مہدی آلِ محمد کُتب اہلِ سُنّت کے آئینہ میں
مؤلف: حجت الاسلام ہادی عامریامام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے
مہدی آلِ محمد
کُتب اہلِ سُنّت کے آئینہ میں
مؤلِف :
حجةُ الاِسلام و المسلمین جناب ہادی عامری(مدظلہ العالی)
مترجم
مولاناسید بہادُر علی زیدی قُمی
ناشر
انوار القرآن اکیڈمی پاکستان
مشخصات
نام کتابٍ: مہدی آل محمد کتب اہل سنت کے آئینہ میں
مؤلِف :حجةُ الاِسلام و المسلمین جناب ہادی عامری(مدظلہ العالی)
مترجم: مولانا سید بہادُرعلی زیدی قمی
کمپوزنگ:سن شائن کمپوزنگ سنٹر (۰۹۱۹۱۹۶۱۴۵۷)
طبع اول: ۲۰۱۵ ء
تعداد: ۱۰۰۰
ناشر: انوار القران اکیڈمی پاکستان
تقدیم
میں اپنی اس مختصر سی کوشش اور سعی ناچیز کو قطب عالم امکان، محور دائرۂ عالم وجود، مصلح جہان، منجی عالم بشریت، حضرت بقیۃ اللہ الاعظم ارواحنا لتراب مقدمہ الفداء اور اس آفتاب ولایت کے ظہور کے حقیقی منتطرین، اور اس امام عصر (عج) کی غیبت کے زمانے میں ایمان و عمل صالح پر قائم و دائم مؤمنین کی مقدس بارگاہ میں تقدیم کرتا ہوں۔
عرض ناشر
ہر دور میں علماء حقہ، دین و شریعتِ اسلام کا قران و سنت کی روشنی میں دفاع کرتے رہے ہیں اور انشاء اللہ کرتے رہیں گے.
انوار القران اکیڈمی پاکستان بھی عصری تقاضوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے اس عزم و ارادہ کا اظہار کرتا ہے کہ قران کریم و سنت نبویﷺ کی روشنی میں دشمنان دین خدا کی جانب سے ہونے والے اعتراضات یا مذہب حقّہ شیعہ اثنا عشری کے مخالفین کے بہترین ، مسکت اورمناسب جواب دے سکے، نیز اپنی قوم و ملت کو قرانی معلومات، تفسیراور معارف قرانی سے متعلق خاطر خواہ معلومات فراہم کرسکے.
ادارہ اس ہدف کے پیشِ نظر حوزہ علمیہ کے فاضل عالم دین حجۃالاسلام و المسلمین جناب ہادی عامری (مدظلہ العالی) کی تالیف کردہ کتاب جسے مولانا سید بہادر علی زیدی قمی نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے،پیش کررہا ہے
ادارہ محترم مؤلف اور ان تمام حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے اس کتاب کو آپ کے ہاتھوں میں پہنچانے کیلئے کسی بھی قسم کا تعاون فرمایا ہے.
آخر میں خداوند متعال سے دعاگو ہیں کہ وہ ہمیں قران کریم کی صحیح معرفت سے بہرہ مند فرمائے تاکہ ہم بہتر سے بہتر انداز میں اس کی تعلیمات پر عمل کرسکیں اور اس کی خدمت میں دن و رات کوشاں رہیں. آمین
مسٔول انوارالقران اکیڈمی پاکستان
گفتار مقدم
بسم الله الرحمن الرحیم الحمد لِلّٰه ربِّ العالَمِین، الحمدُ لِلّٰه ِ الواحِدِ الاَحَد، الفَرد الصمد، الذی لم یَلد وَ لَم یولد و لم یکن له کفواً اَحَد و الصلاة علی محمد عبده المجتبی و رسوله المصطفیٰ، اَرسله اِلیٰ کافَّة الوری، بشیراً و نذِیراً و داعیاً اِلیٰ الله باذنه و سراجاً منیراً و علیٰ اهل بیۡته أئمّة الهدیٰ و مصابیح الدجیٰ، الذین اَذهبَ الله عنه م الرجس و طهرهم تطهیرا و السلام علیٰ من اتبع الهدیٰ
مہدی آلِ محمدؐ کے وجود، غیبت، ظہور اور آخر الزمان میں آپ کی عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت کے بارے میں صرف شیعہ کتب ہی میں روایات و احادیث بیان نہیں کی گئی ہیں بلکہ جب ہم مسلمانوں کے دیگر مختلف مکاتب فکر کی تفاسیر، کتب احادیث اور تاریخی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں تو اہل سنت کی تمام عظیم و معتبر کتابیں مہدی آلِ محمدؐ کے شمائل و خصوصیات، وجود، غیبت، ظہور، آپ کی عالمی حکومت، آپ کا حسب و نسب، آپ کے طرز حکومت اور دیگر مختلف پہلوؤں کے بارے میں، حضور سرور کائنات حضرت محمد مصطفی (ﷺ)، اہل بیت اور صحابہ کرام کی قابل قدر احادیث و روایات سے لبریز و سرشار نظر آتی ہیں۔
لیکن اس روز روشن کی طرح واضح اور آشکار حقیقت کے باوجود بعض نا فہم، لجوج اور معاندین کی جانب سے یہ کوشش کی جاتی رہی ہے کہ وہ مہدی آل محمدؐ کے بارے میں عقیدہ کو شیعوں کی اختراع قرار دے کر مسلمانوں میں باہمی اختلاف و انتشار پیدا کریں اور جس کا نتیجہ دشمنان اسلام کی خدمت و کامیابی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
اس صورت حال کے پیش نظر اور مسلمانوں کے باہمی اتحاد و اتفاق نظر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ضرورت تھی کہ ایک ایسی مدلل و جامع کتاب قلمبند کی جائے جس میں اتحاد بین المسلمین، حقانیت شیعہ اور مہدی آل محمدؐ کے وجود، غیبت، ظہور اور عالمی حکومت کے بارےمیں بزرگان اہل سنت کی عظیم و معتبر کتب میں بیان شدہ حقائق، احادیث و روایات اور اقوال علماء کو جمع کیا جائے۔
بحمدِ للہ در دست کتاب حجۃ الاسلام و المسلمین جناب ہادی عامری نے شب و روز عرق ریزی انتھک سعی مشکور کی بدولت اس عظیم کام کو سر انجام تک پہنچایا اور اس علمی کاوش کا نام "مہدی آل محمد در کتب اہل سنت" قرار دیا ہے جسے حقیر نے اپنی پیاری قوم کے لئے اُردو کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کے حق کی تلاش کرنے والے یقیناً اس علمی کاوش سے بہرہ مند ہوں گے۔ آخر میں خداوند عالم سے بحق محمدؐ و آل محمدؑ طالب دعا ہوں کے اہل حق کی نصرت و مدد فرمائے۔ نیز حقیر کے والدین کو صحت و سلامتی اور طول عمر عنایت فرمائے میری شریک حیات کہ جس نے اس کتاب کو اردو کے قالب میں ڈھالنے کے لئے سکون کے لمحات مہیا کئے نیز میرے ہمدرد رفیق جناب مصطفی علی باںئی اور ثقة الاسلام مولانا شیخ کاظم حسین معصومی نے اس کتاب کو منظر عام پر لانے میں میری خاص معاونت و رہنمائی فرمائی ہے۔ خداوند عالم ان سب کے درجات میں اضافہ فرمائے اور ہم سب کی دنی وی و اخروی مشکلات کو دور فرمائے۔ آمین
و السلام احقر العباد
بہادر علی زیدی
مُقدمۂ مؤلف
محترم قارئین! آپ اس کتاب شریف میں جو کچھ ملاحظہ فرمائیں گے وہ درحقیقت حضرت مہدی موعود کے بارے میں اکثر علمائے اہلِ سنّت کے عقیدے پر ایک تحقیقی جائزہ ہے اور ہم نے استدلالات و براہین کو بہتر سے بہتر پیش کرنے کیلئے بعض مطالب شیعہ کتب سے نقل کئے ہیں ۔
اس کتاب کے لکھنے کا ہدف ، نسل جوان کو اپنے مولاحضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)موعود کے بارے میں وارِدہونے والے ان شُبہات سے بچانا ہے جونادان دوست اور دانادُشمن کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں ۔
لہٰذا میں نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے دن کریمۂ اہلِ بیت حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم میں زیارت کا شرف حاصل کیا اور سوچتارہا کہ نہایت اخلاص کے ساتھ ایک کتاب لکھنی چاہیئے تاکہ اپنے وقت کے امام کے بارے میں اپنی تکلیف و ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے اورعلمی راہ میں جہاد کرتے ہوئے جناب کے سایۂ کرم میں باقی رہ سکوں اورکوئی ایسی بات تحریر نہ کروں جس سے یوسف زہرا، خاتم الاوصیا، حجة ابنِ الحسن العسکری علیہ السلام راضی نہ ہوں۔
میں اپنی اس کتاب کواپنے آقاومولا صاحب الزمان حضرت مہدی موعود (عج) کی مقدس بارگاہ میں ہدیہ کرتاہوں کیوں کہ اگر انکی عنایت اورخاص توجہ نہ ہوتی تومجھے کبھی بھی اسکے شروع کرنے کی توفیق حاصل نہ ہوتی۔ یہ کتاب ایک مقدمہ، بارہ ابواب اورایک خاتمہ پر مشتمل ہے بارہ ابواب معین کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ روایاتِ مہدی موعود میں "اثناعشریہ " عنوان سے کچھ روایات ملاحظہ فرمائیں گے اورپروردگارِ عالم کی مدد سے کتب اہلِ سنّت میں وارد ہونے والی روایات اور دیگرروایات کے ذریعے یہ ثابت کریں گے کہ شیعوں کے بارہویں امام حضرت حجة ابنِ الحسن العسکریؑ ہی "مہدی موعود "ہیں۔
آخرمیں محترم قارئین سے گذارش ہے کہ اگراپ اس میں کوئی اعتراض و اشکال دیکھیں تو چشم پوشی کرتے ہوئے حقیر کاعذرقبول فرمائیں گے کیونکہ:
"العُذۡرُ عِندَ کِرَامِ النّاسِ مَقۡبُولٌ"
"وَ مِنَ الله ِ التَّوفیقُ وَ هُوَ حَسۡبِی و نِعۡمَ الوَکِیل"
ہادی عامری
قم حرم حضرت معصومہ ( سلام اللہ علیھا )
۲۷ ، ۲ ، ۱۳۸۴ شمسی
۱۶ مئی ۲۰۰۵/ ۸ ربیع الثانی ۱۴۲۶ ھ
مقدمات
شامل :
۱۔ اہلِ سُنّت کے کیا معنی ہیں ، اورحقیقی اہلِ سُنّت کون ہیں ؟
۲۔ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی اعلمیت اورواقفیت کے بارے میں ابو حنیفہ اور علمائے عامہ کا اقرار!
۳۔شیعہ کے معنی اور حقیقتِ تشیع ،
۴۔ گُفتار باطل اور اسکا دندان شکن جواب،
۵۔ کُتب اہلِ سُنّت میں حضرت علی کی بلافصل خلافت پر دلالت کرنے والی روایات نبوی،
۶۔ نہایت حیرت و تعجُب کا مقام۔۔۔،
۷۔تِلکَ عَشَرَةَ کامِلَة ،
۸۔ نتیجۂ مطلب ،
۸۔ شیعت کا آغاز اوراس لفظ کا وضع کرنیوالا ،
۱۰۔حقانیت شیعہ پراہلِ سُنّت کی روایات ،
۱۱۔ مہدی مُنتظر پر تمام مسلمانوں کا اعتقاد ،
۱۲۔اہلِ سُنّت کے نزدیک بحث مہدی موعود کی اصالت و اہمیت ،
۱۳۔حصۂ اوّل : اہلِ سُنّت محدثین و ناقلین روایات مہدی موعود علیہ السلام (۱۶۰ محدث)
۱۴۔حصہ ٔ دوئم: روایاتِ مہدی موعود علیہ السلام کے بارے میں مصادروکُتب اہلِ سُنّت (۱۵۵ کُتب)،
۱۵۔حصۂ سوئم : اہلِ سُنّت کے نزدیک اصحاب پیغمبر اور روّات روایات مہدی موعود (۵۴ اصحاب)۔
"اعوذُ بالله ِ من الشیۡطان الرَّجیم بسم الله الرَّحمن الرَّحیم
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰه رَبِّ العالَمِین وَ صَلَّی الله ُ عَلیٰ سَیِّدنَا مُحَمَّدٍ وَ آلِه ِ الطَیِّبِینَ الطَّاهرِیۡنَ المَعۡصُومِینَ وَ اللَّعۡنُ الدَّائِمُ عَلیٰ اَعدَائِهم اَجۡمَعِینَ اِلیٰ یَومِ الدِّینِ"
موضوع بحث میں تفصیل سے داخل ہونے سے پہلے مقدمہ کے طور پر لفظِ اہلِ سُنّت اور پھر لفظِ شیعہ کے بارے میں مختصر عرائض پیش کرنا مناسب سمجھتاہوں ۔
اہلِ سُنّت کے کیامعنی ہیں اور حقیقی اہلِ سُنّت کون ہیں ؟
لفظ "اہلِ سُنّت" پہلی بار دوسری صدی ہجری میں جب خلافت معاویہ کے ہاتھوں میں پہنچی تو اسکے چاہنے والوں نے اپنے آپکو اہلِ جماعت کہلواناشروع کردیا لیکن یہ لفظ تنہااستعمال کیاگیاتھا اوراسمیں لفظ" اہلِ سُنّت " شامل نہ تھا لیکن حضرت ابوبکر و عمر وعُثمان کے پیروکاروں کے بارے میں اہلِ جماعت کہلانے کے سلسلے میں کسی ایک صحابی کی کوئی تائیدموجود نہیں ہے ۔ کتاب تاریخ دمشق میں آیاہے :
اِبنِ مسعودکہتے ہیں: حق کے موافق لوگوں کو جماعت کہاجاتاہے اگرچہ لوگ جماعت کے راستے سے جُدا ہوگئے ہوں اس لئے کہ جماعت اس گروہ کانام ہے جو " اِطاعتِ خدا "کے موافق ہو: معاویہ کے زمانے سے دوسری صدی ہجری تک سنّیوں کو" اہلِ الجماعة " کہاگیا لیکن اس لفظ "اہلِ سُنّت "کا کوئی تصور موجود نہیں تھا اسکے بعد اہلِ حدیث نے معتزلہ کے مقابلہ پر دوسری صدی ہجری میں اپنے لئے اس نام کوتجویز کرلیا۔
ابُو الحسن اشعری اپنی کتاب مقالات الاسلامیین میں کہتے ہیں : اہلِ سُنّت یعنی اصحاب حدیث ، مسند احمد کے حاشیہ پر لکھی جانے والی منتخب کنزالعمال میں اس طرح روایت کی گئی ہے : عسکری نے سلیم بن قیس عامری سے یہ روایت کی ہے : ابن ِ کواء نے حضرت علی سے سُنّت ، بدعت ، جماعت اور تفرقہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے جواباً فرمایا:
اے پسرِ کواء اب جبکہ تم نے اس مسئلہ کے بارے میں سوال کیا ہے تو اس کے جواب میں غورو فکر سے کام لو خدا کی قسم سُنّت وہی سُنّتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور بدعت ان کی سُنّت سے جدائی کا نام ہے ، جماعت اہلِ حق سے وابستہ گروہ ہے اگرچہ تعداد میں کم ہی ہوں تفرقہ باطل سے وابستگی کا نام ہے چاہے انکی تعداد ذیادہ ہی کیوں نہ ہو۔(۱)
اہلِ سُنّت سے کیا مراد ہے ؟
ابنِ میثم بحرانی نے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی کی بارگاہ میں عرض کی : یا امیرالمؤمنین! اہلِ جماعت ، اہلِ تفرقہ ، اہلِ سُنّت اوراہلِ بدعت کے بارے میں کچھ وضاحت فرمائیے؟
حضرت نے جواب میں فرمایا : اب جب کہ تم نے سوال کیا ہے تو توجہ سے سنو اس لئے کہ اس سلسلے میں دوسروں کی نظر کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اہلِ جا عت میں اور میرے پیروکار ہیں اگرچہ ہماری تعداد کم ہی کیوں نہ ہواور یہ وہی حق بات ہے جسے خداورسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا ہے ۔ اہلِ تفرقہ میرے اور میرے پیروکاروں کے مُخالفین کا گروہ ہے چاہے ان کی تعداد ذیادہ ہی کیوں نہ ہو ، اور اہلِ سُنّت وہ ہیں جو سُنّتِ خدا و رسولِ خدا ﷺ سے تمسک کرتے ہیں ، نہ اپنی خواہشات کی اِتباع کرنے والے چاہے ان کی تعداد ذیادہ ہی کیوں نہ ہو"۔(۲)
پس ان دونوں روایات میں چند قابلِ توجہ نکات پائے جاتے ہیں :
اوّل : بتحقیق سُنّت سے مرادسُنّتِ رسول خدا ﷺ ہے اور اہلِ سُنّت وہ ہی لوگ ہیں جو سُنّت ِ خدا و رسول اکرم ﷺ سے تمسک کرتے ہیں ، نہ اپنی ذاتی رائے اور خواہشات ِ نفس کی اتباع کرنے والے۔
دوئم : کسی گروہ کے لوگوں کی تعداد کا کم یا ذیادہ ہونا اس کی حقانیت کی دلیل نہیں ہے ، بلکہ حقانیت کا معیارومیزان سُنّتِ خداورسول خدا پر عمل پیرا ہونا ہے۔
سوّم : دونوں روایات کی اِبتداء میں امیرالمؤمنین نے سائل سے یہ ہی فرمایا: دِقتِ نظراورتوجہ کرو، اور دوسری روایت میں یہ بھی فرمایاہے کہ اس مسئلہ میں دوسروں کی نظر کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
توجہ: ابنِ ابی الحدید کہتے ہیں : اہلِ سُنّت وہ لوگ ہیں جو حقیقت میں سُنّتِ خدا و رسول خداؐ پر عمل کرتے ہیں یعنی جعفر بن محمد الصادق کے پیروکارہیں ، نہ وہ لوگ جو ظاہری طور پر اہلِ سُنّت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں،(۳)
ابنِ ابی الحدید تمام صحابہ پر حضرت علی کی افضلیت کے بارے میں اقوال نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں :
وَ مِنَ الْعُلُومِ عِلْمُ الْفِقْهِ، وَ هُوَ علیه السلام أَصْلُهُ وَ أَسَاسُهُ وَ كُلُّ فَقِيهٍ فِي الْإِسْلَامِ فَهُوَ عِيَالٌ عَلَيْهِ وَ مُسْتَفِيدٌ مِنْ فِقْهِهِ، أَمَّا أَصْحَابُ أَبِي حَنِيفَةَ كَأَبِي يُوسُفَ وَ مُحَمَّدٍ وَ غَيْرِهِمَا فَأَخَذُوا عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، وَ أَمَّا الشَّافِعِيُّ فَقَرَأَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ فَيَرْجِعُ فِقْهُهُ أَيْضاً إِلَى أَبِي حَنِيفَةَ، وَ اَمّا اَحمدُ بن حَنبَل فَقَرَاَ عَلَی الشّافِعی فَیرجِع فِقه ُه ُ اَیضاً الی اَبی حنیفَه وَ أَبُو حَنِيفَه َ قَرَأَ عَلَى جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ علیه السلام وَ قَرَأَ جَعْفَر عَلَى أَبِيهِ وَ يَنْتَهِي الْأَمْرُ إِلَى عَلِيٍّ علیه السلام وَ أَمَّا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فَقَرَأَ عَلَى رَبِيعَةَ الرَّأْيِ وَ قَرَأَ رَبِيعَةُ عَلَى عِكْرِمَه َ، وَ قَرَأَ عِكْرِمَه عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاس، وَ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ (۴)
علوم میں سے ایک علم علمِ فقہ ہے اور اس کی اصل و اساس علی کی ذات ہے ، عالم اسلام کا ہر فقیہ حضرت علی علیہ السلام کے ہی دسترخوانِ علم سے بہرہ مند ہوا ہے ، اصحاب ابو حنیفہ ، مثل ابو یوسف اور محمد وغیرہ نے فقہ و سُنّت ابوحنیفہ سے سیکھی ہیں، شافعی نے فقہ محمد بن حسن (ابوحنیفہ کے ایک شاگرد) سے حاصل کی ہے اس لئے ان کی بازگشت بھی ابوحنیفہ کی طرف ہے، احمد ابنِ حنبل نے فقہ و سُنّت شافعی سے حاصل کی ہیں لہٰذاان کی فقہ بھی (شافعی ومحمد بن حسن کے واسطے سے) ابوحنیفہ سے حاصل شدہ ہے ، ابوحنیفہ نے جعفربن محمدسے فقہ وسُنّت کا سبق پڑھاہے اورامام جعفرصادق علیہ السلام نے فقہ اپنے والد(امام محمدباقر ) سے حاصل کی ہے یہاں تک کہ یہ سلسلہ امام سجاد و امام حُسینٍ‘ کے ذریعے امام علی بنِ ابیطالب‘ تک پہنچ جاتا ہے ۔ پس یہ تینوں حضرات اہلِ سُنّت کے آئمہ اربعہ میں سے ہیں جوعظیم فقہااورامام تسلیم کئے جاتے ہیں انہوں نے فقہ اور سّنّت رسولِ خدا ﷺکو امام صادق سے حاصل کیا ہے۔
جبکہ مالک ابن انس نے فقہ و سُنّت ، ربیعہ کے سامنے قرأت کی ہے ، ربیعہ نے عکرمہ سے ، عکرمہ سے عبدُاللہ ابنِ عباس اورعبدُاللہ ابنِ عباس نے امیرالمؤمنین حضرت علی ابنِ ابیطالبؑ سے حاصل کی ہیں۔
پس آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اہلِ سُنّت کے آئمہ اربعہ ۱۔ امام ابو حنیفہ ،۲۔ احمد بن حنبل، ۳۔مالک بن انس،۴۔شافعی، فقہ وسُنّت کے حصول میں شیعوں کے آئمہ اورپیشواؤں کے محتاج نظراتے ہیں اس طرح کہ احمد بن حنبل اور شافعی نے ابوحنیفہ سے فقہ وسُنّت حاصل کی ہیں ، ابوحنیفہ ، امام جعفرصادق علیہ السلام کے شاگردتھے انہوں نے امام صادق علیہ السلام سے فقہ و سُنّت حاصل کی ہیں جبکہ مالک ابنِ انس نے فقہ و سُنّت کوامیرالمؤمنین علی بنِ ابیطالب‘ سے حاصل کیاہے۔
گُفتار ابنِ أبی الحدیدسے حاصل شُدہ نتائج
ابنِ أبی الحدیدکی اس گفتارسے چارمندرجہ ذیل نتائج حاصل کئے جاسکتے :
۱۔ حقیقی اہلِ سُنّت اورپیغمبرِ اکرمﷺ کی سُنّت پر عمل کرنے والے جعفربن محمد‘کے پیروکاراوران کے چاہنے والے ہیں۔اوروہ شیعوں کے امام و پیشوا ہیں پس حقیقی اہلِ سُنّت ہم شیعہ ہی ہیں کیونکہ ہم ہی سُنّتِ نبوی سے لبریز چشمہ کے کنارے بیٹھے ہیں ، نہ وہ لوگ جو کئی واسطوں سے حضرت امام جعفرصادق و امیرالمؤمنین تک پہنچتے ہیں۔
۲۔ ان چاروں فقہا ( ابوحنیفہ، مالک ، شافعی ، احمدبن حنبل) کے پیروکاروں کے درمیان فقہ و سُنّتِ پیغمبر اکرمﷺ کے کچھ حقائق دکھائی دے رہے ہیں تووہ صرف آئمہ ھدی کے وسیلہ سے ہیں پس حقیقت اور کل حقیقت شیعہ مذہب سے وابستہ ہے ۔
۳۔ پس معلوم ہوا کہ شیعہ مذہب حق ہے اور علمائے اہلِ سُنّت کا یہ اقرار کہ حضرت امام جعفر صادق و امیرالمؤمنین‘ سے سُنّت کو اخذ کیا ہے ، شیعت کی حقانیت کی دلیل ہے پس پروردگار عالم کی جانب سے پیغمبر اکرم پر نازل ہونے والا حقیقی دین یہی دین ہے جسے شیعہ اپنائے ہوئے ہیں ، اسی لئے امام جعفرصادق علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا :وَالله ِ أنْتُم عَلیٰ دِینی وَدِینِ آبائی اِسماعیل و اِبراه یم علیه ما السلام خداکی قسم تم شیعہ میرے اورمیرے اجداداسماعیل و ابراہیم کے دین پر ہو۔
امام جعفرصادق علیہ السلام کی اعلمیت وافضلیت کے بارے میں ابوحنیفہ اور علمائے عامّہ کا اعتراف
سیرۂ اعلام النبلاء(۵) اورتہذیب الکمال(۶) میں اس طرح وارد ہواہے:
سُئلِ اِبُو حَنیِفَه من اَفْقَه مَنْ رَأیْتَ ؟ قَالَ : مَا رَأیْتُ اَحَداً اَفْقَه ُ مَنْ جَعْفَر بِنْ مُحَمَّد لَمَّا اَقْدَمَه ُ الْمَنْصُوْر الْحیرَه بَعَثَ اِلَیَّ فَقَالَ یَا اَبَا حَنیِفَه اِنَّ النَّاسَ قَدْفَتَنُوابِجَعْفَربِنِ مُحَمَّد!
فَهَیِّیۡ لَه ُ مِنْ مَسَائِلِکَ الصِّعَاب فَهَیّاۡتُ لَه ُ اَرْبَعِینَ مَسأله اِلیٰ اَنْ قَالَ: فَابْتَدَأتُ أسْألُه ُ فَکَانَ یَقُولُ فِیْ المَسْأله : أَنْتُمْ تَقُولُونَ فِیْهَا کَذَاوَکَذَا وَاَهْلَ الْمَدِینَة یَقُولُونَ کَذَاوَکَذَا ونَحْنُ نَقُولُ کَذَاوَکَذَا فَرُبَّمَاتابَعَنَاوَرَبَّمَا تَابَعَ اَهلَ الْمَدِیْنَةِ، وَرُبَّمَاخَالَفَنَا جَمِیْعاً حَتَی اَتَیْتُ عَلٰی اَرْبَعِیْنَ مَسَأله مَااَخرَمَ مِنهَا مَسأله ثُمَّ قَالَ اَبُوحَنِیفَه : أَلَیْسَ قَد رَوَیْنَا اَنْ اَعْلَم النَّاس اَعْلَمَهُم بِاخْتِلاَفِ النَّاس؛
ابوحنیفہ سے سوال کیا گیا کہ آپ کی نظر میں فقیہ ترین شخصیت کون ہے؟
جواب دیا : میں نے جعفر بن محمدیعنی امام صادق سے زیادہ کسی کو فقیہ ترین نہیں پایا ، منصورعباسی کو جب کوئی حیرت زدہ مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ کسی کو میرے پاس بھیج دیتا تھا ۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا : اے ابو حنیفہ ! لوگ جعفر بن محمد کے شیفتہ ودیوانے ہورہے ہیں ۔ تم سخت ترین فقہی مسائل تیارکرو اورمیں نے چالیس فقہی سوال کرلئے ہیں پھر ان کے سامنے پیش کریں گے اورپھر کہا: پہلے میں نے ان سے سوالات کئے جب میں ان سے سوال کرتا تھا تو وہ مجھے اس سوال پر اتنا مُسلّط نظر آتے تھے اورفرماتے تھے : تم اس مسئلہ میں یہ کہتے ہو، اہلِ مدینہ کا یہ قول ہے اورہم اہلِ بیت یہ کہتے ہیں۔ کسی مسئلہ میں وہ ہمارے ہم عقیدہ ہوتے، کسی میں اہلِ مدینہ کے اور کسی میں انکا قول ہم سب سے بالکل علیحدہ ہوتاتھا یہاں تک کہ میں نے اسی طرح ان سے تمام سوالات دریافت کئے اورانہوں نے بڑی عظمت وشان سے ان کے قانع کُنندہ جوابات دیئے۔ پھر ابوحنیفہ نے مزید کہا: تو کیا اِختلاف اقوال کی صورت میں مجھے جو ہم میں سے ذیادہ عالم اوردانا ترین فرد ہے اس سے روایت نہیں کرنی چاہیئے؟!
جی ہاں حنفیوں کے امام، جناب ابوحنیفہ اس بات کا اقرارکرتے ہیں کہ میری نظر میں جعفربن محمد الصادق علیہ السلام سے زیادہ کوئی عالم اورفقیہ نہیں ہے اور اپنی اس بات پر اتنا گہرا عقیدہ رکھتے ہیں کہ سائل کے جواب میں کہتے ہیں کہ چالیس مشکل سوالات تیارکئے گئے اورجب میں ان سے دریافت کررہا تھا تو انہوں نے فقط ان سوالات کے جوابات پر اکتفانہیں کیا بلکہ انہوں نے اتنی وُسعت ِ علمی کے ساتھ جوابات دیئے کہ جس سے تمام اقوال پر ان کے احاطہ علمی کا یقین ہو رہا تھا۔ اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ ابو حنیفہ نے اس حقیقت کا اقرار کیا ہے کہ انہوں نے مسائل فقہی یعنی حکم اللہ و سنت پیغمبر ؐ اسلام میں جو سب سے زیادہ عالم اور فقیہ شخصیت ہے اس کی مخالفت کی ہے۔
سچ بتائیے آخر وہ کیا چیز ہے جو اعلم و افقہ الناس کی طرف رجوع کرنے میں مانع ہے، اور ان کے مذہب کی پیروی کرنے سے روک رہی ہے؟
صائب عبد الحمید اپنی کتاب(۷) میں لکھتے ہیں:
مصر کے بعض شیوخ الازہر نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے مذہب کے مطابق عمل کرنے کو جائز قرار دیا ہے، وہ اس حقیقت کا اذعان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یعقوبی لکھتے ہیں:
کَانَ جَعفَر بن محمد اَفضلُ النَّاس وَ اَعۡلَمُه ُم "بدین الله " و کانَ مِن اَه ۡلِ الِعۡلمِ الَّذینَ سَمِعُوا مِنه اِذا رَوَوا عَنه ُ قالُوا اَخۡبَرَنا العالِمُ؛
جعفر بن محمد لوگوں میں سب سے زیادہ با فضیلت اور "دین خدا" میں سب سے زیادہ عالم ہیں۔ وہ ایسے عالم ہیں کہ جب لوگ ان سے کوئی روایت سنتے ہیں تو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں "عالم" نے یہ خبر دی ہے"۔(۸)
اہل سنت کے اس عظیم عالم (یعقوبی) کے کلام میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اس حقیقت کا اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جعفر بن محمد دین خدا کے سب سے زیادہ عالم ہیں، کیا یہ جفا نہیں ہے کہ امت میں جو سب سے زیادہ دین خدا سے واقف ہے اسے چھوڑ کر ابو حنیفہ و احمد ابن حنبل وغیرہ کے دامن کو تھام لیا جائے؟ یہ اقرار اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقت اور تمام حقیقت دین خدا صرف حضرت امام جعفر بن محمد الصادق علیہ السلام سے وابستہ ہے اور اگر یہ کسی مسئلہ میں لوگوں کی مخالفت کرتے ہیں تو وہ مسئلہ دینِ خدا سے مُنسلک نہیں ہے ۔ پس حقیقی اہلِ سُنّت حضرت جعفر بِن محمد الصادق‘ کے پیروکار ہیں۔
جی جو شخص لوگوں میں سب سے زیادہ دین ِ خدا سے واقف ہو(جیسا کہ یعقوبی نے امام صادق کی اعلمیت کا اقرارکیاہے)تو تمام فضائل وکمالات ، مکارم الاخلاق اور حکمتِ الٰہیہ اسی سے وابستہ ہونگے، وہ ہی درحقیقت خلیفہ ٔ خدا اور رسول اکرمﷺ کا جانشین ہوگا اور سُنّتِ خدا ورسولِخداﷺ سے علم ِ تفسیر و فقہ وغیرہ تمام علوم اسی سے وابستہ ہونگے۔
کتاب وفیات الاعیان میں ہے :
وقاَلَ ابنِ خلکان: ابُوعبدالله جعفر الصادق اَحَدُ الأ ئمة الاثنٰی عَشَر علٰی مَذهَبِ الامَامِیَّةِ وَکَانَ مِنْ سَاداَتِ اه ْلِ الْبیْتِ وَلَقَّبَ بَالصَّادِقِ لِصِدْقِه ِ فِیْ مَقَالَتِه ِ وَفَضْلُه ُ أ شْهَرُ مِنْ أنْ یُذکَرَ؛
اِبنِ خلکان کہتے ہیں : ابوعبد اللہ جعفرالصادق علیہ السلام مذہب ِ امامیہ کے بارہ اماموں میں سے ایک ہیں، وہ سادات اہل بیت سے ہیں ، انہیں صادق کہتے ہیں اور انہیں یہ لقب ان کی صداقت گُفتار کی وجہ سے عنایت ہوا ہے اور انکی فضیلت اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہم ان کے فضائل بیان کرتے ہیں ۔"(۹)
اہلِ سُنّت کے اس عظیم عالم (ابنِ خلکان) کے کلام میں اہم نکات یہ ہیں کہ:
اَوّلاً : امام صادق علیہ السلام کو سادات اہلِ بیت میں سے مانتے ہیں پس انکے اقرارکی بناء پر اہلِ بیت کی شان میں نازل ہونے والی تمام آیات امام صادق پر صادق آئیں گی جیسے آیۂ تطہیر ، آیۂ مودّت وغیرہ۔
نیز امام صادق علیہ السلام حدیثِ ثقلین کا مصداق بھی قرار پائیں گے لہٰذا اس حدیث متواتر کی بناء پر امام صادق کی پیروی اختیارکرنا چاہیئے نہ ابوحنیفہ و احمد ابنِ حنبل وغیرہ کی ۔
ثانیاً : وہ حضرت امام صادق کے فضائل و کمالات کو اتنا مشہور و معروف سمجھتے ہیں کہ خورشید عالم تاب کی طرح انکے نور سے ساری دنیا روشن ہے ۔ کیا یہ ظلم و ستم نہیں کہ ہم اہلِ بیت کی شان میں نازل ہونے والی آیات اور انکی مدح میں وارد ہونے والی روایات پر کوئی توجہ نہ دیں اوران سے منہ موڑ کر غیروں کے سامنے سرتسلیم خم کردیں؟
ذراسوچئے کہ اگراہلِ بیت کے ہوتے ہوئے ہم دوسروں کے درپر جھکے رہے اور گمراہ ہوگئے تو کل قیامت میں ہماراکیا بنے گا ، ہم کل کیا جواب دیں گے؟!
شیعہ کے معنی اور حقیقت ِ تشیّع
شیعہ لُغت میں پیروکار کو کہتے ہیں ۔ لہٰذا شیعة الرجل یعنی کسی شخص کے پیروکار ۔(۱۰)
کتاب غریب الحدیث کے مُصنّف حربی کہتے ہیں:وَشِیعَةُ الرجل اَتَباعُه ؛(۱۱) شیعة الرجل یعنی کسی شخص کے پیروکار۔
اہلِ سُنّت کے معروف عالمِ دین جناب فیروزآبادی لکھتے ہیں :وَقَدْ غَلَبَ هَذَا الاِسْمِ (شیعہ)عَلیٰ مَنْ یَتَوَلَّی عَلیِاً وَ اَهْلِبَیْتِه ِ ، حَتَّی صَارَاِسْماً لَهُمْ خَاصّاً ؛(۱۲)
یہ نام یعنی شیعہ حضرت علی علیہ السلام اورانکے اہلِ بیت کی ولایت کو ماننے والوں کے لئے مشہور ہوگیاہے یہاں تک کہ آج یہ لفظ شیعہ صرف انہی حضرات سے مختص ہوگیا ہے ۔
ابنِ منظور لفظ شیعہ کے معنی کے بارے میں کہتے ہیں :
وَاَصَلْ الشیعَة الفِرقَه ُ مِنَ النَّاسِ ، وَیَقَعُ عَلیٰ الواحِدِ وَالْاِثْنَیْنِ وَالْجمعِ وَالمُذَکَّرِ وَ المُؤ َنَّثِ بِلَفْظٍ وَاحِدٍ، وَقَدْغَلَب َ هٰذاالاِسْمِ عَلیٰ مَنْ یَتَوَلَّی عَلِیاً وَاهْلِ بیْتِه ِ، رضوانُ الله عَلَیه م اَجمَعینَ، حتّی صَارَلَهُمْ اِسْماً خَاصّاً، فَاِذَاقِیْلَ: فُلاَن مِن الشیعَة عُرِفَ اَنَّه ُ مِنْهُمْ (۱۳)
شیعہ درحقیقت لوگوں کے گروہ کو کہاجاتاہے۔ اس لفظ کا اِطلاق واحد ، تثنیہ، جمع ، مُذکر اورمؤنث سب پر ایک ہی معنی میں ہوتا ہے اورایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ یہ لفظ ان لوگوں کے لئے مشہور اورعَلَم بن گیا ہے جو حضرت علی علیہ السلام اوران کے اہلِ بیت کی ولایت کے قائل ہیں یہاں تک کہ یہ لفظ انہی حضرات سے مختص ہوگیاہے ۔ پس جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص شیعہ ہے تو لوگوں کو پتہ چل جاتاہے کہ اس شخص کا تعلُق ان لوگوں سے ہے نیز یہی عبارت زبیدی نے تاج العروس میں نقل کی ہے۔(۱۴)
نیز ابن اثیر اپنی کتاب لغت میں شیعہ لفظ کے بارے میں لکھتےہیں:
وَاَصَلْ الشیعَة الفِرقَةُ مِنَ النَّاسِ ، وَیَقَعُ عَلیٰ الواحِدِ وَالْاِثْنَیْنِ وَالْجمعِ وَالمُذَکَّرِ وَ المُؤ َنَّثِ بِلَفْظٍ وَاحِدٍ وَقَدْغَلَب َ هٰذاالاِسْمِ عَلیٰ کُلِّ مَنْ یَزْعَمُ اَنَّه ُ یَتَوَلَّی عَلِیاً رَضِیَ اللّٰه ُ عَنْه ُ وَاهْلِبیْتِه ِ حتّی صَارَلَهُمْ اِسْماً خَاصّاً، فَاِذَاقِیْلَ فُلاَن مِن الشیعَة عُرِفَ اَنَّه ُ مِنْهُمْ ، وَفِیْ مَذْهَبِ الشِیْعَةِ کَذَا : ای عِنْدَهُمْ (۱۵)
شیعہ درحقیقت لوگوں کے گروہ کو کہاجاتاہے۔ اس لفظ کا اِطلاق واحد ، تثنیہ، جمع ، مُذکر اورمؤنث سب پر ایک ہی معنی میں ہوتا ہے اورایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ یہ لفظ ان لوگوں کے لئے مشہور اورعَلَم بن گیا ہے جو حضرت علی اوران کے اہلِ بیت کی ولایت کے قائل ہیں یہاں تک کہ یہ لفظ انہی حضرات سے مختص ہوگیاہے ۔ پس جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص شیعہ ہے تو لوگوں کو پتہ چل جاتاہے کہ اس شخص کا تعلُق ان لوگوں سے ہے اور جب یہ کہا جاتا ہے کہ شیعہ مذہب میں اس طرح ہوتاہے تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے یہاں اس طرح ہے ۔
گفُتارِ باطل اور اس کا دندان شکن جواب
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ابنِ اثیر شیعوں کے بارے میں کہتے ہیں : شیعہ گمان کرتے ہیں کہ علی بنِ ابیطالب‘ خلیفہ بلا فصل ہیں اور رسول ِ خدا ﷺ کے بعد اُمّت کے امام وپیشواہیں ۔
جواب: ہم اس کے جواب میں کہیں گے:
اوّلاً : ابنِ ابی الحدید جیسے علمائے اہلِ سُنّت کے اقرارکے ذریعے ہم نے قطعی طورپر ثابت کیا ہے کہ حقیقی اہلِ سُنّت حضرت علی کے شیعہ اورانکے پیروکار ہی ہیں۔ وہ لوگ حقیقی اہلِ سُنّت نہیں ہیں جو صرف اس نام کو اپنے لئے استعمال کرتے ہیں ۔
ثانیاً : تاریخِ یعقوبی میں یعقوبی نیز ابنِ خلکان جیسے مشہور علمائے اہلِ سُنّت کے اقرار اور امام ابوحنیفہ کے قول کے ذریعے ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ کا دین درحقیقت وہ ہی دین ہے جس کا تعارُف جعفرؑ بنِ محمدؑ نے کرایااور سُنّتِ پیغمبر اکرمﷺ درحقیقت انہی کے پاس ہے اور واضح ہے یہ ہی شیعوں کے چھٹے امام ہیں اوردرحقیقت امیرالمؤمنین علی بنِ ابیطالب‘ رسولِ خداؐ کے بلافصل خلیفہ ہیں۔
ثالثاً: اگر گمان و خیال باطل میں پڑے ہوئے ہیں تو بھی وہ لوگ ہیں جن کی کتابیں حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت پر دلالت کرنے والی روایات سے بھری پڑی ہیں لیکن اسکے باوجود حبّاً لِخَلفائھم، بے جاتعصُب نے انکی آنکھوں میں اس طرح دھُول جھونک دی ہے کہ ان روایات پر وہ حضرات کوئی توجہ ہی نہیں دیتے ہیں ۔ ذیل میں ہم بطور نمونہ چندروایات پیش کررہے ہیں۔
کُتب اہلِ سُنّت میں حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت پر دلالت کرنے والی روایات :
۱۔ محمد بن یوسف گنجی شافعی ، رسول خداﷺ سے روایت کرتے ہیں :
وَهُوَ یَعْسُوبُ الْمُؤمِنِینَ ، وَهُوَ بَابِیَ الَّذِی اُوْتِیَ مِنْه ُ ، وَهُوَ خَلِیْفَتِیْ مِنْ بَعْدِی ؛(۱۶) علی مؤمنین کے بادشاہ ہیں ، میرے علوم کا دروازہ ہیں اور میرے بعد میرے خلیفہ وجانشین ہیں۔
۲۔اِسی کتاب میں پھر حضرت ابوذرغفاری سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرمﷺ نے فرمایا :
تَرِدُ عَلَیَّ الحَوض رَایَةُ عَلیٍّ اَمِیرِ المُؤمِنینَ وَاِمَامِ الغُرِّ المُحجِّلینَ وَخَلِیفَةِ مِنْ بَعْدِیْ؛ (۱۷) میرے پاس حوضِ کوثرپر پرچمِ علی پہنچے گا جومؤمنین کے امیر ، شُرفاء کے پیشوااورمیرے بعد خلیفہ وجانشین ہیں۔
۳۔بیھقی، خطیب خوارزمی اور ابنِ مغازلی شافعی ، مناقب میں نقل کرتے ہیں کہ رسولِ خداﷺ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:
اِنَّه ُ لَا یَنْبَغِیْ اَنْ اَذْهَبَ اِلَّا وَأ نْتَ خَلِیْفَتِیْ وَأنْتَ اَوْلٰی بَالمُؤمِنِیْنَ مِنْ بَعْدِی (۱۸)
یہ بات مناسب نہیں ہے کہ میں لوگوں کو چھوڑ کر دُنیا سے رُخصت ہوجاؤں اور تمھیں اپنے بعد خلیفہ و جانشین اور مؤمنین کا سرپرست نہ بناؤں ۔ (اولیٰ بالمؤمنین یعنی امام کیونکہ لفظ خلیفہ قرینہ ہے)
۴۔ نسائی (صاحب سنن نسائی) ابنِ عباس سے تفصیل کے ساتھ مناقبِ علی نقل کرنے اور منزلت ھارونی بیان کرنے بعد لکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا :
أنْتَ خَلِیفَتِیْ یعنی فِیْ کُلِّ مُؤ مِنٍ بَعْدِیْ (۱۹)
اے علی تم میرے خلیفہ وجانشین ہو یعنی میرے بعد تم ہر مؤمن پر خلیفہ ہو۔
۵۔ حافظ ابوجعفر محمدبن جریرطبری نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرمﷺ نے خطبہ ٔ غدیر کے اوائل میں فرمایا ہے:
وَقَدْ اَمَرَنِیْ جِبْرَائِیلُ عَنْ رَبِّی اَنْ اَقُوْمَ فِیْ هَذاالْمَشْهَدِ وَ اُعلِمَ کُلَّ أبیْض وَاسْوَد اَنّ عَلِیّ بن أبِی طَالِبٍ اَخِی وَوَصیی وَخَلِیفَتِی وَ الامامُ بَعْدِی (۲۰)
پروردگار کی جانب سے جبرائیل نے مجھے یہ امردیا ہے کہ میں اس مقام پر ٹہرمکرتمام کالے گورے لوگوں کو مطلع کردوں کہ علی بنِ ابی طالب‘ میرے بھائی ہیں اور میرے بعدمیرے وصی وخلیفہ اورامام ہیں۔
۶۔ احمد بن حنبل(۲۱) ، نسائی(۲۲) ، حاکم(۲۳) اور ذہبی اپنی تلخیص میں اس روایت کی صحت کے اعتراف کے ساتھ، نیز سنن کے مصنفین اس حدیث کی صحت پر اتفاق و اجماع کا اعتراف کرتے ہوئے اسے عمرو بن میمون سے روایت کرتے ہیں کہ اس کا کہنا ہے :
"میں ابنِ عباس کے پاس بیٹھاہوا تھا کہ ۸ گروہ ان کے پاس آئے اورکہا: اے ابنِ عباس! ہمیں آپ سے کچھ بات کرنی ہے لہٰذا یا آپ ہمارے ساتھ چلیں یا ہمیں یہیں خلوَت کا موقع دیجئے۔ ابنِ عباس نے کہا میں تمہارے ساتھ چلتاہوں ابنِ میمون کہتے ہیں: ابنِ عباس ان دنوں بالکل ٹھیک اور انکی بینائی بالکل صحیح تھی، وہ اُٹھ کر ان کے ہمراہ ایک طرف چلے گئے اور آپس میں کچھ باتیں کرنے لگے ، ہمیں نہیں معلوم کہ انہوں نے آپس میں کیاباتیں کی تھیں ۔ جب ابنِ عباس واپس پلٹے تو کہہ رہے تھے کہ افسوس ، یہ لوگ اس مردِ حق کی برائی بیان کررہے ہیں جس میں دس سے زیادہ وہ فضیلتیں پائی جاتی ہیں کہ جو کسی میں نہیں پائی جاتیں۔ اس شخص کی برائی کررہے ہیں جس کے بارے میں پیغمبر اکرمﷺ نے فرمایا ہے : اے علی!أ نْتَ وَلیُّ کُلِّ مُؤ مِنٍ بَعْدِی ومؤمِنَةٍ ؛ اے علی تم میرے بعد ہر مؤمن مرد اور ہر مؤمنہ عورت کے ولی و سرپرست ہو۔
۷۔اس کے علاوہ احمد بن حنبل(۲۴) نے عبداللہ ابنِ برید سے روایت کی کہ انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے اور یہ ہی روایت بعینہِ نسائی نے خصائص العلویہ ، ص۱۷ میں ذکر کی ہے کہ پیغمبر اکرمﷺ نے آٹھ ہجری میں حضرت علی علیہ السلام کو یمن بھیجا ۔ جب حضرت علی علیہ السلام مدینہ واپس لوٹ کر آئے تو کچھ لوگوں نے آنحضرتﷺ سے حضرت علی کی شکایت کی یہ سُن کر پیغمبر اکرمﷺ ان لوگوں پر بہت غضبناک ہوئے کہ آپﷺ کا چہرۂ مبارک سے غضب کے آثارنمایاں تھے اوربریدہ سے فرمایا: یاد رکھو علی کی برائی نہ کرو اس لئے کہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں،وَهُوَ وَلِیُّکُمْ بَعْدِیْ اور وہ میرے بعد تمہارے ولی و سرپرست ہیں۔
مذکورہ سات روایات میں ایک اہم نکتہ
اس مقام پر ایک نکتہ یہ ہے کہ ان تمام روایات میں پیغمبر اکرمﷺ کی جانب سے نص ِ جلی اورتصریح موجود ہے کہ میرے بعد علی تمام مؤمنین کے خلیفہ اور امام ہیں، لہٰذا ان تمام روایات میں موجود لفظ بعدی سے یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ جناب صلاح ُ الدین صفدی نے ابراہیم بن سیار بن ہانی بصری معروف بہ نظام معتزلی کے حالات میں لکھاہے:
"نَصَّ النَّبِی عَلیٰ اَنَّ الاِمَامَ عَلِیٌّ وَعَیُّنَه ُ وَعَرَفَتِ الصَّحَابَةُ ذَالِکَ وَلٰکِنْ کَتَمَه ُ عُمَرُ لِأَ جْلِ أَبِیْ بَکْر ۔(۲۵)
پیغمبر اکرم ﷺ نے امامت علی پر نص قراردی ہے اور انہیں اُمّت کا اما م معین فرمایا ہے ۔ اصحاب نے اس بات کو سمجھ لیا تھا لیکن عمربن خطاب نے ابوبکر کی خاطر امامتِ علی کو پوشیدہ رکھا۔
برائے مہربانی قران کریم کی سورۂ بقرہ ملاحظہ فرمائیے اوردیکھئے کہ خداوندِ عالم حق اور وسیلۂ ہدایت کو کتمان اور پوشیدہ رکھنے والوں کے بارے میں کیا فرمارہاہے؟۔
نہایت حیرت و تعجُب کامقام!
محترم قارئین اگر آپ تمام شیعہ و سُنی کُتب میں موجود روایات کی جانچ پڑتال کریں گے تو آپ ایک روایت متفق علیہ بھی نہیں دیکھ سکیں گے جس میں شیعہ و سنی نے یہ روایت کی ہو کہ رسول خداﷺ نے فرمایا ہے کہ میرے بعد ابوبکر، عمر بن خطّاب یاعُثمان خلیفۂ بلافصل ہونگے حالانکہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت بلافصل کے بارے میں اِلیٰ ماشاء اللہ کثرت سے روایات موجود ہیں۔ جن میں مختلف کلمات مثلاً"الخلیفہ"،"خلیفتی"، "وَلِیِّ"،" وزیری " اور "وصیی" استعمال کئے ہیں اور جنہیں شیعہ اورسنی دونوں نے کثرت سے نقل کیا ہے اورپیغمبر ِ اسلامﷺ کی تصریحات اس انداز سے ہیں جنہیں کسی بھی طرح تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ان کی تاویل کی جاسکتی ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کو لقب امیر المؤمنین سب سے پہلے خود رسولِ خداﷺ نے عنایت فرمایا ہے جیسا کہ مذکورہ سات روایات میں سے پہلی روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا :هُوَ یَعْسُوبُ المُؤمِنِینْ ؛ علی مؤمنین کے بادشاہ ہیں اور دوسری روایت میں فرمایا:عَلِی اَمِیْرُالمُؤمِنیِن ، اور ان تمام روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا :
۱۔هُوَ خَلِفَتِیْ مِنْ بَعْدِیْ ، علی میرے بعد میرے خلیفہ و جانشین ہونگے۔
۲۔وَالخَلِفَةُ مِنْ بَعْدِیْ ، میرے بعد میرے خلیفہ ہیں۔
۳۔أَنْتَ اوْلیٰ بِالمُؤ مِنِیْنَ مِنْ بَعدِیْ ، اے علی تم میرے بعد مؤمنین کے ولی و سرپرست ہو۔
۴۔ أَنْتَ خَلِفَتِیْ وَاَنْتَ اَولیٰ بَالمُؤ مِنِیْنَ مِنْ بَعْدِیْ ، اے علی تم میرے بعد میرے خلیفہ اورمؤمنین کے ولی و سرپرست ہو۔
۵۔اَخِی وَ وَصِیِّی وَخَلِیْفَتِی وَ الاِمَامُ بَعْدِی ، تم میرے بھائی ہو اور میرے بعد میرے وصی، خلیفہ اور امام ہو ۔
۶۔اَنْتَ وَلِیُّ کُلِّ مُؤمِنْ بَعْدِی ومُؤمِنَةٍ ، اے علی تم میرے بعدہر مؤمن اور مؤمنہ کے ولی و سرپرست ہو۔
۷۔فرمایا :وَهُوَ وَلِیُّکُمْ بَعْدِی ، اور علی میرے بعد تمہارے ولی وسرپرست ہیں ۔
ایک اہم سوال :
اگر حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی و خلافت کے بارے میں تصریح فرماتے تو کیا جو کچھ ہم نے اہلِ سُنّت کی کتابوں سے بیان کیاہے اس کے علاوہ کچھ اور فرماتے ؟
اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے :
اوّلاً: حضرت علی کی خلافت بلافصل کے بارے میں روایات نبوی کے بحرِ بیکراں کا ایک قطرہ ہے یعنی قطرہ ای ازبحر ذخار اور مشتی ازخروارے ہے مزید تفصیلات کے لئے ہماری کتاب اوّل مظلوم عالم امیرالمؤمنین(۲۶) کا مطالعہ کیجئے جسمیں کُتب اہلِ سُنّت سے نصوص وصایت بیان کی گئی ہیں ۔ صفحہ نمبر ۸۰ تا ۱۱۱ قطعی دلائل کے علاوہ تمام اصحاب پر حضرت علی کی افضلیت کے بارے میں ۴۰ روایات بھی بیان کی گئی ہیں۔
ثانیاً : پیغمبراکرمﷺ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کے بارے میں یہ فقط نصوص اہلِ سُنّت ہیں لیکن اگر ان میں شیعہ روایات و نصوص ضمیمہ کردی جائیں تو روایات کا ایسا بحر بیکراں بن جائے گا جس میں ہر متعصب لجوج اور چشم ِ نابینا رکھنے والا غرق ہوجائے!
جی ہاں تعصُب نے بعض لوگوں کی بصیرت کو اس طرح کھودیا ہے کہ انصاف وعقل اورشرع کوپاؤں تلے روندھ دیتے ہیں اور اپنے خیال وگمان باطل کو دوسروں کی طرف نسبت دیتے ہیں اوریہ خیال کرتے ہیں کہ علی بنِ ابیطالب‘ کی خلافت بلافصل کاخورشیدعالم آفتاب ، جہالت کی گھٹاؤں کے پیچھے چھپارہ جائے گا۔
۸۔ حنبلیوں کے امام ، احمد ابنِ حنبل(۲۷) نے مسند میں زیدابنِ ارقم سے انہوں نے ابوطفیل سے اس طرح واقعہ"مناشدہ ٔ رحبہ" بیان کیا ہے۔حضرت علی علیہ السلام نے اپنی خلافت کے دورمیں کوفے کے ایک محلہ میں لوگوں کوجمع کیا جس کا نام رحبہ تھا، آپ نے فرمایا: تم میں سے جس جس نے بھی پیغمبرِ اسلام ﷺ سے غدیرِ خُم میں جو کچھ سنا ہے وہ اپنی جگہ سے بلند ہوکر بیان کرے اور صرف وہ ہی شخص اس وقت گواہی دے جس نے وہاں مجھے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آنحضرتﷺ کی بات کو سنا تھا اس وقت حاضرین میں سے ۳۰ افراد کھڑے ہوئے جن میں ۱۲ صرف جنگِ بدرکے مُجاہدین تھے جنہوں نے اس بات کی گواہی دی کہ پیغمبر اسلامﷺنے علی کا ہاتھ تھام کر لوگوں سے مخاطب ہوکرفرمایا : کیا تمھیں معلوم ہے کہ مؤمنین پر خود ان سے زیادہ میں صاحبِ اختیار ہوں ؟ سب نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہﷺ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:مَنْ کُنْتُ مَولَاه فَهٰذعَلِی مولاه ...
اوریہ بات بالکل واضح ہے کہ اصحابِ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے ۳۰ افراد کا جھوٹ پر (اچانک) اتفاق کرنا عقل سے دور ہے (جبکہ اہلِ سُنّت کے نزدیک تو تمام صحابہ بطور مطلق عادل ہیں).
دوسری اہم بات یہ ہے کہ روزِ غدیر سالِ حجةُ الوداع اور روزِ رحبة ۳۵ ہجری میں کم ازکم ۲۵ سال کا فاصلہ پایا جاتا ہے اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی کیونکہ احمدبن حنبل نے مسند(۲۸) میں زید ابنِ ارقم سے انہوں نے ابو طفیل سے نقل کیا کہ ابو طفیل کہتے ہیں :
میں رحبہ سے دل میں یہ سوچتا ہوا نکلا کہ آخر کیاوجہ تھی کہ اُمّت کی اکثریت نے حدیث غدیر پر عمل کیوں نہیں کیا ؟! اسی اثنا میں زیدبن ارقم سے میری ملاقات ہوگئی ، میں نے ان سے کہا : میں نے علی کو اس قسم کی باتیں کرتے ہوئے دیکھا ہے زید نے کہا اس میں کوئی شک نہیں ہے میں نے بھی خود پیغمبر اکرم ﷺسے( غدیر خم میں) یہ ہی کچھ سنا تھا۔
احمد بن حنبل اسی کتاب (مسندج۴، ص۳۷۰) میں دوسری سندکے ساتھ لکھتے ہیں کہ واقعہ مناشدہ رحبہ میں شرکت کرنے والوں میں ۳ افرادایسے بھی تھے جوغدیرِ خُم میں تو موجودتھے لیکن بُغض وعنّادکی وجہ سے شہادت دینے کے لیے تیارنہیں ہوئے ، حضرت علی نے ان پرنفرین کی تو انہیں نفرین علی بنِ ابیطالب‘ کا خمیازہ بھگتناپڑا۔
جی ہاں یہ ایسی صریح نصوص ہیں جنکا سوائے عِناد رکھنے والے اور دل میں روگ رکھنے والے کے کوئی اورانکارنہیں کرسکتا۔ فضل ابنِ عباس بن ابی لہب نے ولید بن عُتبہ بنِ ابی مُعیط کے جواب میں کیاخوب شعرکہا ہے :
وَکَانَ وَلِیَّ العَهدِ بَعْدَ مُحمَّدٍ عَلیّ وَ فِی کُلِّ المَواطِنِ صَاحِبُه ُ
حضرت محمدﷺ کے بعد ولی عہدوجانشین علی ہیں جو ہر مقام پر پیغمبر کے ساتھ ساتھ تھے
۸۔ ابوالفضل احمد بنِ ابو طاہر تاریخ بغداد میں نیز ابنِ ابی الحدید شرح نہجُ البلاغہ میں حضرت عمر کے حالات کے ذیل میں اس طرح روایت کرتے ہیں :
عمر نے ابنِ عباس سے پوچھا "تمہارے ابنِ عم کا کیا حال ہے ؟"
ابنِ عباس کہتے ہیں : میں سمجھا وہ عبدُا للہ ابنِ جعفر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں لہٰذا میں نے کہا : ٹھیک ہیں ، عمر نے کہا : میرا مقصد عبدُ اللہ بن جعفر نہیں، بلکہ جو تم اہلِ بیت کے بزرگ ہیں، میں انکے بارے میں تم سے پوچھ رہا ہوں۔ ابنِ عباس نے کہا: وہ ابھی کنویں سے پانی نکالنے میں مصروف تھے اور زبان پر قران کی آیات جاری تھیں۔
عمر کہتے ہیں : قربانی ہونے والے تمام اونٹوں کا خون تمہاری گردن پر ہو اگرجو کچھ تم سے پوچھ رہا ہوں تم اسے چھپاؤ۔ یہ بتاؤ کیا اب بھی انکے دل میں خلافت کی آرزو باقی ہے؟ ابنِ عباس نے کہا: جی ہاں. عمر نے کہا: کیاوہ سمجھ رہے ہیں کہ رسول اللہﷺنے انکی خلافت کی تصریح کی ہے؟
میں نے کہا : بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ جب ادعائے خلافت بلافصل کی نص کے بارے میں ، میں نے اپنے والد سے پوچھا تو انہوں نے کہا : وہ بالکل صحیح کہتے ہیں عمر نے کہا یقینا پیغمبرِ اسلامﷺنے اپنے اقوال میں انکے بلند مرتبہ کو بیان کیاہے. لیکن یہ اقوال حُجت نہیں ہیں کبھی کبھی حضور سرورِ کائناتﷺعلی کے بارے میں اور انہیں امرِ خلافت عطاکرنے کے بارے میں اُمّت کو آزماتے تھے ۔ یہاں تک کہ بسترِبیماری پر ان کے نام کی تصریح کرناچاہتے تھے " لیکن میں نے انہیں ہرگز یہ کام نہیں کرنے دیا"(۲۹)
نُکتہ :
جی ہاں حضرت عمر کایہ قول بالکل صحیح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، حضرت علی کے بلند مرتبہ کے قائل تھے کیوں کہ کلام پیغمبر گرامیﷺ کلام وحی ہے اور خدا کی بارگاہ میں حضرت علی علیہ السلام کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے ہایرے اس قول کی دلیل وہ بہت سی آیات ہیں جو حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں شیعہ، سُنّی اتفاق ِ نظر کے مطابق ۳۰۰ آیات حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہیں. اہلِ مطالعہ حضرات سے گذارش ہے اس سلسلے میں اہلِ سُنّت کے مشہورومعروف عالمِ دین حافظ ابو نعیم اصفہانی کی کتاب "مَانُزِّلَ مِنَ القُرآن ِ فِی عَلِی ّ " کی طرف رُجوع فرمائیں۔ لیکن حضرت عمر کایہ قول : "قولِ پیغمبر اثبات حجت نہیں کرتا ہے" صحیح نہیں ہے. ذراسوچ کر بتائیے پیغمبر آخرلزماں و خاتمُ النبیینﷺ کے اقوال و فرامین جوکہ نص قران کریم کے مطابق وحی اِلٰھی ہیں اگرانکے جانشین اورخلافت کے سلسلے میں حُجت نہ ہونگے توپھرکس کے اقوال وفرامین حُجت ہونگے؟!
حقیقت یہ ہے کہ جوشخص نص قران کریم کے مطابق یہ عقیدہ رکھتاہے کہ حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال وحی الٰہی ہیں تو بقول عمر ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی کبھی اپنے بعد حضرت علی کی خلافت و جانشینی کے بارے میں مسلمانوں کو آگاہ فرماتے رہتے تھے، اسے یقین ہوجائے گا کہ حضور اکرمﷺ کا قول قطعاً حُجت اور قطع عُذر کا باعث ہے. مگریہ کہ کوئیاَلعَیاذُ بِااللّٰه یہ توقع کرے کہ خدا خودزمین پرائے اورلوگوں کے سامنے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کرے!
عمرابنِ خطاب صحیح کہتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلامﷺبوقت بیماری حضرت علی علیہ السلام کے نام کی تصریح کرنا چاہتے تھے لیکن میں انکے اس کام میں حائل ہوگیا اورمیں نے کہا :دَعَوُا لرَّجُلَ فَاِنَّه ُ لَیَهْجُرُ ؛ اس شخص کو چھوڑ دو ، یہ ہذیان بول رہا ہے (نعوذباللہ)
اگر آپ حضرت علی کی بلافصل خلافت کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت تحریر کرنے میں حضرت عمر بن خطاب کے مانع ہونے کے واقعہ کو تفصیل سے مطالعہ کرناچاہتے ہیں تو ہماری کتاب" اوّل مظلوم ِعالم امیر المؤمنین علی" کے صفحہ نمبر ۲۲۴ پر" مصیبت روزپنجشُبہ واھانت بہ پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" کے عنوان کے تحت ملاحظہ فرمائیں ہم نے عمر بن خطاب کے اس قول کو اہلِ سُنّت کی مختلف کتابوں سے نقل کیا ہے اور اس سلسلہ میں بیان کردہ توجیہات کا دندان شکن جواب دیاہے۔
تِلکَ عَشَرَة کَامِلَة
ابھی تک ہم نے اس مقام پر دو روایات اور گذشتہ صفحات پر سات روایات بیان کی ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی خلافتِ بلافصل کے لفظِ بعدی کے ذریعے تصریح کی گئی ہے اوراب دسویں روایت پیش خدمت ہے:
۱۰۔مسلم بن حجاج نے اپنی صحیح(۳۰) میں اس طرح نقل کیا ہے : عمر بن خطاب نے علی و عباس (پیغمبر اسلامﷺکے چچا) سے مخاطب ہوکرکہا ابوبکر کہتے تھے کہ پیغمبر اکرمﷺنے فرمایا : ہم جو کچھ صدقے کے طور پر چھوڑ کر جاتے ہیں وہ کسی کوارث میں نہیں ملا کرتا ہے لیکن تم دونوں انہیں جھوٹا، خطاکار، حیلہ گر اور خائن سمجھتے ہو، حالانکہ خداجانتاہے کہ ابوبکر نے اپنے اس کلام میں صداقت، نیکی، ہدایت اور حق کی پیروی کی ہے۔ اب جبکہ ابوبکر اس دنیا سے جا چکے ہیں اور میں پیغمبر اسلام اور ابوبکر کا جانشین بن گیا ہوں تو تم دونوں میرے بارے میں بھی یہی کچھ کہتے ہو۔ حالانکہ خدا جانتا ہے کہ میں بھی صداقت، نیکی، ہدایت اور حق کی پیروی کر رہا ہوں اسی لئے میں نے اس خلافت کو قبول کیا ہے حالانکہ تم لوگ مسلسل مجھ سے اس بات کا تقاضہ کررہے ہو کہ میں اسے سُپرد کردوں۔
اس روایت میں چند اہم نُکات
اوّل :حضرت عمر بن خطاب کے یہ کلمات ہمارے ساختہ وپرداختہ نہیں ہیں بلکہ اہلِ سُنّت کی مُعتبر ترین کتابوں میں سے ایک میں وارد ہوئے ہیں ، لہٰذا انکے نتائج و آثار نہایت قابلِ توجہ و تعمق ہیں۔
دوم: عمر بن خطاب اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ حضرت علی اور ابنِ عباس (پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا) ، ابوبکر و عمر کو چار پست صفات سے متھم کررہے تھے: ۱.درغگو ۲.خطاکار۳.حیلہ گر ۴. خائن۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت علی علیہ السلام اور عباس سقیفہ بنی ساعدہ میں ہونے والے واقعہ کو ابوبکر وعمر کی جانب سے امیرالمؤمنین سے خلافت اور حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا سے فدک غصب کرنے کا ایک حیلہ سمجھتے تھے.
سوم:صحیح مسلم میں آنے والا حضرت عمرکا یہ قول دوحالتوں سے خارج نہیں ہے: یاتو حضرت عمر اپنے قول اور گواہی میں سچے تھے اور انہوں نے حضرت علی و جناب عباس پر جو تُہمت لگائی ہے وہ صحیح ہے ! ایسی صورت میں حضرت عمر کی شہادت اور صحیح مسلم کے نقل کے مطابق ابوبکر وعمر میں یہ صفات موجود تھیں، کیوں کہ حضرت علی وہ عظیم و پاکیزہ شخصیت ہیں جن کے بارے میں آیتِ تطہیر نازل ہوئی ہے لہٰذا یہاں تو جھوٹ کا امکان بھی نہیں ہے ۔
یا حضرت عمر اپنے اس قول میں سچے نہیں ہیں اور حضرت علی اور جناب عباس پر لگائی گئی تُہمت باطل ہے. ایسی صورت میں عمر اپنی جھوٹی شہادت اور نقل مسلم کے مطابق نہ حضرت عمر لائق خلافت قرارپائیں گے اور نہ ہی حضرت ابو بکر، کیوں کہ نہ دروغگو لائقِ خلافت ہے اورنہ ہی وہ شخص جو کسی ایسے افراد کولوگوں پر خلیفہ بنادے ۔
چہارُم:صحیح مسلم کی اس روایت اورحضرت عمر کے اس قول سے یہ بات بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ تمام صحابہ ٔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عادل نہیں ہیں بلکہ بعض عادل ہیں اور بعض فاسق ہیں مزید تفصیلات کے لئے ہماری کتاب "اوّل مظلوم عالم امیر المؤمنین علی " صفحہ نمبر ۱۵۸پر" عدول صحابہ یاصحابہ عدول" کے عُنوان کے تحت ملاحظہ فرمائیے.
پنجُم:حضرت ابوبکر کے اس قول کہ پیغمبر اکرمﷺنے فرمایا:نحنُ مَعاشِرُ الأنْبِیَا لَا نُوَرِّثُ وَمَا تَرَکْنَاه صَدَقَة ہم نے آٹھ جواب دیئے ہیں مثلاً : انکا یہ قول نص قرانی کی صریح مخالفت ہے ، سورہ ٔ نمل آیت نمبر ۱۶ میں ارشادہوتاہے :وَوَرِثَ سُلَیمَانُ داَؤدَ ؛ سلیمان نے داؤد سے ارث پایا، اسی طرح ان کا یہ قول سورۂ مریم کی آیت نمبر ۶ اور سورۂ انبیاء کی آیت نمبر ۸۸ کی واضح طورپر مخالفت کرتاہے ، اور ہم نے حضرت ابوبکر کے اس قول کے تفصیلی جوابات اپنی کتاب" اوّل مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی " صفحہ نمبر ۱۰۲ پر بیان کردیئے ہیں.
ششُم : خطیب بغدادی(۳۱) ، ابنِ قتیبہ دینوری(۳۲) اورفخررازی(۳۳) اپنی اپنی کُتب میں نقل کرتے ہیں کہ رسول خداﷺنے فرمایا :عَلِیُّ مَعَ الحَقِّ وَالحَقُّ مَعَ عَلیٍّ حَیْثُ مَادارَ ؛ علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے اور یہ دونوں ایک محور پر ہیں، یہ کبھی ایک دوسرے سے جُدانہیں ہونگے.
اسی طرح دیگر کُتب میں بھی نقل کیا گیا ہے "ینابع المودة" میں رسولِ خداﷺسے روایت کی گئی کہ آپ فرماتے ہیںعَلِیُّ مَعَ الحَقِّ وَالحَقُّ مَعَ عَلیٍّ یَمِیلُ مَعَ الحقِّ کَیْفَ مَالَ ؛ علی حق کے ساتھ ہیں اورحق علی کے ساتھ ہے ، حق جہاں بھی ہو وہ حق کی طرف مائل ہیں.
اب جب کہ عُلمائے اہلِ سُنّت حضرت علی علیہ السلام کو معیار ومیزان حق تسلیم کرتے ہیں تو گذشتہ بیان کردہ صحیح مسلم(۳۴) کی روایت کو ملاحظہ فرمایئے جس میں حضرت عمر اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ حضرت علی اور جناب عباس (رسول خداﷺ کے چچا) انہیں اور ابوبکر کو دروغگو، خطاکار، حیلہ گراورخائن سمجھتے تھے، اس بات سے یہ نتیجہ حاصل کیاجاسکتا ہے کہ میزان حق، جس شخص کو دروغگو، خطاکار، حیلہ گر اور خائن کہدے وہ یقینا مسلمانوں کی خلافت کا حقدار نہیں ہوسکتا. (توجہ فرمایئے)
پس ان دس روایات خصوصاً دسویں روایت سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ کس کا عقیدہ محض گمان و خیال باطل ہے؟! ان لوگوں کا عقیدہ ہے جو اپنی کُتب کے نام سُنن، سیرہ اور مسند رکھتے ہیں اور ان کتابوں میں حضرت علی ع کی بلافصل خلافت پر دلالت کرنے والی متعدد روایات نقل کرنے کے باوجود ان پر عمل نہیں کرتے بلکہ ان پر عمل کرنے والوں کی طرف ظن وگمان اور خیال باطل کی نسبت دیتے ہیں
____________________
۱ ۔کتاب منتخب کنز العمال در حاشیہ مسند احمد ، ج۱، ص ۱۰۹۔
۲ ۔ شرح نہج البلاغۃ، ابن میثم بحرانی۔
۳ ۔ابن ابی الحدید معتزلی شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص ۱۸، طبع اسماعیلیان۔
۴ ۔ ابن ابی الحدید معتزلی، شرح نہج البلاغۃ، ج اول، ص ۱۸، طبع اسماعیلیان۔
۵ ۔سیرہ اعلام النبلاء، ج۶، ص ۲۵۷ و ۲۵۸۔
۶ ۔تہذیب الکمال، ج۵، ص ۷۹۔
۷ ۔منھج فی الانتِماءِ المذہبی، ص ۳۳۴۔
۸ ۔ تاریخ یعقوبی، ج۲، ص ۳۸۱۔
۹ ۔وفیات الاعیان، ج۱، ص ۳۲۷۔
۱۰ ۔صحاح اللغہ جوہری۔
۱۱ ۔حربی کتاب غریب الحدیث، ج۲۔
۱۲ ۔قاموس اللغۃ۔
۱۳ ۔لسان العرب، ج۸۔
۱۴ ۔تاج العروس، ج۵، ص ۴۰۵۔
۱۵ ۔النہایۃ فی غریب الحدیث، ج۲، ص ۵۱۹۔
۱۶ ۔محمد بن یوسف گنجی شافعی، کفایۃ الطالب، باب ۴۴۔
۱۷ ۔ایضاً۔
۱۸ ۔مناقب بیہقی؛ مناقب خوارزمی اور مناقب مغازلی شافعی۔
۱۹ ۔ خصائص العلویہ ضمن حدیث ۲۳۔
۲۰ ۔ حافظ ابو جعفر محمد بن جریر طبری، کتاب الولایۃ۔
۲۱ ۔ مسند احمد، ج۱، ص ۳۳۰۔
۲۲ ۔خصائص العلویہ، ص ۶۔
۲۳ ۔مسند احمد حنبل، ج۵، ص ۳۵۶۔
۲۴ ۔ مسند احمد حنبل، ج۵، ص ۳۵۶۔
۲۵ ۔صلاح الدین صفدی، وافی بالوفیات، ضمن حرف الف۔
۲۶ ۔ اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی ؑ، ص ۵۴ تا ۸۰۔
۲۷ ۔مسند، ج۱، از عبد الرحمن بن ابی لیلی اور ج۴، ص ۳۷۰۔
۲۸ ۔مسند، ج۴، ص ۳۷۰۔
۲۹ ۔شرح نہج البلاغہ، ج۳، ص ۹۷۔
۳۰ ۔صحیح مسلم، ج۵، ص ۱۵۲۔
۳۱ ۔تاریخ بغداد، ج۱۴، ص ۲۱۔
۳۲ ۔الامامۃ و السیاسۃ، ج۱، ص ۶۸۔
۳۳ ۔تفسیر کبیر، ج۱، ص ۱۱۱۔
۳۴ ۔صحیح مسلم، ج۵، ص ۱۵۲۔
شیعت کا آغاز
فریقین کی تفاسیر اور مختلف کُتب میں وارد ہونے والی معتبر اخبار و روایات کے مطابق خود پیغمبر گرامی قدرﷺنے یہ لفظ حضرت علی کے پیروکاروں کے لئے استعمال کیا ہے یعنی خود پیغمبر اکرمﷺ نے یہ لفظ شیعہ حضرت علی کے پیروکاروں کے لئے وضع فرمایاتھا.
مُحبّانِ علی کے نزدیک یہ حقیقت بالکل واضح و آشکار ہے لہٰذا ہم اہلِ سُنّت حضرات کی اطلاع کے لئے انہی کُتب کی روایات پر اکتفاکریں گے جنہیں علمائے اہلِ سُنّت نے اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے.
حقانیت شیعہ پر اہل ِ سُنّت کی روایات
۱. حافظ ابونعیم اِصفہانی و مُحدِث اہلِ سُنّت ، ابنِ عباس سے روایت کرتے ہیں کہ جب سورۂ بیّنہ کی یہ آیت:اِنَّ الّذِیْنَ اٰمَنُو وَ عَمِلُوالصَّلِحٰتِ اُولٰئِکَ هُم خیرُ البریّه جَزئهم عندَرَبَّهُم جَنَّاتُ عَدنٍ تَجرِی مِنْ تحتهَاالاَنْهَارُ خٰلِدِینَ فِیهَااَبَدَ رَضِی الله عَنْهُمْ وَرَضُواعنه (۱) ؛اور بے شک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بہترین خلائق ہیں پروردگار کے یہاں انکی جزاء وہ باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی وہ انہیں میں ہمیشہ رہیں گے ، خدا ان سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں؛ نازل ہوئی تو پیغمبر اکرمﷺنے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:یَا عَلِی هُوَ أنْتَ وَشِیعَتُکَ یَومَ الْقَیَامَة رَاضِین مَرضییّنَ ؛ اے علی اس آیت ِ کریمہ میں خیرُ البریّہ سے مراد تم اورتمہارے شیعہ ہیں کہ خداتم سے راضی ہوگااور تم خداسے راضی ہوگے۔"(۲)
۲. ابو الموید احمد خوارزمی(۳) محمد بن یوسُف گنجی شافعی(۴) سبطِ ابنِ جوزی(۵) اور حاکم جسکانی نے اپنی اپنی کُتب میں روایت کی ہے کہ حضور سرورِ کائناتﷺنے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا :یَا عَلِی اَلَمْ تَسْمَع قولَ الله ِ تعالیٰ اِنَّ الّذِیْنَ اٰمَنُو اوَعَمِلواالصّلِحٰتِ اُوْلٰئِکَ خَیرُ البَرِیّه هُمْ شِیعَتُکَ وَمَوعِدِی وَعِدُکُمْ الحوض اِذااجْتَمَعَتِ الاُمَمُ لِلحِسَابِ تَدعُونَ غُرّاً مُحَجَّلِینَ ؛ اے علی ! کیا تم نے نہیں سنا کہ آیۂ کریمہ میں کیا ارشاد ہوا ہے ، بیشک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور عملِ صالح انجام دیئے ہیں وہ ہی بہترین خلائق ہیں بیشک وہ بہترین خلائق تمہارے شیعہ ہیں، تمہاری اور میری وعدہ گاہ حوضِ کوثر ہے، جب خلائق حساب کے لئے جمع ہونگے تو تمہیں سفیدرُواور روشن جبیں کہہ کر پکاراجائیگا ۔
۳. ابوالفضل احمد بن ابوطاہر(۶) نے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرمﷺنے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:أنْتَ وَشِیعَتُکَ فِیْ الجَنَّة؛ "بیشک تم اور تمہارے شیعہ جنت میں ہونگے"
۴. عالمِ اہلِ سُنّت "مسعودی "(۷) نے رسول خداﷺسے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اِذَا کَانَ یَومَ القَیَامَة دُعِیَ النَّاسُ بِأَ سْمَا ئِهِم وَأُ مَّهَا تِهِم اِلَّا هَذَا (یعنی عَلِیّاً) وَ شِیْعَتَه ُ فَاِنَّهُم یُدعَونَ بِاَسْمَائِهِمْ وَاَسْمَائِ آبَائِهِم لِصِحَّةِ وِلَا دَتِهِم ؛ قیامت میں لوگوں کوانکے اورانکی ماں کے نام سے پکارا جائے گا مگر علی اور انکے شیعوں کو پاک و پاکیزہ ولادت کی بناء پر انکے اورانکے باپ کے نام سے پکارا جائے گا.
۵. اِبنِ حجر مکّی(۸) نے روایت کی ہے کہ رسول خداﷺنے فرمایا:یَا عَلِی اِنَّ الله َ قَدْ غَفَرَ لَکَ وَلِذُرِّیَتِکَ وَلِوُلدِکَ وَلِأ هْلِکَ وَشِیْعَتِکَ وَلِمُحِبِّی شِیعَتِکَ ؛ اے علی ! اللہ تم پر، تمہاری ذُریت و اہل و عیال ، شیعہ اور شیعوں کے چاہنے والوں پر اپنا غفران نازل کریگا۔
۶. اِبنِ اثیر(۹) نے روایت کی ہے کہ رسول اکرمﷺنے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا :اِنَّکَ سَتُقَدِّمُ عَلیَ الله ِ أنْتَ وَشِیعَتُکَ راَضِین مَرضِیین ؛ اے علی ! بیشک تم اور تمہارے شیعہ اس طرح بارگاہِ اِلٰہی میں وارِد ہونگے کہ خدا وندِ عالم تم سے راضی ہوگا اور تم لوگ خداوندِ عالم سے راضی وخوشنود ہونگے۔
۷. محمد بن یُوسُف شافعی(۱۰) اور ہیثمی(۱۱) نے روایت کی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا :اَنْتَ اَوَّلَ دَاخِلِ الجَنَّةِ مِنْ اُمَّتِی ، وَاِنّ شِیعَتَکَ عَلیٰ مَنَا بِرَ مِنْ نُورٍ مَسْرُوروُنَ مُبیَضَّةً وُجُوهُهُمْ حَولِی ، اَشْفَعْ لَکُم فَیَکُو نُونَ غَداً فِی الجَنَّةِ جِیرَانِی ؛ اے علی ! میری اُمّت میں سے جنت میں داخل ہونے والے پہلے شخص تم ہو ، بیشک تمہارے شیعہ نورانی منبروں پر مسرور ہونگے درحالیکہ وہ میرے گردہونگے اور انکے چہرے منور ہونگے، میں تم لوگوں کی شفاعت کروں گا پس کل بہشت میں تمہارے شیعہ میرے پڑوسی ہونگے۔
۸. ابنِ عساکر(۱۲) اور ابنِ حجر مکی(۱۳) ، سبطِ ابنِ جوزی(۱۴) اور ہیثمی(۱۵) نے روایت کی ہے کہ رسول خداﷺ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:اِنَّ اَوَّلَ اَرْبَعَةٍ یَدخُلُونَ الجَنَّةَ اَنَا وَأَنْتَ وَالحَسَن وَالحُسَین، و ذرارِینَا خَلْفَ ظَه وُرِنَا، وَاَزوَجُنَا خَلْفَ ذرارِینَا، وَشِیعَتُنَاعَنْ اَیْمَانِنَاوَعَنْ شَمَائِلِنَا ؛ اے علی بیشک جنت میں داخل ہونے والے پہلے چارافراد میں تم اور حسن وحسین ہیں اورپھر ہماری ذریت، پھر ہماری زوجات اورہمارے شیعہ ہمارے دائیں بائیں وارِد ہونگے۔
حضرت علی کے پیروکار اورشیعوں کے بارے میں پیغمبر اکرمﷺسے وارد ہونے والی روایات اتنی زیادہ ہیں کہ حدتواتر تک پہنچ جاتی ہیں ۔ تفصیلات کے لئے علامہ امینی کی شہرہ آفاق کتاب "الغدیر"(۱۶) کی طرف رُجوع فرمائیں۔
نتیجہ:
اول:حضرت علی علیہ السلام کے پیروکار ، چاہنے والوں اوراپ کی امامت و خلافت بلافصل کا عقیدہ رکھنے والوں کو شیعہ کہا جاتاہے۔
دوم:سب سے پہلے یہ لفظ شیعہ حضرت علی علیہ السلام کے پیروکاروں کے لئے خود پیغمبر اکرمﷺنے استعمال کیا اور وضع فرمایا تھا۔
سوم:ان شواہد کے پیشِ نظر بعض اہلِ سُنّت کا وہ دعویٰ بالکل غلط اور باطل ہوجاتا ہے کہ جس کے تحت وہ کہتے ہیں کہ شیعہ ایک سیاسی فرقہ ہے جو حضرت عُثمان کے دورِ خلافت میں عبدُاللہ ابنِ سبایہودی منافق کے ہاتھوں وجود میں آیا تھا ۔ پس یہ دعویٰ غلط ثابت ہوجاتاہے بلکہ ہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ پیغمبر اکرمﷺ کے زمانے میں حضرت علی علیہ السلام کے چاہنے والوں اور پیروکاروں کو کہا گیا ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں جنکا نام و نشان تک نہ تھا اور آنحضرتﷺکی رحلت کے بعد بطور ظاہر اس نام کو اپنے لئے استعمال کرتے ہیں وہ لفظ اہلِ تسنن ہے کیوں کہ ہم پہلے ثابت کرچکے ہیں کہ سُنّت سے مراد سُنّتِ خدا و سُنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور حقیقی اہلِ سُنّت حضرت امام جعفر صادق و حضرت علی‘ اور اہلِ بیت علیھم السلام عصمت و طہارت اور انکے پیروکار ہیں۔
اب ہم یہ ثابت کرنے کے بعد (کہ حقیقی اہلِ سُنّت کون ہیں ؟ شیعہ کون ہیں؟ اور شیعہ کس کے زمانے میں اور کس کے توسُط سے وجود میں آئے ہیں) اصل بحث یعنی " مہدی موعوُد دَرکُتب اہلِ سُنّت " شروع کرتے ہیں۔
مہدی منتظر کے بارے میں تمام مسلمانوں کا عقیدہ
جب حضرت امام مہدی منتظر(عج) کے بارے میں گفتگو کی جاتی ہے تو بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت مہدی پر اعتقاد شیعہ عقائدمیں سے ہے حالانکہ جس طرح شیعہ اس عقیدے پر یقین کامل رکھتے ہیں اسی طرح اہلِ سُنّت کے نزدیک بھی یہ ایک بنیادی حیثیت رکھتاہے۔
دُنیا کے تمام شیعہ و سُنی مسلمان حضرت مہدی موعود کی برجسہک ومقدس شخصیت، غَیبت، علاماتِ ظہور اورانکے عظیم انقلاب و عالمی حکومت کے بارے میں پیغمبر اکرمﷺکی جانب سے بشارتوں اور روایات پر متفق نظر آتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان میں کچھ جزئی اختلافات پائے جاتے ہیں جنہیں ہم اہلِ سُنّت کی مُعتبر کتابوں کی روشنی میں دلائل قاطع کے ساتھ بیان کریں گے۔
اہلِ سُنّت کے نزدیک موضوع "مہدی موعود" کی اَصالت و اہمیت
وہ مہمترین نُکتہ جس کی طرف ہم اس وقت آپکے ذہنوں کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں یہ ہے کہ ظہور حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا عقیدہ اہلِ سُنّت کے نزدیک اصالت اور بنیادی عقیدے کی حیثیت رکھتاہے ، اور انکے اس عقیدے کی دلیل ان کے منابع روائی میں کثرت سے وارد ہونے والی روایات ہیں۔
لہٰذا ہم پورے وثوق واطمینان کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ کوئی شیعہ یا سُنی محدث ایسا نہیں ہے جس نے اپنی کتاب میں آخرالزماں حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے ظہور کے بارے میں پیغمبر اسلامﷺ کی بشارتیں اور روایات کو نقل نہ کیا ہو۔ حتٰی کہ بعض علماء مثلاً گنجی شافعی نے حضرت مہدی موعود کے بارے میں مستقل کتاب" البیان فی اخبار صاحب الزمان" تحریرکی ہے ۔
ہم کیوں کہ حضرت مہدی موعود پر صرف کُتب اہلِ سُنّت کی روشنی میں بحث کرنا چاہتے ہیں لہٰذا ہم اس مقصد کو بیان کرنے کے لئے تین حصوں میں حقائق پیش کریں گے۔
حصۂ اوّل: تیسری صدی سے اب تک اہلِ سُنّت مُحدثین و ناقلین روایات مہدی موعود کہ جن کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن ہم یہاں صرف ۱۶۰ افراد کا ذکر کریں گے ۔
حصۂ دوم:اس حصہ میں ہم ان کتابوں کا ذکر کریں گے جن میں اہلِ سُنّت محدثین نے حضرت مہدی موعود کے بارے میں روایات نقل کی ہیں جن میں سے ۱۱۵ کتابیں جو بطور عام اور ۴۰ کتابیں جو بطور ِ خاص حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں لکھی گئی ہیں ، ہم یہاں ذکر کریں گے۔
حصۂ سوم:اس حصہ میں ہم ان اصحاب اور راویوں کا تذکرہ کریں گے جن سے مُحدثین اہلِ سُنّت نے حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں روایات نقل کی ہیں اور انکی تعداد ۵۴ ہے۔
حصۂ اوّل : اہلِ سُنّت محدثین و ناقلین روایات مہدی موعودؑ
جیساکہ ہم نے عرض کیا ہے کہ اہلِ سُنّت کے یہاں بھی کثرت سے حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں روایات نقل کرنے والے محدثین و ناقلین پائے جاتے ہیں لیکن ہم یہاں صرف ۱۶۰ افرادکے نام ذکر کر رہے ہیں:
۱. ابنِ سعد ، مؤلف طبقات الکُبریٰ (متوفی ۲۳۰ ھق)؛
۲. ابنِ ابی شیبہ (متوفی ۲۳۵ ھق)؛
۳. احمد ابنِ حنبل امام حنبلی (متوفی ۲۴۱ ھق)؛
۴. بُخاری (متوفی ۲۵۶ ھق)؛ انہوں نے حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا نام نہیں لیا ہے صرف وصف کا تذکرہ کیا ہے۔
۵. مُسلم بن حجاج (متوفی ۲۶۱ ھق)؛ انہوں نے بھی بُخاری کی روش اپنائی ہے ہم حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں اس قسم کے رویّے کی علّت، حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں شُبہات کے جوابات کے دوران بیان کریں گے۔
۶. اِبنِ ماجہ (متوفی ۲۷۳ھ ق)،
۷. ابوداؤد (متوفی ۲۷۵ھ ق)،
۸. ابنِ قتیبہ دینوری (متوفی ۲۷۶ھ ق)،
۸. ترمذی (متوفی ۲۷۸ھ ق)،
۱۰. بزار (متوفی ۲۸۲ھ ق)،
۱۱. ابویعلی موصلی (متوفی ۳۰۷ھ ق)،
۱۲. طبری (متوفی ۳۱۰ھ ق)،
۱۳. عقیلی (متوفی ۳۲۲ھ ق)،
۱۴. نعیم بن حماد (متوفی ۳ ۲ ۸ھ ق)،
۱۵. شیخ حنبلی بربہاری ، کتاب شرح السُنہ (۳۲۸ھ ق)،
۱۶. ابنِ حبان بسّی (متوفی ۳۵۴ھ ق)،
۱۷. مُقدسی (متوفی۳۵۵ھ ق)،
۱۸. طبرانی (متوفی ۳۶ ۰ ھ ق)،
۱۸. ابوالحسن آبری (متوفی ۳۶۲ھ ق)،
۲۰. الدار قطنی (متوفی ۳۸۵ھ ق)،
۲۱. خطابی (متوفی ۳۸۸ھ ق)،
۲۲. حاکم نیشاپوری (متوفی ۴۰۵ھ ق)،
۲۳. ابو نعیم اصفہانی (متوفی ۴۳۰ھ ق)،
۲۴. ابوعمرو الدانی (متوفی ۴۴۴ھ ق)،
۲۵. بیھقی (متوفی ۴۵۸ھ ق)،
۲۶. خطیبِ بغدادی (متوفی۴۶۳ھ ق)،
۲۷. ابنِ عبدالبر مالکی (متوفی ۴۶۳ھ ق)،
۲۸. دیلمی (متوفی ۵۰۸ھ ق)،
۲۸. بغوی (متوفی ۵۱۰ھ ق)،
۳۰. قاضی عیّاض (متوفی ۵۴۴ھ ق)،
۳۱. خوارزمی حنفی (متوفی ۵۶۸ھ ق)،
۳۲. ابنِ عساکر (متوفی ۵۷۱ ھ ق)،
۳۳. ابنِ جوزی (متوفی۵۸۷ ھ ق)،
۳۴. ابنِ اثیر جذری (متوفی ۶۰۶ ھ ق)،
۳۵. ابوبکر اسکافی (متوفی۶۲۰ھ ق)،
۳۶. ابنِ العربی (متوفی ۶۳۸ ھ ق)،
۳۷. محمد طلحہ شافعی (متوفی ۶۵۲ھ ق)،
۳۸. سبطِ ابنِ جوزی (متوفی۶۵۴ ھ ق)،
۳۸. ابنِ ابی الحدید مُعتزلی حنفی (متوفی۶۵۵ ھ ق)،
۴۰. منذری (متوفی ۶۵۶ ھ ق)،
۴۱. محمد یوسف گنجی شافعی (متوفی ۶۵۸ ھ ق)،
۴۲. قرطبی مالکی (متوفی ۶۷۱ ھ ق)،
۴۳. ابنِ خلکان (متوفی ۶۸۱ ھ ق)،
۴۴. محب الدین طبری (متوفی ۶۸۴ھ ق)،
۴۵. ابنِ منظور (متوفی ۷۱۱ ھ ق)،
۴۶. ابنِ تیمیہ (متوفی ۷۲۸ ھ ق)،
۴۷. جوینی شافعی (متوفی ۷۳۰ ھ ق)،
۴۸. علاء الدین بلبان (متوفی ۷۳۸ ھ ق)،
۴۸. ولی الدین تبریزی (متوفی بعداز ۷۴۱ ھ ق)،
۵۰. المزی (متوفی ۷۳۸ ھ ق)،
۵۱. ذہبی (متوفی۷۴۸ ھ ق)،
۵۲. ابنِ الوردی (متوفی۷۴۸ ھ ق)،
۵۳. زرندی حنفی (متوفی۷۵۰ ھ ق)،
۵۴. ابنِ قیم الجوزیہ (متوفی ۷۵۱ ھ ق)،
۵۵. ابنِ کثیر (متوفی ۷۷۴ ھ ق)،
۵۶. سعد الدین تفتازانی (متوفی ۷۸۳ ھ ق)،
۵۷. نورالدین ہیثمی (متوفی۸۰۷ ھ ق)،
۵۸. شیخ محمد جذری دمشقی شافعی (متوفی۸۳۳ ھ ق)،
۵۸. ابوبکر بوصیری (متوفی ۸۴۰ ھ ق)،
۶۰. ابنِ حجر عسقلانی (متوفی ۸۵۲ ھ ق)،
۶۱. سخاوی (متوفی ۸۰۲ھ ق)،
۶۲. سیوطی (متوفی ۸۱۱ھ ق)،
۶۳. شعرانی (متوفی ۸۷۳ ھ ق)،
۶۴. ابنِ حجر ہیثمی (متوفی ۸۷۴ ھ ق)،
۶۵. مُتقی ہندی (متوفی ۸۷۵ ھ ق)،
۶۶. شیخ مرعی حنبلی (متوفی۱۰۳۳ھ ق)،
۶۷. محمد رسول برزنجی (متوفی ۱۱۰۳ ھ ق)،
۶۸. زرقانی (متوفی۱۱۲۲ھ ق)،
۶۸. محمد بن قاسم مالکی (متوفی ۱۱۸۲ ھ ق)،
۷۰. ابوالعلاء عراقی مغربی (متوفی ۱۱۸۳ ھ ق)،
۷۱. سفارینی حنبلی (متوفی۱۱۸۸ ھ ق)،
۷۲. زُبیدی حنفی (متوفی۱۲۰۵ ھ ق)، کتاب تاج العُروس ، مادہ ٔ ھدی
۷۳. شیخ صبان (متوفی ۱۲۰۶ ھ ق)،
۷۴. محمد امین سویدی (متوفی ۱۲۴۶ ھ ق)،
۷۵. شوکانی (متوفی ۱۲۵۰ ھ ق)،
۷۶. مؤمن شبلنجی (متوفی ۱۲۸۱ ھ ق)،
۷۷. احمدزینی دحلان ، فقیہ ومُحدث شافعی (متوفی ۱۳۰۴ ھ ق)،
۷۸. محمد صدیق قنوجی بُخاری (متوفی ۱۳۰۷ھ ق)،
۷۸. شہابُ الدین حلوانی شافعی (متوفی ۱۳۰۸ ھ ق)،
۸۰. ابُو البرکات آلوسی حنفی (متوفی ۱۳۱۷ ھ ق)،
۸۱. ابو الطیب محمد شمس ُ الحق عظیم آبادی (متوفی ۱۳۲۸ ھ ق)،
۸۲. کتانی مالکی (متوفی ۱۳۴۵ھ ق)،
۸۳. مبارکفوری (متوفی ۱۳۵۳ ھ ق)،
۸۴. شیخ منصور علی ناصف (متوفی بعدازسال ۱۳۷۱ ھ ق)،
۸۵. شیخ محمد خضر حسین مصری (متوفی۱۳۷۷ ھ ق)،
۸۶. ابوالفیض غماری شافعی (متوفی ۱۳۸۰ ھ ق)، انہوں نے اپنی کتاب " الرائع" میں احادیث مہدی موعود کا اہلِ سُنّت کے نزدیک تواتر سے وارد ہونا ثابت کیاہے.
۸۷. شیخ محمد بن عبدالعزیز المانع (متوفی ۱۳۸۵ ھ ق)،
۸۸. شیخ محمد فواد عبدالباقی (متوفی ۱۳۸۸ھ ق)،
۸۸. ابوالاعلی مودُودی،
۸۰. ناصرالدین البانی،
۸۱. شیخ سلیمان بلخی حنفی قندوزی ، کتاب " ینابع ُ المودة"
۸۲. میرسیدعلی ھمدانی شافعی ، مؤلف کتاب مودت فی القربیٰ ،
۸۳. جاراللہ زمخشری ، "تفسیر کشاف"،
۸۴. شیخ طنطاوی ، "تفسیر الجواہر"،
۸۵. سمھودی ، مؤلف کتاب" جواہر العقدین"،
۸۶. ثعلبی امام صاحب تفسیر (درمیان ِ اہلِ سنّت ) ومؤلف کتاب" عرائس"،
۸۷. فخرالدین رازی ،" تفسیر کبیر"،
۸۸. ابنِ صباغ مالکی ، کتاب" فصول المھمة"،
۸۸. نسائی صاحب" سنن"،
۱۰۰. علی بن برہان الدین حلبی، مؤلف کتاب" سیرة الحلبیہ"،
۱۰۱. ابوالفرج اصفہانی ، کتاب "مقاتل الطالبین"،
۱۰۲. شبراوی شافعی، کتاب "الاتحاف بحبّ الاشراف"،
۱۰۳. یاقوت حموی ، " معجم البلدان"،
۱۰۴. شیخ محمد عبدہ ، کتاب "شرح نہج ُ البلاغہ"،
۱۰۵. محمد بن خاوند شاہ صاحب ، کتاب " روضة الصفا،
۱۰۶. حاکم حسکانی ، کتاب" شواہد التنزیل"،
۱۰۷. حافظ ابوالفوارس "اربعین"،
۱۰۸. حافظ صاحب ، کتاب " البیان و التّبیین،
۱۰۸. ابنِ الدیبع شیبانی صاحب ، کتاب " تیسیر الاصول"،
۱۱۰. ابنِ مندہ صاحب، کتاب" تاریخ اصفہان"،
۱۱۱. کوثری صاحب ، کتاب " نظرة عابرہ "،
۱۱۲. ابنِ حاتم صاحب ، کتاب " عوالی ،
۱۱۳. محمد بن احمد حنفی صاحب، کتاب بدائع الزھوز،
۱۱۴. عبدری صاحب کتاب الجمع بین الصحیحین،
۱۱۵. ابنِ منادی صاحب ، کتاب " الملاحم "،
۱۱۶. ابویٰحیٰ صاحب ، کتاب " الفتن " ،
۱۱۷. سلیلی صاحب ، کتاب " الفتن "،
۱۱۸. رویانی صاحب ، کتاب " مسند"،
۱۱۸. عبدالرحمان حنفی سھیلی صاحب ، کتاب " شرح سیرة الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "،
۱۲۰. ابوعمرو المقری صاحب " سنن "،
۱۲۱. سیدمحمد صدیق صاحب ، کتاب " الاذاعة " ،
۱۲۲. ابو عوانہ مؤلف کتاب مسند ،
۱۲۳. شیخ حسن بن علی مدابغی صاحب ، کتاب " حاشیہ فتح المبین ،
۱۲۴. سید مصطفی البکری صاحب ، کتاب " الھدیة الندیہ،
۱۲۵. شیخ محمد انور کشمیری صاحب ، کتاب " التصریح بما تواتر فی نزول المسیح،
۱۲۶. احمد محمد شاکر صاحب ، کتاب " مقالید الکنوز "،
۱۲۷. میبدی صاحب" شرح الدّیوان" ،
۱۲۸. محمدبن حسن اسنوی صاحب " مناقب الشافعی " ،
۱۲۸. ابنِ اعثم کوفی صاحب، کتاب " الفتوح " ،
۱۳۰. ابوعبدُ السلام عمر الشبراوی صاحب ، کتاب " شرح ورد السحر" ،
۱۳۱. کشخاوی صاحب ، کتاب " لوامع العقول "،
۱۳۲. قاضی ناصر الدین عبدُ اللہ بیضاوی صاحب ، کتاب " انوارُ التنزیل "،
۱۳۳. ابوالفلاح عبدالحیی بن عماد حنبلی صاحب ، کتاب " شذرات الذہب،
۱۳۴. عبدُ الرؤف مناوی صاحب ، کتاب " کنوز الحقائق "،
۱۳۵. شیخ اسماعیل حقی افندی صاحب ، کتاب " رُوح البیان "،
۱۳۶. مُلّا کاتب چلبی صاحب ، کتاب " کشف الظنون"،
۱۳۷. ابوالولید محمد بن یٰحیٰ مقدسی شافعی ، کتاب " روضةُ المناظر"،
۱۳۸. خطیب شربینی ، کتاب " سراجُ المُنیر.
۱۳۸. یُوسُف بن یٰحیٰ مقدسی شافعی صاحب کتاب " عقد الدرر،
۱۴۰. علی بن سُلطان محمد ھروی حنفی ، کتاب " مہدی آلِ رسول ،
۱۴۱. مُلا علی قاری ، کتاب "المشرب الوردی فی مذہب المہدی،
۱۴۲. بلیسی ، کتاب " العطر الوردی بشرح قطر الشھدی،
۱۴۳. اِبنِ کمال پاشا حنفی ، کتاب " تلخیص البیان فی علامات مہدی آخرالزمان"،
۱۴۴. ابوبکر بن حشیمہ، کتاب" احادیث المہدی واخبار المہدی"،
۱۴۵. محمد بن اسماعیل امیر الیمانی ، کتاب " احادیث القاضیہ بخروج المہدی"،
۱۴۶. ابوالمعارف قطب الدین دمشقی حنفی ، کتاب " الھدیة الندیہ"،
۱۴۷. شیخ محمد حبیب اللہ بن مایابی ، کتاب " الجوامع المقنع"،
۱۴۸. شیخ عبدُ القاہر بن محمد سالم ، کتاب " النظم الواضح"،
۱۴۸. شیخ سعد الدین حموی ، کتاب " احوال صاحب الزمان"،
۱۵۰. ابو العلاء ھمدانی ، کتاب " اربعین حدیث فی المہدی"،
۱۵۱. حسن بن محمد بن قمی نیشاپوری ، کتاب " غرائب القران "،
۱۵۲. شمسُ الدین محمد طولون ، کتاب " المہدی اِلی ماوردفی المہدی"،
۱۵۳. ابو الرجاء محمد ہندی ، کتاب " الھدیة والمھدویّة"،
۱۵۴. احمد امین مصری ، کتاب " المھدی والمھدویّة"،
۱۵۵. ادریس عراقی مغربی ، کتاب " المھدی" ،
۱۵۶. ابو عمرو عثمان بن سعد الدانی ، کتاب " الفتن " ،
۱۵۷. اسماعیل بن عمربن کثیر الدمشقی ، کتاب " الفتن والملاحم" ،
۱۵۸. شیخ عبدالرحمن بن محمد بن علی احمد بسطامی ، کتاب "درّة ُ المعارف "، بربنائے نقل ینابع ُ المودة باب ۶۷،
۱۵۸. آلوسی ،کتاب " روح المعانی " ،
۱۶۰. ابنِ مغازلی فقیہ شافعی ، کتاب مناقب.
نیز صدرِ اسلام ( ۲۲۰ ھجری قمری) سے آج تک اور بہت سے دیگر محدثین ، مفسرین اور فقہائے اہلِ سُنّت
____________________
۱ ۔سورہ بینہ (۹۸)، آیت ۷ و ۸۔
۲ ۔حلیۃ الاولیاء، حافظ ابو نعیم اصفہانی۔
۳ ۔مناقب خوارزمی، فصل ۱۷۔
۴ ۔کفایۃ الطالب، ص ۱۱۹۔
۵ ۔تذکرۃ الخواص، ص ۳۱۔
۶ ۔تاریخ بغداد، ج۱۲، ص ۲۸۹۔
۷ ۔مروج الذھب، ج۲، ص ۵۱۔
۸ ۔صواعق محرقہ، ص ۹۶ و ۱۳۹ و ۱۴۰۔
۹ ۔نہایہ، ج۳، ص ۲۷۶۔
۱۰ ۔کفایۃ الطالب، ص ۱۳۵۔
۱۱ ۔مجمع الزوائد، ج۹، ص ۱۳۱۔
۱۲ ۔تاریخ مدینۃ دمشق، ج۴، ص ۳۱۸۔
۱۳ ۔صواعق محرقہ، ص ۹۶۔
۱۴ ۔تذکرۃ الخواص، ص ۳۱۔
۱۵ ۔مجمع الزوائد، ج۹، ص ۱۳۱۔
۱۶ ۔الغدیر، ج۳، ص ۷۹ و ۸۰۔
حصۂ دوم : روایات مہدی موعود کے مصادر و کتب اہلِ سُنّت
اگر حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں روایات نقل کرنے والے علماء اہلِ سُنّت کی کتب و مصادر کا تذکرہ کیا جائے تو اس کتاب کا حجم بہت زیادہ ہوجائے گا لہٰذا ہم یہاں اختصار کی بناء پر صرف چند کتابوں کا بطور نمونہ ذکر کررہے ہیں تاکہ علماء اہلِ سُنّت کے درمیان اس موضوع کی اہمیت اورقدروقیمت کا اندازہ ہوجائے.
۱. استیعاب فی اسماء الاصحاب ( ابنِ عبدالبر تمری قرطبی مالکی متوفی ۴۶۳ ھ ق)،
۲. اسعاف الراغبین فی سیرة المصطفیٰ و فضائل اھل بیتہ الطاہرین ( شیخ محمد بن علی الصبان متوفی ۱۲۰۶ ھ ق)
۳. انوار التنزیل ( قاضی ناصرالدین عبدُ اللہ بیضاوی متوفی ۶۸۵ ھ ق)،
۴. اربعین (حافظ ابو الفوارس )،
۵. تاریخ اِصفہان ( ابنِ مندہ)
۶. تاریخ بغداد ( ابو بکر احمد بن علی خطیب بغدادی متوفی ۴۶۳ ھ ق)،
۷. تاریخ ابنِ عساکر ( ابوالقاسم علی بن حسن بن ھبة اللہ شافعی متوفی ۵۲۷ ھ ق)،
۸. تاریخ الخلفاء ( جلال الدین عبدُ الرحمن بن ابی بکر سیوطی متوفی ۸۱۱ ھ ق)،
۸. تاج العروس ( محب الدین ابو الفیض واسطی زبیدی حنفی متوفی ۱۲۰۵)،
۱۰. تاج الجامع للاصول فی احادیث الرسول ( شیخ منصور علی ناصف از علمائے الازھر و مُدرس الجامع الزینی)،
۱۱. تاویل مختلف الحدیث ( ابنِ قتیبہ دینوری متوفی ۲۷۶ھ ق )،
۱۲. تفسیر الجواہر (شیخ طنطاوی جوہری)،
۱۳.تذکرة الخواص (ابو المظفر یوسف شمس الدین ملقب بہ سبط ابن ِ جوزی ( متوفی ۶۵۴ ھ ق )
۱۴. تلخیص المستدرک ( ابو عبداللہ محمد بن احمد ذھبی ( متوفی ۸۴۸ ھ ق )،
۱۵. تیسیر الوصول الی جامع الاصول من حدیث الرسول ، عبدالرحمن علی معروف بہ ابن الدبیع شیبانی زبیدی شافعی (متوفی۸۴۴ ھ ق)،
۱۶. جامع الصغیر من حدیث البشیر النذیر ، جلال الدین ابی بکر سیوطی ( متوفی ۸۱۱ ھ ق)،
۱۷. جامع الترمذی ، ابو عیسیٰ محمد بن سورہ ( متوفی ۲۷۸ ھ ق)،
۱۸. حاشیة الفتح المبین ، شیخ حسن بن علی مدابغی،
۱۸. الدر النشیر ، جلال الدین ابنِ ابی بکر سیوطی ( متوفی ۸۸۱ ھ ق )،
۲۰. ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربیٰ ، محب الدین طبری ( متوفی ۶۸۴ ھ ق )،
۲۱. رُوحُ البیان (شیخ اسماعیل حقی افندی) ،
۲۲. رُوحُ المعانی ، شہاب ُ الدین سیدمحمودآلوسی مُفتی بغداد (متوفی۱۲۷۰ ھ ق )،
۲۳. روضة ُ المناظر فی الاخبارالاوائل والاواخر ( ابو الولید محمد بن شحنہ حنفی) ،
۲۴. روضةُ الصفا (محمد بن خاوند شاہ بن محمود ، متوفی ۸۰۳ ھ ق) ،
۲۵. سنن ابی داؤد ، ابوداؤد سلیمان ابن ِ اشعر سجستانی (متوفی ۲۵۷ ھ ق )،
۲۶. سنن ابنِ ماجہ ، ابو عبد اللہ محمد بن یزید بن عبدُ اللہ بن ماجہ القزوینی ( ۲۷۳ ھ ق )،
۲۷. السراج المُنیر ( خطیب شربینی ) ،
۲۸. سیرة الجلیلة (علی بن برھان الدین حلبی شافعی )،
۲۸. سبائک الذہب فی معرفة قبائل العرب(ابو الفوزمحمدامین بغدادی مشو ربہ سویدی)،
۳۰. شرح الدیوان ( حسین بن معین الدین میبدی ) متوفی ۸۷۰ ھ ق)،
۳۱. شرح نہج ُ البلاغہ ( عزاالدین ابوحامد مشہور بہ ابنِ ابی الحدید ، متوفی ۶۵۵ ھ ق)،
۳۲. شذرات الذھب (ابو الفلاح عبدالحیی بن عماد حنبلی ) متوفی ۱۰۸۸ ھ ق ،
۳۳. شرح الدیوان (حسین بن معین الدین میبدی متوفی ۸۷۰ ھ ق)،
۳۴. صحیح بخاری ( ابو عبدُ اللہ محمدبن اسماعیل ابنِ ابراہیم بن مُغیر ہ متوفی ۲۵۶ ھ ق )،
۳۵. صحیح مسلم (ابُوالحسین مسلم بن حجاج قشیری نیشاپوری متوفی ۲۶۱ ھ ق)،
۳۶. صواعقِ مُحرقہ ( شہاب ُ الدین احمد بن حجر ہیثمی شافعی ۸۷۴ ھ ق)،
۳۷. غایة المأ مول (شیخ منصور علی ناصف از علماء الازھر مصرومدرّس الجامع الزینی )،
۳۸. غرائب القران (حسن بن محمد بن قمی نیشاپوری )،
۳۸. فضائل امیر المؤمنین معروف بہ المناقب ( موفق بن احمد مکی خوارزمی ۵۳۸ ھ ق)،
۴۰. فتوحات مکیة (محی الدین ابو عبدُ اللہ محمد بن علی معروف بہ ابن عربی حاتمی طائی ۶۳۸ ھ ق )،
۴۱. فصول المھمہ ( علی بن محمد احمد مالکی معروف بہ ابن ِ صباغ مالکی ، ۸۵۵ ھ ق)،
۴۲. فتوحات اسلامیہ ( سید احمد ابنِ سید زینی دحلان ، ۱۳۰۴ ھ ق )،
۴۳. کفایہ الطالب فی مناقب امیر المؤمنین علی بنِ ابی طالب‘ (محمد بن یوسُف گنجی شافعی ۶۵۸)،
۴۴. کنوز الحقائق فی الحدیث خیر الخلائق ( عبدُ الرؤف مناوی ، ۱۰۳۱ ھ ق)،
۴۵. الکشاف ( ابو القاسم جاراللہ زمخشری خوارزمی ، ۵۲۸ ھ ق )،
۴۶. کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون ( مُلا کاتب چلبی)
۴۷.لسان العرب ( ابو الفضل جمال الدین محمد معروف بہ ابنِ منظور افریقی ، ۷۱۶ ھ ق)،
۴۸. مسند احمد ( ابو عبداللہ احمد بن محمد حنبل شیبانی ، امام حنبلی ، ۲۴۱ ھ ق )
۴۸. مُستدرک علی الصحیحین ( ابو عبدُ اللہ معروف بہ حاکم نیشاپوری ، ۴۰۵ ھ ق )،
۵۰. مصابیح السنّة ( ابومحمد حسین بن مسعود بغوی متوفی ۵۱۵ ھ ق )،
۵۱. مطالب السئول فی مناقب آلِ رسول (کمال الدین ابوسالم محمد بن طلحہ شافعی ، ۶۵۲ ھ ق )،
۵۲. منتخب کنزُ العمال فی سنن الاقوال والافعال ( علاء الدین علی بن حسام الدین مشہور بہ متقی ہندی ، ۸۷۵ ھ ق)،
۵۳. مفاتح کنُوز السُنّة (معجم المفہرس احادیث نبوی ترجمہ محمد فواد عبدالباقی)،
۵۴. مفاتیح الغیب ( فخر الدین محمد بن عمر رازی ، ۶۰۶ ھ ق)،
۵۵. معجم البلدان (شہاب الدین یاقوت حموی رومی بغدادی ، ۶۲۶ ھ ق)،
۵۶. مقاتل الطالبین (ابو الفرج اصفہانی متوفی ۳۵۶ ھ ق )،
۵۷. مُسند (بزار)
۵۸. نور الابصار فی مناقب آلِ بیت النبی المختار ( مؤمن شبلنجی مصری ، ۱۲۸۱ ھ ق)،
۵۸. النھایة فی غریب الحدیث والاثر ( ابنِ اثیر الجزری ، ۶۰۶ ھ ق)،
۶۰. وفیات الاعیان ( ابو العباس بن خلکان ، ۶۸۱ ھ ق )،
۶۱. الیواقیت و الجواہر فی بیان عقائد الاکابر ( سید عبد الوھاب شعرانی ، ۸۷۳ ھ ق)،
۶۲. ینابیع المودة ( شیخ سلیمان بن شیخ ابراہیم معروف بہ خواجہ کلاں حسینی بلخی قندوزی متوفی ۱۲۸۴ ھ ق)،
۶۳. معجم صغیر (طبرانی)
۶۴. معجم اوسط (طبرانی)
۶۵. معجم کبیر (طبرانی)
۶۶. تاریخ اصفہان (حافظ ابونعیم)
۶۷. تفسیر (ثعلبی)
۶۸. عرائس (ثعلبی)
۶۸. فردوس الاخبار (دیلمی)
۷۰. نظرة عابرة (کوثری)
۷۱. البیان و التبیین (جاحظ)
۷۲. عوالی (ابنِ حاتم)
۷۳. تلخیص (خطیب)
۷۴. بدائع الزھور (محمد بن احمد حنفی)
۷۵. سنن ( ابو عمرو الدانی)
۷۶. سنن ( نسائی)
۷۷. سنن ( ابو عمرو المقری)
۷۸. الجمع بین الصحیحین (عبدری)
۷۸. فضائل الصحابہ ( قرطبی )
۸۰. تہذیب الآثار ( طبری)
۸۱. المُتفق و المفترق (خطیب)
۸۲. تاریخ ابنِ جوزی
۸۳. اُسدُ الغابہ ( اِبنِ اثیر)
۸۴. صحیح ( ابنِ حبان)
۸۵. مُسند ( رویانی)
۸۶. مسند ( ابی عوانہ)
۸۷. الاتحاف بحُبّ الاشراف ( شبراوی شافعی)
۸۸. شرح سیرة الرسول ( عبدُ الرحمن حنفی سہیلی)
۸۸. غریب ُ الحدیث ( ابنِ قتیبہ)
۸۰. التذکرة ( عبدُ الوہاب شعرانی)
۸۱. الاشاعہ (بزرنجی مدنی)
۸۲. الاِذاعہ ( سیدمحمد صدیق حسین)
۸۳. مجمع الزوائد (ہیثمی)
۸۴. لوامع الانوار البھیہ ( سفارینی حنبلی)
۸۵. حجج الکرامة (سیدمحمد صدیق)
۸۶. مسند(ابویعلی)
۸۷. افراد ( دار قطنی)
۸۸. المصنف (بیھقی)
۸۸. الحربیات ( ابوالحسن الحرابی)
۱۰۰. اقامة البرھان ( غماری)
۱۰۱. المنار ( ابنِ القیم)
۱۰۲. مقالید الکنوز ( احمد محمد شاکر)
۱۰۳. الرائع ( ابو الفیض غماری شافعی)
۱۰۴. مشکاة المصابیح ( خطیب تبریزی)
۱۰۵. مناقب الشافعی ( محمد بن حسن اسنوی)
۱۰۶. دلائل النبوة ( بیھقی)
۱۰۷. جمع الجوامع ( سیوطی)
۱۰۸. تلخیص المستدرک ( ذھبی)
۱۰۸. الفتوح ( ابنِ اعثم کُوفی)
۱۱۰. تلخیص المستدرک (ذھبی)
۱۱۱. الحاوی ( سیوطی)(۱)
۱۱۲. لوامع العقول (کشخاوی)
۱۱۳. فتح المغیث (سخاوی)
۱۱۴. شرح العقیدہ (سفاوینی)
۱۱۵. شرح ورد السحر ( ابوعبدا لسلام عمر شبراوی)
اس مقام پر روایات حضرت مہدی موعود نقل کرنے والی کُتب اہلِ سُنّت کے بارے میں چند نکات کا ذکر کرناضروری ہے :
اوّل : ہم نے اس حصے میں علمائے اہلِ سُنّت کی ان کتابوں کا بطور خلاصہ تذکرہ کیا ہے جن میں بطور عام روایات ِ مہدی بیان کی گئی ہیں
دوم: آپ نے یہاں غور فرمایا ہوگا ہم نے یہاں جن کتابوں کا ذکر کیا ہے وہ ۲۰۰ ھجری قمری یعنی احمد بن حنبل امام حنبلی ( متوفی ۲۴۱ ھ ق) کے زمانۂ حیات سے شروع ہو رہی ہیں ، اورشاید حضرت مہدی موعود کے بارے میں ہم تک پہنچنے والی اہل ِ سُنّت کی قدیم ترین کتاب " الفتن والملاحم " اثر حافظ نعیم بن حماد مروزی ( متوفی ۲۲۷ھ ق) ہے. یہ " بُخاری" اوردیگر صحاح ستہ لکھنے والوں کے اُستاد شمارہوتے ہیں اس کتاب کا ایک نسخہ حیدراباد دکن (ھند) کے کتب خانے دائرة المعارف عثمانی میں اس شمارے "۳۱۸۷۔۸۳"کے ساتھ اور ایک نسخہ دمشق کے کتابخانہ ظاہریہ میں شمارۂ ۶۲۔ادب اور ایک نسخہ اِنگلستان میں عجائب خانے کے کتابخانے میں محفوظ ہے۔(۲)
سوم : عصر حاضر میں جنہوں نے خصوصیت کے ساتھ اپنی کتاب کو روایات مہدی سے زینت دی ہے وہ مصر کے شیوخ الازھر ہیں یعنی یہ مذاہب چہارگانہ کے مفتیِ اعظم ہیں اور اہل ِ سنّت کے یہاں بلندترین علمی مقام و مرتبہ کے حامل ہیں.
چہارُم: علماء اہلِ سُنّت میں صرف وہ ہی علماء نہیں ہیں جنہوں نے اپنی مختلف کتب میں روایات مہدی موعود کو نقل کیا ہے بلکہ ایسے متعدد علماء بھی موجودہیں جنہوں نے مستقل طور پر خاص حضرت مہدی موعودکے بارے میں کتابیں رقم کی ہیں اور انمیں آنجناب کے بارے میں متعدد روایات کو نقل کیا ہے مثلاً :
۱. البرھان فی علامات مہدی آخر الزماں، معروف عالم اہل سنت ملّا علی متقی ہندی (متوفی ، ۸۷۵ ھ ق)،
۲. البیان فی اخبار المنتظر ، محمد بن یوسف کنجی شافعی (متوفی ۶۵۸ ھ ق)،
۳. عقدالدّرر فی اخبار المنتظر ، یوسُف بن یٰحیٰ مقدسی شافعی سلمی ( ازاعلام قرن ھفتم)،
۴. مناقب المہدی ، حافظ ابونعیم اصفہانی ، (متوفی ۴۳۰ ھ ق)،
۵. القول المختصر فی علامات المہدی المنتظر ، ابنِ حجرہیثمی مکی شافعی ،( ۸۷۴ ھ ق)،
۶. العرف الوردی فی اخبار المھدی ، مشہور عالم سیوطی ، ( متوفی ۸۱۱ ھ ق)،
۷. مہدی آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، علی بن سلطان محمد الھروی الحنفی،
۸. فوائد الفکر فی ظہور المھدی ، المنتظر ، شیخ مرعی عالم ،
۸. المشربُ الوردی فی مذھب المھدی، عالم شھیر ملا علی قاری،
۱۰. فرائدُ فوائد الفکر فی الامام المھدی المنتظر ، مقدسی،
۱۱. منظومة القطر الشہدی فی اوصاف المھدی ، نظم شھاب الدین احمدخلیجی حلوانی شافعی.
۱۲. اَلعِطرُ الوردی بشرح قطر الشہدی ، بلیسی.
۱۳. تلخیص البیان فی علامات مہدی آخرُ الزمان ، ابنِ کمال پاشا حنفی (۸۴۰ھ ق).
۱۴. ارشاد المستھدی فی نقل بعض الاحادیث والآثار الواردة فی شأن الامامِ المہدی، محمد علی حسین البکری المدنی.
۱۵. احادیث المھدی واخبار المھدی ، ابوبکر بن خثیمہ.
۱۶. الاحادیث القاضیة بخروج المھدی ، محمد بن اسماعیل امیرالیمانی ( ۷۵۱ ھ ق)
۱۷. الھدیة النّدیہ فیما جائَ فی فضل الذّات الھدیة ، تالیف ابو المعارف قطب الدین الدمشقی الحنفی.
۱۸.الجوابُ المقنعُ المُحررُ فی الرَّدِ علیٰ مَنْ طغی و تبحر بدعویٰ انّه عیسی اوالمهدی المنتظر ،شیخ محمد حبیب اللہ بن مایابی الجکنی الشنقیطی المدنی.
۱۸. النظم ُ الواضح المُبین شیخ عبدُ القادر بن محمد سالم.
۲۰. احوالُ صاحب ُ الزمان ، شیخ سعد الدین حموی.
۲۱. اربعین حدیث فی المھدی، ابو العلائِ ھمدانی ( بربنائے نقل ذخائر العقبیٰ ،ص ۱۳۶).(۳)
۲۲. تحدیق النظر فی اخبار المھدی المنتظر ، تالیف محمد بن عبدُ العزیز بن مانع ( مقدمہ ینابیع المودة)
۲۳. تلخیص البیان فی اخبار مھدی آخر الزمان ، ملا علی متقی ہندی ( ۸۷۵ ھ ق).
۲۴.الرّدّ عَلیَ مَنْ حَکَمَ وَقَضَی اَنَّ المَهْدِیْ جاء وَ مَضَی ، ملا علی قاری (۱۰۱۴ ھ ق)،
۲۵.رِسَالَة فی المَهدِیْ ، یہ مجموعہ ترکی کے کتابخانہ اسعد افندی سلیمانیہ میں ۳۷۵۸ شمارہ کے ساتھ محفوظ ہے.
۲۶. علاماتِ المھدی ، تالیف سیوطی.
۲۷. کتاب المھدی ، تالیف ابو داؤد (یہ کتاب ، سنن ابی داؤد کا حصہ ہے جو مکرّر طبع ہوئی ہے).
۲۸. المھدی اِلیٰ ما وَرَدَ فی المَہدی، تالیف شمسُ الدین ابن القیم الجوزیہ ( متوفی ۷۵۱ ھ ق).
۲۸. المھدی ، تالیف شمسُ الدین محمد ابن طولون
۳۰. النجم الثاقب فی بیان اَنَّ المھدی من اولاد علی بنِ ابیطالب‘، ۷۸ صفحات پر مشتمل یہ کتاب ، کتابخانہ لالہ لی سلیمانیہ میں ۶۷۸ شمارہ کے تحت محفوظ ہے.
۳۱. الھَدِیّة المھدویّہ ، تالیف ابوالرجاء محمد ہندی.
۳۲. الفواصِمُ عن القواصِم ۔ یہ حضرت مہدیؑ کی پاکیزہ زندگی کے شرح حال پر مشتمل ہے (سیرة الحلبیۃ، ص ۲۲۷، ج اول، بربنائے نقل امامت و مہدویت ، نوید امن و امان آیت ُ اللہ صافی ص ۳۱۱)
۳۳. الفتن والملاحم، حافظ نعیم حماد مروزی متوفی ۲۲۷ ھق، یہ اس موضوع پر قدیم ترین کتاب ہے
۳۴. المھدی والمھدویّة ، تالیف احمد امیں مصری
۳۵. الملاحم ، ابوالحسین احمد بن جعفر بن محمد بغدادی ، ابنِ المنادی ( ۳۳۶ ھ ق).
۳۶. المھدی ، تالیف ادریس عراقی مغربی.
۳۷. الفتن ، تالیف ابوعمرو عثمان بن سعید الدانی (۴۴۴ ھ ق ).
۳۸. الفتن الملاحم ، تالیف ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر الدمشقی (۷۷۴ ھ ق).
۳۸. ابراز الوھم المکنون من کلام ابن خلدون ، ابوالفیض غماری شافعی (۱۳۸۰ ھ ق).
۴۰. اَلفِتن ، تالیف سلیلی
نُکتہ : اب تک ہم نے اہلِ سُنّت کی ۱۱۵ عمومی اور ۴۰ خصوصی کتابوں کا تعارُف کروادیا ہے جن میں روایات حضرت مہدی موعود کو نقل کیا گیا ہے پس اب تک مجموعی طورپر اہلِ سُنّت کی ۱۵۵ کُتب کا ذکر کیا جاچکاہے.
پنجُم : ۲۳ علماء اہلِ سُنّت وہ ہیں جو روایاتِ مہدی موعود کے بارے میں تواتر کے قائل ہیں باب اوّل کے آخر میں ان کے نام و مدارک کا تذکرہ کریں گے انشاء اللہ
___________________
۱ ۔نوید امن و امان، آیت اللہ العظمی صافی گلپایگانی، ص ۳۰۹۔
۲ ۔ عصر ظہور، ۳۷۰،استاد علی کورانی۔
۳ ۔ ذخائر العقبی، ص ۱۳۶۔
حصۂ سوم : اصحاب پیغمبر و روّات روایاتِ مہدی موعود نزد اہل ِ سُنّت
علمائے اہلِ سُنّت نے جن صحابہ کے توسُط سے پیغمبر اسلامﷺسے روایات حضرت مہدی موعود کو نقل کیا ہے انکی تعداد کم ازکم پچاس ہے:
۱. حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا(شہادت ۱۱ ھ ق).
۲. امیرالمؤمنین حضرت علی بنِ ابیطالب‘ ( ش ،۴۰ ھ ق ).
۳. امام حسن (ش، ۵۰ ھ ق).
۴. امام حسین ( ش ، ۶۱ ھ ق).
۵. ابُو ذرغفاری ( متوفی ۳۲ ھ ق).
۶. سلمان فارسی (متوفی ۳۵ یا ۳۶ ھ ق).
۷. عماریاسر ( ۳۷ ھ ق).
۸. زید ابنِ ارقم (۶۸ ھ ق).
۸. جابربن عبدُاللہ انصاری (۷۸ ھ ق).
۱۰. عبدُاللہ ابن ِ جعفر طیار(۸۰ ھ ق).
۱۱. حُذیفہ بن الیمان (۳۶ ھ ق).
۱۲. عباس بن عبدُالمطلب (۳۲ ھ ق).
۱۳. عبدُاللہ ابنِ مسعود (۳۲ ھ ق).
۱۴. ابوایوب انصاری (۵۲ ھ ق).
۱۵. اُمِّ سلمیٰ زوجہ پیغمبر اسلام ﷺ ( ۶۲ ھ ق).
۱۶. عبدُ اللہ ابنِ عباس ( ۶۸ ھ ق).
۱۷. ابوسعید خُدری (۷۴ ھ ق).
۱۸. معاذ بن جبل ( ۱۸ ھ ق).
۱۸. قتادة بن نعمان (۲۳ ھ ق).
۲۰. عبدُ الرحمن بن عوف ( ۳۲ ھ ق).
۲۱. طلحہ بن عبدُ اللہ ( ۳۶ ھ ق).
۲۲. تمیم الداری ( ۵۰ ھ ق).
۲۳. عبدُ الرحمن بن سمرة (۵۰ ھ ق).
۲۴. مجمع بن جاریہ (۵۰ ھ ق).
۲۵. عمران بن حصین ( ۵۲ ھ ق).
۲۶. ثوبان ( ۵۴ ھ ق).
۲۷. عبدُ اللہ بن عمرو ابنِ العاص (۶۵ ھ ق).
۲۸. عوف بن مالک ( ۷۳ ھ ق).
۲۸. جابر بن سمرة ( ۴۷ ھ ق).
۳۰. ابو اُ مامہ الباھلی ( ۸۱ ھ ق).
۳۱. بشر بن المنذر بن الجارود ( ۷۳ ھ ق). البتہ بشر کے سلسلہ میں اختلاف ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے دادا جارود نے روایات مہدی کو بیان کیا ہے ، جارود کا ۲۰ ھ ق میں انتقال ہوا تھا.
۳۲. عبدُ اللہ بن الحارث ابن جزء الزبیدی ( ۸۶ ھ ق).
۳۳. سھیل ابنِ سعد الساعدی
۳۴. انس بن مالک ( ۸۳ ھ ق).
۳۵. ابو طُفیل ( ۱۰۰ ھ ق) ابو طُفیل عامر بن واثلہ ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری صحابی تھے جو ۱۰۰ ھ ق میں یعنی رحلتِ رسول گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ۸۰ سال بعد فوت ہوئے تھے.
۳۶. اُمِّ حبیبہ
۳۷. ابی الجحاف
۳۸. ابی سلمیٰ
۳۸. ابی لیلیٰ
۴۰. ابی وائل
۴۱. حُذیفہ ابنِ اسید
۴۲. حرث بن ربیع
۴۳. ابوقتادہ انصاری
۴۴. وزربن عبدُ اللہ
۴۵. زرارہ بن عبدُ اللہ
۴۶. عبد ابنِ ابی اوفی
۴۷. علقمہ بن قیس ( ۶۲ ھ ق)
۴۸. العلائ
۴۸. علی الھلالی
۵۰. قرة بن اَیاس
۵۱. عمر ابن خطاب (۲۳ ھ ق)
۵۲. عثمان بن عفّان (۳۵ ھ ق)
۵۳. ابو ھریرہ الدّوسی ( ۵۸ ھ ق)
۵۴. حضرت عائشہ دُخترحضرت ابوبکر ( ۸۵ ھ ق)
دو ضروری نکات :
۱.جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ حضرت مہدی موعود(عج) کے بارے میں روایات نقل کرنے والے روایوں میں اہلِ بیت عصمت و طہارت کے نام مبارک بھی موجود ہیں ، آیت ِ تطہیر جن کی پاکیزگی وطہار ت کی گواہی دے رہی ہے لہٰذا انکی روایات بلاشبہ معتبر ہیں.
۲.کذب اور جھوٹ پر عموماً اتنی زیادہ مقدار میں راویوں کا متفق ہونا ایک محال و غیر ممکن امر ہے ۔ لہٰذا ابو الفیض غماری شافعی ( متوفی۱۳۸۰ ھ ق) استاد دانشگاہ الازھر اپنی کتاب "ابرازُ الوھم المکنون من کلام ابن خلدون" روایات ِ مہدی موعود کے تواتر کواسی راہ سے ثابت کرتے ہوئے کہتے ہیں : واضح رہے کہ تیس افراد پرمشتمل جماعت کاجھوٹ پر متفق ہونا عادتاً محال ہے پھر اسکے بعد اصحابِ پیغمبر جو کہ روایاتِ مہدی موعود کے راوی ہیں اورانہوں نے پیغمبر گرامی سے روایات کو نقل کیاہے انکے نام بیان کرتے ہیں جن کے نام نامی مندرجہ ذیل ہیں:
۱. ابو سعید خدری،
۲. عبد اللہ بن مسعود،
۳. علی بن ابی طالب‘،
۴. ام سلمہ،
۵. ثوبان،
۶. عبد اللہ ابن الحارث بن جزء الزبیدی،
۷. ابو ہریرہ،
۸. انس بن مالک،
۹. جابر ابن عبد اللہ انصاری،
۱۰. قرۃ ابن ایاس المزنی،
۱۱. ابن عباس،
۱۲. ام حبیبہ،
۱۳. ابی امامہ،
۱۴. عبد اللہ ابن عمرو بن العاص،
۱۵. عمار یاسر،
۱۶. عباس بن عبد المطلب،
۱۷. حسین بن علی،
۱۸. تمیم الداری،
۱۹. عبد الرحمن بن عوف،
۲۰. عبد اللہ بن عمر بن خطّاب،
۲۱. طلحہ،
۲۲. علی الہلالی،
۲۳. عمران بن حصین،
۲۴. عمر و بن مرۃ الجھنی،
۲۵. معاذ بن جبل،
۲۶. از روایت مرسل شہر بن حوشب۔
ابو الفیض غماری اپنی کتاب "ابراز الوہم المکنون من کلام ابن خلدون" میں ۲۶ اصحاب کا ذکر کیا جبکہ ۲۸ دیگر اصحاب کے ناموں کا ذکر نہیں کیا ہے جن میں عمر بن خطاب، عثمان بن عفان و حضرت عائشہ وغیرہ بھی شامل ہیں۔ اور ہم انشاء اللہ آگے ان حضرات کی روایات سے استفادہ کریں گے:
۲۷. حضرت عائشہ،
۲۸. ابو ایوب انصاری،
۲۹. ابو الجحاف،
۳۰. ابوذر غفاری،
۳۱. ابو سلمی،
۳۲. ابو وائل،
۳۳. جابر بن سمرۃ،
۳۴. جارود بن منذر العبدی،
۳۵. حذیفہ بن اسید،
۳۶. حذیفہ بن الیمان،
۳۷. حرث بن ربیع،
۳۸. امام حسن بن علی، سبط الشہید،
۳۹. زر بن عبد اللہ،
۴۰. زرارۃ بن عبد اللہ،
۴۱. زید بن ارقم،
۴۲. زید بن ثابت،
۴۳. سلمان فارسی،
۴۴. سہل بن سعد الساعدی،
۴۵. عبد الرحمن بن سمرۃ،
۴۶. عبد اللہ بن ابی اوفیٰ،
۴۷. عبد اللہ ابن جعفر طیار،
۴۸. عثمان بن عفان،
۴۹. علاء بن شبر المزنی،
۵۰. علقمہ بن قیس بن عبد اللہ،
۵۱. عمر بن خطاب،
۵۲. عوف بن مالک،
۵۳. مجمع بن جاریہ،
۵۴. معاذ بن جبل۔
جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ ۵۴ اصحاب پیغمبر، روایات مہدی موعود کے راوی ہیں۔ اس سلسلہ میں مزید تفصیلات کے لئے "معجم احادیث الامام المہدی" کی طرف رجوع فرمائیں یہ کتاب ۵ جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں حضرت مہدی منتظر کے بارے میں اصحاب پیغمبر سے نقل ہونے والی تمام روایات کو دقت کے ساتھ جمع کیا گیا ہے اور ان کے تمام شیعہ و سنی مصادر کو بیان کیا گیا ہے۔
پہلا باب
کتب اہل سنت میں ظہور مہدی موعود (عج) کی بشارتیں
پہلی فصل: ظہور و قیام حضرت مہدی (عج) موعود پر رسول اللہ (ﷺ)کی بشارتیں
دوسری فصل : ظہور و قیام مہدی موعود (عج) پر اہل بیت علیھم السلام عصمت و طہارت کی بشارتیں
تیسری فصل : ظہور مہدی موعود (عج) کے بارے میں صحابہ و تابعین کی بشارتیں
روایات مہدی موعود کے متواتر اور قاطع ہونے پر ۲۳ علمائے اہل سنت کی تصریح
پہلی فصل
ظہور و قیام حضرت مہدی موعود پر رسول اللہ کی بشارتیں
توجّہ: اس فصل اور باب میں محترم قارئین جو کچھ ملاحظہ فرمائیں گے:
اولاً: علمائے اہل سنت کی معتبر و مستند کتابوں سے ماخوذ ہے، جس طرح دیگر ابواب میں بھی اس نکتہ کا خیال رکھا گیا ہے۔
ثانیاً: ہمارے نزدیک اکثریت علماء و معاریف اہل سنت اہم ہے، نہ اقلیت۔
قیام مہدی تک علی علیہ السلام پر ظلم کا سلسلہ۔۔۔
۱ ۔ موفق بن احمد(۱) و شیخ سلیمان بلخی(۲) نے عبد الرحمن بن ابی لیلی سے مسنداً روایت کی ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے:
پیغمبر اکرمﷺ نے روز عید غدیر خم یہ اعلان کیا تھا کہ علی علیہ السلام ہر مؤمن اور مؤمنہ کے مولا ہیں اور پھر حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:
أَنْتَ مِنِّي وَ أَنَا مِنْكَ وَ اَنۡتَ تُقَاتِلُ عَلَى التَّأْوِيلِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى التَّنْزِيلِ وَ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى وَ أَنَا سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَکَ وَ حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَك وَ أَنْتَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى وَ أَنْتَ تُبَيِّنُ لَهُمْ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِمْ مِنۡ بَعْدِي وَ أَنْتَ إِمَامُ وَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَةٍ بَعْدِي وَ أَنْتَ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ ( وَ أَذانٌ مِنَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ ) وَ أَنْتَ الْآخِذُ بِسُنَّتِي وَ ذَابُّ البِدَعِ عَنْ مِلَّتِي وَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ اِنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْهُ ، وَ أَنْتَ مَعِي فِی الْجَنَّةِ وَ اَوَّلُ مَنۡ یَدۡخُله َا اَنَا وَ اَنۡتَ وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ وَ فَاطِمَةُ وَ اَنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ اَخۡبَرَ فَضْلِكَ فَقُمْتُ بِهِ بَینَ النَّاسِ فَبَلَّغْتُهُمْ مَا أَمَرَنِيَ اللَّهُ بِتَبْلِيغِهِ وَ ذالِکَ قَولُه ُ تعالیٰ ( یا ایه ا الرَّسولُ بَلِّغۡ مَا اُنزِلَ اِلیکَ مِن رَّبِّکَ ) اِلی آخر الآیة، ثُمّ قَالَ یَا عَلی اِتَّقِ الضَّغَائِنَ الَّتِي ه ِیَ فِي صُدُورِ مَنْ لَا يُظْهِرُهَا إِلَّا بَعْدَ مَوْتِي أُولئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ ثُمَّ بَكَىﷺ وَ قَالَ: " أَخْبَرَنِي جَبْرَئِيلُ أَنَّهُمْ يَظْلِمُونَهُ بَعدی وَ اِنَّ ذَالِکَ یَبۡقَی حَتَّی اِذا قامَ قَائِمُه ُم فَعِندَ ذالِکَ یَظۡه َرُ القَائِمُ المَه دِی من وُلۡدِی یقوم اِلیٰ آخر الروایة ۔
اے علی تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں، تم تاویل قران کے سلسلہ میں جنگ کرو گے جس طرح میں نے نزول قران کے سلسلہ میں جنگ کی ہے، تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی۔ میری اس سے صلح ہے جس سے تمہاری صلح ہے، اور اس سے جنگ ہے جو تم سے جنگ کرے۔ تم ہی مضبوط رسی ہو، میرے بعد لوگوں کے شبہات بیان کرنے والے تم ہی ہو اور میرے بعد تم ہر مؤمن و مؤمنہ کے ولی و سرپرست ہو، تم ہی وہ شخصیت ہوجس کے بارے میں خداوند عالم نے فرمایا ہے: "اور اللہ و رسول کی جانب سے حج اکبر کے دن انسانوں کے لئے اعلام عام ہے"(۳) تم ہی میری سنت لینے والے ہو، تم ہی میری ملت سے بدعتوں کو دور کرنے والے ہو۔ میں اولین فرد ہوں جس کے لئے زمین شگافتہ ہوگی، تم بہشت میں میرے ساتھ ہوگے۔ میں، تم حسن و حسین اور فاطمہ بہشت میں داخل ہونے والے اولین افراد ہوں گے۔ پروردگار نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ تمہاری فضیلت و برتری بیان کروں لہذا میں لوگوں کے اجتماع میں کھڑا ہوگیا اور جس بات کا مجھے حکم دیا گیا تھا اس کو تبلیغ کا فریضہ انجام دیا جیسا کہ خداوند عالم نے فرمایا تھا: "اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے"(۴) پھر پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا: اے علی لوگوں کے کینہ و دسیسہ کاریوں سے ہوشیار رہنا جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں اور وہ انہیں میری رحلت کے بعد آشکار کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں خدا نے جن پر لعنت کی ہے اور لعنت کرنے والے بھی انہیں لعنت کرتے رہیں گے۔ پھر پیغمبر اکرمﷺ نے گریہ کرتے ہوئے فرمایا: جبرئیل نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ یہ لوگ علی علیہ السلام پر ظلم کریں گے اور یہ ظلم کا سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا یہاں تک کہ ہمارے قائم قیام کریں ۔۔۔ پھر اس وقت میری اولاد میں سے قائم مہدی ظہور کریں گے اور قیام کریں گے ۔۔۔ تا آخر روایت۔
کہاں ہیں دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان ۔۔۔؟
اس روایت شریفہ میں چند اہم نکات پائے جاتے ہیں جن کی طرف آپ کی توجہ کے طالب ہیں:
اول: ہم کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام " طبع اول(۵) کے صفحہ ۲۶ تا ۴۵ پر یہ بات ثابت کرچکے ہیں کہ حدیث غدیر، متن و سند کے اعتبار سے متواتر اور قطعی الصدور ہے اور اس کے صادر ہونے میں ذرّہ برابر شک و شبہ نہیں ہے۔ اور موجودہ روایت کی دلالت بھی کتب اہل سنت کی روشنی میں واضح طور پر بیان کردی ہے۔
دوم: اس روایت شریفہ میں آنحضرت نے حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے فرمایا: "اے علی تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی" ہم نے کتاب "اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی "(۶) میں حضرت علی علیہ السلام کی وزارت کے بارے میں پیغمبر کی وصیت پر مبنی حدیث منزلت کو کتب اہل سنت کی روشنی میں تفصیل سے بیان کیا ہے اور اس کی دلالت پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ یہاں تک کہ فصول المہمہ تالیف ابن صباغ مالکی صفحہ ۱۲۵(۷) ، ینابیع المودۃ تالیف شیخ سلیمان بلخی حنفی، مجالس سمرقندی اور کنز العمال وغیرہ نے حدیث منزلت کو عمر ابن خطاب کی روایت کے مطابق نقل کیا ہے اور صحاح و مسانید اہل سنت کے ذریعے اس کے تواتر کو ثابت کیا ہے اور ہر قسم کے شبہ کو دور کرنے کے لئے سورہ طہ کی آیت نمبر ۲۴ تا ۳۲ پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی جانشینی کو ثابت کیا ہے۔ تفصیلات کے لئے مذکورۃ کتاب کی طرف رجوع فرمائیں۔
سوم: پیغمبر اکرمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: "وَ اَنتَ امام و ولی کُلِّ مؤمنٍ و مؤمنةٍ بعدی " اے علی تم میرے بعد ہر مؤمن اور مؤمنہ کے ولی و سرپرست ہو، اس روایت میں لفظ "بعدی" یعنی "میرے بعد" حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل خلافت پر دلالت کر رہا ہے، اور ہم نے کتاب ا ول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام میں صفحہ نمبر ۵۹ تا ۶۶(۸) پر اہل سنت کی نقل کردہ ۱۸ روایات بیان کی ہیں جن میں پیغمبر اکرمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی کی تصریح کی ہے۔ جبکہ آپ شیعہ و اہل سنت کی کسی کتاب میں حتی ایک روایت بھی متفق علیہ نہیں دیکھ سکتے کہ جس میں پیغمبر اسلامﷺ نے حضرت ابو بکر، عمر یا عثمان کا اپنا خلیفہ، وزیر یا وصی کہہ کر تعارف کرایا ہو۔
چہارم: اب جبکہ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی خلافت، وزارت وصایت پر کثرت سے روایات موجود ہیں تو ہم اہل سنت حضرت سے یہ سوال کرنا چاہیں گے:
آپ حضرات خود پیغمبر اکرم سے یہ روایت نقل کرتے ہیں اور گواہی دیتے ہوئے اقرار کرتے ہیں کہ آنحضرت نے گریہ کرتے ہوئے فرمایا: میرے بعد علی علیہ السلام پرلوگ ظلم و ستم کریں گے اور اس ظلم کا سلسلہ تا قیام مہدی (عج) چلتا رہے گا، ہمارا سوال یہ ہے کہ:
پیغمبر اکرمﷺ کے بعد حضرت علی علیہ السلام پر ہونے والا ظلم کیا ہے؟ اور لوگوں کے دلوں میں وہ کون سا کینہ و نیرنگ پوشیدہ تھا جو پیغمبر اکرمﷺ کی رحلت کے بعد آشکار ہوا؟
کیا خداوند عالم نے قران کریم میں سورہ نجم کی آیت نمبر ۶ میں ارشاد نہیں فرمایا: "اِن هُوَ اِلَّا وَحیٌ یُوحیٰ "
پس اگر حقیقتا گفتار پیغمبر ؐ کو وحی الٰہی اور پروردگار عالم کی جانب سے سمجھتے ہیں تو آپ کو اس بات کا اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ ظلم لازمی طور پر واقع ہوا ہے بنابریں یہ دو حالتوں سے خارج نہیں:
یا۔ نعوذ باللہ۔ حضور سرور کائنات کی خبر سے چشم پوشی کر لیجئے اور مقام عمل میں اسے کذب تصور کر لیجئے۔ یا پھر آنحضرت کے بعد اس ظلم کا اقرار کیجئے جو حضرت علی علیہ السلام سے خلافت غضب کرکے کیا گیا!!
