ساحل کوثر

مؤلف: علی اصغر رضوانی
اسلامی شخصیتیں


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


کتاب کا نام: ساحل کوثر

مولف: الياس محمد بيگی

مترجم: سید مراد رضا رضوی


پہلی فصل : قم کا روشن ماضی

شہر قم کا تاریخی سابقہ

بعض حضرات قم کو قدیم شہروں میں شمار کرتے ہیں اور اسے آثار قدیمہ میں سے ایک قدیم اثر سمجھتے ہیں نیز شواہد و قرائن کے ذریعہ استدلال بھی کرتے ہیں مثلا قمی زعفران کا تذکرہ بعض ان کتابوں میں ملتا ہے کہ جو عہد ساسانی سے مربوط ہیں ۔ نیز شاہنامہ فردوسی میں ۲۳ ء ھ کے حوادث میں قم کا ذکر بھی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ کہ قم اور ساوہ بادشاہ ” تہمورث پیشدادی “ کے ہاتھوں بنا ہے ۔

لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تمام دلیلیں مدعا کو ثابت نہیں کرتی ہیں کیونکہ عہد ساسانی میں قم کی جغرافیائی و طبیعی حالت ایسی نہ تھی کہ وہاں شہر بنایا جا تا بلکہ ایسا شہر تہمورث کے ہاتھوں بنا یا جا نا ایک قدیم افسانہ ہے جس کی کوئی تاریخی اہمیت نہیں ہے علاوہ ازیں شاہنامہ فردوسی میں ۲۳ ء ھ کے حوادث میں قم کا ذکر اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتا کہ اس دور میں بھی یہ زمین اسی نام سے موسوم تھی کیونکہ فردوسی نے اپنے اشعار میں محل فتوحات کے نام اس زمانے کے شہرت یافتہ و معروف ناموں سے یاد کیا ہے نہ کہ وہ نام کہ جو زمان فتوحات میں موجود تھے ۔ اسناد تاریخ اور فتوحات ایران کہ جو خلیفہ مسلمین کے ہاتھوں ہوئی اس میں سرزمین قم کو بنام ” شق ثمیرۃ “ یاد کیا گیا ہے ۔

اس بنا پر شہر قم بھی شہر نجف ، کربلا ، مشہد مقدس کی طرح ان شہروں میں شمار ہوتا ہے کہ جو اسلام میں ظاہر ہوئے ہیں ایسی صورت میں اس کے اسباب وجود کو مذہبی و سیاسی رخ سے دیکھنا ہوگا ۔(۱)

قم کی طرف خاندان اشعری کی ہجرت

قم اسلامی شہروں میں سے ایک شہر ہے ۔ جس نے خاندان اشعری(۲) کے اس سرزمین پر ۸۳ ھ(۳) میں وارد ہونے اور ان کے سکونت پذیر ہونے کے بعد وجود پیدا کیا ہے اور اس کا نام قم رکھا گیا ۔

یہاں پر لازم ہے کہ خاندان اشعری کی ہجرت کے اسباب و علل پر توضیح دی جائے :

خاندان اشعری حاکم کوفہ حجاج کے ظلم و ستم اور اپنے خاندان کی برجستہ شخصیت کے قتل کے بعد امن و سلامتی کا فقدان محسوس کرنے لگے تو جلا وطنی اختیار کر کے ایران کی طرف روانہ ہوگئے چلتے چلتے نہاوند پہنچے ، وہاں ایک وبا میں مبتلا ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ جاں بحق ہوگئے ۔ لہٰذا وہاں سے دوبارہ کوچ اختیار کرلیا اور اسی طرح آبلہ پائی کرتے ہوئے سرزمین قم پر وارد ہوگئے ان لوگوں کے قم آنے کی علت کیا تھی اس کے لئے ان کے جدبزرگ مالک کی فتوحات کوجنگ قادسیہ میںدیکھناپڑے گا

مالک ، فراہان و تفرش اور آشتیان و ساوہ کو فتح کرنے کے بعد قوم دیلم کے ساتھ کہ جو لوگوں کے اموال کو ہڑپ لیتے اور وہاں کے رہنے والوں کی ناموس پر تجاوز کرتے تھے ۔ آمادہ پیکار ہوگئے اور انھیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور نیست و نابود کردیا اور جو ناموس انکے دست ستم سے اسیر تھیں انھیں آزاد کردیا اس زمانے کے لوگ خود کو مالک کا آزاد کردہ سمجھتے تھے ان لوگوں نے اس واقعہ کو ہمیشہ یاد رکھا ۔ قبیلہ اشعری کہ جو اس دیار کے نام سے آشنا تھے مستقل سکونت کے لئے اس سرزمین کی طرف روانہ ہوگئے جب یہ لوگ منزل ” تقرود “ ( جو ساوہ کے قرب و جوار میں ہے ) پہنچے تو احوص نے اس سر سبز و شاداب سرزمین کو سکونت اختیار کرنے کے لئے مناسب سمجھا تو وہاں قیام کے لئے غور و فکر کرنے لگے ۔

اعراب کی منزلگاہ کوہ یزدان ( در میان تقرود و قم )کی وادی میں تھی اسی وجہ سے آہستہ آہستہ خاندان اشعری کے ورود کی خبر یزدان پائدار (یزدانفاذار) زرد تشتیوں کے سردار تک پہنچ گئی ، وہ ان لوگوں کی آمد سے بہت خوش ہوا اور اس امر کی تصمیم کی کہ دیلمیوں کے حملے سے اپنی سرزمین کی حفاظت کے لئے ان لوگوں کو قم میں پناہ گزیں کرے گا نیز ظالم قوم ، دیلم کی سرکوبی نے کہ جو احوص اور ان کے ساتھیوں کے ذریعہ ہوئی تھی یزدانفاذار کو اس سلسلے میں اور مصمم تر کردیا ( وہی حملہ مجدد جو احوص کے ہاتھوں ان منطقوں ہر ہوا تھا ) فتح و ظفر کی خبرسن کر وہ بذات خود احوص کے استقبال کے لئے روانہ ہوگیا اور تشکر کے عنوان سے ان کے سروں پر زعفران اور درہم نچھاور کئے ۔ ان کی قوم کو اس زمانے کے مشہور و معروف قلعے میں جگہ دی ان لوگوں نے اپنی چادروں کے ذریعہ ان قلعوں کے درمیان فاصلہ قائم کیا ۔ عبد اللہ ( احوص کے بھائی ) کے لئے اقامہ نماز اور احکام اسلام کے بیان کی خاطر ایک مسجد کی بنیاد ڈالی ۔ زرد تشتیوں نے مسلمانوں کے ساتھ اتنی صمیمیت و محبت پیدا کرلی کہ آپس میں بردباری و مواسات کے عہد نامے نیز پیمان دفاعی پر دستخط کردیا ۔ اس طرح مسلمان اعراب نے روز بروز اپنے محل سکونت کو وسعت دینا شروع کردیا اور بہت سارے گھر اور کھیتیاں خرید لیں اسی وجہ سے جدا جدا قلعے نئے نئے مکانات بننے کی وجہ سے آپس میں متصل ہونے لگے اس طرح ایک مکمل شہر وجود میں آگیا اور سب سے پہلے مسجد اس شہر میں بنائی گئی ۔

مذکورہ عہد و پیمان یزدانفاذار کی آنکھ بند ہونے تک بخوبی اجرا ہو رہے تھے ۔ اور مسلمانوں و زرد تشت دو قومیں آپس میں صلح و آشتی کی زندگی گزار رہی تھیں ۔ لیکن یزدانفاذار کی موت کے بعد اس کی اولاد مسلمانوں کی روز افزون حشمت و ثروت اور ان کے وسیع و مرتبہ و با جلالت مکانات دیکھ کر خود کو ذلیل و رسوا سمجھنے لگی اور اس سلسلے میں فکر کرنے لگی یہاں تک کے وہ لوگ پیمان شکنی پر آمادہ ہوگئے اور عبد اللہ و احوص ( بزرگان خاندان اشعری ) سے اصرار کرنے لگے کہ اپنی قوم کے ساتھ اس سرزمین سے باہر چلے جائیں عبد اللہ و احوص نے ان لوگوں کو بے حد پند و نصیحت کی اور انھیں وفائے عہد و پیمان کی دعوت دی ، عہد شکنی کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے انھیں ڈرایا لیکن قوم زرد تشت اسی طرح اپنی باتوں پر اڑی رہی اور نئے سال کی چودہ تاریخ تک کی مہلت دی تا کہ جو کچھ بھی ہے اسے فروخت کرکے یہاں سے چلے جائیں ۔

اس فاصلہ زمانی میں احوص نے بزرگان قبیلے سے مشورت کے بعد ارادہ کیا کہ سال کے آخری چہارشنبہ میں اس دیار کو زرد تشتیوں اور چالیس قلعوں کے بزرگوں سے نجات دلائیں گے نیز پاک سرشت افراد کے اسلام سے گرویدہ ہونے کی راہنمائی کریں گے ۔ اسی عزم کی بنیاد پر چالیس لوگوں کو مامور کیا کہ اس شب میں کہ جب زرد تشت جشن و خوشحالی اور شراب نوشی میں مشغول ہوں تو یہ لوگ ان قلعوں میں پہنچ کر ان قلعوں کے خداوں کو نیست و نابود کردیں ۔ یہ پالیسی بہت اچھی طرح کامیاب ہوئی اور زرد تشتیوں کے فتنہ پرور سردار اس شہر سے نکل بھاگے ۔ قلعہ کفر لجاجت منہدم ہوگیا وہاں کے لوگ آزادی محسوس کرتے ہوئے گروہ در گروہ مسلمان ہونے لگے اور آتشکدے یکی بعد دیگرے خاموش ہو کر مسجدوں میں تبدیل ہوگئے اس طرح سے مسلمانوں نے احوص و عبد اللہ اشعری کی رہبری میں سر بلندی حاصل کی(۴) اور شہر قم بعنوان شہر امامی مذہب معرض وجود میں منصئہ شہود پر ظہور پذیر ہوگیا ۔ اور امامی شیعوں کا فقہی مکتب عبد اللہ بن سعد اور ان کے فرزندوں کے ہاتھوں اس شہر میں قائم ہوا ۔ گزشت زمان کے ساتھ ساتھ قم پیرو فقہ اہلبیت کے شہر سے معروف ہوگیا اس طرح اس شہر نے ایک درخشاں ستارہ کی طرح عالم اسلام کے مطلع پر تابناکی حاصل کر لی ۔ آہستہ آہستہ یہ شہر پیروان امامت و ولایت کا مامن و پناہ گاہ قرار پاگیا ۔ یہاں تک کہ مہاجر شیعوں کی تعداد چھ ۶ ہزار تک پہنچ گئی ۔(۵)

قم کا فرہنگی ، سیاسی سابقہ

اہل قم نے ایسی اہمیت و عظمت حاصل کی کہ گویا حکومت اسلامی کے مرکز میں زندگی بسر کر رہے ہیں لہٰذا آغاز ظہور خلافت عباسی میں ۱۳۲ ئھ سے لے کر حکومت ہارون کے اواخر تک ان لوگوں نے حکومت وقت کو ٹیکس نہیں دیا اور کسی خلیفہ میں اتنی جرات و ہمت نہ ہوئی کہ ان سے مقابلہ کرتا ۔

ہارون الرشید کی خلافت کے زمانے میں جس میں اسلامی حکومت نے بیشترین وسعت حاصل کی ۱۸۴ ئھ میں یہ طے پایا کہ محبان اہلبیت کو تحت فشار قرار دیا جائے اور ظلم و ستم کے مخالف اہل قم کی سر کوبی کی جائے ۔ اسی عزم کے تحت ہارون نے عبد اللہ بن کوشید قمی کو حکومت اصفہان ( قم اس وقت اصفہان کے توابع میں شمار ہوتا تھا ) کا حاکم قرار دیا تا کہ وہ پچاس سال سے زیادہ کا ٹیکس قم سے وصول کرے ۔ اس نے اپنے بھائی عاصم کو عامل قرار دیا ۔ عاصم مختلف اذیتوں اور آزار کے با وجود گذشتہ مالیات سے ایک درہم بھی نہ لے سکا لیکن اس نے اسی طرح مظالم کو جاری رکھا یہاں تک کہ بعض بزرگوں نے شفاعت و سفارش کی لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا ان واسطوں کے بے اثر ہونے کے بعد عاصم بعض جان باز افراد کے ہاتھوں ہلاک ہوگیا ۔یہی واقعہ باعث ہوا کہ عبد اللہ حکومت اصفہان سے معزول ہوگیا لیکن وہ فوراً دارالخلافہ روانہ ہوا اور اس دس ہزار درہم دے کر گزارش کی کہ اسے اس کے عہدے پر باقی رہنے دیا جائے اس شرط کے ساتھ کہ اصفہان کی تابعیت سے قم خارج ہوجائے ۔ آخر کار قانع کنندہ توضیحات اور حمزہ بن یسع ( از بزرگان قم ) کے بیانات اور شہر کے ٹیکس کے ذمہ دار ہونے کے بعد ہارون نے قم کی استقلالیت کو قبول کرلیا اس کے حدود کی تعیین کے بعد جامع مسجد بنائی گئی نیز امام جمعہ کے لئے ایک منبر نصب کیا گیا ۔ ( یہ استقلال کی علامت تھی )(۶)

استقلال کے وقت اس سرزمین پر دو شہر موجود تھے ایک نیا اسلامی شہر بنام قم اور دوسرا زرد تشتیوں کا شہر بنام ” کلیدان “ حکومتی کارندے اور شہر کا قید خانہ وہیں تھا کیونکہ اہل قم عاملان حکومت کو اپنے شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہے تھے ۔

ستمگروں سے اہل قم کا مبارزہ

اہل قم اپنے زمانے کے ستمگر حاکموں سے ہمیشہ دست و گریباں رہے اور موقع پاکر شورش و انقلاب بھی برپا کرتے تھے ۔ (نیز ٹیکس دینے ) اور حکومت کی اقتصادی حمایت سے پرہیز کرتے تھے ۔

امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد اور مامون کے مظالم سے آگاہی کے بعد اہل قم نے ۲۰۳ ئھ اس فاجعہ عظیم کی بنیاد پر بعنوان اعتراض اور ولایت و امامت کے مقدس حریم کی حمایت کرتے ہوئے ایک بے سابقہ انقلاب برپا کردیا اور عباسی حکمرانوں کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرلی سالانہ مالیات دینے سے انکار کردیا ۔ اس انقلاب نے دس سال تک طول پکڑا آخر کار علی بن ہشام کی قیادت میں سپاہیوں کی یورش سے بہت سارے بزرگان شہر جن میں یحییٰ بن عمران ( اہل قم کے بزرگ جو اس قیام کے نظام کو سنبھالے تھے ) بھی تھے قتل کردئے گئے شہر کا ایک حصہ بر باد ہو گیا اور گزشتہ مالیات بھی (زبردستی) وصول لی گئی ، اہل شہر آہستہ آہستہ شہر کو بنانے لگے یہاں تک کہ ۲۱۶ ہجری تک شہر پھر ایک اطمینان بخش حالات میں تبدیل ہو گیا ۔

اسی سال ( معتصم کی خلافت کے زمانے میں ) لوگوں نے قم کے دار الحکومت پر حملہ کردیا اور شہر کے عامل ( طلحی ) کو شہر سے باہر نکال دیا اور علم مخالفت بلند کردیا ۔ طلحی کے بھڑکانے پر معتصم نے وصیف ترک کی سر براہی میں سپاہی روانہ کئے تا کہ اہل شہر کو خاموش کیا جائے اس نے بھگائے ہوئے حاکم کی مدد سے مختلف حیلہ و مکر کے ذریعہ شہر میں راستہ بنا لیا اس کے سپاہی اہل شہر کے قتل اور غارت گری میں مشغول ہوگئے اور انقلابی افراد کے گھروں ، باغوں میں آگ لگانے لگے اس طرح شہر کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ۔ لیکن اس تمام قتل و غرت گری نے نفرت و بیزاری کے سوا کچھ نہ دیا ۔ اسی مخالفت و اعتراض کی بنیاد پر ایک شخص کو بنام محمد بن عیسیٰ ( جو کہ ایک خوشخو اور انسان دوست شخص تھا ) قم کی حاکمیت سونپی گئی ۔ نئے حاکم نے اپنی ساجھ بوجھ کے ذریعہ لوگوں کی رضایت حاصل کی اور محبت کی بیچ کو ان کے درمیان چھینٹ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۲۴۵ ہجری تک شہر میں کوئی حادثہ رونما نہیں ہوا ۔

آخر کار متوکل ( ایک جسور اور لا ابالی شخص ، جسے مقدسات دین کی اہانت کرتے ہوئے کوئی خوف و ہراس محسوس نہ ہوتا تھا مثلاً علی الاعلان حضرت علی اور حضرت صدیقہ طاہرہ علیہما السلام کو گالی دینا ، مرقد امام حسین علیہ السلام کو تاراج کرنا ) کی خلافت کے زمانے میں عاشق ولایت و امامت اہل قم بزرگان دین کے ساتھ ایسی جسار تیں اور اہانتیں دیکھنے کے بعد اس قدر غصہ ہوئے کہ موقع نکال کر حکومت عباسی کے معارضین مانند حسین کوکبی ( اشراف سادات علوی ) کا ساتھ دے کر ایک چھوٹی سے علوی حکومت تشکیل دےدی اور حکومت کے عمال کو نکال دیا ۔ تین سال تک یہ حکومت برقرار رہی ۔ آخر کار معتمد عباسی نے ”بلادجبل “ کے حاکم کو مامور کیا کہ حکومت علوی کو ختم کر کے قمیوں کے قیام کی سر کوبی کرے ۔ اس نے ایک کثیر فوج کے ساتھ حسین کوکبی کی حکومت کو ختم کرنے کے بعد اہل قم کو سرکوب کرنا اور ان کے بزرگوں کو قتل کرنا شروع کردیا ۔ بعض کو قید کر دیا ۔ لوگوں پر ظلم وستم کرنے میں اس نے اتنی زیادتی کی کہ ان لوگوں نے امان پانے کے لئے امام حسن عسکری علیہ السلام کی پناہ اختیار کی حضرت نے اس شر عظیم سے نجات پانے کے لئے انہیں ایک دعا تعلیم فرمائی کہ اسے نماز شب میں پڑھیں ، یہ سر کوبیاں ، انقلاب اور ظلم و ستم کے خلاف قیام کے آتش فشاں کو خموش نہ کر سکیں ۔

اسی بنا پر اہل قم نے فقط معتمد سے در گیری کی وجہ سے یعقوب لیث کے ہمراہ ۲۶۳ ہجری میں دوبارہ اس کے مقابلے میں قیام کردیا ۔ یہ انقلاب کبھی کبھی ظہور پذیر ہوتا تھا ۔ یہاں تک کہ معتضد عباسی کی طرف سے یحییٰ بن اسحاق جو شیعہ تھے قم کے حاکم منصوب ہوئے وہ چونکہ نرم خو اور تجربہ کار انسان تھے اس لئے کوشش کی کہ خلفاء کی طرف سے لوگوں کا بغض و کینہ کم ہوجائے اور شورش و ہنگامہ کو روک سکیں وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب رہے ۔ ان کی مدد سے امن و امان اور شہر میں بنیادی اقدامات ہونے لگے ۔ مثلاً اس سرزمین کا آخری آتشکدہ بجھایا گیا ، ایک عظیم منارہ و ماذنہ مسجد ابو الصدیم اشعری کے پاس تعمیر کیا گیا جس کی اذان کی آواز شہر کو دونوں حصوں میں پہنچتی تھی ۔(۷)

فرہنگی ، سیاسی انقلاب

اسی زمانے میں علی بن بابویہ نے اپنی مرجعیت عامہ کے ذریع ایک بے نظیر اور پر برکت مکتب کا قم میں قیام کیا جس میں تربیت پانے والوں کی تعداد دو لاکھ تک نقل کی گئی ہے ۔(۸)

ستارہ بابویہ ہی کے طلوع کے بعد حکومت سے مبارزہ کی روش بالکل بدل گئی اور ان لوگوں نے اصولی جنگ شروع کردی۔ ایک طرف تو فرزندان بابویہ کو تقویت بخشی اور ان کی قدرت سے یکی بعد دیگری خلفاء کو ہٹا تے رہے اور طبرستان میں حکومت آل علی علیہ السلام بنام ” ناصر کبیر و ناصر صغیر “ وجود میں لے آئے تو دوسری طرف علمائے اسلام تبلیغ و ترویج معارف دینی کی خاطر قم سے امراء کی خدمت میں پہنچ گئے اور ان میں سے اکثر و بیشتر مقام وزارت و امارت و ریاست پر پہنچ گئے اور نام وزرائے قم زینت بخش تاریخ حکومت و سیاست ہوگیا ۔ حکومت رکن الدولہ دیلمی کے دور میں ابن بابویہ کے مشورہ سے ابن العمید کی وزارت اور آپ کی صلاحدید کا نتیجہ تھا کہ استاد ابن العمید کی دعوت پر شیخ صدوق نے قم سے ری کا سفر اختیار کیا ، نیز گرانقدر علمی و فرہنگی آثار جو اسی ہجرت کا نتیجہ تھے تمام کے تمام اسی بزرگ زعیم شیعی کے سیاسی اقدامات کا ثمرہ ہیں ۔

اسی طرح ابن قولویہ مرحوم کا بغداد کا سفر کرنا اور وہاں مسجد براثا میں مکتب فقہ جعفری کا قیام کرنا نیز مختلف علمی ، فرہنگی اقدامات جنہوں نے تمام عالم اسلام میں وسعت پیدا کی تمام کے تمام قم مکتب ابن بابویہ کی برکتوں سے تھے ۔ یہ اسی پر برکت مکتب کا ثمرہ تھا کہ جس نے محدود انقلاب کو عظیم فرہنگی ، سیاسی انقلاب میں تبدیل کردیا اور بڑے بڑے سیاسی ، فرہنگی عہدے مکتب اہلبیت علیہم السلام کے تربیت یافتہ افراد کے اختیار میں آگئے اور حکومت عدل و معارف شیعی کی پیاسی بشریت کو اسلام حقیقی اور شیعیت کے صاف و شفاف چشمہ سے سیراب کر دیا(۹) یہ نورانی ستارہ اپنی روز افزون آب و تاب کے ساتھ آج بھی لاکھوں مسلمانوں کی مشعل راہ اور ناامیدوں کی امید ہے در حقیقت قم ام القرائے عالم اسلام ، حرم اہلبیت اور آشیانہ آل محمد علیہم السلام ہے ۔

قم کی مذہبی نورانیت

مذہبی اور روحانی اعتبار سے قم کے امتیاز اور اس کی شرافت سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ کل سے لے کر آج تک تیرہ سو سال کی مدت میں شیعیت کا مرکز علم و آگہی ، فضیلت و کرامت کا گہوارہ ، حکمت و معرفت کا جوش مارتا ہوا سر چشمہ ، یہی مقدس شہر جسے قم کہا جاتا ہے ۔ آئیں تشیع اور نشر معارف دینی و فرہنگی اسلام کے احیاء میں علمائے قم کی زحمتیں اس حد تک پھلدار ثابت ہوئیں کہ تاج کرامت ان کے سروں سجا دیا گیا ۔ ”لولا القمیون لضاع الدین(۱۰) ( اگر اہل قم نہ ہوتے تو دین برباد ہو جاتا ) ۔ ہاں قم ایک ایسا شہر ہے جس کی پہلی معنوی بنیاد اصحاب و محبان اہلبیت علیہم السلام نے ڈالی ۔ خاندان اشعری نے ایمان و تولائے آل محمد علیہم السلام کے مسالے سے اس عمارت کو تعمیر کیا اور اس شہر کی بنیاد ۸۳ ہجری(۱۱) میں ڈالی اور امام محمد باقر و امام جعفر صادق علیہما السلام کے زمانے میں اس کی طراحی ہوئی یہ شہر مرکز اسلام کی سر براہی میں ایک مستقل ملک کی طرح خاص مقررات اور مزیت کا حامل تھا حتی اس دور میں بھی کہ جب شیعوں نے گھٹن کا دور دیکھا ہے اہل قم نے بدون تقیہ با کمال آزادی اس دیار مقدس میں آثار واخبار آل محمد علیہم السلام اور انکی تدوین میں کوئی کم و کاست نہ کی نیز اذان کے فلک شگاف نعرہ میں فراز ارتفاعات پر ولایت علی علیہ السلام کی شہادت دیتے تھے ۔ مکتب امامیہ خاندان اشعری کے توسط سے پہلی مرتبہ قم میں افتتاح پذیر ہوا جس میں فقہ شیعہ علی الاعلان پڑھائی جاتی تھی ۔ اس طرح ہدایت کے مشعل اس شہر میں روشن ہو گئی ۔ یہی وجہ ہے کہ اہل قم ہمیشہ ائمہ معصومین کی عنایت خاصہ کے مورد نظر رہے ۔ ائمہ معصومین علیہم السلام نے قم اور اہل قم کی فضیلت و عظمت کے بارے میں مختلف حدیثیں ارشاد فرمائی ہیں ان احادیث میں سے کچھ چنندہ حدیثیں ذکر کی جاتی ہیں :

۱- قال رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم لما اسری بن الی السماء حملنی جبرئیل علی کتفه الایمن فنظرت الی بقعة بارض الجبل حمراء احسن لونا من الزعفران و اطیب ریحا من المسک فاذا فیها شیخ علی راٴسه برنس فقلت لجبرئیل : ما هذه البقعة الحمراء التی هی احسن لونا من الزعفران و اٴطیب ریحا من المسک ؟

قال : بقعة شیعتک و شیعة وصیک علی علیه السلام فقلت: من الشیخ صاحب البرنس ؟ قال : ابلیس فقلت : فما یرید منهم ؟ قال : یرید ان یصدهم عن ولایة امیر المومنین و یدعوهم الی الفسق و الفجور قلت : یا جبرئیل اهو بنا الیهم ، فاٴهویٰ بنا الیهم اسرع من البرق الخاطف و البصر الامع ، فقلت : قم یا ملعون ! فشارک اعدائهم فی اموالهم و اولادهم فان شیعتی و شیعة علیٍ لیس لک علیهم سلطان ، فسمیت قم(۱۲)

ترجمہ : رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ فرماتے ہیں : کہ جب مجھے آسمان کی سیر کرائی گئی تو جبرئیل نے مجھے اپنے داہنے شانے پر اٹھایا تو اس وقت میں نے ” ارض جبل “ میں ایک بقعہ کی طرف دیکھا جو سرخ رنگ اور زعفران سے زیادہ خوش رنگ اور مشک سے زیادہ خوشبو دار تھی ، ناگہاں اس سرزمین پر ایک بوڑھے کو دیکھا جس کے سر پر ایک لمبی سی ٹوپی تھی ۔ میں نے جبریل سے پو چھا! یہ کون سی زمین ہے کہ جس کی سرخی زعفران سے زیادہ خوش رنگ اور جس کی خوشبو مشک سے زیادہ ہے ؟ تو جبرئیل نے جواب دیا : یہ آپ کے اور آپ کے وصی علی علیہ السلام کے شیعوں کا بقعہ ہے ۔ پھر میں نے پوچھا : یہ بوڑھا کون ہے جس کے سر پر ایک لمبی سی ٹوپی ہے ؟ تو جبرئیل نے جواب دیا : ابلیس ہے (یہ سنتے ہی ) میں نے ( جبرئیل سے ) کہا :اے جبرئیل مجھے وہاں لے چلو جبرئیل نے برق رفتاری سے بھی زودتر مجھے وہاں پہنچا دیا ۔ پس میں نے اس سے کہا : اٹھ جا ائے ملعون اور دشمنان شیعہ کے اموال و اولاد و خواتین میں شریک ہو کیونکہ میرے اور علی کے دوستداروں پر تیرا کوئی تسلط نہیں ہے ۔ اسی وجہ سے اس کا نام ” قم “ ہو گیا ۔(۱۳)

