہ اور تمام امت پر امیرالمومنین علی علیہ السلام کی فضیلت اور حق تقدم کے بارے میں وارد ہوئی ہیں یہ مشتے نمونہ از خروارے ہے اب یا تو ان اخبار صحیحہ کی جو آپ ہی کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں رد کیجئے یا عقل و نقل کے حکم سے تسلیم کیجئے کہ آن حضرت(ع) کا ایمان تمام صحابہ اور امت سے افضل تھا جن میں ابوبکر اور عمر بھی تھے۔

اگر آپ فریقین کی اس متفق علیہ حدیث پر توجہ کیجئے جو غزوہ احزاب اور جنگ خندق میں امیرالمومنین(ع) کے ہاتھ سے مشہور بہادر عمرو بن عبدود کے مارے جانے پر رسول اللہ(ص) نے ارشاد فرمائی کہ:

"ضربةعلي يوم الخندق أفضل من عبادةالثقلين."

( یعنی خندق کے روز علی (ع) کا ایک وار( عمرو بن عبدود پر) جن وانس کی عبادت سے بہتر ہے)

تو آپ خود تصدیق کیجئے گا کہ جب حضرت علی علیہ السلام کا ایک عمل جن و انس کی عبادت سے بہتر ہے تو اگر آپ کے سارے اعمال و عبادات شامل ہو جائیں تو یقینا آپ کی افضلیت ثابت ہوگی اور اس سے سوا متعصب اور کینہ پرور انسان کے اور کوئی انکار نہیں کرسکتا۔

اگر تمام صحابہ اور اہل عالم پر آپ کی افضلیت کے لیے اور کوئی دلیل نہ ہوتی تو صرف آیت مباہلہ ہی اس کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہوتی جس میں خدا نے علی (ع) کو بمنزلہ نفس رسول (ص) قرار دیا ہے۔ کیونکہ یہ مسلم ہے کہ رسول اللہ اولین و آخرین میں تمام انسانوں سے افضل تھے۔ لہذا آیہ شریفہ میں کلمہ انفسنا کے حکم سے علی علیہ السلام بھی اولین و آخرین میں سب سے افضل ٹھہرتے ہیں۔ پس آپ حضرات تصدیق کیجئے کہ والذین معہ کے حقیقی مصداق امیرالمومنین علیہ السلام ہیں جو تمام مسلمانوں سے پہلے ظہور اسلام کی ابتدا ہی سے رسول خدا(ص) کے ہمراہ تھے اور آخر عمر تک ان سے ذرہ برابر بھی کوئی لغزش نہیں ہوئی۔

( نماز کا وقت ہوگیا لہذا مولوی صاحبان فریضہ ادا کرنے اٹھے، فراغت کے بعد چائے نوشی ہوئی پھر میری طرف سے سلسلہ کلام شروع ہوا۔)

خیر طلب : رہی یہ بات کہ شب ہجرت امیرالمومنین (ع) رسول خدا(ص) کے ہمراہ کیوں روانہ نہیں ہوئے تو یہ بہت واضح چیز ہے کیونکہ آنحضرت(ص) کے حکم سے چند اہم کام آپ کے سپرد تھے جن کو مکہ معظمہ میں ٹھہرکے انجام دینا تھا۔


اس لیے کہ پیغمبر(ص) کے نزدیک علی(ع) سے زیادہ کوئی امین نہیں تھا جو ان امانتوں کو جو آں حضرت(ص

کے پاس جمع تھیں، ان کے مالکوں تک پہنچاتا۔

( دوست و دشمن کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ(ص) اہل مکہ کے امین تھے، یہاں تک کہ دشمن بھی اپنی امانتیں آںحضرت(ص) کے پاس جمع کرتے تھے تاکہ تلف ہونے سے محفوظ رہیں۔ اسی وجہ سے آںحضرت(ص) مکہ میں محمد امین(ص) کے نام سے مشہور تھے۔)

دوسرا فرض امیرالمومنین(ع) کے ذمے یہ تھا کہ آنحضرت(ص) کے اہل و عیال اور باقی مسلمانوں کو مدینے پہنچائیں۔

علاوہ ان چیزوں کے اگر علی علیہ السلام اس رات غار میں نہیں تھے تو قطعا اس سے بالاتر منزل حاصل کی کہ رسول اللہ(ص) کے بستر اور چادر میں آرام فرمایا اگرچہ خلیفہ ابوبکر آں حضرت(ص) کے طفیل میں ثانی اثنین کہے جاتے ہیں لیکن اسی شب میں مصاحبت غار سے زیادہ نیک اور اہم عمل کے سلسلے میں مستقل طور پر ایک آیت حضرت کی شان میں نازل ہوئی، اور یہ عمل خود آپ کی ایسی فضیلت و منقبت ہے جس پر فریقین ( شیعہ و سنی) کا اتفاق ہے کیونکہ اگر اس رات امیرالمومنین(ع) فداکاری اور جان نثاری نہ فرماتے تو رسول اللہ(ص) کی جان مبارک بہت بڑے خطرے میں تھی۔

شب ہجرت بستر رسول (ص) پر سونے سے علی(ع) کی شان میں نزول آیت

چنانچہ آپ کے موثق اکابر علماء نے اپنی تفسیروں اور معتبر کتابوں میں اس بزرگ فضیلت کو نقل کیا ہے جیسے ابن سبع مغربی نے شفاء الصدور میں، طبرانی نے اوسط اور کبیر میں، ابن اثیر نے اسدالغابہ جلد چہارم ص25 میں، نور الدین بن صباغ مالکی نے فصول المہمہ فی معرفت الائمہ ص33 میں، ابو اسحق ثعلبی، فاضل نیشاپوری امام فخر الدین رازی اور جلال الدین سیوطی نے اپنی تفسیروں میں، حافظ ابونعیم اصفہانی مشہور شافعی محدث نے مانزل القرآن فی علی میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں، شیخ الاسلام ابراہیم بن محمد حموینی نے فرائد میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب 62 میں، امام احمد حنبل نے مسند میں، محمد بن جریہ نے مختلف طریقوں سے، ابن ہشام نے سیرۃ النبی میں، حافظ محدچ شام نے اربعین طوال میں، امام غزالی نے احیاء العلوم جلد سوم ص223 میں، ابوالسعادات نے فضائل العترۃ الطاہرہ میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں، سبط ابن جوزی نے تذکرۃ خواص الامہ ص21 میں اور آپ کے دوسرے بڑے بڑے علماء نے مختلف عبارات و الفاظ میں اس مطلب کا خلاصہ نقل کیا ہے اور شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب21 میں بکثرت علماء سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حکم خداوندی سے مدینہ منورہ کے لیے آمادہ ہوئے تو شب ہجرت امیرالمومنین علی علیہ السلام سے فرمایا کہ میری سبز خضرمی چادر جو میں رات کو استعمال کرتا ہوں اوڑھ لو اور میرے بستر پر سوجائو پس علی(ع) آنحضرت(ص) کی جہ سو رہے اور وہ سبز چادر سر سے اوڑھ لی تاکہ گھر کا محاصرہ کئے ہوئے کفار یہ نہ سمجھیں کہ بستر پر علی(ع) ہیں، یہاں تک کہ رسول خدا(ص) صحیح و سلامت تشریف لے گئے۔


خدا کی جانب سے جبرئیل و میکائیل کو خطاب ہوا کہ میں نے تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ قرار دیا ہے اور قطعا تم میں سے ایک کی عمر دوسرے سے زیادہ ہے لہذا کون اس کو منظور کرتا ہے کہ اپنی زیادہ عمر جس کا اس کو علم بھی نہیں ہے دوسرے کو بخش دے؟ انہوں نے عرض کیا کہ یہ حکم ہے یا اختیاری فعل؟ خطاب ہوا کہ حکم نہیں ہے تم کو اختیار حاصل ہے۔ تو ان میں سے کوئی بھی تیار نہیں ہوا کہ اپنی خوشی سے عمر کی زیادتی دوسرے کو دے دے اس وقت ارشاد ہوا۔

" انی آخيتبين علی ولی ومحمدنبيّ (ص) فنثر علی حياته للنبی فوقدعلى فراش النبی بقيه بمهجته اهبطاإلى الأرض ،فاحفظاه من عدوه"

( یعنی در حقیقت میں نے اپنے ولی علی(ع) اور اپنے نبی محمد(ص) کے درمیان برادری قائم کی ہے پس علی(ع) نے پیغمبر(ص) کی زندگی پر اپنی زندگی کو فدا اور نثار کردیا ہے اور ان کے بستر پر سو کردل و جان سے ان کی حفاظت کر رہے ہیں، لہذا تم دونوں زمین پر جائو اور دشمنوں کے شر سے ان کی حفاظت کرو۔)

چنانچہ دونوں زمین پر آئے ، جبرئیل حضرت کے سرہانے اور میکائیل پائینی بیٹھے اور جبرئیل کہہ رہے تھے :

"بخ بخ من مثلك ياابن أبيطالب اللّه عزّوجلّ يباهي بک الملائكة"

( یعنی مبارک ہو مبارک ہو کون ہے تمہارے مثل اے ابوطالب کے فرزند کیونکہ خدائے عزوجل تمہارے وجود سے ملائکہ پر فخر و مباہات کررہا ہے۔)

پھر خاتم الانبیاء(ص) پر سورہ 2 ( بقرہ) کی آیت 203 نازل ہوئی " وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغاءَمَرْضاتِ اللَّهِ واللَّه رئوف بالعبادِ "

( یعنی انسانوں میں سے بعض ( علی علیہ السلام) وہ ہیں جو رضائے الہی کے لیے اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں اور خدا ایسے بندوں پر مہربان ہے۔)

اب میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ جب قیام گاہ پر تشریف لے جائیے تو اس آیہ شریفہ کو آیہ غار سے جو آپ کا محل استدلال ہے ملاکر بغیر شیعہ و سنی کے بغض و محبت کے غیر جانبداری اور انصاف سے مطالعہ فرمائیے اور غور کیجئے کہ آیا افضلیت اس شخص کے لیے ہے جو مسافرت میں چند روز غم و اندوہ کے ساتھ پیغمبر(ص) کے ہمراہ رہا ہو یا اس شخص کے لیے جس نے اسی شب میں جان نثاری کی اور قدرت و شجاعت و مسرت کے ساتھ علم و ارادہ سے اپنا نفس رسول اللہ(ص) پر قربان کیا تاکہ آن حضرت(ص) سلامتی کے ساتھ تشریف لے جائیں ، پروردگار عالم نے ملائکہ روحانی کے سامنے اس کی ذات پر فخر و مباہات کیا اور اس کی مدح میں ایک مستقل آیت نازل فرمائی ہے۔ چنانچہ آپ کے بڑے بڑے علماء نے ہٹ دھرمی معاندین کے مقابلے میں تھوڑے غور و فکر سے کام لے کر از روئے انصاف تصدیق کی ہے کہ علی علیہ السلام ابوبکر سے افضل تھے اور بستر پر علی(ع) کا سونا غار میں ابوبکر کی مصاحبت سے بدرجہ ہا بہتر و بالاتر تھا۔

سنی علماء کا اعتراف کہ غار میں مصاحبت ابوبکر سے علی(ع) کا بستر رسول (ص) پر سونا بہتر تھا

اگر شرح نہج البلاغہ جلد سیم کو ص269 سے ص281 تک غور سے پڑھئے اور ابوبکر پر علی(ع) کی افضلیت میں، ابوعثمان


جاحظ ( ناصبی) کے شبہات کے رد میں معتزلیوں کے بہت بڑے عالم اور شیخ امام ابو جعفر اسکافی کے بیانات اور دلائل پر گہری نظر ڈالئے تو دیکھئے گا کہ یہ انصاف پسند عالم مضبوط دلیلوں کے ساتھ بہ صراحت ثابت کرتا ہے کہ پیغمبر(ص) کے بستر پر آنحضرت (ص) کے حکم سے علی(ع) کا سونا غار کے سفر میں ابوبکر کی چند روزہ مصاحبت سے افضل تھا، یہاں تک کہ لکھا ہے :

"قال علماءالمسلمين إن فضيلةعلي ع تلك الليلةلانعلم أحدامن البشرنالمثله اإلاماكان من إسحاق وإبراهيم عنداستسلامه للذبح"

( یعنی علمائے مسلمین کا اتفاق ہے کہ حقیقتا اس رات میں علی(ع) کی وہ فضیلت ہے جس کو کوئی انسان نہیں پاسکا سوا اسحق وہ ابراہیم کے جب وہ ذبح اور قربانی پر آمادہ تھے)

( لیکن اکثر مفسرین و مورخین اور علمائے اخبار کا عقیدہ ہے کہ ذبیح اسماعیل تھے نہ کہ اسحق) اور ص371 کے آخر میں ابو عثمان جاحظ ( ناصبی) کے جواب میں ابو جعفر اسکافی کا قول نقل کیا ہےکہ وہ کہتے ہیں :

"قد بينا فضيلة المبيت على الفراش على فضيلة الصحبةفي الغار بما هو واضح لمن أنصف و نزيد هاهنا تأكيدا بما لم نذكره فيما تقدم فنقول إن فضيلة المبيت على الفراش على الصحبة في الغار لوجهين أحدهما أن عليا ع قد كان أنس بالنبي ص و حصل له بمصاحبته قديما أنس عظيم و إلف شديد فلما فارقه عدم ذلك الأنس و حصل به أبو بكر فكان ما يجده علي ع من الوحشة و ألم الفرقة موجبا زيادة ثوابه لأن الثواب على قدر المشقة.و ثانيهما أن أبا بكر كان يؤثر الخروج من مكة و قد كان خرج من قبل فردا فازداد كراهية للمقام فلما خرج مع رسول الله ص وافق ذلك هوى قلبه و محبوب نفسه فلم يكن له من الفضيلة ما يوازي فضيلة من احتمل المشقة العظيمة و عرض نفسه لوقع السيوف و رأسه لرضخ الحجارة لأنه على قدر سهولة العبادة يكون نقصان الثواب "

( ماحصل مطلب یہ کہ میں پہلے شب ہجرت علی(ع) سے بستر رسول(ص) پر سونے کو ابوبکر کے غار میں پیغمبر(ص) کے ساتھ ہونے سے اس طرح افضل ثابت کرچکا ہوں کہ کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی اب مزید تاکید کے لیے جو کچھ کہہ چکا ہوں اس کے علاوہ اور دو صورتوں سے اس مقصد کو ثابت کرتا ہوں۔ رسول اللہ(ص) کے ساتھ علی علیہ السلام کو قدیمی مصاحبت کی وجہ سے شدید انس و محبت تھی لہذا جب جدائی ہوئی تو سارا لطف الفت جاتا رہا اور اس کے برعکس ابوبکر کو یہی چیز حاصل ہوگئی۔ پس موقع پر علی علیہ السلام جو وحشت اور درد جدائی محسوس کر رہے تھے اس سے آپ کا ثواب بڑھ رہا تھا کیونکہ ثواب عمل مشقت کے لحاظ سے ہوتا ہے( جیسا کہ قول ہے افضل الاعمال احمزہا۔ (یعنی جو عمل زیادہ سخت ہے وہی افضل ہے) اور ابوبکر چونکہ برابر مکے سے نکلنے پر تیار تھے چنانچہ پہلے کبھی اکیلے نکل بھی چکے تھے، لہذا ان کے لیے قیام مکہ کی ناگواریی بڑھ گئی، پس جب وہ رسول اللہ(ص) وہاں سے نکلے تو ان کی تمنائے دلی اور مراد قبلی بر آئی لہذا ان کے لیے کوئی ایسی فضیلت ثابت نہیں ہوتی جو فضیلت علی(ع) کے مقابل لائی جاسکے جنہوں نے عظیم مشقت برداشت کی، اپنی جان کو تلواروں کے سامنے اور سر کو دشمنوں کی سنگباری کے لیے پیش کردیا۔ بدیہی چیز ہے، کہ


سہولت کے حساب سے عبادت کا ثواب گھٹ جاتا ہے۔ اور ابن سبع مغربی شفاء الصدور میں بسلسلہ بیان شجاعت علی علیہ السلام کہتے ہیں :

" علماء العرب اجمعوا علی ان نوم علی عليه السلام علی فراش رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم افضل لمن خروجه معه و ذالک انه وطن نفسه علی مفاعاته لرسول الله صلی الله عليه و آله وسلم و اثر حياته و اظهر شجاعته بين اقرانه"

یعنی علماء عرب کا اجماع ہے کہ شب ہجرت علی علیہ السلام کا بستر رسول(ص) پر سونا ان کے آں حضرت کے ہمراہ باہر نکلنے سے افضل تھا کیونکہ آپ نے اپنے نفس کو آںحضرت(ص) کا قائم مقام بنایا اپنی زندگی کو آں حضرت(ص) پر قربان کیا اور اپنے ہم عصروں کے درمیان اپنی شجاعت ثابت کردی۔ یہ مطلب اس قدر واضح ہے کہ کسی نے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا ہے سوا جنون یا جنون سے بدترتعصب کی وجہ سے بس اتنا ہی کافی ہے۔ میں معافی چاہتا ہوں کہ اس مقام پر گفتگو کا سلسلہ طولانی ہوگیا، بہتر ہے کہ اب ہم پھر اصل مطلب پر آجائیں آپ نے جو یہ فرمایا کہ اشداء علی الکفار سے خلیفہ ثانی عمر ابن خطاب مراد ہیں تو فقط آپ کے دعوے سے یہ بات نہیں مانی جاسکتی، دیکھنا چاہئیے کہ آیا یہ صفت بھی موصوف کی حالت سے مطابقت کرتی ہے یا نہیں چنانچہ اگر مطابق ہے تو ہم دل وجان سے ماننے کے لیے تیار ہیں۔

علمی مباحث اور دینی مناظروں میں عمر کے اندر کوئی تیزی نہیں تھی

بدیہی بات ہے کہ شدت اور تیزی دو طرح کی ہوسکتی ہے ایک علمی مباحث اور مذہبی مناظروں میں تاکہ مخالف علماء کےمقابل زور کلام دکھایا جاسکے۔ دوسرے میدان جنگ اور جہاد فی سبیل اللہ میں بذات خود ثبات قدم، شجاعت اور درشتی کا ثبوت دیا جائے۔ چنانچہ علمی مباحث اور دینی مناظروں کے سلسلے میں تاریخ کے اندر خلیفہ عمر کی قطعا کوئی مضبوطی نظر نہیں آتی کیونکہ جہاں تک میں نے فریقین ( شیعہ و سنی) کی کتب اخبار و تواریخ اور غیروں کی کتابیں پڑھی ہیں اور اس بارے میں خلیفہ عمر کی کوئی شدت اور شہ زوری نہیں دیکھی، چنانچہ اگر آپ حضرات نے موصوف کی کوئی علمی مہارت دینی مباحثہ اور غیر مذہب کے عالموں سے مںاظرے ان کی ساری تاریخ زندگی میں دیکھے ہوں تو بیان کیجئیے میں ممنون ہوں گا کیونکہ اس سے میرے معلومات میں اضافہ ہوگا۔

عمر کا اقرار کہ علی(ع) مجھ سے علم و عمل میں بہتر ہیں

البتہ جہاں تک مجھے معلوم ہے اور آپ کے بڑے بڑے علماء نے بھی اپنی معتبر کتابوں میں لکھا ہے خلفاء ثلاثہ کے


زمانوں میں ہر علمی اور مذہبی مشکل مسئلہ کو حل کرنے والے صرف علی علیہ السلام تھے۔

باوجودیکہ بنی امیہ اور خلفائے ثلاثہ کے عقیدت مندوں نے خلفاء کے فضائل میں اس کثرت سے روایتیں گھڑی ہیں( جیسا کہ خود آپ کے علماء نے جرح و تعدیل کی کتابوں میں لکھا ہے) لیکن وہ لوگ ان حقیقتوں کو نہیں چھپا سکے کہ جس وقت یہودی عیسائی اور دوسرے مخالف فرقوں کے علماء ابوبکر، عمر اور عثمان کے دور خلافت میں ان کے پاس آکر یا خطوط بھیج کر مشکل مسائل دریافت کرتے تھے تو یہ لوگ مجبور ہو کر علی علیہ السلام کا وسیلہ اختیار کرتے تھے اور کہتے تھے ان پیچیدہ اور مشکل سوالات کا سوا علی ابن ابی طالب(ع) کے اور کوئی جواب نہیں دے سکتا۔ چنانچہ آپ تشریف لاتے تھے اور اس طریقے سے ان کو جواب دیتے تھے، کہ وہ مطمئن ہوکر مسلمان ہوجاتے تھے،جیسا کہ خلفاء کے تاریخی حالات میں تفصیل سے درج ہے، خلفاء ابوبکر و عمر وعثمان، کا علی علیہ السلام کے مقابلے میں اپنی مجبوری ظاہر کرنا، آں حضرت کی برتری کا اقرار اور یہ کہنا کہ اگر علی نہ ہوتے تو ہم ہلاک ہوجاتے، اس مقصد کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

چنانچہ آپ کے مخفی اکابر علماء نے نقل کیا ہے کہ خلیفہ ابوبکر کہتے تھے۔ " أقيلوني أقيلوني فلستبخيركم وعليّ فيكم " یعنی مجھ کو برطرف کرود مجھ کو برطرف کردو کیونکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں جب کہ علی(ع) تم میں موجود ہوں۔

اور خلیفہ عمر نے مختلف معاملات اور مواقع پرستر مرتبہ سے زیادہ اقرار کیا کہ " لولاعلي لهلك عمر." یعنی اگر علی(ع) نہ ہوتے تو میں ہلاک ہوگیا ہوتا۔ کتابوں میں ان خطرناک مواقع میں سے اکثر کا ذکر موجود ہے۔ لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ اب جلسے کا زیادہ وقت خراب ہوکیونکہ شاید اس سے اہم مسائل پر گفتگو کرنا ضروری ہو۔

نواب : قبل صاحب اس موضوع سے بڑھ کے کون سا مطلب اہم ہوگا کیا یہ کلمات ہماری معتبر کتابوں میں موجود ہیں؟ اگر میں اور آپ کے پیش نظر ہیں تو ہماری مزید بصیرت کے لیے بیان فرمائیے ہم ممنون ہوں گے۔

خیر طلب : میں نے عرض کیا کہ اکابر علماء اہلسنت اس بات پر متفق ہیں( سوا چند متعصب اور ضدی لوگوں کے) اور مختلف عبارات و الفاظ کے ساتھ متعدد مقامات پر اس کو نقل کیا ہے۔ میں مطلب کی وضاحت اور اتمام حجت کے لیے ان میں سے بعض اسناد و کتب کی طرف جو اس وقت مجھ کو یاد ہیں اشارہ کرتا ہوں۔

قول عمر لولاعلي لهلك عمر کے اسناد

1۔ قاضی فضل اللہ بن روز بہان متعصب نے ابطال الباطل میں۔ 2۔ ابن حجر عسقلانی متوفی سنہ852 ھ نے تہذیب التہذیب مطبوعہ حیدر آباد دکن ص337 میں۔ 3۔ نیز ابن حجر نے اصابہ جلد دوم مطبوعہ مصر ص509 میں۔ 4۔ ابن قتیبہ دینوری متوفی سنہ376ھ نے کتاب تاویل مختلف الحدیث ص201، 202 میں۔ 5۔ ابن حجر مکی متوفی سنہ973ھ نے صواعق محرقہ ص78 میں۔ 6۔ حاج احمد آفندی نے ہدایت المرتاب ص126 ، ص152 میں۔ 7۔ ابن اثیر جزری متوفی سنہ630ھ نے اسد الغابہ جلد چہارم ص22 میں۔ 8۔ جلال الدین


سیوطی نے تاریخ الخلفاء ص66 میں۔ 9۔ ابن عبدالبر قرطبی متوفی سنہ463ھ نے استیعاب جلد دوم ص474 میں۔ 10۔ سید مومن شبلنجی نے نور الابصار ص73 میں۔ 11۔ شہاب الدین احمد بن عبد القادر عجیلی نے ذخیرۃ الآمال میں۔ 12۔ محمد بن علی الصبان نے اسعاف الراغبین ص152 میں۔ 13۔ نور الدین بن صباغ مالکی متوفی سنہ855ھ نے فصول المہمہ ص18 میں۔ 14۔ نور الدین علی بن عبداللہ ہمودی متوفی سنہ911ھ نے جواہر العقدین میں۔ 15۔ ابن ابی الحدید معتزلی متوفی سنہ655ھ نے شرح نہج البلاغہ جلد اول ص6 میں۔ 16۔ علامہ قوشجی نے شرح تجرید ص407 میں۔ 17۔ خطیب خوارزمی نے مناقب ص47، ص60 میں۔ 18۔ محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول ضمن فصل ششم ص29 میں۔ 19۔ امام احمد بن حنبل نے فضائل اور مسند میں۔ 20۔ سبط ابن جوزی نے تذکرہ ص85، ص87 میں۔ 21۔ امام ثعلبی نے تفسیر کشف البیان میں۔ 22۔ علامہ ابن قیم جوزی نے طرق الحکمہ میں ان حضرت کے تعدد قضایا نقل کرتے ہوئے ص41 سے ص53 تک ۔ 23۔ محمد بن یوسف گنجی شافعی متوفی سنہ658ھ نے کفایت الطالب باب 57 میں۔ 24۔ ابن ماجہ قزوینی نے سنن میں۔ 25۔ ابن مغازلی شافعی نے مناقب میں۔ 26۔ ابراہیم بن محمد حموینی نے فرائد میں۔ 27۔ محمد بن علی بن الحسن الحکیم ترمذی نے شرح فتح المبین میں۔ 28۔ دیلمی نے فردوس میں۔ 29۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب 14میں۔ 30۔ حافظ ابو نعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء اور مانزل القرآن فی علی میں، اور آپ کے دوسرے بہت سے جلیل القدر علماء نے مختلف الفاظ و عبارات کے ساتھ خلیفہ عمر کے اقوال نقل کئے ہیں اور زیادہ تر ان قضیوں کے مواقع درج کرتے ہوئے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے : " لولاعلي لهلكعمر."

بعض وہ مواقع جہاں علی(ع) نے خلفاء کو نجات دلائی اور انہوں نے اقرار کیا کہ اگر علی (ع) نہ ہوتے تو ہم ہلاک ہوجاتے

منجملہ ان کے فقیہ گنجی شافعی نے کفایت الطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب(ع) باب57 میں چند مستند روایتیں نقل کرنے کے بعد حذیفہ بن الیمان کی روایت نقل کی ہے جس کو آپ کے دوسرے علماء نے بھی درج کیا ہے کہ ایک روز عمر نے ان سے ملاقات کی اور پوچھا کہ تم نے کس حال میں صبح کی ؟ حذیفہ نے کہا :

" اصبحت والله اکره الحق و احب الفتنه و اشهد بما لم اره واحفظ غير المخلوق و اصلی علی غير وضوء ولی فی الارض ما ليس لله فی السماء"

یعنی میں نے اس حالت میں صبح کی کہ حق سے کراہت کرتا ہوں، فتنے کو دوست رکھتا ہوں، ایسی چیز کی گواہی دیتا ہوں جس کو دیکھا نہیں ہے، غیر مخلوق کو حفظ کرتا ہوں، صلوات بغیر وضو کے پڑھتا ہوں اور زمین میرے لیے وہ ہے جو خدا کے لیے آسمان میں نہیں۔

عمر ان الفاظ سے غضب ناک ہوئے اور ان کو سزا دینا چاہی، اتنے میں امیر المومنین علی علیہ السلام تشریف لائے اور عمر کے چہرے کے آثار دیکھ کر فرمایا تم کیوں غضب ناک ہو؟ انہوں نے واقعہ بیان کیا تو حضرت نے فرمایا یہ تو کوئی اہم معاملہ نہیں ہے، انہوں نے ساری باتیں سچ کہیں ہیں۔


حق سے مراد موت ہے جس سے یہ کراہت کرتے ہیں ، فتنے سے مراد مال و اولاد ہے، جس کو دوست رکھتے ہیں، بن دیکھی چیز سے مراد ذات وحدہ لاشریک نیز موت ، قیامت ، بہشت ،دوزخ اور صراط ہے جن میں سے کسی کو نہیں دیکھا ہے پھر ان کی گواہی دیتے ہیں، غیر مخلوق سے مراد قرآن ہے جس کو حفظ کرتے ہیں، صلواۃ بغیر وضو سے مراد رسول(ص) پر درود بھیجنا ہے جس کے لیے وضو کی ضرورت نہیں اور یہ کہنا کہ زمین میں میرے لیے وہ ہے جو خدا کے لیے آسمان میں نہیں تو اس سے مراد زوجہ ہے کیونکہ خدا کے لیے زوجہ اور اولاد نہیں۔

عمر نے کہا : " کاد یہلک ابن خطاب لو لا علی ابن ابی طالب" یعنی قریب تھا کہ عمر ہلاک ہوجائے اگر علی(ع) نہ پہنچ جاتے۔ اس کے بعد مئولف گنجی کہتے ہیں کہ یہ بات ( یعنی خلیفہ کہتے تھے کہ اگر علی(ع) نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا) اہل خبر کے نزدیک ثابت ہے اور ارباب میر کی ایک بڑی جماعت نے اس کو نقل کیا ہے۔

صاحب مناقب کہتے ہیں کہ خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ بار بار کہتے تھے : " لا غشث فی امة لست فيها يا ابالحسن " یعنی میں زندہ نہ رہوں اس امت میں جس میں تم نہ ہو اے ابو الحسن ( کنیت علی علیہ السلام) نیز کہتے تھے " عقمات النساء ان ي لدن مثل علی ابن ابی طالب " یعنی عورتیں علی(ع) کی ایسی اولاد پیدا کرنے سے عاجز ہیں۔

محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں اور شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب14 میں ترمذی سے نقل کرتے ہوئے بسند ابن عباس ایک مفصل روایت لکھی ہے جس کے آخر میں کہتے ہیں :

" کانت الصحابة رضی الله عنهم يرجعون اليه فی احکام الکتاب و ياخذون عنه الفتاوی کما قال عمر بن الخطاب رضی الله عنه فی عدة مواطن لا لو علی لهلک عمر. و قال صلی الله عليه و آله اعلم امتی علی بن ابی طالب."

یعنی اصحاب رسول(ص) احکام قرآن میں علی علیہ السلام کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان سے فتوی لیتے تھے، چنانچہ عمر ابن خطاب نے اکثر مواقع پر کہا ہے کہ اگر علی(ع) نہ ہوتے تو میں ہلاک ہوجاتا۔ اور حضرت رسول خدا(ص) نے فرمایا ہے کہ امت میں سب سے بڑے عالم و دانا علی ابن ابی طالب(ع) ہیں۔

پس وقت کے لحاظ سے اس مختصر بیان پر غالبا آپ تصدیق کریں گے کہ مذہبی مناظروں اور علمی مباحثوں میں کبھی خلیفہ عمر کی کوئی شدت اور مضبوطی نہیں دیکھی گئی بلکہ وہ خود اپنی معذوری کا اقرار کرتے تھے اور اس بات کی تصدیق کرتے تھے کہ علی(ع) ان کے فریاد رس تھے اور خطرناک مراحل سے ان کو چھٹکارا دلاتے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے متعصب علماء جیسے ابن حجر مکی صواعق محرقہ فصل سیم میں ابن سعد سے نقل کرتے ہیں کہ عمر کہتے تھے " اعوذ بالل ه من معضلةليس لها ابوالحسن يعنی عليا " یعنی میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں ایسے دشوار اور سخت مرحلے سے جس کے لیے ابو الحسن یعنی علی(ع) موجود نہ ہوں۔


کسی میدان جنگ میں خلیفہ عمر کی کوئی شجاعت و پامردی نہیں دیکھی گئی

معرکوں اور لڑائی کے میدانوں میں بھی کوئی تاریخ ؟؟؟؟ دیتی کہ خلیفہ عمر نے بذات خود کسی شدت و شجاعت اور ثبات قدم کا ثبوت دیا ہو بلکہ اس کے برعکس تاریخ اور فریقین کے مورخین گواہ ہیں کہ جب کسی بڑے لشکر یا کسی طاقت ور کافر کا مقابلہ ہوجاتا تھا تو ان کے قدم اکھڑ جاتے تھے جس کے نتیجے میں دوسرے مسلمان بھی بھاگ کھڑے ہوتے تھے اور لشکر اسلام کو شکست ہوجاتی تھی۔

حافظ : آپ نے آہستہ آہستہ بے لطفی میں شدت پیدا کردی اور خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ جیسے انسان کی جو مسلمانوں کے لیے باعث فخر تھے، ان کے زمانہ خلافت میں مسلمانوں کو بڑے بڑے فتوحات نصیب ہوئے، اور ساری جنگوں میں انہیں کے وجود سے لشکر اسلام کو فتح حاصل ہوئی ہے توہین کی ہے، ایسی بزرگ ہستی کو بزدل اور بھگوڑا اور ان کی ذات کو مسلمانوں کی شکست کا ذمہ دار ثابت کرتے ہیں۔ آیا یہ مناسب ہے کہ آپ جیسا شریف انسان خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ جیسے بزرگ حضرات کی جو مسلمانوں کے لیے سرمایہ فخر و مباہات ہیں اس قدر اہانت کرے اور ہم بھی چپکے رہیں اور دم نہ ماریں۔

خیر طلب : آپ کو سخت غلط فہمی ہوئی۔ تعجب ہے کہ اتنی راتوں کے بعد بھی آپ نے مجھ کو صحیح طریقے سے نہیں پہچانا اور یہ سمجھتے ہیں کہ شاید میں اپنے جذبات اور جاہلانہ محبت و دشمنی کی بنا پر بغیر دلیل و برہان کے اشخاص کی تعریف یا مذمت کرتا ہوں بالخصوص ان افراد کی جا تاریخ کے اندر شہرت رکھتے ہیں، چاہئے جس طبقے کے ہوں، صرف ایک بڑا عیب جو اس طرح کے جلسوں میں پایا جاتا ہے اور جو صدیوں سے مسلمانوں کے درمیان بدبختی کا سبب بنا ہوا ہے غلط بینی اور بدگمانی ہے جس پر حکم قرآن کے خلاف مسلمانوں کا عمل ہے۔ باجودیکہ سورہ 49 ( حجرات) آیت 12 میں کھلا ہوا ارشاد ہے: " يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنَ الظَّنِ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ " (یعنی اے ایمان والو ظن اور گمان بدسے پرہیز کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔

چونکہ یہ حملے جو میں نے عرض کئے ہیں ایک شیعہ کی زبان سے نکلے ہیں لہذا آپ نے بدنیتی سے کام لیتے ہوئے ان کو اہانت سمجھا، حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہے، کیونکہ جو کچھ آپ کے علماء مورخین نے لکھا ہے میں نے ایک لفظ اس سے زیادہ نہیں کہا۔ ظاہر ہے کہ ہم اور آپ گزشتہ زمانوں میں نہیں تھے لیکن عقل کہتی ہے کہ صفحات تاریخ کے روسے ہم کو اشخاص کے اچھے برے افعال کا فیصلہ کرنا چاہیے۔


دوبارہ اظہار حقیقت

آپ نے جو یہ فرمایا کہ میں نے خلیفہ عمر کی توہین کی ہے تو معاف کیجئے گا اس مقام پر آپ کو مغالطہ ہوا ہے۔ یا پھر آپ نے اس جملے سے ہمارے مخالفین کر بھڑکانا چاہا ہے۔ حالانکہ خلیفہ کے بارے میں ہماری گفتگو اہانت کے پہلو سے نہیں تھی بلکہ میں نے تاریخ کا سچا واقعہ بیان کیا ہے اور خود آپ کے بڑے بڑے علماء مورخین نے جو کچھ لکھا ہے اس سے زیادہ نہ کچھ کہا ہے نہ کہتا ہوں ۔ اب میں مجبور ہوں کہ پردہ اٹھائوں اور مطلب کو زیادہ تشریح اور وضاحت سے بیان کروں تاکہ یہ بد گمانی دفع ہو۔ آپ نے فرمایا ہے کہ اسلام کے اہم فتوحات خلیفہ عمر کے مرہوں منت ہیں، تو کسی کو اس سے انکار نہیں کہ حکومت عمر کے زمانے میں اسلام کو بڑے بڑے فتوحات حاصل ہوئے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی نہ بھولنا چاہیئے کہ آپ کے اکابر علماء کہ شہادت اور اقرار کے مطابق جیسا کہ قاضی ابوبکر خطیب نے تاریخ بغداد میں، امام احمد حنبل نے مسند میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں نیز دوسروں نے لکھا ہے، تمام ملکی اور انتظامی امور میں بالخصوص فوج کشی کے موقع پر خلیفہ عمر حضرت علی علیہ السلام سے مشورہ کرتے تھے اور انہیں کی ہدایت کے مطابق عمل کرتے تھے۔

علاوہ ان چیزوں کے ہر دور اور زمانے کے اسلامی فتوحات میں فرق تھا۔ پہلی قسم اسلام کے ان ابتدائی فتوحات کی ہے جو خود حضرت خاتم الانبیاء(ص) کے عہد میں حاصل ہوئے اور جو امیرالمومنین علی علیہ السلام کی ذات والا صفات کے مرہون منت تھے بقول شاعر

سیاہی لشکر نباید بکار کہ یک مرد جنگی بہ از صد ہزار

جوانمرد انسان جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سرمایہ فخر و مباہات اور جس کا وجود لشکر اسلام کی فتح و فیروزی کا ضامن تھا، امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام تھے، کیونکہ اگر آپ کسی جنگ میں موجود نہ ہوتے تھے تو فتح بھی حاصل نہ ہوتی تھی، چنانچہ خیبر میں جب کہ آپ کو آشوب چشم تھا اور میدان میں جانا ممکن نہیں تھا مسلمانوں نے پے در پے شکست کھائی یہاں تک حضرت نے رسول اللہ کی دعا سے شفا پائی اور دشمن پر حملہ کر کے خیبر کے قلعے فتح کئے۔

غزوہ احد میں جب سارے مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے تو صرف حضرت علی (ع) ہی تھے جو پیغمبر(ص) کی نصرت میں ثابت قدم رہے یہاں تک کہ ہاتف غیب نے ندا دی لا سیف الا ذوالفقار لا فتی الا علی ( یعنی سوا ذوالفقار کے کوئی تلوار نہیں اور سوا علی(ع) کے کوئی جوانمرد نہیں۔)

اور دوسری قسم ان فتوحات کی ہے جو وفات پیغمبر(ص) کے بعد ہوئے اور وہ سب کے سب نامی بہادروں ، اسلام کے بڑے سرداروں اور ان کی تدبیر جنگ اور تجربہ کاری کے ممنون احسان تھے کیونکہ وہ میدان جنگ میں طاقت ور دشمنوں


کے مقابل شجاعت و فداکاری اور جان بازی دکھا کر ان پر غلبہ حاصل کرتے تھے۔

لیکن ہماری گفتگو فتوحات اسلامی کے بارے میں نہیں تھی جو خلافت خلفاء اور بالخصوص خلیفہ عمر کے زمانہ میں ہوئے بلکہ خلیفہ عمر کی ذاتی شدت و شجاعت اور پامردی کے موضوع پر تھی جس کے متعلق میں نے عرض کیا کہ تاریخ میں اس کا وجود نہیں۔

حافظ : یہ اہانت نہیں ہے کہ آپ فرماتے ہیں خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ میدان جنگ سے بھاگے اور ان کا یہ عمل مسلمانوں کی شکست کا باعث ہوا؟

خیر طلب : اگر لوگوں کے تاریخی واقعات کا نقل کرنا اہانت ہے تو اس طرح کی اہانت کو خود آپ ہی کے بڑے برے علماء اور مورخین نے نقل کیا ہے اور میں نے بھی وہی کہا ہے جس کو آپ کے مورخین نے درج کیا ہے لہذا اگر آپ کا کوئی اعتراض یا اشکال ہے تو اپنے ہی علماء پر وارد کیجئے۔

حافظ : کس جگہ ہمارے علماء نے لکھا ہے کہ خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ میدان جنگ سے بھاگے اور مسلمانوں کی شکست کا باعث بنے؟

خیبر میں ابوبکر و عمر کی شکست

خیر طلب : ان حضرات نے لڑائی کے بہت سے میدانوں میں شکست کھائی جن میں سے ایک خاص واقعہ جنگ خیبر کا ہے ۔ چونکہ حضرت علی علیہ السلام کی آنکھیں درد کررہی تھی لہذا پہلے روز حضرت رسول خدا(ص) نے فوج اسلام کا علم ابوبکر کو دیا، یہ مسلمانوں کے سردار لشکر بن کر یہودیوں کے مقابلے پر گئے اور مختصر سی لڑائی کے بعد شکست کھا کر واپس آگئے ، دوسرے روز نشان فوج عمر کو دیا گیا لیکن یہ ابھی یہودیوں کے مقابل بھی نہیں پہنچے تھے کہ ڈر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

حافظ : آپ کے یہ بیانات محض شیعوں کے گھڑے ہوئے ہیں ورنہ یہ حضرات بہت ہی دلیر اور بہادر تھے۔

خیر طلب : میں نے بار بار عرض کیا ہے کہ شیعہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے پیرو ہیں جو صادق و مصدق تھے۔ نہ ہم نے جھوٹ کہا ہے نہ کہتے ہیں کیونکہ جھوٹ کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں اور نہ ہم کو قطعا حدیث گھڑنے کی کوئی ضرورت ہی ہے۔ غزوہ خیبر خاتم الانبیاء(ص) کے دور زندگی کا ایک اہم واقعہ ہے جس کو فریقین کے تمام علماء و مورخین نے لکھا ہے، چنانچہ جتنا اس وقت میرے پیش نظر ہے اس کو عرض کرتا ہوں۔ حافظ ابو نعیم اصفہانی متوفی سنہ430ھ نے حلیۃ الاولیاء جلد اول ص63 میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول ص40 میں سیرۃ ابن ہشام سے ، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب 14 میں نیز آپ کے دوسرے اکابر علماء و مورخین نے لکھا ہے۔ لیکن سب کے اقوال نقل کرنے کا وقت نہیں ہے البتہ ان سارے اقوال سے زیادہ اہم اور آپ کے نزدیک محل وثوق و اطمینان دو بڑے عالموں کی تصدیق پیش کرتا ہوں۔ محمد بن اسماعیل


بخاری نے اپنی صحیح جلد دوم مطبوعہ مصر سنہ 1320ھ ص100 میں اور مسلم بن حجاج نے اپنی صحیح جلد دوم مطبوعہ مصر سنہ1320 ص324 میں صریحا لکھا ہے فرجع ایضا ضہزما " یعنی ( خلیفہ عمر) دو مرتبہ میدان جنگ سے بھاگ کر واپس آئے۔

اس مطلب کے واضح دلائل میں سے ابن الحدید معتزلی کے وہ کھلے ہوئے اشعار ہیں جو انہوں نے اپنے سات مشہور قصیدوں میں سے جو آیات سبع کے نام سے موسوم اور حضرت امیرالمومنین(ع) کے فضائل میں نظم کئے گئے ہیں قصیدہ بائیہ میں باب خیبر کا ذکر کرتے ہوئے کہے ہیں۔

الم تخبر الاخبار فی فتح خيبر نفيها الذی اللب الملب اعاجيب

وما انس لانس الذين تقد ماو فرهما والفرقد علما حوب

وللراية العظمی و قد ذهبا بهاملابس ذل نوقها و جلابيب

يشلهما من آل موسی شمر دل طويل نجا والسيف اجيد يعبوب

يمج منونا سيفه و سنانه و يلهب نارا عمده و الاقابيب

احضرهما ام حضرا خرج خاضب وذانهما ام فاعم الخد مخضوب

عذرتکما ان الحمام لمبغض وان لقاء النفس للنفس محبوب

ليکره طعم الموت والموت طالب فکيف يلذ الموت والموت مطلوب

( مطلب یہ کہ آیا تم نے فتح خیبر کی داستان نہیں سنی ہے جس میں عجیب عجیب نکات و رموز پوشیدہ ہیں، جن سے عقلمند حیران ہیں۔ چونکہ وہ دونوں ( ابوبکر و عمر) علم سے کوئی انس اور علمداری کی عادت نہیں رکھتے تھے لہذا بھاگ کھڑے ہوئے حالانکہ جانتے تھے کہ میدان جہاد سے بھاگنا ایک کفر آمیز گناہ ہے۔ اور جو با عظمت نشان فوج لے گئے تھے اس کو بھی ذلت و خواری کا جامہ پہنا دیا۔ کیونکہ یہودی سرداروں میں سے ایک بہادر اور بلند قامت جوان برہنہ تلوار لئے ہوئے ایک کوہ پیکر گھوڑے پر سوار پر شہوت نر شتر مرغ کی طرح جس کو موسم بہار کی ہوا اور سبزے نے قوی بنا دیا ہو ان پر حملہ آور ہوا۔ گویا وہ خوبصورت مہندی لگائے ہوئے معشوقوں کی طرف جارہا تھا۔ اس کی تلوار اور نیزے کی بجلی سے آتش مرگ کی شعاعین نکلتی دیکھ کر یہ دونوں ڈر گئے ( پھر ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ ) میں آپ دونوں صاحباں (ابوبکر و عمر) کی جگہ پر عذر خواہی کرتا ہوں ، موت ہر شخص کی نظر میں مکروہ اور زندگی محبوب ہے۔ لہذا آپ بھی موت سے بیزار تھے ، حالانکہ موت ہر شخص کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ پس کیونکر آپ موت چاہتے اور اس کا مزہ چکھتے) اب غالبا آپ تصدیق کریں گے کہ میں اہانت کا ارادہ نہیں رکھتا تھا بلکہ فقط یہ سمجھانے کے لیے تاریخی واقعات نقل کئے تھے کہ لڑائی کے میدانوں میں خلیفہ کے اندر کوئی ذاتی شدت و درشتی اور شجاعت نہیں تھی جس سے اشداء علی الکفار میں شامل ہوسکیں بلکہ طاقتور دشمن کے مقابلے میں جگہ چھوڑ کر جنگ سے منہ موڑ لیتے تھے آپ اگر غور و انصاف کی پوری نظر ڈالیں تو تصدیق کریں گے کہ اس بلند صفت کے حامل بھی علی(ع) تھے جو تمام معرکوں میں کفار پر شدید الغضب اور غالب رہتے چنانچہ خدائے تعالی سورہ نمبر5 ( مائدہ) آیت نمبر59 میں اس کی توثیق


فرماتا ہے، ارشاد ہے:

" ياأَيُّهَاالَّذِينَ آمَنُوامَنْ يَرْتَدَّمِنْ كُمْ عَن ْدِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّه ُبِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍعَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍعَلَى الْكافِرِينَ يُجاهِدُونَ فِي سَبِيل ِاللَّهِ وَلايَخافُونَ لَوْمَةَلائِمٍ ذلِكَ فَضْل ُاللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشاءُوَاللَّه ُواسِعٌ عَلِيمٌ "

( یعنی اے ایمان لانے والو تم میں سے جو شخص اپنے دین سے مرتد ہوجائے تو عنقریب خدا ایسی قوم کو لائے گا جن کو وہ دوست رکھتا ہے اور وہ بھی خدا کو دوست رکھتے ہیں، مومنین سے نکسار اور فروتنی اور کافروں سے عظمت و اقتدار کے ساتھ پیش آتے ہیں( جیسے علی(ع) اور ان کے پیرو) خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور اس راستے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ یہ خدا کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور خدا کی رحمت وسیع ہے، وہ ہر مستحق کی حالت سے خوب واقف ہے۔)

حافظ : تعجب ہے کہ آپ اپنی خوش بیانی سے اس آیت کو جو ان تمام مومنین کی شان میں ہے جن میں یہ صفتیں موجود تھیں اور خدا کا لطف و کرم جن کے شامل حال تھا زبردستی علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں ثابت کر رہے ہیں۔

خیر طلب : آپ نے مکرر تجربہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ میں نے اب تک بلا دلیل کوئی بات نہیں کہی ہے جیسا کہ آپ نے برابر ایراد کیا ہے اور ان کا جواب سنا ہے لیکن پھر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ بہتر یہ تھا کہ آپ سوال کے انداز میں فرماتے کہ اس دعوے پر دلیل کیا ہے تاکہ میں جواب عرض کردیتا۔ اب آپ کے ارشاد کا جواب پیش کرتا ہوں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر یہ آیت تمام مومنین کے لیے نازل ہوئی ہوتی اور وہ سب اس کے مصداق ہوتے تو میدان جنگ سے ہرگز فرار نہ کرتے۔

حافظ : آیا یہ انصاف ہے کہ مومنین اور اصحاب رسول (ص) کو جنہوں نے اس قدر جنگیں کیں اور فتوحات حاصل کئے آپ اہانت آمیز انداز میں فرار کرنے والے بتارہے ہیں؟

خیر طلب : اول تو میں نے کوئی اہانت کی کوشش نہیں کی ہے بلکہ ان کی کیفیت بیان کی ہے۔ دوسرے ان کو میں نے فرار نہیں کہا ہے بلکہ تاریخ یہی بتاتی ہے۔ گویا آپ حضرات احد اور حنین کی لڑائیوں میں مومنین اور صحابہ کا فرار کرنا بھول ہی گئے جب کہ بالعموم حتی کہ کبار صحابہ بھی چل دیے تھے اور پیغبر اسلام کوکفار کے مقابلے میں تنہا چھوڑ دیا تھا، جیسا کہ طبری اور آپ کے دوسرے بڑے مورخین نے لکھا ہے۔

یہ کیونکر ممکن ہے کہ جن لوگوں نے میدان جنگ میں پیٹھ دکھائی، جہاد سے منہ موڑا اور رسول خدا(ص) کو دشمنوں کے سامنے اکیلا چھوڑ دیا وہ خدا و رسول(ص) کے محبوب ہوں۔

تیسرے اس آیت کا علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہونا میں نے نہیں بتایا ہے بلکہ آپ ہی کے بڑے بڑے علماء جیسے ابواسحاق اما احمد ثعلبی جن کے متعلق آپ کا عقیدہ ہے کہ اصحاب حدیث کے امام تھے اپنی تفسیر کشف البیان میں کہتے ہیں، کہ یہ آیہ شریفہ علی ابن ابی طالب(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے کیونکہ تمام صفات مدرجہ آیت کا حامل سوا حضرت کے اور کوئی نہیں تھا۔


اور ساری چھتیس لڑائیوں میں جو رسول اللہ(ص) کو پیش آئیں اپنے یا بیگانے کسی مورخ نے نہیں لکھا ہے کہ علی علیہ السلام نے ایک مرتبہ بھی میدان جنگ اور جہاد فی سبیل اللہ سے منہ موڑا ہو۔ یہاں تک کہ جنگ احد میں جب تمام اصحاب بھاگ گئے تو سخت جنگ مغلوبہ اور مسلمانوں پر دشمنوں کی پانچ ہزار سوار و پیادہ فوج کے حملے نیز رسول اللہ(ص) کے چچا جناب حمزہ سید الشہداء کی شہادت کے بعد جو تن تنہا انسان میدان میں جما رہا اور فتح و فیروزی کی آخری منزل تک ثابت قدم رہا وہ مولا امیرالمومنین علی علیہ السلام تھے باوجودیکہ تقریبا نوے زخم بدن مبارک پر لگے تھے، کثرت سے خون نکل جانے کی وجہ سے سارے اعضا نڈھال ہو رہے تھے، اور متعدد بار آپ زمین پر تشریف لائے لیکن ثابت قدمی کے ساتھ رسول اللہ (ص) کی حفاظت کی اور جنگ مسلمانوں کے حق میں تمام کی۔

حافظ : کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے کہ آپ صحابہ کبار کو فرار کی نسبت دیں حالانکہ تمام اصحاب اور دونوں برحق خلیفہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پروانہ وار رسول اللہ (ص) کے گرد پھرتے تھے اور آں حضرت(ص) کی حفاظت کرتے تھے۔

خیر طلب : آپ تو ایسی باتیں کر رہے ہیں کہ گویا تاریخ پڑھی ہی نہیں ہے۔ مورخین نے عام طورسے لکھا ہے احد و حنین اور خیبر کی جنگوں میں تمام صحابہ بھاگ گئے تھے خیبر کے متعلق اس سے پہلے عرض کیا جا چکا ہے۔ حنین میں بھی مسلم ہے، کہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے تھے، چنانچہ حمیدی جمع بین الصحیحن میں اور حلبی سیرۃ الحلبیہ جلد سیم ص123 میں کہتے ہیں ، کہ سوا چار نفر کے تمام اصحاب فرار کر گئے علی علیہ السلام اور عباس پیغمبر(ص) کے آگے، ابوسفیان بن حارث آں حضرت(ص) کے مرکب کی لگام تھامے ہوئے اور عبداللہ ابن مسعود آنحضرت(ص) کے بائیں جانب کھڑے ہوئے تھے۔ اور احد میں تو بالعموم سارے مسلمانوں کے بھاگنے سے کسی نے بھی انکار نہیں کیا ہے۔ بہتر ہے کہ سیر و تواریخ کا مطالعہ کیجئے تاکہ آپ پر حقیقت آشکار ہو جائے۔ خصوصیت کے ساتھ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد سیم ص216 میں حافظ ناصبی کی ہرزہ سرائیوں کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ " فرالمسلمون بأجمعهم ولم يبق معه إلاأربعةعلي والزبيروطلحةوأبودجانة "یعنی احد کے روز تمام مسلمان بھاگ گئے سوا ان چار نفر ( علی) ، زبیر، طلحہ اور ابو دجانہ) کے۔ پس جب سارے مسلمانوں میں صرف چار افراد کو مستثنی کیا، تو ظاہر ہے کہ ابوبکر ، عمر اور عثمان بھی بھاگنے والوں میں سے تھے۔ لہذا جبرئیل(ع) نے ندا دی " لا سيف الا ذوالفقار لا فتی الا علی " چنانچہ آپ کے اکابر علماء اور بزرگ مورخین مثلا ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں، نور الدین مالکی نے فصول المہمہ ص44 میں اور دوسروں نے درج کیا ہے کہ جیسا پہلے عرض کر چکا ہوں اس روز منادی کی آواز اور ہاتف کی ندا بلند ہوئی "لا سيف الا ذوالفقار لا فتی الا علی" یعنی نہیں ہے کوئی جوانمرد سوا علی(ع) کے اور نہیں ہے کوئی تلوار سوا ذالفقار کے جو حضرت علی(ع) کی تلوار تھی۔)

تمام لڑائیوں میں حضرت کو تائید الہی حاصل تھی اور ملائکہ آپ کی نصرت و نگہبانی پر آمادہ رہتے تھے، چنانچہ محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب بات27 میں اپنے اسناد کے ساتھ عبداللہ ابن مسعود سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا :

" ما بعث علی فی سرية الا رائيت جبرئيل عن يمينه و ميکائيل عن يساره والسحابة تظله حتی يروقه الله الظفر"


یعنی جب بھی کسی جنگ میں علی(ع) تنہا بھیجے گئے تو میں نے دیکھا کہ جبرئیل ان کے داہنی جانب میکائیل بائیں جانب اور ایک ابر ان پر سایہ کئے ہوئے ہے یہاں تک کہ اللہ نے ان کو فتح عنایت کی۔

اور امام ابو عبدالرحمن نسائی خصائص العلوی حدیث نمبر202 میں نقل کرتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام سیاہ عمامہ پہنے ہوئے لوگوں کے سامنے آئے اور اپنے باپ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جنگ میں جس وقت حضرت علی(ع) قلعے کی طرف گئے تو " يقاتل جبرئيل عنيمينهوميكائيلعنيساره" (یعنی جبرئیل ان کے داہنی طرف اور مکائیل بائیں طرف جنگ کررہے تھے مترجم عفی عنہ) لہذا تمام لڑائیوں میں نصرت و ظفر حضرت کی تلوار کے زیر سایہ رہتی تھی، چنانچہ آپ انتہائی شدت و شجاعت کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کرتے تھے یہاں تک کہ فتح یاب ہوتے تھے، خدا و رسول(ص) کے محبوب قرار پاتے تھے اور وہ مقرب فرشتے جبرئیل و میکائیل حاضر خدمت ہوکر آپ کے دونوں طرف جنگ کرتے تھے۔ حتی کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا اسلام صرف علی علیہ السلام کی تلوار سے مضبوط ہوا۔

علی(ع) خدا اور رسول(ص) کے محبوب تھے

چوتھے اسی آیت میں ارشاد ہے کہ جو لوگ ان صفات کے حامل ہیں خدا ان کو دوست رکھتا ہے اور وہ بھی خدا کو دوست رکھتے ہیں یہ محبوبیت کی صفت امیرالمومنین(ع) کے خصوصیات میں سے ہے اور اس مقصد پر دلائل بکثرت ہیں جن میں سے ایک روایت یہ ہے جس کو محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب 7 میں اپنے اسناد کے ساتھ عبداللہ ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ ایک روز میں اپنے باپ عباس کےساتھ رسول اللہ(ص) کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ علی علیہ السلام وارد ہوئے اور سلام کیا، رسول اللہ(ص) جواب سلام دینے کے بعد بشاشت کے ساتھ اپنی جگہ سے اٹھے، علی(ع) کو آغوش میں لے کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور اپنے داہنی جانب بٹھایا ۔ میرے باپ عباس نے عرض کیا یا رسول اللہ(ص) آیا آپ ان کو دوست رکھتے ہیں آں حضرت(ص) نے فرمایا اے چچا واللہ اشد حبا لہ منی ( یعنی خدا کی قسم مجھ سے زیادہ ان کو اللہ دوست رکھتا ہے۔)

فتح خیبر میں حدیث رایت

امیرالمومنین(ع) کے محبوب خدا اور میدان جنگ میں کرار غیر فرار ہونے پر سب سے بڑی دلیل حدیث رایت ہے جو آپ کے معتبر صحاح میں درج ہے اور سوا ناصبی یا متعصب مخالف کے اکابر علمائے اہلسنت میں سے کسی نے اس سے انکار نہیں کیا ہے۔

نواب : قبلہ صاحب حدیث رایت کیا ہے؟ متمنی ہوں کہ اگر زحمت نہ ہو تو اس کے اسناد کا سلسلہ بیان فرمائیے۔


خیر طلب : فریقین ( شیعہ و سنی) کے اکابرعلماء و مورخین نے بالاتفاق حدیث رایت کو نقل کیا ہے۔ مثلا محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی صحیح جلد دوم کتاب الجہاد والسیر باب دعاء النبی نیز صحیح جلد سیم کتاب الغازی باب غزوہ خیبر میں، مسلم بن حجاج نے اپنی صحیح جلد دوم ص324 میں، امام عبدالرحمن نسائی نے خصائص العلوی میں، ترمذی نے سنن میں ابن عسعقلانی نے اصابہ جلد دوم ص508 میں، محدث شام نے اپنی تاریخ میں، احمد ابن حنبل نے مسند میں، ابن ماجد قزوینی نے سنن میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب6 میں، سبط ابن جوزی نے تذکرہ می، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب14 میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں، حافظ ابو نعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء میں ابو القاسم طبرانی نے اوسط میں اور ابوالقاسم حسین بن محمد (راغب اصفہانی) نے محاضرات الادباء جلد دوسم ص213 میں، غرضکہ عام طور پر آپ کے مورخین و محدثین نے اپنی معتبر کتابوں میں اس حدیث کو نقل کیا ہے یہاں تک کہ حاکم کہتے ہیں " هذا حديث دخل فی حد التواتر " ( یعنی یہ حدیث حد تواتر میں داخل ہے) اور طبرانی کہتے ہیں" فتح علی لخیبر ثبت بالتواتر" ( یعنی خیبر میں علی(ع) کی فتح تواتر سے ثابت ہے) روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس زمانے میں لشکر اسلام خیبر کے قلعوں کا محاصرہ کئے ہوئے تھا تو ابوبکر اور عمر کی علمداری میں جیسا کہ میں اشارہ کرچکا ہوں لشکر اسلام کے تین مرتبہ شکست کھا کر بھاگنے کے بعد اصحاب ان پے در پے شکستوں سے ( جن کے مسلمان عادی نہیں تھے اور وہ بھی نا اہل یہود یوں کے مقابلے ہیں) متاثر اور دل تنگ ہوئے تو رسول اکرم(ص) نے اصحاب کی تقویت قلب اور فتح و فیروزی کی بشارت کے لیے فرمایا :

" واللّه لاعطين الرايةغدارجلاكراراغيرفراريحب اللّه ورسوله ويحبّه اللّه و رسوله يفتح اللّه على يديه ."