جی ہاں یہی وہ مظالم ہیں جن کے واقع ہونے سے پہلے جبرئیل امین حضور سرور کائنات کے پاس آکر ان سے مطلع کر دیتے ہیں اور پیغمبر اکرمﷺ مظلومیت علی علیہ السلام پر اشک بہاتے ہیں!!
پنجم: پیغمبر اکرمﷺ کی تصریح کے مطابق حضرت علی علیہ السلام پر ظلم کرنے والوں پر خدا اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے تو آپ اہل سنت کس دلیل کی بنیاد پر تمام صحابہ کو بطور مطلق عادل قرار دیتے ہیں؟
تفصیلات کے لئے کتاب اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے صفحہ نمبر ۱۵۸ پر "عدول صحابہ یا صحابہ عدول" کے عنوان کو ملاحظہ فرمائیں۔
ششم: حضور سرور کائنات نے اس روایت شریفہ میں حد معین فرمائی ہے: یہ ظلم تا قیام حضرت قائم (عج) جاری رہے گا۔
جی ہاں پیغمبر اکرمﷺ کی رحلت کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے حق خلافت کو غصب کرکے آپ پر نہایت ظلم کیا گیا اور عالم نما لوگوں نے لباس شریعت پہن کر اور کتمان حق کرکے کثیر لوگوں کو راہ راست سے منحرف کردیا۔ قیامت میں ان سے سخت حساب لیا جائے گا!!
دنیا اس وقت تک اپنے انجام کو نہ پہنچے گی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد کی سلطنت قائم نہ ہوجائے
۲ ۔ ترمذی(۹) ، احمد ابن حنبل، و ابن ماجہ(۱۰) ، بخاری(۱۱) اور بلخی حنفی اور ابن طلحہ شافعی(۱۲) نے مسنداً روایت کی ہے:
"قال رسول الله : "لَا تَذه َبُ الدُنیا حتّی یَملِکَ العَرَبَ رَجُلٌ مِن اهل بَیتِی یُواطی اِسمُه ُ اِسمِی "
رسول خدا ﷺ نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد کی عرب پر سلطنت قائم نہ ہوجائے جو میرا ہمنام ہوگا۔
نکتہ: ترمذی اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں: اس باب میں حضرت علی علیہ السلام ، ابو سعید خدری، ام سلمہ اور ابو ہریرہ سے بھی احادیث موجود ہیں اور یہاں ذکر کردہ حدیث "حسن و صحیح" ہے۔
مہدی کے آنے تک زمانہ ختم نہ ہوگا
۳ ۔ احمد ابن حنبل مسنداً روایت کرتے ہیں: "قال رسول اللہﷺ: "لَا تَنقَضی الاَیَّامُ وَلَا یَذه َبُ الدَه رُ حَتَّی یَملِکَ العَرَبَ رَجُلٌ مِن اهل بیتی یواطی اِسمُه ُ اِسمِی ۔(۱۳)
رسول گرامی ﷺ کا ارشاد پاک ہے: ایام تمام نہ ہوں گے اور زمانہ اس وقت تک ختم نہ ہوگا جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد کی عرب پر سلطنت قائم نہ ہوجائے اور وہ میرا ہمنام ہوگا۔
میرے اہل بیت میں سے ایک مرد ولی و سرپرست بن جائے گا
۴ ۔ ترمذی(۱۴) نے مسنداً روایت کی ہے کہ "عن النبیﷺ قال: "یَلِی رَجُلٌ مِن اهل بَیتِی یُواطی اِسمُه ُ اِسمی "
نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میرے اہل بیت میں سے ایک مرد جو میرا ہمنام ہوگا ولی و سرپرست بنے گا۔
قیامت برپا نہ ہوگی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد ولی و سرپرست نہ بن جائے
۵ ۔ احمد بن حنبل(۱۵) نے عاصم سے انہوں نے زر سے انہوں نے عبد اللہ سے اور انہوں نے رسول خدا ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپﷺنےفرمایا:
"لَا تَقُومُ السّاعَةُ حتّی یلی رَجُلٌ مِن اهل بیتی یُواطی اسمُه ُ اِسمی "
اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک مر دولی و سرپرست (اولیٰ بالتصرف) نہ بن جائے، اور وہ میرا ہمنام ہوگا۔
مہدی میری امت میں ہیں
۶ ۔ ترمذی(۱۶) ، ابو سعید خدری سے مسنداً روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ہم پیغمبر ؐ کے بعد رونما ہونے والے واقعات سے خائف تھے اسی لئے ہم نے حضور سرور کائنات سے سوال کیا تو آپؐ نے فرمایا:
"اِنَّ فی اُمَّتِی المَه دی یخرُجُ یعیشُ خَمساً اَو سَبعاً اَو تسعاً "
بیشک مہدی میری امت میں خروج کرنے والے ہیں اور وہ ۵ ، ۷ یا ۹ سال زندہ رہیں گے۔
نکتہ: حضرت مہدی (عج) کی مدت خلافت کے بارے میں ہم انشاء اللہ باب نہم میں بحث کریں گے اور کتب اہل سنت میں موجود اختلاف روایات بھی بیان کریں گے۔ لیکن یہاں صرف اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ ممکن ہے کہ عدد ۵ ، ۷ اور ۹ میں اختلاف پیغمبر اکرمﷺ کی جانب سے نہ ہو بلکہ راوی (ابو سعید خدری) کی جانب سے ہو کیونکہ اس باب میں ابو سعید خدری سے نقل ہونے والی دیگر کثیر روایات کو ملاحظہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں تصریح موجود ہے کہ حضرت مہدی کی خلافت و سلطنت سات سال ہے۔ اس کے علاوہ اسی باب کی نویں روایت اور علامہ مجلسی(۱۷) کی روایت بھی اس بات کی تائید کر رہی ہے۔
میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک فرد مبعوث ہوگا
۷ ۔ ابو داؤد(۱۸) ، شیخ سلیمان بلخی(۱۹) اور مؤمن شبلنجی مصری(۲۰) مسنداً حضرت علی علیہ السلام کے توسط سے پیغمبر گرامی قدر ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا:
"لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا يَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرا "
اگر روزگار زمانہ میں سے ایک دن سے زیادہ باقی نہ بچے تب بھی پروردگار عالم اس دن میرے اہل بیت میں سے ایک فرد کو مبعوث کرے گا جو ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
شیخ سلیمان کہتے ہیں: ابو داؤد، احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی س روایت کو نقل کیا ہے۔
مہدی حاکم و خلیفہ عرب، میرا ہمنام ہے
۸ ۔ ابو داؤد(۲۱) نے عاصم سے انہوں نے زر سے انہوں نے عبد اللہ سے انہوں نے نبی کریمﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"لا تَذه َبُ اَو لا تَنقَضی الدُّنیا حَتّی یملِکَ العَرَبَ رَجُلٌ مِن اهل بِیتی یُواطی اِسمُه ُ اِسمی "
اس وقت تک دنیا کاخاتمہ نہ ہوگا جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد حاکم و خلیفہ نہ بن جائے اور وہ میرا ہمنام ہوگا۔
نکتہ: امام احمد ابن حنبل(۲۲) نے عاصم سے انہوں نے زر سے انہوں نے عبد اللہ سے یہی روایت نقل کی ہے لیکن اس میں لفظ "اسمُہُ اسمی" نہیں ہے۔ اور اسی کتاب(۲۳) میں ایک اور مقام پر دوسرے طریق و سند کے ساتھ اس روایت کو نقل کیا ہے۔
مہدی موعود مجھ سے ہے
۹ ۔ ابو داؤد(۲۴) ، ابو سعید خدری سے مسنداً روایت کرتے ہیں:"قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ الْمَهْدِيُّ مِنِّي وَ هُوَ أَجْلَى الْجَبْهَةِ أَقْنَى الْأَنْفِ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْراً يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِين "
رسول اکرمﷺ نے فرمایا: مہدی مجھ سے ہیں، ان کی پیشانی کشادہ، ناک لمبی ہوگی، جس طرح زمین ظلم و جور سے بھری ہوگی اسے اسی طرح عد ل و انصاف سے بھر دیں گے اور وہ سات سال خلافت و حکومت کریں گے۔
حاکم نیشاپوری(۲۵) نے تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ اپنی کتاب میں اس روایت کو نقل کیا ہے اور اسی طرح متقی ہندی(۲۶) نے بھی اپنی کتاب میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔
تمہارا امام تمہارے درمیان
۱۰ ۔ بخاری(۲۷) ابو قتادہ انصاری سے روایت کرتے ہیں:
"اِنَّ اَبا ه ُرَیۡرَة قالَ قالَ رَسُولُ الله ِ ﷺ: كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَ إِمَامُكُمْ مِنْكُمْ "
ابو ہریرہ نے کہا کہ پیغمبر اکرمﷺ نے فرمایا: تمہیں کیسے لگے گا جبکہ فرزند مریم عیسیٰ تمہارے درمیان نازل ہوں گے اور تمہارے امام مہدی موعود تم میں سے ہوں گے۔
نکتہ: شیخ منصور علی ناصف(۲۸) از علمائے الازہر مصر کا کہنا ہے کہ جس خلیفہ کے دورۂ خلافت میں حضرت عیسیٰ نازل ہوں گے یقیناً وہ مہدی موعود رضی اللہ عنہ ہوں گے۔
مسلم(۲۹) ، مؤمن شبلنجی(۳۰) ، اور شیخ سلیمان بلخی حنفی(۳۱) نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے۔ نیز محمد طلحہ شافعی نے مطالب السؤل باب ۱۲ میں اس روایت کو قاضی ابو محمد حسین بغوی مؤلف شرح السنۃ سے نقل کیا ہے۔
خداوند ایک رات میں مہدی کے لئے راہ ہموار کردے گا
۱۱ ۔ ابن ماجہ(۳۲) نے محمد حنفیہ کے توسط سے امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے اور انہوں نے رسول خداﷺ سے روایت فرمائی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
"الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ "
مہدی ہم اہل بیت سے ہیں اور خداوند عالم ان کے لئے ایک رات میں زمینہ ہموار کردیگا۔(۳۳)
یہ روایت صحیحہ متقی ہندی(۳۴) نے احمد ابن حنبل کے توسط سے بطریق ابن ماجہ، امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔ نیز سیوطی جامع الصغیر میں حدیث ۹۲۴۳ نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ روایت صحیح السند ہے اور اسے احمد ابن حنبل اور ابن ماجہ نے نقل کیا ہے: شیخ سلیمان بلخی(۳۵) نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے۔
ایک فرقہ نجات پائے گا
۱۲ ۔ متقی ہندی(۳۶) نے رسول اکرمﷺ سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے عوف بن مالک سے فرمایا:
"کَیفَ اَنتُم یا عَوفُ ؟اِذا اَفتَرقَت الۡاُمَّةُ عَلی ثَلاث وَ سَبعینَ فِرقَه ، واحِدَةٌ مِنه ا فِی الجَنَّه ِ وَ سائِرُه ُنَّ فِی النَّارِ – ثُمَّ ذَکَرَ بَعض فَتنِ آخِرِ الزَّمانِ اِلی اَن قالَ: ثُمَّ تَتَبَّعَ الفِتَنُ بَعضُه ا بَعضاً حَتّی یخرُجَ رَجُلٌ مِن اهل بَیتِی یقالُ لَه ُ المَه دی فَاِن اَدرَکتَه ُ فاَتَّبِعه ُ وَکُن مِنَ المُه تَدینَ "
اے عوف تمہیں کیسا لگے گا جب میری امت تہتّر فرقوں میں بٹ جائے گی ان میں سے ایک فرقہ جنت میں اور باقی تمام فرقے جہنم میں جائیں گے، پھر آنحضرت نے آخر الزمان کے چند فتنوں کا تذکرہ فرمایا اور پھر فرمایا: ان فتنوں کا سلسلہ جاری رہیگا یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد خروج کرے گا جسے مہدی کہتے ہیں۔ پس اگر تم نے ان کے زمانے کو درک کرلیا تو ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا تاکہ تم ہدایت پانے والوں میں سے ہوجاؤ۔
زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی
۱۳ ۔ احمد ابن حنبل(۳۷) نے مسنداًٍ ابو الصدیق کے توسط سے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
"تَمْلَأُ الْأَرْضُ ظُلْماً وَ جَوْراً ثُمَّ یخرُجُ رَجُلٌ مِنْ عِتْرَتِي یملِکُ سَبعاً اَو تِسعاً فَيَمْلَاُ الارضَ قِسْطاً وَ عَدْلاً "
جب زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی تو اس وقت میری عترت میں سے ایک مرد خروج کرے گا جو سات یا نو سال حکومت کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
حاکم(۳۸) نے اسی روایت کو ابو سعید خدری سے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ روایت مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے نقل نہیں کیا ہے۔
آخر الزمان میں بلائے شدید
۱۴ ۔ حاکم نیشاپوری(۳۹) مسنداً ابو الصدیق ناجی کے ذریعے ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا:
"یُنَزِّلُ بِاُمتی فی آخِرِ الزّمانِ بَلاءٌ شَدیدٌ من سُلطانِه ِم لَم یُسۡمَعۡ بَلاءٌ اَشدُّ منه ُ حَتّی تَضیقَ عَنه ُمُ الۡاَرضُ الرَّحبَه و حَتّی یُمۡلَاَ الاَرضُ جُوراً وَ ظُلماً لا یجِدَ المؤمن یلتَجِی اِلَیه ِ مِنَ الظُّلم فَیبعَثُ الله ُ عَزَّوَجَلَّ رَجُلاً مِن عِترَتی فَیملَاُ الاَرضَ قِسطاً وَ عَدلاً کَما مُلِئَت ظُلماً و َجَوراً اِلی آخرِ الرِّوایَةِ "
آخر زمانہ میں میری امت پر سلطان و حاکم کی جانب سے اتنی شدید مصیبتیں پڑیں گی کہ اس سے پہلے کسی نے ان کا نام بھی نہ سنا ہوگا اور زمین ان پر تنگ ہوجائے گی، اور پھر زمین اس طرح ظلم و ستم سے بھر جائے گی کہ مؤمنین کے لئے کوئی جائے پناہ و امن باقی نہ رہے گی، اس وقت پروردگار عالم میری عترت میں سے ایک مرد کو مبعوث کرے گا جو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی ۔۔۔ تا آخر روایت۔
شیخ سلیمان حنفی بلخی نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے۔(۴۰)
بیت المال کی مساوی و عادلانہ تقسیم
۱۵ ۔ احمد ابن حنبل(۴۱) نے ابو الصدیق ناجی کے توسط سے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا:
"أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي عَلَى اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَ زَلَازِلَ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَ سَاكِنُ الْأَرْضِ يَقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحاً فَقَالَ لَه رَجُلٌ مَا صِحَاحاً قَالَ بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ اِلی آخِرِ الرَّوایه "
رسول اکرمﷺ نے فرمایا: میں تمہیں مہدی (عج) کی بشارت دے رہا ہوں وہ اس وقت میری امت میں مبعوث ہوں گے جب لوگوں کے درمیان اختلاف سر اٹھالیں گے اور ان کے عقائد متزلزل ہو رہے ہوں گے وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح ظلم و جور سے بھری ہوگی، زمین و آسمان کے رہنے والے ان سے راضی ہوں گے، وہ لوگوں میں بیت المال کو "صحاحاً" تقسیم کریں گے۔
کسی نے سوال کیا یا رسول اللہ! "صحاحا" سے کیا مراد ہے؟
آنحضرت نے فرمایا: یعنی لوگوں میں مساوی تقسیم کریں گے ۔۔۔ تا آخر روایت۔
زمین کو عدل سے بھر دیں گے جس طرح ظلم سے بھری ہوگی
۱۶ ۔ احمد ابن حنبل(۴۲) نے مسنداً ناجی کے ذریعے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے:
"قال رسول الله ﷺ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي اَجلی اَقنی یملَاُ الاَرضَ عَدلاً کَمامُلِئَت قَبلَه ُ ظُلماً یکوُن سَبعَ سنینَ "
رسول خدا ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ میرے اہل بیت سے ایک مرد حاکم نہ بن جائے کہ جس کی پیشانی کشادہ اور ناک لمبی ہوگی۔ وہ زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ اس سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ وہ سات سال رہیں گے۔
جب زمین دشمنیوں سے بھر جائے گی تو مہدی خروج کریں گے
۱۷ ۔ حاکم(۴۳) نے ابو الصدیق ناجی کے ذریعے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے:
"قال رسول الله ﷺ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتی تُمۡلَاَ الۡاَرضُ ظُلماً وَ جَوراً وَ عُدواناً ثُمَّ یخرُجُ مِنۡ اَه ۡلِ بَیتِی مَنۡ یَمۡلَاُه ا قِسطاً وَ عَدلاً کَما مُلِئَت ظُلماٍ وَ عُدواناً "
رسول خداﷺ نے فرمایا: قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ زمین ظلم و جور اور عداوت و دشمنی سے بھر جائے گی پھر میرے اہل بیت میں سے ایک مرد خروج کرے گا جو ظلم و جور اور عداوت و دشمنی سے بھری ہوئی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
منکر مہدی، منکر رسالت ہے
۱۸ ۔ شیخ سلیمان حنفی بلخی(۴۴) ، بسند شیخ ابو اسحاق کلابادی بخاری، جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کرتے ہیں:
"قال رسول الله ﷺ: مَن اَنکَرَ خُروُجَ الۡمَه ۡدی (عج) فَقَد کَفَرَ بِما اَنزَلَ عَلی مُحمّد وَ مَن اَنکَرَ نُزُولَ عیسی فَقَد کَفَرَ وَ مَن اَنکَرَ خُرُوجَ الدَّجّال فَقَد کَفَرَ "
رسول اکرمﷺ نے فرمایا: جس نے خروج مہدی کا انکار کیا اس نے پیغمبر ؐ پر نازل ہونے والی ہر شئ کا انکار کیا، اسی طرح نزول عیسیٰ کا انکار کرنے والا کافر ہے نیز دجّال کا انکار کرنے والا کافر ہے۔
حضرت مہدی کی تکذیب کرنے والا کافر ہے
۱۹ ۔ ابو بکر اسکافی نے کتاب فوائد الاخبار میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے:
"قال رسول الله ﷺ: مَن کَذَّبَ بِالدَّجّال فَقَد کَفَرَ وَ مَن کَذَّبَ بِالمَه دی (عج) فَقَد کَفَرَ "
رسول اکرمﷺ نے فرمایا: دجّال کی تکذیب کرنے والا کافر ہے، اسی طرح مہدی (عج) کی تکذیب کرنے والا کافر ہے۔
حقیقی اسلام مہدی کے ذریعہ ظاہر ہوگا
۲۰ ۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی(۴۵) نے صاحب اربعین کے توسط سے حذیفہ بن الیمان سے روایت کی ہے: "سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِﷺ يَقُولُ: وَيْحَ هَذِهِ الْأُمَّةِ مِنْ مُلُوكٍ جَبَابِرَةَ كَيْفَ يَقْتُلُونَ وَ یطرُدُونَ المُسلمِینَ يَا حُذَيْفَةُ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُظْهِرُ الْإِسْلَامَ وَ لَا يُخْلِفُ وَعْدَهُ وَ هُوَ عَلی وَعده ِ قَدیرٌ "
میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا، آپؐ نے فرمایا: وائے ہو امت کے ظالم بادشاہوں پر کہ وہ کس طرح مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں اور ان کا استحصال کرتے ہیں ۔۔۔ اے حذیفہ، اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے گا تو خداوند عالم اس ایک دن کو اتنا طولانی کردے گا یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد حاکم بن جائے گا وہ ہی اسلام کو ظاہر کرے گا اور یاد رکھو خداوند عالم نے ہرگز اپنے وعدے کی مخالفت نہیں کی وہ ہر شئ پر قادر و توانا ہے۔
نکتہ: اسی قسم کی روایت متقی ہندی نے اپنی کتاب "البرہان فی علامات مہدی آخری الزمان" باب دوم میں اور علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں کشف الغمہ سے نقل کی ہے۔
مہدی ہم سے ہیں اور دین ہم پر تمام ہوگا
۲۱ ۔ گنجی شافعی(۴۶) نے عبد الرحمن بن حاتم سے انہوں نے نعیم بن حماد سے انہوں نے علی بن حوشب سے انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب‘سے روایت کی ہے:
"قُلتُ یا رَسُولَ الله اَمِنَّا الِ مُحَمَّدٍ اَلمَه دی اَم مِن غَیرِنا؟ فَقال رَسُولُ الله ِ ﷺ :لا بَلۡ مِنّا بِنا یختِمُ الله ُ الدّینَ کَما فَتَحَ الله بِنا وَ بِنا یُنقَذُونَ عَنِ الۡفِتۡنَةِ کَما اَنقَذُوا مِنَ الشِّرکِ وَ بِنا یوَلِّفُ الله ُ بَینَ قُلُوبِه ِم بَعدَ عَداوَةِ الۡفِتۡنَةِ اِخواناً کَما اَلَّفَ بِنا بَینَ قُلُوبِه ِم بَعدَ عَداوَةِ الشِّرۡکِ وَ بِنا یصبَحُونَ بَعدَ عَداوَةِ الۡفِتۡنَه اِخواناً کَما اَصبَحُوا بَعدَ عَداوَةِ الشِّرکِ اِخواناً "
حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبر گرامی قدرﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا: یا رسول اللہ کیا مہدی موعود ہم آل محمد سے ہیں یا دوسروں میں سے؟ حضور ؐ نے فرمایا: بیشک ہم میں سے ہیں۔ دین خدا ہم ہی پر تمام ہوگا جس طرح خالق کائنات نے دین کی ابتدا بھی ہم ہی سے کی تھی۔ جس طرح لوگوں نے ہمارے ذریعے شرک سے نجات پائی اسی طرح ہمارے ہی وسیلہ سے فتنہ سے نجات پائیں گے۔ جس طرح لوگوں نے ہمارے ذریعے عداوت شرک سے نجات پائی اور ان کے دلوں میں محبت و الفت قائم ہوئی اسی طرح لوگ ہمارے ذریعے عداوت فتنہ سے نجات پائیں گے اور ان کے دلوں میں محبت و الفت قائم ہوجائے گی، اور جس طرح لوگ ہمارے ذریعے عداوت شرک سے نجات پاکر ایک دوسرے کے بھائی بن گئے تھے اسی طرح ہمارے ذریعے عداوت فتنہ کے بعد ایک دوسرے کے بھائی بن جائیں گے۔
نکتہ: یہی روایت شیخ سلیمان بلخی حنفی(۴۷) اور شبلنجی(۴۸) نے بھی نقل کی ہے۔
مہدی موعود (عج)، سلطان جبل الدیلم و قسطنطنیہ
۲۲ ۔ متقی ہندی(۴۹) نے روایت کی ہے:
"قال رسول الله ﷺ: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنیا اِلّا یَوۡمٌ لَطَوَّلَه ُ اللَّهُ تَعالی حَتّی یملِکَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي جَبَلَ الدّیلَم وَ القُسطَنطَنیه "
رسول اکرمﷺ نے فرمایا: اگر دنیا کی مدت ایک دن سے زیادہ باقی نہ بچے تو خدا اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد سلطانِ جبل الدیلم و قسطنطنیہ بن جائے۔
نکتہ: اسی روایت کو ابن ماجہ نے ابو ہریرہ سے اور ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں آیہ "الثانیہ عشر" کے عنوان سے نقل کیا ہے۔
مہدی موعود (عج) اہل بیت میں سے ہیں
۲۳ ۔ صاحب ینابیع المودۃ(۵۰) نے مرفوعاً ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا:
"اَلمَه دی مِنّا اهل البَیتِ اَشُمُّ الاَنف یُملَاُ الاَرضَ عَدلاً کَما مُلِئَت جَوراً "
مہدی ہم اہل بیت علیھم السلام میں سے ہیں، ان کی ناک لمبی ہوگی، وہ ظلم و جور سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
نکتہ: اسی روایت کو یوسف بن یحیی مقدس شافعی(۵۱) نے "رَجُلٌ مِن أمَّتِی " کے اضافہ کے ساتھ نقل کیا ہے۔
قتل علی علیہ السلام سے دین فاسد ہوجائے گا یہاں تک کہ مہدی اصلاح کریں
۲۴ ۔" قال رسول الله ﷺ: اِنَّ الله َ فَتَحَ ه َذا الدَّین بِعَلی وَ اِذا قُتِلَ فَسَدَ الدّینُ وَلا یُصۡلِحُه ُ اِلّا المَه دی (عج)"
ینابیع المودۃ(۵۲) نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا: بیشک خداوند عالم نے علی علیہ السلام کے ذریعے اس دین کو کامیابی عطا کی ہے اور جب علی علیہ السلام قتل کئے جائیں گے تو دین فاسد ہوجائے گا اور پھر مہدی کے بغیر اس کی اصلاح ناممکن ہوگی۔
نکتہ: ہماری کتاب "اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام " پڑھنے سے محترم قارئین پر اس روایت کی حقیقت اظہر من الشمس ہوجائے گی۔
مہدی، فرزند حسین ہیں
۲۵ ۔ صاحب ینابیع المودۃ(۵۳) نے امیر المؤمنین علی بن ابی طالب‘سے روایت کی ہے کہ :"قال رسول الله ﷺ: لا تَذه َبُ الدُّنیا حَتّی یقوُمَ بِاُمَّتی رَجُلٌ مِن وُلدِ الحُسَینِ یملَاُ الاَرضَ عَدلاً کَما مُلِئَت ظُلماً "
دنیا اس وقت تک تمام نہ ہوگی جب تک کہ فرزندان حسین سے میری امت میں سے ایک شخص قیام نہ کرے، وہ ظلم و جور سے بھری دنیا کو عدل و انصار سے بھر دیں گے۔
سلمان فارسی کا سوال، مہدی کس کے فرزند ہیں؟
۲۶ ۔ "عَنْ حُذَيْفَةِ الیمان قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَذَكَّرَ لَنَا مَا هُوَ كَائِنٌ الی یومِ القِیامَةِ ثُمَّ قَالَ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَبْعَثَ الله ُ رَجُلًا مِنْ وُلْدِي اِسْمُهُ اسْمِي فَقَامَ سَلْمَان وَ قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ اِنَّه ُ مِنْ أَي وُلْدِكَ قَالَ ﷺ: ه ُوَ مِنْ وُلدي هَذَا وَ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى الْحُسَيْنِ "
شیخ سلیمان بلخی(۵۴) حنفی نے روایت کی ہے کہ حذیفہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرمﷺ ہمیں خطبہ دے رہے تھے اور قیامت تک ہونے والے واقعات کی خبر دے رہے تھے پھر آپؐ نے فرمایا:
"اگر دنیا ایک دن سے زیادہ باقی نہ رہے تو خدا اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا یہاں تک کہ پروردگار عالم میری اولاد میں سے میرے ہمنام فرزند کو مبعوث کرے گا۔ اس موقع پر سلمان فارسی نے کھڑے ہوکر سوال کیا، یا رسول اللہ وہ آپؐ کے کس فرزند کی ا ولاد میں سے ہوگا؟
آنحضرت نے حسینؑ کے دوش مبارک پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا: میرے اس فرزند کی اولاد سے۔
یہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جبکہ مہدی ان کے درمیان ہوں
۲۷ ۔ ابن عساکر(۵۵) نے ابن عباس سے روایت کی ہے:
"قال رسول الله ﷺ: کَیفَ تَه لِکُ اُمَّةٌ اَنَا فِی اَوَّلِه ا وَ عیسی فِی اخِرِه ا وَ المَه دی فِی وَسَطِه ا "
رسول خدا نے فرمایا: یہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جبکہ میں اس امت کے اول، عیسیٰ آخر اور مہدی درمیان میں ہوں۔
نکتہ: یہ فرمانا کہ عیسیٰ آخر میں ہوں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب مہدی موعود خروج کریں گے تو شیعہ و سنی روایات کے مطابق حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہوں گے اور حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور ان کے اصحاب میں شامل ہوجائیں گے۔
نکتہ: عالم اہل سنت متقی ہندی صاحب(۵۶) نے ابو نعیم کے توسط سے ابن عباس سے ایسی ہی ایک روایت اس فرق کے ساتھ نقل کی ہے کہ ابتدائے حدیث میں یہ عبارت ہے : "لَن تَھلِکَ؛ امت ہرگز ہلاک نہ ہوگی" نیز کتاب "سیرۃ الحلبیۃ(۵۷) " میں بھی یہ روایت نقل کی گئی ہے۔
"مہدیؑ" پروردگار کی جانب سے ہمیں عطا کردہ سات خصال میں سے ہیں
۲۸ ۔ "دَخَلَتۡ فاطِمَةُ عَلی اَبیه ا فی مَرَضِه وَ بَکَت وَ قَالت یا اَبی اَخشَی الضَّیۡعَةَ مِن بَعدِکَ فَقال یا فاطَمَةُ اِنَّ الله اِطَّلَعَ الی اهل الارضِ اِطَّلاعَةً فَاختارَ مِنه ُم اَباکِ فَبَعَثَه ُ رَسُولاً ثُمَّ اِطَّلَعَ ثانیَةً فَاختارَ مِنه ُم بَعلَکِ فَاَمَرَنِی اَن اُزَوِّجَکِ مِنه ُ فَزَوَّجۡتُکِ وَ ه ُوَ اَعظَمُ المُسلِمینَ حِلماً وَ اکثَرُه ُم عِلۡماً وَ اَقدَمُه ُم اِسلاماً اِنّا اهل بَیتٍ اَعطَانا سَبعَ خِصالَ لَم یعطِه ا مِنَ الاَوَّلینَ وَلا یدرِکه ا اَحَدٌ مِنَ الاخرِینَ نَبینا خَیرُ الانبیاءِ وَ ه وَ اَبُوکِ وَ وَصیُّنا خَیرُ الاَوصیاءِ وَ ه ُوَ بَعۡلُکِ وَ شَه یدُنا خَیر الشُه َداءِ وَ ه ُوَ عَمّ اَبیکِ حَمۡزَةُ وَ مِنّا مَنۡ لَه ُ جَناحانِ یطیرُ بِه ِما فِی الجَنّةِ حَیثُ یشاءُ وَه ُوَ جَعۡفَرُ وَ مِنّا سِبطا ه ذِه ِ الامّه وَ ه ُما اِبۡناکِ وَ مِنّا مَه دی ه ذِه ِ الاُمَّة "
شیخ سلیمان بلخی حنفی(۵۸) بذریعہ کتاب "غایۃ المرام"، سمعانی کی کتاب "فضائل الصحابہ میں ابو سعید خدری سے نقل کردہ روایت کو نقل کرتے ہیں : "آنحضرت (قبل از رحلت) بستر بیماری پر تھے کہ اسی اثنا میں فاطمہ زہرا تشریف لائیں اور باپ کو دیکھ کر گریہ کناں ہوگئیں او عرض کرنے لگیں: اے بابا جان آپ کے بعد امت میں آپ کی عدم موجودگی سے خائف ہوں۔ حضور نے فرمایا: خداوند عالم نے بھرپور مشاہدہ کے بعد اہل زمین میں سے تمہارے باپ کو منصب رسالت کے لئے انتخاب کیا ہے پھر بھرپور مشاہدہ کے بعد تمہارے شوہر کا انتخاب کیا ہے پھر اس نے مجھے ان سے تمہاری شادی کا حکم دیا تو میں نے اس کے حکم پر عمل کرتے ہوئے تمہاری شادی کردی، تمہارے شوہر سب سے زیادہ عالم اور بردبار ہیں۔ اعلان اسلام کرنے میں سب پر مقدم ہیں۔ خداوند عالم نے ہم اہل بیت کو سات ایسی خصال و خصوصیات عطا کی ہیں جو اوّلین و آخرین میں کسی کو عطا نہیں کی ہیں۔ ہمارے نبی تمام انبیاء سے بہتر ہیں اور وہ تمہارے والد ہیں۔ ان کا وصی، تمام نبیوں کے اوصیاء سے افضل ہے اور وہ تمہارے شوہر ہیں۔ ہمارا شہید تمام شہداء سے افضل ہے اور وہ تمہارے والد کے چچا حمزہ ہیں۔ بہشت میں جسے آزادانہ گھومنے کے لئےخداوند عالم نے پَر عطا کئے ہیں وہ جعفر بھی ہم ہی سے ہیں۔ اس امت کے دو سِبط ہم ہی میں سے ہیں اور وہ تمہارے بیٹے ہیں اور اس امت کے مہدی ہم میں سے ہیں۔
____________________
۱ ۔فضائل امیر المؤمنین معروف بہ مناقب، ص ۳۵، طبع ۱۳۱۳ ھ ق۔
۲ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۵، ص ۴۴۰، طبع ہشتم، دار الکتب العراقیہ۔
۳ ۔ سورہ توبہ، ۳۔
۴ ۔سورہ مائدہ، ۶۷۔
۵ ۔اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی ؑ، ہادی عامری، انتشارات پیام حجت، ص ۲۶ تا ۴۵۔
۶ ۔ایضاً، ص ۶۷ تا ۷۵۔
۷ ۔فصول المہمہ، ابن صباغ مالکی، ص ۱۲۵۔
۸ ۔اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علیؑ، ہادی عامری، انتشارات پیام حجت، ص ۵۹ تا ۶۶۔
۹ ۔صحیح، ج۲، ص ۴۶، باب ما جاءَ فی المہدی، طبع دہلی ۱۳۴۲ ھ ق۔
۱۰ ۔صحیح، باب خروج مہدی؛ و ابو داؤد در کتاب صحیح، ج۲، ص ۲۱۷ طبع مصر۔
۱۱ ۔صحیح بخاری ج۲، باب نزول عیسیٰ، مؤمن شبلنجی در نور الابصار باب ۲، ص ۱۵۴۔
۱۲ ۔ینابیع المودۃ، ص ۴۳۲؛ مطالب السؤل، باب۲۔
۱۳ ۔ مسند احمد ابن حنبل، ج۱، ص ۳۷۶۔
۱۴ ۔صحیح ترمذی، ج۲، ص ۴۶، باب ما جاء فی المہدی، طبع دہلی، ۱۳۴۲ھ۔
۱۵ ۔مسند، ج۱، ص ۳۷۶، طبع مصر ۱۳۱۳ ھ ق۔
۱۶ ۔ صحیح، ج۲، ص ۴۶، طبع دہلی ۱۳۴۲ ھ ق۔
۱۷ ۔ بحار الانوار، ج۵۱، ص ۷۸۔
۱۸ ۔صحیح ج۲، ص ۲۰۷، کتاب المہدی، طبع مصر مطبعہ التازیہ۔
۱۹ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۳، ص ۴۳۲، طبع ہشتم دار الکتب العراقیہ ۱۳۸۵ ھ ق۔
۲۰ ۔نور الابصار، باب ۲، ص ۱۵۴۔
۲۱ ۔ صحیح، ج۲، ص ۲۰۷، کتاب المہدی، طبع مصر مطبعۃ التازیہ۔
۲۲ ۔ مسند، ج۱، ص ۳۷۷، طبع مصر ۱۳۱۳ ھ ق۔
۲۳ ۔مسند، ج۱، ص ۴۳۰۔
۲۴ ۔صحیح، ج۲، ص ۲۰۸۔
۲۵ ۔ مستدرک صحیحین، طبع حیدر آباد، سال ۱۳۳۴ ھ ق، ج۴، ص ۵۵۷۔
۲۶ ۔ منتخب کنز العمال، ج۶، ص ۳۰۔
۲۷ ۔صحیح بخاری، ج۲، کتاب بدء الخلق فی باب نزول عیسیٰ بن مریم۔
۲۸ ۔شرح التاج الجامع للاصول۔
۲۹ ۔صحیح مسلم، ج۱، باب نزول عیسیٰ۔
۳۰ ۔ نور الابصار، باب ۲، ص ۱۵۴۔
۳۱ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۲، ص ۴۳۲، طبع ہشتم دار الکتب العراقیہ سال ۱۳۸۵ ھ ق۔
۳۲ ۔صحیح ابن ماجہ، ج۲، باب خروج المہدی من ابواب الفتن۔
۳۳ ۔ یہاں علماء نے تین احتمال بیان کئے ہیں:
۱. لیلۃ یعنی وقت معلوم نہیں ہے۔
۲. بعض روایات میں "لیلۃ واحدۃ" آیا ہے یعنی ایک رات میں مقدمات فراہم کردیگا (فصول المہمہ ابن صباغ مالکی، ج۲، ص ۵)
۳. شاید رات سے مراد ظلم کی انتہا ہو، یعنی جب دنیا ظلم و ستم سے بھر جائے گی تو مہدی موعود کا ظہور ہوجائے گا۔
۳۴ ۔کنز العمال، ج۶، ص ۳۰۔
۳۵ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۳، ص ۴۳۲، طبع ہشتم، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ ق۔
۳۶ ۔منتخب کنز العمال، ج۵، ص ۴۰۴ بر حاشیہ مسند احمد ابن حنبل۔
۳۷ ۔ مسند، ج۳، ص ۲۸، طبع مصر، سال ۱۳۱۳ ھ ق۔
۳۸ ۔الفتن و الملاحم، ج۴، ص ۵۵۸، از کتاب مستدرک طبع حیدر آباد۔
۳۹ ۔مستدرک علی الصحیحین، ج۴، ص ۴۶۵، طبع حیدر آباد دکن سال ۱۳۳۴ ھ ق۔
۴۰ ۔ینابیع المودۃ باب۷۲، ص ۳۴۱، طبع ہشتم دار الکتب العراقیہ سال ۱۳۸۵ ھ ق۔
۴۱ ۔ مسند ج۳، ص ۳۷، طبع مصر سال ۱۳۱۳ ھ ق۔
۴۲ ۔مسند احمد، ج۳، ص ۱۷، طبع مصر، سال ۱۳۱۳ ھ ق۔
۴۳ ۔ مستدرک علی الصحیحین، ج۴، ص ۵۵۷؛ الفتن و الملاحم/ طبع حیدر آباد دکن ۱۳۳۴ ھ ق۔
۴۴ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۸، ص ۴۴۷، طبع ہشتم، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ ق از فرائد السمطین حموینی۔
۴۵ ۔ینابیع المودۃ، باب۷۸، ص ۴۴۸، طبع ہشتم، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ ق۔
۴۶ ۔ محمد بن یوسف گنجی شافعی البیان فی اخبار صاحب الزمان۔
۴۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۹۴، ص ۴۹۱، طبع ہشتم۔
۴۸ ۔مؤمن شبلنجی، نور الابصار، باب۲، ص ۱۵۵۔
۴۹ ۔منتخب کنزل العمال، ج۶، ص ۳۰۔
۵۰ ۔ینابیع المودۃ، شیخ سلیمان حنفی بلخی، باب ۹۴، ص ۴۸۸، طبع دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ ق۔
۵۱ ۔ عقد الدُرَر، ص ۶۰، طبع مسجد مقدس جمکران سال ۱۴۲۵ ھ ق۔
۵۲ ۔ ینابیع المودۃ باب ۷۷، ص ۴۴۵۔
۵۳ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۷، ص ۴۴۵۔
۵۴ ۔ ینابیع المودۃ، باب ۷۸، ص ۴۴۸ و ۴۹۰، طبع ۱۳۸۵ ھ ق۔
۵۵ ۔تاریخ ابن عساکر، ج۲، ص ۶۲، طبع ۱۳۳۹ ھ۔
۵۶ ۔منتخب کنز العمال، ج۶، ص ۳۰۔
۵۷ ۔سیرۃ الحلبیۃ، ج۱، ص ۲۲۷، طبع مصطفی محمد در مصر۔
۵۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۹۴، ص ۴۹۰ طبع ہشتم دار الکتب العراقیہ سال ۱۳۸۵ ھ ق۔
بیان حقائق:
پیغمبر اکرمﷺ کی زبان وحی سے صادر ہونے والی اس روایت میں بہت اہم اور قابل توجہ نکات پوشیدہ ہیں مثلاً:
۱. پیغمبر اکرمﷺنے فرمایا: مجھے خداوند عالم نے حکم دیا ہے کہ میں علی ع سے تمہاری شادی کردوں۔ یہ امر پروردگار عالم کی نگاہ میں حضرت علی علیہ السلام کے بلند مقام و مرتبہ کی علامت ہے۔
۲. رسول خدا ؐ نے تصریح فرمائی ہے کہ علی علیہ السلام خیر الاوصیاء، علم و حلم میں سب سے افضل اور مسلم اول ہیں، اور ہم اسی کتاب کے گذشتہ صفحات اور کتاب اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ، میں بیان کرچکے ہیں کہ یہ روایت اور اس جیسی دیگر سینکڑوں روایات رسول خدا کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کی دلیل ہی نہیں بلکہ تصریح کر رہی ہیں۔ جیسا کہ اس کتاب کی ابتداء میں آپ یہ روایات ملاحظہ کرچکے ہیں۔
۳. بہترین خصال عالَم اسی خاندان سے وابستہ ہیں جن میں سے ایک حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف بھی ہیں۔ ہم اسی کتاب کے اگلے صفحات پر کتاب ینابیع المودۃ(۱) سے ایک روایت نقل کریں گے کہ پیغمبر ا سلام، حضرت علی و حضرت فاطمہ زہرا کی شادی کے موقع پر دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"مہدی میری عترت اور اولاد فاطمہ سے ہوں گے"
میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک شخص خروج کرے گا
۲۹ ۔ ابن عبد البر مالکی(۲) نے جابر الصدفی سے اور متقی ہندی(۳) روایت کرتے ہیں کہ رسول خداﷺنے فرمایا: "یخرُجُ رَجُلٌ مِن اَه لِبَیتی یملَاُ الاَرضَ عَدلاً کَما مُلِئَت جَوراً " میرے اہل بیت سے ایک ایسا شخص خروج کریگا جو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔
نکتہ: مؤمن شبلنجی(۴) نے اس روایت کو جابر بن عبد اللہ سے نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ روایت ابو نعیم نے کتاب فوائد اور طبرانی نے اپنی کتاب معجم میں نقل کیا ہے۔
مہدی موعود (عج) معصوم ہیں، وائے ہو ان سے بغض رکھنے والے پر
۳۰ ۔ صاحب ینابیع المودہ(۵) نے ابو طفیل بن عامر واثلہ (کے جس کے بارے میں اتفاق نظر ہے کہ یہ آخری صحابی پیغمبر ہیں جنہوں نے ۱۰۰ ہجری قمری میں انتقال پایا ہے) کے توسط سے حضرت علی علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے:
"قال رسول الله ﷺ: یا عَلی اَنتَ وَصیی حَربُکَ حَربی وَ سِلۡمُکَ سِلمی وَ اَنتَ الاِمامُ اَبُو الاَئِمَّه اَلۡاِحۡدی عَشَر اَلَّذینَ ه ُم المُطَه َّرُونَ اَلۡمَعۡصُومُونَ و مِنه ُم المَه دی اَلَّذی یملَاُ الاَرضَ قِسطاً وَ عَدلاً فَوَیلٌ لِمُبغِضیه ِم، یا عَلی لَو اَنَّ رَجُلاً اَحَبَّکَ وَ اَولادَکَ فِی الله لَحَشَرَه ُ الله ُ مَعَکَ وَ مَعَ اَولادِکَ وَ اَنتُم مَعی فی الدَّرَجاتِ العُلی وَ اَنتَ قَسیمُ الجَنَّةِ وَالنَّارِ تَدخُلُ مُحبّیکَ الجَنَّه َ وَ مُبغِضیکَ النّارَ "
رسول خداﷺنے فرمایا: اے علی! تم میرے وصی و جانشین ہو، تمہاری جنگ میری جنگ، تمہاری صلح میری صلح ہے، تم خود بھی امام ہو اور گیارہ ائمہ کے والد ہو جو سب کے سب پاک و پاکیزہ اور معصوم ہیں۔ انہی میں سے ایک مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہیں جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے پس ان سے بغض رکھنے والوں پر وائے ہو، اگرکوئی شخص تمہیں اور تمہاری اولاد کو اللہ کے لئے دوست رکھے گا تو بلاشبہ وہ تمہارے اور تمہاری آل کے ساتھ محشور ہوگا۔ اور تم (بارہ امام اپنے محبوں کے ہمراہ) درجات عالیہ پر میرے ہمراہ ہوں گے، اے علی علیہ السلام ! تم جہنم و جنت کو تقسیم کرنے والے ہو، بیشک تمہارے چاہنے والے داخل بہشت ہوں گے اور تم سے بغض رکھنے والے داخل دوزخ ہوں گے۔
بیان حقائق روایت "قسیم الجَنَّۃِ وَ النَّارِ"
اس روایت میں بہت سے قابل توجہ نکات پائے جاتے ہیں مثلاً:
۱. پیغمبر اکرمﷺ اس روایت میں امامت و وصایت علی علیہ السلام کی تصریح فرما رہے ہیں جو حضورؐ کے بعد خلافت بلافصل کی علامت ہے۔ پس اس کی روشنی میں حضرت عائشہ کا یہ فرمان باطل ہوجاتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے کوئی وصیت نہیں فرمائی، کیونکہ وصیت کے بغیر وصی کا معین کرنا غلط ہوگا لہذا حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان کی خلافت باطل قرار پائے گی۔
۲. پیغمبر اکرم ؐ نے اس روایت میں حضرت علی علیہ السلام کا تعارف امام اور گیارہ ائمہ کے والد کی حیثیت سے کروایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورؐ نے صرف حضرت علی علیہ السلام ہی کو اپنا جانشین معین نہیں کیا بلکہ ان کے بعد گیارہ ائمہ کا بھی تعیّن کردیا ہے پس حضرت ابوبکر ، عمر اور عثمان کی خلافت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔
۳. پیغمبر اکرمﷺنے اس روایت میں حضرت علی ع اور ان کے بعد گیارہ ائمہ کی عصمت و طہارت کی تصریح فرمائی ہے۔
۴. جیسا کہ اس روایت کے مطابق حضور سرور کائنات نے تصریح فرمائی ہے کہ مہدی موعود حضرت علی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں گے اس کی روشنی میں(بعض) اہل سنت کی یہ سعی لا حاصل قرار پائے گی کہ مہدی موعود فرزند علی علیہ السلام نہیں ہیں۔
۵. جیسا کہ رسول اکرم ؐ نے فرمایا ہے کہ علی علیہ السلام کے ساتھ جنگ میرے ساتھ جنگ ہے لہذا معاویہ اور دیگر افراد میں سے جس جس نے بھی حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کی ہے اس نے گویا رسول اللہ سے جنگ کی ہے۔
۶. اس روایت کی روشنی میں محبان علی علیہ السلام ان کے ہمراہ اور جنت میں پیغمبر اسلام کے ساتھ ہوں گے اور ان سے بغض رکھنے والے اور وہ جس نے حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کی خبر سن کر سجدۂ شکر ادا کیا، داخل دوزخ ہوں گے۔
۷. یہ وہ روایت ہے جسے علمائے اہل سنت نے نقل کیا اور تصریح کی ہے لیکن عملاً اسے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے اور شیعوں پر کذب و کفر اور ارتداد وغیرہ کی تہمتیں لگاتے ہیں۔
مہدی (عج) میری عترت میں سے ہوں گے اور وہ میری سنت کی خاطر جنگ کریں گے
۳۱ ۔ ینابیع المودہ(۶) نے صاحب جواہر العقدین سے حضرت عائشہ کے توسط سے نبی کریم سے روایت نقل کی ہے کہ آپﷺنے فرمایا:
"اَلمَه دی رَجُلٌ مِن عِترَتی یُقاتِلُ عَلی سُنَّتی کَما قاتَلۡتُ اَنا عَلَی الوَحی "
مہدی میری عترت میں سے ہوں گے وہ میری سنت کے لئے جنگ کریں گے جس طرح مجھے وحی کے خاطر جنگ کرنی پڑی ہے۔
نکتہ: صاحب ینابیع المودہ اس روایت کے ذیل میں رقمطراز ہیں کہ نصیر بن حماد نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے۔
اخلاق مہدی(عج)، اخلاق پیغمبر اکرم کی مانند ہے
۳۲ ۔ جناب متقی ہندی(۷) نے پیغمبر اسلامﷺ سے روایت نقل کی ہے:
"یخرُجُ رَجُلٌ مِن اهل بِیتی یُواطی اِسمُه ُ اِسمی وَ خُلقُه ُ خُلقی فَیَمۡلَاُه ا عَدلاً وَ قِسطاً کَما مُلِئَت ظُلماً وَ جَوراً " میرے اہل بیت میں سے ایک ایسا شخص خروج کرنے والا ہے جو میرے ہمنام ہوگا، اس کا اخلاق مجھ جیسا ہوگا پس وہ ہی ظلم و ستم سے بھری ہوئی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
نکتہ: یہ روایت طبرانی نے "الکبیر" میں ابن مسعود سے اور متقی ہندی نے کتاب البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان" میں طبرانی سے نقل کی ہے۔
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے دائیں رخسار پر تِل ہوگا
۳۳ ۔ ابو نعیم اصفہانی نے "اربعین حدیث فی المہدی" میں حدیث نہم اور علامہ اربلی نے کشف الغمہ میں حذیفہ بن یمانی کے توسط سے روایت کی ہے کہ رسول خداﷺنے فرمایا:
"الْمَهْدِيُّ رَجُلٌ مِنْ وُلْدِي لَوْنُهُ لَوْنٌ عَرَبِيٌّ وَ جِسْمُهُ جِسْمٌ إِسْرَائِيلِيٌّ عَلَى خَدِّهِ الْأَيْمَنِ خَالٌ كَأَنَّهُ كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً يَرْضَى فِي خِلَافَتِهِ أَهْلُ الْأَرْضِ وَ أَهْلُ السَّمَاءِ وَ الطَّيْرُ فِي الْجَوِّ "
مہدی میری اولاد میں سے ہوں گے جن کا رنگ عربی اور بدن اسرائیلی (سڈول جسم) ہوگا، ان کے دائیں رخسار پر تِل ہوگا وہ چمکتے ہوئے ستارہ کی مانند چمکیں گے اور ظلم سے بھری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ ساکنان زمین و آسمان اور ہوا میں موجود پرندے ان کی خلافت سے خوشحال ہوں گے۔
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا چہرہ درخشاں ستارے کی مانند ہوگا
۳۴ ۔ ابن حجر نے اپنی کتاب صواعق محرقہ میں اہل بیت علیھم السلام کی شان میں وارد شدہ آیات کو نقل کرکے بارہویں آیت کے ذیل میں رؤیانی و طبرانی وغیرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول خداﷺنے فرمایا:
"الْمَهْدِيُّ مِنْ وُلدِي وَجه ُه ُ کَالکَوبِ الدُّرّی اَللونُ لَوْنٌ عَرَبِيٌّ وَ الجِسمُ جِسْمٌ إِسْرَائِيلِيٌّ يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً يَرْضَى لِخِلَافَتِهِ أَهْلُ السَّمَاءِ وَ أَهْلُ الْأَرْضِ وَ الطَّيْرُ فِي الْجَوِّ ، یملِکُ عِشرین سَنَه "
مہدی میری اولاد میں سے ہوں گے، ان کا چہرہ کوکب دُرّی کی مانند ہوگا، ان کا رنگ عربی اور بدن اسرائیلی (سڈول بدن) ہوگا۔ ظلم سے بھری ہوئی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ ان کی خلافت کے زمانہ میں اہل زمین و آسمان اور ہوا کے پرندے تک خوشحال ہوں گے اور وہ بیس سال حکومت کریں گے۔
نکتہ: شیخ منصور علی ناصف از علمائے الازہر و مدرس جامع الزینی(۸) نے اسی روایت کو رویانی، ابو نعیم دیلمی اور طبرانی سے نقل کیا ہے اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کتاب "البیان فی اخبار صاحب الزمان" میں نقل کیا ہے اور کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور ہمارے نزدیک اس کی سند معروف ہے۔
زمانۂ غیبت میں امامت مہدی (عج) پر ثابت قدم رہنے والے یاقوت سرخ کی مانند ہیں
۳۵ ۔ شیخ سلیمان قندوزی(۹) نے مسنداً ثابت بن دینار سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے عبد اللہ بن عباس سے نقل کیا ہے:
"قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِنَّ عَلِياً إِمَامُ أُمَّتِي مِن بَعْدِي وَ مِنْ وُلْدِهِ الْقَائِمُ الْمُنْتَظَرُ الَّذِي ظَه َرَ يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدلاً وَ قِسْطاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً وَ الَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ بَشِيراً وَ نَذِيراً إِنَّ الثَّابِتِينَ عَلَى الْقَوْلِ بِاِمامَتِه ِ فِي زَمَانِ غَيْبَتِهِ لَأَعَزُّ مِنَ الْكِبْرِيتِ الْأَحْمَرِ فَقَامَ إِلَيْهِ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِوَلَدِكَ القائِمِ غَيْبَةٌ؟ قَالَ إِي وَ رَبِّي وَ لِيُمَحِّصُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ يَمْحَقُ الْكافِرِينَ يَا جَابِرُ إِنَّ هَذَا الأَمْرَ مِنْ الأَمْرِ اللَّهِ وَ سِرٌّ مِنْ سِرِّ اللَّهِ عِلْمُهُ مَطْوِيٌّ عَنْ عِبَادِ اللَّهِ فَاياكَ وَ الشَّكَّ فِيهِ فَإِنَّ الشَّكَّ فِي أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ كُفْرٌ "
رسول خداؐ نے فرمایا: علی علیہ السلام میرے بعد میری امت میں امام ہیں اور قائم منتظر انہی کی اولاد میں سے ہوں گے جو ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور قسم ہے اس پروردگار کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بشیر و نذیر بناکر مبعوث کیا ہے جو شخص ان کی غیبت کے زمانہ میں ان کی امامت پر ثابت قدم رہے گا وہ یاقوت سرخ کی مانند قرار پائے گا۔ اسی اثناء میں جابر بن عبد اللہ انصاری اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! کیا آپ کی اولاد میں سے آنے والے قائم کے لئے غیبت بھی واقع ہوگی؟ فرمایا: قسم بخدا، مہدی کے لئے غیبت واقع ہوگی پھر حضور نے سورۂ آل عمران کی ۱۴۱ ویں آیت تلاوت فرمائی یعنی خدا مؤمنین کو پاک و پاکیزہ (خالص) قرار دے گا اور کفار کو نابود کر دے گا۔ پھر حضور سرور کائنات نے فرمایا: اے جابر! یہ غیبت اوامر الٰہی اور اسرار الٰہی میں سے ہے جسے خداوند عالم نے بندوں سے مخفی رکھا ہے۔ پس اس معاملہ میں شک کرنے سے پرہیز کرنا کیونکہ اوامر الٰہی میں شک کرنا کفر ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان نے یہ روایت فرائد السمطین صفحہ ۴۴۸ کے مطابق نقل کی ہے۔
مذکورہ روایت کے مہم نکات
۱. یہ روایت اور اس جیسی سینکڑوں روایات جنہیں ہم نے حقانیت شیعہ اور رسول اکرمﷺ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کے ثبوت میں نقل کیا ہے، شیعہ و اہل سنت کے درمیان متفق علیہ ہیں؛ ان روایات کو صرف اہل سنت ہی نے نقل نہیں کیا ہے بلکہ شیعوں نے بھی نقل کیا ہے مثلاً شیخ صدوق نے کتاب کمال الدین(۱۰) میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔
۲. آپ اس جیسی ایک متفق علیہ روایت بھی نہ پائیں گے جس میں حضور سرور کائنات نے فرمایا ہو کہ میرے بعد حضرت ابوبکر، عمر یا عثمان خلیفہ ہوں گے جبکہ امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب کے بارے میں تواتر کے ساتھ یہ روایات نقل ہوئی ہیں۔
۳. اس روایت میں حضور اکرم ؐ کے مطابق آنحضرتؐ کے بعد حضرت علی علیہ السلام خلیفۂ بلافصل قرار پائیں(۱۱) گے کیونکہ آپ نے فرمایا:"اِنَّ عَلیاً اِمامُ اُمَّتی مِن بَعدی " میرے بعد علی علیہ السلام میری امت کے امام و سرپرست ہیں۔ اب آپ خود فیصلہ کیجئے حضرت علی علیہ السلام کے خلیفہ بلافصل ہونے کے لئے حضورؐ کی جانب سے اس کے علاوہ بھی کوئی تصریح ہوسکتی ہے !!!
کہاں ہیں اہل انصاف؟ کہاں ہیں حق سننے والے؟ اور کہاں ہیں قوی ایمان و بغیر تعصب کے حق کو قبول کرنے والے؟!
جی ہاں اگر دل میں روح انصاف موجود ہو تو تعصب کے پردے چاک ہوجائیں اور روز روشن کی طرح واضح ہوجائے کہ غاصب کون ہے؟ اور حضرت علی علیہ السلام کے حق میں ظلم کرنے والے کون ہیں؛ اور معلوم ہوجائے گا کہ بطور مطلق تمام اصحاب عادل ہیں یا نہیں؟!
۴. پیغمبر اکرمﷺ نے اس روایت میں حضرت مہدی (عج) کی غیبت کی تصریح فرمائی ہے اور ہم انشاء اللہ غیبت پر بحث کے دوران اس مسئلہ کو بیان کریں گے اور ثابت کریں گے کہ یہ شیعوں کے بارہویں امام ہی ہیں جو اس وقت پردہ غیبت میں ہیں اور ۷۳ فرقوں میں سے شیعہ ہی اہل نجات ہیں۔
۵. پیغمبر اکرمﷺنے تصریح فرمائی ہے کہ حضرت مہدی (عج)، حضرت علی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں گے اور ہم آئندہ صفحات پر اس روایت کے ذریعے بہت سے شبہات کے جواب دیں گے اور بیان کریں گے کہ حضرت مہدی (عج) بنی عباس و بنی امیہ میں سے نہ ہوں گے۔
۶. پیغمبر گرامی اسلامﷺ نے جابر بن عبد اللہ انصاری سے فرمایا: "غیبت مہدی میں شک، اوامر الٰہی میں شک ہے اور اوامر الٰہی میں شک کفر ہے" پس اس متفق علیہ روایت کے بارے میں غور و فکر سے کام لیکر حضرت مہدی (عج) کے بارے میں اپنے عقیدے کی تصحیح کرنی چاہیے۔
حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کو مہدی موعود کی بشارت
۳۶ ۔ مولانا متقی ہندی(۱۲) نے رسول خداﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"اِبشِری بِالمَه دی مِنکِ " تمہیں بشارت دی جاتی ہے کہ مہدی تمہاری اولاد میں سے ہیں۔
ابن عساکر نے تاریخ اور کنوز الحقائق میں رسول خداؐ سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:"اِبشِری یا فاطِمَةُ بِالمَه دی مِنکِ " اے فاطمہ تمہیں بشارت ہو کہ مہدی تمہاری اولاد میں سے ہوں گے۔
"لا اِله الّا الله " کہنے والے کے سوا روئے زمین پر کوئی نہ رہے گا
۳۷ ۔ کتاب عِقدُ الدُّرَر فی اخبار المنتظر(۱۳) میں حذیفہ کے توسط سے روایت کی گئی ہے کہ رسول خداؐ نے فرمایا:
"لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَبَعَثَ اللَّهُ رَجُلًا اسْمُهُ اسْمِي وَ خُلُقُهُ خُلُقِي يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ یُبایِعُ لَه ُ النّاسُ بَینَ الرُّکنِ وَ المَقامِ، یَردُّ الله ُ بِه ِ الدّینَ وَ یفتَحُ لَه ُ الفُتُوحُ فلا یبقی عَلی وَجه ِ الاَرضِ اِلّا مَن یقُول؛ لا اِله َ اِلّا الله ، فَقَامَ سَلمانُ فَقال: یا رَسُولَ الله ِ مِن ای وُلدِکَ؟ مِن وُلِدِ ابنی ه ذا وَ ضَرَب بِیدِه ِ عَلَی الحُسَینِ "
اگر دنیا کے ختم ہونے میں ایک دن سے زیادہ باقی نہ بچے تب خداوند عالم یقیناً ایک ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو میرا ہمنام ہوگا اور اس کا خلق میرا خلق ہوگا۔ اس کی کنیت ابو عبد اللہ ہوگی، لوگ رکن و مقام کے درمیان اس کی بیعت کریں گے، خداوند عالم اس کے ذریعے دین کو اس کی اصلی شکل و صورت کی طرف پلٹا دے گا، وہ پے در پے فتحیاب ہوگا اور "لا الہ الّا اللہ" کہنے والے کے سوا روئے زمین پر کوئی باقی نہ رہے گا، اسی اثناء میں سلمان نے اُٹھ کر سوال کیا: یا رسول اللہؐ! وہ آپ کے کس بیٹے کی اولاد میں سے ہوں گے؟ امام حسین کے کاندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا: وہ میرے اس بیٹے کی اولاد سے ہوں گے۔
نکتہ مہم
روایت نمبر ۳۵ سے ثابت ہوتا کہ "حضرت مہدی موعود" اولاد علی علیہ السلام سے ہوں گے اور روایت نمبر ۳۶ سے ظاہر ہوتا ہے کہ "حضرت مہدی (عج)" اولاد فاطمہ سلام اللہ علیھا سے ہوں گے جبکہ اسی مذکورہ روایت نمبر ۳۷ سے واضح ہورہا ہے کہ "حضرت مہدی (عج)" امام حسین کی اولاد میں سے ہوں گے پس اہل سنت کی کتب سے حاصل کردہ ان روایات کی روشنی میں بعض اہل سنت کا یہ عقیدہ باطل ہوجاتا ہے جس کے تحت وہ "حضرت مہدی موعود (عج)" کو بنی عباس یا بنی امیہ کی اولاد ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
مہدی (عج) خوبصورت جوان ہے
۳۸ ۔ "قال رسول الله ﷺ: یقُومُ آخِرِ الزَّمانِ رَجُلٌ مِن عِترَتی شابٌ حَسَنُ الوَجه ، اَقنَى الاَنفِ، يَملَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدلاً كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْراً وَ يَمْلِكُ کَذا وَ کَذا سَبْعَ سِنِينَ "
عقد الدُّرر(۱۴) میں ابو سعید خدری سے روایت کی گئی ہے کہ رسول خداؐ نے فرمایا: آخری زمانہ میں میری اولاد میں سے ایک ایسا جوان مرد قیام کرے گا جو نہایت خوبصورت ہوگا، جس کی ناک لمبی ہوگی وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اور وہ سات سال اس اس طرح حکومت کرے گا۔
چاہے دنیا کے خاتمہ میں ایک ہی دن بچے، مہدی (عج) ضرور آئے گا
۳۹ ۔ نیز اسی کتاب عقد الدُّرر(۱۵) میں ابو ہریرہ سے روایت کی گئی ہے کہ رسول خداؐ نے فرمایا:"لَوۡ لَمۡ یَبۡقَ مِنَ الدُّنۡیا اِلّا لَیۡلَةٌ لَمَلَکَ فیه ا رَجُلٌ مِنۡ اَه ۡلِ بَیۡتِی " اگر دنیا کے اختتام میں صرف ایک شب بھی باقی رہ جائے گی تب بھی یقیناً میرے اہل بیت میں سے ایک شخص ضرور حکومت کرے گا۔
نیز اس روایت کو حافظ ابو نعیم اصفہانی نے صفت المہدی میں نقل کیا ہے۔
حضرت مہدی (عج) کے لئے آسمان سے نزول برکات
۴۰ ۔ نیز اسی کتاب عقد الدرر(۱۶) میں ابو سعید خدری سے روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول خداﷺنے فرمایا: "يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي وَ يَعْمَلُ بِسُنَّتِي وَ يُنَزِّلُ اللَّهُ لَهُ الْبَرَكَةَ مِنَ السَّمَاءِ وَ تُخْرِجُ الْأَرْضُ بَرَكَتَهَا وَ تُمْلَأُ بِهِ الْأَرْضُ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْراً " میرے اہل بیت میں سے ایک شخص خروج کرے گا جو میری سنت پر عمل پیرا ہوگا، خداوند عالم اس کے لئے آسمان سے برکتیں نازل کرے گا نیز زمین اس کے لئے اپنی برکتیں پیش کر دے گی اور وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
نکتہ: نیز ابو نعیم اصفہانی نے "صفت المہدی" میں نقل کی ہے۔
نتائج:
کتب اہل سنت میں حضرت مہدی (عج) کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل شدہ روایات کی روشنی میں یہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں کہ حضرت مہدی ظہور فرمائیں گے، وہ قیام و خروج کریں گے، وہ پیغمبر اکرمؐ کے ہمنام و ہم کنیت ہوں گے، وہ اس وقت قیام کریں گے جبکہ زمین ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی اور وہ زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دیں گے کہ روئے زمین پر صرف کلمہ "لا اِلہ الّا اللہ" کہنے والے ہوں گے، حضرت مہدیؑ کی آمد اس قدر حتمی و قطعی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ مختلف انداز اور تعبیرات سے ان کی یقینی آمد کی خبر دے رہے ہیں:
کبھی فرمایا: اگر دنیا کے اختتام میں ایک دن بھی بچ جائے گا تو خداوند عالم اس دن کو اتنا طولانی کردے گا یہاں تک کہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) آجائیں۔
کبھی فرمایا: قیامت برپا ہونے سے قبل ضرور آئیں گے۔
کبھی فرمایا: جب تک مہدی نہیں آئیں گے زمانہ ختم نہ ہوگا۔
کبھی فرمایا: اگر دنیا کے اختتام میں ایک رات بھی بچ جائے گی تب بھی مہدی ضرور آئیں گے۔۔۔؛
کتب اہل سنت میں حضور اکرم ؐ کی بیان کردہ بشارتوں میں نقل ہوا ہے کہ شمائل مہدی اس اس طرح ہیں، مہدی میرے اہل بیت و عترت سے ہوں گے، وہ اولاد علی علیہ السلام و فاطمہ سے ہوں گے وہ ذریت حسین سے ہوں گے، وہ خُلق و خُو میں مجھ جیسے ہوں گے، وہ قیام سے قبل غائب ہوں گے، زمانہ غیبت میں ان کی امامت پر ثابت قدم رہنے والے یاقوت سرخ سے زیادہ قیمتی ہوں گے۔
وہ میری سنت کے لئے جنگ کریں گے جس طرح میں نے وحی کے لئے جنگ کی ہے۔ مہدی معصوم ہوں گے، وائے ہو ان سے بغض و عناد رکھنے والوں پر، نزولِ عیسیٰ اور مہدی کا انکار کرنے والے کافر ہیں، مہدی کا منکر گویا آنحضرت ؐ پر تمام چیزوں کے نازل ہونے کا انکار کرنے والا ہے، حضرت مہدی، پیغمبر گرامی قدر کو عطاہونے والی ان سات خصال و خصوصیات میں سے ہیں جو اولین و آخرین میں کسی کوعطا نہیں کی گئیں۔ قتل علی علیہ السلام کے بعد دین فاسد ہوجائے گا یہاں تک کہ مہدی (عج) آجائیں۔
مہدی ہم میں سے ہیں اور دین ہم پر ختم ہوگا اور خالص اسلامِ محمدیؐ حضرت مہدی کے ذریعے ظاہر ہوگا اور مہدی (عج) ہی کے ذریعے بیت المال کی مساوی و عادلانہ تقسیم ہوگی ۔۔۔
مظلومیت علی علیہ السلام اور روایات مہدی (عج) شیعہ مذہب کی حقانیت
گذشتہ صفحات پر بحث مقدمات میں ہم شیعہ مذہب کی حقانیت کے سلسلہ میں اہل سنت کی بیان کردہ دس ایسی روایات پیش کرچکے ہیں جن میں سے سات روایات میں "لفظ" بعدی کے ذریعے پیغمبر اکرم ؐ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کی تصریح کی گئی جبکہ دسویں روایت کے بارے میں کہا ہے: "تِلکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ" اور پھر حضرت علی علیہ السلام و ابوبکر و عمر کے بارے میں چند مطالب پیش کئے تھے۔
نیز حضرت مہدی (عج) کے بارے میں پیغمبر گرامی قدر کی بیان کردہ بشارتوں میں آپ ملاحاظہ فرما رہے ہیں کہ:
پہلی، اٹھائیسویں، تیسویں، اور پینتیسویں روایات میں حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کی وضاحت کی گئی ہے۔
چالیس بشارات نبوی میں سے پہلی روایت میں نبی کریمﷺنے فرمایا:
"اَنۡتَ اِمامُ وَ وَلیُّ کُلِّ مُؤۡمِنٍ وَ مُؤمِنَه ٍ بَعۡدی "
اے علی! تم میرے بعد ہر مؤمن اور مؤمنہ کے امام و سرپرست ہو!
اٹھائیسویں روایت میں نبی کریمؐ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاسے فرمایا: "وَ وَصِیُّنَا خَیرُ الاَوصِیَاءِ وَ ه ُوَ بَعلُکِ " ہمارا وصی تمام اوصیاء میں سب سے افضل ہے اور وہ تمہارا شوہر ہے۔
پیغمبر اکرمﷺنے تیسویں روایت میں حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:
"یا عَلی اَنتَ وَصیّی حَربُکَ حَربی وَ سِلمُکَ سِلمی وَ اَنتَ الاِمامُ اَبُو الۡاَئِمَّةِ الاِحدی عَشَرَ الَّذینَ ه ُمُ المُطَه َّرونَ المَعصُومُونَ وَ مِنه ُ المَه دی (عج)"
اے علی! تم میرے وصی ہو، تمہارے ساتھ جنگ میرے ساتھ جنگ ہے، تمہاری صلح میری صلح ہے، تم امام ہو اور گیارہ ائمہ کے والد ہو جو سب کے سب پاک و پاکیزہ اور معصوم ہیں اور مہدی انہی میں سے ہوں گے۔
جبکہ حضور سرورکائنات نے پینتیسویں روایت میں فرمایا:"اِنّ عَلیاً اِمامُ اُمَّتی مِن بَعدی " بیشک میرے بعد علی علیہ السلام میری امت کے امام و رہبر ہیں۔
اب آپ خود ہی ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہوکر فیصلہ کیجئے کہ اگر حضورؐ سرورکائنات حضرت علی علیہ السلام کی خلافت بلا فصل کا اعلان کرنا چاہتے تو کیا ان روایات کے علاوہ بھی کچھ کہنے کی گنجائش باقی ہے؟!
وَ اللہ! شیعہ و سنی کتب میں ایسی کثیر التعداد روایات موجود ہیں جن میں نبی کریمﷺ نے تصریح فرمائی ہے کہ آپؐ کے بعد علی علیہ السلام آپؐ کے جانشین اور امت کے امام و سرپرست ہیں جبکہ آپ فریقین کی کتب میں ایک بھی متفق علیہ ایسی روایت نہ دیکھ سکیں گے کہ جس میں حضورؐ نے فرمایا ہو کہ میرے بعد حضرت ابوبکر، عمر یا عثمان خلیفہ ہوں گے۔
واللہ! اگر تعصب کی عینک اتار کر اہل سنت کی روایات کی طرف رجوع کیا جائے تو یقیناً وہ شیعہ اثنا عشری کی حقانیت کا کلمہ پڑھ لے گا کیونکہ اہل سنت کی نقل کردہ روایات میں سے تیسویں روایت میں نبی کریم ؐ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:
"اے علیؑ تم میرے وصی، تم سے جنگ مجھ سے جنگ ہے اور تم سے صلح مجھ سے صلح ہے اور تم امام اور گیارہ پاک و پاکیزہ و معصوم ائمہ کے والد ہو"۔
پس اس فرمان رسالتؐ کے باوجود بعض اہل سنت معاویہ کا کیونکر احترام کرتے ہیں اور انہیں "خَالُ المؤمنین (۱۷) " کے نام سے یاد کرتے ہیں؟! حالانکہ انہوں نے علی علیہ السلام سے جنگ کی تھی، کیا پیغمبر اسلامﷺنے حضرت علی علیہ السلام سے نہیں فرمایا: اے علیؑ! تم سے جنگ مجھ سے جنگ ہے۔ تفصیلات کے لئے مؤلف ہذا کی کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام " کی طرف رجوع فرمائیں۔
پس کیونکر حضرت عائشہ کو صاحب حق مانتے ہیں حالانکہ وہ خلیفہ رسول اللہؐ سے برسر پیکار ہوئیں، کیا اہل سنت حضرت علی کو خلیفہ چہارم و خلیفۂ پیغمبر اسلام تسلیم نہیں کرتے؟! روایت نمبر ۳۰ کی روشنی میں حضرت عائشہ کی حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کیا پیغمبر اسلامؐ سے جنگ نہیں ہے؟
اس سلسلہ میں مؤلف کی کتاب" اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی بن ابی طالب‘ کی طرف رجوع فرمائیں۔
جعلی روایتِ "عدم اجتماع نبوت و سلطنت" کے جوابات
عوام الناس کے اذہان کو منتشر کرنے کے لئے غصب خلافت علی علیہ السلام اور سقیفہ کے واقعہ کے سلسلہ میں بعض افراد نے رسول اکرمﷺسے مجعولاً (منفرداً) ایک روایت نقل کی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:
نبوت و سلطنت (خلافت) ایک خاندان میں یکجا نہیں ہوسکتیں؛ کیونکہ پیغمبر اسلامؐ بنی ہاشم میں سے ہیں لہذا ان کا جانشین و خلیفہ غیر بنی ہاشم سے ہونا چاہیے پس حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اکرمﷺ کے جانشین نہیں بن سکتے!
جوابات:
۱ ۔ حضور نے فرمایا: تم تک جو میری احادیث پہنچتی ہیں انہیں کتاب خدا سے ملا کر دیکھو اگر قران کے موافق ہو تو صحیح ہے ورنہ وہ میری حدیث نہیں ہے۔
اب جبکہ ہم حضرت عمر سے نقل شدہ اس روایت کو قران کریم سے پرکھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہ روایت قران کریم کی آیات کی واضح طور پر مخالفت کر رہی ہے۔ پس یہ پیغمبر اکرمؐ کی حدیث نہیں ہوسکتی لہذا باطل ہے۔ خداوند عالم سورۂ نساء کی آیت ۵۴ میں ارشاد فرمایا ہے:
( فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا ) اور ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت اور عظیم حکومت عطا کی۔
اس آیت کریمہ سے جس بات کا اظہار ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ خداوند عالم نے لفظ "فَقَد" کے ذریعے تصریح فرمائی ہے کہ اس نے آلِ ابراہیم کو عظیم حکومت و سلطنت عنایت کی ہے۔ اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ انسانوں پر حکومت کا اصلی و حقیقی حقدار خداوند عالم کی ذات بابرکت ہے اور یہی صاحبِ حقیقی و اصلی، اپنی کتاب میں تصریح فرما رہا ہے کہ ہم نے آلِ ابراہیم کو عظیم حکومت عطا کی ہے؛ پس اگر نبوت و حکومت (خلافت) ایک خاندان میں جمع نہیں ہوسکتی تھی تو خود صاحب حقیقی حکومت نے یہ کام کیوں انجام دیا ہے؟ نیز کیا رسول خداﷺ آل ابراہیم میں سے نہیں ہیں؟
پس اس آیت کریمہ کی روشنی میں ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتےہیں کہ خداوند عالم نے یقیناً سلطنت و حکومت ایک خاندان و خانوادہ میں قرار دی ہے لہذا اہل سنت کی منقولہ روایت کہ نبوت و سلطنت ایک خاندان میں جمع نہیں ہوسکتیں؛ کذبِ محض ہے۔
۲ ۔ یقیناً سب جانتے ہیں کہ حضرت سلیمان نبی، حضرت داؤد کے فرزند ہیں اور دونوں کو خداوند عالم نے نبی بنایا ہے لیکن اس کے باوجود خدائے کریم نے قران پاک میں تصریح فرمائی ہے کہ اس نے دونوں کو "سلطنت و حکومت" عطا کی ہے۔ ارشاد رب العزت ہے:
( وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ ) (۱۸) اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے انہیں حکومت و حکمت عطا کی اور جو انہوں نے چاہا انہیں اس کی تعلیم بھی دی۔
نیز ارشاد فرماتا ہے:
( قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأحَدٍ مِنْ بَعْدِي إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ ) (۱۹)
سلیمان نے عرض کیا: پروردگار! میری مغفرت فرما اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو عطا نہیں کی جائے، بیشک تو بڑا بخشنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے اس نبی کو ایسی حکومت عطا فرمائی جو کسی کو عطا نہیں کی جیسا کہ بعد والی آیات میں آیا ہے:
ہوا اور شیاطین پر جناب سلیمان کو تسلط عطا کیا گیا، چیونٹی اور ہدہد کی زبان سمجھتے تھے۔ پس نبوت و سلطنت دونوں حضرت سلیمان کو عطا کی گئیں تھیں اور یہ بات اہل سنت کی منقولہ روایات کے ابطال کے لئے بہترین دلیل ہے کہ جس کی بنیاد پر یہ حضرات دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت و نبوت ایک خاندان میں جمع نہیں ہوسکتیں۔
نکتہ:
جوابِ اول و دوم میں باہمی فرق یہ ہے کہ جوابِ اول میں ہماری تمام تر توجہ اس بات کی طرف تھی کہ یہ روایت اہل سنت، قران کریم کی آیات کے برخلاف ہے جو روایت کے بطلان پر بہترین و مستحکم دلیل ہے، جبکہ جواب دوم میں ہماری توجہ پروردگار عالم کی جانب سے حضرت سلیمان کو عطا کی جانے والی وسیع سلطنت و حکومت کی طرف ہے کہ جس میں جن و انس، شیاطین یہاں تک کہ حیوانات وغیرہ بھی شامل تھے؛ پس اگر حکومت و نبوت کا ایک خاندان میں جمع ہونا ممنوع تھا تو خداوند عالم نے حضرت داؤد و سلیمان کو نبوت اور وسیع حکومت کیوں عطا فرمائی تھی؟!
بعبارت دیگر: جواب اول میں ہم نے یہ بات ثابت کی ہے کہ اہل سنت کی مجعولہ روایت سورہ نساء کی آیت نمبر ۵۴ کی صریحاً مخالفت کی وجہ سے محض کذب و جھوٹ ہے جبکہ جواب دوم میں قصص انبیاء کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ خداوند عالم نے اپنے بعض نبیوں کو وسیع سلطنت عطا فرمائی ہے اور یہ تاریخ بشر میں واقع شدہ واقعہ ہے؛ لہذا یہ روایت اہل سنت، قصص انبیاء کی مخالفت کی بنا پر بھی باطل ہوجاتی ہے۔
۳ ۔ بلاشک حضرت موسیٰ اولو العزم پیغمبر ہیں اور ان کے بھائی ہارون بھی نبی خدا ہیں قابل توجہ بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰ جانتے ہیں کہ ان کا جانشین بھی خدا ہی معین کرے گا اسی لئے لفظ "اِجعل" کے ذریعے اللہ سے درخواست کرتے ہیں کہ میرے بھائی ہارون کو میرا جانشین و خلیفہ بنا دے اور خدا نے بھی ان کی درخواست کو قبول کیا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ نے سورہ طہ کی آیت نمبر ۳۰ میں اسی انداز سے درخواست کی ہے۔ اسی طرح حدیث منزلت (کہ جس میں نبی کریمﷺنے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے ہے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے) کی روشنی میں حضرت علی علیہ السلام بھی اس جانشینی سے بہرہ مند ہیں البتہ حضرت ہارون نبی تھے لیکن حضرت علی علیہ السلام نبی کے بعد امت کے امام و سرپرست ہیں۔
در واقع ہمارا یہ جواب ایک قیاس مرکب ہے جس کے پہلے مرحلہ میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہارون اپنے بھائی حضرت موسیٰ کی جانشینی سے بہرہ مند ہیں۔ جیسا کہ سورہ طہ کی ۲۹ اور ۳۰ ویں آیت میں ہے:( وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي هَارُونَ أَخِي ) پرور دگارا! میرے اہل میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا جانشین بنادے۔
جبکہ دوسرے مرحلہ میں حدیث منزلت کے ذریعے ثابت کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام ، پیغمبر اسلامﷺکی خلافت و جانشینی سے بہرہ مند ہیں جس طرح ہارون حضرت موسیٰ کی خلافت و جانشینی سے بہرہ مند تھے پس خلافت و نبوت ایک خاندان میں جمع ہوگئی نیز نتیجتاً روایت اہل سنت باطل قرار پائے گی۔
۴ ۔ حضرت عمر بن خطاب نے اپنی نقل کردہ روایت (کہ نبوت و سلطنت ایک خانوادہ میں جمع نہیں ہوسکتی) کو خود اپنے ہی عمل کے ذریعے باطل کردیا کیونکہ اپنے انتقال کے وقت انہوں نے خلیفہ کے انتخاب کے لئے چھ افراد کے نام تجویز کردیئے جن میں حضرت علی علیہ السلام کا نام بھی رکھا گیا تھا۔
پس اگر بقولِ حضرت عمر نبوت و خلافت ایک خاندان میں جمع نہیں ہوسکتی تھی تو پھر انہوں نے چھ افراد پر مشتمل شوریٰ کیوں تجویز کی تھی(۲۰) اور اس میں حضرت علی علیہ السلام کا نام کیوں رکھا گیا تھا؟! نیز جب (جعلی روایت کی بنا پر) نبوت، بلافصل خلافت کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی تو ان کے اس عمل تجویز شوریٰ کے ذریعے خلافت مع الفصل کیسے جمع ہوگئی؟هیهات (۲۱)
۵ ۔ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت بلافصل پر دلالت کرنے والی تمام آیات کریمہ اس روایت کے جھوٹے ہونے پر دلالت کر رہی ہیں مثلاً: آیہ اطاعت، آیہ اکمال ۔۔۔
تفصیل کے لئے رجوع فرمائیں: کتاب شبہائے پیشاور تالیف سلطان الواعظین شیرازی اور کتاب اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام ۔
۶ ۔ جن روایات میں نبی کریمؐ نے اپنے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کی تصریح فرمائی ہے وہ تواتر اور کثرت سے نقل ہوئی ہیں مثلاً: حدیث منزلت، حدیث یوم الانذار، حدیث غدیر خم، حدیث اثنا عشریہ و ۔۔۔
یہ تمام روایات فرداً فرداً اس امر کی وضاحت کر رہی ہیں کہ نبوت و سلطنت (خلافت) بنی ہاشم ہی میں قرار دی گئی ہیں۔ لہذا اہل سنت کی مجعولہ روایت باطل ہے؛ جس کی بناء پر دعوی کیا گیا ہے کہ نبوت و سلطنت ایک خاندان میں جمع نہیں ہوسکتیں۔
۷ ۔ اہل سنت کے اس عقیدے کے مطابق کہ تمام صحابہ عادل ہیں اس کی روشنی میں کیونکہ اصحاب نے یکجا ہوکر حضرت علی علیہ السلام کو خلیفہ چہارم کی حیثیت سے منتخب کیا تھا لہذا ان کا انتخاب روایت کی تکذیب کرتا ہے اور روایت کے جعلی ہونے کی دلیل ہے پس اگر تعصب کی عینک اتار کر عدل و انصاف کی نگاہ سے تاریخ و روایات کا مطالہ کیاجائے تو حقائق آشکار ہوجائیں گے۔
۸ ۔ اگر نبوت و سلطنت (خلافت) ایک خاندان میں جمع نہیں ہوسکتیں تو آپ حضرات اہل سنت حضرت علی علیہ السلام کو اپنا چوتھا خلیفہ کیوں تسلیم کرتے ہیں؟ لہذا حضرت علی علیہ السلام کو خلیفہ چہارم تسلیم کرنے والا روایت مجعولہ (کہ نبوت و خلافت ایک خاندان میں جمع نہیں ہوسکتیں) کی مخالفت کر رہا ہے۔
بعبارت دیگر: آپ اہل سنت یا اس مجعولہ روایت کی وجہ سے اپنے ایمان سے دستبردار ہوجائیے اور کہیے کہ حضرت علی علیہ السلام خلیفۂ چہارم نہیں ہیں کیونکہ حضرت علی علیہ السلام بنی ہاشم ہیں اور آپ کے عقیدے کے مطابق نبوت و خلافت ایک خاندان میں جمع نہیں ہوسکتیں؛
یا، حضرت علی علیہ السلام کی خلافت پر اپنے ایمان کی روشنی میں کہئے کہ نبوت و خلافت ایک خاندان میں جمع ہوسکتی ہیں۔قال الله تعالیٰ فی کتابه الکریم :( فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ) (۲۲) پس اے میرے حبیبؐ میرے ان بندوں کو بشارت دے دیجئے جو مختلف باتیں سنتے ہیں لیکن ان میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں۔
اب آپ خود سورہ زمر کی آیت نمبر ۱۶ اور ۱۷ کی روشنی میں فیصلہ کر لیجئے کہ ہمارے ہشتگانہ جوابات کے بعد بھی اس روایت مجعولہ کو قبول کرنے کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟!
اب آپ خود فیصلہ کریں اور اسی کے مطابق اجر و ثواب حاصل کریں وَ اللہ یہدی مَن یشاء۔
____________________
۱ ۔ینابیع المودۃ، شیخ سلیمان بلخی حنفی، باب ۷۳، ص ۴۳۲۔
۲ ۔الاستیعاب فی اسماءِ الاصحاب، ج۱، ص ۲۲۳۔
۳ ۔منتخب کنز العمال، ج۶، ص ۳۰۔
۴ ۔نور الابصار، باب۲، ص ۱۵۵۔
۵ ۔ینابیع المودہ، باب ۱۶، ص ۸۵، طبع ہشتم ، دار الکتب العراقیہ ، سال ۱۳۸۵ ھ ق۔
۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۳، ص ۴۳۳، طبع ہشتم، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ ق۔
۷ ۔منتخب کنز العمال، ج۶، ص ۳۲۔
۸ ۔غایۃ المامول، ج۵، ص ۳۶۴۔
۹ ۔شیخ سلیمان قندوزی بلخی حنفی، ینابیع المودہ، باب ۹۴، ص ۴۹۴، طبع ہشتم، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ ق۔
۱۰ ۔کمال الدین، طبع دار الحدیث، سال ۱۳۸۰ ھ ش، ج۱، روایت ۷ از روایات رسول خدا۔
۱۱ ۔ نکتہ سوم میں حضور اکرمؐ کی جانب سے استعمال شدہ لفظ " من بعدی" کے ذریعے حضرت علی علیہ السلام کے خلیفہ بلافصل ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جبکہ نکتہ اول میں روایت کے متفق علیہ ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
۱۲ ۔ منتخب کنز العمال، ج۶، ص ۳۲۔
۱۳ ۔یوسف بن یحیی مقدسی شافعی، عقد الدرر فی اخبار المنتظر، ص ۵۶، مطبع مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵ ھ۔
۱۴ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، ص ۵۶، یوسف بن یحیی مقدسی شافعی، از علمائے ساتویں صدی ہجری۔
۱۵ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، ص ۳۹، مطبع مسجد مقدس جمکران ، سال ۱۴۲۵ ھ۔
۱۶ ۔عقد الدُّرر فی اخبار المنتظر، ص ۲۰۸۔
۱۷ ۔یعنی مؤمنین کا ماموں۔
۱۸ ۔سورہ بقرہ (۲)، آیت ۲۵۱۔
۱۹ ۔سورہ ص (۳۸) آیت ۳۵۔
۲۰ ۔تفصیل کے لئے مؤلف کی کتاب کی طرف رجوع کریں: اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی بن ابی طالب‘، ص ۳۲۳۔
۲۱ ۔ شبہائے پیشاور، سلطان الواعظین شیرازی، ص ۵۰۳، طبع ۳۱، دار الکتب اسلامیہ۔
۲۲ ۔ سورہ زمر (۳۹) آیت ۱۷ و ۱۶۔
دوسری فصل
ظہور و قیام حضرت مہدی (عج) کے بارے میں ائمہ اطہار علیھم السلام کی بشارتیں
۱۔ فصل اول میں ہم نے اہل سنت کی معتبر کتب سے چالیس ایسی روایات نقل کی ہیں جنہیں اہل سنت کے بزرگ علماء اور راویوں نے پیغمبر اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے جن کے سائے میں بہت سے حقائق روشن ہوئے ہیں۔
۲ ۔ جیسا کہ گذشتہ فصل میں ہم نے روایات اہل سنت کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ حضرت مہدی موعود، اہل بیت پیغمبر اسلام سے ہوں گے جو امیر المؤمنین علی علیہ السلام و حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا اور امام حسین کی ذریت سے ہوں گے اور چونکہ (وَ اَه ۡلُ البَیۡتِ اَدریٰ بما فِی البَیۡتِ )؛ "گھر والے سب سے بہتر جانتے ہیں" اس کی بنیاد پر اہل بیت بہتر جانتے ہیں کہ مہدی موعود کون ہیں؟ لہذا حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں اہل بیت سے نقل شدہ روایات نقل کر رہے ہیں۔
۳ ۔ ساتویں صدی ہر ی کے بزرگ عالم اہل سنت یوسف بن یحیی مقدسی شافعی کی کتاب عقد الدّرر سے ہم نے کافی روایات نقل کی ہیں اور مزید روایات آئندہ نقل کریں گے۔ اہل سنت کے علمی حلقہ میں یہ کتاب اس قدر اہمیت کی حامل ہے کہ کثیر التعداد علماء نے اس کتاب کی روایات کو اپنی اپنی کتب میں زینت دی ہے۔ مثلاًٍ: جلال الدین سیوطی نے کتاب "العرف الوردی فی اخبار المہدی" میں؛ ابن حجر ہیثمی نے کتاب "القول المختصر فی علامات المہدی المنتظر" میں؛ متقی ہندی نے کتاب "البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان" میں اور علی بن سلطان محمد ہروی حنفی نے کتاب "المشرب الوردی فی مذہب المہدی" میں اور دیگر علماء نے بھی نقل کی ہیں۔
۴ ۔ اہل سنت نے اہل بیت علیھم السلام سے حضرت مہدی (عج) کے بارے میں جن روایات کو نقل کیا ہے ان کی دو قسمیں ہیں:
قسم اول: ایسی روایات جن میں اہل بیت راوی ہیں؛ یعنی اہل بیت نے رسول خدا ﷺ سے نقل کی ہیں۔
قسم دوم: ایسی روایات ہیں جن میں اہل بیت "مروی عنہ" ہیں یعنی ایسی روایات جن میں اقوال اہل بیت کو نقل کیا گیا ہے۔
نکتہ: یہ روایات اہل سنت کی معتبر کتب میں نقل ہوئی ہیں جن کے طُرُق اور راوی بھی اہل سنت حضرات ہی ہیں؛ اور ہم آئندہ صفحات پر ان سے اہم موارد میں استناد کریں گے۔
۵ ۔ ہم یہاں بطور نمونہ صرف "چالیس روایات" سے استناد کر رہے ہیں اگرچہ اہل سنت کے یہاں حضرت مہدی (عج) کے بارے میں کثیر روایات موجود ہیں۔
صاحب پرچم و حکومت محمدیؐ ضرور ظاہر ہوگا
۱ ۔ "فَقالَ بَحرُ الرّاسخِینَ وَ حَبۡرُ العارِفینَ اَلاِمامُ الغالِبُ علی بن ابیطالب کَرَّمَ الله ُ وَجه ه ُ: یظه َرُ صاحِبُ الرّایةِ المُحَمَّدیةِ وَ الدَّولَةِ الاَحمَدیه اَلقائِمُ بِالسَّیفِ وَ الحالُ الصّادِقُ فِی المَقالِ یُمَه ِّدُ الاَرضَ وَ یُحۡیِی السُّنَّةَ وَ الفَرضَ "
شیخ سلیمان بلخی قندوزی(۱) نے روایت نقل کی ہے کہ بحر الراسخین، خیر العارفین امام غالب علی بن ابی طالب نے فرمایا: صاحب پرچم و حکومت احمدی ضرور ظاہر ہونے والا ہے، اس کا قیام تلوار کے ہمراہ ہوگا، وہ اپنی بات میں سچا ہوگا، وہ زمین کو عدل و انصاف کے لئے آمادہ کردے گا اور وہ سنت (مستحبات) و فرض (واجبات) کو زندہ کرے گا۔
اگر مہدی (عج) کو درک کرلوں تو پوری زندگی ان کی خدمت میں گزار دوں
۲ ۔ "وَ عَن اَبیعَبدِ الله ِ الحُسَینِ عَلی علیه ما السلام اَنَّه ُ سُئِلَ : ه َلۡ وُلِدَ الۡمَه دِیُّ ؟ قالَ لا، وَ لَو اَدۡرَکتُه ُ لَخَدَمتُه ُ اَیَّامَ حَیاتی "(۲)
حضرت ابی عبد اللہ الحسین بن علی بن ابی طالب‘ سے روایت کی گئی ہے کہ آنجناب سے سوال کیا گیا: کیا (حضرت) مہدی (عج) کی ولادت ہوچکی ہے؟ آپؑ نے فرمایا: نہیں؛ اور اگر میں ان کا زمانہ درک کرلوں تو اپنی پوری زندگی ان کی خدمت میں گزار دوں ۔
مہدی موعود (عج) کا سایہ نہیں ہے، منادیِ آسمان ندا دے گا حجت خدا کا ظہور ہوگیا ہے
۳ "وَ فیه ِ (اَی فی ه ذا الکتاب فرائد السمطین) عَنَ الحَسَنِ بن خالد، قالَ قالَ عَلیُّ بن مُوسَی الرِّضا اَلوۡقۡتُ الۡمَعلُومُ ه ُوَ یَوۡمُ خُروجِ قائِمِنا، فَقیلَ لَه ُ مَنِ القائِمِ مِنۡکُم، قالَ :
الرَّابِعُ مِنْ وُلْدِي ابْنُ سَيِّدَةِ الْإِمَاءِ يُطَهِّرُ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ مِنْ كُلِّ جَوْرٍ وَ يُقَدِّسُهَا مِنْ كُلِّ ظُلْمٍ وَ هُوَ الَّذِي يَشُكُّ النَّاسُ فِي وِلَادَتِهِ وَ هُوَ صَاحِبُ الْغَيْبَةِ قَبْلَ خُرُوجِهِ فَإِذَا خَرَجَ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِه وَ وَضَعَ مِيزَانَ الْعَدْلِ بَيْنَ النَّاسِ فَلَا يَظلُمُ أَحَدٌ أَحَداً وَ هُوَ الَّذِي تُطْوَى لَهُ الْأَرْضُ وَ لَا يَكُونُ لَهُ ظِلٌّ وَ هُوَ الَّذِي يُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ بِاسْمِهِ يَسْمَعُهُ جَمِيعُ أَهْلِ الْأَرْضِ أَلَا إِنَّ حُجَّةَ اللَّهِ قَدْ ظَهَرَ عِنْدَ بَيْتِ اللَّهِ فَاتَّبِعُوهُ فَإِنَّ الْحَقَّ فِيه ِ وَ مَعَهُ "
شیخ سلیمان بلخی(۳) نے حموینی کی معروف کتاب فرائد السمطین سے روایت نقل کی ہے کہ حسین بن خالد سے روایت ہے کہ حضرت علی بن موسی الرضا‘نے فرمایا:
وقت معلوم سے مراد وہ دن ہے جب ہمارا قائم خروج کرے گا، سوال کیا گیا کہ آپ کا قائم کون ہے؟
فرمایا: میری چوتھی نسل میں آنے والا بیٹا جو نرجس خاتون کا بیٹا ہوگا، خداوند عالم اس کے ذریعے تمام زمین کو ظلم و ستم سے پاک کر دے گا، لوگ اس کی ولادت میں شک کرنے لگیں گے، وہ خروج سے قبل غائب ہوجائے گا، پھر جب خروج کرے گا تو اپنے نور سے زمین کو منور کر دے گا اور اس طرح میزان عدل کو لوگوں کے درمیان قائم کردے گا کہ پھر کوئی کسی پر ظلم نہ کرسکے گا۔ زمین کے فاصلے اس کے لئے سمٹ جائیں گے، اس کا سایہ نہ ہوگا (جس طرح پیغمبر اسلامﷺ کا سایہ نہیں تھا)، مہدیؑ موعود وہ ہے جس کے لئے آسمان سے منادی ندا دے گا کہ اے لوگو! آگاہ ہوجاؤ کہ خانہ کعبہ سے حجت خدا کا ظہور ہوچکا ہے پس سب اس کی اطاعت و پیروی کرو کیونکہ حق اس کے ساتھ ہے۔
مہدی موعود (عج) اہل بیت سے ہیں، خدا شب میں ان کی راہ ہموار کردے گا
۴ ۔ متقی ہندی(۴) نے احمد اور ابن ماجہ سے، جلال الدین سیوطی(۵) نے صحیحاًٍ احمد اور ابن ماجہ سے، شیخ سلیمان قندوزی(۶) اور ابن حجر مکی(۷) نے احمد وغیرہ سے، طبرانی(۸) و متقی ہندی(۹) نے احمد، ابن ابی شیبہ اور ابن ماجہ سے اور نعیم بن حماد(۱۰) نے مولائے متقیان امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب‘ سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "اَلۡمه ۡدِی مِنۡ اَه ۡلِ البَیۡتِ یُصۡلِحُه ُ الله فی لَیلَةٍ " مہدی (عج) اہل بیت علیھم السلام میں سے ہیں، خدا شب میں ان کا راستہ ہموار کردے گا۔
نکات:
۱ ۔ ایسی ہی ایک روایت حضرت علی علیہ السلام کے توسط سے پیغمبر اسلام سے نقل کی گئی ہے جسے ہم نے پیغمبر اکرمؐ کی بشارت (گذشتہ فصل میں روایت نمبر ۱۱) میں نقل کی ہے۔
۲ ۔ حضرت علی علیہ السلام کے اس فرمان "امر مہدی شب میں استوار کردیا جائے گا" سے کیا مراد ہے؟
جیسا کہ احادیث نبوی سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اس سے مراد یہ ہو کہ "ظہور مہدی (عج) کا وقت معلوم نہیں ہے"
یہ بھی ممکن ہے کہ شب سے مراد یہ ظلم و ستم ہو یعنی جب دنیا ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی تو مہدی (عج) ظہور فرمائیں گے۔
جوان سال ہونے کی وجہ سے مہدی کا انکار کریں گے
۵ ۔ کتاب ینابیع المودہ(۱۱) میں کتاب عقد الدّرر کے حوالے سے امام حسن سے روایت نقل کی ہے:"لَو قامَ اَلمَه دی لَاَنکَرَه ُ النّاسُ لِاَنَّه ُ یرجِعُ اِلَیه ِم شابَّاً وَ ه ُم یحسِبونَه ُ شَیخاً کَبیراً " جب مہدی (عج) قیام کریں گے تو (کچھ) لوگ ان کے جوان سال ہونے کی وجہ سے ان کا انکار کردیں گے کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ مہدی (عج) ضعیف العمر ہوں گے۔
مہدی موعود (عج) آخری امام اور نجات دہندہ ہوں گے
۶ ۔ "قالَ علی علیه السلام فی آخِرِه ا: فَنَحْنُ أَنْوَارُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ وَ سُفُنُ النَّجَاةِ وَ فِينَا مَكْنُونُ الْعِلْمِ وَ إِلَيْنَا مَصِيرُ الْأُمُورِ وَ بِمَهْدِينا تَقطعُ الْحُجَج فَهُوَ خَاتَمُ الْأَئِمَّةِ وَ مُنْقِذُ الْأُمَّةِ وَ مُنْتَهَى النُّورِ وَ غَامِضُ السِّرِّ فليهنَّ مَنِ اسْتَمْسَكَ بِعُرْوَتِنَا وَ حُشِرَ عَلَى مَحَبَّتِنَا "
کتاب تذکرۃ الخواص(۱۲) میں نقل کیا گیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے مدح نبی و ائمہ علیھم السلام میں ایک خطبہ میں فرمایا: پس ہم آسمان و زمین کے نور ہیں، ہم ہی کشتی نجات ہیں، علم ہمارے سینوں میں چھپا ہوا ہے، ہماری ہی طرف امور کی بازگشت ہے، ہمارا ہی مہدی (عج) برہان قاطع ہے، وہی آخری اما م و نجات دہندۂ امت ہے۔ وہی انتہائے نور اور امر مخفی ہے پس ہماری ریسمان محبت کو تھامنے والا اور محبت کے گرد جمع ہونے والا نجات پائے گا۔
مہدی (عج) موعود صاحب الزمان ہیں
۷ ۔ "وَ مِنه ا، عَن اِبنِ الخِشاب قالَ حَدَّثَنا صَدَقَةُ بۡنُ موسی، قالَ حَدَّثَنا اَبی عَن عَلی بن مُوسی الرِضا بن مُوسی الکاظِمُ علیه ما السلام : قال اَلخَلَفُ الصّالِحُ مِن وَلَدِ الحَسَنِ بن عَلی اَلۡعَسۡکَری، ه ُوَ صَاحِبُ الزَمانِ وَ ه ُوَ اَلمَه دی (عج) "
شیخ سلیمان قندوزی(۱۳) نے حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں حافظ ابو نعیم کی چہل روایت سے روایت نقل کی ہے کہ امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: جانشین صالح، فرزند حسن بن علی عسکری علیہم السلام ہی صاحب الزمان ہیں اور وہی مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) موعود ہیں۔
نام مہدی (عج) (م، ح، م، د) ہے کنیت ابو القاسم اور والدہ کا نام نرجس ہے
۸ ۔ نیز اسی کتاب میں روایت کی ہے:
"وَ مِنه ا عَن اِبْنُ الْخَشَّابِ قالَ حَدَّثَنا أَبُو الْقَاسِمِ طَاهِرُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مُوسَى الکاظِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ، قَالَ سَيِّدِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، اَلْخَلَفُ الصَّالِحُ مِنْ وُلْدِي وَ هُوَ الْمَهْدِيُّ اِسْمُهُ مُحَمَّدُ وَ كُنْيَتُهُ أَبُو الْقَاسِمِ يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُقَالُ لِأُمِّهِ نَرْجِسُ وَ عَلَى رَأْسِهِ غَمَامَةٌ تُظِلُّهُ مِنَ الشَّمْسِ تَدُورُ مَعَهُ حَيْثُ مَا دَارَ تُنَادِي بِصَوْتٍ فَصِيحٍ هَذَا الْمَهْدِيُّ سَلامُ الله ِ علَیه "
ابو القاسم طاہر بن ہارون بن موسیٰ کاظم نے اپنے والد کے وسیلہ سے اپنے جد بزرگوار سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں: میرے سید و سردار حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا: میری اولاد میں سے جانشین صالح، مہدی ہوں گے، ان کا نام" م، ح، م، د" ہے اور کنیت ابوالقاسم ہے، وہ آخر الزمان میں ظہور کریں گے، ان کی والدہ کا نام نرجس ہوگا، ان کے سر پر بادل سایہ فگن ہوگا جو انہیں تمازتِ آفتاب سے محفوظ رکھے گا، اور یہ بادل ہر جگہ ان کے ہمراہ ہوگا اور فصیح آواز میں ندا دیتا ہوگا کہ یہ مہدی (عج) ہیں ان کی اطاعت و پیروی کرو، خدا کا ان پر سلام ہو۔
اصحاب مہدی (عج) معرفت خداوند رکھتے ہیں "حَقَّ مَعرِفَتِہِ"
۹ ۔ "مِنه ا عَن ابن الاعثم الکوفی فی کِتابه "الفتوح" عَن عَلیِّ کَرمَ الله ُ وَجه َه ُ قالَ وَيْحاً لِلطَّالَقَانِ فَإِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى كُنُوزاً لَيْسَتْ مِنْ ذَهَبٍ وَ لَا فِضَّةٍ وَ لَكِنْ بِهَا رِجَالٌ مَعۡروُفُونَ عَرَفُوا اللَّهَ حَقَّ مَعْرِفَتِهِ وَ هُمْ اَیضاً أَنْصَارُ الْمَهْدِي سَلامُ الله َ عَلَیه ِ فِي آخِرِ الزَّمَا ن "
نیز روایت کی ہے: حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: طالقان کے شہریوں پر رحمت ہو! کیونکہ یہ اللہ کے لئے سونے چاندی جیسا خزانہ نہیں بلکہ یہ لوگ خداوند عالم کی برحق معرفت رکھتے ہیں؛ یہی لوگ حضرت مہدی آخر الزمان (عج) کے یاور و انصار ہیں۔
نکتہ: اس روایت کو عقد الدرر(۱۴) نے بھی نقل کیا ہے۔
امام حسین نے نویں فرزند "قائم آلؑ محمدؐ" ہیں
۱۰ ۔ "وَ فی کِتابِ المَناقِبِ (لموفق بن احمد الخوارزمی اخطب خطباء خوارزم) حَدَّثنا مُحَّمَدُ بن عَلی، حَدَّثَنی عَمّی مُحَّمَدُ بن اَبی الۡقاسِمِ عَن اَحَمد بن اَبی عَبدِ الله البَرقی عَن مُحَمَّد بن عَلی القُرَشی عَن ابنِ سَنان عَنِ المُفَضَّلِ بن عُمَرَ، عَن اَبی حَمۡزَةِ الثُمالی عَن مُحَمَّدٍ الباقِرِ عَن اَبیه ِ عَلی ابنِ الحُسَینِ عَن اَبیه ِ الحُسَینِ بن عَلی سَلامُ الله ِ عَلَیه ِم قالَ: دَخَلتُ عَلی جَدّی رَسولِ الله ِﷺ فَاَجلَسَنی عَلی فَخِذِه وَ قالَ لی اِنَّ الله َ اِختارَ مِن صُلبِکَ یا حُسَینُ اَئِمَةً تاسِعُه ُمۡ قائِمُه ُم وَ کُلُّه ُمۡ فی الفَضلِ وَ المنۡزِلَةِ عِندَ الله ِ سَواء "
ینابیع المودۃ(۱۵) نے مناقب خوارزمی سے روایت نقل کی ہے کہ امام محمد باقر نے اپنے والد امام زین العابدین سے اور انہوں نے اپنے والد امام حسین سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: میں اپنے جدّ بزرگوار رسول خداؐ کے حضور حاضر ہوا انہوں نے مجھے اپنی آغوش میں بٹھایا اور فرمایا: بیشک اے حسین ! اللہ نے تیری ذریت میں سے نو ائمہ کا انتخاب کیا ہے جن میں سے نویں قائم آل محمد ہیں اور یہ سب اللہ کی بارگاہ میں قدر و منزلت میں برابر ہیں۔
بعد از پیغمبرؐ بارہ امام ہوں گے جن میں اول علی علیہ السلام اور آخری قائم ہوں گے
۱۱ ۔"وَ فی المَناقِبِ حَدَّثَنا اَحمَدُ بۡنُ مُحَمد بنِ یَحۡیَی العَطّارِ اَبی عَن مُحَمَد بۡنِ عَبدِ الجَبّارِ عَن اَبی اَحمَد مُحَمَّد بۡنِ زیادِ اَلاَزدی عَن اَبان بن عُثمانِ عَن ثابِت بن دینار عَن زینِ العابِدینِ عَلی بن الحُسَینِ عَن اَبیه ِ سَیدِ الشُه َداء الحُسَینِ عَن اَبیه ِ سَیدِ الاَوصیاء عَلی سَلامُ الله ِ عَلَیه ِم قالَ قالَ رَسُولﷺ: اَلاَئِمَةُ بَعدی اِثنا عَشَرَ اَوَّلُه ُم اَنتَ یا عَلیُّ وَ آخِرُه ُمۡ القائِمُ الَّذی یفتَحُ الله ُ عَزَّوَجَلَّ عَلی یدَیه ِ مَشاِرقَ الاَرضِ وَ مَغارِبَه ا "
شیخ سلیمان(۱۶) نے مناقب خوارزمی سے روایت کی ہے کہ امام زین العابدین نے اپنے پدر بزرگوار سید الشہداء سے، انہوں نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے اور انہوں نے رسول اکرمﷺ سے روایت کی ہے رسول اللہﷺ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: میرے بعد بارہ ائمہ ہوں گے جن میں سے پہلے اے علی علیہ السلام تم ہو اور آخری قائم (عج) ہوں گے کہ اللہ جن کے ہاتھ پر مشرق و مغرب کی فتح عنایت کرے گا۔
مہدی موعود (عج) خَلق و خُلق میں سب سے زیادہ پیغمبرؐ سے مشابہ ہوں گے
۱۲ ۔"وَ فی الۡمَناقِبِ حَدَّثَنا عَبدُ الۡواحِدِ بۡنِ عَبدُوسِ العَطارِ النِیشابوری قالَ حَدَّثَنا حَمدانُ بن سُلِیمانِ النیشابُوری عَن مُحَمَّدِ بن اِسماعیلِ بن بَزیع عَن صالِح بن عَقَبَه عَن اَبی جَعفَرَ مُحَمَّدٍ الۡباقِرِ عَن اَبیه ِ عَن جَدِّه عَن اَمیرِ الۡمؤۡمِنینَ عَلی سَلامُ الله ِ عَلَیه ِم قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: الْمَهْدِيُّ مِنْ وُلْدِي، اسْمُهُ اسْمِي وَ كُنْيَتُهُ كُنْيَتِي وَ ه ُوَ أَشْبَهُ النَّاسِ بِي خَلْقاً وَ خُلْقاً تَكُونُ لَهُ غَيْبَةٌ وَ حَيْرَةٌ تَضِلُّ فِي الْاُمَم حَتّی تَضلَّ الخَلقُ عَن اَدیانِه ِم فَعِندَ ذلِک يُقْبِلُ كَالشِّهَابِ الثَّاقِبِ یَأتی بِذَخیرَةِ الاَنبیاءِ عَلَیه مِ السلام فَيَمْلَأُ الۡاَرضَ قِسْطاً و َ عَدلاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلماً "
شیخ سلیمان حنفی(۱۷) نے مناقب خوارزمی سے روایت کی ہے کہ امام باقر نے اپنے والد امام زین العابدین سے اور انہوں نے اپنے جد بزرگوار امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا: مہدی (عج) میری اولاد میں سے ہوں گے، ان کا نام میرا نام اور ان کی کنیت میری کنیت ہوگی، وہ خَلق و خُلق (یعنی خلقت و اخلاق ) میں بالکل مجھ جیسے ہوں گے، وہ غائب ہوجائیں گے، لوگ ان کے دین کے بارے میں شک و شبہات میں پڑ جائیں گے، اسی اثناء میں وہ شہاب ثاقب کی طرح انبیاء کے ذخیروں کے ہمراہ ظاہر ہوجائیں گے اور ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
مہدی موعود (عج) کے لئے دو غیبتیں واقع ہوں گی
۱۳ ۔"وَ عَن اَبی عَبدِ الله ِ الحُسَینِ بن عَلی‘ اَنَّه ُ قالَ: لِصاحِبِ ه ذَ ا الاَمر – یعنی المَه دی - غَیبَتانِ اِحداه ُما تَطُولُ حَتی یَقُولَ بَعضُه ُم ماتَ وَ بَعضُه ُم قُتِلَ وَ بَعضُه ُم ذَه َبَ وَلا یطَّلِعُ عَلی مُوضِعِه ِ اَحَدٌ مِن وَلِیٍّ وَلا غَیرِه ِ اِلَّا الۡمَولی الَّذی یَلی اَمرَه ُ "
یوسف بن یحیی(۱۸) نے امام حسین سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: اس صاحب الامر یعنی مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کے لیے دو غیبت واقع ہوں گی، ایک صغریٰ جس کی مدت کم ہوگی، دوسری غیبت کبریٰ جس کی مدت طولانی ہوگی، ان میں سے ایک اتنی طولانی ہوگی کہ بعض کہیں گے وہ مر گئے، بعض کہیں گے وہ قتل کر دیئے گئے، بعض کہیں گے وہ چلے گئے، سوائے ان کے حقیقی پیرو کاروں کے اپنے پرائے میں سے کوئی بھی ان کی جائے قرار سے واقف نہ ہوگا۔
منادیِ آسمان ندا دے گا "حق آل محمد" میں ہے
۱۴ ۔ معجم، مناقب المہدی، الفتن(۱۹) اور عقد الدّرر(۲۰) نے امیر المؤمنین سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "وَ عَن اَمیرِ المُؤمِنینَ عَلی بن اَبیطالِب‘ :قالَ : اِذا نادی مُنادٍ مِنَ السَماءِ : اِنَّ الحَقِّ فی آلِ مُحَمَدٍﷺ فَعِندَ ذلِکَ یَظۡه َرُ المَه دی "
جب منادیِ آسمان سے ندا دے گا، "حق آل محمدؐ میں ہے" تو اس وقت مہدی (عج) موعود کا ظہور ہوجائے گا۔
مشرق و مغرب والے نام مہدی (عج) آسمان سے سنیں گے
۱۵ ۔ یوسف بن یحیی(۲۱) نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "وَ عَن ابی جَعۡفَر مُحَمَّد بن عَلی علیه ما السلام قالَ: یُنادی مُنادٍ مِنَ السَّماءِ بِاِسۡمِ المَه دی فَیُسمِعُ مَن بِالمَشرِقِ وَ مَن بِالمَغرِبِ حَتّی لا یَبۡقی راقِدٌ اِلّا استَیقَظَ "
منادی آسمان سے اس طرح نام مہدی (عج) پکارے گا کہ تمام مشرق و مغرب کے رہنے والے اس آواز کو سنیں گے اور کوئی سوتا ہوا اور خواب غفلت میں نہ رہے گا۔
پرچم، لباس اور شمشیر رسول اللہؐ مہدی (عج) کے ہمراہ
۱۶ ۔ "وَ عں جابِر عَن اَبی جَعۡفَرِ محمَّدِ بن عَلی علیه ما السلام قالَ : یَظۡه َرُ الۡمَه ۡدی بِمَکَّة عِندَا لۡعِشاءِ وَ مَعَه َ رایَةُ رَسولِ الله ِﷺ، وَ قَمیصُه ُ وَسیفُه وَ عَلاماتٌ وَ نُورٌ وَ بَیانٌ فَاِذا صَلَّی الۡعِشاءَ نادی بِاَعۡلی صَوۡتِه یَقُولُ: اُذَکِّرُکُمُ الله َ اَیُّه َا النّاسُ وَ مُقامَکُم بَیۡنَ یَدَیۡ رَبِّکُمۡ َقَدِ اتَّخذَ الحُجَّة وَ بَعَثَ الاَنۡبیاءَ وَ انزَلَ الکِتَابَ وَ اَمَرَکُمۡ اَنۡ لا تُشۡرِکُوا بِه شَیۡئًا وَ اَنۡ تُحافِظُوا عَلی طاعَتِه ِ وَ طاعَةِ رَسولِه ِ، وَ اَن تُحیوا ما اَحۡیَی الۡقُرآن، وَ تُمیتُوا ما اَماتَ وَ تَکونُوا اَعۡواناً عَلَی اله ُدی وَوَزَراً عَلَی التَقۡوی، فَاِنَّ الدُّنۡیا قَدۡ دَنا فَناوُه ا وَ زَوالُه ا، وَ اَذِنَتۡ بالوِداعِ وَ اِنّی اَدۡعُوکُم اِلَی الله ِ وَ رَسُولِه وَ العَمَلِ بِکِتابِه وَ اِماتَةِ الباطِلِ وَ اِحیاءِ سُنَّتِه "
نعیم بن حماد اور یوسف بن یحیی(۲۲) نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: مہدی (عج) مکہ میں بوقت عشاء ظہور فرمائیں گے، پرچم، لباس اور شمشیر رسول اللہﷺ ان کے ہمراہ ہوں گے، وہ علامات کے ساتھ آئیں گے، نور ان کے ہمراہ ہوگا، وہ واضح بیان کے ساتھ ہوں گے، پس نماز عشاء برپا کریں گے اور پھر بلند آواز سے ندا دیں گے اور فرمائیں گے: اے لوگو! خدا اور اس وقت کو یاد کرو جبکہ تم اس کے حضور کھڑے ہوتے ہو۔ پس بتحقیق حجت الٰہی آچکی ہے، انبیاء مبعوث ہوچکے ہیں، کتاب نازل ہوچکی ہے، خدا نے تمہیں حکم دیا ہے کہ کسی کو اس کا شریک قرار نہ دو، خدا و رسولؐ کی فرماں برداری کرو، جن چیزوں کو قران نے زندہ کیا ہے انہیں زندہ رکھو اور جن چیزوں کو نابود کیا ہے انہیں ترک کردو، دوسروں کی ہدایت میں مدد کرو اور تقویٰ و پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی مساعدت کرو۔ بتحقیق فناء و زوالِ دنیا قریب ہے اور حتماً یہاں سے کوچ کرنا ہے، یاد رکھو! میں تمہیں خدا و رسولؐ کی اطاعت، کتاب الٰہی پر عمل، باطل کی نابودی اور احانئے سنت الٰہی کی دعوت دیتا ہوں۔
حضرت مہدی (عج) اپنی پہچان کے لئے نشانیاں دکھائیں گے
۱۷ ۔ یوسف بن یحیی(۲۳) نے امیرالمؤمنین سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "وَ عَن اَمیرِ المُؤۡمِنینَ عَلیِّ بن اَبیطالِبٍ‘ قالَ : یُؤۡمِی الۡمَه ۡدی اِلَی الطَّیۡرِ فَیَسۡقُطُ عَلی یَدِه وَ یغۡرُسُ قَضِیۡباً فی بُقعَةٍ مِنَ الاَرضِ فَیَخۡضَرُّ وَ یُورِقُ "
مہدی ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے کو اشارہ کریں گے تو وہ ان کے ہاتھ پر آجائے گا اور ایک ٹوٹی ہوئی لکڑی کو زمین میں دبا دیں گے تو وہ فورا ہری بھری ہوجائے گی اور اس کے اوپر پتے نمودار ہوجائیں گے۔
نکتہ: یوسف بن یحیی(۲۴) نے یہ روایت مفصل بھی نقل کی ہے کہ جب سید حسنی اپنی سپاہ کے ہمراہ حضرت مہدی کا سامنا کریں گے تو ان سے عرض کریں گے: "ه َل لَکَ مِن آیةٍ فَنُبایِعُکَ ؟" آپ کے مہدی (عج) ہونے کا کیا ثبوت ہے کہ ہم آپ کی بیعت کریں؟
حضرت مہدی (عج) ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے کو اشارہ کریں گے تو وہ ان کے ہاتھ پر آجائے گا، خشک لکڑی کو زمین میں دبا دیں گے تو ہری بھری ہوجائے گی اور اس پر پتے نمودار ہوجائیں گے۔
حضرت مہدی (عج ) کا زمانہ
۱۸ ۔ "وَ عَن اَمیرِالمُؤۡمِنینَ عَلی بن اَبیطالِب‘ فی قِصَّةِ المَه دی قالَ: فَیبعَثُ المَه دی الی اُمَرائِه ِ بسائِرِ الاَمصارِ بِالعَدلِ بَینَ الناسِ وَ تَرعی الشّاةُ وَ الذِئبُ فی مَکانٍ واحِدٍ وَ تَلعَب الصِبیانُ بِالۡحَیاتِ وَ الۡعَقارِبِ، لا یَضُرُّه ُ، شَئٌ وَ یذه َبُ الشَّرُّ وَ یَبۡقی الخَیرُ وَ یَزۡرَعُ الاِنسانُ مُدّاً یخرُجُ لَه ُ سَبعَ مِاَة مُدّاً کَما قالَ الله ُ تَعالی: کَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنَبَتَت سَبعَ سَنابِلَ فی کُلِ سُنۡبُله ٍ مِأةُ حَبَّةٍ وَ الله ُ یُضاعِفُ لِمَنۡ یَشاءُ (۲۵) وَ یَذۡه َبُ الرّبا وَ الزِّنا وَ شُرۡبُ الۡخَمرِ وَ الرّیاء وَ تُقبِلُ النّاسُ عَلَی العِبادَةِ وَ الۡمَشروُعِ وَ الدِّیانَةِ وَ الصّلاةِ فی الَجماعاتِ وَ تَطُوُل الاَعمارُ وَ تُؤَدّی الاَمانَةُ وَ تَحمِلُ الاَشجارُ وَ تَتَجاعَفُ البَرَکاتُ وَ تَه لِکُ الاَشرارُ وَ یَبۡقی الۡاَخۡیارُ وَلا یَبۡقی مَن یُبۡغِضُ اهل البَیتِ علی ھ م السلام "
نیز سید المسلمین، یعسوب الدین، قائد غرّ المُحجلین، امام المتقین، امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب‘ سے روایت(۲۶) کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: مہدی (عج) عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے تمام شہروں میں اپنے نمائندے بھیجیں گے، بھیڑ اور بھیڑیا ایک چراگاہ سے فیضیاب ہوں گے، بچے سانپ بچھوؤں سے کھیلا کریں گے اور انہیں کوئی نقصان نہ پہنچ سکے گا۔ شر فرار کرے گا اور خیر پا برجا ہوگا، انسان ایک مُد کے برابر بوئے گا اور سات سو گنا کاٹے گا جیسا کہ خداوند کریم نے قران میں فرمایا ہے: جو لوگ راہِ خدا میں اپنے اموال خرچ کرتے ہیں ان کے عمل کی مثال اس دانہ کی ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں اور پھر ہر بالی میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس کے لئے چاہتا ہے اضافہ بھی کر دیتا ہے۔
حضرت مہدی (عج) کے زمانہ میں سود خوری، زنا، شراب خوری اور ریاکاری کا خاتمہ ہوجائے گا۔ لوگ عبادات، اعمال شرعیہ اور نماز با جماعت کی طرف متوجہ ہوجائیں گے، عمریں طولانی ہوجائیں گی، لوگ امانتیں ادا کریں گے، درخت پُر بار ہوجائیں گے، برکتوں میں اضافہ ہوگا، اشرار ہلاک ہوجائیں گے، نیک لوگ زندہ رہیں گے اور دشمنان اہل بیت علیھم السلام میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچے گا۔
مہدی موعود (عج)، قائم آل محمدؐ اور ذریت احمدؐ مختار ہیں
۱۹ ۔ "وَ عَن سالِم الاَشَل قالَ : سَمِعۡتُ اَبا جَعفَر مُحَمَّدُ بنَ عَلی یقولَ نَظَرَ مُوسی فی السِفرِ الاَوَلِ اِلی ما یعطِی قائِم آلِ مُحَمَّد فَقالَ موسَی :رَبِّ اجعَلنی قائِمَ آل مُحَمَّد، فَقیلَ له ُ : اِنَّ ذلِکَ مِن ذُریةِ اَحمَد فَنَظَرَ فی السِّفرِ الثّانی، فَوَجَدَ فیه ِ مِثلَ ذلِکَ فَقیلَ لَه ُ مِثلُ ذلِکَ ثُمَّ نَظَرَ فی السِّفۡرِ الثالثِ فَرَاَی مِثلَه ُ فَقالَ مثلَه ُ، فَقیلَ لَه ُ مِثۡلُه ُ "
عقد الدرر(۲۷) نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے:
حضرت موسیٰ نے توریت(۲۸) کے سِفر اول میں قائم آل محمدؐ پر پروردگار کی عنایات کا مشاہد ہ کیا تو اللہ سے قائم آل محمد ہونے کا اشتیاق ظاہر کیا، جواب ملا: بتحقیق قائم آل محمدؐ ، ذریت احمد مختار سے ہیں۔
پھر حضرت موسیٰ نے سِفر دوم کا مشاہدہ کیا تو اس میں بھی انہوں نے قائم آل محمدؐ پر ہونے والے الطاف و عنایات کو دیکھا، دوبارہ اشتیاق ظاہر کیا، جواب ملا: قائم آل محمدؐ، احمدؐ کی ذریت سے ہوں گے۔
پھر سِفر سوم پر نظر ڈالی تو اسے بھی سِفر اول و دوم کی طرح پایا، انہوں نے پھر اپنا اشتیاق ظاہر کیا اور انہیں پھر یہی جواب ملا: قائم آل محمدؐ، ذریت احمد سے ہوں گے۔
مہدی موعود (عج) بدعتوں کے نابود اور سنتوں کو قائم کریں گے
۲۰ ۔ یوسف بن یحیی(۲۹) نے امیرالمؤمنین سے روایت کی ہے :"وَ عَنۡ اَمیرِ المُؤۡمِنینَ عَلیِّ بن ابیطالبٍ‘، فی قِصَّة الۡمَه ۡدیِّ، قالَ: وَلا یَتۡرُکُ بِدعَةً اِلّا اَزالَه ا، وَلا سُنَّةً اِلّا اَقامَه ا، وَ یَفتَحُ قُسۡطُنۡطینیَّةَ وَ جِبالَ الدِّیۡلَم، فَیمکُثُ عَلی ذلِکَ سَبۡعَ سنِینَ مِقدارُ کُلِّ سَنَةٍ عَشرُ سِنینَ مِن سنِینِکُمۡ ه ِذه ِ، ثُمَّ یَفۡعَلُ الله ُ ما یَشاءُ "
کوئی بدعت ایسی نہ رہے گی جسے مہدی نابود نہ کردیں اور کوئی سنت ایسی نہ بچے گی جسے وہ قائم نہ کردیں، وہ قسطنطنیہ، چین اور دیلم کے پہاڑوں کو فتح کرلیں گے، اس طرح وہ سات سال رہیں گے جس کا ہر سال تمہارے دس سال کے برابر ہوگا پھر اللہ جو چاہے گا انجام دے گا۔
علی علیہ السلام "واجب امر خدا" کے حق میں کوتاہی
۲۱ ۔ شیخ سلیمان بلخی(۳۰) نے آیت کریمہ :( اَنۡ تَقوُلَ نَفۡسٌ یا حَسۡرَتی عَلی ما فَرَّطۡتُ جَنۡبِ الله ِ ) (۳۱) پھر تم سے کوئی نفس یہ کہنے لگے کہ ہائے افسوس کہ میں نے خدا کے واجب حق میں بڑی کوتاہی کی ہے۔ کے ذیل میں امام کاظم سے روایت نقل کی ہے:
" وَ فی الۡمَناقِبِ عَنۡ عَلی بۡنِ سوید عَنۡ مُوسی الۡکاظِمِ فی ه ذه الآیةِ قالَ جَنۡبُ الله ِ اَمیرُ المؤۡمِنینَ عَلیُّ وَکَذلِکَ ما بَعۡدَه ُ مِنَ الۡاَوۡصیاءِ بِالۡمَکانِ الرَّفیعِ اِلی اَن یَنۡتَه یَ الۡاَمۡرُ اِلی آخِرِه ُمُ الۡمَه ۡدی سَلامُ الله ِ عَلَیۡه ِمۡ"
"جنب اللہ" یعنی واجب امر خدا، امیر المؤمنین علی علیہ السلام ہیں (کہ جن کے حق میں کوتاہی کی گئی ہے اور ان کے حق امامت و ولایت کو فروگذاشت کیا گیا ہے) اور اسی طرح ان کے بعد ان کے اوصیاء بھی ہیں جو مقامِ رفیع پر فائز ہیں یہاں تک کہ ان میں آخری فرد حضرت مہدی (عج) ہیں۔
سیرت مہدی (عج) بوقت خروج
۲۲ ۔ یوسف بن یحیی(۳۲) نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے:
"وَ عَنۡ عَبۡدِ الله ِ بن عَطاء، قالَ سَأَلۡتُ اَبا جَعفَرِ مُحَمَّدَ بن عَلَیِّ الۡباقِرَ علیه ما السلام، فَقُلۡتُ : اِذا خَرَجَ الۡمَه ۡدیُّ بِاَیِّ سیرةٍ یَسیرُ؟ ؛ قالَ: یَه ۡدِمُ ما قَبۡلَه ُ، کَما صَنَعَ رَسولُ الله ِﷺ وَ یَسۡتَأنِفُ الاِسۡلامَ جَدیداً "
عبد اللہ بن عطاء نے امام محمد باقر سے سوال کیا: بوقت خروج حضرت مہدی کی سیرت کیا ہوگی؟
فرمایا: سیرت مہدی (عج)، سیرت رسول خداﷺ ہی ہے کہ اس سے قبل جو بدعتیں ہوں گی وہ انہیں نابود کردیں گے اور اسلام کونئی زندگی (سنت رسولؐ کے مطابق) عطا کریں گے۔
بیت المقدس میں ورود مہدی (عج) اور نزول حضرت عیسیٰ
۲۳ ۔ عقدر الدرر فی اخبار المنتظر(۳۳) نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے روایت کی ہے:
"وَ عَنۡ اَمیرِ المُؤۡمِنینَ عَلیِّ بن ابیطالبٍ‘، فی قِصَّة االدَّجال، قالَ : اَلا و اِنَّ اَکۡثَرَ اَتۡباعِه ِ اَوۡلادُ الزِّنا، لا بِسُوا التّیجان، و ه ُمُ الۡیَه وُدُ عَلَیۡه ِم لَعۡنَةُ الله ِ وَ یَدۡخُلُ الۡمَه ۡدِیُّ بَیتَ الۡمَقۡدِسِ وَ یُصَلَّی بِالنّاسِ اِماماً، فَاِذا کانَ یَومَ الۡجُمۡعَةِ؛ وَ قَدۡ اُقیمَتِ الۡصَلوةِ، نَزَلَ عیسی بن مَریَم فَیَلۡتَفِتَ الۡمَه ۡدیُّ فَیَنۡظُرُ عٰیسی ، فَیقوُلُ لِعیسی: یَابۡنَ الۡبَتول، صَلِّ بالنّاسِ فَیَقُولُ : لَکَ اُقیمَتِ الصَّلوةُ، فَیَتَقَدَّمُ الۡمَه ۡدیُّ ، فَیُصَلّی باِلنّاسِ وَ یُصَلّی عیسی خَلۡفَه ُ وَیُبایِعُه ُ "
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے قصہ دجّال کے سلسلہ میں فرمایا: آگاہ رہو کہ دجال کے اکثر چاہنے والے ولد الزنا ہوں گے، ان کے لباس ابریشمی ہوں گے اور وہ یہودی ہوں گے، خدا ان پر لعنت کرے ۔۔۔ وہ بیت المقدس میں وارد ہوں گے اور نماز جماعت کی امامت کا فریضہ انجام دیں گے، پس جمعہ کے دن جس وقت نماز کا وقت ہوگا حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہوں گے، حضرت مہدی(عج) ان کی طرف متوجہ ہوں گے اور انہیں دیکھیں گے پھر فرمائیں گے: اے ابن بتول! لوگوں کو نماز پڑھائیے، عیسیٰ جواب میں فرمائیں گے: نماز با جماعت تو آپ کے لئے برپا کی گئی ہے، پس مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) امامت کے لئے آگے بڑھیں گے اور لوگوں کو نماز پڑھائیں گے اور عیسیٰ ان کے پیچھے نماز بھی پڑھیں گے اور ان کی بیعت بھی کریں گے۔
مہدی موعود (عج) از فرزندان امام حسنؑ مجتبیٰ
۲۴ ۔ "وَ عَنۡ اَبی اِسحاق، قالَ، قالَ علی علیه السلام ، وَ نَظَر اِلی اِبۡنِه ِ الۡحَسَنِ فَقالَ :اِنّ ابۡنِی ه ذا سَیِّدٌ، کَما سَمّاه ُ رَسولُ الله ِﷺ، وَ سَیَخۡرُجُ مِنۡ صُلۡبِه رَجُلٌ یُسَمّی بِاِسمِ نَبیِّکُمۡ، یُشۡبِه ُه ُ فِی الۡخُلۡقِ وَلا یُشۡبِه ُه ُ فی الۡخَلۡقِ، یَمۡلَاُ الۡاَرضَ عَدلاً "
ابو داؤد(۳۴) و ابوبکر بیہقی اور عقد الدرر(۳۵) ،(۳۶) نے ابو اسحاق سے روایت کی ہے: حضرت علی علیہ السلام نے امام حسن کو اپنی آغوش میں بٹھایا ہوا تھا کہ آپؑ نے فرمایا: میرا یہ بیٹا "سید" و "سردار" ہے جیسا رسول اکرمﷺ نے اسے سید و سردار قرار دیا ہے(۳۷) ۔ میرے اس بیٹے حسن کے صلب سے ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام، نبیؐ کے نام پر ہوگا وہ ان سے خُلق میں سب سے زیادہ مشابہ ہوگا لیکن خلقت میں نہیں، وہ زمین کو عدل سے پُر کردیں گے۔
نکتہ: امام محمد باقر اولین وہ امام ہیں جن کی والدہ ماجدہ امام حسن کی دختر نیک اختر ہیں(۳۸) لہذا یہ امام، حسنی بھی ہیں اور حسینی بھی ہیں نیز ان کے بعد تمام ائمہ حسنی بھی ہیں اور حسینی بھی پس بنابر یں حضرت مہدی (عج) امام حسن کے بھی فرزند قرار پائیں گے اسی لئے امیر المؤمنین علی نے فرمایا: مہدی خلقت میں حسن سے مشابہ نہیں بلکہ اخلاق میں حسن کی شبیہ ہیں۔
دین حضرت مہدی (عج ) پر اختتام پذیر ہوگا جس طرح ہم سے شروع ہوا
۲۵ ۔ "وَ عَنۡ اَمیرِ الۡمُؤۡمِنینَ عَلیِّ بن ابیطالِبٍ‘، قالَ : قُلۡتُ یا رَسُولَ الله ِ، اَمِنَّا الۡمَه ۡدیُّ اَوۡمِنۡ غَیۡرِنا؟ فَقالَ رَسولُ الله ِ ﷺ ، "بَلۡ مِنَّا، یَخۡتِمُ الله ِ بِه ِ الدّینَ، کَما فَتَحَه ُ بِنا" ۔۔۔"
یوسف بن یحیی(۳۹) نے امیرالمؤمنین سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا: مہدی (عج) ہم میں سے ہیں یا غیروں میں سے؟ فرمایا: ہم میں سے ہیں، خدا مہدی پر دین کو ختم کرے گا جس طرح ہم سے شروع کیا تھا ۔۔۔
نکتہ: یوسف بن یحیی یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: بعض حافظان (اہل سنت) نے اس روایت کو نقل کیا ہے مثلاً: ابو القاسم طبرانی، ابو نعیم اصفہانی، عبد الرحمن بن ابی حاتم و ابو عبد اللہ نعیم بن حماد۔
مہدی (عج) موعود بیت المقدس ہجرت کریں گے اور تین ہزار فرشتے ان کی مدد کریں گے
۲۶ ۔ یوسف بن یحیی(۴۰) نے امیر المؤمنین سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
"وَ عَنۡ اَمیرِ الۡمُؤۡمِنینَ عَلیِّ بن ابیطالِبٍ‘ قالَ:اَلۡمَه ۡدیُّ مَوۡلِدُه ُ بِالمَدینَةِ، مِنۡ اَه ۡلِ بَیۡتِ النّبیﷺ، وَ اسۡمُه ُ اسمُ نَبیِّ، وَ مَه اجَرُه ُ بَیۡتُ المَقۡدِسِ، کَثُّ اللِّحۡیَةِ، اَکۡحَلُ الۡعَیۡنَیۡنِ( ۴۱)، بَرّاقُ الثَّنایا فی وَجۡه ِه ِ خالٌ، اَقۡنی، اَجۡلی، فی کَتفِه ِ عَلامَةُ النَّبی، یَخۡرُجُ بِرایَةِ النَّبیﷺ، منۡ مِرۡطٍ مُخمَلَةٍ، سَوۡداءَ مُرَبَّعَةٍ فیه ا حِجرٌ، لَم تُنشَر مُنۡذُ تُوُفِیَ رَسولُ الله ﷺ وَلا تُنشَرُ حَتّی یَخۡرُجَ الۡمَه ۡدیُّ، یُمِدُّه ُ الله ُ بِثَلاثَةِ آلافِ مِنَ الۡمَلائِکَةِ، یَضۡرِبُونَ وُجُوه َ مَنۡ خالَفَه ُ وَ اَدۡبارَه ُم یُبۡعَثُ وَ ه ُوَ ما بَیۡنَ الثّلاثینَ اِلی الۡاَرۡبَعینَ "
مہدی کی ولادت اس شہر میں ہوگی، وہ اہل بیت پیغمبر اسلام سے ہوں گے، ان کا نام نبی کے نام پر ہوگا وہ بیت المقدس کی طرف ہجرت کریں گے، ریش مبارک بڑی ہوگی، آنکھوں میں قدرتی طور پر سرمہ لگا ہوگا، دانت چمکدار اور سفید ہوں گے، رخسار پر تِل ہوگا، ناک لمبی ہوگی، پیشانی کشادہ ہوگی، شانہ پر رسول اللہﷺ کی نشانی ہوگی، بوقت خروج پرچم رسول ؐ ان کے ہمراہ ہوگا جو پشم و مخمل کا ہوگا، اس کا رنگ سیاہ ہوگا اور مربع شکل کا ہوگا۔ وہ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد سے کھلا نہیں ہے اور نہ ہی کھلے گا جب تک کہ مہدی (عج) ظہور نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتوں سے ان کی مدد کرے گا، یہ فرشتے مخالفین حضرت مہدی (عج) کے چہروں اور پشت پر تازیانے ماریں گے، جب ظہور کریں گے تو تیس اور چالیس سال کی عمر کے مابین معلوم ہوں گے۔
نکتہ: یہ روایت ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے بھی کتاب "الفتن" میں صفحہ ۱۰۱ پر "فی صفۃ المہدی" کے زیر عنوان نقل کی ہے۔
خروج مہدی (عج) کے وقت اہل آسمان خوشحال ہوں گے
۲۷ ۔" وَ عَنۡ اَبی وائِل، قالَ : نَظَرَ عَلیٌّ اِلَی الۡحَسَنِ‘، فَقالَ : اِنَّ اِبۡنی ه ذا سَیِّدٌ، کَما سَمّاه ُ رَسُولُ الله ِﷺ ، سَیَخۡرُجُ مِنۡ صَلۡبِه ِ رَجُلٌ بِاِسۡمِ نَبیِّکُمۡ، یَخۡرُجُ عَلی حین غَفۡلَةٍ مِنَ النّاس، وَ اِماتَةِ الۡحَقِّ وَ اِظۡه ارِ الۡجَوۡرِ وَ یَفۡرَحُ بِخُروجِه اَه ۡلُ السَّماءِ وَ سُکّانُه ا وَ ه ُوَ رَجُلٌ اَجۡلَی الۡجَبینِ، اَقۡنَی الۡاَنفِ، ضَخۡمُ الۡبَطۡنِ یَمۡلَأُ الۡاَرۡضَ عَدۡلاً کَما مُلِئَتۡ ظُلۡماً وَ جَوراً"
یوسف بن یحیی(۴۲) نے ابو وائل سے روایت کی ہے کہ امیرالمؤمنین نے اپنے فرزند امام حسن کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: میرا یہ بیٹا "سید و سردار " ہے جیسا کہ رسول اللہؐ نے اسے سید و سردار قرار دیا ہے(۴۳) ۔ عنقریب اس کے صلب سے ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام تمہارے نبیؐ کے نام پر ہوگا، وہ اس وقت خروج کرے گا جبکہ لوگ غفلت کے اندھیروں میں ہوں گے، حق قتل اور باطل ظاہر ہوچکا ہوگا، اہلیان و ساکنین آسمان ان کے خروج سے خوشحال ہوجائیں گے، ان کی پیشانی روشن، ناک لمبی اور سینہ کشادہ ہوگا ۔۔۔ وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
مہدی (عج) خوبصورت اور نورانی ہوں گے
۲۸ ۔ "وَ عَنۡ ابی جَعفر مُحَمَّدِ بن عَلیٍّ الۡباقِرِ‘، قالَ : سُئِلَ اَمیرُ الۡمُؤۡمِنینَ علی علیه السلام ، عَن صِفَةِ الۡمَه ۡدیِّ فَقالَ: ه ُوَ شابٌّ، مَربُوعٌ، حَسَنُ الۡوَجۡه ِ، یَسیلُ شَعۡرُه ُ عَلی مِنۡکَبَیۡه ، یَعۡلُو نُورُ وَجۡه ِه ِ سَوادَ شَعرِه وَ لَحۡیَتِه وَ رَأسِه "
عقد الدّرر(۴۴) نے روایت نقل کی ہے: ابو جعفر امام محمد باقر نے فرمایا: امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے صفات مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) متوسط القامہ جوان ہیں، ان کا چہرہ خوبصورت ہے، ان کے بال کاندھوں پر پڑے ہوں گے، ان کے چہرہ کا نور ان کے بالوں کی سیاہی اور ریش مبارک پر غالب آرہا ہوگا۔
تمام لوگوں مہدی موعود (عج) کے محتاج ہیں
۲۹ ۔ "وَ عَنۡ الۡحارِثِ بۡنِ الۡمُغَیۡرَةِ النَّضۡری، قالَ : قُلۡتُ لِابَی عَبۡدِ الله ِ الۡحُسَیۡنِ ابۡنِ علی علیه السلام : بِاَیِّ شَئٍ یُعۡرَفُ الۡاِمامُ المَه ۡدیُّ (عج)، قالَ:بالسَّکینَةِ وَ الۡوَقارِ، قُلۡتُ: وَ بِاَیِّ شَئٍ؟ قالَ: بِمَعۡرِفَةِ الۡحَلالِ وَ الۡحَرامِ وَ بِحاجَةِ النّاسِ اِلیۡه ِ، وَلا یَحۡتاجُ اِلی اَحَدٍ "
یوسف بن یحیی(۴۵) نے حارث بن مغیرہ النضری سے روایت کی ہے کہ حارث نے ابی عبد اللہ الحسین سے عرض کیا: امام مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی پہچان کس طرح ہوگی؟ فرمایا: اطمینان و بردباری سے مزین ہوں گے۔ میں نے عرض کیا: کوئی اور پہچان بھی بتا دیجئے؟ فرمایا: وہ حلال و حرام کا عرفان رکھتے ہوں گے، لوگ ان کے محتاج ہوں گے لیکن وہ لوگوں کے محتاج نہ ہوں گے۔
نکتہ:حارث بن مغیرہ کا امام حسین سے سوال بتا رہا ہے کہ وہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کو "امام" تسلیم کرتے تھے اسی لئے انہوں نے یہ کہا: امام مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی پہچان کس طرح ہوگی؟
مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف ائمہ میں فاصلہ زمانی کے ساتھ آئیں گے
۳۰ " وَ عَن شُعَیبِ(۴۶) اِبنِ اَبی حَمزةُ، قالَ: دَخَلتُ عَلی اَبی عَبدِ الله ِ الۡحُسیۡنِ ابۡنِ عَلیٍّ‘، فَقُلۡتُ لَه ُ: اَنۡتَ صاحِبُ ه ذَا الۡاَمۡرِ؟؛ قالَ : لا، فَقُلۡتُ: فَوَلَدُک؟ قالَ: لا، فَقُلۡتُ: فَوَلَدُ وَلَدِکَ؟ قَال : لا، فَقُلۡتُ فَمَنۡ ه ُو؟
قالَ: اَلَّذی یَمۡلَأُه ا عَدۡلاً، کَما مُلِئَتۡ جَوۡراٍ، عَلی فَتۡرَةٍ مِنَ الۡاَئِمَةِ تَأۡتِی، کَما اَنَّ رَسُولَ الله ِﷺ بُعِثَ عَلی فَتۡرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ" عقد الدّرر(۴۷)
ابن ابی حمزہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: ابی عبد اللہ الحسین کی خدمت اقدس میں پہنچا تو عرض کیا: کیا آپ ہی صاحب الامر (مہدیؑ) ہیں؟
حضرت نے فرمایا: نہیں، عرض کیا: کیا آپ کے فرزند ہیں؟ فرمایا: نہیں، پھر عرض کیا: کیا آپ کے فرزند کے فرزند ہیں؟ فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: پس صاحب الامر (مہدیؑ) کون ہیں؟ فرمایا: وہ زمین کو اسی طرح عدل سے پر کردیں گے جس طرح سے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہوگی۔ جس طرح رسول اکرمﷺ سلسلۂ نبوت میں فاصلۂ زمانی کے ساتھ آئے تھے اسی طرح مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف سلسلۂ امامت میں فاصلۂ زمانی کے ساتھ آئیں گے۔
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے زمانے میں تمام خوبیاں ظاہر ہوجائیں گی
۳۱ ۔ یوسف بن یحیی(۴۸)
" وَ عَنۡ اَبی عَبۡدِ الله الۡحُسَیۡنِ بۡنِ علی علیه السلام ، قالَ : لا یَکُونُ الۡاَمۡرُ الَّذی یَنۡتَظِروُنَ یَعۡنی ظُه وُرَ الۡمَه ۡدیِّ حَتّی یَتَبرّأَ بَعۡضُکُمۡ مِنۡ بَعۡضٍ، وَ یَشۡه َدَ بَعۡضُکُم عَلی بَعضٍ باِلۡکُفرِ، وَ یَلۡعَنَ بَعۡضُکُم بَعۡضاً، فَقُلۡتُ، ما فی ذلِکَ الزَّمانِ مِنۡ خَیۡرٍ؛ فَقالَ : اَلۡخَیۡرُ کُلُّه ُ فی ذلِکَ الزَّمانِ، یَخۡرُجُ اَلۡمَه ۡدیُّ فَیَرۡفَعُ ذلِکَ کُلَّه ُ "
وہ امر (یعنی ظہور مہدیؑ) جس کا لوگ انتظار کر رہے ہیں اس وقت ہوگا جبکہ بعض لوگ، بعض لوگوں سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہوں گے، بعض لوگ بعض لوگوں پر کفر کے فتوے لگائیں گے، بعض لوگ بعض لوگوں پر لعنت کر رہے ہوں گے، میں نے عرض کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دورمیں کسی قسم کی خیر و خوبی کا وجود نہ ہوگا؟
فرمایا: جب مہدی موعود خروج کریں گے تو تمام خوبیاں ظاہر ہوجائیں گی اور وہ تمام برائیوں کا خاتمہ کردیں گے۔
ظہور حضرت مہدی (عج) سے قبل لوگوں میں شدید اختلافات اور مصائب
۳۲ ۔ "وَ عَنۡ اَبی جَعۡفَر مُحَمَّدِ بۡنِ عَلیٍّ‘، قالَ : لا یَظۡه َرُ الۡمَه ۡدِیُّ اِلّا عَلی خَوۡفٍ شَدیدٍ مِنَ النّاسِ، وَ زِلۡزالٍ، وَ فِتۡنَةٍ، وَ بَلاءٍ یُصیبُ النّاسَ، وَ طاعُونٍ قَبۡلَ ذلِکَ، وَ سَیۡفٍ قاطِعٍ بَیۡنَ الۡعَرَبِ، وَ اخۡتِلافٍ شَدیدٍ فیِ النّاسِ، وَ تَشَتُّتٍ فی دینِه ِم، وَ تَغَیُّرٍ فی حالِه ِمۡ، حَتّی یَتَمَنَّی الۡمُتِمَنّی الۡمَوۡتَ صَباحاً وَ مَسائاً، مِنۡ عِظَمِ ما یَری مِنۡ کَلَبِ النّاسِ وَ اَکۡلِ بَعۡضِه ِمۡ بَعۡضاً، فَخُروُجُه ُ اِذا خَرَجَ یَکُونُ عِنۡدَ الۡیَأۡسِ وَ القُنُوطِ مِنۡ اَنۡ نَری فَرجاً، فَیا طوبی لِمَنۡ اَدۡرَکَه ُ وَ کانَ مِنۡ اَنصارِه ، وَ الۡوَیۡلُ کُلُّ الۡوَیۡلِ لِمَنۡ خالَفَه ُ وَ خالَفَ اَمرَه ُ "
یوسف بن یحیی(۴۹) نے امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ظہور مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) سے قبل لوگ شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہوں گے، زلزلہ، مختلف فتنوں اور طرح طرح کے مصائب کا سامنا ہوگا۔ آمد مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) سے قبل لوگ طاعون سے دچار ہوں گے، عربوں میں جنگ و جدائی حاکم ہوگی اور لوگوں میں شدید اختلافات رونما ہوں گے، لوگ دین میں پراکندگی کا شکار ہوں گے، اور اسی طرح ان کے حالات متغیر ہوجائیں گے کہ لوگ صبح و شام موت کی آرزو کریں گے کیونکہ حالات کا مشاہدہ ان کے لئے گرانبار ہوگا کہ لوگ ایک دوسرے کو درندوں کی طرح چیر پھاڑنے لگیں گے اور ایک دوسرے کو کھانے کو دوڑیں گے اور جب لوگ فَرج و گشائش سے مایوس ہوجائیں گے تو اسی اثناء میں مہدی موعودؑ ظہور و خروج کریں گے پس مہدی کے زمانے کو پانے والےاور ان کی مدد کرنے والے خوش نصیب ہیں اور ان کی مخالفت کرنے والوں پر حیف ہے۔
زمانہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) میں سرخ و سفید موت
۳۳ ۔"وَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ : بَيْنَ يَدَيِ الْقَائِمِ مَوْتٌ أَحْمَرُ ، وَ مَوْتٌ أَبْيَضُ، وَ جَرَادٌ فِي حِينِهِ وَ جَرَادٌ فِي غَيْرِ حِينِهِ أَحْمَرُ كَأَلْوَانِ الدَّمِ، فَأَمَّا الْمَوْتُ الْأَحْمَرُ فَالسَّيْفُ، وَ أَمَّا الْمَوْتُ الْأَبْيَضُ فَالطَّاعُونُ "
عقد الدّرر(۵۰) نے نقل کیا ہے کہ علی بن اودی نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: زمانہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) میں لوگوں کو سرخ و سفید موت کا سامنا ہوگا، ان کے زمانے میں ٹڈے نمودار ہوں گے نیز ان کے ظہور سے قبل لال ٹڈے بھی برامد ہوں گے۔ پھر فرمایا: سرخ موت سے مراد، تلوار سے موت ہے، اور سفید موت سے مراد، طاعون کے ذریعے موت ہے۔
ظہور مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) سے قبل سورج و چاند گہن
۳۴ ۔"وَ عَنۡ یَزیدَ بن الۡخَلیلِ الۡاَسَدی، قالَ: کُنۡتُ عِنۡدَ اَبی جَعۡفَر مُحَمَّدِ بن عَلیٍّ‘ فَذَکَرَ آیَتان یَکُونانِ قَبۡلَ الۡمَه ۡدیّ ، لَمۡ یَکوُنا مُنۡذُ اَه ۡبَطَ الله ُ تَعالی آدَمَ ، وَ ذلِکَ: اَنّ الشَمۡسَ تَنۡکَسِفُ فیِ النَّصۡفِ مِنۡ شَه ۡرِ رَمَضانِ وَ الۡقَمَرَ فی آخِرِه ، فَقالَ لَه ُ رَجُلٌ، یَا ابۡنَ رَسُولِ الله ِ! لا، بَلِ الشَّمۡسُ فی آخِرِ الشَّه ۡرِ وَ الۡقَمَرُ فی النَّصۡفِ؛ فَقالَ اَبُو جَعۡفَر - - : اَعۡلَمُ الَّذی تَقولُ، اِنَّه ُما آیَتانِ لَمۡ یَکُونا مُنۡذُ ه َبَطَ آدَمُ "
یوسف بن یحیی(۵۱) نے یزید بن خلیل اسدی سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں حضرت امام محمد باقر کی خدمت اقدس میں موجود تھا کہ آنجناب نے قبل از ظہور مہدی رونما ہونے والی علامات میں سے دو ایسی علامتوں کی نشاہدہی فرمائی جو زمین پر حضرت آدم کے آنے سے لیکر آج تک رونما نہیں ہوئی ہیں:
اول: نیمہ ماہ رمضان میں سورج گہن ہوگا
دوم: آخر ماہ رمضان میں چاند گہن ہوگا
ایک شخص کہنے لگا: اے فرزند رسول ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ سورج رمضان کے آخر میں اور چاند نصف رمضان میں ہوگا۔
حضرت نے فرمایا: جو تم کہہ رہے ہو اس کے بارے میں ہم بہتر جانتے ہیں؛ کیونکہ یہ دو علامتیں حضرت آدم کے زمین پر آنے سے لیکر آج تک رونما نہیں ہوئی ہیں۔
مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کا ظہور روز عاشورا ہوگا
۳۵ ۔ عقد الدّرر(۵۲) نے ابو جعفر امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
"وَ عَنۡ اَبی جَعۡفَر ، قالَ: یَظۡه َرُ الۡمَه ۡدیُّ فی یَوۡمِ عاشُوراء، وَ ه ُو الۡیَوۡمُ الّذی قُتِلَ فیه ِ الۡحُسَیۡنُ بن علی علیه السلام ، وَ کَاَنّی بِه یَوۡمَ السَّبۡتِ الۡعاشَرِ مِنَ الۡمُحَرَّمِ، قائِمٌ بَیۡنَ الرُّکۡنِ وَ الۡمَقامِ، وَ جَبۡرَئیلُ عَنۡ یَمینِه وَ میکائیلُ عَن یَسارِه ، وَ تَصیرُ اِلیۡه ِ شیعَتُه ُ مِنۡ اَطۡرافِ الۡاَرۡضِ، تَطۡوی لَه ُمۡ طَیّاً، حَتّی یُبایِعُوه ُ فَیَمۡلَأُ بِه ِم الۡاَرضَ عَدۡلاٍ، کَما مُلِئَتۡ جَوۡراً وَ ظُلۡماً "
مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا ظہور روز عاشورا واقع ہوگا اور یہ وہ دن ہے جس روز حسین بن علی علیہ السلام کربلا میں شہید ہوئے، ہفتہ دس محرم کا دن ہوگا، قائم رکن و مقام کے مابین کھڑے ہیں جبرئیل ان کی دائیں جانب اور میکائیل بائیں جانب موجود ہیں، اطراف زمین سے شیعہ ان کی طرف دوڑ پڑیں گے، زمین کے فاصلے ان کے لئے سمٹ جائیں گے کہ وہ ان کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوجائیں۔ پس وہ ان کے ذریعے زمین کو عدل و انصاف سے پر کردیں گے جس طرح اس سے قبل ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔
قبل از فَرج آل محمدؐ مشرق سے آگ نمودار ہوگی
۳۶ ۔ نیز اسی کتاب(۵۳) میں ابو جعفر امام محمد باقر سے روایت کی گئی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
"وَ عَنۡ اَبی جَعۡفَر مُحَمَّدِ بۡنِ عَلیٍّ‘، اَنَّه ُ قالَ : اِذَا رَأَیۡتُمۡ ناراً مِنَ الۡمَشرِقِ ثَلاثَةَ اَیّام اَوۡ سَبۡعَةً، فَتَوَقَّعُوا فَرَجَ آلِ مُحَمَّدٍ اِنۡ شاءَ الله ُ تعالی، ثُمَّ قالَ : یُنادی مُنادٍ مِنَ السَّماءِ بِاِسۡمِ الۡمَه ۡدیِّ فَیُسۡمِعُ مَنۡ بِالۡمَشرِقِ وَ مَنۡ بِالۡمَغرِبِ، حَتّی لا یَبۡقی راقِدٌ اِلّا اسۡتَیۡقَظَ، وَ لا قائِمٌ اِلّا قَعَدَ، وَ لا قاعِدٌ اِلّا قامَ عَلی رِجۡلَیۡه ِ، فَزَعاً مِنۡ ذلِکَ فَرَحِمَ الله ُ عَبۡداً سَمِعَ ذلِکَ الصَّوۡتَ فَاجابَ، فَانَّ الصَّوۡتَ الاَوَّلَ ه ُوَ صَوۡتُ جِبۡریلَ الرُّوحِ الۡاَمینِ "
جب تم لوگ تین یا سات دن مشرق سے آگ نمودار ہوتے ہوئے دیکھو تو فَرَج آل محمدؐ کے منتظر رہنا (انشاء اللہ تعالیٰ)۔ پھر فرمایا: اس دن آسمان سے منادی حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا نام پکارے گا جسے مشرق و مغرب والے سب ہی سنیں گے اور کوئی ا س بات سے غافل نہ رہے گا، کوئی کھڑا نہیں ہوگا مگر یہ کہ بیٹھ جائے اور کوئی بیٹھا ہوا نہ ہوگا مگر یہ کہ خوف سے کھڑا ہوجائے۔ خدا اس صدائے آسمانی کے سننے والوں اور اس پر لبیک کہنے والوں پر رحمت کرے کیونکہ وہ جبرئیل روح الامین کی ندا ہوگی۔
خروج مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی پانچ علامات ہیں
۳۷ ۔ یوسف بن یحیی(۵۴) نے امام حسین سے روایت کی ہے آپؑ نے فرمایا:"وَ عَنۡ اَبی عَبۡدِ الله ، الۡحُسَیۡنِ بۡنِ عَلیٍّ‘، اَنَّه ُ قالَ: لِلۡمَه ۡدِیِّ خَمۡسُ عَلاماتٍ، اَلسُّفۡیانیُّ، وَ الۡیَمانیُّ، وَ الصَّیۡحَةُ مِنَ السَّماء، وَ الۡخَسۡفُ بِالۡبَیۡداءِ ، وَ قَتۡلُ النَّفۡسِ الزَّکیَّةِ "
خروج مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی پانچ علامات ہیں: ۱ ۔ خروج سفیانی، ۲ ۔ خروج و قیام یمانی در یمن، ۳ ۔صدائے آسمانی، ۴ ۔ بیداء (مکہ و مدینہ کے مابین) کی زمین کا دھنسنا، ۵ ۔ نفس ذکیہ کا قتل (جنہیں محمد بن حسن کہتے ہیں)۔
اصحاب المہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ۳۱۳ ہیں جو رکن و مقام کے مابین ان کی بیعت کریں گے
۳۸ ۔ نیز عقد الدّرر(۵۵) نے جابر بن یزید جعفی کے توسط سے امام محمد باقر سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:
"وَ يَبْعَثُ السُّفْيَانِيُّ جَيْشاً إِلَى الْكُوفَةِ، وَ عِدَّتُهُمْ سَبْعُونَ أَلْفاً، فَيُصِيبُونَ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَتْلًا وَ صَلْباً وَ سَبْياً وَ يَبْعَثُ السُّفْيَانِيُّ بَعْثاً إِلَى الْمَدِينَةِ، فَيَنْفِرُ الْمَهْدِيُّ مِنْهَا إِلَى مَكَّةَ، فَيَبْلُغُ أَمِيرَ جَيْشِ السُّفْيَانِيِّ أَنَّ الْمَهْدِيَّ قَدْ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ، فَيَبْعَثُ جَيْشاً عَلَى أَثَرِهِ، فَلَا يُدْرِكُهُ حَتَّى يَدْخُلَ مَكَّةَ خائِفاً يَتَرَقَّبُ، عَلَى سُنَّةِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ علیه ما السلام ، وَ يَنْزِلُ أَمِيرُ جَيْشِ السُّفْيَانِيِّ الْبَيْدَاءَ، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ، يَا بَيْدَاءُ أَبِيدِي الْقَوْمَ فَيُخْسَفُ بِهِمْ، فَلَا يُفْلِتُ مِنْهُمْ إِلَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، يُحَوِّلُ اللَّهُ وُجُوهَهُمْ إِلَى أَقْفِيَتِهِمْ، وَ هُمْ مِنْ كَلْب؛ قالَ : فَيَجْمَعُ اللَّهُ تَعالی لِلۡمَه ۡدیِّ أَصْحَابُهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا، وَ يَجْمَعُهُمُ اللَّهُ تَعالی عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ، وَ قَزَعٌ كَقَزَعِ الْخَرِيفِ، فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَ الْمَقَامِ؛ قالَ: وَ الۡمَه ۡدیُّ، یا جابِرُ، رَجُلٌ مِنۡ وَُلۡدِ الۡحُسَیۡنِ، یُصۡلِحُ الله ُ لَه ُ اَمَره ُ فِی لَیۡلَةٍ واحِدَةٍ "
سفیانی تقریباً ستّر ہزار سپاہیوں پرمشتمل ایک لشکر کوفہ کی بربادی کے لئے بھیجے گا وہ کوفہ پہنچ کر قتل و غارت گری کا بازار گرم کر دیں گے کسی کو سُولی پر لٹکائیں گے اور کسی کو اسیر بنالیں گے نیز ایک لشکر مدینہ کی جانب روانہ کرے گا اس وقت حضرت مہدی مدینہ سے مکہ مکرمہ کی جانب کوچ کریں گے، امیر سپاہ سفیانی کو اطلاع ملے گی کہ حضرت مہدی مکہ کے ارادہ سے خارج ہوچکے ہیں پس وہ ان کے پیچھے ایک لشکر روانہ کرے گا لیکن تمامتر کوششوں کے باوجود وہ انہیں ڈھونڈنے میں ناکام رہیں گے جبکہ حضرت مہدی بصورت خائف مکہ میں وارد ہوں گے جس طرح حضرت موسیٰ کے ساتھ بھی ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔(۵۶)
جب لشکر سفیانی، حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کو ڈھونڈنے اور انہیں اسیر کرنے کی غرض سے سر زمین بیداء (مکہ مدینہ کے مابین ہے) میں داخل ہوگا تو آسمان سے منادی ندا دے گا:
اے بیابان! اس قوم کونگل جا۔ پس وہ قوم زمین میں دھنس جائے گی صرف تین افراد بچ جائیں جن کی گردنیں خداوند عالم پیچھے کی جانب پلٹا کر "کتے" کی صورت میں تبدیل کردے گا۔
پھر امام باقر نے فرمایا: (جب مہدی مکہ میں وارد ہوں گے تو) اس وقت خداوند عالم ان کے لئے ۳۱۳ اصحاب کو جمع کر دے گا جو پہلے سے کئے ہوئے وعدہ کے بغیر ایک دم یکجا ہوجائیں گے اور بکھرے ہوئے بادلوں کی طرح سمٹ جائیں گے اور رکن و مقام کے مابین ان کی بیعت کریں گے۔
نیز فرمایا: اے جابر! مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ذریت حسین سے ہوں گے خداوند عالم ایک رات میں ان کی راہ ہموار کردے گا۔(۵۷)
کتب اہل سنت میں شیعہ اثنا عشری کی حقانیت کی تصریح
۳۹ ۔ شیخ سلیمان(۵۸) ،(۵۹) نے کتاب مناقب سے روایت نقل کی ہے:
"وَ فِی الۡمَناقِبِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ قَالَ: جَاءَ يَهُود مِنْ يَهُودِ الْمَدِينَةِ الی "عَلیٍّ کَرَّمَ الله ُ وَجۡه َه ُ قَالَ إِنِّي أَسْأَلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ وَ عَنْ ثَلَاثٍ وَ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ لِمَ لَا تَقُولُ أَسْئَلُكَ عَنْ سَبْع قَالَ أَسْئَلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ فَإِنْ أَصَبْتَ فِيهِنَّ سَئَلْتُكَ عَنِ الثَّلَاثِ الْآخَر فَإِنْ أَصَبْتَ فیه ِنَّ سَئَلْتُكَ عَنِ الْوَاحِدَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ مَا تَدْرِي إِذَا سَئَلْتَنِي فَأَجَبْتُكَ أَخْطَأْتُ اَمۡ اَصِبۡتُ، فَاَخۡرَجَ الۡیَه وُدیُّ مِن كُمِّهِ كِتَاباً عَتِيقاً قَالَ هَذَا وَرِثْتُهُ عَنْ آبَائِي وَ أَجْدَادِي عَن ه اروُنَ جَدّی إِمْلَاءُ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَ خَطُّ هَارُون بن عِمۡران‘ وَ فِيهِ هَذِهِ الۡمَسۡأَلَةُ الَّتِي أَسْئَلُكَ عَنْهَا، قَالَ عَلِيٌّ إِنْ أَجَبْتُكَ بِالصَّوَابِ فِيهِنَّ لِتَسْلِم؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ اَسْلِمُ السَّاعَةَ عَلَى يَدَيْكَ اِنۡ اَجِبۡتَنی بِالصَّوابِ فیه ِنَّ، قَالَ لَهُ سَلْ، قَالَ: أَخْبِرْنِي عَنْ أَوَّلِ حَجَرٍ وُضِعَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، وَ عَنْ أَوَّلِ شَجَرَةٍ نُبِتَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، وَ عَنْ أَوَّلِ عَيْنٍ نُبِعَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، قَالَ: -- أَمَّا أَوَّلُ حَجَرٍ وُضِعَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، فَإِنَّ الْيَهُودَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا صَخْرَةُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَ كَذَبُوا وَ لَكِنَّهُ الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ نَزَلَ بِهِ آدَمُ مِنَ الْجَنَّةِ فَوَضَعَهُ فِي رُكْنِ الْبَيْتِ وَ النَّاسُ يَتَمَسَّحُونَ بِهِ وَ يُقَبِّلُونَهُ وَ يُجَدِّدُونَ الْعَهْدَ وَ الْمِيثَاقَ لِاَنَّه ُ کانَ مَلَکاً فَصارَ حَجَراً، قَالَ الْيَهُودِيُّ صَدَقْتَ، قَالَ عَلِيٌّ - - وَ أَمَّا أَوَّلُ شَجَرَةٍ نَبَتَتْ عَلَى الْأَرْضِ، فَإِنَّ الْيَهُودَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا الزَّيْتُونَةُ وَ كَذَبُوا وَ لَكِنَّهَا النَّخْلَةٌ مِنَ الْعَجْوَةِ نَزَلَ بِهَا آدَمُ مِنَ الْجَنَّةِ فَاَصْلُ كُلِّ النَّخۡلَةِ الْعَجْوَةِ، قَالَ الْيَهُودِيُّ صَدَقْتَ، قَالَ عَلِيٌّ کَرَّمَ الله ُ وَجۡه َه ُ: وَ أَمَّا أَوَّلُ عَيْنٍ نَبَعَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، فَإِنَّ الْيَهُودَ يَزْعُمُونَ أَنَّهَا الْعَيْنُ الَّتِي نَبَعَتْ تَحْتَ صَخْرَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَ كَذَبُوا وَ لَكِنَّهَا عَيْنُ الْحَيَاةِ الَّتِي نَسِيَ عِنْدَهَا صَاحِبُ مُوسَى السَّمَكَةَ الْمَالِحَةَ فَلَمَّا أَصَابَهَا مَاءُ الْعَيْنِ حُیِّیَتۡ وَ عَاشَتْ وَ شَرُبَتْ مِنۡه ُ فَاتَّبَعَهَا مُوسَى وَ صَاحِبُهُ الْخَضِرُ‘، قَالَ الْيَهُودِيُّ صَدَقْتَ، قَالَ عَلِيٌّ سَلْ عَنِ الثَّلاثِ الۡآخَرِ، قَالَ: أَخْبِرْنِي کَمۡ لِه ذِه ِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّها مِنْ إِمَامٍ، وَ أَخْبِرْنِي عَنْ مَنْزِلِ مُحَمَّدٍ أَيْنَ هُوَ فِی الْجَنَّةِ وَ اَخۡبِرۡنی مَنْ يَسْكُنُ مَعَهُ فِي مَنْزِلِهِ قَالَ عَلِيٌّ : لِهَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْد نَبِيِّهَا "اثْنَا عَشَرَ إِمَاماً" لَا يَضُرُّهُمْ خِلَافُ مَنْ خَالَفَ عَلَيْهِمْ، قَالَ الْيَهُودِيُّ صَدَقْتَ، قَالَ: عَلِيٌّ : یُنْزِلُ مُحَمَّدٌﷺ فِی جَنَّةِ عَدْنٍ وَ هِيَ وَسَطُ الْجِنَانِ وَ اَعۡلاه ا وَ أَقْرَبُهَا مِنۡ عَرْشِ الرَّحْمَانِ جَلَّ جَلَالُهُ، قَالَ الۡیَه ُودیُّ صَدَقْتَ، قَالَ عَلِيٌّ : وَ الَّذِي يَسْكُنُ مَعَهُ فِي الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ الۡاَئِمَّة الۡاِثْنَا عَشَرَ "اَوَّلُه ُمۡ اَنا وَخِرُنا القۡائِمُ الۡمَه ۡدیُّ (عج) " قَالَ صَدَقْتَ، قَالَ عَلِيٌّ :
سَلْ عَنِ الۡوَاحِدَةِ، قالَ: اَخۡبِرۡنی كَمْ تَعِيشُ بَعْدَ نَبیِّکَ وَ هَلْ تَمُوتُ أَوْ تُقْتَلُ،قَالَ : اَعِيشُ بَعْدَهُ ثَلَاثِينَ سَنَةً وَ تَخْضِبُ هَذِهِ، مِنْ هَذَا، أَشَارَ بِرَأْسِهِ الشَّریف، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ وَصِيُّ رَسُولِ اللَّهِﷺ"
مناقب میں ابو طفیل عامر بن وائلہ سے روایت نقل کی گئی ہے وہ کہتے ہیں: مدینہ کے رہنے والے ایک یہودی نے حضرت امیرالمؤمنین کی خدمت اقدس میں پہنچ کر عرض کیا: میں آپ سے تین، تین اور پھر ایک سوال کرنا چاہتاہوں۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا: یہ کیوں نہیں کہتے کہ مجھے سات سوالوں کے جوابات چاہئیں؟
یہودی نے کہا: میں پہلے آپ سے تین سوال کروں گا اگر آپ نے ان کے صحیح جوابات دیئے تو پھر دیگر تین سوال پیش کروں گا، اگر آپؑ نے ان کے بھی جوابات دیدیئے تو پھر اپنا آخری سوال پیش کروں گا۔
امام نے فرمایا: اگر میں تمہارے سوالات کے جوابات دیدوں تو تمہیں کیسے معلوم ہوگا کہ میں نے صحیح جواب دیئے ہیں یا غلط؟ یہ سن کر یہودی نے اپنی آستین میں سے ایک پرانی کتاب نکالی اور کہا: مجھے یہ کتاب میرے آباء واجداد سے ورثہ میں ملی ہے، میں نے اسے اپنے جد ہارون (برادر موسیٰ ) سے ورثہ میں پایا ہے کہ جسے موسیٰ بن عمران نے انہیں اِملاء کروایا تھا؛ اور جو میں نے آپ سے سوالات کئے ہیں وہ سب اس میں موجود ہیں۔
امام نے فرمایا: اگر میں نے تمہارے سوالات کے صحیح جوابات دیدیئے تو مسلمان ہوجاؤ گے؟
یہودی نے کہا: خدا کی قسم اگر آپ نے میرے سوالات کے صحیح جوابات دیدیئے تو میں ابھی اور اسی وقت آپ کے سامنے اسلام لے آؤں گا!