۲-قال الصادق علیه السلام : انما سمی قم لان اهله یجتمعون مع قائم آل محمد و یقومون معه و یستقیمون علیه و ینصرونه ۔(۱۴)

ترجمہ : امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اس شہر کا نام قم اس لئے رکھا گیا کہ اس شہر کے لوگ قائم آل محمد علیہم السلام کے ساتھ اجتماع کریں گے اور ان کے ساتھ قیام کریں گے اور اسپرڈٹے رہیں گے نیز ان کی مدد کریں گے ۔

۳-قال الامام کاظم علیه السلام : قم عش آل محمد و ماٴوی شیعتهم ۔

ترجمہ : امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا : قم آشیانہ آل محمد اور شیعوں کی پناہ گاہ ہے ۔(۱۵)

۴-قال الامام الرضا علیه السلام : ان للجنة ثمانیة ابواب و لاهل قم واحد منها فطوبی لهم ثم طوبی لهم ثم طوبی لهم (۱۶)

ترجمہ : امام رضا علیہ السلام نے فرمایا : بہشت کے آٹھ ابواب ہیں ان میں سے ایک اہل قم کے لئے ہے پس ان کے لئے خوشا بحال ۔ (حضرت نے یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا )

۵-قال الامام الصادق علیه السلام : سیاٴ تی زمان تکون بلدة قم و اهلها حجة علی الخلائق و ذلک فی زمان غیبة قائمنا الی ظهوره ۔(۱۷)

ترجمہ : امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : ایک زمانہ ایسا آئے گا شہر قم اور وہاں کے رہنے والے تمام لوگوں پر حجت ہونگے اور یہ زمانہ ہمارے قائم (عج) کی غیبت میں ہوگا یہاں تک کہ وہ ظہور کریں ۔

۶-قال الامام الصادق علیه السلام :تربة قم مقدسة و اهلها منا و نحن منهم لا یریدهم جبار بسوء الا عجلت عقوبته ما لم یخونوا اخوانهم ۔(۱۸)

ترجمہ : امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : تربت قم مقدس ہے اہل قم ہم میں سے ہیں اور ہم ان سے ہیں کوئی ستمگر ان کے ساتھ برائی کا قصد نہیں کرسکتا ہے مگر یہ کہ اس کے عذاب میں تعجیل ہوگی تا وقتیکہ لوگ اپنے دینی بھائی سے خیانت نہ کریں ۔

۷-قال الامام الصادق علیه السلام : محشر الناس کلهم الی بیت المقدس الا بقعة بارض الجبل یقال لها قم فانهم یحاسبوا فی حفرهم و یحشرون من حفرهم الی الجنة ۔(۱۹)

ترجمہ : امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : تمام لوگ بیت المقدس کی طرف محشور ہوں گے مگر سرزمین ” ارض الجبل “ کے افراد جسے قم کہتے ہیں ان لوگوں کا حساب انہی کی قبروں میں ہوگا اور وہیں سے جنت کی طرف محشور ہوں گے ۔

۸-عن الامام الصادق علیه السلام : ( ا نه علیه السلام اشار الی عیسی بن عبد الله ) فقال : سلام الله علی اهل قم ، یسقی الله بلادهم الغیث و ینزل الله علیهم البرکات و یبدل الله سیاٴتهم حسنات هم اهل رکوع و سجود و قیام و قعود ، هم الفقهاء الفهماء هم اهل الدرایة و الروایة و حسن العبادة ۔(۲۰)

ترجمہ : امام صادق علیہ السلام نے عیسیٰ بن عبد اللہ قمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اہل قم پر خدا کا سلام ہو ، خدا ان کے شہر کو بارش رحمت سے سیراب کرے اور ان پر برکتیں نازل فرمائے ، ان کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل ڈالے ۔ یہ لوگ اہل رکوع و سجود و قیام و قعود ہیں یہ لوگ فہمیدہ فقہاء ہیں ۔ یہ لوگ اہل روایت و درایت اور بہترین عبادت کرنے والے ہیں ۔

۹-قال ابو الصلت الهروی کنت عند الرضا علیه السلام فدخل علیه قوم من اهل قم فسلموا علیه فرد علیهم و قربهم ثم قال لهم : مرحبا بکم و اهلا فاٴنتم شیعتنا حقا ۔(۲۱)

ترجمہ : ابو صلت ہروی کہتے ہیں کہ ہم لوگ امام رضا علیہ السلام کے پاس تھے کہ اسی اثناء میں قم کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے پس ان لوگوں نے حضرت کو سلام کیا تو حضرت نے جواب سلام دیا اور اپنے نزدیک بیٹھا یا پھر ان سے فرمایا ۔ مرحبا خوش آمدید تم لوگ ہمارے حقیقی شیعہ ہو ۔

۱۰-قال الامام الصادق علیه السلام : ستخلو کوفة من المومنین و یاٴزر عنها العلم کما تاٴزر الحیة فی حجرها ثم یظهر العلم ببلدة یقال لها قم ، یصیر معدنا للعلم و الفضل ۔(۲۲)

ترجمہ : امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : عنقریب کوفہ مومنوں سے خالی ہو جائے گا اور علم وہاں سے اس طرح جمع ہو جائے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں خود کو لپیٹ لیتا ہے پھر ایک شہر میں علم ظاہر ہوگا جسے قم کہتے ہیں اور وہ مرکز علم و فضل قرار پائے گا ۔

۱۱-روی بعض اصحابنا قال : کنت عند ابی عبد الله علیه السلام جالسا اذ قرء هذه الآیة : ”فاذا جاء وعد اولٰهما بعثناعلیکم عبادا لنا اولیٰ باٴس شدید فجاسوا خلال الدیار و کان وعدا مفعولا “ (سورة بنی اسرائیل / ۵) فقلنا : جعلنا فداک من هولاء ؟ فقال ثلاث مرات هم والله اهل قم ۔(۲۳)

ترجمہ : ہمارے بعض اصحاب نے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں : میں امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس بیٹھا تھا کہ اسی اثناء میں آپ نے اس آیہ شریفہ ” فاذا جاء وعد“ (پھر جب ان دو فسانوں میں پہلے کا وقت آپہونچا تو ہم نے تم پر کچھ اپنے بندوں (بخت النصر) اور اس کی فوج مسلط کردیا جو بڑے سخت لڑنے والے تھے تو وہ لوگ تمہارے گھروں میں گھسے( اور خوب قتل و غارت کیا اور خدا کے عذاب کا وعدہ تو پورا ہو کر رہا ) کی تلاوت فرمائی ۔ تو ہم لوگوں نے پوچھا ہماری جانیں آپ پر قربان ہوں اس آیت سے مراد کون لوگ ہیں تو آپ نے تین مرتبہ فرمایا خدا کی قسم وہ اہل قم ہیں ۔

۱۲-قال الامام الکاظم علیه السلام : رجل من اهل قم یدعو الناس الی الحق یجتمع معه قوم کزبر الحدید لا تزلهم الریاح العواصف و لا یملون من الحرب و لا یجبنون و علی الله یتوکلون و العاقبة للمتقین ۔(۲۴)

ترجمہ : امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا : اہل قم میں سے ایک شخص لوگوں کو حق کی دعوت دے گا ۔ ایک گروہ آہن کی طرح استحکام کے ساتھ اس کی ہمراہی کرے گا جسے حوادث کی تند ہوائیں ہلا نہیں پائیں گی وہ لوگ جنگ سے تھکن محسوس نہیں کریں گے ، اور نہ ہی ڈریں گے وہ لوگ خدا پر بھروسہ رکھنے والے ہونگے ( بہترین ) عاقبت تو پرہیزگاروں کے لئے ہے ۔

۱۳-قال الامام الصادق علیه السلام : ان الله احتج بالکوفة علی سائر البلاد و بالمومنین من اهلها علی غیرهم من اهل البلاد و احتج ببلدة قم علی سائر البلاد و باهلها علی جمیع اهل المشرق و المغرب من الجن و الانس و لم یدع الله قم و اهلها مستضعفا بل وفقهم و ایدهم ۔(۲۵)

ترجمہ : امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : اللہ نے کوفے کو سارے شہر پر حجت قرار دیا ہے اور وہاں کے با ایمان افراد کو دوسرے شہر کے لوگوں پر حجت قرار دیا ہے اور شہر قم کو دوسرے شہروں پر حجت قرار دیا ہے اور وہاں کے لوگوں کو مشرق و مغرب کے تمام جن و انس پر حجت قرار دیا ہے ۔ خداوند عالم نے قم اور اہل قم کو یونہی نہیں چھوڑدیا کہ مستضعف اور غریب ( فکری و فرہنگی ) ہوجائیں بلکہ انہیں توفیق دی اور ان کی تائید فرمائی ہے ۔

۱۴-قال الامام الصادق علیه السلام : ان لِلّٰهِ حرما و هو مکه و ان للرسول حرما و هو المدینه و ان لامیرالمومنین حرما و هو الکوفة و ان لنا حرما و هو قم و ستدفن فیها امراٴة من اولادی تسمی فاطمة فمن زارها وجبت له الجنة (قال الراوی : و کان هذا الکلام منه قبل ان یولد الکاظم علیه السلام ) ۔(۲۶)

ترجمہ : امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : بے شک خدا کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مکہ ہے ، رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مدینہ ہے امیرلمومنین علیہ السلام کے لئے ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے ، ہمارے لئے ایک حرم ہے اور وہ قم ہے عنقریب ہماری اولاد میں سے ایک خاتون وہاں دفن کی جائے گی جس کا نام فاطمہ ہوگا جو اس کی زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہوگی ۔

راوی کہتا ہے کہ امام علیہ السلام نے یہ حدیث اس وقت ارشاد فرمائی تھی کہ جب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے ۔

اس کے علاوہ ائمہ معصومین علیہم السلام اہل قم اور وہاں کے بعض بزرگوں کو اپنی عنایتوں کے سایہ میں رکھتے تھے ان کے لئے ھدیئے خلعتیں مثلا انگوٹھی ، کفن کا کپڑا بھیجا کرتے تھے ۔(۲۷) نیز بعض بزرگوں کے حق میں گرانقدر حدیثیں بیان فرمائی ہیں بطور نمونہ بعض حدیثیں مذکور ہیں :

۱ ۔ امام رضا علیہ السلام نے زکریا بن آدم سے اس وقت فرمایا کہ جب وہ قم سے باہر جانا چاہتے تھے : قم سے باہر نہ جاو ( کیونکہ ) خدا تمھاری وجہ سے اہل قم سے بلا کو دور رکھتا ہے جس طرح موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کے وجود نے اہل بغداد سے بلا کو دور رکھا ۔(۲۸)

۲ ۔ امام صادق علیہ السلام نے عیسیٰ بن عبد اللہ قمی کے بارے میں فرمایا : تم ہمارے اہل بیت میں سے ہو ۔ پھر حضرت نے فرمایا عیسیٰ بن عبد اللہ ایسے انسان ہیں جنھوں نے اپنی حیات و ممات کو ہماری موت و زندگی سے ہم آہنگ کر لیا ہے ۔(۲۹)

۳ ۔ امام صادق علیہ السلام نے عمران بن عبد اللہ قمی سے فرمایا : خداوند عالم سے درخواست کرتا ہوں کہ تم کو اور تمھارے خاندان کو روز قیامت ( جہاں کوئی سایہ نہیں ہوگا ) اپنی رحمت کے سایہ میں قرار دے ۔(۳۰)

____________________

۱۔ گنجینہ آثار قم ( عباس فیضی ) : ج/۱ ، ص/۷۰ ۔

۲۔ اس قبیلہ نے اوائل بعثت میں یمن سے مدینہ ہجرت کی تھی اور آنحضرت پر ایمان لائے تھے اس قبیلہ کے بزرگ مالک بن عامر بن ہانی ہیں جنھوں نے جنگ قادسیہ میں اپنے ہدایت یافتہ ہونے اور بلند نفسی کا ثبوت پیش کیا آپ عبد اللہ اور احوص کے جد ہیں یہ دونوں بزرگوار قم کے شیعوں کا مرکز بنانے میں بنیادی کردار رکھتے ہیں ۔ ( گنجینہ آثار قم : ج/۱، ص/۱۳۷ )

۳۔ معجم البلدان : ج/۴، ص/۳۹۷ ۔

۴۔ تاریخ قدیم قم ( حسن بن محمد بن حسن قمی ) ص/۲۴۵۔ ۲۵۷، باتصرف ۔

۵۔ گنجینہ آثار قم :عباس فیضی ۔ج/۱ ، ص ۱۵۴

۶۔ گنجینہ آثار قم : عباس فیض ج/۱ ، ص/۱۵۴ ۔

۷۔ گنجینہ آثار قم : ج/۱ ، ص/۳۵۳ ۔

۸۔ مدرک سابق : ص/۱۶۲ ۔

۹۔ گنجینہ آثار قم : ج/۱ ، ص/۱۶۲ ۔ اضافہ و تصرفات کے ساتھ

۱۰۔ بحار الانوار ج/۶۰، ص/ ۲۱۷

۱۱۔ معجم البلدان ج/ ۴ ، ص/ ۳۹۷ ۔

۱۲۔ بحارالانوار : ج/۶۰، ص/ ۲۰۷ ۔

۱۳۔ یہ حدیث اور اس قسم کی دوسری حدیثیں انسان کو حیران کر دےتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرئیل سے دریافت کیا کہ یہ کون سی جگہ ہے ؟ کیا العیاذ باللہ جبرئیل کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سے زیادہ علم تھا ؟ واضح ہے کہ اس کا جواب منفی میں ہوگا ۔ تو پھر اس حدیث اور اس قسم کی دوسری حدیثوں کی توجیہ کیا ہو گی ؟ اس سلسلے میں جب ہم تحقیقی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خود اسی موضوع پر بہت روایتیں موجود ہیں ۔

کتاب اصول کافی جو شیعوں کی معتبر کتاب ہے اس میں ایک باب ہے جو کتاب الحجہ کے ابواب میں سے ایک باب ہے جس کا موضوع ہے : ”ان الائمة علیهم السلام اذا شاووا انْ یعلمو علموا “ ( یعنی ائمہ علیہم السلام جب معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تب جانتے ہیں )اس موضوع کے تحت کلینی رحمۃ اللہ علیہ نے تین حدیثیں ذکر فرمائی ہیں ۔ جن میں سے ہر ایک کا مفہوم و منطوق یہی ہے کہ ائمہ موصومین علیہم السلام ہر وقت اپنے علوم وھبی سے استفادہ نہیں کرتے ہیں ۔ خود پیغمبر اسلام نے قضاوت کے سلسلے میں فرمایا کہ میں گواہ ہوں اور قسموں کے ذریعہ حکم نافذ کروں گا ۔

لہٰذا اس قسم کے سوالات جو ائمہ معصومین علیہم السلام اور خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کیا کرتے تھے اس کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہوتا تھا کہ انھیں اس امر کا علم نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ہرجگہ اپنے علوم کو استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ جب ان کی مشیت ہوتی تھی تب علم لدنی سے استفادہ فرماتے تھے ۔ مترجم ۔

۱۴۔ بحار الانوار : ج / ۶۰ ، ص / ۲۱۶ ۔

۱۵۔ مدرک سابق : ص / ۱۲۴ ،

۱۶۔ مدرک سابق : ص / ۲۱۵۔

۱۷۔ مدرک سابق : ص/ ۲۱۳ ۔

۱۸۔ بحار الانوار : ج/۶۰ ، ص/ ۲۱۸ ۔

۱۹۔ مدرک سابق

۲۰۔ مدرک سابق : ص/ ۲۱۷ ۔

۲۱۔ بحار الانوار : ج۶۰ ، ص/ ۲۳۱ ۔

۲۲۔ مدرک سابق ص/ ۲۱۳ ۔

۲۳۔ مدرک سابق ص/ ۲۱۶ ۔

۲۴۔ بحار الانوار : ج/۶۰ ، ص/ ۲۱۶ ۔

۲۵۔ مدرک سابق ص/ ۲۱۳ ۔

۲۶ ۔ مدرک سابق ص/ ۲۱۶ ۔

۲۷۔سفینہ البحار ج/۲ ، ص/ ۴۴۷۔

۲۸۔ بحار الانوار ج/ ۶۰ ، ص/ ۲۱۷ ۔

۲۹۔ معجم الرجال الحدیث ج/۱۳ ، ص/ ۲۱۴۔

۳۰۔ مدرک سابق ص/ ۱۵۸ ۔


دوسری فصل

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی اجمالی زندگی

دل جس کے دیار میں مدینے کی خوشبو محسوس کرتا ہے ۔ گویا مکہ میں درمیان صفا و مروہ دیدار یار کے لئے حاضر ہے ، عطر بہشت ہر زائر کے دل و جان کو شاداب و با نشاط کردیتا ہے ۔ جس کے حرم میں ہمیشہ بہار ہے ۔ بہار قرآن و دعا ، بہار ذکر و صلوات ، شب قدر کی یادگار بہاریں ۔ دعا و آرزو کے گلدستے کی بہار جو تشنہ کام روحوں کو سیراب کردیتی ہے ، ہر خستہ حال مسافر زیارت کے بعد تھکن سے بیگانہ ہوجاتا ہے ۔ ہر آنے والا شخص اس حرم میں قدم رکھنے کے بعد خود کو غریب محسوس نہیں کرتا ۔ یہ کون ہے ؟

اسے سب پہچانتے ہیں ۔ وہ سب کے دلوں میں آشنا ہے اگر اس کا حرم و گنبد اور گلدستے آنکھوں کو نور بخشتے ہیں تو اس کی محبت و عشق ، اس کی یادیں اور نام دلوں کو سکون بخشتے ہیں ۔ کیونکہ یہ حرم ، حرم اہل بیت ہے ۔ مدفن یادگار رسول ، نور چشم موسیٰ بن جعفر علیہم السلام ، آئینہ نمائش عفت و پاکی ، حضرت فاطمہ ثانی ہے ۔ وہ کہ جو خود مکتب علوی کی تعلیم یافتہ اور خاندان نبوی کے اسرار میں سے ایک راز ہے جس کی ولادت سے قبل صادق آل محمد علیہم السلام نے اس کے آنے کی نوید دیدی تھی ۔ خاندان زہرا علیہا السلام کی ایک دختر جو انہی کی طرح ولایت و امامت کی حامی تھی اورزینب کبریٰ علیہا سلام کی طرح شایستگان کی قافلہ سالار تھی اگر حضرت زینب علیا مقام کی فریادوں نے بنی امیہ کو رسوا کردیا تو فاطمہ معصومہ (س) کی فریادوں نے بنی عباس کو ، آپ کی مدینے سے مرو اور خراسان کی طرف الٰہی سیاسی حرکت در حقیقت زمانے کے طاغوت کے خلاف ایک سفر تھا ۔ اگر چہ وہ اپنے بھائی اور امام زمان کی زیارت نہ کرسکیں لیکن اپنا پیغام پہنچادیا ۔

آپ نے خاندان پیغمبر صل اللہ علیہ و آلہ کے چند افراد اورمحبان اہلبیت کے ہمراہ مدینے سے سفر کر کے ثابت کردیا کہ ہر زمانے میں مادی و طاغوتی طاقتیں اسلام حقیقی کے تربیت یافتہ جیالوں کے سامنے بولی ہیں ۔ جیسا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے یزید کے منھ در منھ فرمایا ” انی استصغرک “(۱) میں تجھے حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہوں اور تجھے بہت ذلیل و رسوا سمجھتی ہوں ۔ اگر چہ زینب دوراں کی حرکت منزل مقصود تک پہنچ سکی اور آخر کار دختر آفتاب اپنے اس پر برکت سفر میں دیدار حق کے لئے روانہ ہوگئی اور اپنی شہادت سے سب کو سوگوار بنادیا ۔ لیکن کچھ ہی زمانے کے بد دنیا اس عظیم سفر کے ثمرات کو مشاہدہ کرنے لگی ، یہ اس وقت سمجھ میں آیا جب اس بے کراں کوثر عترت کے صدقے میں علوم و معارف کے چشمے ابلنے لگے اور قم یہ حریم مقدس فاطمی اسلام کے حیات بخش معارف کے نشر کا مرکز قرار پا گیا اور دنیا کے ستمگروں کے خلاف علم کا محور بن گیا ۔

یہ تمام چیزیں اس کی طلبگار ہیں کہ اس عظیم خاتون کی زندگی پر گفتگو کی جائے خصوصا نوجوان نسل کو آپ سے آشنا کیا جائے ۔ ہم اس پر مفتخر ہیں کہ اس سلسلے میں آپ کی زندگی اور فضائل کا اجمالی خاکہ اس فصل میں جمع آوری کرکے خاندان عصمت کے متوالوں کی خدمت میں پیش کررہے ہیں ۔

فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کون ہیں

آپ کا اسم مبارک فاطمہ اور القاب معصومہ ، ستی(۲) ، اور فاطمہ کبریٰ ہیں ۔ آپ کے والد ماجد ساتویں امام باب الحوائج حضرت موسیٰ بن جعفر علیہما السلام اور مادر گرامی نجمہ خاتون ہیں کہ جو امام رضا علیہ السلام کی بھی والدہ ماجدہ ہیں ۔(۳)

ولادت تا ہجرت

آپ نے پہلی ذی القعدہ ۱۷۳ ء ھ میں مدینہ منورہ کی سرزمین پر اس جہان میں قدم رنجہ فرمایا اور ۲۸ سال کی مختصر سی زندگی میں دس ۱۰(۴) یا بارہ ۱۲(۵) ربیع الثانی ۲۰۱ ھ میں شہر قم میں اس دار فانی کو وداع کردیا ۔

شہر مقدس کی طرف سفر مقدس

امام رضا علیہ السلام کے مجبورا شہر مرو سفر کرنے کے ایک سال بعد ۲۰۱ ھ قمری میں آپ اپنے بھائیوں کے ہمراہ بھائی کے دیدار اور اپنے امام زمانہ سے تجدید عہد کے قصد سے عازم سفر ہوئیں راستہ میں ساوہ پہنچیں لیکن چونکہ وہاں کے لوگ اس زمانے میں اہلبیت کے مخالف تھے لہٰذا حکومتی کارندوں کے سے مل کر حضرت اور ان کے قافلے پر حملہ کردیا اور جنگ چھیڑدی جس کے نتیجہ میں حضرت کے ہمراہیوں میں سے بہت سارے افراد شہید ہوگئے(۶) حضرت غم و الم کی شدت سے مریض ہوگئیں اور شہر ساوہ میں ناامنی محسوس کرنے کی وجہ سے فرمایا : مجھے شہر قم لے چلو کیونکہ میں نے اپنے بابا سے سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے : قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے ۔(۷) اس طرح حضرت وہاں سے قم روانہ ہوگئیں ۔

بزرگان قم جب اس مسرت بخش خبر سے مطلع ہوئے تو حضرت کے استقبال کے لئے دوڑ پڑے ، مویٰ بن خزرج اشعری نے اونٹ کی زمام ہاتھوں میں سنبھالی اور فاطمہ معصومہ (ص) اہل قم کے عشق اہلبیت سے لبریز سمندر کے درمیان وارد ہوئیں ۔ موسیٰ بن خزرج کے شخصی مکان میں نزول اجلال فرمایا ۔(۸)

بی بی مکرمہ نے ۱۷ دنوں تک اس شہر امامت و ولایت میں زندگی گزاری اور اس مدت میں ہمیشہ مشغول عبادت رہیں اور اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرتی رہیں اس طرح اپنی زندگی کے آخر ی ایام خضوع و خشوع الٰہی کے ساتھ بسر فرمائے ۔

غروب ماہتاب

آخر کار وہ تمام جوش و خروش ، ذوق و شوق نیز وہ تمام خوشیاں جو کوکب ولایت کے آنے سے اور دختر فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت سے اہل قم کو میسر ہوئی تھیں یکایک نجمہ عصمت و طہارت کے غروب سے حزن و اندوہ کے سمندر میں ڈوب گئیں اور عاشقان امامت و ولایت عزادار ہوگئے ۔

آپ کی اس نا بہنگام وفات اور مرض ، کے سلسلے میں کہا جا تا ہے کہ ساوہ میں ایک عورت نے آپ کو مسموم کردیا تھا ۔(۹) دشمنان اہل بیت کا اس قافلے سے نبرد آزما ہونا اور اسی میں بعض حضرات کا جام شہادت نوش فرمانا اور وہ دیگر نامساعد حالات ایسے میں حضرت کا حالت مرض میں وہاں سے سفر کرنا ، ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کو قبول کرنا بعید نہیں ہے ۔

ہاں بی بی معصومہ نے حضرت زینب علیا مقام سلام اللہ علیہا کی طرح اپنے پر برکت سفر میں حقانیت رہبران واقعی کی امامت کی سند گویا پیش کردی اور ماموں کے چہرہ سے مکر و فریب کی نقاب نوچ لی قہرمان کربلا کی طرح اپنے بھائی کے قاتل کی حقیقت کو طشت ازبام کردیا ۔ فقط فرق یہ تھا کہ اس دور کے حسین علیہ السلام کو مکر و فریب کے ساتھ قتلگاہ بنی عباس میں لے جایا گیا تھا ۔ اسی درمیان تقدیر الٰہی اس پر قائم ہوئی کہ اس حامی ولایت و امامت کی قبر مطہر ہمیشہ کے لئے تاریخ میں ظلم و ستم اور بے عدالتی کے خلاف قیام کرنے کا بہترین نمونہ قرار پا جائے اور ہر زمانے میں پیروان علی علیہ السلام کے لئے ایک الہام الٰہی قرار پائے ۔

مراسم دفن

شفیعہ روز جزا کی وفات حسرت آیات کے بعد ان کو غسل دیا گیا ۔ کفن پہنایا گیا پھر قبرستان بابلان کی طرف آپ کی تشییع کی گئی ۔ لیکن دفن کے وقت محرم نہ ہونے کی وجہ سے آل سعد مشکل میں پھنس گئے آخر کار ارادہ کیا کہ ایک ضعیف العمر بزرگ بنام ” قادر “ اس عظیم کام کو انجام دیں ، لیکن قادر حتی دیگر بزرگان اور صلحائے شیعہ اس امر عظیم کی ذمہ داری اٹھانے کے لائق نہ تھے کیونکہ معصومہ اہل بیت کے جنازے کو ہر کس و ناکس سپرد خاک نہیں کرسکتا ہے لوگ اسی مشکل میں اس ضعیف العمر بزرگ کی آمد کے منتظر تھے کہ ناگہاں لوگوں نے دو سواروں کو دیکھا کہ ریگزاروں کی طرف سے آرہے ہی جب وہ لوگ جنازے کے نزدیک پہنچے تو نیچے اتر گئے پھر نماز جنازہ پڑہی اور اس ریحانہ رسول خدا کے جسد اطہر کو داخل سرداب ( جو پہلے سے آمادہ تھا ) دفن کردیا ۔ اور قبل اس کے کہ کسی سے گفتگو کریں سوار ہوئے اور روانہ ہوگئے اور کسی نے بھی ان لوگوں کو نہ پہچانا ۔(۱۰)

حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد فاضل لنکرانی مد ظلہ العالی فرماتے ہیں کہ بعید نہیں ہے کہ یہ دو بزرگوار دو امام معصوم رہے ہوں کہ جو اس امر عظیم کی انجام دہی کے لئے قم تشریف لائے ہوں ۔

حضرت کو دفن کرنے کے بعد موسیٰ بن الخزرج نے حصیر و بوریا کا ایک سائبان قبر مطہر پر ڈال دیا وہ ایک مدت تک باقی رہا ۔ مگر جب حضرت زینب دختر امام محمد تقی علیہ السلام قم تشریف لائیں تو مقبرے پر اینٹوں کا قبہ تعمیر کرایا ۔(۱۱)

____________________

۱۔ خطبہ حضرت در شام

۲۔سیدہ اور سردار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔

۳۔ دلائل الامامہ ص/ ۳۰۹ ۔

۴۔ وسیلہ المعصومہ بنقل نزھۃ الابرار ۔

۵۔ مستدرک سفینۃ البحار ج/ ۸ ص/ ۲۵۷ ۔

۶ ۔ زندگانی حضرت معصومہ / آقائے منصوری : ص/ ۱۴ ، بنقل از ریاض الانساب تالیف ملک الکتاب شیرازی ۔

۷ ۔ دریائے سخن تالیف سقازادہ تبریزی : ص/۱۲ ، بنقل از ودیعہ آل محمد صل اللہ علیہ و آلہ/ آقائے انصاری ۔

۸۔ تاریخ قدیم قم ص/ ۲۱۳ ۔

۹۔ وسیلۃ المعصومیہ : میرزا ابو طالب بیوک ص/ ۶۸ ، الحیاۃ السیاسۃ للامام الرضا علیہ السلام : جعفر مرتضیٰ عاملی ص/ ۴۲۸ ، قیام سادات علوی : علی اکبر تشید ص / ۱۶۸ ۔

۱۰۔ تاریخ قدیم قم ص / ۲۱۴ ۔

۱۱۔ سفینۃ البحار ج/ ۲، ص / ۳۷۶ ۔


تیسری فصل

حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام کے فضائل و مناقب

چونکہ ائمہ طاہرین اور اولیاء دین کی معرفت ان کے نفسانی فضائل و کمالات کی معرفت حاصل کرنا ہے نہ یہ کہ فقط اجمالی زندگی کی آشنایی ہی پر اکتفا کیا جائے لہٰذا کریمہ اہل بیت علیہم السلام کی زندگی کے اجمالی خاکے کو بیان کرنے کے بعد آپ کے بعض فضائل و مناقب پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔

خاندانی شرافت

آپ کی فضیلتوں میں سے ایک بہت بڑی فضیلت بیت وحی اور کاشانہ رسالت و امامت سے آپ کا نتساب ہے ۔ آپ دختر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ ، دختر ولی خدا ، خواہر ولی اللہ ، عمہ (پھوپھی ) ولی اللہ ہیں اور یہ امر خود تمام فضائل و کمالات معنوی و روحانی کا سر چشمہ ہے کہ آپ کی زندگی ائمہ معصومین علیہم السلام کے جوار میں گزری ہے ، مثلا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور امام علی رضا علیہ السلام اور ایسے راہ نور و سعادت کے رہنماوں کی تعلیمات سے بہرہ مند ہونا خود آپ کی بلندی روح اور مقام علمی و رفعت علمی کے لئے ایک اساسی عامل ہے ۔ اس بنیاد پر ہم آپ کو فضائل اہلبیت علیہم السلام کا نمونہ کہہ سکتے ہیں ۔

آپ کی عبادت

قرآن مجید کی صریح آیت( وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون ) (۱) ( ہم نے جن و انس کو فقط اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔ تاکہ اس راہ میں کمال حاصل کر کے ہم سے نزدیک ہوں )کے پیش نظر ہدف خلقت انسان فقط عبادت الٰہی ہے وہ حضرات جو اس ہدف کی حقیقت سے روشناس ہیں وہ مرتبہ عالی تک پہنچنے کے لئے جو اطمینان و نفس مطمئنہ کا حصول ہے کسی بھی زحمت کو زحمت نہیں سمجھتے ہیں اور اپنی زندگی کے بہترین لمحات کو بارگاہ ایزدی میں عبادت و راز و نیاز کا زمانہ سمجھتے ہیں ۔ رات کے سناٹے میں اپنے محبوب کی دہلیز پر سر نیاز خم کردیتے ہیں اور زبان دل سے ہم کلام ہوکر والہانہ انداز میں محو راز و نیاز ہوتے ہیں نیز ہمیشہ اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ نماز و راز و نیاز کی حالت میں اس سے ملاقات کریں تا کہ اس آیہ کریمہ( یا ایتها النفس المطمئنه ارجعی الی ربک راضیة مرضیة ) (۲) کے مصداق قرار پائیں ۔

بندگی اور عبادت الٰہی کا ایک عالی ترین نمونہ کریمہ اہل بیت فاطمہ معصومہ علیہا السلام ہیں ۔ وہ ۱۷ دنوں کا قیام اور دختر عبد صالح یعنی امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی لخت جگر کی وہ یادگار عبادت ، خضوع و خشوع ، شب زندہ داریہ تمام چیزیں آپ کی بندگی و عبادت کا ایک گوشہ ہیں وہ بیت النور اور معبد و محراب اس صفیۃ اللہ کی عبادتوں کی یادگار ہے ۔ اسی راز و نیاز کی برکتوں سے لخت جگر باب الحوائج نے قیامت تک کے لئے عاشقان عبادت و ولایت کی ہدایت کی راہیں کھول دیں ۔

آپ کی عبادت گا موسیٰ بن خزرج کے دولت سرا میں تھی اور آج بھی یہ حجرہ میدان میر خیابان چہار مردان نزد مدرسہ ستیہ موجود ہے کہ جو محبان اہلبیت علیہم السلام کی زیارت گاہ ہے ۔

عالمہ و محدثہ اہل بیت علیہم السلام

اسلامی فرہنگ میں سچے محدثوں کی ایک خاص عزت و حرمت رہی ہے ۔ راویوں اور محدثوں نے گنجینہ معارف اسلامی اور مکتب تشیع کے گرانمایہ ذخیروں نیز اسلام کے غنی فرہنگ کی حفاظت کی خاطر ایک نمایاں کردار پیش کیا یہ افراد اسرار آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ اور امانت الٰہی کے امین و محافظ تھے ۔

ایک بلند ترین عنوان کہ جو آپ کے علمی مرتبے اور آپ کی معرفت کا شاہکار وہ یہ ہے کہ آپ کو ” محدثہ “ کہا جاتا ہے بزرگان علم حدیث بلا جھجھک آپ سے منقول احادیث کو قبول فرماتے ہیں اور اس سے استناد کرتے ہیں ۔ کیونکہ آپ مورد وثوق و اطمینان افراد کے علاوہ کسی دوسرے سے حدیث نقل نہیں فرماتی تھیں ۔ ہم مناسب موقع پر ان احادیث میں سے بعض کو بعنوان نمونہ ذکر کریں گے ۔

آپ معصومہ ہیں

اگر چہ مقام عصمت ( گناہوں سے محفوظ رہنا در حالیکہ اس کی قدرت رکھتا ہو ) ایک خاص رتبہ ہے جو انبیاء کرام اور ان کے اوصیاء و خصوصا چہاردہ معصومین علیہم السلام سے مختص ہے ۔ لیکن بہت سارے ایسے افراد تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں جنھوں نے خداوند عالم کی مخلصانہ بندگی و اطاعت نیز صدق و طہارت کی راہ پر گامزن ہونے کی وجہ سے تقویٰ اور وحی طہارت حاصل کرکے گناہ اور اخلاقی برائیوں سے دوری اختیار کرلی اور اپنی روح کے دامن کو ناپا کی کے دھبے سے بچالیا ۔

فاطمہ معصومہ (س) جو مکتب ائمہ (ع) کی تربیت یافتہ اور صاحبان آیت تطہیر کی یادگار ہیں ، طہارت و پاکیزگی نے اس منزل معراج کو طے کیا کہ خاص(۳) و عام نے آپ کو معصومہ کا لقب دیدیا ۔ یہاں تک کہ بعض بزرگ علماء آپ کو طہارت ذاتی کا حامل اور تالی تلو معصومین علیہم السلام سمجھتے ہیںچنانچہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :

من زار المعصومة بقم فقد زارنی (۴)

یعنی جو قم میں فاطمہ معصومہ کی زیارت کرے اس نے گویا میری زیارت کی ہے نیز زیارت دوم جو آپ کے لئے وارد ہوئی ہے اس کا ایک ٹکڑا یہ ہے :السلام علیک ایتها الطاهرة الحمیدة البرة الرشیدة التقیة و النقیة (۵) یعنی سلام ہو آپ پر اے پاکیزہ و ستائش شدہ ، نیک کردار ، ہدایت یافتہ ، پرہیزگار اور با صفا خاتون ۔

کریمۃ اہل بیت علیہم السلام

انسان عبادت و بندگی خداوند عالم کے نتیجے میں اس حد تک پہنچ سکتا ہے کہ مظہر ارادہ حق اور واسطہ فیض الٰہی قرار پا جائے ، یہ ذات اقدس الہ کی عبودیت کا ثمرہ ہے چنانچہ خداوند عالم حدیث قدسی میں فرماتا ہے :

انا اقول للشیء کن فیکون اطعنی فیما امرتک اجعلک تقول للشیء کن فیکون (۶) اے فرزند آدم میں کسی چیز کے لئے کہتا ہوں کہ ہوجا ! پس وہ وجود میں آجا تی ہے ، تو بھی میرے بتائے ہوئے راستوں پر چل میں تجھ کو ایسا بنادوں گا کہ کہے گا ہوجا ! وہ شیء موجود ہو جائے گی ۔

امام صادق علیہ اسلام نے بھی فرمایا :

العبودیة جوهرة کنهها الربوبیة (۷)

یعنی خدا کی بندگی ایک گوہر ہے جس کی نہایت اور اس کا باطن موجودات پر فرمانروائی ہے ۔

اولیاء خدا جنہوں نے بندگی و اطاعت کی راہ میں دوسروں سے سبقت حاصل فرمائی اور اس راہ کو خلوص کے ساتھ طے کیا وہ اپنی با برکت زندگی میں بھی اور اس عارضی زندگی کے بعد بھی منشاء کرامات و عنایات ہیں ۔ جوان کی پاکیزہ زندگی کا نتیجہ ہے ۔

قدیم الایام سے آستان قدس فاطمی ہزاروں کرامات و عنایات ربانی کا مرکز و معدن رہا ہے ، کتنے نا امید قلوب فضل و کرم الٰہی کی امیدوں سے سر شار اور کتنے تہی داماں افراد رحمت ربوبی سے اپنی جھولی بھر کر ، اور کتنے ہر جگہ سے نا امید افراد اس در پر آکر خوشحال و شادمان ہوکر کریمہ اہلبیت سلام اللہ علیہا کے فیض و کرم سے فیضیاب ہوتے ہوئے لوٹے ہیں اور اولیاء حق کی ولایت کے سایہ میں مستحکم ایمان کے ساتھ اپنی زندگی کی بنیاد ڈالی ہے ۔ یہ تمام چیزیں اسی کنیز خدا کی عظمت روحی اور بے کراں منبع فیض و کرم خداوندی کی نشانی ہیں عنقریب آپ کی کرامت کے نمونے ذکر کئے جائیں گے ۔

مقام شفاعت

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حق شفاعت اور اس مقام عظیم تک پہنچنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے لئے ایک خاص اہلبیت کی ضرورت ہے ، کیونکہ خداوند عالم ایسے لوگوں کی شفاعت قبول کرتا ہے کہ جنہیں اس کی طرف سے اجازت حاصل ہے ۔یومئذ لا تنفع الشفاعة الا من اذن له الرحمن (۸) اس دن کسی کی شفاعت سودمند نہ ہوگی مگر جسے رحمن اجازت دے گا ۔ اور یہ اذن ان لوگوں کو ملتا ہے کہ جو قرب الٰہی کے مرتبہ عالی اور مخلصانہ بندگی پرور دگار کو حاصل کرچکے ہیں ان میں انبیاء و ائمہ معصومین سر فہرست ہیں اور ان کے بعد خالص بندگان الٰہی اور اولیاء مقرب ایزدی ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک اپنے حد و مقام اور اپنے درجہ معنوی کے مطابق شفاعت کا حق رکھتے ہیں ۔ مثلا علما ، شہداء اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے شائستہ فرزند ۔ انہی لوگوں میں سے کہ جن کی شفاعت کے حق کی روایات میں تصریح ہوئی ہے وہ فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

تدخل بشفاعتها شیعتی الجنة باجمعهم (۹) یعنی ان ( فاطمہ معصومہ ) کی شفاعت سے ہمارے سارے شیعہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔

آپ کی زیارت میں امام معصوم کے حکم کے مطابق کہا جا تا ہے کہیافاطمة اشفعی لی فی الجنة ۔ یعنی اے فاطمہ جنت میں ہماری شفاعت فرمائیے ۔ یہ جملہ خود آپ کی عظمت اور رفعت مقام ، جلالت قدر کو بیان کر رہا ہے کہ آپ شفیعہ روز جزا ہیں ،چنانچہ اسی زیارت کے دوسرے ٹکڑے میں آیا۔فان لک عند الله شاٴ نا من الشاٴن (۱۰) یعنی ہم جو آپ سے شفاعت کی بھیک مانگ رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ خد کے محضر میں نا قابل بیان شان و منزلت کی حامل ہیں جو زمینوں کے باسیوں کے لئے قابل تصور نہیں ہے فقط خدا ، پیامبر اور اوصیاء طاہرین اس سے واقف ہیں ۔

فضیلت زیارت

وہ روایتیں جو آپ کی زیارت کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں آپ کے فضائل کی بہترین سند ہیں کیونکہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے پیروکاروں کو اس مرقد مطہر و منور کی زیارت کی تشویق فرمائی ہے نیز اس کا بہت عظیم ثواب بیان فرمایا ہے یہ ثواب ایسا ہے کہ جو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی اولاد میں امام رضا علیہ السلام کے بعد فقط آپ ہی کے سلسلے میں کتابوں میں ملتا ہے ۔ ہم یہاں فقط چند روایات ذکر کرتے ہیں ہیں ۔

۱ ۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :من زارها فله الجنة (۱۱) یعنی جو ان ( فاطمہ معصومہ ) کی زیارت کرے گا وہ بہشت کا حقدار ہے ۔

۲ ۔ امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا :من زارها قبر عمتی بقم فله الجنة (۱۲) یعنی جو قم میں ہماری پھوپھی کی زیارت کرے گا اس کے لئے جنت ہے ۔

۳ ۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :من زارها عارفا بحقها فله الجنة (۱۳) جو ان ( فاطمہ معصومہ ) کی زیارت ان کے حق کو پہچانتے ہوئے کرے گا وہ بہشت کا حق دار ہے ۔

۴ ۔ امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا :قال الامام الصادق علیه السلام : ان لِلّٰه حرما و هو مکه وللرسول حرما و هو المدینه و لامیرالمومنین حرما و هو الکوفة و لنا حرما و هو قم و ستدفن فیه-اامرة من ولدی تسمی فاطمة من زارها وجبت له الجنة ( قال علیه السلام ذالک و لم تحمل بموسیٰ امة ) (۱۴)

خدا کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مکہ ہے رسول کے لئے ایک حرم ہے اور وہ مدینہ ہے ، امیرالمومنین کے لئے ایک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے ہمارے لئے ایک حرم ہے ایک حرم ہے اور وہ قم ہے ، عنقریب وہاں میری اولاد میں سے ایک خاتون دفن کی جائے گی جس کا نام فاطمہ ہوگا ۔ امام علیہ السلام نے یہ حدیث اس وقت ارشاد فرمائی کہ جب امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی والدہ حاملہ بھی نہ ہوئی تھیں ۔ جو بھی اس کی زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہوگی ۔

اس روایت سے خصوصا اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی ولادت سے قبل یہ حدیث صادر ہوئی بخوبی اندازہ ہوتا کہ حضرت فاطمہ معصومہ کا قم میں دفن ہونا خداوند عالم کے اسرار میں سے ایک سر خفی ہے اور اس کا تحقق مکتب تشیع کی حقانیت کی ایک عظیم دلیل ہے ۔

______________________

۱۔ سورہ ذاریات آیہ / ۵۷ ۔

۲۔ سورہ فجر آیہ / ۲۸ ، ۲۷ ۔

۳۔ آیۃ اللہ حسن زادہ عاملی نے حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی شخصیت کی تحقیقی کانفرنس میں دانشگاہ قم میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ۔

۴۔ ناسخ التواریخ ج/ ۷ ص ۳۳۷ ۔

۵۔ انوار المشعشعین : شیخ محمد علی قمی ص / ۲۱۱ ۔

۶۔ مستدرک الوسائل ج/ ۲ ، ص / ۲۹۸ ۔

۷۔مصباح الشریعۃ باب ۱۰۰ ۔

۸۔ سورہ طٰہ / ۱۰۵ ۔

۹۔ سفینۃ البحار ج/ ۲ ص / ۳۷۶ ۔

۱۰۔ بحار الانوار ج/ ۱۰۲ ص/ ۲۶۶ ۔

۱۱۔بحار الانوار ج / ۱۰۲ ص / ۲۶۵ ۔

۱۲۔ مدرک سابق ۔

۱۳۔ بحار الانوار ج / ۱۰۲ ص / ۲۶۶ ۔

۱۴۔ بحار الانوار ج / ۱۰۲ ص / ۲۶۷ ۔


چوتھی فصل

حضرت معصومہ علیہا السلام سے منقول روایتیں

قال رسول الله صلی الله علیه وآله :

انی تارک فیکم الثقلین کتاب الله و عترتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلوا ( ۱)

پیغمبر اسلام اپنی زندگی کے آخری لمحات میں امت کے درمیان فتنہ و نفاق کی موجوں کو بخوبی دیکھ رہے تھے ، آپ اسلامی معاشر ے کے مستقبل کے لئے نگراں تھے ۔ انہی باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نفاق و فریب کے پردے کو چاک کرنے کی خاطر اپنے ہدایت گر پیغام کے ذریعہ متلاطم موجوں کے درمیان کشتی نجات کو پہنچوا کر ساحل نجات کو سب کے لئے آشکار کردیا ۔

آپ کا آخری پیغام حدیث ثقلین کے علاوہ کچھ اور نہ تھا جس میں آپ نے اپنے پیروکاروں کی ہدایت کو قرآن و عترت سے متمسک رہنے میں مرہون قرار دیا اور فقط انہی دونوں کو شریعت کا اساسی محور قرار دے کر بقاء دینداری کا تنہا عامل قرار دیدیا ۔

یہ تمام باتیں فقط اس لئے تھیں کہ قرآن مجید کے نورانی احکام و معارف روشن ہوجائیں ، بدعتوں اور دنیا پرستوں کی شیطانی افکار کا سد باب ہوجائے کیونکہ قرآنی معارف حقایق دینی کے صادق عارفوں سے حاصل کئے گے ہیں جو دینی معاشرے کو اس کتاب کے حیات بخش سر چشمے سے سیراب اور منافق و بدعت گذار افراد کو تاریخ کی رہگذر میں اپنے مقاصد شوم تک پہنچنے سے محروم کرتی ہے ۔

لیکن اندھرے کے پجاریوں نے اس موقع پر ضعیف الایمان افراد کی مدد سے ” حسبنا کتاب اللہ “ کا ایک بد ترین نعرہ بلند کردیا ۔ اس کے بعد اس شوم ہدف تک پہنچنے کے لئے نبی کی کتنی نورانی حدیثیں جلائی گئیں ۔ کتنے گرانبہا موتیوں نے صدف صدر میں دم توڑ دیا ۔ کتنے محدثین نے زمانے کے ظلم و جور سے زبان پر تالے لگا لئے اور دیار وحی سے نکال دئے گئے اور انھوں نے صحرائے غربت میں عترت کی محبت میں دم توڑ دیا ۔ میثم کی زبان ، رشید ہجری کے کٹے دست و پا ، ابوذر کی شہر ربزہ کی دربدری خود انتہائے ظلم کی گواہ ہے کہ اہلبیت اور ان کے پیرو کاروں پر کتنا ظلم ڈھا یا گیا ۔

لیکن آل محمد علیہم السلام کی اس غربت کے دور میں راہ حق کے منادی راویان شیعہ خاموش نہ بیٹھے بلکہ حالات کی ہواوں کا رخ موڑتے ہوئے فضائل و احادیث عترت کی ترویج کرتے رہے اور ایک دن وہ بھی آیا کہ وہ سیاہ راتیں تمام ہوگئیں ۔ حدیث پر لگے خود ساختہ قوانین ختم ہوگئے قرآن و عترت نے اپنی حقیقی جگہ پالی ، سچے حاملان وحی کے لئے ایک موقع فراہم ہوا اور امام محمد باقر و امام جعفر صادق علیہما السلام کے زمانے میں علوم اہلبیت کا فیاض سر چشمہ ابلنے لگا ، تشنگان معارف الٰہی کوثر قرآن و عترت کے شربت روح افزا سے سیراب ہونے لگے ۔

اسی زمانے سے مکتب امامت کے تربیت یافتہ جیالوں نے خاندان رسالت کی حدیثوں کے ثبت و نشر پر کمر ہمت باندھ لی اور ائمہ معصومین کے قیمتی آثار کی ترویج کے ذریعہ معاشرے کے اعتقادی اصولوں اور دینی ارزشوں کی پائگاہ کو استحکام بخش دیا ۔ تاریخی رہگذر کے مختلف زمانے میں امت اسلام کی دینی شخصیت کو محفوظ رکھتے ہوئے شریعت نبوی اور مکتب علوی کی پاسداری کی ۔

انہی ولایت و امامت کے گرانقدر خزانے کے امانتدار سپاہیوں میں سے ایک عظیم محافظ محدثہ آل طہ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا ہیں جنہوں نے ولایت کے بارے میں بہت ساری روایتیں نقل فرمائی ہیں ۔ جن میں سے بعض کا ذکر مقصود ہے ۔

( ۱) حدیث غدیر و منزلت

عن فاطمۃ بنت علی بن موسی الرضا حدثتنی فاطمہ و زینب و ام کلثوم بنات موسی بن جعفر علیہ السلام قلن حدثتنا فاطمۃ بنت جعفر بن محمد الصادق ، حدثتنی فاطمۃ بنت محمد بن علی ، حدثتنی فاطمۃ بنت علی بن الحسین ، حدثتنی فاطمۃ و سکینۃ ابنتا الحسین بن علی عن ام کلثوم بنت فاطمۃ بنت النبی صلی اللہ علیہ و الہ و سلم عن فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ قالت : انسیتم قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم یوم غدیر خم : من کنت مولاہ فعلی مولاہ و قولہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ ۔(۲)

ترجمہ : امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی دختر فاطمہ ،امام موسی کاظم علیہ السلام کی بیٹیوں فاطمہ (معصومہ سلام اللہ علیہا ) زینب اور ام کلثوم سے نقل فرماتی ہیں کہ ان لو گوں نے فرمایا کہ ہم سے فاطمہ بنت جعفر صادق علیہ السلام نے ان سے فاطمہ بنت محمد بن علی نے ان سے فاطمہ بنت علی بن الحسین نے ان سے امام حسین بن علی علیہم السلام کی دو بیٹیوں فاطمہ اور سکینہ نے انھوں نے ام کلثوم دختر فاطمہ بنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرمایا ہے کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے (لوگوں سے پوچھا ) کہا : کیا تم نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی غدیر خم کے دن کی فرمائش ”من کنت مولاه فعلی مولاه “ (جس کا میں مولا ہوں پس اس کے علی مولا ہیں ) اور ان کے قول انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ (اے علی تم کو مجھ سے وہی نسبت ہے کہ جو ہارون کو موسیٰ سے تھی ) کو فراموش کردیا ؟

( ۲) حدیث حب آل محمد علیہم السلام

حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام فاطمہ بنت امام جعفر صادق علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام باقر علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام سجاد علیہ السلام سے وہ فاطمہ بنت امام حسین علیہ السلام سے وہ زینب بنت امیر المومنین علیہ السلام وہ فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہاسے نقل فرماتی ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فر مایا :الا و من مات علی حب آل محمد مات شهیدا ( آگاہ ہو جاو کہ جو آل محمد کی محبت پر مرے گا وہ شہید مرا ہے ۔ )(۳)

( ۳) حضرت علی علیہ السلام اور ان کے شیعوں کی قدر و منزلت

فاطمہ معصومہ علیہا السلام (اسی مذکورہ سند سے ) فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے نقل فرماتی ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا : جب شب معراج میں بہشت میں داخل ہوا تو ایک قصر دیکھا جس کا ایک دروازہ یاقوت اور موتی سے آراستہ تھا اس کے دروازے پر ایک پردہ آویزاں تھا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس پر لکھا تھالا اله الا الله محمد رسول الله علی ولی القوم ( خدا کے علاوہ کوئی لائق پرستش نہیں محمد اللہ کے رسول اور علی لوگوں کے رہبر ہیں ۔ ) اور اس کے پردہ پر لکھا تھا بخ بخ من مثل شیعۃ علی خوشابحال خاشابحال علی علیہ السلام کے شیعوں جیسا کون ہے ؟ میں اس قصر میں داخل ہو وہاں ایک قصر دیکھا جو عقیق سرخ سے بنا تھا اس کا دروازہ چاندی کا تھا جو زبر جد سے مزین تھا اس در پر بھی ایک پردہ آویزاں تھا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو اس پر لکھا تھا محمد رسول اللہ علی وصی المصطفیٰ محمد خدا کے رسول اور علی مصطفیٰ کے وصی ہیں اس کے پردہ پر مرقوم تھا بشر بشیعۃ علی بطیب المولد علی شیعوں کو حلال زادہ ہونے کی مبارک باد دیدو میں داخل ہوا تو وہاں زبرجد سے بنا ہوا ایک محل دیکھا جس سے بہتر میں نے نہیں دیکھا تھا اس محل کا دروازہ سرخ یاقوت کا تھا جو موتیوں سے مزین تھا اس پر ایک پردہ لٹکا تھا میں نے سر اٹھا یا تو دیکھا کہ پردہ پر لکھا ہے شیعۃ علی ہم الفائزون یعنی علی کے شیعہ ہی کامیاب ہیں ، میں نے جبرئیل سے سوال کیا کہ یہ محل کس کا ہے جبرئیل نے کہا آپ کے چچا زاد بھائی ، وصی و جانشین حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کا ہے قیامت کے دن سب بجز علی کے شیعوں کے ننگے پاوں وارد ہونگے ۔(۴)

( ۴) قم دیار ابرار

جب حضرت معصومہ ساوہ میں مریض ہوئیں تو قافلے والوں سے کہا کہ مجھے قم لے چلو میں نے اپنے با با سے سنا ہے کہ قم ہمارے شیعوں کا مرکز ہے۔(۵)

____________________

۱۔ بحار الانوار ج / ۲۳ ص / ۱۴۱۔

۲۔الغدیر ج / ۱ ، ص ۱۹۶ ۔

۳ ۔آثار الحجۃ محمد رازی ص / ۹ ، نقل از اللو للوہ الثمینہ ص / ۲۱۷۔

۴ ۔ بحار ج / ۶۸ ، ص / ۷۶ ۔

۵ ۔ ودیعہ آل محمد آقای انصاری ص ۱۲ نقل از دریای سخن سقا زادہ تبریزی ۔


پانچویں فصل:

کریمہ اہل بیت کی کرامتیں

چونکہ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہااس خاندان کی چشم و چراغ ہیں جس کے لئے زیارت جامعہ میں ان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ جملہ ملتا ہے ”عادتکم الاحسان و سجیتکم الکرم “ احسان آپ کی عادت اور کرم آپ کی فطرت ہے ۔(۱) لہٰذا بہت ساری کرامتیں آستانہ مقدس سے ظاہر ہوئیں جس سے بزرگوں میں ملا صدر آیۃ اللہ بروجردی جیسے افراد سے لے کر دور و دراز ملکوں سے آنے والے عاشقان ولایت جو زیارت کی غرض سے آئے سب کے سب آپ کی کریمانہ فطرت ، لطف و احسان سے فیضیاب ہوئے لیکن افسوس کہ یہ تمام کرامتیں محفوظ نہیں ہیں ہم بعنوان نمونہ چند کرامتوں کو ذکر کرتے ہیں :

حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ اراکی سے منقول کرامتیں

حضرت آیت اللہ العظمیٰ اراکی قدس اللہ نفسہ الزکیہ خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میرے ہاتھ میں ورم کی کیفیت پیدا ہوگئی اور جلد پھٹنے لگی یہاں تک کہ میں وضو کرنے سے بھی معذور ہوگیا مجبورا تیمم کرتا تھا ۔ اس سلسلے میں تمام علاج و معالجہ بے کار ثابت ہوا آخر کار حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاسے متوسل ہوا مجھے الہام ہوا کہ دستانہ استعمال کروں میں نے ایسا کیا کچھ دنوں بعد میرا ہاتھ بالکل ٹھیک ہو گیا ۔

مرحوم اعلیٰ اللہ مقامہ نے فرمایا کہ جناب حسن احتشام(۲) آقای شیخ ابراہیم صاحب الزمانی تبریزی ( جو ایک نیک اور مخلص انسان تھے ) سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے ایک دن خواب میں دیکھا کہ میں زیارت کے لئے مشرف ہوا ہوں جیسے داخل ہونا چاہا تو حرم کے خدام نے کہا کہ حرم بند ہے چونکہ حضرت فاطمہ الزہراء اور جناب معصومہ ضریح میں محو گفتگو ہیں اور کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے میں نے کہا سیدہ سلام اللہ علیہا میری ماں ہیں میں ان کے لئے محرم ہوں تو پھر لوگوں نے مجھے اندر جانے کی اجازت دیدی اندر جانے کے بعد میں نے دیکھا کہ یہ دونوں بیبیاں تشریف فرما ہیں اور بالائے ضریح محو گفتگو ہیں تمام باتوں میں ایک بات یہ بھی تھی کہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے فرما رہی ہیں کہ سید جعفر احتشام نے میری مدح کی ہے ظاہراً وہ حضرت کی مدح کر رہے تھے ۔

آقای شیخ ابراہیم نے یہ خواب میں اہل منبر کے دورہ والے جلسے میں پیش کیا وہاں جناب جعفر احتشام بھی موجود تھے حاج احتشام نے کہا ان اشعار کا کچھ حصہ آپ کو یاد بھی ہے کہا ہاں ” دخت موسیٰ بن جعفر “ جیسے ہی شیخ ابراہیم سے سنا رونے لگے اور کہنے لگے کہ ہاں یہ میرے اشعار میں سے ہیں ۔

ہم اس کلام کو بطور کامل یہاں ذکر کرتے ہیں :

ای خاک پاک قم چہ لطیف و معطری

خاکی ولی ز ذوق و صفا بند گوہری

گوہر کجا و شان تو نبود عجیب اگر

گویم ز قدر و منزلت از عرش برتری

بس باشد این مقام ترائی زمین قم

مدفن برای دختر موسیٰ بن جعفری

ای بانوی حریم امامت کہ مام دہر

نازادہ بعد فاطمہ یک ہم چون دختری

یا فاطمہ حریم خدا بضعۃ بتول

محبوبہ مکرمہ حی داوری

ہستی تو دخت موسیٰ و اخت رضا یقین

گر دوں ندیدہ ہم چون پدر ہم برادری

فخر امام ہفتم و ہشتم کہ از شرف

وی رایگانہ دختر و آن را تو خواہری

مریم کہ حق ز جملہ زنہایش برگزید

شایستہ نیست آنکہ کند با تو ہمسری

از لطف خاص و عام تو ای عصمت اللہ

بر عاصیان شفیعہ فردای محشری

صد حیف یوم طف نبودی بکربلا

بینی بنات فاطمہ با حال مضطری

زینب کشید نالہ کہ یا ایہا الرسول

بین بہر ما نماندہ نہ اکبر نہ اصغیری

و آن یک شکستہ بازو و آن یک دریدہ گوش

و آن دیگری بہ چنگ لئیم ستمگری

یا فاطمہ بجان عزیز برادرت

بر احتشام لطف نما قصر اخضری

سید جعفر احتشام ایک کیفیت اور مخصوص انداز میں مصائب پڑھا کرتے تھے اور خود بھی بہت زیادہ روتے تھے آپ کے فرزند حسن احتشام فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ماجد سے کہا کہ دیگر شعراء کی طرح آپ بھی اپنا تخلص پیش کیا کیجئے لیکن انھوں نے میری عرض قبول نہیں کی کافی اصرار و گزارش کے بعد ایک شعر پڑھا جو اسی نظم کا مقطع ہے ۔

یعنی ای فاطمہ بجان عزیز برادرت بر احتشام لطف نما قصر اخضری

وہ فرماتے ہیں کہ جناب معصومہ علیہا السلام نے انھیں قصر اخضری عنایت بھی کیا میں نے پوچھا کس طرح تو آپ نے کہا کہ جہاں پر آقای مرعشی کا مصلیٰ بچھتا تھا وہاں پر گچ کاری کر کے سبز سنگ مرمر لگا دیا گیا ہے اور جناب احتشام کی قبر اسی حرم میں مسجد بالا سر پر موجود ہے یہ سبز قصر تھا جو جناب احتشام کو مل گیا ۔

آقای الحاج شیخ حسن علی تہرانی ( جو آیۃ اللہ مروارید کے نانا تھے ) جن کا شمار بزرگ علماء میں ہوتا تھا نیز میرزائے شیرازی کے فاضل و ارشد شاگردوں میں تھے جنھوں نے نجف کی مقدس و مشکبار فضا میں علم و ادب کی اپنی پیاس پچاس سال تک بجھائی ہے آپ کے ایک بھائی جو شال فروش کے نام سے شہرت رکھتے تھے نجف کے تاجروں میں شمار ہوتے تھے طالب علمی کے زمانے میں آپ کے بھائی ماہانہ پچاس تومان دیاکرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے تاجربھائی کی وفات ہو گئی اور ان کا جنازہ قم آیا اور قم میں دفن کردئے گئے ۔

حاج شیخ حسن علی نے اپنی عمر کے آخری لمحات میں مشہد مقدس کی سکونت اختیار کر لی تھی جب انہیں ٹیلیگرام سے بھائی کے مرنے کی خبر دی گئی تو خبرپاتے ہی امام ہشتم امام رضا علیہ السلام کے حرم مطہر میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ میں اپنے بھائی کی خدمتوں اور نوازشوں کا صلہ انھیں نہیں دے سکا مگر یہ کہ آپ کے در پر حاضر ہوا ہوں اور اجتجا کر رہا ہوں کہ آپ اپنی بہن حضرت معصومہ سے سفارش کردیں کہ وہ میرے بھائی کی نصرت کردیں ۔ اسی شب ایک تاجر ( جو اس واقعہ سے بے خبر تھا ) نے خواب دیکھا کہ حرم حضرت معصومہ میں مشرف ہوا ہوں وہاں پر لوگ کہہ رہے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام قم تشریف لائے ہیں ایک تو اپنی بہن سے ملاقات کرنے دوسرے شیخ حسن علی کے بھائی کے لئے حضرت معصومہ سے سفارش کرنے کے لئے ۔

تاجر اس خواب کا مطلب سمجھ نہیں سکا اور حاج شیخ حسن علی سے بیان کیا تو انھوں نے کہا کہ جس رات تم نے خواب دیکھا ہے میں اپنے بھائی کے متعلق امام رضا علیہ السلام سے متوسل ہوا تھا تمہارا یہ خواب صحیح اور سچا ہے

آقای سید محمد تقی خوانساری مرحوم نے اس خواب کو سننے کے بعد فرمایا کہ اس خواب سے استفادہ ہوتا ہے کہ قم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا حرم ہے یہی وجہ ہے کہ امام رضا علیہ السلام قم تشریف لائے ۔ اور حاج شیخ حسن علی کے بھائی کے متعلق سفارش کی لیکن خود حضرت امام رضا علیہ السلام نے اس مسئلہ میں کوئی مداخلت نہیں کی چونکہ یہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکا علاقہ ہے اور حضرت اس میں مداخلت کرنا نہیں چاہتے ہیں ( حضرت آیت اللہ اراکی کے حوالے سے ان کرامتوں کی کیسٹیں آستانہ کے امور فرہنگی میں موجود ہیں )۔

جلال و جبروت حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام

آقای شیخ عبد اللہ موسیانی جو ( آیت اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی کے شاگرد تھے ) نقل فرماتے ہیں کہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی طلاب سے فرمایا کرتے تھے کہ میرے قم واپس ہونے کی علت یہ ہے کہ میرے والد سید محمود مرعشی نجفی ( کہ جو ایک مشہور زاہد و عابد تھے ) نے حضرت علی علیہ السلام کے حرم اقدس میں چالیس شبیں گذاریں ایک شب ( مکاشفہ کی حالت میں ) حضرت علی علیہ السلام کو دیکھا کہ آنحضرت فرما رہیں ہیں کہ سید محمود کیا چاہتے ہو ؟ جواب دیا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی قبر کہاں ہے تا کہ اس کی زیارت کروں حضرت علی علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں حضرت کی وصیت پائمال کر کے تمھیں ان کی اصل قبر کا پتہ نہیں دے سکتا پھر سید محمود نے عرض کی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زیارت پڑھتے وقت میں کیا کروں ؟ تو حضرت علی علیہ السلام نے جواب دیا کہ خداوند عالم نے حضرت فاطمہ کا تمام جلال و عظمت شان حضرت معصومہ قم علیہا السلام کو عطا کردیا ہے لہٰذا جو بھی حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی زیارت کا ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے وہ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہاکی زیارت کرے ۔

پھر حضرت آیت اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی فرماتے ہیں کہ میرے والد مجھ سے سفارش کیا کرتے تھے کہ میں زیارت کرنے پر قادر نہیں ہو لیکن تم جاو اور ان کی زیارت کرو لہٰذا میں اپنے والد کی سفارش کی وجہ سے حضرت معصومہ اور حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت کی خاطر ایران آیا اور موسس حوزہ علمیہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ حائری اعلیٰ اللہ درجاتہ کے اصرار پر قم ہی میں رہ گیا آیت اللہ مرعشی اس زمانے میں کہا کرتے تھے کہ ساٹھ سال سے ہر روز حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا سب سے پہلا زائر میں ہوتا ہوں ( یعنی جو شخص سب سے پہلے روزانہ آپ کی زیارت سے مشرف ہوتا تھا وہ آیت اللہ مرعشی ہیں )

حضرت فاطمہ معصومہ کی نوازشیں

جناب آقای عبد اللہ موسیانی حضرت آیت اللہ مرعشی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سردی کے موسم میں ایک شب بے خوابی کے مرض میں مبتلا ہوگیا سوچا کہ حرم چلا جاوں لیکن نا وقت اور بے موقع سمجھ کر پھر سونے کی کوشش کرنے لگا اور سر کے نیچے اپنا ہاتھ رکھ لیا تا کہ اگر نیند بھی آنے لگے تو سو نہ سکوں ۔ خواب میں دیکھتے ہیں کہ ایک بی بی کمرے میں داخل ہوئیں ہیں ( جن کا قیافہ میں نے بخوبی دیکھا لیکن اسے بیان نہیں کروں گا ) اور فرماتی ہیں کہ سید شہاب اٹھو اور حرم جاومیرے بعض زائرین کڑاکے کی سردی سے جان بحق ہونے والے ہیں ۔ انھیں بچاو آپ فرماتے ہیں کہ میں بلا تامل حرم روانہ ہوگیا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ حرم کے شمالی دروازے ( میدان آستانہ کی طرف ) پر بعض پاکستانی یا ہندوستانی ( اپنی مخصوص وضع و قطع کے ساتھ ) ٹھنڈک کی شدت کی وجہ سے دروازے سے پشت لگائے ہوئے تھر تھرارہے ہیں ( کانپ ) میں نے دق الباب کیا حاج آقای حبیب نامی خادم نے میرے اصرار پر دروازہ کھول دیا ہمارے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی حرم کے اندر داخل ہوگئے اور ضریح کے کنارے زیارت اور عرض ادب میں مصروف ہوگئے میں نے بھی انہیں خادموں سے پانی مانگا اور نماز شب کے لئے وضو کرنے لگا ۔

ایک دوسری عنایت

آقای شیخ عبد اللہ موسیانی فرماتے ہیں کہ میں مشہد کے لئے عازم تھا جب کہ وہاں زائرین کی کثرت کے سبب مسافر خانہ یا ہوٹل کا دستیاب ہونا مشکل تھا جوں ہی مجھے مشہد میں اژدہام اور گھر نہ ملنے کی خبر ملی تو حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکے حرم میں مشرف ہوا اور بہت ہی اپنائیت سے آنحضرت سلام اللہ علیہاکی خدمت میں عرض پرداز ہوا بی بی جان میں آپ کے بھائی کی زیارت کا قصد رکھتا ہوں لہٰذا آپ خود مجھے وہاں پر دچار مشکلات ہونے سے بچائیں اس کے بعد میں مشہد کے لئے روانہ ہوگیا وہاںپہنچنے کے بعد دیکھا کہ ایسے ہنگام میں گھر کا ملنا بہت مشکل ہے حرم سے قریب ٹیکسی رکی اور میں اتر گیا ناگہاں دیکھا کہ ایک جوان ایک گلی سے نکل کر میری طرف آرہا ہے اس نے آتے ہی سوال کیا کہ گھر چاہیے ۔ میں نے کہا کہ ہاں پھر اس نے مجھے اپنے پیچھے پیچھے آنے کے لئے کہا میں اس کے ساتھ ہولیا وہ اپنے گھر لے گیا ایک بہت ہی وسیع و عریض اور عمدہ کمرہ میرے حوالہ کیا اور میں سامان سجل کرنے لگ گیا اتنے میں اس کی بیوی نے مجھے کھانے پر مدعو کر لیا حرم مطہر کی زیارت اور فریضہ کی ادائیگی کے بعد ان کے ساتھ ہم دستر خوان ہو گیا دوسرے دن اس خاتون نے مجھ سے پوچھا کہ آپ یہاں کب تک رہنے کا قصد رکھتے ہیں ؟ میں نے جواب دیا دس دن ۔ خاتون نے کہا ہم تہران جارہے ہیں یہ کنجی ہے آپ جب بھی جانا چاہیں یہ کنجی ہمارے پڑوسی آقای رضوی (رضوانی ) کو دے دیجئے گا میں سمجھا کہ جس کو کنجی دینے کے لئے کھا ہے اس سے مراد کرایہ کی بھی بات کر لی ہے چند دن کے بعد کوئی گھر پر آیا اور کہنے لگا میں رضوی یا رضوانی ہوں آپ جب بھی قم کے لئے روانہ ہوں کنجی کمرے کے اندر آئینہ کے پیچھے رکھ دیجئے گا ۔ اور گھر کا دروازہ بند کرکے چلے جائے گا ۔ پھر میں نے اس سے بھی کہا کہ کرایہ کا کیا ہو گا اس نے کہا کہ کرایہ سے متعلق مجھ سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے دس دن قیام کے بعد جب میں نے قم آنے کا ارادہ کیا تو یاد آیا کہ ٹکٹ پہلے لینا چاہئے اب تو ٹکٹ لینا بہت مشکل ہے ۔ میں نے اس گاڑی والے سے ( جو ہمارے قیام گاہ کے پاس گاڑی پارک کرتا تھا اور تہران سے مشہد اس کی مسیر تھی ) گزارش کی کہ ہمیں بھی اپنے ہمراہ تہران تک لیتے چلو اس نے جواب دیا کل میں تو تہران ہیں جاوں گا لیکن آپ کو بہر صورت قم بھیج دوں گا دوسرے دن وہ ہمیں گیرج لے گیا اور دفتر کے نگراں سے سفارش کی کہ یہ ہمارے لوگ ہیں اور قم جانا چاہتے ہیں کوئی صورت نکالئے اس نے خنداں پیشانی سے استقبال کیا اور بس میں بہترسے بہتر ہماری ضرورتوں کے مطابق جگہ دیدی اسی طرح حضرت معصومہ سلام اللہ علیہانے ہماری واپسی کا بھی انتظام کردیا جس طرح مشہد میں ہمارے قیام کا بند و بست کیا تھا ۔

نخجوانی طالب علم کو شفا

حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ ناصر مکارم شیرازی دام ظلہ فرماتے ہیں کہ روس کی بربادی اور اس کی تقسیم نیز مسلمان نشین جمہوریتوں کے آزاد ہونے کے بعد (جس میں ایک جمہوری نخجوان بھی ہے)نخجوان کے شیعوں نے اپنے نوجوانوں کو حوزہ علمیہ قم بھیجنے کاارادہ کیاتاکہ تبلیغ اور صحیح تربیت کاایک اچھا اور مناسب انتظام ہو قم بھیجنے کے لئے ان لوگوں نے ایک مسابقہ کاانعقاد کیا جس میں تین سو افراد نے شرکت کی اور ان میں سے پچاس افراد کو قبول کیا گیاجن کے نمبر اچھے تھے ان پچاس افراد میں سے ایک منتخب شدہ نوجوان ایسا بھی تھا جس کی آنکھ خراب تھی ،مسئولین نے اسے رد کردیا۔لیکن اس کے باپ کے بے حد اصرار کی بناء پر اسے دوبارہ قبول کیاگیا،جس وقت یہ افراد تحصیل علم کے لئے قم روانہ ہورہے تھے اس وقت ویڈیو گرافر نے کیمرہ اس لڑکے کی طرف گھمادیا اور ایک برجستہ تصویر لے کر نمائش میں لگادی جب اس نوجوان نے یہ دیکھا تو بہت رنجیدہ ہوا قم پہنچنے کے بعد سارے لوگ اپنے اپنے مدرسوں میں ساکن ہوئے لیکن اس نوجوان کے قدم حرم مطہر کی جانب بڑھے اور اس نے بارگاہ حضرت معصومہ میں حاضری دی نہاےت لگن خلوص کے ساتھ حضرت سے متوسل ہوا اسی عالم میں وہ سوگیا خواب میں اس نے عوالم مشاہدہ کئے بیداری کے بعد اس نے دیکھا کہ اب آنکھ سالم اور بے عیب ہے شفا یابی کے بعد وہ مدرسہ لوٹتاہے جب اس کے دوستوں نے یہ کرامت اور معجزاتی کیفیت دیکھی تو ایک ساتھ حرم کے لئے روانہ ہوگئے اور کافی دیر تک وہاں دعا اور توسل میں مشغول رہے جب یہ خبر نخجوان پہنچی تو وہاں کے لوگوں نے کافی اصرار کیا کہ اس جوان کو یہاں بھیج دیا جائے تاکہ دوسروں کے لئے عبرت اور ہدایت نیز مسلمانوں کا عقیدہ پختہ ہوسکے۔(۳)

منبع فیض الٰہی

محدث قمی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بعض اساتذہ سے خود سنا ہے کہ ملا صدر شیرازی نے اپنی بعض مشکلات کی بنیاد پر شیراز سے قم کی ہجرت کر لی اور کہک نامی دیہات میں سکوت پذیر ہوگئے ۔ اس حکیم فرزانہ کے لئے جب بھی کسی علمی مسئلہ میں مشکل پیش آتی تھی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی زیارت کو آتے تھے اور حضرت سے متوسل ہونے کی وجہ سے ان کی علمی مشکلات حل ہوجاتی تھی اور اس منبع فیض الٰہی کے مورد عنایت قرار پاتے تھے ۔(۴)

مرد نصرانی کو شفا

محدث نوری نے نقل فرمایا ہے : کہ بغداد میں ایک نصرانی بنام یعقوب مرض چکے تھے وہ اس درجہ نحیف و لاغر ہوچکا تھا کہ چلنے پھر نے سے بھی معذور تھا وہ کہتا ہے :

خدا سے میں نے بارہا موت کی تمنا کی یہاں تک کہ ۱۲۸۰ ھ میں عالم خواب میں ایک جلیل القدر نورانی سید کو دیکھا کہ میرے تخت کے پاس کھڑے ہیں اور مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ اگر شفا چاہتے ہو تو کاظمین کی زیارت کے لئے آو جب میں خواب سے بیدار ہوا تو اپنی ماں سے خواب کو نقل کیا ، چونکہ میری ماں نصرانی تھی اس لئے کہنے لگی یہ شیطانی خواب ہے ۔ دوسری مرتبہ جب میں سویا تو ایک خاتون کو خواب میں دیکھا جو چادر میں ڈھکی تھیں مجھ سے کہنے لگیں : اٹھو ! صبح ہوگئی ہے ۔ کیا میرے باپ نے تم سے شرط نہ کی تھی کہ ان کی زیارت کرو گے تو وہ تم کو شفا یاب کریں گے ؟ میں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ تو فرمایا : میں معصومہ امام رضا علیہ السلام کی بہن ہوں ۔ پھر میں نے پوچھا آپ کے بابا کون ہیں ؟ تو انھوں نے فرمایا : موسیٰ بن جعفر ( اسی اثناء میں ) میں خواب سے بیدار ہوگیا متحیر تھا کہ کہاں جاوں ذہن میں آیا کہ سید راضی بغدادی کے پاس جاوں ۔ اسی عزم کے تحت میں بغداد گیا اور جب ان کے گھر کے دروازے پر پہنچا تو دق الباب کیا ۔ آواز آئی : کون ؟ میں نے کہا دروازہ کھولو ! جیسے ہی سید نے میری آواز سنی اپنی بیٹی سے کہا : دروازہ کھولو ایک نصرانی مسلمان ہونے کے لئے آیا ہے ۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو ان سے پوچھا : آپ کو کیسے معلوم ہوگیا کہ میں اس قصد سے آیا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا : خواب میں میرے جد نے مجھے سارے قضیہ سے آگاہ کردیا ہے ۔ پھر وہ مجھے کاظمین شیخ عبد الحسین تہرانی کے پاس لے گئے تو میں نے اپنی ساری داستان ان سے کہہ سنائی ۔ داستان سننے کے بعد انھوں نے حکم صادر فرمایا اور لوگ مجھے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حرم مطہر میں لے گئے اور مجھے ضریح کا طواف کرا یا لیکن کوئی عنایت نہ ہوئی میں حرم سے باہر نکلا ، پیاس کا غلبہ ہوا پانی پیا ، پانی پیتے ہی میری حالت متغیر ہوگئی ۔ میں زمین پر گر گیا گویا میری پیٹھ پر ایک پہاڑ تھا جس کی سنگینی سے مجھے نجات ملی ، میرے بدن کا ورم ختم ہوگیا ، میرے چھرے کی زردی سرخی میں تبدیل ہوگئی اور اس کے بعد اس مرض کا نام و نشان تک مٹ گیا ۔ شیخ بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ہاتھوں مسلمان ہو گیا ۔

مفلوج کو شفا

حجۃ الاسلام و المسلمین آقای شیخ محمود علمی اراکی نے نقل فرمایا ہے :

میں نے خود بارہا ایک شخص کو دیکھا ہے کہ جو پیر سے عاجز تھا وہ اپنے پیروں کو جمع کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ۔ وہ اپنے بدن کے نچلے حصہ کو زمین پر خط دیتا ہوا اپنے دونوں ہاتھوں کے سہارے چلتا تھا ۔ ایک دن میں نے اس سے اس کا حال دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ روس کے ایک شہر قفقاز کا باشندہ ہے ۔ وہ بتانے لگا کہ میرے پیر کی رگیں خشک ہوچکی ہیں لہٰذا میں چلنے سے معذور ہوں ۔ میں مشہد امام رضا علیہ السلام سے شفا لینے گیا تھا لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔ اب یہاں قم آیا ہوں اگر خدا نے چاہا تو شفا مل جائے گی ۔

ماہ رمضان المبارک کی ایک رات کو یکایک حرم کے نقار خانے سے نقارہ بجنے کی آواز آئی ۔ لوگ آپس میں کہہ رہے تھے بی بی نے مفلوج کو شفا دیدی ! اس واقعے کے چند دنوں بعد میں چند افراد کے ساتھ گاڑی ( یکہ ) میں اراک کی طرف جا رہا تھا ۔ راستے میں اراک سے چھ فرسخ کے فاصلے پر اسی مفلوج شخص کو دیکھا کے اپنے صحیح و سالم پیر سے کربلا کی طرف عازم ہے ہم نے اپنا یکہ روکا اور اس کو اپنی سواری پر سوار کرلیا ۔ پھر معلوم ہوا کہ اس دن جسے شفا ملی تھی وہ یہی مفلوج ہے ۔ وہ شخص اراک تک ہم لوگوں کے ساتھ تھا ۔(۶)

عزاداری اہلبیت کا صلہ اور درد پا کی شفا

حضرت آیۃ اللہ شیخ مرتضیٰ حائری نے فرمایا :

آقا جمال نامی شخص جو ” ہژبر “ کی عرفیت سے مشہور تھا ، اس کے پیر میں درد کی شکایت ہوگئی اور وہ اس حد تک بڑھی کہ مجلسوں میں ایک آدمی انھیں گودی اٹھا کر لے جا یا کرتا تھا اور ان کی کمک کرتا تھا ۔

نویں محرم کو آقای ہژبر مدرسہ فیضیہ میں اس مجلس میں شرکت کی غرض سے آئے جسے آیۃ اللہ مرتضیٰ حائری نے برپا کیا تھا ، آقا سید علی سیف ( آیۃ اللہ حاری مرحوم کے خادم ) کی نگا جیسے ہی آقائے ہژبر پر پڑی ان کو برا بھلا کہنے لگے ، کہنے لگے : یہ کون سا کھیل رچا رکھا ہے ، لوگوں کو زحمت میں مبتلا کرتے ہو ۔ اگر تم واقعاً سید ہو تو جاو جا کر بی بی سے شفا حاصل کرلو ۔ یہ جملہ سن کر آقائے ہژبر کافی متاثر ہوئے ۔ جب مجلس ختم ہوگئی تو اپنے ہمراہی و مدد گار سے کہا : مجھ کو حرم مطہر لے چلو ! حرم پہنچ کر زیارت و عرض ادب کے بعد شکستہ حالی میں توسل کیا ، اسی حالت میں سید کو نیند آگئی ۔ خواب میں دیکھا کہ کوئی ان سے کہہ رہا ہے : اٹھو ! میں نے کہا : میں اٹھ نہیں سکتا ۔ کہا گیا : تم اٹھ سکتے ہو ، اٹھ جاو ! اس کے بعد ان کو ایک عمارت دکھائی گئی اور کہنے والے نے کہا : یہ عمارت سید حسین آقا کی ہے جو میرے لئے مصائب پڑھتے ہیں اور یہ نامہ بھی ان کو دیدینا ۔ ناگہاں آقائے ہژبر کی آنکھ کھل گئی تو انھوں نے خودکو اس حال میں کھڑے ہوئے پایا کہ ان کے ہاتھ میں ایک خط تھا ۔ انھوں نے وہ نامہ مذکورہ شخص تک پہنچادیا ۔ وہ کہتے تھے : میں ڈر گیا کہ اگر اس خط کو نہیں پہنچا یا تو دوبارہ اس درد میں مبتلا ہوجاوں گا ۔ اس خط میں کیا تھا کسی کو معلوم نہ ہوسکا حتیٰ آیۃ اللہ حائری نے فرما یا : اس واقعہ کے بعد آقائے ہژبر بالکل بدل گئے ، گویا ایک دوسری دنیا کے باشندے ہیں اکثر و بیشتر خاموش ، یا ذکر خدا میں مشغول رہتے تھے ۔(۷)