یعنی خدا کی قسم میں ضرور بالضرور کل ایسے مرد کو علم دوں گا جو دشمنوں پر بڑھ بڑھ کے حملہ کرنے والا ہوگا اور بھاگنے والا نہ ہوگا۔ خدا اس کے ہاتھوں پر فتح عنایت کرے گا۔وہ خدا و رسول(ص) کو دوست رکھتا ہے اور خدا و رسول (ص) اس کو دوست رکھتے ہیں۔

اس رات تمام اصحاب اس فکر میں جاکتے رہے کہ دیکھیں کا یہ فضل و شرف کس کو ملتا ہے، صبح ہوئی تو سب نے آلات حرب سچے اور اپنے کو پیغمبر(ص) کے سامنے نمایاں کرنا شروع کیا، اس وقت آں حضرت(ص) نے اصحاب کے اوپر ایک نظر ڈالی اور فرمایا " يا ابن اخی وابن عمی علی ابن ابی طالب " کہاں ہیں میرے بھائی اور چچا کے بیٹے علی ابن ابی طالب(ع)۔

علی (ع) کو کہ حلال ہر مشکل اوست علی (ع) کو کہ مفتاح قفل ولی اوست

لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ(ص) ان کو اتنا سخت آشوب چشم ہے کہ حرکت نہیں کرسکتے۔آں حضرت(ص) نے سلمان سے فرمایا کہ ان کو بلائو۔ سلمان گئے اور علی(ع) کا ہاتھ پکڑے ہوئے اس حالت سے خدمت رسول میں حاضر ہوئے کہ آپ کی آنکھیں بند تھیں آپ نے سلام عرض کیا آں حضرت نے جواب سلام کے بعد فرمایا " کیف حالک یا ابالحسن" کیا حال ہے تمہارا اے ابوالحسن؟ عرض کیا " بحمد اللہ خیرا صداء براسی و رمد بعینی لا ابصر معہ" ( یعنی بحمداللہ خیریت ہے، میرے سر اور آنکھوں میں اتنا درد ہے کہ میں کچھ دیکھ نہیں سکتا) فرمایا ادن منی میرے پاس آئو آپ قریب آئے" فبصق في عينيه،ودعاله،فبرأحتّى كأن لم يكن به وجع " ( یعنی آں حضرت(ص) نے آپ کی دونوں آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا اور دعا فرمائی۔ فورا آنکھیں کھل گئیں اور مرض اس طرح سے دفع ہوا کہ گویا کبھی درد تھا ہی نہیں پھر اسلام کی فتح وفیروزی کا نشان عطا فرمایا، آپ نے خیبر کے قلعوں پر چڑھائی کی، یہودیوں سے جنگ کی، مرحب، حارث، ہشام اور علقمہ وغیرہ کے ایسے افسروں اور بہادروں کو قتل کیا اور خیبر کے قلعے فتح کئے۔


ابن صباغ مالکی نے فصول المہمہ ص21 میں یہ روایت صحاح ستہ سے نقل کی ہے۔ نیز محمد بن یوسف گنجی شافعی کفایت الطالب باب14 میں روایتیں لکھنے کے بعد کہتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) کے مخصوص شاعر حسان بن ثابت موجود تھے انہوں نے حضرت علی(ع) کی مدح میں فی البدایہ یہ اشعار نظم کئے۔

وَكَانَ عَلِيٌ أَرْمَدَالْعَيْنِ يَبْتَغِي

دَوَاءًفَلَمَّالَمْ يُحِسَّمُ دَاوِياً

شَفَاهُ رَسُولُاللَّهِ مِنْهُ بِتَفْلِهِ

فَبُورِكَ مَرْقِيّاًوَبُورِكَ رَاقِياً

فَقَالَ:سَأُعْطِي الرَّايَةَالْيَوْمَ ضَارِباً

كَمِيّاًمُحِبّاًلِلرَّسُولِ موَالِياً

يُحِبُّالْإِلَهَ،وَالْإِلَهُ يُحِبُّهُ

بِهِ يَفْتَحُ اللَّه الْحُصُونَالْأَوَابِيَا

فَخَصَّبِهَادُونَالْبَرِيَّةِكُلِّهَا

عَلِيّاًوَسَمَّاهُ الْوَزِيرَالْمُؤَاخِيَا.

یعنی علی(ع) کو آشوب چشم تھا جس کے علاج کی ضرورت تھی لیکن جب کوئی معالج نہیں ملا تو رسول اللہ(ص) نے اپنے لعاب دہن سے شفا بخشی پس معالج اور مریض دونوں با برکت ہیں آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ آج میں ایسے شہسوار کو علم دوں گا جو بہت دلیر و شجاع اور جنگوں میں میرا مددگار ہے۔ وہ اللہ کو دوست رکھتا ہے اور اللہ اس کو دوست رکھتا ہے چنانچہ اس کے ذریعے دشمنوں کے قلعوں پر فتح دے گا۔ اس کے بعد ساری دنیا کو چھوڑ کر صرف علی(ع) کو منتخب کیا اور ان کو اپنا وصی اور بھائی قرار دیا۔ 12 مترجم عنی عنہ)

ابن صباغ مالکی نے صحیح مسلم سے نقل کیا ہے کہ عمر ابن خطاب نے کہا میں نے کبھی علمداری کی تمنا نہیں کی لیکن اس روز مجھ کو اس کی ہوس تھی اور میں بار بار اپنے کو پیغمبر(ص) کے سامنے نمایاں کر رہا تھا کہ شاید بلالیں اور یہ شرف مجھی کو نصیب ہوجائے لیکن اس کے باوجود علی(ع) کو طلب فرمایا اور یہ فخر ان کے حصے میں آیا۔

سبط ابن جوزی نے تذکرہ ص15 میں اور امام ابو عبدالرحمن احمد بن علی نسائی نے خصائص العلوی می بارہ روایتیں اور حدیثیں نقل کرنے کے بعد خیبر میں علمداری علی(ع) کے موضوع پر یہی عمر کی روایت اور ان کی آرزوئے علمداری اٹھارہویں حدیث میں نقل کی ہے نیز جلال الدین سیوطی تاریخ الخلفاء میں، ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں اور ابن شیرویہ فردوس الاخبار میں نقل کرتے ہیں کہ عمر ابن خطاب کہتے تھے، علی(ع) کو تین چیزیں ایسی دی گئیں کہ اگر ان یں سے ایک بھی مجھ کو مل جاتی تو میں اس سے زیادہ پسند کرتا تھا کہ سرخ بالوں کے اوںٹ میرے قبضے میں ہوں(1) علی(ع) کے ساتھ فاطمہ(س) کی تزویج (2) ہر حالت میں مسجد کے اندر سکونت ، اور یہ امر سوا علی(ع) کے اور کسی کےلیے حلال نہیں تھا۔ (3) اور فتح خیبر میں آپ کی علمداری ۔ خلاصہ یہ کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام امت کے درمیان تنہا جو شخص خدا و رسول(ص) کا محبوب قرار پایا وہ علی علیہ السلام تھے۔ اور حدیث طیر بھی جو گذشتہ شب میں ذکر ہوچکیہے خدا و رسول (ص) کے نزدیک حضرت کی محبوبیت پر دوسری دلیل ہے اور یہ باتیں سوا جاہل و بے خبر یا ہٹ دھرمی اور متعصب


لوگوں کے کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

آپ کے موثق راویوں کے نقل کئے ہوئے ان دلائل کے بعد جن میں سے کچھ نمونے کے طور پر پیش کئے گئے ثابت ہوا کہ تمام صفات حمیدہ اور اخلاق پسندیدہ کے مجموعہ اور آیہ شریفہ میں " یحبہم و یحبونہ کے مصداق امیرالمومنین علیہ السلام تھے نہ کہ دوسرے مومنین یا صحابہ۔ اب آپ حضرات کو معلو ہوگیا ہوگا کہ میرا مقصد اہانت نہیں تھا بلکہ اصل واقعہ اور تاریخی حقیقت عرض کی گئی تھی جس کو خود آپ کے علماء صریحی دلیلوں سے ثابت کرتے ہیں اور واضح ہوتا ہے کہ لڑائی کے میدانوں اور علمی مباحثوں میں آیہ شریعہ " أَشِدَّاءُعَلَى الْكُفَّارِ" سے مراد علی علیہ السلام تھے۔

علاوہ میری گفتگو کے آپ کے بڑے بڑے علماء اقرار کرتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی(ع) ہی کی تعریف میں نازل ہوئی، چنانچہ اس وقت جس قدر میرے پیش نظر ہے عرض کرتا ہوں ، محمد بن یوسف گنجی شافعی متوفی سنہ658ھ کفایت الطالب باب13 میں رسول اکرم(ص) کی حدیث نقل کرنے کے بعد کہ جو شخص آدم (ع) و نوح(ع) اور ابراہیم(ع) کو دیکھنا چاہتا ہے وہ علی(ع) کو دیکھے کچھ اور باتیں بیان کرتے ہیں یہاں تک کہ کہتے ہیں علی(ع) وہ شخص ہیں جن کی تعریف خدا نے قرآن میں اس آیت کے ساتھ کی ہے " وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُعَلَى الْكُفَّارِرُحَماءُبَيْنَهُمْ" ( چنانچہ اسی کتاب میں تفصیل سے اس کا بیان ہوچکا ہے۔) اور خدائے تعالی آیہ شریفہ میں گواہی دیتا ہے کہ علی علیہ السلام کفار پر غالب اور سخت تھے، کیونکہ اگر بڑے بڑے معرکوں میں حضرت کی شجاعت و شمشیر مناظروں اور مباحثوں میں ان بزرگوار کے علمی دلائل اور مشکل مسائل میں آپ کے منطقی جوابات نہ ہوتے تو اسلام کے اندر کوئی رونق اور مسلمانوں کا کوئی اقتدار نہ ہوتا۔

چنانچہ محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں رسول اکرم(ص) سے نقل کیا ہے کہ فرمایا اسلام نے فقط علی(ع) کی شمشیر اور خدیجہ کے مال سے طاقت پکڑی۔ لہذا علی علیہ السلام اس مقام و مرتبہ کے لیے ہر ایک سے زیادہ اولی و اہل اور مستحق تھے اور جو آپ نے یہ فرمایا کہ " رُحَماءُبَيْنَهُمْ" عثمان ابن عفان کی شان میں ہے اور تیسرےنمبر پر ان کے منصب خلافت کا اشارہ ہے کیونکہ وہ بہت رقیق القلب اور رحم دل تھے۔ تو افسوس ہے کہ یہ عقیدہ بھی تاریخی شہادت کی روشنی میں ان کے حالات و اخلاق سے میل نہیں کھاتا۔ اس مقصد پر دلائل بہت ہیں لیکن دل یہاں پہنچ کے ٹھہر گیا۔ آپ حضرات سے گذارش ہے کہ اسی قدر گفتگو پر اکتفا کیجئے اور اس موضوع سے چشم پوشی فرمائے۔ ورنہ میں ڈرتا ہوں کہ آپ کو رنج پہنچ جائے گا۔

حافظ : جب آپ دلائل و براہین اور اسناد صحیحہ بیان کیجئے گا۔ تو رنجش کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ لہذا اگر فحش باتوں کے علاوہ کچھ دلیلیں ہیں تو بیان فرمائیے۔

خیر طلب : اول تو یہ کہ میں فحش بولنے والا انسان نہیں ہوں، چنانچہ حاضرین جلسہ گواہ ہیں کہ ان راتوں میں مجھ کو خود فحش باتیں سننا پڑیں لیکن ان کا جواب بھی میں نے صرف دلیل و برہان سے دیا۔

دوسرے دلائل اس کثرت سے ہیں کہ اگر میں ان سب سے استدلال کرنا چاہوں تو ہماری نشست کا یہ مختصر وقت


کافی نہیں ہے لیکن چونکہ آپ نے حکم دیا ہے لہذا ان میں سے بعض کا خلاصہ پیش کرتا ہوں تاکہ آپ حضرات خود ہی انصاف سے فیصلہ فرمائیں اور اپنی جگہ پر رحم و عطوفت اور رقت قلب کا اندازہ کریں۔

ابوبکرو عمرکے برخلاف عثمان کا طرز عمل

ہمارے اور آپ کے تمام مورخین مثلا ابن خلدون، ابن خلسکان اور ابن اعثم کوفی کا اتفاق ہے صحاح ستہ اور آپ کی معتبر کتابوں میں درج ہے، نیز مسعودی نے مردج الذہب جلد اول ص435 میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد اول میں اور آپ کے دوسرے علماء نے لکھا ہے کہ عثمان ابن عفان جب عہدہ خلافت پر پہنچے تو سنت رسول(ص) اور سیرت شیخین ( ابوبکر و عمر) کے خلاف عمل کرنے لگے۔

حالانکہ فریقین اور تمام مورخین متفق ہیں کہ مجلس شوری میں عبدالرحمن ابن عوف نے ان سے کتاب خدا، سنت رسول(ص) اور طریقہ شیخین پر بیعت کی تھی اور یہ شرط تھی کہ بنی امیہ کو دخیل نہ کریں گے اور نہ ان لوگوں پر مسلط کریں گے۔ لیکن جب معاملہ پختہ ہوگیا تو ان حضرات کی سیرت کے بالکل خلاف چلنے لگے اور کھلم کھلا وعدے کے برعکس کیا۔ آپ خود جانتے ہیں کہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے حکم سے عہد و پیمان کو توڑنا گناہ کبریہ ہے اور آپ کے اکابر علماء ومورخین کی صراحت و شہادت کی بناء پر خلیفہ عثمان نے عملا نقض عہد کی،سارے دور خلافت میں طریقہ شیخین ( ابوبکر و عمر) کے بر خلاف عمل کرتے رہے، بنی امیہ کو لوگوں کے جان و مال اور عزت پر مسلط کیا اور یہ پہلا بہت بڑا داغ تھا جس نے ان کے دامن کو آلودہ کیا۔

حافظ : کیونکر سنت رسول (ص) اور سیرۃ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے خلاف عمل کیا؟

خیر طلب : پہلا قدم جو سنت رسول(ص) اور طریقہ شیخین کے برخلاف اٹھایا وہ جیسا کہ مورخین نے تفصیل سے لکھا ہے اور مشہور و مقبول فریقین محدث و مورخ مسعودی نے مروج الذہب جلد اول ص433 میں مختصرا ذکر کیا ہے کہ پتھر کا ایک نقش و نگار والا مکان تعمیر کرایا جن میں ساگون اور سرو کے دروازے لگوائے کثیر مال و دولت جمع کیا اور اس کے علاوہ جب تک زندہ رہے بنی امیہ وغیرہ پر بے جا بخش و انعام کی بارش کرتے رہے( مثلا بلاد آرمینیہ کا خمس جو ان کے زمانے میں فتح ہوا تھا بغیر کسی شرعی جواز کے) مروان ملعون کو بخش دیا نیز بیت الامال سےایک لاکھ درہم دیے، چالاکھ درہم عبداللہ بن خالد کو، ایک لاکھ درہم ملعون و طرید رسول حکم ابن ابی العاص کو اور دو لاکھ درہم ابوسفیان کو بیت المال سے عنایت کئے( جیسا کہ ابن ابی الحدید نے بھی شرح نہج البلاغہ جلد اول ص28 میں لکھا ہے) اور جس روز وہ قتل کئے گئے ہیں ان کے ذاتی خزانچی کی تحویل میں ایک لاکھ پچاس ہزار دینار اور دو کڑوڑ درہم نقد موجود تھے علاوہ ان کی اس جائداد کے جو وادی القری اور حنین میں تھی جس میں ایک لاکھ دینار اور صحرائوں کے اندر بے شمار گائیں بھیڑیں اور اونٹ تھے۔


ان کے اسی عمل کا نتیجہ تھا کہ بنی امیہ وغیرہ کے تمام بڑے لوگوں نے جن کو وہ برسر اقتدار لے آئے تھے ان سے زیادہ دولت جمع کی اور لوگوں کے اموال کو لوٹنے میں مشغول ہوئے۔ انتہی۔

کیونکہ مشہور ہے " الناس على دين ملوكهم " یعنی لوگ اپنے بادشاہوں کے دین پر ہوتے ہیں۔ شیخ فرماتے ہیں۔

اگر زباغ رعیت ملک خورد سیبے برآورند غلامان او درخت زبیخ

اس دور میں اس طرح کے افعال اور کثیر دولت کی فراہمی علاوہ اس کے کہ اس زمانے کے محتاج و تہی دست لوگوں کے مقابلے میں خلیفہ رسول کے لیے عقلی و نقلی حیثیت سے بہت بری بات تھی، ان کے رفقاء ابوبکر و عمر کے رویہ اور طریقے کے بھی برخلاف تھی جب کہ وہ شوری کے روز عہد و پیمان کرچکے تھے کہ ان دونوں کے قدم بہ قدم چلیں گے۔

مسعودی مروج الذہب جلد اول ضمن حالات عثمان میں لکھتے ہیں کہ خلیفہ عمر اپنے بیٹے عبداللہ کے ساتھ حج کرنے گئے تو آنے جانے میں راستے کا خرچ سولہ دینار ہوا ۔ انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ سے کہا کہ ہم نے اپنے اخراجات میں اسراف کیا۔ اب آپ حضرات خلیفہ عمر کے طریقہ زندگی اور عثمان کی فضول خرچیوں اور زیادتیوں کے درمیان موازنہ کیجئے۔ تو تصدیق کیجئے گا کہ عثمان کا طریقہ کار عہد و میثاق کےبالکل برعکس تھا۔

عثمان کا بنی امیہ کے بدکاروں کو ترقی دینا

دوسرے یہ کہ بنی امیہ کے فاسق و فاجر لوگوں کو جاہ ومنصب دے دے کر لوگوں کے جان و مال اور آبرو پر مسلط کیا چنانچہ بلاد مسلمین میں بنی امیہ کی حکومتوں سے ایک ابتری پھیل گئی تھی اور رسول خدا(ص) و شیخین ( ابوبکر و عمر) کے خلاف مرضی اشخاص کو عہدوں پر معین کر دیا جیسے اپنے ملعون چچا حکم بن ابی العاص اور اس کے بیٹے مروان ابن حکم کو جن کے لیے تاریخ گواہ ہے کہ یہ دوںوں رسول اللہ(ص) کے راندہ درگاہ، دھتکارے ہوئے۔ شہر بدر کئے ہوئے اور آں حضرت(ص) کے ارشاد سے مردود و ملعون تھے۔

حافظ : خصوصیت سے ان لوگوں کے مردود و ملعون ہونے پر آپ کے پاس کیا دلیل ہے؟

بنی امیہ ، حکم بن ابی العاص اور مروان خدا و رسول(ص) کے ملعون تھے

خیر طلب : لعنت کی دلیلیں دو قسم کی ہیں۔ ایک عمومی حیثیت رکھتی ہے جس میں خدائے تعالی نے بنی امیہ کو صریحا شجرہ ملعونہ فرمایا ہے، سورہ نمبر17( بنی اسرائیل) آیت نمبر " وَالشَّجَرَةَالْمَلْعُونَةَفِي الْقُرْآنِ " ( یعنی قرآن


میں لعنت کیا ہوا درخت ۔ چنانچہ امام فخر الدین رازی، طبری، قرطبی، نیشاپوری ، سیوطی، شوکانی، آلوسی ابن ابی حاتم ، خطیب بغداد، ابن مردویہ، حاکم، مقریزی، بیہقی اور آپ کے دوسرے مفسرین وعلماء نے اس آیت مذمت کے ذیل میں ابن عباس ( خیر امت) رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے یہ قرآن میں شجرہ ملعونہ سے مراد بنی امیہ تھے، کیونکہ رسول اکرم(ص) نے ان لوگوں کو خواب میں دیکھا کہ بندروں کی شکل میں آپ کے محراب و منبر کو اپنی اچھل کود کا تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں، بیدار ہونے کے بعد جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوئے اور خبر دی کہ یہ بندر بنی امیہ ہیں جو آپ کے بعد خلافت غصب کریںگے اور آپ کے محراب و منبر ایک ہزار مہینے تک ان کے تصرف میں رہیں گے۔

امام فخر الدین رازی ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ تمام بنی امیہ میں رسول حکم بن ابی العاص کا نام خاص طور پر سے لیتے تھے پس بحکم قرآن مجید حکم بن ابی العاص ملعون ہے اس لیے کہ شجرہ ملعونہ میں سے ہے اور پیغمبر(ص) بالخصوص اس کا نام لعنت کے ساتھ زبان پر جاری فرماتے تھے اور فریقین ( شیعہ و سنی) کے معتبر راویوں سے ان لوگوں کے مردود و ملعون ہونے پر کثرت سے حدیثیں مروی ہیں لیکن چونکہ ہم نے پہلی شب میں طے کر لیا ہے کہ احادیث شیعہ سے استدلال نہ کریں گے۔ لہذا فی الحال جن قدر آپ کےعلماء نے لکھا ہے اورمیرے پیش نظر ہے اسی میں سے بعض اقوال عرض کرتا ہوں تاکہ حقیقت ظاہر ہوجوئے۔

حاکم نیشاپوری مستدرک جلد چہارم ص487 میں اور ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں حاکم سے نقل کرتے ہیں کہ یہ صحیح حدیث رسول خدا(ص) سے منقول ہے کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا :

" إنّ أهلبيتي سيلقون من بعدي من أمّتي قتل اوتشريداوإنّ أشدّقوم لنابغضابنواميّةوبنوالمغيرةوبنومخزوم و مروان بن الحکم کان طفلا قال له النبی صلی الله عليه وسلم و الوزغ والملعون بن الملعون"

یعنی یقینا میرے اہل بیت عنقریب میری امت کے ہاتھوں قتل اور پراگندگی میں مبتلا ہوں گے اور در حقیقت بنی امیہ بنی مغیرہ اور بنی مخزوم ہماری عداوت میں سب سے زیادہ سخت ہیں۔ مروان ابن حکم اس زمانے میں بچہ تھا تو آں حضرت(ص) نے فرمایا کہ یہ چھپکلی کا بچہ چھپکلی اور ملعون پسر ملعون ہے۔

نیز ابن حجر نے ایک حدیث کے فاصلے سے عمر بن مرقا الجہتی سے، حلبی نے سیرۃ الحلبیہ جلد اول ص337 میں، بلاذری نے انساب جلد پنچم ص126 میں، سلیمان بلخی نے ینابیع المودۃ میں، حاکم نے مستدرک جلد چہارم ص481 میں، دمیری نے حیات الحیوان جلد دوم ص291 میں ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں، امام الحرم نے ذخائر العقبی میں اور دوسروں نے بھی عمر بن مرہ سے نقل کیا ہے کہ :

"أَنَ الْحَكَمَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ ص فَعَرَفَ صَوْتَهُ فَقَال َائْذَنُوالَهُ عَلَيْهِ لَعْنَةُاللَّهِ وَعَلَى مَنْ يَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ إِلَّاالْمُؤْمِنَ مِنْهُمْ وَقَلِيلٌ"

یعنی حکم بن العاص نے خدمت رسول میں آنے کی اجازت چاہی، آں حضرت(ص) نے اس کی آواز پہچانی تو فرمایا اس کو اجازت دے دو اس پر اور اس کے صلب سے پیدا ہونے والی اولاد پر خدا کی لعنت ہو علاوہ ان کے جو ان میں سے مومن ہوں اور وہ بہت کم ہوں گے۔

امام فخر الدین رازی تفسیر کبیر جلد پنجم میں آیہ " وَالشَّجَرَةَالْمَلْعُونَةَ" اور اس کے مفہوم کے ذیل میں ام المومنین


عائشہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے مروان سے کہا " لعن الله اياک وانت فی صلبه فانت بعض من لعنه الله " یعنی خدا نے تیرے باپ پر لعنت فرمائی در آنحالیکہ تو اس کے صلب میں موجود تھا لہذا تو بھی اس کا جز ہے جس پر خدا نے لعنت کی ہے۔

علامہ مسعودی مروج الذہب جلد اول ص435 میں کہتے ہیں کہ مروان بن حکم رسول اللہ(ص) کا طرید اور راندہ درگاہ تھا جو مدینے سے شہر بدر کردیا گیا تھا۔ خلافت ابوبکر و عمر کے زمانے میں اس کو مدینے کی آنے کی اجازت نہیں ملی لیکن جب عثمان خلیفہ ہوئے تو رسول اکرم(ص) اور ابوبکر و عمر کی سیرت و عمل کے خلاف اس کو آنے کی اجازت ۔۔۔۔۔۔ دی، تمام بنی امیہ کے ساتھ اس کو بھی اپنے پاس رکھا اور ان لوگوں پر حد سے زیادہ مہربانی کرتے تھے۔

نواب : قبلہ صاحب حکم ابن ابی العاص کون تھا اور کس وجہ سے پیغمبر (ص) نے اس کو دھتکار دیا تھا۔

حکم بن ابی العاص

خیر طلب :حکم بن ابی العاص خلیفہ عثمان کا چچا تھا، جیسا کہ طبری ، اثیر اور بلاذری نے انساب جلد پنجم ص17 میں لکھا ہے زمانہ جاہلیت میں یہ رسول اللہ(ص) کا ہمسایہ تھا اور آںحضرت(ص) کو بہت اذیت پہنچاتا تھا خصوصا بعثت کے بعد، یہ فتح مکہ کے بعد مدینے میں آیا اور ظاہری اسلام قبول کیا لیکن برابر لوگوں میں آںحضرت(ص) کی توہین کیا کرتا تھا۔جس وقت آں حضرت(ص) چلتے تھے تو یہ ساتھ انگلی سے آںحضرت(ص) کی طرف اشارہ کرتا تھا چنانچہ آںحضرت(ص) کی نفرین سے مستقل اسی طرح تشنج کی حالت پر قائم رہا۔ اس کے علاوہ فاتر العقل اور نیم مجنون بھی ہوگیا تھا۔ ایک روز آںحضرت(ص) کے گھر پر گیا۔ آپ حجرے سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ کوئی شخص اس کی طرف سے سفارش نہ کرے اب اس کو اور اس کے بیٹوں مروان وغیرہ کو مدینے سے نکل جانا چاہئیے، چنانچہ آںحضرت(ص) کے حکم سے فورا مسلمانوں نے اس کو طائف کی طرف نکال باہر کیا۔ ابوبکر وعمر کے زمانے میں عثمان نے سفارش کی کہ حکم میرا چچا ہے۔ لہذا آپ اجازت دیجئے کہ وہ مدینے واپس آجائے لیکن ان دونوں صاحبان نے منظور نہیں کیا اور کہا کہ وہ رسول اللہ(ص) کا نکالا ہوا اور شہر بدر کیا ہوا ہے ہم اس کو واپس نہیں بلاسکتے جب عثمان خود منصب خلافت پر پہنچے تو ان لوگوں کو بلالیا ، ہر چند مسلمانوں اور اصحاب رسول(ص) نے اعتراض کیا لیکن انہوں نے کوئی اعتنا نہیں کی بلکہ ان پر انعام و اکرام اور ؟؟؟؟؟؟؟؟ کی بارش کرتے رہے، مروان کو اپنا پیشکار اور دربار خلافت کا افسر بنایا، تمام اشرار بنی امیہ کو اپنے گرد جمع کیا ان کو بڑے بڑے منصب اور نمایاں عہدے سپرد کئے یہاں تک کہ خلیفہ دوم عمر کی پیش گوئی کے مطابق وہی لوگ ان کو بدبختی کا سبب بنے۔


ولید فاسق نے نشے کی حالت میں نماز پڑھائی

من جملہ ان کے ولید بن عقبہ بن ابی العیط بھی تھا جس کو کوفے کی ولایت و امارت پر بھیجا۔ ولید وہ شخص ہے کہ بنابر روایت مسعودی مروج الذہب جلد اول ذیل حالات عثمان، پیغمبر(ص) نے اس کے بارے میں فرمایا تھا " انهمن ا ه ل النار " یعنی وہ یقینا اہل جہنم میں سے ہے۔ وہ فسق وفجور میں انتہائی بے باک تھا چنانچہ مسعودی مروج الذہب میں، ابوالفداء اپنی تاریخ میں سیوطی تاریخ الخلفاء ص104 میں ابو الفرج اغاتی جلد چہارم ص128 میں امام احمد ابن حنبل مسند جلد اول ص144 میں طبری اپنی تاریخ جلد پنجم ص60 میں، بیہقی سنن جلد ہشتم ص318 میں، ابن اثیر کامل جلد سیم ص43 میں، یعقوبی اپنی تاریخ جلد دوم ص142 ، ابن اثیر اسدالغایہ جلد پنجم ص91 میں، اور دوسرے لوگ لکھتے ہیں کہ امارت کوفہ کے زمانے میں ایک مرتبہ رات بھر محفل عیش و عشرت گرم رہی، صبح کو جب موذن کی آواز آئی تو نشے کی حالت میں مسجد پہنچ گیا اور لوگوں کو صبح کی نماز چار رکعت پڑھائی اس کے بعد کہا کہ اگر تم لوگوں کی خواہش ہو تو اور پڑھا دوں۔

ان میں سے بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ محراب کے اندر قے کردی جس سے تمام لوگ پریشان ہوئے اور عثمان کے پاس شکایت لے گئے ۔ من جملہ ان کے مشہور و معروف آدمی معاویہ بھی تھا اس کو شام کا گورنر بنایا۔ اور ولید کے بعد سعید بن عاص کو کوفے بھیجا ان دونوں کے حرکات سے تمام بلاد مسلمین ظلم و فساد سے بھر گئے، فریادیں بلند ہوئیں اور جو شخص جہاں سے آیا ایک فریادی تحریر ساتھ لایا لیکن اس کو دربار خلافت سے دھتکار دیا گیا۔

عثمان کی غلط کاریاں ان کے قتل کا باعث ہوئیں

جب رسول اللہ(ص) کی سنت و سیرت حتی کہ ابوبکر و عمر کے طور طریقے کے برخلاف ان کے یہ چال چلن مشہور ہوئے تو نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے خون میں جوش پیدا ہوا اور ایک متحدہ محاذ قائم ہوگیا، پھر جو ہونا تھا ہوا۔

اپنے قتل اور بدنصیبی کے ذمہ دار وہ خود تھے کیونکہ انہوں نے اپنے کاموں پر نظر ثانی نہیں کی۔ امیرالمومنین علیہ السلام کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرے اور اپنے حاشیہ نشین بنی امیہ کی چکنی چپڑی باتوں میں بھونے رہے یہاں تک کہ ان کی محبت میں اپنی جان سے ہاتھ دھوئے۔ جیسا کہ خلیفہ عمر نے اس کی پیشین گوئی کر رہی تھی اس لیے کہ وہ عثمان کی خصلتوں سے واقف تھے) چنانچہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سیم ص186 میں ابن عباس سے عمر کی گفتگو نقل کی ہے۔ یہاں تک کہ کہتے ہیں خلیفہ عمر نے چھ نفر اصحاب شوری میں سے ہر ایک کے بارے میں کچھ نہ کچھ کہا اور کسی نہ کسی عیب کی گرفت کی۔ جب عثمان کا نام آیا

" أوه ثلاثاوالله لئنوليهاليحملنبنيأبيمعيطعل رقاب الناس ثم لتنهض العرب إليه فقت له ."

یعنی اگر مرتبہ آہ کھینچنے کے بعد کہا کہ اگر زمام حکومت


عثمان کے ہاتھوں میں پہنچے گی تو وہ ( بڑے بڑے عہدے دے کر) بنی ابی معیط کو لوگوں کی گردنوں پر سوار کریں دیں گے پھر یقینا عرب ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور ان کو قتل کردیں گے۔

نیز ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ جلد اول ص66 میں جملہ مذکورہ نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ عمر کا اندازہ صحیح اترا کیونکہ جب عثمان خلیفہ ہو تو( جیسا عمر پیشن گوئی کرچکے تھے) بنی امیہ کو اپنے گرد جمع کو لیا ان کو لوگوں کی گردنوں پر سوار کر دیا اور ولایتوں کی گورنری عطا کی جس سے ان لوگوں نے وہ کچھ کیا جو نہ کرنا چاہیئے تھا۔ باوجودیکہ یہ ایسا کرسکتے تھے کہ ان کو معزول کردیں، تبادلہ کردیں اور مروان ملعون کو اپنے سے الگ کردیں لیکن نہیں کیا یہاں تک کہ لوگوں میں ناراضگی پھیل گئی اور شورش و قتل تک نوبت پہنچی۔ ان کے سرپر یہ تمام آفتیں اور ؟؟؟؟ مروان اور ان کے دوسرےحاشیہ نشینوں کی لائی ہوئی تھیں۔ اور امت کی درخواستوں سے بے اعتنائی ان کے قتل تک منجر ہوئی صاحبان اںصاف بہتر ہے کہ آپ تیسری صدی ہجری کے اپنے بزرگ اور معتمد علیہ عالم محمد بن جریر طبری کی تاریخ ص357 کی طرف رجوع کیجئے جس میں لکھا ہے۔

"رأى رسول اللّه اباسفيان مقبلاعلى حمارومعاويةيقودبه،ويزيدابنه يسوق به قال: لعن اللّه القائدوالراكب والسائق"

یعنی پیغمبر(ص) نے دیکھا کہ ابوسفیان اپنے گدھے پر سوار آرہا ہے، معاویہ اس کو آگے سے کھینچ رہا اور اس کا دوسرا بیٹا یزید پیچھے سے ہنکا رہا ہے تو فرمایا کہ سوار کھینچنے والے اور ہنکانے والے تینوں پر خدا لعنت کرے۔

اس کے بعد فیصلہ کیجئے کہ خلیفہ عثمان نے پیغمبر(ص) کے ملعون اور راندہ درگاہ اشخاص کو کس لیے عزت و احترام کے ساتھ اپنے آغوش محبت میں لیا بلکہ ان کو امارت و حکومت بھی عطا کی تاکہ وہ دین اسلام کے اندر انقلاب برپا کریں۔

خلیفہ کے ان افعال اور بے فکری پر صرف ہم ہی تعجب نہیں کررہے ہیں بلکہ طبری اور ابی اعثم کوفی جیسے آپ کے بڑے بڑے علماء نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے اور اپنی تاریخوں میں درج کیا ہے کہ جس وقت ابوسفیان نے خلافت عثمان کے شروع میں سرور بار اسلام اور نزول وحی وجبرئیل کا انکار کیا تو خلیفہ نے اس کو قتل کیوں نہیں کیا فقط معمولی سی ناراضگی پر بات ختم کردی، حالانکہ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسا ملعون واجب القتل تھا۔ "فَاعْتَبِرُواياأُولِي الْأَبْصارِ"

لوگوں میں غم وغصہ پھیلانا قتل عثمان تک منجر ہوا

جو کچھ عرض کیا جاچکا اس کے علاوہ نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر163 اور اسی طرح اس روایت پر توجہ کیجئے جو ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد دوم ( مطبوعہ مصر) ص482 میں خطبے کی شرح کرتے ہوئے طبری کی تاریخ بزرگ سے نقل کی ہے کہ رسول اللہ(ص) کے بعض اصحاب نے مختلف صوبوں میں خطوط لکھ کر مدینے کے اندر عثمان کی سر پرستی میں بنی امیہ کے ظلم نہ جور کے خلاف دعوت جہاد دی۔ اور سنہ34ھ میں عثمان کے عالموں سے ناراض لوگوں کی ایک بڑی جماعت مدینے پہنچ کر خدمت امیرالمومنین(ع) میں حاضر ہوئی


اور حضرت کو درمیان میں ڈالا، آپ خلیفہ کے پاس تشریف لے گئے اور جہاں تک ممکن تھا ان کو نصیحت کی کہ عمال کے تبادلے اور طرز عمل پر نظر ثانی کریں، ان کے حالات کے نتائج سے آگاہ کیا اور سمجھایا کہ یہ جان جو کھوں کا معاملہ ہے، یہاں تک کہ فرمایا :

"وَإِنِّي أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَنْ أَلَّاتَكُونَ إِمَامَ هَذِهِ الْأُمَّةِالْمَقْتُولَ فَإِنَّهُ كَانَ يُقَالُ ُقْتَلُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِإِمَامٌ يَفْتَحُ عَلَيْهَ االْقَتْلَوَالْقِتَالَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"

یعنی میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اس امت کے مقتول پیشوا نہ بنو کیونکہ اس سے قبل؛ کہا جاچکا ہے کہ اس امت میں ایک ایسا پیشوا قتل کیا جائے گا جس کے مارے جانے سے روز قیامت تک قتل و خون ریزی کا دروازہ کھل جائے گا۔

لیکن مروان اور اموی مصاحبین نے حضرت کی سچی نصیحتوں کا اثر نہ ہونے دیا۔ چنانچہ حضرت کی واپسی کے بعد عثمان نے حکم دیا کہ لوگ مسجد میں جمع ہوں، پھر منبر پر جاکر بجائے اس کے کہ شکایت کرنے والوں کی تالیف قلوب اور دلدہی کریں اور کہیں کہ متعین عمال اس وقت سے معزول کئے گئے، اس طرح کی باتیں کہیں رنجیدہ دلوں کو اور صدمہ پہنچا اور انجام خلیفہ عمر کی پیشن گوئی تک پہنچا یعنی عثمان ناراض جماعت کے ہاتھو مارے گئے۔

پس قتل عثمان کا سبب ان کی نادانیان تھیں کہ بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرے حتی کہ اپنے پاداش عمل کو پہنچے، بر خلاف ابوبکر وعمر کے کہ وہ امیرالمومنین علیہ السلام کے نصائح کو سن کر اثر لیتے تھے اور قدر دانی کر کے پورا فائدہ اٹھاتے تھے۔

اصحاب رسول(ص) پر عثمان کی زد و کوب

دوسرے یہ کہ وہ چند اصحاب رسول(ص) جو ناصح وخیر خواہ اور ان کے غلط رویے پر معترض تھے ان کے حکم سے اس قدر مارے پیٹے گئے کہ اکثر انہیں چوٹوں کے اثر سے مرگئے اور جو زندہ رہے وہ علیل و ناتوان ہوگئے۔

منجملہ ان کے عبداللہ ابن مسعود تھے جو حافظ و قاری ، محافظ بیت المال، کاتب قرآن اور رسول خدا(ص) کے خاص صحابی تھے یہاں تک کہ ابوبکر و عمر کے نزدیک بھی قابل احترام اور ان کے مشیر کار تھے۔

خصوصیت سے ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ خلیفہ ثانی عمر اپنے زمانہ خلافت میں کوشش کرتے تھے کہ عبداللہ ان سے جدا نہ ہوں اس لیے کہ یہ قرآن اور احکام دین سے پوری واقفیت رکھتے تھے اور رسول اللہ(ص) نے ان کی بہت تعریف فرمائی تھی چنانچہ ابن ابی الحدید اور دوسروں نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔

ابن مسعود کی زد و کوب اور ان کی موت

آپ کے علماء و مورخین نے بالعموم لکھا ہے کہ جب عثمان نے قرآن کو جمع کرنا چاہا تو کاتبوں سے تمام نسخے حاصل


کئے من جملہ ان کے عبداللہ ابن مسعود سے بھی جو کاتبین وحی میں سے اور رسول خدا(ص) کے معتمد علیہ تھے ان کا قرآن طلب کیا لیکن انہوں نے نہیں دیا عثمان خود ان کے گھر پر گئے اور زبردستی ان سے قرآن وصول کیا۔ جس وقت عبداللہ نے سنا کہ دوسرے قرآنیوں کی طرح ان کا قرآن بھی جلا دیا گیا تو ان کو بہت صدمہ ہوا۔ چنانچہ مجالس و محافل میں جو حدیثیں ان کو قدح عثمان میں یاد تھیں بیان کرتے تھے اصلیت سے پردے اٹھاتے تھے اور ارشارات سے لوگوں کو حقائق سمجھاتے تھے، جب یہ خبریں عثمان کو پہنچیں تو ان کے حکم سے غلاموں نے جاکر عبداللہ کو اس قدر مارا کہ ضربات کی شدت سے ان کے دانت ٹوٹ گئے اور وہ بستر سے لگے گئے یہاں تک کہ تین دن کے بعد دنیا سے چل بسے۔ چنانچہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد اول ( مطبوعہ مصر) ص67 و ص426 ضمن طعن ششم میں ان واقعات کو تفصیل سے لکھا ہے یہاں تک کہ کہتے ہیں عثمان عبداللہ کی عیادت کو گئے اور دونوں میں کافی بات چیت ہوئی تا اینکہ عثمان نے کہا: " استغفرلي ياأباعبدالرحمن قال أسأل الله أني أخذلي منك حقي. "( یعنی اے عبدالرحمن ( کنیت عبداللہ ابن مسعود) میرے لیے استغفار کرو۔ عبداللہ نے کہا کہ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ تم سے میرا حق وصول کرے( یعنی میں ہرگز تم سے راضی نہ ہوں گا۔)

نیز نقل کیا ہے کہ جس وقت ابوذر کو ربذہ کی طرف جلا وطن کیا گیا تو ان کی مشایعت کے جرم میں عبداللہ کے جسم پر چالیس تازیانے لگائے لہذا عبداللہ نے عمار یاسر کو وصیت کی کہ عثمان کو میرے جنازے پر نماز نہ پڑھنے دینا، عمار نے بھی اس کو منطور کیا اور عبداللہ کی وفات کے بعد اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ ان کے جنازے پر نماز پڑھ کے دفن کیا۔

جس وقت عثمان کو اس کی اطلاع دی گئی تو عبداللہ کی قبر پر آئے اور عمار سے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا میں ان کی وصیت سے مجبور تھا ( عمار کا یہی عمل اس کینے کا سبب ہوا جو بعد کو ان کے ساتھ برتا گیا۔)

واقعا خلیفہ عثمان کے حرکات جیسا کہ آپ کے اکابر علماء و مورخین نے لکھا ہے حیرت انگیز ہیں، خصوصا وہ برتاوے جو وہ رسول اللہ(ص) کے خاص اور پاکباز صحابہ کے ساتھ عمل میں لاتے تھے کیونکہ ابوبکر اور عمر نے بھی ہرگز ایسے کام نہیں کئے بلکہ وہ عثمان کے طریقے کے خلاف اصحاب رسول(ص) کا پورا احترام کرتے تھے۔

عثمان کے حکم سے عمار کی زد و کوب

عثمان کے جو اعمال ان کی رحم دلی پر دلالت کرتے ہیں ان میں سے پیغمبر(ص) کے خاص صحابی جناب عمار یاسر کی توہین اور زد و کوب بھی ہے۔ چنانچہ فریقین کے علماء و مورخین نے لکھا ہے کہ جب بلاد اسلام میں عمال بنی امیہ کا ظلم و تعدی بہت بڑھ گیا تو اصحاب رسول(ص) نے جمع ہو کر عثمان کو ایک خط لکھا جس میں ان کے مظالم یاد دلائے اور مشفقانہ نصیحتیں گوش گذار کیں کہ اگر آپ ظالم اموی عمال کے رویے کی پیروی اور حمایت کرتے رہئے گا اور نیز اپنے مصاحبین کے طور طریقے پر نظر ثانی نہ


کیجئے گا تو اس سے جو کچھ آپ اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں اس سے زیادہ خود آپ کو اس کے نتائج اور خمیازہ بھگتنا پڑے گا اس کے بعد مشورہ کیا کہ یہ خط کون لے جائے۔ بالاخرہ طے پایا کہ عمار کا لے جانا مناسب ہوگا اس لیے کہ ان کے فضل و تقوی اور عظمت کے خود عثمان بھی قائل ہیں اور ان کو بارہا یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا ہے کہ ایمان عمار کے خون اور گوشت میں پیوست ہے۔ نیز آن حضرت(ص) سے یہ بھی نقل کرتے تھے کہ فرمایا، بہشت تین اشخاص کی مشتاق ہے، علی ابن ابی طالب(ع) سلمان اور عمار یاسر۔ لہذا اصحاب کی درخواست پر جناب عمار وہ کاغذ لے کر عثمان کے گھر گئے عثمان گھر سے نکل رہے تھے ، دروازے پر عمار کو دیکھا تو پوچھا یا ابا یقظان ( کنیت عمار) کیا کام ہے؟ کہا میرا کوئی ذاتی کام نہیں ہے بلکہ اصحاب رسول(ص) کی ایک جماعت نے اس خط میں آپ کی نیکی اور خیر خواہی کی کچھ باتیں درج کی ہیں اور میرے ذریعے سے بھیجا ہے لہذا اس کو پڑھ کر جواب دے دیجئے۔ انہوں نے خط لیا اور جو نہی چند سطریں پڑھیں بپھر گئے اور لال پیلے ہو کر خط کو زمین پر ٹپک دیا جناب عمار نے فرمایا آپ نے اچھا نہیں کیا، اصحاب رسول(ص) کے خط کا احترام کرنا چاہیے تھا اسی کو زمین پر کیوں ٹپک دیا دیا چاہئیے تو یہ تھا کہ اس کو با قاعدہ پڑھتے اور جواب دیتے انہوں نے انتہائی غصے کے ساتھ کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو اس کے بعد اپنے غلاموں کو حکم دیا جنہوں نے جناب عمار کو سختی سے مارا پیٹا ۔ ان کو زمین پر گرا کر مارتے رہے یہاں تک کہ خود عثمان نے بھی ان کے پیٹ پر گئی لاتیں ماریں جن کی چوٹوں سے یہ بزرگوار مرض فتق میں مبتلا ہوگئے اور بے ہوش ہوگئے، ان کے عزہ آکر ان کو ام المومنین ام سلمہ کے گھر اٹھا لے گئے جہاں یہ ظہر کے وقت سے لے کر آدھی رات تک بے ہوش پڑے رہے یہاں تک کہ چار نمازوں کا وقت گزر گیا۔ جب ہوش میں آئے تو ان کی قضا پڑھی۔

آپ کی معتبر کتابوں میں ان قضیوں کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ میں اور مسعودی مروج الذہب جلد اول ص427 میں مطاعن عثمان کے سلسلے میں لکھتے ہیں کہ قبیلہ بذیل اور بنی مخزوم کا عثمان سے برگشتہ ہوجانا عبداللہ ابن مسعود اور عمار یاسر کے ساتھ ان کے سخت برتائو اور مار پیٹ کی وجہ سے تھا۔

اب فیصلہ آپ حضرات کے انصاف پر چھوڑتا ہوں تاکہ ان کی رقت قلب اور رحمدلی کی جانچ کرسکیں۔

ابوذر کی ایذا اور جلا وطنی اور صحرائے ربذہ میں ان کی وفات

چوتھے رسول اللہ(ص) کے خاص اور محبوب صحابی جندب بن جنادہ ابوذر عفاری کے ساتھ جو صحابہ میں اسلام کے دوسرے بڑے عالم تھے ان کا طرز عمل ہر آزاد منش انسان کو متاثر کرتا ہے۔

فریقین کے تمام ارباب حدیث اور بڑے بڑے مورخین کو اعتراف ہے کہ نوے سال کے مرد بزرگ کس قدر ذلت و اذیت کے ساتھ شام کو اور وہاں سے مدینے اور مدینے سے اپنی لڑکی کے ہمراہ بے کجادہ اونٹ پر ربذہ کے


بے آب و گیاہ صحرا کی طرف جلا وطن کئے گئے یہاں تک ہاسی بیابان یں ابوذر کی وفات ہوئی اور ان کی یتیم بچی اس خوفناک وادی میں بے سرپرست اور تنہا رہ گئی، آپ کے بڑے بڑے علماء و مورخین جیسے ابن سعد نے طبقات جلد چہارم ص168 میں بخاری نے اپنی صحیح کتاب زکوۃ میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد اول ص240 نیز جلد دوم ص375 تا ص387 میں، یعقوبی نے اپنی تاریخ جلد دوم ص148 میں، چوتھی صدی کے مشہور ومعروف محدث ومورخ ابو الحسن علی ابن الحسین مسعودی متوفی سنہ346ھ نے مروج الذہب جلد اول ص438 میں اور دوسروں نے بھی جن کے مفصل تذکرے کا وقت نہیں ہے اس مرد بزرگ، مومن پاک نفس اور محبوب رسول(ص) کے ساتھ عثمان اور معاویہ و مروان وغیرہ جیسے اموی عمال کے سخت برتائو نیز ابوذر کی مشایعت کرنے کے جرم میں امیرالمومنین علیہ السلام کی اہانتیں اور اسی جرم میں حافظ و کاتب وحی عبداللہ ابن مسعود کو چالیس کوڑے مارنے کا حال درج کیا ہے۔

حافظ : اگر ابوذر کو کوئی تکلیف پہنچی تو نا اہل عالموں کے طرز عمل سے پہنچی ورنہ خلیفہ عثمان تو بہت ہی رحم دل اور رقیق القلب تھے اور ایسی حرکتوں سے قطعا نا واقف تھے۔

خیر طلب : مثل مشہور ہے کہ " ماں سے زیادہ دائی مہربان" جناب عالی خلیفہ عثمان کی طرف سے جو صفائی پیش کر رہے ہیں وہ حقیقت اور واقعے کے بالکل خلاف ہے۔ اگر آپ اپنی معتبر تاریخی کتابوں کی طرف رجوع کیجئے تو ماننا پڑیگا کہ جتین تکلیفیں اور اذیتیں جناب ابوذر کو پہنچیں وہ خود خلیفہ کے صریح حلم سے پہنچیں۔

اس بات پر آپ کے اکابر علماء کی معتبر کتابیں گواہ ہیں، میری درخواست ہے کہ نمونے کے لیے نہایہ ابن اثیر جلد اول تاریخ یعقوبی اور بالخصوص شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ( مطبوعہ مصر) جلد اول ص241 کو ملاحظہ فرمائیے جن میں معاویہ کے نام خلیفہ کے خط درج کیا گیا ہے کہ جب معاویہ نے شام سے ابوذر کی بدگوئی کی تو خلیفہ عثمان نے ان کو لکھا کہ ان کو سختی کے ساتھ مدینے روانہ کرو۔ اصلی خط یہ ہے۔

"فكتب عثمان إلى معاوية: أمّابعدفاحمل جندباعلى أغلظ مركب وأوعره. فوجّه به مع من ساربه الليل والنهاروحمله على شارف ليس عليهاإلّاقتب حتّى قدم به المدينةوقدسقط لحم فخذيه من الجهد."

یعنی عثمان نے معاویہ کو لکھا کہ جندب ( ابوذر کا نام) کو ایک بوڑھے اور بے کجادہ اونٹ پر بٹھا کر ایک بد مزاج انسان کے ہمراہ جو رات دن اس کو دوڑاتا ہوا میرے پاس لائے روانہ کرو ( چنانچہ انکے حکم کے مطابق اس عابد و زاہد اور محبوب خدا و رسول(ص) صحابی کو اسی طریقے سے لایا گیا) جس وقت یہ مدینے پہنچے ہیں تو ان کی رانوں کا گوشت کٹ کٹ کر گر گیا تھا۔

خدا کے لیے انصاف کیجئے کیا عطوفت و مہربانی اور رحم و رقت قلب کے یہی معنی ہیں؟


ابوذر محبوب خدا اور رسول(ص) اور امت کےسب سے سچے انسان تھے

کیا ابوذر کے بارے میں خدائے تعالی اور پیغمبر اسلام کی طرف سے کافی ہدایتیں صادر نہیں ہوئی ہیں اور ان مفصل روایات کو آپ کے بڑے علماء نے اپنی مبسوط کتابوں میں درج نہیں کیا ہے۔

چنانچہ حافظ ابو نعیم اصفہانی نے حلیۃ الاولیاء جلد اول ص172 میں، ابن ماجہ قزوینی نے سنن جلد اول ص66 میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب 59 میں صواعق محرقہ ابن حجر مکی سے ان چالیس حدیثوں میں سے پانچواں حدیث جو انہوں نے فضائل امیرالمومنین(ع) میں ترمذی و حاکم سے نقل کی ہیں۔ شرط صحت کے ساتھ بریدہ سے، اور انہوں نے اپنے باپ سے، ابن حجر عسقلانی نے اصابہ جلد سیم ص455 میں، ترمذی نے صحیح جلد دوم ص213 میں، ابن عبدالبر نے اسیتعاب جلد دوم ص557 میں، حاکم نے مستدرک جلد سیم ص130 میں اور سیوطی نے جامع الصغیر میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا ۔

"إِنَ اللَّهَ أَمَرَنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةِوَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمَْقِيلَ: يَارَسُولَاللَّهِ سمهم لنا َقَالَ: عَلِيٌّ منهم يقول ذالک ثلاثاء أَبُوذَرٍّوَالْمِقْدَادُ سَلْمَانُ ."

یعنی خدانے مجھ کو چار شخصوں کی محبت کا حکم دیا ہے اور خبر دی ہے کہ وہ بھی ان کو دوست رکھتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ(ص) ہمارے لیے ان کے نام بیان فرمائیے تو فرمایا ان میں سے علی(ع) ہیں، اور ابوذر و مقداد و سلمان۔

پس معلوم ہوا کہ یہ چاروں حضرات خدا و رسول اللہ(ص) کے محبوب ہیں۔ آیا آپ حضرات کا انصاف اس کی اجازت دیتا ہے کہ خدا و رسول(ص) کے محبوب سے ایسا غیر منصفانہ برتائو کیا جائے اور اس کا نام رحمدلی اور رقت قلب رکھا جائے؟ ابوبکر و عمر کو یہ الزام کیوں نہیں دیا گیا؟ چونکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا لہذا نہ تاریخ میں آیا نہ ہم نے کہا۔

حافظ : جیسا کہ مورخین ن لکھا ہے ابوذر ایک ہنگامہ پسند انسان تھے شام کے اندر علی کرم اللہ وجہہ کے نام پر سخت پروپیگنڈا کررہے تھے اور شامیوں کو علی(ع) کی طرف ترغیب دے رہے تھے، کہتے تھے کہ میں نے پیغمبر(ص) سے سنا ہے کہ فرمایا : علی(ع ) میرے خلیفہ ہیں۔ چونکہ یہ دوسروں کو غاصب اور علی(ع) کو خلیفہ منصوص ظاہر کرتے تھے لہذا خلیفہ عثمان رضی اللہ مجبور تھے کہ اتحاد کی حفاظت اور فساد کی روک تھام کے لیے ان کو شام سے بلا لیں۔

جس وقت کوئی شخص لوگوں کو اجتماعی مصلحت کے خلاف اکسائے تو خلیفہ وقت پر واجب ہے کہ اس کو محل انقلاب سے نکال دے۔

خیر طلب : اول یہ کہ اگر کوئی شخص حق بات کہے تو کیا یہی چاہیئے کہ اس کو جلا وطن اور مبتلائے مصیبت بنا دیا جائے کہ تم کیوں اپنے سچے معلومات کو ظاہر کرتے ہو؟ فرض کیجئے کہ ایک معمولی مسلمان ہو تو کیا بلا تحقیق اور بغیر چغلی کھانے والے کی بات کا جھوٹ سچ پرکھے ہوئے اس کو شہر بدر یا دار الخلافت کو روانہ کرنے کا حکم دے دیا جائے؟ آیا اسلام کا


مقدس قانون یہی حکم دیتا ہے کہ ایک نحیف اور ضعیف انسان کو بوڑھے اور بے کجادہ اونٹ پر سوار کر کے ایک تند غلام کے شکنجے میں دے کہ بھیجنے کی تاکید کی جائے جو رات دن نہ سونے دے نہ ٹھہرنے دے اور جب منزل پر پہنچے تو اس کے پائوں کا گوشت اڑچکا ہو؟ کیا یہی ہیں رقت القلب اور رحم و مروت کے معنی؟

اس کے علاوہ خلیفہ کے پیش نطر اتحاد کی حفاظت اور فساد کی روک تھام ہی تھی تو فسادی امویوں کو جیسے رسول خدا(ص) کے طرید و راندہ درگاہ مروان اور علی الاعلان فسق و فجور کرنے والے بے دین ولید کو جو نشے کی حالت میں نماز پڑھتا تھا اور مسجد کی محراب میں قے کرتا تھا نیز اسی طرح کے اور لوگوں کو کیوں نہیں اپنے پاس سے نکال باہر کیا تاکہ ان کے طور طریقے جماعت کے اندر فساد اور خلیفہ کے قتل کا باعث نہ بنیں؟

حافظ : یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ ابوذر سچ کہتے تھے اور صحیح معلومات کا اظہار کرتے تھے اور رسول خدا(ص) کے نام سے حدیث نہیں گھڑتے تھے؟

اںصاف سے فیصلہ کرنا چاہیئے تاکہ جہالت کے پردے چاک ہوں

یہاں سے معلوم ہوا کہ خاتم الانبیاء(ص) نے خود ان کی صداقت اور سچائی کی تصدیق فرمائی ہے، چنانچہ معتبر روایات میں وارد ہے اور آپ کے اکابر علماء نے درج کیا ہے کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا میری امت کے اندر ابوذر صداقت و راستی اور زہد و تقوی میں ایسے ہیں جیسے بنی اسرائیل کے اندر حضرت عیسی۔

چنانچہ محمد بن سعد نے جو آپ کے اکابر علماء محدثین میں سےہیں طبقات جلد چہارم ص67، ص168 میں، ابن عبدالبر نے استیعاب جلد اول باب جذب ص84 میں، ترمذی نے صحیح جلد دوم ص241 میں، حاکم نے مستدرک جلد سیم ص342 میں ، ابن حجر نے اصابہ جلد سیم ص622 می، متقی ہندی نے کنز العمال جلد ششم ص169 میں، امام احمد بن حنبل نے مسند جلد دوم ص163 و ص175 میں، ابن الحدید شرح نہج البلاغہ جلد اول ص241 میں واحدی سے، حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیہ میں اور صاحب لسان العرب و ینابیع المودۃ نے اخبار ابوذر عفاری میں ۔۔۔۔ متعدد سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا : "ماأقلّت الغبراءولاأظلّت الخضراءاصدق لهجةمن أبي ذر" یعنی زمین نے کسی ایسے مرد کو نہیں اٹھایا اور آسمان نے کسی ایسے مرد پر سایہ نہیں ڈالا جو ابوذر سے زیادہ سچ بولنے والا ہو۔

بدیہی بات ہے کہ آپ کے علماء کی شہادت کے مطابق پیغمبر(ص) نے جس کی راست گوئی کی تصدیق کی ہو وہ جو کچھ کہتا تھا یقینا سچ کہتا تھا اور خدا کسی جھوٹے جعلساز اور حدیث گھڑنے والے کو ہرگز اپنا محبوب نہیں بناتا۔ بہتر ہوگا کہ انصاف کی نگاہوں سے دیکھئے تاکہ حق اور حقیقت سامنے آجائے۔ اگر ابوذر کے جھوٹ بولنے کی کوئی مثال ہوتی تو آپ کے علمائے


متقدمین قطعا اس کو نقل کرتے جیسا کہ ابوہریرہ وغیرہ کا کچا چٹھا نقل کیا ہے۔

آپ کو خدا کا واسطہ تھوڑا غور کیجئے اور ذرا انصاف سے کام لیجئے کہ جو شخص رسول اللہ(ص) کا خاص صحابی، خدا اور رسول(ص) کا محبوب اور امت کا صادق و راست گو ہو وہ اگر اپنے دینی فرض پر عمل کرتے ہوئے امر بالمعروف اور اشاعت حق کرے تو اس کی اس خطا پر کہ رسول اللہ(ص) کی حدیثیں کیوں بیان کیں اس قدر توہین اور زجر و توبیخ کریں، یہاں تک کہ وہ ایک بے آب و گیاہ بیابان میں دنیا سے کوچ کرے۔ کیا رحم و مروت اور رقت قلب کے معنی یہی ہیں؟

اور وہ بھی ایسے شخص کے بارے میں کہ جب رسول اللہ(ص) ان کی آنے والی مصیبتوں کی خبر دے رہے تھے تو ان کی پرہیزگاری کی گواہی بھی دی تھی، چنانچہ حافظ ابونعیم اصفہانی حلیۃ الاولیاء جلد اول ص162 میں اپنے اسناد کے ساتھ ابوذر غفاری سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں خدمت رسول(ص) می کھڑا ہوا تھا کہ آں حضرت(ص) نے مجھ سے فرمایا :

"أنت رجل صالح وسيصيبك بلاءبعدي. قال أبوذر: في اللّه؟قال: «في اللّه»فقال أبوذر: مرحبابأمراللّه."

