إنتظار کیا اور منتظر کون ؟

مؤلف: شیخ فداحسین حلیمی
امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے البتہ اس میں موجود مطالب کی یا دیگر غلطیوں کے ذمہ دار ادارہ نہیں ہے


کتاب :انتظار کیا اور منتظر کون ؟

مصنف:شیخ فداحسین حلیمی


پشکش-

اسلامی تعلیمات میں ایک بہت ہی اہم موضوع جس کی اہمیت اور ضرورت کو بیان کرتے ہوے دسویں قرآنی آیات اور سینکڑوں کی تعدات میں احادیث اہل بیت اطہار مختلف قسم کی حدیثی ،تفسیری ،تاریخی اور دیگر کتابوں میں ملنے میں اتئیں ہیں وہ ہے عقیدہ انتظار یعنی آخری زمانہ میں منجی عالم بشریت ،فرزند ختم نبوت ،نور چسم خاتوں جنت سلسلہ امامت کی بارہویں کڑی حضرت حجت ابن حسن العسکری کے ظہور کرنے اور بساط ظلم وبربریت کو جڑ سے اکھاڑ کر ہر جگہ عدل و انصاف کو فروغ دینے پر عقیدہ اور اسے تحقق بخشنے کے لیے زمینہ فراہم کرنا ہے

لیکن ان تمام تر دینی سفارشات اور تاکیدات کے باوجود افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ نہ جانے کن کن وجوہات کی بنا پر مسلمانوں نے اس قرآنی اور الہی نظریے کو بالاۓ طاق رکھتے ہوے آج تک اس راہ میں کوئی قابل تقدیر قدم نہیں اٹھائیں ہیں جسکے نتجے میں آج مؤ منین اور اہل تحقبیق حضرات کے ایک بڑی تعداد کی جانب سے فرھنگ انتظار اور عقیدہ انتظارسے اشنائی اور اسکے شناخت کے لیے انتہائی اشتیاق او ر تشنہگی کے اظہار کرنے کے باوجود مستقل طور پر کوئی قابل قبول کتاب عربی ،فارسی ُاردو اور دیگر زبانوں میں کہ جس میں عقیدہ انتظار کو مختلف زاویوں سے زیر بحث لایا ہو اور اس پر مستدل اور مستندل انداز میں روشنی ڈالی ہو نظر نہیں آتی تاکہ مؤمنین کی روحی اور قلبی تشنگی سیراب ہے جاے ،لہذا علماو فضلاء اور ہر ذمدار افرادکی ذمداری ہے کہ ہر ایک اپنی اپنی ظرفیت اور استطاعت کے مطابق اس حیاتی اور نوید بخش عقیدے پر کام کریں تاکہ نسل آیندہ کےلیے اسکی اہمیت ضردرت اور فردی واجتماعی آثار ونتائج سےگاہی اور آشنائی حاصل کرنے کا زمینہ فراہم ہو جاے-

کتاب حاضر اس راہ میں فقدان اور مؤمنین کے دلی خوہشات کے کو مد نظر رکھتے ہوۓ نظریے انتظار کے متعلق اہم سوالات کے جواب میں پیش کیا ہے،جس کے پہلی فصل میں ضرورت انتظار و دوسری فصل میں مفہوم انتظار اور تیسری و چوتھی فصل میں منتظرین کے اہم ذمداریان اور نتائج انتظار پر گفتگو کی ہے تاکہ مؤمنین اور اہل تحقیق حضرات کے لیے اس موضوع پر مختلف زاویون سے شناخت حاصل کرنے کا موقع کل سکھے آخر میں اُمید ہے یہ ناچیز ہدیہ حضرت بقیۃ اعظم ارواحنا لہ الفداء کے مورد قبول قرار پاۓ“( یا أَيُّهَا الْعَزِیزُ مَسَّنا وَ أَهْلَنَا الضُّر وَ جِئْنا بِبِضاعَةٍ مُزْجاة فَأَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَيْنا إِنَّ اللَّهَ يَجْزِی الْمُتَصَدِّقِینَ )

“الہی عجل فرج مولانا امام الزمان آمین !


مقدمہ

کسی بھی موضوع کے متعلق قلم اٹھانے اور ریسرج کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس موضوع کا انسانی زندگی سے کیا رابطہ ہے اور کس حد تک مؤثر واقع ہوتا ہےـ تاکہ پوری توجہ اور توانائی کے ساتھ اس موضوع کے متعلق بحث کرسکھےـ

لہذا سب سے یہ سوالات ذہن میں آجاتی ہیں ہے کہ

۱ انتظار کیا ہے اور منتظر کون ہے ؟

۲ عقیدہ انتظار انسان کے فردی اور اجتماعی زندگی پر کیا اثر رکھتا ہے؟

۳ نظریۃ انتظار اپنے حقیقی مفہوم میں ایک مسلم فرد کی زندگی میں کیا کیا تبدیلیان لا سکہتا ہے ؟

بے شک مسئلہ انتظار کوئ ایسا مسئلہ نہیں جسے لوگوں نے مظلومون اور ستمدیدہ افراد کے دلوں کی تسکین کے خاطر انکے اذہان میں ڈالا گیا ہو،بلکہ قرآنی آیات وروایات اور تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ بخوبی واضح ہوجتا ہے کہ بنی نوع انسان اپنے طول وعریض تاریخ میں خواہ فردی زندگی میں ہو یا سماجی زندگی میں ہمیشہ نعمت انتظار کا مرہون رہا ہے ،چناچہ اگر کوئی انسان انتظار کی حالت سے باہر اے اور مستقبل سے امیدیں کھو دے تو پھر اسکا جینا مشکل ہو جاے گا اور اسکے دل میں زندگی کے لیے ذرہ برابر جگہ باقی نہیں رہے گی بلکہ الٹا خود زندگی اس کے لیے رنج و مشقت کا باعث بنے گی

پس جس عامل نے اس انسان کو ہر قسم کے مصیبتون سختیون اور پریشانیوں ڈھڈ جانے اور جینے کا قابل اور مزید زندگی کی انجن کو آگے بڑانے کا امیدوار بنایا ہے وہ صرف اور صرف انتظار اور مستقبل سے امید کے علاوہ کچھ ہو ہی نھیں سکتا

انتظار فرج اور اُمید کی معجزۃ آسا جادو ہے کہ اس انساں کو زندگی کے پر طلاطم اور گٹھا ٹھوب طوفان سے پار کر کے لے جا رہی ہے انشاء ﷲ عن قریب اسے ساحل نجات تک پھنجا دے گی اس طرح اس انسان کے درینہ آرزو اور پرانی امید پوری ہو جاے گی (انھم یرونہ بعیدا ونراہ قریبا ً )خدا کرے اس دن کو دیکھنے کی توفیق نصیب ہو-

لھذا ہم ضرورت انتظار و منتظرین کی اہم زمداریا ں اور فوائد انتظار کو الک الک باب کی شکل میں مختلف زاویوں سے زیر بحث لاتے ہیں

تاکہ یہ معلوم ہو جاۓ کہ مسئلہ انتظار کا انسانی زندگی کے ساتھ کیا رابطۃ ہے اوراس پر کتنا مؤثر واقع ہوتا ہے


پہلی فصل :انتظار کیوں ضروری ہے -

سب سے پہلے نظریہ انتظار کے انسانی زندگی میں ضروری ہونے کو مختلف لحاظ سے زیر بحث لاتے ہیں تاکہ یہ بخوبی معلوم ہو جاۓ کہ انتار کیون کر ضروری ہے-

۱: عقیدہ اور انتظارکی ضرورت:

عقیدۃ اساس حیاۃ اور زندگی کی بنیاد ہۓ عقیدۃ اور معرفت انسان کے اندر ایک ایسی حالت اور انگیزہ پیدا کردیتی ہیں جو خود بخود عمل اور کردار کے وجود میں آنے کا سبب بنتی ہیں ، چنانچہ جتنا عقیدہ مستحکم اور معرفت وسیع ہو گی اتنا ہی عمل پکا اور عملی میدان پائیدار ثابت ہو گا اور مختلف قسم کے لغزشون اور کج فہمیوں سے بچ جاےگا

اور صحیح عقیدے کا حصول صرف اور صرف صحیح معرفت اور شناخت کے ساۓ میں ممکن ہے،لھذا حقیقی منتظر وہ شخص ہو گا جسنے فکری سطح پر یہ پہچان لیا ہو کہ جس ہستی کے وہ منتطر ہے وہ ذات مظھر آسماۓ الھی ،واسطہ فیض ربانی اور خاتم اوصیاء ہیں انکی صحیح معرفت اور شناخت اﷲ تعالی کی معرفت اور شناخت ہے -

اور یہ بھی جان لے کہ انتظار اس نفسانی حالت کا نام نہیں جس طرح لغت میں آیا ہے بلکہ انتظار عمل ہے نہ صرف عمل نہیں بلکہ عقیدۃ ہے عقیدۃ حجت خدا کے اس روۓ زمیں پر ظہور کرنے کا اور زمیں کو عدل و انصاف سے پر کرنے اور ہر جگہ دستور الہی نافذ کرنے کا عقیدۃ پرچم توحید کو ہر قطعۃ زمیں پر لہرانے کا اگر اس عقیدۓ نے کسی شخص اور مومن کے دل و دماغ میں ریشہ ڈال دیا اور اپنا جڑ مضبوط کردیا تو یہ عقیدۃ اسے انسانیت کے دشمن استعمار کے جارحانہ حربون کے مقابلے پہاڑ کے مانند ڈہت جانے اور انکے نپاک عزائم کو خاک میں ملانے میں کامیاب بناے گا، اور اسے معاشرے میں حقوق ﷲ اور حقوق الناس کے رعایت کرنے ساتھ ایک عدلانہ الہی نظام کے وجود میں لانے استعماری ایجنڈوں کے خلاف قیام کرنے اور ظلم و بربیت کے خلاف مقاومت اور جان نثاری کرنے پر آمادۃ و تیّار کردے گا

اور انسان کے فکر ودماغ اور کردار پر عقیدۃ انتظار کے معجزہ آسا اثر کو مد نظر رکھتے ہوۓ اسلام نے انتظار کو عبادت کا مقام دیا ہے تو اہل بیت اطہار نے اسے افضل العبادۃ کہا ہے چناچہ پیغمبر اکرم فرماتے ہیں(انتظار الفرج عبادة ) اسی طرح کسی اور حدیث میں فرماتے ہیں (أفضل اعمال اُمتی انتظار الفرج )(۱) کسی اور حدیث چھٹے امام فرماتے ہیںاعلموا أنّ المنتظر لهذا الآمر له مثل أجر الصائم القائم -

جان لو ہمارے قائم کے انتظار کرنے والے کیلیے صائم النہار اور قائم اللیل کا ثواب حاصل ہے---

۲: سماج اور انتظار کی ضرورت :

بشر فطری طور پر ایک سعادت مند اجتماعی زندگی گزارنے کی آرزو رکھتے ہیں اگر یہ آرزو اور خواہش ایک نہ ایک دن پوری نہ ہونے والی نہ ہوتی تو اسکے فطرت اور خلقت میں خواہش اور تمنّا رکھی نہ جاتی جس طرح آب وغذا نہ ہوتے تو بہوک اور پاس اسکے وجود کا حصہ نہ ہوتا اسی طرح اگر یہ فطری خواہش قابل تحقق نہ ہوتی تو اسے اسکے فطرت میں رکھے ہی نہ جاتے- اور آرزو صرف اور صرف ایک جامع اورکامل اجتماعی نظام کے زیر ساۓ میں قبل تحقق ہے جو اس آدمی ذات کی تمام مشروع خواہشات کا جواب گو ہو اور اسکی بنیاد عدل و انصاف پر رکھا گیا ہو،اور اسلامی تعلیمات کی رےشنی مبں ہم مسمانون کا عقیدہ ہے اور اس پر قطعی طور پر یقین رکہتے ہیں کہ وہ اجتماعی نظام بشر کے تمام مشروع خواہشات کا جواب گو ہوں جسکی بنیاد عد و انصاف پر رکھی گی ہو جسکا معیار حق وحقیقت ہو اور انسانی معاشرے کو یآس و ناامیدی جسے مہلک بیماربون سے نجات دلاۓ وہ نظام سواۓ اسلامی نظام کے علاوہ کو اور نظام نہیں ہو سکتا ہے اور یہ مقدس نظام اپنی کامل ترین شکل وصورت میں امام زمانہ عجل اﷲ تعالی فرجہ کے دور میں تحقق پاۓگا

یہ نظریۃ اسلامی تعلیمات کے روشنی میں اس قدر روشن اور واضح ہے کہ جسکے بعض مستشرقین (غیر مسلم محققین جو اسلام کے متعلق سرچ کرتے ہیں )نے بہی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے جسا کہ جرمن کا مشہور فلاسفر ماربین اس حقیقت کی تصریح کرتے ہوے کہتا ہے (( من جملہ اجتماعی مسائل میں سے ایک بہت ہی اہم مسئلۃ جو شیعون کے کامیابی کامرانی اور مستقبل سے امید کا باعث بنا ہے وہ ہے امام حجت کے وجود اور انکے ظہور کے انتظار پر عقیدہ ہے کیونکہ یہ عقیدہ دلون میں امید کی روح پھونگ دیتی ہے اور کبہی اسے یآس و نا امیدی جیسے مہلک بیماریون کا شکار ہونے نہیں دیتا اور برابر حرکت اور جنبش پیدا کر دیتا ہے چونکہ انکے سامنے روشن مستقبل ہے اپ وہ اس روشنائی تک اپنےآپ کو پھنچانے کیلیے مسلسل جدو جہجد اور کوشش کرتے رہیں گئیں کسی قسم کے مشکلات سختیان انکو اس ہدف تک پہنچنے سے روک نیں سکھتی اس طرح بہت بڑے بڑے اجتماعی اور سماجی کامیابیاں انتظار کے اس مستحکم عقیدے کے نتیجہے میں حاصل ہوگے(۲)

۳: عالمی سیاست اور انتظار کی ضرورت :

تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ زمین پر مختلف قسم کے فکری مکاتب مختلف انداز کے سیاسیی اور اجتماعی نظام کے ساتھ وارد میدان ہوۓ لیکن عرصہ نہ گزرا صفحات تاریخ کے زینت بنی مثال کے طور پر سوینالستی نظام اپنی تمام دوم دام کے ساتھ آۓ لیکن بہت ہی کم مدت میں پاش پاش ہو کر صفحہ ہستی سے مٹ گیا آج لبرال دیمو کراسی اور نظام سرمایہ داری آزادی دیموکراسی جیسے خلاب نعرون کے سات وارد عرصہ ہوا ہے اور اپنی ایٹمی وعسکری طاقتوں کے بل بوتے ہر غریب اور کمزور کو جینا حرام کر دیا ہے لیکن زمانہ گزدنے کےساتھ ساتھ دوست ودشمن کو اسکی جارحیت اور بربریت کا شکوا ہے اور سب کا یہ اعتراف ہے کہ موجودہ عالمی نظام ظالم ترین عالمی نظام ہونے سایھ بہران زدہ اور شکست خوردہ نظام میں شمار ہوتا ہے اور ہر طرف بشر اخلاقی اقتصادی سیاسی و---- بہران کے شکار ہے ہر طرف پریشانی اضطراب نے گیر لیا ہے چنانچہ اس ہمہ گیر عالمی بہران سے نجاب اور رہائی صرف اور صرف ایک ایسے آفاقی نظام میں دیکہتے ہیں جس کی بنیاد عدل و انصاف اور انسانی اقدار پر رکہی گی ہو اور ہمارا عقیدہ ہے کہ ایسے علم گیر آفاقی سیاسی نظام کا تحقق منجی عالم بشریت امام منتظر کے الہی قیادت میں امکان پزیر ہے

آیئں یہود اور مسیحی دنیا میں ۱۹ اور ۲۰ صدی میں یہود او ر مسیحی دونو اپنے درینہ دشمنی کے باوجود اس نتیجھے پر پونھچے کہ منجی “مسیحا ”کے ظہور کے لیۓ سیاسی سطح پر زمینہ فراہم کرنے اور سیاسی پشتبانی کے طور پر ایک مشترکہ حکومت جو صھونیزم کے بنیاد پر قائم ہو وجود میں لایا جاۓ اور اس سیاسی طرز فکر کے نتیجھے میں اسرائیلی غاصب حکومت فلسطینیون کے آبائی سر زمین پر وجود میں لائیں اور اسی نظرے کے پیچھے آمریکا و یورپین ممالک کے سینکڑون کنیسا اور مسیحی تنظیمون نے اسرائیل کے جارحانہ اور غاصب حکومت کی پشپناہی کیں

اور ۱۹۸۰ ء میں انانٹرنشنل ام بی سی اف کرچچن قدس میں تاسیس ہوئی جسکا اصلی ہدف یون بتایا گیا “ہم اسرائیلیون سے زیادہ صھونیزیم کے پابند ہیں اور قدس ہو شھر ہے جس پر اﷲ تعالی نے اپنا خاص کرم کیا ہے اور اسے تا ابد اسرائیلیون کے لیے دیا ہے

اور اس کرچچن سفارت کے اراکین کا یہ عقیدہ ہے ،اگر اسرائیل نہ ہے تو جناب مسیح کے بازگشت کا کوئی امکان ہنیں ہے چناچہ اسرائیل کا وجود مسیح منجی عالم کےلیے ضروری ہے(۳)

تو جب یھود اور نصاری عقیدہ انتظار کے سیاسی پہلو کے پرتو میں اپنے درینہ دشمنیون کو بھول کر اسلام اور مسلمین کے خلاف ایک غاصب حکومت وجود میں لا سکھتے ہیں

تو کیاہم مسلمانوں کو نہیں چاہیے خود ساختہ اور بناوٹی اختلافات کو بالاے طاق رکھ کر ایک پلٹ فارم پر جمع ہو کر اس افاقی الہی نظام کے لیے زمینہ فراہم کریں،اور

ایسے نظام کو عالمی سطح پر وجود لانے کیلیے انتظار کے سیاسی پہلو پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ خود بخود اصلاحی حرکت شروع ہو جاۓ اور رفتہ رفتہ پورے جہان کو اپنے لپیٹ میں لے لیں، انقلاب اسلامی جمہوری ایران اس حقیقت پر گو یا دلیل ہے کہ جسے امام خمینے نایب امام زمان اور ایرانی قوم نے انتظار کے سیاسی پہلو پر عمل کرتے ہوۓ اُس آفاقی الہی نظام کے مقدمے کے طور پر اسلامی قوانین پر مبتنی اسلامی جمہوریت کو وجود میں لایے ہیں اور اُمید ہے کہ دنیا کے دوسرے مسلمان بہی بیدار ہو جائیں اور اس بابرکت اصلاحی قدم پر قدم رکھتے ہوے عصر ظھور کیلیے زمینہ فراہم کرنے میں شریک بنئیں انشاء اﷲ وعد الہی کا تحقق نزدیک ہو گا

۴: ثقافتی یلغار اور انتظار کی ضرورت :

بے شک عسکری اور بازو کی طاقت سے دنیا کو تسخیر کرنے کا دور گزر گیا ہے لیکن عالمی سطح پر ثقافت اور تہزیب وتمدن کا جنگ اپنے اوج پر ہے تمام مسلم دانشور حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ کے اس دور میں اسلامی کلچر اور تہذیب کے خلاف استکبار جہانی نے جو جنگ سرد لڑی ہے وہ اپنی جگہ بے سابقہ ہے کہ جس میں اپنی تمام تر شیطانی اور انسانَ طاقتون کو کام میں لایا ہے اور اسلامی تہذیب وتمدن کو ختم کرنے کے نا پاک عزائم کے ساتھ میدان عمل میں اُترے ہیں،اپ اس حالت میں ہم سب کہ سب سے اہم زمداری دینی ثقافت اور اسلامی تہذب و تمدن کے تحفظ اور بقاء کیلیے جد وجہد اور قربانی دینا ہے،اور یہ ہدف اس وقت قابل تحقق ہے کہ جب انسان زندگی کے مختلف شعبون میں ایک منظم انداز میں ایک ہمہ گیر تحرک کی ضرورت ہے جو عصر ظہور کےاس روشن مستقبل کے ساتھ ہمآہنگ ہو اور اسلامی معاشرے کو ان ثقافتی یلغار اور تہذیبی جنگ سے بچانے اور ایک ہمہ گیر ثقافتی تحریک کے وجود میں لانے کے لیے نظریۃ انتظار کو اپنے صحیح مفہوم میں سمہجنے اور ثقافت انتظار کو سماج میں عام کرنے کی ضرورت ہے

۵: وحدت اور انتظار کی ضرورت :

قرآن کریم کی نگاہ میں آسمانی کتابون نبیون اور الہی نمایندے کے اس ورۓ زمین پر بہیجنے کا ایک اہم مقصد متفرق پراکندہ ،منتشر اور تقسیم شدہ انسانیت کے اندر وحدت برقرار کرنا ہے-ہر نبی نے آکر اپنے زمانے میں اُمت و متحد کیا اور ان اختلافات کی نفی کی جو طبقائیت نژادیت ،لسانیت ُعلاقیت اور وطنیت کی شکل میں اُمتون میں پھیل گئی تہین

اس حقیقت پر سب سے بڑی مستند پیامبر اکرم کا عمل اور آپکی سیرت ہے آنحضرت ایک طبقاتی وتقسیم شدہ معاشرے میں مبعوث ہوۓ لیکن آپ نے اپنی نبوت کا آغاز وحدت سے کیا اور (تآخوا فی اﷲ ) کی بنیاد پر تمام مسلمانون کو آپس یں بھائی بھائی بنایا اور بابرکت زندگی کے آخری خطبےمیں بھی جو کہ خطبئہ حجۃ الوداع یا الغدیریۃ کے نام سے مشہور ہے اسی وحدت کے موضوع پر زور دیا گیا ، اور مسلمانون کو در پیش مشکلات وخطرات کو پیش نظر رکہتے ہوۓ ثقلین کو اس وحدت کا محور اور میزان قرار دیتےہوۓ یہ واضح کر دیا کہ ہر قسم کے اختلافات وانحرافات و نژادیت اور فرقہ وارانیت سے بہچنے کا واحد ذریعہ قرآن وعترت سے تمسک اور پیروی ہے:

پیغمبر اعظم کی فرمائشات ارشادات اور عملی سیرت ہمارے سامنے ہونے کے باوجود امت مسلمۃکو جس چیز نے سب سے ذیادہ نقصتان پہنچائی اور اب سخت نقصان دۓ رہی ہے تفرقہ انتشار اور ناچاکی ہے ،انتشار اور ناچاکی ایک ایسی بٹہیہے جسے متحدہ دشمن نے دین وثقافت کے خلاف حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اپ جسکا ایندہن بہی مسلمان ہیں اور جلانے والے بہی مسلمان ہیں یعنی مسلمان ہی کے وجود سے یہ شعلہ نکلتاہے اور مسلمان ہی کو جلاتا ہے ،لیکن ہمارا دشمن تفرقہ ختم کرکے جعرافیائی سرحدین،قومی سرحدیناور ثقافتی سرحین مٹا کر ایک ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ایک آفاقی نظام کو وجود میں لانے طرف جارہا ہے،تو عالم اسلام کو بہی چاہےاسلامی تعلیمات کی روشنی مین ہر طرح کی تفرقہ بازیاختلافات اور ناچکیون کے بناوٹی سرحدون کو ٹور کر ایک ایسے آفاقی الھی نظام کے وجود میں لانے کے لئے متحد ہو جاے جسکا وعدہ اﷲ تعالی نے اپنی لا ریب کتاب دیا ہے ، اور یہ وحدت صرف اور صرف فکر آنتظار اور فلسفہ انتظار کے سائے میں وجود میں آسکتا ہے

۶: تاریخ انسانیت اور انتظار کی ضرورت :

تاریخی سررچ سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں منجی کا انتظار اور موجودہ حالت سے عالم بشریت کو نجات دینا اسلام اور آسمانی مکاتب فکر سے مخصوص نہیں ہے بلکہ غیر آسمانی اور مادی وفلسفی مکاتب فکر بھی ای نظریۃ کا عقیدۃ رکہتے ہیں