امامؑ نے فرمایا: تو پھر اپنے سوالات پیش کرو۔
یہودی نے کہا: ۱ ۔ کرۂ ارض پر آنے والا پہلا پتھر کون سا تھا؟
۲ ۔ زمین پر اگنے والا پہلا درخت کون سا تھا؟
۳ ۔ زمین پرجاری ہونے والا پہلا چشمہ کون سا تھا؟
امیرالمؤمنین نے فرمایا: یہودی گمان کرتے ہیں کہ زمین پر نازل ہونے والا پہلا پتھر، بیت المقدس کا پتھر ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے بلکہ یہ حجر اسود ہے جو حضرت آدم کے ساتھ بہشت سے آیا تھا۔ اورانہوں نے اسے رکن بیت اللہ الحرام میں نصب کیا تھا تاکہ لوگ اسے مسح کریں، اسے بوسہ دیں اور اس کے ذریعے تجدید ِ عہد و میثاق کریں کیونکہ وہ اصل میں ایک فرشتہ تھا جو بعد میں پتھر کی صورت میں تبدیل ہوگیا۔
یہودی نے کہا: بالکل صحیح فرمایا آپؑ نے!
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: زمین پر اگنے والے پہلے درخت کے بارے میں یہودی گمان کرتے ہیں کہ وہ زیتون کا درخت ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے بلکہ وہ کھجور کا درخت ہے حضرت آدم بہشت سے جسے اپنے ہمراہ لائے تھے اور اسے کاشت کیا اور تمام کھجور کے درخت اسی کی نسل سے ہیں۔
یہودی نے کہا: صحیح فرمایا آپؑ نے!
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: زمین پر جاری ہونے والے اولین چشمے کے بارے میں یہودی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صخرۂ بیت المقدس کے نیچے سے جاری ہونے والا چشمہ ہے لیکن یہ بات غلط ہے بلکہ وہ چشمہ حیات ہے کہ جس کے نزدیک حضرت موسیٰ کے رفیق (خضر )اپنی نمک زدہ مچھلی فراموش کر گئے اور پھر انہوں نے جب اسے اٹھا کر پانی میں ڈالا تو وہ زندہ ہوکر تیرنے لگی، اس وقت موسیٰ و خضر علیہما السلام نے اس مچھلی کا پیچھا کیا۔
یہودی نے کہا: آپؑ نے بالکل صحیح فرمایا۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اپنے دیگر تین سوال پیش کرو۔
یہودی نے کہا: فرمائیے کہ پیغمبر اسلام کے بعد اس امت میں کتنے امام ہوں گے؟ بہشت میں حضرت محمدﷺ کی منزل کیا ہے؟ اور اس منزل پر ان کے ہمراہ کون ہوگا؟
امیرالمؤمنین نے فرمایا: پیغمبر اسلامﷺ کے بعد بارہ امام ہوں گے جنہیں مخالفین کی کوئی مخالفت نقصان نہ پہنچا سکے گی۔
یہودی نے کہا: صحیح فرمایا آپؑ نے!
امیرالمؤمنین نے فرمایا: حضرت محمدﷺ بہشت عدن میں ہوں گے جو بہشت کے وسط میں بالا ترین مقام اور عرش الٰہی سے نزدیک ترین ہے۔
یہودی نے عرض کیا: صحیح فرمایا آپؑ نے!
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: بہشت میں حضرت محمدﷺ کے ہمراہ بارہ امام ہوں گے جن میں سے اول میں ہوں اور آخری حضرت قائم مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہیں۔
یہودی نے عرض کیا: آپؑ نے صحیح فرمایا۔
امیرالمؤمنین نے فرمایا: اپنا آخری سوال پیش کرو۔
یہودی نے عرض کیا: پیغمبر اسلامﷺ کے بعد آپؑ کتنے سال زندہ رہیں گے، قتل کئے جائیں گے یا طبعی موت سے اس دنیا سے جائیں گے؟
حضرت نے فرمایا: پیغمبر اسلامﷺ کے بعد میں تیس سال زندہ رہوں گا اور (ریش مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) یہ میرے سر کے خون سے رنگیں ہوگی۔
یہ سن کر یہودی نے کہا: میں خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتا ہوں کہ "اللہ" کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہی وصی رسول خداؐ ہیں۔
اس روایت میں موجود حقائق
اس روایت میں کچھ اہم نکات پائے جاتے ہیں مثلاً:
۱ ۔ یہ روایت اہل سنت کی معتبر کتب میں وارد ہوئی ہے یعنی ان کے علماء نے اس کی تصریح کی ہے لہذا اس سلسلہ میں ہمارے اوپر اشکال نہیں کیا جاسکتا ۔
۲ ۔ حضرت علی علیہ السلام نے واضح کر دیا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ کے بعد بارہ امام ہوں گے جن میں پہلا میں ہوں اور آخری مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہیں۔
۳ ۔ جب اہل سنت تمام اصحاب رسولؐ کو بطور موجبہ کلیہ عادل سمجھتے ہیں تو پھر اس امر کے پیش نظر وہ اس حقیقت کی طرف متوجہ کیوں نہیں ہوتے کہ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اصحاب رسول میں سے ہیں، رسول خداؐ کے چچا زاد بھائی، داماد اور اہل بیت میں سے ہیں نیز اہل سنت کے خلیفہ چہارم اور روایت نبوی کے مطابق فاروق اور مدار حق ہیں اور جہاں علی علیہ السلام ہیں حق وہیں ہے؟
کیا حضرت علی علیہ السلام ہی نے نہیں فرمایا کہ میں امام اوّل اور قائم مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) بارہویں امام ہیں؟ تو پھر اہل سنت حضرات اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کرتے؟ کیا اس طرح ان کے عقیدہ میں تناقض نہیں پایا جاتا کہ وہ ایک طرف حضرات ابوبکر، عمر، عثمان اور حضرت علیؑ کی خلافت کے قائل ہیں اور دوسری جانب ایسی متعدد روایات پر توجہ نہیں دیتے کہ پیغمبر گرامی قدر کے بعد اس امت کے بارہ امام ہوں گے جن میں اوّل امام علی علیہ السلام اور آخری قائم مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہوں گے ؟!!
۴ ۔ روایت میں موجود لفظ "بعد نبیِّہا" اس امر پر دلالت کر رہا ہے پیغمبر اکرمؐ کے بعد حضرت علی علیہ السلام سے حق خلافت غصب کرنے والوں کی خلافت باطل ہے کیونکہ روایت کے مطابق حضرت علی علیہ السلام امام اوّل ہیں۔
۵ ۔ روایت اتنی واضح و آشکار ہے کہ ذیل روایت میں یہودی مسلمان ہوجاتا ہے بلکہ شیعہ امیرالمؤمنین ہوگیا اور شہادت دیتا ہے کہ "آپ ہی وصی پیغمبر اسلام" ہیں۔
۶ ۔ یہودی شخص نے امیرالمؤمنین کی خدمت میں عرض کیا:
ان مسائل کے جوابات میرے پاس موجود اس کتاب میں محفوظ و مرقوم ہیں جو میں نے اپنے اجداد اور ہارون بن عمران سے ا رث میں حاصل کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اجداد اور انبیائے ماقبل مثلاً ہارون و موسیٰ جانتے تھے کہ پیغمبر اسلام کے نزدیک علی علیہ السلام کا وہی مقام ہے جو حضرت موسیٰ کے نزدیک حضرت ہارون کا مقام تھا۔
نیز جانتے تھے کہ جس طرح نقبائے بنی اسرائیل بارہ تھے اسی طرح پیغمبر اسلام کے بعد بارہ امام ہوں گے جن میں اول امام علی علیہ السلام اور آخری امام مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہوں گے۔
نیز جانتے تھے کہ پیغمبر اکرمﷺ کا وصی ان کے بعد تیس سال زندہ رہے گا اور اس کی ریش مبارک اس کے سر کے خون سے رنگین ہوگی۔
۷ ۔ اس روایت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ "عقائد شیعہ اثناء عشری" برحق عقائد ہیں کیونکہ شیعوں کے پہلے امام علی علیہ السلام اور آخری امام مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہیں اور ۷۳ فرقوں(۶۰) میں سے نجات پانے والا فرقہ شیعہ اثنا ء عشری ہی ہے۔
جی ہاں اگر تعصبات کی عینک اتار کر رکھ دی جائے تو یقیناً جہل و نادانی کے پردے چاک ہوجائیں اور حقائق روز روشن کی مانند آشکار ہوجائیں۔
لشکر سفیانی پر خدا و دیگر مخلوقات کا غضب
۴۰ ۔ یوسف بن یحیی نے امیرالمؤمنین سے ایک طولانی روایت نقل کی ہے کہ جسے اختصار کے ساتھ یہاں نقل کیا جا رہا ہے:
"عَنۡ اَمیرِ الۡمُؤۡمِنینَ عَلیِّ بن اَبیطالِبٍ‘، قالَ: اَلا فَه ُوَ (اَی الۡمَه ۡدی (عج)) اَشۡبَه ُ خَلۡقِ الله ِ عَزَّوجلَّ بِرَسُولِ الله ِﷺ، وَ اِسۡمُه ُ عَلی اِسۡمِه ِ، وَ اِسۡمُ اَبیه ِ عَلی اِسۡمِ اَبیه ِ(۶۱) ، مِنۡ وُلۡدِ فاطِمَةَ اِبۡنَةِ مُحَمَّدٍﷺ، منۡ وُلۡدِ الۡحُسَیۡنِ، اَلا فَمَنۡ تَوالَی غَیۡرَه ُ لَعَنَه ُ الله ُ؛
ثُمَّ قال : فَیَجۡمَعُ الله ُ عَزَّوجَلَّ اَصۡحابَه ُ عَلی عَدَدٍ اَه ۡلِ بَدۡرٍ، وَ عَلی عَدَدِ اَصۡحابِ طالُوتَ، ثَلاثِمأَة وَ ثلاثَة عَشَرَ رَجُلاً، ؛
ثُمَّ قالَ اَمیرُالۡمُؤۡمِنینَ وَ اِنّی لَاَعۡرِفُه ُمۡ وَ اَعۡرِفُ اَسۡمَائَه ُم، ثُمَّ سَمّاه ُمۡ، وَ قالَ: ثُمَّ یَجۡمَعُه ُمُ الله ُ عَزَّوجَلَّ، مِنۡ مَطۡلَعِ الشَّمۡسِ اِلی مَغرِبِه ا فی اَقَلَّ مِنۡ نِصۡفِ لَیۡلَةٍ، فَیَأۡتُونَ مَکَّةَ، فَیُشۡرِفُ عَلَیۡه ِمۡ اَه ۡل مَکَّةَ فَلا یَعۡرِفوُنَه ُمۡ، فَیَقوُلَونَ: کَبَسَنا اَصۡحابُ السُّفیانی؛
فَاِذا تَجَلّی لَه ُمُ الصُّبۡحُ یَرَوۡنَه ُمۡ طائِعینَ مُصَلّینَ، فَیُنۡکِروُنَه ُمۡ، فَعِنۡدَ ذلِکَ یُقَیِّضُ الله ُ لَه ُمۡ مَنۡ یُعَرَّفُه ُمُ الۡمَه ۡدیَّ وَ ه ُوَ مُخۡتَفٍ، فَیَجۡتَمِعُونَ اِلَیۡه ِ، فَیَقُولُونَ لَه ُ: اَنۡتَ الۡمَه ۡدیُّ؟؛ فَیَقُولُ: اَنا اَنۡصاریُّ؛ وَ الله ِ ما کَذِبَ، وَ ذلِکَ اَنَّه ُ ناِصرُ الّدینِ؛ وَ یَلۡحَقُه ُ ه ُناکَ ابۡنُ عَمِّه ِ الۡحَسَنیُّ فی اِثۡنی عَشَرَ اَلف فارِسٍ، فَیَقُولُ الۡحَسَنیُّ ه َلۡ لَکَ مِنۡ آیَةٍ فَنُباِیِعُکَ؟؛ فَیُؤۡمِیِ الۡمَه ۡدیُّ اِلَی الطَّیۡر، فَتَسۡقُطُ عَلی یَدِه ِ، وَ یَغۡرُسُ قَضیباً فی بُقۡعَةٍ مِنَ الاَرجِ، فَیَخۡضَرُّ وَ یُورِقُ، فَیَقُولُ لَه ُ الۡحَسَنیُّ : یَابۡنَ عَمّ ه ِیَ لَکَ، وَ یُسَلَّمُ اِلَیۡه ِ جَیۡشَه ُ؛ فَیَسیرُ الۡمَه دیُّ بِمَنۡ مَعَه ُ، لا یُحۡدِثُ فی بَلَدٍ حادِثَةٍ اِلَّا الۡاَمۡنَ وَ الۡاَمانَ وَ الۡبُشۡری، وَ عَنۡ یَمینِه جِبۡریلُ، وَ عَن شِمآله میکائیلُ علیه ما السلام وَ النَّاسُ یَلۡحَقُونَه ُ مِنَ الآفاقِ ؛
وَ یَغۡضبُِ الله ُ عَزّوَجَلَّ عَلَی السُّفۡیانی وَ جَیۡشه ِ وَ یُغۡضِبُ سائِرَ خَلۡقِه عَلَیۡه ِمۡ حَتّی الطَّیۡرِ فِی السَّماءِ فَتَرۡمیه ِمۡ بِاَجۡنِحَتِه ا وَ اِنَّ الۡجِبالَ لَتَرۡمیه ِمۡ بِصُخُورِه ا، فَتَکُون وَقۡعَةٌ یُه ۡلِکُ الله ُ فیه ا جَیۡشَ السُّفۡیانی، وَ یَمۡضی ه ارِباً، فَیَأۡخُذُه رَجُلٌ مِنَ الۡمَوالی اِسۡمُه ُ صبَاح، فَیَأۡتی بِه اِلَی الۡمَه دیّ ، و ؛
وَ یَکوُنُ السُّفۡیانی قَدۡ جُعِلَتۡ عِمامَتُه ُ فی عُنُقِه وَ سُحِب، فَیُوقِفُه ُ بَیۡنَ یَدَیۡه ِ فَیَقُولُ السُّفۡیانی لِلۡمَه ۡدی : یَابۡنَ عَمّی(۶۲) و(۶۳) ، مُنَّ عَلَیَّ بِالحَیاةِ اکُونُ سَیۡفاً بَیۡنَ یَدَیۡکَ وَ اُجاه ِدُ اَعۡدائَکَ؛
وَ الۡمَه ۡدیُّ جالِسٌ بَیۡنَ اَصۡحابه وَ ه ُوَ اَحیی مِنۡ عذراء، فَیَقُولُ : خُلُّوه ُ، فَیقوُلُ اَصۡحابُ الۡمَه ۡدی : یَابۡنَ بِنۡتِ رَسوُلِ الله ِ، تَمُنُّ عَلَیۡه ِ بِالۡحَیاةِ؟ وَ قَدۡ قَتَلَ اَوۡلادَ رَسُولِ الله ِﷺ، ما نَصۡبِرُ عَلی ذلِکَ؛
فَیَقُولُ : شَأنُکُمۡ وَ ایّاه ُ اِصۡنَعُوا بِه ما شِئۡتُم وَ یذبَحُه ُ، وَ یَاۡخُذُ رَأسَه ُ، وَ یَأتی بِه ِ الۡمَه ۡدی، فَیَنۡظُرُ شیعَتُه ُ اِلَی الرّأۡسِ فَیُکَبِّروُنَ وَ یُه َلِّلُون وَ یَحۡمَدُونَ الله تعالی علی ذلِکَ، ثُمَّ یَأۡمُرُ الۡمَه ۡدی بِدَفۡنِه "
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: یاد رکھو! مہدیؑ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اکرمﷺ سے مشابہ ہوں گے، ان کا نام پیغمبر کے نام پر اور ان کے والد کا نام پیغمبر اسلامﷺ کے والد کے نام پر ہوگا(۶۴) ۔ مہدی، فاطمہ زہرا کی اولاد میں سے ہوں گے، وہ ذریت حسینؑ سے ہیں۔ یاد رکھو جو شخص بھی مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو اپنا امام قرار دے گا خداوند عالم اس پر لعنت کرے گا۔
پھر فرمایا: اللہ ان کے اصحاب کو یکجا کردے گا جن کی تعداد جنگ بدر میں لشکر اسلام کی تعداد اور سپاہ طالوت کے برابر ۳۱۳ ہے ۔۔۔،
پھر فرمایا: میں ان تمام اصحاب مہدی سے آشنا ہوں اور ان سب کے نام مجھے معلوم ہیں پھر آپؑ نے سب کے نام بیان فرمائے؛ اور فرمایا: خداوند عالم ان ۳۱۳ اصحاب کو مشرق و مغرب سے ایک نصف رات سے کم وقت میں یکجا کردے گا۔ وہ مکہ میں داخل ہوں گے اہل مکہ انہیں دیکھیں گے لیکن پہچانیں گے نہیں کہ یہ کون ہیں بلکہ وہ یہ کہنے لگیں گے سپاہ سفیانی نے ہم پر دباؤ ڈال دیا ہے۔ جب صبح نمودار ہوگی تو اہل مکہ اصحاب مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کو نماز اور اطاعت امر الٰہی میں مشغول پائیں گے لیکن اب بھی انہیں نہیں پہچانیں گے، اسی اثنا میں خداوند عالم ان میں ایک شخص کو تیار کرے گا کہ وہ ان اصحاب سے حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی ملاقات و تعارف کرائے جبکہ وہ انہی لوگوں میں مخفی و غیر متعارف ہوں گے، پس یہ اصحاب، حضرت مہدی کی خدمت میں پہنچ کر سوال کریں گے کہ کیا آپؑ ہی حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف ہیں؟ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) فرمائیں گے:میں مدد کرنے والوں میں سے ہوں۔
امیرالمؤمنین نے فرمایا: خدا کی قسم مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہرگز جھوٹ نہیں بولیں گے وہ دین خدا کی مدد کرنے والے ہیں ۔۔۔ ان کے پسر عم سید حسنی بارہ ہزار سواروں کے ہمراہ ان سے ملحق ہوجائیں گے، سید حسنی پہلے ان سے عرض کریں گے کہ آپؑ کے پاس کوئی علامت ہے جس کی بنیاد پر ہم آپ کی بیعت کریں؟
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) اس وقت ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے کو اشارہ کریں گے تو وہ ان کے ہاتھ پر آجائے گا اور سوکھی ہوئی لکڑی کو زمین میں گاڑ دیں گے تو فورا سرسبز ہوجائے گی۔
یہ دیکھ کر سید حسنی، حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) سے عرض کریں گے: اے پسر عم! یہ تمام سپاہ آپ کے لئے ہے اور اس طرح وہ لشکر ان کے اختیار میں دے دیں گے۔ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) اپنے تمام لشکر کے ہمراہ کوچ کریں گے اور جس شہر میں وارد ہوں گے اس کے لئے امن و سلامتی کا پیغام لیکر بڑھیں گے، ان کے دائیں جانب جبرئیل اور بائیں جانب میکائیل ہوں گے اور اطراف عالَم میں لوگ ان کے ساتھ ملحق ہوتے جائیں گے ۔۔۔
جب سپاہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) و سپاہِ سفیانی ایک دوسرے کے روبرو اور برسر پیکار ہوں گے تو خداوند عالم اس وقت سفیانی اور اس کے لشکر پر اپنا غضب نازل کرے گا، تمام مخلوقات الٰہی یہاں تک کے آسمانی پرندے اپنے پروں سے ان پر پرتاب کریں گے اور پہاڑ بھی ان کے اوپر اپنے پتھر پھینکیں گے۔ اس طرح خداوند عالم تمام لشکر سفیانی کو ہلاک کردے گا اور سفیانی فرار ہوجائے گا، موالیان مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) میں سے "صباح" نامی ایک شخص اسے گرفتار کرکے حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی خدمت میں لے جائے گا، سفیانی کا عمامہ اس کے گلے میں لپٹا ہوا ہوگا اور لوگ اسے کشاں کشاں پھرائیں گے اور جب اسے حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے سامنے لاکر کھڑا کریں گے تو کہے گا: اے پسر عم (کیونکہ جدِّ سفیانی، عبد شمس اور جدّ حضرت مہدی، جناب ہاشم ہیں جو کہ جڑواں بھائی تھے) مجھ پر احسان کیجئے کہ مجھے زندہ رہنے دیں تاکہ آپ کی خدمت میں رہ کر اپنی تیز دھار تلوار سے آپ کے دشمنوں سے مقابلہ کرسکوں۔
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) اپنے اصحاب سے فرمائیں گے کہ اسے رہا کردو۔ اصحاب (دست بستہ) عرض کریں گے۔ اے بنت رسولؐ کے فرزند! کیا آپ اسے زندہ جانے دیں گے؟ اس نے اولاد رسولؐ کو قتل کیا ہے اور یہ بات ہمارے لئے نہایت گراں ہے، حضرت اپنے اصحاب سے مخاطب ہوکر فرمائیں گے: تم جو چاہو اس کے ساتھ سلوک کرو ۔۔۔ اصحاب مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)، سفیانی کے سر کو قلم کرکے حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے پاس لائیں گے اور ان کی زبانوں پرتکبیر، لا الہ الّا اللہ اور حمد الٰہی ہوگی، پھر حضرت مہدی حکم دیں گے کہ سفیانی کو دفن کر دیا جائے ۔۔۔
مذکورہ بشارات کے نتائج
علمائے اہل سنت نے اپنی مختلف کتب میں اہل بیت کی جن متعدد روایات کو نقل کیا ہے ان سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں:
حضرت مہدی موعود ایک خوبصورت و نورانی جوان ہیں جو اہل بیت عصمت و طہارت کے فرد ہوں گے، جن کا نام "م، ح، م ، د" کنیت ابو القاسم ہے، ان کی والدہ گرامی کا نام نرجس خاتون ہے، وہ امام حسین کی نسل سے نویں فرزند ہیں۔ یہی قائم آل محمدؐ ہیں، وہ خُلق اور خَلق میں سب سے زیادہ پیغمبر اسلام سے مشابہ ہیں، خاتم الائمہ اور امت کے نجات دہندہ ہیں کیونکہ پیغمبر اسلامؐ کے بارہ جانشین ہوں گے جن میں اول حضرت علی علیہ السلام اور آخری حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہیں، وہ صاحب الزمان ہیں، پرچم محمدی ان کے ہی ہاتھ میں ہوگا، وہی حکومت احمدی کے سرپرست ہوں گے، ان کے ظہور سے اَہالی و ساکنین عرش خوشحال ہوں گے، خداوند کریم شب میں ان کی راہ ہموار کردے گا، منادی آسمان میں ندا دے گا کہ حجت خدا کا ظہور ہوگیا ہے، پس عاشور کےدن ان کا ظہور ہوگا اور ظہور کے وقت پرچم، پیراہن اور شمشیر رسول اللہؐ ان کے ہمراہ ہوں گے، ان میں تمام خوبیاں جمع ہیں، ان کے اصحاب کہ جن کی تعداد ۳۱۳ ہے کما حقہ ان کی معرفت رکھتے ہیں، یہ اصحاب رکن و مقام کے مابین ان کی بیعت کریں گے، وہ بدعتوں کو نابود اور سنتوں کو قائم کریں گے، بیت المقدس میں حضرت عیسیٰ کا نزول ہوگا اور نزول کے بعد وہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے، تین ہزار فرشتے ان کی خدمت کیلئے بیت المقدس میں موجود ہوں گے، حضرت مہدیؑ اور ان کے اصحاب جس شہر و قریہ میں داخل ہوں گے تو وہاں کے رہنے والوں کے لئے امن و سلامتی اور بشارتیں لیکر جائیں گے، اور جس طرح زمین ظلم و ستم اور بربریت سے بھری ہوگی اسے اسی طرح عدل و انصاف سے پُر کردیں گے۔ حسنی سید بارہ ہزار سواروں کے ہمراہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) سے ملیں گے اور ان سے علامت ونشانی کا تقاضا کریں گے، اس وقت آنجناب ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے کو اشارہ کریں گے تو وہ ان کے ہاتھ پر آجائے گا؛ پھر سوکھی ہوئی لکڑی کو اٹھا کر زمین میں گاڑیں گے تو سرسبز ہوجائے گی، عشاء کے وقت مکہ معظمہ میں نماز جماعت ادا کریں گے اور لوگوں سے خطاب کریں گے کہ اے لوگو! خدا اور اس وقت کو یاد کرو جبکہ تم اس کے حضور کھڑے ہوتے ہو، بتحقیق حجت الٰہی آچکی ہے، انبیاء مبعوث ہوچکے ہیں، کتابِ خدا نازل ہوچکی ہے، خدا نے حکم دیا ہے کہ کسی کو اس کا شریک قرار نہ دینا، خدا و رسولؐ کے فرمان کی اطاعت و پیروی کرنا، جن چیزوں کو قران نے زندہ کیا ہے انہیں زندہ رکھو اور جن چیزوں کو اس نے مردہ قرار دیا ہے، انہیں زندہ نہ کرو، ہدایت اور تقویٰ و پرہیزگاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ پس یاد رکھو! دنیا کے فناء و زوال کا وقت قریب ہے اور یہاں سے کوچ کرنا ہے، بتحقیق میں تمہیں خدا و رسول کی طرف، کتاب الٰہی پر عمل، ابطال باطل اور احیائے سنت الٰہی کی طرف دعوت دیتا ہوں۔
جب حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)ظہور فرمائیں گے توجوان ہوں گے یہ دیکھ کر کچھ لوگ ان کا انکار کردیں گے کیونکہ وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) بوڑھے ہوں گے جب سپاہِ مہدیؑ و سپاہِ سفیانی روبرو ہوں گے توخداوند عالم سفیانی اور اس کے لشکر پر اپنا غضب نازل کرے گا بلکہ تمام مخلوق الٰہی ان پر اپنا غضب نازل کریں گی یہاں تک کہ آسمان میں اڑتے ہوئے پرندے انہیں اپنے پروں سے نشانہ بنائیں گے اور پہاڑ پتھروں کی بارش کریں گے؛ اس وقت جبرئیل ان کے دائیں جانب اور میکائیل ان کے بائیں جانب ہوں گے، لوگ اطراف عالَم سے حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی مدد کے لئے لبیک کہیں گے، خداوند عالم سپاہِ سفیانی کو ہلاک کردے گا اور خود سفیانی فرار ہوجائے گا لیکن گرفتار ہوجائے گا اور حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)کے پاس لایا جائے گا ، بالآخر سفیانی کا سرقلم کردیاجائے گا، جب پیروان حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) سفیانی کے سر کو دیکھیں گے تو ان کی زبانو پر تکبیر، لا الہ الا اللہ اور حمد الٰہی جاری ہوجائے گی، پھر حضرت مہدیؑ ، سفیانی کے دفن کا حکم دیں گے۔
جی ہاں اس دن پورے عالم پر یہ آیت کریمہ محقَّق ہوجائے گی :( اِنّ الاَرضَ یرِثُه َا عِبَادِی الصَّالِحُونَ ) (۶۵) بیشک میرے صالح بندے ہی زمین کے وارث قرار پائیں گے۔
بیشک اس دن تمام جن و انس عبادت پروردگار میں مشغول ہوجائیں گے و ۔۔۔
اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام
شیخ عباسی قمی علیہ الرحمہ نے مفاتیح الجنان میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی زیارات مطلقہ کے ذیل میں پانچویں زیارت میں نقل کیا ہے کہ شیخ کلینی نے حضرت ابو الحسن ثالث یعنی امام علی علیہ السلام نقی سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: قبر امیرالمؤمنین کے پاس کھڑے ہوکر اس طرح کہا کرو: "اَلسَّلامُ عَلَیۡکَ یا وَلیَّ الله ِ، اَنۡتَ اَوَّلُ مَظۡلُومٍ وَ اَوَّلُ مَنۡ غُصِبَ حَقُّه ُ " سلام ہو آپ پر اے ولی خدا؛ آپ اوّلین مظلوم عالم اور پہلے وہ شخص ہیں جس کے حق کو غصب کیا گیا۔
بیشک حضرت علی علیہ السلام ہی اولین مظلوم عالم ہیں جیسا کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں نقل کردہ روایات اہل بیت علیھم السلام میں سے ۲۱ ویں روایت کے ذیل میں بیان کیا گیا ہے۔ سورہ زمر کی ۵۶ ویں آیت کی روشنی میں حضرت علی علیہ السلام واجب امر الٰہی ہیں جسے فراموش کردیا گیا ہے۔ اگرچہ کتب اہلسنت حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کے بارے میں پیغمبر اسلامﷺ و اہلبیت کی کثیر التعداد روایات سے پُر نظر آتی ہیں لیکن اس کے باوجود علمائے اہل سنت حقائق سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔ ہم یہاں چند نمونے پیش کر رہے ہیں:
ہم نے گذشتہ صفحات پر بحثِ مقدمات میں مندرجہ ذیل دو عنوان پیش کئے تھے:
۱ ۔ کتب اہلسنت میں حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کے بارے میں روایات نبوی؛
۲ ۔ "تلک عَشَرَةٌ کامِلَةٌ "۔
اس موقع پر کتب اہل سنت میں پیغمبر اسلامﷺسے نقل شدہ دس روایات پیش کی تھیں جن میں سے سات روایات میں لفظ "بعدی" پیغمبر اکرمؐ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کی تصریح کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ بشارات پیغمبر اسلام کے ذیل میں روایات نمبر ۱ ۔ ۲۱ ۔ ۲۸ ۔ ۳۰ ۔ ۳۵ بھی حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت پر دلالت کر رہی ہیں۔ اسی طرح کتب اہل سنت میں مرقوم بشارات ائمہ اہل بیتؑ کے ذیل میں روایات نمبر ۱۱ و ۳۲ بھی اسی مطلب پر دلالت کر رہی ہیں۔
روایت نمبر ۱۱ میں پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا:
"اَلۡاَئِمَةُ "بَعۡدی" اِثنا عَشَرَ، اَوَّلُه ُمۡ اَنۡتَ یا عَلی وَ آخِرُه ُم اَلۡقَائِمُ الَّذی یَفۡتَحُ الله ُ عَزَوَجَلَّ عَلی یَدِیۡه ِ مَشارِقَ الاَرضِ وَ مَغارِبَه ا "
میرے بعد بارہ امام ہوں گے جن میں اوّلین امام تم ہو اے علی! اور آخری امام قائم ہوں گے۔ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) وہ ہیں جن کے ہاتھوں پر خداوند عالم مشرق و مغرب کی فتح عنایت کرے گا۔
جبکہ روایت نمبر ۳۹ میں امیرالمؤمنین نے یہودی سے فرمایا:
" ه ؤُلآءِ اَلۡاَئِمَةُ الۡاِثنا عَشَرَ اَوَّلُه ُمۡ اَنا وَ آخِرُنا اَلۡقَائِمُ الۡمَه ۡدی (عج) "
جو افراد جنت میں پیغمبر اکرمﷺ کے ہمراہ ہوں گے وہ یہی بارہ امام ہوں گے جن میں اوّل میں ہوں اور آخری قائم مہدی ہوں گے۔
حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت پر لفظ "بعدی" کے ذریعے پیغمبر اسلامﷺ کی دس تصریحات
ہم اس کتاب کے پہلے باب میں "مقدمات" کے ذیل میں سات روایات بیان کرچکے ہیں جن میں لفظ "بعدی" حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل خلافت کی تصریح کر رہا ہے(۶۶) ۔ اور تمام سفیھانہ اجتہادات کو باطل کر رہا ہے۔
نیز بشارات اہل بیت میں بھی گیارہویں روایت میں لفظ "بعدی" آیا ہے۔ نیز نبی کریمؐ سے دو روایات اور بھی کتب اہل سنت سے نقل کریں گے تاکہ کتب اہل سنت سے نقل شدہ دس روایات کے ساتھ ملاکر، اوّلاً: حضرت علی کی بلافصل خلافت کے قطعی تواتر کو ثابت کریں۔ ثانیاً: مخالفین کا دندان شکن جواب دے سکیں۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر تمام دس روایات ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔
۱ ۔ محمد بن یوسف(۶۷) گنجی شافعی نے رسول اکرمﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
"وَ ه ُوَ یَعۡسُوبُ المؤمنینَ، وَ ه ُوَ بَابِیَ الّذی اُوۡتی مِنۡه ُ، وَ ه ُوَ خَلیفَتی "مِن بَعۡدی ""علی علیہ السلام مؤمنین کے بادشاہ مجھ تک پہنچنے کا دروازہ اور وہی میرے بعد میرے خلیفہ ہیں۔
نکات:
اوّل: رسول کریمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کو مؤمنین کا بادشاہ قرار دیا ہے اور بادشاہت سے جس مطلب کا ذہن میں تبادر ہوتا ہے وہ اس کی "حاکمیت و فرمانروائی" ہے۔
دوم: کسی مکان و مقام میں وارد ہونے والے افراد کی دو قسمیں ہوتی ہیں:
۱ ۔ بعض افراد ایسے ہوتے ہین جو صاحب خانہ کی اجازت کے بغیر گھر میں داخل ہوجاتے ہیں؛ تمام عقلائے عالم ایسے افراد کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے دوسرے کی مِلک میں تجاوز کیا ہے لہذا مستحق عقاب قرار پائیں گے۔
۲ ۔ بعض افراد ایسے ہوتے ہیں جو دروازے سے داخل ہوتے ہیں ۔ مذکورہ بالا روایت میں حضور سرورکائنات نے فرمایا ہے کہ علی علیہ السلام مجھ تک آنے کا راستہ ہے لہذا جو میرے پاس آنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اسی دروازے کے ذریعے آئے۔ اب اگر کوئی شخص غیر راہ یا اس دروازہ سے ہٹ کر ورود کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے سارق کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
سوم: رسول اکرمؐ نے تصریح فرمائی ہے کہ علی بن ابی طالب میرے بعد میرے خلیفہ و جانشین ہیں پس جو لوگ خلیفۂ پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اہل حل و عقد نے انہیں رائے ( vote ) دیکر معین کیا ہے؛ اگر اس قسم کی رائے دہی کو تسلیم بھی کرلیا جائے تب بھی وہ خلیفہ نہیں کہلائے جاسکتے بلکہ اس صورت میں انہیں صرف صدر مملکت قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ خلیفہ کو "مستخلف" ہی معین کرسکتا ہے یعنی اگر رسول اللہ کسی کو معین کریں گے تو اسے "خَلیفَةُ رَسُولِ الله " کہا جائے گا۔
لیکن اگر چند افراد جمع ہوکر کسی کے حق میں رائے دے دیں وہ بھی اگر واقعاً رائے دہی انجام پائی ہو تو اس شخص کو خلیفہ نہیں کہا جاتا بلکہ صدر مملکت کہا جاتا ہے۔ لہذا اگر رائے دہی کا دعویٰ کرنے والے خلیفہ پیغمبر ہونے کا دعویٰ کریں تو بالکل غلط ہے۔
چہارم: اس جیسی اور بہت سے روایات جن میں حضرت علی علیہ السلام کے بلافصل خلیفہ ہونے کی تر یح کی گئی اہل سنت کے بزرگ علماء نے اپنی کتب میں نقل کی ہیں لہذا اس سلسلہ میں ہمارے اوپر کسی قسم کی تہمت و اعتراض وارد نہیں کیا جاسکتا۔
پنجم: پیغمبر اکرمﷺکی تصریح اور شیعہ و سنی کتب میں متفقہ طور پر اس قسم کی روایات کی موجودگی کی وجہ سے بے بنیاد باتیں کرنے والوں کا منہ بند ہوجانا چاہیے۔
۲ ۔ کفایۃ الطالب نے حضرت ابوذر غفاری سے روایت کی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا:
"تَرِدُ عَلَیَّ الۡحَوض رایَةُ عَلیٍّ امیرِ الۡمُؤمِنینَ وَ اِمامِ الۡغُرِّ الۡمُحَجِّلینَ وَ الۡخَلیفَةِ "مِن بَعۡدی " "
حوض کوثر پر میرے پاس علی علیہ السلام امیرالمؤمنین، سفیدے چہرے والوں کے امام اور میرے بعد میرے خلیفہ و جانشین کا پرچم وارد ہوگا۔
نکات:
اول: رسول اکرمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کو اس روایت میں امیرالمؤمنین کے لقب سے یاد کیا ہے اور یہ بات خود حضرت علی علیہ السلام کے خلیفہ بلافصل ہونے کی دلیل ہے۔
دوم: رسول کریمﷺنے خلفاء میں سے کسی بھی صاحب کو امیرالمؤمنین کے لقب سے یاد نہیں کیا ہے۔ بعبارت دیگر شیعہ و سنی کثیر التعداد روایات کے مطابق نبی کریمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کے امیرالمؤمنین ہونے کی تصریح فرمائی ہے؛ لیکن ایک متفق علیہ روایت بھی ایسی نہیں ہے جس میں حضرت ابوبکر، عمر یا عثمان کو امیرالمؤمنین کہا ہو!
سوم: رسول اکرمﷺ نے "خلیفہ" اور "من بعدی" کہہ کر حضرت علی علیہ السلام کے بلافصل خلیفہ ہونے کی تصریح فرمائی ہے؛ جس طرح حضرت علی علیہ السلام کو امیرالمؤمنین سے ملقب کرکے تصریح فرمائی ہے۔
۳ ۔ بیہقی، خطیب خوارزمی اور ابن مغازلی شافعی نے اپنی اپنی کتاب مناقب میں نقل کیا ہے کہ رسول اکرمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:
"اِنَّه ُ لا یَنۡبَغی اَنۡ اَذۡه َبَ اِلّا وَ اَنۡتَ خَلیفَتی وَ اَنۡتَ اَوۡلی بِالۡمؤمِنینَ مِنۡ بَعۡدی "
"یہ بات مناسب نہیں ہے کہ میں لوگوں کے درمیان سے چلا جاؤں مگر یہ کہ اے علیؑ! تم میرے بعد میرے خلیفہ اور مؤمنین کے سرپرست بن کر رہو۔
قارئین گرامی توجہ فرمائیے کہ حضور سرور کائنات ابتدائے کلام میں پہلے لفظ "لَا یَنبَغِی" کے ذریعے نفی کر رہے ہیں اس کے بعد لفظ "اِلّا" کے ذریعے اس نفی کی نفی کر رہے ہیں اور کلام عرب میں یہ انداز گفتگو "حصر" کا فائدہ پہنچاتا ہے اور اسے اصطلاح میں حصر بالفظِ الّا کہتے ہیں۔ بنابریں نبی کریمﷺ لفظ "الّا" کے ذریعے کلام کو مکمل فرما رہے ہیں اور فرماتے ہیں: "یہ بات مناسب نہیں ہے کہ میں لوگوں کے درمیان سے چلا جاؤں مگر یہ کہ اے علیؑ! تم میرے بعد میرے خلیفہ قرار پاؤ" قابل توجہ بات یہ ہے کہ کلام نبیؐ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ "اَنۡتَ اَوۡلی بِالۡمؤمِنینَ مِنۡ بَعۡدی " کے ذریعے حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل خلافت کی تصریح فرمائی ہے۔ جس کے بعد کسی قسم کے شک و شبہ اور سفیھانہ اجتہاد کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی؛ کیونکہ مذکورہ جملہ میں "اِلّا وَ اَنۡتَ خَلیفَتی " کے ذریعے یقین ہوجاتا ہے کہ اَولیٰ سے مراد امامت و رہبری ہے اور پیغمبر گرامی قدر نے خطبہ غدیر کی ابتداء میں حاضرین سے اسی مطلب کا اقرار لیا تھا؛ اور فرمایا تھا: "اَلَسۡتُ اَوۡلی بِکُمۡ مِنۡ اَنۡفُسِکُمۡ" اور لوگوں نے یک زبان ہوکر کہا: "بلیٰ"
حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ علمائے اہل سنت علم نحو میں تو کبھی کبھی ایک لفظ اور کلمہ پر کئی کئی صفحات پر بحث کرتے ہیں اور بال کی کھال نکالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن اس مسئلہ میں چشم پوشی سے کام کیوں لیتے ہیں؟!
اگر کوئی عربی شاعر مثلاً "اِمرَءُ القیس" کوئی کلام کہتا ہے تو علمائے اہل سنت گھنٹوں اپنے شاگردوں کے سامنے اس پر تبصرہ کرتے رہتے ہیں لیکن اگر نبی کریمؐ سے اس قسم کی کوئی تصریح وارد ہوتی ہے تو ہزار اغماض کے باوجود بغیر کسی توضیح و تشریح کے اس سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
اگر تعصبات کی عینک اتار دی جائے تو حقائق روز روشن کی طرح واضح ہوجائیں گے۔
۴ ۔ خصائصُ العلویہ(۶۸) نے ابن عباس سے مناقب علی علیہ السلام نقل کئے ہیں اور آنجنابؑ کی منزلت ہارونی ذکر کرنے کے بعد رقمطراز ہیں کہ نبی کریمؐ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:
"اَنۡتَ خَلیفَتی یَعنی فی کُلِّ مؤمِنٍ بَعۡدی "
"اے علیؑ! تم میرے خلیفہ ہو یعنی میرے بعد ہر مؤمن پر خلیفہ ہو"
ہم یہاں علمائے اہل سنت سے سوال کرنا چاہیں گے کہ اگر رسول اسلامﷺ اپنے بعد حضرت علی علیہ السلام کو خلیفہ المسلمین قرار دینا چاہیں تو کیا اس کے علاوہ کوئی اور تعبیر بیان کریں گے؟!
اس روایت میں حضور سرور کائنات تصریح فرما رہے ہیں کہ علی علیہ السلام میرے بعد بلافصل خلیفہ ہیں۔ پس اس قسم کی روایت کی موجودگی میں علمائے اہل سنت کے لئے کسی اجتہاد کی گنجائش باقی نہیں رہتی؛ کیونکہ نبی کریمﷺ نے تصریح فرمائی ہے اور تصریح کے مقابلے میں اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے۔
۵ ۔ کتاب "الولایۃ"(۶۹) میں نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبر اکرمﷺ نے خطبۂ غدیر کے آغاز میں فرمایا:
"وَ قَد اَمَرنی جَبۡرَئیلُ عَنۡ رَبّی اَنۡ اَقوُمَ فی ه ذَا الۡمَشۡه َدِ وَ اُعۡلِمَ کُلَّ اَبۡیَض وَ اَسۡوَد اَنَّ عَلیَّ ابۡنَ ابیطالِبٍ اَخی وَ وَصیَّی وَ خَلیفَتی وَ الۡاِمامُ بَعۡدی "
"جبرئیل نے مجھے پروردگار عالم کی جانب سے حکم سنایا ہے کہ میں اس مقام پر قیام کرکے تمام سفید و سیاہ لوگوں کو اس امر سے آگاہ کردوں کہ علی بن ابی طالب میرے بھائی ، وصی، خلیفہ اور میرے بعد امام ہوں گے"
نکات:
۱ ۔ حضورؐ سرورکائنات نے فرمایا کہ پروردگار عالم کی جانب سے "امر و فرمان" آیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت، حضرت علی علیہ السلام کی امامت و بلافصل خلافت کے بارے میں جو کچھ لوگوں سے فرمائیں گے وہ سب فرمانِ الٰہی ہوگا؛ جیسا کہ آیت کریمہ بھی ہماری بات اور تصریح روایت کی تائید کر رہی ہے؛ ارشاد ہوتا ہے""قالَ اللہُ تعالی:( وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي ، هَارُونَ أَخِي ، اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي ، وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي ) (طہ ۲۹ ۔ ۳۲) ۔ خدایا! میرے خاندان سے میرا وزیر بنا دے، میرے بھائی ہارون کو اس کے ذریعے میری پشت کو محکم کردے، اور اسے میرے امر میں شریک بنا دے۔
جیسا کہ آیت کریمہ اس امر کی شہادت دے رہی ہے کہ حضرت موسیٰ جانتے ہیں کہ ان کی جانشینی کا مسئلہ پروردگار کے دست اختیار میں ہے بنابریں جیسا کہ لفظ "اِجعَل" سے واضح ہے کہ وہ خداوند کریم سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کے بھائی ہارون کو ان کا جانشین بنا دے۔ پس اگر مسئلہ خلافت حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں ہوتا تو جانشینی ہارون کی درخواست کے بجائے ان کی خلافت کا اعلان کردیتے۔
نیز اسی طرح آیت ابلاغ (مائدہ آیت ۶۷) بھی دلالت کر رہی ہے کہ مسئلہ خلافت پروردگار کی جانب سے ہی ہے۔
۲ ۔ نبی کریمﷺ نے تصریح فرمائی ہے کہ امین وحی "جبرئیل" یہ فرمان لیکر آئے ہیں یعنی وحی مِن جانب الٰہی ہے جیسا کہ سورہ نجم میں ارشاد ہوتا ہے:
( مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَی، اِنۡ ه ُوَ اِلّا وَحی یُوحی ) (۷۰)
تمہارا ساتھی نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا ہے اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا، اس کا کلام وہی وحی ہے۔
نکتہ اول و دوم میں یہ فرق ہے کہ نکتہ اوّل میں اس بات کو ثابت کیا گیا ہے کہ مسئلہ خلافت بطور عام ایک مسئلہ ہے جس کا "جعل" کرنا صرف خداوند عالم کے دست اختیار میں ہے اور صرف اللہ ہی اپنے نبی کا جانشین معین کرسکتا ہے جبکہ دوسرے نکتہ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت بلافصل کا پیغام جبرئیل امین لیکر آئے تھے یعنی یہ پیغام بھی "وحی الٰہی" تھا، پس ذکر خاص بعد از عام ہے۔
۳ ۔ ابن جریر طبری نے اپنی کتاب "الولایہ" میں تصریح کی ہے کہ حضور سرور کائنات نے یہ فرمان غدیر کے دن فرمایا تھا اور خطبہ غدیر کے دیگر نسخوں (جو شیعوں کے پاس محفوظ ہیں) سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبرؐ گرامی قدر نے فرمایا تھا"اَنۡ اَقُومَ فِی ه َذا المَشۡه َد " بنابرین اہل سنت کا یہ کہنا کہ "نبی کریمؐ نے غدیر میں صرف حضرت علی علیہ السلام کی دوستی کا اعلان فرمایا تھا" بالکل غلط ہے کیونکہ خود انہوں نے ہی روایت نقل(۷۱) کی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے غدیر میں حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کی تصریح کی ہے۔
علاوہ بریں یہ روایت شیعوں کے قول پر بہترین دلیل ہے کہ رسول اللہﷺ کی لفظ مولیٰ سے مراد "اَولی بالتصرف" اور خلافت علی علیہ السلام ہے۔
۴ ۔ پیغمبر اسلامﷺ نے فرمایا:"اُعۡلِمَ کُلَّ اَبۡیَض وَ اَسۡوَد " کہ تمام سفید و سیاہ لوگوں کو بتا رہا ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام لوگ حضور کے مخاطبین تھے، کوئی خاص طبقہ یا گروہ مقصود نہ تھا۔ نتیجتاً پیغمبر اکرمﷺ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کو تسلیم کرنا تمام لوگوں پر لازم و واجب تھا۔
۵ ۔ حضورؐ نے اپنے اس کلام میں مختلف تاکیدی کلمات جیسے "قَد" اور "اَنَّ" استعمال کئے ہیں جو اس امر کی تصریح ہیں کہ علی علیہ السلام میرا بھائی ہے اور جس طرح سورہ طہ کی آیت نمبر ۲۹ کی روشنی میں "وزارت"، "امر تبلیغ میں شراکت" وغیرہ منزلت ہارونی ہیں اسی طرح "اخوت" بھی منزلت ہارونی ہے؛ اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ حضورؐ سرورکائنات نے متعدد مقامات پر حضرت علی علیہ السلام کے لئے فرمایا ہے کہ علی علیہ السلام میرا بھائی ہے؛ جیسا کہ خوارزمی نے مناقب میں، ابن حجر مکی نے صواعقِ محرقہ میں اور ابن اثیر نے نہایہ کی جلد سوم میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے نقل کیا ہے: ہم لوگ خدمت پیغمبر اکرمﷺ میں موجود تھے کہ علی علیہ السلام تشریف لے آئے، پیغمبرؐ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: "قَدۡ اتَاکُم اَخِی " دیکھو تمہاری طرف میرے بھائی (علی علیہ السلام ) آ رہے ہیں۔ پھر آنحضرت نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ تھام کر کعبہ کی طرف رخ کرکے فرمایا: "وَ الَّذی نَفۡسی بِیَدِه ِ اِنَّ ه ذا وَ شیعَتَه ُ ه ُمُ الۡفائزِوُنَ یَوۡمَ الۡقیامَةِ " قسم ہے خدا کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، بتحقیق روز قیامت علیؑ اور ان کے شیعہ ہی کامیاب ہونے والے ہیں۔
۶ ۔ رسول اکرم حضرت محمد مصطفیﷺ نے تصریح فرمائی ہے کہ علی علیہ السلام میرا وصی ہے۔ ہم نے اپنی کتاب "اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام " میں ادائے غسل، ادائے دَین، وزارت و خلافت وغیرہ کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ کی وصیتوں کو ثابت کیا ہے اور منکرین وصیت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے۔(۷۲)
۷ ۔ پیغمبر اکرمﷺنے تصریح فرمائی ہے کہ علی علیہ السلام میرا خلیفہ ہے۔ اور حقیقتاً شیعہ و سنی متواتر روایات کی روشنی میں صرف حضرت علی علیہ السلام ہی رسول خداؐ کے بلافصل خلیفہ ہیں۔
ایک مرتبہ اہل سنت کے ایک شخص کے ساتھ گفتگو کے دوران میں نے اس سے کہا: کیا تم اہل سنت رسول اکرمﷺ سے اس روایت کو نقل نہیں کرتے ہو کہ آپؐ نے فرمایا: "لا تجتمع اُمَّتی عَلَی الخَطاء، اَو عَلَی الضَّلآلَه " یعنی میری امت خطا و گمراہی پر یکجا نہیں ہوسکتی۔
اس نے جواب دیا: ہاں ایسا ہی ہے۔
میں نے کہا: آپ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ امت اسلامی نے یکجا ہوکر اپنا ہاتھ حضرت ابوبکر کے ہاتھ میں دیدیا لہذا وہ خلیفہ ہوگئے۔
کہا: جی ہاں! ایسا ہی ہے۔
میں نے کہا: کیا تم اپنی اس بات سے پھر نہیں سکتے۔
کہا: ہر گز نہیں۔
میں نے کہا: بالفرض اگر امت جمع ہوئی ہو (حالانکہ جمع نہیں ہوئی تھی(۷۳) ) اور اہل حل و عقد نے حضرت ابوبکر کو رائے دی بھی ہو تب بھی حضرت ابوبکر صدر مملکت کہلائیں گے نہ کہ خلیفہ رسولؐ اللہ کیونکہ ضروری ہے کہ خلیفہ کو مستخلف ہی معین کرے اور متواتر روایات سے یہ بات واضح ہے کہ پیغمبر اسلامﷺ نے خود حضرت علی علیہ السلام کو اپنا جانشین معین فرمایا تھا پس حقیقت میں حضرت علی علیہ السلام خلیفہ رسول اللہؐ ہیں نہ کہ حضرت ابوبکر، ہذا اوّلا۔
ثانیاً: آپ کے قول کی روشنی میں تو حضرت عمر غاصب خلافت قرار پائیں گے کیونکہ انہیں ہرگز اہل حل و عقد نے رائے نہیں دی تھی بلکہ انہوں نے بالین حضرت ابوبکر کے پاس آکر ان پر اعتراض کیا تھا جیسا کہ منقول ہے اور کہا جاتا ہے کہ طلحہ اعتراض کرنے میں سب سے زیادہ پیش پیش تھے۔
اگر آپ یہ کہیں کہ حضرت ابوبکر کی وصیت کی بنا پر حضرت عمر خلیفہ بنے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ:
۱ ۔ آپ ہی کے قول کے مطابق آپ کا معیار وصیت و انتصاب نہیں ہے بلکہ اہل حل و عقد کی رائے ہے۔
۲ ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ حضرت ابوبکر کو پیغمبر گرامی قدر سے زیادہ عاقل و دانا اور فہیم سمجھ رہے ہیں کیونکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ پیغمبر اسلامﷺ نے کوئی وصیت نہیں فرمائی اور لوگوں کو حیرت زدہ چھوڑ کر دنیاسے رحلت فرما گئے۔ جبکہ حضرت ابوبکر دلسوز و عاقل تھے او ر وہ ہرگز اس بات پر راضی نہ تھے کہ لوگ ان کے بعد حیرت و استعجاب کا شکار ہوں لہذا انہوں نے حضرت عمر کی خلافت کے بارے میں وصیت کردی۔
ثالثاً: آپ اس بات کے قائل ہیں کہ "امت گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی" آپ کے اس قول کی روشنی میں تو حضرت عثمان کافر قرار پائیں گے کیونکہ لوگوں نے ان کے خلاف اجتماع کرکے انہیں قتل کردیا (یہ آپ ہی کے قول کا نتیجہ ہے اس میں کسی پر کوئی الزام و اعتراض وارد نہیں کیا جاسکتا)
کہا: جن لوگوں نے قتل عثمان پر اجتماع کیا وہ کافر تھے!!
میں نے کہا: یہ کیا بات ہے کہ جب چند لوگ خدعہ و نیرنک کے ذریعے سقیفہ بنی ساعدہ میں اکٹھے ہوتے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ لوگ جمع ہوئے اور لوگ خطاء و گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتے لہذا انہوں نے حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنادیا۔ لیکن جب لوگ جمع ہوگئے اور انہوں نے حضرت عثمان کو قتل کر دیا تو وہ کافر ہوگئے؟!
جی ہاں حقیقت یہ ہے کہ اہل سنت رونما ہونے والے واقعات کے پیش نظر اپنے عقائد بناتے ہیں۔ کبھی حضرت ابوبکر کے لئے اجماع کے قائل ہیں(۷۴) ، کبھی حضرت عمر کے لئے وصیت و انتصاب(۷۵) کا عقیدہ بنا لیتے ہیں اور کبھی حضرت عثمان کے لئے شوریٰ(۷۶) کے قائل ہوجاتے ہیں اور یہ حیرانی و اضطراب خود ان کے اصولوں کو باطل کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
۸ ۔ پیغمبر اسلامﷺ نے تصریح فرمائی ہے کہ علی علیہ السلام میرے بعد امام ہیں۔ اب ہم یہاں اہل سنت سے سوال کریں گے کہ اگر رسولؐ اسلام اپنے بعد حضرت علی علیہ السلام کو خلیفہ بنانا چاہیں گے تو کیا اس کے علاوہ کچھ اور فرمائیں گے؟!
دلچسپ بات یہ ہے کہ حتی ایک متفق علیہ روایت بھی ایسی دیکھنے میں نہیں آتی جس میں نبی کریمؐ نے فرمایا ہو کہ میرے بعد حضرت ابوبکر میرے وصی، امام اور خلیفہ ہوں گے جبکہ متعدد متواتر روایات پائی جاتی ہیں جن میں حضور سرورکائنات نے تصریح فرمائی ہے کہ "میرے بعد علی علیہ السلام میرے جانشین، وصی، وزیر اور امام ہوں گے اور ہم اب تک ایسی ہی کئی روایات پیش کرچکے ہیں منجملہ مذکورہ پانچ روایات بھی ہیں جن میں آنحضرت نے لفظ "بعدی یعنی میرے بعد" استعمال کیا ہے۔ اب ہم مزید پانچ روایات اسی سلسلہ میں پیش کر رہے ہیں۔
۶ ۔ احمد بن حنبل(۷۷) ، نسائی(۷۸) ، حاکم(۷۹) اور ذہبی اپنی تلخیص میں درجہ ذیل روایت کی صحت کا اعتراف کرتے ہیں۔ نیز دیگر افراد جیسے صاحبان سنن بھی اس کی صحت پر اتفاق و اجماع کا اظہار کرتے ہیں اور تمام افراد نے اسے "عمرو بن میمون" سے نقل کیا ہے؛ وہ کہتے ہیں: میں ابن عباس کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ۹ گروہ ان کے پاس آئے اور کہا: اے ابن عباس یا آپ ہمارے ساتھ تشریف لائیے یا اپنے اطراف خلوت کیجئے ہم آپ سے علیحدگی میں کچھ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔
ابن عباس نے کہا: میں تمہارے ساتھ آتا ہوں۔
ابن میمون کہتے ہیں کہ ابھی ابن عباس کی بینائی موجود تھی، انہوں نے ایک طرف جاکر گفتگو شروع کردی، ہمیں نہیں معلوم ہوسکا کہ انہوں نے کیا بات کی (کچھ دیر بعد) ابن عباس اپنے کپڑوں کو جھاڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے: افسوس صد افسوس! لوگ ایسے شخص کی برائیاں کر رہے ہیں جس میں ایسی دس سے زیادہ فضیلتیں پائی جاتی ہیں جو کسی میں موجود نہیں ہیں۔ پیغمبر اکرمؐ نے اس کے بارے میں فرمایا ہے ۔۔۔ اور علی علیہ السلام سے فرمایا:"اَنۡتَ وَلیُّ کُلِّ مُؤۡمِنٍ بَعۡدی وَ مُؤمِنَةٍ " اے علی ! تم میرے بعد ہر مؤمن اور مؤمنہ کے ولی و سرپرست ہو"۔
نکات:
اس روایت میں تین اہم نکات پائے جاتے ہیں:
اوّلاً: رسول اکرمﷺ لفظ "بعدی" تصریح فرما رہے ہیں کہ میرے بعد میرا جانشین و خلیفہ علی علیہ السلام ہے۔
ثانیاً: روایت عام ہے کیونکہ حضور سرور کائنات نے ادات عموم یعنی لفظ "کُلّ" کا استعمال کیا ہے نیز دو لفظ مؤمن و مؤمنہ بھی استعمال کئے ہیں تاکہ تمام لوگوں کو بتا دیں کہ علی بن ابی طالب‘ "ہر مؤمن و مؤمنہ کے امام ہیں"۔
ثالثاً: اس روایت میں لفظ "ولی" امام اور اولیٰ بالتصرف کے معنی میں استعمال ہوا ہے جس کی تین دلیلیں ہیں:
۱ ۔ کثیر متواتر روایات مثلاً اسی باب کی تیسری روایت کہ جس میں پیغمبر اکرمﷺنے فرمایا: "اَنۡتَ اَوۡلی بِالۡمؤمِنینَ مِنۡ بَعۡدی " نیز حدیث غدیر کے آغاز میں آیا ہے: "اَلَسۡتُ اَوۡلی بِکُمۡ مِنۡ اَنۡفُسِکُمۡ " اولیٰ بالتر ف ہے یعنی حضرت علیؑ کی سرپرستی کا اعلان ہے۔
۲ ۔ آیۂ ولایت:( إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ ) (مائدہ: ۵۵) ۔
تمہارا سرپرست و ولی صرف خدا ہے، اس کا پیغمبر اور وہ مؤمنین ہیں جو نماز برپا کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکات دیتے ہیں۔
جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں لفظ "ولیکم" آیت کریمہ میں "نص" ہے جس کے معنی سرپرست اور جس کا مصداق کامل حضرت علی علیہ السلام ہی ہیں۔
۳ ۔ وہ متواتر روایات جو اس روایت کے لئے بمنزلہ تفسیر و بیان ہیں مثلاً اسی باب کی پانچویں روایت کہ جس میں ہم نے تفصیل کے ساتھ آٹھ نکات بیان کئے تھے جس میں نبی کریمؐ نے اس روایت کی طرف لفظ "بعدی" کے ذریعے تصریح کی ہے کہ علی علیہ السلام میرے بعد وصی، خلیفہ اور امام ہیں؛ علاوہ بریں کسی منصف مزاج شخص سے ان روایات کا اتحاد سیاق پوشیدہ نہیں ہے۔
۷ ۔ نیز جس روایت میں نبی کریمؐ نے لفظ "بعدی" کے ذریعے حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل خلافت کی تصریح فرمائی ہے، یہ روایت ہے:
احمد بن حنبل (اہل سنت کے معروف امام جن کی مسند اہل سنت کے یہاں نہایت معتبر مانی جاتی ہے) اپنی مسند(۸۰) کتاب میں عبد اللہ بن بریدہ سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اورنسائی نے اپنی کتاب خصائص العلویہ میں ان کی عین عبارت نقل کی ہے:
جب ۸ ہجری میں پیغمبر اسلامﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کو یمن بھیجا تو مدینہ واپسی پر بعض لوگ پیغمبرؐ کی خدمت میں ان کی شکایت لیکر پہنچ گئے، یہ دیکھ کر حضور اتنے ناراحت و رنجیدہ ہوئے کہ آپ کے چہرے پر خشم کے آثار نمایاں ہوگئے اور بریدہ سے فرمایا: دیکھو ہرگز علی علیہ السلام کی برائی مت کرنا کیونکہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں "وَ ه ُوَ وَلیُّکُمۡ بَعۡدی " اور وہ میرے بعد تمہارے ولی و سرپرست ہیں۔
ہم نے اس سے ماقبل روایت میں لفظ "ولی" کے بارے میں جتنی دلیلیں پیش کی تھیں اور ثابت کیا تھا کہ یہاں "ولی" بمعنائے سرپرست اور اولیٰ بالتصرف ہے؛ اس روایت میں بھی وہی دلیلیں قائم ہیں۔
۸ ۔ شیخ سلیمان(۸۱) نے کتاب مناقب خوارزمی سے روایت نقل کی ہے:
"وَ فی الۡمَناقِبِ حَدَّثَنا اَحۡمَدُ بنِ مُحمَّد بن یَحۡیَی الۡعَطّار، حَدِّثَنا اَبی عَنۡ مُحَمَّد بن عَبۡدِ الۡجَبّارِ عَنۡ اَبی اَحۡمَد مُحَمَّد بن زیادِ الۡاَزۡدی عَنۡ اَبانِ بن عُثۡمان عَنۡ ثابِت بِن دینار عَنۡ زَیۡنِ الۡعابِدینَ عَلیِّ ابۡنِ الۡحُسَیۡنِ عَنۡ اَبیه سَیّد الشُّه َداءِ الۡحُسَینِ عَنۡ اَبیه ِ سَیِّدِ الۡاَوۡصِیاء "عَلی" سَلامُ الله ِ عَلَیۡه ِمۡ قالَ، قالَ رَسولُ الله ِﷺ: اَلۡاَئِمَةُ "بَعۡدی" اِثنا عَشَرَ، اَوَّلُه ُمۡ اَنۡتَ یا عَلی وَ آخِرُه ُم اَلۡقَائِمُ الَّذی یَفۡتَحُ الله ُ عَزَوَجَلَّ عَلی یَدِیۡه ِ مَشارِقَ الاَرضِ وَ مَغارِبَه ا "
رسول اکرمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: میرے بعد بارہ امام ہوں گے جن میں اے علیؑ اول تم ہو اور آخری مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہوں گے جن کے ذریعے مشرق و مغرب فتح ہوجائیں گے۔
۹ ۔ ینابیع المودہ(۸۲) اور حموینی(۸۳) نے عبایہ بن ربعی کے توسط سے جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
"اَنا سَیِّد ُ النَّبِیینَ، وَ عَلیٌّ سَیِّدُ الۡوَصییّنَ وَ اِنَّ اَوۡصیائی بَعۡدی اِثۡنا عَشرَ اَوَّلُه ُم "عَلی" وَ آخِرُه ُمۡ " الۡقائِمُ الۡمَه ۡدی (عج)"
میں انبیاء کا سردار اور علی علیہ السلام اوصیاء کے سردار ہیں اور میرے بعد میرے بارہ جانشین ہوں گے جن میں اول علی علیہ السلام اور آخری قائم مہدی ہوں گے۔
اس روایت میں آنحضرت تصریح فرما رہے ہیں کہ "میرے بعد" بارہ اوصیاء ہوں گے؛ نیز تصریح فرما رہے ہیں کہ ان میں اول علی علیہ السلام اور آخری مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہیں۔
پس حضور سرور کائنات کی جانب سے حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کی تصریح کے بعد کسی اجتہاد کی گنجائش نہیں ہے۔
بیان رسالت میں حضرت علی علیہ السلام کے حیرت انگیز فضائل
۱۰ ۔شیخ سلیمان قندوزی(۸۴) نے موفق بن احمد خوارزمی سے ، عبد الرحمن بن ابی لیلی سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں:
نبی کریمﷺ نے خیبر کے دن پرچم حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں میں دیا اور خداوند عالم نے حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی اور غدیر خم میں رسول خداؐ نے حضرت علی علیہ السلام کا ان الفاظ میں تعارف کروایا:
"اِنَّهُ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَةٍ وَ قَالَ لَهُ: أَنْتَ مِنِّي وَ أَنَا مِنْكَ وَ اَنۡتَ تُقَاتِلُ عَلَى التَّأْوِيلِ كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى التَّنْزِيلِ وَ أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى وَ أَنْتَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى وَ أَنْتَ تُبَيِّنُ لَهُمْ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِمْ بَعْدِي "وَ أَنْتَ إِمَامٌ وَ وَلیٌّ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَ مُؤْمِنَةٍ بَعْدِي" وَ أَنْتَ الَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ "وَ أَذانٌ مِنَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ وَ أَنْتَ الْآخِذُ بِسُنَّتِي وَ ذابُّ الۡبِدَعِ عَنْ مِلَّتِي وَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ اِنْشَقُّ الْأَرْضُ عَنْهُ، وَ أَنْتَ مَعِي فی الۡجَنَّةِ وَ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُه ا اَنَا وَ أَنْتَ وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ وَ فَاطِمَةُ وَ إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ اَنْ اُخۡبِرَ فَضْلِكَ فَقُمْتُ بِهِ بَیۡنَ النَّاسِ وَ بَلَّغْتُهُمْ مَا أَمَرَنِيَ اللَّهُ بِتَبْلِيغِهِ وَ ذلِکَ قَوۡلُه ُ تَعَالی: یا اَیُّه َا الرَّسوُلُ بَلِّغۡ مَا اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَبِّکَ الآیة یا عَلیُّ، اِتَّقِ الضَّغَائِنَ الَّتِي ه ِیَ فِي صُدُورِ مَنْ لَا يُظْهِرُهَا إِلَّا بَعْدَ مَوْتِي أُولئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ، ثُمَّ بَكَىﷺوَ قالَ: أَخْبَرَنِي جَبْرَئِيلُ أَنَّهُمْ يَظْلِمُونَهُ بَعۡدی وَ اِنَّ ذلِکَ الظُّلۡم یَبۡقی حَتّی اذا قَامَ قَائِمُهُمْ وَ عَلَتْ كَلِمَتُهُمْ وَ اجْتَمَعۡتِ الْأُمَّةُ عَلَى مَحَبَّتِهِمْ وَ كَانَ الشَّانِی لَهُمْ قَلِيلًا وَ الْكَارِهُ لَهُمْ ذَلِيلًا وَ كَثُرَ الْمَادِحُ لَهُمْ، وَ ذَلِكَ حِينَ تَغَيُّرِ الْبِلَادُ وَ اِلۡیَأۡسِ مِنَ الْفَرَجِ فَعِنْدَ ذَلِكَ يَظْهَرُ قَائِمُ الۡمَه ۡدی مِنْ وُلْدِی یَقوُمُ يَظْهِرُ اللَّهُ الْحَقَّ بِهِمْ وَ يُخْمِدُ الْبَاطِلُ بِأَسْيَافِهِمْ وَ يُتْبِعُهُمُ النَّاسُ بَيْنَ رَاغِباً إِلَيْهِمْ اَوۡ خَائِفاً ثُمَّ قَالَﷺ: مَعَاشِرَ النّاسِ أَبْشِرُوا بِالْفَرَجِ فَإِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حقٌ لَا يَخْلُف، وَ قَضَائُهُ لَا يُرَدُّ وَ هُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ وَ إِنَّ فَتْحَ اللَّهِ قَرِیبٌ "
بتحقیق علی بن ابی طالب‘ ہر مؤمن و مؤمنہ کے ولی و سرپرست ہیں، پھر حضورؐ نے حضرت علی علیہ السلام کی طرف رخ کرکے فرمایا: اے علیؑ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں، تم اسی طرح تاویل قران کے بارے میں جنگ کرو گے جس طرح مجھے تنزیل قران کے سلسلہ میں جنگ کرنی پڑی ہے، تمہیں مضبوط و محکم ریسمان الٰہی ہو، تمہیں میرے بعد قران کی مشتبہ آیات کی وضاحت کرنے والے ہو، "تم ہی میرے بعد ہر مؤمن و مؤمنہ کے امام و ولی ہو" اور تم ہی وہ شخص ہو جس کے بارے میں خداوند عالم نے سورہ توبہ کی تیسری آیت میں فرمایا ہے: "حج اکبر کے دن لوگوں کے لئے یہ خدا و رسولؐ کی ندا ہے" (سورہ توبہ کی ابتدائی آیات کی طرف اشارہ ہے جو حجۃ الوداع میں حضرت علی علیہ السلام کے ذریعے قرائت کی گئیں تھیں)، تم ہی میری سنت پر عمل پیرا اور میری امت سے بدعتوں کو نابود کرنے والے ہو، میں پہلا شخص ہوں جس کے لئے زمین نے اپنے شگاف کو پُر کیا ہے، تم ہی جنت میں میرے ہمراہ ہوگے، جنت میں وارد ہونے والے سب سے پہلے افراد میں، تم، حسن و حسین اور فاطمہ ہیں، اللہ نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ میں تمہارے فضائل بیان کروں پس اللہ نے مجھے جس امر کی تبلیغ کا حکم دیا تھا میں اسے بیان کرنے کے لئے کھڑا ہوگیا ہوں، اس نے مجھے حکم دیا" یا ایھا الرسول اس پیغام کو پہنچا دو جو تمہارے ربّ کی جانب سے تمہیں مل چکا ہے۔ اے علی علیہ السلام ! ان لوگوں کے دلوں میں چھپے ہوئے کینے کی پرواہ مت کرو جو میری موت کے بعد ظاہر ہوں گے، خدا اور تمام لعنت کرنے والوں کی ان پر لعنت ہے۔ اس موقع پر حضور نے گریہ کرتے ہوئے فرمایا: "جبرئیل نے مجھے اطلاع دی ہے کہ یہ لوگ میرے بعد علی علیہ السلام پر ظلم کریں گے اور اہل بیت پر یہ ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ قائم آل محمدؐ قیام کریں گے۔ ان کی بات بلند ہوجائے گی، ان کی محبت پر لوگ جمع ہو جائیں گے اور لوگ ان کی طرف جھک جائیں گے، ان کے مداح کثیر ہوجائیں گے اور یہ اس وقت ہوگا جب شہروں کی حالت متغیر ہوجائے گی لوگ فَرَج و گشائش سے مایوس ہوجائیں گے پس اس وقت قائم مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا ظہور ہوجائے گا جو میری ہی نسل سے ہوں گے، خدا ان کے ذریعے حق کو استوار کر دے گا اور ان کی تلواروں کے ذریعے باطل کو نابود کردے گا، لوگ رغبت یا خوف سے ان کی اتباع کرنے لگیں گے۔
پھر فرمایا: اے لوگو! میں تمہیں فرَج و گشائش کی بشارت دیتا ہوں، یاد رکھو اللہ کا وعدہ ضرور پورا ہونے والا ہے جو کسی صورت ٹل نہیں سکتا، وہ حکیم و دانا ہے، یاد رکھو فتح خداوندی نزیک ہے"۔
نکات:
مذکورہ دس روایات میں حضورؐ سرور کائنات نے نص جلی و تصریح فرمائی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب‘ میرے بعد خلیفہ ، امام اور تمام مؤمنین کے سرپرست ہیں لہذا لفظ "بعدی" کے ذریعے حقیقت واضح اور روشن ہوجاتی ہے۔
صلاح الدین صفدی نے کتا ب وافی بالوفیات میں حرف الف کے ذیل میں ابراہیم بن سیار ہانی بصری بہ نظام معتزلی کے حالات میں لکھا ہے:
"نَصَّ النَّبیﷺ عَلی اَنَّ الۡاِمامَ علی علیه السلام ، وَ عَیَّنَه ُ وَ عَرَفَتِ الصَّحابَةُ ذلِکَ وَ لکِنۡ کَتَمَه ُ عُمَرُ لِاَجۡلِ اَبی بَکر "
حضورؐ سرور کائنات نے امامت علی علیہ السلام پر نص فرمائی تھی اور انہیں لوگوں کا امام و رہبر معین فرمایا تھا اور اصحاب نے اس مطلب کو سمجھ بھی لیا تھا لیکن عمر بن خطاب نے رسول اکرمﷺ کے بعد حضرت ابوبکر کی خاطر خلافت بلافصلِ علی علیہ السلام کو کتمان کرلیا تھا۔
اب ہم اپنے محترم قارئین کے لئے مذکورہ دس روایات میں موجود چند اہم نکات پیش کر رہے ہیں:
۱ ۔ ابھی تک آپ نے حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کے بارے میں جو روایات ملاحظہ فرمائی ہیں جو اس سلسلہ میں وارد ہونے والی روایات نبویؐ کے بحرِ بیکراں کا ایک معمولی سا قطرہ ہے۔ اس سلسلہ میں مزید تفصیلات کے لئے حقیر کی تالیف کردہ کتاب "اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام " کی طرف رجوع فرمائیں جس میں صفحہ ۵۴ تا ۸۰ کتب اہل سنت سے نصوص وصایت اور صفحہ ۸۰ تا ۱۱۱ ادلہ قاطعہ مثلاًٍ تمام صحابہ پر حضرت علی علیہ السلام کی افضلیت پر چہل روایات بھی پیش کی ہیں۔
۲ ۔ مذکورہ تمام نصوص و روایات علمائے اہل سنت کی بیان کردہ ہیں، ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ تمام کی تمام یہاں بیان نہیں کی جاسکتی ہیں اور اگر حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت پر شیعہ نصوص و روایات کو بھی ان کے ساتھ ملا دیا جائے تو یہ متواتر روایات کا ایسا بحرِ بیکراں بن جائے گا کہ جس میں لجوج و متعصب غرق ہوجائے!
۳ ۔ ہم اپنے محترم قاری سے گزارش کرتے ہیں کہ پیغمبر ختمی مرتبت، خیر البشر حضرت محمد مصطفی ؐ کے فرمودات پر غور و فکر اور تدبر سے کام لیں کہ کیا خلفائے ثلاثہ میں سے کسی ایک کی خلافت کے بارے میں اس طرح کی تصریحات وارد ہوئی ہیں؟!
روز روشن کی طرح واضح ہے کہ حتی ایک متفق علیہ روایت بھی ایسی نہیں ہے جس کی سند کو دونوں مذاہب نے صحیح قرار دیا ہو اور اس میں نبی کریمؐ نے حضرت ابوبکر، عمر یا عثمان کی خلافت کی تصریح فرمائی ہو۔ لیکن حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں متعدد روایات ہی نہیں بلکہ آیات بھی نازل ہوئی ہیں جن کا مطالعہ کرنے والا اندازہ کرسکتا ہے کہ یقیناً حضرت علی علیہ السلام ، ہی نبیؐ کے بعد ان کے خلیفہ، جانشین اور وزیر ہیں۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ کس طرح آنحضرتؐ نے انہیں دنیا و آخرت میں اپنا ولی قرار دیا ہے اور اپنے تمام رشتہ داروں پر مقدم رکھا ہے نیز کس طرح انہیں منزلت ہارونی پر فائز کیا ہے۔ صرف نبوت کو مستثنیٰ قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام میں نبوت کے علاوہ آنحضرتؐ کی تمام صفات و خصوصیات پائی جاتی ہیں۔
حضرت ہارون کو حضرت موسیٰ کی نسبت سے جو مقام و مرتبہ اور شرف ملا ہے ان کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں مثلاً مقام "وزارت"، "پشت پناہی"، امر تبلیغ رسالت میں "شرکت" اور تمام امت کے لئے "واجب الاطاعت" ہونا ہے کیونکہ ارشاد رب العزب ہے: (موسیٰ نے خدا سے درخواست کی) میرے خاندان سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے، اس کے ذریعے میری پشت کو مضبوط کر دے اور اسے میرے امر میں شریک بنا دے۔ (طہ ۲۹ تا ۳۲) ۔
نص قرانی کے مطابق سورہ اعراف کی ۱۴۲ ویں آیت میں حضرت موسیٰ نے ہارون سے فرمایا:( وَقَالَ مُوسَى لأخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ ) اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تم قوم میں میری نیابت کرو اور اصلاح کرتے رہو اور خبردار مفسدوں کے راستہ کا اتباع نہ کرنا۔
نیز خداوند عالم نے سورہ طہ کی ۳۶ ویں آیت حضرت موسیٰ سے فرمایا ہے:( قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَى ) ارشاد ہوا موسیٰ ہم نے تمہاری مراد تمہیں دیدی ہے۔
بنابریں حضرت علی علیہ السلام آیات کریمہ اور حدیث منزلت (جو کہ شیعہ و سنی اتفاق نظر کے مطابق) جو کہ صحیح ہے، کی روشنی میں قوم میں آنحضرت کے خلیفہ و جانشین، ان کے خاندان میں سے ان کے وزیر، ان کے امر تبلیغ میں شریک، امت میں فضل و برتر قرار پائیں گے۔
بیشک جو شخص بھی سورہ طہ کی ۲۹ اور اس کے بعد والی آیات سے آشنا ہو نیز حدیث منزلت پر غور کرے تو اس کے ذہن میں یہ تمام مقام و منزلتیں سما جاتی ہیں اور وہ اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کرسکتا۔
۴ ۔ اب ہم یہاں وہی بنیادی سوال کرنا چاہیں گے کہ اگر رسول اسلامﷺ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت و جانشینی کا اعلان کرنا چاہتے تو کیا جو کچھ اب تک ہم نے کتب اہل سنت سے دلائل و روایات پیش کی ہیں؛ اس کے علاوہ کچھ اور بیان کرتے؟!
اس سوال کے جواب میں یہی کافی ہے کہ ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہوکر منصفانہ فیصلہ کریں اور تعصبات کی عینک کو اتار کر رکھ دیں کیونکہ قیامت کے دن ہم سب سے اس کے بارے میں سخت سوال کیا جائے گا!!
۵ ۔ کیا خداوند عالم نے سورہ حشر کی آیت نمبر ۷ میں ارشاد نہیں فرمایا:
( وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ) اللہ کا رسولؐ جو کچھ تمہارے لئے لایا ہے وہ لے لو اور جس چیز سے روک دے رک جاؤ۔
پس آخر کیا وجہ ہے کہ علمائے اہل سنت رسول گرامی قدر کی اتنی کثیر متواتر روایات کے باوجود حضرت علی علیہ السلام کو چھوڑ کر حضرت ابوبکر و عمر اور عثمان کی طرف راغب ہوتے ہیں؟ آخر آیت اطاعت پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟!
محترم قارئین آپ خود فیصلہ کریں اگر اتنی کثیر روایات (کہ جن میں سے یہاں صرف دس روایات نقل کی گئی ہیں جن میں لفظ "بعدی" استعمال ہوا ہے) کے باوجود حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اور کے پیچھے جائیں اور حضرت علی علیہ السلام کو چوتھے درجہ پر رکھیں تو کیا عقلائے عالم کے اعتراض و مواخذہ سے بچ سکیں گے!؟
کیا قیامت کے دن ہم سے اس سلسلہ میں سوال نہیں کیا جائے گا؟! خدا اور اس کے رسولؐ کو کیا جواب دیں گے؟!
اگر کوئی غیر مسلم شیعہ وسنی کتب میں وارد ہونے والی اتنی کثیر اور متواتر روایات کا مشاہدہ کرکے مسلمانوں سے یہ سوال کرنے لگے کہ کیا وجہ کہ بعض لوگ ان تمام نصوص عالیہ کے باوجود حضرت علی علیہ السلام کو چوتھے درجہ پر قرار دے رہے ہیں؛ تو آپ کیا جواب دیں گے؟!
پس اس حقیقت کے بارے میں فیصلہ آپ کے ضمیر کی عدالت پر چھوڑ رہے ہیں۔
۶ ۔ جب ہم کتب اہل سنت کا مطالعہ کرتے ہیں تو بعض ایسی روایات نظروں کے سامنے آتی ہیں جن کے مطابق حضرت عمر نے حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت پر ممانعت عائد کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ ہم یہاں بطور نمونہ صرف ایک مثال پیش کر رہے ہیں۔
ابو الفضل احمد بن طاہر اپنی کتاب تاریخ بغداد میں سند معتبر کے ساتھ اور ابن ابی الحدید(۸۵) بھی حضرت عمر کی شرح زندگانی میں روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ راستہ میں ایک مقام پر عمر اور عبد اللہ بن عباس کا سامنا ہوگیا تو عمر نے عبد اللہ بن عباس سے سوال کیا تمہارے چچا زاد بھائی کا کیا حال ہے؟
ابن عباس نے کہا: جب میں ان سے آخری مرتبہ ملا تو دیکھا کہ وہ اپنے ڈول کے ذریعے کنوئیں سے پانی کھینچ رہے تھے اور لبوں پر ان کے تلاوت قران تھی۔
عمر نے کہا: دیکھو جو کچھ میں تم سے معلوم کرنا چاہتا ہوں اگر تم پردہ پوشی سے کام لو گے تو تمام قربان ہونے والے اونٹوں کا خون تمہاری گردن پر ہوگا؛ سچ بتاؤ! کیا اب بھی ان کے دل میں خلافت کی آرزو موجود ہے؟
ابن عباس نے کہا: کیوں نہیں!
حضرت عمر: کیا وہ یہ سمجھتے کہ رسول اللہﷺنے ان کی خلافت کی تصریح فرمائی تھی؟
ابن عباس: کیا اس سے بھی بڑھ کر بتاؤں؟ میں نے اپنے والد سے خلافت کے بارے میں نص سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: وہ سچ کہتے ہیں۔
عمر نے کا: یقیناً رسول اللہؐ ان کے (علیؑ) بلند مقام و مرتبہ کے قائل تھے لیکن ہرگز اس کا مطلب اثبات حجت یا قطع عذر نہ تھا۔ رسول خداؐ کبھی کبھی امت کو ان کے بارے میں آزماتے اور کبھی علی علیہ السلام کو امر خلافت سپرد کرنے کے سلسلہ میں امت کو آزماتے تھے اور جب اپنے آخری ایام میں بستر بیماری پر اس امر کی تصریح کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو "میں ان کے اس عمل میں حائل ہوگیا"۔
(حضرت) عمر ابن خطاب کا یہ کہنا تو بالکل ٹھیک ہے کہ یقیناً پیغمبر گرامی قدر حضرت علی علیہ السلام کے بلند مقام و مرتبہ کے قائل تھے لیکن ان کا یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے کہ اپنا جانشین معین کرنے کے بارے میں نبی کریمﷺ کا فرمان حجت نہیں ہے۔ کیونکہ اگر حضور سرور کائنات رسول اللہﷺ کا فرمان اپنے جانشین کے بارے میں حجت نہیں ہوسکتا تو پھر کس کا قول حجت بن سکتا ہے؟!
جی ہاں در اصل حضرت عمر بن خطاب نے اس آیت کریمہ کو فراموش کر دیا جس میں اعلان ہوتا ہے:( وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ) (۸۶) جو کچھ رسولؐ تمہیں دیدے اسے لے لو"۔
اگر واقعاً کوئی شخص عقیدہ رکھتا ہے کہ نص قرانی کی روشنی میں نبی کریمﷺ کا فرمان وحی الٰہی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے تو بقول عمر حضور سرور کائنات گاہی بگاہی خلافت علی علیہ السلام کا اعلان کرتے رہتے تھے تو قطعی طور پر اسے یقین ہوجائے گا کہ فرمان نبیؐ اثبات حجت اور قطع عذر کا سبب ہے؛ مگر یہ کہ العَیَاذُ باللہ کوئی یہ توقع کرے کہ خود خدا آکر خلافت علی علیہ السلام کا اعلان کرے !!
حضرت عمر نے یہ بات بھی صحیح کہی ہے کہ پیغمبر اسلام اپنی بیماری کے وقت حضرت علی علیہ السلام کے نام کی تصریح کرنا چاہتے تھے لیکن وہ مانع ہوگئے تھے اور کہا تھا: "دَعَوۡا الرَّجلُ فَاِنَّه ُ لَیَه ۡجُرُ " اس شخص کو رہنے دو، یہ ہذیان کہہ رہا ہے"۔ اسی لئے کتاب وافی بالوفیات میں حرف الف کے ضمن میں نظام (ابراہیم بن سیار) کے حالات کے ذیل میں آیا ہے کہ نظام قائل ہیں کہ"پیغمبر اکرمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کی تصریح فرمائی تھی اور علی علیہ السلام کو معین کر دیا تھا نیز صحابہ اس حقیقت سے آشنا تھے "وَ لکِنۡ کَتَمَه ُ عُمَرُ لِاَجۡلِ اَبی بکر " لیکن عمر نے ابوبکر کی خلافت کی خاطر خلافت علی علیہ السلام پر پردہ ڈال دیا۔
ہم نے اپنی کتاب "اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین " ص ۲۲۴ پر "جمعرات کے دن کے مصائب" کے عنوان کے تحت کچھ اہم مطالب نقل کئے ہیں۔ حقائق و واقعات سے آشنائی حاصل کرنے کے لئے وہاں رجوع کرسکتے ہیں۔
۷ ۔ اس قسم کا استدلال و احتجاج کہ جسے ہم نے پیش کیا ہے صدرِ اسلام ہی سے دیکھنے میں آتا ہے جیسا کہ حضرت عمر اور جناب عبد اللہ بن عباس کے مابین بحث ہوئی اور اس دوران حضرت عمر نے کچھ حقائق کا اعتراف بھی کیا ہے۔ عظیم عالم ربانی مرحوم سید عبد الحسین شرف الدین نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب "المراجعات" میں اس قسم کے استدلالات و احتجاجات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:
"بنی ہاشم نے اس زمانے میں بہت سے ایسے احتجاجات کئے ہیں یہاں تک کہ جب ایک مرتبہ حضرت ابوبکر منبرِ رسولؐ پر تھے تو امام حسن بن علی علیہ السلام نے قریب آکر فرمایا: میرے والد کے منبر سے نیچے اتر آؤ، نیز ایسا واقعہ امام حسین اور عمر بن خطاب کے مابین پیش آیا تھا۔
مزید تفصیلات اور حقانیت شیعہ کے لئے کتاب صواعق محرقہ(۸۷) کی طرف رجوع فرمائیں جس میں آیہ مؤدت فی القربی گیارہویں باب کی چودھویں آیت کے ذیل میں دونوں واقعات نقل کئے ہیں۔
شیعہ کتب میں ایسے ہی صحابہ و بنی ہاشم اور تابعین کے بہت سے احتجاجات ثبت کئے ہیں مثلاً مرحوم علامہ طبرسی نے کتاب احتجاج میں متعدد صحابہ کے احتجاج کا تذکرہ کیا ہے منجملہ: خالد بن سعید بن عاص اموی نے سلمان فارسی سے اسی طرح ابوذر غفاری، عمار یاسر، مقداد، برید اسلمی، ابو الہیثم بن تیہان، سہل و عثمان بن حنیف، خزیمہ بن ثابت ذو الشہادتین، ابی بن کعب اور ابو ایوب انصاری وغیرہ نے پیغمبر ؐ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کے بارے میں احتجاج کیا اور دلائل سے ثابت بھی کیا ہے نیز انہوں نے سقیفہ کے جعلی اجماع کی بھرپور مخالفت بھی کی تھی، ہم نے اپنی کتاب "اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام " میں اس اجماع کی مخالفت کرنے والے اصحاب کہ جن کے نام اہل سنت کی کتب میں بھی فرداً فرداً موجود ہیں؛ تذکرہ کیا ہے۔
اخبار اہل بیت علیھم السلام اور ان کے دوستداروں کی سوانح حیات کا مطالعہ کرنے والا اچھی طرح اس بات کو محسوس کرسکتا ہے کہ انہوں نے کوئی موقع و محل ہاتھ سے نہیں جانے دیا، جس طرح بھی، جہاں بھی، جب بھی موقع ملتا خلافت بلافصل علی علیہ السلام کے بارے میں تصریح یا اشارہ (نرمی یا شدت کے ساتھ) کردیتے، نیز تقریر و خطابت یا تحریر یا شعر یا نثر کی صورت میں جس طرح ممکن ہوتا اپنا پیغام پہنچا دیتے تھے حالانکہ سخت سے سخت حالات اور شدید ترین واقعات سے دچار ہونا پڑتا تھا؛ لیکن اس کے باوجود حضرت سرور کائنات کی وصیت یاد دلاتے رہتے اور احتجاج کرتے رہتے تھے جیسا کہ اہل علم حضرات اچھی طرح اس بات سے واقف ہیں۔
حتیٰ کہ پیغمبر اکرمﷺ کے زمانہ ہی میں سن ۱۰ ہجری میں خطبۂ غدیر کے بعد آنحضرتؐ کے اِذن مبارک سے حسان بن ثابت نے اس سلسلۂ میں اشعار نظم کئے جنہیں علماءِ اہل سنت نے بھی اپنی مختلف کتب میں نقل کیا ہے؛ انہوں نے اپنے ان اشعار میں نصّ نبوی کا تذکرہ کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ، نبی کریمﷺ کے بعد امت کے امام و ہادی اور سرپرست ہیں۔ ہم بحث کی مناسبت(۸۸) کی بنا پر یہاں ان اشعار کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
غدیر میں حسان بن ثابت کے اشعار
حافظ ابو نعیم اصفہانی(۸۹) ، محمد بن عمران خراسانی(۹۰) ، ابو سعید خرکوشی(۹۱) ، سجستانی(۹۲) ، خوارزمی(۹۳) ، ابن جوزی(۹۴) ، محمد بن یوسف گنجی شافعی(۹۵) ، حموینی(۹۶) اور جلال الدین سیوطی(۹۷) نے نقل کیا ہے کہ خطبہؐ غدیر کے بعد حسان بن ثابت نے عرض کیا:
"اے رسول خداﷺ! علی علیہ السلام کی شان میں اشعار پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔
پیغمبر اکرم نے فرمایا: خدا برکت عطا کرے؛ پیش کرو! انہوں نے کھڑے ہوکر عرض کیا:
يُنَادِيهِمْ يَوْمَ الْغَدِيرِ نَبِيُّهُمْ بِخُمٍّ فَاَسمع بِالرَّسُولِ مُنَادِياً
يَقُولُ فَمَنْ مَوْلَاكُمُ وَ وَلِيُّكُمْ؟ فَقَالُوا وَ لَمْ يَبْدُوا هُنَاكَ التَّعَامِيَا
إِلَهُكَ مَوْلَانَا وَ أَنْتَ وَلِيُّنَا وَ لَنْ تَرَ مِنّا فِی الۡوِلَایَةِ عَاصِياً
فَقَالَ لَهُ قُمْ يَا عَلِيُّ فَإِنَّنِي رَضِيتُكَ مِنْ بَعْدِي إِمَاماً وَ هَادِياً
ه ُناکَ دَعا اَللّه ُمَّ والِ وَلیَّه ُ وَ کُنۡ لِلّذی عادی عَلیّاً مُعادیاً
۱ ۔ روز غدیر نبی کریمﷺ نے لوگوں کو آواز دی، پس اس دن حضور ؐ نے کیا خوب فرمایا۔
۲ ۔ تمہارا مولا و سرپرست کون ہے؟ کور دِ ل لوگوں نے اظہار نہ کیا جبکہ سب نے کہا۔
۳ ۔ آپ کا پروردگار ہی ہمارا مولا ہے اور آپ ہی ہمارے ولی و سرپرست ہیں۔ اور امر ولایت میں ہمیں آپ نافرمان نہ پائیں گے۔
۴ ۔ پس پیغمبر اسلامﷺ نے علی علیہ السلام سے فرمایا: اے علی علیہ السلام اٹھو کہ میں اس بات پر راضی ہوں کہ تم میرے بعد امت کے امام و ہادی ہو۔
۵ ۔ اس موقع پر آنحضرت نے دعا فرمائی پروردگار! علی علیہ السلام کے دوست کو دوست رکھ اور اس کے دشمن کو اپنا دشنت قرار دے۔
بزرگ عالم دین علامہ امینی(۹۸) نے اپنی کتاب "الغدیر" میں اہل سنت اور شیعہ کتب سے یہ اشعار نقل کئے ہیں۔ نیز حدیث غدیر بارے میں مختلف ادوار میں جن عرب شعراء نے اشعار نظم کئے اور اس حدیث میں حضرت علی علیہ السلام کی "خلافت"، "امامت" اور "ولایت" کو امت پرمکمل سرپرستی شمار کرتے ہیں اور علمائے اہل سنت نے انہیں اپنی مختلف کتب میں نقل کیا ہے؛ اور اعتراف کیا ہے کہ نبیؐ کریم نے اس حدیث کے ضمن میں حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت کی تبلیغ کا ارادہ فرمایا ہے۔ "قالَ الله ُ تَعالی :( فَماذا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلال ) (۹۹) اور حق کے بعد ضلالت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
لفظ "بعدی" پر اشکال اور اس کے جوابات
بعض علمائے اہل سنت یہاں لفظ "بعدی" کے بارے میں اشکال وارد کرتے ہیں جس کا جواب دینا ضروری سمجھتے ہیں۔
اشکال:
کلام عرب میں لفظ "بعدی" میں اتنی زیادہ وسعت پائی جاتی ہے کہ اس لفظ کا اطلاق "فورا بعد" ہی پر نہیں ہوتا بلکہ مع الفصل کے اوپر بھی اطلاق ہوتا ہے یعنی اس لفظ کا اطلاق نبی کریمﷺ کے فورا بعد ہی پر اطلاق نہیں ہوگا بلکہ آنحضرت کے ۲۵ سال بعد بھی لفظ بعدی کا استعمال صحیح ہے پس پیغمبر اسلام یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو بتا دیں کہ علی علیہ السلام میرے ۲۵ سال بعد میرے امام و خلیفہ ہوں گے۔
پس اگر پیغمبر اکرمﷺ سے یہ روایت نقل ہوتی ہے کہ میرے بعد علی بن ابی طالب‘ تمہارے امام ہوں گے تو اس سے مراد یہ ہے کہ نبی کریمؐ کے ۲۵ سال بعد علی علیہ السلام امام قرار پائیں گے۔
جواب:
اول۔ کتب اہل سنت سے نقل شدہ دس روایات میں لفظ "بعد" یائے متکلم "ی" کی طرف مضاف ہوا ہے؛ جو تین دلیلوں کی بنا پر بلافصل ہونے پر دلالت کر رہا ہے:
۱ ۔ دلیل تبادر: مخاطبین جب رسول اکرمؐ سے یہ جملہ سنتے ہیں کہ "میرے بعد علی بن ابی طالب خلیفہ ہوں گے" توجو بات فورا ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ علی علیہ السلام ، نبی کریمﷺ کی رحلت کے فورا بعد خلیفہ قرار پائیں گے خصوصاً جبکہ مختلف انداز سے یہ لفظ نقل ہوا ہےمثلاًٍ: "ه و خلیفتی مِنۡ بَعۡدی، اَنۡتَ خلیفتی و اَنۡتَ اَوۡلی بِالۡمُؤۡمنین مِنۡ بَعۡدی، اَنۡتَ وَلیُّ کُلّ مؤمنٍ بَعۡدی و مؤمِنَةٍ، اَخی و وَصیِّی و خلیفتی وَ الاِمامُ بَعۡدی ۔۔۔"
۲ ۔ دلیل صحت حمل: ہر عام و خاص پر یہ بات بالکل واضح ہے کہ لفظ "بعدی" کو بلافصل پر حمل کرنا صحیح ہے؛ یعنی نبی کریمؐ کے فورا بعد حضرت علی علیہ السلام کو ان کا جانشین تسلیم کرنا چاہیے۔
۳ ۔ دلیل عدم صحت سلب: یعنی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ "لفظ بعدی" بلافصل پر حمل نہیں ہوتا تو اس کا یہ کلام خطاء اور غلط ہے۔ ہرگز یہ کہنا درست نہیں ہے کہ نبی کریمؐ کے بعد امامت بلافصل علی علیہ السلام لفظ "بعدی" سے منافات رکھتا ہے۔
دوم۔ اگر اس بات کو صحیح تسلیم کرلیا جائے کہ لفظ "بعدی" کو مع الفصل پر حمل کرنا بغیر کسی قرینہ کے صحیح ہے تو آنحضرت کی رحلت کے بعد حضرت علی بلافصل خلیفہ بھی قرار پائیں گے کیونکہ ایک مسلَّم قاعدہ ہے کہ جب کسی لفظ کو حقیقی معنی پر حمل کرنا مشکل ہوجائے تو اسے اقرب المجازات پر حمل کیا جاتا ہے بنابریں حضرت علی علیہ السلام نبی کریمؐ کے بعد بلافصل خلیفہ قرار پائیں گے کیونکہ لفظ بعدی کا اقرب المجازات مورد بلافصل ہی ہے۔
سوم۔ نبی کریمﷺ نے متعدد مقامات پر نصّ جلی کے مطابق اپنے بعد اپنے امام و جانشین کو معین فرمایا ہے لہذا کسی کے لئے اب کوئی عذر اور بہانہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے؛ اور وہ روایات اثنی عشریہ ہیں جن میں آپ نے فرمایا ہے: میرے پہلے خلیفہ علی علیہ السلام ہوں گےلہذا نصّ جلی کی روشنی میں چوتھے ہونے کی نفی ہو رہی ہے۔ ہم یہاں بطور نمونہ صرف تین روایات پیش کر رہے ہیں اگرچہ اس سے قبل روایات اثنی عشریہ کے بارے میں کچھ توضیحات پیش کر رہے ہیں؛ شیخ سلیمان بلخی حنفی(۱۰۰) رقمطراز ہیں۔
"ذَکَرَ یَحۡییَ بن الۡحَسَنِ فی کتابِ الۡعُمۡدَةِ مِنۡ عِشۡرینَ طَریقاً فی اَنَّ الۡخُلَفاءَ بَعۡدَ النَّبیﷺ اِثۡنی عَشَرَ خَلیفَه ، کُلُّه ُمۡ مِنۡ قُرَیۡش، فیِ الۡبُخاری مِنۡ ثَلاثَةِ طُرُق، وَ فی مُسۡلِم مِنۡ تِسۡعَةِ طُرُق، وَ فی اَبی داوُد مِنۡ ثَلاثَةِ طُرُق، وَ فِی التِّرمَذی مِنۡ طَریقٍ واحدٍ، وَ فیِ الۡحَمیدی مِنۡ ثَلَاثِة طُرُق "
یحیی ابن حسن نے کتاب "العمدۃ" میں بیس طریق اسناد سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرمﷺ کے بعد بارہ خلیفہ ہوں گے جو سب کے سب قریشی ہوں گے، یہ روایت صحیح بخاری میں تین طریق سے ، صحیح مسلم میں نو طریق سے، سنن ابی داؤد میں تین طریق سے، صحیح ترمذی میں ایک طریق سے اور حمیدی میں تین طریق سے نقل کی گئی ہے۔
اب ہم ذیل میں روایات اثنی عشریہ میں سے وہ تین روایات پیش کر رہے ہیں جن میں رسول اکرمﷺ نے تصریح فرمائی ہے کہ علی بن ابی طالب‘ میرے بعد خلیفہ و جانشین ہوں گے۔
۱ ۔ "وَ فیِ الۡمَناقِبِ حدَّثنَا اَحمَدُ بۡنُ محمّدِبۡنُ یَحۡیی الۡعَطار حَدَّثَنا اَبی عَنۡ محمّدِ بۡنِ عَبۡدِ الۡجَبّار عَنۡ ابی اَحۡمَد مُحَمّدِ بۡنِ زیادِ الۡاَزۡدِی عَنۡ اَبانِ بن عُثمان عَنۡ ثابِتِ بن دینار عَنۡ زَیۡنِ الۡعابدین عَلیِّ بن الۡحُسَیۡنِ عَنۡ اَبیه ِ سَیِّد الشُّه َداء الۡحُسَیۡنِ عَنۡ اَبیه ِ سَیِّدِ الۡاَوۡصیاءِ اَمیرِ الۡمُؤۡمِنینَ عَلی سَلامُ الله عَلَیۡه ِمۡ قَالَ قالَ رَسُولُ الله ﷺ: اَلۡاَئِمَّةُ بَعۡدی اِثۡنی عَشَرَ اَوَّلُه ُمۡ اَنۡتَ یا عَلیُّ وَ آخِرُه ُمۡ اَلۡقائِم الَّذی یَفۡتَحُ الله ُ عَزَّوَجَلَّ عَلی یَدَیۡه ِ مَشارِقَ الۡاَرۡضِ وَ مَغارِبَه ا "
شیخ سلیمان حنفی(۱۰۱) روایت کرتے ہیں: میرے بعد بارہ امام ہوں گے، اے علی علیہ السلام ان میں سے پہلے تم ہو اور آخری قائم ہوں گے خداوند عالم جن کے ہاتھوں میں مشرق و مغرب کی فتح عطا کرے گا۔
۲ ۔ "وَ فیِ الۡمَناقِبِ حدَّثنَا اَصۡحابُنا وَ قالوُا حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بۡنُ ه َمّام قالَ حَدَّثَنا جَعۡفَرُ بۡن مُحَمَّد بۡنِ مالِکِ الۡفِراری، قالَ: حَدَّثَنی اَلۡحُسَیۡنُ بن مُحَمَّد بۡنِ سَماعَة قالَ حَدَّثَنی اَحۡمَدُ بۡنُ الۡحارِثِ قالَ حَدَّثَنی الۡمُفَضَّلُ بن عُمَر عَنۡ یُونُسِ بن ظَبۡیان عَنۡ جابِرِ بۡنِ یَزیدِ الۡجُعفی قالَ سَمِعۡتُ جابِرَ بۡنَ عَبۡدِ الله ِ الۡاَنۡصاری یَقُولُ: قالَ لی رَسُولُ الله ِﷺ: یا جابِرُ اِنَّ اَوۡصیائی وَ اَئِمَّةَ الۡمُسۡلِمینَ مِنۡ بَعۡدی اَوَّلُه ُمۡ عَلی ثُمَّ الۡحَسَنُ ثُمَّ الۡحُسَیۡنُ ۔۔۔"
نیز شیخ صاحب(۱۰۲) روایت کرتے ہیں کہ جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! میرے بعد میرے اوصیاء اور جانشینوں میں سے اول علی علیہ السلام ہوں گے پھر حسنؑ، پھر حسین ۔۔۔ ہوں گے۔
تفسیر صافی و نفحات الرحمن میں بھی آیۂ اطاعت (سورۂ نساء/ آیت ۵۹) کے ذیل میں ایسی ہی روایت نقل کی گئی ہے۔
۳ ۔ "وَ فیِ الۡمَناقِبِ عَنۡ واثِلَةِ بن الۡاَصۡقَعِ بن قَرۡخاب عَنۡ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِي قَالَ: دَخَلَ جَنْدَلُ بْنُ جُنَادَةَ بن جُبَیۡرِ الْيَهُودِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ –وَ آلِه ِ- وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَمَّا لَيْسَ لِلَّهِ، وَ عَمَّا لَيْسَ عِنْدَ اللَّهِ، وَ عَمَّا لَا يَعْلَمُهُ اللَّهُ، فَقَالَﷺ اما ما لَيْسَ لِلَّهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ ، وَ اما ما لَيْسَ عِنْدَ اللَّهِ فَلَيْسَ عِنْدَ اللَّهِ ظُلْمٌ لِلْعِبَادِ، وَ اما ما لَا يَعْلَمُهُ اللَّهُ فَذَلِكَ قَوْلُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ اِنَّ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَ اللَّهُ لَا يَعْلَمُ أَنَّه ُ لَهُ وَلَدٌ بَلۡ یُعَلِّمُ اَنَّه ُ مَخۡلُوقُه ُ وَ عَبۡدُه ُ، فَقالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقّاً وَ صِدۡقاً ثُمَّ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِي النَّوْمِ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ‘، فَقَالَ: يَا جَنْدَلُ أَسْلِمْ عَلَى يَدِ مُحَمَّدٍ خاتَمِ الۡاَنبیاءِ وَ اسْتَمْسِكْ بِالْأَوْصِيَائَه ُ مِنْ بَعْدِه فَقُلۡتَ أَسْلَمۡ، فَلِلّٰه ِ الۡحَمۡدُ اَسۡلَمۡتُ وَ ه َدانی بِکَ، ثُمَّ قالَ: أَخْبِرْنِي یا رَسوُلَ الله ِ عَنۡ أَوْصِيَائِکَ مِنۡ بَعْدِكَ لِأَتَمَسَّكَ بِهِمْ، فَقَالَ: أَوْصِيَائِي اَلۡاِثۡنا عَشَرَ، قَالَ جَنۡدَلُ هَكَذَا وَجَدْنَاه ُمۡ فِي التَّوْرَاتِ وَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لِي فَقَالَ: اَوَّلُه ُمۡ سَيِّدُ الْأَوْصِيَاءِ وَ أَبُو الْأَئِمَّةِ عَلِيُّ ثُمَّ ابْنَاه ُ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ فَاسْتَمْسِكْ بِهِمْ وَ لَا يَغُرَّنَّكَ جَهْلُ الْجَاهِلِين ۔۔۔"
نیز شیخ سلیمان(۱۰۳) نے واثلہ بن اصقع بن قرخاب کے حوالے سے جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: جَندل بن جنادہ یہودی، رسول اکرمؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے محمدﷺ بتائیے! وہ کیا چیز ہے جو خدا کےلئے نہیں، وہ کیا چیز ہے جو خدا کے پاس نہیں ہے اور وہ کیا چیز ہے خدا نے جس کی تعلیم نہیں دی ؟
حضورؐ نے فرمایا: جو خدا کے لئے نہیں ہے وہ شریک ہے؛ جو چیز خدا کے پاس نہیں ہے وہ بندوں پر ظلم کرنا ہے؛ اور جس چیز کی خدا نے تعلیم نہیں دی وہ بات ہے جس کے تم یہودی قائل ہو کہ "عزیر" پسر خداوند عالم ہے حالانکہ خداوند عالم نے ہرگز تمہیں اس بات کی تعلیم نہیں دی ہے بلکہ اس نے تو اس بات کی تعلیم دی ہے کہ عزیر مخلوق اور بندۂ خدا ہیں۔ یہ سن کر یہودی کہنے لگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور شہادت دیتا ہوں کہ آپ ہی اس کے برحق نبی و رسولؐ ہیں؛ اور یہ ایک سچی حقیقت ہے۔
پھر جندل نے عرض کیا: میں نے شب گذشتہ خواب میں حضرت موسیٰ بن عمران کو دیکھا، انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے جندل محمد مصطفی خاتم الانبیاءﷺ کی تصدیق کرکے مسلمان ہوجاؤ اور ان کے بعد ان کے جانشینوں اور اوصیاء سے متمسک ہو جاؤ۔ پس آپؐ نے بھی مجھ سے فرمایا: کہ مسلمان ہوجاؤں۔ لہذا الحمد للہ میں مسلمان ہوگیا اور آپؐ کے وسیلہ سے میں نے ہدایت حاصل کرلی۔ اے رسول خدا! اب آپ ؐ مجھے اپنے بعد آنے والے اوصیاء کے بارے میں بتائیے تاکہ میں ان سے متمسک ہوجاؤں۔
رسول اللہؐ نے فرمایا: میرے بارہ اوصیاء ہوں گے۔
جندل نے عرض کیا: ہم نے توریت میں یہی پڑھا ہے کہ (نقبائے بنی اسرائیل کی تعداد کے برابر) بارہ جانشین ہوں گے۔ یا رسول اللہﷺ! ان کے اسمائے مبارکہ بھی بتا دیئےر!
رسول اللہﷺ نے فرمایا: ان میں سے پہلے سید الوصیّین، ابو الائمہ علی بن ابی طالب‘ ہوں گے ان کے بعد ان کے دو بیٹے حسن و حسینؑ پس ان سے متمسک رہنا کہ جہل جاہلین تمہیں فریب نہ دیدیے ۔۔۔
بطور نمونہ پیش کی جانے والی یہ تین روایات آپ نے ملاحظہ فرمائی ہیں ان میں حضورؐ سرور کائنات نے نصّ جلی کے مطابق فرمایا ہے کہ میرے بعد پہلے امام علی بن ابی طالب‘ ہوں گے۔
اب ہم اس موقع پر شیخ سلیمان بلخی حنفی کی تحقیق و پیش کرنا مناسب سمجھ رہے ہیں(۱۰۴) :
"قالَ بَعۡضُ الۡمحقّقین اِنَّ الۡاَحادیثَ الدّالّةَ عَلی کَوۡنِ الۡخُلَفاءِ بَعۡدَه ُﷺ اِثۡنی عَشَرَ قَدۡ اِشۡتَه َرَتۡ مِنۡ طُرُقٍ کَثیرَةٍ فَبِشَرۡحِ الزَّمانِ وَ تَعۡریفِ الۡکَوۡنِ وَ الۡمَکانِ عُلِمَ اَنَّ مُرادَ رَسوُلِ الله ِﷺ مِنۡ حَدیثِه ، ه ذَا الۡائِمَّةِ الاِثۡنا عَشَرَ مِنۡ اَه ۡلِ بَیۡتِه وَ عِتۡرَتِه ِ اِذۡ لا یُمۡکِنُ اَنۡ یَحۡمِل ه ذَا الۡحَدیثِ عَلَی الۡخُلَفاءِ بَعۡده مِنۡ اَصۡحابِه لِقِلَّتِه ِمۡ عَنۡ اِثۡنی عَشَرَ ولا یُمۡکِنُ اَنۡ یَحۡمِلَه ُ عَلَی الۡمُلُوکِ الۡاُمَویَّةِ لِزیادَتِه مۡ عَلی اِثۡنی عَشَرَ وَ لِظُلۡمِه ِمُ الۡفاحشِ اِلّا عُمَر بنۡ عَبۡدِ الۡعَزیزِ وَ لِکَوۡنِه ِمۡ غَیرَ بَنی ه اشِمٍ لِاَنَّ النَّبی صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه - وَ سَلَّمَ قالَ کُلُّه ُمۡ مِنۡ بَنی ه اشِمٍ فی روایَة، عَبۡدِ الۡمَلِکِ عَنۡ جابِرٍ، وَ اِخۡفاءُ صَوۡتِه صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه - وَ سَلَّمَ فی ه ذَا الۡقَوۡلِ یُرَجَّحُ ه ذِه ِ الرِّوایَةَ، لِاَنَّه ُمۡ لا یُحَسِّنُونَ خِلافَةَ بَنی ه اشِمٍ وَ لا یُمۡکِنُ اَنۡ یَحۡمِلَه ُ عَلَی الۡمُلُوکِ الۡعَبّاسِیَّةِ لِزیادَتِه ِمۡ عَلَی الۡعَدَدِ الۡمَذۡکُورِ، وَ لِقِلَّةِ رَعایَتِه مۡ الۡآیَة:
قُلۡ لا اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡه ِ اَجۡراٍ اِلّا الۡمَوَدَّةَ فِی الۡقُرۡبی (شوری، ۲۳)، و حدیث الۡکَساءِ، فَلا مِنۡ اَنۡ یَحۡمِلَ ه َذا الۡحَدیثِ عَلَی الۡاَئِمَّةِ الۡاِثۡنی عَشَرَ مِنۡ اَه ۡلِ بَیۡتِه وَ عِتۡرَتِه صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه - وَ سَلَّمَ، لِاَنَّه ُمۡ کانُوا اَعۡلَمَ اَه ۡلِ زَمانِه ِمۡ وَ اجَلَّه ُمۡ وَ اَوۡرَعَه ُمۡ وَ اَتقاه ُمۡ وَ اَعۡلاه ُمۡ نَسَباً، وَ اَفۡضَلَه ُم حَسَباً وَ اَکۡرَمَه ُمۡ عِنۡدَ الله ِ، وَ کانَ عُلوُمُه ُمۡ عَنۡ آبائِه ِمِ مُتَّصِلاً بِجَدِّه ِمۡ صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه -وَ سَلَّمۡ، وَ بِالۡوِراثَةِ وَ الدّینَةِ کَذا عَرَفَه ُمۡ اَه ۡلُ الۡعِلۡمِ وَ التَّحۡقیقِ وَ اَه ۡلُ الۡکَشۡفِ وَ التَّوفیقِ، وَ یُؤَیِّدُ ه ذَا لۡمَعۡنی ای اَنَّ مُرادَ النَّبی صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه - وَ سَلَّمَ الۡائِمَّةُ الۡاِثۡنی عَشَرَ مِنۡ اَه ۡلِ بَیۡتِه وَ یَشۡه َدُه ُ وَ یُرَجِّحُه ُ حَدیثُ الثَّقَلَیۡنِ وَ الۡاَحادیثُ الۡمُتَکَثِّرَةُ الۡمَذۡکُورَةُ فی ه ذَا الۡکِتابِ وَ غَیۡرِه ا، وَ اَمَّا قَوۡلُه ُ صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه - وَ سَلَّمَ کُلُّه ُمۡ تَجۡتَمِعُ الۡاُمَّةُ فی روایَةٍ عَنۡ جابِرِ بۡنِ سَمُرَة فمُرادُه ُ صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه - وَ سَلَّمَ اَنَّ الۡاُمَّةَ تَجۡتَمِعُ عَلَی الۡاِقۡرارِ بِاِمامَةِ کُلِّه ِمۡ، وَقتَ ظُه وُرِ قائِمِه ِمُ الۡمَه ۡدی رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُمۡ"
نبی کریمؐ کے بعد بارہ خلفاء کی تعداد بیان کرنے والی روایات متعدد اَسناد و طُرق کے ساتھ نقل کی گئی ہیں پس پیغمبر گرامی قدر سے مختلف اوقات و مقام پر صادر ہونے والی ان روایات سے یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ روایات اثنی عشریہ میں نبی کریمﷺ کی مراد یہی بارہ ائمہ اہل بیت عصمت و طہارت ہیں؛ کیونکہ نبیؐ کے بعد خلفاء پر ان روایات کا اطلاق صحیح نہیں ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی تعداد صرف چار ہے، مُلوک اموی پر بھی اس کا اطلاق ممکن نہیں ہے کیونکہ ان کی تعداد بارہ سے زیادہ ہے اور عمر و بن عبد العزیز (کہ جس نے فدک واپس کردیا تھا اور سبِّ علی علیہ السلام کو ممنوع قرا ر دیا تھا) کے سوا سب نے اہل بیت پر بھرپور ظلم و ستم روا رکھا تھا۔ اور خصوصاً بنی امیہ، بَنی ہاشم سے بھی نہیں ہیں۔ جبکہ نبی کریمؐ نے فرمایا تھا کہ یہ بارہ خلفاء بنی ہاشم سے ہوں گے۔ عبد الملک کی جابر سے نقل کردہ روایت کے مطابق نبی مکرَّم نے آہستہ سے فرمایا کہ یہ بارہ خلفاء بنی ہاشم میں سے ہوں گے؛ اور یہاں نبی کریمؐ کا عمل روایت کی ترجیح کا سبب بن رہا ہے کیونکہ آپؐ جانتے تھے کہ بنی امیہ، کسی صورت بنی ہاشم کی خلافت کو قبول نہ کریں گے۔
نیز عباسی بادشاہوں پر بھی ان روایات اثنی عشریہ کو حمل نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کی تعداد بارہ سے بہت زیادہ ہے۔ اور انہوں نے اس آیت کریمہ:قُلۡ لا اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡه ِ اَجۡراٍ اِلّا الۡمَوَدَّةَ فِی الۡقُرۡبی (شوری، ۲۳) اور حدیث کساء پر عمل نہیں کیا ہے۔ لہذا ان روایات کو بارہ ائمہ اہل بیت علیھم السلام ہی پر حمل کرنا صحیح ہے کیونکہ اہل بیت رسولؐ ہی اپنے دور میں سب سے زیادہ عالم، متقی پرہیزگار، حسب و نسب سے سب سے افضل و برتر اور یہی حضرات بارگاہ خدا میں سب سے زیادہ محترم و مکرم ہیں ان کے علوم ان کے آباء و اجداد کے توسط سے پیغمبراسلامﷺ سے کسب شدہ ہیں اور وراثت و دین کے اعتبار سے نبی کریمﷺ سے سب سے زیادہ نزدیک ہیں۔ اہل علم و تحقیق اور اہل کشف و توفیق نے ان کی اسی طرح معرفت حاصل کی ہے۔ نبی کریمﷺ کے اس مقصد کہ میرے بارہ جانشین ہوں گے، اس پر بہترین شاہد و مرجّح اور مؤید حدیث ثقلین و دیگر اس کتاب وغیرہ میں مذکورہ روایات ہیں۔
البتہ جابر بن سمرۃ کی روایت میں نبی کریمؐ کے اس فرمان "کہ ان بارہ امام کی ولایت پر امت اجماع کرے گی" سے مراد قائم آل محمدؐ کے ظہور کا وقت ہے۔ (یہاں شیخ سلیمان کی تحقیق تمام ہوئی)۔
چہارم۔ آپ کے اس قول "کہ رسول اکرمﷺ کی مراد یہ ہے کہ علی علیہ السلام ان کے ۲۵ سال بعد خلیفہ قرار پائیں گے" کا مطلب یہ ہوجائے گا کہ حضرت علی علیہ السلام خلفاء ثلاثہ کے دور اقتدار میں ان کے اور کسی بھی مسلمان کے مولیٰ نہیں ہوسکتے اور یہ بات پیغمبر اکرمؐ کے اس فرمان کے مخالف ہے کہ جس میں آپؐ فرماتے ہیں: "اَلَسۡتُ اَوۡلی بِکُمۡ مِنۡ اَنۡفُسِکُمۡ ؟" کیا میں تمہاری جانوں پر خود تم سے زیادہ اولویت نہیں رکھتا ہوں؟ سب نے یک زبان ہوکر کہا: کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ۔ پھر آپ نے فرمایا:"مَنۡ کُنۡتُ مَوۡلاه ُ فَه ٰذا عَلیُّ مَوۡلاه " جس کا میں مولا ہوں بلا امتیاز علیؑ اس کے مولا ہیں؛ اور جس وقت حضرت ابوبکر و عمر نے جب غدیر کے دن پیغمبر اسلام کی زبان مبارک سے یہ کلمات سنے تھے تو کہنے لگے: "اَمۡسَیۡتَ یَابۡنَ اَبیطالبٍ مَوۡلی کُلِّ مُؤۡمِنٍ وَ مُؤۡمِنَةٍ " اے فرزند ابو طالب آج آپؑ ہر مؤمن و مؤمنہ کے مولیٰ بن گئے ہیں۔ آپ نے ملاحظہ کیا کہ حضرت ابوبکر و عمر خاص عصر غدیر تصریح کر رہے ہیں کہ علی علیہ السلام تمام مؤمنین و مؤمنات کے مولیٰ ہیں۔(۱۰۵)
اس سلسلہ میں بہت سے شواہد پیش کئے جاسکتے ہیں مثلاً صواعق محرقہ(۱۰۶) میں موجود یہ روایت کہ حضرت عمر سے پوچھا گیا: آپ جیسا رویہ حضرت کے ساتھ اپناتے ہیں کسی صحابی کے ساتھ نہیں اپناتے؟
حضرت عمر نے جواباًٍ کہا: آخر وہ میرے مولا ہیں۔
حضرت عمر کی ولایت علی علیہ السلام کے بارے میں یہ تصریح اس وقت ہے کہ ابھی ۳۵ ہجری بہت دور ہے اور ابھی آپ کے ہاتھوں پر لوگوں نے بیعت بھی نہیں کی اور نہ ہی انہیں خلیفہ تسلیم کیا ہے۔ پس اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت بھی تمام مؤمنین کے مولا تھے نہ کہ رحلت پیغمبرؐ کے ۲۵ سال بعد۔
پنجم۔ اگر اشکال و اعتراض کرنے والوں کے یہ بہانے صحیح تسلیم کرلئے جائیں اور یہ کہا جائے کہ پیغمبر اکرمؐ لفظِ "بعدی" استعمال کرکے ۳۵ ہجری میں حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کی خبر اور اعلان فرما رہے تھے تو نعوذ باللہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پیغمبرؐ کا یہ فرمان لغو و بیہودہ ہوجائے گا کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ غدیر کی شدید گرم فضا میں پیغمبر اکرم نے کوئی خاص چیز بیان نہیں فرمائی اور وہ صرف لوگوں کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ میرے چلے جانے کے ۲۵ سال بعد لوگوں کی بیعت کے ذریعے علی علیہ السلام خلافت و امامت پر فائز ہوں گے اور یوں یہ اولیٰ بالتصرف ہوجائیں گے۔
ذرا سوچئے کتنی عجیب بات ہے یہ! اس طرح تو حضرت علی علیہ السلام اور دیگر لوگوں میں کوئی امتیاز ہی نہ رہے گا؛ کیونکہ جس شخص کی بھی لوگ بیعت کرلیں وہ خلافت کے لئے ا ولی ہوجائے گا لہذا اس بنیاد پر حضرت علی علیہ السلام و دیگر اصحاب و عوام سب برابر و مساوی قرار پائیں گے۔ پس غدیر کے دِن نبی کریمﷺ لفظ "بعدی" کے ذریعے کون سی فضیلت بیان کرنا چاہتے تھے کہ جسے صرف حضرت علی علیہ السلام سے مختص کرنا چاہتے تھے؟!