( یعنی تم ایک مرد صالح ہو اور عنقریب میرے بعد تم پر بلائیں نازل ہوں گی میں نے عرض کیا کہ خدا کی راہ میں ؟ تو فرمایا ہاں خد کی راہ میں۔ میں نے کہا میں امر الہی کو خوش آمدید کہتا ہوں) ( آیا معاویہ اور عثمان کے مقرب بارگاہ بنی امیہ کے ہاتھوں ان دونوں کے حکم سے بزرگ صحابی ابوذر کا ابتلا و بے آب و گیاہ صحرا میں ان کی جلا وطنی اور شدید تکلیفیں وہ عظیم بلا نہیں تھی جس کی خبر رسول خدا(ص) دے چکے تھے کہ وہ خدا کے لیے اس آفت میں مبتلا ہوں گے؟ "فَاعْتَبِرُواياأُولِي الْأَبْصارِ "

آپ حضرات کے متضاد حالات سے سخت تعجب ہوتا ہے کہ ایک طرف تو یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا ہے میرے سارے اصحاب ستاروں کے مثل ہیں ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پائو گے، اور دوسری طرف جب ایک بزرگ ترین صحابی رسول(ص) کو اس جرم میں کہ علی(ع) کی طرفداری کیوں کی اس قدر ظلم و تشدد کر کے مار ڈالتے ہیں تو آپ ظالمون کی طرف سے صفائی دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

اب یا تو آپ اپنے تمام بزرگ علماء کو جھٹلائیے جنہوں نے ان واقعات اور احادیث کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے یا تصدیق کیجئے کہ صفات آیہ مذکورہ کے حامل وہ لوگ نہیں تھے جنہوں نے رسول خدا(ص) کے پاک صحابہ پر ایسے مظالم کئے۔

ربذہ کی طرف ابوذر(رض) کا زبردستی اخراج

حافظ : یہ تو مسلم ہے کہ ابوذر نے اپنی خواہش اور اختیار سے ربذہ کو قبول کیا اور اس طرف روانہ ہوئے۔

خیر طلب : آپ کی یہ گفتگو ان بے جا کوششوں کا اثر ہے جو آپ کے متعصب متاخرین علماء نے اسلاف کی حرکتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کی ہیں، ورنہ جناب ابوذر کا زبردستی نکالا جانا عام طور پر مسلم ہے۔ نمونے کے لیے ایک روایت


پر اکتفا کرتا ہوں جس کو امام احمد بن حنبل نے مسند جلد پنجم ص156 میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد اول ص241 میں اور واقدی نے اپنی تاریخ میں ابوالاسود دئوئلی سے ( جو آپ کے علماءے رجال کے نزدیک ثقات میں سے ہیں) نقل کیا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ ربذہ میں ابوذر سے ملاقات کر کے ان کی جلا وطنی کا سبب دریافت کروں لہذا میں گیا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا مجھ کو زبردستی شہر بدر کر کے اس بے آب و گیاہ صحرا میں بھیجا گیا ہے اور رسول اللہ(ص) مجھ کو اس کی خبر بھی دے چکے تھے ایک روز مسجد میں سوگیا تھا، آںحضرت(ص) تشریف لائے اور پائوں مار کر فرمایا مسجد میں کیوں سور رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ مجھ کو بے اختیار نیند آگئی، تو فرمایا کہ اس وقت تم کیا کرو گے جب مدینے سے نکال دیے جائو گے؟ میں نے عرض کیا کہ شام کی مقدس سرزمین پر چلا جائوں گا فرمایا اس وقت کیا کرو گے جب وہاں سے بھی تم کو نکال دیں گے؟ میں نے عرض کیا پھر مسجد کی طرف واپس آجائوں گا۔فرمایا اس وقت کیا کرو گے جب یہاں سے بھی نکالے جائو گے؟ میں نے عرض کیا تلوار کھینچ کر جنگ کروں گا فرمایا آیا میں تم کو ایسی بات بتائوں جس میں تمہاری بھلائی ہو؟ میں نے عرض کیا ہاں، تو فرمایا :" انسق معهم حيث ساقوك (1) وتسمع وتطيع" (یعنی پس میں نے سنا اور اطاعت کی، اس وقت فرمایا : " والله ليلقين الله عثمان وهوآثم في جنبي." ( یعنی خدا کی قسم عثمان اس حالت میں خدا کے سامنے جائیں گے کہ وہ میرے معاملہ میں گنہگار ہوںگے۔

علی ابن ابیطالب (ع) کا رحم و کرم

اگر غور و اںصاف اور غیر جانبداری کی نظر سے دیکھئے تو تصدیق کیجئے گا کہ اس رحم و کرم اور شفقت و عطوفت میں سب سے اولی واہل اور احق حضرت امیرالمومنین علیہ السلام تھے کیونکہ جب آپ خلافت ظاہری کی مسند پر بیٹھے تو جیسا کہ آپ کے تمام مورخین بالخصوص ابن ابی الحدید نے تفصیل سے لکھا ہے۔ بدعتوں کو برطرف کیا۔ حکام و عمال جور و فساد اور فاسقین بنی امیہ وغیرہ کو جو زمانہ خلافت عثمان میں اسلامی ممالک کی حکومتوں پر مسلط کردیے گئے تھے، معزول کردیا۔

بعض ظاہربین سیاستدانوں اور دلچسپی رکھنے والے دوستوں نے اس جامع و مانع ذات کے سامنے یہ مشورہ رکھا کہ چند روز ان معاویہ جیسے حکام کو ان کی جگہوں پر رہنے دیجئے تاکہ آپ کی حکومت مضبوط ہوجائے، اس کے بعد ان کو معزول کرنے میںکوئی حرج نہ ہوگا۔ حضرت نے فرمایا : " واللّه لاادهن في ديني،ولااعطي الرياءفي أمري. "( یعنی خدا کی قسم میں دین کے معاملے میں چاپلوسی اور اپنے کام میں ریاکاری نہیں کرتا۔)

تم مجھ کو روا داری پر مجبور کرتے ہو لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ جتنی مدت تک وہ میری طرف سے حکومت پر بر قرار رہیں گے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 ۔یعنی و ہجد ھر جائی ںچل ےجانا ۔12 باقری


بہ دستور ظلم و تعدی میں مشغول رہیں گے اور مجھ کو خدائے عزوجل کی بارگاہ میں جواب دینا ہوگا

جس کو مجھ میں طاقت نہیں چنانچہ یہی حکام جور کی معزولی چند معاویہ جیسے جاہ طلب لوگوں کی مخالفت کا سبب اور جمل کی لڑائیوں کا پیش خیمہ بنی جس وقت طلحہ اور زبیر کوفے اور مصر کی حکومت مانگنے آئے تھے اگر حضرت ان کو حاکم بنا دیتے تو وہ مخالفت پر آمادہ نہ ہوتے اور بصرے کا فتنہ اور جنگ برپا نہ کرتے۔

بعض کوتاہ فہم اور ظاہر بین لوگ حضرت کی مستحکم سیاست پر اعتراض کرتے ہیں، حالانکہ آپ سیاست عادلانہ کے مرکز تھے۔ عام معنی میں سیاست جس پر دنیاداروں کا عمل ہے یعنی دوزخی پالیسی ، ریاکاری، چاپلوسی، جھوٹ، دشمنوں کی خوشامدی اور ظاہری منفعتوں کے لیے ان کو فریب دینا وغیرہ تو یہ البتہ حضرت سے کوسوں دور تھی کیونکہ آپ عدل ، اںصاف اور خوف الہی کے مجسمہ اور روز جزا کے معتقد تھے۔

جس وقت آپ نے بالائے منبر اپنے خطبوں کے درمیان گریہ فرمایا اور لوگوں نے رونے کا سبب پوچھا تو فرمایا میں نے سنا ہے کہ معاویہ کی فوجوں نے ایک گائوں پر چھاپہ مار کر یہودی کی لڑکی کے پائوں سے پا زیب اتار لی حالانکہ وہ جزیہ اور اسلام کی پناہ میں ہے ان حضرت کی رحمدلی دوست و دشمن سب کے ساتھ یکسان تھی۔ باوجودیکہ عثمان نے حضرت کے ساتھ اس قدر بد سلوکیاں کی تھیں ( جس قدر ابوبکر و عمر نے بھی علاوہ خلافت ابوبکر کے ابتدائی زمانے کے ظاہر بظاہر کبھی نہیں کی تھیں۔) پھر بھی جس وقت ان کا محاصرہ کیا گیا ہے اور انہوں نے اپنے مکان کی چھت پر سے حضرت کو یہ پیغام دیا کہ ہم پر کھانا پانی بند کردیا گیا ہے تو حضرت نے فورا آپ و طعام مہیا کرکے اپنے دونوں فرزندوں حسن و حسین علیہما السلام کے ذریعے ان کے پاس بھیجا ، چنانچہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں اور دوسروں نے بھی اس کی تفصیل لکھی ہے۔

دوست و دشمن کے ساتھ حضرت کی عنایت و مہربانی سے کسی کو انکار نہیں تھا، بے بس عورتوں اور بیکس یتیموں سے اس قدر ہمدردی فرمائی کہ " ابوال أرامل والأيتام والمساكين ." ( یعنی بیوائوں، یتیموں اور مسکینوں کے باپ) مشہور ہوگئے تھے۔ خلافت ظاہری کے زمانے میں ایک عورت کو دیکھا کہ راستے میں پانی کی مشک لیے بہت پریشان اور تھکی ہوئی ہے آپ نے بغیر اپنے کو ظاہر کئے ہوئے مشک اس سے لے کر اپنے کاندھے پر رکھی اور اس کے گھر پہنچا دی۔ اس کے لیے خرمے لے گئے، اس کے یتیم بچوں پر شفقت فرمائی اور تنور میں ان کے لیے روٹیاں پکا کر ان کی تسکین کا سامان فرمایا۔

خلیفہ عثمان نے بھی سخاوت اور بخشش میں نام پیدا کیا لیکن صرف اپنے گھرانے والوں کے ساتھ ، چنانچہ ابوسفیان ، حکم ابن ابی العاص اور مروان ابن حکم وغیرہ مسلمانوں کے بیت المال سے بغیر کسی شرعی حق کے لا تعداد دولت سمیٹتے تھے۔

زیادہ امداد مانگنے پر عقیل کی تنبیہ

لیکن امیرالمومنین علیہ السلام اپنے قریبی خاندان کو بھی ضرورت کی کم سے کم مقدار دیتے تھے، جس وقت حضرت کے


بڑے بھائی جنا عقیل نے حاضر خدمت ہو کر معمولی حقوق سے زیادہ امداد طلب کی تو آپ نے کوئی توجہ نہیں فرمائی انہوں نے حد سے زیادہ اصرار کیا کہ آپ چونکہ آج خلیفہ اور سارے نظم و نسق کے مالک ہیں لہذا ہماری حاجب روائی اور امداد زیادہ ہونا چاہیئے۔ حضرت نے اپنے بھائی کو متنبہ کرنے کے لیے چپکے سے ایک لوہے کا ٹکڑا آگ میں گرم کیا اور عقیل کے جسم سے قریب لے گئے

" فضج ضجيج ذيدنف من ألمها،وكادأن يحترق من ميسمها."

(یعنی انہوں نے اس کی تکلیف سے دردناک چیخ ماری اور قریب تھا کہ اس کے اثر سے جل جائیں حضرت(ع) نے فرمایا :

"ثكلت كالثواكل ياعقيل،أتئن من حديدةأحماهاانسان هاللعب هوتجرّني الىنارسجّرهاجباره الغضبه،أتئن من الاذىولاأإن من لظى"

( یعنی رونے والیاں تمہارے سوگ میں بیٹھیں اے عقیل آیا تم اس لوہے کے ٹکڑے سے فریاد کرتے ہو جس کو انسان نے کھیل کے طور پر گرم کیا ہے اور مجھ کو اس آگ کی طرف کھینچ رہے ہو جس کو خدائے قہار نے اپنے غضب سے بھڑکایا کیا تم اس معمولی سی تکلیف سے فریاد کرو اور میں آتش جہنم سے پناہ نہ مانگوں؟

اب یہ آپ حضرات کے انصاف پر ہے کہ ان دونوں خلیفہ کی حالت اور طرز عمل کا موازنہ کر کے حقیقت کو پرکھیں اور حق کی پیروی کریں۔ آپ کی شفقت و مہربانی دوستوں سے مخصوص نہ تھی بلکہ اس لطف و کرم کے برتائو میں حضرت کے نزدیک دوست دشمن سب برابر تھے۔

مروان ، عبداللہ ابن زبیر اور عائشہ کے ساتھ حضرت کی عنایتیں

آپ جس وقت دشمنوں پر غالب آتے تھے تو ایسی مہربانی فرماتے تھے کہ لوگ حیران رہ جاتے تھے حضرت کا ایک جانی دشمن جس کا بغض و عداوت آپ سے ضرب المثل بن گیا تھا، ملعون ابن ملعون مروان بن حکم شقی تھا لیکن جب آپ جنگ جمل میں اس پر غالب ہوئے تو فصفع عنہ اس سے در گزر فرمائی اور بخش دیا۔

من جملہ حضرت کے بڑے دشمنوں کے عبداللہ بن زبیر بھی تھے جو " يَشْتِمُهُ عَلَى رُءُوس الْأَشْهَادِوَخَطَبَ يَوْمَ الْبَصْرَةِفَقَالَ قَدْأَتَاكُمُ الْوَغْبُ اللَّئِيمُ عَلِيُّ بْنُ أ َبِي طَالِبٍ" ( یعنی علانیہ اور کھلم کھلا آپ کو گالی دیتے تھے اور جب بصرے میں خطبہ پڑھا تو لوگوں سے کہا کہ تمہاری طرف بے وقوف کمینہ ذلیل اور بخیل علی ابن ابی طالب آئے ہیں)( معاذ اللہ) اس کے باوجود جس وقت آپ نے جنگ جمل ختم کی اور یہ قید کر کے حضرت کے سامنے لائے گئے تو آپ نے کوئی سخت لفظ استعمال کیا نہ غصہ دکھایا ، بلکہ درگزر کرتےہوئے اپنا منہ پھیر لیا اور اس کو بخش دیا۔

اور اسب سے بالاتر ام المومنین عائشہ کے ساتھ آپ کا سلوک تھا جس نے عقلوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ انہوں نے آپ کے شروع زمانہ خلافت میں جس طریقے سے فتنہ انگیزی کی، آپ کے مقابلے میں صف آرائ ہوئیں اور آپ کو بدنام کیا


یہ انسان کو اتنا برافروختہ کردیتا ہے کہ جب ایسے شخص پر قابو پاتا ہے تو اس کا بھیجا نکال دیتا ہے، اور سخت سزائیں دیتا ہے لیکن جب حضرت ان پر غالب ہوئے تو ان کی کوئی ہلکی اہانت بھی نہیں کی، بلکہ ان کے بھائی محمد بن ابی بکر کو ان کی خدمت کے لیے معین فرمایا۔ کاموں سے فارغ ہونے کے بعد غصے اور بے مروتی کے عوض رحم و کرم سے پیش آئے اور آپ کے حکم سے قبیلہ عبدالفیس کی بیس(20) عدد تندرست عورتیں مردانہ لباس پہنے تلواریں کمر سے لگائے اور چہروں پر نقاب دالے ہوئے تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ یہ عورتیں ہیں عائشہ کے ہمراہ مدینے روانہ ہوئیں۔ جس وقت یہ زنان مدینہ اور ازواج رسول(ص) کے سامنے حضرت علی(ع) کے لیے تشکر و اتمنان کا اظہار کررہیں تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ میں زندگی بھر کا علی(ع) کا ممنون احسان رہوں گی، مجھ کو یہ خیال نہیں تھا کہ علی(ع) اس قدر عالی فطرت ہوں گے کہ باوجود میری اس قدر دشمنی اور فتنہ انگیزیوں کے مجھ کو ایک کلمہ بھی نہیں کہیں گے بلکہ انتہائی مہربانی اور رحم و کرم سے کام لیں گے۔ لیکن اس سے ایک شکایت ہے کہ مجھ کو اجنبی مردوں کے ساتھ مدینے کیوں بھیجا۔ ان کنیزوں نے آکر فورا مردانہ لباس اتار دیا اور چہرے کھول دیے تب معلوم ہوا کہ یہ سب کنیزیں تھیں جو مردانہ لباس میں ہمراہ تھیں تاکہ ایک طرف تو راستے کے لوگ یہ سمجھیں کہ مردانہ دستہ ے۔ لہذا رہزنی کی ہمت نہ کریں اور دوسری طرف عائشہ کی روانگی بھی مردوں کے ساتھ نہ ہو۔ ٹھیک ہے۔

چنین کنند بزرگان چہ کرد باید کار

معاویہ کا پانی روکنا اور علی(ع) کا ان پر مہربانی کرنا

جنگ صفین میں معاویہ کا لشکر پہلے پہنچ کے نہر فرات پر قابض ہوگیا اور بارہ ہزار سپاہی اس کی نگرانی پر مقرر کردیے جب امیرالمومنین(ع) کی فوج پہنچی تو ان لوگوں نے پانی لینے سے روکا حضرت نے معاویہ کو پیغام دیا کہ ہم لوگ یہاں پانی پر جنگ کرنے نہیں آئے ہیں۔ اپنے آدمیوں سے کہہ دو کہ پانی بند نہ کریں تاکہ دونوں لشکر آزادی سے سیراب ہوں۔ معاویہ نے کہا کہ میں ہرگز پانی نہیں دوں گا یہاں تک علی(ع) مع اپنی فوج کے پیاس سے دم توڑ دیں۔ جس وقت حضرت نے یہ جواب سنا مالک اشتر کو سواروں کے ایک دستے کے ساتھ بھیجا جنہوں نے ایک ہی حملے میں معاویہ کے لشکر کو پراگندہ کردیا اور فرات پر قبضہ کر لیا۔

اصحاب نے عرض کیا کہ یا امیرالمومنین(ع) اگر اجازت ہوتو ہم بھی انتقام لیں اور ان پر پانی بند کر دیں تاکہ وہ لوگ پیاس سے ہلاک ہوجائیں پھر لڑائی جلد ختم ہوجائے۔ حضرت نے فرمایا :" لاوالله لاأكافئ هم بمثل فعله مافسحواله مع نبعضالشريعة" یعنی نہیں کدا کی قوسم میں انہیں کی ایسی حرکت کر کے بدلا نہیں لوں گا ان کے یے نہر کا ایک حصہ چھوڑ دو ( یعنی ادھر کا کنارہ ان کو دے دو، اس طرف کا پانی تمہارے لیے کافی ہے، میں نے جلسہ کا وقت دیکھتے ہوئے دشمنوں پر حضرت کی عنایت و مہربانی کے مفصل حالات سے مشتے نمونہ از خردارے چند مختصر باتیں پیش کی ہیں، لیکن آپ کے


بڑے بڑے علماء نے ان سارے مطالب کو تشریح و تفصیل سے درج کیا ہے۔ جیسے طبری نے اپنی تاریخ تاریخ میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب 51 میں اور مسعودی نے مروج الذہب میں، نیز دوسرے مورخین نے بھی حوالہ دیا ہے تاکہ روشن خیالی اور منصف مزاج حضرات دونوں خلیفہ ( عثمان و علی علیہ السلام) کے حالات کا الگ الگ جائزہ لیں اور عقل سلیم سے غور کریں کہ ان دونوں میں سے کون خلیفہ آیہ شریفہ و رحماء بینہم کا مصداق ہے پس اگر غور و انصاف سے دیکھیں گے تو تصدیق کریں گے کہ آیہ شریفہ کے معنی اس طرح ہوتے ہیں محمد رسول اللہ مبتداء والذین معہ معطوف بر مبتداء اور اس کی خبر اور جو کچھ اس کے بعد ہے خبر بعد از خبر ہے اور یہ ساری صفتیں ایک ہی شخص کی ہیں۔ یعنی پیغمبر(ص) کے ساتھ ہونا، میدان جنگ اور علمی و مذہبی مباحثوں میں کفار پر سخت و درشت ہونا اور دوست و دشمن پر مہربان و رحمدل ہونا یہ تمام صفات اسی شخصیت سے وابستہ ہیں جو دم بھر رسول خدا(ص) سے جدا نہ رہا ہو بلکہ جدائی کا خیال بھی نہ کیا ہو( جیسا کہ ہم پہلے ثابت کرچکے ہیں) اور وہ صرف علی ابن ابی طالب علیہ السلام تھے۔چنانچہ میں عرض کرچکا ہوں کہ علامہ فقیہہ محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں کہ اہے کہ خدا نے اس آیہ شریفہ سے علی علیہ السلام کی تعریف کی ہے۔

شیخ : آپ کے بیانات کے جوابات بہت ہیں، لیکن اگر آیت کے معنی یہی ہیں جو آپ کہہ رہے ہیں تو والذین معہ کے ساتھ درست نہیں ہوتے کیونکہ والذین معہ جمع ہے اور خود یہ عبارت بتاتی ہے کہ آیت ایک شخص کے بارے میں نازل نہیں ہوئی ہے کیونکہ اگر یہ صفات ایک ہستی کے لیے تھے تو جمع کی لفظ کیوں ذکر ہوئی۔

خیر طلب : اول تو آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ تمہارے بیانات کے جوابات بہت ہیں تو آخر آپ حضرات وہ جوابات کیوں نہیں دیتے تاکہ بات صاف ہوجائے؟ پس آپ حضرات کی خاموشی خود اس کی دلیل ہے کہ میرے دلائل منطقی ہیں( یہ دوسری بات ہے کہ ہٹ دھرمی اور مغالطہ بازی کا دروازہ ہر وقت کھلا ہوا ہے) اور آپ حضرات چونکہ اںصاف پسند ہیں لہذا میرے معقول جوابات کے مقابلے میں سکوت اختیار کرتے ہیں۔

آیت میں جمع کی لفظ تعظیم و تکریم کے لیے ہے

دوسرے جناب عالی کا یہ بیان محض کج بخثی ہے کیونکہ اول تو آپ خود جانتے ہیں کہ کلام عرب و عجم میں تعظیم و تکریم یا دوسرے اسباب کی بنا پر جمع کا اطلاق واحد پر عام طور سے رائج اور مستعمل ہے۔

باتفاق جمہور آیہ ولایت کا نزول علی(ع) کی شان میں

چنانچہ قرآن مجید جو ہمارے لیے مضبوط آسمانی سند ہے اس کے اندر ایسی مثالیں بکثرت ہیں، مثلا آیہ مبارکہ ولایت


سورہ نمبر5 ( مائدہ) آیت نمبر60 میں ارشاد ہے۔

"إِنَّماوَلِيُّ كُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُواالَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَوَيُؤْتُونَ الزَّكاةَوَهُمْ راكِعُونَ "

یعنی سوا اس کے نہیں ہے کہ تمہارے ولی امر اور اولی بالتصرف صرف خدا اور رسول(ص) اور وہ مومنین ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوۃ ادا کرتے ہیں۔

جس پر جملہ مفسرین و محدثین کا اتفاق ہے جیسے1۔ امام فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر جلد سیم ص431 میں۔ 2۔ امام ابواسحق ثعلبی نے اپنی کشف البیان میں۔ 3۔ جار اللہ زمخشری نے تفسیر کشاف جلد اول ص422 میں۔ 4۔ طبری نے اپنی تفسیر جلد ششم ص186 میں۔ 5۔ ابو الحسن ربانی نے اپنی تفسیر میں۔ 6۔ ابن ہوازن نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں۔ 7۔ ابن سعید قرطبی نے اپنی تفسیر جلد ششم ص221 میں۔ 8۔ نسفی حافظ نے اپنی تفسیر ص452 ( برحاشیہ تفسری خازن بغدادی) میں۔ 9۔ فاضل نیشاپوری نے غرایب القرآن جلد اول ص461 میں۔ 10۔ ابو الحسن واحدی نے اسباب النزول ص148 میں۔ 11۔ حافظ ابوبکر جصاس نے تفسیر احکام القرآن ص542 میں۔ 12۔ حافظ ابوبکر شیرازی نے فیما نزل من القرآن فی امیرالمومنین میں۔ 13۔ ابو یوسف شیخ عبدالسلام قزوینی نے اپنی تفسیر کبیر میں۔ 14۔ قاضی بیضاوی نے انوار التنزیل جلد اول ص245 میں۔ 15۔ جلال الدین سیوطی نے در المنثور جلد دوم ص264 میں۔ 16۔ قاضی شوکانی صنعائی نے تفسیر فتح القدیر میں۔ 17۔ سید محمد آلوی نے اپنی تفسیر جلد دوم ص349 میں۔ 18۔ حافظ ابن ابی شیبہ کوفی نے اپنی تفسیر میں۔ 19 ۔ ابوالبرکات نے اپنی تفسیر جلد اول ص496 میں۔ 20۔ حافظ بغوی نے معالم التنزیل میں۔ 21۔ امام ابوعبدالرحمن نسائی نے اپنی صحیح میں۔ 22۔ محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول ص23 میں۔ 23۔ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد سیم ص275 میں۔ 24۔خازن علاء الدین بغدادی نے اپنی تفسیر جلد اول ص496 میں۔ 25۔ سلیمان حنفی نے ینابیع المودۃ ص212 میں۔ 26۔ حافظ ابوبکر بیہقی نے کتاب مصنف میں۔ 27۔ زرین عبدری نے جمع بین الصحاح الستہ میں۔ 28۔ ابن عساکر مشقی نے تاریخ شام میں ۔ 29۔ سبط ابن جوزی نے تذکرہ ص9میں ۔ 30۔ قاضی عبدالحی نے مواقف ص256 میں۔ 31۔ سید شریف جرجانی نے شرح مواقف میں۔ 32۔ ابن صباغ مالکی نے فصول المہمہ ص123 میں۔ 33۔ حافظ ابوسعد سمعانی نے فضائل الصحابہ میں۔ 34۔ ابوجعفر اسکافی نے نقض العثمانیہ میں۔ 35۔ طبرانی نے اوسط میں۔ 36۔ ابن مغازلی فقیہہ شافعی نے مناقب میں۔ 37۔ محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں۔ 38۔ مولوی علی قوشجی نے شرح تجرید میں۔39۔ سید محمد مومن شبلنجی نے نور الابصار ص77 میں۔ 40۔ محب الدین طبری نے ریاض النفرہ جلد دوم ص227 میں۔ نیز اور آپ کے اکثر ارباب علم و دانش نے سدی ، مجاہد، حسن بصری ، اعمش، عتبہ بن ابی حکیم، غالب بن عبداللہ ، قیس بن ربیعہ ، عبابہ بن ربیعی، عبداللہ ابن عباس ( خیر امت و ترجمان القرآن ) ابو ذر غفاری ، جابر ابن عبداللہ انصاری، عمار، ابو رافع اور عبداللہ بن سلام وغیرہ سے نقل کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یہ آیت مبارکہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور ہر ایک نے مختلف عبارتوں کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ جس وقت حضرت نے حالت رکوع میں اپنی انگوٹھی راہ خدا میں سائل کو دی تو یہ آیت شریفہ نازل ہوئی حالانکہ اس میں بھی جمع کا لفظ استعمال ہوا ہے جو صرف منصب ولایت کی تعظیم و تکریم اور حضرت کی امامت و خلافت کو ثابت کرنے کے لیے ہے کیونکہ کلمہ حصر ( انما) کے ساتھ ارشاد ہوا ہے


کہ امت کے امور میں خدا و رسول کے بعد اولی بالتصرف وہی شخص ہے جس نے بحالت رکوع خدا کی راہ میں صدقہ اور خیرات دی ہے اور وہ علی ابن ابی طالب(ع) ہیں۔

شیخ : یقینا آپ کو ماننا پڑے گا کہ یہ مطلب اتنا محکم نہیں ہے جتنا آپ نے فرمایا ہے کیونکہ اس آیت کی شان نزول میں اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں انصار کی شان میں نازل ہوئی، کچھ کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت کی شان میں آئی اور بعض نے عبداللہ بن سلام کے لیے لکھا ہے۔

خیر طلب : آپ جیسے صاحبان علم سے تعجب ہے کہ ( علاوہ تواتر علمائے شیعہ کے) خود اپنے جمہور مفسرین اور اکابر علماء کے خیالات و عقائد کے خلاف جنہوں نے اس آیہ شریفہ کو شان امیرالمومنین(ع) میں نازل ہونے کی تائید و تصدیق کی ہے۔ چند متعصب اور مجہول و ضعیف القول افراد کے اختلافات کا جو شاذ و مردود اور ناقابل قبول ہیں سہارا ڈھونڈھتے ہیں، حالانکہ آپ کے محققین و اکابر فضلاء نے اس معنی پر اتفاق کا دعوی کیا ہے۔ مثلا فاضل تفتازانی اور مولوی قوشجی جو شرح تجرید میں کہتے ہیں۔

" انما نزلت بلاتفاق المفسرين في حق علی ابن ابی طالب عليه السّلام حين أعطى السّائل خاتمه وهوراكع في صلاته "

یعنی بہ اتفاق مفسرین یہ آیت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے حق میں نازل ہوئی جب کہ آپ نماز کے اندر رکوع کی حالت میں اپنی انگوٹھی سائل کو عطا کی۔

آیا ایک مںصف اور عالم انسان کی عقل اجازت دیتی ہے کہ اہل سنت کے جمہور مفسرین اور اکابر علماء کے اقوال کو نظر انداز کر کے بچے کچے خوارج و نواصب میں سے چند متعصب بلکہ معاند اشخاص کے مہمل و بے معنی اکا دکا اقوال پر بھروسا کرے؟

آیہ ولایت میں شبہات و اشکالات اور ان کے جوابات

شیخ : جناب عالی نے اپنے بیان میں کوشش کی ہے کہ اس آیت کو نقل کرتےہوئے اپنی چابکدستی سے علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت بلافصل اور امامت ثابت کردیں حالانکہ اس آیت میں ولی کا لفظ محب اور دوست دار کے معنی میں ہے نہ کہ امام اور خلیفہ بلافصل کے معنی میں۔ اگر آپ کا یہ مرفانان صحیح ہو کہ ولی سے خلیفہ اور امام مراد ہے العبرۃبعموم اللفظ لا بخصوص السبب کے قاعدے سے یہ صرف ایک ذات پر مشتمل نہ ہوگا بلکہ دوسرے افراد بھی اس میں شامل ہوں گے جن میں سے ایک علی کرم اللہ وجہہ بھی ہیں۔ نیز کلمہ ولیکم اللہ اور کلمہ الذین میں جمع کا صیغہ عموم کے لیے ہے اور جمع کا جمل واحد پر بغیر کسی دلیل کے اور کلام خدا کی تاویل اور بلا تجوز کے جائز نہیں ہے۔

خیر طلب : پہلی چیز تو یہ کہ آپ کو کلمہ ولیکم میں دھوکا ہوا ہے اس لیے کہ " ولی " مفرد" ہے اور کم " جمع ہے جس تعلق امت سے ہے لہذا یہاں واحد پر اطلاق نہیں ہے جس میں آپ اشکال وارد کرسکیں۔ البتہ ولی فرد واحد ہے


جس کو ہر زمانے میں امت پر ولایت حاصل ہے۔ دوسرے یہ کہ جن کلمات جمع میں بعض متعصبین اور خوارج و نواصب اعتراض و اشکال وارد کرنے کی کوشش کرتےہیں اور کہتے ہیں کہ واحد پر حمل نہیں ہوسکتے ہیں۔

اس اشکال کا جواب بھی اس مطلب کے اندر میں اپنی گفتگو میں دلیل کی حیثیت سے عرض کرچکا ہوں کہ اہل علم و ادب کے یہاں رائج اور ثابت ہے اور ادباء و فضلا کے بیانات میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ تعظیم وتکریم یا دوسرے اسبابکی بنا پر جمع کو واحد پر حمل کیا ہے علاوہ اس کے جیسا کہ آپ دعوی کررہے ہیں عموم لفظ کے لحاظ سے ہم بھی کلمہ حصر انما کے مطابق اس آیہ شریفہ کا نزول حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی شان میں سمجھتے ہیں لیکن اس کے مخصوص ہونے کا دعوی نہیں کرتے بلکہ دوسرے افراد معصومین(ع) کو بحِ اس میں شامل سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے معتبر اخبار و احادیث میں مروی ہے کہ عترت طاہرہ(ع) میں سے باقی ائمہ بھی اس آیت میں داخل ہیں، اور ہر امام منزل امامت کے قریب پہنچ کے اس فضیلت اور خصوصیت پر فائز ہوتا ہے ( یہی ہیں وہ افراد جنکے لیے آپ کا دعوی ہے کہ ان کو امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ اس آیت میں شامل ہونا چاہئیے)۔

چنانچہ جار اللہ زمخشری کشا میں کہتے ہیں کہ اگر چہ اس آیہ شریفہ میں حصر ہے۔ اور یہ علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے لیکن جمع کے ساتھ ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دوسرے بھی ان حضرت کی پیروی پر راغب ہوں۔

تیسرے یہ کہ آپ نے دعوی کو شبہے میں ڈالنے کے لیے اپنے بیان میں ایک بہت بڑا مغالطہ دیا ہے کہ شیعوں نے اس آیت کو تاویل کر کے علی علیہ السلام سے مخصوص کیا ہے حالانکہ ( سوا گنے چنے معاندین و مبغضین کے ، فریقین ( شیعہ و سنی) کے تمام مفسرین و محدثین کا اتفاق ہے کہ جیسا پہلے عرض کرچکا ہوں۔ اس آیت کی تنزیل ہی امیرالمومنین علیہ السلام کی شان میں ہوئی ہے نہ یہ کہ شیعوں کی تاویل سے یہ منصب ان حضرت کی طرف منسوب کردیا گیا ہو۔

شیخ : اس آیت میں "ولی" قطعا ناصر کے معنی میں ہے کیونکہ اگر اولی بالتصرف کے معنی میں ہوتا جو خلافت و امامت کی منزل ہے تو رسول اللہ(ص) کی زندگی میں بھی اس عہدے پر فائز ہونا چاہئیے تھا حالانکہ یہ بات صریحی طور پر باطل ہے۔

خیر طلب : یہ صرف یہ کہ اس عقیدے کے باطل ہونے پر آپ کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ بلکہ آیت کا ظاہری قرینہ بھی ان حضرت کے لیے اس مقام و منصب کے دوام کو ثابت کرتا ہے کیونکہ جملہ اسمیہ کی دلالت اور یہ کہ " ولی" صفت مشبہ ہے دونوں اس بلند منزلت کے ثبات و دوام کی دلیل ہیں اور پیغمبر(ص) کا غزوہ تبوک میں مدینہ منورہ کے اندر حضرت علی(ع) کو اپنا خلیفہ بنانا اور پھر مرتے دم تک معزول نہ کرنا اس مقصد کی تائید کرتا ہے، نیز حدیث منزلت بھی اس مطلب کی موئد ہے کہ رسول اللہ(ص) نے بارہا فرمایا علی منی بمنزلۃ ہارون من موسی( جس کی ہم گذشتہ شبوں میں پوری تشریح کرچکے ہیں) اور رسول اللہ(ص) کے زمانہ حیات میں اور بعد وفات ان حضرت کی ولایت پر بجائے خود یہ بھی ایک دوسری دلیل ہے۔

شیخ : میرا خیال ہے کہ اگر تھوڑا غور کیجئے تو ہمارے لیے یہی کہنا مناسب ہوگا کہ یہ آیت ان جناب کی شان میں نازل نہیں ہوئی کیونکہ علی کرم اللہ وجہہ کی منزل اس سے بلند ہے کہ اس آیت سے ان کے لیے کوئی فضیلت ثابت کی جائے،


قطع نظر اس سے کہ یہ کوئی فضیلت ثابت کرتی ان جناب کے فضائل پر ضرب بھی لگاتی ہے۔

خیر طلب : اول تو ہم اور آپ بلکہ امت کی کوئی فرد یہاں تک صحابہ کبار بھی اس کا حق نہیں رکھتے کہ آیتوں کی شان نزول میں دخل دیں، کیونکہ آیات کی شان نزول دل کی خواہش پر نہیں ہوتی، بلکہ اگر کچھ اشخاص اپنی مرضی سے معانی اور نزول آیات میں تصرف کریں تو یقینا وہ لوگ بے دین ہوں گے۔ جیسے بکرتنین جنہوں نے مشہور جعلسا ز عکرمہ کے قول پر اس آیت کا نزول ابوبکر کے بارے میں بتایا ہے۔

دوسرے جناب عالی جب بولنے پر آتے ہیں تو واقعا رموز و اسرار کا انکشاف کرتے ہیں اس لیے کہ یہ پہلا موقع ہے جب میں آپ سے ایسی بات سن رہا ہوں، حقیقتا آپ کا دماغ بلند ہے اور خوب نکتہ نکالا ہے۔ بہتر ہے فرمائیے کس پہلو سے یہ آیت حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے مرتبہ ولایت پر ضرب لگاتی ہے۔

شیخ : مولانا علی کرم اللہ وجہہ کے درجات عالیہ میں سے ایک یہ ہے کہ آپ نماز کے وقت خدا کی طرف ایسی توجہ رکھتے تھے کہ کبھی کسی نے اپنی طرف متوجہ ہوتے ہوئے نہیں دیکھا اور ہمارے نزدیک ثابت ہے کہ ایک لڑائی میں آپ کے جسم پر چند تیر ایسے لگے تھے کہ ان کا نکلنا سخت تکلیف کا باعث تھا لہذا جب آپ نماز پر کھڑے ہوئے تو وہ تیر نکال لئے گئے اور انتہائی خضوع و خشوع اور رحمت الہی میں استغراق کی وجہ سے آپ کو بالکل توجہ اور درد کا احساس نہیں ہوا۔ پس اگر یہ واقعہ صحیح ہو کہ ان جناب نے نماز میں سائل کو انگوٹھی دی تو اس سے آپ کی نماز پر بہت بڑی ضرب لگتی ہے۔ یہ کیونکر ممکن ہے کہ جو شخص بارگاہ خداوندی میں انتہائی حضور قلب کی وجہ سے نماز میں درد و الم کی طرف توجہ نہ کرے جو ہر انسان کی فطرت ہے وہ ایک سائل کی آواز پر اس طرح متوجہ ہوجائے کہ رکوع کی حالت میں اپنی انگوٹھی اس کودیدے؟

اس کے علاوہ عمل خیر اور وہ بھی ادائے زکوۃ میں نیت ضروری ہے لہذا حالت نماز میں جب کہ سرتا پا خدا کی طرف متوجہ رہنا چاہئے نیت نماز سے دوسری نیت کی طرف عدول اور مخلوق کی طرف توجہ کیونکر کی جاسکتی ہے؟ چونکہ ہم ان جناب کی منزل بلند سمجھتے ہیں، لہذا اس مفہوم کی تصدیق نہیں کرتے ۔ اگر سائل کو کچھ عطا بھی ہوا تو ہرگز حالت نماز میں نہیں ہوا۔ اس لیے کہ رکوع کا مطلب خشوع و تواضع ہے یعنی آپ نے خشوع و تواضع کے ساتھ انگشتری سائل کو دی نہ کہ حالت نماز میں۔

خیر طلب : عزیز من " آپ نے درد تو اچھا سیکھا لیکن دعا کا راستہ بھول گئے" آپ کا یہ اشکال تو مکڑی کے جالے بھی زیادہ کمزور ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ عمل آں حضرت کے مرتبے پر کوئی ضرب نہیں لگاتا بلکہ سائل کی طرف توجہ کرنا اس کو صدقہ دینا اور اس کا دل خوش کرنا تو موجب کمال ہے، اس لیے کہ حضرت علی علیہ السلام ہر وقت اور ہر حال میں خدا اور اس کی رضا کی طرف متوجہ رہتے تھے اور اس عمل میں بھی عبادت جسمانی و روحانی کو عبادت مالی( یعنی راہ خدا میں مال دینا) میں اتفاق کے ساتھ جمع کردیا تھا۔

عزیز گرامی : جس التفات کے لیے آپ نے سنا ہے کہ نماز کے خشوع کو دھچکا پہنچاتا ہے اور عبادت کو کمزور بناتا ہے وہ امور دنیا اور اغراض نفسانی کی طرف ملتفت ہونا ہے، ورنہ عمل خیر کی طرف جو خود عبادت ہے دوسری عبادت کے اندر توجہ


کرنا موجب کمال ہے مثلا اگر کوئی شخص نماز کے اندر اپنے اعزہ کے لیے گریہ کرے چاہے وہ عزیز ترین مخلوق یعنی خاندان محمد و آل محمد سلام اللہ علیہم اجمعین ہی کے لیے ہو تو اس سے نماز باطل ہوجاتی ہے لیکن اگر کوئی حالت نماز میں اشتیاق حق یا خوف خداوندی سے روئے تو انتہائی فضیلت کا باعث ہے۔

دوسرے جو آپ نے فرمایا کہ رکوع خشوع و تواضع کے معنی میں ہے تو یہ کسی مقررہ موقع پر صحیح ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر رکوع نماز کے حکم کو جو ایک معین اور واجب فعل ہے آپ لغوی حیثیت سے خشوع پر عمل کرنا چاہیں تو صاحبان عقل و علم اور اہل دین آپ کا مضحکہ اڑائیں گے۔

اس آیہ شریفہ میں بھی آپ نے ظاہر کے خلاف نظر دوڑائی ہے اور لفظ کو قطعا اپنے حقیقی اور عرفی معنی سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے، اس لیے کہ آپ خود جانتے ہیں کہ اصطلاح شرعی میں رکوع کا اطلاق ارکان میں سے ایک رکن پر ہوتا ہے جس کا مطلب اس حد تک خم ہونا ہے کہ ہاتھ کی ہتھیلیاں زانو تک پہنچ جائیں۔ اور اس معنی کی تصدیق خود آپ کے اکابر علما نے بھی کی ہے جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ، چنانچہ فاضل قوشجی شرح تجرید میں جمہور مفسرین کے اقوال کی توضیح کرتے ہیں کہ آپ ہی نماز کے اندر رکوع کر رہے تھے یعنی ان حضرت نے رکوع نماز کی حالت میں انگشتری عطا کی۔

اور ان تمام باتوں سے قطع نظر یہ فرمائیے کہ کلمہ حصر کے ساتھ یہ آیت شریفہ مدح میں نازل ہوئی یا مذمت میں؟

شیخ : ظاہر ہے کہ مدح کے موقع پر آئی ہے۔

خیر طلب : پس جب کہ فریقین ( شیعہ وسنی) کے جملہ اکابر علماء و مفسرین اور محققین و محدثین نے یہ طے کر دیا کہ آیت علی علیہ السلام کی شان نازل ہوئی اور من جانب پروردگار مدح وتمجید کی حامل ہے تو اب آپ جیسے حضرات کے اس قسم کے اختلافات و ایرادات کی کیا گنجائش رہ گئی جن کا سہارا لے کر اہل عناد تعصب اور خوارج و نواصب آپ کے ایسے صاف دل اشخاص کے دماغوں میں بچپنے ہی سے یہ باتیں راسخ کردیں اور آپ بغیر سوچے سمجھے ایسے با قاعدہ جلسے میں انتہائی شان کے ساتھ یہ فرمادیں کہ ہم اس واقعے کی تصدیق نہیں کرتے۔

شیخ : حضرت معاف کیجئے گا جناب عالی چونکہ خطیب و ذاکر اور تقریر میں مشاق ہیں۔ لہذا کبھی کبھی اپنے ارشادات کے تحت میں اس کے کنایے استعمال کر جاتے ہیں جو ناواقف لوگوں میں ایسے خیالات پیداکر سکتے ہیں جن کے نتائج اچھے نہ ہوں لہذا بہتر ہے کہ اپنے بیانات میں ان باتوں کا لحاظ رکھئیے۔

خیر طلب : میرے بیانات میں حقائق کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا ۔ خدا شاہد ہے کہ میں نے کسی کنایے کا قصد نہیں کیا اور نہ اس کی کوئی ضرورت ہی تھی اس لیے کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں صاف صاف کہتا ہوں نہ کہ کنایہ ممکن ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی یا عیب جوئی کے جذبے میں ایسا خیال پیدا ہوا ہو لہذا فرمائیے کہ وہ کنایہ کون سا ہے؟

شیخ : ابھی ابھی گفتگو کے دوران میں صفات مندرجہ آیت محمد رسول اللہ کو بیان کرتے ہوئے آپ


نے فرمایا کہ یہ صفتیں علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ سے مخصوص ہیں جن کے ایمان میں اول سے آخر تک شک اور ارتداد پیدا نہیں ہوا۔ یہ جملہ اس بات کا کھلا ہوا کنایہ ہے کہ آپ دوسروں کے شک اور ارتداد کے ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کیا خلفائے راشدین یا دوسرے صحابہ اپنے ایمان میں شک و ارتداد رکھتے تھے؟ قطعا سارے اصحاب کلہم اجمعین علی کرم اللہ وجہہ کے مانند ایمان لانے کے اول وقت سے آخر تک تک بغیر شک و ارتداد کے اپنے عقیدے میں ثابت قدم رہے اور ایک لمحے کے لیے بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے انحراف اور جدائی اختیار نہیں کی۔

خیرطلب : اول تو میں نے اس عبارت کے ساتھ جو آپ نے فرمائی کچھ کہا ہی نہیں ہے، دوسرے آپ خود جانتے ہیں کہ کسی شے کا اثبات اس کے ماسوا کی نفی نہیں کرتا، تیسرے اگرچہ آپ نکتہ چینی کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن دوسروں نےغالبا ایسا نہ کیا ہوگا۔ آپ نے یقینا اپنے اس بیان میں ( معاف فرمائیے گا) مغالطہ دینے کی سعی کی ہے، خدا گواہ ہے کہ نہ میں نے کنایے سے کام لیا اور نہ ایسا خیال رکھا جیسا آپ کا ہے، فرض کیجئے کہ کوئی خیال آپ کے ذہن میں آیا بھی تھا ( اگر مغالطہ بازی اور شبہ سازی کا مقصد نہ رہا ہو) تو بہتر تھا کہ اس جملے کو آہستہ مجھ سے دریافت کر لیے تاکہ میں اثبات یا نفی میں جواب عرض کردیتا۔

شیخ : آپ کے انداز گفتگو سے پتہ چل رہا ہے کہ کوئی بات ہے، البتہ جواب سے خاموشی خود اس قسم کے خیالات پیدا کرتی ہے التماس ہے کہ جو کچھ آپ کی نظر میں ہو صحح سند کے ساتھ بیان فرمائیے۔

خیر طلب : خیالات پیدا کرنے کے باعث تو آپ ہی ہوئے کہ یہ سوال قائم کیا، میں پھر عرض کرتا ہوں کہ بہتر ہے اس مسئلے کو نظر انداز ہی کر دیجئے اور اصرار نہ فرمائیے۔

خیر طلب : میں اپنی طرف سے کبھی سوء ادب نہیں کرتا لیکن آپ کا اصرار نیز آپ نے دوسری عبارت میں مجھ کو جو دھمکی دی ہے وہ اس کا باعث ہوئی کہ حقائق کا انکشاف ہو، روز اول ہی سے اس طرح کے حقائق کا اظہار خود آپ کے علماء کی طرف سے ہوا کیا ہے جنہوں نے حقیقتوں کو اپنی کتابوں میں درج کیا ہے، چنانچہ اس موضوع میں بھی سب کا اتفاق ہے کہ اکثر صحابہ جن کا ایمان ابھی کامل نہیں ہوا تھا۔ کبھی کبھی شک اور ارتداد میں گرفتار ہوا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض اسی شک و ارتداد کی حالت پر باقی رہتے تھے اور ان کی مذمت میں آیتیں نازل ہوتی تھیں، مثلا منافقین جن کی مذمت میں پورا ایک سورہ قرآن مجید کے اندر موجود ہے۔

لیکن اخلاقا مناسب نہیں ہے کہ اس قسم کے سوالات علانیہ ہوں، تاکہ سادہ لوح اشخاص جاہلانہ محبت و عداوت


کے ماتحت خوردہ گیری نہ کریں، میں پھر درخواست کرتا ہوں کہ اس موضوع سے چشم پوشی کیجئے یا اجازت دیجئے کہ اس کا جواب کسی مناسب موقع پر خود ہی آہستہ عرض کردوں۔

شیخ : یعنی آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم شک کرنے والوں میں سے تھے؟

خیر طلب : آپ واقعی غلط فہمی پھیلا رہے ہیں اور جذبات کو بھڑکار ہے ہیں، اب جب آپ کا اصرار ہی ہے تو میں بھی آپ کو بغیر جواب دیئے نہیں چھوڑوں گا۔ البتہ اگر نا فہم عوام کے اندر اس کا کوئی رد عمل ہوتو اس کی ذمہ داری آپ کے سر ہوگی۔ آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ تم کہتے ہو تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے یا جان بوجھ کر انجان بنتے ہیں کیونکہ خود آپ کے بڑے بڑے علماء نے اس کو نقل کیا ہے اور تاریخ میں درج کیا ہے۔

شیخ : کس موقع پر لکھا ہے؟ کہاں پر ان کو شک ہوا ہے؟ اور کن اشخاص نے شک کیا ہے؟ مہربانی کر کے بیان فرمائیے۔

خیر طلب: جہاں تک کتب اخبار و تواریخ اور سیر سے پتہ چلتا ہے کچھ اشخاص ایک مرتبہ نہیں بلکہ باربار شک کرتے تھے اور حقیقت کھلنے کے بعد پلٹ آتے تھے، لیکن بعض اسی شک پر قائم رہتے تھے اور غضب الہی کے مستحق قرار پاتے تھے۔

حدیبیہ میں عمر(رض) کا نبوت پیغمبر(ص) میں شک کرنا

چنانچہ مشہور معروف فقیہ شافعی ابن مغازل نے مناقب میں اور حافظ ابو عبداللہ محمد بن ابی نصر حمیدی نے جمع بین الصحیحن بخاری و مسلم میں لکھا ہے " قال عمر ابن الخطاب رضی الله عنه ماشککت فی نبوة محمد قط کشکی يوم الحديبية " یعنی عمر ابن خطاب نے کہا کہ میں نے محمد(ص) کی نبوت میں کبھی ایسا شک نہیں کیا تھا، جیسا شک حدیبیہ کے روز کیا۔)

خلیفہ کا انداز کلام بتاتا ہے کہ آنحضرت(ص) کو نبوت میں شک تو کئی مرتبہ کر چکے تھے لیکن حدیبیہ میں سب سے بڑا شک ہوا۔

نواب : معاف فرمائیے گا قبلہ صاحب حدیبیہ میں کیا ہوا تھا جس کو وجہ سے امر نبوت میں شک پیدا ہوا؟

خیر طلب : اس واقعے کو تفصیل تو بہت ہے لیکن میں وقت کے لحاظ سے اس کا خلاصہ پیش کئے دیتا ہوں۔

واقعہ حدیبیہ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شب خواب میں دیکھا کہ اصحاب کے ہمراہ مکہ تشریف لے گئے اور


عمرہ بجالائے۔ صبح کو اصحاب کے سامنے بیان فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ آپ خود ہمارے خوابوں کی تعبیریں دیتے ہیں لہذا اس خواب کی تعبیر بھی ارشاد فرمائیے، آں حضرت(ص) نے فرمایا انشاء اللہ ہم مکے جائیں گے اور یہ عمل بجالائیں گے ( لیکن اس کی کامیابی کا وقت نہیں معین فرمایا۔)

پیغمبر(ص) زیارت بیت اللہ کے اشتیاق میں اصحاب کے ہمراہ اسی سال مکہ معظمہ ک طرف روانہ ہوئے، کفار قریش کو معلوم ہوا تو حدیبیہ پر ( یہ مکہ معظمہ کے نزدیک ایک کنواں ہے جس کا نصف حرم کے اندر اور نصف حرم سے خارج ہے) اپنے سازو سامان کےساتھ آپہنچے اور مکہ معظمہ میں داخل ہونے سے روکا۔ چونکہ پیغمبر(ص) جنگ کے قصد سے تشریف نہیں لائے تھے بلکہ آپ کا مقصدصرف زیارت تھا لہذا کفار مکہ سے صلح فرما لی اور صلح نامہ لکھ کر اسی مقام سے واپس ہوگئے

یہی وہ موقع تھا جب عمر کو خود انہیں کے قول کے مطابق شک پیدا ہوا، چنانچہ آپ کےبڑے بڑے علماء نے لکھا ہے کہ آن حضرت(ص) کی اصل نبوت ہی میں شک کیا اور خدمت رسول (ص) آکر عرض کیا یا رسول اللہ(ص) کیا آپ پیغمبر(ص) اور سچے انسان نہیں ہیں؟ کیا آپ نے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم مکے جائیں گے، عمل عمرہ بجالائیں گے اور اسی جگہ حلق راس اور تقصیر کرینگے ؟ اب کیوں اس کے برخلاف ہوا؟

آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ کیا میں نے وقت مقرر کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ اسی سال جائیں گے؟ عرض کیا کہ نہیں یا رسول اللہ حضرت نے فرمایا پس جو کچھ میں کہہ چکا ہوں صحیح ہے، ہم انشاء اللہ جائیں گے اور خواب کی تعبیر ہوگی۔ البتہ خواب کی تعبیر میں مشیت خداوندی سے دیر یا جلدی ہوا کرتی ہے، پھر تصدیق رسول کے لیے جبرئیل نازل ہوئے اور سورہ نمبر48 ( فتح ) کی آیت نمبر27 لائے کہ :

"لَقَدْصَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيابِالْحَقِّ- لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَالْحَرامَ إِنْشاءَاللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُؤُسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لاتَخافُونَ- فَعَلِمَ مالَمْ تَعْلَمُوا- فَجَعَلَ مِن ْدُونِ ذلِكَ فَتْحاًقَرِيباً"

یعنی یقینا خدائے تعالی نے اپنے رسول(ص) کے خواب کی صداقت ثابت کر دی کہ تم لوگ ضرور بالضرور امن و اطمینان کے ساتھ انشاء اللہ بلا خوف مسجد الحرام میں داخل ہوگے اعمال حج کے بعد سر تراشی اور تقصیر کرو گے اور خدا ہر وہ بات جانتا ہے جو تم کو نہیں معلوم ہے، پس اس کے بعد عنقریب تم کو فتح عنایت کرے گا۔ ( جس سے فتح خیبر مراد ہے)

یہ تھا قضیہ حدیبیہ کا خلاصہ جو ثابت قدم مومنین اور متزلزل اشخاص کے لیے ایک امتحان تھا۔

جب گفتگو یہاں تک پہنچی تو مولوی صاحبان نے گھڑیوں پر نظر ڈالی اور قہقہ لگا کر کہا کہ مطلب اتناء دلچسپ اور شیرین ہے کہ ہم بالکل بے خود ہوجاتے ہیں، واقعی ہماری وجہ سے اہل جلسہ کو کافی زحمت ہوئی۔ کل کی شب آپ حضرات کا بہت وقت صرف ہوا، اور آج بھی آدھی رات سے کہیں زیادہ گزر چکی ہے، اخلاقا یہ بات اچھی نہیں ہے لہذا بہتر ہے کہ جلسہ برخاست کیا جائے ۔ اسی دوران میں چائے اور شیرینی وغیرہ آگئی اور ہم لوگ مزاح و تفریح میں مصروف ہوگئے تاکہ مولوی صاحبان کی افسردگی دور ہوجائے۔


خلاف امید باتیں

حافظ : قبلہ صاحب ہم لوگ آپ کی ملاقات اور خصوصا آپ کے اخلاق سےبہت خوش ہوئے، ہمارے خواہش تھی کہ آپ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں۔ کیون کہ آپ کے اندر اس قدر جذب و کشش ہے کہ جس شخص کو آپ کی ہم نشینی و ہم کلامی حاصل ہو وہ ہمہ تن محو اور ساکت ہوجاتا ہے اور کوئی بات کہنا بھی چاہتا ہے تو وہ اس کے دل ہی میں رہجاتیہے، چنانچہ میرے دماغ میں بھی بہت سی باتیں تھیں اور ہیں جو کہنے سے رہ گئیں، لیکن کیا کیا جائے کہ اب وطن کی واپسی لازمی ہے اس لیے کہ وہاں بھی ہم کو بہت سے اہم ذاتی اور قومی کام در پیش ہیں جن کا حرج ہو رہا ہے، لہذا امید ہے کہ جناب عالی مہربانی فرما کر ہمارے گھر پر تشریف لائیں گے تاکہ آپ کی صحبت سے ہم پورا فائدہ اٹھا سکیں۔

نواب : ( حافظ صاحب سے ) ہم لوگ آپ کو جانے نہیں دیں گے کیونکہ اب معاملہ بہت نازک منزلوں سے گزر رہا ہے اور بات میں یکسوئی پیدا ہونا ضروری ہے اس لیے کہ آپ حضرات ہمیشہ ہم وگوں سے کہا کرتے تھے کہ رافضی صاحبان ( شیعہ فرقہ) کے پاس قطعا کوئی دلیل و برہان نہیں ہے اور وہ تنہائی میں خوب باتیں بناتے ہیں، اگر ہمارے سامنے آجائیں تو بہت جلد لا جواب ہوجائیں گے۔ لیکن اس دعوے کے برعکس ان جلسوں میں ہم آپ ہی کو بالکل لا جواب اور زبوں حال پارہے ہیں لہذا ضرورت اس کی ہے کہ پختہ طور سے حقیقت معلمو ہو جائے تاکہ ہم حاضرین جلسہ اور با فہم سامعین جس طریقے کو حق پائیں اس کی پیروی کریں۔

حافظ : ( نواب سے ) یہ آپ کی غلط فہمی ہے کہ ہم کو لا جواب اور مغلوب سمجھ رہے ہیں، بلکہ فاضل مقرر کی اخلاقی کشش ، زبان آوری اور حسن بیان نے ہم کو خاموش کر دیا ہے کیونکہ ہم ادب کا لحاظ کرتے ہوئے عزیز مہمان کو تکلیف نہیں دینا چاہتے۔ ورنہ ابھی تو ہ نے بنیادی گفتگو شروع ہی نہیں کی ہے۔ اور اگر ہم پوری طرح بحث کرنے پر آجائیں گے تو مدلل بیانات کے ذریعے آپ دیکھیں گے کہ حق ہمارے ہی ساتھ ہے اور ہمارے ہی دلائل سے حقیقت ثابت ہوتی ہے۔

نواب : ( حافظ صاحب سے) ہم نے آج کی شب تک جو کچھ آقائی قبلہ سلطان الواعظین صاحب سے سنا ہے سب کا سب مطابق عقل اور دلیل و برہان کے ساتھ اور آپ کو اس منطق اور دلیل کے مقابلے میں بے بس پایا۔ پھر بھی اگر آپ فرماتے ہیں کہ کچھ دلائل ہیں تو قطعا آپ کو ٹھہرنا چاہیے اور وہ دلیلیں قائم کرنا چاہئیے۔ میں آپ سے صاف صاف کہہ دیتا ہوں اور خطرے سے آگاہ کئے دیتا ہوں کہ انراتوذں کی گفتگو اور رسائل و اخبارات میں اس کی اشاعت سے اکثر لوگوں کے عقیدے پلٹ گئے ہیں۔ اور اگر کما حقہ حق کا اظہار نہ کیجئے گا تو قطعا آپ کی بانی شریعت کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔

( اس وقت جلسے پر ایک حیرت انگیز سکوت طاری ہوگیا۔ پھر تھوڑی خاموشی کے بعد)


حافظ : ( اترے ہوئے چہرے کے ساتھ نواب سے) آپ ان مہمان عزیز مولانا صاحب ہی کا کچھ خیال کیجئے کہ وہ جیسا خود فرما چکے ہیں، مشہد مقدس کو جارہے ہیں، ان کا وقت بھی عزیز ہے گویا وہ روانگی پر بالکل تیار تھے محض ہماری خاطر سے ٹھہر گئے ہیں لہذا یہ ادب و اخلاق کے خلاف ہے کہ ہم ان کو اور زیادہ زحمت دیں۔

خیر طلب: میں آپ کی عنایت کا بہت ممنون ہوں، میری روانگی کے متعلق جو آپ نے فرمایا درست ہے لیکن اس وقت چاہے جتنا اہم کام در پیش ہو دینی خدمات کے مقابلے میں میں اس کو ہیچ سمجھتا ہوں، میری طرف سے کوئی عذر نہیں ہے۔ اگر آپ حضرات پورے سال بھر بھی تشریف رکھیں تو میں حاضر رہوں گا اس لیے کہ ہمارا فرض یہی ہے ہے کہ جب حق بے نقاب نہ ہو جائے برابر اپنی ذمہ داری پوری کرتے رہیں۔ اس فریضے کے علاوہ مجھ کو اہل علم کی صحبت سے بھی خوشی ہوتی ہے کیونکہ اس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ خصوصا جناب عالی نے تو اپنے اخلاق سے مجھ کو گردیدہ بنالیا ہے۔ فقط میں محترم میزبان جناب مرزا یعقوب علی خان سے ضرور کافی شرمندہ ہوں کہ ہماری وجہ سے ان کو زحمت اٹھانا پڑی۔

( برادران محترم مرزا یعقوب علی خان، ذوالفقار علی خان اور عدالت علی خان نے جو سر برآوردہ قزلباش حضرات میں سے ہیں ایک ساتھ بے چین ہو کر آواز بلند کی کہ ہم کو آپ سے ایسی باتون کی امید نہیں تھی، ہم مکان کے مالک نہیں ہیں بلکہ آپ کے خدمت گزار ہیں اگر جناب عالی زندگی بھر اس مکان میں قیام فرمائیں تو ہم کوئی زحمت نہ ہوگی بلکہ آپ کا وجود ہمارے لیے باعث فخر ہوگا۔

( پشاور کے مژفاء میں سے جناب آقا سید محمد شاہ اور علمائے شیعہ میں سے جناب مولوی سید عدیل اختر صاحب نے فرمایا کہ اگر ممکن ہو تو چند شب اس دینی بزم سے ہمارے گھر کو سرفراز فرمائیے۔)

( آقا مرزا یعقوب علی خان نے فرمایا یہ ناممکن ہے، جب تک قبلہ سلطان الواعظین پشاور میں ہیں اور یہ جلسے قائم ہیں اسی جگہ رہنا چاہئیے۔)

خیر طلب : میں تمام حضرات کا عموما اور محترم میزبانوں کا خصوصا انتہائی شکر گزار اور ممنون ہوں۔

حافظ : تھوڑے سکوت کے بعد، کوئی حرج نہیں ہے، جب آپ حضرات کی یہی خواہش ہے تو ہم چند روز اور ٹھہر جائیں گے۔ لیکن جیسا کہ قبلہ صاحب نے فرمایا ہر شب یہاں مجمع کا اکٹھا ہونا باعث رحمت ہے، بہتر ہوگا کہ اب ہماری قیام گاہ کو مباحثات کا مرکز قرار دیجئے تاکہ پوری ہم آہنگی حاصل ہوجائے۔

خیر طلب : مجھ کو کوئی اصرار نہیں ہے کہ آپ حضرات ضرور ہی یہاں تشریف لائیں۔ چونکہ اس مکان میں کافی وسیع عمارت اور باغ موجود ہے جو اس مجمع کے لحاظ سے بہت مناسب ہے۔ ۔لہذا آپ ہی حضرات نے اس کو منتخب کیا تھا،ورنہ میری طرف سے کوئی عذر نہیں ہے۔ آپ جس جگہ کے لیے حکم دیں میں خوشی سے حاضری دوں گا۔

میرزا یعقوب علی خان : اس مکان اور جماعت قزلباش کی طرف سے کوئی مانع نہیں ہے۔ اگرچہ جناب حافظ صاحب تازہ وارد میں اور ہمارے حال سے واقفیت نہیں رکھتے، لیکن یہاں کے تمام باشندے جانتے ہیں کہ قزلباش لوگ بالعموم


قوم کے خادم ہیں اورمہمانوں کی خاطر و تواضع اور خدمت سے گریز نہیں کرتے، پھر یہ مکان ہمیشہ سے آنے والوں کا مرکز رہا ہے، الخصوص جب سے اس کو یہ رونق عطا کی گئی ہے، علمی صحبت اور دینی و مذہبی بحث ومناظرہ سب کو زیادہ سے زیادہ مسرور متشکر کہ رہا ہے۔

حافظ : باوجودیکہ میرے لیے پشاور میں ٹھہرنا بہت دشوار ہے کیونکہ وطن میں بہت سے کام معطل پڑے ہوئے ہیں۔ لیکن آپ حضرات کی تعمیل ارشاد کے لیے منظور کرتا ہوں۔ پس اب ہم لوگ انشاء اللہ کل شب تک کےلیے رخصت ہوتے ہیں۔

ساتویں نشست

( شب پنجشنبہ 29 رجب سنہ1345 ہجری)

(شام کے بعد سب حضرات تشریف لائے اور معمولی بات چیت اور چائے نوشی کے بعد مولوی صاحبان کی طرف سے گفتگو شروع ہوئی۔)

سید عبدالحی : ( امام جماعت اہل سنت) قبلہ صاحب چند راتیں قبل آپ نے کچھ بیانات فرمائے تھے۔ جن پر قبلہ جناب حافظ صاحب نے آپ سے دلیل مانگی تھی لیکن آپ نے یا تو حیلہ سازی سے کام لیا یا علمی اصطلاحات سے ہم کو مغالطے میں ڈال دیا اور مطلب خبط ہوگیا۔

خیر طلب : فرمائیے کون سامطلب تھا اور آپ کو کون سا سوال بغیر جواب کے رہ گیا؟ میری نظر میں نہیں ہے آپ یاد دلا دیجئے۔

سید : کیا آپ نے چند شب قبل یہ نہیں فرمایا تھا کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ رسول خدا(ص) کے ساتھ اتحاد نفسانی رکھتے تھے لہذا تمام انبیاء سے افضل تھے؟