جیسا کہ راسل(۳) کہتا ہے {آخری زمانے میں منجی کا انتظار اور اسکا آخری زمانہ میں ظہور کرنا عالم بشریت کو نجات دینا یہ آسمانی ادیان سے مخصوص نہیں ہے بلکہ غیر دینی اور مادی مکاتب فکر بہی تمام عالم بشریت کو نجات دلانے والے اور عدل وانصاف پھلانے والے کے ظھور کے انتظار میں زندگی بسر کر رہے ہیں }

اسی ظرح کتاب مقدس (توریت ار انجیل ) میں بہت ساری نصوص اسیے ہیں جو عقیدۃ انتضار پر پروی طرح روشنی ڈالتی ہیں ،اور آخر زمانہ کیں مسیحا یا منجی بشریت کی آمد اور اس کائنات کو عدل و انصاف سے بھر دینے اور بشریت کو ظلے وجور سے نجات دینے کی بشا رت دی ہے ،اسی لیے امریکا کا مسیحی شہرت یافہ مؤلف اپنی کتاب قاموس المقدس میں یہودیون کے انتظار پر عیقدے کے متعلق یون لکھتا ہے {یھودی نسل در نسل عہد قدیم توارت - کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی پر مشقت طویل تاریخ میں ہر قسسم کی ذلتون اذیتون رسویون اورشکنجون کو صرف اس اُمید کے ساتھ تحمل کیا کہ ایک دن مسیحا مجنی یہودیت آیں گے اور انہیں ذلت وخورای و رنج و مصیبتون کے گرداب سے نجات دلایئں گے ، اور ہمیں پورے کائنات کا حاکم بنایں گے(۴) لیکن اس انتظار سوزان کے بعد جب جناب مسیح اس دنیا میں اۓ تو انہون ان میں کچھ وہ صفتیں نہیں پایۓ جنکے مسیحا میں ہونا ضروری سمجہتے تھے چنانچہ انہون انکی مخالفت شروع کی یہان تک انکو سولی پر چہڑایا اور قتل کیا ،پہر کہتا ہے انجیل میں بہی منجی عالم بشریت کو فرزند انسان کے نام سے ۸۰ جگہون پر پکارا ہے ان میں سے صفر ۳۰ مورد حصرت مسیح پر صدق آتا ہے باقی ۵۰ مورد ان پر صدق نہین اتا بلکہ یہاں ایک ایسے مصلح اور منجی جہانی کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے جو آخری زمانہ میں ظھور کریں گے-(۵)

چناچہ تورات میں ہم مطالعہ کرتے ہیں :اشرار اور ظالمون کے وجود سے کبھہی نا امید نہ ہو اس لیۓ کہ ظالمون کی نسل زمین سے مٹادی جاۓگا،اور عدل الہی کا انتظار کرنے والے زمین کا وارث بنین گے جو افراد جن پر خدا نے لعنت کی ہے ان کے درمیان اختلاف پیدا ہو گا اور صالح افراد وہ ہونگے جو زمیں کے وارث بن چکے ہونگے اور تاریخ کے اختتام تک زمین پر زندگی بسر کریں گیے(۶)

اسی طرح انجیل یوحنا میں حضرت عیسی مسیح کا قول نقل ہوا ہے ”اور عنقریب جنگون اور اسکی افواہون کو سنیں تو کبھی ایسا نہ ہو کہ اسکی وجہ سے بے صبری کا اظہار کریں،اس لیے کہ اسکے علاوہ کو اور چارہ نہیں ہے، لیکن وہ دن وقت تاریخ کا اختتامی زمانہ نہیں “(۷)

۷: عقل اور انتظار کی ضرورت :

جب ہم موجودہ عالمی حالات کا جائزہ لیتے ہیں اور بہڑتی ہوئی فتنہ وفساد وہرج ومرج وظلم وجور قتل وغارت لوٹ مار وخونریزی نا انصافی تجاوز قومی اور ملکی سطح پر باہمی کشمکش واجتماعی سطح پر اخلاقی وجنسی اور اجتماعی فسادات کا مشاھدہ کرتے ہیں تو یہ سوال خود بخود ذہن میں آجاتا ہے کہ کیا دنیا اپنی موجودہ حالت پر باقی رہے گیی ؟کیا ظلم وستم سلطہ طلبی میں کما کان اضافہ ہوتا رہے گا ؟یا یہ کہ بشر اس دن کو بہی دیکھے گا جس دن ان تمام فسادات کو جڑ سے اُکاڑ کر ستمگرون ظالمون اور جلاّدون کاخاتمہ کر چکا ہو گا اور ایک ہمہ گیر تحریک کے زریعے ہر طرح عدل وانصاف برادری محبت و الفت کی سنہری خوشبو پھیل چکی ہو گی ؟

یہاں پر آکر عقل حکم کرتی ہے بشر سر انجام قانون عدالت اور فطرت کے کہ جسکی بنیاد پر ساری کائینات کی پیدائش ہوئی ہے سر تسلیم خم ہونے پر مجبور ہے ، چونکہ پروردگار عالم نے اس جہان کو اس قدر منظم اور قانون مند خلق کیا ہے کہ ایک منظم قانون پوری کائینات کے چہوٹے سے چہوٹے ذرات سےلے کر بڑے سے بڑ ے کہکشانون اور شمسی نظاموں پر حاکم ہے اور تمام اجزاۓ ہستی ایک ہی دقبق معین اور یک سان نطام کے تابع ہیں اور اسی نظام کے ما تحت حرکت کرتے ہیں کہ انسان بہی اُسی کائینات کا ایک حصہ اور اسی کل کا ایک کجزء ہے ہو نہیں سکتا کہ جزء کل کے خلاف سمت نا منطم انداز میں حرکت کرتا رہے چونکہ بہ تمام اجتماعی سماجی اور فردی فسادات ہر ایک اپنی جگہ نظام پیدائش کے متضاد حرکت ہے ،

پس نظام پیدائش کا تقاضی یہ ہے کہ انسان نظام فطرت کہ طرف پلٹ آینں اور اپنی حرکت کا روخ بدل دین ورنہ زوال اور فنا حتمی ہوگا

تو دوسری طرف الہی حکمت کا تقاضی ہے کہ اس انسان کو زوال و فنا سے بچانے اورسعادت مند زندگی گزارنے کے لیے ایک الہی نمائندہ بیجھ دین کہ جس کا رابطہ عالم غیب سے ہو اور ہر لحاظ سے معصوم ہو تاکہ انسان اس آیڈیل ہستی کے پیروی اور اقتداء میں دوبارہ اپنا درست رآستہ انتخاب کرسکہے اور اجتماعی عدالت قائم کر سکہے اور ایک کامل اور دقیق نظام صرف اور صرف ایک کامل اور عالم ہستی کی محتاج ہے جو ان تمام قوانیں کا علم رکہتی ہو خارق عات قدرت کا مالک ہو ہر لحاظ سے معصوم اور منزہ ہو ایک ایسی ہستی کے ہاتھون قابل تحقق ہے کہ جسکے پوری دنیا انتظار کر رہی ہے

اور ضروت عقلی کہ طرف اشارہ کرتے ہوے امیر المؤمنین ع فرماتے“بلی،لا تخلوا الآرض من قائم للّه بحجّة اماّ ظاهراً مشهودا ، وامّا خائفا مغموراٌ ،لئلاٌ تبطل حجج اللّه وبيّناته “بے شک زمین اسیے شخص سے خالی نہیں ہوتا جو حجت خدا کے ساتھ قیام کرتا ہے چاہے وہ ظاہر اور مشہور ہو یا خائف اور پوشیدہ تاکہ پروردگا کی دلیلیں اور اس کی نشانیاں مٹنے نہ پائیں -

پس عقل اور نظام پیدائش کا تقاضا ہے کہ انسان ایک روشن مستقبل کے بارے میں سوچیں اور اسے سنوارنے کیلیے سب مل کر اصلاح قدم اٹہایں اور اسی روشن مستقبل کے انتظار اور اسےسنوارنے کیلیے قدم اُٹہانے کا نام ہے انتظار

۸: تقاضاۓ فطرت اور انتظار کی ضرورت :

مختلف دینی اور غیر دینی مکاتب فکر کی نگاہ میں انتظار ان فطری مسائل میں سے ہیں جسے اس انسان کے سرشت اور خلقت میں رکھّا گیا ہے ،اس بات پر بہترین دلیل خود ان مختلف مکاتب اور مذاہب کا مختلف عقیدۓ مختلف طرز فکر سے تعلق رکھنے اور مختلف آداب ورسوم کے پابند ہونے کے باوجود سب کا اس بات پر مقفق ہونا اور سب کا اس حقیقت کی طرف نشاندہی کرنا ہے کگر چی نفس پروری اور دنیا پرستی کی وجہ سے یہ حقیقت ہر فرد کیلیے واضح نہ ہو اور شخص اپنے اندر منجی بشریت کے ظہور کا احساس نہ کرۓ لیکن جب مصائب تنگدستی ضعف و---میں مبتلا ہو نے پر فطرت بیدار اور صداے فطرت نا خواستہ طور پر نکل آتی ہے اور ظہور منجی کا اشتیاق دل میں شعلہ ور ہو جاتا ہے

۹: جہان سازی اور انتظار کہ ضرورت :

اگر چہ نظریۃ مہدویت اور انتظار ایک آفاقی نظریۃ ہے تمام آسمانی ادیان اور غیر آسمانی مکاتب فکر اس عقیدہ میں مشترک ہیں لیکن اس شخصیت کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے کہ وہ شخص کون ہو گا کہ جسکے ہاتھون آفاقی انقلاب اور تبدیلی وجود میں آۓگا

یہودی قوم کا نظریۃ ہے کہ وہ شخص جناب اسحاق کے نسل سے ہوگا ابھی دنیا میں نہیں آیا بعد میں آے گا

چنانچہ تورات کا یہودی مفسر “حنان ایل ”سفر تکوین نمبر ۱۷ اصحاح نمبر ۲۰ کے ذیل کیں لکھتا ہے اس آیت کے پشنگویی سے ۲۳۳۷ سال گزر گیا یہان تک عرب اسماعیل کے نسل سے ایک عظیم امت کہ شکل میں پورے عالم پر غالب آیا ہے کہ جسکے جناب اسماعیل مدّتون سے منتظر تھے لیکن زریہ اسحاق میں ہماری گناہون کہ وجہ سے خدائی وعدہ اب تک تحقق نہیں پایا ہے پہر بہی ہمیں اس حتمی وعد کے تحقق پانے میں نا اُمید نہیں ہونا چاہیے -

مسیحیون کا عقییدہ ہۓ کہ جس شخص کے سب منتظر ہیں وہ جناب مسیح ہیں یہودیون نے قتل کرنے کے بعد اﷲ تعالی نے انہیں دوبارہ زندگی دی اور آسمان پر لے گیا تاکہ آخری زمانہ میں انہیں دوبارہ زمین پر بیجھ دیا جاے اور انکے ذریعے ہی وعد الہی تحقق پاۓ

لیکن ہے مسلمانون کا مشترکہ عقبدہ ہے انکی ذات آقدس جناب اسماعیل کے نسئل فرزند خاتم المرسلین ذریہ سیّدہ کو ننین اولاد امام حسیں ہیں،بلکہ بعض اہل سنت علماء کے نزدیک بھی آپ امام حسن العسکری ع کے بلا فصل فرزند ارجمند ہیں ، چنانچہ ابی داود نسائی وابن حنبل وطبرانی وحاکم اور دیگر شیعہ سنی اکثر علماء نے پیغامبر اکرم سے نقل کیا ہے آنحضرت فرماتے ہیں “اگر دنیا کی عمر میں سے صرف ایک دن باقی ہو تو اﷲ تعالی اس دنیا میں ایک شخص کو منتخب کرۓگا جسکا نام میرے نام پر ہوگا،اس کا اخلاق میرے اخلاق جیسا ہے گا اور اس کی کنیت ابو عبداﷲ ہے رکن ومقام کے درمیان اس کے ساتھ بیعت ہو گی اﷲ تعالی اس کے ذریعہ دین کو اس کے اّپنی اصلی حالت کی طرف پلٹا دے گا اور اس کے لیے کامیابیان حاصل ہون گی ،زمیں پر صرف خدا پرست اور لا اللہ الاﷲ کہنے والے باقی رہ جائیں گے اس وقت سلمان نے آنحضرت سے عرض کیا :یا رسول اﷲ آپ کے فرزندوں میں سے کوں سا فرزند ہو گا ؟ آنحضرت نے اس وقت اپنا دست مبارک امام حسین پر رکھ کر فرمایا :میرے اس بیٹے کی نسل سے ہو گا اسی طرح امام علی رسول اﷲ سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا :دنیا ختم نہیں ہوگی مگر یہ کی ہماری امت میں نسل حسین سے ایک شخص قیام کرے گا ----

اسی طرح سبط ابن جوزی فرماتے ہیں :محمد ابن حسن ابن علی ابن محمد ----آپ کی کنیت ابو عبداﷲ اور ابوالقاسم ہے---- آپ خلیفہ،حجت ،صاحب الزمان ،قائم اور منتظر ہیں

۱۰: دشمن کے تسلط سے مانع اور انتظار کی ضرورت :

عقیدہ انتظار کی ضرورت اور اہمیت کے لیے اتنا ہی کافی ہے ،کہ اسلام کا قسم خوردہ دشمن اس نظریۓ کو مسلمانوں پر اپنا سلطہ جمانے میں سب سے بڑا مانع اور رکاوٹ شمار کرتے ہیں ،میشل فوکر ،کلربریر ،عقیدہ انتظار کی فکر سے مبارزہ کرنے کی بحث میں ابتداً امام حسین اور پھر امام زمانہ کا ذکر کرتا ہے ، اور انہی دونوں نکات کو شیعوں کی پائیداری کا عنصر شمار کرتا ہے “نگاہ سرخ اورنگاہ سبز ” تلابیب کی کانفرنس میں بھی “برنارڈیئس”مائیکل ام جی ،جنشر ،بروبزگ ،اورمارٹیم کو امر ”جیسے افراد نے اس نکتہ پر بہت زیادہ تاکید کی ہے انھون نے اسلامی جمہوری ایران کے اسلامی انقلاب کے جائزہ میں شیعوں کی نگاہ سرخ یعنی عاشورا اور انکی نگاہ سبز یعنی انتظار تک بحث کرتے ہوۓ اس مشہور جملہ کو نتیجہ کے طور پر یوں پیش کیا یہ لوگ امام حسین کے نام سے قیام کرتے ہیں اور امام زمانہ کے نام سے اس قیام کی حفاظت کرتے ہیں -

اسی طرح جرمن محقق “ماربین ”کہتا ہے منجملہ اجتماعی اہم ترین مسائل میں سے جو شیعوں کی امیدواری اور کامیابی کا باعث بنا ہے وہ حضرت حجت کے وجود کا اعتقاد اور انکے ظہور کا انتظار ہے -

اسی طرح فرانس کے مشہور شرق شناس اور زبان دان “جمیز دار مستر ”اپنی کتاب “مہدی صدر اسلام سے ۱۳ ہجری تک ”میں لکھتا ہے وہ قوم جنکی پرورش ایسی فکر کے ساتھ ہوئی ہو ان سے قیام کا توقع رکھا جاسکتا ہے لیکن کبھی کوئی انھیں اپنا مطیع نیں بنا سکتا

بے شک دشمن نے عقیدہ انتظار کی اہمیت وہ بھی اس زمانے میں جب انکا امام غائب ہے اندازہ لگا لیا ہے ،اور اسی وجہ سے چند اقدامات سیاسی اجتماعی اور ثقافتی میدان میں اس نظریے کے متعلّق انجام دیا ہے

مثال کے طور پر امریکہ میں خالورد ہر سال ۷۸۰ فلیم بناتے ہیں ان میں ۲۵۰ فلمیں صرف اما م زمانہ کی شخصیت پر بناتے ہیں اور ان فلیموں کا اہم تریں مقصد لوگوں کو یہ باور کرانا اور یقین دلنا ہوتا ہے کہ جس شخص کے آنے کے تمام مکاتب فکر کے پیرواں منتظر ہیں وہ ایک غربی شخص ہیں ،اور وہ غربی ثقافت کی بنیاد پر قیام کرۓگا ،اور ان میں بعض فلمین مثال کے طور پر “ہرئلیس ”و ۲ ہزار ۱۲ اور “ہری پوٹر” کڑورون کی تعداد میں دنیا میں بھیگ چکے ہیں اور نا محسوس طور پر ہر گھر گھر میں گھس چکے ہیں -اب ہمیں بھی اس ثقافتی جنگ کے خلاف مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ،اور اسکے معکوس ہر ایک کو اپنے گھر ،فیملی، اجتماعی اور سماجی سطح پر حقیقی اما م منتظر کو - کہ جسکے آنے کا خالق کائنات نے وعدہ دیا ہے پہچانوانے اور انے ظہور کے لیے زمینہ فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے -

____________________

(۱) بحار انوار ج ۵۲ ص ۱۲۲ ج ۲ ص ۳

(۲) سیاست اسلام ،ماربین ،صل ہفتم ،فلسفہ مذہب شیعہ ،ص ۴۹ - ۵۰ -

(۳) (الصہونیۃفی امریکا ) صھونیزیم امریکا میں :حسن حداد ،مجلہ شؤون فلسطینیّہ ش ۹۲- -۹۳ ،۱۹۹۰ ء -

(۴) قاموس مقدس : مسٹر ہاکس ، ص۸۰۶

(۵) قاموس مقدس :ص ۲۱۹ :وہ آجاے گا ،والی کتا سے نقل کیا ہے ،ص ۳۳

(۶) کتاب مقدس: سفر مزامیر داود، نمبر ۳۷

(۷) کتاب مقدس :یوحنا اصحاح ۲۴ نمیر ۶

(۸) نہج بلاغة کلمات قصار: نمبر ۱۳۹

(۹) The stone edtion the chvmash by, r. hosson scherman r.meiv .ziotowird,third edtion first impressin :۱۹۹۴ p.۷۶

(۱۰) عقدالدرر: ص ۵۶ باب دوم -

(۱۱) عقد الدرر: باب نہم ص ۲۸۲ والفتن ص ۲۲۹-

(۱۲) سیاست اسلام ماربین ،فصل ہفتم ، فلسفہ مذہب شیعہ،ص ۴۹ ۵۰ نقل از کتاب امامت اور غیبت اور ہماری ذمداریان ص ۳۴۹ ،اردو ترجمہ -

(۱۳) مہدی صدر اسلام سے ۱۳ ہجری تک :ترجمہ فارسی میںمترجم محسن جھان سوز،ص ۳۸ - -۳۹


دوسری فصل :اسلام اور عقیدہ انتظار :

اسلام میں انتظار سے مراد مصلح اعظم منجی عالم قائم آل محمد موعود موجود فرزند زہرا حجت خدا ولی عصر کے آخری زمانہ میں آفاقی امامت اور ولایت کے ساتھ ظہور کرنے اور دنیا کوظلم وجور سے خاتمہ کرکے عدل و انصاف سے پُر کرنے پر عقیدہ اور ایمان ہے انتظار یعنی تیاری اور آمادگی ہے ،تیاری پاک ہونے ،پاک زندگی گزارنے، بدیون زیشتیون سے دور رہنے، اور تزکیہ نفس کا ،تیّاری خودسازی دیگر سازی سماج سازی اور معاشرہ سازی کی ،آمادگی تمام فردی اجتماغی جسمی اور معنوی طاقتون اور قوتون کو کے یکجا اور اکہٹا کر کے اس عظیم آفاقی اور آسمانی انقلاب میں برپور حصہ لینے کی

ہم یہاں مختصر طور پر عقیدہ انتظار اہمیت انتظار اور مفہوم انتظار کو کتاب وسنت کی روشنی میں مزید واضحت دینے کی کوشش کریںگۓ

ا: قرآن اور عقیدہ انتظار:

تمام مسلمانوں کا اور خصوصیت کے ساتھ مذہب حقّہ کا مستحم وراسخ عقیدہ ہے کہ حق حق ہمشہ ثابت اور دائمی ہوتا ہے تاہے اسکے مقابلے میں باطل عرضی اور وقتی ہوتا ہے ،اور ہر شئی عارضی زود یا دیر زائل ہو جانے والا ہے اور باطل کے جگہ حق لے گا

ہر جگہ حق کا چرچا اور حکومت ہو گی ،قرآن کریم نے بھی متعدد آیات کے زریعے مختلف مقامات پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ آخری زمانہ میں (وجاء الحق وزہق الباطل انّالباطل کان زہوقا )کا اعلان کیا ہے اور انتظار فرج کو نقالب تغیر مسائل میں سے گنا ہے اور دین مبین اسلام کے دوسرے تمام آسمانی وغیرآسمانی مکاتب فکر پر غالب آنے کل حتمی وعدہ دیا ہے

چناچہ پروردگار عالم اپنی لا ریب کتاب میں ارشاد فرماتا ہے( هُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَی‏ وَ دِینِ الْحَقّ‏ِ لِيُظْهِرَهُ عَلىَ الدِّینِ كُلِّهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ) (۱) وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بیھجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بناۓ چاہے مشرکین کو کتنا ہی نا گوار کیوں نہ ہو -

اسی طرح اسی سورہ مبارکہ کے ۳۲ ایت میگ ارشاد ہوتا ہے( يُرِیدُونَ أَن يُطْفُِواْ نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ يَأْبىَ اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَفِرُون ) (۲) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور حدا کو اپنے منھ سے پھونک مارکر بجھا دیں حالانکہ خدا اس کے علاوہ کچھ ماننے کے لۓ تیار نہیں ہے کہ وہ اپنے نور کو تمام کردے چاہے کافروں کو یہ کتنا ہی بُرا کیوں نہ لگے -

اسی طرح کسی تیسرے مقام پر اس عہد الہی کے حتمی ہونے کو ان الفاظ کے ساتھ بیان فرماتا ہے( وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فىِ الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصَّلِحُون‏ ) (۳) اور ہم نے ذکر کے بعد بھی زبور میں بھی لکھ دیا ہے کہ ہماری زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہی ہوں گے -

( وَ نُرِیدُ أَن نَّمُنَّ عَلىَ الَّذِینَ اسْتُضْعِفُواْ فىِ الْأَرْضِ وَ نجَْعَلَهُمْ أَئمَّةً وَ نجَْعَلَهُمُ الْوَارِثِین‏ ) (۴) “اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگون کو زمین پر کمزور بنا دیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انھین لوگوں کا پیشوا و اما م اور زمین کا وارث قرار دیدیں -

ان قرآنی آیات اور انھیں آیات کے علاوہ اور بھی دوسرے بہہت سی آیات سے یہ قطعی طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ ایک دن پوری دنیا کے حکومت اور قدرت اہل ایمان اورنیک بندون کے ہاتھ آۓ گی اور ہر جگہ اسلام کا چرچا ہوگا اور سارے دنیا واے ایک ہی پرچم یعنی پر چم توحید کے ساۓمیں جمع ہوں گے اور یہ وہ دور ہوگا جس میں منجی عالم مہد موعود ظہور فرما یئں گے اور وہ آخری زمانہ کا دور ہو گا

ان قرآنی آیات سے مجموعی طور پر جو اہم مطالب اخذ ہوتے ہیں بطور خلاصہ یوں بیان کیا جاسکتا ہے

۱: موعود قرآنی کی امامت اور رہبری میں توحید اور عدل کے اصولوں پر بنیاد رکھی گی آفاقی حکومت اور نظام کے چلانے کے لیے اﷲکے نیک بندوں اور اہل ایمان کے ہاتھون دیا جاۓ گا

۲: آیئں اسلام دوسرے تمام آدیان اور فکری مکاتب پر غالب آجاۓ گا اور دستور اسلام کو عملی جامہ پہنا جاے گا

۳: پوری دنیا میں عدالت ،امنیت ،صداقت ،محبت والفت پھیل جاے گی اور ہر طرح اطمینان وسکوں اورصفا کا سما ں ہو گا ،اور ہر طرح کی اختلافات جو طبقاتئیت نژادیت ،لسانیت ُعلاقیت اور وطنیت کی شکل میں اُمتون میں پھیلے ہو ے ہیں اور ہر قسم کی خود پرستی دنیا پرستی اور منیت جو ظلم وبربریت اور وحشیت کی شکل میں اُبھری ہوئی ہے ان سب کا خاتمہ کر کے اس طرح عدل وانصاف سے بھر دۓ گا جس طرح ظلم و جور سے بھر چکا ہو گا -