اگر تعصبات کی عینک اتار کر بھرپور توجہ کے ساتھ غور و فکر سے کام لیا جائے تو یقیناً حقائق روشن ہوجائیں گے اور آپ کو صحیح جواب بھی مل جائے گا، ہم محترم قارئیں سے صحیح جواب کے حصول کے خواہاں ہیں !!
ششم۔ احمد بن حنبل(۱۰۷) نے مقام رحبہ پر پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں زید بن ارقم اور ابو طفیل کے مابین ہونے والی گفتگو کو اس طرح نقل کیا ہے:
(حضرت) علی علیہ السلام نے کوفہ کے ایک مقام "رحبہ" پر اپنی خلافت کے زمانہ میں لوگوں کو جمع کرکے فرمایا: میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم میں سےجو شخص بھی غدیر کے دن وہاں موجود تھا وہ کھڑا ہوجائے اورجو کچھ اس نے پیغمبر اسلام سے سنا تھا اس کی گواہی دے۔
اگرچہ واقعہ غدیر کو ۲۵ سال گزر چکے تھے ۳۰ اصحاب پیغمبر کھڑے ہوگئے جن میں ۱۲ افراد غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے بھی تھے ان سب نے ولایت علی علیہ السلام کے بارے میں زبان پیغمبر اسلام سے جو کچھ سنا تھا اس کی گواہی بھی دی۔
ابو طفیل کہتے ہیں: میں مقام رحبہ سے دل میں یہ سوچتا ہوا باہر نکلا کہ آخر! امت کی اکثریت نے اس حدیث پر عمل کیوں نہیں کیا؟ (یعنی اگر حضور سرور کائنات نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے بعد خلیفہ و جانشین معین کیا تھا تو پھر حضرت ابوبکر کیسے خلیفہ بن گئے؟) لہذا میں نے زید ابن ارقم سے ملاقات کی اور کہا کہ حضرت علی علیہ السلام اس اس طرح کی باتیں کہہ رہے ہیں: زید نے کہا: یہ ناقابل انکار حقیقت ہے؛ میں نے خود بھی نبی کریمﷺ سے یہی سب کچھ سنا تھا۔
پس عجیب بات ہے کہ یہ دامنِ تاریخ میں پائے جانے والے ابوطفیل و زید ابن ارقم جیسے افراد تو نبی کریمؐ کے کلمات و جملات سے امامت علی علیہ السلام سمجھ رہے ہیں جبکہ آج کے علمائے اہل سنت آنحضرت کے کلمات سے دوستی علی علیہ السلام سمجھ رہے ہیں!!
قطع نظر اس کے؛ بہت سے بزرگ و معتبر اصحاب پیغمبرؐ کی جانب سے حضرت ابوبکر کی خلافت سے انکار و مخالفت اور حضرت علی علیہ السلام کی امامت و رہبری پر عقیدہ نیز حضرت علی علیہ السلام کے گھر میں ان اصحاب کا جمع ہونا اور مخالفت اسامہ بن زید بن حارثہ یہ تمام امور واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ سب غدیر خم میں پیغمبر اکرمؐ کے اعلان کا یہی مطلب سمجھ رہے تھے یعنی پیغمبر اسلامﷺ کے بعد حضرت علی علیہ السلام ہی امت کے سرپرست و رہبر اور نبی کریمﷺ کے خلیفہ و جانشین ہیں۔ تفصیلات کے لئے ہماری تالیف کردہ کتاب اولین مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی طرف رجوع فرمائیں۔
ہفتم۔ کیا حضورؐ ختمی مرتبت نے حدیث منزلت (کہ جس کا صادر ہونا شیعہ و اہل سنت کی کتب سے ثابت شدہ ہے) میں حضرت علی علیہ السلام سے نہیں فرمایا؟: "اَنۡتَ مِنّی بِمَنۡزِلَةِ ه اروُنَ مِنۡ مُوسی اِلّا اَنَّه ُ لا نبیَّ بَعۡدی " نیز کیا حدیث یوم الدار اور حدیث یومِ انذار میں نہیں فرمایا؟ "فَاسۡمَعوُا لَه ُ وَ اَطیعُوا " یعنی علی علیہ السلام کی بات سنو اور ان کی اطاعت کرو۔
کیا سورہ طہ کی آیات ۲۸ تا ۳۲ میں منزلت ہارونیہ بیان نہیں کی گئی؟ پس حدیث منزلت کو ان آیات کریمہ "وَ اجۡعَلۡ لی وَزیراً مِنۡ اَه لی ۔۔۔" میں ضمیمہ کرنے سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کے بعد ان کے وزیر و جانشین حضرت علی علیہ السلام کی نوبت آجاتی ہے؛ جس طرح حضرت موسیٰ کے بعد ان کے جانشین حضرت ہارون کو مقام ومنزلت حاصل تھی۔
کیا حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں حکم و فرمان رسالت "فَاسۡمَعوُا لَه ُ وَ اَطیعُوا " کی تاویل کرکے بعض لوگ حضرت علی علیہ السلام کو پچیس سال خانہ نشینی پر مجبور کرسکتے ہیں؟ کیا ان کا یہ کہنا صحیح ہوسکتا ہے کہ نبی کریمؐ کا مقصد یہ تھا کہ ان کے چلے جانے کے پچیس سال بعد علی علیہ السلام جانشین قرار پائیں گے؟!
ہشتم۔ ہم نے اپنی تالیف کردہ کتاب "اول مظولم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام(۱۰۸) " میں غُسل پیغمبرؐ، ادائے قرض، حضرت علی علیہ السلام کی خلافت و جانشینی اور ان کی اطاعت و فرماں برداری کے بارے میں آنحضرت کی وصیتوں کو تفصیلاً اہل سنت کی کتب سے ثابت کیا ہے لہذا اہل سنت کی کتب میں موجود متعدد روایات کی روشنی میں کلمہ "بعدی" کے "مع الفصل" پر دلالت کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی ہے کیونکہ یہ تمام روایات اس امر کی حکایت کر رہی ہیں کہ رحلت رسول اللہﷺ کے فورا بعد حضرت علی علیہ السلام کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔
علمائے اہل سنت جناب متقی ہندی(۱۰۹) اور طبرانی(۱۱۰) نے سلمان فارسی سے روایت کی ہے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا: میرا وصی و مرکز اسرار اور اپنے بعد جسے بہترین فرد کی حیثیت سے تمہارے درمیان چھوڑ کر جا رہا ہوں وہ علی بن ابی طالب‘ ہے وہ ہی میرے وعدوں کو پورا اور قرض کو ادا کرے گا۔
اس روایت کے بعد کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر اکرمﷺ کا مقصد یہ تھا کہ علی علیہ السلام میرے چلے جانے کے ۲۵ سال بعد میرے وصی قرار پائیں اور ۲۵ سال بعد قرض ادا کریں؟!
ابن سعد(۱۱۱) نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: پیغمبر اسلامﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ انہیں میرے علاوہ کوئی غسل نہ دے۔
ذرا سوچئے! اگر پیغمبر اسلامﷺ یہ وصیت نہ فرماتے تو کیا قریش حضرت علی علیہ السلام کو یہ فریضہ انجام دینے دیتے؟!
عبد الرزاق نے کتاب جمع میں معمر کے توسط سے قتادہ سے روایت کی ہے کہ حضور کی رحلت کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے ان کے قرض یعنی تقریباً پانچ لاکھ درہم ادا کئے۔
جب عبد الرزاق سے سوال کیا گیا: کیا پیغمبر اسلامﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کو یہ وصیت فرمائی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے اس میں ہرگز شک نہیں ۔ اگر اس قسم کی وصیت نہ ہوتی تو لوگ کبھی بھی حضرت علی علیہ السلام کو نبی اکرمؐ کا قرض ادا کرنے کی اجازت نہ دیتے۔
احمد ابن حنبل مسند میں اور میر سید علی ہمدانی شافعی مودّۃ القربیٰ کی چوتھی مودت کے آخر میں روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: "یا عَلیُّ اَنۡتَ تُبۡرِءُ ذِمَّتی وَ اَنۡتَ خَلیفَتی عَلی اُمَّتی " اے علی علیہ السلام تمہیں میری ذمہ داری سے عہدہ برا ہونا ہے اور تم ہی میری اُمت میں میرے جانشین ہو۔
کیا اس موقع پر یہ کہنا صحیح ہے کہ حضور کا مقصد یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ان کی وفات کے بعد ان کے ذمہ جو کچھ ہے اسے فورا ادا کریں لیکن خلیفہ و جانشین ۲۵ سال بعد ہوں گے؟! اگر یہ کہنا صحیح ہے تو پھر آنحضرت نے روایت کے صدر یا ذیل میں کوئی تفصیل کیوں بیان نہیں فرمائی؟
کیا کسی دلیل و قرینہ کے بغیر نبی کریمﷺ کے کلمات میں تفکیک کرنا صحیح ہے؟ اگر آپ کا جواب اثبات میں ہے تو پھر دین و شریعت اور سنت پیغمبر اسلام میں کیا باقی رہ جائے گا؟ کیونکہ اس طرح تو جس کا جس طرح دل چاہے گا تفکیک و توجیہ اور تفسیر بیان کردے گا۔
نہم۔ ہم نے متفق علیہ متعدد ایسی روایات بطور نمونہ پیش کی ہیں جن میں نبی کریمؐ نے لفظ "بعدی" کے ذریعے تصریح فرمائی ہے کہ ان کے بعد علی علیہ السلام ان کے خلیفہ، جانشین ہوں گے جبکہ کسی ایک متفق علیہ روایت میں بھی حضرت ابوبکر، عمر یا عثمان کو اپنا خلیفہ، ولی یا وزیر وغیرہ قرار نہیں دیا؛ یا لفظ "بعدی" کے ذریعے لوگوں میں ان کا تعارف نہیں کروایا۔
اگر لفظ "بعدی" کا استعمال خلیفۂ مع الفصل کے لئے صحیح تھا تو پھر حضورؐ نے حضرت عمر و عثمان کے لئے یہ لفظ استعمال کیوں نہیں فرمایا؟
پس معلوم ہوا کہ
۱. یہ حضرت حقیقتا حتی مع الفصل بھی نبی کریمؐ کے خلیفہ نہیں تھے۔
۲. درحقیقت مع الفصل پر لفظ "بعدی" کا اطلاق حقیقی نہیں ہے۔
۳. علی بن ابی طالب‘ بلا فصل خلیقہ قرار پائیں گے۔
دھم۔ اہل سنت حضرات کے اس اشکال و اعتراض سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ موضوعات خارجیہ اور عالم خارج میں رونما ہونے والے واقعات کو دیکھ کر اپنے عقائد بنا لیتے ہیں یا ان کی بنیاد پر اپنے عقائد کی تاویل پیش کر دیتے ہیں مثلاً :
۱ ۔ خلفاء کی خلافت کو اعتراض سے بچانے کے لئے مطلق العنان تمام صحابہ کی عدالت کے قائل ہوجاتے ہیں۔
۲ ۔ حضرت ابوبکر کی خلافت کو استوار و تثبیت کرنے اور شرعی حیثیت دینے کے لئے خلافت میں عمر رسیدہ ہونے کی شرط کے قائل ہوجاتے ہیں؛ اور ہم نے اپنی کتاب "اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام(۱۱۲) " میں مفصل اس شرط کا جواب دیا ہے۔
۳ ۔ جن موارد میں اہل سنت بیرونی عوامل و حوادث کی روشنی میں اپنے عقائد کی تاویل کرتے ہیں ان میں سے ایک مورد یہ بھی ہے کہ جس کے مطابق وہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا کی متعدد روایات میں خلافت ، وزارت و ولایت علی علیہ السلام سے مراد ان کی رحلت کے ۲۵ سال بعد ہے اور اس کا بھی ہم نے تفصیلی جواب دیدیا ہے۔ (و الحمد للہ)
حضرت علی علیہ السلام یا دیگر اہل بیت علیھم السلام کے اسماء قران کریم میں کیوں نہیں آئے ہیں؟
اس موقع پر مخالفین کی جانب سے کئے گئے ایک اہم سوال اور اس کا جواب پیش کردینا مناسب ہے؛ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر شیعوں کے بارہ ائمہ کی امامت برحق ہے تو پھر قران کریم میں ان کے اسماء کا تذکرہ کیوں نہیں کیا گیا ہے؟!
ہم جواباً کہتے ہیں:
الف: بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ قران کریم نے ہر مسئلہ کی تمام جزئیات کو بیان کیا ہے حالانکہ قران کریم نے مسائل کے کلیات کو بیان کیا ہے اور بطور اختصار پیش کیا ہے اور جزئیات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے پیغمبر اکرمﷺ کی طرف ارجاع دیا ہے لہذا ارشاد ہوتا ہے:( وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ) ؛(۱۱۳) رسولؐ جو تمہیں دیں اسے قبول کرلو اور جس چیز سے روک دیں اس سے رُک جاؤ۔
نیز ایک دوسرے مقام پر ائمہ اہل بیت کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:( فَاسۡئَلوُا اَه ۡلَ الذِّکۡرِ اِنۡ کُنۡتُمۡ لا تَعلَموُنَ ) (۱۱۴) ؛ پس اگر تم نہیں جانتے ہو تو اہل ذکر سے سوال کرلو۔ صحیح السند روایات کے مطابق اہل ذکر سے اہل بیتؑ کو مراد لیا گیا ہے۔ اہل ذکر کی طرف رجوع کرنے کے حکم سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ:
۱. قران میں تمام جزئیات کو بیان نہیں کیا گیا ہے اور چونکہ ان کے بارے میں ہمیں "علم نہیں" ہے لہذا اس سلسلہ میں اہل بیت علیھم السلام سے رجوع کرنا چاہیے۔
۲. نیز حضرت عمر کا مشہور قول "حَسبُنَا کتابُ الله " سورہ نحل کی اسی آیت نمبر ۴۳ کے مخالف ہے۔ نیز ان کا یہ قول، سورہ حشر کی آیت نمبر ۷( وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ ) کے بھی مخالف ہے؛ کیونکہ آنحضرت نے جب قلم و قرطاس کا تقاضا کیا تھا تو انہوں نے اسی جملہ کے ذریعے مخالفت کی تھی۔
ب: جب ہم طہارت سے دیّت تک قوانین و احکام اسلامی کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ قران کریم نے جزئیات کے بجائے کلیات کے بیان پر اکتفاء کیا ہے مثلاً: قران نے نماز کی رکعات کی تعداد بیان نہیں کی نیز مبطلات نماز، شکوک و اجزاء اور شرائط نماز کی جزئیات کو بیان نہیں کیا ہے۔
ج: خداوند تبارک و تعالیٰ قران کریم میں ارشاد فرماتا ہے:( اِنّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَه ُ لَحافِظُون ) (۱۱۵) ؛ ہم نے ہی اس قران کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
قران کریم کی آیات میں ہیر پھیر اور تحریف سے بچانے کی ایک اہم صورت یہ بھی تھی کہ اس میں نبی کریمؐ کے خلفاء و جانشین کے اسماء کا تذکرہ صراحت سے نہ کیا جائے تاکہ مریض فکریں اور دشمنان دین مبین اس میں کمی و بیشی کرنے کی فکر میں نہ لگیں۔ بالفاظ دیگر خداوند عالم نے قران کریم میں اہل بیت علیھم السلام کے اسماء کا تذکرہ نہ کرکے اسے لوگوں کی دستکاریوں سے محفوظ رکھا ہے۔
لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ نبی کریم نے آیات کو تحریف سے بچانے کے لئے بعض مواقع پر انہیں ایسی جگہ معین فرمایا ہے کہ فکر تحریف اپنی کار فرمائی نہ دکھا سکے۔ مثلاً آیۂ تطہیر کو اپنی زوجات کے بارے میں نازل ہونے والی عورتوں کے درمیان رکھا ہے کہ اس میں تمام ضمیریں جمع مذکر ہیں جبکہ زوجات سے مربوط آیات میں جمع مؤنث ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں آیات کا لب و لہجہ بھی مختلف ہے۔
یا مثلاً خداوند عالم قران کریم میں سورہ توبہ کی آیت نمبر ۴۰ جو آیت الغار کے نام سے معروف ہے نبی کریم کی زبانی نقل فرمایا ہے کہ آپؐ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا: "لَا تَحزَن اِنَّ الله مَعَنا ؛ غم مت کرو کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے"۔ اس آیت الغار کو تحریف سے بچانے کے لئے سورہ یونس کی آیت نمبر ۶۲ سے دور رکھا ہے کہ جس میں ارشاد ہوتا ہے:( أَلا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ ) بیشک اولیاءِ الٰہی کی شان یہ ہے کہ انہیں نہ خوف ہے نہ کسی چیز کا غم"۔
د: اگر حقیقت کو اسی طرح تسلیم کیا جائے جو آپ کہتے ہیں تو پھر خلفاءِ راشدین، خلفاءِ بنی امیہ و عباس کے نام بھی تو قران میں مذکور نہیں ہیں لہذا حضرت ابوبکر کی اتباع بھی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ آپ ہی اعتراض کرتے ہیں کہ ان کا نام قران میں نہیں ہے لہذا ان کی خلافت و امامت برحق نہیں ہے ۔۔۔
ھ: اگر آپ کے کہنے کے مطابق صرف وہی بات قابل قبول ہو جس کا ذکر قران میں موجود ہو تو پھر بہت سے احکام الٰہی، معاملات عبادت کو ترک کرنا پڑے گا کیونکہ صراحت کے ساتھ ان کا ذکر قران میں نہیں آیا ہے یا ان کی جزئیات کو قران میں بیان نہیں کیا گیا ہے۔
____________________
۱ ۔ینابیع المودہ، باب ۶۸، ص ۴۰۶، طبع دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ ق، طبع ہشتم بر بنائے نقل از کتاب "الدر المنظم شیخ کمال الدین ابو سالم محمد بن طلحہ حلبی شافعی۔
۲ ۔عقد الدُّرر فی اخبار المنتظر، باب۷، ص ۲۱۲، طبع مسجد مقدس جمکران سال ۱۴۲۵ ھ ق۔
۳ ۔ ینابیع المودہ، باب ۹۴، ص ۴۸۹، طبع ہشتم دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵۔
۴ ۔کنز العمال فی سنن الاقوال و الافعال، ج۶، ص ۳۰۔
۵ ۔الجامع الصغیر، حدیث ۹۲۴۳۔
۶ ۔ینابیع المودۃ، شیخ سلیمان قندوزی، ص ۴۴۸۔
۷ ۔ صواعق محرقہ۔
۸ ۔المعجم الکبیر۔
۹ ۔ البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان، باب ۲۔
۱۰ ۔الفتن، دلائل الامامۃ۔
۱۱ ۔ینابیع المودہ، باب ۹۴، ص ۴۹۲، طبع ہشتم دار الکتب العراقیہ، سال ۱۴۸۵ ھ۔
۱۲ ۔سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، باب ۶۔
۱۳ ۔شیخ سلیمان قندوزی بلخی حنفی، ینابیع المودہ، باب۹۴، ص ۴۹۱، طبع۸، دار الکتب العراقیہ سال ۱۳۸۵ ھ ۔
۱۴ ۔عقد الدرر، باب۵، ص ۱۶۴۔
۱۵ ۔شیخ سلیمان قندوزی، ینابیع المودہ، باب ۹۴، ص ۴۹۲، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۱۶ ۔ینابیع المودہ، باب ۹۴، ص ۴۹۲۔
۱۷ ۔ ینابیع المودہ، باب ۹۴، ص ۴۹۳۔
۱۸ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، باب ۵، ص ۱۷۸، طبع مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵ ھ۔
۱۹ ۔حافظ ابو القاسم طبرانی، معجم؛ حافظ ابو نعیم اصفہانی، مناقب مہدی؛ حافظ ابو عبد اللہ نعیم بن حماد، الفتن، باب آخر از علامات مہدی ص ۹۲۔
۲۰ ۔ عقد الدّرر فی اخبار المنتظر، باب۶، فیما یظہر لہ من الکرامات فی مدت خلافتہ، ص ۱۸۴۔
۲۱ ۔ عقدر الدرر فی اخبار المنتظر، ص ۱۸۵، طبع مسجد مقدس جمکران سال ۱۴۲۵ ھ۔
۲۲ ۔ عقدر الدرر فی اخبار المنتظر، باب۷، فی شرفہ و عظیم منزلتہ، ص ۱۹۵۔
۲۳ ۔عقدر الدرر فی اخبار المنتظر، باب۶، ص ۱۸۸، طبع مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵ ھ۔
۲۴ ۔عقدر الدرر، ص ۱۳۵، باب ۴، "فیما یظہر مِن الفتن الدّالۃ عَلیٰ وَلایَتہِ"۔
۲۵ ۔سورہ بقرہ (۲)/ آیت ۲۶۱۔
۲۶ ۔ عقد الدرر فی اخبار المنتظر، باب۷، ص ۲۱۱، طبع مسجد مقدس جمکران، ۱۴۲۵ھ۔
۲۷ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، باب ۷، "فی شرفہ و عظیم منزلتہ، ص ۲۱۲، طبع مسجد مقدس جمکران ۔
۲۸ ۔توریت پنجگانہ میں سے ایک سِفر تکوین ہے جو اولِ توریت میں ہے مجموعی طورپر انہیں اسفار کہتے ہیں۔
۲۹ ۔ عقد الدرر فی اخبار المنتظر، باب ۹ "فی فتوحاتہ و سیرتہ" فصل ۳، ص ۲۸۳۔
۳۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۹۵، ص ۴۹۵، طبع۸، دار الکتب العراقیہ سال ۱۳۸۵۔
۳۱ ۔سورہ زمر (۳۹) آیت ۵۶۔
۳۲ ۔عقدر الدرر فی اخبار المنتظر، باب ۹، فی فتوحاتہ و سیرتہ، باب۳، ص ۳۸۷، طبع مسجد مقدس جمکران۔
۳۳ ۔ عقد رالدرر فی اخبار المنتظر، باب ۱۲، فیما یجری من الفتن فی ایامہ و بعد انقضاءِ مدَّتہ، ص ۳۴۶۔
۳۴ ۔سنن ابی داؤد، ج۲، ص ۴۲۳ و ۴۲۴ کتاب المہدی (عج)، در کتاب البعث و النشور۔
۳۵ ۔عقد الدرر، باب۱ "انہ من ذرّیۃ رسول اللہ و عترتہ ص ۴۵ و باب ۲ "فی اسمہ و خلقہ و کنیتہ" ص ۵۵۔
۳۶ ۔ نکتہ: کتاب عقد الدرر میں ص ۴۵ اور ص ۵۵ کی روایت میں مختصر اختلاف ہے، ص ۵۵ کی روایت میں لفظ "رسول اللہؐ" کے بجائے "نبی" آیا ہے اور آخر روایت میں "یملأ الارض عدلاً " حذف شدہ ہے۔
۳۷ ۔قال رسول الﷺ الحسن و الحسین سیّد الشباب اہل الجنۃ۔
۳۸ ۔امام محمد باقر کی والدہ فاطمہ بنت حسنؑ اور والد امام زین العابدین فرزند حسین ہیں لہذا امام باقر حسنی بھی ہیں اور حسینی بھی۔
۳۹ ۔عقد الدّرر، باب ۱ "فی بیان انّہ من ذریۃ رسول اللہ و عترتہ"، ص ۴۶۔
۴۰ ۔عقد الدرر، باب ۳ "فی عدلہ و حلیتہ، ص ۶۴۔
۴۱ ۔اَکحَلُ العین، اسے کہا جاتا ہے جس کی آنکھوں میں قدرتی طور پر سرمہ لگا ہوا ہو۔
۴۲ ۔عقدر الدّرر فی اخبار المنتظر، باب ۳، فی عدلہ و حلیتہ، ص ۶۵، طبع مسجد مقدس جمکران ۱۴۲۵ ھ۔
۴۳ ۔قال رسول اللہ: الحسن و الحسین سید ا شباب اہل الجنۃ؛ حسنؑ و حسین ع جوانان جنت کے سردار ہیں۔
۴۴ ۔ عقد الدّرر فی اخبارالمنتظر، باب ۳، فی عدلہ و حلیتہ، ص ۶۸، طبع مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵ ھ ۔
۴۵ ۔عقد الدّرر فی اخبار المنتتظر، باب ۳، ص ۶۹، طبع مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵ھ۔
۴۶ ۔ عقد الدّرر کے ۷۹۲ ہجری کے نسخہ میں اس طرح ہے: و عن سعید بن ابی حمزہ، اور یہی صحیح ہے، سعید بن دینار ابی حمزہ، تقریب التہذیب، ج۱، ص ۳۵۲ میں ہے: ثِقَۃٌ عَابدُ ماتَ سَنَۃِ اثنَتَین و سِتّین وَ مِاۃ۔ (یہ ثقہ اور عابد تھے اور ۱۶۲ ھ میں ان کا انتقال ہوا)۔
۴۷ ۔عقدر الدرر فی اخبار المنتظر، باب ۷ "فی شرفہ و عظیم منزلَتہ" ص ۲۱۰۔
۴۸ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، باب۴، فیما یظہر من الفتن الدالۃ علی ولایتہ، ص ۹۶۔
۴۹ ۔عقد الدّرر فی اخبار المنتظر، باب۴، فیما یظہر من الفتن الدالّۃ علی ولایتہ، ص ۹۶، طبع مسجد مقدس جمکران۔
۵۰ ۔ایضاً، ص ۹۸، طبع مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵ھ ۔
۵۱ ۔عقد الدّرر فی اخبار المنتظر، باب ۴، ص ۹۸، طبع مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵ ھ۔
۵۲ ۔ایضاً۔
۵۳ ۔ایضاً، ص ۱۴۵، طبع مسجد مقدس جمکران سال ۱۴۲۵ ھ۔
۵۴ ۔ایضاً، ص ۱۴۵، طبع مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵ ھ۔
۵۵ ۔ایضاً، ص ۱۲۴، طبع مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵ ھ۔
۵۶ ۔جیسا کہ سورہ قصص آیت نمبر ۲۱ میں ارشاد ہوتا ہے:( فَخَرَجَ مِنْهَا خَائِفًا يَتَرَقَّبُ قَالَ رَبِّ نَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ) ۔
۵۷ ۔ امام باقر نے فرمایا: امر مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)ایک رات میں استوار کر دےگا:(۱)۔ شاید اس سے مراد وقت ظہور کا معلوم نہ ہونا ہے، (۲)۔ شاید اس سے مراد نہایت ظلم و ستم ہے کہ جس کی تاریکی پورے عالم پر چھائی ہوگی۔
نیز امام نے فرمایا کہ ایک رات میں استوار کر دے گا شاید اس سے مراد یہ ہے کہ ظالمین منجی عالم کی آمد سے غافل ہوں گے اور اچانک و مخفیانہ ان کا ظہور ہوجائے گا۔ اور شاید اس سے مراد یہی ہو کہ اصحاب ایک شب میں ان کی بیعت کریں گے۔
۵۸ ۔شیخ سلیمان بلخی حنفی قندوزی، باب ۷۶، ص ۴۴۳، طبع دار الکتب العراقیہ۔
۵۹ ۔ نیز مرحوم شیخ صدوق نے کتاب کمال الدین ، ج۱، ص ۵۴۷، ح ۳، باب ۲۶ میں روایت نقل کی ہے۔
۶۰ ۔جیسا کہ فصل اول (بشارات نبوی) میں بارہویں روایت میں بیان کیا ہے۔ اس کی مزید توضیحات روایات اثنا عشریہ میں پیش کی جائے گی ان شاء اللہ۔
۶۱ ۔روایت کا یہ فقرہ کہ "ان کے والد کا نام نبی کے والد کے نام پر ہوگا" عمداًٍ یا اشتباہاً راوی سے اضافہ ہوا ہے۔ مزید وضاحت کے لیے باب ۲ کی فصل اول میں رجوع فرمائیں ۔
۶۲ ۔ زندگانی صاحب الزمان میں عماد زادہ رقمطراز ہیں : سفیانی ایک بد صورت، بڑے سر والا انسان ہے، اس کی آنکھیں نیلی ہیں، اس کا نام عثمان ہے، اس کے باپ کا نام عتبہ یا غتیہ یا غَنبثہ ہے، وہ ابو سفیان بن صخر کی اولاد سے ہے، اسے سفیان بن حرب و سفیان بن قیس بھی کہتے ہیں۔
۶۳ ۔اسی روایت میں امیر المؤمنین فرماتے ہیں: وہ حرب بن عنبسہ بن مرّہ بن کلب بن سلمہ بن یزید بن عثمان بن خالد بن "یزید بن معاویہ بن ابی سفیان" بن صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس ہے (عبد شمس و ہاشم دونوں بھائی جڑواں پیدا ہوئے تھے) وہ زمین و آسمان میں ملعون ہے، اُس کا باپ مخلوقات میں شری ترین شخص ہے، اس کا داد ملعون ترین ہے اور خود ظالم ترین شخص ہے (عقد الدّرر، باب۴، ص ۱۲۸)۔
۶۴ ۔روایت کا یہ فقرہ "ان کے والد کا نام نبی ؐ کے والد کے نام پر ہوگا" عمداً یا اشتباہاً راوی سے اضافہ ہوہے۔ مزید وضاحت کے لیے باب ۲ کی فصل اول میں رجوع کریں۔
۶۵ ۔سورہ انبیاء (۲۱)، آیت ۱۰۵۔
۶۶ ۔ان روایات کا عنوان یہ ہے: "حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت پر روایات نبویؐ"۔
۶۷ ۔محمد بن یوسف گنجی شافعی در کتاب کفایۃ الطالب، باب ۴۴۔
۶۸ ۔نسائی، خصائص العلویہ، ضمن حدیث ۲۳۔
۶۹ ۔حافظ ابو جعفر محمد بن جریر طبری، الولایۃ۔
۷۰ ۔سورہ نجم (۵۳)، آیت نمبر ۲ و ۳۔
۷۱ ۔مورد نظر روایت طبری نے کتاب "الولایۃ" میں نقل کی ہے۔
۷۲ ۔تفصیلات کے لئے رجوع فرمائیں مؤلف ہذا کی کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین، ص ۷۵ و ۳۹۴۔
۷۳ ۔ چونکہ سقیفہ کے چھوٹے سے کمرے میں نہ بنی ہاشم موجود تھے، نہ اسامہ بن زید حارثہ، نہ ان کا لشکر، اور علمائے اہل سنت کے اقرار کے مطابق مہاجرین میں سے صرف ۳ افراد ابوبکر، عمر اور ابو عبیدہ گورکند تھے، جبکہ انصار میں سے سعد بن عبادہ اور ان کی قوم کے خروج کے بعد کوئی قابل اعتناء شخص نہ تھا۔ برائے تفصیل رجوع کریں اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین، تالیف ہادی عامری، ص ۱۳۲۔
۷۴ ۔ایضاً، ص ۱۷۹، ۱۷۲، ۱۳۲۔
۷۵ ۔ایضاً، ص ۱۲۴۔
۷۶ ۔ایضاٍ، ص ۳۲۳۔
۷۷ ۔مسند، ج۱، ص ۳۳۰۔
۷۸ ۔خصائص العلویہ، ص ۶۔
۷۹ ۔مستدرک، ج۳، ص ۱۲۳۔
۸۰ ۔مسند، ج۵، ص ۳۵۶۔
۸۱ ۔ینابیع المودہ، باب ۹۴، ص ۴۹۲ و ۴۹۳۔
۸۲ ۔ ایضاًٍ، ص ۷۷۔
۸۳ ۔فرائد السمطین۔
۸۴ ۔ینابیع المودہ، باب ۷۵۔
۸۵ ۔شرح نہج البلاغہ، ج۳، ص ۹۷۔
۸۶ ۔سورہ حشر (۵۹) آیت ۷۔
۸۷ ۔صواعق محرقہ، ابن حجر مکی، مقصد پنجم، ص ۱۰۵؛ طبقات ابن سعد، ج۴، ص ۷۰۔
۸۸ ۔پیغمبر اکرمؐ کی دس تصریحات جن میں لفظ "بعدی" حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت پر دلالت کر رہا ہے۔
۹۹ ۔ما نُزّل من القرآن فی علی ؑ، ص ۵۶ ۔
۱۰۰ ۔مرقاۃ الشعر۔
۱۰۱ ۔شرف المصطفی۔
۱۰۲ ۔در الولایۃ۔
۱۰۳ ۔مناقب، ص ۸۰ ۔
۱۰۴ ۔تذکرۃ الخواص، ص ۲۰۔
۱۰۵ ۔کفایۃ الطالب، ص ۱۷۔
۱۰۶ ۔فرائد السمطین، باب ۱۲۔
۱۰۷ ۔رسالہ شعر۔
۱۰۸ ۔الغدیر، ج۲، ص ۳۶۔
۱۰۹ ۔یونس (۱۰) آیت ۳۲۔
۱۱۰ ۔ ینابیع المودہ، باب ۷۷، ص ۴۴، طبع استنبول ترکی۔
۱۱۱ ۔ ینابیع المودہ، باب ۹۴، ص ۴۹۲، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ ۔
۱۰۶ ۔ینابیع المودہ، باب ۹۴، ص ۴۹۴۔
۱۰۵ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۶، ص ۴۴۲۔
۱۰۶ ۔ینابیع المودہ، باب ۷۷، ص ۴۴۶۔
۱۰۷ ۔رجوع فرمائیں: مسند احمد بن حنبل، ج۴، ص ۲۸۱؛ صواعق محرقہ، باب۱، فصل۵۔
۱۰۸ ۔صواعق محرقہ، س ۳۶۔
۱۰۷ ۔مسند احمد بن حنبل، ص ۳۷۰۔
۱۰۸ ۔اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی ؑ، طبع اول، ص ۳۹۴ تا ۳۹۸۔
۱۰۹ ۔کنز العمال، ج۶، ص ۱۵۴، ح ۲۵۷۰۔
۱۱۰ ۔کتاب معجم الکبیر۔
۱۱۱ ۔طبقات ابن سعد، ج۲، ص ۶۱، قسم دوم۔
۱۱۲ ۔اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی ؑ، ص ۱۵۸، ۱۶۴۔
۱۱۳ ۔سورہ حشر (۵۹) آیت ۷۔
۱۱۴ ۔سورہ نحل (۱۶) آیت ۴۳۔
۱۱۵ ۔سورہ حجر (۱۵) آیت ۹۔
تیسری فصل
مہدی موعود (عج) کے ظہور کے بارے میں اصحاب کرام و تابعین ذوی الاحترام کی بشارتیں
حضرت مہدی (عج) کے بارے میں روایات اہل سنت کی تیسری قسم
جب ہم علمائے اہل سنت کی کتب میں حضرت مہدی موعود# کے بارے میں نقل شدہ روایات کی جانچ پڑتال کرتے ہیں تو ہم پیغمبر گرامی قدر اور اہل بیت علیھم السلام سے نقل شدہ روایات کے علاوہ اصحاب و تابعین کی روایات بھی جابجا ملاحظہ کرتے ہیں: اور افسوس اس سلسلہ میں کتب اہل سنت میں سب سے زیادہ روایات کعب الاحبار(۱) سے نقل کی گئی ہیں۔ انہوں نے ۱۷ ہجری یعنی رحلت پیغمبرؐ کے سات سال بعد حضرت عمر بن خطاب کی خلافت کے زمانہ میں اسلام قبول کیا تھا۔ یہ پہلے ایک یہودی عالم تھے لیکن مسلمان ہونے کے بعد وہ حضرت عمر کے ملازم ہوگئے اور پھر اس کے بعد حضرت عثمان کے مشاور قرار پائے تھے۔ یہی وہ شخص ہیں جن کے ذریعے کتب اہل سنت میں کثرت سے اسرائیلی روایات وارد ہوئی ہیں۔ یہ اپنی جانب سے فتویٰ دیدیتے تھے جیسا کہ حضرت رسول خدا نے حضرت ابوذر غفاری کے بارے میں تصریح فرمائی تھی کہ ابوذر زیر آسمان راستگو ترین شخص ہے، کعب الاحبار نے اس پر اعتراض کردیا اور نوبت یہاں تک آگئی کہ حضرت ابوذر نے کعب الاحبار کے سر پر عصا مارا اور حضرت عثمان کے حضور سخت غم و غصہ کا اظہار کیا لیکن حضرت عثمان نے جناب ابوذر غفاری کو شام کی جانب تبعید کردیا۔ گویا جس کی صداقت کے بارے میں حضور سرور کائنات کی واضح حدیث موجود تھی ان سے زیادہ اس شخص کے احترام کو ملحوظ رکھا گیا جو ۱۷ ہجری میں مسلمان بن کر پیغمبر اسلامؐ کی احادیث پر اعتراض کر رہا تھا۔ (تفصیل کے لئے رجوع فرمائیں: اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام صفحہ ۳۵۷)
حضرت مہدی موعود (عج) کے بارے میں کتب علمائے اہل سنت میں جن افراد سے بکثرت روایات نقل کی گئی ہیں ان میں سے ایک کعب الاحبار ہے، میں نے معروف عالم اہل سنت جناب یوسف بن یحیی مقدسی شافعی کی کتاب "عِقدُ الدُّرر فی اخبار المنتظر" کا مطالعہ کیا تو صرف صفحہ نمبر ۱۵۰ تک ہی کعب الاحبار سے نقل شدہ دس روایات کا مشاہدہ کیا۔ ہم اس پیش نظر فصل میں کتب اہل سنت سے حضرت مہدی موعود (عج) کے بارے میں اصحاب و تابعین سے نقل شدہ روایات نقل کر رہے ہیں تاکہ گذشتہ دو فصلوں سمیت مجموعاٍ ۱۰۰ روایات ہوجائیں۔
حضرت مہدی (عج)، حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کی اولاد سے ہیں
۱ ۔ یوسف بن یحیی مقدسی شافعی(۲) روایت نقل کرتے ہیں:
"وَ عَنۡ قَتادَةَ، قالَ : قُلۡتُ لِسَعیدِ بن المُسَیِّبِ (۴) : اَحَقٌّ الۡمَه ۡدی (عج) ؟ قالَ: نَعَمۡ ه ُوَ حَقٌّ قُلۡتُ: مِمَّنۡ ه ُوَ؟ قالَ : مِنۡ قُرَیۡشٍ قُلۡتُ: مِنۡ ای قُرَیۡشٍ ؟قالَ: مِنۡ بَنی ه اشِمٍ؟ قُلۡتُ: مِن ای بَنی ه اشِمٍ؟ قالَ: مِن وُلۡدِ عَبۡدِ الۡمُطَّلِبِ؟ قُلۡتُ: مِن ای وُلۡدِ عَبۡدِ الۡمُطَّلِبِ؟ قالَ: مِنۡ اَوۡلَادِ فاطِمَةَ؟ قُلۡتُ: مِنۡ ای وُلۡدٍ فاطِمَةَ؟ قالَ: حَسۡبُکَ الۡآنَ "
قتادہ کا کہنا ہے کہ میں نے سعید بن مسیب سے کہا: کیا مہدی حق ہیں؟ انہوں نے کہا: بالکل برحق ہیں۔ میں نے سوال کیا: وہ کس قوم سے ہوں گے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ قریش سے ہوں گے۔ پھر سوال کیا کہ وہ قریش کے کس خاندان سے ہوں گے؟ جواب دیا: فرزندانِ عبد المطلب سے ہوں گے۔ پھر پوچھا وہ عبد المطلب کی کس اولاد سے ہوں گے؟ جواب دیا فاطمہ زہراؑ کی اولاد سے ہوں گے۔ پھر سوال کیا کہ وہ حضرت فاطمہ زہرا کی کس اولاد سے ہوں گے؟ جواب دیا: ابھی تمہارے لئے اتنا جان لینا ہی کافی ہے۔
یہ روایت ابو الحسن احمد بن جعفر بن منادی اور ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے بھی نسب المہدی میں کتاب اَلفتن صفحہ نمبر ۱۰۱ سے نقل کی ہے۔
آسمان سے منادی ندا دیتا ہے کہ تمہارے امیر مہدی ہوں گے
۲ ۔ یوسف بن یحیی مقدسی شافعی روایت نقل کرتے ہیں(۵) :
"عَنۡ عَمّار بۡن یاسِر، قالَ : اِذا قُتِلَ النَّفۡسُ الزَّکیَّةُ وَ اَخُوه ُ یُقۡتَلُ بِمَکَّةَ ضَیعَةً، نادی مُنادٍ مِنَ السَّماءِ: اِنَّ اَمیرَکُمۡ فُلانٌ وَ ذلِکَ الۡمَه ۡدیُّ الَّذی یَمۡلَأُ الۡاَرۡضَ حَقّاً وَ عَدۡلاً "
عمار بن یاسر سے روایت کی گئی ہے کہ فرمایا: جب نفس زکیہ کی شہادت ہوگی اور ان کےبھائی کو مکہ میں قتل کر دیا جائے گا اس وقت آسمان سے منادی ندا دے گا کہ تمہارا امیر فلاں (یعنی مہدیؑ)ہے جو زمین کو حق و عدل سے پُر کر دے گا۔
اس روایت کو ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے بھی نقل کیا ہے۔(۶)
ماہ رمضان میں آسمانی ندا
۳ ۔ نیز یوسف بن یحیی نے روایت نقل کی ہے(۷) ۔
"عَنۡ اَبی ه ُرَیۡرَة، اَحۡسبُه ُ رَفَعَه ُ، قالَ: یُسۡمَعُ فی شَه رِ رَمَضان صَوۡتٌ مِنَ السَّماءِ، وَ فی شَوَّال ه َمۡه َمَةٌ، وَ فی ذِی الۡقَعۡدَةِ تُحَزَّبُ الۡقَبائِلُ، وَ فی ذِی الۡحَجَّةِ یُسۡلَبُ (۸) الحاجُّ وَ فِی الۡمُحَرَّمِ اَلۡفَرَجُ "
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ماہ رمضان میں آسمان سے ایک ندا آئے گی اور شوال میں مختلف صدائیں آئیں گی۔ ذی قعدہ میں قبائل یکجا ہوکر تقسیم ہوں گے، ذی الحجہ ہی میں حاجی مکمل لباس میں ملبوس ہوں گے اور محرم میں فَرج و گشائش کا وقت ہوگا۔
یہ روایت جناب ابو الحسن احمد بن جعفر منادی نے بھی کتاب "الملاحم" میں نقل کی ہے۔
نکات:
۱ ۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہ رمضان میں آسمان سے ندا آئے گی کہ جو ظہور حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی علامات میں سے ہے۔
۲ ۔ ہم نے اس سے قبل دوسری فصل میں روایت نمبر ۳۴ کے ذیل میں ماہ رمضان میں نمودار ہونے والی دو علامات ظہور اور بھی نقل کی تھیں لہذا اس طرح رمضان المبارک میں تین مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوں گی:
۱. ندائے آسمانی کا آنا،
۲. ماہ رمضان کے درمیان سورج گرہن،
۳. آخرِ رمضان میں چاند گرہن۔
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)، لشکر سفیانی کے روبرو اور ندائے آسمانی
۴ ۔ عِقد الدّرر(۹) میں روایت نقل کی گئی ہے:
"وَ عَنِ الزُّه ری، قالَ : اِذا الۡتَقَی السُّفۡیانی وَ الۡمَه دیُّ لِلۡقِتالِ یَوۡمَئِذٍ یُسۡمَعُ صَوۡتٌ مِنَ السَّماءِ: اَلا اِنَّ اَوۡلیاءَ الله ِ اَصۡحابُ فُلانٍ یَعنی الۡمَه ۡدی "
زہرہ کا کہنا ہے: جس وقت لشکر سفیانی و حضر ت مہدیؑ جنگ کے لئے روبرو ہوں گے اس وقت آسمان سے ایک ندا آئے گی کہ یاد رکھو! اولیائے خدا اصحابِ فلاں یعنی حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) والے ہیں۔ پھر زہری نے اسماء بنت عمیس سے اس دن کی علامات نقل کی ہیں۔
یہ روایت حافظ ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے بھی نقل کی ہے(۱۰) ۔
ظہور مہدی (عج) اور طلوع خورشید کے وقت عجیب نشانی
۵ ۔ یوسف بن یحیی نے روایت نقل کی ہے(۱۱) ۔
"وَ عَنۡ عَبۡدِ الله ِ بۡنِ عَبّاس رَضیَ الله ُ عَنۡه ُما، قالَ: لَا یَخۡرُجُ الۡمَه ۡدیُّ حَتّی تَطۡلُعَ مَعَ الشَّمۡسِ آیةٌ "
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہاآ فرماتے ہیں: جب مہدی موعودؑ خروج کریں گے تو اس وقت طلوع خورشید کے ساتھ ایک آیت و نشانی ظاہو ہوگی۔
یہ روایت حافظ ابوبکر بن حسین بیہقی و حافظ ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے بھی نقل کی ہے(۱۲) ۔
خروج مہدی (عج) سے قبل مشرق سے ایک ستارہ کا نمودار ہونا
۶ ۔ "وَ عَنۡ کَعۡب، قالَ : انَّه ُ یَطۡلُعُ نَجۡمٌ مِنَ المَشۡرِقِ قَبۡلَ خُرُوجِ الۡمَه ۡدی، لَه ُ ذَنَبٌ یُضیءُِ "
نیز روایت کی ہے: کعب الاحبار کہتےہیں: خروج مہدی سے قبل ایک دمدار ستارہ نمودار ہوگا جس کی دُم نورانی ہوگی۔(۱۳)
یہ روایت حافظ ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے نقل کی ہے۔(۱۴)
نکتہ: اس روایت کو گذشتہ روایت کے ساتھ ملا کر یہ بات معلوم ہوتی ہے ممکن ہے کہ جس عجیب علامت کے بارے میں ابن عباس نے خبر دی ہے وہ یہی ستارہ ہو۔
لوگوں کی مایوسی کے وقت ظہور مہدی (عج)
۷ ۔ عقد الدّرر فی اخبار المنتظر باب ۵ ، ص ۱۶۵ میں روایت ہے:
"وَ عَنۡ عَبۡدِ الله ِ بۡنِ عَبّاس ، قالَ: یَبۡعَثُ الله ُ الۡمَه ۡدی بَعدَ اِیاسٍ، وَ حَتّی تَقُولَ النّاسُ: لا مَه ۡدی "
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: خداوند حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کو اس وقت ظاہر کرے گا جب لوگ ان کی آمد سے مایوس ہوچکے ہوں گے اور کہنے لگیں گے کہ مہدی کا کوئی وجود نہیں ہے۔
یہ روایت حافظ ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نےنقل کی ہے۔(۱۵)
اولاد حسین سے ایک خروج کرے گا
۸ ۔ نیز عقد الدرر میں روایت ہے(۱۶) "عَنۡ عَبۡدِ الله ِ بن عَمۡرو، قالَ: یَخۡرُجُ رَجُلٌ مِنۡ وُلۡدِ الۡحُسَیۡنِ مِنۡ قِبَلِ الۡمَشۡرِقِ، وَلَوِ اسۡتَقۡبَلَتۡه ُ الۡجِبالُ ه َدَمَه ا وَ اتَّخَذَ فیه ا طُرُقاً "
عبد اللہ بن عمرو کا کہنا ہے: اولاد حسین سے ایک ایسا شخص مشرق کی جانب سے خروج کرے گا کہ اگر اس کے سامنے کوئی پہاڑ بھی آجائے گا تو وہ اسے پاش پاش کر دے گا، اور اس کے درمیان اپنا راستہ بنالے گا۔
یہ روایت حافظ ابو نعیم اصفہانی نے "صفۃ المہدی" میں، حافظ ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے "الفتن"(۱۷) میں اور حافظ ابو القاسم طبرانی نے "معجم" میں نقل کی ہے۔
اسفار انبیاء میں نام مہدی (عج)
۹ ۔ عقد الدّرر میں روایت ہے(۱۸) ۔
"وَ عَنۡ کَعۡبِ الۡاَحۡبارِ ، قالَ : اِنّی لَاَجِدُ الۡمَه ۡدیَّ مَکۡتُوباً فی اَسۡفارِ الۡاَنبیاءِ، ما فی حُکۡمِه ظُلۡمٌ وَلا عَیۡبٌِ"
کعب الاحبار کہتے ہیں: میں نے حضرت مہدی (عج) کے بارے میں اسفار انبیاء میں بھی مطالب پائے ہیں، ان کے حکم و فرمان میں نہ ظلم ہوگا نہ عیب۔
نکات:
۱ ۔ یوسف بن یحیی نے اسی کتاب کے باب سوم، ص ۶۸ پر کعب الاحبار سے یہی روایت اس فرق کے ساتھ نقل کی ہے: "ما فی حُکۡمِه ظُلۡمٌ وَ لاعَنَتٌ " یعنی ان کے حکم میں نہ ظلم ہوگا اور نہ ہی کسی کو اذیت دی جائے گی۔
نیز ابو عمرو الدانی(۱۹) نے اس روایت کے ذیل میں کعب الاحبار سے اس طرح نقل کیا ہے: "ما فی عِلۡمِه ظُلۡمٌ وَ لاعَیۡبٌ " یعنی ان کے علم میں نہ ظلم ہے اور نہ عیب۔
نیز حافظ ابو عبد اللہ نعیم بن حماد(۲۰) نے اس طرح نقل کیا ہے: "ما فی عَمَله ِ ظُلۡمٌ وَ لاعَیۡبٌ " یعنی ان کے عمل میں نہ ظلم ہے نہ عیب۔
پس روایت کے ذیل میں چار چیزیں نقل ہوئیں ہیں:
۱ ما فی حُکۡمِه ظُلۡمٌ وَلا عَیۡبٌ
۲ ما فی حُکۡمِه ظُلۡمٌ وَ لاعَنَتٌ
۳ ما فی عِلۡمِه ظُلۡمٌ وَ لاعَیۡبٌ
۴ ما فی عَمَله ِ ظُلۡمٌ وَ لاعَیۡبٌ
۲ ۔ اس روایت میں موجود اختلافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس روایت کو نقل کرتے وقت ناقل کی جانب سے کتابت میں غلطی واقع ہوئی ہے کہ کبھی لفظ "عیب" کو "عنت" لکھ دیا گیا اور "حکمہ" کو "علمہ" اور "عملہ" لکھ دیا گیا ہے۔
رکن و مقام کے مابین حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی بیعت کی جائے گی۔
۱۰ ۔ عقد الدّرر میں روایت ہے(۲۱) ۔
"وَ عَنۡ اَبی ه ُرَیۡرَةَ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: یُبایَعُ لِلۡمَه ۡدی بَیۡنَ الرُّکۡنِ وَ الۡمَقامِ، لا یُوقِظُ نائِماً وَلا یُریقُ دَماً "
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے: رکن و مقام کے مابین حضرت مہدی (عج) کی بیعت اس طرح کی جائے گی کہ نہ کسی سوتے ہوئے کو اٹھایا جائے گا اور نہ ہی کسی کا خون ہی بہایا جائے گا۔
یہ روایت ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے بھی نقل کی ہے(۲۲) ۔
نکتہ: یوسف بن یحیی نے اس روایت کو عقد الدّرر کے باب ۹ ، ص ۲۸۶ میں بھی نقل کی ہے۔
اے مہدی (عج) مجھے عطا کیجئے
۱۱ ۔ یوسف بن یحیی نے روایت نقل کی ہے(۲۳) :"وَ عَنۡ اَبی سَعیدٍ الۡخُدۡری، فی قِصَّةِ الۡمَه ۡدی علیه السلام، قالَ: فَیَجیءُ رَجُلٌ فَیَقُولُ: یا مَه ۡدیُّ اَعۡطِنی یا مَه ۡدیُّ اَعۡطِنی، قالَ: فَیَحۡثی لَه ُ فی ثَوۡبِه مَا اسۡتَطاعَ اَنۡ یَحۡمِلَه ُ "
ابو سعید خدری قصۂ حضرت مہدی (عج) کے ذیل میں بیان کرتے ہیں: ایک شخص حضرت مہدی(عج) کے پاس آکر کہے گا: اے مہدی مجھے عطا کیجئے، مجھے عطا کیجئے۔
ابو سعید خدری کہتے: پس حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) اس شخص کی اتنی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ جی بھر کے اپنی جھولی پُر کرلے گا۔
یہ روایت ابو عیسیٰ ترمذی(۲۴) نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں: "یہ حدیث حسن ہے"۔
نیز جناب حافظ ابو محمد حسین بن مسعود نے بھی کتاب "مصابیحُ السنۃ" کے باب "اشراط الساعۃ" میں کتاب "الفتن"(۲۵) سےنقل کی ہے۔
پرچم مہدی پر البیعۃ لِلہ لکھا ہے
۱۲ ۔ "وَ عَنۡ اَبی اِسۡحَاقَ عَنۡ نَوۡف (۲۶) ، قالَ: رایَةُ الۡمَه ۡدی فیه ا مَکۡتُوبٌ: اَلۡبَیعَةُ لِلّٰه ِ "
یوسف بن یحیی نے نیز یہ روایت بھی نقل کی ہے(۲۷) :ابو اسحاق نے نوف سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: پرچم مہدی (عج) پر "البیعۃ لِلہ" لکھا ہے۔
یہ روایت ابو عمرو عثمان بن سعید المقری نے کتاب السنن(۲۸) میں اور حافظ ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے کتاب الفتن میں بھی نقل کی ہے(۲۹) ۔
حضرت مہدی (عج) کا بَلَنجر وجبل دیلم کو فتح کرنا
۱۳ ۔ نیز یوسف بن یحیی مقدسی نے روایت کی ہے(۳۰) : "وَ عَنۡ حُذَیۡفَةَ بن الۡیَمانِ (۳۱) ، اَنَّه ُ قالَ: لا یُفۡتَحُ بَلَنۡجَرُ (۳۲) وَلا جَبَلُ الدَّیۡلَم اِلّا عَلی یَدَی رَجُلٍ مِنۡ آلِ مُحَمَّدٍﷺ " حذیفہ بن یمان سے روایت کی گئی ہے کہ فرمایا: بلنجر اور جبل الدیلم صرف محمد وآل محمد کے ایک فرد کے ہاتھوں فتح ہوگا۔
یہ روایت ابو الحسن احمد بن جعفر بن منادی نے بھی کتاب الملاحم میں نقل کی ہے۔
حضرت عیسیٰ کا آسمان سے نزول اور حضرت مہدی (عج) کی اقتداء میں نماز جماعت
۱۴ ۔ یوسف بن یحیی نے مذکورہ کتاب میں ص ۲۹۲ پر روایت نقل کی ہے:
"وَ عَنۡ عَبۡدِ الله ِ بنَ عَمۡرو، قالَ : اَلۡمَه ۡدیُّ الَّذی یَنۡزِلُ عَلَیۡه ِ عیسَی بن مَرۡیَمَ وَ یُصَلّی خَلۡفَه ُ عیسی "
عبد اللہ بن عمرو کا کہنا ہے:مہدی وہی ہیں عیسیٰ جن کے سامنے نازل ہوں گے اور ان کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔
یہ روایت حافظ ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے بھی نقل کی ہے۔(۳۳)
اس سلسلہ میں مزید وضاحت کے لئے کتاب "صحیح مسلم" کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔(۳۴)
مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)کو مہدی کیوں کہتے ہیں؟
۱۵ ۔ عقد الدّرر میں روایت کی گئی ہے(۳۵) :"وَ عَنۡ کَعۡبِ الۡاَحۡبارِ ، قالَ : اِنَّما سُمِّیَ الۡمَه ۡدیُّ لِاَنَّه ُ یُه ۡدی اِلی اَمۡرٍ خَفِیَ وَ یَسۡتَخۡرِجُ التَّوۡراةَ وَ الۡاِنۡجیلَ مِنۡ اَرضٍ یُقالُ لَه ا اَنۡطاکِیَّةُِ (۳۶) "
کعب الاحبار کا کہنا ہے کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کو مہدی اس لئے کہتے ہیں کیونکہ ایک پوشیدہ امر کی طرف ان کی ہدایت کی گئی ہے اور وہ سرزمین انطاکیہ سے توریت و انجیل کو استخراج کریں گے۔
پھر صاحب عقد الدّرر نقل کرتے ہیں:
"قالَ : اِنَّما سُمِّیَ الۡمَه ۡدیُّ لِاَنَّه ُ یُه ۡدی اِلی اَسۡفارِ مِنۡ اَسۡفارِ التَّوراةِ فَیَسۡتَخۡرِجُه ا مِنۡ جِبالِ الشّامِ، یَدۡعُوا اِلَیۡه َا الۡیَه وُدَ فَیُسۡلِمُ عَلی تِلۡکَ الۡکُتُبِ جَماعَةٌ کَبیرَةٌ "
انہیں مہدی اس لئے کہتے ہیں کیونکہ توریت کی بعض اسفار کی طرف ان کی راہنمائی کی گئی ہے۔ پس وہ اسفار توریت کے یہ حصے شام کے پہاڑوں سے استخراج کریں گے اور انہیں کے ذریعے یہودیوں کو اسلام کی دعوت دیں گے جس کی بدولت بہت سے یہودی حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں گے۔
ایسی ہی ایک روایت ابو عمر و الدانی(۳۷) نے ابن شوذب(۳۸) سے بھی نقل کی ہے۔
بیت المقدس میں بنی ہاشم کے ایک خلیفہ کا نازل ہونا اور زمین کو عدل و انصاف سے پُر کرنا
۱۶ ۔ عقد الدّرر نے روایت نقل کی ہے(۳۹) : "وَ عَنۡ مُحَمَّدِ بۡنِ الۡحَنَفیّةِ، قالَ: یَنۡزِلُ خَلیفَةٌ مِنۡ بَنی ه اشِمٍ بَیۡتَ الۡمقۡدِسِ، فَیَمۡلَأُ الۡاَرضَۡ عَدلاً، یَبۡنی بَیۡتَ الۡمُقۡدِسِ بَناءً لَمۡ یُبۡنَ مِثلُه ُ "
محمد بن حنفیہ فرماتے ہیں: بنی ہاشم سے ایک خلیفہ بیت المقدس میں آئے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے پُر کر دے گا اور بیت المقدس کو اس انداز سے تعمیر کرے گا کہ اس سے قبل ایسا تعمیر نہ ہوا ہوگا۔
یہ روایت حافظ ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے بھی کتاب الفتن میں نقل کی ہے۔
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا ہندوستان کی جانب لشکر بھیجنا
۱۷ ۔ یوسف بن یحیی مقدسی شافعی نے روایت نقل کی ہے(۴۰) :
"وَ عَنۡ کَعۡبِ الۡاَحۡبارِ ، قالَ : یَبۡعَثُ مَلِکُ بَیۡتِ الۡمَقۡدِسِ یعنی الۡمَه ۡدیَّ جیشاً اِلَی الۡه ِنۡدِ، فَیَفۡتَحُه ا وَ یَأۡخُذُ کُنوُزَه ا فَتُجۡعَلُ حِلۡیَةً لِبَیۡتِ الۡمَقۡدِسِ ، یُقیمُ ذلِکَ الۡجیۡشُ فِی الۡه ِنۡدِ اِلی خُروُجِ الدَّجّالِ "
کعب الاحبار کہتے ہیں: بادشاہ بیت المقدس یعنی حضرت مہدی (عج) ہندوستان کی جانب اپنا لشکر بھجیں گے جو ہند کو فتح کرکے اس کے خزانے اپنے قابو میں لے لے گا وہ زیورات کو بیت المقدس سے مخصوص کردیں گے۔ یہ لشکر اس وقت تک ہندوستان میں رہے گا یہاں تک کہ دجال خروج کرے۔
یہ روایت ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے بھی نقل کی ہے(۴۱) ۔
خداوند عالم کے لئے حضرت مہدی (عج) کا خشوع و خضوع
۱۸ ۔ یوسف بن یحیی مقدسی روایت کرتے ہیں(۴۲) :
"وَ عَنۡ کَعۡبِ الۡاَحۡبارِ، قالَ : اَلۡمَه ۡدیُّ خاشِعٌ لِلّٰه ِ کَخُشوُعِ النَّسۡرِ جَناحَه ُ "
کعب الاحبار سے روایت کی گئی ہے وہ کہتے ہیں: حضرت مہدی (عج) خداوند عالم کے حضور اس طرح خاشع اور فروتن ہیں جس طرح پرندہ اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے ہوتا ہے۔
یہ روایت ابو محمد حسین بن مسعود نے "المصابیح" اور ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے بھی کتاب "الفتن" میں نقل کی ہے(۴۳) ۔
حضرت مہدی (عج) کے زمانے میں زمین اپنے خزانے اُبل دے گی
۱۹ ۔ عقد الدّرر میں روایت نقل کی گئی ہے(۴۴) ۔
"وَ عَنۡ عَبۡد الله ِ بۡنِ عَبّاس فی قِصَّةِ الۡمَه ۡدی قال: اَمَّا الۡمَه ۡدیُّ یَمۡلَأُ الۡاَرۡضَ عَدۡلاً کَما مُلِئَتۡ جَوۡراً وَ تَأۡمَنُ الۡبَه ائِمُ السِّباعَ، وَ تُلۡقِی الۡاَرۡضُ اَفَلاذَ کَبِدِه ا (۴۵) و؛ قُلۡتُ: وَما اَفَلاذُ کَبِدِه ا؟ قالَ: اَمۡثالُ الۡاُسۡطُوانَةِ مِنَ الذَّه َبِ و الۡفِضَّةِ "
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں: مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) وہ ہی ہیں جو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسے وہ اس سے قبل ظلم و جور سے بھری ہوگی۔ ان کے زمانے میں چوپائے درندوں سے محفوظ رہیں گے اور زمین جو کچھ اپنے اندر چھپائے ہے اسے ظاہر کر دے گی۔ راوی کہتا ہے: میں نے سوال کیا کہ زمین کے اندر کیا خزانے اور اموال پوشیدہ ہیں؟ ابن عباس نے جواب دیا: سونے چاندی کے ستونوں جیسے خزانےپوشیدہ ہیں۔
یہ روایت حاکم ابو عبد اللہ نے بھی نقل کی ہے اور کہتے ہیں یہ حدیث صحیح الاسناد ہے(۴۶) لیکن مسلم و بخاری نے یہ روایت نقل نہیں کی ہے۔
کتاب عقد الدرر باب ہفتم ۷ میں یہ روایت تفصیل کے ساتھ نقل کی ہے لہذا وہاں رجوع کیا جاسکتا ہے۔(۴۷)
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) بہترین انسان اور محبوب خلائق ہوں گے
۲۰ ۔" وَ عَنۡ کَعۡبِ الۡاَحۡبارقالَ، قالَ قَتادَةُ : اَلۡمَه ۡدیُّ خَیۡرُ النّاسِ، اَه ۡلُ نُصۡرَتِه ِ وَ بَیۡعَتِه ِ مِنۡ اَه ۡلِ کُوفانَ (۴۸) ، وَ الۡیَمَنِ وَ اَبۡدالِ الشّامِ ، مُقَدِّمَتُه ُ جَبۡرَئیلُ، وَ ساقَتُه ُ میکائیلُ، مَحۡبُوبٌ فی الۡخَلائِقِ یُطۡفِیءُ الله ُ تَعالی بِه ِ الۡفِتۡنَةَ الۡعَمۡیاءَ، وَ تَأۡمَنُ الۡاَرۡضُ حَتّی اِنۡ الۡمَرۡاَةَ لَتَحُجُّ فی خَمۡسِ نِسۡوَة ما مَعَه ُنَّ رَجُلّ، لا یَتَّقی شَیئاً اِلّا عَزَّوَجلَّ، تُعۡطی الۡاَرضُ بَرَکاتِه ا وَ السَّماءُ بَرَکاتِه ا "
یوسف بن یحیی(۴۹) نے کعب الاحبار سے روایت نقل کی ہے : وہ کہتے ہیں کہ قتادہ کا کہنا ہے: مہدی بہترین انسان ہوں گے، کوفان، یمن اور شام کے شہر مردان کے نیک و صالح افراد ان کی بیعت کریں گے۔ ان کے آگے آگے جبرئیل اور پیچھے میکائیل ہوں گے۔ وہ محبوب خلائق ہوں گے۔ خداوند ان کے توسط سے فتنہ کا خاتمہ کردے گا اور زمین پر اس طرح امن و امان قائم ہوجائے کہ اکیلی عورت حج کرنے پہنچ جائے گی اور پانچ عورتیں بغیر کسی مرد کی ہمراہی کے سفر کرلیں گی۔ حضرت مہدیؑ کو خدا کے علاوہ کسی کی پرواہ نہ ہوگی۔ زمین و آسمان اپنی اپنی برکتیں پیش کردیں گے۔
یہ روایت ابو عبد اللہ نعیم بن حماد نے بھی نقل کی ہے(۵۰) ۔
مذکورہ روایات کا نتیجہ
جیسا کہ آپ نے اصحاب و تابعین کرام سے نقل شدہ روایات ملاحظہ فرمائی ہیں ان سے حاصل شدہ نتائج کو ہم دو حصوں میں تقسیم کر رہے ہیں: حصہ اول ان روایات پر مشتمل ہے جو عمار بن یاسر، عبد اللہ ابن عباس، ابو سعید خُدری، حذیفہ بن یمان اور محمد حنفیہ وغیرہ سے نقل ہوئی ہیں۔ جبکہ حصہ دوم ان روایات پر مشتمل ہے جو ابو ہریرہ اور کعب الاحبار سے نقل کی گئی ہیں۔
حصہ اوّل کا نتیجہ
حضرت مہدی موعود (عج)، حضرت فاطمہ زہرا اور امام حسین کی اولاد میں سے ہوں گے۔ قیام مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) سے قبل نفس زکیہ اور ان کے بھائی کو مکہ میں شہید کیا جائے گا، حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) اس وقت ظہور فرمائیں گے جب لوگ آپ کی آمد سے مایوس ہوچکے ہوں گے۔ آپؑ کے خروج کے وقت طلوع خورشید کے ساتھ ایک عجیب نشانی ظاہر ہوگی اور آسمان سے ندا آئے گی کہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) تمہارے امیر ہیں۔ آپ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ آپؑ کے پرچم کے پھریرے پر "البیعۃ للہ" لکھا ہوگا۔ آپؑ کے زمانے میں محتاجوں کو اتنا کثیر مال عطا کیا جائے گا کہ اٹھائے نہ اٹھے گا۔ حضرت عیسیٰ آسمان سے نازل ہوں گے اور آپ کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔ زمین اپنے خزانے پیش کر دے گی۔ بَلنجر اور جبل دیلم آپؑ کے ہاتھوں فتح ہوجائے گا، جب سپاہِ سفیانی سے آپؑ کے لشکر کا سامنا ہوگا تو اس وقت آسمان سے ندا آئے گی کہ اولیائے الہی، اصحاب مہدی ہیں۔
حصۂ دوم کا نتیجہ
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا نام اسفارِ انبیاء میں بھی ہے۔ آپؑ کو مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) اس لئے کہتے ہیں کیونکہ ایک مخفی امر کی طرف آپ کی ہدایت کی گئی ہے اور وہ مخفی امر یہ ہے کہ آپؑ انطاکیہ کے پہاڑوں سے توریت کو استخراج کریں گے جس کے ذریعے آپؑ یہودیوں کو اسلام کی دعوت دیں گے اور وہ مسلمان ہوجائیں گے۔ آپؑ کے ظہور سے قبل کچھ علامات رونما ہوں گی مثلاً رمضان کے مہینہ میں ندائے آسمانی سنی جائے گی، طلوع خورشید کے ساتھ مشرق سے دمدار ستارہ رونما ہوگا جس کی دُم نورانی ہوگی، جب مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ظہور فرمائیں گے تو رکن و مقام کے مابین لوگ آپ کی بیعت کریں گے اور وہ ہندوستان کی طرف اپنا ایک لشکر بھیجیں گے۔
مہدیؑ، خداوند عالم کے حضور خاشع و فروتن ہیں وہ بہترین انسان اور محبوب خلائق ہوں گے۔
ابوہریرہ اور کعب الاحبار کی روایات ناقابل قبول ہیں
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ ہم نے روایات صحابہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے اور کعب الاحبار و ابو ہریرہ کی روایات کے نتائج کو جداگانہ پیش کیا ہے کیونکہ ان کی روایات مختلف دلائل کی بنا پر ناقابل قبول ہیں۔
ابو ہریرہ: چھ دلائل کی روشنی میں ابوہریرہ کی روایات ناقابل اعتبار ہیں:
۱ ۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب تاریخ میں ۲۳ ہجری کے حالات کے ذیل میں اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ(۵۱) میں نقل کیا ہے۔
جب حضرت عمر نے ۲۱ ہجری میں ابو ہریرہ کو بحرین کا والی مقرر کیا تو انہیں اطلاع دی گئی کہ ابوہریرہ نے بہت مال جمع کرلیا ہے، کئی گھوڑے بھی خریدے ہیں۔ لہذا حضرت عمر نے ۲۳ ہجری میں اسے معزول کردیا، جب ابوہریرہ خلیفہ کے حضور حاضر ہوئے تو خلیفہ نے ان سے کہا: "یا عَدُوَّ الله ِ وَ عَدُوَّ کِتابِه اَسرَقتَ مَالَ الله ؟" یعنی اے دشمنِ خدا و کتاب خدا! تم نے مال خدا کو چرایا ہے؟! ابوہریرہ نے کہا: میں نے ہرگز مال خدا نہیں چرایا بلکہ یہ سب لوگوں کی عطا اور ان کے تحفے تحائف ہیں!!
نیز ابن سعد(۵۲) ، ابن حجر عسقلانی(۵۳) اور ابن عبد ربہ نے عقد الفرید جلدِ اول میں رقم کیا ہے: خلیفہ نے کہا: اے دشمن خدا جب میں نے تمہیں بحرین کا والی بنایا تھا اس وقت تمہارے پیر میں نعلین تک نہ تھی؟ اب مجھے پتہ چلا ہے کہ تم نے ایک ہزار چھ سو دینار کے گھوڑے خریدے ہیں؛ یہ سب مال کہاں سے لائے ہو؟!
ابو ہریرہ نے کہا: جناب یہ سب تو لوگوں کا عطا کیا ہوا مال و متاع ہے۔ یہ سن کر خلیفہ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا، اپنی جگہ سے اٹھے اور ہاتھ میں تازیانہ لیکر ان کی کمر پر برسانا شروع کردیا یہاں تک کہ پشت خون آلود ہوگئی اور دس ہزار دینار جو انہوں نے بحرین سے جمع کئے تھے ان سے واپس لیکر بیت المال میں جمع کر دیئے۔
۲ ۔ ابن ابی الحدید رقم طراز ہیں(۵۴) :
"قالَ ابو جَعفر (الۡاِسۡکافی): اَبُو ه ُرَیۡرَةَ مَدۡخُولٌ عِنۡدَ شُیوُخِنا، غَیۡرُ مَرۡضِیّ الرِّوایَةِ ضَرَبَه ُ عُمَرُ بِالدّرةِ، وَ قالَ : قَدۡ اَکۡثَرۡتَ مِنَ الرّوایة احری بِکَ اَنۡ تَکونَ کاذِباً عَلی رَسُولِ الله ﷺ "
ابو جعفر اسکافی (شیخ معتزلہ) کہتے ہیں: ابوہریرہ ہمارے شیوخ کی نظر میں (عقل کے اعتبار سے) مدخول ہیں۔ ان کی روایات ہماری نظر میں ناقابل قبول ہیں کیونکہ حضرت عمر نے انہیں تازیانے مارے ہیں اور کہا ہے تم نے روایات کے سلسلہ میں زیادہ روی سے کام لیا ہے اور تم رسول اللہﷺ پر جھوٹ باندھنے میں بھی سزاوار نظر آتے ہو۔
ابن عساکر نے اپنی کتاب تاریخ میں اور متقی ہندی نے نقل کیا ہے(۵۵) :
حضرت عمر نے ابوہریرہ کو تازیانے مارے انہیں تنبیہ کی، پیغمبر اکرمؐ کی احادیث نقل کرنے سے منع فرمایا اور کہا: کیونکہ تم پیغمبر اکرمﷺ کی طرف سے بہت کثرت سے روایات نقل کرتے ہو لہذا تم ان پر جھوٹ باندھنے میں بھی سزاوار نظر آتے ہو۔ پس آئندہ ان کی طرف سے احادیث نقل مت کرنا ورنہ میں تمہیں سرزمین "دوس" (یمن کا ایک قبیلہ ہے جہاں سے ابوہریرہ آئے تھے) یا سرزمین بوزینگال (وہ کوہستانی علاقہ جہاں بندر زیادہ ہوتے ہیں) تبعید کردوں گا۔
۳ ۔ ابن ابی الحدید معتزلی(۵۶) اپنے استاد و شیخ ابو جعفر اسکافی سے نقل کرتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
"اَلا اِنّ اَکۡذَبَ النّاسِ، اَوۡ قالَ: اَکۡذَبَ الۡاَحۡیاءِ عَلی رَسُولِ الله ِ ﷺ، اَبُو ه ُرَیۡرَةِ الدُّوسی "
یاد رکھو! پیغمبر اکرم پر سب سے زیادہ جھوٹ باندھنے والا، یا یوں فرمایا: کہ زِندوں میں نبی پاک پر سب سے زیادہ جھوٹ باندھنے والا ابوہریرہ دوسی ہے۔
۴ ۔ ابن قتیبہ دینوری(۵۷) ، حاکم(۵۸) ، ذہبی(۵۹) اور مسلم(۶۰) وغیرہ سب ہی نے ابوہریرہ کے بارے میں نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ امّ المؤمنین نے بارہا ابو ہریرہ کے بارے میں فرمایا؛ "ابوہریرہ کذّاب ہے اور رسول اللہﷺ کے نام سے اس نے بہت سی حدیثیں جعلی بنائی ہیں"۔
۵ ۔ معروف و بزرگ علمائے اہل سنت جناب طبری، ابن اثیر، ابن الحدید معتزلی، سمہودی، ابن خلدون اور ابن خلقان نے یمن پر بسر ابن ارطاۃ کے حملہ کے حالات لکھتے ہوئے رقم کیا ہے:
جب معاویہ بن ابی سفیان نے بسر ابن ارطاۃ خونخوار کی سرگردگی میں چار ہزار جنگجو سپاہی اہل یمن کی سرکوبی کے لئے روانہ کئے تو انہوں نے مدینہ سے گذر کیا اور راستے میں شہر مدینہ، مکہ، طائف، تبالہ، نجران، قبیلہ ارحب (جو ہمدانی قبائل میں سے تھا) صنعاء، حَضرَموت اور اس کے گردو نواح نہایت درجہ ظلم و ستم اور قتل و غارت گری کرتے ہوئے کسی شیعہ پیر و جوان پر رحم نہ کھایا یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کے چچا زاد بھائی عبد اللہ ابن عباس جو کہ حضرت علی علیہ السلام کی جانب سے مدینہ کے والی مقرر کئے گئے تھے، ان کے دو طفل صغیر کو بھی تہہ تیغ کرکے سر تن سے جدا کر دیئے تھے اور اس طرح انہوں نے تیس ہزار ( ۳۰ ہزار) لوگ قتل کر ڈالے!!
اس قتل و غارت گری میں ابوہریرہ ان کے ہمراہ تھے جب لشکر نے مکہ کی سمت پیش قدمی کی تو ابوہریرہ وہیں رُک گئے اور اس خدمت کے صلہ میں معاویہ کی جانب سے مدینہ کے گورنر معین ہوئے۔
اب ہمارا یہ ایک سوال ہے کہ کیا ابوہریرہ نے رسول اللہؐ سے یہ روایت نہیں سنی تھی کہ آپ نے فرمایا:
"مَنۡ اَخافَ اَه ۡلَ الۡمَدینَةِ ظُلۡماً اَخافَه ُ الله ُ وَ عَلَیۡه ِ لَعۡنَةُ الله ِ وَ الۡمَلائِکةِ وَ النّاسِ اَجۡمَعینَ "
جس نے بھی اہل مدینہ کو از روئے ظلم و ستم ڈرایا دھمکایا اللہ بھی اسے ڈراتا ہے اور اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔
یہ روایت احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں، سمہودی نے تاریخ مدینہ میں اور سبط ابن جوزی(۶۱) نے بھی نقل کی ہے۔
علاوہ بریں: ابوہریرہ نے خلیفہ برحق و وصی رسول اللہﷺ حضرت علی علیہ السلام (کہ اہل سنت حضرات بھی جنہیں خلفاء راشدین میں شمار کرتے ہیں) لہذا ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا خلفائے راشدین سے جنگ کرنے والے اور وسیع قتل و غارت گری میں شرکت کرنے والے کی روایات صحیح اور قابل قبول ہیں؟!!
حضرت عائشہ جیسی امّ المؤمنین نے جسے کذاب کہا ہو، حضرت عمر بن خطاب نے جسے دو مرتبہ تازیانے مارے ہوں اور اسے جھوٹا او ر ممنوع الحدیث قرار دیا ہو، حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب‘ نے جسے رسول اللہﷺ پر سب سے زیادہ جھوٹ باندھنے والا قرار دیا ہو، کیا ایسے شخص کی روایات کو قبول کیا جاسکتا ہے؟!
اگر آپ کا جواب منفی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ علمائے اہل سنت ایک طرف تو اپنی کتب تاریخ میں اس قسم کے مطالب نقل کر رہے ہیں اور دوسری طرف ابوہریرہ کی روایات سے اپنی کتب کو زینت دے رہے ہیں اور "رضی اللہ عنہ" لکھ رہے ہیں۔
بیشک یہ واضح اور آشکار تناقض ہے اور کتب عامّہ میں یہ موارد "لا تُعَدُّ وَلا تُحۡصی " پائے جاتے ہیں!!
۶ ۔ ابو ہریرہ کی روایات کے ناقابل اعتبار ہونے کی جملہ دلائل میں سے ایک ان کا نفاق اور حضرت علی علیہ السلام کی نسبت دُھرا رویہ ہے؛ جیسا کہ زمخشری نے کتاب ربیع الابرار اور ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں نقل کیا ہے کہ ابوہریرہ جنگ صفین میں بعض مرتبہ نماز حضرت علی علیہ السلام کے پیچھے پڑھتے لیکن کھانا ہمیشہ معاویہ کے پُرچرب دستر خوان پر تناول کرتے تھے؛ جب ان سے اس دُھرے رویہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو کہنے لگے:
"مضیرَةُ مُعاوِیَة اَدۡسَم، وَ الصّلوةُ خَلۡفَ عَلیَّ اَفۡضَل "
مضیرہ(۶۲) اور طعام معاویہ چرب تر ہے جبکہ نماز علی کے پیچھے افضل ہے۔
ان چھ مذکورہ دلائل کی روشنی میں قطعی طور پر یہ کہنا صحیح ہے کہ ہم اس ابوہریرہ پر تنقید کرتے ہیں جس پر حضرت عمر بن خطاب، امّ المؤمنین حضرت عائشہ و دیگر بزرگ صحابہ و تابعین کرام اور معتزلہ و حنفی شیوخ و علمائے کرام تنقید کرتے ہوئے نظر آ رہےہیں۔
ہم اس ابوہریرہ پر تنقید کرتے ہیں جو شکم پرست تھے اور حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب‘ کی افضیلت معلوم ہونے کے باوجود ان سے کنارہ کشی کرکے حاکم شام کے پُر چرب دستر خوان پر جلوہ افروز ہوتے رہے کہ جن کی جعلی احادیث کا سہارا لیکر امام المتقین و خلیفۃ المسلمین (کہ جنہیں اہل سنت حضرات بھی خلفاء راشدین میں تسلیم کرتے ہیں) کو سب و لعن کیا جاتا رہا۔(۶۳)
کعب الاحبار
ابن سعد(۶۴) ، بخاری(۶۵) ، ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ کی ج ۱ ، ص ۲۴۰ و ج ۲ ، ص ۳۸۵ میں، یعقوبی اپنی کتاب تاریخ ج ۲ ، ص ۱۴۸ اور مسعودی اپنی کتاب مروج الذہب ج ۱ ، ص ۴۳۸ اور دیگر اکابر علمائے اہل سنت نے حضرت عثمان کے دور خلافت میں جناب ابوذر کے جلا وطن ہونے اور کعب الاحبار کے ان سے الجھنے کے واقعہ کو تفصیل کے ساتھ اس انداز سے لکھا ہے:
۱۷ ہجری (یعنی رسول اللہ کی وفات کے سات سال بعد) حضرت عمر ابن خطاب کی خلافت کے دور میں "کعب الاحبار" مسلمان ہوئے اور ان کے ملازم بن گئے اور ان کے بعد وہ حضرت عثمان کے مشاور بنے۔ ایک مرتبہ انہوں نے ایک مجلس میں اپنی جانب سے فتویٰ صادر کیا تو ابوذر نے ان پر اعتراض کیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ عصا سے کعب الاحبار کی خبر لینے پر مجبور ہوگئے اور حضرت عثمان کے سامنے انہوں نے اس مسئلہ پر شدید موقف اختیار کیا۔ جب حضرت عثمان نے جناب ابوذر کی یہ شدت دیکھی تو انہوں نے آپ کو شام جلا وطن کرنے کا حکم صادر کردیا۔
اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کی حدیث کی روشنی میں کیا ابوذر راستگو ترین انسان نہ تھے؟ احمد بن حنبل(۶۶) نیز حاکم نے بھی مستدرک ج ۳ ص ۳۴۲ پر روایت نقل کی ہے:
"قال رسول الله ﷺ:ما اَضَلَّتِ الۡخَضۡراءُ عَلی رَجُلٍ اَصۡدَقُ لَه ۡجَةٍ مِنۡ اَبی ذَر "
رسول اکرمﷺ نے فرمایا: آسمان نے ابوذر سے زیادہ سچے انسان پر سایہ نہیں کیا۔
پس ایسے حالات میں جبکہ جناب ابوذر جیسا سچا انسان کعب الاحبار کے روایت بیان کرنے پر اتنا غضب ناک ہوتا ہے کہ عصا اٹھانے پر مجبور ہوجائے تو پھر کعب الاحبار کی روایات کو کیونکر قبول کیا جاسکتا ہے؟!
کیا یہ بات "یک بام و دو ہوا" کا مصداق نہیں کہ ایک طرف تو جناب ابوذر کو خالص سچا اور راستگو ترین انسان مانا جائے اور دوسری طرف اس شخص سے روایت نقل کی جائے جس کی ابوذر شدید مخالفت کر رہے ہیں؟
ہم کعب الاحبار کی روایات کے ناقابل قبول اور بے اعتبار ہونے کے سلسلہ میں اتنا ہی کافی سمجھ رہے ہیں البتہ جو حضرات تفصیلات چاہتے ہیں وہ کتب رجال کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کتب اہل سنت میں بہت سی اسرائیلیات کعب الاحبار ہی کی بدولت وارد ہوئی ہیں۔
روایات حضرت مہدی (عج) کے متواتر(۶۷) ہونے پر متعدد علمائے اہل سنت کی تصریح
اب جبکہ ہم پہلی فصل میں حضور سرور کائنات سے چالیس روایات، دوسری فصل میں اہلبیت اطہار سے چالیس روایات اور تیسری فصل میں اصحاب و تابعین سے بیس ر وایات نقل کرچکے ہیں جو سب کی سب اہل سنت سے نقل کی ہیں، قطعی طور پر یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) موعود کے بارے میں نقل شدہ روایات کثرت اسناد کی بنا پر متواتر ہیں (جس کی وجہ سے روایات میں شک کی گنجائش نہیں ہے)۔
وضاحت:
۱ ۔ جیسا کہ ہم اس کتاب کے مقدمہ میں ۵۴ ایسے اصحاب نبیؐ کا تذکرہ کرچکے ہیں جنہوں نے نبی کریمؐ سے حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں متعدد روایات نقل کی ہیں مثلاً امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب‘، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا، امام حسن مجتبیٰ سبط الشہید، امام حسین سید الشہداء جو سب اہل بیت علیھم السلام عصمت و طہارت ہیں اور اصحاب جیسے ابوذر غفاری، سلمان فارسی مقلب بہ سلمان محمدیؐ، عمار یاسر اور جابر بن عبد اللہ انصاری وغیرہ ہیں۔
۲ ۔ اہل سنت میں محدثین و ناقلین روایات مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی تعداد ۱۶۰ سے بھی زیادہ پائی جاتی ہے جن کے نام ہم نے مقدمہ کے آخر میں ذکر کردیئے ہیں۔ جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا صرف موضوع ہی ان کے نزدیک اہمیت کا حامل نہیں ہے بلکہ اس سلسلہ میں وارد ہونے والی روایات بھی ان کی توجہ کا مرکز قرار پائی ہیں۔
۳ ۔ ہم نے اسی کتاب کے مقدمہ میں علمائے اہل سنت کی تالیف کردہ ۱۱۵ ایسی کتب کے اسامی کا تذکرہ کیا ہے جن میں حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) موعود کے بارے میں روایات نقل کی گئی ہیں۔
۴ ۔ بعض محققین کی تحقیق کے مطابق ۴۰ سے زائد اہل سنت محدثین نے امام مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں مستقل طور پر روایات نقل کی ہیں یعنی موضوع مہدویت اور اس سے مربوط مسائل کو مستقل طور پر بیان کیا ہے جن کے اسماء ہم نے اس کتاب کے مقدمہ میں بیان کئے ہیں اور اگر اب دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے تو ان کتب کی تعداد ۶۰ ہوجائے گی۔
۵ ۔ اہل سنت کے ۲۳ علماء نے بطور "نص جلی" بیان کیا ہے کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں نقل شدہ روایات، متواتر ہیں اور انہوں نے اپنی کتب میں اس حقیقت کو ثابت بھی کیا ہے؛ جن کے اسامی ذیل میں پیش کئے جا رہے ہیں:
۱. شیخ محمد صبان؛ کتاب اسعاف الراغبین(۶۸) در حاشیہ نور الابصار صفحہ ۱۴۰ ؛
۲. مؤمن شبلنجی؛ کتاب نور الابصار، صفحہ ۱۷۱(۶۹) ؛
۳. شیخ عبد الحق؛ کتاب لَمَعَات، جو سنن ترمذی، ج ۲ ، ص ۴۶(۷۰) کے حاشیہ پر نقل کی گئی ہے؛
۴. ابو الحسن اَبری، کتاب مناقب شافعی، نیز بنابر نقل صواعق، صفحہ ۹۹(۷۱) ؛
۵. ابن حجر، کتاب الفتوحات الاسلامیہ(۷۲) ؛
۶. سید احمد بن سید زینی دحلان مفتی شافعیہ، کتاب الفتوحات الاسلامیہ، ج ۲ ، صفحہ ۲۱۱(۷۳) ؛
۷. ابن تیمیہ نے اپنے فتوؤں میں بیان کیا ہے جو کہ "رابطۃ العالم الاسلامی" کے رسمی بیانیہ میں نشر کئے گئے ہیں جو وہابیت کا اہم ترین مرکز ہے۔ اس بیانیہ کو ہم آئندہ صفحات پر پیش کریں گے۔
۸. شوکانی، کتاب "التوضیح فی تواتُرِ ما جاءَ فی المنتظر و الدّجال و المسیح" بر بنائے نقل کتاب غایۃ المامول، ج ۵ ، ص ۳۸۲ ؛
اہم بات یہ ہے کہ شوکانی نے یہ کتاب خاص اسی موضوع پر لکھی ہے یعنی یہ کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں روایات تواتر کے ساتھ ثابت ہیں۔
۹. محمد بن یوسف گنجی شافعی، کتاب "البیان" باب ۱۱ ؛
۱۰. از علمائے معاصر جناب شیخ منصور علی ناصف جو کہ "الازہر" مصر سے تعلق رکھتے ہیں، کتاب "غایة المأمول فی شرح التّاجِ الجامع للاُصول " جناب موصوف کتاب "التاج الجامع لِلاصول" کے مؤلف ہیں؛
۱۱. استاد احمد محمد صدیق ، کتاب ابرازُ الوہم المکنون من کلام ابن خلدون؛
۱۲. ابو طیب؛ کتاب الاذاعہ؛
۱۳. ابو الحسن سحری در حاشیہ کتاب صواعق محرقہ؛
۱۴. عبد الوہاب عبد اللطیف، مدرس دانشکدہ شریعت، کتاب صواعق محرقہ کے حاشیہ میں؛
۱۵. محمد بن جعفر الکتابی، کتاب نظم المتناثر فی الحدیثِ المتواتر؛
۱۶. شیخ محمد زاہدی کوثری، کتاب نظرۃٌ عابرۃٌ؛
۱۷. اسنوی، مناقب شافعی میں(۷۴) ؛
۱۸. محمد علی حسین بکری مدنی، کتاب ارشاد المستَہدِی، صفحہ ۵۳ ؛
۱۹. حافظ(۷۵) ابن حجر عسقلانی شافعی، کتاب فتح الباری؛
۲۰. سخاوی، کتاب فتح المغیث؛
۲۱. محمد بن احمد بن سفاوینی، کتاب شرح العقیدہ؛
۲۲. جلال الدین سیوطی، کتاب الحاوی؛
۲۳. ابو العباس بن عبداً لِمؤمن، کتاب الوہم المکنون۔
ہم یہاں پر اہل سنت کے دس بزرگ ایسے علماء کرام کا تذکرہ کرنا بھی مناسب سمجھ رہے ہیں جنہوں نے حضر ت مہدی موعود علیہ السلام کے بارے میں وارد ہونے والی روایات کے متواتر ہونے کی تصریح فرمائی ہے تاکہ حقیقت روزِ روشن کی مثل واضح اور آشکار ہوجائے اور کوئی شک وشبہہ کی گنجائش باقی نہ رہے:
۱ ۔ شوکانی: جناب شوکانی نے ان روایات کو متواتر ثابت کرنے کے لئے خصوصی کتاب "اَلتُّوضیحُ فی تَواتُرِ ما جاءَ فی الۡمُنتَظَر وَ الدَّجّالِ وَ الۡمَسیح " تالیف کی ہے۔ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں احادیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
"وَ جَمیعُ ما سقناه ُ بالِغٌ حَدَّ التَّواتُر کَما لا یَخۡفی عَلی مَنۡ لَه ُ فَضۡلُ اِطّلاع، فَتُقُرِّرَ بِجَمیعِ ما سقناه ُ اَنَّ الۡاَحادیثَ الۡوارِدَةَ فِی الۡمَه ۡدیِّ الۡمُنۡتَظَرِ مُتواتِرَةٌ وَ ه ذا یَکۡفی لِمَنۡ کانَ عِنۡدَه ُ ذَرَّةٌ مِنۡ ایمانٍ وَ قلیلٌ مِنۡ اِنۡصافٍ (۷۶) "
تمام احادیث جنہیں ہم نے نقل کیا ہے، متواتر ہیں جیسا کہ اہل علم و فضل سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے۔ پس بنابریں یہ بات مسلم ہے کہ حضرت مہدی منتظر کے بارے میں نقل شدہ روایات، متواتر ہیں لہذا جس کے قلب میں ذرہ ایمان اور تھوڑا سا بھی انصاف کا مادہ ہے تو اس کے لئے یہی کافی ہے۔
۲ ۔ محمد بن جعفر الکتانی، "نظم المتناثر" میں رقمطراز ہیں:"اَلۡاَحادیثُ الۡوارِدَةُ فِی الۡمَه ۡدیِّ الۡمُنۡتَظَرِ مُتواتِرَةٌ (۷۷) " یعنی حضرت مہدی المنتظر کے بارے میں وارد شدہ احادیث، متواتر ہیں۔
۳ ۔ شیخ محمد زاہد کوثری، "نظرۃٌ عابِرَۃٌ" میں تحریر کرتے ہیں:
"وَ اَمّا تَواتُرُ اَحادیثِ الۡمَه ۡدی وَ الدَّجالِ وَ المَسیحِ فَلَیۡسَ بِمَوۡضِعِ ریۡبَةٍ عِنۡدَ اَه ۡلِ الۡعِلۡمِ بِالۡحَدیثِ (۷۸) " یعنی جو لوگ احادیث سے آشنائی رکھتے ہیں وہ بغیر کسی شک و شبہ کے جانتے ہیں کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)، دجال او ر مسیح کے بارے میں نقل شدہ روایات، متواتر ہیں۔
۴ ۔ اسنوی، "مناقب شافعی" میں بیان کرتے ہیں: حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے ظہور کے بارے میں اور یہ کہ وہ اہل بیت پیغمبرؐ سے ہوں گے، نقل شدہ اخبار و روایات متواتر ہیں(۷۹) ۔
۵ ۔ محمد بن یوسف گنجی شافعی (متوفی ۶۵۸ ھ ق) اپنی کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان، باب ۱۱ میں رقمطراز ہیں: "تَواتَرَتِ الۡاَخبارُ وَ اسۡتَفاضَتۡ بِکَثۡرَةِ رُواتِه ا عَنِ المُصطفیﷺ فی اَمۡرِ الۡمَه ۡدی (۸۰) " حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں احادیث پیغمبر اکرمﷺ، کثیر التعداد راویوں کے نقل کرنے کی بنا پر "متواتر" ہیں۔
۶ ۔ ابن حجر عسقلانی شافعی (متوفی ۸۵۲ ھ ق) کتاب فتح الباری شرح صحیح بخاری میں رقمطراز ہیں: "تَواتَرَتِ الۡاَخبارُ بِانَّ الۡمَه ۡدی مِنۡ ه ذِه ِ الۡاُمَّة وَ اَنّ عیسی سَیَنۡزِلُ وَ یُصَلّی خَلۡفَه ُ (۸۱) " تواتر کے ساتھ احادیث موجود ہیں جو اس بات کی وضاحت کر رہی ہیں کہ مہدی اس امت سے ہوں گے اور عیسیٰ آسمان سے نازل ہوکر ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔
۷ ۔ مؤمن شبلنجی (متوفی ۱۲۹۱ ھ ق) کتاب "نور الابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار" میں لکھتے ہیں: "تَواتَرَتِ الۡاَخبارُ عَنِ النّبیﷺ اَنَّه ُ مِن اهل بَیتِه ِ وَ اَنَّه ُ یَمۡلَأُ الۡاَرۡضَ عَدلاً (۸۲) " نبی کریمﷺ سے ایسی متواتر احادیث نقل کی گئی ہیں جو بیان کر رہی ہیں کہ مہدی آپؐ کے خاندان سے ہوں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
۸ ۔ شیخ محمد بن علی صبان (متوفی ۱۲۰۶ ھ ق) کتاب اسعاف الراغبین فی سیرۃ المصطفی و فضائل اہل بیتہ الطاہرین" میں رقمطراز ہیں: "تَواتَرَتِ الۡاَخبارُ عَنِ النّبیﷺ بِخُروُجِه وَ اَنَّه ُ مِن اهل بَیتِه ِ وَ اَنَّه ُ یَمۡلَأُ الۡاَرۡضَ عَدلاً (۸۳) " پیغمبر گرامی قدر سے متواتر روایات نقل کی گئی ہیں جو اس بات کی وضاحت کر رہی ہیں کہ مہدی خروج کریں گے اور وہ اہل بیت نبی سے ہوں گے اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
۹ ۔ شیخ منصور علی ناصف جو کہ "الازھر" مصر کے معروف علمائے معاصر میں سے ہیں اپنی تالیف التاج الجامع للاُصول(۸۴) میں تحریر کرتے ہیں: "گذشتہ و حالیہ تمام علماء میں یہ بات مشہور و معروف ہے کہ یقیناً اہل بیت پیغمبرؐ میں سے آخر الزمان میں ایک شخص ظہور کرے گا جس کا نام مہدیؑ ہے وہ تمام اسلامی ممالک پر مسلط ہوجائے گا، تمام مسلمان اس کے پیروکار ہوجائیں گے وہ لوگوں میں عدل و عدالت قائم کرے گا، دین کو قوت و استحکام عطا کرے گا اور عیسیٰ آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال کو نابود کریں گے یا دجال کو نابود کرنے میں حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی مدد فرمائیں گے۔
نیز لکھتے ہیں کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں بہت سے عظیم اصحاب کرام نے نبی کریمﷺ سے احادیث نقل فرمائی ہیں اور ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، طبرانی، ابو یعلی، بزّاز، امام احمد ابن حنبل اور حاکم نیشاپوری جیسے بزرگ محدثین نے انہیں اپنی اپنی کتب میں نقل کیا ہے"(۸۵) ۔
۱۰ ۔ محمد علی حسین البکری مدنی، کتابارشاد المستهدی فی نقل بَعض الاحادیث، و الآثار الواردِة فی شأن الامام المه دی (۸۶) ص ۵۳ میں لکھتے ہیں:
"اے صاحبِ عقل و خِرَد! ظہور حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں ہر قسم کے شک و شبہہ سے پرہیز کرو۔ کیونکہ آنجنابؐ کے ظہور پر یقین و اعتقاد خدا و رسول خدا اور ہر وہ چیز جو رسول اللہ نے بیان فرمائی ہے اس پر ایمان کامل کی علامت ہے۔ یاد رکھو! پیغمبرؐ صادق و مصدق ہیں۔
نیز یقین رکھو کہ ابھی تک حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف ظاہر نہیں ہوئے ہیں اور جس نے بھی اس بات کا دعویٰ کیا ہے وہ کذّاب اور جھوٹا ہے کیونکہ اس شخص میں وہ علامات موجود ہی نہیں تھیں جو روایات و احادیث میں بیان کی گئی ہیں۔
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے ظہور کی علامات بالکل واضح و روشن ہیں۔ ان کا ظہور حضرت عیسیٰ کے نزول سے قبل واقع ہوا اور حضرت عیسیٰ سے ان کی ملاقات ضروری و بدیہی امور میں سے ہے۔ جو شخص اس سلسلہ میں مبسوط و بھرپور معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے اسے اس موضوع کے بارے میں تالیف شدہ کتب کا مطالعہ کرنا چاہئے کیونکہ ہم اس کتاب یعنی "ارشاد المستھدی" میں صرف ظہور مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں نقل شدہ روایات کے متواتر ہونے کو بطور اختصار ثابت کرنا چاہتے ہیں"(۸۷) ۔
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ یہ بزرگ عالم اہل سنت حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں نقل شدہ روایات کے متواتر ہونے پر صرف یقین ہی نہیں رکھتے ہیں بلکہ ان روایات کے تواتر کو ثابت بھی کر رہے ہیں۔ جناب مؤلف کتاب ارشاد المستھدی کے صفحہ ۵۲ پر لکھتے ہیں:
ظہور اور اس کے آثار کے بارے میں تقریباً محدثین و غیر محدثین سب ہی نے احادیث نقل کی ہیں۔ ظہور مہدی رضی اللہ عنہ پر ایمان، اصحاب کے درمیان مشہور و معروف تھا اور اصحاب نے یہ عقیدہ پیغمبر گرامی قدر ہی سے حاصل کیا تھا۔ نیز تابعین کرام سے ہم تک پہنچنے والے آثار و مراسیل بھی اس عقیدے کی گواہی دے رہے ہیں کیونکہ یہ حضرات اس قسم کے مسائل میں اپنی طرف سے کوئی اظہار خیال نہیں کرتے تھے۔
نتیجہ:
۱. علمائے اہل سنت کے مطابق حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)کے بارے میں اصحاب رسول اکرمﷺ میں سے ۵۴ افراد نے روایات نقل کی ہیں۔
۲. ۲۲۷ ہجری سے تابحال ۱۶۰ سے زائد علمائے اہل سنت نے یہ روایات نقل کی ہیں۔
۳. کتب صحاح، مسانید سنن اور سیرت میں متعدد علمائے اہل سنت نے یہ روایات نقل کی ہیں۔
۴. روایات حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں ۴۰ مستقل طور پر لکھی جانے والی کتب اہل سنت۔
۵. اور علمائے اہل سنت کے ۲۳ افراد کی جانب سے اس بات کی تصریح کہ روایات حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) متواتر ہیں۔
ان تمام نکات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)کے بارے میں اہل سنت سے نقل شدہ احادیث متواتر، مسلم اور ثابت شدہ ہیں اور حضور سرور کائنات کے صادق القول ہونے پر ایمان کی صورت میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی کہ یہ احادیث "اخبار غیبی" میں سے ہیں۔
ہم امید کرتے ہیں کہ خداوند عالم اہل دنیا کی آنکھوں کو آنجناب کی زیارت سے منور فرمائے:
"اَللّه ُمَّ عَجِّلۡ لِوَلیِّکَ الۡفَرَجَ، وَ اجۡعَلۡنا مِنۡ اَنۡصارِه وَ اَعۡوانِه "
روایات حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں ابن ابی الحدید کا بیان
اہل سنت کے معروف عالم و محقق اور شارح نہج البلاغہ جناب ابن ابی الحدید حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کے سلسلہ میں وارد شدہ روایات کے بارے میں اپنے عقیدہ کا اس انداز سے اظہار کرتے ہیں:
"قَدۡ وَقَعَ اِتّفاقُ الۡفِرَقِ مِنَ الۡمُسۡلِمینَ اَجۡمَعینَ عَلی اَنَّ الدُّنۡیا وَ التکلیفَ لا یَنۡقَضی اِلَّا عَلَیۡه (المَه دی علیه السلام)" تمام فِرق اسلامی ا س بات پر متفق ہیں کہ عمر دنیا اور تکلیف بشر (یعنی احکام الٰہی کو اجراء کرنے کی پابندی) اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک کہ حضرت مہدی کا ظہور نہ ہوجائے۔(۸۸)
عقیدہ مہدویت پر عامۃ المسلمین و وہابیت کی زندہ دلیل:
رابطہ العالم الاسلامی کا بیان
اب جبکہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)کے بارے میں نقل شدہ روایات کا متواتر ہونا ثابت ہوچکا ہے اور نبی کریم کے صادق القول ہونے پر ایمان کی وجہ سے یہ بات بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ اخبار غیبی میں سے ہے، اس موقع پر مکہ میں واقع وہابیت کے سب سے بڑے مرکز" رابطۃ العالم الاسلامی" کے جاری کردہ رسمی بیان کو ایک زندہ و جاوید دلیل و سند کے طور پر پیش کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ تمام مسلمانان عالم عقیدہ مہدویت پر یقین رکھتے ہں ۔
اس بیان کے اہم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شیعوں کی شدت سے مخالفت کرنے والوں (یعنی وہابیوں) نے بھی اس موضوع کو صرف قبول ہی نہیں کیا ہے بلکہ شدت سے اس کا دفاع بھی کیا ہے اور اسے اسلامی قطعی و مسلم عقائد میں سے تسلیم کیا ہے اور اس کی وجہ اس موضوع پر کثرت سے دلائل و اسناد کا موجود ہونا ہے۔ علاوہ بر ایں یہ مرکز اسلامی دنیا کے باہمی تعلقات و روابط کے مرکز کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔
بہرحال ۱۹۷۶ میں "کینیا" کے رہنے والے ایک شخص "ابو محمد" نے حضرت مہدی منتظر کے بارے میں "رابطہ العالم الاسلامی" سے سوال کیا، اس کے جواب میں اس مرکز کے ڈائریکٹر جنرل نے اس نکتہ کی طرف ا شارہ کرتے ہوئے کہ وہابی مذہب کے بانی "ابن تیمیہ" نے بھی حضر ت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں نقل شدہ روایات کی تصدیق کی ہے، مکمل نامہ ارسال کیا ہے، جس کے متن کو حجاز کے پانچ معروف علماء کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔
اس نامہ میں حضرت کے نام و محل و ظہور (یعنی مکہ) کے ذکر کے بعد بیان کیا گیا ہے: "جب دنیا میں فتنہ و فساد، کفر و نقاق اور ظلم و ستم پھیل جائے گا تو اس وقت پروردگار عالم ان کے (یعنی حضرت مہدیؑ) کے ذریعے دنیا کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی وہ بارہ خلفاءِ راشدین میں سے آخری ہوں گے کہ کتب صحاح میں پیغمبر اکرم نے ان کے بارے میں خبر دی ہے۔ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں بہت سے اصحاب کرام نے احادیث بیان فرمائی ہیں جیسے: عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، طلحہ بن عبد اللہ، عبد الرحمن بن عوف، عبد اللہ بن عباس، عمار بن یاسر، عبد اللہ بن مسعود ، ابو سعید خدری، ثوبان، قرۃ بن ایاس مزنی، عبد اللہ بن حارث، ابوہریرہ، حذیفہ بن یمان، جابر بن عبد اللہ، ابو امامہ، جابر بن ماجد، عبد اللہ بن عمر، انس بن مالک، عمران بن حصین و امّ سلمہ۔
نیز لکھتے ہیں: پیغمبر اکرمﷺ سے منقول مذکورہ بالا احادیث نیز صحابہ کرام کی گواہی جو کہ اس مقام پر حدیث ہی کا حکم رکھتی ہے، بہت سی معروف کتب، اور احادیث پیغمبر کو بیان کرنے والی اصیل کتب سنن اور معاجم و مسانید میں نقل کی گئی ہیں جیسے: سنن : ابی داود، ترمذی، ابن ماجہ، ابو عمرو الدانی؛ مسانید: مسند احمد، مسند ابی یُعلی، مسند بزاز، صحیح حاکم؛ معاجم: طبرانی، رویانی، دار قطنی، علاوہ بر ایں ابو نعیم نے کتاب "اخبار المہدی" میں، خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" وغیرہ میں یہ احادیث نقل کی ہیں۔
نیز لکھتے ہیں: بعض اہل علم و فضل نے اس سلسلہ میں مخصوص کتب تالیف کی ہیں جیسے:
ابو نعیم: کتاب اخبار المہدی؛ ابن حجر ہیثمی: کتاب "اَلۡقَوۡلُ المُخۡتَصَرُ فی عَلاماتِ الۡمَه ۡدیِ الۡمُنۡتَظَر "؛ شوکانی: کتاب "اَلتَّوۡضیحُ فی تَواتُرِ ما جاءَ فیِ الۡمُنتَظَرِ وَ الدَّجالِ وَ المَسیحِ "؛ ادریس عراقی مغربی: کتاب "المہدی؛ ابو العباس بن عبد المؤمن مغربی: کتاب: "اَلۡوَه ۡم الۡمَکۡنُون فیِ الرَّدِّ عَلی اِبۡنِ خَلدُون "۔
اور سب سے زیادہ تفصیل سے اس سلسلہ میں دانشگاہ اسلامی مدینہ کے رئیس نے قلم اٹھایا ہے جن کی تحریر دانشگاہ کے متعدد مجلات میں شایع ہوچکی ہے۔
متعدد قدیم و جدید بزرگ علمائے اسلام نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے بارے میں نقل شدہ احادیث، متواتر ہیں (جو کسی صورت قابل انکار نہیں ہیں) مثلاً:
سخاوی نے کتاب فتح المغیث میں، محمد بن احمد سفاوینی نے کتاب "شرح العقیدہ" میں ابو الحسن آبری نے "مناقب الشافعی" میں؛ ابن تیمیہ نے اپنے فتاوا میں، سیوطی نے "الحاوی " میں، ادریس عراقی مغربی نے حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں اپنی تالیف کردہ کتاب میں، شوکانی نے کتاب "التوضیح فی تواتُرِ ما جاءَ فی المنتظر " میںِ محمد بن جعفر کتانی نے کتاب "نظم المتناثر فی الحدیث المتواتر" میں اور ابو العباس بن عبد المؤمن نے کتاب "الوه م المکنون " وغیرہ میں تصریح فرمائی ہے۔
اور اس بیان کے اختتام پر لکھتے ہیں: صرف ابن خلدون نے ایک مجعول و بے بنیاد حدیث "مہدی، عیسیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے" کی وجہ سے اس سلسلہ میں وارد ہونے والی بے شمار احادیث کو قابل اشکال و اعتراض قرار دیا ہے لیکن بزرگ علمائے اسلام نے ان کے قول کو سختی سے رد کیا ہے خصوصاٍ ابن عبد المؤمن کہ جنہوں نے ابن خلدون ہی کی رد میں کتاب رقم کی ہے، تیس سال قبل مشرق و مغرب میں زیور طباعت سے آراستہ ہوئی، اسی طرح حفّاظ و محدثین احادیث نے بھی تصریح فرمائی ہے کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں نقل شدہ احادیث "صحیح" اور "حسن" پر مشتمل ہیں بہرحال یہ احادیث قطعامتواتر اور صحیح ہیں۔
بنابرایں، ظہور حضرت مہدی پر اعتقاد رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے، اور اہل سنت و الجماعت کے عقائد کا جزء ہے۔ اور سوائے نادان، نا آشنا یا بدعت گزار افراد کے کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا ہے۔
"مدیر ادارۂ مجمع فقہی اسلامی محمد منتصر کنانی": ہم نے یہاں محترم قارئین کی خدمت میں اس نامے کے صرف حساس حصہ کا ترجمہ پیش کر دیا ہے کامل متن سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے " کتاب مہدی انقلابی بزرگ" کے صفحہ ۱۵۱ تا ۱۵۵ کو ملاحظہ فرمائیں(۸۹) ۔
____________________
۱ ۔ "احبار" ، "حِبر" کی جمع ہے جس سے مراد یہودی عالم ہے۔
۲ ۔ عقد الدُّرر فی اخبار المنتظر، باب اول، صفحہ ۴۴، طبع مسجد مقدس جمکران ۱۴۲۵ ھ ق۔
۳ ۔ سعید بن مسیب بزرگ تابعین اور فقہائے مدینہ میں سے تھے، نیز امام زین العابدین کے ہم عصر تھے۔
۴ ۔ عِقد الدّرر فی اخبار المنتظر، باب چہارم: فیما یَظہَر من الفِتَن الدّالہ علی ولایتہ، صفحہ ۹۹، طبع مسجد مقدس جمکران۔
۵ ۔ اَلفتن، باب علامۃ اخری عند خروج المہدی (عج)، ص ۹۳۔
۶ ۔ عقد الدّرر فی اخبار المنتظر، باب۴: فیما یظہر من الفتن الدالۃ علی ولایتہ، ص ۱۴۲، طبع مسجد مقدس جمکران۔
۷ ۔ کتاب العین ، ج۲، ص ۸۳۹ میں مادہ "سلب" کے ذیل میں ہے کہ کُلُّ لباس علی الانسان سَلَبٌ۔ حجاج احرام کے بجائے اپنے لباس پہنیں گے۔
۸ ۔عقد الدررّ فی اخبار المنتظر، باب۴، فصل ۳، ص ۱۴۴ (طبع مسجد مقدس جمکران) ۔
۹ ۔ الفتن، باب علامۃ اُخری عند خروج المہدیؑ، صفحہ ۹۳ ۔
۱۰ ۔ عقد الدّرر ، باب ۴، فصل۳، ص ۱۴۵، طبع مسجد مقدس جمکران۔
۱۱ ۔ الفتن، باب آخر از "علامات المہدی فی خروجہ، ص ۹۱۔
۱۲ ۔عقد الدّرر، باب ۴، فصل ۳، ص ۱۵۰ ۔
۱۳ ۔الفتن، باب ما یُذکر من علامات من السماء، ص ۶۰ ۔
۱۴ ۔ الفتن، باب اجتماع الناس بمکۃ و بَعیتہم للمہدی فیہا، ص ۹۴۔
۱۵ ۔ عقد الدّرر، باب ۵، ص ۱۷۰ و ۲۸۲۔
۱۶ ۔الفتن باب نسب المہدی، ص ۱۰۲ ۔
۱۷ ۔ عقد الدّرر، باب ۷ "فی شرفہ و عظیم منزلتہ" ص ۲۰۷، طبع مسجد مقدس جمکران ۱۴۲۵ ھ۔
۱۸ ۔ سنن، ص ۱۰۰۔
۱۹ ۔ الفتن باب "سیرۃ المہدی و عدلہ خصب زمانہ:" ص ۹۹۔
۲۰ ۔عقد الدّرر، باب ۷، ص ۲۰۷، طبع مسجد مقدس جمکران ۔
۲۱ ۔الفتن، باب اجتماع الناس بمکۃ و بیعتہم للمہدی فیہا، ص ۹۴ ۔
۲۲ ۔ عقد الدّرر، باب ۸؛ "فی کرمہ و فتوّتہ" ص ۲۲۴، طبع مسجد مقدس جمکران، ۱۴۴۵ھ ۔
۲۳ ۔ کتاب جامع باب "ما جاء فی المہدی من ابواب الفتن، ج۹، ص ۷۵۔
۲۴ ۔ الفتن ج۳، ص ۱۹۴۔
۲۵ ۔ تہذیب التہذیب ج۱۰، ص ۴۹۰ میں ہے کہ یہ شخص ابو اسحاق ہمدانی ہے۔ اور تقریب التہذیب میں ہے کہ ابن نوف فضالہ شامی مستور ہے جو ۹۰ ہجری کے بعد فوت ہوا تھا۔
۲۶ ۔ عقد الدّرر، باب ۹، ص ۲۷۴، طبع مسجد مقدس جمکران، ۱۴۲۵۔
۲۷ ۔السنن، ص ۱۰۰ ۔
۲۸ ۔ الفتن، باب سیرۃ المہدی و خصب زمانہ، ص ۹۸۔
۲۹ ۔ عقد الدّرر، باب ۹، فصل ۳، ص ۲۸۲ طبع مسجد مقدس جمکران۔
۳۰ ۔ حذیفہ بن حسل بن جابر بن عمر بن ربیعہ، رسول اللہؐ کے بزرگ صحابہ میں سے ہیں اور حضور ﷺ کے رازدار کے نام سے مشہور ہیں اور یہ ۳۶ ہجری میں فوت ہوئے ہیں۔
۳۱ ۔ معجم البلدان، ج۱، ص ۷۲۹ میں ہے کہ بلنجر، ساحل خزر کے شہروں میں سے ایک شہر ہے۔
۳۲ ۔ الفتن، باب نسب المہدیؑ، ص ۱۰۳۔
۳۳ ۔ صحیح مسلم، ج۱، ص ۱۳۷، باب "نزول عیسی بن مریم حاکماً بشریعۃ نبیاً محمد از کتاب الایمان۔
۳۴ ۔ عقد الدّرر، باب ۳، ص ۶۷، طبع مسجد مقدس جمکران، ۱۴۲۵ھ۔
۳۵ ۔ کتاب معجم البلدان، ج۱، ص ۳۸۲ و ۳۸۳ میں ہے: انطاکیہ موجودہ شام کا ایک شہر ہے جو شہر حلب سے ایک شب و روز کی مسافت پر واقعہ ہے۔
۳۶ ۔السنن، ص ۱۰۱ ۔
۳۷ ۔ کتاب تہذیب التہذیب، ج۵، ص ۲۵۶ و ۲۵۵ میں ہے: ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن شوذب خراسانی، بلخی، بلخ کے رہنے والے تھے، سالہا شام میں مقیم رہے اور ۱۴۴ ہجری یا ۵۶ یا ۵۷ ہجری میں وفات پائی۔
۳۸ ۔ عقد الدّرر، باب ۱۱، ص ۳۰۷ ، طبع مسجد مقدس جمکران۔
۳۹ ۔ عقد الدّرر، باب ۹، فصل ۳، ص ۲۷۷، طبع مسجد مقدس جمکران۔
۴۰ ۔ الفتن، باب غزوۃ الہند، ص ۱۱۳۔
۴۱ ۔ عقد الدّرر، باب۳، ص ۶۵، طبع مسجد مقدس جمکران، ۱۴۲۵ھ۔
۴۲ ۔ صفۃ المہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)و نعتہ، ص ۱۰۰۔
۴۳ ۔ عقد الدّرر، باب۳، ص ۱۸۵۔
۴۴ ۔کتاب العین، ج۳، ص ۱۴۱۴ میں ہے: حدیث میں آیا ہے تَرمِی بِاَفَلاذِ کَبِدِہَا یعنی ما فیہا من الکنوز و الاموال؛ یعنی زمین اپنے خزانے اور اموال باہر نکال ڈالے گی۔
اسی کتاب العین ج۳، ص ۱۵۴۹ میں ہے: "کِبَد" ہر شئے کے وسط و درمیان کو کہتے ہیں ۔
۴۵ ۔ مستدرک (الملاحم و الفتن)، ج۴، ص ۵۱۴۔
۴۶ ۔ عقد الدّرر، ص ۲۰۱۔
۴۷ ۔ "کوفان" ایک سرزمین کا نام ہے؛معجم البلدان، ج۴، ص ۳۲۱۔
۴۸ ۔ عقد الدّرر، باب۷، ص ۲۰۲، طبع مسجد مقدس جمکران ۱۴۲۵ ھ ۔
۴۹ ۔ الفتن، باب سیرۃ المہدی و عدلہ و خصب زمانہ، ص ۹۸۔
۵۰ ۔ شرح نہج البلاغہ، ج۳، ص ۱۰۴، طبع مصر۔
۵۱ ۔ طبقات ابن سعد، ج۴، ص ۹۰۔
۵۲ ۔ الاصابہ فی تمییز الصحابہ۔
۵۳ ۔شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص ۳۶۰ ۔
۵۴ ۔ کنز العمال، ص ۲۳۹۔
۵۵ ۔ شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص ۳۶۰۔
۵۶ ۔تاویل مختلف الحدیث ۔
۵۷ ۔ مستدرک، ج۳۔
۵۸ ۔ تلخیص المستدرک۔
۵۹ ۔ صحیح مسلم، ج۲ ۔
۶۰ ۔تذکرہ، ص ۱۶۳ ۔
۶۱ ۔ "مضیرہ" دودھ سے تیار کی جانے والی ایک خاص غذا ہے جو حاکم شام سے مخصوص تھی۔
۶۲ ۔شبہای پیشاور مرحوم سلطان الواعظین شیرازی، ص ۳۵۱، ۳۵۲ و ۳۲۸، طبع ۳۱، حیدری پرنٹنگ پریس ۔
۶۳ ۔ طبقات ابن سعد، ج۴، ص ۱۶۸۔
۶۴ ۔ زکات صحیح۔
۶۵ ۔ مسند احمد ابن حنبل، ج۲، ص ۱۶۳ و ۱۷۵۔
۶۶ ۔ "تواتر" و "متواتر" علم حدیث کی اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے: ایسی جماعت کی جانب سے خبر کا صادر ہونا جن کا جھوٹ و کذب پر یکجا ہونا محال ہو جس کے نتیجہ میں مفہوم خبر قطعی اور یقینی ہوتا ہے۔
۶۷ ۔طبع مصر، سال ۱۳۱۲ ھ ق ۔
۶۸ ۔ طبع قاہرہ، مکتبۃ المشھد الحسینی۔
۶۹ ۔ طبع مصر۔
۷۰ ۔ طبع مصر۔
۷۱ ۔ ج۲، ص ۲۱۱، طبع مصر۔
۷۲ ۔ طبع مصر۔
۷۳ ۔کتاب: نوید اَمن و امان، آیت اللہ صافی گلپائیگانی، طبع دفتر انتشارات اسلامی، (جلد دوم از امامت و مہدویت)، ص ۳۰۷۔
۷۴ ۔ حافظ، علم حدیث کی اصطلاح میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جو سنن رسول اکرمؐ پر احاطہ رکھتا ہو۔ احادیث کے موارد اتفاق و اختلاف، راویوں کے حالات و مشائخ حدیث کے طبقات سے بھرپور آگاہی رکھتا ہو (کتاب علم الحدیث کاظم مدیر شانہ چی)۔
۷۵ ۔نقل از غایۃ المامول فی شرح التاج الجامع للاصول تالیف شیخ منصور علی ناصف، در حاشیہ التاج، طبع۲، قاہرہ، دار احیاء الکتب العربیہ، ج۵، ص ۳۲۷ (سیرہ پیشوایان، مہدی پیشوائی، ص ۶۹۸، طبع مؤسسہ امام صادق علیہ السلام، طبع ۱۲، تابستان ۱۳۸۰ شمسی) ۔
۷۶ ۔ نوید امن و امان، آیت اللہ صافی گلپائیگانی، طبع دفتر انتشارات اسلامی، جلد دوم از امامت و مہدویت، ص ۳۰۷۔
۷۷ ۔نوید امن و امان، آیت اللہ صافی گلپائیگانی، طبع دفتر انتشارات اسلامی( جلد دوم از امامت و مہدویت) ص ۳۰۷، ذکر معنی میں مختصر تصرف کے ساتھ۔
۷۸ ۔ نوید امن و امان، آیت اللہ صافی گلپائیگانی، طبع دفتر انتشارات اسلامی( جلد دوم از امامت و مہدویت) ص ۳۰۷۔
۷۹ ۔منتخب الاثر، ص ۵ پاورقی۔
۸۰ ۔فتح الباری شرح صحیح بخاری ، بیروت ، دار المعرفۃ، ج۶، ص ۴۹۳، ۴۹۲۔
۸۱ ۔ نور الابصار، قاہرہ، مکتبۃ المشہد الحسینی، ص ۱۷۱۔
۸۲ ۔اسعاف الراغبین، در حاشیہ نور الابصار، ص ۱۴۰۔
۸۳ ۔جیسا کہ ہم مقدمہ میں ذکر کرچکے ہیں کہ یہ کتاب اہل سنت کی مہم ترین کتب حدیث یعنی اصول پنجگانہ حدیث میں سے ایک قابل اطمینان مجموعہ کی جمع آوری کی غرض صے تالیف کی گئی ہے، اور پانچ جلدوں میں زیور طباعت سے آراستہ ہوئی ہے۔ مؤلف کتاب نے اس کتاب کی شرح بھی لکھی ہے جس کا نام "غایۃ المامول" رکھا ہے اور اسے بھی اس کے حاشیہ پر پرنٹ کیا گیا ہے۔
۸۴ ۔التاج الجامع للاصول ، قاہرہ، طبع دوم، ج۵، ص ۳۱۰، دار احیاء الکتب العراقیہ۔
۸۵ ۔طبع شہر حلب۔
۸۷ ۔آخر کتاب "ارشاد المستھدی" بنابر نقل از "نوید امن و امان" آیت اللہ صافی گلپائیگانی۔
۸۸ ۔شرح نہج البلاغہ، قاہرہ، دار احیاء الکتب العربیہ، ۱۹۶۰، ج۱۰، ص ۹۶۔
۸۹ ۔سیرۂ پیشوایان (مہدی پیشوائی) س ۷۰۴ طبع انتشارات مؤسسہ امام صادق علیہ السلام ۱۳۸۰ شمسی۔
دوسرا باب
اسم، کنیت اور لقب حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)
اس باب میں دو فصلیں ہیں جو چالیس روایات پر مشتمل ہیں
پہلی فصل: کتب اہل سنت سے ۲۵ روایات رسول خداﷺ سے نقل کی گئی ہیں
دوسری فصل: کتب اہل سنت سے ۱۵ روایات اہل بیت عصمت و طہارت سے نقل کی گئی ہیں
پہلی فصل
روایات رسول خدا ﷺ میں مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کا نام، کنیت اور لقب
اس باب و فصل میں محترم قارئین جو روایات ملاحظہ فرمائیں گے:
اولاً: تمام روایات کتب اہل سنت سے ماخوذ ہیں۔ جیسا کہ تمام ابواب میں بھی اس بات کا خیال رکھا گیا ہے۔
ثانیاً: اس سلسلہ میں فراوانی سے روایات وارد ہوئی ہیں لیکن صرف محدود تعداد پر اکتفاء کرتے ہوئے منظور نظر مطلب کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
اسم مہدی ( )، اسم رسول اللہ (ﷺ)ہے
۱ ۔ احمد بن حنبل(۱) ، ترمذی(۲) ، ابن ماجہ اپنی کتاب کے باب خروج مہدی میں، ابو داؤد(۳) ، بخاری اپنی کتاب کی جلد دوم باب نزول عیسی میں، نور الابصار(۴) ، ینابیع المودّۃ(۵) ، مطالب السئول باب ۲ ، تذکرۃ الخواص اور صواعق محرقہ وغیرہ میں اور بہت سے دیگر بزرگ علمائے اہل سنت نے روایت کی ہے:"قالَ رَسولُ الله ﷺ: لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى یَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِی اِسْمُهُ اسْمِی" رسول اللہﷺ نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد عرب پر بادشاہ و حاکم نہ بن جائے جو میرا ہم نام ہوگا۔
نکتہ: جناب ترمذی(۶) نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: اس سلسلہ میں حضرت علی علیہ السلام ، ابو سعید خدری، ام سلمہ اور ابو ہریرہ سے بھی روایت موجود ہے اور یہ نقل شدہ روایت "حسن و صحیح" ہے۔
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا نام و کنیت، پیغمبر اسلامﷺ کے نام و کنیت جیسا ہے
۲ ۔ سبط ابن جوزی(۷) ، کفایۃ الاثر (بنابر نقل منتخب الاثر ص ۱۸۲) اور ینابیع المودۃ(۸) نے عبد العزیز محمود بن بزاز سے اور انہوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے: "قالَ رَسولُ الله ﷺ: یَخۡرُجُ فی آخِرِ الزَّمان رَجُلٌ مِنۡ وُلۡدی اِسۡمُه ُ کَاِسۡمی کُنۡیَتُه ُ کَکُنۡیَتی یَمۡلَأُ الۡاَرۡضَ عَدۡلاً کَما مُلِئَتۡ جَوۡراً فَذلِکَ ه ُوَ الۡمَه ۡدِی (۹) " رسول خداﷺنے فرمایا: آخر زمانہ میں میری اولاد میں سے ایک مرد آئے گا جس کا نام میرا نام ہوگا اور جس کی کنیت میری کنیت جیسی ہوگی، جو ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اور وہی مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہے۔
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا نام نبی کریمﷺ کے نام جیسا ہے
۳ ۔ متقی ہندی(۱۰) کتاب "البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان" باب نمبر ۳ میں لکھتے ہیں: "وَ اَخۡرَجَ اَیۡضاً (یعنی نیم بن حماد) عَنۡ اَبی سَعیدٍ الۡخُدۡری عَنِ النَّبیﷺقالَ: "اِسۡمُ الۡمَه ۡدی اِسۡمی " نعیم بن حماد نے ابو سعید خُدری کے توسط سے روایت کی ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا: مہدی میرا ہم نام ہوگا۔
میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک شخص میرا ہم نام ہوگا جو بہرحال حاکم بنے گا
۴ ۔ احمد بن حنبل(۱۱) نے مسنداً روایت کی ہے :"لا تَنۡقَضِی الاَیّامُ وَلا یَذۡه َبُ الدَّه ۡرُ حَتَّى یَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِی اِسْمُهُ اسْمِی " رسول خداﷺ نے فرمایا: یہ شب و روز اور زمانہ اس وقت تمام نہ ہوگا جب تک کہ میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک شخص عرب پر حاکم نہ بن جائے جو میرا ہم نام ہوگا۔
میرے اہل میں سے سے میرا ہمنام ایک شخص ولی و سرپرست بنے گا
۵ ۔ ترمذی(۱۲) نے مُسنداً روایت کی ہے: "عَنِ النَّبیﷺ، قالَ: یَلی رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِی اِسْمُهُ اسْمِی " نبی کریمﷺنے فرمایا: میرے اہل بیت میں سے میرا ہمنام ایک شخص ولی و سرپرست بنے گا۔
اس وقت تک قیامت نہ آئے گا جب تک کہ میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے میرا ہمنام ولی و سرپرست نہ بن جائے
۶ ۔ احمد بن حنبل(۱۳) نے عاصم سے انہوں نے زر سے انہوں نے عبد اللہ سے انہوں نے حضور سرور کائنات سے کہ آنحضرت ؐ نے فرمایا: "لا تَقُومُ السّاعَةُ حَتَّى یَلِیَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِی اِسْمُهُ اسْمِی " اس وقت تک قیامت نہ آئے گی جب تک کہ میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے وہ شخص ولی و سرپرست نہ بن جائے جس کا نام میرے نام سے موافق ہوگا (میرا ہمنام ہوگا)۔
حاکم و خلیفۂ عرب میرا ہمنام ہوگا
۷ ۔ ابو داؤد(۱۴) نے عاصم سے انہوں نے زر سے انہوں نے نبی کریمﷺ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ؐ نے فرمایا:"لَا تَذْهَبُ اَوۡ لا تَنۡقَضِی الدُّنْيَا حَتَّى یَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِی اِسْمُهُ اسْمِی " دنیا کا اس وقت تک خاتمہ نہ ہوگا اور اس وقت تک یہ زمانہ تمام نہ ہوگا جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے میرا ہمنام ایک شخص عرب پر حاکم و خلیفہ نہ بن جائے۔
نکتہ: حنبلیوں کے امام، احمد بن حنبل(۱۵) نے بھی اسی روایت کو عاصم سے اور انہوں نے عبد اللہ سے نقل کیا ہے البتہ انہوں نے فقط یُواطی کہا ہے یعنی اس روایت میں "اسمہ اسمی" نقل نہیں کیا ہے اور اس کی کتاب(۱۶) میں یہ روایت دوسرے طریق و سند سے بھی نقل کی ہے۔
اسے مہدی (عج) کہتے ہیں
۸ ۔ متقی ہندی(۱۷) نے رسول اللہﷺ سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:"کَیفَ اَنتُم یا عَوفُ ؟اِذا اَفتَرقَت الۡاُمَّةُ عَلی ثَلاث وَ سَبعینَ فِرقَه ، واحِدَةٌ مِنه ا فِی الجَنَّه ِ وَ سائِرُه ُنَّ فِی النَّارِ – ثُمَّ ذَکَرَ بَعض فَتنِ آخِرِ الزَّمانِ اِلی اَن قالَ: ثُمَّ تَتَبَّعَ الفِتَنُ بَعضُه ا بَعضاً حَتّی یخرُجَ رَجُلٌ مِن اهل بَیتِی یقالُ لَه ُ المَه دی فَاِن اَدرَکتَه ُ فاَتَّبِعه ُ وَکُن مِنَ المُه تَدینَ "
اے عوف تم اس وقت کیا کرو گے ؟ جب میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوجائے ان میں سے صرف ایک فرقہ بہشت میں جائے گا اور باقی آتش جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ پھر حضورؐ نے آخر زمانہ میں پیدا ہونے والے چند فتنوں کا تذکرہ کیا اور فرمایا: فنتے پے در پے رونما ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص خروج کرے گا جسے "مہدی" کہتے ہیں۔ پس اگر تم اسے درک کرلو اور تم اس کے زمانہ میں موجود ہو تو حتماً اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا تاکہ مہتدین و ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہوجاؤ۔
میری اولاد میں سے میرا ہمنام ایک شخص مبعوث ہوگا
۹ ۔ شیخ سلیمان(۱۸) نے روایت کی ہے: "عَنۡ حُذَیۡفَة الۡیَمان قالَ خطَبَنا رَسوُلُ الله ِ ﷺ فَذَکَرَ لَنا ما ه ُوَ کائِنٌ اِلی یَوۡمِ الۡقیامَةِ ثُمَّ قالَ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ الله ُ عَزَّوَجَلَّ ذلِکَ الۡیَوم حَتّی یَبۡعَثَ الله ُ رَجُلاً مِنۡ وُلۡدی اِسۡمُه ُ اِسۡمی، فَقَامَ سَلمانُ فَقال: یا رَسُولَ الله ِ اِنَّه ُ مِن ای وُلۡدِکَ،؟ قالَ - ﷺ- ه ُوَ مِن وُلِدِی ه ذا وَ ضَرَب بِیدِه ِ عَلَی الحُسَینِ"
حذیفہ کہتے ہیں: حضور سرور کائنات نے ہمیں خطبہ دیا جس میں آپؐ نے قیامت تک ہونے والے واقعات سے آگاہ فرمایا اور فرمایا کہ اگر دنیا ختم ہونے میں صرف ایک دن بھی باقی بچے گا تو پروردگار عالم اس دن کو اتنا طولانی کر دے گا یہاں تک کہ میری اولاد میں سے ایک شخص کو مبعوث فرما دے، جس کا نام میرے نام سے موافق ہوگا۔ اس موقع پر سلمان نے کھڑے ہوکر سوال کیا: یا رسول اللہ! وہ آپؐ کے کس فرزند سے ہوگا؟ حضورؐ نے امام حسین کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: وہ شخص میرے اس بیٹے کی اولاد میں سے ہوگا۔
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)، نام و اخلاق میں نبی کریم جیسے ہوں گے
۱۰ ۔ منتخب کنز العمال(۱۹) میں رسول اللہﷺسے روایت کی گئی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "یَخۡرُجُ رَجُلٌ مِنۡ اَه ۡلِ بَیۡتی یُواطی اِسۡمُه ُ اِسۡمی وَ خُلۡقُه ُ خُلۡقی فَیَمۡلَأُه ا عَدۡلاً وَ قِسۡطاً کَما مُلِئَتۡ ظُلۡماً وَ جَوۡراً " میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک شخص خروج کرے گا جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا اور اس کا اخلاق بھی میرے اخلاق جیسا ہوگا پس وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ اس سے قبل ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
نکتہ: طبرانی نے یہ روایت معجم الکبیر میں ابن مسعود سے اور متقی ہندی نے کتاب "البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان" میں طبرانی سےنقل کی ہے۔
"قائم" و "منتظر" ہی مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) موعود ہیں
۱۱ ۔ ینابیع المودۃ(۲۰) میں ثابت بن دینار سے، انہوں نے سعد بن جبیر سے اور انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے:
" قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: إِنَّ عَلِياً إِمَامُ أُمَّتِي مِن بَعْدِي وَ مِنْ وُلْدِهِ "الْقَائِمُ الْمُنْتَظَرُ" الَّذِي ظَه َرَ يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدلاً وَ قِسْطاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً وَ الَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ بَشِيراً وَ نَذِيراً إِنَّ الثَّابِتِينَ عَلَى الْقَوْلِ بِاِمامَتِه ِ فِي زَمَانِ غَيْبَتِهِ لَأَعَزُّ مِنَ الْكِبْرِيتِ الْأَحْمَرِ فَقَامَ إِلَيْهِ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِوَلَدِكَ "القائِمِ" غَيْبَةٌ؟
قَالَ إِي وَ رَبِّي وَ لِيُمَحِّصُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ يَمْحَقُ الْكافِرِينَ يَا جَابِرُ إِنَّ هَذَا أَمْرَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ وَ سِرٌّ مِنْ سِرِّ اللَّهِ عِلْمُهُ مَطْوِيٌّ عَنْ عِبَادِ اللَّهِ فَاياكَ وَ الشَّكَّ فِيهِ فَإِنَّ الشَّكَّ فِي أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ كُفْرٌ"
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بتحقیق علی میرے بعد میری امت میں امام ہیں اور "قائم" و "منتظر" ان کی اولاد میں سے ہوں گے؛ جب وہ ظہور کریں گے تو ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، قسم ہے اس پروردگار کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بشیر و نذیر بناکر مبعوث کیا ہے، یاد رکھو! جو لوگ زمانہ غیبت میں ان کی امامت پر ثابت قدم رہیں گے وہ سرخ عقیق سے زیادہ قیمتی اور اہمیت کے حامل ہوں گے۔ اس موقع پر جابر بن عبد اللہ انصاری نے کھڑے ہوکر سوال کیا، یا رسول اللہؐ! کیا آپ کے اس فرزند "قائم" کے لئے "غیبت" پیش آئے گی؟ حضور سرور کائنات نے فرمایا: جی ہاں یقیناً میرے اس فرزند کے لئے غیبت پیش آنے والی ہے پھر آپؐ نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۴۱ کی تلاوت فرمائی: یعنی خداوند عالم مؤمنین کو پاک و پاکیزہ بنا دے گا (انھیں خالص بنا دے گا) اور کافروں کو نابود کر دےگا۔ پھر حضورؐ نے فرمایا: اے جابر! یہ غیبت، امر الٰہی و سرّ الٰہی ہے۔ خداوند عالم نے اسے اپنے بندوں سے پوشیدہ رکھا ہے، پس اس میں ہرگز شک مت کرنا کیونکہ امر الٰہی میں شک کرنا کفر ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان نے یہ روایت فرائد السمطین ، ص ۴۴۸ سے بھی نقل کی ہے۔
اس روایت کے قابل توجہ نکات:
۱ ۔ جیسا کہ ہم نے شیعت کی حقانیت اور پیغمبر اسلام کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل امامت کے سلسلہ میں سینکڑوں روایات پیش کی ہیں یہ روایت بھی شیعہ و اہل سنت میں متفق علیہ ہے۔ لہذا صرف اہل سنت ہی نے اسے نقل نہیں کیا بلکہ شیعوں نے بھی نقل کیا ہے مثلاً شیخ صدوق(رح) نے اپنی معروف کتاب کمال الدین(۲۱) میں اس روایت کی تصدیق فرمائی ہے۔
۲ ۔ آپ اس جیسی ایک روایت بھی متفق علیہ نہیں دیکھ پائیں گے جس میں حضور سرور کائنات نے (حضرت) ابوبکر و عمر و عثمان کے لئے فرمایا ہو کہ یہ میرے بعد خلیفہ ہوں گے جبکہ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں اس قسم کی روایات تواتر کے ساتھ نقل کی گئی ہیں۔
۳ ۔ اس روایت میں نبی کریمؐ کی تصریح کے مطابق امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام ، آنحضرتؐ کے بلا فصل امام ہیں(۲۲) ۔ کیونکہ حضور سرور کائنات نے اس روایت میں فرمایا ہے کہ "إِنَّ عَلِياً إِمَامُ أُمَّتِي مِن بَعْدِي " یعنی میرے بعد میری امت کے امام و سرپرست علی علیہ السلام ہوں گے۔
اب آپ خود ہی ذرا انصاف سے بتائیے کہ اگر پیغمبر اسلامﷺ، حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل امامت و سرپرستی کے سلسلہ میں تصریح فرمائیں تو کیا اس کے علاوہ بھی کچھ کہنے کی ضرورت تھی؟!!