خیر طلب: صحیح ہے۔ میرا بیان اور عقیدہ یہی تھا اور ہے۔

سید : پھر آپ نے ہمارے اشکال کا جواب کیوں نہیں دیا؟

خیر طلب : آپ کو سخت غلط فہمی ہے۔ آپ سے تعجب ہے کہ تمام راتوں میں ہمہ تن گوش رہے پھر بھی مجھ کو جلد سازی اور مغالطہ بازی کا الزام دے رہے ہیں۔ کوئی حیلہ اور مغالطہ قطعا نہیں تھا بلکہ بمقتضائے الکلام یجر الکلام بات سے بات نکل آئی تھی۔ اگر آپ غور کریں گے تو معلوم ہوگا کہ میں نے کوئی غیر متعلق بات نہیں کہی تھی مولوی صاحبان نے کچھ سوالات کئے


تھے جن کا جواب دینا میرا فرض تھا۔ اب آپ کا جو سوال ہو بیان فرمائیے میں بتائید الہی جواب کے لیے حاضر ہوں۔

سید : ہم یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ دو ذاتوں کا ؟؟؟ میں متحد ہونا کیونکر ممکن ہے؟ اور پھر ان کے درمیان ایسا نفسانی اتحاد پیدا ہوجائے کہ دونوں ایک ہوجائیں۔

اتحاد مجازی و حقیقی میں فرق

خیر طلب : ظاہر ہے کہ دو ذاتوں کےدرمیان حقیقی اتحاد محال اور باطل ہے ۔ اس کا ناممکن ہونا اپنیجگہ پر ثابت بلکہ بدیہیات اولیہ میں سے ہے۔ پس اتحاد کا دعوی صرف مجاز اور مبالغہ کلام کی حیثیت سے ہے۔

اس لیے کہ دو شخص جب آپس میں شدید محبت یا کسی جہت سے مشابہت رکھتے ہیں تو اکثر اتحاد کا دعوی کرتے ہیں عرب و عجم کے بڑے بڑے۔۔۔۔ ادیبوں اور شاعروں کے کلام میں اس طرح کے مبالغے بہت ہیں یہاں تک کہ اولیائے خدا کے کلمات میں بھی کافی نظر آتے ہیں ۔ من جملہ ان کے حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی طرف منسوب دیوان کے اندر ارشاد ہے۔

هُمُومُ رِجَالٍ فِي أُمُورٍكَثِيرَةٍوَهَمِّي مِنَ الدُّنْيَاصَدِيقٌ مُسَاعِدٌ

يَكُونُ كَرُوحٍ بَيْن َجِسْمَيْنِ قُسِّمَتْ فَجِسْمُهُمَاجِسْمَانِوَالرُّوحُوَاحِدٌ

یعنی مردان عالم کہ ہمتیں بہت سے مختلف امور میں ہوتی ہیں اور میرا مقصد صرف ایک ہمدرد دوست ہے جو دو جسموں میں ایک روح کے مانند ہو۔ پس ہمارے جسم دو ہیں اور روح ایک ہو۔

مجنون عامری کے حالات میں مشہور ہے کہ جب اس کی فصد کھولنا چاہی تو اس نے کہا میری فصد نہ کھولو اور نہ مجھ کو خوف ہے کہ نشر میری لیلی کو لگ جائے گا کیونکہ وہ میری ہر رگ دپے میں پیوست ہے۔ چنانچہ ادیبوں نے اس مطلب کو نظم بھی کیا ہے۔

گفت مجنون من نمی ترسم زینش صبر من از کوہ سنگین است و بیش

لیک از لیلی وجود من پر است این صدف پر از صفات آن در است

وندآن عقلی کہ آن دل روشنی استدرمیان لیلی و من فرق نیست

ترسم اے فصاد چون فصدم کنی نیش را ناگاہ بر لیلی زنی

من کیم لیلی و لیلی کیست من مایکی روحیم اندر دو بدن

روحہ روحی و روحی روحہ من یری الروحین عاشافی البدن


عربی شعر کا مطلب یہ ہے کہ اس کی روح میری روح اور میری روح اس کی روح ہے۔ کس نے دیکھا ہے کہ دو روحیں ایک ایک بدن میں زندگی بسر کرتی ہوں۔ یعنی در حقیقت ایک روح ہے جو دو بدنوں میں مقیم ہے۔

اگر ارباب ادب کی کتابیں ملاحظہ فرمائیے تو مبالغے کی حیثیت سے مجازا اس قسم کے تعبیرات بکثرت ملیں گے۔ چنانچہ ایک شیرین بیان ادیب اور شاعر نے نظم کیا ہے۔

أنامن أهوى ومنأهوىأنانحنروحانحللنابدنا

فإذاأبصرتنى أبصرته وإذاأبصرته كان أنا

یعنی میں اور میرا معشوق دونوں ایک ہیں۔ ہماری درود ہیں ایک جسم میں حلول کئے ہوئے ہیں۔ لہذا اگر تم نے مجھ کو دیکھا تو اس کو دیکھ لیا اور اگر اس کو دیکھا تو وہ میں ہی ہوں۔

پیغمبر علی(ع) کا اتحاد نفسانی

تمہید میں اس سے زیادہ آپ حضرات کا وقت نہیں لوںگا۔ اب نتیجہ یہ اخذ کرتا ہوں کہ اگر میں نے یہ عرض کیا کہ امیرالمومنین علیہ السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اتحاد نفسانی رکھتے تھے تو آپ کا خیال اتحاد حقیقی کی طرف نہ جانا چاہئیے کیونکہ کسی نے حقیقی اتحاد کا دعوی نہیں کیا ہے اور اگر کوئی ایسے اتحاد کا قائل ہو تو یہ قطعا غلط اور درجہ اعتبار سے ساقط ہوگا۔ پس یہ اتحاد مجاز کی حیثیت سے ہے نہ کہ حقیقتا اور اس سے روح وکمالات کی شرکت مراد ہے۔ نہ کہ جسم کی اور یہ مسلم ہے کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام تمام فضائل و کمالات اور صفات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شریک تھے۔ الا ما خرج بالنص والدلیل ( سوا ان چیزوں کے جو نص اور دلیل کے ساتھ مستثنی ہیں۔)

حافظ : پس اس قاعدے کی رو سے محمد(ص) و علی(ع) دونوں کو پیغمبر ہونا چاہئیے اور آپ کی یہ گفتگو ثابت کررہی ہے کہ علی(ع) بھی پیغمبری میں شریک تھے اور لازمی طور سے دونوں پر برابر وحی بھی نازل ہوتی تھی۔

خیر طلب : یہ آپ نے کھلا ہوا مغالطہ دیا ہے۔ جو آپ کہہ رہے ہیں ایسا نہیں ہے۔ ہم یا کوئی شیعہ ہرگز یہ عقیدہ نہیں رکھتا۔ آپ سے یہ امید نہیں تھی کہ کٹ حجتی کر کے جلسے کا وقت ضائع کریں گے تاکہ کہی ہوئی باتیں پھر دہرائی جائیں میں نے ابھی ابھی عرض کیا ہے کہ تمام کمالات میں متحد ہیں الا ما خرج بالنص و الدلیل سوا اس چیز کے جو نص اور دلیل سے مستثنی ہیں اور وہ یہی نبوت خاصہ اور اس کے شرائط کا مقام ہے جس میں احکام اور وحی کانزول بھی ہے۔ غالبا آپ گذشتہ راتوں کے بیانات بھول چکے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو رسائل و اخبارات کی اشاعتیں ملاحظہ فرمالیجئے نظر آجائے گا کہ گذشتہ شبوں میں ہم نے حدیث منزلت کے ضمن میں ثابت کیا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام منصب نبوت کے اہل تھے


لیکن خاتم الانبیاء کے دین و شریعت کے پیرو اور پابند تھے لہذا حضرت پر وحی کا نزول نہیں ہوتا تھا اور آپ کی منزلت وہ تھی جو حضرت موسی کے زمانے میں ہارون کو حاصل تھی۔

حافظ : جب آپ جملہ فضائل و کمالات میں شرکت اور برابری کے قائل ہوگئے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نبوت اور شرائط نبوت میں بھی مساوات کا عقیدہ ہونا چاہیئے۔

خیر طلب : بظاہر ممکن ہے ایسا معلوم ہوتا ہو لیکن تھوڑا غور کیجئے گا تو ظاہر ہوجائے گا کہ مطلب اس کے علاوہ ہے جیسا کہ پچھلی راتوں میں ہم ثابت کرچکے ہیں کہ آیات قرآنی کے حکم سے نبوت کے بھی مختلف درجے ہیں اور انبیاء و مرسلین اپنے مراتب کے لحاظ سے ایک دوسرے پر افضلیت رکھتے ہیں چنانچہ قرآن مجید میں صریحا ارشاد ہے " تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنابَعْضَهُمْ عَلى بَعْضٍ " ( یعنی ہم نے انبیاء و مرسلین میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ اور تمام مراتب انبیاء سے اکمل نبوت خاصہ محمدیہ کا مرتبہ ہے اس وجہ سے آیت نمبر40 سورہ نمبر 32 ( احزاب) میں ارشاد ہے۔

"ماكانَ مُحَمَّدٌأَباأَحَدٍمِنْ رِجالِكُمْ وَلكِنْ رَسُولَ اللَّه ِوَخاتَمَ النَّبِيِّينَ " ( یعنی محمد(ص) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن خدا کے رسول اور پیغمبروں کے خاتم ہیں۔)

یہی نبوت خاصہ کا کمال ہے جو خاتمیت کا سبب بنا پس اس کمال خصوصی میں کسی اور کو دخل نہیں ہے، لیکن دوسرے کمالات میں شریک یا مساوات پائی جاتی ہے جس کے ثبوت میں بے شمار دلائل و براہین موجود ہیں۔

سید : آیا اس دعوے کے ثبوت میں آپ کے پاس قرآن مجید سے بھی کوئی دلیل ہے؟

آیہ مباہلہ سے استدلال

خیر طلب : کھلی ہوئی بات ہے، البتہ ہماری پہلی دلیل قرآن مجید سے ہے جو ایک مضبوط آسمانی سند ہے۔ اور قرآن مجید میں سب سے بڑی دلیل آیہ مباہلہ ہے جس میں صریحی ارشاد ہے:

"فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِماجاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْانَدْعُ أَبْناءَناوَأَبْناءَكُمْ وَنِساءَناوَنِساءَكُمْ وَأَنْفُسَناوَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكاذِبِينَ "

( یعنی پس جو شخص وحی کے ذریعے تمہارے پاس علم آجانے کے بعد عیسی کے بارے میں تم سے مجادلہ کرے تو اس سے کہدو کہ آئو ہم اور تم اپنے بیٹوں اپنی عورتوں اور اپنے اقربا کو جو جان کے برابر ہیں، جمع کر کے آپس میں مباہلہ کریں۔ ( یعنی ایک دوسرے کے لیے نفرین اور بد دعا کریں) تاکہ جھوٹوں کو عذاب خدا میں گرفتار کریں۔)

آیت نمبر54 سورہ نمبر3 ( آل عمران) آپ کے خاص خاص اور بزرگ علماء و مفسرین جیسے امام فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر میں، امام ابو اسحق ثعلبی نے تفسیر کشف البیان میں، جلال الدین سیوطی نے در المنثور میں، قاضی بیضاوی نے انوار التنزیل میں، جار اللہ زمخشری نے کشاف میں، مسلم بن حجاج نے صحیح میں، ابو الحسن فقیہہ نے ابن مغازلی شافعی واسطی نے مناقب


میں، حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیتہ الاولیاء میں، نوالدین مالکی نے فصول المہمہ میں، شیخ الاسلام حموینی نے فرائد میں، ابولمئوئد خوارزمی نے مناقب میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت میں، سبط ابن جوزی نے تذکرہ میں، محمد بن طلحہ نے مطالب السئول می، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں، ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں اور دوسروں نے بھی الفاظ اور عبارت کی مختصر کمی و بیشی کے ساتھ اس آیت کا نزول مباہلے کے روز لکھا ہے جو ذوالحجہ کی چوبیس(24) یا پیچیس (25) تاریخ تھی۔

نصارائے نجران سے پیغمبر(ص) کا مباحثہ

جب خاتم الانبیاء نے نجران کے عیسائیوں کو اسلام کی دعوت دی تو ان کے بڑے بڑے علماء جیسے سید عاقب جاثلیق اور علقمہ وغیرہ جو ستر سے بھی زیادہ تھے اپنے تقریبا تین سو پیروئوں کے ساتھ مدینے آئے اور متعدد نشستون میں پیغمبر(ص) کے ساتھ علمی مناظرے کئے لیکن آنحضرت(ص) کے مفصل اور مضبوط دلائل کے سامنے لا جواب ہوگئے اس لیے کہ آنحضرت(ص) نے ان کی معتبر کتابوں سے اپنی حقانیت اور اس بات پر کہ حضرت عیسی نے آثار اور علامات کے ساتھ آں حضرت(ص) کے آنے کی خبر دی ہے اور نصاری ان اخبار کی روسے ایسے ظہور کے منتظر ہیں کہ اونٹ پر سوار ہو کر ( مکے میں ) فاران کے پہاڑوں سے ظاہر ہو کر عیر اور احد کے ( جو مدینے میں ہے) درمیان ہجرت کریں گے ایسی قوی دلیلیں دین کہ سوا سپر انداختہ ہوجانے کے اور کوئی چارہ نہ تھا لیکن مسند اور اقتدار کی محبت نے قبول نہ کرنے دیا۔ جب انہوں نے اسلام اور معقولیت سے روگردانی کی تو رسول خدا(ص) نے بحکم الہی ان کے سامنے مباہلے کی تجویر رکھی تاکہ سچے اور جھوٹے میں امتیاز ہوجائے، نصاری نے اس کو مان لیا اور یہ امر دوسرے دن پر رکھا گیا۔

مباہلے کے لیے نصاری کی تیاری

حسب وعدہ دوسرے روز عیسائیوں کی ساری جماعت انے ستر نفر سے زیادہ علماء کےساتھ دروازہ مدینہ کے باہر پہاڑ کے کے دامن میں ایک طرف کھڑی ہوئی منظر تھِی کہ رسول اللہ(ص) ان کو مرعوب کرنے کے لیے لازمی طور پر انتہائی شان و شوکت و پورے سازو سامان اور کثیر مجمع کے ساتھ تشریف لائیں گے۔

اتنے میں قلعہ مدینہ کا دروازہ کھلا اور خاتم الانبیاء(ص) اس حالت سے باہر آئے کہ ایک جوان داہنی طرف ایک با وقار برقع پوش عورت بائیں طرف اور دو بچے آگے آگے تھے یہاں تک کہ نصاری کے مقابل ایک درخت کے


نیچے قیام فرمایا ( اور کوئی دوسرا شخص ان کے ساتھ نہیں آیا تھا) سب سے بڑے نصرانی عالم اسقف نے مترجمین سے پوچھا کہ محمد(ص) کے ہمراہ یہ کون لوگ آئے ہیں؟ انہوں نے کہا وہ جوان ان کا داماد اور پسر عم علی ابن ابی طالب ، وہ عورت ان کی بیٹی فاطمہ(س) اور وہ دو بچے ان کے نواسے حسن (ع) و حسین(ع) ہیں۔

اسقف نے نصرانی عالموں سے کہا کہ دیکھ محمد(ص) کس قدر مطمئن ہیں کہ اپنے فرزندوں اور قریب ترین خاص عزیزوں کو مباہلے میں لاکر معرض بلا میں ڈال دیا ہے قسم خدا کی اگر ان کو اس بارے میں ذرا بھی شک و شبہ یا خوف ہوتا تو ہرگز ان کو منتخب نہ کرتے اور حتما مباہلے سے گریز کرتے یا کم از کم اپنے اعزہ کو اس خطرے سے الگ رکھتے۔، اب ان سے مباہلہ کرنا ہرگز مناسب نہیں ہے۔ اگر قیصر روم کا خوف نہ ہوتا تو ہم ایمان لے آتے۔ پس مصلحت اسی میں ہے کہ ہم لوگ جن شرائط پر وہ چاہیں ان سے صلح کر لیں اور اپنے وطن کو پلٹ جائیں۔ سب نے کہا کہ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ چنانچہ اسقف نے آںحضرت(ص) کے پاس پیغام بھیجا کہ " انا لا يباهلک يا اباالقاسم " ہم آپ سے مباہلہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ صلح چاہتے ہیں۔ آنحضرت(ص) نے بحی اس کو منظور فرمایا امیرالمومنین(ع) کے قلم سے اس شرط پر صلح نامہ لکھا کہ وہ لوگ دو ہزار اورانی حلے جن میں سے ہر ایک کی قیمت چالیس (40) درہم ہو اور ایک ہزار مثقال سونا ادا کریں، اس مطالبے کا نصف محرم میں اور نصف رجب میں پورا کریں۔ اس کے بعد طرفین کے دستخط ہوئے اور وہ لوگ واپس ہوئے راستے میں ان کے عالم عاقب نے اپنے ہمرہیوں سے کہا کہ قسم خداکی ہم اور تم جانتے ہیں کہ یہ محمد(ص) وہی پیغمبر(ص) موعود ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں خدا کی طرف سے کہتے ہیں ( اللہ جن لوگوں نے بھی کسی پیغمبر سے مباہلہ کیا ہے وہ ہلاک ہوئے ہیں اور ان کا کوئی چھوٹا بڑا زندہ نہیں بچا ہے۔ اگر ہم لوگ بھی مباہلہ کرتے تو قطعا سب کے سب ہلاک ہوجاتے اور روئے زمین پر کوئی عیسائی باقی نہ رہتا۔ خدا کی قسم جب میں نے ان لوگوں پر نظر ڈالی تو ایسی صورتیں دیکھیں کہ اگر خدا سے دعا کر دیتے تو پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جاتے۔

حافظ : جو کچح آپ نے بیان فرمایا سب درست ہے اور سارے مسلمان اس کو مانتے ہیں۔ لیکن ان باتوں کو ہمارے موضوع بحث سے کیا ربط ہے کہ علی کرم اللہ وجہہ رسول خدا(ص) کے ساتھ اتحاد نفسانی رکھتے ہیں؟

خیر طلب : اس آیت میں ہپمارا استدالل جملہ انفسنا سے ہے کیونکہ اس قضیہ میں کئی اہم مطالب ظاہر ہوتے ہیں ۔ اولا حقانیت رسول خدا(ص) کا اثبات ہے کہ اگ حق پر نہ ہوتے تو مباہلے کی جرائت نہ فرماتے اور بڑے بڑے مسیحی علماء میدان مباہلہ سے فرار نہ کرتے ۔ دوسرے یہ کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام حسن و امام حسین علیہما السلام رسول اللہ(ص) کے فرزند ہیں ( جیسا کہ ہم پہلی شب میں اشارہ کرچکے ہیں) تیسرے اس آیہ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ علی (ع) و فاطمہ(س) اور حسن(ع) و حسین علیہم السلام حضرت ختمی مرتبت کے بعد سارے مخلوقات سے افضل اور آن حضرت(ص) کے نزدیک تمام انسانوں میں عزیز ترین تھے۔ جیسا کہ آپ کے سارے متعصب علماء جیسے زمخشری بیضاوی اور فخر الدین رازی وغیرہ نے بھی لکھا ہے اور خصوصیت سے جار اللہ زمخشری نے اس آیہ شریفہ کے ذیل میں مذکورہ بالا تفصیل کے ساتھ اس پنجتن


آل عبا(ع) کے اجتماع سے کئی حقیقتوں کا تذکرہ کیا ہے یہاں تک کہ کہتے ہیں یہ آیت اتنی زبردست دلیل ہے کہ پیغمبر(ص) کے ساتھ جادر کے نیچے جمع ہونے والے پنچ تن پاک (ع) کی افضلیت پر اس سے قوی دلیل اور کوئی نہیں ہے۔ چوتھے یہ کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام جملہ اصحاب رسول(ص) سے بلند اور افضل تھے۔ اس دلیل سے کہ خدائے تعالی نے آیہ شریفہ میں ان کو نفس رسول(ص) قرار دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ انفسنا سے خود حضرت خاتم الانبیاء(ص) کا ذاتی نفس مراد نہیں ہے۔ کیونکہ بلانا کسی دوسری ہستی کو چاہتا ہے اور انسان کو ہرگز یہ حکم نہیں دیا جاتا کہ خود اپنے کو بلائے۔ پس ضروری ہے کہ کسی اور کو دعوت دینا مقصود ہو جو پیغمبر(ص) کے لیے بمنزلہ نفس ہو۔ چونکہ فریقین ( شیعہ و سنی) کے موثق مفسرین ، محدثین کا اتفاق ہے کہ مباہلے میں آنحضرت(ص) کے ہمراہ علی، حسن و حسین اور فاطمہ علیہم السلام کے علاوہ کوئی اور موجود نہ تھا لہذا جملہ ابناء نا و ابناءکم سے حسنین علیہم السلام اور نساءنا و نساءکم سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا خارج ہوجاتے ہیں اور دوسرا شخص جو انفسنا سے مراد لیا جائے اس مقدس گروہ میں سوا امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کےکوئی نہیں تھا پس اس جملہ انفسنا سے محمد(ص) علی علیہما السلام کے درمیان اتحاد نفسانی ثابت ہوتا ہے کہ حق تعالی نے علی(ع) کو نفس محمد(ص) فرمایا ہے اور چونکہ دو نفسوں میں اتحاد حقیقی محال ہے لہذا قطعا مجازی اتحاد مراد ہے۔

آپ حضرات بہتر جانتے ہیں کہ علم اصول میں لفظ کو مجاز بعید کے مقابلے میں قریب تر مجاز پر حمل کرنا اولی ہے اور قریب تر مجاز جملہ امور اور سارے کمالات میں شرکت ہے سوا اس کے جو دلیل سے خارج ہوجائے اور ہم پہلے ہی بیان کرچکے ہیں کہ جو چیز دلیل اور اجماع سے خارج ہے وہ آنحضرت(ص) کی نبوت خاتمہ اور نزول وحی ہے لہذا ہم علی علیہ السلام کو اس خصوصیت میں پیغمبر(ص) کا شریک نہیں جانتے ہیں لیکن بحکم آیہ شریفہ دیگر کمالات میں شریک ہیں، اور قطعا مبدا فیاض سے پیغمبر(ص) کے ذریعے علی(ع) کو علی الاطلاق فیض پہنچا اور یہ خود اتحاد نفسانی کی دلیل ہے جو ہمارا مدعا ہے۔

حافظ : آپ کہاں سے کہہ رہے ہیں کہ اپنے نفس کو مجازا دعوت دینا مراد نہیں ہے اور یہ مجاز دوسرے مجاز سے اولی نہیں ہے؟

خیر طلب : میری درخواست ہے کہ خواہ مخواہ اختلاف کر کے جلسے کا وقت ضائع نہ کیجئے اور اںصاف کے راستے سے نہ ہٹئے۔ حق پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ جب کوئی بات اپنی منزل تک پہنچ جائے تو اس کو چھوڑ کر آگے بڑھئے آپ جیسے جلیل القدر اور منصف عالم سے ہم قطعا مجادلے اور کٹ حجتی کی امید نہیں رکھتے ۔ کیونکہ آپ خود جانتے ہیں اور صاحبان علم و فضل کے نزدیک ثابت ہے کہ مجازا نفس کا اطلاق دوسرے مجاز سے زیادہ مستعمل ہے اور عرب و عجم کے فضلاء و ادباء اور شعراء کی زبان اور کلام میں کافی رواج ہے کہ مجازا اتحاد کا دعوی کرتے ہیں جیسا کہ پہلے عرض کرچکا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ تم میری جان کی جگہ پر ہو اور خصوصیت سے اخبار و احادیث کی زبان میں یہ بات حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کے بارے میں کثرت سے وارد ہوئی ہے جو مقصد کے اثبات میں الگ الگ ایک مستقل دلیل ہے۔


اتحاد پیغمبر(ص) و علی(ع) پر اخبار و احادیث کے شواہد

من جملہ امام احمد ابن حنبل مسند میں، ابن مغازلی فقیہہ شافعی نے مناقب میں اور موفق بن احمد خطیب خوارزم مناقب میں نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) مکرر فرماتے تھے:

" عليّ منّي وأنامنه من أحبه فقدأحبني ومن أحبني فقدأحب اللّه"

یعنی علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں علی(ع) سے ہوں جو شخص ان کو دوست رکھے اس نے مجھ کو دوست رکھا اور جو شخص مجھ کو دوست رکھے اس نے خدا کو دوست رکھا۔

ابن ماجہ نے سنن جزو اول ص92 میں، ترمذی نے صحیح میں، ابن حجر نے ان چالیس حدیثوں میں سے جو صواعق میں فضائل امیرالمومنین (ع) میں نقل کی ہیں چھٹی حدیث میں امام احمد و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ سے۔ امام احمد ابن حنبل نے مسند جلد چہارم ص164 میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب 68 میں ، مسند بن ہماک جز چہارم اور معجم کبیر طبرانی سے ، امام ابو عبدالرحمن نسائی نے خصائص میں اور سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب 7 میں مشکوۃ سے سب نے جیش بن جنادہ سلونی سے روایت کی ہے کہ سفر حجتہ الوداع میں عرفات کے اندر رسول اللہ(ص) نے فرمایا :

"عليّ منّي وأنامن علی،ولايؤدّي عنّي إلّاأناأوعليّ"

یعنی علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں علی(ع) سےہوں اور میری طرف سے کوئی ادا نہیں کرتا ہے ( یعنی میرے فرض تبلیغ کو انجام نہیں دیتا ہے) سوا میرے یا علی(ع) کے۔

سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ باب7 میں زوائد مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل سے بسند ابن عباس نقل کیا ہے کہ پیغمبر(ص) نے ( ام المومنین) ام سلمی رضی اللہ عنہا سے فرمایا :

"عَلِيٌ مِنِّي ،وَأَنَامِنْ عَلِيٍ ،لَحْمُهُ لَحْمِي،وَدَمُهُ دَمِي،وَهُوَمِنِّي بِمَنْزِلَةِهَارُونَ مِنْ مُوسَى،يَاأُمَّ سَلَمَةَ،اسْمَعِي وَاشْهَدِي،هَذَاعَلِيٌّ سَيِّدُالْمُسْلِمِينَ."

یعنی علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں علی(ع) سے ہوں ان کا گوشت اور خون میرے گوشت اور خون سے ہے اور وہ مجھ سے بمنزلہ ہارون(ع) ہیں موسی سے اے ام سلمہ سنو اور گواہ رہو کہ یہ علی(ع) مسلمانوں کے سید و آقا ہیں۔

حمیدی نے جمع بین الصحیحن میں اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں نقل کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا

"علي مني وأنامنه و علی منی بمنزلة الراس من البدن من اطاعه فقد اطاعنی و من اطاعنی فقد اطاع الله "

یعنی علی(ع) مجھ سے ہیں اور میں علی(ع) سے ہوں علی(ع) مجھ سے بمنزلہ سر ہیں بدن سے۔ جس نے ان کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی۔

محمد بن جریر طبری اپنی تفسیر میں اور میر سید ہمدانی فقیہ شافعی مودۃ القربی ہشتم میں رسول اکرم(ص) سے نقل کرتے ہیں کہ فرمایا :

"ان الله تبارک و تعالی اسد هذا الذين بعلی و انه منی و انا منه و فيه انزل أَفَمَنْ كانَ


عَلى بَيِّنَةٍمِنْ رَبِّه ِوَيَتْلُوهُ شاهِدٌمِنْهُ "

یعنی در حقیقت خدائے تعالی نے اس دین کی علی(ع) کے ذریعے تائید فرمائی ہے کیونکہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور ان کے بارے میں آیہ شریفہ نمبر20 سورہ نمبر11 ( ہود) نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر خدا(ص) کی طرف سے قرآن جیسی روشن دلیل رکھتے ہیں اور ان کا ( علی جیسا) سچا گواہ ہے( جو اپنے ہر قول و فعل سے رسالت کی سچائی ثابت کرتا ہے ) اور شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ کے باب 7 کو اسی موضوع سے مخصوص کیا ہے اس عنوان کےساتھ کہ

" الباب السابع فی بيان ان علیا کرم الله وجهه کنفس رسول الله صلی الله عليه و آله وسلم و حديث علی منی و انا منه "

یعنی ساتوان باب اس بیان میں کہ علی کرم اللہ وجہہ رسول اللہ(ص) کے نفس کے مانند ہیں اور اس حدیث میں کہ علی مجھ سے ہیں اور میں علی(ع) سے ہوں۔

اس باب میں مختلف طریقوں اور متفاوت الفاظ کے ساتھ رسول خدا(ص) سے چوبیس حدیثیں نقل کرتے ہیں کہ فرمایا علی(ع) میرے نفس کی جگہ پر ہیں اور آخر باب میں مناقب سے بروایتجابر ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ فرمایا علی(ع) میں ایسی خصلتیں ہیں کہ اگر کسی شخص کے لیے ان میں سے ایک بھی ہوتی تو اس کے فضل و شرف کےلیے کافی تھی اور ان خصلتوںسے مراد علی(ع) کے بارے میں رسول اللہ(ص) کے ارشادات ہیں مثلا :

" من كنت مولاه فعلى مولاه -يا علی منی کهارون من موسی، يا علی منی و انا منه.يا علی منی کنفسی طاعته طاعتی و معصيتهمعصيتی يا حرب علی حرب الله و سلم علی سلم الله.يا ولی علی ولی الله وعدو علی عدو الله.يا. علی حجت الله علی عباده.يا حب علی ايمان و بغضه کفر –يا- حزب علی حزب الله و حزب اعدائه حزب الشيطان -يا- علی مع الحق و الحق معه لا يفترقان -يا - علی قسيم الجنة و النار-يا - من فارق عليا فقد فارقنی و من فارقنی فقد فارق الله-يا-شيعه علی هم الفائزون يوم القيمة."

یعنی جس شخص کا میں مولا ہوں پس علی(ع) بھی اس کے مولا ( اس کے امر میں اولی بتصرف ) ہیں۔ علی(ع) مجھ سے مثل ہارون کے ہیں موسی(ع) سے ۔ علی(ع) مجھ سے اور میں علی(ع) سے ہوں۔ علی(ع) مجھ سے مثل میرے نفس کے ہیں ان کی اطاعت میری اطاعت ہے اور ان کی نا فرمانی میری نافرمانی ہے۔ علی(ع) کےساتھ جنگ خدا کےساتھ جنگ ہے اور علی (ع) کے ساتھ صلح و آشتی خدا کے ساتھ صلح و آشتی ہے۔ علی(ع) کا دوست خدا کا دوست اور علی کا دشمن خدا کا دشمن ہے۔ علی(ع) خدا کی حجت ہیں اس کے بندوں پر ، علی(ع) کی محبت ایمان اور ان کی عداوت کفر ہے۔ علی(ع) کا گروہ خدا کا گروہ اور ان کے دشمنوں کا گروہ شیطان کا گروہ ہے۔ علی(ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق ان کےساتھ ہے۔دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے ، علی(ع) بہشت و دوزخ کےتقسیم کرنے والے ہیں جو شخص علی(ع) سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوا او جو شخص مجھ سے جدا ہوا وہ خدا سے جدا ہوا۔ علی(ع) کے شیعہ قیامت کے روز رستگار ہیں۔

آخر میں مناقب سے ایک اورمفصل حدیث نقل کرتے ہیں جس کے خاتمے میں ارشاد ہے:

" اقسم بالله الذی


بعثنی بالنبوة و جعلنی خير البريه انک لحجة الله علی خلقه و امينه علی سره و خليفة الله علی عباده"

یعنی قسم اس خدا کی جس نے مجھ کو نبوت کےساتھ مبعوث کیا اور مجھ کو بہترین خلق قرار دیا۔ در حقیقت تم( اے علی) خدا کی حجت ہو اس کی مخلوق پر اور اس کے امانت دار ہو اس کے راز پر اور خلیفہ خدا ہو اس کے بندوں پر۔

اس قسم کے اخبار و احادیث صحاح اور آپ کی معتبر کتابوں میں بکثرت وارد ہوئے ہیں جو آپ کی نظرسے گذر چکے ہوں گے یا آئندہ ان کا مطالعہ کریں گے تو تصدیق کریں گے کہ یہ سب اس مجاز کا قرینہ ہیں، پس کلمہ انفسنا نسبی و حسبی ظاہری و باطنی اور علمی و عملی کمالات میں حضرت علی علیہ السلام کے انتہائی ارتباط و اتحاد پر واضح دلالت کرتا ہے۔ آپ چونکہ صاحب علم وعقل ہیں لہذا امید ہے کہ انشاء اللہ ضد اور ہٹ دھرمی سے الگ رہ کر تسلیم کریں گے کہ یہ آیہ شریفہ مطلب و مقصود کے اثبات میں، ایک قاطع دلیل ہے۔ اور اسی آیت سے آپ کے دوسرے سوال کا جواب بھی دیا جاتا ہے جب ہم ثابت کرچکے علی علیہ السلام سوا نبوت خاصہ اور نزول وحی کے بحکم آیہ انفسنا خاتم الانبیاء(ص) کےساتھ تمام کمالات میں شریک تھے تو معلوم ہوا کہ آپ کے کمالات مراتب اور خصائص میں سے جملہ صحابہ اور امت پر افضل ہونا بھی ہے اور نہ صرف صحابہ و امت پر افضل تھے بلکہ اسی آیہ مبارکہ کی دلیل اور عقل کے حکم سے انبیاء پر بھی بلا استثناء افضل ہونا چاہئیے جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام انبیاء و امت پر افضل تھے۔

چونکہ پیغمبر(ص) انبیاء پر افضل ہیں لہذا علی(ع) بھی ان سے افضل ہیں

اگر آپ اپنی معتبر کتابیں جیسے احیاء العلوم امام غزالی، شرح نہج البلاغہ ابی ابی الحدید ، معتزلی تفسیر امام فخر رازی، تفسیر جار اللہ زمخشری و بیضاوی و نیشاپوری وغیرہ مطالعہ فرمائیے تو دیکھئے گا کہ رسول اکرم (ص) سے یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ علماء امتی کانبیاء بنیا اسرائیل یعنی میری امت کے علماء انبیائے بنی اسرائیل کے مثل ہیں اور دوسری حدیث میں ارشاد ہے علماء امتی افضل من انبیاء بنی اسرائیل یعنی میری امت کے علماء انبیائے بنی اسرائیل سے افضل و بہتر ہیں۔ اس وقت از روئے انصاف کہنا پڑے گا کہ جب اس امت کے علماء محض اس وجہ سے کہ ان کا علم سر چشمہ علم محمدی کا فیض ہے انبیائے بنی اسرائیل کے مثل یا ان سے بہتر قرار پائے تو علی بن ابی طالب علیہ السلام تو یقینا ان سے افضل ہوں گے کیونکہ ان کے لیے قول رسول (ص) کی یہ نص موجود ہے جس کو آپ کے بڑے علماء نے نقل کیا ہے کہ " انا مدينة العلم وعلی بابها و انا دار الحکمة و علی بابها" یعنی میں علم کا شہر ہوں اور علی(ع) اس کے دروازہ ہیں اور میں حکمت کا گھر ہوں اور علی(ع) اس کے دروازہ ہیں۔ اور اس میں ہرگز کوئی شک و شبہ نہیں ہوسکتا خود حضرت علی علیہ السلام سے جب اس موضوع پر سوال کیا گیا تو آپ نے افضلیت کے بعض پہلو ظاہر فرمائے۔


انبیاء سے افضل ہونے کے سبب میں صعصعہ کے سوالات اور حضرت علی(ع) کے جوابات

ماہ رمضان المبارک سنہ40 ھ کی بیسویں تاریخ جب شقی ترین اولین و آخرین ( جیسا کہ رسول اللہ(ص) نے خبر دی تھی) عبدالرحمن ابن ملجم مرادی ملعون کی زہر آلود تلوار کے زخم سے حضرت پر موت کے آثار طاری ہوئے تو اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام سے فرمایا کہ جو شیعہ دروازے پر مجتمع ہیں ان کو اندر بلا لو تاکہ مجھ سے ملاقات کر لیں۔ جب وہ لوگ آئے تو چاروں طرف سے بستر کو گھیر لیا اور حضرت کی حالت پر چپکے چپکے رونے لگے۔ حضرت نے انتہائی ناتوانی کے ساتھ فرمایا : " سلونی قبل ان تفقدونی ولکن خففوا مسائلکم "( یعنی مجھ سے جو چاہو پوچھ لو قبل اس کے کے مجھ کو نہ پائو لیکن سبک اور مختصر سوالات کرو۔ )چنانچہ اصحاب نے باری باری سوال کرتے تھے اور جواب سنتے تھے۔

من جملہ صعصعہ بن صوحان بھی تھے۔ جو ایک سر برآوردہ شیعہ ، کونے کے مشہور خطیب اور بزرگ راویوں میں سے ہیں جن کی روایتوں کو علاوہ شیعہ کے آپ کے بڑے بڑے علماء یہاں تک کہ صاحبان صحاح نے بھی علی علیہ السلام اور ابن عباس سے نقل کیا ہے۔ ان کی سیرت نقل کرنے میں آپ کے کبار علماء جیسے ابن عبدالبر نے استیعاب میں، ابن سعد نے طبقات میں، ابن قتیبہ نے معارف میں اور دوسروں نے بھی کافی تفصیل سے کام لیا ہے اور ان کی توثیق کی ہے کہ ایک عالم و فاضل اور صادق و متدین انسان اور علی علیہ السلام کے اصحاب خاص میں سے تھے۔ صعصعہ نے عرض کیا۔ " اخبرنی انت افضل ام آدم " مجھ کو خبر دیجئے کہ آپ افضل ہیں یا آدم؟ حضرت نے فرمایا " تزکية المرء لنفسهقب ي ح " انسان کے لیے خود اپنی تعریف کرنا اچھا نہیں ہے لیکن بفحوائے و اما بنعمۃ ربک فحدث" ( یعنی اپنے خدا کی دی ہوئی نعمتوں کو بیان کرو۔)میں کہتا ہوں کہ انا افضل من آدم میں آدم سے افضل ہوں۔ عرض کیا ولم ذالک یا امیرالمومنین کس دلیل سے ایسا ہے؟ حضرت نے مفصل تقریر کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آدم کے لیے بہشت میں رحمت اورنعمت کے سارے وسائل مہیا تھے صرف ایک درخت گندم سے روکے گئے تھے لیکن وہ باز نہ رہے۔ اور اس شجرہ ممنوعہ میں سے کھایا جس کی وجہ سے بہشت اور اللہ کے جوار رحمت سے خارج ہوئے۔ لیکن باوجودیکہ خدا نے مجھ کو گندم کھانے سے منع نہیں فرمایا تھا میں نے چونکہ دنیا کو قابل توجہ نہیں سمجھتا لہذا اپنی مرضی اور ارادے سے گیہوں نہیں کھایا مطلب یہ ہے کہ خدا کے نزدیک انسان کی فضیلت و بزرگی ، زہد و ورع اور تقوی سے ہے۔ دنیا اور متاع دنیا سے جس شخص کی پرہیزگاری جتنی زیادہ ہے یقینا خدا کی بارگاہ میں اس کا قرب و منزلت بھی زیادہ ہے اور زہد کی انتہا یہ


ہے کہ غیر ممنوع مباح سے بھی پرہیز کرے۔

عرض کیا انت افضل ام نوح آپ افضل ہیںیا نوح؟ قال انا افضل من نوح فرمایا میں نوح سے افضل ہوں عرض کیا لم ذالک کس وجہ سے؟ فرمایا نوح نے اپنی قوم کو خدا کی طرف دعوت دی تو ان لوگوں نے قبول نہیں کیا بلکہ ان بزرگوار کو بہت تکلیفیں پہنچائیں یہاں تک کہ انہوں نے بد دعا کی " رب لا تذر علی الارض من الکافرين ديارا ." ( یعنی پروردگارا روئے زمین میں کافروں مِیں سے کسی باشندے کو زندہ نہ چھوڑ) لیکن مجھ کو خاتم الانبیاء کے بعد امت نے باوجودیکہ اس قدر صدمات اور بے شمار اذیتیں پہنچائیں لیکن میں نے بد دعا نہیں کی بلکہ مکمل صبر اختیار کیا ( جیسا کہ خطبہ شقشقیہ کے ضمن میں فرمایا ہے "صبرت وفی العين قذی و فی الحلق شجی" ( یعنی میں نے صبر کیا در آنحالیکہ آنکھ میں تنکا اور حلق میں ہڈی تھی) کنایہ اس طرف ہے کہ خدا کی طرف سب سے زیادہ قریب وہ ہے جس کا صبر بلا پر سب سے زیادہ ہو۔

عرض کیا انت افضل ام ابراهیم آپ افضل ہیں یا ابراہیم ؟ فرمایا "انا افضل من ابراهیم " عرض کیا لم ذالک؟ ایسا کس لیے ہے؟ فرمایا ابراہیم نے عرض کیا :

" رَبّ ِأَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتى قالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قالَ بَلى وَلكِنْ لِيَطْمَئِنّ َقَلْبِي"

یعنی پروردگارا مجھ کو دکھا دے کہ تو کیوں کر مردوں کو زندہ کرے گا، خدا نے فرمایا کیا تم ایمان نہیں رکھتے عرض کیا ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ ( مشاہدہ کر کے) اطمینان قلب حاصل کروں۔

لیکن میرا ایمان اس منزل پر پہنچا ہوا ہے کہ میں نے کہا " لو کشف الغطا ما ازددت يقينا " یعنی یقینا اگر پردے ہٹا دے جائیں جب بھی میرے یقین میں زیادتی کی گنجائش نہیں۔ مقصد یہ کہ انسان کی رفعت اس کے یقین کے مطابق ہے یہاں تک کہ حق الیقین کی منزل پر پہنچ جائے عرض کیا انت افضل ام موسی آپ افضل ہیں یا موسی؟ قال انا افضل من موسی فرمایا میں موسی سے افضل ہوں عرض کیا۔ کس سبب سے ؟ فرمایا جس وقت خدا نے ان کو مامور کیا کہ مصر جا کر فرعون کو حق کی دعوت دیں تو انہوں نے عرض کیا :

"رَبِ إِنِّي قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْساًفَأَخافُ أَنْ يَقْتُلُونِ* وَأَخِي هارُونُ هُوَأَفْصَحُ مِنِّي لِساناًفَأَرْسِلْهُ مَعِي رِدْءاًيُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخافُ أَنْ يُكَذِّبُونِ*"

یعنی خداوندا میں نے ان میں سے ایک شخص کو قتل کیا ہے لہذا ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو قتل کردیں گے اور میرے بھائی ہارون چونکہ مجھ سے زیادہ خوش بیان ہیں لہذا ان کو میرا شریک کار بنا کر بھیج دے تاکہ وہ میری تصدیق کریں۔ مجھ کو خوف ہے کہ وہ لوگ میری رسالت کو جھٹلائیں گے۔

لیکن جب مجھ کو من جانب خدا رسول اکرم(ص) نے مامور کیا کہ مکہ معظمہ پہنچ کر خانہ کعبہ کی چھت سے سورہ برائت ک شروع کی آیتیں کفار قریش کے سامنے پڑھوں تو باوجودیکہ بہت کم ایسے لوگ تھے جن کے بھائی یا باپ یا چچا یا ماموں یا دوسرے عزیز و قریب میرے ہاتھ قتل نہ ہوچکے ہوں لیکن میں نے قطعا خوف نہیں کیا اور تعمیل حکم کرتے ہوئے تنہا جا کر اپنا فرض انجام دیا اور سورہ برائت ان کوسنا کر واپس آیا۔

اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ انسان کی فضیلت توکل علی اللہ سے ہے جس کا توکل سب سے زیادہ ہے اس کا مرتبہ بھی سب سے زیادہ ہے موسی(ع) نے اپنے بھائی پر بھروسا کیا لیکن امیرالمومنین علیہ السلام نے ذات الہی اور اس کے لطف و کرم پر


کامل اعتماد رکھا۔

قال انت افضل ام عيسی عرض کیا آپ افضل ہیں یا عیسی ؟ قال انا افضل من عيسی فرمایا میں عیسی سے افضل ہوں۔ قال لم ذالک عرض کیا ایسا کیوں ہے؟ فرمایا جب مریم کے گریباں میں جبرئیل کے دم کرنے سے وہ بقدرت خدا حاملہ ہوگئیں اور وضع حمل کا وقت قریب آیا تو مریم کو وحی ہوئی کہ " اخرجی عن البيت فان هذهبيت العبادة لا بيت الولادة" بیت المقدس سے باہر چلی جائو کیونکہ یہ عبادت کا گھر ہے زچہ خانہ نہیں ہے چنانچہ وہ بیت المقدس سے نکل کر صحرا میں ایک خشک درخت خرما کے نیچے گئیں اور وہیں عیسی(ع) کی ولادت ہوئی۔

لیکن میں جس وقت مسجد الحرام کے اندر میری ماں فاطمہ بن اسد کو درد زہ عارض ہوا تو مستجار کعبہ سے متمسک ہو کر دعا کی خداوندا اس گھر اور اس گھر کے بنانے والے کا واسطہ اس درد کو مجھ پر آسان فرما۔ اس وقت دیوار خانہ کعبہ شگاف پیدا ہوا اور میری ماں فاطمہ کو غیب سے آواز آئی کہ یا فاطمہ ادخلی البیت ۔ ( یعنی اے فاطمہ خانہ کعبہ میں داخل ہو جائو) فاطمہ اندر گئیں اور وہیں میری ولادت ہوئی۔

مراد یہ ہے کہ شرافت انسانی کا پہلا درجہ حسب و نسب اور طہارت مولد ہے۔ جس کی روح ، نفس اور جسم پاکیزہ ہے وہ افضل ہے ( خانہ کعبہ میں داخل ہونے کے لیے فاطمہ کو حکم خدا ہونے اور مریم کو بیت المقدس میں وضع حمل سے منع کرنے سے نیز بیت المقدس پر مکہ معظمہ کی فضیلت کے پیش نظر مریم پر فاطمہ کی اور حضرت عیسی(ع) پر حضرت علی علیہ السلام کی افضلیت ثابت ہوتی ہے۔)

علی (ع) تمام انبیاء کے آئینہ تھے

نماز کا وقت آگیا لہذا مولوی صاحبان اٹھ گئے۔ ادائے فریضہ اور چائے نوشی وغیرہ کے بعد میں نے سلسلہ کلام شروع کیا) جو کچھ عرض کرچکا اس کے علاوہ خود آپ کے علماء کی معتبر اور موثق کتابوں میں موجود ہے۔ کہ علی علیہ السلام کو تمام انبیاء کے صفات کا آئینہ اور اان کا حامل قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص449 میں، حافظ ابوبکر فقیہ شافعی احمد بن الحسین بیہقی نے مناقب میں، امام احمد ابن حنبل ے مسند میں، امام فخرالدین رازی نے تفسیر کبیر میں آیہ مباہلہ کے ذیل میں، محی الدین عربی نے کتاب یواقیت و جواہر کے مبحث نمبر32 ص173 میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ شروع باب 40 میں مسند احمد، صحیح بیہقی اور شرح المواقف والطریقہ المحمدیہ سے، نورالدین مالکی نے فصول المہمہ ص121 میں بیہقی سے، محمد طلحہ شافعی نے مطال بالسئول ص22 میں اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب23 میں الفااظ و عبارات کی مختصر کمی و بیشی کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:

" مَنْ أَرَادَأَنْ يَنْظُرَإِلَى آدَمَ فِي عِلْمِهِ،وَإِلَى نُوحٍ فِي تَقْوَاهُ،(فی حکمته)وَإِلَى


إِبْرَاهِيمَ فِي خلته(فی حِلْمِهِ)وَإِلَى مُوسَى فِي هَيْبَتِهِ،وَإِلَى عِيسَى فِي عِبَادَتِهِ: فَلْيَنْظُرْإِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِيطَالِبٍ."

یعنی جو شخص چاہتا ہے کہ آدم کو ان کے علم میں و نوح کو ان کے تقوی یا حکمت میں، ابراہیم کو ان کی خلت یا حلم میں، موسی کو ان کی ہیبت میں اور عیسی کو ان کی عبادت میں دیکھے تو وہ علی ابن ابی طالب(ع) کو دیکھے۔

اور میر سید علی ہمدانی شافعی نے مودۃ القربی مودت ہشتم میں اس حدیث مبارک کو چند انسانوں کے ساتھ نقل کیا ہے ان کے آخر میں جابر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا :

"فان فيه تسعين خصلة من خصال الانبياء جمعها الله فيه ولم يجمعها فی احد غيره. "

یعنی در حقیقت خدا نے علی(ع) کے اندر انبیاء کی نوے خصلتیں جمع کی ہیں جو دوسرے کو نہیں دیں۔

حدیث تشبیہ کے بارے میں گنجی شافعی کا بیان

شیخ فقیہ محدث شام صدر الفاظ محمد بن یوسف گنجی شافعی یہ حدیث نقل کرنے کے بعد بعنوان قلب ( میرا قول ہے) مزید بیان دیتے ہیں کہ آدم(ع) کے ساتھ ان کے علم میں علی کو تشبیہ اس وجہ سے دی گئی کہ خدا نے آدم کو ہر چیز کا علم اور صفت تعلیم کی تھی جیسا کہ سورہ بقر میں فرماتا ہے: " وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَكُلَّها " (یعنی خدا نے آدم کو سارے اسماء کی تعلیم دی۔ آیت نمبر29 سورہ نمبر4 ( بقرہ) اور اسی طرح کوئی چیز یا حادثہ و واقعہ ایسا نہیں ہے جس کا علم اور اس کے مقصد کا ادراک و استنباط علی(ع) کے پاس نہ ہو اسی علم الہی کا نتیجہ تھا کہ ھضرت آدم خلعت خلافت سے سر فراز ہوئے جیسا کہ آیت نمبر28 سورہ نمبر4 ( بقرہ) میں خبر دیتا ہے کہ " إِنِّي جاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً " ( یعنی میں زمین میں خلیفہ مقرکرنے والا ہوں) پس ہر باذوق انسان آں حضرت(ص) کی اس تشبیہ سے سمجھ سکتا ہے کہ جب یہ علم آدم افضلیت و برتری ، مسجودیت ملائکہ اور منصب خلافت کا سبب بنا تو علی(ع) بھی تمام مخلوقات سے افضل و برتر اور خاتم الانبیاء کے بعد عہدہ خلافت پر فائز ہیں۔

نوح کے ساتھ ان کی حکمت میں تشبیہ دینے سے گویا یہ مراد ہے کہ علی علیہ السلام کفار پر سخت اور مومنین پر مہربان تھے جیسا کہ خدا نے قرآن مجید میں ان کی تعریف فرمائی ہے کہ : " وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُعَلَى الْكُفَّارِرُحَماءُبَيْنَهُمْ "( یہ بات بھی ایک دلیل ہے اس بات پر کہ یہ آیت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا ہے۔)کیونکہ نوح کفار کے لیے بہت سخت تھے چنانچہ قرآن مجید خبر دے رہا ہے " رب لا تذر علی الارض من الکافرين ديارا ."(یعنی نوح نے عرض کیا کہ خداوندا زمین پر کافروں میں سے کسی باشندے کو نہ چھوڑ) آیت نمبر27 سورہ نمبر71 ( نوح) اور ابراہیم کے ساتھ حلم میں علی(ع) کی تشبیہ دینے سے یہ مقصد ہے کہ قرآن میں ابراہیم علی نبینا و آلہ وعلیہ السلام کا اس صفت کے ساتھ تذکرہ کیا گیا ہے " إِنَّإِبْراهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ " ( یعنی درحقیقت ابراہیم یقینا آہ و زاری کرنے


والے برد بار تھے آیت نمبر115 سورہ نمبر9 (توبہ) یہ تشبیہات ثابت کرتی ہیں کہ علی علیہ السلام اخلاق انبیاء سے آراستہ اور صفات اصفیاء سے متصف تھے۔ انتہی۔

اب آپ حضرات اگر ذرا اںصاف سے غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس فریقین ( شیعہ و سنی) کی متفق علیہ حدیث شریف سے واضح ہوتا ہے کہ امیرالمومنین علیہ السلام جملہ ممکن صفات عالیہ کے جامع ہیں جن میں سے ہر صفت انبیاء کی بہترین صفت کے برابر ہے لہذا قاعدے کے روسے ضروری ہے کہ ان سب صفات کے جامع ہونے کی حثیت سے آپ کے سارے انبیاء میں ہرایک سے افضل ہوں اور یہ حدیث ( باستثنائے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) انبیائے عظام پر علی علیہ السلام کی افضلیت کی دوسری دلیل ہے کیونکہ جب آپ ہر نبی کی مخصوص فضیلت و خصلت میں ان کے مساوی ہیں اور دوسروں کے فضائل و خصائل کے بھی حامل ہیں تو لازمی طور پر ہر ایک سے افضل ہوں گے۔ چنانچہ خود محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں یہ حدیث نقل کرنے کے بعد اس مطلب کی وضاحت کی ہے اور صاف صاف کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے اس حدیث سے علی علیہ السلام کے لیے آدم کا ایسا علم نوح کا ایسا تقوی ابراہیم کا ایسا حلم موسی کی ایسی ہیبت اور عیسی کی ایسی عبادت ثابت فرمائی ہے یہاں تک کہ کہتے ہیں " و تعلوا هذه الصفات الی اوج العلی حيث شبهها بهولا والانبياء المرسلين من الصفات المذکوره" یعنی یہ اوصاف حمیدہ علی علیہ السلام کو انتہائی بلندی پر فائز کرتے ہیں اس لیے کہ پیغمبر(ص) نے آپ کو صفات مذکورہ میں انبیائے مرسلین سے تشبیہ دی ہے، کیا آپ آمت مرحومہ کے صحابہ و تابعین وغیرہ میں امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے علاوہ کوئی ایسی فرد دکھا سکتے ہیں جو انبیاء عظام کے تمام صفات حمیدہ اور اخلاق پسندیدہ کی حامل ہو اور آپ کے سر برآوردہ علماء اس کے اس مرتبے کو تسلیم بھی کرتے ہوں؟

چنانچہ شیخ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ باب 40 میں مناقب خوارزمی سے بسلسلہ محمد بن منصور نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے امام احمد ابن حنبل کو کہتے ہوئے سنا کہ " ماجاءلاحدمن الصحابةمنالفضائلمثل ماجاءلعليبنأبيطالب" (یعنی جیسی فضیلتیں علی ابن ابی طالب(ع) کے لیے ہیں ویسی ایک بھی اصحاب میں سے کسی کے لیے نہیں آئی ہے) اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب3 میں بسند محمد منصور طوسی امام احمد سے اس طرح نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا " ماجاءلاحدمن اصحاب رسول اللَّه منالفضائلماجاءلعلىّ (عليهالسلام)"

یعنی اصحاب رسول(ص) میں سے کسی کے لیے وہ چیز وارد نہیں ہوئی ہے جو علی ابن ابی طالب(ع) کے لیے آئی ہے۔

فضیلت امیرالمومنین(ع) کا قول صرف امام احمد ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ آپ کے اکثر اںصاف پسند علماء نے ؟؟؟ چیز کی تصدیق کی ہے۔ چنانچہ ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ جلد اول ص46 میں کہتے ہین کہ :

"إنّه عليه السّلام كان أولى بالأمروأحقّ لاعلى وجه النّصّ بل على وجه الأفضليّة،فانّه أفضل البشربعدرسول اللّه صلّى اللّه عليه وآله وأحقّ بالخلافةمن جميع المسلمين"

یعنی علی علیہ السلام امر میں اولی اور احق تھے نص کی جہت سے نہیں بلکہ افضلیت کی وجہ سے اس لیے کہ وہ رسول خدا(ص) ک بعد تمام انسانوں سے افضل اور سارے مسلمانوں سے زیادہ خلافت کے حقدار تھے۔


آپ کو پروردگار عالم کی بزرگ ذات کی قسم ذرا اںصاف کی نظر سے دیکھئے ، آیا یہ بے انصافی نہیں ہے کہ محض عادت کی بنا پر اور اپنے اسلاف کی تقلید کرتے ہوئے بغیر غور و فکر اور دلیل و برہان کے ایسی بزرگ شخصیت کے مقابلے میں ان لوگوں کو مقدم کردیا جائے جو ان صفات سے محروم تھے۔

آیا صاحبان عقل و دانش پچھلے لوگوں کے فہم و شعور کا مذاق نہ اڑائیں گے کہ انہوں نے سیاست اور گروہ بندی کی بنا پر امت کے افضل انسان کو خانہ نشینی پر مجبور کیا اور ہر حیثیت سے مفضول ( کم رتبہ) شخص کو مسند خلافت پر بٹھا دیا اور کم سے کم اتنا بھی نہ کیا کہ سقیفہ کے اندر خلافت جیسے امر عظیم میں مشورہ کرنے کے لیے ان بزرگوار کو بھی خبر کر دیتے ۔ تاکہ یہ ذات بالکل ہی نظر انداز ہوجائے۔

حافظ : بے انصاف ہم ہیں یا جناب عالی؟ جو یہ فرمارہے ہیں کہ اصحاب رسول (ص) نے بغیر دلیل و برہان کے دوسروں کو مقدم قرار دیا اور خلافت غصب کر لی۔ واقعی آپ نے ہم سب کو بے عقل و نادان اور بے سر و پا مقلد فرض کر لیا ہے ۔ کون سی دلیل اجماع کی دلیل سے بالاتر ہوگی جب کہ تمام صحابہ و امت نے حتی کہ مولان علی کرم اللہ وجہہ نے بھی اجماع کر کے ابوبکر کی خلافت قائم کی اور اس پر راضی ہوئے؟

مخالفین کا قول کہ اجماع برحق ہے

بدیہی چیز ہے کہ امت کا اجماع حجت اور اس کی اطاعت واجب ہے کیونکہ رسول خدا(ص) نے فرمایا ہے :

"لاتجتمع أمتي على الخطإلاتجتمع أمّتي على الضلالة." ( یعنی میری امت خطا پر یا میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوتی) چنانچہ ہم نے اپنے اسلاف کی اندھی تقلید نہیں کی ہے بلکہ جب وفات پیغمبر(ص) کے بعد پہلے ہی روز تمام امت نے اجماع کر کے خلافت ابوبکر کا فیصلہ کر دیا اور ایک طے شدہ امر ہمارے سامنے آیا تو عقلا ہم کو صرف پیروی کرنا چاہئیے ۔

خیر طلب : سچ بتائیے رسول اکرم(ص) ک بعد حقانیت خلافت کی کیا دلیل ہے؟ یعنی خلافت کس دلیل سے ثابت ہوتی ہے؟

حافظ : ظاہر ہے کہ رسول خدا (ص) کے بعد وجود خلیفہ کے اثبات پر سب سے بڑی دلیل تمام امت کا اجماع ہے اس کے علاوہ جس دلیل کے سامنے ہر صاحب عقل و دانش کو گھٹنے ٹیکنا پڑتے ہیں وہ عمر کی زیادتی اور بڑھاپا ہے جس نے ابوبکر و عمر کو تقدم کا حق دیا اور علی کرم اللہ وجہہ باوجود انتہائی فضل و کمال اور قرابت رسول(ص) کے جس کو ساری امت مانتی ہے


کم سنی اور جوانی کی وجہ سے پچھے رہ گئے اور از روئے اںصاف ایک نو عمر جوان کو بزرگ صحابہ سے آگے بڑھںے کا حق بھی نہیں تھا۔

خلافت کی حیثیت سے علی کرم اللہ وجہہ کے اس پیچھے رہ جانے کو ہم نقض نہیں سمجھتے کیونکہ ان جناب کی افضلیت سب کے نزدیک ثابت ہے۔ نیز خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ جو حدیث نقل کی ہے کہ فرمایا :

"لَايَجْتَمِعُ النُّبُوَّةُوَالْمُلْكُ فِي أَهْلِبَيْتٍ وَاحِدٍ" ( یعنی نبوت او سلطنت ایک خاندان میں جمع نہیں ہوتی۔) اس نے بھی علی کرم اللہ وجہہ کو منصب خلافت سے بر طرف کردیا۔ چونکہ علی اہل بیت رسول(ص) میں سے تھے لہذا خلافت کا عہدہ پا ہی نہیں سکتے تھے۔

خیر طلب : جب آپ کے ایسے ذی علم اور ہوشمند انسانوں سے اس قسم کی دلیلیں سننے میں آتی ہیں تو سخت حیرت اور تعجب ہوتا ہے کہ آپ لوگ اپنی عادت کے کس قدر پابند ہوچکے ہیں کہ بغیر سوچے سمجھے آںکھ بند کر کے حق کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور ایسی دلیلیں بیان کرتے ہیں جن پر پسر مردہ عورتیں بھی ہنس پڑیں۔ اگر آپ تھوڑا سا بھی غور کر لیں تو سمجھ میں آجائے کہ اس طرح کے دلائل بالکل مہمل اور تنکنے کا سہارا ہیں۔ لیکن افسوس تو اس کا ہے کہ آپ حضرات ایک لمحے کے لیے بھی اس پر تیار نہیں ہوتے کہ ذرا تعصب اور سنیت کی عینک اتار کے اپنے بے سرو پا دلائل کے مقابل شیعہ علماء کی دلیلیں پر اںصاف اور غور و فکر کی نظر ڈالیں۔

صرف آپ کے عوام ہی ان دلائل سے ناواقف نہیں ہیں بلکہ جہاں جہاں میں نے آپ کے علماء سے گفتگو کی ، ان کو بھی شیعوں کے دلائل و براہین سے بے خبر اور تعصب میں غرق پایا۔ یہ سب محض اس وجہ سے ہے کہ اکابر متکلمین و محدثین اور علمائے شیعہ کی معتبر کابیں آپ کے کتب خانوں میں مطالعے کے لیے رکھی ہی نہیں جاتیں بلکہ ان کو کتب ضلال کہہ کے ایک دوسرے کو ان کے مطالعے سے منع کیا جا تا ہے۔

میں نے خود بصرہ ، بغداد ، شام، بیروت اور حلب وغیرہ بلاد اہل سنت کے بازارون میں کتب فروشوں سے علمائے شیعہ کی معتبر کتابوں میں سے ایک ایک کا نام پوچھا لیکن انہوں نے یہی کہا کہ ہم کو معلوم نہیں ۔ بلکہ وہ خا ص خاص کتابیں بھی جو علمائے اہل سنت نے اہل بیت طہارت اور عترت رسول(ص) کی تعریف اور منزل ولایت کے اثبات میں لکھی ہیں اور شائع بھی ہوچکی ہیں دو کانوں میں نہیں بگاتے۔

