خوشبوئے حیات

مؤلف: باقر شریف قرشی
متفرق کتب


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


ائمہ اہل بیت (علیھم السلام) کی سیرت سے

خوشبوئے حیات

باقر شریف قرشی

مترجم : سید ضرغام حیدر نقوی

مجمع جہانی اہل بیت (علیھم السلام)


بسم اللہ الرحمن الرحیم

حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے ۲۳ برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔


اگرچہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

(عالمی اہل بیت کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔


ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، حجة الاسلام باقر شریف قرشی کی گرانقدر کتاب نفحات من سیرة ائمة اہل البیت علیہم السلام کو فاضل جلیل مولاناسیدضرغام حیدر نقوی نے اردو زبان میںاپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔

والسلام مع الاکرام

مدیر امور ثقافت،

مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام


آغاز سخن

پروردگار عالم نے اہل بیت علیہم السلام کو اپنے اسرار کامحافظ ،اپنے علم کا مخزن ،اپنی وحی کا مفسراور صراط مستقیم کی روشن دلیل قرار دیاہے، اسی بنا پر ان کو تمام لغزشوں سے محفوظ رکھا،ان سے ہر طرح کی پلیدگی اوررجس کو دور رکھاجیسا کہ پروردگار عالم کا ارشاد ہے :

( إنَّمَایُرِیدُ اﷲُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا ) (۱)

''بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جوپاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ''

قرآن کریم میںاُن کی اطاعت ،ولایت اور محبت کی تاکید کی گئی ہے جیسا کہ خدا وند عالم فرماتا ہے :

( یَاَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُواَطِیعُوااﷲَ وَأطِیعُواالرَّسُولَ وَأُوْلِی الْأَمْرِمِنْکُمْ ) (۲)

''اے ایمان لانے والو! اللہ کی اطاعت کرورسول اور صاحبان امر کی اطاعت کروجو تمھیں میں سے ہیں ''۔

نیزخداوند عالم کا یہ فرمان ہے :

( قُلْ لاَأَسْأَلُکُمْ عَلَیْهِ أَجْرًاِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی ) ۔(۱)

____________________

۱۔سورئہ احزاب، آیت ۳۳۔

۲۔سورئہ نساء ،آیت ۵۹۔

۳۔سورئہ شوریٰ، آیت ۲۲۔


''آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کاکوئی اجر نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ تم میرے اقربا ء سے محبت کرو ''۔

اسی طرح رسول اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی حدیث میں تاکید فرما ئی ہے جو محدثین کی نظر میں متواتر ہے :

''اِنِّی تارِک فیکُمُ الثَقَلَیْنِ مَااِنْ تَمَسَّکتُم بِهِمالَن تضلُّوابعدی،اَحَدَهُمَا اَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ:کِتَابَ اللّٰه،حَبْل مَمْدُوْدُ مِنَ السَّمَائِ اِلیَ الاَرض،وَعِتْرَتِیْ اَهْلَ بَیْتِیْ وَلَنْ یَّفْتَرِقَاحَتّیٰ یَرِدَا عَلَیَّ الْحَوْضَ فَانظرُوا کَیْفَ تَخْلُفُوْنِیْ فِیْهِمَا'' ۔

''میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ،جب تک تم ان دونوں سے متمسک رہوگے ہر گز میرے بعد گمراہ نہیں ہوں گے ،ان دونوں میں سے ہر ایک ،ایک دوسرے سے اعظم ہے : اللہ کی کتاب جو آسمان سے لے کر زمین تک کھنچی ہوئی رسی ہے ،اور میری عترت میرے اہل بیت ہیں ، وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس واردہوں،پس میں دیکھوں گا کہ تم میرے بعد ان سے کیسا برتائو کروگے ''یہ سب اس لئے ہے کہ یہ اللہ کی مخلوق پر اس کی حجت ہیں،خاتم الانبیاء کے خلفاء ،پرچم اسلام کے علمبر دار ،آپ کے علم و نور کا خزانہ اوراسوئہ حسنہ ہیںنیز اللہ کی بندگی کیلئے اپنے قول وفعل کے اعتبار سے ہمارے لئے نمو نۂ عمل ہیں ۔

ان کی سیرت طیبہ بلند و بالا کر دار ،اعلیٰ نمونہ ،اسلام کے علوم و معارف کے ناشر ، ایثاروقربانی زہد،تواضع ،فقیروں اور کمزوروں کی امدادجیسے مکارم اخلاق کامجموعہ ہے اور اس کتاب میںاسی موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔

ہم اس گفتگوکے آخر میں خداوند قدوس سے یہ دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم کو اس کے منابع وماخذسے استدلال کر نے میں کامیاب و کامران فرمائے ۔

آخر میں ہم مؤسسہ اسلامی کے نشر و اشاعت کرنے والے ادارہ اسلامی کے شکر گذار ہیں ۔

والحمد للّٰہ ربّ العالمین،وصلی اللّٰہ علیٰ محمد وآلہ الغرّ المیامین

مہدی باقر قرشی

۱۳ محرم ۱۴۲۴ھ


مقدمہ

(۱)

بیشک ہر انسان کی فطرت اور اس کے خمیر میںیہ بات شامل ہے کہ وہ ایک ایسا عقیدہ حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے مطابق زندگی گذارنا آسان ہواور وہ اس کے نامعلوم مستقبل کے بارے میںایک پناہگاہ قرار پاسکے، خاص طور پراپنی موت کے بعدوہ قابل اطمینان ٹھکانہ حاصل کر سکے اور عین اسی وقت اس کا ضمیر یہ چاہتا ہے کہ اس ذات کی معرفت حاصل کرے جس نے اسے پیدا کیا ہے اور اس عرصۂ حیات میں اسے وجود عطا فرمایا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے خالق کے بارے میںموجود افکار کے درمیان زمین سے لیکر آسمان تک کا اختلاف پایا جاتا ہے کیونکہ یہ دنیا اچانک وجود میں نہیں آسکتی اور نہ ہی یہ عقل میں آنے والی بات ہے ۔ کائنات میںبسنے والے انسانوںمیں سے بعض سورج کو اپنا خدا مان بیٹھے کیونکہ یہ گرمی بخشتا ہے ،بعض نے چاند کو اپنا خالق مان لیا کیونکہ اس کے نکلنے ،نمو کرنے اور کامل ہونے کے متعدد فائدے اور عجائبات ہیں، پھر اس کے ڈوبنے(۱) اور نکلنے کے بھی فائدے ہیں اور بعض فرقے جہالت و نا دانی کی بنا پراپنے بنائے ہوئے بتوں کی پرستش کرنے لگے جن کو انھوں نے اللہ کے بجائے اپنا خدا قرار دیاتھا۔خانہ ٔکعبہ کی دیواروں پرتین سو ساٹھ بت رکھ دئے گئے تھے جن میں سے ہبل معاویہ کے باپ اور یزید کے دادا ابوسفیان کا خدا تھا اور بقیہ

____________________

۱۔عراق میں مقبروں کی دیواروں پر سورج ،چانداور بعض ستاروں کی تصویریں بنا ئی گئی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ مرنے والے ان کی عبادت کیا کرتے تھے ۔


مکہ اور مکہ سے باہر رہنے والے قریش سے متعلق خاندانوں کے خدا تھے ۔

(۲)

پروردگار عالم کے تمام انبیاء اللہ کی مخلوق، اس کے بندوں پر حجت تمام کرنے اور ان کی فکروں کو صاف و شفاف کرنے کے لئے مبعوث کئے گئے ،انھوں نے ہی جہالت کے بتوں اور باطل عقائد سے لوگوں کے اذہان کو صاف کیا ،اسی طرح انھوں نے انسان کے ارادہ ، طرز عمل اورعقائدکومکمل طور پرآزادرہنے کی دعوت دی ۔

انبیاء کے مبعوث کئے جانے کا عظیم مقصد، اللہ کے بندوں کواس کی عبادت اور وحدانیت کی دعوت دینا تھا ،وہ خدا جو خالق کائنات ہے ،ایسی زندگی عطا کرنے والا ہے جوزمین پر خیر اور سلامتی کی شناخت پر مبنی ہے ،اسی طرح ان کی دعوت کا اہم مقصد انسان کو اُن خرافات سے دور کرنا تھا جن کے ذریعہ انسان کا اپنے اصلی مقصد سے بہت دور چلے جاناہے ۔

مشرقی عرب میں سب سے نمایاں مصلح حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے جنھوں نے زمین پر اللہ کا نام بلند کرنے کیلئے جہاد کیا ،شرک کا قلع و قمع کرنے کیلئے سختی سے مقابلہ کیا ،جیسا کہ آ پ نے بتوں کو پامال اور ان کو نیست و نابود کرنے کیلئے قیام کیا ،(۱) جبکہ اُن کی قوم نے اُن پر سختیاں کیں ، آپ کے زمانہ کے سرکش بادشاہ نمرودنے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دینا شروع کردیں ،اور آپ کو دہکتی ہو ئی آگ میں منجیق کے ذریعہ ڈال دیالیکن پروردگار عالم نے آگ کو جناب ابراہیم کیلئے ٹھنڈاکردیا ۔(۲)

اسی طرح انبیاء علیہم السلام نے زمین پر اللہ کانام بلندکرنے کیلئے جنگ و جہاد کیا ، اورانسان کی فکر اور اس کے ارادہ کو غیر خدا کی عبادت سے آزادی عطاکی ۔

____________________

۱۔ملاحظہ کیجئے سورئہ انبیائ، آیت ۵۱سے۶۷تک ،ان آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جہاد اوربتوں سے مقابلہ کرنے کے طریقے بیان کئے گئے ہیں۔

۲۔پروردگار عالم نے آگ کی حرارت کو ٹھنڈک میں بدل دیاجو اس کی ضدہے،یہ ایک ایسا حقیقی معجزہ ہے جس کے ذریعہ اللہ نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی تا ئید فرما ئی ہے ۔


(۳)

اللہ کی وحدانیت کے اقرار اور انسان کو آزاد فکر کی طرف دعوت دینے میں رسول اعظم حضرت محمد مصطفےٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شخصیت ممتاز و نمایاں ہے ،آپ ہی نور کی مشعلوں کو اٹھانے والے ہیں ، آپ نے ہی جہالت کے خو شنما دکھائی دینے والے ان عقائد کو پاش پاش کیا جو گناہ اور خرافات میں غرق تھے ، مکہ میں نور کی شعاعیں پھیلیں جو اصنام اور بتوں کا مرکز تھا ،کو ئی بھی قبیلہ بتوں سے خا لی نہیں تھا ہر گھر میں بت تھے ، جن کی وہ اللہ کے بجائے پرستش کیاکرتے تھے ،نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے محکم عزم و ارادہ کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا آپ کے سامنے کو ئی چیز رکاوٹ نہ بن سکی ،آپ نے بڑی محنت و مشقت کے ساتھ توحید کا پرچم بلندکیا،خدا کی عبادت کا تصور پیش کیا،تاریخ کارخ بدل ڈالا اور انسان کو خرافات میں غرق ہونے سے نجات دیدی ۔

یہ بات بھی شایان ذکر ہے کہ پروردگار عالم نے اپنے بندے اور رسول حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر قرآن کی اکثر آیات مکہ میں نازل فرما ئیں اورآنحضرت نے پروردگار عالم کے وجودپرمحکم اور قاطع دلیلیں پیش کیں جن کا انکار کمزور ذہن والے انسان کے علاوہ کو ئی نہیں کر سکتاہے ۔

(۴)

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکہ سے یثرب ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ،اللہ نے آپ کو فتح مبین عطا فرمائی ،آپ کے دشمن ،سرکش قریش اور سرکردہ عربوںنے آپ کو زیر کرنا چا ہا تو آپ نے ایک عظیم حکومت کی بنیاد ڈالی ،اپنی امت کے لئے بہترین اور مفید قواعد و ضوابط معین فرمائے جن سے تہذیب و تمدن کو چلایا جاسکے ،اس (حکومت)میں انصاف ور حقوق کی ادائیگی کی ضمانت لی ،اس میں زندگی کی مشکلات کا حل پیش کیا،انسان کی زندگی کا کو ئی گو شہ ایسا نہیں چھوڑا جس کے لئے شرعی قانون نہ بنایا ہو یہاں تک کہ خراش تک کی دیت کے قوانین معین کئے ،شریعت اسلامیہ کو نافذ کیاجس میں سب کے لئے احکام مقررکئے ، جس سے فطرت انسانی کا قافلہ رواں دواں ہوگیا،جو انسان کی زندگی کے طریقہ سے با لکل بھی الگ نہیں ہوسکتا تھااور پھر آنحضرت کے اوصیاء و خلفاء نے ان قوانین کو لوگوں تک پہنچایا جو ائمہ ٔ ہدایت اور مصباح اسلام ہیں ۔


(۵)

رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جس چیز کو اپنی زندگی میںزیادہ اہمیت دی وہ اپنے بعد امت کی قیادت و رہبری کا مسئلہ تھالہٰذا یہ ضروری تھاکہ آپ اپنے بعد اس امت کی قیادت و رہبری کی باگ ڈور سنبھالنے کیلئے کسی کو معین فرمائیںجولوگوں تک خیر و بھلائی کو پہنچا سکے ،آپ نے اپنی سب سے پہلی دعوتِ دین کے موقع پریہ اعلان کردیاکہ جو آپ کی رسالت پر ایمان لائے گا اور آپ کی مدد کرے گا اور میری وفات کے بعد میراخلیفہ ہو گا اس سلسلہ میںآپ نے بڑا اہتمام کیا راویوں کا اتفاق ہے کہ حضرت امیرالمو منین علی علیہ السلام نے آپ کی دعوت پر لبیک کہاحالانکہ آپ ابھی بہت کم سن تھے،پھر آنحضرت نے آپ کواپنے بعدکے لئے اپنا وصی اور خلیفہ معین فرمایا۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اہل بیت اور اصحاب پر نظر ڈالی تو ان میں اپنے چچا زاد بھا ئی اور سبطین (امام حسن و امام حسین)کے پدر بزرگوارحضرت علی کے علاوہ کو ئی ایسانظر نہ آیاجو آپ کے ہم پلّہ ہو سکے ،آپ اللہ پر خالص ایمان کی نعمت سے مالا مال تھے اور دین کی مشکلوں میں کام آنے والے تھے ،مزید یہ کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ کو علم کے خزانہ سے نوازا تھاجس کو آپ نے مستقبل میں ثابت کردکھایا، آپ نے ان کو اپنے بعد امت کے لئے معین فرمایا تاکہ وہ ان کی ہدایت کا فریضہ ادا کریں اور اس امت کو گمراہی سے نجات دے سکیں ۔

رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بعد حضرت علی علیہ السلام کی امامت کا متعدد مقامات پراعلان فرمایا،ایسی متعدد احادیث و روایات ہیں جن میں نبی نے حضرت علی کو اپنا نفس قرار دیا ہے یا فرمایا:ان کا میرے نزدیک وہی مقام ہے جو ہارون کا موسیٰ کی نظر میں تھا ،علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے نیزوہ میرے شہر علم کا دروازہ ہیں ،غدیر خم میںمسلمانوں سے ان کی بیعت لے کر انھیں عزت بخشی ،ان کو مسلمین کا علمبر دار قراردیا،ان کی ولایت ہر مسلمان عورت اور مرد پر واجب قراردی ،حج سے واپسی پر(تمام قافلے والوں سے جب وہ اپنے اپنے وطن واپس جانا چا ہتے تھے تو ان سے) آپ کی خلافت و امارت کے لئے بیعت لی ،اور اپنی ازواج کو عورتوں سے بیعت لینے کا حکم دیا،دنیائے اسلام میں اس کی یاد ہمیشہ باقی رہے گی یہاں تک کہ اس دن کو ایمان اور نعمت کبریٰ کا نام دیا گیا ۔


(۶)

جب ہم نے ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی سیرت کو پیش کیا تو اس میں ہم نے ایسے بلند و بالا خصوصیات اور مثُل اعلیٰ کا مشاہدہ کیا ،جومنابع نبوت اور شجرئہ وحی ہیں ۔

الحمد للہ میںنے چالیس سال سے ان کے بارے میں اُن کے شرف و عزت کی داستانیں تحریر کی ہیںجس میں ہم نے ان کے آثار و سیرت کو لوگوں کے درمیان شائع کیا،خدا کی قسم جب ہم نے ان میں سے کسی امام سے متعلق کتابوںکا مطالعہ کیا تو اس کی تمام فصلوں اور سطور میں نور،ہدایت ، شرف اورکرامت کے علاوہ اور کچھ نہیں پایا،ان کااللہ تبارک و تعالیٰ کے نور سے اقتباس کیا گیا ہے جس سے گمراہوں کو ہدایت ملتی ہے اور حیرت زدہ کو رشادت ملتی ہے ۔

سیرت ائمہ طاہرین سلام اللہ علیہم ،دنیا کی ہر رنگینی اوراس کی زیب و زینت سے بالاتر ہے اس میں صرف اللہ کی طرف سے کا میابی کا رخ ہے،اسی کے لئے مطلق عبودیت دکھا ئی دیتی ہے ،وہ اپنی راتیں خدا کی عبادت ،اس سے لو لگانے اور اس کی کتاب کی تلاوت کرکے بسر کرتے ہیں ،اس کے مقابلہ میں ان کے دشمن اپنی راتیں رنگین کرکے ،بدکاری ،دیوانگی اور مست ہو کر بسر کرتے ہیں ،خدا ابو فارس پر رحمت نازل فرمائے اس نے مندرجہ ذیل شعر بنی عباس اور آل نبی کے متعلق کہا ہے :

تُمسی التلاوة فی ابیاتهم ابداً

وفی بیوتکم ُ الاوتارُ والنغمُ

''ان (آل نبی)کے گھر سے ہمیشہ قرآن کی تلاوت کی آواز آتی ہے اور تمہارے گھروں سے ہمیشہ گانے بجانے کی آوازیں آتی ہیں '' ۔

ائمہ اہل بیت علیہم السلام تقویٰ کے ستون تھے ،ایمان کے لئے آئیڈیل تھے ،لیکن ان کے دشمن فساد اور تمام اخلاقی اور انسانی قدرو قیمت کو برباد کرنے میں آئیڈیل ہیں ۔


(۷)

جب سے تاریخ اسلام وجو د میں آئی ہے اس وقت سے لے کر آج تک لوگوں کا یہ یقین واعتقاد ہے کہ ائمہ دین اسلام کی حمایت و مدد کرنے والے ہیں ،رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی ہیں ،قرآن حکیم کے ہم پلہ ہیں ،شیعوں کایہ عقیدہ کسی سے تعصب یا تقلید کے طور پر نہیں ہے ،اس مطلب پر کتاب خدا اور سنت نبویہ کی قاطع دلیلیں موجود ہیں ،جن سے کسی مسلمان کے لئے اغماض نظر کرنا اور انھیں پس پشت ڈال دیناجا ئز نہیں ہے ،یہ صاف و شفاف دلائل ہیں ،ان کا فائدہ واضح و روشن ہے ،مسلمانوں پر ان سے محبت کرنا واجب قرار دیا گیا ہے، اس سلسلہ میں اللہ کا ارشاد ہے :

( قُلْ لاَأَسْأَلُکُمْ عَلَیْهِ أجْرًاِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی ) ۔(۱)

''آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کاکوئی اجر نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ تم میرے اقربا ء سے محبت کرو ''۔

آیہ ٔ ولایت نے عترت اطہار کی محبت واجب قرار دی ہے ۔

(۸)

اس بات کا ذکر کرنا بھی مناسب ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کا شریعت اسلام میں ان کے جد بزرگوار رسول اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علاوہ دوسرا کو ئی اورطریقہ نہیںہے ،بلکہ اہل بیت کا طریقہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا طریقہ ہے جوآنحضرت کے طریقہ و روش سے ہی اخذ کیا گیا ہے ،تمام عبادات و معاملات ،عقود اور ایقاعات ایک ہی چمکتے ہوئے نور و حکمت کے سرچشمہ سے اخذ کئے گئے ہیں ،جن کو حضرت محمد مصطفےٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کہا جاتا ہے،فقہ اسلامی کی عظیم الشان شخصیت حضرت امام صادق نے اعلان فرمایا ہے کہ جو احکام شریعت ، بلند و برتراخلاق اور آداب وغیر ہ نقل کئے گئے ہیں وہ سب ہمارے آباء و اجداد کے اس خزانہ سے نقل کئے گئے ہیں جن کو انھوں نے رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حاصل کیا تھا ،ان کی احادیث (کسی مغالطہ کے بغیر)جوہرِ اسلام کی حکایت کر تی ہیں ،ان کی حقیقت رب العالمین کی طرف سے اسی طرح نازل ہو ئی ہیں ،اس میںاسلامی مذاہب پر کسی طرح کا کو ئی طعن و طنز نہیں کیا گیا ہے ،ان کے علمی چشمے ہیں جن کے ذریعے وہ سیراب کئے گئے ہیں ۔

____________________

۱۔ سورئہ شوریٰ، آیت ۲۲۔


(۹)

ائمہ علیہم السلام سے نقل شدہ تمام ماثوراحکام و تشریعات بالکل حق اورعدل خالص ہیں ، ان میں کوئی پیچیدگی اور اغماض نہیں ہے ،جن دلائل پر شیعوں کے بڑے بڑے فقہا نے اعتماد کیا ہے یا جن کو ستون قرار دیا ہے وہ عسر و حر ج کو دور کر نے والی دلیلیں ہیں ،جب مکلف پر عسر و حرج لازم آرہا ہو تو یہ ادلّہ ٔ اولیہ پر حاکم ہو تی ہیں ،اسی طرح ضرر کو دور کرنے والی احا دیث جب مکلف پر کسی کی طرف سے کو ئی ضرر عائد ہو رہا ہو تو یہ ادلّہ ٔ اولیہ پر حاکم ہو تی ہیں۔

بہر حال ائمہ اہل بیت علیہم السلام کا مذہب شریعت کے تمام اطوار میںفطری طور پرہر زمانہ میں رواں دواںہے ۔

(۱۰)

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بڑے بڑے صحابی جیسے عمار بن یاسر ،سلمان فارسی اور ابوذر غفاری اور اوس و خزرج کے قبیلوں کی وہ ہستیاں جنھوں نے اسلام کو اپنی کوششوں اور جہاد کے ذریعہ قائم کیا ان سب نے اہل بیت علیہم السلام کا مذہب کا اختیار کیا ،کیونکہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی عترت کوکشتی نجات قرآن مجید کے ہم پلّہ اور باب حطّہ کے مانند قرار دیا ہے ،اور اُن (اہل بیت)کے قائد و رہبر حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام ہیں جو حق کے ساتھ ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے،ان کی نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون کی مو سیٰ سے تھی اور ان ہی کے مذہب کو مذہب ِحق کانام دیا گیا ہے ۔اسی سلسلہ میں شاعر اسلام کمیت کا کہنا ہے :

ومالِیَ اِلّاآلَ احمدَ شیعَة

وَمالِیَ اِلّا مَذْهبَ الحقِّ مَذْهَب

''میں آل احمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا شیعہ ہوں اورمذہب حق کے علاوہ میرا اور کو ئی مذہب نہیں ہے''۔


(۱۱)

اگر اموی اور عباسی سیاست نہ ہو تی تو مذہب اہل بیت علیہم السلام اسلامی معاشرہ میں واحد مذہب ہوتا،کیونکہ یہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے متصل ہے اور اُن ہی سے اخذ کیا گیا ہے ،مگر کیاکیا جائے کہ بنی امیہ اور عباسیوں نے اہل بیت کا مقابلہ کر نے کی ٹھان لی اور ان کو سزا ئیں دینا شروع کردیںکیونکہ یہ اہل بیت ان کے ظلم و جبراوران کی حکومت کیلئے خطرہ تھے ،اسی لئے وہ تمام سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں اہل بیت اور ان کے شیعوں کی ضد پر اڑگئے ،جس سے شیعوں کے ائمہ نے اُن (شیعوں) پر تقیہ لازم قرار دیدیا، اور ان کودی جانے والی سخت سزائوں کے ڈر کی وجہ سے اپنا مذہب مخفی کرنے کی تاکید فرما دی، وہ سزائیں یہ تھیں جیسے آنکھیں پھوڑدینا ،ان کے تمام فطری حقوق کو پائمال کر دینااور عدالت و کچہری میں ان کی گو اہی قبول نہ کیاجانا ۔

(۱۲)

اموی اور عباسی حکمرانوں نے شیعوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں ،ان کے سخت سے سخت امتحانات لئے ،ان پر سخت ظلم و تشدد کئے ،ان کے ہاتھ کاٹ دئے ،ان کی آنکھیں پھوڑ دیں اورمعمولی سے وہم و گمان کی بنا پر ہی ان کو قتل کر دیاجاتا تھا ۔

شیخ طوسی فرماتے ہیں :(مسلمانوں اور غیر مسلمانوں میں کو ئی ایسا طائفہ و گروہ نہیں ہے جس پر اہلبیت علیہم السلام کے شیعوں کی طرح ظلم و ستم ڈھائے گئے ہوں ،اس کا سبب ان کا عقیدہ ٔ امامت ہے اور امام ان بلند و بالا خصوصیات و صفات کے مالک تھے جو ان حاکموں میں نہیں پائے جاتے تھے جو مسلمانوں پر عدالت نہیں بلکہ تلوار کے زور پر حکومت کرتے تھے ،وہ (نا انصاف حکام)اُن کو چور و ڈاکو سمجھتے تھے اسی لئے انھوں نے اُن کی حکومت کو گرانے کے لئے ہتھیاروں سے لیس ہوکر قیام کیا)۔

شیعوں نے (بڑے ہی فخر و عزت کے ساتھ)عدل سیاسی اور معاشرتی زندگی کی بنیاد ڈالی، انھوں نے حکومت سے مسلمانوں کے درمیان عدل کے ذریعہ مال تقسیم کرنے مانگ کی، حاکموں کی شہوت پرستی کے ذریعہ نہیں ،لہٰذا عباسی اور اموی تمام بادشاہوں نے ان کا کشت و کشتار کرکے سختی کے ساتھ انھیں کچل دیا ۔


(۱۳)

انھوں نے نا انصافی کرتے ہوئے شیعوں پر ایسے ایسے پست الزام لگائے جن کی کو ئی سند نہیں ہے ،جو الزام لگانے والوں کی فکری اور علمی پستی پر دلالت کرتے ہیں، اُن ہی میں سے انھوں نے شیعوں پر ایک یہ تہمت لگائی کہ شیعہ بتوں کو سجدہ کرتے ہیں حالانکہ یہ امام حسین علیہ السلام کی قبر کی مٹی ہے جس کے شرف کو اللہ نے زیادہ کیا ہے ،اور ہم نے یہ مطلب اپنی کتاب ''السجود علی التربة الحسینیة '' میںبیان کیا ہے جو متعدد مرتبہ طبع ہوئی ہے ،اس کا انگریزی اور دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے ،ہم نے اس میں یہ واضح طور پر بیان کیا ہے کہ شیعہ تربت ِ حسینی کو مقدس سمجھتے ہیں لہٰذا اس پر سجدہ کرتے ہیںکیونکہ وہاں پر بانی اسلام اور اس کو نجات دینے والے فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے ہیں ،راویوں کا یہ متفق علیہ فیصلہ ہے کہ جبرئیل نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اس بقعہ ٔ طاہرہ کی مٹی دیتے ہوئے یہ خبر دی کہ آپکا فرزند حسین اس سر زمین پر شہید کیا جا ئے گا تو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس مٹی کو سونگھا اور اس کو چوما ،لہٰذا شیعہ اس مٹی پر اللہ واحد قہار کاسجدہ کرتے ہیں جس کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سونگھا اور چو ما ہے ،اس طرح کی متعدد تہمتیں شیعوں پر لگا ئی گئی ہیں ،ان کے حق میں کچھ ایسے فیصلے کئے جن کی دین میں کو ئی حقیقت ہی نہیں ہے اور جو دائرۂ اسلام سے خارج ہیں ۔


(۱۴)

ہم ایمان اور صدق دل سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی سوانح حیات سے متعلق یہ مختصرمطالب حق کی دعوت ،اخلاص، حقیقت ،امت کے استقلال اور اس میں محبت و اتحاد کی بقا و دوام کی خاطر رقم کئے ہیں ،اس لئے کہ انسان کو متحد رہنا چاہئے متفرق نہیں ، ایک ہونا چاہئے الگ الگ نہیں ،ان میں کو ئی دھوکہ اور گمراہی نہیں ہے ،ہم نے بنیادی طور پر یہ مطالب قرآن کریم اور احادیث رسول سے حاصل کئے ہیں،جن میں خواہشات نفسانی کا کو ئی دخل و تصرف نہیں ہے اور نہ ہی جذبات کو مد نظر رکھا گیا ہے جن سے حقائق چھپ جاتے ہیں اور تاریخی حقائق مخفی ہو کر رہ جاتے ہیں ۔

(۱۵)

ہم صاف و شفاف اور مخلصانہ انداز میں یہ عرض کرتے ہیں :بیشک انسان تجربے کرتا ہے ، اور اس نے حکومت کے متعلق متعدد تجربے کئے ہیں لیکن یہ حکومت اور سیاست کے میدان اس مقام و منزل تک نہیں پہنچ سکا ہے جس تک شیعوں کی رسا ئی ہے ،کیونکہ امت کے امام میں کمال اوربلندی ذات کی شرط ہے ، حکومت اور اسے چلانے پر مکمل طور پر مسلط ہونا چا ہئے ،اور امت چلانے کیلئے تمام اقتصادی تعلیمی ،امن و امان وغیر ہ کوعام ہونا چاہئے جس سے شہروں کو صحیح طریقہ سے ترقی کی راہ پر چلایاجاسکے ۔


ہم پھر تاکید کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ ان تمام امور سے ائمہ ہدایت علیہم السلام کے علاوہ اور کوئی واقف نہیں تھا کیونکہ یہ مادیات سے بالکل الگ تھے ،انھوں نے اخلاص حق کے لئے کام کیا ،جب امام امیر المو منین علی علیہ السلام نے امت کی قیادت کی باگ ڈور سنبھالی تو اِن ہی کو عملی شکل دیدی ،آپ نے مسلمان اور غیر مسلمان سب میں مساوات کا اعلان فرمایاان کو برابر برابر عطا کیا ، قرابتداروں کو دوسروں پر مقدم نہیں کیا ،آپ کا اپنے بھا ئی عقیل ،بھتیجے اور اپنے داماد عبد اللہ بن جعفر کے ساتھ پیش آنے والا قصہ مشہور و معروف ہے ،آپ نے ان دونوں کے ساتھ عام لوگوں جیسا سلوک کیا ،اور حکومت کے اموال میں ان دونوں کا کو ئی اثر نہیں ہوا ،آپ اس سلسلہ میں بہت ہی دقت سے کام لیتے تھے یہاں تک کہ اپنی ذات والا صفات کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔

امام نے حکومت کے تمام میدانوں میں اسلامی تعلیمات کو نشر کیا ،آپ نے اپنے دور حکومت میں والیوں اور کا رکنوں کیلئے خطوط تحریر فرمائے ،آپ نے ان خطوط میں امت کیلئے تمام ضروریات دین ، سیاست، اقتصاد اور تعلیمات وغیرہ کے سلسلہ میں ضروری نکات تحریر فرمائے ۔ ان تمام دروس کا سیکھنا اور ان کو مذہب کی بنیاد پر قرار دینا واجب ہے ، امام ِ امت کی ذمہ داریاںہیں اور ان کا مذہب شیعہ کے مطابق آگے بڑھناہے۔

(۱۶)

مقدمہ کے اختتام سے پہلے ہم قارئین کرام کو یہ بتا دیں کہ ہم نے یہ مقدمہ مذہب اہل بیت کی تعلیم و تدریس کیلئے تحریر کیا ہے ،اس میں تربیتی اور اخلاقی مطالب تحریر کئے ہیںاور ابن خلدون(۱) اور احمد امین مصری وغیرہ کی باتوں سے گریز کیا ہے جنھوں نے ائمہ اور شیعوں کے متعلق کچھ مطالب تحریر کئے ہیںوہ بھی ان کی تعلیمات کے متعلق تحریر نہیں کئے بلکہ متعصب قسم کے مطالب ہیں اور ان پر ایسے ایسے الزامات لگائے ہیں جن کی کوئی واقعیت اور علمی حیثیت نہیںہے ۔

____________________

۱۔مقدمہ ابن خلدون صفحہ ۱۹۶۔۲۰۲۔


ان مطالب کے بعدہم نے اہل بیت کی سیرت اور ان سے ماثورہ مطالب تحریر کئے ہیں،یہ اس کاخاص جزء ہے ،ہم نے اس کتاب کو ایک مستقل مو ضوع قرار دیتے ہوئے اس کا نام ''نفحات من سیرة ائمة اہل البیت ''رکھاہے ،اس کا مطالعہ کرنے والے اس بات کا مشاہدہ کریں گے کہ ہم نے ان تعلیمات کی طرف اشارہ کیا ہے جن کی ائمہ ہدیٰ نے تعلیم دی ہے ۔

اس مقدمہ کے آخر میں ہم عالم جلیل سید عبد اللہ سید ہاشم مو سوی کے لئے دعا کرتے ہیں خدا ان کے درجات کو بلند فرمائے انھوں نے اس کتاب کو زیور طبع سے آراستہ کیاجسے میں نے ائمہ ہدیٰ کی شان مبارک میں تحریر کیا ہے ،خدا ان کو اجر جزیل عطا فرمائے ،اور اس فعل پرعظیم ثواب عطا کرے وہی پروردگار ہے جو بلند ،ولی اورقادر ہے ۔

مکتبۂ امام حسن عام

نجف اشرف

باقر شریف قرشی

۲۸ربیع الثانی ۱۴۲۱ ھ


ائمہ اہل بیت علیہم السلام

ہم ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے روبرو حاضرہیں جنھوں نے معاشرہ کی اصلاح کی دعوت دی ، وہ دنیائے عرب و اسلام میں شعور و فکر کے چراغ ہیں ،انھوں نے انسانی فکر ،اس کے ارادے ، سلوک و روش کی بنیاد ڈالی ، خالق کا ئنات اور زندگی دینے والے کے علاوہ کسی اورکی عبادت کرنے سے مخلوق خداکو نجات دی

بیشک ائمہ اہل بیت علیہم السلام شجرئہ نبوت کے روشن چراغ ہیں ،یہ اس شجرۂ طیبہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کی اصل ثابت ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پھیلی ہو ئی ہیں یہ شجرہ ہر زمانہ میںحکم پروردگار سے پھل دیتا رہتا ہے،یہ حضرات رسول اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات کا ایسا جزء ہیں جن کو کبھی بھی ان سے جدا نہیں کیا جاسکتا ہے وہ رسول جنھوں نے انسان کو پستی نکال کر بلندی عطا کی اوراسے نور سے منور فرمایا۔۔۔ہم اپنی گفتگو کا آغاز اس سلسلۂ جلیلہ سید و سردار یعنی امام علی کی سوانح حیات سے کرتے ہیں:

حضرت علی علیہ السلام

آپ اپنی جود و سخا ،عدالت، زہد،جہاد اور حیرت انگیز کارنامو ں میں اس امت کی سب سے عظیم شخصیت ہیں دنیائے اسلام میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب میں سے کو ئی بھی آپ کے بعض صفات کا مثل نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ وہ آپ کے بعض صفات تک کا مثل ہو ۔آپ کے فضائل و کمالات اور آپ کی شخصیت کے اثرات زمین پر بسنے والے پرتمام مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے زبان زد عام ہیں ، تمام مؤ رخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عرب یا غیرعرب کی تاریخ میں آپ کے بھائی اور ابن عم کے علاوہ آپ کا کو ئی ثانی نہیں ہے ہم ذیل میں آپ کے بعض صفات و خصوصیات کو قلمبند کررہے ہیں :


کعبہ میں ولادت

تمام مؤرخین اورراویوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ کی ولادت با سعادت خانۂ کعبہ میں ہوئی۔(۱) آپ کے علاوہ کو ئی اور خانۂ کعبہ میں نہیں پیدا ہوا ،اور یہ اللہ کے نزدیک آ پ کے بلند مرتبہ اور عظیم شرف کی علامت ہے ،اسی مطلب کی طرف عبد الباقی عمری نے اس شعر میں اشارہ کیا ہے :

اَنْت العلیُّ الذی فوق العُلیٰ رُفِعا

ببطن مکة عند البیت اِذْوُضِعَا

____________________

۱۔مروج الذہب ،جلد ۲ صفحہ ۳،فصول مہمہ مؤلف ابن صبّاغ، صفحہ ۲۴۔مطالب السئول، صفحہ ۲۲۔تذکرة الخواص، صفحہ ۷۔کفایة الطالب، صفحہ ۳۷۔ نور الابصار ،صفحہ ۷۶۔نزھة المجالس ،جلد۲،صفحہ ۲۰۴۔شرح الشفا ،جلد ۲،صفحہ ۲۱۵۔غایة الاختصار ،صفحہ ۹۷۔عبقریة الامام (العقاد)، صفحہ ۳۸۔مستدرک حاکم، جلد ۳،صفحہ ۴۸۳۔اور اس میں وارد ہوا ہے کہ :''متواتر احادیث میں آیا ہے کہ امیر المو منین علی بن ابی طالب فاطمہ بنت اسد کے بطن سے کعبہ میں پیدا ہوئے ''۔


''آپ وہ بلند و بالا شخصیت ہی ںجو تمام بلند یوں سے بلند و بالا ہیںاس لئے کہ آپ کی ولادت مکہ میں خانہ کعبہ میں ہوئی ہے ''۔

بیشک نبی کے بھائی اور ان کے باب شہر علم کی ولادت اللہ کے مقدس گھر میں ہو ئی تاکہ اس کی چوکھٹ کو جلا بخشے،اس پر پرچم توحید بلند کرے ،اس کو بت پرستی اور بتوںکی پلیدی سے پاک وصاف کرے ، اس بیت عظیم میں ابوالغرباء ،اخو الفقراء ، کمزوروں اور محروموں کے ملجأ و ماویٰ پیدا ہوئے تاکہ ان کی زندگی میں امن ،فراخدلی اور سکون و اطمینان کی روح کوفروغ دیں ، ان کی زندگی سے فقر و فاقہ کا خاتمہ کریں ،آپکے پدر بزرگوار شیخ بطحاء اور مو من قریش نے آپ کا اسم گرامی علی رکھاجو تمام اسماء میں سب سے بہترین نام ہے۔

اسی لئے آپ اپنی عظیم جود و سخا اور حیرت انگیز کارناموں میں سب سے بلند تھے اور خداوند عالم نے جو آپ کو روشن و منورعلم و فضیلت عطا فرمائی تھی اس کے لحاظ سے آپ اس عظیم بلند مرتبہ پر فائز تھے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

امیر بیان اور عدالت اسلامیہ کے قائد و رہبرنبی کی بعثت سے بارہ سال پہلے تیرہ رجب ۳۰ عام الفیل کو جمعہ کے دن پیدا ہوئے ۔(۱)

القاب

امیر حق نے آپ کو متعدد القاب سے نوازا جو آپ کے صفات حسنہ کی حکایت کرتے ہیں ،آپ کے القاب مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔صدیق(۲)

آپ کو اس لقب سے اس لئے نوازا گیا کہ آپ ہی نے سب سے پہلے رسول اللہ کی مدد کی اور اللہ کی طرف سے رسول ر نازل ہونے والی چیزوں پر ایمان لائے ، مولائے کائنات خود فرماتے ہیں :

''اَناالصدیق الاکبرآمنت قبل ان یومن ابوبکرواسلمتُ قبل ان یسلّم '(۳)

''میں صدیق اکبر ہوں ابوبکر سے پہلے ایمان لایاہوں اور اس سے پہلے اسلام لایاہوں ''۔

____________________

۱۔حیاةالامام امیر المو منین ،جلد ۱،صفحہ ۳۲۔منقول از مناقب آل ابوطالب ،جلد۳،صفحہ۹۰۔

۲۔تاریخ خمیس ،جلد ۲،صفحہ ۲۷۵۔

۳۔معارف ،صفحہ ۷۳۔ذخائر ،صفحہ ۵۸۔ریاض النضرہ ،جلد ۲،صفحہ ۲۵۷۔


۲۔وصی

آپ کو یہ لقب اس لئے عطا کیا گیا کہ آپ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وصی ہیں اور رسول خدا نے اس لقب میں اضافہ کرتے ہوئے فرمایا: ''اِنَّ وَصِیّ،وَمَوْضِعَ سِرِّی،وَخَیْرُمَنْ اَتْرُکَ بَعْدِیْ،وَیُنْجِزُعِدَتِیْ،وَیَقْضِیْ دَیْنِیْ،عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ'' ۔(۱)

''میرے وصی ،میرے راز داں ،میرے بعد سب سے افضل ،میرا وعدہ پورا کرنے والے اور میرے دین کی تکمیل کرنے والے ہیں ''۔

۳۔فاروق

امام کو فاروق کے لقب سے اس لئے یاد کیا گیا کہ آپ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔یہ لقب نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث سے اخذ کیا گیا ہے ،ابو ذر اور سلمان سے روایت کی گئی ہے کہ نبی نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :''اِنّ هٰذَااَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِیْ،وهٰذَا اَوَّلُ مَنْ یُصَافِحُنِیْ یَوْمَ القِیَامَةِ،وَهٰذَا الصِّدِّیْقُ الْاَکْبَرُ،وَهٰذَا فَارُوْقُ هٰذِهِ الاُمَّةِ یَفْرُقُ بَیْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ'' ۔(۲)

''یہ مجھ پر سب سے پہلے ایمان لائے ،یہی قیامت کے دن سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں

گے ،یہی صدیق اکبر ہیں ،یہ فاروق ہیں اور امت کے درمیان حق و باطل میں فرق کرنے والے ہیں ''۔

۴۔یعسوب الدین

لغت میں یعسوب الدین شہد کی مکھیوں کے نَر کو کہا جاتا ہے پھر یہ قوم کے صاحب شرف سردار کیلئے بولا جا نے لگا،یہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے القاب میں سے ہے ،نبی اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو یہ لقب دیتے ہوئے فرمایا:هٰذَا ( واشارَالی الامام ) یَعْسُوْبُ المُؤمِنِیْنَ،وَالْمَالُ یَعْسُوْبُ الظَّا لِمِیْنَ'' ۔(۳)

''یہ (امام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا)مو منین کے یعسوب ہیں اور مال ظالموں کا یعسوب ہے ''۔

____________________

۱۔کنز العمال، جلد ۶،صفحہ ۱۵۴۔

۲۔مجمع الزوائد، جلد ۹، صفحہ ۱۰۲،فیض القدیر،جلد ۴، صفحہ ۳۵۸۔کنز العمال ،جلد ۶ ،صفحہ ۱۵۶۔فضائل الصحابة، جلد ۱، صفحہ ۲۹۶۔

۳۔ مجمع الزوائد، جلد ۹،صفحہ ۱۰۲۔


۵۔امیر المو منین

آپ کا سب سے مشہور لقب امیر المو منین ہے یہ لقب آپ کو رسول اللہ نے عطا کیا ہے روایت ہے کہ ابو نعیم نے انس سے اور انھوں نے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے :'' یاانس، ''اسْکُبْ لِیْ وَضُوء اً ''اے انس میرے وضو کرنے کے لئے پانی لائو''پھر آپ نے دورکعت نماز پڑھنے کے بعد فرمایا:'' اے انس اس دروازے سے جو بھی تمہارے پاس سب سے پہلے آئے وہ امیر المو منین ہے ، مسلمانوں کا سردار ہے ،قیامت کے دن چمکتے ہوئے چہرے والوں کا قائد اور خاتم الوصیین ہے '' ، انس کا کہنا ہے :میں یہ فکر کررہاتھا کہ وہ آنے والا شخص انصار میں سے ہو جس کو میں مخفی رکھوں ، اتنے میں حضرت علی تشریف لائے تو رسول اللہ نے سوال کیا کہ اے انس کون آیا ؟ میں (انس) نے عرض کیا : علی ۔ آپ نے مسکراتے ہوئے کھڑے ہوکر علی سے معانقہ کیا ،پھر ان کے چہرے کا پسینہ اپنے چہرے کے پسینہ سے ملایااور علی کے چہرے پر آئے ہوئے پسینہ کو اپنے چہرے پر ملا اس وقت علی نے فرمایا: ''یارسول اللہ میں نے آپ کو اس سے پہلے کبھی ایسا کرتے نہیں دیکھا؟ آنحضرت نے فرمایا:''میں ایسا کیوں نہ کروں جب تم میرے امور کے ذمہ دار،میری آواز دوسروں تک پہنچانے والے اور میرے بعد پیش آنے والے اختلافات میںصحیح رہنما ئی کرنے والے ہو ''۔(۱)

۶ حجة اللہ

آپ کا ایک عظیم لقب حجة اللہ ہے، آپ خدا کے بندوں پر اللہ کی حجت تھے اور ان کومضبوط و محکم راستہ کی ہدایت دیتے تھے ،یہ لقب آپ کو پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے عطا فرمایا تھا ،نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:''میںاور علی اللہ کے بندوں پر اس کی حجت ہیں''۔(۲)

یہ آپ کے بعض القاب تھے ان کے علاوہ ہم نے آپ کے دوسرے چھ القاب امام امیر المومنین کی سوانح حیات کے پہلے حصہ میںبیان کئے ہیںجیسا کہ ہم نے آپ کی کنیت اور صفات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔

____________________

۱۔حلیة الاولیائ، جلد ۱،صفحہ ۶۳۔

۲۔کنوز الحقائق ''المناوی''،صفحہ ۴۳۔


آپ کی پرورش

حضرت امیر المو منین نے بچپن میں اپنے والد بزرگوار شیخ البطحاء اورمو منِ قریش حضرت ابوطالب کے زیر سایہ پرورش پائی جو ہر فضیلت ،شرف اور کرامت میں عدیم المثال تھے ،اور آپ کی تربیت جناب فاطمہ بنت اسدنے کی جو عفت ،طہارت اور اخلاق میں اپنے زمانہ کی عورتوں کی سردار تھیں انھوں نے آپ کو بلند و بالا اخلاق ،اچھی عا دتیں اور آداب کریمہ سے آراستہ و پیراستہ کیا۔

پرورش امام کے لئے نبی کی آغوش

امام کے عہد طفولیت میں نبی نے آپ کی پرورش کرنے کی ذمہ داری اس وقت لے لی تھی جب آپ بالکل بچپن کے دور سے گذر رہے تھے ،جس کا ماجرا یوں بیان کیا جاتا ہے کہ جب آنحضرت کے چچا ابوطالب کے اقتصادی حالات کچھ بہتر نہیں تھے تو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے چچاعباس اور حمزہ کے پاس گفتگو کرنے کیلئے تشریف لے گئے اور ان سے اپنے چچا ابوطالب کے اقتصادی حالات کے سلسلہ میںگفتگو کی اور ان کا ہاتھ بٹانے کا مشورہ دیاتو انھوں نے آپ کی اس فرمائش کو قبول کرلیا ، چنانچہ جناب عباس نے طالب ، حمزہ نے جعفر اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کی پرورش کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی، لہٰذا اس وقت سے آپ (علی) رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آغوش تربیت میں آگئے اور آنحضرت ہی کے زیر سایہ اورانھیں کے دامن محبت و عطوفت میں پروان چڑھے ،اسی لئے آپ کی رگ و پئے اور آپ کی روح کی گہرائی میںپیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کردار اور اخلاق اور تمام صفات کریمہ اسی وقت سے سرایت کر چکے تھے اسی لئے آپ نے زندگی کے آغاز سے ہی ایمان کو سینہ سے لگائے رکھا ،اسلام کو بخوبی سمجھا اور آپ ہی پیغمبر کے سب سے زیادہ نزدیک تھے ، ان کے مزاج و اخلاق نیز آنحضرت کی رسالت کو سب سے بہتر انداز میں سمجھتے تھے ۔


مو لائے کا ئنات نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی پرورش کے انداز اور آپ سے اپنی گہری قرابت داری کے بارے میں ارشاد فرمایا :''تم جانتے ہی ہو کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قریب کی عزیز داری اور مخصوص قدر و منزلت کی وجہ سے میرا مقام اُن کے نزدیک کیا تھا ؟میں بچہ ہی تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھے گود میں لے لیا تھا،آنحضرت مجھے اپنے سینہ سے چمٹائے رکھتے تھے، بستر میں اپنے پہلو میں جگہ دیتے تھے، اپنے جسم مبارک کو مجھ سے مس کر تے تھے اور اپنی خوشبو مجھے سونگھاتے تھے ،پہلے آپ کسی چیز کو چباتے پھر اس کے لقمے بنا کر میرے منھ میں دیتے تھے ،اُنھوں نے نہ تو میری کسی بات میں جھوٹ کا شائبہ پایا نہ میرے کسی کام میں لغزش و کمزوری دیکھی ۔۔۔ میں ان کے پیچھے پیچھے یوں لگا رہتا تھا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے رہتا ہے، آپ ہر روز میرے لئے اخلاق حسنہ کے پرچم بلند کر تے تھے اور مجھے ان کی پیروی کا حکم دیتے تھے ''۔

آپ نے نبی اور امام کے مابین بھروسہ اور قابل اعتماد رابطہ کا مشاہدہ کیااور ملاحظہ کیاکہ کس طرح نبی اکرم حضرت علی کی مہربانی اور محبت کے ساتھ تربیت فرماتے اور آپ کو بلند اخلاق سے آراستہ کرتے تھے ؟اور نبی نے کیسے حضرت علی کی لطف و مہربانی اور بلند اخلاق کے ذریعہ تربیت پا ئی ؟

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت

جب رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے عظیم انقلاب کا آغاز فرمایاجس سے جاہلیت کے افکار ، اور رسم و رواج متزلزل ہوگئے ،تو قریش آپ کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ،انھوں نے جان بوجھ کرتحریک کو خاموش کرنے کیلئے بھرپور کو شش کی اور اس کیلئے ہرممکنہ طریقۂ کاراختیارکیا ،اپنے بچوں کو نبی پر پتھروں کی بارش کرنے کے لئے بھڑکایا، اس وقت امام ہی ایک ایسے بچے تھے جو نبی کی حمایت کر رہے تھے اور ان بچوں کو ڈانٹتے اور مارتے تھے جب وہ اپنی طرف اس بچہ کو آتے ہوئے دیکھتے تھے تو ڈر کر اپنے گھروں کی طرف بھاگ جاتے تھے ۔


اسلام کی راہ میں سبقت

تمام مو رخین اور راوی اس بات پر متفق ہیں کہ امام ہی سب سے پہلے نبی پر ایمان لائے ، آپ ہی نے نبی کی دعوت پر لبیک کہا،اور آپ ہی نے اپنے اس قول کے ذریعہ اعلا ن فرمایا کہ اس امت میں سب سے پہلے اللہ کی عبادت کرنے والا میں ہو ں :''لَقَدْ عَبَدْتُ اللّٰہَ تَعَالیٰ قَبْلَ اَنْ یَعْبُدَہُ اَحَدُ مِنْ ھٰذِہِ الاُمَّةِ ''۔ ''میں نے ہی اس امت میں سب سے پہلے اللہ کی عبادت کی ہے ''۔(۱)

اس بات پر تمام راوی متفق ہیں کہ امیر المو منین دور جا ہلیت کے بتوں کی گندگی سے پاک و پاکیزہ رہے ہیں ،اور اس کی تاریکیوں کا لباس آپ کو ڈھانک نہیں سکا،آپ ہر گز دوسروں کی طرح بتوں کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوئے ۔

مقریزی کا کہنا ہے :(علی بن ابی طالب ہاشمی نے ہر گز شرک نہیں کیا،اللہ نے آپ سے خیر کا ارادہ کیا تو آپ کو اپنے چچازاد بھائی سید المرسلین کی کفالت میں قرار دیدیا)۔(۲)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سیدہ ام المو منین خدیجہ آپ کے ساتھ ایمان لا ئیں، حضرت علی اپنے اور خدیجہ کے اسلام پر ایمان لانے کے سلسلہ میں فرماتے ہیں :''وَلَم یَجْمَعْ بَیْتُ یَومَئِذٍ واحدُ فی الاسلام غیرَرسُولِ اللّٰهِ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم وَخَدِیْجَةَ وَاَنَا ثَالِثُهُمَا'' ۔(۳) ''اس دن رسول اللہ خدیجہ اور میرے علاوہ کو ئی بھی مسلمان نہیں ہوا تھا ''۔

ابن اسحاق کا کہنا ہے :اللہ اور محمد رسول اللہ پر سب سے پہلے علی ایمان لائے ''۔(۴)

حضرت علی کے اسلام لانے کے وقت آپ کی عمر سات سال یا دوسرے قول کے مطابق نو سال تھی۔(۵) مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ سب سے پہلے اسلام لائے ،جو آپ کیلئے بڑے ہی شرف اور فخر کی بات ہے ۔

آپ کی نبی سے محبت

آپ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سب سے زیادہ اخلاص سے پیش آتے تھے ایک شخص نے امام سے

____________________

۱۔صفوة الصفوہ، جلد ۱،صفحہ ۱۶۲۔

۲۔ امتاع الاسمائ، جلد ۱،صفحہ ۱۶۔

۳۔حیاةالامام امیر المومنین ،جلد ۱،صفحہ ۵۴۔

۴۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،جلد ۴،صفحہ ۱۱۶۔

۵۔صحیح ترمذی، جلد ۲،صفحہ ۳۰۱۔طبقات ابن سعد ،جلد ۳،صفحہ ۲۱۔کنز العمال، جلد ۶،صفحہ ۴۰۰۔تاریخ طبری ،جلد ۲، صفحہ۵۵۔


رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے محبت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے اس سے فرمایا:''کَانَ وَاللّٰہِ احبَّ الینامِن مالناواولادِناوَامَّھَاتِنَاومِن المائِ الباردِعلیَ الظّمْأ۔۔۔''۔(۱)

''خدا کی قسم وہ مجھے میرے مال ،اولاد ،ماںاور پیا س کے وقت ٹھنڈے گوارا پانی سے بھی زیادہ محبوب تھے ''۔

حضرت علی کی نبی سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک باغ آپ کے حوالہ کیا گیا ،باغ کے مالک نے آپ سے کہا :کیا آپ میرے باغ کی سینچا ئی کردیں گے میں آپ کو ہر ڈول کے عوض ایک مٹھی خرما دوںگا؟ آپ نے جلدی سے اس باغ کی سینچا ئی کر دی تو باغ کے مالک نے آپ کو خرمے دئے یہاں تک کہ آپ کی مٹھی بھرگئی آپ فوراً ان کو نبی کے پاس لیکر آئے اور انھیں کھلادئے ۔(۲)

نبی سے آپ کی محبت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ خود ان کی خدمت کرتے ، ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے آمادہ رہتے تھے اور ہم اس سلسلہ کے چند نمونے اپنی کتاب'' حیاة الامام امیر المومنین ''میںذکر کرچکے ہیں ۔

یوم الدار

حضرت علی کی بھر پور جوانی تھی جب سے آپ نے رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے قدم بہ قدم چلنا شروع کیا،یہ وہ دور تھا جب آنحضرت نے اپنی اسلامی دعوت کا اعلان کیاتھا کیونکہ جب خداوند عالم نے آپ کو اپنے خاندان میں تبلیغ کرنے کا حکم دیا تو رسول نے علی کو بلاکر ان کی دعوت کرنے کوکہا جس میںآپ کے چچا :ابوطالب ،حمزہ ،عباس اور ابو لہب شامل تھے ،جب وہ حاضر ہوئے تو امام نے ان کے سامنے دسترخوان بچھایا،ان سب کے کھانا کھانے کے بعد بھی کھانا اسی طرح باقی رہااور اس میں کوئی کمی نہ آئی ۔

جب سب کھانا کھاچکے تو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کھڑے ہوکر ان کو اسلام کی دعوت دی اور بتوں کی پوجاکرنے سے منع فرمایا ،ابو لہب نے آپ کا خطبہ منقطع کر دیا اور قوم سے کہنے لگا :تم نے ان کا جادو دیکھا ،

____________________

۱۔خزانة الادب، جلد ۳،صفحہ ۲۱۳۔

۲۔تاریخ طبری ،جلد ۲،صفحہ ۶۳۔تاریخ ابن اثیر، جلد ،صفحہ ۲۴۔مسند احمد بن حنبل، صفحہ ۲۶۳۔


اور یہ نشست کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہو گئی ،دوسرے دن پھر رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سب کو بلایا، جب سب جمع ہوگئے سب کو کھانا کھلایا اور جب سب کھانا کھا چکے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یوں خطبہ دیا :''اے بنی عبد المطلب! خدا کی قسم میں نے قوم عرب میں کسی ایسے جوان کا مشاہدہ نہیں کیا جو قوم میں مجھ سے بہتر چیزیں لیکر آیا ہو ،میں تمہارے لئے دنیا و آخرت کی بھلا ئی لیکر آیا ہوں ،خدا وند عالم نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمھیں اس کی دعوت دوں، تو تم میں سے جو بھی میری اس کام میں مدد کرے گا وہ میرا بھائی ،وصی اور خلیفہ ہوگا ؟''۔

پوری قوم پر سنّاٹا چھاگیا گو یاکہ ان کے سروں پر، پرندے بیٹھے ہوں ،اس وقت امام کی نوجوا نی تھی لہٰذا آپ نے بڑے اطمینان اور جوش کے ساتھ کہا :''اے نبی اللہ!میں اس کام میں، آپ کی مدد کروں گا ''۔

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر قوم سے مخاطب ہو کر فرمایا : '' بیشک یہ میرے بھائی ،وصی اور تمہارے درمیان میرے خلیفہ ہیں ان کی باتیں سنو اور ان کی اطاعت کرو ''۔

یہ سن کر مضحکہ خیز آوازیں بلند ہونے لگیںاور انھوں نے مذاق اڑاتے ہوئے ابوطالب سے کہا:''تمھیں حکم دیا گیا ہے کہ تم اپنے بیٹے کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو ''۔(۱)

علماء کا اتفاق ہے کہ یہ حدیث واضح طور پر امیر المو منین کی امامت پر دلالت کر تی ہے ،آپ ہی نبی کے وصی ،وزیر اور خلیفہ ہیں ،اور ہم نے یہ حدیث اپنی کتاب''حیاة الامام امیرالمو منین ''کے پہلے حصہ میں مفصل طور پر بیان کی ہے ۔

شعب ابی طالب

قریش کے سر کردہ لیڈروں نے یہ طے کیا کہ نبی کو شِعب ابو طالب میں قید کردیاجائے، اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

کو وہاں رہنے پر مجبور کیاجائے تا کہ آپ کا لوگوں سے ملنا جلنا بند ہو جائے اور ان کے عقائدمیں کو ئی تبدیلی نہ ہو سکے ، اور وہ آپ کے اذہان کو جا ہلیت کے چنگل سے نہ چھڑاسکیں،لہٰذا انھوں نے بنی ہاشم کے خلاف مندرجہ ذیل معاہدے پر دستخط کئے :

____________________

۱۔تاریخ طبری ،جلد ۲، صفحہ ۶۳۔تاریخ ابن اثیر، جلد ۲،صفحہ ۲۴۔مسند احمد، صفحہ ۲۶۳۔


۱۔وہ ہاشمیوںسے شادی بیاہ نہیں کریں گے ۔

۲۔ان میں سے کو ئی ایک بھی ہاشمی عورت سے شادی نہیں کر ے گا ۔

۳۔وہ ہاشمیوں سے خرید و فروخت نہیں کریں گے ۔انھوں نے یہ سب لکھ کر اور اس پر مہر لگا کرکعبہ کے اندر لٹکادیا ۔

پیغمبر کے ساتھ آپ پر ایمان لانے والے ہاشمی جن میں سر فہرست حضرت علی تھے سب نے اس شعب میں قیام کیا ، اور وہ مسلسل وہیں رہے اور اس سے باہر نہیں نکلے وہ بد ترین حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے اور ام المومنین خدیجہ نے ان کی تمام ضروریات کو پورا کیا یہاں تک کہ اسی راستہ میں ان کی عظیم دولت کام آگئی ،نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شعب میں اپنے اہل بیت کے ساتھ دو یا دو سال سے زیادہ رہے ، یہاں تک کہ خدا نے دیمک کو قریش کے معاہدہ پر مسلط کیا جس سے وہ اس کو کھا گئیں ،اُدھر رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جناب ابوطالب کے ذریعہ یہ خبر پہنچا ئی کہ عہد نامہ کو دیمک نے کھا لیا ہے وہ جلدی سے عہد نامہ کے پاس آئے توانھوں نے اس کو ویسا ہی پایا جیسا کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کی خبر دی تھی تو ان کے ہوش اڑگئے ، قریش کی ایک جماعت نے ان کے خلاف آواز اٹھا ئی اور ان سے نبی کو آزاد کرنے کا مطالبہ کیا جس سے انھوں نے نبی کو چھوڑ دیا نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اہل بیت کے ساتھ قید سے نکلے جبکہ ان پر قید کی سختیوں کے آثار نمایاں تھے۔

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے شعب سے باہر نکل کر قریش کی دھمکیوں کی پروا نہیں کی اور پھر سے دعوت توحید کا اعلان کیا ،ان کا مقابلہ کرنے میں آپ کے چچا ابو طالب ،حضرت علی اور بقیہ دوسرے افراد نے بڑی مدد کی،یہی لوگ آپ کی مضبوط و محکم قوت بن گئے ،اور ابو طالب رسالت کا حق ادا کرنے کے متعلق یہ کہہ کر آپ کی ہمت افزائی کر رہے تھے :

اذهب بنّى فماعلیک غضاضةُ

اذهب وقرّ بذاک منک عیونا

واللّٰه لَنْ یَصِلُوا الیک بِجَمْعِهِمْ

حتی اُوسد فی التراب دفینا

وَدعوتن وعلِمتُ انکّ ناصِحِ

ولقد صدقتَ وکنتَ قَبْلُ اَمِیْنا


وَلقد علِمتُ بِاَنَّ دِینَ محمدٍ

مِنْ خیرِ اَدیانِ البریة دِیْنا

فَاصدَعْ بِاَمْرِکَ مَاعَلَیْکَ غضَاضَةُ

وَابْشِرْ بِذَاکَ وَقُرَّ عُیُوْنَا(۱)

''بیٹے جائو تمھیں کو ئی پریشانی نہیں ہے ،جائو اور اس طرح اپنی آنکھیں روشن کر و۔

خدا کی قسم وہ اپنی جماعت کے ساتھ اس وقت تک تم تک نہیں پہنچ سکتے جب تک میں دنیا سے نہ اٹھ جائوں ۔

تم نے مجھے دعوت دی اور مجھے یقین ہو گیا کہ تم میرے خیر خواہ ہو ،تم نے سچ کہا اور پہلے بھی تم امانتدار تھے ۔

مجھے یقین ہو گیا ہے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دین دنیا کا سب سے بہترین دین ہے۔

لہٰذا اپنی دعوت کا اعلان کرو اور تمھیںذرہ برابر ملال نہ ہو ،تم خوش رہواپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو ''۔

یہ اشعار ابوطالب کے صاحب ایمان ،اسلام کے حا می اور مسلمانوں میں پہلے مجاہد ہونے پر دلالت کر تے ہیں ،اور ان کے ہاتھ ٹوٹ جا ئیںجو ابو طالب کو صاحب ایمان نہیں سمجھتے ،اس طرح کی فکر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم ہے ،حالانکہ ان کو یہ علم ہے کہ ابوطالب کا بیٹا جنت و جہنم کی تقسیم کرنے والا ہے ۔

بیشک ابو طالب اسلامی عقائد کے ایک رکن ہیں ،اگر آپ ابتدا میں پیغمبر کے موافق نہ ہوتے تو اسلام کا نام اور دستور و قواعد کچھ بھی باقی نہ رہتے اور قریش ابتدا ہی میں اس کا کام تمام کردیتے ۔

امام کا نبی کے بستر پر آرام کرنا (شب ہجرت)

یہ امام کی ایسی خو بی ہے جس کا شمارآپ کے نمایاں فضائل میں ہوتا ہے یعنی آپ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نبی کی حفاظت کی ہے اور نبی کی محبت میںموت کا بخو شی استقبال کیاہے اسی لئے عالم اسلام میں آپ سب سے پہلے فدا ئی تھے۔

جب قریش نے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کرنے اور ان کی زندگی کا خاتمہ کرنے کے لئے آپ کے

____________________

۱۔حیاةالامام امیر المو منین ،جلد ۱، صفحہ ۱۳۷۔


بیت الشرف کا اپنی ننگی تلواروں سے محاصرہ کیاتو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو بلا بھیجا اور ان کو قوم کے ارادہ سے آگاہ کیا ، ان کو اپنے بستر پرسبزچادر اوڑھ کر سونے کا حکم دیا تاکہ کفار آپ کو نبی سمجھتے رہیں ،امام نے نبی کے حکم کا خنداں پیشانی کے ساتھ استقبال کیاگویا آپ کو ایسی قابل رشک چیزمل گئی جس کا کبھی خواب تک نہیں دیکھا تھا، نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اُن کے درمیان سے نکل گئے اور ان کو خبر بھی نہ ہو ئی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اُن کے منحوس چہروں کی طرف ایک مٹھی خاک یہ کہتے ہوئے پھینکی:''شاھت الوجوہ ذُلّاً'' ، ''رسوائی کی بنا پر چہرے بگڑ جا ئیں ' '، اس کے بعد قرآن کریم کی اس آیت کی تلاوت فرمائی:

( وَجَعَلْنَامِنْ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ سَدّاً وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدّاً فَاَغْشَیْنَاهُمْ فَهُمْ لَایُبْصِرُوْنَ ) ۔(۱)

'' اور ہم نے ایک دیوار ان کے سامنے اور ایک دیوار ان کے پیچھے بنا دی ہے پھر انھیں عذاب سے ڈھانک دیا ہے کہ وہ کچھ دیکھنے کے قابل نہیں رہ گئے ہیں ''۔

حضرت علی کا نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بستر پر رات گذارنا آپ کے جہاد کی درخشاں تصویر اور ایسی بے مثال منقبت ہے جس کا جواب نہیں لایا جا سکتا اور خداوند عالم نے آپ کی شان میںیہ آیت نازل فرما ئی :

( وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِی نَفْسَهُ ابْتِغَائَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ) ۔(۲)

''لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے نفس کوبیچ کر مرضی الٰہی خرید لیتے ہیں ''۔

____________________

۱۔سورئہ یس، آیت ۹۔

۲۔سورئہ بقرہ ،آیت ۲۰۷۔


اس عزت و شرف کی اسلامی پیغام میںبڑی اہمیت ہے جس تک کو ئی بھی مسلمان نہیں پہنچ سکا ، شاعر کبیر شیخ ہاشم کعبی امام کی یوں مدح سرا ئی کرتے ہیں :

وَمَوَاقِفُ لَکَ دُوْنَ اَحْمَدَ جَاوَزَتْ

بِمَقَامِکَ التَّعْرِیْفَ وَالتَّحْدِیْدا

فَعَلیٰ الْفِرَاشِ مَبِیْتُ لَیْلِکَ وَالْعِدْ

تُهْدِیْ اِلَیْکَ بَوَارِقا ًوَرُعُوْداً

فَرْقَدْتَ مَثْلُوْ جَ الْفُؤَادِ کَاَنَّمَا

یُهْدِ الْقَرَاعُ لِسَمْعِکَ التَّغْرِیْداً

فَکَفَیْتَ لَیْلَتَهُ وَقُمْتَ مُعَارِضا

جَبَلاً اَشَمَّ وَفَارِساً صِنْدِیْدا

رَصَدُواالصَبَاحَ لِیُنْفِقُواکَنْزَالهُدیٰ

أَوَمَا دَرَوْاکَنْزَالهُدیٰ مَرْصُوداً؟

''(اے علی)حضور اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو چھوڑ کر آپ کے درجات اور مقامات تعریف و ثنا کی حد سے بالا ہیں ۔

چنانچہ آپ شب ہجرت اس عالم میں بستر رسول پر سوئے کہ دشمن شمشیروں کے ذریعہ آپ کو گھیرے ہوئے تھے ۔

پھر بھی آپ نہایت سکون کے ساتھ سوئے گویا،آپ کے گوش مبارک میں نغمہ ٔ معنویت گونج رہا تھا ۔

آپ نے اس شب رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حفاظت کی اور صبح کے وقت مضبوط پہاڑاور بے مثال شہسوار کی مانند بیدار ہوئے ۔

انھوں نے مخزن ہدایت کوخرچ کرنے کے لئے صبح کا انتظار کیا جبکہ انھیں نہیں معلوم تھا کہ خود خزانہ ٔ ہدایت ان کے انتظار میں تھا''۔


امام نے پوری رات خدا سے اس دعا میں گذاردی کہ خدا ان کی اس محنت و مشقت کے ذریعہ ان کے بھا ئی کو بچائے اور ان کو دشمنوں کے شر سے دور رکھے ۔

جب صبح نمودار ہو ئی تو سرکشوں نے ننگی تلواروں کے ساتھ نبی کے بستر پر دھاوا بول دیا تو حضرت علی ان کی طرف اپنی ننگی تلوار لئے ہوئے شیر کی مانند بڑھے جب انھوں نے علی کو دیکھا تو ان کے ہوش اُڑگئے وہ سب ڈر کر اما م سے کہنے لگے :محمد کہا ں ہیں ؟

امام نے ان کے جواب میں فرمایا:''جَعَلْتُمُوْنِیْ حَارِساًعَلَیْهِ؟''

''کیا تم نے مجھے نبی کی حفاظت کے لئے مقرر کیا تھا ؟''۔

وہ بہت ہی مایوسی ا ور ناراضگی کی حالت میں الٹے پیر پھر گئے، چونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے ہاتھ سے نکل چکے تھے وہ نبی جو ان کو آزاد ی دلانے اور اُن کے لئے عزم و ہمت کا محل تعمیر کرنے کیلئے آئے تھے ،قریش جل بھُن گئے اور آپ کو بہت ہی تیز نگاہوں سے دیکھنے لگے لیکن امام نے کو ئی پروا نہیں کی اور صبح وشام ان کا مذاق اڑاتے ہوئے رفت و آمد کرنے لگے ۔

امام کی مدینہ کی طرف ہجرت

جب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکہ سے مدینہ ہجرت کر گئے تو علی نے نبی کے پاس مو جودہ امانتوں کو صاحبان امانت کے حوالہ کیا، نبی جن کے مقروض تھے ان کا قرض اداکیا ،چونکہ آپ ان کے متعلق نبی سے وعدہ کر چکے تھے، آپ وہاں کچھ دیر ٹھہر کر اپنے چچازاد بھا ئی سے ملحق ہونے کیلئے مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے، آپ کے ساتھ عورتیں اور بچے تھے ، راستہ میں سات سرکشوں نے آپ کا راستہ روکنا چاہا ،لیکن آپ نے بڑے عزم وہمت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور ان میں سے ایک کو قتل کیا اور اس کے باقی ساتھی بھاگ نکلے ۔

امام بغیر کسی چیز کے مقام بیداء پر پہنچے ،آپ صرف رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کرنے کا شوق رکھتے تھے لہٰذا آپ مدینہ پہنچ گئے ،ایک قول یہ ہے :آپ نے مدینہ میں داخل ہونے سے پہلے مسجدقبا میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کی ، نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کی آمد سے بہت خوش ہوئے کیونکہ آپ کی ہر مشکل میں کام آنے والے مددگار آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس پہنچ گئے تھے ۔


امام ، قرآن کی نظرمیں

حضرت علی کے متعلق قرآن کریم میں متعدد آیات نا زل ہو ئی ہیں ، قرآن نے رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد آپ کواسلام کی سب سے بڑی شخصیت کے عنوان سے پیش کیا ہے ،اللہ کی نگاہ میں آپ کی بڑی فضیلت اوربہت اہمیت ہے ۔متعدد منابع و مصادر کے مطابق آپ کی شان میں تین سو آیات نازل ہو ئی ہیں(۱) جو آپ کے فضل و ایمان کی محکم دلیل ہے۔

یہ بات شایان ذکر ہے کہ کسی بھی اسلا می شخصیت کے سلسلہ میں اتنی آیات نازل نہیں ہوئیںآپ کی شان میں نازل ہونے والی آیات کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں :

۱۔وہ آیات جو خاص طور سے آپ کی شان میں نازل ہوئی ہیں ۔

۲۔وہ آیات جو آپ اور آپ کے اہل بیت کی شان میں نازل ہو ئی ہیں ۔

۳۔وہ آیات جو آپ اور نیک صحابہ کی شان میں نازل ہو ئی ہیں ۔

۴۔وہ آیات جو آپ کی شان اور آپ کے دشمنوں کی مذمت میں نازل ہو ئی ہیں ۔

ہم ذیل میں ان میں سے کچھ آیات نقل کر رہے ہیں :

____________________

۱۔تاریخ بغداد، جلد ۶،صفحہ ۲۲۱۔صواعق محرقہ ،صفحہ ۲۷۶۔نورالابصار ،صفحہ ۷۶،وغیرہ ۔


آپ کی شان میں نازل ہونے والی آیات

آپ کی فضیلت اورعظیم الشان منزلت کے بارے میں جوآیات نازل ہوئی ہیں ہم ان میں سے ذیل میں بعض آیات پیش کرتے ہیں :

۱۔اللہ کا ارشاد ہے :''انماانت منذرولکل قوم هاد'' ۔(۱)

''آپ کہہ دیجئے کہ میں صرف ڈرانے والا ہوں اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی اور رہبر ہے ''۔

طبری نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہو ئی تو نبی نے اپنا دست مبارک اپنے سینہ پر رکھ کر فرمایا:''اناالمنذرولکل قوم هاد '' ،اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی کے کندھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:''انت الہاد بک یھتد المھتدون بعد''۔(۲)

''آپ ہا دی ہیں اور میرے بعد ہدایت پانے والے تجھ سے ہدایت پا ئیں گے ''۔

۲۔خداوند عالم کا فرمان ہے :''وتعیهااذن واعیة'' ۔(۳)

''تاکہ اسے تمہارے لئے نصیحت بنائیںاور محفوظ رکھنے والے کان سُن لیں''۔

امیر المو منین حضرت علی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نے فرمایا:

''سألتُ رَبِّیْ اَن یَجْعَلَهَااذُنُکَ یاعلیُّ،فماسمعتُ مِنْ رسُولِ اللّٰهِ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم شَیْئاًفنَسِیْتُهُ '' ۔(۴)

''میں نے پروردگار عالم سے دعا کی کہ وہ کان تمہارا ہے لہٰذا میں نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جو کچھ سنا ہے اسے کبھی نہیں بھولا''۔

____________________

۱۔سورئہ رعد، آیت ۷۔

۲۔تفسیر طبری ،جلد ۱۳،صفحہ ۷۲۔اور تفسیر رازی میں بھی تقریباً یہی مطلب درج ہے ۔کنز العمال ،جلد ۶،صفحہ ۱۵۷ ۔ تفسیر حقائق، صفحہ ۴۲۔مستدرک حاکم، جلد ۳، صفحہ ۱۲۹۔

۳۔سورئہ حاقہ، آیت ۱۲۔

۴۔کنزالعمال ،جلد ۶،صفحہ ۱۰۸۔اسباب النزول ِ واحدی، صفحہ ۳۲۹۔تفسیر طبری، جلد ۲۹،صفحہ ۳۵۔تفسیر کشاف، جلد ۴، صفحہ ۶۰۔در منثور ،جلد ۸،صفحہ ۲۶۷۔


۳۔خداوند عالم کا فرمان ہے: ( الَّذِینَ یُنفِقُونَ َمْوَالَهُمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّهَار ِسِرًّا وَعَلاَنِیَةً فَلَهُمْ َأجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلاَخَوْف عَلَیْهِمْ وَلاَهُمْ یَحْزَنُونَ ) ۔(۱)

''جو لوگ اپنے اموال کو راہ خدا میں رات میں ،دن میں خا مو شی سے اور علی الاعلان خرچ کرتے ہیں اُن کے لئے پیش پروردگار اجر بھی ہے اور انھیں نہ کو ئی خوف ہو گا اور نہ حزن و ملال ''۔

امام کے پاس چار درہم تھے جن میں سے آپ نے ایک درہم رات میں خرچ کیا ،ایک درہم دن میں ،ایک درہم مخفی طور پر اور ایک درہم علی الاعلان خرچ کیا ۔تو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ سے فرمایا : آپ نے ایساکیوں کیا ہے ؟مولائے کا ئنات نے جواب دیا:میں وعدہ ٔ پروردگار کامستحق بنناچاہتا ہوں اسی لئے میں نے ایسا کیا ''اس وقت یہ آیت نازل ہو ئی۔(۲)

۴۔خدا وند عالم کا ارشاد ہے: ( إنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِکَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ ) ۔(۳)

''اور بیشک جو لوگ ایمان لائے ہیںاور انھوں نے نیک اعمال کئے ہیںوہ بہترین خلائق ہیں ''۔

ابن عساکر نے جابر بن عبد اللہ سے روایت کی ہے : ہم نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ علی وہاں پر تشریف لائے تو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:''وِالَّذِیْ نَفْسِيْ بِیَدِهِ اِنَّ هٰذَا وَشِیْعَتَهُ هُمُ الْفَائِزُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ '' ۔''خدا کی قسم جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے بیشک یہ اور ان کے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ہیں ''۔

اسی موقع پر یہ آیۂ کریمہ نازل ہو ئی ،اس کے بعد سے جب بھی مو لائے کا ئنات اصحاب کے پاس آتے تھے تو نبی کے یہ اصحاب کہا کرتے تھے :خیر البریہ آئے ہیں۔(۴)

۵۔خداوند عالم کا فرمان ہے :( فَاسْأَلُوا َهْلَ الذِّکْرِ ِإنْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ ) ۔(۵)

____________________

۱۔سورئہ بقرہ ،آیت ۲۷۴۔

۲۔اسد الغابہ، جلد ۴،صفحہ ۲۵،صواعق المحرقہ، صفحہ ۷۸۔اسباب النزول مؤلف واحدی، صفحہ ۶۴۔

۳۔سورئہ بینہ، آیت ۷۔

۴۔در المنثور ''اسی آیت کی تفسیر میں ''جلد ۸ ،صفحہ ۳۸۹۔تفسیر طبری، جلد ۳۰،صفحہ ۱۷۔صواعق المحرقہ ،صفحہ ۹۶۔

۵۔سورئہ نحل، آیت ۴۳۔


''اگر تم نہیں جانتے ہو تو جاننے والوں سے دریافت کرو''۔

طبری نے جابر جعفی سے نقل کیا ہے :جب یہ آیت نازل ہو ئی تو حضرت علی نے فرمایا :''ہم اہل ذکر ہیں ''۔(۱)

۶۔خداوند عالم کا فرمان ہے: ( یَاَیُّهَاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ ِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ ِإنَّ اﷲَ لاَیَهْدِ الْقَوْمَ الْکَافِرِین ) ۔(۲)

''اے پیغمبر! آپ اس حکم کو پہنچا دیں جوآپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گو یا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا بیشک اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے ''۔

جب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حجة الوداع سے واپس تشریف لا رہے تھے تو غدیر خم کے میدان میں یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اپنے بعد حضرت علی کواپنا جانشین معین کرنے کا حکم دیا گیا اس وقت رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو اپنے بعد اس امت کا خلیفہ و جا نشین معین فرمایااور آپ نے اپنا مشہور قول ارشاد فرمایا :''من کنت مولاه فعلی مولاه ،اللّهم وال من والاه،وعادِمَن عاداه، وانصرمَن نصره،واخذُلْ مَنْ خَذَلَهُ'

'' جس کا میں مو لا ہوں اس کے یہ علی بھی مو لا ہیںخدا یا جو اسے دو ست رکھے تو اسے دوست رکھ اورجو اس سے دشمنی کرے اسے دشمن رکھ اور جو اس کی مدد کرے اس کی مدد کر جو اسے چھوڑ دے اسے ذلیل و رسوا کر '' ۔

عمر نے کھڑے ہو کر کہا :مبارک ہو اے علی بن ابی طالب آپ آج میرے اورہر مومن اور مومنہ کے مولا ہوگئے ہیں ' '۔(۳)

۷۔خداوند عالم کا ارشاد ہے: ( الْیَوْمَ أکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِ وَ رَضِیتُ لَکُمْ الْإِسْلاَمَ دِینًا ) ۔(۴)

____________________

۱۔تفسیر طبری ،جلد ۸ ،صفحہ ۱۴۵۔ ۲۔سورئہ مائدہ ،آیت ۶۷۔

۳۔ا سباب النزول، صفحہ ۱۵۰۔تاریخ بغداد، جلد ۸،صفحہ ۲۹۰۔تفسیر رازی، جلد ۴،صفحہ ۴۰۱۔در منثور، جلد ۶،صفحہ ۱۱۷۔

۴۔سورئہ مائدہ ،آیت ۳


''آج میں نے تمہارے لئے دین کو کا مل کردیاہے اوراپنی نعمتوںکو تمام کردیاہے اورتمہارے لئے دین اسلام کو پسندیدہ بنا دیا ہے''۔

یہ آیت ۱۸ ذی الحجہ ۱۰ ھ کواس وقت نازل ہو ئی جب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بعد کیلئے حضرت علی کو خلیفہ معین فرمایااور آنحضرت نے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد فرمایا :''اللّٰه اکبر علیٰ اِکمالِ الدِّین،وَاِتْمَامِ النِّعْمَةِ،ورضِیَ الرَّبِّ بِرِسَالَتِ وَالْوِلایَةِ لِعَلِى ْبنِ اَبِیْ طَالِب'' ۔(۱)

''اللہ سب سے بڑا ہے دین کا مل ہو گیا ،نعمتیں تمام ہو گئیں ،اور پروردگار میری رسالت اور علی بن ابی طالب کی ولایت سے راضی ہو گیا ''۔

جلیل القدر صحابی جناب ابوذر سے روایت ہے :میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خدا کے ساتھ مسجد میں نمازظہر پڑھ رہا تھا تو ایک سائل نے مسجد میں آکر سوال کیا لیکن کسی نے اس کو کچھ نہیں دیا تو سائل نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا :خدا یا گواہ رہنا کہ میں نے مسجد رسول میں آکر سوال کیا لیکن مجھے کسی نے کچھ نہیں دیا ، حضرت علی نے رکوع کی حالت میں اپنے داہنے ہاتھ کی انگلی سے انگوٹھی اتارنے کا اشارہ کیاسائل نے آگے بڑھ کر نبی کے سامنے ہاتھ سے انگوٹھی نکال لی ،اس وقت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام نے فرمایا :خدایا !میرے بھا ئی مو سیٰ نے تجھ سے یوں سوال کیا :( رَبِّ اشْرَحْ لِى صَدْرِ وَیَسِّرْلى أ َمْرِى وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِی یَفْقَهُوا قَوْلِى وَاجْعَلْ لِى وَزِیرًامِنْ أَهْلِ هَارُونَ َأخى اشْدُدْ بِهِ َزْرِى وَأَشْرِکْهُ فِى َمْرِی ) ۔(۲)

''خدایا ! میرے سینہ کو کشادہ کردے ،میرے کام کو آسان کردے ، اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے تاکہ یہ لوگ میری بات سمجھ سکیں ،اورمیرے اہل میںسے میرا وزیر قرار دے ،ہارون کو جو میرا بھا ئی بھی ہے اس سے میری پشت کو مضبوط کردے اسے میرے کام میں شریک کردے ''تونے قرآن ناطق میں نازل کیا: ( سَنَشُدُّ عَضُدَکَ بِأَخِیکَ وَنَجْعَلُ لَکُمَا سُلْطَانًا ) ۔(۳)

'' ہم تمہارے بازئووں کو تمہارے بھا ئی سے مضبوط کر دیں گے ،اور تمہارے لئے ایسا غلبہ قراردیں

____________________

۱۔دلائل الصدق ،جلد ۲،صفحہ ۱۵۲۔

۲۔سورئہ طہ، آیت ۲۵۔۳۲۔

۳۔سورئہ قصص، آیت ۳۵۔


گے کہ یہ لوگ تم تک پہنچ ہی نہ سکیں گے ''۔

''خدایا میں تیرا نبی محمد اور تیرا منتخب کردہ ہوں میرے سینہ کو کشادہ کردے ،میرے کام کو آسان کردے ،میرے اہل میںسے علی کو میرا وزیر قرار دے اور ان کے ذریعہ میری پشت کو مضبوط کردے ' ' ۔

جناب ابوذر کا کہنا ہے :خدا کی قسم یہ کلمات ابھی ختم نہیں ہونے پائے تھے کہ جبرئیل خدا کا یہ پیغام لیکر نازل ہوئے ،اے رسول پڑھئے: ( اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ ) (۱)

اس روایت نے عام ولایت کو اللہ ،رسول اسلام اور امیر المو منین میں محصور کر دیا ہے ،آیت میں صیغہ ٔ جمع تعظیم و تکریم کے لئے آیا ہے ،جو جملۂ اسمیہ کی طرف مضاف ہوا ہے اور اس کولفظ اِنَّما کے ذریعہ محصور کردیا ہے ،حالانکہ ان کے لئے عمومی ولایت کی تا کید کی گئی ہے اور حسان بن ثابت نے اس آیت کے امام کی شان میں نازل ہونے کو یوں نظم کیا ہے :

مَن ذَابِخَاتِمِهِ تَصَدَّقَ رَاکِعاً

وَأَسَرَّهَافِىْ نَفْسِهِ اِسْرارا(۲)

''علی اس ذات کا نام ہے جس نے حالت رکوع میں زکات دی اور یہ صدقہ آپ نے نہایت مخفیانہ انداز میں دیا''۔

اہل بیت کے سلسلہ میں نازل ہونے والی آیات

قرآن کریم میں اہل بیت کی شان میں متعدد آیات نازل ہو ئی ہیں جن میں ان کے سید و آقا امیر المو منین بھی شامل ہیں اُن میں سے بعض آیات یہ ہیں :

۱۔خداوند عالم کا ارشاد ہے: ( ذَلِکَ الَّذِی یُبَشِّرُاﷲُ عِبَادَهُ الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ قُلْ لاَأَسْأَلُکُمْ عَلَیْهِ أَجْرًاِلاَّالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی وَمَنْ یَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِیهَاحُسْنًاِإنَّ اﷲَ غَفُورشَکُور ) ۔(۳)

____________________

۱۔تفسیر رازی ،جلد ۱۲،صفحہ ۲۶،نورالابصار ،صفحہ ۱۷۰۔تفسیر طبری، جلد ۶،صفحہ ۱۸۶۔

۲۔در منثور، جلد ۳،صفحہ ۱۰۶۔کشاف، جلد ۱،صفحہ ۶۹۲۔ذخائر العقبیٰ ،صفحہ ۱۰۲۔مجمع الزوائد ،جلد ۷،صفحہ ۱۷۔کنز العمال، جلد ۷صفحہ ۳۰۵۔

۳۔سورئہ شوریٰ آیت ۲۳۔


''یہی وہ فضل عظیم ہے جس کی بشارت پروردگار اپنے بندوں کو دیتا ہے جنھوں نے ایمان اختیار کیا ہے اور نیک اعمال کئے ہیں ،تو آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کو ئی اجر نہیں چا ہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقرباء سے محبت کرو اور جو شخص بھی کو ئی نیکی حاصل کرے گا ہم اس کی نیکی میں اضافہ کر دیں گے کہ بیشک اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور قدر داں ہے ''۔

تمام مفسرین اور راویوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں پر جن اہل بیت کی محبت واجب کی ہے ان سے مراد علی ،فاطمہ ،حسن اور حسین علیہم السلام ہیں ،اور آیت میں اقتراف الحسنہ سے مراد اِن ہی کی محبت اور ولایت ہے اور اس سلسلہ میں یہاں پردوسری روایات بھی بیان کریں گے جنھوں نے اس محبت و مؤدت کی وجہ بیان کی ہے :

ابن عباس سے مروی ہے :جب یہ آیت نازل ہو ئی تو سوال کیا گیا :یارسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ آپ کے وہ قرابتدارکو ن ہیں جن کی آپ نے محبت ہم پر واجب قرار دی ہے؟

آنحضرت نے فرمایا :''علی ،فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے ''۔(۱)

جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے :ایک اعرابی نے نبی کی خدمت میں آکر عرض کیا :مجھے مسلمان بنا دیجئے تو آپ نے فرمایا :'' تَشْهَدُ اَنْ لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰهُ وَحْدَهُ لَاشَرِیْکَ لَهُ،وَاَنَّ مُحَمَّداًعَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ'' ''تم خدا کی وحدانیت اور محمد کی رسالت کی گو اہی دو میں قرابتداروں کی محبت کے علاوہ اور کچھ نہیں چا ہتا ''۔

اعرابی نے عرض کیا :مجھ سے اس کی اجرت طلب کر لیجئے ؟رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :''ِلا َّالْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی'' ۔

اعرابی نے کہا :میرے قرابتدار یا آپ کے قرابتدار ؟فرمایا :'' میرے قرابتدار ''۔اعرابی نے کہا :

میں آپ کے دست مبارک پر بیعت کرتا ہوں پس جو آپ اور آپ کے قرابتداروں سے محبت نہ کرے اس

____________________

۱۔مجمع الزوائد، جلد ۷، صفحہ ۱۰۳۔ذخائر العقبیٰ، صفحہ ۲۵۔نور الابصار ،صفحہ ۱۰۱۔در المنثور، جلد ۷،صفحہ ۳۴۸۔


پر اللہ کی لعنت ہے ۔۔۔نبی نے فوراً فرمایا :''آمین ''۔(۱)

۲۔خداوند عالم کا فرمان ہے :(فَمَنْ حَاجَّکَ فِیهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْانَدْعُ أَبْنَائَنَاوَأَبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَاوَنِسَائَکُمْ وَأَنْفُسَنَاوَأَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اﷲِ عَلَی الْکَاذِبِینَ(۲)

''پیغمبر علم آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آئو ہم لوگ اپنے اپنے فرزند،اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں ''۔

مفسرین قرآن اور راویان حدیث کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ آیہ ٔ کریمہ اہل بیت ِ نبی کی شان میں نازل ہو ئی ہے ،آیت میں ابنائ(بیٹوں) سے مراد امام حسن اور امام حسین ہیںجوسبط رحمت اور

امام ہدایت ہیں ،نساء ''عورتوں '' سے مراد فاطمہ زہرا دختر رسول سیدئہ نساء العالمین ہیں اور انفسنا سے مراد سید عترت امام امیر المو منین ہیں ۔(۳)

۳۔خداوند عالم کا ارشاد ہے: ( هَلْ اَتیٰ عَلَی الاِنْسَانِ ) کامل سورہ ۔

مفسرین اور راویوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ سورہ اہل بیت ِنبوت کی شان میں نازل ہوا ہے۔(۴)

۴۔خداوند عالم کا فرمان ہے: ( إنَّمَایُرِیدُ اﷲُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا ) ۔(۵)

____________________

۱۔حلیة الاولیائ، جلد ۳،صفحہ ۱۰۲۔

۲۔سورئہ آل عمران، آیت ۶۱۔

۳۔تفسیر رازی، جلد ۲،صفحہ ۶۹۹۔تفسیر بیضاوی ،صفحہ ۷۶۔تفسیر کشّاف، جلد ۱،صفحہ۴۹۔تفسیر روح البیان، جلد ۱،صفحہ ۴۵۷۔تفسیر جلالین، جلد ۱،صفحہ ۳۵۔صحیح مسلم، جلد ۲،صفحہ ۴۷۔صحیح ترمذی ،جلد ۲،صفحہ ۱۶۶۔سنن بہیقی ،جلد ۷،صفحہ ۶۳۔مسند احمد بن حنبل، جلد ۱،صفحہ ۱۸۵۔مصابیح السنّة، بغوی، جلد ۲،صفحہ ۲۰۱۔سیر اعلام النبلائ، جلد ۳،صفحہ ۱۹۳۔

۴۔تفسیر رازی، جلد ۱۰، صفحہ ۳۴۳۔اسباب النزول ، واحدی صفحہ۱۳۳۔ روح البیان ،جلد ۶،صفحہ ۵۴۶۔ینابیع المؤدة ،جلد ۱،صفحہ ۹۳۔ریاض النضرہ ،جلد ۲،صفحہ ۲۲۷۔امتاع الاسماع ،صفحہ ۵۰۲۔

۵۔سورئہ احزاب، آیت ۳۳۔


''بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ''۔

مفسرین اور راویوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ آیت پانچوں اصحاب کساء کی شان میں نازل ہو ئی ہے(۱) ان میں سرکار دو عالم رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،ان کے جا نشین امام امیر المو منین ،جگر گوشۂ رسول سیدئہ نسا ء العالمین جن کے راضی ہونے سے خدا راضی ہوتا ہے اور جن کے غضب کرنے سے خدا غضب کرتا ہے ، ان کے دونوں پھول حسن و حسین جوانان جنت کے سردار ہیں ،اور اس فضیلت میں نہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاندان میں سے اور نہ ہی بڑے بڑے اصحاب کے خاندان میں سے ان کا کو ئی شریک ہے۔ اس بات کی صحاح کی کچھ روایات بھی تا ئید کر تی ہیںجن میں سے کچھ روایات مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔ام المو منین ام سلمہ کہتی ہیں :یہ آیت میرے گھر میں نازل ہو ئی جبکہ اس میں فاطمہ ،حسن، حسین اور علی علیہم السلام مو جود تھے ،آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اُن پر کساء یما نی اڑھاکر فرمایا :اللَّھُمَّ اَھْلُ بَیْتِیْ فَاذْھِبْ عنْھمْ الرِّجْسَ وَطَھِّرْھُمْ تَطْہِیرًا''''خدایا !یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے رجس کو دور رکھ اور ان کو اس طرح پاک رکھ جو پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ''آپ نے اس جملہ کی اپنی زبان مبارک سے کئی مرتبہ تکرار فر ما ئی ام سلمہ سنتی اور دیکھتی رہیں،ام سلمہ نے عرض کیا :یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیا میں بھی آپ کے ساتھ چادر میں آسکتی ہوں ؟اور آپ نے چادر میں داخل ہونے کیلئے چا در اٹھائی تو رسول نے چادر کھینچ لی اور فر مایا : ''اِنَّکِ عَلیٰ خَیْر''''تم خیر پر ہو ''۔(۲)

۲۔ابن عباس سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سات مہینے تک ہر نماز کے وقت پانچ مرتبہ حضرت علی بن ابی طالب کے دروازے پر آکر یہ فرماتے سناہے :''السَّلامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَ

____________________

۱۔تفسیررازی، جلد ۶، صفحہ ۷۸۳۔صحیح مسلم، جلد ۲،صفحہ ۳۳۱۔الخصائص الکبریٰ ،جلد ۲،صفحہ ۲۶۴۔ریاض النضرہ ،جلد ۲،صفحہ ۱۸۸۔تفسیر ابن جریر، جلد ۲۲،صفحہ ۵۔مسند احمد بن حنبل، جلد ۴،صفحہ ۱۰۷۔سنن بیہقی ،جلد ۲،صفحہ ۱۵۰۔مشکل الآثار ،جلد ۱،صفحہ ۳۳۴۔خصائص النسائی صفحہ ۳۳۔

یہ بات شایان ذکر ہے کہ ابن جریر نے اپنی تفسیر میں۱۵،روایات میں مختلف اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے کہ یہ آیت اہل بیت علیہم السلام کی شان میں نازل ہو ئی ہے ۔

۲۔مستدرک حاکم، جلد ۲،صفحہ ۴۱۶۔اسدالغابہ، جلد ۵،صفحہ ۵۲۱۔


بَرَکَاتُهُ اَهْلَ الْبَیْتِ: ( إنَّمَایُرِیدُ اﷲُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا ) ، الصَّلَاةُ یَرْحَمُکُمُ اللّٰهُ''

'' اے اہل بیت تم پر سلام اور اللہ کی رحمت وبرکت ہو !''بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے''،نماز کا وقت ہے اللہ تم پر رحم کرے''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہر روز پانچ مرتبہ یہی فرماتے۔(۱)

۳۔ابو برزہ سے روایت ہے :میں نے سات مہینے تک رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ نماز ادا کی ہے جب بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بیت الشرف سے باہر تشریف لاتے تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکے دروازے پر جاتے اور فرماتے :''السَّلامُ عَلَیْکُمْ : ( إنَّمَایُرِیدُ اﷲُ لِیُذْهِبَ عَنْکُمْ الرِّجسَ أَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَکُمْ تَطْهِیرًا ) ۔(۲)

''تم پر سلام ہو:''بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ''

بیشک رسول اللہ کے اس فرمان کا مطلب امت کی ہدایت اور اُن اہل بیت کے اتباع کوواجب قرار دینا ہے جو امت کو ان کی دنیوی اور اُخروی زندگی میں اُ ن کے راستہ میں نفع پہنچانے کیلئے ان کی ہدایت کرتے ہیں۔

امام اور نیک اصحاب کے بارے میں نازل ہو نے والی آیات

قرآن کریم کی کچھ آیات امام اور اسلام کے کچھ بزرگ افراد اور نیک و صالح اصحاب کے سلسلہ میں نازل ہو ئی ہیں ،جن میں سے بعض آیات یہ ہیں :

۱۔خداوند عالم کا ارشاد ہے: ( وَعَلَی الْأَعْرَافِ رِجَال یَعْرِفُونَ کُلًّابِسِیمَاهُم ) ۔(۳)

''اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے جو سب کو ان کی نشانیوں سے پہچان لیں گے ''۔

____________________

۱۔در منثور ،جلد ۵،صفحہ ۱۱۹۔

۲۔ذخائر عقبیٰ ،صفحہ ۲۴۔

۳۔سورئہ اعراف، آیت ۴۶۔


ابن عباس سے روایت ہے :اعراف صراط کی وہ بلند جگہ ہے جس پر عباس ،حمزہ ،علی بن ابی طالب اور جعفر طیار ذو الجناحین کھڑے ہوں گے جو اپنے محبوں کو ان کے چہروں کی نورانیت اور اپنے دشمنوں کو اُن کے چہروں کی تاریکی کی بنا پر پہچان لیں گے ۔(۱)

۲۔خداوند عالم کا فرمان ہے: ( مِنْ الْمُؤْمِنِینَ رِجَال صَدَقُوامَا عَاهَدُوا اﷲَ عَلَیْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ یَنْتَظِرُوَمَابَدَّلُوا تَبْدِیلًا ) ۔(۲)

''مو منین میں ایسے بھی مرد میدان ہیں جنھوں نے اللہ سے کئے وعدہ کو سچ کر دکھایا ہے ان میں بعض اپنا وقت پورا کر چکے ہیں اور بعض اپنے وقت کا انتظار کر رہے ہیں اور اُن لوگوں نے اپنی بات میں کو ئی تبدیلی نہیں پیدا کی ہے ''۔

اس آیت کے متعلق امیر المو منین سے اس وقت سوال کیا گیا جب آپ منبر پر تشریف فر ما تھے تو آپ نے فرمایا:''خدایا ! بخش دے یہ آیت میرے ، میرے چچا حمزہ اور میرے چچا زاد بھا ئی عبیدہ بن حارث کے بارے میں نازل ہو ئی ہے ،عبیدہ جنگ بدر کے دن شہید ہوئے ،حمزہ احد کے معرکہ میں شہید کر دئے گئے لیکن میں اس شقی کے انتظار میں ہوں جو میری اس ''ڈاڑھی اور سر مبارک کوخون سے رنگین کر دے گا ''۔(۳)

آپ کے حق اور مخالفین کی مذمت میں نازل ہونے والی آیات

قرآن کریم کی کچھ آیات آپ کے حق اور اُن مخالفین کی مذمت میں نازل ہو ئی ہیں جنھوں نے آپ کے سلسلہ میں مروی روایات اور فضائل سے چشم پوشی کی ہے :

۱۔خداوند عالم کا فرمان ہے: ( أجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الْآخِر ) ۔(۴)

''کیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد الحرام کی آبا دی کو اس جیسا سمجھ لیا ہے جو اللہ اورآخرت

____________________

۱۔صواعق محرقہ، صفحہ ۱۰۱۔

۲۔سورئہ احزاب ،آیت ۲۳۔

۳۔صواعق محرقہ ،صفحہ ۸۰۔نورالابصار، صفحہ ۸۰۔

۴۔سورئہ برائت ،آیت ۱۹۔


پر ایمان رکھتا ہے اور راہ خدا میں جہاد کرتا ہے ہر گز یہ دونوں اللہ کے نزدیک برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کر تا ہے ''۔

یہ آیت امیر المو منین کی شان میں اس وقت نازل ہو ئی جب عباس اور طلحہ بن شیبہ بڑے فخر کے ساتھ یہ بیان کر رہے تھے ۔طلحہ نے کہا :میں بیت اللہ الحرام کا مالک ہوں ،میرے ہی پاس اس کی کنجی ہے اور میرے ہی پاس اس کے کپڑے ہیں ۔عباس نے کہا :میںاس کا سقّہ اور اس کے امور کے سلسلہ میں قیام کرنے والا ہوں ۔امام نے فرمایا :''ماادری ماتقولون ؟لقدْ صلّیتُ الیٰ القِبْلَةِ سِتَّةَ اَشْھُرقَبْلَ النَّاسِ،واَنا صاحب الجہاد ''۔''مجھے نہیں معلوم تم کیا کہہ رہے ہو ؟میں نے لوگوں سے چھ مہینے پہلے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی ہے اور میں صاحب جہاد ہو ں ''اس وقت یہ آیت نازل ہو ئی ۔(۱)

۲۔خدا وند عالم کا فرمان ہے: ( أفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًاکَمَنْ کَانَ فَاسِقًالَایَسْتَوُون ) ۔(۲)

''کیا وہ شخص جو صاحب ایمان ہے اس کے مثل ہو جائے گاجو فاسق ہے ہر گز نہیں دونوں برابر نہیں ہو سکتے ''۔

یہ آیت امیر المو منین اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہو ئی ہے جب وہ اس نے امام پر فخر و مباہات کرتے ہوئے کہا :میں آپ سے زیادہ خوش بیان ہوں ،بہترین جنگجو ہوں،اور آپ سے بہتر دشمنوں کو پسپا کر نے والا ہوں ''اس وقت امام نے اس سے فرمایا :'' اسکُتْ، فَاِنَّکَ فَاسِق '' ''خاموش رہ بیشک تو فاسق ہے ''،اس وقت دونوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔(۳)

____________________

۱۔تفسیر طبری ،جلد ۱۰،صفحہ ۶۸،تفسیر رازی، جلد ۱۶،صفحہ ۱۱۔در منثور،جلد ۴،صفحہ ۱۴۶۔اسباب النزول، مؤلف واحدی ،صفحہ ۱۸۲۔

۲۔سورئہ سجدہ، آیت ۱۸۔

۳۔تفسیر طبری ،جلد ۲۱، صفحہ ۶۸۔اسباب نزول واحدی ،صفحہ ۲۶۳۔تاریخ بغداد، جلد ۱۳،صفحہ ۳۲۱۔ریاض النضرہ ،جلد ۲، صفحہ ۲۰۶۔


امام روایات کی رو شنی میں

صحاح اور سنن جیسے مصادر امام کے متعلق نبی سے مروی روایات سے پُر ہیں جو اسلامی عدالت کے قائد و رہبر امام کے فضائل کا قصیدہ پڑھتی ہیں اور اسلامی معاشرہ میں ان کے مقام کو بلند کرتی ہیں ۔

احادیث کی کثرت اور راویوں کے درمیان اُ ن کی شہرت میں غور کرنے والا پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس بلند مقصد سے آگاہ ہو سکتا ہے جو امام کی مر کزیت اور ان کے خلیفہ ہونے کی نشاندہی کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ نبوت ہمیشہ کے لئے باقی رہے اور وہ امت کی مشکلات حل کر سکے ،اُ ن کے امور کی اصلاح کر سکے اور اُن کو ایسے راستہ پر چلائے جس میں کسی طرح کی گمرا ہی کا امکان نہ ہو نیز امت مسلمہ پوری دنیا کے لئے نمونہ ٔ عمل بن سکے ۔

بہر حال جب ہم امام کی فضیلت کے سلسلہ میں روایات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ روایات کا ایک گروہ آپ کی ذات سے مخصوص ہے ،روایات کا دوسرا طائفہ اہل بیت کے فضائل پر مشتمل ہے جس میں لازمی طور آپ بھی شامل ہیں چونکہ آپ عترت کے سید و آقا ہیں اور ان کے علم کے منارے ہیں ہم اس سلسلہ میں ذیل میں چند روایات پیش کرتے ہیں :

پہلا دستہ

یہ روایات تعظیم و تکریم کی متعددصورتوں پر مشتمل ہیں اور امام فضائل کا قصیدہ پڑھتی ہوئی نظر آتی ہیں،ملاحظہ کیجئے:

نبی کے نزدیک آپ کا مقام و مرتبہ

امام لوگوں میں سب سے زیادہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک تھے ،ان میں سب سے زیادہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قربت رکھتے تھے ،آپ ابو سبطین ،رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شہر علم کا دروازہ ،آپ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سب سے زیادہ اخلاص رکھتے تھے ،احادیث کی ایک بڑی تعداد رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کی گئی ہے جو آپ کی محبت و مودت کی گہرا ئی پر دلالت کرتی ہے اس میں سے کچھ احادیث مندرجہ ذیل ہیں :


۱۔امام نفس نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

آیہ ٔ مباہلہ میں صاف طور پر یہ بات واضح ہے کہ بیشک امام نفس نبی ہیں ،ہم گذشتہ بحثوں میں اس بات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں اور یہ بھی بیان کر چکے ہیں کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خود یہ اعلان فرمادیا تھا کہ امام ان کے نفس ہیں منجملہ ذیل میں چند احادیث ملاحظہ کیجئے :

عثمان کے سوتیلے بھا ئی ولید بن عقبہ نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خبر دی کہ بنی ولیعہ اسلام سے مرتد ہو گیا ہے ،تو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے غضبناک ہو کر فرمایا :''لَیَنْتَهِیَنَّ بَنُوْوَلِیْعَةَ اَوْلَاَبْعَثَنَّ اِلَیْهِمْ رَجُلاً کَنَفْسِیْ،یَقْتُلُ مَقَاتِلَهُمْ وَیَسْبِیْ ذَرَارِیْهِمْ وَهُوَ هٰذا'' ،''بنو ولیعہ میرے پاس آتے یا میں ان کی طرف اپنے جیسا ایک شخص بھیجوںجو ان کے جنگجوئوں کوقتل کرے اور ان کے اسراء کولے کر آئے اور وہ یہ ہے''،اس کے بعد امام کے کندھے پر اپنا دست مبارک رکھا ۔(۱)

عمرو بن عاص سے روایت ہے :جب میں غزوئہ ذات سلاسل سے واپس آیا تو میں یہ گمان کر تا تھا کہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں ،میں نے عرض کیا :یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کو ن ہے ؟آپ نے چندلوگوں کاتذکرہ کیا۔میں نے عرض کیا: یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم علی کہاں ہیں ؟تو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب سے مخاطب ہو کر فرمایا :''اِنَّ ھٰذایَسْأَلُنِْ عن النفسِ''،(۲) ''بیشک یہ میرے نفس کے بارے میں سوال کر رہے ہیں ''۔

۲۔امام نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھا ئی

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اصحاب کے سامنے اعلان فرمایا کہ امام علی آپ کے بھا ئی ہیں ،اس سلسلہ میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں ہم ان میں سے ذیل میں چند روایات پیش کر تے ہیں :

ترمذی نے ابن عمر سے روایت کی ہے :رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اصحاب کے ما بین صیغۂ اخوّت پڑھا ،تو علی کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ نے عرض کیا :یارسو لصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ آپ نے اصحاب کے درمیان صیغۂ اخوت پڑھاہے لیکن میرے اور کسی اور شخص کے درمیان صیغہ ٔ اخوت نہیں پڑھا ہے؟تورسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے

____________________

۱۔مجمع الزوائد، جلد ۷،صفحہ ۱۱۰،ولید اپنی بات کے ذریعہ بنی ولیعہ کی تردید کر رہا تھا اس وقت یہ آیت نازل ہو ئی :(یَاَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا ِنْ جَائَکُمْ فَاسِق بِنَبٍَ فَتَبَیَّنُوا َنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَةٍ۔۔۔)سورئہ حجرات، آیت ۶۔''ایمان والو اگر کو ئی فاسق کو ئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قوم تک نا واقفیت میں پہنچ جائو ۔۔۔''

۲۔کنز العمال، جلد ۶،صفحہ ۴۰۰۔


حضرت علی سے فرمایا:اَنْتَ اَخِْ فَْ الدَّنْیَاوَالآخِرَةِ '' ۔(۱)

''آپ میرے دنیا اور آخرت میں بھا ئی ہیں ''۔

امام کے لئے نبی کا صرف اس دنیامیں بھا ئی ہونا کا فی نہیں ہے بلکہ اس کا تسلسل تو آخرت تک ہے جس کی کو ئی حد نہیں ہے ۔

انس بن مالک سے روایت ہے : رسول اسلا مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ دینے کے بعد ارشاد فرمایا :''علی بن ابی طالب کہاں ہیں ؟''،تو فوراً علی یوں گویا ہوئے :میں یہاں ہوںیارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے علی کو اپنے سینہ سے لگایا اور آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان کی جگہ کا بوسہ لیا اور بلند آواز میں فرمایا :''اے مسلمانو!یہ میرے بھا ئی ،چچا زاد بھائی اور میرے داماد ہیں ،یہ میرا گوشت اور خون ہیں ،یہ ابوسبطین حسن اور حسین جوانان جنت کے سردار ہیں''۔(۲)

ابن عمر سے روایت ہے :میں نے حجة الوداع میں اس وقت رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: جب آپ ناقہ پر سوار تھے ،تو آپ نے علی کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر یہ فرمایا :''خدایا گواہ رہنا ۔۔ خدایا میں نے پہنچادیا کہ یہ میرے بھا ئی ،چچا زاد بھا ئی ،میرے داماد اورمیرے دونوں فرزندوں کے باپ ہیں۔خدایا ! جو ان سے دشمنی کرے اس کواوندھے منھ جہنم میں ڈال دے ''۔(۳)

نبی اور علی ایک شجرئہ طیبہ سے ہیں

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ اعلان فرمایا کہ میں اور علی ایک شجرہ سے ہیں، اس سلسلہ میں متعدد احادیث بیان ہو ئی ہیں ہم ذیل میں بعض احادیث پیش کرتے ہیں :

جابر بن عبداللہ سے روایت ہے :میں نے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو علی سے یہ فرماتے سنا ہے : ''اے علی لوگ مختلف شجروں سے ہیں اور میں اور تم ایک ہی شجرہ سے ہیںاس کے بعد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس آیت کی تلاوت

____________________

۱۔صحیح ترمذی، جلد ۲،صفحہ ۲۹۹۔مستدرک حاکم، جلد ۳،صفحہ ۱۴۔

۲۔ذخائر العقبیٰ ،صفحہ ۹۲۔

۳۔کنز العمال ،جلد ۳،صفحہ ۶۱۔


فرما ئی: ( وَجَنَّات مِنْ َعْنَابٍ وَزَرْع وَنَخِیل صِنْوَان وَغَیْرُصِنْوَانٍ یُسْقَی بِمَائٍ وَاحِد ) ۔(۱)

''اور انگور کے باغات ہیں اور زراعت ہے اور کھجوریں ہیں جن میں بعض دو شاخ کی ہیں اور بعض ایک شاخ کی ہیں اور سب ایک ہی پا نی سے سینچے جاتے ہیں ''۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کا فرمان ہے : ''میں اور علی ایک ہی شجرہ سے ہیں اور لوگ مختلف شجروں سے ہیں ''۔(۲)

یہ شجرہ کتنا بلند و بالا ہے اس درخت کا کیا کہنا جس سے سرور کا ئنات انسانی تہذیب کے قائدنبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شہر علم کا دروازہ امام امیر المو منین وجود میں آئے یہ وہ مبارک شجرہ ہے جس کی جڑ زمین میں ہے اور اس کی شاخ آسمان میں ہے یہ وہ درخت ہے جس کی ہر نسل نے ہر دور میں لوگوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔

۴۔امام نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وزیر

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے متعدد احادیث میں اس بات کی تاکید فر ما ئی ہے کہ امام میرے وزیر ہیں ۔

اسماء بنت عمیس سے روایت ہے کہ میں نے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے :خدایا ! میں وہی کہہ رہا ہوں جو میرے بھا ئی مو سیٰ نے کہا تھا : ''خدایا ! میرے اہل میںسے میرا وزیر قرار دے ،علی کو جو میرا بھا ئی بھی ہے اس سے میری پشت کو مضبوط کردے اسے میرے کام میں شریک کردے ،تاکہ ہم تیری بہت زیادہ تسبیح کرسکیں ،تیرا بہت زیادہ ذکر کرسکیں ، یقیناتوہمارے حالات سے بہتر با خبر ہے ''۔(۳)

۵۔امام نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلیفہ

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دعوت اسلام کے آغاز ہی میں یہ اعلان فرمادیا تھا کہ میرے بعد حضرت علی میرے خلیفہ ہیں ،یہ اعلان اس وقت کیا تھا جب قریش کے خاندان اسلام سے سختی سے پیش آرہے تھے ،اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی دعوت کے اختتام میں قریش سے فرمایا:''اب یہ (یعنی علی) تمہارے درمیان میرے بھا ئی ،

____________________

۱۔سورئہ رعد ،آیت ۴۔

۲۔کنز العمال، جلد ۶،صفحہ ۱۵۴۔

۳۔الریاض النضرہ ،جلد ۲،صفحہ ۱۶۳۔


وصی اور خلیفہ ہیں ،ان کی باتیں سنو اور ان کی اطاعت کرو ''۔(۱)

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے اپنے بعد امام کی خلافت کو اسلام کی دعوت سے متصل فرمایا ،اس کے بعد بت پرستی اور شرک کے بارے میں پر رو شنی ڈالی ،مزید یہ کہ اس مطلب کے سلسلہ میں متعدد اخبار و روایات ہیں جن میں نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بعد امام کی خلافت کا اعلان فرمایاان میں سے ہم کچھ احادیث ذیل میں پیش کررہے ہیں :

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان ہے :''اے علی !تم میرے بعد اس امت کے خلیفہ ہو ''۔(۲)

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان ہے :''علی بن ابی طالب تم میں سب سے پہلے اسلام لائے ،تم میں سب سے زیادہ عالم ہیں اور میرے بعد امام اور خلیفہ ہیں ''۔(۳)

۶۔ امام کی نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نسبت، ہارون کی مو سیٰ سے نسبت کے مانند ہے

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک ہی مضمون اور ایک ہی نتیجہ کی متعدد احادیث نقل ہو ئی ہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی سے فرمایا :''تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کی موسیٰ سے تھی ۔۔۔''اس سلسلہ میں کچھ احادیث ملاحظہ فرما ئیں :

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کیلئے فرمایا ہے : ''کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کی موسیٰ سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کو ئی نبی نہیں آئے گا ''۔(۴) سعید بن مسیب نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے انھوں نے اپنے والد سعد سے نقل کیا ہے : رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی کیلئے فرمایا ہے :'' تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کی موسیٰ سے نسبت تھی مگر یہ کہ میرے بعد کو ئی نبی نہیں آئے گا ''،سعید کا کہنا ہے :میں نے بذات خود یہ حدیث بیان کر نا چاہی اور

____________________

۱۔تاریخ طبری، جلد ۲،صفحہ ۱۲۷۔تاریخ ابن اثیر، جلد ۲،صفحہ ۲۲۔تاریخ ابو الفدا،جلد ۱،صفحہ ۱۱۶۔مسند احمد، جلد ۱،صفحہ ۳۳۱۔ کنزالعمال، جلد ۶،صفحہ ۳۹۹۔

۲۔مراجعات، صفحہ ۲۰۸۔

۳۔مراجعات، صفحہ۲۰۹۔

۴۔مسند ابو دائود، جلد ۱ ،صفحہ ۲۹۔حلیة الاولیائ، جلد ۷،صفحہ ۱۹۵۔مشکل الآثار، جلد ۲،صفحہ ۳۰۹۔مسند احمد بن حنبل، جلد ۱، صفحہ ۱۸۲۔تاریخ بغداد، جلد ۱۱،صفحہ ۴۳۲۔خصائص النسائی ،صفحہ ۱۶۔


میں نے ان سے ملاقات کی اور وہ حدیث بیان کی جو مجھ سے عامر نے بیان کی تھی اس نے کہا :میں نے سنا ہے ۔میں نے پوچھا :کیا تم نے سنا ہے ؟!اس نے اپنے دونوں کانوں میں انگلیاں دے کر کہا :ہاں ،اگر میں نے یہ بات نہ سنی ہو تو میرے دونوں کان بہرے ہوجائیں ''۔(۱)

۷۔امام شہر علم نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دروازہ

نبی اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام کی عظمت و منزلت کا قصیدہ پڑھتے ہوئے ان کو اپنے شہر علم کا دروازہ قرار دیا ،یہ حدیث متعدد طریقوں سے بیان ہو ئی ہے ،قطعی السند ہے اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے متعدد مو قعوں پر نقل کی گئی ہے :

جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے :میں نے حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حدیبیہ کے دن علی کے دست مبارک کو اپنے ہاتھ میں لئے ہوئے یہ فرماتے سنا ہے :''یہ نیک و صالح افراد کے امیر ، فاسق و فاجر کو قتل کرنے والے ہیں ،جو ان کی مدد کرے اس کی مدد کرنے والے ،جو ان کو رسوا کرے اس کو ذلیل کرنے والے ہیں ''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آواز کھینچ کر فرمایا :''میں شہر علم ہوں اور علی اس شہر کا دروازہ ہیں جو گھر میں آنا چاہے اس کو چاہئے کہ وہ دروازے سے آئے ''۔(۲)

ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کافرمان ہے :'' میں شہر علم ہوں اور علی اس شہر کا دروازہ ہیں جو شہرمیں آنا چاہے اس کو چا ہئے کہ وہ دروازے سے آئے ''۔(۳)

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ،فرمان ہے :''علی میرے علم کا دروازہ ہیں ،میں جو کچھ امت کیلئے لیکر آیا ہوں اس کو میرے بعد امت تک پہنچانے والے ہیں ،اُن کی محبت ایمان ہے ،ان سے بغض رکھنا نفاق ہے اور اُن کے چہرے پر نظر کرنا رافت ''مہربانی '' ہے ''۔(۴)

بیشک امام شہر علم نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دروازہ ہیں ، امام سے جو دینی باتیں،احکام شریعت ،محاسن اخلاق اور آداب حسنہ

____________________

۱۔اسد الغابہ ،جلد ۴،صفحہ ۲۶،خصائص النسائی ،صفحہ ۱۵۔ صحیح مسلم ،کتاب فضائل الاصحاب، جلد ۷صفحہ ۱۲۰۔ سکَکَ(دونوں کاف پر فتحہ) الصمم واستکّت مسامعہ :اذا صمّ۔

۲۔تاریخ بغداد، جلد ۲،صفحہ ۳۷۷۔

۳۔کنز العمال ،جلد ۶،صفحہ ۴۰۱۔

۴۔کنز العمال ،جلد ۶،صفحہ ۱۵۶۔صواعق المحرقہ، صفحہ ۷۳۔


نقل ہوئے ہیںان کو امام نے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حاصل کیا ہے ۔

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بعد علم کے ایسے سر چشمے چھوڑے ہیںجن کے ذریعہ زندگی حکمت اور رونق کے ساتھ آگے بڑھتی ہے ،پیغمبر نے ان کو امام کے سپرد فرمایا تاکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امت اُن سے سیراب ہو تی رہے لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ قریش کے امام سے بغض و کینہ رکھنے والوں نے اِن نور کے دروازوں کو بند کر دیا ،امت کو ان سے فیضیاب ہونے سے محروم کردیا اور زندگی کی گم گشتہ راہوں میں تنہا چھوڑدیا ۔

۸۔امام ،انبیاء کے مشابہ

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب کے معاشرہ میں فرمایا :''اگر تم آدم کو ان کے علم ،نوح کو ان کے ہم و غم ،ابراہیم کو اُن کے خُلق ،موسیٰ کو اُن کی مناجات ،عیسیٰ کو ان کی سنت اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ان کے اعتدال اور حلم میں دیکھنا چا ہوتو اِن کو دیکھو ''جب لوگوں نے ٹکٹکی باندھ کر دیکھا تو وہ امیر المو منین تھے ۔

شاعر کبیر ابو عبد اللہ مفجع نے اپنے قصیدہ میں امام کے ماثورہ مناقب کو یوں نظم کیا ہے :

ایّها اللَّا ئمی لِحُبِّی علِیّاً

قُم ذَمیماً الیٰ الجَحِیْمِ خَزِیّاً


أّ بِخَیْرِ الاَنَام عَرَّضْتَ لَازِلْتَ

مَذُوداً عَنِ الهُدیٰ وَ غَوِیّا

أشبِه الانبیاء طِفلاً وزولاً(۱)

وَفطِیماًورَاضِعاً وَغَذِیّاً

کَانَ فِیْ علمهِ کَآدَمَ اِذْ عُلِّمَ

شَر حَ الاسْمَائِ والمکنِیّا

وَکَنُوحٍ نَجَامِنَ الهُلْکِ یَوماً

فِیْ مَسِیْرٍاِذِ اعتَلَاالجودِیّاً (۲)

''حُبِّ علی کی خاطر میری ملامت کرنے والے جا ذلت و خواری کے ساتھ دوزخ میں جل جا۔

کیا تونے اپنے عمل کے ذریعہ بہترین انسان یعنی علی پر تشنیع کرنا چا ہی ہے ،خدا کرے کہ تو ہمیشہ ہدایت سے دور رہے ۔

علی بچپن ،جوا نی ،شیر خوارگی غرض ہر حال میں انبیاء سے مشابہ تھے ۔

علی علم میں آدم کے مانند تھے چنانچہ آپ نے اسماء نیزمخفی امورکی تعلیم دی ۔

آپ نوح کی طرح تھے جو کوہ جودی پر پہنچنے سے غرق ہونے سے محفوظ رہے ''۔

۹۔ علی کی محبت ایمان اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ علی کی محبت ایمان اور تقویٰ ہے اوراُن سے بغض رکھنا نفاق اور معصیت ہے، اس سلسلہ میں بعض ماثورہ اقوال درج ذیل ہیں :

____________________

۱۔الزول :یعنی جوان۔۲۔معجم الادبائ، جلد ۱۷،صفحہ ۲۰۰۔


حضرت علی سے روایت ہے : ''اس خدا کی قسم جس نے دانہ کو شگافتہ کیا اور ذی روح کو پیدا کیا میرے سلسلہ میں نبی امی نے یہ عہد لیا ہے کہ مجھ سے مو من کے علاوہ اور کو ئی محبت نہیں کرے گا اور منافق کے علاوہ اور کو ئی بغض نہیں رکھے گا ''۔(۱)

مساور حمیری نے اپنی ماں سے روایت کی ہے :وہ ام سلمہ کے پاس گئی تو اُن کو یہ کہتے سنا: رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا ، فرمان ہے :علی سے منافق محبت نہیں کرے گا اور مومن بغض نہیں رکھے گا ''۔(۲)

ابن عباس سے روایت ہے : رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کے چہرہ کی طرف رُخ کرتے ہوئے فرمایا : مو من کے علاوہ تجھ سے کو ئی محبت نہیں کرے گا ،اور منافق کے علاوہ اور کو ئی بغض نہیں کرے گا ، جس نے تجھ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ،جس نے تجھ سے بغض رکھا اُس نے مجھ سے بغض کیا ،میرا دوست اللہ کا دوست ہے ،میرا دشمن اللہ کا دشمن ہے اور اس پر وائے ہو جو تجھے میرے بعد غضبناک کرے ' ' ۔(۳)

ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کے لئے فرمایا :آپ کی محبت ایمان ہے ،آپ سے بغض رکھنا نفاق ہے ،جنت میں سب سے پہلے آپ سے محبت کرنے والا داخل ہوگا اور دوزخ میںسب سے پہلے آپ سے بغض رکھنے والا داخل ہو گا ''۔(۴)

یہ حدیث اصحاب میں مشہور ہو گئی ،اور وہ اسی حدیث کے معیار پر جو علی سے محبت کرتا تھا اس کو مومن اور جو علی سے بغض رکھتا تھا اسے منافق کہتے تھے ،جلیل القدر صحابی ابوذر غفاری کہتے ہیں : ہم منافقین کو

اللہ اوراس کے رسول کی تکذیب ،نماز سے رو گردانی اور علی بن ابی طالب سے بغض و نفاق رکھنے سے پہچان لیا کرتے تھے ''۔(۵)

صحابی کبیر جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت ہے :ہم منافقین کو علی سے بغض رکھنے کے علاوہ کسی اور چیز سے نہیں پہچانتے تھے ۔(۶)

____________________

۱۔صحیح ترمذی، جلد ۲، صفحہ ۳۰۱۔صحیح ابن ماجہ ، صفحہ ۱۲۔تاریخ بغداد، جلد ۲، صفحہ ۲۵۵۔حلیة الاولیاء ، جلد ۴، صفحہ ۱۸۵۔

۲۔صحیح ترمذی ، جلد ۲، صفحہ ۲۹۹۔ ۳۔مجمع الزوائد ، جلد ۹، صفحہ ۱۳۳۔

۴۔نور الابصار شبلنجی ، صفحہ ۷۲۔

۵۔مستدرک حاکم، جلد ۳، صفحہ ۱۲۹۔

۶۔استیعاب، جلد ۲، صفحہ ۴۶۴۔


دوسرے دستہ کی روایات

ہم بعض وہ روایات نقل کرتے ہیں جو نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے حضرت علی کی شان میں منقول ہو ئی ہیں جن کوآپ کے لئے کرامت شمار کیا جاتا ہے ۔

دار آخرت میں امام کا مقام

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کچھ وہ روایات نقل ہو ئی ہیں جن کو اللہ نے دار آخرت میںعلی کیلئے کرامت شمار کیا ہے ان میں سے بعض روایات درج ذیل ہیں :

۱۔امام لواء حمد کو اٹھانے والے

صحاح میں نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے متعدد احادیث نقل ہو ئی ہیں کہ خدا وند عالم قیامت کے دن علی کو لوائے حمد اٹھانے کا شرف عطا کر ے گا ،یہ ایسا بلند مرتبہ ہے جو آپ کے علاوہ کسی اور کو نہیں عطا کیا گیا ۔ ہم ان میں سے بعض روایات ذیل میں نقل کرتے ہیں :

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کیلئے فرمایا :''تم قیامت کے دن میرے امام ہو ،مجھے پرچم دیا جائے گا ، میںاسے تمہارے حوالہ کر دوں گا ،اور تم ہی لوگوں کو میرے حوض کے پاس سے دور کروگے ''۔

۲۔ امام صاحب حوض نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے متواتر احا دیث نقل ہو ئی ہیں کہ امام نبی کے اس حوض کے مالک ہوں گے جو اپنے گوارا


میٹھے اور خو بصورت نظاروں کی وجہ سے جنت کی تمام نہروں سے عظیم ہو گی ،اس کا پانی صرف امام کے غلاموں اور چاہنے والوں کو ہی نصیب ہو گا ،ہم ذیل میں اس کے متعلق بعض روایات نقل کررہے ہیں :

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان ہے :علی بن ابی طالب قیامت کے دن میرے حوض کے مالک ہوں گے ،اس میں آسمان کے ستاروں کی تعدادکے مانند ستارے ہیں اور وہ جابیہ اور صنعائ(پہاڑیوں) کے درمیان کی دوری کی طرح وسیع ہو گی ''۔(۱)

امام جنت و جہنم کو تقسیم کرنے والے

سب سے بڑی شرافت و بزرگی جس کا تاج رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے باب مدینة العلم کے سرپر رکھا وہ یہ ہے کہ امام جنت و جہنم کی تقسیم کر نے والے ہیں ۔ابن حجر سے روایت ہے کہ آپ نے شوریٰ کے جن افراد کا انتخاب کیا تھا ان سے فرمایا:''میں تمھیں خدا کی قسم دیتا ہوں یہ بتائو کیا تم میں کو ئی ایسا ہے جس کے لئے رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہو :''اے علی قیامت کے دن آپ میرے علاوہ جنت و جہنم کے تقسیم کرنے والے ہو؟۔انھوں نے کہا : خدا کی قسم ،ایسا کو ئی نہیں ہے ''۔

ابن حجر نے اس حدیث پر جو حاشیہ لگایا اس کا مطلب امام رضا علیہ السلام سے مروی حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام علی کے لئے فرمایا ہے :تم قیامت میں جنت و جہنم کی تقسیم کر نے والے ہودوزخ خود کہے گی یہ میرے لئے اور یہ آپ کے لئے ہے ''۔(۲)

یہ مطلب بڑی تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ خدا کے او لیاء میں سے اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد یہ مرتبہ علی کے علاوہ کسی کو نہیں ملا، اس کرامت کی کو ئی حدنہیں ہے ،اللہ نے ان کو یہ کرامت اس لئے عطا کی ہے کہ علی نے اسلام کی راہ میں بہت زیادہ جد وجہد کی اور خود کو حق کی خدمت کیلئے فنا کر دیا ہے ۔

عترت اطہار کی فضیلت کے بارے میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث

عترت اطہار کی فضیلت ،ان سے محبت اور متمسک ہونے کے سلسلہ میں نبی سے متواتر احادیث

نقل ہو ئی ہیں جن میں سے بعض احا دیث یہ ہیں :

____________________

۱۔مجمع الزوائد، جلد ، ۱صفحہ ۳۶۷۔

۲۔صواعق محرقہ، صفحہ ۷۵۔


حدیث ثقلین

حدیث ثقلین پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دلچسپ اور سند کے اعتبار سے سب سے زیادہ صحیح اور مشہورحدیث ہے ،مسلمانوں کے درمیان سب سے زیادہ شائع و مشہور ہو ئی ہے ،اس کو صحاح اور سنن میں تحریر کیا گیا ہے ،علماء نے قبول کیا ہے اور یہاںپر یہ ذکرکردینابھی مناسب ہے کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس حدیث کو متعدد مقامات پر بیان فرمایا ہے :

زید بن ارقم سے روایت ہے کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے :''اِنّ تَارِک فِیْکُمُ الثَّقَلَیْن مَااِن تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَالَنْ تَضِلُّوا بَعْدِ ،اَحَدُهُمَا اَعْظَمُ مِنَ الآخَرِ:کِتَابَ اللّٰهِ،حَبْل مَمْدُوْد مِنَ السَّمَائِ اِلَی الاَرْضِ،وَعِتْرَتِْ اَهْلَ بَیْتِْ،وَلَنْ یَفْتَرِقَاحتیّٰ یَرِدَاعلََّ الْحَوْضَ، فَانظُرُوْا کَیْفَ تُخْلُفُوْنِْ فِیْهِمَا'' ۔(۱)

''میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم ان دونوں سے متمسک رہے تو ہر گز گمراہ نہیں ہوگے ،ان میں ایک دوسرے سے اعظم ہے :اللہ کی کتاب آسمان سے زمین تک کھنچی ہو ئی رسی ہے ،میری عترت میرے اہل بیت ہیں اور وہ ہر گز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کو ثر پر وارد ہوں ،پس میں دیکھوں گا کہ تم میرے بعد ان سے کیسا برتائو کروگے ''؟۔

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ حدیث حج کے موقع پر عرفہ کے دن بیان فرما ئی ،جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت ہے : میں نے حج کے مو قع پر عرفہ کے دن رسول اللہ کوان کے ناقہ قصواپر سوار دیکھا آپ یہ خطبہ دے رہے تھے :اے لوگو !،میں نے تمہارے درمیان اللہ کی کتاب اور اپنی عترت اوراپنے اہل بیت کو چھوڑ دیا ہے، اگر تم ان سے متمسک رہے تو ہر گز گمراہ نہیں ہو گے ''۔(۲)

نبی بستر مرگ پر تھے، لہٰذاآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : ''اَیُّھَاالنَّاس

____________________

۱۔صحیح ترمذی، جلد ۲، صفحہ ۳۰۸۔

۲۔صحیح ترمذی ، جلد ۲، صفحہ ۳۰۸۔کنز العمال، جلد ۱، صفحہ ۸۴۔


یُوْشکُ اَنْ اُقْبِضَ قَبْضاًسَرِیعاًفَیُنْطَلَقَ بِْ،وَقَدْ قَدَّ مْتُ اِلَیْکُمُ الْقَوْلَ مَعْذِرَةً اِلَیْکُمْ آلَا اِنِّْ مُخَلِّفُ فِیْکُمْ کِتَابَ رَبِّْ عَزَّوَجَلَّ ،وَعِتْرَتِْ اَهْلَ بَیْتِْ '' ۔

''اے لوگو!مجھے عنقریب قبض روح کے ذریعہ خدا کی بارگاہ میں جانا ہے میں اس سے پہلے تمہارے لئے بیان کرچکا ہوںآگاہ ہوجائو کہ میں تمہارے درمیان اپنے پروردگار کی کتاب اور اپنی عترت اپنے اہل بیت کو چھوڑ کر جا رہا ہوں ''۔

اس کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا :''یہ علی قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی کے ساتھ ہے ،یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں گے ''۔(۱)

حدیث سفینہ

ابو سعید خدری سے مر وی ہے کہ میں نے پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے :بیشک ۔ تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح کے مانندہے ،جو اس میں سوار ہو گیا اس نے نجات پائی اور جس نے اس سے رو گردانی کی وہ ہلاک ہوگیا ،بیشک تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال بنی اسرائیل میں باب حطّہ کے مانند ہے جو اس میں داخل ہوا وہ بخش دیا گیا ''۔(۲)

اس حدیث شریف میں اس بات کی حکایت کی گئی ہے کہ عترتِ طاہرہ سے متمسک رہنا واجب ہے اسی میں امت کے لئے زندگی کے نشیب و فراز میں نجات اور غرق ہونے سے محفوظ رہنا ہے ،پس اہل بیت نجات کی کشتیاں اور بندوں کا ملجأ و ماویٰ ہیں ۔

امام شرف الدین(خدا ان کے درجات بلند کرے ،)کا کہنا ہے :''اہل بیت کے کشتی ٔ نوح کے مانند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس نے دنیا و آخرت میں اِن کو اپنا ملجأ و ماویٰ قرار دیا ،اوراپنے فروع و اصول ائمہ معصومین سے حاصل کئے وہ دوزخ کے عذاب سے نجات پا گیا ،اور جس نے اُن سے روگردانی کی وہ اس کے مانند ہے جس نے طوفان کے دن اللہ کے امر سے بچنے کیلئے پہاڑ کی چوٹی پر پناہ لی اور غرق ہوگیا ، اس

____________________

۱۔صواعق محرقہ ، صفحہ ۷۵۔

۲۔مجمع الزوائد، جلد ۹، صفحہ ۱۶۸۔مستدرک، جلد ۲، صفحہ ۴۳۔تاریخ بغداد، جلد ۲، صفحہ ۱۲۰۔حلیة ، جلد ۴، صفحہ ۳۰۶۔ذخائر ، صفحہ ۲۰۔


کی منزل آب ِ حمیم ہے جو بہت ہی گرم پا نی ہے اور جس سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔

ائمہ کو باب حطّہ سے اس لئے تشبیہ دی گئی ہے کہ باب حطّہ خدا کے جلال کے سامنے تواضع کا مظہرتھاجو بخشش کا سبب ہے ۔یہ وجہ شبہ ہے ،اور ابن حجر نے اِس اور اِس جیسی دوسری احادیث کو بیان کرنے کے بعد کہا ہے :

ائمہ کے کشتی ٔ نوح سے مشابہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جس نے ان سے محبت کی اور ان کے شرف کی نعمت کا شکریہ ادا کرنے کیلئے ان کی تعظیم کی اور ان کے علماء سے ہدایت حاصل کی، اُس نے تاریکیوں سے نجات پا ئی اور جس نے مخالفت کی وہ کفران ِ نعمت کے سمندر میں غرق ہو گیا اور سرکشی کے امنڈتے ہوئے سیلاب میں ہلاک ہو گیا ۔یہاں تک کہ فرمایا:(باب حطّہ) یعنی ائمہ کی باب حطّہ سے مشابہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جو بھی اس باب ''دروازہ ''یعنی اریحا یا بیت المقدس میں تواضع اور استغفار کے ساتھ داخل ہوگا خدا اس کو بخش دے گا ، اسی طرح اہل بیت سے مودت و محبت کواس امت کی مغفرت کا سبب قراردیا) ۔(۱)

اہل بیت امت کے لئے امان ہیں

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس امت کیلئے اہل بیت کی محبت کو واجب قرار دیا اور ان سے متمسک رہنے کو امت کیلئے ہلاک ہونے سے امان قرار دیتے ہوئے فرمایا :''ستارے زمین والوں کیلئے غرق ہونے سے امان ہیں اور میرے اہل بیت میری امت میں اختلاف نہ ہونے کیلئے امان ہیں جب عرب کا کو ئی قبیلہ ان کی مخالفت کرے تو اُن میں اختلاف ہو جا ئیگا اور وہ ابلیس کے گروہ میں ہوجائیں گے ''۔(۲)

امام ،جہاد میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مثبت انداز میں صلح کی دعوت اختیار کی ا س دعوت میں آپ نے اعلان کیا کہ میرا پیغام دین تم کو جنگوں کے عذاب سے نجات دلائے گا،آپ کی یہ دعوت مکہ میں پھیل گئی وہ مکہ جو جاہلیت

____________________

۱۔مستدرک حاکم، جلد ۳، صفحہ ۱۴۹۔کنز العمال، جلد ۶، صفحہ ۱۱۶۔فیض قدیر اور مجمع الزوائد، جلد ۹، صفحہ ۱۷۴میں آیا ہے : ستارے اہل زمین کے لئے امان ہیں اور میرے اہل بیت میری امت کے لئے امان ہیں ''۔

۲۔ریاض النضرہ ، جلد ۲، صفحہ ۲۵۲۔تقریباً یہی روایت صحیح ترمذی جلد ۲، صفحہ ۳۱۹ میں آئی ہے ۔سنن ابن ماجہ ، جلد ۱، صفحہ ۵۲۔


کی طاقتوں کا مرکز تھا وہ طاقتیں جو قرشیوں کی شکل میں مجسم ہو ئی تھیںان قرشیوں کے نظریات جہالت ، خود غرضی اور انانیت پر مشتمل تھے نبی کے پیغام کی بنا پر ان کے غرور کا بھرم ٹوٹ گیااور ان کاجادو باطل ہوگیا، انھوں نے نبی سے مقابلہ کی ٹھان لی اور نبی پر ایمان لانے والے کوستانے کا فیصلہ کیا ان کو اذیت دینے لگے یہاں تک کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ماننے والے کو قرشیوں کی سختیوں اور ان کے قتل و غارت سے بچنے کیلئے مجبور ہو کر حبشہ ہجرت کر نا پڑی ،لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے چچا شیخ البطحاء اوران کے فرزند ارجمند امام امیر المومنین کی حمایت میں تھے اپنے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد نبی کو کو ئی پناہ دینے والا نہ رہا اسی لئے قریش نے جمع ہوکر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوقتل کرنا چاہا(جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں) تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم یثرب ہجرت فرماگئے ،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اہل یثرب کو اپنے دین کی حمایت کرنے والااور اپنامددگار پایاتوآپ نے قرشیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے قیام کیااور ان کے سامنے بڑی سختی کے ساتھ ڈٹ گئے ،تو کفار قریش نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف میدان جنگ گرم کرنے اور اقتصادی ناکہ بندی کرنے کا فیصلہ کیا۔

امام امیر امو منین رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانب سے ایک محکم و مضبوط طاقت بن کر سامنے آئے آپ نے قریش کی طرف سے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر تھوپی جانے والی تمام جنگیں لڑیں اور رسول اسلام عام طور پر آپ ہی کوجنگ کی قیادت سونپتے تھے ،ہم ذیل میں امام کی طرف سے لڑی جانے والی بعض جنگوں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں :

۱۔جنگ بدر

واقعہ ٔ بدر اسلام کی مدد ،مسلمانوں کی کھلم کھلا کا میابی اور شرک کی شکست فاش کے طورپر تاریخ میںدرج ہے ،جس میں اللہ نے اپنے بندے اور رسول کو عزت بخشی،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کیا ، اس معرکہ کو بہادری کے ساتھ لڑکر سر کرنے والے علی ہی تھے ،آپ کی تلوار موت کا پیغام تھی جس نے مشرکوں اور ملحدوں کے سروں کو کاٹ پھینکا ،آپ نے اتنی ثبات قدمی اور استقامت کے ساتھ جنگیں لڑیں کہ جبرئیل کو بھی آواز دیناپڑی :''لاسیف الَّاذوالفقارِ،وَلَافَتیٰ اَلَّاعَلِیْ '' ۔(۱)

ہم اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ''حیاةالامام امیر المو منین ''کے دوسرے حصہ میںبیان کرچکے ہیں۔

____________________

۱۔کنز العمال ، جلد۳،صفحہ ۱۵۴ ،وغیرہ


۲۔جنگ احد

قریش جنگ بدر میں اپنی شکست فاش اور بہت زیادہ نقصان ہونے کی وجہ سے بڑے ہی رنج و الم میں تپیدہ تھے ،معاویہ کی ماں ہند بہت زیادہ آہ و فریاد کر رہی تھی ،اس نے قریش کے مردوں اور عورتوں پر جنگ بدر میں قتل ہوجانے والوں پررونا حرام قرار دیدیا تھاتاکہ حزن و اندوہ اُن کے دلوں میںچھپا رہے اوراپنے مقتولین کا انتقام لئے بغیر ختم نہ ہو ، جنگ احد میں قریش کا سردار ابو سفیان تھا، جس کو پہلی مرتبہ اس جنگ میں سرداری ملی تھی ،وہ لوگوں کو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ کرنے کے لئے ابھار رہا تھا ،جنگ کے لئے مال و دولت جمع کر کے اس سے اسلحہ خرید رہا تھا ، قریش رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ کرنے کے لئے اس کی دعوت پر لبیک کہہ رہے تھے ،قریش نے ابوسفیان کے بھڑکانے کی بنا پرنبی کے افراد سے مقابلہ کا فیصلہ کیااور پوری تیاری کے ساتھ اپنی عورتوں کے ساتھ نکلے تا کہ جنگ میں کھرے اُتریں اُن کی قیادت ہند کر رہی تھی عورتیں دف بجا کر یہ شعر پڑھ رہی تھیں :

وَیْهاً بَنِْ عَبْدِ الدَّارْ

وَیْهاً حُمَاةَ الْاَدْیَارْ

ضَرْباً بِکُلِّ بَتَّارْ

''اے آل عبد الدار آگے بڑھو ! اے وطن کے ساتھیوں آگے بڑھو پوری طاقت کے ساتھ حملہ کرو''۔

اس کے علاوہ ہندہ کا مخصوص ترانہ یہ تھا اور وہ کفارقریش سے بلند آواز سے خطاب کر کے کہہ رہی تھی :

اِنْ تُقْبِلُوْا تُعَانِقْ

وَنَفْرِ شِ النَّمَارِقْ

أَوْ تُدْبِرُوْا نُفَارِقْ

فِرَاقَ غَیْرِ وَامِقْ

''اگرتم آگے بڑھوگے تو ہم تم کو گلے لگا لیں گے اور تمہارے لئے بہترین بستر بچھا ئیں گے اور اگر پیچھے ہٹوگے تو ہمیشہ کے لئے تم سے جدا ہوجا ئیں گے '' ۔


مشرکین کے لشکر کی تعداد تین ہزار تھی اور مسلمانوں کے لشکر میں صرف سات سو آدمی تھے ، مشرکین کے لشکر کی قیادت طلحہ بن ابی طلحہ کررہاتھا جس کے ہاتھوں میں پرچم تھا اور وہ یہ نعرہ لگا رہا تھا : اے محمد کے اصحاب تم یہ گمان کر تے ہو کہ اللہ ہم کو تمہاری تلواروں کے ذریعہ بہت جلد جہنم میں بھیج دے گا ،اور تمھیں ہماری تلواروں کے ذریعہ بہت جلد جنت میں بھیج دے گا ،اب تم میں مجھ سے کون لڑے گا ؟اسلام کے بہادر امام نے اس کا مقابلہ کرنے کیلئے پہل کی اور ایسی تلوار ماری کہ اس کے دونوں پیرکٹ گئے جس سے وہ زمین پر گر کر اپنے ہی خون میں لوٹنے لگا ۔۔۔

امام نے اُسے اسی کی حالت پر چھوڑدیا،اس کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کئے یہاں تک کہ وہ کچھ دیر بعدخون نکل جانے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا ،مسلمان اُ س کے مرنے سے اتنے ہی خوش ہو ئے جتنے مشرکین اُس کے مرنے سے محزون ہوئے اور سست پڑگئے ،اس کے پرچم کو قریش کے دوسرے افراد نے سنبھالا ،امام نے ان کا مقابلہ کیا ،اپنی تلوار سے اُن کے سروں کو کاٹ ڈالا ، معاویہ کی ماں ہند قریش کے جذبات ابھارکران کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکارہی تھی اور جب ان میں سے کو ئی پیچھے ہٹ جاتاتھا تو اس کوسرمہ اورسلائی دیکر کہتی تھی: توعورت ہے اور سرمہ لگالے ۔(۱)

در حقیقت یہ بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ مسلمان شرمناک شکست اور عظیم نقصانات سے روبرو ہوئے جن کی وجہ سے اسلام کا فاتحہ پڑھا جانا قریب تھا،اس کی وجہ یہ تھی کہ لشکر اسلام کی ایک جماعت نے نبی کی جنگی ہدایات پر عمل نہیں کیا،رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو عبداللہ بن جبیر(۲) کی قیادت میں ایک پہاڑ پر تعینات کردیا تھا تاکہ وہ پیچھے سے مسلمانوں کی حمایت کرتے رہیں اور ان کو تاکید فر ما دی تھی کہ اپنی جگہ سے نہ ہلنا ،ان کے تیر اندازوں نے اپنے تیروں سے قریش کے لشکر کو بہت زیادہ نقصان پہنچایاجس سے قریش اپنا مال اور اسلحہ چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور مسلمان مال غنیمت جمع کرنے میں لگ گئے جب تیر اندازوںنے یہ حالت دیکھی کہ مسلمان مال غنیمت اٹھارہے ہیں تو ان سے نہ رہا گیا اور اُن میں سے بعض افراد اپنی جگہ چھوڑ کر مسلمانوں کے ساتھ مال غنیمت اٹھانے میں مصروف ہو گئے انھوں نے نبی کے مقرر کردہ قانون کی مخالفت کی اور اپنی جگہ چھوڑ بیٹھے ،جب خالد بن ولید نے یہ دیکھا تو اُس نے پہاڑ پر باقی بیٹھے ہوئے تیر اندازوں کو قتل کرکے پیچھے سے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب پر حملہ کردیااور ان کے کچھ افراد کو قتل کر ڈالا اور مسلمانوں کے لشکر کے بڑے بڑے سرداروں کوپیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔

____________________

۱۔میزان ،جلد ۴،صفحہ ۱۲۔

۲۔سیرئہ نبویہ ،جلد ۲،صفحہ۶۸۔


امام ،کا نبی کی حمایت کرنا

مسلمانوں پر شکست کے بادل منڈلانے لگے وہ حیران و پریشان ہو کر بھاگ کھڑے ہوئے ، ان پر خوف طاری ہو گیا ،انھوں نے نبی کو اللہ کی دشمنوں میں گھراہوا چھوڑ دیا ،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کئی کاری زخم لگ گئے اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ایک گڑھے میں گر گئے جو ابو عامر کی سازش سے اسی مقصد کے لئے تیار کرکے مخفی کر دیا گیا تھاتاکہ مسلمان نا دانستہ طور پراس میںگر جا ئیں ،امام رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دا ئیں طرف تھے ، آپ نے رسول کا دست مبارک پکڑا اور طلحہ بن عبداللہ نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اٹھایایہاں تک کہ آپ کھڑے ہوگئے(۱) نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام سے مخاطب ہو کر فرمایا :یاعلی مافعل الناس ؟'' اے علی لوگوں نے کیا کیا ؟''۔

آپ نے بڑی رنجیدگی کے ساتھ جواب دیا :''انھوں نے عہد توڑ دیا اور پیٹھ پھرا کر بھاگ کھڑے ہوئے ''۔ قریش کے کچھ افراد نے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حملہ کیا جس کی بناپر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دل تنگ ہو گیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی سے فرمایا : ''اَکْفِنِیْ ھٰؤُلَائِ ''،امام نے اُن پر حملہ کیا ،سفیان بن عوف کے چار بیٹوں اور اس کے گروہ کے چھ آدمیوں کو قتل کیا ،اور بہت جد و جہد کے ساتھ دشمن کی اس ٹولی کو نبی سے دور کیا،ہشام بن امیہ کے دستہ نے نبی پر حملہ کیا تو امام نے اس کو قتل کرڈالا اور اس کا گروہ بھاگ کھڑا ہوا ، ایک اور گروہ نے بشربن مالک کی قیادت میں نبی پر حملہ کیاامام نے اس کو قتل کرڈالا تو اس کا دستہ بھی بھاگ کھڑا ہوا ،اس وقت جبرئیل نے امام کے جہاد اور آپ کے محکم ہونے کے متعلق فرمایا:''علی کے اس جذبہ ایثار وقربانی اور مو اسات سے ملائکہ حیرت زدہ ہیں ''نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جبرئیل سے فرمایا :' 'علی کو کو ئی چیز نہیں رو ک سکتی کیونکہ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ''،اس وقت جبرئیل نے کہا :میں تم دونوں سے ہوں ''۔(۲)

امام بڑی طاقت و قدرت کے ساتھ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دفاع کر تے رہے ،آپ کو سولہ ضربیں لگیں اور ہر ضرب زمیں بوس کر دینے والی تھی ،جبرئیل(۳) کے علاوہ آپ کو کو ئی سہارا دینے والا نہیں تھا ، مولائے کائنات نے راہ اسلام میں جن مصائب کا سامنا کیاان کا علم صرف خدا کو ہے ''۔

____________________

۱۔سیرئہ نبویہ ،جلد۲،صفحہ ۷۴۔

۲۔حیاةالامام امیر المو منین ،جلد ۲،صفحہ ۲۰۔

۳۔اسدالغابہ، جلد ۴،صفحہ ۹۳۔


اس جنگ میں اسلام کے بہادر رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا جناب حمزہ شہید ہو گئے ،جب ہند کو یہ خبر ملی تو وہ خوش ہو کر آپ کے لاشہ کی تلاش میں نکلی جب اس کی نظر لاش پر پڑی تو وہ کتے کی طرح لاش پر جھپٹ پڑی اور اس نے آپ کی لاش کوبری طرح مثلہ کردیا، جناب حمزہ کا جگر نکالا اوردانتوں سے چباکر پھینک دیا ، آپ کاناک اور کان کاٹ کر ان کا ہار بناکر پہن لیا ۔۔یہ بات اس کے کینہ درندگی اوروحشی پن پر دلالت کرتی ہے ،اس کا شوہر جلدی سے جناب حمزہ کی لاش پر آیا اور بغض و کینہ سے بھرے دل سے بلند آواز میں کہنے لگا: ''یااباعمارة دارالدهروحال الامر،واشتفت منکم نفس

پھر اس نے اپنا نیزہ بلند کیا اور جناب حمزہ کے لاشہ میں چبھو کر اس جملہ کو اپنی زبان پر دُہرایا : ذق عنق،ذق عنق(۱) اس کے بعد وہ اپنی آنکھوں کو ٹھنڈاکرکے پلٹ گیا،روایت میں آیا ہے کہ اس کا دل جناب حمزہ شہیدسے بغض، کینہ ،کفروشرک اور رذائل سے مملو تھا ۔

لیکن جب نبی کریم اپنے چچا کی لاش پر آئے جس کو ہند نے مثلہ کر دیا تھا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بہت زیادہ محزون و رنجیدہ ہوئے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے چچا سے مخاطب ہو کر فرمایا : ''میرے اوپر آپ کے جیسی مصیبت کبھی نہیں پڑی اور میں ایسے حالات سے کبھی دو چار نہیں ہوا مجھے اس واقعہ سے غیظ آگیا ہے اگر صفیہ کے حزن و ملال اور میرے بعد سنت بن جانے کا خوف نہ ہوتا تو میں اس کو اسی طرح چھوڑ دیتا یہاں تک کہ وہ درندوں اور پرندوں کی غذا بن جاتا ،اور اگر خدا مجھے کبھی قریش پر غلبہ دیتا تو میں اُن میں سے کم سے کم تیس آدمیوں کو مثلہ کر دیتا ''۔

جب مسلمان اس مقدس اور مثلہ لاش پر آئے تو کہنے لگے :اگر خدا نے ہمیں کسی دن اُن پر فتح عنایت کی تو ہم ان کو اسی طرح مثلہ کریں گے کہ کسی عرب نے ایسا نہیں کیا ہوگا ۔۔۔اس وقت جبرئیل یہ آیت لیکر نا زل ہوئے: ( وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَخَیْر لِلصَّابِرِینَ وَاصْبِرْوَمَاصَبْرُکَ ِإلاَّبِاﷲِ وَلاَتَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَلاَتَکُ فِي ضَیْقٍ مِمَّا یَمْکُرُونَ ) ۔(۱)

____________________

۱۔امام علی بن ابی طالب، جلد۱،صفحہ ۸۲۔

۲۔سورئہ نحل، آیت ۱۲۶۔۱۲۷۔


''اور اگر تم ان کے ساتھ سختی بھی کرو تو اسی قدر جتنی انھوں نے تمہارے ساتھ سختی کی ہے اور اگر صبر کرو تو صبر بہر حال صبر کرنے والوں کیلئے بہترین ہے اور آپ صبر ہی کریں کہ آپ کا صبر بھی اللہ ہی کی مدد سے ہوگا اور ان کے حال پر رنجیدہ نہ ہوں اور ان کی مکاریوں کی وجہ سے تنگدلی کا بھی شکار نہ ہوں ''۔

رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے بخش دیا ،صبر کیا ،اور ان کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا :''اِنَّ المُثْلَةَ حَرَامُ وَلَوْ بِالْکَلْبِ الْعَقُوْرِ''''مثلہ کرنا حرام ہے اگر چہ وہ کاٹ کھانے والا کتّا ہی کیوں نہ ہو ''۔

صرف جنگ احد ہی ایسی جنگ ہے جس میں مسلمانوں کو شکست فاش ہو ئی ۔ابن اسحاق کا کہنا ہے :یوم احد بلا و مصیبت کا دن تھا جس میں اللہ نے مو من اور منافق کا امتحان لیا اور منافق واضح طور پر سامنے آگئے ،منافق اس کو کہتے ہیں جو زبان سے ایمان کا اظہار کرے اور اس کے دل میں کفر ہو ،وہ ایسا دن تھا جس

دن اللہ نے ان افراد کوشہا دت کی کرامت عطا کی جنھوں نے شہا دت(۱) کی کرامت طلب کی ہے ۔ اس معرکہ کے بعد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو خبردار کیا کہ مشرکین کی طرف سے مسلمانوں کو کبھی بھی اس طرح کا نقصان نہیں پہنچے گا اور خداوند عالم مسلمانوں کو فتح و کامیابی سے ہمکنار کرے گا۔(۲)

۳۔جنگ خندق

جنگ خندق کو'' واقعہ احزاب'' کہا جاتا ہے اس کو احزاب اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں کئی قبیلوں نے مل کر رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جنگ کی تھی ،جس سے مسلمان تنگ آگئے تھے اور ان پر رُعب و خوف طاری ہو گیا تھا جو مشرکین کے لشکر کی طاقت کا سبب بنا اور ان سے یہودی آکر مل گئے جن کی تعداد دس ہزار تھی ،اور مسلمانوں کے لشکر کی تعداد تین ہزار تھی اس معرکہ میں مسلمانوں پرجو رعب طاری ہو گیا تھا اس کو قرآن کریم نے یوں بیان کیا ہے: ( إذْ جَائُ وکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ َسْفَلَ مِنْکُمْ وَإِذْ زَاغَتْ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتْ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِر ) ۔(۳)

____________________

۱۔سیرة النبویہ، جلد ۲،صفحہ ۱۰۵۔

۲۔تاریخ ابن کثیر،جلد ۴،صفحہ ۴۷۔اس طرح معرکہ ٔ احد تمام ہوا ،ہم نے اس معرکہ سے متعلق بعض چیزوں کو(حیاة الامام امیر المومنین کے دوسرے حصہ میں بیان کیا ہے)۔ ۳۔سورئہ احزاب، آیت ۱۰۔


''اس وقت جب کفار تمہارے اوپر کی طرف سے اور نیچے کی سمت سے آگئے اور دہشت سے نگاہیں خیرہ کرنے لگیں اور کلیجے منھ کو آنے لگے ۔۔۔''۔

اللہ نے اسلام کی فتح وکامیابی امام المتقین امیر المو منین حضرت علی کے ہاتھوں لکھ دی تھی ،علی ہی وہ تھے جنھوں نے مشرکین پر فتح مبین پا ئی اور ان کے لشکر کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔

خندق کھودنا

جب نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قریش اور غطفان کے قبیلوں کے جنگ کرنے کی غرض سے نکلنے کی خبر ملی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اصحاب کو جمع کرکے اس بات کی خبر دی اور اُن سے دشمن کو روکنے کے لئے مشورہ طلب کیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جلیل القدر صحا بی سلمان فارسی نے مدینہ کے چاروں طرف خندق کھودنے کا مشورہ دیا ۔نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس مشورہ کو درست ٹھہرایا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ خندق کھودنے کیلئے کھڑے ہوگئے یہ مسلمانوں کے لئے دشمنوں کے شر سے بچنے کے لئے اچھی حکمت تھی ، قریش وہاں پر آکر ٹھہر گئے ، اور اس سے آگے بڑھنے کیلئے ان کے پاس کو ئی چارہ نہیں تھا اور وہ مسلمانوں سے جنگ کرنے کیلئے ان کے پاس نہیں پہنچ سکتے تھے ،اس جنگ میں بڑے بڑے افراد نے خد مت کی ،اور فریقین کے درمیان تیر اندازی کرنے کے علاوہ عام طریقہ سے جنگ کر نے کا کو ئی امکان نہیں تھا ۔

امام کا عمرو سے مقابلہ

قریش کے قبیلوں کو ایک ساتھ مل کرحملہ کر کے کا میابی کا امکان نہیں تھا لہٰذا انھوں نے خندق کے پاس کی ایک تنگ جگہ تلاش کی اور اس میں گھوڑوں کو ڈال کر خندق پار گئے، ان میں عمرو بن عبد ود بھی تھا جوجاہلیت میں قریش اور کنانہ کا شہسوار شمار ہوتا تھا ،جو ہتھیاروں سے اس طرح لیس تھا گویا ایک قلعہ ہو وہ اپنی طاقت کی وجہ سے جھوم رہا تھا ،جب مسلمانوں نے اس کو دیکھا تو اُن پر خوف طاری ہو گیااور عمرو ان کے سامنے ٹہلنے لگا ،اُس نے مسلمانوں کوتحقیرسے بلند آواز میں کہا :اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھیو!کیا تم میں کو ئی میرا مقابلہ کرنے والا ہے ؟


مسلمانوں کے دل دہل گئے ،اُن پر خوف طاری ہو گیا ،اس نے دوبارہ مبارز طلب کیا!کیا تم میں کو ئی میرا مقابلہ کر نے والا ہے ؟

کسی نے کو ئی جواب نہیں دیا،لیکن اسلام کے بہا در امام امیر المو منین نے عرض کیا :

''اَنَالَهُ یَارَسُوْ لَ اللّٰه''

''یارسول اللہ میں اس کا مقابلہ کر وں گا ''۔

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے چچا زاد بھا ئی کے سلسلہ میں کچھ خوف کھا تے ہوئے فرمایا :''اِنَّهُ عَمْرُو !'' ''یہ عمرو ہے ''۔

امام پیغمبر کے حکم کی تعمیل کر تے ہوئے بیٹھ گئے ،عمرو نے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہوئے پھر اس طرح مبارز طلب کیا : اے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب ،تمہاری وہ جنت کہاں ہے جس کے متعلق تم یہ گمان کرتے ہو کہ قتل ہونے کے بعد اس میں جا ئو گے ؟کیا تم میں سے کو ئی اس میں جانا چا ہتا ہے ؟

مسلمانوں میں خاموشی چھا ئی ہو ئی تھی ،امام نبی سے اجازت لینے پرمصرتھے ، نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس بھی اذن دینے کے علاوہ اور کو ئی چارہ نہیں تھا ،آ نحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام کو شرف و عظمت کاعظیم الشان تمغہ دیااور فرمایا :''بَرَزَالْاِیْمَانُ کُلُّهُ الیٰ الشِّرْکِکُلِّهِ'' کل ایمان، کل شرک کا مقابلہ کر نے کے لئے جا رہا ہے '' ۔

یہ خورشید کی مانند روشن و منورتمغہ ہے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حسین کے پدر بزرگوار کوکل اسلام کی شکل میں مجسم کیا اورعمرو کوکل شرک میں مجسم فرمایا ،اس کے بعد نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے ہاتھو ں کو آسمان کی جانب بلند کرکے گڑگڑاکریو ں اپنے چچا زاد بھا ئی کی حفاظت کے لئے دعا فر ما ئی :''خدایا تو نے مجھ سے حمزہ کو احد میں لے لیا ،بدر میں عبیدہ کو ، آج کے دن علی کی حفاظت فرما۔۔۔پروردگار !مجھے اکیلا نہ چھوڑدینا کہ تو تمام وارثوں سے بہتر وارث ہے ''۔

امام عمرو بن عبد ود سے بغیر کو ئی خوف کھائے ہوئے اس سے جنگ کے لئے روانہ ہوئے آپ نے بے نظیر عزم و ثبات کا مظاہرہ کیا اور عمرو ،اُس جوان سے بہت ہی متعجب ہواجس کو اُس (عمرو)کی کو ئی پروا ہی نہیں تھی ۔عمرو نے کہا :تم کون ہو ؟

امام نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے جواب دیا :''میں علی بن ابی طالب ہوں ''۔


عمرو نے امام سے شفقت و مہربا نی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا :''تمہارا باپ میرادوست تھا۔

اما م کو اس کی صداقت کا یقین نہ ہوا اور اس سے فرمایا :اے عمرو !تونے اپنی قوم سے یہ عہد کیا ہے کہ اگر قریش کا کو ئی شخص تجھ سے تین شرطیں کر ے گا تو ،تو ان میں سے ایک شرط کو قبول کرلے گا ؟۔

عمرو بن عبد ود :ہاں یہ میرا عہد ہے ۔

امام :میں تجھ کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں ۔

عمرو ہنسا اور اس نے امام کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا :کیا میں اپنے آباء و اجداد کے دین کو چھوڑدوں ؟ ان باتوں کو چھوڑ ئے ۔

امام :میں تجھ سے ہاتھ اٹھا ئے لیتا ہوں ،تجھ کو قتل نہیں کرتا ،تو پلٹ جا ؟۔۔۔

عمرو نے اس جوان کی اس جرأت و ہمت پر غضبناک ہو کر کہا :اب آپ مجھ سے بھاگ جانے کی بات کر رہے ہیں !

امام نے اس کے اپنے نفس سے کئے ہوئے عہد کی تیسری بات بیان کرتے ہوئے فرمایا : اپنے گھوڑے سے نیچے اتر آ؟''۔(۱)

عمرو اس جوان کی اس ہمت و جرأت اور اپنی شخصیت کیلئے اس چیلنج اور اپنی اہانت پر بہت زیادہ حیرت زدہ ہوا،وہ اپنی سواری سے نیچے اتر آیااور اس نے اپنی تلوار سے امام کے سر پر وار کیا امام نے اس کو اپنی ڈھال پر روکا تو وہ ڈھال کو کاٹ کر آپ کے سر تک پہنچی جس سے آپ کا سرشگافتہ ہو گیا ،مسلمانوں کو امام کے اپنے رب حقیقی کی بارگاہ میں جانے کا یقین ہو گیا ،لیکن اللہ نے امام کی نصرت و مدد کی آپ نے عمرو کو ایسی ضرب لگا ئی کہ قریش کا یہ بہادر تلملا کے رہ گیااور کفرو شرک کا یہ نمائندہ اپنے ہی خون میں ذبح کئے ہوئے حیوان کی طرح لوٹنے لگا ۔

امام اور مسلمانوں نے نعرئہ تکبیر بلند کیا ،شرک کی کمر ٹوٹ گئی ،اس کی طاقتیں سست ہو گئیں ، اسلام کو امام المتقین کے ہاتھوں یقینی کا میابی ملی ،نبی نے تاریخ میں ہمیشہ کی خاطر امام کیلئے یہ جملہ ارشاد فرمایا :''خندق کے دن علی بن ابی طالب کی ضربت میری امت کے قیامت کے دن تک کے اعمال سے افضل ہے ''۔(۲)

____________________

۱۔مستدرک حاکم، جلد ۳،صفحہ ۳۲۔

۲۔تاریخ بغداد ،جلد ۱۳ ،صفحہ ۱۹۔مستدرک حاکم، جلد ۳،صفحہ ۳۲۔


جلیل القدر صحابی حذیفہ بن یمان کا کہنا ہے :جنگ خندق میںمولائے کا ئنات کے ہاتھوں عمرو کی ہلاکت اگر تمام مسلمانوں کے درمیان تقسیم کر دی جا ئے توسب کے شامل حال ہو گی ۔(۱)

اس وقت نبی اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر یہ آیت نازل ہو ئی: ( وَکَفیٰ اللّٰهُ المُؤمِنِیْنَ الْقِتَالَ ) ۔(۲)

''اور اللہ نے مو منین کو جنگ کی دشواری سے محفوظ رکھا''۔

ابن عباس اپنی تفسیر میں بیان کرتے ہیں : ''اللہ نے مو منین کوجنگ سے علی کے جہادکے ذریعہ بچالیا ''(۳) ۔

امام نے قریش کے دوسرے بہادر نوفل بن عبد اللہ کو قتل کیا جس سے قریش کو شکست فاش ہو ئی اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :''الآن نغزوهم ولایغزوننا'' ۔

''اب ہم ان سے جنگ کریں گے اور انھیں ہم سے جہاد کی اجازت نہ ہو گی ''۔(۴)

قریش گھاٹا اٹھاکر پلٹ گئے ،ان کو شکست فاش ہو ئی اور مسلمانوں کا اس جنگ میں کو ئی نقصان نہیں ہوا ۔

۴۔فتح خیبر

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عزت بخشی اور قریش ذلیل و رسوا ہوئے تو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ مشاہدہ فرمایا کہ مسلمانوں کے ا مور اس وقت تک درست نہیں ہوں گے اورنہ ہی حکومت برقرارہوگی جب تک یہودیوں کا نظام مو جود ہے جو ہمیشہ سے اسلام کے سخت دشمن تھے اور ان (یہودیوں)کی پوری طاقت وقوت خیبر کے قلعہ میںمحصور تھی جو اس زمانہ کے رائج اسلحوں کا کا رخانہ تھا ،منجملہ وہاں ایسے ایسے ٹینک نماتوپ خانے تھے جو گرم پانی اور آگ میں تپا ہواسیسہ پھینکتے تھے اور یہود ی اسلام دشمن طاقتوں کو ہر طرح کی مسلح فوجی مدد پہنچاتے تھے ۔

____________________

۱۔رسائل الجاحظ، صفحہ ۶۰۔

۲۔سورہ احزاب، آیت ۲۵۔

۳۔حیاة الامام امیر المومنین ، جلد ۲،صفحہ ۲۷۔

۴۔اعیان الشیعہ، جلد ۳،صفحہ ۱۱۳۔


نبی نے قلعہ خیبر پر حملہ کر نے کیلئے لشکر بھیجا اور لشکر کا سردار ابو بکر کو بنایا ،جب وہ قلعہ خیبر کے پاس پہنچے تو وہ شکست کھا کر اور مرعوب ہو کر واپس پلٹ آئے ،دوسرے دن عمر کو لشکر کا سردار بنا کر بھیجا وہ بھی پہلے سردار کی طرح واپس آگئے اور کچھ نہ کر سکے اور قلعہ کا دروازہ یوں ہی بند رہا اور کوئی بھی اس تک نہ پہنچ سکا ۔

جب لشکر قلعہ کا دروازہ نہ کھول سکا اور دونوں سردار وں کی سردار ی کچھ کام نہ آسکی تو نبی نے اعلان فرمایاکہ اب میں اس کو سردار بنائوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح عنایت فر مائے گا چناچہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ارشاد فرمایا: ''میں کل علم اس کو دوں گا جس کو اللہ اور اس کا رسول دوست رکھتے ہوں گے اور وہ اللہ اور رسول کو دوست رکھتا ہوگا اور وہ اس وقت تک واپس نہیں آئے گا جب تک اللہ اس کے ہاتھ پر فتح نہ دیدے ۔۔۔''۔(۱)

لشکر انتہائی بے چینی کے عالم میںایسے سردار کوعلم دئے جانے سے آگاہ ہوا جس کے ہاتھ پر اللہ فتح عنایت کرے، اس کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس عہدہ پرامام فائز ہوں گے، اس لئے کہ آپ آشوب چشم میں مبتلا تھے،جب صبح نمودار ہوئی تو نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے علی کو بلایا جب آپ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کی آنکھوںمیں آشوب تھا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنا لعاب دہن لگایا تو آنکھیں بالکل ٹھیک ہوگئیں اور آپ نے علی سے فرمایا:''خُذْ ھٰذِہِ الرّایَةَ حَتَیّٰ یَفْتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکَ ۔۔۔''۔''یہ علم لیجئے یہاں تک کہ خدا آپ کو فتح عنایت کرے گا۔۔۔''۔شاعر مو ہوب یزدی نے اس واقعہ کو یوں نظم کیا ہے :

وَلَهُ یَوْمَ خَیْبَرفَتکاتُ------------کَبُرَتْ مَنْظَراً علیٰ مَنْ رَآها

یَوْمَ قَالَ النَّبِیْ اِنِّیْ لَاُعْطِ----------رَاَیْتِیْ لَیْثَهَاوَحَامِ حِمَاهَا

فَاسْتَطَالَتْ اَعْنَاقُ کُلِّ فَرِیْق ---------لِیَرَوْا اََّ مَاجِدیُعْطَاهَا

فَدَعَا اَیْنَ وَارِثُ الْعِلْمِ وَالْحِدْمِ -----------مُجِیْرُ الایَّامِ مِنْ بَأسَاهَا؟

اَیْنَ ذُوْالنَّجْدَةِ الَّذِْ لَوْ دَعَتْهُ ---------فِْ الثُّرَیَّامَرَوْعَةً لَبَّاهَا

فَأتَاهُ الوَصُِّ اَرْمَدَ عَیْن-------فَسَقَاهُ مِنْ رِیْقِهِ فَشَفَاهَا

____________________

۱۔حلیة الاولیائ، جلد ۱،صفحہ ۶۲۔صفوة الصفوة ،جلد ۱،صفحہ ۱۶۳۔مسند احمد،حدیث نمبر ۷۷۸۔


وَمَضیٰ یَطْلُبُ الصُّفُوْفَ فَوَلَّتْ

عَنْهُ عِلْماً بِأَنَّهُ أَمْضَاهَا(۱)

''خیبر میں آپ نے ایسے حملے کئے جو ششدر کرنے والے تھے ۔

جس دن نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایاکہ میں پرچم بہادر اور محافظ شخص کو دوں گا ۔

اسی لئے ہر فریق یہ دیکھنے کا منتظر تھا کہ پرچم کس کو ملے گا ۔

اُن ہی لمحات میں نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آواز دی کہ علم و حلم کا وارث اور ایام کی قسمت پھیرنے والا کہاں ہے ؟

وہ مدد گار کہاں ہے جس کو اگر کو ئی ثریا میں مدد کے لئے پکارے تو وہ لبیک کہہ دے گا ۔

اس وقت علی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس اس عالم میںآئے کہ آشوب چشم میں مبتلا تھے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے لعاب دہن کے ذریعہ اُن کو شفابخشی۔

اس وقت علی نے کفار کی صفوں پر حملہ کیایہ دیکھ کر کفار پیٹھ پھرا کر بھاگ گئے چونکہ وہ جانتے تھے کہ علی انھیں زندہ نہیں چھوڑیں گے ''۔

اسلام کے بہادر نے بڑی طاقت عزم و ہمت و ثبات قد می کے ساتھ علم لیااور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے عرض کیا :''اُقَاتِلُهُمْ حَتّیٰ یَکُوْنُوامِثْلَنَا؟ ''کیا میں ان سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہو جا ئیں ''رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے فرمایا:''انفُذْ عَلیٰ رَسْلِکَ حتّیٰ تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ، ثُمَّ ادْعُهُمْ اِلیٰ الاِسْلَامِ ،وَاَخْبِرْهُمْ بِمَایَجِبُ اِلَیْهِمْ مِنْ حَقِّ اللّٰهِ ،فَوَاللّٰهِ لَاَنْ یَهْدَِ اللّٰهُ بِکَ رَجُلاًوَاحِداًخَیْرلَّکَ مِنْ أَنْ یَّکُوْنَ لَکَ حُمْر ُالنِّعَمِ'' ۔(۲)

''اپنا پیغام لے کر جا ئویہاں تک کہ ان کے علاقہ میں پہنچ جا ئو،ان کو اسلام کی دعوت دو اوران کو خدا کے اس حق سے آگاہ کرو جو اُن کے ذمہ واجب ہے ،کیونکہ خدا کی قسم اگر تمہارے ذریعہ خدا ایک انسان کی ہدایت کر دے وہ تمہارے لئے سُرخ چو پایوں سے بہتر ہے ''۔آج لشکر کاسردار بڑے ہی اطمینان کے ساتھ بغیر کسی رعب و خوف کے تیزی سے چلا ،جبکہ اس کے ہاتھوں میں فتح کا پرچم لہرا رہا تھااُ س نے باب خیبر فتح کیااور اس کو اپنی ڈھال بنالیاجس کے ذریعہ اس نے

____________________

۱۔شرح الارزیة، صفحہ ۱۴۱۔۱۴۲۔

۲۔صفوة الصفوة ،جلد ۱،صفحہ ۱۶۴۔صحیح البخاری ،جلد ۷،صفحہ ۱۲۱۔


یہودیوں سے اپنا بچائو کیا۔(۱) خوف کی وجہ سے یہودیوں کے کلیجے منھ کو آگئے وہ بہت زیادہ سہم گئے ،کہ یہ کون بہادر ہے جس نے قلعہ کے اس دروازہ کوکھول کر اپنی ڈھال بنالیا ہے جسے چالیس آدمی کھولتے تھے(۲) یہ بڑے تعجب کی بات ہے ۔

امام کا مرحب سے مقابلہ

یہودیوں کے بہادر مرحب نے اپنا مبارز طلب کیاجس کے سر پر یمنی خود تھاجس میں ایک پتھر نے سوراخ کردیا تھا اور اُس نے یہ خود اپنے سر پر رکھ لیا تھااوریہ رجز پڑھ رہا تھا :

قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّ مَرْحَبُ

شَاکی السَّلاحِ بَطَلُ مُجَرَّب

اِذَا اللُّیُثُ أَقْبَلَتْ تَلْتَهِبُ

''خیبر والوں کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں ہتھیاروں سے لیس ہوں بہادر ہوں تجربہ کا رہوں میرے سامنے اچھے اچھے بہادر کا نپتے ہیں ''۔اسلام کے حا می علی نے اس کا استقبال کیا،حالانکہ آپ سرخ جبّہ زیب تن کئے ہوئے تھے اور آپ نے یوں رجز پڑھا:

''انا الذی سَمَّتْنِ اُمِّیْ حَیْدَرَهُ

ضِرْغَامُ آجَامٍ وَلَیْثُ قَسْوَرَهْ(۳)

عَبْلُ الذَّرَاعَیْنِ شَدیدُ قَسْوَرَهْ

کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیْهِ المَنْظَرَه

اَضْرَبُ بِالسَّیْفِ رقَابَ الْکَفَره

أَ کَیْلُهُمْ بِالسَّیْفِ کَیْلَ السَنْدَرَه'' (۴)

____________________

۱۔حیاة الامام امیر المومنین ، جلد۲،صفحہ ۳۰۔

۲۔تاریخ بغداد ،جلد ۱،صفحہ ۳۲۴۔میزان الاعتدال، جلد ۲،صفحہ ۲۱۸۔کنز العمال، جلد ۶،صفحہ ۳۶۸۔اورریاض النضرہ ،جلد ۲ ،صفحہ ۱۸۸میں آیا ہے کہ دروازہ کو ستر آدمیوں نے بڑی ہمت سے اس کی اصلی جگہ پر پہنچا یا۔

۳۔آجام اجمّہ کی جمع ہے اور ان گھنی پتوں اور شاخوں دارجھاڑیوں کو کہا جا تا ہے جن کے پیچھے شیر بیٹھ کر اپنے شکار کی تلاش میں رہتا ہے ، یہاں پر امام کی طاقت و قوت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور آپ نے اجمہ واحد کی ہی حمایت نہیں کی بلکہ آجام کی مدد کی ہے ۔ قسورہ رات کے پہلے حصہ کو کہا جاتا ہے اور یہ شیر کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، قسورہ قسر سے مشتق ہے کیونکہ شیر اپنا شکار بہت زبر دست طریقہ سے حاصل کرتا ہے ۔

۴۔کہا گیا ہے کہ یہ ایک پیمانہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہارے ساتھ بہت وسیع طریقہ سے جنگ کرونگااور اس کے علاوہ معنی بیان کئے گئے ہیں ۔


''میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے میں شیر بیشہ ہوں اور اچانک حملہ کرنے والا ہوں ۔

طاقتور ہوں ،شیرِ جنگل کی مانند ہو ں جو دیکھنے میں بُرے معلوم ہوتے ہیں ۔

میں ذوالفقار کے ذریعہ کفار کو تہہ تیغ کرتا ہوں میں کفار میں سخت خو نریزی پھیلاتا ہوں ''

راویوں کے درمیان اس سلسلہ میں کو ئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ شعر امام(۱) کا ہے اور یہ شعر امام کی کفار اور مارقین کے مقابلہ میں شجاعت اور ثبات قدمی کی ترجمانی کر رہا ہے ۔

امام نے آگے بڑھ کر شجاعت و بہا دری کے ساتھ مرحب پر حملہ کیا اور ایسی تلوار لگا ئی جواس کا خودکاٹ کر اس کے سر میں در آئی اور وہ زمین پر گر کر اپنے ہی خون میں لوٹنے لگا ،پھر آپ نے اس کے جسم کو وحشی و جنگلی جانوروں اور پرندوں کے کھانے کے لئے چھوڑ دیا ،اس طرح خداوند عالم نے اسلام کی قاطعانہ مدد کی ،خیبر کا قلعہ فتح ہوگیا ،اللہ نے یہودیوں کو ذلیل و رسوا کیا ،اور امام نے ان کو ایسا درس دیا جس کو وہ رہتی دنیا تک یاد رکھیں گے ۔(۲)

____________________

۱۔خزانة الادب، جلد ۶،صفحہ ۵۶۔

۲۔ حیاة الامام امیر المومنین ، جلد ۲،صفحہ ۳۰۔


۵۔فتح مکہ

اللہ نے اپنے بندے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو فتح مبین عطا کی ،اور دشمن طاقتوں کو ذلیل کیا ،اور رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی مخالف طاقتوں کو گھاٹا اٹھانا پڑا ،جزیرة العرب کے اکثر علاقوں میں اسلامی حکومت پھیل گئی ،توحید کا پرچم بلند ہوا ،نبی نے یہ مشاہدہ کیا کہ جب تک مکہ فتح نہ ہوآپ کو مکمل فتح نصیب نہ ہوگی، مکہ جو شرک و الحاد کا گڑھ تھااور جب نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مکہ میں تھے تو مکہ والوں نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف جنگ کا اعلان کیاتھااور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دس ہزار یا اس سے زیادہ ہتھیاروں سے لیس سپاہیوں کے ساتھ راہی ٔ مکہ ہوئے جبکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی روانگی کا علم کسی کو نہیں تھا ،اس وقت آپ کے لشکر والوں کو اس بات کا خوف نہیں تھا کہ قریش آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلاف مقابلہ کے لئے آمادہ ہوجا ئیں گے جس کے نتیجہ میں محترم شہر میں خون بہے گا ،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی آما دگی کو چھپائے رکھاتاکہ مکہ والوں کو یکایک اپنی عسکری طاقت سے مرعوب کر یں ۔

اسلام کا لشکربہت تیزی کے ساتھ چلا یہاں تک کہ ان کو شہر مکہ نظر آنے لگا اور مکہ والوں کو اس کی خبر بھی نہیں تھی، نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے لشکر کو لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دیا اور انھوں نے کثیر تعداد میں لکڑیاں جمع کیں ، جب گُھپ اندھیرا ہو گیا تو لکڑیوں میں آگ لگانے کا حکم دیا ،آگ کے شعلے اتنے بلند تھے جو مکہ سے دکھا ئی دے رہے تھے ابو سفیان نالہ و فریاد کرنے لگا اور اس نے خوف کے مارے اپنے ایک طرف بیٹھے ہوئے بدیل بن ورقاء سے کہا :میں نے رات کے وقت کبھی ایسی آگ نہیں دیکھی ۔

بدیل نے کہا :خدا کی قسم یہ قبیلہ ٔ خزاعہ ہے جوجنگ کی آگ بھڑکارہا ہے ۔

ابو سفیان نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا :قبیلہ خزاعہ میں اتنے لشکر اور نیزے نہ ہوتے ابوسفیان پر خوف طاری ہوگیا ،عباس اس کے پاس آئے گویا ان کو مکہ پر حملہ کرنے کی غرض سے آنے والے اسلامی لشکروں کا علم تھا ،عباس نے ابوسفیان سے رات کی تاریکی میں کہا :اے ابو حنظلہ ۔

ابو سفیان نے ان کو پہچان لیا اور کہا :کیایہ ابو الفضل ہے ؟

ہاں ۔میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ۔

اے ابو سفیان تجھ پر وائے ہو ، یہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور قریش کے درخشندہ ستارے ہیں ۔

ابو سفیان کا خون جم گیا وہ اپنے اور اپنی قوم کے متعلق خوف کھا نے لگا ،اس نے حیران و پریشا ن ہوتے ہوئے کہا :میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں اب کیا تدبیر کروں ؟

جناب عباس نے یہ کہتے ہوئے اس کی ایسے راستہ کی طرف ہدایت کی جس سے اس کا خون محفوظ رہے :خدا کی قسم اگر رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم تجھ پر فتح پا گئے تو وہ تیری گردن اڑادیں گے ،لہٰذا تم اس گدھے پر سوار ہو کر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں جائو اور ان کی پناہ مانگو ۔


وہ بہت ہی مضطرب و پریشان تھا اس نے پوری رات جاگ کر بسر کی ،وہ نہیں جانتا تھا کہ عنقریب اس پر کیا گذرنے والی ہے ،اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے مسلمانوں کے خلاف بہت مظالم ڈھائے تھے ۔جب وہ نبی کے سامنے پہنچا تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس سے فرمایا :''کیا ابھی اس بات کا وقت نہیں آیاکہ تجھ کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے علاوہ اور کو ئی خدا نہیں ہے ؟''۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کی طرف سے ڈھا ئی جانے والی طرح طرح کی مشکلات کی طرف توجہ نہیں کی اور اُن کی پردہ پو شی کی تاکہ اسلام کی اصلی روح کی نشر و اشاعت کر سکیں جس میں دشمنوں سے انتقام کی بات نہیں ہو تی ہے ۔

ابو سفیان نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے گڑگڑانے لگا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یوں معافی مانگنے لگا :''میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کتنے بردبار ،کریم اور صلۂ رحم کرنے والے ہیں خدا کی قسم میں یہ گمان کرتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ اگر کو ئی اور خدا ہوتاتو میں اس سے بے نیاز ہوتا ''۔

نبی اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مہربانی سے یوںفرمایا: اے ابو سفیان تجھ پر وائے ہو ،کیا میں نے تیرے لئے یہ بیان نہیں کیا کہ تو جانتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟''۔

ابوسفیان اپنے دل میں مخفی کفر وشرک و الحاد کو نہ چھپاسکا اور اس نے کہا :میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوجا ئیں ،آپ کتنے حلیم ،کریم اور صلۂ رحم کرنے والے ہیں میرے دل میں اب بھی شرک کا شائبہ موجود ہے ۔

جناب عباس نے ایمان نہ لانے کی صورت میںاس کودرپیش خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے یوں گویا ہوئے :تجھ پر وائے ہو مسلمان ہوجا !اس سے پہلے کہ تیری گردن اڑا ئی جائے کہہ دے: اشہد ان لا الٰہ الّااللّٰہ واَنَّ محمداًرسول اللّٰہ ۔

خبیث کبھی بھی پلیدگی و گندگی سے پاک نہیںہوسکتا ،لہٰذا اس نے بڑی کراہت کے ساتھ زبان سے اسلام کا اعلان کیا لیکن اس کے دل میں کفر و نفاق اسی طرح موجیں مارتا رہا ۔

نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے چچا عباس سے ابو سفیان کو ایک تنگ وادی میں قید کرنے کے لئے کہا تاکہ اس کے پاس سے لشکر اسلام گذرے جس کو دیکھ کر قریش ڈرجا ئیںجناب عباس اس کو لیکر ایک تنگ وادی میں گئے اور اس کے پاس سے ہھتیاروں سے لیس لشکراسلام گذراتو جناب عباس نے اس سے سوال کیا :یہ کون ہے ؟

سلیم۔

میرے اور سلیم کے مابین کیا ہے ؟

اس کے پاس سے لشکر کی دوسری ٹکڑی گذری تو اس نے عباس سے کہا :یہ کون ہے ؟


مزینہ ۔

میرے اور مزینہ کے ما بین کیا ہے ؟

اس کے بعد اس کے پاس سے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کاہرے جھنڈوں والا گروہ گذرا جن کے ہاتھوں میںننگی تلواریں تھیں اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بڑے بڑے اصحاب اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھے، ابو سفیان مبہوت ہو کر رہ گیا اور اس نے سوال کیا کہ :یہ کس کا گروہ ہے ؟

یہ مہاجرین اور انصار کے درمیان رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں ۔

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھتیجے کا ملک بڑا ہو گیا اور ان کی حکومت وسیع ہو گئی ۔

جناب عباس نے کہا :اے ابو سفیان ،یہ نبوت ہے ۔

ابو سفیان نے اپنا سر اٹھاتے ہوئے مذاقیہ لہجہ میں کہا :ہاں تبھی تو ۔

یہ جا ہل شخص ایمان لانے والا نہیں تھا، وہ اس کو بادشاہت و سلطنت سمجھ رہا تھا ، پھر عباس نے اس کو آزاد کر دیا تو وہ جلدی سے مکہ واپس پلٹ گیا اور اس نے یہ کہا :اے معشر قریش یہ جو کچھ تمہارے پاس لیکر آئیں اس کو قبول نہ کرنا ،اور جو بھی ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا وہ امان میں رہے گا ۔۔۔۔

قریش نے اس سے کہا :ہمیں تمہارے دروازے کی ضرورت نہیں ہے ۔

جو اس کا ذروازہ بند کرے گا وہ امان میں ہے اور جو مسجد میں داخل ہوگا وہ بھی امان میں رہے گا۔

قریش کو کچھ سکون ہوا تو انھوں نے جلدی سے ابو سفیان کے گھر اور مسجد کا گھیرا ڈال دیا ۔ہند ابوسفیان کے پاس بڑے رنج و غم سے بھرے دل کے ساتھ گئی وہ چیخ چیخ کر ابو سفیان کے خلاف قوم کو ابھار رہی تھی کہ اس خبیث و پلید کو قتل کردو ۔۔۔

ابو سفیان اُن کو ایسی غلطی کرنے سے روک رہا تھا اور ان سے تسلیم ہونے کو کہہ رہاتھا ،نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اسلامی لشکر کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے جس کے ذریعہ اللہ نے قریش کو ذلیل کیا ،کمزور مسلمانوں کو خو شبخت کیا ،نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کعبہ کی طرف متوجہ ہوئے ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان بتوں کا صفایاکیا جن کی قریش پرستش کیا کرتے تھے ،نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ھُبل کی آنکھ پر کمان مارتے ہوئے فرمایا :''جَا ئَ الحَقّ وَزَهَقَ الْبَاطِلْ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوْقَا'' ''حق آیا باطل مٹ گیا بیشک باطل کو تو مٹنا ہی تھا ''اس کے بعد نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو حکم دیا کہ وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کندھوں پر چڑھ کر بتوں کو توڑدیں ،اور بیت اللہ الحرام کو پاک کریں آپ اُن بتوں کو اٹھا اٹھا کر نیچے پھینکتے جا رہے تھے ،یہاں تک کہ آپ نے سب کا صفایا کر دیا، یوں اسلام کے بہادر کے ہاتھوں بتوں کا صفایا ہوا ،جس طرح آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جد خلیل نے بتوں کو تہس نہس کیا تھا ۔


حجة الوداع

جب نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو حضیرة القدس ''جنت ''میں منتقل ہونے کا یقین ہو گیا توآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بیت اللہ الحرام کا حج اور امت کے لئے ایک سیدھے راستہ کا معین کرنا لازم سمجھا،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۱۰ ھ میں آخری حج کر نے کی غرض سے نکلے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امت کے لئے اپنے اس دنیا سے آخرت کی طرف عنقریب کو چ کرنے کے سلسلہ میں یوں اعلان فرمایا :''اِنِّی لَا اَدْرِ لَعَلِّ لَااَلْقَاکُمْ بَعْدَ عَامِیْ هٰذَا بِهٰذا الْمَوْقِفِ اَبَداً'' ''مجھے نہیں معلوم کہ میں اس سال کے بعداس جگہ تمھیں دیکھ سکوں گا ''۔

حجاج خوف و گھبراہٹ کے ساتھ چل پڑے وہ بڑے ہی رنجیدہ تھے اور یہ کہتے جا رہے تھے : نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنی موت کی خبر دے رہے ہیں ،نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کے لئے ہدایت کا ایسا راستہ معین فرمادیا تھا جس سے وہ فتنوں سے دور رہیںاور یہ فرماکر ان کی اچھی زندگی گذرنے کی ضمانت لے رہے تھے :''ایها النَّاسُ، اِنِّیْ تَرَکْتُ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ،کِتَابَ اللّٰهِ وَعِتْرَتِْ أَهْلَ بَیْتِ '' ۔

''اے لوگو! میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ،کتاب خدا اور میری عترت میرے اہل بیت ہیں ۔۔۔''۔

کتاب اللہ سے متمسک رہنا ،اس میں بیان شدہ احکام پر عمل کرنااور اہل بیت نبوت سے محبت دوستی کرناکہ اسی میں امت کی گمرا ہی سے نجات ہے حج کے اعمال تمام کرنے کے بعد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا جس میںآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اسلامی تعلیمات اوراس کے احکام بیان فرمائے اورآخرمیں فرمایا :''لاترجعوا بعدی کفّاراً مُضَلِّلِیْنَ یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ اِنِّ خَلَّفْتُ فِیْکُم ْ مَااِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوْا:کِتَابَ اللّٰهِ وَعِتْرَتْ اَهْلَ بَیْتِ،أَ لَاهَلْ بَلَّغْتُ؟'' ۔

''میرے بعد کا فر نہ ہو جانا ،لوگوں کو گمراہ نہ کرنا ،ایک دوسرے سے جنگ نہ کرنا ،میں تمہارے درمیان وہ چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر تم اُن سے متمسک رہوگے تو ہر گز گمراہ نہ ہو گے :اللہ کی کتاب اور میری عترت ،میرے اہل بیت ہیں ،آگاہ ہو جائو کیا میں نے(احکام الٰہی) پہنچا دیا؟''


سب نے ایک ساتھ مل کر بلند آواز میں کہا : ہاں ۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :''اَللّٰهُمَّ اشْهَدْ اِنَّکُمْ مَسْئوُلُوْنَ فَلْیَبْلُغِ الشَّاهِدُ مِنْکُمُ الْغَائِبَ'' ۔(۱)

''خدایا ! گواہ رہنا ۔۔تم حاضرین کی ذمہ داری یہے کہ اس پیغام کو غائبین تک پہنچادیں ''۔ہم اس خطبہ کا کچھ حصہحیاة الامام امیر المومنین میں ذکر چکے ہیں ۔

غدیر خم

حج کے ارکان بجالانے کے بعد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ حج کے قافلے مدینہ کی طرف واپس آرہے تھے ،جب غدیر خم کے مقام پر پہنچے تو جبرئیل اللہ کے حکم سے نازل ہوئے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے قافلہ کو اسی مقام پر روک کر حضرت علی کو اپنے بعد اس امت کا خلیفہ اور امام بنا دیجئے اور اس کے انجام دینے میں بالکل تاخیر نہ فرما ئیںچنانچہ اس وقت یہ آیت نازل ہو ئی: ( یَاَیُّهَاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَ ِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاس ) ۔(۲)

''اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچا دیں جوآپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا ''

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس امر کوبہت اہمیت دی اور پختہ ارادہ کے ساتھ اُس پر عمل کا فیصلہ کیا آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے قافلہ کو اسی گرمی کی شدت سے مرجھائے ہوئے درختوں کے نیچے روک دیا اور دوسرے قافلوں کو بھی وہاں ٹھہر کر اپنے خطبہ سننے کی تلقین فرما ئی ،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز ادا کرنے کے بعد اونٹوں کی کجاووں سے منبر بنانے کا حکم دیاجب منبر بن کر تیار ہو گیا تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے منبر پر جا کر ایک خطبہ ارشاد فرمایاجس میں اعلان فرمایا کہ جس نے اسلام کی راہ میں مشکلیں برداشت کیں اور اس راستہ میں ان کے گمراہ ہونے کا خطرہ تھا میں نے ان کو اس خطرے سے نجات دلا ئی ،پھر اُن سے یہ فرمایا:میں دیکھوںگاکہ تم میرے بعد ثقلین کے ساتھ کیسا برتائو کر و گے ؟''۔

____________________

۱۔حیاة الامام الحسین جلد ۱،صفحہ ۱۹۵۔منقول از تاریخ یعقوبی، جلد ۲،صفحہ ۹۰۔

۲۔سورئہ مائدہ ،آیت۶۷۔


قوم میں سے ایک شخص نے پوچھا :یا رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ثقلین کیا ہے ؟

''ثقل اکبر :اللہ کی کتاب ہے جس کا ایک سرا اللہ عز و جل کے قبضۂ قدرت میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے تم اس سے متمسک رہنا توگمراہ نہیں ہوگے ،اور دوسری چیز ثقل اصغر :میری عترت ہے ،اور لطیف و خبیر خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں ،میں نے اپنے پروردگار سے اس سلسلہ میں دعا کی ہے اور ان دونوں سے آگے نہ بڑھنا ورنہ ہلاک ہو جائو گے اور نہ ہی اُن کے بارے میں کو تا ہی کر نا کہ اس کا نتیجہ بھی ہلا کت ہے ۔

اس کے بعد آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے وصی اور اپنے شہر علم کے دروازے امام امیر المو منین کی مسلمانوں پر ولایت واجب قرار دی ،اُن کو اس امت کی ہدایت کے لئے معین کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو! مومنین کے نفسوں پرتصرف کے سلسلہ میںخود اُن سے اولیٰ کون ہے ؟

سب نے ایک ساتھ کہا :اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:بیشک اللہ میرا مو لاہے ،میں مو منین کا مو لا ہوں ،میں اُن کے نفسوں سے زیادہ اولیٰ و بہتر ہوں پس جس جس کا میں مو لا ہوںیہ علی بھی اس کے مو لا ہیں ۔

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس جملہ کی تین مرتبہ تکرارکی ،پھرمزید فرمایا:

''اللّٰهُم وَال من والاه،وعادمن عاداه،واحبَّ مَنْ احبَّهُ،وَابغض من ابغضه،وَانصرمن نصره، واخذُلْ مَنْ خذله وادْرِالحقّ مَعَهُ حیثُ دارَ،أَلا فلیبلغ الشاهدُ الغَائِبَ'' ۔

''اے خدا!جو اسے دوست رکھے تو اسے دوست رکھ ،جو اس سے دشمنی رکھے تواسے دشمن رکھ ،جو اس سے محبت کرے تواس سے محبت کر ،جو اس سے بغض رکھے تو اس سے بغض رکھ ،جو اس کی مدد کرے تواس کی مدد کر ، جو اس کو رسوا کرے تو اس کو رسوا و ذلیل کر ،پالنے والے !حق کو اس طرف موڑدے جدھر یہ جا ئیں آگاہ ہوجائو حاضرین غائبین تک یہ پیغام پہنچا دیں ''۔

خطبہ کا اختتام اس امت کے لئے عام مرجعیت اور اپنے بعد مسلمانوں کے امور انجام دینے کے لئے رہبر و رہنما معین فرمانے پر ہوا ۔


تمام مسلمانوں نے قبول کیا ،امام کی بیعت کی اورتمام مسلمانوں نے مبارکباد پیش کی ،نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امہات المو منین کو بھی بیعت کرنے کا حکم دیا ۔(۱) عمر بن خطاب نے آگے بڑھ کر امام کو مبارکباد دی، مصافحہ کیا اور اپنا یہ مشہور مقولہ کہا :مبار ک ہو اے علی بن ابی طالب آج آپ میرے اور ہر مو من و مومنہ کے مو لا ہوگئے ہیں ۔(۲) حسان بن ثابت نے یہ اشعار پڑھے :

''یُنادِیْهِمُ یَوْمَ الغَدِیْرِ نَبِیُّهُمْ

بِخُمٍّ وَاَسْمِعْ بِالرَّسُوْلِ مُنادِیاً

فقال فمَنْ مَولاکُم و نبِیُّکُمْ

فقالُوا وَلَمْ یُبْدُوا هُنَاک التِعَامِیَا

اِلٰهُکَ مَوْ لانا وَأَنْتَ نَبِیُّنَا

وَلَمْ تَلْقَ مِنَّا فِی الْوِلَایَةِ عاصِیا

فقال له قُم یا علّ فاِنَّنِ

رَضِیْتُکَ مِنْ بَعْدِْ اِمَاماً وهادیا

فمنْ کُنْتُ مَولاهُ فهٰذا ولیُّهُ

فکونوا لهُ أَتْبَاعَ صِدْقٍ مَوَالِیا

هُناکَ دعا اللّهمَّ وال ولِیَّهُ

وکُنْ للذ عادَ علیّاً مُعا دِیا(۳)

''غدیر کے دن اُن کو اُن کا نبی میدان خم میں پُکار رہاتھا۔نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا اے لوگو!تمہارا مو لا و نبی کون ہے ؟لوگوں نے بیساختہ کہا۔آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا خدا ہمارا مو لا ہے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمارے نبی ہیں ،اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہم سے کسی مخالفت کا مشاہدہ نہیں کریں گے۔

اس وقت حضور نے مو لائے کا ئنات سے فرمایا:اے علی کھڑے ہوجائو کیونکہ میں نے تم کو اپنے بعد کے لئے امام اور ہادی منتخب کر لیا ہے۔ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی بھی مو لا ہیں تو اُس کے سچے پیروکار اوردوست دارہوجائو۔

____________________

۱۔الغدیر، جلد ۲،صفحہ ۳۴۔

۲۔مسند احمد، جلد ۴،صفحہ ۲۸۱۔

۳۔الغدیر، جلد ۱،صفحہ ۲۷۱۔


اُس وقت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دعا فرما ئی: خدا یا علی کے دوستدار کو دوست رکھ اور علی کے دشمن کو دشمن رکھ''

علامہ علا ئلی کے بقول بیشک غدیر خم میں امام کی بیعت کرنا رسالتِ اسلام کا جزء ہے جس نے اس کا انکار کیااس نے اسلام کا انکار کیا ۔

ابدی غم

جب نبی اپنے پروردگار کی رسالت اور امیر المو منین کو اس امت کا رہبر و مرجع معین فرماچکے تو روز بروز آپ کمزور ہوتے گئے ،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو شدید بخار ہوگیا،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم چادر اوڑھے ہوئے تھے جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج نے اپنے ہاتھ سے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہاتھ کو دیکھااسوقت بخار کی حرارت کااحساس ہوا،(۱) جب مسلمانوں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی عیادت کی توآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو اپنی موت کی خبر دی، اور ان کو یوں دائمی وصیت فرما ئی : ''ایھا الناس،یوشک أَنْ اقبض قبضاً سریعاً فینطلق ب وقدمت الیکم القول مَعْذِرَةً اِلَیْکُمْ،اَلَااِنِّْ مُخَلِّفُ فیکم کِتاب اللّٰہ عزَّوَجلَّ وَعِتْرَتِْ اَھْلَ بَیْتِْ ۔۔۔' '۔

''اے لوگو ! عنقریب میں داعی اجل کو لبیک کہنے والا ہوں ۔۔۔آگاہ ہوجائو میں تمہارے درمیان اللہ عز و جلّ کی کتاب اور اپنی عترت اپنے اہل بیت کو چھوڑے جا رہا ہوں ''۔

موت آپ سے قریب ہو تی جا رہی تھی ،آپ کو واضح طور پر یہ معلوم تھا کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اصحاب کا ایک گروہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت سے خلافت چھیننے کے سلسلہ میں جد و جہد کر رہا ہے، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان سے شہر مدینہ کو خالی کرانے میں بہتری سمجھی ،ان کو غزوئہ روم کیلئے بھیجنا چا ہا ،لشکر تیار کیا گیا ،جس کی ذمہ داری نوجوان اسامہ بن زید کو سونپی گئی ،بڑے اصحاب اس میں شامل ہونے سے کترانے لگے ،انھوں نے اپنے مشورہ کے تحت لشکر تیار کیاکیونکہ ان کا اُس لشکر سے ملحق ہونا دشوار تھا ،اس وقت رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور ان سے یوں خطاب فرمایا :''نَفِّذُ وْا جَیْشَ اُسَامَةَ ۔۔''،''لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْ جَیْشِ اُسَامَةَ ۔۔''۔ ''اسامہ کے لشکر سے جا کر ملحق ہو جاؤ ''، '' جس نے اسامہ کے لشکر سے تخلف کیا اس پر خدا کی لعنت ہے ''۔

____________________

۱۔البدایہ والنہایہ، جلد ۵،صفحہ ۲۶۔


نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اس طرح سخت انداز میں کی گئی ان نصیحتوں کا اُن پر کوئی اثر نہیں ہوا ،اور انھوں نے نبی کے فرمان پر کان نہیں دھرے ، اس سلسلہ میں اہم بحثوں کو ہم نے اپنی کتاب ''حیاةالامام الحسن '' میں بیان کر دیا ہے ۔

جمعرات ،مصیبت کا دن

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے وصی اور باب مدینة العلم کے لئے غدیر کے دن کی بیعت اور شوریٰ کے دروازوں کو بند کرنے کے لئے یہ بہتر سمجھا اورآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا :''اِئتُوْنِیْ بِالْکَتِفِ وَالدَّوَاةِ لَاَکْتُبَ لَکُمْ کِتَاباً لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَہُ اَبَداً ۔۔۔''۔

''مجھے کاغذ اور قلم لا کر دو تاکہ میں تمہارے لئے ایسا نوشتہ تحریر کردوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو ' '۔

مسلمانوں کے لئے یہ بہت بڑی نعمت تھی ،سرور کا ئنات اس طرح اپنی امت کو گمراہی سے بچنے کی ضمانت دے رہے تھے تاکہ امت ایک ہی راستہ پر چلے جس میں کسی طرح کا کو ئی بھی موڑ نہ ہو، امت اسلامیہ کی ہدایت اور اصلاح کے لئے اس نوشتہ سے بہتر کو نسا نوشتہ ہو سکتا ہے ؟یہ نوشتہ علی کے بارے میں آپ کی وصیت اور اپنے بعد امت کے لئے ان کے امام ہونے کے سلسلہ میں تھا ۔

بعض اصحاب ،نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مقصد سے با خبر تھے کہ نبی اس نوشتہ کے ذریعہ اپنے بعد علی کو اپنا خلیفہ بنا نا چا ہتے ہیں ،لہٰذا اس بات کی یہ کہکر تردید کر دی:''حسبناکتاب اللّٰہ ۔۔۔''ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے ۔۔۔''

اس قول کے سلسلہ میں غور و فکر کرنے والے اس کے کہنے والے کی انتہا تک پہنچ جا ئیں گے کیونکہ اس کو مکمل یقین ہو گیا کہ نبی اس نوشتہ کے ذریعہ اپنے بعد علی کو خلیفہ بنانا چا ہتے ہیں اور اگر اس کو یہ احتمال بھی ہوتا کہ نبی سرحدوں یا کسی دینی شعائرکی حفاظت کے بارے میںوصیت کر نا چا ہتے ہیں تو اس میں یہ کہنے کی ہمت نہ ہو تی ۔

بہر حال حاضرین میں بحث و جدال ہونے لگا ایک گروہ کہہ رہا تھا کہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کی تعمیل کی جا ئے اور دوسرا گروہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم او رنوشتہ کے درمیان حائل ہوناچاہتا تھا ،کچھ امہات مو منین اور بعض عو رتیں نبی کے آخری وقت میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کے سامنے اس طرح کی جرأت سے منع کر تے ہوئے کہہ رہی تھیں : کیا تم رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان نہیں سن رہے ہو ؟ کیا تم رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم کو عملی جامہ نہیں پہنائوگے ؟


اس جنگ و جدل کے بانی عمر نے عورتوں پر چیختے ہوئے کہا :اِنَّکُنَّ صویحبات یوسف اذامرض عصرتن أعینکنَّ،واذاصحّ رکبتن عنقہ ۔''تم یوسف کی سہیلیاں ہوجب وہ بیمار ہوجاتے ہیں تو تم رونے لگتی ہو اور جب وہ صحت مند ہوجاتے ہیں تو ان کی گردن پر سوار ہو جا تی ہو ''

رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا:''ان کو چھوڑ دو یہ تم سے بہتر ہیں ۔۔۔''۔

حاضرین کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا عنقریب تھا کہ نبی اپنے مقصد میں کا میاب ہوجائیں تو بعض حاضرین نبی کے اس فعل میںحا ئل ہو تے ہوئے کہنے لگے :''نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہذیان ہو گیا ہے''۔(۱)

نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے اس سے بڑی اور کیا جرأت ہو سکتی ہے ،مر کز نبوت پر اس سے زیادہ اور کیا ظلم و ستم اور زیاد تی ہو سکتی ہے کہ نبی پر'' ہذیان ہو نے کی تہمت لگا ئی جائے ،جن کے بارے میں خدا فرماتا ہے :( مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوَی وَمَا یَنْطِقُ عَنْ الْهَوَی إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْ یُوحَی عَلَّمَهُ شَدِیدُ الْقُوَی ) ۔(۲)

''تمہارا ساتھی نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا،اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کر تا ہے ،اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہو تی رہتی ہے ،اسے نہایت طاقت والے نے تعلیم دی ہے ''۔

(معاذاللہ)نبی کو ہذیان ہوگیا ہے جن کے متعلق خداوند عالم فرماتا ہے: ( إنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ کَرِیمٍ ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَکِینٍ ) ۔(۳)

''بیشک یہ ایک معزز فرشتے کا بیان ہے ،وہ صاحب قوت ہے اور صاحب عرش کی بارگاہ کا مکین ہے ''۔

____________________

۱۔یہ واقعہ تمام مو رخین نے دلیل کے ساتھ نقل کیا ہے ،بخاری نے اس واقعہ کو متعدد مر تبہ جلد ۴،صفحہ ۶۸، ۶۹۔جلد ۶ ،صفحہ ۸میں نقل کیا ہے لیکن اس کے قائل نام نہیں بیان کیا ۔نہایہ ابن اثیراور شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،جلد ۳، صفحہ ۱۱۴ میں اور دوسرے راویوں نے اس واقعہ کو نقل کرنے والوں کے نام بیان کئے ہیں ۔

۲۔سورئہ نجم ،آیت ۲۔۵۔

۳۔سورئہ تکویر ،آیت ۱۹۔۲۰۔


قارئین کرام! ہمیں اس واقعہ کو غور کے ساتھ دیکھنا چا ہئے جذبات سے نہیں ،کیونکہ اس کا تعلق ہمارے دینی امور سے ہے ،اس سے ہمارے لئے حقیقت کا انکشاف ہو تا ہے اور اسلام کا مقابلہ کرنے والوں کے مکر پر دلیل قائم ہو تی ہے ۔

بہر حال ابن عباس امت کے نیکو کار افراد میں سے ہیںجب ان کے سامنے اس واقعہ کا تذکرہ ہواتو ان کا دل حزن و غم اور حسرت و یاس سے پگھل کر رہ گیا وہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کے رخساروں پر

مو تیوں کی طرح آنسو کے قطرے بہنے لگے اور وہ یہ کہتے جارہے تھے :جمعرات کا دن، جمعرات کے دن کیاہو گیا ،رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان ہے :''اِئتُوْنِْ بِالْکَتِفِ وَالدَّوَاةِ لَاَکْتُبَ لَکُمْ کِتَاباً لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ اَبَداً '' ۔

''مجھے کاغذ اور قلم لا کر دو تاکہ میں تمہارے لئے ایسا نوشتہ تحریر کردوں جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو'' مجمع نے جواب دیا : رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ہذیان ہو گیا ہے ۔(العیاذ باللہ)(۱)

سب سے زیادہ یہ گمان کیا جا رہا تھا کہ اگر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم امام کے حق میں کو ئی نو شتہ تحریر فرمادیتے تو لکھنے سے کو ئی فائدہ نہ ہوتا،اس لئے انھوں نے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کو ئی پروا نہ کر تے ہوئے ان پرہذیان کی تہمت لگا دی اور واضح طور پر نبی کی قداست کومجروح کر دیا۔

جنت کا سفر

اب رسول ، لطف الٰہی سے آسمان کی طرف رحلت کر نے والے تھے ،جس نور سے دنیا منور تھی وہ جنت کی طرف منتقل ہونے جا رہا تھا ،ملک الموت آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی روح کو لینے کیلئے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قریب ہو رہے تھے، لہٰذا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے وصی اور اپنے شہر علم کے دروازے سے مخاطب ہو کر فر مایا :

''ضَعْ رَاسِیْ فِْ حِجْرِکَ، فَقَدْ جَائَ اَمْرُاللّٰهِ،فَاِذَافَاضَتْ نَفْسِْ فَتَنَاوَلْهَا،وَامْسَحْ بِهَا وَ جْهَکَ،ثُمَّ وَجِّهْنِْ الیٰ الْقِبْلَةِ،وَتَوَلَّ اَمْرِْ،وَصَلِّ عَلَیَّ اَوَّلَ النَّاسِ،وَلَاتُفَارِقْنِْ حتّی

____________________

۱۔مسند احمد، جلد ۱،صفحہ ۳۵۵۔


تَوَارِیْنِ فِْ رَمْسِْ وَاسْتَعْنِ بِاللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ ''

''میرا سر اپنی آغوش میں رکھ لو ،اللہ کا امر آچکا ہے جب میری روح پرواز کرجائے تو مجھے رکھ دینا،اس سے اپنا چہرہ مس کرنا،پھر مجھے رو بقبلہ کر دینا،تم میرے ولی امر ہو ،تم مجھ پر سب سے پہلے صلوات بھیجنے والے ہو ،اور مجھے دفن کرنے تک مجھے نہ چھوڑنااور اللہ سے مدد مانگو''۔

امام نے نبی کا سر مبارک اپنی گود میں رکھا ،آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا داہنا ہاتھ تحت الحنک سے ہٹا کر سیدھا کیا ، ابھی کچھ دیر نہ گذری تھی کہ آپ کی عظیم روح پرواز کر گئی اور اما م نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چہرئہ اقدس پر اپنا ہاتھ پھیرا ۔(۱)

زمین کانپ گئی ،نو رعدالت خاموش ہو گیا ۔۔۔غم و اندوہ کی دنیا میں یہ کیسا یاد گار دن تھا ایسا دن کبھی نہ آیا تھا ۔

مسلمانوں کی عقلیں زائل ہوگئیں ،مدینہ کی بزرگ عورتوں نے اپنے چہروں پر طمانچے مار مار کر رونا شروع کیا وہ چیخ چیخ کر رو رہی تھیں،امہات المومنین نے اپنے سروں سے چا دریں اُتار دیں،وہ اپنا سینہ پیٹ رہی تھیں اور انصار کی عورتیں چیخ چیخ کر اپنے حلق پھاڑے ڈال رہی تھیں ۔(۲)

سب سے زیادہ رنجیدہ و غمگین اہل بیت اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جگر گو شہ فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا تھیں، آپ اپنے پدر بزرگوار کے لاشہ پر رو رو کر یوں بین کر رہی تھیں :

''واابتاه ' ' !''اے پدر بزرگوار''۔

''وانبّ رحمتاه '' ۔''اے نبی رحمت ''۔

''الآن لایاتى الوحى '' ۔

''اب جبرئیل وحی لے کر نہیں آئیں گے ''۔

____________________

۱۔مناقب، جلد ۱،صفحہ ۲۹۔اس مطلب پر متعدد متواتر احا دیث دلالت کر تی ہیں کہ جب نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات ہو ئی تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سر اقدس علی کی آغوش میں تھا ملاحظہ کیجئے طبقات ابن سعدجلد ۲صفحہ ۵۱۔مجمع الزوائدجلد ۱صفحہ ۲۹۳۔کنز العمال، جلد ۴،صفحہ ۲۵۵۔ذخائر العقبیٰ، صفحہ ۹۴۔ریاض النضرہ ،جلد ۲،صفحہ ۲۱۹۔

۲۔انساب الاشراف ،جلد ۱،صفحہ ۵۷۴۔


''الآن ینقطع عنَّاجبرئیلُ '' ۔

''اب ہم سے جبرئیل کا رابطہ ختم ہو جا ئیگا''۔

''اَللّٰھُمَّ اَلْحِقْ روح بروحہ،وَاشفعن بالنظرالیٰ وجھہ،ولَاتَحرِمْنِْ اَجْرَہُ وَشفاعتَہُ یَوْمَ القِیَامَةِ ''(۱) ۔

''پروردگار میری روح کو میرے پدر بزرگوار سے ملحق کر دے ،اور میری میرے پدر بزرگوار کے چہرے پر نظر ڈالنے سے شفاعت کرنا ،اور مجھے قیامت کے دن اس کے اجر اور ان کی شفاعت سے محروم نہ کرنا ''۔

آپ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جنازہ کے گرد گھوم رہی تھیںاور یوں خطاب کر رہی تھیں:

''وَاَبَتَاهُ ! الیٰ جِبْرِئِیْلَ اَنْعَاهُ ''۔اے پدر بزرگوار !جبرئیل نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی موت کی خبر دی ۔

''وَاَبَتَاهُ ! جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَاوَاهُ '' ۔اے پدر بزرگوار آپ کا ملجاء و ماوای جنت الفردوس ہے ۔

''وَاَبَتَاهُ! أَجَابَ رَبّاًدَعَاهُ '' ۔(۲) اے پدر بزرگوارآپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے پرورگار کی آواز پر لبیک کہی۔

اورحیرانی اور اس عالم میںکہ آپ مصیبت کی بنا پرحواس باختہ ہو گئی تھیں آپ کی ایسی حالت ہو گئی تھی لگتا تھا کہ آ پ کے جسم سے روح مفارقت کرگئی ہو ۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جنازہ کی تجہیز

امام اپنے چچا زاد بھا ئی کے جنازے کی تجہیز کر رہے تھے، حالانکہ آپ کی انکھوں سے اشکوں کا سیلاب جاری تھا ، آپ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جسم اقدس کو غسل دیتے وقت کہتے جا رہے تھے:''بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ یَارَسُوْلَ اللّٰهِ ،لَقَدْ اِنْقَطَعَ بِمَوْتِکَ مَالَمْ یَنْقَطِعْ بِمَوْتِ غَیْرِکَ مِنَ النَّبُوَّةِ وَالاَنْبَائِ وَاَخْبَارِالسَّمَائِ خَصَّصَتْ حَتَّیٰ صِرْتَ مُسَلِّیاًعَمَّنْ سِوَاکَ وَعَمَّمْتَ حَتَّیٰ صَارَالنَّاسُ فِیْکَ سِوَائوَلَوْلَا اَنَّکَ اَمَرْتَ بِالصَّبْرِ،وَنَهَیْت عنِ الْجَزَ عِ لَا َنْفَدْنَا عَلَیْکَ مَائَ الشَّئوُنِ وَلَکَانَ الدَّاء

____________________

۱۔تاریخ خمیس، جلد ۲،صفحہ ۱۹۲۔

۲۔سیر اعلام النبلائ، جلد ۲،صفحہ ۸۸۔سنن ابن ماجہ، جلد ۲،صفحہ ۲۸۷۔۲۸۸۔اس میں حماد بن زید سے روایت ہے کہ : میں نے راوی حدیث کی اس حدیث کو بیان کرتے وقت روتے اور اس کی حالت متغیر ہو تی دیکھی ۔


مُمَاطِلاً، وَالْکَمَدُ مُخَالِفاً'' ۔(۱)

''میرے ماں باپ آپ پر فدا ہو جا ئیں یا رسول اللہ آپ کی موت سے وہ تمام چیزیں منقطع ہوگئیں جو آپ کے علاوہ کسی نبی کی موت سے منقطع نہ ہو ئیں، جیسے آسمانی خبریں ،آپ اس طرح سمٹے کہ تمام لوگوں سے گو شہ نشین ہو گئے اور اس طرح پھیلے کہ لوگ آپ کی نظر میں یکساں ہو گئے، اگر آپ نے صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور نالہ و فریاد کر نے سے نہ روکا ہوتاتو روتے روتے ہماری آنکھوں سے آنسو ختم ہو گئے ہوتے اور ہم بیمارہوجاتے''

غسل دینے کے بعد آپ نے نحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جسم اطہر کو کفن پہنایا اور تابوت میں رکھا ۔

جسم اطہر پر نماز جنازہ

سب سے پہلے اللہ نے عرش پر آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نماز جنازہ پڑھی ،اس کے بعد جبرئیل ،پھر اسرافیل اور اس کے بعد ملائکہ نے گروہ گروہ(۲) کر کے نماز جنازہ ادا کی ،جب مسلمان نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جنازہ پر نماز جنازہ پڑھنے کیلئے بڑھے تو امام نے اُن سے فرمایا :''لایَقُوْمُ عَلَیْہِ اِمامُ مِنْکُمْ،ھُوَ اِمامُکُمْ حَیّاًوَمَیِّتاً''،''تم میں سے کو ئی امامت کے لئے آگے نہ بڑھے اس لئے کہ آپ حیات اور ممات دونوں میں امام ہیں ''لہٰذا وہ لوگ ایک ایک گروہ کر کے نماز ادا کر رہے تھے ،اور ان کا کو ئی پیش امام نہیں تھا ، مخصوص طور پر مولائے کائنات حضرت علی نے نماز جنازہ پڑھا ئی اور وہ لوگ صف بہ صف نماز پڑھ رہے تھے اور امام کے قول کو دُہراتے جا رہے تھے جس کی نص یہ ہے:''السَّلَامُ عَلَیکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَکَاتُهُاَللَّهُمَّ اِنّاَ نَشْهَدُ اَنَّهُ قَدْ بَلَّغَ مَااُنْزِلَ اِلَیْهِ،وَنَصَحَ لاُمَّتِهِ،وَجَاهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ حَتّیٰ اَعَزَّاللّٰهَ دِیْنَهُ وَتَمَّتْ کَلِمَتُهُاَللَّهُمَّ فَاجْعَلْنَامِمَّنْ یَتَّبِعَ مَااَنْزَلَ اِلَیْهِ،وَثَبِّتْنَا بَعْدَهُ، وَاجْمَعْ بَیْنَنَابیْنََهُ''

''سلام ہو آپ پر اے اللہ کے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور اس کی رحمت اور برکت ہو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر،۔۔۔بیشک ہم گو ا ہی دیتے ہیں کہ جو کچھ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر نازل ہوا وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے پہنچا دیا،امت کی خیر خوا ہی کی ،اللہ کی راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کے دین کو قوی اور مضبوط بنا دیا،اور اس کی بات مکمل ہو گئی ،اے خدا ہم کوان لوگوں میں سے قرار دیا جن پر تو نے نازل

____________________

۱۔نہج البلاغہ، جلد ۲،صفحہ ۲۵۵۔

۲۔حلیة الاولیائ، جلد ۴، صفحہ ۷۷۔


کیا اور انھوں نے اس کی اتباع کی ،ہم کو بعد میں اس پر ثابت قدم رکھ ،اور ہم کو ان کو آخرت میں ایک جگہ جمع کرنا ''

نماز گذار کہہ رہے تھے :آمین۔(۱)

مسلمان نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جنازے کے پاس سے گذرتے ہوئے ان کو وداع کرتے جارہے تھے ، جو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے قریب تھے اُن پر حزن و ملال کے آثار نمایاں تھے کیونکہ ان کو نجات دلانے والا اور ان کامعلم دنیا سے اٹھ چکا تھا ،جس نے ان کیلئے بڑی محنت و مشقت کے ساتھ منظم شہری نظام کی بنیاد رکھی،اب وہ داعی اجل کو لبیک کہہ چکا تھا ۔

جسم مطہر کی آخری پناہ گاہ

جب مسلمان اپنے نبی کے جسم اقدس پر نماز پڑھ چکے تو امام نے نبی اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیلئے قبر کھودی ، اور قبر کھودنے کے بعدجسم اطہر کو قبر میں رکھاتواُ ن کی طاقت جواب دے گئی ،آپ قبر کے اندر کھڑے ہوئے قبر کی مٹی کو اپنے آنسووں سے تر کرتے ہوئے فرمایا :''اِنَّ الصَّبْرَلجَمِیْل اِلَّاعَنْکَ،وَاِن الْجَزَعَ لقَبِیْحُ اِلَّاعَلَیْکَ،وَاِنَّ الْمُصَابَ بِکَ لَجَلِیْلُ،وَاِنَّهُ قَبْلَکَ وَبَعْدَکَ لَجَلَلُ '' ۔(۲)

''آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علاوہ سب پر صبر کرنا جمیل ہے ،آپ کے علاوہ پر آہ و نالہ کرنا درست نہیں ہے ، آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر مصاب ہونا جلالت و بزرگی ہے اور بیشک اس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد بزرگی ہے ''۔

اس یادگار دن میں عدالت کے پرچم لپیٹ دئے گئے ،ارکان حق کا نپ گئے ،اور کا ئنات کو نورانی کرنے والا نور ختم ہو گیا ،وہ نور ختم ہوگیا جس نے انسانی حیات کی روش کواس تاریک واقعیت سے جس میں نور کی کو ئی کرن نہیں تھی ایسی با امن حیات میں بدل دیاجو تمدن اور انصاف سے لہلہا رہی تھی اس میں مظلوموں کی آہیں اور محروموں کی کراہیں مٹ رہی تھیں ،خدا کی نیکیاں بندوں پر تقسیم ہو رہی تھیںجن نیکیوں کا کو ئی شخص اپنے لئے ذخیرہ نہیں کر سکتا ۔

____________________

۱۔کنزالعمال، جلد۴ ،صفحہ ۵۴۔

۲۔نہج البلاغہ، صفحہ ۴۰۹۔


سقیفہ کا اجلاس

دنیائے اسلام میں مسلمانوں کا کبھی اتنا سخت امتحان نہیں لیاگیاجتنا سخت امتحان سقیفہ کے ذریعہ لیا گیا ،وہ سقیفہ جس سے مسلمانوں کے درمیان فتنوں کی آگ بھڑک اٹھی ،اور ان کے درمیان قتل و غارت کا دروازہ کھل گیا ۔

انصار نے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے دن سقیفہ بنی ساعدہ میں میٹنگ کی جس میں انھوں نے اوس اور خزرج کے قبیلوں کو شریک کرکے یہ طے کیاکہ خلافت ان کے درمیان سے نہیں جا نی چا ہئے ، مدینہ والوں کو مہا جرین کا اتباع کرتے ہوئے علی کی بیعت نہیں کر نا چاہئے جن کو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خلیفہ بنایا تھا اور غدیر خم کے میدان میں علی الاعلان ان کو خلیفہ معین فرمایا تھا ،انھوں نے ایک ہی گھر میں نبوت و خلافت کے جمع ہونے کا انکار کیا ،جیساکہ بعض بزرگان نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علی کے حق میں نوشتہ لکھنے کے درمیان حا ئل ہوئے،اور انھوںنے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرمان کو نافذ کرنے کے بجائے اس کو ترک کردیا ۔

بہر حال رسو لصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے لشکر میں انصار طاقت و قوت کے اعتبار سے اصل ستون سمجھے جاتے تھے لیکن رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کی وجہ سے قریش کے گھر وں میں رنج و غم اورماتمی لباس عام ہوچکا تھالہٰذاجو افراد انصار سے بیحد بغض و کینہ رکھتے تھے ، انھوں نے انصار کے ڈر کی وجہ سے اجلاس منعقد کرنے میں بہت ہی عجلت سے کام لیا ۔

حباب بن منذر کا کہنا ہے : ہمیں اس بات کا ڈر تھا کہ تمہارے بعد وہ لوگ ہم سے ملحق ہوجائیں جن کی اولاد آباء و اجداد اور اُن کے بھا ئیوں کو ہم نے قتل کیا ہے ''۔(۱)

حباب کی دی ہو ئی خبر محقق ہو ئی چونکہ کم مدت والے خلفاء کی حکومت ختم نہیں ہو ئی تھی کہ امویوں نے حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی ،امویوں نے اُن کو بہت زیادہ ذلیل و رسوا کیا ،معاویہ نے تو ظلم و ستم کرنے میں انتہاء کر دی ،جب اس کا بیٹا یزید تخت حکومت پر بیٹھا تو اُ س نے اُن پر ظلم و ستم کئے اُن کی آبرو ریزی کی ،ان کو سخت ایذا و تکلیف پہنچا ئی ،اُ س نے واقعہ حَرّہ میں جس کی تاریخ میں کو ئی مثال نہیں ملتی اُن کے

اموال ،خون اور آبروریزی کو مباح کر دیا تھا ۔

____________________

۱۔حیاة الامام الحسین ، جلد ۱،صفحہ ۲۳۵۔


بہر حال کچھ انصار نے سعد کوخلافت کا حقدارقرار دیااور کچھ نے قبیلہ ٔ اوس کے سردار خُضَیر بن اُسید کو خلافت کے لئے بہتر سمجھا ،اُنھوں نے اور قبیلہ ٔ سعد یعنی خزرج سے سخت بغض و کینہ کی وجہ سے اُ س کیلئے بیعت سے انکار کیا،ان دونوں کے ما بین بہت گہرے اور پرانے تعلقات تھے ، عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی انصار کے ہم پیمان کو بہت جلد سقیفہ میں رو نما ہونے والے واقعہ سے اور ابو بکر و عمرکوآگاہ کیا تو یہ دونوں جزع و فزع کرتے ہوئے جلدی سے سقیفہ پہنچے ، وہ دونوں انصار پراس طرح دھاڑے کہ جو کچھ ان کے ہاتھوں میں تھا وہ زمیں بوس ہو گیا ، سعد کا رنگ اڑ گیا ،ابو بکر و انصار کے ما بین گفتگو ہونے کے بعد ابو بکر کے گروہ نے اٹھ کر ان (ابوبکر) کی بیعت کرلی ،اس بیعت کے اصل ہیرو عمر تھے ،انھوںنے یہ کھیل کھیلا، لوگوں کو اپنے ہم نشین کی بیعت کے لئے اُبھارا،ابو بکر اپنے گروہ کے ساتھ سقیفہ سے نکل کر مسجدِ رسول تک تکبیر و تہلیل کے سایہ میں پہنچے ،اس بیعت میں خاندانِ رسالت ،اسی طرح بڑے بڑے صحابہ جیسے عمار بن یاسر،ابوذر اور مقداد کے ووٹ باطل قرار دئے گئے۔

ابو بکر کی بیعت کے متعلق امام کا ردّ عمل

تمام مو رخین اور راویوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام ،ابو بکر کی بیعت سے سخت ناراض تھے ، کیونکہ آپ اس کے اس سے زیادہ سزاوار اور حقدار تھے ،آپ کی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے وہی نسبت تھی جو مو سیٰ کی ہارون سے تھی ،آپ کی جد وجہد اور جہاد سے اسلام مستحکم ہوا ،آپ اسلام کے سلسلہ میںبڑے بڑے امتحانات سے گذرے ،نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ کو اپنا بھا ئی کہہ کر پکارا اورمسلمانوں سے فرمایا :''مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیّ مَوْلَاهُ '' لیکن انھوں نے بیعت کر نے سے منع کیا ، ابو بکر اور عمر نے آپ سے زبر دستی بیعت لی ، عمر بن خطاب نے اپنے دوستوں کے ساتھ آپ کے گھر کا گھیرا ڈال دیا ، وہ آپ کو دھمکیاں دے رہے تھے اپنے ہاتھ میں آگ لئے ہوئے تھے ،بیت وحی کو جلانا چا ہتے تھے ، جگر گو شۂ رسول سیدة نسا ء العالمین نے بیت الشرف سے نکل کر فرمایا :اے عمر بن خطاب تم کس لئے آئے ہو ؟


''انھوں نے لا پرواہی سے جواب میں کہا : میں جو کچھ لیکر آیا ہوں وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے والد بزرگوار کی لا ئی ہوئی چیز سے بہتر ہے ''۔(۱)

بڑے افسوس کی بات ہے کہ امت مسلمہ جناب فاطمہ زہرا کے سامنے ایسا سلوک کرے ، وہ زہراء مرضیہ جن کے راضی ہونے سے خدا راضی ہوتا ہے اور جن کے غضبناک ہونے سے خدا غضبناک ہوتا ہے اور ہمارے پاس ان حالات کو دیکھتے ہوئے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْن کہنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔

بہر حال امام کو زبر دستی گھر سے نکال کر ان کے گلے میں لٹکی ہو ئی تلوار کے ساتھ ابو بکر کے پاس لایاگیا ،اس کے گروہ نے چیخ کر کہا :ابو بکر کی بیعت کرو ۔۔۔ابو بکر کی بیعت کرو ۔

امام نے اپنی مضبوط و محکم حجت اور ان کی سر کشی کی پروا نہ کرتے ہوئے یوں فرمایا :میں اس امر میں تم سے زیادہ حق دار ہوں ،میں تمہاری بیعت نہیں کروں گا بلکہ تمیں میری بیعت کرناچاہئے ، تم نے یہ بات انصار سے لی ہے ،اور تم نے اُن پر نبی سے قرابت کے ذریعہ احتجاج پیش کیا ،اور تم نے بیعت کو ہم اہل بیت سے غصب کر لیا ،کیاتمہارا یہ گمان نہیں ہے کہ تم پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قرابت کی وجہ سے اس امیر کے سلسلہ

____________________

۱۔ملاحظہ کیجئے انساب الاشراف بلاذری ،اور مو رخین کا اس بات پر اجماع ہے کہ عمر نے امام کے بیت الشرف کو جلانے کی دھمکی دی تھی ۔ اس سلسلہ میں ملاحظہ کیجئے :تاریخ طبری ،جلد ۳،صفحہ ۲۰۲۔تاریخ ابو الفدائ، جلد ۱،صفحہ ۱۵۶۔تاریخ یعقوبی ،جلد ۲صفحہ ۱۰۵۔مروج الذھب، جلد۱،صفحہ ۴۱۴۔الامامت و السیاسة، جلد ۱،صفحہ ۱۲۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد ۱، صفحہ۳۴۔الاموال لابی عبیدہ صفحہ ۱۳۱۔أعلام النسائ، جلد ۳،صفحہ ۲۰۵۔امام علی لعبد الفتاح مقصود، جلد ۱،صفحہ ۲۱۳۔حافظ ابراہیم نے اس مطلب کو اشعار میں یوں نظم کیا ہے :

وَقولَةٍ لِعَلٍِ قَالها عمرُ

اَکرِمْ بِسامِعِهَااَعْظِمْ بِمُلقِیْهَا

حرَّقْتُ دَارَکَ لَااَبْقِْ عَلَیْک بِها

اِنْ لَمْ تُبَایِعْ وَبِنْتُ المُصْطَفیٰ فِیْها

مَا کَانَ غَیْرُ أَ بِْ حَفْصٍ بِقَائِلِهَا

اَمَامَ فَارِسِ عَدْنَانٍ وَ حَامِیْهاَ

''عمر نے مو لائے کا ئنات سے کہا اے علی میں تمہارے گھر میں آگ لگا دوں گا چا ہے گھر میں دختر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہی کیوں نہ ہو مگر یہ کہ بیعت کرو ''عمر کے علاوہ شہسوار عرب کے سامنے کسی میں ایسی بات کہنے کی جرأت نہیں تھی ''


میں انصار سے اولیٰ ہو،لہٰذا وہ تمہاری قیادت قبول کریں اور تمھیں اپنا امیر تسلیم کریں لہٰذا میں بھی اس چیز کے

ذریعہ سے تم پر احتجاج کر تا ہوں جس سے تم نے انصار پر احتجاج کیا کہ ہم پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حیات اور ان کی وفات کے بعد ان سے زیادہ نزدیک ہیں لہٰذا اگر تم صاحب ایمان ہو تو انصاف کرو ،ورنہ ظلم و ستم کے ذریعہ بیعت لے لو جبکہ تم حقیقت سے واقف ہو ۔

اے حجت و دلیل والو!اس دلیل کے ذریعہ قریش کے مہا جرین ،انصار پر غالب آگئے ، کیونکہ وہ نبی سے زیادہ قریب تھے ،اس لئے کہ کلمہ ٔ قریش کے متعدد معنی ہیں وہ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بزم میں جمع ہوا کر تے تھے ، حالانکہ وہ ان کے نہ چچا زاد بھا ئی تھے اور نہ ماموں ،لیکن نبی اور علی کے ما بین متعدد طریقوں سے متعدد رشتے تھے ،آپ نبی کے چچا زاد بھا ئی ،ابو سبطین اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹی کے شوہر تھے جس کے علاوہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی کسی اور سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نسل نہیں چلی ۔

بہر حال عمر امام کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھا :بیعت کرو ۔۔۔

امام نے فرمایا:''اگر میں بیعت نہ کروں تو ؟''۔

اس خدائے وحدہ لا شریک کی قسم جس کے علاوہ اور کو ئی خدا نہیں ہے آپ کوقتل کردیا جائے گا ۔

امام نے کچھ دیر خامو ش رہنے کے بعد اس قوم کی طرف دیکھا جس کو خواہش نفسانی نے گمراہ کر دیا تھا ،ملک و بادشاہت کی چا ہت نے اندھا کر دیا تھا ،آپ کو ان میں اُن کے شر سے بچانے والا کو ئی نظر نہیں آرہا تھا ،آپ نے بڑی ہی غمگین آواز میں فرمایا :اب تم اللہ کے بندے اور رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے بھا ئی کو قتل کر دوگے ؟

ابن خطاب نے کہا :اللہ کے بندے تو صحیح ہے لیکن رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھا ئی نہیں ۔۔۔

عمر نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ان فرامین کو بھلا دیا جن میں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا ہے کہ علی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھا ئی ہیں ،اُن کے شہر علم کا دروازہ ہیں ،نبی سے ہارون اور مو سیٰ کی منزل میں ہیں اور اسلام کے پہلے مجا ہد ہیں ،عمر نے اُن سب کو بھلا کر ابو بکر سے مخاطب ہو کر کہا :''اَلاتامرفیہ امرک ؟''کیا تم علی کے بارے میں اپنا فیصلہ صادر نہ کروگے ؟

ابو بکر نے فتنہ و فساد ہونے سے ڈرتے ہوئے کہا :میں آپ پر کو ئی زبر دستی نہیں کر تا حالانکہ فاطمہ آپ کے پاس کھڑی ہو ئی تھیں ۔


قوم نے امام کو چھوڑ دیا ،آپ ہرولہ کرتے ہوئے اپنے بھا ئی رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے روضہ پر پہنچے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے تمام ظلم و ستم کی شکایت کی ،آپ گریہ کر رہے تھے اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے یہ کہتے جا رہے تھے :''یابن اُمّ،اِنَّ القَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِْ وَکَادُوْایَقْتُلُوْنَنِْ '' ۔(۱)

اے بھائی ،قوم نے مجھے کمزور سمجھ لیا ہے اور وہ مجھے قتل کرنا چا ہتی ہے ۔۔۔''

قوم نے آپ کو کمزور سمجھ لیا اور آپ کے سلسلہ میں نبی کی وصیتوں کا انکار کردیا ،امام بڑے ہی رنج و الم کے ساتھ اپنے بیت الشرف پر پہنچے اور آپ پر وہ تمام چیزیں واضح و روشن ہو گئیں جن کے سلسلہ میں ا للہ نے نبی کے بعد آپ کو امت کی طرف سے پہنچنے والے عذاب اور انقلاب کی خبر دی تھی ۔خداوندعالم فرماتا ہے: ( وَمَامُحَمَّدإ ِلاَّرَسُول قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِیْن مَاتَ َوْقُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی َعْقَابِکُمْ وَمَنْ یَنْقَلِبْ عَلَی عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَضُرَّاﷲَ شَیْئًا ) ۔(۲)

''اور محمد تو صرف ایک رسول ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیںکیا اگر وہ مرجائیں یا قتل ہو جا ئیں تو تم الٹے پیروں پلٹ جا ئوگے تو جو بھی ایسا کریگا خدا کا نقصان نہیں کرے گا''۔

یہ تباہ کن تبدیلی اور شدید زلزلہ ہے جس نے قوم کے ایمان اور خوابوں کو جھنجھوڑدیا ہے بیشک ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں ۔

بہر حال ہم ان افسوسناک واقعات سے قطع نظر کر تے ہیں کہ ابو بکر کی حکو مت نے اہل بیت سے سخت دشمنی کی وجہ سے سخت قوانین نافذ کرتے ہوئے فدک چھین لیا ،خمس کولغو قرار دیا اور اس کے علاوہ متعدد واقعات رو نما ہوئے جن کو ہم نے تفصیل کے ساتھ حیات الامام امیر المو منین میں تحریر کر دیاہے۔

زہرا راہ آخرت میں

امام امیر المو منین اس المناک مصیبت میں مبتلا ہوئے کہ حضرت زہرا سلام اللہ نے شہادت پائی ،

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مریض ہو گئیں اور سخت مصیبتوں میں گھر گئیں ،آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عین عالم شباب میں تھیں کہ موت نے آپ کا پیچھا کیاجگر گوشہ ٔ رسول نے اپنے پدر بزرگوارکی وفات کے بعدطرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کیا کیونکہ امت نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نگاہ میں آپ کی منزلت کو فراموش کر چکی تھی ،اُس نے آپ کے ترکہ کو غصب کرلیا،گھر پر قبضہ کر لیا

____________________

۱۔امامت والسیاست ،صفحہ ۲۸۔۳۱۔

۲۔سورئہ آل عمران آیت ۱۴۴۔


آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ابن عم کو وصیت کی منجملہ یہ کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حق کو چھیننے والے آپ کے جنازہ میں نہ آئیں ،اُن کو رات کی تاریکی میں دفن کیا جائے ،قبر کا نشان مٹا دیا جائے تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپ امت پر کس قدر غضبناک تھیں ۔

بہر حال امام نے صدیقہ طاہرہ کی آخری رسومات میں آپ کی وصیت کونافذ فرمایا،آپ آنکھوں سے جاری ہونے کی حالت میں قبر میں اُترے ،رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سلام کیا ،اُن کو تعزیت پیش کی ، اور یوں شکوہ شکایت کیا:

''السَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰهِ عَنِّْ،وَعَنْ ابْنَتِکَ النَّازِلَةِ فْ جَوَارِکَ،السَّرِیْعَة اللَّحَاقِ بِکَ ! قَلَّ یَارَسُوْلَ اللّٰه عَنْ صَفِیَِّتِکَ صَبْرِْ وَرَقَّ عَنْهَا تَجَلُّدِْ،اِلَّااَنَّ فِ التَّأَسِّیْ،بِعَظِیْمِ فُرْقَتِکَ،وَفَادِحِ مُصِیْبَتِکَ،مَوْضِعَ تَعَزٍّ،فَلَقَدْ وَسَّدْتُکَ فِیْ مَلْحُوْدَتِ قَبْرِکَ وَفَاضَتْ بَیْنَ نَحْرِْ وَصَدْرِْ نَفْسُکَ( اِنَّالِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْن )

فَلَقَدْ اسْتُرْجِعَتِ الْوَدِیْعَةُ،وَاُخَذَتِ الرَّهِیْنَةُ ! اَمَّاحُزْنِْ فَسَرْمَدُ،وَاَمَّا لَیْلِْ فَمُسَهَّدُ،اِلیٰ اَنْ یَخْتَارَاللّٰهُ لِْ دَارَکَ اللَّتِیْ اَنْتَ بِهَامُقِیْمُ وَسَتُنَبِئُکَ ابْنَتُکَ بِتَضَافُر ِاُمَّتِکَ عَلیٰ هَضْمِهَا، فَاَحْفِهَا السَّوَالَ،وَاسْتَخْبِرْهَاالْحَالَ،هَذَاوَلَمْ یَطُلْ الْعَهْدُ،وَلَمْ یَخْلُ مِنْکَ الذِّکْرُ

وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمَا سَلَامَ مُوَدِّعٍ،لَاقَالٍ وَلَاسَئْمٍ،فَاِنْ أَنْصَرِفْ فَلَا عَنْ مَلَالَةٍ ، وَاِنْ أُقِمْ فَلَا عَنْ سُوْئِ ظَنٍّ بِمَاوَعْدَ اللّٰهُ الصَّا بِرِیْنَ ''(۱)

''یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ کو میری جانب سے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جوارمیں آنے والی اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے جلد ملحق ہونے والی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹی کی طرف سے سلام ہو ۔یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی برگزیدہ (بیٹی کی رحلت) سے میرا صبرو شکیب جاتا رہا ۔میری ہمت و توانا ئی نے ساتھ چھوڑ دیا۔لیکن آپ کی مفارقت کے حادثۂ عظمیٰ

اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی رحلت کے صدمہ ٔ جا نکاہ پرصبر کر لینے کے بعدمجھے اس مصیبت پر بھی صبر و شکیبا ئی ہی سے کام لینا پڑے گا جبکہ میں نے اپنے ہاتھوں سے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لحد میں اُتارااور اس عالم میں آپ کی روح نے پرواز کی کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا سر میری گردن اور سینہ کے درمیان رکھا تھا۔اِنَّالِلّٰهِ وَاِنَّااِلَیْهِ رَاجِعُوْن ۔

اب یہ امانت پلٹا لی گئی ،گروی رکھی ہو ئی چیز چھڑا لی گئی لیکن میرا غم بے پایاں اور میری راتیں بے

____________________

۱۔نہج البلاغہ، جلد ۲،صفحہ ۱۸۲۔


خواب رہیں گی ۔ یہاں تک کہ خداوند عالم میرے لئے بھی اسی گھر کو منتخب کرے جس میں آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رونق افروز ہیں وہ وقت آگیا کہ آپ کی بیٹی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو بتا ئیں کہ کس طرح آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امت نے اُن پر ظلم ڈھانے کے لئے اتحاد کر لیا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اُن سے پورے حالات دریافت کرلیں یہ ساری مصیبتیں اُن پربیت گئیں ۔حالانکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو گذرے ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا اور نہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے تذکروں سے زبانیں بند ہو ئی تھیں ۔

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دونوں پر میراالوداعی سلام ہو نہ ایسا سلام جو کسی ملول و دل تنگ کی طرف سے ہوتا ہے اب اگر میں (اِس جگہ سے) پلٹ جائوں تو اس لئے نہیں کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے میرا دل بھر گیا ہے اور اگر ٹھہرا رہوں تو اس لئے نہیں کہ میں اس وعدے سے بد ظن ہوں جو اللہ نے صبر کرنے والوں سے کیا ہے ''۔(۱)

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امانت کے مفقود ہونے پرامام کے یہ حزن و غم سے بھرے کلمات تھے جیسا کہ آپ کے کلمات دنیا کی طرف سے پہنچنے والے درد و الم کی حکایت کر تے ہیں ،اور امام نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مطالبہ کیا کہ اپنے پارئہ تن سے امت کی طرف سے پہنچنے والے دردو الم کے متعلق ضرور سوال کریں تاکہ وہ بتا سکیں کہ امت نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو کس طرح ستایا ہے ۔

بہر حال امام جگر گوشۂ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دفن کرکے آئے جبکہ آپ بہت زیادہ رنجیدہ تھا ، اس لئے کہ قوم نے اُن کو معزول کر دیا ،آپ نے اُمت سے منھ موڑ لیا اورآپ تمام سیاسی امورسے الگ تھلگ ہوگئے۔

عمر کی حکومت

ابو بکر کی حکومت کو کچھ ہی دن گذرے تھے اور وہ اپنی حکومت کے دو سال گذرنے کے بعد بیمار پڑگئے اور جب ان کو اپنی موت کا یقین ہو گیا تو انھوں نے حکومت اپنے ساتھی عمر کے حوالہ کر دی ، بزرگ صحابہ کے مابین عمر کو ولی بنائے جانے پر بہت زیادہ لڑا ئی جھگڑا ہوامگر یہ کہ ابو بکر نے ان کی ایک نہ ما نی اور اپنی اسی رائے پر مصر رہے(۲) اس نے عمر کے لئے ایک عہد نامہ لکھاجس کو عثمان کے حوالہ کیا گیا اس نے اس کو لوگوں کے درمیان شائع کیا اور انھیں عمر کی بیعت کر نے کی دعوت دی ۔

____________________

۱۔نہج البلاغہ، جلد ۲،صفحہ ۱۸۲۔

۲۔ابوبکر پر عمر کے ولی بنائے جانے پر طلحہ وغیرہ نے انتقاد کیا ،ملاحظہ کیجئے شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،جلد ۹،صفحہ ۳۴۳۔


بہر حال عمر کو بہت ہی آسانی اور کسی مشکل کے بغیر حکومت مل گئی ،وہ لوہے سے زیادہ سختی کے ساتھحکومت پر قابض ہوگئے ،سختی کا نام دی جانے والی سیاست کے قائد بن گئے ،یہاں تک کہ بڑے بڑے اصحاب کے ساتھ بھی سختی سے پیش آنے لگے ،مو رخین کے بقول وہ حجاج کی تلوار سے بھی زیادہ سخت تھے ، عمرکی سخت گیری تمام افراد سے زیادہ تھی ،وہ شہروں پر مکمل طور پر مسلط ہوگئے حکومتی امور کو چلانے میں وہ اپنی مخصوص سیاست میں منفرد تھے ،ہم اپنی کتاب حیاة الامام امیر المو منین کے دوسرے حصہ میں اُن کی داخلی ،خارجی اور اقتصادی سیاست کومفصل طور پر بیان کر چکے ہیں ۔

عمر پر حملہ

ایرانیوں کے مقابلہ میں عمر کی مخصوص سیاست تھی ،اسی لئے عمر ایرانیوں سے نفرت کرتا تھا اور ایرانی عمر سے نفرت کرتے تھے ،ابو لؤ لؤ نے عمر کی عداوت کو چھپارکھا تھا ، ایک دن ان کاعمر کے پاس گذر ہوا تو عمر نے ان سے مذاق کرتے ہوئے کہا :مجھے خبر ملی ہے کہ تم یہ کہتے ہو :لوشئت ان اصنع رحی تطحن بالریح لفعلت؟

''اگر میں ہوا سے چلنے والی چکی بنا نا چا ہوں تو بنا سکتا ہوں ''۔

یہ جملہ ان کو بُرا لگااور انھوں نے غضبناک ہوکر اپنا دفاع کر تے ہوئے یوں کہا : لاصنعنّ لک رح یتحدّث بھا الناس۔۔۔''میں تیرے لئے ایسی چکی بنائوں گا جس کا لوگوں میں چرچا رہے گا ''

دوسرے دن انھوں نے عمرپر حملہ کر دیا(۱) اور اس کو تین نیزے مارے :ایک نیزہ اس کی ناف کینیچے لگا جس سے اس کی نیچے والی کھال پھٹ گئی ،اس کے بعد ابو لؤ لؤ نے اہل مسجد پر حملہ کیا اور گیارہ آدمیوں کو نیزہ مارا ،عمر کو اٹھاکر اس کے گھر پرلیجایا گیا حالانکہ اس کے زحم سے خون بہہ رہا تھا ، اس نے اپنے اطراف والوں سے کہا :مجھے کس نے تیر مارا ہے ؟ مغیرہ کے غلام نے ۔۔

کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا :لا تجلبوا لنا من العلوج احداً فغلبتمون ۔(۲)

____________________

۱۔مروج الذہب، جلد ۲،صفحہ ۲۱۲۔

۲۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید ،جلد ۲،صفحہ ۱۸۵۔


''کسی ایرانی کافر کو میرے پاس نہ لانا لیکن تم نے میری بات نہ ما نی ''

عمرکے اہل و عیال طبیب کو بلا کر لائے تو طبیب نے عمر سے کہا :تم کونسی شراب زیادہ پسند کرتے ہو ؟ عمر نے کہا : نبیذ۔

عمر کو وہ شراب پلا ئی گئی وہ اس کی بعض آنتوں سے نکل کر باہر آگئی ،لوگوں نے کہا :پیپ نکل رہا ہے ۔اس کے بعد دودھ پلایا گیا جو اس کی کچھ آنتوں سے باہر نکل گیا ،یہ دیکھ کر طبیب نے مایوس ہو کر کہا : اب تمہارا کو ئی علاج نہیں ہو سکتا ۔(۱)

شوریٰ کا نظام

عمر کے مرض میں شدت آتی گئی تو وہ امت قیادت کو سونپنے کی فکر میں پڑگئے تو اس کی پارٹی کے وہ افراد جنھوں نے خاندان نبوت سے امت کی رہبری کو باہر نکالنے میں مدد کی تھی اس نے اُن سے کف افسوس ملتے ہوئے کہا :اگر ابو عبیدہ زندہ ہوتا تو میں اسے خلیفہ بناتا چونکہ وہ امت کا امین تھا اور اگر سالم مو لا ابو حذیفہ زندہ ہوتا تو اس کو خلیفہ بنا دیتا کیونکہ وہ اللہ سے بہت زیادہ لو لگاتا تھا۔

جب ہم تاریخ اسلام کے اوراق الٹتے ہیں تو نہ تو ہمیں ابو عبیدہ کا تاریخ میں کو ئی کارنامہ دکھائی دیتاہے اور نہ ہی اس کی عالم اسلام میں کو ئی خدمت دکھا ئی دی ۔

لیکن ہاں سالم مو لا ابو حذیفہ کی کمینہ پن کر نے کی عادت تھی ،ہاں ،اسی نے تو مو لا ئے کائنات کے بیت الشرف پر حملہ کرنے کا کردار ادا کیا تھا ۔۔۔ان حوادث کا گروہی اور تقلیدی تعصبات سے ہٹ کر جائزہ لینا چاہئے تاکہ مسلمانوں کو صحیح حالات کا علم ہو جائے ۔

بہر حال عمر نے شوریٰ کے نظام کی بنیاد رکھی ،جس نظام کا مہمل ہونا کسی پر مخفی نہیں ہے ، الغرض انھیں امام کو خلافت سے دور رکھنا تھا لہٰذا انھوں نے قرشیوں کو خوش رکھنے کیلئے امام امیر المو منین سے بغض و کینہ و عناد رکھنے والے اموی خاندان کے سردار عثمان بن عفان کو خلافت دیدی ۔

____________________

۱۔اصابہ، جلد ۲،صفحہ ۴۶۲۔امامت اورالسیاسة، جلد ۱،صفحہ ۲۱۔


بہر حال شوریٰ کے نظام کے تقاضے کے مطابق عثمان نے امت کی قیادت قبول کرلی،وہ نظام جس سے مسلمان ہمیشہ کے لئے فتنہ و فساد اور عظیم شر ّ میں مبتلا ہوگئے ،ہم نے اس نظام کے متعلق اپنی کتاب''حیاةالامام امیر المو منین ''میں مو ضوع کے اعتبار سے تذکرہ کیا ہے اور اب ہم سر سری طور پر ان واقعات کو پیش کرتے ہیں ۔

عثمان کی حکومت

جمہور مسلمین نے بڑے ہی اضطراب اور نا پسندی کے ساتھ عثمان کی حکومت تسلیم کر لی ، مسلمانوں کو یہ یقین تھا کہ عثمان حکومت پا کر اپنے خاندان کو ہی کامیاب و کامران کر سکتا ہے چونکہ عثمان کا خاندان مسلسل اسلام کے خلاف بر سر پیکار رہا تھا اور طرح طرح کی سا زشیں رچتا رہا تھا،اور دوزی نے یہ مشاہدہ کرہی لیا ہے کہ اموی لوگ صرف اسی جماعت یا گروہ کی مدد کرتے ہیں جن کے دل اسلام کے بغض سے لبریز ہوں ۔(۱)

بہر حال عثمان نے جان بوجھ کر حکومت کے تمام کا م کاج امویوں کے سپُرد کر دئے ،عام طورپر اقتصاد کو اپنی مصلحتوں کے مد نظر قرار دیا ،بنی امیہ نے عام اقتصاد کو اپنے اس نظام کی تعمیر کیلئے استعمال کیاجس کو اسلام نے فنا کر دیا تھا ۔جس سے عثمان کی شخصیت و حکومت کمزور ہو گئی ،وہ اس کو ناپسند کر نے لگے ،امام کی تعبیر کے مطابق وہ لوگ چیخنے چلانے لگے :''یَخْصِمُوْنَ مَالَ اللّٰهِ خِصْمَةَ الاِبِلِ نِبْتَةَ الرَّبِیْعِ '' ''وہ بیت المال کو اس طرح چرنے لگے جس طرح اونٹ مو سم بہار کی گھاس کو چرتا ہے ''،اس سے قبیلوں میں فقروغربت پھیل گئی جو اس کی حکومت کے خاتمہ کا سبب بنی ۔

اس کی حکومت کے سلسلہ میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اس نے اسلامی ممالک کو بنی امیہ اور ابو معیط کی اولاد سے منسوب کردیا تھا جن کو حکومت چلانے کی کو ئی خبر نہیں تھی ان میں سے بعض بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے ،اس نے ولید بن عقبہ کو کوفہ کا والی بنادیاجو اپنی پوری رات یہاں تک کہ صبح تک گویّوں کے ساتھ نشہ کی حالت میں گذارتا تھا ،اس نے لوگوں کو صبح کی نماز چار رکعت پڑھا ئی اور اس نے نماز رکوع و سجود کی حالت میں کہا : میں نے شراب پی ہے اور مجھے شراب پلا ئی گئی ہے ،اس کے بعد محراب میں ہی شراب کی قے کردی ، اس کے بعد سلام پھیر کر نمازیوں کی طرف رُخ کر کے کہا :کیا اور پڑھا ئوں ؟ابن مسعود نے اس کو جواب

____________________

۱۔تاریخ شعر عربی ،صفحہ ۲۶۔


دیتے ہوئے کہا : نہیں ،خدا تمہاری نیکی میں اضافہ نہ کرے اور نہ اس شخص کی نیکی میں اضافہ کرے جس نے تمہیں ہمارے پاس بھیجا ہے ،اس نے اپنی جو تی اٹھا کر اس کے منھ پر ماری ،لوگوں نے اس پر کنکریاں برسائیں وہ قصر میںداخل ہو گیا جبکہ اس پر کنکریاں پڑ رہی تھیں وہ اپنی رسوا ئیوں اور دین سے دور ی میں مدہوش تھا۔(۱)

حطیۂ جرول عبسی کا کہنا ہے :

شَهِدَ الحَطِیْئَةُ یَومَ یَلْقیٰ رَبَّهُ

أَنَّ الوَلِیْدَ أَ حَقُّ بِالغَدرِ

نَادیٰ وَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُمْ

أَأَزِیْدُ کُمْ ؟ثَمِلاً وَلَا یَدْرْ!

لِیَزِیْدَهُمْ خَیْراً وَلَوْ قَبِلُوْا

مِنْهُ لَزَادَهُمْ علیٰ عَشْرِ !

فَأَبَوْا أَباوَهَبٍ وَلَوْ فَعَلُوا

لَقَرَنَتْ بَیْنَ الشَّفْعِ وَالوَتْرِ

حَبَسُواعَنَانَکَ اِذْجَرَیْتَ وَلَوْ

خَلَّوا عَنَانَکَ لَمْ تَزَلْ تَجْرِْ

''حطیئہ روز محشر یہ گواہی دے گا کہ ولید غداری کئے جانے کا زیادہ مستحق ہے۔

حالانکہ نماز تمام ہو چکی تھی پھر بھی اس نے کہا مزید کچھ رکعتیں پڑھائوں؟

تاکہ اُن کے ثواب میں اضافہ کرے ،اگرلوگ اس کی بات مان لیتے تو وہ دس سے بھی زیادہ رکعت نماز پڑھا دیتا۔

تو اے ابووہب لوگوں نے انکار کردیااگر وہ ولید کی بات مان لیتے تو آج تم نماز شفع اور وتر کو ایک ساتھ ملا کر پڑھتے ۔

جب تم دوڑ رہے تھے تو انھوں نے تمہاری مہار کھینچ لی اگر وہ تمہاری مہار ڈھیلی چھوڑ دیتے تو تم چلتے ہی رہتے '' ۔

____________________

۱۔سیرہ حلبیہ، جلد ۲،صفحہ ۳۱۴۔


کیاآپ نے ولید کے سلسلہ میں یہ توہین ملاحظہ کی ؟حطیئہ پھر اسی کے متعلق کہتے ہیں :

تَکَلَّمَ فِ الصَّلاةِ وَزَادَ فِیْهَا

عَلانِیَةً وَجَاهَرَ بِالنِّفَاقِ

وَمَجَّ الْخَمْرَ عَنْ سَنَنِ المُصَل

وَنادیٰ وَالْجَمِیْعُ الیٰ افْتِرَاقِ

أَ زِیْدُکُمْ علیٰ أَنْ تَحْمَدُوْنِْ

فَمَا لَکُمْ وَمَالِْ مِنْ خَلَاقِ(۱)

''ولید نے نماز میں کلام کیا ،علی الاعلان رکعات کا اضافہ کیا اور نفاق کا اظہار کیا ۔

شراب کی وجہ سے وہ نمازی کے آداب سے خارج ہو گیا جب سب نماز کامل کرچکے تھے۔

اس نے بلند آواز میں کہا کیا میں مزید رکعتیں پڑھائوں ،اس شرط پر کہ تم میری تعریف کرو کیونکہ تم میں اور مجھ میں کو ئی اخلاق پسندیدہ نہیں ہے ''۔

کوفہ کے نیک لوگوں کے ایک گروہ نے یثرب پہنچ کر جلدی سے عثمان کے پاس اس کی شکایت پہنچا ئی اور اس کے سامنے وہ انگوٹھی بھی پیش کی جس کو اس نے مستی کی حالت میں اُتار کر پھینک دیا تھا،ولید نے شراب پی کر جو کچھ انجام دیا تھا اس کے سلسلہ میں گفتگو کی تو عثمان نے کو ئی معقول جواب نہیں دیا ،زبر دستی ان کی بات تسلیم کر تے ہوئے کہنے لگا :کیا تمھیں علم ہے کہ اس نے شراب پی تھی ؟

ان لوگوں نے کہایہ وہی شراب توہے جس کو ہم زمانہ ٔ جاہلیت میں پیا کر تے تھے ۔

عثمان نے غضبناک ہو کر اُن کو اپنے پاس سے دور کردیا ،وہ سب غیظ و غضب کی حالت میں اس کے پاس سے نکل کر تیزی کے ساتھ امام کے پاس پہنچے اور آپ کو اپنے اور عثمان کے درمیان ہونے والی گفتگو کی خبر دی ۔امام عثمان کے پاس تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا:''دَفَعَتَ الشَّھُوْدَوَبَطَلَتَ الْحُدُوْدَ''۔

عثمان ان امور کے نتائج سے گھبرا گیا اور اس نے امام کی خدمت میں عرض کیاکہ :آپ کی کیا رائے ہے ؟

''اریٰ أَنْ تَبْعَثَ الیٰ صَاحِبِکَ،فَاِنْ أَقَامَاالشَّهَادَةَ فِْ وَجْهِهِ وَلَمْ یُدْلِ بِحُجَّةٍ أَقَمْتَ عَلَیْهِ الْحَدَّ'' ۔

____________________

۱۔اغانی ،جلد ۴،صفحہ۱۷۸۔


''میری رائے یہ ہے کہ آپ اپنے دوست کے پاس بھیجیں اگر وہ شہادت قائم کر سکے جس کے مقابلہ میں کو ئی حجت نہ ہو تو اس پر حد جا ری کر دیجئے ''۔

عثمان نے امام کا مشورہ قبول کر لیا اور ولید کو بلا بھیجا،جب وہ آگیا تو گواہوں کو بلا یا،جب انھوں نے گوا ہی دی تو ولید چُپ ہو گیا ،اور اس کے پاس اپنے دفاع کے لئے کو ئی دلیل نہیں تھی ، وہ خود حد شرعی جاری ہونے کیلئے خاضع ہو گیا ، وہ عثمان کے خوف سے حد جاری ہونے کی جگہ پر حاضر ہونے سے منع نہ کرسکا امام اس پر حد جا ری کرنے کے قصد سے بڑھے تو ولید نے آپ پر یوں سب و شتم کیا : اے ظلم کرنے والے، تو عقیل نے اس کے سب و شتم کا جواب دیا، امام نے کوڑا مارنے کیلئے ہاتھ بلند کیا تو عثمان غیظ و غضب کی حالت میں چیخ کر امام سے کہنے لگا :آپ کو ایسا نہیں کر نا چا ہئے ۔

امام نے شریعت کی روشنی میں اس کو یوں جواب دیا '':بَلیٰ وشَرُّمِنْ ھَذَا اِذَافَسِقَ وَمَنَعَ حَقَّ اللّٰہِ أَنْ یُؤْخَذَ مِنْہُ ''۔

''لیکن اس سے بھی برا یہ ہے کہ فسق اختیار کیا جائے اور اللہ کا حق ادا کرنے سے انکار کیا جائے ''۔

یہ تمام مطالب اس بات پر دلالت کر تے ہیں کہ عثمان اللہ کی حدود جا ری کر نے میں سستی سے

کام لیتا تھا اور خاندان والوں کے ساتھ بہت ہی لطف و مہربا نی کے ساتھ پیش آتا تھا وہ خاندان والے جو اللہ کے لئے کسی احترام کے قائل نہیں تھے ۔

عثمان کے لئے محاذ

نیک اور صالح مسلمانوں نے عثمان کے خلاف قیام کیا ،اس کے والیوں نے عثمان پر دھاوا بول دیا،اُس پر علی الاعلان تنقید کی ،یہ بات بھی شایان ذکر ہے کہ مخالفین کا یہ محاذ دائیں ،با ئیں ہرطرف سے تھا ، طلحہ ،زبیر ،عائشہ اور عمرو بن عاص اپنی خاص رغبت اور مصلحتوں کی بنا پراس کا دفاع کررہے تھے ،بعض دوسری اہم اسلامی شخصیات جیسے عمار بن یاسر (طبیب بن طبیب)،مجاہد کبیر ابوذر غفاری،صحابی قاری ٔ قرآن عبد اللہ بن مسعوداور ان کے علاوہ دوسرے افراد جنھوں نے اللہ کی راہ میں مصیبتیں اٹھا ئی ہیںجب انھوں نے سنت رسول کو محو اور بدعت کو زندہ ہوتے ،سچوں کو جھٹلائے جانے اور بغیر حق کے اثر دیکھا تو انھوں نے عثمان کے منھ پر گرد وغبار پھینک دیا ،اس کو اس کی سیاست کی سزا دینے کی غرض سے اس سے راستہ بدلنے ، اور امویوں کو حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے سے دور کرنے کا مطالبہ کیااور اُن کا اس تنقید میں اسلام کی خدمت کے علاوہ اور کو ئی مقصد نہیں تھا لیکن اس کامثبت جواب نہیں ملا ۔


عثمان پر حملہ

جب عثمان کے سامنے پیش کئے گئے تمام مسا ئل واضح ہو گئے اور ان کا کو ئی حل نہ نکل سکا تو انقلاب کے شعلے بھڑک اٹھے ،انقلابیوں نے اس کا محاصر ہ کرلیااور اس سے حکومت واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو اُس نے اُن کو کو ئی جواب نہیں دیا،انھوں نے اس سے مروان اور بنی امیہ کو دور کرنے کا مطالبہ کیاتو اُس نے اُن سے منھ مو ڑ لیا ،اموی اس سے شکست کھا گئے اور اس کو تنہا چھوڑ دیاتو مسلمانوں نے اس پر حملہ کردیاجن میں آگے آگے محمد بن ابی بکر تھے، انھوں نے آگے بڑھ کر عثمان کی ڈاڑھی پکڑ کر کہا : اے نعثل! (احمق)خدا تجھے رسوا و ذلیل کرے ۔

عثمان نے جواب دیا :میں نعثل نہیں ہوں ،لیکن اللہ کا بندہ اور امیر المو منین ہوں ۔۔۔

محمد بن ابی بکر نے اُن سے کہا :کیا معاویہ کو اپنے سے دور نہیں کر و گے ۔۔۔اور اس کا محاصر ہ کرنے والے بنی امیہ کو گننا شروع کر دیا ۔

عثمان نے محمدسے گریہ و زاری کرتے ہوئے یوں کہا :اے بھتیجے تم میری ڈا ڑھی چھوڑ دو کیا جس ڈاڑھی کو تم پکڑے ہوئے ہو تمہارا باپ اس ڈا ڑھی کوپکڑتا تھا؟

محمد نے ان کو یوں جواب دیا :میں تمہارے ساتھ بد سلوکی کر نا چا ہتا ہوں وہ ڈاڑھی پکڑنے سے زیادہ سخت ہے ۔

محمد نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا نیزہ اس کے پیٹ میں گھونپ دیا ،پھر اس کے جسم پر انقلابیوں کی تلواریں ٹوٹ پڑیں ،اس کا جسم زمین پر گر پڑا،بنی امیہ اور آل ابی معیط سے لیکر نجد تک کسی نے بھی آہ و بکا نہیں کیا ،انقلابیوں نے اس کی بہت زیادہ تو ہین کی،اس کا جسم رسوا کن مقام پر لا کر ڈال دیا ،انھوں نے اس کو دفن تک نہیں کیا ،یہاں تک کہ جب امام امیر المو منین نے اس کے دفن کے سلسلہ میں فرمایا تو انقلابیوں نے اس کو دفن کیا اس طرح خوفناک حالات میں عثمان کی زندگی کا خاتمہ ہوا ،اس کے قتل سے مسلمانوں کا بہت سخت امتحان ہوا کہ ان کیلئے ہمیشہ کی خاطر فتنے اور مصیبتیںان کے گلے کا ہار بن گئے ، امویوںجیسے طلحہ زبیر اور عائشہ نے اس کے قتل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے خون کا مطالبہ کیا۔اُن کو اپنے فائدہ کے لئے ایک بہانہ مل گیااِن ہی لوگوں نے اس کی تجہیز و تکفین کی تھی ۔


امام کی خلافت

امام نے بڑے ہی قلق و اضطراب کے ساتھ عثمان کے قتل کاسامنا ، آپ ان تمام باتوں سے باخبر تھے کہ امویوںاور طا معین جس حکومت کا قلادہ ان کی گردن میں ڈال رہے ہیں وہ عنقریب اس حکومت کے خلاف ہو کر اُس (عثمان)کے خون کا مطالبہ کریں گے ۔

امام اس بات سے بھی مضطرب تھے کہ آپ امت کے قائد تھے، جب حکومت کی باگ ڈور آپ کے ہاتھوں میں آجا ئے گی تویہ حکومت امت کیلئے صرف حق اور عدالت کی سیاست پر مبنی ہو گی،طمع کاروں اور چوروں کو حکومت سے الگ کر دیا جا ئے گا ،اور یہ فطرت کا تقاضا ہے کہ حکمراں نظام آپ کے سیاسی خطوط کا مقابلہ کرے گااور آپ کے خلاف مسلح جد و جہد کا اعلان کردے گا ۔

بہر حال امام نے خلافت قبول کرنے سے منع فرمادیا،لیکن جم غفیر تھا جو آپ کی گردن میں حکومت کا قلادہ ڈالنے پر اصرار کر رہاتھا ۔امام نے اُن سے فرمایا:

''لَاحاجَةَ لِْ فِْ أَمْرِکُمْ،فَمَنِ اخْتَرْتُمْ رَضِیْتُ بِهِ '' ۔(۱)

''مجھے اس حکومت کی کو ئی ضرورت نہیں تم جسے منتخب کرلوگے میں راضی ہو جا ئوںگا''۔

مجمع آپ کے اس قول پر راضی نہ ہوا اوربار بار آپ سے یہ کہہ رہاتھا :لاامام لناغیرک ۔۔۔ ''آپ کے علاوہ ہمارا کو ئی امام نہیں ہے ''۔

انھوں نے پھر تکرار کی :ہم آپ کے علاوہ کسی اورکا انتخاب نہیں کر یںگے ۔

____________________

۱۔حیاة الامام امیر المو منین ،جلد ۲،صفحہ ۲۱۵۔


امام ان کے بالمقابل خلافت قبول نہ کرنے پر مصر تھے ،چونکہ آپ کو علم تھا کہ خلافت قبول کرنے کے بعد مشکلات کھڑی ہو جا ئیں گی ،ہتھیاروں سے لیس افراد نے امام کے خلافت قبول نہ کرنے کے اصرار پر ایک میٹنگ بلائی جس میں شہریوں اور بااثر افراد کو بلاکر اُ ن کے سامنے یہ طے کیا کہ اگر مسلمانوں(۱) کا حاکم معین نہ ہوا تو وہ طلحہ اور زبیر کو موت کے گھاٹ اُتار دیں گے ،مدنی یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے :بیعت ۔ بیعت ۔ماتریٰ مانزل بالاسلام ، وماابتلینابه من ابناء القریٰ ''جب ہم مختلف مصیبتوں والے امتحان میں مبتلا ہوگئے ''

امام ان کو یہ جواب دے کرانکار پر مصر رہے :''دَعُوْنِْ وَالْتَمِسُواغَیْرِْ'' ۔

''مجھے چھوڑ دو اور (اس خلافت کے لئے)میرے علاوہ کسی اور کوتلاش کرلو ''

آپ کی نظر میں وہ تمام واقعات تھے جن کا آپ کو عنقریب سامناکرناتھا:

''ایهاالناس،اِنّا مستقبلون امراً له وجوهُ ولَهُ الوانُ ،لا تقومُ بهِ القلوبُ ،ولا تثبتُ عَلَیهِ العقُولُ ''۔''لوگو !ہمارے سامنے ایک ایسا معاملہ ہے جس کے کئی رُخ اور کئی رنگ ہیں ،جس کی نہ دلوںمیں تاب ہے اور نہ عقلیں اسے برداشت کر سکتی ہیں''۔

انھوں نے امام کی بات قبول نہیں کی اور آپ کا نام لے کر کہنے لگے : امیرالمومنین انت امیرالمومنین انت ۔''آپ امیر المو منین ہیں ،آپ امیر المو منین ہیں ''۔

امام نے ان کے سامنے اس طریقہ کی وضاحت فر ما ئی جس پر حکومت چلنا تھی :''وَ اعْلَمُوْااَنِّیْ اِنْ أَجَبْتُکُمْ رَکِبْتُ بِکُمْ مَاأَعْلَم،وَلَمْ أُصْغِ اِلیٰ قَوْلِ الْقَائِلِ وَعَتْبِ الْعَاتِبِ،وَاِنْ تَرَکْتُمُوْنِیْ فَأَنَاکَأَحْدِکُمْ،وَلَعَلِّ أَسْمَعُکُمْ وَأَطْوَعُکُمْ لِمَنْ وَلَّیْتُمُوْهُ أَمْرَکُمْ،وَأَنَالَکُمْ وَزِیْراً،خَیْرُ لَکُمْ مِنِّ أَمِیْراً !'' ۔

''یادر کھو کہ اگر میں نے بیعت کی دعوت کو قبول کر لیا تو تمہیں اپنے علم ہی کے راستے پر چلائوں گا اور

____________________

۱۔تاریخ ابن اثیر، جلد ۳،صفحہ ۸۰۔


کسی کی کو ئی بات اور سر زنش نہیں سنوں گا ۔لیکن اگر تم نے مجھے چھوڑ دیا تو تمہاری ایک فرد کی طرح زندگی گذاروں گا بلکہ شائد تم سب سے زیادہ تمہارے حاکم کے احکام کا خیال رکھوں میں تمہارے لئے وزیر کی حیثیت سے امیر کی بہ نسبت زیادہ بہتر رہوں گا ''۔

امام نے اس طریقہ و راستہ کی وضاحت فرما ئی جس پر انھیں گامزن رہنا ہے ۔۔۔وہ راستہ حق اور عدالت کا راستہ ہے تمام لوگوں نے آپ کے اس فرمان پر راضی ہوتے ہوئے نعرہ بلند کیا : ہم آپ سے اس وقت تک جدا نہیں ہو ں گے جب تک آپ کی بیعت نہیں کرلیں گے ۔

لوگ ہر طرف سے آپ پر زور ڈال رہے تھے اور آپ سے خلافت قبول کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے ،امام نے اُن کے اصرار پر اپنی بیعت کی یوں وضاحت فرما ئی :فَمَارَاعَنِ اِلَّا وَالنَّاسُ کَعُرْفِ الضَّبُعِ (۱) یَنْثَالُوْنَ عَلََّ مِنْ کُلِّ جَانِبٍ، حَتّٰی لَقَدْ وُطَِٔ الْحَسَنَانِ،وَشُقَّ عِطْفَاَ مُجْتَمِعِیْنَ حَوْلِْ کَرَبِیْضَةِ الْغَنَمِ'' ۔

''اس وقت مجھے جس چیز نے دہشت زدہ کر دیا تھا وہ یہ تھی کہ لوگ بجّو کی گردن کے بال کی طرح میرے گرد جمع ہو گئے اور ہرطرف سے مجھ پر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ حسن و حسین کچل گئے اور میری ردا کے کنارے پھٹ گئے یہ سب میرے گرد بکریوں کے گلہ کی طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے''۔

امام کا خلافت قبول کر نا

امام کے پاس خلافت قبول کرنے کے علاوہ کو ئی اور چارہ نہیں تھاچونکہ آپ کو یہ خوف تھا کہ

کہیںبنی امیہ کا کو ئی فاسق حاکم نہ بن جا ئے لہٰذا آپ نے فرمایا:''وَاللّٰهِ مَا تَقَدَّ مَتُ عَلَیْهَا ( ای علی الخلافة ) اِلَّاخَوْفاًمِنْ أَنْ یَنْزُوَ عَلیٰ الْاُمَّةِ تَیْسُ مِنْ بَنِْ أُمَیَّةَ،فَیَلْعَبَ بِکِتَابِ اللّٰهِ عَزَّوَجَلَّ'' (۲) ۔

''خدا کی قسم میں نے خلافت اس خوف سے قبول کی ہے کہ کہیں بنی امیہ کا کو ئی بکرا امت کی خلافت

____________________

۱۔عرف الضبع یعنی بہت زیادہ بال جوبجّو کی گردن پر ہوتے ہیں اور یہ ضرب المثل اس وقت استعمال ہوتی ہے جہاں پر لوگوںکا ازدھام ہو۔

۲۔عقد الفرید ،جلد ۲،صفحہ ۹۲۔


کو اُچک لے اور پھر کتاب خدا کے ساتھ کھلواڑ کرے ''۔

مجمع جا مع اعظم کی طرف دوڑ کر آیااور امام کا تکبیر اور تہلیل کے سایہ میں استقبال کیا، طلحہ نے اسی اپنے شل ہوئے ہاتھ سے بیعت کی جس کے ذریعہ اس نے عہد الٰہی کا نقض کیا تھا ،امام نے اس کو بد شگو نی تصور کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:''مَاأَخْلَقَہُ أَنْ یَّنْکُثَ !''۔''بیعت توڑنا تو تمہاری پرا نی عادت ہے ''۔

تمام لوگوں نے آپ کی بیعت کی کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی بیعت تھی ،عام بیعت تمام ہوگئی جس کے مانند کو ئی ایک خلیفہ بھی بیعت لینے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا ،جس سے مسلمانوں کی خو شی کا کوئی ٹھکانہ ،نہ رہا ،امام امیر المو منین فرماتے ہیں:''وَبَلَغَ مِنْ سُرُوْرِالنَّاسِ بِبَیْعَتِهِمْ اِیّاَ أَنِ ابْتَهَجَ بِهَاالصَّغِیْرُ،وَهَدَجَ اِلَیْهَا الْکَبِیْرُ،وَتَحَامَلَ نَحْوَهَاالْعَلِیْلُ،وَحَسَرَتْ اِلَیْهَا الْکِعَابُ'' ۔

''تمہاری خو شی کا یہ عالم تھا کہ بچوں نے خو شیاں منا ئیں، بوڑھے لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے آگے بڑھے بیمار اٹھتے بیٹھتے ہوئے پہنچ گئے اور میری بیعت کیلئے نوجوان لڑکیاں بھی پردہ سے باہر نکل آئیں ''

دنیائے اسلام میں ہمیشہ کے لئے عدالت اور حق کا پرچم لہرادیا گیااور اسلام کو اس کا اصلی اور حقیقی ملجأ و ماویٰ مل گیا ۔

سخت فیصلے

امام نے حاکم ہوتے ہی مندرجہ ذیل قوا نین معین فرمائے :

۱۔وہ تمام زمینیں واپس لی جا ئیں جو عثمان نے بنی امیہ کو دی تھیں ۔

۲۔ان اموال کو واپس کرایا جو عثمان نے بنی امیہ اور آل ابو معیط کو دئے تھے ۔

۳۔عثمان کا تمام مال یہاں تک کہ اس کی تلوار اور زرہ کو بھی ضبط کر لیاجائے۔

۴۔تمام والیوں کو معزول کیا چونکہ انھوں نے زمین پر ظلم و جور اور فساد پھیلا رکھا ہے ۔

۵۔مسلمانوں اور وطن میں رہنے والے غیر مسلمانوں کے ساتھ مساوات سے کام لیااور یہ مساوات مندرجہ ذیل امور پر مشتمل ہے :

۱۔عطا و بخشش میں مساوات ۔

۲۔قانون کے سلسلہ میں مساوات۔

۳۔حقوق اور واجبات کی ادا ئیگی میں مساوات۔


ان قوانین کے نافذ ہونے سے قریش کی ناک بھوں چڑھ گئی اوروہ گھوٹالا کئے ہوئے اپنے پاس مو جودہ مال کے سلسلہ میں خوف کھا گئے ،وہ مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اسی لئے انھوں نے آپ کی مخالفت کی اور لوگوں کے ما بین معاشرتی اور سیاسی عدالت نافذ کرنے میں رکاوٹیں کھڑی کیں ۔

بہر حال امام کے خلاف اور ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے جنگو ں کے شعلے بھڑکائے گئے ،ہم ذیل میں بہت ہی اختصار کے ساتھ اُن جنگوں کا تذکرہ کر رہے ہیں جو اسلام میں عدالت کا پرچم اٹھانے والے ،امیر بیان اور محروموں کے صدیق کے خلاف بھڑکا ئی گئیں ۔