پس کہاں ہے ذرّہ بھر انصاف کہ حق کو سنیں اور پختہ ایمان کے ساتھ تعصب کی عینک اتار کر اسے قبول کریں؟
جی ہاں، اگر تھوڑے سے انصاف سے کام لیا جائے تو تعصب کے پردے چاک ہوکر رہ جائیں گے اور سب پر حقیقت آشکار ہوجائے گی۔ اور معلوم ہوجائے گا کہ کیا واقعاً بطور مطلق تمام صحابہ عادل ہیں یا نہیں؟
۴ ۔ حضور سرور کائنات (ﷺ) نے تصریح فرمائی ہے کہ مہدی علیہ السلام کے لئے غیبت پیش آئے گی، اور ہم انشاء اللہ غیبت کی بحث میں بیان کریں گے اور ثابت کریں گے کہ یہ شیعوں کے بارہویں امام ہی ہیں جو غائب ہیں اور ۷۳ فرقوں میں سے "شیعہ اثنا عشری" ہی اہل نجات ہیں۔
۵ ۔ پیغمبر اکرمﷺ نے تصریح فرمائی ہے کہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)، حضرت علی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہوں گے، ہم اس روایت کے ذریعے آئندہ بہت سے شبہات کے جواب دیں گے اور بنی عباس و بنی امیہ کو اس زمرہ سے خارج کریں گے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) موعود ان میں سے نہیں ہیں۔
۶ ۔ پیغمبر اکرمﷺنے جابر سے فرمایا: "غیبت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) میں شک، امر الٰہی میں شک کرنا ہے اور امر الٰہی میں شک کرنا، کفر ہے"
پس قارئین گرامی قدر اس متفق علیہ روایت پر غور و فکر کرکے حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کے بارے میں اپنے عقیدہ کو استوار کر لیجئے۔
امام مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا نام و اخلاق، نبیؐ کے نام و اخلاق جیسا ہے اور کنیت ابا عبد اللہ ہے
۱۲ ۔ یوسف بن یحیی(۲۳) نے حذیفہ کے حوالے سے رسول اللہؐ سے روایت کی ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا:
" لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَبَعَثَ اللَّهُ فیه رَجُلًا اسْمُهُ اسْمِي وَ خُلُقُهُ خُلُقِي يُكَنَّى أَبَا عَبْدِ اللَّهِ یُبایِعُ لَه ُ النّاسُ بَینَ الرُّکنِ وَ المَقامِ، یَرُدُّ الله ُ بِه ِ الدّینَ وَ یَفۡتَحُ لَه ُ الفُتُوحُ فلا یَبۡقی عَلی وَجه ِ الاَرضِ اِلّا مَن یقُول؛ لا اِله َ اِلّا الله ، فَقَامَ سَلمانُ فَقال: یا رَسُولَ الله ِ مِن ای وُلدِکَ؟ قالَ: مِن وُلِدِ ابۡنی ه ذا وَ ضَرَب بِیدِه ِ عَلَی الحُسَینِ "
اگر دنیا کے ختم ہونے میں صرف ایک دن ہی باقی بچا ہوگا تب بھی پروردگار ایک شخص کو مبعوث کرے گا جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا، جس کا اخلاق میرے اخلاق جیسا ہوگا اور اس کی کنیت ابا عبد اللہ ہوگی، لوگ رکن و مقام کے مابین اس کی بیعت کریں گے، خداوند عالم اس کے ذریعے دوبارہ دین کو (اصلی حالت پر) لوٹا دے گا، اسے پے در پے فتح حاصل ہوگی پس زمین پر ہر طرف "لا الہ الا اللہ" کہنے والوں کا بول بالا ہوگا۔ اس موقع پر سلمان نے کھڑے ہوکر سوال کیا، یا رسول اللہ، وہ آپ کے کس فرزند سے ہوگا؟ حضورؐ نے امام حسین پر اپنا دست مبارک رکھتے ہوئے فرمایا: وہ شخص میرے اس فرزند کی اولاد میں سے ہوگا۔
آخر زمانہ میں میری اولاد میں سے میرا ہمنام ایک شخص خروج کرے گا
۱۳ ۔ "عقد الدرر فی اخبار المنتظر(۲۴) " میں عبد اللہ ابن عمر سے روایت کی گئی ہے:"قالَ رَسوُلُ الله ِﷺ: یَخۡرُجُ فی آخِرِ الزَّمانِ رَجُلٌ مِنۡ وُلۡدی اِسۡمُه ُ کَاِسۡمی وَ کُنۡیَتُه ُ کَکُنۡیَتی،یَمۡلَأُ الۡاَرضَ عَدۡلاً، کَما مُلِئَتۡ جَوۡراً "
حضور سرور کائنات (ﷺ) نے فرمایا: آخر زمانہ میں میری اولاد میں سے میرا ہمنام ایک شخص خروج کرے گا، جس کی کنیت میری کنیت جیسی ہوگی وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح اس سے قبل ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
ہم نے یہی روایت ینابیع المودۃ اور تذکرۃ الخواص کے حوالے سے العزیز محمود بن بزّاز کے وسیلہ سے عبد اللہ ابن عمر سے نقل کی ہے(۲۵) ۔ البتہ یہاں اس روایت میں "فذالک ہو المہدی" نہیں ہے۔
مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) موعود زمین پر حاکم و سرپرست ہوں گے
۱۴ ۔ نیز اسی کتاب(۲۶) میں روایت کی گئی ہے:" وَ عَنۡ عَبدِ الله ِ بن مَسۡعُود ، قالَ : قالَ رَسوُلُ الله ﷺ: لا تَقُومُ السّاعَةُ حَتّی یَلِیَ الۡاَرۡضَ رَجُلٌ مِنۡ اَه ۡلِ بِیۡتی، اِسۡمُه ُ کَاِسۡمی" اس وقت تک قیامت برپا نہ ہوگی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص زمین پر حاکم و سرپرست نہ بن جائے جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا۔
نکتہ: یہ روایت صاحب کتاب" البعث و النشور" جناب حافظ ابو بکر بیہقی اور احمد بن حنبل(۲۷) نے بھی نقل کی ہے(۲۸) ۔
اس وقت تک قیامت برپا نہ ہوگی جب تک کہ اہل بیت نبیؐ سے ایک شخص مبعوث نہ ہوجائے
۱۵ ۔ یوسف بن یحیی مقدسی شافعی(۲۹) نے عبد اللہ ابن عمر سے روایت نقل کی ہے:
" قالَ رَسولُ الله ﷺ: لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى یَبۡعَثَ الله ُ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِی اِسْمُهُ اسْمِیَ وَ اِسۡمُ اَبیه ِ اِسۡمُ اَبی یَمۡلَأُه ا قِسطا و عَدۡلاً کَما مُلِئَتۡ جَوۡراً و ظُلۡماً "
رسول خدا (ﷺ) نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہ ہوگی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے اللہ ایک شخص کو مبعوث نہ فرما دے، جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام جیساہوگا(۳۰) وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ اس سے قبل ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
نکتہ: یہ روایت حافظ ابو نعیم اصفہانی نے کتاب "صفت المہدی" میں بھی نقل کی ہے اور ہم اس فصل کے آخر میں ثابت کریں گے کہ عبارت "اسم اَبیہ اسم ُابی" رسول گرامی قدر کی زبان مبارک سے صادر شدہ نہیں ہے۔
مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) موعود شہاب ثاقب کی مانند نمودار ہوں گے
۱۶ ۔ شیخ سلیمان حنفی بلخی(۳۱) نے روایت نقل کی ہے:
"وَ فِی الۡمَناقِبِ حَدَّثَنا جَعۡفَرُ بۡنُ مُحَمَّدِ بۡنِ مَسۡرُور، حَدَّثَنا الۡحُسَیۡنُ بن مُحَمَّدِ بن عامِر عَنۡ عَمِّه عَبۡدِ الله ِ بن عامِرِ، عَنۡ مُحَمَّدِ بن اَبی عُمَیۡر، عَنۡ اَبی جَمیلَةِ اَلۡمُفَضَّلِ بن صالِح، عَنۡ جابِرِ بۡنِ یَزید، عَنۡ جاِبرِ بۡنِ عَبدِ الله ِ الۡاَنصاری رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُما، قالَ، قالَ رَسولُ الله ِ ﷺ : اَلۡمَه ۡدیُّ مِنۡ وُلۡدی اِسۡمُه ُ اِسۡمی وَ کُنۡیَتُه ُ کُنۡیَتی اَشۡبَه ُ النّاس بی خَلۡقاً و خُلقاً، تَکُونُ لَه ُ غَیۡبَةٌ وَ حَیۡرَةٌ، تَضِلُّ فیه ا الۡاُمَمُ، ثُمَّ یَقۡبَلُ کَالشَّه ابِ الثاقِبِ یَمَلَأُ الۡاَرۡضَ عَدۡلاً وَ قِسۡطاً کَما مُلِئَتۡ جَوراً وَ ظُلۡماً"
رسول خدا (ﷺ) نے فرمایا: مہدی میری اولاد میں سے ہوں گے، ان کا نام میرا نام، ان کی کنیت میری کنیت جیسی ہوگی وہ خلقت و اخلاق کے لحاظ سے لوگوں میں سب سے زیادہ مجھ سے مشابہ ہوں گے، ان کے لئے غیبت پیش آئے گی جس میں بہت سے لوگ گمراہ ہوجائیں گے پھر وہ شہاب ثاقب کی طرح نمودار ہوں گے اور زمین کو اس طرح عد ل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح اس سے قبل ظلم وجور سے بھری ہوگی۔
نکتہ: یہی روایت مناقب سے مسنداً امام باقر کے توسط سے امیرالمؤمنین سے رسول اللہﷺ سے نقل کی گئی ہے البتہ اس فرق کے ساتھ کہ اس میں "کالشہاب الثاقب" کے بعد "یأتی بِذخِیرَة الانبیاء ، یعنی ذخیرۂ انبیاء کے ساتھ آئیں گے" بھی فرمایا ہے۔
مہدی خلیفۃ اللہ ہیں اور وہ حتماً آئیں گے
۱۷ ۔ نیز انہوں نے روایت کی ہے۔(۳۲)
"وَ عَنۡۡ ثَوۡبانَ (۳۳) رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ قالَ : قالَ رَسولُ الله ِ ﷺ: یَقۡتَتِلُ عِنۡدَ کَنۡزِکُمۡ ثَلاثَةٌ کُلُّه ُمۡ ابۡنُ خَلیفَة، لا یَصیرُ اِلی واحِدٍ مِنۡه ُمۡ، ثُمَّ تَجیءُ الرّایاتُ السُّودُ مِنۡ قِبلِ الۡمَشۡرِقِ فَیَقۡتُلُونَه ُم قِتالاً لَمۡ یُقۡتَلۡه ُ قَوۡمٌ، ثُمَّ یَجیءُ خَلیفَةُ الله ِ الۡمَه ۡدیُّ، فَاِذا سَمِعۡتُمۡ فَأۡتوُه ُ فَبایِعُوه ُ خَلیفَةُ الله ِ الۡمَه ۡدی " تمہارے ذخیرہ کے نزدیک تین افراد میں جنگ ہوگی اور وہ تینوں خلیفہ کے فرزند ہوں گے، ان میں سے کسی کا بھی ذخیرہ نہ ہوسکے گا پھر مشرق کی سمت سے سیاہ پرچم والے آئیں گے اور اس طرح آپس میں لڑیں گے کہ کسی قوم نے ایسی جنگ نہ لڑی ہوگی، پھر خلیفۃ اللہ مہدی آجائیں گے پس جب تم ان کے آنے کی خبر سنو تو ان کے پاس آکر ان کی بیعت کرنا کیونکہ یہی خلیفۃ اللہ مہدی ہوں گے۔
نکتہ: یہ روایت جناب حافظ ابو نعیم اصفہانی نے صفت المہدی میں، ابن ماجہ نے الفتن، ج ۲ ، باب خروج المہدی میں اور ابو عمرو الدانی نے کتاب سنن (صفحہ ۹۳) میں نقل کی ہے۔
وہ شخص جسے "مہدیؑ" کہتے ہیں
۱۸ ۔ یوسف بن یحیی نے روایت کی ہے(۳۴) :
"وَ عَنۡ اَبی سَعیدٍ الۡخُدری رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ : قالَ رَسولُ الله ِ ﷺ: یَکوُنُ عِنۡدَ انۡقِطاعٍ مِنَ الزَّمانِ، وَ ظُه وُرٍ مِنَ الۡفِتَنِ، رَجُلٌ یقالُ لَه ُ الۡمَه ۡدیُّ، عَطائُه ُ ه َنیّاً"
رسول اکرمﷺ نے فرمایا: ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جب طرح طرح کے فتنے سر اٹھائیں گے اس وقت ایک شخص ظاہر ہوگا جسے مہدی کہتے ہیں وہ اہل عطا و بخشش ہوگا۔
نکتہ: حافظ ابو نعیم اصفہانی نے یہ روایت عوالی اور صفت المہدی میں اور محمد بن یوسف گنجی شافعی نے ابو سعید خدری کے حوالے سے کتاب "البیان فی اخبار صاحب الزمان" میں نقل کی ہے۔
مہدیؑ ہی بارہویں امام اور "قائم" ہیں
۱۹ ۔ ینابیع المودۃ(۳۵) میں مناقب خوارزمی اخطب الخطباء سے روایت کی گئی ہے:
"وَ فی المَناقِبِ، حَدَّثَنا اَحمَدُ بۡنُ مُحَمد بنِ یَحۡیَی العَطّار، حَدَّثَنا اَبی عَن مُحَمَد بۡنِ عَبدِ الجَبّارِ، عَن اَبی اَحمَد مُحَمَّد بۡنِ زیادِ اَلاَزۡدی، عَن اَبان بن عُثمانِ، عَن ثابِت بن دینار، عَن زینِ العابِدینِ عَلی بن الحُسَینِ، عَن اَبیه ِ سَیدِ الشُه َداء الحُسَینِ عَن اَبیه ِ سَیدِ الاَوصیاء عَلی سَلامُ الله ِ عَلَیه ِم قالَ : قالَ رَسُولُ الله ِ ﷺ: اَلۡاَئِمَةُ بَعدی اِثنا عَشَرَ اَوَّلُه ُم اَنتَ یا عَلی وَ آخِرُه ُمۡ القائِمُ الَّذی یَفۡتَحُ الله ُ عَزَّوَجَلَّ عَلی یدَیه ِ مَشاِرقَ الاَرضِ وَ مَغارِبَه ا"
خوارزمی نے اپنی اسناد کے مطابق کتاب مناقب میں امام زین العابدین علی بن الحسین‘ سے انہوں نے سید الشہداء امام حسین سے انہوں نے اپنے والد سید الاوصیاء امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے اور انہوں نے رسول خداﷺ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت ؐ نے فرمایا: میرے بعد بارہ امام ہوں گے جن میں پہلے تم ہوگے اور آخری "قائم" ہوں گے جن کے ہاتھوں پر خداوند عالم مشرق و مغرب کی فتح عطا فرمائے گا۔
امت محمد ﷺ میں بہترین شخص "مہدیؑ" ہے اور ان کا نام احمد ہے
۲۰ ۔"وَ عَنۡ حُذَیۡفَةَ بن الیَمانِ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، عَنۡ رَسوُلِ الله ﷺ فی قِصَّةِ السُّفۡیانی، وَ ما یَفۡعَلُه ُ مِنَ الۡفُجوُرِ وَ الۡقَتۡلِ فَقالَ : فَعِنۡدَ ذلِکَ یَنادی مُنادٍ مِنَ السَّماءِ : یا اَیُّه َا النّاسُ، اِنَّ الله َ عَزَّوَجَلَّ قَد قَطَعَ عَنۡکُمۡ مُدَّةَ الۡجَبّارینَ وَ الۡمُنافِقینَ وَ اَشۡیاعِه ِمۡ، وَ وَلّاکُمۡ خَیۡرَ اُمَّةٍ مُحَمَّدٍ ﷺ، فَاَلۡحِقُوا بِه بِمَکَّةَ، فَاِنَّةُ الۡمَه ۡدی وَ اِسۡمُه ُ اَحمَدُ بن عَبۡدِ الله ِ (۳۶) قالَ حُذَیۡفَةُ: فَقامَ عِمۡرانُ بن الۡحُصَینِ الخُزاعِیُّ، فَقالَ یا رَسولَ الله کَیفَ لَنا بِه ذا حَتّی نَعۡرِفَه ُ ؟ قالَ: ه ُوَ رَجُلٌ مِنۡ وُلۡدی کَاَنَّه ُ مِنۡ رِجالِ بَنی اِسرائیلَ، عَلَیه ِ عَبائَتانِ قَطۡوانِیَّتانِ (۳۷) کَاَنَّ وَجۡه َه ُ الۡکَوۡکَبُ الدُّرّیُّ فِی اللّوۡنِ، فی خَدِّه ِ الاَیۡمَنِ خالٌ اَسوَدُ، اِبۡنُ اَرۡبَعینَ سَنَةً "
یوسف بن یحیی(۳۸) نے حذیفہ بن یمان سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے قصۂ سفیانی اور اس کے فساد اور قتل و غارتگری کے بارے میں بیان فرمایا: اس وقت آسمان سے منادی ندا دے گا: اے لوگو! خداوند عالم نے جبار و منافقین اور ان کے پیروکاروں کی مدت مہلت کو ختم کر دیا ہے اور امت میں سے بہترین شخص کو تمہارا والی و سرپرست بنا دیا ہے پس مکہ میں اس سے ملحق ہوجاؤ، بیشک یہی مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہے اور اس کا نام احمد بن عبد اللہ ہے۔
حذیفہ کہتے ہیں: اس موقع پر عمران بن حُصین خزاعی نے کھڑے ہوکر سوال کیا: یا رسول اللہ! ہم مہدی کو کس طرح پہچانیں؟
حضورؐ نے فرمایا: وہ میری اولاد میں سے ہوں گے اور وہ بنی اسرائیل کی مانند خوش اندام ہوں گے، ان کی عباء سفید ہوگی انکا چہرہ کوکبِ دُرّی کی طرح ہوگا، دائیں رخسار پر سیاہ تِل ہوگا اور وہ بظاہر چالیس سال کے لگیں گے۔
نکتہ: ابو عمرو عثمان بن سعید مقری نے بھی کتابِ سنن میں یہ روایت نقل کی ہے۔
میر ی امت و اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک شخص مبعوث ہوگا
۲۱ ۔ ابن صباغ مالکی نے فصول المھمہ میں ابو داؤد و ترمذی نے اپنی اپنی سنن میں عبد اللہ ابن مسعود سے(۳۹) روایت کی ہے:
"قالَ رَسولُ الله ِ ﷺ:لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ وَاحِدٌ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ حَتَّى يَبْعَثَ فیه ِ رَجُلًا مِنۡ اُمَّتی وَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَ جَوْراً"
رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: اگر دنیا کے ختم ہونے میں ایک دن سے بھی زیادہ باقی نہ بچا ہو تب بھی خداوند عالم اس دن کو طولانی کر دے گا اور میری امت و اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا جو میرا ہمنام ہوگا وہ زمین کو عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جیسے وہ اس سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
جب مہدی خروج کریں گے تو بادل ان کے سر پر سایہ فگن ہوگا
۲۲ ۔ کتاب "البیان فی اخبار صاحب الزمان" میں روایت نقل کی گئی ہے:(۴۰)
"حافظ اَبو عَبدِ الله محمّد بن عبد الواحد بن احمد المقدسی بِجبلِ قاسیون قالَ: اَخۡبَرَنا اَبوُ الفَرَجِ یحیی بن محمود بن سعد الثقفی بِدَمِشۡق، وَ الصّیدَلانی بِاِصبه ان قالا: اَخۡبَرَنا اَبو عَلیّ الحسن اَخۡبَرَنا اَبو نَعیم الحافظِ اخبَرَنا اَبُو اَحمد الغَطۡریفی اَخبَرنا محمّد بن محمّد بن سلیمان الۡباغَندی حَدَّثنا عبد الوه اب بن الضحاک حَدَّثنا اِسماعیل بن عیاش عَن صَفوان بن عمرو عَن عَبد الرَّحمن بنِ جُبیر عَن کثیر بن مُرّة عَن عَبد الله بن عُمر قالَ: قالَ رسول الله ﷺ یَخۡرُجُ الۡمَه ۡدیُّ عَلی رَأۡسِه غَمامَةٌ فیه ا مُنادٍ یُنادی ه ذا الۡمَه ۡدی خَلیفَةُ الله فَاتَّبِعُوه ُ"
رسول اکرمﷺنے فرمایا: مہدیؑ جب خروج کریں گے تو ان کے سر پر بادل سایہ فگن ہوگا اور اس میں سے منادی ندا دے گا، یہ مہدی خلیفۃ اللہ ہیں، ان کی اطاعت و پیروی کرو۔
محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کتاب البیان میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ روایت "حسن" ہے۔
نکتہ: یہ روایت کشف الغمہ نے ابو نعیم اصفہانی کی کتاب اربعین احادیث سے نقل کی ہے۔ نیز کتاب البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان، باب ۱ میں بھی نقل کی گئی ہے۔ ابو نعیم کتاب البرہان میں لکھتے ہیں کہ یوسف بن یحیی مقدسی شافعی کتاب عقد الدرر فی اخبار المنتظر میں کہتے ہیں کہ یہ ندا تمام اہل زمین تک پہنچے گی جو شخص جس زبان سے تعلق رکھنے والا ہوگا وہ اسے سمجھے گا ۔
جب مہدی خروج کریں گے تو فرشتہ ان کے سر پر سایہ فگن ہوگا
۲۳ ۔ شیخ محمد بن علی صبان نے کتاب "اسعاف الراغبین(۴۱) " (ص ۱۳۷) میں روایت نقل کی ہے: "وَ جاءَ فی روایات اَنَّه ُ عند ظه ورِه ینادی فَوقَ رَأۡسِه مَلَکٌ : ه ذا المَه دی "خَلیفَةُ الله ِ" فَاتَّبِعُوه ُ"
روایات میں وارد ہوا ہے کہ جب حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ظہور فرمائیں گے تو اس وقت ایک فرشتہ ان کے سر پر سایہ فگن ہوگا جو آواز دے رہا ہوگا: "یہ مہدی خلیفۃ اللہ" ہیں؛ پس تم سب ان کی اتباع کرو۔
نکتہ: اس روایت اور اس سے ما قبل والی روایت کو جمع کرکے یہ نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ مؤمن شبلنجی(۴۲) نے عبد اللہ ابن عمر سے روایت کی ہے:"و عَلی رَاسِه ِ غَمامَةٌ مَلَکٌ یُنادی " یعنی ان کے سر مبارک پر بادل سایہ فگن ہوگا جس پر فرشتہ موجود ہوگا اور وہ ندا دے رہا ہوگا۔(۴۳)
نکتہ: ہم اسی باب کی دوسری فصل میں بارہویں روایت کے ضمن میں بیان کریں گے کہ حضرت امام رضا نے آسمانی نداء اور حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی اطاعت و اتباع کے واجب ہونے پر سورہ شعراء کی آیت نمبر ۴ کو بطور دلیل پیش کیا ہے۔ تفصیل کے لئے اسی مقام پر رجوع فرمائیں۔
عسکری علیہ السلام کے بعد ان کے فرزند (م ۔ ح۔ م۔ د) ہیں وہی مہدی، قائم و حجت ہیں
۲۴ ۔ شیخ سلیمان نے ینابیع المودۃ(۴۴) میں روایت کی ہے:
"وَ فیِ الۡمَناقِبِ عَنۡ واثِلَةِ بن الۡاَصۡقَعِ بن قَرۡخاب عَنۡ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِي قَالَ: دَخَلَ جَنْدَلُ بْنُ جُنَادَةَ بن جُبَیۡرِ الْيَهُودِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ –وَ آلِه ِ- وَسَلَّمَ، فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَمَّا لَيْسَ لِلَّهِ، وَ عَمَّا لَيْسَ عِنْدَ اللَّهِ، وَ عَمَّا لَا يُعَلِّمُهُ اللَّهُ، فَقَالَﷺاما ما لَيْسَ لِلَّهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ شَرِيكٌ ، وَ اما ما لَيْسَ عِنْدَ اللَّهِ فَلَيْسَ عِنْدَ اللَّهِ ظُلْمٌ لِلْعِبَادِ، وَ اما ما لَا يُعَلِّمُهُ اللَّهُ فَذَلِكَ قَوْلُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ اِنَّ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَ اللَّهُ لَا يُعَلِّمُ أَنَّه ُ لَهُ وَلَدٌ بَلۡ یُعَلِّمُ اَنَّه ُ مَخۡلُوقُه ُ وَ عَبۡدُه ُ، فَقالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقّاً وَ صِدۡقاً ثُمَّ قَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِي النَّوْمِ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ ، فَقَالَ: يَا جَنْدَلُ أَسْلِمْ عَلَى يَدِ مُحَمَّدٍ خاتَمِ الۡاَنبیاءِ وَ اسْتَمْسِكْ أَوْصِيَائَه ُ مِنْ بَعْدِه فَقُلۡتَ أَسْلِمۡ، فَلِلّٰه ِ الۡحَمۡدُ اَسۡلَمۡتُ وَ ه َدانی بِکَ، ثُمَّ قالَ: أَخْبِرْنِي یا رَسوُلَ الله ِ عَنۡ أَوْصِيَائِکَ مِنۡ بَعْدِكَ لِأَتَمَسَّكَ بِهِمْ، فَقَالَ: أَوْصِيَائِي اَلۡاِثۡنا عَشَرَ، قَالَ جَنۡدَلُ هَكَذَا وَجَدْنَاه ُمۡ فِي التَّوْرَاتِ وَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لِي فَقَالَ: اَوَّلُه ُمۡ سَيِّدُ الْأَوْصِيَاءِ وَ أَبُو الْأَئِمَّةِ عَلِيُّ ثُمَّ ابْنَاه ُ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ فَاسْتَمْسِكْ بِهِمْ وَ لَا يَغُرَّنَّكَ جَهْلُ الْجَاهِلِين فَإِذَا وُلِدَ عَلِيُّ بْنِ الْحُسَيْنِ زَیۡنُ الْعَابِدِينَ يُقْضِي اللَّهُ عَلَيْكَ وَ يَكُونُ آخِرَ زَادَكَ مِنَ الدُّنْيَا شَرْبَةَ مِنْ لَبَنٍ فَقَالَ جَنۡدَلُ وَجَدۡنا فِي التَّوْرَاتِ وَ فی کُتُبِ الۡاَنبیاءِ علیه م السلام ایلیاءَ شَبۡراً وَ شُبُيۡراً فَه ذِه ِ اِسۡمُ عَلیٍ وَ الۡحَسَنِ وَ الۡحُسَیۡنِ فَمَنۡ بَعْدَ الْحُسَيْنِ وَ مَا أَسَامِيهِمْ قالَ اِذَا انْقَضَتْ مُدَّةُ الْحُسَيْنِ فَالۡاِمامُ ابۡنُه ُ عَلِيٌّ وَ يُلَقَّبُ بِزَيْنِ الْعَابِدِينَ فَبَعْدَهُ اِبْنُهُ یُلَقَّبُ بِالْبَاقِرِ فَبَعْدَهُ اِبْنُهُ جَعْفَرٌ يُدْعَى بِالصَّادِقِ فَبَعْدَهُ اِبْنُهُ مُوسَى يُدْعَى بِالْكَاظِمِ فَبَعْدَهُ اِبْنُهُ عَلِيٌّ يُدْعَى بِالرِّضَا فَبَعْدَهُ اِبْنُهُ مُحَمَّدٌ يُدْعَى بِالتَّقی وَ الزَّكِي فَبَعْدَهُ اِبْنُهُ عَلِيٌّ يُدْعَى بِالنَّقِيِّ وَ الۡه ادی فَبَعْدَهُ اِبْنُهُ الْحَسَنُ يُدْعَى بِالۡعَسۡکَری فَبَعْدَهُ اِبْنُهُ "مُحَمَّدُ" یَدۡعی "بِالمَه ۡدی" وَ "الۡقائِمِ" و "الۡحُجَّةِ" فَيَغِيبُ ثُمَّ یَخۡرُجُ فَاِذا خَرَجَ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلۡماً طُوبَى لِلصَّابِرِينَ فِي غَيْبَتِهِ، طُوبَى لِلْمُقِيمِينَ عَلَى مَحَبَّتِه ِمۡ، الَّذینَ وَصَفَهُمُ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَ قَالَ: ه ُدًی لِلۡمُتَّقینَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ، ثُمَّ قَالَ تَعالی: أُولئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ، فقَالَ جَنْدَلُ:
اَلۡحَمۡدُ لِلّه ِ وَ فَّقَنی بِمَعۡرِفَتِه ِم عاشَ اِلی اَنۡ کَانَتۡ وِلادَة عَلیِّ بن الْحُسَيْنِ فَخَرَجَ إِلَى الطَّائِفِ وَ مَرِضَ وَ شَرُبَ لَبَنًا وَ قالَ اَخۡبَرَنی رَسُولُ اللَّهِﷺ أَن يَكُونَ آخِرُ زَادِي مِنَ الدُّنْيَا شَرْبَةَ لَبَنٍ وَ مَاتَ وَ دُفِنَ بِالطَّائِفِ بِالْمَوْضِعِ الْمَعْرُوفِ بِالْكوُزارَةِ"
مناقب میں واثلہ بن اصقع بن قرخاب کے توسط سے جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی گئی ہے ، وہ کہتے ہیں: جندل بن جنادہ یہودی نے حضور سرور کائنات کی خدمت اقدس میں پہنچ کر عرض کیا: اے محمد (ﷺ) مجھے بتائیے کہ وہ کیا چیز ہے جو خدا کے لئے نہیں ہے؟ وہ کیا چیز ہے جو خدا کے پاس نہیں ہے؟، وہ کیا ہے جو خدا نے تعلیم نہیں دی؟، حضور نے فرمایا: یاد رکھو! جو چیز خدا کے لئے نہیں ہے وہ اس کا شریک ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ جو چیز خدا کے پاس نہیں ہے وہ بندوں پر ظلم ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا، اور جس بات کی خدا نے تعلیم نہیں دی ہے وہ تم یہودیوں کا یہ قول ہے کہ عُزیر، اللہ کے بیٹے ہیں حالانکہ خداوند عالم نے ہرگز تمہیں اس بات کی تعلیم نہیں دی ہے بلکہ خداوند عالم نے تو اس بات کی تعلیم دی تھی وہ اللہ کے بندے اور مخلوق خدا ہیں۔ یہ سن کر یہودی بول اٹھا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپؐ اللہ کے برحق او ر سچے رسول ہیں۔ پھر کہنے لگا: میں نے شب گذشتہ موسیٰ بن عمران کو خواب میں دیکھا، انہوں نے مجھ سے فرمایا: اے جندل! محمد خاتم الانبیاء (ﷺ) پر ایمان لاکر مسلمان ہوجا، اور ان کے بعد آنے والے ان کے اوصیاء سے متمسک ہوجا۔ اور آپؐ نے بھی یہی فرمایا ہے کہ مسلمان ہوجاؤں۔ پس خدا کا شکر ہے کہ میں مسلمان ہوگیا اور آپؐ کے توسط سے میں نے ہدایت حاصل کرلی۔ پھر جندل نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اپنے اوصیاء کا تعارف کرا دیجئے تاکہ میں ان سے متمسک ہوجاؤں۔ حضور(ﷺ) نے فرمایا: میرے بارہ جانشین ہوں گے۔ جندل نے کہا کہ ہم نے کتاب تورات میں یہی پڑھا ہے۔ اور پھر کہا: یا رسول اللہ! مجھے اپنے جانشینوں کے نام بتائیے۔ حضور نے فرمایا: ان میں سے پہلے سید الاوصیاء، ابو الائمہ علی علیہ السلام ہیں پھر ان کے بیٹے حسن و حسین پس ان سے متمسک رہو اور جاہلوں کے جہل سے فریب میں نہ آجانا۔ پس علی علیہ السلام بن حسینؑ کی ولادت کے بعد قضائے الٰہی تمہارے حق میں اس طرح رقم شدہ ہے کہ تم دودھ کو اپنی آخری غذا کے عنوان سے نوش کرو گے۔ جندل نے کہا کہ ہم نے اپنی کتاب توریت اور دیگر کتب انبیاء میں ایلیاء اور شبّر و شبیر نام دیکھے ہیں پس یہی علی علیہ السلام و حسنؑ و حسینؑ کے نام ہیں۔ لیکن حسینؑ کے بعد آپ کے جانشین کون کون ہیں۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا: حسینؑ کے چلے جانے کے بعد ان کے بیٹے علی علیہ السلام ہوں گے جن کا لقب زین العابدین ہے، ان کے بعد ان کے فرزند محمد باقر ہوں گے، پھر ان کے بیٹے جعفر صادق ہوں گے، پھر ان کے فرزند موسیٰ کاظم پھر ان کے فرزند علی علیہ السلام رضا پھر ان کے فرزند محمد تقی و ذکی پھر ان کے بیٹے علی نقی ہادی پھر ان کے فرزند حسن عسکری اور پھر ان کے بیٹے "محمد" ہوں گے جن کا لقب "مہدی"، "قائم" اور "حجت" ہوگا اور وہ غائب ہوجائیں گے، پھر خروج کریں گے اور ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، پس خوش بحال ہیں وہ لوگ جو ان کی غیبت کے زمانے میں صبر کرنے والے ہیں اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو زمانہ غیبت میں ان کی محبت کے ساتھ متقی و پرہیز گار ہیں، خداوند عالم نے قران کریم میں ان لوگوں کی اس طرح تعریف فرمائی ہے اور فرمایا:( هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ) (۴۵) اور پھر پروردگار عالم نے فرمایا:( أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ) (۴۶) یہی لوگ اللہ کے گروہ والے ہیں اور یاد رکھو بتحقیق اللہ کے گروہ والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔
پس جندل نے عرض کیا: الحمد للہ کہ میں نے ان کی معرفت حاصل کرلی اور خداوند عالم نے مجھے اس بات کی توفیق عطا فرمائی۔ پھر جندل امام زین العابدین کی ولادت تک زندہ رہے اور امام زین العابدین کے زمانہ حیات میں انہوں نے طائف کا سفر کیا وہاں جاکر مریض ہوگئے اور جب انہیں دودھ پلایا گیا تو کہنے لگے کہ مجھے حضور سرور کائنات نے خبر دی تھی کہ دنیا سے جاتے وقت میری آخری غذا دودھ ہوگی، اس کے بعد ان کا انتقال ہوگیا اور طائف ہی میں "کوزارہ" نامی جگہ پر انہیں دفن کر دیا گیا۔
مناقب کی روایت سے حاصل شدہ دس نکات
اس روایت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بہت سے قابل توجہ نکات پائے جاتے ہیں مثلاً:
۱ ۔ اہل سنت کی کتابوں میں یہ روایت جابر بن عبد اللہ انصاری سے مسنداً نقل کی گئی ہے اور روایات اثنا عشریہ کے ذیل میں اس کے متواتر ہونے کو ثابت کریں گے۔
۲ ۔ یہ روایت رسول خدا حضرت محمد مصطفیﷺسے منقول ہے وہی رسولؐ جس کی شان میں خداوند عالم نے قران کریم میں فرمایا ہے:( ما ضَلَّ صاحِبُکُمۡ وَما غَوی، وَما یَنۡطِقُ الۡه َوی، اِنۡ ه ُوَ وَحۡیٌ یُوحی، عَلَّمَه ُ شَدیدُ القُوی ) (۴۷) تمہارا ساتھی (پیغمبر اسلام) نہ گمراہ ہوا ہے، نہ بہکا ہے اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے۔ اسے نہایت طاقت والے (جبرئیل) نے تعلیم دی ہے۔
۳ ۔ اس روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ جندل یہودی مسلمان ہونے اور اپنا خواب بیان کرنے کے بعد حضور سرور کائنات سے سوال کرتا ہے: "اَخۡبِرۡنی یا رَسُولَ الله عَنۡ اَوۡصیائِکَ مِن بَعدِکَ " یعنی اے رسول خدا! مجھے آپ اپنے بعد آنے والے اپنے جانشینوں اور ائمہ کے بارے میں بتائیے؟!
جندل کے سوال کے جواب میں وہی پیغمبرؐ کہ جس کا تعارف سورہ نجم کے آغاز میں دوست و ساتھی کہہ کر کروایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ گمراہ نہیں ہوا ہے اور نہ ہی بہکا ہے، وہ اپنے ہوائے نفس سے کلام نہیں کرتا، اس کا کلام صرف و صرف وحی ہے اور جبرئیل نے اسے تعلیم دی ہے؛ وہ ہی پیغمبر جواب میں فرماتا ہے کہ میرے اوصیاء میں سے پہلے علی علیہ السلام ابو الائمہ ہیں پھر ان کے بیٹے حسنؑ و حسینؑ تا آخر اور آخری و بارہویں مہدیؑ ہیں۔
۴ ۔ کیا خداوند عالم نے قران مجید میں نہیں فرمایا:( ما آتاکُمُ الرَّسوُلُ فَخُذُوه ُ وَما نَه اکُمۡ عَنۡه ُ فَانۡتَه وُا ) (۴۸) اور جو کچھ بھی رسول تمہیں دیدے اسے لیلو اور جس چیز سے منع کردے اس سے رک جاؤ۔
پس اس آیت و روایت کی روشنی میں اہل سنت عمل کیوں نہیں کرتے جبکہ اہل سنت کے بزرگ علماء نے اپنی معتبر کتابوں میں اس روایت کو جگہ دی ہے؟! کیا وہ لوگ رسول اللہ کے قول پر عمل کرنے کے دعویدار نہیں ہیں؟ کیا خداوند عالم نے اسی آیت میں نہیں فرمایا:( وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ) اور خدا (کی مخالفت کرنے) سے ڈرو کہ اللہ کا عقاب شدید ہے۔ پس اب جبکہ حضور کی تصریح کے مطابق علی ابن ابی طالب‘ آپؐ کے اوصیاء میں پہلے ہیں اور مسلمان انہیں چوتھا قرار دیدیں تو کیا یہ کلام نبی (ﷺ) کی مخالفت نہیں ہے؟ اور کیا قران و کلامِ الٰہی کی مخالفت نہیں ہے؟
جی ہاں حضور سرور کائنات نے تصریح فرمائی ہے کہ میرا اولین و پہلا وصی علی علیہ السلام ہے جبکہ اہل سنت نے حضرت ابوبکر کو پہلا اور حضرت علی علیہ السلام کو چوتھا جانشین قرار دیا ہے، تو کیا یہ کھلی مخالفت نہیں ہے؟!
۵ ۔ حضور سرور کائنات (ﷺ) کی تصریح کے مطابق آپؐ کے چھٹے جانشین حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ہیں توپھر علمائے اہل سنت نے حضرت جعفر صادق علیہ السلام کو چھوڑ کر آنجنابؑ کے شاگرد ابو حنیفہ کا دامن کیوں تھام لیا ہے؟! کیا خود ابو حنیفہ نے (جیسا کہ ہم کتاب کے مقدمہ میں بیان کرچکے ہیں) امام جعفر صادق علیہ السلام کی افضلیت کا اقرار نہیں کیا؟ اب اس صورت حال میں امام جعفر صادق علیہ السلام کو چھوڑ کر ابوحنیفہ کے پیچھے جانے سے نبی کریمؐ کے قول کی کھلی مخالفت نہیں ہوتی؟، کیا کلام الٰہی کی کھلی مخالفت نہیں ہوئی؟ سنت رسولؐ کو آنحضرت کے جانشین و وصی سے لینا چاہئے یا غیر وصی سے؟!
۶ ۔ جندل اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ نام علی و حسن و حسین علیھم السلام ، توریت اور دیگر کتب انبیاء میں بھی موجود ہیں جو ایلیاء اور شبّر و شبیر ہیں اور یہ خود اس امر کی مستحکم و مضبوط دلیل ہے کہ وصی پیغمبرؐ کو بھی خداوندِ عالم ہی معین کرتا ہے جیسا کہ نبی کریمﷺ نے حکم الٰہی سے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا خلیفہ و جانشین قرار دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت موسیٰ بھی اس بات سے واقف ہیں کہ ان کا وصی خداوند متعال ہی معین فرمائے گا اسی لئے نص قرانی کے مطابق "اجعل" یعنی بنادے، کہہ کر خداوند عالم سے اپنے بھائی ہارون کو اپنا وصی بنانے کی درخواست کرتے ہیں۔ ارشاد رب العزت ہوتا ہے:( قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي ، وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي ، وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي ، يَفْقَهُوا قَوْلِي، وَاجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي ، هَارُونَ أَخِي ، اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي ، وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي ) (۴۹) موسیٰ نے عرض کیا پروردگار میرے سینے کو کشادہ کردے، میرے کام کو آسان کردے اور میری زبان کی گرہ کو کھول دے کہ یہ لوگ میری بات کو سمجھ سکیں اور میرے اہل میں سے میرا وزیر قرار دیدے، ہارون کو جو میرا بھائی بھی ہے۔ اس سے میری پشت کو مضبوط کردے۔ اسے میرے کام میں میرا شریک بنادے۔
بیشک حدیث منزلت ا س حقیقت پر برہان قاطع ہے۔ (تفصیلات کے لئے رجوع فرمائیں کتاب "اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام " اس کتاب میں حضرت عمر کی زبانی منزلت ہارونی کو بیان کیاگیا ہے)(۵۰)
۷ ۔ جب علمائے اہل سنت تمام اصحاب کو مطلق طور پر عادل مانتے ہیں تو جابر کی اس روایت پر عمل کیوں نہیں کرتے؟!
پیغمبر اسلام کے ہاتھوں مسلمان ہونے والے جندل سے بے توجہی اور لاپرواہی کیوں برتتے ہیں؟
۸ ۔ اس روایت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شیعہ اثنا عشری کے عقائد (یعنی حضرت علی کو امام اول ماننا اور امام مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)کو بارھواں امام تسلیم کرنا) برحق ہیں اور ۷۳ فرقوں میں سے وہ فرقہ ناجیہ، شیعہ اثنا عشری ہی ہے۔(۵۱)
۹ ۔ نبی کریمﷺنے اس روایت میں اپنے اوصیاء کے نام بیان فرمائے ہیں اور ایک ایک وصی کا لقب بھی بیان کیا ہے لہذا یہ روایت رسول اللہؐ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے مقابلے پر آنے والے تمام افراد کی خلافت پر خطِ بطلان کھینچ رہی ہے۔
کتنی عجیب و حیرت انگیز بات ہے کہ کچھ لوگ اپنی کتابوں کے نام صحاح، سنن، مسند اور سیرت وغیرہ رکھتے ہیں اور ان میں بہت سے حقائق بھی نقل کرتے ہیں لیکن عقیدہ و عمل کی منزل میں متزلزل نظر آتے ہیں اور اپنی نقل کردہ باتوں کے برخلاف بیان دیتے ہیں۔
جی ہاں اگر تعصب کی عینک اتار دی جائے اور جہل و گمراہی کے پردے چاک کر دیئے جائیں تو حقائق روزِ روشن کی طرح آشکار ہوجائیں۔
۱۰ ۔ مذکورہ روایت و مطالب سے واضح ہوجاتا ہے کہ حقیقی اہل سنت، شیعیان امیر المؤمنین علی علیہ السلام ہی ہیں کیونکہ انہوں نے سنت کو نبی کریم ؐ کے انہی اوصیاء کے ذریعے حاصل کیا ہے کہ جن کے ناموں کی شیعہ و سنی علماء نے متفقہ طورپر تصریح فرمائی ہے۔
حسن بن علی ‘ کے بعد امام "قائم" ہیں وہ میرے ہمنام و ہم کنیت ہوں گے
۲۵ ۔"وَ فی المَناقِبِ حَدَّثَنا اَصحابُنا وَ قالوُا حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بنِ ه َمّام قالَ حَدَّثَنا جَعۡفَرُ بۡنُ مُحَمَّدِ بن مالِکِ الۡفراری قالَ حَدَّثَنِی الۡحُسَیۡنُ بن مُحَمَّدِ بن سَماعه قالَ حَدَّثَنِی اَحۡمَدُبن الۡحارِثِ قالَ حَدَّثَنِی الۡمُفَضَّلُ بن عُمَر عَنۡ یُونِس بن ظَبۡیان عَنۡ جابِرِ بۡنِ یَزید الۡجُعۡفی قالَ سَمِعۡتُ جاِبرَ بۡنَ عَبۡدِ الله ِ الۡأَنۡصاری یَقوُلُ قالَ لی رَسوُلُ الله ِ ﷺ، یا جابِرُ اَنَّ اَوۡصیائی وَ اَئِمَّةَ الۡمُسۡلِمینَ مِنۡ بَعۡدی اَوَّلُه ُمۡ عَلیُّ ثُمَّ الۡحَسَنُ ثُمَّ الۡحُسَیۡنُ ثُمَّ عَلیُّ بن الحُسَیۡنِ ثُمَّ مُحَمَّدُ بن عَلیٍ الۡمَعۡروُفُ بِالۡباقِرِ سَتُدۡرِکُه ُ یا جابِرُ فَاِذا لَقَیۡتَه ُ فَاَقۡرِئه ُ مِنّیِ السَّلامَ ثُمَّ جَعۡفَرُ بۡنُ مُحَمَّدٍ ثُمَّ مُوسَی بن جَعفَرَ ثُمَّ عَلیُّ بن مُوسی ثُمَّ مُحَمَّدُ بن عَلیٍّ ثُمَّ عَلیُّ بن مُحَمَّدٍ ثُمَّ الۡحَسَنُ بن عَلیٍّ ثُمَّ الۡقائِمُ اِسۡمُه ُ اِسۡمی وَ کُنۡیَتُه ُ کُنۡیَتی اِبۡنُ الۡحَسَنِ بن عَلیٍّ ذاکَ الَّذی یَفۡتَحُ الله ُ تَبارَکَ وَ تَعالی عَلی یدَیه ِ مَشاِرقَ الاَرضِ وَ مَغارِبَه ا ذاکَ الَّذی یَغیبُ عَن ۡ اَوۡلیائِه غَیۡبَةً لا یَثۡبُتُ عَلَی الۡقَوۡلِ بِاِمامَتِه اِلّا مَنِ امۡتَحَنَ الله ُ قَلۡبَه ُ للۡأیمان، قالَ جابِرُ: فَقُلۡتُ : یا رَسوُلَ الله ِ فَه َلۡ لِلنّاسِ الۡاِنۡتِفاعُ بِه فی غَیۡبَتِه ، فقالَ: ای وَ الّذی بَعَثَنی بِالنُّبُوَّةِ اِنَّه ُمۡ یَسۡتَضیئوُنَ بِنوُرِ وِلایَتِه فی غَیۡبَتِه کَاِنۡتِفاعِ النّاسِ بِالشَّمۡسِ وَ اِنۡ سَتَرَه ا سَحابٌ، ه ذا مِنۡ مَکۡنُوںِ سِرِّ الله ِ وَ مَخۡزوُنِ عِلۡمِ الله ِ، فَاکۡتُمۡه ُ اِلّا عَنۡ اَه ۡلِه "
شیخ سلیمان بلخی حنفی(۵۲) نے جابر بن یزید جعفی سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: میں نے جابر بن عبد اللہ انصاری سے سنا ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے فرمایا: میرے بعد میرے اوصیاء و ائمہ مسلمین (جو کہ بارہ افراد ہیں) ان میں اول علی علیہ السلام پھر حسن، پھر حسین پھر علی بن الحسین پھر محمد باقر ہوں گے اے جابر تم میرے اس بیٹے باقر سے ملاقات کرو گے، جب تم اس سے ملاقات کرو تو اسے میرا سلام پہنچا دینا، پھر ان کے بعد جعفر بن محمد ہوں گے پھر موسیٰ بن جعفر پھر علی بن موسیٰ، پھر محمد بن علی پھر علی بن محمد پھر حسن بن علی اور پھر قائم ہوں گے قائم میرے ہمنام ہوں گے ان کی کنیت بھی میری کنیت جیسی ہوگی وہ حسن بن علی کے بیٹے ہوں گے وہ وہی ہیں خداوند عالم جن کے ہاتھ پر شرق و غرب عالم کی فتح عنایت کرے گا، وہ اپنے چاہنے والوں اور اولیاء سے غائب ہوجائیں گے۔ ان کے زمانہ غیبت میں وہ ہی لوگ ان کی امامت پر ثابت قدم رہیں گے خداوند عالم جن کے قلوب کا امتحان لے چکا ہے۔ جابر کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!لوگ غیبت کے زمانہ میں کس طرح ان سے فیض یاب ہوں گے؟
حضور سرور کائنات (ﷺ) نے فرمایا: کیوں نہیں! قسم ہے اس خدائے بزرگ و برتر کی جس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے، لوگ زمانہ غیبت میں ان کے نورِ ولایت سے ضیاء حاصل کریں گے جس طرح بادلوں کے باوجود سورج کی روشنی سے بہرہ مند ہوتے ہیں حالانکہ سورج مکمل طور پر بادلوں میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔(اے جابر) امر غیبت اسرار الٰہی و خزانہ علم الٰہی میں سے ہے اسے نا اہل لوگوں سے پوشیدہ ہی رکھنا۔
نکتہ: یہ روایت شیعہ و اہل سنت کے درمیان متفق علیہ ہے لہذا تفسیر صافی و نفحات الرحمن میں آیت مبارکہ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ ) (۵۳) کے ذیل میں روایت نقل کی گئی ہے:
"عَنۡ جاِبرِ بۡنَ عَبۡدِ الله ِ الۡأَنۡصاری، قالَ لَمّا نَزَلتَۡ الۡآیَةُ قُلۡتُ یا رَسوُلُ الله ِ عَرَفۡنَا الله َ وَ رَسوُلَه ُ فَمَنۡ اُولِی الۡاَمۡرِ الَّذینَ قَرَنَ الله ُ طَاعَتَه ُم بِطاعَتِکَ فَقالَ: ه ُمۡ خُلَفائی یا جابِرُ و الۡاَئِمَّةُ الۡمُسۡلِمینَ مِنۡ بَعۡدی اَوَّلُه ُمۡ عَلیُّ بۡنُ اَبیطالِبٍ ثُمَّ الۡحَسَنُ ثُمَّ الۡحُسَیۡنُ ثُمَّ عَلیُّ بن الحُسَیۡنِ ثُمَّ مُحَمَّدُ بن عَلیٍ الۡمَعۡروُفُ فِی التَّوۡراتِ بِالۡباقِرِ وَ سَتُدۡرِکُه ُ یا جابِرُ فَاِذا لَقَیۡتَه ُ فَاَقۡرَأۡه ُ مِنّیِ السَّلامَ، ثُمَّ الصَّادقُ جَعۡفَرُ بۡنُ مُحَمَّدٍ ثُمَّ مُوسَی بن جَعفَرَ ثُمَّ عَلیُّ بن مُوسی ثُمَّ مُحَمَّدُ بن عَلیٍّ ثُمَّ عَلیُّ بن مُحَمَّدٍ ثُمَّ الۡحَسَنُ بن عَلیٍّ ثُمَّ سَمِیّی مُحَمَّدٌ وَ کَنّیی حُجَةُ الله ِ فِی اَرۡضِه وَ بَقیَّتُه ُ عَلی عِبادِه ابۡنُ الۡحَسَن بن عَلیٍّ ذاکَ الّذی یَفۡتَحُ الله ُ عَلی یدَیه ِ مَشاِرقَ الاَرضِ وَ مَغارِبَه ا وَ ذاکَ الَّذی یَغیبُ عَن ۡ شیعَتِه وَ اَوۡلیائِه غَیۡبَةً لا یَثۡبُتُ عَلَی الۡقَوۡلِ بِاِمامَتِه اِلّا مَنِ امۡتَحَنَ الله ُ قَلۡبَه ُ للۡأیمان، قالَ جابِرُ: فَقُلۡتُ : یا رَسوُلَ الله ِ فَه َلۡ لِشیعَتِه ِ الۡاِنۡتِفاعُ بِه فی غَیۡبَتِه ، فقالَ: ای وَ الّذی بَعَثَنی بِالنُّبُوَّةِ اِنَّه ُمۡ یَسۡتَضیئوُنَ بِنوُرِه وَ یَنۡتَفِعوُنَ بِوِلایَتِه فی غَیۡبَتِه کَاِنۡتِفاعِ النّاسِ بِالشَّمۡسِ وَ اِنۡ تَجَلَّلَه ا سَحابٌ، یا جابِرُ ه ذا مِنۡ مَکۡنُوںِ سِرِّ الله ِ وَ مَخۡزوُنِ عِلۡمِ الله ِ، فَاکۡتُمۡه ُ اِلّا عَنۡ اَه ۡلِه "
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ یہ دونوں روایات مختصر فرق کے باوجود بہت زیادہ ایک دوسرے سے شباہت رکھتی ہیں۔ یہ مختصر فرق حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے نام و لقب کا فرق ہے۔ مناقب کی روایت میں اس طرح بیان ہوا ہے: "ثُمَّ الۡقائِمُ اِسۡمُه ُ اِسۡمی وَ کُنیَتُه ُ کُنِیَتی، ابن الحسن بن علی " یعنی حسن بن علی علیہ السلام کے بعد قائم ہوں گے وہ میرے ہمنام ہوں گے اور ان کی کنیت میری کنیت جیسی ہوگی جبکہ صافی و نفحات الرحمن کی روایت میں اس طرح نقل ہوا ہے: " ثُمَّ سَمِیّی مُحَمَّدٌ وَ کَنّیی حُجَةُ الله ِ فِی اَرۡضِه وَ بَقیَّتُه ُ عَلی عِبادِه ابۡنُ الۡحَسَن بن عَلیٍّ " یعنی حسن بن علی‘ کے بعد میرے ہنمام "م، ح،م، د" اور میری ہم کنیت ہوں گے وہ ہی زمین پر حجت خدا اور لوگوں کے درمیان انبیاء کی یادگار ہیں۔
اس دوسری روایت مناقب میں موجود بارہ حقائق
شیعہ و سنی کے درمیان متفق علیہ ہونے کے علاوہ اس روایت میں بارہ دیگر نکات قابل استفادہ ہیں جو قارئین کی خدمت میں پیش کئےجا رہے ہیں:
۱ ۔ علمائے اہل سنت کی کتابوں میں یہ روایت جابر بن عبد اللہ انصاری سے مسنداً نقل کی گئی ہے لہذا اس اعتبار سے ہم پر کوئی اشکال وارد نہیں ہوسکتا اور ہم بحمد اللہ روایات اثنی عشری کے ذیل میں ان کے متواتر ہونے کو ثابت کریں گے۔
۲ ۔ علمائے اہل سنت کی تصریح کے مطابق یہ روایت پیغمبر اسلامﷺ سے منقول ہے وہی رسولؐ کہ علمائے اہل سنت جن کی سنت پر عمل کرنے کے دعویدار ہیں اور اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہرگز نبی کریمﷺ کے فرامین سے روگردانی نہیں کرتے۔ وہی رسولؐ کہ جن کے بارے میں خداوند عالم نے قران کریم میں ارشاد فرمایا ہے:
( مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلا وَحْيٌ يُوحَى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى ) (۵۴) یعنی تمہارا ساتھی (پیغمبر اسلام) نہ گمراہ ہے، نہ بہکا ہے اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا اس کا کلام وہ ہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے اسے نہایت طاقت والے (جبرئیل) نے تعلیم دی ہے۔
۳ ۔ اس روایت میں "من بعدی" عبارت آئی ہے یعنی کلمہ "بعد" یائے متکلم "ی" کی طرف مضاف ہوا ہے جس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ آنحضرتؐ کے بعد آنحضرت کے بارہ جانشین ہوں گے جن میں پہلے علی علیہ السلام اور آخری قائم ہوں گے ان کا نام پیغمبر (ﷺ) کے نام (م، ح، م، د) جیسا ہوگا اور ان کی کنیت پیغمبر ؐ کی کنیت جیسی ہوگی۔
۴ ۔ کیا خداوند عالم نے قران کریم میں واضح طور پر نہیں فرمایا:( مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ) (۵۵) اللہ کا رسولؐ جو تمہیں دیدے اسے لیلو اور جس سے روک دے اس سے رک جاؤ۔
اس آیہ کریمہ اور مناقب کی اس روایت کی روشنی میں کہ جسے علمائے اہل سنت نے اپنی معتبر کتابوں میں نقل کیا ہے؛ اس روایت پر عمل کیوں نہیں کرتے ہیں۔
کیا یہ لوگ اس بات کے مدعی نہیں ہیں کہ یہ قول نبیؐ کے پابند اور سنت نبیؐ پر عمل کرنے والے ہیں۔
کیا خداوند عالم نے اسی آیت میں یہ نہیں فرمایا:( وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ) (۵۶) خداوند عالم کی مخالفت کرنے سے ڈرو کہ اس کا عقاب شدید ہے۔
حضرت علی علیہ السلام جو کہ اوصیاء میں پہلے ہیں اگر انہیں چوتھا قرار دیدیا جائے تو کیا اس طرح کلام نبیؐ کی مخالفت نہ ہوگی، کیا اس طرح آیت قران و کلام الٰہی کی مخالفت نہ ہوگی؟!
جی نبی کریمؐ نے تصریح فرمائی ہے کہ علی بن ابی طالب میرے پہلے وصی ہوں گے اہل تسنن حضرت علی علیہ السلام کو چوتھا قرار دیتے ہیں کیا یہ بات نبی کریمؐ کی کھلی مخالفت نہیں ہے؟!
۵ ۔ رسول اکرمﷺ کی تصریح کے طابق حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام آپ کے چھٹے جانشین ہیں۔ اب ذرا سوچئے کہ آپؑ نے امام جعفر صادق علیہ السلام کو چھوڑ کر ان کے شاگرد ابو حنیفہ سے تعلق کیوں قائم کیا ہے؟ !
کیا ابو حنیفہ نے (جیسا کہ مقدمہ کتاب میں بیان کیا جا چکا ہے) امام جعفرصادق علیہ السلام کی افضلیت کا اقرار نہیں کیا تھا؟!
کیا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو چھوڑ کر ابو حنیفہ سے تعلق قائم کرنا نبی کریمﷺ کی کھلی مخالفت نہیں ہے؟
کیا یہ کلامِ الٰہی کی مخالفت نہیں ہے؟
سنت نبی کریمؐ کو آپ حقیقی جانشین سے حاصل کرنا چاہئے یا غیروں سے؟
۶ ۔ علمائے اہل سنت جب تمام اصحابؓ کو بطور مطلق عادل مانتے ہیں تو پھر جابر بن عبد اللہ انصاری کی ا س (عظیم) روایت پر عمل کیوں نہیں کرتے؟
اس جیسی اور بہت سی روایات پائی جاتی ہیں جیسا کہ اس سے قبل فقط دس روایات ایسی نقل کی ہیں جن میں کلمہ "بعدی" استعمال ہوا ہے اور حضورؐ نے تصریح فرمائی ہے کہ میرے بعد علی بن ابی طالب‘ خلیفہ ٔ بلا فصل ہوں گے پس اہل سنت ان روایات پر عمل کیوں نہیں کرتے؟
کیا نبی کریمؐ نے خطبہ غدیر کے آغاز میں یہ نہیں فرمایا تھا: اے لوگو! عنقریب خداوند عالم کی جانب سے مجھے دعوت دیدی جائے گی میں بھی مسئول ہوں اور تم سے بھی سوال کیا جائے گا۔ وہاں کیا کہو گے اور کیا جواب دو گے؟
واقعاًٍ علمائے اہل تسنن حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت پر دلالت کرنے والی اتنی کثیر روایات کو ترک کرنے پر کیا جواب دیں گے؟
جب علمائے اہل سنت عربی قواعد (علم نحو) پر بحث و گفتگو کرتے ہیں تو شاہد مثال کے لئے امر ء القیس وغیرہ کے اشعار سے استشھاد کرتے ہیں لیکن حدیث غدیر، حدیث یوم الانذار، حدیث منزلت، حدیث مناشدہ رحبہ، حدیث طیر مَشوِی وغیرہ سے مطلق چشم پوشی کرتے ہیں۔ یہ لوگ بارگاہ الٰہی میں کیا جواب دیں گے؟
مناقب کی گذشتہ بیان کردہ دو روایات کی طرح روایات اثنا عشریہ سے استشھاد کیوں نہیں کرتے؟ آخر روایات مہدی موعودؑ سے استشھاد کیوں نہیں کرتے؟
۷ ۔ حضور سرور کائنات (ﷺ) نے مناقب کی اس روایت میں حضرت مہدی (عج) کی غیبت کی تصریح فرمائی ہے۔ ہم غیبت کے موضوع کے ذیل میں اسے تفصیل سے بیان کریں گے۔
۸ ۔ جابر بن عبد اللہ انصاری نے نبی کریمﷺ سے سوال کیا تھا کہ لوگ زمانہ غیبت میں ان کے وجود مبارک و ہدایت سے کیونکر بہرہ مند ہوں گے؟ تو آنحضرتؐ نے ان کے جواب میں فرمایا تھا: "ای وَ الّذی بَعَثَنی بِالنُّبُوَّتِ اِنَّه ُمۡ یَسۡتَضیئوُنَ بِنوُرِ وِلایَتِه فی غَیۡبَتِه کَاِنۡتِفاعِ النّاسِ بِالشَّمۡسِ وَ اِنۡ سَتَرَه ا سَحابٌ " جی ہاں قسم ہے اس خدا کی جس نے مجھے نبوت پر مبعوث کیا ہے قائم کی غیبت کے زمانے میں لوگ ان کے وجود سے اور ان کے نور ولایت سے اسی طرح ضیاء حاصل کریں گے جس طرح لوگ بادلوں کے پیچھے چھپے ہوئے سورج سے فائدہ حاصل کرتے ہیں حالانکہ بادل سورج کو مکمل ڈھانپے ہوتے ہیں۔
جس طرح خداوند عالم نے عالم خلقت میں اہل زمین کے لئے ایک سورج کو پیدا کیا ہے تاکہ لوگ مختلف انداز سے اس سے بہرہ مند ہوں اسی طرح اس نے منظومۂ نفوس میں ایک خورشید کو معین کیا ہے تاکہ اس انسان کامل نورانی خورشید کے ذریعے قلوب بھرپور انداز سے منور ہوسکیں۔
نیز جس طرح عالم خلق و ملک میں اگر سورج کے سامنے بادل آجائیں تب بھی لوگ نور خورشید سے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں اسی طرح اگر عالم نفوس میں یہ انسان کامل مطلق طور پر پردہ غیبت میں ہو تب بھی اہل ایمان اور اس خورشید کے شیفتہ اس کے نور ہدایت سے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں۔
اس خورشید عالم تاب کے نور ہدایت سے بہرہ مند ہونے کی دو راہیں ہیں:
۱. نفس و روح کو تمام اختلاط سے پاک کرنا، یعنی مقام صفائے کامل پر پہنچنا، اور اس منزل پر صرف و صرف قران و عترت سے متمسک ہوکر ہی پہنچا جاسکتا ہے یعنی حدیث ثقلین کے زیر سایہ اس منزل تک پہنچا جاسکتا ہے۔
۲. تمام اسباب سے انقطاع اور ذات اقدس الٰہی سےمتصل ہونا لہذا بطور مطلق فقر محض کا احساس کرنا اور خدا کے علاوہ تمام چیزوں سے لاتعلق ہونا۔
جی ہاں جس طرح تابش خورشید، نجس زمین کو پاک کر دیتی ہے اور پلیدی کا خاتمہ کر دیتی ہے اسی طرح وجودِ قائم آل محمدؐ کے نور کی تابش، مستعد و آمادہ قلوب کی پرورش کرتی ہے اور ظلمت و تاریکی اور دلوں میں لگے زنگ کا خاتمہ کردیتی ہے۔
جس طرح نور خورشید ، پھلوں اور پھولوں کی تیاری کا سبب ہے اسی طرح خورشید وجود حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) مستعد قلوب کے پھلوں کے تیار ہونے اور پھولوں کے کھلنے کا سبب ہے۔
تم خود اس مجمل کی مفصل حدیث کو پڑھو کہ رسول اکرمﷺ نے تصریح فرمائی ہے کہ خداوند عالم اور نبیؐ کے نزدیک اس خورشید عالم تاب کا کیا مقام و مرتبہ ہے ۔ اس کا وجود باعثِ نجات ہے اور نہ ہونا باعث ہلاکت ہے بالکل اسی طرح کہ اگر عالم تکوین میں سورج موجود نہ ہو تو کرہ ارض سردی وغیرہ سے نابود ہوجائے گی۔
۹ ۔ پیغمبر اکرمﷺ، جابر بن عبد اللہ انصاری سے فرماتے ہیں: "ه ذا مِنۡ مَکۡنُونِ سِرِّ الله ِ وَ مَخۡزُونِ عِلۡمِ الله " یہ امر غیبت، اسرار الٰہی و خزانۂ علم الٰہی میں سے ہے۔ ہم نے پہلے باب کے آخر میں روایات مہدی کے متواتر ہونے کو ثابت کیا تھا اور کہا کہ یہ روایات مندرجہ ذیل پانچ حقائق کی روشنی میں متواتر ہیں:
۱. علمائے اہل سنت کے مطابق حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں اصحاب رسول اکرمﷺ میں سے ۵۴ افراد نے یہ روایات نقل کی ہیں۔
۲. ۲۲۷ ہجری سے تا بحال ۱۶۰ سے زائد علمائے اہل سنت نے یہ روایات نقل کی ہیں۔
۳. کتب صحاح، مسانید، سنن اور سیرت میں متعدد علمائے اہل سنت نے یہ روایات نقل کی ہیں۔
۴. روایات حضرت مہدی موعود (عج) کے بارے میں ۴۰ مستقل طور پر لکھی جانے والی کتب اہل سنت۔
۵. اور علمائے اہل سنت کے ۲۳ افراد کی جانب سے اس بات کی تصریح کہ روایات حضرت مہدی (عج) متواترہیں۔
ان تمام نکات سے بات واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت مہدی موعود (عج) کے بارے میں اہل سنت سے نقل شدہ احادیث متواتر، مسلم اور ثابت شدہ ہیں، اور حضور سرور کائنات(ﷺ) کے صادق القول ہونے پر ایمان کی صورت میں کسی شک و شبھہ کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی کہ یہ احادیث "اخبار غیبی" میں سےہیں۔
۱۰ ۔ اس روایت (مناقب) کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شیعہ اثناعشری کے عقائد یعنی حضرت علی علیہ السلام کو امام اول ماننا اور امام مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)کو بارہواں امام تسلیم کرنا، برحق ہیں اور ۷۳ فرقوں میں سے وہ فرقۂ ناجیہ، شیعہ اثنا عشری ہے۔(۵۷)
۱۱ ۔ نبی کریمﷺ نے اس روایت میں اپنے اوصیاء کے نام بیان فرمائے ہیں اور ایک ایک وصی کا لقب بھی معین فرمایا ہے لہذا یہ روایت رسولؐ اللہ کے بعد حضرت علی علیہ السلام کے مقابلے پر آنے والے تمام افراد کی خلافت پر خط بطلان کھینچ رہی ہے۔
۱۲ ۔ مذکورہ روایت و مطالب سے واضح ہوجاتا ہے کہ حقیقی اہل سنت، شیعیان امیرالمومنین علی علیہ السلام ہی ہیں کیونکہ انہوں نے سنت کو نبی کریمؐ کے انہی اوصیاء کے ذریعے حاصل کیا ہے جن کے ناموں کی شیعہ و سنی علماء نے متفقہ طورپر تصریح فرمائی ہے۔ نہ کہ ایسے افراد سے جو رسول اللہؐ سے ۱۵۰ سال کے بعد پیدا ہوئے تھے۔
باب دوم کی پہلی فصل کی روایات کا نتیجہ
ہم نے اس فصل میں اہل سنت کی کتابوں میں سے نبی کریمؐ سے منقول ۲۵ روایات محترم قارئین کی خدمت میں پیش کی ہیں جن سے اخذ شدہ نتیجہ ذیل میں پیش کئے جا رہے ہیں۔
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا رسول گرامی قدر (ﷺ) نے فرمایا: مہدی کا نام میرے نام جیسا ہوگا اور ان کی کنیت میری کنیت جیسی ہوگی۔
اور جیسا کہ روایات میں آپ کا نام احمد اور "م، ح، م، د" نقل ہوا ہے یعنی مہدی رسول اللہؐ کے ہمنام ہیں۔
اور آپؑ کی کنیت؛ ابو القاسم (یعنی کنیت رسول خداﷺہے)، ابو عبد اللہ اور آپؑ کے القاب مہدی، قائم، حجت، منتظر اور خلیفۃ اللہ ہیں۔
روایات میں اسم محمدؐ کے بارے میں دو باتوں کا ممنوع ہونا
روایات کے مطابق حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا نام احمد اور "م، ح، م،د" ہے اور شیعہ و اہل سنت کی روایت کے مطابق حضرت مہدی (عج) کا نام "م، ح، م، د" لینا ممنوع ہے جیساکہ علامہ مجلسی کتاب جلاء العیون میں صاحب الامر کے حالات کے ذیل میں فرماتے ہیں: "وَلا یَحِلُّ لَکُمۡ ذِکۡرُه ُ بِاِسۡمِه ِ " یعنی تمہارے لئے ان کے نام کا ذکر کرنا صحیح نہیں ہے۔ ہم یہ روایت اسی باب دوم کی دوسری فصل میں (روایت نمبر ۱۴) بیان کریں گے۔
جس طرح حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا یہ نام "م، ح،م، د" ذکر کرنا ممنوع ہے اسی طرح ایک چیز اور ممنوع ہے اور وہ اسم محمد اور ابو القاسم کا ایک شخص کے لئے جمع ہونا ہے۔ ایک روایت میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: ہم اپنی اولاد کی کنیت اور لقب بچپن ہی میں رکھ دیتے ہیں تاکہ جس کنیت و لقب کا جمع کرنا ممنوع ہے، نہ رکھیں۔ روایت میں تصریح کی گئی ہے: "بِکُرۡه ِ الۡجَمۡعِ بَیۡنَ کُنۡیَتِه بِاَبی الۡقاسِمِ وَ تَسۡمِیَتِه بِمُحَمَّد (۵۸) "
لہذا دو چیزیں ممنوع ہیں
۱ ۔ زمانہ غیبت میں حضرت مہدی علیہ السلام کا نام "م، ح، م، د" ذکر کرنا۔
۲ ۔ رسول اللہؐ اور حضرت مہدی (عج) کے علاوہ دیگر لوگوں کے لئے محمد اور ابو القاسم ایک ساتھ رکھنا ممنوع ہے (کیونکہ پیغمبر اکرمﷺ کی تصریح "اِسۡمُه ُ اِسۡمی وَ کُنۡیَتُه ُ کُنۡیَتی " کی بناء پر فقط حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے لئے وارد ہوا ہے۔ پس حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے لئے یہ ممنوعیت نہیں ہے)۔
کیا حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے والد کا نام عبد اللہ ہے؟
ہم یہاں پر محترم قارئین کی خدمت میں ایک نہایت اہم نکتہ پیش کرنا مناسب سمجھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ : اہل سنت کے بعض منابع میں حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے و الد کا نام "عبد اللہ" بیان کیا گیا ہے جیسا کہ آپ نے اسی فصل (حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے نام و لقب و کنیت کے بارے میں رسول خداؐ کی روایات) میں روایت نمبر ۱۵ اور ۲۰ کو ملاحظہ فرمایا ہے کہ روایت نمبر ۱۵ میں یہ عبارت نقل ہوئی ہے: "اسم اَبِیه ِ اسمُ اَبی " یعنی حضرت مہدی کے والد کا نام میرے والد کے نام "عبد اللہ" جیسا ہوگا۔ اور روایت نمبر ۲۰ میں اس طرح نقل ہوا ہے: "وَ اِسۡمُه ُ اَحۡمَدُ بۡنُ عَبۡدِ الله ِ " یعنی ان کا نام احمد بن عبد اللہ ہوگا۔ نیز پہلے باب کے آخر میں رابطۃ العالم الاسلامی کے بیان میں آیا ہے کہ ان کے والد کا نام عبد اللہ ہوگا؛ جبکہ شیعہ اور کثیر التعداد منابع اہل سنت میں بیان کیا گیاہے کہ آپ کے والد کا نام "حسن" ہے۔
قرائن اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ جملہ "اسمُ ابیه اسم ابی " یعنی ان کے والد کا نام میرے والد کے نام جیسا ہوگا، عمداًٍ یا اشتباھاً راوی کی جانب سے اضافہ ہوا ہے اور حضورؐ کے کلام میں صرف "اسمہ اسمی یعنی ان کا نام میرے نام جیسا ہوگا" موجود تھا۔
محمد بن یوسف گنجی شافعی اس سلسلہ میں کہتے ہیں: ترمذی(۵۹) نے اس حدیث کو نقل کیا ہے لیکن اس میں یہ عبارت موجود نہیں ہے(۶۰) ۔ نیز امام احمد بن حنبل نے اپنی کتاب مسند سے متعدد مقامات پر یہ حدیث نقل کی لیکن اس میں بھی یہ جملہ "اسمُ اَبیہِ اِسمُ ابی" نہیں ہے۔
گنجی شافعی مزید لکھتے ہیں: اہل سنت کے معتبر حافظان حدیث ومحدثین نے اس سلسلہ میں اکثر جو روایات نقل کی ہیں ان میں یہ جملہ موجود نہیں ہے یہ جملہ فقط اس حدیث میں موجود ہے جسے "زائدہ" نامی شخص نے عاصم سے نقل کیا ہے اور کیونکہ "زائدہ" حدیث میں اپنی طرف سے اضافہ کر دیتا تھا اس لئے اس کی نقل کردہ حدیث غیر معتبر ہے۔ اور ہمارے بیان پر یہ بات بہترین دلیل و گواہ ہے کہ یہ حدیث عاصم سے نقل کی گئی ہے اور حافظ ابو نعیم نے کتاب مناقب المہدی میں ۳۱ راویوں سے نقل کیا ہے اور ان سب راویوں نے اس حدیث کو عاصم ہی سے سنا اور نقل کیا ہے لیکن کسی ایک نے بھی اس آخری جملہ کو نقل نہیں کیا فقط زائدہ کی نقل کردہ حدیث میں یہ جملہ دیکھنے میں آتا ہے لہذا اُن روایات کے مقابلہ میں زائدہ کی روایت یقیناً غیر معتبر ہے۔(۶۱) ،(۶۲)
اہل سنت کے معروف عالم دین جناب شیخ سلیمان بلخی حنفی(۶۳) ، گنجی شافعی کے کلام کو ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"وَ قالَ الۡکَنۡجی قَدۡ ذَکَرَ التِّرۡمَذی اَلۡحَدیثَ وَ لَمۡ یَذۡکُرۡ اِسۡمَ اَبیه ِ اِسۡم اَبی، وَ ذَکَرَ اَبُو داوُد فی مُعۡظَمِ روایات الۡحُفّاظِ الثّۡقاتِ مِنۡ نَقۡلَةِ الۡاَخبارِ اسۡمُه ُ فقط وَ الّذی رُوِیَ " وَ اِسۡمُ اَبیه ِ اِسۡمُ اَبی" فَه ُوَ زیادَةٌ " یعنی محمد بن یوسف گنجی شافعی کہتے ہیں: ترمذی نے یہ حدیث (قالَ رَسولُ الله ﷺ: لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى یَمۡلِکَ الۡعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِیءُ اِسْمُهُ اسْمِی ) نقل تو کی ہے لیکن یہ جملہ (اِسم اَبِیه اسمُ اَبی ) نقل نہیں کیا ہے۔
نیز ابو داؤد نے بھی بہت سے ثقہ حافظین حدیث سے اس حدیث کو نقل کیا ہے تو فقط جملۂ (اسمُه اسمی ) کو نقل کیا ہے لہذا معلوم ہوتا ہے کہ جملۂ اسم ابیہ اسم ابی اضافہ شدہ ہے اور یہ کلام نبی ؐ نہیں ہے۔
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ معروف و بزرگ علماء اہل سنت مثلاً احمد ابن حنبل و ابو داؤد جیسے افراد جو کہ صاحبانِ "مسند" و "سنن" ہیں انہوں نے حضور سرور کائنات کی روایت کو قبول کیا ہے لیکن انہوں نے اس اضافی جملہ (وَ اِسۡمُ اَبیه ِ اِسۡمُ اَبی ) کو تسلیم نہیں کیا ہے۔
اسی طرح کتاب "عقد الدرر فی اخبار المنتظر(۶۴) " میں بھی اس اضافہ کو نقل کیا گیا ہے لیکن حوزہ علمیہ قم کے بعض محققین نے اس کے حاشیہ پر تحریر کیا ہے کہ:
"لَم تَکُنۡ ه ذِه ِ الزَّیادة (وَ اِسۡمُ اَبیه ِ اِسۡمُ اَبی) فِی اَکۡثَرِ الرِّوایات بَلۡ کَما یَأۡتی مِنۡ رِوایَةِ اَحۡمَد بۡنِ حَنۡبَل فی مُسۡنَدِه ِ، وَ الطَّبَرانی فی مُعۡجَمِه ِ الصَّغیر، وَ التِّرۡمَذی فی جامِعِه ، وَ غَیۡرِ ه ؤُلاء : (یُواطِیءُ اِسۡمُه ُ اِسۡمی) وَ فی بَعۡضِه ا: (اِسۡمُه ُ کَاِسۡمی) "
یہ اضافہ "اسمُ اَبیه ِ اسمُ ابی " اکثر روایات میں موجود نہیں ہے مثلاً احمد بن حنبل نے مسند میں، طبرانی نے معجم صغیر میں، ترمذی نے کتاب جامع میں اور دیگر علماء نے بھی اپنی اپنی کتب میں اس روایت کو نقل کیا ہے لیکن اس میں صرف "یُواطِی اِسمُه اِسمی " یا جملہ "اِسمُه کَاِسمِی " نقل کیا ہے۔
____________________
۱ ۔مسند، ج۱، ص ۳۷۶، طبع مصر، سال ۱۳۱۳ ھ ق۔
۲ ۔صحیح، ج۲، ص ۴۶، طبع دہلی، سال ۱۳۴۲ ھ ق۔
۳ ۔صحیح، ج۲، ص ۲۱۷، طبع مصر۔
۴ ۔نور الابصار، باب۲، ص ۱۵۴۔
۵ ۔ینابیع المودۃ، ص ۴۳۲۔
۶ ۔ج۲، ص ۴۶، طبع دہلی، سال ۱۳۴۲ ھ ق۔
۷ ۔تذکرۃ الخواص، ص ۳۷۷، سا ل ۱۳۶۹ ھ ق ۔
۸ ۔ص ۴۸۸ بنابر نقل از منتقم حقیقی، عماد زادہ ، ص ۱۷۱، طبع ۶۔
۹ ۔یوسف بن یحیی مقدس شافعی نے بھی کتاب عقد الدرر فی اخبار المنتظر ، ص ۵۶، طبع مسجد مقدس جمکران سال ۱۴۲۵، میں اس جیسی عبد اللہ ابن عمر سے روایت نقل کی ہے البتہ اس روایت میں "فذالک ہو المہدی" عبارت موجود نہیں ہے۔
۱۰ ۔علاء الدین، علی بن حسام الدین، المعروف بن متقی ہندی، متوفی ۹۷۵ ھ۔
۱۱ ۔مسند، ج۱، ص ۳۷۶، طبع مصر سال ۱۳۱۳ ھ ۔
۱۲ ۔صحیح، ج۲، ص ۴۶، باب: ماجاء فی المہدی، طبع دہلی، سال ۱۳۴۲ ھ۔
۱۳ ۔مسند، ج۱، ص ۳۷۶، طبع مصر، سال ۱۳۱۳ ھ ق۔
۱۴ ۔صحیح، ج۲، ص ۲۰۷، کتاب المہدی، طبع مصر، مطبعۃ التازیہ۔
۱۵ ۔مسند، ج۱، ص ۳۷۷، طبع مصر، ۱۳۱۳ ھ۔
۱۶ ۔مسند، ج۱، ص ۴۳۰۔
۱۷ ۔منتخب کنز العمال، ج۵، ص ۴۰۴، وہ ایڈیشن جس کے حاشیہ پر مسند احمد حنبل بھی ہے۔
۱۸ ۔ینابیع المودۃ، ص ۴۹۰ و ۴۸۸، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۱۹ ۔منتخب کنز العمال، ج۶، ص ۳۲۔
۲۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۹۴، ص ۴۹۴، از مناقب، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۲۱ ۔کمال الدین، طبع دار الحدیث، سال ۱۳۸۰ شمسی، ترجمہ منصور پہلوان، ج۱، ص ۵۳۷، روایت ہفتم از رسول خداؐ۔
۲۲ ۔پہلے اور تیسرے نکتہ میں یہ فرق ہے کہ پہلے نکتہ میں روایت کے متفق علیہ ہونے پر توجہ دلائی گئی ہے جبکہ تیسرے نکتہ میں حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت پر پیغمبر اسلام کی تصریح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کیونکہ روایت میں لفظ "بعدی" آیا ہے۔
۲۳ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، ص ۵۶، طبع مسجد مقدس جمکران، ۱۴۲۵ ھ ق۔
۲۴ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، باب دوم فی اسمہ و خلقہ و کنیتہ، ص ۵۶۔
۲۵ ۔اسی باب کی دوسری روایت۔
۲۶ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، باب دوم، ص ۵۵، انتشارات مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵۔
۲۷ ۔مسند، ج۳، ص ۳۷۶۔
۲۸ ۔جمع الجوامع، ج۱، ص ۹۰۳۔
۲۹ ۔عقد الدرر، باب۳، ص ۵۳، ناشر مسجد مقدس جمکران، ۱۴۲۵ ھ۔
۳۰ ۔یہ عبارت اسم ابیہ اسم ابِی ، اکثر روایات میں موجود نہیں ہے اور ہم بعداً ثابت کریں گے کہ یہ حضورؐ کے کلمات نہیں ہیں جیسا کہ بہت سے بزرگ علماء نے اس اضافی عبارت کا تذکرہ نہیں کیا ہے جیسے احمد بن حنبل مؤلف مسند، طبرانی مؤلف معجم صغیر، ترمذی مؤلف جامع
۳۱ ۔ینابیع المودۃ، باب ۹۴، ص ۴۹۳، طبع دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ ۔
۳۲ ۔عقد الدرر، باب۴، فیما یظھر من الفتن الدّالۃ علی ولایتہ، ص ۹۰، طبع مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵ ھ۔
۳۳ ۔تقریب التھذیب، ج۱، ص ۱۲۰ کے مطابق ثوبان ہاشمی اصحاب و ملازمان رسول اللہ میں سے ہیں اور ۵۴ ھ میں ان کا انتقال ہوا تھا۔
۳۴ ۔ عقد الدرر، باب ۴، ص ۹۴، طبع مسجد مقدس جمکران۔
۳۵ ۔ینابیع المودۃ، باب ۹۴، ص۴۹۲ و ۴۹۳، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۳۶ ۔آپ کے والد کا نام عبد اللہ ہے یا نہیں، اس فصل کے آخر میں مفصل گفتگو کریں گے۔
۳۷ ۔ابن اثیر کی کتاب نہایہ ج۴، ص ۸۵ کے مطابق سفید عباء کو کہتے ہیں۔
۳۸ ۔عقد الدرر، باب ۳، ص ۶۱، طبع مسجد مقدس جمکران، ۱۴۲۵ ھ۔
۳۹ ۔بنابر نقل منتخب الاثر، آیت اللہ صافی گلپائیگانی، فصل دوم، باب اول، ص ۲۰۴، طبع سپہر سال ۱۴۱۹ھ۔
۴۰ ۔بنابر نقل منتخب الاثر، آیت اللہ صافی، فصل ۶، باب۴، ص ۵۵۴، طبع سپہر، ۱۴۱۹ ھ ۔
۴۱ ۔بنا بر نقل از منتخب الااثر، آیت اللہ صافی، فصل ۶، باب۴، ص ۵۵۴، طبع سپہر، ۱۴۱۹ھ۔
۴۲ ۔نور الابصار، ص ۱۵۵۔
۴۳ ۔شبلنجی کی روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مہدیؑ کے سر پر بادل و فرشتہ سایہ فگن ہیں۔ اس میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
۴۴ ۔ینابیع المودۃ، باب۷۶، ص ۴۴۲، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ ۔
۴۵ ۔سورہ بقرہ: آیات۲ اور ۳۔
۴۶ ۔ سورہ مجادلہ، آیت ۲۲۔
۴۷ ۔سورہ نجم، آیت ۲ تا ۵۔
۴۸ ۔سورہ حشر، آیت ۷۔
۴۹ ۔سورہ طہ، آیات ۲۵ تا ۳۲۔
۵۰ ۔اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علیؑ، تالیف ہادی عامری، طبع اول، ص ۶۹ تا ۷۵۔
۵۱ ۔جیسا کہ فصل اول (رسول اللہؐ کی بشارتیں) کی بارہویں روایت میں ذکر کیا گیا ہے۔
۵۲ ۔ینابیع المودۃ، باب ۹۴، ص ۴۹۴، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ ۱۳۸۵ھ۔
۵۳ ۔سورہ نساء (۴) آیت ۵۹۔
۵۴ ۔سورہ نجم (۵۳)، آیات ۲ تا ۵۔
۵۵ ۔سورہ حشر (۵۹)، آیت ۷۔
۵۶ ۔سورہ حشر (۵۹)، آیت ۷۔
۵۷ ۔جیسا کہ فصل (رسول اللہؐ کی بشارتیں) کی بارہویں روایت میں ذکر کیا جا چکا ہے ۔
۵۸ ۔بنابر نقل از زندگانی صاحب الزمان، عماد زادہ، ص ۱۱۵، انتشارات قائم، طبع ۶۔
۵۹ ۔محمد بن عسیٰ بن سورۃ ترمذی متوفی ۲۷۹ھ مؤلف صحیح ترمذی جو کہ صحاح ستہ میں سے ہے۔
۶۰ ۔اسی کتاب کے دوسرے باب میں پہلی روایت ملاحظہ فرمائیں ۔
۶۱ ۔منتخب الاثر، آیت اللہ صافی، مرکز نشر کتاب، تہران، ۱۳۷۳ھ، ص ۲۳۱، ۲۳۵؛موسوعۃ الامام المہدی، اصفہان مکتبۃ الامام امیرالمؤمنین العامہ، ج۱، ص ۱۳، ۱۶۔ اس سلسلہ میں دیگر احتمالات بھی دیئے گئے ہیں۔
۶۲ ۔سیرۂ پیشوایان، مہدی پیشوائی، طبع ۱۲، مؤسسہ امام صادق ؑ، ص ۷۰۵۔
۶۳ ۔ینابیع المودۃ، باب ۹۴، ص ۴۹۲، دار الکتب العراقیہ، طبع ۸، سال ۱۳۸۵۔
۶۴ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، یوسف بن یحیی مقدسی شافعی، باب۲، ص ۵۱، روایت ۲، طبع مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵ھ۔
دوسری فصل
اسم، کنیت اور لقب حضرت مہدی موعود (عج) روایات اہل بیت علیھم السلام کی روشنی میں
جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ اس کتاب کا دوسرا باب دو فصلوں پر مشتمل ہے: پہلی فصل؛ اسم، کنیت اور لقب حضرت مہدی، روایات رسول خداؐ کی روشنی میں ہے اس فصل میں ہم نے اہل سنت کی کتب سے ۲۵ روایات آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں۔اب ہم اس باب کی دوسری فصل پیش کر رہے ہیں جس میں اسم، کنیت اور لقب حضرت مہدی موعود ، روایات اہل بیت عصمت و طہارت کی روشنی میں ذکر کریں گے، اور اس سلسلہ میں ہم اہل سنت ہی کی کتب سے استفادہ کریں گے۔
اسم مہدی (عج) "م، ح، م، د(۱) " ہے
۱ ۔ متقی ہندی(۲) نے روایت نقل کی ہے:"وَ اَخۡرَجَ اَیۡضاً (یعنی نعیم بن حمّاد) عَنۡ علی علیه السلام قالَ : اِسمُ الۡمَه ۡدیِّ مُحَمَّد " یعنی نیز (نعیم بن حماد) نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: اسمِ مہدی "م، ح، م، د" ہے۔
مہدی موعود "خاتم الأئمة " و "منقذ الاُمّة " ہیں
۲ ۔ سبط ابن جوزی نے تذکرۃ الخواص کے باب نمبر ۶ میں حضرت علی علیہ السلام کا وہ خطبہ نقل کیا ہے جو آنجناب نے نبی کریمؐ اور ائمہ اطہار کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا، اس خطبہ کو نقل کرتے ہوئے سبط جوزی کہتے ہیں:
"قالَ علی علیه السلام فی آخِرِه ا : فَنَحۡنُ اَنوَارُ السَّماواتِ وَ الۡاَرضِ وَ سُفُنُ النَّجاتِ وَ فینا مَکنُونُ الۡعِلۡم وَ اِلَیۡنا مَصیرُ الۡاُموُرِ وَ بِمَه ۡدینا تَقۡطَعُ الۡحُجَجِ فَه ُوَ خاتَمُ الۡاَئِمَّةِ وَ مُنۡقِذُ الۡاُمَّةِ وَ مُنۡتَه یَ النُّورِ وَ غامِضُ السَّرِّ فَلیه نَّ مَنِ اسۡتَمۡسَکَ بِعُرۡوَتِنا وَ حَشَرَ عَلی مُحَبَّتِنا "
حضرت علی علیہ السلام نے اس خطبہ کے آخر میں فرمایا: ہم ہی آسمانوں اور زمین کے نور ہیں، ہم ہی کشتی نجات ہیں، علم ہم میں پوشیدہ ہے (ہم علم کا مخزن ہیں)، امور کی بازگشت ہماری ہی طرف ہے، اور ہمارے ہی مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)پر حجت خدا کا خاتمہ ہوگا پس وہ ہی (مہدیؑ) خاتم ائمہ ہیں، امت کے نجات دہندہ ہیں، وہی نور کی انتہا ہیں، وہی سرّ پنہاں ہیں پس جو ہماری ریسمان سے متمسک ہوجائے گا اور ہم سے وابستہ ہوجائے گا وہی نجات پائے گا۔
مہدی وہی خَلَف المنتظر "م، ح، م، د" ہیں
۳ ۔ کتاب مروج الذھب(۳) میں مفضل ابن عمر سے روایت کی گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے سید و سردار حضرت جعفر بن محمد امام صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ آپ اپنے بعد کے امام کا تعارف کرا دیجئے تو آنجنابؑ نے فرمایا: "یا مُفَضَّلُ، اَلۡاِمامُ مِنۡ بَعۡدی مُوسی، وَ الۡخَلَفُ الۡمُنۡتَظَرُ مُحَمَّدُ بن الۡحَسَنِ بن عَلیِّ بن مُحَمَّدِ بن عَلیِّ بن مُوسی "
اے مفضل! میرے بعد موسیٰ امام ہوں گے اور خلف منتظر وہی "م، ح، م، د" حسن بن علی بن محمد بن موسیٰ ہوں گے۔
مہدی موعود (عج)، خلف صالح و صاحب الزمان ہیں
۴ ۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی(۴) نے حافظ ابو نعیم کی چہل روایت میں سے حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)کے بارے میں روایت کی ہے کہ :"وَ مِنۡه َا (مِن الۡاَحادیثِ الَّتی اَخۡرَجَ اَبوُ نُعَیۡمِ فِی الۡمَه ۡدی عَجَّلَ الله فرجه ) عَنۡ اِبۡنِ الۡخَشابِ قالَ حَدَّثَنا صَدَقَةُ بن مُوسی، قال حَدَّثَنا اَبی عَنۡ عَلیِّ بن مُوسَی الرِّضا، ابۡنِ مُوسَی الۡکاظِمِ علیه ما السلام قالَ: اَلۡخَلَفُ الصّالِحُ مِنۡ وَلَدِ الۡحَسَنِ بن عَلیٍّ الۡعَسۡکَری، ه ُوَ صاحِبُ الزَّمانِ وَ ه ُوَ الۡمَه ۡدی
ابن خشاب نے صدقہ بن موسیٰ سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت علی ابن موسیٰ الرضا‘سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: خلف صالح (جانشین صالح) حسن بن علی العسکری‘ کے فرزند ہیں، وہ ہی صاحب الزمان ہیں، اور وہی مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)ہیں۔
اسم مہدی "م، ح، م، د" ہے، کنیت ابو القاسم ہے اور ان کی والدہ ماجدہ کا نام نرجسؑ ہے
۵ ۔ نیز شیخ سلیمان(۵) نے حافظ ابو نعیم سے حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں روایت کی ہے: "وَ مِنۡه َا (مِن الۡاَحادیثِ الَّتی اَخۡرَجَ اَبوُ نُعَیۡمِ فِی الۡمَه ۡدی عَجَّلَ الله فرجه ) عَنۡ اِبنِ الْخَشابِ حَدَّثَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الطَّاهِرُ بْنُ هَارُونَ بْنِ مُوسَى الۡکاظِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ سَيِّدِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، الْخَلَفُ الصَّالِحُ مِنْ وُلْدِي وَ هُوَ الْمَهْدِيُّ اسْمُهُ مُحَمَّد وَ كُنْيَتُهُ أَبُو الْقَاسِمِ يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُقَالُ لِأُمِّهِ نَرۡجِسُ وَ عَلَى رَأْسِهِ غَمَامَةٌ تُظِلُّهُ عَنِ الشَّمْسِ تَدُورُ مَعَهُ حَيْثُ ما دَارَ تُنَادِي بِصَوْتٍ فَصِيحٍ هَذَا الْمَهْدِی فَاتَّبِعوه ُ، سلَامُ الله ِ عَلَیۡه " ابو القاسم طاہر بن ہارون بن موسیٰ کاظم علیھم السلام نے اپنے والد ہارون سے انہوں نے اپنے جدِ بزرگوار امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آنجناب نے فرمایا: خلف صالح میری اولاد میں سے ہوں گے وہی مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہیں، ان کا نام "م، ح، م، د" ہے اور کنیت ابو القاسم ہے وہ آخرِ زمانہ میں خروج کریں گے، ان کی والدہ کا نام نرجس ہے، مہدی کے سر پر بادل سایۂ فگن ہوگا جو سورج کی تپش سے محروم رکھے گا، جہاں مہدی جائیں گے یہ ان کے سر پر ساتھ ساتھ ہوگا اور فصیح آواز میں ندا دے رہا ہوگا "یہ مہدی ہیں ان کی اتباع کرو" خدا کا سلام ہو ان پر۔
نکتہ: ہم اسی باب کی پہلی فصل میں روایت نمبر ۲۱ اور ۲۲ نقل کرچکے ہیں جو پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے اور اس میں حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے سر پر بادل کے سایہ کرنے کا تذکرہ کیا گیا ہے لہذا تفصیل کے لئے وہاں رجوع فرمائیں۔
مہدی موعود (عج)، امام حسن کی اولاد میں سے ہیں
۶ ۔ ابو داؤد نے اپنی کتاب سنن ج ۲ ، ص ۴۲۳ و ۴۲۴ کتاب المہدیؑ میں، ابوبکر بیہقی نے البعث و النشور میں اور یوسف بن یحیی مقدسی شافعی(۶) ،(۷) نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے: "وَ عَنۡ اَبی اِسۡحاق، قالَ: قالَ علَیٌّ علیه السلام، وَ نَظَرَ اِلی اِبۡنِه ِ الۡحَسَنِ فَقالَ : اِنَّ اِبۡنی ه ذا سَیِّدٌ کَما سَمّاه ُ رَسوُلُ الله ﷺ و سَیَخۡرُجُ مِنۡ سُلۡبِه رَجُلٌ یُسَمّی بِاِسۡمِ نَبیِّکُمۡ، یُشۡبِه ُه ُ فِی الۡخُلقِ وَلا یُشۡبِه ُه َ فیِ الۡخَلۡقِ، یَمۡلَأُ الۡاَرضَۡ عَدلاً"
ابو اسحاق سے روایت کی گئی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے فرزند حسن کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: بیشک میرا یہ بیٹا "سید" و "سردار" ہے جیسا کہ نبی کریمؐ نے اسے یہی نام عطا کیا ہے(۸) اور یاد رکھو اس کے صُلب سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے نبی کے نام جیسا ہوگا جو اخلاق میں اس (حسنؑ) سے بالکل مشابہ ہوگا لیکن خلقت (یعنی شکل و صورت) میں نہیں، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
نکتہ: امام محمد باقر کی والدہ، امام حسنؑ کی دختر نیک اختر ہیں(۹) ۔ لہذا اس لحاظ سے آپؑ حسنی بھی ہیں اور حسینی بھی اسی طرح تمام ائمہ علیھم السلام حسنی بھی اور حسینی بھی۔ پس بنابریں حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)، امیرالمؤمنین کے اس روایت شدہ فرمان کی روشنی میں امام حسن کی اولاد میں سے ہیں جو کہ اخلاق میں انہی کی مانند ہوں گے نہ کہ شکل و صورت میں۔
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)، پیغمبرؐ کے ہمنام ہیں اور تین ہزار فرشتے ان کی مدد کریں گے
۷ ۔ یوسف بن یحیی مقدس شافعی نے کتاب عقد الدّرر فی اخبار المنتظر(۱۰) باب سوم "فی عدلہ و حلیتہ، صفحہ نمبر ۶۴ پر حضرت علی بن ابی طالب‘ سے روایت کی ہے:
"وَ عَنۡ اَمِیر المؤمنینَ علیِّ بن ابیطالبٍ علَیه السَّلامُ، قالَ:اَلۡمَه دیُّ مَوۡلِدُه ُ بِالۡمَدینَةِ، مِنۡ اَه ۡلِبَیۡتِ النَّبیﷺ، وَ اِسۡمُه ُ اِسۡمُ نَبیّ، وَ مُه اجَرُه ُ بَیۡتُ الۡمَقۡدِسِ، کَثُّ اللِّحۡیَةِ، اَکۡحَلُ الۡعَیۡنَیۡنِ، بَرّاقُ الثَّنایا، فی وَجۡه ِه خالٌ، اَقۡنی، اَجۡلی، فی کَتِفِه عَلامَةُ النَّبی، یَخۡرُجُ بِرایَةِ النَّبیﷺمِنۡ مِرۡطٍ مُخۡمَلَةٍ، سَوۡداءَ مُرَبَّعَةٍ فیه ا حِجۡرٌ، لَمۡ تُنۡشَرۡ مُنۡذُ تُوُفِّیَ رَسُولُ الله ِﷺوَلا تُنۡشَرُ حَتّی یَخۡرُجَ الۡمَه ۡدِیُّ، یُمِدُّه ُ الله ِ بِثَلاثَةِ آلاف مِنَ الۡمَلائِکَةِ، یَضۡرِبوُنَ وُجُوه َ مَنۡ خالَفَه ُ وَ اَدۡبارَه ُمۡ، یُبۡعَثُ وَ ه ُوَ ما بَیۡنَ الثَّلاثینَ اِلی الۡاَرۡبَعینَ "
حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپؑ فرماتے ہیں: مہدی (عج) اس شہر میں پیدا ہوں گے، وہ اہل بیت نبیؐ سے ہوں گے، وہ نبی کریمؐ کے ہمنام ہوں گے، ان کا محل ہجرت "بیت المقدس" ہوگا، ان کی ریش مبارک بڑی ہوگی، ان کی آنکھوں میں قدرتی سُرمہ لگا ہوگا۔ ان کے دانت چمکدار ہوں گے، چہرے پر تل ہوگا، ناک لمبی ہوگی، پیشانی روشن ہوگی، ان کے دوش مبارک پر رسول اللہﷺ کی علامت و نشانی ہوگی، وہ پرچم نبیؐ لیکر خروج کریں گے، یہ پرچم پشم و مخمل کا ہوگا، سیاہ رنگ کا ہوگا اور اس کا اگلا حصہ مربع شکل ہوگا، یہ پرچم رسول اللہؐ کی وفات کے بعد سے آج تک کھلا نہیں ہے اور جب مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) خروج کریں گے تب ہی کھلے گا، خداوند عالم، مہدی موعود (عج) کی تین ہزار فرشتوں کے ذریعے مدد فرمائے گا(۱۱) ، یہ فرشتے حضرت مہدی (عج) کے مخالفین کی صورت و پشت پر تازیانے ماریں گے، جب مہدی (عج) خروج کریں گے تو اس وقت ان کی عمر مبارک ۳۰ اور ۴۰ کے درمیان معلوم ہوگی۔
نکتہ: یہ روایت ابو عبد اللہ نعیم بن حماد(۱۲) نے بھی نقل کی ہے۔
صلبِ حسن سے ایک شخص آئے گا جو پیغمبرؐ کا ہمنام ہوگا
۸ ۔ نیز روایت کرتے ہیں(۱۳) : "وَ عَنۡ اَبی وائِل، قالَ :نَظَرَ عَلیٌّ اِلَی الۡحَسَنِ‘، فَقالَ: اِنَّ اِبۡنی ه ذا سَیِّدٌ کَما سَمّاه ُ رَسولُ الله ﷺ، سَیَخۡرُجُ مِنۡ صُلۡبِه ِ رَجُلٌ بِاِسۡمِ نَبیِّکُمۡ، یَخۡرُجُ عَلی حین غَفۡلَةٍ مِنَ النّاسِ، وَ اِماتَةِ الۡحَقِّ وَ اِظۡه َارِ الۡجَوۡرِ وَ یَفۡرَجُ بِخُرُوجِه ِ اَه ۡلُ السَّماءِ وَ سُکّانُه ا وَ ه ُوَ رَجُلٌ اَجۡلَی الۡجَبینِ، اَقۡنَی الۡاَنفِ، ضَخۡمُ الۡبَطۡنِ، اَذبَلُ الۡفَخِذَیۡنِ، بِخَدِّه ِ الۡاَیۡمَنِ شاَمَّةٌ، اَفۡلَجُ الثَّنایا، یَمۡلَأُ الۡاَرضَ عَدۡلاً کَما مُلِئَتۡ ظُلۡماً وَ جَوۡراً "
ابو وائل نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آنجنابؑ نے امام حسن کی طرف نظر کرتے ہوئے فرمایا: بیشک میرا یہ بیٹا "سید و سردار" ہے جیسا کہ رسول اللہﷺ نے اسے اس نام سے یاد کیا ہے(۱۴) ۔ عنقریب اس کے صلب سے ایک شخص خروج کرے گا جو تمہارے نبی کا ہمنام ہوگا وہ ایسے عالم میں خروج کرے گا کہ لوگ غافل ہوں گے حق نابود ہو رہا ہوگا اور ظلم و جور کا دور دورہ ہوگا، اہل آسمان اس کے خروج سے خوشحال و مسرور ہوں گے، اس کی پیشانی روشن ہوگی، ناک لمبی، سینہ کشاد، سڈول و دبلا پتلا بدن، دائیں رخسار پر تِل ہوگا، سامنے کے دانت گشاد ہوں گے، وہ زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے پُر کر دگے گا جس طرح اس سے قبل ظلم و جور سے بھری ہوگی۔
بہشت میں پیغمبرؐ کے ہمراہ بارہ امام ہوں گے ان میں اول میں ہوں اور آخری قائم ہیں
۹ ۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی(۱۵) ،(۱۶) نے کتاب مناقب سے روایت کی ہے:
"وَ فِی الۡمَناقِبِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، قَالَ: جَاءَ يَهُود مِنْ يَهُودِ الْمَدِينَةِ الی عَلیٍّ کَرَّمَ الله ُ وَجۡه َه ُ، قَالَ إِنِّي أَسْئَلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ وَ عَنْ ثَلَاثٍ وَ وَاحِدَةٍ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ لِمَ لَا تَقُولُ أَسْئَلُكَ عَنْ سَبْع قَالَ أَسْئَلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ فَإِنْ أَصَبْتَ فِيهِنَّ سَئَلْتُكَ عَنِ الثَّلَاثِ الْآخَر فَإِنْ أَصَبْتَ فیه ِنَّ سَئَلْتُكَ عَنِ الْوَاحِدَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ مَا تَدْرِي إِذَا سَئَلْتَنِي فَأَجَبْتُكَ أَخْطَأْتُ اَمۡ اَصِبۡتُ، فَاَخۡرَجَ الۡیَه وُدیُّ مِن كُمِّهِ كِتَاباً عَتِيقاً قَالَ هَذَا وَرِثْتُهُ عَنْ آبَائِي وَ اَجْدَادِي عَن ه اروُنَ جَدّی إِمْلَاءَ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَ خَطُّ هَارُون بن عِمۡران علیه ما السلام وَ فِيهِ هَذِهِ الۡمَسۡأَلَةُ الَّتِي أَسْئَلُكَ عَنْهَا، قَالَ عَلِيٌّ إِنْ أَجَبْتُكَ بِالصَّوَابِ فِيهِنَّ لِتَسْلِم؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ اَسْلِمُ السَّاعَةَ عَلَى يَدَيْكَ اِنۡ اَجِبۡتَنی بِالصَّوابِ فیه ِنَّ، قَالَ لَهُ سَلْ، قَالَ: أَخْبِرْنِي عَنْ أَوَّلِ حَجَرٍ وُضِعَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، وَ عَنْ أَوَّلِ شَجَرَةٍ نُبِتَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، وَ عَنْ أَوَّلِ عَيْنٍ نُبِعَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، قَالَ: اََمَّا اَوَّلُ حَجَرٍ وُضِعَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، فَإِنَّ الْيَهُودَ يَزْعَموُنَ اَنَّهَا صَخْرَةُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَ كَذِبُوا وَ لَكِنۡ هُو الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ نَزَلَ بِهِ آدَمُ مِنَ الْجَنَّةِ فَوَضَعَهُ فِي رُكْنِ الْبَيْتِ وَ النَّاسُ يَتَمَسَّحُونَ بِهِ وَ يُقَبِّلُونَهُ وَ يُجَدِّدُونَ الْعَهْدَ وَ الْمِيثَاقَ لِاَنَّه ُ کانَ مَلَکاً فَصارَ حَجَراً، قَالَ الْيَهُودِيُّ صَدَقْتَ، قَالَ عَلِيٌّ وَ أَمَّا أَوَّلُ شَجَرَةٍ نُبِتَتْ عَلَى الْأَرْضِ، فَإِنَّ الْيَهُودَ يَزْعَموُنَ أَنَّهَا الزَّيْتُونَةُ وَ كَذِبُوا وَ لَكِنَّهَا نَخْلَةٌ مِنَ الْعَجْوَةِ نَزَلَ بِهَا آدَمُ مِنَ الْجَنَّةِ فَاَصْلُ كُلِّ النَّخۡلَةِ الْعَجْوَةِ، قَالَ الْيَهُودِيُّ صَدَقْتَ، قَالَ عَلِيٌّ کَرَّمَ الله ُ وَجۡه َه ُ: وَ أَمَّا أَوَّلُ عَيْنٍ نُبِعَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، فَإِنَّ الْيَهُودَ يَزْعَمُونَ أَنَّهَا الْعَيْنُ الَّتِي نَبَعَتْ کَانَتۡ تَحْتَ صَخْرَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَ كَذِبُوا وَ لَكِنَّهَا عَيْنُ الْحَيَاةِ الَّتِي نَسِيَ عِنْدَهَا صَاحِبُ مُوسَى السَّمَكَةَ الْمَالِحَةَ فَلَمَّا أَصَابَهَا مَاءَ الْعَيْنِ حُیِّیَتۡ وَ عَاشَتْ وَ شَرُبَتْ مِنۡه ُ فَاَتۡبَعَهَا مُوسَى وَ صَاحِبُهُ الْخَضِرُ علیه ما السلام، قَالَ الْيَهُوديُّ صَدَقْتَ، قَالَ عَلِيٌّ سَلْ عَنِ الثَّلاثِ الۡآخَرِ، قَالَ: اََخْبِرْنِي کَمۡ لِه ذِه ِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّها مِنْ اِمَامٍ، وَ أَخْبِرْنِي عَنْ مَنْزِلِ مُحَمَّدٍ اَيْنَ هُوَ فِی الْجَنَّةِ وَ اَخۡبِرۡنی مَنْ يَسْكُنُ مَعَهُ فِي مَنْزِلِهِ، قَالَ عَلِيٌّ : لِهَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْد نَبيِّها "اِثْنَا عَشَرَ إِمَاماً" لَا يَضُرُّهُمْ خِلَافُ مَنْ خَالَفَه ُمْ، قَالَ الْيَهُودِيُّ صَدَقْتَ، قَالَ: عَلِيٌّ : یَنْزِلُ مُحَمَّدٌﷺ فِی جَنَّةِ عَدْنٍ وَ هِيَ وَسَطُ الْجِنَانِ وَ اَعۡلاه ا وَ أَقْرَبُهَا مِنۡ عَرْشِ الرَّحْمَانِ جَلَّ جَلَالُهُ، قَالَ الۡیَه ُودیُّ صَدَقْتَ، قَالَ عَلِيٌّ : وَ الَّذِي يَسْكُنُ مَعَهُ فِي الْجَنَّةِ هَؤُلَاءِ الۡاَئِمَّة الۡاِثْنَا عَشَرَ "اَوَّلُه ُمۡ اَنا وَآخِرُنا القۡائِمُ الۡمَه ۡدیُّ (عج) " قَالَ صَدَقْتَ، قَالَ عَلِيٌّ : سَلْ عَنِ الۡوَاحِدَةِ، قالَ: اَخۡبِرۡنی كَمْ تَعِيشُ بَعْدَ نَبیِّکَ وَ هَلْ تَمُوتُ أَوْ تُقْتَلُ،قَالَ : اَعِيشُ بَعْدَهُ ثَلَاثِينَ سَنَةً وَ تَخْضِبُ هَذِهِ، اشَارَ بِلِحۡیَته ، مِنْ هَذَا، أَشَارَ بِرَأْسِهِ الشَّریف، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ وَ أَشْهَدُ أَنَّكَ وَصِيُّ رَسُولِ اللَّهِﷺ "
مناقب میں ابوطفیل ، عامر بن وائلہ سے روایت کی گئی ہے وہ کہتے ہیں: مدینہ کا رہنے والا ایک یہودی حضرت علی کرم اللہ وجھہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں آپؑ سے تین تین اور ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: یہ کیوں نہیں کہتے کہ مجھے آپؑ سے سات سوال کرنے ہیں؟ یہودی نے جواب دیا کہ میں آپ سے پہلے تین سوال کروں گا اگر آپ نے صحیح جواب عنایت کئے تو دوسرے تین سوال کروں گا اگر وہ بھی صحیح جواب مرحمت فرمائے تو پھر میں آخری سوال کروں گا۔
امام علی علیہ السلام نے سوال فرمایا کہ جب میں تمہیں جوابات دونگا تو تمہیں کیسے پتہ چلے گا کہ میرے جواب صحیح ہیں یا غلط ہیں؟
یہودی نے اپنی آستین سے ایک پرانی سی کتاب نکالی اور کہا: مجھے یہ کتاب میرے آباء و اجداد سے ارث میں ملی ہے اور یہ ہمارے جد ہارون سے ہمیں ورثہ میں ملی ہے۔ اوریہ جناب موسیٰ بن عمران نے انہیں املاء فرمائی تھی اور ہمارے جد ہارون (برادر موسیٰ) نے اسے لکھا تھا۔ اس میں ان تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں جو میں آپ سے کرنا چاہ رہا ہوں۔ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: تو پھر ٹھیک ہے اگر میں تمہارے سوالات کے صحیح جوابات دیدوں تو کیا تم مسلمان ہوجاؤ گے؟
یہودی نے کہا: خدا کی قسم اگر آپؑ نے میرے سوالات کے صحیح جوابات عنایت فرمائے تو میں ابھی اسی وقت آپؑ کے دست مبارک پر اسلام لے آؤں گا!
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: تو پھر سوال کرو۔
یہودی نے کہا: زمین پر رکھا جانے والا پہلا پتھر کونسا ہے؟ زمین سے اُگنے والا پہلا درخت کونسا ہے ؟ اور زمین سے پھوٹنے والا پہلا چشمہ کونسا ہے؟
حضرت علی علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: زمین پر سب سے پہلے رکھے جانے والے پتھر کے بارے میں یہودی گمان کرتے ہیں کہ وہ صخرۂ بیت المقدس ہے لیکن یہ بات غلط ہے بلکہ وہ پتھر حجر اسود ہے جو کہ حضرت آدم کے ساتھ بہشت سے آیا تھا اور بیت اللہ الحرام کے رکن میں نصب کردیا گیا ہے کہ لوگ اسے بوسہ دیتے ہیں اور مسح کرتے ہیں اور اس سے تجدید عہد و میثاق کرتے ہیں کیونکہ وہ پتھر بننے سے قبل ایک فرشتہ تھا پھر سنگ میں تبدیل ہوگیا۔
یہودی نے کہا: آپؑ نے بالکل سچ فرمایا۔ پھر امام علی علیہ السلام نے فرمایا: سب سے پہلے اُگنے والے درخت کے بارے میں یہودی گمان کرتے ہیں کہ وہ زیتون کا درخت ہے حالانکہ وہ خرمہ کا درخت ہے جو حضرت آدم اپنے ہمراہ بہشت سے لائے تھے اور اُسے اُگایا گیا تھا اور یہی بعد میں تمام درخت خرما کی اصل قرار پایا۔
یہودی نے کہا: صحیح فرمایا آپ نے۔
پھر امام علی علیہ السلام نے فرمایا: زمین سے پھوٹنے والے پہلے چشمہ کے بارے میں یہودی گمان کرتے ہیں کہ وہ صخرۂ بیت المقدس کے نیچے سے پھوٹنے والا چشمہ ہے، یہ بات غلط ہے حالانکہ پہلا چشمہ، چشمۂ حیات ہے جس کے نزدیک رفیق موسیٰ (یوشعؑ) اپنی نمک زدہ مچھلی بھول گئے تھے اور انہوں نے اسے اس چشمہ کے پانی میں پھینک دیا تھا کہ اچانک وہ مچھلی زندہ ہوگئی اور تیرنے لگی اور اس نے چشمہ کا پانی بھی پی لیا، موسیٰ و خضر‘نے اس مچھلی کا پیچھا کیا۔
یہودی نے یہ سن کر کہا: آپؑ نے بالکل صحیح فرمایا۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اب تم اپنے دوسرے تین سوال بیان کرو۔
یہودی نے کہا: یہ بتائیے امت میں ان کے نبیؐ کے بعد کتنے امام ہوں گے؟ جنت میں حضرت محمدﷺ کا مقام و مرتبہ بیان کیجئے ؟ اور یہ بتائیے کہ اس مقام و منزل میں ان کے ساتھ کون ہوگا؟
حضرت علی علیہ السلام نے جواب میں ارشاد فرمایا: اس امت میں نبیؐ کے بارہ امام ہوں گے جنہیں مخالفین کی مخالفت کوئی ضرور و نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔
یہودی نے کہا: آپؑ نے بالکل سچ فرمایا۔
پھر امام علی علیہ السلام نے فرمایا: حضرت محمد مصطفیؐ بہشت عدن میں ہوں گے جو کہ بہشت کے درمیان بلند ترین اور عرش الٰہی سے نزدیک ترین مقام پر واقع ہے۔
یہودی نے کہا: سچ فرمایا آپؑ نے۔
پھر امام علی علیہ السلام نے فرمایا: بارہ امام، نبی کریمﷺ کے ساتھ بہشت میں ہوں گے ان میں پہلا امام میں ہوں اور آخری قائم مہدیؑ ہوں گے۔
یہودی نے کہا: بالکل سچ فرمایا آپؑ نے۔
پھر امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اپنا ساتواں سوال بھی پیش کرو۔
یہودی نے کہا: پیغمبر اسلام کے بعد آپ کتنے سال جیئیں گے اور یہ بھی بتائیے کہ آپؑ کی موت طبیعی ہوگی یا شہادت کی موت ہوگی؟
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: میں پیغمبر اسلامﷺ کے بعد تیس سال زندہ رہوں گا اور ریش مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یہ خون سے خضاب ہوگی اورپھر سر مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یہ خون سے خضاب ہوں گے۔ (یعنی میرے سر پر ضرب لگے گی اور سر کے خون سے میری داڑھی رنگین ہوجائے گی)۔
یہ سن کر یہودی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہﷺ کے رسولؐ ہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپؑ ہی رسولؐ اللہ کے وصی اور جانشین ہیں۔
ناقابل انکار حقائق
محترم قارئیں کی نظر سے گذرنے والی اس روایت میں ایسے مہم اور قابل توجہ حقائق موجود ہیں جو یقیناً ناقابل انکار ہیں مثلاً:
۱ ۔ اہل سنت کی معتبر کتب میں یہ روایت مرقوم ہے یعنی علمائے اہل سنت نے اس کی تصریح فرمائی ہے لہذا ہمارے اوپر کوئی اشکال وارد نہیں کیا جاسکتا۔
۲ ۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس روایت کے مطابق تصریح فرمائی ہے کہ پیغمبرؐ کے بعد اس امت میں بارہ امام ہوں گے جن میں پہلا میں ہوں اور آخری قائم ہوں گے۔
۳ ۔ اہل تسنن، تمام صحابہ کرام کو مطلق طور پر عادل مانتے ہین تو پھر وہ اس حقیقت پر توجہ کیوں نہیں دیتے کہ حضرت علی علیہ السلام بھی تو اصحاب میں سے ہیں اور نبی کریمؑ کے چچا زاد بھائی اور اہلبیت علیھم السلام میں سے ہونے کے ساتھ ساتھ اہل سنت کے خلیفہ چہارم بھی ہیں اور روایت نبوی کی روشنی میں فاروق امت اور مدار حق ہیں کہ جہاں علی علیہ السلام ہیں وہاں حق ہے؟
کیا امام علی علیہ السلام نے خود نہیں فرمایا: "میں پہلا امام ہوں اور قائم آخری امام ہوں گے" تو پھر اہل سنت اس امر کو اپنا عقیدہ کیوں قرار نہیں دیتے؟ کیا یہ ان کے عقائد میں تناقض نہیں ہے کہ ایک طرف تو وہ حضرت ابوبکر ، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی علیہ السلام کو خلیفہ مانتے ہیں اور دوسری طرف اس جیسی دسیوں روایات سے غفلت برتتے ہیں کہ اس امت میں نبیؐ کے بعد بارہ امام ہوں گے پہلے حضرت علی اور آخری قائم مہدی (عج) ہوں گے؟!!
۴ ۔ اس روایت میں یہ عبارت "بَعد نَبِیِّہا؛ یعنی نبی کے بعد" ان لوگوں کی خلافت کو باطل قرار دے رہی ہے جنہوں نے حضرت علی علیہ السلام کو خلافت سے محروم کرکے اسے اپنالیا۔
۵ ۔ یہ حقیقت اتنی آشکار تھی کہ ذیل روایت یہودی کے مسلمان ہونے کی گواہی دے رہی ہے بلکہ شیعۂ امیرالمؤمنین بن کر شہادت دے رہا ہے کہ آپؑ ہی "وصی پیغمبر اسلام" ہیں۔
۶ ۔ یہودی کا اسلام لانا اور نبی کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی وصایت کی شہادت دینا اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ شیعہ پیغمبر گرامی قدر اور حضرت علی علیہ السلام کے زمانہ میں بھی موجود تھے برخلاف اہل سنت کہ ہم اسی کتاب کے آغاز میں ثابت کرچکے ہیں کہ اہل سنت دوسری صدی ہجری میں اہل حدیث کے ہاتھوں وجود میں آئے ہیں۔
۷ ۔ یہودی، حضرت علی علیہ السلام کی خدمت اقدس میں عرض کرتا ہے کہ ان سوالات کے جوابات اس کتاب میں موجود ہیں جو اسے اس کے اجداد اور جناب ہارون بن عمران سے ارث میں ملی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اجداد اور ہارون و موسیٰ جیسے انبیاء کو علم تھا کہ حضرت علی علیہ السلام پیغمبرؐ کی نظر میں منزلت ہارونی پر قائم ہیں۔ نیز انہیں اس بات کا بھی علم تھا کہ جس طرح نقباء بنی اسرائیل بارہ ہیں اس طرح اس امت میں بھی نبی کے بعد امام بارہ ہی ہوں گے جن میں پہلے امام علی علیہ السلام اور آخری قائم المہدی (عج) ہوں گے۔
نیز انہیں معلوم تھا پیغمبر اسلام کے بعد ان کا وصی تیس سال زندہ رہے گا اور اس کی ریش مبارک سر کے خون سے رنگین ہوگی۔
روایت جندل(۱۷) میں جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ، حضرت امام حسن و امام حسین کے نام توریت اور گذشتہ انبیاء کی کتابوں میں موجود تھے یعنی ایلیاء اور شبّر و شبیر۔
۸ ۔ اس روایت کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ شیعہ اثناء عشری کے عقائد کہ انکے پہلے امام، علی علیہ السلام اور آخری امام حضرت مہدی (عج) ہیں، برحق ہیں اور تہتّر فرقوں میں سے فرقہ ناجیہ شیعہ اثنا عشری ہی ہے۔(۱۸)
نکتہ: ہم نے اس باب کی پہلی فصل میں اہل سنت کی کتب سے دو روایات (روایت نمبر ۲۴ و ۲۵) نبی کریمؐ کے اوصیاء و خلفاء کے بارے میں نقل کی ہیں اور ابھی آپ کی خدمت میں کتاب ینابیع المودۃ سے بھی ایک روایت نقل کی ہے اور آئندہ "روایات اثنا عشریہ" کے تحت ان روایات کے تواتر اور حقائق کو محترم قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے انشاء اللہ ، واللہ المستعان۔
اسم مہدی، اسم پیغمبر اسلام ہے اور وہ اولاد فاطمہ زہرا سے ہوں گے
۱۰ ۔ یوسف بن یحیی مقدسی شافعی(۱۹) نے حضرت امیرالمؤمنین سے ایک طولانی روایت نقل کی ہے کہ جسے ہم یہاں اختصار کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔
" عَنۡ اَمیرِ الۡمُؤۡمِنینَ عَلیِّ بن اَبیطالِبٍ ، قالَ: … اَلا فَه ُوَ (اَی الۡمَه ۡدی (عج)) اَشۡبَه ُ خَلۡقِ الله ِ عَزَّوجلَّ بِرَسُولِ الله ِﷺ، وَ اِسۡمُه ُ عَلی اِسۡمِه ِ، وَ اِسۡمُ اَبیه ِ عَلی اِسۡمِ اَبیه ِ، مِنۡ وُلۡدِ فاطِمَةَ اِبۡنَةِ مُحَمَّدٍﷺ، منۡ وُلۡدِ الۡحُسَیۡنِ، اَلا فَمَنۡ تَوالَی غَیۡرَه ُ لَعَنَه ُ الله ُ ثُمَّ قال : فَیَجۡمَعُ الله ُ عَزَّوجَلَّ اَصۡحابَه ُ عَلی عَدَدٍ اَه ۡلِ بَدۡرٍ، وَ عَلی عَدَدِ اَصۡحابِ طالُوتَ، ثَلاثِمأَة وَ ثلاثَة عَشَرَ رَجُلاً، … ؛ ثُمَّ قالَ اَمیرُ الۡمُؤۡمِنینَ وَ اِنّی لَاَعۡرِفُه ُمۡ وَ اَعۡرِفُ اَسۡمَائَه ُم، ثُمَّ سَمّاه ُمۡ، وَ قالَ: ثُمَّ یَجۡمَعُه ُمُ الله ُ عَزَّوجَلَّ، مِنۡ مَطۡلَعِ الشَّمۡسِ اِلی مَغرِبِه ا فی اَقَلَّ مِنۡ نِصۡفِ لَیۡلَةٍ، فَیَأۡتُونَ مَکَّةَ، فَیُشۡرِفُ عَلَیۡه ِمۡ اَه ۡل مَکَّةَ فَلا یَعۡرِفوُنَه ُمۡ، فَیَقوُلَونَ: کَبَسَنا اَصۡحابُ السُّفیانی؛
فَاِذا تَجَلّی لَه ُمُ الصُّبۡحُ یَرَوۡنَه ُمۡ طائِعینَ مُصَلّینَ، فَیُنۡکِروُنَه ُمۡ، فَعِنۡدَ ذلِکَ یُقَیِّضُ الله ُ لَه ُمۡ مَنۡ یُعَرَّفُه ُمُ الۡمَه ۡدیَّ وَ ه ُوَ مُخۡتَفٍ، فَیَجۡتَمِعُونَ اِلَیۡه ِ، فَیَقُولُونَ لَه ُ: اَنۡتَ الۡمَه ۡدیُّ؟ فَیَقُولُ: اَنا اَنۡصاریُّ وَ الله ِ ما کَذِبَ، وَ ذلِکَ اَنَّه ُ ناِصرُ الّدینِ ؛ … وَ یَلۡحَقُه ُ ه ُناکَ ابۡنُ عَمِّه ِ الۡحَسَنیُّ فی اِثۡنی عَشَرَ اَلف فارِسٍ، فَیَقُولُ الۡحَسَنیُّ ه َلۡ لَکَ مِنۡ آیَةٍ فَنُباِیِعُکَ؟؛ فَیُؤۡمِیِ الۡمَه ۡدیُّ اِلَی الطَّیۡر، فَتَسۡقُطُ عَلی یَدِه ِ، وَ یَغۡرُسُ قَضیباً فی بُقۡعَةٍ مِنَ الاَرضِ، فَیَخۡضَرُّ وَ یُورِقُ، فَیَقُولُ لَه ُ الۡحَسَنیُّ : یَابۡنَ عَمّ ه ِیَ لَکَ، وَ یُسَلِّمُ اِلَیۡه ِ جَیۡشَه ُ؛ … فَیَسیرُ الۡمَه دیُّ بِمَنۡ مَعَه ُ، لا یُحۡدِثُ فی بَلَدٍ حادِثَةٍ اِلَّا الۡاَمۡنَ وَ الۡاَمانَ وَ الۡبُشۡری، وَ عَنۡ یَمینِه جِبۡریلُ، وَ عَن شِمآله میکائیلُ علیه ما السلام وَ النَّاسُ یَلۡحَقُونَه ُ مِنَ الآفاقِ ؛
وَ یَغۡضبُِ الله ُ عَزّوَجَلَّ عَلَی السُّفۡیانی وَ جَیۡشه ِ وَ یُغۡضِبُ سائِرَ خَلۡقِه عَلَیۡه ِمۡ حَتّی الطَّیۡرِ فِی السَّماءِ فَتَرۡمیه ِمۡ بِاَجۡنِحَتِه ا وَ اِنَّ الۡجِبالَ لَتَرۡمیه ِمۡ بِصُخُورِه ا، فَتَکُون وَقۡعَةٌ یُه ۡلِکُ الله ُ فیه ا جَیۡشَ السُّفۡیانی، وَ یَمۡضی ه ارِباً، فَیَأۡخُذُه ُ رَجُلٌ مِنَ الۡمَوالی اِسۡمُه ُ صبَاح، فَیَأۡتی بِه اِلَی الۡمَه دیّ ، و … ؛
وَ یَکوُنُ السُّفۡیانی قَدۡ جُعِلَتۡ عِمامَتُه ُ فی عُنُقِه وَ سُحِب، فَیُوقِفُه ُ بَیۡنَ یَدَیۡه ِ، فَیَقُولُ السُّفۡیانی لِلۡمَه ۡدی : یَابۡنَ عَمّی(۲۰) ،(۲۱) ، مُنَّ عَلَیَّ بِالحَیاةِ اکُونُ سَیۡفاً بَیۡنَ یَدَیۡکَ وَ اُجاه ِدُ اَعۡدائَکَ؛
وَ الۡمَه ۡدیُّ جالِسٌ بَیۡنَ اَصۡحابِه وَ ه ُوَ اَحیی مِنۡ عذراء، فَیَقُولُ : خُلُّوه ُ، فَیقوُلُ اَصۡحابُ الۡمَه ۡدی : یَابۡنَ بِنۡتِ رَسوُلِ الله ِ، تَمُنُّ عَلَیۡه ِ بِالۡحَیاةِ؟ وَ قَدۡ قَتَلَ اَوۡلادَ رَسُولِ الله ِﷺ، ما نَصۡبِرُ عَلی ذلِکَ؛
فَیَقُولُ : شَأنُکُمۡ وَ ایّاه ُ اِصۡنَعُوا بِه ما شِئۡتُم وَ یذبَحُه ُ، وَ یَاۡخُذُ رَأسَه ُ، وَ یَأتی بِه ِ الۡمَه ۡدی، فَیَنۡظُرُ شیعَتُه ُ اِلَی الرّأۡسِ فَیُکَبِّروُنَ وَ یُه َلِّلُون وَ یَحۡمَدُونَ الله تعالی علی ذلِکَ، ثُمَّ یَأۡمُرُ الۡمَه ۡدی بِدَفۡنِه "
حضرت علی بن ابی طالب‘ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: یاد رکھو! مہدی، رسول اللہ سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں گے (یعنی شبیہ رسولؐ ہوں گے، وہ پیغمبر اسلام کے ہمنام ہوں گے اور ان کے والد کا نام بھی پیغمبرؐ کے والد کے نام جیسا ہوگا(۲۲) ۔ مہدی (عج) حضرت فاطمہ بنت محمدؐ کی اولاد میں سے ہوں گے، وہ اولاد حسین سے ہوں گے۔ یاد رکھو! جو شخص بھی حضرت مہدی (عج) کے علاوہ کسی اور کو اپنا امام قرار دے گا خداوند اس پر لعنت کرے گا ۔
نیز فرمایا: بتحقیق میں ان تمام افراد کو جانتا پہچانتا ہوں اور ان کے نام تک مجھے معلوم ہیں یہ کہہ کر پھر آپ نے ان کے نام ذکر فرمائے۔
خداوند عالم ان ( ۳۱۳ اصحاب) کو (جو کہ) مشرق سے مغرب تک ہوں گے آدھی رات سے کم وقت میں یکجا کردے گا پس وہ سب کے سب مکہ میں داخل ہوں گے مکہ والے ان سے ملیں گے لیکن انہیں پہچانیں گے نہیں۔ اور کہیں گے کہ سفیانی لشکر نے ہم پر دباؤ ڈالا ہے۔
جب صبح نمودار ہوگی تو اہل مکہ دیکھیں گے کہ اصحاب مہدی (عج) نماز و اطاعت خداوندی میں مصروف ہیں لیکن مکہ والے انہیں پھر بھی نہیں پہچانیں گے۔ اس وقت خداوند عالم ایک شخص کو مامور کرے گا جو ان اصحاب سے حضرت کا تعارف کروائے گا کیونکہ مہدی (عج) اس وقت ان کے درمیان غیر معروف و غیر معلوم ہوں گے پس یہ اصحاب حضرت مہدی (عج) کی خدمت میں آئیں گے اور سوال کریں گے: کیا آپؑ ہی مہدی (عج) ہیں؟ حضرت مہدی (عج) فرمائیں گے: میں نصرت کرنے والوں میں سے ہوں۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا کی قسم مہدی (عج) ہرگز جھوٹ نہ بولیں گے بلکہ (مراد یہ ہے کہ) وہ دین خدا کی نصرت کرنے والے ہیں
ان کا ابن عم سید حسنی بارہ ہزار لشکر کے ہمراہ ان سے ملحق ہوگا۔ وہ سید حسنی ان سے کہے گا کہ آپ کے پاس کیا نشانی ہے کہ ہم آپؑ کی بیعت کریں؟ حضرت مہدی (عج) اس وقت ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے کو اشارہ کریں گے تو وہ انکے ہاتھ پر آکر بیٹھ جائے گا۔ سوکھی لکڑی اٹھا کر زمین میں گاڑ دیں گے تو فورا سر سبز ہوجائے گی۔
یہ دیکھ کر سید حسنی، حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) سے عرض کریں گے: اے پسر عمو! یہ تمام لشکر آپؑ کے اختیار میں ہے اور تمام لشکر امام کے اختیار میں دے دیں گے۔
پھر حضرت مہدی (عج) اپنے ہمراہیوں کے ساتھ ساتھ شہر بشہر آگے بڑھیں گے اور جس شہر سے بھی گذریں گے وہاں امن و امان قائم ہوجائے گا اور اہل شہر بشارت پائیں گے۔ حضرت مہدی (عج) کے دائیں جانب جبرئیل ہوں گے اور بائیں سمت میکائیل ہوں گے۔ اور دنیا بھر سے لوگ ان کے گرد جمع ہوجائیں گے ۔ اور (جب سپاہ مہدی (عج) و سپاہ سفیانی کا سامنا ہوگا تو) خداوند عالم سفیانی اور اس کے لشکر والوں پر اپنا غضب نازل کرے گا اور تمام مخلوقات الٰہی یہاں تک کہ آسمان کے پرندے بھی اپنے پروں سے ان پر (پتھر) برسائیں گے نیز پہاڑ بھی اپنے پتھر ان پر برسائیں گے۔ اس واقعہ میں خداوند عالم سفیانی لشکر کے تمام سپاہیوں کو ہلاک کردے گا اور سفیانی فرار ہوجائے گا۔
موالیان مہدی (عج) میں سے "صباح" نامی ایک شخص سفیانی کو گرفتار کرکے حضرت مہدی (عج) کے حضور پیش کردے گا جبکہ سفیانی کا عمامہ اس کے گلے میں لپٹا ہوگا اور اسے کشاں کشاں پھرا کر حضرت مہدی (عج) کے پاس لایا جائے گا۔ پھر وہ حضرت مہدی (عج) کے سامنے کھرے ہوکر کہے گا: اے پسر عمو! مجھ پر احسان کیجئے اور مجھے زندہ رہنے دیجئے، میں تیز دھار تلوار کی مانند آپ کی خدمت میں رہ کر آپ کے دشمنوں سے جنگ کرتا رہوں گا۔
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) اپنے اصحاب سے فرمائیں گے: اسے چھوڑ دو!