اگر آپ حضرات کبھی اتفاقیہ طور پر شیعوں کی کوئِ کتاب دیکھ بھی لیتے ہیں تو چونکہ کینے اور عداوت کی نظر سے دیکھتے ہیں لہذا اس قدر برانگیختہ اور مشتعل ہوجاتے ہیں کہ اںصاف اور علم و منطق کے ترازو پر اس کو تولنا ہی نہیں چاہتے جس سے انکشاف حقیقت ہو کر صحیح نتیجہ برآمد ہو لیکن اس کے برعکس ہماری شیعہ جماعت کی طرف سے آپ کے علماء کی کتابیں نشر کرنے میں کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ بلکہ انہوں ن جو معتبر کتابیں حدیث ، تفسیر ، یا ادب میں سپرد قلم کی ہیں وہ شیعوں کے بازار میں فروخت کے لیے موجود رہتی ہیں اور مکانوں یا ذاتی اور عمومی کتب خانوں میں ان کے مطالعے سے


نتائج اخذ کئے جاتے ہیں۔

اب میں اپنی اہم ذمہ داری کے خیال سے مجبور ہوں کہ آپ حضرات کو متوجہ کرنے کے لیے وقت کے لحاظ سے مختصر جواب عرض کروں تاکہ آپ کو یہ غلط فہمی نہ رہ جائے کہ واقعی آپ کی دلیلیں مضبوط اور ناقابل تردید ہیں۔

اجماع کے رد میں دلائل

پہلے آپ نے حدیث پیش کر کے فرمایا ہے کہ امت کا جماع حجت اور مضبوط دلیل ہے۔

یقینا آپ بہتر جانتے ہیں کہ یائے متکلم کے ساتھ امت کا لفظ عموم کا فائدہ دیتا ہے ۔ پس حدیث کے معنی ( اگر صحیح فرض کر لی جائے) یہ ہوتے ہیں کہ میری تمام امت خطا اور گمراہی پر جمع نہیں ہوتی۔ یعنی جس وقت پیغمبر (ص) کی ساری امت کسی امر پر متفق ہو جائے تو ہو غلط نہین ہوتا ہم بھی اس مطلب کو قبول کرتے ہیں کہ بغیر کسی ایک فرد کو مستثنی کئے ہوئے تمام امت کا اجتماع صحیح نتیجہ پیدا کرے گا، اس لیے کہ خدا نے اس امت کے خصوصیات میں سے قرار دیا ہے کہ ہمیشہ اس کے اندر کچھ ایسےافراد موجود رہیں گے جن کے ساتھ حق ہوگا اور وہ حق کے ساتھ ہوں گے یعنی حتمی طور پر حجت خدا اور الہی نمائندہ موجود رہے گا، اور ساری امت کے مجتمع ہو جانے کی صورت میں وہ اہل حق اور حجت خدا بھی اس کے درمیان ہوگا جو امت کو غلط کاری اور گمراہی سے منع کرے گا۔اگر آپ سنجیدگی کےساتھ غور کیجئے تو ثابت ہوگا کہ یہ حدیث ( بہ فرض صحت) ہرگز اس بات کا ثبوت نہیں دیتی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تعین خلافت کے حق سے ( خود دستبردار ہو کر) امت کو سرفراز کردیا تھا۔

اگر آُ کا یہ قول اور عقیدہ صحیح ہو کہ صاحب دین کامل پیغمبر(ص) " لاتجتمع أمتي على الخطإلاتجتمع أمّتي على الضلالة. " فرما کر تعیین خلافت کا حق اپنے سے الگ کر کے امت کے قبضے میں دیدیا تھا ( حالانکہ قطعا اس کی کوئی دلیل نہیں ہے) تو یقینا یہ پوری امت کا حق ہے یعنی چونکہ جملہ مسلمان امر خلافت سے فائدہ اٹھاتے ہِں لہذا خلافت کی رائے اور مشورے میں بھی سب کو دخل ہونا چاہئیے اور وفات رسول (ص) کے بعد کل امت کا جمع ہونا ضروری تھا تاکہ مشورہ کر کے سب کے رائے سے ایک کامل فرد کو خلیفہ مقرر کردیا جاتا۔

اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آیا وفات رسول(ص) کےبعد ان چند دنوں میں ایک سقیفہ نام کے چھوٹے سے چھتے کے اندر جس وقت خلافت ابوبکر کی آواز اٹھی تو ایسا اجماع جس میں تمام مسلمانوں نے متفقہ رائے دی ہو واقع ہوا تھا یا نہیں؟

حافظ : آپ تو ایک انوکھی بات کہہ رہے ہیں۔ دو سال سے کچھ زائدہ مدت کے اندر جس میں ابوبکر رضی اللہ عنہ


مسئلہ خلافت پر بر قرار رہے عام طور پر مسلمانوں نے ان کی اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کیا اور یہی اجماع کے منعی ہیں جو حقانیت کی دلیل ہے۔

خیر طلب : در اصل آپ نے جواب میں مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے، میرا سوال خلافت ابوبکر کے پورے دور کے متعلق نہیں تھا بلکہ میں نے عرض کیا تھا کہ سقیفہ (1) بنی ساعدہ میں خلافت ابوبکر کی رائے دینے کے وقت امت کا با قاعدہ اجماع ہوا تھا یا فقط چند اشخاص نے جو ایک چھوٹا سا گروہ بنائے ہوئے تھے اس چھوٹے سے چھتے کے اندر رائے دے کر بیعت کر لی۔

حافظ : یہ تو بدہی بات ہے کہ وہ کبار صحابہ میں سے چند نفر تھے لیکن بعد کو رفتہ رفتہ اجماع واقع ہوگیا۔

خیرطلب : میں بہت ممنون ہوں کہ آپ نے بات کو گھمایا نہیں اور حقیقت بیان کر دی۔ خدا کے لیے انصاف کیجئے کیا رسول خدا(ص) نے جو اس کے لیے اولی اور احق تھے کہ امت کے سامنے صراط مستقیم اور راہ راست کو واضح کریں اس عظیم ذمہ داری کو اپنی گردن سے اتار کر امت کے سر ڈال دیا کہ صرف چند افراد سیاسی گوئیں چلیں اور ان

میں سے ایک دوسرے کی بیعت کرے نیز تھوڑے سے ساتھی باراتی بھی بیعت کر لیں اور قبیلہ اوس دالے اس عداوت کی بنا پر جو وہ ہمیشہ سے قبیلہ خزرج کےساتھ رکھتے تھے اور اس خوف کی وجہ سے بیعت کر لیں کہ ایسا نہ ہو وہ لوگ پیش قدمی کر جائیں (اور سعد بن عبادہ امیر بن جائیں) بعدک رفتہ رفتہ لوگ خوف یا لالچ میں فرمانبردار بنیں اورایک حکومت ہو جائے تاکہ آج کی رات جناب عالی ان چند اشخاص کا نام اجماع رکھ دیں؟ آیا بلاد مکہ، یمن، جدہ، طائف، حبشہ اور دوسرے شہروں اور دیہات میں پھیلے ہوئے باقی مسلمان امت مرحومہ میں نہ تھے اور خلافت کے معاملے میں ان کو رائے دینے کا حق نہ تھا ؟ اگر کوئی سازش نہیں کی گئی تھی، پہلے سے کچھ قرار دادیں اور سیاسی چالیں پیش نظر نہ تھیں اور آپ کی یہ دلیل سچ تھی تو اتنا صبر کیوں نہیں کیا کہ خلافت جیسے اہم کام میں سارے مسلمانوں کا نقطہ نظر معلوم کر لیا جائے تاکہ تمام امت کا حقیقی اجماع صادق آجائے اور اس میں کسی غلطی یا گمراہی کی گنجائش نہ رہ جائے؟

چنانچہ دنیا کی ساری ترقی یافتہ قوموں کا دستور ہے کہ جمہوری حکومت قائم کرنے یا اپنا قائد چننے کے لیے عام اعلان کیا جاتا ہے اور پوری قوم کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اکثریت کی تجویز پر عملدر آمد ہوتا ہے۔ تاریخ عالم کو چھان ڈالئے ایسی بے بنیاد تشکیل اور ایسے رئیس کا تقرر تھوڑے سے لوگوں کے ہاتھوں کا کرشمہ ہو ڈھونڈھے نہ ملے گا۔ بلکہ متمدن فرمانبردار اور صاحبان عقل و ہوش اس عمل کی ہنسی اڑاتے ہیں۔ پھر تعجب بالائے تعجب یہ کہ ایک چھوٹے سے چھتے کے اندر ایسے مختصر سے مجمع کا نام اجماع رکھا جائے اور متعصب لوگ ساڑھے تیرہ سو سال کے بعد اب بھی اس بے محل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ سقیفہ انصار کے قبیلہ بنی ساعدہ کا ایک چھتہ تھا جس میں وہ لوگ مخصوس موقعوں پر صلاح و مشورہ کیا کرتے تھے۔


لفظ اور بے سرو پا عمل پر خواہ مخواہ اڑے رہیں اور کہیں کہ امت کا اجماع حقانیت خلافت کی دلیل ہے یعنی کچھ آدمیوں کی مٹھی بھر جماعت نے ایک گوشے میں اکٹھا ہو کر پوری ملت اور امت کے سیاہ و سفید کا اختیار ایک شخص کے ہاتھ میں دیدیا لہذا یہ برحق ہے اور لامحالہ اس کی اطاعت میں سر جھکانا ہی چاہئیے۔

حافظ : آپ کیوں بے لطفی کی بات کرتے ہیں۔ اجماع سے مراد صاحبان عقل اور بزرگان صحابہ کا اجماع تھا جو سقیفے کے اندر واقع ہوا۔

خیر طلب : آپ کا یہ فرمانا کہ اجماع سے مراد صاحبان عقل اور بزرگان صحابہ کا اجماع تھا محض زبردستی اور بغیر دلیل کی منطق ہے اس لیے کہ آپ کے پاس سوا اس حدیث کے اور کچھ نہیں ہے فرمائیے جس حدیث پر آپ کا سارا دار و مدار ہے اس میں صاحبان عقل اور بزرگان صحابہ کی بات کہاں سے نکلتی ہے ؟ آپ اپنی منشاء کے مطابق حدیث کے ایسے معنی کرتے ہیں کہ عقلمند اور اہل علم حیران رہ جاتے ہیں۔

حالانکہ میں عرض کرچکا ہوں کہ امتی میں یائے نسبت عمومیت کا پتہ دیتی ہے نہ کہ چند نفر صحابہ کا چاہے وہ عاقل و فاضل ہی کیوں نہ ہوں۔ اگر تھوڑی دیر کے لیے فرض کر لیا جائے کہ آپ کا فرمانا ( کہ عقلا ، کبار اصحاب کا اجماع مراد ہے) درست ہے تو کیا صاحبان عقل اور بزرگان صحابہ صرف وہی گنے چنے افراد تھے جنہوں نے سقیفہ کے مختصر سے چھتے میں ابوبکر و عمر اور ابو عبیدہ جراح ( گورکن) کی پیشوائی کے لیے رائے دی اور بیعت کی۔

آیا مسلمانوں کے دوسرے شہروں میں صاحبان عقل اور بزرگان صحابہ نہیں رہتے تھے؟ آیا قوم کے سارے عقلمند اور کبار اصحاب وفات رسول (ص) کے وقت مدینے کے اندر اور وہ بھی ایک چھوٹے سے چھتے میں جمع تھے اور سب نے مل کر اس امر پر اجماع کیا تھا تاکہ آج کی شب وہ آپ کے لیے دلیل بنے؟

حافظ : چونکہ خلافت کا معاملہ اہم تھا اور ممکن تھا کہ کوئی فتنہ اٹھ کھڑا ہو لہذا اس کا موقع نہیں تھا کہ دیگر مقامات کے مسلمانوں کو اطلاع کی جائے۔ چنانچہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے جس وقت یہ سنا کہ کچھ انصار وہاں جمع ہیں تو فورا خود بھی پہنچے اور بات چیت کی۔ عمر چونکہ ایک سیاست دان انسان تھے لہذا انہوں نے امت کی بھلائی اسی میں دیکھی کہ ابوبکر کی بیعت کر لیں۔ چند اور اشخاص نے بھی ان کی پیروی میں بیعت کی لیکن انصار کی ایک جماعت اور قبیلہ خزرج نے سعد بن عبادہ کا ساتھ دیتے ہوئے بیعت نہیں کی اور سقیفے سے چلے گئے۔ یہ تھا جلدی کرنے کا سبب۔

خیر طلب : تو جیسا کہ آپ کے سارے مورخین اور اکابر علماء تصدیق کر چکے ہیں آپ نے بھی تصدیق کردی ہے کہ سقیفے کی بنیادی کاروائی میں کوئی اجماع واقع نہیں ہوا۔ ابوبکر نے سیاسی مصلحت سے عمر اور ابوعبیدہ جراح کو پیش کیا، اور ان لوگوں نے بھی پیش کش کو پلٹتے ہوئے کہا کہ آپ سب سے زیادہ لائق اور اولی ہیں، از روئے سیاست فورا بیعت کر لی اور قبیلہ اوس کے کچھ لوگوں نے بھی جو وہاں موجود تھے خزرج والوں سے اپنی سابقہ عداوت کے


پیش نظر بیعت کرلی تاکہ ایسا نہ ہو یہ لوگ آگے بڑھ جائیں اور سعد بن عبادہ امیر ہوجائیں۔ یہاں تک کہ اس میں بعد کو رفتہ رفتہ توسیع ہوتی گئی حالانکہ اجماع کیدلیل اگرمضبوط چیز تھی تو، اتنا توقف کرنا چاہئیے تھا کہ ساری امت ( یا بقول آپ کے عقلمند گروہ) جمع ہوجائے اور مجمع عام کے اندر استصواب رائے کر لیا جائے تاکہ صحیح طور پر اجماع صادق آجائے۔

حافظ : میں نے عرض کیا کہ فتنے اٹھ رہے تھے۔ اوس و خزرج دو قبیلے سقیفے میں جمع تھے اور آپس میں نزاع کر رہے تھے۔ ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ مسلمانوں کی امارت و حکومت کا تقرر اپنی طرف سے کرے بدیہی بات ہے، کہ ایک ادنی سی غفلت بھی انصار کے حق میں مفید ثابت ہوتی اور مہاجرین کا کوئی قابو نہ رہتا، اسی وجہ سے مجبور تھے کہ کام میں جلدی کریں۔

خیر طلب : ہم بھی چشم پوشی کرتے ہوئے آپ کی بات تسلیم کئے لیتے ہیں اور آپ ہی کے قول سے سند لیتے ہیں نیز جیسا کہ آپ کے مورخین مثلا محمد بن جریر طبری نے اپنی تاریخ جلد دوم ص457 میں اور دوسروں نے لکھا ہے کہ مسلمان سقیفے میں امر خلافت پر رائے زنی کرنے جمع نہیں ہوئے تھے بلکہ اوس خزرج ک دو قبیلے چاہتے تھے کہ اپنے لیے امیر معین کریں۔ ابوبکر و عمر نے بھی اپنے کو ، اس صف آرائی میں پہنچا یا اور اس اختلاف سے خود فائدہ اٹھا لیا۔ اگر واقعی امر خلافت میں صلاح و مشورہ کرنے اکٹھا ہوئے ہوتے تو پہلے جملہ مسلمانوں کو ضرور خبر دیتے کہ رائے دینے کے لیے حاضر ہوں۔

بازیگروں سے اسامہ کی گفتگو

چنانچہ جیسا آپ نے فرمایا کہ تمام مسلمانوں کو خبر دینے کا موقع نہیں تھا اور وقت گزرا جارہا تھا۔ ہم بھی آپ کے ہم آواز ہوکر کہتے کہ مکہ، یمن، طائف اور دوسری مسلمان آبادیوں تک دسترس نہیں تھا مگر کیا اسامہ بن زید کے لشکر تک بھی رسائی ممکن نہ تھی جو مدینے کے باہر ہی پڑائو ڈالے ہوئے تھا کہ ان بزرگ اصحاب کو بلا کر مشورہ لے لیتے جو اس فوج میں شامل تھے اور جن میں سے ایک نمایاں فرد مسلمانوں کے امیر لشکر اسامہ بن زید بھی تھے جن کو خود رسول اللہ(ص) نے افسری عطا فرمائی تھی اور ابوبکر و عمر بھی ان کے ماتحت تھےجس وقت اسامہ نے سنا کہ ایک سازش کے ذریعے تین آدمیوں کے ہاتھ خلیفہ سازی ہوئی ہے اور ان لوگوں نے بغیر کسی مشورے اور اطلاع کے ایک شخص کی بیعت کر لیے ہے تو سوار ہو کر مسجد رسول(ص) میں آئے اور بقول تمام مورخین کے ایک نعرہ مارا کہ تم لوگوں نے یہ کیا ہنگامہ برپا کر رکھا ہے؟ کس کی اجازت سے خلیفہ گھڑ لیا ہے؟ تم چند نفر کیا حیثیت رکھتے تھے کہ مسلمانوں اور بزرگان صحابہ کے مشورے اور اجماع سے خلیفہ مقرر کر لیا؟ عمر نے لیپ پوت کرتے ہوئے کہا اسامہ کام ختم ہوچکا اور بیعت واقع ہوچکی ، اب پھوٹ نہ پیدا کرو بلکہ تم بھی بیعت کر لو۔ اسامہ کو تائو آگیا،


انہوں نے کہا کہ پیغمبر(ص) نے مجھ کو تمہارا سردار بنایا تھا اور امارت سے معزول بھی نہیں کیا تھا۔ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ تم لوگوں پر رسول خدا(ص) کا منتخب فرمایا ہوا امیر اپنے ہاتحتوں اور محکوموں کی بیعت کرے۔ اس کے علاوہ اور بہت کچھ بات چیت ہوئی لیکن نمونتہ اسی قدر کافی ہے۔ اگر آپ کہئے کہ اسامہ کا لشکر بھی شہر سے کچھ فاصلے پر تھا اور وقت نکلا جا رہا تھا تو حضرات کیا سقیفے سے مسجد اور خانہ پیغمبر(ص) بھی بہت دور تھا؟ آخر علی علیہ السلام کو جو باتفاق فریقین مسلمانوں کے اندر ایک بڑی شخصیت کے مالک تھے، عم رسول(ص) عباس کو تمام بن ہاشم اور عترت پیغمبر(ص) کو جن کے لیے آں حضرت(ص) نے وصیتیں فرمائی تھیں اور جو عدیل قرآن تھے اور کبار صحابہ کو جو وہاں موجود تھے کیوں مطلع نہیں کیا تاکہ ان کی رائے سے فائدہ اٹھایا جائے؟

حافظ : میرا خیال ہے کہ صورت حال ایسی خطرناک تھی کی غفلت اور سقیفہ سے باہر آنے کا موقع نہیں تھا۔

خیر طلب : آپ زیادتی کر رہے ہیں، موقع تھا لیکن انہوں نے جان بوجھ کر علی علیہ السلام ، بنی ہاشم اور کبار صحابہ کو جو خانہ رسول(ص) میں جمع تھے اطلاع کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

حافظ : ان کے عمدا ایسا کرنے پر آپ کی دلیل کیا ہے؟

خیر طلب : سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ خلیفہ عمر رسول اللہ(ص) کے دروازے تک آئے تھے لیکن اندر داخل نہیں ہوئے تاکہ اس گھر میں مجتمع علی علیہ السلام ، بنی ہاشم اور اصحاب کبار کوخبر نہ ہونے پائے۔

حافظ : یہ بات تو قطعا رافضیوں کی گھڑی ہوئی ہے۔

خیر طلب: پھر آپ نے بے لطفی کی بات کی۔ یہ بات کسی کا گھڑی ہوئی نہیں ہے۔ بہتر ہوگا کہ آپ اسے تیسری صدی کے بڑے عالم محمد بن جریرطبری کی مشہور تاریخ جلد دوم ص256 کا مطالعہ فرمائیے۔

وہ لکھتے ہیں کہ عمر خانہ رسول (ص) کے در تک آئے لیکن اندر نہیں گئے بلکہ ابوبکر کو پیغام بھیجا کہ جلدی آئو بہت ضروری کام ہے ۔ ابوبکر نے جواب دیا کہ اس وقت مجھ کو فرصت نہیں ہے۔ انہوں نے پھر کہلایا کہ ایک خاص کام در پیش ہے جس میں تمہاری موجودگی ضروری ہے۔ ابوبکر باہر آئے تو خفیہ طور سے ان کو سقیفے میں اںصار کے جمع ہونے کا معاملہ بتایا اور کہاکہ ہم کو فورا وہاں پہنچ جانا چایئے ۔ یہ دونوں چلے او راستے میں ابو عبیدہ ( گور رکن) کو بھی ساتھ لے لیا۔ تاکہ تین آدمی مل کر اجماع امت کی تشکیل کریں اور آج آپ اسی کا سہارا لیں خدا کے لیے انصاف کیجئے کہ اگر کوئی سازش اور قرار واد کام نہیں کر رہی تھی تو عمر خانہ پیغمبر (ص) تک جارکر اندر کیوں نہیں گئے تاکہ صورت واقعہ کو تمام بنی ہاشم اور کبار صحابہ کے گوش کر کے سب سے مدد طلب کریں؟ کیا ساری امت رسول(ص) امت میں صرف ایک ابوبکر ہی عقل کلی رہ گئے تھے اور دوسرے صحابہ اور عترت رسول سب بیگانہ تھے جن کو اس حادثے کی خبر ہی نہ ہونا چاہتے تھا۔

چشم باز و گوش بازو این عمیحیر تم از چشم بندی خدا

آیا آپ کا یہ خود ساختہ اجماع جیسا کہ آپ کے تمام مورخین نے لکھا ہے فقط تین آدمیوں ( ابوبکر و عمر


اور ابوعبیدہ جراح ( گورکن) کے ہاتھوں پر قائم ہوگیا؟ آیا دنیا کے کس خطے میں عقیدہ قابل قبول ہے کہ اگر تین شخص یا کوئی جتھہ کسی شہر یا دار السلطنت میں اکٹھا ہو اور فرض کیا جائے کہ اس شہر کے باشندے کسی شخص کی ریاست و حکومت یا خلافت پر اجماع بھی کرلیں تو دوسرے مقامات کے صاحبان عقل و علم اور دانش مندوں پر ان کی پیروی واجب ہوجائے؟ یا ایسے چند عقلمندوں کی رائے جن کو دوسروں نے منتخب نہ کیا ہو باقی عقلندوں کے لیے واجب العمل بن جائے؟ آیا یہ جائز ہے کہ ایک گروہ کی ہنگامہ سازی اور دھمکی کے مقابلے میں پوری قوم کے خیالات کا گلا گھونٹ دیا جائے؟ حضرات انصاف کیجئے ! اگر ایک جماعت والے حق بات کہنا چاہیں اور علمی مباحثوں او عملی تنقیدوں کی روشنی میں بتایں کہ یہ خود ساختہ خلافت و اجماع کسی دینی یا دنیاوی قانوں کے مطابق صحیح نہیں ے تو ان کو رافضی، مشرک اور نجس کہا جائے، ان کا قتل واجب سمجھا جائے اور کوئی ایسی تہمت باقی ن رہے جو ان پر تھوپ دی جائے؟

آپ کہتے ہیں کہ پیغمبر(ص) نے خلافت کا معاملہ امت پر ( یا بقول آپ کے عقلائے امت پر) چھوڑ دیا۔ خدا کے لیے انصاف سے کہئے گا کہ امت اور عقلائے امت کیا فقط تین ہی آدمی تھے ابوبکر وعمر اور ابو عبیدہ جراح( گورکن) جنہوں نے آپس می سمجھوتہ کر کے دونے ایک کو مان لیا تو سارے مسلمانوں پر فرض ہوگیا کہ انہیں کے راستے پر چلیں؟ اور اگر کچھ لوگ یہ کہہ دیں کہ یہ تینوں اشخاص بھی باقی امت اور صحابہ کے مانند تھے لہذا سارے اصحاب سے صلاح و مشورہ کیوں نہیں کیا؟ تو وہ کافر، مردود اور گردن زدنی قرار پائیں؟

باتفاق فریقین اجماع کا واقع نہ ہونا

حضرات اگر آپ تعصب کا جامہ اتار کر تھوڑا غور کیجئے تو بخوبی واضح ہوجائے گا کہ اقلیت واکثریت اور اجماع کے درمیان بڑا فرق ہے۔ اگر کسی خاص مقصد کےلیے بزم مشاورت منعقد کی جائے تو تھوڑے لوگ کوئی رائے دیں تو کہا جائے گا کہ جلسے کی اقلیت نے یہ رائے دی، اگر زیادہ مجمع رائے دے تو اکثریت کی رائے کہی جائے گی اور اگر سب کے سب باتفاق رائے کوئی بات کہیں تو کہا جائے گا کہ اجماع واقع ہوا یعنی ایک فرد بھی مخالف نہیں تھی۔ اب برائے خدا یہ بتائیے کہ کیا سقیفہ میں اور اس کے بعد مسجد میں پھر شہر مدینہ میں لوگوں نے خلافت ابوبکر کے لیے ایسی اجماعی رائے دی اگر آپ کے حسب خواہش ہم جبرا ساری امت سے حق رائے دہندگی چھین لیں اور آپ کی آواز میں آواز ملاکر کہنے لگیں کہ اجماع سے صرف مرکز اسلامی یعنی مدینہ منورہ کے عقلاء اورکبار صحابہ ہی کو مراد لینا کافی ہے تب بھی آپ کو خدا کی قسم سچ بتائیے کہ آیا ایسا اجماع واقع ہوا جس میں مدینے کے تمام عقلاء کبار صحابہ بالاتفاق خلافت ابوبکر کے لیے رائے دی ہو؟ آیا اس تھوڑی سی جماعت نے بھی متفقہ رائے دی تھی جو سقیفے میں حاضر تھی ؟ قطعا


جواب نفی میں ہوگا۔ چنانچہ صاحب مواقف نے خود اعتراف کیا ہے کہ خلافت ابوبکر میں کوئی اجماع واقع نہیں ہوا یہاں تک کہ خود مدینے کے اندر اور اہل حل و عقد میں بھی، اس لیے کہ سعد بن عبادہ انصاری ان کی اولاد، خاص خاص صحابہ، تمام بنی ہاشم ، ان کے دوست اور علی ابن ابی طالب علیہ السلام چھ ماہ تک مخالفت کرتے رہے اور بیعت نہیں کی۔

در اصل جب ہم حق و انصاف کے روسے تاریخ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ خود مدینہ منورہ میں بھی جو نبوت اور حکومت اسلامی کا مرکز تھا ایسا اجماع واقع نہیں ہوا جس میں وہاں پر موجود صاحبان عقل اور صحابہ نے خلافت ابوبکر کی متحدہ تائید کی ہو۔

چنانچہ خود آپ کے اکثر ثقہ راویوں اور بڑے بڑے مورخون نے جیسے امام فخر الدین رازی ، جلال الدین سیوطی، ابن ابی الحدید معتزلی، طبری، بخاری اور مسلم وغیرہ نے مختلف عبارتوں کے ساتھ بتایا ہے اور نقل کیا ہے کہ خود مدینے میں پورا اجماع منعقد نہیں ہوا۔

علاوہ اس کے کہ تمام بنی ہاشم و رسول اللہ(ص) کے اہل بیت(ع) جو عدیل قرآن تھے اور دوسرے اہل خاندان جن کی رائے اچھی خاصی اہمیت رکھتی تھی اور بنی امیہ بلکہ عام اصحاب بھی سوا تین نفر کے سقیفہ میں خلافت پر رائے دینے کے لیے حاضر نہ تھے۔ بلکہ سننے کے بعد انہوں نے اس پر پورا اعتراض بھی کیا۔ یہاں تک کہ مہاجرین و انصار میں سے جن بزرگ اصحاب نے بیعت سقیفہ کو غلط بتایا تھا ان میں سے چند مقتدر حضرات سے مسجد میں جاکر ابوبکر سے احتجاجات بھی کئے جیسے مہاجرین میں سے سلمان فارسی، ابوذر غفاری، مقداد بن اسود کندی، عمار یاسر، بریدہ اسلمی اور خالد بن سعید بن عاص اموی۔ اور انصار میں سے ابوالہیثم بن التیہان خذیفہ بن ثابت ذوالشہادتین ( جن کو رسول اکرم(ص) نے ذوالشہادتین لقب دیا تھا، ابو ایوب انصاری، ابی بن کعب، سہل بن حنیف اور عثمان بن حنیف۔ ان میں سے ہر ایک نے مسجد کے اندر کافی اور شافی دلائل و براہین پیش کئے جن کی تفصیل بیان کرنے کا وقت نہیں ہے۔ صرف حاضرین اور سامعین کی بصیرت افروزی اور اتمام حجت کے لیے یہ مختصر خاکہ پیش کر دیا تاکہ واضح ہوجائے کہ اجماع مکمل طور پر باطل اور بے بنیاد ہے کیونکہ خود مدینے میں بھی اجماع واقع نہیں ہوا بلکہ مدینے کے عقلاء اور اکابر اصحاب کا اجماع بھی صریحی جھوٹ ہے کچھ مخالفین خلافت کے نام آپ کی معتبر کتابوں سے عرض کرتا ہوں۔

کبار صحابہ کی بیعت ابوبکر سے علیحدگی

ابن حجر عسقلانی اور بلاذری تاریخ میں، محمد خاوندشاہ روضتہ الصفا می، ابن عبدالبر استیعاب میں، اور دوسرے علماء کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ، قبیلہ خزرج اور قریش کے ایک گروہ نے ابوبکر کی بیعت نہیں کہ نیز اٹھارہ


نفر بزرگان صحابہ نے بیعت نہیں کی اور رافضی ہوگئے۔ یہ لوگ علی ابن ابی طالب(ع) کے شیعہ تھے۔

ان اٹھارہ اصحاب کے نام یہ تھے ۔1۔ سلمان فارسی۔ 2۔ ابوذر غفاری۔3۔ مقداد بن اسود (کندی) ۔ 4۔ عمار یاسر۔ 5۔ خالد بن سعید بن العاص۔ 6۔ بریدہ الاسلمی۔ 7۔ ابی بن کعب۔ 8۔ خذیمہ بن ثابت ذوالشہادتین۔9۔ ابوالہیثم بن التیہان۔ 10۔ سہل بن حنیف ۔ 11۔ عثمان بن حنیف ذوالشہادتین۔ 12۔ ابو ایوب انصاری۔ 13۔ جابر بن عبداللہ انصاری۔ 14۔ حذیفہ بن الیمان۔ 15۔ سعد بن عبادہ ۔ 16۔ قیس بن سعد ۔ 17۔ عبداللہ بن عباس۔ 18۔ زید بن ارقم۔

یعقوبی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ :

" لقد تخلف عن بيعة ابی بکر قوم من المهاجرين والانصار ومالوا مع علی ابن ابی طالب. منهم العباس بن عبدالمطلب و الفضل بن العباس و الزبير بن العوام بن العاص و خالد بن سعيد والمقداد بن عمر و سلمان الفارسی و ابوذر الغفاری و عمار بن ياسر و البراء بن عازب و ابی بن کعب."

یعنی مہاجرین و اںصار کی ایک جماعت نے بیعت ابی بکر سے اختلاف اور علیحدگی اختیار کی اور علی بن ابی طالب(ع) کی طرف مائل ہوئی من جملہ ان کے عباس ابن عبدالمطلب، فضل بن عباس، زبیر بن عوام بن العاص، خالد بن سعید، مقداد بن عمر، سلمان فارسی، ابوذر غفاری، عماریاسر، براء بن عازب اور ابی بن کعب بھی تھے۔

تو کیا یہ افراد قوم کے صاحبان عقل، اکابر اصحاب اور رسول اللہ(ص) کے ہمدم و ہمراز نہیں تھے؟ کیا علی علیہ السلام ، عباس عم پیغمبر(ص) اور دوسرے بزرگان بنی ہاشم عقلائے قوم نہ تھے؟ خدا کے لیے ذرا اںصاف سے بتائیے یہ کیسا اجماع تھا، جو بغیر ان حضرات کی موجودگی ، مشورے، رضامندی اور تصدیق کے قائم ہوگیا؟ اس مجمع کے درمیان سے راز دانہ طور پر صرف تنہا ابوبکر کو بلا کر لے جائیں اور دوسرے کبار صحابہ کو نہ کوئی اطلاع دیں نہ ان سے صلاح ومشورہ لیں تو آیا اس سے اجماع کے معنی پیدا ہوتے ہیں یا یہ مطلب نکلتا ہے کہ ایک سیاسی سازش کام کر رہی تھی؟

پس علاوہ اس کے کہ تعیین خلافت کے موقع پر تمام امت کا اجماع منعقد نہیں ہوا تمام اہل مدینہ کا اجماع ہوسکا بلکہ سعد بن عبادہ اور ان کے ہمراہیوں کے نکل جانے سے اہل سقیفہ کے اس چھوٹے موٹے گروہ میں بھی اجماع نہیں ہوسکا البتہ یہ وہ پہلا کھیل تماشا تھا جو عالم اسلامی نے انسانی تاریخ کو امانت دیا۔

حدیث ثقلین اور حدیث سفینہ

ان سب سے قطع نظر بنی ہاشم اور عترت و اہل بیت رسول(ص) بھی جن کا اجماع یقینا حجت تھا باعتبار حدیث مسلم بین الفریقین جس کو میں گزشتہ شبوں میں معتبر اسناد کے ساتھ عرض کرچکا ہوں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا :

" إنّي تارك


فيكم الثقلين كتاباللّه وعترتي في أهلبيتي،ان تمسّكتم بهمافقد نجوتم ( و فی نسخة) لنتضلّوا بعدها ابدا"

یعنی میں تمہارے درمیان دو بزرگ چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اللہ کی کتاب اور میری عترت و اہل بیت اگر ان دونوں سے تمسک رکھوگے تو یقینا نجات پائوگے ( اور ایک نسخے میں ہے) ہرگز گمراہ نہ ہوگے ( دیکھئے اس کتاب کا صفحہ نہ سقیفے میں موجود تھے نہ خلافت ابوبکر کی حمایت کی( یعنی ان کو اطلاع ہی نہیں دی گئی کہ وہاں اکٹھا ہوں تاکہ اجماع صادق آسکے۔

دوسری مشہور حدیث جو حدیث سفینہ کے نام سے موسوم ہے اور پچھلی راتوں میں مع اسناد کے ذکر کی جاچکی ہے کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا :

" مثل اهل بيتى كمثل سفينةنوح من توسل بهم نجى ومن تخلّف عنه اهلك"

یعنی میرے اہلبیت(ع) کی مثال کشتی نوح(ع) کے مانند ہے جو شخص اس سے متوسل رہے گا وہ نجات پائے گا اور جو شخص ان سے رو گردانی کرے گا وہ ہلاک ہوجائے گا۔

ثابت کرتی ہے کہ جس طرح طوفان اور بلائوں میں امت نوح کی نجات سفینے کے ذریعے سے تھی اس امت کو بھی حوادث اور آفات میں اہل بیت(ع) رسول(ص) کے دامن سے متمسک رہنا چاہیے تاکہ نجات حاصل ہو۔ اسی طرح جو ان کے دور اور الگ رہے گا ہلاک ہوگا۔

نیز ابن حجر صواعق محرقہ ذیل آیہ چہارم ص90 میں ابن سعد سے دو حدیثیں اہل بیت رسالت(ص) اور عترت پاک(ع) سے وابستہ رہنے کے وجوب میں نقل کرتے ہیں یہ کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا:

"أناوأهل بيتي شجرةفي الجنّة،وأغصانهافي الدنيا،فمن شاء ان يتّخذإلى ربّه سبيلا فليتمسک بها"

یعنی میں اور میرے اہل بیت جنت کے ایک درخت ہیں جس کی شاخیں دنیا میں ہیں۔ پس جو شخص خدا کی طرف راستہ چاہتا ہو اس کو اس سے تمسک ضروری ہے۔

دوسری حدیث یہ کہ فرمایا :

"فى كُلِ خَلَفٍ مِنْ امتى عُدُولٌ مِنْ اهلبيتى يَنْفُونَ عَنْ هَذَاالدِّينِ تَحْرِيفَالضَّالِّين َوَانْتِحَال َالْمُبْطِلِينَ،وَتَأْوِيل َالْجَاهِلِينَ الاوانائمتكم وَفْدُكُمْ الى اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ فَانْظُرُوامَنْ تُوفِدُونَ"

یعنی میری امت کے لیے ہر دور میں میرے اہل بیت(ع) میں سے کچھ عادل افراد ہیں جو اس دین سے گمراہوں کی تحریف باطل پرستوں کے دعوی اور جاہلوں کی تاویل کو دور کرتے رہتے ہیں۔ آگاہ ہو کہ یقینا تمہارے ائمہ اللہ کی طرف تمہارے سفیر ہیں پس یہ دیکھ لو کہ سفارت کس کے سپرد کرتے ہو۔

غرضیکہ تمام وہ اشخاص جن کی موجودگی اجماع و بیعت اور تعیین خلیفہ میں اثر انداز ہوتی بیعت کے مخالف تھے پس یہ کیسا اجماع تھا کہ صحابہ کبار، دانشمندان قوم اور عترت و اہل بیت رسالت(ص) مدینے میں ہوتے ہوئے اس میں شریک نہ تھے؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اجماع کیسا اکثریت بھی نہیں پیدا ہوئی۔ چنانچہ ابن عبدالبر قرطبی جو آپ کے بڑے عالم ہیں، استیعاب میں، ابن حجر اصابہ میں اور دوسرے علماء کہتےہیں کہ سعد بن عبادہ نے جو خلافت کے دعویدار


تھے قطعا ابوبکر اور عمر کی بیعت نہیں کی اور وہ بھی اس لیے ان سے متعرض نہیں ہوئے کہ ان کا قبیلہ اچھا خاصا ہے کہیں کوئی فساد نہ اٹھ کھڑا ہو۔ سعد امی اختلاف کی وجہ سے شام چلے گئے اور بروایت روضتہ الصفا ایک بزرگ شخصیت کی تحریک؟؟؟ سے ( جس سے با خبر ہستیاں واقف ہیں کہ کون شخص تھا جس کا حکم نافظ تھا) رات کے وقت تیر مار کر ہلاک کرادئے گئے اور کہا گیا کہ جنات نے مار ڈالا ( لیکن مورخین روایت کرتے ہیں کہ تیر مارنے والے خالد ابن ولید تھے جو مالک ابن نویرہ کو قتل کرنے اور ان کی زوجہ پر تصرف کرنے کے بعد شروع خلافت ابوبکر سے خلیفہ ثانی عمر کے غیظ و غضب کی زد میں تھے چنانچہ عمر کے زمانہ خلافت میں انہوں نے چاہا کہ خلیفہ کی نظر میں اپنا وقار قائم کریں اور یہی کیا کہ رات کو انہیں تیر سے مار ڈالا اور مشہور یہ ہوا کہ جنات نے مارا) اب آپ حضرات خدا کے لیے اپنی عادت اور تعصب کو الگ رکھ کے تھوڑا غور کیجئے کہ یہ کیسا اجماع تھا جس میں علی ابن ابی طالب علیہ السلام ، عباس عم رسول(ص)، ابن عباس تمام بنی ہاشم، عترت و اہل بیت پیغمبر(ص)، بنی امیہ اور انصار داخل نہیں تھے۔

حافظ : چونکہ فساد کا احتمال تھا اور ساری امت تک پہنچ نہیں تھی لہذا مجبورا جلد بازی میں انہیں چند حاضرین سقیفہ پر اکتفا کر کے بیعت لے لی، بعد کو امت نے بھی مان لیا۔

خیر طلب : مدینے سے باہر کی نمایاں شخصیتوں ، بزرگاں صحابہ اور دانشمندان قوم تک رسائی نہیں تھی لیکن خدا کے لیے اںصاف کیجئے کہ اگرکوئی چال نہیں جارہی تھی تو بزم شوری میں حاضرین مدینہ کو کیوں نہیں بلایا؟ آیا رسول خدا(ص) کے عم محترم ( شیخ القبیلہ) عباس، آںحضرت(ص) کے دماد علی ابن ابی طالب(ع) ، بنی ہاشم اورمدینے کے اندر موجود کبار صحابہ کی رائے لینا ضروری نہیں تھا؟ فقب عمر اور ابوعبیدہ جراح کی رائے ساری دنیائے اسلام کے لیے کافی تھی؟ فَاعْتَبِرُواياأُولِي الْأَبْصارِ !!!

پس آپ کی دلیل اجماع عمومی حیثیت سے نیز خصوصی طور پر کیوں کہ مہاجرین و اںصار میں سے عقلاء کبار صحابہ نے اس میں شرکت نہیں کی۔ بلکہ مخالفت بھی کی بالکل مہمل و باطل اور صاحبان عقل کے نزدیک درجہ اعتبار سے ساقط ہے۔

چونکہ جیسا عرض کرچکا ہوں اجماع اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص اس سے اختلاف نہ کرے اور آپ کے اس خود ساختہ اجماع میں عام طور پر آپ کے علماء ومورخین کے اقرار اور آپ کی تصدیق کے مطابق ارباب علم و عقل نےرائے دینے میں عمومی شرکت نہیں کی۔ چنانچہ امام فخرالدین رازی نہایت الاصول میں صاف صاف کہتے ہیں کہ خلافت ابوبکر و عمر میں ہرگز اجماع واقعی نہیں ہوا یہاں تک کہ سعد بن عبادہ کے قتل ہوجانے کے بعد اجماع منعقد ہوا لہذا سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے معدوم اور فرضی اجماع کو آپ نے حقانیت کی دلیل کیونکر بنالیا۔

وقت کا لحاظ کرتے ہوئے اس مختصر بیان کے ساتھ آپ کی پہلی دلیل کا جواب دیا گیا۔


اس کی تردید کی ابوبکر سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے خلیفہ ہوئے

رہی آپ کی دوسری دلیل کہ ابوبکر چونکہ امیرالمومنین علیہ السلام سے عمر میں زیادہ تھے لہذا ان کا حق مقدم تھا تو یہ خلافت کے معاملے میں انتہائی مردود اور پہلی دلیل کے بھی زیادہی مہمل، بے معنی اور مضحکہ خیز ہے۔

اس لیے کہ اگر خلافت میں سن کی شرط تھی تو ابوبکر و عمر سے زیادہ بوڑھے بہت لوگ تھے اور یہ تو کھلی ہوئی بات ہے کہ ابوبکر کے باپ ابوقحافہ اپنے بیٹے سے بڑے تھے اور اس وقت زندہ بھی تھے، ان کو کس لیے خلیفہ نہیں بنایا ؟

حافظ : ابوبکر کا بڑھاپا لیاقت کے ساتھ تھا۔ جب کسی قوم کے اندر ایک جہاں دیدہ اور محبوب رسول اللہ(ص) بزرگ ہوتو کسی نا تجربہ کار جوان کو سردار نہیں بنایا کرتے۔

بوڑھے اصحاب کی موجودگی میں پیغمبر(ص) جوان علی(ع) کو ترجیح دیتے تھے

خیرطلب : اگر جیسا آپ کہہ رہے ہیں۔ سچ مچ ایسا ہی ہو کہ آزمودہ کار بوڑھے کی موجودگی میں کسی جوان کو کام پر اور وہ بھی خدا کے کام پر مقرر نہ کرنا چاہئیے تو یہ اعتراض سب سے پہلے رسول خدا(ص) پر وارد ہوتا ہے کیونکہ جس وقت آںحضرت(ص) غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہو رہے تھے تو منافقین نے خفیہ طور پر یہ طے کیا کہ آں حضرت(ص) کی عدم موجودگی میں مدینے کے اندر ایک انقلاب بر پا کریں گے۔ لہذا مدینے کا انتظام سنبھالنے کےلیے ایک تجربہ کار انسان کی ضرورت تھی جو آنحضرت(ص) کی جگہ پر یہاں ٹھہرے، ہمت اور حسن تدبیر کے ساتھ حالات کو قابو میں رکھے اور منافقین کے ہاتھ پائوں ڈھیلے کردے آپ حضرات سے میری درخواست ہے کہ فرمائیے پیغمبر(ص) نے مدینے میں کس شخص کو اپنی خلافت اور جانشینی سپرد فرمائی؟

حافظ : مسلم سے کہ علی کرم اللہ وجہہ کو اپنا خلیفہ اور قائم مقام بنایا تھا۔

خیر طلب : تو کیا ابوبکر و عمر اور دوسرے بوڑھے اصحاب مدینے نہیں تھے کہ رسول اکرم(ص) نے امیرالمومنین علیہ السلام جیسے جوان کو با قاعدہ اپنا خلیفہ اور جانشین بنایا اور صاف صاف فرمایا " انت خليفتی فی اهلبيتی و دار هجرتی " یعنی تم میرے خلیفہ ہو میرے اہل بیت(ع) میں اور میرے مقام ہجرت یعنی مدینے میں۔

بہتر ہوگا کہ آپ حضرات ذرا سوچ سمجھ کے دلیلیں قائم کیا کریں تاکہ جواب کے موقع پر لا جواب نہ رہ جائیں


پس ابوبکر و عمر وغیرہ کے ایسے بوڑھے صحابہ کے سامنے علی علیہ السلام کو عین شباب میں خلیفہ مقرر کرنے سے آنحضرت(ص) کا ایک خاص مقصد یہ بھی تھا کہ آج آپ کے لیے ایک عملی جواب مہیا ہوجائے اور آپ یہ نہ کہیں کہ جہاندیدہ بوڑھے کے سامنے جوان کو ذمہ دار نہ بنانا چاہئیے ۔ رسول خدا(ص) کا عمل اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ تعیین خلافت اور تبلیغ رسالت میں پیری اور جوانی کو کوئی دخل نہیں ہے۔

اگر سال خوردہ بوڑھوں کے ہوتے ہوئے نو عمر جوان کا تقرر نہ ہونا چاہئیے تو اہل مکہ پر سورہ برائت کی ابتدائی آیتیں پڑھنے کے لیے جب کہ ایسے موقع پر قطعا ایک پیر کہن سال اور ہوشیار و جہاندیدہ بزرگ کی ضرورت تھی جو خوش اسلوبی اور سیاست کے ساتھ اس فریضے کو ادا کرے۔ رسول اکرم(ص) نے کس لیے بوڑھے ابوبکر کو راستے سے واپس بلا لیا اور جوان علی(ع) کو اس عذر کے ساتھ اس اہم کام پر مامور کردیا کہ خدا فرماتا ہے میری رسالت کو یا تم پہنچا سکتے ہو یا تمہیں جیسا کوئی مرد؟

اسی طرح اہل یمن کی ہدایت کرنےکے لیے ابوبکر وعمر وغیرہ کے ایسے سن رسیدہ بزرگوں کے وجود سے کیوں فائدہ نہیں اٹھایا اور امیرالمومنین علیہ السلام کو یمن والوں کی ہدایت پر مامور فرما دیا۔

اس قسم کے مواقع بہت ہیں جب کہ ابوبکر و عمر جیسے شیوخ قوم کی موجودگی میں آں حضرت(ص) نے علی(ع) جیسے جوان کو منتخب فرمایا اور بڑے بڑے کام آن کے سپرد فرمائے۔ پس معلوم ہوا کہ آپ کی یہ بڑھاپے والی شرط انتہائی پھس پھسی اور فضول و مہمل ہے۔ نبوت و ولایت اور خلافت کے شرائط میں بوڑھا ہونا ہرگز نہیں ہے بلکہ خلافت کی اصلی شرط نبوت کے مانند مکمل جامعیت ہے جو خداوند عالم کے نزدیک محبوب و پسندیدہ ہو او رجو فرد بذھی جملہ صفات عالیہ کی جامع ہو چاہے وہ کوئی بوڑھا شخص ہو یا جوان، خدائے تعالی اسی کو منصب خلافت کے لیے چنتا ہے اور نبی و رسول کے ذریعے لوگوں میں اعلان فرماتا ہے اور لوگوں پر واجب ہے کہ خدا و رسول کی طرح اس کی بھی اطاعت کریں۔

ایک اور بڑی دلیل مجھ کو یاد آگئی جس کو ان لوگوں کی خلافت کے رد میں بہت بڑا ثبوت سمجھنا چاہئیے اور وہ یہ کہ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف سے اس مصنوعی اجماع کی مخالفت ہوئی ہے۔

علی(ع) حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں

اس لیے کہ ارشاد رسول(ص) کے مطابق علی علیہ السلام کو ذات حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی تھی، چنانچہ آپ کے بڑے بڑے علماء نے اس بارے میں بہت سی روایتیں نقل کی ہیں۔


من جملہ ان کے شیخ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ باب16 میں کتاب السبطین فی فضائل امیرالمومنین(ع) سے،امام الحرم ابوجعفر احمد بن عبداللہ شافعی نے ستر حدیثوں میں سے بارہویں حدیث کو فردوس دیلمی کے، امیرسید علی ہمدانی شافعی نے مودۃ القربی مودت ششم میں، حافظ نے امالی میں، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب44 ،میں بسند ابن عباس و ابی لیلی غفاری و ابو غفاری الفاظ و عبارت کے مختضر فرق اور کمی وبیشی کے ساتھ حضرت رسول خدا(ص) سے یہ حدیث نقل کی ہے جس کا آخری جملہ ہر جگہ ایک ہے کہ فرمایا :

"سَتَكُونُ مِنْ بَعْدِي فِتْنَةٌفَإِذَاكَانَ ذَلِكَ فَالْزَمُواعَلِيَّ بْنَ أَبِيطَالِبٍ فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ يَرَانِي وَأَوَّلُ مَنْ يُصَافِحُنِي يَوْمَالْ قِيَامَةِوَهُوَمعِی فِی السَّماءِ العُليَاوَهُوَفَارُوقُ هَذِهِ الْأُمَّةِيَفْرُق ُبَيْنَ الْحَقّ ِوَالْبَاطِلِ"

یعنی عنقریب میرے بعد ایک فتنہ برپا ہوگا۔ پس جب ایسا ہو تو تم لوگ لازمی طور پر علی ابن ابی طالب(ع) کے ساتھ رہنا کیونکہ وہ پہلے شخص ہیں جو قیامت کے روز مجھ کو دیکھیں گے اور سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں گے۔ وہ بلند منزلوں میں میرے ساتھ اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔

پس اصولا وفات رسول(ص) کے بعد ایسی صورت حال اور فتنہ عظیم جب مہاجرین و اںصار آپس میں دست و گریبان تھے اور ہر فریق یہ چاہتا تھا کہ خلیفہ ہم میں سے ہو ( گویا ہر ایک بہتے دریا سے ہاتھ دھونا چاہتا تھا) آںحضرت(ص) کے حکم و ہدایت کے مطابق امت والوں کا فرض تھا کہ علی علیہ السلام کو لاتے اور ان کا دامن پکڑتے کہ حق کو باطل سے جدا کریں۔ اور یقینا ارشاد پیغمبر(ص) کے مطابق جس طرف علی علیہ السلام ہوتے ادھر حق ہوتا اور دوسری طرف باطل۔

حافظ : یہ حدیث جو آپ نے نقل کی ہے خبر واحد ہے اور خبر واحد قابل اعتماد نہیں تھی کہ اس پر علمدر آمد ہوتا۔

خیر طلب : بہت تعجب ہے کہ آپ اتنی جلدی بھول جاتے ہیں یا عملا بھلا دیتے ہیں۔ خبر واحد کا جواب شروع میں عرض کرچکا ہوں کہ علمائے اہل سنت خبر واحد کو حجت مانتے ہیں لہذا اس بنا پر آپ اس روایت کو خبر واحد کہہ کر رد نہیں کرسکتے۔ علاوہ اس کے یہی ایک روایت نہیں ہے بلکہ آپ کے موثق علماء کے طریق سے مختلف عبارتوں کے ساتھ بہت سی روایتیں اس مطلب کو ثابت کررہی ہیں جن میں سے بعض کو ہم پچھلی راتوں میں بیان بھی کرچکے ہیں۔ اس وقت جہاں تک وقت اجازت دیتا ہے اپنی یادداشت کے موافق مختصرا صرف راویوں اور کتابوں کے ذکر پر اکتفا کرتے ہوئے مزید تائید کے لیے بجائے ان تمام مستند احادیث کو پیش کرنے کے چند کی طرف اشارہ کرتا ہوں ۔ من جملہ ان کے ایک حدیث ہے جس کو محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں طبرانی نے کبیر میں، بیہقی نے سنن میں، نور الدین مالکی نے فصول المہمہ میں، حاکم نے مستدرک میں، حافظ ابو نعیم نے حلیہ میں، ابن عساکر نے تاریخ میں، ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں، طبرانی نے اوسط میں، محب الدین نے ریاض نفرہ میں، حموینی نے فرائد میں، اور سیوطی نے درالمنثور میں ، ابن العباس و سلمان و ابوذر حذیفہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے دست مبارک سے علی ابن ابی طالب(ع) کی طرف اشارہ کر کے فرمایا :

"إنّ هذاأوّل من آمن بي ،وأوّل من يصافحني يومالقيامة،


وهذاالصّديق الأكبر،وهذافاروق هذه الأمّةيفرّق بين الحقّ والباطل"

یعنی در حقیقت یہ (علی) پہلے شخص ہیں جو مجھ پر ایمان لائے اور پہلے شخص ہیںجو روز قیامت مجھ سے مصافحہ کریں گے۔ یہ علی(ع) صدیق اکبر(یعنی سب سے بڑے سچ بولنے والے) اور اس امت کے فاروق ہیں جو حق و باطل کے درمیان جدائی ڈالیں گے۔

محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب باب 44 میں اسی حدیث کو ان الفاظ کے اضافے کے ساتھ نقل کیا ہے۔

"وهويعسوب المؤمنين والمال يعسوب الظلمة،وهوبابي الذي اوتي منه،وهوخليفتي من بعدي."