گمشدہ کو نجات اور زائرین پر عنایتیں

حرم کے خادم اور کلید دار جو آقائے روحانی مرحوم ( علمائے قم میں سے ایک عالم دین جو مسجد امام حسن عسکری علیہ السلام میں امام جماعت تھے ) کی نمازوں میں تکبیر بھی کہا کرتے تھے ۔ خود نقل کرتے ہیں : جاڑے کی ایک رات تھی ، میں حرم مطہر میں تھا عالم خواب میں حضرت معصومہ علیہا السلام کو دیکھا کہ آپ فرمارہی ہیں : اٹھو اور مناروں پر چراغ روشن کرو ، میں خواب سے بیدار ہوا اور کوئی توجہ نہ دی ، دوسری مرتبہ بھی یہی خواب دیکھا لیکن اس مرتبہ بھی توجہ نہ دی ، تیسری مرتبہ حضرت نے فرمایا : مگر تم سے نہیں کہہ رہی ہوں کہ اٹھو اور مناروں پر چراغ روشن کرو ؟ میں خواب سے بیدار ہوا اور کسی علت کو معلوم کئے بغیر منارے پر گیا اور چراغ روشن کر کے پھر سوگیا ۔ صبح کو اٹھ کر حرم کے دروازوں کو کھولا اور آفتاب طلوع ہونے کے بعد حرم سے باہر آیا ۔ اپنے رفقاء کے ساتھ جاڑے کی دھوپ میں گفتگو کر رہا تھا کہ یکایک چند زائرین کی گفتگو کی طرف متوجہ ہوا ۔ وہ کہہ رہے تھے : بی بی کی کرامت اور معجزے کو دیکھا ! اگر کل رات اس سرد ہوا اور شدید برف باری میں حرم کے منارے کا چراغ روشن نہ ہوتا توہم لوگ ہرگز راستہ تلاش نہیں کرپاتے اور ہلاک ہوجاتے ۔

خادم کہتا ہے :

میں اپنے آپ میں حضرت کی کرامت کی طرف متوجہ ہوا نیز یہ کہ آپ کو اپنے زائروں سے کس قدر محبت و الفت ہے۔(۸)

مرض دیوانگی

آقائے میر سید علی برقعی نے فرمایا :

ایک شخص نے بیان کیا کہ میں جب عراق میں ایران کا سفیر تھا تو میری بیوی دیوانگی کی مرض میں مبتلا ہوگئی ، نوبت یہاں تک آگئی کہ ان کے پیر میں زنجیر ڈالنی پڑی ایک دن جب سفارت خانے سے لوٹا تو ان کا بہت برا حال دیکھا ۔ یہ حال دیکھنے کے بعد اپنے مخصوص کمرے میں داخل ہوا اور وہیں سے امیر المومنین علیہ السلام سے متوسل ہوا عرض کیا :

یا علی چند سال سے آپ کی خدمت میں ہوں اور پردیسی ہوں ، اپنی بیوی کی شفا یابی آپ سے چاہتا ہوں ۔اسی طرح متحیر و پریشان تھا کہ خدا یا کیا کروں کہ ناگہاں گھر کی خادمہ دوڑتی ہوئی آئی اور بولی آقا ! جلدی آئیے ۔ میں نے پوچھا : میری بیوی مرگئی ؟ کہنے لگی : نہیں ! اچھی ہوگئی ہیں ۔ میں جلدی سے اپنی بیوی کے پاس آیا تو دیکھا کہ طبیعی حالت میں بیٹھی ہیں ۔ مجھے دیکھتے ہی مجھ سے پوچھنے لگیں : میرے پیر میں زنجیر کیوں باندھی ہے ؟

میں نے سارا واقعہ سنادیا ۔ اس کے بعد میں نے پوچھا تم یکایک ٹھیک کیسے ہوگئی ؟ انھوں نے جواب دیا : ابھی ابھی ایک با جلالت خاتون میرے کمرے میں داخل ہوئیں تھیں ، میں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ فرمایا : میں معصومہ امام موسیٰ جعفر علیہ السلام کی دختر ہوں ، میرے جد امیر المومنین علیہ السلام نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تم کو شفا دوں اور میں نے تم کو شفا یاب کردیا ۔(۹)

ضعف چشم

حاج آقائے مہدی صاحب مقتبرۃ اعلم السلطنۃ ( بین صحن جدید و عتیق ) نے نقل کیا ہے کہ میں کچھ دنوں قبل ضعف چشم میں مبتلا ہو گیا تھا ۔ ڈاکٹروں کے پاس جانے کے بعد معلوم ہوا کہ آنکھ میں موتیا بندہوگیا ہے لہٰذا اس کا آپریشن کرنا پڑے گا ۔ وہ کہتے ہیں : اس کے بعد میں جب بھی حرم مشرف ہوتا تھا تو ضریح کی تھوڑی سی گرد و غبار آنکھوں سے مل لیا کر تا تھا ۔ میرا یہ عمل باعث ہوا کہ میری آنکھوں کی کمزوری برطرف ہوگئی ۔ یہ عمل ایسا با برکت ثابت ہوا کہ آج تک چشمے کے بغیر قرآن و مفاتیح پڑھتا ہوں ۔(۱۰)

گونگی لڑکی

حجۃ الاسلام جناب آقائے حسن امامی یوں رقمطراز ہیں :

۱۰ / رجب ۱۳۸۵ ء ھ بروز پنجشنبہ ” آب روشن آستارہ “ کی رہنے والی ایک ۱۳ سالہ لڑکی اپنے ماں باپ کے ہمراہ قم آئی ۔ وہ لڑکی ایک مرض کی وجہ سے گونگی ہو گئی تھی اور بولنے کی صلاحیت اس سے سلب ہوگئی تھی ۔ ڈاکٹروں کو دکھانے کے با وجود بھی اس کا معالجہ نہ ہو سکا ۔ جب ڈاکٹر مایوس ہوگئے تو وہ لوگ حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم میں پناہ گزیں ہوئے ۔ دو رات وہ لڑکی ضریح کے پاس بیٹھی رہی ۔ کبھی روتی تو کبھی زبان بے زبانی سے مشغول راز و نیاز تھی کہ یک بارگی حرم کے سارے چراغ خاموش ہوگئے ۔ اسی وقت وہ لڑکی حضرت کی بے کراں عنایتوں کے سائے میں آگئی اور ایک عجیب انداز میں چیخ اٹھی جسے وہاں کے خدام اور زائرین نے اچھی طرح سنا چیخ سنتے ہی مجمع ٹوٹ پڑتا تا کہ اس کے کپڑے کے کچھ حصے بعنوان تبرک لے لے ۔ لیکن فوراً خادمین حضرات لڑکی کو حفاظت کے لئے ایک حجرے میں لے گئے ( جسے کشیک خانہ کہتے ہیں ) یہاں تک کہ مجمع کم ہویا ۔ لڑکی نے کہا : جس وقت چراغ گل ہوا اسی وقت ایک ایسی روشنی اور نور دیکھا کہ اپنی پوری زندگی میں ویسا نور نہیں دیکھا تھا پھر حضرت سلام اللہ علیہا کو دیکھا کہ فرمارہی ہیں : تم ٹھیک ہوگئی ہو اب بول سکتی ہو میں چیخنے لگی تو دیکھا کہ میں بول سکتی ہوں ۔(۱۱)

مریض دق

آقائے مہدی صاحب مقبرہ اعلم السلطنۃ فر ماتے ہیں :

قم کے ایک دیہات ”خلجستان “ کا ایک شخص مرض دق (ٹی ۔بی) میں مبتلا ہو گیا قم کے ڈاکٹروں کی طرف مراجعہ کیا ۔ لیکن اس کا کوئی اثر نہ ہوا ۔ پھر تہران گیا وہاں معالجہ شروع کیا ۔ یہاں تک کہ علاج میں اس کی ساری دولت ختم ہو گئی لیکن دواؤں نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا ۔ مایوس ہو کر تہی داماں وہ اپنے وطن لوٹ آیا ۔ وہاں کے رہنے والوں نے اس سے کہا: تمھارے پاس یہاں کچھ نہیں ہے اور تم جس مرض میں مبتلا ہو وہ چھوت کا مرض ہے ۔ تمھارا یہاں رہنا یہاں کے لوگوں کے لئے نقصان دہ ہے لہٰذا تم یہاں سے چلے جاؤ۔ چار و ناچار وہ آوارہ وطن تہی داماں رنجور شخص قم پہنچتا ہے اور صحن جدید میں حرم مطہر کے مقبروں میں سے ایک مقبرے میں تمام جگہوں سے ناامید ہو کر عنایات فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا سے اپنے دل کو تسلی دیتا ہے ۔ اسی اثنا میں اسے نیند آجاتی ہے ۔ بی بی کی عنایتوں کے نتیجہ میں بیدار ہو نے کے بعد اندر مرض کا کوئی اثر نہیں پاتا ہے ۔(۱۲)

قرض کی ادائیگی اور رزق میں برکت

آستانہ مقدسہ کے خادم جناب آقائے کمالی فرماتے ہیں : ۱۳۰۲ ھء شمسی کی بات ہے میں حضرت معظمہ کی بارگاہ میں پناہ گزیں تھا اور وہیں صحن نو میں ایک حجرے میں مقیم تھا ۔ زندگی بہت سختی سے گذر رہی تھی اور بے حد فقیر و نادار ہو گیا تھا زندگی حرم کے اطراف کے تاجروں سے قرض پر گذر رہی تھی ۔ ۔ یہاں تک کہ ایک دن نماز صبح کی ادائیگی کے بعد بی بی کی بارگاہ میں مشرف ہوا ۔ اور اپنی ساری حالت بی بی کو سنادیا ۔ اسی حالت میں پیسوں کی تھیلی میرے دامن میں گری ۔ کچھ دیر تک تو میں نے انتظار کیا کہ شاید یہ کسی زائر کا پیسہ ہو تو یہ اسے دیدوں ، لیکن وہاں کوئی نہ تھا ۔ میں سمجھ گیا کہ بی بی کا خاص لطف ہے ۔ تھیلی لے کر اپنے حجرے کی طرف پلٹ گیا ۔ جب اسے کھولا تو اس میں چار ہزار تومان تھے پہلے تو میں نے سارے کے سارے قرض ادا کئے پھر چودہ مہینوں تک اس کو خرچ کرتا رہا لیکن اس میں کافی برکت تھی ، ختم ہی نہیں ہوتا تھا ۔ یہاں تک کہ ایک دن حجۃ الاسلام حسین حرم پناہی تشریف لائے اور ہماری زندگی کے بارے میں سوال کیا ۔ میں نے موضوع کو یوں بیان کردیا ۔ انہی دنوں وہ عطیہ ختم ہوگیا ۔(۱۳)

حرم کے خادم کو شفا

یہ کرامت جو کہ حد تواتر تک پہنچی ہے اس طرح نقل کی جاتی ہے :

حرم کے خادموں میں سے ایک خادم جن کا نام میرزا اسد اللہ تھا کسی مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کے پیروں کی انگلیاں سیاہ ہوگئیں ۔ ڈاکٹروں کا یہ کہنا تھا کہ انگلیاں پیروں کے ساتھ کاٹنی پڑیں گی تا کہ مرض اوپر سرایت نہ کرسکے ۔ لہٰذا طئے پایا کہ دوسرے دن آپریشن ہوگا ۔ میرزا اسداللہ نے کہا جب ایسا ہی ہونا ہے تو آج رات مجھے دختر موسیٰ بن جعفر علیہما السلام کے حرم مطہر میں لے چلو ۔ لوگ انہیں حرم لے گئے ۔ رات کو خادموں نے حرم بند کردیا ۔ وہ خادم حرم ضریح کے پاس پیر میں درد کی وجہ سے نالہ و شیون کر رہا تھا ۔ یہاں تک کہ سپیدی سحری نمودار ہونے کا وقت آگیا نا گہاں خادموں نے میرزا کی آواز سنی کہ کہہ رہے ہیں : حرم کا دروازہ کھولو ۔ بی بی نے مجھے شفا یاب کردیا ۔

جب لوگوں نے دروازہ کھولا تو ان کو مسرور و شادمان پایا ۔ اسد اللہ نے کہا : عالم خواب میں دیکھا کہ ایک با جلالت خاتون میرے پاس تشریف لائیں اور فرمارہی ہیں : تمھیں کیا ہو گیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اس مرض نے مجھ کو عاجز کردیا ہے میں خدا سے یا تو اس درد کی دوا چاہتا ہوں یا موت کا خواستگار ہوں ۔ اس با جلالت خاتون نے اپنی چادر کا ایک گوشہ چند مرتبہ میرے پیر پر مس کیا اور فر مایا : ہم نے تم کو شفا دیدی ۔ میں نے عرض کیا : آپ کون ہیں ؟ فرمایا : مجھے نہیں پہچانتے ہو جب کہ میری نوکری کرتے ہو ۔ میں فاطمہ دختر موسیٰ بن جعفر علیہما السلام ہوں ۔ بیدار ہونے کے بعد میرزا نے وہاں روئی کے کچھ ٹکڑے پائے تھے تو ان کو سمیٹ لیا تھا ۔ اس میں سے تھوڑا سا بھی جس مریض کو دیا جاتا تھا اور وہ درد کی جگہ پر اسے مس کرتا تھا تو فوراً شفا یاب ہو جاتا تھا ۔ اسد اللہ کہتے ہیں کہ وہ روئی ہمارے گھر میں موجود تھی ۔ یہاں تک کہ سیلاب آیا اور ہمارا گھر برباد ہوگیا اور وہ روئی غائب ہوگئی پھر دوبارہ نہ ملی ۔(۱۴)

شفائے چشم

آقائے حیدری کاشانی ( واعظ ) نقل فرماتے ہیں کہ ان کی ایک ہم صنف دوست نے حضرت آیۃ اللہ بہاء الدینی کی خدمت میں بیان کیا : ایک دن میں نے اپنی دس سال کی بیٹی کی آنکھ پر ایک دانہ دیکھا ۔ جب متخصص کے پاس لے گیا تو معاینہ کے بعد اس نے بتایا کہ اس کا آپریشن کرنا پڑے گا نہیں تو خطرہ ہے ۔

لڑکی نے جیسے ہی یہ سنا ناراض ہو کر کہنے لگی کہ میں آپریشن نہیں کراوں گی ۔ مجھے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم لے چلو ۔ یہ کہنے کے بعد خود حرم کی طرف دوڑتی ہوئی روانہ ہوگئی ۔ ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے روانہ ہوگئے ۔ وہ جیسے ہی حرم پہنچی رونا شروع کردیا اور بی بی کو مخاطب کر کے بولی : اے بی بی میں آپریشن نہیں چاہتی ہوں ۔ یہ کہتی جاتی اور ضریح سے اپنی آنکھ ملتی جاتی تھی ۔ اس کا برا حال تھا ۔ اس منظر کو دیکھنے کے بعد ہم منقلب ہوگئے ۔ اس حالت توسل کے بعد اس کو آغوش میں لے کر دلداری کی اور اس سے کہا : اچھی ہو جوو گی ، پھر اس کو حرم مطہر کے صحن میں لے گیا ۔ ناگہاں میری نگاہ اس کی آنکھ پر پڑی تو دیکھا کہ اس خطر ناک دانہ کا تھوڑا سا بھی اثر موجود نہیں ہے ۔

مہمان نوازی کا خرچ

آقائے حیدری کاشانی فرماتے ہیں کہ ایک دن ہمارے گھر میں کسی کی مہمان نوازی کے لئے کچھ نہیں تھا ۔ لیکن کچھ لوگ شہر بیر جند ( جہاں مجھے شہر بدر کیا گیا تھا ) ۔ سے جو ہمارے آشنا تھے ہمارے یہاں تشریف لائے میں پریشان تھا کہ آخر کیا کروں ؟ جب کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو حرم آیا اور وہیں داخل حرم عرض کیا : بی بی جان آپ ہماری حالت سے بخوبی واقف ہیں ۔ ابھی یہ کہا ہی تھا کہ ایک خاتون نے آواز دی ۔ آواز سن کر میں ٹھہر گیا ۔ اس نے مجھے کچھ پیسہ دیا ۔ اور کہا یہ آپ کا پیسہ ہے ۔ پیسہ لے کر میں بڑہنے لگا تو اس خاتون نے مجھے پھر پکارا اور کچھ اور پیسے دئے اور کہا کہ یہ بھی آپ کا پیسہ ہے ۔ اب میں نے ضریح کی گنبد کی طرف رخ کیا اور عرض کی : بی بی جان آپ کا بہت بہت شکریہ وہاں سے لوٹ کر گھر آیا اور مہمانوں کی خاطر و مدارات کے لئے سامان مہیا کیا ۔ جب میری بیوی ( جو میری حالت سے واقف تھی ) نے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کہاں سے لائے ؟ میں کہا : فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا نے عنایت کیا ہے ۔

قم جاو

آقائے حیدری کاشانی فرماتے ہیں کہ : مسجد گوہر شاد میں عشرہ مجالس تمام ہونے کے بعد ایک خاتون میرے پاس آئی اور کہا : میرا جوان بچہ مریض تھا ایک رات حضرت رضا علیہ السلام کو خواب میں دیکھا ۔ حضرت نے فرمایا : تمہارے دو جوان مریضوں میں سے ایک کو میں نے شفا یاب کردیا دوسرے کو میری بہن کے پاس قم لے جاو ( کیونکہ قم میں میری بہن اسے شفا دیں گی ) اب آپ چونکہ قم روانہ ہوارہے ہیں تو یہ ساٹھ ۶۰ تومان وہاں ضریح میں ڈال دیجئے گا میں چند دن کے بعد حاضر ہوں گی ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ مشہد آتے وقت تم قم نہیں گئی تھی ؟ اس نے کہا ” نہ “ میں نے کہا : حضرت کی فرمائش تم سے شکوہ تھا کہ کیوں اس سفر میں ان کی بہن کی زیارت کو نہیں گئیں ۔(۱۵)

نزول رحمت

پھر ایک بار شب کی تاریکی میں دست فیض الٰہی کریمہ اہل بیت کے ہاتھوں فیض و کرم تقسیم کرنے لگا اور خورشید سے زیادہ روشن ایک چراغ ولایت عاشقان دلسوختہ ولایت پر چمکنے لگا ۔ کوئی پرانی بات نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے جو پانچ ، چھ سال قبل روز جمعہ شب ۲۳ / اردیبہشت ۱۳۷۳ شمسی کو وقوع پذیر ہوئی ہے اور ایک بار پھر غیبی خزانوں اور نزول رحمت الٰہی کا مشاہدہ کیا ۔

جس نے دامن عنایت میں جگہ پائی وہ ایک چودہ سالہ لڑکی تھی جو دور و دراز کا سفر طے کر کے آئی تھی ۔ وہ آذربائیجان کے ایک شہر ” شوط ماکو “ کی رہنے والی تھی ۔

اس نے خود مجھ سے اس طرح نقل کیا ہے :

میں رقیہ امان اللہ پور ” شوط ماکو “ کی رہنے والی ہوں ۔ چار ماہ قبل سردی کے اثر سے میرے دونوں پیر مفلوج ہو گئے تھے ، گھر والوں نے ” ماکو “ خوئی ، تبریز کے مختلف ہسپتالوں میں معالجہ کرایا ۔ لیکن تمام ڈاکٹروں نے مختلف اکسرے اور آزمائشات کے بعد ہمارے علاج سے عاجزی ظاہر کی ۔ میں اسی طرح اپنے پیروں کو حرکت دینے سے معذور تھی یہاں تک کہ چہارشنبہ کی رات ۲۱ / اردیبہشت ۱۳۷۳ شمسی کو عالم خواب میں دیکھا کہ ایک سفید پوش خاتون ایک سفید گھوڑے پر سوار میری طرف آرہی ہیں ۔ نزدیک آکر فرمایا : کیوں شروع ہی سے میرے پاس نہیں آئی تا کہ تم کو شفا دیدیتی ؟ مضطرب حالت میں خواب سے بیدار ہوئی اور خواب کو چچا اور پھوپھی سے نقل کردیا ۔ ان لوگوں نے بھی بلا فاصلہ قم کے سفر کے مقدمات فراہم کردیئے ۔ لہٰذا روز جمعہ ۲۳ / اردیبہشت ساڑھے سات بجے شام کو ہم لوگ حرم مطہر میں مشرف ہوئے ۔ میں نماز کے بعد زیارت پڑھنے لگی ۔ ناگہاں ان بی بی کی آواز کانوں سے ٹکرائی جن کو خواب میں دیکھا تھا کہ فرمارہی ہیں : اٹھ جاو ۔ میں نے تم کو شفا دیدی ہے ۔ میں نے شروع میں کوئی توجہ نہ دی دوبارہ پھر اس صدا کی تکرار ہوئی ۔ اس بار میں نے خود کو حرکت دی تو مشاہدہ کیا کہ میں حرکت کی قدرت رکھتی ہوں اور اس طرح میں بی بی دو عالم کے سایہ لطف میں پناہ گزیں ہوگئی ۔(۱۶)

نسیم رحمت

باختران کے رہنے والی ایک لڑکی پروین محمدی ، اعصابی تشنج میں مبتلا ہوگئی جب تمام معالجات سے نا امید ہوگئی تو لڑکی اپنے والدین کے ساتھ امام رضا علیہ السلام سے شفا کی امید میں مشہد روانہ ہوئی ۔

پروین کی والدہ اس کرامت کو اس طرح نقل فرماتی ہیں :

جب میں قم پہونچی تو اپنے آپ سے کہا کہ بہتر ہے کہ امام رضا علیہ السلام کی بہن کے پاس چلیں اگر انھوں نے جواب نہیں دیا تو مشہد چلیں گے ۔ دو بجے رات کے بعد ہم لوگ قم پہنچے ۔ دوسرے دن نو ۹ بجے صبح حرم میں مشرف ہوئے میری بیٹی جسے بہت مشکل سے نیند آتی تھی ۔ اعصابی تشنج کی وجہ مشکلات سے دو چار تھی ، توجہ اور توسل کی حالت میں جب اس کو ضریح پاس لے گئے تو بڑی آسانی سے سو گئی ۔ چند گھنٹوں کے بعد پس از نماز ظہر و عصر ایک خاص قسم کی خوشبو نے حرم کو اپنے احاطے میں لے لیا میں نے دیکھا کہ میری لڑکی کا داہنا ہاتھ تین مرتبہ اس کے چہرے پر ملا گیا اور اس کے چہرے کا رنگ روشن ہوگیا ، چادر کے جس گوشے کو ضریح میں باندھا تھا وہ کھل گیا اسی حالت میں ہماری بیٹی بڑی آسانی سے خواب سے بیدار ہو گئی اور پوچھا مادر گرامی ! ہم کہاں ہیں ؟ میں نے کہا : حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا ۔ کہنے لگی : مادر میں بھوکی ہوں ، مہینوں سے اس جملہ کو سننے کی آرزو تھی لہٰذا میں نے کہا چلو حرم کے باہر چلتے ہیں ہم لوگ صحن میں داخل ہوئے اس سے پوچھا : ناراحتی کا احساس نہیں کرتی ہو ؟ بولی نہیں الحمد للہ اچھی ہوں میں نے محسوس کیا کہ اس کی حالت طبیعی ہے اس کے بعدمیں نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا شکریہ ادا کیا ۔(۱۷)

شفا بخش شربت

۱۴ / شعبان چہارشنبہ کا دن تھا ۔ آستانہ مقدسہ میں نیمہ شعبان کی بزرگ عید کے موقع پر کریمہ اہل بیت علیہم السلام کی ملکوتی بارگاہ میں دور سے آئے ہوئے مہمونوں کی ضیافت ہو رہی ہے ۔ وہ بھائی کا ہمسایہ ہے جو بہن کے بلانے پر شفا کی امید میں اس در پر حاضر ہوا ہے ۔ وہ امیر محمد کوہی ساکن مشہد ہیں اور وہاں کے امور اقتصادی کے سابق ملازم ہیں ۔ آپ اپنی داستان اس طرح بیان فرماتے ہیں :

تین سال سے میں فلج کے مرض میں مبتلا تھا اور حرکت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ویلچیر ( Wheel Chair ) کے سہارے چلتا تھا ۔ مشہد اور تہران کے متخصص ڈاکٹروں کے پاس گیا ، علاج کے مختلف مراحل گزارے بارہا ہسپتال میںرہا ، دعائے توسل اور ان مجالس میں بغرض شفا شرکت کی جو امام رضا علیہ السلام کے حرم میں برپا ہوتی تھیں لیکن کوئی عنایت نہ ہوئی۔ انہی دنوں بہت زیادہ غم و غصہ کی وجہ سے میں اپنے خانوادہ کے ساتھ حرم مشرف ہوا اور بہت دکھے دلوں سے عرض کیا: مولا !آپ تو غیر مسلموں کو محروم نہیں کرتے ہیں پھر مجھ جیسے شیعہ پر کیوں توجہ نہیں دیتے ہیں ۔ مولا !یا تو میرا جواب دیجئے یا میں قم جا کر آپ کی بہن سے شکایت کروں گا اور ان کو وسیلہ قرار دوںگا اس وقت حضرت معصومہ علیہا السلام کو مخاطب کرکے عرض کیا : میں آپ کے بھائی کا ہمسایہ ہوں اور ایک ایسا انسان ہوں جو عیال مند ہے اپنی پوری زندگی میں کوئی خیانت نہیں کی ہے اور اپنی آخری کوشش تک کامیاب رہا ہوں پھر وہ مجھے شفا کیوں نہیں دیتے ہیں؟ اس توسل اور شکوے کے بعد ایک خاتون کو عالم خواب میں دیکھا کہ مجھ سے فرما رہی ہیں ۔تم قم آؤ تاکہ میں تم کو شفا دوں ۔ میں نے عرض کیا آپ ہمارے گھر تشریف لائی ہیں اور ہماری مہمان ہیں مجھے یہیں شفا دے دیجئے میرے پاس پیسہ نہیں ہے کہ قم آؤں فرمایا: تم کو قم آنا پڑے گا ۔ میں نے اپنے خواب کو اپنے بال بچوں سے نقل کر دیا چند دنوں کے بعد میرے فرزند نے مجھے سے کہا: بابا ! ہم نے اپنی ساری دولت آپ کے معالجے میں صرف کر دی ۔ لیکن چند پیٹی نوشابہ بیچنے کی وجہ سے کچھ پیسے ہاتھ میں آئے ہیں اسی کو مسافرت میں خرچ کیجئے اور قم چلے جایئے مجھے امید ہے کہ آپ کوشفا ملے گی۔