اصحاب عرض کریں گے: اے بنت نبیؐ کے لعل! کیا آپ اس پر احسان کرتے ہوئے اسے زندہ چھوڑ رہے ہیں جس نے اولاد رسولؐ خدا کو قتل کیا ہے۔ ہمارے لئے یہ بات ناقابل تحمل ہے۔
پس حضرت مہدی (عج) فرمائیں گے: ٹھیک ہے اسے لے جاؤ اور جو چاہو اس کے ساتھ رویہ اختیار کرو، جب سفیانی کا سر قلم کرکے حضرت مہدی (عج) کے حضور لائیں گے تو آپؑ کے چاہنے والے اس کا سر دیکھ کر با آواز بلند تکبیر، لا الہ الّا اللہ اور حمد الٰہی ادا کریں گے۔ پھر حضرت مہدی (عج)، سفیانی کو دفن کرنے کا حکم فرمائیں گے۔
حضرت مہدی (عج) کو مہدی (عج) کیوں کہتے ہیں؟
۱۱ ۔ یوسف بن یحیی مقدسی شافعی(۲۳) نے روایت نقل کی ہے:
"عَنْ جَابِر بۡنِ عَبۡدِ الله قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ عَلى اَبِي جَعْفَر مُحَمَّدِ بن عَلیٍّ الْبَاقِرِ علیه ما السلام، فَقَالَ لَهُ: اِقْبِضْ مِنِّي هَذِهِ الْخَمْسَمِأَة دِرْهَم، فَاِنَّهَا زَكَاةُ مَالِي فَقَالَ لَهُ أَبُو جَعْفَرٍ : خُذْهَا أَنْتَ فَضَعْهَا فِي جِيرانِكَ مِنْ أَهْلِ الْاِسْلَامِ وَ الْمَسَاكِينِ مِنْ اِخْوَانِكَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ قَالَ : اِذَا قَامَ مَه دیُّنا اَهْلَ الْبَيْتِ قَسَمَ بِالسَّوِيَّةِ، وَ عَدَلَ فِي الرَّعِيَّةِ، فَمَنْ أَطَاعَهُ فَقَدْ اَطَاعَ اللَّهَ وَ مَنْ عَصَاهُ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَ إِنَّمَا سُمِّيَ الْمَهْدِيُّ لِأَنَّهُ يُهْدَى إِلَى أَمْرٍ خَفِيٍّ "
جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی گئی ہے کہ ایک شخص حضرت امام محمد باقر کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا: آپؑ مجھ سے یہ پانچ سو درہم قبول کر لیجئے کہ یہ میرے مال کی زکات ہے۔ امام نے فرمایا: یہ پانچ سو درہم تم خود ہی اپنے پڑوسی مسلمان مساکین میں تقسیم کردو۔
پھر آپؑ نے فرمایا: جب ہم اہل بیت علیھم السلام میں سے مہدی (عج) قیام کریں گے تو وہ اموال کو مساوی تقسیم کریں گے اور لوگوں میں عدالت قائم کریں گے، پس جس نے بھی مہدی (عج) کی اطاعت کی گویا اس نے خداوند عالم کی اطاعت کی اور جس نے ان کی نافرمانی کی اس نے گویا خداوند عالم کی نافرمانی کی، اور انہیں مہدی (عج) اس لئے کہتے ہیں کہ انہیں مخفی امر کی ہدایت کی گئی ہے۔
یاد رکھو "حجۃ اللہ"، بیت اللہ کے نزدیک ظہور فرمائیں گے
۱۲ ۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی(۲۴) نے فرائد السمطین حموینی سے روایت نقل کی ہے:
"وَ فیه ِ عَنِ الۡحَسَنِ بن خالِد قالَ، عَلیُّ بن مُوسَی الرِّضا رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ: لا دینَ لِمَن لا وَرَعَ لَه ُ وَ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ الله ِ اَتۡقاکُمۡ ای اَعۡمَلُکُم بِالتَّقۡوی ثُمَّ قالَ اِنَّ الرَّابِعُ مِنْ وُلْدِي اِبْنُ سَيِّدَةِ الْإِمَاءِ يُطَهِّرُ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ مِنْ كُلِّ جَوْرٍ وَ ظُلۡمٍ وَ هُوَ الَّذِي يَشُكُّ النَّاسُ فِي وِلَادَتِهِ وَ هُوَ صَاحِبُ الْغَيْبَةِ فَإِذَا خَرَجَ أَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّه ا وَ وَضَعَ مِيزَانَ الْعَدْلِ بَيْنَ النَّاسِ فَلَا يَظلُمُ أَحَدٌ أَحَداً وَ هُوَ الَّذِي تَطْوى لَهُ الْاَرْض وَ لَا يَكُونُ لَهُ ظِلٌّ وَ هُوَ الَّذِي يُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ يَسْمَعُهُ جَمِيعُ أَهْلِ الْأَرْضِ أَلَا إِنَّ حُجَّةَ اللَّهِ قَدْ ظَهَرَ عِنْدَ بَيْتِ اللَّهِ فَاتَّبِعُوهُ فَإِنَّ الْحَقَّ فِيه ِ وَ مَعَهُ وَ ه ُوَ قَوۡلُ الله ِ عَزَّوَجَلَّ ( إِنْ نَشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ ) (شعراء/ ۴)"
فرائد السمطین میں حسن بن خالد سے روایت کی گئی ہے، وہ کہتے ہیں: علی بن موسیٰ الرضا فرماتے ہیں: جو شخص پرہیز گار نہیں اس کا کوئی دین نہیں اور تم میں جو صاحب تقویٰ ہے وہ اللہ کے نزدیک مکرم و محترم ہے یعنی اس کے اعمال تقویٰ کی بنیاد پر ہوں۔
پھر آپؑ نے فرمایا: میری چوتھی نسل کا بیٹا سیدۃ الاِماء کا فرزند ہوگا۔ خداوند عالم اس کے ذریعے زمین کو ظلم و جور سے پاک کردے گا، لوگ اس کی ولادت میں شک کریں گے، وہ صاحب غیبت ہے۔ پس جب وہ خروج کرے گا تو زمین پروردگار کے نور سے منور ہوجائے گی، لوگوں کے درمیان میزان عدل قائم ہوگا پھر کوئی کسی پر ظلم نہ کرسکے گا، زمین اس کے لئے سمٹ جائے گی (یعنی وہ طی الارض کرے گا)۔ اس کا سایہ نہ ہوگا، اس کے ظہور کے وقت منادی آسمان سے ندا دے گا جسے سب لوگ سنیں گے کہ آگاہ ہوجاؤ کہ بیت اللہ کے نزدیک حجۃ اللہ کا ظہور ہوچکا ہے، اس کی پیروی کرو کہ یہی مجسم حق ہے اور گویا وہ اس آیت کریمہ کا مصداق ہوگا: اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ایسی آیت نازل کر دیتے کہ ان کی گردنیں خضوع کے ساتھ جھک جائیں۔ (شعرا/ ۴)
مہدی موعود (عج)۔ خلف صالح ہیں اور ان کا نام "م، ح، م، د" ہے
۱۳ ۔ نیز روایت کرتے ہیں(۲۵) کہ حافظ ابو نعیم نے ابن خشاب سے کہ انہوں نے موسیٰ ابن جعفر سے روایت کی ہے؛ آپ فرماتے ہیں:
"اَلْخَلَفُ الصَّالِحُ مِنْ وُلْدِي وَ هُوَ الْمَهْدِيُّ اسْمُهُ مُحَمَّد وَ كُنْيَتُهُ أَبُو الْقَاسِمِ يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يُقَالُ لِأُمِّهِ صَیقَلُ وَ ه ُوَ ذُو الۡاِسۡمَینِ "خَلَفۡ وَ مُحَمَّد" يَظْهَرُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ "
خلف صالح میری اولاد میں سے ہے، وہی مہدی ہے اور اس کا نام "م، ح، م، د" ہے اور اس کی کنیت ابو القاسم ہے، وہ آخر زمانہ میں خروج کرے گا، ان کی والدہ کو "صیقل" کہتے ہیں، اس کے دو نام ہیں"خلف" اور "م، ح، م، د" وہ آخر زمانہ میں ظہور کرےگا۔
حجت آل ؑمحمدؐ، مہدی و قائم اہل بیت علیھم السلام
۱۴ ۔ ابو الحسن علی بن حسین صاحب مروج الذھب (متوفی ۳۳۳ ھ) نے کتاب اثبات الوصیہ(۲۶) میں علی بن محمد سندی کے حوالے سے حضرت ابو الحسن صاحب عسکر سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
"اَلۡخَلَفُ مِنۡ بَعۡدی اِبۡنی الۡحَسَنُ فَکَیۡفَ لَکُمۡ بِالۡخَلَفِ مِنۡ بَعۡدِ الۡخَلَفِ ؟ فَقُلۡتُ: وَ لِمَ جَعَلَنِیَ الله ُ فِداکَ ؟ فَقالَ : لَاَنَّکُمۡ لا تَرَوۡنَ شَخۡصَه ُ وَلا یَحِلُّ لَکُمۡ ذِکۡرُه ُ بِاسۡمِه ، قُلۡتُ: فَکَیۡفَ نَذۡکُرُه ُ ؟ قالَ: قوُلوُا: اَلۡحُجَّةُ مِنۡ آلِ مُحَمَّدٍ وَ الۡمَه ۡدی، وَ قائِمُ اَه ۡلِ الۡبَیۡت "
میرے بعد میرا بیٹا حسن میرا جانشین ہے، پس میرے جانشین کے جانشین کے ساتھ تمہارا رویہ کیسا ہوگا؟ میں نے عرض کیا: آپؑ ایسا سوال کیوں فرما رہے ہیں۔ امام ہادی نے فرمایا: کیونکہ تم اسے دیکھ نہ سکو گے اور تمہارے لئے اس کا نام لینا بھی جائز نہ ہوگا؟ میں نےعرض کیا: تو پھر ہم انہیں کس طرح یاد کریں ؟ فرمایا: تم اسے حجت آل محمدؑ، مہدی، اور قائم اہل بیت، کہا کرنا۔
نکتہ: اسی باب کی پہلی فصل کے آخر میں مسعودی کی روایت نقل کرچکے ہیں کہ انہوں نے امام ہادی سے مسنداً روایت کی ہے کہ زمانہ غیبت میں حضرت مہدی (عج) کا نام "م، ح، م، د" لینا جائز نہیں ہے۔
مہدی موعود (عج) خلف زکی فرزند حسن بن علی‘ ہے
۱۵ ۔ نیز انہوں(۲۷) نے ابو ا لحسن محمد بن جعفر اسدی سے انہوں نے احمد بن ابراہیم سے روایت کی ہے:
"دَخَلۡتُ عَلی خَدیجَة بِنۡتِ مُحَمَّدِ بن عَلیّ الرِّضا اُخۡتِ اَبی الۡحَسَنِ الۡعَسۡکَرِ فی سَنَةِ اِثۡنَیۡنِ وَ ستّین وَ مأَتَیۡنِ بِالۡمَدِینَةِ، فَکَلَّمۡتُه ا مِنۡ وَراءِ حِجاب وَ سَئَلۡتُه ا عَنۡ دینِه ا فَسَمَّتۡ لی مَن تَأَتَّمۡ بِه ِم ثُمَّ قالَتۡ: وَ الۡخَلَفُ الزَّکی اِبۡنُ الۡحَسَنِ بۡنِ عَلیّ اَخیِ، فَقُلتُ لَه ا :جَعَلَنِیَ الله ُ فِداکِ مُعایِنةً اَوۡ خَبَراً؟
فَقالَتۡ : خَبراً عَنۡ اِبۡنِ اَخی اَبی مُحَمَّد علیه السلام کَتَبَ بِه اِلی اُمِّه ِ، فَقُلۡتُ لَه ا : فَاَیۡنَ الۡوَلَدُ فَقَالَتۡ: مَستُورٌ (وَساقَ الحَدیث اِلی اَنۡ قالَ) ثُمَّ قالَتۡ اِنَّکُمۡ قَوۡمُ اَصۡحابِ اَخۡبارٍ وَ رِجالٍٍ وَ ثقاتٍ، اَما رَوَیۡتُمۡ اَنَّ التّاسِعَ مِنۡ وُلۡدِ الۡحُسَیۡنِ یَقسِمُ میراثه ُ وَ ه ُوَ حَیٌّ باقٍ؟ "
میں ۲۶۲ ھ میں مدینہ منورہ میں حضرت امام محمد تقی کی دختر نیک اختر اور امام ہادی کی خواہر عزیز جناب خدیجہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور پشت پردہ سے ہمکلام ہوا اور ان سے ان کے مذہب (یعنی مذہب اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں سوال کیا، آپؑ نے اپنے مذہب کے بارے میں کچھ تفصیلات و توضیحات بیان کیں پھر فرمایا: خلف زکی (مہدی موعود (عج)) میرے بھائی حسن بن علی کے فرزند امام حسن عسکری کے فرزند کا نام ہے۔ میں نے عرض کیا: جن کا آپؑ تذکرہ کر رہی ہیں کیا خود آپؑ نے بھی انہیں درک کیا ہے، یا صرف بعنوان خبر بیان کر رہی ہیں؟
آپؑ نے فرمایا: یہ خبر ہے جو میں نے اپنے بھتیجے ابو محمد (امام حسن عسکری ) سے سنی ہے، جس وقت انہوں نے اپنی والدہ کے لئے یہ خبر لکھی تھی تو میں نے اس وقت سوال کیا یہ خلف زکی کہاں ہے؟ والدہ نے فرمایا: پردۂ غیبت میں ہے (حدیث جاری ہے یہاں تک کہ راوی کا کہنا ہے کہ) پھر جناب خدیجہ نے فرمایا: بیشک تم اصحاب خیر و رجال میں سے ہو اور قابلِ اطمینان ہو۔ کیا یہ روایت نہیں کی گئی ہے کہ حسین کی اولاد میں نویں نسل میں مہدیؑ موعود ہوں گے اور وہ زندہ رہیں گے؟
نکتہ: حضرت خدیجہ بنت امام جواد محمد تقی ، حضرت فاطمہ معصومہ کریمہ اہل بیت علیھم السلام کی طرح امام کی بیٹی، امام کی بہن (خواہر امام ہادیؑ) اور امام حسن عسکری کی پھوپھی ہیں لہذا یہ بی بی پاک اہل بیت علیھم السلام میں سے ہیں اور یہ قانون ہے کہ "اَہلُ البیت اَدری بما فی البیت؛ یعنی جو کچھ گھر میں واقع ہوتا ہے وہ گھر والے ہی جانتے ہیں" لہذا یہ بی بی حضرت امام حسن عسکری کے گھر میں رونما ہونے والے واقعات سے کاملاً باخبر تھیں اور ناقابل بیان مقام و مرتبہ پر فائز تھیں۔ بنابرایں جب ہم آپؑ کے کلام و گفتار پر غور و فکر کرتے ہیں تو آپؑ نے سائل کے سوال کے مقابلے میں دو باتوں سے استناد کیا ہے:
۱ ۔ وہ خبر مکتوب کہ جسے امام حسن عسکری نے اپنی والدہ گرامی کے لئے تحریر فرمایا اور اس میں اپنی والدہ ماجدہ کو حضرت مہدی آل ؑمحمدؐ کی خبر دی ہے۔
۲ ۔ اہم خبر، جو کہ اس سلسلہ میں نبی کریمﷺ سے نقل ہوئی ہے اور ہم نے اسے پہلے باب میں "رسول خدا کی بشارتیں" کے عنوان کے زیر تحت بیان کیا تھا کہ آپ نے فرمایا: مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف ، حسین کی نویں نسل میں ہوں گے، ہم آئندہ روایات اثنا عشریہ کے ذیل میں خصوصیت کے ساتھ بیان کریں گے کہ آپؐ نے فرمایا: میرے بعد میرے بارہ جانشین ہوں گے، ان میں پہلے علی پھر حسن پھر حسین علیھم السلام اور آخری (جو کہ حسین کی نویں نسل میں ہیں) قائم ہوں گے۔
نکتہ: دلچسپ اور اہم بات جو کہ جناب خدیجہ کے بیان میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ آپؑ نے دوسرے استناد یعنی روایت نبوی کو "قطعی الصدور یعنی قطعی و یقینی خبر" مانا ہے اور اسے متفق علیہ روایت کے طور پر پیش کیا ہے اسی لئے آپؑ نے بطور سوال فرمایا: کیا نبی کریمؐ سے روایت نہیں کی گئی ہے کہ حسین کی نویں نسل میں آنے والا فرزند ہی مہدی موعود (عج) ہے؟
یعنی مطلب یہ ہے کہ یقیناً روایت کی گئی ہے اور تم ثقات و رجالِ روایات اور اصحاب خبر میں سے ہو۔ لہذا تم جانتے ہو کہ پیغمبر گرامی قدر نے یہ فرمایا تھا۔
نتیجہ:
ہم نے اس فصل میں کتب اہل سنت میں مرقوم روایات اہل بیت علیھم السلام میں سے ۱۵ روایات محترم قارئین کی خدمت میں پیش کی ہیں جن سے یہ نتیجہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
حضرت مہدی (عج) کا نام نبی کے نام "محمدؐ" جیسا ہے، آپؑ کی کنیت ابو القاسم و ابو عبد اللہ ہے، مذکورہ ۱۵ روایات میں آپ کے القاب یہ ہیں: خاتم الائمہ، منقذ الاُمہ، حجت اللہ، حجت آلؑ محمدؐ، خلف صالح، خلف زکی، صاحب الزمان، مہدی، قائم اہل بیت۔
اگر دونوں فصلوں کی تمام روایات یعنی ۴۰ روایات پر غور کیا جائے تو ان کی روشنی میں آپ کا نام پیغمبر گرامی قدر کے نام "محمد" و "احمد" جیسا ہے، کنیت ابو القاسم و ابو عبد اللہ ہے اور القاب یہ ہیں: مہدی، قائم (قائم اہل بیت، قائم مہدی)، حجت (حجت اللہ، حجت آل محمدؐ)، منتظر، خلیفۃ اللہ، صاحب الزمان، خلف صالح، خلفِ زکی، خاتم الائمہ، منقذ الاُمہ۔
پس مجموعاً دو اسم، دو کنیتیں اور ۱۴ القاب کتب اہل سنت میں ذکر کئے گئے ہیں۔
نکتہ: رسول اکرمؐ اور اہل بیت علیہم السلام سے نقل شدہ تمام روایات جن میں حضرت مہدی علیہ السلام کا نام ذکر کیا گیا ہے وہ اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ لقب منجی عالم بشریت جو کہ آخر زمانہ میں ظہور کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، "مہدی" ہے۔
حضرت مہدی (عج) کے اسم، کنیت اور لقب کے بارے میں علمائے اہل سنت کی تصریحات
۱ ۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی(۲۸) ، معروف عالم اہل سنت خواجہ محمد پارسا کی کتاب فصل الخطاب سے نقل کرتے ہیں: ائمہ اہل بیت عصمت و طہارت میں سے ایک "ابو محمد امام حسن عسکری " ہیں، جو ۲۳۱ ہجری بروز جمعہ ۶ ربیع الاول کو متولد ہوئے، اپنے والد بزرگوار (امام علی نقیؑ) کے بعد ۶ سال فریضہ امامت ادا کرنے کے بعد والد ماجد کے پہلو (سامرا) میں دفن کئے گئے۔ پھر لکھتے ہیں: "لَمۡ یُخَلّفۡ وَلَداً غَیۡرَ اَبیِ الۡقاسِمِ مُحَمَّدٍ الۡمُنۡتَظَرِ الۡمُسَمّی بِالۡقائِمِ وَ الۡحُجَّةِ وَ الۡمَه ۡدی وَ صاحِبِ الزَّمانِ وَ خاتَمِ الۡاَئِمَّةِ الۡاِثۡنا عَشَرَ عِنۡدَ الۡاِمامیَّةِ وَ کانَ مُولِدُ الۡمُنۡتَظَرِ لَیۡلَةَ النِّصۡفِ مِنۡ شَعۡبان سَنَة خَمسۡ وَ خَمۡسینَ وَ مِأۡتَیۡنِ، اُمُّه ُ اُمُّ وَلَد یُقالُ لَه ا نَرۡجِسُ توفّی اَبوُه ُ وَ ه ُوَ اِبۡنُ خَمۡس سِنینَ فَاخۡتَفی اِلَی الۡآن "
ابو القاسم محمد المنتظر کے علاوہ امام حسن عسکری کے کوئی بیٹا باقی نہ تھا انہی کو قائم، حجت، مہدی، صاحب الزمان، خاتم الائمہ اثنا عشر امامیہ کہتے ہیں۔
اس امام منتظر کی ولادت نیمہ شعبان ۲۵۵ ہجری میں ہوئی ہے، ان کی والدہ ماجدہ ام وَلَد ہیں اور انہیں نرجس کہا جاتا ہے۔ والد ماجد کی وفات کے وقت آپ کی عمر مبارک ۵ سال تھی اور آج تک آپ مخفی و پنہان ہیں۔
اس عالم اہل سنت کے کلام میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ آپ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے نام اس طرح بیان کر رہے ہیں یعنی: قائم، محمد، منتظر، حجت، مہدی، صاحب الزمان، خاتم الائمہ (شیعہ اثنا عشری کے مطابق) جبکہ ہم نے اس کتاب(۲۹) میں علمائے اہل سنت کی کتب سے پیغمبر اسلام کی نقل شدہ روایات بیان کی تھیں جن میں تصریح کی گئی ہے کہ رسول اللہ کے بارہ جانشین ہوں گے جو سب قریش اور بنی ہاشم سے ہوں گے اور ان میں آخری مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہوں گے۔ ہم اس سلسلہ میں روایات اثنا عشری کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
۲ ۔ ابن حجر ہیثمی مکی شافعی متوفی ۹۷۴ ہجری کے جن کا شمار اہل سنت کے متعصب ترین علماء میں ہوتا ہے، اپنی کتاب صواعق محرقہ میں امام حسن عسکری کے حالات کے ذیل میں رقمطراز ہیں:
"وَ لَم یُخَلّف غَیۡرَ وَلَدِه اَبِی الۡقاسِمِ مُحَمَّدٍ الۡحُجَّةِ وَ عَمۡرُه ُ عِنۡدَ وَفاتِ اَبیه ِ خَمۡسَ سِنینَ لکِن اَتاه ُ الله ُ فیه َا الۡحِکۡمَةَ وَیُسَمَّی الۡقائِمُ الۡمُنۡتَظَر لِاَنَّه ُ بِالۡمَدینَةِ وَ غاَبَ فَلَمۡ یُعۡرَفۡ اَیۡنَ ذَه َبَ "
ابو القاسم محمد الحجۃ کے علاوہ آنجناب کے کوئی فرزند نہ تھا جس کی عمر اپنے والد کے انتقال کے وقت صرف پانچ سال تھی لیکن خداوند عالم نے انہیں اس سن طفولیت میں حکمت عطا فرمائی تھی، اسی کو قائم اور منتظر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ غائب ہوگئے اور معلوم نہیں کہ کہاں گئے۔
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ابن حجر مکی تصریح کر رہے ہیں کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کو پانچ سال کی عمر میں اذن الٰہی سے علم لدنی یعنی حکمت الٰہی عطا ہوئی اور یہ خود شیعہ اثنی عشری مذہب کی حقانیت کی دلیل ہے۔
ابن حجر کی گفتار میں دوسرا نکتہ یہ ہے کہ یہ آنجناب کے نام بھی بیان کر رہے ہیں یعنی ابو القاسم، محمد، حجت، قائم اور منتظر نیز آنجناب کے غائب ہونے کی تصریح کر رہے ہیں اور یہ بات فریقین یعنی شیعہ و اہل سنت کی کتب میں نبی کریم ؐ و اہل بیت علیہم السلام سے نقل شدہ روایات کے عین مطابق ہے۔
۳ ۔ ابو المظفر یوسف شمس الدین سبط ابن جوزی متوفی ۶۵۴ ہجری معروف عالم اہل سنت اپنی کتاب تذکرۃ الخواص میں لکھتے ہیں:
"ه َوَ مُحَمَّدُبن الۡحَسَنِ بن عَلیِّ بۡن مُحَمَّدِ بن عَلیِّ بن مُوسَی الرِّضا بن جَعۡفَر بۡنِ مُحَمَّدِ بن عَلیّ بۡن الۡحُسَینِ بن عَلیّ بۡن اَبیطالب علیه م السلام وَ کُنۡیَتُه ُ اَبُو عَبۡدِ الله ِ وَ اَبُو الۡقاسِمِ وَ ه ُوَ الۡخَلَفُ الۡحُجَّةُ صاحِبُ الزَّمانِ الۡقائِمُ وَ الۡمُنۡتَظَرُ وَ التّالی وَ آخِرُ الۡاَئِمَّةِ، اَخۡبَرَنا عَبۡدُ الۡعَزیزِ بن مَحۡمُودِ بن الۡبَزّاز، عَنۡ اِبۡنِ عُمَر، قالَ، قالَ رَسولُ الله ﷺ: یَخُرُجُ فی آخِرِ الزَّمان رَجُلٌ مِنۡ وُلۡدی اِسۡمُه ُ کَاِسۡمی وَ کُنۡیَتُه ُ کَکُنۡیَتی یَمۡلَأُ الۡاَرۡضَ عَدۡلاً کَما مُلِئَتۡ جَوۡراً فَذلِکَ ه َوَ الۡمَه ۡدی، وَ ه ذا حَدیثٌ مَشۡه ُورٌ، وَ قَدۡ اَخۡرَجَ اَبُو داوُد عں الزُّه ری عَنۡ عَلیٍّ بِمَعۡناه ُ وَ فیه ِ: لَوۡ لَمۡ یَبۡقَ مِنَ الدَّه ۡرِ اِلّا یَوۡمٌ واحِدٌ لَبَعَثَ الله ُ مِنۡ اَه ۡلِ بَیۡتی مَنۡ یَمۡلَأُ الۡاَرضَ عَدلاً، وَ ذِکرُه ُ فی رِوایات کَثیرَة وَ یُقالُ لَه ُ ذُو الۡاِسۡمِیۡن مُحَمَّدُ وَ اَبُو الۡقاسِمِ، قالوُا اُمُّه ُ اُمُّ وَلَد یُقالُ لَه ا صَیۡقَلُ وَ قالَ السّدی یَجۡتَمِعُ الۡمَه ۡدی وَ عیسیَ بن مَرۡیَمَ فَیَجیءُ وَقۡتُ الصَّلاةِ فَیَقوُلُ الۡمَه ۡدی لِعیسی تَقَدَّم، فَیَقُولُ عیسی اَنۡتَ اَوۡلی بِالصَّلوه ِ فَیُصَلّی عیسی وَرائَه ُ مَأۡمُوماً "
وہ محمد بن حسن بن علی بن محمد بن علی بن موسیٰ الرضا بن جعفر بن محمد بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب علیھم السلام ہیں۔ ان کی کنیت ابو عبد اللہ و ابو القاسم ہے، یہی خلف، حجت، صاحب الزمان، قائم، منتظر، تالی، آخر الائمہ ہیں۔
عبد العزیز محمود بزاز نے عبد اللہ بن عمر سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: آخر زمانہ میں میری ذریت میں سے ایک شخص خروج کرے گا جس کا نام میرے نام جیسا ہوگا، اس کی کنیت میری کنیت جیسی ہوگی وہ زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح اس سے قبل وہ ظلم و جور سے بھری ہوگی، یاد رکھو یہی شخص مہدی (عج) ہوگا۔
یہ روایت جسے عبد اللہ بن عمر نے رسول اللہﷺ سے نقل کیا ہے مشہور و معروف حدیث ہے۔ نیز ابو داؤد نے زہری کے توسط سے حضرت علی علیہ السلام سے بھی اسی جیسی روایت نقل کی ہے، اس روایت میں آپؑ نے فرمایا: اگر دنیا کے تمام ہونے میں صر ف ایک دن ہی باقی رہ جائے گا تب بھی خداوند عالم میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ کثرت سے روایات میں وارد ہوا ہے کہ مہدی (عج) کے دو نام محمد اور ابو القاسم ہیں۔ ان کی والدہ ام ولد ہیں انہیں صیقل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
سدّی کہتے ہیں: مہدی (عج) و عیسیٰ بن مریم یکجا ہوں گے اور نماز کے وقت مہدی (عج) عیسیٰ سے کہیں گے آپ آگے آئیے اور جماعت کی امامت کیجئے۔ عیسیٰ عرض کریں گے: آج یہ منصب آپ ہی کے لئے سزوار ہے اور پھر عیسیٰ، مہدی (عج) کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے۔
نکات:
اول۔ محترم قارئین اگر اس عالم اہل سنت کی گفتار پر بغیر یہ دیکھے غور کریں کہ یہ کہنے والا کون ہے تو آپ ملاحظہ فرمائیں گے کہ یہ ان روایات کے عین مطابق ہے جو ہم نے ان دو ابواب میں کتب اہل سنت سے نقل کی ہیں۔ نیز شیعہ اثناء عشری کے عقائد کے مطابق بھی ہیں اور یہ شیعہ مذہب کے برحق ہونے کی واضح دلیل ہے کیونکہ ایک ایسا عالم جو اکثر علماء اہل سنت کی نظر میں قابل اطمینان ہی نہیں بلکہ بزرگ علماء اہل سنت میں شمار ہوتے ہیں؛ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا نسب ذکر کرنے کے بعد ان کے اسم و کنیت اور القاب کو اپنی مشہور کتب میں نقل شدہ روایات کی روشنی میں بیان کر رہے ہیں۔ ان کی یہ گفتار شیعہ اثنی عشری عقائد سے اتنی مطابقت رکھتی ہے کہ اگر کوئی شخص یہ نہ جانتا ہوں کہ یہ کس کا کلام ہے اور کس کی گفتار ہے تو وہ فورا یہ کہنے پر مجبور ہوجائے گا کہ گویا یہ کلام علامہ مجلسی ؒ جیسے کسی عالم کا کلام ہے۔
دوم۔ عالم اہل سنت خواجہ محمد پارسا (جن کا ذکر گذشتہ صفحات پر کر چکے ہیں) حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے القاب ذکر کرتے ہوئے کہتے ہین: "خاتم الائمہ اثنا عشر عند الامامیہ" یعنی شیعہ اثناء عشری کے نزدیک ایک لقب "خاتم الائمۃ " ہے۔
البتہ سبط ابن جوزی نے ایک لقب "آخر الائمہ" تسلیم کیا ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا ہے کہ یہ لقب شیعوں کے نزدیک ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ روایات میں تصریح موجود ہے کہ مہدی موعود (عج)، حسین کی نسل میں نویں فرزند، اور رسول اللہؐ کے بارہویں جانشین ہوں گے۔ خصوصاً روایات اثنا عشری(۳۰) میں یہ حقیقت بھرپور انداز سے آشکار ہے جو ہم آئندہ بیان کریں گے جیسا کہ گذشتہ صفحات پر کلمہ بعدی پر اشکال کے جواب میں مختصر توضیح دے چکے ہیں۔
سوم۔ سبط ابن جوزی اپنی کتاب میں بیان کر رہے ہیں کہ حضرت مہدی (عج) کا نام محمد اور کنیت ابو القاسم ہے انہوں نے آنجناب کے اس نام و کنیت کے بارے میں رسولؐ اکرم سے نقل شدہ روایت سے استناد کیا ہے اور حضرت مہدی (عج) کے یہ القاب بیان کئے ہیں: خلف، حجت، صاحب الزمان، قائم، منتظر، تالی، آخر الائمہ۔ پس آنجناب کے القاب میں سے ایک لقب "تالی" ہے جو کہ گذشتہ روایات میں نقل نہیں ہوا (پس مجموعی طور پر ۱۵ القاب نقل ہوئے ہیں)۔
چہارم۔ سبط ابن جوزی تصریح کر رہے ہیں کہ حضرت مہدی (عج) کی والدہ اُمّ ولد ہیں اور انہیں صیقل کہا جاتا ہے یہی نام شیعہ کتب مثلاً منتہی الآمال تالیف شیخ عباس قمی اور جلاء العیون تالیف علامہ مجلسی میں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت مہدی (عج) کی والدہ کے اسماء میں سے ایک نام "صیقل" بھی ہے۔
۴ ۔ معروف عالم اہل سنت جناب شیخ کمال الدین ابو سالم بن طلحہ شافعی متوفی ۶۵۲ ہجری صاحب کتاب معروف مطالب السئول فی مناقب آل رسول، اپنی دوسری کتاب الدّرر المنظم(۳۱) میں لکھتے ہیں:
"وَ اِنَّ لِله ِ تَبارَکَ وَ تَعالی خَلیفَةٌ یَخۡرُجُ فی آخِرِ الزَّمانِ وَ قَدۡ اُمۡتُلِأَتِ الۡاَرۡجُ جَوراً وَ ظُلۡماً فَیَمۡلَأُه ا قِسۡطاً و عَدۡلاً … وَ ه ذا اَلۡاِمامُ الۡمَه ۡدی اَلۡقائِمُ بِاَمۡرِ الله ِ یَرۡفَعُ الۡمَذاه ِبَ فَلا یَبۡقی اِلَّا الدّینُ الخالِصُ "
بتحقیق آخری زمانہ کے لئے خداوند عالم کا ایک ایسا خلیفہ ہے جو ظلم و جور سے بھری ہوئی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا اور وہ خلیفہ حضرت امام مہدی (عج) جو امر الٰہی کو قائم کریں گے اور تمام (باطل) مذاہب کو نابود کر دیں گے اور صرف خالص دین الٰہی ہی زمین پر نافذ ہوگا۔
محمد بن طلحہ شافعی اپنی کتاب مطالب السئول فی مناقب آل الرسول باب نمبر ۱۲ میں لکھتے ہیں:"اَلۡبابُ الثّانی عَشَرَ : فی اَبِی الۡقاسِمِ مُحَمَّدِ بن الۡحَسَنِ الۡخالِصِ بن عَلیٍّ الۡمُتوَکِّلِ بن مُحَمَّدٍ الۡقانِعِ بن عَلیٍّ الرَّضیِّ بن مُوسَی الۡکاظِمِ بن جَعۡفَرٍ الصّادِقِ بن مُحَمَّدٍ الۡباقِرِ بن عَلیٍّ زِیۡنَ الۡعابِدینَ بن الۡحُسَیۡنِ الزَّکیِّ بن عَلیٍّ الۡمُرۡتَضی اَمیرِ الۡمُؤۡمِنینَ بن ابیطالِبٍ، اَلۡمَه ۡدیِ الۡحُجَّةِ الۡخَلَفِ الصّالِحِ المُنۡتَظَرِ وَ رَحۡمَةُ الله ِ وَ بَرکاتُه ُ " یعنی بارہواں باب ابو القاسم محمد بن حسن الخالص (عسکری) بن علی متوکل (ہادی) بن محمد قانع (جواد) بن علی رضا بن موسیٰ کاظم بن جعفر صادق بن محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین زکی بن علی مرتضی امیرالمؤمنین بن ابی طالب‘ کے بارے میں ہے جن کے القاب یہ ہیں: مہدی (عج)، حجت، خلف صالح اور منتظر رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
۵ ۔ سید مؤمن بن حسن (مؤمن شبلنجی) متوفی ۱۲۹۱ ہجری اپنی معروف کتاب "نور الابصار فی مناقب آلِ بیت النبی المختار" باب نمبر ۲ ، صفحہ نمبر ۱۵۲ میں لکھتے ہیں: "فَصۡلٌ : فی ذِکۡرِ مَناقِبِ مُحَمَّدِ بن الۡحَسَنِ الۡخالِصِ بن عَلیٍّ الۡه ادی بن مُحَمَّدٍ الۡجَوادِ بن عَلیٍّ الرَّضیِّ بن مُوسَی الۡکاظِمِ بن جَعۡفَرٍ الصّادِقِ بن مُحَمَّدٍ الۡباقِرِ بن عَلیٍّ زِیۡنَ الۡعابِدینَ بن الۡحُسَیۡنِ بن عَلیٍّ بۡنِ اَبیطالِبٍ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُمۡ اَمُّه ُ اُمُّ وَلَد یُقالُ لَه ا نَرۡجِسُ وَ قیلَ صَیۡقَلُ وَ قیل سُوسَنُ وَ کُنۡیَتُه ُ اَبُو الۡقاسِمِ وَ لَقَّبَه ُ الۡاِمامِیَّةُ بِالحُجَّةِ وَ اَلۡمَه ۡدیِ وَ الۡقائِمِ وَ الۡمُنۡتَظَرِ وَ صاحِبِ الزَّمانِ وَ اَشۡه َرُه ا الۡمَه ۡدی "
کتاب کی یہ فصل محمد بن حسن الخالص بن علی الہادی، بن محمد الجواد بن علی الرضا بن موسی کاظم بن جعفر صادق بن محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی بن ابی طالب علیھم السلام کے مناقب میں ہے، ان کی والدہ امّ ولد ہیں اور انہیں نرجس، صیقل اور سُوسَن کہا جاتا ہے، آپ کی کنیت ابو القاسم ہے اور امامیہ والے انہیں حجت، مہدی، قائم، منتظر اور صاحب الزمان کے القاب سےیاد کرتے ہیں کہ ان میں مشہور ترین لقب "مہدی" ہے۔
نکتہ: جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا یہ عالم اہل سنت جب حضرت مہدی (عج) کے القاب کا تذکرہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ امامیہ نے انہیں حجت، مہدی، قائم، منتظر اور صاحب الزمان القاب دیئے ہیں حالانکہ:
اولاً: ہم نے اب تک علمائے اہل سنت کی متعد کتب کا تذکرہ کیا ہے جن میں صراحت کے ساتھ حضر ت مہدی موعود کے القاب بیان کئے گئے ہیں بلکہ بعض بہت سے علمائے اہل سنت نے تو ان القاب کی باقاعدہ تصریح فرمائی ہے۔
پس اگر کوئی منصف مزاج کتب اہل سنت میں حضرت مہدی (عج) موعود کے نام، کنیت اور لقب کے بارے میں نقل شدہ روایات کی جانچ پڑتال کرے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ حضرت مہدی(عج) موعود کو یہ القاب امامیہ نے نہیں دیئے ہیں بلکہ نبی کریمؐ اور اہل بیت اطہار علیھم السلام نے عطا کئے ہیں۔
ثانیاً: اگر یہ القاب صرف امامیہ ہی کے نزدیک ہیں تو پھر بزرگ علمائے اہل سنت نے اپنی کتابوں کے نام ان القاب پر کیوں رکھے ہیں۔ مثلاً:
البیان فی اخبار صاحب الزمان، تالیف محمد بن یوسف گنجی شافعی متوفی ۶۵۸ ۔
عقد الدرر فی اخبار المنتظر، تالیف یوسف بن یحیی مقدسی شافعی، ساتویں صدی ہجری کے بزرگ عالم اہل سنت۔
مناقب المہدی ، تالیف حافظ ابو نعیم اصفہانی۔
تلخیص البیان فی اخبار مہدی آخر الزمان، تالیف ملا علی متقی ہندی، متوفی ۹۷۵ ہجری۔
نکتہ:مؤمن شبلنجی نے امام زمانہ کی والدہ ماجدہ کے یہ نام بیان کئے ہیں:نرجس، صیقل، سوسن۔
۶ ۔ ابو الولید ، محمد بن شحنۂ حنفی اپنی کتاب تاریخ "روضۃ المناظر فی اخبار الاوائل و الاواخر(۳۲) ، جلد نمبر ۱ ، ص ۲۹۴ پر رقمطراز ہیں: "وَ وُلِدَ لِه ذَا الۡحَسَن، (یعنی اَلۡحَسَنَ الۡعَسۡکَری ) وَلَدُه ُ الۡمُنۡتَظَر ثانی عَشَرَه ُمۡ وَ یُقالُ لَه ُ الۡمَه ۡدی وَ الۡقائِمُ وَ الۡحُجَّةُ وَ مُحَمَّدُ، وُلِدَ فی سَنَةِ خَمۡسَ وَ خَمۡسینَ وَ مِأَتَیۡنِ "
حسن عسکری کے یہاں ان کے فرزند منتظر کی ولادت ہوئی جو ائمہ اہل بیت علیھم السلام میں سے بارہویں ہیں، انہی کو مہدی (عج)، قائم، حجت، محمد کہا جاتا ہے۔ ان کی ولادت با سعادت ۲۵۵ ہجری میں ہوئی ہے۔
____________________
۱ ۔چند صفحے قبل "دو چیزیں ممنوع ہیں" کے عنوان کے تحت بیان کرچکے ہیں کہ زمانۂ غیبت میں حضرت مہدی (عج) کا نام "م، ح، م، د" ذکر کرنا ممنوع ہے۔
۲ ۔معروف عالم اہل سنت جناب علاء الدین علی بن حسام الدین، المعروف بہ متقی ہندی متوفی ۹۷۵ ھ، کتاب البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان، باب۳، بنابر نقل از منتخب الاثر، آیت اللہ صافی، طبع۱، موسسۂ حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا ، فصل۲، باب۳، ص ۲۳۷۔
۳ ۔ابو الحسن علی بن حسین مسعودی، صاحب مروج الذھب، متوفی ۳۳۳ھ، کتاب اثبات الوصیہ، بنابر نقل از مہدی قائم، عماد زادہ، طبع۶، انتشارات قائم، ۱۸۴۔
۴ ۔ینابیع المودۃ، باب۹، ص ۴۹۱، طبع۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۵ ۔ایضاً۔
۶ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، باب۱، "فی بیان انہ من ذریّہ رسول اللہ و عترتہ" ص ۴۵ و باب ۲ فی اسمہ و خلقہ و کنیتہ، ص ۵۵۔
۷ ۔نکتہ: عقد الدّرر کے صفحہ ۴۵ پر نقل شدہ روایت اور ص ۵۵ پر نقل شدہ روایت میں مختصر اختلاف پایا جاتا ہے، ص ۵۵ پر جملہ رسول اللہ کے بجائے نبی آیا ہے اور جملہیَملأ الارض عدلاً بھی موجود نہیں ہے۔
۸ ۔قال رسول اللہ: الحسن و الحسین سَیِّدا شباب اہل الجنّۃ۔
۹ ۔امام زین العابدین کی شادی امام حسن کی دختر نیک اختر فاطمہ بنت حسنؑ سے ہوئی جو امام باقر کی والدہ قرار پائیں لہذا امام باقر پہلے امام ہیں جو حسنی بھی ہیں اور حسینی بھی۔
۱۰ ۔ناشر: مسجد مقدس جمکران، سا ۱۴۲۵ ھ۔
۱۱ ۔جیسا کہ صدر اسلام میں جنگ بدر کے موقع پر خداوند عالم نے تین ہزار فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد فرمائی تھی جس کا تذکرہ سورہ آل عمران آیات ۱۲۳ و ۱۲۴ میں موجود ہے۔
۱۲ ۔الفتن، ص ۱۰۱، "فی صفۃِ المہدی"۔
۱۳ ۔عقد الدرر، باب۳، فی عدلہ و حلیتہ، ص ۶۵، ناشر: مسجد مقدس جمکران، ۱۴۲۵ ھ۔
۱۴ ۔رسول اکرمؐ نے فرمایا: الحسن و الحسین ‘سَیِّدا شباب اَہلِ الجنۃ؛ یعنی حسن و حسین وجوانان جنت کے سردار ہیں۔
۱۵ ۔ینابیع المودۃ، باب۷۶، صفحۃ ۴۴۳، طبع۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۱۶ ۔مرحوم شیخ صدوق نے کمال الدین، ج۱، ص ۵۴۷، حدیث ۳، باب ۲۶ میں بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
۱۷ ۔اسی باب کی پہلی فصل کی ۲۴ ویں روایت۔
۱۸ ۔جیسا کہ پہلی فصل (رسول خداؐ کی بشارتیں) کی روایت نمبر ۱۲ میں ذکر کر چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم روایات اثنا عشری کے ذیل میں تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
۱۹ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، باب۴، فیما یظہر من الفتن الدالۃ علی ولایتہ، ص ۱۲۶۔
۲۰ ۔استاد عماد زادہ اپنی کتاب "زندگانی صاحب الزمان" میں رقمطراز ہیں: سفیانی ایک بد صورت انسان ہے جس کا سر بڑا ہے، آنکھیں نیلی ہیں، اس کا نام عثمان ہے اس کے باپ کا نام عتبہ یا غتبہ یا عَنبثہ ہے وہ ابو سفیان بن حرب کی اولاد سے ہے۔ اسے سفیان بن حرب اور سفیان بن قیس بھی کہتے ہیں۔
۲۱ ۔اسی روایت میں امیرالمؤمنین فرماتے ہیں: وہ شخص حرب بن عنبثہ بن مرّۃ بن کلب بن سلمہ بن یزید بن عثمان بن خالد بن "یزید بن معاویہ بن ابی سفیان" بن صخر بن حرب بن امیہ بن عبد شمس ہے (عبد شمس و ہاشم دونوں جڑواں بھائی تھے) وہ آسمان و زمین میں ملعون ہے، اس کا باپ شرّی ترین مخلوق خدا ہے، اس کا دادا ملعون ترین ملعون اور وہ خود ظالم ترین مخلوق خدا ہے۔ (عقد الدرر، باب۴، ص ۱۲۸)۔
۲۲ ۔روایت کا یہ جملہ "ان کے والد کا نام نبیؐ کے والد کے نام جیسا ہوگا، عمداً یا اشتباھاً راوی سے اضافہ ہوگیا ہے۔ تفصیل کے لئے دوسرے باب کی پہلی فصل کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔
۲۳ ۔عقد الدرر فی اخبار المنتظر، باب۳، ص ۶۶، مسجد مقدس جمکران، ۱۴۲۵ ھ۔
۲۴ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۸، ص ۴۴۸، طبع۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۲۵ ۔ینابیع المودۃ، ص ۴۹۱، بنا بر نقل از "مہدی قائم" تالیف عماد زادہ، طبع۶، انتشارات قائم، ص ۱۷۸۔
۲۶ ۔بنابر نقل از "مہدی قائم" عماد زادہ، انتشارات قائم، ص ۱۸۱۔
۲۷ ۔بنابر نقل از منتخب الاثر، آیت اللہ صافی ، ناشر : سیدۃ المعصومہ، ۱۴۱۹ھ، ص ۲۹۶، روایت ۳۔
۲۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۹، ص ۴۵۱، طبع ہشتم، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵۔
۲۹ ۔کلمہ بعدی کے بارے میں اشکال کے جواب میں بیان کیا تھا کہ روایات اثنا عشری سے استناد کیا تھا۔
۳۰ ۔کتب اہل سنت میں تواتر کے ساتھ ۲۰ اسناد کے مطابق رسولؐ اللہ نے فرمایا: میرے بارہ جانشین ہوں گے، بعض روایات میں ہے کہ "کُلّہم من قریش" بعض میں ہے "کلّہم من بنی ہاشم" بعض میں ہے کہ ان میں پہلے علی علیہ السلام اور آخری مہدی (عج) ہوں گے۔
۳۱ ۔بنابر نقل از ینابیع المودۃ، باب ۶۸، ص ۴۱۰، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۳۲ ۔مروج الذھب، طبع مصر، ۱۳۰۳ ھ کے حاشیہ پر طبع شدہ۔
تتمۂ باب دوم
رسول خداﷺ اور حضرت مہدی موعود (عج) میں بیس شباہتیں
جیسا کہ محترم قارئین نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ اہل سنت کی نقل کردہ روایات اور علمائے اہل سنت کی تصریح کی روشنی میں حضرت مہدی (عج) کا نام و کنیت حضور سرور کائنات کے نام و کنیت "محمد" و "ابو القاسم" جیسا ہے لہذا اسی مناسبت سے ہم یہ مناسب سمجھ رہے ہیں کہ نبی کریمؐ اور حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے درمیان موجودہ شباہتیں آپ کی خدمت میں بیان کردی جائیں۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ شباہتیں کہ جنکی تعداد بیس ہے، یہ تمام شباہتیں اہل سنت کی کتب میں مرقوم روایات سے ماخوذ ہیں:
۱ ۔ نام میں شباہت
نبی کریمﷺ کا نام مبارک "احمدو محمد" ہے اسی طرح حضرت مہدی ع موعود کا نام مبارک بھی "احمد و محمد" نقل ہوا ہے؛ اور روایات اس بات پر دلالت کر رہی ہیں۔
۲ ۔ کنیت میں شباہت
نبی کریمﷺ کی کنیت ابو القاسم ہے اور حضرت مہدی صاحب الزمان کی کنیت بھی "ابو القاسم" ہے جیسا کہ دوسرے باب میں مرقوم روایات اس امر پر دلالت کر رہی ہیں۔
۳ ۔ عمل میں شباہت
نبی کریمؐ نے نزول وحی کے خاطر جنگ کی ہے جیسا کہ متعدد روایات سے یہ بات واضح ہے مثلاً خود اس کتاب کے پہلے باب کی پہلی فصل میں مرقوم پہلی روایت کے مطابق پیغمبر اکرمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:اَنتَ تُقاتِلُ علیٰ التاویل کما قاتَلۡتُ عَلی التنزیل ؛ یعنی اے علی علیہ السلام تم ان لوگوں سے جنگ کرو گے جو قران کے معنی میں تاویل کرنا چاہتے ہیں جس طرح میں نے نزول وحی کی خاطر جنگ کی ہے۔ اور حضور ؐ کی بعض جنگیں مثلاً بدر و احد اور احزاب اسی بنیاد پر ہوئی تھیں ورنہ مشرکین قران و اسلام کا کوئی اثر باقی نہ چھوڑتے۔
یہی بات حضرت مہدی موعود (عج) میں بھی صادق آتی ہے؛ اس شباہت کے ساتھ کہ رسول گرامی قدر نے نزول وحی کی خاطر جنگ کی تھی اور حضرت مہدی (عج) موعود دین خالص کے خاطر جنگ کریں گے جیسا کہ متعدد روایات سے یہ حقیقت روشن ہے مثلاً وہ روایات جو بیان کر رہی ہیں کہ آسمانی آواز سب کو سنائی دے گی کہ مہدی خلیفۃ اللہ ہیں پس سب ان کی اتباع و پیروی کرو۔
نیز جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ محمد بن طلحہ شافعی نے کتاب الدر المنظم میں آنجناب کے اسم و لقب کے سلسلہ میں تصریح کی ہے کہ : "وَ ه ذَا الۡاِمامُ الۡمَه دی اَلۡقائِمُ بِاَمۡرِ الله ِ یَرۡفَعُ الۡمَذاه ِبَ فَلا یَبۡقی اِلّا الدّینُ الخالِصُ" یعنی اور یہ خلیفہ وہی امام مہدی ہوں گے جو امر الٰہی کو قائم کریں گے، تمام مذاہب کو نابود کر دیں گے اور زمین پر صرف خالص دین الٰہی باقی بچے گا۔
ہم نے پہلے باب کی پہلی فصل میں روایت نمبر ۳۷ نبی کریمؐ سے نقل کی ہے کہ مہدی موعود(عج) دین کو دوبارہ نزول قران کے زمانہ کی طرح اس کی اصلی و حقیقی شکل میں پلٹا دیں گے؛ اور زمین پر صرف لا الہ الّا للہ کہنے والے ہی بچیں گے۔ پہلے باب کی پہلی فصل روایت ۳۱ میں حضورؐ نے فرمایا: مہدی میری عترت میں سے ہیں وہ میری سنت کے لئے جنگ کریں گے جس طرح میں نے وحی کے لئے جنگ کی ہے۔
۴ ۔ خاتمیت میں شباہت
قران کریم کی تصریح کے مطابق حضور سرور کائنات خاتم الانبیاء ہیں (احزاب / ۴۰) اور علمائے اہل سنت کی تصریح (جیسا کہ چند صفحہ قبل بیان کیا گیا) نیز باب دوم کی دوسری فصل میں ائمہ اطہار کی تصریح کے مطابق اور اہل سنت کی کتب (مثلاً شیخ سلیمان کی ینابیع المودہ باب ۷۷) میں روایات نبوی (مثلاً روایات اثنا عشریہ) کی روشنی میں مہدی موعود (عج) خاتم الائمہ ہیں۔ روایات اثنا عشریہ کے متواتر ہونے کے بارے میں ہم علیحدہ سے تفصیلاً گفتگو کریں گے۔
۵ ۔ سایہ نہ ہونے میں شباہت
روایات و تاریخ انبیاء اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ رسولؐ گرامی قدر کا "سایہ" نہ تھا اور اسی طرح ہم نے پہلے باب کی دوسری فصل میں روایت نمبر ۳ میں نقل کیا ہے کہ امام رضا نے حضرت مہدی (عج) کے بارے میں فرمایا: "ه ُوَ الَّذی تَطۡوی لَه ُ الۡاَرضُ وَ لا یَکُونَ لَه ُ ظِلٌّ " یعنی مہدی وہی ہے کہ زمین ان کے لئے سمٹ جائے گی اور ان کا سایہ بھی نہ ہوگا۔
نیز دوسرے باب کی دوسری فصل روایت نمبر ۱۲ میں حسن ابن خالد کے حوالے سے کلمات امام رضا علیہ السلام مفصل تر بیان کئے گئے امام نے اس میں بھی تصریح فرمائی ہے کہ "مہدی" کا سایہ نہ ہوگا۔
۶ ۔ اخلا ق میں شباہت
روایات نبوی کے مطابق اخلاق مہدی موعود (عج)، نبی کریمؐ کے اخلاق کے مطابق ہے جیسا کہ پہلے باب کی پہلی فصل روایات نمبر ۲۲ اور ۳۷ میں حضور ؐ نے فرمایا:
"اِسۡمُه ُ اِۡسمی وَ خُلۡقُه ُ خُلۡقی " مہدی کا نام میرے نام جیسا ہے اور ان کا اخلاق بھی میرے اخلاق جیسا ہے۔
نیز پہلے باب کی دوسری فصل روایت نمبر ۱۲ میں حضرت علی علیہ السلام نے رسول اکرمﷺسے روایت کی ہے کہ فرمایا: "وَ ه ُوَ اَشۡبَه ُ النّاسِ بی خَلۡقاً وَ خُلۡقاً "؛ "مہدی" خلقت (شکل و صورت) اور اخلاق میں سب سے زیادہ مجھ سے مشابہ ہیں۔
۷ ۔ طہارت میں شباہت
جیسا کہ کتب اہل سنت میں نقل شدہ روایات نبوی و روایات اہل بیت علیھم السلام میں تصریح کی گئی ہے کہ مہدی موعود اہل بیت میں سے ہیں (ہم اس سلسلہ میں تیسرے باب میں تفصیل سے گفتگو کریں گے) اور کلام خداوندی سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے کہ اس نے قران کریم میں نبی کریم اور ان کے اہل بیت کی طہارت وپاکیزگی کی گواہی کے لئے آیت تطہیر نازل کی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:( إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) (احزاب/ ۳۳) بیشک خداوند عالم کا ارادہ ہی یہ ہے کہ وہ تم اہل بیت سے ہر قسم کے رجس و گناہ کو دور رکھے۔
۸ ۔ خلقت نورانی میں شباہت
فراوانی کے ساتھ شیعہ و سنی کتب میں مرقوم روایات اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ خداوند عالم نے نبی کریمﷺ اور آپؐ کی آل پاک کو اپنے نور سے خلق فرمایا لہذا رسول اللہؐ اور حضرت مہدی موعود (عج) ایک ہی نور سے خلق ہوئے ہیں اور روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول خداؐ اور مہدی موعود (عج) کا شجرہ ایک ہی ہے۔
نمونہ کے طور پر ہم اس وقت کتب اہل سنت سے صرف ایک روایت نقل کرنے پر اکتفاء کر رہے ہیں:
شیخ سلیمان بلخی حنفی(۱) نے مناقب خوارزمی سے انہوں نے ابو سلیمان سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں:
"سَمِعۡتُ رَسوُلَ الله ِﷺ یَقوُلُ: لَيْلَةً اُسْرِيَ بِي اِلَى السَّماءِ قالَ لِیَ الْجَلِيلُ جَلَّ جَلَالُهُ آمَنَ الرَّسُولُ بِما أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ فَقُلْتُ وَ الْمُؤْمِنُونَ، قَالَ صَدَقْتَ، يَا مُحَمَّدُ اِِنِّي اطَّلَعْتُ إِلَى الْأَرْضِ اطِّلَاعَةً فَاخْتَرْتُكَ مِنْهُم فَشَقَقْتُ لَكَ اسْماً مِنْ اَسْمائِي فَلَا أُذْكَرُ فِي مَوْضِعٍ إِلَّا ذُكَرْتَ مَعِي فَأَنَا الْمَحْمُودُ وَ أَنْتَ مُحَمَّدٌ، ثُمَّ اِطَّلَعْتُ الثَّانِيَة فَاخْتَرْتُ مِنْه ُم عَلِيّاً فَسَمَّیۡتُه ُ بِاِسۡمی، يَا مُحَمَّدُ خَلَقْتُكَ وَ خَلَقْتُ عَلِيّاً وَ فَاطِمَةَ وَ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ وَ الْأَئِمَّةَ مِنْ وُلْدِ الۡحُسَیۡنِ مِنْ نُوری وَ عَرَضْتُ وِلَايَتَكُمْ عَلَى أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرَضِ فَمَنْ قَبِلَها كَانَ عِنْدِي مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَ مَنْ جَحَدَهَا كَانَ عِنْدِي مِنَ الْكَافِرِينَ … يَا مُحَمَّدُ تُحِبُّ أَنْ تَرَاهُمْ؟ قُلْتُ نَعَمْ يَا رَبِّ، قَالَ لِي اُنۡظُرۡ اِلی يَمِينِ الْعَرْشِ فَنَظَرۡتُ فَإِذَا عَلِي وَ فَاطِمَة وَ الْحَسَن وَ الْحُسَيْن وَ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْن وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ وَ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِي وَ عَلِي بْنِ مُحَمَّدٍ وَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَ مُحَمَّد اَلْمَهْدِي بن الۡحَسَنِ كَأَنَّهُ كَوْكَبٌ دُرِّي بَیۡنَه ُمۡ وَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ هَؤُلَاءِ حُجَجی عَلی عِبادی وَ ه ُمۡ اَوۡصیائُکَ وَ الۡمَه ۡدی مِنۡه ُمۡ، اَلثّائِرُ مِنۡ قاتِلِ عِتۡرَتِکَ وَ عِزَّتِي وَ جَلَالِي اِنَّه ُ الْمُنْتَقِمُ مِنْ أَعْدَائِي وَ الۡمُمِدُّ لِاَوۡلیائی "
میں نے رسول اکرمﷺ سے سنا آپؐ نے فرمایا: شب معراج جب مجھے آسمان پر لے جایا گیا تو وہاں خداوند عالم نے مجھ سے فرمایا:آمَنَ الرَّسُولُ بِما أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ یعنی رسول ان تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو اس کی طرف نازل کی گئی ہیں۔
میں نے عرض کیا: و مؤمنون ( یعنی مؤمنین بھی اسی طرح ایمان رکھتے ہیں) خداوند عالم نے فرمایا: صحیح کہا ہے آپؐ نے۔ پھر فرمایا: اے محمدؐ میں نے اہل زمین پر خاص نظر ڈالی تو میں نے ان میں سے آپ کا انتخاب کیا اور آپؐ کا نام اپنے نام سے مشتق کیا ہے اور کوئی مقام ایسا نہیں ہے جہاں اپنے ذکر کے ساتھ تمہارا ذکر نہ کیا ہو پس میں محمود ہوں اور تم محمدؐ ہو، پھر میں نے دوبارہ نظر ڈالی اور علی کا انتخاب کیا اور ان کا نام اپنے نام پر رکھا۔ میں نے آپؑ کو، اور علی و فاطمہ، حسن و حسین اور نسل حسین کے ائمہ کو اپنے نور سے خلق کیا ہے ۔ اور اہل آسمان و زمین کے سامنے آپ کی ولایت کو رکھا پس جس نے بھی آپ حضرات کی ولایت کو قول کیا وہ مؤمنین میں سے ہے اور جس نے بھی انکار کیا وہ میرے نزدیک کافروں میں سے ہے اے محمدؐ! کیا آپؐ انہیں دیکھنا چاہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں پروردگار۔ پس خداوند عالم نے فرمایا: عرش کے دائیں جانب نگاہ اٹھائیے۔ میں نےنگاہ اٹھا کر دیکھا تو وہاں علی و فاطمہ، حسن و حسین، علی بن حسین، محمد بن علی و جعفر بن محمد و موسیٰ بن جعفر و علی بن موسیٰ، و محمد بن علی، و علی بن محمد، حسن بن علی و محمد المہدی (عج) بن حسن کو دیکھا اور مہدی (عج) ان کے درمیان کوکب دری کی طرح تھے یعنی روشن ستارے کی طرح چمک رہے تھے۔ اور خداوند عالم نے فرمایا: یہ سب میری جانب سے میرے بندوں پر حتو ہیں، آپ کے اوصیاء ہیں، مہدی انہی میں سے ہیں۔ مہدی (عج) آپ کی عترت کے قاتلوں سے انتقام لیں گے۔ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے، مہدی (عج) آپ کے دشمنوں سے انتقام لیں گے اور آپ کے چاہنے والوں اور آپ کے موالیوں کی مدد فرمائیں گے۔"
شیخ سلیمان اپنی کتاب ینابیع المودۃ کے باب نمبر ۹۳ میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ : ایضاً اَخرَجَہُ الحَموِینی؛ یعنی یہ روایت حموینی نے بھی نقل کی ہے۔
۹ ۔ ولایت و سرپرستی میں شباہت
نبی کریمؐ لوگوں پر حق ولایت رکھتے ہیں یعنی فرمان الٰہی سے لوگوں کے ولی و سرپرست مقرر ہوئے ہیں۔ جیسا کہ قران کریم میں ارشاد خداوندی ہوتا ہے:( النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ) (احزاب/ ۶) یعنی نبی مؤمنین پر خود ان سے زیادہ حق اولویت رکھتا ہے، یہاں "اولیٰ" ولایت و سرپرستی کے معنی میں آیا ہے۔ نیز تیس سے زائد مقامات پر خداوند عالم نے قران کریم میں رسولؐ کی اطاعت کا حکم فرمایا ہے۔
جب ہم آیات و روایات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہی معنی حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کے لئے بھی بیان کئے گئے ہیں۔ جیسا کہ قران کریم میں آیا ہے:
( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ ) (۲)
اے ایمان والو اللہ و رسول اور اولی الامر کی اطاعت کرو۔
اس آیت کریمہ میں لفظ "اطیعوا" دو مرتبہ استعمال ہوا ہے اور دوسری مرتبہ استعمال میں رسولؐ و اُولی الامر ایک ساتھ آئے ہیں جو اس بات کی تصریح ہے کہ رسولؐ اور اولی الامر جو کہ اوصیائے نبیؐ ہیں؛ ان کی اطاعت واجب ہے۔
نیز کثیر التعداد روایات کی روشنی میں حضرت رسول اسلامﷺ کی فرمائش کے مطابق حضرت مہدی کی اطاعت واجب ہے۔ جیسا کہ پہلے باب کی پہلی فصل کی روایت نمبر ۱۲ میں رسول اکرمؐ نے عوف بن مالک سے فرمایا: میری امت کے ۷۳ فرقے ہوجائیں گے پھر آپؑ نے آخر میں فرمایا: میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک شخص خروج کرے گا جسے مہدی (عج) کہتےہیں: "فَاِنۡ اَدۡرَکۡتَه ُ فَاتَّبِعۡه ُ وَ کُنۡ مِنَ الۡمُه ۡتَدینَ " پس اگر تم مہدی کو درک کرلو تو ان کی اتباع کرنا تاکہ ہدایت پانے والوں میں سے ہوجاؤ۔
نیز دوسرے باب کی پہلی فصل میں روایت نمبر ۲۲ و ۲۳ میں تصریح کی گئی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا: آسمان سے منادی ندا دے گا: "ه ذَا الۡمَه ۡدی خَلیفَةُ الله ِ فَاتَّبِعُوه ُ " یعنی یہ مہدی خلیفہ خدا ہے پس اس کی پیروی کرو۔
۱۰ ۔ فرشتوں کی مدد میں شباہت
سب جانتے ہیں کہ خداوند عالم نے متعدد جنگوں میں پیغمبر اکرمؐ اور مؤمنین کی اپنے فرشتوں کے ذریعے مدد فرمائی ہے جیسا کہ جنگ بدر میں حضور سرور کائنات اور مؤمنین کی نصرت کے لئے ۳۰۰ فرشتے آئے لہذا سورہ آل عمران آیت ۱۳۳ میں جنگ بدر میں مسلمانوں کی مدد کا تذکرہ کیا گیا ہے اور آیت ۱۲۴ میں ارشاد فرماتا ہے:( إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُنْزَلِينَ ) یعنی اس وقت جب آپ مؤمنین سے کہہ رہے تھے کہ کیا یہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے کہ خدا تین ہزار فرشتوں کو نازل کرکے تمہاری مدد کرے۔
جب ہم روایات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سی روایات میں حضرت مہدی (عج) کی فرشتوں کے ذریعے مدد و نصرت کا تذکرہ موجود ہے مثلاً پہلے باب کی دوسری فصل کی روایات ۲۶ میں امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب‘ فرماتے ہیں:
"یُمِدُّه ُ الله ُ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الۡمَلائِکَةِ یَضۡرِبوُنَ وُجُوه َ مَنۡ خالَفَه ُ وَ اَدۡبارَه ُمۡ" خداوند عالم تین ہزار فرشتوں کے ذریعے ان کی مدد کرے گا، یہ فرشتے حضرت مہدی (عج) کے مخالفین کے چہروں اور پشت پر تازیانے ماریں گے۔
۱۱ ۔ حکم مخالفین میں شباہت
فقہاء کے نزدیک قطعی احکام میں سے ایک یہ ہے کہ رسول ؐ اکرم کی تکذیب کرنے والا کافر ہے اور اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور جب ہم روایات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مہدی (عج) کے مخالفین کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ ہم نے آٹھویں شباہت میں ینابیع المودۃ سے ایک روایت نقل کی ہے جس میں شب معراج خداوند عالم نے اپنے نبی کریمؐ سے فرمایا: "وَ عَرَضْتُ وِلَايَتَكُمْ عَلَى أَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرَضِ فَمَنْ قَبِلَها كَانَ عِنْدِي مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَ مَنْ جَحَدَهَا كَانَ عِنْدِي مِنَ الْكَافِرِينَ "
میں نے تم سب (چہاردہ معصومین علیھم السلام ) کی ولایت کو اہل آسمان و زمین کے سامنے پیش کیا پس جس نے تمہاری ولایت کو قبول کیا وہ مؤمنین میں سے ہے اور جس نے اس کا انکار کردیا وہ میرے نزدیک کافر ہے۔
نیز شیخ سلیمان بلخی(۳) روایت کرتے ہیں:"عَن کِتابِ فَرائِد السِمطَعین بِسَنَدِه عَن الشَّیخِ اَبی اِسحاق اِبراه یم بن یعقوب الکِلابادی البُخاری بِسَندِه ِ عَن جابِرِ بنِ عَبدِ الله ِ الاَنصاری رَضی الله ُ عَنه ُما قالَ : قالَ رَسولُ الله ِ ﷺ : مَن اَنکَرَ خُرُوجَ المَه دی فَقَد کَفَرَ بِما اَنزَلَ عَلی مُحَمَّدٍ "
حموینی نے کتاب فرائد السمطین میں ابو اسحاق بخاری کے توسط سے جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے خروج مہدی کا انکار کیا گویا اس نے ان تمام چیزوں کا انکار کیا جو محمدؐ پر نازل ہوئی ہیں۔
نیز ابو جعفر اسکافی نے کتاب فوائد الاخبار میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: "مَنکَذَّبَ بِالۡمَهۡدی فَقَدۡ کَفَرَ " یعنی جس نے مہدی کی تکذیب کی وہ کافر ہے۔
۱۲ ۔ چالیس سال عمر میں شباہت
حضور سرور کائنات ۴۰ سال میں مبعوث بہ رسالت ہوئے اور جب حضرت مہدی (عج) ظہور فرمائیں گے تو آپ ۴۰ سال کے معلوم ہوں گے جیسا کہ شیخ سلیمان بلخی حنفی(۴) نے ینابیع المودۃ میں فرائد السمطین کے حوالہ سے ابو امامہ باہلی سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: "اَلۡمَه ۡدی مِنۡ وُلۡدی اِبۡنُ اَرۡبَعینَ سَنَةً کانَ وَجۡه ُه ُ کَوۡکَبٌ دُرّی وَ فی خَدِّه ِ الۡاَیۡمَنِ خالٌ اَسۡوَد " مہدی میری نسل میں سے ہیں وہ چالیس سالہ ہوں گے، ان کا چہرہ درخشاں ستارہ کی طرح ہوگا ان کے دائیں رخسار پر سیاہ تِل ہوگا۔
ہم نے دوسرے باب کی پہلی فصل میں روایت نمبر ۲۰ نقل کی ہے جس میں بھی حضورؐ نے تصریح فرمائی ہے کہ مہدی (عج) چالیس سال کے ہوں گے۔
۱۳ ۔ نجات دینے میں شباہت
جس طرح حضور سرور کائنات بشریت کے لئے ہلاکت ابدی سے نجات کا باعث ہیں اور لوگوں نے شرک و بت پرستی سے نجات و چھٹکارا حاصل کیا اسی طرح حضرت مہدی بھی بشریت کے لئے ہلاکت ابدی سے نجات کا باعث ہیں۔ پہلے باب کی پہلی فصل روایت نمبر ۲۱ میں رسول خدا ﷺ نے فرمایا:
"بِنایَخۡتِمُ الله ُ الدّین کَما فَتَحَ بِنا و بِنا یَنۡقُذوُنَ عَنِ الۡفِتۡنَةِ کَما اَنقَذُوا مِنَ الشِّرۡکِ " یعنی دین خدا کا اختتام ہم پر ہوگا جس طرح دین ہم ہی سے شروع ہوا تھا اور لوگ ہمارے ذریعے فتنوں سے نجات پائیں گے جس طرح شرک و بت پرستی سے نجات حاصل کی ہے۔
نیز پہلے باب کی پہلی فصل روایت نمبر ۲۷ میں رسول ؐ خدا نے فرمایا:
"کَیۡفَ تَه ۡلِکُ اُمَّةٌ اَنَا فی اَوَّلِه ا وَ عیسی فی آخِرِه ا وَ الۡمَه ۡدیُّ فی وَسَطِه ا " امت کس طرح ہلاک ہوسکتی ہے جبکہ اس کے شروع میں میں ہوں آخر میں عیسیٰ اور وسط میں مہدی (عج) ہوں گے۔
نیز دوسرے باب کی دوسری فصل کی روایت نمبر ۲ میں حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: "فَه ُوَ خاتَمُ الۡاَئِمَّة وَ مُنۡقِذُ الۡاُمَّة " یعنی مہدی خاتم الائمہ، آخری امام اور امت کے نجات دہندہ ہیں۔
۱۴ ۔ ولایت تکوینی میں شباہت
سب جانتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ اذنِ الٰہی سے ولایت تکوینی کے مالک تھے جیسا کہ ذہبی نے تاریخ اسلام میں صفحہ ۳۴۲ پر لکھا ہے :
"نُبُوعُ الۡماءِ مِنۡ اَصابِعِه بَعۡدَ رُجوُعِه مِنۡ غَزۡوَةِ تَبُوک " یعنی جب پیغمبر اسلام غزوہ تبوک سے پلٹ رہے تھے تو (راستہ میں اصحاب کی تشنگی کی وجہ سے) آپ کی انگلیوں سے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا تھا۔
بیہقی نے کتاب دلائل النبوۃ، جلد ۶ ، صفحہ ۶۴ میں لکھا ہے "سَبَّحَ الحِصی فی یدِه " سنگریزوں نے دست نبی کریمؐ پر تسبیح کی ہے۔ نیز جلد ۶ ، صفحہ ۱۳ پر رقمطراز ہیں: "وَ دَعَا الشَّجَرَةَ فَاَجابَتۡه ُ وَ جائَته ُ تَخُدُّ الۡاَرۡضَ، ثُمَّ رَجَعَتۡ اِلی مَکانِه ا " جب رسولؐ اللہ نے درخت کو آنے کا حکم دیا تو وہ درخت زمین چیرتا ہوا چلا آیا اور پھر واپس اپنی جگہ پر چلا گیا۔(۵)
حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف بھی ولایت تکوینیہ رکھتے ہیں جیسا کہ پہلے باب کی دوسری فصل روایت نمبر ۱۷ میں امیرالمؤمنین نے فرمایا: جب سید حسنی اپنی سپاہ کے ہمراہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) سے ملیں گے تو ان سے عرض کریں گے کیا آپ کے پاس مہدی ہونے کی کوئی دلیل ہے جسے دیکھ کر ہم آپ کی بیعت کریں؟ "یَؤۡمِی الۡمَه ۡدیُّ اِلَی الطَّیۡرِ فَیَسۡقُطُ عَلی یَدِه ، وَ یَغۡرُسُ قَضِیۡباً فِی بُقۡعَةٍ مِنَ الۡاَرۡضِ فَیَخۡضَرُّ وَ یورِقُ " اس وقت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)ہوا میں اڑتے ہوئے پرندے کو اشارہ کریں گے تو وہ ان کے ہاتھ پر آکر بیٹھ جائے گا اور سوکھی لکڑی اٹھا کر زمین میں بودیں گے تو فورا ہر بھری ہوجائے گی۔
۱۵ ۔ شب قدر میں شباہت
آیات و روایات میں ثابت ہے کہ شب قدر ایک خاص اہمیت کی حامل ہے، اس رات ملائکہ اور "روح" نازل ہوتے ہیں اب یہ سوال ہوتا ہے کہ یہ کس پر نازل ہوتے ہیں؟
رسول ؐ اللہ کے زمانہ میں شب قدر میں یہ ملائکہ خود آنحضرت کے پاس آتے تھے اور ان کے بعد آنحضرت کے اوصیاء (جن میں حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) بھی شامل ہیں) کے پاس نازل ہوتے ہیں۔ شیخ صدوق نے کتاب کمال الدین و تمام النعمۃ ، جلد اول باب ۲۶ ، روایت نمبر ۱۹ حسن بن عباس بن عریش رازی سے روایت کی ہے " "عَنۡ اَبی جَعۡفَر مُحَمَّدِ بن عَلیٍّ الثّانی (۶) عَن آبائِه ِ علیه م السلام، اَنَّ اَمیرَ المُؤۡمِنینَ صَلَواتُ الله ِ عَلَیه ِ قالَ لِاِبۡنِ عَبّاسِ : اِنَّ لَیۡلَةَ الۡقَدۡر فی کُلِّ سَنَةٍ وَ اِنَّه ُ یُنۡزَلُ فی تِلۡکَ الۡلَیۡلَةِ اَمۡرُ السَّنَةِ وَ لِذلِکَ الۡاَمرِ وُلاةٌ بَعۡدَ رَسوُلِ الله ِﷺ، فَقالَ اِبۡنُ عَبّاسٍ: مَنۡ ه ُمۡ؟ قالَ : اَنا وَ اَحد عَشَرَ مِنۡ صُلۡبی اَئِمَّةٌ مُحَدَّثوُنَ "
امیرالمؤمنین نے ابن عباس سے فرمایا: ہر سال شب قدر آتی ہے اور اس شب میں اس سال کے امور نازل ہوتے ہیں اور ان امور کے حصول کے لئے رسول ؐ خدا کے بعد ان کے ولی موجود ہیں۔ ابن عباس نے عرض کیا: وہ کون ہیں؟ فرمایا: میں اور میرے صلب سے گیارہ ائمہ محدث ہیں (ملائکہ ان سے گفتگو کرتے ہیں۔)
۱۶ ۔ خلقت میں شباہت
حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف خلقت میں سب سے زیادہ نبی کریمؐ سے مشابہ ہیں۔ جس طرح اخلاق کے لحاظ سے بھی وہ حضور سے مشابہ ہیں۔ اسی کتاب کے باب اول، فصل دوم ، روایت نمبر ۱۲ میں شیخ سلیمان بلخی حنفی نے کتاب مناقب خوارزمی سے امام محمد باقر سے انہوں نے اپنے جد امیرالمؤمنین سے اور انہوں نے رسول خداﷺ سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "اَلمَه دی مِن وُلدی، اِسمُه ُ اِسمی وَ کُنۡیَتُه ُ کُنۡیَتی وَ ه ُوَ اَشبَه ُ الناسِ بی خَلقاً وَ خُلقاً " مہدی میری نسل میں سے ہوں گے، ان کا نام میرے نام جیسا ہے انکی کنیت میری کنیت جیسی ہے اور وہ لوگوں میں خلقت اور اخلاق کے اعتبار سے سب سے زیادہ مجھ سے مشابہ ہوں گے۔
متعدد روایات کی روشنی میں قطعی قرائن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مہدی (عج) خلقت میں سب سے زیادہ رسول اللہﷺ سے مشابہ ہیں مثلاً سایہ نہ ہونا، آنکھوں میں قدرتی سرمہ کا ہونا (اکحلُ العینین ہونا) یہاں تک کہ آنجناب کے دوشِ مبارک پر علامت نبی کا ہونا وغیرہ۔
نیز باب اول کی دوسری فصل روایت ۴۰ میں امیر المؤمنین فرماتے ہیں:
"اَلا فَه ُوَ (اَیِ المه دی) اَشۡبَه ُ خَلۡقِ الله ِ عَزَّوَجَلَّ بِرَسوُلِ الله ﷺ " یعنی یاد رکھو! کہ وہ (یعنی مہدی) مخلوق خداوند میں سب سے زیادہ رسولؐ اللہ سے مشابہ ہیں۔
۱۷ ۔ پرچم میں شباہت
صدر اسلام میں مسلمان جب مشرکین و مخالفین کے مقابلہ پر میدان جنگ میں جاتے تھے تو ان کے ہمراہ مختلف پرچم ہوتے تھے اور ان کے اور رسول اللہ کے پرچم پر کچھ نہ کچھ لکھا ہوا ہوتا تھا؛ روایات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مہدی موعود (عج) کے پاس وہی پرچم رسول اللہﷺ ہوگا جیسا کہ پہلے باب کی دوسری فصل روایت نمبر ۲۶ میں امیرالمؤمنین فرماتے ہیں: "یَخۡرُجُ بِرایَةِ النَّبیِﷺ… لَمۡ تُنۡشَرۡ مُنۡذُ تُوُفِّیَ رَسوُلُ الله ﷺوَلا تُنۡشَرُ حَتّی یَخۡرُجَ الۡمَه ۡدی " مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) نبی کریمﷺ کے پرچم کے ہمراہ خروج کریں گے یہ پرچم رسولؐ اللہ کی وفات سے لیکر مہدی (عج) کے خروج تک نہ کھلے گا۔
نیز اسی کتاب کے پہلے باب کی دوسری فصل کی پہلی روایت جسے شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ میں محمد بن طلحہ شافعی کی کتاب الدرر المنظم سے نقل کیا ہے کہ امیر المؤمنین علی بن ابی طالب‘ نے فرمایا: "یَظۡه َرُ صاحِبُ الرّایه ِ الۡمُحَمَّدیَّةِ وَ الدَّوۡلَةِ الۡاَحۡمَدیَّة " صاحب پرچم محمدی و دولت احمدی کا ظہور حتمی ہے۔
نیز پہلے باب کی دوسری فصل روایت ۱۶ میں امام باقر نے فرمایا:وَ مَعَه ُ رایَةُ رَسوُلِ الله ِ یعنی جب مہدی ظہور کریں گے تو ان کے ساتھ پرچم رسولؐ اللہ ہوگا۔
۱۸ و ۱۹ ۔ تلوار و پیراہن میں شباہت
جب حضرت مہدی (عج) ظہور فرمائیں گے تو آپ رسولؐ اکرم کا پیراہن زیب تن کئے ہوئے اور نبی کریم ؐ کی تلوار لئے ہوں گے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے باب کی دوسری فصل روایت نمبر ۱۶ جو کہ یوسف بن یحیی مقدس شافعی کی کتاب عقد الدرر(۷) سے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ روایت ابو عبداللہ نعیم بن حماد کی کتاب الفتن(۸) سے نقل کی ہے۔ اس روایت میں امام باقر فرماتے ہیں: "یَظۡه َرُ الۡمَه ۡدِیُّ بِمَکَّةَ عِنۡدَ الۡعِشاءِ، وَ مَعَه ُ رایَةُ رَسوُلِ الله ِﷺ، وَ قَمیصُه ُ و سَیۡفُه ُ، وَ عَلاماتٌ و نورٌ وَ بَیانٌ، فَاِذا صَلَّی الۡعِشَاءَ نادی بِاَعۡلی صَوۡتِه ، یَقوُلُ : اُذَکِّرۡکُمۡ الله َ اَیُّه َا النّاسُ وَ مُقامَکُمۡ بَیۡنَ یَدَیۡ رَبِّکُمۡ … وَ اِنّی اَدۡعوُکُم اِلَی الله ِ وَ اِلی رَسوُلِه ِ، وَ الۡعَمَلِ بِکِتابِه ِ، وَ اِماتَةِ الۡباطِلِ وَ اِحۡیاءِ سُنَّتِه "
مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) مکہ میں بوقت عشاء ظہور فرمائیں گے اور ان کے ہمراہ رسول اللہﷺ کا پرچم، پیراہن اور تلوار ہوگی، ان کے ساتھ کچھ علامات، نور اور بیان ہوگا پس نماز عشاء پڑھنے کے بعد با آواز بلند ندا دیں گے: اے لوگو! خدا کو یاد کرو اور جب تم اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہو بتحقیق میں تمہید خدا، رسولؐ کی طرف ، کتاب پر عمل کرنے، باطل کی نابودی اور احیائے سنت الٰہی کی طرف دعوت دے رہا ہوں۔
۲۰ ۔ محل ظہور میں شباہت
حضور سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ مکہ مکرمہ میں مبعوث بہ رسالت ہوئے اور وہیں سے آپ نے تمام عالم کو نور اسلام سے منور فرمایا، اسی طرح حضرت مہدی (عج) بھی مکہ مکرمہ سے ظہور فرمائیں گے جیسا کہ رسول مکرمؐ نے فرمایا: وہو الظاہر علی دین اللہ؛ مہدی دین الٰہی کو مکمل طور پر ظاہر کر دیں گے، اس لئے آپؑ کے القاب میں سے ایک لقب "ظاہر" بھی ہے۔ مفسرین قران کریم کا کہنا ہے کہ سورہ توبہ(۹) آیت نمبر ۳۳ ، سورہ فتح(۱۰) کی آیت نمبر ۲۸ اور سورہ صف(۱۱) کی آیت نمبر ۹ حضرت مہدی کے بارے میں ہی ہے۔ کیونکہ دین الٰہی کو تمام ادیان پر غلبہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ہی کے زمانے میں ہوگا۔
حضرت مہدی (عج) کے مکہ مکرمہ سے ظہور کرنے پر فراوانی سے روایات پائی جاتی ہیں مثلاً اس سلسلہ میں گذشتہ شباہت (شباہت نمبر ۱۸ و ۱۹) میں ذکر شدہ روایت ہی کافی ہے جس کے آغاز میں امام باقر نے فرمایا: "یَظۡه َرُ الۡمَه ۡدِیُّ بِمَکَّةَ " یعنی مہدی (عج) مکہ سے ظہور کریں گے اور جیسا کہ دوسرے باب کی دوسری فصل میں روایت نمبر ۱۲ میں امام رضا نے فرمایا کہ منادی آسمان ندا دے گا:
"اَلا اِنَّ حجَّةَ الله ِ قَدۡ ظَه َرَ عِنۡدَ بَیۡتِ الله " آگاہ ہوجاؤ کہ بیت اللہ کے پاس (مکہ میں) حجت خدا کا ظہور ہوگیا ہے۔
نتیجہ:
مذکورہ شباہتوں کا نتیجہ بیان کرنے سے قبل یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ یہ بسا شباہتیں صرف بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں ورنہ حضور سرور کائنات اور حضرت مہدی (عج) میں ان سے کہیں زیادہ شباہتیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ناصران و اصحاب کی تعداد، کیونکہ ہجرت کے بعد پہلی جنگ میں مسلمانوں کی تعداد ۳۱۳ تھی؛ اور حضرت مہدی (عج) کے ناصرانِ کی تعداد بھی ۳۱۳ ہے۔ نیز دائیں رخسار پر تِل کا ہونا وغیرہ۔
پس نبی کریمﷺ اور حضرت مہدی (عج) میں فراوان شباہتیں پائی جاتی ہیں جن میں سے ہم نے یہاں مندرجہ ذیل ۲۰ شباہتیں ذکر کی ہیں: ان کا نام "محمد" اور کنیت ابو القاسم ہے، یہ خاتم (انبیاءو ائمہ) ہیں، انکا "سایہ" نہیں ہے، انکا محل ظہور چالیس سال کی عمر میں مکہ ہے، یہ ایک دوسرے سے اخلاق و خلقت میں سب سے زیادہ مشابہ ہیں، خدا نے دونوں کو ایک ہی نور سے خلق کیا ہے دونوں اولیٰ بالتصرف ہیں یعنی حق ولایت و سرپرستی رکھتے ہیں، دونوں ولایت تکوینیہ کے مالک ہیں، دونوں کے پاس شب قدر میں ملائکہ نازل ہوئے، دونوں کی تکذیب کرنے والا کافر ہے، ان کے ہوتے ہوئے امت ہرگز ہلاک نہیں ہوسکتی، لہذا یہ دونوں ہی نجات دہندہ ہیں، جنگ کے موقع پر دونوں کا پیراہن، تلوار اور پرچم ایک ہی ہے، دونوں کی مدد کرنے والے ۳۰۰۰ فرشتے ہیں دونوں کے اصحاب و انصار کی تعداد ۳۱۳ ہے، دونوںاَکحلُ العینین (یعنی قدرتی آنکھوں میں سرمہ)، دونوں منصوب من اللہ ہیں، دونوں کا کلام ، کلام الٰہی ہے، جس نے انہیں سبّ و شتم کی اس نے اللہ کو سبّ و شتم کی، ان کے دائیں رخسار پر تِل ہے وغیرہ وغیرہ۔
____________________
۱ ۔ینابیع المودۃ، باب ۹۳، صفحہ ۴۸۷، آخری روایت، طبع۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵۔
۲ ۔سورہ نساء، آیت ۵۹۔
۳ ۔ ینابیع المودۃ، باب ۷۸، صفحہ ۴۴۷، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۴ ۔باب ۷۸، ص ۴۴۷، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ھ ۔
۵ ۔علامہ مجلسی نے بحار، ج۱۷ و ۱۸ میں نبی کریمؐ کے معجزات کا ذکر کیا ہے؛ خواجہ نصیر الدین طوسی نے تجرید الاعتقاد میں نبوت عامہ کے ذیل میں اور علامہ حلی نے کشف المراد میں تفصیل سے تذکرہ کیا ہے۔
۶ ۔ امام جواد علیہ السلام۔
۷ ۔ باب ۷، ص ۱۹۵، طبع مسجد مقدس جمکران، سال ۱۴۲۵ ھ۔
۸ ۔ باب اجتماع الناس بمکۃ و بَیعتہم للمہدی فیہا۔
۹ ۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ
۱۰ ۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ
۱۱ ۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ
تیسرا باب
مہدی موعود (عج)، اہل بیت رسولﷺ سے ہیں
اس باب میں تین فصلیں ہیں
پہلی فصل: اہل بیت رسول خداﷺ کون ہیں؟
دوسری فصل: مہدی موعود اہل بیت سے ہیں
تیسری فصل: کتب اہل سنت میں مناقب اہل بیت علیھم السلام
(اس فصل میں ۱۱۰ روایات ہیں، جن میں سے ۷۰ روایات اہل بیت علیھم السلام اور ۴۰ روایات حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے بارے میں ہیں)۔
پہلی فصل
اہل بیت رسول خداﷺ کون ہیں؟
خداوند عالم نے حضور سرور کائنات کے اجر رسالت کے سلسلہ میں ایک طرف پیغمبر اسلام سے کلام کیا اور دوسری طرف لوگوں سے خطاب کیا ہے۔ اجر رسالت کے بارے میں خداوند عالم نے جو کلام نبی کریمؐ سے کیا ہے وہ یہ کہ ارشاد خداوندی ہے:( ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ ، مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ ، وَإِنَّ لَكَ لأجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ ) ( ۱ ) ن، قلم اور اس چیز کی قسم جو یہ لکھ رہے ہیں۔ آپ اپنے پروردگار کی نعمت کے طفیل مجنون نہیں ہیں اور آپ کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والا اجرہے۔
اور مؤمنین سے اس انداز سے خطاب کیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے:( قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ) ( ۲ ) آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ سورہ سبا کی آیت نمبر ۴۷ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اجر رسالت (مودت) خود تمہارے ہی فائدے کے لئے ہے، ارشاد ہوتا ہے: "قالَ الله ُ تَعالی: قُلۡ ما سأَلتکُمۡ من اَجۡرٍ فه و لُکمۡ"
اب یہ سوال ہوتا ہے کہ وہ اہل بیت کون حضرات ہیں؟
بالفاظ دیگر خداوند عالم فرماتا ہے کہ اجر رسالت نبی کریمؐ کے اہل بیت علیھم السلام سے مودت ہی ہے۔ اور یہ موّدت ہمارے ہی فائدہ و نفع کے لئے ہے لہذا مودّت کے لئے اہل بیت کو پہچاننا ضروری ہے پس یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اہل بیت علیھم السلام کون لوگ ہیں؟ شیعہ راویوں کے ذریعے ہم تک پہنچنے والی نصوص اور کثیر و متواتر روایات نیز اہل سنت کے مختلف طُرُق کے ذریعے حاصل ہونے والی اخبار و روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ مصداق اہل بیت رسولؐ یہ حضرات ہیں: علی بن ابی طالب‘ و فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا، دو سبطِ نبی (امام حسن و امام حسین‘) جو کہ جوانان جنت کے سردار ہیں اور امام حسین کی ذریت سے ۹ ائمہ ہیں کہ روایات متواترہ کی روشنی میں مہدی آل محمد، امام حسین کی نویں نسل میں ہیں۔
اب ہم محترم قارئین کی خدمت میں اس حقیقت کو پیش کر رہے ہیں کہ اہل بیت علیھم السلام سے مراد "علی علیہ السلام و فاطمہ زہرا، حسن و حسین اور ان کی پاکیزہ ذریت" ہی ہے اور اس سلسلہ میں ہم اہل سنت کی کتب سے استناد کریں گے لہذا منصف مزاج انسان کو یقین حاصل ہوجائے گا کہ حقیقت صرف یہی ہے اس کے سوا کچھ نہیں ہے!
پانچ حصوں پر مشتمل روایات خمسہ طیبہ
پہلا حصہ: (امّ المؤمنین) جناب امّ سلمہ و عائشہ سے ۲۲ روایات
۱ ۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی( ۳ ) نے سنن ترمذی سے روایت نقل کی ہے:
"وَ فی سُنَنِ التِّرۡمِذی بَعۡدَ ذِکۡرِ مَناقِبِ اَه ۡلِ الۡبَیۡتِ:حَدّثَنا قُتَیۡبَةُ بن سَعیدٍ قالَ حَدَّثنا مُحَمَّدُ بن سُلَیۡمان الۡاِصبَه انی عَنۡ یَحۡیَی بن عبید عَنۡ عَطاء عَن عُمَرَ بن اَبی سَلَمة رَبیبِ النَّبیﷺقالَ: نَزَلَتۡ اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا فی بَیۡتِ اُمِّ سَلَمَة فَدَعا النَّبیُﷺ عَلِیّاً وَ فاطِمَةَ وَ حَسَناً وَ حُسَیۡناً فَجَلِّلَه ُمۡ بِکِساءٍ وَ عَلی ظَه ۡرِه ِ فَجَلِّلَه ُمۡ بِکِساء ثُمَّ قَالَ اَلۡلّه ُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ فَاَذْهَبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهِّرْهُمْ تَطْهِيراً قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَ أَنَا مَعَه ُمۡ يَا نَبِیَّ الله ِ ؟ قَالَ: اَنۡتِ عَلی مَکانِکِ وَ اَنۡتِ إِلَى خَيْرٍ "
سنن ترمذی نے اپنی سند کے مطابق عمر ابن ابی سلمہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں: آیت تطہیر ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی۔ رسولؐ خدا نے علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا و حسن و حسین‘کو اپنے پاس بلایا اور انہیں اپنی عباء کے اندر داخل کرنے کے بعد بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: خدایا یہ میرے اہل بیت ہیں پس تو ان سے ہر قسم کے رجس و گناہ کو دور رکھ اور انہیں ایسا پاک و پاکیزہ رکھ جیسا کہ پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔ ام سلمہ کہتی ہیں: یا رسولؐ اللہ! کیا میں بھی ان اہلبیت علیھم السلام میں سے ہوں؟ حضور نے فرمایا: تم اپنی جگہ رہو کہ تم خیر پر ہو۔
۲ ۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی(۴) نے روایت کی ہے:
"وَ فی سُنَنِ التِّرۡمِذی بَعۡدَ ذِکۡرِ مَناقِبِ الۡاَصۡحابِ، عَنۡ اُمّ سَلَمَة: اِنَّ النَّبِيَّﷺ جَلَّلَ عَلَى الحَسَنِ وَ الحُسَيْنِ وَ عَلِيٍّ وَ فَاطِمَةَ کِساءً ثُمَّ قَالَ: اَلۡلّه ُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَ خاصَّتی اِذْهَبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهِّرْهُمْ تَطْهِيراً فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَ أَنَا مَعَه ُمۡ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: قِفی فی مَکانِکِ إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ "
ترمذی نے اپنی کتاب سنن میں اپنی سند کے مطابق اصحاب کے مناقب ذکر کرنے کے بعد ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ : رسول خدا نے حسن و حسین علی و فاطمہ پر اپنی عباء ڈال کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا: خدایا یہ میرے اہل بیت اور میرے مخصوص افراد ہیں، ان سے ہر پلیدی و رجس کو دور رکھ اور انہیں پاک و پاکیزہ رکھنا۔ ام سلمہ نے عرض کیا، یا رسول ؐ اللہ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟ حضور ؐ نے فرمایا: تم اپنی جگہ ٹھہری رہو ، تم خیر پر ہو۔
نکتہ: مولانا موصوف اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : "ه ذا حدیثٌ حسنٌ صحیحٌ وَ ه ُوَ اَحۡسَنُ شَیءٍ رُوِیَ فِی ه ذا الباب " یہ حدیث حسن و صحیح ہے اور اس سلسلہ کی بہترین روایت ہے۔
۳ ۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی(۵) نے کتاب ذخائر العُقبی، تالیف امام الحرم محب الدین احمد بن عبد اللہ طبری شافعی سے روایت نقل کی ہے کہ :
"وَ عَنۡ اُمِّ سَلَمَة قالَتۡ : اِنَّ النَّبیَّ ۡ قالَ لِفَاطِمَةَ ایتینی بِزَوۡجِکِ وَ اِبۡنَیۡکِ فَجائَتۡ بِه ِم فَاَلۡقی عَلَیۡه ِمۡ کِساءً فَدَکِیّاً ثُمَّ وَضَعَ یَدَه ُ عَلَیۡه ِمۡ وَ قالَ اَلۡلَّه ُمّ اِنَّ ه ؤُلاءِ آلُ مُحَمَّدٍ فَاجۡعَلۡ صَلَواتِکَ وَ بَرَکاتِکَ عَلی مُحَمَّدٍ وَ عَلی ّلِ مُحَمَّدٍ اِنّکَ حَمیدٌ مَجیدٌ، قالَتۡ اُمُّ سَلَمَة: رَفَعۡتُ الۡکِساءَ لِاَدۡخُلَ مَعَه ُمۡ فَجذبَه ُﷺ وَ قالَ : قِفی مَکانَکِ اِنَّکِ عَلی خَیۡرٍ "
جناب امّ سلمہ سے روایت کی گئی ہے وہ کہتی ہیں: بیشک نبی کریمؐ نے فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا سے فرمایا: اپنے شوہر اور اپنے بچوں کو لیکر آئیے پس جب وہ انہیں اپنے ساتھ لے آئیں تو حضورؐ نے اپنی فدکی چادر ان کے اوپر تانی پھر ان کے سروں پر اپنا ہاتھ کرکے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: پروردگار یہ آل محمدؐ ہیں پس تو محمد و آل محمد کے لئے اپنی صلوات و برکاۃ قرار دے بیشک تو حمید و مجید ہے پس ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے چادر میں داخل ہونے کے لئے چادر کا کونہ اٹھایا تو حضورؐ نے میرے ہاتھ میں سے لے لیا اور فرمایا اے امّ سلمہ وہیں رہو، بیشک تم خیر پر ہو۔
نکتہ: موصوف یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "اَخرَجَه ُ الدُّولابی " یہ روایت دولابی نے بھی نقل کی ہے۔
۴ ۔ طحاوی(۶) و تاریخ مدینہ دمشق(۷) نے روایت نقل کی ہے:
"عَنۡ عُمَرَة بِنۡتِ اَفۡعی، قالَت :سَمِعۡتُ اُمَّ سَلَمَة تَقُولُ : نَزَلَتۡ ه ذِه ِ الۡآیَةُ فی بَیۡتی ( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) وَ فِی الۡبَیۡتِ سَبۡعَةٌ جَبۡرَئیلُ وَ میکائیلُ وَ رَسُولُ الله ِ وَ عَلِیُّ وَ فاطِمَةُ وَ الۡحَسَنُ وَ الۡحُسَیۡنُ، قالَتۡ: وَ اَنَا عَلی بابِ الۡبَیۡتِ، فَقُلۡتُ: یا رَسُولُ الله ِ اَلَسۡتُ مِنۡ اَه ۡلِ الۡبَیۡتِ؟ قالَ : اِنَّکِ عَلی خَیۡرٍ، اِنَّکِ مِنۡ اَزۡواجِ النَّبی، وَما قالَ اِنَّکِ مِنۡ اَه ۡلِ الۡبَیۡتِ "
عمرہ بنت افعی سے روایت ہے کہ میں نے ام سلمہ سے سنا ہے وہ کہتی ہیں: یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی:( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) اس وقت میرے گھر میں سات افراد تھے یعنی جبرئیل و میکائیل، پیغمبر اسلام، علی و فاطمہ اور حسن و حسینؑ۔ ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں درِ خانہ پر تھی، میں نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ فرمایا: تم خیر و نیکی پر ہو، تم ازواج نبیؐ میں سے ہو۔ لیکن آنحضرت نے یہ نہیں فرمایا کہ تم اہل بیت میں سے ہو۔
۵ ۔ کتاب تاریخ مدینہ دمشق(۸) میں اس طرح روایت کی گئی ہے:
"اَخۡبَرَنَا اَبُو عَبۡدِ الله (۹) الفراوی وَ اَبُو الۡمُظَفَّر القشیری، قالا : اَخۡبَرَنا اَبو سعد الۡاَدیب، اَخۡبَرَنا اَبو عَمرو بن حمدان، وَ اَخۡبَرَتۡنا اُمُّ المُجۡتَبی اَلۡعَلَویَّةُ، قالَتۡ: قُرِیءَ عَلی اِبۡراه یم بن مَنۡصُور، اَخۡبَرَنا اَبُو بَکر بن الۡمُقۡرِیء، قالا : اَخۡبَرَنا اُبو یَعۡلی، اَخۡبَرَنا مُحَمَّدُ بن اِسۡماعیل بن اَبی سَمینَة، اَخۡبَرَنا عَبۡدُ الله ِ بن داود عَنۡ فُضَیۡل بن غَزۡوان عَن عَطیَّةِ بن سَعۡد، عَنۡ اَبی سعید عَنۡ اُمِّ سَلَمَة؛ اِنَّ النَّبیَّﷺ غَطّی عَلی عَلیٍّ وَ فاطِمَةَ وَ حَسَنٍ وَ حُسَیۡنٍ کِساءً، ثُمَّ قالَ : ه ؤُلاءِ اه ۡلُ بَیۡتی … ؛ قالَتۡ اُمُّ سَلَمَة: فَقُلۡتُ: یا رَسُولَ الله وَ اَنَا مَعَه ُمۡ؟ قالَ: لا، وَ اَنۡتِ عَلی خَیۡرٍ "
امّ سلمہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں: نبی کریمﷺ نے علی و فاطمہ و حسن و حسین علیھم السلام پر اپنی چادر کو ڈھانپا اور کہا: یہ میرے اہل بیت علیھم السلام ہیں ام سلمہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ فرمایا: نہیں۔ البتہ تم خیر پر ہو۔
۶ ۔ طبری(۱۰) و ابن کثیر(۱۱) نے اس طرح روایت کی ہے:
"عَنِ الۡاَعۡمَشِ عَنۡ حَکیمِ بن سَعۡد، قالَ: ذَکَرۡنا عَلِیَّ بن اَبیطالِب رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ عِنۡدَ اُمِّ سَلَمَة، قالَت: فیه نَزَلَتۡ اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ، قَالَتۡ اُمُّ سَلَمَة: جاءَ النَّبِیُّﷺ اِلی بَیۡتِی … فَجَلَّلَه ُمۡ نَبِیّ الله ِ بِکِساء … فَنَزَلَتۡ ه ذِه ِ الۡآیَةُ … فَقُلۡتُ: یا رَسُولَ الله ، وَ اَنَا ؟ قالَتۡ: فَوَ الله ِ ما اَنۡعَمَ وَ قالَ: اِنَّکِ اِلی خَیۡرٍ "
حکیم بن سعید کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ جناب امّ سلمہ کی خدمت میں تھے کہ حضرت علی علیہ السلام کا تذکرہ نکل آیا۔ ام سلمہ کہنے لگیں: آیہ تطہیر انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ رسول اللہﷺ میرے گھر تشریف لائے پس اس وقت آیت تطہیر نازل ہوئی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی اہل بیت علیھم السلام میں سے ہوں؟ ام سلمہ کہتی ہیں: خدا کی قسم رسول ؐ اللہ نے ہاں نہیں فرمایا بلکہ صرف اتنا فرمایا کہ تم خیر پر ہو۔
۷ ۔ طحاوی(۱۲) نے اپنی سند کے مطابق اس طرح نقل کیا ہے:
"عَنۡ عُمَرَة الۡه َمۡدانِیَةِ قالَتۡ: اَتیۡتُ اُمَّ سَلَمَة فَسَلَّمۡتُ عَلَیۡه ا، فَقالَتۡ : مَنۡ اَنۡتِ؟ فَقُلۡتُ: عُمَرَةُ الۡه َمۡدانِیَّةُ، فَقالَتۡ عُمَرَةُ: یا اُمَّ الۡمُؤمِنینَ، اَخۡبِرینی عَنۡ ه ذَا الرَّجُلِ الَّذی قُتِلَ بَیۡنَ اَظۡه رِنا، فَمُحِبٌّ وَ مُبۡغِضٌ تُرید عَلِیَّ بنِ اَبیطالِبٍ علیه السلام قالَتۡ اُمُّ سَلَمَةُ: اَتُحِبّینَه ُ اَمۡ تُبۡغِضینَه ؟ قالَتۡ: ما اُحِبُّه ُ وَلا اُبۡغِضُه ُ… ، فَاَنۡزَلَ الله ُ ه ذِه ِ الۡآیَةَ: اِنَّما یُریدُ الله ُ … الی آخِرِه ا، وَ ما فِی الۡبَیۡتِ اِلّا جَبۡرَئیلُ وَ رَسُولُ الله ِﷺ وَ عَلیُّ وَ فاطِمَةُ وَ الۡحَسَنُ وَ الۡحُسَیۡنُ علیه م السلام، فَقُلۡتُ: یا رَسُولَ الله ِ اَنَا مِنۡ اَه ۡلِ الۡبَیۡتِ؟ فَقالَ: اِنَّ لَکِ عِنۡدَ الله ِ خَیۡراً، فَوَدَدۡتُ اَنَّه ُ قالَ نَعَمۡ، فَکانَ اَحَبُّ اِلیَّ مِنۡ ما تَطۡلَعُ عَلَیه ِ الشَّمۡسُ وَ تَغۡرِبُه ُ "
عمرہ ہمدانیہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: ایک دن میں ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا: مجھ سے سوال کیا تم کون ہو؟ میں نے کہا کہ میں عمرہ ہمدانیہ ہوں اور پھر کہا: اے امّ المؤمنین! چند روز قبل قتل ہونے والے اس شخص (علی بن ابی طالب‘) کے بارے میں کچھ بتائیے! کہ کچھ لوگ ان سے محبت رکھتے ہیں اور کچھ لوگ ان سے دشمنی رکھتے ہیں!
امّ سلمہ نے مجھ سے سوال کیا کہ تم انہیں دوست رکھتے ہو یا دشمن۔ عمرہ نے کہا: میں نہ انہیں دوست رکھتا ہوں اور نہ ہی دشمن پھر جناب ام سلمہ نے کہا: جب اللہ نے آیت تطہیر( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) نازل فرمائی تو اس وقت گھر میں صرف جبرئیل، رسولؐ اللہ، علی و فاطمہ اور حسن و حسین‘تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسولؐ اللہ! کیا میں بھی ان اہل بیت علیھم السلام میں سے ہوں؟ فرمایا: خدا کے یہاں تمہارے لئے خیر و پاداش ہے۔ امّ سلمہ کہتی ہیں کہ میں رسولؐ کی زبان مبارک سے "ہاں" سننا چاہتی تھی کیونکہ میرے لئے یہ "ہاں" تمام ان چیزوں سے افضل و بہتر تھی جن پر سورج طلوع و غرب ہوتا ہے۔ (حالانکہ رسول اللہﷺ نے مجھے مثبت جواب نہ دیا)۔
۸ ۔ حاکم نیشاپوری(۱۳) نے اپنی سند کے مطابق عطاء بن یسار سے اس طرح روایت نقل کی ہے: "عَنۡ عطاء بن یسار عَنۡ اُمّ سَلَمَه رَضِیَ الله ُ عَنۡه ا اَنّه ا قالَتۡ: فی بَیۡتِی نَزَلَتۡ ه ذه الۡآیَةُ ( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) (۱۴) ، فَاَرۡسَلَ رَسُولُ الله ِﷺ اِلی عَلیِّ وَ فاطِمَةَ وَ الۡحَسَنِ و الۡحُسَیۡنِ … ، فَقالَ : اَلۡلَّه ُمَّ ه ؤُلاءِ اَه ۡلُ بَیۡتی، قالَتۡ اُمُّ سَلَمَة: یا رَسُولَ الله ِ، ما اَنَا مِنۡ اَه ۡلِ الۡبَیۡتَِ؟ قالَ: اِنَّکِ خَیۡرٌ وَ ه ؤُلاءِ اَه ۡلُ بَیۡتِی، اَلۡلَّه ُمَّ اَه ۡلی اَحَقّ ه ذا حدیثٌ صَحیحٌ عَلی شَرۡطِ الۡبُخاری وَ لَمۡ یُخۡرِجاه ُ "
عطاء بن یسار نے امّ سلمہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: یہ آیت تطہیر( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) میرے گھر میں نازل ہوئی ہے۔ پس رسول ؐ اللہ نے ایک شخص کے ذریعے علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا اور حسن و حسین‘کو بلوایا اور پھر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: پروردگار یہ میرے اہل بیت ہیں۔ ام سلمہ نے عرض کیا :یا رسولؐ اللہ ! کیا میں بھی ان اہل بیت میں سے ہوں؟ فرمایا: بیشک تم خیر و نیکی پر ہو لیکن یہ میرے اہل بیت ہیں۔ پروردگار میرے اہلبیت سب سے زیادہ لائق (طہارت) ہیں۔
نکتہ: موصوف کہتےہیں کہ یہ حدیث بخاری کی شرائط کے مطابق صحیح ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسے نقل نہیں کیا ہے۔
۹ ۔ ابن کثیر(۱۵) نے اپنی سند کے مطابق عوام بن حوشب سے روایت کی ہے:
"عَنِ الۡعَوامِ یَعۡنی اِبۡنَ حُوشَبِ عَنِ ابۡنِ عَمّ لَه ُ، قالَ: دَخَلۡتُ مَعۡ اَبی عَلی عائِشَة … فَسَأَلۡتُه ا عَنۡ عَلیٍّ … فَقالَتۡ: تَسۡأَلُنی عَنۡ رَجُلٍ کَانَ مِنۡ اَحَبِّ النَّاسِ اِلی رَسُولِ الله ِﷺ، وَ کانَتۡ تَحۡتَه ُ اِبۡنَته ُ وَ اَحَبُّ النّاسِ اِلَیۡه ِ، لَقَدۡ رَأَیۡتُ رَسُولَ الله ِﷺدَعا عَلِیّاً وَ فاطِمَةَ وَ حَسَناً وَ حُسَیۡناً رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُمۡ فَاَلۡقی عَلَیۡه ِم ثُوباً، فَقَالَ: اَلۡلَّه ُمَّ ه ؤُلاءِ اَه ۡلُ بَیۡتی، فَاَذۡه ِبۡ عَنۡه ُمُ الرِّجۡسَ وَ طَه ِّرۡه ُمۡ تَطۡه یراً، قالَتۡ: وَ دَنَوۡتُ مِنۡه ُمۡ وَ قُلۡتُ: یا رَسُولَ الله ِ ، وَ اَنَا مِنۡ اَه ۡلِ بَیۡتِکَ؟ فَقالَ: تنحّی، فَاِنَّکِ عَلی خَیۡرٍ "
عوام ابن حوشب سے انہوں نے اپنے چچا زاد سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ہمراہ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ان سے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا۔ آپ نے جواب میں فرمایا: تم نے مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا ہے، جو رسولؐ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب و عزیز تھا، جو رسولؐ کی بیٹی کا شوہر تھا اور وہ انہیں سب سے زیادہ محبوب تھی۔
میں نے دیکھا کہ انہوں نے علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام کو اپنے پاس بلایا اور ان کے اوپر چادر تان کر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: خدایا یہ میرے اہل بیت علیھم السلام ہیں تو انہیں رجس و گناہ سے دور رکھ اور انہیں مکمل پاکیزہ قرار دے۔
(حضرت) عائشہ کہتی ہیں: میں نے قریب جاکر عرض کیا: یا رسولؐ اللہ کیا میں آپؐ کے اہل بیت میں سے ہوں؟ حضورؐ نے فرمایا: دور ہوجاؤ البتہ تم خیر پر ہو۔
۱۰ ۔ شیخ سلیمان بلخی(۱۶) نے کتاب ذخائر العقبی تالیف امام الحرم محب الدین طبری احمد بن عبد اللہ طبری شافعی سے روایت نقل کی ہے۔
"وَ عَنۡ عائِشَةِ، قالَتۡ: خَرَجَ النَّبِیُّﷺذاتَ غَداةٍ وَ عَلَیۡه ِ مِرۡطٌ مِرۡجَلٌ مِنۡ شَعۡرٍ اَسۡوَد فَجاءَ الۡحَسَنُ فَاَدۡخلَه ُ فیه ِ ثُمَّ جاءَ الۡحُسَیۡنُ فَاَدۡخَلَه ُ فیه ِ ثُمَّ جائَتۡ فاطِمَةُ فَاَدۡخَلَه ا فیه ِ ثُمَّ جاءَ عَلِیُّ فَاَدۡخَلَه ُ فیه ِ ثُمَّ قالَ : اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا "
حضرت عائشہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں: ایک دن نبی کریمؐ علی الصبح اس طرح باہر آئے کہ آپ کے دوش مبارک پر کالے بالوں والی یمنی چادر تھی، پس حسن انکے قریب آئے تو آپؐ نے انہیں زیر کساء لے لیا، پھر حسین آئے تو آپؐ نے انہیں بھی زیر کساء لے لیا، پھر فاطمہ سلام اللہ علیھا آئیں تو آپؐ نے انہیں بھی چادر میں لے لیا، پھر علی علیہ السلام آئے تو آپؐ نے انہیں بھی اپنی چادر کے اندر بلالیا، پھر آپؐ نے آیت تطہیر( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) کی تلاوت فرمائی۔
نکتہ: موصوف ذخائر العقبی سے یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "اَخۡرَجَةُ مُسۡلِمُ، وَ اَخۡرَجَ اَحۡمَدُ مَعۡناه ُ عَنۡ واثِلةِ بن الۡاَسۡقَع وَ زادَ فی آخِره ِ: اَلۡلَّه ُمَّ ه ؤُلاءِ اَه ۡلُ بَیۡتی وَ اَه ۡلُ بَیۡتی اَحَقّ " یعنی یہ روایت مسلم نے بھی نقل کی ہے نیز احمد بن حنبل نے بھی یہی معنا واثلہ ابن اسقع سے نقل کئے ہیں البتہ انکی روایت کے آخر میں حضورؐ کا یہ جملہ بھی موجود ہے کہ "پروردگار یہ میرے اہل بیت ہیں اور یہ سب سے زیادہ لائق (طہارت) ہیں۔
۱۱ ۔ ینابیع المودۃ(۱۷) نے ذخائر العقبیٰ سے روایت نقل کی ہے۔
"وَ عَنۡ واثِلَة قالَ وَ اَجۡلَسَ النَّبِیُﷺ حَسَناً عَلی فَخِذِه ِ الۡیُمۡنی وَ قَبَّلَه ُِ وَ الۡحُسَیۡنَ عَلی فَخِذِه ِ الۡیُسۡری وَ قَبَّلَه ُ، وَ فاطِمَةَ بَیۡنَ یَدَیۡه ِ ثُمَّ دَعا عَلِیّاً ثُمَّ اَعۡدَفَ عَلَیۡه ِمۡ کِساءً خَیۡبَریّاً، ثُمَّ قالَ: اَلۡلَّه ُمَّ ه ؤُلاءِ اَه ۡلُ بَیۡتی اَذۡه ِبۡ عَنۡه ُمُ الرِّجۡسَ وَ طَه ِّرۡه ُمۡ تَطۡه یراً، فَقیلَ لِواثِلَة مَا الرِّجۡسُ، قالَ: اَلشّکُّ فیِ الله ِ عَزَّ وَ جَلَّ "
واثلہ بن اَسقع سے روایت کی گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں: رسول اکرمؐ نے امام حسن کو اپنی گود میں دائیں جانب بٹھا کر پیار کیا اور حسین کو بائیں جانب بٹھا کر پیار کیا، فاطمہ سلام اللہ علیھا کو اپنے سامنے بٹھایا اور علی علیہ السلام کو بھی پاس بلایا پھر آپؐ نے خیبری چادر تان کر فرمایا: پروردگار! یہ میرے اہل بیت ہیں، تو اُن سے ہر رجس و گناہ کو دور رکھ اور انہیں مکمل پاکیزہ قرار دے۔ جس وقت واثلہ یہ روایت نقل کر رہے تھے تو ان سے سوال کیا گیا : یہ رِجس کیا ہے؟ جواب دیا: رجس سے مراد خداوند عالم کی ذات میں شک ہے۔
۱۲ ۔ حاکم حسکانی(۱۸) نے اپنی سند کے مطابق ام سلمہ سے روایت کی ہے:
"وَ عَن اُمّ سَلَمَة … فَجَمَعَه ُمۡ (یعنی عَلیّاً وَ فاطِمَةَ وَ الۡحَسَنَ وَ الۡحُسَیۡنَ) رَسُولُ الله ِﷺ حَوۡلَه ُ وَ تحته کِساءٌ خَیۡبَرِیٌّ، فَجَلَّلَه ُمۡ رَسُولُ الله ِﷺ جَمیعاً، ثُمَّ قالَ: اَلۡلَّه ُمَّ ه ؤُلاءِ اَه ۡلُ بَیۡتی فَاَذۡه ِبۡ عَنۡه ُمُ الرِّجۡسَ وَ طَه ِّرۡه ُمۡ تَطۡه یراً، فَقُلۡتُ: یا رَسُولَ الله ِ وَ اَنَا مَعَه ُمۡ ؟ فَوَ الله ِ ما قالَ اَنۡتِ مَعَه ُمۡ وَ لکنَّه ُ قالَ : انّکِ عَلی خَیۡرٍ وَ اِلی خَیۡرٍ، فَنَزَلَتۡ عَلَیۡه ِ: اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا "
ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے علی و فاطمہ و حسن و حسین علیھم السلام کو اپنے گِرد جمع کیا اور یکایک انہیں خیبری چادر کے نیچے لے لیا اور بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: خدایا! یہ میرے اہل بیت ہیں ہر رجس کو ان سے دور رکھ اور انہیں مکمل پاکیزہ قرار دے۔ پس میں نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ خدا کی قسم رسول اللہﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہاں تم بھی انہی میں سے ہو البتہ یہ ضرور فرمایا: تم خیر پر ہو۔ اور اس موقع پر یہ آیت تطہیر( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) نازل ہوئی۔
۱۳ ۔ شیخ سلیمان(۱۹) نےذخائر العقبیٰ سے روایت کی ہے:
"وَ عَنۡ اُمِّ سَلَمَة، قالَتۡ: بَیۡنَا النَّبِیﷺ فی بَیۡتی یَوۡماً اِذ قالَتِ الۡخادِمَةُ اِنَّ عَلِیّاً وَ فاِطمَةَ بِالسدةِ، قالَتۡ فاَخۡبِرۡتُ لِلنَّبیِﷺ، قالَ لی: قَوّمی فَافۡتَحیِ الۡبابَ، فَفَتَحۡتُه ُ فَدَخَلَ عَلِیُّ وَ فاطِمَةُ وَ معَه ُما الۡحَسَنُ وَ الۡحُسَیۡنُ فَاَخَذَ الصَّبِیَّیۡنِ فَوَضَعَه ُما فی حِجۡرِه وَ قَبَّلَه ُما وَ اعۡتَنَقَ عَلِیّاً بِاِحۡدی یَدَیۡه ِ وَ اعۡتَنَقَ فاطِمَةَ بِالۡیَدِ الۡاُخۡری وَقَبَّلَ عَلِیّاً وَ قَبَّلَ فاطِمَةَ وَ اَعۡدَفَ عَلَیۡه ِمۡ خَمیصَةً سَوۡداءَ، ثُمَّ قالَ: اَلۡلَّه ُمَّ اَنَا ه ؤُلاءِ اَه ۡلُ بَیۡتی اِلَیۡکَ لا اِلَی النّار، قالَتۡ : قُلۡتُ: وَ اَنا یا رَسُولَ الله ِ، قالَ: وَ اَنۡت عَلی خَیۡرٍ "
امّ سلمہ سے روایت ہے کہ ہم اپنے گھر میں رسولؐ کے ساتھ موجود تھے کہ خادمہ نے کہا کہ علی علیہ السلام و فاطمہ درِخانہ پر ہیں۔ ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے رسولؐ کو بتایا کہ علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا تشریف لائے ہیں۔ حضور نے فرمایا: جاؤ جاکر دروازہ کھولو، میں نے جاکر دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ان کے ساتھ حسن و حسین‘بھی ہیں۔ رسول خدا نے دونوں بچوں کو لیکر اپنی آغوش مبارک میں بٹھایا اور پیار کرنے لگے پھر آپؐ نے علی علیہ السلام و فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکو بھی پیار کیا اور پھر ان سب کے اوپر سیاہ پشمی چادر تان کر بارگاہ الٰہی میں عرض کرنے لگے: پروردگار! میں اور میرے یہ اہل بیت تیری طرف ہیں نہ آگ کی طرف۔ امّ سلمہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول ؐ اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ فرمایا: تم خیر پر ہو۔
۱۴ ۔ حاکم حسکانی(۲۰) نے اپنی سند کے مطابق روایت کی ہے:
"عَنِ الۡعَوامِ بن حُوشَب عَنۡ جَمیعِ التّیمی: اِنطَلَقۡتُ مَعَ اُمّی اِلی عائِشَة، فَدَخَلَتۡ اُمّی فَذَه َبۡتُ لِاَدۡخُلُ … ، وَ سَأَلَتۡه ا اُمّی عَنۡ عَلیٍّ، فَقالَتۡ: ما ظَنُّکِ بِرَجُلٍ کانَتۡ فاطمَةُ تَحۡتَه ُ، وَ الۡحَسَنُ وَ الۡحُسَینُ اِبۡناه ُ، وَ لَقَدۡ رَأَیۡتُ رَسُولَ الله ِﷺ اِلۡتَفَعَ عَلَیۡه ِمۡ بِثَوۡبٍ وَ قالَ: اَلۡلَّه ُمَّ ه ؤُلاءِ اَه ۡلی، اَذۡه ِبۡ عَنۡه ُمُ الرِّجۡسَ وَ طَه ِّرۡه ُمۡ تَطۡه یراً، قُلۡتُ: یا رَسُولَ الله ِ اَلَسۡتُ مِنۡ اَه ۡلِکَ؟ قالَ: اِنَّکِ لَعَلی خَیۡرٍ، لَمۡ یَدۡخُلۡنی مَعَه مۡ "
عوام بن حوشب سے انہوں نے جمیع تیمی سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ جناب عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا میری والدہ نے ان سے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ تم کیا سمجھتی ہو اس شخص کے بارے میں جس کی شریک حیات فاطمہ زہرا ہے اور بچے حسن و حسین‘ہیں، میں نے دیکھا کہ نبی کریمؐ نے ان کے اوپر ایک چادر ڈالی اور عرض کیا: پروردگار یہ میرے اہل بیت ہیں، رجس و گناہ کو ان سے دور رکھ اور انہیں مکمل پاک و پاکیزہ قرار دے۔ عائشہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ ! کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں۔ حضورؐ نے فرمایا: تم خیر پر ہو، لیکن حضورؐ نے مجھے اس چادر کے اندر نہیں آنے دیا۔
۱۵ ۔ جلال الدین سیوطی(۲۱) و طبرانی(۲۲) نے ام سلمی سے اس طرح روایت کی ہے:
"عَنۡ اُمِّ سَلَمَة: اِنَّ رَسُولَ الله ﷺ قالَ لِفاطِمَةَ: ایتینی بِزَوۡجِکِ وَ ابۡنَیۡه ِ فَجائَتۡ بِه ِمۡ، فَاَلۡقی رَسُولُ الله ِﷺ کِساءً فَدَکیّاً ثُمَّ وَضَعَ یَدَه ُ عَلَیۡه ِمۡ فَقالَ: اَلۡلَّه ُمَّ اِنَّ ه ؤُلاءِ آلُ مُحَمَّدٍ، فَاجۡعَلۡ صَلَواتِکَ وَ بَرَکاتِکَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ فَاِنَّکَ حَمیدٌ مَجیدٌ، قالَتۡ اُمُّ سَلَمَة :فَرفَعۡتُ الۡکِساءَ لِاَدۡخُلَ مَعَه ُمۡ فَجَذَّبَه ُ مِنۡ یَدی وَ قالَ : اِنَّکِ عَلی خَیۡرٍ "
امّ سلہٌ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں: رسول خداﷺ نے فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا سے فرمایا: اپنے شوہر اور دونوں بچوں کو لیکر آؤ۔ جب فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا انہیں لے آئیں تو رسولؐ اللہ نے فدکی چادر ان کے اوپر تان کر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: پرورگار! یہ میرے اہل بیت علیھم السلام ہیں پس اپنی صلوات و برکات آل محمدؐ پر نازل فرما، بیشک تو حمید و مجید ہے۔ ام سلمہ کہتی ہیں: میں نے چادر کا کونہ اٹھا کر ان کے ساتھ شریک ہونا چاہا تو حضورؐ نے میرے ہاتھ سے چادر کا کونہ لے لیا اور فرمایا: بیشک تم خیر پر ہو۔
۱۶ ۔ تاریخ مدینہ دمشق(۲۳) میں اس طرح روایت کی گئی ہے:
"اَخۡبَرَنا اَبُو طالِب بن اَبی عَقیل، اَخۡبَرَنا اَبو الۡحَسَنِ الۡخلعی، اَخۡبَرَنا اَبُو مُحَمَّدِ النّحاس، اَخۡبَرَنا اَبُو سَعیدِ بن الۡاَعۡرابی، اَخۡبَرَنا اَبُو سَعید عَبۡدُ الرَّحۡمانِ بنِ مُحَمَّدِ بن مَنۡصُور، اَخۡبَرَنا حُسَیۡنُ الۡاَشۡقَر، اَخۡبَرَنا مَنۡصُورُ بن اَبی الۡاَسوَد عَنِ الۡاَعۡمَشِ عَنۡ حَبیبِ بن اَبی ثابِتٍ عَنۡ شَه ۡرِ بن حُوشَب، عَنۡ اُمِّ سَلَمَة؛ اِنَّ رَسُولَ الله ِﷺ اَخَذَ ثُوباً فَجَلَّلَه ُ عَلی عَلیٍّ وَ فاطِمَةَ وَ الۡحَسَنِ وَ الۡحُسِیۡنِ، ثُمَّ قَرَأَتۡ ه ذِه ِ الۡآیَةَ: اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ، قالَتۡ: فَجِئۡتُ لِاَدۡخُلَ مَعَه ُمۡ، فَقَالَ : مَکانکِ، اَنۡتِ عَلی خَیۡرٍ "
ام سلمہ سے روایت ہے کہ رسول خداؐ ایک کپڑا لائے جسے انہوں نے علی و فاطمہ و حسن و حسین علیھم السلام پر تان کر یہ آیت تلاوت فرمائی:( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے زیر کساء جانا چاہا تو حضورؐ نے مجھے روک دیا اور فرمایا: وہیں رہو البتہ تم خیر پر ہو۔
۱۷ ۔ نیز اسی کتاب(۲۴) میں ہے کہ رسول اللہ، ام سلمہ کے زیر کساء آنے سے مانع ہوئے اور فرمایا: "اَنۡتِ بِمَکانِکِ، وَ اَنۡتِ اِلی خَیۡرٍ " تم اپنی جگہ پر رہو البتہ تم خیر پر ہو۔
۱۸ ۔ حاکم حسکانی(۲۵) نے روایت کی ہے کہ امّ سلمہ کو زیر کساء داخل ہونے سے روکنے کے بعد حضورؐ نے ان سے فرمایا: تم اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ کہ تم خیر پر ہو۔
۱۹ ۔ تاریخ مدینہ دمشق(۲۶) نے مسنداً ام سلمہ سے روایت کی ہے:
"عَنۡ اَبی المعدل عطیة الطفاوی، عَنۡ اَبیه ِ: اِنَّ اُمّ سَلَمَة حَدَّثَتۡه ُ، قالَتۡ: بَیۡنا رَسُول الله ﷺ فی بَیۡتی اِذۡ قالَ الۡخادِمُ: اِنَّ عَلِیّاً وَ فاطِمَةَ بالسده ، قالَتۡ: قالَ لی: قَوِّمی فَتَنَحّی لی عَن اَه ۡلِ بَیۡتی … فَدَخَلَ عَلیُّ وَ فاطِمَةُ وَ مَعَه ُمَا الۡحَسَنُ وَ الۡحُسَیۡنُ … فَقالَتۡ: وَ اَنا یا رَسُولَ الله ؟ فَقالَ : وَ اَنۡتِ "
ام سلمہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں: رسولؐ میرے گھر میں موجود تھے کہ خادم نے آکر کہا: علی علیہ السلام و فاطمہ درِ خانہ پر ہیں۔ ام سلمہ کہتی ہیں کہ حضورؐ نے مجھ سے فرمایا:مجھے میرے اہل بیت کے ساتھ چھوڑ دو! پس علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا گھر میں داخل ہوئے اور حسن و حسین‘بھی ان کے ساتھ موجود تھے (روایت جاری ہے یہاں تک کہ حضور نے دعا فرمائی اور عرض کیا: پروردگار! یہ اہل بیت تیری طرف ہیں نہ کہ آگ کی طرف) امّ سلمہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اور میں یا رسولؐ اللہ؟ فرمایا: اور تم بھی۔
نکتہ: نبی کریمﷺ صراحت کے ساتھ آغاز کلام میں امّ سلمہ کو اہل بیت سے دور کر رہے ہیں جو ان کے اہل بیت میں شامل نہ ہونے کی واضح دلیل ہے۔ پھر امّ سلمہ سوال کرتی ہیں تو حضورؐ انہیں اپنی اس دعا میں شریک قرار دے رہے ہیں کہ تم بھی آگ کی طرف نہیں ہو۔
۲۰ ۔ شیخ سلیمان(۲۷) نے اس طرح روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الطّبرانی وَ اِبۡنُ جَریر وَ اِبۡنُ مُنۡذر عَنۡ اُمّ سلمه رَضِیَ الله ُ عَنۡه ا قالَتۡ: فی بَیۡتی نَزَلَتۡ اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا، فَجائَتۡ فاطِمَةُ بِبَرَمَةٍ فیه ا ثَریدٌ، فَقالَﷺ اُدۡعی زَوۡجَکِ وَ حَسَناً وَ حُسَیۡناً، فَدَعۡتۡه ُمۡ فَبَیۡناه ُمۡ یَأۡکُلُونَ اِذۡ نَزَلَتۡ ه ذِه ِ الۡآیَةُ فَغَشّاه ُمۡ بِکِساءٍ خَیۡبَری کانَ عَلَیۡه ِ فَقالَ اَلۡلَّه ُمَّ ه ؤُلاءِ اَه ۡلُ بَیۡتی وَ حامَّتی فَاَذۡه ِبۡ عَنۡه ُمُ الرِّجۡسَ وَ طَه ِّرۡه ُمۡ تَطۡه یراً، ثَلاثَ مَرّات "
طبرانی، ابن جریر اور ابن منذر نے ام سلمہ سے روایت کی ہے وہ کہتی ہیں: آیت تطہیر( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) میرے گھر میں نازل ہوئی ہے جس وقت فاطمہ ہمارے گھر تشریف لائیں جبکہ ان کے ساتھ طعام بھی تھا، رسول اللہﷺ نے فاطمہ سلام اللہ علیھا سے فرمایا: علی و حسن و حسین علیھم السلام کو بھی مدعو کرلو۔ حضرت فاطمہ نے انہیں بھی مدعو کرلیا جب سب کھانا تناول فرما رہے تھے تو اس وقت آیت تطہیر نازل ہوئی پس رسولؐ اللہ نے خیبری چادر اٹھا کر ان حضرات پر تانی اور تین مرتبہ یہ دعا فرمائی: پروردگار! یہ میرے اہل بیت اور میرے حامی و مددگار ہیں پس تو ان سے ہر رجس و گناہ کو دور رکھ اور انہیں پاک و پاکیزہ قرار دے۔
نکتہ: موصوف یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "اَیۡضاً اَخۡرَجَ ه ذَا الۡحَدیثَ، اَلۡحاکِمُ عَنۡ سَعیدِ بن اَبی وَقّاص "یعنی نیز یہی روایت حاکم نے سعید بن ابی وقاص سے نقل کی ہے۔
۲۱ ۔ شیخ سلیمان(۲۸) نے ذخائر العقبی تالیف امام الحرم محب الدین طبری سے روایت کی ہے:
"وَ عَنۡ اُمّ سَلَمَة قالَتۡ : کانَ النَّبیﷺ عِندی فَعَمِلَتۡ لَه ُ فاطِمَةُ حَزیرَةً فَجائَتۡ وَ مَعَه ا حَسَنُ وَ حُسَیۡنُ، فَقالَ لَه ا: ایتینی زَوۡجَکِ ، اِذۡه َبی فَاَدۡعیه ِ فَجائَتۡ بِه ِ فَأۡکُلُوه ا، فَاَخَذَﷺ کِساءً فَادارَ عَلَیۡه ِمۡ وَ اَمۡسَکَ طَرَفَه ُ بِیَدِه ِ الۡیُسۡری ثُمَّ یَدَه ُ الۡیُمۡنی اِلَی السَّماءِ وَ قالَ : اَلۡلَّه ُمَّ ه ؤُلاءِ اَه ۡلُ بَیۡتی وَ حامَّتی وَ خاصَّتی اَذۡه ِبۡ عَنۡه ُمُ الرِّجۡسَ وَ طَه ِّرۡه ُمۡ تَطۡه یراً، ثُمَّ قالَ: اَنا حَرۡبٌ لِمَنۡ حارَبَه ُمۡ وَ سِلۡمٌ لِمَنۡ سالَمَه ُمۡ وَ عَدُوٌّ لِمَنۡ عاداه ُم "
امّ سلمہ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں: رسولؐ اللہ میرے پاس تھے اس وقت فاطمہ کھانا تیار کرکے اپنے بچوں کے ہمراہ ہمارے پاس آئیں۔ حضورؐ نے فاطمہ زہرا سے فرمایا: علی علیہ السلام کو بھی مدعو کرلو۔ فاطمہ گئیں اور حضرت علی علیہ السلام کو بھی لیکر آگئیں اور پھر سب کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے پھر حضورؐ نے ان سب کے اوپر چادر ڈھانپ دی۔ بائیں ہاتھ سے چادر کو پکڑا اور دایاں ہاتھ آسمان کی طرف بلند کرکے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: پروردگار! یہ میرے اہل بیت علیھم السلام اور حامی و مددگار ہیں، تو ان سے ہر رجس و گناہ کو دور رکھ اور انہیں مکمل پاکیزہ قرار دے، پھر فرمایا: جو ان سے جنگ کرے گا اس سے میری جنگ ہے اور جو ان سے صلح کرے اس سے میری صلح ہے اور جو انکا دشمن ہے وہ میرا دشمن ہے۔
نکتہ: موصوف کہتے ہیں: اسی طرح یہ روایت غسانی نے اپنی کتاب معجم میں بھی نقل کی ہے:
۲۲ ۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم ، طبرانی اور ابن مردویہ(۲۹) نے ام سلمہ سے اس طرح روایت کی ہے:
"عَنۡ اُمّ سَلَمَة زَوۡجة النَّبیﷺ: اِنَّ رَسُولَ الله ﷺ کانَ بَیۡتِه ا عَلی مَنامَةٍ لَه ُ، عَلَیۡه ِ کِساءٌ خَیۡبَری، فَجائَتۡ فاطِمَةُ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ا بِبَرَمَة فیه ا حَزیرَة، فقالَ رَسُولُ الله ﷺ: اُدۡعی زَوۡجَکِ وَ حَسَناً وَ حُسَیۡناً، فَدَعَتۡه ُمۡ فَبَیۡناه ُمۡ یَأۡکُلُونَ اِذۡ نَزَلَتۡ عَلی رَسُولِ الله ِﷺ:اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا،فَاَخَذَ النَّبیﷺ بِفَضۡلَةِ اِزارِه وَ غَشّاه ُمۡ اِیّاه ا ثُمَّ اَخۡرَجَ یَدَه ُ مِنَ الۡکِساءِ وَ اَوۡمَأَ بِه ا اِلَی السَّماءِ ثُمَّ قالَ: اَلۡلَّه ُمَّ ه ؤُلاءِ اَه ۡلُ بَیۡتی وَ خاصَّتی فَاَذۡه ِبۡ عَنۡه ُمُ الرِّجۡسَ وَ طَه ِّرۡه ُمۡ تَطۡه یراً، ثَلاثَ مَرّات "
امّ المؤمنین جناب امّ سلمہ سے روایت کی گئی ہے آپ نے فرمایا: رسول خداﷺ میرے گھر میں اپنے حجرہ میں تھے اور انہوں نے خیبری چادر اوڑھ رکھی تھی، اسی اثناء میں فاطمہ زہرا کھانا لیکر آئیں تو حضور نے انہیں اپنے پاس بلایا اور فرمایا اپنے شوہر اور بچوں حسن و حسین‘کو بھی مدعو کرلو پس فاطمہ نے انہیں مدعو کیا اور یہ سب کھانا تناول کرنے میں مشغول ہوگئے کہ آیت تطہیر( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) نازل ہوئی، اس وقت حضور نے چادر کا ایک گوشہ پکڑا اور علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام کو زیر کساء لے لیا اور دوسرا ہاتھ کساء سے باہر نکالا اور آسمان کی طرف بلند کرکے بارگاہ الٰہی میں تین بار عرض کیا: پروردگار یہ میرے اہل بیت اور میرے مخصوص افراد ہیں۔ تو ان سے ہر رجس و گناہ کو دور رکھ اور انہیں پاک و پاکیزہ رکھ۔
دوسرا حصہ: آیت تطہیر کے بارے میں بیانات
اس سلسلہ میں نقل کی جانے والی کچھ روایات ایسی ہیں جو آیت کی شان نزول تو بیان نہیں کر رہی ہیں البتہ ان سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ یہ آیت نبی کریمﷺ، حضرات علی و فاطمہ اور امام حسن و حسین علیھم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے، بعض روایات میں رسول خدا کا بیان ہے اور بعض میں دیگر افراد کا بیان ہے؛ اور یہ تمام روایات بہر حال اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ اہل بیت علیھم السلام سے مراد علی و فاطمہ و حسن و حسین علیھم السلام ہیں۔
۱ ۔ طبری نے کتاب "جامع البیان"(۳۰) میں اس طرح روایت کی ہے:
"حَدَّثَنی مُحَمَّدُ بن الۡمُثَنّی، قالَ بَکۡرُ بن یَحۡیَی بن زَبانِ الۡعتری، قالَ: حَدَّثَنا مَنۡدل بن علی عَنِ الاَعۡمش (سلیمان بن مه ران) عَن عَطِیَّة عَنۡ اَبی سَعیدٍ الۡخُدۡری قالَ، قالَ رَسُولُ الله ﷺ: نَزَ لَتۡ ه ذِه ِ الۡآیَةُ فِی خَمۡسَةٍ: فیَّ، وَ فی عَلیٍّ وَ حَسَن وَ حُسَیۡن وَ فاطِمَةَ علی ھ م السلام :( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) (۳۱) "
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا: یہ آیت پنجتن یعنی میرے بارے میں اور علی و فاطمہ ، حسن و حسین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ آیت یہ ہے:( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) (احزاب/ ۳۳)
۲ ۔ شیخ سلیمان(۳۲) نے ذخائر العقبی تالیف محب الدین طبری سے روایت نقل کی ہے: "عَنۡ اَبی سَعیدٍ الۡخُدۡری فی ه ذِه ِ الۡآیةِ ( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) قالَ : نَزَلَتۡ فی خَمۡسَةٍ، رَسُولِ الله ِﷺ وَ عَلیٍّ و فاطِمَةَ وَ الۡحَسَنِ وَ الۡحُسَیۡنِ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُمۡ "
ابو سعید خدری سے اس آیت( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) (احزاب/ ۳۳) کے بارے میں روایت ہے کہ یہ آیت پنجتن یعنی رسول خدا، علی و فاطمہ اور حسن و حسین‘کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
نکتہ: مولانا موصوف(۳۳) نے یہی روایت احمد ابن حنبل کی کتاب مناقب اور ابن جریر و طبرانی سے بھی نقل کی ہے۔
۳ ۔ تاریخ مدینہ دمشق(۳۴) میں اس طرح روایت ہے:
"عَنۡ اَبی سَعیدٍ الۡخُدۡری، قالَ نَزَلَتِ الۡآیةُ فی خَمۡسَةِ نَفَر، ( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) ،فی رَسُولِ الله ِ وَ عَلیٍّ وَ فاطِمَةَ وَ الحَسَنِ وَ الحُسَیۡنِ علی ھ م السلام "
ابی سعید خدری سے روایت ہے کہ یہ آیت( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) پانچ افراد یعنی رسول اللہ، علی و فاطمہ اور حسن و حسین‘کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
۴ ۔ تاریخ مدینہ دمشق(۳۵) میں عطیہ (ابن سعد عوفی(۳۶) سے روایت ہے وہ کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری سے سوال کیا کہ اہل بیت کون لوگ ہیں تو انہوں نے جواب دیا: پیغمبر، علی و فاطمہ ، اور حسن و حسین‘ہیں۔
۵ ۔ طحاوی(۳۷) نے ام المؤمنین ام سلمہ سے اس طرح روایت کی ہے:
"عَنۡ اُمّ سَلَمَة قالَتۡ : نَزَلَتۡ ه ذِه ِ الۡآیَةُ فی رَسُولِ الله ِ وَ عَلیٍّ وَ فاطِمَةَ وَ الحَسَنِ وَ الحُسَیۡنِ علی ھ م السلام ( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) (۳۸) "
امّ سلمہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں: یہ آیت شریفہ( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) رسول خداﷺ، علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
۶ ۔ شیخ سلیمان(۳۹) نے ابن سعد (صاحب طبقات سے اس طرح روایت نقل کی ہے:
"وَ اَخۡرَجَ اِبۡنُ سَعۡدٍ عَنِ الۡحَسَنِ بن عَلیٍّ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُما قالَ فی خُطۡبَتِه : نَحۡنُ اَه ۡلُ الۡبَیۡتِ الَّذینَ قالَ الله ُ سبحانَه ُ فینا ( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) (۴۰) "
ابن سعد نے (امام) حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ آپ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ہم ہی اہل بیت علیھم السلام ہیں جن کے بارے میں خداوند عالم نے فرمایا:( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا )
____________________
۱ ۔ سورہ قلم (۶۸) آیات ۱ تا ۳۔
۲ ۔ سورہ شوری (۴۲) آیت ۲۳۔
۳ ۔ ینابیع المودۃ، باب ۳۳، ص ۱۰۷، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ سال ۱۳۸۵ ھ۔
۴ ۔ ینابیع المودۃ، باب ۳۳، ص ۱۰۷، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ سال ۱۳۸۵ ھ ۔
۵ ۔ ینابیع المودۃ، باب ۵۶، صفحہ ۲۲۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۶ ۔کتاب مشکل الآثار، ج۱، ص ۳۳۳ دار الباز ۔
۷ ۔ تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۴، ص ۴۵، دار الفکر۔
۸ ۔ تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۳، ص ۲۰۶، دار الفکر۔
۹ ۔ سمعانی کہتے ہین: میں نے عبد الرشید طبری سے مرو میں سنا کہ وہ کہتے تھے کہ الفراوی (محمد بن فضیل بن احمد) ہزار راویوں کے برابر تھے (سیر اعلام النبلاء، ج۱۹، ص ۶۱۵، مؤسسۃ الرسالہ)۔
۱۰ ۔ جامع البیان، ج۲۲، ص ۷، طبع دار المعرفۃ، بیروت ۔
۱۱ ۔ تفسیر القرآن العظیم، ج۳، ص ۴۹۳، طبع دار المعرفۃ، بیروت۔
۱۲ ۔ مشکل الآثار، ج۱، ص ۳۳۶، طبع مجلس دائرۃ المعارف النظامیہ بالھند۔
۱۳ ۔ دار المعرفۃ، بیروت ۔
۱۴ ۔ المستدرک علی الصحیحین، در تفسیر سورہ احزاب، ج۲، ص ۴۱۶، احزاب ۳۳۔
۱۵ ۔ تفسیر القرآن العظیم، ج۳، ص ۴۹۳، دار المعرفۃ، بیروت۔
۱۶ ۔ ینابیع المودۃ، باب۵۶، ص ۲۲۹، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ۔
۱۷ ۔ ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۲۹ بنا بر نقل از ذخائر العقبیٰ، محب الدین طبری۔
۱۸ ۔شواہد التنزیل، ج۲، ص ۱۳۳، مؤسسہ طبع و نشر، وزارت ارشاد ۔
۱۹ ۔ینابیع المودۃ، باب۵۶، ص ۲۲۸، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ھ ۔
۲۰ ۔ شواہد التنزیل، ج۲، ص ۶۱، موسسہ طبع و نشر، وزارت ارشاد۔
۲۱ ۔ الدّر المنثور، ج۶، ص ۴۔ ۶، دار الفکر۔
۲۲ ۔المعجم الکبیر، ج۲۳، ص ۳۳۶ ۔
۲۳ ۔ تاریخ مدینہ، ج۱۴، ص ۴۱، دار الفکر۔
۲۴ ۔تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۴، ص ۱۴۵، طبع دار الفکر۔
۲۵ ۔شواہد التنزیل، ج۲، ص ۱۱۹، مؤسسۂ طبع و نشر، وزارت ارشاد۔
۲۶ ۔تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۳، ص ۲۰۳، طبع دار الفکر۔
۲۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۳۳، ص ۱۰۷، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۲۸ ۔ ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۲۸، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۲۹ ۔بنابر انقل از کتاب"امامت و عصمت امامان در قرآن" استاد رضا کاردان، آیہ تطہیر، ص ۲۹، انتشارات دلیل۔ ہم نے بعض گذشتہ روایات اسی کتاب سے نقل کی ہیں۔
۳۰ ۔جامع البیان، ج۱۰، جزء ۲۲، ص ۵، دار المعرفۃ، بیروت۔
۱۳ ۔ سورہ احزاب، آیت ۳۳۔
۳۲ ۔ ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۰، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ھ۔
۳۳ ۔ینابیع المودۃ، باب ۳۳، ص ۱۰۸، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۳۴ ۔تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۳، ۲۰۶، طبع دار الفکر۔
۳۵ ۔تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۳، ص ۲۰۷، طبع دار الفکر۔
۳۶ ۔عطیہ یہ وہی شخص ہے جسے حجاج نے حضرت علی پر سبّ و شتم نہ کرنے کی وجہ سے ۴۰ تازیانے مارے تھے۔ بنابر نقل از امامت و عصمت امامان در قرآن، استاد کاردان، ص ۳۴ از آیہ تطہیر۔
۳۷ ۔طحاوی، کتاب مشکل الآثار، ج۱، ص ۳۳۲، طبع دار الباز۔
۳۸ ۔سورہ احزاب، آیت ۳۳۔
۳۹ ۔ینابیع المودۃ، باب ۳۳، ص ۱۰۸، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۴۰ ۔سورہ احزاب، آیت ۳۳۔
تیسرا حصہ: رسول خدا ﷺ، در خانۂ اہل بیت علیھم السلام پر
آیت تطہیر کے بارے میں ایسی احادیث بھی پائی جاتی ہیں جو اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ رسول خداﷺ روزانہ صبح کی نماز یا پانچوں نمازوں کے وقت در خانہ علی و فاطمہ پر با آوازِ بلند فرماتے: اے اہل بیت علیھم السلام نماز کا وقت ہے۔ کچھ روایات آپ کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں:
۱ ۔ شیخ سلیمان(۱) نے حنبلیوں کے امام ، احمد ابن حنبل و ابن ابی شیبہ سے اس طرح روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ اَحۡمَدُ بۡنُ حَنۡبَل وَ اِبۡنُ اَبی شَیۡبَة عَنۡ اَنسِ بن مالِک ، قالَ: اِنَّ رَسُولَ الله ﷺ کانَ یَمُرُّ بِبابِ فاطِمَةَ اِذا خَرَجَ اِلی صَلوةِ الۡفَجۡرِ، یَقُول: اَلصَّلوة یا اَه ۡلَ الۡبَیۡتِ یَرۡحَمُکُمُ الله ُ، ثَلاثاً، مُدَّةً سِتَّةِ اَشۡه ُر "
احمد ابن حنبل و ابن ابی شیبہ نے انس ابن مالک سے روایت کی وہ کہتے ہیں : رسول خداﷺ روزانہ صبح نماز فجر کے وقت در خانۂ فاطمہ سلام اللہ علیھا پر جاتے اور تین مرتبہ فرماتے: اے اہل بیت علیھم السلام ، وقت نماز ہے۔ خدا آپؑ پر اپنی رحمتیں فرمائے، حضورؐ نے چھ ماہ مسلسل روزانہ یہ کام انجام دیا ہے۔
۲ ۔ مسند ابی داؤد(۲) میں روایت کی گئی ہے کہ رسول خداﷺ ایک ماہ تک روزانہ در خانہ فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا پر آئے اور با آواز بلند اے میرے اہل بیت علیھم السلام کہہ کر خطاب فرماتے تھے۔
۳ ۔ ہیثمی(۳) ، جلال الدین سیوطی(۴) اور حاکم حسکانی(۵) نے روایت کی ہے کہ رسول خدا چالیس دن تک در خانہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاپر تشریف لائے اور با آواز بلند انہیں "اے میرے اہل بیت علیھم السلام " کہہ کر خطاب فرمایا۔
۴ ۔ احمد ابن حنبل(۶) ، ترمذی(۷) ، ذہبی(۸) (جیسا کہ شیخ سلیمان بلخی کی روایت آپ نے ملاحظہ فرمائی) نے روایت کی ہے: رسول خداﷺ چھ ماہ تک مسلسل درِ خانۂ فاطمہ زہرا پر تشریف لائے اور انہیں "میرے اہل بیت" کہہ کر خطاب فرماتے رہے۔
۵ ۔ طبری(۹) و ابن کثیر(۱۰) نے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا مسلسل سات مہینے تک در خانۂ فاطمہ زہرا پر تشریف لائے اور انہیں "میرے اہل بیت" کہہ کر خطاب فرماتے رہے۔
۶ ۔ جلال الدین سیوطی(۱۱) و حاکم حسکانی(۱۲) نے روایت کی ہے کہ رسول خداﷺ مسلسل آٹھ ماہ تک در خانۂ سیدہ پر آکر انہیں "اے میرے اہل بیت" کہہ کر خطاب فرماتے رہے۔
۷ ۔ جلال الدین سیوطی(۱۳) ، حاکم حسکانی(۱۴) ، اور محب الدین طبری(۱۵) نے روایت کی ہے کہ رسول خدا ۹ ماہ تک مسلسل در خانہ سیدہ فاطمہ پر آکر انہیں "اے اہل بیت" کہہ کر خطاب کرتے رہے۔
۸ ۔ ہیثمی نے کتاب مجمع الزوائد، جلد ۹ ، صفحہ ۲۶۷ ، حدیث ۱۴۹۸۶ اور حاکم حسکانی(۱۶) نے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا سترہ ماہ تک در خانہ فاطمہ سلام اللہ علیھا پر آتے رہے اور انہیں "اے اہلبیت علیھم السلام " کہہ کر خطاب کرتے رہے۔
دو اہم نکات:
ان احادیث و روایات کے بارے میں دو نکات بیان کرنا ضروری ہیں:
۱ ۔ اگرچہ ان روایات میں سے ہر ایک میں مخصوص مدت کا تذکرہ کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ان میں آپس میں کوئی تضاد و تنافی نہیں ہے کیونکہ جو صحابی جتنی مدت حضور کے ساتھ ساتھ تھا اور جتنی مدت اس نے یہ عمل دیکھا بیان کر دیا۔
لیکن وہ روایات جن میں ایک ہی شخص نے دو مختلف مدتیں بیان کی ہیں قابلِ توجیہ ہیں اور وہ اس طرح کہ اس نے پہلی مرتبہ کم مدت والی روایت بیان کی ہے لیکن جب اس مدت مذکورہ کے بعد بھی مسلسل اس عمل کا مشاہدہ کیا تو دوبارہ زیادہ مدت والی روایت بیان کی ہے۔ مثلاً ابو الحمراء نے ایک حدیث میں یہ مذکورہ مدت چھ ماہ بیان کی ہے کیونکہ اس نے چھ ماہ تک حضور کو یہ عمل انجام دیتے دیکھا لیکن جب اس کے بعد بھی وہ حضور کو مسلسل یہی عمل انجام دیتے دیکھتا رہا اور اسی طرح دو ماہ اور گذر گئے اب جب دوبارہ حدیث بیان کی تو چھ ماہ کے بدلے آٹھ ماہ بیان کئے ہیں اور بتایا کہ حضور آٹھ ماہ تک در خانہ فاطمہ پر "اے اہل بیت" کہہ کر خطاب فرماتے رہے(۱۷) ۔
۲ ۔ اتنی طویل مدت تک رسول اکرمﷺ کا در خانۂ فاطمہ زہرا پر آکر "اے اہل بیت علیھم السلام " کہہ کر خطاب کرنے سے یہ لفظ حضرات علی و فاطمہ اور حسن و حسین سلام اللہ علیھا کے لئے "علَم" یعنی اسم معرفہ بن گیا ہے لہذا دیگر روایات کی روشنی میں بھی یہ لفظ علی و فاطمہ اور ان کی پاکیزہ اولاد سے مخصوص ہوگیا ہے۔ نیز جیسا کہ رسول اکرم ؐ نے حدیث "سفینہ" میں فرمایا: تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح کی مانند ہے؛ یہاں بھی حضور کی اہل بیت سے مراد علی و فاطمہ اور اُن کی پاکیزہ آل ہے۔ اسی طرح حدیث ثقلین وغیرہ میں بھی جو کہ اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں وارد ہوئی ہے؛ یہی مراد ہے۔
چوتھا حصہ: خمسہ طیبہ کے بارے میں مختلف اور کثیر روایات
ہم نے ابھی تک آیت تطہیر کے ذیل میں خمسہ طیبہ کے بارے میں گذشتہ تین حصوں میں ۳۶ روایات کا تذکرہ کیا ہے اور ان تمام روایات میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ "اہل بیت علیھم السلام " سے مراد علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام ہیں۔ لہذا اس نص جلی کی موجودگی میں کسی کے بھی غیر عالمانہ اجتہاد کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ نیز یہ بتانا بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ ذکر شدہ روایات کے علاوہ بھی بہت سی روایات موجود ہیں جن سے خمسہ طیبہ کو ثابت کیا جاسکتا ہے لیکن ان تمام روایات کے ذکر کرنے سے کتاب کے حجم میں اضافہ اور کلام طولانی ہوجائے گا۔ مثلاً آیہ مباہلہ کے ذیل میں خمسہ طیبہ کے بارے میں وارد ہونے والی روایات۔ تفصیلات ہم آپ پر چھوڑتے ہوئے صرف اختصار سے کام لیتے ہوئے چند روایت بطور نمونہ پیش کر رہے ہیں۔
آیت مباہلہ کے ذیل میں اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں روایات
۱ ۔ فخر رازی(۱۸) نے آیت مباہلہ کے ذیت میں یہ حدیث نقل کی ہے:
"رُوِیَ اَنَّه ُﷺ لَمّا اَوۡرَدَ الدَّلائِلَ عَلی نَصاری نَجران ثُمَّ اِنَّه ُمۡ اَصَرّوا عَلی جَه ۡلِه ِمۡ فَقالَﷺ: إِنَّ اللَّهَ اَمَرَنِي إِنْ لَمْ تَقْبَلُوا الۡحُجَّةَ اَنْ اُبَاهِلَكُمْ، فَقَالُوا: يَا اَبَا الْقَاسِمِ، بَلْ نَرْجِعُ فَنَنْظُرُ فِي أَمْرِنَا ثُمَّ نَأْتِيكَ؛فَلَمّا رَجَعوُا قالوُا لِلْعَاقِبِ – وَ کانَ ذارَأۡیِه ِمۡ - : یَا عَبۡدَ الۡمَسیحِ، ما تَریَ؟ فَقالَ: وَ اللَّهِ لَقَدۡ عَرَفۡتُم – یا مَعۡشَرَ النَّصاری – اَنَّ مُحَمّداً نَبِیٌّ مُرۡسَلٌ وَ لَقَدۡ جائَکُمۡ بِالۡکَلامِ، اَلۡحَقُّ فی اَمۡرِ صاحِبِکُمۡ، وَ الله ما باه َلَ قَوْمٌ قَطُّ نَبِيّاً فَعَاشَ كَبِيرُهُمْ وَ نَبَتَ صَغِيرُهُمْ، وَ لَاِنۡ فَعَلۡتُمۡ لَکانَ الۡاِسۡتِئصال، فَاِنۡ أَبَيْتُمْ إِلَّا الۡاِصۡرارِ عَلی دینِکُمۡ وَ الۡاِقامَة عَلی ما اَنۡتُم عَلَیه ِ فَوَادِعُوا الرَّجُلَ و انۡصَرفوُااِلَى بِلَادِكُمْ ؛
وَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِﷺخَرَجَ وَ عَلَیۡه ِ مِرۡط مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ وَ کانَ قَدۡ اِحۡتَضَنَ الۡحُسَیۡنَ وَ اَخَذَ بِیَدِ الْحَسَنِ وَ فَاطِمَةُ تَمْشِي خَلْفَهُ وَ عَلِيٌّ خَلْفَهَا وَ هُوَ يَقُولُ إِذَا أَنَا دَعَوْتُ فَاَمِّنُوا فَقَالَ اُسْقُفُ نَجْرَانَ: يَا مَعْشَرَ النَّصَارَى، اِنِّي لَاَرَى وُجُوهاً لَوْ سَأَلوُا اللَّهُ أَنْ يُزِيلَ جَبَلًا مِنْ مَكَانِهِ لَاَزَالَهُ بِهَا، فَلَا تُبَاهِلُوا فَتَهْلِكُوا، وَ لا يَبْقی عَلَى وَجْهِ الْاَرْضِ نَصْرَانِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ قَالُوا: يَا اَبَا الْقَاسِمِ، رَأَيْنَا أَنْ لَا نُبَاهِلَكَ وَ أَنْ نُقِرَّكَ عَلَى دِينِكَ فَقالَ: فَإِذَا اَبَيْتُمُ الْمُبَاهَلَةَ فَاَسْلِمُوا يَكُنْ لَكُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَ عَلَيْكُمْ مَا عَلَي الۡمُسۡلِمینَ؛
فَأَبَوْا قَالَ: فَاِنِّي أُناجِزُكُمْ الۡقِتالَ، فَقَالُوا مَا لَنَا بِحَرْبِ الْعَرَبِ طَاقَة وَ لَكِنْ نُصَالِحُكَ عَلَى أَنْ لَا تغزُونا وَ لَا تَردَّنَا عَنْ دِينِنَا عَلَى أَنْ نُؤَدِّيَ إِلَيْكَ فی كُلِّ عَامٍ أَلْفَيْ حُلَّةٍ، اَلْفاً فِي صَفَرٍ وَ اَلْفاً فِي رَجَب وَ ثَلَاثِينَ دِرْعاً عَادِيَةً مِنْ حَدِيدٍ، فَصَالَحَهُمۡ عَلَى ذَلِكَ وَ قَالَ: وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ اِنَّ الْهَلَاكةَ قَدْ تَدَلَّى عَلَى اَهْلِ نَجْرَان، وَ لَوْ لَاعِنُوا لَمُسِخُوا قِرَدَةً وَ خَنَازِيرَ ، وَ لَاِضطَرَمَ عَلَيْهِمُ الْوَادِي نَاراً، وَ لَاسْتَأْ صَلَ اللَّهُ نَجْرانَ وَ اَهْلَهُ حَتَّى الطَّيْرَ عَلَى رُؤُسِ الشَّجَرِ ، وَ لَمَّا حَالَ الْحَوْلُ عَلَى النَّصَارَى كُلِّهِمْ حَتَّى يَهْلِكُوا وَ رُوِیَ اَنَّه ُﷺ لَمَّا خَرَجَ فِی الۡمِرْطِ الۡاََسْوَدِ فَجَاءَ الْحَسَنُ علیه السلام فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ علیه السلام فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ جَائَتۡ فَاطِمَةُ علیه ما السلام، ثُمَّ عَلِيُّ علیه السلام، ثُمَّ قَالَ:( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) (۱۹) "
جب نصارائے نجران نبی کریمﷺ کی جانب سے دلائل پیش کرنے کے باوجود اپنی ہٹ پر قائم رہے تو آنحضرت ؐ نے فرمایا: خداوند عالم نے مجھے حکم دیا ہے کہ اگر تم لوگ دلائل قبول نہ کرو تو میں تم سے مباہلہ کروں۔ انہوں نے کہا: اے ابو القاسم ہم پہلے واپس جاکر آپس میں مشورہ کرلیں پھر آپؐ کے پاس آتے ہیں۔
اپنی قوم میں واپس پلٹنے کے بعد "عاقب" نامی صاحب نظر و دور اندیش شخص کے پاس آئے اور کہا: اے عبد المسیح! آپ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں؟ اس نے جواب دیا: اے مسیحو! تم لوگ تو محمدؐ کو جانتے پہچانتے ہو اور یہ بھی جانتے ہو کہ وہ پیغمبر اور فرستادۂ خدا ہیں اور (حضرت عیسیٰ کے بارے میں) تمہارے لئے کلام حق لیکر آئے ہیں۔ خدا کی قسم کسی قوم نے ان سے مباہلہ نہیں کیا مگر یہ کہ ان کے چھوٹے بڑے سب نابود ہوگئے اگر تم بھی ان سے مباہلہ کے لئے پہنچ جاؤ گے تو مکمل طور پر نابود ہوجاؤ گے لہذا اگر تم اپنی ضد پر قائم اور اپنے دین پر باقی رہنا چاہتے ہو تو پھر اپنے شہر واپس پلٹ جاؤ۔
پیغمبر اس انداز سے مباہلہ کے لئے نکلے کہ آپ ؐ کے دوش مبارک پر کالے بالوں والی عباء تھی، حسینؑ آغوش میں اور حسن انگلی پکڑے ہوئے، فاطمہ پیچھے پیچھے اور علی علیہ السلام ان کے پیچھے پیچھے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ جب میں دعا کروں تو تم لوگ "آمین" کہنا۔
یہ منظر دیکھ کر اسقف نجران نے کہا: اے گروہ انصار! میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ لوگ خدا سے پہاڑ ہٹانے کے لئے کہیں تو پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دے گا۔ پس ان سے مباہلہ مت کرو ورنہ نابود ہوجاؤ گے اور قیامت تک زمین پر کوئی نصرانی باقی نہ بچے گا۔
پھر حضورؐ کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے ابو القاسم ! ہم آپؐ سے مباہلہ کا ارادہ نہیں رکھتے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اگر تم مباہلہ نہیں کرنا چاہتے ہو تو مسلمان ہو جاؤ تاکہ مسلمانوں کے نفع و نقصان میں شریک رہو۔ انہوں نے مسلمان ہونا بھی قبول نہیں کیا۔ پھر نبی کریمؐ نے فرمایا: اگر ایسا ہے تو پھر تمہارے ساتھ جنگ حتمی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم عرب سے جنگ کرنے پر قادر نہیں ہیں اور ہم آپ سے مصالحت کرتے ہیں کہ آپ ہم سے جنگ نہ کریں اور ہمیں ہمارے دین سے جدا نہ کریں، ہم اس کے بدلے ہر سال دو ہزار اسلحہ، (ایک ہزار صفر میں، ایک ہزار رجب میں) اور تیس آہنی زرہ ادا کریں گے۔ حضورؐ نے انکی یہ بات قبول کرلی۔
اس کے بعد حضورؐ نے فرمایا: خدا کی قسم اہل نجران نابودی کے در پر تھے اگر مباہلہ کرتے تو سب کے سب بندر اور سور کی شکل میں تبدیل ہوجاتے اور جس وادی میں یہ لوگ تھے وہاں آگ میں دھنس کر رہ جاتے، خداوند عالم اہل نجران کو نیست و نابود کردیتا۔ یہاں تک کہ درختوں پر بیٹھے ہوئے پرندے تک نابود ہوجاتے اور ایک سال کے اندر تمام نصاریٰ نابود ہوجاتے۔
اور روایت کی گئی ہے : جب حضور اس کالی چادر کے ساتھ باہر آئے تھے تو پہلے حسن کو پھر حسین کو اور پھر علی علیہ السلام و فاطمہ کو چادر کے اندر داخل کرکے فرمایا:( اِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) بتحقیق کہ خداوند کا صرف ارادہ ہی یہ ہے کہ وہ ہر رجس کو تم اہل بیت سے دور رکھے اور ایسا پاک رکھے جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے۔ (احزاب/ ۳۳)
نکتہ: موصوف یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ :"وَ اعۡلَمۡ اَنَّ ه ذِه الرِّوایَةَ کَالمتفق عَلیٰ صِحَّتِه ٰا بَیۡنَ اهل التفسیر و الحدیث" یعنی یہ روایت مفسرین و محدثین کے درمیان متفق علیہ ہے۔
۲ ۔ صحیح مسلم(۲۰) ،(۲۱) ، سنن ترمذی اور مسند احمد(۲۲) بن حنبل(۲۳) میں روایت کی گئی ہے:
"حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّاد … قالا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ (وَ ه ُوَ اِبۡنُ اِسْمَاعِيل) عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِي وَقَّاص، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اَمَرَ مُعاوِيَةُ بن اَبِي سُفْيَانَ سَعْداً فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَاب؟ فَقَالَ: اما مَا ذَكَرْتَ ثَلَاثاً قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِﷺ فَلَنْ اَسُبَّهُ، لَاَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِﷺ يَقُولُ لَهُ – لَمّا خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ - فَقَالَ لَهُ عَلِیُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَاءِ وَ الصِّبْيَانِ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِﷺ: اَمَا تَرْضَى اَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي؛
وَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ یُحِبُّه ُ الله ُ وَ رَسُولُه ُ، قَالَ فَتَطَاوَلُنَا لَهَا، فَقَالَ اُدْعُوا عَلِيّاً، فَاُتِيَ بِهِ اَرْمَدَ، فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَ دَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَیۡه ؛
وَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ :( … فَقُلۡ تَعالَوۡا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَكُمْ ) دَعَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَلِيّاً وَ فَاطِمَةَ وَ حَسَناً وَ حُسَيْناً ، فَقَالَ اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلی "
قتیبہ ابن سعید نے ہم سے حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد (یعنی سعد بن ابی وقاص) سے کہ معاویہ نے سعد کو حکم دیا اور کہا: ابو تراب (علیؑ) کو سب و شتم کرنے میں تمہارے لئے کیا چیز مانع ہے؟ جناب سعد نے جواب دیا جب تک میرے ذہن میں علی علیہ السلام کی تین فضیلتیں محفوظ ہیں جو رسول اللہﷺ نے ان کے بارے میں بیان کی ہیں میں ہرگز انہیں سب و شتم نہ کروں گا، اگر ان میں سے ایک فضیلت بھی مجھے مل جاتی تو وہ میرے لئے سرخ اونٹوں سے زیادہ قیمتی اور محبوب ہوتی۔ اول: یہ کہ جب نبی کریم نے انہیں جنگ کے موقع پر مدینہ میں چھوڑ دیا تو علی علیہ السلام نے ان سے کہا: یا رسولؐ اللہ کیا آپؐ مجھے خواتین و بچوں کے ساتھ مدینہ ہی میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ اس وقت نبی نے فرمایا: اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد نبی نہیں ہے؟
دوئم: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا کہ میں علَم اس شخص کو دونگا کہ وہ خدا و رسولؐ کو دوست رکھتا ہے اور خدا و رسولؐ اس کو دوست رکھتے ہیں۔ سعد کہتے ہیں: ہم (پوری رات اس عظیم مقام کے حصول میں ) انتظار کرتے رہے اور سوچتے رہے کہ نبی اس عظیم کام پر ہمیں مامور کریں گے یا نہیں؟ لیکن حضور نے فرمایا کہ علی علیہ السلام کو میرے پاس لیکر آؤ۔ حالانکہ علی علیہ السلام کی آنکھوں میں درد تھا اس کے باوجود وہ ہمارے ساتھ رسولؐ کی خدمت میں آگئے، حضور ؐ نے انکی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا اور علم عطا کردیا اور خداوند عالم نے انکے ہاتھوں مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔
سوئم: جب یہ آیت مباہلہ( فَقُلۡ تَعالَوۡا نَدْعُ أَبْناءَنا وَ أَبْناءَكُمْ ) (۲۴) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺنے علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام کو اپنے پاس بلاکر عرض کیا: پروردگار! "یہ میرے اہل بیت ہیں"۔
۳ ۔ شیخ سلیمان(۲۵) نے عامر بن سعد سے اس طرح روایت کی ہے:
"عَنۡ عامِرِ بن سَعۡدٍ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُما قالَ: لَمَّا اُنۡزِلَتْ آيَةُ الۡمُباه َلَةِ دَعَا رَسُولُ اللَّهِﷺ عَلِيّاً وَ فَاطِمَةَ وَ حَسَناً وَ حُسَيْناً فَقَالَ: اَللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلی "
عامر بن سعد سے روایت کی گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں: جب آیت مباہلہ (آل عمران/ ۶۱) نازل ہوئی تو رسول خداﷺ نے علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام کو اپنے پاس بلایا اور عرض کیا: خدایا یہ میرے اہل بیت علیھم السلام ہیں۔
نکتہ: موصوف یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: یہ حدیث مسلم نے بھی نقل کی ہے۔
اہل بیت علیھم السلام اور مناشدۂ یوم الشوریٰ
۴ ۔ تاریخ دمشق(۲۶) میں، شوریٰ کے دن شوریٰ کے اراکین سے حضرت علی علیہ السلام کا مناشدہ، مسنداً نقل ہوا ہے اس مشہور و متفق علیہ روایت کے مطابق حضرت علی علیہ السلام ، عثمان بن عفان، عبد الرحمن بن عوف، طلحہ و زبیر اور سعد بن ابی وقاص سے اپنے فضائل بیان کرکے انہیں خدا کی قسم دے کے ایک ایک فرد سے اعتراف لیتے رہے اور وہ تائید کرتے رہے۔ روایت یہ ہے:
" اَخۡبَرَنَا اَبُو عَبۡدِ الله ِ مُحَمَّدُبنِ اِبۡراه یم، اَخۡبَرَنَا اَبُو الۡفَضۡلِ اَحۡمَدُ بن عَبۡدِ المُنۡعِمِ بن اَحۡمَدِ بن بندار، اَخۡبَرَنَا اَبُو الۡحَسَنِ الۡعَتیقی، اَخۡبَرَنَا اَبُو الۡحَسَنِ الدّارُ قِطۡنی، اَخۡبَرَنَا اَحۡمَدُ بن مُحَمَّدِ بن سَعیدٍ، اَخۡبَرَنا یَحیَی بن زَکَرِیّا شَیۡبان، اَخۡبَرَنَا یَعقُوبُ بن سَعیدٍ، حَدَّثنی مَثۡنی اَبُو عَبۡدِ الله ِ عَنۡ سُفیان الثُّوری عَن اَبی اِسۡحاق السّبیعی عَنۡ عاصِمِ بن ضمره و ه َبیرَة وَ عَنِ الۡعَلاء بن صالِح عَنِ الۡمِنۡه الِ بن عَمۡرو عَنۡ عبّادِ بن عَبۡدِ الله ِ الۡاَسَدی وَ عَنۡ عَمۡرو بن واثِلةِ، قالوا:
قالَ عَلیُّ بن اَبیطالبٍِ یَوۡمَ الشُّوری: وَ الله ِ لَاَحۡتِجَنَّ عَلَیۡکُمۡ بِما لا یَسۡتَطیعُ قُرَشِیُّه ُمۡ وَ لا عَرَبِیُّه ُمۡ وَ لا عَجَمِیُّه ُمۡ رَدَّه ُ وَلا یَقوُلُ خِلافَه ُ، ثُمَّ قالَ لِعُثمان بن عَفّان وَ عَبۡدِ الرحمنِ بن عَوۡف وَ الزُّبَیۡر وَ طَلۡحَة وَ سَعۡد – وَ ه ُمۡ اَصۡحابُ الشُّوری وَ کُلُّه ُم مِنۡ قُرَیۡش وَ قَدۡ کانَ قدَّمَ طَلۡحَةُ – اَنۡشِدُکُمۡ بِالله ِ الّذی لا اِله َ اِلّا ه ُوَ، اَمِنۡکُمۡ اَحَدٌ وَحَّدَ الله َ قَبۡلی؟ قالوُا: اَلۡلَّه ُمَّ لا قالَ: اَنۡشِدُکُمۡ بِالله ِ، ه َلۡ فیکُم اَحَدٌ صَلّی لِله ِ قَبۡلی وَ صَلّی الۡقِبۡلَتَیۡنِ؟ قالوُا: اَلۡلَّه ُمَّ لا قالَ: اَنۡشِدُکُمۡ بِالله ِ، اَفیکُمۡ اَحَدٌ اَخُو رَسُولِ الله ِ غَیۡری، اِذۡ آخی بَیۡنَ الۡمُؤۡمِنینَ فَآخی بَیۡنی وَ بَیۡنَ نَفۡسِه وَ جَعَلَنی مِنۡه ُ بِمَنۡزِلَةِ ه ارُونَ مِنۡ مُوسی اِلّا اَنّی لَسۡتُ بِنَبِیٍّ؟ قالوُا: لا قالَ: اَنۡشِدُکُمۡ بِالله ِ، اَفیکُمۡ مُطَه َّرٌ غَیۡری، اِذۡ سَدّ رَسُولُ الله ِ اَبۡوابَکُمۡ و فَتَحَ بابی وَ کُنۡتُ مَعَه ُ فی مَساکِنِه وَ مَسۡجِده ِ؟ فَقَامَ اِلَیۡه ِ عَمَّه ُ فَقالَ: یَا رَسُولَ الله ِ، غَلَّقۡتَ اَبۡوابَنا وَ فَتَحۡتَ بابَ عَلیٍّ؟ قالَ: نَعَمۡ، الله ُ اَمَرَ بِفَتۡحِ بابِه وَ سَدَّ اَبۡوابِکُم؟ قالوُا: الۡلَّه ُمَّ لا قالَ: نَشدۡتُکُمۡ بِالله ِ، ه َلۡ فیکُمۡ اَحَبُّ اِلی الله ِ وَ اِلی رَسوُلِه مِنّی اِذۡ رَفَعَ الرّایَةَ الی یَوۡمِ خیبَر، فَقالَ: لَاُعۡطِیَنَّ الرّایَةَ اِلی مَنۡ یُحِبُّ الله َ وَ رَسُولَه ُ وَ یُحِبُّه ُ الله ُ وَ رَسُولُه ُ، وَ یَوۡم الطّائِرِ اِذۡ یَقُولُ:" اَلۡلَّه ُمّ اِئۡتِنی بِاَحَبِّ خَلۡقِکَ اِلَیۡکَ یَأۡکُلُ مَعی"، فَجِئتُ فَقالَ: " اَلۡلَّه ُمَّ وَ اِلی رَسُولِکَ " غَیۡری؟ قالوُا: الۡلَّه ُمَّ لا قالَ: اَنۡشِدُکُمۡ بِالله ِ، اَفیکُمۡ اَحَدٌ قَدّمَ بَیۡنَ نَجۡواه ُ صَدَقَةً غَیۡری حَتّی رَفَعَ الله ُ ذلِکَ الۡحُکۡم؟ قالوُا: الۡلَّه ُمَّ لا قالَ: نَشدۡتُکُمۡ بِالله ِ، اَ فیکُمۡ مَنۡ قَتَلَ مُشۡرِکی قُرَیۡشِ وَ الۡعَرَبِ فیِ الله وَ فی رَسُولِه غَیۡری؟ قالوُا: الۡلَّه ُمَّ لا قالَ: نَشدۡتُکُمۡ بِالله ِ، اَفیکُمۡ اَحَدٌ دَعا رَسُولُ الله ِ فِی الۡعِلۡمِ وَ اَنۡ یَکُونَ اُذُنُه ُ الۡواعِیَة مِثۡلُ ما دَعا لی؟ قالوُا: الۡلَّه ُمَّ لا قالَ: نَشدۡتُکُمۡ بِالله ِ، ه َلۡ فِیکُمۡ اَحَدٌ اَقۡرَبُ اِلی رَسُولِ الله ِ فِی الرَّحِمِ وَ مَنۡ جَعَلَه ُ رَسُولُ الله ِ نَفۡسَه ُ وَ اَبۡنائَه ُ اَبۡنائَه ُ وَ نِسائَه ُ نِسائَه ُ، غَیۡری؟ قالوُا: الۡلَّه ُمَّ لا
عاصم بن ضمرہ، ہبیرہ اور عمرو بن واثلہ نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آنجناب نے شوریٰ والے دن اعضائے شورا سے اس طرح کلام کیا۔
خدا کی قسم آج میں تمہارے سامنے اس طرح استدلال کروں کہ کوئی قریشی، عربی یا عجمی اسے رد نہ کرسکے اور اس کے برخلاف کوئی دلیل پیش نہ کرسکے۔ پھر آپ نے عثمان بن عفان، عبد الرحمن بن عوف، طلحہ و زبیر اور سعد جو کہ اصحاب شوریٰ اور قریش میں سے تھے اور ان میں طلحہ آگے آگے تھا، اس طرح فرمایا:
میں تمہیں اس خداوند عالم کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، بتائیے تم میں کوئی ہے جس نے مجھ سے پہلے خدائے یکتا کی پرستش کی ہو؟ سب نے کہا: اے اللہ! کسی نے نہیں(۲۷) ۔
علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں کہ تم میں سے کس نے مجھ سے پہلے نماز پڑھی اور مجھ سے پہلے کس نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے۔
سب نے کہا: بخدا کسی نے نہیں۔
علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں کہ بتاؤ تم میں سے میرے سِوا کون نبی کریمؐ کا بھائی ہے۔ جب رسولؐ اللہ نے مؤمنین میں رشتہ اخوت قائم کیا تو انہوں نے مجھے اپنا بھائی بنایا اور مجھے منزلت ہارونی عطا فرمائی؟
سب نے کہا: بخدا کوئی نہیں۔
علی علیہ السلام نے فرمایا: میں تمہیں خدا کی قسم دیکر سوال کرتا ہوں بتاؤ میرے علاوہ تم میں کون ہے جسے پاکیزہ قرار دیا گیا ہو جب رسولؐ اللہ نے مسجد میں کھلنے والے ہمارے دروازے کے علاوہ سب کے دروازے بند کروا دیئے اور میں گھر اور مسجد میں ایک طرح تھا اور چچا عباس نے کھڑے ہوکر سوال کیا کہ یا رسول اللہﷺ آپؐ نے سب کے دروازے بند کروا دیئے اور علی علیہ السلام کے گھر کا دروازہ کھلا رکھا ہے؟ اس وقت رسولؐ خدا نے جواب دیا تھا کہ خداوند عالم نے سب کے دروازے بند کرنے اور علی علیہ السلام کا دروازہ کھلا رکھنے کا حکم دیا تھا۔
سب نے جواب دیا: بخدا ہم میں کوئی ایسا نہیں ہے۔
علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دیکر سوال کرتا ہوں کہ تم میں میرے سوا کوئی ہے جسے خدا و رسولؐ مجھ سے زیادہ محبوب رکھتے ہوں؟ جب پیغمبر خدا نے خیبر کے دن عَلَم اٹھاکر فرمایا: بتحقیق میں یہ علم اسے عطا کروں گا جو خدا و رسولؐ کو دوست رکھتا ہے اور خداو رسولؐ اسے دوست رکھتے ہیں، اور اس دن جب پیغمبر خدا نے بُھنے ہوئے پرندے کے بارے میں عرض کیا: خدایا تو مخلوقات میں جسے سب سے زیادہ محبوب رکھتا ہے اُسے میرے پاس بھیج دے تاکہ میرے ساتھ اس کھانے میں شریک ہوجائے اور حضور کی اس دعا کے بعد میں وہاں پہنچ گیا تھا اور پیغمبرؐ نے مجھے دیکھ کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا تھا کہ خداوند! میں بھی علی علیہ السلام کو سب سے زیادہ دوست و محبوب رکھتا ہوں۔
بتاؤ میرے علاوہ تم میں کون ایسا ہے جس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہو؟
سب نے کہا: بخدا ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے۔
علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دیکر سوال کرتا ہوں، بتاؤ تم میں سے کون ہے میرے سوا جس نے نجوا سے قبل صدقہ دیا ہو یہاں تک کہ یہ حکم ہی خدا نے منسوخ کردیا؟
سب نے کہا: بخدا تمہارے سوا کوئی نہیں ہے۔
علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دیکر سوال کرتا ہوں کہ تم میں میرے علاوہ بتاؤ ایسا کون ہے جس نے خدا و رسولؐ کے خاطر مشرکین کو قتل کیا ہو؟
سب نے کہا: کوئی نہیں ہے۔
علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دیکر سوال کرتا ہوں کہ میرے علاوہ تم میں کون ہے جس کے لئے رسولؐ خدا نے علم (میں اضافہ) کی دعا کی ہو، جس طرح میرے حق میں دعا کی ہے۔
سب نے کہا: کوئی نہیں ہے۔
علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دیکر سوال کرتا ہوں کہ تم میں رسول خداﷺسے رشتہ داری میں مجھ سے زیادہ کوئی قریب ہے؟ اور جسے رسولؐ اللہ نے اپنا نفس قرار دیا ہو، اس کی اولاد کو اپنی اولاد قرار دیا ہو، اور اس کی نساء کو اپنی نساء قرار دیا ہو؟
سب نے کہا: کوئی نہیں ہے۔
نکتہ: جیسا کہ آپ نے آیۂ مباہلہ سے متعلق روایات ملاحظہ فرمائیں ہیں مباہلہ کا میدان خصوصیت کے ساتھ فقط انہی آل عبا و خمسہ طیبہ یعنی رسول خدا، علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام کو ثابت کر رہا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ بالا روایت کے ذیل میں یہ بات واضح کردی گئی ہے۔
آیہ مؤدت اہل بیت علیھم السلام کی شان ہے
۵ ۔ شیخ سلیمان(۲۸) نے احمد بن حنبل سے مسنداً روایت نقل کی ہے:
"اَخۡرَجَ اَحۡمَدُ فی مُسۡنَده ِ، بِسَنَدِه عَنۡ سَعید بن جُبَیۡر عَنۡ اِبۡنِ عَبّاس رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُما قالَ: لَمّا نَزَلَتۡ قُلۡ لا اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡه ِ اَجۡراً اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِی الۡقُرۡبی، قالوُا: یا رَسُولَ الله ِ مَنۡ ه ؤُلاءِ الَّذینَ وَجَبَتۡ لَنا مَوَدَّتُه ُمۡ، قالَ: عَلِیُّ و فاطِمَةُ وَ الۡحَسَنُ وَ الۡحُسَیۡنُ "
احمد ابن حنبل نے کتاب مسند میں سعید بن جبیر کے حوالہ سے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ جب آیۂ مودت( قُلۡ لا اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡه ِ اَجۡراً اِلَّا الۡمَوَدَّةَ فِی الۡقُرۡبی ) (شوریٰ/ ۲۳) نازل ہوئی تو اصحاب نے عرض کیا: یا رسولؐ! آپؐ کے قربیٰ کون ہیں جن کی مودت کو ہم پر واجب قرار دیا گیا ہے۔
حضور سرور کائناتﷺ نے فرمایا: یہ علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام ہیں۔
نکتہ: موصوف، ینابیع المودۃ کے باب ۳۲ کے آغاز میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
"اَیۡضاً اَخۡرَجَ ه ذَا الۡحَدیثَ الطَّبَرانی فی مُعۡجَمِه ِ الۡکَبیرِ، وَ اِبۡنُ اَبی حاتَمِ فی تَفۡسیرِه ِ، وَ الۡحاکِمُ فِی الۡمنَاقِبِ وَ الۡواحدی فی الۡوَسیط وَ اَبُو نعیم الۡحافِظُ فی حِلۡیَةِ الۡاَولیاء وَ الثَّعۡلَبی فی تَفۡسیره وَ الۡحَمَوِیۡنی فی فَرائِدِ السِّمۡطَیۡنِ "
یعنی نیز یہ حدیث طبرانی نے معجم الکبیر میں، ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں، حاکم نے مناقب میں، واحدی نے کتاب الوسیط میں، حافظ ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں، ثعلبی نے اپنی تفسیر میں حموینی نے فرائد السمطین میں بھی نقل کی ہے۔
ذرّیت نبیؐ، صلبِ علی علیہ السلام میں
۶ ۔ شیخ سلیمان بلخی(۲۹) نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے انہوں نے امام محمد باقر سے انہوں نے جابر عبد اللہ انصاری سے، نیز کتاب کے باب ۵۹ ، ص ۳۰۰ میں کتاب الصواعق المحرقہ سے آیہ مباہلہ کے ذیل میں ابو خیر فاکھی سے اور صاحب کنوز المطالب فی مناقب بنی ابی طالب نےا س طرح روایت کی ہے: "اِنَّ عَلِیّاً دَخَلَ عَلَی النَّبِیِّﷺ وَ عِنۡدَه ُ الۡعَبّاس فَسَلَّمَ وَ رَدّ علیه السلام وَ قامَ فَعانَقَه ُ وَ قَبَّلَ ما بَیۡنَ عَیۡنَیۡه ِ وَ اَجۡلَسَه ُ عَنۡ یَمینِه فَقالَ لَه ُ الۡعَبّاسُ: اَ تُحِبُّه ُ؟ قالَ: یا عَمَّ وَ الله ِ اَلله ُ اَشَدُّ حُبّاً لَه ُ مِنّی اِنَّ الله َ جَعَلَ ذُرِّیَّةَ کُلِّ نَبِیٍّ فی صُلۡبِه وَ جَعَلَ ذُرِّیَّتی فی صُلۡبِ ه ذا "
یعنی ایک مرتبہ علی علیہ السلام رسولؐ کے پاس آئے اس وقت آنحضرت کے پاس عباس (اور جابر بن عبد اللہ انصاری) موجود تھے، پس علی علیہ السلام نے آکر سلام کیا اور رسولؐ خدا نے جواب عنایت فرمایا۔ پھر حضورؐ نے کھڑے ہوکر علی علیہ السلام کی پیشانی کا بوسہ لیا اور انہیں اپنے دائیں پہلو میں بٹھالیا۔ اس موقع پر عباس نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! کیا آپ علی علیہ السلام کو محبوب رکھتے ہیں؟ رسول خداﷺ نے فرمایا: اے چچا!بخدامیں اللہ کو زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔ بتحقیق خداوند نے ہر نبی کی ذرّیت و نسل کو خود اسی کے صلب میں قرار دیا ہے جبکہ میری ذریت کو علی علیہ السلام کے صلب میں قرار دیا ہے۔
اب کیا یہ خیال صحیح ہے کہ ذرّیت پیغمبر تو علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا میں ہو لیکن اہل بیت علیھم السلام نبی ان کے علاوہ کوئی اور ہوں؟
نکتہ: موصوف، ینابیع المودۃ کے باب ۵۷ میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ابو الخیر نے یہ روایت کتاب اربعین میں نقل کی ہے او ر اسی جیسی روایت صاحب کنوز المطالب فی مناقب بنی ابی طالب نے عباس سے نقل کی ہے ۔
۷ ۔ شیخ سلیمان نے ینابیع المودۃ(۳۰) باب ۵۷ اور باب ۵۶ میں نیز مناقب میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے اس طرح روایت کی گئی ہے۔
"عَنۡ جابِر رَضِی الله ُ عَنۡه ُ قالَ رَسوُلُ الله ِﷺ اِنَّ الله َ عَزَّ وَ جَلَّ جَعَلَ ذُرِّیَّةَ کُلِّ نَبِیٍّ فی صُلۡبِه وَ جَعَلَ ذُرِّیَّتی فی عَلیِّ بن اَبیطالِبٍ "
جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: بتحقیق خداوند عالم نے ہر نبی کی ذریت کو خو د اسی کے صلب میں رکھا ہے لیکن میری ذرّیت کو علی بن ابی طالب‘کے صلب میں قرار دیا ہے۔
بیشک ذرّیت نبی کریم صلب علی میں اور اولاد علی و فاطمہ میں ہی ہے۔ پس بنابریں علمائے اہل سنت کے اقرار کے مطابق حضرت علی علیہ السلام "سید اہل بیت علیھم السلام " ہیں۔
نکتہ: مولانا موصوف باب ۵۷ میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: یہ روایت طبرانی نے معجم الکبیر میں بھی نقل کی ہے اور باب نمبر ۵۶ میں حدیث عشرون کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ صاحب فردوس نے بھی یہ روایت لکھی ہے۔
خلافت عثمان میں مسجد نبوی میں حضرت علی علیہ السلام کی تقریر
۸ ۔ شیخ سلیمان(۳۱) ، آیت "اولی الامر" کے ذیل میں "فرائد السمطین" حموینی(۳۲) ،(۳۳) جلد نمبر ۱ ، صفحہ نمبر ۳۱۲ کے حوالہ سے سلیم ابن قیس ہلالی سے اس طرح روایت کرتے ہیں:
" اَلۡحموۡینی بِسنَدَه ِ عَنۡ سُلَیۡمِ بن قَیۡسٍ الۡه ِلالی قالَ رَأَیۡتُ عَلِیّاً فی مَسۡجِدِ الۡمَدینَةِ فی خِلافَةِ عُثۡمان، اِنَّ جَماعَةَ الۡمُه اجِرینَ وَ الۡاَنۡصار یَتَذاکَرُون فَضائِلَه ُمۡ وَ عَلِیٌّ ساکتٌ فَقالوُا: یا اَبَا الۡحَسَنِ تَکَلَّمۡ، فَقالَ: یا مَعۡشَرَ قُرَیۡشٍ وَ الۡاَنصارِ اَسۡئَلُکُمۡ مِمَّنۡ اَعۡطاکُمُ الله ُ ه ذَا الۡفَضۡلَ اَ بِأَنۡفُسِکُمۡ اَوۡ بِغَیۡرِکُمۡ؟
قالوُا: اَعطانَا الله ُ وَ مَنَّ عَلَیۡنا بِمُحَمَّدٍﷺ قالَ: اَلَسۡتُمۡ تَعۡلَمُونَ اَنَّ رَسُولَ الله ﷺ قالَ اِنّی وَ اَهْلُ بَيْتِي كُنَّا نُوراً بَيْنَ يَدَي اللَّهِ قَبْلَ اَنْ يَخْلُقَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ آدَمَ بِاَرْبَعَةَ عَشَرَ اَلْفَ سَنَةً، فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ وَضَعَ ذَلِكَ النُّورَ فِي صُلْبِهِ وَ أَهْبَطَهُ اِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ حَمَلَهُ فِي السَّفِينَةِ فِي صُلْبِ نُوحٍ ثُمَّ قَذَفَ بِهِ فِي النَّارِ فِي صُلْبِ إِبْرَاهِيمَ ثُمَّ لَمْ يَزَلِ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ يَنْقُلُنا مِنَ الْاَصْلَابِ الْكَرِيمَةِ إِلَى الْاَرْحَامِ الطَّاهِرَةِ مِنَ الْآبَاءِ وَ الْاُمَّهَاتِ لَمْ یَکُنۡ وَاحِدٌ مِنّا عَلَى سِفاحٍ قَطُّ، فَقَالَ اَهْلُ السَّابِقَةِ وَ الْقِدْمَةِ وَ اَهْلُ بَدْرٍ وَ اُحُدٍ، نَعَمْ قَدْ سَمِعْنَاه ُ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ اَ تَعْلَمُونَ اَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ فَضَّلَ فِي كِتَابِهِ السَّابِقَ عَلَى الْمَسْبُوقِ فِي غَيْرِ آيَةٍ وَ لَمْ يُسْبِقْنِي اَحَدٌ مِنْ الْاُمَّةِ فی الۡاِسلامِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَاَنْشِدُكُمُ اللَّهَ اَ تَعْلَمُونَ حَيْثُ نَزَلَتْ( وَ السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ أُولئِكَ الْمُقَرَّبُونَ ) (۳۴) سُئِلَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِﷺ فَقَالَ اَنْزَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِي الْاَنْبِيَاءِ وَ اَوْصِيَائِهِمْ فَاَنَا اَفْضَلُ اَنْبِيَاءِ اللَّهِ وَ رُسُلِهِ وَ عَلِيّ وَصِيِّي اَفْضَلُ الْاَوْصِيَاءِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اَنْشِدُكُمُ اللَّهَ اَ تَعْلَمُونَ حَيْثُ نَزَلَتْ:( يا اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اَطِيعُوا اللَّهَ وَ اَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ) (۳۵) وَ حَيْثُ نَزَلَتْ:( اِنَّما وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكاةَ وَ هُمْ راكِعُونَ ) (۳۶) وَ حَيْثُ نَزَلْتَ:( وَ لَمْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَ لا رَسُولِهِ وَ لَا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً ) (۳۷) وَ اَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ نَبِيَّهُ أَنْ يُعْلِمَهُمْ وُلَاةَ أَمْرِهِمْ وَ اَنْ يُفَسِّرَ لَهُمْ مِنَ الْوَلَايَةِ کَمَا فَسَّرَ لَهُمْ مِنْ صَلوتِهِمْ وَ زَكوتِهِمْ وَ حَجِّهِمْ، فَنَصَبَنِي لِلنَّاسِ بِغَدِيرِ خُمٍّ فَقَالَ: اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ اللَّهَ جَلَّ جَلالُه ُ اَرْسَلَنِي بِرِسَالَةٍ ضَاقَ بِهَا صَدْرِي وَظَنَنْتُ اَنَّ النَّاسَ یُکَذِّبُنی فَاَوْعَدَنِي رَبّی ثُمَّ قالَ اَتَعْلَمُونَ اَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ مَوْلَايَ وَ اَنَا مَوْلَى الْمُؤْمِنِينَ وَ اَنَا اَوْلَى بِهِمْ مِنْ اَنْفُسِهِمْ؟ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقالَ آخِذاً بِیَدی: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اَللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَ عَادِ مَنْ عَادَاهُ، فَقَامَ سَلْمَانُ، وََقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وِلَاءُ عَلِیٌّ مَاذَا؟ قَالَ: وِلَائُه ُ كَوِلَائِي، مَنْ كُنْتُ اَوْلَى بِهِ مِنْ نَفْسِهِ فَعَلِيٌّ أَوْلَى بِهِ مِنْ نَفْسِهِ، فَنَزَلَتۡ:( اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْاِسْلامَ دِيناً ) (۳۸) ،فقَالَﷺ اللَّهُ اَكْبَرُ بِاِکۡمالِ الدّینِ وَ اِتۡمامِ النِّعۡمَةِ وَ رِضاءِ رَبّی بِرِسالَتی وَ وِلایَةِ عَلِيٍّ بَعْدِي،قالوُا( ) : يا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ الْآيَاتُ فِي عَلِيٍّ خاصَّةً؟ قَالَ: بَلَى فِيهِ وَ فِي اَوْصِيَائِي اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالوا: بَيِّنْهُمْ لَنا، قَالَ: عَلِیٌّ اَخِي وَ وارِثی وَ وَصِيِّي وَ وَلِیُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي(۳۹) ، ثُمَّ اِبْنِيَ الْحَسَنُ ثُمَّ الْحُسَيْنُ ثُمَّ التِّسْعَةُ مِنْ وُلْدِ الْحُسَيْنِ ، اَلْقُرْآنُ مَعَهُمْ وَ هُمْ مَعَ الْقُرْآنِ لَا يُفَارِقُونَهُ وَ لَا يُفَارِقُهُمْ حَتَّى يَرِدُوا عَلَيَّ الْحَوْضَ، قالَ بَعۡضُه ُمۡ: قَدْ سَمِعْنَا ذَلِكَ وَ شَهِدْنَا، وَ قالَ بَعۡضُه ُمۡ: قَدْ حَفِظْنَا جُلَّ مَا قُلْتَ وَ لَمْ نَحْفَظْ كُلَّهُ، وَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ حَفِظُوا اَخْيَارُنَا وَ اَفَاضِلُنَا، ثُمَّ قَالَ: اَ تَعْلَمُونَ اَنَّ اللَّهَ اَنْزَلَ( إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً ) (۴۰) فَجَمَعَنِي وَ فَاطِمَةَ وَ اِبْنَيَّ حَسَناً وَ حُسَيْناً ثُمَّ اَلْقَى عَلَيْنَا كِسَاءً، وَ قَالَ: اَللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ اَهْلُ بَيْتِي لَحۡمُه ُمۡ لَحْمی، يُؤْلِمُنِي مَا يُؤْلِمُهُمْ، وَ يَجْرَحُنِي مَا يَجْرَحُهُمْ، فَاَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهِّرْهُمْ تَطْهِيراً، فَقَالَتْ اُمُّ سَلَمَة: وَ اَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ: اَنْتِ اِلَى خَيْرٍ، فَقَالُوا: نَشْهَدُ اَنَّ اُمَّ سَلَمَة حَدَّثَتْنَا بِذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ:اَنْشِدُكُمُ اللَّهِ، اَ تَعْلَمُونَ اَنَّ اللَّهَ اَنْزَلَ:( يا اَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اِتَّقُوا اللَّهَ وَ كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ) (۴۱) فَقَالَ سَلْمَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذا عَامَّةٌ اَمْ خَاصَّةٍ؟ قَالَ: اَمَّا الْمَأْمُورُونَ فَعَامَّةُ الْمُؤْمِنِينَ وَ اَمَّا الصَّادِقُونَ فَخَاصَّةٌ لِاَخِي عَلِيٍّ وَ اَوْصِيَائِي مِنۡ بَعْدِه ِ اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اَنْشِدُكُمُ اللَّهِ اَتَعْلَمُونَ اَنِّي قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِﷺ فِي غَزاة تَبُوك: خَلَّفْتَنِي عَلَی النِّسَاءِ وَ الصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ: إِنَّ الْمَدِينَةَ لَا تَصْلُحُ اِلَّا بِي اَوْ بِكَ، وَ اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى اِلَّا اَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي؟
قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: اَنْشِدُكُمُ اللَّهَ، اَ تَعْلَمُونَ اَنَّ اللَّهَ اَنْزَلَ فِي سُورَةِ الْحَجِّ( يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَ اسْجُدُوا وَ اعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُونَ ) إِلَى آخَرَ السُّورَةِ (۴۲) ، فَقَامَ سَلْمَانُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ اَنْتَ عَلَيْهِمْ شَهِيدٌ وَ هُمْ شُهَدَاءُ عَلَى النَّاسِ، اَلَّذِينَ اجْتَبَاهُمُ اللَّهُ وَ لَمْ يَجْعَلْ عَلَيْهِمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ اِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: عَنّی بِذَلِكَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا خَاصَّةً، قَالَ: اَنْشِدُكُمُ اللَّهَ اَ تَعْلَمُونَ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِﷺ قالَ فی خُطۡبَتِ ه ِ فی مَواضِعَ مُتَعَدِّدَ ةٍ، وَ فی آخِرِ خُطۡبَ ةٍلَمۡ یَخۡطُبُ بَعۡدَ ه ا: اَيُّهَا النَّاسُ اِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي اَهْلَ بَيْتِي فَتَمَسَّكُوا بِهِمَا لَنۡ تَضِلُّوا، فَاِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ اَخْبَرَنِي وَ عَهِدَاِلَيَّ اَنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ (۴۳) ، فَقَالَ کُلُّ ه ُمۡ: نَشۡ ه َدُ اَنَّ رَسوُلَ الله ِﷺ قالَ ذلِکَ"
حموینی نے اپنی سند کے مطابق سلیم بن قیس ہلالی سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خلافت عثمان میں حضرت علی علیہ السلام کو مسجد مدینہ میں اس وقت دیکھا کہ جب مہاجرین و انصار اپنے اپنے فضائل بیان کر رہے تھے لیکن آنجناب خاموش کھڑے سن رہے تھے۔ انہوں نے آنجناب کو مخاطب کرکے کہا: اے ابو الحسن! آپ بھی کچھ کہیے۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: اے قریش و انصار میں تم سب سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جو فضائل تم نے اب تک بیان کئے ہیں وہ تمہیں خود تمہاری وجہ سے حاصل ہیں یا دوسروں کی وجہ سے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ فضائل خداوند عالم نے ہمیں رسول مکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بدولت عطا کئے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا تھا کہ میں اور میرے اہل بیت علیھم السلام خلقت آدم سے چودہ ہزار سال قبل نور کی صورت میں موجود تھے اور بارگاہ الٰہی میں جلوہ افروز تھے۔ جب خدا نے آدم کو خلق فرمایا تو اس نور کو خدا نے ان کے صلب میں قرار دیا اور انہیں زمین پر بھیج دیا پھر خدا نے اس نور کو اس کشتی اور صلب نوح میں قرار دیا پھر وہ نور صلب ابراہیم میں آگ میں پہنچا پھر خداوند عالم ہمیشہ اس نور کو اصلاب کریمہ اور ارحام طاہرہ میں منقتل کرتا رہا یہاں تک کہ ہمارے ماں باپ تک پہنچا ہم میں سے کوئی بھی بدکاری و برائی کے قریب نہیں پھٹکا۔
اس وقت (حضرت علی علیہ السلام کی یہ بات سن کر) سابقین اور اہل بدر و احد کہنے لگے: جی ہاں ہم نے رسول اللہﷺ سے یہ بات سنی تھی۔
پھر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ خداوند تعالیٰ نے قران کریم میں کتنے مقامات پر سابقین کو مسبوقین پر فضیلت عطا کی ہے؟ اور کیا تمہیں معلوم ہے کہ امت میں کوئی بھی مجھ پر اسلام میں سبقت کرنے والا نہیں ہے۔
سب نے کہا: جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا؛ میں تمہیں خدا کی قسم دیکر سوال کرتا ہوں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ آیت کہاں نازل ہوئی ؟( وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ اوُلئِکَ الۡمُقَرَّبُون ) (۴۴) جب پیغمبر اسلام سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا تو آپؐ نے فرمایا تھا کہ خداوند عالم نے یہ آیت انبیاء اور ان کے اوصیاء کے بارے میں نازل فرمائی ہے اور میں تمام انبیاء و رُسُل میں سب سے افضل ہوں اسی طرح میرے وصی علی بن ابی طالب‘ تمام اوصیاء میں سب سے افضل ہیں۔
سب نے کہا: جی ہاں ایسا ہی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دیکر سوال کرتا ہوں۔ بتاؤ یہ آیات کہاں نازل ہوئی ہیں؟( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ ) (۴۵) ،( إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ ) (۴۶) ،( لَمْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلا رَسُولِهِ وَلا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً ) (۴۷)
اور خداوند متعال نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ اولی الامر کا تعارف اور ولایت کی اسی طرح تفسیر بیان کر دیں جس طرح انہوں نے نماز و زکات اور حج وغیرہ کی تفسیر بیان کر دی ہے پس نبیؐ نے غدیر خم میں بھرے مجمع میں مجھے لوگوں کے سامنے منصوب کیا اور اس موقع پر ایک عظیم الشان خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: بتحقیق خداوند عالم نے مجھے اس رسالت و ذمہ داری پر مامور کیا کہ جس کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوتا تھا اور میں سوچتا تھا کہ لوگ میری تکذیب کریں گے یہاں تک خداوند عالم نے مجھے یہ حکم ابلاغ کرنے کا قطعی حکم دیا ۔ تب آنحضرت نے فرمایا: اے لوگو! کیا تمہیں معلوم ہے کہ خداوند عالم میرا مولیٰ ہے اور میں مؤمنین کا مولیٰ ہوں اور میں مؤمنین کے نفوس پر خود ان سے زیادہ حق و اولویت رکھتا ہوں؟
سب نے کہا: جی ہاں یا رسولؐ اللہ! پس اس وقت رسولؐ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: جس جس کا میں مولیٰ ہوں علی علیہ السلام بھی اس کا مولیٰ ہے۔ پروردگار! علی علیہ السلام کے دوست کو دوست رکھ اور اس کے دشمن کو دشمن رکھ۔
اس موقع پر سلمان نے کھڑے ہوکر عرض کیا: یا رسولؐ اللہ، علی علیہ السلام کی ولایت کس کی ولایت کی طرح ہے؟ حضور نے فرمایا: علی علیہ السلام کی ولایت میری ولایت کی طرح ہے، جس پر میں اَولیٰ ہوں اور ولایت رکھتا ہوں علی علیہ السلام بھی اس پر اَولیٰ ہیں اور ولایت رکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل فرمائی:( اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإسْلامَ دِينًا ) (۴۸) ؛ پھر حضور نے فرمایا: اللہ اکبر، اکمال دین و اتمام نعمت اور رضایت پروردگار، میری رسالت اور میرے بعد علی علیہ السلام کی ولایت پر منحصر ہے۔
اس وقت کچھ لوگوں نے عرض کیا(۴۹) : یا رسولؐ اللہ ! کیا یہ آیات علی علیہ السلام سے مخصوص ہیں؟ فرمایا: جی ہاں ایسا ہی ہے یہ ان کے بارے میں اور قیامت تک آنے والے میرے اوصیاء کے بارے میں ہے۔
کہا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں اپنے اوصیاء کا تعارف کروا دیجئے۔
حضور ختمی مرتبت نے فرمایا: علی علیہ السلام میرے بھائی، میرے وارث و وصی اور میرے بعد ہر مؤمن کے ولی ہیں پھر ان کے بعد ان کے فرزند حسن پھر حسین پھر حسین کی نسل کے ۹ فرزند میرے وصی ہوں گے۔ قران ان کے ساتھ ہے اور یہ قران کے ساتھ رہیں گے۔ یہ قران سے جدا نہ ہوں گے اور قران ان سے جدا نہ ہوگا یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں گے ۔
مولیٰ علی علیہ السلام کی یہ گفتگو سن کر بعض لوگ (جو کہ مسجد النبی میں بیٹھے ہوئے تھے) کہنے لگے: جو کچھ آپ نے بیان کیا ہے ہم نے سنا ہے اور ہم اس واقعہ کی گواہی بھی دیتے ہیں۔ جبکہ بعض نے کہا کہ ہمیں بہت سی باتیں تو یاد ہیں لیکن بعض باتیں ہمیں یاد نہیں ہیں لیکن جنہیں سب کچھ یاد ہے وہ یقیناً اخیار و افاضل ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ خداوند عالم نے یہ آیت نازل فرمائی:( إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) (۵۰) ؛ اور اس وقت رسول خدا نے مجھے اورفاطمہ اور حسن و حسین کو اپنے پاس بلاکر ہمیں زیر کساء لیکر عرض کیا: پروردگار! یہ میرے اہلبیت ہیں۔ ان کا گوشت میرا گوشت ہے، جس نے انہیں اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی، جو انہیں مجروح کرے اس نے مجھے مجروح کیا۔ پس رجس و گناہ کو ان سے دور رکھ اور انہیں مکمل پاک و پاکیزہ رکھنا۔ اس وقت امّ سلمہ نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں؟ فرمایا: تم البتہ خیر پر ہو۔
سب نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ جناب امّ سلمہ نے بھی ہم سے یہی کچھ بیان کیا تھا۔
پھر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دیکر سوال کرتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ) (۵۱) ، تو اس وقت سلمان نے سوال کیا تھا: یا رسول اللہﷺ ! یہ آیت عام ہے یا خاص؟ فرمایا تھا کہ جو لوگ اس آیت پر مامور کئے گئے ہیں وہ عام مؤمنین ہیں لیکن صادقین سے مراد میرا بھائی علی علیہ السلام اور قیامت تک آنے والے میرے اوصیاء ہیں۔
سب نے کہا: جی ہاں ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ فرما رہے ہیں۔
پھر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دیکر سوال کرتا ہوں۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہﷺ سے کہا تھا کہ مجھے خواتین اور بچوں میں کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ تو رسولؐ خدا نے فرمایا تھا: مدینہ کا انتظام یا مجھ سے وابستہ ہے یا تم سے اور تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
سب نے کہا: جی ہاں ایسا ہی ہے۔
پھر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دیکر سوال کرتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ خداوند عالم نے سورہ حج میں ارشادہ فرمایا ہے:( یا اَیُّه َا الَّذینَ آمَنُوا اِرۡکَعُوا وَ اسۡجُدوُا وَ اعۡبُدوُا رَبَّکُمۡ وَ افۡعَلُوا الۡخَیۡرَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُونَ اِلی آخِرِ السُّورَةِ ) (۵۲) ، اور یہ آیات سن کر سلمان نے رسول خداﷺ سے عرض کیا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں جن پر آپؐ گواہ ہیں اور یہ لوگوں پر گواہ ہیں؟ خداوند عالم نے جنہیں منتخب کیا اور دین میں ان کے لئے سختی نہ رکھی اور وہ آپؐ کے جد ابراہیم کے دین پر ہیں، یہ کون لوگ ہیں؟ حضور نے فرمایا: یہ فقط تیرہ مخصوص افراد ہیں نہ کہ پوری امت۔ سلمان نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ ہمیں ان کا تعارف کروا دیجئے۔ فرمایا: میں اور میرا بھائی علی علیہ السلام اور گیارہ فرزند۔
سب نے کہا: جی ہاں ایسا ہی ہے۔
پھر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: تمہیں خدا کی قسم دیکر سوال کرتا ہوں۔ کیا رسول خداﷺ نے متعدد مواقع اور اپنے آخری خطبہ میں نہیں فرمایا تھا: "اے لوگو میں تمہارے درمیان دو گرانقدرچیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، کتاب خدا اور عترت یعنی میرے اہل بیت۔ پس ان دونوں سے متمسک رہنا کہ اگر ان سے متمسک رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ خداوند لطیف و علیم نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گے۔
سب نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ یقیناً رسولؐ خدا نے ایسا ہی فرمایا تھا۔(۵۳)
نکتہ: شیعہ و اہل سنت میں اس متفق علیہ روایت میں حقائق اس طرح منصوص و آشکار ہیں جن کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ لہذا فیصلہ محترم قارئیں کی صوابدید پر چھوڑ رہے ہیں۔
____________________
۱ ۔ینابیع المودۃ، باب۳۳، ص ۱۰۹، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۲ ۔مسند ابی داؤد طیالسی، ص ۲۷۴، دار الکتب اللبنانی۔
۳ ۔مجمع الزوائد، ج۹، ص ۲۶۷، حدیث ۱۴۹۸۷۔
۴ ۔الدر المنثور، ج۶، ص ۶۰۶، انتشارات دار الفکر۔
۵ ۔شواہد التنزیل، ج۲، ص ۴۴، مؤسسۂ طبع و نشر وزارت ارشاد اسلامی۔
۶ ۔مسند احمد ابن حنبل، ج۳، ص ۲۵۹، دار صادر، بیروت۔
۷ ۔سنن ترمذی، ج۵، ص ۳۲۸، انتشارات دار الفکر۔
۸ ۔کتاب تلخیص، ج۳، ص ۱۵۸، انتشارات دار المعرفۃ، بیروت۔
۹ ۔جامع البیان، ج۲۲، ص ۶، انتشارات دارا لمعرفۃ، بیروت۔
۱۰ ۔ تفسیر قرآن العظیم، ج۳، ص ۴۹۲، انتشارات دار المعرفۃ، بیروت۔
۱۱ ۔الدر المنثور، ج۵، ص ۶۱۳، انتشارات دار الفکر، بیروت۔
۱۲ ۔شواہد التنزیل، ج۲، ص ۴۶، مؤسسۃٔ طبع و نشر وزات ارشاد اسلامی۔
۱۳ ۔الدر المنثور، ج۶، ص ۶۰۴، انتشارات دار الفکر۔
۱۴ ۔شواہد التنزیل، ج۲، ص ۴۷، موسسۂ طبع و نشر وزارت ارشاد اسلامی۔
۱۵ ۔ذخائر العقبیٰ، ص ۲۵، موسسۃ الوفاء، بیروت۔
۱۶ ۔شواوہد التنزیل، ج۲، ص ۷۸ مؤسسۂ طبع و نشر وزارت ارشاد اسلامی (یہ تمام روایات ہم نے کتاب امامت و عصمت امام در قرآن، استاد رضا کاردان، آیت تطہیر، ص ۴۰ و ۴۱ سے نقل کی ہیں)۔
۱۷ ۔امامت و عصمت امامان در قرآن، استاد رضا کاردان، انتشارات دلیل۔
۱۸ ۔تفسیر کبیر، ج۸، ص ۸۰۔
۱۹ ۔سورہ احزاب، آیت ۳۳۔
۲۰ ۔صحیح مسلم، ج۵، ص ۲۳، کتاب فضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب‘، حدیث ۳۲۔
۲۱ ۔مؤسسۂ عز الدین للطباعۃ و النشر۔
۲۲ ۔ج۵، ص ۵۶۵، دار الفکر۔
۲۳ ۔مسند، ج۱، ص ۱۸۵، دار صادر، بیروت۔
۲۴ ۔ سورہ آل عمران، آیت ۶۱۔
۲۵ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۲۔
۲۶ ۔تاریخ مدینہ دمشق، ج۴۲، ص ۴۳۱، دار الفکر۔
۲۷ ۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ: خداوندا تو خود شاہد ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ یا یہ کہ جس طرح خدا سے پوشیدہ نہیں ہے آپ سے بھی مخفی نہ رہے کہ ایسا نہیں ہے۔
۲۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۳۲، ص ۱۰۶، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵۔
۲۹ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۷، ص ۲۲۶، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۳۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۷، صفحہ ۲۶۶، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۳۱ ۔ینابیع المودۃ، باب ۳۸، صفحہ ۲۶۶، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۳۲ ۔مؤسسۂ محمودی نشر بیروت۔
۳۳ ۔شیخ صدوق نے کمال الدین ، ج۱، ص ۵۱۳، باب ۲۴، حدیث ۲۵، نشر دار الحدیث طبع اول میں اس طرح روایت کی ہے:حدثنا ابی ، و محمد بن الحسن قَالَا، سعد بن عبد الله ، قال: حدّثنا یعقوب بن یزید، عن حماد بن عیسیٰ عن عمر بن اُذینه عن ابان بن عیاش عن سلیم بن قیس الهلالی قال: رأیُ عَلِیاً فی مسجدِ رسول الله ۔
۳۴ ۔سورہ واقعہ (۵۶) آیت ۱۰۔
۳۵ ۔سورہ نساء (۴) آیت ۵۹۔
۳۶ ۔سورہ مائدہ (۵) آیت ۵۵۔
۳۷ ۔سورہ توبہ (۹) آیت ۱۶۔
۳۸ ۔سورہ مائدہ (۵) آیت ۳۔
۳۹ ۔کتاب کمال الدین، شیخ صدوق، ج۱، باب ۲۴، حدیث ۲۵ میں ہے: فقام ابوبکر و عمر و قالا: یعنی ابوبکر و عمر نے کھڑے ہو کر کہا۔
۴۰ ۔ہم نے اسی کتاب کے پہلے باب میں دوسری فصل (حضرت مہدی کے بارے میں ائمہ کی بشارتیں) کے نتیجے کے بعد پیغمبر کی دس تصریحات پیش کی تھیں جن میں لفظ "بعدی" حضرت ختمی مرتبت کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت پر دلالت کر رہا ہے اور چند اشکالات کے جواب بھی دیئے تھے۔ وہیں رجوع فرمائیں۔
۴۱ ۔سورہ احزاب (۳۳) آیت ۳۳۔
۴۲ ۔سورہ توبہ (۹) آیت ۱۱۹۔
۴۳ ۔یعنی"وَمَا جَعل علیکم فی الدین من حرج مِلةَ ابیکم ابراه یم الی و تکون شه داء علی الناس "۔
۴۴ ۔کتاب کمال الدین، شیخ صدوق، ج۱، باب ۲۴، روایت ۲۵ میں ہے: اس موقع پر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور غضبناک ہوکر سوال کیا: یا رسول اللہ! کیا آپؑ کے تمام اہل بیت سے تمسک کرنا ضروری ہے؟ فرمایا: نہیں۔ بلکہ میرے اوصیاء سے تمسک کرنا ضروری ہے جن میں اول میرے بھائی، وزیر و وارث اور میرے خلیفہ علی علیہ السلام ہیں پھر حسن و حسین‘ پھر ذریت حسین سے ۹ فرزند یکی پس دیگر یہاں تک کہ یہ سب میرے پاس حوض کوثر پر پہنچ جائیں ۔
۴۵ ۔سورہ واقعہ (۵۶) آیت ۱۰۔
۴۶ ۔سورہ نساء (۴) آیت ۵۹۔
۴۷ ۔سورہ مائدہ (۵) آیت ۵۵۔
۴۸ ۔سورہ توبہ (۹) آیت ۱۶۔
۴۹ ۔سورہ مائدہ (۵) آیت ۳۔
۵۰ ۔شیخ صدوق نے کتاب کمال الدین، ج۱، باب ۲۴، حدیث ۲۵ میں یوں روایت کی ہے کہ اس وقت جناب ابوبکر و عمر نے کھڑے ہوکر سوال کیا۔
۵۱ ۔ سورہ احزاب (۳۳) آیت ۳۳۔
۵۲ ۔سورہ توبہ (۹) آیت ۱۱۹۔
۵۳ ۔ یعنی "وَمَا جَعل علیکم فی الدین من حرج مِلةَ ابیکم ابراہیم۔ الی۔و تکون شه داء علی الناس "۔
پانچواں حصہ: خمسہ طیبہ کے بارے میں علمائے اہل سنت کے بیانات
ہم نے اب تک علمائے اہل سنت کی کتب سے ۴۴ ایسی روایات پیش کی ہیں جن میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اہل بیت سے مراد علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام ہیں۔ اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم یہاں علمائے اہل سنت کی تصریحات و اقرار بھی محترم قارئیں کی خدمت میں پیش کر دیں:
۱ ۔ جار اللہ زمخشری(۱) و شیخ سلیمان بلخی(۲) نے صواعق محرقہ سے نویں آیت (آیت مباہلہ، آل عمران/ ۶۱) کے ذیل میں اس طرح لکھا ہے:
"قالَ فِی الۡکَشَافِ: لا دَلیلَ اَقۡوی مِنۡ ه ذا عَلی فَضۡلِ اَصۡحابِ الۡکِساءِ، وَ ه ُمۡ عَلِیُّ وَ فاطِمَةُ وَ الۡحَسَنانِ، لِاَنّه ا لَمّا نَزَلَتۡ (آیه ُ الۡمُباه َلَة) دَعاه ُمۡﷺ فَاحۡتَضَنَ الۡحُسَیۡنَ وَ اَخَذَ بِیَدِ الۡحَسَنِ وَ مَشَتۡ فاطِمَةُ خَلۡفَه ُ وَ عَلِیٌّ خَلۡفَه ا فَعَلِمَ اَنَّه ُمۡ الۡمُرادُ بِالۡآیَةِ وَ عَلِمَ اَنَّ اَوۡلادَ فاطِمَةَ وَ ذُرِّیّته ا یَسُموُّنَ اَبۡنائه ُﷺ وَ یَنۡسِبوُنَ اِلَیۡه ِ نِسۡبَةً صَحیحَةً نافِعَةً فِی الدُّنۡیا وَ الۡآخِرَةِ"
جار اللہ زمخشری کا کہنا ہے: آیت مباہلہ سے بڑھ کر اصحاب کساء کی فضیلت پر کوئی دلیل نہیں اور اصحاب کساء یہ حضرات ہیں: علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام ۔ کیونکہ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو رسولؐ خدا نے انہیں اپنے پاس بلایا ، حسین کو آغوش میں لیا، حسن کا ہاتھ پکڑا، فاطمہ پیغمبرؐ کے پیچھے پیچھے اور علی علیہ السلام فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ کیونکہ حضورؐ جانتے تھے کہ آیۂ مباہلہ میں انہی کا قصد کیا گیاہے اور جانتے تھے کہ اولاد و ذرّیت فاطمہ زہرا انہی سے منسوب ہے اور دنیا و آخرت میں صحیح و نافع نسبت کے ساتھ یہ سب انہی کی ذرّیت ہے۔
۲ ۔ حاکم نیشاپوری(۳) نے پہلے ابن عباس سے آیت مباہلہ کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ علی علیہ السلام "نفس پیغمبرؐ" ہیں، فاطمہ زہرا "نساءَ نا" کا مصداق ہیں اور حسن و حسین "أبنائَنَا " کی منزل پر ہیں۔ پھر انہوں نے اس سلسلہ میں ابن عباس وغیرہ سے نقل شدہ احادیث و روایات کو متواتر تسلیم کیا ہے، اور پھر نبی کریمﷺ کے اس فرمان کا تذکرہ کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا:"ه ؤُلاءِ اَبۡنائنا وَ اَنۡفُسنا وَ نِساۡئنا " یعنی یہ میرے بیٹے، میرا نفس اور میری نساء ہیں۔
۳ ۔ محمد بن یوسف گنجی شافعی نے اپنی کتاب کفایت الطالب باب ۵۰ کا موضوع "سدّ الابواب" قرار دیا ہے جس میں بیان کیا ہے کہ حضور اکرمؐ نے مسجد میں کھلنے والے علی علیہ السلام کے گھر کے دروازے کے علاوہ تمام دروازے بند کرا دیئے تھے۔
اس کے بعد موصوف کہتے ہیں: مسجد میں حالت جنابت میں داخل ہونا صرف اور صرف حضرت علی علیہ السلام سے مخصوص و مباح تھا ا س کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کسی بھی مجنب و حائض کے لئے مسجد میں داخل ہونا اور ٹھہرنا صحیح ہے۔
پھر کہتے ہیں:
"اِنَّما خَصَّ بِذلِکَ، لِعِلۡمِ الۡمُصۡطَفی بِاَنَّه ُ یَتَحَرّی مِنَ النِّجاسَةِ ه ُوَ وَ زَوۡجَتُه ُ وَ اَوۡلادُه ُ صَلَوات الله ِ عَلَیۡه ِمۡ، وَ قَدۡ نَطَقَ الۡقُرۡآنُ بِتَطۡه یرِه ِمۡ فی قَوۡلِه عَزَّ وَ جَلّ :( إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرا ) "(۴)
بیشک نبی کریمﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کو یہ خصوصیت عطا فرمائی کیونکہ آپؐ جانتے تھے کہ علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا اور انکی اولاد ہر قسم کی نجاست سے پاک و مبرا ہیں جیسا کہ آیت تطہیر (احزاب/ ۳۳) نے اس جلیل القدر خاندان کو ہر نجاست و پلیدی سے پاک و مبرا قرار دیا ہے۔
قابل توجہ و دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت عمر بن خطاب تمام لوگوں کو اس روایت کی طرف متوجہ کر رہے ہیں کہ علی علیہ السلام و پیغمبر اسلامﷺ طہارت میں ایک دوسرے کے مماثل ہیں۔ یہ روایت حاکم نیشاپوری نے مستدرک(۵) میں، شیخ سلیمان نے ینابیع المودۃ باب ۵۶ ( بنا بر نقل از مسند احمد ابن حنبل و ذخائر العقبیٰ) میں نیز خطیب خوارزمی نے مناقب میں، ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ ، ص ۷۶ میں، اور سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں نقل کی ہے کہ حضرت عمر نے کہا:
"لَقَدۡ اُوتِیَ ابۡنُ اَبیطالِبٍ ثَلاثُ خِصالٍ لَاِنۡ تَکُنۡ لی واحِدَةٌ مِنۡه ُنَّ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنۡ حُمۡرِ النّعَمِ، زَوَّجَه ُ النَّبِیُّ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ (وَ آلِه ) وَ سَلَّمَ بِنۡتَه ُ، وَ سَدَّ الۡاَبۡوابِ اِلَّا بابَه ُ وَسُکۡناه ُ الۡمَسۡجِد مَعَ رَسوُلِ الله ِ ، یَحِلُّ لَه ُ ما یَحِلُّ لَه ُ، وَ اَعۡطاه ُ الرّایَةَ یَوۡمَ خِیۡبَر "
علی بن ابی طالب‘ کو تین ایسی خصوصیات عطاء ہوئی ہیں کہ اگر ان میں سے مجھے ایک بھی مل جاتی تو یہ میرے لئے سرخ اونٹوں سے زیادہ قیمتی اور افضل ہوتی۔
اولاًٍ: پیغمبر اکرمؐ نے اپنی بیٹی کی شادی ان سے کی ہے۔
دوئم: رسول اللہﷺ نے مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کرا دیئے اور صرف علی علیہ السلام کے گھر کا دروازہ کھلا رہنے دیا اور انہیں مسجد میں اس طرح ساکن رکھا کہ جو چیز نبیؐ کے لئے حلال تھی وہ علی علیہ السلام کے لئے بھی حلال تھی (یعنی مسجد میں جنابت میں جانا صحیح تھا)۔
سوئم: خیبر کے دن رسول اللہﷺ نے علی علیہ السلام کو علم عطا کیا۔
مسلم و بخاری نے اپنی اپنی کتاب صحیح میں اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مجنب کو مسجد میں داخل ہونے اور ٹھہرنے کا حق حاصل نہیں ہے اور روایت نقل کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا:
"لا یَنۡبَغی لِاَحَدٍ اَنۡ یَجۡنبَ فِی الۡمَسۡجِدِ اِلّا اَنَا وَ عَلی "
میرے اور علی علیہ السلام کے علاوہ کسی مجنب کو مسجد میں داخل ہونے کا حق حاصل نہیں ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان نے ینابیع المودۃ کے باب ۱۷ کا یہ موضوع قرار دیا ہے : "فی سَدِّ ابوابِ الۡمَسۡجِدِ اِلّا باب عَلیٍّ " اور کتاب کنوز الدقائق ، سنن ترمذی اور مسند احمد وغیرہ سے روایات نقل کی ہیں۔ تفصیلات کے لئے انہی کتب کی طرف رجوع فرمائیں۔
احمد بن حنبل اور عبد اللہ ابن عمر، خلفاء تک کو حضرت علی علیہ السلام کا ہمطراز نہیں سمجھتے!!
۴ ۔ شیخ سلیمان(۶) نے میر سید علی ہمدانی کی کتاب مودۃ القربی "مودت ہفتم" سے اس طرح نقل کیا ہے:
"وَ عَنۡ اَحۡمَد بن مُحَمَّدِ الۡکرزری الۡبَغۡدادی رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ قالَ سَمِعۡتُ عَبۡدَ الله ِ بن اَحۡمَد حَنۡبَل، قالَ: سَئَلۡتُ اَبی عَنِ التَّفۡضیلِ، فَقالَ: اَبوُ بَکۡر وَ عُمَر وَ عُثۡمان ثُمَّ سَکَتَ فَقُلۡتُ یا اَبَتِ اَیۡنَ عَلِیُّ بن اَبیطالِبٍ، قالَ ه ُوَ مِنۡ اَه ۡلِ الۡبَیۡتِ لا یُقاسُ بِه ه ؤُلاءِ "
احمد بن محمد کرزری سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں: میں نے عبد اللہ ابن احمد بن حنبل سے سنا ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد (احمد بن حنبل) سے سوال کیا کہ صحابہ میں افضل و برتر کون ہے؟ میرے والد نے حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان کا نام لیا اور چپ ہوگئے۔ میں نے سوال کیا: اے بابا! تو پھر علی بن ابی طالب‘ کا مقام و مرتبہ کیا ہے؟ آپ نے ان کا نام کیوں نہیں لیا؟ انہوں نے جواب دیا وہ اہل بیت میں سے ہیں یاد رکھو! ان اشخاص کا علی علیہ السلام سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔
اب ہم محترم قارئین کی توجہ ایک ایسی دلچسپ و قابل سماعت روایت کی طرف مبذول کرنا چاہتے ہیں جس میں عبد اللہ بن عمر نے قران کریم کی آیت کریمہ کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ علی علیہ السلام و فاطمہ اہل بیت ِ عصمت و طہارت میں سے ہیں اور رسول خداﷺ کے درجہ میں ساتھ ساتھ ہیں اور صحابہ میں سے کسی کا بھی ان سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ روایت یہ ہے کہ شیخ سلیمان(۷) نے میر سید علی ہمدانی سے نقل کرتے ہیں:
"عَنۡ اَبی وائِل عَنۡ اِبۡنِ عُمَر رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ قالَ: کُنّا اِذا اَعۡدَدۡنا اَصۡحابَ النَّبِیِّ قُلۡنا اَبوُبَکر وَ عُمرَ و عُثۡمان، فَقالَ رَجُلٌ یا اَبا عَبدِ الرَّحۡمانِ فَعَلِیُّ ما ه ُوَ ؟ قالَ: عَلیٌّ مِنۡ اَه ۡلِ الۡبَیۡتِ لا یُقاُس بِه اَحَدٌ، ه َوَ مَعَ رَسُولِ الله ﷺ فی دَرَجَتِه ِ اِنَّ الله َ یَقوُلُ: ( وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ ) ، فَفاطِمَةُ مَعَ رَسوُلِ الله ِﷺ فی دَرَجَتِه وَ عَلِیٌّ مَعَه ُما "
ابو وائل نے عبد اللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ جب ہم نے اصحاب پیغمبرؐ کے نام شمار کئے تو ابوبکر و عمر و عثمان کے نام شمار کئے تو ایک نے مخاطب کرکے کہا: اے ابو عبد الرحمن (عبد اللہ ابن عمر کی کنیت ہے) آپ نے علی علیہ السلام کا نام کیوں چھوڑ دیا؟ انہوں نے جواب دیا: علی اہل بیت رسالت میں سے ہیں، ان سے کسی کا بھی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ پیغمبر کے مقام و مرتبہ میں ساتھ ساتھ ہیں بتحقیق خداوند عالم نے قران کریم میں ارشاد فرمایا ہے:( وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ ) (۸) یعنی اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں انکا اتباع کیا تو ہم انکی ذریت کو بھی انہی سے ملا دیں گے اور کسی کے عمل میں سے ذرہ برابر بھی کم نہیں کریں گے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا گِروی ہے؛ پس فاطمہ سلام اللہ علیہا رسول خدا کے ساتھ انکے درجہ میں ہیں اور علی ؑ، فاطمہ و رسول خداﷺ کے ساتھ ہوں گے۔
۵ ۔ نیز شیخ سلیمان(۹) نے سمہودی صاحب کتاب جواہر العقدین سے نقل کیا ہے: "قالَ الشریفُ السَّمۡه ُودی: کَلِمَةُ اِنَّما (فی آیة التطه یر) (۱۰) لِلۡحَصۡرِ عَلی اَنَّ اِرادَتَه ُ تَعالی مُنۡحَصِرة عَلی تَطۡه یرِه ِمۡ وَ تَاۡکیدِه بالۡمَفۡعُولِ الۡمُطۡلَقِ دَلیلٌ عَلی اَنۡ طَه ارَتَه ُمۡ طَه ارَةً کامِلَةً فی اَعۡلی مَراتِبِ الطّه ارَة"
سمہودی کہتے ہیں: آیت تطہیر میں لفظ "انّما" حصر کے لئے آیا ہے جو اس امر کی دلیل ہے کہ خداوند متعال نے انہیں (علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام ) پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے؛ اور خداوند عالم نے یہاں مفعولِ مطلق یعنی "یُطَہِّرکُم تَطہیرا" کے ذریعے تاکید کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ حضرات طہارت تکوینی یعنی مکمل اور طہارت کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہیں۔
۶ ۔ سید ابوبکر بن شہاب الدین علوی(۱۱) نے باب اول کے ضمن میں ترمذی، ابن جریر، ابن منذر، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی، ابن ابی حاتم ، طبرانی، احمد بن حنبل، ابن کثیر، مسلم بن حجاج، ابن ابی شیبہ اور سمہودی سے عمیق تحقیقات کے مطابق اہل سنت کے اکابر علماء سے روایت کی ہے کہ یہ آیت تطہیر (احزاب/ ۳۳) خمسہ طیبہ یعنی رسول خدا، علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے؛ اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اس کتاب میں ثابت کیا ہے کہ قیامت تک پیدا ہونے والے تمام سادات کہ جن پر صدقہ حرام ہے وہ سب ذرّیت و اہل بیت علیھم السلام رسولخداﷺ میں شامل ہیں۔(۱۲)
۷ و ۸ وغیرہ: مفسرین اہل سنت مثلاً ثعلبی نے تفسیر کشف البیان میں، فخر رازی نے تفسیر کبیر(۱۳) میں، جلال الدین سیوطی(۱۴) نے در منثور میں اور بہت سے دیگر علماء نے آیت تطہیر کے ذیل میں تصریح فرمائی ہے کہ یہ آیت کریمہ خمسہ طیبہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
ابن عساکر نے تاریخ مدینہ دمشق ج ۴ ، ص ۲۰۴ و ۲۰۶ ، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کتاب کفایت الطالب، باب ۱۰۰ اور نبھانی نے کتاب شرف المؤید ، ص ۱۰ ، مطبعہ بیروت، میں تصریح فرمائی ہے کہ یہ آیت تطہیر خمسہ طیبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
یہاں تک کہ ابن حجر مکی اپنے تمام تر تعصب کے باوجود کتاب صواعق محرقہ، ص ۸۵ و ۸۶ میں سات مختلف طُرُق سے اس اہم واقعہ کے صحیح ہونے کے اعتراف و اقرار کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت تطہیر رسولؐ خدا، علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔
کیا امّھات المؤمنین، اہل بیت میں ہیں؟
اب تک ہم نے قران کریم کی آیات، کتب اہل سنت میں نقل شدہ کثیرہ و متواترہ روایات اور اہل سنت کے برجستہ محققین کی تصریحات کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ اہل بیت سے مراد صرف خمسہ طیبہ یعنی پیغمبر اکرمﷺ، حضرت علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا اور امام حسن و امام حسین ‘ ہی ہیں۔ ممکن ہے کسی ذہن میں یہ خیال پیدا ہو کہ کیا امھات المؤمنین بھی اہل بیت میں شامل ہیں یا نہیں؟
اس کا جواب یہ ہے کہ پانچ دلائل کی روشنی میں یقیناً امھات المؤمنین اہل بیت علیھم السلام میں شامل نہیں ہیں:
۱ ۔ ہم نے تیسرے باب کے پہلے حصہ میں امّ المؤمنین جناب امّ سلمہ و عائشہ سے کتب اہل سنت سے مختلف طُرُق و اسانید سے ۲۲ روایات پیش کی تھیں جن میں بیان کیا گیا ہے کہ آیت تطہیر کے نزول کے وقت اور دیگر مختلف واقعات میں نبی کریمﷺ نے اپنی چادر اپنے اور علی و فاطمہ اور حسن و حسین پر تان کر تعارف کرایا تھا۔ امّ سلمہ نے زیر کساء داخل ہونے کی کوشش کی تھی تو حضور نے مختلف انداز سے انہیں روک دیا تھا اور جب ام سلمہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا میں بھی ان اہل بیت علیھم السلام میں شامل ہوں یا نہیں تو حضورؐ نے تصریحاً فرمایا: "لا، اَنۡتِ عَلی خَیۡرٍ " یعنی نہیں، تم ان میں شامل نہیں ہو البتہ تم خیر پر ہو، یا یہ کہ آپؐ نے فرمایا: "اَنۡتِ عَلی مَکانِکِ " یعنی تم اپنی جگہ پر رہو۔ یا یہ فرمایا: "قِفی فی مَکانِکِ " یعنی تم اپنی جگہ پر ٹھہرو۔ یا یہ فرمایا: "اِنَّکِ عَلی خَیۡرٍ، اِنَّکِ مِنۡ اَزۡواجِ النَّبی "ازواج النبیؐ یعنی تم خیر پر ہو اور تم ازواج نبی میں سے ہو۔ اور پھر امّ سلمہ تصریح کرتی ہیں: "وَ ما قالَ اِنَّکِ مِنۡ اَه ۡلِ الۡبَیۡتِ " یعنی یہ نہیں فرمایا کہ تم اہل بیت میں سے ہو!!
قابل توجہ ہے: حصہ اول کی آٹھویں روایت کہ جسے حاکم نے مستدرک میں نقل کیا ہے وہ تصریح کرتے ہیں کہ حدیث مسلم و بخاری کی معین کردہ شرائط کی روشنی میں صحیح ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسے نقل نہیں کیا اس حدیث میں اس طرح وارد ہوا ہے کہ جناب امّ سلمہ نے عرض کیا: "یا رَسُولَ الله ِ ما اَنَا مِنۡ اَه ۡلِ الۡبَیۡتِ؟ قالَ: اِنَّکِ خَیۡرٌ وَلا ه ؤُلاءِ اَه ۡلُ بَیۡتی " یعنی اے رسول خداﷺ! کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ فرمایا: تم خیر پر ہو لیکن یہ میرے اہل بیت ہیں۔ ا س حدیث میں حضور سرور کائنات، امّ سلمہ سے "کاف خطاب" کے ذریعے مخاطب ہیں کہ تم خیر پر ہو پھر تصریح فرما رہے ہیں کہ علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام میرے اہل بیت ہیں، مطلب یہ ہوا کہ تم "اہل بیت" میں سے نہیں ہو۔ پس سورہ نجم کی ابتدائی آیات کی روشنی میں جن میں واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے کہ نبیؐ کا کلام صرف وحی ہے، یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ ام سلمہ اور دیگر ازواج نبی، اہل بیت علیھم السلام کے اصطلاحی معنی سے خارج شدہ ہیں اور فقط علی و فاطمہ اور حسن و حسین اہل بیت علیھم السلام کا مصداق ہیں یعنی جدید اسلامی اصطلاح میں اہل بیت علیھم السلام کا لفظ صرف انہی افراد سے مخصوص رہے گا۔ جیسے صلاۃ کے لغوی معنی تو بہت وسیع تھے اور اس میں ہر دُعا شامل تھی لیکن رسولؐ اللہ نے اسے مخصوص افعال پر مشتمل عبادت سے مختص کردیا ہے۔
اب اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ ازواج پیغمبرؐ بھی اہل بیت میں شامل ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے فرمان نبی کو سبوتاژ کیا ہے کیونکہ حضورؐ نے جدید اصطلاح کے مطابق لفظ اہل بیت علیھم السلام فقط مخصوص افراد کے لئے معین کردیا ہے۔
پس نتیجہ یہ ہوا کہ کتب اہل سنت سے جناب امّ سلمہ و عائشہ سے نقل شدہ مذکورہ بائیس روایات کی روشنی میں یہ یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ حضور نے اپنی ازواج کو اس مقام و مرتبہ سے دور رکھا ہے۔ لہذا جو شخص بھی یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ ازواج نبی بھی اہل بیت میں شامل ہیں گویا اس نے نبی کریمؐ کے ارادے کی مخالفت کی ہے اور رسول خدا کی مخالفت گویا خداوند متعال کی مخالفت ہے۔ علاوہ بریں یہ عمل، اہل بیت پر ظلم کرنے کے مترادف قرار پائے گا کہ غیر شخص کو ان سے مخصوص حق میں شریک قرار دیا جائے۔
۲ ۔ ہم نے اسی باب سوم کے دوسرے حصہ میں تاریخ مدینہ دمشق(۱۵) سے عطیہ بن سعد عوفی (جسے حضرت علی علیہ السلام پر سبّ و شتم نہ کرنے کی بنا پر حجاج نے چار سو تازیانے لگوائے تھے) روایت کی ہے۔
عطیہ کہتے ہیں: میں نے ابو سعید خدری سے سوال کیا کہ اہل بیت کون لوگ ہیں تو انہوں نے جواب دیا: پیغمبرؐ، علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام ۔
جیسا کہ آپؐ کے علم میں ہے کہ اہل سنت تمام اصحاب کو بلا چون و چرا عادل مانتے ہیں پس اگر ازواج نبی اہل بیت علیھم السلام میں شامل ہوتیں اور ابو سعید خدری اس روشن حقیقت کا انکار کرتے اور اس سے پردہ پوشی کرتے تو کیا جادہ عدالت و حقیقت سے خارج نہ ہوجاتے؟!!
نیز اگر ازواج نبی، اہل بیت میں شامل تھیں اور اس موقع پر اصحاب سے جب ان کے بارے میں سوال ہوتا تھا اور وہ حقیقت سے پردہ پوشی کرتے تھے تو بتائیے کل قیامت میں (یہی افرادجنہیں آپ عادل سمجھ رہے ہیں) پروردگار کے حضورؐ کیا جواب دیں گے؟!
۳ ۔ اسی باب کے تیسرے حصے میں اہل سنت سے کثیر تعداد میں نقل شدہ روایات سے ثابت کیا گیا ہے کہ رسول خداﷺ ایک طویل مدت تک در خانہ علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا پر تشریف لاتے رہے اور "یا اہل البیت" کہہ کر تصریح فرما رہے تھے کہ یاد رکھو! اس گھر کے ساکنین ہی اہل بیت عصمت و طہارت ہیں۔ لیکن شیعہ و اہل سنت میں کوئی ایک متفق علیہ روایت نظر نہ آئے گی جس میں بیان کیا گیا ہو کہ رسول خدا نے کسی زوجہ کے گھر کے دروازے پر کھڑے ہوکر اس انداز سے کبھی خطاب کیا ہے۔ یا کسی مستقل روایت میں ارشاد فرمایا ہو کہ میری ازواج میرے اہل بیت میں سے ہیں۔ یا کسی ایک زوجہ سے فرمایا ہو کہ تم میرے اہل بیت میں سے ہو۔
اب آپ خود بتائیے کہ اگر ا زواج نبی اہل بیت میں سے تھیں تو کیا ایک متفق روایت کے مطابق بھی رسول اسلام اس حقیقت کی وضاحت نہ کرتے؟!!
اوراگر ازواج نبی واقعاً نبیؐ کے اہل بیت میں سے ہوتیں تو کیا رسول اللہﷺ اس حقیقت سے پردہ پوشتی کرتے یا نعوذ باللہ اس حقیقت سے انکار کرتے اور ام سلمہ کے سوال کرنے کے باوجود فرما دیتے کہ نہیں، تم اہل بیت علیھم السلام میں سے نہیں ہو؟!
یہ بات روز روشن کی طرح واضح و آشکار ہے کہ نبی کریمؐ جن کا کلام، کلام الٰہی ہے ہرگز حقائق کا انکار نہیں کرتے۔ اور یہ بات خود ازواج کے اہل بیت میں شامل نہ ہونے کی محکم دلیل ہے ورنہ آنحضرت اس امر کی تصریح فرماتے اور ہرگز اس کا انکار نہ کرتے (پس غور کیجئے)۔
۴ ۔ اگر ازواج نبی بھی اہل بیت میں شامل تھیں تو آیت تطہیر میں بھی ضمیریں جمع مؤنث ہی کی آنی چاہیے تھیں جیسا کہ آیۂ تطہیر سے قبل آیات میں ضمیریں جمع مؤنث کی آئی ہیں۔
بالفاظ دیگر:
آیت تطہیر سے قبل و بعد والی آیات میں مجموعی طور پر جمع مؤنث مخاطب کی ۲۲ ضمیریں استعمال ہوئی ہیں جن میں سے ۲۰ ضمیریں بعد والی آیات میں ہیں جبکہ آیت تطہیر میں دو ضمیر مخاطب موجود ہیں او ر دونوں "جمع مذکر" ہیں اس واضح اختلاف کی موجودگی میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ازواج نبی جمع مؤنث کی تمام ۲۲ ضمیروں میں اہل بیت شمار ہوں گی لیکن جب خداوند عالم انہیں اہلبیت علیھم السلام قرار دیتے ہوئے پاکیزہ قرار دے تو درمیان میں جمع مذکر کی ضمیریں لے آئے؟!!
نیز بالفاظ دیگر: اگر ازواج نبی اہل بیت میں سے تھیں تو تمام ۲۴ ضمیروں کو جمع مؤنث ہونا چاہیے تھا خصوصاً آیت تطہیر میں کہ جس میں خداوند عالم انہیں اہل بیت قرار دیتے ہوئے پاک و پاکیزہ قرار دے رہا ہے لازمی طور پر آیت تطہیر میں بھی ضمیریں جمع مؤنث ہی آنی چاہیے تھیں نہ کہ جمع مذکر۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ابن حجر مکی اپنے تمام تر تعصب کے باوجود آیت تطہیر کے ذیل میں کتاب صواعق محرقہ میں لکھتے ہیں: "اکثر مفسرین کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ آیت علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ "عنکم" اور "یطہِّرُکُم" جمع مذکر استعمال کی گئی ہیں۔
نکتہ: اشعارِ فصحاء و بلغاء، ادبائے عرب اورعرفِ عام میں یہ فن اور طریقہ کار دیکھنے میں آیا ہے کہ اثنائے کلام میں کسی اور سمت گفتگو شروع کردیتے ہیں اور پھر دوبارہ پلٹ کر پہلے کلام کی بات شروع کر دیتے ہیں اسی طرح قران کریم کی متعدد آیات یہاں تک کہ اسی سورہ احزاب میں خداوند عالم نے ازواج نبی سے عدول کرکے مؤمنین کو مورد خطاب قرار دیا ہے اور پھر پلٹ کر بعد والی آیات میں دوبارہ ازواج نبی کو مخاطب کیا ہے۔
۵ ۔ صحیح مسلم ("مسلم" اکابرین علمائے اہل سنت میں سے ہیں) اور جامع الاصول میں روایت کی گئی ہے کہ حصین بن سمرہ نے زید ابن ارقم سے سوال کیا کہ کیا ازواج نبیؐ اہل بیت میں شامل ہیں؟
جناب زید نے جواب دیا: قسم بخدا، ہرگز نہیں۔ کیونکہ زوجہ اپنے شوہر کے ساتھ تو رہتی ہے لیکن جب مرد اسے طلاق دیدیتا ہے تو اپنے خاندان والوں کی طرف پلٹ جاتی ہے اور پھر شوہر سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا، بلکہ ان کے اہل بیت وہ رشتہ دار ہیں جن پر صدقہ حرام ہے چاہے وہ جہاں ہوں اور ہرگز ان کے اہل بیت سے جدا نہیں ہوتے۔(۱۶)
پس آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس روایت میں زید بن ارقم دلیل سے ثابت کر رہے ہیں کہ ازواج نبی اہل بیت میں شامل نہیں ہوتیں۔
اب محترم قارئین آپ خود ان پانچ دلائل اور اجماع شیعہ کی روشنی میں یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ یقیناً ازواج نبیؐ اہل بیت میں شامل نہیں ہیں بلکہ اہل بیت علیھم السلام علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا اور انکی اولاد طاہرہ ہی ہیں۔
بیشک جو منصف مزاج بھی گذشتہ مذکورہ روایات پر توجہ کرے گا وہ یقیناً ہماری بات کی تصدیق کرتا ہوا نظر آئے گا۔
ائمہ اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں روایات اثنا عشریہ
اب تک ہم نے یہ بات ثابت کی ہے کہ اہل بیت "علی و فاطمہ اور انکے فرزند" ہیں۔ نیز یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ازواج نبی اہل بیت میں شامل نہیں ہیں۔
اب ہم یہ ثابت کریں گے کہ حضرت امام حسین کی نسل سے ۹ ائمہ علیھم السلام حضرت مہدی موعود تک سب کے سب اہل بیت میں شامل ہیں۔
اگرچہ ہم اسی باب کی دوسری فصل میں ثابت کریں گے کہ مہدی موعود ذرّیت حسین کے نویں فرزند ہیں، مصداق اہل بیت اور فرزند رسولؐ خدا ہیں اس طرح خود بخود یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ امام حسین تک حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے اجداد قطعی طور پر اہل بیت میں سے ہیں۔
البتہ متواتر و مسلسل ایسی روایات بھی پائی جاتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ اطہار علیہم السلام سب کے سب اولاد پیغمبرؐ اور اہل بیت علیھم السلام میں سے ہیں۔ یہ روایات، روایات اثنا عشریہ کہلاتی ہیں۔ ہم یہاں نمونہ کے طور پر صرف روایات کے نقل کرنے پر اکتفاء کر رہے ہیں اور انکی تفصیلات علیحدہ باب میں پیش کریں گے:
۱ ۔ "وَ عَنۡ اِبۡنِ عبّاس رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُما، قالَ: سَمِعۡتُ رَسوُلَ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ – وَ آلِه – وَ سَلَّمَ یَقوُلُ: اَنَا وَ عَلِیٌّ وَ الۡحَسَنُ وَ الۡحُسَیۡنُ وَ تِسۡعَةٌ مِنۡ وُلۡدِ الۡحُسَیۡنِ مُطَه َّروُنَ مَعۡصوُموُنَ "
شیخ سلیمان(۱۷) نے کتاب مودّت القربی "مودّت دہم" سے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں: میں نے رسول ؐ اللہ سے سنا آپؐ نے فرمایا: میں، علی، حسن، حسین اور ذرّیت حسین سے ۹ فرزند مطہر و معصوم ہیں۔
جیسا کہ آپ نے اس روایت میں ملاحظہ فرمایا کہ رسولؐ اکرم نے تصریح فرمائی ہے کہ ذرّیت حسین سے ۹ فرزند سب کے سب مطہر و معصوم ہیں یعنی آیت تطہیر جو کہ خمسہ طیبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس میں ذریت حسین کے ۹ ائمہ بھی شامل ہیں۔ پس بنابریں قطعا حضرت مہدی موعود (عج) تک یہ سب اہل بیت رسولؐ خدا ہیں۔
نکتہ اول: شیخ سلیمان اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: یہ روایت میر سید علی ہمدانی شافعی (کتاب مودۃ القربی، مودّت دھم) کے علاوہ حموینی نے بھی نقل کی ہے۔
نکتہ دوئم: ہم اس باب کی دوسری فصل میں ثابت کریں گے کہ مہدی موعود (عج)، اہل بیت رسولؐ خدا میں سے ہیں لہذا حضرت علی علیہ السلام تک آنجناب کے تمام اجداد اہل بیت میں سے ہیں۔
بالفاظ دیگر: متواتر روایات کی روشنی میں حضرات علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام قطعی طورپر اہل بیت رسولؐ اللہ ہیں اور روایات اثنا عشریہ وغیرہ کی روشنی میں قطعی طور پر ثابت ہوجاتا ہے کہ امام حسین کی نسل کے نویں فرزند یعنی حضرت مہدی (ع)، اہل بیت رسولؐ خدا ہیں لہذا نتیجتاً حضرت علی علیہ السلام تک آپ کے تمام اجداد اہل بیت رسولؐ خدا ہیں۔
۲ ۔ "وَ عَنۡ سلیمِ بن الۡقِیۡسِ الۡه ِلالی عَنۡ سلمان الۡفارۡسی رَضِیَ الله عَنۡه ُ قالَ: دَخَلۡتُ عَلَی النَّبی صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ – وَ آلِه – وَ سَلَّمَ فَاِذاً اَلۡحُسَیۡنُ عَلی فَخِذَیۡه ِ وَ ه ُوَ یُقَبِّلُ خَدَّیۡه ِ وَ یَلۡثِمُ فاه ُ وَ یَقوُلُ: اَنۡتَ سَیِّدٌ اِبۡنُ سَیِّدٍ، اَخُو سَیِّدٍ، اَنۡتَ اِمامٌ، اِبۡنُ اِمامٍ، اَخُو اِمامٍ، وَ اَنۡتَ حُجَّةً، اِبۡنُ حُجَّةٍ، اَخُو حُجَّةٍ، وَ اَبُو حُجَجِ تِسۡعَة، تاسِعُه ُمۡ قائِمُه ُمُ الۡمَه ۡدی "
نیز(۱۸) کتاب مودّت القربی سے سلیم ابن قیس سے انہوں نے سلمان فارسی سے روایت کی ہے کہ میں ایک دن حضور سرور کائنات کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپؐ نے حسین کو اپنی آغوش میں بٹھایا اور رخساروں کا پیار کرنے لگے اور فرماتے تھے: تم سیدابن سید اور سید و سردار کے بھائی، تم امام ابن امام اور امام کے بھائی ہو، تم حجت ابن حجت ہو حجت کے بھائی ہو اور ۹ حجتوں کے والد ہو اور ان میں نویں قائم مہدی ہوں گے۔
شیخ سلیمان یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "اَیۡضاً اَخۡرَجَه ُ الۡحمویۡنی وَ مُوَفَّقُ بن اَحۡمَد الۡخوارَزۡم " یعنی میر سید علی ہمدانی شافعی کے علاوہ یہ روایت حموینی اور موفق بن احمد خوارزمی نے بھی نقل کی ہے۔
جیسا کہ آپؑ نے ملاحظہ فرمایا ہے کہ رسول ؐگرامی قدر نے اس روایت میں امام حسین کی تین خصوصیات بیان کی ہیں:
۱ ۔ امام حسین، انکے والد اور انکے بھائی "سید و سردار" ہیں۔
۲ ۔ امام حسین، انکے والد اور انکے بھائی "امام" ہیں۔
۳ ۔ امام حسین، انکے والد، انکے بھائی اور انکی نسل سے ۹ فرزند سب حجتِ خدا ہیں کہ ان میں نویں قائم مہدی علیہ السلام ہیں۔
بنابریں حضرت علی علیہ السلام و فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا اور امام حسن و حسین‘جیسا کہ گذشتہ متواتر روایات سے ثابت ہے کہ اہل بیت رسولؐ خدا ہیں؛ حضرت مہدی (عج) تک انکی اولاد طاہرہ بھی سب اہل بیت اور حجت خدا ہیں کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ امام حسین ، انکے بھائی اور والد؛ حضور سرور کائنات کی بیان کردہ تین خصوصیات: ( ۱ ۔ سید و دسردار، ۲ ۔ امام، ۳ ۔ حجت خدا) کے حامل ہوں اسی طرح امام حسین کی نسل سے ۹ فرزند بھی انہیں خصوصیات کے حامل تو ہوں لیکن اہل بیت میں سے نہ ہوں، جبکہ وہ فرزندان نبی بھی ہوں اور ان میں سے نویں حضرت مہدی ہوں؟! (غور کیجئے)
بالخصوص یہ کہ ہم اسی باب کی دوسری فصل میں ثابت کریں گے کہ حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف امام حسین کی نسل سے نویں فرزند ارجمند ہیں اور اہل بیت رسول خدا سے ہیں۔ لہذا نتیجتاً یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام تک امام مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)کے تمام اجداد اہل بیت میں سے ہیں۔ کیونکہ جب پیغمبر اسلام سے منسوب فرزند اہل بیت علیھم السلام کا مصداق ہے تو اجداد بھی جو کہ پیغمبر اسلام سے منسوب ہیں، اہل بیت کا مصداق قرار پائیں گے۔
۳ ۔ "وَ عَنۡ عَلیٍّ کَرَّمَ الله ُ وَجۡه َه ُ قالَ: قالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: مَنْ اَحَبَّ اَنْ يَرْكَبَ سَفِينَةَ النَّجَاةِ وَ يَسْتَمْسِكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى وَ يَعْتَصِمَ بِحَبْلِ اللَّهِ الْمَتِينِ فَلْيُوَالِ عَلِيّاً وَ لِيُعَادِ عَدُوَّهُ وَ لِيَأْتَمَّ بِالۡاَئِمَّة بِالْهُدَاةِ مِنْ وُلْدِهِ فَاِنَّهُمْ خُلَفَائِي وَ اَوْصِيَائِي وَ حُجَجُ اللَّهِ عَلَى الْخَلْقِه مِنۡ بَعْدِي وَ سَاداتُ اُمَّتِي وَ قوادُ الاَتْقِيَاءِ اِلَى الْجَنَّةِ حِزْبُهُمْ حِزْبِي وَ حِزْبِي حِزْبُ اللَّهِ،وَ حِزْبُ أَعْدَائِهِمْ حِزْبُ الشَّيْطَانِ "
ینابیع المودۃ(۱۹) میں کتاب مودّت القربی سے روایت نقل کی گئی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: رسولؐ خدا نے فرمایا: جو شخص کشتی نجات پر سوار ہونا چاہتا ہے اور قابل اطمینان چیز سے متمسک ہونا چاہتا ہے اور خداوند متعال کی رسّی کو مضبوطی سے تھامنا چاہتا ہے پس اسے چاہیئے کہ وہ علی علیہ السلام کو اپنا ولی وسرپرست بنالے اور انکے دشمن کو اپنا دشمن قرار دے اور اولاد علی علیہ السلام سے آنے والے ائمہ ہدیٰ کو اپنا امام قرار دے کیونکہ یہ سب میرے بعد میرے خلیفہ، اوصیاء اور خلق خدا پر حجت ہیں، یہ میری امت کے سید و سردار ہیں، صاحبان تقویٰ کو جنت کی طرف لیکر جانے والے ہیں، ان کی حزب، میری حزب ہے اور میری حزب، حزب اللہ ہے اور ہمارے دشمنوں کی حزب، حزب شیطان ہے۔
جیسا کہ آپ نے اس روایت میں ملاحظہ فرمایا کہ رسولؐ اکرم نے تصریح فرمائی کہ فرزندان علی علیہ السلام میرے بعد میری امت میں ائمہ ہدی اور خلق خدا پر حجت ہیں پس جب گذشتہ متواتر روایات کی روشنی میں حضرت علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا اور امام حسن و حسین‘ اہل بیت میں سے ہیں اور حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)تک تمام فرزندان علی علیہ السلام ائمہ ہدیٰ ہیں تو قطعاً اہل بیت میں سے بھی ہیں کیونکہ جب والد اہل بیت میں سے ہیں قطعاً فرزند بھی اہل بیت میں سے قرار پائیں گے۔ جیسا کہ شیخ سلیمان نے یہ روایت نقل کی ہے۔
"وَ عَنۡ عَلیٍّ کَرَّمَ الله ُ وَجۡه َه ُ قالَ : قالَ رَسُولُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ – وَ آلِه – وَ سَلَّمَ: اَلۡاَئِمَّةُ مِنۡ وُلۡدی "
حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا: رسولؐ خدا نے فرمایا ہے: ائمہ ہدی میری اولاد میں سے ہوں گے۔
اس حقیقت "کہ حضرت علی علیہ السلام اور حضرت مہدی موعودؑ تک آپ کی اولاد سب ائہ ہدیٰ اور خلق خدا پر حجت ہیں اور اہل بیت رسول خدا میں سے ہیں) کی مزید وضاحت کے لئے روایات اثنا عشریہ کے بارے میں بعض علمائے اہل سنت کی ایک تحقیق آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام اور آپ کے گیارہ فرزندوں کے ائمہ ہدی اور اہل بیت رسولؐ ہونے پر علمائے اہل سنت کی ایک تحقیق
اہل تحقیق پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ روایات اثنا عشریہ، شیعہ و اہل سنت کے مطابق متواتر اور قطعی الصدور ہیں۔ جیسا کہ شیخ سلیمان بلخی حنفی نے کتاب ینابیع المودۃ، باب ۷۷ میں یحیی بن حسن کی کتاب عمدہ سے بیس طرق و اسناد کا تذکرہ کیا ہے جو اس امر پر دلالت کر رہے ہیں کہ نبی کریمؐ کے خلفاء کی تعداد بارہ ہے اور یہ سب کے سب اہل بیت رسولؐ خدا سے ہیں۔ پس جو شخص بھی ان روایات کا سرسری مطالعہ بھی کرے گا تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ حضرت علی علیہ السلام اور حضرت مہدی تک آپ کی اولاد ائمہ ہدیٰ اور اہل بیت کا مصداق ہیں البتہ شرط یہ ہے کہ تعصب کی عینک اتار کر نگاہِ انصاف سے کام لیا جائے (واللہ یہدی مَن یشاء)۔
شیخ سلیمان(۲۰) رقمطراز ہیں:
"قالَ بَعۡضُ الۡمحقّقین اِنَّ الۡاَحادیثَ الدّالّةَ عَلی کَوۡنِ الۡخُلَفاءِ بَعۡدَه ُ ﷺ اِثۡنی عَشَرَ قَدۡ اِشۡتَه َرَتۡ مِنۡ طُرُقٍ کَثیرَةٍ(۲۱) ، فَبِشَرۡحِ الزَّمانِ وَ تَعۡریفِ الۡکَوۡنِ وَ الۡمَکانِ عُلِمَ اَنَّ مُرادَ رَسوُلِ الله ِ ﷺ مِنۡ حَدیثِه ، ه ذَا الۡائِمَّةِ الاِثۡنا عَشَرَ مِنۡ اَه ۡلِ بَیۡتِه وَ عِتۡرَتِه ِ اِذۡ لا یُمۡکِنُ اَنۡ یَحۡمِل ه ذَا الۡحَدیثِ عَلَی الۡخُلَفاءِ بَعۡدُه مِنۡ اَصۡحابِه لِقِلَّتِه ِمۡ عَنۡ اِثۡنی عَشَرَ، ولا یُمۡکِنُ اَنۡ یَحۡمِلَه ُ عَلَی الۡمُلُوکِ الۡاُمَویَّةِ لِزیادَتِه مۡ عَلی اِثۡنی عَشَرَ وَ لِظُلۡمِه ِمُ الۡفاحشِ اِلّا عُمَر َبن عَبۡدِ الۡعَزیزِ وَ لِکَوۡنِه ِمۡ غَیرَ بَنی ه اشِم لِاَنَّ النَّبی صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه - وَ سَلَّمَ قالَ: کُلُّه ُمۡ مِنۡ بَنی ه اشِمٍ فی روایَة عَبۡدِ الۡمَلِکِ عَنۡ جابِرٍ، وَ اِخۡفاءُ صَوۡتِه صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه - وَ سَلَّمَ فی ه ذَا الۡقَوۡلِ یُرَجَّحُ ه ذِه ِ الرِّوایَةَ، لِاَنَّه ُمۡ لا یُحَسِّنُونَ خِلافَةَ بَنی ه اشِمٍ وَ لا یُمۡکِنُ اَنۡ یَحۡمِلَه ُ عَلَی الۡمُلُوکِ الۡعَبّاسِیَّةِ لِزیادَتِه ِمۡ عَلَی الۡعَدَدِ الۡمَذۡکُورِ، وَ لِقِلَّةِ رَعایَتِه مۡ الۡآیَة: قُلۡ لا اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡه ِ اَجۡراٍ اِلّا الۡمَوَدَّةَ فِی الۡقُرۡبی (شوری، ۲۳) ، وَ حَدیثَ الۡکَساءِ، فَلا بُدَّ مِنۡ اَنۡ یَحۡمِلَ ه َذا الۡحَدیثِ عَلَی الۡاَئِمَّةِ الۡاِثۡنی عَشَرَ مِنۡ اَه ۡلِ بَیۡتِه وَ عِتۡرَتِه صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه - وَ سَلَّمَ، لِاَنَّه ُمۡ کانُوا اَعۡلَمَ اَه ۡلِ زَمانِه ِمۡ وَ اَجَلَّه ُمۡ وَ اَوۡرَعَه ُمۡ وَ اَتۡقاه ُمۡ وَ اَعۡلاه ُمۡ نَسَباً، وَ اَفۡضَلَه ُم حَسَباً وَ اَکۡرَمَه ُمۡ عِنۡدَ الله ِ، وَ کانَ عُلوُمُه ُمۡ عَنۡ آبائِه ِمِ مُتَّصِلاً بِجَدِّه ِمۡ صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه -وَ سَلَّمۡ، وَ بِالۡوِراثَةِ وَ الدّینَةِ، کَذا عَرَفَه ُمۡ اَه ۡلُ الۡعِلۡمِ وَ التَّحۡقیقِ وَ اَه ۡلُ الۡکَشۡفِ وَ التَّوفیقِ، وَ یُؤَیِّدُ ه ذَا لۡمَعۡنی ای اَنَّ مُرادَ النَّبی صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه - وَ سَلَّمَ الۡائِمَّةُ الۡاِثۡنی عَشَرَ مِنۡ اَه ۡلِ بَیۡتِه وَ یَشۡه َدُه ُ وَ یُرَجِّحُه ُ حَدیثُ الثَّقَلَیۡنِ وَ الۡاَحادیثُ الۡمُتَکَثِّرَةُ الۡمَذۡکُورَةُ فی ه ذَا الۡکِتابِ وَ غَیۡرِه ا، وَ اَمَّا قَوۡلُه ُ صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه - وَ سَلَّمَ کُلُّه ُمۡ تَجۡتَمِعُ الۡاُمَّةُ فی روایَةٍ عَنۡ جابِرِ بۡنِ سَمُرَة فمُرادُه ُ صَلَّی الله َ عَلَیۡه ِ - وَ آلِه - وَ سَلَّمَ اَنَّ الۡاُمَّةَ تَجۡتَمِعُ عَلَی الۡاِقۡرارِ بِاِمامَةِ کُلِّه ِمۡ وَقتَ ظُه وُرِ قائِمِه ِمُ الۡمَه ۡدی رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُمۡ"
علمائے اہل سنت کے بعض محققین کا کہنا ہے(۲۲) : نبی کریمؐ کے بعد خلفائے اثنا عشر بیان کرنے والی روایات و احادیث کی اسناد و طریق بہت زیادہ ہیں (ہم نے گذشتہ حاشیہ پر ان میں سے بیس اسناد و طریق کا ذکر کیا ہے) پس رسولؐ اللہ نے مختلف حالات و واقعات کے موقع پر جو روایات بیان فرمائی ہیں، یقین ہوجاتا ہے کہ حضور سرور کائنات کی روایات اثنی عشریہ سے مراد اہل بیت عصمت و طہارت کے بارہ ائمہ ہی ہیں ان روایات کا نبی کریمؐ کے بعد آنے والے خلفاء پر اطلاق نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ چار ہیں، بارہ نہیں ہیں اور اسی طرح ان روایات کا اطلاق اموی خلفاء پر بھی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کی تعداد بارہ سے زیادہ ہے اور عمر بن عبد العزیز (کہ جس نے فدک واپس کر دیا تھا اور حضرت علی علیہ السلام پر لعن و سب و شتم کو ممنوع قرار دیا تھا) کے علاوہ سب نے اہل بیت رسولؐ پر بہت ظلم و ستم کیا تھا، اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ یہ (بنی امیہ)، بنی ہاشم میں سے نہیں ہیں جبکہ حضورؐ نے فرمایا تھا کہ یہ سب بارہ خلیفہ بنی ہاشم میں سے ہوں گے۔ جیسا کہ عبد الملک کی روایت جو کہ انہوں نے جابر سے نقل کی ہے، اس روایت میں ہے کہ رسولؐ نے آہستہ آواز میں فرمایا کہ یہ سب بنی ہاشم میں سے ہوں گے، اور یہی عمل پیغمبرؐ کو ترجیح دینے کا موجب ہے کیونکہ آنحضرت جانتے تھے کہ بنی امیہ ہرگز خلافت بنی ہاشم کو قبول نہ کریں گے۔
نیز روایات اثنا عشریہ کو خلفائے بنی عباس پر بھی اطلا ق نہیں کیا جاسکتا کیونکہ انکی تعداد بھی بارہ سے بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ انہوں نے اہل بیت کے بارے میں نازل شدہ آیہ مودت (شوریٰ / ۲۳) اور حدیث کساء (پنجتن آل عبا) کا بالکل خیال نہیں کیا۔
پس بنابریں روایات اثنا عشریہ کو صرف اہل بیت عصمت و طہارت کے ائمہ اثنی عشر ہی پر لاگو کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اہل بیت رسول خدا اپنے زمانے کے عالم ترین، بہترین، متقی ترین اور پرہیز گار ترین افراد تھے، نبی کریمؐ سے نسبت میں سب سے بلند اور حسب کے لحاظ سے سب سے افضل ہیں، یہ خداوند متعال کے نزدیک محترم ترین ہیں، انہوں نے اپنے علوم اپنے باپ داد کے توسط سے سلسلہ بسلسلہ پیغمبر اکرمؐ سے حاصل کئے ہیں اور دین و وراثت کے اعتبار سے نبی کریم سے سب سے زیادہ قریب ہیں۔
بیشک اہل علم و تحقیق اور اہل کشف و توفیق نے ان کا یہی عرفان حاصل کیا اور انہیں ایسا ہی پایا ہے۔ نیز اس مطلب (کہ رسول اسلام کی مراد یہی بارہ ائمہ ہیں) پر بہترین شاہد، مرجحّ اور مؤیّد، "حدیث ثقلین" اور اس کتاب وغیرہ میں "مذکورہ احادیث" ہیں۔
البتہ جابر بن سمرہ کی روایت میں جو حضورؐ سرور کائنات نے یہ فرمایا: "میری امت میرے ان ائمہ اثنا عشر کی امامت و روایت پر اجماع کرے گی" اس سے مراد حضرت مہدی موعود (عج) کے ظہور کے بعد اجماع ہے۔
اولاد فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کے بارے میں اشکال کا دندان شکن جواب
اس موقع پر حضرت زہرا سلام اللہ علیھاکی اولاد اور جانشینان پیغمبر گرامی قدر کے بارے میں اہل تسنن کی جانب سے کئے گئے ایک اشکال کا جواب دینا مناسب سمجھتا ہوں۔
اشکال: تعجب کا مقام یہ ہے کہ بعض نمایاں عالم بغیر کسی تحقیق و مستحکم دلیل کے اولاد و سادات بنی الزہراؑ پر اشکال کرتے ہوئے کہتے ہیں: فاطمہ زہرا و علی بن ابی طالب کی اولاد، رسولؐ اللہ کی رشتہ دار ضرور ہیں لیکن انہیں اولاد نہیں کہا جاسکتا، اور دلیل یہ پیش کرتے ہیں: کیونکہ انسان کی نسل بیٹے سے چلتی ہے نہ کہ لڑکی سے اور کیونکہ رسولؐ کے کوئی بیٹا تو تھا نہیں لہذا سادات کو انکا رشتہ دار کہا جاسکتا ہے نہ کہ اولاد۔ اور یہ لوگ عربی شاعر کے اس شعر سے استناد کرتے ہیں:
"بَنوُنا بَنوُ اَبۡنائِنا وَ بَناتُنا بَنوُه ُنَّ اَبۡناء الرِّجال الۡاَباعِد"
یعنی ہمارے بیٹوں کے بیٹے اور بیٹیاں ہمارے بیٹے اور بیٹیاں ہیں لیکن ہماری بیٹیوں کے بیٹے ہم سے دور ہیں (یعنی ہمارے بیٹے نہیں ہیں)۔
پس اس شعر کی روشنی میں حضرت فاطمہؑ زہرا کی اولاد، پیغمبرؐ کی اولاد نہ کہلائے گی بلکہ رشتہ دار کہلائے گی۔ پس امام حسن و امام حسینؑ اور انکی اولاد ائمہ اطہار و امام زادگان ان میں سے کوئی بھی اولاد رسولؐ نہ کہلائیں گے۔
جواب: ہم شیعیان علیؑ، اہل بیت علیھم السلام اور نبی کریم ؐ کے سچے اوصیاء کے وسیلہ سے عالم غیب سے متصل ہیں، ائمہ اطہار کو ترجمان وحی الٰہی و سفینۂ نجات سمجھتے ہیں (جیسا کہ روایات نبوی سے ثابت ہے) ، ہم ہمیشہ قوی براہین مستحکم استدلالات سے بہرہ مند ہیں لہذا صرف کسی ایک عربی شاعر کا شعر سُن کر عدم نسل و اولاد کا حکم نہیں دیتے پس اس حقیقت کے پیش نظر قران کریم اور کتب اہل سنت میں مرقوم روایات کی روشنی میں چند دندان شکن جواب پیش کئے جا رہے ہیں۔
پہلی دلیل : امام حسن و امام حسین اور اولاد بنی الزہرا کے ذریت و اولاد پیغمبرؐ ہونے پر سورہ انعام کی آیت ۸۴ و ۸۵ ملاحظہ فرمائیں:
( وَ مِنۡ ذُرّیَّتِهِ داوُدَ وَ سُلَیۡمانَ وَ اَیُّوبَ وَ یُوسُفَ وَ مُوسی وَ هارُونَ وَ کَذلِکَ نَجۡزی الۡمُحۡسِنینَ، وَ زَکَرِیّا وَ یَحۡیی وَ عیسی وَ اِلۡیاسَ کُلِّ مِنَ الصّالِحینَ )
اور پھر ابراہیم کی اولاد میں داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون قرار دیئے اور اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔ اور زکریا، یحیی، عیسیٰ اور الیاس کو رکھا جو سب کے سب نیک کرداروں میں تھے۔
اس آیت کریمہ میں ہمارا محل استشہاد حضرت عیسیٰ کی ذات بابرکت ہے انہیں ذریت و فرزندان انبیاء میں شمار کیا گیا ہے حالانکہ انکے والد نہ تھے پس معلوم ہوا کہ وہ اپنی والدہ ماجدہ جناب مریم کی طرف سے انبیاء سے منسوب ہوئے ہیں اور انہیں انبیاء کی اولاد میں شمار کیا گیا ہے اسی طرح حضرت امام حسن و امام حسین‘اور دیگر اوصیاء پیغمبرؐ یہ سب اپنی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہراؑ کی طرف اولاد پیغمبرؐ شمار ہوتے ہیں۔
اسی لئے دلچسپ بات یہ ہے کہ محققین دانشمندان اہل سنت نے صرف ایک شعر دیکھ کر حکم صادر نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے بھی ہمارے قول کی حقانیت کی طرف اشارہ کیا ہے جیسا کہ فخر رازی(۲۳) نے اسی آیت کریمہ (انعام/ ۸۵) کے ذیل میں پانچویں مسئلہ میں کہا ہے:
یہ آیت کریمہ امام حسن و حسین‘کے ذریت رسولؐ ہونے پر دلیل ہے کیونکہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ کو ذریت انبیاء میں شمار کیا گیا ہے اور یہ انتساب ماں کی طرف سے ہے اسی طرح حسنین بھی اپنی مادر گرامی کی طرف سے ذریت رسولؐ ہیں۔ جیسا کہ امام محمد باقرؑ نے حجاج کے سامنے اسی آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے۔
دوسری دلیل:امام حسن و امام حسین‘ اور آپ کی اولاد کے (حضرت فاطمہ کی نسبت سے) ذریت رسول ؑ ہونے پر دوسری دلیل آیت مباہلہ (آل عمران/ ۶۱) ہے۔
ارشاد ہوتا ہے:
( فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ )
پیغمبرؑ علم آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔
ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں اور ابو بکر رازی نے اپنی تفسیر میں نیز دیگر بہت سے اہل سنت مفسرین (جیسا کہ ہم نے روایات خمسہ طیبہ(۲۴) کے چوتھے حصہ میں آیت مباہلہ کے ذیل میں روایات نقل کی ہیں)ابنائنا کے ذیل میں استدلال کیا ہے پیغمبر ؐ گرامی قدر، امام حسن و امام حسین‘کو میدان مباہلہ میں اپنے بیٹوں کی حیثیت سے لیکر آئے تھے لہذا قران کریم اور عمل پیغمبر اسلام کی روشنی میں حسن و حسین، پیغمبر اسلام کے فرزند ہیں۔
شیخ صدوق نے عیون اخبار الرضا میں اور علامہ طبرسی نے احتجاج میں امام موسیٰ کاظم سے ایک روایت نقل کی ہے کہ خلیفہ عباسی ہارون رشید نے امام موسیٰ کاظم سے عرض کیا:
"کَیۡفَ قُلۡتُمۡ اِنّا ذُرّیَّةُ النَّبی ﷺ وَ النَّبِیُّ لَمۡ یُعۡقَبۡ وَ اِنَّمَا الۡعَقَبُ لِلذَّکَرِ لا لِلۡاُنثی وَ اَنۡتُم وَلَدُ الۡبِنۡتِ وَ لا یَکُونُ لَه ُ عَقَبٌ"
تم کس طرح اپنے آپ کو فرزندان پیغمبرؐ کہتے ہو حالانکہ ان کے تو کوئی بیٹا ہی نہیں تھا اور نسل بیٹے سے چلتی ہے نہ کہ بیٹی سے جبکہ تم ان کی بیٹی کی اولاد ہو؟!
امام کاظم نے اسے دو جواب دیئے ہیں ایک جواب وہی سورہ انعام کی آیت ۸۵ ہے جسے ہم پہلی دلیل کے طور پر بیان کرچکے ہیں اور دوسرے جواب میں آنجناب نے آیت مباہلہ (آل عمران/ ۶۱) پیش کی ہے کہ جسے ہم نے دوسری دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ جب ہارون نے امام کی یہ دو واضح دلیلیں سنیں تو کہنے لگا: اَحسَنتَ یا ابالحسن۔ بہت خوب اے ابو الحسنؑ۔
تیسری دلیل: امام حسن و امام حسین کے فرزندان پیغمبر اسلام ہونے پر تیسری دلیل "محرمیّت" ہے۔
جس طرح بیٹے کی اولاد قیامت تک جدّو جدّہ کے لئے حرام ہے اسی طرح بیٹی کی اولاد بھی قیامت تک نانا نانی (جدّ و جدّہ) کے لئے حرام ہے اسی لئے ایک روایت کے مطابق جب اعتراض و اشکال کیا گیا تو امام نے معترض و مستشکل کے جواب میں فرمایا: اگر اس وقت پیغمبر گرامی قدر موجود ہوتے اور وہ تم سے تمہاری بیٹی کی خواستگاری کرتے تو کیا تم ان کی اس فرمائش کو قبول کرلیتے؟ مستشکل نے عرض کیا: کیوں نہیں! ارے یہ تو ہمارے لئے بڑے افتخار کی بات ہوتی کہ پیغمبر اسلام ہمارے داماد ہوجاتے۔
امام نے فرمایا: لیکن ہم پیغمبر ؐ کو اپنی بیٹی نہیں دے سکتے کیوں کہ ہم اور ہماری اولاد، پیغمبرؐ ہی کی اولاد ہے۔
چوتھی دلیل: امام حسن و امام حسین‘کے ذرّیت نبی ہونے پر وہ روایات بھی دلیل ہیں جو پیغمبر اسلام سے منقول ہیں اور علمائے اہل سنت نے انہیں اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ ابو صالح و حافظ عبد العزیز اخضر و ابو نعیم نے معرفۃ الصحابہ میں، ابن حجر مکی(۲۵) ، محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کفایت الطالب میں، طبرانی نے کتاب الاوسط میں، شیخ سلیمان بلخی حنفی(۲۶) ، و طبری نے حالات امام حسن میں؛ خلیفہ دوم عمر بن خطاب سے روایت نقل کی ہے کہ وہ کہتے ہں:
"اِنّی سَمِعۡتُ رَسُولَ الله ِ یَقُولُ :کُلُّ حَسَبٍ وَ نَسَبٍ فَمُنۡقَطِعٌ یَوۡمَ الۡقِیامَةِ ما خَلا حَسَبی وَ نَسَبی وَ کُلُّ بَنی اُنۡثی عُصۡبَتُه ُمۡ لِاَبیه ِمۡ ما خَلا بَنی فاطِمَةُ فَاِنّی اَنا اَبوُه ُمۡ وَ اَنَا عُصۡبَتُه ُمۡ"
میں نے رسولؐ خدا سے سنا کہ آپؐ نے فرمایا: ہر حسب و نسب قیامت میں منقطع ہوجائے گا سوائے میرے حسب و نسب کے۔ اور ہر بیٹی کی اولاد اپنے باپ کی طرف منسوب ہوتی ہے سوائے میری بیٹی کی اولاد کے، کہ وہ میری طرف منسوب ہیں اور میں ان کا جد ہوں۔
کتب اہل سنت میں روایات مہدی موعود (عج) کے باب میں کثیر التعداد روایات تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہیں جن میں رسولؐ اکرم کی جانب سے نص جلی ہے کہ "امام حسین " آپؐ کے فرزند ہیں نیز تصریح موجود ہے کہ حضرت مہدی (عج) موعود فرزند حسین و فرزند رسولؐ خدا ہیں جیسا کہ اسی کتاب کے پہلے باب کی پہلی فصل روایت ۲۶ میں جناب سلیمان نے رسولؐ خدا سے حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں سوال کیا:"یا رَسُولَ الله ِ اِنَّه ُ مِنۡ ای وُلۡدِک؟ قالﷺ: ه ُوَ مِن وَلَدی ه ذا وَ ضَرَبَ بِیَدِه ِ عَلَی الحُسَیۡنِ" یعنی یا رسولؐ اللہ وہ آپ کے کس فرزند سے ہوں گے؟ آپؐ نے امام حسین کے دوش پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا: وہ میرے اس بیٹے کی اولاد میں سے ہوں گے۔
نیز اسی کتاب کے پہلے باب کی پہلی فصل روایت ۳۳ و ۳۴ میں رسولؐ خدا نے فرمایا: "اَلۡمَهۡدی رَجُلٌ مِنۡ وُلۡدی " مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)میری نسل میں سے ایک شخص ہے۔
نیز اسی کتاب کے پہلے باب کی پہلی فصل روایت ۳۵ میں جابر بن عبد اللہ انصاری نے حضور سرور کائنات سے سوال کیا:"یا رَسُولَ الله ، لِوَلَدِکَ الۡقائِمِ غَیۡبَةٌ ؟ قال: ای وَ رَبّی " یعنی یا رسول ؐ اللہ! کیا آپؐ کے فرزند قائم کے لئے غیبت ہوگی؟ فرمایا: قسم ہے پروردگار کی، ایسا ہی ہے۔
جیسا کہ آپ نے ان روایات میں ملاحظہ فرمایا کہ ان میں واضح طور پر تصریح موجود ہے کہ امام حسین و فرزندان امام حسین کہ جن میں حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) بھی ہیں، سب فرزندان رسولؐ خدا ہیں لہذا نص جلی کی موجود گی میں کوئی اشکال وارد نہیں کیا جاسکتا۔ (غور کیجئے)
پانچویں دلیل: آپ کے قول کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکے بعد نبی کریمؐ کی نسل منقطع ہونے والی ہے۔ آپ کا یہ قول نص قرانی یعنی سورہ کوثر کی کھلی مخالفت ہے کیونکہ مستشکل نے اس طرح اشکال کیا ہے کہ بیٹے کی اولاد انسان کی اپنی اولاد ہوتی ہے نہ کہ بیٹی کی اولاد! اور کیونکہ آنحضرت کے فقط ایک بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاتھیں لہذا ان کے بعد آنحضرت کی نسل منقطع ہوگئی کیونکہ صرف فاطمہ سلام اللہ علیھا حضورؐ کی اولاد ہیں نہ کہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کی اولاد! جیسا کہ ہارون رشید نے واضح طور پر کہا تھا کہ پیغمبر ؐ کے کوئی بیٹا نہ تھا۔
ہم اس کے جواب میں اتنا ہی کہنا چاہیں گے کہ آپ کا یہ قول بالکل غلط اور باطل ہے۔ کیونکہ دشمنان پیغمبر اسلام خوش ہوتے اور کہتے تھے: پیغمبر اسلام ابتر ہیں۔ خداوند عالم نے ان کا اس طرح جواب دیا: اے نبیؐ! ہم نے آپؐ کو "کوثر (فاطمہؑ)" عطا کی ہے، بیشک آپ کا دشمن ہی ابتر ہے۔
بالفاظ دیگر:جب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھادنیا میں تشریف نہیں لائی تھیں تو اس وقت تک دشمنان اسلام اس بات پر خوش ہو رہے تھے کہ رسول گرامی اسلام کے کوئی اولاد نہیں ہے لہذا پیغمبرؐ ابتر رہیں گے اور آپ بھی حضرت فاطمہ زہرا کے باوجود اسی عقیدہ کے قائل ہیں اور کہتے ہیں: کہ پیغمبر اسلام کے صرف ایک بیٹی تھی اور اس بیٹی کے بعد پھر آپ کی کوئی نسل باقی نہیں ہے کیونکہ بیٹے کی اولاد اپنی اولاد ہوتی ہے جبکہ بیٹی کی اولاد عزیز و رشتہ داری ہوتی ہے۔
ہم آپ کے جواب میں کہیں گے کہ خداوند عالم آپ کے جواب میں فرماتا ہے: اے نبیؐ ہم نے آپ کو "کوثر یعنی فاطمہ زہرا" عطا کی ہے، بیشک آپ کا دشمن ہی "ابتر" رہے گا۔
اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ شاعر کا شعر قران کریم اور روایات نبوی و روایات اہل بیت کے مقابلہ میں ناقابل قبول ہے لہذا اہل سنت کے معروف عالم دین جناب محمد بن یوسف گنجی شافعی نے اپنی کتاب کفایت الطالب فصل اول بعد از ۱۰۰ باب اس شعر کے جواب میں ایک باب معین کیا ہے کہ جس کا عنوان یہ ہے "پیغمبر ؐ کی بیٹی کی اولاد، پیغمبر اسلام ہی کی اولاد ہے"۔
مذکورہ محکم دلائل کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد، رسولؐ اسلام ہی کی اولاد ہے اور اس حقیقت کا انکار سوائے بنی امیہ و بنی عباس کے لجوج و دشمنان اہل بیت و منافقین اور کم عقل و جھال کے کوئی نہیں کرسکتا ہے۔
قران کریم میں اہل بیت علیھم السلام کے نام کیوں نہیں آئے ہیں؟
اس موقع پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ جب ائمہ اہل بیت علیھم السلام کی حقانیت ثابت شدہ ہے تو پھر ان کے نام قران کریم میں کیوں نہیں آئے ہیں؟
ہم نے اسی کتاب کے پہلے باب کی دوسری فصل کے آخر میں بطور واضح و روشن اس اشکال کے پانچ جواب دیئے ہیں لہذا وہاں رجوع فرمائیں۔
خاتمہ فصل اول:
ذکر فاطمہ و ابیھا و بَعلِہا وَ بَنیہا
سب سے پہلے یہ ذکر انہی الفاظ کے ساتھ حضور سرور کائنات کی زبان مبارک پر جاری ہوا۔ علامہ مجلسی(۲۷) نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکے مقام و منزلت کے بارے میں نبی کریمؐ سے روایت نقل کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا:
"أَنَا اَبُوهَا وَ مَا اَحَدٌ مِنَ الْعَالَمِينَ مِثْلِي، وَ عَلِيٌّ بَعْلُهَا وَ لَوْ لَا عَلِيٌّ مَا كَانَ لِفَاطِمَةَ كُفْوٌ اَبَداً، وَ اَعْطَاها الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ وَ مَا لِلْعَالَمِينَ مِثْلُهُمَا سَيِّدَا شَبَابِ اسْباطِ الْاَنْبِيَاءِ وَ سَيِّدَا شَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ …؛
اََلَا وَ اَزِيدُكُمْ مِنْ فَضْلِهَا: اِنَّ اللَّهَ قَدْ وَكَّلَ بِهَا رَعِيلًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ يَحْفَظُونَهَا مِنْ بَيْنِ يَدَيْهَا وَ مِنْ خَلْفِهَا وَ عَنْ يَمِينِهَا وَ عَنْ شِمَالِهَا وَ هُمْ مَعَهَا فِي حَيَاتِهَا وَ عِنْدَ قَبْرِهَا وَ عِنْدَ مَوْتِهَا يَكْثُرُونَ الصَّلَوةَ عَلَيْهَا وَ عَلَى اَبِيهَا وَ بَعْلِهَا وَ بَنِيهَا "
میں فاطمہ زہراؑ کا والد ہوں اور عالمیں میں مجھ جیسا کوئی نہیں ہے، علی علیہ السلام فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کے شوہر ہیں اور اگر علی علیہ السلام نہ ہوتے تو فاطمہ سلام اللہ علیھا کا کوئی کفو و ہمسر نہ ہوتا، خداوند عالم نے فاطمہ سلام اللہ علیھا کو حسن و حسین‘عطا کئے ہیں کہ ان جیسا بھی عالمین میں کوئی نہیں ہے یہ دونوں جوانان اسباط انبیاء کے سردار ہیں اور اسی طرح جوانان جنت کے سرار ہیں ؛ یاد رکھو فاطمہ زہراؑ کے فضائل اس سے بھی زیادہ ہیں جو میں تمہارے سامنے اب بیان کر رہا ہوں۔ خداوند عالم نے فاطمہ کی حفاظت کے لئے چاروں طرف ایسے ملائکہ معین کئے ہیں جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتے ہیں حتی ان کی قبر کے پاس اور ان کے انتقال کے وقت بھی ان کے پاس ہوں گے، یہ فرشتے کثرت سے ان پر، ان کے والد، شوہر اور ان کے فرزندان پر درود و سلام بھیجتے رہتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ذکر شریف، شیعہ و اہل سنت دونوں ہی نے دعاؤں کی صورت میں نقل کیا ہے جیسا کہ علامہ نوری اعلیٰ اللہ مقامہ نے کتاب مستدرک الوسائل(۲۸) میں نقل فرمایا ہے کہ "کتاب خلاصۃ الکلام" میں ہے کہ بعض معاصرین اہل سنت نے آنکھوں کے نور میں اضافہ کے لئے ان اذکار سے توسل کیا ہے۔
"اَلۡلَّه ُمَّ رَبِّ الۡکَعۡبَه ِ وَ بانیه ا وَ فاطِمَةَ وَ اَبیه ا وَ بَعۡلِه ا وَ بَنیه ا نَوِّرۡ بَصَری وَ بَصیرَتی و …"
نیز کتاب "فاطمہ الزہرا بحجۃ قلب المصطفی تالیف حجۃ الاسلام رحمانی ہمدانی" ص ۲۵۲ میں ہے کہ:
"سَمِعۡتُ شَیۡخی وَ مُعۡتَمِدی آیَة الله الۡمَرحوۡمُ مُلّا عَلی المَعۡصوُمی یَقُولُ فِی التَوَسُّلِ بِالزَّه ۡراء علیه ا السلام: تَقوُلُ خَمۡسَمِأَة وَ ثَلاثینَ مَرَّة: اَللّه ُمَّ صَلَّ عَلی فاطِمَةَ وَ اَبیه ا وَ بَعۡلِه ا وَ بَنیه ا بِعَدَدِ ما اَحاطَ بِه عِلۡمُکَ وَ اَیضۡاً عَنۡه ُ (ره ) : اِله ی بِحَقِّ فاطِمَةَ وَ اَبیه ا وَ بَعۡلِه ا وَ بَنیه ا وَ السِّرِّ الۡمُسۡتَوۡدَعِ فیه ا"
میں نے اپنے استاد آیت اللہ ملا علی معصومی ؒ سے سنا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کے ذکر سے توسل کرنے کے لئے ۵۳۰ مرتبہ یہ کہو:" اَللّه ُمَّ صَلَّ عَلی فاطِمَةَ وَ اَبیه ا وَ بَعۡلِه ا وَ بَنیه ا بِعَدَدِ ما اَحاطَ بِه عِلۡمُکَ "
یا اس طرح کہیے:" اِله ی بِحَقِّ فاطِمَةَ وَ اَبیه ا وَ بَعۡلِه ا وَ بَنیه ا وَ السِّرِّ الۡمُسۡتَوۡدَعِ فیه ا"
نیز یہی عدد شیخ بہائی سے بھی نقل ہوا ہے۔
ممکن ہے آپ کے ذہن میں خیال و سوال پیدا ہو کہ آخر ۵۳۰ مرتبہ ہی کیوں انجام دیا جائے؟ بعض اساطین و سادات کرام نے اس کی علت کو یوں سمجھا ہے کہ یہ عدد لفظ "فاطمہ" کے اعداد ابجد یعنی (ف = ۸۰ ، ا = ۱ ، ط = ۹ ، م = ۴۰ ، ت = ۴۰۰) ۔
علامہ مجلسی کتاب بحار الانوار(۲۹) میں فرماتے ہیں: حضرت امام حسین کی زیارت کے قدیمی نسخہ میں وارد ہوا ہے کہ جب تم زیارت کے لئے حاضر ہو اور قبر کے قریب پہنچو تو سلام کرتے وقت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکے لئے اس طرح کہو:
"صَلَّ الله ُ عَلَیۡه ا وَ عَلی اَبیه ا وَ بَعۡلِه ا وَ بَنیه ا " یعنی فاطمہ زہرا، ان کے والد و شوہر اور انکے فرزندوں پر خدا کا درود و سلام ہو۔
صاحب عوالم نے حدیث کساء کے بارے میں سند صحیح کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری سےنقل کیا ہے:"فَقالَ الۡاَمینُ جَبرائیلُ یا رَبِّ وَ مَنۡ تَحۡتَ الۡکِساءِ فَقالَ عَزَّ وَ جَلَّ ه ُمۡ اَه ۡلُ بَیۡتِ النُّبُوةِ وَ مَعۡدِنُ الرِّسالَةِ ه ُمۡ فَاطِمَةُ وَ اُبُوه ا وَ بَعۡلُه ا وَ بَنوُه ا" یعنی پس جبرئیل امین نے عرض کیا: اے میرے پروردگار! چادر کے نیچے کون لوگ ہیں؟ پس خداوند عزوجل نے فرمایا: یہ اہل بیت پیغمبر اور معدن رسالت ہیں؛ یہ فاطمہ ، انکے والد، انکے شوہر اور انکے فرزند ہیں۔
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ خداوند عالم نے اس حدیث میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکو اہل بیت کے تعارف کا محور و مرکز قرار دیا ہے۔
نتیجہ:
پس مذکورہ روایات و منقولات سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکو مختلف مقامات پر محور و مرکز قرار دیا گیا ہے: مثلاً؛
۱. خداوند عالم نے حدیث کساء میں محور قرار دیا ہے۔
۲. بحار الانوار کی روایت میں نبی کریمؐ نے محور قرار دیا ہے۔
۳. شیعہ و اہل سنت کے مطابق دعا و توسل کے موقع پر۔
۴. زیارت امام حسین کے موقع پر۔
۵. علمائے اعلام کے مطابق مختلف مواقع پر مثلاً جب علامہ مجلسی بحار کی مختلف مجلّات میں حضرت فاطمہ زہرا اور ائمہ اطہار پر درود بھیجنا چاہتے ہیں تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکو محور قرار دیتے ہیں۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ لسان وحی و علماء میں ان الفاظ کے جاری ہونے اور لسان خدا و رسول اور زیارت و توسلات میں حضرت فاطمہ کو محور قرار دینے سے صرف ظنّ قوی ہی نہیں بلکہ قطع و یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ دعا و توسلات اور صلوات و زیارات میں معصومین نے انہیں محور قرار دیا ہے۔
اب ہم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکے بارے میں نبی کریم سے ایک روایت نقل کر رہے ہیں جو ہمارے قول و گفتار کا ثبوت قرار پائے گی:
"عَنِ النَّبی ﷺ وَ الَّذی نَفۡسی بِیَدِة، اِنَّه ا الۡجارِیَةُ الّتی فی عَرۡصَةِ الۡقِیامَةِ عَلی ناقَة، جَبۡرَئیلُ عَنۡ یَمینِه ا وَ میکائیلُ عَنۡ شِمالِه ا وَ عَلِیٌّ اَمامُه ا وَ الۡحَسَنُ وَ الحُسَیۡنُ وَرائه ا وَ الله ُ یَحۡفَطُه ا فَاِذَا النّداءُ مِنۡ قِبَلِ الله ِ جَلَّ جَلالُه ُ: مَعاشِرَ الۡخَلائِقِ غَضُّو ا اَبۡصارَکُمۡ … یا فاطِمَةُ سَلینی اُعۡطِکِ، فَتَقُولُ: اِله ی اَنۡتَ الۡمُنی وَ فَوۡقُ الۡمُنی: اَسۡئَلُکَ اَنۡ لا تُعَذِّبَ مُحِبِّی وَ مُحِبِّ عِتۡرَتی بِالنّارِ ۔ (تاویل الآیات، ج ۲ ، ص ۴۸۴)"
یعنی نبی کریمؐ سے روایت کی گئی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: قسم ہے اس پیدا کرنے والے کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ بتحقیق میدان قیامت میں ایک خاتون ناقہ پر سوار گزرے گی جس کے دائیں سمت جبرئیل اور بائیں سمت میکائیل ہونگے، علی علیہ السلام آگے آگے اور حسن و حسین‘ انکے پیچھے پیچھے چل رہے ہونگے اور خود خدا انکا محافظ و نگہبان ہوگا۔ اسی اثناء میں خداوند عالم آواز دے گا: اے خلائق عالم! اپنی آنکھوں کوجھکالو پھر فرمائے گا: اے فاطمہ سلام اللہ علیھا مجھ سے سوال کرو کہ میں تمہیں عطا کروں۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا عرض کریں گی: پروردگار! تو خود میری آرزو ہے بلکہ میری بلند ترین آرزو ہی تو ہے۔ تجھ سے صرف اتنا چاہتی ہوں کہ میری اولاد کو اور ان کے چاہنے والوں کو آگ میں نہ جلانا۔
____________________
۱ ۔کتاب کمال الدین شیخ صدوق، ج۱، باب ۲۴، روایت ۲۵ میں ہے کہ اس موقع پر جناب عمر بن خطاب نے کھڑے ہوکر سوال کیا: کیا آپؐ کے تمام اہل بیت سے تمسک کریں؟ فرمایا نہیں بلکہ میرے اوصیاء سے، جن میں پہلے میرے بھائی وزیر و وارث اور میرے خلیفہ ہیں پھر حسن اور پھر حسین اور پھر حسین کی نسل سے ۹ فرزند جو کہ یکی پس از دیگری ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پرمیرے پاس پہنچ جائیں گے۔
۲ ۔تفسیر کشاف، ج۱، ص ۱۴۷۔
۳ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۲۲۹۔
۴ ۔معرفۃ علوم الحدیث، ص ۵۰، دار الکتب العلمیہ، بیروت۔
۵ ۔احزاب (۳۳) آیت ۳۳۔
۶ ۔مستدرک، ج۳، ص ۱۲۵۔
۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۵۳، طبع دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۸ ۔ ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۵۳، طبع دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ ۔
۹ ۔سورہ طور (۵۲) آیت ۲۱۔
۱۰ ۔ینابیع المودۃ، باب۳۳، ص ۱۰۹، طبع۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۱۱ ۔سورہ احزاب، آیت ۳۳۔
۱۲ ۔رشفۃ الصادی من بحر فضائل بنی النبی الہادی، طبع مطبعہ اعلامیہ، مصر، ۱۳۰۳ھ۔
۱۳ ۔شبہای پیشاور، سلطان الواعظین شیرازی، طبع اسلامیہ، ص ۶۹۱۔
۱۴ ۔تفسیر کبیر، ج۶، ص ۷۸۳۔
۱۵ ۔در المنثور، ج۵، ص ۱۹۹۔
۱۶ ۔تاریخ مدینہ دمشق، ج۱۳، ص ۲۰۷، طبع دار الفکر۔
۱۷ ۔بنابر نقل از شبہای پیشاور، سلطان الواعظین شیرازی، طبع اسلامیہ، ص ۶۹۰، ۱۳۶۴ ھ۔
۱۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۷، ص ۴۴۵، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ۔
۱۹ ۔ینابیع المودۃ، باب۷۷، ص ۴۴۵، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵۔
۲۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۷، ص ۴۴۵، طبع۸، دار الکتب العراقیہ۔
۲۱ ۔ینابیع المودۃ، باب۷۷، ص ۴۴۶، طبع۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۲۲ ۔شیخ سلیمان بلخی حنفی، کتاب ینابیع المودہ، باب ۷۷، ص ۴۴۴، طبع استنبول ترکی میں رقمطراز ہیں:ذَکَرَ یحی بنُ الحَسَنِ فی کتاب العُمۡدَةِ مِنۡ عِشرینَ طَریقاً فی اَنَّ الخُلَفاء بَعۡدَ النَّبی ﷺ اِثۡنی عَشَرِ خَلیفَة، کُلُّه ُمۡ مِنۡ قُرَیشٍ، فِی الۡبُخاری مِنۡ ثَلاثةً طُرُق، وَ فی مُسۡلِم مِنۡ تِسۡعَةِ طُرُقٍ، وَ فی اَبی داوُد مِن ثَلاثَةَ طُرُقٍ، وَ فِی التِّرۡمذِی مِنۡ طریقٍ واحدٍ، وَ فِی الۡحَمیدی مِنۡ ثَلاثَة طُرُق ؛ (یعنی یحیی بن حسن نے کتاب عمدہ میں بیس اسناد کا ذکر کیا ہے کہ رسولؐ خدا کے بعد خلفاء کی تعداد بارہ ہوگی جو سب قریشی ہوں گے، صحیح بخاری میں تین، صحیح مسلم میں نو طریق، سنن ابی داؤد میں تین طریق، صحیح ترمذی میں ایک طریق اور حمیدی میں تین طریق بیان ہوئے ہیں) ۔
۲۳ ۔یہ علمائے اہل سنت میں سے ہے کیونکہ اس گفتار میں سات مرتبہ "صلی اللہ علیہ وسلم" استعمال کیا گیا ہے یعنی اس میں آلؑ کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے اور گفتار کے آخر میں "رضی اللہ عنھم" آیا ہے، جبکہ شیعہ عالم رسول پر درود و سلام کے ساتھ آلؑ پر بھی درود و سلام بھیجتے ہیں۔
۲۴ ۔تفسیر کبیر، ج۴، ص ۱۲۴۔
۲۵ ۔اسی باب سوم میں ۔
۲۶ ۔صواعق محرقہ، ۱۱۲۔
۲۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۷، اس باب کی آخری روایت، ص ۲۶۷، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۲۸ ۔بحار الانوار، ۴۳، ص ۵۸۔
۲۹ ۔مستدرک الوسائل، ج۱، ص ۴۴۶، حدیث ۱۱۲۳۔
۳۰ ۔بحار الانوار، ج۹۸، ص ۲۶۳۔
دوسری فصل
مہدی موعود (عج) اہل بیتؑ نبیؐ سے ہیں
ہم نے اب تک اس کتاب میں موجود ابواب کی مختلف فصلوں میں کتب اہل سنت میں منقول متعدد ایسی روایات پیش کی ہیں جن کو نص جلی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت مہدی موعود (عج) اہل بیت و عترت رسولؐ سے ہوں گے اسی لئے روایات میں آنجناب کو "قائم آل محمد" کہا گیا ہے۔ لہذا:
اول: ہم نے پہلے باب کی پہلی فصل میں حضرت مہدی موعود (عج) کے بارے میں نبی کریمؐ کی بشارتیں بیان کی ہیں تو ہم نے وہاں کتب اہل سنت سے استفادہ کرتے ہوئے ۳۰ روایات کا تذکرہ کیا ہے جن میں حضور سرور کائنات نے تصریح فرمائی ہے کہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)میرے اہل بیت و عترت اور میری نسل سے ہوں گے مذکورہ روایات کے نمبر یہ ہیں: ۱ ، ۲ ، ۳ ، ۴ ، ۵ ، ۷ ، ۸ ، ۱۱ ، ۱۲ ، ۱۳ ، ۱۴ ، ۱۶ ، ۱۷ ، ۲۰ ، ۲۱ ، ۲۲ ، ۲۳ ، ۲۶ ، ۲۹ ، ۳۱ ، ۳۲ ، ۳۳ ، ۳۴ ، ۳۵ ، ۳۷ ، ۳۸ ، ۳۹ ، ۴۰ ( یعنی یہ ۲۸ روایات ہیں) جبکہ روایت نمبر ۹ میں فرمایا: المہدی مِنّی یعنی مہدی مجھ سے ہوں گے۔ نیز روایت نمبر ۲۸ میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکو بشارت دیتے ہوئے فرمایا: وَمِنّا مَہدِی ہٰذِہ الاُمَّۃ یعنی ا س وقت امت کے مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)ہم آل محمد میں سے ہوں گے۔
پس بنابر یں پہلی فصل میں ۳۰ روایات میں تصریح کی گئی ہے کہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)اہل بیت و عترت طاہرہ اور نسل رسولؐ سے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ نسل حسین سے ہوں گے نتیجتاً(۱) وہ آل محمد سے ہی ہوں گے۔
دوئم:ہم نے پہلے باب کی دوسری فصل میں حضرت مہدی موعود کے بارے میں ائمہ اہل بیت علیھم السلام کی بشارتیں بیان کی ہیں جن میں ۱۱ روایات کا تذکرہ کیا ہے اور یہ سب روایات بھی کتب اہل سنت ہی سے نقل کی ہیں۔ مذکورہ روایات میں سے پانچ میں نص جلی کے ساتھ تصریح کی گئی ہے کہ حضرت مہدی، اہل بیت و عترت رسولؐ اسلام سے ہوں گے؛ ان روایات کے نمبر یہ ہیں: ۱۲ ، ۱۹ ، ۲۵ ، ۲۶ ، ۴۰ ۔
جبکہ چھ دیگر روایات میں اس طرح وارد ہوا ہے:
۱ ۔ مہدی، امام علی بن موسی الرضا کی نسل کے چوتھے فرزند ہیں (روایت نمبر ۳) ۔
۲ ۔ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) خلف صالح و فرزند حسن بن علی العسکری‘ہیں (روایت نمبر ۷) ۔
۳ ۔ مہدی خلف صالح اور امام جعفر بن محمد الصادق علیہ السلام کی نسل سے ہیں (روایت نمبر ۸) ۔
۴ ۔ مہدی ؑ، صلب حسین کے نویں فرزند ہیں (روایت نمبر ۱۰) ۔
۵ و ۶ ۔ مہدی (ع)، صلب حسن بن علی بن ابی طالب(۲) سے ہیں (روایت نمبر ۲۴ و ۲۷) ۔
سوئم:ہم نے پہلے باب کی تیسری فصل میں اصحاب رسولؐ خدا کی بشارتیں بیان کی ہیں اور اس میں تین روایات کا تذکرہ کیا تھا ان میں سے ایک روایت نمبر ۱۳ میں نص جلی کے ساتھ تصریح کی گئی ہے کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)، اہل بیت رسولؐ خدا سے ہوں گے جبکہ روایت نمبر ۱ میں ہے کہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) فرزندان فاطمہ سے ہوں گے اور روایت نمبر ۸ میں ہے کہ مہدی ؑ، فرزندان حسین میں سے ہوں گے۔ پس مہدی ؑ، اہل بیت علیھم السلام میں سے ہوں کیونکہ ہم گذشتہ فصل (دوسرے باب کی پہلی فصل) میں ثابت کرچکے ہیں کہ امام حسین کی ذرّیت کے ۹ ائمہ بطور قطع و یقین اہل بیت رسولؐ خدا سے ہیں۔
چہارم: ہم نے دوسرے باب کی پہلی فصل میں اسم و لقب اور کنیت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)کے ذیل میں کتب اہل سنت میں سے پیغمبر اکرم سے منقول تین روایات کا تذکرہ کیا تھا کہ جس میں روایت نمبر ۲۱ نص جلی کے ساتھ تصریح موجود ہے کہ مہدی، اس امت اور اہل بیت پیغمبر سے ہوں گے جبکہ روایت نمبر ۲۴ اور ۲۵ میں ہے کہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)"ابن الحسن العسکریؑ" ہیں،
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے اہل بیت علیھم السلام میں سے ہونے پر چالیس واضح روایات
اب تک ہم اس کتاب کے مختلف ابواب میں کتب اہل سنت میں کثیر روایات نقل کرچکے ہیں جن میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)، اہل بیت و عترت رسولؐ خدا سے ہوں گے جن میں سے پہلے باب کی پہلی فصل میں ۳۰ روایات ، دوسری فصل میں ۵ روایات، تیسری فصل میں ایک روایت (روایت نمبر ۱۳) جبکہ دوسرے باب کی پہلی فصل میں بھی ایک روایت (روایت نمبر ۲۱) بیان کی ہیں یعنی مجموعی طور پر ۳۷ مذکورہ روایات میں نص جلی کے ساتھ تصریح کی گئی ہے کہ مہدی، عترت طاہرہ و اہل بیت رسولؐ و نسل رسول خدا سے ہوں گے۔
پس اب ہم محترم قارئین کے لئے تین مزید روایات پیش کر رہے ہیں تاکہ یہ مجموعی طور پر ۴۰ روایات ہوجائیں:
۳۸ ۔ شیخ سلیمان(۳) نے فرائد السمطین تالیف محدث و فقیہ شافعی حموینی سے انہوں نے مجاہد کے حوالے سے ابن عباس سے ایک مفصل روایت نقل کی ہے کہ ایک دن ایک "مغثل" نامی یہودی، حضور سرور کائنات کی خدمت اقدس میں حاضر ہو اور آنحضرت ؑ سے آپؑ کے اوصیاء و جانشینوں کے بارے میں کچھ سوالات کئے اور جب پیغمبر اسلام نے اسے جوابات مرحمت فرمائے تو وہ فورا مسلمان ہوگیا اور ایمان لے آیا۔ حضور نے اس روایت میں فرمایا:
"وَ اِنّ الثّانی عَشَرَ مِنۡ وُلۡدی یَغیبُ لا یُری وَ یأۡتی عَلی اُمَّتی، بِزَمَنٍ لا یَبۡقی مِنَ الۡاِسۡلامِ اِلّا اِسۡمُه ُ، وَلا یَبۡقی مِنَ الۡقُرآنِ اِلّا رَسۡمُه ُ فَحینَئِذٍ یَأۡذِنُ الله ُ تَبارَکَ وَ تَعالی لَه ُ بِالۡخُروُجِ فَیُظۡه ِرُ الله ُ الۡاِسۡلامَ بِه وَ یُجَدِّدُه ُ، طُوبی لِمَنۡ اَحَبَّه ُمۡ وَ تَبِعَه ُمۡ، وَ الۡوَیۡلُ لِمَنۡ اَبۡغَضَه ُمۡ وَ خالَفَه ُمۡ وَ طُوبی لِمَنۡ تَمَسَّکَ بِه بِه داه ُمۡ "
بتحقیق میری نسل کا بارہواں فرزند اس طرح غائب ہوجائے گا گویا وہ دیکھا ہی نہیں گیا اور اس امت میں آیا ہی نہیں۔ اس کی غیبت اس وقت ہوگی کہ اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قران فقط بطور رسم استعمال ہوگا۔ اس وقت خداوند مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)کو اِذن خروج دے گا۔ پس خداوند عالم، مہدی کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا کرے گا خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ان بارہ کے چاہنے اور اتباع کرنے والے ہیں۔ اور وائے ہو ان لوگوں پر جو ان سے بغض و کینہ رکھنے والے اور مخالف ہیں۔ اور ان بارہ سے تمسک کرنے والے اور ان سے ہدایت پانے والے خوش نصیب ہیں۔
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ حضورؐ سرور کائنات نے اس روایت میں نص جلی کے ساتھ تصریح فرمائی ہے کہ ائمہ اثنا عشر میں سے میرا بارہواں فرزند غائب ہوجائے گا ۔
۳۹ ۔ "وَ فی ه ذَا الکِتابِ (اَی فی فَرائِدِ السِّمۡطَیۡنِ) عَنۡ سَعیدِ بن جُبَیرۡ عَنۡ اِبۡنِ عَبّاس، قالَ: قالَ رَسُولُ الله ِ ﷺ : اِنّ خُلَفائی وَ اَوۡصیائی وَ حُجَجَ الله ِ عَلَی الۡخَلۡقِ بَعۡدی، اَلۡاِثنی عَشَرَ، اَوَّلُه ُمۡ عَلی وَ آخِرُه ُمۡ وَلَدی الۡمَه ۡدی، فَیَنۡزِلُ روُحُ الله ِ عیسَی بن مَرۡیَمَ فَیُصَلّی خَلۡفَ الۡمَه ۡدی وَ تَشۡرِقُ الۡاَرۡضَ بِنُورِ رَبِّه ا وَ یَبۡلُغُ سُلۡطانُه ُ الۡمَشۡرِقَ وَ الۡمَغۡربَ "
شیخ سلیمان(۴) نے حموینی محدث و فقیہ شافعی کی کاوب فرائد السمطین سے نقل کیا ہے کہ سعید بن جُبیر نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: بتحقیق میرے بعد میرے خلفاء و اوصیاء اور خلائق پر خدا کی حجت بارہ افراد ہونگے ان میں پہلے علی علیہ السلام اور آخری میرے فرزند مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)ہوں گے۔ پس روح اللہ عیسیٰ ابن مریم آسمان سے نازل ہونگے اور مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی اقتداء میں نماز بجا لائیں گے۔ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)اپنے پروردگار کے نور سے زمین کو منور کر دیں گے اور مشرق تا مغرب انہی کی سلطنت ہوگی۔
گذشتہ روایت کی طرح اس روایت میں بھی حضورؐ نے تصریح فرمائی ہے کہ حجت خدا اور میرے اوصیاء کی تعداد بارہ ہوگی جن میں اول علی علیہ السلام اور آخری میرے فرزند مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)ہوں گے
۴۰ ۔ "وَ فیه ِ (اَی فی کتابِ فَرائِدِ السِّمۡطَیۡنِ) بِسَنَدِه عَنۡ اَبی امامَةِ الۡباه ِلی، قالَ: قالَ رَسُولُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه – وَ آلِه – وَ سَلَّمَ : بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَ الرُّومِ سَبۡعَ سِنینَ فَقیلَ یا رَسوُلَ الله ِ مَنۡ اِمامُ النّاسِ یَوۡمَئِذٍ؟ قالَ: اَلۡمَه ۡدِیُّ مِنۡ وُلۡدی، اِبۡنُ اَرۡبَعینَ سَنَةً کَاَنَّ وَجۡه َه ُ کَوۡکَبٌ دُرِّیٌ وَ فی خَدِّه ِ الۡاَیۡمَنِ خالٌ اَسۡوَدُ، عَلَیۡه ِ عَبایَتانِ قَطۡوا نِیَّتانِ کَاَنَّه ُ مِنۡ رِجالِ بَنی اِسۡرائیلَ یَمۡلِکُ عِشۡرینَ سَنَةً، یَسۡتخۡرِجُ الکُنوُزَ وَ یَفۡتِحُ مَدائِنَ الشِّرۡکِ "
نیز شیخ سلیمان نے حموینی فقیہ و محدث شافعی کی کتاب فرائد السمطین سے روایت نقل کی ہے: ابی امامہ باہلی نے روایت نقل کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: تمہارے اور روم کے درمیان سات سال کا عرصہ ہوگا۔ سوال کیا گیا: یا رسولؐ اللہ ! اس عرصہ میں لوگوں کا امام کون ہوگا؟ حضورؐ نے فرمایا: اس وقت میرا فرزند "مہدی" لوگوں کا امام ہوگا۔ وہ چالیس سالہ ہوگا، اس کا چہرہ کوکب درّی یعنی روشن ستارہ کی طرح ہوگا۔ اس کے دائیں رخسار پر سیاہ تل ہوگا۔ اس کے دوش پر کتان کی عباء و قبا ہوگی، وہ بنی اسرائیل کی طرح خوش اندام ہوگا، وہ بیس سال حکومت کرے گا وہ خزانوں کو استخراج کرے گا اور شرک کے شہروں کو فتح کرے گا۔
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ حضور سرور کائنات نے اس روایت میں بھی تصریح فرمائی ہے کہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)میری نسل سے ہوں گے۔
نکتہ:
۱ ۔ شیخ سلیمان نے کتاب ینابیع المودۃ باب ۷۸ میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: "وَ فی الکتابِ اَلاِصابَۃ نحوہُ" یعنی کاتب الاصابہ(۵) میں بھی اس جیسی روایت نقل کی گئی ہے۔
۲ ۔ اگرچہ حضرت مہدی کے اہل بیت رسولؐ اکرم میں سے ہونے پر کثرت و فراوانی کے ساتھ روایات نقل کی گئی ہیں جیسا کہ ینابیع المودہ باب ۷۳ میں ام سلمہ سے بھی اس سلسلہ میں روایت نقل کی گئی ہے لیکن اسی مقدار پر اکتفاء کر رہے ہیں تفصیل کے لئے مذکورہ کتاب کی طرف رجوع فرمائیں۔
نتیجہ:
ہم نے محترم قارئین کی خدمت میں کتب اہل سنت سے متعدد روایات (خصوصاً رسولؐ خدا سے منقول متعدد نص جلی) پیش کی ہیں جنکی روشنی میں ہر منصف مزاج یہ قطع و یقین حاصل کرسکتا ہے کہ حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) موعود اہل بیت رسولؐ خدا میں سے ہیں۔ نیز قران کریم کی آیات اور نبی کریمؐ سے منقول روایات کی روشنی میں حضرت مہدی "مطہر و معصوم ہیں کیونکہ ارشاد رب العزت ہے:( إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا ) (۶)
ہم نے اسی باب میں اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے تفصیل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ اہل بیت و خمسہ طیبہ کے بارے میں ہے اور اس سلسلہ میں مفصل مطالب پیش کئے ہیں۔ لہذا اس آیت کریمہ کے پیش نظر تکمیل بحث و نتیجۂ کامل کے لئے ضمیمہ کے طور پر مزید دو روایات پیش کی جا رہی ہیں:
۱ ۔ "وَ عَنۡ اِبۡنِ عَباس رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُما قالَ: سَمِعۡتُ رَسوُلَ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ – وَ آلِه ِ – وَسَلَّمَ یَقوُلُ : اَنَا وَ عَلِیٌّ وَ الۡحَسَنُ وَ الۡحُسَیۡنُ وَ تِسۡعَةٌ مِنۡ وُلۡدِ الۡحُسَیۡنِ مُطَه َّرُونَ مَعۡصُومُونَ "
شیخ سلیمان بلخٰ حنفی(۷) نے میر سید علی ہمدانی شافعی کی کتاب مودۃ القربی سے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: میں علی، حسن و حسین اور نسل حسین کے ۹ فرزند پاکیزہ و معصوم ہیں۔
شیخ سلیمان یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: اَخرَجَہُ الحموینی یعنی حموینی نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے۔
"وَ عَنۡ عَلیٍّ کَرَّمَ الله ُ وَجۡه َه ُ، قالَ: قالَ رَسُولُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ – وَ آلِه – وَ سَلَّمَ: اَلۡاَئِمَّة مِنۡ وُلۡدی، فَمَنۡ اَطاعَه ُمۡ فَقَدۡ اَطاعَ الله وَ مَنۡ عَصاه ُمۡ فَقَدۡ عَصَی الله ، ه ُمُ الۡعُرۡوَةُ الۡوُثۡقی وَ الۡوَسیلَةُ اِلَی الله ِ جَلَّ وَ عَلا "
۲ ۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی(۸) نے میر سید علی ہمدانی شافعی کی کتاب "مودۃ القربی" سے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: تمام ائمہ میری نسل سے ہوں گے پس جس نے انکی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے انکی نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی۔ یہ خدا کی سمت مضبوط رسّی اور بہترین وسیلہ ہیں۔
پس آیت تطہیر (احزاب/ ۳۳) اور مذکورہ روایات کی روشنی میں یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ :
اول: رسول خدا اور آپ کے اوصیاء یعنی حضرت علی ، امام حسن، امام حسین‘ اور نسل امام حسین کے ۹ فرزند تکویناً مطہر و معصوم ہیں۔
دوئم: حضرت ختمی مرتبت کی تصریح کی بنا پر ائمہ طاہرین، فرزندان پیغمبر اسلام ہیں؛ جس نے ان کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے انکی نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی۔ یہ خدا تک پہنچنے کے لئے مضبوط رسی اور بہترین وسیلہ ہیں۔
"وَ ه ذا ه ُوَ الۡحَقّ وَ الۡحَمۡدُ لِله ِ رَبِّ الۡعالَمینَ"
____________________
۱ ۔ چونکہ گذشتہ فصل (تیسرے باب کی پہلی فصل) میں ہم نے ثابت کیا ہے کہ امام حسین و آپ کی ذریت کے ۹ ائمہ بطور قطع ال بیت و ذریت رسولؐ مکرم ہیں ۔
۲ ۔کیونکہ فاطمہ بنت امام حسن مجتبیؑ، امام محمد باقر کی والدہ ماجدہ ہیں۔
۳ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۶، ص ۴۴۰، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵۔
۴ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۸، ص ۴۴۷، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵۔
۵ ۔ابن حجر عسقلانی۔
۶ ۔سورہ احزاب (۳۳) آیت ۳۳۔
۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۷، ص ۴۴۵، طبع ۸، سال ۱۳۸۵۔
۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۷۷، ص ۴۴۵، طبع ۸، سال ۱۳۸۵۔
تیسری فصل
کتب اہل سنت میں مناقب اہل بیت علیھم السلام
ہم نے اب تک کتب اہل سنت میں منقول متواتر روایات کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ اہلبیت رسولؐ خدا حضرت علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا اور آپ کی پاکیزہ اولاد ہی ہیں۔ نیز متواتر روایات کی روشنی میں یہ بھی ثابت کیا ہے کہ حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف بغیر کسی شک و شبہ کے اہل بیت رسولؐ خدا میں سے ہیں۔ اب ہم اس فصل میں محترم قارئین کی خدمت میں کتب اہل سنت میں مناقب اہلبیت علیھم السلام کے بارے میں چند حقائق پیش کرنا چاہتے ہیں کہ روز جزا "ثقل اصغر" ہمارے یاور و مددگار قرار پائیں۔
آلؑ محمدؐ پر ترک صلوات کیوں؟!