یعنی وہ مومنین کے بادشاہ ہیں، یہ میرے دروازہ ہیں جس سے لوگ آتے ہیں اور وہ میرے بعد خلیفہ ہیں۔

( اس کے بعد گنجی شافعی کہتے ہیں کہ اس حدیث کو محدث شام نے اپنی کتاب کے انچاسویں(49) جزء میں فضائل علی (ع) میں تین سو حدیثوں کے بعد لکھا ہے) محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں، خطیب خوارزمی نے مناقب میں، ابن صباغ مالکی نے فصول المہمہ میں، خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد جلد چہاردہم ص21 میں، حافظ مردویہ نے مناقب میں، سمعانی نے فضائل الصحابہ میں، دیلمی نے فردوس میں، ابن قتیبہ نے الامامتہ والسیاسہ جلد اول ص68 میں زمخشری نے ربیع الابرار میں، حموینی نے فرائد باب37 میں، طبرانی نے اوسط میں، فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر جلد اول ص111 میں، گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں، امام احمد نے مسند میں اور آپ کے دوسرے علماء نے نقل کیاہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا " علی مع الحق والحق مع علی حيث دار " یعنی علی (ع) حق کے ساتھ اور حق علی (ع) کے ساتھ پھرتا ہے ( یعنی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے)

انہیں کتابوں میں ہے نیز شیخ سلیمان قندوزی حنفی نے ینابیع المودت باب20 میں حموینی سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا " علی مع الحق والحق مع علی يميل مع الحق کيف مال " یعنی علی (ع) حق کے ساتھ اور حق علی (ع) کے ساتھ ہے جس طرف حق مائل ہوتا ہے اسی طرف علی(ع) بھی مائل ہوتے ہیں۔)

اور حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی متوفی سنہ431ھ نے حلیتہ الاولیاء جلد اول ص63 میں اپنے اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا :

"يامعشرالأنصارألاأدلكم على من إن تمسكتم به لن تضلوابعده أبداقالوابلى يارسول الله قال هذاعلي فأحبوه بحبي وأكرموه بكرامتي فإن جبرائيل أمرني بالذي قلت لكم عن الله عزوجل "

یعنی اے جماعت انصار آیا تمہاری رہنمائی نہ کروں میں اس شخص کی طرف کہ اگر اس سے تمسک کرو گے تو س کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے؟ سب نے


عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ(ص) آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ وہ شخص یہ علی(ع) ہیں لہذا ان کو دوست رکھو میری محبت کے ساتھ اور ان کا اکرام کرو میری کرامت کے ساتھ کیونکہ جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے جبرئیل نے خدا کی طرف سے مجھ کو اس کا حکم دیا ہے۔

ان میں سے ہر حدیث رسول(ص) اپنے الفاظ اور راوی و حافظ کے اختلاف کی وجہ سے اگر چہ پہلی نظر میں خبر واحد معلوم ہوتی ہے جس میں ایک خاص مفہوم ادا کیا گیا ہے لیکن اہل علم کی نگاہوں میں اس سے تواتر معنوی ثابت ہوتا ہے کیونکہ ان سب کے مضامین سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ کچھ خاص دلائل ہیں جو ایک عام مقصود کے لیے وارد ہوئے ہیں اور ان کی باہمی شرکت سے وہی مقصود عام ثابت ہوتا ہے۔

اس مقصود عام سے مراد ولایت و امامت کی منزل میں رسول اللہ(ص) کی عنایت ہے جو بلا شرکت غیرے صرف علی علیہ السلام کی طرف آنحضرت(ص) کا میلان ظاہر کرتی ہے نیز اس کا ثبوت دیتی ہے کہ پیغمبر(ص) کی یہ شفقت و مہربانی تنہا علی علیہ السلام کے لیے مخصوص تھی اور آںحضرت(ص) ہمیشہ انہیں سے امداد طلب فرماتے تھے کیونکہ آپ نصرت کرنے میں یکتا تھے اور اسی وجہ سے امت کو بھی حکم فرماتے ہیں کہ میرے بعد علی (ع) کی طرف رجوع کرو اور ان سے تمسک اختیار کرو اس لیے کہ یہ ہمیشہ حق کے ساتھی اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔

اس قسم کی حدیثوں کا مطالعہ کرنے کے بعد اںصاف کیجئے کہ آیا ابوبکر سے علی علیہ السلام کی مخالفت و آپ کے خیالی اجماع سے علیحدگی اور بیعت نہ کرنا ابوبکر کی حقانیت ثابت کرتا ہے یا ان کی خلافت باطل ہونے کا دلیل ہے؟ اگر ابوبکر کی خلافت دست تھی تو علی علیہ السلام نے جو حق و صداقت کے پیکر تھے اور رسول اکرم(ص) نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ ہمیشہ حق کے ساتھ اور حق ان کے ساتھ گردش کرتا ہے ان کی بیعت کیوں نہیں کی بلکہ مخالفت بھی کی؟ واقعی سقیفے کے روز جتنی پھرتی سے کام لیا گیا وہ بہت افسوس اور حیرت کا مقام ہے اور اس روز کا طریقہ کار ہر نکتہ رس ہوشمند انسان کو قطعی طر پر شبے میں ڈالتا ہے کہ اگر کوئی سازش کار فرما نہیں تھی تو ( چند گھنٹے ہی سہی) آخر انتظار کیوں نہ کیا کہ علی ابن ابی طالب(ع) جو بقول رسول (ص) حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے تھے ، کبار صحابہ، بنی ہاشم اور بالخصوص آن حضرت(ص) کے چچا عباس سب ک سب جمع ہوجائیں اور امر خلافت میں جو ایک عمومی فریضہ تھا اپنے خیالات ظاہر کریں؟

حافظ : یہ بات تو یقینی ہے کہ کوئی سازش نہیں چل رہی تھی بلکہ حالات چونکہ خطرناک دیکھے لہذا حفاظت اسلام کے لیے تعیین میں جلدی کی۔

خیرطلب : یعنی آپ یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ ابوعبیدہ جراح ( مکے سابق گورکن) وغیرہ کو رسول اللہ(ص) کے بزرگ چچا عباس اور علی بن ابی طالب(ع) سے جنہوں نے اس دین کے راستے میں اپنی زندگی وقف کردی تھی یا دوسرے


کبار صحابہ اور بنی ہاشم سے زیادہ اسلام کا درد تھا اور جتنی دیر وہاں باتیں بنائی تھیں اگر اتنی دیر ٹھہرجاتے یا ابوبکر وعمر مجمع کو باتوں میں مشغول رکھتے اور فورا ابوعبیدہ یا کسی اور کو بھیج کر عباس و علی(ع) کو اس خطرناک صورت حال سے آگاہ کردیتے تاکہ جلد وہاں پہنچ جائیں اور پھر تھوڑی دیر صبر کر لیتے کہ وہ بزرگوار آجائیں تو کیا اسلام ہاتھ سے نکل جاتا؟ اور ایسا فتنہ اٹھ کھڑا ہوتا کہ اس کو روک تھام ہو ہی نہ سکتی؟

اںصاف سے کام لیجئے تو قطعا اگر تھوڑا صبر کر کے کم از کم بنی ہاشم اور بزرگان صحابہ کو مع عباس و علی(ع) کے سقیفے میں بلا لیتے تو وہ تینوں اشخاص و ابوبکر و عمر اور ابوعبیدہ اگر حق بات کہتے تھے تو ان کی طاقت اور بڑھ جاتی، اسلام کے اندر اتنا اختلاف رونما نہ ہوتا اور آج ساڑھے تیرہ سو سال کے بعد ہم اور آپ برادران اسلامی اس جلسے میں ایک دوسرے کے مقابلے پر نہ آجاتے بلکہ تمام قوتوں کو متحد کر کے دشمنوں سے ٹکر لیتے ۔

پس تصدیق کیجئے کہ اسلام کے سرپر جو آفت آئی اسی روز سے آئی اور وہ فقط اسی تعجیل کا نتیجہ تھی جس پر تینوں افراد ( ابوبکر و عمر و ابوعبیدہ) نے عمل کر کے اپنے خفیہ ولی مقاصد پورے گئے۔

نواب : قبلہ صاحب آخر سبب کیا تھا کہ ان لوگوں نے اس قدر جلدی کی اور بقول آپ کے حاضرین مسجد و خانہ رسول(ص) کو بھی خبر نہیں دی؟

خیر طلب : اتنی جلدی کرنے کے سبب قطعا یہی تھا کہ وہ جانتے تھے کہ اگر تمام مسلمانوں کے آںے کا انتظار کریں گے یا کم سے کم اسامہ بن زید کی سر برآوردہ ہستیاں، مدینے کے اندر موجود بزرگ اصحاب اور بنی ہاشم وغیرہ سب جمع ہو کر مشورے میں شرکت کریں گے تو نامزدگی کے وقت علی علیہ السلام کا نام ضرور لیا جائے گا اور اگر علی(ع) یا عباس کا نام آگیا تو اس مجمع میں حق اور حقیقت کے طرفدار لوگ ا پنی مضبوط اور واضح دلیلوں سے میدان سیاست میں ہماری پگڑی اچھال دیں گے لہذا عجلت کی تاکہ جب تک بنی ہاشم اور بزرگ اصحاب پیغمبر(ص) کے غسل و کفن اور دفن میں مشغول ہیں ہم اپنا کام بنالیں اور ابوبکر کو اسی دو نفری تدبیر سے مسند خلافت پر بٹھا دیں چنانچہ وہی کیا اور آپ حضرات بھی آج تک اس کو مسلمانوں کا اجماع کہے چلے آرہے ہیں۔

آپ کے اکابر علماء جیسے طبری اور ابن ابی الحدید وغیرہ نے بھی لکھا ہے کہ عمر کہتے تھے ابوبکر کی خلافت جلدی میں اچانک قائم ہوگئی ہے خدا خیر کرے۔


عمر کے اس قول کی تردید کہ نبوت و سلطنت ایک جگہ جمع نہ ہوگی

اب رہی آپ کی دوسری دلیل خلیفہ عمر کی سند سے کہ نبوت و سلطنت ایک خاندان میں جمع نہیں ہوتی ہے تو یہ بھی آیت نمبر57 سورہ4 ( نساء) کی نص صریح سے باطل ہے ارشاد ہے۔

"أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلى ماآتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِه ِفَقَدْآتَيْناآلَإِبْراهِيمَ الْكِتاب َوَالْحِكْمَةَوَآتَيْناهُمْ مُلْكاًعَظِيماً"

یعنی آیا خدا نے جو کچھ ان کو اپنے فضل و کرم سے عطا کیا ہے اس پر لوگ حسد کرتے ہیں؟ پس یقینا ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت دی اور ان کو زبردست ملک و سلطنت عطا کیا۔

پس اس آیہ شریفہ کے حکم سے آپ کی یہ دلیل مردود ہے اور یہ حدیث قطعا ضعیف بلکہ موضوعات میں سے ہے جو خلیفہ عمر کی طرف منسوب کی گئی ہے اس لیے کہ رسول اللہ(ص) قرآن مجید کی نص صریح کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں فرماتے اور یہ آیت خود اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ نبوت و سلطنت کا ایک جگہ جمع ہونا ممکن ہے ( جیسا کہ آل ابراہیم وغیرہ میں جمع ہوئی) اس کے علاوہ منصب خلافت عہدہ نبوت کا ایک جزء ہے بلکہ اس کا تتمہ ہے ، سلطنت اور بادشاہی نہیں ہے جس کے لیے آپ کہہ سکیں کہ ایک خاندان میں جمع نہیں ہوتی۔

اگر حضرت موسی علیہ السلام کے بھائی جناب ہارون علیہ السلام خلافت موسی سے برطرف ہیں تو علی علیہ السلام بھی خلافت خاتم الانبیاء سے محروم ہوسکتے ہیں۔ اور اگر بحکم قرآن موسی ہارون علیہما السلام میں نبوت و خلافت جمع ہوئی تو قطعا محمد و علی علیہما الصلوۃ والسلام میں بھی جمع ہوگی ۔ چنانچہ جیسا کہ پہلے عرض کرچکا ہوں حدیث منزلت اس کی گواہ ہے پس آپ کی یہ حدیث قطعا بنی امیہ کے موضوعات میں سے ہے اور مجہول اور ہر پہلو سے ناقابل قبول ہے۔

اگر نبوت اورخلافت ( یا بقول خلیفہ عمر کے سلطنت) ایک جگہ جمع نہیں ہوتی ہے تو پھر مجلس شوری میں خلیفہ عمر نے علی علیہ السلام کو خلافت کےلیے کیوں نامزد کیا تھا؟ اور اسی کے بعد چوتھے نمبر پر آپ لوگ بھی حضرت کو خلیفہ کیوں مانتے ہیں؟ عجیب بات ہے کہ خلافت بلافصل تو ( حدیث گھڑ کے نبوت کےساتھ جمع نہ ہو لیکن خلافت مع الفصل جمع ہو جائے۔

چشم باز و گوش باز داں عمی حیرتم از چشم بندی خدا

اس کے علاوہ رسول اللہ (ص) صاف صاف فرماتے ہیں کہ جس راستے پر علی (ع) چلیں ادھر تم بھی چلو، دوسرون کی پیروی نہ کرو آپ کہتے ہیں کہ نبوت و سلطنت ایک خاندان میں اکھٹا نہیں ہوتیں، حالانکہ آنحضرت(ص) نے اپنی عترت کی پیروی امت پر واجب قرار دی ہے اور ان کی مخالفت کو محض ضلالت و گمراہی جانا ہے۔ جیسا کہ گذشتہ راتوں


میں میں نے یہ معتبر اور متفق علیہ فریقین صریحی حدیث مع اس کے اسناد کے عرض کی ہے کہ آنحضرت(ص) نے بار بار فرمایا :

"إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَبَيْتِي إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَالَن ْتَضِلُّوابَعْدِي أَبَداً"

یعنی میں تمہارے درمیان دو بزرگ و بہتر گراں چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ، ایک قرآن مجید اور دوسری میری عترت اور اہل بیت(ع)، اگر ان دونوں سے تمسک رکھو گے تو ہرگز کبھی گمراہ نہ ہوگے۔

جس طرح سے طوفان نوح کی آمد مِں حضرت نوح(ع) کے حکم سے جو شخص آپ کی بنائی ہوئی کشتی میں بیٹھ گیا اس نے نجات پائی اور جس نے منہ موڑا ہلاک ہوگیا چاہے وہ ان کا بیٹا ہی کیوں نہ رہا ہو۔ اسی طرح اس امت مرحومہ میں بھی حضرت خاتم الانبیاء (ص) نے اپنی عترت اور اہل بیت (ع) کو بمنزلہ کشتی نوح(ع) بیان فرمایا ہے کہ آیندہ مشکلات و اختلافات میں اس گھرانے کے علم و عقل اور ظاہر و باطن کے دامن سے وابستہ رہیںگ ے تو نجات حاصل کریں گے اور کشتی نوح(ع) سے روگردانی کرنے والوں کے مانند تخلف کریں گے تو ہلاک ہوجائیں گے (جسیا کہ اسی کتاب کے ص؟؟؟؟؟؟؟؟؟ میں تفصیل سے گزر چکا )

پس اس قسم کے نصوص صریحہ اور قواعد واضحہ کے رو سے امت کا فرض ہے کہ اختلاف اور دشواریوں میں عترت و اہل بیت رسالت(ع) کی رائے سے فائدہ اٹھائیں اور امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام چونکہ مزید علمی و عملی فضائل اور پیغمبر(ص) کے تاکیدی احکام کی روشنی میں آں حضرت(ص) کی عترت و اہل بیت کی ایک فرد اکمل تھے پس کیوں تھوڑی دیر تامل کر کے آپکو اطلاع نہیں دی تاکہ آپ کے غور وفکر اور صائب رائے سے مدد ملتی؟

اس میں قطعا ایسا راز پوشیدہ تھا جس پر عقل و علم اور اںصاف والے حیران اور مبہوت ہیں جس وقت یہ لوگ اپنے اسلاف کی اندھی تقلید چھوڑ کر عادلانہ جائزہ لیتے ہیں تو حقیقت کی تہ تک پہنچ جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ سیاسی بازیگروں نے علی(ع) کو انکے مستقل حق سے محروم کرنے کے لیے جلدی کر کے آپ کی اور دوسرے اصحاب و اہل تقوی کی غیر موجودگی میں ابوبکر کو مسند خلافت پر بٹھا دیا۔

شیخ : آپ کس دلیل سے فرماتے ہیں کہ صرف علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کی پیروی کر کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی رایوں اور اجماع کو بالائے طاق رکھ دینا چاہیئے تھا؟

تعیین خلافت میں پھر اظہار حقیقت

خیر طلب : اول تو ہم نے یہ کہا ہی نہیں ہے کہ صحابہ کی رائیں اور ان کا اجماع قابل احترام نہیں ہے۔ البتہ ہمارے اور آپ کے درمیان فرق یہ ہے کہ آپ نے جونہی کسی صحابی کا نام سنا بس چاہیے وہ کوئی منافق ہی ہو یا ابوہریرہ ہی ہوں جن کو خلیفہ عمر کوڑے سے مارتے تھے اور کذاب ( بہت بڑا جھوٹا ) کہتے تھے فورا زانوئے ادب


تہ کردیتے ہیں، لیکن ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک وہی صحابی محترم ہے اور اسی کے قدم آنکھوں سے لگانے کے قابل ہیں جس نے رسول اللہ(ص) کی مصاحبت کے شرائط پورے کئے ہوں، ہوائو ہوس کا بندہ نہ رہا ہو اور احکام خدا و رسول(ص) کا آخر عمر تک دیانتداری سے پا بند رہا ہے۔

دوسرے ہم واضح دلائل سے آپ کے سامنے ثابت کرچکے کہ سقیفہ میں خلیفہ ابوبکر کی بیعت پر کوئی اجماع نہیں ہوا تاکہ امت کی اجماعی رائے سے ان کی خلافت مسلم ہوجائے۔ اب اس کے خلاف اگر آپ کے پاس کوئی قاعدے کا جواب ہو تو بیان فرمائیے تاکہ حضرات حاضرین جلسہ بے لاگ فیصلہ کرسکیں اور میں بھی اس اجماعی تجویز کے سامنے سر تسلیم خم کروں، اگر آپ اپنی کتابوں سے اس کا ثبوت دے دیجئے کہ سقیفہ میں ساری امت یا کم از کم بقول آپ کے تمام عقلائے قوم جمع ہوئے اور سب نے مل کر رائے دی کہ ابوبکر کو خلیفہ ہونا چاہئیے تو میں مان لوں گا اور اگر سوا دو نفر ( عمر و ابوعبیدہ) اور قبیلہ اوس کے چند افراد کے جن کو قبیلہ خزرج کے ساتھ اپنی دیرینہ عداوت و مخالفت کا لحاظ تھا دوسرے اشخاص نے بیعت نہیں کی تھی تو آپ تصدیق کیجئے کہ ہم(شیعہ) غلط راستے پر نہیں ہیں۔

تیسرے اس سب پر ہماری تنقید یہ ہے اور ہم دینا کے سارے عقلمندوں پر اس کا فیصلہ چھوڑتے ہیں کہ آیا صرف تین صحابی ایسا کرنے کے مجاز ہیں کہ پوری ملت کی باگ ڈور ہاتھ میں لے لیں اور باہمی گفت و شنید اور جنگ زرگری کر کے دو نفر ایک نفر کی بیعت کرلیں اس کے بعد لوگوں کو دھونس دے کےتلوار ، آگ اور اہانت سے مرعوب کر کے اپنا بنایا ہوا خاکہ ماننے پر مجبور کریں؟ یقینا جواب نفی میں ہوگا۔

میں مطلب کو دہراتے ہوئے پھر عرض کرتا ہوں کہ ہمارا اعتراض اس بات پ؛ر ہے کہ اس روز جب وہ تین نفر ( ابوبکر و عمر اور ابو عبیدہ جراح) سقیفہ پہنچے اور دیکھا کہ خلافت کی بحث در پیش ہے تو بزرگان قوم اور عقلا و کبار صحابہ کا تعاون کیوں نہیں حاصل کیا جن میں سے کچھ لوگ خانہ رسول (ص) میں تھے اور ایک جماعت لشکر اسامہ میں تھی؟

شیخ : ہم کہتے ہیں کہ کوئی غفلت ہوئی یا نہیں ہوئی ہم اس روز موجود نہیں تھے کہ دیکھتے وہ لوگ کس دشواری میں پھنسے ہوئے تھے، لیکن آج جب کہ ہمارے سامنے ایک طے شدہ عمل ہے چاہے وہ اجماع رفتہ رفتہ واقع ہو۔ ہم کو اس کے مقابلے میں اختلاف کی آواز نہ اٹھانا چاہیئے بلکہ سر تسلیم خم کر کے جس راستے وہ گئے ہیں اسی راستے پر گامزن ہوجانا چاہیئے۔

خیرطلب : خوب خوب ۔ مرحبا آپ کے استدلال پر اور آفرین آپ کے خیال اور عقیدے پر کہ آپ خواہ مخواہ ہم سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ مقدس دین اسلام ایک بھیڑیا دھسان مذہب ہے جس میں اگر دو تین آدمیوں نے ایک جگہ جمع ہوکر منصوبہ بنایا اور چند اشخاص نے ان کی حمایت میں ؟؟؟؟؟؟؟ مچادیا تو اب سارے مسلمانوں کا فرض ہوگیا کہ آنکھیں بند کر کے اس پر عملدرآمد کو قبول کریں۔ کیا خاتم النبیین(ص) کے پاک دین کا یہی مطلب ہے جب کہ صریحا آیت


نمبر19 سورہ 29 ( زمر) ارشاد ہے۔

"فَبَشِّرْعِبادِالَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ"

یعنی اے رسول(ص) ان بندوں کو میرے لطف و رحمت کی بشارت دے دیجئے جو بات سنتے ہیں پس اس میں سے بہتر کی پیروی کرتے ہیں۔ (یعنی تحقیق کرلیتے ہیں، اندھی تقلید نہیں کرتے۔)؟

حالانکہ اسلام ایک تحقیقی دین ہے تقلیدی نہیں اور وہ بھی ابوعبیدہ (گورکن) معروف بہ جراح کی تقلید رسول اکرم(ص) نے خود ہمارے لیے راستہ کھول دیا ہے اور ہم کو پتہ دے دیا ہے کہ جس وقت امت دو گروہوں میں بٹ جائے تو ہم ان دونوں میں سے کس کی طرف جائیں تاکہ نجات پاسکیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ہم کو کس دلیل سے امیرالمومنین علیہ السلام کی پیروی واجب ہے؟ اس کا جواب کھلا ہوا ہے کہ آیات قرآنی اور آپ کی معتبر کتابوں میں درج موثق حدیثوں کی دلیل ہے۔

من جملہ ان روایات و ںصوص کے جن کے ماتحت امت مجبور ہے کہ حوادث و انقلابات میں علی علیہ السلام کی پیروی کرے عمار یاسر کی مشہور حدیث ہے جس کو آپ کے بڑے بڑَ علماء جیسے حافظ ابونعیم اصفہانی نے حلیہ میں، محمد بن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں، بلاذری نے اپنی تاریخ میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودت باب43 میں حموینی سے، میر سید علی ہمدانی شافعی نے مودۃ القربی مودت پنجم میں، دیلمی نے فردوس میں اور آپ کے دوسرے موثق علماء نے ابوایوب اںصاری سے ایک مفصل حدیث نقل کی ہے جس کو مکمل بیان کرنے کا وقت نہیں لیکن اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس وقت لوگوں نے ابو ایوب سے سوال کیا ( بلکہ ان پر اعتراض کیا) کہ تم علی ابن ابی طالب(ع) کے طرفدار کیوں بن گئے اور ابوبکر کی بیعت کیوں نہیں کی؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک روز میں رسول اللہ(ص) کی خدمت میں حاضر تھا کہ عمار یاسر وارد ہوئے اور آنحضرت سے سوال کیا حضرت نے گفتگو کے ضمن میں فرمایا

" يَاعَمَّارُ إِنْ سَلَكَ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَادِياًوَسَلَكَ عَلِيّ ٌوَادِياًفَاسْلُكْوَادِيَ عَلِيٍّ وَخَلِّ عَنِ النَّاسِ يَاعَمَّارُإِنَّ عَلِيّاًلَايَرُدُّكَ عَنْ هُدًى وَلَايَدُلُّكَ عَلَى رَدًى يَاعَمَّارُطَاعَةُعَلِيٍّ طَاعَتِي وَطَاعَتِي طَاعَةُاللَّهِ."

یعنی اے عمار اگر تمام لوگ ایک راستے پر جائیں اور تنہا علی(ع) ایک راستے پر تو تم علی(ع) کے راستے پر چلنا اور دوسروں سے بے نیاز ہوجانا اے عمار علی(ع) تم کو ہدایت سے برگشتہ نہ کریں گے اور ہلاکت کی طرف نہ لے جائیں گے اے عمار علی(ع) کی اطاعت میری اطاعت ہے اور میری اطاعت خدا کی اطاعت ہے۔

آیا جائز تھا کہ ان واضح نصوص اور صاف صاف احکام کے ہوتے ہوئے جو آپ کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں، باوجودیکہ علی علیہ السلام نے خلافت ابوبکر کی کھلی ہوئی مخالفت کی، چاہے ساری امت میں سے بنی ہاشم، بنی امیہ کبار صحابہ عقلاء قوم اور مہاجرین و انصار ان کے ہم آواز نہ بھی رہے ہوں (حالانکہ ہم آواز تھے) لوگ علی(ع) کی راہ کو چھوڑ دیں اور ایک غیر پیشوا کی پیروی کریں؟ کم سے کم یہی خواہش کرتے کہ اس قدر تامل کیا جائے کہ علی(ع) آجائیں اور ان کی تجویز معلوم کر لی جائے۔

( اتنے میں نماز عشاء کے لیے موذن کی آواز آئی اور مولوی صاحبان فریضہ ادا کرنے کے لیے اٹھ گئے نماز اور چائے کے بعد حافظ صاحب نے بات شروع کی۔)


حافظ : جناب آپ نے اپنے بیانات کے ضمن میں دو باتیں عجیب فرمائیں ۔ اول تو آپ بار بار فرماتے ہیں۔ ( ابوعبیدہ گور کن) تو یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ یہ محترم بزرگ قبر کھودنے کا پیشہ کرتے تھے؟ دوسرے آپ نے فرمایا کہ علی(ع) و بنی ہاشم اور اصحاب بیعت میں شامل نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے مخالفت بھی کی در آنحالیکہ جملہ ارباب حدیث و تاریخ نے لکھا ہے کہ علی(ع) و بنی ہاشم اور اصحاب سب نے بیعت کی۔

خیر طلب : معلوم ہوتا ہے کہ آپ حضرات اپنے علماء کی تحریریں بھی غور سے نہیں پڑھتے۔ پہلی بات کہ ابوعبیدہ گوکن تھے۔ میں نے نہیں کہی ہے بلکہ آپ ہی کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ کتاب الہدایہ ولنہایہ مئولفہ ابن کثیر شامی جلد پنجم ص266 و ص267 کو ملاحظہ فرمائیے دفن رسول(ص) کے باب میں لکھا ہے کہ ابوعبیدہ جراح چونکہ اہل مکہ کی قبریں کھودا کرتے تھے لہذا جناب عباس نے ایک شخص کو مدینے کے گورکن ابوطلحہ کی تلاش میں اور ایک کو ابو عبیدہ کے تجسس میں روانہ کیا تاکہ دونوں آکر رسول اللہ(ص) کی قبر تیار کریں۔

دوسرے آپ نے فرمایا کہ علی(ع) و بنی ہاشم اور اصحاب سبھی نے بیعت کی۔ ہاں آپ بیعت کا لفظ تو ضرور پڑھ لیتے ہیں لیکن حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ کس نے کس وقت بیعت کی اور کیوں کر بیعت کی آپ کے سارے علمائے حدیث اور بڑے بڑے مورخین نے لکھا ہے کہ علی علیہ السلام اور بنی ہاشم نے بیعت تو کر لی لیکن چھ مہینے کے بعد اور وہ بھی جبر و تشدد ، قتل و خون کی دھمکیوں اور انتہائی اہانتوں کے بعد جو ان بزرگوار کے لیے عمل میں لائی گئیں اور ان حضرات کا ہر طرح سے بائیکاٹ کردینے کے بعد۔

حافظ : آپ جیسے شریف انسان کے لیے مناسب نہیں کہ شیعہ عوام کے الفاظ اور عقائد کو زبان پر جاری کیجئے جو یہ کہتے ہیں کہ علی(ع) کو جبرا کھینچتے ہوئے لے گئے اور ان کو قتل کردینے کی دھمکی دی۔ حالانکہ ان جناب نے انہیں ابتدائی دنوں میں انتہائی خواہش و رغبت کے ساتھ ابوبکر کی خلافت قبول کر لی تھی۔

چھ ماہ کے بعد زبردستی علی (ع) اور بنی ہاشم کی بیعت

خیر طلب : آپ جو یہ فرمارہے ہیں کہ علی علیہ السلام اور بنی ہاشم نے فوار بیعت کی تو میرا خیال کہ آپ جان بوجھ کر اپنے کو دھوکا دے رہے ہیں اس لیے کہ عام عام طور پر آپ کے مورخین تو یہ لکھتے ہیں کہ علی علیہ السلام کی بیعت جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے بعد ہوئی ہے۔ چنانچہ بخاری نے صحیح جلد سوم ص37 باب غزوۃ خیبر میں اور مسلم بن حجاج نے اپنی صحیح جلد پنجم ص54 باب قول النبی لا نورث میں نقل کیا ہے کہ علی علیہ السلام کی بیعت وفات فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بعد ہوئی۔ اسی طرح عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ دینوری متوفی سنہ276ھ الامامت والسیاست آخر ص14 میں کہتے ہیں :

"فلم يبايع عليّ كرّم اللّه وجهه حتّى ماتت فاطمةرضي اللّه عنها"

یعنی علی علیہ السلام نے ( ابوبکر کی) بیعت نہیں کی یہاں تک کہ جناب فاطمہ(س) نے


انتقال فرمایا۔

آپ کے بعض علماء وفات فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا وفات رسول اللہ صلعم کے پچھتر روز بعد جانتے ہیں جیسے خود ابن قتیبہ لیکن بالعموم آپ کے مورخین آںحضرت کے وفات کے چھ مہینے بعد سمجھتے ہیں جس سے نتیجہ یہ نکلا کہ علی علیہ السلام اور بنی ہاشم کی بیعت خلافت کے چھ ماہ بعد ہوئی ۔ چنانچہ مسعودی مروج الذہب جلد اول ص414 میں کہتے ہیں " ولم يبايع ه أحدمن بني هاشم حتّى ماتت فاطمة "

یعنی بنی ہاشم میں سے کسی ایک فرد نے بھی (ابوبکر کی ) بیعت نہیں کی یہاں تک کہ حضرت فاطمہ(س) نے وفات پائی۔

ابراہیم بن سعد ثقفی نے جو ثقات علماء میں سے ہیں زہری سے روایت کی ہے کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے بیعت نہیں کی لیکن چھ مہینے کے بعد اور ان کے اوپر لوگوں کی جرائت نہیں بڑھی لیکن وفات فاطمہ سلام اللہ علیہا کے بعد جیسا کہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں نقل کیا ہے۔

غرضیکہ آپ ہی کے اکابر علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے کہ علی علیہ السلام کی بیعت فورا نہیں ہوئی بلکہ بہت مدت کے بعد واقع ہوئی جب اس کے وسائل و اسباب اکٹھا ہوگئے اور حالات نے مجبور کردیا۔

ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد دوم آخر ص18 میں زہری سے اور انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے کہ :

" فَلَمْ يُبَايِعْهُ عَلِيٌّ سِتَّةَأَشْهُرٍوَلَاأَحَدٌمِن ْبَنِي هَاشِمٍ حَتَّى بَايَعَهُ عَلِيٌّ"

" یعنی علی(ع) نے چھ ماہ تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی اور بنی ہاشم میں سے کسی نے بھی بیعت نہیں کی جب تک علی(ع) نے نہیں کی۔

نیز احمد بن اعثم کوفی شافعی نے فتوح میں اور ابونصر حمیدی نے جمع بین الصحیحین میں نافع سے اور انہوں نے زہری سے روایت کی ہے کہ " ان عَلِيّا لَمْ يُبَايِعْهُ الا بعد سِتَّةَأَشْهُرٍ " ( یعنی علی علیہ السلام نے بیعت نہیں کی مگر چھ مہینے کے بعد) رہا آپ کا یہ فرمانا کہ تم عوام کے عقائد کی پیروی بے خودی میں ہم پر حملہ کرتے ہیں حالانکہ اپنی کتابوں کے مضامین سے واقف ہیں۔ قسم خدا کی ہر قوم کے علماء ہی فسادات کے ذمہ دار ہیں جو عوام کو دھوکا دیتے ہیں تاکہ وہ یہ سمجھنے لگیں کہ ان روایتوں کو ہم نے گھڑا ہے۔ حالانکہ خود آپ کے بڑے بڑے علماء نے ان باتوں کا اقرار کیا ہے۔

حافظ ہمارے علماء نے کہاں یہ کہا ہے کہ علی(ع) کع جبرا کھینچا اور ان کے گھر میں آگ لگائی جیسا کہ شیعوں کے یہاں مشہور ہے اور اپنے مجالس میں جوش و خروش سے بیان کرتے ہیں۔ نیز یہ کہہ کر لوگوں کے جذبات ابھارتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف پہنچائی اور ان کا حمل ساقط کیا؟

خیر طلب : محترم حضرات یا تو واقعی آپ کو مطالعہ ہی بہت کم ہے یا عادتا اور قصدا اپنے اسلاف کی پیروی میں بیچارے مظلوم شیعوں کو عوام کی نگاہوں میں متہم کر کے ایسے جملوں سے اپنے بزرگوں کو پاکدامن دکھانا چاہتے ہیں۔ لہذا کہتے بھی


ہیں اور لکھتے بھی ہیں کہ یہ روایتیں شیعوں نے بنائی ہیں( خصوصا سلطنت صفویہ کے زمانے سے ) کہ ابوبکر کے حکم سے عمر ایک مجمع کے ساتھ علی(ع) کے دروازے پر آگ لے کر گئے اور علی(ع) کو قتل کی دھمکی دے کر شور و شر کے ساتھ کھینچتے ہوئے بیعت کے لیے مسجد میں لے گئے۔

حالانکہ ایسا ہے نہیں میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں کہ ان تاریخی قضیوں کو صرف شیعوں نے درج نہیں کیا ہے بلکہ آپ کے اںصاف پسند اکابر علماء و مورخین نے بھی لکھا ہے ۔ البتہ بعض نے تعصب کی وجہ سے احتراز کیا ہے۔ اگر آپ چاہیں ، تو وقت کا لحاظ کرتے ہوئے آپ کے معتمد علماء سے چند روایتیں جو اس وقت پیش نظر ہیں ثبوت کے لیے نقل کردوں تاکہ صاحبان انصاف کو معلوم ہوجائے کہ ہم بے قصور ہیں اور جو کچھ آپ نے کہا ہے وہی ہم بھی کہتے ہیں ۔

حافظ : فرمائیے ہم سننے کے لیے حاضر ہیں۔

بارہ دلیلیں اس پر کہ علی(ع) کو بزود شمشیر مسجد میں لے گئے

خیر طلب : 1۔ ابو جعفر بلاذری احمد بن یحیی بن جابر بغدادی متوفی سنہ279ھ نے جو آپ کے ایک موثق محدث اور مشہور مورخ ہیں اپنی تاریخ میں روایت کی ہے کہ جب ابوبکر نے علی علیہ السلام کو بیعت کے لیے طلب کیا ہے اور آپ نے قبول نہ کیا تو انہوں نے عمر کو بھیجا ، وہ آگ لے کر آئے کہ گھر کو جلا دیں گے۔ حضرت فاطمہ(س) نے دروازے کے قریب آکر فرمایا اے پسر خطاب کیا تم مجھ پر گھر جلا دوگے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ جو کچھ تمہارے باپ لے کر آئے ہیں اس میں یہ عمل بہت موثر ہے۔

2۔ عزالدین ابن ابی الحدید معتزلی اور محمد بن جریر طبری جو آپ کے معتمد ترین مورخ ہیں، روایت کرتے ہیں کہ عمر اسید بن خضیر ، سلمہ بن اسلم اور ایک جماعت کےہمراہ علی(ع) کے دروازے پر گئے اور کہا باہر نکلو ورنہ ہم گھر کو تمہارے اوپر جلا دیں گے۔

3۔ ابن خزابہ نے کتاب عزر میں زید بن اسلم سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا میں ان لوگوں میں سے تھا جو عمر کے ہاں لکڑیاں اٹھا کر فاطمہ(ع) کے دروازے پر لے گئے ۔ جب علی (ع) اور ان کے اصحاب نے بیعت سے انکار کیا تو عمر نے فاطمہ (ع) سے کہا کہ جو شخص اس گھر کے اندر ہو اس کو باہر نکالو ورنہ اور گھر والوں کو جلائے دیتا ہوں اس وقت علی و حسنین اور فاطمہ علیہم السلام اور صحابہ و بنی ہاشم کی ایک جماعت گھر کے اندر موجود تھی۔ فاطمہ(ع) نے فرمایا کیا تم مجھ پر اور میرے بچوں پر گھر جلادوگے؟ کہا ہاں خدا کی قسم، یہاں تک کہ سب باہر آکر خلیفہ رسول (ص) کی بیعت کریں۔

4۔ ابن عبدربہ نے جو آپ کے مشاہیر علماء میں سے ہیں حقدالفرید جلد سیم ص63 میں لکھا ہے کہ علی علیہ السلام اور عباس(ع) فاطمہ(ع) کے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر نے عمر سے کہا جائو ان لوگوں کو لائو، اور اگر آنے سے انکار کریں تو ان سے جنگ کرو پس عمر آگ لے کر آئے تاکہ گھر جلادیں ، فاطمہ(ع) دروازے پرآئیں اور فرمایا اے پسر خطاب کیا تم میرا گھر جلانے آئے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں۔ الخ


5۔ ابن ابی الحدید معتزلی نے شرح نہج البلاغہ جلد اول ص134 مطبوعہ مصر میں جوہری کی کتاب سقیفہ سے سقیفہ بنی ساعدہ کا قضیہ تفصیل سے نقل کیا ہے یہاں تک کہ کہتے ہیں، بن ہاشم علی علیہ السلام کے گھر میں جمع ہوئے اور زبیر بھی ان کے ساتھ تھے اس لیے کہ وہ اپنے کو بنی ہاشم میں شمار کرتے تھے( حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے تھے کہ زبیر ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے یہاں تک کہ ان کے لڑکے بڑے ہوئے اور ان کو ہم سے برگشتہ کردیا) پس عمر ایک گروہ لے کر سید اور سلمہ کے ہمراہ حضرت فاطمہ(ع) کے گھر پر گئے اور کہا باہر نکل کے بیعت کرو، ان لوگوں نے انکار کیا اور زبیر تلوار کھینچ کر باہر نکل آئے۔ عمر نے کہا اس کتے کو پکڑ لو سلمہ بن اسلم نے ان کی تلوار پکڑ کر دیوار پر دے ماری اس کے بعد علی(ع) کو جبر و تشدد کے ساتھ کھینچتے ہوئے ابوبکر کی طرف لے چلے بنی ہاشم بھی ان کے ساتھ ساتھ آرہے تھے اور دیکھ رہے تھے کہ آپ کیا طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ علی(ع) کہتے تھے کہ میں خدا کا بندہ اور اس کے رسول(ص) کا بھائی ہوں لیکن کوئی ان کی بات پر کان نہیں دھرتا تھا یہاں تک کہ ان کو ابوبکر کے پاس لے گئے انہوں نے کہا بیعت کرو آپ نے فرمایا کہ میں اس منصب کا سب سے زیادہ حقدار ہوں اور تمہاری بیعت نہیں کروں گا البتہ تمہارا فرض ہے کہ میری بیعت کرو۔ تم نے قرابت رسول(ص) کی دلیل سے یہ عہدہ انصار سے لیا ہے اور میں بھی اسی دلیل سے تمہارے مقابلے میں احتجاج کرتا ہوں۔ پس اگر تم خدا سے ڈرتے ہو تو انصاف سے کام لو اور میرے حق کا اعتراف کرو جس طرح انصار نے تمہارے حق میں انصاف کیا ، ورنہ اس کا اقرار کرو کہ جان بوجھ کر مجھ پر ظلم کر رہے ہو۔

عمر نے کہا جب تک بیعت نہ کروگے میں تم کو نہیں چھوڑوں گا۔ حضرت نے فرمایا خوب تم لوگوں نے آپس میں سازباز کر رکھا ہے، آج تم ان کے لیے کام کر رہے ہوتا کہ کلی وہ تمہاری طرف پلٹائیں ( اس عہدے کہ) خدا کی قسم میں تمہاری بات نہیں مانوں گا اور ان کی بیعت نہیں کروں گا اسلیے کہ ان کو میری بیعت کرنا چاہیئے پھر لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا، اے گروہ مہاجرین خدا سے ڈرو۔ محمدی سلطنت اور اقتدار کو ان کے گھرانے سے جہان اس کو خدا نے قرار دیا ہے باہر نہ لے جائو اور اس کے اہل کو اس کے منصب اور حق سے الگ نہ کرو۔ خدا کی قسم ہم اہل بیت(ع) اس امر میں تم سے کہیں زیادہ حقدار ہیں جب تک ہمارے درمیان کوئی کتاب خدا و سنت رسول(ص) کا عالم اور دین کا فقیہہ موجود رہے۔ خدا کی قسم یہ تمام صفتین ہمارے اندر لہذا اپنے نفس کی پیروی نہ کرو جس سے حق سے دور ہوجائو۔ اس کے بعد علی علیہ السلام بغیر بیعت کئے ہوئے گھر واپس گئے اور خانہ نشین ہوگئے یہاں تک کہ حضرت فاطمہ(ع) نے رحلت فرمائی اور آپ نے بے بس ہوکر بیعت کی۔

6۔ ابو محمد عبداللہ بن مسلم ن قتیبہ بن عمرو الباہلی الدینوری متوفی سنہ376ھ جو آپ کے اکابر علماء میں سے ہیں اور مدتوں شہر دینور میں باقاعدہ قاضی رہے ہیں اپنی مشہور کتاب تاریخ الخلفاء الراشدین و دولت بنی امیہ معروف بہ الامامہ والسیاسہ (مطبوعہ مصر) جلد اول ص13 میں سقیفے کا قضیہ تفصیل سے بیان کرتے ہیں اور اس عبارت سے مضمون شروع کرتے ہیں۔

"وإنّ أبابكررضى اللّه عنه تفقّدقوماتخلّفواعن بيعته عندعليّ كرّماللّه وجهه فبعث إليهم


عمرفجاءفناداهم وهم في دارعليّ،فأبواأن يخرجوافدعابالحطب وقال: والّذي نفس عمربيده لتخرجنّ أولأحرقّنهاعليكم على من فيها،فقيل له: ياأباحفص،إنّ فيهافاطمةفقال: وإن فخرجوا فبايعوا الا عليا الخ."

خلاصہ یہ کہ جب ابوبکر کو معلوم ہوا کہ امت کی ایک جماعت ان کی بیعت سے انحراف کر کے علی علیہ السلام کے گھر میں جمع ہوئی ہے تو عمر کو ان کی طرف بھیجا، عمر نے آکر ان کو آواز دی لیکن ان لوگوں نے گھر سے باہر نکلنا گوارا نہیں کیا، عمر نے لکڑی منگوائی اور کہا اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں عمر کی جان ہے یا تم باہر آئو گے یا میں گھر کو گھر والوں سمیت جلائے دیتا ہوں۔ لوگوں نے کہا اے ابو حفص ( کنیت عمر) اس گھر میں فاطمہ(ع) بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کچھ پرواہ نہیں، وہ ہیں تب بھی جلا دوں گا۔ پس سب لوگ باہر آگے اور بیعت کی سوا علی علیہ السلام کے کہ انہوں نے فرمایا میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک قرآن جمع نہ کرلوں گا نہ باہر نکلوں گا نہ عباپہنوں گا، عمر نے قبول نہیں کیا لیکن فاطمہ سلام اللہ علیہا کی نالہ و زاری اور لوگوں کی ملامت سے مجبور ہو کر ابوبکر کے پاس واپس گئے اور ان کو حضرت سے بیعت لینے پر ابھارا ابوبکر نے حضرت کو بلانے کے لیے کئی مرتبہ قنفذ کو بھیجا لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ بالآخر عمر ایک مجمع کے ساتھ فاطمہ(ع) کے دروازے پر گئے اور دق الباب کیا، فاطمہ(ع) نے ان لوگوں کی صدا سنی تو با آواز بلند فرماد کی۔

"ياأبت يارسول اللّه ،ماذالقينابعدك من ابن الخطّاب وابن أبي قحافة؟!!."

یعنی اے بابا رسول اللہ (ص) آپ کے بعد ہم کو عمر ابن خطاب اور ابوبکر ابن ابو قحافہ کی طرف سے کیا کیا مصیبتیں پہنچ رہی ہیں۔

جب لوگوں نے فاطمہ(ع) کی گریہ و زاری کی آواز سنی تو اس حالت سے پلٹے کہ آنسو بہ رہے تھے اور کلیجے بھن رہے تھے۔لیکن چند اشخاص کےساتھ عمر ٹھہر گئے یہاں تک کہ علی (ع) کو جبرا گھر سے نکال کے ابوبکر کے پاس لے گئے اور ان سے کہا کی ابوبکر کی بیعت کرو حضرت نے فرمایا کہ اگر بیعت نہ کروں تو کیا کرو گے؟ " قالوااذاواللَّه الّذى لااله الّاهونضرب عنقك " ( کہا خدا کی قسم ہم تمہاری گردن ماردیں گے۔ علی علیہ السلام نے فرمایا تو کیا بندہ خدا اور برادر رسول(ص) کو قتل کروگے؟ عمر نے کہا تم رسول خدا(ص) کے بھائی نہیں ہو۔ ابوبکر یہ سارے واقعات اور گفتگو خاموشی سے دیکھ رہے تھے اور کچھ نہیں کہتے تھے۔ عمر نے ابوبکر سے کہا کہ آیا یہ سب کام میں تمہارے حکم سے نہیں کر رہا ہوں ؟ ابوبکر نے کہا جب تک فاطمہ(ع) ہیں میں ان کو مجبور نہیں کروں گا۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے کو قبر رسول (ص) تک پہنچایا اور نالہ و فریاد کے ساتھ آنحضرت(ص) سے وہی بات عرض کی جو ہارون نے اپنے بھائی موسی(ع) سے کہی تھی اور خدا نے قرآن میں اس کی خبر دی ہے کہ:

" ياابنأمّ إنالقوم استضعفوني وكادوايقتلونني" ( یعنی اے میری مان کے فرزند قوم نے مجھ کو ضعیف بنا دیا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کردیں۔)

اس قضیے کی مفصل شرح نقل کرنے کے بعدکہتے ہیں کہ علی علیہ السلام نے بیعت نہیں کی اور گھر واپس چلے آئے۔ بعد کو ایک مرتبہ ابوبکر و عمر فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر پر آئے تاکہ ان کی خوشنودی حاصل کریں۔ آپ نے فرمایا میں خدا کو گواہ کرتی ہوں کہ


تم دونوں نے مجھ کو اذیت پہنچائی ہے، میں ہر نماز میں تم پر نفرین کرتی ہوں یہاں تک کہ اپنے باپ کے پاس پہنچوں اور تمہاری شکایت کروں۔ انتہی۔

بے لاگ فیصلہ کرنا چاہیئے

حضرات آپ کو خدا کیا واسطہ دے کے انصاف چاہتا ہوں، کیا اجماع کے یہی معنی ہیں کہ اصحاب پیغمبر(ص) کو اہانت ، زد و کوب اور زبردستی کےساتھ قتل اور گھر پھونکنے کی دھمکیاں دے کر بیعت کے لیے لے جائیں۔ اس کا نام اجماع رکھیں؟ ارباب انصاف اگر آپ حضرات تعصب سے ہٹ کر ذرا سنجیدگی کے ساتھ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس روز کی شعبدہ بازی بھی آج ہی کے مانند تھی جس کی مثالیں اکثرملتی ہیں کہ چند اشخاص ایک آدمی کا ساتھ پکڑ کے شور و شغب اور ہنگامہ برپا کر کے اس کو ریاست یا سلطنت کی کرسی تک پہنچا دیتے ہیں اور بعد کو کہتے ہیںکہ قوم نے اس کو منتخب کیا ہے۔ اس روز بھی چند بازیگروں نے پارٹی بناکر ایک نفر کا انتخاب کر لیا اور بعد کو شور و غوغا اہانت ، آتش زنی اور قتل و خون کی دھمکی سے دبائو ڈال کر بقیہ لوگوں کو بیعت کے لیے تیار کیا جس کا آج کی شب آپ حضرات نام رکھتے ہیں، اجماع، اور اس کند حربے کو اپنی حقانیت کی دلیل بناتے ہیں۔

پھر تعجب یہ کہ ہم سے بھی فرمائش ہے کہ اندھے بہرے اور نادان بن جائو، پچھلی تاریخ پر قطعی دھیان نہ دو دین میں کوئی تحقیق نہ کرو، چاہے جو کچھ بھی کیا ہو لیکن سب کے نیک سمجھو اور اندھا دھند تصدیق کردو کہ اجماع واقع ہوا اور یہ خلافت برحق ہے اس لیے کہ اجماع کے ذریعے قائم ہوئی ہے۔

خدا کی قسم اگر آپ حضرات غیر جانبداری اور عدل و باریک بینی کی نظر سے دیکھیں تو خود تصدیق کریں گے کہ ان لوگوں کی جتھہ بندی اور پارٹی بازی اس روز سیاسی تھی برخلاف جماعت شیعہ کے جنہوں نے ارشاد پیغمبر(ص) کے مطابق آں حضرت(ص) کی عترت طاہرہ(ع) کا ساتھ اختیار کیا اور کہا کہ جب خود پیغمبر(ص) کی ہدایت ہے کہ قرآن اور میرے اہل بیت(ع) سے متمسک رہو تو ہم بھی تعمیل کرتے ہوئے ان سے جدا نہیں ہوتے ہیں اور کسی غیر کی نہیں بلکہ صرف انہیں کی پیروی کرتے ہیں۔

7۔ احمد بن عبدالعزیز جوہری جو آپ کے ثقات علماء میں سے ہیں جیسا کہ ابن ابی الحدید نے اس عبارت کے ساتھ ان کی توثیق کی ہے کہ

" هو عالم محدث کثير الادب ثقة ورع اثنی عليه المحدثون رووا عنه فی مصنفاتهم "

یعنی وہ عالم، محدث ، بہت بڑے ادیب، ثقہ اور صاحب ورع تھے، محدثین نے ان کی مدح و ثناء کی ہے اور اپنے تصنیفات میں ان سے روایت کی ہے، انہوں نے کتاب سقیفہ میں روایت کی ہے اور ابن ابی الحدید معتزلی نے بھی شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص19 مطبوعہ مصر میں بسند ابواسود اس سے نقل کیا ہے کہ اصحاب کی ایک


جماعت اور سربرآوردہ مہاجرین نے ابوبکر کی بیعت میں غیظ و غضب کا اظہار کیا کہ ان مشورہ کیوں نہیں کیوں نہیں لیا گیا۔ نیز علی(ع) اور زبیر بھی غضبناک ہوکر بیعت سے کنارہ کش ہوئے اور خانہ جناب فاطمہ(ع) میں آگئے۔ عمر نے اسید بن غضیر اور سلمہ بن سلامہ بن قریش ( جو دوںوں بنی عبدالاشہل سے تھے) اور لوگوں کا ایک گروہ لے کر خانہ فاطمہ(ع) پر چڑھائی کردی فاطمہ(ع) نے ہر چند فریاد کی اور ان لوگوں کو قسم دی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ علی(ع) و زبیر کی تلواریں لے کر دیوار پر مار مار کے توڑ ڈالیں اور ان کو جبر و تشدد کے ساتھ کھینچ کے بیعت کے لیے مسجد میں لے گئے۔

8۔ نیز جوہری نے سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ جب ابوبکر منبر پر بیٹھے اور سنا کہ علی(ع) و زبیر اور بنی ہاشم ایک جماعت خانہ فاطمہ(ع) میں جمع ہوئے ہیں اور عمر کو بھیجا کہ ان کو لے آئو، عمر فاطمہ(ع) کے گھر پر آکر چیخے کہ باہر آئو ورنہ خدا کی قسم میں تم کو اور تمہارے گھر کو جلائے دیتا ہوں۔

9۔ نیز جوہری نے جیسا کہ ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ جلد دوم ص19 مطبوعہ مصر میں لکھا ہے، اسناد کے ساتھ شعبی سے روایت کی ہے کہ جس وقت ابوبکر کو خانہ علی علیہ السلام میں بنی ہاشم کے اجتماع کی خبر ملی تو عمر سے کہا کہ خالد کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا موجود ہیں۔ ابوبکر نے کہا تم دوںوں جا کر علی(ع) اور زبیر کو نکال کے لائو تاکہ بیعت کریں، پس عمر فاطمہ(ع) کے گھر میں داخل ہوئے اور خالد دروازے پر کھڑے ہوئے عمر نے زبیر سے کہا یہ تلوار کیسی ہے ؟ انہوں نے کہا میں نے اس کو بیعت علی(ع) کے لیے مہیا کیا ہے۔ عمر نے وہ تلوار کھینچ کر گھر کے اندر ہی ایک پتھر پر مار کر توڑ ڈالی، اس کے بعد زبیر کا ہاتھ پکڑ کے اٹھایا اور باہر لاکر خالد کے قبضے میں دیا۔ پھر مکان کے اندر واپس گئے وہاں کافی لوگ جمع تھے، جیسے مقداد اور جملہ بنی ہاشم عمر نے علی علیہ السلام سے کہا اٹھو اور چل کر ابوبکر کی بیعت کرو۔ حضرت نے انکار کیا تو حضرت کا ہاتھ پکڑکے کھینچا، اور خالد کے ہاتھ میں دیا خالد کے ساتھ کثیر مجمع تھا جو ابوبکر نے مدد کے لیے بھیجا تھا۔ خالد اور عمر مل کے حضرت کو جبر اور سختی کےساتھ کھینچ رہے تھے۔ تمام گلیوں میں لوگ بھرے ہوئے تھے اور یہ منظر دیکھ رہے تھے، حضرت فاطمہ(ع) نے جس وقت عمر کی یہ بدسلوکیاں دیکھیں تو بنی ہاشم وغیرہ کی بہت سی عورتوں کے ساتھ ( جو جناب فاطمہ(ع) کو تسکین دینے کے لیے جمع ہوئی تھیں) باہر آگئیں اور ان کے نالہ و شیون اور فریاد و فغان کی آوازیں بلند تھیں، یہاں تک کہ حضرت فاطمہ(ع) نے مسجد کے اندر ابوبکر کو آواز دے کر فریاد کی کہ کتنی جلدی تم لوگوں نے اہل بیت رسول اللہ(ص) کے گھر پر ڈاکہ ڈال دیا۔ قسم ہے خدا کی کہ میں عمر سے بات بھی نہیں کروں گی یہاں تک کہ اپنے خدا سے ملاقات کروں( معصومہ اپنی قسم اور عہد کی پابند رہیں اور زندگی بھر ان لوگوں سے بات نہیں کی) چنانچہ بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحین میں لکھا ہے۔

"فغضبت فاطمةعلى ابى بكرفهجرته فلم تكلّمه حتّى توفّيت"

یعنی فاطمہ سلام اللہ علیہا ابوبکر پر غضبناک ہوئیں اور وفات کے وقت تک ان سے بات نہیں کی۔ جیسا کہ صحیح بخاری کے جزء پنجم و ہفتم میں نقل ہوا ہے۔

10۔ ابو ولید محب الدین محمد بن الشختہ الحنفی متوفی سنہ815ھ جو آپ کے اکابر علماء میں سے اور حلب میں برسوں حنفی


مذہب کے قاضی رہے تھے۔ اپنی تاریخ کی کتاب روضتہ المناظر فی اخبار الاوائل والاواخر میں قضیہ سقیفہ کی تشریح کرتے ہوئے آگ والا واقعہ ان الفاظ میں لکھتے ہیں۔

"ان عمر جاء الی بيت علی ليحرقه علی من فيه فلقيته فاطمة فقال ادخلوا فيما دخلت الامة"

یعنی عمر علی(ع) کے گھر پر آئے تاکہ اس کو مع گھر والوں کے جلا دیں پس فاطمہ(ع) نے ان سے گفتگو کی تو عمر نے کہا جس چیز میں امت داخل ہوئی ہے تم بھی داخل ہو) اور آخر تک یہ واقعہ نقل کرتے ہیں۔

11۔ طبری نے اپنی تاریخ جلد دوم ص443 میں زیاد ابن کلب سے نقل کیا ہے کہ طلحہ و زبیر اور مہاجرین کی ایک جماعت علی(ع) کے گھر میں تھی، عمر ابن خطاب آئے اور کہا بیعت کے لیے باہر نکلو ورنہ سب کو آگ سے جلائے دیتا ہوں۔

12۔ مشہور مورخ ابن شحنہ حاشیہ کامل ابن اثیر جلد یا زدہم ص112 ضمن واقعہ سقیفہ میں لکھتے ہیں کہ جس وقت اصحاب اور بنی ہاشم کی ایک جماعت جیسے زبیر ، عتبہ بن ابی لہب، خالد بن سعید بن عاص، ،مقداد ابن اسود کندی، سلمان فارسی، ابوذر غفاری، عماریاسر، براء بن عازب اور ابی بن کعب نے بیت ابوبکر سے اختلاف کیا اور علی علیہ السلام کی طرف میلان ہونے کی وجہ سے سب آپ کے گھر میں جمع تھے تو عمر ابن خطاب آئے تاکہ اس مکان میں جو بھی ہو آگ سے اس کو جلا دیں، فاطمہ سلام اللہ علیہا نے احتجاج کیا تو عمر نے کہا کہ اس کام میں شامل ہو جس میں اورلوگ شامل ہوئے ہیں۔ ( یعنی بیعت کرنے والے اشخاص کی پیروی کرتے ہوئے بیعت کرو۔)

ان مطالب کا شاید مقبول فریقین مورخ اور جلیل القدر فاضل ابوالحسن علی ابن الحسین مسعودی کا قول ہے جو تاریخ مروج الذہب جلد دوم ص100 میں واقعات عبداللہ ابن زبیر کو جنہوں نے مکے میں ریاست و خلافت کا دعوی کیا تھا۔ نقل کرتےہوئے لکھتے ہیں کہ جس وقت بنی ہاشم مع فرزند امیرالمومنین محمد ابن حنفیہ کے شعب ابوطالب میں جمع تھے اور عبداللہ کا لشکر ان کا محاصرہ کئے ہوئے تھا تو وہ لوگ بہت سی لکڑی لائے تاکہ سب کو جلادیں اور آگ کے شعلے بھی بلند ہوئے لیکن پھر بھی بنی ہاشم نے اطاعت قبول نہیں کی یہاں تک کہ مختار کے لشکر نے پہنچ کر ان کو نجات دلائی۔

کہتے ہیں کہ نوفلی نے اپنی کتاب میں روایت کیا ہے کہ ایک جلسے میں محاصرہ ثعب ابوطالب کا قضیہ زیر بحث تھا اور لوگ اس آتش زنی کی ملامت کررہے تھے تو وہ عروہ بن زبیر اپنے بھائی عبداللہ کی طرف سے لوگوں کے سامنے یہ عذر پیش کررہے تھے کہ میرے بھائی عبداللہ قصور وار نہیں تھے اس لیے کہ آگ اور لکڑی لانے اور آگ روشن کرنے سے بنی ہاشم کو ڈرانا مقصود تھا:

" إنّماأرادبذلك إرهابهم ليدخلوافي طاعته كماأرهب بنوهاشم وجمع لهم الحطب لإحراقهم اذهم أبواالبيعةفيماسلف"

مطلب یہ کہ عبد اللہ ابن زہیر کا شعب ابو طالب میں ہاشم کیلے آگ لے جانا ان کو خوف زدہ کرنے کیلے تھا تاکہ وہ ان کی اطاعت کریں ٹھیک اسی طرح جیسے (عمر اور اصحاب ابو بکر نے)بنی ہاشم اور بزرگان قوم کو اس وقت ڈرایا دھمکایا تھا اور ان کو


جلانے کیلے لکڑی جمع کی تھی جب وہ بیعت پر تیار نہیں ہورہے تھے (تاکہ کسی طرح اجماع کا نام ہوجاے اور آج آپ کے لیے دلیل محکم بنے )یہ روایتیں اور مورخین کا بیان ان کثیر اخبار و بیانات میں سے صرف ایک نمونہ ہے جو آپ کے موثق راویوںنے اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے۔انصاف پسند علماءکے نزدیک یہ واقعہ اس قدر مشہور تھا کہ شعراء اس کو اپنے اشعار میں نظم کرتے تھے۔

ہاں آپ کے بعض علماء احتیاطاًاس خیال سے کہ اگر ہم ان معاملات کو بیان کریںگے تو عقیدہ اجماع کے باطل ہونےپر ایک دلیل ہوجا ےگی اس واقعہ کو نقل کرنے سے پرہیزکرتے تھے ورنہ اصلیت سب کے سامنے ظاہر تھی۔آپ کے مشہورومعروف شعراءمیںسے ایک بزرگ عالم حافظ ابراہیم مصری قصیدہ عمریہ میں خلیفہ کی مدح وتمھید کرتے ہوے کہتےہیں

وقولة لعلي قالها عمر

أكرم بسامعها أعظم بملقيها

حرقت دارك لا أبقي عليك بها

إن لم تبايع وبنت المصطفى فيها

ما كان غير أبي حفص يفوه بها

أمام فارس عدنان وحاميها

مطلب یہ کہ سو ابوحفص(کنیت عمر)کے شہسوار قبیلہ عدنان،علی اور ان کے حامیوں سے کوئی اور یہ نہیں کہ سکتا تھا کہ اگر بیعت نہ کروگے تو تمہارا گھر پُھونک دوںگا اور اُس میں سے کسی کو زندہ نہ چھورں گا چاہے یہاں رسول کی بیٹی ہی ہو۔

حافظ: یہ روایتیں بتاتی ہیںکہ ڈرانے دھمکانے اور مخالفین خلافت کا مجمع منتشر کرنے کےلئےآگ لائے تھے حلانکہ شیعوں نے یہ گھڑا ہے کہ گھر میں آگ لگادی اور دروازےاور دیوار کے درمیاں محسن کا ششماہہ حمل ساقط ہوگیا۔

جناب فاطمہ کے اسقاط حمل کی روایتیں

خیرطلب: میں نے عرض کیا تھا کہ تنگی وقت کی وجہ سے اختصار کی کوشش کررہاہوں اوراسی وجہ سے میں نے مفصّل روایتیں نقل کرنے سے گریز کیا ورنہ اس بارے میں بھی بہت ہے نمونے کے طور پر اور یہ ثابت کرنے کیلے کہ ہم موّحد اورروز جزا پر ایمان رکھنے والے شیعہ دروغ اورجعلسازی سے کام نہیں لیتے اور نہ کسی سے ذاتی پر خاش رکھتےے ہیں۔بہتر ہوگا کہ آپ مقبول فریقین(شیعہ و سنی )مشہور عالم فاضل موّرخ ابوالحسن علی ابن حسین سعودی صاحب مروج الذہب متوفی سنہ346ھ کی تالیف کتاب اثبات الوصیہ کی طرف رجوع فرمائیے، جس میں اس روز کے مفصل واقعات درج کئے ہیں یہاں تک کہ کہتے ہیں۔

"اللّه عليه وآله فوجهواالى منزله فهجمواعليه ،وأحرقوابابه،واستخرجوه


منه كرها،وضغطواسيّدةالنساءبالبابحتىاسقطت محسنا"

پس علی علیہ السلام پر ہجوم کر لیا ان کا دروازہ جلا ڈالا، ان کو زبردستی گھر سے باہر نکالا اور سیدہ زنان جناب فاطمہ(ع) کو دروازے اور دیوار کے درمیان اس طرح سے دبایا کہ محسن کا حمل ساقط ہوگیا۔

اس سے آپ کو پتہ چل جائے گا کہ یہ شیعوں کی گھڑی ہوئی باتین نہیں ہیں بلکہ جو کچھ ہوا ہے وہ تاریخ کے اندر محفوظ ہے۔ تاریخ ہرگز گم نہ ہوگی، اگر بعض جانب داری سے کام لیں گے اور اس کو تحریر کرنے سے پرہیز کریں گے تو دوسرے انصاف پسند حضرات بھی ہیں جو درج کر کے رہیں گے۔

اسقاط حمل کا سانحہ تو تاریخ کے اندر اظہر من الشمس ہے۔ یہاں تک کہ بعض علماء نے اپنے خلفاء کی محبت میں پردہ پوشی اور سکوت سے کام لینے کی کوشش کی ہے۔ لیکن پھر بھی کبھی کبھی یہ حقیقت بے اختیار ان کی زبان قلم پر آگئی ہے اور ہمارے دعوے کے ثبوت میں ایک سچا گواہ بن گئی ہے۔

ملاحظہ فرمائیے شرح نہج البلاغہ مطبوعہ مصر جلد سیم ص351 تاکہ مطلب آپ کے سامنے واضح ہوجائے، ابن ابی الحدید نے لکھا ہے کہ جب میں نے اپنے استاد ابو جعفر نقیب شیخ معتزلہ کےسامنے یہ روایت نقل کی کہ جس وقت سول خدا(ص) کو یہ اطلاع دی گئی کہ ہبار ابن اسود نے آپ کی دختر زینب کی عماری پر نیزے سے حملہ کیا جس کے خوف سے زینب کا حمل ساقط ہوگیا (1) تو حضرت نے اس کا خون مباح فرمادیا تو ابوجعفر نے کہا :

"لوكان رسول اللّه حيّالأباحدممن روّع فاطمةحتّى ألقت ذابطنها."

یعنی اگر رسول اللہ (ص) زندہ ہوتے تو یقینا اس شخص کا خون بھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ رسول اللہ(ص) کی ربیبہ زینب اپنے خالہ زاد بھائی ابوالعاص بن ربیع بن عبدالعز کو بیاہی ہوئی تھیں جنگ بدر میں کفار کے بہت سے قیدیوں کے ساتھ ابوالعاص بھی اسیر ہوا۔ طے یہ پایا کہ مشرکین فدیہ دے دے کر اپنے کو رہا کرائیں۔ ابوالعاص نے زینت کے پاس کہلا بھیجا کہ میرے لیے فدیہ بھیج دو۔ ان بی بی نے کچھ مال مہیا کیا اور اس کے ساتھ ایک مروارید کا گلو بند جو عقیق یمنی اور یاقوت رمانی سے موصع تھا اور جناب خدیجہ سے ان کو ملا تھا۔ پیغمبر(ص) کی خدمت میں بھیجا۔ رسول اللہ(ص) اس کو دیکھ کر غمگین ہوگئے تو امت نے آنحضرت(ص) کے لحاظ سے فدیہ چھوڑ دیا اور ابوالعاص کو آزاد کردیا۔ پیغمبر(ص) نے ابوالعاص سے فرمایا کہ زینب چونکہ تجھ پر حرام ہے لہذا ان کو مدینے بھیج دے۔ اس نے منظور کیا آں حضرت(ص) نے زینب کو لانے کے لیے اس کے ہمراہ مرد پیر حضرت زید بن حارث کو روانہ فرمایا۔ جب مشرکین کو معلوم ہوا کہ زینب کی روانگی ہوگئی تو ابوسفیان کےساتھ ایک گروہ نے تعاقب کیا اور ذی طوی میں ان تک پہنچ گئے ہبار ابن اسود نے زینب کی عماری میں نیزہ مارا اور نیزے کی انی ان کی پشت میں لگی جس سے وہ گھبرا گئیں اور دہشت کی وجہ سے حمل ساقط ہوگیا جس وقت زینب مدینے پہنچیں اور رسول اللہ(ص) سے واقعہ بیان کیا تو آں حضرت(ص) کو بہت صدمہ ہوا اور ہبار کا خون حلال فرما دیا نیز حکم دیا کہ اس کے ہاتھ پائوں کاٹ کے اس کو قتل کیا جائے۔


حلال کردیتے جس نے فاطمہ(ع) کو خوف زدہ کیا یہاں تک کہ ان کا حمل ( محسن) ساقط ہوگیا۔

نیز صلاح الدین خلیل بن ابیک الصعدی نے وافی الوفیات ضمن حرف الف میں ابراہیم بن سیار بن باقی بصری معروف بہ نظام معتزلی کے کلمات عقائد نقل کئے ہیں، یہاں تک کہ کہتے ہیں کہ نظام نے کہا ہے۔

"إنّ عمرضرب بطن فاطمةعليهاالسّلام يومال بيعةحتّى ألقت المحسن من بطنها."