۴: ر ہر قسم کے شرک ، بت پرستی ، غلامی اور بردگی کا قلعہ قمع ہو کے توحید اور یکتا پرستی کا عالم ہوگا(۵)

ب: روایات اھل بیت اور عقیدہ انتظار فرج :

اھل بیت اطہار سے امام زمانہ عج کے متعلق سینکڑوں روایات اور احادیث ہم تک پہنچی ہیں ان میں خصوصی طور پر انتظار کی اہمیت ،ضرورت بیان ہوئی ہے

ان روایات سے جو اہم مطالب اخذ ہوتے ہیں ان میں سے چند کا بطور خلاصہ تحریر میں لاتے ہیں

۱: انتظار افضل ترین عبادت ہے :

اہل بیت اطہار نے واضح طور پر نظریۃانتظار کے بنیادی رکن کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ فرمایا ہے کہ انتظار صرف نفسانی حالت کا نام نہیں بلکہ عمل ہے اور وہ بھی بہتریں عمل ہے جیسا کہ فریقین کے جانب منقول ہے رسول خدا نے فرمایا افضل اعمال امتی انتظار الفرج من اﷲ(۶) -میری امت کے اﷲ تعالی کی جانب سے ظہور وآسائش کا انتظار کرنا بزرک ترین عمل ہے یاکسی اور مقام پر آپ یوں فرماتے ہیں -انتظار الفرج عبادة افضل اعمال اُمّتی انتظار فرج اﷲ عزّوجل (۷) فرج اور آسائش کا انتظار کرنا عبادت ہیں میری امت کے اعمال میں سب کے بہتر عمل اﷲ کی طرف مے فرج وکشائش کا انتظار ہے اور مضمون میں ائمہ معصومین سے بھی بے شمار روایتیں نقل ہوئی ہے جیسا کہ امیر المؤمنیں علی فرماتے ہیںانتظروا الفرج ولا تیأسو من روح اللّه ،فانّ أحب الأعما الی اللّه عزّوجل انتظار الفرج الآخذ بأمرنا معنا غداً فی حظیر القدس ،والمنتظر لأمرنا کالمتشحط بدمه فی سبیل اللّه (۸) آسائش اور رہائی کا انتظار کرو خدا کی رحمتون سے کبھی مایوس نہ ہوجاؤ اسلئے کہ پروردگا کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل انتظار فرج ہے اور ہماری ولایت کے مضبوطی سے تھامنے والا کل جنت میں ہمارے ساتھ ہوگا اور ہماری ولایت وامامت کے انتظار کرنے والا اس شخص کے مانند ہے جو اﷲ کے راہ میں اپنے خون سے غلطان ہوا ہو -

۲: انتظار واجب اورظہور خدا کا حتمی وعدہ :

کلمات معصومین سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ حجت خدا کا ظہور حتمی ہو جبکہ اسکا انتظار فرض اور واجب یعنی ضروری ہے

جیسا کہ معصومیں کا جملہ ہے :أنّ قائم منّا هو المهدی الذّی یجب ان ینتظر فی غیبته ،ویطاع فی ظهوره (۹) ہم میں سے جو قائم ہونگے وہ مہدی ہیں زمانہ غیبت میں انکا انتظار اور ظہور کے بعد انکی اطاعت سب پر واجب ہے-

اسی طرح ابی داود اور ترمذی دونون نے اپنے سند کے ساتھ پیغامبر اعظم سے نقل کیا ہے ،کہ آنحضرت نے فرمایاولو لم یبق من الدهر الاّ یوم واحد لبعث اﷲ رجلاَ من أهل بیتی یملؤ ها عدلاً کما ملئت جوراً وظلماً (۱۰)

“اگر دنیا کے عمر میں ایک دن سے زیادہ باقی نہ رہے تو پھر بھی پروردگار عالم میرے اہل بیت میں یےایک شخص کو بیجھا جاۓ گا اورزمیں کو ظلم وجور سے بھر جانے کے بعد عدلو انصاف سے بھر دے گا ”

کسی اور روایت میں جناب طبرانی اور احمد حنبل وغیرہ نے رسول خدا سے نقل کی ہے آنحضرت فرماتے ہیںولو لم یبق من الدنیا الاّ یوم لطوّل اللّه ذلک الیوم حتی یبعث رجلاً منّی –أو من أهل بیتی – یواطیئ اسمه اسمی یملأ الأرض قسطاً وعدلأً کما ملئت ظاماً وجوراً (۱۱)

اگر عمر دنیا یے ایک دن سے زیادہ باقی نہ رہی تو پروردکار عالم اس دن کو اس طرح طول دے گا کہ مجھ سے یا میرے اہل بیت سے ایک شخص جو میرا ہم نام ہو گا ظہور کرۓ گا اور زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھر دۓ گا جس ظرح ظلم و جور سے بھر چکا ہو گا ----

پس ان روایات کے علاوہ سینکڑون روایات جسے فریقین نے تاریخی تفسیری اور حدیثی کتب میں نقل کی ہے جو دلالت کرتی ہے کہ جس ہستی کے تما عالم منتظر ہیں وہ فرزند رسول اور ہم نام رسول مہدی منتظرہوں گے کہ جنکےانتظار ضروری اور واجب ہے جبکہ انکے ظہور کا اﷲ تعالی حتمی وعدہ دیاہے

۳: انتظاریعنی امام غائب پر عقیدہ :

ایک طرف تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ مہدی موعود روۓزمین پر خدا کا نمائیدہ اور بندون پر حجت ہو ں گۓ تو دوسری طرف زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہیں ہوتی تاہم حجت خدا کی معرفت اور اور شناخت واجب اور ضروری ہے

چنانچہ رسالت کآب فرماتے ہیںمن مات ولم یعرف امام زمانه مات میتة جاهلیة (۱۲) جو شخص اس حالت میں مرے جبکہ وہ اپنے امام زمان کونہیں پہچانتا ہو تو وہ جاہلیت کی موت مراہے -کسی دوسرےحدیث میں آپ فرماتے ہیں:قَالَ قلتُ لِأَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع أَ تَبْقَی الْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ قَالَ لَوْ بَقِيَتِ الْأَرْضُ بِغَيْرِ إِمَامٍ لَسَاخَتْ (۱۳) ”اگر ایک لحظہ بھی حجت خدا سے خالی ہو جاۓ تو زمین ہر چند کو نگل لے گئی اسی طرح کسی اور مقام پر آپ اما م غائب پر عقیدہ رکھنے اور انکے ظہور کا انتظار کرنے والون کی توصیف میں فرماتے ہیں:

طوبی للصابرین فی غیبته ! طوبی للمقیمین علی محبته ! اُولئک الذّین وصفهم اﷲ فی کتابه وقال:”هدی للمتقین الذّین یومنون بالغیب(۱۴) -” ان صبر کرنے والوں کے لیے خوش بختی ہے جو انکے غیبت کے دوران صبر کرۓ ! اورخوشابحال ہے وہ لوگ جو انکی محبت پر پابر جا رہے ! یہ وہی لوگ ہیں جن کے متعلق پروردگار عالم نے اپنی کتاب میں کہا ہے ”ہدایت ہے ان صاحبان تقوی اور پرہیزگار لوگوں کے لۓ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں”-اور انکے امامت پر ایمان نہ رکھنے والے اور انکے خروج کے انکار کرنے والوں کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں ”من انکر خروج المهدی فقد کفر بما اُنزل علی محمّد (۱۵) حضرت مہدی عجل کے ظہور کا انکار کُل اسلام کے انکار کرنے کا برابر ہے

پس ہر فرد مسلمان کی ذمداری ہے کہ وہ امام زمانہ کے غیبت پر ایمان لاۓ انکی معرفت خدا ورسول کی معرفت انکی غیبت پر ایمان عالم غیب پرایمان اور انکے وجود مقدس پر ایمان خدا ورسول پر ایمان اور انکےاور انکے خروج کا انکار اسلام کے انکار کے برابر ہے

۴: انتظار یعنی اہل بیت اطہار کے تقرب کیلۓ جدوجہد :

انتظار کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ امام زمانہ کی محبت اور تقرب کو ہاتھ میں لانے اور انکے مورد غضب اور نارضگی واقع ہونے کی فکر میں رہیں لہذا ایسا کام انجام نہ دیں جو ان سے دوری اور انکے خاص عنایتوں محروم ہونے کا سبب بنے بلکہ ہمیشہ اسیے عمل انجام دینے کی کوشش میں ہونا چاہیے جو زیادہ سے زیادہ آنحضرت سے نزدیک ہونے اور انکے رضایت کو جلب کرنے میں زیاوہ مؤثر واقع ہوتا ہو چناچہ خود امام زمان جناب شیخ مفید کو ارسار کۓ گے ایک خط میں فرماتے ہیں “فلیعمل کلّ امرء منکم بما یقرب به من محبّتنا ویتجنب ما یدنیه من کراهتنا وسخطنا(۱۶) تم میں سے ہر شخص کو ایسا کام کرنا چاہیے جو ہماری محبت اور دوستی سے نزدیک کرنے کا سبب بنے اور جو چیزین ہمیں نا پسند ہیں اور ہماری کراہت وناراضگی سے نزدیک کرنے کا باعث بنتی ہیں ان سے پرہیز کرنا چاہیے -

انتظار کا صحیح مفہوم

لغت کے لحاظ سے انتظار ایک نفسیاتی حالت جو آئندہ اور مستقبل کے لیۓ امیدوار ہونا ہے لیکن اسلامی تعلیمات میں انتظار نہ صرف ایک نفسیاتی حالت کا نام نہیں بلکہ عقیدہ ہے عقیدہ حق وعدالت کے طاقتوں کا ظلم وباطل کے طاقتوں پر مکمل طور پر غالب آنے ،تمام انسانی اقدار کا روۓ زمین پر برقرار ہونے اور مدینہ فاضلہ یعنی ایک آئیڈیل آفاقی معاشرے کے وجود میں بلاآخر عدل الہی اور دین الہی کا اس روۓ زمین پر آخری حجت خدا کے ھاتھوں جلوہ گرھونے کا

انتظار نظریہ ہے نظریہ آخری زمانہ میں منجی موعود کا ظہور کرنے اور عالم بشریت کو موجودہ حالات سے نجات دینے اور مستضعفیں کے ہاتھوں ایک آفاقی اور الھی نظام کا قائم کرنے کا ہے

انتظار عمل اور حرکت ہے ایسا عمل جو جس میں نفس کہ تزکیہ ہو، فردی اور اجتماعی اصلاح ہو یعنی خود سازی کے ساتھ دیگر سازی اور سماج سازی بھی ہو ،اور ایسی حرکت جو منظم اور انسانی زندگی کے تمام پہلو اور زاویوں سے ہو، اور اس آفاقی نظام کے لیۓ زمینہ فراہم کرۓ اور اس دور کے ساتھ ہم آہنگ اور وہم سوہوں ،یہ ہے حقیت انتظار اسلامی نقط نگاہ میں انشاء اﷲ بعد میں تفصیلی وضاحت دین گے

انتظار کا غلط مفہوم اور اسکا منفی نتائیج

ممکن ہے بسا اوقات نظریہ انتظار کو اپنے درست اور اصلی مفہہوم میں نہ سمجھنےبلکہ کج فہمی اور غلط مراد لینے کی وجہ سے یھی انتظار سازندگی وتعمیری روخ کو بدل کر تخریبی ویرانگی کا روخ اختیار کر لے اور ایک متحرک انقلابی اور پاک سرش شخص یا معاشرے کو رکود وجمود ،مفلوج اور خباثت کی طرف دعوت دے -

اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو سینکڑون ہزاروں کی تعداد میں افراد مختلف گروپوں تنظیموں کی شکل میں نظر ایئین گے جنہون نے عقیدہ انتظار کو الٹ سمجھنے اور اسے غلط مفہوم مراد لینے کی وجہ سے نہ صرف انتظار کو اپنے ترقی وسازندگی کا ذریعہ بنایا بلکہ الٹا یہی انتظار انکےمفلوج ہونے جمود کے شکار ہونے اور اپنے علاوہ سکاج کو بھی فساد اور گناہوں کی طرف دعوت دینے کا سبب بنا مثال کے طور پر (انجمن حجتیہ )نامی تنظیم جنہوں نے انقلاب اسلامی ایران سے پہلے انقلاب کے دوران او انقلاب کے بعد بھی ایران میں ملکی سطح پر لوگوں کو فساد اور گناہوں کی طرف دعوت دیتے تھے اور انکا یہ شعار تھا کہ ہم معاشرے میں جتنا بھی ہو سکھے گناہوں کو اور ظلم وبربریت کو عام کر دے اتنا ہی امام زمانہ کی ظہور میں تعجیل کا زمینہ فراہم ہو گا اور امام جلدی ظہور کریںگے

ہم یہاں پر ان گروپوں میں سے ایک دو کی طرف اشارہ کرتے ہیں تاکہ مؤمنین کے لیےاس قسم کے منحرف شدہ گروہوں کو پہچانے اور ان سے دوری اختار کرنے میں مدد ثابت ہو جاے

پہلاگروہ

لوگوں کے ایک گروہ کا یہ نظریہ ہے کہ عصر غیبت کیں ہماری ذمداری صرف اور صرف حضرت حجت کے تعجیل فرج کے لیے دعا کرنا ہے اور کسی قسم کی اصلا حی واجتماعی حرکت کو انتظار اور خدائی مصلحت کے خلاف سمجھتے ہیں انکا خیال ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے ہونے دو ہم کوئی ربط نہیں امام زمانہ خود تشریف فرما کر ان سب کو ٹھک کرے گریں گے،اسے پہلے جو بھی علم اٹھے گا باطل کا علم ہو گا اور لا محالہ دین و شریعت کے خلا ف ہو گا لہذا اسے اصلاحی اور اجتما عی حرکت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں

اما م خمینی قدس اﷲ (عصر حاضر کے عظیم ہستی)ا نکے رد میں فرماتے ہیں

(کچھ لوگ انتظار فرج کو صرف مسجدوں حسینیوں اور گھروں میں بیٹہ کر امام زمانہ کے ظہور کے لیے خدا کی درگاہ میں دعا کرنے میں دیکھتا ہے اور تکلیف اور ذمداری سمجھتے ہیں ہم سے کوئی ربط نہیں دنیا میں ملتوں پر کیا گزرے ،خود امام ظہور کریں گے تو سب کچھ ٹھیک کریں گے )یہ ان لوگوں گا منطق ہے جو حقیقت میں اپنے وظیفے پر عمل کرنے سے گریز کرنا ہے ،اسلام انکو قبول نہیں کرتا بلکہ ہماری ذمداری ہے کہ انکیامد کے لیے زمینہ فراہم یں مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں انشاء اﷲ ظہور کریں گئے(۱۷) اگر ہماری بس میں ہوتی تو پوری دنیا سے ظلم وجور کو مٹا دیتے ہماری شرعی ذمداری تھی لیکن یہ ہماری بس سے باہر ہے ،اور حقیقت یہ ہے کہ حضرت حجت دنیا کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے یہ نہیں کہ تم لوگ اپنے شرعی تکلیف سے ہاتھ اُٹھاے بیٹھے اور اپنی ذمداری کو انجام نہ دے(۱۸) بلکہ دوران غیبت میں چونکہ احکام حکومتی اسلام جاری وساری ہیں کسی قسم کی ہرج و مرج قابل قبول نہیں ہے ،پس حکومت اسلامی کا تشکیل دینا ہماری ذمداری ہے جسکا عقل حکم کرتی ہے ،تاکہ کل اگر ہم پر حملہ کرے یا ناموس مسلمین پر ہجوم لانے صورت میں دفاع کر سکھے اور انھوں روک سکھے ہم ان سے یہ سوال کر تے ہیں ،کہ کیا پیغمبر اکرم نے جن قوانین کی تبلیغ وتبین اور نشروتنفیذ کے لیے ۲۳ سال ظاقت فرسا زحمتیں برداشت کی وہ قوانیں محدود مدت کے تھیں ؟ یا خدا نے ان قونیں کے اجرا کرنے کو ۲۰۰ سال تک کے لیے محدود کیا ؟کیا غیبت صغری کے بعد اسلام نے سب کچھ چھوڑ دیا ؟(بے شک ) اس طرح کے عقیدہ اور اسکا اظہار کرنا اسلام کے منسوخ ہو جانے پر عقیدہ رکھنے اور اسے اظہار کرنے سے زنادہ بدتر ہے ، کوئی شخص نہ نہیں کہہ سکھتا کہاب اسلامی مملکتوں کا انکے حدود و باڈروں کا دفاع کرنا واجب نہیں ہے یا مالیات ،جزیہ ،خمس وزکواۃ اور خراج نہیں لینا چاہیے ،یا اسلام کے کیفری احکام دیات قصاص سب تعطیل ہے(۱۹)

دوسرا اور بدتریں گروہ-

اس گروہ کا کہنا ہے کہ نہ صرف سماج سے ظلم وستم کو ختم کرنا اور گناہوں سے پاک کرنا ہماری ذمداری نہیں بلکہ ہمیں چاہیے کہ لوگوں کو گناہوں کہ طرف دعوت دیں اور جتنا بھی ہو سکھے ظلم وبربریت کے دائرے کو بڑھنے کی کوشش کریں تاکہ امام زمانہ کی ظہور کے لیے زمینہ فراہم ہو جاۓ ،اس گروہ میں بعض خود غرض افراد بھی ہوتے ہیں جو سوچھے سمجھے فساد کی طرف دعوت دیتے ہیں اور بعض ایسے سادہ لوح افراد بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے غلط افکار کے زد میں ا کر منحرف ہوتے ہیں

انکے رد میں رہبر کبیر امام خمینی فرماتے ہیں :یہ جو کہتے ہیں ضروریات اسلام کے خلاف ہے ،یہ کہ ہم خود بھی گناہ انجام دیں اور معاشرے میں بھی گناہوں پھلاے تاکہ حضرت حجت جلدی ظہور کریں ،....حضرت حجت ظہور کریں گے تو کس لیے ظہور کریں گے ؟اسیلیے ظہور کریں گنے کہ دنیا میں عدالت کو گسترش دیں ،حکومت کو تقویت دینے کے لیے ، فساد کو زمین سے ریشہ کن کرنے کے لیے ظہور کریں گے ،لیکن ہم قرانی ایات کے خلاف امر بالمعروف اور منکر سے نہی کرنے سے ہاتھ اُٹھا لیں اور گناہوں کو پھیلانے کی فکر میں رہیں تاکہ حضرت جلدی ظہور کریں ،کیا انحضرت جب ظہور کریں گے تو یہی کام انجام دیں گئے ؟

ابھی دنیا ظلم وجور سے بھرا ہوا ہے ...اگر ظلم وجور کے روک سکھتے ہیں تو ہماری ذمداری اور تکلیف ہے ضرورت اسلام اور قران نے ہماری ذمداری ڈال دی ہے کہ باید قیام کرے اورہر کام کو انجام دے -(۲۰)

یقیناً اس قسم کا انتظار جس میں ایک قسم حدود قوانین اور اسلامی مقررات کا تعطیل ہونا لازم آتا ہو اور منتظرین کو گناہوں کی طرف دعوت دے تخریب اور جود کا شکار ہو جاے یقیناً اسیے انتظار خود امام زمانہ کے ارشاد کے مطابق طہور کی راہ میں سب سے بڑا مانع اور سد راہ ہے چنانچہ اپ فرماتے ہیں :و لو أن أشیاعنا وفقهم الله لطاعته علی اجتماع من القلوب فی الوفاء بالعهد علیهم لما تأخر عنهم الیمن بلقائنا و لتعجلت لهم السعادة بمشاهدتنا علی حق المعرفة و صدقها منهم بنا فما یحبسنا عنهم الا ما یتصل بنا مما نکرهه و لا نؤثره منهم و الله المستعان و هو حسبنا و نعم الوکیل و صلاته علی سیدنا البشیر النذیر محمد و آله الطاهرین و سلم (۲۱) “اگر ہمارے شیعہ اﷲ تعالی انہیں اپنی اطاعت کی توفیق عنایت فرماۓ ،ایک دل اور متحد ہو کر ہمارے ساتھ باندھے گۓ عہد وپیمان کو وفا کرتے تو ہمارا احسان اور ہماری ملاقات کا شرف وفیض ان سے ہرگز مؤخر نہ ہوتا : اور بہت جلد کامل معرفت اور سچی پہچان کے ساتھ ہمارے دیدار کی سعادت انکو نصیب ہوگی ،اور ہمیں شیعون سے صرف اور صرف انکے ایک گروہ کے کردار نے پوشیدہ کر رکھّا ہے جو کردار ہمیں پسند نہیں اور ہم ان سے اس کردار کی توقع نہیں رکھتے تھے ،پروردگار عالم ہمارا بہترین مددگار ہے اور وہی ہمارے لیۓ کافی ہے

پس حصرت حجت علیہ السلام کے اس کلام سے یہ بات ےاضح ہو جاتی ہے کہ اہل بیت اطہار کے چاہنے والوں سے جس چیز کے وفا کا عہد وپیمان لیا ہے ،وہ انکی ولایت واطاعت ہے

اور جو چیز امام زمانہ کی زیارت سے محروم ہونے اور انکے ظہور میں تاخیر کا سبب بنی ہے وہ انکے مانے والوں کے آنجناب کی اطاعت اور حمایت کے لیے آمادہ نہ ہونا ہے ،اور یہی اطاعت اور حمایت ظہور کے شرائط میں سے ایک اہم شرط بھی ہے

____________________

(۱) توبہ: ۳۳ -

(۲) توبہ: ۳۲ -

(۳) انبیاء: ۱۰۵ -

(۴) قصص:۵ -

(۵) ظہور حضرت مہدی : اسد اﷲہاشمی شہیدی ،ص ۱۹۸ -

(۶) کمال الدین: ج ۲ باب نمبر ۵۵ ح ۱ -

(۷) کنزل العمال : ج ۳ ص ۲۷۳ ح ۶۵۰۹ -

(۸) بحار انوار : ج ۵۲ ص ۱۲۳ ح ۷ -

(۹) منتخب الاثر ص ۲۲۳ -

(۱۰) سنن ابی داود ج ۲ ص ۴۲۲ -

(۱۱) تاج الجامع للاُصول :ج۵ ص ۳۴۳ و بحار انوار ج ۵۱ ص ۷۴ ح ۲۷ اور مسند احمد:ج۳ ص ۳۷ -

(۱۲) شرح مقاصد :ج ۳ ص ۳۷۵ المغنی :ج ۱ ص۱۱۶ صحیح مسلم :ج۶ ص۲۱ معجم الکبیر :ج۱۰ ص ۳۵ -

(۱۳) کلینی:اصول الکافی ج : ۱ ص : ۱۷۹ -

(۱۴) مجلسی : بحار الانوار،ج۵۲ ،ص ۱۴۳ -

(۱۵) ینابیع المودۃ:ج ۳ ص ۱۸۰

(۱۶) احتجاج :ج ۲ ص ۳۲۳ -

(۱۷) مجلہ مہدی موعود : شمارہ نمبر ۱،ص ۱۶ -

(۱۸) مجلہ مہدی موعود : شمارہ نمبر ۱،ص۱۴ -

(۱۹) مجلہ مہدی موعود : شمارہ نمبر ۱،ص۱۵ -

(۲۰) مجلہ مہدی موعود : شمارہ نمبر ۱،ص۱۵ -

(۲۱) الاحتجاج ج : ۲ ص : ۴۹۹


تیسری فصل : انتظار اور ہماری زمداریان

جن قرآنی آیات اور روایات میں مسئلہ انتظار کے متعلق گفتگو ہوئی ہے ان سے بخوبی یہ واضح ہوتا ہے کہ عضر غیبت میں منتظر ین کے گردن پر بہت ہی سنگین اور بڑی زمداری ہے اور جب تک ان زمداریوں اور وظائف پر عمل نہ کریں حقیقی اور سچے منتظرین میں شمار نہیں ہوتا

لہذا واقعی اور سچے منتظر بنے کے لیۓ ان زمدایوں کو اچھی طرح جانا اور اس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے

ہم یہاں چند اہم زمدّاریوں کو تفصیل کے ساتھ زیر تحریر لاتے ہیں تاکہ تشنئہ معرفت حضرات کے لیےان وظائف اور زمداریوں کو جاننے میں آسانی ہو جائے