میں قم کی طرف رواں ہوگیا ۔ قم پہنچنے کے بعد وضو کیا اور حرم میں داخل ہو گیا ۔ دو آدمیوں سے گزارش کی کہ مجھے سہارا دے کر ضریح کے پاس لے جائیں ۔ وہ لوگ مجھے ضریح کے پاس لے گئے ۔ ( میں بہت تھکا ہوا تھا ) زیارت اور التجا کے بعد وہیں ضریح کے پاس کمبل اوڑھ لیا ، مجھے نیند آگئی ۔ عالم خواب میں ایک خاتون کو کالی چادر اور سبز مقنعہ میں دیکھا انہوں نے مجھ سے فرمایا : میرے لال آنا مبارک ہو ۔ اب میں نے تم کو شفا دیدی ۔ اٹھ جاو ! اب تم کو کوئی بیماری نہیں ہے ۔ میں نے عرض کیا : میں بیمار اور مفلوج ہوں ۔ انہوں نے ایک مٹی کا پیالہ جس میں چائے رکھی تھی میرے ہاتھ میں دی اور فرمایا : پیئو میں نے چائے پی ۔ ناگہاں خواب سے بیدار ہوا ۔ دیکھا کہ میں اپنے پیر پر کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتا ہوں اپنی جگہ سے اٹھا اورخود کو ضریح تک پہنچایا اور آخر کار آج کے دن بی بی سے اپنی عیدی لے لی ۔(۱۸)

یہ بی بی مقدسہ کے بے شمار الطاف ، بے پایاں عنایت اور فراوان کرامات کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا ۔ آپ ہی کے پاک و پاکیزہ وجود کے وسیلے سے قم عاشقان و سالکان طریق ہدایت کا ماوی اور قبلہ امید عارفان حقیقت ہو گیا ہے ۔ اس امید کے ساتھ کہ یہی مختصر تذکرہ دلسوختہ عاشقوں کے پیاسے حلقوم کے لئے شربت اور چراغ راہ ہدایت ہوتا کہ خواب غفلت سے بیدا ہو جا سکے ۔ اس امید کے ساتھ حضرت سب کو اپنے لطف و عنایت کے سایہ میں قرار دیں گی اور سب کو راہ ہدایت پر گامزن فرمائیں گی انشاء اللہ ۔

____________________

۱ ۔بحارج/ ۱۰۲ ، ص / ۱۳۲ ۔

۲۔ فرزند سید جعفر احتشام مرحوم دونوں قم کے خطیب شمار ہوتے تھے ۔

۳ ۔ اس کرامت کی کیسٹ حضرت آیۃ اللہ العظمی مکارم شیرازی کی زبانی آستانہ فرہنگی میں موجود ہے

۴۔ فوائد الرضویہ ص۳۷۹ باتصرف۔

۵۔ دارالسلام ج / ۲ ، ص / ۱۶۹ ۔

۶ ۔ زندگانی حضرت معصومہ : سید مہدی صحفی ص / ۴۷ ۔

۷ ۔ زندگانی حضرت معصومہ : سید مہدی صحفی ص / ۴۷ ۔

۸ ۔ ودیعہ آل محمد / محمد صادق انصاری ص ۱۴ ۔

۹۔ بشارۃ المومنین / شیخ قوام اسلامی جاسبی ص ۴۳ ۔

۱۰۔ مدرک سابق ۔

۱۱ ۔ بشارۃ المومنین ص ۴۹ ۔

۱۲ ۔ بشارۃ المومنین ص ۵۱ ۔

۱۳۔ بشارۃ المومنین ص ۵۲ ۔

۱۴۔ انوار المشعشعین / شیخ محمد علی قمی ۲۱۶ ۔

۱۵ ۔ یہ کرامت آستانہ مقدسہ میں اوڈیو اور ویڈیو دونوں طرح موجود ہے ۔

۱۶ ۔اس کرامت کی اوڈیو کیسٹ اور تصویر آستانہ مقدسہ میں موجود ہے ۔

۱۷ ۔ یہ کرامت ۲ / تیر ۱۳۷۳ شمسی بروز پنجشنبہ کو وقوع پذیر ہوئی اس کی آوڈیو اور تصویر نیز آستانہ مقدسہ میں موجود ہے۔

۱۸۔ یہ کرامت آستانہ مقدسہ میں تصویر کے ساتھ آڈیو کیسٹ میں موجود ہے ۔


چھٹی فصل :

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا شعراء کی زبانی

تاریخ کی رہ گذر میں مکتب امامت و ولایت کی ترویج اور فضائل و مناقب اہلبیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے نشر میں اسلامی شاعروں کا ایک اچھا کردار رہا ہے ۔ جن کے حکمت آموز اشعار نے ہمیشہ عاشقان خاندان نبوت و رسالت کے قلوب کو جلا بخشی ہے اور ایک زندہ جاوید سند کی حیثیت سے مکتب لالہ زار علوی اور بے کراں دریائے فضائل اہلبیت علیہم السلام کو اجاگر کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے ۔

اسی رہ گزر میں کریمہ اہل بیت علیہم السلام کی عظمت نے ان منادیا ن حق شعراء کو بارگاہ ملکوتی حضرت معصومہ علیہا السلام میں عرض ادب پیش کرنے پر مجبور کردیا اور اس طرح وہ پر معنیٰ اشعار و قصائد کہنے کے لئے آمادہ ہوگئے ۔

زبان فارسی میں تو ان اشعار کی تعداد بے حد و حساب ہے کہ اگر بطور مستقل اس پر کام کیا جائے تو ایک دیوان ہوجائے گا ۔ لیکن مولف محترم نے چند برگزیدہ اشعار کو کتاب میں جمع فرمایا ہے اور اسے ایک فصل قرار دیا ہے ۔

واضح ہے کے اردو داں افراد کے لئے یہ شعری مجموعہ سود مند نہ ہوگا لہٰذا یہ طے پایا کہ ان اشعار کی جگہ اردو زبان کے شعراء کے اشعار پیش کئے جائیں ۔ لیکن افسوس ہے کہ اس سلسلے میں ہمیں قدیم شعراء کے اشعار دستیاب نہ ہو سکے بلکہ جہاں تک حقیر کی معلومات ہے ہمارے قدیم شعراء نے اس موضوع پر طبع آزمائی نہیں فرمائی ہے ۔

بنا بر ین زمانہ حاضر کے جن شعراء کے اشعار دستیاب ہو سکے ہیں انھیں اس فصل میں ذکر کر رہا ہوں ۔

ہم اس کتاب کے ذریعہ تمام شعراء کرام کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس موضوع پر اشعار کہہ کر ہمیں روانہ کریں تا کہ آئندہ اڈیشن میں ہم مناسب اشعار کو کتاب میں مزین کر سکیں ۔

برگزیدہ از قصیدہ در مدح نورین نیرین حضرت فاطمہ زہرا و فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہما

نتیجہ فکر : امام خمینی قدس سرہ

ترجمہ : مولانا ابن علی صاحب قبلہ واعظ

عیسیٰ ڈیوڑ ھی پہ اس کی درباں ہیں

عبد درگاہ ابن عمراں ہیں

ایک ہے دیدہ بان بر سردار

خادم در ہے ایک عصا بر دار

یا کہ دو طفل در حریم جلال

پئے تکمیل نفس ہیں بے حال

حفظ انجیل پر کسے یہ کمر

اس کو تورات ہو چکی از بر

نہ کریں دعوئے امامت اگر

موسیٰ جعفر ، از پئے داور

میں یہ کہہ دوں کہ یہ ہیں پیغمبر

معجزہ اس پہ آپ کی دختر

ایسی دختر نہیں بجز زہرا

ایسا صلب پدر ، نہ رحم ہوا

ان دو کی ایسی اب کوئی دختر

نہ ہوئی اور نہ ہوگی تا محشر

وہ ہے امواج علم کا مظہر

یہ ہے افواج حلم کا مصدر

لطف سے اس کے سامنے ہے وجود

اور عدم اس کے قہر سے مفقود

انبیا کے لئے وہ تاج سر

یہ سر اولیا کا ہے مغفر

کعبہ وہ عالم جلالت کا

اور یہ مشعر زمین قدرتکا

لم یلد لب نہ کرتا بند اگر

کہتا میں ہیں خدا کی دو دختر

اس کی چادر میں بند کون و مکاں

روسری اس کی ستر عفت حق

ملک باقی کا ہے وہ تاج سر

یہ ہے برعرش کبریا افسر

قطرہ اس کی عطا کا بحر و سما

رشحہ فیض کان زر اس کا

اس سے خاک مدینہ روشن ہے

اس سے یہ قم کا خطہ روشن ہے

قم ہے اس کی شرف سے خلد نظر

اس سے پانی مدینے کا کوثر

عرصہ قم ہے رشک خلد عجیب

بلکہ خلد بریں ہے اس کا نقیب

عرش پر قم کو ناز ہے زیبا

” لوح“ شاید کہ اس کی ہو ہمتا

ہے عجب خاک ،آبروئے جہاں

مرجع دوست ،ملجا ئے غیراں

سنتے گریہ قصیدہ ہندی

وہ ادیب و سخنور و سعدی

ہوتا نہ طوطی کی طرح اس کی زباں پر

اے بجلالت ز آفرینش برتر

اور وہ قمری کی طرح لاقانہ لب پر

اے کہ جہاں زرخ تو گشتہ منور

دختر خورشید

نتیجہ فکر حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ حسین وحید خراسانی دام ظلہ العالی

ترجمہ جناب مولانا اخلاق حسین صاحب اخلاق پکھناروی

زائیدہ خرد ہیں تو خواہر ہیں دین کی

اور گوہر شرف تو جلالت جبین کی

عصمت اسیر گیسوے عصمت تری رہی

علم و عمل رہین ترے کوچہ و گلی

اے شاخسار عظمت توحید کا ثمر

خورشید ہے اساس تو ہمشیرہ قمر

انسانیت کے تاج کی زینت ہے آپ سے

روشن نگین ختم نبوت ہے آپ سے

شیطان راندہ ہو گیا قم کے خطاب سے

پھر قم کو بخشی رونق و عزت جناب سے

حوا کا یہ مقام تو جنت کا ہے محل

ناموس ایزدی کی نہ ہو کیوں چہل پہل

آکے حرم میں عقل و خرد مات ہوتے ہیں

اس خاک سے حیات کے چشمے ابلتے ہیں

اک جسم نازنیں کی زمیں راز دار ہے

ہے ایسی جان جس سے جہاں میں بہار ہے

خورشید اور ماہ منور کو روشنی

ہے نور قم اور عکس خراسان سے ملی

روحوں کی تازگی کا ہے ایران اب سبب

مشکۃ کی صفت میں ہیں یہ دو چراغ رب

کیا پوچھتے ہودل بھلا ان دو حرم کی بات

جن کی شعاع نور سے روشن ہے شش جہات

ہر کو تمھارے در سے کرم کی امید ہے

محتاج تر سبھی سے گدا بس وحید ہے

حریم خدا

نتیجہ فکر سید جعفر احتشام صاحب مرحوم

ترجمہ جناب مولانا اخلاق حسین صاحب اخلاق پکھناروی

قم کی زمین عطر و لطافت سے ہے بھری

ذوق و صفا سے گوہر ناسفتہ بھی بنی

گوہر کہاں سے لائے تری شان کا جواب

شان علیٰ کو عرش بریں پر ہے برتری

بس ہے ترے مقام اجل کو زمین قم

ہیں دفن اس میں دختر موسیٰ بن جعفری

تھیں خواہشیں سبھی کی کہ عظمت کو دیں جنم

زہرہ جبیں کے بعد نہ زہرا سی ہو سکی

اے فاطمہ حریم خدا بضعۃ رسول

مرضیہ تو کریمہ درگاہ ایزدی

کاظم کی بیٹی اخت رضا بالیقین ہیں آپ

گردوں ندید ایسا پدر اور برادری

فخر امام ہفتم و ہشتم کا یہ شرف

ان کی بہن تو ان کی ہیں بے مثل لاڈلی

مریم خدا کی چیدہ چنیدہ سہی مگر

پھر بھی روا نہیں ہے کریں تیری ہمسری

الطاف خاص و عام سے اے عصمت الٰہ

ہم عاصیوں کو روز جزا کر دے تو بری

صدحیف یہ کہ آپ نہ تھی روز کربلا

زہرا کی بیٹیاں تھیں مصیبت تھی بے بسی

وہ اک شکست باز و تووہ اک دریدہ گوش

اور دوسرے کے ہاتھ میں جکڑی تھی ہتھکڑی

زینب پکاری رو کے کہ نانا دہائی ہے

سب ہو گئے شہید اسیری کی ہے گھڑی

اے فاطمہ عزیز بر ادر کا واسطہ

ہو احتشام کو بھی عطا قصر اخضری

ہے گنہگار اور دعا لب پہ ہے یہی

اخلاق کوسدا ہو عطا علم و اگہی

گیسوئے جمال رسالت

نتیجہ فکر جناب مولانا اخلاق حسین صاحب اخلاق پکھناروی

گلدستہ جناں کی شرافت ہیں فاطمہ

اور لا مکان کا جاہ و جلالت ہیں فاطمہ

لا ریب کائنات کی غایت ہیں فاطمہ

سر خیل دین نور شریعت ہیں فاطمہ

برج شرف میں گوہر یکتا و لا جواب

خالق کی ذات پاک پہ آیت ہیں فاطمہ

جس سے نکھار دین کے گلشن میں آئی ہے

وہ شانہ کرامت و نکہت ہیں فاطمہ

جس کی وجہ سے خلد کا پروانہ ملتا ہے

حق کی نگاہ میں وہی الفت ہیں فاطمہ

یہ طائر خیال کی پرواز سے پرے

معبود لم یزل کی دلالت ہیں فاطمہ

لاشی ء ہے کائنات اگر اس میں یہ نہ ہوں

کون و مکاں کی خاص ضرورت ہیں فاطمہ

نا زاں ہے جس کو دیکھ کے خود رب ذو الجلال

وہ گیسوئے جمال رسالت ہیں فاطمہ

و الشمس کی قسم رخ روشن ہے بے مثال

دست کرشمہ ساز کی صنعت ہیں فاطمہ

دخت نبی کی عظمت و عفت نہ پوچھئے

یہ مظہر صفات کرامت ہیں فاطمہ

پل میں بدلتی رہتی ہیں تقدیر کائنات

باب المراد کلک مشیت ہیں فاطمہ

مل جائے گی مراد ذرا جاکے دیکھئے

اب مرکز جہان سخاوت ہیں فاطمہ

جو ان کے حق کو جان کے زیارت پہ آئے گا

خلد بریں ہے اس کے ضمانت ہیں فاطمہ

جھکتے ہیں سر جہاں کے جس در کے سامنے

اس در کی دو جہان میں شوکت ہیں فاطمہ

شاہکار فاطمہ

نتیجہ فکر : جناب مولانا سید اطہر عباس رضوی صاحب قبلہ اطہر الہ آبادی

ہے خدائے لم یزل مدحت گزار فاطمہ

حیف ہے اب تک نہ تم سمجھے وقار فاطمہ

جو نہ سمجھے آج تک عز و وقار فاطمہ

حشر میں سمجھے گا ان سے کردگار فاطمہ

لم یشم نفحۃ الجنۃ کا وہ مصداق ہے

جس کے بھی دل میں ہے شمہ بھر غبار فاطمہ

سر تو اکثر خود سروں کے سامنے بھی ہیں جھکے

دل جھکے جب سامنے آئے مزار فاطمہ

مرتبہ میں ہوگیا قم آج ہم شان نجف

مرکز فقہ و فقاہت ہے دیار فاطمہ

جبہ سائی تشنگان علم کرتے ہیں یہاں

اور شہر علم ہے دائر مدار فاطمہ

کتنے بے مایہ ہوئے آکر یہاں سر مایہ دار

علم کی صورت مراجع ، شاہکار فاطمہ

تیرگی جہل دنیا سے مٹانے کے لئے

ہے ضیائے علم سے روشن جوار فاطمہ

بیشتر ابواب جنت کھلتے شہر قم میں ہیں

افتخار قم رہین افتخار فاطمہ

آشیانہ اہل بیت پاک کا ہے شہر قم

خلد شرمائے کچھ ایسا ہے جوار فاطمہ

ثانی زہرا ہیں زینب ، ثانی زینب ہیں یہ

ہے شعار ثانی زہرا شعار فاطمہ

عالم غربت میں مولا کی زیارت کے لئے

آتے ہیں ہر سال لاکھوں جا نثار فاطمہ

قبر میں اطہر کو دیکھا تو ملک کہنے لگے

مرحبا صد مرحبا مدحت گزار فاطمہ

سدابھار

نتیجہ فکر :جناب مولانا سید ضرغام حیدر صاحب قبلہ۔نجف الہ آبادی

وہ لطف دولت و قدرت نہ اقتدار میں ہے

مزہ جو لذت علمی کا اس دیار میں ہے

کبھی مکیں کی فضیلت کسی قرار میں ہے

کبھی مکاں کی فضیلت کسی مزار میں ہے

شرف یہ حضرت آدم کا ہے کہ خلد میں تھے

شرف یہ قم کا کہ معصومہ کے دیار میں ہے

کبھی بلائیں ادھر اپنا رخ نہیں کرتیں

یہ شہر قم ہے جو معصومہ کے حصار میں ہے

خزاں کی زد پہ مسلسل ہے جامعہ ازہر

فضائے قم کو جو دیکھا سدا بھار میں ہے

حرم کے شیخ ذرا حج کے بعد آجانا

فضا جنان کی اسی قم لالہ زار میں ہے

نسیم رحمت خالق سے ملتصق ہے وہ

نجف جہاں میں جو معصومہ کے جوار میں ہے

قصیدہ در مدح فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا

نتیجہ فکر : مولانا محمد رضا خان صاحب قبلہ ۔ رضا جونپوری

میں اسیر حب ، محبت میرے دامن گیر ہے

قابل تحسین کس درجہ مری تقصیر ہے

قم کے میخانے میں آنا باعث توقیر ہے

کس قدر شفاف ماں کے دودھ کی تاثیر ہے

روضہ معصومہ قم دیکھ کر ایسا لگا

در پہ میخانے کے رکھا ساغر تطہیر ہے

مدحت معصومہ قم سی نہیں دیکھی شراب

پی کر میخار ازل لگتا جوان و پیر ہے

میرے میخانے پہ ہے تہمت کی بارش اس لئے

بے خطا میخار بھی ساقی بھی بے تقصیر ہے

کیوں نہ ہوجائے مثال طور شہر قم بھلا

روضہ پر نور کی پھیلی ہوئی تنویر ہے

کیوں نہ ہو شام و سحر آخر فرشتوں کا نزول

روضہ معصومہ قم خلد کی تصویر ہے

محفل مدحت ہے پڑھنا آج معصومہ کے گھر

اوج پر ہے مرتبہ معراج پر تقدیر ہے

ضامن جنت ہیں اقوال ائمہ لا جرم

مشکل برزخ ہماری آپ کی تقصیر ہے

زائروں پر آپ کے نار جہنم ہے حرام

آپ کے روضے پہ یہ خط جلی تحریر ہے

با وضو ہو کر یہاں آنا رضا صبح و مساء

بنت موسی فاطمہ کی بولتی تصویر ہے

مدح معصومہ قم صلوات اللہ علیہا

نتیجہ فکر : جناب مولاناجنان اصغر مولائی صاحب

لبوں پر میرے معصومہ کی مدحت

حقیقت میں ہے قرآں کی تلاوت

ہے حاصل تیری الفت کا خزانہ

نہیں در کا راب دنیا کی دولت

نگین قم فقط تیرا شہر ہے

جہاں ہوتا نہیں احساس غربت

یہاں پلتے ہیں مذہب کے محافظ

تیری ممنون احساں ہے شریعت

ترے در کے سوالی ہم ہیں بی بی

عطا ہو ہم کو علم و فن کی دولت

عداوت ہے تمھاری جس کے دل میں

ہے اس پر قادر مطلق کی لعنت

اے بنت موسیٰ باب الحوائج

بنادو میری بھی حر جیسی قسمت

نذر معصومہ قم صلوات اللہ علیہا

نتیجہ فکر : جناب مولانا ظہور مہدی مولائی صاحب قبلہ ظہور بجنوری

میں عقیدت کے سبزہ زار میں ہوں

یعنی حاضر ترے دیار میں ہوں

شکر صد شکر میں بھی مستغرق

تیری الفت کے آبشار میں ہوں

اللہ اللہ میرا عز و شرف

زیر قبہ ترے مزار میں ہوں

اب تو مجھ پہ کرم کرو بی بی

کب سے میں راہ اختبار میں ہوں

ماں کی آغوش کیسے یاد آئے

تیری شفقت کے جب حصار میں ہوں

مجھ کو نسبت ہے آپ سے بی بی

منزل فخر و افتخار میں ہوں

جب سے میرا ہوا جہاں میں ظہور

مستقل راہ انتظار میں ہوں

پاسبان امامت و کریمہ اہل بیت

نتیجہ فکر : مولانا سید مراد رضا رضوی غفر اللہ ذنوبہ

بنت رسول مالک جنت ہیں فاطمہ

اللہ کے جمال کی عظمت ہیں فاطمہ

وجہ وجود کون و مکاں آپ ہی کی ذات

القصہ مرسلین پر حجت ہیں فاطمہ

مریم ہوں یاکہ ہاجرہ یا ہوں وہ آسیہ

سب سے بلند و صاحب عزت ہیں فاطمہ

عیسی کو ہے شرف کہ ہیں معصومہ میری ماں

پیغمبر خدا کی شرافت ہیں فاطمہ

کہہ دو یہ شیخ سے خدا اس سے بس ہے خوش

خوشنودی جس بشر کی محبت ہیں فاطمہ

اس حال میں بھی آپ نے کی ہے محافظت

لا ریب پاسبان امامت ہیں فاطمہ

باطل کے ساتھ اس طرح در گیر ہوتے ہیں

حق ہے کہ سنگ میل ہدایت ہیں فاطمہ

پھر عشق آل پاک کی قسمت چمک گئی

حق ہے وجود حق و کرامت ہیں فاطمہ

کیا پوچھتے ہو ہم سے کہ قم میں رکھا ہے کیا

اس باگاہ پاک کی عظمت ہیں فاطمہ

معصومہ گر لقب ہے تو ستی بھی کہتے ہیں

یعنی جمال عفت و عصمت ہیں فاطمہ

زہرا کی قبر گر نہیں ملتی تو کیا ہوا

قم میں بجائے بنت رسالت ہیں فاطمہ

کیا خوش نصیب ہم ہیں کہ میلاد نور میں

تبریک دینے حاضر خدمت ہیں فاطمہ

ہے آپ کے لقب میں کریمہ بھی اک لقب

در پہ کھڑا ہوں صاحب رافت ہیں فاطمہ

بھائی کے شوق میں جو ہوا تھا سفر شروع

ثابت ہوا کہ رافع عظمت ہیں فاطمہ

بنت علی نے کوچ کیا تھا اسی طرح

زینب کی طرح صاحب جرات ہیں فاطمہ

خطبہ نے جس کے شام کے دربار میں کہا

ہندہ کے پوتے دیکھ سلامت ہیں فاطمہ

اپنے سفر میں زینب دوراں نے یہ کہا

اس دور میں بھی صاحب ہمت ہیں فاطمہ

یا فاطمہ مراد رضا کی بنائیے

بھائی کی طرح صاحب رافت ہیں فاطمہ


ساتویں فصل

آستانہ مقدسہ کی معماری ،ہنری تبدیلیوں کا خاکہ

فی بیوت اذن اللہ ان ترفع و یذکر فیھا اسمہ یسبح لہ فیھا بالغدو و الاصال رجال تلھیھم تجارۃ و لا بیع عن ذکر اللہ ( سورہ نور/ ۳۶،۳۷)

خدا وند عالم کایہ روشن چراغ ایسے گھروں میں ہے کہ خدا وند عالم نے اذن دیا ہے کہ اس کی دیواروں کو بلند رکھے ( تاکہ شیاطین ہوا وہوس کے شکار افرادکی زد سے محفوظ رہ سکے)وہ گھر کہ جس میں خدا کا نام لیا جاتا ہے اور وہ لوگ صبح و شام اس میں تسبیح پڑھتے ہیں یہ وہ افراد ہیں جن کو خرید و فروخت اور تجارت یاد الٰہی سے غافل نہیں کرتی ہے ۔

بارگاہ حضرت معصومہ علیہا السلام دیگر مشاہد مشرفہ کی طرح اسلامی ارزشوں اور تشیع و فرہنگ قرآن کا پشتوانہ ہے ۔ ایران انہی روضوں کے تصدق زمانے کے حوادث سے محفوظ رہا ہے۔

ایران اور ایرانی ( بلکہ ہر شیعہ ) کی ہویت اور اس کا تشخص انہی معنویات کی روشنی میں ممکن ہے ۔ اسی کے صدقے میں ایران زمانے قدیم سے لے کر آج تک تاریخی حادثات میں محفوظ رہا ہے۔

یہ بقعہ اور دیگر بقعات اسلام کے آرمانوں کی جیتی جاگتی تصویر یں ہیںاور حضرت علی علیہ السلام کے شیعوں کے لئے محکم قلعہ ہیں نیز انسانی بلندی کا معیار ہیں ۔ کیونکہ انکے مشاہد مشرفہ فقط زیارتگاہ نہیں ہیں بلکہ ان کے کوچے کے دلباختہ زائروں اوعاشقوں کے لئے کسب معارف الٰہی کی عظیم درسگاہ بھی ہیں ۔ جو بھی زائر اس مرقد مطہر میں آرام فرما خاتون کی معرفت و شناخت اور ان کے اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے زیارت کرے گا تو یقینا صاحب قبر سے الہامات حاصل کرے گا اور مذہب کے اصول و قوانین کی تعلیمات کو یاد رکھے گا اس کا ہر سلام انہی درس اور الہامات سے سر شار ہوگا اور کسی نہ کسی طرح خود کو مادی و معنوی کجی و کمی سے محفوظ رکھے گا اور ہر اس خصلت و اعمال سے دوری اختیار کریگا جو ائمہ معصومین علیھم السلام اور ان کی اولاد اطہار کو نا پسند ہیں ۔ اخلاقی بہبودی اور اپنی رفتار و ارتباط میں اس بات کوشاں رہے گا کہ اپنے اماموں اور ولیوں کے ساتھ ہمسو اور ان کے نقش قدم پر گامزن رہے ۔(۱)

ان دینی مراکز کے حیات بخش آثار اور معنوی وجود میں تھوڑی سی بھی تردید نہیں ہے لیکن معنویات سے صرف نظر کرتے ہوئے ان روضوں کو اسلامی ہنر کا عظیم ذخیرہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ اہل ذوق ہنر مندوں نے دینی برانگیختگی اور بزرگان دین کی تجلیل و تکریم کے پیش نظر شگفت انگیز ہنروں کو ایجاد کیا ہے جو ہر ہنرمند کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے اور اسے داد و تحسین پر مجبور کرتی ہے ۔ اسی سلسلے میں در حقیقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ بارگاہ فاطمہ معصومہ علیہا سلام دیگر متبرک اسلامی مقامات کی طرح اسلامی ہنر کی تجلی گاہ اور قوم ایران کے دینی جامعہ کے درخشان ماضی کی حکایت گر ہے ۔

اسی وجہ سے ہم اس ۃ میں حضرت معصومہ علیہا سلام کے متبرک اماکن کے ہنری آثار اور ہنری و معماری تغیرات کا ایک خاکہ پیش کریں گے اور اسے اسلامی ہنر کے جلووں کو پسند کرنے والوں کی خدمت میں پیش کریں گے ۔ لیکن ” شنیدن کی بود مانند دیدن “ بہتر ہے ہنر شناس افراد قریب سے ان شگفت انگیز ہنروں کا نظارہ کریں تا کہ ان گرانقدر آثار میں چھپے لطائف و ظرائف کو کشف کر سکیں اور اس کے موجد کو داد و تحسین سے نوازیں ۔