یعنی عمر نے بیعت کے روز حضرت فاطمہ(ع) کے بطن پر ایسی ضرب لگائی کہ محسن ان کے شکم سے ساقط ہوگئے۔

وافی الوفیات کی یہ قلمی جلد حاجی حسین آقا ملک کے کتب خانہ ملی تہران میں موجود ہے۔ لہذا آپ حضرات اپنے بزرگوں کی پیروی میں بلا وجہ شیعہ قوم کو بدنام نہ کیجئے اور ناواقف عوام کے سامنے ہم کو قصور وار مشہور نہ کیجئے جس

سے ان کو دھوکا ہو کہ واقعی یہ روایتیں شیعون نے وضع کی ہیں۔ اور پھر آپ ان میں غلط فہمی پھیلائیں اور کہیں کہ ہمارے خلفاء نے علی(ع) و فاطمہ(ع) کو کوئی ایذا نہیں پہنچائی بلکہ یہ خود ان کی خلافت پر راضی تھے۔ آتش زنی، جبرو تشدد ، بیعت کے لیے علی(ع) و بنی ہاشم کی توہین و تذلیل اور اسقاط کے واقعات نیز دوسرے مظالم آپ کے منصف مزاج علماء کی معتبر کتابوں میں مندرج ہیں۔ اگر آپ کو کوئی اعتراض کرنا ہے تو بلاذری، طبری، ابن خزابہ، ابن عبدربہ، جوہری، مسعودی، نظام، ابن ابی الحدید ، ابن قتیبہ، ابن شخبہ اور حافظ ابراہیم وغیرہ پر کیجئے کہ انہوں نے کیوں اپنی کتابون میں لکھا اور کیوں اپنے اشعار میں نظم کیا۔ ہم تو جو کچھ کہتے ہیں مضبوط اور مسلم سند کے ساتھ کہتے ہیں۔ جذبات اور جاہلانہ تعصب سے روایتیں نہیں گھڑتے۔

حافظ : آخر اس قسم کی روایتیں نقل کرنے سے نتیجہ کیا ہے؟ سوا باہمی نفاق و عداوت اور اختلاف پیدا ہونے کے قطعا ان سے کوئی فائدہ نہیں نکلتا۔

نصرت حق اور اثبات مظلومیت ضروری ہے

خیر طلب : اولا بہتر تویہ ہے کہ اپنے علماء مورخین پر یہ اعتراض کیجئے کہ انہوں نے لکھا کیوں؟ ورنہ حق چھپا نہیں رہتا۔" فَلِلَّهِ الْحُجَّةُالْبالِغَةُ،" اور تاریخ محو نہیں ہوتی۔ آخر کار ہر قوم و ملت میں کچھ پاک نفس، انصاف پسند اور بے لوث افراد پیدا ہوتے ہیں جو حقائق پیش کرتے ہیں۔ جیسے آپ کے منصف مزاج علماء کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں درج کر کے حقیقتوں کو ظاہر کردیا۔

دوسرے آپ کا یہ فرمانا کہ تم کیوں کہتے ہو اور کیوں لکھتے ہو؟ تو بدیہی چیز ہے کہ ہمارا یہ کہنا اور لکھنا آپ کے ان کج فہم مطلب پرست اور افترا پرداز مقررین و مصنفین کے حملوں اور تہمتوں کے جواب میں دفاعی حیثیت رکھتا ہے جو مسلمانوں کے اندر تفرقہ ڈالنے کے لیے ہمارے ناواقف بھائیوں کو بہکاتے ہیں، مومن و موحد شیعہ


جماعت کو کافر و مشرک اور ملحد مشہور کرتے ہیں اور اس قسم کے حالات اور تاریخی واقعات کو شیعون کی من گھڑت بتا کے سادہ طبیعتوں کو غلط الزامات کے ذریعہ مکدر بناتے ہیں۔

ہم مجبور ہیں کہ اپنے مظلومانہ حق سے دفاع کریں اور اطراف عالم میں پھیلے ہوئے اپنے روشن دماغ مسلمان بھائیوں پر واضح کریں کہ شیعیان اہل بیت رسالت(ص) یعنی علی(ع) اور اولاد علی(ع) کے پیرو " لاإله إلّااللّه ،محمّدرسولاللّه " کے کہنے والے ہیں اور علی علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہتے چنانچہ ہم نے گزشتہ شبوں میں عقلی و نقلی دلائل و براہین کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ ہم علی(ع) کو خدا کا بندہ صالح رسول اللہ(ص) کا وصی و خلیفہ منصوص اور بھائی سمجھتے ہیں، اور ہر اس عمل کے مخالف ہیں جو غیر خدا کے لیے ہو۔

آپ فرماتے ہیں کہ تم کیوں کہتے ہو؟ حقائق بیان کرنے سے کیا نتیجہ ہے؟ تو ہم بھی آپ سے کہتے ہیں کہ آپ نہ کہئے تاکہ ہم بھی نہ کہیں، آپ نہ لکھئے تاکہ ہم بھی نہ لکھیں، حق اور واجبی حقوق کی حمایت فرض ہے۔ ہم خود نہیں کہتے ہیں آپ ہم کو کہنے پر مجبور کرتے ہیں، اب اسی رات میں اگر آپ یہ نہ فرماتے کہ یہ شیعہ عوام کے عقائد ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں، تو میں پردہ اٹھانے پر مجبور نہ ہوتا اور حضرات حاضرین جلسہ کو یہ نہ بتاتا کہ جیسا آپ نے سنا ہے، یہ شیعہ عوام کے عقائد نہیں ہیں بلکہ حق گو علمائے اہلسنت والجماعت کے اعتقادات ہیں۔ چنانچہ ان میں سے نمونے کے طور پر کچھ عرض بھی کرنا پڑا۔ ہم شیعہ لوگ خاص موحد ہیں۔ اور کتاب وسنت اور عقل و اجماع کی روشنی میں صرف صحیح عقائد کے حامل ہیں۔

حافظ : آپ کی ان باتوں پر حیرت اور تعجب ہے، اس لیے کہ علمائے شیعہ کی خاص کتابوں میں ایسی روایتیں موجود ہیں جو کتاب وسنت کے خلاف ہیں اور پورے پورے شیعوں کی جسارت اور گناہوں میں ان کی بے پروائی کا باعث ہوتی ہیں۔ اس قسم کے روایات قطعا موضوع ہیں۔ اور ان سے امت کے اخلاق بگڑنے کے علاوہ اور کوئی نتیجہ نہیں۔ آپ لوگ بھی ان سے منع نہیں کرتے۔

خیر طلب : سخت تعجب ہے کہ جناب عالی مطالب کو بے ربط بیان فرماتے ہیں۔

بہتر ہے، جو روایتیں آپ کی نظر میں غلط و موضوع اور موجب فساد ہیں ان کو بیان فرمائیے تاکہ مطلب واضح ہو۔


حدیث حب علی حسنہ و من بکی علی الحسین

میں اشکال اور اس کا جواب

حافظ : آخوند ملا محمد باقر مجلسی اصفہانی جو آپ کے بزرگ علماء میں سے بحارالانوار کی اکثر جلدوں میں ایسی روایتیں درج کرتے ہیں جن میں سے فی الحال ایک تعجب خیز حدیث میرے پیش نظر ہے جس کو رسول خدا(ص) سے نقل کیا ہے کہ فرمایا " حبّ علىّ حسنةلاتضرّمعهاسيّئة" یعنی علی علیہ السلام کی محبت ایسی نیکی ہے کہ اس کے ساتھ کوئی گناہ (صغیرہ) نقصان نہیں پہنچاتا، نیز نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا " من بكى على الحسين وجبتلهالجنة" ( یعنی جو شخص حسین علیہ السلام پر روئے بہشت اس کے لیے واجب ہے)۔ اور اس طرح کے بہت سے روایات میں نے دیکھے ہیں جن سے امت میں فساد پیدا ہوتا ہے اور انہی کی وجہ سے شیعوں میں جسارت اور گناہوں کی طرف سے بے پروائی پیدا ہوتی ہے کہ چاہے جیسا گناہ کریں ان کو یہ امید ہے کہ چونکہ علی(ع) کو دوست رکھتے ہیں ان معاصی سے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچے گا یا اس خیال سے ہر گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کے لیے ایک قطرہ آنسو ہمارے گناہوں کو دھو دے گا اور ہم جنت میں چلے جائیں گے جب لوگوں میں یہ بے قاعدہ امید کافی بڑھ جاتی ہے تو رفتہ رفتہ بدکاری اور بد اخلاقی پھیل جاتی ہے۔ چنانچہ ہم شیعوں کے اکثر ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو سال بھر گناہوں میں غرق رہنے کے بعد ایام عاشورہ میں عزاداری میں مشغول ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دس دن ختم ہونے کے بعد عزاداری کے اثر سے ہم اس طرح گناہوں سے باہر آجاتے ہیں جیسے پیدائش کے روز تھے۔

بلاد اہل تسنن میں گناہوں کی گرم بازاری

خیر طلب : اول تو آپ حضرات نے بہت بڑا دھوکا کھایا ہے کہ بعض شیعوں میں بدکاری یا لا ابالی پن کا رواج پایا تو اس قسم کی روایتوں پر عقیدہ رکھنے کا نتیجہ سمجھ لیا۔ اگر بعض شیعہ عوام کا ارتکاب گناہ اس طرح کی حدیثوں سے وابستہ ہے تو فرمائیے برادران اہل سنت جن کے اعتقادات آپ جیسے حضرات کی رہنمائی کے باعث ان احادیث کے برخلاف ہیں کس لیے گناہوں اور بدکاریوں میں غرق بلکہ علی الاعلان معاصی میں مبتلا رہتے ہیں؟ بلاد اہل تسنن اور ان کے خاص خاص شہروں جیسے مصر، اسکندریہ، شام، بیت المقدس، بیروت، عمان، حلب، بغداد، بصرہ عشار اور بہت سے چھوٹے چھوٹے


قصبوں میں جن کو میں نے دیکھا ہے اور جہاں اکثریت بلکہ بعض بعض شہروں اور قصبوں میں پوری پوری آبادی، اہل سنت کی ہے۔ تمام چھوٹے بڑے عمومی قہوہ خانوں میں مختلف اقسام کا جو ارائج ہے جو ان کی عادت اور طبیعت ثانیہ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے گناہ اور بد اعمالیاں جس قدر بعض شیعہ عوام میں پائی جاتی ہیں۔ اس سے کہیں زیادہ ان لوگوں کے اندر رائج ہیں۔ تمام پارکوں اور راستوں میں قمار بازی، شراب نوشی رقص و سرود، باقاعدہ حرامکاری کے اڈے اور دوسرے فحش حرکات جن کے ذکر سے بھی شرم آتی ہے ہر جگہ موجود ملیں گے۔ اگر ہم بھی آپ کی طرح نکتہ چینی اور حیلہ سازی کرتے اور کہدیتے کہ برادران اہل تسنن میں بدکاری، زنا، لواطہ، شراب اور حوئے وغیرہ کا اس قدر رواج اور احکام دین میں ان کی اس قدر جسارت اور لا ابالی پن ان کے اماموں اور فقیہوں کے بے جا فتوی کی وجہ سے ہے۔ مثلا کتے کی طہارت کا حکم اس کا گوشت حلال جاننا، منی و سکرات اور حرام سے ؟؟؟؟؟ ہونے والے کا پسینہ پاک سمجھنا، سفر میں اطفال کےساتھ مقاربت اور ریشم یا کوئی اور چیز آلہ تناسل پر لپیٹ کے محرم عورتوں سے مباشرت کا جواز اور اسی قسم کے دیگر مسائل نے عوام کو گناہوں میں جری اور بے پروا بنا دیا ہے۔

لیکن شیعہ فقہاء ان تمام باتوں کو حرام سمجھتے ہیں اور ان کے مرتکب سے بیزاری اختیار کرتے ہیں۔

حافظ : یہ جھوٹے الزامات محض افسانہ ہیں۔ آپ کے پاس اپنی گفتگو پر دلیل کیا ہے؟

اہل تسنن میں سے زمخشری کا اعتراف اور تنقید

خیر طلب : آپ خود ہی جانتے ہیں لیکن بیچارگی میں عمدا مدعی سست گواہ چست کا مصداق بنتے ہیں۔ ورنہ آپ کی فقہی کتابوں میں آپ کے فقہاء کے یہ فتاوی موجود ہیں۔ وقت میں اتنی گنجائش نہیں کہ سب کو نقل کرسکوں لیکن یہ اتنی واضح اور بدیہی چیز ہے کہ خود آپ کے اکابر علماء نے بھی اس کی تنقید کی ہے۔ نمونے کے لیے آخر تفسیر کشاف جلد سیم ص301 میں جار اللہ زمخشری کا یہ قول آپ کے ملاحظے کے قابل ہے۔

إذا سألوا عن مذهبي لم أبح به*وأكتمه كتمانه لي أسلم

فإن حنفيا قلت قالوا بأنني * أبيح الطلا وهو الشراب المحرم

وإن مالكيا قلت قالوا بأنني * أبيح لهم أكل الكلاب وهم هم

وإن شافعيا قلت قالوا بأنني* أبيح نكاح البنت والبنت محرم

وإن حنبليا قلت قالوا بأنني * ثقيل حلولي بغيض مجسم

وإن قلت من أهل الحديث وحزبه* يقولون تيس ليس يدري ويفهم


تعجبت من هذا الزمان وأهله*** فما أحد من ألسن الناس يسلم

وأخرني دهري وقدم معشرا** على أنهم لا يعلمون وأعلم

ومذ أفلح الجهال أيقنت أنني * أنا الميم والأيام أفلح أعلم"

یعنی اگر مجھ سے میرا مذہب دریافت کریں تو میں اس کو ظاہر نہیں کروں گا۔ کیوں کہ اس کے پوشیدہ رکھنے میں سلامتی ہے۔ اس لیے کہ اگر میں کہوں حنفی ہوں تو کہتے ہیں کہ تم حرام شراب کو حلال جانتے ہو۔ اگر کہوں مالکی ہوں تو کہتے ہیں کہ تم کتے کا گوشت حلال سمجھتے ہو۔ اگر کہوں شافعی ہوں تو کہتے ہیں کہ تمہارے یہاں اپنی لڑکی سے نکاح جائز ہے حالانکہ لڑکی حرام ہے۔ اگر کہوں حنبلی ہوں تو کہتے ہیں کہ تم حلولی اور مجسمہ مذہب کے ہو۔ اگر کہوں اہل حدیث ہوں تو کہتے ہیں کہ یہ بکرا ہے کچھ جانتا بوجھتا نہیں ہے۔ ( مطلب یہ ہے کہ یہ فقہائے مذاہب اربعہ کے فتاوی ہیں بلکہ مشتے نمونہ از خروارے ہیں) اس زمانے اور زمانے والوں سے مجھ کو تعجب ہے کہ کوئی شخص لوگوں کی زبان سے محفوظ نہیں ہے۔ میں کیا کروں کہ زمانے نے مجھ کو پیچھے ڈال دیا ہے کیونکہ میں جانتا ہوں اور اس گروہ کو آگے بڑھا دیا ہے جو نافہم ہے جب میں نے دیکھا کہ جاہلوں نے ترقی کی ہے تو میں نے یقین کر لیا کہ مجھ کو شمع کی طرح جلتا ہے اور زمانے کے لیے کامیابی ہے۔

ایک ایسا عالم جلیل اور مفسر نبیل کہہ رہا ہے کہ مجھ کو مذاہب اربعہ کے فاسد فتاوی اور غلط عقائد کی بناء پر شرم آتی ہے کہ اپنے کو انہیں میں سے ظاہر کروں۔ اس کے بعد بھی آپ حضرات امید کرتے ہیں کہ ہم ایسے عجیب و غریب مذاہب کی پیروی اختیار کریں گے۔

اچھا اب اس کو چھوڑ کر اصل مطلب پر آتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جیساآپ کہہ رہے ہیں۔ اس کے برخلاف اس قسم کے روایات دو وجہوں سے شیعوں کے گڑھے ہوئے نہیں ہوسکتے۔ اول یہ کہ میں بار بار عرض کرچکا ہوں کہ شیعوں کو حدیثیں وضع کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ دوم یہ کہ خود آپ کے بڑے بڑے علماء کی اکثر معتبر کتابوں میں اس طرح کی روایتیں کثرت سے مروی ہیں۔ صرف علامہ مجلسی علیہ الرحمہ ہی کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ شیعوں نے بالعموم نقل کیا ہے، چونکہ میں وعدے کے خلاف نہیں کرنا چاہتا۔ لہذا علمائے شیعہ کے اقوال چھوڑتا ہوں اور علمائے اہل سنت کے اقوال پیش کرتا ہوں۔

کتب اہل تسنن سے حدیث حب علی حسنہ کے اسناد اور اس کے معنی

یہی روایت جو آپ نے علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کی بحار الانوار سے نقل کی ہے۔ امام احمد بن حنبل نے مسند میں خطیب


خوارزمی نے مناقب کے آخر فصل ششم میں، سلیمان قندوزی حنفی نے ینابیع المودۃ باب42 میں نیز ضمن باب 56 ص180 میں کنز الدقائق شیخ عبدالرئوف المنادی المصری ص239 سے اور وہ مناقب السبعین سے حدیث نمبر49 اور وہ فردوس دیلمی سے بروایت معاذ بن جبل، میر سید علی ہمدانی فقیہ شافعی نے مودۃ القربی مودت ششم میں، امام الحرم، شافعی محب الدین ابوجعفر احمد بن عبداللہ طبری نے ان ستر حدیثوں میں سے جو اہل بیت طہارت(ع) کے فضائل میں نقل کی ہیں حدیث نمبر59 ذخائز العقبی میں محمد طن طلحہ شافعی نے مطالب السئول میں محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں اور آپ کے دوسرے علماء نے انس بن مالک اور معاذ ابن جبل سے اور انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ فرمایا:

"حب على حسنة لايضرمعهاسيئةوبغض على سيئةلاتنفع معه احسنة"

یعنی علی علیہ السلام کی محبت وہ نیکی اور کار ثواب ہے کہ اس کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں پہنچاتا اور علی(ع) کی دشمنی وہ گناہ ہے جس کی موجودگی میں کوئی عمل خیر فائدہ نہیں پہنچاتا۔

نیز امام الحرم احمد بن عبداللہ طبری شافعی نے ذخائر العقبی میں، ابن حجر نے ص215 میں ملا سے نقل کرتے ہوئے سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ ص247 ضمن باب56 میں حدیث ص33 مناقب السبعین سے اور اس میں فردوس دیلمی سے اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ جلد چہارم ص159 میں نسائی سے اور انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا :

"حب علي ابن ابی طالب يأكل الذنوب كماتأكلالنارالحطب"

یعنی علی (ع) کی محبت گناہوں کو اس طرح کھالیتی ہے جس طرح آگ ایندھن کو کھا جاتی ہے۔

تیسرے جو لوگ روایات میں سوجھ بوجھ رکھتے ہیں وہ پوری طرح غور و فکر کرتے ہیں تاکہ انکشاف حقیقت ہو جائے اور گتھی سلجھ جائے، نہ یہ کہ جہاں کوئی حدیث سمجھ میں نہ آئی یا اس کی تہ تک نہ پہنچ سکے بس فورا طعن و تشنیع شروع کردی اور ؟؟؟ اس کو موضوع کہتے۔ مخالفانہ پروپیگنڈا کرنا آسان ہے لیکن خدا کی اطاعت بھی تو ضروری ہے جو قرآن مجید سورہ نمبر21 ( انبیاء) آیت نمبر7 میں ہم کو ہدایت دے رہا ہے کہ" فَسْئَلُواأَهْلَ الذِّكْرِإِنْكُنْتُمْ لاتَعْلَمُونَ " ( یعنی سوال کرو اہل ذکر سے ( مراد قرآن ہے یا رسول اللہ(ص) ) اگر تم کو معلوم نہیں ہے) چنانچہ اس متفق علیہ فریقین حدیث کے معنی جو آپ کی اور اکثر سطحی نظر رکھنے والے اشخاص کی نگاہوں میں معما معلوم ہوتی ہے۔ اتفاق سے بہت سہل الحصول ہیں، اس لیے کہ جب ہم قرآن مجید کی طرف رجوع کرتے ہیں تو گناہوں کی تقسیم دو حصوں میں نظر آتی ہے۔ کبیرہ اور صغیرہ اور بعض آیات میں کبیرہ کے مقابل صغیرہ کو سیئہ سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ سورہ نمبر4(نساء) آیت نمبر35 میں صریح ارشاد ہے۔

"إِنْ تَجْتَنِبُواكَبائِرَماتُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْعَنْكُمْ سَيِّئاتِكُم ْوَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًاكَرِيماً."

(یعنی اگر تم لوگ منہیات میں سے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو تو ہم تمہارے دوسرے گناہوں سے ( جو چھوٹے ہیں) درگزر کریں گے اور تم کو بلند منزل تک پہنچائیں گے)

پس اس آیت کے حکم سے اگر بندہ گناہان کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے تو اس کے


سیئات اور گناہان صغیرہ سے چشم پوشی کی جاتی ہے اور وہ بخش دیا جاتا ہے۔

اور اس حدیث میں بھی یہی ارشاد ہے کہ علی(ع) کی محبت ایسا نیک عمل ہے کہ کوئی سئیہ اور گناہ صغیرہ اس کے سامنے ضرر نہیں پہنچاتا۔

حافظ : مگر کیا خداوند عالم صریحا ارشاد نہیں فرماتا ہے کہ " إِنَّ اللَّهَ َغْفِرُالذُّنُوبَ جَمِيعاً" ( یعنی حقیقتا خدا تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے) کوئی گنہگار بندہ چاہے اس کا گناہ کبیرہ ہو یا صغیرہ جس وقت نادم ہو کہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو قطعا بخش دیا جاتا ہے۔ لہذا کبیرہ اور صغیرہ کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

انکشاف حقیقت

خیر طلب: گویا آپ نے آیہ مبارکہ پر کوئی دھیان ہی نہیں دیا ورنہ اس ایراد کو ہمت نہ کرتے اول تو کبیرہ اور صغیرہ کے درمیان میں نے فرق نہیں قائم کیا ہے بلکہ پروردگار عالم نے فرمایا ہے۔ دوسرے آپ کی طرح مجھ کو بھی اعتراف ہے کہ جو گنہگار مومن بندہ خداوند کریم کی عفاریت کا معتقد ہوتا ہے وہ جس وقت نادم ہو کہ اس کی طرف لو لگائے تو خدائے غفار اس کو بخش دیتا ہے لیکن اگر دینا سے توبہ کے چلائے تو ؟؟؟؟ کے بعد کی دشوار منزلوں میں حساب کے موقع پر اس کو بخش دیا جاتا ہے اور اگر اس کے اعمال بد اور گناہان کبیرہ زیادہ ثابت ہوئے تو اس کو جہنم میں لے جائیں گے اور اس کی نافرمانی کے مطابق عذاب کرنے کے بعد نجات دیں گے۔

لیکن سئیات اور گناہان صغیرہ میں اگر بغیر توبہ کے بھی دینا سے چلا جائے اور علی علیہ السلام کا چاہنے والا ہو تو خدا اس کو معاف فرما دیتا ہے اور موت کے بعد کی منزلوں میں اس پر سختیاں نہیں کی جاتیں۔ وہ جہنم میں نہیں بھیجا جاتا بلکہ بہشت میں داخل کیا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے" وَنُدْخِلْ كُمْ مُدْخَلًا كَرِيماً " میری سمجھ میں نہیں آیا کہ آپ نے اس حدیث کو کس رخ سے جسارت اور بے پروائی کا سبب سمجھ لیا۔ آیا حدیث شریف میں سئیات یا گناہان کبیرہ وصغیرہ کا حکم دیا گیا ہے جس سے آپ نے اس کو شیعوں کی جرات اور لا ابالی پن کا باعث قرار دیا ظاہر ہے کہ جواب نفی ہوگا۔ اب اسکو سوا بد گمانی اور عصیبت کے اور کیا کہا جائے۔ حالانکہ یہ حدیث انسان کو صرف مایوسی سے روکتی ہے۔ حد سے زیادہ امیدوار نہیں بناتی۔ اس لیے کہ لوگوں کو یقین ہے کہ ہم ہوائے نفس میں گرفتار ہیں اور جب وہ گناہان صغیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں تو شیاطین جن و انس ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالتے ہیں کہ اب وہ رحمت الہی کے مستحق نہیں رہے۔ چونکہ اکثر جوان وجاہل اور نادان ہوتے ہیں لہذا اس فریب میں آکر امید ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہم بخشے ہی نہیں


جائیں گے تو پھر اپنی نفسانی خواہشوں کا خون کیوں کریں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رفتہ رفتہ ان میں بغاوت اور سرکشی پیدا ہوتی ہے اور صغائر سے آگے بڑھ کے کبائر میں غرق ہوجاتے ہیں لیکن اس طرح کی حدیثیں دلوں میں امید کا دروازہ کھولتی ہیں اور سمجھاتی ہے کہ انسان چونکہ جائز لخطا ہے لہذا اگر اس سے کچھ گناہ سرزد ہوگئے ہیں اور حقیقتا وہ علی علیہ السلام کا سچا دوست ہے تو اس کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔

چونکہ خدائے تعالے نے آیہ شریفہ میں بخشش کا وعدہ فرمایا ہے اور مغفرت کے لیے کچھ وسائل قرار دیئے ہیں لہذا علی علیہ السلام کی محبت بھی ان میں سے ایک وسیلہ ہے جو گناہوں سے معافی دلاتا ہے۔ ورنہ شیعہ جب تشیع کے معنی سمجھ لے گا تو ہرگز لا ابالی نہ ہوگا۔ وہ دیکھے گا کہ شیعہ علی(ع) یعنی علی(ع) کا پیرو وہ شخص ہے جو رفتار و گفتار میں حضرت کے قدم بہ قدم چلے پھر اسی کی نجات بھی یقینی ہے کیوں کہ آپ کے علماء کی تمام تفسیروں اور معتبر کتابوں میں مختلف الفاظ و عبارت کے ساتھ وارد ہے جس کے ایک جزو کو ہم گزشتہ راتوں میں پیش کرچکے ہیں کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے" يَاعَلِيُ أَنْتَ وَشِيعَتُكَ هُمُ الفَائِزُون فِيالْجَنَّةِ" ( یعنی اے علی(ع) تم اور تمہارے شیعہ جنت میں رستگار ہیں۔ ملاحظہ ہوں اسی کتاب کے صفحات) پس اگر آپ اعتراض کرنا چاہیں تو اس طرح کے اکثر احادیث پر بھی اعتراض کرسکتے ہیں کہ جب شیعہ یہ سمجھ لے گا کہ رسول اللہ(ص) نے اس کو رستگار اور جنتی فرمایا ہے تو اس میں جرائت اور جسارت پیدا ہوجائے گا اور ہر طرح کا گناہ کرنے لگے گا حالانکہ ایسا نہیں ہے۔

معرفت خدا اور رسول(ص) کےبعد ایک مکلف شیعہ کا پہلا فرض یہ ہے کہ تشیع کے معنی سمجھے جب یہ سمجھ لے گا کہ شیعہ سے مراد علی(ع) اور آل علی(ع) کا پیرو ہے تو یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ علی(ع) کا پیرو وہ شخص ہے جو علم و عمل قول و فعل اور کردار و گفتار میں حضرت کا نمونہ ہو اور حضرت کے نقش قدم پر چلے۔ یعنی جو کچھ علی(ع) نے کیا ہے یہ بھی کرے اور جو کچھ علی علیہ السلام نے نہیں کیا یہ بھی نہ کرے۔ پس شیعہ علی(ع) جس وقت یہ جانے گا کہ علی علیہ السلام کسی کبیرہ یا صغیرہ گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے بلکہ کوئی مکروہ عمل بھی ان سے صادر نہیں ہوا تو وہ پوری کوشش کرے گا کہ اپنے مولا کے مانند صفات حمیدہ سے متصف ہو اور اخلاق و عادات رذیلہ سے علیحدگی اختیار کرے، چونکہ یہ عصمت کی قوت سے جو نبوت و امامت کی ایک مخصوص منزل ہے، محروم ہے اور ہر پہلو سے علی(ع) بن جانا مشکل بلکہ محال ہے لہذا سعی کرے گا کہ کم از کم کبائر کا مرتکب قطعا نہ ہو اور صغائر پر اصرار نہ کرے تاکہ علی علیہ السلام کا محبوب رہے اور اس کا نام شیعوں کے زمرے میں شمار ہو۔ غیر معصوم اور جائز الخطا ہونے کی وجہ سے اگر کوئی سئیہ یا گناہ صغیرہ اس سے صادر بھی ہوجائے تو امیرالمومنین علیہ السلام کی محبت و دوستی کے وسیلے سے معافی اور چشم پوشی کا مستحق قرار پائے گا۔ اگر خدا نخواستہ اس دنیا سے بغیر توبہ کئے اٹھا ہے تو اس محبت کے طفیل صغائر و سئیات کی باز پرس اس سے نہ ہوگی۔

رہے حدیث " من بكى على الحسين وجبت له الجنة" کے معنی تو یہ بہت سادہ اور ہر عالم وجاہل کی سمجھ میں آنے والے ہیں۔ اور انہیں کے ساتھ ایک جواب بھی ہے جو فی الحال اکثر حضرات حاضرین جلسہ کے حسب دلخواہ


ہوگا کیونکہ ان کی طرف سے مکرر جواب میں سادگی کی فرمائش کی جاچکی ہے میں عرض کرتا ہوں کہ اس حدیث شریف کے صاف صاف اور تحت اللفظ معنی یہ ہے کہ جو شخص ( کس) گریہ کرے حسین(ع) پر واجب ہوتی ہے اس کے لیے بہشت جس الٹا مفہوم یہ ہوا کہ اگر ناکس گریہ کرے تو بہشت اس پر واجب نہیں ہوتی بلکہ اس کو اس گریہ سے کوئی فائدہ ہی نہیں۔

حافظ : کس اور ناکس میں کیا فرق ہے کہ گریہ کس کے لیے تو نتیجہ بخش ہو لیکن ناکس کے لیے بے سود ہو۔

کس اور ناکس میں فرق

خیر طلب : اگرچہ کلمہ موصولہ میں کس اور ناکس کا سوال نہیں ہے لیکن فارسی معنی میں کس اور ناکس آتا ہے ( ملحوظ رہے کہ گفتگو فارسی ہی زبان میں ہوئی ہے 12 مترجم عفی عنہا لہذا عرض کرتا ہوں کہ کس اس مومن کو کہتے ہیں جو موحد اور خدا پرست ہو، اصول عقائد کو استدلال یا یقین کے ساتھ مانتا ہو۔ از آدم(ع) تا خاتم (ص) انبیائے کرام کی نبوت کا معتقد ہو اور اپنے کو نبی آخر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدایت پر پابند سمجھتا ہو، معاد جسمانی وجود بہشت و دوزخ اور ولایت آل محمد و عترت رسول(ص) پر عقیدہ رکھتے ہوئے حضرت علی(ع) اور ان کے گیارہ فرزند بزرگوار کو بندگان صالح، امام برحق اور رسول خدا(ص) کے مقرر کئے ہوئے نائب جانتا ہو، حضرت کے گیارہویں فرزند یعنی پیغمبر(ص) کے بارہویں خلیفہ کو زندہ و قائم اور عالم کا امام مانتا ہو، کتب سماویہ پر اعتقاد رکھتے ہوئے قرآن مجید کو برحق اور منجانب خدا سمجھتا ہو، اس کے مضامین کا معتقد اور اس کے ہدایات اور اوامر و نواہی پر عمل پیرا ہو۔

اور ناکس اس مسلمان کو کہتے ہیں جو صورت اور نام سے مسلمان اور تمام احکام دین کا قائل ہو لیکن مقام عمل میں صالح نہ ہو یا بالکل تارک ہو یا بعض پر عمل پیرا ہو اور بعض سے منحرف ہو یا بعض کبائر کا مرتکب ہو جیسے قتل، شراب نوشی، زنا، لواطہ سود خوری یا کم فروشی وغیرہ ایسا آدمی چاہے جس قدر گریہ کرے اس کے لیے بے سود ہے اور ترک واجبات جیسے نماز و روزہ حج خمس زکوۃ وغیرہ بدل نہیں ہوسکتا۔ البتہ اگر اعمال زشت سے توبہ کرے ، تلافی مافات کا عہد کرے ، انسانی حقوق کو ادا کرے اور حقداروں کو رضا مند کرے یا وہ اگر مرچکے ہیں تو ان کے وارثوں کو پہنچائے تو اس وقت گریہ اور خاندان رسالت کی محبت اس کے لیے بخشش اور خامیوں کو پورا کرنے کا وسیلہ ہوگی۔

لیکن اگر مثلا نماز نہیں پڑھی ہے یا روزہ نہیں رکھا ہے یا مستطیع ہونے کے بعد حج بیت اللہ نہیں بجالایا ہے یا خمس و زکوۃ عائد ہونے کے بعد اس کو ادا نہیں کیا ہے یا حرامکاریاں کی ہیں یا سود کھایا ہے یا لوگوں کا مال ناجائز طور سے ہضم کیا ہے اور حرام طریقوں سے روزی حاصل کی ہے یا سودا کم دیا ہے یا ظلم و تعدی اور قتل وخونریزی کی ہے اور پھر


اس خیال سے گریہ کرے کہ اس کےگناہ رونے سےمعاف ہوجائیں گے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ آل محمد علیہ السلام ایسے لوگوں سے بیزار ہیں اور ان کے لیے گریہ سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ جیسا کہ ہم نے اکثر محافل و مجالس اور مذہبی جلسوں میں اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

ورنہ اگر یہ غلط عقیدہ صحیح ہو کہ آدمی چاہے جو زشت عمل کرے، گناہان کبیرہ اس سے صادر ہوں اور واجبات کو ترک کرے اس کے بعد خیال کرے کہ گریہ یا زیارت آل محمد علیہم السلام سے تلافی مافات ہو کہ نجات حاصل ہوگی تو دشمنان آل محمد کو بھی جنتی ہونا چاہیئے کیونکہ ان میں سے اکثر لوگوں نے اہلبیت(ع) کی مظلومی پر گریہ کیا ہے۔ چنانچہ ارباب مقاتل نے واقعہ کربلا میں لکھا ہے " واللَّه بکت و ابكت كلّ عدوّوصديق " دوست دشمن بھی اس مصیبت عظمی میں روئے۔ فرزند رسول(ص) اور ان کے اعزہ و اصحاب یہاں تک کہ کمسن اور شیر خوار بچوں کو بھی قتل کیا لیکن مصائب اہلبیت(ع)دیکھ کر گریہ بھی کرتے تھے۔ پس آپ قطعا یہ سمجھ لیجئے کہ ایسے ناکس مسلمانوں کو جن کے پاس صورت تو ہے لیکن سیرت نہیں کوئی نفع اور نتیجہ نہیں۔ جب تک مومن نہ ہوں یہ رونا بیکار ہے۔

حافظ : اگر کوئی مسلمان شخص اصول عقائد کا معتقد اور احکام شرعیہ پر عامل ہو تو خود ہی نجات یافتہ ہے گریہ سے اس کو کیا فائدہ ہوگا۔ اور مجالس عزا کی تشکیل سے کیا نتیجہ مد نظر ہے کہ ہر سال ایسی مجلسوں پر زر کثیر صرف کیا جائے تاکہ مومن گریہ کریں؟

گریہ اور مجالس عزا کا اثر اورنتیجہ

خیر طلب: بدیہی چیزہے کہ مسلمان چاہے جتنا نیک عمل اور معیاری ہو معصوم نہ ہوگا۔ آخر انسان ہے اور جائز الخطا ہے لہذا اگر اس سے کچھ لغزش اور خطائیں سرزد ہوئی ہیں اور وہ غافل رہا ہے تو خدائے تعالی جو اپنے بندوں پر انتہائی لطف و مہربانی رکھتا ہے اپنے فضل و کرم سے چند وسائل و اسباب کے ذریعے اس کو بخش دیتا ہے۔ کبھی علی ابن ابی طالب(ع) کی محبت کو وسیلہ قرار دیتا ہے، کبھی حضرت سید الشہداء(ع) اور خاندان رسالت کی مظلومیت پر رونے اور آنحضرت(ص) و اہلبیت طاہرین (ع) کی زیارت کے ذریعے سے رحم و کرم فرماتا ہے اور اس کے آنسوئوں کو آب توبہ قرار دے کر گناہووں کو دھوکہ دیتا ہے۔

اگر مومن و عادل ہے اور کوئی صغیرہ و کبیرہ گناہ اس سے سرزد نہیں ہوا ہے تو علی(ع) و اہلبیت رسالت(ع) کی محبت و مودت اور ان حضرات کے مصائب پر رونا جو اس جلیل القدر خاندان سے مہرو محبت کی علامت ہے۔ اس کی رفعت منزلت کا وسیلہ بنتا ہے۔

اور آپ نے جو یہ فرمایا کہ آل محمد(ع) کی عزاداری میں مجالس کے انعقاد اور کثیر اخراجات سے کیا فائدہ ہے تو محترم حضرات


چونکہ آپ سے علیحدہ ہیں لہذا ان مجالس کے جو اثرات و نتائج مرتب ہوتے ہیں ان سے بھی بے خبر رہتے ہیں اول تو اپنی عادت اور اس مسلسل غلط پروپیگنڈے کے تحت کہ یہ مجلس بدعت ہیں۔ آپ حضرات ان میں شریک ہی نہیں ہوتے یا اگر کبھی کسی وجہ سے شرکت بھی ہوگئی تو بری نظر سے دیکھنے کے باعث پوری توجہ سے غور نہیں کرتے تاکہ ان کے اثرات نظر آئیں۔ اگر آپ حضرات اس طرح کی مجلسوں میں تشریف لے جائیں اور اںصاف و محبت کی نگاہ سے مطالعہ کریں تو تصدیق کریں گے کہ یہ مجالس آل محمد علیہم السلام کی بہت بڑی درسگاہیں ہیں کیونکہ انہیں حضرات کے نام پر ان کی تشکیل کی جاتی ہے اور اس بزرگ خانوادے کی کشش میں ہر طبقے کے مسلمان افراد یہاں تک کہ غیر مذاہب کے لوگ بھی حاضر ہوتے ہیں جن کے سامنے ذاکرین و واعظین ، متکلمین و محدیثین اور ذی علم مقررین توحید، نبوت، معاد اور فروع دین کے متعلق مذہبی حقائق اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے اصول بیان کرتے ہیں۔ ان کو اخلاق رذیلہ اور بد اعمالیوں کے مفاسد اور نقصانات سے آگاہ کرتے ہیں اور دیگر مذاہب کے مقابلے میں مقدس دین اسلام کی حقانیت پر دلیلیں پیش کرتے ہیں جس سے کافی بہتر نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

کوئی سال ایسا نہیں گزرتا جب انہیں مجالس اور دینی تبلیغات کی وجہ سے کچھ غیر افراد اسلام قبول نہ کرتے ہوں۔ اور بکثرت گمراہ اشخاص ان تبلیغی بیانات سے متاثر ہوکر اور اپنے گزشتہ اعمال سے توبہ کر کے صحیح راستے پر نہ آجاتے ہوں ہر سال ان اجتماعات اور مجالس عزا میں شرکت کے سبب سے اور آیات و احادیث کے ذریعے وعظ و تبلیغ کے اثر سے بہترے لا ابالی اور بدکردار لوگ توبہ کر کے پرہیزگار اور نیک بخت بن جاتے ہیں۔

یہ ہے رسول خدا صلعم کے ارشاد کا ایک رخ جس کو علمائے فریقین نے نقل کیا ہے کہ " حسين مني وأنامن حسين" حسین(ع) مجھ سے ہیں اور میں حسین(ع) سے ہوں یعنی میرا دین حسین(ع) کے ذریعے زندہ ہوگا۔ جنہوں نے اپنے زمانہ حیات میں ایسی جانبازی دکھائی کہ مطلومیت کی طاقت سے بنی امیہ کے ظلم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ اس لیے کہ وہ دین کی جڑ کو کھودنا چاہتے تھے اور اب ہزار سال سے زیادہ ہوگئے۔ ان بزرگوار کے نام سے خفیہ اور ظاہری طور پر شاندار مجلسیں منعقد ہوتی ہیں جن میں لوگ حاضر ہو کر مبلغین وذاکرین کے ذریعے دینی حقائق سے واقفیت حاصل کرتے ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہوتے ہیں۔ یہ ہے مجالس عزا کے اثرات و نتائج کا مختصر نمونہ جو آل محمد علیہم السلام کی درسگاہیں کہی جاسکتی ہیں۔

مزید وضاحت کے لیے یہ بھی عرض کردوں کہ حقیقتا علی علیہ السلام کے دوست اور شیعہ حسین ابن علی علیہ السلام کے زائر اور عزادار اور حضرت کے سچے غلام اور چاہنے والے نہ واجبات کو ترک کرتے ہیں نہ گناہان کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں کیوںکہ وہ جانتے ہیں اور ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام شہید راہ خدا ہیں اور آپ نے شعائر دین کی ترویج کے لیے شربت شہادت نوش فرمایا ہے ، جیسا کہ زیارت وارثہ اور دیگر زیارات میں وارد ہے اور ہم پڑھتے ہیں کہ :

"أشهدأنّك قدأقمت الصّلوةواتيت الزّكاةوامرت بالمعروف ونهيت عن المنكرواطعت الله


و رسوله حتی اتاک اليقين "

یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ( اے ابو عبداللہ ) در حقیقت نماز کو قائم کیا، زکوۃ ادا کی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرمایا اور زندگی کی آخری سانسوں تک خدا و رسول کی اطاعت کی۔

فریقین کی معتبر روایتوں میں ام المومنین عائشہ، جابر ابن عبداللہ اور انس وغیرہ سے منقول ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا :" مَنْ زَارَالْحُسَيْنَ ععَارِفاًبِحَقِّهِ و َ جَبَت لَه الَجنَّة" (یعنی جو شخص حسین علیہ السلام پر ان کا حق پہچانتے ہوئے روئے اس پر جنت واجب ہے، جس طرح سے واجب اور مستحب عبادتین معرفت خدا کی فروع ہیں اگر کماحقہ خدا کی معرفت نہیں ہے تو قصد قربت پیدا نہیں ہوتا ہے لہذا اس کے عبادات چاہے جس قدر کامل ہوں بیکار اور باطل ہیں۔

گریہ اور زیارت بھی پیغمبر(ص) اور امام کی معرفت کی فرع ہے یعنی چاہئیے کہ ان بزرگوار کو فرزند رسول امام برحق اور رسول اللہ (ص) کا تیسرا جانشین سمجھے جو حق پر قائم رہے اور حق ہی کے لیے قتل ہوئے اور یزید سے آپ کی مخالفت اس بناء پر تھی کہ وہ احکام دین کو پامال کر کے واجبات کا تارک اور محرمات پر عامل تھا اور بد اخلاقیوں کو رواج دے رہا تھا۔ ایسا زائر و عزادار اپنے مولا کے طور طریقے کے خلاف ہرگز عمل نہیں کرتا۔

نواب : قبل صاحب اگرچہ ہمارا اعتقاد ہے کہ حسین (ع) شہید حق پر تھے اور حق کے لیے عمال بنی امیہ کے ہاتھوں ناحق قتل کئے گئے لیکن ہم لوگوں میں ایک گروہ اور ہے بالخصوص وہ نوجوان افراد جو جدید مدرسوں اور اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں کہتے کہ کربلا کی جنگ دنیاوی جنگ تھی۔ یعنی حسین بن علی (ع) کو حکومت و خلافت کی خواہش کوفے کی طرف لے گئی اور ہر صاحب اقتدار سلطنت کا فرض ہے کہ خطرات کا سد باب کرے لہذا یزید اور اس کے عمال نے مجبورا اس فتنے کا مقابلہ کیا اور ان جناب کے سامنے ( بلاشرط) بیعت اور خلیفہ یزید کی اطاعت کی پیشکش کی اس لیے کہ اس کی فرمانبرداری واجب تھی اور خواہش کی کہ آپ شام چلے جائیں تاکہ خلیفہ کے پاس عزت سے رہیں یا اپنے وطن پلٹ جائیں لیکن ان جناب نے نہ مانا یہاں تک کہ قتل ہوگئے پس ایسے دینا طلب انسان کے لیے جو جاہ و سلطنت کی محبت میں قتل ہوا ہو عزاداری فضول بلکہ بدعت ہے۔ آیا آپ کے پاس کوئی ایسا صحیح جواب ہے کہ ان کو خاموش کر دیجئے تاکہ وہ اس عقیدے سے دستبردار ہوجائیں اور جان لیں کہ جنگ کربلا دنیاوی جنگ نہیں تھی بلکہ وہ جناب فقط خدا کے لیے اور دین خدا کی حفاظت کے لیے اٹھے اور مقابلہ کر کے شہید ہوئے؟

خیر طلب : چونکہ وقت کافی گزر چکا ہے لہذا سوچنتا ہوں کہ اگر اس مسئلے کو چھیڑوں گا تو دیر لگے گی جس سے نکان اور بڑھے گا۔


نواب : نہیں نہیں ہم کو بالکل تکان نہیں ہے کہ بلکہ ہم انتہائی اشتیاق کے ساتھ اس موضوع کو سننے اور حقیقت معلوم کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ مخالفین کے مقابلے میں جواب دہی پر قادر ہوں۔ آپ یقین کیجئے کہ اس قوم کو جواب دینا چاہئیے وہ مختصر ہو کیوں نہ ہو بہت بڑی دینی خدمت ہے۔ مہربانی کر کے ارشاد فرمائیے۔

امام حسین (ع) جاہ و منصب کے خواہاں نہیں تھے

خیر طلب : میں نے پہلے ہی عرض کیا کہ ہر نیک و بد عمل معرفت کی بنیاد پر ہے۔ معترضین کو چاہئیے کہ پہلے اپنے خدا کو پہچانیں اور اس کے بعد آسمانی کتاب( قرآن) کی تصدیق کریں جو خدائے بزرگ و برتر کی طرف سے خاتم الانبیاء(ص) پر نازل ہوئی ہے اور تصدیق کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جو کچھ اس کتاب میں ہے اس کو بہتر اور قابل قبول سمجھا جائے۔ اگر معترضین اہل مادہ اور محسوسات کے قائل ہیں اور دلائل محسوسہ چاہتے ہیں تو ان کا جواب بہت سہل ہے۔ اب میں وقت کا لحاظ کرتے ہوئے مختصرا دونوں پہلوئوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔

خمسہ نجباء ہرگندے عمل سے مبراء تھے

اولا جو مسلمان قرآن کا تابع اس کا ریحانہ رسول حسین بن علی علیہما السلام کی طرف دنیا طلبی اور حب جاہ و ریاست کی نسبت دینا حق و حقیقت کے خلاف اور در اصل قرآن و رسول خدا(ص) کا انکار کرنا ہے اس لیے کہ خدائے تعالی نے سورہ نمبر33 ( احزاب) آیت نمبر33 میں ان جناب کی طہارت پر گواہی دی ہے اور ان کو نانا ماں باپ او بھائی کی طرح ہر رجس و پلیدی سے معرا و مبرا قرار دیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔

"إِنَّمايُرِيدُاللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْل َالْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً."

یعنی سوا اس کے نہیں ہے کہ خدا کا ارادہ ہے کہ تم سے اے اہلبیت رسول(ص) ہر رجس و ناپاکی کو دور رکھے اور تم کو ہر عیب سے پاک و منزہ قرار دے۔

آپ کے جمہور اکابر علماء جیسے مسلم ، ترمذی، ثعلبی، سجستانی، ابونعیم اصفہانی، ابوبکر شیرازی، سیوطی، حموینی، احمد بن حنبل، زمخشری بیضاوی، ابن اثیر ، بیہقی ، طبرانی، ابن حجر، فخر الدین رازی، نیشاپوری، عسقلانی اور ابن عساکر وغیرہ بالاتفاق معتقد ہیں اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت پنجتن آل عبا محمد، علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ یہ آیت شریفہ ان پنجتن پاکی کی عصمت اور ہر رجس و پلیدی سے طہارت پر سب سے بڑی دلیل ہے۔ ظاہر ہے کہ سب سے بڑی پلیدی جاہ و منصب کی محبت اور دنیائے وفی کی طرف رغبت ہے کیوںکہ اس دنیا یعنی امراء و سلاطین کے مانند


نفسانی خواہش کی بناء پر دنیاوی ریاست و حکومت حاصل کرنے کی مذمت میں رسول خدا(ص) اور ائمہ طاہرین علیہم السلام سے کافی حدیثیں مروی ہیں۔ یہاں تک کہ پیغمبر(ص) کا ارشاد ہے۔" حب الدنيارأس كل خطيئة" (یعنی دنیا کی محبت و رغبت ہر بدی کی سردار ہے) پس قطعا ابو عبداللہ علیہ السلام دنیاوی جاہ و ریاست کے طالب نہیں تھے اور نہ ایسی فانی حکومت کے لیے جانبازی کی تھی اور اپنے اہلبیت (ع) کی اسیری گوارا کی تھی۔اگر کوئی شخص اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے ان حضرات کو دنیا طلب کہے تو وہ یقینا قرآن مجید کا منکر ہے۔

امام حسین(ع) کا قیام ریاست اور خلافت ظاہری کے لیے نہیں تھا

رہا دوسرا فرقہ جس میں وہ لوگ ہیں جو حسی دلائل چاہتے ہیں۔ ان کے لیے محسوس دلائل بہت ہیں جن کو اس تنگ وقت میں مکمل طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ نمونتہ چند چیزوں کی طرف اشارہ کر رہا ہوں۔

اول ۔ یزید پلید کے مقابلے میں حضرت ابو عبداللہ الحسین علیہ السلام کا قیام اگر جاہ طلبی اور حکومت کے شوق میں ہوتا تو رسول اللہ(ص) ان حضرت کی نصرت کا حکم دیتے چنانچہ آپ کے سلسلوں سے اس بارے میں بکثرت روایتیں مروی ہیں جن میں سے صرف ایک پر اکتفا کرتا ہوں۔

شیخ سلیمان بلخی حنفی ینابیع المودۃ باب60 میں تاریخ بخاری و بغوی و ابن السکین و ذخائر العقبی امام الحرم شافعی سے سیرۃ ملا وغیرہ سے بروایت انس بن حارث بن بعیہ نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ(ص) سے سنا کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا :

"إِنَ ابْنِي هَذَايَعْنِي الْحُسَيْنَ يُقْتَلُ بِأَرْضٍ يُقالُ لها کَربَلا فَمَنْ شهد ذالک مِنْكُمْ فَلْيَنْصُرْهُ فخرج انس ابن الحارث الی کربلا فَقُتِلَ أَنَسٌ مَعَ الْحُسَيْن ِرَضِی الله عنه معهه"

یعنی بتحقیق میرا یہ فرزند حسین(ع) زمین کربلا پر قتل کیا جائے گا۔ پس تم میں سے جو شخص اس وقت موجود ہو وہ حسین(ع) کی مدد کرے ۔ اس کے بعد لکھا ہے کہ انس بن حارث کربلا پہنچے اور حکم رسول(ص) پر عمل کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ قتل ہوئے۔

پس معلوم ہوا کہ حضرت کربلا میں حق کے لیے کھڑے ہوئے تھے نہ کہ دنیاوی ریاست کی محبت میں۔

ان چیزوں سے قطع نظر اگر معترصین غور کریں تو خود حضرت کی روانگی سے لے کر شہادت اور اسیری اہلبیت (ع) تک حق اور حقیقت برابر نمایاں ہے، اس لیے کہ اگر کسی ملک میں کوئی شخص ریاست کو خواہش رکھتا ہے اور حکومت وقت کے خلاف خروج کرنا چاہتا ہے تو اپنے عیال و اطفال کو لے کر نہیں نکلتا ہے ، چھوٹ چھوٹے اور شیر خوار بچوں اور حاملہ عورتوں کو ہمراہ نہیں لے جاتا بلکہ بذات خود ایک لچنی ہوئی فوج لے کر بڑھتا ہے اور جب دشمن پر غالب آجاتا ہے حالات قابو میں آجاتے ہیں اور انتظامات درست ہوجاتے ہیں۔ اس وقت بال بچوں کو بلواتا ہے۔


حضرت ابو عبداللہ علیہ السلام کا اپنی عورتوں اور خورد سال بچوں کے ساتھ ایک چھوٹا سا قافلہ لے کر سفر کرنا خود اس کی مکمل دلیل ہے کہ حضرت ریاست و خلافت ظاہری اور دشمن کو شکست دینے کے خیال سے تشریف نہیں لائے تھے اگر ایسا ارادہ ہوتا تو آپ یقینا یمن کی طرف جاتے جہاں سب آپ کے اور آپ کے پدر بزرگوار کے دوست اور پختہ عقیدت رکھنے والے تھے، اور اس کو اپنا مرکزی مقام قرار دے کر پورے ساز و سامان کے ساتھ بنفس بفیس حملے شروع کرتے چنانچہ حضرت کے بنی دوستوں اور بھائیوں نے بار بار یہی مشہورہ دیا ور ان کو مایوس ہونا پڑا کیوں کہ وہ لوگ حضرت کے اصلی نقطہ نظر اور مقصد سے واقف نہیں تھے۔

امام حسین (ع) کا قیام شجرہ طیبہ لا الہ الا اللہ کی حفاظت کے لیے تھا

لیکن خود حضرت جانتے تھے کہ ظاہری غلبے کے اسباب فراہم نہ ہوں گے لہذا مع عورتوں بچوں کے چوراسی افراد کے ہمراہ حضرت کا سفر ایک آخری اور بنیادی نتیجے کے لیے تھا کیوںکہ امام دیکھ رہے تھے کہ شجرہ طیبہ لا الہ الا اللہ کو ان کے جد بزرگوار خاتم الانبیاء نے اپنے خون جگر اور شہدائے بدر و احد و حنین کے لہو سے سینچا تھا اور علی ابن ابی طالب علیہ السلام جیسے باغبان کے سپرد کیا تھا تاکہ یہ اس کی نگہداشت کریں لیکن اس ماہر فن اور واقفکار باغبان کو ظلم و تعدی ، تلوار اور قتل و آتشزنی کا دبائو دال کر الگ کردیا گیا تھا۔ اور شجرہ طیبہ کی آبیاری سے روک دیا گیا جس سے توحید و نبوت کی بہار خزاں کی صورت اختیار کر رہی تھی۔ پھر بھی باغبان اصلی کی توجہ سے کبھی کبھی حقیقی اور کامل طاقت نہ سہی لیکن تھوڑی بہت تقویت پہنچ جاتی تھی یہاں تک باغ کے کل اختیارات جاہل ہٹ دھرم اور کینہ پرور باغبانوں ( یعنی بنی امیہ) کے ہاتھوں میں پہنچ گئے۔

خلیفہ سوم عثمان ابن عفان کے زمانہ خلافت سے جب بنی امیہ کےہاتھ پائوں کھلے اور یہی حکومت کے کرتا و دھرتا بنے، ابوسفیان کو جو اس وقت اندھا ہوچکا تھا۔ ہاتھ پکڑ کے دربار میں لائے اور اس نے بآواز بلند کہا۔" يابني أميةتداولوا الخلاف ة فانه لا جنةولانار" ( یعنی اے بنی امیہ اب دولت خلافت کو گھما کر اپنے ہی خاندان میں رکھو کیوںکہ جنت اور دوزخ کچھ بھی نہیں ہے۔ ( یعنی سب ڈھونگ ہے)

نیز کہا " يابني أميّةتلقّفوهاتلقّفالكرة،والذي يحلف به أبوسفيان مازلت أرجوهالكم ولتصيرنّ الىصبيانكم وراثة"

یعنی ابنی امیہ کوشش کر کے خلافت کے گیند کی طرح دبوچ لو۔ قسم اس چیز کی جس کی میں قسم کھاتا ہوں( اس سے مراویت ہیں جن کی یہ لوگ قسم کھاتے تھے) کہ میں ہمیشہ تمہارے لیے ایسی حکومت کا متمنی تھا اور تم بھی اس کی حفاظت کرو تاکہ تمہاری اولاد اس کی وارث ہو۔اس رسوائے زمانہ بد عقیدہ قوم نے تمام راستے


مسدود کردئیے، حقیقی اور معنوی باغبانوں کی باغ سے بالکل بے دخل کردیا اور آب حیات پر پہرے بٹھادیئے۔ شجرہ طیبہ دھیرے دھیرے پژمردہ ہونے لگا یہاں تک کہ یزید پلید کے دور خلافت میں درخت شریعت کو کاٹ دیا گیا اور قریب تھا کہ شجرہ طیبہ لا الہ الا اللہ بالکل خشک ہوجائے۔ خدا کا نام فراموش ہو جائے اور دین کی حقیقت مٹ جائے۔

بدیہی چیز ہے کہ کوئی ہوشیار باغبان جب دیکھے کہ اس کے باغ پر ہر طرف سے آفتیں نازل ہو رہی ہیں تو اس کو فورا حفاظتی تدابیر اور علاج کی فکر کرنا چاہئیے ورنہ اس کے منافع اور پھلوں سے بالکل ہی ہاتھ دھونا پڑے گا۔ اس موقع پر بھی--گلستان توحید و رسالت ک باغبانی حضرت ابو عبداللہ الحسین علیہ السلام جیسے عالم دین باغبان کے سپرد تھی جب آپ نے دیکھا کہ بنی امیہ کی ہٹ دھرمی اور الحاد و عناد نے بات کو اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ عنقریب توحید کا درخت خشک ہونے والا ہے بلکی وہ شجرہ طیبہ لا الہ الا اللہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں تو آپ مردانہ وار اٹھ کھڑے ہوئے اور محض اور صرف محض باغ رسالت کی جڑوں کی آبیاری اور تقویت شجرہ طیبہ لا الہ الا اللہ کے لیے کربلا کی طرف سفر اختیار کیا۔ کیونکہ آپ بخوبی جانتے تھے کہ درخت کی جڑوں میں خشکی دوڑ چکی ہے اور معمولی آب پاشی سے کوئی نتیجہ نہ ہوگا۔ جب تک اس کو پوری طاقت نہ پہنچائی جائے۔

جیسا کہ فلاحت کے علم عملی میں طریقہ ہے کہ جس وقت ہوشیار باغبان اور فلاح دیکھتے ہیں کہ کوئی درخت بالکل کمزور ہوگیا ہے اور اس کو زیادہ طاقت پہنچانے کی ضرورت ہے تو اس کا علاج قربانی سے کرتے ہیں یعنی کوئی گوسفند یا دوسرا جانور اس کے پاس ذبح کر کے اس کا خون اور گوشت و پوست درخت کی جڑ میں دفن کر دیتے ہیں تاکہ اس میں سرنو قوت اور نشو و نما پیدا ہوجائے۔ ریحانہ رسول حضرت سید الشہداء (ع) بھی ایک ماہر و عالم باغبان تھے۔ آپ نے دیکھا کہ شجرہ طیبہ کو سیرابی سے اس قدر محروم رکھا ہے ( بالخصوص اخیری برسوں اور بنی امیہ کے اقتدار میں) کہ معمولی سی آبیاری اور علمی خدمت سے شادابی نہ آئے گی جب تک فداکاری سے کام نہ لیا جائے۔ شجرہ طیبہ اور درخت شریعت کی سر سبزی قطعا قومی خونابے کی محتاج ہے۔ لہذا اپنے بہترین جوانوں ، خورد سال بچوں اور اصحاب کو لے کر قربانی اور شجرہ طیبہ لا الہ الا اللہ کو سیراب کرنے کے لیے کربلا کی طرف روانہ ہوگئے۔ بعض کوتاہ نظر لوگ کہتے ہیں کہ مدینے سے نکلے ہی کیوں؟ وہیں رہ کر علم مخالفت بلند کرتے اور قربانیاں دیتے لیکن وہ نہیں جانتے کہ اگر آپ مدینے میں رہتے تو آپ کا مقصد دانشمندان عالم سے پوشیدہ رہتا اور ان کو پتا نہ لگتا کہ حضرت کی مخالفت کس بنیاد پر تھی جس طرح اور ہزاروں حامیان دین کسی شہر میں حمایت حق کے لیے کھڑے ہوئے اور قتل ہوگئے لیکن کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ ان کا مقصد اور نقطہ نظر کیا تھا اور کیوں قتل ہوئے


نیز دشمنوں نے بھی معاملہ کو دبا دینے کی کوشش کی۔ اس کے برعکس امام حسین علیہ السلام جیسے یکتا دور اندیش مرد میدان حق و صداقت کو ظاہر کرنے کے لیے ماہ رجب میں جس موقع پر لوگ عمرے کے لیے مکہ معظمہ میں جمع ہوتے ہیں تشریف لے گئے اور روز عرفہ تک خانہ خدا میں اکٹھا ہونے والے لاکھوں انسانوں کے سامنے اپنے خطبوں اور تقریروں کے ذریعے حق اور سچائی کو بے نقاب کیا اور سب کو بتایا کہ یزید پلید شجرہ طیبہ لا الہ الا اللہ کی جڑیں کاٹ رہا ہے اور یہ حقیقت عام مسلمانوں کے گوش گزار کردی کہ جو یزید اسلامی خلافت کا دعوے کرتا ہے وہ اپنے عمل سے دین کو ملیامٹ کر رہا ہے۔ شراب پیتا ہے ، جوا کھیلتا ہے،کتے اور بندر سے دل بہلاتا ہے احکام دین کو پامال کرتا ہے اور میرے نانا رسول خدا(ص) کی محنتوں کو برباد کر رہا ہے۔ میں اپنے جد بزرگوار کا دین مٹنے نہ دوں گا۔ مجھ پر واجب ہے کہ قربانی دے کر اور جان نثار کر کے اس کی حفاظت کروں۔ پس حضرت کا قیام اور مدینے سے مکے اور مکے سے کوفے اور عراق کی طرف خروج شعائر دین کی حفاظت اور بنی نوع انسان کو دین یزید پلید کے اطوار و کردار ، مفاسد اخلاق، بیہودہ عقائد اور نفرت انگیز جابرانہ حرکات سے روشناس کرانے کے لیے تھا۔ آپ کے بنی اعمام بھائی اور دوست جو منع کرنے کے لیے آتے تھے وہ عرض کرتے تھے کہ جن کوفے والوں نے آپ کا خیر مقدم کرنا چاہا ہے اور دعوت نامے بھیجے ہیں۔ وہ بے وفائی میں مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ یزید کی سلطنت اور بنی امیہ کے اقتدار سے جنہوں نے سالہا سال سے اس ملک کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں۔ آپ مقابلہ نہیں کرسکتے ، چونکہ اہل حق کم ہیں، لوگ دنیا کےبندے ہیں اور بنی امیہ کے پاس ان کو دنیاوی خوشحالی ملتی ہے۔ لہذا ان کے گرد جمع ہیں اور آپ کو کوئی نفع یا غلبہ نہیں ہوسکتا ۔ پس اس سفر کو ملتوی کیجئے اور اگر حجاز میں ٹھہرنا مناسب نہیں سمجھتے تو یمن چلے جائیں کیونکہ وہاں آپ کے ماننے والے بہت ہیں ، وہ لوگ غیرت مند ہیں آپ کوتنہا نہ چھوڑیں گے اور آپ ان اطراف میں آرام سے زندگی بسر کرسکیں گے لیکن حضرت سب کے سامنے پوری وضاحت نہیں کر سکتے تھے لہذا ہر ایک کو مختصر جوابات سے خاموش فرماتے تھے البتہ بعض ہمراز اور خاص اعزہ جیسے اپنے بھائی محمد حنفیہ اور ان عباس سے فرماتے تھے کہ تم سچ کہتے ہو میں بھی جانتا ہوں کہ مجھ کو ظاہری غلبہ نہ ہوگا اور نہ میں فتح اور غلبہ ظاہری کے لیے جا رہا ہوں بلکہ قتل ہونے جاتا ہوں یعنی مظلومیت کی طاقت سے ظلم و فساد کی بنیاد ہلانا چاہتا ہوں۔

بعض کی تسکین قلب کے لیے اصلیت کو ظاہر کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ میں نے اپنے نانا رسول خدا(ص) کو خواب میں دیکھا کہ مجھ سے فرما رہے ہیں۔" اخرج إلى العراق فإنّ اللّه قدشاءأن يراك قتيلا" (یعنی عراق کی طرف سفر کرو کیوں کہ در اصل خدا تم کو شہید دیکھنا چاہتا ہے۔

محمد ابن حنفیہ اور ابن عباس نے عرض کیا کہ اگر یہ بات ہے تو آپ عورتوں کو کیوں لیے جارہے ہیں؟ فرمایا


میرے جد کا ارشاد ہے کہ " إنّ اللّه قدشاءأن يراهنّ سبايا" ( یعنی در حقیقت اللہ نے ان کو اسیر دیکھنا چاہا ہے۔) بحکم رسول (ص) میں ان کو اسیری کے واسطے لیے جارہا ہوں یعنی میری شہادت اور اہل بیت (ع) کی اسیری میں یہ رموز اسرار پوشیدہ ہیں کہ عورتوں کی اسیری میری شہادت کا تتمہ ہو جو مظلومیت کا علم اپنے کاندھوں پر لے کر یزید کے مرکز خلافت و اقتدار کی طرف جائیں گی وہاں اس کی بنیادیں ہلائیں گی اور اس کے ظلم وکفر کا پرچم سرنگوں کریں گی۔

چنانچہ عقیلہ بنی ہاشم صدیقہ صغری جناب زینب کبری سلام اللہ علیہا نے یزید کے بھرے ہوئے دربار اور جشن فتح میں اشراف قوم، بزرگان بنی امیہ ، غیر ممالک کے سفراء اور اور رئوسا، یہود و نصاری کے سامنے جو تقریر کی اور سید الساجدین امام چہارم زین العابدین علی ابن الحسین علیہ السلام نے شام کی مسجد اموی میں بالائے منبر یزید کے مقابل جو مشہور و معروف خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس نے اس کے اقتدار کی طاقت کو زیر کر دیا، عظمت بنی امیہ کا پرچم سرنگوں کردیا۔ اور خواب غفلت سے لوگوں کی انکھیں کھول دیں۔

حضرت نے حمد و ثنائے الہی کے بعد فرمایا :

"ايّهاالناس! اعطيناستّاوفضّلنابسبع،اعطيناالعلم والحلم والسّماحةوالفصاحةوالشّجاعةوالمحبّةفي قلوب المؤمنين،وفضّلنابأنّ منّاالنّبىّ المختارمحمّدا صلی الله عليه و آله وسلم،ومنّاالصّدّيق،ومنّاالطيّار،ومنّااسداللَّه واسدرسوله،ومنّاسبطاهذه الامّة و منا مهدی هذه الامة"

یعنی اے لوگو ہم کو ( یعنی آل محمد(ص) کو خدائے تعالی کی طرف سے ) چھ خصلتیں عطاکی گئی ہیں اور سات فضیلتوں کے ذریعے ہم کو ساری مخلوق پر ترجیح دی گئی ہے۔ ہم کو علم ، بردباری، جوانمردی، خوشروئی، فصاحت، شجاعت اور مومنین کے دلوں میں محبت عطا ہوئی ہے کہ رسول مختار محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم میں سے ہین ، اسد اللہ اور اسد رسول (ص) ہم میں سے ہیں۔ اس امت کے و وسبط ( حسن و حسین(ع) ) ہم میں سے ہیں اور اس امت کے مہدی(عج) ( حضرت حجتہ ابن امام حسن العسکری عجل اللہ فرجہ ) ہم میں سے ہیں اس کے بعد اپنے کو پہچنواتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص مجھ کو پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو نہیں پہچانتا وہ اب میرا حسب و نسب جان لے کہ میں صاحب صفات و فضائل مخصوصہ ( یہاں ان صفات کا طولانی بیان ہے جس کو مکمل طور سے بیان کرنے کا وقت نہیں) خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرزند ہوں۔ اس کے بعد اس منبر پر جہاں معاویہ کے زمانے سے شب و روز حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام پر کھلم کھلا لعنت اور سب وشتم کا سلسلہ قائم تھا اور حضرت پر جھوٹے الزامات عائد کئےجاتے تھے خود یزید اور رئوسائے بنی امیہ کے سے دشمن مجمع کے سامنے اپنے جدبزرگوار امیرالمومنین علیہ السلام کے فضائل و مناقب ( جن کو سننے کا اب تک شام والوں کو موقع ہی نہیں دیا گیا تھا) بیان کئے اور فرمایا ۔

"" أنا ابن من ضرب خراطين الخلق حتى قالوا: لا إله إلا الله.أنا أبن من ضرب بين يدي


رسول الله نقرتين لعرض الصورة في صفحة مستقلة بسيفين وطعن برمحين، وهاجر الهجرتين، وبايع البيعتين، وقاتل ببدر وحنين، ولم يكفر بالله طرفة عين.