۱: امام منتظر کی معرفت اور شناخت :

ایک مؤمن منتظر کی سب اہم ذمداری اور پہلا وظیفہ ہر دور کے امام کی معرفت اور انے شناخت ہے ،اور فریقین کے رویات کے مطابق پیغمبر اکرم نے امام زمانہ کی معرفت کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے:من مات ولم یعرف امام زمانه مات میتة جاهلیة (۱) جو شخص اپنے امام زمانہ کی معرفت کے بغیر مر جاۓ وہ جاہلیت کی موت مراہے ”

اسلامی تعلیمات کے روشنی میں- جسکا تذکرہ پہلے بھی ہو چکا ہے- تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ جس ہستی کے آمد کے ہم سب منتظر ہیں وہ ایسی شخصیت ہیں جن کو پروردگار عالم نے اسی دن کے لیے ذخیرہ کیا ہے ، اس روۓ زمین پر امام زمانہ اور حجت خدا ہونگے اور انکے بابرکت وجود کے زریعۓ مقصد بعثت کامل اورخلقت کا نتیجہ حاصل ہو گا لیکن خصوصیت کے ساتھ مکتب تشیّیع کے نزدیک وہ ذات ابھی بھی ہمارے درمیاں زندگی کر رہیے ہیں اگر چہ انکی شخصیت کی زیارت سے ہم سب محروم ہیں ، آپ پردہ غیب سے ہماری مسلسل سرپرستی کررہے ہیں ،انھیں کے وسیلہ سے اﷲ تعالی لوگوں کو رزق فراہم کرتا ہے اور زمین وآسمان اپنی جگہ ثابت وبرقرار ہیں آپ خدا اور مخلوق کے درمیا ں وسطہ فیض ہیں تمام انبیاء واوصیاء کے علوم اور اوصاف حمیدہ کے وارث ہیں اورآپ ہی کی ذات کو اﷲ تعالی کی ارادہ و اجازت سے نفوس پر تصرف کرنے کا حق حاصل ہے اور حق وحقیقت کی طرف ہدایت کرتی ہے

اگر آج مسلم سوسائٹی معیشتی و اجتماعی اور ثقافتی لحاظ سے اضطراب وتنزّل اور حفقان کا شکار ہے ،تو یہ سب آنحضرت سے غفلت و بے توجہی اور انکی معرفت حاصل کرنے میں کوتاہی کے وجہ سے ہے ،اور فطری طور پر جب انسان کسی موضوع کو کما حقہ نہ پہچانتا ہو تو اسکے بارے میں وہ اپنے وظیفہ کو دلی لگاو سے انجام نہیں دے سکتا لھذا ایک حقیقی منتظر کی ظہور سے پہلے سب سے بڑی اور اہم ذمداری حضرت حجت اما م منتظر کی معرفت اور شناخت ہے اوریہی سعادت و نجات کا باعث اور اسے دوری دنیوی نقصان اور خسران ابدی کا باعث ہے لہذا صادق ال محمد فرماتے ہیں :يَقُولُ اعْرِفِ الْعَلَامَةَ فَإِذَا عَرَفْتَهُ لَمْ يَضُرَّكَ تَقَدَّمَ هَذَا الْأَمْرُ أَوْ تَأَخَّرَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ يَقُولُ يَوْمَ نَدْعُوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمامِهِمْ فَمَنْ عَرَفَ إِمَامَهُ كَانَ كَمَنْ كَانَ فِی فُسْطَاطِ الْمُنْتَظَرِ ع (۲) تم اپنے امام کو پہچانیں جسکے تم منتظر ہے کیونکہ جب تم پہچانیں گے تو پھر وہ ظھور کرۓ یا نہ کرۓ تمھیں کچھ نقصان نہیں ہو گا یعنی تم نے اپنے ذمداری انجام دیا اور حقیقی منتظرین میں سے ہو گۓ اب انکے ظہور سے پہلے اگر تم اس دنیا فوت کر جاۓ تو یہی معرفت تمھار ی نجات اور سعادت کا باعث بنے گی تو پھر تمھارے لیۓ کیا نقصان کہ وہ ظہور کرۓ یا نہ کرۓ ، لیکن یہ اسکے لیۓ نقصان ہے جو اپنے امام کی معرفت نہ رکھتا ہے -

اسی طرح فضیل بن یسار نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے:يَقُولُ مَنْ مَاتَ وَ لَيْسَ لَهُ إِمَامٌ فَمِیتَتُهُ مِیتَةُ جَاهِلِيَّةٍ وَ مَنْ مَاتَ وَ هُوَ عَارِفٌ لِإِمَامِهِ لَمْ يَضُرَّهُ تَقَدَّمَ هَذَا الْأَمْرُ أَوْ تَأَخَّرَ وَ مَنْ مَاتَ وَ هُوَ عَارِفٌ لِإِمَامِهِ كَانَ كَمَنْ هُوَ مَعَ الْقَائِمِ فِی فُسْطَاطهِ (۳) ” آپ فرما تے ہیں جو شخص اس حالت میں مرۓجبکہ وہ اپنے امام کو نہیں پہچانتا ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا ہے ،اور وہ شخص جو اس دنیا سے چلے جاۓ جبکہ وہ اپنے امام زمانہ کی صحیح معرفت رکھتا ہو تو امام زمانہ کے ظہور میں تاخیر اسے نقصان نہیں دے گا ،اور جو شخص مر جاۓ جبکہ اپنے امام کی معرفت کے ساتھ مر ۓ تو گویا و ہ اپنے امام کے ہمراہ جہاد میں انکے خیمے میں ہے -”

اسی طرح کسی اور حدیث میں جناب شیخ صدوق نقل فرماتے ہیں :ولا یکون الایمان صحیحا ً الاّ من بعد علمه بحال من یؤمن به، کما قال اللّه تبارک وتعالی ”الاّ من شهد بالحق وهم یعلمون (۴) فلم یوجب لهم صحة ما یشهدون به الاّ من بعدعلمهم ثم کذلک لن ینفع ایمان من آمن بالمهدی القآئم علیه السلام حتی یکون عارفاً بشأنه فی حال غیبته (۵) ”کسی مؤمن کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہوتا جب تک جس چیز پر ایمان رکھتا ہے اس کے بارے میں پوری شناخت نہیں رکھتا ہوں “جس طرح اﷲ تعالی فرماتا ہے الاّ من شہد بالحق وھم یعلموں مگر ان افراد کے جو علم و شناخت کے ساتھ حق کی گواہی دیں پس حق پر گواہی دینے والوں کی گواہی قبول نہیں ہو گی مگر علم رکھتا ہو ” اسی طرح مہدی قائم پر ایمان رکھنے والوں کے ایمان انھیں فائدہ نہیں دے گا (یعنی انکے ظہور اور قیام پر اجمالی ایمان اور انکے ظہور کے انتظار اسے فائدہ نہیں دے گا )مگر انکی غیبت کے دوران انکے متعلق اور انکے شان ومنزلت کےبارے میں صحیح معرفت رکھتا ہو

اور اما م زمانہ کی معرفت کے لیے بعض چیزون کو جاننا ضروری ہے ان میں سے بعض اہم موارد یہاں ذکر کرتے ہیں کہ ان امور کو جاننے بغیر کس امام کی معرفت کامل اور مفید واقع نہیں ہو گی

الف: آپ کائنات کے اولین مخلوق ہیں :

صحیح روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام زمانہ ورسول اکرم اور دیگر بارہ معصومین کے پاکیزہ انوار کو اﷲ تعالی کائنات کے تمام مخلوقات سے پہلے خلق فرمایا ہے چناچہ نبی اکرم ای بارے میں فرماتے ہیں “لما اسری بی الی السماء (۶) جس رات مجھے آسمان کا سیر کرایا میری نظری پڑی عرش پر تو لکھا ہوا تھا “لا اله الاّ اﷲ محمد رسول اﷲ أیده بعلی ....” اﷲ کے سواء کوئی معبود نہیں ہے محمد اسکا رسول ہیں اور علی کے زریعے ہم نے انکی تایئد کیا ،اور میں نے عرش پر علی وفاطمہ اور باقی گیارہ معصومین کے مقدس انواردیکھا جنکے درمیان حضرت حجت کا نور کوکب درّی کے مانند درخشان اور چمک رہا تھا میں نے عرض کیا پروردگار یہ کس کا نور ہے ، اور وہ کن کے انوار ہیں ؟ آواز آئی یہ تیرے فرزندان ائمہ معصومین کے انوار ہیں اور یہ نور حجت خدا کا نور ہے جو زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بہر دے گا جس طرح ظلم و جور سے بھر چکا ہو گا اسی طرح امیر المومنین فرماتے ہیں رسول خدا نے مجھ سے فرمایا :لما عرج بی الی السماء....... فقلت یا رب و من أوصیائی فنودیت یا محمد أن أوصیاءک المکتوبون علی ساق العرش فنظرت و أنا بین یدی ربی الی ساق العرش فرأیت اثنی عشر نورا فی کل نور سطر أخضر مکتوب علیه اسم کل وصی من أوصیائی أولهم علی بن أبی طالب و آخرهم مهدی أمتی (۷) “جب مجھے آسمان کا سیر کرایا .....تو میں نے عرض کیا پروردگارا کون ہے میرےاوصیا ، ندا آئی یا محمد تمھارے وصیون کے نام ساق عرش پر لکھا گیا ہے میں نے عرش کی طرف نظر کیا تو گیارہ نور اسیے دیکھا ہر نورمیں ایک سبز رنگ ہے جس پر میرے ہر ایک وصی کے اسماۓ گرامی لکھا گیا ہے سب سے پہلے علی ابن ابی طالب کا اسم گرامی اور آخر میں میری امت کے مہدی کا نام تھا -

اسی طرح جناب شیخ صدوق امام صادق سے نقل کرتے ہیں آپنے فرمایا:

الله تبارک و تعالی خلق أربعة عشر نورا قبل خلق الخلق بأربعة عشر ألف عام فهی أرواحنا فقیل له یا ابن رسول الله و من الأربعة عشر فقال محمد و علی و فاطمة و الحسن و الحسین و الأئمة من ولد الحسین آخرهم القائم الذی یقوم بعد غیبته فیقتل الدجال و یطهر الأرض من کل جور و ظلم ....(۸) “پرودگار عالم نے تمام مخلوقات کے آفرینش سے چھودہ ہزار سال پہلے چھودہ نورخلق کئے تھے اور وہ ہماری پاکیزہ ارواح تھیں ان میں سے آخری قائم علیہ السلام ہے جو غیبت کے بعد قیام کرے گا ، دجال کو قتل کرے گا ،اور زمین کو ہر طرح کے ظلم وستم سے پاک کر دے گا -

پس ان احادیث اور انکے علاوہ اور دسویں روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے قائم آل محمد جس کے ہم اور آپ سب منتظر ہیں جنکے نور کو پروردگار عالم نے کائنات تمام مخلوقات سے پہلے خلق کیا ہے اور انہیں دوسرے مخلوقات پر شاہد اور گواہ بنا کر پیش کیا ہے یہ انے مقام ومنزلت خدا کے نزدیک

ب :آ پ خالق ومخلوق کے درمیان واسطہ فیض ہیں :

بعض روایات کے روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ امام زمانہ واسطہ فیض وبرکت ہیں ،

جناب شیخ مفیدابن عباس کے واسطے رسول خدا سے نقل کرتے ہیں :قال رسول الله ص ذکر الله عز و جل عبادة و ذکری عبادة و ذکر علی عبادة و ذکر الأئمة من ولده عبادة و الذی بعثنی بالنبوة و جعلنی خیر البریة ان وصیی لأفضل الأوصیاء و انه لحجة الله علی عباده و خلیفته علی خلقه و من ولده الأئمة الهداة بعدی بهم یحبس الله العذاب عن أهل الأرض و بهم یمسک السماء أن تقع علی الأرض الا باذنه و بهم یمسک الجبال أن تمید بهم و بهم یسقی خلقه الغیث و بهم یخرج النبات أولئک أولیاء الله حقا و خلفائی صدقا عدتهم عدة الشهور و هی اثنا عشر شهرا .....(۹) “ آنحضرت نے فرمایا :اﷲکا ذکر اور میرا ذکر عبادت ہے ،اور علی کا ذکر وانکے فرزاندان ائمہ کے ذکر بھی عبادت ہے ، قسم اس ذات کے جسنے مجھے نبوّت کے ساتھ بیجھا ہے-......... اور میرے بعد علی ابن ابی طالب کے فرزاندان ائمہ ھداء ہونگے انھین کے واسطے اﷲ تعالی اہل زمین سے عذاب کو ٹال دے گا اور انھیں کے برکت سے آسمان ٹوٹ کر زمین پر آنے سے بچا لے گا ،اور انھیں کے خاطر پہاڑون کے بکھر جانے نہیں دے گا اور انھین کے طفیل سے اپنے مخلوق کو باران رحمت سے سیراب کرے گا اور زمین سے سبزہ نکالے گا ،وہی لوگ ہیں جو اﷲ کے حقیقی دوست اور جانشین

اسی طرح دعاے عدلیہ کا فقرہ ہے جس میں آیا ہے :“ثم الحجة الخلف القائم المنتظر المهدی المرجی .....ببقائه بقیت الدّنیا وبیمنه رُزق الوری وبوجوده ثبتت الأرض والسماء وبه یملاء اللّه الأرض قسطاً وعدلاً بعد ما ملئت ظلماً وجوراً ” میں گواہی دیتا ہوں انے فرزند حجت خدا وجانشین واما مقائم منتظر مہدی جن کے ساتھ عالم کی اُمید وابستہ ہے انکے وجود سے دنیا باقی ہے اور انکے برکت سے مخلوق روزی پارہی ہے ،اور انکے وجود سے زمین وآسمان قاظم ہیں اور انھیں کے ذزیعے خدا زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جب کہ وہ ظلم وجور سے بھر چکی ہے گی

پس ان روایات کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ اس دور میں امام زمانہ خالق ومخلوق کے درمیاں واسطہ فیض ہیں

ج: آپ کی معرفت کے بغیر خداکی معرفت کامل نہیں ہے -

امام حسین سے خدا کی معرفت کے بارے میں پوچہا گیا تو حضرت نے فرمایا :“معرفة اهل کلّ زمان امامهم الذّی یجب طاعته (۱۰) ہرزمانہ میں لوگوں کے اپنے امام کی معرفت مراد ہے جنکی اطاعت کو لوگوں پر واجب کی گی ہے -اسی طرح امام محمد باقر نے فرمایا : “انما یعرف اللّه عزوجل ویعبده من عرف اللّه وعرف امامه منّا أهل البیت(۱۱) ؛صرف وہ شخص خدا کی معرفت حاصل کر سکتا ہے اور اسکی عبادت کر سکتا ہے جسنے اﷲ اور ہم اہل بیت میں سے اپنے اما م کو پہچان لیا ہو یا اہل بیت اطہار کی امامت کا انکار کو کفر سے تعبیر کیا ہے (یعنی خدا کے انکار ) اگر چہ وہ شخص کلمہ گو ہی کیوں نہ ہو -جیسا کہ چھٹے امام سے روایت ہے آپ فرماتے :“من عرفنا کان مومنا ومن انکرنا کان کا فراً (۱۲) جس نے ہماری معرفت حاصل کرلی وہ مومن ہے اور جس نے ہمارا انکار کیا وہ کافر ہے -اسی طرح بعض روایت میں آیا ہے کہ امام خدا اور مخلوقات کے درمیان پرچم ہدایت ہے لہذا انکی معرفت کے بغیر اﷲ تعالی کی معرفت ممکن نہیں ہے -

د: آپ تمام انبیاء کے کمالات کا مظھر ہیں

متعدد روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ولی عصر عجل اﷲ فرجہ کی شخصیت جامع ترین شخصیت ہیں اور آپ میں تمام انیباء کے کمالات پائی جاتی ہیں جس طرح آپکے آباواجداد کی ذوات مقدسہ تمام گذشتہ انبیاء کے کمالات کے حامل تھے سلمان فارسی نے آنحضرت سے روایت نقل کہ ہے آپ فرماتے ہیں :الائمة بعدی اثنا عشر عدد شهور الحول ،ومنّا مهد ی هذه الاُمة (۱۳) میرے بعد بارہ امام سال کے بارہ مہینون کے برابر امام ہونگے اوراس امت کا مہدی بھی ہم سے ہی ہونگے جس میں موسی کی ہیبت ،عیسی کی عزت وبہاء،داود کی قضاوت ،اور ایوب کا صبر سب سمیٹ لاۓ ہو گا

اسی طرح چھٹے اما مفرماتے ہیں :انّ قائمنا اهل البیت علیهم السلام اذا قام لبس ثیاب علی وسار بسیرة علی علیه السلام (۱۴) ہمارے قائم جب قیام کریں گۓ تو اپنے جد علی علیہ السلا مکے لباس زیب تن کریں گۓ اور انکی سیرت پر چلین گے

کسی اور روایت میں امام رضا انکے مثالی شخصیت کے بارے میں فرماتے ہیں :للامام‏ علامات یکون أعلم الناس و أحکم الناس و أتقی الناس و أشجع الناس و أسخی الناس و أعبد الناس (۱۵) “ حضرت ولی عصر لوگوں میں سب سے زیادۃ دانا حلیم ، بردبار اور پرہیزگار ہیں وہ تمام انسانوں سے زیادہ بخشش کرنے والے عابد اور عبادت گزار ہیں ”

ھ: آپ تمام انبیاء اور ائمہ کے اُمیدوں کو زند ہ کریںگۓ-

قرآن مجید نے نے مختلف مقامات پر واضح طور پر بیاں کیا ہے کہ پروردگار عالم نے تمام انبیاء کو دو بنیادی مقصد کے خاطر بیھے ،ایک شرک و بت پرستی کو صفحہ ھستی سے مٹاکر تو حید ویکتا پرستی کو رائج دینے اور دوسرا یہ کہ سماج سے ظلم وتربریت کی ریشہ کنی کرکے اسکی جگہ عدل و پاکدامنی کو رواج دینا تھا -لیکن ہم دیکھتے ہیں اب تک روۓ زمین پر یہ مقصد تحقق نہیں پایا ہے جبکہ تمام علماء ،دانشور حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ تمام انبیاء کے بعثت کا مقصد اور ہدف حضرت ولی عصر ارواحنا لہ الفداء کے مبارک ہاتھوں سے انکے آفاقی قیام کے ساۓ میں تحقق پاۓ گا،اورانھیں کے زریعے کفر وشرک کا ریشہ خشوق ہو جاۓ گا ،اور ظلم بربرییت کے اس تاریک دورکا خاتمہ ہو کر عدل وتوحید کا سنہری دور پورے زمین پر غالب آۓ گا - چناچہ سورہ توبہ کے ۳۲ اور ۳۳ آیات کے ذیل می تمام شیعہ مفسرین نے اس حقیقت کی طرف کیا ہے اور وہ آیہ مبارکہ یہ ہے :( يُرِیدُونَ أَن يُطْفُِواْ نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَ يَأْبىَ اللَّهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَ لَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ ) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ نور حدا کو اپنے منھ سے پھونک مارکر بجھا دیں حالانکہ خدا اس کے علاوہ کچھ ماننے کے لۓ تیار نہیں ہے کہ وہ اپنے نور کو تمام کردے چاہے کافروں کو یہ کتنا ہی بُرا کیوں نہ لگے-( هُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَی‏ وَ دِینِ الْحَقّ‏ِ لِيُظْهِرَهُ عَلىَ الدِّینِ كُلِّهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُون ) وہ خدا وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بیھجا تاکہ اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب بناۓ چاہے مشرکین کو کتنا ہی نا گوار کیوں نہ ہو

ان قرآنی آیات اور روایات کی روشنی میں آپکی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے ، کہ آپی شخصیت تنہا وہ ذاتہیں جو انبیاط وائمہ کی کوششوں کو نتیجہ خیز بنائیں گۓ اور تمام آسمانی رہبرون کی اُمیدون کو تحقق بخشین گۓ اسی لیۓ روایت میں آیا ہے کی انکی معرفت اور اطاعت رسول اﷲ کی اطاعب اور معرفت ہے اور انکے ظہور کا انکار نبی اکرم کی رسالت کا انکار ہے اگر چہ وہ شخص ایک مسلمان ہو نے کی بنا پر انکے نبوّت کا اعتراف ہی کیون نہ کرے ،چنانچہ آپ فرماتے ہیں :

قال رسول الله ص القائم من ولدی اسمه اسمی و کنیته کنیتی و شمائله شمائلی و سنته سنتی یقیم الناس علی ملتی و شریعتی یدعوهم الی کتاب الله ربی من أطاعه أطاعنی و من عصاه عصانی و من أنکر غیبته فقد أنکرنی و من کذبه فقد کذبنی و من صدقه فقد صدقنی الی الله أشکو المکذبین لی فی أمره و الجاحدین لقولی فی شأنه و المضلین لأمتی عن طریقته وَ سَيَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ (۱۶) . قائم میرا فرزند ہے انکا نام میرے نام پر انکی کنیت میری کنیت پر انکے شکل وشکائل میرے شکل وشمائل جیسی ہوگی اور انکی سنت میری سنی پر ہوگی لوگوں میرے دین اور شریعت پر پلٹا دین گۓ انھین میرے پروردگار کی کتاب کی طرف دعوت دیں گۓ جو انکی اطاعت کرۓ اسنے میری اطاعت کی ہے اور جو انکی نافرنانی کرۓ اسنے میری نافرمانی کی ہے ،اور جو انکی غیبت کا انکار کرۓ اسنے مجھے انکار کیا ہے اور جو انھیں جھٹلالے اسنے مجھے جھٹلایا ہے اور جسنے انکی امامت اور غیبت کا تصدیق کرۓ اسنے میری رسالت کی تصدیق کی ہے....- اس جیسے بہت سارے روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انکی معرفت اور اطاعت نہ صرف رسالت مآب کی معرفت اور اطاعت ہے اور ہی انکا انکار نہ صرف آنحضرت کی رسالت کا انکار ہے بلکہ وعدہ الھی کا انکار ہے ،ُمقصد خلقت بشر جو کہ عبادت کاملہ کے پورے انسانی معاشرے میں وجود میں لانا ہے اس مقصد کا انکار ہے -

اور دوران غیبت میں ہمارا معاملہ دو مطلب سے خارج نہیں ہے یا یہ کہ ہم کلی طور پر امام زمانہ سے بے گانہ اور اجنبی ہو جائین تو اس صورت میں کل قیامن کے دن میں ہمیں اپنی حسرت کی انگلی مہنہ میں لیتے یہ کہنا ہو گا (یا حسرتا !علی ما فرّطنا فیها ) اے کاش ہم نےاس بارے میں کوتا ہی نہ کیا ہو تا ! ،یا تھوڑی بہت معرفت اور آشنائی امام کی اپنے اندر پیدا کریں

اورامام زمانہ کی یہ معرفت جسے ہم نے مختصر انداز میں بیاں کیا آپ کی شکل وصورت دیکھے بغیر بھی حاصل کی جاسکتی ہے ، لہذا ایک مؤمن منتظر کی سب سے بڑی ذمداری اپنے وقت کی امام و حجت خدا کی معرفت اور پہچان ہے کہ جسکے وجود کے بغیر زمین ایک لحظہ بھی اپنی جگہ ثابت نہیں رہ سکتی ”لو خلت الأرض ساعة واحدة من حجة اللّه ،لساخت بأهلها(۱۷) اور بھی بہت روایا ہر زمان میں امام کی ضرورت پر دلالت کرتی ہیں -

۲: امام منتظَر کی محبت -

معرفت کا لازمہ محبت ہے یہ اس معنی میں کہ جب تک انسان کسی چیز کو نہ پہچانتا ہو اور اسکی خاصیت کو نہ جانتا ہو اسکی عظمت وفضائل اسکے مقام و منزلت سے بے خبر ہو اس سے محبت نہیں کر سکتا لیکن اس کے بر عکس انسان جس قدر کسی کی عظمت اور فضائل سے واقف ہو جاۓ تو خود بخود اسکی محبت اسکے دل میں آجاتا ہے ،اور اسکی ظرف توجہ بڑھتی چلی جاتی ہے -