۱۔جنگ جمل

جنگ جمل کا واقعہ سیاست کی ہوس کا نتیجہ ہے ،معاویہ نے زبیراور طلحہ کودھوکہ دیا اور ان کو یہ لالچ دیا کہ وہ امام کی حکومت کا تختہ پلٹ کر ان دونوں کو خلیفہ بنائے گا ،ان کے لئے بیعت لے گا ، اُدھر عائشہ جس کا سینہ امام کے کینہ سے لبریز تھا لہٰذا اِن تینوں آدمیوں نے مکہ میں امام کے خلاف محاذ قائم کیا ،لوگوں میں سے طمع کاروں ،دھوکہ کھا جانے والوںاور سادہ لوحوں نے ان کا ساتھ دیا ،انھوں نے لشکر تیار کیا ،امویوں نے لشکر کو جنگی ساز و سامان سے لیس کیا ،انھوں نے اُن پر عثمان کی حکومت کے دور میں جو مال والیوں کے عنوان سے بیت المال سے چُرایا تھا وہ خرچ کیا ۔

عائشہ ، طلحہ اور زبیر کی قیادت میں لشکر بصرہ پہنچا ،جب امام کو اس بات کی اطلاع ہو ئی تو آپ نے فیصلہ کی خاطر اپنا لشکر روانہ کیاتو دونوں لشکروں میں گھمسان کی لڑا ئی ہو ئی ،طلحہ اور زبیر قتل کردئے گئے تو لشکر کی قیادت عا ئشہ کے ہاتھوں میں آگئی ،لشکر نے اُن کے اونٹ کو گھیر لیا،اس کے پیروں کو کاٹ دیا ،جس کے اطراف میں لاشے ہی لاشیں پڑی تھیں ،عائشہ کا اونٹ زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا،اس کا لشکر شکست کھا گیا ، اس جنگ میں بہت زیادہ نقصان ہوا ،مسلمانوں کی صفوف میں بھی نقصان ہوا،اُن کے درمیان تفرقہ اور دشمنی پھیل گئی اور بصرہ والوں کے گھرحزن و الم اور ما تمی لباس میں ڈوب گئے ۔

۲۔جنگ صفین

امام جنگ جمل کے بعد کچھ آرام نہیں کر پائے تھے کہ آپ کو ایسے دشمن نے آزمایا جس نے پوری انسانیت کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا ۔جو نفاق اور مکر و فریب کے ہتھیار سے لیس تھا اور ان صفات میں ماہر تھا ،وہ معاویہ بن ابو سفیان جس کو ''کسریٰ عرب ''کے لقب سے یاد کیاجاتاہے ،جس کو لوگوں نے اس کے صحیفہ ٔ اعمال پر نگاہ ڈالے بغیر شام کی حکومت دے رکھی تھی ،جس کا قرآن کریم نے شجرئہ ملعونہ کے نام سے تعارف کرایا ہے، کیا لوگوں کو وہ جنگیں یاد نہیں تھیںجوابو سفیان اور بنی امیہ نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے لڑی تھیں اور اُن کو ابھی چند سال ہی گذرے تھے ؟


مسلمانوں نے کس مصلحت کی بنا پر اس جاہل بھیڑئے کو شام کی حکومت کا مالک بنا دیا تھاجو اسلام کا اہم علاقہ ہے ؟اور اس اہم منصب کے لئے خاندان نبوت کی اولاد کو منتخب کیوں نہیں کیا ،یا یہ منصب اوس اور خزرج کی اس خاص انتظامیہ کو کیوں نہیں دیا جس نے صاف طور پراسلام کا ساتھ دیا؟

بہر حال معاویہ نے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھا ئی اور باب مدینة العلم سے جنگ کر نے کے لئے صفین میں اپنا لشکر اتارا،اس کے لشکر نے امام کے لشکر کو فرات سے پانی پینے سے روک دیا ،اس کو انھوں نے اپنی فتح میں مدد سے تعبیر کیا ،امام نے بھی فیصلہ کے لئے اس نا فرمان اور جلدی فتنہ برپا کرنے والے مکار دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنا لشکر اُتارا،امام کے لشکر کو اتنا اطمینان اور بصیرت تھی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمن سے جنگ کر رہے ہیں لہٰذا جب وہ صفین پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ اُ ن کے دشمن معاویہ کی فوج نے فرات کے تمام گھاٹ اپنے قبضہ میں لے لئے ہیںاور امام کے لشکر کو پا نی پینے کے لئے کو ئی گھاٹ نہ مل سکا اور معاویہ کا لشکر امام کے لشکر کو پانی سے محروم رکھنے پرمصر رہا تو امام کے لشکر کی ٹکڑیوں کے سرداروں نے معاویہ کے لشکر پر حملہ کر کے ان کا حصار توڑنے کا پلان بنایا اور امام کے لشکر نے بڑی ہمت کے ساتھ معاویہ کے لشکر پر حملہ کرکے ان کو فرات کے کنارے سے دور بھگادیاجس سے ان کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ، امام کے لشکر میں موجود کچھ فرقوں کے سرداروں نے معاویہ کی طرح اس کے لشکر کو پانی دینے سے منع کرنا چا ہا تو امام نے ان کو ایسا کرنے سے منع فرمادیا ،چونکہ اللہ کی شریعت میں ایسا کرنا جا ئز نہیں ہے ، اور پانی سب کیلئے یہاں تک کہ کتّے اور سوَروں کے لئے بھی مباح ہے ۔

امام نے خونریزی نہ ہونے کی وجہ سے معاویہ کے پاس اُس کو صلح پرآمادہ کرنے کے لئے صلح کا پیغام دے کر ایک وفدروانہ کیا،لیکن معاویہ نے صلح قبول نہیں کی ،اور وہ نافرمانی کرنے پر مصر رہا ،لہٰذا دونوں فریقوں کے مابین جنگ کی آگ کے شعلے بھڑک اٹھے اور دو سال تک اسی طرح بھڑکتے رہے، ان میں سب سے سخت اور ہو لناک وقت لیلة الہریر تھا جس میں طرفین کے تقریباً ستر ہزار سپاہی اور قائد قتل ہو ئے ،جس سے معاویہ کے لشکر کی شکست کے آثار نمایاں ہو گئے ،اس کے تمام دستور و قوانین مفلوج ہو کر رہ گئے وہ فرار کر نے ہی والا تھا کہ اس کو ابن طنابہ نے کچھ سمجھایاجس سے وہ پھر سے جم گیا ۔


قرآن کو بلند کرنے کی بیہودگی

امام کے لشکر نے مالک اشتر کی قیادت میں معاویہ کے لشکر پر حملہ کیا ،لشکرفتح پانے ہی والا تھا اور مالک اشتر کے معاویہ پر مسلط ہونے میں ایک ہاتھ کا فاصلہ ہی رہ گیا تھا کہ دھوکہ باز عمرو عاص نے امام کے لشکر میں کھل بلی مچانے اور ان کی حکومت کے نظام میں تغیر و تبدل کا مشورہ دیاوہ پوشیدہ طور پر اشعث بن قیس اور امام کے لشکر کے بعض سرداروں سے ملا اُن کو دھوکہ ،لالچ اور رشوت دی ،قرآن کریم کو نیزوں پر بلند کرنے اور اپنے درمیان اختلاف کو حل کرنے کے لئے اُس کو حَکَم قرار دینے کے سلسلہ میں اُ ن کے ساتھ متفق ہو گئے ،انھوں نے قرآن کو نیزوں پر بلند کردیا اور معاویہ کے لشکر سے یہ آواز آنے لگی کہ ہمارا حکم قرآن ہے، ہ دھوکہ امام کے لشکر میں بجلی کی طرح کوند گیا ،بیس ہزار فوجیوں نے آپ کو گھیر لیا اور کہنے لگے قرآن کے فیصلہ کو قبول کیجئے ،امام نے ان کو تحذیر کی اور ان کو نصیحت فرما ئی کہ یہ دھوکہ ہے ،لیکن قوم نے آپ کی ایک نہ سنی اور وہ اس بات پر اڑ گئے ، امام سے کہنے لگے کہ اگر آپ نے یہ تسلیم نہ کیا تو ہم آپ سے مقابلہ کریں گے ، تو امام کو مجبوراً یہ تسلیم کر نا پڑا ،ان ہی خو فناک حالات میں امام کی حکومت کا خاتمہ ہو ا۔

اشعری کا انتخاب

امام کے ساتھ اِن واقعات کے پیش آنے کے بعد اشعری کو عراقیوں کی طرف سے منتخب کرلیا گیا، امام نے اُن کو ایسا کرنے سے منع کیا مگر انھوں نے زبردستی اشعری کو منتخب کر لیا ،اور اہل شام نے عمرو عاص کو منتخب کر لیا اس نے اشعری کو دھوکہ دیا اور اس کو امام اور معاویہ کو معزول کرکے ان کے مقام پر مسلمانوں کا حاکم بنا نے کیلئے عبداللہ بن عمر کا انتخاب کیا ،اشعری اس سے بہت خوش ہوا ، اور جب دونوں حَکَم ایک مقام پر جمع ہوئے تو اشعری نے امام کو معزول کر دیا اور عمرو عاص نے معاویہ کو اسی عہدہ پر برقرار رکھا ۔

۳۔خوارج

امام کے لشکر میں فتنہ واقع ہو گیا ،لشکر میں سے ایک گروہ تحکیم کے بعد جنگ کرنے پر مصر رہا ، امام پر کفر کا فتویٰ لگایا،کیونکہ امام نے دعوت تحکیم قبول کر لی تھی ،لیکن بڑے تعجب کی بات ہے کہ انھوں نے ہی تو تحکیم پر مجبور کیا تھا اور یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ :''لا حکم اِلّا اللّٰہ ''۔


لیکن جلد ہی نعرہ تلوار کی مار کاٹ میں بدل گیا ،امام نے اُن کو سمجھایا اور ایسا کرنے سے منع فرمایا ، ان میں سے کچھ لوگوں نے آپ کی بات تسلیم کر لی لیکن قوم کے کچھ افراد اپنی جہالت و گمرا ہی پر اسی طرح اصرار کرتے رہے ،وہ زمین پر فساد برپا کرنے لگے ،انھوں نے ابریاء کو قتل کر دیا جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ،امام اُ ن کا مقابلہ کر نے کے لئے مجبور ہو گئے ،جس سے نہروان کا واقعہ پیش آیا ، ابھی یہ جنگ ختم نہیں ہونے پا ئی تھی کہ امام کے لشکر نے نافرمانی کی ایک خو فناک صورت اختیار کرلی ،جب آپ نے ان کو معاویہ سے جنگ کرنے کی دعوت دی تو کسی قبول نہیں کی،اور سیاسی طور پرمعاویہ کی طاقت ایک عظیم طاقت کے عنوان سے اُبھری ،اس نے اسلامی شہروں کو اپنے تحت لینا شروع کیا اور یہ ظاہر کر دیا کہ امام ان کی حمایت کرنے کی طاقت و قوت نہیں رکھتے ہیں ۔امام کی مقبولیت کم ہو تی جارہی تھی ،یکے بعد دیگرے آپ پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے، معاویہ کی باطل حکومت مستحکم ہو تی جا رہی ہے ،اس کی تمام آرزوئیں پوری ہو تی جا رہی ہیں اور آپ کے پاس حق کو ثابت کرنے اور باطل کو نیست و نابود کرنے کے لئے ضروری قوت و طاقت مو جود نہیں ہے ۔

امام کی شہادت

امام نے پروردگار عالم سے دعا کرنا شروع کیا ،آپ نے دعا کی کہ اے خدا ئے عظیم مجھے اس قوم کی گمراہی سے نجات دے ،اور مجھے دارِ حق کی طرف منتقل کردے جس سے میں اپنے چچازاد بھا ئی کو اس امت کی طرف سے پہنچنے والے مصائب کی شکایت کر سکوں ،اللہ نے آپ کی دعا مستجاب فرمائی،آپ کو ناقہ صالح کو پئے کرنے والے ایک بدبخت شخص نے شہید کر دیا ،جس کا نام عبد االر حمن بن ملجم تھا ،امام اللہ کے گھر میں محراب عبادت میں مشغول تھے ،اس بد بخت نے اپنی تلور اٹھالی ،جب آپ نے اس کی تلوار کی ضرب کا احساس کیا تو فرمایا :''فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَةِ ''''کعبہ کے رب کی قسم میں کا میاب ہو گیا '' امام متقین کا میاب ہو گئے ،آپ کی پوری زندگی اللہ کی راہ میں جہاد ،کلمہ ٔ حق کو بلند کرنے میں گذر گئی ،سلام ہو اُن پر جس دن وہ کعبہ میں پیدا ہوئے ،جس دن اللہ کے گھر میں شہادت پائی ،آپ کی شہادت سے حق و عدالت کے پرچم لپیٹ دئے گئے ،جن ہدایت کے چراغ اور نو ر کی مشعلوں سے دنیائے اسلام روشن و منور ہو رہی تھی وہ خاموش ہو گئے ۔


حضرت امام حسن علیہ السلام

آپ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرزند اور اُن کے پھول ہیں،آپ حلم ،صبر،جود اور سخاوت میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مشابہ تھے ،نبی اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم آپ سے خالص محبت کرتے تھے ،آپ کی محبت مسلمانوں کے درمیان مشہور تھی ،آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے نزدیک امام حسن علیہ السلام کی عظیم شان و منزلت کے سلسلہ میں متعدد احادیث بیان فرما ئی ہیں جن میں سے کچھ احا دیث یوں ہیں :

۱۔عائشہ سے روایت ہے :آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام حسن کو آغوش میں لیا اور ان کو اپنے سینہ سے چمٹاتے ہوئے فرمایا:خدایا !یہ میرا فرزند ہے ،میں اس سے محبت کرتا ہوں اور جو اس سے محبت کرے اس سے محبت کرتا ہوں ''۔(۱)

۲۔براء بن عازب سے مروی ہے :میں نے رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے کندھوں پر امام حسن اور امام حسین کو سوار کئے ہوئے فرما رہے ہیں :خدایا میں ان سے محبت کرتا ہوں اور تو بھی ان سے محبت کر ''۔(۲)

۳۔ابن عباس سے روایت ہے :سرور کائنات امام حسن کو اپنے کندھے پر سوار کئے ہوئے کہیں لے جا رہے تھے ،ایک شخص نے کہا :اے صاحبزادے !تمہاری سواری کتنی اچھی ہے ؟رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے

____________________

۱۔کنزالعمال، جلد ۷،صفحہ ۱۰۴۔مجمع الزوائد، جلد ۹،صفحہ ۱۷۶۔

۲۔صحیح بخاری باب ،مناقب حسن اور حسین جلد ۳،صفحہ ۱۳۷۰،طبع دار ابن کثیر ، دمشق۔صحیح الترمذی ،جلد ۲،صفحہ ۲۰۷۔البدایہ والنھایہ ،جلد ۸،صفحہ ۳۴۔


فرمایا:''سوار کتنا اچھا ہے'' ۔(۱)

۴۔رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت ہے :''جو جوانان جنت کے سرداروں کو دیکھنا چا ہتا ہے وہ امام حسن پر نظر کرے ''۔(۲)

۵۔رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان ہے :''حسن دنیا میں میرے پھول ہیں'' ۔(۳)

۶۔انس بن مالک سے مروی ہے :''امام حسن نبی کی خدمت میں آئے میں نے ان کو رسول سے دور رکھنے کی کو شش کی تو رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:اے انس وائے ہو تم پر ،میرے فرزند ارجمند اور میرے جگر کو چھوڑ دو،بیشک جس نے اس کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے خدا کو اذیت دی ''۔(۴)

۷۔حضرت رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز عشاء میں مشغول تھے تو آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ایک سجدہ کو بہت طول دیا جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں نے آپ اس سلسلہ میں سوال کیا تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:''یہ (حسن) میرا فرزند ہے جو میری پشت پر سوار ہوگیا تھا اور میں نے اس کو اپنی پشت سے جلدی اتارنے میں کراہت محسوس کی'' ۔(۵)

۸۔عبداللہ بن عبد الرحمن بن زبیر سے روایت ہے :امام حسن نبی کے اہل میں سب سے زیادہ زیادہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے مشابہ تھے ،اور وہ امام حسن سے سب سے زیادہ محبت کر تے تھے ،راوی کابیان ہے کہ میں نے دیکھا کہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سجدہ میں تھے تو امام حسن آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی گردن یا آپ کی پشت پر سوار ہو گئے اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام حسن کواس وقت تک اپنی پشت سے نہیں اُتارا جب تک کہ آپ خود آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

____________________

۱۔صواعق محرقہ، صفحہ ۸۲،حلیة الاولیاء ،جلد ۲،صفحہ ۳۵۔

۲۔الاستیعاب، جلد ۲،صفحہ ۳۶۹۔

۳۔البدایہ والنہایہ ،جلد ۸،صفحہ ۳۵۔فضائل اصحاب ،صفحہ ۱۶۵۔

۴۔کنز العمال، جلد ۶،صفحہ ۲۲۲۔

۵۔البدایہ والنہایہ ، جلد ۸،صفحہ ۳۳۔


کی پشت سے نہیں اُتر گئے ،اور میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم رکوع کرتے تھے تو اپنے دونوں پائے مبارک کو اتنا کشادہ کرتے تھے جس سے امام حسن ایک طرف سے دوسری طرف نکل سکیں ۔(۱)

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرزندارجمند ،ریحان اور میوئہ دل کی فضیلت کے بارے میں ان احا دیث کے مانندمتعدد احا دیث رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کی گئی ہیں ۔راویوں نے کچھ دو سری احا دیث نقل کی ہیں جن میں امام حسن اور ان کے برادر سید الشہداء امام حسین کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور دوسری کچھ روایات میں اہل بیت کی فضیلت بیان کی گئی ہے امام حسن اہل بیت کی ایک شمع ہیں ،اور ہم نے متعدد احا دیث اپنی کتاب(حیاةالامام الحسن) کے پہلے حصہ میں بیان کر دی ہیں ۔

آپ کی پرورش

نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے فرزند ارحمند سے دو ستی کی رعایت کرتے ہوئے ان کو بلند اخلاق کا درس دیا ، اپنے تمام علوم ان تک پہنچا ئے ،آپ کی تربیت آپ کے والد بزرگوار امیر المو منین نے کی جو دنیائے اسلام کے سب سے بلند و افضل معلم ہیں جنھوں نے آپ کی ذات اور نفس کو کریم اور عظیم مثال سے آراستہ کیا یہاں تک کہ آپ ان کی سچی تصویر بن گئے ،اسی طرح آپ کی والدہ گرا می سید ة نساہ العالمین ،زہرا ء ِرسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خالص ایمان ، اللہ سے عمیق محبت اور اس سے مضبوطی سے لو لگانے سے آپ کی تربیت فرما ئی ۔

امام حسن نے بیت نبوت ،وحی نازل ہونے کی جگہ اور مرکز امامت میں پرورش پا ئی آپ اپنے حسن سلوک اور عظیم شخصیت میں اسلامی تربیت کے لئے بہترین مثال بن گئے ۔

بہترین فضائل و کمالات

امام حسن بلند ترین صفات و کمالات کا مجسمہ تھے ، آپ اپنے جدامجد اور والد بزرگوار کے صفات وکمالات کے مکمل آئینہ دار تھے جنھوں نے زمین پر فضائل و کمالات کے چشمے جا ری کئے ۔

امام حسن علیہ السلام فضائل و مناقب ، اصل رائے ،بلند افکار ،ورع و پرہیزگاری ،وسیع حلم ، اخلاق حسنہ میں بلندی ٔ کمالات پر فائز ہوئے یہ سب آپ کے اخلاق کے کچھ جواہر پارے ہیں ۔

____________________

۱۔الاصابہ ،جلد ۲،صفحہ ۱۲۔


امامت

آپ کے عظیم صفات میںسے امامت ہے اور امامت و بلندی کمالات اس کے شامل حال ہوتی ہے جس کو خداوند عالم اپنے بندوں میں سے منتخب کرتا ہے ،یہ امامت کا درجہ بھی خدا ہی نے آپ کو عطا کیا اور رسول کریمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام حسن اور ان کے بردار محترم کے سلسلہ میں یہ اعلان فرمایا :''حسن اور حسین دونوں امام ہیں چا ہے وہ دونوں قیام کریں یا بیٹھ جا ئیں ''۔

ہم اس وقت اختصار کے طور پر امامت کے معنی اوراس کے متعلق کچھ مطالب بیان کرنے کیلئے مجبور ہیں جن سے امام کا مقام اور عظیم شان کاپتہ چلتا ہے، قارئین کرام ملا حظہ فرما ئیں :

۱۔امامت کا مطلب

علماء کلام نے امامت کی تعریف میں یوں کہا ہے :ایک انسانی شخصیت کا دین اور دنیا کے امور میں عام طور پر رئیس و حکمراں ہونا ۔پس اس تعریف کی بنا پر امام وہ عام زعیم و رئیس ہے جس کا لوگوں کے تمام دینی اور دنیوی امور پر سلطۂ قدرت ہو۔

۲۔امامت کی ضرورت

امامت زندگی کی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے جس سے انسان کا کسی حال میں بھی بے نیاز رہنے کا امکان نہیں ہے، اسی میں دنیا اور دین کے نظام کا قیام ہوتا ہے اسی سے عدالت کبریٰ محقق ہو تی ہے، جس کو اللہ نے زمین پر نافذ کیا ہے ،لوگوں کے درمیان عام طور پر امن و سلامتی محقق ہوتی ہے ان سے ہرج و مرج دور ہوتا ہے ،اور طاقت ورکو کمزوروں پر زورگو ئی سے روکتا ہے

امام کی سب سے زیادہ اہم ضرورت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دے ،اس کے احکام اور تعلیمات کو نشر کرے ،معاشرہ کو روح ایمان اور تقویٰ کی غذا کھلائے تاکہ اس کے ذریعہ وہ انسانوں سے شر دورکرے اور اچھائیوں کی طرف متوجہ ہو اور تمام امت پر اس کی اطاعت کرنا ، اس کے امور کو قائم کرنے کے لئے اس کے اوامر کو بجالانا،اس کے ذریعہ کجی کو درست کرنا ، پراکندگی کو اکٹھا کرنا اور راہ مستقیم کی طرف ہدایت کرناضروری ہے ۔


۳۔واجبات امام

مسلمانوں کے امام اور ان کے ولی امر میں مندرجہ ذیل چیزیں ہونا چا ہئے :

۱۔دین کی حفاظت ،اسلام کی حراست ،اورا قدار و اخلاق کو مذاق کرنے والوں سے بچانا ۔

۲۔احکام نافذ کرنا ،جھگڑوں میں فیصلے کرنا اور مظلوم کا ظالم سے حق دلانے میں انصاف کرنا۔

۳۔اسلامی ممالک کی بیرونی حملوں سے حفاظت کرنا ،چاہے وہ حملے لشکری ہوں یا فکری ۔

۴۔ انسان کی شقاوت کا باعث ہونے والے تمام جرائم میں حدیں اور فیصلے قائم کرنا ۔

۵۔سرحدوں کی حفاظت ۔

۶۔جہاد ۔

۷۔زکات جیسے خراج ''ٹیکس ''کا جمع کرناجس کے متعلق اسلامی شرعی نص و روایت موجود ہے ۔

۸۔حکومتی امور میں امانتدار افراد سے کام لینا اور اپنے کار گزاروں کے ساتھ نا انصافی نہ کرنا۔

۹۔بذات خود رعایا کے امور کی نگرانی اور دیکھ بھال کرنا ،اور اس کے لئے کسی دوسرے کی نظارت پر اعتماد کرنا جا ئز نہیں ہے ۔(۱)

۱۰۔دلیری کے ساتھ فیصلے کرنا ،امت کیلئے رفاھی کام کرنا اور ان کو فقر و محرومیت سے نجات دلانا ۔

امام پر ان مندرجہ بالا امور کابجالانا اور ان کی عام طور پر مطابقت کرنا واجب ہے اور ہم نے ان جہتوں کے متعلق مکمل طور پر اپنی کتاب ''نظام الحکم اور ادارة الاسلام ''میں بحث کی ہے ۔

۴۔امام کے صفات

امام میں مندرجہ ذیل شرطوں کاپایا جانا ضروری ہے :

۱۔معاشرہ میں عدالت رائج کرنایعنی اور وہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ کرتاہو اور گناہ صغیرہ پر اصرار نہ کرتاہو ۔

۲۔امت کی تمام ضروریات کی چیزوں سے آگاہ ہو ،ان کے شان نزول اور احکام سے باخبر ہو ۔

۳۔اس کے حواس جیسے قوت سامعہ ،باصرہ اور زبان صحیح و سالم ہو ،تا کہ ان کے ذریعہ براہ راست

____________________

۱۔سیاست شرعیہ، صفحہ ۷۔


چیزوں کا درک کرنا صحیح ہو ،جیسا کہ دوسرے بعض اعضاء کا ہر نقص سے پاک و منزہ ہونا ضروری ہے ۔

۴۔رعایا کی سیاست اور عام مصلحتوں کی تدبیر کے لئے نظریہ کا نفاذ۔

۵۔اسلام کی حمایت اور دشمن سے جہاد کرنے کے لئے شجاعت ،جواں مردی اور قدرت کا ہونا ۔

۶۔نسب یعنی امام کا قریش سے ہونا ۔

یہ تمام شرطیں اور صفات ماوردی اور ابن خلدون نے بیان کی ہیں ۔(۱)

۷۔ عصمت،متکلمین نے عصمت کی تعریف یوں کی ہے :اللہ کا لطف جو اس کے اکمل بندوں پر جاری ہوتا ہے ،جو اس کو عمداً اور سہوا جرائم اور گناہوں کے ارتکاب سے روکتا ہے ،شیعوں کا امام میں اس صفت کے پائے جانے پر اجماع ہے ،اس مطلب پر حدیث ثقلین دلالت کر تی ہے ، رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قرآن و عترت کو مقارن قرار دیا ہے ،جس طرح ''قرآن کریم''غلطی اور لغزش سے محفوظ ہے، اسی طرح عترت اطہار بھی غلطی اور خطا سے محفوظ ہیں ،ورنہ ان دونوں کے ما بین مقارنت اور مساوات کیسے صحیح ہو تی اور ہم اس سلسلہ میں پہلے عرض کر چکے ہیں ۔یہ تمام صفات ائمہ ٔ اہل بیت کے علاوہ کسی اور میں نہیں پائے جاتے ہیں چونکہ انھوں نے ہی اسلام کی پرورش اور اس کی حمایت کی ،اللہ اور اس کی رضا اور اس کی اطاعت کے لئے دلائل پیش کئے ،اسلام کے معتقد شاعر نے ان کو اشعار میں یوں نظم کیا ہے :

لِلْقَرِیبِینَ مِنْ نَدًی والبَعِیدیِ

مِنَ الْجَوْرِ ف عُری الأَحکامِ

والمُصِیْبِیْنَ بابَ ما أَخْطَأَ النَّاسُ

وَمُرْسِیْ قَواعِدَ السلامِ

والحُماة الکُفَاةِ ف الحربِ نْ لَفْفَ

ضِرامُ وَقُودَهُ بِضِرَامِ

وَالغُیوثِ الذینَ ِنْ أَمْحلَ النَّاسُ

فَمأْویٰ حَوَاضِنِ الأَیْتَامِ

راجحِ الوَزْنِ کامِلِ العَدْلِ فِ السَّیْرِ

طَبِیْنُوْنَ بِالْاُمُوْرِ الْعِظَامِ

____________________

۱۔احکام السلطانیہ ،صفحہ ۴۔مقدمہ ،صفحہ ۱۳۵۔


سَاسَةُ لاکَمَنْ رآَٔی رَعْیَةَ النَّاسِ

سَوائً وَرَعْیَةَ الْأَنْعامِ(۱)

''یہ صفات اُن ائمہ کی ہیں جو سخاوت سے نزدیک ہیں اور ظلم و جور سے دُور ہیں ۔

یہ ائمہ احکام اسلام پر مضبوطی سے عمل پیرا ہیں جہاں لوگ خطائوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔

وہاں ان کو راہ راست معلوم ہو تی ہے یہ اسلام کی بنیادوں کو راہ راست بخشنے والے ہیں ۔

یہ ائمہ جنگ میں شدت سے حملہ کرتے ہیں ۔

یہ وہ باران کرم ہیں کہ اگر لوگ پریشانی میں مبتلا ہوںتو یہ یتیموں کی پناہ گاہ ہوتے ہیں۔

اُن کی فضیلتوں کا پلّہ جھکا رہتا ہے یہ بالکل انصاف سے کا م لیتے ہیں ۔

یہ اہم امور کو اچھی طرح سمجھتے ہیں یہ سیاست مدار ہیں البتہ جانوروں اور انسانوں کو ایک نگاہ سے دیکھنے والے نہیں ہیں''۔

بیشک اہل بیت نے اپنی عصمت پر سیرت و کردار کے ذریعہ دلیل قائم کی ہے جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تاریخ انسانیت میں ان کے مثل کو ئی نہیں ہے ،اسی وجہ سے ان کیلئے دین میں عظیم فضل اور تقویٰ ہے ۔وہ ہر قسم کی غلطی اور خطا سے معصوم ہیںجس پر مختلف حالات و واقعات دلالت کرتے ہیں۔

۵۔امام کی تعیین

شیعوں کے نظریہ کے مطابق امام کا معین کرنا امت کے اختیار میں نہیں ہے اور نہ ہی اہل حل وعقد کے ہاتھ میں ہے ،امامت کے متعلق الکشن کرانا باطل ہے ،اس میں کسی کا اختیار محال ہے، امامت بالکل نبوت کے مانند ہے ،جس طرح نبوت انسان کی ایجاد نہیں ہو سکتی اسی طرح امامت بھی کسی کی تکوین و ایجاد کے ذریعہ نہیں ہو سکتی ،کیونکہ جس عصمت کی امامت میں شرط ہے اس سے خدا کے علاوہ مخفی نفوس سے کو ئی بھی آگاہ نہیں ہے ،اس نے اس پر حجت آل محمد اور مہدی ٔ منتظر سے اپنی حدیث میں سعد بن عبداللہ کے ساتھ استدلال کیاہے اس نے امام سے سوال کیا کہ لوگوں کے اپنی خاطر امام اختیار نہ

نہ کرنے کی کیا وجہ ہے ؟تو امام نے فرمایا:''وہ اپنے لئے مصلح یا مفسد امام کو اختیار کریںگے ؟''۔

____________________

۱۔ہاشمیات، صفحہ ۹۔


اس نے جواب دیا:بلکہ مصلح امام اختیار کریں گے ۔

''تو کیا ان کا کسی بُرے شخص کو اختیار کرناناممکن ہے جبکہ کسی کے دل کی اچھائی یابرا ئی سے کو ئی واقف نہیں ہے ؟''۔

کیوں نہیں ۔

یہ وجہ میں نے تیری عقل کے نزدیک مؤثق دلیل و برہان کے ذریعہ بیان کی ہے ،مجھے ان انبیاء کی خبر دی گئی ہے جن کو اللہ نے منتخب فرمایا ،ان پر کتاب نازل فر ما ئی ،ان کی عصمت اور وحی کے ذریعہ تا ئید فرما ئی کیونکہ وہ امتوںکے بزرگ ہیں ،مو سیٰ اور عیسیٰ کے مانند ان کو اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے کیا ان دونوں کی زیادہ عقل اور ان کے علم کے کامل ہونے کے باوجودان دونوں کو کسی کومنتخب کرنے کا اختیار ملتا ہے تو وہ منافق کے سلسلہ میں حیرت میں پڑجاتے ہیںاور فکر کرتے ہیںکہ یہ مو من ہے حالانکہ وہ منافق ہوتا ہے ؟ ' ' ۔

۔نہیں ۔

موسیٰ کلیم اللہ نے اتنی زیادہ عقل ،اتنے کامل علم اور اپنے اوپر وحی نازل ہونے کے باوجود اپنی قوم سے اپنے پروردگار سے کئے ہوئے وعدے کے تحت ستر افراد کو منتخب کیاجن کے ایمان و اخلاص میں کو ئی شک و شبہ نہیں تھا جبکہ اُن میں منافقین بھی تھے؟ '' اللہ کا ارشاد ہے :(وَاخْتَارَ مُوسَی قَوْمَہُ سَبْعِینَ رَجُلًا لِمِیقَاتِنَا)(۱) ''اور موسیٰ نے ہمارے وعدے کے لئے اپنی قوم کے ستّرافراد کا انتخاب کیا '' یہاں تک کہ خدا نے فرمایا: ( فَقَالُو اَرِنَااﷲَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمْ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِم ) (۲)

''جب انھوں نے کہا کہ ہمیں علی الاعلان اللہ کو دکھلا دیجئے تو ان کے ظلم کی بناپرانھیں ایک بجلی نے اپنی گرفت میں لے لیا ''(۳)

جب خدا کی طرف سے نبوت کیلئے منتخب کیا جانے والا شخص بھی فاسد کا انتخاب کر سکتا ہے تواس سے ہم یہ جان لیتے ہیں کہ منتخب کرنے کا حق صرف اس ذات بابرکت کو ہے جو دلوں کے راز سے واقف ہے ۔۔۔''۔(۱)

انسانی طاقتیں اس امت کے لئے اصلح شخص کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں ،اس کا اختیار انسان کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ اس کا اختیار تو عالم الغیب خدا کے قبضہ قدرت میں ہے ۔

امامت کے متعلق یہ مختصر سی بحث تھی اور محقق کے لئے تفصیل کی خاطرعلم کلام کی کتابوں کا مطالعہ کرنا ضروری ہے ۔

____________________

۱۔سورئہ اعراف، آیت ۱۵۵۔ ۲۔سورئہ نساء ،آیت ۱۵۳۔

۳۔بحارالانوار، جلد ۱۳،صفحہ ۱۲۷۔


بلند اخلاق

امام حسن کو اپنے جد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بلند اخلاق وراثت میں ملے جو اپنے اخلاق میں تمام انبیاء پر فضیلت رکھتے تھے ،مورخین نے آپ کے اخلاق کے متعلق متعدد روایات نقل کی ہیں ،ان ہی میں سے ایک یہ واقعہ ہے کہ ایک شا می شخص آپ کے پاس سے گزرا تو اس نے آپ کو دیکھ کر آپ پر سب و شتم کرنا شروع کیا، امام خاموش رہے اور اس کو کو ئی جواب نہیں دیا جب وہ شخص سب و شتم کرکے چُپ ہو گیا تو امام حسن نے مسکراتے ہوئے چہرے سے اس سے فرمایا :اے بزرگ میرے خیال میں تم مسافر ہو اگر تم کچھ چا ہتے ہو تو ہم تجھے عطا کریں ،اگر تم ہدایت چاہتے تو ہم تمہاری ہدایت کریں ،اگر سواری کی ضرورت ہو تو سواری فراہم کریں،اگر تم بھوکے ہو تو تمھیں کھانا کھلادیں گے ،اگر تم محتاج ہو تو تمھیں بے نیاز کردیںگے اگر تمہارے پاس رہنے کی جگہ نہیں ہے تو ہم اس کا انتظام کردیںگے ''۔

جب امام اس سے اپنے نرم و لطیف کلام سے پیش آئے تو اس کے ہو ش اڑگئے ،وہ کو ئی جواب نہ دے سکا ،وہ اس شش و پنج میں پڑگیا کہ امام سے کیسے عذر خوا ہی کرے اور جو کچھ گناہ مجھ سے صادر ہوگئے ہیں ان کو کیسے مٹائے ؟ اور اس نے کہنا شروع کیا :اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں قرار دے ۔(۱)

آپ کے عظیم اخلاق کا یہ حال تھا کہ آپ ایک جگہ تشریف فرما تھے اوروہاں سے کہیں جانے کا قصد رکھتے تھے تو وہاں پر ایک فقیر آگیاآپ اس کے ساتھ بڑی شفقت و مہربانی کے ساتھ پیش آئے اور اس

سے فرمایا:'' تم اس وقت آئے جب میں وہاں سے اٹھنے کا ارادہ کر رہا تھا تو کیا تم مجھے یہاں سے جانے کی اجازت دیتے ہو ؟''

____________________

۱۔مناقب ابن شہر آشوب، جلد ۲،صفحہ ۱۴۹۔الکامل مبرد ،جلد ۱،صفحہ ۱۹۰۔۲۔


امام کے ان بلند اخلاق سے فقیر متعجب ہوا اور امام کو وہاں سے چلے جانے کی اجازت دیدی ۔(۱)

یہ آپ کا بلند اخلاق تھا کہ ایک مرتبہ آپ فقیروں کی ایک ایسی جماعت کے پاس سے گذرے جو زمین پر بیٹھے ہوئے کھانا کھارہے تھے انھوں نے آپ کو اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی تو آپ نے ان کی دعوت قبول کر لی اور ان کے پاس بیٹھ کر کھانا کھا نے لگے اور فرمایا :''خداوند عالم متکبروں کو دوست نہیں رکھتا '' پھر ان کو مہمان ہونے کی دعوت دی تو انھوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا آپ نے ان کو کھانا کھلایا،کپڑا دیا اور ان کو اپنے الطاف سے نوازا ۔(۲)

وسعت حلم

آپ ایسے حلیم و بردبار تھے کہ جو بھی آپ کے ساتھ بے ادبی کرتا آپ اس کے ساتھ احسان کرتے تھے مورخین نے آپ کے حلم کے متعلق متعدد واقعات قلمبند کئے ہیں، ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ نے جب اپنی بکری کا ایک پیر ٹوٹا ہوا دیکھا تو اپنے غلام سے فرمایا :''یہ کس نے کیا ہے ؟''۔

غلام :میں نے ۔

امام :''تونے ایساکیوںکیا؟''۔

غلام :تاکہ آپ اس کی وجہ سے ناراض ہو جا ئیں!

امام نے مسکراتے ہوئے فرمایا:''میں تجھے ضرور خوش کرونگا''۔

امام نے اس پربہت زیادہ بخشش کرکے اسے آزاد کردیا ۔(۳)

آپ کے سخت دشمن مروان بن حکم نے آپ کے عظیم حلم کا اعتراف کیا ہے اور جب آپ کا جسم اطہر حضیرہ ٔ قدس میں لیجایا گیا تو اس نے آپ کے جنازہ کو کا ندھا دینے میں سبقت کی ،امام حسین یہ دیکھ کرمتعجب ہوئے اور اس سے فرمایا:آج تم اس کا جنازہ اٹھانے کے لئے آگئے جس پر تم کل غیظ و غضب کا گھونٹ پیتے تھے ؟''۔

____________________

۱۔تاریخ الخلفا ء ،مؤلف سیوطی، صفحہ ۷۳۔

۲۔اعیان الشیعہ ،جلد ۴،صفحہ ۲۴۔

۳۔مقتل الحسین ''خوارزمی ''،جلد ۱،صفحہ ۱۴۷۔


مروان نے کہا :جس کا حلم پہاڑ کے مانند ہو میں اس کے ساتھ ایسا ہی کرونگا۔(۱)

امام حسن اپنے حلم ،بلند آداب اور عظیم اخلاق میں ایک نمونہ تھے اور اسی صفت کی وجہ سے آپ لوگوں کے قلوب میںجگہ بنائے تھے ۔

سخاوت

امام حسن لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ،آپ اکثر غریبوں پر احسان فرماتے تھے ،کسی سائل کو کبھی رد نہیں کر تے تھے اور ایک مرتبہ آپ سے سوال کیا گیا : آپ سائل کو رد کیوں نہیں کرتے ہیں ؟

آپ نے فرمایا:''بیشک میں اللہ کا سائل ہوں ،اسی سے لو لگاتا ہوں ،مجھے اس بات سے شرم آتی ہے کہ میں خود تو سائل ہوں اور سوال کرنے والے کو رد کردوں ،بیشک خدا کی مجھ پر اپنی نعمتیں نازل کر نے کی عادت ہے، لہٰذا میں نے بھی اس کی نعمتیں لوگوں کو دینے کی عادت بنا لی ہے اور مجھے یہ خوف ہے کہ ا گر میں نے اپنی عادت ختم کر لی توخدا کہیں اپنی عادت ختم نہ کر لے ''،اس کے بعد آپ نے یہ شعر پڑھے :

ِذا ما أَتانِ سَائِلُ قُلْتُ مَرْحَباً

بِمَنْ فَضْلُهُ فَرْضُ عَلَّ مُعَجَّلُ

وَمَنْ فَضْلُهُ فَضْلُ عَلیٰ کُلِّ فَاضِلٍ

وَأَفْضَلُ أَیَّامِ الْفَتیَ حِیْنَ یُسْأَلُ(۲)

''اگر میرے پاس کو ئی سائل آتا ہے تو میں اسے خوش آمدید کہتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ آپ کا احترام کرنا مجھ پر واجب ہے ۔

آپ کا احترام ہر شخص پر فرض ہے اور انسان کے بہترین ایام وہ ہیں جب اس سے سوال کیا جائے ''۔

آپ کے دروازے پر محتاجوں اورفقیروں کی بھیڑ لگی رہتی تھی آپ ان کے ساتھ احسان و نیکی کرتے اور انھیں ان کی خواہش سے زیادہ عطا کیا کرتے تھے ،مؤرخین نے آپ کے کرم و سخاوت کے متعدد واقعات نقل کئے ہیں، ہم ان میں سے بعض واقعات ذیل میں نقل کر رہے ہیں :

۱۔ایک اعرابی نے آکر سوال کیا تو امام نے فرمایا :''جو کچھ خزانہ میں ہے اس کو دیدو ''اس وقت خزانہ

____________________

۱۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،جلد ۴،صفحہ ۵۔

۲۔نور الابصار، صفحہ ۱۱۱۔


میں دس ہزار درہم تھے ۔اس اعرابی نے امام کی خدمت میں عرض کیا :کیا آپ مجھے یہ اجازت مرحمت فرمائیں گے کہ میں آپ کی شان و مدح میں کچھ اشعار پڑھوں ؟ تو امام نے فر مایا :

''نَحْنُ اُنَاس نَوَالُنَا حَضِلُ

یَرْتَعُ فِیْهِ الرَّجائُ وَالأَمَلُ

تَجُوْدُ قِبْلَ السَّؤالِ أَنْفُسُنَا

خَوْفاً علیٰ مائِ وَجْهِ مَنْ یَسَلُ

لَوْ یَعْلَمُ الْبَحْرُ فَضْلَ نَائِلِنَا

لَفَاضَ مِنْ بَعْدِ فَیْضِهِ خَجَلُ ''(۱)

''ہم ایسے لوگ ہیں جن کی بخشش سر سبز و شاداب ہے جس میں آرزو اور امید چر تی رہتی ہے۔

ہم سوال کئے جانے سے پہلے ہی سخاوت کرتے ہیں تاکہ سائل کی آبرو محفوظ رہے ۔

اگر سمند رکو ہماری بخشش کی فضیلت معلوم ہو تی تو وہ اپنی فیاضی سے شرمندہ ہو جاتا ''۔

۲۔امام حسن ایک ایسے حبشی غلام کے پاس سے گذرے جو اپنے سا منے رکھی ہو ئی روٹی کا ایک ٹکڑا خود کھاتاتھا اور دوسرا ٹکڑا اپنے کتےّ کو ڈال رہا تھا ،امام نے اس سے فرمایا:''تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟''

اس نے کہا مجھے شرم آتی ہے کہ میں تو روٹی کھائوں اور اس کو نہ کھلائوں۔

امام نے اس غلام میں اس بہترین خصلت کا مشاہدہ فرمایا اور اس کو اس اچھی خصلت کی جزا دینا چاہی اس کے احسان کے مقابلہ میں احسان کرنا چاہاتاکہ فضیلتوں کو رائج کیا جا سکے۔اس سے فرمایا :تم اسی جگہ پر رہو ،پھر آپ نے اس کے مالک کے پاس جاکر غلام اور جس باغ میں وہ رہتا تھا اس کو خریدااور اس کے بعد اسے آزاد کرکے اس باغ کا مالک بنا دیا ۔(۲)

۳۔ایک مرتبہ امام حسن مدینہ کی ایک گلی سے گذر رہے تھے تو آپ نے سنا کہ ایک آدمی اللہ سے دس ہزار درہم کا سوال کر رہا ہے تو جلدی سے اپنے بیت الشرف میں آئے اور اس کے لئے دس ہزار درہم بھیج دئے ۔(۳)

____________________

۱۔اعیان الشیعہ، جلد ۴،صفحہ ۸۹۔۹۰۔

۲۔البدایہ والنھایہ جلد ۸ صفحہ ۳۸۔

۳۔طبقات الکبریٰ ،مؤلف شعرانی جلد ۱،صفحہ ۲۳ ۔الصبّان ،صفحہ ۱۱۷۔


یہ آپ کے جود و کرم کے چند واقعات تھے اور ہم نے آپ کے جود و کرم کے متعددواقعات اپنی کتاب ''حیاةالامام الحسن ''کے پہلے حصہ میں بیان کئے ہیں ۔

زہد

رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس پہلے پھول اور آپ کے اس لخت جگرنے اپنی زندگی زہد و تقویٰ میں بسر کی اور ہمیشہ خدا سے لو لگائے رہے ،اور زندگی کے بہت کم مال و دولت پر قناعت فرما ئی، امام فرماتے ہیں :

''لَکِسْرَةُ مِنْ خِسِیْسِ الْخُبْزِ تُشْبِعُنِْ

وَشَرْبَةُ مِنْ قَرَاحِ الْمَائِ تکْفِیْنِ

وَطَرَّةُ مِنْ دَقِیْقِ الثَّوْبِ تَسْتُرُنِْ

حَیّاً وَِنْ مِتُّ تَکْفِیْنِ لِتَکْفِیْنِْ''(۱)

''روٹی کا معمولی ٹکڑا مجھے شکم سیر کردیتا ہے سادہ پانی کا ایک گھونٹ میرے لئے کافی ہے ۔زندگی میں معمولی کپڑا میرے پہننے کیلئے کافی ہے اور مرنے کے بعد میری تکفین کیلئے کافی ہے ''آپ نے اپنا بیان مندرجہ ذیل دو بیتوں پر تمام فرمایاجو آپ کے زہد کی عکا سی کر تا ہے :

قَدِّمْ لِنَفْسِکَ ما استَطَعْتَ مِنَ التُّقیٰ

ِنَّ الْمَنِیَّةَ نَازِلُ بِکَ یَا فَتی

أَصْبَحْتَ ذَا فَرَحٍ کَأَنَّکَ لا تَریٰ

أَحْبَابَ قَلْبِکَ فِ المقَابرِوالبِلی(۲)

''اپنے نفس کو حتی الامکان پرہیز گاری کا تحفہ پیش کروکیونکہ اے جوان تم کو موت آنے والی ہے ۔تم اس طرح خوش ہو گئے ہوکہ گویا اپنے قلبی دوستوں کو قبروں میں سوتا نہیں دیکھتے ''۔محمد بن بابویہ نے امام حسن کے زہد کے متعلق ایک کتاب تحریر کی ہے جس کا نام ''زہدالامام الحسن '' رکھا ہے،(۳) مترجمین و محققین کا اس بات پر اجماع ہے کہ آپ سب سے زیادہ زا ہد تھے آپ کی شان آپ کے جد اور والد بزرگوار کی شان کے مطابق تھی

____________________

۱۔حیاة الامام الحسن ،جلد ۱،صفحہ ۳۲۸۔

۲۔تاریخ ابن عساکر، جلد ۴،صفحہ ۲۱۹۔

۳۔حیاةالامام الحسن ، جلد ۱،صفحہ ۳۳۰۔


علمی ہیبت

امام حسن اسلام میں علم و حکمت کے منبع تھے ،آپ اور آپ کے برادر کے کثرت علم کے متعلق احادیث میں وارد ہوا ہے ،امام حسن اور امام حسین متبحر فی العلم تھے ،عالم اسلام میں سب لوگ فتووں کے سلسلہ میںامام حسن علیہ السلام کی طرف ہی رجوع کر تے تھے ،آپ کے پاس علوم اخذ کرنے والے صحابہ کی بھیڑ لگی رہتی تھی ،اس کی تمام صحابہ نے روایت کی ہے ۔(۱)

یہ بات شایان ذکر ہے کہ محمد بن احمد دولابی متوفی ۳۲۰ ھ نے مسند نا می کتاب تحریر کی ہے جس میں ''ذریہ ٔ طاہرہ ''کے نام سے ایک باب ہے جس میں وہ تمام روایات درج کی ہیں جن کو امام حسن نے اپنے جد رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے ۔(۲)

حکیمانہ کلمات قصار

۱۔''دنیا میں اپنے بدن کے ساتھ رہو اور آخرت میں اپنے دل کے ساتھ رہنا ''۔(۳)

۲۔''اگر دنیا کے بارے میں تمہارے مطالبات پورے نہ ہوں تو تم یہ تصور کروکہ تم نے اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا ''۔(۴)

۳۔''سب سے بڑی مصیبت بری عادت ہے ''۔(۵)

۴۔''جو شخص سلام سے پہلے کلام کرے اس کا جواب نہ دو ''۔(۶)

۵۔ایک شخص اپنے مرض سے صحتیاب ہوا تو امام نے اس سے فرمایا:''اللہ نے تیرا ذکر کیا تو اس

____________________

۱۔حیاة الامام الحسن ، جلد ۲، صفحہ ۳۳۳۔

۲۔ جامعہ زیتونہ کی لا ئبریری کے خطی نسخے جن کی امیر المومنین لا ئبریری سے فوٹوکاپی لی گئی ہے ہم نے اس کا تذکرہ حیاةالامام الحسن کی پہلی جلد میں کر دیا ہے ۔

۳۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد ۱۸،صفحہ ۸۹۔

۴۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۸،صفحہ ۸۹۔

۵۔نہج السعادہ ،جلد ۸،صفحہ ۲۸۰۔

۶۔ کشف الغمہ ،جلد ۲،صفحہ ۱۹۷۔


کا ذکر کر ،اور تجھے واپس پلٹایا لہٰذا تو اس کا شکر ادا کر ''۔(۱)

۶۔''نعمت ،محنت ہے اگر تم نے نعمت کا شکر ادا کیا تو وہ تمہارے لئے خزانہ ہو گی اور اگر نعمت کا انکار کیا تو وہ مصیبت ہو جا ئے گی ''۔(۲)

آپ کے بعض خطبے

آپ پنے زمانہ کے بہت بڑے خطیب تھے اور بات میں بات ایجاد کرنے کی قدرت رکھتے تھے ہم ذیل میں ان کے بعض خطبے نقل کر رہے ہیں :

۱۔امام امیر المو منین حضرت علی نے آپ کو لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کیلئے بھیجا توآپ نے بڑی ہی شان و شوکت کے ساتھ منبر کے پاس کھڑے ہوکر یوں خطبہ ارشاد فرمایا :

''ایہا الناس !اپنے پروردگار کے پیغام کو سمجھو، بیشک پروردگار عالم نے عالمین کیلئے آدم ، نوح ، آل ابراہیم اور آل عمران کو منتخب کرلیاہے یہ ایک نسل ہے جس میں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے اور اللہ سب کی سننے والا اور جاننے والا ہے ،ہم آدم کی برگزیدہ اولاد ہیں ،نوح کے خاندان ہیں ، آل ابراہیم کے منتخب کردہ ہیں ،اسماعیل اور آل محمد کی نسل ہیں ،ہم تمہارے درمیان بلند آسمان ، بچھی ہوئی زمین اور چمکتے سورج کے مانند ہیں ہم ہی نے اپنے نور سے دنیا کو روشن کیا ہے اورہم ہی شجرِ زیتونہ ہیںجس کو پروردگار عالم نے مبارک قرار دیا ہے اور اس کی قرآن کریم میں مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے :''لاشرقیة ولاغربیة ''نہ مشرق ہے اور نہ مغرب ہے ،پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اس درخت کی اصل ہیں اور علی اس کی شاخ ہیں ،خدا کی قسم ہم اس کے ثمر ہیں،جس نے اس کی شاخوں سے تعلق رکھاوہ نجات پا گیا اور جس نے اس سے رو گردانی کی وہ گمراہ ہوا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔۔۔ ''۔(۳)

۲۔آپ کا ایک بہت ہی عمدہ خطبہ یہ ہے جس میں آپ نے مکارم اخلاق کے سلسلہ میں گفتگوفرمائی:

____________________

۱۔بحارالانوار ،جلد ۷۵،صفحہ ۱۰۶۔

۲۔تذکرة ابن حمدون ،صفحہ ۲۵۔

۳۔جلاء العیون، جلد۱،صفحہ ۳۲۸۔


''جان لو !عقل حرز(محافظ) ہے ،حلم زینت ہے ،وفاداری مروت ہے ،جلد بازی بیوقوفی ہے ، بیوقوفی کمزوری ہے ، اہل دنیا کے ساتھ مجالست بری ہے ،اہل فسق و فجور سے ملنا جُلنا دھوکہ ہے ، جس نے اپنے برادران کو ہلکا سمجھا اس نے ان کی محبت سے ہاتھ دھولیا ،شک و شبہ کرنے والے کے علاوہ اور کو ئی ہلاک نہیں ہوگا ،وہ ہدایت یافتہ افراد ہی نجات پا ئیں گے جو اپنی مو ت اور اپنے رزق کے بارے میںایک لمحہ کے لئے بھی خدا پر کسی طرح کا الزام نہیں لگاتے ،وہ صاحب مروّت افراد ہوتے ہیں اُن کی حیا کامل ہو تی ہے ، وہ صبر کئے رہتے ہیں یہاں تک کہ اُن کو اُن کا رزق مل جاتا ہے ، وہ دنیا کے عوض دین اور جوانمردی کا سودا نہیں کر تے اور نہ رضایت الٰہی کے بدلہ دنیا حاصل کرنا چاہتے ہیں،انسان کی جوانمردی اور عقل مندی یہ ہے کہ اپنے بھا ئیوں کی حاجت برآری میں جلدی کرے چاہے وہ حاجت برآری کا تقاضا بھی نہ کریں، عقل خدا کی عطا کی ہو ئی چیزوں میں سب سے بہتر ہے، اس لئے کہ اسی کے ذریعہ سے دنیا اور اس کی آفتوں سے نجات پائی جا سکتی ہے اور آخرت میں اس کے عذاب سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ''۔

آپ سے کہا گیا :لوگوں نے پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سامنے ایک شخص کی عبادت کی تعریف کی تو آپ نے فرمایا :'' تم اس کی عقل کو دیکھو کیونکہ قیامت کے دن جزا انسان کی عقل کے حساب سے دی جا ئیگی اوربہترین ادب عقل کی صحت کی دلیل ہے۔۔ ۔''(۱)

عبادت

امام حسن اپنے زمانہ کے سب سے بڑے عابد تھے ،آپ کے سلسلہ میں راویوں کا کہنا ہے : آپ ہمیشہ اپنی زبان پر اللہ(۲) کا ذکر جا ری رکھتے تھے ،جب جنت و جہنم کا تذکرہ ہو تا تو آپ مضطرب ہوجاتے ،خدا سے جنت کا سوال کر تے اور جہنم سے پناہ مانگتے ،جب موت اور موت کے بعد

حشر و نشر کا تذکرہ ہوتا تو آپ خا ئفین اورتوبہ کرنے والوں(۳) کی طرح گریہ کرتے ،جب اللہ کی بارگاہ میں حاضری

____________________

۱۔ارشاد القلوب ،صفحہ ۲۳۹۔ ۲۔امالی صدوق ،صفحہ ۱۰۸۔

۳۔اعیان الشیعہ ،جلد ۴، صفحہ ۱۱۔


کاذکر ہوتا تو آپ ایک نعرہ مارتے تھے یہ تمام باتیں اللہ کی عظیم اطاعت اور اس سے خوف کی عکاسی کرتی ہیں ۔(۱)

وضو اور نماز

امام حسن جب وضو کا ارادہ کرتے تو خدا کے خوف سے آپ کی حالت متغیر ہو جاتی یہاں تک کہ آپ کا رنگ متغیر ہوجاتا اور آپ کے اعضاء کانپ اٹھتے تھے،جب اس راز کے سلسلہ میں آپ سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:''جوشخص، رب العرش کی بارگاہ میں کھڑا ہوتا ہے اس کا حق ہے کہ اس کے بند بند کانپ جائیں اور اس کا رنگ بدل جائے ''، جب آپ وضو سے فارغ ہو کر مسجد میں داخل ہوتے تو باآواز بلندیوں فرماتے :''خدایا تیرا مہمان تیرے دروازے پر ہے ،اے احسان کرنے والے! گناہ گار تیرے پاس آیا ہے ، اے کریم اپنی نیکیوں کے ذریعہ ہماری برائیوں سے در گذر فرما ''۔(۲)

جب نماز میں مشغول ہوتے تو خدا سے خوف و ڈر کی وجہ سے آپ کے بند بند کا نپنے لگتے تھے ۔(۳)

نماز صبح ادا کرنے کے بعد سے لیکر سورج نکلنے تک آپ اللہ کے ذکر کے علاوہ کسی سے کو ئی کلام نہیں کر تے تھے ۔(۴)

حج

آپ نے اللہ کی عبادت اور اس کی طاعت کا یوں اظہار فرمایا کہ آپ نے پاپیادہ پچیس حج کئے ، جبکہ آپ کیلئے سواریاں مو جود تھیں ،(۵) جب آپ سے پاپیادہ بہت زیادہ حج کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ فرمایا:''مجھے اپنے پروردگار سے اس بات پر شرم آتی ہے کہ میں پیدل اس کے بیت حرام تک نہ جائوں ''۔(۶)

____________________

۱۔امالی صدوق ،صفحہ ۱۰۸۔

۲۔امالی صدوق ،صفحہ ۱۰۸۔

۳۔حیاةالامام حسن ،جلد ۱، صفحہ ۳۲۷۔

۴۔بحارالانوار، جلد ۱۰، صفحہ ۹۳۔

۵۔لمعہ ،کتاب الحج ،جلد ۲، صفحہ ۱۷۰۔

۶۔اعیان الشیعہ ،جلد ۴، صفحہ ۱۱۔


اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرنا

امام نے خدا کی مرضی اور اس کی اطاعت میں ہر انسان پر سبقت فرما ئی ،آپ نے دو مرتبہ اپنی ساری ملکیت راہ خدا میں تقسیم کر دی ،اور تین مرتبہ اللہ کی راہ میں اپنا سارا مال دیدیا یہاں تک کہ اپنی نعلین بھی دیدی اور پھر دوبارہ خریدی ۔(۱)

یہ آپ کے ذریعہ اللہ کی اطاعت کے چند نمونے ہیں آپ نے عبادت میں اپنے جد اور پدر بزرگوار سید المتقین اور امام الموحدین کا کردار ادا کیا ۔

کثرت ازواج کی تہمت

امام حسن پر زیادہ شادیاں کرنے کی تہمت لگا ئی گئی ہے جیساکہ کہاگیا ہے :آپ نے تین سو شادیاں کی ہیں(۲) یہ صرف ایک بہتان ہے اس کی کو ئی حقیقت نہیں ہے ،جب حسنی سادات نے منصور دوانیقی کے خلاف قیام کیا تو اس نے جان بوجھ کر یہ مشہور کردیا ، اس قیام سے اس کی حکومت کو خطرہ لا حق ہوا ، ارکان حکومت لرزہ براندام ہوگئے تو اس نے جان بوجھ کر امام امیرالمومنین اور ان کی اولاد پر الزامات لگانا شروع کردئے اور ان پر آرام طلبی کا الزام لگایا۔

اگر یہ روایات صحیح ہو تیں تو امام حسن کی اولاد بھی کثرت نساء سے شادیوں کے مناسب ہوتی حالانکہ ''نسابوں نے جو آپ کی اولاد کا ذکر کیا ہے ''آپ کی اولاد لڑکے اور لڑکیوںکی تعداد۲۲ بتا ئی ہے ، مطلق طور پر یہ تعداد کثرت ازواج کے بالکل مناسب نہیں ہے جس کا انھوں نے گمان کیا ہے کہ آپ نے بہت زیادہ شادیاں کی ہیں ،اس سے بڑھ کر انھوں نے تو یہ بھی بیان کیا ہے کہ آپ بہت زیادہ طلاق دیتے تھے ،اب اگر یہ ثابت ہوجائے کہ آ پ بہت زیادہ طلاق دیتے تھے تو آپ جعدہ بنت اشعث کو طلاق دیتے ، اور ہم نے اس سلسلہ میں قاطع دلیلوں کے ذریعہ اپنی کتاب ''حیاةالامام الحسن ''کی دوسری جلدمیں اس نسبت کے متعلق بیان کر دیا ہے ۔

____________________

۱۔اسدالغابہ، جلد ۲، صفحہ ۱۲۔

۲۔حیاةالامام حسن ، جلد ۲، صفحہ ۴۵۳۔


خلافت

جب عالم اسلام ،معاشرتی عدالت کے علمبر دارامیر المو منین کی شہادت کے سانحہ سے دوچار ہواتو بڑے ہی پیچیدہ وقت میں امام نے اسلامی خلافت کی باگ ڈور سنبھالی ،جبکہ آپ کا لشکر نافرمان ہو چکا تھا ،ان میں سے اکثر افراد جنگ میں سستی سے کام لے رہے تھے اور اُن میں خوارج بھی تھے جنھوں نے امام امیرالمومنین پرکفر اور دین سے خارج ہونے کاالزام لگایا وہ اپنے لشکر میں جسم کھا جانے والی چیونٹی کی طرح تھے ان کو نافرمانی اور امام کی اطاعت نہ کرنے کی رغبت دلاتے تھے ۔

امام حسن کیلئے سب سے المناک حادثہ آپ کے لشکر کے سپہ سالاروں کا تھا ،جن میںسر فہرست عبیداللہ بن عباس تھے ،انھوں نے اللہ ،رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ،معاویہ نے ظاہری طور پر انھیں ولایت ،طاعت اور اپنا حکم ماننے کیلئے خط تحریر کیااور اس کے ضمن میں یہ تحریر کیا کہ اگر وہ چا ہیں امام کو قتل کردیں یا گرفتار کر کے اس کے حوالہ کر دیں ۔

آپ کے چچا زاد بھا ئی عبید اللہ بن عباس نے معاویہ سے رشوت لے لی اور رات کے اندھیرے میں بڑی ذلت و خواری کے ساتھ معاویہ کے لشکر سے جا ملا ،امام حسن کے لشکر میں فتنوں کی امواج اور بے چینی چھوڑ گیا،کمزور نفس افراد کے لئے خیانت اور ضمیر فروشی کی راہ ہموار کر گیا، آپ کو اس لشکر کے حوالے کردیا جو مال و زر کے لالچ میںآپ کے ہمراہ آگیا تھا،ہر طرف سے آپ کو مشکلوں نے گھیر لیا،آپ کے لشکر میں بعض مارقین نے جان بوجھ کر نماز کی حالت میں آپ کی ران پرنیزہ مارا ،امام نے ان تمام مشکلوں میں صبر سے کام لیااور یہ مشاہدہ کیا کہ آپ کے سامنے ان دو راستوں کے علاوہ اورکو ئی تیسرا راستہ نہیں ہے :

۱۔ اپنے اس پراکندہ لشکر کے ساتھ معاویہ سے جنگ کرتے جس سے فتح و نصرت کی کو ئی امید نہیں کی جا سکتی تھی ،اس طرح اپنی اور اپنے اہل خاندان نیز شیعوںکی جان کی بازی لگا دیتے اور اس طرح دین اور صراط مستقیم کی ہدایت کا یہ ستارہ غروب ہو جاتا کہ اگر امام اسیر کرکے معاویہ کے پاس لیجائے جاتے تو وہ آپ پر احسان رکھتا اور آپ کو آزاد کردہ قرار دیتا ،جس سے اس سے اور اس کے اہل خاندان سے آزاد کردہ کی تہمت ختم ہو جا تی ،کیونکہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فتح مکہ کے دن ان لوگوں کو آزاد کیا تھا اور اس طرح بنی امیہ مضبوطی کے ساتھ اپنے پیر جما لیتے اور عام لوگوں کی نظر میں امام کی قربانی کی اس کے علاوہ کو ئی اہمیت نہ ہوتی کہ لوگ یا آپ کی تا ئید کرتے یا آپ کو برا بھلا کہتے ۔


۲۔یامعاویہ کے ساتھ صلح کرلیتے جبکہ یہ صلح آنکھ میں تنکے یا گلے میں پھنسی ہو ئی ہڈی کی طرح ہوتی ،معاویہ اور اس کی سرکشی سے چشم پو شی سے کام لیتے یا اس کے اسراراور خباثت کو اسلامی معاشرہ میں فاش کرتے ،اس کے مسلمان نہ ہونے کو بیان کرتے ، اس سے بے شرمی کا لباس دور کرتے تاکہ لوگوں کے سامنے اس کی ریا ،خباثت اور زورگوئی کا انکشاف ہوجاتا ،یہ چیز واضح طور پر محقّق ہو ئی جس میں کسی طرح کاکو ئی ابہام و غموض نہیں ہے ،صلح کے بعد معاویہ نے ایک خطبہ دیاجس میں عراقیوں سے مخاطب ہو کر کہا: اے اہل عراق! میں نے تم سے اس لئے جنگ نہیں کی ہے کہ تم نماز پڑھو ، روزے رکھو، زکات دواور حج بجالاؤ، بلکہ میں نے تم سے اس لئے جنگ کی ہے کہ تم کو اپنا مطیع بنا کر تم پر حکومت کروں،اور اللہ نے مجھے یہ حکومت دیدی ہے جس کے متعلق تم پر گراں گذر رہا ہے، آگاہ ہوجائو میں نے جو کچھ عہد و پیمان حسن بن علی (علیہما السلام)سے کئے تھے وہ سب میرے پائوں کے نیچے ہیں ۔

کیا آپ نے اس اموی خبیث کو ملاحظہ کیا جس نے اپنی جہالت کو واضح کردیا اور اپنے تمام امور کو بیان کر دیا ؟اگر امام حسن علیہ السلام کی صلح میں یہ عظیم فائدہ نہ ہوتا جو معاویہ کی جہالت اور اس کے خبث با طنی اور سوء سریرہ پر دلالت کر تا ہے اس کی روح میں تو اسلام سما ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پہلے دشمن ابو سفیان کے مشابہ اور اس کی ماں ہندکے مثل تھی جس نے سید الشہدا حضرت حمزہ کا جگر نکال کر داتنوں سے چبایا تھا اور ان کو مثلہ کر دیا تھامعاویہ کو اِن دونوں سے اسلام سے دشمنی اور رسول اسلام سے بغض کرنا ورثہ میں ملاتھا۔

بہر حال امام حسن نے صلح کا انتخاب فرمایااور شرعی طور پر آپ کو یہی کر نا ہی چا ہئے تھا ،اگر آپ صلح نہ فرماتے تو امت ایسی مشکلات میں گھر جا تی جن کو خدا کے علاوہ اور کو ئی نہیں جانتا ہے ۔

امام حسن نے صلح نامہ میںمعاویہ سے شرط کی کہ اس کا (معاویہ)کا شریعت پر کو ئی قبضہ نہ ہو اس کو امیر المومنین نہیں کہا جا ئیگا یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ معاویہ شرعی حا کم نہیں ہے اور نہ مو منین کا امیر ہے ، بلکہ وہ ظلم و جور کا حاکم ہے ،اسی طرح آپ نے یہ شرط کی کہ وہ کتاب و سنت کو اپنی سیاست اور سیرت میں شمار نہیں کر ے گا ،اگر آپ معاویہ کے مسلمان ہونے سے مطمئن ہوتے تو کیوں اس کے ساتھ یہ شرط کرتے ،اس کے علاوہ امام نے اس سے دوسری شرطیں بھی کی ہیں ۔

معاویہ نے ایک شرط بھی پوری نہیں کی ،بلکہ ان کو توڑکر وعدہ خلافی کی ،اور ہم نے ان تمام شرطوں کو اپنی کتاب ''حیاةالامام الحسن ''میں تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے ۔


صلح کے بعد معاویہ کی سیاست آشکار ہو گئی جو بالکل کتابِ خدا اور اس کے نبی کی سنت کے مخالف تھی ،اس نے نیک اور صالح حجر بن عدی اور عمرو بن الحمق خزاعی جیسے اصحاب کو قتل کیا ،مسلمانوں کوبے آبرو کیا ،عورتوں کو قید میں ڈالدیا ،ان کے اموال چھین لئے ،اور اپنی حکومت میں ابن عاص ابن شعبہ ،ابن ارطات ،ابن حکم ، ابن مرجانہ اور ابن سمیہ جیسے افراد سے مدد لی جس کو اس کے شرعی باپ عبید رومی کا انکار کر کے اس کے فاجر و فاسق باپ ابو سفیان سے ملحق کر دیا گیا تھا،اس طرح کے افراد کو عراق کے شیعوں پر مسلط کر دیا گیا جنھوں نے ان کوسخت عذاب دیا ،ان کے بیٹوں کو ذبح کر دیا ،ان کی عورتوں کو رسوا کیا،ان کے گھروں کو جلا دیا اور ان کے اموال لو ٹ لئے ۔۔۔

اس (معاویہ) کا سب سے بڑا جرم رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بڑے فرزند ارجمند امام حسن کو شہید کرنا تھا ، اس نے امام حسن کو آپ کی زوجہ جعدہ بنت اشعث سے زہر دلوایا جبکہ اس کو یہ کہہ کر بہکایا کہ میں تیری شادی اپنے بیٹے یزید سے کر دونگا ، امام کو روزہ کی حالت میں زہر دیدیا گیا جس سے آپ کے جگر کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے اور آپ کچھ مدت تک زندہ رہے اور اس کے بعد آپ کی روح پرواز کرگئی ،یہ وہ مصائب تھے جن کا گھونٹ معاویہ نے پلایا تھا وہ معاویہ جس کو بعض صحابہ ''کسریٰ عرب '' کے نام سے یاد کرتے ہیں ،انا للّہ وانا الیہ راجعون ۔

معاویہ نے اپنے جرائم کا اختتام اپنے بیٹے یزید کو مسلمانوں کا خلیفہ بنا کر کیا ،اس کی دین و دنیا میں فساد برپا کرنے کے لئے پرورش کی ،اور اس نے اُن تمام فسادات کاروز عاشورہ کربلا میں،مکہ میں اور یوم حرہ میں ارتکاب کیا اسی طرح کے اور بہت سے جرائم کا ارتکاب کیاجن کے ذریعہ مسلمانوں کو بڑے بڑے مصائب میں مبتلاکردیا جس کی و ہ تاب نہیں رکھتے ہیں ۔


حضرت امام حسین علیہ السلام

آپ اسلام کی بنیاد اور اس دنیائے اسلام کو نجات دلانے وا لے تھے جو امویوں کے ہاتھوں گرفتار ہوچکی تھی جو اس کو بدترین عذاب دے رہے تھے، اس کے بچوں کو قتل اور عورتوں کوزندہ رکھتے تھے، انھوں نے اللہ کے مال کواپنی بزرگی کا سبب بنایا، اس کے بندوں کو اپنا نوکر بنایا،نیک اور صالح افراد کو دور کر دیا، مسلمانوں کے درمیان خوف و دہشت پھیلائی ،عام شہروں میںقیدخانوں، جرائم،فقرو تنگدستی اور محرومیت کو رواج دیا،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی آرزوحضرت امام حسین نے ان کامحکم عزم و ارادہ سے جواب دیا،آپ نے ایساعظیم انقلاب برپا کیا جس کے ذریعہ آپ نے کتاب خدا کی تشریح فرمائی اور اس کوصاحبان عقل کیلئے ما یہ ٔ عبرت قرار دیا،ان کے محلوں کوجڑسے اکھاڑ پھینکا ، اُن کی عظمت و شوکت کی نشانیوں کو ختم کردیا، مسلمانوں کے درمیان سیا سی اور دینی شعور بیدار کیا، ان کو غلامی اور ذلت کے خوف سے آزاد کرایا،ان کو ان تمام منفی چیزوں سے آزاد کرایا جو ان کیلئے نقصان دہ تھیں،مسلمان پردے میں بیٹھنے کے بعد آن بان کے ساتھ چلنے لگے ،انھوں نے اس انقلاب کے پرتو میں اپنے حقوق کا نعرہ بلند کیا جن کاامویوں کے حکم سے خا تمہ ہو چکا تھاجنھوں نے ان کو ذلیل و رسوا کیا اور وہ کام انجام دیا جس کو وہ انجام نہیں دینا چا ہتے تھے ۔۔۔ہم اس امام عظیم کے کچھ اوصاف بیان کررہے ہیں جن کی قربانی ، عزم محکم ،صبراور انکار کے چرچے خاص و عام کی زبان پر ہیں ۔


نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حسین سے محبت

حضرت رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے فرزند ارجمند امام حسین علیہ السلام سے بے انتہا محبت کیا کرتے تھے آپ کے نزدیک امام حسین علیہ السلام کی شان و منزلت اور کیا مقام تھا اس سلسلہ میں آپ کی بعض احادیث مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول کا فرمان ہے :''من اراد ان ینظرالیٰ سید شباب اھل الجنة فلینظرالیٰ الحسین بن علی''۔(۱)

''جوشخص جنت کے جوانوں کے سردار کو دیکھنا چا ہتا ہے وہ حسین بن علی کے چہرے کو دیکھے''۔

۲۔ابو ہریرہ سے روایت ہے :میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم امام حسین کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے یہ فرما رہے تھے :''اللهم انی احِبُّه فاحبّه '' ۔(۲)

''پروردگار میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر ''۔

۳۔یعلی بن مرہ سے روایت ہے :ہم نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ایک دعوت میں جا رہے تھے تو آنحضرت نے دیکھا کہ حسین سکوں سے کھیل رہے ہیں تو آپ نے کھڑے ہوکر اپنے دونوں ہاتھ امام کی طرف پھیلادئے ،آپ مسکرارہے تھے اور کہتے جا رہے تھے، بیٹا ادھر آئو ادھرآئویہاں تک کہ آپ نے امام حسین کو اپنی آغوش میں لے لیاایک ہاتھ ان کی ٹھڈی کے نیچے رکھا اور دوسرے سے سر پکڑ کر ان کے بوسے لئے اور فرمایا:''حسین منی وانامن حسین،احب اللّٰہ من احب حسینا،حسین سبط من الاسباط''(۳) ۔

''حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوںخدایاجو حسین محبت کرے تو اس سے محبت کر ، حسین بیٹوں میں سے ایک بیٹا ہے ''

یہ حدیث نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور امام حسین علیہ السلام کے درمیان عمیق رابطہ کی عکا سی کرتی ہے، لیکن

____________________

۱۔سیر اعلام النبلاء ،جلد ۳،صفحہ ۱۹۰۔تاریخ ابن عساکر خطی ،جلد ۱۳،صفحہ ۵۰۔

۲۔مستدرک حاکم ،جلد ۳،صفحہ ۱۷۷۔نور الابصار، صفحہ ۱۲۹:اللھم انی اُ حِبُّہ وَ أُحِبَّ کُلَّ مَنْ یُحِبُّہُ''۔

''خدایا میں اس کو دوست رکھتا اور جو اس کو دوست رکھتا ہے اس کوبھی دوست رکھتاہوں''

۳۔سنن ابن ماجہ ،جلد ۱،صفحہ ۵۶۔مسند احمد، جلد ۴،صفحہ ۱۷۲۔اسد الغابہ، جلد ۲،صفحہ ۱۹۔تہذیب الکمال،صفحہ ۷۱۔تیسیر الوصول ،جلد ۳، صفحہ ۲۷۶۔مستدرک حاکم ،جلد ۳،صفحہ ۱۷۷۔


اس حدیث میں نبی کا یہ فرمان کہ ''حسین منی ''حسین مجھ سے ہے ''اس سے نبی اور حسین کے مابین نسبی رابطہ مراد نہیں ہے چونکہ اس میں کو ئی فا ئدہ نہیں ہے بلکہ یہ بہت ہی گہری اور دقیق بات ہے کہ حسین نبی کی روح کے حا مل ہیںوہ معاشرئہ انسا نی کی اصلاح اور اس میں مسا وات کے قا ئل ہیں۔

لیکن آپ کا یہ فرمان:''وانا من حسین ''''اور میں حسین سے ہوں '' اس کا مطلب یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام مستقبل میں اسلام کی راہ میں قربا نی دے کر رہتی تاریخ تک اسلام کو زندئہ جا وید کریں گے ، لہٰذا حقیقت میں نبی حسین سے ہیں کیونکہ امام حسین نے ہی آپ کے دین کو دوبارہ جلا بخشی ، ان طاغوتی حکومتوں کے چنگل سے رہا ئی دلائی جو دین کو مٹا نا اور زند گی کو جا ہلیت کے دور کی طرف پلٹانا چا ہتے تھے ، امام حسین نے قر بانی دے کر امویوں کی بنیادوں کو اکھاڑ پھینکا اور مسلمانوں کو ان کے ظلم و ستم سے آزاد کرایا۔

۴۔سلمان فا رسی سے روایت ہے :جب میں نبی کی خدمت میں حا ضر ہوا تو امام حسین آپ کی ران پر بیٹھے ہوئے تھے اور نبی آپ کے رخسار پر منھ ملتے ہوئے فر ما رہے تھے :

''انت سید ُبْنُ سَیَّد،انت امام بن امام،وَاَخُوْااِمَامٍ،وَاَبُوالاَئِمَةِ،وَاَنْتَ حُجَّةُ اللّٰهِ وَابْنُ حُجَّتِهِ،وَاَبُوْحُجَجٍ تِسْعَةٍ مِنْ صُلْبِکَ،تَاسِعُهُمْ قَائِمُهُمْ'' ۔(۱)

''آپ سید بن سید،امام بن امام ،امام کے بھا ئی،ائمہ کے باپ ،آپ اللہ کی حجت اور اس کی حجت کے فرزند،اور اپنے صلب سے نو حجتوں کے باپ ہیں جن کا نواں قا ئم ہوگا ''۔

۵۔ابن عباس سے مروی ہے :رسول اسلام اپنے کا ندھے پر حسین کو بٹھا ئے لئے جا رہے تھے تو ایک شخص نے کہا :''نِعم المرکب رکبت یاغلام ،فاجا به الرسول :''ونعم الراکب هُوَ'' ۔(۲)

''کتنا اچھا مرکب (سواری)ہے جو اس بچہ کو اٹھا ئے ہوئے ہے، رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب میں فرمایا:''یہ سوار بہت اچھا ہے ''۔

۶۔رسول اللہ کا فرمان ہے :''هذا ( یعنی :الحسین ) امام بن امام ابوائمةٍ تسعةٍ'' ۔(۳)

____________________

۱۔حیاةالامام حسین ، جلد ۱،صفحہ ۹۵۔

۲۔تاجِ جامع للاصول ،جلد ۳،صفحہ ۲۱۸۔

۳۔منہاج السنة، جلد ۴،صفحہ ۲۱۰۔


''یہ یعنی امام حسین امام بن امام اور نو اماموں کے باپ ہیں''۔

۷۔یزید بن ابو زیاد سے روایت ہے :نبی اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم عا ئشہ کے گھر سے نکل کر حضرت فاطمہ زہرا کے بیت الشرف کی طرف سے گذرے تو آپ کے کانوں میں امام حسین کے گریہ کرنے کی آواز آ ئی، آپ بے چین ہوگئے اور جناب فاطمہ سے فر مایا:''اَلَمْ تَعْلَمِیْ اَنَّ بُکَائَهُ یُوْذِیْنِیْ؟'' ۔(۱)

''کیا تمھیں نہیں معلوم حسین کے رونے سے مجھ کو تکلیف ہو تی ہے ''۔

یہ وہ بعض احا دیث تھیں جو رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے بیٹے امام حسین سے محبت کے سلسلہ میں بیان فرما ئی ہیں یہ شرافت و کرامت کے تمغے ہیں جو آپ نے اس فرزند کی گردن میں آویزاں کئے جو بنی امیہ کے خبیث افراد کے حملوں سے آپ کے اقدار کی حفاظت کر نے والا تھا ۔

نبی کا امام حسین کی شہا دت کی خبر دینا

نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے نواسے امام حسین کی شہا دت کواتنابیان کیاکہ مسلمانوں کو امام حسین کی شہادت کا یقین ہوگیا۔ابن عباس سے روایت ہے کہ ہمیں اس سلسلہ میں کو ئی شک و شبہ ہی نہیں تھا اور اہل بیت نے متعدد مرتبہ بیان فر مایا کہ حسین بن علی کربلا کے میدان میں قتل کر دئے جا ئیں گے۔(۲)

آسمان سے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو یہ خبر دی گئی کہ عنقریب تمہارے بیٹے پر مصیبتوں کے ایسے پہاڑ ٹوٹیں گے کہ اگر وہ پہاڑوں پرپڑتے تو وہ پگھل جا تے ،آپ نے متعدد مرتبہ امام حسین کے لئے گریہ کیا اس سلسلہ میں ہم آپ کے سا منے کچھ احا دیث پیس کر تے ہیں :

۱۔ام الفضل بنت حارث سے روایت ہے :میںامام حسین کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خد مت میں پہنچی جب آپ میری طرف متوجہ ہوئے تو میں نے دیکھا کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جا ری تھے ۔

میں نے عرض کیا :اے اللہ کے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کو کیا مشکل پیش آگئی ہے ؟!

____________________

۱۔مجمع الزوائد، جلد ۹،صفحہ ۲۰۱۔سیر اعلام النبلاء ،جلد ۳،صفحہ ۱۹۱۔ذخائر العقبی ،صفحہ ۱۴۳۔

۲۔مستدرک حاکم، جلد ۳،صفحہ ۱۷۹۔


''اَتَانِیْ جبرئیلُ فَاَخْبَرَنِیْ اَنَّ اُمَّتِیْ سَتَقْتُلُ ابنِیْ هَذَا'' میرے پا س جبرئیل آئے اور انھوں نے مجھ کو یہ خبر دی ہے کہ میری امت عنقریب اس کو قتل کردے گی ''آپ نے امام حسین کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فر مایا۔ام الفضل جزع و فزع کرتی ہو ئی کہنے لگی :اس کو یعنی حسین کو قتل کردے گی ؟

''نَعَم،وَاَتَانِیْ جِبْرَئِیْلُ بِتُرْبَةٍ مِنْ تُرْبَتِهِ حَمْرَائَ '' ۔(۱) ''ہاں ،جبرئیل نے مجھے اس کی تربت کی سرخ مٹی لا کر دی ہے ''ام الفضل گریہ و بکا کرنے لگی اور رسول بھی ان کے حزن و غم میں شریک ہوگئے ۔

۲۔ام المو منین ام سلمہ سے روایت ہے :ایک رات رسول اللہ سونے کیلئے بستر پر لیٹ گئے تو آپ مضطرب ہوکر بیدار ہوگئے ،اس کے بعد پھر لیٹ گئے اور پہلے سے زیادہ مضطرب ہونے کی صورت میں پھر بیدار ہوگئے ،پھر لیٹ گئے اور پھر بیدار ہوگئے حالانکہ آپ کے ہاتھ میں سرخ مٹی تھی جس کو آپ چوم رہے تھے(۲) میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ یہ کیسی مٹی ہے ؟

''اَخْبَرَنِیْ جِبْرَئِیْلُ اَنَّ هٰذَا ( یعنی:الحسین ) یُقْتَلُ بِاَرْضِ الْعِرَاقِفَقُلْتُ لِجِبْرَئِیْلَ : اَرِنِیْ تُرْبَةَ الْاَرْضِ الَّتِیْ یُقْتَلُ بِهَاْفَهٰذِهِ تُرْبَتُهُ '' (۳)

''مجھے جبرئیل نے یہ خبر دی ہے کہ اس (حسین)کو عراق کی سر زمین پر قتل کر دیا جا ئے گا ۔ میں نے جبرئیل سے عرض کیا :مجھے اس سر زمین کی مٹی دکھائو جس پر حسین قتل کیا جا ئے گا یہ اسی جگہ کی مٹی ہے ''۔

۳۔ام سلمہ سے روایت ہے :ایک دن پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے گھر میں تشریف فر ما تھے تو آپ نے فر مایا:''لا یدخُلنَّ عَلَیَّ اَحَدُ'' ''میرے پا س کوئی نہ آئے ''میں نے انتظار کیا پس حسین آئے اور آپ کے پا س پہنچ گئے ،میں نے نبی کی آواز سنی ،حسین ان کی آغوش میں(یا پہلو میں بیٹھے ہوئے)تھے آپ حسین کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے گریہ کر رہے تھے ، میں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں عرض کیا:

____________________

۱۔مستدرک حاکم ،جلد ۳،صفحہ۱۷۹۔

۲۔شیعہ کربلا سے حاصل کی گئی مٹی پر سجدہ کرتے ہیں جس کو رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چوما ہے ۔

۳۔کنز العمال، جلد ۷،صفحہ ۱۰۶۔سیر اعلام النبلاء ، جلد ۳، صفحہ ۱۵۔ذخائر العقبیٰ، صفحہ ۱۴۸۔


خداکی قسم مجھ کو پتہ بھی نہ چل سکا اور حسین آ پ کے پا س آگئے ۔۔۔

آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مجھ سے فر مایا:''اِنَّ جِبْرَئِیْلَ کَانَ مَعَنَافِیْ الْبَیْتِ فَقَالَ :اَتُحِبُّهُ ؟فَقُلْتُ : نَعَمْفَقَالَ:اَمَااِنَّ اُمَّتَکَ سَتَقْتُلُهُ بِاَرْضٍ یُقَالُ لَهَاکَرْبَلَائُ '' ۔

''جبرئیل گھر میں ہمارے پاس تھے تو انھوں نے کہا :کیا آپ حسین کو بہت زیادہ چاہتے ہیں ؟ میں نے کہا :ہاں ۔ تو جبرئیل نے کہا :آگاہ ہو جائو ! عنقریب آپ کی امت اس کو کر بلا نا می جگہ پر قتل کر دے گی ''،جبرئیل نے اس جگہ کی مٹی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو لا کر دی جس کو نبی نے مجھے دکھایا۔(۱)

۴۔عائشہ سے روایت ہے:امام حسین آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نیچے جھکنے کی طرف اشارہ کیا اور امام حسین آپ کے کندھے پر سوار ہوگئے توجبرئیل نے کہا : ''اے محمد! کیا آپ حسین سے محبت کرتے ہیں ؟''آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:کیوں نہیں ،کیا میں اپنے بیٹے سے محبت نہ کروں؟''جبرئیل نے عرض کیا :آپ کی امت عنقریب آپ کے بعد اس کو قتل کردے گی ''جبرئیل نے کچھ دیر کے بعد آپ کو سفید مٹی لا کر دی ۔

عرض کیا :اس سر زمین پر آپ کے فرزند کو قتل کیا جا ئے گا ،اور اس سر زمین کا نام کربلا ہے '' جب جبرئیل آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پاس سے چلے گئے تو وہ مٹی رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دست مبارک میں تھی اور آپ نے گریہ وبکا کرتے ہوئے فرمایا:اے عائشہ !جبرئیل نے مجھ کو خبر دی ہے کہ آپ کے بیٹے حسین کو کربلا کے میدان میں قتل کردیا جا ئے گا اور عنقریب میرے بعد میری امت میں فتنہ برپا ہوگا ''۔

اس کے بعد نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے اصحاب کے پا س تشریف لے گئے جہاں پر حضرت علی ،ابو بکر ، عمر ، حذیفہ ،عمار اورابوذرموجود تھے حالانکہ آپ گریہ فر ما رہے تھے، تو اصحاب نے سوال کیا :یارسول اللہ آپ گریہ کیوں کر رہے ہیں ؟

آپ نے فرمایا:مجھے جبرئیل نے یہ خبر دی ہے کہ میرافرزند حسین کربلا کے میدان میں قتل کردیا جائے گا اور مجھے یہ مٹی لا کر دی ہے اور مجھ کو خبر دی ہے کہ ان کا مرقد بھی اسی زمین پر ہوگا ''۔(۲)

____________________

۱۔کنز العمال ،جلد ۷،صفحہ ۱۰۶۔معجم کبیر طبرانی ،جلد ۳،صفحہ۱۰۶۔

۲۔مجمع الزوائد، جلد ۹، صفحہ ۱۸۷


۵۔رسول خدا کی ایک زوجہ زینب بنت جحش سے مروی ہے :نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم محو خواب تھے اور حسین گھر میں آئے اور میں ان سے غافل رہی یہاں تک کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کو اپنے شکم پر بیٹھالیا اس کے بعد نبی اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے نماز ادا کی تو ان کو ساتھ رکھایہاں تک کہ جب آپ رکوع اور سجدہ کرتے تھے تو اس کو اپنی پیٹھ پر سوار کرتے تھے اور جب قیام کی حالت میں ہوتے تھے تو ان کو اٹھالیتے تھے ،جب آپ بیٹھتے تھے تو ان کو اپنے ہاتھوں پر اٹھاکر دعا کرتے تھے ۔۔۔جب نماز تمام ہو گئی تو میں نے آنحضرت سے عرض کیا :آج میں نے وہ چیزیں دیکھی ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں ؟تو آپ نے فرمایا:''جبرئیل نے میرے پاس آکر مجھے خبر دی کہ میرے بیٹے کو قتل کردیا جا ئیگا، میں نے عرض کیا: تو مجھے دکھائیے کہاں قتل کیا جائے گا؟تو آپ نے مجھے سرخ مٹی دکھا ئی ''۔(۱)

۶۔ابن عباس سے مروی ہے :حسین نبی کی آغوش میں تھے تو جبرئیل نے کہا :''کیا آپ ان سے محبت کرتے ہیں ؟''آنحضرت نے فرمایا:''میں کیسے اس سے محبت نہ کروں یہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے ''۔

جبرئیل نے کہا :''بیشک آپ کی امت عنقریب اس کو قتل کر دے گی، کیا میں اس کی قبر کی جگہ کی مٹی دکھائوں؟''جب آپ (جبرئیل)نے اپنی مٹھی کھولی تو اس میں سرخ مٹی تھی ''۔(۲)

۷۔ابو اُ مامہ سے مروی ہے کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنی ازواج سے فرمایا:اس بچہ کو رونے نہ دینا یعنی ''حسین کو''مروی ہے :ایک روز جبرئیل رسول اللہ کے پاس ام سلمہ کے گھر میں داخل ہوئے اور رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ام سلمہ سے فرمایا: ''کسی کو میرے پاس گھر میں نہ آنے دینا''،جب حسین گھر میں پہنچے اور نبی کو گھر میں دیکھا تو آپ ان کے پاس جانا ہی چا ہتے تھے کہ ام سلمہ نے آپ کو اپنی آغوش میں لے لیا ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کو تسکین دینے لگی جب آپ زیادہ ضد کرنے لگے تو آپ کو چھوڑ دیاامام حسین جا کر نبی کی آغوش میں بیٹھ گئے تو جبرئیل نے کہا :''آپ کی امت عنقریب آ پ کے اس فرزندکو قتل کردے گی ؟''۔

''میری امت اس کو قتل کردے گی حالانکہ وہ مجھ پر ایمان رکھتی ہے ؟''۔

____________________

۱۔مجمع الزوائد ،جلد ۹، صفحہ ۱۸۹

۲۔مجمع الزوائد ،جلد ۹ ،صفحہ ۱۹۱۔


۔''ہاں ،آپ کی امت اس کو قتل کردے گی۔۔۔''۔

جبرئیل نے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کواس جگہ کی مٹی دیتے ہوئے فرمایا: اس طرح کی جگہ پرقتل کیا جائے گا، رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حسین کو پیار کرتے ہوئے نکلے ،آپ بے انتہا مغموم و رنجیدہ تھے۔ام سلمہ نے خیال کیا کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان کے پاس بچہ کے پہنچ جانے کی وجہ سے رنجیدہ ہوئے ہیں، لہٰذا ام سلمہ نے ان سے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ،آپ ہی کا تو فرمان ہے : ''میرے اس بچہ کو رونے نہ دینا '' اور آپ ہی نے تو مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں آپ کے پاس کسی کو نہ آنے دوں،حسین آگئے تو میں نے ان کو آپ کے پاس آنے دیا،نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو ئی جواب دئے بغیر اپنے اصحاب کے پاس پہنچے اور آپ نے بڑے رنج و غم کے عالم میں ان سے فرمایا:''میری امت اس کو قتل کردے گی ''اورامام حسین کی طرف اشارہ فرمایا۔

ابوبکر اور عمر دونوں نے آنحضرت کے پاس جا کر عرض کیا :اے نبی خدا !وہ مو من ہیں یعنی مسلمان ہیں ؟

آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا : ''ہاں ،یہ اس جگہ کی مٹی ہے ۔۔۔''

۸۔انس بن حارث سے مروی ہے :نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:''میرا یہ فرزند (حسین کی طرف اشارہ کیا)کربلا نام کی سر زمین پر قتل کیا جا ئے گا تم میں سے جو بھی اس وقت موجود ہو وہ اس کی مدد کرے '' جب امام حسین کربلا کیلئے نکلے تو آپ کے ساتھ انس بھی تھے جو آپ کے سامنے کربلا کے میدان میں شہید ہوئے ۔(۱)

۹۔ام سلمہ سے مروی ہے :امام حسن اورامام حسین دونوں میرے گھر میں رسول اللہ کے سامنے کھیل رہے تھے تو جبرئیل نے نازل ہو کر فر مایا:''اے محمد !آپ کی امت آپ کے بعد آپ کے اس فرزند کو قتل کردے گی ''اور حسین کی طرف اشارہ کیا آپ گریہ کرنے لگے ،حسین کو اپنے سینہ سے لگالیا آپ کے دست مبارک میں کچھ مٹی تھی جس کو آپ سونگھ رہے تھے ،اور فر مارہے تھے :''کرب و بلا پر وائے ہو ''آپ نے اس مٹی کو ام سلمہ کو دیتے ہوئے فرمایا:''جب یہ مٹی خون میں تبدیل ہوجائے تو سمجھ لینا کہ میرا فرزند قتل کردیا گیا ہے ''ام سلمہ نے اس مٹی کو ایک شیشہ میں رکھ دیا ،آپ ہر روز اس کا مشاہدہ کرتی اور کہتی تھیں کہ

____________________

۱۔تاریخ ابن الوردی ،جلد ۱،صفحہ ۱۷۳۔۱۷۴۔


دن یہ مٹی خون میں تبدیل ہو جا ئے گی وہ دن بہت ہی عظیم ہوگا۔(۱)

۱۰۔نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے خواب میں دیکھا ایک کتا ان کے خون میں لوٹ رہا ہے ،تو آپ نے اس خواب کی یہ تعبیر فرما ئی: ایک برص کا مریض آپ کے بیٹے حسین کو قتل کرے گااور آپ کا یہ خواب حقیقی طور پر ثابت ہوا،آپ کے بیٹے حسین کو برص کے مرض میں مبتلا خبیث شمر بن ذی الجوشن نے قتل کیا۔(۲)

یہ بعض رویات تھیں جن میں نبی اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے یہ اعلان فرما دیا تھا کہ آپ کے بیٹے امام حسین کو شہید کیا جا ئیگااور آپ اس دردناک واقعہ کی وجہ سے محزون و گریاں رہے۔

امام حسین اپنے والد بزرگوار کے ساتھ

حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کی عطوفت کے زیر سایہ پرورش پائی آپ کے والد بزرگوار آپ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ آپ نے جنگ صفین میں اپنے دونوں فرزندوں کو میدان جنگ میں حاضر ہونے کی اجازت نہیں دی کہ کہیںان کے شہید ہوجانے سے نسل رسول منقطع نہ ہو جائے، مولائے کائنات آپ اور آپ کے بھا ئی امام حسن کی تعریف کرتے تھے، آپنے ان دونوں کو اپنے فضائل و کمالات سے آراستہ کیااور اپنے آداب اور حکمتوں کے ذریعہ فیض پہنچایایہاں تک یہ دونوں آپ کے مانند ہو گئے ۔

امام حسین شجاعت ،عزت نفس ،غیرت اور نورانیت میں اپنے پدر بزرگوار کی شبیہ تھے ،آپ نے بنی امیہ کے سامنے سر جھکانے پر شہادت کو ترجیح دی ،جس کی بنا پر آپ نے ظاہری زندگی کو خیرآباد کہا اور راہِ خدا میں قربان ہونے کیلئے آمادہ ہو گئے ۔ہم اس سلسلہ میں ذیل میں قارئین کرام کیلئے کچھ مطالب پیش کرتے ہیں :

حضرت علی کا امام حسین کی شہادت کی خبر دینا

حضرت علی نے اپنے بیٹے ابوالاحرار کی شہادت کی خبر کو شایع کیا اس سلسلہ میں ہم امام حسین سے متعلق حضرت علی کی چند احا دیث بیان کرتے ہیں :

____________________

۱۔معجم کبیر طبرانی ''ترجمہ امام حسین ''،جلد ۳،صفحہ ۱۰۸۔

۲۔تاریخ خمیس ،جلد ۲، صفحہ ۳۳۴


۱۔عبداللہ بن یحییٰ نے اپنے پدر بزرگوار سے نقل کیا ہے کہ میں نے حضرت علی علیہ السلام کے ہمراہ صفین تک کاسفر طے کیا، یحییٰ کے والد مولائے کا ئنات کا لوٹا اپنے ساتھ رکھتے تھے، جب ہم نینوا کو پا ر کرچکے تو مو لائے کائنات نے بلند آواز میں فرمایا:اے ابو عبد اللہ ٹھہرو!اے ابو عبد اللہ ٹھہرو فرات کے کنارے پر''یحییٰ آپ کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھے :ابو عبداللہ کیا بات ہے ؟تو امام نے فرمایا:''میں ایک دن رسول اللہ کی خدمت میں پہنچا تو آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ آپ کو کسی نے رنجیدہ کردیا ہے ؟آپ کی آنکھوں میں آنسو کیسے ہیں ؟آنحضرت نے فرمایا:میرے پاس جبرئیل آئے اور انھوں نے مجھے خبر دار کیا ہے کہ حسین کو فرات کے کنارے قتل کردیا جا ئیگا،اور فرمایا:کیا تمہارے پاس اس جگہ کی مٹی ہے جس کامیں استشمام کروں؟جبرئیل نے جواب دیا :ہاں،تو مجھے ایک مٹھی خاک اس جگہ کی اٹھا کر دی لہٰذا میری آنکھیں آنسووں کو نہیں روک سکی ''۔(۱)

۲۔ہرثمہ بن سلیم سے مروی ہے کہ ہم جنگ صفین کیلئے حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ چلے جب ہم کربلا میں پہنچے تو ہم نے نماز ادا کی، نماز کے بعد آپ نے اس جگہ کی مٹی کو اٹھایا اور اس کو سونگھنے کے بعد فرمایا:''اے زمین !تجھ سے ایک ایسی قوم محشور ہو گی جو بغیر حساب کے جنت میں جا ئیگی ''

ہرثمہ کو امام کے اس فرمان پر تعجب ہوا ،اور امام کی بات بار بار اس کے ذہن میں آنے لگی ، جب وہ اپنے شہر میں پہنچے تو انھوں نے یہ حدیث اپنی زوجہ جرداء بنت سمیر کوجو امام کے شیعوں میں سے تھی کو سنا ئی ۔ اس نے کہا : اے شخص! ہم کو ہمارے حال پر چھوڑ دو ،بیشک امیرالمومنین حق کے علاوہ اور کچھ نہیں کہتے ،ابھی کچھ دن نہیں گذرے تھے کہ ابن زیاد نے اپنے لشکر کو فرزند رسول امام حسین کے ساتھ جنگ کر نے کیلئے بھیجا،ان میں ہر ثمہ بھی تھا جب وہ کر بلا پہنچا تو ان کو امیر المو منین کا فرمان یاد آگیااور ان کے فرزند ارجمندامام حسین سے جنگ کر نے کے لئے تیار نہیں ہوا ۔

اس کے بعد امام حسین کی خدمت اقدس میں پہنچا اور جو کچھ آپ کے پدربزرگوارسے سنا تھا اُن کے سامنے بیان کیاامام نے اس سے فرمایا :''انت معنااوعلینا ؟''تو ہمارے ساتھ ہے یا ہمارے خلاف ہے ''،ہر ثمہ نے کہا :نہ آپ کے ساتھ ہوں اور نہ آپ کے خلاف ہوں، بلکہ میں نے اپنے اہل و عیال کو چھوڑ

____________________

۱۔تاریخ بن عساکر (مخطوط)،جلد ۱۳، صفحہ ۵۷۔۵۸،معجم کبیر طبرا نی نے کتاب ترجمہ امام حسین ،جلد ۳ ،صفحہ ۱۰۵۔۱۰۶۔


دیا ہے اور اب ان کے سلسلہ میں ،میں ابن زیاد سے ڈررہا ہوں ،امام نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:''ولّ هارباحتی لاتریٰ لنامقتلا،فوالذی نفس محمد بیده لایریٰ مقتلنا الیوم رجل ولایغیثنا الّاادخلهُ النار ' 'ہر ثمہ وہاں سے جلد ہی چلا گیا اور اس نے امام کو قتل ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔(۱)

۳۔ثابت بن سویدنے غفلہ سے روایت کی ہے : ایک دن حضرت علی نے خطبہ دیا تو آپ کے منبر کے پاس سے ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا :یا امیر المو منین !میرا وا دی قریٰ کے پاس سے گذر ہوا تو میں نے خالد بن عرفطہ کو مرے ہوئے دیکھا! لہٰذا آپ اس کے لئے استغفار کردیجئے ۔

امام نے فرمایا :''خدا کی قسم وہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک ایک گمراہ لشکر کی قیادت نہ کرلے اور اس کا پرچمدار حبیب بن حمار ہوگا ۔۔۔''۔

ایک شخص نے کھڑے ہوکر بلند آواز میں کہا :اے امیر المو منین میں حبیب بن حمار ہوں ،اور آپ کا شیعہ اور چا ہنے والا ہوں ۔۔۔

امام نے اس سے فرمایا :'' تو حبیب بن حمار ہے؟'' ۔اس نے کہا :ہاں۔

امام نے کئی مرتبہ اس کی تکرار فر ما ئی اور حبیب نے ہر مرتبہ جواب دیا :ہاں ۔امام نے فرمایا :'' خدا کی قسم تو پرچمدار ہوگا یا تجھ سے پرچم اٹھوایا جا ئے گا ،اور تجھے اس دروازے سے داخل کیا جا ئے گا ' 'اور آپ نے مسجد کو فہ کے باب فیل کی طرف اشارہ کیا ۔

ثابت کا کہنا ہے : میں ابن زیاد کے زمانہ تک زندہ رہا اور اس نے عمر بن سعد کوامام حسین سے جنگ کرنے کے لئے بھیجااور خالد بن عُرفطہ کو ا پنے ہراول دستہ میںقرار دیااور حبیب بن حمار کو پرچمدار قراردیا،اور وہ باب فیل سے داخل ہوا ۔۔۔(۲)

۴۔امیر المو منین نے براء بن عازب سے فرمایا:''اے براء !کیا حسین قتل کر دئے جا ئیں اور تم زندہ

____________________

۱۔حیاة الامام الحسین ،جلد ۱،صفحہ ۴۲۶۔

۲۔شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید،جلد۱۰،صفحہ ۱۴۔


رہتے ہوئے بھی ان کی مدد نہ کر سکو؟''۔

براء نے کہا : اے امیر المو منین ! ایسا نہیں ہو سکتا ،جب امام حسین شہید کئے گئے تو براء نادم ہوا اور اس کو امام امیر المو منین کا فرمان یاد آیااور اس نے کہا:سب سے بڑی حسرت یہ ہے کہ میں وہاں پر حا ضر نہ ہو سکا! ان کی جگہ میں قتل کر دیا جاتا ۔(۱)

حضرت علی سے اس طرح کی متعدد احا دیث مروی ہیںجن میں فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم امام حسین کی کربلا میںشہادت کا اعلان کیا گیا ہے اور ہم نے اس سے متعلق احادیث اپنی کتاب (حیاة الامام الحسین) میں بیان کی ہیں ۔

آپ کے ذاتی کمالات

وہ منفردصفات کمالات جن سے ابو الاحرارامام حسین کی شخصیت کو متصف کیا گیا درج ذیل ہیں :

۱۔قوت ارادہ

ابو الشہدا کی ذات میں قوت ارادہ ،عزم محکم و مصمم تھا،یہ مظہر آپ کو اپنے جد محترم رسول اسلام سے میراث میں ملا تھا جنھوں نے تاریخ بدل دی ،زندگی کے مفہوم کو بدل دیا،تنہا ان طوفانوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوگئے جو آپ کو کلمہ لاالٰہ الّا اللّٰہ کی تبلیغ کرنے سے روکتے تھے ، آپ نے ان کی پروا کئے بغیر اپنے چچا ابو طالب مو من قریش سے کہا :''خدا کی قسم اگر یہ مجھے دین اسلام کی تبلیغ سے روکنے کے لئے داہنے ہاتھ پر سورج اور با ئیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں گے تو بھی میں اسلام کی تبلیغ کرنے سے باز نہیں آؤ نگا جب تک کہ مجھے موت نہ آئے یا اللہ کے دین کو غلبہ حاصل نہ ہو جائے ۔۔۔''۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس خدا ئی ارادہ سے شرک کا قلع و قمع کردیااور وقوع پذیر ہونے والی چیزوں پر غالب آگئے ،اسی طرح آپ کے عظیم نواسے امام حسین نے اموی حکومت کے سامنے کسی تردد کے بغیر یزید کی بیعت نہ کر نے کا اعلان فر مادیا،کلمہ حق کو بلند کرنے کیلئے اپنے بہت کم ناصرو مددگار کے ساتھ

____________________

۱۔الاصابہ ،جلد ۱،صفحہ ۱۸۷۔حیاة الامام الحسین ، جلد ۱،صفحہ ۴۲۹۔


میدان جہاد میں قدم رکھااور کلمہ ٔ باطل کو نیست و نابود کر دیا جبکہ امویوں نے بہت زیادہ لشکر جمع کیا تھا وہ بھی امام کو اپنے مقصد سے نہیں رو ک سکا،اور آپ نے اس زندئہ جا وید کلمہ کے ذریعہ اعلان فر مایا : ''میں موت کوسعادت کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھتا ،اور ظالموں کے ساتھ زند گی بسر کرنا ذلت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔۔۔ '' ۔(اور آپ ہی کا فرمان ہے ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے)۔

آپ پرچم اسلام کو بلند کر نے کیلئے اپنے اہل بیت خاندان عصمت و طہارت اور اصحاب کے ساتھ میدان میں تشریف لائے اور پرچم اسلام کو بلند کرنے کی کوشش فرمائی ،امت اسلامیہ کی سب سے عظیم نصرت اور فتح دلائی یہاں تک کہ خود امام شہید ہوگئے ،آپ ارادہ میں سب سے زیادہ قوی تھے آپ پختہ ارادہ کے مالک تھے اور کسی طرح کے ایسے مصائب اور سختیوں کے سامنے نہیں جھکے جن سے عقلیں مدہوش اورصاحبانِ عقل حیرت زدہ ہوجاتے ہیں ۔

۲۔ظلم و ستم (و حق تلفی) سے منع کرنا

امام حسین کی ایک صفت ظلم و ستم سے منع کر نا تھی اسی وجہ سے آپ کو (ابو الضیم) کا لقب دیا گیا، آپ کا یہ لقب لوگوں میں سب سے زیادہ مشہورو منتشر ہوا،آپ اس صفت کی سب سے اعلیٰ مثال تھے یعنی آپ ہی نے انسانی کرامت کا نعرہ لگایا،اور انسانیت کو عزت و شرف کا طریقہ دیا،آپ بنی امیہ کے بندروں کے سامنے نہیں جھکے اور نیزوں کے سایہ میں موت کی نیند سوگئے ،عبد العزیز بن نباتہ سعدی کا کہنا ہے :

والحسینُ الذی رأ ی الموت ف العز

حیاةً وَالعیشَ ف الذلِّ قتلا

''یعنی حسین وہ ہیں جنھوں نے عزت کی موت کو زندگی اورذلت کی زندگی سے بہتر سمجھا ہے ''۔

مشہور و معروف مورّخ یعقوبی نے آپ کوشدید العزّت کی صفت سے متصف کیا ہے(۱) ۔

ابن ابی الحدید کا کہنا ہے :سید اہل اباء حضرت ابا عبد اللہ الحسین جنھوں نے لوگوں کو حمیت و غیرت کی تعلیم اور دنیوی ذلت کی زند گی کے مقابلہ میں تلواروں سے کٹ کر مرجانے کا درس دیا انھیں اور آپ کے اصحاب کو امان نامہ دیا گیا لیکن آپ نے ذلت اختیار نہیں فر ما ئی ،امام کو اس بات کا اندیشہ لا حق ہوا کہ ابن زیاد

____________________

۱۔تاریخ یعقوبی، جلد ۲،صفحہ ۲۹۳۔


آپ کو قتل نہ کر کے ایک طرح کی ذلت سے دوچار کردے جس کی بنا پر جان فدا کرنے کو ترجیح دی ۔ابو یزید یحییٰ بن زید علوی کا کہنا ہے :میرے والد ابو تمام نے محمد بن حمید طائی کے سلسلہ میں کہا ہے کہ انھوں نے تمام اشعار امام حسین کی شان میں کہے ہیں

وقد کان فوت الموت سهلاً فردّه

الیه ِ الحفاظ المُرُّ وَالخُلُقُ الْوَعْرُ

وَنَفْسُ تعافُ الضَّیْمَ حتیّٰ کأنّهُ

هُو الکُفرُ یومَ الرَّوْعِ أَو دُونَه الکُفرُ

فَأَثبت فی مستنقعِ الموتِ رِجْلَهُ

وَقَالَ لَهَا مِنْ تَحْتِ أَخمصکِ الحشْرُ

تردّیٰ ثِیَابَ الموْتِ حُمْراً فَمَا اَتیٰ

لَهَااللَّیْلُ اِلَّاوهی من سُنْدُسٍ خُضْرُ(۱)

''آپ کے لئے مارے جانے سے بچنا آسان تھا لیکن آپ نے اس سے انکار کردیا ۔آپ نے نہایت مشکل کے ساتھ دین اسلام کی حفاظت کی ،اور خوش اخلاقی کے ساتھ بچایا ۔آپ کا نفس ذلت قبول کرنے پرآمادہ نہ ہوا آپ کے نزدیک ذلت قبول کرناکفر یا کفر کی منزل میں تھا ''۔آپ نے خندہ پیشانی سے شہادت کا استقبال کیا۔

آپ نے سرخ موت کا لباس پہنا جبکہ یہ لباس بعد میں سبز رنگ میں تبدیل ہوگیا '' ۔''ابوالاحرار''سرور آزادگان نے لوگوں کو ظلم کی مخالفت اور قربانی پیش کر نے کی تعلیم دی مصعب بن زبیر کا کہنا ہے کہ امام نے ذلت کی زندگی پر عزت کی موت اختیار فر ما ئی ۔(۲) اس کے بعد یہ مثال بیان کی :

واِنَّ الاُلیٰ بالطَّفِّ من آل هاشم

تاسوافسنّوالِلکِرامِ التَّآسیا

''کربلا میں بنی ہاشم نے فدا کاری کی اور نیک صفت افراد کیلئے فدا کاری کی رسم رائج کی ''۔روز عاشورہ آپ کی تقریریں اتنی حیرت انگیز تھیں جن کی مثال عزت و بلندی نفس اور دشمن کا منھ توڑجواب دینے کے متعلق عربی ادب میں نہیں ملتی:''آگاہ ہوجائو بیشک ولد الزنا ابن ولد الزنا نے مجھے شہادت

____________________

۱۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، جلد ۳، صفحہ ۲۴۹۔

۲۔تاریخ طبری ،جلد ۶،صفحہ ۲۷۳۔


اور ذلت کے مابین لا کر کھڑا کردیا ،ہم ذلت سے دور ہیں ،اللہ ،اس کا رسول اور مو منین ذلت سے انکار کرتے ہیں ،ان کی پاک و پاکیزہ آغوش ،ان کی غیرت و حمیت کمینوں کی اطاعت کو بزرگوں کی شہادت پر ترجیح دینے سے انکار کر تی ہے ''۔

آپ روز عاشورہ اموی لشکر کے بھیڑیا صفت درندوں کے درمیان ایک کوہ ہمالیہ کی مانند کھڑے ہوئے تھے اور آپ نے ان کے درمیان عزت و شرافت ،کرامت و بزرگی ،ظلم و ستم کی مخالفت سے متعلق عظیم الشان خطبے ارشاد فرمائے :''واللّٰه لا اعطیکم بیدی اِعطائَ الذَّلِیْلِ،ولااَفِرُّ فِرارالعبیدِ،اِنی عذت بربی وربِّکُمْ اَنْ ترجُمُوْنَ'' ۔امام کی زبان سے یہ روشن و منور کلمات اس وقت جاری ہوئے جب آپ کرامت و بلندی کی آخری حدوں پر فا ئز تھے جس کا تصور بھی ممکن نہیں ہے اور ان کلمات کو تاریخ اسلام نے ہر دور کے لئے ایک زندہ و پا ئندہ شجاعت اور بہا دری کے کارناموں کے طور پر اپنے دامن میں محفوظ رکھاہے ۔شعرائے اہل بیت نے اس واقعہ کی منظر کشی کے سلسلہ میں مسابقہ کیا لہٰذا ان کے کہے ہوئے اشعار، عربی ادب کے مدوّن مصادرمیں بہت قیمتی ذخیرہ ہیں، سید حیدر حلی نے اس دا ئمی واقعہ کی منظر کشی کرتے ہوئے اپنے جد کا یوںمرثیہ پڑھا:

طَمَعَتْ اَنْ تَسُوْمَهُ الْقَوْمُ ضَیْماً

وابیٰ اللّٰهُ وَالحُسَامُ الصَّنِیْعُ

کیفَ یلویْ علیٰ الدَّنِیَّةِ جِیِّداً

لِسَوَ ی اللّٰهِ مَا لَوَا هُ الخُضُوْعُ

وَلَدَیْهِ جَأْ شُ اَرَدُّ مِنَ الدِّرْعِ

لِظَمأ ی الْقَنَا وَ هُنَّ شُرُوْعُ

وَبِهِ یَرْجِعُ الْحِفَاظُ لِصَدْرٍ

ضَاقَتِ الْاَرْضُ وَهَِ فِیْهِ تَضِیْعُ

فَاَبیٰ اَنْ یَعِیْشَ اِلَّا عَزِیْزاً

فَتَجَلّیَ الْکِفَاحُ وَهُوَ صَرِیْعُ(۱)

''ستم پیشہ لوگ چا ہتے تھے کہ حسین اپنی غیرت کا سودا کر لیں جبکہ خدا اور شمشیر حسینی کا یہ منشأ نہیں تھابھلا حسین کس طرح ذلت قبول کر لیتے جبکہ آپ غیر خدا کے سامنے کبھی نہیں جھکے تھے۔ آپ کے پاس سپر سے زیادہ مضبوط ہمتِ قلبی تھی وہ ابتدا سے ہی اس طرح جنگ کرتے تھے جس

____________________

۱۔دیوان سید حیدر،صفحہ ۸۷۔


طرح پیاسا پانی کی طرف دوڑ کر جا رہا ہو ۔زمین کے تنگ ہونے کے باوجود آپ کا سینہ کشادہ تھا۔

آپ عزت کی زندگی بسر کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے جس کی وجہ سے آپ نے راہ حق میں جان پیش کر دی ''

نفس کے کسی چیز کے انکار کر نے کی اس سے اچھی نقشہ کشی نہیں کی جاسکتی جو نقشہ کشی سید حیدر نے اموی حکومت کے امام حسین کی اہانت ،ان کو اپنے ظلم و جورکے سامنے جھکانے کے سلسلہ میں کی ہے لیکن یہ خدا کی مرضی نہیں تھی بلکہ خدا یہی چا ہتا تھا کہ آپ کوایسی عظیم عزت سے نوازے جو آپ کو نبوت سے وراثت میں ملی تھی اور آپ اسی بلند مقام اور مرتبہ پر باقی رہیںاسی لئے آپ نے اللہ کے علاوہ کسی کے سامنے سر نہیںجھکایاتوپھرآپ بنی امیہ کے کمینوں کے سامنے کیسے سر جھکاتے ؟اور ان کی حکومت وسلطنت آپ کے عزم محکم کوکیسے ڈگمگا سکتی تھی ۔آپ کا بہترین شعر ہے :

وَبِهِ یَرْجِعُ الْحِفَاظُ لِصَدْرٍ

ضَاقَتِ الْاَرْضُ وَهَِ فِیْهِ تَضِیْعُ

شاعر کی اس تعبیر سے بڑھ کر کیا کو ئی اور تعبیر امام کی غیرت کو بیان کر سکتی ہے ؟اس شاعر نے تمام توانائیوں کو امام کے سینہ سے مختص کیا ہے زمین وسیع ہونے کے باوجود امام کے عزم و ارادہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھی، اس شعر میں الفاظ بھی زیبا ہیں اور طبیعت انسا نی پر بھی بار نہیں ہیں ۔مندرجہ ذیل اشعار ملاحظہ کیجئے جن میں امام حسین کے انکار کی توصیف کی گئی ہے سید حیدر کہتے ہیں :

لقد ماتَ لکنْ مِیتَةُ هاشمِیَّةً ------لَهُمْ عُرِفَتْ تحتَ القنَا المُتَفَصِّدِ

کَرِیْمُ اَبِیْ شَمَّ الدَّنِیَّةِ اَنْفُهُ ------فَاَشْمَمَهُ شَوْکَ الْوَسِیْجِ الْمُسَدَّدِ

وَقَالَ قِفِیْ یَا نَفْسُ وَقْفَةَ وَارِد -----حِیاضَ الرَّدیٰ لَا وَقْفَةَ الْمُتَرَدِّدِ

رأی اَنَّ ظَهَرَ الذُلِّ اَخْشَنُ مَرْکَباً------مِنَ الْمَوْتِ حیثُ المَوتُ مِنْهُ بِمَرْصَدِ

فَاَثَرَ اَنْ یسعیٰ علیٰ جَمْرَةِ الوَغیٰ ------بِرِجلٍ ولَا یُعْطِ المُقَادَةَ عَنْ یَد(۱)

'' امام حسین مارے تو گئے لیکن ہا شمی انداز میں ،ان کا تعارف ہی نیزہ و شمشیر کوچلانے سے پسینہ میں شرابور ہوجانے سے ہوا ۔آپ کریم تھے اسی لئے آپ نے ذلت قبول کرنے سے انکار کردیا۔

____________________

۱۔دیوان سید حید ر،صفحہ ۷۱۔


اسی لئے آپ کو مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔

آپ نے اپنے نفس سے مخاطب ہو کر فرمایااے نفس وا دی ہلاکت میں جانے سے رُک جا البتہ شک کرنے والے کے مانند مت رُک۔ آپ نے مشاہدہ کیا کہ مو ت کے مقابلہ میں ذلت قبول کرنازیادہ سخت ہے جبکہ موت آپ کے انتظار میں تھی ۔

اس وقت آپ نے خاردار راہوں میں پیدل چلنا گوارا کیالیکن اپنا اختیار ظالم کے ہاتھ میں دینا پسند نہیں کیا ''۔

ہم نے ان اشعار سے زیادہ دقیق اور اچھے اشعار کا مطالعہ نہیں کیا،یہ اشعار امام کی غیرت اور عظمت نفس کو خو بصورت انداز میں بیان کر تے ہیں امام نے ذلت کی زندگی کے مقابلہ میں تلواروں کے سایہ میں جان دینے کو ترجیح دی اور اس سلسلہ میں آپ نے اپنے خاندان کے اُن شہداء کا راستہ اختیار فرمایاجو آپ سے پہلے جنگ کے میدانوں میں جا چکے تھے ۔

سید حیدر نے امام حسین کے انکار کی صفت کا یوں نقشہ کھینچا ہے کہ آپ نے پستی ،ظلم و ستم اور دوسروں کی حق تلفی کا انکار کیا ،تیروں اور تلواروں میں ستون کے مانند کھڑے ہوگئے ، کیونکہ ایسا کرنے میں غیرت و شرف و بزرگی محفوظ تھی اور اسی عمدہ صفت کا سہارا لیتے ہوئے سید حیدر نے امام کے انکار کی نقشہ کشی کی ہے ، وہ غیرت جو آپ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہو ئی تھی جیسا کہ دوسرے شاعروں میں بھی بھری ہو ئی تھی اور یہ بات یقینی ہے کہ آپ نے اس سلسلہ میں تکلف سے کام نہیں لیا بلکہ حقیقت بیان کی ہے ۔

سید حیدر نے درج ذیل دوسرے اشعار میں امام حسین کے اس انکار اور آپ کی بلندی ٔذات کو بیان کیا ہے اور شاید یہ امام کے سلسلہ میں کہا گیا بہترین مرثیہ ہو :

وَسامتهُ یرکبُ احدَی اثنتینْ

وقد صرَّتِ الحربُ اسنانها

فَاِمَّا یُریٰ مُذْعِناًاَوْ تموتَ

نَفسُ ابی العزُّ اِذْعَانَهَا

فقالَ لها اعْتَصِمِیْ بِالاِبَائْ

فَنَفْسُ الاَبِیَّ ومَا زَانَهَا

اِذَا لَمْ تَجِدْ غَیْرَ لِبْسِ الهَوَان

فَبِالْمَوْتِ تَنْزِعُ جُثْمَانَهَا


رَأَ القَتْلَ صَبْراً شَعَارَالکِرَامْ

وَفَخراً یَزِیْنُ لَهَا شَانَهَا

فَشَمَّرَ لِلْحَرْبِ فِیْ مَعْرَکٍ

بِهِ عَرَکَ الْمَوْتُ فُرْسَانَهَا(۱)

''اس وقت آپ نے خار دار راہوں میںپیدل چلنا پسند کیالیکن اپنا اختیار ظالم کے ہاتھوں دینا پسند نہیں کیا۔

جنگ کے میدان میں امام حسین نے محسوس کیا کہ یاذلت محسوس کر نا پڑے گی یا عزت کے ساتھ جام شہا دت نوش کرنا پڑے گا۔

اس وقت آپ نے عزت و غیرت کا دامن تھا منے کا فیصلہ کیا ۔

کیونکہ غیرت مند انسان کو جب ذلت کا سامنا کر ناپڑجائے تو وہ اپنے لئے موت اختیار کرلیتا ہے آپ نے شہادت کو بزرگوں کی عادت اور اپنے لئے فخر محسوس کیا۔

اسی لئے آپ نے جنگ کیلئے کمر کس لی موت اور گھوڑے سواروںکے سامنے سخت جان ہوگئے''۔

امام کی شان میں سید حیدر کے مرثیے امت عربی کی میراث میں بڑے ہی مشہور و معروف ہیں،ان میں نئی افکار کو ڈھالا گیا ہے ،ان کے اجزاء کو بڑی ہی دقت نظری کے ساتھ مرتب و منظم کیا گیا ہے جس سے ان کو چار چاند لگ گئے اور (ان کے ہم عصرلوگوں کا کہنا ہے)قصیدہ کے ہر شعر میں مخصوص طور پر امام کا تذکرہ کیا گیا ہے ،عام لوگ ان اشعار کی اصلاح نہیں کر سکتے اور ان اشعار کا ہر کلمہ کمال اور انتہاء تک پہنچا ہوا ہے ۔

۲۔ شجاعت

بڑے بڑے صاحبان ِ فکر و نظرنے پور ی تاریخ میں ایسا شجاع اور ایسا بہادر انسان نہیںدیکھا ،امام حسین کی ذات با برکت تھی کربلا کے دن آپ نے وہ مو قف اختیار فر مایاجس سے سب متحیر ہو گئے ، عقلیں مدہوش ہو کر رہ گئیں ،نسلیں آپ کی شجاعت اور محکم عزم کے متعلق متعجب ہوکر گفتگو کرنے لگیں ،لوگ آپ کی شجاعت کو آپ کے والد بزرگوار کی شجاعت پر فوقیت دینے لگے جس کے پوری دنیاکی ہر زبان میں چرچے تھے ۔

____________________

۱۔دیوان سید حیدر،صفحہ ۷۱۔


آپ کے ڈر پوک دشمن آپ کی شجاعت سے مبہوت ہو کر رہ گئے ،آپ ان ہوش اڑا دینے والی ذلت و خواری کے سامنے نہیں جھکے جن کی طرف سے مسلسل آپ پر حملے کئے جارہے تھے ،اور جتنی مصیبتیں بڑھتی جا رہی تھیں اتنا ہی آپ مسکرا رہے تھے ، جب آپ کے اصحاب اور اہل بیت کا خاتمہ ہوگیا اور (روایات کے مطابق)تیس ہزار کے لشکر نے آپ پر حملہ کیا تو آ پ نے تن تنہا ان پرایسا حملہ کیا،جس سے ان کے دلوں پر آپ کا خوف اور رعب طاری ہو گیا ،وہ آپ کے سامنے سے اس طرح بھاگے جارہے تھے جس طرح شیرِ غضبناک(روایات کی تعبیر کے مطابق) کے سامنے بکری بھاگتی ہوئی دکھا ئی دیتی ہے ،آپ ہر طرف سے آنے والے تیروں کے سامنے جبل راسخ کی طرح کھڑے ہو گئے آپ کے وقار میں کو ئی کمی نہیں آئی ،آپ کا امر محکم و پا ئیدار اور مو ت کمزور ہو کر رہ گئی ۔

سید حیدرکہتے ہیں :

فَتَلقّی الجُمُوْعُ فَرداً ولٰکِنْ

کُلُّ عُضْوٍ فِی الرَّوعِ مِنْهُ جُمُوْعُ

رُمْحُهُ مِنْ بِنَائِهِ وَکَاَنَّ مِنْ

عَزْمِهِ حَدَّ سَیْفِهِ مَطْبُوْعُ

زَوَّ جَ السَّیْفَ بِالنُّفُوْسِ وَلٰکِنْ

مَهْرُهَالْمَوْتُ والخِضآبُ النَّجِیْعُ

''امام حسین نے گرچہ دشمنوں کی جماعت کا تنہا مقابلہ کیالیکن ہیبت کے لحاظ سے آپ کے بدن کا ہرحصہ کئی جماعتوں کے مانند تھا ۔


آپ کی انگلیوں کاپور پورنیزے کا کام کرتا تھااپنی بلند ہمت کی بنا پر آپ کو تلواروں کا مقابلہ کرنے کی عادت پڑگئی تھی ۔

آپ نے اپنی تلوار کے ذریعہ دشمنوں کی صفوں میں تباہی مچا دی ''۔

دوسرے اشعار میں سید حیدر کہتے ہیں :

رَکِیْن وَلِلْاَرْضِ تَحْتَ الْکُماة

رَجِیْفْ یُزَلْزِلُ ثَهْلَانَهَا

اَقَرُّ عَلیٰ الارضِ مِنْ ظَهرِهَا

اِذَامَلْمَلَ الرُّعْبُ اَقْرَانَهَا

تَزِیْدُ الطَّلَاقَةُ فِیْ وَجْهِهِ

اِذَاغَیَّرَالْخَوْفُ اَلْوَانَهَا

''حالانکہ زمین مسلسل تھر ا رہی تھی لیکن آپ مضبوطی کے ساتھ پُر سکون تھے ۔

شدید خوف کے مقامات پر بھی آپ کا چہرہ کھِلا ہوا تھا ''۔

جب ظلم و ستم و حق تلفی سے روکنے والے زخمی ہو کر زمین پر گرے اور خون بہہ جانے کی وجہ سے آپ پر غش طاری ہو گیا تو پورا لشکر آپ کے رعب و دبدبہ کی وجہ سے آپ کے پاس نہ آسکا ۔


اس سلسلہ میں سید حیدر کہتے ہیں :

عفیراًمتی عا ینته الکُماة

یَخْتَطِفُ الرُّعْبُ اَلوانَهَا

فَما أَجَلَتِ الْحَرْبُ عَنْ مِثْلِه

صَرِیْعاً یُجَبِّنُ شُجْعَانَهَا

''آپ زمین کربلا پر خاک آلود پڑے ہوئے تھے پھر بھی بڑے بڑے بہا در آپ کے نزدیک ہونے سے ڈر رہے تھے ''۔

آپ نے اپنے اہل بیت اور اصحاب کے لئے اس عظیم روح کے ذریعہ ایسی غذا کا انتظام کیا کہ وہ شوق اور اخلاص کے ساتھ مرنے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت کر نے لگے اور انھوں نے اپنے دل میں کسی کے ڈر اور خوف کا احساس نہیں کیاخود ان کے دشمنوں نے ان کی پا ئیداری اور خوف نہ کھانے کی شہادت دی اور کربلا کے میدان میںعمر بن سعد کے ساتھ جس ایک شخص نے یہ منظر دیکھا اس سے کہا گیا وائے ہو تم پر تم نے ذریت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کر دیا؟

تو اس نے یوں جواب دیا:وہ سخت چٹان تھے ،جو ہم نے دیکھا اگر تم اس کا مشاہدہ کر تے تو جو کچھ ہم نے انجام دیا وہی تم انجام دیتے ،انھوں نے بھوکے شیر کی طرح ہاتھوں میں تلواریں لئے ہوئے لوگوں پر حملہ کیا تو وہ دا ئیں اور با ئیں طرف بھا گنے لگے ،موت کے گھاٹ اترنے لگے ،نہ انھوں نے امان قبول کی نہ مال کی طرف راغب ہوئے اُن کے اور موت کے درمیان نہ کو ئی فاصلہ باقی رہ گیا تھا اور نہ حکومت پر قبضہ کرنے میںکو ئی دیر تھی اگر ہم ایک لمحہ کیلئے بھی رُک جا تے ،اگر ہم ان سے رو گردانی کربھی لیتے تو بھی یہ لشکر والے اس میں مبتلا ہو جا تے۔(۱)

بعض شعراء نے اس شاذ و نادر محکم و پا ئیداری کی یوں نقشہ کشی کی ہے :

فَلَوْوَقَفَتْ صُمُّ الْجِبَالِ مَکَانَهُمْ

لَمَادَتْ عَلیٰ سَهْلٍ وَدَکَّتْ عَلیٰ وَعْرِ

فَمِنْ قَائمٍ یَسْتَعْرِضُ النَّبْلُ وَجْهَهُ

وَمِنْ مُقْدِمٍ یَرْمِی الأَسِنَّةِ بِالصَّدْرٍِ

____________________

۱۔شرح نہج البلاغہ، جلد ۳،صفحہ ۲۶۳۔


لشکر یزید کی جگہ اگر پہاڑ بھی ہوتے تو وہ بھی آپ کی بہادری کی وجہ سے ریزہ ریزہ ہو جاتے۔

آپ جب کھڑے ہوجاتے تھے تو سامنے سے تیر آنے لگتے تھے اور جب کبھی آگے بڑھنے لگتے تھے توآپ کے سینہ میں نیزے آکے لگنے لگتے تھے''۔

اور سید حیدر کا یہ شعر کتنا اچھا ہے :

دَکُّوا رُبَاهاً ثُمَّ قَالُوا لَهَا

وَقَدْ جَثَوانَحْنُ مَکَانَ الرُّبَا!