بارگاہ فاطمی علیہا السلام کے متبرک مقامات کا خاکہ :

( ۱ ) حرم مطہر کا گنبد :

موسی بن الخزرج کے ایک حصیری سائبان بنانے کے بعد جو سب سے پہلا گنبد فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی تربت پاک پر برافراشتہ ہوا وہ برجی شکل کا ایک قبہ تھا کہ جو حضرت زینب بنت امام جواد علیہ السلام کے ہاتھوں اینٹ و پتھر اور چونے کے ذریعہ اواسط قرن سوم میں بنایا گیا ۔ زمانے کے گزر نے اور حضرت معصومہ علیہا سلام کے جوار میں کچھ علوی خواتین کے دفن ہونے کے بعد اس گنبد کے پاس دوسرے دو گنبد بنائے گئے ۔ جس میں تیسرا گنبد مدفن حضرت زینب بنت امام محمد تقی علیہ السلام قرار پایا ۔ یہ تین گنبد ۴۴۷ ھء تک باقی تھے ۔ اسی سال میر ابولفضل عراقی ( وزیر طغرل کبیر ) نے شیخ طوسی کے تشویق دلانے پر ان تین گنبدوں کے بجائے ایک بلند و بالا گنبد بنایا جس کا داخلی قطر تقریبا ” ۱۱“ اور اونچائی ” ۱۴ “ میٹر تھی ۔ اس گنبد کو نگین نقش و نگار اور کاشی کاری کرکے بنایا تھا جس میں ایوان اور حجرے نہ تھے یہ گنبد تمام سادات کے قبور پر محیط تھا ۔

۹۲۵ ھ میں شاہ بیگی بیگم دختر شاہ اسماعیل کی ہمتوں سے اسی گنبد کی تجدید بنا ہوئی جس میں معرق کاشی استعمال ہوا اس میں ایوان اور دو منارے نیز صحن ( عتیق ) بنایا گیا ۔ گنبد کی خارجی سطح معرق کاشی سے آراستہ ہوئی ۔

یہ گنبد ۱۲۱۸ ھ ء میں زر نگار اینٹوں سے مزین کیا گیا ۔ جس میں ۱۲ / ہزار سنہری اینٹیں استعمال کی گئیں ۔ اس گنبد کی بلندی سطح زمین سے ۳۲ اور چھت کی سطح سے ۱۶ میٹر تھی ۔ اس کا محیط باہر سے ۶ / ۳۵ ، اور اندر سے ۶۶ / ۲۸ ۔ اور اس کا قطر ۱۲ میٹر اور اس کی لمبائی ( لمبی گردن کی طرح ) ۶ میٹر تھی ۔

چھت کی سطح سے نچلا حصہ نوے ۹۰ سینٹی میٹر تک تراشے ہوئے اینٹوں سے اور اس کے اوپر ایک میٹر خشتی فیروزہ والی کاشی اس کے اوپر ( تمام دیوار ) سنہری اینٹوں سے مزین ہے گنبد کے نچلے حصے پر ایک کتبہ جو فتح علی خان صبا کے اشعار ہیں جو خط نستعلیق میں لکھے ہیں ۔(۲)

بارگاہ ملکوتی کریمہ اہل بیت علیہا سلام کے گنبد کا یہ ایک تاریخی خاکہ تھا جو شروع سے لے کر آج تک اسلامی ہنر اور معماری کا شاہکار ہے نیز عتبات عالیات کی عمارتوں میں کم نظیر ہے ۔

( ۲ ) حضرت کا مرقد :

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کا مرقد ( بقعہ مبارکہ کے در میان ) بلندی کے اعتبار سے ۲۰ /۱ اور طول و عرض ۹۵ / ۲ در ۲۰ / ۱ میٹر ہے ۔ جو بہترین نفیس و خوبصورت زرفام ( آغاز قرن ہفتم ) کاشیوں سے مزین ہے ۔

مرقد منور کے ارد گرد دو میٹر دیوار اور طول و عرض تقریبا ۸۰ / ۴ در ۴۰ / ۴ میٹر ہے ۔ جو ۹۵۰ ھ میں بنایا گیا ہے اور یہ مرقد معرق کاشی سے آراستہ ہے ۔ اس وقت یہ دیوار ایسی ضریح ہے جس میں چاندی پوش چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں ہیں ۔(۳)

حضرت کے مرقد پاک کا تاریخی خاکہ اس طرح ہے:

۶۰۵ ھ میں امیر مظفر احمد بن اسماعیل خاندان مظفر کے مورث اعلیٰ اس زمانے کے بزرگ ترین استاد کاشی نے محمد بن ابو طاہر کاشی قمی کو مرقد مطہر پر رنگا رنگ کاشیوں کے لگانے پر بر انگیختہ کیا ۔ وہ آٹھ سال تک اس کام میں مشغول رہے ۔ آخر کار ۶۱۳ ئھ میں کاشی آمادہ ہوگئی ۹۶۵ ئھ میں شاہ طہماسب صفوی نے سابق مرقد کے ارد گرد اینٹوں کی ایک ضریح بنوائی جو ہفت رنگ کاشیوں سے آراستہ تھی جس میں نقش و نگار کے ساتھ ساتھ معرق کتبے بھی تھے نیز اس کے اطراف میں دریچے بھی کھولے گئے تھے تا کہ مرقد کی زیارت بھی ہو سکے اور زائرین اپنی نذریں بھی مرقد کے اندر ڈال سکیں ۔ ۲ اس کے بعد مذکورہ شاہ کے حکم سے سفید و شفاف فولاد سے اسی اینٹوں والی ضریح کے آگے ایک ضریح بنائی گئی جس کی لمبائی ۱۰۵۳۲۵ اور چوڑائی ۷۳ /۴ ۔ اور بلندی ۱۰ /۲ تھی ۔ جس میں ۲۰ مضلع کھڑکیاں ۱۲۳۰ ہجری میں فتح علی شاہ نے اس ضریح کو نقرہ پوش کردیا تھا جو طول زمان سے فرسودہ ہوگئی تھیں۔ لہٰذا ۱۲۸۰ ہجری میں اس زمانے کے متولی کے حکم سے ضریح بدل دی گئی اور موجودہ ضریح کو ( مخصوص ہنری ظرائف و شاہکار کے ساتھ) اس کی جگہ پر نصب کیا گیا جو آج تک حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی نورانی تربت پر جلوہ فگن ہے ۔(۴)

( ۳) حرم مطہر کے ایوان

ایوان طلا

ایوان طلاء او اس کے بغل میں دو چھوٹے چھوٹے ایوان روضہ مقدسہ کے شمال میں واقع ہیں۔ جنھیں ۹۲۵ ہجری میں گنبد کی تجدید بنا، صحن عتیق اور گلدستوں کے بناتے وقت شاہ اسماعیل صفوی اور اس کی دختر کے زمانے میں بنایا گیا ۔یہ ایوان طول و عرض کے اعتبار سے ۷۰/۹۸ میٹر اور بلندی کے لحاظ سے چودہ میٹر ہے۔ دیوار کا نچلا حصہ (تین طرف سے ) ۸۰/۱ میٹر کی بلندی تک آٹھ گوشے فیروے والے کاشی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے آراستہ ہے ۔ اس کے در میان کھتی رنگ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں جو کاشی کے حاشئے کو لاجوردی نقش و نگار) چاروں طرف سے گھیرے ہیں ان کے اوپر ایک کتبہ ہے جس کا ایک سوم سفید لاجوردی زمین میں ایوان کے ارد گرد دکھائی دیتا ہے جس کا متن نورانی حدیث الا و من مات علی حب آل محمد مات شہیدا ۔ تا آخر حدیث ہے۔

اس کتبے کے بعد ایوان کا جسم دو میٹر کی بلندی تک معرق کاشیوں سے آراستہ ہے جو صفوی کے آغاز کا شاہکار ہے ۔ اس کے بعد ہر طرف کتبہ دکھائی دیتا ہے اور اس کے اوپر ایوان کی چھت زرفام اینٹوں سے مزین ہے ۔(۵)

دوسرے دو ایوان

ایوان طلا کے دونوں طرف ایوان ہیں جن کی بلندی دس اور چوڑائی دو اور دونوں طرف کا ۃہ پانچ میٹر ہے یہ صفوی دور کی عمارتیں ہیں اس کا سارا جسم ایوان طلا کی طرح معرق کاشیوں سے آراستہ ہے۔

ایوان آئینہ

رواق مطہر کے شرقی جانب بھی ایوان طلا کی طرح ایک بلند و بالا ایوان ہے جس کی لمبائی چوڑائی ۹ X ۸۷/۷ میٹر ہے آئینہ کاری کی وجہ سے ایوان آئینہ کے نام سے معروف ہے ۔ دیوار کے نیچے ایک میٹر کی بلندی تک سنگ مرمر ہے جس کا ہر حصہ پتھر کے ایک ٹکڑے سے آراستہ ہے او اس کے اوپر سارے حصے میں چھت تک آئینہ کاری ہے۔

ایوان کے بیچ میں ایک سنگ مرمر کا کتبہ ہے جس کی چوڑائی تقریبا ً ۳۰ سینٹی میٹر ہے جس پر آیہ شریفہ اللہ نور السماوات والارض تا آخر منقوش ہے ۔ شرقی رواق کے در میان ایک چھوٹا سا ایوان ہے جو اصلی ایوان کی طرح مزین ہے جس کے صدر دروازے پر حدیث شریف ” من زار قبر عمتی بقم فلہ الجنۃ“ کالے حروف سے خط نستعلیق میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ یہ شگفت انگیز ہنری مجموعہ قاجاری دور کے ارزشمند ہنر کا شاہکار ہے (جو استاد حسن معمار قمی کے ہاتھوں تشکیل پاےا تھا) جو صحن نو کے ساتھ میرزا علی اصغر خاں صدر اعظم کے دستور پر بنا تھا۔(۶)

( ۴) صحن عتیق کے منارے

صحن عتیق میں بر فراز ایوان طلا دو رفیع و بلند منارے ہیں جن کی بلندی ۴۰/۷۱ ( چھت کی سطح سے ) اور قطر ۵۰/۱ ہے۔ منارے کی کاشی پیچ و خم کے ساتھ مزین ہے جس کے در میان اسماء مبارک ”اللہ“ ”محمد“ ”علی“ بخوبی پڑھے جاسکتے ہیں منارے کے بالائی حصے کو تین ردیف میں رکھا گیا ہے جس کے نیچے بخط سفید کتبہ ہے جس پر آیہ شریفہ ” ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی (غربی منارے میں) یا ایھا الذین آمنو صلو اعلیہ وسلموا تسلیما (شرقی منارے میں) مرقوم ہے۔

یہ منارہ محمد حسین خان شاہسون شہاب ملک حاکم قم کے حکم سے ۱۲۸۵ ہجری میں بنایا گیا ہے جس کا قبہ ۱۳۰۱ ہجری میں طلاکاری کیا گیا ہے۔

( ۵) ایوان آئینہ کے منارے

بر فرازپایہ ایوان دو منارے ہیں جن میں سے ہر ایک چھت کی سطح سے ۲۸ ، میٹر اور گہرائی ۳۰/۳ میٹر ہے یہ آستانے کی بلندترین عمارت ہے ۔یہ منارہ سطح بام سے تین میٹر اور آٹھ متساوی الاضلاع پھر آدھا میٹر تزئین پھر ایک میٹر لمبا ہے اس کے بعد ۵/۲ میڑتک بارہ برجستہ گوشے ہیں اور تمام کے بعد (لکڑی کے منارے کے نیچے) ایک استوانہ ہے جس پر ایک کتبہ ہے اس کی چوڑائی تقریبا ایک میٹر ہے ان مناروں میں سے ایک کے کتبے کا متن ”لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم “ہے اور دوسری طرف ”سبحان اللہ والحمد للہ و لا الہ الا اللہ واللہ اکبر“ہے ۔ پھر ایک بلند عمارت ہے جس کی چوڑائی تقریبا ایک میٹر ہے اس کے اوپر ایک چوبی منارہ ہے جس کا قبہ موجود ہے دونوں منارے اوپر سے نیچے تک گرہی کاشی سے مزین ہیں جن کے در میان خداوند عالم کے نام دیکھے جاسکتے ہیں۔(۷)

( ۶ ) حرم مطہر کی مسجدیں

مسجد بالاسر

مسجد بالا سر حرم مطہر کے وسیعترین علاقوں میں شمار ہوتی ہے جہاں عمومی مجلسیں ، نماز جماعت برقرار ہوتی ہے صفوی دور میں یہ علاقہ چوڑائی میں ۶ ، اور لمبائی میں ۳۵ ، میٹر آستانہ کے مہمانسرا میں شمار ہوتاتھا قاجاری دور میں تقی خان حسام الملک فرزند فتح علی شاہ کی طرف سے اس عمارت کی نوسازی ہوئی اور بصورت مسجد اس میں دو گنبد بنائے گئے جس کا شمار آستانے کے بزرگترین علاقوں میں ہوا۔

۱۳۳۸ ھ میں جو مسجد کے غربی حصے میں زمین تھی اس کو ملا نے سے اس کی مساحت ۱۴ ، در ۴۸ میٹر ہوگئی جو تین محکم اینٹوں کے ۳ در ۲ میٹر ستونوں پر استوار ہے ۔ یہ بنائے مقدس اپنی جگہ اسی طرح برقرار تھی لیکن جب مسجد اعظم ایک خاص وسعت و زیبائی کے ساتھ بنائی گئی تو چونکہ مسجد بالاسر کی قدیمی عمارت مسجد اعظم اور حرم کے مطہر کے در میان خوشنما نہیں تھی لہٰذا متولی وقت آقائے سید ابوالفضل تولیت نے اس کی نوسازی کا اقدام کیا۔قدیم عمارت کو زمین کی سطح سے ہٹادیا گیا اور اس کی جگہ پر ایک بلند و بالا عمارت ۲۴ ، در ۴۸ میٹر (بدون ستون) معماری کی بے شمار خصوصیات کے ساتھ بنائی گئی جو آج حرم مطہر کی خوبصورت و عمدہ عمارت میں شمار ہوتی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسجد کے جنوبی حصے میں فقہا اور استوانہ علم و حکمت کی قبریں موجود ہیں ۔ مثلاً حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ عبد الکریم حائری اعلیٰ اللہ مقامہ موسس حوزہ علمیہ قم ،آیۃ اللہ سید محمد تقی خوانساری ۔آیۃ اللہ سید حسن صدر، آیۃ اللہ سید احمد خوانساری طاب ثراہم ۔ نیز زمانہ جدید کے علماء وفقہا ، مثلا علامہ طباطبائی ،آیۃ اللہ گلپائگانی ،آیۃ اللہ اراکی ، آیۃ اللہ بہاء الدینی ، آیۃ اللہ میرزا ہاشم آملی ، نیز انقلاب اسلامی کے شہدا مثلا استاد شہید مطہری شہید محراب آیۃ اللہ مدنی اس تربت پاک میں آرام فرمارہے ہیں اور ماہ منبر فاطمی کے کنارے فروزاں ستاروں کی طرح اس مکان مقدس کی ملکوتی فضا میں جھلملارہے ہیں۔

مسجد طباطبائی

مسجد طباطبائی کی گنبد پچاس ستونی ہے جو قدیم زنانے صحن کی جگہ روضہ مطہر کے جنوبی حصے میں بنائی گئی ہے یہ گنبد بیچ میں چوڑائی کے اعتبار سے ۷۱ ، اور بلندی کے لحاظ سے ۱۷ ، میٹر ہے۔ جس کی مساحت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے اس کے اطراف ۸۰/۲۴ در ۲۰/۲۴ میٹر ہے۔ اس مسجد میں بشکل مثلث رواق ہیں جس کے نچلے حصے ۱۵ میٹر ہیں ۔اس کے گنبد کو اینٹوں کی بنیاد پر ۲ X ۲ میٹر کے قطر ۳۰/۳ بلندی میں بنایا گیا ہے ۔پھر تمام بنیادوں کو نیچے سے تراشا گیا اور ستونوں کے چاروں گوشے سے ایک ستون (بہت اچھے مسالے کی مدد سے جس میں سیمنٹ ،چھڑ،لوہا و غیرہ مخلوط تھا) اوپر لایا گیا پھر اندر سے ان چاروں ستونوں کو یکجا کردیا گیا اور اس طرح یہ عظیم گنبد ۳۲ ، سے ۴۰ ، ستونوں پر برقرار ہوا ان ستونوں کے اوپر جن پر سیمنٹ تھی مشینوں سے تراشے ہوئے سنگ مرمرچوڑائی میں دس اور بلندی میں پچاس سینٹی میٹر تک مزین کئے گئے ۔اس طرح سب کے سب ستون سنگ مرمر کے لباس سے مزین ہوگئے اور اس گنبد کے ستونوں کے نیچے مدرّجی شکل میں برونز ایک فلز جو سونے کی طرح ہوتا ہے) سے صیقل کرکے اس کی زیبائی میں ایسا اضافہ کیا گیا کہ اس میں چار چاند لگ گئے ۔

اس بلند گنبد کے ستونوں کی تعداد رواق اور اطراف کے ستونوں کو ملاکر پچاس ستونوں تک پہنچتی ہے ۔ اس بلندو بالا اور با عظمت مسجد کے بانی حجۃا لاسلام جناب محمد طباطبائی فرزند آیۃ اللہ حسین قمی ہیں۔ اس عمارت میں تقریبا ۱۰ ، سال صرف ہوئے ( ۱۳۵۰ ہجری سے لے کر ۱۳۷۰ ہجری)

اس مکان مقدس کے شمال غربی علاقے میں بزرگ علماء و شہدا کی قبریں ہیں مثلا آیۃ اللہ ربانی شیرازی ،شہید ربانی املشی ، شہید محمد منتظری ، شہید آیۃ اللہ قدوسی، شہید محلاتی جس نے اس مکان مقدس کی معنویات میں اور اضافہ کردیا۔

مسجد اعظم

( لمسجد اسس علی التقویٰ من اول یوم احق ان تقوم فیه )

با عظمت دینی آثار میں سے ایک عظیم اثر مسجد اعظم ہے جو عالم تشیع کے علی الاطلاق مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ بروجردی قدس سرہ کی بلند ہمتی کا ثمرہ ہے ۔یہ مسجد حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے حرم کے نزدیک زائروں کی آسانی کے لئے بنائی گئی ہے۔ یہ بلند و بالا عمارت آستانہ رفیع فاطمی کے کنارے ایک فرد فرید مسجد ہے۔

انگیزہ تاسیس

حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ بروجردی اعلیٰ اللہ مقامہ کے لئے اس مسجد کی بناء کا اساسی ترین انگیزہ یہ تھا کہ وہ کریمہ اہل بیت کی بارگاہ میں ایک ایسی مناسب مسجد کی کمی محسوس کررہے تھے جس میں زائرین روحانی فیوض سے زیادہ سے زیادہ بہرہ مند ہوسکیں۔ لہٰذا اسی کمی کا احساس کرتے ہوئے انھوں نے اپنے احساسات کو عملی جامہ پہنادیا۔ چنانچہ بعض بزرگوں کے بیان کے مطابق آپ نے فرمایا : میرا ارادہ ہے کہ حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے جوار میں ایک ایسی مسجد کی بنیاد ڈالوں جو حضرت علی بن موسی الرضا علیہما السلام کے حرم کے کنارے مسجد گوہر شاد کی طرح با جلالت ہو۔ دوسری طرف آپ کا نظریہ تھا کہ حوزہ علمیہ قم ایک طویل مدت تک مختلف دروس خصوصاً درس خارج کے لئے ایک وسیع و عریض محیط کا نیاز مند ہے ،اس سے بہتر کیا ہوگا کہ یہ عظیم مرکز حرم مطہر کے جوار میں بنام مسجد ہو ۔آپ کی اس نیت میں کتنا خلوص تھا اس کی گواہی آج بھی قبر مطہر دے رہی ہے کہ جو مسجد کے کنارے (مسجد میں داخل ہونے والے دروازے کے پاس) واقع ہے۔

یقینا اس مسجد کو قرآن مجید کی اس آیت ”لمسجد اسس علی التقویٰ من اول یوم احق ان تقوم فیہ “ سورہ توبہ / ۱۰۸ ( وہ مسجد جس کی بنیاد روز اول سے پرہیزگاری پر رکھی گئی ہے وہ ضرور اس کی حقدار ہے کہ تم اس میں کھڑے ہو) کے مصادیق میں سے ایک روشن مصداق کہا جا سکتا ہے۔

تاریخ تاسیس

۱۱/ ذی القعدہ ۱۳۷۳ ہجری روز ولادت با سعادت حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہما السلام کو ایک خاص جاہ و حشم کے ساتھ اس مسجدکی بنیاد رکھی گئی۔

مشکلات

اس مسجد کو بنانے میں ایک اہم مشکل اس کے مکان کی محدودیت اور زمین کی ناموزونیت تھی۔ جیسا کہ خود مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک طرف سے آستانہ مقدسہ کی طرف تو دوسری جانب نہر کے ساحل کی طرف سے محدود ہے۔ نتیجتا مسجد کا جغرافیائی ڈھانچہ اایک ناموزون شکل میں مثلث ہے جس کا غربی حصہ تقریبا ۱۲۰ میٹراور بنیاد ۱۵ میٹر ہے۔

ایک دوسری مشکل وہ گھر تھے جو مسجد کے اطراف میں واقع تھے جن کا خرید نا ایک خطیر رقم کا طلبگار تھا۔ لیکن آیۃ اللہ بروجردی کے حکم پر ان تمام مکانوں کو بہت ساری مشکلیں برداشت کرکے خرید لیا گیا اور ان کے مالکوں سے رضایت بھی لے لی گئی۔ اسی طرح مسجد بالاسر کی جانب سے ۳۰۰۰ میٹر سے زیادہ آستانہ مقدسہ کی عمارتوں اور متعلقات میں شمار ہورہی تھی جو آپ کی خاص درایت سے مسجد میں داخل ہوگئیں ۔ آخر کار مذکورہ مشکلوں کو دور کرکے باعنایات الٰہی مشہور معروف انجینیروں اور معماروں کے زیر نظر (مثلاً لرزادہ صاحب مرحوم ) وقت نظر کے ساتھ جامع طور پر مسجد کا نقشہ بنایا گیا۔اور اسی نقشے کی بنیاد پر مسجد بننے لگی چھ سال کی جاں توڑ محنت کے بعد مسجد کا اچھا خاصہ بن کر تیار ہوگیا اور ۱۳۳۹ شمسی سال کے چھٹے مہینے آیۃ اللہ العظمیٰ بروجردی قدس سرہ کی نماز جماعت کے ذریعہ اس مسجد کا افتتاح ہوگیا۔ اس کے بعد تمام افراد مسجد سے بہرہ مند ہونے لگے۔

مسجد کا معماری خاکہ

مسجد کی مجموعی مساحت تقریبا ۱۲۰۰ مربع میٹر ہے ۔پوری عمارت محکم مسالوں (جس میں سیمنٹ چھوٹے چھوٹے پتھر ،لوہے کے چھڑ و غیرہ استعمال کئے گئے ہیں) سے بنائی گئی لہٰذا یہ مسجد از نظر استحکام اسلامی عمارتوں میں کم نظیر شمار ہوتی ہے ۔ مسجد میں چار شبستان (ہال) ہیں جس میں گنبد کے نیچے والے شبستان کی مساحت ۴۰ مربع میٹر اور اس کے دونوں طرف ہر شبستان کی مساحت ۹۰ مربع میٹر ہے ۔نیز مسجد کے شمالی حصے میں گھڑی کے نیچے ایک شبستان ہے جس کی مساحت ۳۰۰ مربع میٹر ہے ۔ تمام شبستانوں کی چھتوں کی بلندی اس کی سطح سے تقریبا ۱۰ میٹر ہے ، مسجد کے غربی حصے میں بیت الخلا اور مسجد کا وضو خانہ ہے نیز خادموں کے لئے ایک ہال بنام ”آسائشگاہ“ ہے ۔اسی طرح مسجد کے غربی حصے میں ایک لائبریری بنائی گئی ہے ۔ جس میں دو ہال ہیں ۔ ایک مطالعہ کے لئے اور دوسرا ہال کتابوں کا مخزن ہے ۔لائبریری میں داخل ہونے کا راستہ مسجد اعظم میں داخل ہونے والے راہرو سے ہے۔

اس مسجد میں ایک بڑا سا گنبد ہے جس کا قطر ۳۰ مربع میٹر اور بلندی سطح بام سے ۱۵ مربع میٹر ہے اور شبستان سے اس کی بلندی ۳۵ مربع میٹر ہے ۔ اس کے بلند وبالا گلدستے سطح بام سے ۲۵ مربع میٹر اور سطح زمین سے ۴۵ مربع میٹر ہیں۔(۸) اسی طرح گھنٹی بجنے والی خوبصورت گھڑی پر ایک چھوٹا سا گنبد ہے جو چار وں طرف سے دکھائی دیتا ہے ۔ یہ مسجد تزئین اور کاشیکاری کے اعتبار سے آخری صدی میں اسلامی ہنر کا نمونہ شمار ہوتی ہے۔(۹)

بہترین مصرف

انقلاب کی کامیابی کے بعد حرم مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے زائرین کے استقبال کو مد نظر رکھتے ہوئے اور اس مسجد کی عبادی و معنوی فضا کو جوار بارگاہ معصومہ سلام اللہ علیہامیں شدید ضرورت محسوس کرتے ہوئے نیز مسجد اعظم کا بطور کامل استفادہ نہ ہونے کی وجہ سے کہ جو اس کے بانی کا اصل ہدف تھا ماہ مبارک رمضان کے آخری دہہ میں ۱۳۷۱ شمسی میں موازین شرعی اور قانون کی رعایت کرتے ہوئے مسجد اعظم اور بالائے سر کے ۃے کو ختم کردیا گیا ۔ اس کے بعد مسجد کے اداری و خدماتی امور کو آستانے کے سپرد کردیا گیا۔

آستانہ مقدس کے متولی محترم کو حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ خامنہ ای دام ظلہ العالی کی طرف سے دستور ملنے کے بعد اس امور سے مربوط مسئولین موظف ہوگئے کہ مسجد کے موقوفات میں مداخلت کئے بغیر مسجد کی نگہداری ، اس کی حفاظت اور اس کے متعلقات کی پاسبانی نیز اس میں کام کرنے والوں کی تنخواہ کی ذمہ داری سنبھالیں۔

اب یہ مکان مقدس محققین کی تحصیل کے لئے ایک مناسبترین مکان ہوگیاہے کیونکہ ایام تحصیلی میں اکثر و بیشتر مراجع تقلید اسی مکان میں درس دیتے ہیں اور طلاب و فضلاء کی کثیر تعداد ان کے علمی فیوض سے بہرہ مند ہوتی ہے ۔اسی طرح مختلف مذہبی پروگرام جو مسجد کی شان ہے بڑی شان و شوکت کے ساتھ برپاہوتے ہیں۔

( ۷) حرم مطہر کے صحن نو (اتابکی)