اور خدا ورسول اور ائمہ اطہار کی محبت وہ شمع ہے جو انسان کے تاریک دلوں کو پاک منور کر دیتا ہے ، اور انسانوں کو گناہوں وبرائیوں سے نجات دیتا ہے کیونکہ معرفت محبت کا ستوں ہے اور محبت گناہون سے بچنے کا عظیم ذریعہ اورتہذیب وتزکیہ نفس کی شاہراہ ہے

اور روایات معصومین میں امام عصر ارواحنا لہ الفدء کی محبت پر خاص طور پر توجہ دی گئی ہے چناچہ رسول اکرم فرماتے ہیں :“خداوند متعال نے شب معراج مجھ پر وحی کیا اےمحمد ! زمین پر کس کو اپنے امت پر اپنا جانشین بنایا ہے ؟ جبکہ خالق کائنات خود بہتر جانتا تھا ،میں نے کہا پروردگارا اپنے بھائی علی ابن ابی طالب کو اچانک میں نے علی ابی طالب اور حجت قائم کو ایک درخشان ستارے کے مانند انکے درمیان تھے دیکھا عرض کیا پروردگارا یہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا یہ تمھارے بعد ائمہ ہیں اور یہ قائم ہے جو میرے حلال کو حلال اور حرام کو حرام کر دے گا اورمیرے دشمنون سے انتقام لے گا .اے محمد ! اسے دوستی کرو کیونکہ میں انکو اور ان سے دوستی رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہوں پس اگر چہ تمام معصومین کی محبت واجب ہے لیکن اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حجت کی محبت خاص اہمیت اور خصوصیت کے حامل ہے اسیلۓ آٹھوین امام نے اپنے آباء و اجداد کے واسطے امام علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے ، آپ نے فرمایا :قال لی أخی رسول اللّه ..........ومن أحبّ ان یلقی اللّه وقد کمل ایمانه وحسی اسلامه فلیتولّ الحجة صاحب الزّمان المنتظر (۱۸) ”مجھ سے میرے بھاظی رسول خدل نے فرمایا جو شخص اﷲ تعالیسے اپنے مکمل ایمان اور نیک اسلام کے ساتھ ملاقات کا خوہاں ہے تو اسے چاہے کہ حضرت حجت صاحب الزمان کی ولایت کے پرچم تلے آجاۓ اور انھیں دوست رکھےّ.......-

لہذا منتظرین کی دوسری سب سے بڑی ذمداری امام عصر ارواحنا لہ فداء کی محبت کو اپنے اندر بڑھنا ہے اور ہمیشہ انکی طرف متوجہ رہنا ہے ، اور اسکے لیے مختلف ذریعے بیاں ہوۓ ہیں ،ہم یہاں پر چند اہم موارد احادیث معصومین کی روشنی میں بیاں کرتے ہیں

الف: امام منتظَر کی اطاعت اور تجدید بیعت -

امام زمانہ کی محبت کے منجملہ مظاہر اور اثار میں سے ایک حضرت کی اطاعت پر ثابت قدم رہنا اور انکی بیعت کی ہمیشہ تجدید کرنا ہے ، اور یہ جا ننا ہے چاہے کہ اسکا امام اور رہبر اسکے ہر چھوٹے بڑے کاموں پرمطلع اوراسکے رفتار وگفتار کو دیکھتے ہیں، اچھے اور نیک کامون کو یکھ کر انکے دل میں سرور آجاتاہے جبکہ اسکے برے اور ناشائستہ کامون کو دیکھ کر انکو دکھ ہو جاتاہے ،اور یہ بھی معلوم ہونا چاہے کہ انکی رضا خدا و رسول کی رضا ہے اور انکے کسی پر ناراضگی خدا و رسول کی ناراضگی اسکے درپے ہے ،اور میرا ہر نیک عمل ہر اچھا کردار اور ہر مثبت قدم اطاعت کی راہ میں روز موعود کو نزدیک کرنے میں مؤثر ثابت ہو گا ،اسی طرح میرا اخلاص ،دین ومذہب اور اہل ایمان کے نسبت میرا احساس مسؤلیت انکے ظہور میں تعجیل کا سبب بنے گا اور یہ بھی جاننا چاہے کہ اما م زمانہ کی اطاعت صرف اور صرف پیغمبر اکرم کی اطاعت اور انکے لاۓ ہوۓ دین کے مکمل پیروی میں حاصل ہوتا ہے ،اور جب تک عملی میدان میں اطاعت نہ ہومحبت ومودت یا معنی ہی نہیں رکھتا یا اگر اجمالی محبت دل میں ہو تو اسے آخری دم تک اطاعت کے بغیر محفوظ رکھ سکھنا بہت ہی دور کی بات ہے چناچہ عرتون کا ضرت المثل ہے (وانت عاصیُ ُ انّ المحبَ لمن یحبُّ مطیعُ )یہ ساری نافرمانی اور سر پیچدگی کے ساتھ تم کس طرح اپنی محبت کا اظہار کرتے ہو جب جو جسے محبت کرتا ہے ہمیشہ اسی اطاعت گزار ہوتا ہے

اسلئے صادق آل محمد فرماتے ہیں :مَنْ سُرَّ أَنْ يَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ الْقَائِمِ فَلْيَنْتَظِرْ وَ لْيَعْمَلْ بِالْوَرَعِ وَ مَحَاسِنِ الْأَخْلَاقِ وَ هُوَ مُنْتَظِرٌ فَإِنْ مَاتَ وَ قَامَ الْقَائِمُ بَعْدَهُ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ أَدْرَكَهُ فَجِدُّوا وَ انْتَظِرُوا هَنِیئاً لَكُمْ أَيَّتُهَا الْعِصَابَةُ الْمَرْحُومَةُ (۱۹)

جو شخص چاہتے ہے ،کہ امام زمانہ کے اصحاب میں یے ہو جاۓ تو اسے چاہۓ کہ انتظار کرۓ اور ساتھ ساتھ تقوی وپرہیزگاری اور نیک اخلاق اپناۓ اسی طرح آپ سے ہی دعاۓعہد کے یہ فقرات ہقل ہوۓ ہیں :“اللهم انّی اُجدد له فی صبیحة یوم هذا وما عشت فی أیامی “ خدایا ! میں تجدید (عہد ) کرتا ہوں ہے ،آج کے دن کی صبح اور جتنے دنوں مین زندہ رہوں اپنے عقد وبیعت کی جو میرے گردن میں ہے میں اس بیعت سے نہ پلٹوں گا اور ہمشہ تک اس پر ثابت قدم ہوں گا ، خدایا مجھ کو ان کے اعوان وانصار اوران سے دفاع کرنے والوں میں سے قرار دۓ

بلکہ متعدد روایات سےیہ معلوم ہوتا ہے ، کہ اہل بیت اطہار کی نسبت جو عہد وپیمان اپنے ماننے والوں کی گردن پر لیا ہے، وہ چھاردہ معصومین کی اطاعت حمایت اور انسے محبت کا وعدہ ہے

چنانچہ خود امام زنانہ نے جناب شیخ مفید کو لکھے ہوۓ نامے میں فرماتے ہیں :“و لو أن أشیاعنا وفقهم الله لطاعته علی اجتماع من القلوب فی الوفاء بالعهد علیهم لما تأخر عنهم الیمن بلقائنا و لتعجلت لهم السعادة بمشاهدتنا علی حق المعرفة و صدقها منهم بنا فما یحبسنا عنهم الا ما یتصل بنا مما نکرهه و لا نؤثره منهم و الله المستعان و هو حسبنا و نعم الوکیل و صلاته علی سیدنا البشیر النذیر محمد و آله الطاهرین و سلم (۲۰) “اگر ہمارے شیعہ اﷲ تعالی انہیں اپنی اطاعت کی توفیق عنایت فرماۓ ،ایک دل اور متحد ہو کر ہمارے ساتھ باندھے گۓ عہد وپیمان کو وفا کرتے تو ہمارا احسان اور ہماری ملاقات کا شرف وفیض ان سے ہرگز مؤخر نہ ہوتا : اور بہت جلد کامل معرفت اور سچی پہچان کے ساتھ ہمارے دیدار کی سعادت انکو نصیب ہوگی ،اور ہمیں شیعون سے صرف اور صرف انکے ایک گروہ کے کردار نے پوشیدہ کر رکھّا ہے جو کردار ہمیں پسند نہیں اور ہم ان سے اس کردار کی توقع نہیں رکھتے تھے ،پروردگار عالم ہمارا بہترین مددگار ہے اور وہی ہمارے لیۓ کافی ہے

پس حصرت حجت علیہ السلام کے اس کلام سے یہ بات ےاضح ہو جاتی ہے کہ اہل بیت اطہار کے چاہنے والوں سے جس چیز کے وفا کا عہد وپیمان لیا ہے ،وہ انکی ولایت اطاعت حمایت اورمحبت ہے

اور جو چیز امام زمانہ کی زیارت سے محروم ہونے اور انکے ظہور میں تاخیر کا سبب بنی ہے وہ انکے مانے والوں کے آنجناب کی اطاعت اور حمایت کے لیے آمادہ نہ ہونا ہے ،اور یہی اطاعت اور حمایت ظہور کے شرائط میں سے ایک اہم شرط بھی ہے

اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ امیر المومنین فرماتے ہیں : “اعلموا أنّ الأرض لاتخلو من حجة لللّه عزوجل ولکنّ اللّه سیعمی خلقه عنها بظلمهم وجورهم واسرافهم علی انفسهم (۲۱) جان لو زمین ہرگز حجت خدا سے خالی نہیں ہو سکتی-لیکن عنقریب پروردگار عالم لوگون کےظلم وجور اور اپنے نفسوں پر اسراف کرنے کی وجہ سے انھیں انکی زیارت سے محروم کر دۓ گا -

پس ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ منتظرین کی ایک اوراہم ذمداری صاحب العصروالزمان کی اطاعت اور تجدید بیعت ہے اوریہی شرط ظہور اور محبت کی شاہراہ ہے کہ جسکے بغیر حقیقی اورکامل محبت حاصل نہیں ہوتی

ب: امام منتظر کی یاد

امام زمانہ عجل اﷲ فجرہ کے بلند مقام کی شناخت اور انکی مودّت ومحبت کو اپنے دل میں ایجاد کرنے اور اسے رشد دینے کے لیۓ ضروری ہے کہ ہمیشہ آنحضرت کو یاد کریں ،اور انکی طدف متوجہ رہیں یعنی بہت زیادہ توحہ کرنا چاہیے اور یقینی طور پر یہ اثر رکھتا ہے ،کیونکہ مسلم طور پر اگر کوئی اپنی روح کو ایک چیز کی طرف متوجہ کریں تو ہو ہی نہیں سکتا کہ اس چیز کے ساتھ رابطہ برقرارنہ ہو سکے

اسی طرح اگر آپ نے اما زمانہ کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا تو خود یہ کثرت توجہ روحی کشش کو ایجاد کر دیتی ہے البتہ استعداد ظرف کی حفاظت اور شرائط کے ساتھ اور جب شرائط پائی جاتی ہیں تو اسکا اثر خواہ نخواہ ہو گا اور رایات کے تاکید بھی اسی لحاظ سے ہے ،کہ یہ توجہ اور یاد لا محالہ متوجہ اور متوجہ الیہ کے درمیان رابطہ پیدا کر دیتا ہے اور وقت گزر نے کے ساتھ یہ رابطہ شدت اختیار کرجاتا ہے اور پہلے سے زیادہ مؤثر ہوتا جاتا ہے اور ہمیں بھی آج سے اسکی تمرین کرنا چاہیے اور کم سے کم چوبیس گنٹھون کیں دو وقت ایک صبح اور دوسرے رات کے وقت حضرت بقیۃ اﷲ اعظم کی طرف توجہ کریں معصومین نے بھی ایک نماز صبح کے بعد دعا عہد کے پڑہنے دوسرا نماز مغربین کے بعد اس دعا کو پڑہنے کا حکم دیا ہےالسلام علیک فی الیل اذا یغشی والنهار اذا تجلی (۲۲) سلام ہو تجھ پر جب رات کی تاریکی چھا جاۓ اورجب دن کا اُجالا پھیل جاۓ اور امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے :جو شخص اس عہد نامہ کو چالیس صبح پڑھے گا وہ حضرت قائم علیہ السلام کے مددگاروں میں سے شمار ہو گا اور اگر وہ شخص ان طہور سے پہلے مر جاۓ تو اﷲ تعالی اسے امام کی خدمت کے لیۓ مبعوث کرۓ گا اور اسے ہر کلمہ کے عوض میں ہزار نیکیان مرحمت فرمائیگا اور ہزارگناہ محوکیا جاۓ گا(۲۳) اسی طرح ہر روز جمعہ کو امام زمانہ کی تجدید بیعت کرنا مستحب ہے تاہم آسانی فرشتے بھی جمعہ کے دن بیت المعمور پرجمع ہوتے ہیں اور ائمہ معصومین کے تجدید بیعت کرتےہیں-

اور امام منتظر کے ساتھ اس روحی اور دلی توجہ کو مستحکم کرنے اور انکی یاد کو مؤثر بنانے کےلیۓکچھ طریقہ کاربھی ہمیں بتاۓ ہیں ہم ان میں سے بعض موارد یہاں ذکر کرتے ہیں -

الف :امام منتظر کے نیابت میں صدقہ دینااور نماز پڑھنا

امام زمانہ کی محبت کو بڑھانے اور انکی یادکو زندہ رکھنے اور اپنی دلی توجہ کو متمرکز کرنے کے لیۓ ایک بہت ہی اہم زریعہ انکی نیابت میں صدقہ دینا اور نماز پڑھنا ہے-

ہماری ان سے دلبستگی وتوجہ اور انکی اطاعت وپیروی ایسی ہونی چاہے جس طرح خدا و رسول اور خود امام زمانہ اور انکے اجداد طاہرین ہم سے چاہتۓ ہیں ہمیں جب بھی نماز حاجت بجالاۓ یا صدقہ دین تو آنجناب کی حاجتون کو اپنے حاجتون پر مقدم اور انکی طرفسے صدقہ دینے کو اپنے اوپر اور اپنے عزیزون کے اوپر صدقہ دینے پر مقدم کرنا چاہے ،اور اپنے لیۓ دعا کرنے سے پہلے انکے سلامتی اور تعجیل ظہور کے لیے دعا کریں ،اسی طرح ہر نیک عمل جو انکے وفاء کا سبب بنتا ہے اپنے کاموں پر مقدم کرۓ تاکہ آنحضرت بھی ہماری طرف توجہ کرۓ اور ہم پر احسان کرۓ(۲۴) اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ سرور کائنات فرماتے ہیں : “....... کسی بندے کا ایمان کامل نہیں ہوتا جب تک وہ اپنی ذات سے زیادہ مجھ سے اور اپنی خاندان سے زیادہ میری خاندان کو نہیں چاہتے ہے ، اسی طرح اسکے نزدیک اپنے عترت سے زیادہ میری عترت اور اپنی ذات سے زیادہ میری ذات عزیزتر نہ ہو - اسی طرح متعدد روایات میں ائمہ معصومین کو صلہ دینے کے بارے میں آیا ہے ،کہ ایک درہم امام کو صلہ میں دینا دوملین درہم دیگر کار خیر میں خرچ کرنے کے برابر ہے یا کسی اور روایت میں.آیا ہے ایک درہم جو اپنے امام کو دۓ اسکا ثواب اُحد کی پہاڑیسے بھی سنگین ہےيَا مَيَّاحُ دِرْهَمٌ يُوصَلُ بِهِ الْإِمَامُ أَعْظَمُ وَزْناً مِنْ أُحُدٍ (۲۵) اسی طرح امام کے نیابت میں حج بجا لانے زیارت پر جانے ،اعتکاف پر بیٹھنے ،اور صدقہ دینے پر تاکید کیا گیا ہے

یقینا ان کامون کا ایک اہم مقصد اورہدف اما م زمانہ کی یاد کو ہر وقت اپنے دل ودماغ میں زندہ رکھنا اوران سے اپنی قلبی و روحی توجہ کو تقویت دینا اور ان کی محبت میں اضافۃ کرنا ہے ، دوسری عبارت میں یہ کہ انسان ہر چیز میں اپنے امام کو یاد رکھے اور انکو کبھی یاد سے جانے نہ دۓ

ج: انکے فراق کی داغ میں ہمیشہ غمگین رہنا -

بعض معصومین بھی امام زمانہ کی غیبت کے دوران کو یاد کرتے ہوۓ انکے شوق دیدار میں آنسو بھاتے تھے اور ان سے زیارت کی تمنا کرتے تھے یہاں تک اما م زمانہ کی فراق میں مہموم وغمگین ہونا مومن کی نشانیوں میں سے شمار کیا ہے جیسا کہ امیر مؤ منین حقیقی چاہنے والوں کی اوصاف اور نشنیا ں یون بیاں فرماتے ہیں

“ومن الدلائل ان يُری من شوقه

مثل السقیم وفی الفؤاد غلائلٌ

ومن الدلآئل ان یری من اُنسه

مستوحشاَ من کل ما هو مشاغل ٌ

ومن الدلآئل ضحکه بین الوری

والقلب مخزون کقلب الثاکل "

انکی نشانیوں، میں سے ایک یہ ہے کہ شدت شوق کی وجہ سے بیمار جیسے نظر آئیں گۓ جبکہ انکا دل درد سے پھوٹ رہا ہوتا ہے

انکی دوسیری نشانی یہ ہے کہ اپنے محبوب کے اُنس میں اس طرح نظر آئیں گۓ کہ ہر وہ چیزجو انہیں محبوب سے دور کر دیتی ہے اسے بھاگ جاتے ہیں

اور تیسری نشانی یہ ہے کہ ملنے میں خندان نظر آئیں گۓ لیکن انکا دل غم و اندوہ سے بیٹھا مرا شخص کی طرح محزون ہوتا ہے

لیکن خصوصیت کے ساتھ امام ولی عصر کی فراق وجدائی اور انکے مقدس قلب پر جو مصیبتین گزر رہی ہے انکو یاد کرتے ہوۓ آنسو بھانا گریہ وزاری کرنے کی بہت ساری فضیلت بیاں ہوئی ہے ،اور واقعی اور حقیقی مؤمن کی نشانیوں میں سے قرار دیا ہے چنانچہ چھٹے امام اس بارے میں فرماتے ہیں :إِيَّاكُمْ وَ التَّنْوِیهَ أَمَا وَ اللَّهِ لَيَغِیبَنَّ إِمَامُكُمْ سِنِیناً مِنْ دَهْرِكُمْ وَ لَتُمَحَّصُنَّ حَتَّی يُقَالَ مَاتَ قُتِلَ هَلَكَ بِأَيِّ وَادٍ سَلَكَ وَ لَتَدْمَعَنَّ عَلَيْهِ عُيُونُ الْمُؤْمِنِینَ (۲۶) ” اے مفضل خدا کی قسم تمھارے امام سالوں سال پردہ غیب میں ہونگے اور تم لوگ سخت امتحان ما شکار ہوگا یہاں تک انکے بارے میں کہا جاے گا کہ وہ فوت کر گیا ہے یا انھیں قتل کیا گیا ہے ؟ ...لیکن مؤمنین انکی فراق میں گریاں ہونگے.......

کسی دوسرے حدیث میں جسے جناب شیخ صدوق نے سدیر صیرفی سےروایت کی ہے ،کہتے ہیں :ایک دن میں مفضل بن عمیر و ابو بصیر اور ابان بن تغلب ہم سب مولا امام صادق کے خدمت میں شرفیاب ہوۓ تو آپکو اس حالت میں دیکھے کہ آپ زمین پر تشریف فرماں ہیں ، جُبہ خیبری زیب تن کیۓ ہوۓ ہیں -جو عام طور پر مصیبت زدہ لوگ پہنتے ہیں -،چہرہ مبارک پر حزن واندوہ کی آثار نمایاں ہیں اور اس شخص کے مانندبے تابی سے گریہ کر رہے ہیں کہ جس کا جوان بیٹھا مرا ہو ،آنکھوں سے آنسوں جاری ہے ،اور زبان پر فرما رہے ہیں اے میرے دل کا سرور تیری جدائی نے میرے آنکھوں سے ننید اُڑا لی ہے اور مجھ سے چین چھین لی ہے ،اے میرے سردار تیری غیبت نے میری مصیبتوں کو بے انتہا کر دی ہے .......روایت بہت ہی طولانی ہے اور بہت ہی ظریف نکات بھی ہیں جو چاہتے ہیں تو مراجعہ کریں

پس ان روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ بھی امام زمان علیہ السلام کی غیبت سے نگران اور انکے شوق دیدار میں بے تاب تھے

____________________

(۱) شرح مقاصد: ج ۲ ص ۲۷۵-

(۲)مرآۃ العقول :ج۴ ص ۱۸۶ - اور اصول الکافی:ج۱ “ص۳۷۲ -

(۳) کلینی: اصول الکافی:ج۱ “ص۳۷۲

(۴) زخرف :۸۶ -

(۵) صدوق :کمال الدین اتمام النعمة :ج ۱ ص ۱۹ -

(۶) سید ہاشم بحرینی :منیت المعاجز ص ۱۵۳ -

(۷) کمال الدین ج : ۱ ص : ۲۵۶

(۸) صدوق :اکمال الدین ج ۲ ص ۳۳۵ باب ۳۳ -

(۹) شیخ مفید :الاختصاص ص :۴ ۲۲

(۱۰) مجلسی : بحار انوار، ج ۸۳ ،ص ۲۲ -

(۱۱) کلینی: کافی ،ج ۱ ، ۱۸۱ -

(۱۲) کلینی :کافی ،ج۱ ،ص ۱۸۱ -

(۱۳) صافی گلپائی گانی: منتخب الاثر فصل ۱ ص ۲۶ -

(۱۴)مجلسی :مرآۃ العقول ج ۴ ص ۳۶۸ -

(۱۵) محقق طبرسی :الاحتجاج ج : ۲ ص : ۴۳۷

(۱۶) صدوق : کمال الدین ج : ۲ ص : ۴۱۱-: اعلام الوری ۴۲۵ -

(۱۷) کافی :ج۱ ،ص۱۷۹ اور الغیبة ،نعمانی ص ۱۴۱ اور کفایة الاثر ص ۱۶۲ -

(۱۸) الصراطالمستقیم ج : ۲ ص : ۱۴۹

(۱۹) مجلسی بحار انوار ،ج۵۲ ،ص ۱۴۰ -

(۲۰) طبرسی - الاحتجاج ج : ۲ ص : ۴۹۹ -

(۲۱) نعمانی :الغیبة ،باب ۱۰ ،ص ۱۴۱ -

(۲۲) پیام اما زمانہ :ص ۱۸۸ ، آیۃاﷲ وحید خراسانی کے اما م زمانہ کے متعلق تقریر کا ایک حصہ -

(۲۳) مجلسی :ج ۱۰۲ ،ص ۱۱۱ -مصباح الزائر ص ۲۳۵ -

(۲۴) کشف المحجہ : فصل ۱۵۰ ،ص ۱۵۱ -

(۲۵) کلینی :اصول کافی،ج ۲ ،ص ۱۵۶ - اور،ج ۱ ص ۵۳۸ -

(۲۶) کلینی :اصول کافی ،ج۱ ،ص ۳۳۶ باب غیبت -


۳ : علوم ومعارف اہل بیت کو رائج دینا

علوم ومعارف اہل بیت علیہ السلام کی نشر و اشاعت اور ترویج کرنا اہل ببت اطہار کے امر کو احیا کرنے کے مصادیق میں سے ہے جس کے بہت تاکید کیا گیا ہے “ اور منتظرین کی ایک اہم زمداریوں میں سے بھی ہے ،جس طرح روایت میں امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا گیا ہے آپ فرماتے ہیں :تَزَاوَرُوا فَإِنَّ فِی زِيَارَتِكُمْ إِحْيَاءً لِقُلُوبِكُمْ وَ ذِكْراً لِأَحَادِیثِنَا وَ أَحَادِیثُنَا تُعَطِّفُ بَعْضَكُمْ عَلَی بَعْضٍ فَإِنْ أَخَذْتُمْ بِهَا رَشَدْتُمْ وَ نَجَوْتُمْ وَ إِنْ تَرَكْتُمُوهَا ضَلَلْتُمْ وَ هَلَكْتُمْ فَخُذُوا بِهَا وَ أَنَا بِنَجَاتِكُمْ زَعِیمٌ