''انھوں نے ٹیلوں کو ریزہ ریزہ کردیا ہے پھر جب اس پر بیٹھ گئے تو کہنے لگے ہم ٹیلے ہیں ''۔

امام حسین نے فطرت بشری کی نادر استقامت و پا ئیداری کے ساتھ چیلنج پیش کرتے ہوئے موت کی کو ئی پروا نہ کی اور جب آپ پر دشمنوں کے تیروں کی بارش ہو رہی تھی تو اپنے اصحاب سے فرمایا:''قُوموُارحِمَکُم اللّٰہُ الیٰ المَوْتِ الَّذِیْ لَابُدَّ مِنْہُ فَاِنَّ ھٰذِہِ السّھَامَ رُسُلُ الْقَوْمِ اِلَیْکُمْ۔۔۔''۔

''تم پر خدا کی رحمت ہو اس مو ت کی جانب آگے بڑھوجس سے راہ فرار نہیں کیونکہ یہ تیر دشمنوں کی جانب سے تمہارے لئے موت کا پیغام ہیں ''۔

حضرت امام حسین کااپنے اصحاب کو موت کی دعوت دینا گویا لذیذ چیز کی دعوت دینا تھا ،جس کی لذت آپ کے نزدیک حق تھی ،چونکہ آپ باطل کو نیست و نابود کرکے ان کے سامنے پروردگار کی دلیل پیش کرنا چاہتے تھے جو ان کی تخلیق کرنے والاہے ۔(۱)

۴۔صراحت

حضرت امام حسین کی ایک صفت کلام میں صاف گوئی سے کام لینا تھی ،سلوک میں صراحت سے کام لینا ، اپنی پوری زند گی کے کسی لمحہ میں بھی نہ کسی کے سامنے جھکے اور نہ ہی کسی کو دھوکہ دیا،نہ سست راستہ اختیار کیا،آپ نے ہمیشہ ایسا واضح راستہ اختیار فر مایاجو آپ کے زندہ ضمیر کے ساتھ منسلک تھااور خود کو ان تمام چیزوں سے دور رکھا جن کا آپ کے دین اور خلق میں کوئی مقام نہیں تھا ،یہ آپ کے واضح راستہ کا ہی اثر

____________________

۱۔الامام حسین، صفحہ ۱۰۱۔


تھا کہ یثرب کے حاکم یزید نے آپ کو رات کی تا ریکی میں بلایا،آپ کو معاویہ کے ہلاک ہونے کی خبر دی اور آپ سے رات کے گُھپ اندھیرے میںیزید کے لئے بیعت طلب کی تو آپ نے یہ فرماتے ہوئے انکار کردیا :''اے امیر ،ہم اہل بیت نبوت ہیں ، ہم معدن رسالت ہیں ،اللہ نے ہم ہی سے دنیا کا آغاز کیا اور ہم پر ہی اس کا خاتمہ ہوگا،یزید فاسق و فاجر ہے ،شارب الخمر ہے ،نفس محترم کا قاتل ہے وہ متجا ہر بالفسق ہے اور میرا جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا ''۔

ان کلمات کے ذریعہ آپ کی صاف گو ئی ،بلندی ٔ مقام اور حق کی راہ میںٹکرانے کی طاقت کشف ہو ئی ۔

آپ کی ذات میںاسی صاف گو ئی کی عادت کے موجودہونے کایہ اثر تھا کہ جب آپ عراق کی طرف جارہے تھے تو راستہ میں آپ کو مسلم بن عقیل کے انتقال اور ان کو اہل کوفہ کے رسوا و ذلیل کرنے کی دردناک خبر ملی تو آپ نے ان افرادسے جنھوںنے حق کی حمایت کا راستہ اختیار نہ کرکے عفو کا راستہ اختیار کیا فرمایا:''ہمارے شیعوں کو رسوا و ذلیل کیا تم میں سے جو جانا چاہے وہ چلا جائے ، تم پر کو ئی زبردستی نہیں ہے۔۔۔''۔

لالچی افراد آپ سے جدا ہو گئے ،صرف آپ کے ساتھ آپ کے منتخب اصحاب اور اہل بیت علیہم السلام(۱) باقی رہ گئے ،آپ نے ان مشکل حالات میںدنیا پرست افراد سے اجتناب کیا جن میں آپ کو ناصر و مدد گار کی ضرورت تھی ، آپ نے سخت لمحات میں مکر و فریب سے اجتناب کیا آپ کا عقیدہ تھا کہ خدا پر ایمان رکھنے والے افراد کے لئے ایسا کرنا زیب نہیں دیتا۔

اسی صاف گوئی و صراحت کا اثر تھا کہ آپ نے محرم الحرام کی شب عاشورہ میں اپنے اہل بیت اور اصحاب کو جمع کر کے ان سے فرمایا کہ میں کل قتل کر دیا جائونگا اور جو میرے ساتھ ہیں وہ بھی کل قتل کردئے جائیںگے،آپ نے صاف طور پر ان کے سامنے اپناامر بیان فر ماتے ہوئے کہا کہ تم رات کی تاریکی میںمجھ سے جدا ہوجا ئو ،تو اس عظیم خاندان نے آپ سے الگ ہونے سے منع کر دیا اور آپ کے سامنے شہادت پرمصر ہوئے ۔

____________________

۱۔انساب الاشراف، جلد ۱،صفحہ ۲۴۰۔


حکومتیں ختم ہو گئیں بادشاہ اس دنیا سے چلے گئے لیکن یہ بلند اخلاق باقی رہنے کے حقدارہیں جو کائنات میں ہمیشہ باقی رہیں گے ،کیونکہ یہ بلند و بالا اور اہم نمونے ہیں جن کے بغیر انسان کریم و شفیق نہیں ہو سکتا ۔

۵۔ حق کے سلسلہ میں استقامت

امام حسین کی اہم اور نمایاں صفت حق کے سلسلہ میں استقامت و پا ئیداری تھی ،آپ نے حق کی خاطر اس مشکل راستہ کو طے کیا،باطل کے قلعوں کو مسمار اور ظلم و جور کو نیست و نابود کر دیا ۔

آپ نے اپنے تمام مفاہیم میں حق کی بنیاد رکھی ،تیربرستے ہوئے میدان کو سر کیا،تاکہ اسلامی وطن میں حق کا بول بالا ہو،سخت دلی کے موج مارنے والے سمندر سے امت کو نجات دی جائے جس کے اطراف میں باطل قواعدو ضوابط معین کئے گئے تھے ،ظلم کا صفایا ہو،سرکشی کے آشیانہ کی فضا میں باطل کے اڈّے، ظلم کے ٹھکانے اور سرکشی کے آشیانے وجود میں آگئے تھے، امام نے ان سب سے روگردانی کی ہے ۔

امام نے امت کو باطل خرافات اور گمرا ہی میں غرق ہوتے دیکھا ،آپ کی زند گی میں کو ئی بھی مفہوم حق کے مفہوم سے زیادہ نمایاں شمار نہیں کیا جاتا تھا ،آپ حق کا پرچم بلند کر نے کے لئے قربانی اور فدیہ کے میدان میں تشریف لائے ،آپ نے اپنے اصحاب سے ملاقات کرتے وقت اس نورانی مقصد کا یوں اعلان فرمایا:

''کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ نہ حق پر عمل کیا جا رہا ہے اورنہ ہی باطل سے منع کیا جا رہا ہے، جس سے مومن اللہ سے ملاقات کر نے کے لئے راغب ہو ۔۔۔''۔

امام حسین کی شخصیت میں حق کا عنصر مو جود تھا ،اور نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے آپ کی ذات میں اس کریم صفت کا مشاہدہ فرمایا تھا ، (مو رخین کے بقول)آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہمیشہ امام کے گلوئے مبارک کے بوسے لیا کرتے تھے جس سے کلمة اللہ ادا ہوااور وہ حسین جس نے ہمیشہ کلمہ ٔ حق کہا اور زمین پر عدل و حق کے چشمے بہائے ۔


۶۔ صبر

سید الشہدا کی ایک منفر د خاصیت دنیاکے مصائب اور گردش ایام پر صبر کرنا ہے ،آپ نے صبر کی مٹھاس اپنے بچپن سے چکھی ،اپنے جد اور مادر گرامی کی مصیبتیں برداشت کیں ،اپنے پدر بزرگوار پرآنے والی سخت مصیبتوںکا مشاہدہ کیا،اپنے برادر بزرگوار کے دور میں صبر کا گھونٹ پیا ،ان کے لشکر کے ذریعہ آپ کو رسوا و ذلیل اورآپ سے غداری کرتے دیکھا یہاں تک کہ آپ صلح کرنے پر مجبور ہوگئے لیکن آپ اپنے برادر بزرگوار کے تمام آلام و مصائب میں شریک رہے ،یہاں تک کہ معاویہ نے امام حسن کو زہر ہلاہل دیدیا، آپ اپنے بھا ئی کا جنازہ اپنے جد کے پہلو میں دفن کرنے کے لئے لے کر چلے تو بنی امیہ نے آپ کا راستہ روکا اور امام حسن کے جنازہ کو ان کے جد کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیایہ آپ کے لئے سب سے بڑی مصیبت تھی ۔

آپ کے لئے سب سے عظیم مصیبت جس پر آپ نے صبر کیا وہ اسلام کے اصول و قوانین پرعمل نہ کرنا تھانیز آپ کے لئے ایک بڑی مصیبت یہ تھی کہ آپ دیکھ رہے تھے کہ آپ کے جدبزرگوار کی طرف جھوٹی حدیثیں منسوب کی جا رہی ہیں جن کی بنا پر شریعت ا لٰہی مسخ ہو رہی تھی آپ نے اس المیہ کا بھی مشاہدہ کیا کہ آپ کے پدر بزرگوار پر منبروں سے سب و شتم کیاجارہا ہے نیز باغی'' زیاد''شیعوں اور آپ کے چاہنے والوں کو موت کے گھاٹ اتار رہاتھاچنانچہ آپ نے ان تمام مصائب و آلام پر صبر کیا ۔

جس سب سے سخت مصیبت پر آپ نے صبر کیا وہ دس محرم الحرام تھی مصیبتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں بلکہ مصیبتیں آپ کا طواف کر رہی تھیں آپ اپنی اولاد اور اہل بیت کے روشن و منورستاروں کے سامنے کھڑے تھے ،جب ان کی طرف تلواریں اور نیزے بڑھ رہے تھے تو آپ ان سے مخاطب ہو کر ان کو صبر اور استقامت کی تلقین کر رہے تھے :''اے میرے اہل بیت !صبر کرو ،اے میرے چچا کے بیٹوں! صبر کرو اس دن سے زیادہ سخت دن نہیں آئے گا ''۔

آپ نے اپنی حقیقی بہن عقیلہ بنی ہاشم کو دیکھا کہ میرے خطبہ کے بعد ان کا دل رنج و غم سے بیٹھا جارہا ہے تو آپ جلدی سے ان کے پاس آئے اور جو اللہ نے آپ کی قسمت میں لکھ دیا تھا اس پر ہمیشہ صبرو رضا سے پیش آنے کا حکم دیا ۔

سب سے زیادہ خوفناک اور غم انگیز چیز جس پر امام نے صبر کیا وہ بچوں اور اہل وعیال کا پیاس سے بلبلانا تھا ،جوپیاس کی شدت سے فریاد کر رہے تھے، آپ ان کو صبرو استقامت کی تلقین کررہے تھے اور ان کو یہ خبر دے رہے تھے کہ ان تمام مصائب و آلام کو سہنے کے بعد ان کا مستقبل روشن و منور ہو جا ئے گا ۔


آپ نے اس وقت بھی صبر کا مظاہرہ کیا جب تمام اعداء ایک دم ٹوٹ پڑے تھے اور چاروں طرف سے آپ کو نیزے و تلوار مار رہے تھے اور آپ کا جسم اطہرپیاس کی شدت سے بے تاب ہو رہا تھا ۔

عاشور کے دن آپ کے صبرو استقامت کو انسانیت نے نہ پہچانا ۔

اربلی کا کہنا ہے :''امام حسین کی شجاعت کو نمونہ کے طور پر بیان کیا جا تا ہے اورجنگ و جدل میں آپ کے صبرکو گذشتہ اور آنے والی نسلیں سمجھنے سے عا جز ہیں ''۔(۱)

بیشک وہ کو نسا انسان ہے جو ایک مصیبت پڑنے پر صبر ،عزم اور قوت نفس کے دامن کو اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑتا اور اپنے کمزور نفس کے سامنے تسلیم ہو جاتا ہے لیکن امام حسین نے مصیبتوں میں کسی سے کو ئی مدد نہیں ما نگی، آپ نے انتہا ئی صبر سے کام لیا اگرامام پر پڑنے والی مصیبتوں میں سے اگر کو ئی مصیبت کسی دوسرے شخص پر پڑتی تو وہ انسان کتنا بھی صبر کرتا پھر بھی اس کی طاقتیں جواب دے جاتیںلیکن امام کی پیشانی پر بل تک نہ آیا۔

مو رخین کا کہنا ہے :آپ اس عمل میں منفرد تھے، آپ پرپڑنے والی کو ئی بھی مصیبت آپ کے عزم میں کو ئی رکاوٹ نہ لا سکی ،آپ کا فرزند ارجمند آپ کی زندگی میں مارا گیا لیکن آپ نے اس پر ذرا بھی رنجیدگی کا اظہار نہیں کیا آپ سے اس سلسلہ میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:''بیشک ہم اہل بیت اللہ سے سوال کرتے ہیں تو وہ ہم کو عطا کرتا ہے اور جب وہ ہم سے ہماری محبوب چیز کو لینا چا ہتا ہے تو ہم اس پر راضی رہتے ہیں ''۔(۲)

آپ ہمیشہ اللہ کی قضا و قدر پر راضی رہے اور اس کے حکم کے سامنے تسلیم رہے ،یہی اسلام کا جوہر اور ایمان کی انتہا ہے ۔

۷۔حلم

امام حسین کی بلند صفت اور آپ کے نمایاں خصوصیات میں سے ایک صفت حلم و بردباری ہے چنانچہ(راویوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ)برائی کرنے والے کا اس کی برائی سے اور گناہگار کا اس کے

____________________

۱۔کشف الغمہ ،جلد ۲،صفحہ ۲۲۹۔

۲۔الاصابہ، جلد ۲،صفحہ ۲۲۲۔


گناہ سے موازنہ نہیں کیاجا سکتا ،آپ سب کے ساتھ نیکی سے پیش آتے ان کو امر بالمعروف کیا کرتے تھے، حلم کے سلسلہ میں آپ کی شان آپ کے جد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے مثل تھی جن کے اخلاق و فضا ئل تمام انسانوں کے لئے تھے،چنانچہ آپ اس صفت کے ذریعہ مشہور و معروف ہوئے اور آپ کے بعض اصحاب نے اس صفت کو عروج پر پہنچایا،جو آپ کے ساتھ برا ئی سے پیش آتا آپ اس پر صلہ ٔ رحم کرتے اور احسان فر ماتے ۔

مو رخین کا کہنا ہے: آپ کے بعض مو الی ایسی جنایت کرتے تھے جو تادیب کا سبب ہو تی تھی تو امام ان کو تا دیب کرنے کا حکم دیتے تھے ،ایک غلام نے آپ سے عرض کیا :اے میرے مولا و سردار خدا فر ماتا ہے :(والکاظمین الغیظ)امام حسین نے اپنی فیاضی پر مسکراتے ہوئے فر ما یا :خَلُّواعنه ،فقد کظمت غیظی ۔۔۔''۔''اس کو آزاد کردو میں نے اپنے غصہ کو پی لیا ہے ''۔

غلام نے جلدی سے کہا :(والعافین عن الناس)۔''اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں''

''قد عفوت عنک ''،(میں نے تجھے معاف کردیا)۔

غلام نے مزید احسان کی خو اہش کرتے ہوئے کہا:(واللّٰہُ یُحِبُّ المحسنین)(۱) ''اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ''

''انت حرّلوجه اللّٰه ِ'' ۔''تو خدا کی راہ میں آزاد ہے ''

پھر آپ نے اس کو ایسا انعام و اکرام دیاتا کہ وہ لوگوں سے سوال نہ کر سکے ۔

یہ آپ کا ایسا خُلق عظیم ہے جو کبھی آپ سے جدا نہیں ہو ا اور آپ ہمیشہ حلم سے پیش آتے رہے۔

۸۔تواضع

امام حسین بہت زیادہ متواضع تھے اور انانیت اور تکبر آپ کے پاس تک نہیں پھٹکتا تھا ،یہ صفت آپ کو اپنے جد بزرگوار رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے میراث میں ملی تھی جنھوں نے زمین پرفضائل اور بلند اخلاق کے اصول قائم کئے ۔راویوں نے آپ کے بلند اخلاق اور تواضع کے متعلق متعددواقعات بیان کئے ہیں ،ہم ان میں سے ذیل میں چند واقعات بیان کر رہے ہیں :

____________________

۱۔سورئہ آل عمران، آیت ۱۳۴۔


۱۔آپ کا مسکینوں کے پاس سے گذر ہوا جو کھانا کھا رہے تھے، انھوں نے آپ کو کھانا کھانے کے لئے کہا تو آپ اپنے مرکب سے اتر گئے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا،پھر ان سے فرمایا:''میں نے تمہاری دعوت قبول کی تو تم میری دعوت قبول کر و'' انھوں نے آپ کے کلام پر لبیک کہا اور آپ کے ساتھ آپ کے گھر تک آئے آپ نے اپنی زوجہ رباب سے فرمایا:''جو کچھ گھر میں موجود ہے وہ لا کر دیدو''۔ انھوں نے جو کچھ گھر میں رقم تھی وہ لا کر آپ کے حوالہ کر دی اور آپ نے وہ رقم ان سب کو دیدی۔(۱)

۲۔ ایک مرتبہ آپ ان فقیروں کے پاس سے گذرے جو صدقہ کا کھانا کھا رہے تھے ،آپ نے ان کو سلام کیا تو انھوں نے آ پ کو کھانے کی دعوت دی توآپ ان کے پاس بیٹھ گئے اور ان سے فرمایا:''اگر یہ صدقہ نہ ہوتا تو میں آپ لوگوں کے ساتھ کھاتا ''پھر آپ ان کو اپنے گھر تک لے کر آئے ان کو کھانا کھلایا ، کپڑا دیا اور ان کو درہم دینے کا حکم دیا ۔(۲)

اس سلسلہ میں آپ نے اپنے جد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اقتدا فر ما ئی ،ان کی ہدایات پر عمل پیرا ہوئے، (مو رخین کا کہنا ہے کہ)آپ غریبوں کے ساتھ مل جُل کر رہتے اور ان کے ساتھ اٹھتے اور بیٹھتے تھے ہمیشہ ان پر احسان فر ماتے ان سے نیکی سے پیش آتے تھے یہاں تک کہ فقیر اپنے فقر سے بغاوت نہ کرتا اور مالدار اپنی دولت میں بخل نہیں کرتا تھا ۔

____________________

۱۔تاریخ ابن عساکر، جلد ۱۳،صفحہ ۵۴۔

۲۔اعیان الشیعہ ،جلد ۴،صفحہ ۱۱۰۔


وعظ و ارشاد

امام حسین ہمیشہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے تھے جیسا کہ آپ سے پہلے آپ کے پدربزرگوار لوگوں کو وعظ و نصیحت فر ماتے تھے ،جس سے ان کا ہدف لوگوں کے دلوں میں اچھا ئی کی رشد و نمو کر نا ،ان کو حق اور خیر کی طرف متوجہ کرنا اور ان سے شر ،غرور اورغصہ وغیرہ کو دور کر نا تھا۔ ہم ذیل میں آپ کی چند نصیحت بیان کر رہے ہیں :

امام کا فر مان ہے :''اے ابن آدم !غوروفکر کر اور کہہ :دنیا کے بادشاہ اور ان کے ارباب کہاں ہیںجو دنیامیں آباد تھے انھوں نے زمین میں بیلچے مارے اس میں درخت لگائے ،شہروں کو آباد کیا اور سب کچھ

کر چلے گئے جبکہ وہ جانا نہیں چا ہتے تھے ،ان کی جگہ پر دوسرے افراد آگئے اور ہم بھی عنقریب اُن کے پاس جانے والے ہیں ۔

اے فرزند آدم! اپنی موت کو یاد کر اور اپنی قبر میں سونے کو یاد رکھ اور خدا کے سامنے کھڑے ہونے کو یاد کر ،جب تیرے اعضاء و جوارح تیرے خلاف گواہی دے رہے ہوں گے اور اس دن قدم لڑکھڑا رہے ہوں گے ،دل حلق تک آگئے ہوں گے، کچھ لوگوں کے چہرے سفید ہوں گے اور کچھ رو سیا ہ ہوں گے، ہر طرح کے راز ظا ہر ہو جا ئیں گے اور عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ ہوگا ۔

اے فرزند آدم ! اپنے آباء و اجداد کو یاد کر اور اپنی اولاد کے بارے میں سوچ کہ وہ کس طرح کے تھے اور کہاں گئے اور گویا عنقریب تم بھی اُ ن ہی کے پاس پہنچ جا ئو گے اور عبرت لینے والوں کے لئے عبرت بن جا ئو گے ''۔

پھر آپ نے یہ اشعارپڑھے :

این الملوک التی عن حفظها غفلت----------حتیٰ سقاها بکأس الموت ساقیها؟

تلک المدائن فی الآفاق خالیة ----------عادت خراباًوذاقَ الْمَوْتِ بَانِیْهَا

اَموالنا لذو الورّاثِ نَجْمَعُهَا--------ودُورُنا لخراب الدهر نَبْنِیْهَا''(۱)

''وہ بادشاہ کہاں گئے جو ان محلوں کی حفاظت سے غافل ہو گئے یہاں تک کہ موت نے اُن کو اپنی آغوش میں لے لیا ؟

وہ دور دراز کے شہر ویران ہو گئے اور ان کو بسانے والے موت کا مزہ چکھ چکے ۔ہم دولت کووارثوں کے لئے اکٹھا کرتے ہیںاور اپنے گھر تباہ ہونے کے لئے بناتے ہیں ''۔یہ بہت سے وہ وعظ و نصیحت تھے جن سے آپ کا ہدف اور مقصد لوگوں کی اصلاح ان کو تہذیب و تمدن سے آراستہ کرنا اور خواہشات نفس اور شر سے دور رکھنا تھا ۔

____________________

۱۔الارشاد (دیلمی)،جلد ۱،صفحہ ۲۸۔


اقوال زرّین

پروردگار عالم نے امام حسین کو حکمت اور فصل الخطاب عطا فرمایا تھا، آپ اپنی زبان مبارک سے مواعظ ،آداب اور تمام اسوئہ حسنہ بیان فرماتے تھے ،آپ کی حکمت کے بعض کلمات قصار یہ ہیں :

۱۔امام حسین کا فرمان ہے :''تم عذر خو اہی کر نے سے پرہیز کرو ،بیشک مو من نہ برا کام انجام دیتا ہے اور نہ ہی عذر خوا ہی کرتا ہے ،اور منافق ہر روز برائی کرتا ہے اور عذر خوا ہی کرتا ہے۔۔۔''۔(۱)

۲۔امام حسین فرماتے ہیں :''عاقل اس شخص سے گفتگو نہیں کرتا جس سے اسے اپنی تکذیب کا ڈرہو،اس چیز کے متعلق سوال نہیں کرتا جس کے اسے انکار کا ڈرہو ،اس شخص پر اعتماد نہیں کرتا جس کے دھوکہ دینے کا اسے خوف ہو اور اس چیز کی امید نہیں کرتا جس کی امید پر اسے اطمینان نہ ہو ۔۔۔''۔(۲)

۳۔امام حسین کافرمان ہے :''پانچ چیزیں ایسی ہیں اگر وہ کسی میں نہ ہوں تو اس میں بہت سے نیک صفات نہیں ہوں گے عقل ،دین ،ادب ،حیا اور حُسن خلق ''۔(۳)

۴۔امام حسین فرماتے ہیں :''بخیل وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل سے کام لے ''۔(۴)

۵۔امام حسین فرماتے ہیں :''ذلت کی زند گی سے عزت کی موت بہتر ہے ''۔(۵)

۶۔امام نے اس شخص سے فرمایا جو آپ سے کسی دوسرے شخص کی غیبت کر رہاتھا :''اے شخص غیبت کرنے سے باز آجا، بیشک یہ کتّوں کی غذا ہے ۔۔۔''۔(۶)

حضرت امام حسین اورعمر

امام حسین ابھی جوان ہی تھے آپ جب بھی عمر کے پاس سے گذرتے تھے تو بہت ہی غمگین ورنجیدہ

____________________

۱۔تحف العقول، صفحہ ۲۴۶۔ ۲۔ریحانة الرسول، صفحہ ۵۵۔

۳۔ریحانة الرسول ،صفحہ ۵۵۔۴۔ریحانة الرسول ،صفحہ ۵۵۔

۵۔تحف العقول ،صفحہ ۲۴۶۔۶۔تحف العقول، صفحہ ۲۴۵۔


رہتے تھے، چونکہ وہ آپ کے پدر بزرگوار کی جگہ پر بیٹھاہوا تھاایک بار عمر منبر پر بیٹھا ہوا خطبہ دے رہا تھا تو امامحسین نے منبر کے پاس جا کر اس سے کہا :''میرے باپ کے منبر سے اتر اور اپنے باپ کے منبر پر جا کر بیٹھ۔۔۔''۔

امام حسین کے اس صواب دید پر عمر ہکاّ بکّا رہ گیااور آپ کی تصدیق کرتے ہوئے کہنے لگا :

آپ نے سچ کہا میرے باپ کے پاس منبر ہی نہیں تھا۔۔۔

عمر نے آپ کو اپنے پہلو میں بٹھاتے ہوئے آپ سے سوال کیا کہ آپ کو یہ بات کہنے کے لئے کس نے بھیجا :آپ کو اس بات کی کس نے تعلیم دی ؟

''خدا کی قسم مجھے یہ بات کسی نے نہیں سکھا ئی ''۔

امام حسین بچپن میں ہی بہت زیادہ با شعور تھے، آپ نے اپنے جد کے منبر کے شایان شان اپنے پدربزرگوار کے علاوہ کسی کو نہیں پایا جو حکمت کے رائد اور نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے علم کے شہر کا دروازہ ہیں ۔

حضرت امام حسین معاویہ کے ساتھ

امت معاویہ کا شکار ہو کر رہ گئی ،اس کے ڈرائونے حکم کے سامنے تسلیم ہو گئی ،جس میںفکری اور معاشرتی حقد وکینہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور جو کچھ اسلام نے امت کی اونچے پیمانہ پر تربیت اور ایسے بہترین اخلاق سے آراستہ کیا تھا اس کو امت کے دلوں سے نکال کر دور پھینک دیا اور اس نے مندرجہ ذیل سیاسی قوانین معین کئے :

۱۔اس نے اسلام کے متعلق سعی و کو شش کرنے والے ارکان حجر بن عدی ،میثم تمار ،رشید ہجری ، عمرو بن الحمق خزاعی اور ان کے مانند اسلا م کی بڑی بڑی شخصیتوں کو ہلاک کر نے کی ٹھان لی اور ان کو قربان گاہ میں لا کر قتل کر دیا،کیونکہ انھوں نے اس کے حکم کا ڈٹ کر مقابلہ کیااور وہ اس کی ظلم و استبداد سے بھری ہو ئی سیاست سے ہلاک ہوئے ۔

۲۔اس نے اہل بیت کی اہمیت کو کم کرنا چا ہا جو اسلام اور معاشرہ کے لئے مرکزی حیثیت رکھتے تھے اور جو امت کو ترقی کی راہ پر گا مزن کر نا چا ہتے تھے، اس امت کو ان سے حساس طور پر متعصب کردیا ،امت کے لئے مسلمانوں پر سب و شتم کرنا واجب قرار دیا ،ان کے بغض کو اسلامی حیات کا حصہ قرار دیا،اس نے اہل بیت کی شان و منزلت کو گھٹانے کیلئے تعلیم و تربیت اور وعظ و ارشاد کا نظام معین کیا اور ان (اہل بیت) پر منبروں سے نماز جمعہ او ر عیدین وغیرہ میںسب و شتم کرنا واجب قرار دیا ۔


۳۔اسلام کے واقعی نو ر میں تغیر و تبدل کیا،تمام مفاہیم و تصورات کو بدل ڈالا ،اس نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منسوب کر کے احا دیث گڑھنے والے معین کئے ،حدیث گڑھنے والے عقل اور سنت کے خلاف احادیث گڑھ کر بہت خوش ہوتے تھے ، بڑے افسوس کا مقا م ہے کہ ان گڑھی ہو ئی احادیث کو صحاح وغیرہ میں لکھ دیا گیا ،جن کتابوں کو بعض مو ٔ لفین لکھنے کیلئے مجبور و ناچار ہو گئے اور ان میں ان گڑھی ہو ئی احادیث کو مدوّن کیاجو ان گڑھی ہو ئی باتوں پر دلالت کر تی ہیں ،ہمارے خیال میں یہ خوفناک نقشہ ایسی سب سے بڑی مصیبت ہے جس میں مسلمان گرفتار ہوئے اور مسلمان ان گڑھی ہوئی احادیث پر یہ عقیدہ رکھنے لگے کہ یہ ان کے دین کا جزء ہے اور وہ ان احا دیث سے بریٔ الذمہ ہیں ۔

امام حسین کا معاویہ کے ساتھ مذاکرہ

امام حسین نے معاویہ سے سخت لہجہ میں مذاکرہ کیاجس سے اس کی سیاہ سیاست کا پردہ فاش ہو اجو اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت کے با لکل مخالف تھی اور جس میں اسلام کے بزرگان کے قتل کی خبریں مخفی تھیں،یہ معاویہ کی سیاست کا ایک اہم وثیقہ تھاجو معاویہ کے جرائم اور اس کی ہلاکت پر مشتمل تھا ،ہم نے اس کو تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب (حیاةالامام الحسین)میں بیان کیا ہے ۔

مکہ معظمہ میں سیاسی اجلاس

امام حسین نے مکہ میں ایک سیاسی اور عمو می اجلاس منعقد کیا جس میں حج کے زمانہ میں آئے ہوئے تمام مہا جرین و انصار وغیرہ اور کثیرتعدادنے شرکت کی ،امام حسین نے ان کے درمیان کھڑے ہوکر خطبہ دیا ، سرکش و باغی معاویہ کے زمانہ میں عترت رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر ڈھا ئے جانے والے مصائب و ظلم و ستم کے سلسلہ میں گفتگو فر ما ئی آپ کے خطبہ کے چند فقرے یہ ہیں :

''اس سرکش (معاویہ) نے ہمارے اور ہمارے شیعوں کے ساتھ وہ کام انجام دئے جس کو تم نے دیکھا ،جس سے تم آگاہ ہو اور شاہد ہو ،اب میں تم سے ایک چیز کے متعلق سوال کر نا چا ہتا ہوں ، اگر میں نے سچ بات کہی تو میری تصدیق کرنا اور اگر جھوٹ کہا تو میری تکذیب کرنا ،میری بات سنو ، میرا قول لکھو ،پھر جب تم اپنے شہروں اور قبیلوں میں جائو تو لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور اس پر اعتماد کرے تو تم اس کو ہمارے حق کے سلسلہ میں جو کچھ جانتے ہواس سے آگاہ کرو اور اس کی طرف دعوت دومیں اس بات سے خوف کھاتا ہوں کہ اس امر کی تم کو تعلیم دی جائے اور یہ امر مغلوب ہو کر رہ جا ئے اور خدا وند عالم اپنے نور کو کا مل کر نے والا ہے چا ہے یہ بات کفار کو کتنی ہی نا گوار کیوں نہ ہو ''۔


اجلاس کے آخر میں امام نے اہل بیت کے فضائل ذکر کئے جبکہ معاویہ نے اُن پر پردہ ڈالنا چاہا،اسلام میں منعقد ہونے والا یہ پہلا سیمینار تھا ۔

آپ کا یزید کی ولیعہدی کی مذمت کرنا

معاویہ نے یزید کو مسلمانوں کا خلیفہ معین کرنے کی بہت کو شش کی ،بادشاہت کو اپنی ذریت و نسل میں قرار دینے کے تمام امکانات فراہم کئے ،امام حسین نے اس کی سختی سے مخالفت کی اور اس کا انکار کیا چونکہ یزید میں مسلمانوں کا خلیفہ بننے کی ایک بھی صفت نہیں تھی اور امام حسین نے اس کے صفات یوں بیان فرمائے : وہ شرابی شکارچی،شیطان کا مطیع و فرماں بردار ،رحمن کی طاعت نہ کرنے والا ،فساد برپا کرنے والا،حدود الٰہی کو معطل کرنے والا ، مال غنیمت میں ذاتی طور پر تصرف کرنے والا حلال خدا کو حرام،اور حرام خدا کو حلال کرنے والا ہے(۱) معاویہ نے امام حسین کو ہر طریقہ سے اس کے بیٹے یزید کی بیعت کرنے کیلئے قانع کر نا چاہا ،اس کے علاوہ اس کے پاس کو ئی اور چارہ نہیں تھا ۔

معاویہ کی ہلاکت

جب باغی معاویہ ہلاک ہو ا تو حاکم مدینہ ولید نے یزید کی بیعت لینے کیلئے امام حسین کو بلا بھیجا ، امام نے اس کا انکار کیا اور اس سے فر مایا:''ہم اہل بیت نبوت ،معدن رسالت اور مختلف الملائکہ ہیں،ہم ہی سے اللہ نے آغاز کیا اور ہم ہی پر اختتام ہوگا اور یزید فاسق ، شرابی ،نفس محترم کا قتل کرنے والا،متجاہر بالفسق (کھلم کھلا گناہ کرنے والا)ہے اور مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا ''۔(۲)

____________________

۱۔تاریخ ابن اثیر،جلد ۲،صفحہ ۵۵۳۔

۲۔حیاةالامام حسین ، جلد ۲،صفحہ ۲۵۵۔(نقل شدہ کتاب الفتوع جلد۵،صفحہ ۱۸)۔


جس طرح خاندان نبوت کے تمام افراد نے اس کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا اسی طرح امام حسین نے بھی اپنے بزرگوں کی اتباع کرتے ہوئے یزید کی بیعت کرنے سے انکار فرمادیا ۔

حضرت امام حسین کا انقلاب

امام حسین نے مسلمانوں کی کرامت و شرف کو پلٹانے ،ان کو امویوں کے ظلم و ستم سے نجات دینے کیلئے یزید کے خلاف ایک بہت بڑا انقلاب برپا کیا ،آپ نے اپنے اغراض و مقاصد کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:'' انی لم اخرج۔۔۔'' ''میں سرکشی ،طغیان ،ظلم اور فساد کیلئے نہیں نکلا میں اپنے نانا کی امت میں اصلاح کیلئے نکلا ہوں ،میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرنا چا ہتا ہوں میں اپنے نانا اور بابا کی روش پر چلنا چا ہتا ہوں ''۔

امام حسین نے اپنا انقلاب اس لئے جاری رکھا تاکہ آپ ملکوں میں اصلاحی اقدامات کی بنیاد رکھیں ،لوگوں کے مابین معاشرہ میں حق کا بول بالا ہو ،اور وہ خوفناک منفی پہلو ختم ہو جا ئیں جن کو اموی حکام نے اسلامی حیات میں نافذ کر رکھا تھا ۔

جب امام حسین نے حجاز کو چھوڑ کر عراق جانے کا قصد کیا تو لوگوں کو جمع کرنے کا حکم دیا، بیت اللہ الحرام میں خلق کثیر جمع ہو گئی ،آپ نے ان کے درمیان ایک جاودانہ تاریخی خطبہ ارشاد فرمایاجس کے چند جملے یہ ہیں :''الحمد للّٰہ،وماشَائَ اللّٰہ۔۔۔'' ''تمام تعریفیں خدا کے لئے ہیں ،ہر چیز مشیت الٰہی کے مطابق ہے خدا کی مرضی کے بغیر کو ئی قوت نہیں ،خدا کا درود و سلام اپنے نبی پر ، لوگوں کے لئے موت اسی طرح مقدر ہے جس طرح جوان عورت کے گلے میں ہار ہمیشہ رہتا ہے ،مجھے اپنے آباء واجداد سے ملنے کا اسی طرح شوق ہے جس طرح یعقوب ،یوسف سے ملنے کیلئے بے چین تھے ، مجھے راہِ خدا میں جان دینے کا اختیار دیدیا گیا ہے اور میں ایسا ہی کروںگا ،میں دیکھ رہاہوں کہ میدان کربلا میں میرا بدن پاش پاس کردیا جا ئے گا ،اور میری لاش کی بے حرمتی کی جا ئے گی ،میں اس فیصلہ پر راضی ہوں ،خدا کی خوشنودی ہم اہل بیت کی خو شنودی ہے، ہم خدا کے امتحان پر صبر کریں گے خدا ہم کو صابرین کا اجر عطا فرمائے گا ،رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے آپ کے بدن کا ٹکڑا جدا نہیں ہو سکتا ،بروز قیامت آپ کے بدن کے ٹکڑے اکٹھے کر دئے جا ئیں گے جن کی بنا پر آپ خوش ہوں گے اور اُ ن کے ذریعہ آپ کا وعدہ پورا ہوگا ،لہٰذا جو ہمارے ساتھ اپنی جان کی بازی لگانے کے لئے تیار ہو اور خدا سے ملاقات کیلئے آمادہ ہو وہ ہمارے ساتھ چلنے کے لئے تیار رہے کہ میں کل صبح روانہ ہوجائوں گا ''۔


ہم نے اس سے فصیح و بلیغ خطبہ نہیں دیکھا ،امام نے اپنے شہادت کے ارادہ کا اظہار فرمایا،اللہ کی راہ میںزند گی کو کوئی اہمیت نہیں دی،موت کا استقبال کیا ،مو ت کو انسان کی زینت کیلئے اس کے گلے کے ہار سے زینت کے مانند قراردیا جو ہار لڑکیوں کی گردن کی زینت ہوتا ہے ،زمین کے اس جگہ کا تعارف کرایا جہاں پرآپ کا پاک و پاکیزہ خون بہے گا ،یہ جگہ نواویس اور کربلا کے درمیان ہے اس مقا م پر تلواریں اور نیزے آپ کے جسم طاہر پر لگیں گے، ہم اس خطبہ کی تحلیل اور اس کے کچھ گوشوں کا تذکرہ کتاب '' حیاة الامام الحسین ''میں کرچکے ہیں۔

جب صبح نمودار ہو ئی تو امام حسین نے عراق کا رخ کیا ،آپ اپنی سواری کے ذریعہ کربلا پہنچے، آپ نے شہادت کے درجہ پر فائز ہونے کے لئے وہیں پر قیام کیا ،تاکہ آپ اپنے جد کے اس دین کو زندہ کرسکیں جس کو بنی امیہ کے سر پھرے بھیڑیوں نے مٹا نے کی ٹھان رکھی تھی۔

شہادت

فرزند رسول پر یکے بعد دیگرے مصیبتیں ٹوٹتی رہیں ،غم میں مبتلا کرنے والا ایک واقعہ تمام نہیں ہوتا تھا کہ اس سے سخت غم واندوہ میں مبتلا کرنے والے واقعات ٹوٹ پڑتے تھے ۔

امام حسین نے ان سخت لمحات میں بھی اس طرح مصائب کا سامنا کیا جیسا آپ سے پہلے کسی دینی رہنما نے نہیں کیا تھاچنانچہ اُن سخت لمحات میں سے کچھ سخت ترین لمحات یہ ہیں :

۱۔آپ مخدرات رسالت اور نبی کی ناموس کو اتنا خو فزدہ دیکھ رہے تھے جس کو اللہ کے علاوہ اور کو ئی نہیں جانتا ،ہر لمحہ ان کو یہ خیال تھا کہ ان کی عترت کاایک ایک ستارہ اپنے پاک خون میں ڈوب جائے گا،جیسے ہی وہ آخری رخصت کو آئیں گے ان کا خوف و دہشت اور بڑھ جا ئیگا چونکہ بے رحم دشمن ان کو چاروں طرف سے گھیر ے ہوئے تھے ،انھیںیہ نہیں معلوم تھا کہ والی و وارث کی شہادت کے بعد ان پر کیا گذرے گی، ا مام ان پر آنے والی تمام مصیبتوں سے آگاہ تھے ،لہٰذاآپ کا دل رنج و حسرت سے محزون ہورہا تھا، آپ ہمیشہ ان کو صبر و استقامت و پا ئیداری اورآہ و بکا کے ذریعہ اپنی عزت و آبرو میں کمی نہ آنے دینے کا حکم فر ما رہے تھے اور ان کو یہ تعلیم دے رہے تھے کہ خداوند عالم تم کو دشمنوں کے شرسے بچائے گا اور تمہاری حفاظت کرے گا ۔


۲۔بچے مار ڈالنے والی پیاس کی وجہ سے جاں بلب تھے ،جن کا کو ئی فریادرس نہیں تھا ،آپ کا عظیم قلب اپنے اطفال اوراہل و عیال پر رحم و عطوفت کی خاطر پگھل رہا تھااور بچے اپنی طاقت سے زیادہ مصیبت کا سامنا کر رہے تھے ۔

۳۔مجرمین اشقیاء کاآپ کے اصحاب اور اہل بیت کو قتل کرنے کے بعد آپ کے بھتیجوں اور بھانجوں کے قتل کرنے کیلئے آگے بڑھ رہے تھے۔

۴۔آپ نے شدت کی پیاس برداشت کی ،مروی ہے کہ آپ کو آسمان پر دھوئیں کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آرہا تھا ،شدت پیاس سے آپ کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا ۔

شیخ شوستری کا کہنا ہے :امام حسین کے چار اعضاء سے پیاس کا اظہار ہو رہا تھا: پیاس کی شدت کی وجہ سے آپ کے ہونٹ خشک ہو گئے تھے، آپ کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا جیسا کہ خود آپ کا فرمان ہے جب آپ کھڑے ہوئے موت کے منتظر تھے اور آپ جانتے تھے کہ اس کے بعد مجھے زندہ نہیں رہنا ہے تو آپ نے یوںپیاس کااظہار فرمایا :''مجھے پانی کا ایک قطرہ دیدو ،پیاس کی وجہ سے میرا جگر چھلنی ہو گیا ہے ''، آپ کی زبان میں کا نٹے پڑگئے تھے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے اور آپ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا ۔(۱)

۵۔جب آپ کے اہل بیت اور اصحاب شہید ہوگئے تو آپ نے اپنے خیموں کی طرف دیکھا تو ان کو خا لی پایااور زور زور سے رونے لگے ۔

فرزند رسول پر پڑنے والے ان تمام مصائب و آلام کو دیکھنے اور سننے کے بعدانسان کا نفس حسرت و یاس سے پگھل جاتا ہے ۔

صفی الدین کا کہنا ہے :امام حسین نے جو مصائب و آلام بر داشت کئے ان کوسننے کی دنیا کے کسی مسلمان میں طاقت نہیں ہے اور ایسا ممکن نہیں ہے کہ ان کو سن کراس کا دل پگھل نہ جائے ۔(۲)

____________________

۱۔الخصائص الحسینیہ، صفحہ ۶۰۔

۲۔حیاةالامام حسین ، جلد ۳، صفحہ ۳۷۴۔


امام کا استغاثہ

امتحان دینے والے امام حسین نے اپنے اہل بیت اور اصحاب پر رنج و غم اور حسرت بھری نگاہ ڈالی، تو آپ نے مشاہدہ کیا کہ جس طرح حلال گوشت جانور ذبح ہونے کے بعد اپنے ہاتھ پیر زمین مارتا ہے وہ سب آفتاب کی شدت تمازت سے کربلا کی گرم ریت پر بلک رہے ہیں،آپ نے اپنے اہل و عیال کو بلند آواز سے گریہ کرتے دیکھا تو آپ نے حرم رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا حامی و مدد گار مل جانے کے لئے یوں فریاد کرنا شروع کی :''ھل من ذاب یذب عن حرم رسولُ اللّٰہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ؟ھل من موحدٍ یخاف اللّٰہ فینا؟ھل من مغیثٍ یرجوااللّٰہ فی اغاثتنا؟''۔(۱)

اس استغاثہ و فریاد کا آپ پر ظلم و ستم کرنے اور گناہوں میں غرق ہونے والوں پر کو ئی اثر نہیں ہوا۔۔۔جب امام زین العابدین نے اپنے والد بزرگوار کی آواز استغاثہ سنی تو آپ اپنے بستر سے اٹھ کرشدت مرض کی وجہ سے عصا پر ٹیک لگاکر کھڑے ہوگئے ،امام حسین نے ان کو دیکھا اور اپنی بہن سیدہ ام کلثوم سے بلند آواز میں کہا :''ان کو روکو، کہیں زمین نسل آل محمد سے خالی نہ ہو جائے ''،اور جلدی سے آگے بڑھ کر امام کو ان کے بستر پر لٹادیا ۔(۲)

شیر خوار کی شہادت

ابو عبد اللہ کے صبر جیسا کو ن سا صبر ہو سکتا ہے ؟آپ نے یہ تمام مصائب کیسے برداشت کئے؟ آپ کے صبرسے کا ئنات عاجز ہے ،آپ کے صبر سے پہاڑکانپ گئے، آپ کے نزدیک سب سے زیادہ دردناک مصیبت آپ کے فرزند عبد اللہ شیر خوار کی مصیبت تھی جو بدر منیر کے مانند تھا،آپ نے اس کو آغوش میں لیا بہت زیادہ پیار کیا آخری مرتبہ الوداع کیا ،اس پر بیہوشی طاری تھی ،آنکھیں نیچے دھنس گئی تھیں، ہونٹ پیاس کی وجہ سے خشک ہو گئے تھے ،آپ نے اس کوہاتھوںپرلیا اور آفتاب کی تمازت سے بچانے کیلئے اس پرعبا کا دامن اڑھاکر قوم کے سامنے لے گئے، شاید وہ رحم کھا کر اس کوایک گھونٹ پانی پلا دیں،آپ نے

____________________

۱۔دررالافکار فی وصف الصفوة الاخیار، ابوالفتح ابن صدقہ، صفحہ ۳۸۔

۲۔مناقب ابن شہر آشوب ،جلد ۴، صفحہ ۲۲۲۔


ان سے بچہ کے لئے پا نی طلب کیا،ان مسخ شدہ لوگوں کے دل پر کو ئی اثر نہیں ہوا،باغی لعین حرملہ بن کاہل نے چلہ کمان میں تیر جوڑا،اس نے ہنستے ہوئے اپنے لعین دوستوں کے سامنے فخر کرتے ہوئے کہا :اس کو پکڑو ابھی پانی پلاتا ہوں ۔

(اے خدا !)اس نے بچہ کی گردن پر تیر مارا جیسے ہی بچہ کی گردن پر تیر لگا تو اس کے دونوں ہاتھ قماط (نو زائیدہ بچہ کے لپیٹنے کا کپڑا)سے باہر نکل گئے ، بچہ اپنے باپ کے سینہ پر ذبح کئے ہوئے پرندے کی طرح تڑپنے لگا ،اس نے آسمان کی طرف سر اٹھایااور باپ کے ہاتھوں پر دم توڑدیا۔۔۔یہ وہ منظر تھا جسے دیکھ کر دل پھٹ جاتے ہیں اور زبانوں پر تالے لگ جاتے ہیں،امام نے پاک خون سے بھرے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھاکر وہ خون آسمان کی جانب پھینک دیااور ایک قطرہ بھی واپس زمین پر نہ آیا، جیسا کہ امام محمد باقر کا فرمان ہے کہ امام نے اپنے پرور دگار سے یوں مناجات فرما ئی :

''ھوّن۔۔۔''''میری مصیبتیں اس بنا پر آسان ہیں کہ اُن کو خدا دیکھ رہا ہے ،خدایا تیرے نزدیک یہ مصیبتیں ناقۂ صالح کی قربانی سے کم نہیں ہونا چا ہئیں خدایا اگر تونے ہم سے کا میابی کو روک رکھا ہے تو اس مصیبت کو بہترین اجر کا سبب قرار دے ، ظالمین سے ہمارا انتقام لے ،دنیا میں نازل ہونے والی مصیبتوں کو آخرت کیلئے ذخیرہ قرار دے ،خدایا تو دیکھ رہا ہے کہ اِن لوگوں نے تیرے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی شبیہ کو قتل کر ڈالا ہے ''۔

امام حسین اپنے مر کب سے نیچے تشریف لائے اور اپنے پاک خون میں لت پت شیرخوار بچہ کے لئے تلوار کی نیام سے قبر کھودکر اس میں دفن کردیا ایک قول یہ ہے کہ آ پ نے شیر خوار کو شہداء کے برابر میں لٹادیا(۱) اے حسین !خدا نے آپ کو اِن مصیبتوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ دیا ،ایسی مصیبت کے ذریعہ کسی نبی کا امتحان نہیں لیا گیا اور ایسی مصیبتیں روئے زمین پر کسی مصلح پرنہیں پڑیں ۔

امام کی ثابت قدمی

امام تن تنہا میدان میں دشمنوں کے سامنے کھڑے رہے اور بڑے بڑے مصائب کی وجہ سے

____________________

۱۔مقتل الحسینِ مقرم، صفحہ ۳۳۳۔


آپ کے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتارہا آپ مسکر ارہے تھے اور آپ کو فردوس اعلیٰ کی منزلوں پر اعتماد تھا۔ نہ آ پ کی اولاد ،اہل بیت اور اصحاب کے شہید ہو جانے سے آپ کی استقامت و پائیداری میں کو ئی کمی آئی اور نہ ہی پیاس کی شدت اور خون بہہ جانے کا آپ پر کو ئی اثر ہوا آپ ان انبیاء اوراولی العزم رسولوں کی طرح ثابت قدم رہے جن کو اللہ نے اپنے بقیہ بندوں پر برتری دی ہے ، آپ کے فرزند ارجمند امام زین العابدین اپنے پدر بزرگوار کے صبر اوراستقامت کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:'' جیسے جیسے مصائب میں شدت ہو تی جا رہی تھی آپ کے چہرے کا رنگ چمکتا جا رہا تھا ، آپ کے اعضاو جوارح مطمئن ہو تے جا رہے تھے ،بعض لوگ کہہ رہے تھے : دیکھو انھیں مو ت کی بالکل پروا نہیں ہے ''۔(۱)

عبد اللہ بن عمار سے روایت ہے :جب دشمنوں نے جمع ہو کر آپ پر حملہ کیا تو آپ نے میمنہ پر حملہ کیایہاں تک کہ وہ آپ سے شکست کھا گئے خدا کی قسم میںنے کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس کی اولاد اور اصحاب قتل کر دئے گئے ہوں اور امام جیسی بلند ہمتی کامظاہرہ کرسکے، خدا کی قسم میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ کے جیسا کو ئی شخص نہیں دیکھا۔(۲)

ابن خطاب فہری نے آپ کی جنگ کی یوں تصویر کشی کی ہے :

''مهلا بن عمِّنا ظُلمَاتنا -----------اِنَّ بِنَا سُوْرَةً مِنَ القَلَق

لِمثلکم تُحملُ السیوفُ وَلا-------تُغمزُأَحْسَابُنَامِنَ الرَّفَقِ

اِنِّْ لَاَنْسیٰ اِذَاانْتَمَیْتُ اِلیٰ ---------عِزٍّ عَزِیْزٍ وَمَعْشَرٍصَدِق

بَیْضٍ سِبَاطٍ کَاَنَّ اَعْیُنَهُمْ ----------تَکَحَّلُ یَوْ مَ الهِیَاجِ بِالْعَلَقِ''(۳)

''اے ہمارے چچا کی اولاد ،ہم پر ظلم کرنے سے باز آجائو کیونکہ ہم اضطراب میں مبتلا ہیں ۔تمہارے جیسے افراد کی وجہ سے تلواریں ساتھ رکھی جا تی ہیںورنہ عطوفت و مہربانی اوررحم وکرم ہمارے ضمیر میں بساہے ۔جب مجھے کسی صاحب عزت اور سچی جماعت کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے تو میں فراموش کر دیتا ہوں ۔اس جماعت کی آنکھوں میں اس دن جمے ہوئے خون کا سرمہ نظر آتا ہے ''۔

____________________

۱۔الخصائص الحسینیہ مؤلف تستری ،صفحہ ۳۹۔۲۔تاریخ ابن کثیر،جلد ۸،صفحہ ۱۸۸۔

۳۔ریحانة الرسول، صفحہ ۶۴میں آیا ہے کہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ جس نے بھی ان اشعار کو مثال کے طور پر پیش کیا وہ قتل کردیا گیاحضرت امام حسین علیہ السلام نے ان اشعار کو یو م الطف ،زید بن علی نے یوم السبخہ اور یحییٰ بن زید نے یوم جوزجان میں ،اور جب ابراہیم بن عبد اللہ بن الحسن نے منصور کے خلاف خروج کرتے وقت ان اشعار کو مثال کے طور پر پیش کیا تو ان کے ساتھیوں نے ان سے بغاوت کی اور کچھ مدت نہیں گذری تھی کہ ان کو تیر مارکر موت کے گھاٹ اتاردیا۔


آپ نے اللہ کے دشمنوں پر حملہ کیا، ان کے ساتھ شدید جنگ کی اور بہت زیادہ لوگوں کو فی النار کیااور جب آپ نے میسرہ پر حملہ کیا تو یوں رجز پڑھا:

''اَنا الحسین ُ ابن ُ عل

آلیتُ اَنْ لَا اَنْثَنِ

اَحْمِیْ عِیَالَاتِ اَبِْ

اَمْضِْ عَلیٰ دِیْنِ النَّبِ''(۱)

''میں حسین بن علی ہوںمیں نے ذلت کے سامنے نہ جھکنے کی قسم کھا ئی ہے ۔

میں اپنے پدر بزرگوار کی ناموس کی حفاظت کروں گامیں نبی کے دین پر قائم رہوں گا '' ۔

آپ (حسین) نے دنیا کے منھ کو شرافت و بزرگی سے پُر کردیا ،آپ دنیا میں یکتا ہیں جن کے عزم و حو صلہ کی تعریف نہیں کی جا سکتی ،آپ نے گریہ وزاری نہیں کی اور نہ ہی کسی کام میں سستی کی ،آپ نے دشمنوں کا مقابلہ کرکے ظالموں اور منافقوں کے قلعوں کو ہلاکر رکھ دیا ۔

آپ اپنے جد رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے راستہ پر گامزن رہے ، اس دین کے تجدّد کا باعث ہوئے ، اگر آپ نہ ہوتے تو وہ مبہم رہ جاتا اور اس کو حقیقی زندگی نہ ملتی۔۔۔

ابن حجر سے مروی ہے کہ امام حسین جنگ کرتے جا رہے تھے اور آپ کی زبان مبارک پر یہ اشعار جاری تھے :

''أنابن علِّ الحُرِّمِنْ آلِ

کَفَانِْ هٰذَا مَفْخَراً حِیْنَ أَفْخَرُ

____________________

۱۔مناقب ابن شہر آشوب، جلد ۴،صفحہ ۲۲۳۔


وَجَدِّْ رَسُولُ اللّٰهِ أَکْرَمُ مِنْ

وَنَحْنُ سِرَاجُ اللّٰهِ فِ النَّاسِ

وَفَاطِمَةُ أُمِّْ سُلَالَةُ

وَعَم یُدْعیٰ ذُوْ الجَنَاحَیْنِ

وَفِیْنَا کِتَابُ اللّٰهِ اُنْزِلَ

وَفِیْنَا الهُدیٰ وَالْوَحُْ وَالْخَیْرُ یُذْکَرُ' '(۱)

''میں فرزند علی ہوں ،آزاد ہوں ،بنی ہاشم میں سے ہوں ،میرے لئے فخر کرنے کے لئے یہی کافی ہے ۔

میرے نانا رسول خدا ،افضل مخلوقات ہیں ہم لوگوں میں نورا نی رہنے والے خدا کے چراغ ہیں ۔

میری ماں فاطمہ بنت رسول ہیں اورمیرے چچا جعفر طیارہیں جن کو ذو الجناحین کہاجاتاہے۔

ہماری ہی شان میں قرآن نازل ہوا،ہم ہی ہدایت کا ذریعہ ہیں وحی اور خیر(بھلا ئی) ہمارے ہی پاس ہے '' ۔

آپ کی اہل بیت سے آخری رخصت

امام حسین اپنے اہل بیت سے آخری رخصت کے لئے آئے حالانکہ آپ کے زخموں سے خون جاری تھا ،آپ نے حرم رسالت اور عقائل الوحی کو مصیبتوں کی چادر زیب تن کرنے اور ان کو تیاررہنے کی وصیت فرما ئی ،اور ان کو ہمیشہ اللہ کے فیصلہ پر صبر و تسلیم کا یوںحکم دیا:''مصیبتوں کے لئے تیار ہوجائو ،اور جان لو کہ اللہ تمہارا حامی،و مددگاراورمحافظ ہے اور وہ عنقریب تمہیں دشمنوں کے شر سے نجات دے گا ،تمہارے امر کا نتیجہ خیر قراردے گا ،تمہارے دشمنوں کو طرح طرح کے عذاب دے گا ، ان مصیبتوں کے بدلے تمہیں مختلف نعمتیں اور کرامتیں عطا کرے گا ،تم شکایت نہ کرنا اور اپنی زبان سے ایسی بات نہ کہنا جس سے تمہاری قدر و عزت میں کمی آئے ''۔(۲)

حکومتیں ختم ہو گئیں ،بادشاہ چلے گئے ،موجودہ چیزیں فنا ہو گئیں لیکن اس کا ئنات میں یہ لامحدود ایمان ہمیشہ باقی رہنے کے لائق و سزاوار ہے، کون انسان اس طرح کی مصیبتوں کو برداشت کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور اللہ کی رضا اور تسلیم امر کیلئے بڑی گرمجوشی کے ساتھ ان کا استقبال کرتا ہے ؟ بیشک رسول اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم

____________________

۱۔صواعق محرقہ، صفحہ ۱۱۷۔۱۱۸۔جوہرة الکلام فی مدح السادة الاعلام، صفحہ ۱۱۹۔

۲۔مقتل الحسین المقرم ،صفحہ ۳۳۷۔


کی نظرمیں حسین کے علاوہ ایسا کارنامہ انجام دینے والی کو ئی ذات و شخصیت نہیں ہے ۔

جب آپ کی بیٹیوں نے آپ کی یہ حالت دیکھی تو ان پر حزن و غم طاری ہو گیا، انھوں نے اسی حالت میں امام کو رخصت کیا ،ان کے دلوں پر خوف طاری ہو گیا ،رعب کی وجہ سے ان کا رنگ متغیر ہوگیا،جب آپ نے ان پر نظر ڈالی تو آپ کا دل غم میں ڈوب گیاان کے بند بند کا نپ گئے ۔

علامہ کاشف الغطا کہتے ہیں : وہ کون شخص ہے جوامام حسین کے مصائب کی تصویر کشی کرے جو مصیبتوں کی امواج تلاطم میں گھرا ہو ،ہر طرف سے اس پر مصیبتوں کی یلغار ہو رہی ہو ،اسی صورت میں آپ اہل و عیال اور باقی بچوں کو رخصت فر مارہے تھے ،آپ ان خیموں کے نزدیک ہوئے جن میں ناموس نبوت اور علی و زہرا کی بیٹیاں تھیں تو خوفزدہ مخدرات عصمت و طہارت نے قطا نامی پرندہ کی طرح اپنے حلقے میں لے لیا حالانکہ آپ کے جسم سے خون بہہ رہا تھا تو کیا کو ئی انسان اس خوفناک مو قع میں امام حسین اور ان کی مخدرات عصمت و طہارت کے حال کو بیان کرنے کی تاب لا سکتا ہے اورکیا اس کا دل پھٹ نہیں جائے گا،اس کے ہوش نہیں اڑجا ئیں گے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جا ری نہ ہوجا ئیں گے''۔(۱)

امام حسین پر اپنے اہل و عیال کوان مصائب میں رخصت کر نا بہت مشکل تھا حالانکہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹیاں اپنے منھ پیٹ رہی تھیں ،بلند آواز سے گریہ و زاری کر رہی تھیں،گویا وہ اپنے جد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر گریہ کر رہی تھیں ،انھوں نے بڑی مشکلوں کے ساتھ آپ کو رخصت کیا ،اس عجیب منظر کا امام حسین پرکیا اثر ہوا اس کو اللہ کے علاوہ اور کو ئی نہیں جانتا ہے ۔

عمر بن سعد خبیث النفس نے ہتھیاروں سے لیس اپنی فوج کو یہ کہتے ہوئے امام پر حملہ کرنے کے لئے بلایا:ان پر اپنے حرم سے رخصت ہونے کے عالم میں ہی حملہ کردو ،خدا کی قسم اگر یہ اپنے اہل حرم کو رخصت کر کے آگئے تو تمہارے میمنہ کومیسرے پر پلٹ دیں گے ۔

ان خبیثوں نے آپ پر اسی وقت تیروں کی بارش کر نا شروع کردی تیر وںسے خیموں کی رسیاںکٹ گئیں ،بعض تیر بعض عورتوں کے جسم میں پیوست ہو گئے وہ خوف کی حالت میں خیمہ میں چلی

____________________

۱۔ جنة الماویٰ، صفحہ ۱۱۵۔


گئیں،امام حسین نے خیمہ سے غضبناک شیر کے مانند نکل کر ان مسخ شدہ لوگوں پرحملہ کیا،آپ کی تلوار ان خبیثوں کے سرکاٹنے لگی آپ کے جسم اطہر پر دا ئیں اور بائیں جانب سے تیر چلے جو آپ کے سینہ پر لگے اور ان تیروں میں سے کچھ تیر وںکی داستان یوں ہے :

۱۔ایک تیر آپ کے دہن مبارک پر لگا تواس سے خون بہنے لگا آپ نے زخم کے نیچے اپنا دست مبارک کیا جب وہ خون سے بھر گیا تو آپ نے آسمان کی طرف بلند کیا اور پروردگار عالم سے یوں گویا ہوئے :''اللّهم اِنّ هذا فیک قلیل '' ۔(۱)

''خدایا یہ تیری بارگاہ کے مقابلہ میں نا چیز ہے ''۔

۲۔ابو الحتوف جعفی کاایک تیر، نور نبوت اور امامت سے تابناک پیشا نی پر لگا آپ نے اس کو نکال کر پھینکاتو خون ابلنے لگا تو آپ نے خون بہانے والے مجرمین کے لئے اپنی زبان مبارک سے یہ کلمات ادا کئے :''پروردگارا ! تو دیکھ رہاہے کہ میں تیرے نا فرمان بندوں سے کیا کیا تکلیفیں سہ رہاہوں ،پروردگارا تو ان کو یکجا کرکے ان کوبے دردی کے ساتھ قتل کر دے، روئے زمین پر ان میں سے کسی کو نہ چھوڑاور ان کی مغفرت نہ کر ''۔

لشکر سے چلا کر کہا :''اے بری امت والو!تم نے رسول کے بعد ان کی عترت کے ساتھ بہت برا سلوک کیا،یاد رکھوتم میرے بعدکسی کو قتل نہ کر سکو گے جس کی بنا پر اس کو قتل کرنے سے ڈروبلکہ میرے قتل کے بعددوسروں کو قتل کرنا آسان ہو جا ئے گا خدا کی قسم میں امید رکھتا ہوں کہ خدا شہادت کے ذریعہ مجھے عزت دے اور تم سے میرا اس طرح بدلہ لے کہ تمھیںاحساس تک نہ ہو ۔۔۔''(۲) ۔

کیا رسول اللہ جنھوں نے ان کو مایوس زندگی اور شقاوت سے نجات دلا ئی ان کا بدلہ یہ تھا کہ حملہ کرکے ان کا خون بہا دیاجائے اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیاجس سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیںخدا نے امام کی دعا قبول کی اوراس نے امام حسین کے مجرم دشمنوں سے انتقام کے سلسلہ میں دعا قبول فرمائی اور کچھ مدت نہیں گذری تھی کہ دشمنوں میں پھوٹ پڑگئی اور جناب مختار نے امام کے خون کا بدلہ لیا،ان پر حملہ کرنااور ان

____________________

۱۔الدر التنظیم، صفحہ ۱۶۸۔

۲۔مقتل حسین ''مقرم ،صفحہ ۳۳۹۔


کو پکڑنا شروع کیاوہ مقام بیدا پر چلے گئے تو جناب مختار نے ان پر حملہ کیا یہاں تک کہ ان میں سے اکثر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

زہری کا کہنا ہے: امام حسین کے ہر قاتل کو اس کے کئے کی سزا دی گئی ،یا تو وہ قتل کردیا گیا ، یا وہ اندھا ہوگیا،یا اس کا چہرہ سیاہ ہوگیا ،یا کچھ مدت کے بعد وہ دنیا سے چل بسا ۔(۱)

۳۔امام کے لئے اس تیرکو بہت ہی بڑا تیر شمار کیا جاتا ہے ۔مو رخین کا بیان ہے :امام خون بہنے کی وجہ سے کچھ دیر سے آرام کی خاطر کھڑے ہوئے تو ایک بڑا پتھر آپ کی پیشا نی پر آکر لگا آپ کے چہرے سے خون بہنے لگا ،آپ کپڑے سے اپنی آنکھو ں سے خون صاف کرنے لگے تو ایک تین بھال کا تیر آپ کے اس دل پر آکر لگاجو پوری دنیائے انسانیت کے لئے مہر و عطوفت سے لبریز تھا آپ کواسی وقت اپنی موت کے قریب ہونے کا یقین ہو گیا آپ نے اپنی آنکھوں کو آسمان کی طرف اٹھا کر یوں فرمایا:''بسم اللّٰه وباللّٰه، وعلیٰ ملّة رسول اللّٰهِ صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،الٰه اِنّکَ تعلمُ أَنّهُم یقتلُوْنَ رجُلاً لیسَ علیٰ وجه الارض ابنُ بِنتِ نبیٍ غَیْرِهِ '' ۔

تیر آپ کی پشت سے نکل گیا ،تو پرنالے کی طرح خون بہنے لگا آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں خون لینا شروع کیا جب دونوں ہاتھ خون میں بھر گئے تو آپ نے وہ خون آسمان کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا: ''ھوَّنَ مَانَزَلَ بِیْ اَنَّہُ بِعَیْنِ اللّٰہِ ''۔''معبود میرے اوپر پڑنے والی مصیبتوں کو آسان کردے بیشک یہ خدا کی مدد سے ہی آسان ہو سکتی ہیں''۔

امام نے اپنا خون اپنی ریش مبارک اور چہرے پر ملا حالانکہ آپ کی ہیبت انبیاء کی ہیبت کی حکایت کر رہی تھی اور آپ فر مارہے تھے :هکذاأکون حتی القی اللّٰه وجد رسول اللّٰه وأَنا مخضبُ بدم '' ۔(۲) ''میں اسی طرح اپنے خون سے رنگی ہوئی ریش مبارک کے ساتھ اللہ اور اپنے جد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ملاقات کروں گا''

۴۔حصین بن نمیر نے ایک تیر مارا جو آپ کے منھ پر لگا،آپ نے زخم کے نیچے اپنا دست مبارک کیا جب وہ خون سے بھر گیا تو آپ نے آسمان کی طرف بلند کیا اور مجرموں کے متعلق پروردگار عالم سے یوں

____________________

۱۔عیون الاخبار، مؤ لف ابن قتیبہ ،جلد ۱،صفحہ ۱۰۳۔۱۰۴۔۲۔ مقتل خوارزمی، جلد ۲ ،صفحہ ۳۴۔


عرض کیا:''اللّهم احصهم عدداًواقتُلهم بدداً،ولا تذرعلی الارض منهم احداً'' ۔(۱) ۔

آپ پرتیروں کی اتنی بارش ہوئی کہ آپ کا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ،جسم سے خون بہا اورآپ پر پیاس کا غلبہ ہوا تو آپ زمین پر بیٹھ گئے حالانکہ آپ کی گردن میں سخت درد ہورہاتھا ، (آپ اسی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ)خبیث مالک بن نسیر نے آپ پر حملہ کر دیا اس نے آپ پر سب و شتم کیا، تلوار بلند کی آپ کے سر پر خون سے بھری ایک بلند ٹوپی تھی امام نے اس کو ظالم کی طرف پھینکتے ہوئے اس کے لئے یہ کلمات ادا کئے :''لااَکلتَ بیمینک ولاشربتَ،وحشرک اللّٰه مع الظالمین '' ۔

آپ نے لمبی ٹوپی پھینک کر ٹوپی پر عمامہ باندھاتو ظالم نے دوڑ کر لمبی ٹوپی اٹھائی تو اس کے ہاتھ شل ہو گئے ۔(۲)

امام کی اللہ سے مناجات

ان آخری لمحوں میں امام نے خدا وند عالم سے لو لگا ئی ،اس سے مناجات کی ، خدا کی طرف متوجہ قلب سے تضرع کیا اور تمام مصائب و آلام کی پروردگار عالم سے یوں شکایت فر ما ئی :

''صبراًعلیٰ قضائکَ لاالٰه سواکَ،یاغیاث المستغیثین،مال ربُّ سواکَ ولامعبودُغیرُکَ ،صبراًعلیٰ حُکمِکَ،یاغیاثَ مَنْ لاغیاثَ لَهُ، یادائما لانفادله، یامحیَ الموتیٰ،یاقائماعلیٰ کلِّ نفسٍ،احکُم بین وبینهم ْ وانتَ خیر ُالحاکمِیْنَ '' ۔(۳)

''پروردگارا !میںتیرے فیصلہ پر صبر کرتا ہوں تیرے سوا کو ئی خدا نہیں ہے ،اے فریادیوں کے فریاد رس،تیرے علاوہ میرا کو ئی پر وردگار نہیں اور تیرے سوا میرا کو ئی معبود نہیں ،میں تیرے حکم پر صبر کرتا ہوں، اے فریادرس! تیرے علاوہ کو ئی فریاد رس نہیں ہے ،اے ہمیشہ رہنے والے تجھے فنا نہیں ہے، اے مردوں کو زندہ کرنے والے ،اے ہر نفس کو باقی رکھنے والے ،میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کراور تو سب سے اچھا فیصلہ کر نے والا ہے ''۔

____________________

۱۔ انساب الاشراف، جلد ۱، صفحہ ۲۴۰۔

۲۔انساب الاشراف ،جلد ۳،صفحہ ۲۰۳۔

۳۔ مقتل الحسین المقرم ،صفحہ ۳۴۵۔


یہ دعا اس ایمان کا نتیجہ ہے جو امام کے تمام ذاتیات کے ساتھ گھل مل گا تھا یہ ایمان آپ کی ذات کا اہم عنصرتھا ۔۔۔آپ اللہ سے لو لگائے ر ہے ،اس کی قضا و قدر (فیصلے)پر راضی رہے ،تمام مشکلات کو خدا کی خاطر برداشت کیا،اس گہرے ایمان کی بناپرآپ تمام مشکلات کو بھول گئے ۔

ڈاکٹر شیخ احمد وا ئلی اس سلسلہ میں یوں کہتے ہیں :

یا ابا الطف وازدهیٰ بالضحایا--------مِن ادیم الطفوف روض

نُخبَة مِن صحابةٍ ----------ورضیعُ مُطوَّ قُ وَ شَبُوْلُ

وَالشَّبَابُ الفَیْنَانُ جَفَّ فَغَاضَتْ-----------نَبْعَةُ حُلْوَةُ وَوَجْهُ جَمِیْلُ

وتَاَمَّلْتُ فِْ وُجُوْ هِ ------------وَزَوَاکِْ الدِّمَائِ مِنْهَا تَسِیْلُ

وَمَشَتْ فِْ شِفَاهِکَ الْغُرِّنَجْویٰ -------نَمَّ عَنْهَاالتَّسْبِیْحُ والتَّهْلِیْلُ

لَکَ عُتْبِیْ یَا رَبِّ اِنْ کَانَ َ ---------فَهٰذَا اِلیٰ رِضَاکَ قَلِیْلُ(۱)

''اے کربلا کے سورما اے وہ ذات جس کی قربانیوں کی بنا پر سر زمین کربلا سر سبز و شاداب ہو گئی ۔

آپ کے ساتھی برگزیدہ تھے ،ان میں شیر خوار تک تھا آپ کے ساتھی قابل رشک جوان تھے۔

میں نے آپ کی قربانی پر غور کیاحالانکہ اس سے خون بہہ رہا تھا۔

آپ زیر لب بھی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہے۔

اے پروردگاریہ میری ناچیز کو شش ہے گر قبول افتد زہے عزّ و شرف'' ۔

امام پر حملہ

مجرموں کے اس پلید و نجس وخبیث گروہ نے فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پرحملہ شروع کردیاانھوں نے امام پر ہر طرف سے تیروں اور تلواروں سے حملہ کیازرعہ بن شریک تمیمی نے پہلے آپ کے با ئیں ہاتھ پر تلوار لگا ئی اس کے بعد آپ کے کاندھے پر ضرب لگا ئی ،اور سب سے کینہ رکھنے والا دشمن سنان بن انس خبیث تھا، اس

____________________

۱۔دیوانِ وائلی ،صفحہ ۴۲۔


نے ایک مرتبہ امام پر تلوار چلا ئی اور اس کے بعد اس نے نیزہ سے وار کیا اور اس بات پر بڑا فخر کر رہاتھا، اس نے حجّاج کے سامنے اس بات کو بڑے فخر سے یوںبیان کیا :میں نے ان کو ایک تیر مارا اور دو سری مرتبہ تلوار سے وار کیا ،حجّاج نے اس کی قساوت قلبی دیکھ کر چیخ کر کہا :أَما انکما لن تجتمعاف دار ۔(۱)

اللہ کے دشمنوں نے ہر طرف سے آپ کو گھیر لیا اور ان کی تلواروں نے آپ کاپا ک خون بہادیا،بعض مو رخین کا کہنا ہے :اسلام میں امام حسین جیسی مثال کو ئی نہیں ہے ،امام حسین کے جسم پر تلواروں اور نیزوں کے ایک سو بیس زخم تھے ۔(۲)

امام حسین کچھ دیر زمین پر ٹھہرے رہے آپ کے دشمن بکواس کرتے رہے اور آپ کے پاس آنے کے متعلق تیاری کرتے رہے ۔اس سلسلہ میں سید حیدر کہتے ہیں:

فمااجلتِ الحربُ عنْ مِثْلِهِ

صریعایُجَبِّنُ شُجْعانُهَا

''حالانکہ آپ زمین پر بے ہوش پڑے تھے پھر بھی کو ئی آپ کے نزدیک آنے کی ہمت نہیں کررہا تھا ''۔

سب کے دلوں آپ کی ہیبت طاری تھی یہاں تک کہ بعض دشمن آپ کے سلسلہ میں یوں کہنے لگے : ہم ان کے نورا نی چہرے اور نورا نی پیشانی کی وجہ سے ان کے قتل کی فکر سے غافل ہوگئے ۔

جو شخص بھی امام کے پاس ان کو قتل کرنے کے لئے جاتا وہ منصرف ہو جاتا ۔(۳)

چادر میں لپٹی ہوئی رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی نواسی زینب خیمہ سے باہر آئیں وہ اپنے حقیقی بھائی اور بقیہ اہل بیت کو پکار رہی تھیںاور کہہ رہی تھیں :کاش آسمان زمین پر گر پڑتا ۔

ابن سعد سے مخاطب ہو کر کہا :(اے عمر !کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ ابو عبد اللہ قتل کردئے جائیں اور تو کھڑا ہوا دیکھتا رہے ؟)اس خبیث نے اپنا چہرہ جھکا لیا ،حالانکہ اس کی خبیث ڈاڑھی پر آنسو بہہ رہے تھے،(۴) عقیلہ بنی ہاشم جناب زینب سلام اللہ علیہا اس انداز میں واپس آرہی تھیں کہ آپ کی نظریں

____________________

۱۔مجمع الزوائد،جلد ۹،صفحہ ۱۹۴۔

۲۔الحدائق الوردیہ ،جلد ۱،صفحہ ۱۲۶۔

۳۔انساب الاشراف ،جلد ۳،صفحہ ۲۰۳۔

۴۔جواہر المطالب فی مناقب امام علی بن ابی طالب، صفحہ ۱۳۹۔


بھا ئی پر تھیں لیکن اس عالم میں بھی صبر و رضا کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا،آپ واپس خیمہ میں عورتوں اور بچوںکی نگہبانی کے لئے اُن کے پاس پلٹ آئیں ۔

امام بہت دیر تک اسی عالم میں رہے حالانکہ آپ کے زخموں سے خون جا ری تھا ، آپ قتل کر نے والے مجرموں سے یوں مخاطب ہوئے :''کیا تم میرے قتل پر جمع ہو گئے ہو ؟،آگاہ ہوجائو خدا کی قسم! تم میرے قتل کے بعد اللہ کے کسی بندے کو قتل نہ کرپائوگے ،خدا کی قسم !مجھے امید ہے کہ خدا تمہاری رسوا ئی کے عوض مجھے عزت دے گا اور پھر تم سے اس طرح میرا انتقام لے گاکہ تم سوچ بھی نہیں سکتے ۔۔۔''۔

شقی اظلم سنان بن انس تلوار چلانے میں مشہور تھا اس نے کسی کو امام کے قریب نہیں ہو نے دیا چونکہ اس کو یہ خوف تھا کہ کہیں کو ئی اور امام کاسر قلم نہ کر دے اور وہ ابن مرجانہ کے انعام و اکرام سے محروم رہ جائے ۔

اس نے امام کا سر تن سے جدا کیا حالانکہ امام کے لب ہائے مبارک پر سکون و اطمینان ،فتح و نصرت اور رضائے الٰہی کی مسکراہٹ تھی جو ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے گی ۔

امام نے قرآن کریم کو بیش قیمت روح عطا کی ،اور ہر وہ شرف و عزت عطا کی جس سے انسانیت کا سر بلند ہوتا ہے ۔۔اور سب سے عظیم اور بیش قیمت جو امام خرچ کی وہ اپنی اولاد ،اہل بیت اور اصحاب مصیبتیں دیکھنے کے بعد مظلوم ،مغموم اور غریب کی حالت میں قتل ہو جانا ہے اور اپنے اہل و عیال کے سامنے پیاسا ذبح ہو جانا ہے ،اس سے بیش قیمت اور کیا چیز ہو سکتی ہے جس کو امام نے مخلصانہ طور پر خدا کی راہ میں پیش کر دی ؟


امام نے خدا کی راہ میں قربانی دے کر تجارت کی ،یہ تجارت بہت ہی نفع آور ہے جیساکہ خداوند عالم فرماتا ہے: ( إنَّ اﷲَ اشْتَرَی مِنْ الْمُؤْمِنِینَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمْ الْجَنَّةَ یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اﷲِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ َوْفَی بِعَهْدِهِ مِنْ اﷲِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَیْعِکُمْ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِهِ وَذَلِکَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ(۱)

''بیشک اللہ نے صاحب ایمان سے اُن کی جان و مال کو جنت کے عوض خرید لیا ہے کہ یہ لوگ راہ خدا میں جہاد کرتے ہیں اور دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور پھر خود بھی قتل ہو جاتے ہیں یہ وعدئہ برحق توریت ، انجیل اور قرآن ہر جگہ ذکر ہوا ہے اور خدا سے زیادہ اپنے عہد کا کون پورا کرنے والا ہوگا، تو اب تم لوگ اپنی اس تجارت پر خو شیاں منائو جو تم نے خدا سے کی ہے کہ یہی سب سے بڑی کا میابی ہے ''۔

بیشک امام حسین نے اپنی تجارت سے بہت فائدہ اٹھایا اور فخر کے ساتھ آپ کے ساتھ کامیاب ہوئے جس میں آپ کے علاوہ اور کو ئی کامیاب نہیں ہوا ،شہداء ِ حق کے خاندان میں کسی کو بھی کو ئی شرف و عزت و بزرگی اور دوام نہیں ملا جو آپ کو ملا ہے ،اس دنیا میں بلندی کے ساتھ آپ کا تذکرہ (آج بھی) ہورہا ہے اور آپ کا حرم مطہرزمین پر بہت ہی با عزت اورشان و شوکت کے ساتھ موجود ہے ۔

اس امام عظیم کے ذریعہ اسلام کا وہ پرچم بلندی کے ساتھ لہر ارہا ہے جو آپ کے اہل بیت اور اصحاب میں سے شہید ہونے والوں کے خون سے رنگین ہے، یہی پرچم کا ئنات میں،دنیا کے گوشہ گوشہ میں آپ کے انقلاب اور کرامت و بزرگی کو روشن و منور کر رہا ہے ۔

____________________

۱۔سورئہ توبہ ،آیت ۱۱۱۔


حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

آپ امام ملہم (یعنی صاحب الہام)اپنے جد کے دین کے مجدد اور ان کی سنت کو زندہ کرنے والے ،ورع اور تقویٰ میں حضرت عیسیٰ بن مریم کے مشابہ اور مصیبتوں پر صبرکرنے میںحضرت ایوب کے مانند تھے ،آپ کی ہیبت آپ کے چہرے اور پیشا نی سے ظاہر تھی ، انوار انبیاء کے اسرار اور اوصیاء کی ہیبت آپ کے چہرئہ مبارک سے عیاں تھی اور عرب کے عظیم الشان شاعر فرزدق نے امام کے اوصاف کو یوں نظم کیا ہے :

یکاد یمسکه عرفانُ راحتِهِ

رکن الحطیم اذا ماجاء یَستلِمُ

یغض حیاء ویغضی من مهابته

فلا یکلم الاحین یبتسم

''امام سجاد جب رکن حطیم کو مس کرنے کے لئے آتے ہیں تو رکن حطیم آپ کی ہتھیلی کو پہچان کر روک لیتا ہے ۔

آپ حیا کی وجہ سے اپنی نگاہوں کو نیچی کر لیتے ہیں اور آپ کی ہیبت کی بنا پر لوگوں کی نگا ہیں نیچی ہو جا تی ہیں جس کی بنا پر آپ سے اسی وقت بات کی جا سکتی ہے جب آپ مسکرا رہے ہوں ''۔

شیخا نی قادری کا کہنا ہے :دیکھنے والا ان کے چہرے کو دیکھنے سے سیرنہیں ہوتا تھا(۱) کیونکہ آپ کی ہیبت آپ کے جد بزرگوار رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہیبت کی حکایت کر تی تھی ،ظالم مسلم بن عقبہ سفّاح مجرم جس نے تمام اسلامی اقدار کی بہت زیادہ اہانت کی وہ بھی مبہوت ہو کر رہ گیا، اس نے جب امام زین العا بدین

____________________

۱۔الصراط السوی فی مناقب آل النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، صفحہ ۱۹۲۔


کودیکھا تو کانپ کر رہ گیا، آپ کی عزت و احترام کیااور اپنے اطراف کے لوگوں سے کہا :بیشک امام زین العابدین علیہ السلام انبیاء کے مانند ہیں ۔

آپ کے القاب

آپ کے القاب اچھا ئیوں کی حکایت کرتے ہیں،آپ اچھے صفات ،مکارم اخلاق ،عظیم طاعت اور اللہ کی عبادت جیسے اچھے اوصاف سے متصف تھے، آپ کے بعض القاب یہ ہیں :

۱۔زین العابدین

یہ لقب آپ کو آپ کے جد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دیا تھا(جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے) کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کو اس لقب سے نوازا گیا ،(۱) آپ اس لقب سے معروف ہوئے اور اتنے مشہور ہوئے کہ یہ آپ کا اسم مبارک ہو گیا ،آپ کے علاوہ یہ لقب کسی اور کا نہیں تھا اور حق بات یہ ہے کہ آپ ہر عابد کے لئے زینت اور ہر اللہ کے مطیع کے لئے مایۂ فخر تھے ۔

۲۔سید العا بدین

آپ کے مشہور و معروف القاب میں سے ایک ''سید العا بدین '' ہے ،چونکہ آپ انقیاد اور اطاعت کے مظہر تھے ، آپ کے جدامیر المومنین کے علاوہ کسی نے بھی آپ کے مثل عبادت نہیں کی ہے ۔

۳۔ذو الثفنات

آپ کو یہ لقب اس لئے دیا گیا کہ آپ کے اعضاء سجدہ پراونٹ کے گھٹوں(۲) کی طرح گھٹے

____________________

۱۔تہذیب التہذیب ،جلد ۷،صفحہ ۳۰۶۔شذرات الذہب، جلد ۱،صفحہ ۱۰۴، اور اس میںبیان ہواہے :آپ کوزیادہ عبادت کرنے کی وجہ سے یہ لقب دیا گیا ۔

۲۔صبح الاعشی جلد ۱،صفحہ ۴۵۲۔بحرالانساب :ورقہ ۵۲۔تحفة الراغب ،صفحہ ۱۳۔اضداد فی کلام العرب ،جلد ۱،صفحہ ۱۲۹۔ثمار القلوب، صفحہ ۲۹۱۔اور اس میں بیان ہوا ہے :علی بن الحسین اور علی بن عبد اللہ بن عباس کے لئے کہا جاتا ہے کہ :زیادہ نمازیں پڑھنے کی وجہ سے ان کے اعضاء سجدہ پر سجدوں کی وجہ سے اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے تھے ۔


پڑجاتے تھے ۔ابو جعفر امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :''میرے پدر بزرگوار کے اعضاء سجدہ پر ابھرے ہوئے نشانات تھے ،جو ایک سال میں دو مرتبہ کا ٹے جاتے تھے اور ہر مرتبہ میں پانچ گھٹّے کاٹے جاتے تھے ، اسی لئے آپ کو ذواالثفنات کے لقب سے یاد کیا گیا ''۔(۱) ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ نے تمام گھٹوں کو ایک تھیلی میں جمع کر رکھا تھا اور آپ نے اُن کو اپنے ساتھ دفن کرنے کی وصیت فرما ئی تھی ۔

۴۔سجاد

آپ کے القاب شریفہ میں سے ایک مشہور لقب ''سجاد '' ہے(۲) یہ لقب آپ کو بہت زیادہ سجدہ کرنے کی وجہ سے دیا گیا ،آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سجدے اور اللہ کی اطاعت کرنے والے تھے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کے بہت زیادہ سجدوں کو یوں بیان فرمایاہے :

''بیشک علی بن الحسین جب بھی خودپرخدا کی کسی نعمت کا تذکرہ فرماتے تو سجدہ کرتے تھے،آپ قرآن کریم کی ہرسجدہ والی آیت کی تلاوت کر نے کے بعد سجدہ کرتے ،جب بھی خداوند عالم آپ سے کسی ایسی برائی کو دور کرتا تھا جس سے آپ خوفزدہ ہوتے تھے توسجدہ کرتے ،آپ ہر واجب نماز سے فارغ ہونے کے بعد سجدہ کرتے اور آپ کے تمام اعضاء سجود پر سجدوں کے نشانات مو جود تھے لہٰذا آپ کو اس لقب سے یاد کیا گیا ''۔(۳)

ابن حماد نے امام کے کثرت سجود اور آپ کی عبادت کو ان رقیق اشعار میں یوں نظم کیا ہے :

وراهب اهل البیت کان ولم یزل

یلقب بالسجاد حین تَعَبُّدِهِ

یقضی بطول الصوم طول نهاره

منیباً ویقض لیله بتهجده

فاین به من علمه ووفائه

واین به من نسکه وتعبده(۴)

____________________

۱۔علل الشرائع ،صفحہ ۸۸۔بحارالانوار، جلد ۴۶،صفحہ ۶۔وسائل الشیعہ، جلد ۴،صفحہ ۹۷۷۔

۲۔علل الشرائع، صفحہ ۸۸۔۳۔وسائل الشیعہ، جلد ۴، صفحہ ۹۷۷۔علل الشرائع ،صفحہ ۸۸۔

۴۔المناقب ،جلد ۴، صفحہ ۱۶۴


''امام سجاد پہلے بھی اہل بیت میں عبادت گذار تھے اور اب بھی ہیں عبادت ہی کی بنا پر آپ کو سجاد کے لقب سے یاد کیا جا تا ہے ۔

آپ روزہ رکھ کر دن گذار تے ہیں، آپ توبہ کرتے رہتے ہیں اور رات نماز و تہجد میں بسر کرتے ہیں ۔

تو بھلا علم و وفا داری اور عبادات میں آپ کا مقابلہ کو ن کر سکتا ہے ؟''۔

۵۔زکی

آپ کو زکی کے لقب سے اس لئے یاد کیا گیا کیونکہ آپ کو خداوند عالم نے ہر رجس سے پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے جس طرح آپ کے آباء و اجداد جن کواللہ نے ہر طرح کے رجس کو دور رکھا اور ایساپاک و پاکیزہ رکھاجو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔

۶۔امین

آپ کے القاب میں سے ایک معروف لقب ''امین ''(۱) ہے، اس کریم صفت کے ذریعہ آپ مثل الاعلیٰ ہیں اور خود آپ کا فرمان ہے :''اگر میرے باپ کا قاتل اپنی وہ تلوار جس سے اس نے میرے والد بزرگوار کو قتل کیا میرے پاس امانت کے طور پر رکھتاتو بھی میں وہ تلوار اس کو واپس کر دیتا ''۔

۷ ۔ابن الخیرتین

آپ کے مشہور القاب میں سے ایک لقب ''الخیرتین '' ہے، آپ کی اس لقب کے ذریعہ عزت کی جا تی تھی آپ فرماتے ہیں :''انا ابن الخیرتین '' ،اس جملہ کے ذریعہ آپ اپنے جد رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اس قول کی طرف اشارہ فرماتے :''للّٰه تعالیٰ من عباده خیرتان،فخیرته من العربهاشم،ومن العجم فارس '' ۔(۲)

شبراوی نے آپ کو مندرجہ ذیل ابیات کے ذریعہ اس لقب سے یوں یاد کیا ہے :

____________________

۱۔فصول مہمہ، مؤلف ابن صبّاغ، صفحہ ۱۸۷۔بحر الانساب ،ورقہ صفحہ ۵۲۔نورالابصار ،صفحہ ۱۳۷۔

۲۔کامل مبرد ،جلد ۱،صفحہ ۲۲۲۔وفیات الاعیان ،جلد ۲،صفحہ ۴۲۹۔


''خیرة اللّٰه من الخلق اب

بعد جد وانا ابن الخیرتین

فضة صیغت بماء الذهبین

فانا الفضة وابن الذهبین

من له جدّ کجد فی الوریٰ

اوکأ ب وانا ابن القمرین

فاطمة الزهراء ام واب

قاصم الکفر ببدرٍ و حنین

وله ف یوم احدٍوقعة

شفة الغلّ ببعض العسکرین''(۱)

''امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں :میرے جد کے بعد میرے والد بزرگوار بہترین مخلوق ہیں جس کی بنا پر میں بہترین افرادکا فرزند ہوں ۔میں وہ چا ندی ہوں جس کو دو سونے کے پانی سے ڈھالا گیا ہے جس کی بنا پر میں چا ندی ہوں اور دو سونے کا فرزند ہوں ۔

دنیا میں میرے جدکی طرح کس کے جد ہیں یا میرے بابا کی طرح کس کے بابا ہیںاور میں دو چاند کا فرزند ہوں ۔

جناب فاطمہ میری والدہ ہیں اور میرے پدر بزرگوار نے بدر و حنین میں کفر کو نابود کیا ۔

جنگ اُحد میں میرے دادا نے بے مثال جنگ کی جس کی بنا پر لشکریانِ کفر کے دلوں میں آپ کا کینہ بیٹھ گیا ''۔

زیادہ احتمال یہ ہے کہ یہ اشعار امام زین العابدین علیہ السلام کے سلسلہ میں نہیں ہیںکیونکہ یہ آپ کی ذات بابرکت میںپائے جانے والے بلندصفات و کمالات کو بیان کرنے سے قاصرہیں۔

____________________

۱۔الاتحاف بحبّ الاشراف، صفحہ ۴۹۔


ذاتی عناصر

اللہ نے کوئی فضیلت خلق نہیں فرما ئی اور کو ئی کرامت ہبہ نہیں فرما ئی مگر یہ کہ وہ امام سجاد کی شخصیت اور ذات میں ودیعت کی ہے، فضائل و کمالات اور نجابت و شرافت میں آپ کی مثال نہیں ہے اور آپ کے

ذاتی خصوصیات یعنی آپ کے بلند اخلاق اور دین کے سلسلہ میںآپ کی بے انتہا رغبت میں بھی کو ئی آپ کے ہم پلہ نہیں ہے ۔جو بھی آپ کی سیرت و کردار کا مطالعہ کرے گا وہ آپ کی عظمت کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہو جا ئے گا ،آپ کے صفات و کمالات دیکھ کر اس کی حیرانی کی کو ئی انتہا نہ رہے گی ،آپ کے زمانہ کی بزرگ شخصیات آپ کے فضائل و کمالات کے سامنے ہیچ نظر آئیں گی ۔

مدینہ کے ایک بزرگ عالم دین سعید بن مسیب کا کہنا ہے :میں نے علی بن الحسین سے زیادہ افضل کسی کو نہیں دیکھااورجب میں نے ان کو دیکھا تو مجھے اپنی حقارت کا احساس ہوا ''۔(۱)

آپ کو اتنے بلند و بالا اخلاق اور مثالی کردار تک آپ کے آباء و اجداد نے پہنچایا جنھوں نے اپنی زندگی معاشرہ کی اصلاح کیلئے وقف کر دی تھی، اب ہم آپ کے بعض ذاتی صفات کے سلسلہ میں مختصر طور پر گفتگو کر رہے ہیں :

حلم

حلم، انبیاء اور مرسلین کے صفات میں سے ہے ،اوریہ انسان کے بزرگ صفات میں سے ہے کیونکہ انسان بذات خود اپنے نفس پر مسلط ہوتا ہے اور وہ غضب اور انتقام کے وقت خاضع نہیں ہوتا ،جاحظ نے حلم کی یوں تعریف کی ہے :انسان کابہت زیادہ غصہ کی حالت میں انتقام لینے کی طاقت وقدرت رکھنے کے با وجود انتقام نہ لینا۔(۲)

امام زین العابدین علیہ السلام لوگوں میں سب سے زیادہ حلیم تھے ،اور ان میں سب سے زیادہ غصہ پی جانے والے تھے ،راویوں اور مو رّخین نے آپ کے حلم سے متعلق متعدد واقعات بیان کئے ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔امام کی ایک کنیز تھی، جب آپ نے وضو کرنے کا ارادہ کیا تو اس سے پانی لانے کے لئے کہا وہ پانی لیکر آئی تو اس کے ہاتھ سے لوٹا امام کے چہرے پر گرگیا جس سے آپ کو چوٹ لگ گئی فوراً کنیز نے کہا:

____________________

۱۔تاریخ یعقوبی، جلد ۳،صفحہ ۴۶۔

۲۔تہذیب الاخلاق ،صفحہ ۱۹۔


خدا فرماتا ہے :''والکا ظمین الغیظ '' ''اور غصہ پی جانے والے ہیں ''

امام نے فوراً جواب میں فرمایا:''کظمتُ غیظ '' ''میں نے اپنا غصہ پی لیا ''۔

کنیز کو امام کے حلم سے تشویق ہو گئی تو اس نے مزید امام کی خدمت میں عرض کیا :''والعافین عن الناس ''''اور لوگوں کو معاف کردینے والے ہیں ''۔

امام نے نرمی اور مہربانی کرتے ہوئے فرمایا:''عفا اللّٰهُ عنک''

فوراً کنیز نے کہا :(وَاللّٰه یحب المحسنین )(۱)

''اور خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ''

توامام نے مزید اس پر احسان و اکرام کرتے ہوئے فرمایا:''اذھب فانت حرّة''۔(۲) '' تم جائو ، اب تم آزاد ہو ''۔

۲۔ آپ کے حلم کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص نے بلا سبب کے آپ پر سب و شتم کرنا شروع کر دیا تو امام نے اس سے بڑی ہی نرمی کے ساتھ فرمایا:''یافتی ان بین ایدیناعقبة کؤوداًفان جزت منهافلاابال بماتقول،وان اتحیّرُفیهافاناشرّ ممّا تقولُ '' ۔(۳)

''اے جوان !ہمارے سامنے دشوار گذار گھاٹی ہے اگر میں اس سے گذر گیاتو تمہارے کہے کی پروا نہیں کروں گا اوراگر رہ گیا تو میں تمہاری کہی ہو ئی با ت سے زیادہ بُرا ہوں ''۔

امام اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ سے لو لگائے رہتے تھے اور آخرت کے ان ہولناک حالات سے آہ و بکاکرتے تھے جن سے متقین کے علاوہ کو ئی نجات نہیں پا سکتااس حالت کی بنا پر آپ نے کبھی ذلت نفس کا احساس نہیں کیا۔

____________________

۱۔آل عمران، آیت ۱۳۴۔

۲۔تاریخ دمشق ،جلد ۳۶، صفحہ ۱۵۵۔نہایة الارب ، جلد ۲۱، صفحہ ۳۲۶۔

۳۔بحا رالانوار ،جلد ۴۶،صفحہ ۹۶۔


صبر

آپ کے ذاتی صفات میں سے امتحان اور زحمت و مشقت پر صبر کرنا ہے ،یہ بات قطعی ہے کہ اس

دنیا میں کو ئی بھی امام زین العابدین جیسی مصیبتوں میں گرفتار نہیں ہوا ،آپ نے اپنی زند گی کی ابتداسے لیکر موت کے وقت تک مصائب برداشت کئے ،آپ ابھی عہد طفولت میں ہی تھے کہ آپ کی والدہ کی وفا ت ہو گئی،آپ ان کی محبت کی شیرینی نہ چکھ سکے ، بچپن کے آغاز میں آپ نے ابن ملجم کے ہاتھوں اپنے دادا علی بن ابی طالب کی شہادت پر اپنے خاندان کے غم و اندوہ کودیکھا ۔

اس کے بعد آپ نے اس چیز کا مشاہدہ فرمایا جب آپ کے چچا امام حسن کو مجبوراً معاویہ بن ابی سفیان جیسے سر کش سے صلح کرنا پڑی، وہ معاویہ ابن ابو سفیان جو دنیائے عرب اور عالم اسلام کی رسوائی کیلئے کلنک کا ٹیکا تھا،جب وہ تخت حکومت پر بیٹھا تو دور جا ہلیت کی تمام چیزیں ظاہر ہونے لگیں،وہ اسلام اور مسلمانوں سے بہت زیادہ کینہ و بغض رکھتا تھا ،اس نے اسلام کو صفحہ ٔ ہستی سے مٹانے کیلئے ہر طرح سے اپنی حکومت کو مضبوط کیا ،اہل بیت علیہم السلام کے خلاف بہت سخت قوانین نافذ کئے ، منبروں اور اذانوں میں ان پر سب و شتم کو واجب قرار دیاجس طرح اس کے ان چاہنے والوں کو قتل کیا جودین و سیاست کا نمونہ تھے ۔

جیسے ہی امام زین العابدین نے عنفوان شباب میں قدم رکھا آپ کے چچا فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم امام حسن کی شہادت ہو گئی ،آپ کو(کسریٰ عرب)معاویہ بن ہند(۱) نے زہر دغا سے شہید کیا جس سے امام اور خاندان نبوت کے بقیہ افراد بہت رنجیدہ ہوئے ان تمام بڑے بڑے مصائب سے ان سب کے ہوش اڑ گئے۔

امام پرسب سے بڑی مصیبت واقعہ کربلا میں پڑی جب آپ نے کربلا کے میدان میں گناہگاروں کو اہل بیت نبوت کے سروں کو بے دردی کے ساتھ کاٹتے دیکھا ،جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے عدالت اور حق کی دعوت دینے والے ستاروں کی اس حالت کے بعداہل کو فہ کے بیوقوف مجرموں نے امام کو اپنے محا صرہ میں لے لیا ،آپ اور خا ندان نبوت کے تمام خیموں کو جلادیا ،آپ کوبہت ہی برے طریقہ سے اسیر کیا ،وہ ابن مرجانہ تھا جو آپ کی تباہی اور بربادی سے خوش نظر آرہاتھا اور آپ کو ذلیل و حقیر سمجھ رہاتھا ،امام ایسے صابر تھے جنھوں نے اپنے تمام اموراللہ کے سپرد فرمادئے تھے،اس کے بعد پھر یزید بن معاویہ کاسامنا ہوا،جس نے ایسے ایسے مصائب کے پہاڑ ڈھائے جن سے دل ہل جاتے ہیں۔

____________________

۱۔اس کو یہ لقب دوسرے خلیفہ نے دیا تھا ۔


لیکن امام سجاد نے اللہ کی قضاء و قدر پر راضی رہتے ہوئے ان تمام مصیبتوں کو برداشت کیا،ان کا نفس کونسا نفس تھا اور ان کا دل کیسا دل تھا؟

آپ کا نفس ہر مشکل میں اس خالق کا ئنات سے لو لگاتا تھاجو زندگی عطا کرنے والا ہے ،اور آپ کا طیب و طاہر ضمیر ہر چیز سے قوی اورمحکم تھا ۔

آپ ہمیشہ ہر مصیبت میں خالق کا ئنات سے ہی لو لگاتے تھے جس نے آپ کو زندگی عطا فر ما ئی تھی ،اور آپ کا نفس پاک و پاکیزہ اور طیب و طاہر تھاجو ہر چیز سے طاقتور اور قوی تھا ۔

مصائب پر صبر کرنا آپ کی ذات میں تھا صبر کی مدح و تعریف میں آپ کا یہ با اثر جملہ موجود ہے کہ صبر کرناہی اصل میںاطاعت الٰہی ہے(۱) آپ کا سب سے عظیم صبر یہ تھا کہ آپ نے اپنے گھر میں موت کی خبر لانے والے کی آواز سنی جبکہ آپ کے پاس بہت سے افراد جمع تھے توجو کچھ رونما ہواتھا آپ اس کی تحقیق کیلئے تشریف لے گئے جب آپ کو خبر دی گئی کہ آپ کے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا ہے تو آپ نے مجلس میں آکر سب کو آگاہ کیا سب نے آپ کے صبرپر تعجب کیاآپ نے ان سے فرمایا:''ہم اہل بیت جس چیز کو دوست رکھتے ہیں اس میں اللہ کی اطاعت کرتے ہیںاور دشوار و ناپسند امور میں اس کی حمد وثنا کرتے ہیں''۔(۲) آپ صبر کو غنیمت سمجھتے تھے اور جزع و فزع کو کمزوری تصور کرتے تھے ۔

بیشک آپ کی ذاتی قوت اور آپ کاہوش اڑادینے والے واقعات کے سامنے نہ جھکنایہ چیزیں طول تاریخ میں شاذ ونادر افراد میں ہی پا ئی جا تی ہیں۔

لوگوں پر احسان

امام زین العابدین علیہ السلام کی ایک ذاتی صفت لوگوں پر احسان اور ان کے ساتھ نیکی کر نا تھی ، آپ کا قلب مبارک اُن پر رحم و کرم کرنے کیلئے آمادہ رہتا تھا ،مو رّخین کا کہنا ہے :جب آپ کو یہ معلوم ہوجاتا

____________________

۱۔امام زین العابدین مؤلف مقرم، صفحہ ۱۹۔

۲۔حلیة الاولیاء ،جلد ۳،صفحہ ۱۳۸۔


تھا کہ آپ کا کوئی چا ہنے والا مقروض ہے تو آپ اس کا قرض ادا فرما دیتے تھے ،(۱) اور آپ اس ڈرسے کہ کہیں آپ کے علاوہ کو ئی دوسرا لوگوں کی حا جتیں پوری کر دے اورآپ ثواب سے محروم رہ جائیں لہٰذا لوگوںکی حاجتوں کو پورا کرنے میں سبقت فرماتے تھے، آپ ہی کا فرمان ہے : '' اگر میرا دشمن میرے پاس اپنی حاجت لیکر آئے تو میں اس خوف سے اس کی حاجت پورا کرنے کیلئے سبقت کرتا تھا کہ کہیں اور کو ئی اس کی حاجت پوری نہ کردے یا وہ اس حاجت سے بے نیاز ہو جائے اور مجھ سے اس کی فضیلت چھوٹ جائے ''۔(۲)

آپ کے لوگوں پر رحم و کرم کے سلسلہ میں زہری نے روایت کی ہے :میں علی بن الحسین کے پاس تھاکہ آپ کے ایک صحابی نے آپ کے پاس آکر کہا :آج میں چارسو دینار کا مقروض ہوں اور میرے لئے اپنے اہل و عیال کی وجہ سے ان کو ادانہیںکر سکتا ،امام کے پاس اس وقت اس کو دینے کے لئے کچھ بھی مال نہیں تھا ،آپ نے اس وقت گریہ وزاری کرتے ہوئے فرمایا :''ایک آزاد مو من کے لئے اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے مو من بھا ئی کو مقروض دیکھے اور وہ ادا نہ کر سکے اور وہ اس کاایسے فاقہ کی حالت میں مشا ہدہ کرے جس کو وہ دور نہ کر سکتا ہو''۔(۳)

سخاوت

سخاوت بھی آپ ایک عظیم صفت اور آپ کی شخصیت کا ایک اہم جز ء تھی ،مو رّخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ،فقراء اور کمزوروں کے ساتھ سب سے زیادہ نیکی کر تے تھے ، مورخین نے آپ کے جودو کرم کے متعددواقعات نقل کئے ہیں جن میں ہم ذیل میںچند واقعات نقل کر رہے ہیں :

محمد بن اسامہ کے ساتھ نیکی کر نا

محمد بن اسامہ مریض ہوگئے تو امام ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جب سب لوگ بیٹھ گئے تو محمد نے زور زور رونا شروع کر دیااس وقت امام نے اس سے فرمایا : ''مایبکیک؟ '''' تم کیوں رورہے ہو ؟''۔

____________________

۱۔امام ابو زید (ابو زہرہ)،صفحہ ۲۴۔

۲۔ناسخ التواریخ ،جلد ۱، صفحہ ۱۴۔۳۔امالی شیخ صدوق ،صفحہ ۴۵۳۔


میں مقروض ہوں۔

''کتنا قرض ہے ؟''۔

پندرہ ہزار دینا ر۔

''میں ادا کر دو نگا'' ۔

امام نے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے ہی وہ سب قرض ادا فرمادیاجس کے قرض کی وجہ سے رنج و غم اور سونے کی اس کی بیماری دور ہو گئی ۔(۱)

عمومی طور پر کھانا کھلانا

آپ کی جود و سخاوت کا یہ عالم تھا کہ آپ مدینہ میں ظہر کے وقت ہر دن لوگوں کو عمومی طورپر کھانا کھلاتے تھے ۔(۲)

سو گھروں کی پرورش

آپ کے جود و کرم کا یہ عالم تھا کہ آ پ مدینہ میں مخفی طور پر(۳) سو گھروں کی پرورش کرتے تھے، اور ہر گھر میں لوگوں(۴) کی کافی تعداد ہوا کر تی تھی ۔بیشک سخاوت بخل سے پاکیزگی ٔ نفس پر دلالت کرتی ہے ،لوگوں پر رحم کر نے کے شعور اور اللہ کی عطا پر اس کا شکر اداکرنے پر دلالت کر تی ہے ۔

فقیروں پر رحم و کرم

آپ کے ذاتی صفات میں سے ایک صفت یہ تھی کہ آپ فقیروں ،محروموں اورمایوس ہوجانے والوں پر احسان فرماتے تھے ۔ہم ذیل میںاس سلسلہ میں بعض واقعات نقل کرتے ہیں :

____________________

۱۔البدایہ والنہایہ ،جلد ۹ ،صفحہ ۱۰۵،سیر اعلام النبلاء ،جلد ۴، صفحہ ۲۳۹،تاریخ الاسلام جلد ۲،صفحہ ۲۶۶،الحلیة ،جلد ۳،صفحہ ۱۴۱۔

۲۔تاریخ یعقوبی ،جلد ۳،صفحہ ۶۔

۳۔تہذیب اللغات والاسماء ،صفحہ ۳۴۳۔

۴۔بحارالانوار، جلد۴۶،صفحہ ۸۸۔


۱۔ فقیروں کی عزت کرنا

امام فقیروں کے لئے افسوس کرتے ،ان کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے ،جب کسی سائل کو کچھ دیتے تو اس سے معانقہ کرتے تاکہ اس سے ذلت اور حاجت(۱) کااثر جاتا رہے، جب سا ئل کسی سوال کا قصد کرتا تو آپ مرحبا کہتے اور فرماتے :''مرحباًبِمَنْ یَحْمِلُ زَادِْ اِلیٰ دَارِ الآخِرَةِ'' ۔(۲)

''مرحبا اس شخص پر جو میرا زاد راہ ہے اور مجھے دارآخرت کی طرف لے جا رہا ہے ''۔

بیشک فقیر کے محبت اور عطوفت کے ساتھ اس طرح اکرام کرنے سے معاشرہ میں اتحاد اور بھا ئی چارگی پیدا ہوتی ہے اور ان کی اولاد کے درمیان محبت قائم ہو تی ہے ۔

۲۔آپ کی فقیروں پر مہربانی

آپ فقیروں اور مسکینوں کے ساتھ نہایت ہی عطوفت و مہربا نی کے ساتھ پیش آتے تھے ،آپ کو یہ بات بہت پسند تھی کہ آپ ایسے فقرا ،مساکین اور بیمار افراد کو دستر خوان پر بلائیں جن کا کوئی آسرا نہ ہوآپ ان کو اپنے ہاتھ سے کھانا دیتے ،(۳) اسی طرح آپ اپنی پشت پر ان کیلئے کھانا اور لکڑیاں لاد کر ان کے دروازے پرپہنچاتے تھے(۴) فقراء اور مساکین کے سلسلہ میں آپ کے رحم و کرم کایہ عالم تھا کہ آپ رات کی تاریکی میں خرمے توڑنے کو منع کر تے تھے کہ اس طرح فقراء آپ کی عطا سے محروم رہ جا ئیں گے،امام نے اپنے کارندوں سے فرمایا(جو رات کے آخری حصہ میں ان کے لئے خرمے توڑ کرلایاتھا):''ایسا نہ کر ،کیا تم کو نہیں معلوم کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے رات میں فصل کاٹنے اور بوجھ اٹھانے سے منع فرمایا ہے ؟اور آپ فرماتے :جس دن فصل کا ٹی جائے اسی دن سائلین کو عطا کیا جائے اس لئے کہ فصل کاٹنے کے دن یہ اُن کا حق ہوتا ہے'' ۔(۵)

____________________

۱۔حلیہ جلد ۳،صفحہ ۱۳۷۔

۲۔صفوة الصفوہ، جلد ۲،صفحہ ۵۳۔۳۔

۳۔بحارالانوار ،جلد ۴۶،صفحہ ۶۲۔

۴۔بحارالانوار ،جلد ۴۶،صفحہ ۶۲۔اور اسی سے ملتی جلتی روایت دائرة المعارف ِبستا نی جلد ۹،صفحہ ۳۵۵ ۔

۵۔وسا ئل الشیعہ ،جلد ۶،صفحہ ۱۳۸۔


۳۔ آپ کا سائل کو رد کر نے سے منع فرمانا

امام نے سائل کوبغیر کچھ دئے ہوئے رد کرنے سے منع فرمایا ہے ،چونکہ ایسا کر نے سے برائیاں زیادہ ہو تی ہیں اور ان سے نعمتیں ختم ہو جا تی ہیںاور مصیبتیں نازل ہوتی ہیں،سعید بن مسیب سے مروی ہے : میں علی بن الحسین کی خدمت میں پہنچا یہاں تک کہ صبح کی نماز آپ ہی کے ساتھ ادا کی ، آپ کے دروازے پر سائل آیا تو امام نے فرمایا:''اعطوا السائلَ ولاترد السائلَ ''

''سائل کو عطا کرو،اوراس کو خالی ہاتھ واپس نہ پلٹائو''۔(۱)

امام نے اس بات کی ضرورت پر متعدد احادیث میں زور دیا ہے ۔

بیشک ضرورت مند فقیر کو محروم کرنے اور ان کی حاجت روا ئی نہ کرنے سے نعمتیں زائل ہونے اور اللہ کے غضب نازل ہونے کا سبب ہوتی ہیں اس سلسلہ میں ائمہ ٔ ہدیٰ سے متواتر احا دیث بیان ہو ئی ہیں لہٰذا جو اللہ کی دی ہو ئی نعمتوں کی بقا چا ہتا ہے اس کے لئے قطعاً سائل کو رد کرنا یا فقیر کو مایوس کرنا سزوار نہیں ہے چونکہ اس کے پاس یہ اللہ کی عطا کردہ نعمت ہے ۔

آپ کے صدقات

امام زین العابدین نے اپنی حیات طیبہ میں سب سے زیادہ فقیروں کو صدقے دئے تاکہ وہ آرام سے زندگی بسر کرسکیں اور ان کا ہم و غم دور ہو جائے اور امام دوسروں کو بھی اس کی ترغیب فرماتے تھے کیونکہ اس پر انسان کو اجر جزیل ملتا ہے ، آپ کا فرمان ہے:''مَامِنْ رَجُلٍ تَصَدَّقَ علیٰ مِسْکِیْنٍ مُسْتَضْعَفٍ فَدَعَا لَهُ الْمِسْکِیْنُ بِشَی ئٍ فِیْ تِلْکَ السَّاعَةِ اِلَّااسْتُجِیْبَ لَهُ''

''جب کو ئی انسان کسی کمزور مسکین کو صدقہ دیتا ہے تو اس وقت عطا کرنے والے کے حق میںمسکین کی دعا ضرور قبول ہو تی ہے ''۔(۲)

ہم آپ کے بعض صدقات کو ذیل میں بیان کر رہے ہیں:

____________________

۱۔الکافی ،جلد ۴،صفحہ ۱۵۔

۲۔وسائل الشیعہ ،جلد ۶،صفحہ ۲۹۶۔


۱۔لباس تصدّق کرنا

امام اچھے لباس پہنتے تھے ،آپ سردی کے مو سم میں خزکا لباس پہنتے جب گرمی کا مو سم آجاتا تھا تو اس کو صدقہ دیدیتے تھے یا اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت صدقہ دیدیتے تھے اور گر می کے مو سم میں دومصری لباس پہنتے تھے جب سردی کا مو سم آجا تا تھا تو ان کو صدقہ میں دیدیتے تھے ،(۱) اور آپ فرماتے تھے :''اِنِّیْ لَاَسْتَحْیِیْ مِنْ رَبِّیْ اَنْ آکُلَ ثَمَنَ ثَوْبٍ قَدْ عَبَدْتُ اللّٰهَ فِیْهِ''

''مجھے اپنے پروردگار سے شرم آتی ہے کہ میں نے جس لباس میں اللہ کی عبادت کی ہے اس لباس کی قیمت کھائوں ''۔(۲)

۲۔اپنی پسندیدہ چیزکا صدقہ میںدینا

امام اپنی پسندیدہ چیز صدقہ میں دیتے تھے ،راویوں کا کہنا ہے :اما م صدقہ میںبادام اور شکر دیتے تھے آپ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے قرآن کریم کی اس آیت کی تلاوت فرما ئی :

( لَنْ تَنَالُوْاالْبِرَّحَتّیٰ تُنْفِقُوامِمَّاتُحِبُّوْنَ ) (۳) ''تم نیکی کی منزل تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میںسے راہ خدا میں انفاق نہ کرو''۔(۴)

مورخین کا بیان ہے کہ امام انگور بہت زیادہ پسند فرماتے، آ پ ایک دن روزہ تھے تو افطار کے وقت آپ کی ایک کنیز نے آپ کی خدمت میں انگور پیش کئے ایک سائل نے سوال کیا توامام نے انگورکے گچھے کواسے دینے کا حکم صادر فرمایا ،کنیز نے دوبارہ اپنے خریدے ہوئے انگو ر آپ کی خدمت میں پیش کئے تو دروازے سے دوسرے سائل نے سوال کیا امام علیہ السلام نے وہ انگور کے گچھے بھی اسے دینے کا حکم صادر فرمایا ،اس کے بعد پھر کنیز نے اپنے خریدے ہوئے انگور امام کی خدمت میں پیش کئے تو تیسرے سائل نے دروازے سے سوال کیا امام نے انگور کے وہ گچھے سائل کو دیدینے کا حکم صادر فرمادیا ۔(۵)

____________________

۱۔تاریخ دمشق، جلد ۳۶،صفحہ ۱۶۱۔ ۲۔ناسخ التواریخ ،جلد۱،صفحہ ۶۷۔

۳۔سورہ آل عمران، آیت ۹۲

۔۴۔بحارالانوار ،جلد ۴۶،صفحہ۸۹۔

۵۔المحاسن (برقی)،صفحہ ۵۴۷۔فروع الکافی ،جلد ۶،صفحہ ۳۵۰۔


آپ کے آباء و اجداد کی اس نیکی میں کتنی مشابہت تھی جنھوں نے تین دن پے درپے ایسی طاقت و قوت کا مظاہرہ کیاحالانکہ وہ سب روزہ کی حالت میں تھے تب بھی انھوں نے مسکین ،یتیم اور اسیر کے ساتھ ایسا برتائو کیا تو اللہ نے ان کی شان میں سورئہ ''ھَل اتیٰ ''نازل فرمایا،اُن کی یہ عظیم جلالت و بزرگی رہتی دنیا تک باقی رہے گی یہاں تک کہ خدا زمین کا وارث ہواور اُن پر احسان کرے۔

۳۔آپ کا اپنے مال کو تقسیم کرنا

امام نے دو مرتبہ اپنا سارا مال دو حصوں میںتقسیم کیااور اس میں سے ایک حصہ اپنے لئے رکھ لیا اور دوسرا حصہ فقیروںاور مسکینوں(۱) میں تقسیم کردیا،اس سلسلہ میں آپ نے اپنے چچا امام حسن فرزند رسول کا اتباع فرما یاکیونکہ امام حسن نے دو یا تین مرتبہ اپناسارا مال تقسیم کیا تھا ۔

۴۔آپ کا مخفی طور پر صدقہ دینا

امام زین العا بدین علیہ السلام کے نزدیک سب سے پسندیدہ چیز مخفیانہ طور پر صدقہ دینا تھاتاکہ کوئی آپ کو پہچان نہ سکے ،آپ اپنے اور آپ سے مستفیض ہونے والے فقرا ء کے درمیان رابطہ ہوں خدا سے محبت اورفقراء کے ساتھ صلۂ رحم کی صورت میں دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ لوگوں کومخفیانہ طور پر صدقہ دینے کی رغبت دلاتے اور فرماتے تھے :''اِنَّھَاتُطْفِیُٔ غَضَبَ الرَّبِّ''۔(۲) ''چھپ کر صدقہ دینا خدا کے غضب کو خا موش کر دیتا ہے ''۔آپ رات کے گُھپ اندھیرے میں نکلتے اور فقیروں کواپنے عطیے دیتے حالانکہ اپنے چہرے کو چھپائے ہوئے ہوتے ،فقیروں کو رات کی تاریکی میں آپ کے عطیے وصول کرنے کی عا دت ہو گئی تھی وہ اپنے اپنے دروازوں پر کھڑے ہوکر آپ کے منتظر رہتے ،جب وہ آپ کو دیکھتے تو آپس میں کہتے کہ : صاحب جراب(تھیلی)(۳) آگئے ۔آپ کے ایک چچا زاد بھا ئی تھے جن کو آپ رات تاریکی

____________________

۱۔خلاصہ تہذیب کمال، صفحہ ۲۳۱۔حلیہ ،جلد ۳،صفحہ ۱۴۰۔جمہرة الاولیائ، جلد ۲،صفحہ ۷۱۔بدایہ اور نہایہ ،جلد ۹،صفحہ ۱۰۵۔طبقات ابنسعد،جلد۵، صفحہ ۱۹۔

۲۔تذکرة الحفّاظ، جلد۱،صفحہ ۷۵۔اخبار الدول ،صفحہ ۱۱۰،نہایة الارب فی فنون الادب، جلد ۲۱، صفحہ ۳۲۶۔

۳۔ بحارالانوار ،جلد ۴۶،صفحہ ۸۹۔


میں جا کر کچھ دینار دے آیا کر تے تھے ،انھوں نے ایک دن کہا :علی بن الحسین میری مدد نہیں فرماتے اور انھوں نے امام کو کچھ نا سزا کلمات کہے امام نے وہ سب کلمات سنے اور خود ان سے چشم پوشی کرتے رہے اور ان سے اپنا تعارف نہیں کرایا جب امام کا انتقال ہوگیااور ان تک کوئی چیز نہ پہنچی تو ان کو معلوم ہوا کہ جو ان کے ساتھ صلۂ رحم کرتا تھا وہ امام ہی تھے تو وہ امام کی قبر اطہر پر آئے اور ان سے عذرخواہی کی۔(۱)

ابن عائشہ سے روایت ہے :میں نے اہل مدینہ کو یہ کہتے سنا ہے :علی بن الحسین کی وفات تک ہمارا مخفیانہ طور پر صدقہ لینا بند نہیں ہوا ۔(۲)

مورخین سے روایت ہے کہ اہل مدینہ کی ایک جماعت کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کی زندگی کا خرچ کہاں سے آرہا ہے جب امام زین العابدین کا انتقال ہوگیا تو جو کچھ ان کو رات میں دیا جاتا تھا وہ آنابند ہو گیا ۔(۳)

امام ہبہ یا صلۂ رحم کرتے وقت خود کو بہت زیادہ مخفی رکھتے اور جب آپ کسی کو کو ئی چیز عطا فرماتے تو اپنا چہرہ چھپالیتے تاکہ کو ئی آپ کو پہچان نہ سکے ۔(۴)

ذہبی کا کہنا ہے :آپ مخفیانہ طور پر بہت زیادہ صدقہ دیتے تھے ۔(۵)

امام فقیروں میں تقسیم کرنے والے کھانے کو ایک بوری میں رکھ کر اپنی پیٹھ پر رکھتے جس کے نشانات آپ کی پیٹھ پر مو جود تھے

یعقوبی سے روایت ہے کہ جب امام کو غسل دیا گیا توآپ کے کندھے پر اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے تھے جب آپ کے گھروالوں سے سوال کیا گیا کہ یہ کیسے گھٹے ہیں تو انھوں نے جواب دیا: امام رات میں اپنے کاندھے پر کھانا رکھ کر فقیروں کے گھر تک جاتے اور ان کو کھانا دیتے تھے ۔(۶)

____________________

۱۔بحارالانوار، جلد ۴۶،صفحہ ۱۰۰۔

۲۔صفوة الصفوہ ،جلد ۲ ،صفحہ ۵۴۔الاتحاف بحب الاشراف، صفحہ ۴۹۔

۳۔الاغانی، جلد ۱۵،صفحہ ۳۲۶۔

۴۔بحارالانوار ،جلد ۴۶،صفحہ ۶۲۔

۵۔بحارالانوار، جلد ۴۶،صفحہ ۶۲۔

۶۔تاریخ یعقوبی ،جلد ۳،صفحہ ۴۵۔


بہر حال مخفیانہ طور پر صدقے دینا آپ کے سب سے عظیم احسانات میں سے تھا اوراللہ کے نزدیک ان سب کا اجرو ثواب بھی زیادہ تھا ۔

شجاعت

آپ کے ذاتی صفات میں سے ایک شجاعت ہے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ بہا در تھے ،جو آدم کے صلب سے خلق ہونے والوں میں سب سے بہادر و شجاع ،امام حسین ،کے فرزند ارجمند تھے آپ جیسی بہادری شاذ و نادرتھی جب آپ کو اسیر کرکے سرکش عبید اللہ بن مرجانہ کے پاس لے جایا گیااور اس نے تسلی و تشفی دینے والے کلمات کہے تو امام نے اس کا ایسے شعلہ ور کلمات میں جواب دیا جواس ملعون کیلئے تلواروں اور کوڑوں سے بھی کہیں زیادہ سخت تھا ،امام اس کی حکومت اور جبروت بالکل سے مرعوب نہیں ہوئے ،ابن مرجانہ غصہ سے بپھر گیا،اس کی رگیں پھول گئیںتو اس نے امام کو قتل کرنے کا حکم دیدیا ، امام نے بالکل اس کی پروا نہیں کی اور کو ئی نالہ و آہ نہیں کیا اور اس سے فرمایا :''القتل لناعادة، وکرامتنا من الشھادة ُ۔۔۔''۔

اس کے بعد ابن مرجانہ نے آپ کو اسیری کی حالت میں یزید بن معاویہ کے پاس بھیجاحالانکہ آپ کے ساتھ بزرگان وحی اور مخدرات عصمت و طہارت و رسالت بھی تھیں،اما م نے اس سے کہا کہ مجھے خطبہ دینے کا موقع دے تاکہ میں مسلمانوں کی اصلاح کیلئے کچھ باتیں بیان کروں، یزید نے آپ کی بات قبول نہیں کی تو اہل شام نے اس سے اصرار کرتے ہوئے کہا :مایحسن ھذا الغلام ؟ ''یہ جوان کیا کرپائے گا؟ ''اس نے جواب دیا :یہ اہل بیت میں سے ہیں جن کو اس طرح علم بھرایا گیا ہے جس طرح چڑیا اپنے بچہ کو دانا بھراتی ہے۔ وہ اپنی بات پر مصر رہے تو یزید نے امام کو اجازت دیدی، امام نے ایسا خطبہ دیا جس سے آنکھیں رونے لگیں اور دل منقلب ہو کر رہ گئے اور یزید کا و ہ راستہ تباہ و برباد ہو گیا جس پروہ گا مزن رہنا چا ہتا تھا ،اس کے پاس اس رسوا ئی اورذلت سے بچنے کیلئے اذان کے علاوہ کو ئی اورچا رہ ٔ کارباقی نہیں رہ گیا تھا ،مؤذن نے اذان دی تو آپ نے خطبہ روک دیا، اس سے پہلے ایسا فصیح و بلیغ خطبہ سننے کو نہیں ملاتھا ، آپ نے اہل شام کو رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نزدیک اپنے مقا م و منزلت کا تعارف کرایا جس کا اہل شام کو علم نہیں تھا ،اور ان سے حکومت کی مخفی رکھی ہو ئی چیز کا ازالہ کیا حالانکہ حکومت نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ اہل بیت نے حکومت کے خلاف خروج کیا ،اس کی اطاعت نہیں کی اور ان میں تفرقہ ڈالاہے،اس سرکش نے اپنے خلاف عام طور پرفتنہ و فساد اور انقلاب بر پا ہوجانے کے خوف سے امام اور ان کے ساتھ اہل بیت عصمت و طہارت کو شام سے مدینہ بھیجنے میں بہت جلدی سے کام لیا۔


امام مدینہ میں

جب امام یثرب میں مقیم ہوگئے اور آ پ نے اموی حکومت کے ذریعہ شریعت اسلام کے محو ہونے ، احکام دین کا کو ئی اہتمام نہ کرنے ،دور جا ہلیت کو دوبارہ زندہ کرنے اورلوگوں کو کتاب خدا سے منصرف کرتے دیکھا تو اسلامی تعلیمات کو زندہ کرنے کے لئے بنفس نفیس اٹھے اور آ پ نے ایک حوزئہ علمیہ کی بنیاد ڈالی جس میں وہ لوگ شامل تھے جن کو آپ نے خرید کر آزاد کیا تھا ،آپ نے ان کو اسلامی فقہ ، آداب شریعت وغیرہ کا درس دینا شروع کیاآپ کے اردگرد علماء جمع ہوتے جو احکام کے متعلق فتوے اور وہاں بیان کئے جانے والے غرر حکم اور آداب کو لکھ کر ہی آپ سے جدا ہوتے تھے، شایان ذکر بات یہ ہے کہ اس زمانہ کے بڑے بڑے فقہا آپ کے مدرسہ کے ہی تعلیم یافتہ تھے ،اور ہم نے ان کی سوانح حیات اپنی کتاب ''حیاةالامام زین العابدین ''میں بیان کی ہے ۔

امام زین العابدین علیہ السلام علم ،فکر اور اخلاق کے عظیم سرمایہ کے مالک تھے جس کی اہمیت آپ کی درسگاہ اور حوزئہ علمیہ سے کم نہیں تھی اور وہ دولت آپ کی وہ دعائیں ہیں جن کو صحیفہ ٔ سجادیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ،علماء نے اس کو کبھی زبور آل محمد کا نام دیا تو کبھی انجیل آل محمد کے نام سے یاد کیا اور اس کو اہمیت کے اعتبار سے قرآن کر یم اور نہج البلاغہ کے بعد شمار کیا ،یہ در حقیقت اسلامی حیات کی تکمیل، ادب اور اسلامی فکر کا ذخیرہ ہے ۔

اس نے علمی جگہوں کوپُر کیا علماء نے اس کا درس دینا شروع کیا ،اس کی شرحیں لکھیں،یہاں تک کہ اس صحیفہ سجادیہ کی پینسٹھ سے زیادہ شرحیں لکھی گئی ہیں۔(۱)

جیسا کہ اس کتاب کاانگریزی ،فرانسیسی اور جرمنی زبان میں بھی ترجمہ کیا گیا ہے اور مغربی علماء نے اس میں تربیت کے اصول ،بلند و بالا اخلاق ،سلوک کے قواعد و ضوابط وغیرہ جیسے فکر انسانی کے خزانے پائے ہیں ۔

____________________

۱۔الذریعہ فی تصانیف الشیعہ، جلد ۱۵،صفحہ ۱۸۔


آپ کی عبادت

مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت گذاراورسب سے زیادہ اللہ کی اطاعت کر تے تھے ،آپ کی عظیم عبادت و انابت کے مانند کو ئی

نہیں تھا ،متقین اور صا لحین آپ کی عبادت کی وجہ سے متعجب تھے ،تاریخ اسلام میں صرف آپ ہی کی وہ واحد شخصیت ہے جس کو زین العابدین اور سید الساجدین کا لقب دیا گیا ۔

آپ کی عبادت کسی کی تقلید کے طور پر نہیں تھی بلکہ اس کی وجہ اللہ پر عمیق ایمان سے تھی ، جیسا کہ آپ نے اس کی معرفت کے سلسلہ میں فرمایا ہے ،آپ نے نہ جنت کے لالچ اور نہ دوزخ کے خوف سے خداکی عبادت کی ہے بلکہ آپ نے خدا کو عبادت کے لائق سمجھا تو اس کی عبادت کی ، آپ کی شان وہی ہے جوآپ کے دادا امیرالمو منین سید العارفین اور امام المتقین کی شان تھی جنھوں نے آزاد لوگوں کی طرح اللہ کی عبادت کی ،جس کی اقتدا آپ کے پوتے امام زین العابدین علیہ السلام نے کی ہے آپ اپنی عبادت میں عظیم اخلاص کا مظاہرہ فرماتے تھے جیساکہ آپ کا ہی فرمان ہے :

''اِنِّيْ اَکْرَهُ اَنْ اَعْبُدَاللّٰهَ وَلَاغَرَضَ لِإْ اِلَّاثَوَابُهُ،فَاَکُوْنَ کَالْعَبْدِ الطَّامِعِ،اِنْ طَمِعَ عَمِلَ،وَاِلَّالَم یَعْمَلْ،وَاَکْرَهُ اَنْ اَعْبُدَهُ لِخَوْفِ عَذَابِهِ،فَاَکُوْنَ کَالْعَبْدِ السُّوْئِ اِنْ لَمْ یَخَفْ لَمْ یَعْمَلْ'' ۔

''میں اللہ کی اس عبادت کوپسند نہیںکرتا جس میں ثواب کے علاوہ کوئی اور غرض ہو ،اگر میں ایسے عبادت کروں گا تو لالچی بندہ ہوںگا ،اگر مجھے لالچ ہوگا تو عمل انجام دوں گا ورنہ انجام نہیں دوںگا،اور میں اس بات سے بھی کراہت کرتاہوں کہ میں اللہ کے عذاب کے ڈر سے اس کی عبادت کروں کیونکہ اگر میں اس کے عذاب کے خوف سے اس کی عبادت کروں تو میں برے بندے کی طرح ہوجائوں گا کیونکہ اگرڈر نہ ہوتا تو اس کی عبادت نہ کرتا''۔


آپ کے پاس بعض بیٹھنے والوں نے سوال کیا :آپ اللہ کی عبادت کیوں کر تے ہیں ؟

آپ نے اپنے خالص ایمان کے ذریعہ جواب میں فرمایا:''اَعْبُدُهُ لِمَاهُوَاَهْلُهُ بِاَیَادِیْهِ وَاِنْعَامِهِ '' ۔(۱)

اس میں کو ئی شک و شبہ نہیں ہے کہ آپ معرفت خدا کی بنا پر اس کی عبادت کر تے تھے ،نہ ہی آپ کو اس کا کو ئی لالچ تھا اور نہ ہی کسی قسم کا کو ئی خوف تھا ،آپ میں یہ حالت خدا پر عمیق ایمان کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی ،جیسا کہ عبادت کی اقسام کے متعلق آپ نے فرمایا ہے :''اِنَّ قَوْماًعَبَدُوْااللّٰهَ عَزّوَجَلَّ رَهْبَةً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الْعَبِیْدِ وَآخَرِیْنَ عَبَدُوْارَغْبَةً فَتِلْکَ عِبَادَةُ التُّجَّاروَقَوْماعَبَدُوْااللّٰهَ شُکْراً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الاحرارِ'' ۔(۲)

''جو لوگ کسی چیز (جنت)کی خواہش میں اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کی عبادت تاجروں کی عبادت ہوتی ہے اور جو لوگ اللہ کی کسی چیز (جہنم)کے خوف سے عبادت کرتے ہیں ان کی عبادت غلاموں کی عبادت ہے اور جو لوگ شکر کے عنوان سے اللہ کی عبادت کرتے ہیںوہ آزاد لوگوںکی عبادت ہے اور یہی سب سے افضل عبادت ہے ''۔

یہ عبادت اور اطاعت کی قسمیں ہیں جو میزان کے اعتبار کے سب سے زیادہ بھاری ہیں،ان میں سے خداوند عالم آزاد لوگوں کی عبادت پسند کر تا ہے چونکہ اس میں منعم عظیم کے شکر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے نہ اس میں ثواب کا لالچ ہے اور نہ ہی اس کے عذاب کا خوف ہے ۔

امام علیہ السلام نے ایک دو سری حدیث میں اسی عبادت احرار کی تاکید فرما ئی ہے :

''عِبَادَةُ الاحرارِ لَاتَکُوْنُ اِلَّاشُکْراًلِلّٰهِ،لَاخَوْفاًوَلَارَغْبَةً '' ۔(۳)

''احرار کی عبادت صرف اللہ کے شکر کیلئے ہو تی ہے اس میں نہ کو ئی خوف ہوتا ہے اور نہ لالچ ''۔

امام کے دل اور عواطف اللہ سے محبت سے مملو تھے یہ آپ کی فطرت میںبسی ہوئی تھی اور راویوں کا کہنا ہے :آپ ہر وقت اللہ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں مشغول رہتے تھے ،آپ کی ایک کنیزسے آپ کی عبادت کے متعلق سوال کیاگیا تواس نے سوال کیا :اُطْنِبُ، اَو ْأَخْتَصِر ؟ بل اختصری

____________________

۱۔تفسیر العسکری صفحہ ۱۳۲۔

۲۔صفوة الصفوة ،جلد ۲ ،صفحہ ۵۳۔شذرات الذھب ،جلد۱،صفحہ ۱۰۵۔الحلیة ،جلد ۳،صفحہ ۱۳۴۔البدایہ والنھایة ،جلد ۹، صفحہ ۱۰۵۔ دررالابکار جلد ۲،صفحہ ۱۳۹۔ ۳۔الکواکب الدریہ ،جلد ۲،صفحہ ۱۳۹۔


''تفصیل سے بیان کروں یا مختصر طور۔لوگوں نے کہا مختصر ۔تو اس نے بیان کرنا شروع کیا''

آپ دن میں کھانا نہیں کھاتے تھے اور رات میں ہر گز آپ کیلئے بستر نہیں بچھایاجاتا تھا۔۔۔۔(۱)

امام پوری زندگی دن میں روزہ رکھتے اور رات میں نمازیں پڑھتے تھے ،کبھی آپ نماز میں مشغول رہتے اورکبھی مخفیانہ طور پر صدقہ دینے میں مشغول رہتے ۔۔۔

یہ بات زور دے کر کہی جا سکتی ہے کہ مسلمین اور عابدوں کی تاریخ میں کو ئی بھی امام جیسا بااخلاص اور اللہ کا اطاعت گزار بندہ نہیں مل سکتا ہے ۔ہم آپ کی عبادات کے سلسلہ میں کچھ چیزیں پیش کر رہے ہیں: آپ کا وضو

بیشک وضو نور ہے اور گناہوں سے طہارت اور نماز کا پہلا مقدمہ ہے ،امام ہمیشہ با طہارت رہتے ، راویوں نے آپ کے وضو میں اللہ کے لئے خشوع کے متعلق کہا ہے :جب امام وضوکا ارادہ فرماتے تو آپ کا رنگ زرد ہو جاتاتھا آپ کے اہل و عیال نے اس کے متعلق سوال کیا : وضو کے وقت آپ کی یہ حالت کیوں ہوجاتی ہے ؟ تو آپ نے اللہ سے خوف و خشیت سے ایسا ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوتے یوں جواب دیا:''اَتَدْرُوْنَ بَیْنَ یَدَيْ مَنْ اَقُوْمُ ؟'' ۔(۲) ''کیا تم جانتے ہو کہ میںکس کے سامنے کھڑاہونے کا ارادہ رکھتا ہوں ''۔

آپ وضو کا اتنا اہتمام فرماتے کہ کسی سے کو ئی مدد نہیں لیتے تھے آپ خود طہارت کیلئے پانی لاتے اور اس کو سونے سے پہلے ڈھانک کر رکھتے ،جب رات آجا تی تو آپ مسواک کرتے اس کے بعد وضو کرتے اور وضو سے فارغ ہو جانے کے بعد نماز میں مشغول ہو جاتے تھے ۔(۳)

آپ کی نماز

نماز مو من کی معراج ہے اور متقی کو اللہ سے قریب کر دیتی ہے (جیسا کہ حدیث میں آیاہے)ذاتی

____________________

۱۔الخصال صفحہ ۴۸۸۔

۲۔دررالابکار صفحہ ۷۰۔نہایة الارب جلد ۲۱صفحہ ۳۲۶۔سیر اعلام النبلاء جلد ۴ صفحہ ۲۳۸۔الاتحاف بحب الاشراف صفحہ ۴۹۔اخبار الدول صفحہ ۱۰۹۔ ۳۔صفوة الصفوة جلد ۲صفحہ ۵۳۔


طور پر امام سب سے زیادہ نماز کو اہمیت دیتے تھے ،نماز کو معراج اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ نماز انسان کو اللہ تک پہنچا تی ہے اور خالق کائنات اور زندگی دینے والے سے متصل کر تی ہے جب آپ نماز شروع کرنے کا ارادہ فرماتے تو آپ کا جسم مبارک کانپ جا تا تھا ،آپ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:''اَتَدْرُوْنَ بَیْنَ یَدَيْ مَن اَقُوْمُ،وَمَنْ أُنَاجْ؟'' ۔(۱) ''کیا تم جانتے ہو کہ میں کس کے سامنے کھڑا ہوں اور کس کو پکار رہا ہوں ''۔

ہم ذیل میں آپ کی نماز اورآپ کے ذریعہ نماز میں خوشبو لگانے کے سلسلہ میں کچھ چیزیں بیان کر رہے ہیں :

نماز کے وقت آپ کا خوشبو لگانا

امام جب نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو آپ نے نماز پڑھنے کی جگہ جو خوشبو رکھی تھی اس کو لگاتے جس سے مسک کی خوشبو پھیل جا تی تھی ۔

نماز کے وقت آپ کا لباس

امام جب نماز کا ارادہ فرماتے تو صوف (اون) کا لباس پہنتے ،اور بہت موٹا(۲) لباس پہنتے تھے کیونکہ آپ خالق عظیم کے سامنے خود کو بہت ہی ذلیل و رسوا سمجھتے تھے ۔

نماز کی حالت میں آپ کا خشوع

نماز میں اما م صرف خدا ہی سے لو لگاتے ،عالم ما دیات سے خالی ہوتے ،اپنے اطراف میں کسی چیز کا احساس نہ کرتے ،بلکہ آپ بذات خود اپنے نفس کا بھی احساس نہیں کر تے تھے ،آپ اپنا دل اللہ سے لگا دیتے ،راویوں نے نماز کی حالت میں آپ کی صفت یوںبیان کی ہے :جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا ،آپ کے اعضاء اللہ کے خوف سے کانپ جاتے ،آپ نماز میں اس طرح

____________________

۱۔وسیلة المآل، صفحہ ۲۰۷۔سیر اعلام النبلاء ،جلد ۴صفحہ ۳۸۔صفوة الصفوہ جلد ۲صفحہ ۵۲۔حلیة الاولیائ، جلد ۳،صفحہ ۱۳۲۔العقد الفرید،جلد ۳صفحہ ۱۰۳

۲۔بحارالانوار ،جلد ۴۶ ،صفحہ ۵۸۔


کھڑے ہوتے تھے جیسے ایک ذلیل بندہ بڑے بادشاہ کے سامنے کھڑا ہواور آپ نماز کو آخری نماز سمجھ کر بجالاتے تھے۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے والد بزرگوار کے نماز میں خشوع کے سلسلہ میں یوں فرمایا ہے :''کَانَ عَلِیُّ ابْنُ الْحُسَیْنِ اِذَاقَامَ فِْ الصَّلَاةِ کَاَنَّهُ سَاقُ شَجَرَةٍ لَایَتَحَرَّکُ مِنْهُ شَیْئا اِلَّا مَاحَرَّکَتِ الرِّیْحُ مِنْهُ '' ۔(۱)

''علی بن الحسین نماز میں اس درخت کے تنے کے مانند کھڑے ہوتے جس کو اسی کی ہوا کے علاوہ کو ئی اور چیز ہلا نہیں سکتی ''۔

نماز میں آپ کا خشوع اتنا زیادہ تھا کہ آپ سجدہ میں سر رکھ کر اس وقت تک نہیں اٹھا تے تھے جب تک کہ آپ کوپسینہ نہ آجا ئے ،(۲) یاگویا کہ آپ اپنے آنسؤوں اور گریہ کی وجہ سے پا نی میں ڈوب گئے ہوں۔(۳)

راویوں نے ابو حمزہ ثمالی سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے امام کو نماز کی حالت میں دیکھا ہے کہ آپ کے کندھے سے آپ کی ردا ہٹ گئی تو آپ نے اس کو درست تک نہیں کیاابوحمزہ ثمالی نے جب امام سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا:''وَیْحَکْ،اَتَدْرِْ بَیْنَ یَدَْ مَنْ کُنْتُ؟اِنَّ الْعَبْدَ لَایُقْبَلُ مِنْ صَلَاتِهِ اِلَّامَااَقْبَلَ عَلَیْهِ مِنْهَابِقَلْبِهِ '' ۔(۴)

''تم پر وائے ہو کیا تم جانتے ہو میں کس کے سامنے کھڑا ہوں ؟بندہ کی وہی نماز قبول ہو تی ہے جو دل سے ادا کی جاتی ہے ''۔

آپ نماز میں اللہ سے اس طرح لو لگاتے کہ ایک مرتبہ آپ کے فرزند ارجمند کنویں میں گرگئے تو اہل مدینہ نے شور مچایا کہ اس کو بچائیے امام محراب عبادت میں نماز میں مشغول تھے ، اس کی طرف بالکل متوجہ ہی نہیں ہوئے ،جب نماز تمام ہو گئی تو آپ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

____________________

۱۔وسا ئل الشیعہ، جلد ۴، صفحہ ۶۸۵۔

۲۔تہذیب الاحکام، جلد ۲،صفحہ ۲۸۶۔بحارالانوار ،جلد ۴۶،صفحہ ۷۹۔

۳۔بحارالانوار، جلد ۴۶، صفحہ ۱۰۸۔

۴۔علل الشرائع ،صفحہ ۸۸۔بحار الانوار، جلد ۴۶، صفحہ ۶۱۔وسا ئل الشیعہ ،جلد ۴،صفحہ ۶۸۸۔


''مَاشَعَرْتُ،اِنِّْ کُنْتُ اُنَاجِْ رَبّاً عَظِیْماً'' ۔(۱)

''مجھے احساس تک نہیں ہوا،میں اپنے عظیم پروردگار سے مناجات کر رہا تھا ''

ایک مرتبہ آپ کے گھر میں آگ لگ گئی اور آپ نماز میں مشغو ل تھے اور آپ نے آگ بجھانے میں کو ئی مدد نہیں کی اور لوگوں نے آپ سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا:

''أَلْهَتْنِیْ عَنْهَا النَّارُالْکُبْریٰ '' ۔(۲)

''مجھے اس سے بڑی آگ نے اپنی طرف متوجہ کر رکھا تھا ''۔

عبد الکریم قشیری نے امام کے نماز میںاس تعجب خیز اظہار کی یوں تفسیر کی ہے کہ امام کی یہ حالت اس وجہ سے ہو تی تھی کہ آپ عبادت کے عالم میں جس چیز کی طرف متوجہ ہوتے تھے وہ آپ کودنیا اور ما فیہا سے غافل کر دیتی تھی یہاں تک کہ ثواب یا عذاب الٰہی کے تصور سے خود اپنے نفس پرمترتب ہونے والے حالات کی طرف آپ کا قلب متوجہ نہیں ہوتا تھا۔(۳)

ہزار رکعت نماز

مورخین کا اس بات پر اجماع ہے کہ آپ رات دن میں ایک ہزار رکعت(۴) نماز بجالاتے تھے آپ کے پانچ سو خرمے کے درخت تھے اور آپ ہر درخت کے نیچے دو رکعت(۵) نماز پڑھتے تھے ،آپ کی اتنی زیادہ نمازیں بجالانے کی وجہ سے ہی آپ کے اعضاء سجدہ پر اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے تھے ،جن کو ہر سال کا ٹا جاتا تھا، آپ ان کو ایک تھیلی میں جمع کرتے رہتے اور جب آپ کا انتقال ہو ا تو ان کو آپ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا گیا ۔(۶)

____________________

۱۔اخبار الدول ،صفحہ ۱۱۰۔بحارالانوار، جلد ۴۶،صفحہ ۹۹۔۲۔صفوة الصفوة ،جلد ۲،صفحہ ۵۲۔المنتظم، جلد ۶،صفحہ ۱۴۱۔نھایة الارب، جلد ۲۱، صفحہ ۳۲۵۔سیر اعلام النبلاء ،جلد ۴ ،صفحہ۲۳۸۔۳۔رسالة القشریہ ،جلد ۱صفحہ ۲۱۴۔

۴۔تہذیب التہذیب، جلد ۷، صفحہ ۳۰۶۔نور الابصار ،صفحہ ۱۳۶۔الاتحاف بحب الاشراف ،صفحہ ۴۹۔تذکرة الحفاظ ،جلد ۱، صفحہ ۷۱۔شذرات الذہب ،جلد ۱ ،صفحہ ۱۰۴ ۔الفصول المھمة ،صفحہ ۱۸۸۔اخبار الدول ،صفحہ ۱۱۰۔تاریخ دمشق ،جلد ۳۶، صفحہ ۱۵۱۔الصراط السوی، صفحہ ۱۹۳۔اقامة الحجة ،صفحہ ۱۷۱۔العبر فی خبر من غبر جلد ۱،صفحہ ۱۱۱۔دائرة المعارف (البستانی)،جلد ۹، صفحہ ۳۵۵۔تاریخ یعقوبی جلد ۳ ،صفحہ ۴۵۔المنتظم ،جلد ۶، صفحہ ۱۴۳۔تاریخ الاسلام (الذھبی)۔ الکواکب الدریہ ،جلد ۲، صفحہ ۱۳۱ ۔ البدایہ والنھایہ جلد ۹، صفحہ ۱۰۵۔

۵۔بحارالانوار ،جلد ۴۶، صفحہ ۶۱۔الخصال ،صفحہ ۴۸۷۔۶۔الخصال، صفحہ ۴۸۸۔


مستحب نمازوں کی قضا

آپ نے پوری زند گی میں کو ئی مستحب نماز نہیں چھوڑی،اگردن میں آپ کی کو ئی مستحبنماز چھوٹ جا تی تھی تو آپ رات میں اس کی قضا بجالاتے اور آپ نے اپنی اولاد کو اس کی وصیت کرتے ہوئے یوں فرمایا:''یَابُنََّ لَیْسَ هٰذَاعَلَیْکُمْ بِوَاجِبٍ،وَلکِنْ أُحِبُّ لِمَنْ عَوَّدَ نَفْسَهُ مِنْکُمْ عَادَةً مِنَ الخَیْرِأَنْ یَدُوْمَ عَلَیْهَا'' ۔(۲)

''میرے فرزند یہ تم پر واجب نہیں ہے لیکن میں یہ چاہتاہوںکہ تم اس کو پنی عادت بنالو، یہ اچھی عادت ہے اور ہمیشہ اس پرعمل کرتے رہو''۔

آپ کا زیادہ سجدے کرنا

حدیث کی رو سے انسان اپنے رب سے سجدہ کی حالت میں بہت زیادہ قریب ہو تا ہے اور امام زین العابدین علیہ السلام بہت زیادہ سجدے کرتے خضوع کرتے اور اللہ کے سامنے خود کو بہت زیادہ ذلیل سمجھتے تھے راویوں کا کہنا ہے :ایک مرتبہ آپ صحرا کی طرف تشریف لے گئے ایک شخص نے آپ کو تلاش کیا تو آپ کو ایک سخت پتھر پر سجدہ کر تے ہوئے دیکھا اس نے آپ کوہزار مرتبہ یہ کہتے سنا:

''لَااِلٰهَ اِلَّااللّٰهُ حَقّا ًحَقّاً،لَااِلٰهَ اِلَّا اللّٰه تَعَبُّداً وَرِقّاًلَااِلٰهَ اِلَّااللّٰه اِیْمَاناً وَصِدْقاً'' ۔(۳)