أنا أبن صالح المؤمنين، ووارث النبيين، وقامع الملحدين، ويعسوب المسلمين، ونور المجاهدين، وزين العابدين، وتاج البكائين، وأصبر الصابرين، وأفضل القائمين من آل ياسين، رسول رب العالمين.

أنا ابن المؤيد بجبرائيل، المنصور بميكائيل.

أنا ابن المحامي عن حرم المسلمين، وقاتل المارقين والناكثين والقاسطين والمجاهدين أعداءه الناصبين، وأفخر من مشى من قريش أجمعين، وأول من أجاب واستجاب لله ولرسوله من المؤمنين، وأول السابقين، وقاصم المعتدين، ومبيد المشركين، وسهم من مرامي الله على المنافقين، ولسكان حكمة العابدين، وناصر دين الله وولي أمر الله، وبستان حكمة الله، وعيبة علمه.

سمح، سخي بهي، بهلول، زكي، أبطحي، رضي، مقدام، همام، صابر، صوام، مهذب، قوام، قاطع الأصلاب، مفرق الأحزاب، أربطهم عناناً وأثبتهم جناناً، وأمضاهم عزيمة، وأشدهم شكيمة، أسد باسل، يطحنهم في الحروب إذا ازدلف الأسنة، وقربت الأعنة، طحن الرحا، ويذرهم فيها ذرو الريح الهشيم، ليث الحجاز وكبش العراق، مكي، مدني، خيفي، عقبي، بدري أحدي، شجري، مهاجري، من العرب سيدها، ومن الوغى ليثها، وارث المشعرين، وأبو السبطين: الحسن والحسين، ذك جدي علي بن أبي طالب (ع) " یعنی اس کا فرزند ہوں جس نے لوگوں کی ناکوں پر ضربیں لگائیں یہاں تک کہ انہوں نے لا الہ اللہ کہا میں اس کا فرزند ہوں جس نے رسول اللہ(ص) کے سامنے دو تلواروں سے جنگ کی ( یعنی ایک زمانے تک معمولی تلوار سے اور ایک مدت تک ذوالفقار سے ) دو نیزے چلائے، دو ہجرتیں کیں اور دوسری بیعتیں کیں، بدر وحنین میں کافروں سے جہاد کیا اور چشم زدن کے لیے بھی خدا سے کفر اختیار نہیں کیا۔ میں صالح المومنین انبیاء کے وارث، ملحدین کے سر توڑنے والے ، مسلمانوں کے بادشاہ جہاد کرنے والے کے نور اور عبادت کرنے والوں کی رونق و خوف خدا میں رونے والوں کے سرتاج، صبر کرنے والوں کے سردار اور اہلبیت(ع) رسول اللہ(ص) کے نماز گزاروں میں سب سے بہتر کا فرزند ہوں جس کی جبرئیل نے تائید کی اور میکائیل نے نصرت کی۔ میں فرزند ہوں مسلمانوں کی عزت بچانے والے، دین سے پھر جانے والوں (یعنی اہل نہروان) بیعت توڑنے والوں( یعنی اصحاب جمل) اور ظالموں اور باغیوں ( یعنی صفین والوں) کے قاتل اپنے ناصبی دشمنوں سے جہاد کرنے والے، طائفہ قریش کے سارے چلنے پھرنے والوں سے زیادہ صاحب فخر، سب سے پہلے اللہ اور اس کے رسول(ص) کی دعوت قبول کرنے والے ، ایمان کی طرف سبقت کرنے والوں کے پیش رو ظالمین کو توڑنے والے، مشرکین کو ہلاک کرنے والے


منافقین پر خدا کے تیروں میں سے ایک تیر، پروردگار عالم کی زبان حکمت دین خدا کے مددگار ، امر الہی کے کفیل، حکمت خدا کے باغ، اس کے علم کے خزانے ، جوانمرد ، صاحب سخاوت ، کشادہ رو، نیک و پاکیزہ بطحا کے ساکن ، پسندیدہ صفات، میدان جنگ میں پیش قدمی کرنے والے، بزرگ سردار صبر کرنے والے، بلند اخلاق ، کثیر القیام، پشتوں کے قطع کرنے والے اور گمراہ گروہوں کے پراگندہ کرنے والے کا جس نے مستقل طور پر اپنے نفس کو ان سب سے زیادہ قابو میں رکھا جس کا دل سب سے زیادہ مضبوط اور جس کا شکم سب سے زیادہ محکم تھا ( یعنی مظلوموں کا حق ثابت کرنے میں جملہ افراد بشر سے زیادہ ثابت قدم تھا) میدان جنگ میں شیر زیاں تھا جو سواروں اور پیادوں کے اپنے نیزوں کے ساتھ قریب ہونے کے وقت مخالفین کو پیس کر رکھ دیتا تھا اور ان کو اس طرح ریزہ ریزہ اور متفرق کر دیتا تھا جیسے طوفانی آندھی خس و خاشاک کو منتشر کردیتی ہے ، حجاز والوں کا شیر، عراق والوں کا قائد، مکی، مدنی ، دین میں پاکیزہ ترین مسلم، عقبہ میں بیعت کرنے والا بدر و احد کا شہسوار ۔ بیعت شجرہ کا جوانمردہجرت کا یکتا فداکار ، عرب کا سید وسردار ، شیر پیشہ رہیجا۔ مشعرین کا وارث اور دو سبط پیغمبر حسن و حسین(ع) کا باپ، یہ ہیں میرے دادا علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے فضائل اس کے بعد فرمایا۔

"أناابن خديجةالكبرى ،أناابن فاطمةالزهراء،أناابن المزرحمن القفا،أناابن العطشان حتّى قضى،أناابن من منعه من الماء و احلوه علی سائر الوری. انا ابن من لا يغسل له و لا کفن يری. انا ابن من وقع راسه علی القنا. انا ابن من هتک حريمه بارضكربلا، انا ابن من جمه بارض و راسه باخری انا ابن من سبيت حريمه الی الشام تهدی. ثم انه صلوات الله عليه انتحب و بکی فلم يزل يقول انا انا حتی ضبع الناس بالبکاء والنحيب."

یعنی میں ہوں فرزند خدیجہ کبری(ع) کا، میں ہوں فرزند فاطمہ زہرا(ع) کا میں ہوں فرزند اس کا جو پشت گردن سے مذبوح ہوا۔ میں ہوں فرزند اس کا جو پیاسا دنیا سے اٹھا۔ میں ہوں فرزند اس کا جس پر پانی بند کردیا گیا اور ساری مخلوق پر مباح رکھا گیا۔ میں ہوں فرزند اس کا جس کو نہ غسل دیا گیا نہ کفن ملا۔ میں ہوں فرزند اس کا جس کا سر مطہر نیزے پر بلند کیا گیا۔ میں ہوں فرزند اس کا جس کے حرم کو اسیر کر کے شام کی طرف لایا گیا۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے بہ آواز بلند گریہ فرمایا اور برابر انا انا فرماتے رہے یعنی یونہی مسلسل اپنے آبا و اجداد کے فضائل و مناقب اور پدر بزرگوار و اہلبیت (ع) کے مصائب بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ لوگ چیخین مار مار کے روئے اور فریاد کرنے لگے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کے بعد بیان مصائب کی جو پہلی مجلس منعقد ہوئی وہ یہیں شام کی مسجد جامع اموی کے اندر تھی جس میں سید الساجدین امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے جد بزرگوار امیرالمومنین علیہ السلام کے فضائل و مناقب نقل کرنے کے بعد دشمنوں کے مجمع میں اپنے پدر عالی قدر کے اس قدر مصائب بیان فرمائے کہ یزید پلید کی موجودگی میں شام والوں کی صدائے نالہ و بکا اس طرح بلند ہوئی جس سے یزید ڈر گیا اور وہاں بیٹھ نہیں سکا بلکہ گھبرا کر مسجد سے چلا گیا۔

اسی مسجد اور حضرت کی تقریر سے بنی امیہ کے خلاف لوگوں میں جوش و خروش پیدا ہونے لگا ( جس سے مجبور ہو کر یزید نے سیاسی رنگ میں ندامت کا اظہار کیا اور عبید اللہ ابن مرجانہ ملعون پر لعنت کی کہ اس نے ایسی افسوسناک حرکت کی۔ آخر کار بنی امیہ کے کفر و ظلم اور الحاد کے


محل کے اینٹ سے اینٹ بچ گئی۔ یہاں تک کہ آج اس نابکار قوم کے پایہ تخت شام کے اندر بنی امیہ قبر بھی موجود نہیں ہے البتہ بنی ہاشم کا قبرستان شامیوں کا مرکز توجہ ہے اور عترت و اہلبیت رسول(ص) کی کافی قبریں شیعہ و سنی عوام و خواص کی زیارت گاہ بنی ہوئی ہیں۔

غرضیکہ تمام ارباب مقاتل اور تواریخ نے لکھا ہے کہ حضرت مدینے سے مکے اور کربلا تک برابر کنایہ اور صراحتا اپنی شہادت کی خبر دیتے رہے اور لوگوں کو سمجھاتے رہے کہ میں قتل ہونے کے لیے جا رہا ہوں۔

من جملہ اور خطبوں کے ایک تفصیلی خطبہ ہے جو حضرت نے روز ترویہ مکہ معظمہ میں تمام مسلمانوں کے سامنے ارشاد فرمایا اور جس میں صاف صاف اپنی شہادت کی خبر دی ۔ چنانچہ حمد الہی اور خاتم الانبیاء پر درود بھیجنے کے بعد فرمایا :

" خط الموت على ولد آدم مخط القلادة على جيد الفتاة وما أولهني إلى أسلافي اشتياق يعقوب إلى يوسف ، وخير لي مصرع انا لاقيه ، كأني بأوصالي تقطعها عسلان الفلوات بين النواويس " (1)

یعنی اولاد آدم(ع) کے موت اس طرح گلوگیر ہے جیسے جوان عورت کی گردن میں گلو بند ہیں اپنے اسلاف سے جاملنے کا کس قدر مشتاق ہوں جیسے کہ یعقوب یوسف(ع) کے لیے بیچین تھے اور میرے

گرنے کے لیے وہ زمین منتخب کی گئی ہے جہاں مجھ کو پہنچنا ہے، گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ صحرائی بھیڑئیے نواویس و کربلا کے درمیان میرے جسم کا بند بند جدا کررہے ہیں، حضرت اس قسم کے جملوں سے لوگوں کو سمجھاتے تھے کہ میں کوفے اور مقام خلافت تک پہنچوں گا بلکہ نواویس اور کربلا کے درمیان خونخوار بھیڑیوں کے ہاتھوں قتل ہوجائوں گا ۔ بھیڑیوں سے مراد آپ کے قاتل اور بنی امیہ وغیرہ ہیں اور وہ خونخوار بھیڑیوں کے مانند مجھ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے قتل کریں گے۔

اس قسم کی باتوں اور روایتوں سے آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے شہادت کے قصد سے سفر فرمایا تھا نہ کہ ریاست و خلافت کے خیال سے۔ آپ راستے بھر مختلف طریقوں سے اپنی موت کی خبر دیتے تھے اور برابر ہر منزل پر اپنے اصحاب و اعزہ کو جمع کر کے فرماتے تھے کہ دینا کی پستی اور بے وقعتی کے لیے یہی واقعہ کافی ہے کہ حضرت یحی (ع) کا سر قلم کر کے ایک زنا کار عورت کے سامنے ہدیہ لے گئے تھے اور عنقریب مجھ مظلوم کا سر بھی بدن سے جدا کر کے یزید شراب خوار کے پاس لے جاییں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ جلیل القدر محدث ثقہ الاسلام حاجی شیخ عباس قمی طاب ثراہ نفس المہموم میں کہتے ہیں کہ ہمارے شیخ محدث نوری رحمتہ اللہ نے کتاب نفس الرحمن میں کہا ہے کہ نواویس عیسائیوں کا قبرستان ۔ چنانچہ حواشی کفعمی میں لکھا ہے اور ہم نے سنا ہے کہ یہ قبرستان اس مقام پر واقع تھا جہان اب حر ابن یزید ریاحی کا مزار ہے یعنی شہر کربلا کے شمال جنوب میں اور کربلا جو لوگوں میں معروف ہے اور اس نہر کے کنارے ایک خطہ زمین ہے جو جنوب سے شہر کی طرف جارہی ہے اور مزار معروف بہ ابن حمزہ سے گزرتی ہے اس کے ایک حصے پر کھیت ہیں اور شہر کربلا ان دونوں کے درمیان ہے۔


حضرات ذرا غور کیجئے کہ جس وقت کوفے سے دس فرسخ پر حر ابن یزید ریاحی نے ایک ہزار سواروں کے ساتھ حضرت کی راہ روکی اور عرض کیا کہ عبید اللہ ابن زیادکے حکم سے میں آپ کا نگران مقرر ہوا ہوں، نہ آپ کو کوفے جانے دوں گا اور نہ تا حکم ثانی ساتھ چھوڑوں گا تو حضرت کہنا مان کر کیوں اتر پڑَ اور اپنے کو حر کے قابو میں دے دیا۔

اگر حضرت امارت و خلافت کے خیال میں ہوتے تو لشکر حر کی خواہش ہرگز قبول نہ کرتے در آنحالیکہ حر کے ساتھ ایک ہزار سے زیادہ سپاہی نہیں تھے اور حضرت کے ہمراہ تیرہ سو سوار اور پیاے تھے جن میں قمر بنی ہاشم جناب عباس(ع) اور علی اکبر(ع) جیسے ہاشمی جوان بھی تھے جن میں سے ایک ایک فرد ایک ہزار سپاہیوں کو زیر کرنے کے لیے کافی تھا اور کوفے تک بھی دس فرسخ کچھ زیادہ نہیں تھے۔ قاعدے کے مطابق چاہئیے تو یہ تھا کہ ان کو شکست دے کر اپنے کو مرکز حکومت ( کوفہ) تک پہنچا دیتے جہاں لوگ آپ کے منتظر بھی تھے ۔ وہاں سازو سامان سے مضبوط ہو کر مقابلہ کرتے ۔۔۔۔ تاکہ غلبہ حاصل ہوتا ، نہ یہ کہ حر کی باتیں مان کے فورا ٹھہر جائیں اور اپنے کو ایک بیابیان میں دشمنوں کے اندر محصور کر لیں، کہ چار روز کے بعد جب دشمن کی کمک پہنچ جائے تو فرزند رسول (ص) کو سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑے ۔ حضرات اگر اس واقعے کے قرائن پر گہری نظر ڈالیے تو آپ کو خود ہی جواب مل جائے گا اور سمجھ میں آجائے گا کہ حضرت نے کسی اور ہی نیت سے یہ مسافت طے کی تھی ۔ اس لیے کہ اگر ریاست کی خواہش ہوتی تو جس وقت دشمنوں کا محاصرہ انتہائی شدت پر تھا اور چاروں طرف کوسوں تک دشمن کی فوجیں پھیلی ہوئی تھیں۔ آپ ایسے طریقے اختیار نہ فرماتے کہ اپنی چھوٹی سی جماعت اور موجودہ طاقت کو بھی منتشر کردیں۔

عاشورا کی شب میں حضرت کا خطبہ ہمارے دعوے کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔ اس لیے کہ شب عاشور تک حضرت کی خدمت میں تیرہ سو سپاہی موجود تھے جو لڑنے مرنے پر آمادہ تھے لیکن اسی رات کو نماز مغربین کے بعد حضرت کرسی پر تشریف لے گئے اور ایک مفصل خطبہ ارشاد فرمایا جس میں صاف صاف ایسے کلمات بیان فرمائے کہ اس لشکر اور جاہ طلب اشخاص پر خوف طاری ہوگیا ، تمام ارباب مقاتل نے لکھا ہے کہ حضرت نے فرمایا جو لوگ دنیاوی ریاست و حکومت کے خیال میں آئے ہیں وہ جان لیں کہ کل جو شخص اس سر زمین پر رہے گا وہ قتل ہوجائے گا۔ یہ لوگ سوا میرے کسی اور کو نہیں چاہتے ۔ میں تمہاری گردنوں سے اپنی بیعت اٹھائے لیتا ہوں، رات کا وقت ہے اٹھو اور چلے جائو ۔ ابھی حضرت کی تقریر ختم نہیں ہوئی تھی کہ وہ ساری جماعت روانہ ہوگئی اور صرف بیالیس نفر باقی رہ گئے ، جن میں اٹھارہ بنی ہاشم اور چوبیس اصحاب تھے۔ آدھی رات کے بعد دشمن کے لشکر سے تیس بہادر سپاہی شبخوں کے ارادے سے نکل کے آئے لیکن جب حضرت کے تلاوت قرآن کی آواز سنی تو وجد کے عالم میں آکر امام کی خدا پرست فوج سے مل گئے۔ چنانچہ بناء بر مشہور یہی کل بہتر افراد روز عاشور حق پر قربان ہوئے جن میں سے اکثر زہاد و عباد اور قاریان قرآن تھے۔

یہ سب ایسے واضح دلائل اور قرائن ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ حضرت نے دنیاوی انقلاب کے قصد سے اور جاہ و سلطنت کی محبت میں مسند خلافت تک پہنچنے کے لیے سفر نہیں فرمایا تھا بلکہ آپ کا واحد مقصد ترویج دین حمایت حق اور حریم اسلام سے دفاع کرنا تھا۔ اور وہ بھی اس طریقے سے کہ جان نثار کر کے لا الہ الا اللہ کا پرچم بلند کریں اور کفر و فساد کا علم سر نگوں کردیں۔ کیونکہ دین


کی نصرت و حمایت کبھی تو قتل کرنے سے ہوتی ہے اور کبھی قتل ہونے سے ۔ چنانچہ حضرت کمر باندھے مردانہ وار اٹھ کھڑے ہوئے اور مظلومیت کی قوت سے نیز احباب و اعزاء بالخصوص چھوٹے چھوٹے بچوں کی قربانیوں کی طاقت سے بنی امیہ کے ظلم و فساد کی جڑ اس طرح اکھاڑی کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ کو بلند کرنے اور شجرہ مقدسہ اصلہا ثابت کو سیراب کرنے میں آپ کی جلیل القدر خدمات کا آج ہر دوست و دشمن کو اعتراف ہے کہ یہاں تک کہ دیں سے بیگانہ افراد بھی دلیل و برہان کے روسے اس حقیقت کا اقرار کرتے ہیں۔

امام حسین (ع) کی مظلومیت پر انگلینڈ کی خاتون کا مقالہ

فرانس کے انیسویں صدی کے دائرۃ المعارف میں تین شہید کے عنوان سے انگلینڈ کی ایک ذی علم خاتون کا مقالہ ہے جو بہت تفصیلی ہے لیکن اس کا خلاصہ یہ ہے کہ لکھتی ہیں تاریخ انسانیت میں اعلائے کلمہ حق کے لیے تین شخصیتوں نے ایسی جانبازی اور فداکاری دکھائی کہ سارے جانبازوں اور فداکاروں سے گوئے سبقت لے گئیں۔

اول یونان کے حکیم سقراط نے ایتھنس میں دوسرے حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام نے فلسطین میں ( یہ عقیدہ موصوفہ کا ہے جو عیسائی ہیں ۔ ورنہ ہم مسلمانوں کا اعتقاد تو یہ ے کہ حضرت مسیح مصلوب و مقتول نہیں ہوئے جیسا کہ سورہ نمبر4 ( نساء) آیت نمبر156 میں صریحی ارشاد ہے۔

"وَماقَتَلُوهُ وَماصَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِين َاخْتَلَفُوافِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّااتِّباعَ الظَّنّ ِوَماقَتَلُوه يَقِيناًبَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ"

یعنی عیسی بن مریم کو نہ قتل کیا نہ سولی دی بلکہ حقیقت ان پر مشتبہ ہوگئی اور جن لوگوں نے ان کے بارے میں اختلاف کیا وہ در حقیقت شک و شبہ میں مبتلا ہوگئے۔ ان کو سوا اپنے گمان کی پیروی کے کوئی علم حاصل نہیں تھا اور یقینی طور پر مسیح کو انہوں نے قتل نہیں کیا بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔

تیسرے مسلمانوں کے پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ ) کے فرزند حضرت حسین علیہ السلام ، نے اس کے بعد لکھا ہے کہ جب ان تینوں بزرگ شہیدوں میں سے ہر ایک شہادت و جانبازی کی کیفیت اور تاریخی حالات کا جائزہ لیا جاتا ہے تو ماننا پڑتا ہے کہ حضرت حسین (ع) کی جانبازی اور فداکاری ان دو ہستیوں ( یعنی سقراط و عیسی(ع)) سے کہیں وزنی اور اہم تحی اور اسی وجہ سے آپ کو سید الشہداء کا لقب حاصل ہوا کیوں کہ سقراط اور حضرت مسیح نے خدا کی راہ میں صرف اپنی اپنی جانیں قربان کیں، لیکن حضرت حسین علیہ السلام نے سفر غربت اختیار کر کے اپنی جماعت سے دور ایک بیابان میں دشمنوں کے محاصرے کے اندر اپنے ایسے عزیزترین اعزہ کو حق پر قربان کیا اور ان کو اپنے ہاتھوں دشمن کے سامنے بھیج کے دین خدا پر نثار کیا جن میں سے ایک ایک کو ہاتھ سے دینا خود اپنا سر دینے سے زیادہ سخت تھا۔

مظلومیت حسین (ع) کی سب سے بڑی دلیل مسلمانوں کے سامنے آپ کا اپنے شیر خوار کی قربانی دینا ہے۔ اس لیے کہ کسی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ ایک شیر خوار بچے کو بے قدر و قیمت پانی طلب کرنے کے لیے لایا جائے اور مکار و غاباز قوم پانی دینے کے عوض اس کو تیر جفا کا نشانہ بنادے۔


دشمن کے اس عمل نے حسین(ع) کی مظلومیت کو ثابت کردیا اور اسی مظلومیت کی طاقت نے بنی امیہ کے مقتدر خاندان کی بساط عزت پلٹ کے اس کو رسوائے زمانہ بنا دیا۔ آپ کی اور آپ کے محترم اہلبیت (ع) ہی کی جانبازیوں کا نتیجہ تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ) کے دین کو از سر نو زندگی حاصل ہوئی۔ ( انتہی)

ڈاکٹر ماربین جرمنی، ڈاکٹر جوزف فرانسیسی اور دوسرے یورپین مورخین سب کے سب اپنی تاریخوں میں تصدیق کرتے ہیں کہ حضرت سید الشہداء علیہ السلام کا کردار اور ان بزرگوار کی فداکاری ہی مقدس دین اسلام کے لیے سبب حیات بنیں۔ یعنی آپ نے بنی امیہ کے ظلم و کفر کی رگیں کاٹ دیں، ورنہ اگر حضرت کے یہ خدمات اور نصرت حق میں ایسا ثابت قدم نہ ہوتا تو بنی امیہ دین توحید کی جڑیں بالکل ہی کاٹ دیتے اور خدا و رسول(ص) اور دین و شریعت کا نام ہی دنیا سے مٹا دیتے۔

نتیجہ مطلوب اور انکشاف حقیقت

پس میرے معروضات کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت سید الشہداء ارواحنا لہ الفداء کی مقاوست اور جنگ صرف دین کے لیے تھی جس کے انصاف پسند دوست و دشمن بھی معترف ہیں۔

لہذا حضرت کے زوار و عزادار اور دوستدار شیعہ جس وقت سنتے ہیں کہ آپ نے یزید سے اس لیے مقابلہ کیا کہ وہ حرام اور ناجائز افعال کا مرتکب تھا تو ان کو توجہ ہوجاتی ہے کہ بد اعمالیاں حضرت کی ناراضگی کا باعث ہیں اور پھر و محرمات و منکرات سے الگ رہنے کی کوشش کرتے ہیں جو امام کو ناگوار ہیں، اور واجبات پر عمل کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جب وہ سنتے ہیں اور کتب مقاتل و تواریخ میں پڑھتے ہیں کہ حضرت نے روز عاشورا بلائوں کے اس ہجوم اور مصائب کی اس شدت میں جس کی مثال پیش کرنے سے تاریخ عالم قاصر ہے اپنی نماز ترک نہیں کی بلکہ نماز ظہر با جامعت ادا فرمائی تو ادائے واجبات بلکہ نوافل و مستحبات میں بھی سعی بلیغ سے کام لیتے ہیں تاکہ حضرت کے نزدیک محبوب اور لائق توجہ قرار پائیں۔ اس لیے کہ حضرت کا محبوب یقینا خدائے تعالی کا محبوب ہے لہذا جو تصور آپ یا دوسرے لوگوں نے قائم کیا ہے وہ خلاف حقیقت اور مغالطہ بازی ہے۔ آپ دھوکے میں ہیں اور مطلب غلط نکالا ہے بلکہ آپ حضرات کے قول کے بر خلاف اس طرح کی حدیثیں شیعوں کی روحانی قوت کو بیدار کر کے ان کو اور زیادہ عمل پر آمادہ کرتی ہیں۔ خصوصا جب علماء و ذاکرین مطالب کی تشریح کرتے ہیں اور حضرت کے فلسفہ شہادت کو کما حقہ بیان کرتے ہیں تو بہت ہی اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہم نے خود برابر ان حقائق کامشاہدہ کیا ہے کہ ہر سال محرم میں حضرت کے طفیل اور ان مجلسوں کی برکت سے جو آپ کے نام منعقد ہوتی ہیں اور لوگ ان میں اکٹھا ہوتے ہیں۔ اکثر بہکے ہوئے نوجوان واعظین کرام اور مبلغین عظام کے تبلیغی بیانات سے متاثر ہو کر راہ راست اور صراط مستقیم پر آگئے اور جملہ افعال بد سے توبہ کر کے سچے شیعوں کی صف میں شامل ہوگئے۔

( جب گفتگو یہاں تک پہنچی تو اکثر حضرات اشکبار آنکھوں کے ساتھ سکوت کے عالم میں ںظر آئے اور ہم نے ارادہ کیا کہ اب جلسہ برخاست کریں۔)


نواب : قبلہ صاحب باوجودیکہ وقت کافی گزرا لیکن آپ نے ہم لوگوں کو حد سے زیادہ متاثر فرمایا اور اس بزرگ و فداکار شخصیت کو جو ریحانہ رسول(ص) تھی اپنے اس مختصر بیان سے بخوبی پہچنواکر ہم سب کو ممنون کیا۔ آپ کے جد رسول خدا(ص) آپ کو اس کا صلہ عنایت فرمائیں۔ میں ہیں سمجھتا کہ آج کی شب اس جلسے میں کوئی ایسا شخص ہو جس پر جناب کا اثر نہ پڑا ہو۔ خدا آپ سے راضی رہے اور اپنا لطف و کرم آپ کے شامل حال رکھے ہم کو اس طرح مستفیض فرمایا۔ در حقیقت بڑے افسوس کا مقام ہے کہ ہم اب تک لوگوں کی باتوں میں آکر ان کی اندھی تقلید کرتے رہے اور ان مظلوم آقا کی زیارت اور مجالس عزا کی شرکت کے فیوض و برکات سے محروم رہے یہ محض اس غلط پروپیگینڈے کا اثر تھا جو وہ تعصب کی بناء پر ہمارے درمیان کرتے رہے اور کہتے رہے کہ زیارت امام حسین(ع) اور مجالس عزا میں جانا بدعت ہے۔ واقعی کیا اچھی بدعت ہے جو انسان کو بیدار اور صاحب معرفت بناتی ہے اور اہلبیت(ع) رسول(ص) و خدمت گزاران دین و شریعت کی حقیت سے روشناس کرتی ہے۔

زیارت کا ثواب اور اس کے فوائد

خیر طلب : یہ جو آپ نے اہلبیت و عترت رسول (ع) کی عزاداری اور ان کی زیارت قبور کے متعلق بدعت کا جملہ فرمایا تو اس کا سرچشمہ قطعی طور پر نواصب و خوارج کے عقائد ہیں اور علماء اہلسنت نے بھی بغیر اس پر غور کئے ہوئے کہ بدعت وہ چیز ہے جس کے بارے میں خدا و رسول(ص) یا اہلبیت رسول(ع) کی جانب سے جو عدیل قرآن ہیں کوئی ہدایت نہ ملی ہو۔ بر بنائے عادت ان کی پیروی کی ہے حالانکہ امام حسین علیہ السلام کے لیے رونے اور ان کی زیارت کے بارے میں علاوہ اس کے کہ شیعوں کی معتبر کتابوں میں تواتر کےساتھ وارد ہوا ہے۔ خود آپ کی معتبر کتب اور مقاتل میں بھی تمام بڑے بڑے علماء نے کافی روایتیں نقل کی ہیں جن میں سے بعض کی طرف میں اس سے قبل اشارہ کرچکا ہوں۔ اس وقت تنگی وقت کے لحاظ سے زیارت کے متعلق ایک مشہور روایت پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں جو تمام مقاتل اور حدیث کی کتابوں میں درج ہے۔ ایک روز رسول خدا(ص) ام المومنین عائشہ کے حجرے میں تشریف رکھتے تھے کہ حسین علیہ السلام حاضر ہوئے پیغمبر(ص) نے ان کو آغوش محبت میں لے کر کثرت سے بوسے دیئے اور سونگھا۔ عائشہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ(ص) حسین(ع) کو کس قدر چاہتے ہیں؟ آںحضرت (ص) نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتی ہو کہ یہ میرا پارہ جگر اور میرا پھول ہے؟ اس کے بعد آنحضرت(ص) رونے لگے۔ عائشہ نے گریے کا سبب پوچھا تو فرمایا میں تلواروں اور نیزوں کے مقامات چومتا ہوں جو بنی امیہ میرے حسین(ع) پ؛ر لگائیں گے۔ عائشہ نے عرض کای کیا ان کو قتل کرینگے؟ فرمایا ہاں ان کو بھوکا اور پیاسا شہید کریں گے۔ ان لوگوں کو ہرگز میری شفاعت نصیب نہیں نہ ہوگی خوشا حال اس شخص کا جو بعد شہادت ان کی زیارت کرے۔ عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ(ص) ان کے زائر کو کیا ثواب ملے گا؟ فرمایا میرے ایک حج کا ثواب۔ عائشہ نے تعجب سے کہا کہ آپ کا ایک حج؟ فرمایا میرے دو حج کا۔ عائشہ نے اور زیادہ تعجب کیا تو فرمایا میرے چار حج کا۔ عائشہ برابر تعجب ظاہر کرتی جاتی تھیں اور آنحضرت(ص) ثواب میں اضافہ فرماتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ فرمایا عائشہ جو شخص میرے حسین(ع) کی زیارت کرے خدا اس کے نامہ اعمال میں میرے نوے حج اور نوے عمروں کا ثواب درج فرمائیگا۔ اس کے بعد عائشہ چپ ہوگئیں۔ خدا کے لیے آپ حضرات انصاف


کیجئے کہ کیا ایسی زیارت بدعت ہے جو رسول اللہ (ص) کی سفارش اور توجہ کی مرکز ہو؟ حضرت کی زیارت اور مجالس عزا میں شرکت کی مخالفت اور اس کو بدعت سے تعبیر کرنا یقینا آںحضرت(ص) اور اہلبیت طاہرین(ع) کی دشمنی ہے۔

زیارت قبور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے اثرات

باطنی فوائد اور اخروی اجر کے علاوہ قبور ائمہ طاہرین(ع) کی زیارت میں جو ظاہری منافع ملحوظ ہیں۔ وہ ہر عقل مند انسان کو اس بزرگ عبادت کی طرف راغب کرتے ہیں جو اور بہت سی عبادتوں کی باعث ہوتی ہے۔

آپ اگر ان عتبات عالیات سے مشرف ہوں تو کھلا ہوا مشاہدہ کریں گے کہ (رات کے درمیان چند گھنٹوں کے علاوہ جب کہ خدام کے آرام اور صفائی کے لیے حرم بند رہتا ہے طلوع صبح کے دو گھنٹے قبل سے تقریبا آدھی رات تک روز و شب وہ حرم اور قبروں کے پاس کی مسجدیں زائرین اور مجاورین اور خواص و عوام سے بھری رہتی ہیں اور یہ سب لوگ مختلف عبادتوں، واجب و مستحب نمازوں، تلاوت قرآن درورد و اداء وظائف می سرگرم رہتے ہیں۔ جو لوگ اپنے گھروں اور وطنوں میں سوا واجبات ادا کرنے کے زیادہ عبادتوں کی توفیق نہیں رکھتے وہ بھی ان مقدس مقامات میں زیارت اور قربت محبوب کے شوق میں طلوع صبح سے دو گھنٹے پہلے مشرف ہو کر تہجد اور اپنے پروردگار سے مناجات میں مصروف رہتے ہیں اور تلاوت قرآن اور خوف خدا سے گریہ و زاری ان کی طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے۔ چنانچہ وہاں سے واپسی کے بعد بھی عبادات میں مشغول اور گناہوں سے الگ رہتے ہیں اور بڑے اشتیاق کے ساتھ نوافل اور قضا نمازیں بجالاتے ہیں۔

آیا یہ عمل جو دوسرے بہت سے اعمال کا سبب بنتا ہے اور لوگ اس کے ذریعے توفیق حاصل کر کے طرح طرح کی عبادتوں میں منہمک ہوتے ہیں اور رات دن میں کم از کم صبح سے پہر اور رات کو دو تین گھنٹے نماز و دعا و تلاوت قرآن اور ورد وظائف میں مشغول رہ کر اپنے کو پروردگار کی رحمت و عنایت کا مستحق بناتے ہیں بدعت ہے؟

اگر زیارت مزارات ائمہ اطہار(ع) کا اور کوئی نتیجہ نہ ہوتا تو صرف یہی عبادتوں کی توفیق اور سرگرمی ہی اس کا شوق دلانے کے لیے کافی تھی تاکہ ان وسائل سے اپنے معبود کے ساتھ رابطہ مضبوط کر کے روحانی طہارت حاصل کریں جو تمام نیک بختیوں کی جڑ ہے۔( کیونکہ اپنے شہروں اور گھروں میں رہ کے دنیاوی مشاغل کی وجہ سے پورا میلان پیدا نہیں ہوتا۔)

کیا آپ بلاد اہل تسنن میں ہم کو کوئی ایسا مقدس مقام بتاسکتے ہیں جہاں عالم و جاہل اور عوام وخواص چوبیس گھنٹے عبادات میں مشغول رہتے ہوں سوا مسجدوں کے جہاں فقط نماز پڑھ کے فورا متفرق ہوجاتے ہیں؟ بغداد اور معظم میں جہاں شیخ عبدالقادر جیلانی اور امام ابوحنیفہ کی قبریں ہیں۔ ہمیشہ ان کے دروازے بند رہتے ہیں ، صرف نماز کے وقت ان مزاروں کی مسجدیں کھولی جاتی ہیں اور چند مخصوص آدمی آکر نماز پڑھتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ شہر سامراء میں جہاں شیعوں کے دو برحق امام حضرت ہادی علی نقی علیہ السلام ( امام دہم)


اور حضرت حسن عسکری علیہ السلام ( امام یازدہم) مدفون ہیں تمام شہر کے باشندے یہاں تک کہ آستانہ مقدس کے خدام بھی جو برادران اہل سنت میں سے ہیں، طلوع فجر کے قریب بڑی زحمت سے جب شیعہ زائرین و مجاورین اور اہل علم چیخ پکار مچاتے ہیں۔ تب حرم کا پھاٹک کھولتے ہیں لیکن ہم کو ایک بھی بوڑھا جوان عالم و جاہل سنی ایسا نظر نہیں آتا جو اس مسجد کے کسی گوشے میں مشغول عبادت ہو۔ یہاں تک کہ خدام بھی دروازہ کھولنے کے بعد جا کر سوجاتے ہیں۔ البتہ شیعہ لوگ حرم کے اندر پورے ذوق و شوق کے ساتھ عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ ہیں وہ اثرات اور برکات جو ان مقدس مزارات سے شیعوں کو نصیب ہوتے ہیں۔ خدا آپ کو مشرف ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ عراق عرب میں آپ کو دو شہر ایک دوسرے کے پہلو میں صرف دو فرسخ کے فاصلے سے نظر آئیں گے یعنی کاظمین اور بغداد ۔ اول الذکر شیعوں کا مرکز ہے جس میں امام ہفتم حضرت ابو ابراہیم موسی بن جعفر اور امام نہم ابو جعفر محمد ابن علی الجواد علیہم السلام کا مزار مبارک ہے اور دوسرا اہل سنت کا مرکز ہے جس میں شیخ عبدالقادر جیلانی اور آپ کے امام اعظم ابوحنیفہ کی قبریں ہیں۔ اگر اگر آپ غور کیجئے تو شیعوں کے برحق پیشوائوں اور اماموں کے بلند تعلیمات کا اندازہ ہوجائے گا اور بچشم خود دیکھئے گا کہ ان دونوں مقدس قبروں اور ان کی زیارت کے برکات سے کاظمین کے باشندے اور زوار شب میں جلد سوجاتے ہیں اور طلوع فجر سے دو گھنٹے قبل بیدار ہو کر پورے ذوق و شوق سے عبادت وتہجد کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بہت سے شیعہ تجار بھی جن کی دکانیں اور تجارتیں بغداد میں ہیں لیکن مکانات کاظمین میں ہیں سحر کے وقت حرم مطہر کے اندر عبادت الہی میں مشغول رہتے ہیں۔

لیکن اہ بغداد کس قدر گناہوں میں غرق، عیاشی اور شہوت پرستی کے دلدادہ اور خواب غفلت میں مدہوش ہیں۔

نواب : واقعی اس وقت اپنے اوپر لعنت کرنے کا موقع ہے کہ ہم لوگ بغیر تحقیق کئے کس لیے اںکھیں بند کر کے بہکانے والوں کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ چند سال قبل ایک قافلہ یہاں سے روانہ ہوا جس میں بدقسمتی سے میں بھی شامل تھا۔ ہم لوگ امام اعظم ابوحنیفہ اور جناب عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہما کی زیارت کے لیے بغداد گئے لیکن ایک روز میں گھومنے کے لیے کاظمین چلا گیا جب واپس ہوا تو میرے رفیقوں نے مجھ کو کچھ سخت و سست کہا۔ بڑے تعجب کا مقام ہے کہ معظم میں امام اعظم کی، بغداد میں شیخ عبدالقادر کی، ہندوستان میں خواجہ نظام الدین کی اور مصر میں شیخ اکبر مقبل الدین کی زیارتیں تو جائز اور موجب ثواب ہوں جن کے لیے ہر سال ہم لوگوں میں سے کافی اشخاص جاتے رہتے ہیں حالاکہ ان کے بارے میں رسول اللہ(ص) سے قطعا کوئی روایت بھی مروی نہیں ہے لیکن راہ خدا کے فدا کار مجاہد اور ریحانہ رسول(ص) کی زیارت جس کے لیے پیغمبر(ص) نے اس قدر ثواب بیان فرمایا ہے اور عقلا بھی یہ ایک مستحسن کام ہے بدعت ہوجائے۔ اس وقت میں نے قطعی اور پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ انشاء اللہ اگر زندہ رہا تو اس سال قربتہ الی اللہ اور خوشنودی خدا کے لیے رسول خدا(ص) کے فرزند عزیز جناب حسین شہید(ع) کی زیارت کے لیے جائوں گا اور خدا سے دعا کروں گا کہ میری پچھلی غلطیوں کو معاف فرمائے۔

اب آج کی شب میں دلی تاثر کے ساتھ انشاء اللہ کل رات تک کے لیے رخصت ہوتا ہوں۔

ختم شد


فہرست

من لم یشکر الناس لم یشکر اﷲ 2

اشارہ 3

بسم اﷲ الرحمن الرحیم 4

آغازِ سفر 4

مجلسِ مناظرہ 6

پہلی نشست 6

شب جمعہ 23 رجب سنہ 1345 ہج 6

ذریت رسول (ص)کے بارے میں بارون رشید اور امام موسی کاظم (ع)کا سوال وجواب 9

اس بات پر کافی دلائل کہ اولاد فاطمہ (س)اولاد رسول(ص)ہیں 11

پیغمبر(ص)نماز ظہ ر ین و مغربین جمع وتفریق دونوں طرح س ے پ ڑھ ت ے ت ھے 13

بنی امیہ کے دلدوز حرکات 19

واقعہ شہادت زیدبن علی علیہ السلام 20

شہادت جناب یحیٰ 21

قبر علی علیہ السلام کا ظہور 22

مدفن امیرالمومنین علیہ السلام میں اختلاف 23

دوسری نشست 25


شب شبنہ 24 رجب سنہ 1345 ھ 25

مذہب شیعہ پر اشکال پیدا کرنا 26

مخالفین کی اشکال تراشیوں کا جواب 27

شیعہ اور حقیقت تشیع کے معنی 29

مقام تشیع کی تشریح میں آیات و روایات 31

سلمان و ابوذر اور مقداد و عمار کی منزل 36

خلفاء دیالمہ اور غازاں خان اور شاہ خدا بندہ کے زمانہ میں 37

ایرانیوں کی توجہ اور تشیع کا سبب 37

مغلوں کے دور میں تشیع کا ظہور 40

قاضی القضاة کے ساتھ علامہ حلی کا مناظرہ 40

اسلام نے نسلی تفاخرات کو جڑ سے کاٹ دیا 43

سارے فسادات اور لڑائیاں نسلی تفاخرات کی بنا پر ہوتی ہیں 44

غالیوں کے عقائد، ان کی مذمت اور لعن بر عبد اﷲ ابن سبا 45

آل محمد علیھ م السلام پر سلام اور صلوات بھیجنے کے بار ے م یں مناظرہ 50

"یس "کے معن ی اور یہ کہ "س"پ یغمبر صلّی اللہ عل یہ وآلہ کا نام مبارک ہے 51

آل یاسین سے مراد آل محمد(ص) ہیں 52

آل محمد(ص) پر صلوات بھیجنا سنت اور تشہ د نماز م یں واجب ہے 54


تیسری نشست 56

شب یک شنبہ 25 رجب سنہ1345ھ 56

عقائد زیدیہ 57

عقائد کیسانیہ 58

عقائد قداحیہ 59

عقائد غلات 59

عقائد شیعہ امامیہ اثنا عشریہ 60

حدیث معرفت پر اعتراض 63

اعترض کا جواب 63

صحیحین بخاری ومسلم میں خلاف عقل روایتیں 65

رویت باری تعالی کے بار ے م یں اہ ل سنت ک ی چند روایتیں 66

اللہ تعالی کے عدم رو یت پر دلائل اخبار 68

خرافات صحیحین کی طرف اشارہ 69

ملک الموت کے چ ہ ر ے پر موس ی علیہ السلام کا تھ پ ڑ مارنا 71

انصاف موجب معرفت اور سبب سعادت ہے 72

شیعوں کی طرف شرک کی نسبت دینا 75

شرک کے اقسام 76


شرک جلی 77

شرک در ذات 77

عقائد نصاری 77

شرک درصفات 78

شرک در افعال 78

شرک در عبادت 79

نذر کے بار ے م یں 80

شرک خفی 82

شرک در اسباب 83

شیعہ کسی پہ لو س ے مشرک ن ہیں 83

آصف بن برخیا کا سلیمان کے پاس تخت بلق یس لانا 85

آل محمد (ع)فیض الہی کے ذر یعے ہیں 86

حدیث ثقلین 87

بغیر تعصّب کے بار یک بینی سعادت کا سبب ہے 88

بخاری اور مسلم نے مردود اور جعل سازرجال س ے روا یتیں نقل کی ہیں 90

صحیحین بخاری ومسلم میں مضحک روایت اور رسو ل(ص)کی اہ انت 91

حدیث ثقلین کے اسناد 92


حدیث سفینہ 94

دعائے توسل 98

اس جماعت کے فتو ے س ے ش ہید اول کی شہ ادت 100

"قاضی صیدا" کی بد گوئی سے ش ہید ثانی کی شہ ادت 102

انصاف پسند لوگوں کی توجہ کیلئے عمدہ بحث 103

ایرانیوں کے ساتھ ترکیوں ، خوارزمیوں ، ازبکوں اور افغانوں کا شرمناک رویہ 104

ایران مین خان خیوہ کے مظالم اور شیعوں کے قتل وغارت کے لئے علمائے اہل سنت کے فتوے 105

شیعوں کے قتل وغارت پر علمائے اہل سنت کے فتوے اور خراسان پر عبداللہ خاں ازبککے حملے 106

افغانستان کے شیعوں سے افعانی امیروں کا سلوک 106

شہید ثالث کی شہ ادت 107

شیخ کا اقدام، شبہہ ک ی ایجاد حملے ک ے لئ ے وس یلے کی تیاری-----اور---- اس کا دفاع 108

زیارت کے آداب 110

نماز زیارت اور دعائے بعد از نماز 110

ائمہ علیھ م السلام کے روضو ں پر آستان ہ بوس ی شرک نہیں ہے 112

بھائیوں کا یوسف(ع) کے لیے خاک پر گرنا اور سجدہ کرنا 114

جسم کی فنا کے بعد روح کی بقا 115

بقائے روح میں اشکال اور اس کا جواب 116


اہل مادہ طبیعت کا ظہور اور حکیم سقراط سے ویمقراطیس کا مقابلہ 116

یورپ میں علمائے الہی کے اقوال 117

معاویہ و یزید کی خلافت اور ان کے کفر کی طرف سے مخالفین کا دفاع اور اس کا جواب 119

یزید کے کفر ارتداد پر دلائل 120

یزید پلید(لع) کی لعن پر علمائے اہل سنت کی اجازت 123

یزید کی بیعت توڑنے کے جرم میں اہل مدینہ کا قتل عام 124

گمنام جاں نثار 127

آل محمد(ص) شہدائے راہ خدا اور زندہ ہیں 129

چوتھی نشست 131

شب دوشنبہ 26 رجب سنہ 1345 ھ 131

آپ نے حقیقت کا نکشاف کر کے ہم پر احسان کیا 131

امامت کے بارے میں بحث 132

اہلسنت کے مذاہب اربعہ پر بحث اور کشف حقیقت 132

مذاہب اربعہ کی پیروی پر کوئی دلیل نہیں ہے 134

یہ عجیب معاملہ صاحبان عقل و اںصاف کے لیے قابل غور ہے 134

اہل تسنن کے علماء اور اماموں کا ابوحنیفہ کو رد کرنا 137

امامت شیعوں کے عقیدے میں ریاست عالیہ الہیہ ہے 139


مقام امامت نبوت عامہ سے بالاتر ہے 141

حدیث منزلت سے حضرات علی (ع) کے لیے مقام نبوت کے اثبات میں دلائل 143

حدیث منزلت کے اسناد طرق عامہ سے 144

آمدی کی مفصل کیفیت 147

حدیث منزلت کی سند عمر ابن خطاب سے 148

سنی مذہب میں خبر واحد کا حکم 148

منازل ہارونی کا اثبات حضرت علی (ع) کے لئے 151

علی (ع) تمام صفات میں پیغمبر(ص) کے شریک و مماثل تھے 155

حکم رسول(ص) سے مسجد میں تمام گھروں کے دروازے بند کردئیے گئے سوا خانہ علی(ع) کے دروازے کے 158

علی(ع) کو اپنا وزیر بنانے کے لئے پیغمبر(ص) کا سوال 161

پانچویں نشست 164

( شب سہ شنبہ 27 رجب سنہ 1345 ہجری) 164

منزلت کا لفظ عموم کا فائدہ دیتا ہے 164

حدیث منزلت تبوک کے علاوہ بھی کئی مرتبہ وارد ہوئی ہے 167

حضرت موسی(ع) کا اپنے بھائی ہارون کو خلیفہ بنانا اور سامری کا بنی اسرائیل کو گوسالہ پرستی کا فریب دینا 168

امیرالمومنین کے حالات کی مطابقت ہارون کے ساتھ 169

حدیث یوم الدار یوم الانذار اور پیغمبر(ص) کا علی(ع) کو خلافت پر معین فرمانا 170


خلافت علی(ع) کے بارے میں واضح حدیثیں 172

شیخ صاحب پھر بھی بولتے ہیں 177

یہاں فضیلت صحابہ سے انکار نہیں لیکن افضل کا انتخاب ہونا چاہیئے 177

فضیلت ابوبکر میں نقل حدیث اور اس کا جواب کہ یہ وضعی ہے 178

ابوہریرہ کی کیفیت اور ان کی مذمت 180

علی (ع) حق اور قرآن سے جدا نہیں ہیں 180

مخالفین کے مقابلے میں شیعوں کی مظلومیت 182

شیعوں پر سنی علماء کی جھوٹی نسبتیں اور تہمتیں 183

شیعوں پر ابن عبد ربہ کی تہمتیں 183

ابن حزم کی تہمتیں 185

ابن تیمیہ کی تہمتیں 186

ابوہریرہ کی مذمت میں روایات اور ان کے حالات 190

مسلمانوں پر ظلم اور ان کے قتل عام میں بسر ابن ارطاۃ کے ساتھ ابوہریرہ کی شرکت 191

ابوہریرہ کا مردود ہونا اور عمر کا ان کو تازیانہ مارنا 193

اس فرضی حدیث کا جواب کہ خدا نے فرمایا میں ابوبکر سے راضی ہوں، وہ بھی مجھ سے راضی ہیں، یا نہیں 195

ابوبکر اور عمر کی فضیلت میں احادیث اور ان کا رد 196

اس حدیث کا جواب کہ ابوبکر و عمر دونوں جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں 198


اس حدیث کا ذکر کہ حسن(ع) و حسین(ع) دونوں جوانان اہل جنت کے سردار ہیں 199

اس حدیث کا جواب کہ ابوبکر اور عائشہ پیغمبر(ص) کے محبوب تھے 201

فاطمہ(س) زنان عالم میں سب سے بہتر ہیں 201

محبت اہل بیت(ع) کے وجوب میں شافعی کا اقرار 203

پیغمبر(ص) کے نزدیک علی(ع) تمام مردوں سے زیادہ محبوب تھے 204

حدیث طیر 206

بیان حقیقت 208

اہل ذکر آل محمد(ص) ہیں 209

خلفائے اربعہ کے طریقہ خلافت میں نقل آیت اور اس کا جواب 210

آیہ غار سے استدلال اور اس کا جواب 212

شواہد اور مثالیں 215

اظہار حقیقت 216

بلعم بن باعوراء 217

برصیصائے عابد 217

نزول سکینہ رسول خدا(ص) پر ہوا 219

چھٹی نشست 220

شب چہار شنبہ 28 رجب سنہ1345ھ 220


علی علیہ السلام کی شان میں تین سو آیتیں 222

رسول اللہ(ص) پر سب سے پہلے ایمان لانے والے علی(ع) تھے 223

علی(ع) بچپن ہی سے پیغمبر(ص) کی تربیت میں 224

اسلام میں علی(ع) کی سبقت 225

علی(ع) کے ایمان طفلی میں اشکال اور اس کا جواب 228

بچپن میں علی(ع) کا ایمان ان کی عقل و فضل کی زیادتی کی دلیل ہے 229

علی(ع) کا ایمان کفر سے نہیں تھا، فطری تھا 231

علی (ع) تمام صحابہ اور امت سے افضل تھے 233

شب ہجرت بستر رسول (ص) پر سونے سے علی(ع) کی شان میں نزول آیت 236

سنی علماء کا اعتراف کہ غار میں مصاحبت ابوبکر سے علی(ع) کا بستر رسول (ص) پر سونا بہتر تھا 237

علمی مباحث اور دینی مناظروں میں عمر کے اندر کوئی تیزی نہیں تھی 239

عمر کا اقرار کہ علی(ع) مجھ سے علم و عمل میں بہتر ہیں 239

قول عمر لولاعلي لهلك عمر کے اسناد 240

بعض وہ مواقع جہاں علی(ع) نے خلفاء کو نجات دلائی اور انہوں نے اقرار کیا کہ اگر علی (ع) نہ ہوتے تو ہم ہلاک ہوجاتے 241

کسی میدان جنگ میں خلیفہ عمر کی کوئی شجاعت و پامردی نہیں دیکھی گئی 243

دوبارہ اظہار حقیقت 244

خیبر میں ابوبکر و عمر کی شکست 245


علی(ع) خدا اور رسول(ص) کے محبوب تھے 249

فتح خیبر میں حدیث رایت 249

ابوبکرو عمرکے برخلاف عثمان کا طرز عمل 253

عثمان کا بنی امیہ کے بدکاروں کو ترقی دینا 254

بنی امیہ ، حکم بن ابی العاص اور مروان خدا و رسول(ص) کے ملعون تھے 254

حکم بن ابی العاص 256

ولید فاسق نے نشے کی حالت میں نماز پڑھائی 257

عثمان کی غلط کاریاں ان کے قتل کا باعث ہوئیں 257

لوگوں میں غم وغصہ پھیلانا قتل عثمان تک منجر ہوا 258

اصحاب رسول(ص) پر عثمان کی زد و کوب 259

ابن مسعود کی زد و کوب اور ان کی موت 259

عثمان کے حکم سے عمار کی زد و کوب 260

ابوذر کی ایذا اور جلا وطنی اور صحرائے ربذہ میں ان کی وفات 261

ابوذر محبوب خدا اور رسول(ص) اور امت کےسب سے سچے انسان تھے 263

اںصاف سے فیصلہ کرنا چاہیئے تاکہ جہالت کے پردے چاک ہوں 264

ربذہ کی طرف ابوذر(رض) کا زبردستی اخراج 265

علی ابن ابیطالب (ع) کا رحم و کرم 266


زیادہ امداد مانگنے پر عقیل کی تنبیہ 267

مروان ، عبداللہ ابن زبیر اور عائشہ کے ساتھ حضرت کی عنایتیں 268

معاویہ کا پانی روکنا اور علی(ع) کا ان پر مہربانی کرنا 269

آیت میں جمع کی لفظ تعظیم و تکریم کے لیے ہے 270

باتفاق جمہور آیہ ولایت کا نزول علی(ع) کی شان میں 270

آیہ ولایت میں شبہات و اشکالات اور ان کے جوابات 272

حدیبیہ میں عمر(رض) کا نبوت پیغمبر(ص) میں شک کرنا 277

واقعہ حدیبیہ 277

خلاف امید باتیں 279

ساتویں نشست 281

( شب پنجشنبہ 29 رجب سنہ 1345 ہجری) 281

اتحاد مجازی و حقیقی میں فرق 282

پیغمبر علی(ع) کا اتحاد نفسانی 283

آیہ مباہلہ سے استدلال 284

نصارائے نجران سے پیغمبر(ص) کا مباحثہ 285

مباہلے کے لیے نصاری کی تیاری 285

اتحاد پیغمبر(ص) و علی(ع) پر اخبار و احادیث کے شواہد 288


چونکہ پیغمبر(ص) انبیاء پر افضل ہیں لہذا علی(ع) بھی ان سے افضل ہیں 290

انبیاء سے افضل ہونے کے سبب میں صعصعہ کے سوالات اور حضرت علی(ع) کے جوابات 291

علی (ع) تمام انبیاء کے آئینہ تھے 293

حدیث تشبیہ کے بارے میں گنجی شافعی کا بیان 294

مخالفین کا قول کہ اجماع برحق ہے 296

اجماع کے رد میں دلائل 298

بازیگروں سے اسامہ کی گفتگو 301

باتفاق فریقین اجماع کا واقع نہ ہونا 303

کبار صحابہ کی بیعت ابوبکر سے علیحدگی 304

حدیث ثقلین اور حدیث سفینہ 305

اس کی تردید کی ابوبکر سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے خلیفہ ہوئے 308

بوڑھے اصحاب کی موجودگی میں پیغمبر(ص) جوان علی(ع) کو ترجیح دیتے تھے 308

علی(ع) حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں 309

عمر کے اس قول کی تردید کہ نبوت و سلطنت ایک جگہ جمع نہ ہوگی 314

تعیین خلافت میں پھر اظہار حقیقت 315

چھ ماہ کے بعد زبردستی علی (ع) اور بنی ہاشم کی بیعت 318

بارہ دلیلیں اس پر کہ علی(ع) کو بزود شمشیر مسجد میں لے گئے 320


بے لاگ فیصلہ کرنا چاہیئے 323

جناب فاطمہ کے اسقاط حمل کی روایتیں 326

نصرت حق اور اثبات مظلومیت ضروری ہے 328

حدیث حب علی حسنہ و من بکی علی الحسین 330

میں اشکال اور اس کا جواب 330

بلاد اہل تسنن میں گناہوں کی گرم بازاری 330

اہل تسنن میں سے زمخشری کا اعتراف اور تنقید 331

کتب اہل تسنن سے حدیث حب علی حسنہ کے اسناد اور اس کے معنی 332

انکشاف حقیقت 334

کس اور ناکس میں فرق 336

گریہ اور مجالس عزا کا اثر اورنتیجہ 337

امام حسین (ع) جاہ و منصب کے خواہاں نہیں تھے 340

خمسہ نجباء ہرگندے عمل سے مبراء تھے 340

امام حسین(ع) کا قیام ریاست اور خلافت ظاہری کے لیے نہیں تھا 341

امام حسین (ع) کا قیام شجرہ طیبہ لا الہ الا اللہ کی حفاظت کے لیے تھا 342

امام حسین (ع) کی مظلومیت پر انگلینڈ کی خاتون کا مقالہ 350

نتیجہ مطلوب اور انکشاف حقیقت 351


زیارت کا ثواب اور اس کے فوائد 352

زیارت قبور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے اثرات 353


پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور جلد ١

پشاور میں ایک یاد گار مناظرہ خورشید خاور --ترجمہ-- شبہائے پشاور

اصلاح کتب

مؤلف: سلطان الواعظین آقائے سید محمد شیرازی
قسم: مناظرے
صفحے: 369