“ایک دوسرے کی ملاقات کرو، زیارت پر جاو چونکہ تمھارے ان ملاقاتوں سے تمھارے قلوب زندہ اورہمارے احادیث کی یاد آوری ہوتی ہے ،اور ہماری احادیث تمھارے ایک دوسرے پرمہربان ہونے کہ سبب بنتی ہیں ، لہذا گر تم نے ان احادیث کو لے لیا اور اس پر عمل کیا تو تم کامیاب ہو جاؤ گے نجات پاؤ گۓ اور جب بھی اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہلاک ہے جاؤ گۓ ،پس ان احادیث پر عمل کرو میں تمھاری نجات کی ضمانت دونگا(۱) اسی طرح کسی دوسرے حدیث میں ابن شعبہ حرّانی نے چھٹے امام سے نقل کیا ہے آپ منتظرین کی توصیف میں فرماتے ہیں :“.......وفرقة احّبونا وحفظوا قولنا ،واطاعو أمرنا ولم یخالفوا فعلنا فاولئک منّا ونحن منهم (۲) اور ایک گروہ وہ ہیں جو ہمیں دوست رکھتے ہے ،ہمارے کلام کی حفاظت کرتے ہیں ،ہمارے امر کی اطاعت کرتے ہیں اور ہماری سیرت اور فعل کی مخالفت نہیں کرتے ہیں ، وہ ہم سے ہیں اور ہم ان سے ہیں

اورعصر غیبت میں امام زمانہ کی بہترین خدمت جسکے امام صادق علیہ السلام تمنا کرتے تھے ، علوم اہل بیت کی نشرو اشاعت انکی فضائل ومناقب کو لوگوں تک پہوچانا ہے ، جو حقیقت میں دین خدا کی نصرت ہے جس کے بارے میں پروردگار عالم خود فرماتا ہے ”( .وَ لَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِىٌّ عَزِیز ) (۳) “بے شک اﷲ اسے مدد کرۓ گا جو اسکی نصرت کرۓ اور بتحقیق خداوند عالم صاحب قدرت اور ہر چیز پر غلبہ رکھنے والاہے ”اس آیہ مبارکہ کے ذیل میں مفسیرین فرماتے ہیں کہ نصرت خدا سے ماد دین خدا کی نصرت مراد ہے پیغر اعظم اور ائمہ معصومیں علیہم السلام کی نصرت مراد ہے اور ہر وہ نصرت مراد ہے جس میں خدا کی رضایت ہے لیکن حضرت صاحب العصر والزمان کا وجود مقدس کچھ علیحدہ خصوصیات کا مالک ہے اور و ہ خصوصیات انکی نصرت اور خدمت کی اہمیت وفضیلت کو بڑھانے کی موجب بنی ہے ،یہ اسلئے کہ آپکی کی نصرت اور یاری مظلومون غریبون وبے کسوں کی نصرت ہے آپکی نصرت ذی القربی اور ولی نعمت کی یارو مدد ہے آپکی نصرت تمام انبیاء اور اولیاء کے امیدوں کی تحقق کے راہ میں جان نثاری ہے آپکی نصرت عدل الھی کو جہان ہستی میں پھلانے اور پرچم اسلام کو زمین کے کونے کونے میں لہرانے کی راہ میں مشارکت ہے

اسیلئے صادق آل محمد فرماتے ہیں :”ولوأدرکته لخدمتُ ايّام حیاتی(۴) اے کاش اگر میری ان تک رسائی ہوتی تو میں زندگی بھر انکی خدمت میں رہتا !اور اگر کوئی شخص خدا واہل بیت اطہار کی معرفت کے بعد انکی خدمت و نصرت کی راہ میں مر جاۓ تو گویا وہ امام زمانہ کےرکاب مین شھید ہوا ہے چنانچہ اصول کافی میں جناب شیخ کلینی نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے :جب عبد الحمید واسطی نامی صحابی آپ سے پوچھتا ہے ،“قُلْتُ لَهُ أَصْلَحَكَ اللَّهُ لَقَدْ تَرَكْنَا أَسْوَاقَنَا انْتِظَاراً لِهَذَا الْأَمْرِ حَتَّی لَيُوشِكُ الرَّجُلُ مِنَّا أَنْ يَسْأَلَ فِی يَدِه........... قُلْتُ فَإِنْ مِتُّ قَبْلَ أَنْ أُدْرِكَ الْقَائِمَ ع قَالَ إِنَّ الْقَائِلَ مِنْكُمْ إِذَا قَالَ إِنْ أَدْرَكْتُ قَائِمَ آلِ مُحَمَّدٍ نَصَرْتُهُ كَالْمُقَارِعِ مَعَهُ بِسَيْفِهِ وَ الشَّهَادَةُ مَعَهُ شَهَادَتَا (۵)ِ . اے فرزند رسول .....اگر ہم انکے ظہور سے پہلے مر جائیں تو ہمارا کیا حال ہو گا ؟ فرمایا تم میں سے جو شخص جسکا یہ عقیدہ ہو کہ جب امام قائم ظہور کریںگۓ تو میں انکی نصرت کروں گا ،اگر وہ اس عقیدے کے ساتھ انکے قیام سے پہلے مر جاۓ تو گویا اس نے مسلح ہو کر انکے حضور میں جھاد کیا ہے، اور انکے رکاب میں شھید ہوا ہے-

اور معصومین نے ہمیں انکے امر (دین اور علوم ال محمد )کیاحیا کرنے کا حکم دیا ہے اور فرماتے ہیں :“ َإِنَّ تِلْكَ الْمَجَالِسَ أُحِبُّهَا فَأَحْيُوا أَمْرَنَا يَا فُضَيْلُ فَرَحِمَ اللَّهُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَنَا (۶) ہمارے امر کی احیا کرو ، خدا رحمت کر ۓ اس شخص پر جو ہمارے امر کی احیا کرۓ-

پس ان روایات سوے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عصر غیبت میں منتظرین کی ایک اہم ذمداری علوم ومعارف اہل بیت کو فروغ دینا ہے کہ جو خود حقیقت میں دین خدا کی نصرت اور احیا ہے جس پر ہم سب مامور ہیں

۴: فقیہ اہل بیت کی اطاعت اور پیروی :

امام زمانہ کی غیبت سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ پروردگار عالم نے اس امت کو اپنے آپ پر چھوڑ دیا ہے اور انکی ہدایت ورہبری کا کچھ انتظام نہ کیا ہو ،یہ اسلئے کہ اگر چہ حکمت الھی کی بنا پر حجت خدا لوگوں کے عادی زندگی سے مخفی ہیں ،لیکن آپکی نشانیاں اور آثار اہل بصیرت پر مخفی نہیں ہے (بنفسی انت من مغیب ٍِ لم یخل منّا ، بنفسی انت من نازح ِ ما نزح عنّا )(۷) “ قربان ہوجاوں آپ پر پردہ غیبت میں ہیں لیکن ہمارے درمیاں ہے ،فدا ہو جاوں آپ پر ہمارے آنکھون سے مخفی ہیں لیکن ہم سے جدا نہیں ہے ”

اسیلئے معصوم فرماتے ہیں :وان غاب عن الناس شخصه فی حال هدنة لم یغب عنهم مثبوت علمه (۸) ”اگر چہ غیبت کے دوران انکی شخصیت لوگوں کے نظروں سے مخفی ہونگے لیکن انکے علمی آثار اہل بصیرت پر عیان ہوں گی یعنی اسکا مطلب یہ ہے کہ خود لوگوں کے حالات سے آگاہ ہونگے اور جو علوم علماء اور فقھاء کے نزدیک احادیث اور سیرت کی صورت میں موجود ہیں اسکے آثار بھی لوگوں کے سامنے ہیں -لوگ اگر چہ انکے نورانی چہرے کی زیارت سے محروم ہیں اور ڈائرکٹ انکی اطاعت نہیں کر سکتے لیکن انکے نائب عام ولی فقیہ اور علماء کی اطاعت کے ذریعے اپنے امام کی اطاعت کر تے ہیں ،کہ جنکی اطاعت کا خود معصومین علیہم السلام نے حکم دیا ہے “ “فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنَ الْفُقَهَاءِ صَائِناً لِنَفْسِهِ حَافِظاً لِدِینِهِ مُخَالِفاً عَلَی هَوَاهُ مُطِیعاً لِأَمْرِ مَوْلَاهُ فَلِلْعَوَامِّ أَنْ يُقَلِّدُواه (۹) اور فقہامیں سے وہ فقہہ جو اپنے دین کا پابند ہو، نفس پر کنڑول رکھتا ہو ، نفسانی خواہشات کے تابع نہ ہو، اور اپنے مولا کے فرمان بردار ہو تو انکی اطاعت اور پیروی(تقلید )سب عوام پر واجب ہے یا خود امام زمانہ علیہ الصلاۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں -وَ أَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِیهَا إِلَی رُوَاةِ حَدِیثِنَا فَإِنَّهُمْ حُجَّتِی عَلَيْكُمْ وَ أَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْهِم‏ (۱۰) اور درپیش مسائل میں ہمارے احادیث کے جاننے والے (فقہاء) کی طرف مراجعت کریں ،جس طرح میں ان پر حجت ہوں اسی طرح وہ تمھارے اوپر میری جانب سے حجت ہیں یعنی اگر حجت خدا غیبت میں ہیں تو لوگوں بغیر حجت کے رہا نہیں کیا گیا ہے ،بلکہ فقہاء ان پر حجت ہیں انکی پیروی خدا اورسول کی پیروی ہے

فَإِنِّی قَدْ جَعَلْتُهُ عَلَيْكُمْ حَاكِماً فَإِذَا حَكَمَ بِحُكْمِنَا فَلَمْ يَقْبَلْهُ مِنْهُ فَإِنَّمَا اسْتَخَفَّ بِحُكْمِ اللَّهِ وَ عَلَيْنَا رَدَّ وَ الرَّادُّ عَلَيْنَا الرَّادُّ عَلَی اللَّهِ وَ هُوَ عَلَی حَدِّ الشِّرْكِ بِاللَّه (۱۱) ”اور ہم نے انھین تمھارے اُپر حاکم بنایا ہے ،پس وہ(فقیہ )جو حکم دیتا ہے وہ ہمارے حکم سے دیتا ہے جو انسے قبول نہ کرۓ تو گویا اسنے حکم خدا کی بے اعتنائی کہ ہے ،اور ہمیں رد کیا ہے اور جو ہمیں رد کرے اسنے خدا کو رد کیا ہے جو درحقیقت میں خدا سے شرک کے حد میں ہے یعنی انکی نافرمانی ہمارے نافرمانی ہے اورہماری نافرمانی خدا کی نافرمانی اور خدا کی نافرمانی شرک ہے اور اھل بیت نے اپنے مانے والے شیعون کو ابلیس اور اسکے کارندوں کر شر سے بچا کر رکھنا اور انکے ععقیدتی و ایمانی مرزون وحدودن کی نگہبانی کو علماء ،فقہاء کی سب سے بڑی ذمداری بتائی ہے اور فرمایا ہے :علماء شیعتنا مرابطون فی الثغر الذی یلی ابلیس و عفاریته یمنعونهم عن الخروج علی ضعفاء شیعتنا و عن أن یتسلط علیهم ابلیس و شیعته النواصب ألا فمن انتصب لذلک من شیعتنا کان أفضل ممن جاهد الروم و الترک و الخزر ألف ألف مرة لأنه یدفع عن أدیان محبینا و ذلک یدفع عن أبدانهم (۱۲) ”ہمارے شیعون کے علماء ان حدودن کے محافظ اور نگہبان ہیں کہ جن حدودن سے گزر کر شیطان اور اسکے کارندے اور پیروان داخل ہوتے ہیں اوریہ علماء انے ہمارے کمزور شیعون شیطان کے غلبہ آنے اور انھوں بے ایمانی کی طرف سوق دیینے سے بچاتے ہیں ،آگاہ ہو جو جو شخص ہمارے شیعون میں سے اس ذمداری کو ادا کرے اسکی فضیلت اسلام کے تمام دشمنون سے جنگ کرنے والے مجاہدین سے ہزار ہزار بار ذیادہ ہے چونکہ علماء ہمارے مانے والے محبین کے دین اور عقیدے کی دفاع اور محافظت کرتے ہیں جبکہ مجاہد انکے بدن اور جسم کی دفاع کرتے ہیں” اورقیامت کے دن پروردگار عالم کی طرفسے ایک منادی ندا دے گا کہاں ہے ہیں ایتام آل محمد کے کفالت کرنے والوے جو انکے غیبت کے دوران انکے کفالت کرتے تھے (يُنَادِی مُنَادِی رَبِّنَا عَزَّ وَ جَلَّ أَيُّهَا الْكَافِلُونَ لِأَيْتَامِ آلِ مُحَمَّدٍ ص النَّاعِشُونَ لَهُمْ عِنْدَ انْقِطَاعِهِمْ عَنْ آبَائِهِمُ الَّذِینَ هُمْ أَئِمَّتُهُم (۱۳)

پس ائمہ اطہار کے کے ان نورانی کلمات سے معلوم ہوتا ہے کہ عصر غیبت میں فقہا ء علماء اورخصوصاً ولی امر مسلمین کے انے نزدیک کیا حیثیت ہے اور انکے کہا نہ مانا انکے حق میں جفا اور امام کے نزدیک انکے مقام کا خیال نہ رکھنا انسان کو کہاں تک پہونچا دیتی ہے اورکس موقعیت میں قرار دے دیتا ہے اگر چہ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑھتا ہےکہ ہمارے معاشرے میں ہم میں سے بعض خوستہ یا ناخواستہ دشمن کے غلط پڑوپکنڈوں کی زد میں آکر امام زمانہ کے مطیع نمائندوں کے خلاف ناحق زبان کھولنے و گستاخی کرنے کی جرئت کرتے ہیں جبکہ شیطان اور پیروان شیطان اپنے تمام تر طاقتوں کے ساتھ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان غلط پڑوپکنڈون اور افواھون کے ذریعے مجھ جیسے کمزور مؤمنین کو علماء سے فقہاء سے دور کیا جاۓ تاکہ انھیں دین اور ایمان کے دائرے سے نکالنا آسان ہو جاۓ ، اور ہم خود بھی جنتے ہیں کہ جو لوگ علماء اور ولایت فقیہ سے کٹ جاتے ہیں حقیقت میں وہ دین اور صراط مستقیم سے کٹ جانتے ہیں گمراہ ہے جاتے ہیں-نعوذ باﷲ من ذلک - خدا ہمیں بچا کے رکھے -

پس ان روایات سےمعلوم ہوتا ہے عصر غیبت میں منتظریں ایک اور اہم ذمداری علماء ،فقہاء کی اطاعت اورفرمان برداری اور خصوصیت کے ساتھ ولی امر مسلمین کے فرمان پر لببیک کہنا اور انکے نقش قدم پر چلنا ہے جو کہ حقیقت میں خط ولایت کے ساتھ متمسک رہنا اور صراط مستقیم پر چلنا ہے - خدایا ہمیں ہر دور میں اپنے حجت کو تشخیص دینے اور انکی اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرما - آمین !ثم آمین!

۵: برادان ایمانی کے ساتھ ہمدردی اور معاونت -

ائمہ معصومین کے ارشادات کے مطابق ہر دور کے امام کو اپنے مانے والے مؤمنین پر ایک مہربان اور فداکار باپ کا حیثیت حاصل ہے ، اور تمام مؤمین انکے فرزند کا مقام رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے امام زمانہ عجل اﷲ فرجہ کے دوران غیبت میں مؤمنین کو ایتام آل محمد سے پکارا گیا ہے ،(يُنَادِی مُنَادِی رَبِّنَا عَزَّ وَ جَلَّ أَيُّهَا الْكَافِلُونَ لِأَيْتَامِ آلِ مُحَمَّدٍ ص النَّاعِشُونَ لَهُمْ عِنْدَ انْقِطَاعِهِمْ عَنْ آبَائِهِمُ الَّذِینَ هُمْ أَئِمَّتُهُم (۱۴) اور کسی مؤمین بھائی کے ساتھ احسان وہمدردی ، اسکے ساتھ تعاون کرنے کو امام زمانہ کے ساتھ تعاون کرنے اور انکے حق میں ہمدردی سے پیش آنے اسی طرح کسی مؤمن بھائی کے حق کشی ، اسکے ساتھ بے دردی وبے اعتانی سے پیش آنے کو امام زمانہ پر ظلم وجفا اور انکے ساتھ بے اعتنائی سے پیش آنے کا برابر شمار کیا گیا ہے لھذا منتظرین کی ایک اور بہت ہی اہم ذمداری عصر غیبت میں ہر ممکنہ راستون سے برادان ایمانی کے معاشتی ،سماجی ،اجتماعی ا،اقتصادی ، معنوی اور دیگر مختلف قسم کے مشکلات اور گرفتاریون کو حل کرنے اور انکے ضروریات کو پورا کرنے کی جد جہد کرنا ہے -

چنانچہ اسی اجتماعی ذمداری کی اہمیت اور اس پر عمل کرنے والوں کی خدا و رسول اور انکے حقیقی جانشین کے نزدیک قدر ومنزلت

کو بیان کرتے ہوۓ جناب شیخ صدوق نے سورہ عصر کے تفسیر میں امام صادق سے نقل کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں :( والعصر انّ الانسان لفی خسر ) میں عصر سے مراد قائم کے ظھور کا زمانہ ہے اور( انّ الانسان لفی خسر ) سے مراد ہمارے دشمن ہیں اور( الاّ الذین آمنوا ) سے مراد وہ مؤمنین ہیں جنہون نے ہماری آیات کے زریعے ایمان لائیں ہونگے - اور( وعملوا الصالحات ) یعنی برادران دینی کے ساتھ ہمدردی اورتعاون کرتے ہیں -( وتواصوا بالحق ) یعنی امامت اور( وتواصوا بالصبر ) یعنی زمانہ فترت یعنی وہی غیبت کا زمانہ ہے یعنی اس سورہ مبارکہ میں نجات یافتہ مؤمنین سے مراد وہ مؤمنین ہیں جنھون نے دوران غیبت میں اپنے مالی ،معنوی اسطاعت کے زریعے پسماندہ ،بے کس اور ناتوان مؤمنین کےہم دم اور فریاد رس رہے ہو

اسی طرح کسی دوسرے حدیث میں امام صادق اور امام کاظم دونوں سے روایت ہے فرماتے ہیں : ُمَنْ لَمْ يَقْدِرْ عَلَی زِيَارَتِنَا فَلْيَزُرْ صَالِحَ إِخْوَانِهِ يُكْتَبْ لَهُ ثَوَابُ زِيَارَتِنَا وَ مَنْ لَمْ يَقْدِرْ أَنْ يَصِلَنَا فَلْيَصِلْ صَالِحَ إِخْوَانِهِ يُكْتَبْ لَهُ ثَوَابُ صِلَتِنا (۱۵) “جو شخص ہم اہل بیت سے تعاون کرنے یا صلہ کرنے سے معذور ہوں اسے چاہئے ہمارے چاہنے والوں کے ساتھ نیکی اور تعاون کرئے تو اسے ہمارے ساتھ تعاون کرنے اور نیکی کرنے کا ثواب عطا کرے گا،اسی طرح اگر ہماری زیارت سے محروم ہیں تو ہمارے دوستوں اور صالح بندوں کی زیارت کرۓ تو اسے ہماری زیارت کا ثواب دیا جاۓ گا اسی طرح اما م موسی کاظم علیہ السلا م سے روایت ہے فرماتے ہیں :مَنْ أَتَاهُ أَخُوهُ الْمُؤْمِنُ فِی حَاجَةٍ فَإِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَ تَعَالَی سَاقَهَا إِلَيْهِ فَإِنْ قَبِلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَصَلَهُ بِوَلَايَتِنَا وَ هُوَ مَوْصُولٌ بِوَلَايَةِ اللَّهِ وَ إِنْ رَدَّهُ عَنْ حَاجَتِهِ وَ هُوَ يَقْدِرُ عَلَی قَضَائِهَا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِ شُجَاعاً مِنْ نَارٍ يَنْهَشُهُ فِی قَبْرِهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَغْفُوراً لَهُ أَوْ مُعَذَّباً فَإِنْ عَذَرَهُ الطَّالِبُ كَانَ أَسْوَأَ حَالا (۱۶) “کسی کے پاس اسکا مؤمن بھائی کوئی نہ کوئی حاجت لے کر آۓ تو اسے یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ خدا کی طرف سے رحمت ہے جو اس پر نازل ہوئی ہے پس اس حالت میں اگر اسکی حاجت پوری کر لی تو اسے ہماری ولایت کے ساتھ متصل کیا ہے اوروہ خدا کے ولایت تک پہنچ گیا (چونکہ ہماری ولایت خدا کے ولایت ساتھ متصل ہے )لیکن اسے رد کر لے جبکہ وہ اس شخص کی حاجت پوری کرنے کی توانائی رکھتا ہو تو پروردگار عالم اسکے قبرمیں ایک آگ کے بنائے سانپ اس پر مسلط کرۓ گا جوقیامت تک اسے ڈھستا رہے گا چاہے اسے خدا معاف کرے یا نہ کرۓ اور قیامت کے دن صاحب حاجت اسکا عذر قبول نہ کرے تو اسکی حالت پہلے سے بھی بتر ہو جاۓ گئی-

اسی متعدد روایات میں کسی مومن بھائی کی حرمت کا خیال نہ رکھنا اسکے ساتھ نیک برتاؤ سے پیش نہ آنا اور اسکے ساتھ تعاون نہ کرنا ائمہ علیہم السلام کے ساتھ تعاون نہ کرنے اور ان مقدس ذوات کی بے حرمتی کرنے کے برابر ہے چنانچہ ابو ہارو نے چھٹے امام سے نقل کیا ہے آپ فرماتے ہیں :قَالَ قَالَ لِنَفَرٍ عِنْدَهُ وَ أَنَا حَاضِرٌ مَا لَكُمْ تَسْتَخِفُّونَ بِنَا قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ خُرَاسَانَ فَقَالَ مَعَاذٌ لِوَجْهِ اللَّهِ أَنْ نَسْتَخِفَّ بِكَ أَوْ بِشَيْ‏ءٍ مِنْ أَمْرِكَ فَقَالَ بَلَی إِنَّكَ أَحَدُ مَنِ اسْتَخَفَّ بِی فَقَالَ مَعَاذٌ لِوَجْهِ اللَّهِ أَنْ أَسْتَخِفَّ بِكَ فَقَالَ لَهُ وَيْحَكَ أَ وَ لَمْ تَسْمَعْ فُلَاناً وَ نَحْنُ بِقُرْبِ الْجُحْفَةِ وَ هُوَ يَقُولُ لَكَ احْمِلْنِی قَدْرَ مِیلٍ فَقَدْ وَ اللَّهِ أَعْيَيْتُ وَ اللَّهِ مَا رَفَعْتَ بِهِ رَأْساً وَ لَقَدِ اسْتَخْفَفْتَ بِهِ وَ مَنِ اسْتَخَفَّ بِمُؤْمِنٍ فِینَا اسْتَخَفَّ وَ ضَيَّعَ حُرْمَةَ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ (۱۷) ” ایک دفعہ امام صادق نے کچھ لوگ جوآپ کے پاس بیٹھے ہوۓ تھے او رمین بھی حاضر تھا ،ان سےکہا تمھیں کیا ہو گیا ہے ہماری حرمت کا خیال نہیں رکھتے ہو ،تو اہل خرسان کا ایک شخص کھڑا ہوا اور کہا خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ ہم آپکو سبک شمار کرے یا آپکے فرمان میں کسی چیز کا بے اعتنائی کرے ، امام نے فرمایا ہاں انھیں میں سے ایک تم بھی ہے جو ہمارے لاج نہیں رکھتے ،اس شخص نے دوبارر ہ کہا میں خدا سے پناہ مانگتا ہوں کہ آپکی لاج نہ رکھوں ،فرمایا چپ ہو جاؤ کم بخت کیا تم نے اس شخص کی آواز نہیں سنی تھی اس وقت جب ہم جعفہ کے نزدیک تھے اور وہ تم سے کہ رہا تھا کہ مجھ صرف ایک میل تک اپنے سواری پر بٹھا کر لے چلو خدا کہ قسم میں بہت ہی تھکا ہوں ،خدا کی قسم تم نے سر اُٹھا کر بھی اسکی طرف نہیں اس طریقے سے تم نے اسکی بے اعتنای کی ہے جو شخص کسی مومن کی استخفاف کرے اسنے ہمارے بے اعتنائی کہ ہے ،اور خدا کی حرمت ضائع کر دی ہے