آپ سجدہ شکر میں سو مرتبہ کہتے :''اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ شُکْراً ''اس کے بعد کہتے :''یَاذَالْمَنِّ اَلَّذِیْ لَا یَنْقَطِعُ اَبَداً،وَلَایُحْصِیْهِ غَیْرَهُ عَدَداً،وَیَاذَاالْمَعْرُوْفِ اَلَّذِیْ لَایَنْفَدُ أبَداًْیَاکَرِیْمُ یَاکَرِیْمُ'' اس کے بعد گریہ و زاری کر تے اور اپنی حاجت طلب کرتے ۔(۴)

____________________

۲۔صفوة الصفوة ،جلد ۲، صفحہ ۵۳۔

۳۔ وسائل الشیعہ، جلد ۴، صفحہ ۹۸۱۔

۴۔وسا ئل الشیعہ ،جلد ۴، صفحہ ۹۸۱۔


کثرت تسبیح

آپ ہمیشہ اللہ کے ذکر ،تسبیح اور اس کی حمد میں مشغول رہتے اور ان نورا نی کلمات میں اللہ کی تسبیح کرتے تھے :''سُبْحَانَ مَن اَشْرَقَ نُوْرُهُ کُلَّ ظُلْمَةٍ،سُبْحَانَ مَنْ قَدَّرَبِقُدْرَتِهِ کُلَّ قُدْرَةٍ سُبْحَانَ مَنْ احْتَجَبَ عَنِ الْعِبَادِبِطَرَائِقِ نُفُوْسِهِمْ،فَلَا شَیْ ئَ یَحْجِبُهُ ،سُبْحَانَ اللّٰهِ و َبِحَمْدِهِ'' ۔(۱)

''پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جس کے نور نے ہر تا ریکی کو منور کر دیا ،پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جس نے تمام قدرتوں کی حد محدود کر دی ،پاک و پاکیزہ ہے وہ ذات جو بندوں سے اُ ن کے نفوس کے خیالات میں مخفی ہوا ،اس سے کو ئی چیز مخفی نہیں ہے ،اللہ پاک و پاکیزہ ہے اور وہی حمد کا سزاوار ہے ''۔

____________________

۱۔دعوات قطب راوندی (خطی نسخہ)حکیم لا ئبریری۔


نماز شب کا واجب قرار دینا

امام زین العا بدین علیہ السلام کبھی بھی نماز شب سے غافل نہیں رہے آپ سفر اور حضر ہر جگہ نماز شب بجالاتے تھے یہاں تک کہ آپ اپنے رب حقیقی سے جا ملے ۔

نماز شب کے بعد آپ کی دعا

جب آپ نماز شب سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے جو ائمہ اہل بیت کی تابناک دعا ہے:

''اللَّهم یا ذالملک المتأبد

''اے وہ پروردگار جس کا ملک ہمیشگی کے ساتھ ابدیت رکھنے والا ہے اور جس کی سلطنت بغیر کسی لشکر اور مدد گار کے محفوظ ہے ،زمانوں کے بدلتے رہنے ،برسوں کے بیت جانے ،ایام و ازمنہ کے گذر جانے کے باوجود اس کی عزت باقی رہنے والی ہے تیری سلطنت اس قدر عزیز ہے کہ اس کی عزت کی نہ کو ئی ابتدا ہے اور نہ انتہااور تیرا ملک اس قدر بلند ہے کہ تمام اشیاء اس کی انتہا تک پہنچنے سے پہلے ہی گر جا تی ہیں اور جن کمالات کو تونے اپنی ذات کیلئے مخصوص کیا ہے ان کی ادنیٰ منزل تک بھی تعریف کرنے والوں کی تعریف کی آخری منزل نہیں پہنچ سکتی ہے۔سارے صفات تیری بارگاہ میں گم ہو گئے ہیں اور تمام تعریفیں تیری جناب میں بکھر گئی ہیں اور دقیق ترین تصورات بھی تیری کبریائی کے سامنے حیران رہ گئے ہیں ۔یقیناً تو ایسا ہی ہے تو اپنی اولویت کے اعتبار سے اول ہے اور ایسا ہی ہمیشہ رہنے والا ہے ۔میں تیرا وہ بندہ ہوں جس کے اعمال ضعیف اور جس کی آرزوئیں عظیم ہیں ۔

میرے ہاتھ سے تعلقات کے تمام اسباب نکل گئے ہیں علاوہ اس رشتہ کے جسے تیری رحمت نے قائم کیا ہے اور امیدوں کے تمام رشتے قطع ہو گئے ہیں علاوہ اُس معافی کے رشتہ کے جس کی پناہ میں ،میں زندگی گذار رہا ہوں ،میرے پاس تیری قابل اعتنااطاعت بہت کم ہے اور جن معصیتوں میں،میں زندگی گذار رہا ہوں وہ بہت زیادہ ہیں لیکن یہ طے ہے کہ بندہ کسی قدر بھی بد کردار کیوں نہ ہو جائے تیرے پاس معافی کی تنگیِ دامن نہیں ہے لہٰذا مجھے معاف کر سکتا ہے ''۔

دعا کے یہ جملے خداوند عالم کی عظمت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کر تے ہیں،اور اس کے بعض دا ئمی صفات کا تذکر ہ موجودہے جن کی کو ئی ابتدا اور انتہا نہیں ہے ،وہ محکم و مضبوط سلطان قاہر جو اپنے ملک کی حمایت کے لئے لشکر اور مددگاروں کا محتاج نہیں ،کو ئی ایسی ذات اور کو ئی ایسی صفت نہیں ہے جس سے اس کی تو صیف کی جا سکے ،وہ ہر چیز سے بلند و برتر ہے ۔

امام نے ہمیشہ خدا کی بارگاہ میں اپنے ذلیل ، خضوع اوراس کے بندے ہونے کا اظہار کیا ، آپ نے اپنی تمام آرزووں میں اسی سے لو لگا ئی ،اسی سے پناہ ما نگی ،اسی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا ، اسی سے لو لگا ئی اور اب اسی دعاء کے دوسرے چند جملے ملا حظہ فرما ئیں :


''اللَّهُمَّ وَقَدْ اَشْرَفَ

''خدایا تیرا علم میرے مخفی اعمال پر بھی نگاہ رکھتا ہے اور تیری اطلاع کے سامنے ہر پوشیدہ عمل واضح ہے دقیق ترین چیز بھی تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے اور غیبی اسرار بھی تیرے علم سے دور نہیں ہے ۔

مجھ پر تیرے اس دشمن کا غلبہ ہو گیا ہے جس نے تجھ سے مجھے گمراہ کرنے کی مہلت مانگی تھی تو تو نے دیدی اور مجھے بہکانے کے لئے قیامت تک کا وقت مانگا تو تونے اسے آزاد چھوڑدیااور اب اس نے مجھے گمرا ہی میں ڈال دیاجبکہ میں اپنے مہلک گناہان صغیرہ اور تباہ کن گناہان کبیرہ سے بھاگ کر تیری بارگاہ میں آرہا تھا ۔حالت یہ ہے کہ جب میں نے تیری کو ئی نا فرما نی کی اور برے اعمال کی بنا پرتیری ناراضگی کا حقدار ہو گیا تو اس نے اپنے حیلہ کی باگ موڑ دی اور چل دیااور مجھے کلمہ ٔ کفر میں مبتلا کرکے مجھ سے برائت کا اعلان کردیااور پیٹھ پھیر کر روانہ ہو گیا ۔مجھے تیرے غضب کے صحرا میں اکیلا چھوڑ دیا ،اور تیرے عذاب کے میدان تک ہنکا دیا کہ اب نہ کو ئی شفیع ہے جو سفارش کر سکے اور نہ کو ئی قلعہ ہے جو اپنے اندر چھپا سکے اور نہ کو ئی پناہ گاہ ہے جس کی پناہ لی جا سکے، اب تیرے سامنے وہ شخص کھڑا ہے جو تیری پناہ گاہ کا طلبگار ہے اور اپنے گناہوں کا اقرار کر رہا ہے لہٰذا تیرے فضل میں تنگی نہ ہونے پائے اور تیری بخشش میں کمی نہ آنے پائے ۔میں تیرے اُن بندوں میں نہ ہو جائوں جو توبہ کرکے بھی ناکام ہو جاتے ہیں اور اُن امیدواروں میں نہ شامل ہوجائوںجو مایوس ہوجاتے ہیں ۔میرے گناہوں کو بخش دے کہ تو بہترین بخشنے والا ہے ''۔

امام نے ان چند فقروں میں انسان کی خوا ہشات نفسانی کے سامنے کمزور ہونے کے سلسلہ میں گفتگو کی ہے اور انسان اس شیطان رجیم کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا جس نے انسان کے نفس میںطمع ، حرص اور تکبر وغیرہ جیسی شرارت سے بھرے صفات کو برانگیختہ کرکے ان کے ذریعہ خدمت لینا چا ہی ،اس نے انسان کی لگام اپنے ہاتھ میں پکڑ لی اور اس کے عواطف پر مسلط ہو گیا ،اس کو گناہوں اور ہلاکت کے میدانوں میں مسخر کرنا شروع کر دیا ،اس کو اللہ سے قریب کرنے والے راستوں سے دور کرنا شروع کر دیا ،اور امام نے اس دھوکہ دینے والے خبیث دشمن کے مقابلہ میں پروردگار عالم سے اپنی حمایت طلب فرما ئی ۔ ہم اس دعا کے دوسرے جملوں میں یوں پڑھتے ہیں :


اللَّهُمَّ اِنَّکَ اَ مَرْتَنِیْ فَتَرَکْتُ

''خدایا! تونے جس بات کا حکم دیا اسے میں نے چھوڑ دیا اور جس چیز سے منع کیا اس کا مرتکب ہوگیااور بُرے خیالات نے خطائوں کو سنوار دیاتو میں نے کو تا ہی سے کام لیا ۔میں نہ اپنے دنوں کے لئے روزوں کو گواہ قرار دے رہا ہوں اور نہ راتوں کی شب بیداری کی پناہ لے رہا ہوں اور نہ کو ئی سنت حسنہ اپنے کو زندہ کر نے کی تعریف کر سکتی ہے علاوہ اُن فرائض کے جن کو ضائع کرنے والا ہلاک ہوجاتا ہے ۔میں تو کسی مستحب عمل کو بھی وسیلہ نہیں قرار دے سکتا ہوں جبکہ بہت سے واجبات و فرائض میں غفلت برت چکا ہوںاور تیرے مقرر کئے ہوئے حدود سے تجاوز کر چکا ہوں ۔کچھ حرمتوں کو برباد کیا اور کچھ گناہانِ کبیرہ کا مرتکب ہو گیا لیکن تیری عافیت نے ان کی رسوا ئی سے پردہ پوشی کر لی خدایا یہ اس شخص کی منزل ہے جو اپنے نفس کے بارے میں تجھ سے شرمندہ ہے اور اس سے ناراض ہو کر تجھ سے خوش بھی ہے اور اب تیرے سامنے اُس نفس کے ساتھ آیا ہے جوخاشع ہے اور اس گردن کے ساتھ حاضر ہوا ہے جو خاضع ہے اور اس کمر کے ساتھ جس پر خطائوں کا بوجھ ہے ،اس کی منزل خوف اور امید کے درمیان ہے اور تو اس کی امیدوں کے لئے سب سے اولیٰ اور اس کے خوف و خشیت کے لئے سب سے زیادہ حقدار ہے لہٰذا مجھے وہ شئی عنایت فرمادے جس کا میں امیدوارہوں اور اس سے بچالے جس سے خوف زدہ ہوں اور اپنی رحمت کے انعامات سے نواز دے کہ تو ان سب سے زیادہ کریم ہے جن سے سوال کیا جاتا ہے '' ۔

امام نے ان جملوں میں اہل بیت کے اللہ کے خضوع و خشوع کو پیش کیا ہے اور یہ مشاہدہ کیا کہ سب سے عظیم حسنات(نیکیاں)، رات بھر خدا کی عبادت کرتے رہنا ،دن میں روزہ رکھنا ،تمام نوافل اور مستحبات کا بجالانا ،اسلام کی سنتوں کو زندہ کرنا وغیرہ نیکیوں کی دو سری قسمیں جن کا احصا نہیں کیا جا سکتا ہے ، یہ خدا کے مقابلہ میں بہت کم ہے، اس توبہ کے علاوہ اللہ سے اور کو نسی تو بہ کی جا سکتی ہے؟ اور اس طرح اللہ سے لو لگانے کے مانندکو نسا لو لگانا ہو سکتا ہے ؟حقیقت میں یہ امام دنیاکے متقین اور صالحین میں منفرد حیثیت رکھتے ہیں ۔۔۔ہم اس دعا کے کچھ اور جملے نقل کر تے ہیں :

''اَللَّهُمَّ وَاِذْ سَتَرْتَنِْ

''خدایا !جب تونے اپنی بخشش کے ذریعہ پردہ پوشی کر دی ہے اور اپنے فضل سے اس فنا کے گھر میں ساتھیوں کے سامنے ڈھانپ لیا ہے تو اب دار البقاء میں بھی تمام ملائکہ مقربین اور مر سلین ،معصومین اور شہداء و صالحین کے سامنے رسوا ئی سے بچا لینا ۔


اس پڑوسی کے حضور میں جس سے میں اپنی برائیوں کو چھپایا کرتا تھا اور اس قرابتدار کے سامنے جس سے میں اپنے مخفی معاملات میں شرماتا تھا ۔میں نے اس پردہ پوشی میں کسی پر بھروسہ نہیں کیا لیکن خدایا تیری مغفرت پر بھروسہ کیا ہے اور تو سب سے زیادہ بھروسہ کے قابل اور تمام اُن لوگوں سے زیادہ عطا کرنے والا ہے جن کی رغبت کی جا تی ہے اور اُن سب سے زیادہ مہربان ہے جن سے مہربانی طلب کی جا تی ہے لہٰذا مجھ پر رحم فرما ۔۔۔'' ۔

امام نے ان جملوں میں یہ بیان فر ما یا ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھو اس سے عفو بخشش ،لطف و کرم کی امید رکھو ،اس سے دار آخرت میںخوشنودی اور رضائے الٰہی طلب کرو ،خدا وند عالم نے اپنے گناہگار بندوں کے عیوب کی پردہ پوشی کی ہے جیسا اس سے مطالبہ کیا ہے کہ آخرت کی مصیبتوں سے نجات دے جہاں تمام ملائکہ، مرسلین ،شہداء اور تمام بندگانِ صالح موجود ہوں اور امام نے گناہگار مسلمانوں کو یہ درس دیا کہ وہ اللہ سے خلوص دل کے ساتھ توبہ کریں۔

ہم اسی دعائے شریفہ کے کچھ اور جملوں پر روشنی ڈالتے ہیں :

''اَللَّهُمَّ وَأَنْتَ هَدَرْتَنِى

''اے خدا ! تونے صلب کی ہڈیوں کے تنگ راستوں اور رحم مادر کی تنگ نالیوں سے ایک حقیر نطفہ کی شکل میں گذارا ہے تونے مختلف حجابات سے میری پردہ پوشی کی ہے اور مختلف حالات میں مجھے کروٹیں بدلوائی ہیںیہاں تک کہ جب میری صورت مکمل ہو گئی اور تونے میرے اعضاء و جوارح کو مستحکم بنادیا جس طرح تونے اپنی کتاب میں تو صیف کی ہے کہ نطفہ سے علقہ بنا ،اس کے بعد مضغہ بنا،پھر ہڈیاں پیدا ہوئیں،پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا گیا اور پھر ایک تازہ مخلوق بنا دیا گیااور پھر جب مجھے تیرے رزق کی ضرورت پڑی اور میں تیرے باران کرم سے بے نیاز نہ ہو سکا تو ،تو نے میری بہترین غذا بہترین ماکو لات و مشروبات کو بنا دیا ۔جسے تونے اپنی اس کنیز کے جسم میں دوڑایا جس کے شکم میں مجھے جگہ دی تھی اور مجھے اس کے مرکز رحم میں ودیعت کردیا تھا ۔حالانکہ اگر اس وقت مجھے میری طاقت کے حوالہ کر دیتا اور میری قوت کے سپر دکردیتا تو ہر تدبیر مجھ سے الگ ہو جا تی اور ہر قوت مجھ سے دور بھاگ جا تی تو نے اپنے فضل سے ایک مہربان کرم فرما کی طرح مجھے غذا عنایت کی اور مسلسل ایسا احساس کر تا رہا یہاں تک کہ میں اس منزل تک پہنچ گیا ۔نہ کبھی تیری نیکی سے محروم ہوا اور نہ تیرے بہترین سلوک میں کو ئی تاخیر ہو ئی لیکن پھر بھی میرا بھروسہ مستحکم نہ ہوا اور میں برابر زیادہ مفاد کے لئے مواقع نکالتا رہا ۔شیطان نے بد گما نی اور ضعفِ یقین کی بنا پر میری زمام کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ،لہٰذا میںاس کی بدترین ہمسا ئیگی اور اپنی طرف سے اس کی اطاعت کی فریاد کر رہا ہوں اور اس کے تسلط سے تیری حفاظت کا طلبگار ہوں اور اس بات کی بھی فریاد کر رہا ہوں تو میرے رزق کے راستہ کو آسان کردے ۔


تیرا اس بات پر شکر ہے کہ تونے بلا مانگے ہی عظیم نعمتیں عطا فرما دی ہیںاور پھر اُن احسانات و انعامات پر شکر ادا کرنے کا الہام بھی کر دیا ہے لہٰذا اب محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پررحمت نازل فرمااور میرے رزق کو آسان بنادے اور جو کچھ مقدر کیا ہے اُس پر قانع بنا دے اور میری قسمت کے حصہ پر مجھے راضی کردے اور میری زندگی اور میری جسمانی طاقت کا مصرف اپنی اطاعت کے راستہ کو قرار دیدے کہ تو بہترین رزق دینے والا ہے ۔

یہ جملے خالق عظیم کے وجود پر مؤثق دلیلیں ہیںوہ خالق جس نے انسان کو ذلیل (گندے) پانی سے خلق کیا،تنگ رحم میں رکھا،اس کے بعد وہ یکے بعد دیگرے حالات میں منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ مکمل انسان بن گیااور انسان اللہ کی سب سے عظیم مخلوقات میں ہے جو فکر ، سمع و بصر وغیرہ جیسی عجیب چیزوں سے بنایا گیا ہے جو خالق حکیم کے وجود پر دلالت کر تی ہیں ،امام کی یہ حدیث قرآن کریم کی ان آیات کی تفسیر کر رہی ہے جس میں انسان کی تخلیق کو بیان کیا گیا ہے ،یہ بات شایان ذکر ہے کہ قرآن کریم نے دقیق طور پر جنین کی کیفیت بیان کی ہے اور انسان نے اسی حقیقت سے استفادہ کیا ہے ۔

سید قطب کا کہنا ہے : انسان قرآن کریم کے جنین کے سلسلہ میںان انکشافات کے سامنے حیران ہے وہ دقیق طور پر اس چیز کو نہیں جانتا تھا مگر علم کی پیشرفت و ترقی ہونے کے بعد ،ہڈیوں کے خلیے گوشت کے خلیوں کے علاوہ ہیں ،یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ جنین میں پہلے ہڈیوں کے خلیے پیدا ہو تے ہیں اور گو شت کے خلیوں کا اس وقت مشاہدہ نہیں کیا جا سکتا جب تک ہڈیوں کے خلیے اور جنین کے پورے ہڈیوں کے ڈھانچے کا مشاہدہ نہ کیا جائے یہ وہ حقیقت ہے جس کو قرآنی آیات نے ثابت کیا ہے ۔۔۔(۱)

بہرحال ،امام اپنی ذات پر اللہ کی عظیم نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اس کی بارگاہ میں گڑگڑائے کہ وہ آپ کو شیطان کے مکر و فریب اور اس کے کبرو غرور سے دور رکھے ،چونکہ شیطان انسان کا پہلا دشمن ہے ۔۔ ۔ہم ذیل میں دعا آخری جملے پیش کر رہے ہیں :

''اللَّهُمَّ اِنِّىْ اَعُوْذُبِکَ

''خدایا !میںاس آگ سے تیری پناہ کا طلبگار ہوں جس کو تونے نافرمانوں کے لئے بھڑکایا ہے اور اس کے ذریعہ اپنی رضا سے انحراف کرنے والوں کو تنبیہ کی ہے ۔وہ آگ جس کی روشنی بھی تاریکی ہے اور

____________________

۱۔فی ظلال القرآن، جلد ۱۷،صفحہ ۱۶۔


جس کا معمولی حصہ بھی دردناک ہے اور جس کا دور والا حصہ بھی قریب ہے اور جس کا ایک حصہ دوسرے کو کھا رہا ہے اور اس پر حملہ آور ہورہا ہے ۔وہ آگ ہڈیوں کو ریزہ ریزہ بنا دیتی ہے اور اپنے باشندوں کوکھولتا پانی پلاتی ہے فریادی کو چھوڑتی نہیں ہے اور طالب رحم پر مہربانی نہیں کر تی ہے کو ئی فروتنی کا اظہار بھی کرے اور اس کے سپرد بھی ہو جائے تو اس کے حق میں کو ئی تخفیف نہیں کر تی ہے اپنے باشندوں سے دردناک عذاب اور سخت وبال کے گرم ترین مصائب کے ساتھ ملاقات کر تی ہے ۔اور خدایا میں تیری پناہ چا ہتا ہوں جہنم کے اُن بچھوؤں سے جو منھ پھیلائے ہوئے ہیں اور ان سانپوں سے جو اپنے دانت گا ڑرہے ہوں گے اور اس کھولتے ہوئے پانی سے جو اپنے باشندوں کے دل اور کلیجہ کو کاٹ ڈالے گا اور دل کو کھینچ کر پھینک دے گا ۔ اور تیری ہدایت کا طالب ہوں اُن امور کے لئے جو اُس آگ سے دور بنا دیں اور اسے پیچھے ہٹا دیں ۔

خدایا محمد وآل محمد پر رحمت نازل فرمااور مجھے اپنے فضل و رحمت سے اس کی اجرت دے ۔اپنی مہربانیوں سے میری لغزشوں کو معاف کردے اور اے بہترین پناہ دینے والے مجھے لا وارث نہ چھوڑدیناکہ تو ہر برائی سے بچا نے والا اور ہر نیکی کا عطا کر نے والا ہے اور جو چاہے وہ کر سکتا ہے ۔تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔

خدایا محمد و آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما اس وقت جب نیک کرداروں کا ذکر کیا جائے اور محمد وآل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر رحمت نازل فرما جب تک روز و شب کی آمد و رفت برقرار ہے ۔

ایسی رحمت جس کا سلسلہ منقطع نہ ہو اور اس کے اعداد کا شمار نہ ہو سکے ۔وہ رحمت جو فضا کو معمور کردے اور آسمان و زمین کی وسعتوں کو بھر دے ۔اللہ اُن پر رحمت نازل کرے یہاں تک کہ وہ راضی ہوجائیں اور اس رضا کے بعد بھی ایسی رحمت نازل کرے جس کی کو ئی حد اور انتہا نہ ہو ۔اے بہترین رحم کرنے والے ''۔

ان فقروں میں اس جہنم کی آگ کی توصیف بیان کی گئی ہے جس کو اللہ نے اپنے بدکار ، ظالم اور سرکش بندوں کے لئے خلق کیا ہے وہ بندے جنھوں نے ظلم و جور اور فساد کو زمین پر پھیلایا ان کو جہنم کی آگ میں طرح طرح کا عذاب دیا جائیگا جس کے خوف و وحشت کی ہم توصیف نہیں کرسکتے ہیںجس سے ہم اللہ کی پناہ چا ہتے ہیں ۔


اس مقام پر یہ دعائے شریفہ ختم ہو جا تی ہے جس کو امام نماز شب کے بعد پڑھا کر تے تھے ،یہ اہل بیت کی روشن و تا بناک دعائوں میں سے ہے ۔

اما م کے کثرت عبادت کی وجہ سے آپ کے اعزاء پر آپ کی وفات ہوجانے کا خوف ہوگیا تو رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جلیل القدرصحابی جابر بن عبداللہ انصاری کے پاس آکر یوں گو یا ہو ئے :اے رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے صحابی بیشک ہمارے تم پر حقوق ہیں اور ہمارا تم ایک حق یہ ہے کہ جب تم ہم میں سے کسی ایک کوخود کو ہلاک کر نے کی کو شش کرتا دیکھو تو اس کو اللہ کی یاد دلائو ،اس موقع پر اپنی جان کو باقی رکھنے کی دعوت دو ، اپنے والد بزرگوار کی یادگار علی بن الحسین ہیں جن کی عبادت کر نے کی وجہ سے ناک کی ہڈی چھد گئی ہے اور ان کے اعضاء سجدہ پر گھٹے پڑگئے ہیں ۔

جناب جابر ،امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے تو کیا دیکھا کہ آپ محراب میں عبادت ،اللہ کی اطاعت میں مشغول ہیں ،جب امام نے جابر کو دیکھا تو ان کا استقبال کیا ،اپنے پہلو میں بٹھایااور ان کے حالات دریافت کئے، اس وقت جابر بڑے ہی ادب و احترام سے یوں گویا ہوئے :اے فرزند رسول ! آپ کو علم ہے کہ پروردگار عالم نے جنت کو آپ کے اور آپ سے محبت کر نے والے کے لئے خلق کیا ہے اور دوزخ کو آپ سے بغض اور دشمنی رکھنے والے کے لئے خلق فرمایا ہے تو پھر آپ خود کو اتنی مشقتوں میں کیوں ڈال رہے ہیں ؟

امام نے ان کو بڑی ہی نرمی و محبت سے جواب دیا :اے صحا بی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،بیشک میرے جد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کر دئے گئے تھے مگر پھر بھی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے کو شش کر نا نہیں چھوڑا اور یوں عبادت کی (میرے ماں باپ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر فدا ہوں) کہ آپ کی پنڈلیوں اور قدموں پر ورم آگیا جب آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کہا گیا : آپ اتنی عبادت کیوںکرتے ہیں جبکہ اللہ نے آپ کے گذشتہ اور آئندہ کے تمام گناہ بخش دئے ہیں ؟رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ بنوں''۔

جب جابر نے دیکھا کہ گفتگو کے ذریعہ امام کو کثرت عبادت سے نہیںروکاجاسکتا تو یہ کہتے ہوئے آپ کو آرام کر نے کی خاطر خدا حافظ کہا :فرزند رسول ،آپ اپنے نفس کی حفاظت کیجئے کیونکہ آپ اس خاندان سے ہیں جن سے بلا ئیں دور کردی گئی ہیںاور جن کے ذریعہ آسمان سے بارش ہوتی ہے ۔


امام نے جابرکو بڑی ہی خفی اور غمگین آواز میں جواب دیا :میں اپنے آباء و اجداد کے طریقے کو نہیں چھوڑ سکتا اور ان سے ملاقات کر نے تک ان کی پیروی کر تا رہونگا ''۔

جابر ہکّے بکے رہ گئے اور اپنے اطراف میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے یوں مخاطب ہوئے :ہم نے یوسف بن یعقوب کے علاوہ انبیاء کی اولاد میں علی بن الحسین جیسا نہیں دیکھا،خدا کی قسم امام حسین کی ذریت یوسف بن یعقوب کی ذریت سے افضل ہے، بیشک ان ہی کی ایک فر د کے ذریعہ عدل و انصاف سے دنیااسی طرح بھرجائے گی جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی ۔(۱)

اللہ بزرگ و برتر ہے ،بیشک انبیاء علیہم السلام کی اولاد میں علی بن الحسین جیسا ان کے ورع، تقویٰ اور تمام بلند و بالا اخلاق و کر دار میں کو ئی نہیں ہے ۔جیسا کہ جابر نے کہا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی ذریت میں آپ کا ایک فرزند ہوگا جو ظلم و جور سے بھری ہو ئی دنیا کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہو گی ،اور وہ عظیم مصلح امام مہدی آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں جن کی نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بشارت دی ہے ۔ آپ کی بعض اولاد نے آپ کی کثرت عبادت کو دیکھ کر بڑی ہی نر می کے ساتھ آپ سے عرض کیا : اے والد بزرگوار آپ اتنی جا نفشانی کیوں کر رہے ہیں؟یعنی :اتنی زیادہ نمازیں کیوں پڑھ رہے ہیں ۔۔۔؟

امام نے بڑی ہی نرمی کے ساتھ جواب میں فرمایا:میں اللہ کی نظر میں محبوب ہونا چا ہتا ہوں۔۔۔(۲)

عبدا لملک بن مروان نے امام کی کثرت عبادت کی وجہ سے مہربانی کا اظہار کیااور جب آپ مسلمانوں کی ایک جماعت کی سفارش کے لئے اس کے پاس گئے اور جب عبدالملک نے امام کی دونوں آنکھوں کے درمیان پیشانی پر سجدوں کی وجہ سے گھٹوں کے نشانات دیکھے تو آپ سے یوں کہنے لگا :یہ ظاہر ہوگیا آپ بہت ہی جد و جہد کرنے والے ہیں ،جبکہ آپ پر خدا کے پہلے سے ہی بہت سے احسانات ہیں آپ بضعة رسول ہیں ،آپ نسب اور سبب دونوں ہی اعتبار سے اُن سے بہت قریب ہیںخدا نے آپ کو فضل ،علم ،دین اور تقویٰ عنایت کیا ہے جو آپ سے پہلے آپ کے آباء و اجداد کے علاو ہ کسی اور کو نہیں دیا۔

امام اس کے بیان کو سنتے رہے جب وہ اپنی بات تمام کر چکا تو اس سے فرمایا :''جو کچھ تو نے اللہ کے فضل و کرم اس کی تا ئید و توفیق کا تذکرہ کیا ہے، تو کہاں اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کیا جا سکتا ہے ؟

____________________

۱۔ حیاة الامام علی بن الحسین ،جلد ۱ ،صفحہ ۲۰۰۔۲۰۱۔

۲۔بحا رالانوار، جلد ۴۶،صفحہ ۹۱۔


حالانکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نماز میں اتنا کھڑے رہتے تھے کہ آ پصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے پیروں پر ورم آجاتاتھا ، روزہ میں اتنی پیاس کا احساس کرتے تھے کہ آپ کا دہن اقدس سوکھ جاتاتھا۔آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا گیا:یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کیا اللہ نے آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گذشتہ اور آئندہ کے گناہ معاف نہیں کردئے ہیں ؟آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں؟تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے ہمارا امتحان لیا،وہی ابتدا اور آخرت میں حمدوستائش کا حقدار ہے ،خدا کی قسم اگر میرے اعضا و جوارح قطع کردئے جا ئیں اورمیرے آنسومیرے سینے پر بہہ جائیں تو بھی میںخدا وند عالم کی تمام نعمتوں میں سے ایک نعمت کے دسویں حصہ کا شکریہ ادا نہیں کرسکتاوہ نعمتیں جن کو شمار کرنے والے شمار نہیں کر سکتے اور تمام تعریف و تمجید کرنے والے اس کی ایک نعمت تک بھی نہیں پہنچ سکتے ،نہیں ،خدا کی قسم نہیں مگر یہ کہ خدا وند عالم مجھے اس حال میں دیکھے کہ مجھے کو ئی چیز رات دن میں اس کے شکر اور ذکر سے نہ روک سکے،نہ ظاہری طور پر اور نہ ہی مخفی طورپر،اور مجھ پر میرے اہل و عیال اور تمام خاص و عام کے حقوق ہیںاور ان کو ادا کرنے کیلئے میں اپنی طاقت و وسعت کے مطابق ہی کو شش کرتاہوں اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھاتاہوں ،اور میرا دل اللہ سے لولگائے گااور پھر میں اپنے دل اور نظر کو اس وقت تک نہیں ہٹا ئوں گا جب تک کہ خدا میرے نفس کا فیصلہ نہ کردے وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے ''۔

امام نے بہت زیادہ گریہ و بکا کیا جس کا عبدالملک سر کش پربہت زیادہ اثر ہوااور وہ یوں کہنے لگا : کتنا فرق ہے ان دونوں میں ،جس نے آخرت طلب کی اور اس کے لئے جدوجہد کی ،اور جس نے دنیا طلب کی اور وہ کیسے ہاتھ لگے گی اور اس کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ہے ۔۔۔

عبدالملک امام کی گفتگو سن کر شرمندہ ہوگیااور مسلمانوں کے سلسلہ میں اُن کی سفارش کو قبول کرلیا۔(۱)

انبیاء کی روحا نیت کے لئے امام کی عبادت ایک مثال تھی جواللہ سے آپ کی توبہ ،اس کا تقویٰ اورآپ کے اللہ سے و ابستہ ہونے کی حکایت کرتی ہے ،آپ خدا سے محبت کر تے اور اس کی عبادت میں

اخلاص کے سب سے عظیم درجہ پر فا ئز تھے۔

____________________

۱۔حیاة الامام زین العابدین ،جلد ۱،صفحہ ۲۰۱۔۲۰۲۔


اپنے غلاموں کے ساتھ

یہ واضح سی بات ہے کہ امام اپنے غلاموں کو آزاد کر دیتے تھے ،وہ آپ کے زیر سایہ پرورش پاتے ،نعمتیں حا صل کرتے اور آپ ان سے اپنے بیٹوں کا سا معاملہ کر تے ، ان کی برائیوں سے چشم پوشی کرتے ،اور اپنی تمام کنیزوں کو ماہ رمضان میں آزاد کر دیتے تھے ،راویوں نے نقل کیا ہے کہ جب ان کی کسی کنیز یا غلام سے کو ئی گناہ سرزد ہو جاتا تھا تو آپ اُن کو کو ئی سزا نہیں دیتے تھے لیکن جس دن سے کو ئی گناہ سرزد ہوتا اس کو لکھ لیتے تھے جب رمضا ن کا آخری دن ہوتا تو ان سب کو جمع کر تے اور جس دفتر میں ان کے گناہ لکھے ہوئے ہوتے اس کو لا تے اور ان کے سامنے بیان کر تے اور فرماتے : تم اپنی بلند آواز میں کہو : اے علی بن الحسین بیشک آپ کا پروردگار آپ کے تمام اعمال کا اسی طرح احصاء فرماتا ہے جس طرح آپ نے ہمارے اعمال شمار فر مائے ہیں،ہر انسان کے اعمال اس کے سامنے اسی طرح حاضر و مو جود ہیں جس طرح ہمارے اعمال آپ کی نگاہوں کے سامنے مو جود ہیں،ہم کو اسی طرح معاف کر دیجئے جس طرح آپ خدائے مقتدر سے عفو کی امید رکھتے ہیں ،جس طرح آپ خدا سے اپنی بخشش کی امید رکھتے ہیں ،ہم کو معاف کر دیجئے کیونکہ آپ معاف کرنے والے ہیں ،اور خدا آپ کو بخش دے گا ،پرودگار کسی پر ظلم نہیں کرتا،آپ کی کتاب ہمارے حق میں گوا ہی دے رہی ہے کوئی بھی چھوٹا بڑا گناہ ایسا نہیں ہے جس کو شمار نہ کرلیا گیا ہو ،یاد کرو اے علی بن الحسین! آپ اپنے عادل و حکیم پروردگار کے سامنے ذلیل و خاضع ہیں جو رائی کے دانہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرتااور قیامت کا دن آنے والا ہے ،خدا ہی ہمارے لئے کافی اور گواہ ہے ،پس ہم کو معاف فرمادیجئے اور اپنے پروردگار سے ہماری بخشش کیلئے دعا فرما دیجئے کیونکہ خود اسی کا فرمان ہے: ( وَلْیَعْفُوا وَلْیَصْفَحُوا َلاَتُحِبُّونَ َنْ یَغْفِرَ اﷲُ لَکُمْ ) ۔(۱)

''ہر ایک کو معاف اور درگذر کرنا چاہئے کیا تم یہ نہیں چاہتے ہو کہ خدا تمہارے گناہوں کو بخش دے'' ۔

____________________

۱۔سورئہ نور، آیت ۲۲۔


آپ نے ان کو ان کلمات کی تلقین فر ما ئی جو آپ کے اللہ سے لو لگانے اور اس کی پناہ گاہ چاہنے کی ایک مثال ہے آپ کھڑے ہوکر اللہ کے خوف و خشیت کرتے ہوئے یوں کہتے :پروردگار تو نے ہم کو یہ حکم دیا ہے کہ ہم اس شخص کو معاف کردیں جس نے ہم پر ظلم کیاحالانکہ ہم نے خود اپنے نفسوں پر ظلم کیا ہے ،ہم نے تیرے حکم کے مطابق جس نے ہم پر ظلم کیا تھا اس کو معاف کردیا ،پس تو ہم کو معاف کردے بیشک تو معاف کرنے کے لئے ہم سے اور مامورین سے کہیں زیادہ سزاوار ہے ،اور تونے ہم کو یہ حکم دیا ہے کہ ہم کسی سائل کو اپنے دروازے سے رد نہ کریں حالانکہ تو نے سائل و مسکین کو بھیجا ہے ، ہم تیری بارگاہ میں جھکتے ہیںاور تجھ سے تیری معرفت اور عطا کے خواستگار ہیں ،تو اس کے ذریعہ ہم پر احسان کر اور ہم کو نا امید نہ کر ،تو اس سلسلہ میں ہم سے اور ماموروں سے اولیٰ ہے ،پروردگار تو کریم و صاحب ِ عزت ہے پس جب میں تجھ سے سوال کروں تو ،تُو مجھ پر اپنے جود و کرم کی بارش کر ،تونے امر بالمعروف کیا پس تو مجھے امر بالمعروف کرنے والوں میں قرار دے ''۔

پھر آپ ان کے سامنے ہوتے حالانکہ آپ کا چہرہ آنسووں سے تر ہوتااور آپ بہت ہی نرمی کے ساتھ فرماتے : ''میںنے تم کو معاف کر دیا ۔کیا تم مجھے معاف کر دو گے؟اورجو کچھ تم نے میرے زیر سلطہ رہنے میں برا ئی دیکھی ہے ،میں اس کریم ،جواد ،عادل ،محسن اور فضل و کرم کرنے والے کا غلام ہوں '' ۔

اس عظیم نفس کے مانند کو نسا نفس ہو سکتا ہے جس کی انبیاء کی روحانیت اور ان کے اچھے صفات اور اخلاق سے مثال دی گئی ہے ؟

غلام آ پ سے یوں کہتے :اے ہمارے سید وسردار ہم نے آپ کو بخش دیا۔

آپ ان سے یوں فرماتے :''کہو :اے پروردگار تو بھی علی بن الحسین کو اسی طرح بخش دے جس طرح انھوں نے ہم کو بخش دیا ہے ،تو اِن کو آگ سے اسی طرح آزاد فرما جس طرح انھوں نے ہم کو اپنی غلامی سے آزاد کیا ہے ''۔

اس کے بعد آپ ان سے فرماتے :یااللہ آمین ربّ العالمین ،جائو میں نے تم سب کو بخش دیا، تم کو آزاد کر دیا ،تم مجھ سے معافی اور آزاد ہونے کی امید رکھتے تھے ''،عید فطر کے دن آپ ان کو اتنا اور ایسا انعام دیتے جس سے انھیں کسی سے سوال کرنے کی


ضرورت نہ ہو سکے اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بے نیاز رہیں ۔(۱)

دنیا میںاللہ کے صالحین اور متقین میں اس امام عظیم کے تقویٰ ،ورع ،اخلاص عظیم اور اس کی اطاعت کرنے والے کے مانند کو ئی نہیں ہے آپ کا قلب شریف ایمان اور اللہ کی معرفت سے لبریز تھا ۔

آپ کی اپنے بیٹوں کو وصیت

امام نے اپنے بیٹوں کو بعض تربیتی وصیتیں فر ما ئیں جو آپ کی زند گی کے تجربات کا خلاصہ تھا تاکہ وہ اس راستے پر گا مزن رہیں ۔آپ کی بعض وصیتیں یہ ہیں :

۱۔آپ نے اپنے بعض فرزندوں کو ایسی اہم وصیت فر ما ئی جو اُن کے اصحاب اور چا ہنے والوں کے لئے نورانی پیغام ہے ایسے ساتھیوں سے دور رہنے کی تلقین کی ہے جس سے دوستوں کے درمیان دشمنی اور عداوت پھیلنے کا امکان ہو،آپ کی وصیت یہ ہے :''اے میرے فرزند،اگر تم پانچ قسم کے لوگوں کو دیکھو تو نہ ان کی مصاحبت کرو ،نہ ان سے گفتگو کرو اور نہ ہی ان کے ساتھ راستہ طے کرو ''آپ کے فرزند ارجمند نے آپ سے عرض کیا :وہ پانچ افراد کو ن ہیں؟تو اما م نے فرمایا:''تم کذّاب (بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے) کی مصاحبت نہ کرو (یعنی اس کے ساتھ نہ اٹھو نہ بیٹھو)چونکہ یہ سراب کے مانند ہوتے ہیں اور قریب چیز کو دور اور دور والی چیز کو نزدیک کر دیتے ہیں ۔تم فاسق کی مصاحبت سے پرہیزکروچونکہ یہ شخص ایک لقمہ یا اس سے کم میں تم کو بیچ دے گا ،بخیل کی مصاحبت سے پرہیز کرووہ شدید ضرورت کے وقت تمہاری امداد کرنے سے گریز کرے گا،احمق کی مصاحبت سے پرہیز کرو چونکہ وہ تم کو نفع پہنچانے کا ارادہ کرے گا لیکن نقصان پہنچا دے گا ۔ اور قطع رحم کرنے والے سے پرہیز کروکیونکہ میں نے کتاب اللہ میں اس کو ملعون دیکھا ہے ''۔(۲)

اس قسم کے لوگوں پر وائے ہو اور یہ گھاٹے میں رہیں گے ،جو ان کی تصدیق کر ے گا وہ بہت زیادہ نقصان اٹھا ئے گا اور معاشرہ میں اس طرح کی نئی اور پرانی بہت قسمیں ہیں لیکن جن ازکیا اور اصفیاء کی

مصاحبت سے انسان مستفید ہو تا ہے وہ بہت کم ہیں ۔

____________________

۱۔حیاة الامام زین العابدین ، جلد ۱،صفحہ ۲۰۹۔۲۱۱۔

۲۔تحف العقول ،صفحہ ۲۷۹،البدایہ والنھایہ جلد ۹،صفحہ ۱۰۵۔


۲۔آپ کی اپنے فرزندوں کوایک اوربلند و بالا نصیحت اور وصیت یہ تھی :''اے میرے فرزند! مصیبت پر صبر کر،حقوق کے لئے معارضہ نہ کر اور اپنے کسی بھا ئی کو ایسی چیز کے متعلق جواب نہ دے جس کا نقصان تمہارے لئے اس کے فائدہ سے بہت زیادہ ہو ۔۔۔''۔(۱)

امام نے مصائب اور غم انگیز واقعات پر صبر اور ان کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکنے کی وصیت فرما ئی ، کیونکہ ایسا کر نے سے انسان کی شخصیت اور اس کی پائیداری کا پتہ چلتا ہے ،اسی طرح آپ نے لوگوں کے حقوق کے سلسلہ میں تجاوز نہ کر نے کی بھی وصیت فرما ئی چونکہ اس سے جس آدمی کے ساتھ تجاوز کیا جا رہا ہے اس کی سلامتی اور اس کے بالمقابل خود تجاوز کرنے والے کی بھی سلامتی کی ضمانت ہوجا تی ہے ، اسی طرح آپ نے یہ بھی وصیت فرما ئی کہ کسی انسان کوایسی چیز کی دعوت نہ دو جس سے اس کا نقصان اور گھاٹا ہو رہا ہو ۔

آپ کی اپنے بیٹوں کے لئے دعا

آپ نے اپنے بیٹوں کے لئے انتہا ئی خلوص اور جلال و بزرگی کے لئے دعائیں کیں جو آپ کی ان کے ساتھ تابناک سلوک کی حکایت کر تی ہیں ،امام ان سے بلندآداب یا مکارم اخلاق کی تمنا و آرزو کرتے تھے ،تاکہ وہ غور سے سنیں اور ان پر عمل کریں ،چونکہ اسلا می تربیت میں یہی سب سے بڑی دولت ہے :''یابن انّ اللّٰه لم یرضک لِ فاَوصاکَ بِ،ورضین لک فحذَّرن مِنکَ،وَاعلم اَنّ خیرالآباء لِلابناء من لم تدعهُ الموَدَّةُ الی التَّفریطِ فیهِ،وخیرَ الابنَائِ للآبائِ مَنْ لم یدعُهُ التقصیرُاِلی العُقُوْقِ لَهُ '' ۔(۲)

امام کے یہ فقرے اپنی اولاد کی تربیت کے سلسلہ میں آپ کی روحانیت پر دلالت کر تے ہیں ، آپ نے ان کی تربیت اصلاح اور تہذیب مطلق کے طور پر فر ما ئی آپ نے ان کیلئے یوں دعا فر ما ئی :

____________________

۱۔البیان والتبیین ،جلد ۲،صفحہ ۷۶۔العقد الفرید، جلد ۳،صفحہ ۸۸۔

۲۔العقد الفرید ،جلد ۳،صفحہ ۸۹۔


۱۔خدا وند عالم نے ان پر ان کے جسموں ،ادیان اور اخلاق کے صحیح ہونے میں احسان کیا۔

۲۔خداوند عالم ان کے نفوس اور ارواح کو معاف فرمائے اور یہ برائیوںاورگناہوںسے پاک ہونے کے بعد ہوتا ہے ۔

۳۔خداوند عالم ان پر اپنا رزق کشادہ فرمائے ،ان کو فقر کی کڑواہٹ کا مزہ نہ چکھائے ، کیونکہ یہ بہت ہی دردناک حوادث اور مہلک چیز ہے ۔

۴۔خداوند عالم بیماریوں میں ان کی ہدایت فر ما ئے ،ان کو نیکی کے لئے سبقت کرنے والوں میں قرار دے اور وہ اس کے امر پر عمل کرتے رہیں ۔

۵۔خداوند عالم اپنے اولیاء کو ان کا محبوب قرار دے اور اپنے دشمنوں کو مبغوض قرار دے ، کیونکہ اس سے خاندان منظم ہوتا ہے اور جب بچہ کی اس طریقہ سے تربیت کی جا تی ہے تو بچہ اپنے باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوجاتا ہے ۔

آپ کی حکمتیں اور تعلیمات

امام زین العابدین علیہ السلام نے متعدد حکمتیں اور بلند وبالا تعلیمات بیان فر ما ئیں جن سے حقیقی زندگی ابھر کر سامنے آتی ہے ،آپ معاشرے کے معاملات میں کتنی گہرا ئی سے کام لیتے ، ان کے حالات اور امور کی خبر گیری فرماتے تھے،آپ کی بعض تعلیمات یہ ہیں :

بلند خصلتیں

امام نے ان بعض بلند و بالا خصلتوں کے متعلق گفتگو کی ہے جن سے ایک مسلمان کو متصف ہونا چاہئے اور جن سے اس کے اسلام کی تکمیل ہو تی ہے، آپ کا فرمان ہے :''چار چیزیں ایسی ہیں جن سے اسلام کامل ہوتا ہے ،گناہ محو ہو جاتے ہیں ،اور اس کا پروردگار اس سے راضی و خشنود ہو نے کی صورت میں ملاقات کر تا ہے :خداوند عالم نے انسان کے نفس کیلئے جو چیز قرار دی ہے اس میں وہ اللہ عز وجل کیلئے وفا کرے ، لوگوں کے ساتھ گفتگو کرتے وقت سچا ئی سے کام لے ،ہر وہ چیز جو اللہ اور انسانوں کے نظر


میں بری ہے اس کو نہ بجالائے ،اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ اچھا ئی سے پیش آئے''۔(۱)

بیشک جس میں یہ بلند و بالا صفات پا ئی جائیں گی وہ حقیقی مو من اورکا مل الایمان ہو گا جس سے خدا راضی ہو نے کی صورت میں ملاقات کر ے گا ۔

مو من کی علا متیں

امام فرماتے ہیں :''مو من کی پا نچ نشا نیاں ہیں ''۔

طاوس یما نی نے آپ سے سوال کیا :فرزند رسول! وہ پانچ علامتیں کو ن کو ن ہیں ؟امام نے فرمایا:خلوت میں تقویٰ اختیار کرنا ،کم مال کے باوجودبھی صدقہ دینا ،مصیبت کے وقت صبر کرنا ،غضب کے وقت حلم اختیار کرنااور خوف کے وقت صدقہ دینا''۔(۲)

جس شخص میں یہ پانچ صفات پا ئے جاتے ہیں وہ مو من کہلاتا ہے اور وہ اللہ کے ان نیک و صالح بندوں میں قرار پاتا ہے جن کے نفوس میں تقویٰ سمایا ہوا ہوتا ہے ۔

اچھی گفتگو

امام نے اپنے اصحاب کو لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی رغبت دلا ئی اور حسن کلام پر مترتب ہونے والے منافع کا تذکرہ بھی کیاچنانچہ آپ نے فرمایا:''حسن کلام سے انسان مالدار ہوجاتاہے ، اس کارزق کشادہ ہوتاہے ،مو ت کو فراموش کر دیتا ہے ،اپنے اہل و عیال میں محبوب ہوجاتا ہے اور ایسا شخص جنت میں جائے گا ۔۔۔''۔(۳)

امام کی اس حدیث یعنی حسن کلام اور کلم الطیب سے مندرجہ ذیل مطلب سا منے آتا ہے :

۱۔حسن کلام سے مال میں رشد و نمو ہو تی ہے ،واضح طور پر اس کا اثر کاریگر،حرفہ و فن جاننے والے

____________________

۱۔الخصال ،صفحہ ۳۰۳۔ ۲۔الخصال ،صفحہ ۲۴۵۔

۳۔وسا ئل الشیعہ، جلد ۵،صفحہ ۵۳۱۔الخصال، صفحہ ۲۸۹۔


اور تاجروں میں ظاہر ہوتا ہے ۔چونکہ لوگ اس قسم کے لوگوں کے ساتھ حسن کلام کے ذریعہ خرید و فروخت کرتے ہیں ،یہ فطری بات ہے کہ انسان کاحسن کلام ان لوگوں میں زیادہ دخل و تصرف کا سبب ہوتاہے جس طرح فطرت برے اور بد خلق سے بذات خود نفرت کرتی ہے اور برا کلام اور بری عادت رزق میں تنگی کا سبب ہو تی ہے ۔

کلام الطیب کے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے انسان کی موت ٹل جاتی ہے جب انسان کسی مو من سے ظلمت دور کرکے اس کو نفع پہنچاتا ہے تو خدا وند عالم اس انسان کی عمر بڑھا دیتا ہے اور آخرت میں اس کو اجر جزیل سے نوازے گا ۔

اور کلام الطیب کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ اچھی گفتگو کرنے والا اپنے اہل و عیال کے نزدیک اور معاشرہ میں عزیز اور محبوب ہو جاتا ہے اور لوگ اچھی گفتگو کرنے والے کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔

حسن کلام کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسان کو جنت ملتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان دو آدمیوں کے درمیان صلح اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے ۔

مو من کو نجات دینے والی چیزیں

امام نے مو من کے نجات پانے کے سلسلہ میں فرمایاہے :''مو من تین چیزوں سے نجات پاتا ہے : لوگوں کی برائی اور ان کی غیبت کرنے سے اپنی زبان کا روکنا ،مو من کا اپنی دنیا اورآخرت میں فائدہ دینے والی چیزوںمیں مشغول رہنا اور اپنے گناہوں پرگریہ و زاری کرتے رہنا ۔۔۔''۔(۱)

آپ کی شہادت

امام کا سلوک ،عبادت ،نیکیاں اور احسانات میں کو ئی نظیر نہیںتھا جن سے تمام لوگوں کے دل آپ کی طرف جھک گئے تھے اور یہ خاندان نبوت سے بغض و کینہ رکھنے والے امویوںکیلئے بہت شاق تھا اور ان میں سب سے زیادہ بغض و کینہ رکھنے والا ولید بن عبد الملک تھا ۔

زہری سے روایت ہے کہ ولید نے اس سے کہا :جب تک علی بن الحسین دنیا میں زندہ مو جود ہوں

____________________

۱۔الدر التنظیم ،صفحہ ۱۷۴۔


گے میں چین و سکون نہیں پا سکتا ۔(۱)

اس نے طے کیا کہ جب امام حاکم کے پاس آئیں تو ان کو زہر ہلاہل دیدیا جا ئے لہٰذا اس نے یثرب(۲) میں اپنے گورنر کے ذریعہ آپ کو زہر دلایاامام نے جب تناول کیا توامام کا جسم کثرت عبادت اورکمزوری کی وجہ سے نحیف و لاغر ہو چکا تھا اور آپ نے بہت ہی کم وقت میں دا عی اجل کو لبیک کہا ، آپ کے آخری کلمات یہ تھے :''الحمد للّٰه الذ صدقناوعده واورثناالجنة نتبوأُمنهاحیث نشاء فنعم اجرالعاملین َ '' ۔(۳)

''تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جس نے ہم سے کئے ہوئے اپنے وعدے کوسچ کر دکھایا ہے اور ہمیں اپنی جنت کا وارث بنا دیا ہے کہ جنت میں جہاں چا ہیں آرام کریں اوربیشک یہ عمل کرنے والوں کا بہترین اجر ہے ''

کائنات کے آفاق کو روشن کرنے کے بعد آپ کی عظیم روح جنت ماویٰ کی طرف پرواز کرگئی ۔

سلام ہو آپ پر جس دن آپ پیدا ہوئے ،جس دن شہید ہوئے اور جس دن دوبارہ مبعوث و زندہ کئے جا ئیں گے ۔

____________________

۱۔حیاة الامام محمد الباقر جلد۱،صفحہ ۵۱۔

۲۔نور الابصار ،صفحہ ۱۲۹۔فصول المہمہ ''ابن صباغ ''،صفحہ ۲۳۳۔الاتحاف بحب الاشراف، صفحہ ۵۲۔صواعق المحرقہ ،صفحہ ۵۳۔جدول مصباح کفعمی ،صفحہ ۲۷۶۔

۳۔الخصال، صفحہ ۱۸۵۔الامالی، صفحہ ۱۶۱۔


حضرت امام محمد باقر علیہ السلام

امام محمد باقر علیہ السلام ان ائمہ ٔ اہل بیت علیہم السلام میں سے ہیں جن کو اللہ نے اپنا پیغام پہنچا نے کے لئے منتخب فر مایا ہے اور ان کو اپنے نبی وصایت کے لئے مخصوص قرار دیا ہے ۔

اس امام عظیم نے اسلامی تہذیب میں ایک انوکھا کردار ادا کیااور دنیائے اسلام میں علم کی بنیاد ڈالی ،امام نے یہ کا رنامہ اس وقت انجام دیا جب دنیائے اسلام میں ہر طرف فکری جمود تھا ،کو ئی بھی تعلیمی اور علمی مرکزنہیںتھا،جس کے نتیجہ میں امت مسلسل انقلابی تحریکوں سے دو چار ہورہی تھی جن میں سے کچھ بنی امیہ کے ظلم و تشدد اور بربریت سے نجات حاصل کرنا چا ہتے تھے اور کچھ لوگ حکومت پر مسلط ہو کر بیت المال کو اپنے قبضہ میں لینا چا ہتے تھے ۔انقلابات کے یہ نتا ئج علمی حیات کے لئے بالکل مہمل تھے اور ان کو عمومی زندگی کے لئے راحت کی کوئی امید شمار نہیں کیا جاسکتا ۔

امام محمد باقر نے علم کا منارہ بلند کیا ،اس کیلئے قواعد و ضوابط معین فرمائے ،اس کے اصول محکم کئے ، آپ اس کے تہذیبی راستے میں اس کے قائد اور معلم و استاد تھے ،آپ نے علوم کو بہت وسعت دی، ان ہی میں سے علم فضا اور ستاروں کا علم ہے جس سے اس زمانہ میں کو ئی واقف نہیں تھا، امام کو علم کے موجدین میں شمار کیا جا تا ہے ۔(۱)

امام کے نزدیک سب سے زیادہ اہم مقصدہمیشہ کے لئے اہل بیت کی فقہ اسلا می کو نشر کرنا تھاجس

____________________

۱۔جیسا کہ مغربی دانشوروں نے امام کی یوںتعریف کی ہے کہ آپ مختلف علوم کا سر چشمہ ہیں اور ان علوم کی آپ نے اپنے شاگردوں کو تعلیم دی ہے ۔


میں اسلام کی روح اور اس کا جوہر تھا ، امام نے اس کو زندہ کیا ،اس کی بنیاد اور اس کے اصول قائم کئے ، آپ کے پاس ابان بن تغلب ،محمد بن مسلم ، برید،ابو بصیر،فضل بن یسار ،معروف بن خربوذ، زرارہ بن اعین وغیرہ جیسے بڑے بڑے فقہاء موجود رہتے تھے وہ فقہا جنھوں نے ان کی تصدیق کیلئے روایات جمع کیں اور ان کی ذکاوت و ذہانت کا اقرار کیا،اور اہل بیت کے علوم کی تدوین کا سہرا ان کے سر بندھتا ہے ،اگر یہ نہ ہوتے تو وہ بڑی فقہی ثروت جس پر عالم اسلام فخر کرتا ہے سب ضائع و برباد ہو جا تی ۔

امام کی سیرت کے اعتزاز و فخر کیلئے یہ ہے کہ آپ نے فقہا ء کی تربیت کی جس سے وہ بافضیلت ہوئے ،ان کو مرکزیت کے اعزاز سے نوازا،اور امت نے فتوے معلوم کرنے کے لئے اِن ہی فقہا ء کی طرف رجوع کیا امام نے ابان بن تغلب کے لئے فرمایا:''مدینہ کی مسجد میں بیٹھ کر لوگوں کو فتوے بتایا کر ومیں اپنے شیعوں میںتمہارے جیسے افراد دیکھنا پسند کرتا ہوں ۔۔۔''۔(۱)

امام نے اِن فقہاء کے نفقہ کی ذمہ داری خود اپنے کا ندھوں پر لی ،ان کی زندگی میں اقتصادی طور پر پیش آنے والی ان کی تمام حاجتیں پوری کیں تاکہ ان کو تحصیل علم ،اس کے قواعد و ضوابط لکھنے اور اس کے اصول کو مدوّن کر نے میں کو ئی مشکل پیش نہ آئے ،جب آپ کے دار فا نی سے ملک بقا کی طرف کوچ کر نے کا وقت آیا تو آپ نے اپنے فرزند ارجمند امام جعفر صادق کوان فقہاء کو نفقہ دینے کی وصیت فر ما ئی کہ ان کو تحصیل علم اور ان کو لوگوں کے درمیان نشر کرنے میں کو ئی معاشی مشکل پیش نہ آئے ۔

یہ فقہا جو کچھ امام سے سنتے اس کو مدوّن کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے اور ان کو روشن فکر افراد کے لئے تدریس کرتے ،امام کے شاگرد فقیہ جابر بن یزید جعفی سے ستر ہزار روایات نقل ہو ئی ہیں جن میں سے اکثر احادیث فقہ اسلامی سے متعلق ہیں ،اسی طرح ابان بن تغلب سے احادیث کا ایک بہت بڑا مجموعہ نقل ہوا ہے ، احکام میں زیادہ تر عبادات ،عقود اور ایقاعات سے متعلق بہت زیادہ روایات جمع کی ہیں، فقہ اہل بیت کے مؤسس اور ناشر کا یہی حق ہے ۔

آپ نے قرآن کریم کی تفسیر کا بڑا اہتمام کیا اس کے لئے مخصوص وقت صرف کیا ،اکثر مفسرین

____________________

۱۔نجاشی ،صفحہ ۲۸۔جامع الروات، جلد ۱،صفحہ ۶۔


نے آپ سے کسب فیض کیا ،اور آپ نے بعض آیات کی تفسیر میں وارد ہونے والی اپنے آباء و اجداد کی روایات کو مدوّن کیا ۔قرآن کریم کی تفسیر میں ایک خاص کتاب تحریر فرما ئی جس سے فرقہ ٔ جارودیہ کے سربراہ زیاد بن منذر نے روایت کی ہے ۔(۱) اور ہم نے اپنی کتاب ''حیاةالامام محمد باقر ''میں وہ آیات تحریر کی ہیں جن کی تفسیر امام باقر سے نقل کی گئی ہے ۔

امام نے بعض احا دیث انبیاء علیہم السلام کے حالات سے متعلق بیان فر ما ئیں ہیں جن میں انبیاء کا اپنے زمانہ کے فرعونوں کے ذریعہ قتل و غارت ،ان کی حکمتیں ،موعظے اور آداب بیان کئے گئے ہیں آپ نے سیرت نبویہ کو ایک مجموعہ کی صورت میں پیش کیا جس سے ابن ہشام ،واقدی اور حلبی وغیرہ جیسے مدوّن کرنے والوں نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے غزوے اور ان کی جنگوں کے حالات نقل کئے ہیں ، جس طرح ان سے آداب ِ سلوک ،حسن اخلاق اور حسن اعمال کے سلسلہ میں بھی متعدد احادیث نقل کی ہیں ۔

یہ بات شایانِ ذکر ہے کہ امام محمدباقر نے مسیحی ،ازراقہ ،ملحدین اور غالیوں کی جماعتوں سے مناظرے کئے اور مناظروں میں ان کو شکست دی خود فاتح ہوئے اور ان سب دشمنوں نے آپ کی علمی طاقت اور ان پر فوقیت کااعتراف کیا اور ہم یہ سب اپنی کتاب ''حیاةالامام محمد باقر '' میں ذکر کر چکے ہیں ۔

بہر حال تاریخ نے امام محمد باقر جیسے کسی امام کا تعارف نہیں کرایا،آپ نے اپنی پوری زندگی لوگوں میں علم نشر کرنے میں صرف کر دی ،آپ نے ''جیسا کہ راویوں نے کہا ہے ''یثرب میں ایک بہت بڑے مدرسہ کی بنیاد رکھی جس میں لوگوں کوعلم فقہ ،حدیث ،فلسفہ ،علم کلام اور قرآن کریم کی تفسیر کی غذا سے سیر کیا ۔

تاریخ میں امام محمد باقر علیہ السلام کی اہمیت اس وقت اورعروج پر پہنچ گئی جب آپ نے امپراطوری رومی شہنشاہیت کے چنگل سے اسلامی سکہ کو آزاد کر ایا اور اس کی ڈھلائی نیزاس پر تحریر کی جانے والی عبارت بھی تعلیم فرما ئی اور اس کے بعد آپ کی برکت سے اسلامی سکہ رائج ہو گیا۔چنانچہ اس سلسلہ میں روایت ہے :عبد الملک نے ایک کاغذ پر نظر ڈالی تو اُس پر مصری زبان میں کچھ لکھا ہوا دیکھااُس کا عربی زبان میں ترجمہ کرنے کا حکم دیا تو وہ عیسائیت کے تین نعرے ''باپ ،بیٹا اور روح '' تھے تو اس کواچھانہیں لگا ،اس نے

____________________

۱۔فہرست شیخ طوسی، صفحہ ۲۹۸۔


اپنے مصر کے گورنرعبدالعزیز بن مروان کو انھیں باطل کرنے کیلئے لکھا اور اس کو حکم دیاکہ سکوںپرنعرئہ توحید''شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہُ لَااِلٰہَ اِلَّاھُوَ'' لکھا جائے ، اور اس نے اپنے تمام گورنروں اور والیوں کوسکوں پرروم کے نقش شدہ شعارکو باطل کرنے کاحکم دیا،جس کسی کے پاس وہ نقش شدہ شعار ملے اس کو سزادینے کیلئے کہا،ڈھالنے والوں نے سکوں پر یہ شعار لکھا ،اس کو پوری مملکت اسلامیہ میں پھیلا دیا،جب بادشاہ روم کو یہ معلوم ہوا تو وہ بہت غصہ ہوا ،اس نے عبدالملک سے سکوں کو ان کی پہلی صورت میں ہی لانے کیلئے کہا اور اس نے اپنے خط کے ساتھ ایک ہدیہ عبدالملک کے پاس روانہ کیا جب وہ ہدیہ عبدالملک کے پاس پہنچا تو اس نے وہ ہدیہ بادشاہ روم کو واپس کردیا اور اس کے خط کا کو ئی جواب نہیں دیا ،باد شاہ روم نے اور زیادہ ہدیہ روانہ کیا اور دوسری مرتبہ خط میں تحریر کیا کہ وہ سکوں کو ان کی پہلی حالت میں ہی پلٹا دے عبد الملک نے کو ئی جواب نہیں دیا اور پھراس کا ہدیہ واپس کر دیا ، قیصر روم نے عبد الملک کویہ دھمکی دیتے ہوئے تحریر کیا کہ میں درہم و دینار کے اوپر نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے سلسلہ میں نا سزا الفاظ لکھواکر تمام اسلامی ممالک میں رائج کرادونگا اور تم کچھ نہ کرسکوگے ، عبدالملک نے اپنے تمام حوالی و موالی جمع کر کے ا ن کے سامنے یہ بات پیش کی تو روح بن زنباع نے اس سے کہا : بادشاہ تم بہتر جانتے ہو کہ اس موقع پر کون اسلام کی مشکل کشا ئی کر سکتا ہے لیکن عمداً اس کی طرف رخ نہیں کرتے۔ بادشاہ نے انکار کرتے ہوئے کہا :خدا تجھے سمجھے بتا تو سہی وہ کو ن ہے ؟

روح بن زنباع نے کہا :علیک بالباقرمن اہل بیت النبصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۔میری مراد فرزند رسول امام محمد باقر ہیں ۔

عبدالملک نے روح بن زنباع کے مشورہ کا مثبت جواب دیا اور اس نے فوراً مدینہ کے گورنر کوامام محمد باقر اور ان کے چاہنے والوں کو بھیجنے کے لئے تحریر کیا اور ان کے لئے سو ہزار درہم دینے اوران کے خرچ کیلئے مزیدتین لاکھ درہم اضافہ کرنے کا وعدہ کیا ،یثرب کے والی نے عبدالملک کی بات کو عملی جا مہ پہنایا، امام محمد باقر یثرب سے دمشق پہنچے، عبدالملک نے رسمی طور پر آپ کا استقبال کیا اور اس کے بعد اپنا مطلب بیان کیا امام نے اس سے فرمایا :تم گھبرائو نہیں یہ دو اعتبار سے کو ئی بڑی بات نہیں ہے : ایک تو یہ کہ صاحب روم نے جو تمھیں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے متعلق دھمکی دی ہے اس میں خدا اس کو آزاد نہیں چھوڑے گا ''یعنی وہ جو چا ہے کر ے''،دوسرے یہ کہ اس میں حیلہ و دھوکہ ہے ۔


عبدالملک نے کہا : وہ کیا ہے ؟

امام نے فرمایا :

''تم اسی وقت حکاک اور کا ریگروں کو بلائواور اپنے سامنے اُن سے درہم و دینار کے سکّے ڈھلوائو سکّہ کے ایک طرف سورئہ تو حید اور دو سری طرف پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا نا م نامی لکھواور سکہ کے مدار میں جس شہر میں وہ سکّے بنے ہیں اس شہر کا نام اور سَن لکھا جائے ''۔

آپ نے اس کو سکہ کی کیفیت اور وزن وغیرہ اور ان کو ڈھالنے کے طریقہ کی تعلیم دی،اس کے بعد اس رنگ کے سکوں کو تمام عالم اسلام میں رائج کر نے کا حکم دیااور رومی سکوں کو خلاف قانون قرار دیا ،اور جو خلاف ورزی کرے گا اس کو سخت سزا دی جا ئے گی ۔عبدالملک نے امام کے اس فرمان کو نافذ کر دیا ،جب بادشاہ روم کو یہ معلوم ہوا تو وہ بہت حیرا ن ہوا اور اس کی تمام آرزوئوں پر پا نی پھر گیا پہلے تمام سکّے خلاف قانون قرار دئے گئے اور امام کے بنوائے ہوئے سکوں سے معاملات انجام دئے جا نے لگے اور وہی سکّے عباسیوں کے زمانہ تک رائج رہے ۔(۱)

عالم اسلام امام محمد باقر کا ممنون کرم ہے کہ امام نے اس پر احسان کیا اور اس کو روم کا غلام بننے سے نجات دی ،اور حاکم اسلام سے اسلامی ملک میں مستقل طور پراسلامی نعرہ ایجادکرادیا ۔

ہم امام محمد باقر کے اقوال بیان کر نے سے پہلے ان کے بعض اعلیٰ صفات بیان کر رہے ہیں جن کی وجہ سے عالم اسلام آج بھی اپنا سر بلند کئے ہوئے ہے ۔

آپ کاحلم

امام محمد باقر کی ایک نمایاں صفت حلم ہے ،سوانح حیات لکھنے والوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام نے اس شخص پر ستم روا نہیںسمجھا جس نے آپ کے ساتھ برا سلوک کیا ،آپ ہمیشہ ان سے خو شروئی اور احسان کے ساتھ پیش آتے ،مؤ رخین نے آپ کے عظیم حلم کی متعدد صورتیں روایت کی ہیں ۔اُن ہی میں سے ایک واقعہ یوں ہے کہ ایک شامی نے آپ کی مختلف مجلسیں اور خطبات سُنے جس سے وہ بہت متعجب اور

____________________

۱۔حیات الحیوان مؤلف دمیری ،جلد ۱،صفحہ ۶۳۔۶۴۔مطالعة العربیہ ،جلد ۱،صفحہ ۳۱۔


متأثر ہوا اور اما م کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھا :جب میں نے آپ کی مجلسیںسنیں لیکن اس لئے نہیں کہ آپ کو دوست رکھتا تھا ،اور میں یہ نہیں کہتا: میں آپ اہل بیت سے زیادہ کسی سے بغض نہیںرکھتا ،اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اللہ اور امیرالمو منین کی اطاعت آپ سے بغض رکھنے میں ہے ،لیکن میں آپ کو ایک فصیح و بلیغ ، ادیب اور خوش گفتار انسان دیکھتا ہوں ،میں آپ کے حسنِ ادب کی وجہ سے ہی آپ سے رغبت کرنے لگا ہوں ۔ امام نے اس کی طرف نظر کرم ولطف و مہربانی سے دیکھا ،محبت و احسان و نیکی کے ساتھ اس کا استقبال کیا ، آپ نے اس کے ساتھ نیک برتاؤ کیا یہاں تک کہ اس شخص میں استقامت آئی ،اس پر حق واضح ہو گیا ، اس کا بغض امام کی محبت میں تبدیل ہو گیا وہ امام کا خادم بن گیا یہاں تک کہ اس نے امام کے قدموں میں ہی دم توڑا،اور اس نے امام علیہ السلام سے اپنی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے وصیت کی ۔(۱)

امام نے اس طرزعمل سے اپنے جد رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اتباع کی جنھوں نے اپنے بلند اخلاق کے ذریعہ لوگوں کے دلوں کوایک دوسرے سے قریب کیا ان کے احساسات اور جذبات کو ہم آہنگ کیا اور تمام لوگوںکو کلمہ توحید کے لئے جمع کیا ۔

آپ کاصبر

آپ نے دنیا کے مصائب اور گردش ایام کے المیہ پر صبر کیا ،صبر آپ کی ذات کا جزء تھا ، آپ نے تلواروں کی سختیوں میں بھی صبر کیا ،اپنے آباء طاہرین سے خلافت کے چھینے جانے ،اور حکومت کے منبروں اور اذانوںمیں اپنے آباء واجداد پر سب و شتم ہونے پر بھی صبر کیا ،آپ نے ان سب کو سنا اور ذرا بھی ترش روئی نہیں کی بلکہ صبر و تحمل سے کام لیا ،اپنے غصہ کو پی گئے ،اپنے تمام امور اللہ کے سپرد کر دئے ،وہی اپنے بندوں کے ما بین حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والا ہے ۔

آپ نے سب سے زیادہ اس بڑی مصیبت پر صبر کیا کہ اموی حکومت آپ اہل بیت کے شیعوںپر بہت زیادہ ظلم و ستم کر رہی تھی ،ان کی آنکھیں نکال دیتی ،ہاتھ کاٹ دیتی ،ان کوگمان اور تہمت لگا کر قتل کردیتی تھی ،حالانکہ آپ ان کی مدد اور ان کو نجات دینے پر قادرنہیں تھے ۔

____________________

۱۔ حیاة الامام محمد باقر ،جلد ۱،صفحہ ۱۳۱۔


آپ کا عظیم صبر یہ تھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو آپ کے گھر میں سے چیخنے کی آواز آ ئی ،آپ کے بعض مو الیوں نے جلدی سے وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ آپ کی ایک کنیز بچہ کو اپنے ہاتھوں پر لئے ہوئے تھی اچانک بچہ زمین پر گرگیا اور اس نے دم توڑ دیا ہے ،امام نے فرمایا :''الحمد للّٰهِ علی ماأعطیٰ وله ما اخذَانهٰهم عن البکاء و خُذوا ف جهازه،واطلبوا السکینة و قولوالها ( ای جاریة ) انتِ حرّة لِوَجْهِ اللّٰهِ لِمَا تَدَاخَلِکِ مِنَ الرَّوعِ'' ۔

''تمام تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو اس نے دیا ہے وہ اسے بھی لے لے گا ،انھیں گریہ کرنے سے روکا ،اس (بچہ)کے کفن و دفن کا انتظام کرنے کے لئے فرمایا ،ان کو سکون و اطمینان سے رہنے کا حکم دیا ، اور اس (کنیز)سے فرمایا خدا کا خوف جو تیرے دل میں آگیا ہے میں نے اس کی وجہ سے تجھے راہ خدا میں آزاد کر دیا ہے ''

اس کے بعد امام آکر اپنے اصحاب سے گفتگو کرنے لگے کچھ دیر کے بعد آپ کے غلام نے آکر عرض کیا ہم نے اس کا جنازہ تیار کر دیا ہے آپ نے اپنے اصحاب کو اس ما جرے کی خبر دی اور اس کے جنازہ پر نماز پڑھنے اور اس کو دفن کر نے کا حکم دیا ۔(۱)

آپ کا ایک اور صبر جو آپ کی بلند شخصیت پر دلالت کر تا ہے وہ یہ ہے کہ آپ کا ایک بااثر فرزند تھا جو بیمار ہو گیا جس کی وجہ سے آپ سخت رنجیدہ ہوئے اور بچہ نے دم توڈیا ،امام نے نہایت صبر سے کام لیا ، آپ کے اصحاب نے عرض کیا :فرزند رسول! ہم آپ کے سلسلہ میں کچھ خوف کھا رہے ہیں آپ نے ان کو بڑے ہی اطمینان اور اللہ کے فیصلہ پر راضی رہتے ہوئے یوں جواد دیا:''اِنّاندعُوااللّٰه فیما یُحبُّ،فَاِذا وَقَعَ ما نکرهُ لَمْ نُخَالِفِ اللّٰهَ فِیْمَا یُحِبُّ'' ۔(۲)

''بیشک ہم خدا کو اسی چیز کے سلسلہ میں پکارتے ہیں جس کو وہ چا ہتا ہے ،پس جس چیزکو ہم پسند نہیں کرتے ہیں وہ واقع ہوتی ہے ،تو ہم اس چیز میں اللہ کی مخالفت نہیں کرتے جس کو وہ دوست رکھتا ہے ''

____________________

۱۔ حیاة الامام محمد باقر ،جلد ۱،صفحہ ۱۲۲۔

۲۔تاریخ دمشق ''مخطوط''،جلد ۵۱،صفحہ ۵۲۔عیون الاخبار ابن قتیبہ ،جلد ۳، صفحہ ۵۷۔


فقیروں پر مہربان

فقیروں پر مہربانی کر نا امام کے بلند اخلاق میں سے تھا ،آپ ان کا بڑی فراخدلی اور اکرام و تکریم کے ساتھ استقبال کر تے ،آپ نے اپنے اہل و عیال سے یہ عہد لیا تھا کہ اگر کو ئی سائل سوال کرے تو اس کو یہ نہ کہنا :اے فقیر یہ لے لو ۔بلکہ اس سے کہو :اے اللہ کے بندے خدا تم کو اس میں برکت دے ۔(۱)

جیسا کہ آپ نے اپنے اہل کویہ حکم دیا تھاکہ فقراء کو اچھے القاب سے یاد کریں ،حقیقت میں آپ نے یہ اخلاق اپنے جد رسول اسلام کے اخلاق سے منتخب فرمائے تھے وہ رسول جو اخلاق میں تمام انبیاء سے ممتاز تھے ۔

امام محمد باقر کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ چیز یہ تھی کہ آپ اپنے برادران ،قاصد ، خبر نشر کرنے والے اورامیدوار سے محبت کر تے تھے ،(۲) امام کی پیدائش ہی نیکی سے محبت ،لوگوں کے ساتھ صلۂ رحم اور ان کوخو ش کرنے کے لئے ہو ئی تھی ۔

ابن صباغ کا کہنا ہے : محمد بن علی بن الحسین کا علم و فضل ،ریاست ،امامت ،شیعہ اور سنی سب کے لئے تھی ،آپ کرم میں مشہور تھے ،کثرت عیال اور متوسط حال ہونے کے باوجود آپ لوگوں کے ساتھ فضل و احسان کرنے میں مشہور تھے۔(۳)

امام فرماتے تھے :''صلۂ اخوان اور معارف کے علاوہ دنیا میں کو ئی نیکی و اچھا ئی نہیں ہے ''۔(۴)

آپ کی عبادت

امام محمد باقر علیہ السلام متقین کے امام اور عابدوں کے سردار تھے ، آپ اللہ کی اطاعت میںعظیم اخلاص سے پیش آتے تھے ،جب آپ نماز کیلئے کھڑے ہوتے تو اللہ کے خوف و خشیت سے آپ کا رنگ متغیر ہو جاتا(۵) ،آپ دن اور رات میں ایک سو پچاس رکعت نماز پڑھتے(۶) اور کثرت نماز کی وجہ سے

____________________

۱۔عیون الاخبار، جلد ۳، صفحہ ۲۰۸۔ ۲۔البیان والتبیین ،صفحہ ۱۵۸۔

۳۔فصول المہمہ ابن صباغ ،صفحہ ۲۲۷۔

۴۔شرح شافیة أبی فراس (مصوّرة)، جلد ۲ ، صفحہ ۱۷۶ ۔

۵۔صفوة الصفوہ ،جلد ۲،صفحہ ۶۳۔اعیان الشیعہ ،جلد ۴، صفحہ ۵۰۶پہلا حصہ ۔

۶۔تاریخ ابن عسا کر ''خطی ''،جلد ۵۱صفحہ ۴۴۔


امت کے علمی امور اور عام مراجعہ میں کو ئی رکا وٹ نہیں ہو تی تھی ، آپ سجدوں میں یہ دعا پڑھتے تھے :''سبحانک اللهمّ انت ربّ حقّاحقا،سجدت لک یارب تعبدا ورقا، اللهم انَّ عمل ضعیف فضاعفه لاللّهمَّ قِنِیْ عذابک یوم تبعث عبادکَ،وتُبْ علَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرحیمُ '' ۔

''اے خدا تو پاک و منزہ ہے ،میرے پروردگار تو برحق ہے ،اے میرے پروردگار میں بندگی اور غلامی کی وجہ سے تیرا سجدہ کرتا ہوں ،خدایا میرا عمل ضعیف ہے ،تو اس کو میرے لئے دُوگنا کردے ، مجھے اس دن کے عذاب سے محفوظ رکھ جس دن تیرے بندے اٹھا ئے جا ئیں گے ،میری توبہ قبول کرلے ،تو ،توبہ قبول کرنے والا ہے ''۔

آپ قنوت اور سجود میں دو سری دعا ئیں بھی پڑھا کرتے تھے جن کو ہم نے اپنی کتاب ''حیاةالامام محمد باقر '' میں ذکر کیا ہے ۔

آپ کا زہد

آپ دنیا کے زاہدوں میں سے تھے ،آپ نے رونق زندگا نی سے منھ موڑ لیا تھا آپ کے گھر میں کوئی بھی عمدہ لباس اور سامان نہیں تھا اور آپ اپنی مجلسوں میں چٹائی پر تشریف فرما ہوتے تھے ۔(۱)

امام نے دنیا پر بڑی گہرا ئی کے ساتھ نظریں دوڑائیں اس میں سے حق کے علاوہ دنیا کے زرق و برق سے زہد اختیار کیااور قلب منیب کے ساتھ اللہ سے لو لگا ئی ۔

جابر بن یزید جعفی کا کہنا ہے :مجھ سے محمد بن علی نے فرمایا ہے :

''یاجابران لَمَحْزُون وانِّ لمُشْتّغِلُ القَلْبِ'' ۔''اے جابر میں محزون و رنجیدہ ہوں اورمیرا دل مشغول ہوگیا ہے''

جابر نے جلدی سے عرض کیا :آپ کس چیز سے رنجیدہ ہیں اور آپ کا دل کس سے مشغول ہوگیا ہے ؟۔

فرمایا :''اے جابر جس کا دل دین خدا کے امور میںداخل ہوجاتا ہے تو اس کے علاوہ دوسری چیزوں

____________________

۱۔فروع کا فی، جلد ۳،صفحہ ۳۲۳۔


سے دور ہو جاتا ہے ۔۔۔اے جابر دنیا کیا ہے ؟اور کیا ہو سکتی ہے ؟کیا یہ اس مرکب کے علاوہ کچھ اور ہے جس پر تم سوار ہو،یا کپڑا ہے جس کو تم پہنے ہو ،یا وہ عورت ہے جو تم کو مل گئی ہے ۔۔۔''۔(۱)

امام کے دنیا اور اس کے غرور سے پرہیز کے سلسلہ میں متعدد کلمات نقل ہو ئے ہیں ۔

دلچسپ حکمتیں

امام محمد باقر سے دلچسپ مختصرکریمانہ ، اچھی ،مفید مجرب حکمتیںنقل ہو ئی ہیں ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔امام محمد باقر علیہ السلام کا فرمان ہے :''جو خود اپنے نفس کو مو عظہ نہ کر سکے اس کو دو سروں کا موعظہ فا ئدہ نہیں پہنچاتا ''۔

۲۔امام محمد باقر علیہ اسلام کا فرمان ہے:''اللہ کی نا فرمانی کرنے والا خدا کی معرفت حاصل نہیں کرسکتا ،اس کے بعد آپ نے یہ شعر پڑھا :

''لَوْ کَانَ حُبُّکَ صَادِقاً لَأطَعْتَهُ

ِنَّ المُحِبَّ لِمَنْ أَحَبَّ مُطِیْعُ ''

''اگر تمہاری محبت سچی ہوتی تو تم اپنے محبوب کا کہنا مانتے کیونکہ چاہنے والا محبوب کا کہنا مانتا ہے '' ۔

۳۔امام محمد باقر علیہ السلام کا فرمان ہے:

''اعرف المؤدّة فی قلب اخیک بماله فی قلبک '' ۔

''اپنے دل میں اپنے مو من بھا ئی کی محبت دیکھ کر اس کے دل میں مو جوداپنی محبت کا اندازہ لگائو''۔

۴۔امام محمد باقر علیہ السلام کا فرمان ہے:''مومن،مومن کا بھا ئی ہے ،اس کو برا بھلا نہیں کہتا اسے کسی چیز سے محروم نہیں رکھتا اس کے متعلق برا گمان و خیال نہیں کرتا ہے ''۔

۵۔امام محمد باقر علیہ السلام کا فرمان ہے:''اللہ فرماتا ہے : اے ابن آدم ،جو چیزیں میں نے تجھ پر حرام کر دی ہیں ان سے پرہیز کر اور لوگوں میں سب سے زیادہ متقی و پرہیز گار بن جا ''۔

۶۔امام محمد باقر کا فرمان ہے:''انسان پر ہر مصیبت اس کے گناہ کی وجہ سے پیش آ تی ہے ''۔(۲)

____________________

۱۔دعائم الاسلام جلد ۲صفحہ ۱۵۸۔۲۔اصول کافی ،جلد ۲، صفحہ ۲۶۹۔


اپنے شیعوں کو آپ کی نصیحت

امام محمد باقر نے اپنے شیعوں کو متعدد نصائح اور بلند و بالا تعلیمات دی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے: امام نے اپنے بعض اصحاب کے ایک وفد کو شیعوں کی ایک جماعت کے پاس بھیجا کہ وہ ان کو مندرجہ ذیل پیغام سنائیں :

امام کا فرمان ہے :''ہمارے شیعوں کو ہمارا سلام کہنا ،ان کو اللہ کے عظیم تقویٰ کی وصیت کرنا ، مالدار، فقیروںتک رسائی کریں ،ان کے صحت مند افراد بیماروں کی عیادت کریں ،ان کے زندہ افراد مرنے والوں کے جنازوں میں حاضر ہوں،ان کے گھروں میں جاکر ان کی احوال پر سی ملاقات کریں کیونکہ آپس میں ملاقات کرنے سے ہمارا امر زندہ ہوتا ہے ، خداوند عالم اس شخص پر رحم کرے جس نے ہمارے امر کو زندہ کیا اور اس نے نیک عمل انجام دیا، اور ان سے کہنا :ہم اللہ سے ان کے لئے صرف نیک عمل کے خواستگار ہیں ، وہ ہر گز ہماری ولایت تک نہیں پہنچ سکتے مگر یہ کہ وہ متقی و پرہیز گار اور کو شش کریں ،لوگوں میںقیامت کے دن سب سے زیادہ وہی شخص حسرت و ندامت اٹھائے گا جس کو عمل کرنے کا طریقہ بتایا گیا اور پھر بھی اس نے اس کی مخالفت کی''۔(۱)

آپ کی شہادت

امام محمد باقر کو ان گناہگار ہاتھوں نے زہر دغا سے شہید کیا جن کا نہ اللہ پر ایمان تھا اور نہ وہ قیامت پر ایمان رکھتے تھے ،اس مجرم کے سلسلہ میں کہا گیا ہے :وہ ہشام تھا ۔دوسرا قول یہ ہے :وہ ابراہیم تھا لیکن زیادہ تر احتمال یہی ہے کہ وہ ہشام ہی تھا ،چونکہ وہ خاندان عصمت و طہارت سے بغض و کینہ رکھتا تھا ، ہشام وہی ہے جس نے شہید زید بن علی کو قیام و انقلاب برپا کرنے کیلئے ابھارا،چونکہ اس نے زید بن علی پر بہت زیادہ ظلم و ستم روا رکھا اور آپ کورسوا کیا یہاں تک کہ آپ حکومت کے خلاف قیام کر نے پر مجبور ہو گئے اور اسی کے دور حکومت میں شہید کر دئے گئے ،لیکن امام محمد باقر کو قتل کرنے کی وجہ آپ کے فضل و شرف ،علم کی شہرت ہونا ،اور مسلمانوں کا آپ کی ہیبت اور عبقریات کے سلسلہ میں گفتگو کرنا تھا ۔جب امام کو زہر دیا گیا تو وہ آپ کے تمام بدن میں سرایت کر گیا ،زہر نے بہت ہی تیزی کے ساتھ اثرکیا ،جس سے آپ موت کے بہت نزدیک پہنچ گئے ،آپ اللہ کی یاد میں منہمک ہو گئے ،قرآنی آیات کی تلاوت کرنے لگے جب آپ کو موت کے آنے کا بالکل یقین ہو گیا تو آپ اللہ کے ذکر ویاد میں مشغول رہے ،

____________________

۱۔حیاةالامام محمد باقر ،جلد ۱،صفحہ ۲۵۳۔


آپ کی عظیم روح اللہ کی بارگاہ میں پہنچی جس کا اللہ کے ملائکہ ٔ مقربین نے بڑھ کر استقبال کیا ،آپ کی موت سے رسالت اسلامیہ کے ایک متقی و پرہیز گار صفحہ کا خاتمہ ہو گیا اور اسلامی معاشرہ علوم کے درمیان پیچ و خم کھاتا رہ گیا ۔آپ کے بدن مبارک کو آپ کے پدر بزرگوار امام زین العابدین اور امام حسن کے جوار میں دفن کر دیا گیاآپ کے ساتھ علم ،حلم امر بالمعروف اور لوگوں کے ساتھ احسان بھی چلا گیا ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام

آپ اس امت کی عظیم ہستی اور فکری و علمی نہضت کے علمبر دار ہیں آپ ہی کے علوم سے دنیا پُر ہوئی ہے (جاحظ کی تعبیر کے مطابق)یہ آپ ہی کے علوم کا فیض تھا جو مذاہب اسلامیہ کے اماموں نے احکام شریعت کے عبادات ،معاملات ،عقود او رایقاعات حاصل کئے ، اور یہ فقہی دولت ایسی عطا ہے جو کبھی بھی زائل ہونے والی نہیں ہے فقہاء امامیہ احکام شریعت میں استنباط کرنے کیلئے اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں ، جیسا کہ علماء قانون نے احکام کے متعلق اپنے قوانین اِ ن ہی احکام کے ذریعہ مر تب کئے ۔

امام کے علوم صرف فقہ ،حدیث اور علم کلام ہی نہیں تھے بلکہ ان میں آپ کے ایجاد کر دہ علوم جیسے فیزیک ، کیمیااور طب وغیر ہ بھی شامل تھے،جیسا کہ آپ نے آکسیجن کا انکشاف کیا،اور اس کے خصوصیات دلیل کے ساتھ بیان فرمائے ،آپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ'' ہوا ''عنصر بسیط نہیں ہے بلکہ اس کے بھی مختلف عناصر ہیں ،اسی طرح آپ نے کا ئنات کے اسرار اور مجرّات وغیرہ کے سلسلہ میں بھی گفتگو فرما ئی ہے ،اس بات کی طرف آپ کے شاگرد جابر بن حیان نے ان مغربی علماء کے سامنے ایک لمحہ فکریہ پیش کیاہے جوآپ کی تحریر کردہ کتابیںاپنی درسگاہوںمیںپڑھاتے ہیں،مغربی علماء اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ انسانیت میں عقل ِمبدع و موجد آپ ہی ہیں ۔(۱)

بڑے تعجب کی بات ہے کہ مستشرقین کا کہنا ہے کہ امام عرب نہیں تھے ،بلکہ آپ مغربی تھے اور مغرب سے مشرق چلے آئے تھے چونکہ مشرقی لوگ امام کی علمی طاقت و قدرت کے مالک نہیں تھے وہ اس

____________________

۱۔امام صادق جیسا کہ مغربی دانشمندوں نے آپ کا تعارف کرایاہے صفحہ ۱۲۰۔۱۳۰۔


بات سے نا واقف ہیںکہ آپ اس خاندان نبوت سے ہیں جن سے زمین پر نور اور فقہ کے چشمے ابلے ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے زمانہ میں اپنے عطایا اور علوم میں یکتا تھے جن کے ذریعہ عقل بشری عروج پر پہنچی اور انسان کی ایک دم ترقی ہو گئی ۔

بیشک امام صادق جن بڑی علمی قدرتوں کے مالک تھے ،ان کے متعلق شیعوں کایہ عقیدہ ہے کہ اللہ نے ائمہ اہل بیت پرحکمت ،فصل خطاب اور متعدد علوم کا الہام کیا اور ان کو عطا کیا جس طرح اُس نے رسول اور انبیاء علیہم السلام کو عطا کیا ہے ۔یہ فطری بات ہے کہ اس قول میں ذرا بھی غلو اور علمی حدود کے دائرہ سے باہر کی کو ئی بات نہیں ہے چونکہ اس قول پر متعدد معتبر دلیلیں مو جود ہیں ۔

بہر حال پہلے ہم امام کی پرورش اور آپ کے بعض ذاتی خصوصیات ہم مختصر طور پربیان کریں گے اس کے بعد اس موضوع سے متعلق باتیں بھی نقل کریں گے ۔

آپ کی پرورش

امام جعفر صادق نے اللہ کے سب سے بزرگ اور عظیم الشان گھرانہ میں پرورش پائی ،وہ گھرانہ جس سے رسالت اسلام کا نور چمکا ،اسی سے امتیں مدوّن ہو ئیں ،انسان کو کرامت ملی اور فکر کو عروج ملا ۔

اسی بیت الشرف میںاس امت کی عظیم ہستی امام جعفر صادق نے پرورش پا ئی جو فکری اور ثقافتی نہضت کے علمبر دار تھے ، آپ کی تربیت آپ کے دادا امام زین العابدین نے کی اور امام صادق کو مواہب ، ایمان اور تقویٰ سے آراستہ کیا ،امام جعفر صادق نے اپنے دادا امام زین العابدین کے سایۂ عطوفت میں اپنی زندگی کے بارہ سال بسر کئے،(۱) جس میں آپ نے اپنے دادا کی اس معطر سیرت کا مشاہدہ کیا جو رسول اور انبیاء کی سیرت کی عکاسی کر رہی تھی ،عمل کے علاوہ انسان کی کوئی اور چیزاُسے خدا سے قریب نہیں کر سکتی ہے اور انسان اپنی ذات کے علاوہ کسی اور چیز سے عظمت یا فضیلت کی بلندیوں پر نہیں پہنچ سکتا ۔

امام جعفر صادق نے اپنے جدامام زین العابدین کی ہمراہی کی جو ہمیشہ اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے، دن میں روزہ رکھتے اور رات میں نمازیں پڑھتے تھے ،نماز کی کثرت اور سجدوں کی وجہ سے آپ کے

____________________

۱۔حیاةالامام صادق ،جلد ۱،صفحہ ۳۴۔


اعضاء سجدہ پر اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹّے پڑ گئے تھے ۔

حضرت امام جعفر صادق نے یہ بھی مشاہدہ فرمایا کہ آپ کے دادا امام زین العابدین رات کی تاریکی میں کھانے اور پیسوں سے بھری تھیلیاں فقیروں اور کمزوروں کی مدد کرنے کیلئے لے جایا کرتے تھے حالانکہ وہ لوگ آپ کو پہچانتے بھی نہیں تھے ،اسی طرح آپ عاجزوں اور کمزوروں ک سیراب بھی کیا کرتے تھے ۔

نیز امام جعفر صادق علیہ السلام نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ آپ کے دادا امام زین العابدین لوگوں کے مابین صحیح علمی باتیں بیان فرماتے جن کاعلوم کے طالب استقبال کرتے اور آپ کے علوم کے دسترخوان سے سیراب ہوتے تھے لہٰذا آپ کی بزم میں علم حاصل کرنے والوں نے آپ کی حکمتوں ،دعائوں اور فتووں کو لکھنا ضروری سمجھا ۔(۱)

بہر حال امام زین العابدین نے اپنے پوتے کی تربیت فرما ئی اور اپنے ذاتی کمالات سے آراستہ کیا اور دینی و علمی امور میں امت کی قیادت کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے لئے تیار کیا ۔

امام زین العابدین کی شہادت کے بعد آپکے پدر بزرگوار امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند کے حال کی رعایت کرتے ہوئے ہر قسم کے علوم و معارف سے سیر کیا ،آپ ''امام صادق ' ' بچپن میں اپنے پدر بزرگوار کے بلند پایہ کے دروس میں حاضر ہوتے تھے جو آپ کے بیت الشرف کے ہال یا مسجد نبوی میں دئے جاتے تھے ،امام صادق اپنے پدر بزرگوار کے ان شاگردوں میںنابغہ شمار ہوتے تھے جوبڑے بڑے علماء اور آپ سے سن و سال میںبہت بڑے تھے ،اس کی گواہی عمر بن عبد العزیزنے ولید بن عبد الملک کے سامنے دی جب وہ مدینہ زیارت کرنے کے لئے آیا تھا ،ولید نے امام محمد باقر علیہ السلام سے کہا :''بیشک آپ کے فرزنداتنی چھوٹی سی عمر میں علامہ دہر ہیں''۔(۲)

امام صادق کیلئے احسان و نیکی میں آپ کے والدکی مثال تھے ، آپ کی نظرمیں سب سے بہترین اعمال والدین کے ساتھ نیکی و احسان کرنا ہے(۳) ،اور آپ کا فرمان ہے :'' بیشک

____________________

۱۔حیاةالامام محمد باقر ،جلد ۱،صفحہ ۳۸۔

۲۔امام صادق کما عرفہ علماء الغرب ،صفحہ ۱۱۲۔

۳۔وسیلة المآل فی عدّ مناقب الآل ،صفحہ ۲۰۸۔


خداوند عالم والدین کے ساتھ نیکی کرنے سے موت کی سختیوں کو آسان کر دیتا ہے '' ۔آپ نے اپنے والد بزرگوار کے ساتھ انیس سال گزارے ،(۱) ان کے سلوک سے متاثر ہوئے ،اور ان کی جیتی جا گتی تصویر بن گئے ، اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد آپ نے امت کی باگ ڈور سنبھالی، آپ کے اردگرد فقہاء جمع رہتے،راویان حدیث آپ سے مختلف قسم کے علوم و معارف حاصل کرتے اور ان کے علاوہ اچھی حکمتیں اور آداب بھی سیکھتے تھے ۔

آپ کے وسیع علوم

امام صادق اپنے دور میں علوم و معارف کی وسعت کے اعتبار سے یکتا شخصیت تھے ،آپ اپنی عطا و بخشش اور عبقریات میں نابغہ تھے ۔

شیخ ابو زہرہ کا کہنا ہے :(امام صادق اپنے زمانہ کی فکری طاقت تھے ،آپ نے صرف اسلامی دروس ، علوم قرآن ، سنت اور عقیدہ پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ آپ نے کا ئنات اور اس کے رموز و اسرار کا بھی درس دیا ،اپنی عقل کوآسمانوں، آفتاب ،چاند اور ستاروںکے مدار (جس چیز پر یہ گھوم رہی ہیں)پرمحیط کردیا ، اسی طرح آپ نے علم النفس کی تعلیم پر بھی بڑی توجہ دی ،اور جب فلسفہ کی تاریخ میں یہ کہا جاتا ہے کہ سقراط نے انسانوں کیلئے آسمان سے فلسفہ نازل کیا تو امام صادق نے آسمان ،زمین ،انسان اوردین و شرائع کا درس دیا ہے) ۔(۲)

حضرت امام صادق اسی طرح عالم اسلام میںہمیشہ کی ترقی کیلئے اپنے علوم کی سخاوت کے چشمے ابالتے رہے ، آپ نے اسلامی ثقافت میں جو ایجادات کی ہیں ان میں نہ آپ کے علوم کی کوئی حد ہے اور نہ ہی آپ کے معارف کی کو ئی انتہا ہے ،آپ نے دنیائے اسلام ہی کی نہیں بلکہ علمی حیات کی بوسیدگی کوبھی دور کیا،آپ نے پوری دنیا کو فیض پہنچایا ۔

امام کی یونیورسٹی

امام کی یونیورسٹی عباسی دور میں سب سے نمایاں جامعہ تھی جو علمی زندگی کے امور انجام دے رہی تھی

____________________

۱۔مناقب آل ابی طالب جلد ۴صفحہ ۲۸۰۔اور کتابوںمیں آیا ہے کہ آپ نے اپنے والد بزرگوار کے ساتھ تیس سال بسر کئے ۔

۲۔امام صادق ،صفحہ ۱۰۱ ۔۱۰۲۔


آپ نے مختلف علوم کے اقسام شائع کئے جن کو لوگ اس وقت تک نہیں جانتے تھے ،اس یونیورسٹی نے بہترین مفکر ،منتخب فلسفی اورنامورعلماء پیش کئے۔بعض محققین کا کہنا ہے :(اس مقام پر اس حقیقت کا بیان کرنا واجب ہے کہ ترقی پر گامزن ہونے کیلئے اسلامی ثقافت اور عربی فکر اسی یونیورسٹی کی مرہون منت ہیں اور اس کے عمید و سردار امام جعفر صادق نے علمی تجدد اور قیمتی میراث چھوڑی ہے)۔(۱)

عارف ثامر کا کہنا ہے : (علمی میدان پر امام صادق علیہ السلام کے سلسلہ میں گفتگو کرنا واجب ہوگیا کہ مدرسہ ٔ فکر کے پہلے بانی آپ ہیں ،فلسفہ ٔ باطنی کی تعلیم کا پہلا مرکز قائم کرنے والے آپ ہی ہیں نیزعلم کیمیاء کے موجدبھی آپ ہی ہیں جس کے سلسلہ میں جابر بن حیان صوفی طرسوسی نے گفتگو کی ہے ، آپ ہی نے عقل اسلامی کو اس کے محدود دائرہ سے نکال کرخوشگوار اور کھلی فضاعطا فرما ئی جس کے ہر پہلو میںصحیح و سالم فکری اور علمی آزا دی پائی جا تی ہے جومنطق اور حقیقت پر مبنی ہے) ۔(۲)

ہم نے اس یونیورسٹی کے متعلق حیات الامام الصادق میں مفصل طور پر گفتگو کی ہے اوراب ہم ذیل میں اس کی بعض بحثوں کی طرف اجمالا اشارہ کرتے ہیں :

یونیورسٹی کا مرکز

جس یونیورسٹی کی امام صادق نے بنیاد ڈالی اس کا بڑا مر کز یثرب میں تھا اور جامع نبوی عظیم میں آپ اپنے محاضرات و دروس دیا کرتے تھے اور بعض اوقات آپ کے بیت الشرف کے صحن میں بھی یہ دروس برقرار ہو تے تھے ۔

علمی وفود

عالم اسلام کے مختلف مقامات کے بزرگان فضیلت جلدی جلدی اس درسگاہ سے کسب فیض کے لئے حاضر ہونے لگے ۔

سید عبد العزیز الاھل کا کہنا ہے :(کوفہ ،بصرہ ،واسط ،حجازاورہر قبائل بنی اسد،غنی ،مخارق ، طیّ ،سلیم

____________________

۱۔حیاةالامام صادق ،جلد ۱، صفحہ ۱۳۱۔

۲۔ جعفر صادق ملہم الکیمیائ، صفحہ ۳۲۔


غطفان ،غفار، ازد ،خزاعہ ،خشعم ،مخزوم ،بنی ضبّہ ،قریش کے لوگ مخصوصا حارث بن عبدالمطلب ،بنی حسن بن علی، اپنے بچوں کو اس درسگاہ میں تعلیم دین حاصل کرنے کیلئے بھیجنے لگے ، ان کے علاوہ عرب اور فارس کے کچھ آزاد قبیلے خاص طور سے شہر قم کے علماء نے بھی اپنے بچوں کو امام صادق کی درسگاہ میں تحصیل علم کیلئے روانہ کیا)۔(۱)

اقالیم اسلامیہ نے مشترک طورپراپنے بچوں کو امام کے علوم سے استفادہ اور نسل نبوت سے احکام شریعت حاصل کرنے کے لئے امام کی خدمت میں روانہ کیا ۔

طلبہ کی تعداد

امام کی یونیورسٹی کے طالب علموں کی تعداد چار ہزار تھی ،(۲) یہ بہت بڑی تعداد تھی جس کی اس دور کے علمی مدرسوں میںکو ئی نظیر نہیں ملتی ،حافظ ابو عباس بن عقدہ ہمدا نی کو فی نے امام جعفر صادق سے حدیث نقل کر نے والے راویوں کے نام کے متعلق ایک کتاب تالیف کی ہے جس میں چار ہزار طلاب کے نام تحریر کئے ہیں ۔(۳)

ڈاکٹر محمود خالدی کا کہنا ہے :(''امام جعفر صادق ''کے مؤثق راویوں کی تعداد چار ہزار تھی ہم اس بڑی تعداد سے بالکل بھی متعجب نہیں ہیں بلکہ اگر اس کے برعکس واقع ہو اور نقل کیا جائے تو تعجب کا امکان ہے)۔(۴)

محقق نے معتبر میں کہا ہے : (امام جعفر صادق 'کے زمانہ میں ایسے علوم شائع ہوئے جن سے عقلیں مبہوت ہو کر رہ گئیں ،امام جعفر صادق سے تقریبا چار ہزار راویوں نے روایت کی ہے)۔(۵)

سید محمد صادق نشأت کا کہنا ہے : '' امام جعفر صادق کا بیت الشرف یزدان کی یونیورسٹی کے

____________________

۱۔جعفر بن محمد صفحہ ۵۹۔

۲۔الارشاد ،جلد ۲،صفحہ ۵۹۔اعلام الوریٰ ،جلد ۱،صفحہ ۵۳۵۔المعتبر ،جلد ۱،صفحہ ۲۶۔

۳۔صواعق المحرقہ، صفحہ ۱۲۰۔

۴۔اصول الفکریہ للثقافة الاسلامیہ جلد ۱،صفحہ ۲۰۳۔

۵۔حیاةالامام جعفر صادق جلد ۱، صفحہ ۱۳۴۔


مثل تھا جو ہمیشہ علم حدیث ،تفسیر ،حکمت اور کلام کے بڑے بڑے علماء سے چھلکتا رہتا تھا ، اکثر اوقات آپ کے درس میں دو ہزار طلبا حاضر ہوتے تھے اور بعض اوقات چار ہزار مشہور علماء حاضر ہوتے تھے ۔ آپ کے شاگردوں نے آپ کی وہ تمام احادیث اور دوروس تحریر کئے جو بعد میں شیعہ یا جعفری مذہب کے علمی خزانہ کے مانند کتابوں کی شکل میں آگئے ''۔(۱)

ہم نے ''حیاة الامام الصادق ''میں آپ کے تین ہزار چھ سو باسٹھ راویوں کاتذکرہ کیا ہے ۔

یونیورسٹی کے شعبے

وہ اکثر علماء جو آپ کی درسگاہ سے فارغ التحصیل ہو کر اپنے وطن واپس پلٹے انھوں نے اپنے اپنے وطن میں علمی اور دینی مدرسے قائم کئے ۔۔۔اور آپ کے جامعہ کی سب سے بڑی شاخ کی بنیادکوفہ میں ڈالی گئی جو جامعہ کوفہ کے نام سے مشہور ہوا ۔

حسن بن علی وشّاء کا کہنا ہے :(میں اس ''یعنی مسجد کو فہ ''مسجد میں پہنچا تو مجھ سے نو سو شیخ ''علماء '' نے کہا کہ :مجھ سے جعفر بن محمدنے حدیث بیان کی ہے)۔(۲)

کوفہ میں وسیع پیمانہ پرعلمی تحریک کا آغاز ہوا ،جیسے اس کے علاوہ دوسرے مقامات پر وسیع پیمانہ پرعلمی نہضت قائم ہو ئی تھی ۔

سید میر علی ہندی کہتے ہیں : ''اس دور میں علم منتشر کرنے میں کو ئی پریشا نی نہیں تھی یعنی فکر ایک دم آزاد تھی اور اس نے عقل کو اس کے محور سے جدا کرنے میں مساعدت کی ،اور عالم اسلام میںعام طور پر ہرجگہ فلسفی بحثیں ہونے لگیں،اس بات کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ اس بلند و بالا تحریک کا آغاز علی بن ابی طالب کے فرزند امام جعفر جن کو صادق کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے ،نے کیا آپ نے افق تفکیر کو خوش آمدیدکہا ،آپ بہت گہری فکر کے مالک تھے ، اپنے زمانہ کے تمام علوم سے آشنا تھے ،حقیقت میں آپ ہی وہ شخصیت تھے جنھوں نے سب سے پہلے اسلام میں مشہور فلسفی مدرسوں کی بنیاد ڈالی ،حقیقت میں جن لوگوںنے

____________________

۱۔ حیاة الامام صادق اور مذاہب اربعہ جلد ۱صفحہ ۶۲۔

۲۔حیاة الامام جعفر صادق ،جلد ۱،صفحہ ۱۳۵۔


بعد میں مختلف جگہوں پرمدرسہ کی بنیاد ڈالی وہ خود امام کے دروس میں حاضر ہوتے تھے ۔آپ کے درس میں دور دراز کے علاقوں سے بھی لوگ فلسفہ کے دروس پڑھنے کیلئے حاضر ہوتے تھے)۔(۱)

بہر حال کوفہ میں بعض علمی خاندان کو امام کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا ، اور بہت سے خاندان جیسے آل حیان تغلبی ، آل اعین ،بنی عطیّہ ،بیت بنی درّاج وغیرہ اور دوسرے علمی خاندانوں نے علم فقہ اورحدیث میں تخصّص کیا۔(۲)

امام جعفر صادق نے کوفہ میں دو سال سے زیادہ قیام کیا ،آپ نے بنی عبد القیس کے یہاںقیام کیا،جہاں پر آپ سے احکام دین کے متعلق فتوے معلوم کرنے والے شیعوں کاہجوم لگا رہتا تھا، محمدبن معروف ہلالی نے امام جعفر صادق کے پاس ہجوم کے متعلق یوں بیان کیا ہے کہ : میں مقام حیرہ پر جعفر بن محمد کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہاں پر لوگوں کا ازدھام تھا ،چوتھے دن میں نے ان کو اپنے قریب ہوتے دیکھا ، لوگ ان سے دور ہوتے گئے، امام اپنے جد امیر المو منین کی قبر کی طرف گئے تو میں بھی ان کے نقش قدم پر قدم رکھتا ہوا اُن کے ساتھ ہو لیا اور ان کا کلام سنا ۔(۳)

علمی طریقے

حضرت امام جعفر صادق کے دروس ہر قسم کے علوم و معارف اور ثقافتی ضرب المثل کو شامل ہیں آپ نے مندرجہ ذیل موضوعات میںدروس دئے :

علم فقہ ۔

علم حدیث ۔

علوم قرآن ۔

____________________

۱۔جعفر بن محمد ،صفحہ۵۹۔

۲۔تاریخ کوفہ ،صفحہ ۴۰۸۔

۳۔حیاةالامام جعفر صادق ،جلد ۱،صفحہ ۱۳۶۔


علم طب ۔

کیمیا ئ۔

فیزیک۔

علم نبات

ان کے علاوہ آپ نے دوسرے ایسے علوم کی تعلیم بھی دی جن کا آنے والے معاشرہ اور صناعت میں اثر تھا ۔

ان تمام علوم میں نمایاں طور پر امام نے جس علم کا بہت زیادہ اہتمام کیا وہ علم فقہ اسلامی ہے جس میں آپ نے عبادات ، معاملات ،عقود اور ایقاعات کی تشریح فرما ئی،اور وہ احادیث شریفہ جن کی طرف امامیہ فقہاء احکام شرعی کے استنباط کے لئے رجوع کر تے ہیں ۔

علوم کی تدوین

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو اپنے تمام دروس و محاضرات کو تدوین کرنے کی شدت کے ساتھ تاکید فرمائی کہ کہیں یہ دروس ضائع و برباد نہ ہو جا ئیں ۔چنانچہ ابو بصیر سے مروی ہے کہ میں ابوعبداللہ جعفر صادق کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا :''تمھیں لکھنے سے کو ن منع کرتا ہے ؟ بیشک تم اس وقت تک حفظ نہیں کر پائوگے جب تک نہ لکھ لو ،میرے پاس سے بصرہ والوں کا ایک ایساگروہ گیاہے جو جس چیز کے بارے میں سوال کرتا تھا اس کو لکھتا تھا ''۔(۱) امام جعفر صادق نے علوم تدوین کر نے کا اتنا زیادہ اہتمام کیا کہ اپنے شاگرد جابر بن حیان سے کہا کہ ایسا کاغذ تیار کرو جس کو آگ نہ جلا سکے ،جابر نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے وہ کاغذ تیار کیا تو امام نے اس کاغذ پراپنے دست مبارک سے لکھ کر اسے آگ میں ڈالا تو آگ اس کو نہ جلاسکی،(۲) البتہ راویوں نے اس کتاب کے نام کاتذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی اس میں تحریر کئے گئے علم کا نام بتایا ہے۔

____________________

۱۔مستدرک الوسائل، جلد ۱۷،صفحہ ۲۹۲حدیث ۲۹۲۔

۲۔امام صادق کما عرفہ علماء الغرب صفحہ ۵۴۔جابر بن حیان و خلفائوہ ،صفحہ ۵۷۔


امام کے شاگرد علماء نے آپ کی آواز پر بڑی جلدی کے ساتھ لبیک کہی اور جابر بن حیان نے علم کیمیاء کے متعلق آپ کے بیان کردہ مطالب کو مدوّن کیاجن کی تعداد پانچسو رسالہ(۱) تک پہنچ گئی یہ رسائل علم کیمیاء کیلئے بہت ہی بہترین سر چشمہ ہیں اور ان سے علماء نے بہت زیادہ فائدہ اٹھایاہے۔

امام کے کچھ نابغہ شاگردوں کا ایک گروہ تھا جنھوں نے مختلف قسم کے علوم میں مختلف کتابیں تالیف کی ہیں ۔

محقق کبیر آقا بزرگ (خدا ان کے درجات بلند فرمائے)رقمطراز ہیں کہ امام کے شاگردوں میں سے دوسو شاگرد مصنف تھے ۔(۲)

اس اختصار کے ساتھ ہی امام صادق کی یونیورسٹی کے سلسلہ میںہماری گفتگو ختم ہو جا تی ہے۔

____________________

۱۔مرآة الجنان ،جلد ۱،صفحہ ۳۰۴۔الاعلام جلد ۱،صفحہ ۱۸۶۔

۲۔الذریعہ ،جلد ۶،صفحہ ۳۰۱ ۔۳۷۴۔


آپ کے صفات و خصوصیات

امام جعفر صادق کے بلند و بالا صفات ہی آپ کی ذات کا جزء تھے جن میں سے ہم بعض صفات کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

۱۔بلند اخلاق

امام جعفر صادق بہت ہی بلند و بالا اخلاق کے مالک تھے ،آپ کی ذا ت کی بلندی یہ تھی کہ جو آپ کے ساتھ برا سلوک کرتا آپ اس پر احسان کرتے تھے،مو رخین نے آپ کے بلند اخلاق کے متعدد واقعات قلم بند کئے ہیں ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ حاجیوں میں سے ایک شخص کو یہ وہم ہوگیا کہ اس کی رقم کی تھیلی کھو گئی ہے، اب اس کو تلاش کرنے لگا وہ مسجد نبوی میں داخل ہوا تو امام جعفر صادق نماز میں مشغول تھے وہ آپ کے پاس بیٹھ گیا حالانکہ وہ امام کو پہچانتا بھی نہیں تھا جب آپ نماز پڑھ چکے تو اس نے امام سے کہا :کیا آپ نے میری رقم کی تھیلی اٹھا ئی ہے ؟

امام نے بڑے ہی نرم لہجہ میں اس سے فرمایا : اس میں کیا تھا ؟۔

اس نے کہا : ایک ہزار دینار ۔


امام نے اس کو ایک ہزار دینار عطا کر دئے جب وہ ایک ہزار دینار لیکر اپنے گھر پہنچا تو اس کو وہ گُم ہو جانے والی تھیلی مل گئی اب اُن ایک ہزار دیناروں کو لے کر امام کی خدمت میں پہنچا آپ سے عذر خوا ہی کی اور ہزار دینار امام کو واپس دینے لگاامام نے انھیں لینے سے انکار کر دیا اور فر مایا : ''جو ہم عطا کردیتے ہیں اسے واپس نہیں لیتے ''۔اس شخص کو بہت تعجب ہوا اور اس نے امام کے متعلق سوالات کئے کہ یہ کون ہیں تو اس کو بتایا گیا : یہ امام جعفر صادق ہیں ۔

اس نے بڑے تعجب سے کہا : یقینامیں نے ان کے مانند کسی کو نہیں دیکھا ۔(۱)

بیشک یہ امام کے بلند اخلاق اور مکارم اخلاق ہی تھے جو اس شخص کی تصدیق کرے اوراس کو مال دیدینے کاسبب بنے ۔

۲۔تواضع

امام جعفر صادق کی نمایاں صفت تواضع تھی، یہ آپ کی تواضع کا ہی اثر تھا جو آپ چٹائی(۲) پر بیٹھتے اور اچھے فرش پر بیٹھنے سے انکار فرما دیتے ،آپ متکبرین کو حقارت سے دیکھتے تھے کسی قبیلہ کے ایک شخص نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے اس سے فرمایا : اس قبیلہ کا سردار کو ن ہے ؟

ایک شخص نے جلدی سے کہا :میں ۔

امام نے فرمایا : ''اگر تو اس قبیلہ کا سردار ہوتا تو ،میں نہ کہتا ''۔(۳)

آپ کی تواضع کا یہ عالم تھا کہ ایک سیاہ فام شخص آپ کا ملازم تھا جو آپ کے کام انجام دیتا تھاایک شخص نے اس کے متعلق سوال کیااور اس کی اہانت کرتے ہوئے کہا : یہ وہ نبطی ہے ۔

____________________

۱۔حیاةالامام جعفر صادق ،جلد ۱،صفحہ ۶۶۔

۲۔النجوم الزاہرہ جلد ۵ ،صفحہ ۱۷۶۔

۳۔الطبقات الکبریٰ جلد ۱،صفحہ ۳۲۔


امام نے اس کی تردید میں فرمایا :''انسان کی اصلیت اس کی عقل ،اس کا حسب اس کا دین ، اس کا کرم اور تقویٰ ہے اور سب انسان آدمیت میں برابر ہیں ''۔(۱)

بیشک تواضع انسان کے ذاتی صفات کی بلندی سے ہے جس سے انسان کی شرافت اور اس کا کمال نمو پاتا ہے ۔

۳۔صبر

آپ کے بلند اخلاق میں سے ایک عظیم صفت زمانہ کے مصائب اور گردش ایام پر صبر کرنا تھا آپ کے سامنے آپ کے فرزند اسماعیل کے انتقال کا واقعہ پیش آیاجو علم و ادب میں علویوں کا چشم و چراغ تھا ، امام کے اصحاب کی ایک جماعت نے جب آپ کو مد عو کیااور آپ کے سامنے کھانا پیش کیا تو آپ کے ساتھ بعض اصحاب نے عرض کیا :اے ہمارے سید و آقا !آپ پر آپ کے فرزند ارجمند کے غم کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں ؟

امام نے جواب میں فرمایا:''میں ایسا کیوں ہوجائوں جیسا تم سمجھ رہے ہو ،اور اصدق الصادقین (یعنی میرے جد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم )سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے اصحاب سے فرمایا :میں میت ہوں اور تم کو بھی موت آئے گی ''۔(۲)

۴۔سخاوت

امام لوگوں میں سب سے زیادہ سخی اور ان میں سب سے زیادہ نیکی اور احسان کرنے والے تھے ، راویوں نے آپ کی سخاوت کے متعدد واقعات نقل کئے ہیں ،ان ہی میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ اشجع سلمی آپ کے پاس آیا تو آپ علیل تھے، جب اس نے آپ کی بیماری کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا : ''بیماری کو چھوڑ دو تم اپنی ضرورت بیان کرو ''۔اس نے کہا :

____________________

۱۔حیاة الامام جعفر صادق ، جلد ۱،صفحہ ۶۶۔

۲۔مناقب آل ابی طالب ،جلد ۴،صفحہ ۳۴۵۔امالی طوسی ،جلد ۱صفحہ ۲۸۷۔


أَلْبَسَکَ اللّٰه ُ مِنْهُ عَافِیَةً

فِْ نَوْمِکَ المُعْتَرِ وَف أَرَقِک

یُخْرِجُ مِنْ جَسْمِکَ السَّقَامَ کَمَا

أَخْرَجَ ذُلَّ السَّوَالِ مِنْ عُنُقِکْ

''خدا نے تم کو نینداور بیداری کے عالم میں اپنے لطف سے لباس عافیت پہنایا۔

خدا تمہارے جسم کی بیماریاں اسی طرح دور کرتا ہے جس طرح اس نے تم سے بھیک مانگنے کی رسوائی کو دور کیا ہے ''۔

امام اشعار کی دوسری بیت سے اس کی ضرورت سے آگاہ ہو گئے تو آپ نے اپنے غلام سے فرمایا: ''تیرے پاس کچھ ہے ؟''۔اس نے کہا :چار سودینار ،آپ نے اس کو عطا کرنے کا حکم دیدیا ۔(۱)

راویوں نے فقیروں کے ساتھ آپ کے احسان کے متعلق بہت زیادہ روایات نقل کی ہیں آپ ان کو کھانا اور لباس عطا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے عیال کیلئے کھانے اور لباس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہتاتھا ،آپ کے کرم کی حالت یہ تھی کہ ایک شخص کا آپ کے پاس سے گذر ہوا اس وقت آپ کھانا نوش فرمارہے تھے اس شخص نے سلام نہیں کیااور امام نے اس کو اپنے ساتھ کھانا نوش کرنے کی دعوت دی تو بعض حاضرین نے امام کے ایسا کرنے پر اعتراض کیااور آپ سے کہا : سنت ہے کہ وہ پہلے سلام کرے پھر اس کی دعوت کی جا ئے حالانکہ اس نے سلام نہیں کیا ہے ؟امام مسکرائے اور اس سے فرمایا :''ھذا فَقہ عراق فیہ بُخل''۔(۲) ''یہ عراقی فقہ ہے اور اس میں بخل پایا جاتا ہے'' ۔

۵۔مخفی طور پر آپ کے صدقات

امام جعفر صادق اپنے دادا امام زین العابدین کی طرح رات کی تاریکی میں فقیروں کی مدد کرتے تھے حالانکہ وہ آپ کو پہچانتے بھی نہیں تھے ،آپ رات کی تاریکی میں روٹی ،گوشت اور درہموں سے بھرے ہوئے تھیلے اپنی پیٹھ پر لاد کر ضرورت مندوں کے پاس جاتے اور ان کے درمیان تقسیم کرتے تھے جبکہ وہ لوگ آپ کو پہچانتے بھی نہیں تھے ،آپ کے انتقال کے بعد ان کومعلوم ہوا کہ ان کے ساتھ صلہ ٔ رحم کرنے والے

____________________

۱۔تاریخ اسلام، جلد ۶، صفحہ ۴۵۔مرآة الزمان، جلد ۶، صفحہ ۱۶۰۔تہذیب الکمال، جلد ۵، صفحہ ۸۷۔

۲۔حیاةالامام صادق ، جلد ۱،صفحہ ۶۴۔


امام جعفر صادق تھے ۔(۱)

آپ کے صلہ ٔ رحم کے بارے میں اسماعیل بن جعفر سے روایت ہے :مجھے امام جعفر صادق نے پچاس درہم کی تھیلی دے کر فرمایا :''اس کو بنی ہاشم کے ایک شخص کو دے آئو اور اس کو یہ مت بتانا کہ میں نے یہ پچاس درہم تمھیں دئے ہیں ''۔میں نے وہ پچاس درہم لیکر اس شخص کو پہنچا دئے، جب میں نے وہ پچاس درہم اس شخص کو دئے تو اس نے مجھ سے سوال کیا :یہ درہم تمھیں کس نے دئے ہیں ؟

میں نے اس کو بتایا کہ یہ اس شخص نے دئے ہیں جو تم سے اپنا تعارف کرانا نہیں چاہتا ۔علوی نے کہا : یہ شخص میرے لئے ہمیشہ اسی طرح رقم بھیجتا رہتا ہے جس سے ہماری زند گی بسر ہو رہی ہے ،لیکن جعفر کثرت مال کے باوجود میرے پاس کو ئی درہم نہیں بھیجتا ۔(۲)

امام اللہ کی مرضی اور دار آخرت کی خاطر اپنے صدقات کو مخفی رکھتے تھے ۔

۶۔ حاجت روائی میں سبقت کرنا

جب کو ئی ضرورت مند کی ضرورت کو پورا کرنے میں کو تاہی کرتا تھاتو آپ اس کی حاجت پوری کرنے میں بہت جلدی فرماتے ،آپ سے اس کے بارے میں کہا گیا :آپ کسی کی حاجت روائی میں اتنی جلدی کیوں کر تے ہیں ؟تو امام نے فرمایا :''میں اس چیز سے خوف کھاتا ہوں کہ کو ئی دوسرا شخص اس کی حاجت پوری کردے اور مجھے اس کا اجر نہ مل سکے ''۔

اسی طرح امام ہرطرح کے کرم و فضیلت کے لئے ایک نمونہ تھے ۔

۷۔آپ کی عبادت

امام جعفر صادق اپنے آباء و اجداد کی طرح اللہ کی عبادت اور اطاعت کیاکر تے تھے ،آپ اپنے زمانہ کے لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے ،آپ اپنے خالی اوقات کو نماز میںصَرف کرتے ،آپ واجب نماز کی نافلہ نمازیں بہت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ بجالاتے ،اکثر ایام میں روزہ رکھتے

____________________

۱۔حیاةالامام صادق جلد ۱،صفحہ ۶۴۔

۲۔مجموعہ ٔ ورّام، جلد ۲، صفحہ ۸۲۔


جب رمضان کا مہینہ آتا تو آپ اس کا بہت ہی شوق کے ساتھ استقبال کرتے ۔ آپ سے بہت سی وہ دعا ئیں نقل ہوئی ہیں جن کو آپ ماہ رمضان کے دنوں اور رات میں پڑھا کرتے تھے جن کو ہم نے صحیفہ ٔ صادقیہ میں نقل کیا ہے ۔

آپ نہایت ہی خضوع کے ساتھ حج بیت اللہ انجام دیتے تھے ،سفیان ثوری سے روایت ہے : خدا کی قسم میں نے جعفر بن محمد کو جس طرح مشعر میںکھڑے ہوکرتضرع اور گریہ و زاری کرتے دیکھا اس طرح کسی بھی حاجی کو نہیں دیکھا ،جب آپ عرفات پہنچے تو آپ نے لوگوں کے ایک جانب ہو کر موقف میں دعاکی ۔(۱)

بکربن محمد ازدی سے روایت ہے :میں نے طواف کیا تو میرے ہی ایک پہلو کی طرف ابو عبد اللہ نے طواف انجام دیا جب آپ طواف سے فارغ ہوئے تو آپ نے خانہ ٔ کعبہ اور حجر اسما عیل کے مابین دو رکعت نماز ادا کی اور میں نے آپ کو سجدہ میں یہ کہتے سُنا:''سَجَدَ وَجْهِْ لَکَ تَعَبُّداً وَرِقّاً،لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ حَقّاً حَقّاً،اَلْاَوَّلُ قَبْلَ کُلِّ شَیْئ،وَهَاأَنَا ذَا بَیْنَ یَدَیْکَ،ناصیتْ بِیَدِکَ،فَاغْفِرْلِْ،اِنَّهُ لَایَغْفِرُالذَّنْبَ الْعَظِیْمَ غَیْرُکَ فَاغْفِرلِْ '' ۔(۲)

امام جعفر صادق عبادت میںاس شخص کیلئے اسوئہ حسنہ تھے جو توبہ کرے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرے ، ہم نے اپنی کتاب ''امام صادق کی سوانح حیات ''میںآپ کی عبادت کا مفصل طور پر تذکرہ کیا ہے۔

مختصر حکمت آمیز کلمات

راویوں نے امام صادق کے متعدد مختصر حکیمانہ کلمات نقل کئے ہیں جو انسان کے مختلف امور تمام ضروریات اور بلند و بالا اسوہ حسنہ ہیں ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔امام جعفر صادق فرماتے ہیں:''جب تم کسی مسلمان سے کو ئی بات سنو تو اس کواپنے اندر موجود کسی اچھا ئی پر حمل کرواور اگر تمہارے اندر وہ چیز محمول نہیں ہو پا رہی ہے تو اپنے نفس کی ملامت کرو''۔(۳)

____________________

۱۔حیاةالامام صادق ،جلد ۱،صفحہ ۷۱۔

۲۔قرب الاسناد ،صفحہ ۲۸۔

۳۔جمہرة الاولیاء ،جلد ۲،صفحہ ۷۹۔


۲۔امام فرماتے ہیں:''خداوند عالم جسے معصیت کی ذلت سے اپنی اطاعت کی عزت کی طرف لے جاتا ہے تو اسے بغیر مال کے غنی ، بغیر انیس و مو نس کے مانوس ،اوربغیر قوم و قبیلہ کے عزت عطا کر تا ہے ''۔

۳۔امام فرماتے ہیں:''تم لوگوں میں کفر کی حد سے وہ شخص زیادہ قریب ہے جواپنے مو من بھا ئی کی لغزش کو اس لئے بچا کر رکھے تاکہ کسی دن اسے ذلیل کر سکے ''۔

۴۔امام فرماتے ہیں:''بیشک گناہ ،رزق سے محروم کر دیتا ہے ''۔(۱)

۵۔امام فرماتے ہیں:''سب سے بڑا گناہ ہم پر نازل ہونے والی چیز کا انکار کرنا ہے ''۔(۲)

۶۔امام فرماتے ہیں:''ہر مرض کی دوا ہے اور گناہوں کی دوا استغفار ہے ''۔(۳)

۷۔امام علیہ السلام فرماتے ہیں:''دل کو اس کی جگہ سے ہٹانے سے زیادہ پہاڑوں کوہٹاناآسان ہے''۔(۴)

۸۔امام فرماتے ہیں:''جب تمہارے دنیاوی امور صحیح ہو جا ئیں تو اپنے دین کو متہم کرو ''۔(۵)

۹۔امام فرماتے ہیں:''دو مو من جب کبھی ایک دوسرے سے ملاقات کریں تو اُن میں وہ شخص زیادہ صاحب فضیلت ہے جس کے دل میں اپنے دوست سے محبت زیادہ شدید ہو تی ہے ''۔(۶)

۱۰۔امام فرماتے ہیں:''کو ئی بندہ اس وقت تک مو من نہیں ہو سکتا جب تک اس کے اندر خوف و رجا مو جود نہ ہوں اور خوف وامیداس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتے جب تک وہ اُن چیزوں پر عمل پیرا نہ ہو جس سے ڈرا جاتا ہے اورجن کی امید کی جا تی ہے ''۔(۷)

۱۱۔امام فرماتے ہیں:''میں اپنے ان برادران کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں جو مجھے میرے عیوب

____________________

۱۔الغایات ،صفحہ ۱۰۰۔

۲۔الغایات ،صفحہ ۸۵۔

۳۔جامع الاخبار، صفحہ ۲۲۔

۴۔تحف العقول ،صفحہ ۳۵۷۔

۵۔الحکم الجعفریہ ،صفحہ ۴۶۔

۶۔محاسن صفحہ ،۲۰۹۔

۷۔مجموعۂ ورّام جلد ۲،صفحہ ۱۸۵۔


کی نشان دہی کرائیں ''۔(۱)

۱۲۔امام فرماتے ہیں:''وہ شخص ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے جو زبان سے کہے وہ اس کے اعمال اور آثار کے خلاف ہو ، لیکن وہ ہمارے شیعوں میں سے ہے جس کی زبان اور دل ایک ہو ،ہمارے احکام کی اتباع کرے ،ہمارے اعمال کے مانند اعمال انجام دے ''۔(۲)

۱۳۔امام فرماتے ہیں:''سچی نیت والے کا دل بھی صحیح و سالم ہوتا ہے ''(۳)

۱۴۔امام فرماتے ہیں:''اپنی طرف سے اپنے بھا ئی کو بُرا بھلا کہنے کی ابتدا نہ کرو'' ۔(۴)

۱۵۔امام فرماتے ہیں:''تمہارا راز تمہارے خون کے اندر پوشیدہ ہے لہٰذا اسے کسی دوسرے کی رگوں میں جا ری نہ کرو''۔(۵)

۱۶۔امام فرماتے ہیں:''حرام کما ئی کا اثراولاد میں ظاہر ہو تا ہے'' ۔(۶)

۱۷۔امام فرماتے ہیں:''جس کی نیت صحیح ہو تی ہے اللہ اس کا رزق زیادہ کرتا ہے''۔(۷)

۱۸۔امام فرماتے ہیں:''جس شخص سے تمھیں اپنے جھٹلائے جانے کا خوف ہو اس سے گفتگو نہ کرو، جس سے تمھیں انکار کا خوف ہو اس سے سوال نہ کرو ، اس سے مطمئن نہ ہوجس سے تمھیں دھوکہ کا خوف ہو ''۔(۸)

۱۹۔امام فرماتے ہیں:''امر بالمعروف برائی کو دور کرتا ہے ،صدقہ پروردگار عالم کے غضب کوخاموش کردیتا ہے، صلہ ٔ رحم سے عمر میں اضافہ اور فقر و تنگدستی دور ہو تی ہے اور'' لا حول ولا قوة الا باللہ'' کہناجنت

____________________

۱۔تحف العقول، صفحہ ۳۶۶۔

۲۔اصول کافی ،جلد ۲صفحہ ۱۹۶۔

۳۔حیاةالامام جعفر صادق ،جلد ۴، صفحہ ۴۸۱۔

۴۔امام صادق اور مذاہب اربعہ ،جلد ۴،صفحہ ۳۵۴۔

۵۔ امام صادق اور مذاہب اربعہ ،جلد ۴،صفحہ ۳۵۱۔

۶۔امام صادق اور مذاہب اربعہ ،جلد ۴،صفحہ ۳۵۷۔

۷۔المحاسن، صفحہ ۲۰۷۔

۸۔تذکرہ ابی حمدون ،صفحہ ۸۵۔


کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ''۔(۱)

سفرجنت

امام جعفر صادق علیہ السلام منصور کی نگاہوں میںایک کانٹے کے مانند تھے جس سے اس کی نظروں میں اہل بیت کی زندگی دوبھر ہو گئی تھی ،لہٰذا اس نے آپ کو یثرب میں اپنے گورنرکے ذریعہ زہر دلوادیا جس کو پیتے ہی امام دردرو الم میں مبتلا ہوگئے ،موت آپ کے بہت قریب ہو گئی جس کے بعد آپ کی روح بارگاہ ملکو تی میں آسمان کی طرف پرواز کر گئی ۔

اسلام کے پیشوا ،اس علمی اور فکری تحریک کے علم بردار جس میں آپ کے آباء واجداد کے علاوہ آپ کا کو ئی مثل نہیں ہو سکتا ،نے وفات پا ئی ،آپ کے فرزند ارجمند اور وصی امام کاظم نے آپ کی تجہیز کی آپ کو غسل دیا ،کفن پہنایا اور نماز جنازہ ادا کر کے آپ کے دادا امام زین العابدین اور والد بزرگوار امام محمد باقر کے پہلو میں دفن کردیا، آپ کے ساتھ اس علم اوراس سرمایہ کو بھی زمین کے اندر چھپادیاجس سے قیامت تک تمام انسانوں کو بلندی مل سکتی ہے۔

____________________

۱۔تاریخ یعقوبی ،جلد ۳،صفحہ ۱۱۶۔


حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام

بیشک حضرت امام موسیٰ بن جعفر کی زندگی نور ،کرامت اورحسن سلوک کا سرچشمہ ہے،ان کا فیض دائم ہے جس میں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی روحا نیت ،جہاد،روش اور پا بندی دین کی جلوہ نما ئی با لکل مجسم شکل میں موجود ہے۔آپ کی سیرت و کردار کے مختصر حالات مندرجہ ذیل ہیں :

علمی طاقت وقوّت

راویوںاور محققین کا اس بات پر اجماع ہے کہ آپ اپنے زمانہ کے اعلم تھے ،آپ علوم ومعارف کی بڑی طاقت وقوت کے مالک تھے ، علماء اور راوی آپ کے علوم کے چشمے سے سیراب ہوئے ، وہ امام کے زرین اقوال اور آداب کے متعلق جو فتویٰ دیتے اس کو لکھنے میں ایک دوسرے پر سبقت کرتے تھے،ائمہ اہل بیت میں سب سے پہلے تشریع اسلام میں حلال وحرام کے باب کا آغاز کیا۔(۱)

آپ کے زمانہ میں آپ کے مدرسہ سے بڑے بڑے علماء اور فقہاء فارغ التحصیل ہوئے، ہم نے اپنی کتاب ''حیاةالامام موسیٰ بن جعفر ''میں آپ کے اصحاب اور آپ سے حدیث نقل کرنے والے راویوںکی تعداد(۳۳۱)بیان کی ہے ،ان علماء میں سے بعض آپ ہی کے دور میں علمی میدان میں فعال ہوئے جیسے بعض علماء نے امامت کے منکر اور دوسرے تمام فرق ومذاہب کے علماء کے ساتھ مناظرے کے میدان میں قدم رکھا جن میںسب سے نمایاں آپ کے صحابی ہشام بن حکم تھے ،انھوں نے برامکہ کے ساتھ بڑے اچھے مناظرے کئے اور بلاط عباسی میں امامت کے متعلق شیعوں کے مذہب کو اصل دلیل وبرہان کے

____________________

۱۔الفقہ الاسلامی مدخل لدراسة نظام المعاملات، صفحہ ۱۶۰۔


وبرہان کیذریعہ ثابت کیا۔ہم نے اپنی کتاب ''حیاةالامام موسیٰ کاظم ''کی دوسری جلدمیںہشام بن حکم کے مناظروںکے متعلق تحریرکیاہے۔

امام کے مناظرے

امام موسیٰ کاظم نے اپنے دشمن اور بعض یہودی اور عیسائی علماء کے ساتھ حیرت انگیز اورمحکم مناظرے انجام دئے جو آپ کی علمی طاقت وقوت پر دلالت کرتے ہیں جو بھی آپ سے مناظرہ کرتاوہ عاجزوکمزورثابت ہو تا، امام کے حجت ہونے کا یقین کرلیتا اور خود پر آپ کی علمی برتری کا معترف ہوجاتا آپ کے بعض مناظرے مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔نفیع انصاری کے ساتھ مناظرہ

نفیع انصاری امام سے کینہ وبغض رکھنے والوں میں سے تھا،جب وہ عباسی مملکتوں میں امام کا اکرام وتکریم ہوتا دیکھتاتو وہ غصہ سے بھر جاتا ،جب امام ہارون کے پاس تشریف لے جارہے تھے تو ہارون کے دربان نے آگے بڑھ کر امام کا بیحد استقبال کیا جب آپ ہارون کے پاس سے جانے لگے تو نفیع کے ساتھ عبدالعزیز نے کہا : یہ بزرگ کون ہیں ؟

یہ بزرگوار ابوطالب کی اولاد سے موسی بن جعفر ہیں ۔

نفیع نے کہا:میں نے اس قوم (یعنی بنی عباس)سے عاجز قوم نہیں دیکھی جو اس شخص کی اتنی ایسی تعظیم وتکریم کرتی ہے جو ان کو تخت حکومت سے نیچے اتارنے کے در پئے ہے،جان لے جب یہ باہر نکلیںگے تو میں ان کو ذلیل ورسوا کروںگا۔

عبدالعزیزنے اس کو امام کے بارے میں اس طرح کی باتیںکرنے سے منع کرتے ہوئے کہا: ایسی باتیں نہ کرو،یہ وہ اہل بیت ہیں جب بھی کسی نے ان سے ایسی باتیں کی ہیں اس کا ایسا جواب دیا جو قیامت تک کوئی جواب نہ لاسکے۔


جب امام ہارون کے پاس سے نکلے تو نفیع نے آپ کے مرکب کی لگام پکڑتے ہوئے کہا: آپ کون ہیں ؟

امام نے فرمایا:اے شخص اگر تم میرانسب پوچھنا چاہتے ہوتو میںاللہ کے حبیب کا فرزند ہوں، اسماعیل ذبیح اللہ کا فرزند ہوں اور ابراہیم خلیل اللہ کا فرزند ہوں،اگر تم میرے وطن کے متعلق سوال کرتے ہوتومیںاس شہرکارہنے والاہوںجس میں اللہ نے مسلمانوںاورتجھ(اگر تومسلمانوں میں سے ہے)پر حج کرنا واجب قرار دیا ہے ،اگر تم ہم پرفخر کرنا چاہتے ہو تو یاد رکھو میدان جنگ میں ہماری قوم کے مشرکوں نے تمہاری قوم کے مسلمانوں کو اپنے برابر کا نہیں سمجھا تھا اور میدان میں صاف کہدیا تھا کہ ہمارے برابر کے افراد کو ہمارے مقابلہ کیلئے بھیجو،میرے مرکب کی لگام چھوڑدے '' ۔(۱)

نفیع شکست کھاکر لوٹ گیا اس کو امام کے بیان کئے ہوئے مطالب پر بے حد غصہ تھا ۔

۲۔ابویوسف کے ساتھ مناظرہ

ہارون نے اپنی موجودگی میں ابویوسف کو امام موسیٰ کاظم سے فقہی مسائل پوچھنے کے لئے کہاکہ شاید امام ان کا جواب نہ دے پائیں اور اسی طرح امام کو رسواکیا جاسکے،ہارون رشید نے امام کو ابویوسف کے سامنے حاضر کیاتواس نے امام سے مندرجہ ذیل سوالات کئے :

ابویوسف : حالت احرام میںاحرام باندھنے والے کے متعلق سایہ کر نے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟

فرمایا :''حرام ہے'' ۔

سوال کیا کہ اگر کو ئی شخص خیمہ کے اندر چلا جائے یا گھر میں چلا جائے تو کیا حکم ہے ؟