صحن نو ایک وسیع و خوش منظر و قابل دیدبناہے جس نے اپنی خاص معنویت کے ذریعہ بارگاہ فاطمی کی جلالت و عظمت میں اضافہ کردیا ہے یہ خوبصورت صحن چار ایوانوں ،شمالی ،جنوبی،شرقی اور غربی پر مشتمل ہے۔ اس کا شمالی ایوان میدان آستانے کی طرف سے وارد ہونے کا راستہ ہے اور جنوبی ایوان خیابان موزہ (میوزیم روڈ) سے وارد ہونے کا راستہ ہے اور شرقی ایوان خیابان ارم (ارم روڈ) سے وارد ہونے کا راستہ ہے۔ ان تمام ایوانوں میں ہنری و معماری کے ظریف آثار ہر فن کار ، ہنر شناس کی نگاہوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔

غربی ایوان وہی ایوان طلا ہے جو صحن نو سے روضہ مقدسہ میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔ان با جلالت ایوانوں(خصوصا ایوان آئینہ) کے وجود اور صحن مطہر کے وسط میں بیضوی شکل کے حوض (جس کی اپنی خاص خصوصیت ہے) نے اس مکان مقدس کی زیبائی میں چار چاند لگادیا ہے۔

یہ صحن مرزا علی اصغر خان صدر اعظم کے آثار میں سے ہے ۔ جس کے بننے میں ۸ سال کی مدت صرف ہوئی ہے ۔( ۱۲۹۵ ھ سے ۱۳۰۳ ھ ) اس صحن میں بہت سارے علماء کی قبریں ہیں ، مثلا مشروطیت کے زمانے میں شہید ہونے والے بزرگوار آیۃ اللہ شیخ فضل اللہ نوری ، شہید آیۃ اللہ مفتح،بزرگ عالم شیعہ قطب الدین راوندی ۔

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے زائروں کے لئے سزاوار ہے کہ ان راہ امامت و ولایت کے فدا کاروں کی زیارت سے مشرف ہوں اور اس سے کبھی غافل نہ ہوں۔

صحن عتیق ( صحن قدیم)

صحن عتیق جو روضہ مبارکہ کے شمال میں واقع ہے وہ ایک سب سے پہلی عمارت ہے جو قبہ مبارکہ پر بنائی گئی ہے۔

اس صحن کو تین خوبصورت ایوان جو جنوب میں واقع ہے جو وہی ایوان طلا ہے جو روضہ مطہر سے صحن میں وارد ہونے کا راستہ ہے ۔ مشرقی دالان صحن عتیق سے صحن نو میں وارد ہونے کاراستہ ہے ، یہ صحن چھوٹا ہونے کے با وجود با جلالت ایوانوں اور متعدد حجروں کی وجہ سے ایک خاص خوبصورتی کا حامل ہے۔

اس صحن اور اس کے اطراف کے ایوانوں کو شاہ بیگی بیگم دختر شاہ اسماعیل صفوی نے ۹۲۵ ہجری میں بنوایا تھا۔

یہ آستانہ مقدسہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے ہنری و معماری آثار کا ایک مختصر خاکہ تھا ۔ اسلامی ہنرمندوں کے لئے مناسب ہے کہ اس بلند و بالا عمارت کو جس میں ہنر کے خزانے پوشیدہ ہیں نزدیک سے دیکھیں اور اس کے موجد کو دادوتحسین سے نوازیں۔

____________________

۱۔ حضرت معصومہ شہر قم ص / ۵۰ ، ۴۹ ۔ محمد حکیمی با تصرف و اضافات ۔

۲۔ تربت پاکان ج ۱، ص ۵۶ و ص۵۰ ، مولف مدرس طباطبائی

۳۔ گنجینہ آثار قم ، ج۱، ص ۱۴۶۔

۴۔ مدرک سابق ص ۴۷۵۔

۵۔ تربت پاکان ج۱ ، ص ۶۲۔

۶۔ تربت پاکان ج ۱،ص ۲۹۔

۷۔ تربت پاکان ج ۱،ص ۷۱۔

۸۔خاطرات زندگی آیۃ اللہ بروجردی / سیدمحمد حسین علوی طباطبائی ص ۱۰۲ و ۱۰۱

۹۔ خاطرات زندگی آیۃ اللہ بروجردی / سیدمحمد حسین علوی طباطبائی ص ۱۰۴


آٹھویں فصل

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت

قاموس شیعہ میں ایک مقدس و معروف کلمہ،کلمہ زیارت ہے اسلام میں جن آداب کی بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے ان میں سے ایک اہل بیت علیہم السلام اور ان کی اولاد امجاد کی قبور مبارک کی زیارت کے لئے سفر کرنا ہے ۔حدیثوں میں ائمہ معصومین علیہم السلام کی جانب سے اس امر کی بڑی تاکید ہے ۔مثلا امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ آپ کی زیارت ہزار حج و عمرہ کے برابر ہے۔(۱)

امام رضا علیہ السلام نے اپنی زیارت کے لئے فرمایا : جو شخص معرفت کے ساتھ میری زیارت کرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔(۲)

امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا:

من زارقبر عمتی بقم فله الجنة (۳)

جو قم میں ہماری پھوپھی (فاطمہ معصومہ ) کی زیارت کرے گا وہ بہشت کا مستحق ہے۔

جناب عبد العظیم علیہ الرحمۃ کے لئے امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا : اگر عبد العظیم کی قبر کی زیارت کرو گے تو ایسا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی ہے ۔(۴)

رسول خدا صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

من زارنی او زار احدا من ذریتی زرته یوم القیامة فانقذته من اهوائها ۔(۵)

جو میری یا میری اولاد میں سے کسی کی زیارت کرے گاتو قیامت کے دن میں اس کے دیدار کو پہنچوں گا اور اسے اس دن کے خوف سے نجات دلاوں گا ۔ اس مقام پر جو سب سے بڑا سوال ہے وہ یہ ہے کہ ان فضائل و جزا کا فلسفہ کیا ہے؟ کیایہ تمام اجر وثواب بغیر کسی ہدف کے فقط ایک بار ظاہری طور پر زیارت کرنے والے کو میسر ہوجائیں گے؟ یا یہ تمام چیزیں اہداف شیعیت کی راہ میں ہیں جو ان بزرگوں کی تربت مطہر سے حاصل ہوتی ہیںتا کہ ان کی زیار ت سے شیعہ اپنی دنیا و آخرت کے لئے توشہ فراہم کرسکیں اور ہمیشہ برگزیدگان خدا کو نمونہ عمل قرار دے کر اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیشہ ایک نمونہ عمل امتی بن کر زندگی بسر کریں اور اپنی روح کو جلا بخش کر آفتوں اور برائیوں سے دور رہیں۔

اس کے ذریعہ ایک سرفراز و سعادتمند معاشرے کی تشکیل دیں۔ یہ مکرر تجدیدی میثاق کا نتیجہ ہے کہ تشیع اور ائمہ بر حق کی راہ استوار ، مستقیم اور پائدار ہے۔

واضح ہے کہ یہ ہدف اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ مشاہد مشرفہ کے زائرین ان بزرگوں کی معرفت حقہ نہ رکھتے ہوں۔لہٰذا اس ہدف کے حصول کی خاطر معرفت و شناخت کے ساتھ ان کی پابوسی کے لئے حاضر ہونا چاہئے۔ اسی وجہ سے روایات میں اولیاء خدا کے نزدیک قبول ہونے کی سب سے بڑی شرط معرفت حقہ ہے ۔فضیلت زیارت کو درک کرنے کے لئے اس امر کی بے حد تاکید کی گئی ہے۔

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

من اتی قبر الحسین عارفا بحقه کان کمن حج ماٴة حجة مع رسول الله (۶)

یعنی جو معرفت حقہ کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرے گا تو گویا اس نے ۱۰۰ سو حج رسول اللہ کے ساتھ انجام دیئے۔

امام جواد علیہ السلام نے بھی امام رضا علیہ السلام کے لئے فرمایا:

اس شخص پر جنت واجب ہے جو معرفت کے ساتھ ہمارے باباکی زیارت (طوس میں) کرے۔

امام رضا علیہ السلام نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے بارے میں فرمایا:

من زارها عارفا بحقها فله الجنة (۷)

یعنی جو فاطمہ معصومہ کی زیارت معرفت حقہ کے ساتھ انجام دے گا وہ مستحق بہشت ہے۔

واضح ہے کہ اگر مسلمان زائران بزرگوں کے فضائل و کمالات اور ان کی معرفت رکھتاہو گا تو ممکن ہے کہ ان کی زیارت سے توشہ فراہم کرلے اور اپنی روح کو ان ارواح قدسیہ سے ہم آہنگ کرکے مکتب و مقصود الٰہی سے آشنا ہوسکتا ہے۔

مترجم حقیر کہتاہے کہ یقینا معرفت آل محمد علیہم السلام شرط قبول اعمال بالاخص شرط قبول زیارت ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ بات مسلم ہے کہ انسان کے لئے ان ذوات مقدسہ کی معرفت حقہ پیدا کرکے عارفا بحقہا کا مصداق بننا بہت مشکل بلکہ محال ہے کیونکہ جنھیں خدا و رسول کے علاوہ کسی نے نہ پہچانا ہو تو کس میں اتنی قدرت ہے کہ ان کی معرفت حاصل کرے وہ بھی ایسی معرفت کہ جو ان کا حق ہے۔یہ وہ اشتباہ ہے کہ جو عام لوگوں کو مایوس کردیتاہے کہ جب ہم معرفت حاصل کرہی نہیں سکتے تو زیارت کا کیا فائدہ؟لیکن یہ ہے کہ اگر ہم ”عارفا بحقہا“ کے مصداق نہیں ہوسکتے تو کم از کم جہاں تک معرفت حاصل کرنا ممکن ہے وہاں تک ضرور معرفت حاصل کریں تا کہ فلسفہ زیارت کو درک کرسکیں ۔ لہٰذا اس فکر میں کہ معرفت حاصل نہیں ہوسکتی مایوس ہونا دام شیطانی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔بس ان ذوات مقدسہ سے یہ دعا کرنی چاہئے کہ وہ ہماری کمیوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے ہمیں فضیلت زیارت سے بہرہ مند فرمائیں اور ہماری کوتاہیوں کو بخشتے ہوئے ہمیں روز قیامت کی مصیبتوں سے نجات دلائیں۔

حضرت کا معتبر زیارت نامہ

ہر بارگاہ میں ملاقات کا ایک خاص دستور ہوتاہے جسے وہاں کے رہنے والے ہی بتا سکتے ہیں۔لہٰذا حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی بارگاہ میں بھی مشرف ہونے کے خاص آداب ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی زیارت کے لئے معتبر روایتوں سے زیارت نامہ منقول ہے تا کہ مشتاقان زیارت ان نورانی جملوں کی تلاوت فرماکر رشدو کمال کی راہ میں حضرت سے الہام حاصل کرسکیں اور بے کراں رحمت حق سے بہرہ مند ہوسکیں۔

سند زیارت

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی ایک معتبر زیارت ہے جسے علامہ مجلسی نے بحار الانوار ج / ۱۰۲ ، ص ۲۶۶ میں نقل فرمایا ہے ہم پہلے اس کی سند پیش کرتے ہیں۔

علی ابن ابراہیم اپنے پدر سے وہ سعد سے وہ امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اے سعد تمھارے نزدیک ہماری ایک قبر ہے !میں نے عرض کیا : میں آپ پر قربان ہوجاوں فاطمہ بنت موسی بن جعفر علیہم السلام کی قبر کو بیان فرمارہے ہیں ؟فرمایا :”ہاں“ جو بھی معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کرے گا وہ مستحق بہشت ہے۔ جب بھی (تم حرم مشرف ہو اور) قبر کو دیکھو نزد سر(۸) رو بقبلہ کھڑے ہوجاو اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر، ۳۳ مرتبہ سبحان اللہ ، ۳۳ مرتبہ الحمد للہ پڑھو اور پھر کہو۔(۹)

متن زیارت

( اَلـسَّلامُ عَـلی آدَمَ صَـفْوَة اللّه ِ، اَلسَّلامُ عَلی نوُح نَبِی اللّه ِ ، اَلسَّلامُ عَلی ا ِبْرهيمَ خَليل ِ اللّه ِ، اَلسَّلامُ عَلی موُسی كَليم ِاللّه ِ ، اَلسَّلامُ عَلی عيسی روُح ِ اللّه ِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا خَيْرَ خَلْقَ اللّه ِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا صَفِی اللّه ِ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمّدَ بْنَ عَبْد ِاللّه ِ، خاتَمَ النَّبِيّينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا اَميرَالْمُؤْمِنينَ عَلی بْنَ اَبی طالِب ، وَصِی رَسوُل ِ اللّه ِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِ يا فاطِمَة سَيِّدَة نِساءِ الْعالَمينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكُما يا سِبْطَی نَبِی الرَّحْمَة ِ، وَ سَيِّدَی شَباب ِ هل ِ الْجَنَّة ِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَلِی بْنَ الْحُسَيْن ِ، سَيِّدَ الْعابِدينَ وَ قُرَّة عَيْن ِ النّاظِرينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِی، باقِرَ الْعِلْم ِ بَعْدَ النَّبِی ،اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّد الصّاد ِقَ الْبارَّ الْامينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا موُسَی بْنَ جَعْفَر الطّهرَ الطُّهرَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَلِی بْنَ موُ سَ ی الرِّضَا الْمُرْتَضی، اَالسَّلامُ عَلَيْكَ يا مُحَمَّدَ بْنَ عَلِی التَّقِی، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا عَلِی بْنَ مُحَمَّد النَّقِی النّاصِحَ الْأَمينَ، اَلسَّلامُ عَلَيْكَ يا حَسَنَ بْنَ عَلِی، اَلسَّلامُ عَلَی الْوَصِی مِنْ بَعْدِه ِ اَللّهمَّ صَلِّ عَلی نُورِكَ وَ سِراجِكَ، وَ وَلِی وَلِيِّكَ، وَ وَصِيِّكَ، وَ حُجَّتِكَ عَلی خَلْقِكَ اَلسَّلامُ عَلَيْك ِ يابِنْتَ رَسوُل ِ اللّه ِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِ يابِنْتَ فاطِمَة وَ خَديجَة ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِ يابِنْتَ اَمير ِ الْمُؤْمِنينَ ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِ يابِنْتَ الْحَسَن ِ وَ الْحُسَيْن ِ اَلسَّلامُ عَلَيْك ِ يابِنْتَ وَلِی اللّه ِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِ يا اُخْتَ وَلِی اللّه ِ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِ يا عَمَّة وَلِی اللّه ِ ، اَلسَّلامُ عَلَيْك ِ يابِنْتَ موُسَی بْن ِ جَعْفَر ، وَ رَحْمَة اللّه ِ وَ بَرَكاتُه. اَلسَّلامُ عَلَيْك ِ، عَرَّفَ اللّه بَيْنَنا وَ بَيْنَكُمْ فِی الْجَنَّة ِ، وَ حَشَرَنا فی زُمْرَتِكُمْ، وَ أَوَرَدْنا حَوْضَ نَبِيِّكُمْ، وَ سَقانا بِكَأْس ِ جَدِّ كُمْ مِنْ يَد ِ عَلِی ِّ بْن ِ اَبی طالِب ، صَلَواتُ اللّه عَلَيْكُمْ ، أَسْئَلُ اللّه أَنْ يُر ِيَنا فيكُمُ السُّروُرَ وَ الْفَرَجَ ، وَ أَنْ يَجْمَعَنا وَ إِيّاكُمْ فی زُمْرَة ِ جَدِّكُمْ مُحَمَّد، صَلَّی اللّه عَلَيْه ِ وَ آلِه ِ، وَ أَنْ لا يَسْلُبَنا مَعْر ِ فَتَكُمْ، إِنَّه وَلِی قَديرٌ. أَتَقَرَّبُ إِلَی اللّه ِ بِحُبِّكُمْ وَ الْبَرة ِ مِنْ أَعْدائِكُمْ، وَ التَّسْليم ِ إِلَی اللّه ِ ، راضِياً بِه ِ غَيْرَ مُنْكِر وَ لا مُسْتَكْبِر وَ عَلی يَقين ِ ما أَتی بِه ِ مَحَمَّدٌ وَ بِه راض، نَطْلُبُ بِذلِكَ وَجْهكَ يا سَيِّدی ، اَللّهمَّ وَ رِضاكَ وَ الدّارَ الْآخِرَة يا فاطِمَة ا ِشْفَعی لی فِی الْجَنَّة ِ ، فَا ِنَّ لَكَ عِنْدَاللّْه ِ شَأْناً مِنَ الشَّأْن ِ. اَللّْهمّ ا ِنی اَسْئَلُكَ أَنْ تَخْتِمَ لی بِالسَّعادَة ِ ، فَلاتَسْلُبْ مِنّی ِ ما أَنَا فيه ِ،وَ لاحُولَ وَ لا قُوَة إِلا بالّله الْعَلِی الْعَظيم ِ اَللّهمَ اسْتَجِبْ لَنا، وَ تَقَبَّلْه بِكَرَمِكَ وَ عِزَّتِكَ ، وَ بِرَحْمَتِكَ وَ عافِيَتَكَ، وَ صَلَّی الّله عَلی مُحَمَّد وَ آلِه ِ أَجْمَعينَ، وَ سَلَّمَ تَسْليما يا أَرْحَمَ الرّاحِمينَ )

ترجمہ : سلام ہو آدم خدا کے برگزیدہ پر۔ سلام ہو نوح نبی خدا پر۔سلام ہو ابراہیم خلیل خدا پر۔سلام ہو موسیٰ کلیم خداپر۔سلام ہو عیسیٰ روح خدا پر۔اے رسول خدا آپ پر سلام ہو ، اے بہترین مخلوق خدا آپ پر سلام ہو ۔ اے صفی خداآپ پرسلام ہو ۔اے محمد بن عبداللہ آخری نبی آپ پر سلام ہو ۔اے امیر المومنین علی ابن ابیطالب وصی رسول خدا آپ پر سلام ہو ۔اے فاطمہ دو جہاں کی عورتوں کی سردار آپ پر سلام ہو ۔اے علی بن حسین عبادت گزاروں کے سید و سردار اور دیکھنے والوں کی خنکی چشم آپ پر سلام ہو۔ اے محمد بن باقر علم بعد از نبی آپ پر سلام ہو۔ اے جعفر بن محمد صادق نیک کردار، امین آپ پر سلام ہو۔ اے موسیٰ بن جعفر پاک وپاکیزہ آپ پر سلام ہو۔ اے علی بن موسیٰ رضا ، مرتضی آپ پر سلام ہو۔ اے محمد بن علی پرہیزگار آپ پر سلام ہو۔ اے علی بن محمد نقی خیر خواہ، امین آپ پر سلام ہو۔ اے حسن بن علی آپ پر سلام ہو۔ اے ان کے بعد جو وصی ہیں ان پر سلام ہو۔خدایا تو اپنے نور اور تابناک چراغ ، اپنے ولی کے نمائندے ، اپنے جانشین اور بندوں پر اپنی حجت کے اوپر سلام نازل فرما ۔ اے بنت رسول خدا آپ پر سلام ہو۔ اے دختر فاطمہ و خدیجہ آپ پر سلام ہو ۔اے دختر امیر المومنین آپ پر سلام ہو ۔اے دختر حسین و حسین آپ پر سلام ہو ۔اے دختر ولی خدا آپ پر سلام ہو ۔ اے ولی خدا کی خواہر آپ پر سلام ہو ۔اے ولی خدا کی پھوپھی آپ پر سلام ہو ۔اے دختر موسی بن جعفر آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکت ہو۔ سلام ہو آپ پر۔خدا جنت میں ہمارے اور آپ کے در میان شناخت قائم فرمائے اور ہم کو آپ لوگوں کے گروہ میں محشور فرمائے۔ آپ کے نبی کے حوض پر وارد فرمائے نیز ہمیں آپ لوگوں پر خدا کا درود ہو۔ میں خدا سے درخواست کرتاہوں کہ وہ ہمیں آپ کے بارے میں خوشحال کرے اور فرج دکھائے۔نیز ہمیں اور آپ کو آپ کے جد محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گروہ میں شمار فرمائے اور ہم سے آپ کی معرفت کو سلب نہ کرے۔ کیونکہ وہی سرپرست اور قدرت والا ہے۔ میں آپ کی محبت اور آپ کے دشمنوں سے برائت کے وسیلے سے خدا کی بارگاہ میں تقرب چاہتاہوں اور اس کی بارگاہ میں سر نیاز خم کرتاہوں۔

نیز اس سے راضی ہوں۔ نہ ہی منکر ہوں نہ ہی مستکبر۔یہ تمام باتیں جو چیزیں محمد لائے ہیں اس پر یقین کے ساتھ کہہ رہاہوں نیز اس سے راضی ہوں۔اے مرے آقا اسی وسیلے سے تری توجہ کا طلبگار ہوں۔ خدایا تری خوشنودی اور خانہ آخرت چاہتاہوں۔

اے فاطمہ جنت میں میری شفاعت فرمائیے کیونکہ آپ خدا کے نزدیک ایک خاص شان ومقام کی حامل ہیں ۔خدایا میں تجھ سے درخواست کرتاہوں کہ ہمارا خاتمہ سعادت پر ہو۔پس اس ایمان کو ہم سے نہ چھین جو ہم میں موجود ہے۔تمام حرکت و جنبش خدا ہی کے وسیلے سے ہے جو بزرگ و برتر ہے ۔ خدایا ہماری حاجت کو مستجاب فرما۔ اور اپنے کرم و عزت و رحمت و عافیت سے اسے قبول فرما نیز محمد اور ان کی آل پر درود و سلام نازل فرما۔ اے سب سے زیادہ مہربان ۔

خداوند عالم کا صدہا شکر کہ اس کی مدد سے اس کتاب نے اتمام کے مراحل طے کرلئے ۔ حضرت معصومہ سے یہی دعا ہے کہ اپنی بارگاہ میں اس مختصر کوشش کو قبول فرمالیں تا کہ قیامت کے دن میں اورتمام مومنین وہاں کے شر سے محفوظ رہیں۔

آمین یا رب العالمین

بحق محمد و آله الطاهرین

والسلام

سید مراد رضا رضوی

۷ ، ج ۲ ، ۱۴۲۱ ھ حرم مطہر امام رضا علیہ السلام ،بالاسر۔

____________________

۱۔بحار الانوار ج ۱۰۱ ، ص ۴۳۔

۲۔ بحار الانوار ج ۱۰۲ ، ص۳۳۔

۳۔ بحار الانوار ج ۱۰۲ ، ص۲۶۵۔

۴۔ مدرک سابق۔

۵۔ کامل الزیارات ص۱۱۔

۶۔بحار الانوار ج ۱۰۱ ، ص ۴۲۔

۷۔ مدرک سابق ص۲۶۶۔

۸۔مقصود در ورایت یہ ہے کہ ضریح مطہر کے شمالی حصے میں رو بقبلہ کھڑے ہوں نہ کہ بالائے سر(وغرب ضریح مطہر) جیسا کہ بزرگوں کی سیرت مثلا امام خمینی ،آیۃ اللہ شیخ مرتضیٰ حائری اور بعض دیگر بزرگان نے اس مطلب کی تائید فرمائی ہے۔

۹۔ بحار الانوار ج ۱۰۲ ، ص ۲۶۵۔


فہرست

پہلی فصل : قم کا روشن ماضی ۴

شہر قم کا تاریخی سابقہ ۴

قم کی طرف خاندان اشعری کی ہجرت ۴

قم کا فرہنگی ، سیاسی سابقہ ۶

ستمگروں سے اہل قم کا مبارزہ ۷

فرہنگی ، سیاسی انقلاب ۸

قم کی مذہبی نورانیت ۹

دوسری فصل ۱۶

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی اجمالی زندگی ۱۶

فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کون ہیں ۱۷

ولادت تا ہجرت ۱۷

شہر مقدس کی طرف سفر مقدس ۱۷

غروب ماہتاب ۱۸

مراسم دفن ۱۸

تیسری فصل ۲۰

حضرت فاطمہ معصومہ علیہا السلام کے فضائل و مناقب ۲۰

خاندانی شرافت ۲۰

آپ کی عبادت ۲۰

عالمہ و محدثہ اہل بیت علیہم السلام ۲۱


آپ معصومہ ہیں ۲۱

کریمۃ اہل بیت علیہم السلام ۲۲

مقام شفاعت ۲۳

فضیلت زیارت ۲۳

چوتھی فصل ۲۶

حضرت معصومہ علیہا السلام سے منقول روایتیں ۲۶

( ۱) حدیث غدیر و منزلت ۲۷

( ۲) حدیث حب آل محمد علیہم السلام ۲۷

( ۳) حضرت علی علیہ السلام اور ان کے شیعوں کی قدر و منزلت ۲۸

( ۴) قم دیار ابرار ۲۸

پانچویں فصل: ۳۰

کریمہ اہل بیت کی کرامتیں ۳۰

حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ اراکی سے منقول کرامتیں ۳۰

جلال و جبروت حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام ۳۳

حضرت فاطمہ معصومہ کی نوازشیں ۳۴

ایک دوسری عنایت ۳۵

نخجوانی طالب علم کو شفا ۳۶

منبع فیض الٰہی ۳۶

مرد نصرانی کو شفا ۳۶

مفلوج کو شفا ۳۷


عزاداری اہلبیت کا صلہ اور درد پا کی شفا ۳۸

گمشدہ کو نجات اور زائرین پر عنایتیں ۳۸

مرض دیوانگی ۳۹

ضعف چشم ۴۰

گونگی لڑکی ۴۰

مریض دق ۴۰

قرض کی ادائیگی اور رزق میں برکت ۴۱

حرم کے خادم کو شفا ۴۱

شفائے چشم ۴۲

مہمان نوازی کا خرچ ۴۲

قم جاو ۴۳

نزول رحمت ۴۳

نسیم رحمت ۴۴

شفا بخش شربت ۴۵

چھٹی فصل : ۴۸

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا شعراء کی زبانی ۴۸

برگزیدہ از قصیدہ در مدح نورین نیرین حضرت فاطمہ زہرا و فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہما ۴۸

دختر خورشید ۵۱

حریم خدا ۵۳

شاہکار فاطمہ ۵۷


سدابھار ۵۹

نذر معصومہ قم صلوات اللہ علیہا ۶۲

ساتویں فصل ۶۶

آستانہ مقدسہ کی معماری ،ہنری تبدیلیوں کا خاکہ ۶۶

بارگاہ فاطمی علیہا السلام کے متبرک مقامات کا خاکہ : ۶۷

( ۱ ) حرم مطہر کا گنبد : ۶۷

( ۲ ) حضرت کا مرقد : ۶۸

( ۳) حرم مطہر کے ایوان ۶۸

ایوان طلا ۶۸

دوسرے دو ایوان ۶۹

ایوان آئینہ ۶۹

( ۴) صحن عتیق کے منارے ۶۹

( ۵) ایوان آئینہ کے منارے ۷۰

( ۶ ) حرم مطہر کی مسجدیں ۷۰

مسجد بالاسر ۷۰

مسجد طباطبائی ۷۱

مسجد اعظم ۷۱

انگیزہ تاسیس ۷۲

تاریخ تاسیس ۷۲

مشکلات ۷۲


مسجد کا معماری خاکہ ۷۳

بہترین مصرف ۷۴

( ۷) حرم مطہر کے صحن نو (اتابکی) ۷۴

صحن عتیق ( صحن قدیم) ۷۵

آٹھویں فصل ۷۷

حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت ۷۷

حضرت کا معتبر زیارت نامہ ۷۹

سند زیارت ۷۹

متن زیارت ۷۹

ساحل کوثر

ساحل کوثر

مؤلف: علی اصغر رضوانی
زمرہ جات: اسلامی شخصیتیں
صفحے: 16