اسی طرح کسی دوسرے حدیث میں جابر جعفی امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں :و نحن جماعة بعد ما قضینا نسکنا، فودعناه و قلنا له أوصنا یا ابن رسول الله. فقال لیعن قویکم ضعیفکم، و لیعطف غنیکم علی فقیرکم، و لینصح الرجل أخاه کنصیحته لنفسه.... ، و اذا کنتم کما أوصیناکم، لم تعدوا الی غیره، فمات منکم میت قبل أن یخرج قائمنا کان شهیدا، و من أدرک منکم قائمنا فقتل معه کان له أجر شهیدین، و من قتل بین یدیه عدوا لنا کان له أجر عشرین شهیدا (۱۸) . “کہ ہم نے مناسک حج اکٹھے بجھا لا نے کے بعد جب امام علیہ السلا م سے الگ ہونے کو تھے آپ سے عرض کیا اے فرزند رسول ہمارے لیے کوئی نصیحت فرمائیں تو آپ نے فرمایا تم میں سے جو قوی ہیں قدرت ومقام رکھتا ہے اسکی ذمداری ہے کمزور لوگوں کی مدد کرے اور جو مالدار ہیں فقیرون اور بے کسون پر ترس کریں انکی نصرت کریں ،اور مومن بھائی کے ساتھ اس طرح خیر خواہی سے پیش آئیں جس طرح اپنے نفس کے ساتھ خیر خواہ ہیں.....اور اگر تم نے ہماری نصیحت پر عمل کیا تو غیروں میں سے شمار نہیں ہونگے- اب اس حالت میں تم میں سے جو شخص قائم آل محمدکے قیام کرنے سےپہلے مرے جاۓ تووہ شہید کی موت مرا ہے ،اور جو اپنی زندگی میں انھیں درک کرلے اور انکے ساتھ جھاد کرۓ تو اسے دو شہید کا ثواب عطا کرے گا ،اور جو شخص انکے ساتھ ہوتے ہوے ہمارے کسی دشمن کو قتل کرلیں تو اسے بیست ۲۰ شہید کا اجر دیا جاۓگا-

پس ان روایات سے بخوبی یہ واضح ہوتا ہے کہ منتظرین کی اپنے مومن بھائی کی نسبت کیا ذمداری ہے اور اس اجتماعی ذمداری کی کیا اہمیت ہے کہ جس کا خیال رکھنا ہم سب کا شرعی اور اخلا قی فریضہ ہے -

۶: خود سازی اور دیگر سازی -

منتظرین کی اور ایک اور اہم ذمداری خودسازی و اپنے جسم وروح کی تربیت کے ساتھ ساتھ دیگر سازی اور ہم نوع کی تربیت بھی ہے ،خود سازی اور دیگر سازی ایک اہم دینی وظیفہ ہونے کے ساتھ بزرگ ترین اور عالی ترین انسانی خدمات میں سے بھی شمار ہوتا ہے

اور اسلامی تعلیمات میں بھی حضرت ولی عصر اور انکے جان بہ کف آصحاب تاریخ انسانت کے پرہیز گار متقی اور صالح ترین افراد ہونگے

( وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فىِ الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِىَ الصَّلِحُون ) (۱۹) ترجمہ بعد میں لکھے

اسی طرح احادیث معصومین میں بھی امام عصر کے آصحاب وہ لوگ ہونگے جنھین خدا ورسول اور ائمہ معصومین کی صحیح معرفت ہوگئی ، اخلاق اسلامی سے متخلق نیک کردار کے مالک وعملی میدان میں ثابت قدم و پائیدار ؤدستورات دینی کے مکمل پابند اور فرامین معصومین کے سامنے سر تسلم خم ہونگے

چنانچہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام نھج بلاغہ میں انے توصیف میں فرماتے ہیں :وَ ذَلِكَ زَمَانٌ لَا يَنْجُو فِیهِ إِلَّا كُلُّ مُؤْمِنٍ نُوَمَةٍ إِنْ شَهِدَ لَمْ يُعْرَفْ وَ إِنْ غَابَ لَمْ يُفْتَقَدْ أُولَئِكَ مَصَابِیحُ الْهُدَی وَ أَعْلَامُ السُّرَی لَيْسُوا بِالْمَسَايِیحِ وَ لَا الْمَذَايِیعِ الْبُذُرِ أُولَئِكَ يَفْتَحُ اللَّهُ لَهُمْ أَبْوَابَ رَحْمَتِهِ وَ يَكْشِفُ عَنْهُمْ ضَرَّاءَ نِقْمَتِه (۲۰) “اخری زمانہ وہ زمانہ ایسا ہے گا جس میں صرف وہ مؤمن نجات پاسکے گا کہ جو گمنام اور بے شر ہو گا مجمع اسے نہ پہچانے اور غائب ہو جاۓ تو کوئی تلاش نہ کرۓ یہی لوگ ہدایت کے چراغ اور راتوں کے مسافروں کے لیۓ نشان منزل ہوں گۓ نہ ادھر ادُھر لگاتے پھرین گۓ اور نہ لوگوں کے عیوب کی اشاعت کریںگئے ان کے لئے اﷲ رحمت کے دروازے کھول دے گا اور ان سے عذاب کی سختیوں کو دور کردے گا

اسی طرح صادق آل محمد سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں : “جو شخص چاہتا ہے کہ حضرت قائم کے اصحاب میں سے ہوں اسے چاہئے انتظار کےنے کے ساتھ ساتھ پرہیزگاری اور نیک اخلاق کو پناۓ ،پھر اگر وہ اس حالت میں انکے قیام سے پہلے مر جاۓ اور بعد میں ہمارا قائم قیام کرۓ تو اسے ایسا اجر دیا جاۓگا جیسے اس نے حضرت کو درک کیا ہو.(۲۱)

اور خود معصومیں کے فرمان کے مطابق مبغض ترین فرد وہ شخص ہے جو مؤمن اور امام زمانہ کے منتظر ہونے دعوا کرے لیکن قول وفعل میں انے دیے ہوۓ دستورات اور دینی قوانین کے مخالفت سمت قدم اٹھاۓ

چنانچہ اسی نقطے کی طرف اشارۃکرتے ہوۓ امام ذین العابدین فرماتے ہیں :لَا حَسَبَ لِقُرَشِيٍّ وَ لَا لِعَرَبِيٍّ إِلَّا بِتَوَاضُعٍ وَ لَا كَرَمَ إِلَّا بِتَقْوَی وَ لَا عَمَلَ إِلَّا بِالنِّيَّةِ وَ لَا عِبَادَةَ إِلَّا بِالتَّفَقُّهِ أَلَا وَ إِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَی اللَّهِ مَنْ يَقْتَدِی بِسُنَّةِ إِمَامٍ وَ لَا يَقْتَدِی بِأَعْمَالِهِ (۲۲) ” کسی کو عربی اور قریشی ہونے کہ بنا پر دوسروں پر کسی قسم کی فوقیت اور برتری حاصل نہیں ہے سواۓ تواضع کے اورکسی کو کوئی کرامت حاصل نہیں ہے الا یہ کہ تقوای اختیار کرۓ اور کوئی عمل نہیں ہے سواۓ نیت کے اور کوئی عبادت نہیں ہے سواۓ تفقہ کے (یعنی عبادت درست معرفت کے ساتھ ہے ) پس ہو شار رہو!پروردگار عالم کے نزدیک مبغوض ترین شخص وہ ہے جو ہماری ملت اور مذہب پر ہو لیکن عمل میں ہماری پیروی واقتدا ء نہ کرۓ

اسی طرح امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :إِنَّا لَا نَعُدُّ الرَّجُلَ مُؤْمِناً حَتَّی يَكُونَ لِجَمِیعِ أَمْرِنَا مُتَّبِعاً مُرِیداً أَلَا وَ إِنَّ مِنِ اتِّبَاعِ أَمْرِنَا وَ إِرَادَتِهِ الْوَرَعَ فَتَزَيَّنُوا بِهِ يَرْحَمْكُمُ اللَّهُ وَ كَبِّدُوا أَعْدَاءَنَا بِهِ يَنْعَشْكُمُ اللَّهُ (۲۳) ”ہم کسی کو مومن نہیں جانتے جب تک وہ ہماری مکمل پیروی نہ کرۓ اور یہ جان لو ہماری پیروی پرہیز کاری اور تقوی اختیار کرنے میں ہے ،پس اپنے آپکو ذھد و تقوی کے ذریعے زینت دو تاکہ خدا تمھیں غریق رحمت کرۓ ،اور اپنے تقوی کے ذریعے ہمارے دشمنوں کو سختی وتنگی میں ڈال دو تاکہ خدا تمھیں عزت کی زندگی عطا کرے-

پس انروایات اور دوسرے متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ہم نے ان مقدس ہستیوں کو اپنے مولا ومقتدا قبول کیا ہے تو وہ ذوات بھی ہم سےیہ توقع رکھنے کا حق رکھتے ہیں کہ ہم عمل وکردار میں انکے نقش قدم پر چلیں اسی لیے معصمین فرماتے ہیں :کہ تم ہمارے لئے زینت کا باعث بن جاو ننگ وعار کے باعث مت بنو(۲۴)

۷: شبھات اور بدعتوں کا مقابلہ-

زمان غیبت میں منتظرین اور خﷲوﷲا علماءوبیدار طبقے کہ ایک اہم فرائض معاشرۓ میں خود غرض یا سادہلوح دوستوںکۓ ہاتھوں مختلف قسم کےبدعتون اور ان شبھات کا مقابلہ کرنا ہۓ جو امام زمانہ کی غیبت کی وجہ سے انے بارے میں وجود میں ائیں ہیں چنانچہ امام صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں :إِذَا رَأَيْتُمْ أَهْلَ الرَّيْبِ وَ الْبِدَعِ مِنْ بَعْدِی فَأَظْهِرُوا الْبَرَاءَةَ مِنْهُمْ وَ أَكْثِرُوا مِنْ سَبِّهِمْ وَ الْقَوْلَ فِیهِمْ وَ الْوَقِیعَةَ وَ بَاهِتُوهُمْ كَيْلَا يَطْمَعُوا فِی الْفَسَادِ فِی الْإِسْلَامِ وَ يَحْذَرَهُمُ النَّاسُ وَ لَا يَتَعَلَّمُوا مِنْ بِدَعِهِمْ يَكْتُبِ اللَّهُ لَكُمْ بِذَلِكَ الْحَسَنَاتِ وَ يَرْفَعْ لَكُمْ بِهِ الدَّرَجَاتِ فِی الْآخِرَةِ (۲۵) ”میرے بعد اہل تریدد (یعنی ائمہ کے ولایت و امامت کے متعلق شک وتردید کا اظہار کرۓ )اور اہل بدعت (یعنی دین میں نیئ چیز ایجاد کرنے والے جسکا دین سے کوئی ربط نہ ہو)کو دیکھیں تو تم لوگ ان سے اپنی برائت و بیزاری کا اظہار کےیں ،اور اس طرح انکے خلاف پڑوپکنڈہ کریںکہ آیند ہ اسلام مین اس طرح کی فساد پھلانے کی جرئت نہ کرۓ اور لوگ خود بخود ان سے دور ہو جائیں اور انکی بدعتوں کو نہ اپنائیں اگر اسیا کیا تو پروردگار عالم اسکے مقابلے میں تمھیں حسنہ دیا جاۓ گا اور تمھاے درجات کو بلند کر ۓ گا

اسی طرح بعض شبھات دشمنون نے خود امام زمانہ کے بارے میں لوگوں کے انتظار پر عقیدے کو کمزور کرنے اور اس میں خلل پیدا کرنے کے لئے ایجاد کیا ہے جیسا کہ آج کل نٹ پر ۱۰ ہزارسے زیادہ شبھات انکے متعلق دیا گیا ہے تو علماء کی ذمداری ہے کہ ان شبھات کا مقابلہ کریں اور بطوراحسن جواب دیے کر لوگوں کو امام زمانہ کے مقدس وجود کی طرف جذب ہونے کا زمینہ فراہم کرے لہذا اس اہم زمداری اور عصر غیبت میں رونا ہونے والے شبھات کی شرف اشارہ کرتے ہوۓ چھٹے امام فرماتے ہیں :.....

فایاکم و الشک و الارتیاب و انفوا عن أنفسکم الشکوک و قد حذرتکم فاحذروا أسأل الله توفیقکم و ارشادکم (۲۶) خبردار شک وریب سے پرہیز کرنا ،(یعنی انکے غیبت اور ظہور کے بارے میں) اپنے دلوں سے شکوک وشبھات باہر نکال دو میں نے تم لوگوں کو برحزر کردیا ہے لھذا تم لوگ اس قسم کے شک وتردید سے باز رہو (اسیلے اس میں شک صراط مستقیم میں شک ہے ) میں اﷲ تعالی سے تمھارے لئے توفیقات اور ہدایت کی دعا کروں گا-اسی طرح رسول اکرم فرماتے ہیں :.........یا جابر ان هذا الأمر أمر من أمر الله و سر من سر الله مطوی عن عباد الله فایاک و الشک فیه فان الشک فی أمر الله عز و جل کفر (۲۷) اے جابر انکی غیبت اورظہور میں شک کرنا خدا سے کفر اختیار کرنے کے برابر ہے ہیں -

اورہم سب جانتے ہیں کی آج کا دور ایسا دور ہے جس میں ایک طرف دشمن مختلف شبہات اور غلط پروپکنڈون کے ذریعے لوگوں کو عقیدہ انتظار اور اسکی حقیقت سے دوررکھنے اور انکے دلوں میں شک وتردید پیدا کرنے کے درپے ہیں تو دوسری طرف جعلی اور فرصت طلب افراد امام زمانہ کے مقدس نام پر اومنین کے انکے نسبت صادقانہ عقیدے سے سؤء استفادہ کرنے اور مختلف قسم کے دکانین کھولنے کی کوشش میں لگے ہوۓ ہیں لہذا علماو اور ذمدار افراد کی ذمداری ان دونون جبھوں پر دشمن کے مقابلہ کرنا ہے

۸: بے صبری سے پرہیزکرنا

اس میں کوئی شک نہیں کہ عصر غیبت مشکلات اور مصائب کے ہجوم لانے کا زمانہ ہے اور مومنین سے مختلف قسم کے سختیوں وگرفتاریوں کے ذریعے سے امتحان لیا جاۓ گا تاکہ اس طرح نیک وبد صادق و کاذب اور مومن ومنافق میں تمیز ہو جاۓ اور یہ ایک سنت الھی ہے اس امت یا اس زمان کے لوگوں تک محدود نہیں بلکہ گزشتہ امتوں سے لیا گیا ہے اور آئیند آنے والے نسلوں سے بھی تا قیامت تک مختلف ذریعوں سے امتحان لیا جاۓ گا چناچہ اسی سنت الھی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ پروردگار عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے :( ما کانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنینَ عَلی‏ ما أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّی يَمیزَ الْخَبیثَ مِنَ الطَّيِّبِ ..) ...(۲۸) ” اﷲ تعالی مومنین کو منافقین سے جس حالت میں نا مشخص ہے نہیں رکھا جاۓ گا ،یہاں تک (امتحان کےذریعے )خبیث اور طیب میں تمیز پیدا ہو جاۓ اسی طرح سورہ عنکبوت کے ایت نمبر ۲ میں فرماتا ہے :( أَ حَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَ هُمْ لا يُفْتَنُونَ٭ وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذینَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذینَ صَدَقُوا وَ لَيَعْلَمَنَّ الْکاذِبینَ ) (۲۹) “کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اس بات پر چھوڑ دۓ جائیں گے کہ وہ یہ کہے دیں کہ ہم ایمان لے آۓ ہیں اور انکا امتحان نہیں ہو گا ٭ بشک ہم نے ان سے پہلے والوں کا بھی امتحان لیا ہے اور اﷲ تو بہر حال یہ جاننا چاہتا ہے کہ ان میں کون لوگ سچے ہیں اور کون جھوٹے ہیں ”

اورناطق قرآن علی ابن ابی طالب اسی بارے میں فرماتے ہیں :..... ِأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَاذَكُمْ مِنْ أَنْ يَجُورَ عَلَيْكُمْ وَ لَمْ يُعِذْكُمْ مِنْ أَنْ يَبْتَلِيَكُمْ وَ قَدْ قَالَ جَلَّ مِنْ قَائِلٍ إِنَّ فِی ذلِكَ لَآیاتٍ وَ إِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِین (۳۰) لوگو اﷲ تعالی کسی پر ظلم نہیں کرتا لیکن کبھی یہ ضمانت نہیں دیا ہے کہ تم سے امتحا ن بھی نہیں لیا جاۓ گا ، اور خدا سب سے بڑکر سچا ہے ،یوں فرماتا ہے “ بے شک ان حوادث اور وقعات میں علامتیں اور نشانیان ہیں اور ہم اچھے اور بُرے سب بندوں سے امتحان لیتے ہیں ”-

اور انھیں نشانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہو ۓ اما صادق فرماتے ہیں :مارے قائم کے ظھور سے پہلے مومنین کے لئے خدا کے جانب سے کچھ نشانیاں ہیں ،عرض ہوا با ابن رسول اﷲ وہ نشانیان کیا ہیں ؟ فرمایا وہ نشانیاں اس کلام الھی میں ذکر ہوٓی ہیں( وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ‏ءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوعِ وَ نَقْصٍ مِنَ الْأَمْوالِ وَ الْأَنْفُسِ وَ الثَّمَراتِ وَ بَشِّرِ الصَّابِرینَ ) (۳۱) “اور یقیناً ہم تم سے خوف، بھوک اور اموال ،نفوس اور ثمرات کی کمی سے امتحان لیا جاۓ گا اور اے پیغمبر آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دیدیں ” بے شک تم سے امتحان لیا جاۓ گا یعنی حضرت قائم کے خروج سے پہلے مومنین سے سلاطین جور کے ترس ،منگائی ،گرانی کی وجہ سے بھوک گرسنگی ،تجارت میں ورشکستگی و نگہانی موت اورفصل وکاشت میں نقصان کے ذریعے امتحان لیا جاۓ گا ،پھر فرمایا اے محمد بن مسلم یہ ہے اس آیت کا تاویل جسکی تاویل( وَ ما يَعْلَمُ تَأْویلَهُ إِلاَّ اللَّهُ وَ الرَّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنا وَ ما يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُولُوا الْأَلْباب ) (۳۲) سواۓ خدا اور راسخین فی علم کے کوئی نہیں جانتا

اور امام زمانہ کے طول غیبت کے دوران مختلف قسم کےسختیوں ومصیبتوں پر صبر کرنے والوں کی توصیف میں پیغامبر اکرم فرماتے ہیںَّ:قَالَ ص طُوبَی لِلصَّابِرِینَ فِی غَيْبَتِهِ طُوبَی لِلْمُقِیمِینَ عَلَی مَحَجَّتِهِمْ أُولَئِكَ وَصَفَهُمُ اللَّهُ فِی كِتَابِهِ فَقَالَ الَّذِینَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ...(۳۳) خوش ہیں وہ لوگ جو اس کی غیبت کے زمانہ میں صبر سے کام لیں خوش ہیں وہ لوگ جواسکی محبت پر ثابت قدم رہیں،ان ہی لوگوں کی تعریف میں اﷲ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے ،اور وہ لوگ غیب پر ایمان رکھتے ہیں....-

اور متعدد روایات میں انکی غیبت کی وجہ سے پیش آنے والی مصیبتوں وآذیتوں پر بے صبری کرنے سے منع کیا گیا ہے اور قضاء وقدر کے سامنے تسلم ہونے کا حکمدیا ہے جیسا کہ شیخ کلینی نے اپنی سند امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے حضرت نے فرمایا :

كَذَبَ الْوَقَّاتُونَ وَ هَلَكَ الْمُسْتَعْجِلُونَ وَ نَجَا الْمُسَلِّمُونَ (۳۴) ظہور کے وقت تعین کرنے والے ہلاک ہوں گے لیکن قضاوقدر الھی کے سامنے تسلیم ہونے والے نجات پائین گۓ -

۹: جوانوں کی مخصوص ذمداری :

اسلامی تعلیمات میں جوانی اور جوان طبقے کو خاص اہمیت اور مخصوص مقام حاصل ہے ،انکے ساتھ الفت ،عطوفت کے ساتھ پیش آنے اور ہمیشہ اچھی نگاہوں سے دیکھنے پر زور دیا گیا ہے ،جس طرح رسول اکرم کا فرمان ہے :اوصیکم بالشباب خیراً فانّهم ارقُّ افئدةً انّ اللّه بعثنی بالحق بشیراً ونذیراً فحالفنی الشباب وخالفنی الشیوخ .تمھیں وصیت کرتا ہوں ان جوانوں کے بارے میں جو پاک دل ہوتے ہیں ،جب اﷲ تعالی نے مجھے بشیرو نذیر بنا کر بیجھا تو یہ جوان تھے جنھوں نے میرے ساتھ دیا جبکہ عمر رسیدہ افراد نے میری مخالفت کی

پس کلام رسول پاک سےہمیں یہ درس ملتا ہے کہ جوانو کو بری نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ انے بارے می نیک سوچ رکھنا چاہیے اور تاریخ ایلام اس بات پر زندہ گواہ ہے کہ جب نبی اکرم نے ذوالعشیرہمیں قریش کو توحید اور دین کی طرف پہلی بار دعوت دیا تو جس شخص نے سب سے پہلے آنحضرت کے دعوت پر لبیک کہا وہ علی ابن اب طالب ۱۰ ساہ نوجوان تھے جبکہ بزرگان قریش اخری دم تک آش کے مخالفت کرتے رہیں

جوانی کی قدر وقیمت کے لیے یہی کافی ہے کہ خود امام زمانہ ظہور کریںگے تو اپ جوان ہونگے جیسا کہ امیر مومنین علہ السلام فرماتے ہے-مہدی قریش کے خناندان کا ایکدلیر شجاع اور تیز ہوش جان ہونگے تیس یا چالیس سے کم عمر میں ظہور کریںگے - اسی طرح امام زمانہ کا خاص سفیر نفس زکیہ جنھیں رکن مقام کے درمیان شہید کیا جاۓ گا ایک جوان ہو گا اما صادق اس بارے میں فرماتے ہیں :امام زمانہ کے ظہورکے وقت انکی طرفسے ایک جوان شخص سفیرکے عنوان سے منتخب ہونگے تاکہ امام کے پیغام کو اہل مکہ تک پہنچا ۓ اور انھیں آنحضرت کی حکومت کے پرچم تلے آنے کی دعوت دے لیکن مکہ کے حکمران اسے رکن مقام کے درمیان شھید کریںگے(۳۵) اسی طرح مختلف روایا میں ایا ہے کہ امام عصر کے ۳۱۳ اصحاب میں سے بہت ہی کم افراد کے سب جوان ہونگے -چناچہ امیر مومنین فرماتے ہیں اس بارے مین :أصحاب المهدی شباب لا کهول فیهم الا مثل کحل العین و الملح فی الزاد و أقل الزاد الملح (۳۶) امام مہدی کے اصحاب سارے جوان ہونگے ان میں کوئی بھوڑے نہیں ہو گے سواۓ آنکھ میں سرمہ اور زاد سفر میں نمک کے برابر اور کتنا ہی کم ہو گا زادراہ میں نمک کی مقدار

اور روایات سے معلوم ہوا ہے کہ اما مزمانہ کے غیبی ندا پر سب سے پہلے لبک کہنےوالے اکثر جوان ہی ہونگے چھتے اما م فرماتے ہیں : امام کے ظہور کرنے کے بعد جب انکیآسمانی ندا انے کانوں تک پہنچ جاے گی تو اس حالت میں لبیک کہین گے کہ اپنے اپنے چھتوں پر آرام کررہے ہونگے اور بغیر کسی آمادگی کے حرکت کریںگے اور صبح ہوتے ہیں اپنے امام کی زیارتس شرف یاب ہونگے -(۳۷)