فرمایا :''یہ حلال ہے'' ۔

عرض کیا گیا : اِن دونوں میں کیا فرق ہے ؟

فرمایا :'' حالت حیض میں عورت کی نماز کاکیا حکم ہے کیا عورت حالت حیض کے ایام کی نماز کی قضا بجالائے گی ؟''۔

____________________

۱۔نزہةالناظرفی تنبیہ الخاطر، صفحہ۴۵۔


اس نے کہا :نہیں۔

امام :''کیاروزہ کی قضا کرے گی ؟''۔

اس نے کہا : ہاں ۔

امام نے سوال کیا :''کیوں؟''

اس نے کہا :حکم خدا اسی طرح آیا ہے۔

امام نے فرمایا:''تو اسی طرح یہ حکم بھی آیا ہے ''۔

ابو یوسف خا موش ہو گیا اور عاجزی کا اظہار کرنے لگا، اس نے ہارون سے کہا :آپ نے یہ میرے ساتھ کیا کیا ۔(۱)

۳۔ہارون رشید کے ساتھ مناظرہ

جب ہارون نے امام موسیٰ کو قیدخانہ میں ڈالدیااورآپ دوسال تک قیدکی سختیاںبرداشت کرچکے تواس نے ایک دن امام کو اپنے پاس بلابھیجا،جب آپ ہارون کے پاس پہنچے تو اس نے بڑے ہی غیظ وغضب کے ساتھ کہا:اے موسی بن جعفردو خلیفائوں کے لئے خراج اکٹھا کیا جاتا ہے۔

امام نے بڑی ہی لطف ونرمی کے ساتھ اس سے مخاطب ہوکر فرمایا:''اے حاکم!میں تجھ سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ تو میرے اور اپنے گناہ کا بوجھ اٹھائے ،ہمارے دشمنوںکی باتوںکوہمارے خلاف قبول کرے،توجانتاہے کہ رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی وفات کے وقت سے ہی ہم پراتہامات لگائے جاتے رہے ،اگر تجھے رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کچھ قرابت ہے توکیامجھے اس بات کی اجازت ہے کہ میں تجھے ایک خبر سنائوں جس کو میرے پدربزرگوارنے اپنے آباء سے اور انھوں نے میرے جدامجد رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے ''۔

ہارون :میں نے آپ کو اجازت دی ۔

امام نے فرمایا:''مجھے میرے والد بزرگوار نے اپنے آباء سے اور انھوں نے اپنے جد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام سے نقل کیا ہے :رشتہ دار جب رشتہ دار سے اپنا بدن مس کرتا ہے تو مل کر بے چین ہوجاتا ہے پس تو اپنا ہاتھ

____________________

۱۔مناقب ،جلد ۳،صفحہ ۴۲۹۔


میرے ہاتھ میں دے ''۔

ہارون کے دل میں رحم آگیا اُس نے اپنا ہاتھ امام کی طرف بڑھایااُن کو اپنی طرف کھینچا معانقہ کیا ،پھر انھیں اپنے اور قریب کیا اور امام سے یوں گویا ہوا :آپ اور آپ کے جد نے صحیح فرمایا ہے ،میرے خون میں روانی آگئی ہے ،میری رگیں مضطرب ہو گئی ہیںیہاں تک کہ مجھ پر رقت طاری ہو گئی ،اور میری آنکھوں میں آنسو بھر گئے ہیں،میں آپ سے کچھ چیزوں کے بارے میں سوال کرنا چا ہتا ہوں ،جو میرے دل میں کچھ مدت سے کھٹک رہی ہیں اور ان کے متعلق میں نے کسی سے کو ئی سوال ہی نہیں کیا ہے ،اگر آپ نے اُن کا جواب دیدیا تو میں آپ کو آزاد کر دوں گا ،آپ کے بارے میں کسی کی کو ئی بات نہیں سنُوں گا ، مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے، لہٰذا آپ میری تصدیق فرمائیے جو چیزیں میرے دل میں ہیں اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں ۔

امام :''جن چیزوں کا علم میرے پاس ہے میں اُن کے سلسلہ میںضرورتجھے بتائوں گا اگر تو مجھے اُن کے متعلق امان دے گا ''۔

آپ کیلئے امان ہے اگر آپ نے مجھے سچ بتلایا اور تقیہ نہیں کیا ،جو آپ بنی فاطمہ کی پہچان ہے۔

امام :''جو کچھ پوچھناہے پوچھ لے ''۔

ہارون :آپ کو ہم پر کیوںفضیلت دی گئی جبکہ آپ اور ہم ایک ہی شجرہ سے ہیں ؟ عبدالمطلب کی اولاد ہمارا اور آپ کے باپ ایک ہی ہے ،ہم بنی عباس ہیں اور آپ ابوطالب کی اولاد ہیں ،جبکہ وہ دونوں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا تھے ،اور دونوں کے رشتہ برابر ہیں ۔

امام :''ہم زیادہ قریب ہیں ''۔

ہارون :کیسے ؟

امام :''چونکہ عبداللہ اور ابوطالب ایک ماںباپ کی اولاد ہیں ،اور تمہارا باپ عباس، عبداللہ اور ابوطالب کی ماں سے نہیں ہیں'' ۔

ہارون:آپ یہ کیوںادعاکرتے ہیں کہ آپ نبی کے وارث ہیں اور چچا،چچاکے بیٹے کا حاجب ہے ،حالانکہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم دنیا سے جاچکے تھے اور ابوطالب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے پہلے وفات پاچکے تھے اور رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا عباس زندہ تھے ؟


امام :''اے حاکم!مجھے اس مسئلہ سے معاف رہنے دے، مجھ سے اس کے علاوہ اور دوسرے مسائل پوچھ لے ''۔

ہارون:نہیں ،آپ کو جواب دینا ہوگا۔

امام :''تو تُو مجھے امان دے گا'' ۔

ہارون:میں نے آپ کو کلام کرنے سے پہلے ہی امان دیدی ہے ۔

امام :''حضرت علی کافرمان ہے حقیقی اولاد کے ہوتے ہوئے چاہے وہ مذکرہویامونث کسی ایک کے لئے بھی ماںباپ،شوہراورزوجہ کے علاوہ میراث میںکوئی حصہ نہیں ہے ،لہٰذاحقیقی اولاد کے ہوتے ہوئے چچاکو کوئی میراث نہیں ملے گی،ہاں ،تیم عدی اور بنی امیہ کہتے ہیں:چچاوالدہوتاہے ، ان میں سے کوئی بھی حقیقی نہیںہے اور ان کے پاس نبی کی کو ئی تائید نہیں ہے ''۔

پھر آپ نے اسی زمانہ کے فقہاء کا ایک جملہ نقل فرمایا جنھوں نے اسی مسئلہ میں وہی فتویٰ دیا تھا جو آپ کے جدامیرالمؤمنین نے دیاتھا۔اس کے بعد مزید فرمایا:''قدماء اہل سنت نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا:تم میں سب کے لئے حق فیصلہ کرنے والے علی ہیں،اسی طرح عمر بن خطاب کا کہنا ہے :ہمارے درمیان علی سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں اور وہ یعنی ''قضائ''اسم جامع ہے کیونکہ جن تمام چیزوںکے ذریعہ نبی کی مدح وثناکی جائے چاہے وہ قرائت ہے یافرائض اور علم ہو سب قضاوت میں داخل ہیں'' ۔

ہارون نے امام سے مزید وضاحت طلب کی۔

توامام نے فرمایا:''جس نے ہجرت نہیں کی ہے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اس کو وارث نہیں بنایا اور نہ ہی ہجرت سے پہلے اس کے لئے ولایت ثابت ہے ''۔

ہارون :آپ کے پاس کیا دلیل ہے ؟


امام نے دلیل کے طورپر میںخداوند عالم کایہ قول پیش کیا: ( وَالَّذِینَ آمَنُواوَلَمْ یُهَاجَرُوا مَالَکُمْ مِنْ وَلاَیَتِهِمْ مِنْ شَیْئٍ حَتَّی یُهَاجِرُوا ) ۔(۱)

''اور جن لوگوں نے ایمان اختیار کر کے ہجرت نہیں کی ان کی ولایت سے آپ کا کو ئی تعلق نہیں ہے جب تک ہجرت نہ کریں ''۔

بیشک ہمارے چچا عباس نے ہجرت نہیں کی تھی ۔

ہارون کی تدبیر ناکام ہوگئی اور اس کی ناک بھویںچڑھ گئیں اور اس نے امام سے کہا: کیا آپ نے ہمارے کسی ایک دشمن کویہ فتویٰ دیا ہے ،یا فقہاء میں سے کسی ایک فقیہ کو اس سے باخبر کیا ہے ؟

امام :''مجھ سے تیرے علاوہ کسی اور نے یہ سوال ہی نہیں کیا''۔

ہارون کا غصہ کچھ ٹھنڈاہوااوراس نے امام کی خدمت میں عرض کیا:کیوںآپ نے اہل سنت اور شیعوںکویہ اجازت دی ہے کہ وہ تمہیں رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے منسوب کرتے ہوئے یوں کہیں:یابنی رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،حالانکہ آپ علی کی اولاد ہیں ،جبکہ انسان کو اس کے باپ سے منسوب کیاجاتا ہے ،فاطمہ صلب ہیںاور نبی آپ کے ناناہیں؟

امام نے ہارون کی یہ بات اس واضح دلیل کے ذریعہ رد فرمائی:''اگر نبی اکرم کو زندہ کیاجائے اور وہ تمہاری لڑکی سے شادی کرنا چاہیں تو کیا تم اس کو قبول کرلوگے؟''۔

ہارون :کیوں نہیں ؟بلکہ میں اس بات پر عرب اور عجم پر فخر کروں گا۔

امام :''لیکن نہ وہ مجھ سے مطالبہ کریں گے اور نہ میں ایسا کروں گا''۔

ہارون :کیوں؟

امام :''کیونکہ وہ میرے والد ہیں تیرے والد نہیں'' ۔

ہارون :مرحبا یا موسیٰ ،آپ اس سلسلہ میں کیا فرماتے ہیں :نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے کو ئی فرزند نہیں تھا جبکہ نسل لڑکے سے چلتی ہے لڑکی سے نہیں ،اور آپ نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیٹی کے فرزند ہیں ؟

امام '':میرے رشتہ کا واسطہ مجھے معاف رکھ ''۔

ہارون :نہیں ،اے اولاد علی اس سے متعلق آپ اپنی دلیل بیان کیجئے اور اے امام موسیٰ کاظم آپ

____________________

۱۔سورئہ انفال، آیت ۷۲۔


ان کے سردار ہیں ،آپ اس زمانہ میں امام ہیں اور میں اس بارے میں آپ کومعاف نہیں کروں گا ؟

امام :'' کیا تیری اجازت ہے کہ میں جواب دوں ؟''۔

ہارون : بیان فرما ئیے ۔

اما م :خداوند عالم کا فرمان ہے: ( وَوَهَبْنَا لَهُ ِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ کُلًّا هَدَیْنَا وَنُوحًا هَدَیْنَامِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَیْمَانَ وَأَیُّوبَ وَیُوسُفَ وَمُوسَی وَهَارُونَ وَکَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ وَزَکَرِیَّاوَیَحْیَی وَعِیسَی وَإِلْیَاسَ کُلّ مِنْ الصَّالِحِینَ ) ۔(۱)

''اور ہم نے ابراہیم کو اسحق و یعقوب دئے اور سب کو ہدایت بھی دی اور اس کے پہلے نوح کو ہدایت دی اور پھر ابراہیم کی اولاد میں دائود ،سلیمان ،ایوب ،یوسف ،مو سیٰ اور ہارون قرار دئے اور ہم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں زکریا،یحییٰ عیسیٰ اور الیاس کو قرار دیا اور وہ سب صالحین میں تھے ' '۔

اے حاکم ! عیسیٰ کا باپ کون ہے ؟

ہارون : عیسیٰ کاکو ئی باپ نہیں ہے ۔

امام :''خداوند عالم نے حضرت عیسیٰ کو مریم کے ذریعہ انبیاء کی ذریت سے ملحق کیا اسی طرح ہم کو ہماری والدہ ما جدہ فاطمہ کے ذریعہ نبی کی ذریت سے ملحق کیا ''۔

ہارون نے اس سلسلہ میں امام سے مزید دلیل کی خواہش کی ۔

امام نے فرمایا :''خداوند عالم فرماتا ہے: ( فَمَنْ حَاجَّکَ فِیهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْانَدْعُ َبْنَائَنَاوَأَبْنَائَکُمْ وَنِسَائَنَاوَنِسَائَکُمْ وَأَنْفُسَنَاوَأَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اﷲِ عَلَی الْکَاذِبِین ) (۲)

''پیغمبر علم آجانے کے بعدجو لوگ تم سے کٹ حجتی کریںان سے کہہ دیجئے کہ آئو ہم لوگ اپنے اپنے فرزند ،اپنی اپنی عورتوںاور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میںدعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں ''۔

____________________

۱۔سورئہ انعام ،آیت ۸۴۔۸۵۔

۲۔سورئہ آل عمران، آیت ۶۱۔


کو ئی بھی یہ ادعا نہیں کر سکتا کہ نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے چادر کے نیچے اور نصاریٰ سے مباہلہ کے وقت علی بن ابی طالب ،فاطمہ حسن اور حسین کے علاوہ کسی اور کو اپنے ساتھ لیا ہو ''۔

ہارون کے پاس اور کو ئی دلیل باقی نہ رہی چونکہ امام نے اس کی تمام دلیلوں کو رد فرما دیا ۔(۱)

ہم اسی مقام پر آپ کے مناظروں کی بحث تمام کرتے ہیں اور ہم نے کچھ مناظرے اپنی کتاب ''حیاةالامام مو سیٰ بن جعفر ''کے پہلے حصہ میں بیان کر دئے ہیں ۔

آپ کے صفات و خصوصیا ت

کوئی بھی بلند ی، شرف ا ور فضیلت ایسی نہیں ہے جو امام کا ظم کی ذات میں نہ پا ئی جا تی ہو ہم ذیل میں آپ کے بعض صفات کا تذکرہ کر رہے ہیں :

۱۔آپ کے علمی فیوضیات

راویوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام کاظم اپنے زمانہ کے اعلم تھے ،آپ کا علم انبیاء اور اوصیاکی طرح الہا می تھا، اس مطلب پر شیعہ متکلمین نے متعدد دلیلیں بیان کی ہیں، خو د آپ کے والد بزرگوار حضرت امام صادق نے اپنے فرزند ارجمند کی علمی طاقت و قوت کی گو ا ہی دیتے ہوئے یوں فرمایا ہے:''تم میرے اس فرزند سے قرآن کے بارے میں جو بھی سوال کروگے وہ تمھیں اس کا یقینی جواب دے گا ''۔

مزید فرمایا:''حکمت،فہم،سخاوت،معرفت اور جن چیزوں کی لوگوں کو اپنے دین کے امر میں اختلاف کے وقت ضرورت ہوتی ہے اِن کے پاس اُن سب کاعلم ہے'' ۔(۲)

شیخ مفید فرماتے ہیں :''لوگوں نے امام مو سیٰ بن جعفر سے بکثرت روایات نقل کی ہیں ۔وہ اپنے زمانہ کے سب سے بڑے فقیہ تھے ''۔(۳)

علماء نے آپ سے تمام علوم منقولہ اور عقلی علوم فلسفہ وغیرہ کی قسمیں نقل کی ہیں یہاں تک کہ آپ دنیا کے راویوں کے ما بین مشہور و معروف ہو گئے ۔

____________________

۱۔حیاةالامام مو سیٰ بن جعفر ، جلد ۱،صفحہ ۲۶۱۔۲۶۵۔

۲۔حیاةالامام مو سیٰ بن جعفر ، جلد ۱،صفحہ ۱۳۸۔

۳۔الارشاد ،صفحہ ۲۷۲۔


۲ ۔ دنیا میں زہد

امام موسیٰ کاظم نے رونق زندگا نی سے منھ موڑ کر اللہ سے لو لگا ئی تھی ،آپ اللہ سے نزدیک کرنے والا ہر عمل انجام دیا،ابراہیم بن عبد الحمید آپ کے زہد کے متعلق یوں رقمطراز ہیں :میں امام کے گھر میں داخل ہوا تو آپ نماز میں مشغول تھے اور آپ کے گھر میں کھجور کی چٹا ئی ،لٹکی ہو ئی تلوار اور قرآن کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ۔(۱)

آپ زاہدانہ زندگی بسر کرتے تھے اور آپ کا گھر بہت سادہ تھا حالانکہ دنیائے اسلام کے شیعوں کی طرف سے آپ کے پاس بہت زیادہ اموال اور حقوق شرعیہ اکٹھا کرکے لائے جاتے تھے ، آپ ان سب کو فقیروں ،محتاجوں اور اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتے تھے ،آپ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی ابوذر سے بہت متأثر تھے اور ان کی سیرت اپنے اصحاب کے مابین یوں بیان فرماتے تھے :''خدا ابوذر پر رحم کرے، ان کا کہنا ہے :خداوند عالم مجھے جَو کی دو روٹی دینے کے بعد دنیا کو مجھ سے دور رکھے، ایک رو ٹی دو پہر کیلئے اور دوسری روٹی شام کیلئے اور مجھے دو چا دریں دے جن میں سے ایک کو جنگ میں استعمال کروں اور دوسری ردا سے دوسرے امورانجام دوں ''۔(۲)

فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے دنیا میںاسی طرح زاہدانہ زندگی بسر کی ،دنیا کے زرق و برق سے اجتناب کیا اور اللہ کے اجر کی خاطر بذات خود ظلم و ستم برداشت کئے ۔

۳ ۔ جو د و سخا

آپ کی جود و سخا وت کی صفت کو مثال کے طور پر بیان کیا جا تا ہے ،محروم اور فقیر آپ کے پاس آتے تو آپ اُن کے ساتھ نیکی اور احسان کرتے اور تھیلیوں کی دل کھو ل کر سخاوت کرتے ،اس طرح کہ ان کے رشتہ داروں میں یہ مشہور ہو جاتاتھا:تعجب ہے جس کے پاس مو سیٰ کی تھیلیاں آئیں پھر بھی وہ فقیری کیشکایت کرتا ہے ''۔(۳)

____________________

۱۔بحارالانوار، جلد ۱۱،صفحہ ۲۶۵۔

۲۔اصول کافی ،جلد ۲،صفحہ ۱۳۴۔

۳۔عمدة الطالب، صفحہ ۱۸۵۔


آپ رات کی تاریکی میں نکلتے اور فقیروں کو دو سو سے چارسو دینار تک(۱) کی تھیلیاں پہنچاتے تھے مدینہ کے غریبوں کی آپ کی نعمت ،بخشش اور صلۂ رحم کی عادت ہو گئی تھی ،ہم نے محتاجوں اور فقیروں کے اُن گروہوں کا تذکرہ اپنی کتاب ''حیاةالامام موسیٰ کاظم '' کے پہلے حصہ میںکر دیا ہے ۔

۴ ۔ لو گو ں کی حا جت ر و ا ئی

امام مو سیٰ کاظم کی ذاتی صفت انتہائی شوق کے ساتھ لوگوں کی حا جتوں کو پورا کر نا تھی، آپ نے ہرگزکسی غمزدہ کا غم دور کرنے میں سستی نہیں کی ،آپ اسی صفت کے ذریعہ مشہور و معروف ہوئے ،ضرورتمند آپ کے پاس آتے ،آپ سے فریاد کرتے اور آپ اُن کی ضرورتوں کو پورا کرتے ،اُن ہی لوگوں میں شہر رَے کا رہنے والا ایک شخص تھا جو حکومت کا بہت زیادہ مقروض تھا، اُس نے حاکم شہر کے بارے میں سوال کیاتو اُس کو بتایا گیا کہ وہ شیعہ ہے وہ یثرب پہنچا اور امام کے جوار و پڑوس میں رہنے لگا، امام نے اس کیلئے حاکم شہر کے نام ایک خط میں یوں تحریرفرمایا :''جان لو ! بیشک اللہ کیلئے اس کے عرش کے نیچے ایک سایہ ہے، اس میں کو ئی نہیں رہتا مگر یہ کہ جو اپنے بھا ئی کے ساتھ حُسن سلوک اور نیکی کرے ،یا مصیبت میں اس کے کام آئے یا اس کو خوش کرے اور یہ تمہارا بھا ئی ہے'' ۔والسلام

وہ شخص امام کا خط لیکر حاکم کے پاس پہنچا جب اُس نے دروازہ کھٹکھٹایاتو ایک نوکر باہر آیا اور اس نے پوچھا :تم کون ہو ؟

میں صابر امام مو سیٰ کاظم کا قاصد ہوں ۔

نوکر نے جلدی سے حاکم تک یہ خبرپہنچا ئی تووہ ننگے پیر باہر نکل آیااور اس نے بڑی بے چینی کے ساتھ اس سے امام کے حالات دریافت کئے ،اور اس شخص کا بڑے ہی احترام و اکرام کے ساتھ استقبال کیاجب اس کو امام کا خط دیا تو اس نے خط کو چوما ،جب اُس نے وہ خط پڑھا تو اس میں اُس شخص کے تمام اموال کو معاف کرنے کی درخواست کی گئی تھی ،حاکم نے سب اس کو دیدئے اورجس کی کو ئی تقسیم نہیں کی جاسکتی تھی اس کی قیمت ادا کی، حاکم نے بڑی نر می سے کہا :اے میرے بھا ئی کیا تم خوش ہو ؟

____________________

۱۔تاریخ بغداد ،جلد ۱۳، صفحہ ۲۸۔کنز اللغة ،صفحہ ۷۶۶۔


ہاں ،خدا کی قسم میں بہت زیادہ خوش ہوں ۔

پھر وہ رجسٹر منگایا جس میں اُ س شخص کے قرضے لکھے ہوئے تھے ،اور اُن سب پر قلم پھیر دیااس کو بری ٔ الذمہ قرار دیدیا ،وہ وہاں سے اُس حالت میں نکلا کہ اُ س کا دل خو شی سے لبریز تھا اور اس نے اپنے وطن کی راہ لی ،پھر وہاں سے مدینہ پہنچا ،امام کو حاکم کے لطف و کرم و مہربانی کی خبر دی ،امام بہت مسرور ہوئے، اُس شخص نے امام کی خدمت میں عرض کیا :اے میرے مو لا کیا آپ اس سے خوش ہیں ؟

''ہاں خدا کی قسم اس نے مجھے اور امیر المو منین کو خوش کر دیا،خدا کی قسم اُ س نے میرے جد رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو خوش کر دیا اور خدا کو خوش کر دیا ''۔(۱)

آپ اس واقعہ سے مشہور و معروف ہوگئے اور آپ کے شیعوں کے درمیان یہ فتویٰ شائع ہو گیا : ''حاکم کے عمل کا کفارہ بھا ئیوں کے ساتھ احسان کرنا ہے ''۔

____________________

۱۔حیاةالامام مو سیٰ بن جعفر ، جلد ۱،صفحہ ۱۶۱۔۱۶۲۔


۵ ۔ ا للہ کی ا طا عت ا و ر عبا د ت

آپ اپنے زمانہ کے سب سے زیادہ عبادت گذار تھے یہاں تک کہ آپ کو عبد صالح اور مجتہدین کی زینت کے لقب سے یاد کیا جانے لگا،کسی شخص کو آپ کی طرح عبادت کر تے نہیں دیکھا گیا، راویوں کا کہنا ہے :جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ کی آنکھوں سے اشک جا ری ہوجاتے اور اللہ کے خوف سے آپ کا دل مضطرب و پریشان ہو جاتا ۔

آپ کی عبادت کے چند نمونے یہ ہیں کہ جب آپ مسجد میں رات کے پہلے حصہ میں داخل ہوتے توایک سجدہ بجالاتے جس میں بڑے ہی غمگین انداز میں یہ کہتے :''میرے گناہ بڑے ہو گئے ہیں تو تیری عفو بھی اچھی ہو گی اے تقویٰ اور مغفرت والے خدا ''،اور آپ صبح تک اللہ سے توبہ اور خشوع والے یہی کلمات ادا کر تے رہتے ۔(۲)

آپ نماز شب پڑھتے اور اس کو صبح کی نماز تک طول دیتے ،اس کے بعد نماز صبح بجالاتے ، پھر سورج طلوع ہونے تک تعقیبات نماز پڑھتے ،اس کے بعد سجدے میں چلے جاتے اور زوال آفتاب کے قریب

____________________

۲۔وفیات الاعیان ،جلد ۴،صفحہ ۹۳۔کنز اللغہ ،صفحہ ۷۶۶۔


تک سجدہ سے سر نہیں اٹھا تے تھے ۔(۱)

شیبانی سے روایت ہے :میں دس سے کچھ زیادہ دن تک امام مو سیٰ کاظم کی مصاحبت میں تھا آپ طلوع آفتاب کے بعد سے زوال آفتاب(۲) تک سجدہ کر تے تھے ۔جب ہارون نے آپ کو ربیع کے قید خانہ میں ڈالا تو وہ ملعون اطلاع کیلئے اپنے محل کے اوپر سے امام کو دیکھتا تھا اور اس کو امام وہاں نظر نہیں آتے تھے، اس کو صرف ایک مخصوص مقا م پر ایک پڑا ہوا کپڑا نظر آتا تھا جو اپنی جگہ سے بالکل ہٹتا نہیں تھا ۔ ہارون نے ربیع سے کہا :وہ کیا کپڑا ہے جس کو میں ہر دن ایک خاص مقام پر پڑا ہوا دیکھتا ہوں ؟

ربیع نے جلدی سے کہا :اے امیر المو منین وہ کپڑا نہیں ہے وہ امام مو سیٰ بن جعفر ہیں جو ہر دن طلوع آفتاب سے لیکر زوال آفتاب تک سجدہ کر تے ہیں ۔

ہارون متعجب ہوا اور اس نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا :آگاہ ہو جائو یہ بنی ہاشم کے زاہدوں میں سے ہیں ۔

ربیع نے ہارون سے مخاطب ہو کر کہا :اے بادشاہ! تو نے امام کو کیوں قید میں ڈالاہے ؟

ہارون نے اس کی طرف سے منھ موڑ تے ہوئے کہا :امام کو قید میں ڈالنا ضروری تھا ۔

سندی بن شاہک کی بہن سے وارد ہوا ہے کہ جب امام اس کے بھا ئی کے قید خانہ میں تھے تو اس کا کہنا ہے :یہ یعنی امام مو سیٰ کاظم جب نماز عشاء سے فارغ ہو جاتے تو رات ڈھلنے تک خدا کی حمد و ثنا و تمجید اور اس سے دعا کرتے اس کے بعد طلوع فجر تک قیام و نماز میں مشغول رہتے ،پھر صبح کی نماز ادا فرماتے ،اس کے بعد طلوع آفتاب تک خدا کا ذکر فرماتے ،پھر چاشت کے وقت تک بیٹھتے ، اس کے بعد سوجاتے ،اور زوال سے پہلے بیدار ہو جاتے ،اس کے بعد وضو کرکے نماز ظہر و عصربجالاتے ، اس کے بعد ذکر خدا کرتے یہاں تک کہ نماز مغرب کا وقت آجاتا تو آپ نماز مغرب بجالاتے اس کے بعد نماز مغرب و عشاء کے مابین نماز ادا کرتے اور داعی اجل کو لبیک کہنے تک آپ کا یہی طریقہ ٔ کار تھا ۔(۳)

____________________

۱۔کشف الغمہ صفحہ ۲۷۶۔

۲۔حیاةالامام مو سیٰ بن جعفر ، جلد ۱،صفحہ ۱۴۰۔

۳۔تاریخ ابو الفداء ،جلد ۲،صفحہ ۱۲۔


کثرت سجود کی بنا پر آپ کے اونٹ کے گھٹوں کی طرح گھٹے پڑ گئے تھے اور آپ کا ایک غلام تھا جو آپ کی پیشا نی اور ناک کے اوپر سے گھٹے کا گوشت کا ٹتا تھا اسی سلسلہ میں بعض شاعروں نے یوں کہا ہے :

طَالَتْ لِطُوْلِ سُجُوْدِهِ ثَفَنَاتُهُ

إِذْ أَقْرَحَتْ لِجَبِیْنِهِ الْعِرْنِیْنَا

فَرَأ یٰ فَرَاغَةَ سِجْنِهِ أُمْنِیَّةً

نِعْمَةً مَشْکُوْرَةً فِیْنَا(۱)

''کثرت سجود کی وجہ سے آپ کے اعضاء سجدہ پر بیشمار گھٹے پڑ گئے تھے ۔

اسی لئے آپ نے قید خانہ کی فراغت کو اپنے لئے آرزو قرار دیا یہ قید خانہ آپ کیلئے نعمت ثابت ہوا ''۔

یہ آپ کی عبادت کے چند نمونے تھے جو آپ کے آباء و اجداد کی عبادت کی حکایت کرتے ہیں جنھوں نے مخلص طور پر خدا وند عالم سے تو بہ کی ،اور ہم نے امام کاظم کی عبادت کے متعلق تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب ''حیاةالامام موسیٰ کاظم ''میں ذکر کر دیا ہے ۔

۶ ۔ حلم اور غصہ کو پی جانا

امام مو سیٰ کاظم کے نمایاں صفات میں سے ایک صفت حلم اور غصہ کو پی جانا تھی ،جوشخص آپ سے برا ئی سے پیش آتا اس کو معاف کر دیتے ،جو آپ کے ساتھ تجاوز کرتا اس سے خو شروئی سے ملتے ، آپ تجاوز کرنے والوں کے ساتھ بھی احسان کرتے کہ آپ ان کے اندر سے انانیت اور شر کا قلع و قمع کردیتے تھے ، مورخین نے آپ کے عظیم حلم کایہ واقعہ نقل کیا ہے کہ روایت کی گئی ہے کہ عمر بن خطاب کی نسل میں سے ایک شخص امام کو بہت زیادہ برا بھلا کہتا اور آپ پر بے انتہاسب و شتم کرتا تھا ،امام کے بعض شیعوں نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تو آپ نے ان کو ایسا کر نے سے منع فرمایااور قتل کئے بغیر اس کا حل تلاش کرنے کا مشورہ دیا ،آپ نے اس کے رہنے کی جگہ معلوم کی تو آپ کو بتایا گیا : مدینہ کے اطراف میں اس کا کھیت ہے امام اپنی سواری پر بیٹھ کر نا آشنا طور پر اس کے مزرعہ(کھیت) پر پہنچ گئے تو اس کو وہیں پر موجود پا یا جب آپ اس کے نزدیک پہنچے تو اس عمری نے آپ کو پہچان لیا اور آگ ببولا ہو گیا کیونکہ امام کے گدھے نے

____________________

۱۔انوارالبھیہ، صفحہ ۹۳۔


اس کی زراعت کو نقصان پہنچا دیا تھا ،امام نے اس سے نرمی سے گفتگو کر نا شروع کی اور اس سے فرمایا :''تمہارا اس میں کتنا نقصان ہوا ہے ؟''۔

اس نے کہا :سو دینار ۔۔۔

''تم اس سے کتنے منافع کی امید رکھتے تھے ؟''۔

اس نے کہا : میں علم غیب نہیں رکھتا یعنی نہیں جانتا ۔

امام نے فرمایا :'' میں یہ سوال کر رہا ہوں کہ تجھے تقریباً اس سے کتنا منافع ہوتا ؟''۔

اس نے کہا : تقریباً دوسو دینا ر۔

امام نے اس کو تین سو دینار دیتے ہوئے فرمایا :''یہ تمہاری اس زراعت کا ہر جانا ہے ''۔

عمری امام کے حق میں زیادتی کرنے سے شرمندہ ہو گیا اور وہ مسجد نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طرف دوڑ کر گیا، جب امام وہاں تشریف لائے تو اس نے کھڑے ہوکر بلند آواز میں کہا :خدا وند عالم بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں قرار دے ۔۔۔

عمری کے دوستوں نے جب یہ ماجرا دیکھا تو اس تبدیلی کے سلسلہ میں گفتگو کر نے لگے، اس نے امام کی بلند عظمت کے سلسلہ میں جواب دیا امام نے اس کے دوستوں و ساتھیوں کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا : ''کیا تمہارا ارادہ بہتر تھا یا جو ارداہ میں نے کیا ''۔(۱)

آپ کے حلم کا ہی واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ اپنے دشمنوں کی ایک جماعت کے پا س سے گذرے جس میں ابن ھیّاج بھی تھا، اس نے اپنے ایک ساتھی کو ایسا کرنے کیلئے ابھارا کہ وہ امام کے مرکب کی لگام پکڑ کر یہ ادعا کرے کہ یہ مرکب میرا ہے تو وہ شخص امام کے مر کب کے پاس آیا اور اس نے آپ کے مر کب کی لگام پکڑ کر یہ ادعا کیا کہ یہ مر کب میرا ہے امام مرکب سے نیچے تشریف لائے اور وہ مر کب اسی کو عطا کر دیا ۔(۲)

امام کاظم اپنی اولاد کو زیور حلم سے آراستہ ہونے کی یوں سفارش کر تے تھے:''اے میرے بیٹے ،

____________________

۱۔تاریخ بغداد، جلد ۱،صفحہ ۲۸۔۲۹۔کشف الغمہ ،صفحہ ۲۴۷۔

۲۔حیاةالامام مو سیٰ کاظم ، جلد ۱،صفحہ ۱۵۷۔


میں تمہیںوصیت کر تا ہوں کہ جس نے اسے یاد رکھا اُس نے فائدہ اٹھایا ،جب کو ئی گفتگو کرے اور وہ تمہارے دائیں کان پر گراں گذر رہی ہو توتم اسے بائیں کان کے حوالہ کردوتو میں اس سے تمہارے لئے معذرت خواہ ہوں اور فرمایا:میں اس کا عذر قبول کرنے کے سلسلہ میں ہر گز کچھ نہیں کہتا'' ۔(۱)

یہ وصیت امام کے حلم ،وسیع اخلاق اور بلند و بالا صفات کی عکا سی کر رہی ہے ۔

۷ ۔مکارم اخلاق

اسلام مکارم اخلاق لے کر آیا ہے ،اور اس نے اپنے نورانی پیغام میں مکارم اخلاق کو ایک بنیادی و معتبر قانون قرار دیا ہے رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان ہے :''اِنّي بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ'' ''میں مکارم اخلاق کو تمام کر نے کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں '' ،رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم انسانیت کریمہ کے لئے بلند اخلاق پر فا ئز تھے ،اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بعد آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ائمہ ٔ ہدیٰ نے معالم اخلاق اور محاسن اعمال کی تاسیس میں بلند کردار ادا کیا اُنھوں نے اپنے اصحاب کیلئے بہترین نقوش چھوڑے ۔

امام ان بہترین صفات کی طرف ہمیشہ متوجہ رہے اور اپنے اصحاب کو ان بہترین صفات کے زیور سے آراستہ کیا تاکہ وہ معاشرہ کے لئے بہترین ہادی و پیشوا قرار پا ئیں ،ہم اس سلسلہ میں آپ سے منقول چند چیزیں ذیل میں نقل کر رہے ہیں :

سخا و ت اور حُسن خلق

امام نے اپنے اصحاب کو سخاوت اور حُسنِ خُلق کے زیور سے آراستہ ہونے کی ترغیب دلا ئی چنانچہ امام فرماتے ہیں :

''حُسن خلق والا شخص خدا کے جوار میں ہے ،خدا اس کو جنت میں داخل کرے گا ،اور اللہ نے نبی کو سخی بنا کر مبعوث کیا ہے ،او ر میرے والد بزرگوارنے ہمیشہ مجھے سخاوت اور حُسن خلق کی سفارش فرمائی ہے ''۔

____________________

۱۔فصول مہمہ ،صفحہ ۲۲۔


صبر

امام اپنے اصحاب کو خطرناک حا دثوں میں بھی صبر کی تلقین فرما تے تھے کیونکہ آہ و فغاں کرنے سے وہ اجر ختم ہوجاتا ہے جس کا خداوند عالم نے صابرین سے وعدہ کیا ہے ۔

امام مو سیٰ کاظم فرماتے ہیں :

''المصیبةُ لاتکون مصیبة یستوجبُ صاحبها أَجْرَها اِلَّابالصبروالاسترجاع عند الصدمةِ'' ۔

''صا حب مصیبت ،مصیبت پر اسی وقت اجر کا مستحق ہوتاہے جب وہ مصیبت پر صبر کرے اور صدمہ کے وقت کلمہ ٔ استرجاع''اِناَّ لِلّٰهِ وَاِنَّااِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ ''بھی کہے ''۔

آپ ہی کا فرفرمان ہے :''اِنَّ الصبرَعلیٰ االبلائِ اَفْضَلُ مِنَ الْعَافِیَةِ عِنْدَ الرَّخَائِ '' ۔

''مصیبت پر صبر کرنا آسانی کے وقت عافیت سے افضل ہے ''۔

صمت و و قا ر

آپ اپنے اصحاب کو صمت و وقار کی تاکید کرتے اور اس کے فائدے بیان کرتے :''صمت و وقار حکمت کے ابواب میں سے ایک باب ہے ،صمت سے محبت پیدا ہو تی ہے اور یہ ہر خیر و بھلائی کی دلیل ہے ''۔

عفو ا و ر ا صلا ح

آپ اپنے اصحاب سے فرماتے جو شخص تمہارے ساتھ برا ئی کرے اس کو معاف کردو ،اسی طرح آپ اپنے اصحاب کو لوگوں کے درمیان اصلاح کر نے کی ترغیب دلاتے ،ان کے سامنے محسنین اور مصلحین کی عاقبت و انجام بیان فرماتے اور اللہ کے نزدیک اُن کااجریوں بیان فرماتے تھے: ''قیامت کے دن ایک منا دی ندا دیگا جس کا اللہ پر اجر ہے وہ کھڑا ہوجائے تو عفو و در گذر اور اصلاح کرنے والوں کے علاوہ کوئی اورکھڑا نہیں ہو گا ''۔


قو ل خیر

آپ اپنے اصحاب کو نیک گفتگو کرنے اور لوگوں کو امر بالمعروف کرنے کی سفارش فرماتے تھے آپ نے ابوالفضل بن یونس سے فرمایا :''خیر کی تبلیغ کر و ،اچھی بات کہو اور اِمَّعَہ نہ بنو ''۔(۱)

سوال کیا گیا :اِمَّعہ کیا ہے ؟

آپ نے فرمایا :''یہ نہ کہو کہ میں لوگوں کے ساتھ ہوں اور میں لوگوں میں سے ایک شخص کے مانند ہوں ،بیشک رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان ہے :اے لوگو !یہ دونوں بلند و بالا اور روشن راستے ہیں ایک خیر کا راستہ اور دوسرا شر کا راستہ ،تمہارے لئے شر کا راستہ خیر کے راستہ سے زیادہ محبوب نہ ہو ''۔

شکر نعمت

آپ نے اپنے اصحاب کو اللہ کی نعمت اور اس کے شکر کے اظہار کرنے کی تاکید فر ما ئی :''اللہ کی نعمتوں کے بارے میں گفتگو کرنا شکر ہے اور ان کو یاد نہ کرنا کفر ہے ،تم نعمتوں سے خدا کا شکر کرکے اپنے پروردگار سے رابطہ رکھو ،اپنے اموال کو زکوٰة کے ذریعہ محفوظ رکھو ،دعا کے ذریعہ بلاو مصیبت کو دور کرو ،دعا بلائوں کو دور کر نے کے لئے سپر ہے اور اس سے انسان محکم و مضبوط ہوتا ہے ۔۔۔''۔

۸ ۔آپ کے زرین اقوال

امام کے متعدد حکیمانہ اقوال ہیں جن میں آپ نے اخلاقی اور معاشرتی طریقے بیان فرمائے ہیں ہم ذیل میں آپ کے چند اقوال بیان کر رہے ہیں :

۱۔امام کاظم فرماتے ہیں :''تم بہترین صدقہ کے ذریعہ کمزوروں کی مدد کر و ''۔

۲۔امام کاظم فرماتے ہیں:مو من پہاڑ سے بھی زیادہ عزیز ہے ،پہاڑ بیلچہ وغیرہ سے ٹوٹ جاتا ہے اور مو من کا دین کسی چیز سے بھی نہیں ٹوٹ سکتا ''۔

۳۔آپ نے محمد بن فضل سے فرمایا :''یامحمد کذِّب سمعک وبصرک عن اخیک وان شهد عندک خمسون قسامة،وقال لک قولافصدِقه وکذبهم ،ولا تذیعنَّ شیئاً یُشِیْنُهُ'' ۔

''اے محمد تم اپنے بھا ئی کے بارے میں اپنی قوت سماعت اور بصارت کی تکذیب کرو اگر چہ

____________________

۱۔الاِمع اور الاِمعہ(کسرہ و تشدیدی کے ساتھ) ۔کہا گیا ہے :اس کی اصل یہ ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ۔


تمہارے سامنے پچاس اچھے افراد ہی کیوں نہ گوا ہی دیں ،اور تمہارے سامنے اس کی تصدیق کے لئے کہیںاور تکذیب کریں اور تم اس کے متعلق کو ئی بری بات شائع نہ کرو ''۔

۴۔امام کاظم فرماتے ہیں:''معرفت کے بعد سب سے افضل عبادت انتظار فرج ہے ''۔

۵۔امام کاظم فرماتے ہیں:''مو من ترازو کے پلڑوں کے مانند ہے جتنا اس کا ایمان بڑھتا جائے گا اتنی ہی اس کی آزمائش کے لئے اس کی مصیبتیں اور بلائیں زیادہ ہو تی جا ئیں گی ''۔

۶۔امام کاظم فرماتے ہیں:''امانت ادا کرنا اور سچ بولنا رزق کے سبب ہیں اور خیانت و جھوٹ بولنا فقر و نفاق کے سبب ہیں ''۔

۷۔امام کاظم فرماتے ہیں:جب لوگ ایسے گناہوں کے بارے میں گفتگو کریں جن کو وہ انجام نہیں دیتے ہیں خداوند عالم اُن کیلئے ایسی مصیبتیں ایجاد کرے گا جن کو وہ شمار نہیں کر سکتے ہیں ''۔(۱)

____________________

۱۔حیاةالامام مو سیٰ کاظم ،جلد۱،صفحہ ۲۷۵۔۲۷۹۔


امام ہارون کے قید خانہ میں

جب امام کے فضل و علم اور مکارم اخلاق مشہور ہوگئے اور ہر طرف آپ کے متعلق گفتگو ہونے لگی تو ہارون کو یہ بہت گراںگزراکیو نکہ وہ علویوں سے بہت زیادہ کینہ رکھتا تھا ،اس نے مشاہدہ کیا کہ علوی امام مو سیٰ کاظم کا بہت زیادہ احترام کر تے ہیں ہارون اس وقت مدینہ میں تھا اس نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو سلام کیا اور یہ کہا :اے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے ماں باپ آپ فدا ہو جا ئیں میں اپنے ارادہ پر آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے معذرت چا ہتا ہوں ،میں مو سیٰ بن جعفر کو قید کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ،کیونکہ مجھے یہ ڈر ہے کہ کہیں آپ کی امت میں فساد برپا ہوجائے اور اُن میں خو ن خرابہ ہو ۔(۲)

اس نے ایک سپا ہی امام کو گرفتار کر نے کیلئے روانہ کیا جب وہ امام کے پاس پہنچا تو آپ اپنے جد بزرگوار کی قبر کے پاس نماز پڑھنے میں مشغول تھے تو آپ نے نماز تمام کرنے کے بعد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ سے یوں شکایت کی :''یارسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں آپ سے اس کی شکایت کر تا ہو ں ۔۔۔''۔(۳)

امام کو بڑی ذلت و خواری کے ساتھ گرفتار کر کے ہارون کے پاس لایا گیا جب آپ اس کے سامنے پہنچے تو اُس نے آپ کو بہت بُرا بھلا کہا اور آپ کو۲۰ شوال ۱۷۹ ھ میںقیدکیاگیا۔(۴)

____________________

۲۔بحارالانوار ،جلد ،۱۷صفحہ ۱۹۶۔

۳۔مناقب ،جلد ۲،صفحہ ۳۸۵۔

۴۔حیاةالامام مو سیٰ کاظم ،جلد ۲،صفحہ۴۶۵۔


بصرہ کے قید خانہ میں

اس طاغوت نے امام کو بصرہ منتقل کرنے کیلئے کہا اور بصرہ کے گورنر عیسیٰ بن ابوجعفر کو قید کرنے کا حکم دیا تو آپ کو ایک گھر میں قید کردیا اور اس قید خانہ کے دروازے بند کر دئے گئے اور ان دروازوں کو صرف دو حالتوں میں کھولا جاتا تھا ایک طہارت کیلئے اور دوسرے کھانا دینے کیلئے ۔(۲)

آپ کا عبادت میں مشغول رہنا

امام خدا وند عالم کی عبادت میں مشغول رہتے تھے دن میں روزہ رکھتے اور رات میں نمازیں پڑھتے، آپ نے قید خانہ میں کو ئی جزع و فزع نہیں کی ،آپ نے اللہ کی عبادت میں مشغول رہنا اللہ کی نعمت جانا ، آپ اس پر اللہ کا اس طرح شکر ادا کر تے تھے :''خدایا ! تو جانتا ہے کہ میں تجھ سے یہ سوال کرتا تھاکہ مجھے اپنی عبادت کاکوموقع فراہم کر ،خدایا ! تو نے ایسا کردیالہٰذا تیرے لئے ہی حمد و ثناہے۔۔۔(۳)

عیسیٰ کو امام کو قتل کرنے کے لئے روانہ کرنا

ہارون سر کش نے بصرہ کے گورنر عیسیٰ کو امام کو قتل کرنے کا حکم دیا تو اس کو یہ بات بہت گراںگذری ،اس نے اپنے حوالیوں و مو الیوں کو بلاکر اس سلسلہ میں مشورہ کیا تو اُن سب نے اُس کو ایسا کرنے سے منع کیا اور اُس نے ہارون کو ایک خط لکھا جس میں یہ تحریر کیا کہ مجھے ایسا کرنے سے معاف کیجئے جس کا مضمون کچھ یوں ہے :موسیٰ بن جعفر ایک طولانی مد ت سے میرے قید خانہ میں ہیں اور میں تجھ کو اُن کے حالات سے آگاہ کرتا رہا ہوں ،اور میری آنکھوں نے اس طویل مدت میں امام کو عبادت کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھا ،اور جو کچھ امام اپنی دعا میں کہتے تھے وہ بھی سنا ہے، انھوں نے کبھی بھی میرے اور تیرے

____________________

۲۔حیاةالامام مو سیٰ کاظم ،جلد ۲،صفحہ۴۶۶۔

۳۔مناقب، جلد ۲،صفحہ ۲۷۹۔


خلاف کو ئی بات نہیں کہی ہے اور نہ ہی کبھی برا ئی کے ساتھ یاد کیا ہے ،وہ ہمیشہ اپنے نفس کیلئے مغفرت و ر حمت کی دعا کر تے تھے آپ جس کو چا ہیں میںان کو اس کے حوالے کردوں یا ان کو چھوڑ دوں میں ان کو قید کرنے سے پریشان ہو گیا ہوں۔(۱)

امام کو فضل کے قید خانہ میں بھیجنا

ہارون رشید نے عیسیٰ کو بلاکر کہا کہ امام کو بغداد میںفضل بن ربیع کے قید خانہ میں منتقل کر دیا جائے جب امام وہاں پہنچے تو اُس نے آپ کو اپنے گھر میںقید کردیاامام عبادت میں مشغول ہوگئے آپ دن میں روزہ رکھتے اور رات میں نمازیں پڑھتے تھے ،فضل امام کی عبادت کو دیکھ کر مبہوت ہو کر رہ گیا ،وہ اپنے اصحاب سے امام کے ذریعہ اللہ کی عظیم اطاعت کے بارے میں باتیںکر تا ،عبد اللہ قزوینی (جو شیعہ تھے) سے روایت ہے : ابن ربیع فضل کے پاس پہنچا تو وہ اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا ہوا تھا ، اُس نے مجھ سے کہا :میرے قریب آئو میں اُس کے ایک دم قریب ہو گیا تو اُس نے مجھ سے کہا : گھر میں دیکھو ۔

جب عبد اللہ نے گھر میں دیکھا تو اس سے فضل نے کہا :تم گھر کے اندر کیا دیکھ رہے ہو ؟

میں نے کہا :میں ایک لپٹا ہوا کپڑا پڑا ہوا دیکھ رہا ہوں ۔۔۔

صحیح طریقہ سے دیکھو ۔۔۔

تو میں نے ایک شخص کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ۔۔۔

کیا تم اس کو پہچانتے ہو ؟

نہیں ۔۔۔

یہ تمہارے مو لا و آقا ہیں ۔

میرے مو لا کون؟

تم میرے سامنے لا علمی کا اظہار کیوں کر رہے ہو !

میں لا علمی کا اظہار نہیں کر رہاہوں لیکن میں نہیں جانتا کہ میرے مولا کون ہیں ؟

یہ ابو الحسن مو سیٰ بن جعفر ہیں ۔۔

____________________

۱۔کشف الغمہ فی معرفة الائمہ، جلد ۳،صفحہ ۲۵۔


پھر فضل عبد اللہ سے امام کی عبادت کے متعلق یوں بیان کر نے لگا :میں نے رات دن میں کوئی ایسا وقت نہیں دیکھا ،میں نے امام کو اُس حالت میں نہ دیکھا ہوجس کی میں نے تمہیں خبر دی ہے ، امام صبح تک نمازیں پڑھتے رہتے ہیں ،نماز کے بعد آفتاب کے طلوع ہونے تک دعائیں پڑھتے ہیں ،اس کے بعد زوال آفتاب تک سجدہ میں رہتے ہیں زوال کے وقت کو ئی اُن کو آکر بتا تا ہے مجھے نہیں معلوم کہ کب غلام اُن کو آکر کہتا ہے :زوال کا وقت ہو گیا ہے ،جب وہ سجدہ سے اٹھتے ہیں تو تجدید وضو کے بغیرپھر نماز پڑھنے لگتے ہیں ۔۔۔اور میں جانتا ہوں کہ وہ سجدوں میں ہرگز نہیں سوتے ،نہ ہی آپ پر غفلت طاری ہو تی ہے اور نماز عصر تک آپ اسی طرح رہتے ہیں اور جب عصر کی نماز سے فارغ ہوجاتے ہیں تو اس کے بعد آپ سجدہ کرتے ہیں اور سورج کے غروب ہونے تک سجدہ کی حالت میں رہتے ہیں ،جب سورج غروب ہوجاتا ہے توآپ سجدہ سے اٹھتے ہیں اور کسی حدث کے صادر ہوئے بغیر نماز مغرب بجالاتے ہیں آپ ہمیشہ نمازعشاء تک نمازاور تعقیباتِ نماز پڑھتے تھے ،اس کے بعد نماز عشاء بجالاتے اور نماز عشا پڑھنے کے بعد آپ کچھ تناول فرماتے ، اس کے بعد تجدید وضو کرتے پھر سجدہ میں چلے جاتے اس کے بعد سجدہ سے سر اٹھاتے تو کچھ دیر کیلئے سوجاتے ،اس کے بعد اٹھ کر تجدید وضو کرتے اور طلوع فجر تک نماز پڑھتے اس کے بعد نماز صبح بجالاتے تھے ۔۔۔جب سے میرے پاس ہیں اُن کا یہی طریقہ ہے ۔۔۔

جب عبد اللہ نے فضل کو امام کا یہ اکرام و تکریم کر تے دیکھا تو اس کو امام کی شان میں کو ئی گستاخی نہ کر نے کی یوں تاکید کر نے لگا :اللہ کا تقویٰ اختیار کر،اور اس سلسلہ میں کو ئی ایسا کام نہ کرنا جس سے تیری نعمت زا ئل ہو جائے ،اور جان لے ! کسی نے کسی کیلئے کو ئی برا ئی نہیں کی مگر یہ کہ اس کی نعمت زا ئل ہو گئی ۔

فضل نے کہا : مجھے کئی مرتبہ آپ کو قتل کر نے کا حکم دیا گیا لیکن میں نے قبول نہیں کیا ،اور تم جانتے ہو کہ میں کبھی ایسا نہیں کروں گا ۔اگر مجھے قتل بھی کر دیا جائے تو بھی جو انھوں نے مجھ سے کہا وہ انجام نہیں دوںگا ۔۔۔(۱)

____________________

۱۔عیون اخبار الرضا، جلد ۱،صفحہ ۹۸۔۹۹۔


امام کا ملول و رنجیدہ ہونا

امام قید خانہ میں ایک طویل مدت تک رہنے کی وجہ سے ملو ل و رنجیدہ ہو گئے ،اور آپ نے خدا سے ہارون کے قید خانہ سے نجات عطا کر نے کی التجا کی ،آپ نے رات کی تاریکی میں چار رکعت نماز ادا کی اور خدا سے یہ دعا کی :''اے میرے سید و آقا !مجھے ہارون کے قید خانہ سے نجات دے ،اس کے قبضہ سے مجھے چھٹکارا دے ،اے ریت اور مٹی سے درخت کو اُگانے والے ، اے لوہے اور پتھر سے آگ نکالنے والے ، اے گوبر اور خون سے دودھ پیدا کر نے والے ،اے مشیمہ(رحم میں بچہ کی جھلی) اور رحم سے بچہ پیدا کرنے والے ،اے احشاء اور امعاء سے روح کو نکالنے والے مجھے ہارون کے ہاتھ سے نجات دلادے ۔۔۔''۔(۱)

اللہ نے اپنے ولی کی دعا کو مستجاب کرلیااور آپ کو باغی ہارون کے قید خانہ سے اس خواب کے ذریعہ رہائی دلا ئی جو اس نے دیکھا تھا۔

امام کو فضل بن یحییٰ کے قید خانہ میں بھیجنا

ہارون نے امام کو دوسری مرتبہ گرفتار کرکے فضل بن یحییٰ کے قید خانہ میں ڈال دیا،فضل نے امام کی بہت ہی خاطر و مدارات کی جس کا آپ نے بقیہ دوسرے قید خانوں میں مشاہدہ نہیں کیا تھا ، ہارون کے ایک جاسوس نے فضل کے ذریعہ امام کی خاطر و مدارات کی خبر ہارون کو دی، جس کو سُن کر ہارون طیش میں آگیا، اس نے فضل کو وہاں سے ہٹا کر سو تازیانے لگانے کی خاطر ایک سپاہی روانہ کیا اور جس وقت وہ تازیانے لگانے لگا اس وقت ہارون رشید ،اپنے محل میں تھا وہیں پر وزراء ،لشکر کے سرداراور لوگوں کا ہجوم اکٹھا تھا ،رشید نے بلند آواز میں کہا :لوگو ! فضل بن یحییٰ نے میری اور میرے امر کی مخالفت کی ہے لہٰذا میں اس کو لعنت کا مستحق سمجھتا ہوں اس لئے تم سب اُس پر لعنت کرو ۔۔۔

چاروں طرف سے مجمع سے فضل پر لعنت و سب و شتم کی آوازیں بلند ہو نے لگیں ،وہاں پر یحییٰ بن خالد بھی مو جود تھا جو جلدی سے رشید کے پاس پہنچا اور اُس نے یہ کہکر اس کو خوش کیا :اے امیر المو منین فضل سے ایک چیز صادر ہو گئی ہے اور اُس کے لئے تو میں ہی کا فی ہوں ۔۔۔

____________________

۱۔مناقب جلد ۲صفحہ ۳۷۰۔


ہارون رشید خوش ہو گیا، اس کا غصہ دور ہو گیا اور اُس نے یہ کہکر اپنی خو شی کا اظہار کیا :

فضل نے ایک امر میںمیری مخالفت کی تو میں نے اس پر لعنت کر دی ہے اور اس نے تو بہ کرلی تو ہم نے بھی اس کی توبہ قبول کر لی ہے لہٰذا تم سب جائو۔

ہر طرف سے یہ آواز بلند ہو نے لگی وہ لوگ ہارون کی اس متضاد اور دوہری سیاست کی اطاعت اور تا ئید کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے :اے امیر المو منین!،ہم اس سے محبت کر تے ہیں جس سے آپ محبت کرتے ہیں اور اس کے دشمن ہیں جس کے آپ دشمن ہیں اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔(۱)

____________________

۱۔مقاتل الطالبین ،صفحہ ۵۰۳۔۵۰۴۔


امام ،سندی کے قید خانہ میں

رشید نے امام کو فضل بن یحییٰ کے قید خانہ سے سندی بن شاہک کے قید خانہ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ،وہ مجوسی اور بہت خبیث جلّاد تھا ،نہ اللہ پر ایمان رکھتا تھا اور نہ ہی روز قیامت کو مانتا تھا ،اس نے امام پر بے انتہا سختی کی یہاں تک کہ امام کوزہر دیدیا ،جو آپ کے پورے بدن میں سرایت کر گیا ، امام دردو الم سے کراہنے لگے یہاں تک آپ نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا ،آپ کی شہادت سے دنیا میں اندھیرا چھا گیا ، آخرت آپ کے نور سے منور ہو گئی ،خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ امام پر زمانہ کے اُس سر کش ہارون کی طرف سے مصائب و آلام کے کیا کیا پہاڑ ٹوٹے، ہارون خاندان نبوت سے بہت زیادہ کینہ وحسد رکھتا تھا اور اُن کا دشمن تھا ۔

امام کی شہادت کے بعد سرکاری انتظامیہ ہارون کو امام کے قتل سے بریٔ الذمہ قرار دینے کیلئے آپ کی شہادت کے اسباب کے سلسلہ میں تفتیش کر نے لگی، عمرو بن واقد سے روایت ہے کہ رات کا کچھ حصہ گذرنے کے بعد سندی بن شاہک کا میرے پاس خط پہنچااس وقت میںبغداد میں تھا، میں نے خیال کیا کہ کہیں یہ میرے ساتھ کو ئی برا قصد تو نہیں رکھتا ہے ،میںنے اپنے اہل و عیال کو یہ سب دیکھ کر وصیت کی اور کہا: اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ ،پھر میں سوار ہوکر اس کے پاس پہنچا ، جب اُس نے مجھے دیکھا تو مجھ سے کہنے لگا :اے ابو حفص شاید آپ ہم سے گھبرا گئے ہیں ؟

ہاں ۔۔۔

گھبرائو نہیں ،خیر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔۔۔

میرے اہل و عیال کے پاس ایک قاصد بھیج دے تاکہ وہ جا کر انھیں بتا ئے کہ کو ئی بات نہیں ہے ۔

ہاں ۔۔۔

جب وہ مطمئن ہوگیا تو سندی نے اُس سے کہا : اے ابو حفص! کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمھیں یہاں کیوں بلا بھیجا ہے ؟

نہیں ۔


کیا تم مو سیٰ بن جعفر کو جانتے ہو ؟

ہاں میں انھیں پہچانتا ہوں اور کچھ زمانہ سے میری اور اُن کی دو ستی ہے ۔۔۔

کیا بغداد میں کوئی یہ قبول کر لے گا کہ تم اتھیں جا نتے ہو ؟

ہاں ۔۔۔

پھر اُس نے اُن لوگوں کے نام بتائے جو امام کو جانتے تھے ،سندی نے ان سب کو بلابھیجا جب وہ آگئے تو اس نے اُن سے کہا :کیا تم کسی ایسی قوم کو جانتے ہو جو مو سیٰ بن جعفر کو پہچا نتی ہے ؟تو انھوں نے اُس قوم کے نام بتائے جو امام مو سیٰ بن جعفر کو پہچا نتی تھی تو اُس قوم کو بھی بلایا گیا یہاں تک کہ پوری رات گذر گئی اور نور کا تڑکا ظاہر ہوا تواس کے پاس پچاس سے زیادہ شاہد جمع ہوچکے تھے اُس نے منشی سے اُن سب کے نام، پتے، کام اور خصوصیات لکھوائے ،پھر وہ وہاں سے نکلا کچھ افراداُ س کے ساتھ ساتھ تھے تو اس نے عمرو بن واقد سے کہا :اے ابو حفص کھڑے ہوجائو اور مو سیٰ بن جعفر کے چہرے سے کپڑا ہٹائو ۔

عمرو نے کھڑے ہوکر آپ کے چہرۂ اقدس سے کپڑا ہٹایا تو دیکھا کہ آپ کی روح پرواز کرگئی ہے، اس وقت سند ی نے اس جماعت سے مخاطب ہو کر کہا : اِن کی طرف دیکھو ،وہ اُن کے قریب ہوا اور اُن سے کہا :تم گواہ رہنا کہ یہ موسیٰ بن جعفر ہیں ؟

ان لوگوں نے کہا :ہاں ۔۔۔

پھر اس نے اپنے غلام کو امام کے جسم سے لباس اُتارنے کا حکم دیا ،غلام نے ایسا ہی کیا،پھر اُس نے قوم سے مخاطب ہو کر کہا :کیا تم ان کے جسم پر کو ئی ضرب کا نشان دیکھ رہے ہو ؟

نہیں ۔۔۔


پھر اُن کی گو ا ہی لکھی اور وہ سب پلٹ گئے ،(۱) اس کے بعد اس نے فقہا اور بڑی بڑی شخصیتوں کو بلاکر امام مو سیٰ بن جعفر کے قتل سے ہارون کے بریٔ الذمہ ہونے کی گو اہی دلوا ئی ۔

امام کی نعش مبارک بغداد کے پُل پر

امام کی نعش مبارک بغداد کے پُل پر رکھ دی گئی تاکہ دور و نزدیک والے سب دیکھ لیں جب گزرنے والوں کی بھیڑہٹی توامام کا روئے مبارک ظا ہر ہوا ،ایسا کرنے سے حکومت کا مقصد امام کی اہانت اورشیعوں کو ذلیل و رسوا کر نا تھا ،بعض شاعر کہتے ہیں :

مِثْلُ مُوْسیٰ یُرْمیٰ عَلیٰ الجِسْرِمَیْتاً

لَمْ یُشَیِّعْهُ لِلْقُبُوْرِمُوَحِّدُ !

حَمَلُوْهُ وَلِلْحَدِیْدِ بِرِجْلَیْهِ

هَزِیْجُ لَهُ الْاَهَاضِیْبُ تَنْهَدْ

''افسوس کہ امام موسیٰ کاظم کی جیسی شخصیت کا جنازہ بغداد کے پُل پر لا کر رکھ دیا گیااور تشییع کے لئے کو ئی دیندار نہ آیا ۔

آپ کا جنازہ اس عالم میں اٹھایا گیا کہ آپ کے پیروں میں لوہے کی بیڑیاں پڑی تھیں ''۔

ہارون رشید کی تمام کو ششیں خاک میں مل کر رہ گئیں امام ہمیشہ کیلئے زندہ ٔ جا وید ہیں امام کا مرقد مطہرکو اللہ کے صالح و نیک بندوں میں ایک با عزت مقام حاصل ہے جس سے اللہ کی رحمت کی خوشبوئیں چاروں طرف پھوٹ رہی ہیں ،مسلمان امام کی زیارت کیلئے آتے ہیںاور ہارون کا نہ کو ئی نام و نشان ہے اور نہ ہی کوئی اس کو یاد کرنے والا ہے ،نہ اس کی کو ئی ضریح ہے جس پر کو ئی جائے ،وہ اپنے خاندان کے ساتھ ابدی اندھیروںمیں مدفون ہو گیا ،عنقریب خداوند عالم اُ س کا مشکل حساب لے گا جس جس ظلم و جور کا وہ مر تکب ہوا ہے ۔

حکومت نے اتنے ہی پر اکتفا نہیں کی بلکہ اس سے بڑھ کر ضلالت کایہ ثبوت دیا کہ وہ بغداد کی سڑکوں پر نکل کر یہ اعلان کر یں :یہ مو سیٰ بن جعفر ہیں جن کے بارے میں شیعہ یہ گمان کرتے ہیں کہ اِن کوموت

____________________

۱۔بحارالانوار، جلد ۱۱،صفحہ ۳۰۔


نہیں آئے گی دیکھو یہ مر گئے ہیں ۔(۱)

اسی طرح انھوں نے یہ کہنے کے بجائے :یہ طیب ابن طیب کے فرزند ہیں دوسرے کلمات کہے ، سلیمان بن ابو جعفر منصور نے امام کی تجہیز کی اس کے دوستوں نے امام کی نعش مبارک سرکاری مزدوروں کے ہاتھوں سے لی اور یہ اعلان کیا :آگاہ ہوجائوجو طیب ابن طیب مو سیٰ بن جعفر کے جنازے میں شریک ہونا چاہتا ہے وہ حاضر ہو جائے ۔

مختلف طبقوں کے لوگ امام کے جنازے میں شریک ہو نے کے لئے نکل پڑے ،لوگوں نے ننگے پیر آپ کی تشییع جنازہ کی جس کی بغداد میں کو ئی نظیر نہیں ملتی ہے ،سڑکوں پر بہت زیادہ بھیڑ تھی اور سب بہت زیادہ رنج و غم میں غرق تھے ،سلیمان اور اس کے افراد جنازے میں پیش پیش تھے جنازہ کو قریش کی قبروں کے پاس لایا گیا وہیں پر قبر کھودی گئی سلیمان قبر میں اُترے اور آپ کے جنازہ کو آپ کی ابدی آرام گاہ میں رکھا اور حلم علم ،کرامت اور بلند اخلاق کو زمین کے اندر چھپادیا ،سلام ہو اُن پر جس دن وہ پیدا ہوئے ،شہید ہوئے اور جس دن مبعوث کئے جا ئیں گے ۔

____________________

۱۔حیاةالامام مو سیٰ بن جعفر ،جلد ۲،صفحہ ۵۲۲۔


حضرت امام رضا علیہ السلام

امام رضا اللہ کے نور کاٹکڑا،اسکی رحمت کی خوشبو اور ائمہ طاہرین کی آٹھویںکڑی ہیںجن سے اللہ نے رجس کو دوررکھااوران کو اس طرح پاک وپاکیزہ رکھاجو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔ مامون نے ائمہ طاہرین کے متعلق اپنے زمانہ کے بڑے مفکروادیب عبداللہ بن مطرسے سوال کرتے ہوئے کہا: اہل بیت کے سلسلہ میںتمہاری کیا رائے ہے ؟

عبداللہ نے ان سنہرے لفظوں میں جواب دیا:میں اس طینت کے بارے میں کیاکہوں جس کا خمیر رسالت کے پانی سے تیار ہوااوروحی کے پانی سے اس کو سیراب کیاگیا؟ کیا اس سے ہدایت کے مشک اور تقویٰ کے عنبر کے علاوہ کوئی اورخوشبو آسکتی ہے ؟

ان کلمات نے مامون کے جذبات پر اثرکیا اس وقت امام رضا بھی موجود تھے، آپ نے عبداللہ کامنھ موتیوں سے بھر دینے کا حکم صادر فرمایا ۔(۱)

وہ تمام اصلی ستون اور بلند و بالا مثالیں جن کی امام عظیم سے تشبیہ دی گئی ہے، آپ کے سلوک ، ذات کی ہو شیاری اور دنیا کی زیب و زینت سے رو گردانی کرنا سوائے اُن ضروریات کے جن سے انسان اللہ سے لولگاتا ہے، یہ سب اسلام کی دولتوں میں سے ایک دولت ہے۔۔۔ہم ان میں سے بعض خصوصیات اختصار کے طور پر بیان کرتے ہیں:

____________________

۱۔حیاةالامام رضا ، جلد ۱،صفحہ ۱۰۔


آپ کی پرورش

امام نے اسلام کے سب سے زیادہ باعزت وبلند گھرانہ میں پرورش پائی ،کیونکہ یہ گھر وحی کا مرکز ہے ۔۔۔

یہ امام موسیٰ بن جعفر کا بیت الشرف ہے جو تقویٰ اور ورع وپرہیزگاری میں عیسیٰ بن مریم کے بیت الشرف کے مشابہ ہے ،گویا یہ بیت الشرف عبادت اور اللہ کی اطاعت کے مراکز میں سے تھا، جس طرح یہ بیت الشرف علوم نشرکرنے ا ور اس کو لوگوں کے درمیان شائع کرنے کا مرکزتھا اسی بیت الشرف سے لاکھوں علماء ، فقہائ،اور ادباء نے تربیت پائی ہے ۔

اسی بلند وبالا بیت الشرف میں امام رضا نے پرورش پائی اور اپنے پدر بزرگوار اور خاندان کے آداب سے آراستہ ہوئے جن کی فضیلت ،تقویٰ اور اللہ پر ایمان کے لئے تخلیق کی گئی ہے ۔

آپ کا عرفان اور تقویٰ

امام رضا کے عرفان کی خصوصیت یہ تھی کہ آپ حق پر پائیدارتھے، اور آپ نے ظلم کے خلاف قیام کیا تھا، اس لئے آپ مامون عباسی کو تقوائے الٰہی کی سفارش فرماتے تھے اور دین سے مناسبت نہ رکھنے والے اس کے افعال کی مذمت فرماتے تھے، جس کی بناء پر مامون آپ کا دشمن ہوگیااور اس نے آپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیااگرامام اس کی روش کی مذمت نہ کرتے جس طرح کہ اس کے اطرافیوں نے اس کے ہرگناہ کی تائید کی تو آ پ کا مقام اس کے نزدیک بہت عظیم ہوتا ۔اسی بناء پرمامون نے بہت جلد ہی آپ کو زہر دے کر آپ کی حیات ظاہری کا خاتمہ کردیا۔


آپ کے بلند وبالااخلاق

امام رضا بلند و بالا اخلاق اور آداب رفیعہ سے آراستہ تھے اور آپ کی سب سے بہترین عادت یہ تھی کہ جب آپ دسترخوان پر بیٹھتے تھے تو اپنے غلاموںیہاںتک کہ اصطبل کے رکھوالوںاور نگہبانوں تک کو بھی اسی دستر خوان پر بٹھاتے تھے۔(۱)

ابراہیم بن عباس سے مروی ہے کہ میں نے علی بن موسیٰ رضا کو یہ فرماتے سنا ہے :

ایک شخص نے آپ سے عرض کیا :خداکی قسم آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے ہیں ۔۔۔

امام نے یہ فرماتے ہوئے جواب دیا:اے فلاں! مت ڈر،مجھ سے وہ شخص زیادہ اچھا ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس کی سب سے زیادہ اطاعت کرے ۔خدا کی قسم یہ آیت نسخ نہیں ہوئی ہے۔

امام اپنے جدرسول اعظم کے مثل بلند اخلاق پر فائز تھے جو اخلاق کے اعتبار سے تمام انبیاء سے ممتاز تھے ۔

آپ کا زہد

امام نے اس پرمسرت اورزیب وزینت والی زندگی میں اپنے آباء عظام کے مانند کردار پیش کیا جنھوںنے دنیا میں زہداختیارکیا،آپ کے جدبزرگوارامام امیرالمومنین نے اس دنیاکو تین مرتبہ طلاق دی جس کے بعد اس سے رجوع نہیں کیاجاسکتا۔

محمد بن عباد نے امام کے زہدکے متعلق روایت کی ہے :امام گرمی کے موسم میں چٹائی پر بیٹھتے ، سردی کے موسم میں ٹاٹ پربیٹھتے تھے ،آپ سخت کھر درا لباس پہنتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ لوگوں سے ملاقات کے لئے جاتے تو پسینہ سے شرابور ہوجاتے تھے ۔(۲)

دنیا میں زہد اختیار کرنا امام کے بلند اور آشکار اور آپ کے ذاتی صفات میں سے تھا،تمام راویوں اور مورخین کا اتفاق ہے کہ جب امام کو ولی عہد بنایاگیا تو آپ نے سلطنت کے مانند کوئی بھی مظاہرہ نہیں فرمایا،حکومت وسلطنت کو کوئی اہمیت نہ دی،اس کے کسی بھی رسمی موقف کی طرف رغبت نہیں فرمائی، آپ کسی

____________________

۱۔نورالابصار، صفحہ۱۳۸۔

۲۔عیون اخبار الرضا ،جلد ۲صفحہ ۱۷۸۔مناقب ،جلد ۴،صفحہ ۳۶۱۔


بھی ایسے مظاہرے سے شدیدکراہت کرتے تھے جس سے حاکم کی لوگوں پر حکومت وبادشاہت کا اظہار ہوتا ہے چنانچہ آپ فرماتے تھے :لوگوںکاکسی شخص کی اقتداکرنااس شخص کیلئے فتنہ ہے اور اتباع کرنے والے کیلئے ذلت و رسوائی ہے ۔

آپ کے علوم کی وسعت

امام رضا اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ اعلم اور افضل تھے اور آپ نے ان (اہل زمانہ) کو مختلف قسم کے علوم جیسے علم فقہ،فلسفہ ،علوم قرآن اور علم طب وغیرہ کی تعلیم دی۔ہروی نے آپ کے علوم کی وسعت کے سلسلہ میں یوںکہا ہے :میں نے علی بن موسی رضا سے زیادہ اعلم کسی کو نہیں دیکھا، مامون نے متعددجلسوںمیں علماء ادیان ،فقہاء شریعت اور متکلمین کو جمع کیا،لیکن آپ ان سب پر غالب آگئے یہاں تک کہ ان میں کوئی ایسا باقی نہ رہا جس نے آپ کی فضیلت کا اقرار نہ کیاہو،اور میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا ہے: ''میں ایک مجلس میں موجود تھا اور مدینہ کے متعدد علماء بھی موجود تھے ،جب ان میں سے کوئی کسی مسئلہ کے بارے میں پوچھتا تھا تو اس کو میری طرف اشارہ کردیتے تھے اور مسئلہ میرے پا س بھیج دیتے تھے اور میں اس کا جواب دیتا تھا ''۔(۱)

ابراہیم بن عباس سے مروی ہے :میں نے امام رضا کونہیںدیکھامگریہ کہ آپ نے ہر سوال کا جواب دیا ہے ۔(۲) ،میں نے آپ کے زمانہ میں کسی کو آپ سے اعلم نہیں دیکھااور مامون ہر چیز کے متعلق آپ سے سوال کرکے آپ کا امتحان لیتاتھااورآپ اس کا جواب عطافرماتے تھے ۔(۳)

مامون سے مروی ہے :میں اُن (یعنی امام رضا)سے افضل کسی کو نہیں جانتا۔(۴)

بصرہ،خراسان اور مدینہ میں علماء کے ساتھ آپ کے مناظرے آپ کے علوم کی وسعت پردلالت

کرتے ہیں ۔دنیاکے جن علماء کو مامون آپ کا امتحان لینے کے لئے جمع کرتا تھا وہ ان سب سے زیادہ آپ پر یقین اور آپ کے فضل وشرف کا اقرار کرتے تھے ،کسی علمی وفدنے امام سے ملاقات نہیں کی مگر یہ کہ اس نے آپ کے فضل کا اقرار کرلیا۔مامون آپ کو لوگوںسے دور رکھنے پر مجبور ہوگیاکہ کہیں آپ کی وجہ سے لوگ اس سے بدظن نہ ہوجائیں۔

____________________

۱۔کشف انعمہ، جلد۳ صفحہ۱۰۷۔

۲۔ایک نسخہ میں الاعلم آیاہے۔

۳۔ حیاة الامام الجواد صفحہ۴۲۔

۴۔اعیان الشیعہ ،جلد۴ صفحہ۲۰۰۔


اقوال زرین

امام نے متعدد غررحکم،آداب ،وصیتیںاوراقوال ،ارشاد فرماتے جن سے لوگ استفادہ کرتے تھے یہ بات اس چیز پردلالت کرتی ہے کہ آپ اپنے زمانہ میں عالم اسلامی کے سب سے بڑے استاد تھے اور آپ نے حکمت کے ذریعہ مسلمانوں کی تہذیب اور ان کی تربیت کے لئے جدوجہد کی ہے ہم ان میں سے بعض چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

عقل کی فضیلت

اللہ نے انسان کو سب سے افضل نعمت عقل کی دی ہے جس کے ذریعہ انسان اور حیوانات کو جدا کیا جاتا ہے اور امام نے بعض احادیث میں عقل کے متعلق گفتگو کی ہے جیسے :

۱۔امام رضا کا فرمان ہے :''ہر انسان کا دوست اس کی عقل ہے اور جہالت اس کی دشمن ہے'' ۔(۱)

یہ حکمت آمیز کلمہ کتنازیباہے کیونکہ عقل ہرانسان کا سب سے بڑادوست ہے جو اس کو محفوظ رکھتی ہے اور دنیوی تکلیفوںسے نجات دلاتی ہے اور انسان کا سب سے بڑا دشمن وہ جہالت ہے جو اس کو اس دنیا کی سخت مشکلات میں پھنسادیتی ہے ۔

۲۔امام کافرمان ہے :''سب سے افضل عقل انسان کا اپنے نفس کی معرفت کرنا ہے ''۔(۲)

بیشک جب انسان اپنے نفس کے سلسلہ میں یہ معرفت حاصل کرلیتاہے کہ وہ کیسے وجود میں آیا اوراس کا انجام کیا ہوگا تو وہ عام اچھائیوں پر کامیاب ہوجاتا ہے اور وہ برائیوںکو انسان سے دور کردیتا ہے

____________________

۱۔اصول کافی ،جلد۱ صفحہ۱۱ ،وسائل، جلد۱۱ صفحہ۱۶۱۔

۲۔اعیان الشیعہ ،جلد۴ صفحہ۱۹۶۔


اور اس کو نیکیوںکی طرف راغب کرتا ہے اور یہی چیز اس کے خالق عظیم کی معرفت پر دلالت کرتی ہے ۔

جیساکہ حدیث میں وارد ہوا ہے :''من عرف نفسہ فقد عرف ربہ''۔

''جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کی معرفت حاصل کرلی''۔

محاسبۂ نفس

امام کافرمان ہے :''جس نے اپنے نفس کا حساب کیا اس نے فائدہ اٹھایااور جو اپنے نفس سے غافل رہا اس نے گھاٹا اٹھایا''۔(۱)

بیشک انسان کا اپنے نفس کا حساب کرنا کہ اس نے کون سے اچھے کام کئے ہیں اور کون سے برے کام انجام دیئے ہیں اور اس کااپنے نفس کو برے کام کرنے سے روکنا، اور اچھے کام کرنے کی طرف رغبت دلانا تو یہ اس کی بلندی نفس ،فائدہ اور اچھائی پر کامیاب ہونے کی دلیل ہے ،اور جس نے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے سے غفلت کی تو یہ غفلت انسان کو ایسی مصیبت میں مبتلا کردیتی ہے جس کے لئے قرار وسکون نہیں ہے ۔

کارو بار کی فضیلت

امام فرماتے ہیں :''اپنے اہل وعیال کے لئے کوئی کام کرنا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے مانند ہے ،یہ وہ شرف ہے جسے انسان کسب کرتا ہے اور ایسی کوشش ہے جس پر انسان فخر کرتا ہے ''۔(۲)

سب سے اچھے لوگ

امام سے سب سے اچھے اورسب سے نیک لوگوں کے بارے میں سوال کیاگیاتوآپ نے فرمایا: ''وہ لوگ جب اچھے کام انجام دیتے ہیں تو ان کو بشارت دی جاتی ہے ،جب ان سے برے کام ہوجاتے ہیںتووہ استغفار کرتے ہیں،جب ان کو عطاکیاجاتا ہے تو شکراداکرتے ہیں جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو صبر کرتے ہیں اور جب غضبناک ہوتے ہیں تو معاف کردیتے ہیں ''۔(۳)

یہ حقیقت ہے کہ جب انسان ان اچھے صفات سے متصف ہوجاتا ہے تو اس کا سب سے افضل اور نیک لوگوں میں شمار ہوتا ہے اور وہ کمال کی چوٹی پر پہنچ جاتا ہے ۔

____________________

۱۔اصول کافی، جلد ۲صفحہ ۱۱۱۔

۲۔تحف العقول ،صفحہ ۴۴۵۔

۳۔تحف العقول ،صفحہ۴۴۵۔


آپ کی نصیحتیں

امام نے ابراہیم بن ابی محمود کو یوں وصیت فرمائی:''مجھے میرے والد بزرگوار نے انھوں نے اپنے آباء و اجداد سے اور انھوں نے رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے :جس نے کسی کہنے والے کی بات کان لگا کر سنی اس نے اس کی عبادت کی ،اگراس کہنے والے کی گفتگوخدا ئی ہے تو اُ س نے خدا کی عبادت کی اور اگراس کی گفتگو شیطانی ہے تو اس نے ابلیس کی عبادت کی یہاں تک کہ آپ نے فرمایا :اے ابو محمود کے فرزند : میںنے جو کچھ تم کو بتایا ہے اس کو یاد رکھو کیونکہ میں نے اپنی اس گفتگو میں دنیا و آخرت کی بھلا ئی بیان کر دی ہے''۔(۱)

اس وصیت میں بیان کیا گیا ہے کہ اہل بیت کی اتباع اُن کے طریقہ ٔ کار کی اقتدا اور ان کی سیرت سے ہدایت حاصل کرنا واجب ہے ،بیشک اس میں نجات ہے اور ہلاکت سے محفوظ رہنا ہے اور اللہ کی راہ میں بڑی کا میابی ہے ۔

۲۔مالدار اور فقیر کے درمیان مساوات

امام رضا علیہ السلام نے اپنے اصحاب کو سلام کے ذریعہ مالدار اور فقیر کے درمیان مساوات کر نے کی سفارش فرما ئی ہے :''جوشخص مسلمان فقیرسے ملاقات کرتے وقت اس کو دولت مند کو سلام کر نے کے علاوہ کسی اورطریقہ سے سلام کر ے تو خداوند عالم اس سے غضبناک ہونے کی صورت میں ملاقات کرے گا'' ۔(۲)

۳۔مومن کے چہرے کا ہشاش بشاش ہونا

امام رضا نے اپنے اصحاب کو وصیت فرما ئی کہ مو من کا چہرہ ہشاش بشاش ہونا چا ہئے اس کے بالمقابل اس کا چہرہ غیظ و غضب والا نہیں ہو نا چاہئے امام فرماتے ہیں :

____________________

۱۔وسائل الشیعہ، جلد ۱۸صفحہ ۹۲۔

۲۔وسائل الشیعہ ،جلد ۸ صفحہ ۴۴۲۔


''جس نے اپنے مومن بھا ئی کو خوش کیا اللہ اس کے لئے نیکیاں لکھتا ہے اور جس کے لئے اللہ نیکیاں لکھ دے اس پر عذاب نہیں کرے گا''۔(۱)

یہ وہ بلند اخلاق ہیں جن کی ائمہ اپنے اصحاب کو سفارش کیا کرتے تھے تاکہ وہ لوگوں کیلئے اسوئہ حسنہ قرار پا ئیں ۔

۴۔عام وصیت

امام نے اپنے اصحاب اور باقی تمام لوگوں کو یہ بیش قیمت وصیت فرما ئی :''لوگو ! اپنے اوپر خدا کی نعمتوں کے سلسلہ میں خدا سے ڈرو ،خدا کی مخالفت کے ذریعہ خدا کی نعمتوں کو خود سے دور نہ کرو ،یاد رکھو کہ خدا و رسول پر ایمان اور آل رسول میں سے اولیائے الٰہی کے حقوق کے اعتراف کے بعد کسی ایسی چیز کے ذریعہ تم شکر الٰہی بجا نہیں لاسکتے جو اس بات سے زیادہ پسندیدہ ہو کہ تم اپنے مومن بھائیوں کی اُس دنیا کے سلسلہ میں مدد کروجو اُن کے پروردگار کی جنت کی جانب تمہارے لئے گذر گاہ ہے جو ایسا کرے گا وہ خاصانِ خدا میں سے ہوگا ''۔(۲)

اس وصیت میں تقوائے الٰہی ،بھا ئیوں کی مدد اور اُ ن کے ساتھ نیکی کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔

کلمات قصار

امام رضا کے حکمت آمیز کلمات قصارچمکتے ہوئے ستاروں کی طرح حکمتوں سے پُر ہیں :

۱۔امام نے فرمایا ہے :''اگر کو ئی ظالم و جابر بادشاہ کے پاس جائے اور وہ بادشاہ ان کو اذیت و تکلیف دے تو اس کو اس کو ئی اجر نہیں ملے گا اور نہ ہی اِس پر صبر کرنے سے اس کو رزق دیا جا ئے گا ''۔(۳)

۲۔امام رضا کا فرمان ہے :''لوگوں سے محبت کرنا نصف عقل ہے ''۔(۴)

۳۔امام رضا فرماتے ہیں :''لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں عافیت کے دس جزء

____________________

۱۔وسائل الشیعہ ،جلد ۸ صفحہ۴۸۳۔

۲۔در تنظیم ،صفحہ ۲۱۵۔

۳۔تاریخ یعقوبی ،جلد ۳صفحہ ۱۸۱۔

۴۔بحارالانوار ،جلد ۷۸ صفحہ ۳۳۵۔


ہوں گے جس میں نو حصے لوگوں سے الگ رہنے میں ہوں گے اور ایک حصہ خا مو شی میں ہو گا ''۔(۱)

۴۔امام رضا فرماتے ہیں :''بخیل کے لئے چین و سکون نہیں ہے اور نہ ہی حسود کے لئے لذت ہے ،ملو ل رنجیدہ شخص کے لئے وفا نہیں ہے اور جھوٹے کے لئے مروَّت نہیں ہے ''۔(۲)

۵۔امام رضا فرماتے ہیں :''جس نے مو من کو خوش کیا خدا قیامت کے دن اُس کو خو شحال کرے گا''۔(۳)

۶۔امام رضا فرماتے ہیں :''مو من، مومن کاسگا بھا ئی ہے ،ملعون ہے ملعون ہے جس نے اپنے بھائی پر الزام لگایاملعون ہے ، ملعون ہے جس نے اپنے بھا ئی کو دھوکہ دیا ، ملعون ہے ،ملعون ہے جس نے اپنے بھا ئی کو نصیحت نہیں کی ،ملعون ہے ملعون ہے جس نے اپنے بھائی کے اسرارسے پردہ اٹھایا ،ملعون ہے ملعون ہے جس نے اپنے بھا ئی کی غیبت کی ہے ''۔(۴)

آپ کو تمام زبانوں کاعلم

امام تمام ز بانیں جانتے تھے، ابو اسما عیل سندی سے روایت ہے :میں نے ہندوستان میں یہ سنا کہ عر ب میں ایک اللہ کی حجت ہے، تو اُ س کی تلاش میں نکلا لوگوں نے مجھ سے کہا کہ وہ امام رضا ہیںمیں اُ ن کی بارگاہ میں حاضر ہوا جب آپ کی بارگاہ میں پہنچاتومیں نے آپ کو سندھی زبان میں سلام کیا امام نے سندھی زبان میں ہی سلام کا جواب دیا ،میں نے آپ کی خدمت مبارک میں عرض کیا: میں نے سنا ہے کہ عرب میں ایک اللہ کی حجت ہے اور اسی حجت کی تلاش میں آپ کے پاس آیا ہوں تو امام نے فرمایا :''میں ہی اللہ کی حجت ہوں ''،اس کے بعد فرمایا :''جو کچھ تم سوال کرنا چاہتے ہو سوال کرو ' 'میں نے آپ سے متعدد مسائل دریافت کئے تو آپ نے میری زبان میں ہی اُن کا جواب بیان فرمایا ۔(۵)

____________________

۱۔تحف العقول ،صفحہ ۴۴۶۔

۲۔تحف العقول ،صفحہ ۴۴۶۔

۳۔وسائل الشیعہ ،جلد ۱۲ صفحہ ۵۸۷۔

۴۔وسائل الشیعہ ،جلد ۸ صفحہ ۵۶۳۔

۵۔حیاةالامام علی بن موسیٰ الرضا ، جلد ۱صفحہ ۳۸۔


ابو صلت ہروی سے روایت ہے :امام رضا لوگوں سے اُن ہی کی زبا ن میں کلام کیا کرتے تھے ۔ میں نے امام سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا :''اے ابو صلت میں مخلوق پر اللہ کی حجت ہوں اور اللہ کسی قوم پر ایسی حجت نہیں بھیجتا جو اُن کی زبان سے آشنا نہ ہو ،کیا تم نے امیر المو منین کا یہ کلام نہیں سُنا: ہم کو فصل خطاب عطا کیا گیا ہے ؟کیا وہ زبانوں کی واقفیت کے علاوہ کچھ اور ہے ؟''۔(۱)

یاسر خادم سے روایت ہے :امام رضا علیہ السلام کے بیت الشرف میں صقالبہ اور روم کے افراد تھے، امام ابو الحسن اُن سے بہت قریب تھے ،میں نے آپ کو اُن سے صقلبی اور رومی زبان میں گفتگو کرتے سنا ہے اور وہ اُس کو لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کر دیا کرتے تھے ۔(۲)

اسی چیز کو شیخ محمد بن الحسن حرّ نے اس شعر میں قلمبند کیا ہے:

وَعِلْمُهُ بِجُمْلَةِ اللُّغَاتِ

مِنْ أَوْضَحِ الاِعْجَازِ وَالآیَاتِ(۳)

''تمام زبانوں سے آپ کی آشنا ئی آپ کا واضح معجزہ اور نشا نی ہے ''۔

واقعات و حادثات

امام رضا متعدد واقعات کے رونما ہونے سے پہلے ہی اُن کی خبر دیدیا کر تے تھے، اس سے شیعوں کے اس عقیدے کی تا ئید ہو تی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ائمہ اہل بیت علیہم السلام کو اسی علم سے نوازاہے جس سے اپنے رسول اور انبیاء کو نوازا ہے، اُن ہی میں سے امام نے یہ خبر دی تھی :مامون انپے بھائی امین بن زبیدہ کو قتل کرے گا ،جس کو اس شعر میں نظم کیا گیا ہے :

فَاِنَّ الضِّغْنَ بَعْدَ الضِّغْنِ یَفْشُو

عَلَیْکَ وَیُخْرِجُ الدَّ ائَ الدَّ فِیْنَا(۴)

''بیشک کینہ کے بعد کینہ مسلسل کینہ کرنے سے تمہارے اوپر راز فاش ہو جا ئے گااور دبے ہوئے کینے ابھر آئیں گے ''۔

____________________

۱۔مناقب ،جلد ۴صفحہ ۳۳۳۔

۲۔مناقب ،جلد ۴صفحہ ۳۳۳۔

۳۔نزھة الجلیس ،جلد ۲صفحہ ۱۰۷۔

۴۔جوہرة الکلام ،صفحہ ۱۴۶۔


ابھی کچھ دن نہیں گذرے تھے کہ مامون نے آپ کے بھا ئی امین کو قتل کردیا۔

امام نے ایک خبر یہ دی تھی کہ جب محمد بن امام صادق نے مامون کے خلاف خروج کیا تو امام رضا نے ان سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے فرمایا :اے چچا اپنے پدر بزرگوار اور اپنے بھائی (امام کاظم) کی تکذیب نہ کرو ،چونکہ یہ امر تمام ہونے والا نہیں ہے ،تو اُس نے یہ بات قبول نہیں کی اور علی الاعلان مامون کے خلاف انقلاب برپا کر دیاکچھ دن نہیں گذرے تھے کہ مامون کا لشکر جلو دی کی قیادت میں اس سے روبروہوا اُس نے امان ما نگی تو جلو دی نے اس کو امان دیدی ،اور اس نے منبر پر جاکر خود کو اِس امر سے الگ کر تے ہوئے کہا :یہ امر مامون کے لئے ہے ۔(۱)

امام رضا نے برامکہ کی مصیبت کی خبر دی تھی ،جب یحییٰ برمکی ان کے پاس سے گذرا تو وہ رومال سے اپنا چہرہ ڈھانپے ہوئے تھا ۔امام نے فرمایا :یہ بیچارے کیا جانیں کہ اس سال میں کیا رونما ہونے والا ہے۔۔۔ اس کے بعد امام نے مزید فرمایا:مجھے اس بات پرتعجب ہے کہ یہ خیال کر تا ہے کہ میں اور ہارون اس طرح ہیں ، یہ فرماکر آپ نے اپنے بیچ اور انگو ٹھے کے پاس کی انگلی کو ایک دوسرے سے ملاکر اشارہ کیا۔(۲)

ابھی کچھ دن نہیں گذرے تھے کہ جو کچھ امام نے فرمایا تھا وہ واقع ہوا ،یہاں تک کہ رشید نے برامکہ پر دردناک عذاب اور مصیبتیں ڈھا ئیں ،رشید نے خراسان میں وفات پائی اور بعدمیں امام رضا کواسی کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔

یہ وہ بعض واقعات ہیں جن کی امام رضا نے خبر دی تھی اور ہم نے ایسے متعدد واقعات ''حیاةالامام رضا ''میں ذکر کر دئے ہیں ۔

آپ کی جود و سخا

مو رّخین نے آپ کی جود و سخا کے متعدد واقعات نقل کئے ہیں جن میں سے کچھ یوں ہیں :

۱۔جب آپ خراسان میں تھے تو آپ اپنا سارا مال فقراء میں تقسیم کر دیا کر تے تھے ،عرفہ کا دن تھا،

____________________

۱۔حیاةالامام علی بن مو سیٰ الرضا ، جلد ۱صفحہ ۳۹۔

۲۔الاتحاف بحب الاشراف، صفحہ ۵۹۔


اور آپ کے پاس کچھ نہیں تھا ،فضل بن سہل نے اس پر ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے کہا :یہ گھاٹے کا سودا ہے۔ امام نے جواب میں فرمایا :''اس میں فائدہ ہے ،اس کو تم گھاٹا شمار نہ کروجس میں فائدہ نہ ہو''۔(۱)

اگر کو ئی شخص اجر الٰہی کی امید میں فقیروں کے لئے انفاق کر تا ہے تو یہ گھاٹا نہیں ہے، بلکہ گھاٹا تو وہ ہے کہ بادشاہوں اور وزیروں کے لئے ان کے سیاسی اورذاتی کاموں میں خرچ کیاجائے ۔

۲۔ آپ کا ایک مشہور و معروف واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص نے آپ کی خدمت با برکت میں آکر عر ض کیا :میں آپ اور آپ کے آباء و اجداد کا چا ہنے والا ہوں ،میں حج کر کے واپس آرہا ہوں ،میرے پاس خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور جو کچھ ہے بھی اس سے کچھ کام حل ہونے والا نہیں ہے، اگر آپ چا ہیں تو میں اپنے شہر واپس پلٹ جائوں، جب میرے پاس رقم ہو جا ئے گی تو میں اُس کو آپ کی طرف سے صدقہ دیدوں گا، امام نے اُس کو بیٹھنے کا حکم دیا اور آپ لوگوں سے گفتگو کرنے میں مشغول ہو گئے جب وہ سب آپ سے رخصت ہو کر چلے گئے اور آپ کے پاس صرف سلیمان جعفری اور خادم رہ گئے تو امام اُن سے اجازت لیکر اپنے بیت الشرف میں تشریف لے گئے، اس کے بعد اوپر کے دروازے سے باہر آکر فرمایا : ''خراسانی کہاں ہے ؟''،جب وہ کھڑا ہوا تو امام نے اُس کو دو سو دینار دئے اور کہا کہ یہ تمہارے راستے کا خرچ اور نفقہ ہے اور اِ ن کو میری طرف سے صدقہ نہ دینا وہ شخص امام کی عطا کردہ نعمت سے مالا مال اور خوش ہو کر چلا گیا ۔سلیمان نے امام کی خدمت میںیوں عرض کیا : میری جان آپ پر فدا ہو آپ نے احسان کیا اور صلۂ رحم کیا تو آپ نے اس سے اپنا رُخِ انور کیوں چھپایا ۔

امام نے جواب میں فرمایا :''میں نے ایسا اس لئے کیا کہ میں سوال کرنے والے کے چہرہ میں ذلت کے آثاردیکھنا نہیں چا ہتا کہ میں اس کی حاجت روا ئی کر رہا ہوں ،کیا تم نے رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا یہ فرمان نہیں سُنا کہ :چھُپ کر کی جانے والی نیکی ستّر حج کے برابر اورعلی الاعلان برائی انجام دینے والامتروک شمار ہوتاہو۔ کیا تم نے شاعر کا یہ شعر نہیں سنا :

مَتیٰ آتهِ یَوماً لِاَطْلُبَ حَاجَةً

رَجَعْتُ اِلیٰ أَهْلِْ وَوَجْهْ بِمَائِهِ(۲)

''جب میں ایک دن کسی حاجت کے لئے اس کے پاس آئوںتو میں اپنے اہل و عیال کے پاس پلٹا تو میری عزت اُن کی عزت سے وابستہ تھی ''۔

____________________

۱۔حیاةالامام محمد تقی ،صفحہ ۴۰۔

۲۔حیاةالامام علی بن مو سی الرضا ، جلد ۱صفحہ ۳۵۔


قا رئین کرام کیاآپ نے امام رضا کی اس طرح انجام دی جانے والی نیکی ملاحظہ فر ما ئی ؟یہ صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے ہے ۔

۳۔ایک فقیر نے آپ کے پاس آکر عرض کیا :مجھے اپنی حیثیت کے مطابق عطا کر دیجئے ۔

''لایسَعُنِیْ ذَلِکَ ۔۔۔''۔''مجھ میںاتنی طاقت نہیں ہے ''۔

بیشک امام کی حیثیت کی کو ئی انتہا نہیں ہے ،امام کے پاس مال و دولت ہے ہی نہیں جو کسی اندازہ کے مطابق عطا کیا جائے ،فقیر نے اپنی بات کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا :یعنی میری مروت کی مقدار کے مطابق ۔۔۔

امام نے مسکر اکر اس کی بات قبول کرتے ہوئے فرمایا :''ہاں اب ضرور عطا کیا جا ئے گا ۔۔۔'' ۔

پھر اس کو دو سو دینار دینے کا حکم صادر فر مایا ۔(۱)

یہ آپ کی سخاوت کے کچھ نمونے تھے ،اور ہم نے اِ ن میں سے کچھ نمونے اپنی کتاب حیاة الامام رضا میں بیان کر دئے ہیں ۔

عبادت

امام اللہ کی یاد میں منہمک رہتے اور خدا سے نزدیک کرنے والے ہر کام کو انجام دیتے تھے آپ کی حیات کا زیادہ تر حصہ عبادت میں گذرا جو نور، تقویٰ اور ورع کا نمونہ تھا، آپ کے بعض اصحاب کا کہنا ہے : میں نے جب بھی آپ کو دیکھا تو قرآن کی یہ آیت یاد آگئی: ( کَانُوا قَلِیلاً مِنْ اللَّیْلِ مَا یَهْجَعُونَ ) ۔(۲)

''یہ رات کے وقت بہت کم سوتے تھے ''۔

شبراوی نے آپ کی عبادت کے متعلق کہا ہے :آپ وضو اور نماز والے تھے ،آپ ساری رات با وضو رہتے ،نماز پڑھتے اور شب بیداری کرتے یہاں تک کہ صبح ہو جا تی ۔

اور ہم نے آپ کی عبادت اور قنوت و سجود میں دعا کے متعلق اپنی کتاب ''امام علی بن مو سیٰ الرضا

____________________

۱۔مناقب ،جلد ۴، صفحہ ۳۶۱۔ ۲۔سورئہ ذاریات، آیت ۱۷ ۔


کی سوانح حیات میں ''مفصل طور پر تذکرہ کر دیا ہے ۔

آپ کی ولی عہدی

عباسی دور میں سب سے اہم واقعہ یہ رو نما ہوا کہ مامون نے امام رضا کو اپنا ولیعہد بنا دیا یعنی وہ عباسی خلافت جو علوی سادات سے دشمنی رکھتی تھی اس میںتبدیلی واقع ہو گئی اور اس بڑے واقعہ کاخاص و عام دونوں میں گفتگوو چرچاہوا اور سب مبہوت ہو کر رہ گئے، وہ سیا سی روش جس میں عباسیوں نے علویوں کا بالکل خاتمہ کر دیا تھا ،اُ ن کے جوانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا ،اُن کے بچوں کو دجلہ میں غرق اور شیعوں کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر قتل کردیاتھا۔۔۔عباسیوں سے علویوں کی دشمنی بہت آشکار تھی ،یہ دشمنی محبت و مودت میں کیسے بدل گئی ،عباسی اُن کے حق کے معترف ہو گئے اور عبا سی حکومت کا اہم مر کز اُن (علویوں) کو کیسے سونپ دیا، اسی طرح کی تمام باتیں لوگوں کی زبانوں پر تھیں ۔

یہ مطلب بھی بیان ہونا چاہئے کہ مامون نے یہ اقدام اس لئے نہیں کیا تھا کہ یہ علویوں کا حق ہے اور وہ خلافت کے زیادہ حقدار ہیں، بلکہ اُ س نے کچھ سیاسی اسباب کی بنا پرولایت کا تاج امام رضا کے سر پر رکھا ،جس کے کچھ اسباب مندرجہ ذیل تھے :

۱۔مامون کا عباسیوں کے نزدیک اہم مقام نہیں تھا،اور ایسا اس کی ماں مراجل کی وجہ سے تھا جو اس کے محل کے پڑوس اور اس کے نوکروں میں سے تھی، لہٰذاوہ لوگ مامون کے ساتھ عام معاملہ کرتے تھے ، وہ اس کے بھا ئی امین کا بہت زیادہ احترام کر تے تھے ،کیونکہ اُ ن کی والدہ عباسی خاندان سے تعلق رکھتی تھی ، لہٰذا مامون نے امام رضا کو اپنی ولیعہدی سونپ کر اپنے خاندان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی تھی ۔

۲۔مامون نے امام کی گردن میں ولیعہدی کا قلادہ ڈال کر یہ آشکار کرنا چا ہاتھا کہ امام دنیا کے زاہدوں میںسے نہیں ہیں، بلکہ وہ ملک و بادشاہت اور سلطنت کے خواستگار ہیں،اسی بنا پر انھوں نے ولیعہدی قبول کی ہے، امام پر یہ سیاست مخفی نہیں تھی، لہٰذا آپ نے مامون سے یہ شرط کی تھی کہ نہ تومیں کسی کو کوئی منصب دو ںگا ،نہ ہی کسی کو اس کے منصب سے معزول کریں گے، وہ ہر طرح کے حکم سے کنارہ کش رہوںگا امام کی اِن شرطوں کی وجہ سے آپ کازاہدہوناواضح گیا۔

۳۔مامون کے لشکر کے بڑے بڑے سردار شیعہ تھے لہٰذا اس نے امام کو اپنا ولیعہد بنا کر اُن سے اپنی محبت و مودت کا اظہار کیا ۔


۴۔عباسی حکومت کے خلاف بڑی بڑی اسلامی حکومتوں میں انقلاب برپا ہو چکے تھے اور عنقریب اُس کا خاتمہ ہی ہونے والا تھا ،اور اُ ن کا نعرہ ''الد عوة الی الرضا من آل محمد ''تھا ،جب امام رضا کی ولیعہدی کے لئے بیعت کی گئی توانقلابیوں نے اس بیعت پر لبیک کہی اور مامون نے بھی اُن کی بیعت کی، لہٰذا اس طرح سے اُ س کی حکومت کودرپیش خطرہ ٹل گیا ،یہ ڈپلو میسی کا پہلا طریقہ تھا اور اسی طرح مامون اپنی حکومت کے ذریعہ اُن رونما ہونے والے واقعات پر غالب آگیا ۔

اِن ہی بعض اغراض و مقاصد کی وجہ سے مامون نے امام رضا کو اپنا ولی عہد بنایا تھا ۔

فضل کا امام رضا کو خط لکھنا

مامون نے اپنے وزیر فضل بن سہل سے کہا کہ وہ امام کو ایک خط تحریر کرے کہ میں نے آپ کو اپنا ولیعہدمقر ر کردیا ہے ۔خط کا مضمون یہ تھا :

علی بن مو سیٰ الرضا کے نام جوفرزند رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ہیں رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ہدایت کے مطابق ہدایت کر تے ہیں ،رسول کے فعل کی اقتدا کر تے ہیں ،دین الٰہی کے محافظ ہیں ،وحی خدا کے ذمہ دار ہیں ،اُ ن کے دوست فضل بن سہل کی جا نب سے جس نے اُن کے حق کو دلانے میں اپنا خون پسینہ ایک کیا اور دن رات اس راہ میں کو شش کی ،اے ہدایت کرنے والے امام آپ پر صلوات و سلام اور رحمت الٰہی ہو ،میں آپ کی خدمت میں اس خدا کی حمد بجالاتا ہوں جس کے سوا کو ئی معبود نہیں اور اس سے دعا کر تا ہوں کہ اپنے بندے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر درود بھیجے ۔

اما بعد :

امید وار ہوں کہ خدا نے آپ کو آپ کا حق پہنچا دیا اور اُس شخص سے اپنا حق لینے میں مدد کی جس نے آپ کو حق سے محروم کر رکھا تھا، میں امید وار ہوں کہ خدا آپ پر مسلسل کرم فرما ئی کرے ، آپ کو امام اور وارث قرار دے ،آپ کے دشمنوں اور آپ سے روگردانی کرنے والوںکو سختیوں میں مبتلا کرے ،میرا یہ خط امیر المو منین بندئہ خدا مامون کے حکم کی بنا پر پیش خد مت ہے میں آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں تاکہ آپ کا حق واپس کر سکوں ،آپ کے حقوق آپ کی خدمت میں پیش کر سکوں ،میں چا ہتا ہوں کہ اس طرح آپ مجھ کو تمام عالمین میں سعا دتمندترین قرار دیں اور میں خدا کے نزدیک کامیاب ہو سکوں ،


رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حق کو ادا کر سکوں ،آپ کا معاون قرار پائوں ،اور آپ کی حکومت میں ہر طرح کی نیکی سے مستفیض ہو سکوں ، میری جان آپ پر فدا ہو ،جب میرا خط آپ تک پہنچے اور آپ مکمل طور پر حکومت پر قابض ہو جا ئیں یہاں تک کہ امیر المو منین مامون کی خدمت میں جاسکیں جو کہ آپ کو اپنی خلافت میں شریک سمجھتا ہے ،اپنے نسب میں شفیع سمجھتا ہے اور اس کو اپنے ما تحت پر مکمل اختیار حا صل ہے تو آپ ایسی روش اختیار کریں جس کی وجہ سے خیر الٰہی سب کے شامل حال ہو جائے اور ملائکہ ٔ الٰہی سب کی حفاظت کریں اور خدا اس بات کا ضامن ہے کہ آپ کے ذریعہ امت کی اصلاح کرے اور خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین ذمہ دارہے اور آپ پر خدا کا سلام اور رحمت و برکتیں ہوں ۔(۱)

اس خط میں آپ کے کریم و نجیب القاب اوربلند و بالا صفات تحریر کئے گئے ہیں جس طرح کہ امام کی جانب خلافت پلٹائے جانے کا ذکر کیا گیاہے ۔

یہ سب مامون کی مہربانی ا ور اس کی مشقتوں سے بنے ،مامون یہ چا ہتا تھا کہ امام بہت جلد خراسان آکر اپنی خلافت کی باگ ڈور سنبھال لیں ،امام نے اس خط کا کیا جواب دیاہمیں اس کی کو ئی اطلاع نہیں ہے جو عباسی حکومت کے ایک بڑے عہدے دار کے نام لکھا گیا ہواور اس سے بڑا گمان یہ کیا جا رہا ہے کہ امام نے اپنے علم و دانش کی بناپر اس لاف و گزاف(بے تکے) ادّعا اور عدم واقعیت کا جواب تحریر ہی نہ فر ما یاہو ۔

مامون کے ایلچیوں کا امام کی خدمت میں پہنچنا

مامون نے امام رضا کو یثرب سے خراسان لانے کیلئے ایک وفد بھیجا اور وفد کے رئیس سے امام کو بصرہ اور اہواز کے راستے یاپھر فارس کے راستہ سے لانے کا عہد لیااور ان سے کہا کہ امام کو کوفہ اور قم(۲) کے راستہ سے نہ لیکر آئیں جس طرح کہ امام کی جانب خلافت پلٹائے جانے کا بھی ذکر ہے ۔(۳)

____________________

۱۔حیاةالامام علی بن مو سیٰ الرضا ، جلد ۲صفحہ ۲۸۴۔

۲۔عیون اخبار الرضا ،جلد ۲صفحہ ۱۴۹۔حیاةالامام علی بن مو سیٰ الرضا ، جلد ۲صفحہ ۲۸۵۔

۳۔حیاةالامام علی بن موسیٰ الرضا ،جلد ۲،صفحہ ۲۸۵۔اعیان الشیعہ ،جلد ۲صفحہ۱۸ ۔


مامون کے اتنے بڑے اہتمام سے یہ بات واضح و آشکار تھی کہ امام کو بصرہ کے راستہ سے کیوں لایا جائے اور کو فہ و قم کے راستہ سے کیوں نہ لایا جائے ؟چونکہ کو فہ اور قم دونوں شہر تشیع کے مرکز تھے ،اور مامون کو یہ خوف تھا کہ شیعوں کی امام کی زیادہ تعظیم اور تکریم سے اُس کا مرکز اور بنی عباس کمزور نہ ہو جا ئیں ۔

وفد بڑی جد و جہد کے ساتھ یثرب پہنچا اُ س کے بعد امام کی خد مت میں پہنچ کر آپ کو مامون کا پیغام پہنچایا،امام نے جواب دینا صحیح نہیں سمجھا،آپ کو مکمل یقین تھا کہ مامون نے آپ کو خلافت اور ولی عہدی دینے کے لئے نہیں بُلایا ہے بلکہ یہ اُس کی سیاسی چال ہے اور اس کا مقصد آپ کا خاتمہ کرنا تھا ۔

امام زند گی سے مایوس ہو کر بڑے ہی حزن و الم کے عالم میں اپنے جد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قبر کی طرف آخری وداع کیلئے پہنچے ،حالانکہ آپ کے رُخِ انور پرگرم گرم آنسو بہہ رہے تھے ، مخول سجستا نی امام کی اپنے جد کی قبر سے آخری رخصت کے سلسلہ میں یوں رقمطراز ہیں:جب قاصدامام رضا کو مدینہ سے خراسان لانے کیلئے پہنچا تو میں مدینہ میں تھا ،امام اپنے جد بزرگوار سے رخصت ہونے کیلئے مسجد رسول میں داخل ہوئے اور متعدد مرتبہ آپ کو وداع کیا،آپ زار و قطار گریہ کر رہے تھے ،میں نے امام کی خدمت اقدس میں پہنچ کر سلام عرض کیا، آپ نے سلام کا جواب دیااور میں نے اُن کی خدمت میں تہنیت پیش کی تو امام نے فرمایا :مجھے چھوڑ دو ،مجھے میرے جد کے جوار سے نکالا جا رہا ہے ،مجھے عالم غربت میں موت آئے گی ، اور ہارون کے پہلو میں دفن کر دیا جا ئے گا ۔مخول کا کہنا ہے


میں امام کے ساتھ رہا یہاں تک کہ امام نے طوس میں انتقال کیا اور ہارون کے پہلو میں دفن کر دئے گئے ۔(۱)

خا نہ خدا کی طرف

امام رضا خراسان جانے سے پہلے عمرہ کرنے کے لئے خانہ ٔ کعبہ کے لئے چلے ،حالانکہ آپ کے ساتھ آپ کے خاندان کی بزرگ ہستیاں تھیں جن میں آپ کے فرزند ارجمند امام جواد محمد تقی بھی تھے ،جب آپ بیت اللہ الحرام پہنچے تو آپ نے طواف کیا ،مقام ابراہیم پر نماز ادا کی ،سعی کی اس کے بعد تقصیر کی، امام محمد تقی بھی اپنے والد بزرگوار کے ساتھ ساتھ عمرہ کے احکام بجا لا رہے تھے، جب آپ (امام محمد تقی)عمرہ کے احکام بجا لاچکے تو بڑے ہی غم و رنجیدگی کے عالم میں حجر اسماعیل کے پاس بیٹھ گئے ، امام رضا کے خادم نے آپ سے اٹھنے کے لئے کہا تو آپ نے انکار فرمادیا ،خادم نے جلدی سے جا کر امام رضا کو آپ کے فرزند ارجمند کے حالات سے آگاہ کیا تو آپ خود (امام رضا)امام محمد تقی کے پاس تشریف لائے اور اُ ن سے چلنے کے لئے فرمایا ،تو امام محمد تقی نے بڑے ہی حزن و الم میں یوں جواب دیا :میں کیسے اٹھوں ،جبکہ اے والد بزرگوار میں نے خانۂ خدا کو خدا حافظ کہدیا جس کے بعد میں کبھی یہاں واپسی نہیں ہوگی ''۔(۲)

امام محمد تقی اپنے والد بزرگوار کو دیکھ رہے تھے کہ آپ کتنے رنج و الم میں ڈوبے تھے ،جس سے آپ پریہ بات ظاہر تھی کہ یہ میرے والد بزرگوار کی زند گی کے آخری ایام ہیں ۔

____________________

۱۔اعیان الشیعہ ،جلد ۴،صفحہ ۱۲۲،دو سرا حصہ ۔

۲۔حیاة الامام علی بن موسیٰ الرضا ، جلد ۲،صفحہ ۲۸۷۔


خراسان کی طرف

امام رضا خانہ ٔ خدا کوالوداع کہنے کے بعد خراسان کی طرف چلے ،جب آپ شہر بلد پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے آپ کا انتہا ئی احترام و اکرام کیا امام کی ضیافت اور ان کی خدمات انجام دیں جس پر آپ نے شہربلد والوںکا شکریہ ادا کیا ۔

امام نیشاپور میں

امام کا قافلہ کسی رکا وٹ کے بغیر نیشا پور پہنچا ،وہاں کے قبیلے والوں نے آپ کا بے نظیر استقبال کیا ، علماء اور فقہا آپ کے چاروں طرف جمع ہو گئے ،جن میں پیش پیش یحییٰ بن یحییٰ ،اسحاق بن راہویہ ،محمد بن رافع اور احمد بن حرب وغیرہ تھے ۔جب اس عظیم مجمع نے آپ کو دیکھا تو تکبیر و تہلیل کی آوازیں بلندکرنے لگے ، اور ایک کہرام برپاہوگیا ،علماء اور حفّاظ نے بلند آواز میں کہا :اے لوگو ! خاموش ہو جائو اور فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو تکلیف نہ پہنچا ئو ۔

جب لوگ خا موش ہو گئے تو علماء نے امام سے عرض کیا کہ آپ اپنے جد بزرگوار رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے ایک حدیث بیان فر ما دیجئے تو امام نے فرمایا :''میں نے مو سیٰ بن جعفر سے انھوں نے اپنے والد بزرگوار جعفر بن محمد سے ،انھوں نے اپنے والد بزرگوار محمد بن علی سے ،انھوں نے اپنے والد بزرگوار علی بن الحسین


سے ،انھوں نے اپنے والد بزرگوار حسین بن علی سے انھوں نے اپنے والد بزرگوار علی بن ابی طالب سے اور انھوں نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نقل کیا ہے کہ خدا وند عالم حدیث قدسی میں فرماتا ہے :

''لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ حِصْنِیْ ،فَمَنْ قَالَهَا دَخَلَ حِصْنِیْ ،وَمَنْ دَخَلَ حِصْنِیْ اَمِنَ مِنْ عَذَابِیْ وَلٰکِنْ بِشُرُوْطِهَاوَأَنَا مِنْ شُرُوْطِهَا '' ۔(۱)

''لا الٰہ الّا اللہ میرا قلعہ ہے ،جس نے لا الٰہ اِلّا اللہ کہا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوگیا اور جو میرے قلعہ میں داخل ہو گیا وہ میرے عذاب سے محفوظ ہو گیا لیکن اس کی کچھ شرطیں ہیں اور اُن ہی شرطوں میں سے ایک شرط میں ہو ں''۔

اس حدیث کو بیس ہزار(۲) سے زیادہ افراد نے نقل کیا ،اس حدیث کو حدیث ذہبی کا نام دیا گیا چونکہ اس حدیث کو سنہر ی روشنا ئی (یعنی سونے کا پانی)سے لکھا گیا،سند کے لحاظ سے یہ حدیث دیگر تمام احادیث میں سے زیادہ صاحب عظمت ہے ۔

احمد بن حنبل کا کہنا ہے :اگر اس حدیث کو کسی دیوانہ پر پڑھ دیا جائے تو وہ صحیح و سالم ہو جا ئے گا ۔(۳) اور بعض ساما نی حکام نے یہ وصیت کی ہے کہ اس حدیث کو سونے کے پا نی سے لکھ کر اُ ن کے ساتھ اُن کی قبروں میں دفن کر دیا جائے ''۔(۴)

مامون کا امام کا استقبال کر نا

مامون نے امام رضا کا رسمی طور پر استقبال کر نے کا حکم دیا ،اسلحوں سے لیس فوجی دستے اور تمام لوگ امام کے استقبال کیلئے نکلے ،سب سے آگے آگے مامون ،اس کے وزراء اور مشیر تھے ، اُس نے آگے بڑھ کر امام سے مصافحہ اور معانقہ کیا اور بڑی گرمجوشی کے ساتھ مرحبا کہا ،اسی طرح اس کے وزیروں نے بھی کیا اور مامون نے امام کو ایک مخصوص گھر میں رکھا جو مختلف قسم کے فرش اورخدم و حشم سے آراستہ کیا گیا تھا۔

____________________

۱۔عیون اخبار الرضا، جلد ۲صفحہ ۱۵۳۔علماء کے نزدیک اس حدیث کی بڑی اہمیت ہے ،اور انھوں نے اس کو متواتر اخبار میں درج کیا ہے ۔

۲۔اخبار الدول، صفحہ ۱۱۵۔

۳۔صواعق المحرقہ، صفحہ ۹۵۔

۴۔اخبار الدول ،صفحہ ۱۱۵۔


مامون کی طرف سے امام کو خلافت پیش کش

مامون نے امام کے سامنے خلافت پیش کی ،اس نے رسمی طور پر یہ کام انجام دیااور امام کے سامنے یوں خلافت پیش کر دی :اے فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم مجھے آپ کے فضل ، علم ،زہد ،ورع اور عبادت کی معرفت ہوگئی ہے ، لہٰذا میں آپ کو اپنی خلافت کاسب سے زیادہ حقدار سمجھتا ہوں ۔

امام نے جواب میں فرمایا:''میں دنیا کے زہد کے ذریعہ آخرت کے شر سے چھٹکارے کی امید کر تا ہوں اور حرام چیزوں سے پرہیز گاری کے ذریعہ اخروی مفادات کا امید وارہوں ،اور دنیا میں تواضع کے ذریعہ اللہ سے رفعت و بلندی کی امید رکھتا ہوں ۔۔۔''۔

مامون نے جلدی سے کہا :میں خود کو خلافت سے معزول کر کے خلافت آپ کے حوالہ کر ناچا ہتا ہوں ۔

امام پر مامون کی باتیں مخفی نہیں تھیں ،اس نے امام کو اپنے سیاسی اغراض و مقاصد کی وجہ سے خلافت کی پیشکش کی تھی ،وہ کیسے امام کے لئے خود کو خلافت سے معزول کر رہا تھا ،جبکہ اُ س نے کچھ دنوں پہلے خلافت کے لئے اپنے بھائی امین کو قتل کیا تھا ؟

امام نے مامون کو یوں قاطعانہ جواب دیا :''اگر خلافت تیرے لئے ہے تو تیرے لئے اس لباس کو اُتار کر کسی دو سرے کو پہنانا جا ئز نہیں ہے جس لباس کو اللہ نے تجھے پہنایا ہے ،اور اگر خلافت تیرے لئے نہیں ہے تو تیرے لئے اس خلافت کو میرے لئے قرار دینا جا ئز نہیں ہے ''۔

مامون برہم ہو گیا اور غصہ میں بھرگیا ،اور اس نے امام کو اس طرح دھمکی دی :آپ کو خلافت ضرور قبول کر نا ہو گی ۔۔۔

امام نے جواب میں فرمایا :''میں ایسا اپنی خو شی سے نہیں کروں گا ۔۔''۔

امام کو یقین تھا کہ یہ اُس (مامون)کے دل کی بات نہیں ہے ،اور نہ ہی اس میں وہ جدیت سے کام لے رہا ہے کیونکہ مامون عباسی خا ندان سے تھا جو اہل بیت سے بہت سخت کینہ رکھتے ،اور انھوں نے اہل بیت علیہم السلام کا اس قدر خون بہا یا تھا کہ اتنا خون کسی نے بھی نہیں بہا یا تھا تو امام اُس پر کیسے اعتماد کرتے ؟


ولیعہدی کی پیشکش

جب مامون امام سے خلافت قبول کرنے سے مایوس ہو گیا تو اس نے دوبارہ امام سے ولیعہدی کی پیشکش کی تو امام نے سختی کے ساتھ ولیعہدی قبول نہ کرنے کا جواب دیا ،اس بات کو ہوئے تقریباً دو مہینے سے زیادہ گذر چکے تھے اور اس کا کو ئی نتیجہ نظر نہیں آرہا تھا اور امام حکومت کا کو ئی بھی عہدہ و منصب قبول نہ کرنے پر مصر رہے ۔

امام کو و لیعہد ی قبو ل کر نے پر مجبو ر کر نا

جب مامون کے تمام ڈپلومیسی حربے ختم ہو گئے جن سے وہ امام کو ولیعہدی قبول کر نے کیلئے قانع کر نا چا ہتا تھا تو اُس نے زبر دستی کا طریقہ اختیار کیا ،اور اس نے امام کو بلا بھیجا ،تو آپ نے اُس سے فرمایا:''خدا کی قسم جب سے پروردگار عالم نے مجھے خلق کیامیں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ۔۔۔اور مجھے نہیں معلوم ،کہ تیرا کیا ارادہ ہے ؟''۔

مامون نے جلدی سے کہا : میرا کو ئی ارادہ نہیں ہے ۔

''میرے لئے امان ہے ؟''

ہاں آپ کے لئے امان ہے ۔

''تیرا ارادہ یہ ہے کہ لوگ یہ کہیں :''علی بن مو سیٰ نے دنیا میں زہد اختیار نہیں کیا،بلکہ دنیا نے ان کے بارے میں زہد اختیار کیا ،کیا تم نے یہ نہیں دیکھا کہ انھوں نے خلافت کی طمع میں کس طرح ولیعہدی قبول کر لی ؟''۔

مامون غضبناک ہو گیا اور اُس نے امام سے چیخ کر کہا :آپ ہمیشہ مجھ سے اس طرح ملاقات کرتے ہیں جسے میں ناپسند کر تا ہوں ،اور آپ میری سطوت جانتے ہیں ،خدا کی قسم یا تو ولیعہدی قبول کر لیجئے ورنہ میں زبر دستی کر وں گا ،قبول کر لیجئے ورنہ میں آپ کی گردن مار دوں گا ۔

امام نے خدا کی بارگاہ میں تضرّع کیا :''خدایا تونے مجھے خو دکشی کرنے سے منع فرمایا ہے جبکہ میں اس وقت مجبور و لا چار ہو چکا ہوں ،کیونکہ عبداللہ مامون نے ولیعہدی قبول نہ کرنے کی صورت میں مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی ہے ،میں اس طرح مجبور ہو گیا ہوں جس طرح جناب یوسف اور جناب دانیال مجبور ہوئے تھے ،کہ اُن کو اپنے زمانہ کے جابر حاکم کی ولایت عہدی قبول کر نی پڑی تھی ۔

امام نے نہایت مجبوری کی بنا پرولی عہدی قبول کر لی حالانکہ آپ بڑے ہی مغموم و محزون تھے ۔


امام کی شرطیں

امام نے مامون سے ایسی شرطیں کیںجن سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ آپ کو اس منصب کے قبول کرنے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے ۔وہ شرطیں مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔آپ کسی کو ولی نہیں بنا ئیں گے ۔

۲۔کسی کو معزول نہیں کر یں گے ۔

۳۔کسی رسم و رواج کو ختم نہیں کریں گے ۔

۴۔حکومتی امور میں مشورہ دینے سے دور رہیں گے ۔

مامون نے اِن شرطوں کے اپنے اغراض و مقاصد کے متصادم ہونے کی وجہ سے تسلیم کر لیا، ہم نے اس عہد نامہ کی نص و دلیل اور شرطوں کواپنی کتاب ''حیاةالامام علی بن مو سیٰ الرضا '' میں نقل کیا ہے۔

امام کی بیعت

مامون نے امام رضا کو ولی عہد منتخب کرنے کے بعد اُن کی بیعت لینے کی غرض سے ایک سیمینار منعقد کیاجس میں وزرائ، فوج کے کمانڈر،حکومت کے بڑے بڑے عہدیداراور عام لوگ شریک ہوئے ،اور سب سے پہلے عباس بن مامون ،اس کے بعد عباسیوں اور ان کے بعد علویوں نے امام کی بیعت کی ۔

لیکن بیعت کا طریقہ منفرد تھا جس سے عباسی بادشاہ مانوس نہیں تھے ،امام نے اپنا دست مبارک بلند کیا جس کی پشت امام کے چہرئہ اقدس کی طرف تھی اور اس کا اندرونی حصہ لوگوں کے چہروںکی طرف تھا ، مامون یہ دیکھ کر مبہوت ہو کر رہ گیا ،اور امام سے یوں گو یا ہوا :آپ بیعت کیلئے اپنا ہاتھ کھولئے ۔

امام نے فرمایا :''رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسی طرح بیعت لیا کر تے تھے ''۔(۱)

____________________

۱۔مقاتل الطالبین ،صفحہ ۴۵۵۔


شاید آپ نے اپنے قول کو خدا کے اس قول سے نسبت دی ہو :

(یداللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ)۔(۱) '' اُن کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے ''۔

لہٰذا بیعت کرنے والے کا ہاتھ نبی اور امام کے ہاتھ سے اوپر ہونا صحیح نہیں ہے ۔(۲)

اہم قوانین

۱۔مامون نے امام رضا کو ولی عہد منتخب کرتے وقت مندرجہ ذیل اہم قوانین معین کئے :

۱۔ لشکر کو پورے سال تنخواہ دی جا ئے گی ۔

۲۔عباسیوں کو کالا لباس نہیں پہنا یا جا ئے گا بلکہ وہ ہرا لباس پہنیں گے ،چونکہ ہر ا لباس اہل جنت کا لباس ہے اور خداوند عالم کا فرمان ہے: ( وَیَلْبَسُونَ ثِیَابًاخُضْرًا مِنْ سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَق ) ۔(۳)

''اور یہ باریک اور دبیز ریشم کے سبز لباس میں ملبوس ہوں گے ''

۳۔درہم و دینار پر امام رضا کا اسم مبارک لکھا جا ئے گا ۔

مامون کا امام رضا سے خوف

ابھی امام رضا کو ولی عہد بنے ہوئے کچھ ہی مدت گذری تھی کہ مامون آپ کی ولیعہدی کو ناپسند کرنے لگا،چاروں طرف سے افراد آپ کے گرد اکٹھا ہونے لگے اور ہر جگہ آپ کے فضل و کرم کے چرچے ہونے لگے ہر جگہ آپ کی فضیلت اور بلند شخصیت کی باتیں ہونے لگیں اورلوگ کہنے لگے کہ یہ خلافت کے لئے زیادہ شایانِ شان ہیں ،بنی عباس چور اور مفسد فی الارض ہیں ،مامون کی ناک بھویں چڑھ گئیں اس کو بہت زیادہ غصہ آگیا ،اور مندرجہ ذیل قانون نافذ کر دئے :

۱۔اُس نے امام کیلئے سخت پہرے دار معین کر دئے ،کچھ ایسے فو جی تعینات کئے جنھوں نے امام کا جینا دو بھر کر دیا اور نگہبانوں کی قیادت ہشام بن ابراہیم راشدی کے سپُرد کر دی وہ امام کی ہر بات مامون تک پہنچا تا تھا ۔

____________________

۱۔سورئہ فتح ،آیت ۱۰۔

۲۔حیاة الامام علی بن موسیٰ الرضا ،جلد ۲،صفحہ ۳۰۳۔

۳۔سورئہ کہف ،آیت ۳۱۔


۲۔اُس نے شیعوں کو امام کی مجلس میں حا ضر ہو کر آپ کی گفتگو سننے سے منع کر دیا ،اس نے اِس کام کے لئے محمد بن عمر و طوسی کو معین کیا جو شیعوں کو بھگاتا اور ان کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آتا تھا ۔

۳۔علماء کو امام سے رابطہ رکھنے اور اُن کے علوم سے استفادہ کرنے سے منع کیا ۔

امام کو قتل کرنا

مامون نے امام کو قتل کرنے کی سازش کی ،اور اُس نے انگور یا اَنار(۱) میں زہر ملا کر دیا جب امام نے اُس کو تنا ول فرمایاتو زہر آپ کے پورے بدن میں سرایت کر گیا اور کچھ ہی دیر کے بعد آپ کی روح پرواز کرگئی جو ملائکہ کے حصار میں خدا تک پہنچی اور ریاض خلد میں انبیاء کی ارواح نے آپ کا استقبال کیا ۔

امام اللہ کے بندوں تک رسالت الٰہی کا پیغام پہنچا کر دار فا نی سے کو چ فر ما گئے ،آپ مامون کی حکومت کے کسی کام میں بھی شریک نہیں ہوئے جبکہ مامون نے آپ کو ہر طرح سے ستایا تھا۔

امام کی جس طرح تشیع جنازہ ہو ئی اس کی خراسان کی تاریخ میںکو ئی نظیر نہیں ملتی ،تمام حکومتی دفاتر ، اور تجارت گا ہیں وغیرہ رسمی طور پر بند کر دی گئیں ،اور ہر طبقہ کے لوگ امام کے جسم مطہر کی تشیع جنازہ کے لئے نکل پڑے ۔آگے آگے مامون ،اُس کے وزیر ،حکومت کے بڑے بڑے عہدیدار اور لشکر کے کمانڈر تھے ، مامون ننگے سر اور ننگے پیر تھا وہ بلند آواز سے کہہ رہا تھا :مجھے نہیں معلوم کہ مجھ پر اِن دونوں مصیبتوں میں سے کو نسی بڑی مصیبت ہے ؟آپ مجھ سے جدا ہوگئے یا لوگ مجھ پر یہ تہمت لگا رہے ہیں کہ میں نے آپ کو دھوکہ دے کر قتل کر دیا ہے ؟

مامون نے خود کو امام کے قتل سے بری ٔ الذمہ ہونے کیلئے نالہ و فریاد اور حزن و الم کا اظہار کیا ؟ لیکن بہت جلد اس کی اس ریاکاری کا پردہ فاش ہو گیا اور سب پر واضح ہو گیا کہ وہ خود مجرم ہے ۔

امام کا جسم اطہر تکبیر و تعظیم کے سایہ میں لیجایا گیا اور مامون نے آپ کو ہارون کے نزدیک آپ کی ابدی آرامگاہ میں سپرد خاک کر دیا ،آپ کے دنیا سے رخصت ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت کے لئے

باعث عزت صفاتِ حسنہ رخصت ہو گئے ۔

____________________

۱۔ہم نے امام پر حملے کو مفصل طور پرحیاة الامام علی بن موسیٰ الرضا ، میں تحریر کر دیا ہے ۔


امام کو اس مقدس و طاہر بقعہ میں دفن کردیا گیا ،آپ کامرقد مطہر خراسان میں انسانی کرامت کا مظہر بن گیا ،آپ کا مرقدمطہر اسلام میں بہت باعزت ہے ،لوگوں نے امام رضا کے مرقد مطہر جیسا با حشمت ، عزت اور کرامت کامرقد کسی اور ولی اللہ کا مرقدنہیں دیکھا ،مامون سے امام رضا کو ہارون کے قریب دفن کرنے کی وجہ دریافت کی گئی تو اس نے کہا :تاکہ خداوند عالم میرے والد کو امام رضا کے جوار کی وجہ سے بخش دے ،شاعر مفکر اسلام دعبل خزا عی نے اس بات یوں شعر میں نظم کیا ہے :

قَبْرَانِ فِ طُوْس:خَیْرِ النَّاسِ کُلِّهِمْ

وَقَبْرُ شَرِّهِمْ هٰذَا مِنَ الْعِبَرِ

مَا یَنْفَعُ الرِّجْسَ مِنْ قُرْبِ الزَّکِِّ وَلَا

عَلیٰ الزَّکِِّ بِقُرْبِ الرِّجْسِ مِنْ ضَرَرِ

هَیْهَاتَ کُلُّ امْرِئٍ رَهْنُ بِمَا کَسَبَت

لَهُ یَدَاهُ فَخُذْمَا شِئْتَ أَوْ فَذَرِ

''طوس میں دو قبریں ہیں ایک بہترین مخلوق کی ایک بد ترین مخلوق کی یہ عبرت کا مقام ہے۔

پاکیزہ شخص کی قربت، پلید گی کو کو ئی فائدہ نہیں پہنچا تی اور نہ ہی آلود گی سے نزدیک ہونے کی وجہ سے پاکیزہ شخص کو نقصان پہنچتا ہے ۔

ہر شخص اپنے کئے کا ذمہ دار ہے تو جو چاہو لے لو ،جو چاہو چھوڑ دو ''۔

بہر حال امام رضا کے اس دنیا سے چلے جانے سے دنیا ئے اسلام میں ایمان و ہدایت کے چراغ سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گیااور مسلمان اپنے قائد اعظم اور امام سے محروم ہو گئے ،اناللہ وانا الیہ راجعون ۔


حضرت امام محمد تقی علیہ السلام

حضرت امام محمد تقی دنیا کے تمام فضا ئل کے حامل تھے ،دنیا کے تمام لوگ اپنے مختلف ادیان ہونے کے باوجود آپ کی غیر معمولی صلاحیتوں سے حیرت زدہ تھے ،آپ سات سال اور کچھ مہینے کی عمر میں درجہ ٔ امامت پر فائز ہوئے ،آپ نے ایسے علوم و معارف کے دریا بہائے جس سے تمام عقلیں مبہوت ہو کر رہ گئیں ، تمام زمانوں اور آبادیوں میں آپ کی ہیبت اور آپ کی عبقری (نفیس اور عمدہ)صفات کے سلسلہ میں گفتگو ہونے لگی۔

اس عمر میں بھی فقہا اور علماء آپ سے بہت ہی مشکل اور پیچیدہ مسا ئل پوچھتے تھے جن کا آپ ایک تجربہ کار فقیہ کے مانند جواب دیتے تھے ۔ راویوں کا کہنا ہے کہ آپ سے تین ہزار مختلف قسم کے مسائل پوچھے گئے جن کے جوابات آپ نے بیان فرمائے ہیں ۔

ظاہری طور پر اس حقیقت کی اس کے علاوہ اور کو ئی وجہ بیان نہیں کی جا سکتی ہے کہ شیعہ اثناعشری مذہب کا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم نے ائمہ اہل بیت کو علم ،حکمت ،اور فصل الخطاب عطا کیا ہے اور وہ فضیلت عطا کی ہے جو کسی شخص کونہیں دی ہے ہم ذیل میں مختصر طور پر اس امام سے متعلق بعض خصوصیات بیان کر رہے ہیں :

آپ اپنے والد بزرگوار کی زند گی میں

امام نے اپنے والد بزرگوار کے زیر سایہ اور آغوش پدری میں پرورش پا ئی اور تکریم و محبت کے سایہ میں پروان چڑھے، امام رضا آپ کو آپ کے نام کے بجائے آپ کی کنیت ابو جعفر سے پکارتے تھے ، جب مام رضا خراسان میں تھے تو امام محمد تقی آپ کے پاس خطوط لکھا کرتے تھے جو انتہا ئی فصاحت و بلاغت پر مشتمل ہوتے تھے ۔


امام علی رضا نے اپنی اولاد کو جو اعلیٰ تربیت دی ہے اس میں سے ایک یہ ہے کہ آپ ان کو ہمیشہ نیکی، اچھا ئی اور فقراء کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتے تھے جیسا کہ آپ نے خراسان سے اُن کے نام ایک خط میں بسم اللہ کے بعد یوں تحریر فرمایا :

''میری جان تم پر فدا ہو مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض غلام نے تمہاری سواری کو باغ کے چھوٹے دروازے سے باہر نکالتے ہیں ،یہ ان کی کنجو سی کی وجہ سے ہے تاکہ کو ئی بھی تمھیں راستہ میں نہ ملنے پائے ،لہٰذا میرا تمہاری گردن پر جو حق ہے اس کی بنا پر میں یہ چا ہتا ہوں کہ تمہاری آمد و رفت صرف بڑے دروازے سے ہونی چا ہئے ،اور جب بھی تم سوار ہو کر نکلو تو تمہارے ساتھ سونے ،چا ندی (درہم و دینار کے سکے)ضرور ہونا چا ہئیں ،تاکہ جو بھی تم سے مانگے اس کو فوراً عطا کردو ،اور تمہارے چچائوں میں سے جو کو ئی تم سے نیکی کا مطالبہ کرے اس کو پچاس دینار سے کم نہ دینا اور تمھیں زیادہ دینے کا بھی اختیار ہے ،اور اپنی پھوپھیوں کو بھی پچاس دینار سے کم نہ دینا اور زیادہ دینے کا تمھیں اختیار ہے، خدا تمھیں بہترین توفیق عطا فرمائے لہٰذا انفاق کرتے رہو اور خدا کے سلسلہ میں کسی طرح کے بخل کا خیال مت کرو''۔

کیا آپ نے اس عظیم الشان تربیت کا اندازہ لگایا ہے جس میں شرافت و کرم بالکل نمایاں و آشکار ہے ؟ امام رضا نے اپنے فرزند ارجمند کے دل کی گہرا ئیوں میں مکارم اخلاق اور اچھے اخلاق کو بھر دیا ہے تاکہ وہ اپنے جد کی امت کے لئے اسوئہ حسنہ یا نمونہ ٔ عمل بن سکیں ۔

خاندان نبوت کا اعزاز و اکرام

خاندان نبوت و رسالت امام محمد تقی (جبکہ آپ بالکل نو عمر ہی تھے)کے ذریعہ عزت و شرافت و بزرگی میں اور چند قدم آگے نظر آتا ہے ،اور کمسنی کے باوجود ان کی امامت و فضا ئل کے معترف ہیں جیسا کہ محمد بن حسن عمارہ سے روایت ہے :


میں مدینہ میں علی بن جعفر کے یہاں تھا اور دو سال سے آپ کے بھا ئی یعنی امام مو سیٰ کاظم کے اقوال و احا دیث لکھا کر تا تھا ،جب ابو جعفر محمد بن علی رضا مسجدالنبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں داخل ہوئے تو علی بن جعفر نعلین اور ردا ء کے بغیر آپ کے پاس پہنچے، آپ کے ہاتھوں کو چوما اور آپ کی تعظیم و تکریم کی اور امام محمد تقی نے اُن کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے عرض کیا :''اے چچا خدا آپ پر رحم فرمائے، تشریف رکھئے ''۔

علی بن جعفر بڑے ہی ادب اور خضوع سے یہ کہتے ہوئے جھکے :اے میرے سردار !میں آپ کے کھڑے ہوتے ہوئے کیسے بیٹھ سکتا ہوں ؟

جب امام محمد تقی واپس چلے گئے تو علی بن جعفر اصحاب کے پاس آئے اصحاب نے اُن سے کہا : آپ ان کے باپ کے چچا ہیں پھر بھی اُن کی اتنی تعظیم کرتے ہیں!! علی بن جعفر نے جذبہ ٔ ایمانی کے انداز میں ، جواب میں اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑ کر جواب دیا ،خاموش رہو کیونکہ جب خدا نے میری اس بزرگی کو امامت کے لئے مناسب نہ سمجھا اور اسی جوان کو امام قرار دیا اور اُ س کو اس کے مناسب مقام پر رکھا تو میں تمہاری بات سے خدا کی پناہ چا ہتا ہوں بلکہ میں تو اُن کا غلام ہوں ۔

یہ حدیث علی بن جعفر کے عمیق ایمان پر دلالت کر تی ہے، آپ نے اپنے اصحاب پر یہ واضح کر دیا کہ بیشک امامت انسان کی مشیت اور اس کے ارادہ کے تابع نہیں ہو سکتی ،امرامامت اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے یہ ایسا امر ہے جس کو خداوند عالم اپنے بندوں میں سے جسے چا ہتا ہے عطا کر دیتا ہے چا ہے وہ عمر میں چھوٹا ہو یا بڑا ۔

آپ کا زہد

امام محمد تقی اپنی ساری زند گی میں متقی و پرہیز گار و زاہد رہے ،آپ نے دنیا میں اپنے آباء و اجداد کی طرح زہد اختیار فرمایا ،ان ہی کی طرح زندگی بسر کی ،جنھوں نے دنیا سے بے رغبتی کی اور خدا سے لو لگا ئی۔

امام محمد تقی جوان تھے اور مامون اپنے پاس آنے والے حقوق شرعیہ جن کی ما لی حیثیت بہت زیادہ ہو تی تھی سب کے سب آپ کے پاس بھیج دیتا تھا آپ ان میں سے اپنے مخصوص امور کے علاوہ کچھ بھی خرچ نہیں کرتے تھے، بقیہ سب کا سب فقرا اور محروموں پر خرچ فرمادیتے تھے ،حسین مکاری سے روایت ہے کہ جب امام محمد تقی کی بغداد میںاتنی تعظیم وتکریم دیکھی تو میں نے خود سے کہا کہ اب میں اپنے وطن واپس نہیں پلٹوں گا اور عنقریب بغداد میں مقیم ہو کر نعمتوں سے مستفیض ہوں گا، امام اس کے دل کی بات سے آگا ہ ہوگئے اور اس سے فرمایا :اے حسین! مجھے میرے جد رسول اللہ کے حرم میں جو کی روٹی اور دلاہواموٹا موٹانمک


اس سے زیادہ محبوب ہے جس کے بارے میں توسوچ رہا ہے ۔۔۔''۔(۱)

امام ملک اور سلطنت کے خواہاں نہ تھے، آپ بالکل حکومت کی طرف سے کئے جانے والے مظاہر کی کوئی پروا نہیں کرتے آپ نے ہمیشہ زہدا ختیار کیا اور دنیا سے رو گردان رہے ۔

آپ کی سخاوت

امام ابو جعفر لوگوں میں سب سے زیادہ سخی وفیاض تھے، اکثر لوگوں کے ساتھ نیکی کرتے اور آپ کا فقراکے ساتھ نیکی کرنا مشہور تھا اور آپ کو آپ کے بہت زیادہ کرم اور سخاوت کی وجہ سے جواد کے لقب سے نواز ا گیا ہم ذیل میں آپ کی سخاوت کے کچھ واقعات نقل کررہے ہیں :

۱۔مورخین نے روایت کی ہے کہ احمد بن حدید اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ حج کیلئے نکلے تو ان پر ڈاکوئوں نے حملہ کر کے ان کا سارا مال ومتاع لوٹ لیا، مدینہ پہنچ کر احمد امام محمد تقی کے پاس گئے اور ان سے سارا ماجرا بیان کیا تو آپ نے اُن کیلئے ایک تھیلی لا نے کا حکم دیا اور اُن کو مال عطا کیا تا کہ پور ی جماعت میں تقسیم کردیں اس مال کی مقدار اتنی ہی تھی جتنا مال ان کا لوٹا گیاتھا۔(۲)

۲۔عتبی سے روایت ہے کہ ایک علوی مدینہ میں ایک کنیز خرید نا چا ہتا تھا، لیکن اس کے پاس اتنا پیسہ نہیں تھا جس سے اس کو خرید ا جا سکے تو اس نے امام محمد تقی سے اس کی شکایت کی امام نے اس کے مالک سے سوال کیا تو اس نے آپ کو بتایا، امام نے اس کے مالک سے مزرعہ(کھیت) اور کنیز کو خرید لیا ،علوی نے کنیز کے پاس پہنچ کر اس سے سوال کیا تو اس نے بتایا کہ اس کو خرید اجا چکا ہے لیکن نہیں معلوم اس کو مخفی طور پر کس نے خرید اہے علوی نے امام کی طرف متوجہ ہو کر بلند آواز میں عرض کیا ۔فلاںکنیز فروخت کردی گئی ہے ۔

امام نے مسکراتے ہوئے کہا : کیا تم کو معلوم ہے اس کو کس نے خرید ا ہے ؟

اس نے جواب دیا :نہیں ۔

امام اس کے ساتھ اس کھیت کی طرف گئے جس میں وہ کنیز تھی اور امام نے اس کو اس میں داخل

____________________

۱۔حیاةالامام محمد تقی ،صفحہ ۷۵۔

۲۔وافی بالوفیات ،جلد ۴،صفحہ ۱۰۵۔


نہ ہونے کا حکم دیا تو اس نے اس میں داخل ہونے سے منع کیا چونکہ وہ اس کے مالک کو نہیں پہچانتا تھا، جب امام نے اس سے اصرار کیا کہ تو اس نے قبول کرلیا جب وہ گھر میں داخل ہوا تو اس میں کنیز کو دیکھا امام نے اس سے فرمایا کیا تم اس کو پہچا نتے ہو ؟

اس نے کہا: ہاں ۔

علوی کو معلوم ہو گیا کہ امام نے اس کو خریدلیا ہے۔

امام نے اس سے فرمایا:یہ کنیز 'قصر'مزرعہ غلہ اور جو کچھ اس قصر میں مال ودولت ہے سب تیرے لئے ہے، علوی خوش ہو گیا اور اس نے امام کا بڑی گر مجو شی سے شکریہ اداکیا ۔(۱)

یہ امام کی سخاوت و کرم کے بعض واقعات تھے ۔

آپ کے وسیع علوم

امام محمد تقی بچپن میں ہی اپنے زمانہ کے تمام علماء میںسب سے زیادہ علم رکھتے تھے ،بڑے بڑے علماء آپ کے مناظروں ،فلسفی ،کلامی اور فقہی بحثوں سے متأثر ہوکر آپ کی عظمت کا لوہا مانتے تھے ،اور منتصر کے پاس جاکر آپ کے فضل و بر تری کا اقرار کرنے تھے ،فقہا اور علماء سات سال کی عمر میںہی آپ کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے اور آپ کے علوم سے مستفیض ہوتے تھے یہاں تک کہ آپ کی فضیلت شائع ہو گئی ،مختلف بزموں اور نشستوں میں آپ کا چر چا ہونے لگا ،اپنے کمال و فضل کی بنا پر آپ دنیا والوں کے لئے حیرت وتعجب کاسبب قرار پائے ،جب مامون نے اپنی بیٹی کا امام سے عقد کرنے کا ارادہ کیا تو اُ س نے عباسیوں کو بلایاتو اُنھوں نے مامون سے امام کے امتحان کا مطالبہ کیا تو مامون نے قبول کر لیا ۔

اس نے امام کے امتحان کے لئے بغداد کے قاضی القضات یحییٰ بن اکثم کو معین کیااور یہ وعدہ کیا کہ اگروہ امام کوان کے امتحان میں ناکام کردے اور وہ جواب نہ دے سکیںتو اس کو بہت زیادہ مال و دولت دیا جا ئے گا،یحییٰ اس مجلس میں پہنچا جس میں وزراء اور حکّام موجود تھے سب کی نظریں امام پر لگی ہو ئی تھیںچنانچہ اس نے امام سے عرض کیا :کیا مجھے اجازت ہے کہ میں آپ سے کچھ دریافت کروں ؟

____________________

۱۔مرآة الزمان، جلد ۶صفحہ ۱۰۵ ۔


امام نے مسکراتے ہوئے فرمایا :''اے یحییٰ !جو تم چاہو پوچھو !''