۱۰: وا قعی منتظرین کا مقام ومنزلت اہل بیت کی نگاہ میں -

عصر غیبت میں منتظرین کی اہم ذمداریاں جسے ہم نے قرآنی آیات اور معصومین کے نورانی کلمات کے روشنی میں مختصر انداد میں اپنے محترم قارین کے لیے بیان کیا ہے ،اب اگر کسی شخص نے ان ذمداریوں کو حسب استطاعت بطور احسن انجام دیا تو انشاء اﷲ حقیقی منتظرین میں سے شمار ہو گا اور انھیں کے توصیف میں انکے مقام و منزلت بیان کرتے ہوے پیغمبر اکرم فرماتے ہیں :فی وصیة النبی ص یذکر فیها أن رسول الله ص قال له یا علی و اعلم أن أعجب الناس ایمانا و أعظمهم یقینا قوم یکونون فی آخر الزمان لم یلحقوا النبی و حجبتهم الحجة فآمنوا بسواد علی بیاض (۳۸) یا علی جان لو! ایمان کے لحاظ سے حیرت انگیز ترین لوگ اور یقین کے اعتبار سے عظیم ترین لوگ آخر ی زمان کے وہ لوگ ہونگے جنھوں نےنہ اپنے پیغامبر کو دیکھا ہے اور نہ ہی حجت خدا تک انکی دست رسی ہے لیکن انھوں نے سفید کاغذ پر سیاہی کو دیکھ کر ایمان لاۓ ہیں

کسی اور مقام پر آپ اپنے اصحاب سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں :

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص ذَاتَ يَوْمٍ وَ عِنْدَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ اللَّهُمَّ لَقِّنِی إِخْوَانِی مَرَّتَيْنِ فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ أَ مَا نَحْنُ إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ لَا إِنَّكُمْ أَصْحَابِی وَ إِخْوَانِی قَوْمٌ فِی آخِرِ الزَّمَانِ آمَنُوا وَ لَمْ يَرَوْنِی لَقَدْ عَرَّفَنِیهِمُ اللَّهُ بِأَسْمَائِهِمْ وَ أَسْمَاءِ آبَائِهِمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُخْرِجَهُمْ مِنْ أَصْلَابِ آبَائِهِمْ وَ أَرْحَامِ أُمَّهَاتِهِمْ لَأَحَدُهُمْ أَشَدُّ بَقِيَّةً عَلَی دِینِهِ مِنْ خَرْطِ الْقَتَادِ فِی اللَّيْلَةِ الظَّلْمَاءِ أَوْ كَالْقَابِضِ عَلَی جَمْرِ الْغَضَا أُولَئِكَ مَصَابِیحُ الدُّجَی يُنْجِیهِمُ اللَّهُ مِنْ كُلِّ فِتْنَةٍ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ (۴۰) خدا میرے بھایوں کی زیارت مجھے نصیب کرۓ جب آنحضرت نے دو مرتبہ یہی فرمایا تو جو اصحاب آپکے ساتھ تھے عرض کیا یا رسول اﷲ کیا ہے آپکے بھائی نہیں ہے ؟ فرمایا نہیں تم لوگ میرے اصحاب ہیں اور میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو آخری زمانہ میں ایمان لے آئیں گے جبکہ انھون نے مجھے نہیں دیکھا اﷲ تعالی نے مجھے انکے اور انکے آباو اجداد کے ناموں سے اشنا کرایا ہے قبل از اس کے آباء کے صلب سے اور ماؤں کے رحم سے باہرنکل آۓ ان میں سے ہر ایک کے لیۓ اپنے دین کو بچا نا شب تاریک میں کانٹے پر ہاتھ رکھنے یا جلتی ہوئی اگ کو ہاتھ میں اٹھانے سے بھی زیادہ سخت ہو گا ،وہی لوگ تاریکی میں روشن چراغ ہے پروردگار عالم انھیں ہر قسم کے ظلمانی فتنوں سے نجات دے گا اور حقیقی منتظرین کا مقام بیاں کرتۓ ہوے سیّد الساجدین فرماتے ہیںیا أبا خالد ان أهل زمان غیبته القائلین بامامته و المنتظرین لظهوره أفضل من أهل کل زمان لأن الله تبارک و تعالی أعطاهم من العقول و الأفهام و المعرفة ما صارت به الغیبة عندهم بمنزلة المشاهدة و جعلهم فی ذلک الزمان بمنزلة المجاهدین بین یدی رسول الله ص بالسیف أولئک المخلصون حقا و شیعتنا صدقا و الدعاة الی دین الله عز و جل سرا و جهرا (۴۰) ”اۓ ابو خالد کاہلی عصر غیبت میں امام زمانہ کی امامت کا اقرار کرنے والوں اور انکے ظہور کے انتظار کرنے والوں کا مقام ومنزلت تمام اہل زمان سے بالاتر و افضل تر ہے کیونکہ اﷲ تعالی نے انھیں اتنی معرفت عقل اور فہم عطا کیا ہے کہ جسکے نتیجے میں غیبت انکے لیۓ پھر غیبت نہیں رہی ہے بلکہ عیان ہو گئی ہے ،اور انھیں اس زمانہ میں پیغمبر خدا کے ساتھ تلوار اٹھا کر جھاد کرنے والے مجاھدین کےجیسے قرار دیا ہے ،وہی لوگ ہیں جو ہمارے مخلص اور سچھے شیعہ اور دین خدا کی طرف سریا اشکار

خدا یا ہم سب کو ہمارے امام زمانہ کے حقیقی منتظرین میں سے قرار دیں آمین !ثم آمین

____________________

(۱) وسائل الشیعة ج : ۱۶ ص : ۳۴۶بحارالأنوار ج : ۷۱ ص : ۳۵۸

(۲) تحف العقول :ص ۵۱۳ :اور بحار انوار :ج۷۵ ،ص ۳۸۲ -

(۳) سورہ حج ۴۰ -

(۴) نعمانی :غیبت نعمانی ،ص ۲۴۵ -

(۵) کلیینی روضة کافی ،ص ۸۰ ،ح ۳۷ -

(۶) مجلسی :بحار انوار ،ج ۴۴ ،ص ۲۸۲ -اور قرب الاسناد ص : ۱۸

(۷) دعای ندبہ کا ایک فقرہ -

(۸) صافی گلپائی گانی :منتخب الاثر ،ص ۲۷۲ -

(۹) مجلسی :بحار الانوار،ج۲ ،ص ۸۸ - وسائل الشیعة ج : ۲۷ ص : ۱۳

(۱۰) """" """"ج ۵۳ ،ص ۱۸۱ - الغیبةللطوسی ص : ۲۹۱

(۱۱) کلینی :اصول الکافی ج : ۱ ص :۶۷ -تهذیب‏الأحکام ج : ۶ ص : ۲۱۸

(۱۲)الصراط المستقیم :ج ۳ ،ص۵۵ ، الاحتجاج ج : ۲ ص۳۸۵ : عوالی اللئالی ج ۱ ص ۱۸

(۱۳)۷۳ الصراطالمستقیم ج : ۳ ص۵۵ -

(۱۴) صدوق : اکمال الدین:ج۲ ،ص ۶۵۶ -

(۱۵) طوسی ،تہذیب ج ۶ ،ص۱۰۴ -اور کامل زیارات :ص ۳۱۹ -

(۱۶) کلینی: اصول الکافی ج : ۲ ص :۶ ۱۹

(۱۷) کلینی :روضۃ الکافی،ج۸، ص ۱۰۲ -

(۱۸) امالی طوسی ،ص ۲۳۲ -اور بحار انوار ،۵۲ ،ص ۱۲۲ ،ح ۵ -

(۱۹) انبیاء :۱۰۵ -

(۲۰) نہج البلاغہ ،خ ۱۰۳ ،ص ۲۰۰ ،ترجمہ سید ذیشان حیدر جوادی -

(۲۱) غیبۃ نعمانی :ص ۱۰۶

(۲۲) کلینی :روضۃ الکافی ،ص ۲۳۴ ،ح۳۱۲ -

(۲۳) کلینی :اصول کاقی ،ج۲ ،ص ۷۸ ،ح۱۳ -

(۲۴) کلینی: کافی ،ج ۲ ، ص ۷۷ ،ح۹ -

(۲۵) کلینی : اصول کافی،ج۲ ،ص ۳۷۵ ،ح ۴ -

(۲۶) الغیبةللنعمانی ص ۱۵۰ ،ح ۸ -

(۲۷) صدوق اکمال الدین : ج ۱ ، ص ۲۸۷ -

(۲۸) سورہ آل عمران :۱۷۹ -

(۲۹) سورہ عنکبوت :۲ -۳ -

(۳۰) نہج البلاغہ خطبہ ۱۰۳ اردو ترجمہ سید ذیشان حیدر -

(۳۱) بقرہ :۱۵۵ -

(۳۲) آل عمران :۷ -

(۳۳) مجلسی : بحار الانوار،ج۵۲ ،ص ۱۴۳ -

(۳۴) الکافی ج : ۱ ص : ۳۶۸

(۳۵) طوسی الغیبہ ،ص ۴۶۴ -

(۳۶) طوسی الغیبہ ،ص ۴۷۶ اور بحار انوار ج ۵۲ ، ص ۳۳۳ -

(۳۷) نعمانی الغیبہ :ص ۳۱۶ ،باب ۲۰ ح ۱۱-

(۳۸) صدوق :اکمال الدین ،ج ۱ ، ص ۲۸۸ -

(۳۹) مجلسی :بحارالأنوار ،ج ۵۲ ص ۱۲۳ باب ۲۲- بصائر الدرجات :ﷲ ۸۶ -

(۴۰) علام الوری ص : ۴۰۷ اور کمال الدین ج ۱ ص ۳۲۰ -


چوتھی فصل : انتظارکے آثار اورنتائج :

جو فرائض اور ذمداریان اسے پہلے فصل میں منتظرین کے ذکر ہوئیں اگ ان ذمداریون پر ہم سب درست عمل کریں تو ضرور عقیدث انتظار کا ریشہ ہمارے فردی اور اجتماعی زندگی میں سر سبز ہو گا اور آہستہ آہستہ اس عمل اور کوشش کے ماسب نتائج اور اثرات سماج میں زندگی کے مختلف پہلو میں عصر ظہور سے پہلے ہی رونما ہونگے- اب ہم انھیں نتائج میں سے بعض کہ کی طرف مختصر اشارہ کریں گے

۱ : مستقبل کی امید -

انتظار کے مثبت فردی نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ عقیدہ انتظار او ر ہر فرد منتظر کے دل میں مستقبل کے لئے امید پیدا کردیتا ہے ،اور نہی اپنے مستقبل سے امید اس شخص کے فردی اور اجتماعی سطح پر مختلف قسم کے جدوجہد،کوشش اور حرکتوں میں ایک عظیم کردار ادا کرتی ہے - اورشاید انتظار کے اسی فردی پہلو کو مد نظر رکھتے ہوۓ معصومین نے منجی عالم امام عصر کے ظہور کے انتظار پر تاکید اور اسے اپنے وصیت ونصیحتوں کا مرکز قرار دیا ہو

جسیا کہ امرمومنین علیہ السلام انتظار کے بارے میں فرماتے ہیںں کہ انتظار انتظار محتوب خدا ہو اور اسکے نتائج میں سے خدا کے رحمتوں کا اس شخص پر نازل ہوتا ہے -و انتظروا الفرج و لا تیأسوا من روح الله فان أحب الأعمال الی الله عز و جل انتظار الفرج ما دام علیه العبد المؤمن توکلوا علی الله عزوجل (۱) ”فرج ظہور کے انتظار کرو،اور رحمت خدا سے کبھی نا امید مت ہو جاؤ ،بے شک خدا کے نزدیک سب سے بہتر عمل انتظار فرج ہے جب تک بندہ مومن خدا پر اپنا توکل رکھے :

اسی طرح انتظار ہر طرح کے نا امیدی ،افسردگی اور عاجزی سے رہائی کا بہترین ذریعہ ہے کہ جسکےے آج کی (بقول )ترقی یافتہ اقوام دوچار ہیں ،کہا جاتاہے ایک رسرچ کے مطابق دنیا کے ۹۰ لوگ مختلف قسم کے ناامیدی افسردگی و...جیسی نفسیاتی بیماریون سےرنج بھر رہیں -

اور اسیحقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوے امام زین العابدین فرماتے ہیں :انتظار الفرج من أعظم الفرج‏ انتظار (۲) فرج بہت بڑا کام اور بزرگترین رہائی ہے-

۲: فردی اور اجتماعی اصلاح :

منجملہ نتائج انتظارمی سے ایک دوسرا نتیجہ اور اثر جو فردی اور اجتماعی دونوں سطح پر نمایاں ہوتا ہے وہ فردی سطح پر نفس کی اصلا ح اور خود کوناپسد عادات واخلاق سے پاک کرکے اچھے اور نیک عادت واخلاق حسنیہ سے زینت بخشنا ہے -چونکہ ایک واقعی منتظر خدا اور ولی خدا کو ہمیشہ حاصر ناظردیکھتا ہے اور ہمیشہ اس کو شش میں ہوتا ہے کہ وہ اپنے عمل وکردار کے ذریعے انکی تقرب اوررضایت حاصل کرۓ -

اور اجتماعی سطح پر وہ نہ صرف خود صالح ہوتا ہے بکہ معاشرۓ کی اصلاح کے درپے ہوتا ہے اور ہمیشہ مصلح کل کے ظہور کے لئے زمینہ فراہم کرنے کی فکر میں ہوتا ہے ،اور چونکہ اسے یقین ہے کہ آخر کار اس طمین کا مالک وحاکم خدا کے صالح بندے ہونگے اور قدرت پلٹ کر صاحب قدرت کے ہاتھ آے گی تو اصلاح کی راہ میں پیش آنے والی شواریوں سختیوں کےسامنے کبھی دل نہیں ٹوٹا اور نہ ظالمون طاغوتیون کے مقابلہ کرنےمیں خوف وحراس اسکے دل میں بیٹھا دیتا ہے ،اور اسےدل میں ہمیشہ یہ تمنا ،عمل میں یہ اثراور زبان پر یہ دعا ہو گی -

اللَّهُمَّ إِنَّا نَرْغَبُ إِلَيْكَ فِی دَوْلَةٍ كَرِیمَةٍ تُعِزُّ بِهَا الْإِسْلَامَ وَ أَهْلَهُ وَ تُذِلُّ بِهَا النِّفَاقَ وَ أَهْلَهُ وَ تَجْعَلُنَا فِیهَا مِنَ الدُّعَاةِ إِلَی طَاعَتِكَ وَ الْقَادَةِ فِی سَبِیلِكَ وَ تَرْزُقُنَا بِهَا كَرَامَةَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ (۳) پروردگارا ہم تیرے طرف دولت کریمہ کی رغبت رکھتے ہیں جس کے ذریعے اسلام اور اسلام والے عزت پائیں اور نفاق واھل نفاق ذلیل ہو جائیں اور ہم کو اس حکومت حق میں اپنی اطاعت کی طرف بلانے والا قرار دے، اور اپنی راستے کی طرف دعوت دینے والا قرار دے اور ہمیں اس میں دنیا و اخرت دونوں کی کرامت دے-

۳: بقاۓ مذہب تشیع -

کتب اھل البیت کو اپنے ظلم وجور سے بھر پور تاریخ میں زوال وانقراض سے نجات دینے اور بچا کر رکھنے کا سب سے بڑا عامل عقیدہانتظار رہا ہے ،تاریخ اسلام اس بات پر گواہ ہے کی صدر اسلام سے آج تک کو ئی اور اسلامی گروہ یا مکتب مکتب اھل بیت جیسے مظلوم اور مغلوب مقہور واقع نیں ہوا ہے بنی امیہ کے دور سے لے کر آج تک خاندان نبوت سے محبت ان سے مودت رکھنے اور ظالم فاجر حکمرانوں کے سامنے سر نہ جھکنے کی جرم میں ہر طرح کی محرومیت ،بربریت ،جلاوطنی اور ظلم وستم کا سامنا کرنا پڑا اور ہر دور میں ظالم حکمرانوں کے قتل وغارت کا نشانہ بنا رہے اب اس حالت میں اگر امام زمانہ کے ظہور اور انتظار فرج اپنا سحر انگیز اثر نہ دکھایا ہوتا تو کب سے مکتب اھل بیت صفحہ ھستی سے مٹ چکا ہوتا یا کم سے کم اتنی ترقی اور رشد نہ کر لیتے ،بے شک پیروان مکتب اہل بیت نے سب کچھ کھونا تحمل کیا لیکن ایک دن کے لئے ظالم حکمرانوں کے سامنے سر تسلیم خم ہونے اور دست بیعت کو پھلانے مو کبھی گوارا نہ کیا (هیهات من الذلّة )کو کبھی قبول نہیں کیا ،اور یہ سب عقیدہ انتظار کا کرشمہ ہے

بے شک مکتب اہل بیت علیہم السلام کی بقا کے مخفیانہ رازوں میں سے اہم ترین راز یہی روح انتظار اور عقیدہ انتظار ہے جو ہر شیعہ مؤمن کے تن ومن میں زندگی وکامیابی کی امید پھونگتی ہے چونکہ جس قوم اور معاشرے کی ہر فردپر منحی بشریت کے انتظار کی حالت حاکم ہو تو خواہ نہخواہ وہ معاشرہ حرکت میں ہوتی ہے اور ہمیشہ جون وتون اصلاح کی طرف قدم اٹھے رہتی ہیں جو خود دین ومذہب کی بقا کا سب بنتی ہے اور اس حقیقت کا اعتراف بعض معربی دانشورں اور محققین نے بھی کی ہے اور انھوں نے اس عقیدے کو اپنے استکباری سلطہ جمانے کی راہ میں سب سے بڑا مانع شمار کیا ہے جسکا تذکرہ پہلے بھی (ضرورت انتظار کے بحث میں ) ہوا ہے-

اور نظریہ انتظار اور امام زمانہ کے وجود پر عقیدے کی اہمیت پر ورشنی ڈالٹے ہوۓ فروفیسر ہانری کربن (جرمن کے معصر فلاسفر جنہوں نے ایک مدت تک علامہ طباطبائی کے ساتھ مختلف موضوعات پر خطوکتابت کا سلسلہ جاری رکھا پھر آخرمیں شیعہ ہو گے ) فرانس کے مشھور یونیورسیٹی سوربین میں ادیان کے متعلق جو کانفرنس ہواتھا اس میں انھوں نے کہا تھا کہ تمام ادیان اور مذاہب جھانی کے درمیان صرف کتب تشیع ایک ایسا مکتب ہے جو جاویدانگی رکھتا ہے اور اس میں استمرار کی قابلیت ہے لہذا یہ مکتب دوسروں کے لئے بھی قابل پیشکش ہے چونکہ انکا عقیدہ ہے کہ انسان کا خدا کے ساتھ رابطہ کبھی قطع نہیں ہو سکھتا بلکہ انسان کامل جو اس روۓ زمین پر خدا کا نمائندہ ،وواسطہ فیض اور ولی مطلق ہیں خالق ومخلوق کے درمیان واسطہ ہیں اور کبھی زمیں ان سے خالی نہیں ہوتی ہے اوریہ وہی شخص ہیں جسکے آمد کے انتظارمیں سب بیٹھے ہوۓ ہیں(۴) اورتاریخ اسلام میں آج تک اہل بیت اطہار کے مانے والوں نے ظالم اور غاصب حکمرانوں کے خلاف جتنے بھی تحریکین چلائی ہیں تو ان تمام تحریکوں کا ریشہ عقیدہ انتظارمیں ہے جیسا کہ پیڑوشفکی (مورخ وسابق روسی علوم کا ماہر اور ایران شناس )اس بارے میں کہتا ہے :مہدی کے انتظار میں آنکھیں بچھاۓ رکھنا ایران کے تیرویں صدی ہجری کی عوامی تحریکوں کے عقائد میں شامل ہے اور یہ عقیدہ چودھوین صدی کے تحریکون میں پہلے سے زیادہ کردار ادا کرتے ہےۓ دیکھنے میں آیا - اور آیندہ بھی اُمید ہے امت مسلمہ پہلے سے زیادہ بیدار اور متحد ہو جائیں اور اپنے دینی تحریکوں میں شدت ارو تعمیم دے دی جاۓ انشاء اﷲ عصر ظہور قریب ہو گا -

____________________

(۱)صدوق: الخصال ج ۲ ص ۶۱۶

(۲) کمال الدین ج : ۱ ص : ۳۲۰

(۳)کلینی: اصول کافی ،ج۳ ،ص ۴۲۴ -

(۴) جوادی آملی : امام مہدی موجود وموعود،ص ۱۰۶ -


فہرست

پشکش- ۴

مقدمہ ۵

پہلی فصل :انتظار کیوں ضروری ہے - ۶

۱: عقیدہ اور انتظارکی ضرورت: ۶

۲: سماج اور انتظار کی ضرورت : ۷

۳: عالمی سیاست اور انتظار کی ضرورت : ۸

۴: ثقافتی یلغار اور انتظار کی ضرورت : ۹

۵: وحدت اور انتظار کی ضرورت : ۱۰

۶: تاریخ انسانیت اور انتظار کی ضرورت : ۱۱

۷: عقل اور انتظار کی ضرورت : ۱۲

۸: تقاضاۓ فطرت اور انتظار کی ضرورت : ۱۳

۹: جہان سازی اور انتظار کہ ضرورت : ۱۳

۱۰: دشمن کے تسلط سے مانع اور انتظار کی ضرورت : ۱۵

دوسری فصل :اسلام اور عقیدہ انتظار : ۱۷

ا: قرآن اور عقیدہ انتظار: ۱۷

ب: روایات اھل بیت اور عقیدہ انتظار فرج : ۱۹

۱: انتظار افضل ترین عبادت ہے : ۱۹

۲: انتظار واجب اورظہور خدا کا حتمی وعدہ : ۱۹

۳: انتظاریعنی امام غائب پر عقیدہ : ۲۰

۴: انتظار یعنی اہل بیت اطہار کے تقرب کیلۓ جدوجہد : ۲۱


انتظار کا صحیح مفہوم ۲۲

انتظار کا غلط مفہوم اور اسکا منفی نتائیج ۲۲

پہلاگروہ ۲۳

دوسرا اور بدتریں گروہ- ۲۴

تیسری فصل : انتظار اور ہماری زمداریان ۲۷

۱: امام منتظر کی معرفت اور شناخت : ۲۷

الف: آپ کائنات کے اولین مخلوق ہیں : ۲۹

ب :آ پ خالق ومخلوق کے درمیان واسطہ فیض ہیں : ۳۰

ج: آپ کی معرفت کے بغیر خداکی معرفت کامل نہیں ہے - ۳۱

د: آپ تمام انبیاء کے کمالات کا مظھر ہیں ۳۱

ھ: آپ تمام انبیاء اور ائمہ کے اُمیدوں کو زند ہ کریںگۓ- ۳۲

۲: امام منتظَر کی محبت - ۳۴

الف: امام منتظَر کی اطاعت اور تجدید بیعت - ۳۵

ب: امام منتظر کی یاد ۳۷

الف :امام منتظر کے نیابت میں صدقہ دینااور نماز پڑھنا ۳۸

ج: انکے فراق کی داغ میں ہمیشہ غمگین رہنا - ۳۹

۳ : علوم ومعارف اہل بیت کو رائج دینا ۴۲

۴: فقیہ اہل بیت کی اطاعت اور پیروی : ۴۳

۵: برادان ایمانی کے ساتھ ہمدردی اور معاونت - ۴۶

۶: خود سازی اور دیگر سازی - ۴۸

۷: شبھات اور بدعتوں کا مقابلہ- ۵۰


۸: بے صبری سے پرہیزکرنا ۵۱

۹: جوانوں کی مخصوص ذمداری : ۵۳

۱۰: وا قعی منتظرین کا مقام ومنزلت اہل بیت کی نگاہ میں - ۵۴

چوتھی فصل : انتظارکے آثار اورنتائج : ۵۸

۱ : مستقبل کی امید - ۵۸

۲: فردی اور اجتماعی اصلاح : ۵۹

۳: بقاۓ مذہب تشیع - ۵۹

إنتظار کیا اور منتظر کون ؟

إنتظار کیا اور منتظر کون ؟

مؤلف: شیخ فداحسین حلیمی
قسم: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
صفحے: 13