یحییٰ نے امام سے کہا :آپ فرمائیے حالت احرام میں شکار کرنے والے شخص کا کیا حکم ہے ؟

امام نے اس مسئلہ کی تحلیل کرتے ہوئے اس طرح اس کی مختلف صورتیں بیان کیں اور یحییٰ سے سوال کیا کہ تم نے ان شقوں میں سے کو نسی شق پوچھی ہے ؟

آپ نے فرمایا :'' اُس نے حدود حرم سے باہر شکارکیا تھا یا حرم میں ،شکار کرنے والا مسئلہ سے آگاہ تھا یا نہیں ،اس نے عمدا شکار کیا ہے یا غلطی سے ایسا ہو گیا ہے ،شکار کرنے والا آزاد تھا یا غلام ،وہ بالغ تھا یا نا بالغ ،اُس نے پہلی مرتبہ شکار کیا تھا یا بار بار شکار کر چکا تھا ،شکار پرندہ تھا یا کو ئی اور جانور تھا ، شکار چھوٹا تھا یا بڑا ، شکار ی شکار کرنے پر نا دم تھا یامُصر ،شکار رات کے وقت کیا گیا ہے یا دن میں اور اس نے حج کیلئے احرام باندھا تھا یا عمرہ کیلئے ؟''۔

یحییٰ کے ہوش اڑ گئے وہ عاجز ہو گیا چونکہ اُس نے اپنے ذہن میں اتنی شقیں سو چی بھی نہیں تھیں ، مجمع میں تکبیر و تہلیل کی آوازیں بلند ہو نے لگیں ، اور سب پر یہ آشکار ہو گیا کہ اللہ نے اہل بیت کو علم و حکمت اسی طرح عطا کیا ہے جس طرح اُس نے انبیاء اور رسول کو عطا کیا ہے ۔

امام محمد تقی نے اس مسئلہ کی متعدد شقیں بیان فرما ئیں جبکہ ان میں سے بعض شقوں کا حکم ایک تھا جیسے شکار رات میں کیا جائے یا دن میں ان دونوں کا حکم ایک ہے لیکن امام نے اس کی دشمنی کو ظاہر کرنے اور اسے عاجز کرنے کے لئے ایسا کیا تھا چونکہ وہ آپ کا امتحان لینے کی غرض سے آیا تھا ۔

مامون نے اپنے خاندان والوں کی طرف متوجہ ہو کران سے کہا :ہم اس نعمت پر خدا کے شکر گذار ہیں، جو کچھ میں نے سوچا تھا وہی ہوا ،کیا تمھیںاُن کی معرفت ہو گئی جن کا تم انکار کر رہے تھے ؟ ۔(۱)

جب عباسی خاندان پر اس چھوٹے سے سِن میں امام محمد تقی کا فضل و شرف اور اُن کا وسیع علم آشکار ہو گیا تو مامون نے اپنی بیٹی ام الفضل کا آپ سے عقد کر دیا ۔

حقیقی ایمان

اللہ پرایمان اس پر بھروسے اور توکل پر دلالت کر تا ہے ہم اُن میں سے ذیل میں چند نصیحتیں بیان کر رہے ہیں :

____________________

۱۔الارشاد، صفحہ ۲۶۱۔وسائل ،جلد ۹،صفحہ ۱۸۷،وغیرہ ۔


۱ ۔ اللہ پر اعتماد

امام محمد تقی کا فرمان ہے :جوشخص خدا پر بھروسہ کر تا ہے خدا اس کو خو شی دکھلاتا ہے، جوشحص خدا پر توکل کرتا ہے خدا اس کو مصیبتوں سے بچاتا ہے خدا پر بھروسہ ایسا قلعہ ہے جس میں مو من ہی جا سکتا ہے خدا پر توکل کرنا برائی سے بچانے کا ذریعہ اور ہر دشمن سے حفاظت کا وسیلہ ہے ۔(۱)

اِن سنہرے کلمات میں جس چیز کی تمام انسانوں کو اپنی زندگی میں ضرورت ہوتی ہے وہ خالق کائنات اور زندگی دینے والے پر بھروسہ کرنا ہے جس نے اللہ پر بھروسہ کیا وہ خو شی دیکھے گا اور اللہ پر بھروسہ کرنا انسان کے امور کے لئے کافی ہے ۔

۲۔اللہ کے ذریعہ بے نیازی

امام محمد تقی نے اللہ کے ذریعہ بے نیازی اور اسی سے امید باندھنے کی دعا فر ما ئی :جوشخص خدا کے ذریعہ بے نیاز ہوگا لوگ اسی کے محتاج ہوں گے ،اور جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا لوگ اس سے محبت کر یں گے ''۔(۲)

۳۔اللہ سے لو لگانا

امام محمد تقی نے اللہ سے لو لگانے کی ترغیب دلا ئی چونکہ خدا کا فیض اور لطف و کرم کبھی ختم نہیں ہوتا: ''لیکن جس نے اللہ کے علاوہ کسی اور سے لَو لگا ئی خدا اس شخص پر لو لگانے والے کو غالب کردیتا ہے ''۔(۳)

مکارم اخلاق

امام محمد تقی نے مکارم اخلاق اور محاسن صفات پر مشتمل دعا میں فرمایا ہے :''انسان کے بہترین اخلاق کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ کسی کو اذیت نہیں پہنچاتا ،اس کے کرم کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے محب کے ساتھ

____________________

۱۔فصول مہمہ ابن صباغ، صفحہ ۳۷۳۔

۲۔جوہرة الکلام، صفحہ ۲۵۰۔

۳۔حیاة الامام محمد تقی ، صفحہ ۱۰۵۔


اچھا برتائو کر تا ہے ،اس کے صبر کا نمونہ یہ ہے کہ وہ شکایت نہیں کرتا ،اس کی خیر خوا ہی کی پہچان یہ ہے کہ وہ ناپسند باتوں سے روکتا ہے ،نرمی کی پہچان یہ ہے کہ انسان اپنے دینی بھا ئی کی ایسے مجمع میں سر زنش نہ کرے جہاں اُس کو بُرا لگتا ہے ،اس کی سچی صحبت کی پہچان یہ ہے کہ وہ کسی پر بار نہیں بنتا ،اس کی محبوبیت کی پہچان یہ ہے کہ اس کے موافق زیادہ اور مخالف کم ہوتے ہیں ''۔(۱)

امام محمد تقی نے ان بہترین کلمات کے ذریعہ حسن اخلاق اور مکارم اخلاق،سچائی قائم کرنے اور حقیقی فکر و محبت کرنے کی بنیاد ڈالی ۔

آداب سلوک

امام محمد تقی نے لوگوں کے درمیان حسن سلوک اور اس کے آداب کا ایک بہت ہی بہترین نظام معین فرمایا ۔آپ اس سلسلہ میں یوں فرماتے ہیں :

۱۔''تین عا دتوں سے دل موہ لئے جاتے ہیں :معاشرے میں انصاف ،مصیبت میں ہمدردی ، پریشا ن حالی میں تسلّی'' ۔(۲)

۲۔''جس شخص میں تین باتیں ہو ں گی وہ شرمندہ نہیں ہوگا :جلد بازی سے کام نہ لینا ،مشورہ کرنا ، عزم کے وقت اللہ پر بھروسہ کرنا ،جوشخص اپنے بھا ئی کو پوشیدہ طور پر نصیحت کرے وہ اس کا محسن ہے اور جو علانیہ طور پر اس کو نصیحت کر ے گویا اُس نے اس کے ساتھ برا ئی کی ہے ''۔(۳)

۳۔''مو من کے اعمال نامہ کی ابتدا میں اس کا حسن اخلاق تحریر ہو گا ،سعادتمند کے اعمال نامہ کے شروع میں اس کی مدح و ثنا تحریر ہو گی ،روایت کی زینت شکر ،علم کی زینت انکساری ،عقل کی زینت حسن ادب ہے ، خوبصورتی کا پتہ کلام کے ذریعہ چلتا ہے اور کمال کا پتہ عقل کے ذریعہ چلتا ہے ''۔(۴)

امام کے یہ کلمات حکمت ،قواعد اخلاق اور آداب کے اصول پر مشتمل ہیں ،اگر کسی شخص کے پاس

____________________

۱۔در تنظیم صفحہ ۲۲۳۔الاتحاف بحب الاشراف ،صفحہ ۷۷۔

۲۔جوہرة الکلام ،صفحہ ۱۵۰۔

۳۔الاتحاف بحب الاشراف، صفحہ ۷۸۔

۴۔ایضاً


صرف یہی کلمات ہوں تو آپ کی امامت پر استدلال کرنے کیلئے کافی ہیں ، ایک کمسن اپنی عمرکے ابتدائی دور میں کیسے ایسی دا ئمی حکمتیں بیان کرنے پر قادر ہو گیا جن کا بڑے بڑے علماء مثل لانے سے عاجز ہیں ؟

آپ کے مو عظے

ہم ذیل میں آپ کے بعض مو عظے بیان کر رہے ہیں :

۱۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام فر ماتے ہیں :''توبہ میں تاخیر کرنا دھوکہ ہے ،اور توبہ کرنے میں بہت زیادہ دیرکرنا حیرت و سرگردانی کا سبب ہے ،خدا سے ٹال مٹول کرنا ہلاکت ہے اور بار بار گناہ کرنا تدبیر خدا سے ایمن ہونا ہے ،خداوند عالم کا فرمان ہے: ( لا یَاْمَنُ مَکْرَ اﷲِ إلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ ) (۱) ''۔(۲)

''مکر خدا سے صرف گھاٹا اٹھانے والے ہی بے خوف ہوتے ہیں ''

۲۔ایک شخص نے آپ سے عرض کیا :مجھے کچھ نصیحت فرما دیجئے تو آپ نے اس کو یہ بیش بہا نصیحت فرمائی :''صبر کو تکیہ بنائو ،غریبی کو گلے لگائو ،خواہشات کو چھوڑ دو ،ہویٰ و ہوس کی مخالفت کرو ،یاد رکھو تم خدا کی نگاہ سے نہیں بچ سکتے، لہٰذا غور کرو کس طرح زند گی بسر کرنا ہے ''۔(۳)

۳۔حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے اپنے بعض اولیا کو وعظ و نصیحت پر مشتمل یہ گرانبہا خط تحریر فرمایا : ''ہم اس دنیا سے چلو بھر پانی لیتے ہیں لیکن جس شخص کی خواہش اپنے دوست کی طرح ہو اور وہ اس کی روش کے مطابق چلتا ہو تو وہ ہر جگہ اس کے ساتھ ہوگا جبکہ آخرت چین و سکون کا گھر ہے ''۔(۴)

آپ کے یہ وہ مو عظے اور ارشادات ہیں جو انسان کو اس کے رب سے نزدیک کرتے ہیں اور اس کے عذاب و عقاب سے دور کرتے ہیں ،انسان کے نفس میں اُبھرنے والے برے صفات کا اتباع کر نے سے ڈراتے ہیں ،یہ برے صفات انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں ،انسان کو رذائل اور جرائم کے میدانوں میں گامزن کر دیتے ہیں ،امام محمد تقی نے اپنے وعظ و ارشادات میں اپنے آباء و اجداد کا اتباع فرمایا

____________________

۱۔سورئہ اعراف، آیت ۹۹۔

۲۔تحف العقول ،صفحہ ۴۵۶۔

۳۔تحف العقول ،صفحہ ۴۵۶۔

۴۔تحف العقول ،صفحہ ۴۵۶۔


ہے ،یہ وہ تابناک نصائح ہیں جن کا ہم اُن کی سیرت و سوانح حیات میں مطالعہ کرتے ہیں ۔

مامون کا امام سے مسئلہ کی وضاحت طلب کرنا

مامون نے امام محمد تقی سے اس مسئلہ کی وضاحت طلب کی جو آپ نے یحییٰ بن اکثم سے پوچھا تھا ، تو آپ نے یوں وضاحت فرما ئی :

''اگر حالت ِ احرام میں حدود حرم سے باہر شکا رکیا ہے اور شکار پرندہ ہے اور بڑا بھی ہے تو اس کا کفارہ ایک بکری ہے ،اگر یہی شکار حدود حرم کے اندر ہوا ہے تو کفارہ دُوگنا (یعنی دو بکریاں)، اگر پرندہ چھوٹا تھا تو دنبہ کا وہ بچہ جو ماں کا دودھ چھوڑ چکا ہو ،اگر یہ شکار حرم میں ہوا ہے تو اُس پرندہ کی قیمت اور ایک دنبہ ،اگر شکار وحشی گدھا ہے تو کفارہ ایک گائے اوراگر شکار شتر مُر غ ہے تو کفارہ ایک اونٹ ہے اگرشکاری کفارہ دینے پر قادر نہیں ہے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور اگر اس پر بھی قادر نہیں ہے اٹھارہ دن روزے رکھے ، اگر اس نے گائے کا شکار کیا ہے تو اس کا کفارہ بھی ایک گا ئے ہے اگر اس کفارہ کو دینے پر قادر نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہو تو نو دن کے ر وزے رکھے ،اگر شکار ہر ن ہے تو اس کا کفارہ ایک بکری ہے اگر وہ اس کفارہ کو دینے پر قادر نہ ہو تو دس مسکینوں کو کھانا کھلائے اگر یہ بھی نہ دے سکے تو تین دن کے روزے رکھے ،یہ شکار اگر حدود حرم میں ہوا ہے تو کفارہ دوگُنا ہوگا :(ھدْیاًبالغ الکعبةِ)اگر احرام حج کا ہے تو قربانی منیٰ میں کرے گا جس طرح دوسرے حا جی کرتے ہیں اور اگر احرام عمرہ کا ہے تو کفارات کو خانہ ٔ کعبہ تک پہنچانا ہوگا اور قربانی مکہ میں ہو گی ،اور بکری کی قیمت کے مانند صدقہ دینا ہوگا ۔

اگر اس نے حرم کے کسی کبوتر کا شکار کیا ہے تو وہ ایک درہم صدقہ دے گا اور ایک درہم سے حرم کے کبوتروں کے لئے چارا خریدے گا ،بچہ کا شکار کرے تو آدھا درہم صدقہ دے گا اور اگر بیضہ توڑدے تو ایک چوتھا ئی درہم صدقہ دے گا ،محرم کو ہر حال میں کفارہ ادا کرنا ہوگا چاہے وہ جان بوجھ کر شکار کرے یا بھول کر شکار کرے ،چاہے وہ اس مسئلہ سے واقف ہو یا ناواقف ،غلام کا کفارہ مالک کو ادا کرنا ہوگا چونکہ غلام خود بھی مالک کی ایک ملکیت ہی شمار ہوتا ہے ،اگر حالت احرام میں شکار کا پیچھا کرے اور شکار مرجائے تو اس کو فدیہ دینا ہوگا ،اگر اپنے اس فعل پر اصرار کرے گا تو اُس پر آخرت میں بھی عذاب ہوگا اور اگر اپنے اس فعل پر پشیمان و شرمندہ ہوگا تو وہ آخرت کے عذاب سے بچ جا ئے گا ،اگر وہ رات میں غلطی سے اس کا گھونسلا خراب کردے تو اُس کو کچھ نہیں دینا ہوگا جب تک کہ وہ شکار نہ کرے ،اگر وہ رات یا دن میں اس کا شکار کرلے تو فدیہ دینا ہوگا ،اوراگر احرام حج کا ہے تو فدیہ کو مکہ پہنچانا ہوگا ۔۔۔''۔


مامون نے اس مسئلہ کو لکھنے کا حکم دیا اس کے بعد عباسیوں سے مخاطب ہو کر یوں گو یا ہوا :کیا تم میں کو ئی اس مسئلہ کا جواب دے سکتا ہے ؟

نہیں ،خدا کی قسم قاضی بھی اس کا جواب نہیں دے سکتا ۔

اے امیر المو منین! آپ بہترجانتے ہیں ۔۔۔

آگاہ ہوجائو کیا تم نہیں جانتے کہ اہل بیت عام مخلوق نہیں ہیں ؟رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی بچپن میں ہی بیعت کی ہے اور ان دونوں بچوں کے علاوہ کسی اور کی بیعت نہیں کی ہے، کیا تمھیں نہیں معلوم کہ حضرت علی نو سال کے سن میں رسول اللہ پر ایمان لائے ،اور اللہ و رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ان کا ایمان قبول کیا اور ان کے علاوہ کسی اور بچہ کا ایمان قبول نہیں کیا ؟ نہ ہی رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ نے آپ کے علاوہ کسی اور بچہ کو دعوت دی ،اور کیا تمھیں نہیں معلوم کہ اس ذریت میں جو حکم پہلے پر نافذ ہوگا وہی حکم آخری پر نافذ ہو گا ۔(۱)

مامون ایمان لے آیاکہ ائمہ اہل بیت کا اسلام میں بہت ہی بلند وبالا مقام ہے اور اُن کے چھوٹے بڑے فضیلت میں برابر ہیں ۔

یہ بات بھی شایانِ ذکر ہے کہ جب امام محمد تقی بغداد میں تھے تو علماء اور راوی آپ کے مختلف علوم فقہ، کلام ،فلسفہ ، قرآن کریم کی تفسیر اور علم اصو ل وغیرہ پر مشتمل دوروس تحریر کیا کر تے تھے ۔(۲)

اما م محمد تقی علیہ السلام کے پایۂ علمی ،مناظرہ اور دیگر علمی اور فکری کارنامے آپ کی نوجوانی کے ہیں شیعو ں کا اس بات پر مطلق ایمان ہے کہ ائمہ اہل بیت کو اللہ نے علم و حکمت اور فصل خطاب عطا کیا ہے اور ان کو وہ فضیلت عطاکی ہے جو دنیا میں کسی کو بھی نہیں عطا کی ہے ۔۔۔

ہم نے امام محمد تقی کے علوم، حکمتیں اور آداب کی اپنی کتاب (حیاةالامام محمد تقی) میں مکمل طورپر تشریح کی ہے ۔

____________________

۱۔تحف العقول ،صفحہ ۴۵۲۔وسائل الشیعہ ،جلد ۹ صفحہ ۱۸۸۔یہ مکالمہ ارشاد، صفحہ ۳۱۲میں مختصر طور پر نقل ہوا ہے ۔

۲۔ اس سلسلہ میں رجوع کیجئے: عقیدة الشیعہ ،صفحہ ۲۰۰،حیاةالامام محمد تقی ، صفحہ ۲۵۷۔


امام کا قتل

حضرت امام محمد تقی کی وفات فطری طورپر نہیں ہو ئی بلکہ آپ کو اس معتصم عباسی نے زہر دغا سے شہید کیا ،جس کے دل میں امام محمد تقی سے بغض کینہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔جب وہ مسلمانوں سے امام محمد تقی کے فضائل سنتاتھا تو اس کے نتھنے پھول جاتے تھے، اس نے اپنا حسد اس ظلم کے ار تکاب سے کیا، امام محمد تقی کو شہید کر نے کا ایک دوسرا سبب ابو دائود کی شکایت بتایا جاتا ہے ،جب ایک فقہی مسئلہ میں معتصم نے امام محمد تقی کا حکم تسلیم کیا اور بقیہ فقہا ء کی رائے تسلیم نہیں کی اوروہ مسئلہ یہ تھا کہ ایک چور نے بذات خود اپنی چوری کا اقرار کیا ،معتصم نے اس پر حد جاری کر کے معاشر ہ کو پاک کرنا چاہا، اس نے فقہا اور امام محمد تقی کو اپنے دربار میں بلاکر ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا تو ابو دائود سحبتانی نے کہا : تیمم کے سلسلہ میںخدا کے اس فرمان : (فامسحوا بوجوھکم وَاَید یکم)(۱) کے مطابق اس کا گٹے سے ہاتھ کاٹ دیا جائے ۔ دوسرے فقہاء نے کہا چور کا کہنی سے ہاتھ کا ٹنا واجب ہے جس کی دلیل اللہ کا یہ فرمان :( وایدیکم الی المرافق ) ہے ۔(۲) معتصم نے امام محمد تقی کی طر متوجہ ہو کر کہا :اے ابو جعفر آپ کا اس بارے میں کیا فرمان ہے ؟

'' قوم کے علما ء اس مسئلہ میں گفتگو کر چکے ہیں ''۔

جو کچھ انھوں نے کہا ہے اسکی وجہ سے مجھے میرے ہی حال پر رہنے دیجئے۔۔۔ معتصم نے امام محمدتقی کو خدا کی قسم دے کر کہا آپ اس مسئلہ کے بارے میںجو کچھ جانتے ہیں بیان کیجئے ۔

''جب تو نے مجھے خدا کی قسم دیدی ہے تو میں بھی تجھے بتاتا ہوں ان سب نے سنت میں غلطی کی ہے چور کے ہاتھ کی چاروں انگلیا ں کاٹ دیجئے اور ہتھیلی کو چھوڑ دیجئے ''۔

معتصم نے کہا :کیوں ؟

امام نے فرمایا: کیونکہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں اعضا ء سجدہ سات ہیں، پیشانی دونوں ہاتھوںکی ہتھیلیاں دونوں گھٹنے اور دونوں پیر اگر اس کا ہاتھ گٹے سے یا کہنی سے کا ٹ دیا جائے گاتو اس کے

____________________

۱۔سورئہ نساء ،آیت ۴۳۔

۲۔ سورئہ مائدہ ،آیت ۶۔


سجدہ کر نے کیلئے ہاتھ ہی نہیں رہے گا اور خدا فر ما تا ہے:(وَاَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰہِ) ،(۱) یعنی یہی سات اعضاء جن پر سجدہ کیا جاتا ہے اللہ کیلئے ہیں ۔۔۔اور جو چیز اللہ کیلئے ہو تی ہے اسے قطع نہیں کیا جاتا ہے۔

امام محمد تقی کے فتوے اور استد لال سے معتصم ہکا بکارہ گیا اس نے چو ر کی ہتھیلی کو چھو ڑکر بقیہ انگلیاں کاٹنے کا حکم دیدیا اور بقیہ فقہاء کی رائے تسلیم نہیں کی ابو دائو د غیظ و غضب میں بھر گیا، اس نے تین دن کے بعد معتصم سے آکر کہا :مجھ پر امیر المو منین کو نصیحت کر نا واجب ہے اور میں ایسی بات کر تا ہو ں جسکے ذریعہ مجھے معلوم ہے کہ جہنم میں جا ئو نگا۔

معتصم نے جلدی سے کہا :وہ کیا ہے ؟

امیر المومنین نے ایک مجلس میں اپنی رعیت کے تمام فقہاء اورعلماء کو جمع کیا اور ان سے دینی امر کے متعلق سوال کیا تو وہ اس مسئلہ کے بارے میں جو کچھ جانتے تھے انھوں نے اس کو بتایا ،اس مجلس میں اس کے اہل بیت وزیر وزرا اور نامہ نگار موجود تھے اور دروازہ کے پیچھے سے لوگ اس کی بات سن رہے تھے پھر اس نے ایک شخص کی وجہ سے تمام فقہا کی بات رد کر تے ہو ئے اس کا قول قبول کر لیا جس کو اس امت کا امام بتایا جا تا ہے اور یہ ادعاکیاجاتا ہے کہ ان کامقام ومنصب سب سے اولیٰ ہے پھر امیر فقہاء کے حکم کو چھوڑتے ہوئے اسی امام کے حکم کو نافذ کرتا ہے ؟

معتصم کا رنگ متغیر ہوگیا ،اس نے اس کی بات کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا:خداتجھے اس نصیحت کے عوض خیر عطا کرے۔(۲)

معتصم بادشاہوں کونصیحت کرنے والے اسی نام نہادفقیہ کو امام کو قتل کرنے کیلئے بھیجا،وائے ہواس پر جو عظیم گناہ کامرتکب ہوااوران ائمہ اہل بیت میںسے ایک امام کوقتل کرنے میں شریک ہواجن کی محبت کواللہ نے ہرمسلمان مرداورعورت پرواجب قراردیاہے۔

راویوں میں اس شخص کے بارے میں اختلاف پایاجاتاہے جس کو معتصم نے امام کو قتل کرنے کیلئے

____________________

۱۔سورئہ جن، آیت ۱۸۔

۲۔تفسیر عیاشی ،جلد ۱،صفحہ ۳۱۹۔برہان جلد ۱،صفحہ ۴۷۱۔بحارالانوار ،جلد ۱۲، صفحہ ۹۹۔وسا ئل الشیعہ ،جلد ۱۸،صفحہ ۴۹۰۔حیاةالامام محمد تقی ، صفحہ ۲۷۰۔


بھیجاتھا۔بعض راویوںنے نقل کیاہے کہ اس نے اپنے بعض زیروں کے بعض کاتبوں کو امام کے قتل کرنے کے لئے روانہ کیاتھا۔ایک کاتب نے امام کی اپنے گھر میں زیارت کی غرض سے دعوت کی تو امام نے انکارفرمادیا،لیکن جب اس نے بہت زیادہ اصرارکیااور امام کے پاس اس کی دعوت قبول کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیںرہ گیا۔امام اس کے گھر تشریف لے گئے جب کھانا تناول کیاتو آپ نے زہر کا احساس کیا آپ اپنی سواری پر سوارہوکراس کے گھرسے نکل آئے،(۱) دوسرے راویوںنے یوںبیان کیاہے کہ معتصم نے امام کی زوجہ اور اپنی بھتیجی ام الفضل کو بہکایاکہ اگر وہ امام کوزہر دیدے گی تومیںاس کواتنامال دونگا۔(۲)

بہرحال زہراپناکام کرگیا۔امام کوسخت تکلیف ہونے لگی،آنتیں کٹ گئیں،عباسی حکومت کے عہدیداروںنے صبح کے وقت بیماری کی وجہ معلوم کرنے کی غرض سے احمد بن عیسیٰ کو بھیجا(۳) موت امام کے قریب ہورہی تھی حالانکہ ابھی آپ نے عنفوان شباب میں ہی قدم رکھاتھا۔جب آپ کو بالکل موت کے قریب ہونے کایقین ہوگیاتوآپ نے قرآن کریم کے سوروںکی تلاوت کرنا شروع کردیا اور آخری دم تک تلاوت کرتے رہے،آپ کی موت سے دنیائے اسلام کے قائدوامام کا نور ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا۔

امام کی موت سے رسالت اسلامیہ کاوہ صفحہ بند ہوگیا جس نے فکرکوروشنی بخشی اور علم وفضل کی زمین کوبلندی عطا کرکے اسے منورکیا۔

آپ کی تجہیزوتکفین

امام محمدتقی کو غسل وکفن دیاگیااوریہ تمام امورامام علی نقی علیہ السلام نے انجام دئے نماز جنازہ پڑھائی(۴) اس کے بعدآپ کے جنازہ کو بڑی ہی شان وشوکت سے قریش کے مقبرہ تک لایاگیاآپ کے جنازہ میں جم غفیرنے شرکت کی جس میںوزراء ،کُتّاب اورعباسی وعلوی خاندان کے بڑے بڑے عہدیدار

____________________

۱۔تفسیر عیاشی، جلد ۱،صفحہ ۳۲۰۔بحارالانوار ،جلد ۱۲، صفحہ ۹۹۔برہان ،جلد ۱،صفحہ ۴۷۱۔

۲۔نزہة الجلیس ،جلد ۲،صفحہ ۱۱۱۔مناقب، جلد ۴،صفحہ ۳۹۱۔

۳۔ارشاد، صفحہ ۳۶۹۔

۴۔نورالابصار، مؤلف مازندرانی صفحہ ۲۷۶۔منتہی الآمالِ قمی ،جلد ۲،صفحہ ۴۵۲۔مرآة الجنان، جلد ۲،صفحہ ۸۱میں آیا ہے کہ واثق ابن معتصم نے بھی نماز جنازہ ادا کی ۔اور نزہة المجلس ،جلد ۲،صفحہ ۱۱۱میں آیا ہے کہ واثق اور معتصم نے جلدی سے آگے بڑھ کر نماز جنازہ پڑھی ۔


پیش پیش تھے ،وہ بڑے حزن والم سے کہہ رہے تھے کہ عالم اسلام خسارہ میں ہے ۔

آپ کاجسداطہر مقابرقریش تک پہنچااورآپ کے جدبزرگوارامام موسیٰ بن جعفر کی قبر مطہرکے پہلومیںدفن کردیاگیاآپ کے ساتھ ہی انسانی اقدار کاقوام اوربلندوبالااسوہ حسنہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔

امام کی عمر

آپ کی عمر ۲۵ برس تھی،آپ سن کے اعتبار سے تمام ائمہ میں سب سے کم عمر تھے ، اور آپ نے اپنی یہ چھوٹی سی عمر لوگوں کے درمیان علم وفضل اور ایمان کو نشرکرنے میں صرف کردی۔


حضر ت ا ما م علی نقی علیہ ا لسلا م

امام علی نقی ائمہ ہدیٰ کی دسویںکڑی ہیں آپ کنوز اسلام اور تقوی وایمان کے ستاروں میں سے ہیں ،آپ نے طاغوتی عباسی حکمرانوںکے سامنے حق کی آوازبلندکی،اورآپ نے اپنی زندگی کے ایک لمحہ میں بھی ایسی مادیت قبول نہیںکی جس کاحق سے اتصال نہ ہو،آپ نے ہرچیزمیں اللہ کی اطاعت کی نشاندہی کرائی۔۔۔ہم ذیل میں آپ کے بارے میں مختصر طورپرکچھ بیان کر رہے ہیں:

ولادت باسعادت

اس مولود مبارک سے دنیاروشن ومنور ہوگئی،آپ مقام بصریا(۱) میںپیداہوئے، امام محمد تقی نے اس مولود مبارک کی ولادت با سعادت پرتمام شرعی رسومات انجام دلوائیں،داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی اور ائمہ ہدیٰ کی اتباع کرتے ہوئے عقیقہ میں گوسفند ذبح کیا۔

آپ کی ولادت باسعادت ۲۷ ذی الحجہ ۲۱۲ ھ میں ہوئی۔

اسم گرامی

حضرت امام محمد تقی نے تبرکاً آپ کا اسم مبارک اپنے جدبزرگوارامیرالمومنین علی کے نام پر علی رکھا،چونکہ آپ فصاحت وبلاغت،جہاداوراللہ کی راہ میں مصائب برداشت کرنے میںاُن (امام علی)کے مشابہ تھے اورآپ کی کنیت ابوالحسن رکھی،جس طرح آپ کے کریم القاب مرتضیٰ،عالم اور فقیہ وغیرہ ہیں ۔

____________________

۱۔ بصریاوہ دیہات ہے جس کو امام موسیٰ بن جعفر نے بسایا تھا جو مدینہ سے تین میل دور ہے ۔


آپ کی پرورش

امام علی نقی نے اس خا ندان میں پرورش پائی جو لو گو ں کے ما بین ممتاز حیثیت کا حا مل تھا ان کا سلوک منور و روشن اور ان کے آداب بلندو با لا تھے، ان کا چھو ٹا بڑے کی عزت اور بڑا چھو ٹے کا احترا م کر تا تھا ،مو رخین کے نقل کے مطابق اس خاندان کے آداب یہ ہیں: حضرت امام حسین اپنے بھا ئی امام حسن کی جلالت اورتعظیم کی خا طران کے سا منے کلا م نہیں کر تے تھے، روا یت کی گئی ہے کہ امام زین العابدین سید السا جدین اپنی تر بیت کر نے وا لیوں کے سا تھ ان کے التماس کر نے کے با وجود کھا نا نوش نہیں فر ما تے تھے اور ان کو اس با ت کے ڈر سے منع کر دیتے تھے کہ کہیں میری نظر اس کھا نے پر نہ پڑجا ئے جس پر مجھ سے پہلے ان کی نظر پڑگئی ہو تو اس طرح اُ ن کے نا فر ما ن قرارپا ئیں گے دنیا میں وہ کو نسا ادب ان آداب کے مشا بہ ہو سکتا ہے جو انبیا ء کے آدا ب ان کے بلندو بالا سلوک اور ان کے بلند اخلا ق کی حکا یت کر رہا ہے ؟

امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے والد بزر گوار حضرت امام محمد تقی کے زیر سایہ پر ور ش پائی جو فضا ئل و آداب کی کائنات تھے، آپ ہی نے اپنے فر زند پر اپنی رو ح اخلا ق اور آداب کی شعا عیں ڈالیں ۔

بچپن میں علم لدنی کے ما لک آپ کی غیرمعمولی استعداد

حضرت امام علی نقی علیہ السلام اپنے عہد طفولیت میں بڑے ذہین اور ایسے عظیم الشان تھے جس سے عقلیں حیران رہ جا تی ہیں یہ آپ کی ذکا وت کا ہی اثر تھا کہ معتصم عبا سی نے امام محمد تقی کو شہیدکر نے کے بعد عمر بن فر ج سے کہا کہ وہ امام علی نقی جن کی عمر ابھی چھ سا ل اور کچھ مہینے کی تھی ان کے لئے ایک معلم کا انتظام کر کے یثرب بھیج دے اس کو حکم دیا کہ وہ معلم اہل بیت سے نہا یت درجہ کا دشمن ہو، اس کو یہ گمان تھا کہ وہ معلم امام علی نقی کو اہل بیت سے دشمنی کر نے کی تعلیم دے گا ،لیکن اس کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ائمہ طا ہر ین بندوں کے لئے خدا کاتحفہ ہیںجن کواس نے ہرطرح کے رجس و پلیدی سے پاک قراردیا ہے ۔

جب عمر بن فر ج یثر ب پہنچا اس نے وہاں کے وا لی سے ملا قا ت کی اور اس کو اپنا مقصد بتایا تو اس نے اس کا م کیلئے جنیدی کا تعا ر ف کر ا یا چو نکہ وہ علوی سا دات سے بہت زیا دہ بغض و کینہ اور عدا وت رکھتا تھا ۔ اس کے پاس نمائندہ بھیجا گیاجس نے معتصم کا حکم پہنچا یا تو اس نے یہ با ت قبول کر لی اور اس کے لئے حکومت کی طر ف سے تنخواہ معین کر دی گئی اور جنیدی کو اس امر کی ہدا یت دیدی گئی کہ ان کے پاس شیعہ نہ آنے پائیں اور ان سے کو ئی را بطہ نہ کر پا ئیں، وہ امام علی نقی کو تعلیم دینے کے لئے گیا لیکن امام کی ذکا وت سے وہ ہکا بکا رہ گیا ۔ محمد بن جعفر نے ایک مر تبہ جنیدی سے سوال کیا : اس بچہ (یعنی امام علی نقی)کا کیا حا ل ہے جس کو تم ادب سکھا ر ہے ہو ؟


جنیدی نے اس کا انکار کیااور امام کے اپنے سے بزر گ و بر تر ہو نے کے سلسلہ میں یوں گو یا ہو ا: کیا تم ان کو بچہ کہہ رہے ہو !!اور ان کو سردار نہیں سمجھ ر ہے ہو، خدا تمہا ری ہدا یت کر ے کیا تم مدینہ میں کسی ایسے آدمی کو پہچا نتے ہو جو مجھ سے زیا دہ ادب و علم رکھتا ہو ؟

اس نے جوا ب دیا :نہیں

سنو !خدا کی قسم جب میں اپنی پوری کو شش کے بعد ان کے سا منے ادب کا کو ئی با ب پیش کرتا ہوں تو وہ اس کے متعلق ایسے ابواب کھول دیتے ہیں جن سے میں مستفید ہوتا ہوں ۔ لوگ یہ گمان کر تے ہیں کہ میں ان کو تعلیم دے رہا ہوں لیکن خدا کی قسم میں خود ان سے تعلیم حا صل کر ر ہا ہو ں ۔

زما نہ گذر تا رہا، ایک روز محمد بن جعفر نے جنیدی سے ملا قا ت کی اور اس سے کہا :اس بچہ کا کیا حا ل ہے ؟

اس با ت سے اس نے پھر نا پسندیدگی کا اظہار کیا اور امام کی عظمت کا اظہا رکر تے ہو ئے کہا :کیا تم اس کو بچہ کہتے ہو اور بزر گ نہیں کہتے جنیدی نے انھیںایسا کہنے سے منع کر تے ہوئے اس سے کہا : ایسی بات نہ کہو خدا کی قسم وہ اہل زمین میں سب سے بہتراور خدا کی مخلوق میں سب سے بہترہیں،میں نے بسا اوقات ان کے حجرے میں حاضرہوکران کی خدمت میں عرض کیا!یہاں تک کہ میںان کوایک سورہ پڑھاتا تو وہ مجھ سے فرماتے :''تم مجھ سے کون سے سورہ کی تلاوت کرانا چاہتے ہو؟''،تومیں ان کے سامنے ان بڑے بڑے سوروںکاتذکرہ کرتاجن کوانھوںنے ابھی تک پڑھا بھی نہیں تھاتو آپ جلدی سے اس سورہ کی ایسی صحیح تلاوت کرتے جس کو میںنے اس سے پہلے نہیں سناتھا،آپ دائودکے لحن سے بھی زیادہ اچھی آواز میں اس کی تلاوت فرماتے ،آپ قرآن کریم کے آغاز سے لے کر انتہا تک کے حافظ تھے یاآپ کوسارا قرآن حفظ تھااورآپ اس کی تاویل اور تنزیل سے بھی واقف تھے ۔


جنیدی نے مزیدیوںکہا:اس بچہ نے مدینہ میں کالی دیوارروںکے مابین پرورش پائی ہے اس علم کبیر کی ان کوکون تعلیم دے گا؟اے خدائے پاک وپاکیزہ ومنزہ!!جنیدی نے اہل بیت کے متعلق اپنے دل سے بغض وکینہ وحسد وعدوات کونکال کرپھینک دیااوران کی محبت وولایت کادم بھرنے لگا۔(۱)

اس چیزکی اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں بیان کی جاسکتی کہ مذہب تشیع کاکہنا ہے کہ خدا نے ائمہ طاہرین کوعلم وحکمت سے آراستہ کیااوران کو وہ فضیلت وبزرگی عطاکی جودنیامیںکسی کونہیں دی ہے۔

علویوںکاآپ کی تعظیم کرنا

امام علی نقی علوی سادات کی تعظیم وتکریم کے احاطہ میں رہے ،انھوں نے ہی آپ کے بلند مرتبہ کو پہچانا،آپ کوواجب الطاعةامام تسلیم کیاہے (یعنی جن کی اطاعت کرناواجب قراردیاگیاہے) راویوںنے امام موسیٰ بن جعفر کے فرزندزیدسے روایت کی ہے، آپ چھوٹے سے سن میں ہی بہت بڑے تیرانداز تھے، زید امام کے نگہبان عمربن فرج سے اجازت لے کرامام سے ملاقات کرنے کیلئے جاتے ،وہ ان کو اجازت دیتا تو داخل ہوتے اورامام کے سامنے بڑی ہی تعظیم وتکریم کے ساتھ ادب سے بیٹھتے ،ایک مرتبہ جب آپ امام سے ملاقات کیلئے گئے تو امام تشریف نہیںرکھتے تھے توآپ(زید) خودمجلس کی صدارت کرنے لگے،جب امام علی نقی تشریف لائے توزیداپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے اوران کواپنی جگہ بٹھایااورامام علی نقی کاچھوٹاسن ہونے کے باوجودآپ ان کے سامنے بڑے ہی ادب واحترام کے ساتھ بیٹھ گئے ،گویاکہ آپ (زید)امام کی عظمت اور امام کے واجب الطاعةہونے کے معترف تھے۔(۲)

حضرت امام علی نقی کی تعظیم صرف علوی سادات ہی نہیںکرتے تھے بلکہ ہرطبقہ کاشخص آپ کی تعظیم وتکریم کرتا تھا ،محمد بن حسن اشترسے روایت ہے:میں اپنے والدبزرگوارکے ساتھ لوگوںکے مجمع میں متوکل کے دروازے پرتھاحالانکہ مجمع میں طالبی،عباسی اورجعفری خاندان کے افراد تھے ،ہم لوگ کھڑے ہی تھے کہ اتنے میںابوالحسن تشریف لائے تومجمع آپ کی عزت وجلالت کی وجہ سے ہٹ گیا ،یہاںتک کہ آپ محل میںداخل ہوگئے ۔بعض بغض وکینہ رکھنے والوں نے کہا:اس بچہ کو کیوںراستہ دے رہے ہو؟وہ ہم سے اشرف اور سن میں ہم سے بڑانہیںہے،خداکی قسم جب یہ باہر نکلیںگے تو ہم ان کوراستہ نہیںدیںگے۔۔۔

____________________

۱۔حیاةالامام علی نقی ، صفحہ۲۴۔۲۶۔

۲۔حیاة الامام علی نقی ، صفحہ۲۶۔


مومن ابوہاشم جعفری نے یوںجواب دیا:خداکی قسم تم ان کے سامنے ذلت و حقارت سے پا برہنہ چلوگے ۔

جب امام محل سے باہرتشریف لائے تولوگوںکی تکبیروتہلیل کی آوازیںبلندہوئیںاور سب نے آپ کااحترام واکرام کیا،ابوہاشم نے مجمع کی طرف متوجہ ہوکرکہا:کیاتم یہ سوچتے ہوکہ ان کا کوئی احترام نہیں کرے گا؟

وہ امام کی بناء پر اپنی حیرت وپسندیدگی کوقابومیںنہ رکھ سکے اورکہنے لگے :خداکی قسم ہم بے قابوہوکرپیادہ ہوگئے ۔(۱)

اسی طرح امام کی شخصیت نے لوگوںکے قلوب کوتعظیم کے لئے بھردیاتھا،آپ کی جلالت وبزرگی کاجھک کر استقبال کرتے تھے ،آپ کی یہ ہیبت کسی ملک وسلطنت کی وجہ سے نہیںتھی بلکہ یہ اللہ کی اطاعت اور دنیامیںاس کازہدوتقویٰ اختیارکرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی ،یہ آپ کی اس عظیم ہیبت کاہی نتیجہ تھاکہ جب آپ سرکش وباغی متوکل کے محل میں داخل ہوتے تھے تومحل کاہرآدمی آپ کی جلالت وبزرگی کی تعظیم کرتے ہوئے آپ کی خدمت کرنے کے لئے کھڑاہوجاتا وہ آپ کی خاطرپردے ہٹانے ،دروازے کھولنے اور اس طرح کے دوسرے محترمانہ امورانجام دینے میں ایک دوسرے پرسبقت کرتے تھے۔(۲)

آپ کاجودوکرم

حضرت امام محمد تقی کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ آپ لوگوںمیںسب سے زیادہ سخی اورسب سے نیکی و احسان کرنے والے تھے۔آپ کے جودوکرم کے بعض واقعات ذیل میںدرج کئے جاتے ہیں:

۱۔اسحاق جلّاب سے روایت ہے:میں نے یوم الترویہ (۸ ذی الحجہ)امام علی نقی کے لئے بہت زیادہ گوسفندخریدلے جن کوآپ نے تمام دوستوںواحباب(۳) میں تقسیم فرمادیا۔شیعوںکے بزرگ

____________________

۱۔بحارالانوار، جلد ۱۳، صفحہ ۱۳۱۔ اعیان الشیعہ ،جلد ۴ ،صفحہ ۲۷۵،دوسرا حصہ ۔

۲۔بحارالانوار ،جلد ۱۳، صفحہ ۱۲۹۔

۳۔حیاةالامام علی نقی ،صفحہ ۲۴۳۔


افراد کی جماعت کاایک وفدآپ کے پاس پہنچاجس میں ابوعمروعثمان بن سعید، احمد بن اسحاق اشعری اور علی بن جعفر ہمدانی تھے ،احمد بن اسحق نے آپ سے اپنے مقروض ہونے کے متعلق عرض کیا توآپ نے اپنے وکیل عمروسے فرمایا:''ان کواورعلی بن جعفر کوتین تین ہزاردیناردیدو''،آپ کے وکیل نے یہ مبلغ ان دونوں کوعطاکردی۔

ابن شہرآشوب نے اس علوی کرامت بیان پر یہ حاشیہ لگایا:(یہ وہ معجزہ ہے جس پر بادشاہوں کے علاوہ اور کوئی قادر نہیں ہوسکتا اور ہم نے اس طرح کی عطا وبخشش کے مثل کسی سے نہیں سنا ہے ۔(۱)

امام نے ان بزرگ افراد پر اس طرح کی بہت زیادہ جودوبخشش کی اور انہیں عیش وعشرت میں رکھااور یہ فطری بات ہے کہ بہترین بخشش کسی نعمت کا باقی رکھناہے ۔

۲۔ابوہاشم نے امام سے اپنی روزی کی تنگی کا شکوہ کیا اور امام نے آپ پر گذرنے والے فاقوںکا مشاہدہ فرمایاتوآپ نے اس کے رنج وغم کودورکرنے کیلئے اس سے فرمایا!''اے ابوہاشم! تم خودپر خدا کی کس نعمت کاشکریہ اداکرناچاہتے ہو؟اللہ نے تجھے ایمان کارزق دیااوراس کے ذریعہ تیرے بدن کوجہنم کی آگ پرحرام قراردیا،اس نے تجھے عافیت کارزق عطاکیاجس نے اللہ کی اطاعت کرنے پرتیری مددکی اور تجھے قناعت کارزق عطاکیاجس نے تجھے اصراف سے بچایا''۔

پھر آپ نے اس کو سو درہم دینے کا حکم صادر فرمایا۔(۲)

امام علی نقی نے لوگوں کو جو نعمتیں دی ہیںیہ وہ بہت بڑی نعمتیں ہیںجو اللہ نے اپنے بندوں کوعطا کی ہیں ۔

امام کا اپنے مزرعہ (زراعت کرنے کی جگہ)میں کام کرنا

امام اپنے اہل و عیال کی معیشت کیلئے مزرعہ میں کام کر تے تھے ،علی بن حمزہ سے روایت ہے :

میں نے امام علی نقی کو مزرعہ میں کام کرتے دیکھا جبکہ آپ کے قدموں پر پسینہ آرہا تھا ۔میں نے آپ کی خدمت با برکت میں عرض کیا :میری جان آپ پر فدا ہو! کام کرنے والے کہاں ہیں ؟

____________________

۱۔المناقب، جلد۴، ص۴۴۱۔

۲۔امالی صدوق ،صفحہ ۴۹۸۔


امام نے بڑے ہی فخر سے اس کے اعتراض کی تنقید کر تے ہوئے یوں فرمایا: ''زمین پربیلچہ سے کام ان لوگوں نے بھی کیاجو مجھ سے اور میرے باپ سے بہتر تھے ؟''۔

وہ کون تھے ؟

''رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ،امیر المو منین اور میرے آباء سب نے اپنے ہاتھوں سے کام کیا ،یہ انبیاء مرسلین ،اوصیاء اور صالحین کا عمل ہے ''۔(۱)

ہم نے یہ واقعہ اپنی کتاب ''العمل و حقوق العامل فی الاسلام ''میں ذکر کیا ہے ۔اسی طرح ہم نے کام کی اہمیت پر دلالت کرنے والے دوسرے واقعات کا تذکرہ بھی کیا ہے اور یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ انبیاء اور صالحین کی سیرت ہے ۔

آپ کا زہد

حضرت امام علی نقی نے اپنی پوری زند گی میں زہد اختیار کیا ،اور دنیا کی کسی چیز کو کو ئی اہمیت نہیں دی مگر یہ کہ اس چیز کا حق سے رابطہ ہو ،آپ نے ہر چیز پر اللہ کی اطاعت کو ترجیح دی۔ راویوں کا کہنا ہے کہ مدینہ اور سامراء میں آپ کے مکان میں کو ئی چیز نہیں تھی ،متوکل کی پولس نے آپ کے مکان پر چھاپا مارا اور بہت ہی دقیق طور پر تلاشی لی لیکن ان کو دنیا کی زند گی کی طرف ما ئل کر نے والی کو ئی چیز نہیں ملی ،امام ایک کھلے ہوئے گھر میں بالوں کی ایک ردا پہنے ہوئے تھے ،اور آپ زمین پر بغیر فرش کے ریت اور کنکریوں پر تشریف فرما تھے ۔

سبط احمد جوزی کا کہنا ہے : بیشک امام علی نقی دنیا کی کسی چیز سے بھی رغبت نہیں رکھتے تھے ، آپ مسجد سے اس طرح وابستہ تھے جیسے اس کالازمہ ہوں ،جب آپ کے گھر کی تلاشی لی تو اس میں مصاحف ، دعائوں اور علمی کتابوں کے علاوہ اور کچھ نہیں پایا ۔

حضرت امام علی نقی اپنے جد امیرالمو منین کی طرح زندگی بسر کر تے تھے جو دنیا میں سب سے زیادہ زاہد تھے ،انھوں نے دنیا کو تین مرتبہ طلاق دی تھی جس کے بعد رجوع نہیں کیا جاتا ہے ،اپنی خلافت کے دوران

____________________

۱۔حیاةالامام علی نقی ، صفحہ ۴۶۔


انھوں نے مال غنیمت میں سے کبھی اپنے حصہ سے زیادہ نہیں لیا ،آپ کبھی کبھی بھوک کی وجہ سے اپنے شکم پر پتھر باندھتے تھے،وہ اپنے ہاتھ سے لیف خرما کی بنا ئی ہو ئی نعلین پہنتے تھے، اسی طرح آپ کا حزام ''تسمہ '' بھی لیف خرما کاتھا ،اسی طریقہ پر امام علی نقی اور دوسرے ائمہ علیہم السلام گامزن رہے انھوں نے غریبوں کے ساتھ زندگی کی سختی اور سخت لباس پہننے میں مواسات فرما ئی ۔

آپ کا علم

حضرت امام علی نقی علمی میدان میں دنیا کے تمام علماء سے زیادہ علم رکھتے تھے ،آپ تمام قسم کے علوم و معارف سے آگاہ تھے ،آپ نے حقائق کے اسرار اور مخفی امور کو واضح کیا ،تمام علماء و فقہاء شریعت اسلامیہ کے پیچیدہ اور پوشیدہ مسا ئل میں آپ ہی کے روشن و منور نظریے کی طرف رجوع کرتے تھے ،آپ اور آپ کے آباء و اجداد کا سخت دشمن متوکل بھی جس مسئلہ میں فقہا میں اختلاف پاتا تھا اس میں آپ ہی کی طرف رجوع کر تا تھا اور سب کے نظریات پر آپ کے نظریہ کو مقدم رکھتا تھاہم ذیل میں وہ مسائل پیش کررہے ہیں جن میں متوکل نے امام کی طرف رجوع کیا ہے :

۱۔متوکل کا ایک نصرا نی کاتب تھا جس کی بات کو وہ بہت زیادہ مانتا تھا ،اس سے خالص محبت کرتا تھا ،اس کا نام لیکر نہیں پکارتا تھا بلکہ اس کو ابو نوح کی کنیت سے آواز دیا کر تاتھا، فقہا ء کی ایک جماعت نے اس کو ابو نوح کی کنیت دینے سے منع کرتے ہوئے کہا :کسی کافر کومسلمان کی کنیت دینا جا ئز نہیں ہے ، دوسرے ایک گروہ نے اس کو کنیت دینا جا ئز قرار دیدیا،تو اس سلسلہ میں متوکل نے امام سے استفتا کیا۔امام نے اس کے جواب میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعدیہ آیت تحریر فرما ئی :(تَبَّتْ یَدَا َبِی لَہَبٍ وَتَبَّ)،(۱) ''ابولہب کے ہاتھ ٹوٹ جا ئیں اور وہ ہلاک ہو جا ئے ''۔امام علی نقی نے آیت کے ذریعہ کافرکی کنیت کے جواز پردلیل پیش فرما ئی اور متوکل نے امام کی رائے تسلیم کر لی ۔(۲)

۲۔متوکل نے بیماری کی حالت میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے نذر کی کہ اگر میں اچھا ہو گیا تو درہم کثیرصدقہ دونگا ،جب وہ اچھا ہو گیا تو اُس نے فقہا ء کو جمع کر کے اُ ن سے صدقہ کی مقدار کے سلسلہ میں سوال

____________________

۱۔سورئہ مسد، آیت ۱۔

۲۔حیاة الامام علی نقی ، صفحہ ۲۳۹۔


کیا فقہاء میں صدقہ دینے کی مقدار کے متعلق اختلاف ہو گیا ،متوکل نے اس سلسلہ میں امام سے فتویٰ طلب کیا تو امام نے جواب میں ۸۳دینار صدقہ دینے کے لئے فرمایا ،فقہا ء نے اس فتوے سے تعجب کا اظہار کیا ، انھوں نے متوکل سے کہا کہ وہ امام سے اس فتوے کا مدرک معلوم کرے تو امام نے اُن کے جواب میں فرمایا : خداوند عالم فرماتا ہے: ( لَقَدْ نَصَرَکُمْ اﷲُ فِی مَوَاطِنَ کَثِیرَةٍ ) ،(۱) ''بیشک اللہ نے کثیر مقامات پر تمہاری مدد کی ہے ''اور ہمارے سب راویوں نے روایت کی ہے کہ سرایا کی تعداد ۸۳ تھی ۔(۲)

امام نے جواب کے آخر میں مزید فرمایا :''حب کبھی امیر المو منین اچھے نیک کام میں اضافہ فرماتے تھے تو وہ اُن سب کے لئے دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ منفعت آور ہوتا تھا ''۔(۳)

۳۔اور جن مسا ئل میں متوکل نے امام کی طرف رجوع کیا اُن میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ متوکل کے پاس ایک ایسے نصرانی شخص کو لایا گیا جس نے مسلمان عورت سے زنا کیا تھا ،جب متوکل نے اُس پر حد جاری کرنے کا ارادہ کیا تو وہ مسلمان ہو گیا ،یحییٰ بن اکثم نے کہا :اس کے ایمان کے ذریعہ اُ س کا شرک اور فعل نابودہو گیا ،بعض فقہا ء نے اُس پر تین طرح کی حد جاری کرنے کا فتویٰ دیا ،بعض فقہا ء نے اس کے خلاف فتویٰ دیا ،تو متوکل نے یہ مسئلہ امام علی نقی کی خدمت میں پیش کیا،آپ نے جواب میں فرمایا کہ اس کو اتنا مارا جائے کہ وہ مرجائے ،یحییٰ اور بقیہ فقہاء نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا :ایسا کتاب و سنت میں نہیں آیا ہے ۔ متوکل نے ایک خط امام کی خدمت میں تحریر کیا جس میں لکھا : مسلمان فقہا اس کا انکار کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ کتاب خدا اور سنتِ رسول میں نہیں آیا ہے۔ لہٰذا آپ ہمارے لئے یہ بیان فرما دیجئے کہ آپ نے یہ فتویٰ کیوں دیا ہے کہ اس کو اتنا مارا جائے جس سے وہ مرجائے ؟

امام نے جواب میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد یہ آیت تحریر فر ما ئی :

( فَلَمَّاجَائَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنَاتِ فَرِحُوابِمَا عِنْدَهُمْ مِنْ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَاکَانُوا بِهِ یَسْتَهْزِئُون فَلَمَّارَأَوْا بَاْسَنَا قَالُواآمَنَّا بِاﷲِ وَحْدَهُ وَکَفَرْنَابِمَاکُنَّا بِهِ مُشْرِکِینَ ) ۔(۴)

____________________

۱۔سورئہ توبہ، آیت ۲۵۔

۲۔تاریخ اسلام ِذہبی ،چھبیسویں طبقہ کے رجال ۔تذکرة الخواص ،صفحہ ۳۶۰۔

۳۔المنتظم، جلد ۱۲، صفحہ ۲۶۔

۴۔سورئہ غافر، آیت ۸۳۔۸۴۔


''پھر جب اُن کے پاس رسول معجزات لیکر آئے تواپنے علم پر ناز کرنے لگے ،اور نتیجہ میں جس بات کا مذاق اڑارہے تھے اسی نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے ۔پھر جب انھوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے یکتا پر ایمان لائے ہیں اور جن باتوں کا شرک کیا کرتے تھے سب کا انکار کررہے ہیں ''۔

اور متوکل نے امام کا نظریہ تسلیم کر لیا۔(۱)

آپ کے اقوال زرّیں

امام علی نقی نے کچھ نورانی کلمات کا مجموعہ بیان فرمایا ہے جس میں مختلف تربیتی اور فطری اسباب بیان فرمائے ہیں جو عالم اسلام میں تفکر کی سب سے بہترین دولت شمار کئے جاتے ہیں :

۱۔امام علی نقی کا فرمان ہے: ''خیر (اچھا ئی)سے بہتر خود اس کا انجام دینے والا ہے ،جمیل سے صاحب جمال خود اس کا کہنے والا ہے ،اور علم عمل کرنے والے ترجیح رکھتا ہے۔۔۔ ''۔

امام نے اِن کلمات کے ذریعہ اُن اشخاص کی توصیف کی ہے جو اِن صفات سے آراستہ ہیں :

الف:نیک کام کرنے والا اخلاقی ارزشوں کے لحاظ سے اچھا ئی سے بہتر ہے ۔

ب۔اچھی بات کہنے والا ،چونکہ یہ شخص لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ۔

ج۔اپنے علم پر عمل کرنے والا ،علم پر ترجیح رکھتا ہے ،بیشک علم عمل کے لئے وسیلہ اور تہذیب چاہتا ہے ،جب علم پر عمل ہوتا ہے تو اس کی رسالت کا حق ادا ہوجاتا ہے ،علم محفوظ ہوجاتا ہے ،اس کی شان و منزلت بڑھ جا تی ہے اور یہ علم سے بہتر ہے ۔

۲۔امام علی نقی کا فرمان ہے:کرامت سے نا آشنا شخص کی بہتری اس میں ہے کہ وہ ذلیل ہوجائے ''۔

یہ کلمہ کتنا زیبا ہے کیونکہ جو شخص کرامت انسا نی سے نا آشنا ہے اور انسا نی اقدار کی خبر نہیں رکھتا اس کی بہتری اسی میں ہے کہ اس سے رو گردانی کی جائے ۔

۳۔امام علی نقی کا فرمان ہے:''سب سے بڑا شر بری عادت ہے ''۔

____________________

۱۔شرح شافیہ مؤلف ابو فراس ،جلد ۲،صفحہ ۱۶۷۔


بیشک سب سے بڑی مصیبت بری عادت ہے، اس سے انسان عظیم شرّ میں مبتلا ہوجاتا ہے جس سے متعدد مصیبتیں اور مشکلیں پیدا ہو جا تی ہیں ۔

۴۔امام علی نقی کا فرمان ہے:''جہالت اور بخل سب سے بری عا دتیں ہیں۔۔۔''۔

اس میں کو ئی شک و شبہ نہیں ہے کہ جہالت اور بخل بری عا دتیں ہیں ،یہ دونوں انسان کو اس کے پروردگار سے دور کردیتی ہیں اوروہ اُن دونوں کے ساتھ حیوان سائم کی طرح زندگی بسر کرتا ہے ۔

۵۔امام علی نقی کا فرمان ہے:''نعمتوں کا انکار سستی کی علامت ہے اور ردّو بدل کا سبب ہوتا ہے ''۔

بیشک جس نے کفرانِ نعمت کیا اور نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا وہ کا ہل ہے ،منعم کے دائرہ ٔ اطاعت سے خارج ہے ۔جیسا کہ نعمتوںپراکڑنانعمتوںکے زوال کا کا سبب ہوتا ہے ۔

۶۔امام علی نقی کا فرمان ہے:''لڑا ئی جھگڑا پرانی صداقت ''بھا ئی چارگی ''کو ختم کر دیتا ہے مورد اعتماد معاملات کو منحل کر دیتا ہے ،جھگڑے کی کم سے کم حد یہ ہے کہ ایک دوسرے پر برتری طلب کی جائے ، جبکہ برتری طلبی جدا ئی کے اسباب کی بنیاد ہے۔۔ ۔''۔(۱)

مراء مجادلہ کو کہتے ہیں جو صداقت کی ریسمان کو توڑ دیتا ہے ،محبت و مودّت کو منحل کر دیتا ہے اور دونوں کے درمیان بغض و عداوت کورائج کر دیتا ہے ۔

امام کے امتحان کے لئے متوکل کا ابن سکیت کو بلانا

متوکل نے ایک بہت بڑے عالم دین یعقوب بن اسحاق جو ابن سکیت کے نام سے مشہور تھے کو امام علی نقی سے ایسے مشکل مسائل پوچھنے کی غرض سے بلایا جن کو امام حل نہ کر سکیں اور اُ ن کے ذریعہ سے امام کی تشہیر کی جا سکے ۔ابن سکیت امام علی نقی کا امتحان لینے کیلئے مشکل سے مشکل مسائل تلاش کرنے لگا کچھ مدت کے بعد وہ امام سے سوالات کرنے کیلئے تیار ہو گیا تو متوکل نے اپنے قصر (محل)میں ایک اجلاس بلایاتو ابن سکیت نے امام علی نقی سے یوں سوال کیا :

اللہ نے حضرت موسیٰ کو عصا اور ید بیضا دے کر کیوں مبعوث کیا ،حضرت عیسیٰ کو اندھوں ، برص کے

____________________

۱۔حیاة الامام علی نقی ، صفحہ ۱۵۸۔۱۶۰۔


مریض اور مردوں کو زندہ کرنے کے لئے کیوں مبعوث کیا، اور حضرت محمد مصطفےٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قرآن اور تلوار دے کر کیوں مبعوث کیا ؟

حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے جواب میں یوں فرمایا :''اللہ نے حضرت مو سیٰ کو عصا اور ید بیضا دے کر اس لئے بھیجا کہ ان کے زمانہ میں جادو گروں کا بہت زیادہ غلبہ تھا ،جن کے ذریعہ ان کے جادو کومغلوب کردے، وہ حیرا ن رہ جا ئیںاور ان کے لئے حجت ثابت ہو جا ئے ،حضرت عیسیٰ کواندھوں اور مبروص کوصحیح کرنے اور اللہ کے اذن سے مردوں کو زندہ کرنے کیلئے مبعوث کیا کیونکہ ان کے زمانہ میں طبابت اور حکمت کا زور تھا، خدا وند عالم نے آپ کو یہ چیزیں اس لئے عطا کیں تاکہ ان کے ذریعہ اُن کو مغلوب کردیں اور وہ حیران رہ جا ئیں ،اور حضرت محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوقرآن اور تلوار دے کر اس لئے مبعوث کیا کیونکہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں تلوار اور شعر کا بہت زیادہ زور تھااور وہ نورانی قرآن کے ذریعہ ان کے اشعار پر غالب آگئے اور زبردست تلوار کے ذریعہ ان کی تلواروں کو چکا چوندکردیا اور ان پر حجت تمام فرما دی ۔۔۔''۔

امام نے اپنے حکیمانہ جواب کے ذریعہ ان معجزوں کے ذریعہ انبیاء کی تائید فرما ئی جو اس زمانہ کے لحاظ سے بہت ہی مناسب تھے، اللہ نے اپنے رسول حضرت مو سیٰ کی عصا دے کر تائید فرما ئی جو ایک خطرناک اژدھا بن کر جادو گر وں کی اژدھے کی شکل میں بنا ئی ہوئی رسیوں اور لکڑیوںکو نگل گیاتو وہ مو سیٰ کی طرح کی طرح معجزہ لانے سے عاجز آگئے اور وہ علی الاعلان موسیٰ کی نبوت پر ایمان لے آئے ،اسی طرح اللہ نے آپ کو ید بیضاء عطا کیا تھاجونور اورروشنی میں سورج کے مثل تھااور یہ معجزہ آپ کی سچا ئی کی ایک نشانی تھا۔

لیکن پروردگار عالم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اندھوں کو بینائی ،مبروص کو شفااور مردوں کو زندہ کرنے کی تائید فرما ئی کیونکہ آپ کے زمانہ میں طب کا زور اوج کمال پر تھالہٰذا اطباء آپ کا مثل لانے سے عاجز آگئے ۔

پروردگار عالم نے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفےٰصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی قرآن کریم کے جاودانہ فصیح و بلیغ معجزہ کے ذریعہ تا ئید فرما ئی جس میں انسان کی کرامت اور اس کی امن دار حیات کو منظم طریقہ سے بیان کیا گیا ہے ، یہاں تک کہ بلغائے عرب اس کے ہم بحث اور اس کا مثل نہ لا سکے ۔۔۔جیسا کہ اللہ نے امیر المو منین علی کی کاٹنے والی تلواردے کر تا ئید فرما ئی تھی جو عرب کے سر کشوں کے مشرکین کے سروں کو کا ٹتی جاتی تھی ،اور بڑے بڑے بہادر اس کا مقابلہ کرنے سے ڈرتے ہوئے کہا کرتے تھے :علی کی تلوار کے علاوہ جنگ سے فرار کرنا ننگ ہے وہ اس کو ندتی ہو ئی بجلی کے مانند تھی جومشرکین اور ملحدین کے ستونوں کوتباہ و برباد کر دیتی تھی ۔

بہر حال ابن سکیت نے امام سے سوال کیا کہ حجت کسے کہتے ہیں ؟آپ نے فرمایا :''العقل یُعرفُ بہ الکاذبَ علی اللّٰہ فیُکذَّبُ''۔


ابن سکیت امام کے ساتھ مناظرہ کرنے سے عاجز رہ گیایحییٰ بن اکثم نے اس کو پکارا تو اس نے جواب دیا:ابن سکیت اور اس کے مناظروں کو کیا ہو گیا ہے یہ صاحب ِ نحو ،شعر اور لغت تھا۔(۱)

امام اپنے زمانہ میں صرف شریعت کے احکام میں ہی اعلم نہیں تھے بلکہ آپ تمام علوم و معارف میں اعلم تھے اور ہم نے اُن بحثوں کو اپنی کتاب ''حیاةالامام علی نقی ''میں تحریر کیاہے۔

عبادت

ائمہ ہدی علیہم السلام کی ایک صفت خدا وند عالم سے تو بہ کرنا ہے کیونکہ خدا سے محبت ان کے اعضا و جوارح میں مجذوب ہوگئی ہے ،وہ اکثر ایام میں روزہ رکھتے ہیںراتوں میں نمازیں پڑھتے ہیں،اللہ سے مناجات کرتے ہیںاور اس کی کتاب قرآن مجید کی تلاوت فرماتے تھے ،شاعر ابوفراس حمدانی نے ائمہ ہدیٰ اور ان کے دشمن عبا سیوں کے درمیان موازنہ کیا ہے ۔

تُمْسی الِّتلاوةُ فی اییاتهم أَبدا

وفی بیوتکم الاوتارُوَالنُّغَمُ

''ان کے گھروں میں ہمیشہ رات کو تلاوت کی جا تی ہے جبکہ تمہارے گھروں میں ساز و گانا بجایاجاتا ہے ''۔

حضرت امام علی نقی کے مانند عباد ت تقوی ٰاور دین کے معاملہ میں اتنا پا بند انسان کوئی دکھا ئی نہیں دیتا، راویوں کا کہنا ہے :امام نے کبھی بھی کوئی بھی نافلہ نماز ترک نہیں کی آپ مغرب کی نافلہ نماز کی تیسری رکعت میں سورئہ الحمد اور سورئہ حدید اس آیت :(وعلیم بذات الصدور)(۲) تک پڑھتے تھے اور چوتھی

رکعت میں سورئہ الحمد اور سورئہ حجرات(۱) کی آخری آیات کی تلاوت کرتے تھے، امام سے دورکعت نماز نافلہ منسوب کی گئی ہے جس کی پہلی رکعت میں آپ سورئہ فاتحہ اور سورئہ یس کی تلاوت کرتے تھے اور دوسری رکعت میں سورئہ فاتحہ اور سورئہ رحمن(۲) پڑھتے تھے، ہم آپ کی قنوت اورنماز صبح اور نماز عصر کے بعد پڑھی جانے والی دعائوں کو (حیاةالامام علی نقی) میں بیان کرچکے ہیں ۔

____________________

۱۔حیاةالامام علی نقی ، صفحہ ۲۴۲۔۲۴۳۔

۲۔سورئہ حدید آیت ۶۔


متوکل کے ساتھ

متوکل خاندان نبوت کا سب سے زیادہ سخت دشمن تھا وہ ان سے بغض عداوت رکھنے میں مشہور تھا۔

اس نے امام حسین سید الشہدا کی قبر مطہر کو منہدم کیا ۔امام حسین کی قبر کی زیارت کرنے سے منع کیا، زیارت کرنے والوں پر مصیبتیں ڈھائیں، مورخین کا کہنا ہے کہ اس نے علو یوں پر سب سے زیادہ ظلم وستم ڈھائے اور بنی امیہ اہل بیت سے دشمنی وعداوت رکھنے میں مشہور تھے۔

متو کل کے سینہ میں کینہ ودشمنی آگ اس وقت زیادہ بھڑکتی تھی جب وہ مسلمانوں سے امام کے بلند مرتبہ کے بارے میں سنتا تھا اور مسلمان اپنے دلوں میں ان کا مقام بنا ئے ہوئے تھے، تو اس کی ناک پھول جاتی تھی ،اس کا جادو ٹوٹ جاتا تھا، ہم اس سر کش کے ساتھ میں امام کی زندگی سے متعلق بعض واقعات ذیل میںنقل کررہے ہیں ۔

امام کی شکایت

ایک بے دین شخص نے عبد اللہ بن محمد جو مدینہ میں متوکل کا والی تھا اس سے امام کی شکایت کی جومندرجہ ذیل خطرناک امور پر مثتمل تھی :

۱۔عالم اسلام کے مختلف گوشوں سے امام کے پاس بہت زیادہ مال آتا ہے جس سے عباسی حکومت سے مقابلہ کرنے کے لئے اسلحہ خریدا جاتا ہے ۔

____________________

۱۔وسائل الشیعہ، جلد ۴، صفحہ ۷۵۰۔

۲۔وسائل الشیعہ ،جلد ۵ ،صفحہ ۲۹۸۔


۲۔ تمام اسلامی مقامات پر امام کی بہت زیادہ محبت اور تعظیم کی جانے لگی ہے ۔

۳۔امام کی طرف سے قیام کا خطرہ ہے لہٰذا اسے اجازت دیدی جائے کہ وہ امام کو اسیر کرکے سخت قید خانوں میں ڈال دے ۔

امام کاشکایت کی تکذیب کرنا

جب امام کو اپنے خلاف اس کی چغلخوری کا علم ہوا۔۔۔

تو آپ نے والی مدینہ کا منصوبہ باطل کرنے کے سلسلہ میں قدم اٹھایا اور متوکل کو ایک خط تحریر کیا جس میں اس کے عامل کے بغض وکینہ ،اس کے برے معاملہ اور اس کی چغلخوری کی تکذیب کرتے ہوئے تشریح فرمائی اور یہ بھی تحریر فرمایا کہ وہ متوکل کے خلاف کوئی بُرا قصدوا رادہ نہیں رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کی حکومت کے خلاف خروج کرنا چاہتے ہیں جب امام کا یہ خط متوکل کے پاس پہنچا تو وہ امام سے مطمئن ہوگیا اور جس چیز کی امام کی طرف نسبت دی گئی تھی اس نے اس کی تکذیب کی ۔

متوکل کا امام کے پاس خط

متوکل نے امام کے خط کے جواب میں ایک خط لکھا جس میں اس نے اپنے والی کو اس کے منصب و عہدے سے معزول کردیا تھا اورآپ کو سامرا آکروہاں رہنے کی دعوت دی:

اما بعد:اے حاکم آپ کی قدر کی معرفت رکھتا ہے، آپ کی قرابت کی رعایت کرتا ہے ،آپ کے حق کو واجب جا نتا ہے ،آپ اور آپ کے اہل بیت کے امور کے متعلق تقدیر میں وہی لکھا ہے جس کو اللہ صلاح سمجھتا ہے ،آپ کی عزت کو پائیدار رکھے ،جب تک آپ کے پروردگار کی رضا ہے آپ اور ان کو اپنے امن و امان میں رکھے اور جو آپ اور ان پر واجب فرمایا ہے اس کو ادا کریں ۔

حاکم نے عبد اللہ بن محمد ،جس کو جنگ اور مدینة الرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں نماز پڑھانے کا والی بنایا تھا،اس کے عہدے سے بر طرف کردیا جب اس نے آپ کے حق کے سلسلہ میں لا علمی کا اظہار کیا،آپ کی قدر کو ہلکا سمجھا،جب آپ نے اس کو لائق سمجھااور اس کی طرف امر منسوب کیااور بادشاہ کو آپ کے اس سے بریٔ الذمہ ہونے کا علم ہوا ،آپ اپنے کردار و اقوال میں صدق نیت کے مالک ہیں ، اور آپ نے خود کو اس کا اہل نہیں بنایا جس کی آپ کو چا ہت تھی ،بادشاہ نے محمد بن فضل کو والی بنادیا ہے اور اس کو آ پ کی عزت و اکرام کرنے کا حکم دیدیا ہے ،آپ کے امر اور مشورہ کو ماننے کے لئے کہا ہے ،یہی اللہ اوربادشاہ کے نزدیک مقرب بھی ہے ،


بادشاہ آپ کے دیدار کا مشتاق ہے ،اگر آپ اپنے اہل بیت اور چاہنے والوں کی زیارت و ملاقات کرنا چا ہتے ہیں تو جب بھی آپ چا ہیں چلے جائیں ،جہاں چا ہیں ٹھہر جا ئیں ،جس طرح چا ہیں سیر کریں ،اور اگر آپ چا ہیں بادشاہ کے والی یحییٰ بن ہر ثمہ اور اس کے ساتھ لشکر کو اپنے ساتھ سیر کے لئے لے جا سکتے ہیں ،ہم نے اس کو آپ کی اطاعت کرنے کی اجازت دیدی ہے ،بادشاہ اپنی موت تک آپ کا اللہ سے خیر خواہ ہے ،اس کے بھائیوں ،اولاد ، اہل بیت اور اس کے خواص میں سے کو ئی ایسا نہیں ہے جس کے ساتھ اس کے مقام و منزلت سے زیادہ مہربانی کی جائے ، ان کی بات قابل تعریف نہیں ہے ،نہ ہی ان کا کو ئی نظریہ ہے ، ان سے زیادہ کو ئی مہر بان نہیں ہے ،وہ سب سے زیادہ نیک ہیں اور ان کے مقابلہ میں تمہارے لئے قابل اطمینان ہیں ، والسلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ۔۔۔

یہ خط ابراہیم بن عباس نے جما دی الثانی ۲۴۳ ھ میں تحریر کیا ۔(۱)

امام علی نقی کا سامرا پہنچنا

متوکل نے یحییٰ بن ہرثمہ کو امام کو مدینہ لانے کیلئے بھیجااور اس سے کہاکہ حکومت کے خلاف امام کے قیام پر دقیق نظر رکھے ۔

یحییٰ کسی چیز کا قصد کئے بغیر مدینہ پہنچا ،امام سے ملاقات کی اور آپ کی خدمت میں متوکل کا خط پیش کیا جب مدینہ والوں کو اس بات کی خبر ہو ئی تو وہ امام کے بارے میں متوکل سر کش کے خوف سے نالہ و فریادکرنے لگے ،مدینہ والے امام سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے ،کیونکہ مدینہ کے علماء آپ کے علوم سے مستفیض ہوتے تھے ،امام غریبوں پر احسان کرتے تھے ،اورآپ دنیا کی کسی چیز سے بھی رغبت نہیں رکھتے تھے(۲) یحییٰ نے ان کو تسکین دلا ئی اور قسم کھا ئی کہ امام کو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

امام نے مدینہ میں اپنے اہل بیت سے خدا حافظ کیا ،یحییٰ نے امام کی خدمت کرنا شروع کیاتو وہ دنیا

____________________

۱۔ارشاد ،صفحہ ۳۷۵۔۳۷۶۔

۲۔مرآة الزمان ،جلد ۹صفحہ ۵۵۳۔


میں آپ کے تقویٰ ،عبادت ،اور زہد سے متعجب ہوا ،آپ کی سواری مقام بیداء پر پہنچی اور اس کے بعد آپ نے یاسریہ میں قیام کیا تو وہاں پر اسحاق بن ابراہیم نے آپ سے ملاقات کی اور جب امام کے یاسریہ پہنچنے کی خبر شا ئع ہو ئی تو یاسریہ کے رہنے والوں نے آپ کا زبر دست استقبال کیا ،حالات کے ڈر کی وجہ سے امام کو رات کے وقت بغداد میں داخل کیا گیا کہ کہیں امام کے دیدار کے پیاسے شیعہ امام کا زبر دست طریقہ سے استقبال نہ کر لیں ۔

یحییٰ بغداد کے حاکم اسحق بن ابراہیم ظاہری کے پاس آیا اور اس کو امام کے مقام و منزلت کا تعارف کرایا ، اور جو کچھ اس نے آپ کا زہد ،تقویٰ اور عبادت دیکھی تھی سب کچھ اس کو بتایا ۔اسحاق نے اس سے کہا : بیشک یہ شخص (امام علی نقی)فرزند رسول ہیں ،تونے متوکل کے منحرف ہونے کو پہچان لیا ہے ،اگر تو نے اُن کے متعلق کو ئی بات اُس تک پہنچا ئی تو وہ انھیں قتل کر دے گا اور قیامت کے دن نبی کا غصہ تیرے سلسلہ میں زیادہ ہو جا ئے گا ۔

اسحاق نے اس کو امام کے حق میں کو ئی بھی بُری بات متوکل تک نقل کرنے سے ڈرایاچونکہ متوکل اہلبیت کا سخت اور بے شرم دشمن تھا ، یحییٰ نے جلدی سے جواب دیا :خدا کی قسم میں کسی چیز کو نہیں جانتا جس کا میں انکار کروں میں اُن سے بہترین امر کے علاوہ کسی اور چیز سے واقف نہیں ہوں ۔

پھر امام علی نقی کی سواری بغداد سے سامرا ء کی طرف چلی جب امام سامرا پہنچے تو یحییٰ جلدی سے حکومت کی ایک بہت بڑی شخصیت تُرکی کے پاس پہنچا او ر اُس کو امام کے سامرا ء پہنچنے کی اطلاع دی تو تر کی نے یحییٰ کو امام کے متعلق متوکل کو کو ئی بھی بُری بات نقل کرنے سے ڈراتے ہوئے کہا :اے یحییٰ! خدا کی قسم ، اگر امام کاایک بال بھی بیکا ہوگیا تو اس کاذمہ دارتوہوگا ۔

یحییٰ بغداد کے وا لی اور تر کی غلام کی امام کے سلسلہ میں موافقت سے متعجب ہوا اور اس نے امام کی حفاظت کرنا واجب سمجھا ۔(۱)

____________________

۱۔مرآة الزمان، جلد ۹،صفحہ ۵۵۳۔مروج الذہب ،جلد ۴،صفحہ ۱۱۴۔تذکرة الخواص، صفحہ ۳۵۹۔


امام خان صعالیک میں

متوکل نے عوام الناس کی نظرمیں آپ کی شان و وقار و اہمیت کو کم کر نے کے لئے آپ کو ''خان صعالیک ''''فقیروں کے ٹھہرنے کی جگہ ''میںرکھا ،صالح بن سعید نے امام سے ملاقات کی ، وہاں کے حالات دیکھ کر بہت رنجیدہ و ملول ہوئے اور آپ سے یوں گویا ہوئے:

میری جان آپ پر فدا ہو انھوں نے ہر طریقہ سے آپ کا نور بجھانے کا ارادہ کر رکھا ہے آپ کی شان میں ایسی کو تا ہی کی جا رہی ہے کہ آپ کو اس مقام پر ٹھہرا دیا ہے ۔

امام نے اس کی محبت اور اخلاق کا شکریہ ادا کیاجس سے اس کا رنج و الم کم ہوا اور جب اُس نے امام کے اس معجزہ کا مشاہدہ کیاجو اللہ نے اپنے اولیا اور انبیاء کو عطا فرمایا ہے تو اس کو قدرے سکون ہوا اور اس کا حزن و غم دور ہو گیا ۔۔۔(۱)

امام کی متوکل سے ملاقات

یحییٰ نے جلد ہی متوکل کو امام کی بہترین حیات و سیرت سے آگاہ کردیا اور یہ بتایا کہ میں نے امام کے گھر کی تلاشی لی تو اُس میں مصاحف اور دعائوں کی کتابوں کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا ،اُن پر جو جنگ کرنے کی تہمت لگا ئی ہے وہ با لکل غلط ہے ،متوکل باغی و سرکش کا غصہ کافور ہو گیا تو اُ س نے امام کو اپنے پاس لانے کا حکم دیا،جب امام اس کے پاس پہنچے تو اُس نے آپ کا بہت زیادہ احترام واکرام کیا(۲) لیکن آپ کو سامرا میں رہنے پر مجبور کیا تاکہ وہ آپ کی حفاظت کرسکے ۔

متوکل کا اچھے شاعر کے متعلق سوال کرنا

متوکل نے علی بن جہم سے سب سے اچھے شاعر کے متعلق پوچھا تو اُ س نے متوکل کو بعض دورجاہلیت

____________________

۱۔الارشاد، صفحہ ۳۷۶۔

۲۔مرآة الزمان، جلد ۹صفحہ ۵۵۳۔


جاہلیت اور دور اسلام کے شعرا ء کے نام بتائے ،متوکل اُن سے قانع نہیں ہوا تو اُس نے اس سلسلہ میں امام سے مخاطب ہو کر سوال کیا تو امام نے فرمایا:''حما نی ''(۱) جس نے یہ اشعار کہے ہیں :

''لقدْ فاخرتنا ف قریش عصابةُ

بِمَطِّ خدودٍ وَاَمْتِدَادِ أصَابِعِ

فَلَمَّا تَنَازَعْنا المَقَالَ قَضیٰ لَنَا

عَلَیْهِمْ بِمَا نَهویٰ نِدَائَ الصَّوَامِعِ

تَرَانَا سُکُوتاً وَالشَّهِیْدُ بِفَضْلِنَا

عَلَیْهِمْ جَهِیْرُ الصَّوْتِ فِکُلِّ جَامِعِ

فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ اَحْمَدَ جَدُّنَا

وَنَحْنُ بَنُوْهُ کَالنَّجُوْمُ الطَّوَالِعِ''

'' قریش کے سلسلہ میں ایک جماعت نے تکبر کی بنا پر ہمارے ساتھ فخر و مباہات کیاجب ہم نے اُن سے مناظرہ کیا تو اس نے ہمارے حق میں فیصلہ کیا تم ہم کو خاموش دیکھتے ہو جبکہ ہر سجدہ میں صدائے اذان کا بلند ہونا ہماری فضیلت کی گوا ہی دیتا ہے کیونکہ رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم خداہمارے نانا ہیں اور ہم چمکتے ستاروں کی مانند اُن کی اولاد ہیں ''۔متوکل نے امام سے مخاطب ہو کر کہا :اے ابوالحسن گرجہ گھروں سے کیا آوازیںآتی ہیں ؟امام نے جواب میں فر مایا :اشھد ان لاالٰہ الَّااللّٰہ واشھد أَنَّ محمداًرسول اللہ وَ مُحَمَّدُ جَدِّْ أَمْ جَدُّکَ ؟'' ۔''میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کو ئی خدا نہیں ہے ،اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میرے جد ہیں یا تیرے جد ہیں ''؟متوکل طاغوت غیظ و غضب میں بھر گیا اور اُ س نے لرزتی ہو ئی آواز میں کہا :وہ آپ کے جد تھے اسی لئے آپ سے دور ہو گئے ۔(۲)

متوکل امام سے ناراض ہو گیا،اس کے دل میں امام کے خلاف بغض و عناد بھر گیا اور اس نے امام

مخالفت میں مندرجہ ذیل امور انجام دئے :

____________________

۱۔حما نی سے مراد یحییٰ بن عبد الحمید کو فی ہے جو بغداد میں تھے ،ان کے سلسلہ میں متعدد افراد نے گفتگو کی ہے جیسے سفیان بن عیینہ ابو بکر بن عیاش ،اور وکیع ۔خطیب نے ان کا اپنی کتاب تاریخ بغداد میں تذکرہ کیا ہے اور ان کے بارے میں یحییٰ بن معین سے روایت نقل کی ہے ان کا کہنا ہے:یحییٰ بن عبد الحمید حما نی ثقہ ہیںاور حما نی سے مروی ہے :''معاویہ دین اسلام پر نہیں مرا '' سامراء میں ۲۲۸ ھ میںاُن کا انتقال ہوا ،وہ محدثین میں سے مرنے والے پہلے شخص تھے ،اس کے متعلق الکنی والالقاب، جلد ۲،صفحہ ۱۹۱ میں آیا ہے ۔۲ ۔حیاةالامام علی نقی ، صفحہ ۲۴۱۔


۱۔امام کے گھر پر حملہ

متوکل نے چند سپاہیوں کو رات میں امام کے گھر پر حملہ اور آپ کو گر فتار کرنے کا حکم دیا ، سپاہی اچانک امام کے گھر میں داخل ہو گئے اور انھوں نے یہ مشاہدہ کیا کہ امام بالوں کا کُرتا پہنے اور اُون کی چا در اوڑھے ہوئے تنہا ریگ اور سنگریزوں(۱) کے فرش پر رو بقبلہ بیٹھے ہوئے قرآن کی اس آیت کی تلاوت فرمارہے ہیں :

( أَمْ حَسِبَ الَّذِینَ اجْتَرَحُوا السَّیِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ کَالَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَائً مَحْیَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَائَ مَا یَحْکُمُونَ ) (۲)

''کیا برائی اختیار کرلینے والوں نے یہ اختیار کرلیا ہے کہ ہم انھیں ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے برابر قرار دیدیں گے کہ سب کی موت و حیات ایک جیسی ہو یہ اُن لوگوں نے نہایت بدترین فیصلہ کیا ہے ''۔

سپاہیوں نے اسی انبیاء کے مانند روحا نی حالت میںامام کو متوکل کے سامنے پیش کیامتوکل اس وقت ہاتھ میں شراب کا جام لئے ہوئے دستر خوان پر بیٹھا شراب پی رہا تھا جیسے ہی اُ س نے امام کو دیکھا تو وہ امام کی مذمت میںشراب کا جام امام کو پیش کرنے لگا امام نے اس کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا :''خدا کی قسم میرا گو شت اورخون کبھی شراب سے آلودہ نہیں ہوا ''۔

متوکل نے امام سے کہا :میرے لئے اشعار پڑھ دیجئے ؟

امام نے فرمایا:''میں بہت کم اشعار پڑھتا ہوں'' ۔

متوکل نہ مانا اور اُس نے اصرار کرتے ہوئے کہا ضرور پڑھئے ۔امام علی نقی نے مندرجہ ذیل اشعار پڑھے جن کو سُن کر حزن و غم طاری ہو گیا اور وہ گریہ کرنے لگا :

____________________

۱۔دائرة معارف بیسویں صدی ہجری، جلد ۶،صفحہ ۴۳۷۔۲۔سورئہ جا ثیہ، آیت ۲۱۔


''باتُواعلیٰ قُلَلِ الأَجْبَالِ تَحْرُسُهُمْ ------غُلْبُ الرِّجَالِ فَما أَغْنَتْهُمُ الْقُلَلُ

وَاسْتُنْزِلُوا بَعْدَ عِزٍّ عَنْ مَرَاتِبِهِمْ -------فَاُوْدِعُوا حُفَراً یَابِئْسَ مانَزَلُوا

ناداهُم صارِخُ مِنْ بَعْدِ مَاقُبِرُوا-------أَیْنَ الأَسِرَّةُ وَالتَّیْجَانُ وَالْحِلَلُ؟

أَیْنَ الوُجُوْهُ الَّتِیْ کانَتْ مُنَعّمَةً-------مِنْ دُوْنِهَا تُضْرَ بُ الاَسْتَارُ وَالْکِلَلُ؟

فَأَفْصَحَ الْقَبْرُ عَنْهُمْ حِیْنَ سَأَلَهُمْ ------تِلْکَ الْوُجُوْهُ عَلَیْهَا الدُّوْدُ یَقْتَتِلُ

قدْطَالما أَکَلُوْا دَهْراً وَمَا شَرِبُوْا -------فأَصْبَحُوْا بَعْدَ طُوْلِ الأَکْلِ قَدْ أُکِلُوْا''

'' زمانہ کے رؤسا ء و سلاطین جنھوں نے پہاڑوں کی بلندیوں پرپہروں کے اندر زندگی گزاری تھی ۔

ایک دن وہ آگیا جب اپنے بلند ترین مراکز سے نکال کر قبر کے گڈھے میں گرا دئے گئے جو اُن کی بد ترین منزل ہے ۔

اُن کے دفن کے بعد منادی غیب کی آواز آئی کہ وہ تخت و تاج و خلعت کہاں ہے اور وہ نرم و نازک چہرے کہاں ہیں جن کے سامنے بیش قیمت پردے ڈالے جاتے تھے ؟

تو بعد میں قبر نے زبانِ حال سے پکار کر کہاکہ آج اُن چہروں پر کیڑے رینگ رہے ہیں۔

ایک مدت تک مال دنیا کھاتے رہے اور اب انھیںکیڑے کھا رہے ہیں ''۔

متوکل جھومنے لگا ،اس کا نشہ اُتر گیا،اُس کی عقل نے کام کر نا چھوڑ دیا،وہ زار و قطار رونے لگا،اس نے اپنے پاس سے شراب اٹھوادی ،بہت ہی انکساری کے ساتھ امام سے یوں گویا ہوا :اے ابوالحسن کیا آپ مقروض ہیں ؟

امام نے جواب میں فرمایا:''ہاں ،میں چار ہزار درہم کا مقروض ہوں'' ۔

متوکل نے امام کو چار ہزار درہم دینے کا حکم دیااورامام آپ کے بیت الشرف پر پہنچا دیا ۔(۱)

یہ واقعہ خدا وند عالم کے حرام کردہ تمام گناہوں کا ار تکاب کرنے والے سر کشوں سے امام کے جہاد کرنے کی عکا سی کرتا ہے ،امام نے اس کے ملک اور سلطنت کی کو ئی پروا نہ کرتے ہوئے اس کو نصیحت فر ما ئی

____________________

۱۔مرآة الجنان ،جلد ۲،صفحہ ۹۶۰۔تذکرة الخواص، صفحہ ۳۶۱۔الاتحاف بحب الاشراف ،صفحہ ۶۷۔


اللہ کے عذاب سے ڈرایا ،دنیا سے مفارقت کے بعد کے حالات کا تعارف کرایا،اس کا لشکر ،سلطنت اور تمام لذتیں قیامت کے دن اس سے اس کے افسوس کرنے کو دفع نہیں کر سکتیں ،اسی طرح آپ نے اس کو یہ بھی بتایا کہ انسان کے مرنے کے بعد اُس کے دقیق بدن کا کیا حال ہوگا ،یہ حشرات الارض کا لقمہہوجائے گا ۔

متوکل نے کبھی اس طرح کا مو عظہ سُنا ہی نہیں تھا بلکہ اُ س کے کا نوں میں تو گانے بجانے کی آوازیں گونجاکر تی تھیں ،اس کو اس حال میں مو ت آگئی کہ گانے بجانے والے اس کے ارد گرد جمع تھے ،اُ س نے تو اپنی زند گی میں کبھی خدا سے کئے ہوئے عہد کو یاد کیا ہی نہیں تھا ۔

۲۔امام پراقتصادی پا بندی

متوکل نے امام پر بہت سخت اقتصا دی پا بندی عائد کی ،شیعوں میں سے جو شخص بھی امام کو حقوق شرعیہ یا دوسری رقومات ادا کرے گا اس کو بے انتہاسخت سزا دینا معین کر دیا ،امام اور تمام علوی افراد متوکل کے دور میںاقتصادی لحاظ سے تنگ رہے ،مو منین حکومت کے خوف سے آپ تک حقوق نہیں پہنچا پاتے تھے ، مومنین اپنے حقوق شرعیہ ایک روغن فروش کے پاس پہنچا دیتے تھے اور وہ اُن کو آپ کے لئے بھیج دیا کرتا تھا اور حکومت کو اس کی کو ئی خبر نہیں تھی ،اسی وجہ سے امام کے بعض اصحاب کو دہا نین(روغن فروش) کے لقب سے یاد کیاگیا ہے ۔(۱)

۳۔ امام کو نظر بند کرنا

متوکل نے امام کو نظر بند کرنے اور قید خانہ میں ڈالنے کا حکم دیدیا ،جب آپ کچھ مدت قید خانہ میں رہے تو صقر بن ابی دلف آپ سے ملاقات کیلئے قید خانہ میںآیا ،نگہبان نے اُس کا استقبال کیا اور تعظیم کی ، دربان جانتا تھا کہ یہ شیعہ ہے تو اُ س نے کہا :آپ کا کیا حال ہے اور آپ یہاں کیوں آئے ہیں ؟

خیر کی نیت سے آیاہوں ۔۔۔

شاید آپ اپنے مولا کی خبر گیری کے لئے آئے ہیں ؟

میرے مو لا امیر المو منین ،یعنی متوکل ۔

____________________

۱۔حیاة الامام علی نقی ، صفحہ ۲۶۲ ۔۲۶۴۔


دربان نے مسکراتے ہوئے کہا :خا موش رہئے ،آپ کے حقیقی اور حق دار مو لا (یعنی امام علی نقی)، مت گھبرائو میں بھی شیعہ ہی ہوں ۔

الحمد للّٰہ ۔

کیا آپ امام کا دیدار کرنا چا ہتے ہیں ؟

ہاں ۔۔۔

ڈاکیہ کے چلے جانے تک تشریف رکھئے ۔۔۔

جب ڈاکیہ چلا گیا تو دربان نے اپنے غلام سے کہا :صقر کا ہاتھ پکڑ کر اُ س کمرہ میں لے جائو جہاں پر علوی قید ہیں اور اِن دونوں کو تنہا چھوڑ دینا ،غلام اُن کا ہاتھ پکڑ کر امام کے پاس لے گیا ،امام ایک چٹا ئی پر بیٹھے ہوئے تھے اور وہیں پر آپ کے پاس قبر کھدی ہو ئی تھی متوکل نے اس سے امام کوڈرانے کا حکم دیا، امام نے صقر سے فرمایا:اے صقر کیسے آنا ہوا ؟

صقر :میں آپ کی خبر گیری کے لئے آیا ہوں ۔

صقر امام کے خوف سے گریہ کرنے لگے تو امام نے ان سے فرمایا :''اے صقر مت گھبرائو وہ ہم کو کو ئی گزند نہیں پہنچا سکتا ۔۔۔''۔

صقر نے ہمت با ندھی ،خدا کی حمد و ثنا کی ،اس کے بعد امام سے کچھ شرعی مسا ئل دریافت کئے اور امام نے ان کے جوابات بیان فرمائے اور صقر امام کو خدا حافظ کرکے چلے آئے ۔(۱)

____________________

۱۔حیاة الامام علی نقی ، صفحہ ۲۶۳۔۲۶۴۔


امام کا متوکل کے لئے بد دعا کرنا

امام علی نقی متوکل کی سختیوں سے تنگ آگئے ، اُس نے اپنی سنگد لی کی بنا پر امام پر ہر طرح سے سختیاں کیں اُ س وقت امام نے اللہ کی پناہ ما نگی اور ائمہ اہل بیت کی سب سے اجلّ و اشرف دعا کی جس کو مظلوم کی ظالم پر بد دعا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے وہ دعائوں کے خزانہ میں سے ہے ،اس دعا کو ہم اپنی کتاب

حیاة الامام علی نقی میں ذکر کر چکے ہیں ۔ائمہ طا ہرین کی اس مختصر سوانح حیات میں اس کو بیان کرنے کی کو ئی ضرورت نہیں ہے

امام کا متوکل کے ہلاک ہونے کی خبر دینا

متوکل نے مجمع عام میں امام علی نقی کی شان و منزلت کم کرنے کیلئے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنائے ، اُ س نے اپنی رعایا کے تمام افراد کو امام کے پاس چلنے کا حکم دیا ،انھوں نے ایسا ہی کیا ،گر می کا وقت تھا ،گر می کی شدت کی وجہ سے امام اُن کے سامنے پسینہ میں شرابور ہوگئے ،متوکل کے دربان نے جب امام کو دیکھا تو فوراً آپ کو دہلیز میں لا کر بٹھایا رومال سے امام کا پسینہ صاف کر نے لگا اور یہ کہہ کر حزن و غم دور کرنے لگا:ابن عمک لم یقصدک بھذ ا دون غیرک ۔۔۔تیرے چچا زاد بھائی کا اس سے تیرے علاوہ اور کو ئی ارادہ نہیں ہے ۔

امام نے اس سے فرمایا :''ایھا عنک ''،اُس کے بعد قرآن کریم کی اس آیت کی تلاوت فرما ئی :( تَمَتَّعُوا فِی دَارِکُمْ ثَلَاثَةَ أَیَّامٍ ذَلِکَ وَعْد غَیْرُ مَکْذُوب ) ۔(۱)

''اپنے گھروں میں تین دن تک اور آرام کرو کہ یہ وعدئہ الٰہی ہے جو غلط نہیں ہو سکتا ہے '' ۔

زراقہ کا کہنا ہے کہ میرا ایک شیعہ دوست تھا جس سے بہت زیادہ ہنسی مذاق کیا کرتا تھا، جب میں اپنے گھر پہنچا تو میں نے اس کو بلا بھیجا جب وہ آیا تو میں نے امام سے سنی ہو ئی خبر اس تک پہنچا ئی تو اس کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا اور اس نے مجھ سے کہا :دیکھو جو کچھ تمہارا خزانہ ہے اس کو اپنے قبضہ میں لے لو ،چونکہ متوکل کو تین دن کے بعد موت آجا ئے گی یا وہ قتل ہو جا ئے گا ، اور امام نے شہادت کے طور پر قرآن کریم کی یہ آیت پیش کی ہے ،معلم کی بات زراقہ کی سمجھ میں آگئی اور اُس نے کہا : میرے لئے اس بات پر یقین کرنے میں کو ئی ضرر نہیں ہے، اگر یہ بات صحیح ہے تو میں نے یقین کر ہی لیا ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو اس میں میرا کوئی نقصان نہیں ہے ۔میں متوکل کے گھر پہنچا ،اور وہاں سے اپنا سارا مال لے کر اپنے جاننے والے ایک شخص کے پاس رکھ دیا ،اور تین دن نہیں گذرے تھے کہ متوکل ہلاک ہوگیا ،یہ سبقت زراقہ کی راہنما ئی اور اس

____________________

۱۔سورئہ ہود، آیت ۶۵۔


سے امامت سے سخت لگائو کا سبب بن گئی ۔(۱)

متوکل کی ہلاکت

امام کے ذریعہ متوکل کی تین دن کے بعد ہلاکت کی خبر کے بعد متوکل ہلاک ہو گیا یہاں تک کہ اس کا بیٹا منتصر اس پر حملہ کرنے والوں میں شامل تھا ،۴ شوال ۲۴۷ ھ(۲) بدھ کی رات میں ترکیوں نے اُس پر دھا وا بول دیا جن کا سپہ سالار باغر ترکی تھا ،اُن کے پاس ننگی تلواریں تھیں ،حالانکہ متوکل نشہ میں پڑا ہوا تھا ،فتح بن خاقان نے اُ ن سے چیخ کر کہا :وائے ہو تم پریہ امیر المو منین ہے ،انھوں نے اس کی کو ئی پروا نہیں کی ،اُس نے خود کو متوکل کے اوپر گرا دیا کہ شاید وہ اس کو چھوڑ دیں لیکن انھوں نے ایسا کچھ نہ کیا اور دونوں کے جسموں کے اس طرح ٹکڑے کر دئے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی لاش پہچا نی نہیں جا رہی تھی ،دونوں کے بعض گوشت کے ٹکڑوں سے شراب ٹپک رہی تھی ،دونوں کو ایک ساتھ دفن کر دیا گیا ،اس طرح اہل بیت کے سب سے سخت دشمن متوکل کی زند گی کا خاتمہ ہوا ۔

ابراہیم بن احمد اسدی نے متوکل کے بارے میں پڑھے :

هَکذا فَلتکُن منا یا الکرامِ------بین نا ٍ وَمِزهَرٍ ومَدامِ

بَینَ کَاسَیْنِ أَرْوَتَاهُ جَمِیْعاً---------کَأْسٍ لِذَاتِهِ وَکَأْسِ الحِمَامِ

یَقِظُ فِی السُّرُوْرِ حَتیّٰ اَتَاهُ-----------قدَّرَ اللّٰهُ حَتْفُهُ فِی المَنَامِ

وَالْمَنَایا مَراتب یتفاضَدْن -----وَبِالْمُرْهَفَاتِ مَوْتُ الکِرَامِ

لَمْ یَدْرِ نَفْسُهُ رَسُوْلُ المَنَاَیا ---------بِصُنُوْفِ الْأَوْجَاعِ وَالاَسْقَامِ

هَابَه مُعْلِناًفَدَبَّتْ اِلَیْهِ ------فِیْ سُتُوْرِ الدُّجیٰ یَدُالْحُسَامِ(۳)

''بزرگوں کی موت اسی طرح بانسری ،باجے اور شراب کے درمیان ہونا چا ہئے ۔

____________________

۱۔حیاةالامام علی نقی ، صفحہ ۲۶۵۔

۲۔تاریخ ابن کثیر،جلد ۱۰، صفحہ ۳۴۹۔

۳۔زہر الآداب، جلد ۱ ،صفحہ ۲۲۷۔


ایسے دو پیالوں کے درمیان ہو نا چا ہئے جنھوں نے اُس کو سیراب کر دیا ہو ۔

ایک پیالہ لذّتوں کا ہو اور ایک پیالہ موت کا ہو ۔

وہ خو شی کے عالم میں بیدار تھے ،یہاں تک کہ خدا کی مقدر کردہ موت نے اس کو نیند کے عالم میں آلیا ۔

درد اور بیماری کی وجہ سے قاصد موت کے آنے پراس کو کچھ احساس تک نہیں ہوا ۔

اس کو علی الاعلان موت آگئی اور تا ریکیوں کے پردے میں دست شمشیر اس کی طرف بڑھ گیا ''۔

شاعر نے اِن اشعار کے ساتھ اس کا مرثیہ پڑھا جو اُ س کی خواہش نفس کی عکا سی کر رہے ہیں ، اُس کی موت شراب کے جام ،مو سیقی کے آلات و ابزار طبل و ڈھول کے درمیان میں ہو ئی ،اس کو بیماریوں اور دردوں نے ذلیل و مضطرب نہیں کیا بلکہ ترکیوں نے اپنی تلواروں سے اس کی روح کو اس کے بدن سے جدا کر دیا ،اُس نے دردو آلام کا چھوٹا سا گھونٹ پیا ،اس سے پہلے شعراء بادشاہوں کا مر ثیہ پڑھا کر تے تھے جس کے فقدان سے امت اپنی معاشرتی اصلاحات اور عدل و انصاف کو کھو دیتی تھی ۔

بہر حال علویوں اور شیعوں کو اس سخت بیماری سے نجات ملی ،اس کے بعد منتصر نے حکومت کی باگ ڈور سنبھا لی ،اس نے اپنے باپ کے بر عکس انقلاب کی قیادت کی ،اس نے حکومت قبول کی ، اُس کی حکومت کا خو شی سے استقبال کیا گیا ،حکومت کی باگ ڈور سنبھا لنے کے بعد اُس نے علویوں پر احسان کر نا شروع کیا اُس نے علویوں کے لئے مندرجہ ذیل چیزیں انجام دیں :

۱۔دنیائے اسلام کے کریم رہبر و قائد امام حسین کی زیارت میں ہونے والی رکاوٹوں کو دور کیا ، اس نیکی کیلئے لوگوں کو ترغیب دلا ئی ،جبکہ اس کے باپ نے زیارت پر پابندی لگا رکھی تھی اور زائرین کی مخالفت میں ہر طرح کے سخت قوانین نافذ کئے تھے ۔

۲۔علویوں کو فدک واپس کیا ۔

۳۔حکومت نے علویوں کے چھینے ہوئے اوقاف واپس کئے ۔

۴۔علویوں کی برا ئی کرنے والے مدینہ کے والی صالح بن علی کو معزول کیا ،اس کے مقام پر علی بن الحسن کو والی بنایا اور اس کو


علویوں کے ساتھ احسان و نیکی کر نے کی تا کید کی ۔(۱)

علوی خاندان پر ان تمام احسانات کو دیکھ کر شاعروں نے اُ س کی تعریف اور شکریہ میں اشعار پڑھے، یزید بن محمد بن مہلبی کا کہنا ہے :

وَلَقَدْ بَرَزَتَ الطَّالِبِیَّةَ بَعْدَ مَا-----------ذَمُّوا زَمَاناً قَبْلَهَا و زَمَانا

وَرَدَدْتَ اُلْفَةَ هَاشِمٍ فَرَأَیْتَهُمْ-----------بَعْدَ الْعَدَاوَةِ بَیْنَهُمْ اِخْوَاناً

آنَسْتَ لَیْلَهُمْ وَجُدْتَ عَلَیْهِمْ ----------حَتیّٰ نَسُوا الْأَحْقَادَ وَالْأَضْغَانا

لَوْ یَعْلَمُ الأَسْلَافُ کَیْفَ بَرَرْتَهُم---------لَرَأَوْکَ أَثْقَلَ مَنْ بِهَا مِیْزَانا(۲)

''تم نے علویوں کے ساتھ اچھا برتائو کیا جبکہ اس سے پہلے ان کی مذمت ہو چکی تھی ۔

تم نے ہاشم کی محبت کو پلٹادیا جس کی بنا پر دشمنی کے بعد تم نے ان کو دوست پایا۔

تم نے راتوں میں ان سے انس اختیار کیا اور اُن پر سخاوت کی یہاں تک کہ وہ کینوں اور دشمنی کو بھول گئے۔

اگر گذشتہ بزرگان کو تمہارے حسن سلوک کا علم ہوجائے تو وہ تم کو بہت آبرو مند سمجھیں گے ''۔

منتصر نے نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خاندان کے اس سلسلہ کو جا ری رہنے دیا جس کو اس کے گذشتہ بزرگ عباسیوں نے ہر چند منقطع کرنے کی کو شش کی تھی ،اُ ن سے ہر طرح کے ظلم و ستم اور کشت و خون کو دور کیا لیکن افسوس کہ اُس کا عمر نے ساتھ نہ دیا طبیب نے ترکوں کے دھوکہ میں آکر اس کو زہر دیدیا جس سے وہ فوراً مر گیا ،(۳) اُس کے مر نے کی وجہ سے لوگوں سے خیر کثیر ختم ہو گیا ، اس نے علویوں کو دینی آزا دی دی تھی اور اُن سے ظلم و ستم کو دور کیا تھا ۔

امام پر قاتلانہ حملہ

امام ،معتمد عباسی پر بہت گراں گذر رہے تھے ،امام اسلامی معاشرہ میں عظیم مرتبہ پر فائز تھے جب امام کے فضا ئل شائع ہوئے تو اس کو امام سے حسد ہو گیا اور جب مختلف مکاتب فکر کے افراد اُن کی علمی صلاحیتوں

____________________

۱۔تاریخ ابن اثیر، جلد ۵،صفحہ ۳۱۱۔

۲۔مروج الذھب، جلد ۴،صفحہ ۸۳۔

۳۔تاریخ خلفاء سیوطی، صفحہ ۳۵۷۔


اور دین سے اُن کی والہانہ محبت کے سلسلہ میں گفتگو کرتے تووہ اور جلتا اُس نے امام کو زہر ہلاہل دیدیا ، جب امام نے زہر پیا تو آپ کا پورا بدن مسموم ہو گیا اور آپ کے لئے بستر پر لیٹنا لازم ہوگیا(یعنی آپ مریض ہو گئے)آپ کی عیادت کے لئے لوگوں کی بھیڑ اُمڈ پڑی ،منجملہ اُن میں سے ابوہاشم جعفری نے آپ کی عیادت کی جب اُ نھوںنے امام کو زہر کے درد میں مبتلا دیکھا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ،اور مندرجہ ذیل اشعار پر مشتمل قصیدہ نظم کیا :

مَا دتِ الدنیا فُؤاد العلیلِ----------وَاعْتَرَتْنِیْ مَوَارِدُ اللأْوائِ

حِینَ قِیْلَ الْاِمَامُ نِضُوْ عَلِیْل----------قُلْتُ نَفْسِیْ فَدَتْهُ کُلَّ الفِدَائِ

مَرِضَ الدِّیْنُ لَاعْتِلَالِکَ وَاعْتَدْ لَ---------وَغَارَتْ نُجُوْمُ السَّمَائِ

عَجَباً اِنْ مُنِیْتَ بِالدَّائِ وَالسُّقْمِ ---------وَأَنْتَ الاِمَامُ حَسْمُ الدَّائِ

أَنْتَ أَسِیْ الأَدْوَائَ فِ الدِّیْنِ والدُّنْیَا ---------وَمُحْی الأَمْوَاتِ وَالْأَحَیَائِ(۱)

'' دنیا نے میرے بیمار قلب کو ہلا کر رکھ دیا اور مجھے وا دی ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔

جب مجھ سے کہا گیا امام کی حالت نہایت نازک ہے تو میں نے کہا میری جان اُن پر ہر طرح قربان ہے ۔

آپ کے بیمار ہونے کی وجہ سے دین میں کمزوری پیدا ہو گئی اور ستارے ڈوب گئے۔

تعجب کی بات ہے کہ آپ بیمار پڑگئے جبکہ آپ کے ذریعہ بیماریوں کا خاتمہ ہوتا ہے ۔

آپ دین و دنیا میں بہترین دوا اور مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں ''۔

آپ کی روح پاک ملائکہ ٔ رحمن کے سایہ میں خدا کی بارگاہ میں پہنچ گئی ،آپ کی آمد سے آخرت روشن و منور ہو گئی ،اور آپ کے فقدان سے دنیا میں اندھیرا چھا گیا ،کمزوروں اور محروموں کے حقوق سے دفاع کرنے والے قائد ور ہبر نے انتقال کیا ۔

تجہیز و تکفین

آپ کے فرزند ارجمند کی امام حسن عسکری نے آپ کی تجہیز و تکفین کی ،آپ کے جسد طاہر کو غسل

____________________

۱۔اعلام الوریٰ ،صفحہ ۳۴۸۔


دیا،کفن پہنایا،نماز میت ادا فر ما ئی ،جبکہ آپ کی نکھوں سے آنسو رواں تھے آپ کا جگر اپنے والد بزرگوار کی وفات حسرت آیات پر ٹکڑے ٹکڑے ہوا جا رہا تھا ۔

تشییع جنازہ

سامرا ء میں ہر طبقہ کے افراد آپ کی تشییع جنازہ کیلئے دوڑ کر آئے ،آپ کی تشییع جنازہ میں آگے آگے وزراء ،علماء ،قضات اور سر براہان لشکر تھے ، وہ مصیبت کا احسا س کر رہے تھے اور وہ اس خسارہ کے سلسلہ میں گفتگو کر رہے تھے جس سے عالم اسلام دو چار ہوا اور اس کا کو ئی بدلہ نہیں تھا ، سامراء میں ایسا اجتماع بے نظیر تھا ،یہ ایسا بے نظیر اجتماع تھا جس میں حکومتی پیمانہ پر ادارے اور تجارت گاہیں وغیرہ بند کر دی گئی تھیں ۔

ابدی آرام گاہ

امام علی نقی کا جسم اقدس تکبیر اور تعظیم کے ساتھ آپ کی ابدی آرامگاہ تک لایا گیاآپ کوخود آپ کے گھرمیں دفن کیا گیاجو آپ کے خاندان والوں کے لئے مقبرہ شمار کیا جاتا تھا ،انھوں نے انسانی اقدار اور مُثُل علیا کو زمین میں چھپا دیا ۔

آپ کی عمر چا لیس سال تھی آپ نے ۲۵ جما دی الثانی ۲۵۴ ھ میں پیر کے دن وفات پا ئی(۱) اسی پر ہمارے امام علی نقی کے سلسلہ میں گفتگو کا اختتام ہوتا ہے ۔

____________________

۱۔نورالابصار ،صفحہ ۱۵۰۔کشف الغمہ ،جلد ۳صفحہ ۱۷۴۔


حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام

حضرت امام ابو محمد حسن عسکری ،ائمہ اہل بیت کی گیارہویں کڑی ہیں جنھوں نے رسالتِ اسلام اور اس کے اغراض و مقاصد اور ارزش و اہمیت کی بنیاد ڈالی ہے۔

یہ امام عظیم، اللہ کے بندوں پر اس کی رحمت و بخشش ہیں ،اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشا نی ہیں آپ ہی نے منحرف عباسی حکومت کا مقابلہ کیا ،مسلمانوں کے درمیان عدل و انصاف قائم کر نے کے لئے جد و جہد کی ،ہم اختصار کے طور پر آپ کی شان کے متعلق چند باتیں ذیل میں بیان کر رہے ہیں:

آپ کا نسب

امام کا نسب شریف خاندان نبوت ہے جس کے ذریعہ اللہ نے مسلمانوں کو عزت دی ، جنھوں نے حق اور عدل کی بنیاد رکھی ،اور حق و عدل کو زمین کے تمام شعبوں میں رائج کیا ،ہمارے خیال میں کو ئی بھی ایسا خاندان نہیں ہے جس نے خاندان نبوت کی طرح حق کی خدمت اور لوگوں کے درمیان فضیلت نشر کرنے پر عمل کیا ہو ۔

بیشک امام حسن عسکری کا شجرئہ نسب رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اور ان کے شہر علم کے دروازے حضرت امیر المو منین سے ہے ۔شاعر کہتا ہے :

نسب کأنَّ علیه من شمس الضحیٰ

نوراً ومن فلق الصَّباح عَمُوداً

''آپ کا نسب اس طرح ہے گویا آپ پر وقت چاشت کی دھوپ پڑ رہی ہے اور سفیدیٔ صبح کا ستون قائم ہے ''۔

اور وتری کا کہنا ہے :

ما ذا یقول الما دحون َ بوصْفِهِمْ

وَهُمُ السُّرَاطُ خَلَائِفُ الْمُخْتَارِ؟

ضُرِبَتْ قُبَابُ فَخَارِهِمْ وَسُمُوِّهِمْ

بَیْنَ البُتُوْلِ الطُّهْرِ وَالْمُخْتَارِ

''مدح و ثنا کرنے والے اہل بیت کی شان میں کیا کہنا چا ہتے ہیںاہل بیت تو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جانشین ہیں اور ان کی رگوں میں فا طمہ اطہر اور علی مرتضیٰ کا خون دوڑ رہا ہے '' ۔


بیشک آپ امام علی نقی بن امام محمد تقی بن علی بن مو سیٰ الرضابن امام مو سیٰ الکاظم بن جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام علی بن الحسین بن امام حسین بن علی بن ابی طالب سلام اللہ علیہم کے فرزند ہیں ،وہ ائمہ ٔ ہدیٰ ،مصابیح الدجیٰ اور اعلام التقیٰ ہیںجن سے اللہ نے ہر رجس کو دور رکھا اور اس طرح پا ک و پاکیزہ رکھا جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے اور نبی نے اُن کو نجات کی کشتی ،بندوں کی پناہ گاہ اور باب حطّہ قرار دیا جو بھی اس میں داخل ہوا وہ آمنین میں قرار پائے گا ۔

ولادت

عالم اسلام سلیل نبوت (فرزند)اور بقیہ امامت کی ولادت سے روشن و منور ہو گیا ،راویوں میں آپ کی جائے ولادت کے سلسلہ میں اختلاف ہے ایک قول یہ ہے کہ آپ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے(۱) ، دوسرا قول یہ ہے کہ آ پ سامراء(۲) میں پیدا ہوئے ،اور آپ کس زمانہ میں یا کس وقت پیدا ہوئے اس سلسلہ میں بھی راویوں میں اختلاف ہے اور اس سلسلہ میں بعض اقوال یہ ہیں :

۱۔آپ ربیع الاول ۲۳۰ ھ میں پیدا ہوئے(۳)

۲۔ ۲۳۱ ھ میں پیدا ہوئے ۔(۴)

____________________

۱۔اخبار الدول ،صفحہ ۱۱۷۔بحر الانساب ،صفحہ ۲۔

۲۔تذکرة الخواص ،صفحہ ۳۲۴۔

۳۔تاریخ ابو اا لفدا ،جلد ۲صفحہ ۴۸۔

۴۔نجوم الزاہرہ، جلد ۳،صفحہ ۳۲۔

۳۔ ۲۳۲ ھ میں پیدا ہوئے ۔(۱)

۴۔ ۲۳۳ ھ میں پیدا ہوئے ۔(۲)


آپ کی ولادت پرشرعی رسومات

حضرت امام علی نقی کو جیسے ہی امام حسن عسکری کی ولادت با سعادت کی خبر دی گئی تو آپ نے شرعی رسومات انجام دینے میں بڑی سرعت سے کام لیا ،آپ نے بچہ کے دائیں کام میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی ،امام نے اپنے فرزند کا خدا کے نور سے ایسے کلمات توحید کا اقتباس کرتے ہوئے استقبال کیا جن کوہر زمانہ اور ہر جگہ پر مسلمان اپنی زبان پر جا ری کرتے ہیں :'' اﷲ اکبر لا الٰہ اِلَّا اللّٰہ ''۔

امام علی نقی نے ولادت کے ساتویں دن امام حسن عسکری کاسر منڈایا اور ان کے سر کے بالوںکے وزن کے برابر سونا یا چاندی مسکینوں کو صدقہ دیااور اسی وقت اسلامی سنت پر عمل کرتے ہوئے عقیقہ کیا جس میں دو سال کاگوسفند ذبح کیا بچہ کا نا م حسن رکھا جو آپ کے چچا حسن جنت کے جوانوں کے سردار کا اسم مبارک ہے ۔آپ(امام حسن عسکری)کی کنیت ابو محمد رکھی، یہ آپ کے فرزند امام المنتظر کا اسم گرا می ہے جو زمین میں محرو موں اور مستضفعین کی آرزو ہیں ۔(۳)

آپ کی پرورش

امام عسکری نے اللہ کے نز دیک سب سے با عزت گھر میں پر ورش پائی وہ بیت امامت جس کے اہل سے پر ور دگار عالم نے ہر طرح کے رجس کو دور رکھا اور ان کو اس طر ح پاک وپاکیزہ رکھا جو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔

اس بیت معظم کے متعلق شبراوی کا کہنا ہے کہ خدا کی قسم یہ بیت شریف بے بہادُرّ ہے ،بہت ہی عظیم نسب ہے ،نورانی نسب قابل فخر اوربلند مرتبہ ہے ،یہ سب صاحب کرامت ہیں یہ شجرہ میں کنگھی کے

____________________

۱۔بحر الانساب صفحہ ۲۔اخبار الدول صفحہ ۱۶۷۔الاتحاف بحب الاشراف صفحہ ۸۶۔

۲۔دائرة المعارف بستا نی جلد ۷صفحہ ۴۵۔

۳۔حیاةالامام حسن عسکری ، صفحہ۱۹۔


دانوں کی طرح برابر طیب و طاہر ہیں ،عظمت کے حصے اُن پر تقسیم کر دئے گئے ہیں اور اُ ن میں صفات کمال نہایت درجہ مو جود ہیں ۔(۱)

اللہ سے امام کاخوف

امام حسن عسکری کمسنی میں اللہ سے خوف رکھتے تھے ،مورّخین نے روایت کی ہے کہ ایک شخص کا امام حسن عسکری کے پاس سے گذر ہوا جبکہ آپ بچوں کے ایک طرف کھڑے ہوئے رو رہے تھے، اس شخص نے کہا :اے نو نہال !مجھے بڑا افسوس ہے کہ تم اس لئے رو رہے ہو کہ تمہارے پاس وہ کھلونے نہیں ہیں جو اِن بچوں کے پاس ہیں :سنو !میں ابھی آپ کیلئے وہ کھلونے خرید کر لاتا ہوں جن سے یہ بچے کھیل رہے ہیں ؟

امام حسن عسکری نے فرمایا:''نہیں ،ہم کھیلنے کے لئے نہیں پیدا ہوئے ۔۔۔''۔

وہ شخص مبہوت ہوکر رہ گیا اور اس نے امام سے کہا :ہم کس لئے پیدا کئے گئے ؟

امام نے فرمایا:''ہم علم اور عبادت کے لئے خلق ہوئے ہیں ''۔

اس شخص نے سوال کیا :آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ ہماری غرض خلقت علم و عبادت ہے ؟

امام نے خداوند عالم کے اس فرمان کی تلاوت فرمائی: ( أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثاً ) ''۔(۲) ''کیا تمہارا خیال یہ تھا کہ ہم نے تمھیں بیکار پیدا کیا ہے ''۔

وہ شخص ہکّا بکَّا رہ گیا اور اس نے اسی حیرا نی کے عالم میں امام سے سوال کیا !اے فرزند! تمھیں کیسے معلوم تم تو بہت کمسن ہو ؟

امام نے فرمایا:''میں نے اپنی والدہ کو دیکھا ہے کہ وہ بڑی لکڑیوں کو جلانے سے پہلے چھوٹی لکڑیاں جلاتی ہیں، میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میںچھوٹی لکڑیوں کی طرح جہنم کا ایندھن نہ بن جا ئوں ''۔(۳)

____________________

۱۔الاتحاف بحب الاشراف، صفحہ ۸۶۔

۲۔سورئہ مومنون ،آیت ۱۱۵۔

۳۔دائرة المعارف بستانی، جلد ۷،صفحہ ۴۵۔جوہرة الکلام فی مد ح السادة الاعلام ،صفحہ ۱۵۵۔


کیا تم نے امام سے کمسنی کے عالم میں اس ایمان کے منفعل ہونے کا مشاہدہ کیا یہ آپ کی ذات اور اقدارمیںسے ہے ؟

آپ اپنے پدر بزگوار کے ساتھ

امام حسن عسکری علیہ السلام زکی ابو محمد ہمیشہ اپنے والد بزرگوار کے ساتھ رہے ،اور سفر و حضر میں اُن سے بالکل جدا نہیں ہوئے ،اورامام علی نقی اپنے فرزند ارجمند کے سلسلہ میں یوں فرماتے ہیں :

''ابو محمد ،آل محمد میں بہترین ہیں ،اُن کی حجت قابل وثوق ہے ،یہ میرے بڑے فرزند ہیں اور میرے جا نشین ہیں امامت ان کی جانب منتقل ہو گی ''۔(۱)

یہ کلمات بہترین صفات کے ترجمان ہیں چنانچہ آپ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں بہترین طبیعت کے مالک ہیں آپ کی حجت قابل وثوق ہے ۔

آپ ہی پر خلافت اور امامت کی انتہا ہو ئی ،اور آپ میں یہ تمام فضائل و کمالات موجود تھے۔

آپ کی عبادت

امام حسن عسکری اپنے زمانہ کے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عبادت کیا کر تے تھے ،ان میں سب سے زیادہ توبہ اور اللہ کی اطاعت کر تے تھے ،آپ زیادہ تر روزہ رکھتے ،رات میں میں نمازیں پڑھتے قرآن مجید کی تلاوت کرتے اور دعا پڑھتے ۔

محمد شا کری کا کہنا ہے :امام ابو محمد محراب میں سجدہ ریز تھے جبکہ میں خواب و بیداری کے عالم میں تھا(۲) آپ کی روح خدا سے لو لگائے تھی ،آپ کو دنیا کی کسی چیز سے کو ئی سر وکار نہیں تھا ،آپ کی قنوت میںپڑھی جانے والی دعا ئیں اس بات پر دلالت کر تی ہیں کہ امام خدا کی بارگاہ میں توبہ کیا کرتے تھے ،اسی طرح نماز کے بعد پڑھی جانے والی دعائیں بھی آپ سے نقل ہو ئی ہیں جن کا تذکرہ ہم نے اپنی کتاب''حیاةالامام حسن عسکری '' میں کیا ہے ۔

____________________

۱۔اعیان الشیعہ ،جلد ۴،صفحہ ۲۹۵،تیسرا حصہ ۔

۲۔حیاةالامام حسن عسکری ،صفحہ ۴۰۔


حلم

آپ لوگوں میں سب سے زیادہ حلیم اور غصہ پی جانے والے تھے ،عباسی حکومت نے آپ کو قید خانہ میں ڈال دیا آپ اتنے صابر تھے کہ ذرا سا بھی شکوہ زبان پر نہ لائے ،اور کسی ایک سے بھی قید خانہ کی سختیوں اور مشکلات کی شکایت نہیں فرما ئی ۔

کرم

امام ابو محمد (حسن عسکری)لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ،آپ غریبوں پر بہت زیادہ احسان کیا کرتے تھے ،آپ کا اپنے معین کردہ حقوق شرعیہ وصول کرنے والوں سے فقیروں ،محروموں اصلاح ذات البین اور اُن کے علاوہ(۱) لوگوں کو فائدہ پہنچانے والوں پر انفاق کا معاہدہ تھا ۔آپ کے فیض کرم کے متعلق مورخین نے محمد بن علی بن ابراہیم بن امام مو سیٰ بن جعفر سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں : ہمارا زندگی بسر کرنا دشوار ہو گیا تو میرے والد نے کہا چلو ہم اس شخص ''یعنی ابو محمد ''کے پاس چلتے ہیں جن کی ہم نے بہت زیادہ تعریفیں سنی ہیں ،میں نے اُن سے عرض کیا :کیا آپ انھیں پہچانتے ہیں ؟میرے والد صاحب نے کہا : نہیں پہچانتا اور نہ ہی میں نے آج تک اُن کو دیکھا ہے اُن کا کہنا ہے:ہم چل پڑے ،راستہ میں میرے والد نے کہا :ہم کو پانچ سو درہم کی ضرورت ہے دوسو درہم لباس وغیرہ کیلئے ،دوسو درہم آٹا اور خورد و نوش کیلئے ،اور سو درہم اور دوسرے مخارج کیلئے ۔میں نے اپنے دل میں کہا :کاش امام مجھے تین سو درہم عنایت فر ما دیں ،میں سو درہم سے اپنی سواری خریدوں گا ، سو درہم خرچ کروں گا اور سو درہم سے لباس وغیرہ مہیاکروں گا۔جب ہم پہاڑ سے گذر کر امام کے دروازے پر پہنچے تو گھر سے ایک بچہ نے نکل کر کہا :علی بن ابراہیم اور اُن کے بیٹے کو اندر بلا لو جب ہم نے اندر جا کر سلام کیا تو اُس بچہ نے میرے والد سے کہا : ''اے علی! تم نے اتنی دیر کیوں لگا ئی ؟''

اے میرے سید و آقا میں آپ سے ملاقات کرنے میں شرم محسوس کر رہاتھا ۔

____________________

۱۔حیاةالامام حسن عسکری ، صفحہ ۴۰۔


امام میرے اور میرے بیٹے کے پاس کچھ دیر ٹھہرے اور پھر ہم دونوں کو خدا حافظ کہہ کر چلے گئے ، کچھ دیر کے بعد امام کا غلام آیا اُس نے علی بن ابراہیم کو پانچ سو درہم کی تھیلی دیتے ہوئے کہا :دو سو درہم لباس ،دو سو درہم آٹا وغیرہ اور سو درہم خرچ کے لئے ہیں ،اورمجھ کو تین سو درہم کی تھیلی دیتے ہوئے کہا : سودرہم سواری ،سو درہم لباس اور سو درہم خرچ کے لئے ہیں ۔اور اب پہاڑ کی طرف سے نہ جانا ،محمد نے امام

کے حکم کے مطابق سوراء کی طرف سے راستہ طے کیا اور اس کے تمام امور اچھے طریقے سے انجام پا ئے ،اور اس کا دولت مندوں میں شمار ہونے لگا ۔(۱)

مورّخین نے مشکلات اور سختیوں میں زندگی گذار نے والے اور محرومین کے ساتھ آپ کی سخاوت اور احسانات کے متعدد واقعات نقل کئے ہیں ۔

علم

محققین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام حسن عسکری اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ اعلم اور افضل تھے ،آپ صرف احکام شریعت اور احکام دین ہی میں سب سے زیادہ اعلم اور افضل نہیں تھے بلکہ تمام علوم و معارف میں سب سے زیادہ افضل اور اعلم تھے ۔

عیسائی ڈاکٹر بختیشوع نے اپنے شاگرد سے امام کے متعلق کہا ہے : وہ ہمارے درمیان آج سب سے زیادہ اعلم ہیں ''۔(۲)

اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ اعلم ہیں ،آپ علوم پر اس طرح مسلّط ہیں جتنا کوئی اور نہیں ہو سکتا اور یہ شیعوں کا نظریہ ہے کہ ائمہ اہل بیت کو خداوند عالم نے علوم کی تمام اقسام کا علم عطا کیا ہے ۔

بلند اخلاق یا کریمانہ اخلاق

امام حسن عسکری کے بلند و بالا اخلاق اور آداب ،اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشا نی تھے ، آپ

____________________

۱۔کشف الغمہ ،جلد ۳،صفحہ ۳۰۰۔

۲۔حیاةالامام حسن عسکری ،صفحہ ۳۸۔


دوست اور دشمن سے خو ش روئی سے پیش آتے ،امام کے مکارم اخلاق آپ کے دشمن اور کینہ و حسد کرنے والوں پر ایسے اثر انداز ہوتے کہ ان کے بغض و دشمنی کو آپ سے محبت میں بدل دیتے ، آپ کے اخلاق سے علی بن اوتانش بہت متأثر ہوا حالانکہ وہ آل نبی کا سخت دشمن تھا مگر اب جب بھی وہ امام سے ملتا تو اپنا منھ پھرالیتا آپ کی جلالت و تعظیم و بزرگی کی وجہ سے وہ اپنی نظریں اوپر نہیں اٹھاتا تھا اور لوگوں کے درمیان امام کے سلسلہ میں اچھی باتیں کیا کرتا تھا ۔(۱)

امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے بلند و بالا اخلاق میں رسالت ِ اسلامیہ کی ایک خوشبو تھے اور رسول اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ثمرات میں سے ایک میوہ تھے ۔(۲)

____________________

۱۔کشف الغمہ ،جلد ۳،صفحہ ۲۔

۲۔حیاةالامام حسن عسکری ، صفحہ ۴۲۔


آپ کے زرّین اقوال

امام حسن عسکری علیہ السلام سے کچھ احا دیث نقل ہو ئی ہیں جو مو عظہ ،ارشاد اور تہذیب نفس پر دلالت کر تی ہیں جیسے بلند ارزش وغیرہ ۔ہم ذیل میں امام سے منقول بعض روایات نقل کر رہے ہیں :

۱۔امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرمان ہے :''بیشک تمہاری زند گی کم ہو رہی ہے ،تمہاری زندگی کے دن گِنے چُنے ہیں ،او ر تم کو اچانک موت آجا ئے گی ،جو نیکی کا بیج بوئے گا وہ اچھا کاٹے گا ،جو شر بوئے گا اس کو ندامت ہو گی ،ہر کاشت کرنے والا وہی کا ٹے گا جو بوئے گا ،سستی کرنے والے کوکیامل سکتاہے ،جو حصہ حریص کی قسمت میں نہیں ہے وہ اس کو حا صل نہیں کر سکتا ،جس کو کو ئی خیر ملے گویا اس کو خدا نے عطا کیا ہے اور جو کسی شر سے محفو ظ ہو گیا اس کو خدا نے محفوظ رکھا ہے ''۔(۳)

۲۔ امام حسن عسکری کا فرمان ہے :'' محتاط ترین انسان وہ ہے جو مشتبہ مقامات پر رُک جائے ،بہترین عبادت گذار وہ ہے جو فرائض ادا کر تا رہے ،بہترین متقی و زاہد وہ ہے جو مطلقاً گناہ کرنا چھوڑ دے ''۔(۴)

____________________

۳۔تحف العقول ،صفحہ ۵۱۹۔

۴۔تحف العقول ،صفحہ ۵۱۹۔


۳۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کا فرمان ہے :''اللہ تک رسا ئی کے سفر کو شب بیداری کئے بغیر طے

نہیں کیا جا سکتا ''۔(۱)

۴۔''ہمارے ساتھ رہ کر فقیر رہناہمارے دشمن کے ساتھ امیر رہنے سے بہتر ہے ''۔(۲)

۵۔بچہ کا کمسنی میں اپنے باپ پر جرأت کر نا جوا نی میں عاق ہونے کی دعوت دینا ہے ''۔(۳)

۶۔''بہت زیادہ روزے اور نماز ادا کر نا ہی عبادت نہیں ہے بلکہ اللہ کے امر کے بارے میں زیادہ غور و فکر کرنا بھی عبادت ہے ''۔(۴)

امامت کے دلائل

اللہ نے انبیاء اور اوصیاء کو معجزے عطا کئے ہیں جن کی مثال لانے سے انسان عاجز ہے ،تاکہ یہ معجزے انبیاء اور اوصیاء کے اللہ کی طرف سے ہدایت اور خیر لانے کی شہادت دیں ۔۔۔امت کی طرف آنے والے انبیاء اور اوصیاء لوگوں کے دلوں میں مخفی امور سے واقف ہوتے ہیں جیسا کہ وہ عنقریب واقع ہونے والے واقعات سے بھی آگاہ ہوتے تھے ،خداوند عالم نے ائمہ ہدیٰ کو یہ چیز عطا کی ہے ۔اُن میں سے ہر ایک کی زند گی میں یہ چیز دیکھنے کو ملتی ہے کہ وہ واقعات کے رونما ہونے سے پہلے اُن کی خبر دیدیا کر تے تھے ،ہم ان امورکے سلسلہ میں امام حسن عسکری سے منقول واقعات نقل کر رہے ہیں جن کی آپ نے خبر دی ہے :

۱۔اسماعیل بن محمد عباسی سے روایت ہے :میں نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے ایک ضرورت کی شکایت کی اور قسم کھا کر کہا کہ میرے پاس ایک بھی دینار نہیں ہے ،امام نے مجھ سے فرمایا : تم خدا کی جھوٹی قسم کیوں کھا رہے ہو حالانکہ تمہارے گھر میں دوسو دینار مدفون ہیں ؟لیکن میرا یہ قول تجھ کو عطاکرنے سے نہیں رو ک سکتا ۔اے غلام تمہارے پاس کتنے دینار ہیں ؟پھر آپ نے مجھے سو دینار عطا فرمائے ۔

پھر مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا :''تم نے وقتِ ضرورت استفادہ کے لئے دینار مخفی کئے تھے ''۔

____________________

۱۔حیاةالامام حسن عسکری علیہ السلام ،صفحہ ۹۹۔

۲۔بحار الانوار ،جلد ۵،صفحہ ۲۹۹۔

۳۔ حیاةالامام حسن عسکری علیہ السلام ،صفحہ ۹۸۔

۴۔تحف العقول، صفحہ ۵۱۸۔


اُس نے کہا :میں نے پریشا ن ہو کر انھیں ڈھونڈھا تو وہ مجھے نہیں مل سکے چونکہ میرے ایک فرزند کو

اس جگہ کا پتہ چل گیا تھا لہٰذا وہ انھیں چو ری کرکے فرار ہو گیا ''۔(۱)

۲۔ابو ہاشم سے روایت ہے :میں قید خانہ میں تھا تو میں نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے قید خانہ کی سختیوں کی شکایت کی امام نے تحریر فرمایا کہ تم آج ظہر کی نماز اپنے گھر ادا کروگے ،چنانچہ ایسا ہی ہوا اور میںقید خانہ سے آزاد ہوا اور میں نے ظہر کی نماز اپنے گھر ادا کی ''۔(۲)

۳۔ابو ہاشم سے روایت ہے کہ میں نے امام حسن عسکری کو یہ فرماتے سنا ہے : ''بیشک جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو معروف کہا جاتا ہے اور اس میں اہل معروف(نیکی کرنے والوں) کے علاوہ کو ئی اور داخل نہیں ہو گا ، میں نے دل ہی دل میں خدا کی حمد و ثنا کی اور لوگوں کی حاجتیں پوری کرنے میں جو تکلیفیں اٹھائی تھیں اُن پر خوش ہوا ۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے مجھ پر نظر ڈالی اور جو کچھ میرے دل میں تھا اُس کے متعلق فرمایا :تم نے یہ بات جان لی ہے کہ جو کچھ تم نے انجام دیا ہے ،بیشک اس دنیا میں اہل معروف ہی آخرت میں اہل معروف ہیں ،اے ابو ہاشم! خدا تم کو اُن ہی لوگوں میں سے قرار دے اور تجھ پر رحم کرے ''۔(۳)

۴۔محمد بن حمزہ دوری سے روایت ہے کہ :میں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت با برکت میں تحریر کیا کہ آپ خدا سے میرے مالدار ہونے کی دعا فر ما دیجئے ،تو امام نے جواب میں تحریر فرمایا :میں تمھیں بشارت دیتا ہوں کہ خدا تمھیں مالدار بنا دے گا ،تمہارے چچا زاد بھا ئی یحییٰ بن حمزہ کا انتقال ہو گیا ہے اُ س نے اپنے بعد ایک ہزار درہم چھوڑے ہیں اور تیرے علاوہ اور کو ئی وارث بھی نہیں ہے ، یہ عنقریب تمھیں مل جا ئیں گے لہٰذا تم خدا کا شکر ادا کرو میانہ روی سے کا م لینا اوراسراف نہ کر نا ۔۔۔''۔

کچھ مدت گذر جانے کے بعد میرے پاس مال اور چچا زا د بھا ئی کے مرنے کی خبر پہنچی جس سے میرا فقر دور ہو گیا ،میں نے حق اللہ اداکیا اور اسراف نہیں کیا ۔(۴)

____________________

۱۔نور الابصار ،صفحہ ۱۵۳۔

۲۔اعلام الوریٰ، صفحہ ۳۷۲۔

۳۔نورالابصار ،صفحہ ۲۵۲۔

۴۔نور الابصار ،صفحہ ۱۵۲۔


۵۔محمد بن حسن بن میمون سے روایت ہے :میں نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں

فقر و تنگدستی کی شکایت تحریر کی اس کے بعد اپنے دل میں کہا :کیا ابو عبداللہ نے نہیں فرمایا ہے کہ :ہمارے ساتھ فقر میں رہنا ہمارے دشمن کے ساتھ ثروت کے ساتھ رہنے سے بہتر ہے ''۔

امام نے جواب میں تحریر فرمایا :''خدا وند عالم ہمارے دوستوں کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے اور اسی طرح جس طرح تمہارا نفس بتا تا ہے ہمارے ساتھ رہ کر غریب رہنا دشمنوں کے ساتھ رہ کر امیر رہنے سے بہتر ہے، ہم اس کے لئے پناہ گاہ ہیں جو ہماری پناہ گاہ میں آنا چا ہتا ہے ،جو ہمارے لئے بصیرت حا صل کرنا چاہے اس کے لئے نور ہیں جو ہم کو دوست رکھتا ہے وہ آخرت میں ہمارے ساتھ ہوگا اورجو ہم سے منحرف ہو جاتا ہے وہ جہنم میں جا ئے گا ''۔(۱)

۶۔ابو ہاشم سے روایت ہے : میں امام حسن عسکری کی خدمت با برکت میں آپ سے نگینہ کے بارے میں سوال کر نے کی غرض سے حاضر ہوا تاکہ اس کی انگوٹھی بنا کر پہن سکوں ، میں آپ کے پاس بیٹھ گیا اور جس کام کے لئے آیا تھا وہ بھول گیا جب امام سے رخصت ہو کر چلنے لگا تو آپ نے مجھے انگو ٹھی عطا کی اور مسکراتے ہوئے فرمایا :''تو نے نگینہ چاہاتھا لیکن ہم نے تجھے انگوٹھی دیدی ہے، میں نے اُن سے ایسے نگینہ کے بارے میں سوال کرنا چاہا جس سے برکت کیلئے انگو ٹھی بنانا چا ہا تھا ،خدا تجھے اس کے ذریعہ برکت دے''، مجھے بہت تعجب ہوا اور میں نے عرض کیا :اے میرے سید و سردار!بیشک آپ اللہ کے ولی اور میرے امام ہیں جن کے ذریعہ میں خدا کا فضل و کرم حاصل کرتا ہوں،آپ نے فرمایا :''اے ابو ہاشم !خدا تم کو معاف کرے ''۔(۲)

یہ وہ چند واقعات تھے جن کی امام حسن عسکری نے خبر دی تھی جو امامت کی دلیلیں ہیں ،یہ بات شایانِ ذکر ہے کہ تمام ائمہ اہل بیت نفوس پر عارض ہونے والے اور دلوں میں پوشیدہ باتوں سے واقف ہوتے ہیں ،اس سلسلہ میں اخبار نقل کی گئی ہیں اللہ نے اِ ن کو ائمہ کی امامت کی دلیل قرار دیا ہے جس طرح اُس نے انبیاء اور رسولوں کو معجزے عطا کئے ہیں جن کا مثل لانے سے انسان عاجز ہیں ائمہ کے متعلق شیعوں کا یہی عقیدہ ہے اِس میں کو ئی غلو نہیں ہے اور نہ ہی دائرہ ٔ منطق سے باہر کو ئی بات ہے ۔

____________________

۱۔مناقب آل ابی طالب، جلد ۴، صفحہ ۴۳۵۔

۲۔اعلام الوریٰ ،صفحہ ۳۷۵۔مناقب جلد ۴، صفحہ ۴۳۷۔


امام حسن عسکری علیہ السلام کا علی بن الحسین فقیہ کے نام خط

امام نے فقیہ ،عالم جلیل ابو الحسن علی بن الحسین بن مو سیٰ بن بابویہ قمی شیعوں کے عظیم الشان عالم ، علم حدیث ،علم فقہ اور دوسرے تمام اسلامی علوم میں متبحر کو ایک خط تحریر فر مایا جس میں بسم اللہ کے بعد یوں تحریرہے :'' تما م تعریفیں اس خدا کے لئے ہیں جو عالمین کا رب ہے ،عاقبت متقین کیلئے ہے ،جنت موحدین کیلئے ہے ،ظالمین کے علاوہ کو ئی دشمن نہیں ہے ،احسن الخالقین اللہ کے علاوہ کو ئی خدا نہیں ہے ،اور درود وسلام ہو سب سے افضل مخلوق محمد اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی طیبہ و طاہرہ عترت پر ۔

اما بعد :

میں تمہیں وصیت کر تاہوں ۔اے میرے قابل احترام ،قابل اعتماد اور فقیہ ابو الحسن علی بن الحسین علی بن بابویہ قمی خدا تم کو اپنی مرضی کے مطابق کامیاب و کامران فرمائے ،اپنی رحمت اور تقویٰ کے ذریعہ تمہارے صلب میں نیک اولاد قرار دے۔نماز قائم کرو ،زکات ادا کرو ،اپنے گناہوںسے استغفار کرو ،غصہ کو پی جائو ،صلہ ٔ رحم کرو ،برادران کے ساتھ مو اسات کرو اور ان کی پریشانیوں میں حاجتیں پوری کرنے کی کو شش کرو ،ان کی جہالت و نا دانی کے مو قع پر بردبار بنو،دین میں تدبر کرو،اپنے امور میں ثابت قدم رہو ،قرآن کیلئے ان سے معاہدہ کرو ،حُسنِ خُلق سے پیش آئو ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو ،اللہ عزّ و جلّ فرماتا ہے :( لاَخَیْرَ فِی کَثِیرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ ِالاَّ مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ َوْ مَعْرُوفٍ َوْ ِإصْلاَحٍ بَیْنَ النَّاس ) (۱) ،''ان لوگوں کی اکثر راز کی باتوں میںکوئی خیر نہیں ہے مگر وہ شخص جو کسی صدقہ، کار خیر یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا حکم دے '' تمام برائیوں سے اجتناب کرو ،تم پر نماز شب پڑھنا واجب ہے کیونکہ رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے حضرت علی کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا ہے :اے علی تم پر نماز شب پڑھناواجب ہے (اس جملہ کی آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے تین مرتبہ تکرار فرمائی)اور نماز شب کو سبک شمار کرنے والا ہم میں سے نہیں ہے ،میری وصیت پر عمل کرو، میرے شیعوں کو اس کا حکم دو یہاں تک کہ وہ اس پر عمل کرنے لگیں ،تم پر صبر اور انتظار فرج کرنا واجب ہے ،کیونکہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان ہے :میری امت کا سب سے افضل عمل انتظار فرج ہے ، شیعہ ہمیشہ

____________________

۱۔سورئہ نساء ، آیت ۱۱۴۔


حزن و الم میں رہیں گے یہاں تک کہ میرا وہ فرزند ظہور کرے جو زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی ، اے میرے قابل احترام صبر کرو اور شیعوں کو صبر کرنے کامیرا حکم پہنچائو خداوند عالم کا فرمان ہے: ( إنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ یُورِثُهَا مَنْ یَشَائُ مِنْ عِبَادِهِ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ ) ،(۱) ''زمین خدا کے لئے ہے وہ اپنے بندوں میں جس کو چاہتا ہے وارث بناتاہے اور انجام کار بہر حال صاحبانِ تقویٰ کے لئے ہے ''ہمارے لئے اللہ کافی ہے وہ سب سے اچھا کار فرما ہے ،وہ سب سے اچھا مولیٰ اور سب سے اچھا مددگار ہے ''۔(۲)

اس خط سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ ہوتے ہیں :

۱۔ امام نے فقیہ معظم علی بن الحسین کے بلند مقام کی طرف اشارہ فرمایاکہ امام نے اُس کو اُن کریم صفات سے متصف فرمایا ہے جو امام کے نزدیک ان کی عظیم شان و منزلت پر دلالت کر تی ہیں ، علماء رجال اور مورخین سے روایت ہے کہ آپ بزرگ فقہاء میں سے تھے ،آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی جانب رہنما ئی کر نے والوں میں سے تھے ،امور دین کے سلسلہ میں بہت ہی غیور ،ملحدین کی بنیادوں کو نیست و نابود کردینے والے ، ارکانِ شریعت میں سے تھے ،آپ اتنے مؤثق اور بلند مقام و منزلت کے حامل تھے کہ فقہائے امامیہ آپ سے فتاوے اخذ کرتے اور جب نصوص و روایات میں اختلاف ہوتا تھا اُن ہی پر اعتماد کرتے تھے جیسا کہ اسی مطلب کا شہیداول نے کتاب ''الذکریٰ ''میں اشارہ کیا ہے ۔

۲۔امام نے اس خط میں علی بن بابویہ قمی کیلئے نیک و صالح اولاد کیلئے دعا فرما ئی ہے خدانے آپ کی دعا مستجاب فر ما ئی اور آپ کو ابو جعفر محمد فرزند عطا کیا جس کالقب صدوق رکھا گیا جو امت میں فضل کے اعتبار سے علماء مسلمین کی ایک عظیم میراث ہے ،آپ نے شریعت کو زندہ کیا ،ائمہ طا ہرین کے آثار مر قوم کئے تین سو سے زیادہ کتابیں(۳) تالیف کیں جن میں آپ کی کتاب ''من لا یحضرہ الفقیہ ''سر فہرست ہے جو

____________________

۱۔سورئہ اعراف، آیت ۱۲۸۔

۲۔روضات الجنات ،جلد ۴، صفحہ ۲۷۳۔۲۷۴۔

۳۔روضات الجنات، جلد ۴ ،صفحہ ۲۷۶۔


بہت ہی بڑی کتاب ہے اور امامیہ فقہا ء کے نزدیک معتمد و معتبر کتاب ہے ۔

۳۔بیشک یہ خط امام کی باارزش وصیتیں ،مکارم اخلاق ،محاسن صفات ،صلۂ رحم ،برادران میں مواسات و برابری ،لوگوں کی حاجت روا ئی ،امور دین میںغور و فکر اوردیگر امور میں تلاش و جستجو کر نے کی رغبت دلاتاہے ۔

۴۔ امام حسن عسکری علیہ السلام نے شیعوں کو فرج اور ظہور قائم آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے انتظار کا حکم دیا ، جو مستضعفین اور محرومین کی آرزو ہیں ،جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے ،اپنی حکومت کے دوران کلمة اللہ کو بلند کریں گے اور اپنے جد امجد رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حکومت کو جا ری رکھیں گے ۔۔۔

یہ خط مندرجہ بالا مطالب پر مشتمل ہے ،امام نے اپنے معتمد شیعوں کے پاس متعدد خطوط تحریر کئے ہیں جن کو ہم نے اپنی کتاب '' حیاةالامام حسن عسکری ''میں تحریر کیا ہے ۔

امام حکّامِ عصر کے ساتھ

امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنی چھوٹی سی زند گی بڑے ہی اندوہ و غم کے ساتھ بسر کی ہے کچھ بادشاہ ہمیشہ اہل بیت سے جنگ و جدل کرنے کی کو ششوں میں لگے رہے ،اور انھوں نے اہلبیت کو طرح طرح کی سزا ئیں دیں، اُن میں سے کچھ بادشاہ مندرجہ ذیل ہیں :

۱۔متوکل

متوکل بادشاہ نے ۲۳۲ ھ میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ،اور اسی سال امام حسن عسکری کی ولادت با سعادت ہو ئی ،متوکل کے دل میں علویوں کی دشمنی کوٹ کوٹ کر بھری ہو ئی تھی ،انھوں نے متوکل کے دور میں بڑے ہی ظلم و جور میں زندگی بسر کی اور اُن پر متوکل سے پہلے ایسا زمانہ کبھی نہیں آیا تھا ہم ذیل میں اختصار کے طور پر اس کے بعض خصوصیات بیان کر رہے ہیں :

متوکل کی عیش پرستی

متوکل نے بڑی بیہودہ اور عبث زندگی بسر کی جس میں ذرا بھی جد و جہد نہیں تھی ،اس کی زندگی لہوولعب اور شوخیوں سے پُر تھی ،مو رّخین کا کہنا ہے :متوکل سے پہلے بنی عباس کا کو ئی بادشاہ ایسا نہیں گزرا جس کی مجلس میں متوکل کی مجلس کی طرح لہو و لعب ،ہنسی مذاق اور شوخی کا اظہار ہوا ہو۔

اس کی حقیر اور پست زندگی کی عجیب و غریب باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اُس نے ابوعنبس سے کہا :تم مجھے اپنے گدھے اور اس کے مرنے کے بارے میں بتائو اور وہ خواب بھی سنائو جو تم نے اس کے سلسلہ میں دیکھا ہے۔ اس نے کہا :ہاں اے بادشاہ !میں قاضیوں میں سب سے عقل مند تھا اس کا نہ کو ئی گناہ تھا


اور نہ لغزش ،ایک مرتبہ اچانک مریض ہوا اور مر گیا ،میں نے اس میں سونے والے کے صفات دیکھے تو اس سے کہا : کیا میں تیرے لئے ٹھنڈا پانی اور جَوکی شراب لائوں،اور دوسرے امور انجام دوں تم اچانک کیسے مر گئے ؟ اور تمہارے پاس کیا کو ئی خبر ہے ؟اس نے کہا : ہاں ۔میں ایک دن جب فلاں فارمیسی کے پاس کھڑا تھا تو وہاں سے ایک خوبصورت گدھی گذری اس نے مجھ سے عاشقانہ باتیں کیں جس سے وہ میرے دل میں اُترتی گئی ، میں اس پر عاشق ہوگیا، مجھ پر وجد طاری ہوگیااور مجھے اسی کے حزن و الم میں مو ت آئی ہے ، میں نے اس سے کہا :اے میرے گدھے کیا تم نے اس سلسلہ میں اشعار بھی کہے ہیں ؟ اس نے کہا :ہاں تو اس نے میرے لئے یہ اشعار پڑھے :

هامَ قلبی بِأتان

عند باب الصیدلان

تَیَّمَتنِ یومَ رُحنا

بِثنایاهاالحِسانِ

وَبِخَدَّیْنِ اَسِیْلَیْنِ

کَلونِ الشَّنُقَران

فَبِهَا مُتُّ وَلَوْ عِشْت

اِذاً طَالَ هَوَانِْ

''دواخانہ کے پاس میرا دل گدھی پر آگیاوہ میرے دل میں اُتر گئی ۔

جس دن ہم اس کے اچھے دانتوں اور ان دو رخساروں کو لے گئے جو شنقرانی رنگ کے تھے۔

اس کے اوپر میں اپنی جان دے بیٹھااگر میں جان نہ دیتا تو میرے عشق میں اضافہ ہی ہوتا''

میں نے کہا :شنقرانی کیا ہے ؟ اس نے کہا:یہ عجیب وغریب گدھی ہے ۔متوکل خوشی سے جھوم اٹھااس نے گانے والیوں کو گدھے کے اشعار گانے کا حکم دیااور وہ اس دن اتنا زیادہ خوش ہوا کہ اس سے پہلے کبھی اتنا خوش نہیں ہوا تھااور اس نے ابو عنبس کو اور زیادہ انعام دیا۔(۱)

____________________

۱۔مروج الذہب ،جلد ۴،صفحہ ۴۳۔


زمانے پر وائے ہو !کیا اس طرح کے حقیر اور پست انسان مسلمانوں کے والی اور حاکم ہوسکتے ہیںاور ابو محمد حسن عسکری کو حاکمیت سے دور کر دیا جائے ؟

متوکل لذتوں اور ہنسی مذاق(۱) میں منہمک تھا اس کے گانے بجانے والے دو ایسے غلام تھے جو کبھی بھی اس سے الگ نہیں ہوتے تھے ،ان میں سے ایک اس کے لئے سا رنگی بجاتا تھا اور دوسرا مزمار بانسوری بجاتا تھا اور وہ سا رنگی اور بانسری کو سننے کے بعد ہی شراب پیتا تھا ۔(۲)

متوکل کی پانچ ہزار کنیزیں تھیں ۔کہا جاتا ہے :اس نے سب کے ساتھ جماع کیا تھا ۔ متوکل کے بعض حوالی و موالیوں کا کہنا ہے :میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ متوکل کثرت جماع کی وجہ سے ہی قتل کیاگیا۔(۳)

متوکل کے حوالی موالی خوبصورت کنیزوں اور شرابوں کو پیش کرکے اس سے قربت کر تے تھے ،فتح بن خاقان نے اس کو ایک خو بصورت کنیز ہدیہ میں دی ،اور دو سونے کے جام پیش کئے ،اور ایک صراحی بھی دی جس میں ایسی شراب تھی جو اُس سے پہلے کبھی دیکھی ہی نہیں گئی تھی ،اور یہ ہدیہ اس کو اس کے بیماری سے صحتیاب ہونے کے بعد دیا گیا اور اس ہدیہ کے ساتھ ایک ورقہ دیا گیا جس میں مندرجہ ذیل اشعار تحریر تھے:

اِذَا خَرَجَ الاِمَامُ مِنَ الدَّوَائِ

وَاُعْقِبَ بِالسَّلَامَةِ وَالشَّفَائِ

فَلَیْسَ لَهُ دَوَائُ غَیْرُ شِرْبٍ

بِهٰذَالْجَامِ مِنْ هٰذَالطَّلَائِ

وَفَصِّ الْخَاتَمِ الْمُهْدیٰ اِلَیْهِ

فَهٰذَا صَالِحُ بَعْدَ الدَّوَائِ

''امام جب دواء سے خارج ہو جا ئے اور صحت یاب ہوجائے تو اس کی سونے کے جام میں شراب پینے کے علاوہ اور کو ئی دواء نہیں ہے ،اور دوا کے بعداس کو تحفہ میں انگوٹھی کے نگینے پیش کرنابہت اچھا ہے ''۔متوکل وجد میں آگیا اس نے اس کی بہت تعریف کی ،اس وقت متوکل کے پاس اُ س کا خاص طبیب یوحنا بن ما سویہ حاضر تھا، تو اس نے اس سے کہا :خد ا کی قسم یہ کا میابی میری طبابت کی وجہ سے ہو ئی ہے۔

____________________

۱۔بین الخلفاء والخلعاء فی العصر العباسی، صفحہ ۱۱۵۔۲۔ثمار القلوب، صفحہ ۱۲۳۔۳۔مرآة الزمان، جلد ۶،صفحہ ۶۹۔


جو اشارہ بتایا گیا ہے اس کی مخالفت نہ کرنا ۔(۱)

ہم نے متوکل کے شوخی اور دیوا نگی کے متعلق بہت زیادہ واقعات اپنی کتاب ''حیاةالامام حسن عسکری '' میں بیان کرچکے ہیں جو کو ئی مطلع ہونا چا ہتا ہے وہ اس کا مطالعہ کرے ۔

کھلم کھلا گناہ کرنا

متوکل متجاہر بالفسق تھایعنی وہ علی الاعلان گنا ہ کر تا تھا ،لوگوں سے کچھ شرم و حیا نہیں کرتا تھا ، قاضی احمد بن دائود نے اس سے داخل ہونے کی اجازت ما نگی تو متوکل شطرنج کھیل رہا تھا ،احمد بن خاقان نے اس کو اٹھانے کا ارادہ کیا تو متوکل نے اس کو منع کرتے ہوئے کہا :ہم اللہ سے کو ئی چیز نہیں چھپا سکتے تو بندوں سے کیا چھپائیں ۔(۲)

اس پر خواہشات نفسانی اتنے غالب آگئے تھے کہ اس کے ندماء اس کے سامنے شطرنج(۳) کھیلتے رہتے تھے اور وہ اُن کو منع نہیں کرتا تھا ،ان ہی خواہشات نفسانی کے غلبہ کی وجہ سے اس نے اپنی زوجہ ربطہ بنت الغیس سے کہا کہ وہ اپنا پردہ کھول دے اور غلمانوںکی طرح بال گوندھ لے اس نے انکار کیاتو متوکل نے فوراً اس کو طلاق دیدی۔(۴) وہ نہ اللہ سے وقار کی امیدرکھتاتھااورنہ ہی شعائر اسلامی کا پاس ولحاظ رکھتا تھا ۔

علویوں کے ساتھ

متوکل ذاتی طور پر علوی سادات سے بہت زیادہ بغض وعنادرکھتاتھا،اس نے ان پر ظلم وستم اوران کا قتل وغارت کرنے میںکوئی کسرباقی نہیںرکھی،ان پراقتصادی پابندیاںلگادیں،ان کے ساتھ نیکی اوراحسان کرنے سے بالکل منع کردیا،اورجب کسی سے ان کے ساتھ احسان کرنے کوسن لیتا تھا تو اس کو سخت سزادیتااوربہت سخت زیادہ ٹیکس لگادیتا(۵) مسلمین اس سرکش کی سزا کے خوف سے علویوں کے ساتھ صلہ

____________________

۱۔دائرہ ٔ معارف بیسویں صدی ہجری ،جلد ۱۰،صفحہ ۹۶۴۔

۲۔زہر الآداب، جلد ۴، صفحہ ۳۔

۳۔بین الخلفاء والخلعاء ،صفحہ ۱۰۸۔

۴۔مرآة الزمان، جلد ۶صفحہ ۱۶۹۔

۵۔مقاتل الطالبین، صفحہ ۵۷۹۔


رحم کرنے سے منع کردیتے تھے ۔

اس نے علویوں پر دنیااتنی تنگ کردی تھی کہ وہ فقروفاقہ میںزندگی بسرکرنے لگے تھے اور اتنی غربت آگئی تھی کہ ان کے پاس ایک قمیص ہوتی تھی وہ یکے بعددیگرے اسی قمیص کوپہن کر نماز پڑھتے تھے اس پرپیوندلگاتے اورپھراسی کمی کی حالت میںبرہنہ بیٹھے رہتے ،(۱) حالانکہ متوکل سرکش اپنی سرخ راتوں میں سونے کے لاکھوںدینارخرچ کردیتاتھا،وہ گانابجانے والوں،مخنثوں اور ہنسی مذاق کرنے والوںپر بے حساب مال ودولت خرچ کرتا تھااورخاندان رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوایک لقمہ روٹی سے محروم کر رکھاتھا۔

متوکل کی امام امیرالمومنین سے عداوت

متوکل ،دنیائے اسلام میں حق وعدالت کا پرچم بلندکرنے والے حضرت علی سے سخت بغض وعداوت رکھتاتھا،یہ فاسق وفاجر طاغوت امام کامنکرتھا،اس نے اپنی خاطر ناچنے کیلئے اپنے بندروں اور حوالی موالیوںمیںسے ایک مخنث کا انتخاب کررکھاتھا،جو خود کو رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اللہ کے نفس اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے شہر علم کے دروزاے امیر المومنین سے تشبیہ دیتاتھااوراس اداکواس کے بیٹے منتصرنے ہی متوکل کوقتل کیااوراس کی تجہیزوتکفین کی۔

متوکل کے ذریعہ امام حسین کے مرقدمطہرکاانہدام

متوکل کاسب سے بڑاجرم جوانان جنت کے سردار امام حسین کے مرقدمطہرکامنہدم کرنا تھا ، حالانکہ یہ(اس عظیم مرقدکاتمام مسلمان احترام کرتے ہیں)عظیم مرقدتمام مسلمانوںکے نزدیک محترم ہے ۔ امام کے مرقدمطہرپرمختلف ممالک کے زائرین کااژدھام رہتاہے جبکہ بنی عباس کے بادشاہوں کی قبریں زمین پرکوڑے کرکٹ کاڈھیرہیں وہ کتے اور جنگلی جانوروںکی پناہ گاہ ہیں،جوان کے ظلم وجورکی عکاسی کررہی ہیں۔

جب مسلمانوںنے امام حسین کے مرقد مطہر کومنہدم کرنے سے انکارکردیاتواس نے نجس یہودیوںکواس کومنہدم کرنے کیلئے بھیجا،اس نے سارامرقد منہدم کرکے اس پرپانی جاری کردیالیکن پانی مرقدکے اوپرنہیںگیااورچاروںطرف دائرہ کی شکل میں جمع ہوگیا،اسی وجہ سے اس کوحائرحسینی کہاجاتا ہے، ضریح مبارک سے اچھی خوشبو آنے لگی جس کے مانند لوگوںنے اس سے پہلے خوشبونہیں سونگھی تھی،بیشکیہ رسالت

____________________

۱۔مقاتل الطالبین ،صفحہ ۵۹۹۔


اسلامیہ اور شرف وکرامت کی نسیم تھی ۔جواہری کاکہنا ہے :

شمَمتُ ثراک فهبَّ النسیم-------نسیمُ الکرامة مِن بَلقع

''میں نے آپ کی تربت کوسونگھا تو نسیم معطرچلنے لگی یعنی صحرا و بیایان سے آپ کی کرامت کی معطر ہوا چلنے لگی ''۔

مسلمانوںنے متوکل کی سخت مذمت کی،مجلسوں اورجلسوںمیںاس پر سب وشتم کیا،نماز کے بعداس پربددعاکی،مکانوںکی دیواروںپراس کیلئے لعنت لکھی اوراس سلسلہ میں یہ اشعارشائع ہوگئے :

تَاللّٰهِ اِنْ کانَتْ اُمَیَّةُ قَدْ اَتَتْ--------قَتْلَ ابْنِ بِنْتِ نَبِیِّهَامَظْلُوماً

فَلَقَدْ اَتاه بَنُوْ اَبِیهِ بِمِثْلِهَا----------هٰذا لِعَمْرُکَ قَبْرُهُ مَهْدُوماً

اَسِفُوا علی اَنْ لَاْ یَکُوْنُواشَارَکُوا----------فِیْ قَتْلِهِ فَتَتَبَّعُوهُ رَمِیْماً(۱)

''خدا کی قسم بنی امیہ نے اگر اپنے نبی کے نواسہ کو مظلوم حالت میں شہید کرنے کا اقدام کیا ہے۔

تو اس کے خاندان کے دوسرے افراد نے اس سے پہلے اس جیسے کام کئے ہیںاور ان کی قبر آپ کے سامنے منہدم نظر آرہی ہے ۔

اُن کو افسوس ہوا کہ وہ نبی کے نواسہ کو شہید کرنے میں شریک نہ ہو سکے لہٰذا انھوں نے اُن کی اس وقت جستجو کی کہ جب اُن کی ہڈیاں بوسیدہ ہو چکی تھیں ''۔

زمانہ گذرتاگیا،حکومتیں فناہوگئیںلیکن سیدالشہداء کی قبرآج بھی شان وشوکت کے ساتھ باقی ہے اور امت اسلامیہ کے،فخراورعزت کی نشانی کے طورپر باقی رہے گی ،جو مسلمانوں کے دلوںکو اپنی طرف مائل کئے ہوئے ہے اورآپ کی قبرکے زائرین کی تعدادبیت اللہ الحرام کاحج کرنے والوںسے کہیںزیادہ ہے ۔

امام علی نقی کے ساتھ

ہم گذشتہ بحث میںامام علی نقی کے قیدخانہ میں نظربندکئے جانے کے متعلق اورشیعوںکومالی حقوق

نہ دئے جانے کے سلسلہ میں بیان کرچکے ہیں،اس وقت امام حسن عسکری کے عنفوان شباب کا زمانہ تھا، آپ نے وہ تمام آلام و مصائب برداشت کئے۔جن کو متوکل نے امام اوران کے شیعوںکی مخالفت میں جاری کیاتھا،یہاں تک کہ خدانے اس سرکش کے شر سے بندوںکونجات دی اورحکومت منتصرعباسی تک پہنچی،ہم عنقریب اس سلسلہ میں بیان کریںگے۔

____________________

۱۔حیاةالامام حسن عسکری ،صفحہ ۲۰۲۔


۲۔منتصر کی حکومت

منتصر نے اپنے والدکی مخالفت میںانقلاب برپاہوجانے کے بعدخودحکومت کی باگ ڈور سنبھالی جس سے عام طورپرشیعوں کو سکون ملااوروہ خوشحال ز ندگی بسرکرنے لگے،ان سے سید الشہدا کی زیارت کے سلسلہ میں ہونے والی رکاوٹیں ختم کردیں، منتصر نے علویوں کوفدک واپس کیا،اس کے علاوہ ان کے شایان شان امورانجام دئے ۔

لیکن افسوس شریف ونیک محسن کی طولانی زندگی نہ ہوسکی،اکثر مصادرومنابع میںآیاہے کہ اس کوترکیوںنے زہردے کرمارڈالااس طرح اس صفحةہستی سے اس روشن ومنور شخصیت کابھی خاتمہ ہوگیا۔

۳۔مستعین کی حکومت

مستعین نے ۵ ربیع الثانی ۲۴۸ ھ میںاتوارکے دن حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ،مورخین نے اس کی تعریف میںلکھاہے کہ وہ فضول خرچ،مال ضائع و برباد کرنے والا اورحق کامخالف تھا،وہ اپنے گذشتہ بزرگوں کی طرح ائمہ ہدیٰ سے بغض وعناد رکھتا تھا ،وہ امام حسن عسکری سے شدید بغض رکھتا تھا چونکہ وہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دلوںمیں اپنا مقام بلندکرنا چاہتاتھا،اس سرکش نے امام کو قید خانہ میںڈالنے کاحکم دیاتوامام کواوتامش کے قیدخانہ میںبندکردیاگیاوہ ناصبی تھااور اہل بیت سے علی الاعلان بغض وکینہ رکھتاتھاقیدخانہ میں امام کے ہمراہ عیسیٰ بن فتح بھی تھا امام نے اس سے فرمایا:

''اے عیسیٰ !تیری عمرساٹھ سال ایک مہینہ اوردودن ہوگئی''،عیسیٰ نے مبہوت وحیران ہوکر جب اپنی تاریخ پیدائش لکھی ہوئی کاپی میں دیکھاتوامام کی خبرکے مطابق پایا۔اسکے بعدامام نے اس سے فرمایا: ''کیاتمہارے کوئی فرزند ہے ؟''۔

عیسیٰ :نہیں۔

امام نے اس کے لئے یوں دعافرمائی :''خدایااس کوایک فرزند عطاکر جو اس کاپشت پناہ ہواور پشت پناہ فرزند کتنا اچھا ہے ''،اس کے بعد یہ شعر پڑھا:

من کان ذاعضد یذرک ظلامته

ان الذلیل الذی لیست له عضد

''جو طاقتور ہوگا وہ بدلہ لے سکے گا کیونکہ جو طاقتور نہیں ہوتا وہ رسوا ہو جاتا ہے ''۔

عیسیٰ نے عرض کیا:اے میرے مولاوآقاکیاآپ کے کوئی فرزند ہے ؟


''خداکی قسم عنقریب خدامجھے ایسا فرزند عطاکرے گاجوزمین کوعدل وانصاف سے بھردے گا لیکن ابھی کوئی فرزند نہیں ۔۔۔''۔(۱)

امام کے نظربندہوجانے سے شیعوں میںآہ و فریاد کے نعرے بلند ہونے لگے اوریہ آہ و نالہ اس وقت عروج پر پہنچاجب ان کویہ خبرملی کہ مستعین امام کوقتل کرنے کاعزم رکھتاہے ،امام نے ان سے خوف دورکرتے ہوئے ان کوبشارت دی کہ وہ عنقریب تسلیم ہوجائے گا اور ان کے لئیم وباغی دشمن کا تین دن(۲) کے بعد خاتمہ ہوجائے گا،امام کی یہ خبر صحیح واقع ہوئی ابھی تین دن تمام نہیں ہوئے تھے کہ اس کو ترکیوں نے مارڈالا۔(۳)

۴۔معتزکی حکومت

معتز،زبیربن جعفرمتوکل تھا جب اس نے اپنی عیش وآرام کی زندگی میں حکومت کی بھاگ ڈور سنبھالی تواس کو کوئی تجربہ نہیں تھا،نہ اس نے گردش ایام سے کوئی تہذیب سیکھی تھی اورنہ ہی اس کوسیاست اور حکومت کے نظم ونسق کی کوئی خبرتھی،وہ ترکیوںکے ہاتھ کا کھلوناتھاوہ جدھر چاہتے تھے اس کو موڑلیتے تھے ۔

معتز امام سے بہت زیادہ بغض وعنادرکھتا تھا ،اس نے امام کو زنزانات کے قیدخانہ میں نظر بند کردیا،امام اس کے ظلم وستم سے تنگ آگئے کیونکہ اس نے امام پر بہت زیادہ ظلم وستم کئے ،آپ نے اس کے

____________________

۱۔جوہرةالکلام، صفحہ۱۵۵۔

۲۔مہج الدعوات ،صفحہ ۲۷۳۔

۳۔غیبت مؤلف شیخ طوسی ،صفحہ۶۳۲۔


لئے بددعاکی تو خدانے آپ کی دعامستجاب فرمائی اور اس سے بہت سخت انتقام لیا،ہوا یہ کہ ترکوںکے لیڈرنے اس سے مال ودولت مانگااور اس وقت بیت المال میں کچھ نہیں تھا تو وہ اپنی ماں کے پاس گیاجس کے پاس بہت زیادہ مال ودولت تھا اس نے اپنی والدہ سے مال ودولت مانگی تو اس نے انکارکردیااوراس نے جوکچھ اس کے پاس تھا وہ سب چھپادیا۔ترکوںنے اس پردھاوابول دیااور اس کے پیرکوپکڑکر گھسیٹا ،اس کو آہنی گرز سے مارا،گرمی کے موسم میں اس کو ایک دن سخت دھوپ میں کھڑارکھااوروہ اس سے کہتے جارہے تھے :حکومت چھوڑ دو ،پھر بغداد کے قاضی اور ایک گروہ کو بلایا اور اس کو حکومت سے معزول کردیا حکومت سے معزول کرنے کے پانچ دن بعد اس کو حمام میں نہانے کیلئے بھیجا جب اس نے غسل کیا تو اس کو پیاس لگی اور انھوں نے اس کو پا نی دینے سے منع کردیاپھر اس کو برف کے ٹھنڈے پانی سے سیراب کیا اور وہیں پر مرگیا ۔(۱)

یہ بات بھی شایانِ ذکر ہے کہ اس انقلاب کی بنیاد صالح بن وصیف نے ڈالی تھی اس نے معتز کی ماں پر زبردست حملہ کرکے اس کا سارا مال لوٹ لیا اس کے پاس پانچ سو دینار تھے ،اسی طرح اس نے زمین میں بہت زیادہ خزانہ دفن کر رکھا تھا ،زمین کے اندر اس کا ایک مکان تھا جس میں ایک ملین اور تین لاکھ دینار تھے عطر دان میں ایک ہا نڈی ملی جس میں زمرد بھرے ہوئے تھے جس کے مانند کسی نے پہلے نہیں دیکھے تھے ، اسی طرح ان کو ایک اور عطر دان ملا جو بڑے بڑے لؤ لؤ سے بھرا ہوا تھا انھیں غلہ کے پیمانہ کے مانند ایک عطر دا ن ملا جو سرخ یاقوت سے پُر تھا جسکے مثل اس وقت موجود نہیں تھے ، وہ سارا مال لاد کر صالح کے پاس لایا اور اس سے کہا :میں نے قتل کرنے کیلئے پچاس ہزار دینا ر کی پیشکش کی تھی اور اس کے پاس اتنا مال موجود تھا ۔ اس برے فعل اور لوٹ مار کے بعد وہ صالح کی دعوت پر مکہ چلا گیا ۔ظالمین کاانجام یہی کھلا ہوا گھاٹاہے۔

۵۔مہتدی کی حکومت

مہتدی نے ستائیس سال کی عمر میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالی ،وہ اہل بیت کا سخت دشمن تھا ، اس کو یہ ورثہ اس کے آباء و اجداد سے ملا تھا ،جنھوں نے اس کو غصہ و غیظ و غضب کا جام پلایااور ان کو رنج و غم میں مبتلا کیا ۔

____________________

۱۔تاریخ خلفاء ،صفحہ ۳۶۔


اس سرکش و باغی نے امام کو گرفتار کرنے کیلئے ایک دستہ روانہ کیا اور اس نے امام کو گرفتار کرکے قید خانہ میں ڈال دیا ،آپ نے قید خانہ میں بڑے سخت دن گذارے ،قید خانہ میں امام کے ساتھ شیعوں کے ایک بہت بڑے مؤثق عالم دین زکی ابو ہاشم تھے، امام نے اُن سے فرمایا :''اے ابو ہاشم !یہ باغی آج کی رات میرے قتل کا ارادہ کئے ہوئے ہے حالانکہ خدا نے اس کی عمر کا ٹ لی ہے یعنی وہ ختم ہونے والی ہے ''۔(۱)

بعض شیعوں نے امام کی خدمت میں خطوط ارسال کئے جن میں یہ تحریر کیا گیا تھا کہ ہم کو اطلاع ملی ہے کہ مہتدی نے آپ کے شیعوں کو دھمکی دی ہے اور یہ کہا ہے کہ :میں ان کو جلا وطن کروں گا۔ امام نے ان کے خطوط پر توقیع فرما ئی کہ اس کی عمر ختم ہو گئی ہے اور آج سے پانچ دن کے بعد چھٹے دن اس کو بڑی ذلت و خواری کے ساتھ قتل کر دیا جا ئے گا ۔امام کی دی ہو ئی خبر صحیح واقع ہو ئی اور ترکوں نے اس کو خنجروں سے کاٹ ڈالا۔ تر کی لیڈر کا کہنا ہے کہ اس کے زخم سے شراب نکل رہی تھی اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا :میں نے مہتدی کا خون ایسا دیکھاجیسے میں آج شراب(۲) دیکھ رہا ہواس طرح امام سے دشمنی کرنے والے مہتدی کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا ۔

۶۔ معتمد کی حکومت

معتمد پچیس سال(۳) کی عمر میں خلیفہ بناوہ اپنے ماں باپ کا نافرمان بیٹا اور لہو لعب میںمشغول رہتا تھا۔اس نے رعایا کے امور انجام دینے سے چشم پوشی کر لی تھی اسی وجہ سے قبیلے اس کو بری نظر سے دیکھنے لگے تھے ۔(۴)

اس کے عہد حکومت میں امام حسن عسکری علیہ السلام کو بہت ہی زحمت و مشقت اور سختیوں کا سامنا کر نا پڑا،اُ س نے امام کو نظر بند کرنے کا حکم دیدیا اور داروغۂ زندان سے کہا کہ وہ امام کے متعلق تمام اخبار و واقعات

____________________

۱۔مہج الدعوات ،صفحہ ۲۷۴۔

۲۔مروج الذہب، جلد ۴،صفحہ ۱۲۷۔

۳۔مروج الذہب ،جلد ۴،صفحہ ۱۳۸۔

۴۔تاریخ خلفاء ،صفحہ ۳۶۳۔


واقعات اور ان کی گفتگو کی خبریں اُن تک پہنچایا کرے ، داروغہ ٔ زندان نے معتمد کو خبر دی کہ امام نے عباسی سیاست کے خلاف کو ئی بھی عمل انجام نہیں دیا ، انھوں نے تو دنیا کو خیر باد کہہ دیا ہے وہ دن میں روزہ رکھتے ہیں اور رات عبادت میں بسر کرتے ہیں ، اُس (معتمد)نے دوسری مرتبہ پھر داروغہ ٔ زندان سے امام کے سلسلہ میں معلومات حا صل کیں تو اُ س نے پہلے کی طرح خبر دی تو معتمد نے امام کو قید سے آزاد کرنے اور اُن سے عذر خوا ہی کا حکم دیا ، داروغۂ زندان نے امام کو قید سے آزاد ہونے کی خبر دینے میں جلدی سے پہنچا تو اس نے دیکھا کہ آپ وہاں سے نکلنے کے لئے اپنا لباس اور نعلین وغیرہ پہن کر آمادہ ہو گئے ہیں ،داروغہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اس نے امام کی خدمت میں معتمد کا خط پیش کیا، قید خانہ میں آپ کے ہمراہ آپ کا جعفر نام کا بھائی تھا امام اس وقت تک قید خانہ سے باہر نہیں آئے جب تک آپ نے اپنے بھا ئی جعفر کو قید خانہ سے آزاد نہیں کرالیا ۔(۱)

بہر حال امام نے اس سرکش کے دور میںبہت سخت حالا ت کا سامنا کیا آپ کو بہت سی فوجیں گھیرے رہتی تھیںجس میں آپ کو سانس لینا دو بھر ہو گیا تھا اور آپ کے شیعہ آ پ کی ملا قات سے دور ہو تے گئے۔

اما م پر قاتلانہ حملہ

عبا سی سر کش پر امام بہت گراں گذرنے لگے حا لا نکہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ آپ تقدس عظمت اور تر جیح میں تمام علویوں اور عباسیوں سے افضل تھے اور سب کے نظر یہ کے مطابق اس نے امام کی اہانت کی اور ان پر قاتلا نہ حملہ کیا آپ کو زہر ہلاہل دیا گیا(۲) جب آپ نے تناول کیاتو آپ کا سارا بدن شریف مسموم ہو گیا اور آپ بستر مر گ پر لیٹ گئے اور زہر کی شد ت سے مضطر ب ہو گئے، آپ صابر تھے لہٰذا آپ نے اپنے عام امور اللہ کی پناہ میں دیدئے ۔

معتمد نے اپنے پانچ معتبر اور مؤ ثق نوکروں کو امام کے بیت الشر ف سے خبریں لانے کے لئے معین کر دیا اسی طر ح اس نے صبح و شام امام کی دیکھ بھال کرنے کے لئے حکیموںکی ایک جماعت معین کی

____________________

۱۔مہج الدعوات، صفحہ ۲۷۴۔

۲۔الارشاد ،صفحہ ۳۸۳۔


اوران سے یہ عہدلیاکہ وہ بالکل امام کے بیت الشرف سے جدانہیںہوںگے(۱) اور یہ سب امام کے مصلح اعظم فرزند کے بارے میںمعلومات حاصل کرنے کیلئے تھاجس کی نبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے بشارت دی تھی۔

جنةالماویٰ کی طرف

امام کی حالت بگڑتی گئی اورحکیموںنے جواب دیدیا،موت آپ کے نزدیک آتی گئی ، امام ا للہ کاذکراورقرآنی آیات کی تلاوت کرنے لگے،یہاںتک کہ آپ کی عظیم روح خدا کی بارگاہ کی طرف پروازکرگئی،جس کوملائکہ رحمن نے اپنے احاطہ میںلے لیااوراللہ کے انبیاء اور رسولوںنے اس کااستقبال کیا۔

آپ کی وفات اس دورکے مسلمانوںکے لئے ایک عظیم مصیبت تھی،وہ اپنی مصلحتوںکی رعایت کرنے والے اپنے قائد،مربی اور مصلح سے محروم ہوگئی۔

تجہیزوتکفین

امام کے جسد مبارک کو غسل دیاگیا،حنوط کیاگیا اور کفن پہنایاگیا،نماز جنازہ پڑھی گئی، آپ کی نماز جنازہ آپ کے فرزندارجمندزمین پراللہ کی حجت امام منتظرنے ادافرمائی،ابوعیسیٰ بن متوکل نے امام حسن عسکری کے چہرے سے رداہٹائی اوراس کوعلویوںمیںسے بنی ہاشم،عباسیوں، لشکر کے سپہ سالار،حکومت کے نامہ نگار اداروںکے رئیس اور قاضیوںوغیرہ کودکھاکر کہا:یہ حسن بن محمد بن رضا ہیں جنھوں نے اپنے گھرمیں وفات پائی،وہاںپرامیرالمومنین کے فلاںفلاںخدام،فلاں فلاںحکیم اورفلاںفلاںقاضی موجود تھے، اس کے بعدآپ کاچہرۂ مبارک ڈھک دیاگیا۔(۲) امام حسن عسکری کومعتمدکے ذریعہ شہید کئے جانے کی جو خبر جوچاروںطرف پھیل گئی تھی یہ سارا پروپگنڈہ اس کاانکارکرنے کے لئے کیاگیاتھا۔

تشییع جنازہ

سامراء کے ہر طبقہ کے لوگوںنے امام حسن عسکری کے جنازہ میں شرکت کی حکومتی ادارے،تجارت گاہیں

____________________

۱۔ارشاد ،صفحہ۳۸۳۔

۲۔ارشاد ،صفحہ۳۸۳۔


اور تمام بازاربندکرئے گئے ،سامرامیں قیامت کامنظردکھائی دے رہاتھا۔(۱) اس وقت تک کسی کی ایسی تشیع جنازہ نہیں ہوئی تھی ،وہ سب امام کے فضائل بیان کر رہے تھے اورکچھ افراد امام کے انتقال پر ملال پر مسلمانوں کیلئے عظیم خسارہ پرحزن وغم کااظہارکر رہے تھے ۔

آخری قیام گاہ

امام کاجسم اطہرتکبیراورتعظیم کے سایہ میںآخری قیام گاہ تک لایاگیااورآپ ہی کے بیت الشرف میں آپ کے پدربزرگوارکی قبر کے پہلومیںآپ کودفن کردیاگیاآپ کے ساتھ حلم،علم اورتقویٰ اورجگرگوشۂ رسول اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کوزمین میںچھپادیا۔

یہ حضرت امام حسن عسکری کی زندگی کی مختصرتاریخ تھی اورجوشخص زیادہ اطلاع حاصل کرناچاہتا ہے وہ ہماری کتاب ''حیاةالامام حسن عسکری ''میں مراجعہ کرے۔

____________________

۱۔دائرةالمعارف مولف بستاتی، جلد۷،صفحہ۴۵،الارشاد،صفحہ۳۸۳۔


حضرت امام مہدی (عج)

ہمارے ظلم و ستم میں مبتلا ا نسانیت میںایسی امیدیں اور آرزوئیں ہیں جس کو جنگوں نے دکھ دردپہنچائے،اس پراستعمارقابض ہوگئے،اورہم اس انصاف ورتلوارکے منتظرہیں جوظلم کونابودکردے گی، استعمار کو ہلاک کردے گی،ظلم وستم کاخاتمہ کردے گی،رحمت پھیلائے گی،لوگوںکے دلوںمیں محبت اور مودت پیدا کرے گی، محروموںاورناامیدہوجانے والوںکے دلوںکوامیدورحمت سے بھردے گی۔

ہم اس قائم آل محمدکے منتظرہیں جن کواللہ نے دنیاکی اصلاح کے لئے پیداکیاہے اور وہ دنیا کے ان فاسد راستوںکوبدلیںگے جنھوں نے انسانوں کوایسی پستی میں مبتلا کر دیا ہے جس کوکوئی قرار نہیں ہے،اورہم اس ہستی کے حضورمیںہیںجن کواللہ نے منتخب فرمایا وہ دنیا عدل وانصاف سے اسی طرح بھردیں گے جس طرح ظلم وجورسے بھری ہوگی۔

بیشک اللہ نے عام اصلاح کے لئے ایک عظیم ولی کومنتخب کیاجوبہادرتھاصاحب بصیرت تھا لذت سے دورتھاجن کی شان ومقام بلندہے اوران اہل بیت میں سے ہیںجن کواللہ نے پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے،ان سے رجس کودوررکھااوراس طرح،پاک وپاکیزہ رکھاجس طرح پاک وپاکیزہ رکھنے کاحق ہے۔ ہم ذیل میںاختصارکے طورپران کے سلسلہ میںکچھ مطالب پیش کررہے ہیں:

عظیم مولودیاولادت باسعادت

دنیااس مصلح عظیم کے نورسے منورہوئی جواسلام کوپھرشاداب کرے گا،لوگوں کوخدا کی نعمتوں سے مالامال کرے گا،ان کوظلمت،ظلم وستم اورطغیان سے نجات دلائے گا،یہ خداکاعظیم لطف وکرم ہے کہ اس نے آپ کے حمل اورولادت کواپنے نبی موسی بن عمران کے مانندمخفی رکھا،مورخین نے آپ کی ولادت کی کیفیت کے متعلق روایات نقل کی ہیں وہ یوںرقمطرازہیں کہ حضرت امام حسن عسکری نے اپنی پھوپھی سیدہ حکیمہ بنت امام محمد تقی کوطلب کیاجوعبادت،عفت اورطہارت میں اپنی جدہ محترمہ فاطمہ زہرا کے مانندتھیں،جب وہ امام حسن عسکری کے پاس آئیں توامام نے بڑی تعظیم وتکریم سے ان کااستقبال کیااوران سے فرمایا:

''اے پھوپھی جان آج رات آپ ہمارے گھرپر ہی رہیں،عنقریب خداوندعالم آپ کو اپنے ولی اپنی مخلوق پر اپنی حجت اورمیرے بعدمیرے خلیفہ سے مسرورکرے گا''۔


سیدہ حکیمہ خوشی سے جھوم اٹھیںاوریوںکہنے لگیں:اے میرے سیدوآقا!میری جان آپ پرقربان ہوجائے،بیٹاکس کے بطن سے پیداہوگا؟

''سوسن کے بطن سے ''۔

سیدہ حکیمہ نے سوسن پرنظرڈالی اور جب ان میں حمل کے آثارنہ دیکھے توامام سے عرض کیا:سوسن حاملہ نہیں ہے۔

امام نے مسکراتے ہوئے بڑے ہی لطیف اندازمیںفرمایا:''فجرکے وقت آپ اس حمل کو دیکھیں گی،بیشک اس حمل کی مثال مادرموسیٰ کے حمل ظاہر نہ ہونے کے مثل ہے ،اورولادت کے وقت تک کسی کو اس کاعلم نہ تھا،چونکہ فرعون نے موسیٰ کی تلاش میںپہاڑوںکے پیٹ تک چاک کرڈالے تھے اوریہ موسیٰ کے مثل ہے ''۔(۱)

سیدہ زکیہ حکیمہ اپنے بھتیجے کے پاس ٹھہرگئیں،نماز مغرب کے وقت آپ نے نماز اداکی اور امام المنتظرکی والدہ نے سوسن کے ساتھ افطار کیاپھر اپنے بستر پر چلی گئیں ،رات کے آخری حصہ میں نماز شب اداکی، آپ نماز شب کی آخری رکعت نمازوترپڑھ رہی تھیں کہ سیدہ سوسن مضطرب ہوگئیں آپ نے نمازشب اداکرنے کے بعد کچھ سکون محسوس کیااس کے بعدسیدہ حکیمہ ان کے پاس دوڑکر گئیں اور ان سے کہا:تم کیامحسوس کر رہی ہو؟

____________________

۱۔بحارالانوار، جلد۳، صفحہ۱۰۔


انھوں نے پریشانی واضطراب کی حالت میں جواب دیا:

میں سخت مشکل میں مبتلا ہوں۔

سیدہ حکیمہ نے ان سے بڑے اطمینان کے ساتھ بڑی نرمی وملاطفت سے کہا:آپ نہ گھبرائیں انشاء اللہ ۔۔۔

ابھی کچھ دیر ہی گذری تھی کہ سیدہ سوسن کے بطن سے ایک ایسے عظیم فرزندکی ولادت ہوئی جو عنقریب زمین کوطاغوتوںکی گندگی اورظلم وجورسے پاک کرے گا اورزمین پر اللہ کاحکم نافذ کرے گا۔

جب امام حسن عسکری کو اس مولود مبارک کی خبردی گئی تو آپ بہت ہی خوش ومسرور ہوئے ،آپ نے اپنے اس قول کے ذریعہ بنی عباس کے اُ ن ظالم حکّام کے قول کی تکذیب فرما دی جو یہ گمان کر رہے تھے کہ ان کو قتل کر کے ان کی نسل منقطع کر دی جائے :''ظالموں نے یہ گمان کیا کہ مجھے قتل کر کے میری نسل منقطع کر دیں کیا انھوں نے قدرت خدا کا مشاہدہ کیا ؟''۔(۱)

ولادت کے رسم ورواج

امام حسن عسکری نے اپنے فرزند ارجمندکاخوشی کے استقبال کیااورولادت کے وقت کے شرعی رسومات ادا کئے،دائیں کان میںاذان اوربائیں کان میںاقامت کہی اور نومولود نے ''اللہ اکبر'' اور '' لاالہ الااللّٰہ''کی آواز سنی۔

امام حسن عسکری کے ان کلمات کے ذریعہ غذادی وجود کا رازاور انبیاء و مرسلین کی اہم پیغام ہیں اور نومولود نے اس آیۂ مبارکہ کی تلاوت فرمائی: ( وَنُرِیدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَی الَّذِینَ اسْتُضْعِفُوا فِی الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمْ الْوَارِثِینَ وَنُمَکِّنَ لَهُمْ فِی الْأَرْضِ وَنُرِی فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا مِنْهُمْ مَا کَانُوا یَحْذَرُون ) ۔(۲)

____________________

۱۔حیاةالامام محمد مہدی ،جلد ۱صفحہ۲۴۔

۲۔سورئہ قصص، آیت ۵۔۶۔


''اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کوزمین میں کمزور بنادیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انھیں لوگوں کا پیشوا بنائیںاور زمین کا وارث قرار دیںاور انھیں کو روئے زمین کا اقتدار دیںاور فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کوانھیں کمزوروں کے ہاتھوں سے وہ منظر دکھلائیںجس سے یہ ڈر رہے ہیں ''۔

اس عباسی حکومت کے خو ف وڈرکی وجہ سے امام مہدی (عج)اس طرح مخفیانہ طورپر پیدا ہوئے جویہ خیال کرتی تھی کہ آپ ان کی حکومت کو نیست ونابودکردیںگے ۔

بہر حال سیدہ حکیمہ نے اس مولود کی اپنی آغوش میں لیا اور اس کے بوسہ لیتے ہوئے کہا: میں اس سے ایسی اچھی خوشبوکا استشمام کر رہی ہوںجو میںنے آج تک کبھی نہیں سونگھی،امام حسن عسکری نے بچہ کو اپنی آغوش میں لیتے ہوئے فرمایا:''استودعک الذی استودع ام موسیٰ،کن فی دعة اللّٰه وستره وکنفه وجواره '' ۔

پھر امام نے اپنی پھوپھی سے مخاطب ہو کر فر مایا :''اس مو لود کی خبر کو مخفی رکھنا کسی کو اس کی خبر نہ دینا جب تک کہ اس کامعین وقت آجائے ''۔(۱)

عام دعوت

امام حسن عسکری نے اپنے فرزند ارجمند کی ولادت کے بعد سامراء کے فقیروں پر تقسیم کرنے کے لئے بہت زیادہ گوشت اور روٹیاں خریدنے کا حکم صادر فرمایا،(۲) جیسا کہ روایت میں آیا ہے کہ آپ نے ستّر گوسفند خریدے اور چار ذبح کرنے والوں کو بھیجا جن میں ایک علی بن ابراہیم تھے جن کو امام نے بسم اللہ۔۔۔کے بعد تحریر فرمایا تھا :''یہ میرے فرزند محمد مہدی کے متعلق ہیں اِن میں سے خود بھی کھائو اور جو بھی ہمارا شیعہ ملے اس کو کھلائو ''۔(۳)

____________________

۱۔حیاةالامام محمد مہدی ، صفحہ ۲۴۔

۲۔بحارالانوار، جلد ۱۳، صفحہ ۳۔

۳۔بحارالانوار، جلد ۱۳، صفحہ ۱۰۔


شیعوں کو آپ کی ولادت کی خو شخبری

تمام شیعہ امام مہدی کی ولادت با سعادت سے بہت زیادہ خوش ومسرورہوئے اور امام حسن عسکری کو آپ کے فرزند ارجمند کی ولادت باسعادت پر مبارک باد کیلئے آئے ،اُن ہی میں سے حسن بن حسن علوی کا کہنا ہے :میں نے ابو محمد حسن بن علی کو اُن کے پاس سُرَّ من رایٰ میں جاکر آپ کے فرزند قائم کی ولادت کی مبارکباد دی ۔(۱) اور حمزہ بن ابوالفتح سے کہا گیا ہے : خوشخبری ہے کہ محمد کے یہاں بچہ کی ولادت ہو ئی ۔ انھوں نے کہا :اس مولود کا کیا نام ہے ؟ تو اُن کو جواب دیا گیا :محمد اور اُن کی کنیت ابو جعفر ہے ۔(۲)

اسم مبارک

اِس عظیم امام کا اسم مبارک اُن کے جدامجد رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے نام پر محمد رکھا گیا جن کے ذریعہ زمین پر عدل و علم کے چشمے جاری ہوئے ،راویوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ کا یہ اسم مبارک آپ کے جد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اسلام کے نام پر محمد رکھا گیا(۳) آپ کو مہدی کا لقب دیا گیاکیونکہ آپ دین ِ حق کی طرف ہدایت فرما ئیں گے(۴) آپ کے القاب میں سے یہ لقب لوگوں کے درمیان زیادہ شائع و مشہور ہے۔

آپ کے وجود سے شیعوں کو آگاہ کرنا

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند کو اپنے مخلص اور نیک شیعوں کے سامنے پیش کیا تا کہ کو ئی انکار نہ کرسکے اور نہ ہی آپ کے وجود مبارک کے سلسلہ میں کو ئی شک و شبہ باقی رہے، اور اُن شیعوں کی تعداد چا لیس افراد تھی جن میں محمد بن ایوب ،محمد بن عثمان اور معاویہ بن حکیم تھے اور اُن سے امام نے فرمایا:''میرے بعد یہ تمہارے مولا اور خلیفہ ہیں اُن کی اطاعت کرو اور میرے بعد تم اپنے دین کے سلسلہ میں متفرق نہ ہوجانا ورنہ ہلاک ہو جائوگے آگاہ ہوجائو تم اُن کو آج کے بعد دیکھ نہیں پائوگے'' ۔(۵)

____________________

۱۔غیبت طوسی ،صفحہ ۳۸۔ ۲۔حیاةالامام المہدی ، صفحہ ۲۶۔

۳۔عقدالدرر،صفحہ ۵۳۔

۴۔بحارالانوار ،جلد ۱۳، صفحہ ۱۰۔

۵۔ینابیع المؤدة ،صفحہ ۴۶۰۔


حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنے شیعوں کے لئے حجت قائم کی اور اُن کو اُن کے امام کا تعارف کرایاتاکہ وہ ایسے سچے گواہ ہوں جو امانت کو ادا کر سکیں ۔

بُلند اخلاق

اس مصلح اعظم میںتمام صفات کمال موجود ہیں ،اللہ نے اُن کو نور سے خلق کیا،ہر نقص و عیب سے دور رکھا ،ہر رجس سے پاک و پاکیزہ رکھا اور آپ کو اپنی مخلوق کی اصلاح اور اپنے دین کو قائم کرنے کی وجہ سے محفوظ رکھا آپ کے کچھ صفات یہ ہیں :

۱۔آپ کے علوم کی وسعت

یہ بات محقّق ہے کہ امام مہدی مخلوق میں سب سے زیادہ وسیع اور تمام قدیم و جدیدعلوم و معارف کی تمام اقسام سے واقف ہیں ،کائنات میں کو ئی ایسا علم نہیں ہے جس کو آپ نہیں جانتے ہیں آپ کے آباء و اجداد اور ائمہ طا ہرین نے آپ کی علمی شان و منزلت کو آپ کے پیدا ہونے سے پہلے ہی بیان فرمادیا تھا ، آپ اُن کے حکیمانہ اقوا ل ملاحظہ کیجئے :

۱۔امام امیر المو منین نے آپ کے متعلق بیان فرمایا :''هُوَاَوْسعُکُمْ کَهْفاً،وآثرُکُمْ عِلْماً،وَاوصَلُکُمْ رَحِماً '' ۔(۱)

''اس کی پناہ گاہ بڑی ہے ،تمہارا علم بہت زیادہ ہے اوربہت زیادہ صلہ ٔ رحِم کرنے والے ہو''۔

۲۔ حارث بن مغیرہ سے روایت ہے کہ میں نے ابو عبد اللہ الحسین بن علی سے عرض کیا : مہدی کا کس چیز کے ذریعہ تعارف ہو گا ؟تو آپ نے فرمایا :''حلال و حرام کی معرفت کے ذریعہ اس کے علاوہ لوگوں کو اُن کی ضرورت ہو گی اور اُنھیں کسی کی ضرورت نہیں ہو گی ''۔(۲)

۳۔ابو جعفر باقر سے روایت ہے :''امامت ہم میں سے سب سے کم سن میں پائی جا ئے گی جس کا ذکر جمیل بکثرت ہوگا خدا اُ س کو علم دے گا اور اس کے نفس پر وا گذار نہیں کرے گا ''۔(۳)

____________________

۱۔غیبة النعمانی، صفحہ ۲۱۴۔ ۲۔عقد درر، صفحہ ۶۹۔

۳۔عقد درر، صفحہ ۱۰۹۔


آپ کے وسیع علوم کے سلسلہ میں وارد ہوا ہے کہ جب آپ ظاہر ہوں گے تو یہودیوں کے سامنے توریت سے احتجاج (دلیل و برہان پیش کرنا)کریں گے جس کے ذریعہ اکثر یہودی مسلمان ہوجائیں گے۔(۱)

امام غیبت صغریٰ کے دور میں عالمِ اسلام کے لئے فقہ اور غیر فقہ میں مرجع اعلیٰ ہوں گے ، آپ کے چاروں نائب مسلمانوں کے احکام کے متعلق درپیش مسا ئل آپ تک پہنچا تے تھے اور ان کے جوابات بیان فرما تے تھے ،فقہ جعفری کے اکثر مسا ئل آپ ہی کے جوابات ہیں فقہا احکام میں جو فتوے دیتے ہیں سب اُن ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں ،شیخ صدوق نے اپنے ہاتھ سے لکھ کر آپ کے فتووں کا ایک بہت بڑا مجموعہ مرتب کیا ہے ۔(۲)

آپ کے ظہور کے وقت ایک یہ چیز محقق ہو گی کہ آپ سے دنیا کے تمام علماء ،اطبّاء ، فیزیک داں ، مخترع و ایجاد کرنے والے وغیرہ ملاقات کریں گے اور آپ کا امتحان لیں گے اور آپ بڑے ہی اچھے طریقہ سے اُن کے جوابات دیں گے ،وہ سب اسلام قبول کر لیں گے اور کو ئی بھی ایسا باقی نہیں رہے گا جو آپ کی امامت کا اقرار نہ کرتا ہو ۔

۲۔آپ کا زہد

ائمہ ہدیٰ کی سیرت تمام فکری اور علمی میدانوں میں مشابہ ہو تی ہے اُن میں سے ایک دنیا میں زہد اختیار کرنا اور دنیا کی تمام لذّتوں اور خوشیوں سے کامل طور پر دور رہنا ،ہر امام کی سیرت کا مطالعہ کرنے والے پر یہ واضح ہوجا ئیگا کہ انھوں نے دنیا میں علی الاعلان زہد اختیار کیا ،اس سلسلہ میں انھوں نے ،سیّد عترت اطہار امام امیر المو منین کی اقتدا کی جنھوں نے دنیا کو تین مرتبہ طلاق دیدی تھی جس کے بعد رجوع نہیں کیا جاسکتا ،اسی منو ر و روشن راستہ پر آپ کے تمام فرزند اور ناتی پوتے گامزن رہے ،ائمہ ٔ ہدیٰ سے امام منتظر کی ولادت سے پہلے ہی کچھ روایات آپ کے زہد کے متعلق نقل ہو ئی ہیں جن میں سے کچھ روایات یہ ہیں :

____________________

۱۔حیاةالامام محمد المہدی ، صفحہ ۳۹۔

۲۔حیاةالامام محمد المہدی ، صفحہ ۳۹۔


۱۔معمّر بن خلاّد نے امام ابو الحسن الرضا سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے :''قائم آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کالباس سخت قسم کا ہوگا اور ان کی غذا معمو لی قسم کی ہو گی ''۔(۱)

۲۔ علی بن ابوحمزہ اور وہبیب نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے :

''تم قائم آل محمد کے خروج کے سلسلہ میں جلدی کیوں کر تے ہو ؟ خدا کی قسم اُن کا لباس سخت قسم کاہوگااور ان کی غذا بے مزہ ہو گی ''۔(۲)

۳۔ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے :''آپ کا لباس سخت قسم کا ہوگا اور آپ کا کھانا بد مزہ ہوگا ''۔(۳)

اگر دنیا میں اُن کی سیرت اس طرح کی نہ ہوتی تو خدا وند عالم آپ کو زمین پر اصلاحی دور کے لئے منتخب نہ فرماتا کہ آپ ظلم و جور سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی اور ظلم و جور کے نتیجہ میں سسکتی ہوئی انسانیت کو جابر و جا ئر اور متکبر حاکموں کیظلم و جور سے نجات دلا ئیں گے ،پریشان حال اور محرومین میں اللہ کی خیرات تقسیم کریں گے جس سے فقراور محرومیت کا سایہ تک باقی نہیں رہے گا ۔

۳۔آپ کا صبر

امام منتظر کے چند صفات یہ ہیں :آپ مصیبت پر صبر کریں گے ،آپ محنت و مشقت تحمّل کرنے کے اعتبار سے ائمہ ٔ میں سب سے عظیم ہیں ،اپنی طویل غیبت کے دور میںدنیائے اسلام کے مختلف علاقوں میں عظیم حوادث کا مشاہدہ کریںگے اور اُن میں سب سے زیادہ دردناک یہ ہوگاکہ امت اسلامیہ اپنے تمام قوانین کے ساتھ کافر سامراجیوں کے ہاتھوں شکار ہو ئی ،جنھوں نے اُن کے درمیان برائیاں رائج کیں ،اللہ

____________________

۱۔بحارالانوار، جلد ۵۲،صفحہ ۳۵۹۔

۲۔غیبة النعمانی ،صفحہ ۲۳۴۔

۳۔غیبة نعمانی ،صفحہ ۲۳۳۔


کے احکام اور اُس کے حدود چھوڑدئے ،زورگوئی سے فیصلے کئے ،اور امام تمام مسلمانوں کے لئے اپنی روحانی ،زما نی ،اور ابوی قیادت کے حکم سے ان سب کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور ہمیشہ صبر کر تے رہے ہیں ، آپ نے اپنے تمام اموراس وقت تک اللہ کے سِپُرد کر دئے ہیں جب تک خداآپ کو میدان جہاد کے لئے قیام کرنے کا حکم اور اجازت مرحمت فرمائے ۔

۴۔شجاعت

امام مہدی دل کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے زیادہ شجاع ،سب سے زیادہ حو صلہ مند ، ارادہ کے اعتبار سے سب سے زیادہ قوی ،آپ جنگی قوت اور محکم ارادہ میں اپنے جد رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مانند ہیں جنھوںنے قریش کے اُن بھیڑیوں کے شرک اورکفر و الحاد کے سر براہوں کا مقابلہ کیا جنھوں نے پرچم اسلام کو لپیٹنے اور اللہ کے نور کو خاموش کرنے کی جد وجہد کی،لیکن آپ نے اپنے محکم ارادہ سے اُن کے سروں کو کاٹ ڈالا ،اُن کے لشکروں کو تتر بتر کر دیا ،زمین پر کلمة اللہ کو بلند کیا ، بالکل اسی نورانی دور کے مانند آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے فرزند ارجمند اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلیفہ قیام کریں گے ،ظالمین اور جا برین کوان کے ظلم کا مزہ چکھا ئیں گے ،اسلام کی کرامت و بزرگی کو دوبارہ اسی طرح واپس پلٹا ئیں گے جس کے بعد اس میں کبھی سستی نہیں آئے گی ،دنیا کی کوئی بھی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گی ،زمین کی تمام اقوام آپ کے حکم کو تسلیم کرلیں گی ، اورآپ دنیا کے تمام دارالسلطنتوں میں پرچم توحید بلند فرما ئیں گے ۔

۵- آپ کی سخاوت

امام منتظر لوگوں میں سب سے زیادہ سخی اور جواد ہیں ،آپ کے دور حکومت میں فقراء اور محرومیت کا کو ئی اثر باقی نہیں رہے گا ہم آپ کے کرم کے سلسلہ میں آپ کے آباء و اجداد سے منقول بعض احادیث کا ذیل میں تذکرہ کر رہے ہیں :


۱۔ابو سعید نے نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی ہے کہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے امام مہدی کی سخا وت کے متعلق یوں گفتگو فرما ئی کہ ایک شخص اُن کی خدمت میں حاضر ہو کر کہے گا :''اے مہدی مجھے کچھ دیجئے ، مجھے کچھ دیجئے، مجھے کچھ دیجئے تو وہ اسے اتنا عطا کریں گے جس کو وہ اٹھاسکتا ہو ''۔(۱)

۲۔جابر سے روایت ہے :ایک شخص نے امام ابو جعفر کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا حالانکہ میں وہیں پر موجود تھا :خدا آپ پر رحم کرے، آپ خمس کے یہ سو درہم لے لیجئے اور ان کو خمس رکھنے کی جگہ پر رکھ دیا اور کہا کہ یہ میرے اموال کی زکوٰة ہے، ابو جعفر نے ان سے فرمایا :''تم خود اس کو لے لو اور اپنے پڑوس میں یتیموں ،مسکینوں اور اپنے مسلمان بھا ئیوں میں تقسیم کر دینا ،بیشک جب ہمارا قائم قیام کرے گا تو وہ برابر ، برابر تقسیم کریں گے ،خدا کی مخلوق میں نیک و بد سب کے ساتھ عدل و انصاف سے کام لیں گے ،جس نے اُن کی اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی ،جس نے اُن کی نا فرما نی کی اس نے اللہ کی نا فرمانی کی ،ان کا اسم مبارک مہدی اس لئے رکھا گیا چونکہ آپ امر خفی کیلئے ہدایت کریں گے ،توریت اور دوسری تمام کتابیں انطاکیہ شہر کے غار سے باہر نکالیں گے ،توریت والوں کا توریت کے ذریعہ فیصلہ کریں گے انجیل والوں کا انجیل سے ،اور زبور والوں کا زبور کے ذریعہ اور قرآن والوں کا قرآن کے ذریعہ فیصلہ کریں گے ،دنیا کے تمام مال و دولت چاہے وہ زمین کے اندر ہوں یا زمین کے باہر سب آپ کے پاس جمع ہوں گے ، آپ لوگوں سے فرما ئیں گے :ان اموال کی جانب توجہ کرو جس کی خاطر تم نے قطع رحم کیا اور اس سلسلہ میں تم نے خون بہایا ،اور جس کی وجہ سے تم حرام الٰہی کے مرتکب ہوئے ،اس وقت امام زمانہ ایسی شئے عطا فرمائیں گے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دی ہو گی ''۔(۲)

ان کے علاوہ متعدد روایات ہیں جن میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ آپ کرم و جود و سخا کے دریاہیں ،آپ پوری مخلوق پر احسان کریں گے ،اُن کو عُریانی اور گرسنگی سے نجات دلائیں گے۔

۶۔حق میں پا ئیداری

امام منتظر حق کا سب سے زیادہ سختی کے ساتھ دفاع کریں گے ،جن پر ملامت کرنے والوں کی ملامت

کو ئی اثر نہیں کرے گی ،آپ کی شان آپ کے اُن آباء و اجداد کی شان کے مانند ہو گی جنھوںنے حق کی مدد کی اور لوگوں میں عدل کو نشر کرنے میں اپنی جانوں کو قربان کرنے میں پیش قدم رہے ۔

جب دنیا قائم آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ظہور سے منور ہو جائے گی تو آپ ہر طرح حق اور اپنے مقاصد قائم کریں گے ،غبن (دھوکہ)اور ظلم کو نیست و نابود کردیں گے ۔

____________________

۱۔منتخب کنزالعمال، جلد ۶،صفحہ ۲۹۔ینابیع المؤدة، صفحہ ۴۳۱۔مصابیح السنة ،جلد ۳،صفحہ ۴۹۳۔۲۔حیاةالامام محمدالمہدی ، صفحہ ۴۵۔


عبادت

امام منتظر کی عبادت خود ان کے اُن آباء و اجداد ائمہ ٔ طا ہرین کی عبادت کے مانند تھی ، جنھوں نے اپنی زندگی اللہ کے لئے ہبہ کر دی تھی ،انھوں نے زندگی کا بیشتر حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا ، صائم النہار او ر قائم اللیل کی حالت میں خدا سے لو لگاتے تھے ،ہمیشہ نماز ،دعا اور قرآن کی قرائت کیا کرتے تھے ،اسی منور و روشن راستہ پر امام منتظر گامزن رہیں گے ،راویوں نے آپ کی وہ دعا ئیں بھی نقل کی ہیں جو آپ نماز کے قنوت میں پڑھا کرتے تھے ،یہ دعا ئیں خدا سے لو لگانے اور اس سے توبہ کرنے کی طرف رغبت دلاتی ہیں، ہم نے اُن میں سے بعض دعا ئیں اپنی کتاب ''حیاةالامام مہدی ''میں ذکر کی ہیں ۔

غیبت ِ صغریٰ

امام منتظر پر یہ خدا وند عالم کا خاص لطف و کرم ہے کہ اُس نے آپ کو اُن ظالم بنی عباس سے محجوب کردیا جنھوں نے آپ کا خاتمہ کرنے کی کو ششیں کی تھیں ،آپ اُن کے درمیان سے رُوپوش ہوگئے اور اُن کو خبر تک نہ ہو سکی ،جس طرح جب قریش آپ کے جد امجد کو قتل کرنا چا ہتے تھے تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اُ ن کے درمیان سے چلے گئے اور اُن کو خبر تک نہ ہو ئی ،اب ہم اپنی بحث میں امام زمانہ کی غیبت صغریٰ کے بارے میں مختصر طور پر کچھ بیان کرتے ہیں :

غیبت کا زمانہ

غیبت صغریٰ کا آغاز ۲۶۰ ھ امام حسن عسکری کی(۱) شہادت کے بعد ہوا آپ اسی وقت لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوگئے مگر یہ کہ آپ نے کچھ مو منین اور صالحین سے ملاقات کا کچھ سلسلہ جا ری رکھا ۔

____________________

۱۔مرآة الجنان، جلد ۲،صفحہ ۴۶۲۔تاریخ خمیس ،جلد ۲،صفحہ ۳۴۷۔تاریخ ابن وردی ،جلد ۱،صفحہ ۳۶۹۔


جہاں آپ رو پوش ہوئے

امام سامرا میں واقع ایک گھر میں پوشیدہ ہوئے جس میں آپ کے جد اور والد بزرگوار کا مرقد مطہر ہے ۔

بڑے ہی تعجب کی بات ہے کہ شیعوں سے بغض و کینہ رکھنے والے افراد نے یہ کہہ دیا کہ آپ سامراء یا کسی اور جگہ سرداب میں غائب ہوئے ،وہ ہر رات سامرا میں واقع سرداب کے دروازے پر کھڑے ہوکر امام کا نام لیکر آواز دیتے اور ان کو باہر آنے کی دعوت دیتے یہاں تک کہ ستارے چھُپ جاتے ،اس کے بعد وہ وہاں سے چلے جاتے ،اور اپنا امر آنے والی رات پر مو قوف کر دیتے اور وہ ہمیشہ اسی عہد پر باقی رہتے ۔(۱)

یہ ایسی خارق العادہ باتیں ہیں جن کی کو ئی سند نہیں ہے ۔۔یہ باتیں اہل بیت او ر اُن کے شیعوں سے حقد و کینہ رکھنے پر دلالت کر تی ہیں لیکن سامرا میں جو سرداب مو جود ہے اس میں تین اماموں نے نماز ادا کی ہے جو اس مخلوق پر اللہ کی حجت ہیں اور علمائے شیعہ اور ان کے مورّخوں میں سے کسی ایک نے بھی یہ بیان نہیں کیا ہے کہ آپ اسی سرداب یا کسی دوسرے سرداب میں رو پوش ہوئے جس کو دین سے کچھ سروکار نہ رکھنے والے بعض لوگوں نے بیان کیا ہے اور ہم نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب ''حیاةالامام محمد المہدی '' میں بیان کیا ہے ۔

آپ کے عظیم و بزرگ سفیر

امام منتظر نے نیک علماء اور صالحین کو اپنا سفیر منتخب فرمایا جو آپ اور آپ کے شیعوں کے درمیان واسطہ ہوتے تھے ،اور اُن کا کام مسا ئل شرعیہ کو امام کی خدمت میں لیجانا اور ان کا جواب لانا ہوتا تھا ۔

آپ کے بزرگ وکیل یہ ہیں :

۱۔عثمان بن سعید

یہ امام کے پہلے وکیل تھے جو ثقہ ،زکی اور امین تھے ،آپ نے اس سرکش متوکل کے زمانہ میں ائمہ کی خدمت کی جب جب اس نے امام علی نقی علیہ السلام پر اقتصا دی پا بندی لگا دی تھی ،امام تک حقوق شرعیہ پہنچانے کو منع کر دیا تھا اس وقت عثمان بن سعید حقوق شرعیہ کو گھی کے برتنوں میں رکھ کر امام علی نقی کی خدمت اقدس

____________________

۱۔مقدمہ ابن خلدون، صفحہ ۳۵۹۔


میں پہنچایا کرتے تھے ،امام علی نقی علیہ السلام کے بعد آپ کے فرزند ارجمند امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت اقدس میں رہے ،اور اُ ن سے اقتصادی پابندی کو دور کردیا اور عثمان بن سعید اور آپ کے شیعوں کے درمیان رابطہ کا کام انجام دیتے تھے ،آپ امام کی مطلق نیابت اور عام وکالت کے عام عہدہ پر فا ئز تھے آپ امام کے پاس اُن کے حقوق اور رسائل پہنچاتے تھے ۔

آپ کی وفات

آپ نے حضیرئہ قدس میں اتنقال کیا اور بغداد میں رصافہ کی طرف اپنی آخری آرامگاہ میں دفن ہوئے اور مو منین آپ کی قبر کی زیارت کے لئے آتے ہیں ۔

امام کی طرف سے ان کی تعزیت پیش کرنا

امام منتظرنے اس عظیم شخصیت کے فقدان پر محمد بن عثمان کے پاس اس عالم جلیل کے تعزیت نامہ میں یہ کلمات بھیجے :''انّا للّٰہ و اِنَّا الیہ راجعون !ہم امر الٰہی کے سامنے سراپا تسلیم ہیں اور اس کے فیصلہ پر راضی ہیں ۔تمہارے باپ نے نہایت ہی سعیدانہ زندگی گذاری ہے ،اور ایک قابل تعریف موت پا ئی ہے ،خدا اُن پر رحمت نازل کرے اور انھیں ان کے اولیاء اور آقائوں سے ملحق کردے، انھوں نے امور ائمہ میں برابر قرب الٰہی کے لئے کو شش کی ،خدا اُن کے چہرے کو خو ش کرے ،اور ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور تمہارے ثواب میں اضافہ کرے اور تمھیں صبر جمیل عطا فرمائے یہ مصیبت تمہارے لئے مصیبت ہے اور میرے لئے بھی مصیبت ہے ،اس فراق سے تم مضطرب ہو گئے ہو اور میں بھی مضطرب ہو گیا ہوں،خدا انھیں آخرت میں خوش رکھے، ان کی سعادت و نیک بختی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اللہ نے انھیں تمہارا جیسا فرزند عطا کیا ہے جو اُن کا جا نشین اور قائم مقام ہے اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرتا ہے ،میں اس امر پر خدا کی حمد کرتا ہوں ،پاکیزہ نفوس تم سے اور خدا نے تمھیں جو شرف دیا ہے اس سے خو ش ہیں،خدا تمہاری نصرت و مدد کرے ، تمھیں طاقت و قوت عطا کرے اور توفیقات کرامت فرمائے ۔وہی تمہارا سر پرست ،محافظ اور نگراں رہے گا '' ۔(۱)

____________________

۱۔بحارالانوار، جلد ۱۳،صفحہ ۹۶۔


امام کے یہ کلمات اپنے نائب کے حزن و الم پر دلالت کر تے ہیں جو آپ کے نائب کے ایمان کی علامت ہے اور امام نے اُن کے فرزندکو اپنا نائب معین فرمایا جو تمام صفات کمال کے حامل تھے ۔

۲۔عثمان بن سعید

محمد بن عثمان کو امام منتظر کی نیابت کا شرف حاصل ہوا جو ثقات شیعہ اور جیّدعلماء میں سے تھے وہ ثقہ ٔجمیع میں اپنے پدر بزرگوار کے قائم مقام تھے ،شیعوں کے تمام خطوط اور حقوق اُن تک پہنچتے ، اور وہ اُن کو امام منتظر تک پہنچاتے تھے ،توقیع کی صورت میں امام کا جواب اُن تک پہنچاتے تھے ، امام نے اُن کے بارے میں محمد بن ابراہیم اہوازی کو یوں تحریر فرمایا :

''لم یزل ( اے محمد) ثقَتنا فی حیاة الاب رضی اللّٰه عنه وأَرضاه،ونَضَّر َوَجْهَهُ یَجْرِیْ عِنْدَنَامَجْرَاهُ ،وَیَسُدَّ مَسَدَّه،وَعَنْ اَمْرِنَایَأْمُرُالْاِبْنُ وَبِهِ یَعْمَلُ،تَوَلَّاهُ اللّٰهُ فَانْتَهِ الیٰ قَوْلِهِ'' ۔(۱)

''یہ فرزند اپنے باپ کے زمانہ سے ہی ہمارا معتمد تھاخدا اس سے خوش رہے اور اسے خوش رکھے اور اس کے چہرے کو روشن رکھے یہ اب ہمارے لئے اپنے باپ کا نائب اور جا نشین ہے ۔یہ ہمارے ہی حکم سے حکم دیتا ہے اور ہمارے ہی احکام پر عمل کرتا ہے ،خدا اسے جملہ آفات سے محفوظ رکھے ۔''!

آپ نے حضیرۂ قدس میں آخری جما دی الاول ۳۰۵ ھ میں انتقال کیا ۔(۲)

۳۔حسین بن روح

یہ امام منتظر کے تیسرے نائب ہیں آپ تقویٰ ،صلاح وفور علم اور عقل میں بہت بڑی شخصیت تھے اور محمد بن عثمان کے انتقال کے بعد آپ کو نیابت کا شرف حاصل ہوا جس کی طرف آپ نے رہنما ئی کی کہ جب شیعہ یہ سوال کریں کہ آپ کا قائم مقام کون ہے ؟تو یہ ابوالقاسم حسین بن روح بن ابی بحر نو بختی میرے قائم مقام ہیں ۔تمہارے اور صاحب امر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مابین سفیر ہیں ،آپ کے وکیل ،ثقہ اور امین ہیں ،تم اپنے امور میں ان کی طرف رجوع کرنا ،اپنے تمام اہم کاموں میں اُن پر اعتماد کرنا اور اس کا

____________________

۱۔حیاةالامام محمد المہدی ،صفحہ ۱۲۴۔

۲۔حیاةالامام محمدالمہدی ،صفحہ ۱۲۶۔


میں نے حکم دیا اور اپنا پیغام پہنچادیا ۔۔۔(۱)

آپ اور حق کے دشمنوں کے درمیان متعدد مناظرے ہوئے جن میں حسین بن روح نے اپنے دشمن پر غلبہ حا صل کیا ،اس سے محمد بن ابراہیم بن اسحاق کو بہت زیادہ تعجب ہوا تو اُس نے حسین بن روح سے کہا :آپ نے یہ سب مطالب اپنے پاس سے بیان کئے ہیں یا ائمہ ٔ ہدیٰ سے اخذ کئے ہیں ؟ حسین بن روح

نے جواب دیا :اے محمد بن ابراہیم !اگر میں آسمان سے زمین پر گر پڑوں یا مجھے پرندہ اُچک لے یا ہوا کسی دور افتادہ جگہ لے جائے ،یہ مجھے اس بات کے مقابل میں زیادہ پسند ہے کہ دین خدا کے سلسلہ میں اپنی طرف سے کو ئی فیصلہ کروں بلکہ اصل یہی ہے اور امام زمانہ سے یہی سنا گیا ہے ۔۔۔۔(۲)

آپ امام کے ۲۱ یا ۲۲ سال تک نائب یا سفیر رہے ،آپ شیعوں کے مرجع ،امام اور شیعوں کے درمیان واسطہ تھے ،آپ کچھ دن مریض رہے یہاں تک کہ آپ ۳۲۶ ھ(۳) ،میں موت کی نیند سوگئے آپ کی تجہیز و تکفین ہو ئی اور ننگے پیروں تشییع جنازہ ہو ئی ،آپ بغداد میں تجارت کے مرکز شورجہ بازار میں اپنی ابدی آرام گاہ میں دفن ہوئے ۔

۴۔علی بن محمد سَمَری

امام کی نص و روایت کے ذریعہ آپ امام کے عام نائب قرار پائے ،آپ امام کے آخری نائب ہیں ، آپ نے صدق اور اخلاص کے ذریعہ نیابت کے فرائض انجام دئے ،راویوں کا کہنا ہے : انھوں نے اپنی وفات سے پہلے امام کا ایک خط شیعوں کے سامنے پیش کیا جس میں بسم اللہ کے بعد یوں تحریر تھا:''اے علی بن محمد !اللہ تمہارے بارے میںبھا ئیوں اور دوستوں کو صبر جمیل عطا فرمائے ،تمھیں معلوم ہونا چا ہئے کہ تم کو چھ دن کے بعد موت آجا ئے گی ،تم اپنے تمام امور انجام دے لو ،اور آئندہ کیلئے اپنا کو ئی قائم مقام اور جانشین تلاش و تجویز نہ کرو ،کیونکہ غیبت کبریٰ واقع ہو گئی ہے اور جب تک خدا حکم نہیں دے گا ظہور نہیں ہوگا،یہ ظہور بہت طویل مدت کے بعد ہوگاجب قلوب سخت ہوجا ئیں گے ،زمین ظلم و جور سے بھر جا ئے گی ، عنقریب لوگوں میں جو مجھ سے ملاقات

____________________

۱۔منتخب الاثر، صفحہ ۳۹۷۔

۲۔منتخب الاثر ،صفحہ ۳۹۷۔غیبة شیخ طوسی، صفحہ ۳۸۶۔

۳۔منتخب الاثر ،صفحہ ۳۹۲۔


کا ادعا کرے وہ جھوٹا ہوگاولاحول ولاقوة الاباللّٰه العلی العظیم '' ۔(۱)

اس خط میں غیبت ِ کبریٰ میں امام سے ملاقات کا دعویٰ کرنے والے کی نفی کی گئی ہے اور اس کو جھوٹا اور تہمت لگانے والا کہا گیا ہے، یہ بات بالکل یقینی ہے کہ یہ امام کی خدمت میں مشرف ہوئے اور اس حدیث کو نیک مو منین کے کانوں تک پہنچایا اس حدیث کی متعدد تا ویلیں کی گئی ہیں، شاید ان میں سب سے بہترین توجیہ یہ ہو کہ اِن نواب اربعہ کے بعد امام کی نیابت کا دعویٰ کرنے والا جھوٹا ہے، شاید یہ توجیہ واقع اور حقیقت سے زیادہ نزدیک ہو۔

علی بن محمد سَمَری کچھ دنوں تک مریض رہے تو بعض شیعوں نے اُن کے پاس جاکر سوال کیا :آپ کے بعد آپ کا وصی کون ہے ؟

انھوں نے جواب دیا :اللہ اپنے امر کو پہنچانے والا ہے ۔

آپ ۱۵ شعبان ۳۲۹ ھ میں انتقال کرگئے ۔(۲)

فقہا ء کی ولایت

امام منتظر نے شیعوں میں سے فقہاء عظام کو اپنا ولی اور نائب قرار دیا ،شیعوں کو اُن سے رجوع کرنے اور اُن سے فیصلہ چاہنے کا حکم دیا اور شیخ مفید کی طرف آنے والے خط میں یوں آیا ہے :''و اماالحوادث الواقعة فارجعواالیٰ روات حدیثنافانّهم حجتی علیکم،واناحجة اللّٰه علیکم ''

''پیش آنے والے واقعات میں تم ہماری احا دیث بیان کرنے والوں کی طرف رجوع کرنا،چونکہ یہ تم پر بہترین حجت ہیں اور میں تم پر اللہ کی حجت ہوں''۔(۳) ہم اس سلسلہ میں اپنی کتاب ''حیاةالامام محمد المہدی ''میں ذکر کرچکے ہیں ۔

غیبت کبریٰ

امام منتظر کی نیابت فقہائے عظام نے سنبھالی ،یہی علماء احکام کے سلسلہ میں جو فتویٰ دیتے ہیں، شیعہ

اُن ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔یہ بات بھی شایانِ ذکر ہے کہ علماء اور متقین کے چند گروہ ،امام کی نظروں کے سامنے تھے ،اُن ہی میں سے عالم کبیر اور ثقہ و امین شیخ مفید تھے آپ کے پاس متعدد مراسلے (خطوط)تھے ،آپ کے پاس تین خطوط لکھے جن میں سے بعض کا ہم نے اپنی کتاب ''حیاةالامام محمدالمہدی ' ' میں تذکرہ کیا ہے ۔

____________________

۱۔معجم رجال حدیث، جلد ۱۳، صفحہ ۱۸۶ ۔ ۲۔غیبة شیخ طوسی، صفحہ ۲۴۲۔

۳۔وسائل الشیعہ کتاب القضا ،جلد ۱۸،صفحہ ۱۰۱۔


سوالات

امام منتظر کے واقعہ کے متعلق مندرجہ ذیل سوالات پیش آتے ہیں :

۱۔آپ کی طولانی عمر

امام کی طولانی عمر کے سلسلہ میں بہت زیادہ سوال کئے جاتے ہیں کہ آپ ساڑھے گیارہ سو سال سے زیادہ کس طرح زندہ ہیں ؟اور آپ پر بوڑھاپے کے وہ آثار بھی طاری نہیں ہو رہے ہیں جو عام طور پر انسان پر عارض ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ اس کا جسم اور اس کے خلیے کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں ،اور جیسے جیسے انسان کی عمر زیادہ ہو تی جا تی ہے وہ کام کر نا چھوڑ دیتے ہیں اور اس کی وجہ شاید ان میں میکروب ہوجانا یا ان کا کثیف غذا کھا نا ہے جس سے انسان کا جسم مسموم ہوجاتا ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے ۔

جواب

۱۔انسان کی لمبی طولانی عمر ہونا عقلی طور پر ایک امر ممکن ہے ،یہ خداوند عالم کے شریک یا کسی چیز کے ایک ہی وقت میں زوج یا فرد ہو نے کی طرح محال نہیں ہے ،یہ انسان کے چاند یا کسی دوسرے ستارے پر پہنچنے کے مانند ہے ،بیشک یہ چیز عقلی طور پر ممکن ہے ،اگر انسان کو فطری اسباب مل جا ئیں تو اُن پر ہی انسان کی زندگی محقق ہو تی ہے ،امام کی طولانی عمر ایک علمی اور خا رجی امر ہے ، جو خالق عظیم کی مشیت پرموقوف ہے اور خداوند عالم اپنے ارادہ سے انسان کے جسم سے بوڑھا اور فنا کرنے والے خارجی اسبا ب ختم کرکے اس کی زند گی بڑھا دیتا ہے اللہ کے نبی حضرت نوح نے ساڑھے نو سو سال تک زندہ رہ کر کلمہ ٔ توحید کی دعوت دی ،یہ عمر قرآن کریم کے مطابق ہے ۔تو ہم حضرت نوح کی عمر پر تو ایمان رکھتے ہیں لیکن امام منتظر کی طولانی عمر پر ایمان نہیں رکھتے ،حالانکہ دونوں معاشرہ کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے ہیں ۔


۲۔اگر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ انسان کا سو سال یا ہزار سال عمر پانا عقلی طور پر ممکن نہیں ہے چونکہ اُ س سے اُ ن فطری قوانین کا معطل ہونا لازم آتا ہے جو انسان کو بوڑھا اور فنا کر دیتے ہیں یہ بات ہماری نسبت تو غیر ممکن ہے لیکن خدا کے لئے مشکل نہیں ہے چونکہ اسی نے امور کو وسعت دی ہے اور یہ سب اُس کے نزدیک آسان ہے ۔آگ کی علت تامہ جلانا ہے اور خدا نے اس کو شیخ الانبیاء حضرت ابراہیم کیلئے ٹھنڈا قرار دیا ،اسی طرح اس نے اپنے نبی موسیٰ کے لئے اُن کی قوم کے ساتھ دریا میں شگاف ڈال دیا اُن کو غرق ہونے سے بچایا اور فرعون اور اس کے لشکرکو غرق کر دیا ۔

بیشک جب خدا کا ارادہ کسی چیز سے متعلق ہوجاتا ہے تو وہ اس چیز کو عدم سے وجود میں بدل دیتا ہے ،کیا پروردگار عالم نے اپنے عظیم نبی محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو اُن قریش کے درمیان سے نہیں نکالا جب انھوں نے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اور وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو قتل کرنا چا ہتے تھے ،جب آپ ان کے درمیان سے گذرے تو وہ آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو نہ دیکھ سکے ۔


۲۔اتنی طویل عمر کیوں دی گئی ؟

اس مو ضوع سے متعلق دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ خداوند عالم نے امام منتظر کو اتنی طویل عمر کیوں عطا کی اور آپ کو آپ کے آباء و اجداد ائمہ طا ہرین کی طرح عمر کیوں نہیں عطا کی؟

جواب

خداوند عالم نے امام منتظر کو پوری دنیا کی اصلاح کے لئے مخصوص قرار دیا ہے اور اُن کے حوالے انسانی معاشرہ کو اُن تاریک طوفانوں سے بچانا سِپُرد کر دیا ہے جو اُ س معاشرہ کی زندگی کو جھنجھوڑتے ہیں اور اس کو اس ظا ہری حیات سے بہت دو ر لیجاتے ہیں ۔چنانچہ امام زمانہ تمام قبائل اورروئے زمین پرتمام امتوں کے عام مصلح ہیں، لہٰذا آپ کوان ہی تاریک ادوار کا سامنا کرنا ہوگا جن سے انسان رو برو ہوتا ہے اور اس کی فصول کا مشاہدہ کرتا ہے تاکہ وہ آخری نجات دہندہ ہوں جو نور کا اظہار کریں اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں ۔

۳۔امام منتظر ظاہر کیوں نہیں ہوتے ؟

امام کی غیبت کے متعلق یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ امام کا ظہور کیوں نہیں ہوتا تاکہ وہ زمین پر اللہ کا حکم قائم کریں؟

جواب

امام کے ظہور کا حکم انسان کے ارادہ اور اس کی رغبت کے ما تحت نہیں ہے یہ امر تو خالق عظیم کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے ،اللہ نے اپنے بندے اور رسول محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کو دور جا ہلیت کی پانچ صدیاں گذرجانے کے بعد عالم میں مبعوث فرمایا اور اپنی رسالت کو ادا کرنے کا یہی بہترین اور مناسب وقت تھا ،اسی طرح امام مہدی اللہ کے چیلنج کے مطابق قیام کریں گے اس طرح کہ خدا اُن کے لئے پورے روئے زمین پرظہور کرنے کا زمینہ فراہم کر ے گا اور آپ کو بندوں کے درمیان خالص انصاف کرنے کے لئے مبعوث فرمائے گا ۔


۴۔امام مہدی اپنے قیام کے ذریعہ کس طرح دنیائے عالم کی اصلاح فرما ئیں گے ؟

امام منتظر کے متعلق ایک یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ دنیا کی کیسے اصلاح فرما ئیں گے اور عام طور پر ظلم و جور سے بھری زندگی کے طریقہ کو امن و امان اورسکون کے طریقہ سے کیسے بدلیں گے ؟اور آپ کے دور حکومت میں غبن (دھوکہ)،سرکشی ،ظلم و استبدادکا کو ئی سایہ نہ ہوگا اور نہ ہی اس میں کو ئی بھوکا فقیر ہوگا اور نہ محروم ؟

جواب

یہ با ت ممکن ہے ،بیشک نظام عالم اور جسموں کا حدوث جو انسان کی زند گی کے طریقہ کو بدل دیتے ہیں اُن کو بشریت کے بزرگ افراد یا جماعت سے منسوب کیا جاتا ہے ،نبی اکرم محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اللہ کی رسالت اور پیغام کو بلند و بالا مقام پر پہنچایا آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے چچا اور ماموں نے نہیں ،آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے قریش کے قبیلوں ، ذؤبان عرب ،اور نافرمان اہل کتاب کا مقابلہ کیا اور آپصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے عزم و ارادہ سے اُن کے اردوں پر پا نی پھیر کر پرچم توحید کو بلند کیا، اسی طرح نبی اللہ مو سیٰ نے فرعون کو نیست و نابود کیا اور زمین پر کلمة اللہ کو بلند و بالا فرمایا،اسی طرح اللہ کے نبی عیسیٰ اور دوسرے انبیاء نے مستقل طور پراپنے اصلاحی پیغام کو پہنچانے کے لئے قیام کیااسی سے معاشرہ کی اصلاح کاانفرادی دور جُدا ہوجاتا ہے یہ مارکسیّوں کے مذہب کے خلاف ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ایک انسان کچھ نہیں کر سکتا اور اس کا احداث و واقعات کو بدلنے میں کو ئی کردار نہیں ہے بلکہ گروہ اور جماعت کا اثر ہوتا ہے ۔


بہر حال امام منتظر رسول اعظمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اپنے جد امجد کے مانند ہیں وہ ظلم و عدالت پر قائم کئے گئے زندگی کے طریقوں کو بدلیں گے ،رنج و غم و مصیبت میں گھری ہو ئی انسانیت کو نجات دیں گے اور لوگوں کے مابین امن ،ثبات قدمی ،اورمحبت اورنشرکریں گے ۔

ہم اس مقام پر سوالات کے متعلق بحث تمام کرتے ہیں اور ہم نے متعدد سوالات کے جوابات اپنی کتاب حیاة الامام محمد المہدی میں بیان کر دئے ہیں ۔

امام کے ظہور کی علامتیں

امام منتظر کے ظہور کی علامتوں کے متعلق روایات میں روشنی ڈالی گئی ہے ہم ذیل میں ظہور کی بعض نشانیاں ذکر کرتے ہیں :

۱۔ظلم کا پھیلنا

امام کے ظہور کی ایک واضح نشا نی ظلم کا پھیلنا ،ستم و جور کارائج ہونا ، امن و امان کا ختم ہو جانا ، ضرورت و فقر و حاجت کا ظاہر ہونا ،زند گی کاجدید قسم کے معاملات و مسائل سے خلط ملط ہو جانا، انسان کا خوف و ڈر و قتل و غارت کی وجہ سے نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہوجاناجبکہ معاشرہ پر جا ہلیت کے گناہوں کا خیمہ قائم ہو گا ، برائیوں کے متعلق لوگوں کا ایک دوسرے سے مسابقہ کرنا ،اسلام کا اپنی سابقہ حالت پر آجانا جبکہ اس کی طاقتیں جواب دے چکی ہوںگی اور اس کے اموال پر بڑی حکومتوں نے حملہ کر دیا ہوگا اس کے امکانات چھینے جا چکے ہوں گے ۔اس سلسلہ میں بعض احا دیث ملاحظہ کیجئے :

۱۔ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان ہے :''آخری زمانہ میں میری امت پر ان کے بادشاہوں کی طرف سے ایسی سخت مصیبت نازل ہو گی جس سے سخت مصیبت اس سے پہلے نازل نہیں ہو ئی ہو گی ،یہاں تک کہ اُن کیلئے وسیع زمین تنگ ہو جا ئے گی ،زمین ظلم و جور سے بھر جا ئے گی ، مومن کو ظلم سے بچنے کیلئے کو ئی پناہ گاہ نہیں ملے گی ،اس وقت اللہ عز وجلّ میری عترت میں سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہو گی ، اس سے زمین و آسمان کے رہنے والے راضی ہوں گے ،زمین سے وہی چیز اُگتی ہے جو اُس میں بو ئی جا تی ہے اور خداوند عالم آسمان سے بارش کے علاوہ اور کچھ نہیں برساتا ''۔(۱)

____________________

۱۔عقد الدر، صفحہ ۱۱۳۔


یہ حدیث مسلمانوں پر ان مصائب و آلام کے پڑنے کی عکا سی کر تی ہے جو اُن کے حُکّام و بادشاہوں نے اُن پر ظلم و جور کے ساتھ حکومت کی ،پھر اللہ اُن کو مہدیٔ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ذریعہ نجات دے گا جو زمین کو رحمت اور خیر سے بھر دے گا اور تمام ظلم و جور کا خاتمہ کر دے گا ۔

۲۔عوف بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان ہے :''اے عوف جب میری امت میں تہتّر فرقے ہو جا ئیں گے اس وقت تم کیا کروگے اور اُن فرقوں میں سے ایک فرقہ جنت میں جا ئیگا اور بقیہ تمام فرقے جہنمی ہو ں گے ؟''۔

عوف نے جلدی سے عرض کیا :کیا ہوگا ؟

رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی امت کو جن مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا اُن کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں جواب دیا :''شرطیں بہت زیادہ ہوجا ئیںگی ،کنیزیں مالک ہو جا ئیںگی ،جاہل لوگ منبروں پر بیٹھنے لگیں گے، گروہ حکومت کرنے لگے ،اللہ کے دین میں اللہ کے علاوہ کسی اور کیلئے فکر کی جانے لگے گی ،مرد اپنی عورت کا مطیع ہوجائے گا،اس کی ماں اسے عاق کردے گی،اُس کا باپ اس سے دور ہوجائے گا،اس امت کے آخری لوگ اس کی سابقہ نسل پر لعنت کر نے لگیںگے،قبیلہ کا فاسق شخص اس کا سردار بن جائے گا ،قوم کا سب سے زیادہ ذلیل شخص اس کا زعیم بن جائے ،جس کے شر سے لوگ ڈرتے ہوں اُس کا احترام کیا جانے لگے گا''۔

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے مزید فرمایا :''پھر ایک گہرا اور ڈرائونا فتنہ چھا جائے ،اور بعض فتنے دوسرے بعض فتنوں کی اتباع کر نے لگیں ،یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص قیام کرے گا جس کو مہدی کہا جاتا ہے ''۔(۱)

اس روایت میں عالم اسلام کو پہنچنے والی تحلیل ،فساد ،مسلمانوں کا اپنے دین کے عظیم ارکان سے منحرف ہو جانا ،اُن میں ظلم و جور کا بول بالا ہونا ،غم انگیز معاملات کا منتشر ہونا ،پھر خداوند عالم کا اپنے ولی عظیم امام مہدی کے ذریعہ اُن کو نجات دلانا بیان کیا گیا ہے جو دین کو زندہ کرے گا ،اور ارکان ِ اسلام کو قائم کرے گا۔

۳۔رسول اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان ہے : ''جب اس دنیا میں ہرج و مرج ہو جا ئیگا تواس امت کا مہدی

____________________

۱۔کنز العمال ،جلد ۶،صفحہ ۴۴۔اور تقریباً اسی طرح کی حدیث عرف وردی جلد ۲،صفحہ ۶۷میں نقل کی گئی ہے ۔


ہم میں سے ہوگا ،فتنے ظاہر ہوجا ئیںگے ،راستے منقطع ہو جا ئیںگے ،بعض دوسرے بعض افراد کو غارت کرنے لگیںگے ،بڑے چھوٹوں پر رحم نہ کھائیںگے ،چھوٹے بڑوں کی عزت نہ کریں گے ،تو اس وقت اللہ ہمارے مہدی کومبعوث کرے گا جو امام حسین کی نسل سے نواں امام ہوگا،گمراہی کے قلعوں پر فتح پائے گا ،

آخری زمانہ میں دین اسی طرح قائم ہوگا جس طرح وہ اپنے آغاز میں قائم تھا وہ دنیا کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی ''۔(۱)

اس حدیث میں ان فتنوں ،اضطراب اور قلق کو ظاہر کیاگیا ہے جس سے عام زندگی رو برو ہوتی ہے چنانچہ خدا اپنے عظیم ولی کے ذریعہ نجات دے گا اور خیر و سعادت کی زندگی تعمیرکرے گا ۔

۲۔دجال کا خروج

ظہور کی یقینی علامات میں سے ایک دجّال کا خروج اور اس کا زندگی پر مؤثر واقع ہونا ہے ،وہ عام لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے قیام کرے گا ،یہودی اس سے ملحق ہو جا ئیں گے ،وہ لوگوں کو مال و دولت کا لالچ دے گا، اس کے سلسلہ میں کچھ احا دیث ِ نبوی ملاحظہ کیجئے :

۱۔ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا ہے :''آدم کی خلقت سے لیکر قیامِ قیامت تک دجال کا امر سب سے بڑا ہوگا ''۔(۲)

حدیث کا مطلب :دجال کا خروج دنیا کے اہم واقعات میں سے ہے وہ فتنے برپا کرے گا اور خون بہائے گا ۔

۲۔انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا فرمان ہے :''ہر نبی کو کذّاب اور کانے دجّال سے ڈرایا گیا ہے ، وہ کانا ہوگا اور بیشک تمہارا رب کانا نہیں ہے ''۔(۳)

تمام انبیاء کو اس کانے دجّال کے فتنہ سے ڈرایا گیا ہے جو لوگوں کو دھوکہ دے گا اُ ن کو حق سے روکے گا اور بہت بڑے شر میں ڈال دے گا ۔

____________________

۱۔حیاةالامام محمد المہدی ، صفحہ ۲۵۱۔

۲۔عقد الدرر،صفحہ ۳۲۴۔

۳۔عقد الدرر ،صفحہ ۳۲۳۔صحیح بخاری ،جلد ۳،صفحہ ۱۲۱۴۔


نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے کانے دجّال کے بارے میں یہ احا دیث نقل کی گئی ہیں جو تاریخ بشریت میں سب سے زیادہ شریرمفسد ہوگا ،اور ہم نے اس کے حالات اپنی کتاب ''حیاةالامام محمد المہدی ''میں بیان کردئے ہیں ۔

۳۔ سفیانی کا خروج

امام منتظر کے ظہور کی ایک علامت سفیانی کا خروج ہے وہ زمین پر ایک انوکھے ڈھنگ سے شر و فساد برپا کرے گا ،اس کے نسب کا اسلام کے دشمن ابو سفیان پر اختتام ہوگا ،امام امیرالمو منین نے اس کے حالات ،فتنے ،اور ہلاکت کے متعلق ایک مفصل حدیث بیان فرما ئی ہے جس کو ہم نے اپنی کتاب ''حیاة الامام محمدالمہدی ''میں بیان کر دیا ہے ۔

۴۔ سیاہ جھنڈے

امام کے ظہور کی حتمی و یقینی علامات میں سے ایک ایسے اسلامی لشکر کا تشکیل پانا ہے جو کالے جھنڈے بلند کرے گا،زیادہ تر احتمال یہ ہے کہ اُن کے پرچم امام حسین کے غم میں سیاہ ہوں گے ۔

اس سلسلہ میںبہت زیادہ احادیث ہیں لیکن ہم ذیل میںچنداحادیث نقل کررہے ہیں:

۱۔حسن نے اپنی سندکے ذریعہ نقل کیاہے کہ رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے اپنے اہل بیت پر پڑنے والی بلاومصیبت کاتذکرہ کیایہاںتک کہ خداوند عام مشرق سے کالے جھنڈوںوالوںکومبعوث فرمائے گا،جس نے ان کی مددکی اس نے اللہ کی مددکی،جس نے ان کورسواکیاخدااس کورسواوذلیل کرے گایہاںتک کہ ایک شخص آئے گاجس کانام میرے نام پر ہوگاوہ اس کواپناولی امر بنائیںگے پس اللہ اس کی تائیداور مدد کرے گا۔(۱)

۲۔ثوبان نے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی ہے ہے کہ:جب تم خراسان کی طرف سے کالے

جھنڈے آتے دیکھو تو ان کے ساتھ ہوجائو،بیشک اس میں اللہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے ۔(۲)

۳۔جابر نے امام ابوجعفرسے نقل کیاہے :''جب مہدی ظہور کریں گے تو خراسان سے کالے جھنڈے

____________________

۱۔حیاةالامام محمدالمہدی ،صفحہ۲۷۶۔

۲۔کنزالعمال ،جلد۷ صفحہ۱۸۲۔


خروج کریں گے اور وہ مکہ میں (امام)کی بیعت کرنے کیلئے جا ئیں گے ''۔(۱)

۵۔آسمانی آواز

امام کے ظہور کی علامات میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ ایک فرشتہ آسمان سے آپ کے ظہور کی بشارت کی آواز لگائے گا، لوگوں کو مہدی کی بیعت کی دعوت دے گا اور ہر امت سے اس کی زبان میں خطاب کرے گا ،اس بارے میں متعدد احادیث ہیںجن میں سے ہم ذیل میںچنداحادیث نقل کر رہے ہیں :

۱۔عبداللہ بن عمران نے رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے روایت کی ہے :''مہدی خروج کریں گے حالانکہ آپ کے سرپرعمامہ ہوگا ایک فرشتہ یہ ندادے گا:یہ اللہ کے خلیفہ مہدی ہیں ان کی ابتاع کرو''۔(۲)

۲۔امام رضا سے روایت ہے :''جب امام منتظرکاظہور ہوگا تو زمین ان کے نور سے چمک اٹھے گی،وہ لوگوں کے درمیان عدل وانصاف کا ترازو معین کریں گے ،ایک دوسرے پر کوئی ظلم نہیں کرے گا،ان کے لئے زمین کو سمیٹ دیاجائے گا،ان کاسایہ نہیں ہوگا،وہ ،وہ وہی ہیں جن کے لئے منادی دعاکرتے ہوئے آسمان سے ندادے گاجس کوتمام اہل زمین سنیںگے :آگاہ ہوجائواللہ کی حجت نے اللہ کے گھر کے پاس ظہورکیاہے اس کی اتباع کرو،بیشک وہ حق ہیںاوران کے ساتھ حق ہے، خداوند عالم کا فرمان ہے: ( إنْ نَشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِنْ السَّمَائِ آیَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِینَ ) ۔(۳) ''اگر ہم چا ہتے تو آسمان سے ایسی آیت نازل کر دیتے کہ ان کی گردنیں خضوع کے ساتھ جھک جا تیں ''۔(۴)

۳۔امام امیرالمومنین کافرمان ہے :''جب منادی آسمان سے یہ نداکرے کہ بیشک آل محمد حق ہیں

تواس وقت مہدی لوگوں کے لئے ظہورکریںگے،اوروہ خوش ہوںگے کہ ان کے پاس ان کے ذکر کے علاوہ اورکوئی تذکرہ نہ ہو''۔(۵)

____________________

۱۔العرف الوردی، جلد ۲،صفحہ ۶۸۔

۲۔عرف وردی جلد۲، صفحہ۱۱ ،نورالابصار ،صفحہ۱۵۵،ینابیع المودت ،صفحہ۴۴۷۔

۳۔سورئہ شعرا،آیت ۴۔

۴۔فرائد السمطین، جلد۲ ،صفحہ۳۳۷۔

۵۔ملاحم والفتن، صفحہ۳۶۔


ان مضامین کے متعلق نبی اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اورائمہ اطہار سے متعدد نورانی اخبار نقل ہوئی ہیں جن میںیہ اعلان کیاگیاہے کہ امام کے ظہور کی ایک علامت فرشتہ کاآسمان سے ندادینا ہے اور احادیث میںاس بات پربہت زوردیاگیاہے کہ یہ آواز ہر امت اپنی زبان میں سنے گی۔

۶۔حضرت عیسیٰ کا آسمان سے نزول

امام کے ظہورکی ایک علامت عیسیٰ مسیح کاآسمان سے زمین پرنازل ہونا ہے آپ امام کی بیعت کریںگے ان کی اقتدامیںنمازپڑھیںگے جب نصاریٰ اس منظرکانظارہ کریںگے تو فوراً مسلمان ہوجائیں گے ،اس بارے میں ذیل میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔

۱۔رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کافرمان ہے :''بیشک میرے خلیفہ اور اوصیا بارہ ہیں ان میںسے پہلا میرا بھائی ہے اورآخری میرافرزندہے''۔

سوال کیاگیا:یارسول اللہ آپ کا بھائی کون ہے ؟

فرمایا:علی بن ابی طالب ۔

سوال کیاگیا:آپ کافرزندکون ہے ؟

فرمایا:''مہدی جوزمین کوعدل وانصاف سے اسی طرح بھردے گاجس طرح وہ ظلم وجورسے بھری ہوگی۔اس خداکی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ یہ بشارت دیتے ہوئے مبعوث کیاکہ اگردنیاکا ایک دن بھی باقی رہ جائے گا توخداوندعالم اس دن کومیرے فرزندمہدی کے خروج کرنے تک طولانی کردے گا،عیسیٰ بن مریم زمین پراتریںگے اوران کے اقتدامیںنمازمیںاداکریںگے۔زمین ان کے رب کے نورسے منور ہوجائے گی اور مشرق سے مغرب تک ان کی حکومت ہو گی''۔(۱)

۲۔رسول اللہصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کافرمان ہے:''عیسیٰ بن مریم صبح کے وقت زمین پراتریںگے۔۔۔ آپ کا رنگ سفید ہوگا سررنگین ہوگا با ل بکھرے ہوںگے گویاسر تیل سے بھراہوگا صلیب کوتوڑدیں گے سوروں کو قتل کردیں گے دجال کو مارڈالیں گے، امام کے اموال کو حاصل کریں گے آپ کے پیچھے اصحاب کہف چلیں گے ،

____________________

۱۔غایة المرام ،صفحہ۴۳،فرائد السمیطین ،جلد۲ ،صفحہ۳۱۲۔


آپ امام زمانہ کے وزیر، نگہبان اورنائب ہوں گے اور مشرق ومغر ب میں دین پھیلائیںگے''۔(۱)

متعدد روایات میںواردہواہے کہ عیسیٰ بن مریم آسمان سے اتریںگے ،امام کی بیعت کریں گے اور آپ ان کی اقتدامیں نمازپڑھیںگے، آپ امام کی نصرت میں محکم اور مثبت طورپر قیام کریں گے ۔ ہم نے اپنی کتاب ''حیاةالامام المہدی ''میں اس موضوع سے متعلق متعدد احادیث نقل کی ہیں۔

حق اور انسانیت کیلئے عدالت کا دم بھرنے والے امام کے ظہورکی یہ بعض علامتیں تھیں اور دوسرے مصادرحدیث میں دوسری بعض علامات کا تذکرہ موجود ہے۔

ظہورکاوقت

امام شنبہ(سنیچر)کے دن دس محرم کوظہورکریں گے یہ وہ دن ہے جس دن فرزند رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حضرت امام حسین شہید کئے گئے جیسا کہ بعض احادیث میں آپ کے ظہورکے وقت کے متعلق اعلان کیاگیا ہے ذیل میں چند احادیث ملاحظہ کیجئے :

۱۔ابوبصیرنے حضرت امام جعفرصادق سے روایت کی ہے:''قائم سنیچرکے دن دس محرم کو ظہورکریں گے جس دن امام حسین شہید کئے گئے'' ۔(۲)

۲۔علی بن مہزیارنے امام ابوجعفر محمد باقر سے روایت کی ہے :''گویاحضرت قائم دس محرم شنبہ (سنیچر)کے دن ظہورکریں گے ،رکن اورمقام ابراہیم کے درمیان کھڑے ہوکر جبرئیل یہ ندا دیں گے :بیعت اللہ کیلئے ہے وہ زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھردیں گے جس طرح وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی''۔(۳)

ان کے علاوہ متعدد احادیث ہیں جن میں امام زمانہ کے ظہور اور جگہ کے متعلق بیان ہوا ہے اور ہم نے امام کے ظہورسے متعلق متعدد احادیث اپنی کتاب ''حیاةالامام محمد المہدی ''میں نقل کی ہیں ۔

یہاں ہماری ائمہ ہدیٰ مصابیح اسلام کے سلسلہ میں مختصر سوانح حیات کا اختتام ہوجاتا ہے ۔

____________________

۱۔غایة المرام ،صفحہ ۶۹۷،تفسیر ثعلبی سے نقل کے مطابق۔

۲۔کمال الدین، جلد۲،صفحہ۲۵۴۔

۳۔الغیبةمؤلف شیخ طوسی، صفحہ۴۵۳۔


فہرست

حرف اول ۴

آغاز سخن ۷

مقدمہ ۹

ائمہ اہل بیت علیہم السلام ۲۱

حضرت علی علیہ السلام ۲۱

کعبہ میں ولادت ۲۲

القاب ۲۳

۱۔صدیق(۲) ۲۳

۲۔وصی ۲۴

۳۔فاروق ۲۴

۴۔یعسوب الدین ۲۴

۵۔امیر المو منین ۲۵

۶ حجة اللہ ۲۵

آپ کی پرورش ۲۶

پرورش امام کے لئے نبی کی آغوش ۲۶

نبی اکرم صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حمایت ۲۷

اسلام کی راہ میں سبقت ۲۸

آپ کی نبی سے محبت ۲۸

یوم الدار ۲۹


شعب ابی طالب ۳۰

امام کا نبی کے بستر پر آرام کرنا (شب ہجرت) ۳۲

امام کی مدینہ کی طرف ہجرت ۳۵

امام ، قرآن کی نظرمیں ۳۶

آپ کی شان میں نازل ہونے والی آیات ۳۷

اہل بیت کے سلسلہ میں نازل ہونے والی آیات ۴۱

امام اور نیک اصحاب کے بارے میں نازل ہو نے والی آیات ۴۵

آپ کے حق اور مخالفین کی مذمت میں نازل ہونے والی آیات ۴۶

امام روایات کی رو شنی میں ۴۸

پہلا دستہ ۴۸

نبی کے نزدیک آپ کا مقام و مرتبہ ۴۸

۱۔امام نفس نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۴۹

۲۔امام نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بھا ئی ۴۹

نبی اور علی ایک شجرئہ طیبہ سے ہیں ۵۰

۴۔امام نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے وزیر ۵۱

۵۔امام نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے خلیفہ ۵۱

۶۔ امام کی نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے نسبت، ہارون کی مو سیٰ سے نسبت کے مانند ہے ۵۲

۷۔امام شہر علم نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا دروازہ ۵۳

۸۔امام ،انبیاء کے مشابہ ۵۴

۹۔ علی کی محبت ایمان اور ان سے بغض رکھنا نفاق ہے ۵۵


دوسرے دستہ کی روایات ۵۷

دار آخرت میں امام کا مقام ۵۷

۱۔امام لواء حمد کو اٹھانے والے ۵۷

۲۔ امام صاحب حوض نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ۵۷

امام جنت و جہنم کو تقسیم کرنے والے ۵۸

عترت اطہار کی فضیلت کے بارے میں نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی احادیث ۵۸

حدیث ثقلین ۵۹

حدیث سفینہ ۶۰

اہل بیت امت کے لئے امان ہیں ۶۱

امام ،جہاد میں نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ساتھ ۶۱

۱۔جنگ بدر ۶۲

۲۔جنگ احد ۶۳

امام ،کا نبی کی حمایت کرنا ۶۵

۳۔جنگ خندق ۶۷

خندق کھودنا ۶۸

امام کا عمرو سے مقابلہ ۶۸

۴۔فتح خیبر ۷۱

امام کا مرحب سے مقابلہ ۷۴

۵۔فتح مکہ ۷۶

حجة الوداع ۷۹


غدیر خم ۸۰

ابدی غم ۸۳

جمعرات ،مصیبت کا دن ۸۴

جنت کا سفر ۸۶

آنحضرت صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے جنازہ کی تجہیز ۸۸

جسم اطہر پر نماز جنازہ ۸۹

جسم مطہر کی آخری پناہ گاہ ۹۰

سقیفہ کا اجلاس ۹۱

ابو بکر کی بیعت کے متعلق امام کا ردّ عمل ۹۲

زہرا راہ آخرت میں ۹۵

عمر کی حکومت ۹۷

عمر پر حملہ ۹۸

شوریٰ کا نظام ۹۹

عثمان کی حکومت ۱۰۰

عثمان کے لئے محاذ ۱۰۳

عثمان پر حملہ ۱۰۴

امام کی خلافت ۱۰۵

امام کا خلافت قبول کر نا ۱۰۷

سخت فیصلے ۱۰۸

۱۔جنگ جمل ۱۰۹


۲۔جنگ صفین ۱۰۹

قرآن کو بلند کرنے کی بیہودگی ۱۱۱

اشعری کا انتخاب ۱۱۱

۳۔خوارج ۱۱۱

امام کی شہادت ۱۱۲

حضرت امام حسن علیہ السلام ۱۱۳

آپ کی پرورش ۱۱۵

بہترین فضائل و کمالات ۱۱۵

امامت ۱۱۶

۱۔امامت کا مطلب ۱۱۶

۲۔امامت کی ضرورت ۱۱۶

۳۔واجبات امام ۱۱۷

۴۔امام کے صفات ۱۱۷

۵۔امام کی تعیین ۱۱۹

بلند اخلاق ۱۲۱

وسعت حلم ۱۲۲

سخاوت ۱۲۳

زہد ۱۲۵

علمی ہیبت ۱۲۶

حکیمانہ کلمات قصار ۱۲۶


آپ کے بعض خطبے ۱۲۷

عبادت ۱۲۸

وضو اور نماز ۱۲۹

حج ۱۲۹

اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرنا ۱۳۰

کثرت ازواج کی تہمت ۱۳۰

خلافت ۱۳۱

حضرت امام حسین علیہ السلام ۱۳۴

نبی صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی حسین سے محبت ۱۳۵

نبی کا امام حسین کی شہا دت کی خبر دینا ۱۳۷

امام حسین اپنے والد بزرگوار کے ساتھ ۱۴۲

حضرت علی کا امام حسین کی شہادت کی خبر دینا ۱۴۲

آپ کے ذاتی کمالات ۱۴۵

۱۔قوت ارادہ ۱۴۵

۲۔ظلم و ستم (و حق تلفی) سے منع کرنا ۱۴۶

۲۔ شجاعت ۱۵۱

۴۔صراحت ۱۵۵

۵۔ حق کے سلسلہ میں استقامت ۱۵۷

۶۔ صبر ۱۵۸

۷۔حلم ۱۵۹


۸۔تواضع ۱۶۰

وعظ و ارشاد ۱۶۲

اقوال زرّین ۱۶۳

حضرت امام حسین اورعمر ۱۶۳

حضرت امام حسین معاویہ کے ساتھ ۱۶۴

امام حسین کا معاویہ کے ساتھ مذاکرہ ۱۶۵

مکہ معظمہ میں سیاسی اجلاس ۱۶۵

آپ کا یزید کی ولیعہدی کی مذمت کرنا ۱۶۶

معاویہ کی ہلاکت ۱۶۶

حضرت امام حسین کا انقلاب ۱۶۷

شہادت ۱۶۸

امام کا استغاثہ ۱۷۰

شیر خوار کی شہادت ۱۷۰

امام کی ثابت قدمی ۱۷۱

آپ کی اہل بیت سے آخری رخصت ۱۷۴

امام کی اللہ سے مناجات ۱۷۸

امام پر حملہ ۱۷۹

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ۱۸۳

آپ کے القاب ۱۸۴

۱۔زین العابدین ۱۸۴


۲۔سید العا بدین ۱۸۴

۳۔ذو الثفنات ۱۸۴

۴۔سجاد ۱۸۵

۵۔زکی ۱۸۶

۶۔امین ۱۸۶

۷ ۔ابن الخیرتین ۱۸۶

ذاتی عناصر ۱۸۸

حلم ۱۸۸

صبر ۱۹۰

لوگوں پر احسان ۱۹۱

سخاوت ۱۹۲

محمد بن اسامہ کے ساتھ نیکی کر نا ۱۹۲

عمومی طور پر کھانا کھلانا ۱۹۳

سو گھروں کی پرورش ۱۹۳

فقیروں پر رحم و کرم ۱۹۳

۱۔ فقیروں کی عزت کرنا ۱۹۴

۲۔آپ کی فقیروں پر مہربانی ۱۹۴

۳۔ آپ کا سائل کو رد کر نے سے منع فرمانا ۱۹۵

آپ کے صدقات ۱۹۵

۱۔لباس تصدّق کرنا ۱۹۶


۲۔اپنی پسندیدہ چیزکا صدقہ میںدینا ۱۹۶

۳۔آپ کا اپنے مال کو تقسیم کرنا ۱۹۷

۴۔آپ کا مخفی طور پر صدقہ دینا ۱۹۷

شجاعت ۱۹۹

امام مدینہ میں ۲۰۰

آپ کی عبادت ۲۰۱

آپ کی نماز ۲۰۳

نماز کے وقت آپ کا خوشبو لگانا ۲۰۴

نماز کے وقت آپ کا لباس ۲۰۴

نماز کی حالت میں آپ کا خشوع ۲۰۴

ہزار رکعت نماز ۲۰۶

مستحب نمازوں کی قضا ۲۰۷

آپ کا زیادہ سجدے کرنا ۲۰۷

کثرت تسبیح ۲۰۸

نماز شب کا واجب قرار دینا ۲۰۹

نماز شب کے بعد آپ کی دعا ۲۰۹

اپنے غلاموں کے ساتھ ۲۱۸

آپ کی اپنے بیٹوں کو وصیت ۲۲۰

آپ کی اپنے بیٹوں کے لئے دعا ۲۲۱

آپ کی حکمتیں اور تعلیمات ۲۲۲


بلند خصلتیں ۲۲۲

مو من کی علا متیں ۲۲۳

اچھی گفتگو ۲۲۳

مو من کو نجات دینے والی چیزیں ۲۲۴

آپ کی شہادت ۲۲۴

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ۲۲۶

آپ کاحلم ۲۳۰

آپ کاصبر ۲۳۱

فقیروں پر مہربان ۲۳۳

آپ کی عبادت ۲۳۳

آپ کا زہد ۲۳۴

دلچسپ حکمتیں ۲۳۵

اپنے شیعوں کو آپ کی نصیحت ۲۳۶

آپ کی شہادت ۲۳۶

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ۲۳۷

آپ کی پرورش ۲۳۸

آپ کے وسیع علوم ۲۴۰

امام کی یونیورسٹی ۲۴۰

یونیورسٹی کا مرکز ۲۴۱

علمی وفود ۲۴۱


طلبہ کی تعداد ۲۴۲

یونیورسٹی کے شعبے ۲۴۳

علمی طریقے ۲۴۴

علوم کی تدوین ۲۴۵

آپ کے صفات و خصوصیات ۲۴۷

۱۔بلند اخلاق ۲۴۷

۲۔تواضع ۲۴۸

۳۔صبر ۲۴۹

۴۔سخاوت ۲۴۹

۵۔مخفی طور پر آپ کے صدقات ۲۵۰

۶۔ حاجت روائی میں سبقت کرنا ۲۵۱

۷۔آپ کی عبادت ۲۵۱

مختصر حکمت آمیز کلمات ۲۵۲

سفرجنت ۲۵۵

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ۲۵۶

علمی طاقت وقوّت ۲۵۶

امام کے مناظرے ۲۵۷

۱۔نفیع انصاری کے ساتھ مناظرہ ۲۵۷

۲۔ابویوسف کے ساتھ مناظرہ ۲۵۸

آپ کے صفات و خصوصیا ت ۲۶۴


۱۔آپ کے علمی فیوضیات ۲۶۴

۲ ۔ دنیا میں زہد ۲۶۵

۳ ۔ جو د و سخا ۲۶۵

۴ ۔ لو گو ں کی حا جت ر و ا ئی ۲۶۶

۵ ۔ ا للہ کی ا طا عت ا و ر عبا د ت ۲۶۸

۶ ۔ حلم اور غصہ کو پی جانا ۲۷۰

۷ ۔مکارم اخلاق ۲۷۲

سخا و ت اور حُسن خلق ۲۷۲

صبر ۲۷۳

صمت و و قا ر ۲۷۳

عفو ا و ر ا صلا ح ۲۷۳

قو ل خیر ۲۷۴

شکر نعمت ۲۷۴

۸ ۔آپ کے زرین اقوال ۲۷۴

امام ہارون کے قید خانہ میں ۲۷۶

بصرہ کے قید خانہ میں ۲۷۷

آپ کا عبادت میں مشغول رہنا ۲۷۷

عیسیٰ کو امام کو قتل کرنے کے لئے روانہ کرنا ۲۷۷

امام کو فضل کے قید خانہ میں بھیجنا ۲۷۸

امام کا ملول و رنجیدہ ہونا ۲۸۰


امام کو فضل بن یحییٰ کے قید خانہ میں بھیجنا ۲۸۰

امام ،سندی کے قید خانہ میں ۲۸۲

امام کی نعش مبارک بغداد کے پُل پر ۲۸۴

حضرت امام رضا علیہ السلام ۲۸۶

آپ کی پرورش ۲۸۷

آپ کا عرفان اور تقویٰ ۲۸۷

آپ کے بلند وبالااخلاق ۲۸۸

آپ کا زہد ۲۸۸

آپ کے علوم کی وسعت ۲۸۹

اقوال زرین ۲۹۰

عقل کی فضیلت ۲۹۰

محاسبۂ نفس ۲۹۱

کارو بار کی فضیلت ۲۹۱

سب سے اچھے لوگ ۲۹۱

آپ کی نصیحتیں ۲۹۲

۲۔مالدار اور فقیر کے درمیان مساوات ۲۹۲

۳۔مومن کے چہرے کا ہشاش بشاش ہونا ۲۹۲

۴۔عام وصیت ۲۹۳

کلمات قصار ۲۹۳

آپ کو تمام زبانوں کاعلم ۲۹۴


آپ کی جود و سخا ۲۹۶

عبادت ۲۹۸

آپ کی ولی عہدی ۲۹۹

فضل کا امام رضا کو خط لکھنا ۳۰۰

مامون کے ایلچیوں کا امام کی خدمت میں پہنچنا ۳۰۱

خا نہ خدا کی طرف ۳۰۳

خراسان کی طرف ۳۰۴

امام نیشاپور میں ۳۰۴

مامون کا امام کا استقبال کر نا ۳۰۵

مامون کی طرف سے امام کو خلافت پیش کش ۳۰۶

ولیعہدی کی پیشکش ۳۰۷

امام کو و لیعہد ی قبو ل کر نے پر مجبو ر کر نا ۳۰۷

امام کی شرطیں ۳۰۸

امام کی بیعت ۳۰۸

اہم قوانین ۳۰۹

مامون کا امام رضا سے خوف ۳۰۹

امام کو قتل کرنا ۳۱۰

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام ۳۱۲

آپ اپنے والد بزرگوار کی زند گی میں ۳۱۲

خاندان نبوت کا اعزاز و اکرام ۳۱۳


آپ کا زہد ۳۱۴

آپ کی سخاوت ۳۱۵

آپ کے وسیع علوم ۳۱۶

حقیقی ایمان ۳۱۷

۱ ۔ اللہ پر اعتماد ۳۱۸

۲۔اللہ کے ذریعہ بے نیازی ۳۱۸

۳۔اللہ سے لو لگانا ۳۱۸

مکارم اخلاق ۳۱۸

آداب سلوک ۳۱۹

آپ کے مو عظے ۳۲۰

مامون کا امام سے مسئلہ کی وضاحت طلب کرنا ۳۲۱

امام کا قتل ۳۲۳

آپ کی تجہیزوتکفین ۳۲۵

امام کی عمر ۳۲۶

حضر ت ا ما م علی نقی علیہ ا لسلا م ۳۲۷

ولادت باسعادت ۳۲۷

اسم گرامی ۳۲۷

آپ کی پرورش ۳۲۸

بچپن میں علم لدنی کے ما لک آپ کی غیرمعمولی استعداد ۳۲۸

علویوںکاآپ کی تعظیم کرنا ۳۳۰


آپ کاجودوکرم ۳۳۱

امام کا اپنے مزرعہ (زراعت کرنے کی جگہ)میں کام کرنا ۳۳۲

آپ کا زہد ۳۳۳

آپ کا علم ۳۳۴

آپ کے اقوال زرّیں ۳۳۶

امام کے امتحان کے لئے متوکل کا ابن سکیت کو بلانا ۳۳۷

عبادت ۳۳۹

متوکل کے ساتھ ۳۴۰

امام کی شکایت ۳۴۰

امام کاشکایت کی تکذیب کرنا ۳۴۱

متوکل کا امام کے پاس خط ۳۴۱

امام علی نقی کا سامرا پہنچنا ۳۴۲

امام خان صعالیک میں ۳۴۴

امام کی متوکل سے ملاقات ۳۴۴

متوکل کا اچھے شاعر کے متعلق سوال کرنا ۳۴۴

۱۔امام کے گھر پر حملہ ۳۴۶

۲۔امام پراقتصادی پا بندی ۳۴۸

۳۔ امام کو نظر بند کرنا ۳۴۸

امام کا متوکل کے لئے بد دعا کرنا ۳۵۰

امام کا متوکل کے ہلاک ہونے کی خبر دینا ۳۵۰


متوکل کی ہلاکت ۳۵۱

امام پر قاتلانہ حملہ ۳۵۳

تجہیز و تکفین ۳۵۴

تشییع جنازہ ۳۵۵

ابدی آرام گاہ ۳۵۵

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام ۳۵۶

آپ کا نسب ۳۵۶

ولادت ۳۵۷

آپ کی ولادت پرشرعی رسومات ۳۵۸

آپ کی پرورش ۳۵۸

اللہ سے امام کاخوف ۳۵۹

آپ اپنے پدر بزگوار کے ساتھ ۳۶۰

آپ کی عبادت ۳۶۰

حلم ۳۶۱

کرم ۳۶۱

علم ۳۶۲

بلند اخلاق یا کریمانہ اخلاق ۳۶۲

آپ کے زرّین اقوال ۳۶۴

امامت کے دلائل ۳۶۵

امام حسن عسکری علیہ السلام کا علی بن الحسین فقیہ کے نام خط ۳۶۸


امام حکّامِ عصر کے ساتھ ۳۷۰

۱۔متوکل ۳۷۰

متوکل کی عیش پرستی ۳۷۰

کھلم کھلا گناہ کرنا ۳۷۳

علویوں کے ساتھ ۳۷۳

متوکل کی امام امیرالمومنین سے عداوت ۳۷۴

متوکل کے ذریعہ امام حسین کے مرقدمطہرکاانہدام ۳۷۴

امام علی نقی کے ساتھ ۳۷۵

۲۔منتصر کی حکومت ۳۷۶

۳۔مستعین کی حکومت ۳۷۶

۴۔معتزکی حکومت ۳۷۷

۵۔مہتدی کی حکومت ۳۷۸

۶۔ معتمد کی حکومت ۳۷۹

اما م پر قاتلانہ حملہ ۳۸۰

جنةالماویٰ کی طرف ۳۸۱

تجہیزوتکفین ۳۸۱

تشییع جنازہ ۳۸۱

آخری قیام گاہ ۳۸۲

حضرت امام مہدی (عج) ۳۸۳

عظیم مولودیاولادت باسعادت ۳۸۳


ولادت کے رسم ورواج ۳۸۵

عام دعوت ۳۸۶

شیعوں کو آپ کی ولادت کی خو شخبری ۳۸۷

اسم مبارک ۳۸۷

آپ کے وجود سے شیعوں کو آگاہ کرنا ۳۸۷

بُلند اخلاق ۳۸۸

۱۔آپ کے علوم کی وسعت ۳۸۸

۲۔آپ کا زہد ۳۸۹

۳۔آپ کا صبر ۳۹۰

۴۔شجاعت ۳۹۱

۵- آپ کی سخاوت ۳۹۱

۶۔حق میں پا ئیداری ۳۹۲

عبادت ۳۹۳

غیبت ِ صغریٰ ۳۹۳

غیبت کا زمانہ ۳۹۳

جہاں آپ رو پوش ہوئے ۳۹۴

آپ کے عظیم و بزرگ سفیر ۳۹۴

۱۔عثمان بن سعید ۳۹۴

آپ کی وفات ۳۹۵

امام کی طرف سے ان کی تعزیت پیش کرنا ۳۹۵


۲۔عثمان بن سعید ۳۹۶

۳۔حسین بن روح ۳۹۶

۴۔علی بن محمد سَمَری ۳۹۷

فقہا ء کی ولایت ۳۹۸

غیبت کبریٰ ۳۹۸

سوالات ۳۹۹

۱۔آپ کی طولانی عمر ۳۹۹

جواب ۳۹۹

۲۔اتنی طویل عمر کیوں دی گئی ؟ ۴۰۱

جواب ۴۰۱

۳۔امام منتظر ظاہر کیوں نہیں ہوتے ؟ ۴۰۱

جواب ۴۰۱

۴۔امام مہدی اپنے قیام کے ذریعہ کس طرح دنیائے عالم کی اصلاح فرما ئیں گے ؟ ۴۰۲

جواب ۴۰۲

امام کے ظہور کی علامتیں ۴۰۳

۱۔ظلم کا پھیلنا ۴۰۳

۲۔دجال کا خروج ۴۰۵

۳۔ سفیانی کا خروج ۴۰۶

۴۔ سیاہ جھنڈے ۴۰۶

۵۔آسمانی آواز ۴۰۷


۶۔حضرت عیسیٰ کا آسمان سے نزول ۴۰۸

ظہورکاوقت ۴۰۹

خوشبوئے حیات

خوشبوئے حیات

مؤلف: باقر شریف قرشی
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 430