کتب اہل سنت سے فضائل آلؑ محمدؐ کے بارے میں حقائق بیان کرنے اور کثیر روایات نقل کرنے سے قبل، اہل بیت علیھم السلام پر صلوات بھیجنے کے بارے میں بعض اہل سنت کی جانب سے کئے گئے اشکال و اعتراض کا جواب دینا ضروری سمجھ رہے ہیں۔
اشکال:
جب آپ (اکثر) علمائے اہل سنت کی کتب کا مطالعہ فرمائیں گے تو دیکھیں گے کہ انہوں نے اہل بیت رسولؐ کو صحابہ کے ردیف میں قرار دیتے ہوئے انکے اسماء کے ساتھ بھی "رضی اللہ عنہم" لکھا ہے۔ آخر انہوں نے حضرت علی علیہ السلام و دیگر اہل بیت علیہم السلام کے اسماء کے سا تھ "رضی اللہ عنہم" کیوں لکھا ہے اور سلام و صلوات کو ترک کیوں کیا ہے؟
جب رسول اکرمؐ کے نام مبارک کا ذکر کرتے ہیں تو سلام و صلوات میں صرف حضورؐ کا نام کیوں لیتے ہیں اور آنحضرت کی آلؑ پاک کو فراموش کیوں کر دیتے ہیں؟ نیز آل رسولؐ پر صلوات بھیجنے والے کو رافضی کیوں کہتے ہیں؟ بعض اہل سنت، آل رسولؐ پر صلوات کو بدعت کیوں سمجھتے ہیں؟ اور بعض ان سے متاثر ہوکر آلِؑ رسولؐ پر صلوات کو ترک کر دیتےہیں۔ اور اپنی دلیل میں کہتے ہیں کہ خداوند عالم نے سورہ احزاب کی آیت نمبر ۵۶ میں فرمایا ہے:( إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ) یعنی اللہ اور اس کے ملائکہ اپنے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے اہل ایمان تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔
پس خداوند عالم نے اس آیت کریمہ میں درود و سلام کو صرف اپنے نبی سے مخصوص کیا ہے لہذا ائمہ اہل بیت و آلؑ محمدؐ پر شیعوں کا درود و سلام بھیجنا بدعت ہے انہوں نے اس چیز کو جو دین نہیں ہے اس کو دین کے نام پر دین میں داخل کردیا ہے لہذا شیعوں کو ائمہ اہل بیت پر درود و سلام بھیجنے کے بجائے "رضی اللہ عنہم" کہنا چاہیے اور صلوات کو ترک کردینا چاہیے۔
جواب اشکال:
ہم توفیق و مدد الٰہی سے ثابت کریں گے کہ آلؑ محمدؐ پر درود وسلام بھیجنا دلیل و برہان اور نص قرانی کے عین مطابق ہے اور حقیقی اہل بدعت وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس صلوات کو (جو کہ دین و سنت نبوی میں سے ہے) ترک کردیا ہے یعنی انہوں نے دین کا حصہ نہ سمجھ کر اس چیز کو ترک کردیا ہے جو درحقیقت دین کا حصہ ہے۔ لہذا ہم کہیں گے:
اول: "اثبات شیء، نفی ما عدا" کی دلیل نہیں یعنی خداوند عالم نے اس آیت کریمہ میں دوسروں پر درود و سلام بھیجنے سے روکا نہیں ہے بلکہ اس نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ نبی کریمؐ پر درود و سلام بھیجیں۔
دوئم: مذکورہ آیت کریمہ نازل کرنے والے خداوند عالم نے سورہ صافّات ، آیت نمبر ۱۳۰ میں ارشاد فرمایا: "سَلامٌ عَلی آلِ یاسین " یعنی سلام ہو آلؑ محمدؐ پر۔
یاد رہے کہ "یاسین" سے مراد پیغمبر اکرمؐ کی مبارک ذات ہے، جس کی دلیل یہ ہے کہ قران کریم میں حضورؐ کے پانچ اسماء ذکر کئے گئے ہیں یعنی: محمد، احمد، عبد اللہ، نون اور یاسین۔ خصوصاً سورہ یسین جو کہ اسی نام سے شروع ہوا ہے اور خداوند متعال نے اسی نام سے حضورؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:( یس، وَ الۡقُرۡآنِ الۡحَکیمِ اِنَّکَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلینَ ) یعنی اے پیغمبر ("یا" حرف نداء ہے اور "س" حضورؐ کا نام مبارک ہے)! قسم ہے قران حکیم کی کہ تم یقیناً مرسلین میں سے ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں تک کہ اہل سنت مفسرین نے بھی کہا ہے کہ "یاسین" سے مراد حضورؐ سرور کائنات کی ذاتِ مبارک ہی ہے۔ ابن حجر مکی نے کتاب صواعق محرقہ میں مفسرین کے حوالے سے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: " سَلامٌ عَلی آلِ یاسین" یعنی سلام بر آلؑ محمدؐ۔
نیز فخر رازی(۱) نے اسی آیت کریمہ (صافات ۱۳۰) کے ذیل میں کہا ہے کہ آلِ یاسین سے مراد، آلؑ محمدؐ ہیں۔
سوئم: آلؑ محمدؐ پر صلوات بھیجنا سنت ہے، یہاں تک کہ نماز کے تشہد میں واجب ہے یعنی اگر کوئی شخص عمداً تشہد میں آلؑ محمدؐ پر صلوات ترک کردے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے۔ جس کی دلیل شیعہ علماء کے اجماع کے علاوہ تین دلیلیں اور بھی ہیں:
۱ ۔ ابن حجر مکی نے اپنی کتاب صواعق محرقہ میں فضائل اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں جو آیات بیان کی ہیں ان میں سے تیسری آیت کے ذیل میں فخر رازی(۲) سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ اور آنحضرتؐ کے اہل بیت پانچ چیزوں میں برابر کے شریک ہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ جب فخر رازی اس مقام پر اپنے کلام کے آغاز میں جب نبی کریمؐ پر صلوات بھیجتے ہیں تو اہل بیت علیھم السلام پر صلوات ترک کر دیتے ہیں حالانکہ اس عقیدہ کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ اہل بیت علیھم السلام اور رسولؐ خدا صلوات میں برابر کے شریک ہیں، فخر رازی کی عبارت ملاحظہ فرمائیں: "اِنَّ اَه ۡلَبَیۡتِه صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ سَلَّمَ یُساوُونَه ُ فی خَمۡسَةِ اَشیاءٍ، فِی السَّلامِ :قالَ السَّلامُ عَلَیۡکَ اَیُّه َا النَّبِیُّ وَ قالَ: سَلامٌ عَلی آلِ یاسین، وَ فِی الصَّلوةِ عَلَیۡه ِ وَ عَلَیۡه ِمۡ فِی التَّشَه ُّدِ، وَ فِی الطّه ارَةِ قالَ تَعالی: طه یا طاه ِر، وَ قالَ : یُطَه ِّرَکُمۡ تَطۡه یراً، وَ فی تَحریمِ الصَّدَقَةِ وَ الۡمَحَبَّةِ " یعنی بتحقیق اہل بیت علیھم السلام رسول(کہ ان پر خدا کا درود و سلام ہو) پانچ چیزوں میں پیغمبر گرامی قدر کے ساتھ برابر کے شریک ہیں:
۱ ۔ سلام: جس طرح نماز کے سلام میں کہتے ہیں: "السلام عَلَیۡکَ اَیُّهَا النَّبِی " خداوند عالم قران میں آل نبی پر سلام بھیجتے ہوئے فرماتا ہے:"سلامٌ عَلیٰ آلِ یاسین"
۲ ۔ صلوات: جس طرح نماز کے تشہد میں نبی کریم پر صلوات بھیجتے ہیں اسی طرح آل نبی پر صلوات بھیجی جاتی ہے۔
۳ ۔ طہارت: خداوند عالم قران کریمؐ میں ارشاد فرماتا ہے: طہ یعنی اے طاہر مراد رسول خدا کی ذات ہے اسی طرح آل کے لئے فرمایا: "یُطَه ِّرَکُمۡ تَطه یراً " (احزاب/ ۳۳)
۴ و ۵ ۔ جس طرح نبی پر صدقہ حرام ہے اسی طرح آلِ نبی پر صدقہ حرام ہے۔ اور جس طرح نبیؐ کی محبت ضروری ہے اسی طرح آلِ نبی کی محبت ضروری ہے۔
نکتہ: ہمارے نظریہ کے مطابق آیات و روایات کی روشنی میں ان پانچ مذکورہ چیزوں کے علاوہ اور بھی مقامات ایسے ہیں جن میں نبیؐ و آلِؑ نبیؐ برابر کے شریک ہیں مثلاً جس طرح رسولؐ خدا کی اطاعت واجب ہے اسی طرح اہل بیت)ع) کی اطاعت واجب ہے، جس کی دلیل آیت اطاعت کے علاوہ ینابیع المودۃ کی وہ روایت بھی ہے جسے ہم نے اسی باب کی دوسری فصل کے آخر میں ذکر کیا ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: "فمن اطاعہم فقد اطاع اللہ ومن عصاہم فقد عصی اللہ " یعنی جس نے انکی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے انکی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ پس آلؑ نبیؐ کی اطاعت بھی خود نبی کریمؐ کی اطاعت کی طرح واجب ہے۔
اسی طرح رسولؐ خدا اور آپ کے اہل بیت (ع)، "ولایت و سرپرستی" اخلاق و صفات اور تمام دیگر موارد (جز نبوت و وحی کے) میں شریک ہیں۔ تفصیل کے لئے رجوع فرمائیں اسی کتاب کے دوسرے باب کا خاتمہ "رسولؐ خدا اور حضرت مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف میں بیس شباہتیں"۔ نیز کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام " ص ۵۴۹ جس میں بیان کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ، رسول ؐ اللہ کے ساتھ طہارت و ولایت، ادائے تبلیغ ، اولویت انفس، اور تمام صفات میں (جز وحی کے) شریک ہیں۔
ہم مناقب اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں ستر روایات پیش کریں گے جن میں سے متعدد روایات مثلاً ۳۴ ، ۳۵ ، ۱۸ میں علمائے اہل سنت نے اعتراف کیا ہے کہ حضرت ختمی مرتبت و اہل بیت برابر کے شریک ہیں۔
۲ ۔ نماز کے تشہد میں صلوات بر آلؑ محمدؐ کے واجب ہونے کی دوسری دلیل امام شافعی یعنی محمد بن ادریس شافعی کا وہ مشہور قول ہے جسے ابن حجر مکی(۳) نے نقل کیا ہے۔
"یا اَه ۡلَ بَیۡتِ رَسُولِ الله ِ حُبُّکُم فَرۡضٌ مِنَ الله ِ فِی الۡقُرۡآنِ اَنۡزَلَه ُ"
اے اہل بیت رسولؐ خدا، خداوند عالم نے قران میں آپ کی محبت (مودت) کو واجب قرار دیا ہے۔
"کَفاکُمۡ مِنۡ عَظیمِ الۡقِدۡرِ اَنَّکُمۡ مَنۡ لَمۡ یُصَلِّ عَلَیۡکُمۡ لا صَلوةَ لَه ُ"
آپ کی قدر و منزلت کے لئے یہی کافی ہے کہ جو نماز میں آپ پر صلوات نہ پڑھے اسکی نماز ہی باطل ہے۔
نکتہ: روایت کی روشنی میں جس کی نماز رد کر دی جائے گی اس کا کوئی عمل قابل قبول نہیں ہے پس اہل بیت علیھم السلام پر صلوات نہ بھیجنے کی وجہ سے جس کی نماز ہی باطل ہوجائے بھلا اس کا پھر کونسا عمل قابل قبول ہوگا۔ توجہ اور غور کیجئے!
۳ ۔ نماز کے تشہد میں اہل بیت پر صلوات بھیجنے کے واجب ہونے کی تیسری دلیل بہت سے علمائے اہل سنت کا نظریہ اور انکی فرمائش ہے، مثلاً سید ابوبکر شہاب الدین علوی، نسائی، ابن حجر مکی، بیہقی، سمہودی اور شیخ سراج الدین یمنی وغیرہ۔
پس اگر صلوات بر آل محمدؐ نماز میں واجب ہے تو نہ صرف یہ کہ اس کا بھیجنا بدعت نہ ہوگا بلکہ یقینی طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ نماز کے علاوہ بھی ان پر صلوات نہ بھیجنا ان کے حق میں ظلم کہلائے گا۔
چہارم: صلوات بر آل محمدؐ پر چوتھی دلیل"کثیر التعداد روایات" ہیں: مثلاً صحیح بخاری، ج ۳ ، صحیح مسلم، ج ۱ ، ینابیع المودۃ(۴) اور ابن حجر مکی صواعق محرقہ میں فضائل اہل بیت کے بارے میں بیان کردہ دوسری آیت کے ذیل میں کعب بن عجرۃ کی روایت کی صحت کی تصریح کرتے ہوئے روایت نقل کرتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ( إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ) (احزاب ۵۶) نازل ہوئی تو بعض اصحاب، حضورؐ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: ہم آپ کو سلام کرنا تو جانتے ہیں لیکن یہ صلوات کس طرح بھیجیں؟ حضورؐ نے فرمایا: "قوُلوُا اَللّه ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمّدٍ وَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ " یعنی اس طرح پڑھو:" اَللّه ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمّدٍ وَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ "
فخر رازی(۵) نقل کرتے ہیں کہ حضور سرور کائنات سے سوال کیا گیا کہ آپ پر صلوات کس طرح بھیجیں؟ تو آپؐ نے فرمایا: "اَللّه ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمّدٍ وَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ کَما صَلَّیۡتَ عَلی اِبۡراه یمَ وَ عَلی آلِ اِبۡراه یمَ وَ بارِک عَلی مُحَمَّدٍ وَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ کَما بارَکۡتَ عَلی اِبۡراه یمَ وَ عَلی آلِ اِبۡراه یمَ اِنَّکَ حَمیدٌ مَجیدٌ "
نیز ابن حجر مکی نے فضائل اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں دوسری آیت کے ذیل میں حاکم نیشاپوری سے روایت نقل کی ہے کہ:
"وَ فی روایَةِ حاکِم فَقُلۡنا یا رَسُولَ الله ِ کَیۡفَ الصَّلوة عَلَیۡکُمۡ اَه ۡلِ الۡبَیۡتِ؟ قالَ: قُولُوا اَللّه ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمّدٍ وَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ "
ہم نے حضور سرور کائنات کی خدمت میں عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! ہم آپ اہل بیت علیھم السلام پر کس طرح صلوات بھیجیں؟ تو آپؐ نے فرمایا: "اَللّه ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمّدٍ وَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ "
ابن حجر، حاکم نیشاپوری سے یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
"وَ فیه ِ دَلیلٌ ظاه ِرٌ عَلی اَنَّ الۡاَمۡرَ بِالصَّلوةِ عَلَیۡه ِ، اَلصَّلوةُ عَلی آله ِ مُرادٌ مِنۡ ه ذِه ِ الۡآیَةِ، وَ اَنَّه ُ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ سَلَّمَ جَعَلَ نَفۡسَه ُ مِنۡه ُمۡ"
حاکم کی روایت سے دو نکات قابل فہم ہیں:
۱ ۔ یہ روایت اس بات کی واضح دلیل کہ پیغمبرؐ پر صلوات کے حکم میں اہل بیت علیھم السلام پر صلوات بھیجنے کا حکم بھی شامل ہے۔ یعنی خداوند عالم نے آیت میں نبی کریمؐ پر صلوات بھیجنے کا حکم بھی دیا ہے اور اہل بیت پر صلوات بھیجنے کا حکم بھی دیا ہے۔
۲ ۔ نبی کریم ؐ نے اپنے آپ کو اہل بیت علیھم السلام کا جزء قرار دیا ہے "جَعَلَ نَفۡسَه ُ مِنۡه ُمۡ"
یہاں موقع ہے کہ ہم ابن حجر سے یہ سوال کریں کہ اگر آپ کا عقیدہ ہے کہ نبیؐ پر صلوات کا حکم آلؑ نبیؐ پر صلوات کا حکم ہے نیز اگر آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریمؐ نے اپنے آپ کو اہل بیت علیھم السلام کا جزء قرار دیا ہے تو پھر آپ نے اپنے کلام میں آل نبیؐ پر صلوات کو کیوں ترک کر دیا ہے اور کہا ہے:
"وَ اَنَّه ُ صَلَّی الله عَلَیۡه وَ سَلَّمَ جَعَلَ نَفۡسَه ُ مِنۡه ُمۡ"، حالانکہ آپ کو یہ کہ نا چاہ یے تہا:" صَلَّی الله عَلَیۡه وَ آلِه و سَلَّمَ جَعَلَ نَفۡسَه ُ مِنۡهمۡ"
نیز دلچسپ ہے کہ ابن حجر صلوات بر آل محمد ترک کرنے کے بعد اہل بیت علیھم السلام پر صلوات بھیجنے کے لئے حدیث کساء سے استشہاد کر رہے ہیں کہ نبی کریمؐ نے حدیث کساء میں اپنے آپ کو اہلبیت علیھم السلام کا جزء قرار دیتے ہوئے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: "اَللّه ُمَّ اِنَّه ُمۡ مِنّی وَ اَنَا مِنۡه ُمۡ فَاجۡعَلۡ صَلَواتِکَ وَ بَرَکاتِکَ وَ رَحۡمَتَکَ و مَغۡفِرَتَکَ وَ رِضۡوَانَکَ عَلَیَّ وَ عَلَیۡه ِمۡ" یعنی اے میرے پروردگار! یہ (اہل بیت (ع)) مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں پس اپنی صلوات و برکات، رحمت و مغفرت اور رضوان مجھ پر اور ان پر قرار دے۔
پنجم: آلؑ محمدؐ پر صلوات کی پانچویں دلیل یہ ہے کہ حضورؐ سرور کائنات نے آلؑ محمدؐ پر ترک صلوات کی ممانعت فرمائی ہے۔
ابن حجر نے کتاب صواعق محرقہ میں فضائل و مناقب اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں بیان کردہ آیات میں سے دوسری آیت کے ذیل میں حضور ؐ سرور کائنات سے یہ روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: "لا تُصَلُّوا عَلَیَّ الۡصَّلوةَ الۡبَتۡرا، فَقالُوا وَ مَا الصَّلوةُ الۡبَتۡرا؟ قالَ: تَقوُلُونَ اَللّه ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ تَسۡکُتوُنَ، بَلۡ قُولُوا : اَللّه ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمّدٍ وَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ " یعنی مجھ پر ناقص صلوات مت بھیجو۔ عرض کیا گیا: یہ ناقص صلوات کیا ہے؟ فرمایا: یہ کہ صرف "اَللّه ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمّدٍ " کہہ کر خاموش ہو جاؤ، بلکہ (مکمل طور پر) اس طرح کہنا چاہیے: "اَللّه ُمَّ صلِّ علی مُحَمَّدٍ وَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ " (یعنی جس طرح مجھ پر صلوات بھیجتے ہو اسی طرح میری (آل پر بھی صلوات بھیجو)۔
نیز دیلمی(۶) نے نقل کیا ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا:
"اَالدُّعاءُ مَحۡجُوبٌ حَتّی یُصَلِّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِه "
یعنی دعا حجاب میں رہتی ہے یعنی اس وقت تک مستجاب نہیں ہوتی جب تک کہ محمدؐ و آل محمد پر صلوات نہ بھیجی جائے۔
پس اس روایت میں ترک صلوات کی نہی و ممانعت سے معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت اہل بدعت کون لوگ ہیں؟ اہل بدعت وہ لوگ ہیں جو ترک صلوات بر آل محمد پر اصرار کر رہے ہیں اور صلوات بر آلؑ محمدؐ جو کہ آیات و روایات کی روشنی میں ارکان دین میں سے ہے اسے دین سے خارج سمجھ رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جب آلِؑ محمدؐ پر صلوات بھیجنے پر دلالت کرنے والی روایات بیان کرتے ہیں تب بھی صرف پیغمبرؐ پر صلوات بھیجتے ہیں اور آلؑ محمدؐ کو ترک کر دیتے ہیں!!
نکتہ: متعصب ترین عالم اہل سنت ابن حجر مکی نے کتاب صواعق محرقہ میں ابو الشیخ دیلمی سے ایک روایت نقل کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا:
"مَنۡ لَمۡ یَعۡرِفُ حَقَّ عِتۡرَتی مِنَ الۡأَنۡصارِ وَ الۡعَرَبِ فَه ُوَ لِاِحۡدی ثَلاث: اِمّا مُنافِقٌ وَ اِمّا وَلَدٌ زانِیَةٌ وَ اِمّا اِمۡرَءٌ حَمَلَتۡ بِه اُمُّه ُ فی غَیرِ طُه ۡرٍ "
جس نے میری عترت کے حق کو نہ پہچانا چاہے وہ میرے انصار میں سے ہو، عرب ہو یا غیر عرب وہ تین میں سے ایک ہے: یا منافق ہے یا ولد الزنا (ناجائز اولاد) ہے یا ولد حیض (نجس اولاد) ہے۔
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اس روایت میں ہے کہ "مَنۡ لَمۡ یَعۡرِفۡ حَقَّ عِتۡرَتی " (جس نے میرے اہل بیت علیھم السلام و عترت کے حق کو نہ پہچانا) پس جب اس روایت کو آیت مودت کے ساتھ ضمیمہ کریں تو حق و مودت اہل بیت علیھم السلام کے اظہار کے لئے کم از کم اتنا ضروری ہے کہ جب ان کے جد کا نام مبارک لیا جائے تو ان پر صلوات بھیجی جائے اور یہ بنو امیہ و بنی عباس و دشمنان اہل بیت علیھم السلام ہیں کہ جو اہل بیت علیھم السلام سے اپنے بغض کی وجہ سے ان پر درود و سلام برداشت نہیں کرتے اور ان لوگوں نے اہل سنت کو اتنا متاثر کیا ہے کہ انکی عوام خصوصاً عالم نما جُھال، اہل بیت علیھم السلام پر صلوات کو بدعت سمجھتے ہیں۔
فضائل اہل بیت علیھم السلام و علی بن ابی طالب‘ کے بارے میں کتب اہل سنت میں روایات کا ایک سلسلہ
اب وقت ہے کہ ہم کتب اہل سنت میں سے فضائل اہل بیت کے بارے میں ۷۰ روایات اور فضائل امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ۴۰ روایات محترم قارئین کی خدمت میں پیش کریں تاکہ حقیقت روز روشن کی طرح آشکار ہوجائے۔
فضائل اہل بیت علیھم السلام (کے بارے میں کتب اہل سنت سے ۷۰ روایات)
۱ ۔ فخر رازی اپنی تفسیر کبیر، ج ۷ ، ص ۴۰۵ میں صاحب تفسیر کشاف (زمخشری) و امام اصحاب حدیث احمد ثعلبی سے آیۂ مودت (شوریٰ/ ۲۳) کے ذیل میں محبت و مودّت اہل بیت رسولؐ کو ارکان اسلام میں سے شمار کرتے ہوئے کہتے ہیں: "جو اس عقیدہ کا مخالف ہو وہ ناصبی اور دین سے خارج ہے"۔
پھر اس روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ "عبد اللہ بن حامد اصفہانی نے اپنی اسناد کے مطابق جریر بن عبد اللہ بجلی سے روایت کی ہے کہ رسول مکرم ختمی مرتبت حضرت محمدؐ مصطفی نے فرمایا:
" َ مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ شَهِيداً، وَ مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ مَغْفُوراً لَهُ، اَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ تَائِباً، اَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ مُؤْمِناً مُسْتَكْمِلَ الْإِيمَانِ، اَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ بَشَّرَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ بِالْجَنَّةِ ثُمَّ مُنْكَرُ وَ نَكِيرُ، اَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ يُزَفُّ إِلَى الْجَنَّةِ كَمَا تُزَفُّ الْعَرُوسُ اِلَى بَيْتِ زَوْجِهَا، اَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ فُتِحَ لَهُ فِي قَبْرِهِ بابانِ اِلَى الْجَنَّةِ، اَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ جَعَلَ اللَّهُ قَبْرَهُ مَزَارَ مَلَائِكَةِ الرَّحْمَةِ، اَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى حُبِّ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ عَلَى السُّنَّةِ وَ الْجَمَاعَةِ، اَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى بُغْضِ آلِ مُحَمَّدٍ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ آئِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ، اَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى بُغْضِ آلِ مُحَمَّدٍ مَاتَ كَافِراً، اَلَا وَ مَنْ مَاتَ عَلَى بُغْضِ آلِ مُحَمَّدٍ لَمْ يَشُمَّ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ(۷) "
جو شخص آلؑ محمدؐ کی محبت پر مر جائے وہ شہید مرتا ہے، جو آلؑ محمدؐ کی محبت پر مر جائے وہ مغفور ہوکر مرتا ہے، جو آلؑ محمدؐ کی محبت پر مرجائے وہ تائب ہوکر مرتا ہے، جو آلِؑ محمدؐ کی محبت پر مر جائے وہ مؤمن مرتا ہے اور ایمانِ کامل کے ساتھ دنیا سے جاتا ہے، جو آلِ محمدؐ کی محبت پر مر جائے ملک الموت اور منکر و نکیر اسے جنت کی بشارت دیتے ہیں، جو آلؑ محمدؐ کی محبت پر مر جائے اسے بہشت کی جانب اس طرح لے جایا جائے گا جس طرح سجی سجائی دلہن کو اس کے شوہر کے گھر لے جایا جاتا ہے، جو شخص آلِؑ محمدؑ کی محبت میں مر جائے تو اس کی قبر میں بہشت کی جانب دو دروازے کھول دیئے جائیں گے، جو آلِؑ محمدؐ کی محبت میں مرجائے اس کی قبر ملائکہ کی زیارت گاہ بن جاتی ہے، جو آلؑ محمدؐ کی محبت پر مر جائے وہ گویا سنت و جماعت کے طریقہ پر مرا ہے۔
اور جو دشمنی آلِؑ محمدؐ پر مرے قیامت کے دن اسکی پیشانی پر لکھا جائے گا کہ یہ شخص رحمتِ خدا سے مایوس ہے، جو شخص اہل بیت کی دشمنی پر مرے وہ کافر مرتا ہے، جو شخص آلؑ محمدؐ کی دشمنی پر مرا وہ جنت کی بُو تک نہ سونگھ پائے گا۔
اس روایت میں اہم نکتہ یہ ہے کہ "حبّ آلِؑ محمدؐ" کے امتیازات کے علاوہ اس میں بغض آلِؑ محمدؐ کے نتائج بھی بیان کئے گئے ہیں۔ نیز حقیقی اہل سنت و الجماعت، محبین آلؑ محمد کو کہا گیا ہے جو کہ شیعیان آلِؑ محمدؐ ہیں۔
اس موقع پر یہ بیان کر دینا بھی مناسب سمجھتے ہیں کہ جب ہم اس روایت کو عمیق نگاہ سے دیکھتے ہیں تو یہ روایت نبوی بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جس میں حضورؐ سرور کائنات نے فرمایا:
"مَنْ مَاتَ وَ لمۡ یَعۡرِفُ اِمامَ زَمانِه ماتَ مَیۡتَةَ الۡجاه ِلیَّةِ "
جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مرجائے اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ جو شخص آلؑ محمد کو نہ پہچانے، دل میں انکی محبت نہ رکھتا ہو اور انہیں پیغمبر اسلام کا جانشین تسلیم نہ کرتا ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے۔ یعنی ایسے لوگوں کی موت ان لوگوں کی طرح ہے جو خدا و رسولؐ کی معرفت کے بغیر مرجاتے تھے۔
۲ ۔ شیخ سلیمان بلخی نے ینابیع المودہ میں، جلال الدین سیوطی نے اِحیاء المیت (فضائل اہل بیت، حدیث دوئم) میں، ابن منذر و ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سورہ شوریٰ کی ۲۳ ویں آیہ کے ذیل میں اپنی اپنی تفسیر میں، طبرانی نے معجم کبیر میں اور واحدی نے اپنی سند کے مطابق اعمش سے انہوں نے سعید بن جبیر سے اور ان سب نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ:
"قالَ : لَمّا نَزَلَتۡ ه ذِه ِ الۡآیَةُ ( قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ) قالوُا: یا رَسوُلَ الله مَنۡ قَرابَتُکَ ه ؤُلاءِ الّذینَ وَجَبَتۡ عَلَیۡنا مَوَدّتُه ُمۡ ؟ قالَ صَلی الله علیه وآله : عَلیُّ وَ فاطِمَةُ وَ وَلَداه َما "
ابن عباس کہتے ہیں: جب آیۂ( قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ) نازل ہوئی تو کچھ اصحاب نے حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! آپؑ کے جن اقربی کی محبت و مودّت ہم پر واجب کی گئی ہے وہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا اور ان کے دونوں فرزند حسن و حسین‘ ہیں۔
نکتہ: شیخ سلیمان بلخی نے ینابیع المودۃ کے باب ۶۵ کے آغاز میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے:
"قالَ الۡاِمامُ فَخۡرُ الدّینِ الرّازی: رُوِیَ اَنَّه ُ: قیلَ یا رَسوُلَ الله مَنۡ قَرابَتُکَ الّذینَ وَجَبَتۡ عَلَیۡنا مَوَدّتُه ُمۡ، فَقالَ: عَلیُّ وَ فاطِمَةُ وَ اِبۡناه ُما فَثَبَتَ اَنَّ ه ؤُلاءِ الۡاَرۡبَعَة ه ُمُ الۡمَخۡصوُصوُنَ بِمَزیدِ الۡمَوَدَّةِ وَ التَّعۡظیمِ "
فخر رازی کا کہنا ہے کہ روایت کی گئی ہے کہ بعض اصحاب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے جن اقربی کی محبت و مودّت کو واجب قرار دیا گیا ہے وہ کون ہیں؟ فرمایا: علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا اور انکے دونوں فرزند حسن و حسین‘۔
فخر رازی کہتے ہیں: پس بتحقیق یہ چار افراد وہ ہیں جنکی مودّت و تعظیم میں خصوصیت سے اہتمام کیا گیا ہے۔
۳ ۔ حاکم حسکانی نے شواہد التنزیل(۸) میں، ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ(۹) میں جلال الدین سیوطی نے احیاء المیت بفضائل اہل بیت علیھم السلام حدیث سوم میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ اِبۡنُ اَبی حاتَم عَنۡ اِبۡنِ عَبّاس فی قَوۡلِه تَعالی ( وَمَنۡ یَقۡتَرِفۡ حَسَنَةً ) (۱۰) ، قالَ: اَلۡمَوَدَّةُ لِآلِ مُحَمَّدٍ ﷺ "
ابن ابی حاتم نے آیۂ مودت کے بارے میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ابن عباس کہتے ہیں: اس آیت کریمہ میں حَسَنہ و نیک عمل بجا لانے سے مراد مودّت آل محمدؐ ہے۔
نیز تفسیر صافی(۱۱) میں امام حسن مجتبیٰ سے روایت کی گئی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: "اِقۡتِرافُ الۡحَسَنَةِ مَوَدَّتُنا اَه ۡلُ الۡبَیۡت " یعنی آیت میں حسنہ اور نیک عمل بجا لانے سے مراد ہم اہل بیتؑ کی محبت ہے۔
۴ ۔ جلال الدین سیوطی نے احیاء المیت بفضائل اہل البیت حدیث چہارم میں، نیز تفسیر در منثور میں، اسی طرح امام الحرم احمد بن عبد اللہ شافعی (محب الدین طبری) نے ذخائر العقبیٰ(۱۲) میں اس طرح روایت کی ہے کہ:
"اَخۡرَجَ اَحۡمَدُ وَ التِّرۡمذی وَ صَحَّحَه ُ، وَ النِّسائی وَ الۡحاکِمُ عَنِ الۡمُطَّلِبِ بن رَبیعَةِ قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ ﷺ: وَ الله ِ لا یَدۡخُلُ قَلۡبَ امۡرِءٍ حَتّی یُحِبَّکُمُ الله َ (۱۳) وَ لِقِرابَتی "
احمد بن حنبل، ترمذی(۱۴) ، نسائی اور حاکم نے مطلب بن ربیعہ سے روایت کی ہے: رسولؐ خدا نے فرمایا: خدا کی قسم! کسی کے دل میں اس وقت تک ایمان داخل ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ تم (خاندان اہل بیت) سے اللہ کے لئے اور مجھ سے قرابت کی وجہ سے محبت نہ کرے۔
۵ ۔ حضرمی نے قول الفصل(۱۵) میں، ابن بیطار دمشقی نے نقد عین المیزان(۱۶) میں اور جلال الدین سیوطی نے احیاء المیت بفضائل اہل البیت، حدیث پنجم میں اس طرح روایت کی ہے: "اَخۡرَجَ مُسۡلِمُ وَ الۡتِّرۡمذی وَ النِّسائی عَنۡ زیۡدِ بن اَرۡقَم اَنَّ رَسوُلَ الله ِ ﷺ قالَ: اُذَکِّرُکُمۡ الله َ فی اَه ۡلِ بَیۡتی "
مسلم، ترمذی و نسائی نے زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: میرے اہل بیت کے بارے میں خدا سے ڈرو، کہ کہیں تم ان سے دور نہ ہوجاؤ۔
صحیح مسلم، ج ۷ ، باب فضائل علی بن ابی طالب‘، حدیث پنجم میں زید ابن ارقم سے مفصل طور پر نقل کیا ہے کہ حضورؐ نے تین مرتبہ اس جملہ کو دہرایا۔
۶ ۔ شیخ سلیمان بلخی(۱۷) و جلال الدین سیوطی (احیاء ء المیت بفضائل اہل البیت حدیث نمبر ۹) نے روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ التِّرۡمذی و الطّبرانی عَنۡ اِبۡنِ عَباس، قالَ: قالَ رَسُولُ الله ِ صَلّی الله علیه وآله : اَحِبُّو الله لِما یَغۡدُوکُمۡ بِه مِنۡ نِعَمِه وَ اَحِبُّونی لِحُبِّ الله ِ وَ اَحِبُّو اَه ۡلَ بَیۡتی لِحُبّی "
ترمذی و طبرانی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: خدا سے محبت کرو کہ اس نے تمہیں بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں اور حب الٰہی کے لئے مجھ سے محبت کرو اور مجھ سے محبت کے خاطر میرے اہل بیت سے محبت کرو۔
شیخ سلیمان، ینابیع المودۃ، باب ۵۸ میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتےہیں: ترمذی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ بیہقی نے "شعب الایمان" میں اسے نقل کیا ہے اور حاکم نے اسے قبول کرتے ہوئے صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔
۷ ۔ نیز موصوف(۱۸) ، مناقب اہل بیت میں نقل کرتے ہیں:
"عَنۡ ابن مسعود رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آله ِ: حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ یَوۡماً خَیۡرٌ مِنۡ عِبادَةِ سَنَةٍ "
ابن مسعود سے روایت کی گئی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: محبت اہل بیت علیھم السلام کا ایک دن ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔
شیخ سلیمان ، ینابیع المودۃ کے باب ۵۶ میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ روایت صاحب فردوس نے بھی نقل کی ہے۔
۸ ۔ جلال الدین سیوطی نے کتاب احیاء المیت بفضائل اہل البیت علیھم السلام میں حدیث نمبر ۱۰ یہ روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الۡبُخاری عَنۡ اَبی بَکر الصِّدیقِ، قالَ، قالَ رَسوُلُ الله ﷺ:اِرۡقَبُوا مُحَمَّداٍﷺ فی اَه ۡلِبَیۡتِه "
بخاری نے حضرت ابوبکر سے روایت کی ہے وہ کہتےہیں: رسول خدا نے فرمایا: محمدؐ کی انکے اہلبیت علیھم السلام کے بارے میں رعایت کرو۔
یہ روایت ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ(۱۹) میں نقل کی ہے۔
نکتہ: اہل بیت کے بارے میں حضرت ابوبکر سے علمائے اہل سنت کی نقل کردہ اس روایت کی روشنی میں یہ سوال پیش نظر ہے، کیا رحلت رسول اکرمؐ کے بعد اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں حق پیغمبرؐ کی رعایت کی گئی یا نہیں؟! کیا حضرت ابوبکر نے سقیفہ و فدک کے مسئلہ میں اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں حق پیغمبرؐ کا خیال رکھا تھا؟ ہم نے اس سلسلہ میں "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام " میں کتب اہل سنت سے استناد کرتے ہوئے حقائق بیان کئے ہیں لہذا وہاں رجوع فرمائیں۔
۹ ۔ حاکم نیشاپوری نے مستدرک(۲۰) میں اور جلال الدین سیوطی نے احیاء المیت بفضائل اہل البیت میں حدیث نمبر ۱۱ کے ذیل میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الطِّبرانی و الۡحاکم عَنۡ اِبۡنِ عَباس، قالَ: قالَ رَسُولُ الله ِ ﷺ:یا بَنی عَبۡدِ الۡمُطَّلِبِ اِنّی سَأَلۡتُ الله َ لَکُمۡ ثَلاثاً اَنۡ یُثَبِّتَ وَ اَنۡ یُعَلِّمَ جاه ِلَکُمۡ وَ یَه ۡدِیَ ضالَّکُمۡ وَ سَأَلۡتُه ُ اَنۡ یَجۡعَلَکُمۡ جَوۡداءَ بخداءَ رُحَماءَ، فَلَوۡ اَنَّ رَجُلاً صَفِنَ بَیۡنَ الرُّکۡنِ وَ الۡمَقامِ فَصَلّی وَ صامَ ثُمَّ ماتَ وَ ه ُوَ یُبۡغِضُ لِاَه ۡلِ بَیۡتِ مُحَمَّدٍ ﷺ دَخَلَ النّار "
طبرانی و حاکم نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: اے فرزندان عبد المطلب! میں نے خداوند عالم سے تم لوگوں کے لئے تین چیزوں کا سوال کیا : تمہارے جاہل کو ثابت قدم و دانا بنا دے، تم میں سے گمراہ کی ہدایت فرمائے اور تمہیں صاحب بخشش و سخاوتمند اور رحم دل قرار دے پس اگر کوئی شخص رکن و مقام میں قدم رکھے (اور اپنی عمر) نماز و روزہ میں صرف کردے اور پھر اس حالت میں مر جائے کہ وہ دشمن اہل بیت علیھم السلام ہو تو دوزخ میں داخل ہوجائے گا۔
۱۰ ۔ شیخ سیمان نے ینابیع المودہ(۲۱) میں، طبری نے ذخائر العقبیٰ(۲۲) میں، جلال الدین سیوطی نے احیاء المیت بفضائل اہل البیت(۲۳) میں کتاب کامل ابن عدی و زوائد المسند تالیف عبد اللہ بن احمد سے ابو سعید خدری کے حوالے سے روایت نقل کی ہے:
"عَنۡ اَبی سَعیدٍ الۡخُدۡری رَضِی الله عَنۡه ُ قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ ﷺ :مَنۡ اَبۡغَضَنَا اَه ۡلَ الۡبَیۡت فَه ُوَ مُنافِقٌ "
مذکورہ راویوں نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسول ؐ خدا نے فرمایا: جو شخص میرے اہل بیت علیھم السلام سے بغض رکھے وہ منافق ہے۔
۱۱ ۔ ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ(۲۴) میں، حاکم نے مستدرک(۲۵) میں اور جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیتؑ" حدیث نمبر ۱۴ کے ذیل میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ اِبنُۡ حَبّان عَنۡ اَبی سَعید، قالَ: قالَ رَسولُ الله ِﷺ: وَ الّذی نَفۡسی بِیَده ِ لا یُبۡغِضُنا اهل الۡبَیۡتِ رَجُلٌ اِلّا اَدۡخَلَه ُ الله ُ النّارَ "
ابن حبان نے اپنی کتاب صحیح (اور حاکم نے) او سعید خدری سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اسلام نے فرمایا: قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے جو شخص ہم اہلبیت سے بغض رکھے گا خداوند عالم اسے آتش دوزخ کے حوالے کردے گا۔
۱۲ ۔ ہیثمی(۲۶) نے مجمع الزوائد میں، جلال الدین سیوطی نے احیاء المیت بفضائل اہل البیت میں حدیث نمبر ۱۵ کے ذیل میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الطَّبَرانی عَنِ الۡحَسَنِ بں عَلی اَنَّه ُ قالَ لِمُعاوِیَة ابۡنِ حُدَیۡج: یا مُعاوِیَة بن حُدَیۡج اِیّاکَ وَ بُغضنا فَاِنَّ رَسولَ الله ﷺ قالَ: لا یُبۡغِضُنا اَحَدٌ وَلا یَحۡسدُنا اَحَدٌ اِلّا رَدَّ یَوۡمَ الۡقِیامَةِ عَنِ الۡحَوۡضِ بِسِیاطٍ مِنۡ نارٍ "
طبرانی نے حسن بن علی‘سے روایت کی ہے کہ آپ نے معاویہ بن حُدَیج سے فرمایا: ہم سے بغض و دشمنی مت رکھو، کیونکہ رسولؐ خدا نے فرمایا ہے: جو شخص ہم سے بغض و دشمنی اور حسد رکھتا ہے قیامت کے دن اسے حوض کوثر سے آتشی تازیانے نے مارکر پلٹا دیا جائے گا۔
۱۳ ۔ ابن حجر(۲۷) نے ابو الشیخ دیلمی سے اور جلال الدین سیوطی نے احیاء المیت بفضائل اہل البیت حدیث نمبر ۱۶ میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ اِبۡنُ عُدَی وَ البیه َقّی فی شعب الایمان عَنۡ عَلیٍّ، قالَ: قالَ رسولُ الله ﷺ: مَنۡ لَمۡ یَعۡرِفۡ حَقَّ عِتۡرتی مِنَ الانۡصارِ و الۡعَرَبِ فَه ُوَ لِاِحۡدی ثَلاث: اِمّا مُنَافق و اِمَّا وَلَدٌ زانیَةٌ وَ اِمّا امۡرَءٌ حَمَلَتۡ بِه اُمُّه ُ فی غَیۡرِ طُه رٍ "
ابن عدی و بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: جو شخص میری عترت و اہل بیت علیھم السلام کے حق کو نہ پہچانے چاہے وہ انصار میں سے ہو یا چاہے عرب و غیر عرب ہو وہ تین چیزوں میں سے ایک ہے: یا منافق ہے، یا ولد الزنا ہے یا ولد حیض ہے۔
۱۴ ۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد(۲۸) ، جلال الدین سیوطی نے کتاب احیاء المیت بفضائل اہل البیت علیھم السلام حدیث نمبر ۱۷ اور شیخ سلیمان(۲۹) نے بنابر نقل از صواعق محرقہ (فضائل اہل بیت کے بارے میں چوتھی آیت کے ذیل میں) روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الطَّبَرانی فی الاَوۡسَطِ عَنۡ اِبۡنِ عُمَر، قالَ: آخِرُ ما تَکَلَّمَ بِه رَسُولُ الله ﷺ: اُخۡلُفُونی فی اَه ۡل بَیۡتی "
طبرانی نے معجم الاوسط میں ابن عمر سے روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں رسولؐ خدا کی زندگانی کا آخری کلام یہ تھا کہ آنحضرت ؐ نے فرمایا: میرے اہل بیت علیھم السلام کے ساتھ برتاؤ میں میرے جانشین رہنا یعنی میں دیکھان ہوں کہ تم لوگ میرے اہل بیت کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہو۔
۱۵ ۔ شیخ سلیمان(۳۰) نے بنابر نقل از ابی لیلی، ہیثمی(۳۱) ، ابن حجر مکی(۳۲) ، اور جلال الدین سیوطی کی کتاب "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۱۸ سے روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الطَّبَرانی فی الاَوۡسَطِ عَنۡ الحسن بن علی اَنّ رَسُولَ الله ﷺ، قالَ: اِلْزَمُوا مَوَدَّتَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَإِنَّهُ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ تعالی وَ هُوَ يَوِدُّنا دَخَلَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِنَا وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَنْفَعُ عَبْدًا عَمَلُه ُ الَّا بِمَعْرِفَةِ حَقِّنَا (۳۳) "
طبرانی نے معجم الاوسط میں حسن بن علی‘ سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: ہم اہل بیت کی محبت و مودت کو لازم سمجھو، بیشک جو شخص ہماری محبت و مودت کے ساتھ خدا سے ملاقات کرے گا وہ ہماری شفاعت کے ساتھ بہشت میں داخل ہوجائے گا۔ قسم ہے اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ ہمارے حق کی معرفت کے بغیر کسی بندے کو اس کا کوئی عمل فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔
نکتہ: اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے علاوہ اعمال کے قبول ہونے کی ایک شرط معرفت حق اہل بیت بھی ہے جو کہ رسول ؐ اللہ کے برحق جانشین ہیں۔ لہذا روایات میں ہے کہ جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے گویا اس نے خدا وند عالم کی جانب سے کسی قسم کی ہدایت نہیں حاصل کی۔
۱۶ ۔ ابن حجر نے لسان المیزان(۳۴) اور جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۱۹ کے ذیل میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الطَّبَرانی فی الاَوۡسَطِ عَنۡ جابرِ بن عَبۡد الله ، قالَ: خَطَبَنا رَسوُلُ الله ِ ﷺ، فَسَمِعۡتُه ُ وَ ه ُوَ یَقُولُ: اَیُّه َا النّاسُ مَنۡ اَبۡغَضَنا اَه ۡل الۡبَیۡتِ حَشَره ُ الله ُ تَعالی یَوۡمَ الۡقیامَةِ یَه ُودیّاً "
طبرانی نے معجم الاوسط میں جابر بن عبد اللہ سے روایت کی ہے کہ جابر کہتے ہیں میں نے سنا کہ حضورؐ سرور کائنات نے ایک خطبہ کے دوران ہم سے فرمایا: لوگو! جو شخص ہم اہل بیت سے بغض و دشمنی رکھے گا خداوند عالم قیامت میں اسے یہودی محشور کرے گا۔
نکتہ: رحلت رسولؐ اللہ کے بعد ایسے حالات و واقعات رونما ہوئے جن میں منافقین کے دلوں میں چھپے ہوئے بغض و عناد، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکی شہادت اور غب خلافت امیر المؤمنین کا سبب قرار پائے۔ اور اس سلسلہ میں کتب اہل سنت میں ایسے حقائق بیان کئے گئے ہیں جنہیں ہم نے مجموعی طور پر اپنی کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام " میں ثبت کر دیئے ہیں لہذا تفصیل کے لئے وہاں رجوع فرمائیں۔
۱۷ ۔ ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں فضائل اہل بیتؑ کے بارے میں بیان کردہ آیات میں سے ساتویں آیت کے ذیل میں اس سلسلہ میں احمد و حاکم وغیرہ(۳۵) سے چار روایات نقل کی ہیں، شیخ سلیمان(۳۶) نے مستنداً نوادر الاصول(۳۷) سے انہوں نے موسیٰ بن عبیدہ سے انہوں نے ایان بن سلمہ بن اکوع سے انہوں نے اکوع سے روایت کی ہے اور سیوطی نے کتاب "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۲۱ کے ذیل میں روایت کی ہے:
"اخرج ابن ابی شیبه و الحکیم الترمذی فی نوادِرِ الۡاُصُولِ وَ اَبُو یَعلی وَ الطَّبَرانی عَنۡ سَلَمَة بن الاَکوَع، قالَ: قالَ رَسُولُ الله ﷺ: النُّجومُ اَمانٌ لِاَه ۡلِ السّماءِ وَ اَه ۡلُ بَیۡتی اَمانٌ لِاُمَّتی "
مذکورہ روایوں نے سلمہ بن اکوع سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: جس طرح ستارے اہل آسمان کے لئے امان ہیں اسی طرح میرے اہل بیت میری امت کے لئے امان ہیں۔
نکتہ: ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں فضائل اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں ساتویں آیت کے ذیل میں حاکم نیشاپوری سے ایک روایت نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ روایت مسلم و بخاری کی شرائط کے مطابق بھی صحیح ہے اور وہ روایت یہ ہے کہ رسول ؐ خدا نے فرمایا:
"فَاِذۡ خالَفۡتُه مۡ قَبیلَةٌ مِنَ الۡعَرَبِ اِخۡتَلَفُوا فَصارُوا حِزۡبَ اِبلیس " پس جب عرب (و غیر عرب) کا ایک قبیلہ میرے اہل بیت کی مخالفت کرے تو یاد رکھو یہ مخالفین حزب ابلیس سے ہوں گے۔(۳۸)
پس حاکم نیشاپوری کی اس روایت کی روشنی میں یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ خلافت علی بن ابی طالب‘ کو غصب کرنے، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکو اذیت دینے اور حضرت علی و امام حسن و امام حسین علیھم السلام سے جنگ کرنے والوں کا تعلق حزب ابلیس سے تھا۔
ہم کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی ؑ" میں غصب خلافت علی بن ابی طالب‘ و ثقیفہ کے واقعہ، درخانہ زسیدہ سلام اللہ علیھا کو آگ لگانے، جنگ جمل و صفین و نہروان، شہادت امام حسن و امام حسین‘ اور شہادت امیر المؤمنین پر بعض دشمنان اہل بیت کے سجدہ شکر کرنے کے بارے میں تفصیل سے مطالب ذکر کرچکے ہیں لہذا وہاں رجوع کیا جاسکتا ہے۔
۱۸ ۔ ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ یں فضائل اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں ساتویں آیت کے ذیل میں، طبرانی(۳۹) نے معجم الصغیر میں، حموینی نے فرائد السمطین میں، ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اور جلال الدین سیوطی نے احیاء المیت بفضائل اہل البیت میں حدیث نمبر ۲۷ کے ذیل میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الطَّبَرانی فی الاَوۡسَطِ عَنۡ اَبی سَعیدٍ الۡخُدۡری، قالَ: سَمِعۡتُ رَسوُلَ الله ِ ۡ یَقُولُ : اِنَّه ا مَثَلُ اَهْلِ بَيْتِي كَمَثْلِ سَفِينَةِ نُوحٍ مَنْ رَكِبَهَا نَجَی وَ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ وَ اِنَّه ا مَثَلُ اَه ۡلِ بَیۡتی فیکُمۡ مَثَلُ بَابِ حِطَّة فی بَنی اِسۡرائیل مَنۡ دَخَلَه ُ غُفِرَ لَه ُ "
ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ میں نے رسولؐ خدا سے سنا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح کی مانند ہے جو اس میں سوار ہوا نجات پاگیا اور جس نے اس سے دوری اختیار کی وہ غرق ہوگیا اور یاد رکھو تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال بنی اسرائیل میں باب حطّہ جیسی ہے (مغفرت در بیت المقدس) جو اس میں داخل ہوگا مغفرت پائے گا۔
نکتہ: ابن حجر مکی کتاب صواعق محرقہ میں فضائل اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں ساتویں آیت( وَمَا کَانَ الله ُ لِیُعَذِّبَه ُمۡ وَ أَنتَ فِیه ِم ) (۴۰) کے ذیل میں روایت سفینہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
بتحقیق خداوند عالم نے تمام عالم کو حضرت ختمی مرتبت پیغمبر اکرمؐ کے خاطر خلق فرمایا ہے(۴۱) ، پس اس نے اس کائنات کی بقاء نبیؐ و اہل بیت نبی کی بقاء پر منحصر قرار دی ہے۔ کیونکہ رسولؐ اللہ اور اہل بیت رسولؐ پانچ چیزوں میں برابر ہیں ( ۱ ۔ اسلام، ۲ ۔ صلوات، ۳ ۔ طہارت، ۴ ۔ محبت و مودّت، ۵ ۔ تحریم صدقہ)
نیز رسولؐ اللہ نے انکے حق میں فرمایا ہے: "الله ُمَّ اِنَّه ُمۡ مِنّی و اَنَا مِنۡه ُم " اے پروردگار! یہ اہل بیت مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں؛ اور چونکہ اہل بیت علیھم السلام اپنی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کے توسط سے رسولؐ اللہ کے پارۂ تن ہیں پس اہل بیت رسولؐ بھی رسولؐ اللہ کی طرح (جیسا کہ سورہ انفال کی آیت نمبر ۳۳ میں آیا ہے) امان کا باعث ہیں۔ اہلبیت علیھم السلام اور کشتی نوحؑ میں وجہ شباہت یہ ہے کہ جو شخص بھی اہل بیت سے مودّت رکھے گا، انکا احترام کرے گا اور ہدایت کے سلسلہ میں ان سے متمسک رہے گا تو گمراہی مخالفت سے نجات پائے گا اور جو ان سے دوری کرے گا وہ دریائے کفر ان نعمت میں ڈوب کر غرق ہوجائے گا۔
نیز باب الحطّہ (جو کہ بیت المقدس کے دروازوں میں سے ایک ہے) اور اہل بیت علیھم السلام میں وجہ شباہت یہ ہے کہ خداوند عالم نے یہ حکم صادر کیا تھا کہ جو بھی اس دروازے سے عجز و انکساری اور استغفار کے ساتھ داخل ہوگا مٖغفرت الٰہی اس کے شامل حال ہوگی اسی طرح مودّت اہل بیت کی وجہ سے مغفرت الٰہی حاصل ہوگی۔
۱۹ ۔ ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ(۴۲) میں، جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۲۹ کے ذیل میں اس طرح روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الطبرانی عَنۡ عُمَر، قالَ: قالَ رَسُولُ الله ﷺ: کُلُّ بَنی اُنۡثی فَاِنَّ عُصۡبَتَه ُمۡ لِاَبیه ِمۡ ما خَلا وُلۡدِ فاطِمَة فَاِنّی عُصۡبَتُه ُمۡ فَاَنَا اَبوُه ُمۡ"
طبرانی نے حضرت عمر سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: فاطمہ زہراؑ کے علاوہ ہر بیٹی کی اولاد اپنے باپ کی طرف منسوب ہوتی ہے لیکن فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاکی اولاد کا مُکھ اور باپ میں ہوں۔
نکات:
اس روایت کے سلسلہ میں دو نکات بیان کرنا ضروری ہیں:
۱ ۔ امام حسن و امام حسین اور انکی اولاد قطعی طور پر فرزندان و اولاد رسولؐ خدا ہیں جیسا کہ ہم اسی باب (باب سوم) کی پہلی فصل کے آخر میں "ذکر فاطمہ، و ابیھا و بعلھا و بنیھا" سے قبل ثابت کرچکے ہیں۔
ہم کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علیؑ(۴۳) " میں آیات و احادیث کی روشنی میں اس موضوع پر تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں؛ اس لئے اصحاب ائمہ وغیرہ جو لوگ اس زمانہ میں موجود تھے وہ انہیں "فرزند رسولؐ کہہ کر خطاب کرتے تھے۔
۲ ۔ اولاد حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کا اولاد رسول ؐ ہونا اتنا واضح و آشکار ہے کہ شیخ سلیمان بلخی حنفی نے اپنی کتاب ینابیع المودۃ کے باب نمبر ۵۷ کا یہی عنوان قرار دیا ہے اور اس سلسلہ میں متعدد روایات ثبت کی ہیں؛ اور جیسی روایت ہم نے نقل کی ہے ایسی ہی ایک روایت حضرت عمر سے نقل کرکے لکھا ہے:
"اَخۡرَجَ اَبو صالح و الحافظ عبد العزیز بن الاَخضر وَ اَبو نعیم فی مَعۡرفَةِ الصَّحَابة و الدَّارُ قِطۡنی وَ الطّبرانی فی الاَوسط "
یہ روایتِ حضرت عمر (کہ فرزندان فاطمہ قطعاً فرزندان رسولؐ خدا ہیں) ابو صالح و حافظ عبد العزیز بن اخضر، دار قطنی، ابو نعیم نے معرفۃ الصحابہ میں، اور طبرانی نے کتاب الاوسط میں نقل کی ہے۔
۲۰ ۔ شیخ سلیمان بلخی(۴۴) نے بنابر نقل از "جواہر العقدین" تالیف سمہودی سے مستنداً حضرت فاطمہ بنت الحسین‘سے روایت کی ہے انہوں نے اپنے والد اور انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا ع سے اور انہوں نے رسول خداؐ سے روایت کی ہے ۔ جلال الدین سیوطی نے کتاب "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۳۰ بنابر نقل از طبرانی روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الطبرانی عَنۡ فاطمة الزه راء رَضِیَ الله عَنۡه ا، قالَتۡ: قالَ رسول الله ﷺ: کُلُّ بَنی اُمّ ینتموُنَ اِلی عُصۡبَةٍ اِلّا وُلۡدِ فاطِمَة فَاَنَا وَلِیُّه ُمۡ وَ اَنَا عُصۡبَتُه ُمۡ"
طبرانی نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاسے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: ہر عورت کے بچے اپنے باپ کی طرف منسوب ہوتے ہیں لیکن فاطمہ زہرا کے بچوں کا میں ولی و بزرگ اور اصل و اساس ہوں۔
نکتہ: یہ روایت ابو المویّد نے کتاب "مقتل الحسین(۴۵) " میں بھی نقل کی ہے۔
شیخ سلیمان نے ینابیع المودۃ کے باب نمبر ۵۷ کے اوائل میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے : "اَخۡرَجَه ُ اَبوُ یَعۡلی و الۡحافظ عبد العزیز بن الۡاَخضَر فی الۡمَعالِمِ الۡعِتۡرَةِ النَّبَوِیَّةِ، وَ اِبۡنُ اَبی شیبه وَ الۡخَطیبُ الۡبَغۡدادی فی تاریخِه " یعنی یہ روایت ابو یعلیٰ، حافظ عبد العزیز بن اخضر نے کتاب "معالم العترۃ النبویہ" میں، ابن ابی شیبہ اور خطیب بغدادی نے بھی اپنی کتاب تاریخ میں نقل کی ہے۔
۲۱ ۔ حاکم نیشاپوری نے مستدرک(۴۶) میں، ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ(۴۷) میں، جلال الدین سیوطی نے " احیاء المیت بفضائل اہل البیت" میں حدیث نمبر ۳۶ اس طرح روایت کی ہے: "عَنۡ اَنَس، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ ﷺ: وَعَدَنی رَبّی فی اَه ۡلِ بَیۡتی مَنۡ اَقَرَّ مِنۡه ُمۡ بِالتَّوحیدِ و لیّ بِالۡبَلاغِ اَنۡ لا یُعَذّبَهم " یعنی انس کہتے ہیں کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: خداوند عالم نے مجھ سے میرے اہل بیت کے بارے میں وعدہ کیا ہے کہ جو بھی ان میں سے توحید کا اقرار کرے گا بلافاصلہ اسے یہ پیغام دیا جائے گا کہ خدا اس پر عذاب نہ کرے گا۔
۲۲ ۔ ابن جریر طبری نے اپنی تفسیر، جلد نمبر ۳۰ ، ص ۲۳۲ میں جلال الدین سیوطی نے کتاب "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۳۷ میں اس طرح روایت کی ہے : "عَنۡ اِبۡنِ عَبّاس فی قَوۡلِه تَعالی :( وَ لَسَوۡفَ یُعۡطیکَ رَبُّک فَتَرۡضی ) (۴۸) ،قالَ: مِنۡ رِضی مُحَمَّدٍ اَنۡ لا یَدۡخُلَ اَحَدٌ مِنۡ اَه ۡلِبَیۡتِه ِ النّار َ"
یعنی قول خداوندی:( وَ لَسَوۡفَ یُعۡطیکَ ) یعنی پروردگار تمہیں اتنا عطا کرے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے، کے ذیل میں ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ وہ کہتے ہیں: پیغمبر اکرمؐ اس وقت راضی ہونگے جبکہ اہل بیت میں سے کوئی ایک فرد بھی آگ میں نہ جائے گا۔
نکتہ: حاکم حسکانی نے "شواہد التنزیل" جلد ۲ ، ص ۳۴۵ میں رسولؐ اکرم سے روایت نقل کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: میں اپنی امت کی اس وقت تک شفاعت کروں گا یہاں تک کہ خداوند تعالیٰ کی آواز آئے گی "یا محمد آپ راضی ہوگئے" میں کہوں : ہاں پروردگار! اب میں راضی ہوگیا۔
ایک دوسری روایت میں ابن عباس سے نقل کرتے ہیں: "یَدۡخُلُ الله ُ ذُرّیَّتَه ُ الۡجَنَّةَ " خداوند متعال ذریت محمد مصطفی کو بہشت میں داخل فرمائے گا۔
۲۳ ۔ "عَنۡ عَلیٍّ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ﷺ: شَفاعَتی لِاُمَّتی مَنۡ اَحبَّ اَه ۡلَ بَیۡتی "
خطیب بغدادی نے کتاب "تاریخ بغداد(۴۹) " اور جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۴۱ کے ذیل میں روایت کی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: رسولؐ خدا نے فرمایا: میری امت میں سے ان لوگوں کو میری شفاعت نصیب ہوگی جو میرے اہل بیت علیھم السلام کے چاہنے والے ہوں گے۔
۲۴ ۔ "اَخۡرَجَ الطّبرانی عَنۡ اِبۡنِ عُمَر، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ﷺ: اَوَّلُ مَنۡ اَشۡفَعُ لَه ُ مِنۡ اُمَّتی اَه ۡل بَیتی " ابن حجر نے صواعق محرقہ، ص ۲۲۳ میں، جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیتؑ" حدیث نمبر ۴۲ کے ذیل میں روایت کی ہے : طبرانی نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: میں اپنی امت میں جنکی سب سے پہلے شفاعت کروں گا وہ میرے اہل بیت علیھم السلام ہیں۔
۲۵ ۔ "اَخۡرَجَ الطَّبَرانی عَنِ الۡمُطَّلِبِ بن عَبۡدِ الله ابۡنِ حنطب عَنۡ اَبیه ِ قالَ: خَطَبَنا رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه بِالۡجُحۡفَةِ فَقالَ: اَلَسۡتُ اَوۡلی بِکُمۡ مِنۡ اَنۡفُسِکُمۡ قالوُا: بَلی یا رَسوُلَ الله ، قالَ: فَاِنّی سائِلُکُمۡ عَنۡ اِثنَیۡنِ عَنِ الۡقُرآنِ وَ عَنۡ عِتۡرَتی "
ابن اثیر نے "اُسد الغابہ" ج ۳ ، ص ۱۴۷ میں اور جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۴۳ کے ذیل میں روایت کی ہے: طبرانی نے مطلب بن عبد اللہ سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ ر سولؐ خدا نے جحفہ میں تقریر کرنے کے بعد فرمایا: کیا میں تم سے زیادہ تم پر اولویت نہیں رکھتا؟ سب نے کہا: کیوں نہیں یا رسولؐ اللہ۔ یقیناً ایسا ہی ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا: میں تم سے دو چیزوں کے بارے میں سوال کروں گا؛ قران اور اپنے اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں (کہ تم نے میرے بعد ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا)۔
سوال: رسولؐ اکرم کی رحلت کے بعد امت نے اہل بیت علیھم السلام کے ساتھ کیا برتاؤ کیا آخر ایسے کون سے حالات و واقعات رونما ہوئے جنکی وجہ سے بنو امیہ روز بروز قدرتمند اور اہلبیت علیھم السلام رسولؐ خدا گوشہ نشین ہوگئے؟ نیز قران کریم و کاتبان وحی کے ساتھ کیا رویہ اپنایا گیا؟
جواب: ہم نے کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام " میں علمائے اہل سنت کی کتب سے استناد کرتے ہوئے چند حقائق بیان کئے ہیں معلومات کے لئے وہاں رجوع فرمائیں۔
۲۶ ۔ شیخ سلیمان نے سمہودی کی کتاب جواہر العقدین سے اپنی کتاب ینابیع المودۃ(۵۰) میں، ابن مغازلی فقیہ شافعی نے کتاب مناقب امیر المؤمنین میں اور جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیتؑ" حدیث نمبر ۴۴ میں روایت کی ہے: "اَخۡرَجَ الطبرانی عَنۡ اِبۡنِ عباس، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : لا تَزُولُ قَدَما عَبد حتّی یُسأَلَ عَنۡ اَرۡبَع: عَنۡ عُمۡرِه ِ فیما اَفۡناه ُ وَ عَنۡ جَسَدِه ِ فیما اَبۡلاه ُ وَ عَنۡ مالِه ِ فیما اَنۡفَقَه ُ وَ مِنۡ اَیۡنَ اِکۡتَسَبَه ُ وَ عَنۡ حُبِّنا اهل البیت "
طبرانی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا سے فرمایا: قیامت میں ہر بندہ سے قدم قدم پر چار چیزوں سے کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
۱ ۔ اپنی عمر کو اس نے کہاں صرف کیا ہے؟
۲ ۔ اپنی جوانی کو کہاں خرچ کیا ہے؟
۳ ۔ اپنا مال و متاع کس طرح کمایا اور کس طرح خرچ کیا ہے؟
۴ ۔ اور ہم اہل بیت علیھم السلام کی محبت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
نکتہ: اسی جیسی روایت شیخ سلیمان(۵۱) نے حموینی سے مسنداً نقل کی ہے انہوں نے داؤد بن سلیمان سے انہوں نے علی بن موسی الرضاؑ سے انہوں نے اپنے جدّ امیر المؤمنین سے انہوں نے رسولؐ خدا سے روایت نقل کی ہے۔
۲۷ ۔ ابن حجر(۵۲) نے ابن عاصم سے، شیخ سلیمان(۵۳) نے طبرانی کی الاوائل اور دیلمی کی مسند اور جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیتؑ" حدیث نمبر ۴۵ کے ذیل میں اس طرح روایت کی ہے:
"عَنۡ علیٍّ سَمِعۡتُ رَسوُلَ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه یَقُولُ: اَوَّلُ مَنۡ یَرِدُ عَلَیَّ الۡحَوۡضَ اَه ۡلُ بَیۡتی "
حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی گئی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: رسولؐ خدا نے فرمایا: حوض کوثر پر سب سے پہلے میرے پاس پہنچنے والے میرے اہل بیت ہونگے۔
۲۸ ۔ جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیتؑ" حدیث نمبر ۴۶ میں، نیز سیوطی(۵۴) ، النبھانی(۵۵) اور شیخ سلیمان(۵۶) نے یوں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الدِّیۡلَمی عَنۡ عَلیٍّ، قالَ :قالَ رَسولُ الله صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : اَدِّبُوا اَوۡلادَکُمۡ عَلی ثَلاثٍ خِصال: حُبِّ نَبِیِّکُمۡ وَ حُبِّ اَه ۡلِ بَیتِه و عَلی قِرائَةِ الۡقُرآنِ، فَاِنَّ حَمَلَةَ الۡقُرآنِ فی ظِلِّ الله ِ، یَوۡمَ لا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّه ، مَعَ اَنۡبِیائِه وَ اَصۡفِیائِه "
دیلمی نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: اپنے بچوں کی تین چیزوں کے اعتبار سے تربیت کرو:
۱ ۔ اپنے پیغمبرؐ کی محبت و الفت سکھاؤ۔
۲ ۔ ان کے دلوں میں خاندان و اہل بیت رسولؐ خدا کی محبت ڈالو۔
۳ ۔ انہیں قرائت قران کے زیور سے آراستہ کرو۔ بیشک حاملان قران کریم قیامت میں انبیاء و اصفیاء کے ساتھ زیر سایۂ الٰہی ہونگے۔ اس دن جبکہ لطف و عنایت الٰہی کے علاوہ کسی سایہ کا وجود نہ ہوگا۔
۲۹ ۔ شیخ سلیمان(۵۷) ، ابن حجر مکی(۵۸) ، طبری(۵۹) اور جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۴۸ کے ذیل میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الدِّیۡلَمی عَنۡ عَلیٍّ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : اَرۡبَعَةٌ اَنَا لَه ُمۡ شَفیعٌ یَوۡمَ الۡقِیامَةِ: اَلۡمُکۡرِمُ لِذُرِّیَّتی، وَ الۡقاضی لَه ُمُ الۡحوائِجَ، وَ السّاعی لَه ُمۡ فی اُمُورِه ِمۡ عِنۡدَمَا اضۡطرّوُا اِلَیۡه ِ، وَ الۡمُحِبُّ لَه ُمۡ بِقَلۡبِه وَ لِسانِه "
دیلمی نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسولِ خدا نے فرمایا: میں قیامت میں چار قسم کے لوگوں کی شفاعت کروں گا:
۱ ۔ جو میری ذریت کا احترام کریں گے۔
۲ ۔ جو میری اولاد کی ضروریات کو پورا کریں گے۔
۳ ۔ میری اولاد کسی کام میں مضطر اور پھنسی ہو ایسے میں جو لوگ انکے امور حل کرنے کی کوشش کریں۔
۴ ۔ جو قلب و زبان سے میرے اہل بیت علیھم السلام سے محبت کریں گے۔
۳۰ ۔ ابن حجر مکی(۶۰) و جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۴۹ کے ذیل میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الدِّیۡلَمی عَنۡ اَبیِ سَعید، قالَ: قالَ رَسُولُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیه ِ وَ آلِه : اِشۡتَدَّ غَضَبُ الله ِ عَلی مَنۡ آذانی فی عِتۡرَتی "
دیلمی نے ابو سیعد خدری سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: خداوند متعال ان لوگوں پر غضب کی سختی کرے گا جنہوں نے میرے اہل بیت کو آزار و اذیت پہنچائی ہوگی۔ (کیونکہ میری عترت و ذریت کی اذیت ، میری اذیت ہوگی)۔
نکتہ: ابن مغازلی شافعی نے مناقب امیر المؤمنین میں بہی روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: خداوند عالم تین قسم کے لوگوں پر سخت غضبناک ہوگا:
۱ ۔ یہود، ۲ ۔ نصاریٰ، ۳ ۔ میرے اہل بیتؑ کو اذیت پہنچانے والے۔
پس یہاں ذہنو ں میں ایک سوال ابھرا ہے اور وہ یہ ہے کہ سقیفہ و فدک اور غصب خلافت اہلبیت کے موقع پر اہل بیت علیھم السلام کے ساتھ کیا برتاؤ کیا گیا؟ ہم نے اپنی کتاب "اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام " میں علمائے اہل سنت کی مختلف کتب سے استناد کرتے ہوئے کچھ حقائق پیش کئے ہیں لہذا وہاں رجوع فرمائیں۔
۳۱ ۔ ابن حجر مکی(۶۱) و جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیت (ع)" حدیث نمبر ۵۶ کے ذیل میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ اِبۡنُ عَساکِر عَنۡ عَلیٍّ ، قالَ: قالَ رَسُولُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیه ِ وَ آلِه : مَنۡ صَنَعَ اِلی اَحَدٍ مِنۡ اَه ۡلِ بَیۡتی یَداً، کافَیۡتُه ُ یَوۡمَ الۡقِیامَةِ "
ابن عساکر نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: جو شخص میرے اہل بیت میں سے کسی کی خدمت کرے ان پر اپنا حق قائم کرے گا تو میں قیامت میں اس کے نیک اعمال کا مداوا کروں گا۔
۳۲ ۔ جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اَہل البیت" حدیث نمبر ۵۷ اور شیخ سلیمان(۶۲) نے بنابر نقل از الکبیر الطبرانی، صحیح ابن حبان، حاکم و بیہقی سے اس طرح روایت کی ہے:
"عَنۡ عایشة رَضِیَ الله ُ عَنۡه ا اَنَّ النَّبی صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آله وَ سَلَّمَ قالَ: سِتَّةٌ لَعَنۡتُه ُمۡ وَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَ كُلُّ نَبِيٍّ مُجَابُ الدَّعۡوَةِ، اَلزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَ الْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللَّهِ، وَ الْمُتَسَلِّطُ عَلی اُمَّتی بِالْجَبَرُوتِ لِيُذِلَّ مَنْ اَعَزَّهُ اللَّهُ وَ يُعِزَّ مَنْ أَذَلَّهُ اللَّهُ، و الْمُسْتَحِلُّ حُرۡمَةَ الله ِ، وَ الْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللَّهُ، وَ التَّارِکُ لِلسُّنَّةِ "
حضرت عائشہ سے روایت کی گئی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا: چھ قسم کے لوگوں پر میں نے لعنت کی ہے، خدا نے بھی ان پر لعنت کی ہے اور ہر مستجاب الدعوۃ نبی نے بھی ان پر لعنت کی ہے ، اور وہ افراد یہ ہیں:
۱ ۔ کتاب خدا میں کسی چیز کا اضافہ کرنے والے۔
۲ ۔ مقدّراتِ الٰہی کی تکذیب کرنے والے۔
۳ ۔ میری امت پر جبرا اور زبردستی مسلط ہونے والے لوگ تاکہ جسے خدا نے عزت عطا کی ہے اسے ذلیل کرسکیں؛ اور جسے خد انے ذلیل کیا ہے اسے عزت مآب بنا دیں۔
۴ ۔ خدا کے حرام کردہ کو حلال سمجھنے والے۔
۵ ۔ جس چیز کو خداوند عالم نے میرے اہل بیت علیھم السلام کے لئے حلال قرا ر دیا ہے اسے ان کے لئے حرام سمجھنے والے۔
۶ ۔ میری سنت کو ترک کرنے والے۔
نکتہ: شیخ سلیمان اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: یہ روایت طبرانی نے معجم الکبیر میں، ابن حبان نے اپنی کتاب صحیح میں، نیز بیہقی و حاکم نے بھی نقل کی ہے اور حاکم نے اس بات کی بھی تصریح کی ہے کہ یہ روایت "صحیح" ہے۔
۳۳ ۔ شیخ سلیمان(۶۳) بنابر نقل از صواعق و طبرانی(۶۴) اور جلال الدین سیوطی نے احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۵۹ میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ الۡحاکِمُ فی تاریخِه وَ الدِّیۡلَمی عَنۡ اَبی سَعید، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ﷺ ، ثَلاثٌ مَنۡ حَفِظَه ُنَّ حَفِظَ الله ُ لَه ُ دینَه ُ وَ دُنۡیاه ُ وَ مَنۡ ضَیَّعه ُنَّ لَمۡ یَحۡفِظِ الله ُ لَه ُ شَیئاً، حُرۡمَةُ الۡاِسلامِ وَ حُرۡمَتی و حُرۡمَةُ رَحِمی "
حاکم نے اپنی کتاب تاریخ میں اور دیلمی نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: جو شخص تین چیزوں کی حفاظت و نگہداری کرے گا تو خداوند عالم اس کے دین و دنیا کی حفاظت فرمائے گا۔ اور جس نے ان تین چیزوں کو ضایع کردیا اور انکی رعایت نہ کی تو خداوند متعال اس کے دین و دنیا کی کسی چیز کی حفاظت نہ کرے گا۔
۱ ۔ اسلام کی حرمت و آبرو۔
۲ ۔ میری حرمت و آبرو۔
۳ ۔ میری عترت و اہل بیت کی آبرو۔
نکتہ: سوچنے کی بات ہے کہ رحلت رسولؐ کے بعد کن لوگوں نے رسول اللہ و عترت و رسولؐ اللہ کی حرمت کو پامال کیا اور نتیجتاً کون ہتکِ حرمت اسلام کا باعث بنا ہے؟ اس سلسلہ میں ہم نے کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام " میں علمائے اہل سنت سے استناد کرتے ہوئے چند حقائق نقل کئے ہیں لہذا وہاں رجوع فرمائیں۔
ارشاد خداوند ہے:( فَبَشِّرْ عِبَادِ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ) (۶۵) اے میرے حبیب میرے ان بندوں کو بشارت دیدیجئے جو بات کو سنتے ہیں اور ان میں سے بہترین کی اتباع کرتے ہیں۔
۳۴ ۔ شیخ سلیمان(۶۶) نے ابن حجر مکی کی کتاب صواعق محرقہ میں فضائل اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں جمع کردہ آیات(۶۷) میں سے پہلی آیت کے ذیل میں روایت کی ہے کہ رسول ؐخدا نے فرمایا
"وَ الَّذی نَفۡسی بِیَدِه ِ لا یُؤۡمِنُ عَبۡدٌ بی حَتّی یُحِبَّنی وَلا یُحِبُّنی حَتّی یُحِبَّ ذَوی قِرابَتی "
قسم ہے اس پروردگار کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے؛ کوئی شخص مجھ پرایمان نہ لائے گا یہاں تک کہ مجھ سے محبت کرے اور کوئی مجھ سے محبت نہ کرے گا یہاں تک کہ میرے اقرباء سے محبت کرے۔
نکتہ: ابن حجر مکی آیت تطہیر کے ذیل میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :"فَاَقامَ ذا قرابَتِه ِ مَقامَ نَفۡسِه ِ " یعنی بنابریں رسول اسلام نے اپنے اقربا کو اپنے برابر قرار دیا ہے۔
۳۵ ۔ نیز مولانا موصوف(۶۸) نے ابن حجر مکی کی کتاب میں فضائل اہل بیت کے بارے میں جمع کردہ آیات(۶۹) میں سے دوسری آیت کے ذیل میں صحت حدیث کے اعتراف کے ساتھ روایت کی ہے:
"عَنۡ کعب بن عجره ، قال: لَمّا نَزَلَتۡ ه ذِه ِ الۡآیَةُ ( اِنَّ الله َ وَ مَلائِکَتَه ُ یُصَلُّونَ ) قُلۡنا یا رَسوُلَ الله قَدۡ عَلِمۡنا کَیۡفَ نُسَلِّمُ عَلَیۡکَ، کَیۡفَ نُصَلّی عَلَیۡکَ؟ فَقالَ: قوُلوُا: اَللّه ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ "
کعب بن عجرہ سے روایت کی گئی ہے کہ جب یہ آیت (آیہ ٔ صلوات بر نبیؐ(۷۰) نازل ہوئی تو ہم نے حضور کی خدمت میں عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! آپؑ پر سلام کرنے کی کیفیت تو ہمیں معلوم ہے لیکن ہمیں اتنا بتا دیجئے کہ آپ پر صلوات کس طرح بھیجیں؟ فرمایا:"اَللّه ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ "
ابن حجر صلوات کی کیفیت کے بارے میں روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
"وَ فیه ِ دَلیلٌ ظاه رٌ عَلی اَنَّ الاَمۡرَ بِالصَّلوةِ عَلَیۡه ِ، اَلصَّلوةُ عَلی آله ِ اَیۡضاً مُرادٌ مِنۡ ه ذِه ِ الۡآیَةِ وَ اَنَّه ُ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ – اله – و سُلَّمَ جَعَلَ نَفۡسَه ُ مِنۡه ُمۡ "
یعنی یہ حدیث خود اس بات کی واضح و روشن دلیل ہے کہ نبیؐ پر صلوات بھیجنے کا حکم اہل بیت (ع)ؑ پر صلوات بھیجنے کا حکم بھی ہے؛ اور بتحقیق رسولؐ اللہ نے خود اپنے آپ کو بھی اہل بیت کا جزء قرار دیا ہے۔
اشکال: ابن حجر نے خود ہی اپنے قول پر عمل نہیں کیا کیونکہ جب رسولؐ گرامی قدر پر صلوات بھیجی ہے تو آل کو ترک کردیا ہے۔ آخر کیوں؟!
۳۶ ۔ ینابیع المودۃ(۷۱) نے صواعق محرقہ میں اہل بیت کے بارے میں جمع کردہ آیات(۷۲) میں سے دوسری آیت کے ذیل میں روایت کی ہے: "وَ قَدۡ اَخۡرَجَ الدِّیۡلَمی اَنَّه ُ ﷺ قال: اَلدُّعاُ مَحۡجُوبٌ حَتّی یُصَلَّیَ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِه "
دیلمی نے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: دعا اس وقت تک پردہ حجاب میں رہتی ہے (قبول نہیں ہوتی) جب تک کہ محمدؐ و آلؑ محمدؐ پر صلوات نہ بھیجی جائے۔
۳۷ ۔ نیز ینابیع المودۃ نے ابن حجر مکی کی کتاب صواعق محرقہ میں فضائل اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں جمع کردہ آیات میں سے دوسری آیت(۷۳) کے ذیل میں روایت کی ہے: "لا تُصَلّوُا عَلَیَّ الصَّلوٰةَ الۡبَتۡراءَ، فَقالُوا: وَمَا الصَّلوةُ الۡبَتۡراءُ؟ قالَ: تَقوُلُون: اَلله ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ تَسۡکُتُونَ بَلۡ قوُلوُا: اَللّه ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ "
رسول اکرمؐ نے فرمایا: مجھ پر ناقص صلوات مت بھیجو! اصحاب نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ! یہ ناقص صلوات کیا ہے؟ فرمایا: ناقص صلوات یہ ہے کہ "اَلله ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ " کہہ کر خاموش ہوجاؤ! بلکہ اس طرح کہو: "اَللّه ُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ عَلی آلِ مُحَمَّدٍ "
اشکال: ابن حجر اس روایت سے چند سطر قبل، رسول خدا پر صلوات بھیجتے وقت فقط اتنا لکھتے ہں:: "صَلَّی اللہ علیہ وَسَلَّم" یعنی ناقص صلوات بھیجتے ہیں۔ آخر کیوں؟!
آخر (بعض) علمائے اہل سنت اور انکی اتباع میں بعض عوام الناس رسولؐ اللہ پر صلوات بھیجتے وقت غالباً اہل بیت علیھم السلام پر صلوات کو ترک کیوں کر دیتے ہیں؟! یہ مقام افسوس اور جائے تفکر نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ یقیناً بنو امیہ وغیرہ کی تاثیر کا نتیجہ ہے
۳۸ ۔ نیز ابن حجر مکی کی کتاب صواعق محرقہ میں فضائل اہل بیت کے بارے میں جمع کردہ آیات میں سے چوتھی آیت(۷۴) کے ذیل میں نقل کردہ روایت نقل کرتے ہیں:
"اَخۡرَجَ الدِّیۡلَمی عَنۡ اَبِی سَعیدٍ الۡخُدۡری اَنَّ النَّبیﷺ قالَ: وَ قِفُوه ُمۡ اِنَّه ُمۡ مَسۡئوُلوُنَ عَنۡ وِلایَةِ عَلیٍّ "
دیلمی نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: سورہ صافات کی آیت نمبر ۲۴ "وَ قِفوُهُمۡ اِنَّهُمۡ مَسۡئُولوُنَ " انہیں روکو کہ ابھی ان سے سوال کرنا ہے؛ یہاں ولایت علی علیہ السلام کے بارے میں سوال کرنا مقصود ہے۔
ابن حجر کہتے ہں: واحدی (مفسر اہل سنت) کی مراد بھی یہی ہے کہ آیت میں ولایت علی و اہلبیت علیھم السلام کے بارے میں سوال مقصود ہے کیونکہ خداوند عالم نے مودّت قربی کو واجب قرار دیا ہے لہذا انکی ولایت کا مطالبہ کیا جائے گا۔
۳۹ ۔ شیخ سلیمان(۷۵) نے رسول ؐ گرامی قدر حضرت محمدؐ مصطفی سے روایت کی ہے آپؐ نے فرمایا: "حَرُمَتِ الۡجَنَّةُ عَلی مَنۡ ظَلَمَ اَه ۡلَ بَیۡتی وَ آذانی فی عِتۡرَتی " جس نے میرے اہل بیت پر ظلم کیا اور مجھے میری عترت کے ذریعے اذیت پہنچائی تو جنت اس پر حرام ہے۔
نکتہ: ابن حجر مکی نے بھی فضائل اہل بیت کے بارے میں آیات جمع کرنے کے بعد صواعق محرقہ میں اس روایت کو ثعلبی سے نقل کیا ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان بلخی کتاب ینابیع المودہ کے اس صفحہ پر رقمطراز ہیں:
"وَ قَالَ بَعۡضُ الۡعارِفینَ ثَمَرَةُ مَوَدَّةِ اَه ۡلِ بَیۡتِ النَّبی صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه ِ وَ سَلَّمَ وَ قَرابَتِه عائِدَةٌ اِلی اَنۡفُسِه ِمۡ لِکَوۡنِه ا سَبَبَ نَجاتِه ِمۡ کَما قالَ تَعالی: ( قُلۡ مَا سَأَلۡتُکُم مِنۡ أَجۡرٍ فَه ُوَ لَکُمۡ ) (۷۶) "
بعض عارفین کا کہنا ہے: اہل بیت و اقرباء رسولؐ خدا کی محبت و مودّت کا ثمر اور فائدہ خود انہی لوگوں کو پہنچنے والا ہے جو اپنے دلوں میں انکی محبت و مودّت رکھتے ہیں کیونکہ یہ مودّت انکی نجات کا باعث ہے جیسا کہ خداوند عالم نے بھی ارشاد فرمایا ہے: میں نے تم سے جو بھی اجر و پاداش کا مطالبہ کیا ہے وہ خود تمہارے ہی فائدے کے لئے ہے۔
۴۰ ۔ "قالَ اَبوُ عَبۡدِ الله ِ مُحَمَّدُ بۡنُ عَلیٍّ، اَلۡحَکیمُ التِّرۡمذی فی کِتابِه نَوادِرِ الۡاُصوُلِ، حَدَّثَنا عُبَیۡدُ بن خالِدٍ قالَ حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بن عُثۡمانِ الۡبَصۡری قالَ حَدَّثَنا مُحَمَّدُبن الۡفُضَیۡلِ عَنۡ مُحَمَّدِ بن سَعۡد بن اَبی طَیبَةٍ عَنِۡ الۡمِقۡدادِ بن الۡاَسۡوَدِ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِﷺ: مَعۡرِفَةُ آل مُحَمَّدٍ بَرائَةٌ مِنَ النّارِ وَ حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ جَوازٌ عَلَی الصِّراطِ وَ الۡوِلایَةُ لِآلِ مُحَمَّدٍ اَمانٌ مِنَ الۡعَذابِ "
نیز(۷۷) ترمذی سے مستنداً روایت کرتے ہیں: ترمذی نے نوادر الاصول میں مقداد بن اسود سے مستنداً روایت کی ہے کہ رسولؐ خد ا نے فرمایا: معرفت و شناخت آلِ محمد، آتش جہنم سے نجات کا باعث، محبت و الفت آل محمد، پلِ صراط سے گذرنے کا نامہ اور ولایت و امامت آل ِ محمدؐ عذاب الٰہی سے امان کا سبب ہے۔
نکات:
۱ ۔ جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ روایات میں حبّ آل محمدؐ کے بہت سے فائدے بیان کئے گئے ہیں مثلاً پل صرا ط سے گذرنے کا اجازت نامہ لہذا پہلی روایت (ستّر روایات میں سے) میں رسول اکرمؐ نےتفصیل کے ساتھ اس حقیقت کو بیان کیا ہے۔
۲ ۔ مذکورہ روایت میں لفظ "ولایت" محبت و دوستی کے معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے بلکہ سرپرستی و امامت کے معنی میں آیا ہے کیونکہ حُبّ کا فائدہ پل صراط سے گذرنے کا اجازت نامہ بیان کیا گیا ہے اگر یہاں بھی ولایت سے مراد محبت و دوستی ہوتی تو اس طرح فرماتے: "وَ حُبُّ آلِ مُحَمَّدٍ جوازٌ علی الِصراط و اَمانٌ مِنَ العَذاب " بالفاظ دیگر حضور سرور کائنات ایک مشترک لفظ "حب" کے ذریعے دوسرا فائدہ بیان کرنا نہیں چاہتے بلکہ صدر روایت میں معرفت آل۔ پھر حب آل اور آخر میں ولایت و سرپرستی کے بارے میں توجہ دلا رہے ہیں کہ یہ ولایت و سرپرستی تمہیں عذاب الٰہی سے بچائے گی۔ پس بنابریں روایت شریفہ تین مندرجہ ذیل فراز پرمشتمل ہے: ۱ ۔ معرفت آلؑ محمد، ۲ ۔ حُبّ آل، ۳ ۔ ولایت و سرپرستی آلِؑ محمدؐ؛ اور قابل توجہ بات ان تینوں فراز کی "ترتیب" ہے۔(۷۸)
۴۱ ۔"وَ عَنۡ اَبی الطُّفَیۡل، قالَ: خَطَبَنا الحَسَنُ بن عَلی رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُما اَنَّه ُ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ ( وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي إِبْراهِيمَ وَ إِسْحاقَ وَ يَعْقُوبَ ) (۷۹) ثُمَّ قالَ اَنَا اِبْنُ الْبَشِير ، اَنَا ابْنُ النَّذِيرِ ، اَنَا ابْنُ الدّاعِي اِلَى اللَّهِ بِاِذۡنِه ، وَ اَنَا اِبْنُ السِّرَاجِ الْمُنِيرِ ، وَ اَنَا اِبْنُ الَّذِي اَرْسَلَه ُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، وَ اَنَا مِنْ اهلِ الْبَيْتِ الَّذِينَ اَذْهَبَ اللَّهُ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَ طَهَّرَهُمْ تَطْهِيراً، وَ اَنَا مِنْ اهل البيتِ الَّذِينَ اَفْتَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مَوَدَّتَهُمْ فَقَالَ :( قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى ) (شوری/ ۲۴)
شیخ سلیمان(۸۰) نے بنابر نقل از جواہر العقدین سمہودی، ابو طفیل سے روایت کی ہے کہ حسن بن علی ؑنے ایک خطبہ میں ہم سے خطاب کرتے ہوئے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:( وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي إِبْراهِيمَ وَ إِسْحاقَ وَ يَعْقُوبَ ) میں فرزند بشیر ہوں، میں فرزند نذیر ہوں، میں فرزند داعی اِلی اللہ ہوں، میں فرزند سراج منیر ہوں، میں فرزند رحمۃ للعالمین ہوں، میں اہل بیت میں سے ہوں جنکی طہارت کی گواہی آیت تطہیر اس انداز سے دے رہی ہے کہ خداوند عالم نے ان سے ہر رجس کو دور رکھا ہے اور ایسا پاک و پاکیزہ قرار دیا ہے جیسا کہ پاک قرار دینے کا حق ہے۔ میں انہی اہلبیت علیھم السلام میں سے ہوں خداوند عالم نےجنکی مودّت کو واجب قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے:( قُلْ لا أَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى )
نکتہ: شیخ سلیمان اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: یہ روایت طبرانی نے کتاب معجم الکبیر اور معجم الاوسط میں بھی نقل کی ہے۔
۴۲ ۔ شیخ سلیمان(۸۱) نے صواعق محرقہ ابن حجر مکی (فضائل اہل بیت آیت نمبر ۴) کے مطابق روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: "مَنۡ حَفِظَنی فی اَه ۡلِ بَیۡتِی فَقَدِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الله ِ عَه ۡداً " جو شخص میرے اہل بیت علیھم السلام کا احترام کرنے میں میرے حق کا خیال رکھے گا بتحقیق اس نے گویا خداوند عالم سے عہد کرلیا ہے۔
نکتہ: اب سوچنا یہ ہے کہ رحلت رسولؐ کے بعد لوگوں نے کس طرح اہل بیت علیھم السلام کا احترام کیا۔ کیا رسولؐ خدا نے یہ نہیں فرمایا: "المرءُ یُحۡفَظُ فی وُلده " یعنی ہر شخص کا احترام اس کے بچوں کا خیال رکھنے میں کیا جائے پس خانۂ عترت اہل بیت، آتش کینہ مخالفین میں کیوں جلا، خلیفہ بلافصل علی علیہ السلام کو خانہ نشین کیوں کیا گیا اور رسول اسلام کی یگانہ دختر نیک اختر بستر شہادت پر کیوں سلادی گئی؟!
ہم نے کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام(۸۲) " میں علمائے اہل سنت کی ۱۷۰ کتب سے استناد کرکے چند حقائق پیش کئے ہیں ملاحظہ فرمائیں۔
۴۳ ۔"اَخۡرَجَ الثَّعلبی فی تَفۡسیرِ ه ذِه ِ الۡآیَةِ ( وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَفَرَّقُوا ) عَنۡ جَعۡفَر الصّادِقِ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، اَنَّه ُ قالَ : نَحۡنُ حَبۡلُ الله ِ الَّذی قالَ الله ُ تَبارَکَ وَ تَعالی ( وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَفَرَّقُوا ) "
شیخ سلیمان(۸۳) نے ابن حجر مکی کی کتاب صواعق محرقہ میں فضائل اہل بیت کے بارے میں جمع کردہ آیات میں سے پانچویں(۸۴) آیت کے ذیل میں نقل کردہ روایت سے اس طرح نقل کیا ہے: ثعلبی نے اپنی کتاب تفسیر میں آیۂ اعتصام کے بارے میں حضرت امام جعفر صادق سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: ہم ہی وہ ریسمانِ الٰہی ہیں جس کے بارے میں آیۂ اعتصام میں فرمایا ہے: "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں مت پڑو"
سوال: جب ثعلبی جو کہ درجۂ اول کے عالم اور صاحب تفسیر ہیں اور روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت جعفر صادق علیہ السلام ہی ریسمان خداوند ہیں تو پھر علماء اہل سنت اور خود ثعلبی امام جعفر صادق اور انکے آباء و اجداد سے دور ہوکر متفرق کیوں ہوگئے ہیں اور ابو حنیفہ، شافعی، مالکی اور احمد حنبل سے وابستہ کیوں ہوگئے ہیں؟!
جی ہاں اس جیسی دیگر متعد روایات کی روشنی میں اہل بیت سے تمسک اور ان سے رجوع کرنے کے بارے میں قیامت کے روز سخت سوال کیا جائے گا۔ کیا روایت میں نہیں ہے( وَ قِفُوه ُم اِنَّه ُم مَّسۡئُولُونَ ) (۸۵) بتحقیق یہ سوال ولایت علی بن ابی طالب و اہل بیت عصمت و طہارت کے بارے میں ہوگا۔ پس ان روایت پر عمل کیوں نہیں کرتے ہیں؟!
۴۴ ۔ "اَخۡرَجَ الطّبرانی بِسَنَدٍ رِجالِه ثِقاتٍ اَنَّه ُ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه وَ سَلَّمَ قالَ لِفاطِمَةَ : اِنَّ الله َ غَیۡرُ مُعَذِّبِکِ وَلا اَحَد مِنۡ وُلۡدِکِ"
شیخ سلیمان(۸۶) نے صواعق محرقہ (فضائل اہل بیت کے بارے میں آیت(۸۷) نمبر ۱۰) سے اور طبرانی نے اس سند کے مطابق جس کے تمام راوی ثقہ اور مورد اطمینان ہیں، روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے حضرت فاطمہ زہرا سے فرمایا: بتحقیق خداوند عالم نہ تم پر عذاب کرے گا اور نہ ہی تمہاری اولاد میں سے کسی کے اوپر عذاب کرے گا؛
سوال: پس رسول اکرمؐ کی ذریت کے بارے میں خود آنحضرتؐ سے ایسی روایات کی روشنی میں یہ کیسے ممکن ہے جن اہل بیت وغیرہ پر آتش دوزخ حرام ہے انکے دامن کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کا دامن تھام لیا جائے جنکے قول و فعل میں خطاء تھی اور انہوں نے اپنی خطاؤں اور غلطیوں کا اعتراف بھی کیا ہے؟!!
ہم نے کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علیؑ" ص ۲۴۹ تا ۲۵۴ ، نیز ۲۶۰ پر علمائے اہل سنت کی کتب سے استناد کرتے ہوئے حضرت عمر، ابو حنیفہ، احمد حنبل، مالک و شافعی کے بارے میں چند حقائق نقل کئے ہیں۔
۴۵ ۔ "اَخۡرَجَ الۡبِیۡه َقَی وَ اَبوُ الشَّیۡخ ابنُ حبان وَ الدِّیۡلَمی اَنَّه ُ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه وَ سَلَّمَ قالَ : لا یُؤۡمِنُ عَبۡدٌ حَتّی اَکوُنَ اَحبَّ اِلَیۡه مِنۡ نَفۡسِه وَ یَکوُنَ عِتۡرَتی اَحَبَّ اِلَیۡه ِ مِنۡ عِتۡرَتِه وَ یَکوُنَ اَه ۡلی اَحَبَّ اِلَیۡه ِ مِنۡ اَه ۡلِه وَ تَکُونَ ذاتی اَحَبَّ اِلَیۡه ِ مِنۡ ذاتِه "
شیخ سلیمان(۸۸) نے ابن حجر کی کتاب صواعق محرقہ (فضائل اہل بیت کے بارے میں آیت(۸۹) نمبر ۱۴) سے نیز بیہقی، ابو شیح ابن حبان اور دیلمی نے روایت کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: کوئی مجھ پر ایمان نہ لائے گا مگر یہ کہ اپنے نفس سے زیادہ مجھ سے محبت کرے گا، اپنی عترت سے زیادہ میری عترت سے محبت کرے گا، اپنے اہل بیت سے زیادہ میرے اہل بیت علیھم السلام سے محبت کرے گا اور اپنی جان سے زیادہ میری جان کو عزیز رکھے گا۔
نکتہ: پیغمبر اسلام نے مؤمنین کو اس طرح دنیا و آخرت کی ذلت و خواری سے نجات عطا کی ہے کہ بت پرستی و گائے پرستی وغیرہ کے بجائے خدا پرست بن کر آبرو مند اور عزت مآب ہوگئے اپنے گفتار و کردار اور اعمال میں خداوند عالم کو پیش نظر رکھ کر طریقیت انسانیت کو اپنایا۔ پس اس کے عوض نبی کریمؐ نے ہم سے صرف ایک اجر کا تقاضا کیا ہے اور وہ ہے "مودّت قربی(۹۰) " پس حقیقتا ان کے اہل بیت کو اپنے اہل بیت سے زیادہ اور انکی عترت کو اپنی عترت و آل سے زیادہ محبوب رکھنا چاہیے کیونکہ حقیقی ایمان اسی سے وابستہ ہے۔
۴۶ ، ۴۷ ، ۴۸ ۔ "مَرَّ خَبَرُ اَحۡمَد وَ التِّرۡمذی : [قال صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه وَ سَلَّمَ :] مَنۡ اَحَبَّنی وَ اَحَبَّ ه ذَیۡنِ یَعۡنی حَسَناً و حُسَیۡناً وَ اَباه ُما وَ اُمَّه ُما کانَ مَعِیَ الۡجَنَّةَ، وَ فی رِوایَة: فی دَرَجَتی، وَ زادَ اَبوُ داوُد: وَ ماتَ مُتَّبِعاً بِسُنَّتی "
شیخ سلیمان(۹۱) نے ابن حجر مکی کی کتاب صواعق محرقہ (فضائل اہل بیت کے بارے میں آیت(۹۲) نمبر ۱۴) سے اور احمد حنبل اور ترمذی نے رسول خداؐ سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جو شخص مجھے، میرے ان دونوں فرزند حسن و حسین‘، انکے والد علی مرتضی اور انکی والدہ فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کو محبوب رکھے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ وہ جنت میں میرے درجہ میں ہوگا۔ نیز ابو داؤد نے ایک روایت میں نقل کیا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: اگر میری سنت پر عمل کرتے ہوئے اور اتباع کرتے ہوئے مرجائے تو بہشت میں وہ میرے درجہ میں ہوگا۔
نکتہ: مذکورہ تین روایات کی روشنی میں یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ اگر کوئی با ایمان شخص حقیقتا پنجتنِ آل عباء سے محبت رکھے اور مقام عمل میں سنتِ نبوی کی پیروی کرتا رہے تو اسے اس کا یہ اجر عطا ہوگا کہ وہ بہشت میں رسولؐ اللہ کے درجہ میں ہوگا اور یہ صرف آیۂ مودت کی روشنی میں حبّ اہل بیت ہی کے سایہ میں ممکن ہے کیونکہ سورہ سباء کی آت ۴۷ میں اجر رسالت (جو کہ مودّتِ اہل بیت ہے) کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے: "قُلۡ ما سَئَلۡتُکُمۡ مِنۡ اَجۡرٍ فَه ُوَ لَکُمۡ" میں نے جو اجر بھی تم سے مانگا ہے وہ خود تمہارے ہی فائدے کے لئے ہے۔ یعنی میں تم سے اپنی رسالت کا صرف ایک اجر طلب کر رہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ میرے قرابتداروں (علی و فاطمہ اور حسن و حسین) سے محبت کرو کہ یہ محبت و مودّت بھی خود تمہارے ہی کام آنے والی ہے کیونکہ تم ان کے طفیل اس طرح کامیاب و کامران ہوجاؤ گے کہ بہشت میں رسولؐ خدا کے درجہ میں رہو گے۔
نکتہ: ابن حجر نے صواعق محرقہ میں بآسانی فضائل اہل بیت کے بارے میں منقول روایات تک دسترسی کے لئے ان تمام روایات (فضائل اہل بیت کے بارے میں آیات قرانی کے ذیل میں روایات) کو دوسری فصل میں جمع کیا ہے۔ اس فصل کی اٹھارویں روایت جو کہ احمد و ترمذی سے منقول ہے، اسی فصل سے نقل کی ہے۔
۴۹ ۔ شیخ سلیمان(۹۳) نے ابن حجر کی صواعق محرقہ کے حوالے سے دیلمی سے روایت نقل کی ہے کہ رسولِ خدا نے فرمایا: "مَنۡ اَرادَ التَّوَسُّلَ اِلَیَّ وَ اَنۡ یَکوُنَ لَه ُ عِنۡدی یَدٌ اَشۡفَعُ لَه ُ بِه ا یَوۡمَ الۡقِیامَةِ فَلۡیُصَلِّ اَه ۡلَ بَیۡتی وَ یُدۡخِلِ السُّروُرَ عَلَیۡه ِمۡ"
جو شخص مجھ سے متوسل ہونا چاہتا ہے اور قیامت میں مجھ سے مدد چاہتا ہے کہ میں اسکی شفاعت کروں تو اُسے چاہیے کہ میرے اہل بیت پر صلوات بھیجے اور انکے لئے باعث سرور و شادمانی قرار پائے۔
نکتہ: ہم نے گذشتہ اوراق میں نبی کریمؐ سے متعدد روایات نقل کی ہیں کہ رسولؐ اللہ پر صلوات کے ساتھ آلؑ رسولؐ پر صلوات بھیجنا بھی ضروری ہے، ورنہ صلوات ناقص رہے گی اور اس موقع پر یہ سوال کیا گیا کہ پس بعض علماء اہل سنت اور ان کی اتباع میں بعض عوام الناس، رسول گرامی پر صلوات بھیجتے وقت آلؑ کو ترک کیوں کر دیتے ہیں؟!
۵۰ ۔ "عَنۡ اِبۡنِ عَبّاس رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ ﷺ عَنۡ کَلِماتِ الَّتی تَلَقّی آدَمُ مِنۡ رَبِّه فَتابَ عَلَیۡه ِ (۹۴) ، قال: سَئَلَه ُ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَ عَلیٍّ وَ فاطِمَةَ وَ حَسَنٍ وَ حُسَیۡنٍ "
شیخ سلیمان(۹۵) نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: آدمؑ نے اپنے پروردگار کی جانب سے جو کلمات دریافت کئے تھے اور جنکی وجہ سے انکی توبہ قبول ہوئی تھی، انہوں نے بارگاہ الٰہی میں انکے ذریعے اس طرح سوال کیا: بحق محمد و علی و فاطمہ و حسن و حسین علیھم السلام ۔
نکتہ: شیخ سلیمان یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ابن مغازلی نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
۵۱ ۔ "عَنۡه ُ [عَنۡ اِبۡنِ مَسۡعوُد] رَضِیَ الله ُ عَنه قال: قالَ رَسوُلُ الله ِﷺ: اِنَّا اهل البیت، اِخۡتارَ الله ُ لَنَا الۡآخِرَةَ عَلَی الدُّنۡیا "
شیخ سلیمان بلخی حنفی(۹۶) نے ابن مسعود سے روایت نقل کی ہے کہ رسولِؐ خدا نے فرمایا: ہم ہی وہ اہل بیت ہیں جن کے لئے خداوند عالم نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کا انتخاب کیا ہے۔
اگر ہم واقعاً ایسے افراد کے پیچھے چلنا چاہتے ہیں جنکے توسط سے ہماری آخرت سنور جائے اور وہ مخلوق پر حجت الٰہی ہوں تو وہ فقط اہل بیت رسول خدا ہی ہیں کہ جنہیں خداوند عالم نے قیامت میں بہت امور سپرد کئے ہیں مثلاً شفاعت، مقام اعراف (بہشت و دوزخ کے مابین مقام) پر قیام، پل صراط سے گزرنے کے لئے انکا اجازت نامہ، جنت و دوزخ کی تقسیم وغیرہ؛ اور یہ سب اذنِ الٰہی سے ہے۔(۹۷)
نکات:
۱ ۔ شیخ سلیمان یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: یہ روایت صاحب فردوس نے بھی لکھی ہے۔
۲ ۔ مناقب اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں پہلی روایت میں اس حقیقت کے کچھ مصادیق بیان کئے ہیں۔
۵۲ ۔ "عَنۡ اَبی سَعیدٍ الۡخُدۡری رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه و سَلَّم: مَثَلُ اَه ۡلِ بَیۡتی فیکُمۡ مَثَلُ بابِ حِطّةٍ مَنۡ دَخَلَ غُفِرَ لَه ُ "
شیخ سلیمان(۹۸) نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسول ؐ خدا نے فرمایا: تمہارے درمیان میرے اہل بیت کی مثال، باب حطّہ کی مانند ہے جو اس میں داخل ہوجائے گا بخشا جائے گا۔
نکتہ: شیخ سلیمان نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ صاحب فردوس نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے۔
توضیح: باب "حطہ" بیت المقدس کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ خداوند عالم نے یہ امر فرمایا تھا کہ جو بھی عجز و انکساری اور استغفار کے ساتھ اس سے وارد ہوگا۔ وہ معاف کردیا جائے گا اور مغفرت الٰہی اس کے شامل حال ہوگی؛ اس مذکورہ روایت میں حضور سرور کائنات نے اپنے اہل بیت علیھم السلام کو باب "حطہ" سے تشبیہ دی ہے لہذا جو بھی انکی ولایت کو قبول کرے گا اور مودت اہل بیت کا پابند ہوگا تو مغفرت الٰہی اس کے شامل حال ہوگی۔
قابل توجہ ہے کہ ابن حجر مکی نے فضائل اہل بیت کے بارے میں آیت نمبر ۷ ( سورہ انفال/ ۳۳) کہ جسے ہم روایت نمبر ۱۸ کے طور پر پیش کیا ہے، اس کے ذیل میں لکھتے ہیں: اہل یبتؑ، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے توسط سے پارۂ تن رسولؐ خدا ہیں لہذا اہل بیت علیھم السلام بھی رسولؐ اللہ کی طرح (سورہ انفال کی ۳۳ ویں آیت کی روشنی میں) امان کا سبب ہیں اور باب حطہ (جو کہ بیت المقدس کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے) سے وجہ شباہت یہ ہے کہ خداوند عالم نے یہ امر صادر فرمایا ہے کہ جو بھی اس باب سے عجز و انکساری اور استغار کے ساتھ داخل ہوگا مغفرت الٰہی اس کے شاملِ حال ہوگی ، اسی طرح مودّت اہل بیت بھی باعث مغفرت الٰہی ہے۔
۵۳ ۔ "اَلۡحَمَویۡنی بِسَنَدِه ِ عَنِ الۡاَصۡبغِ بن نُباتَه ، عَنۡ عَلیٍّ کَرَّمَ الله ُ وَجۡه َه ُ فی ه ذِه ِ الۡآیَةَ ( وَإِنَّ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنَاكِبُونَ ) ،قالَ اَلصِّراطُ وِلایَتُنا اهل البیت "
شیخ سلیمان(۹۹) نے آیت( وَإِنَّ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالآخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنَاكِبُونَ ) (۱۰۰) کی تفسیر میں حموینی سے انہوں نے اصبغ بن نباتہ سے انہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: صراط سے مراد ہم اہل بیت کی ولایت ہے۔
نکتہ: جیسا کہ روایت نمبر ۴۰ میں بیان ہوچکا ہے کہ جو لوگ ولایت اہل بیت علیھم السلام پر ایمان رکھتے ہیں وہ پل صراط سے گذرنے کے بھی مجاز ہوں گے، لیکن جو لوگ ولایت اہل بیت علیھم السلام پر ایمان نہیں رکھتے تو امیر المؤمنین کے فرمان کے مطابق وہ صراط سے گذر نہ سکے گا اور گرفتار ہوکر رہ جائے گا۔
۵۴ ۔ "اَلۡحاکِمُ بِسَنَدِه ِ عَنِ الۡاَصۡبَغ بن نُباتَه ، قالَ: کنۡتُ عِنۡدَ عَلِیٍّ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ فَاَتاه ُ اِبۡنُ الۡکَوّا فَسَئَلَه ُ عَنۡ ه ذِه ِ الۡآیَةِ ( وَعَلَى الأعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلاً بِسِيمَاهُمْ ) فَقالَ: وَیۡحَکَ یَابۡنَ الۡکَوّا نَحۡنُ نَقِفُ یَوۡمَ الۡقَیامَةِ بَیۡنَ الۡجَنَّةِ وَ النّارِ اَحَبَّنا عَرَفۡناه ُ بِسیماه ُ فَاَدۡخَلۡناه ُ الۡجَنَّةَ وَ مَنۡ اَبۡغَضَنا عَرَفۡناه ُ بِسیماه ُ فَدَخَلَ النّارَ "
شیخ سلیمان(۱۰۱) نے( وَعَلَى الأعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلا بِسِيمَاهُمْ ) (۱۰۲) کی تفسیر میں حاکم نیشاپوری کے حوالے سے اصبغ ابن نباتہ سے روایت کی ہے: وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھے کہ ابن کوّا آنجناب ؑ کی خدمت اقدس میں آئے اور انہوں نے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو حضرت علی علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: اے ابن کوا! ہم قیامت میں جنت و جہنم کے درمیان کھڑے ہوجائیں گے اور اپنے چاہنے والوں کو دیکھ دیکھ کربہشت میں داخل کردیں گے اور ہم اپنے دشمنوں کو بھی پہچانتے ہیں وہ جہنم میں داخل ہوجائیں گے۔
نکتہ: اس روایت کے مطابق حضرت علی علیہ السلام نے اپنے چاہنے والوں کے بارے میں فرمایا ہے: "اَدخَلنَاه الجَنَّةَ " یعنی ہم خود اسے بہشت میں داخل کریں گے اور اپنے دشمنوں کے بارے میں فرمایا ہے: "فَدَخل النار" یعنی وہ جہنم میں داخل ہو جائیں گے، آنجنابؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ ہم اسے جہنم میں داخل کر دیں گے۔ یعنی پس اس کے جہنمی ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ اسے اہل بیت و عترت طاہرہ کی حمایت حاصل نہ ہوگی۔
پس اے قاریِ محترم! آپ خود اس مودّت اہل بیت کی راہ میں کوشش کریں کیونکہ نجات و رستگاری بہرحال اسی مودّت سے وابستہ ہے، اور خداوند کتنا مہربان اور رحیم و کریم ہے کہ اس نے مودّت اہل بیت کو اجر رسالت قرار دیا ہے تاکہ مؤمنین پیغمبر اکرمؐ کی قدر دانی کے طفیل رستگار و نجات یافتہ ہوجائیں۔
۵۵ ۔ "فِی الۡمَناقِبِ عَنِ الۡحَسَنِ بن صالِحِ عَنۡ جَعۡفَر الصّادِقِ علیه السلام فی ه ذِه ِ الۡآیَةِ ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ ) قالَ: اوُلوا الۡاَمۡرِه ُمُ الۡاَئِمَّةُ مِنۡ اهل البیت علیه م السلام "
شیخ سلیمان(۱۰۳) نے آیت( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ ) (۱۰۴) کی تفسیر میں کتاب مناقب میں حسن بن صالح سے اور انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ اولی الامر سے مراد "ائمہ اہل بیت " ہیں۔
ہم نے اس کتاب کے گذشتہ اوراق پر مختلف ابواب میں علماء اہل سنت کی کتب سے نقل شدہ حضور سرور کائنات کی متعدد روایات بیان کی ہیں جن میں حضورؐ نے ائمہ معصومین علیھم السلام کے اسماء بیان فرمائے ہیں یہ روایات اثنا عشریہ کے عنوان سے معروف ہیں ہم آئندہ صفحات پر اس سلسلہ میں مستقل طور پر گفتگو کریں گے۔ اہل بیت علیھم السلام سے دشمنی حضور کی نگاہ میں اتنا شدید مسئلہ تھا کہ شیخ سلیمان حنفی(۱۰۵) نے عطاء بن ابی رباح وغیرہ سے انہوں نے ابن عباس کے شاگردوں سے اس طرح روایت کی ہے:
"عَنۡه ُ (عَن اِبْنِ عَبَّاس) قَالَ :قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ: يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اِنِّي سَئَلۡتُ اللَّهَ لَكُمْ ثلاثاً، اَنْ يُثَبِّتَ قَائِمَكُمْ، وَ اَنْ يَهْدِيَ ضَالَّكُمْ، وَ اَنۡ يُعَلِّمَ جَاهِلَكُمْ، وَ سَئَلۡتُ الله َ اَنْ يَجْعَلَكُمْ جَواداً نُجَباءَ رُحَمَاءَ، فَلَوْ اَنَّ رَجُلًا صَفِنَ بَيْنَ الرُّكْنِ وَ الْمَقَامِ فَصَلّی وَ صامَ ثُمَّ لَقِیَ الله وَ ه ُوَ مُبۡغِضٌ لِاَهْلَ بَیۡتی دَخَلَ النَّارَ "
ابن عباس سے روایت کی گئی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: اے فرزندانِ عبد المطلب! میں نے خداوند عالم سے تمہارے لئے تین چیزوں کی درخواست کی:
۱ ۔ تمہارے قیام کرنے والے کو ثابت قدم رکھے۔
۲ ۔ تم میں سے گمرہ کی ہدایت فرمائے۔
۳ ۔ تمہارے جاہل کو زیور علم سے آراستہ فرمائے۔
نیز خداوند عالم سے تقاضا کیا ہے کہ وہ تمہیں سخاوتمند، نجیب اور مہربان بنا دے پس اگر تم میں سے کوئی شخص رکن و مقام کے درمیان ہو اور نماز و روزہ انجام دیتا رہے اور پھر دشمنی اہل بیت کے ساتھ خداوند عالم سے جاملے تو یاد رکھو وہ آتش جہنم میں داخل ہوجائے گا۔
نکتہ:شیخ سلیمان نے ینابیع المودۃ ، باب ۵۸ میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: حاکم نے بھی اس روایت کو نقل کیا اور تصریح کی ہے کہ "یہ روایت صحیح ہے" نیز ابن ابی خیثمہ نے یہ روایت اپنی کتاب تاریخ میں حمید بن قیس ملکی سے نقل کی ہے انہوں نے رجال صحیح عطاء وغیرہ کے ذریعے ابن عباس سے نقل کی ہے۔
۵۶ ۔ "فی جَواه ِرِ الۡعِقۡدَیۡنِ (سمه ودی شافعی)، روَیَ اَبوُ الشّیۡخ ابۡنُ حبان عَنۡ زادان عَنۡ عَلیٍّ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ قالَ: فینا فی آلِ حم آیَةٌ لا یَحۡفِظُه ا اِلّا کُلُّ مُؤۡمِنٍ ثُمَّ قَرَأ ( قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ) (۱۰۶)
شیخ سلیمان(۱۰۷) نے سمہودی کی کتاب جواہر العقدین سے انہوں نے ابو الشیخ ابن حبان سے انہوں نے زادان سے انہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا: ہم آل حم (سوری شوریٰ میں ہم اہل بیت) کے بارے میں ایک آیت ہے جس کی پابندی صرف حقیقی مؤمنین ہی کرتے ہیں یہ کہہ کر آپ نے آیہ مودّت تلاوت فرمائی( قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى )
نکتہ: پس اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں میں شناخت ایمان کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کون ہے جو مودّت اہل بیت علیھم السلام کی پابندی کرتا ہے اور کون اس سے دوری اختیار کرتا ہے۔ لہذا جو شخص اپنے عقائد و اخلاق اور اعمال(۱۰۸) میں آلؑ محمدؐ کی مودّت کا خیال رکھتا ہے تو یہ اس کے ایمان حقیقی کی علامت ہے۔ مثلاً جب پیغمبر گرامی قدر پر صلوات بھیجی جائے تو اہلبیت علیھم السلام پر بھی صلوات بھیجی جائے
۵۷ ۔ شیخ سلیمان(۱۰۹) بلخی حنفی نے روایت کی ہے:
"وَ رَوی جمالُ الدّینِ الزَّرَنۡدی فی کِتابِه دُرَرِ الۡسِّمطَیۡنِ، عَنۡ اِبۡراه یم بن الشَّیۡبَةِ الۡاَنصاری، قالَ: جَلَسۡتُ عِنۡدَ اَصۡبَغِ بن نُباتَه قالَ: اَلا اُقۡرِئُکَ ما اَمۡلَاَه ُ عَلِیُّ بن اَبیطالب رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، فَاَخۡرَجَ صَحیفَةً فیه ا مَکۡتوُبٌ: بِسۡمِ الله ِ الرَّحۡمنِ الرَّحیم ه ذا ما اَوۡصی بِه مُحَمَّدٌﷺ اَه ۡلَ بَیۡتِه وَ اُمَّتَه ُ، وَ اَوصی اَه ۡلَ بَیۡتِه بِتَقوی الله ِ وَ لُزُومِ طاعَةِ الله ِ وَ اَوۡصی اُمَّتَه ُ بِلُزوُمِ اَه ۡلِ بَیۡتِه "
جمال الدین زرندی نے کتاب دُرَرُ السمطین میں ابراہیم بن شیبہ انصاری سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اصبغ بن نباتہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کیا تمہارے لئے وہ چیز پڑھوں جسے علی بن ابی طالب نے لکھا ہے؟ یہ کہہ کر انہوں نے ایک کاغذ نکالا جس پر تحریر تھا: شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ یہ محمد مصطفی کی وصیت ہے اپنے اہل بیت علیھم السلام اور اپنی امت کے لئے۔ محمد ﷺ نے اپنے اہل بیت کو تقوی الٰہی اور اطاعت خداوند کی وصیت کی ہے اور اپنی امت کو اطاعت اہل بیت علیھم السلام کی وصیت کی ہے۔
نکتہ: یہ روایت جو کہ نبی کریمؐ کی وصیت اور حضرت علی بن ابی طالب‘ کا اِملا ہے اس میں حضور سرور کائنات نے اپنی امت کو اپنے اہل بیت کی اطاعت کے واجب ہونے پر وصیت فرمائی ہے پس اس روایت کی روشنی میں نبی کریمؐ نے امت کے کسی گروہ کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا ہے لہذا تمام امت حتی کہ اصحاب پر بھی اہل بیت علیھم السلام کی اطاعت لازم و واجب ہے اور تمام امت کو اہل بیت کا مطیع و فرمانبرار ہونا چاہیے۔ نیز "لزوم طاعَتِہِ" کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اطاعت بغیر کسی قید و شرط کے ساتھ تمام شعبوں میں لازم ضروری ہے لہذا ہر صنف و گروہ پر مطلق اطاعت اہل بیت واجب ہے۔ نیز آیت مودّت (شوریٰ / ۲۳) میں یہی شرط پائی جاتی ہے۔
۵۸ ۔ ینابیع المودۃ(۱۱۰) نے محب الدین طبری و دیلمی سے امام رضا علیہ السلام سے آنجناب نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسول خداؐ نے فرمایا:
"اِنَّ الله َ حَرَّمَ الۡجَنَةَ عَلی مَنۡ ظَلَمَ اَه ۡلَ بَیۡتی اَو قاتَلَه ُمۡ اَو اَعانَ عَلَیۡه ِمۡ اَو سَبَّه ُمۡ"
خداوند عالم نے اہل بیت علیھم السلام پر ظلم کرنے والوں، انہیں قتل کرنے والوں، انکے دشمنوں کی اعانت کرنے والوں اور انہیں سبّ و شتم کرنے والوں پر جنت کو حرام کر دیا ہے۔
نکتہ: ہم نے در دست کتاب ہی کے تیسرے باب میں ثابت کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام و فاطمہ زہرا، اور امام حسن و امام حسین‘اہل بیت عصمت و طہارت ہیں اور اپنی کتاب 'اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام "(۱۱۱) میں کتب اہل سنت سے استناد کرتے ہوئے ثابت کیا ہے رحلت رسولؐ اسلام کے بعد کن لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام و امام حسن سے جنگ کی، کن لوگوں نے درخانہ عترت کو نذر آتش کیا اور کن لوگوں نے خلافت علی علیہ السلام کو غصب کرکے آنجناب پر دسیوں سال سبّ و شتم کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان حقائق کی روشنی میں کیا اہل بیت علیھم السلام پر ظلم و ستم کرنے والوں کو بہشتی قرار دیا جاسکتا ہے؟! کیا اہل بیت علیھم السلام پر ظلم کرنے والوں اور ان سے جنگ کرنے والوں کا احترام کرتے ہوئے انکے نام کے ساتھ رضی اللہ عنہم لکھنا صحیح ہے؟!
کل قیامت میں ان لوگوں سے یقیناً اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں سختی سے سوال کیا جائے گا جیسا کہ روایت میں آیا ہے کہ( وَ قِفُوه ُمۡ اِنَّه ُم مَّسۡئُولُونَ ) (۱۱۲) اس آیت میں ولایت علی ابن ابی طالب و اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں سوال مقصود ہے۔
۵۹ ۔ "وَ عَنۡ عُبَیۡدِ الله ِ وَ عُمَر اِبۡنَیۡ مُحَمَّدِ بن عَلی عَنۡ اَبیه ِما عَنۡ جَدِّه ِما رَضِیَ الله عَنۡه ُمۡ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِﷺ: مَنۡ آذانی فی عِتۡرَتی فَعَلَیۡه ِ لَعۡنَةُ الله ِ "
شیخ سلیمان(۱۱۳) نے روایت کی ہے: عبد اللہ و عمر، پسران امام محمد بن علی نے اپنے آباء سے روایت کی ہے کہ رسول ؐ خدا نے فرمایا: جس نے مجھے میری عترت و اہل بیت کے ذریعے اذیت پہنچائی اس پر خدا کی لعنت ہے۔
۶۰ ۔ شیخ سلیمان(۱۱۴) حموینی سے انہوں نے دُرر السمطین تالیف زرندی سے انہوں نے عبد اللہ بن مسعود سے روایت کی ہے کہ رسولِ ؐ خدا نے فرمایا:
"رَأیۡتُ لَیۡلَةَ الۡاِسۡرا مَکۡتوُباً عَلی بابِ النّارِ: اَذَلَّ الله ُ مَنۡ اَه انَ الۡاِسۡلامَ، اَذَلَّ الله ُ مَنۡ اَه انَ اَه ۡلَ بَیۡتِ نَبِی الله ِ، اَذَلَّ الله ُ مَنۡ اَعانَ الظّالِمینَ عَلَی الۡمَظۡلوُمینَ "
میں نے شب معراج در جہنم پر لکھا ہوا دیکھا: اسلام کی توہین کرنے والوں کو خدا ذلیل کرے گا، اہل بیت علیھم السلام کی اہانت کرنے والوں کو خدا ذلیل کرے گا۔ نیز مظلوم پر ظلم کرنے والوں کی مدد کرنے والوں کو ذلیل کرے گا۔
۶۱ ۔ "عَنۡ اَبراه یم بن عَبۡدِ الله ِ بن الۡحَسَنِ الۡمُثَنّی عَنۡ اَبیه ِ عَنۡ اُمِّه فاطِمَةَ الصُّغۡری عَنۡ اَبیه ا الۡحُسَیۡنِ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ وَ عَنۡه ُمۡ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِﷺ: مَنۡ سَبَّ اَه ۡلَ بَیۡتِی فَاَنَا بَرئٌ مِنۡه ُ "
شیخ سلیمان(۱۱۵) نےروایت کی ہے: ابراہیم بن عبد اللہ بن حسن مثنیٰ سے انہوں نے اپنے والد عبد اللہ بن حسن سے انہوں نے اپنی والدہ فاطمہ صغریٰ سے انہوں نے اپنے والد امام حسین سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: جو شخص میرے اہل بیت پر سبّ و شتم کرتا ہے میں اس سے بیزار ہوں۔
نکتہ: شیخ سلیمان نے ینابیع المودۃ، باب ۵۸ میں اس رویت کو نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ روایت الجعابی نے کتاب الطالبین میں بھی نقل کی ہے۔
۶۲ ۔ "وَ عَنۡ اَبی ذَر رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: بَعَثَنیِ النَّبِیُّ علیه السلام اِلی عَلِیٍّ فَأَتَیۡتُ بَیۡتَه ُ، فَنادَیۡتُ فَلَمۡ یُحبِبۡنی اَحَدٌ، فَسَمِعۡتُ صَوۡتَ رَحا تَطحنُ، فَنَظَرۡتُ اِلَیۡه ا فَاِذاً لَیۡسَ مَعَه ا اَحَدٌ، فَاَخۡبَرۡتُه ُﷺ، فَقالَ: یا اَباذَر اَما عَلِمۡتَ اَنَّ لِله ِ مَلائِکَةً سَیّاحینَ فِی الۡاَرضِ وَ قَد وَکَّلوُا آلِ مُحَمَّد[ﷺ]"
شیخ سلیمان(۱۱۶) نے رسولؐ اللہ کے صادق ترین صحابی جناب ابوذر سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے مجھے حضرت علی علیہ السلام کے گھر بھیجا، میں نے درخانہ علی علیہ السلام پر جاکر آواز دی تو کسی نے جواب نہ دیا البتہ مجھے چکی کے چلنے کی آواز آ رہی تھی میں نے دیکھا کہ چکی چلانے والا تو کوئی بھی نہیں ہے، میں حضور سرور کائنات کی خدمت میں آنے کے بعد (تعجب آمیز انداز میں) جو دیکھا تھا بیان کردیا۔ حضورؐ نے فرمایا: اے ابوذر کیا تمہیں نہیں معلوم کہ خداوند عالم نے زمین پر کچھ ایسے فرشتے معین کئے ہیں جو زمین پر گردش کرتے رہتے ہیں اور انکا کام اہل بیت کی مدد اور خدمت کرنا ہے۔
نکتہ: "ملّا علی متقی" نے بھی اس روایت کو اپنی کتاب سیرت میں نقل کیا ہے۔
۶۳ ۔ ینابیع المودۃ(۱۱۷) نے روایت کی ہے:
"وَ عَنۡ رَبیعَةِ السَّعۡدی، قالَ: اَتَیۡتُ حُذَیۡفَةَ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، فَسَئَلۡتُه ُ عَنۡ اَشِیاءَ، فَقالَ: اِسۡمَع مِنّی وَعۡه ُ وَ بَلِّغِ النّاسَ اِنّی رَأَیۡتُ رَسوُلَ الله ِﷺ وَ سَمِعۡتُه ُ بِاُذُنی وَ قَدۡ جاءَ الۡحُسَیۡنُ بن عَلی رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُما عَلَی الۡمِنۡبَر فَجَعَلَه ُ عَلی مَنۡکِبَیۡه ِ ثُمَّ قالَ: اَیُّه َا النّاسُ ه ذا الۡحُسَیۡنُ خَیۡرُ النَّاس جَدّاً وَ جَدَّةً، جَدُّه ُ رَسوُلُ الله ِ سَیِّدُ وُلۡدِ آدَمَ (الی اَنۡ قالَ :) یا اَیُّه َا النّاسُ اِنَّ الۡفَضلَ وَ الشَّرَفَ وَ الۡمَنۡزِلَتَ وَ الۡوَلایَة لِرَسوُلِ الله ِ وَ ذُرِّیَتِه "
ربیعہ سعدی سے روایت کی گئی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک مرتبہ حذیفہ کے پاس کچھ سوالات کے جوابات دریافت کرنے گیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: ان سوالوں کو چھوڑو، جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اسے غور سے سنو، اور جو بات میں تمہیں بتا رہا ہوں وہ لوگوں کو بھی بتاؤ؛ میں نے خود رسولؐ اللہ کو دیکھا اور خود ان سے سنا ہے کہ رسولؐ اللہ جس وقت منبر پر رونق افروز تھے اسی اثناء میں حسین ان کے پاس آگئے حضورؐ نے انہیں اپنے شانہ پر بٹھایا اور فرمایا: اے لوگو! یہ حسینؑ ہے جو اپنے دادا دادی کے اعتبار سے لوگوں میں بہترین ہے، اس کے "جد" رسول خدا اور بنی آدم کے سرور و سردار ہیں پھر فرمایا: اے لوگو! بتحقیق فضیلت و شرافت و سرپرستی رسولؐ اللہ اور انکے اہل بیت علیھم السلام سے مخصوص ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں: ابو الشیخ ابن حبان نے کتاب التنبیہ الکبیر اور حافظ جمال الدین زرندی نے کتاب دُرَرُ السمطین میں بھی نقل کی ہے۔
۶۴ ۔ "عَنۡ زَیۡنِ الۡعابِدینَ عَنۡ اَبیه ِ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُما قالَ: مَنۡ اَحَبَّنا نَفَعَه ُ الله ُ بِحُبِّنا وَ لَو اَنَّه ُ بِالدِّیۡلَمِ "
شیخ سلیمان(۱۱۸) نے امام زین العابدین سے روایت کی ہے کہ امام حسین نے فرمایا: جو ہم اہل بیت علیھم السلام کا محب ہے چاہے وہ دیلم ہی میں ہو خداوند عالم اسے ضرور نفع پہنچائے گا۔
۶۵ ۔ "وَ عَنۡ عَبۡدِ الله ِ بن الۡحُسَیۡنِ بن الۡاِمام زَیۡنِ الۡعابِدینَ عَنۡ اَبیه ِ عَنۡ جَدِّه ِ عَنِ الۡحُسَیۡنِ السَّبۡطِ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُمۡ، قالَ: مَنۡ والانا فَلِجَدّٰﷺ والی، وَ مَنۡ عادانا فَلِجَدّیﷺ عادی "
شیخ سلیمان(۱۱۹) نے عبد اللہ بن حسین بن زین العابدین سے انہوں نے اپنے والد و دادا کے توسط سے روایت کی ہے کہ امام حسین نے فرمایا: جو ہم اہل بیت علیھم السلام کا محب ہے وہ ہمارے "جد" رسولؐ اللہ کا بھی محب ہوگا اور جو ہمارا دشمن ہے وہ ہمارے جد رسولؐ اللہ کا بھی دشمن ہے۔
۶۶ ۔ "قالَ الۡحافِظُ جَمالُ الدّینِ الزَّرنۡدی الۡمَدَنی: قال اَبوُ سَعیدٍ الۡخُدۡری: سَمِعۡتُ حَسَنَ بن عَلی رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُما مَنۡ اَحَبَّنا اهل البیت تُساقِطُ الذُّنوُبُ عَنۡه ُ کَما تُساقِطُ الرّیحُ اَلۡوَرَقَ عَنِ الشَّجَرِ "
شیخ سلیمان(۱۲۰) نے صاحب دُرر السمطین، حافظ جمال الدین زرندی مدنی سے روایت کی ہے کہ ابو سعید خدری کہتے ہیں: امام حسن سے سنا آپؑ نے فرمایا: جو شخص ہم اہل بیت علیھم السلام سے محبت رکھتا ہے اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح ہوا درخت سے پتوں کو گرا دیتی ہے۔
نکتہ: ہم سابقاً ایسی روایات نقل کرچکے ہیں جن میں بیان کیا گیا ہے کہ نماز، روزہ اور دیگر تمام اعمال کے قبول ہونے کی شرط ولایت و مودت اہل بیت علیھم السلام ہے؛ اسی لئے حتی علمائے اہل سنت بھی قائل ہیں کہ مودّت اہل بیت علیھم السلام واجب ہے۔ کیونکہ یہ مودّت اجر رسالت ہے ، یہی مودّت ، حجج الٰہی کے تقرب کا باعث ہے کہ جس کی وجہ سے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔ خالق کائنات ؐ نے فرمایا:( اِنَّ الۡحَسَنَاتِ یُذۡهِبۡنَ السَّیِّئَاتِ ) (۱۲۱) بیشک حسنات، سیّئات کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ مودّت اہلبیت علیھم السلام سے بڑھ کر کیا حسنہ ہوسکتا ہے کہ جسے خداوند عالم نے ہمارے اوپر واجب و لازم قرار دیا ہے اور اسے اجر رسالت بھی قرار دیا ہے؟!
۶۷ ۔ "فی جامِعِ الۡاُصوُلِ عَنۡ زیۡدِ ابنِ اَرۡقَم رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِﷺ لِعَلیٍّ وَ فاطِمَةَ وَ الۡحَسَنِ وَ الۡحُسَیۡنِ: اَنَا حَرۡبٌ لِمَنۡ حارَبۡتُمۡ وَ سِلۡمٌ لِمَنۡ سالَمۡتُمۡ"
شیخ سلیمان(۱۲۲) نے کتاب جامع الاصول سے روایت کی ہے کہ زید بن ارقم کا بیان ہے کہ رسولؐ خدا نے علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام سے فرمایا: میری اس سے جنگ ہے جو تم سے جنگ کرے اور میری اس سے صلح ہے جو تم سے صلح کرے۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ ترمذی نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے۔
یاد آوری: کتب اہل سنت کی طرف رجوع فرمائیں تو آپ کو حیرت ہوگی کہ وہ حضرت علی علیہ السلام کا بھی احترام کرتے ہیں اور انکے دشمنوں کا بھی احترام کرتے ہیں، حضرت علی علیہ السلام سے بھی اظہار مودت کرتے ہیں اور اسکی محبت کا بھی دم بھرتے ہیں جس نے حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کی خبر سن کر خوشی سے سجدہ شکر کیا!
ہم نے کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام "(۱۲۳) میں اس سلسلہ میں چند حقائق پیش کئے ہیں۔
۶۸ ۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی(۱۲۴) نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اکرم نے فرمایا: "یَرِدُ الۡحَوۡضَ اَه ۡلُ بَیۡتی وَ مَنۡ اَحَبَّه ُمۡ مِنۡ اُمَّتی کَه اتَیۡنِ السَّبّابَتَیۡنِ "
اہل بیت و محبان اہل بیت میرے پاس حوض کوثر پر اس طرح وارد ہوں گے جس طرح میری یہ دونوں انگلیاں ہیں۔
اس روایت کو جناب "مُلّا" نے بھی سیرت میں نقل کیا ہے
۶۹ ۔ "عَنْ سُلَيْمِ بْنِ قَيْسِ هِلالِي، قَالَ رَأَيْتُ عَلِيّاً فِي مَسْجِدِ الۡمَدینَةِ فِي خِلَافَة عُثْمَان، اَنَّ جَمَاعَةَ الۡمُه اجِرینَ و الۡاَنۡصارِ یَتَذاکَروُنَ فَضائِلَه ُمۡ وَ عَلِیٌّ ساکِتٌ فَقَالُوا: يَا اَبَا الْحَسَنِ تَكَلَّمۡ، فَقَالَ: مَعَشَرَ قُرَيْشِ وَ الْاَنْصَارِ اَسۡئَلُکُمۡ مِمَّنۡ اَعطاكُمُ اللَّهُ هَذَا الْفَضْلَ ، اَ بِاَنْفُسِكُمْ اَوۡ بِغَيْرِكُمْ، قَالُوا: اَعْطَانَا اللَّهُ وَ مَنَّ بِهِ عَلَيْنَا بِمُحَمَّدٍﷺ ، قَالَ: اَ لَسْتُمْ تَعْلَمُونَ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِﷺ قَالَ اِنِّي وَ اَهْلَ بَيْتِي كُنَّا نُوراً تَسۡعی بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ تَعَالَى قَبْلَ اَنْ يَخْلُقَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ آدَمَ بِاَرْبَعَة عَشَرَ اَلْف سَنَةً فَلَمَّا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ علیه السلام وَضَعَ ذَلِكَ النُّورَ فِي صُلْبِهِ وَ اَهْبَطَهُ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ حَمَلَهُ فِي السَّفِينَةِ فِي صُلْبِ نُوحٍ علیه السلام ثُمَّ قَذفَ بِهِ فِي النَّارِ فِي صُلْبِ إِبْرَاهِيمَ علیه السلام "
شیخ سلیمان(۱۲۵) نے حموینی سے مستنداً اور شیخ صدوق نے مفصل(۱۲۶) روایت کی ہے اور ان سب نے سلیم بن قیس ہلالی سے مسنداًٍ روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے خلافت عثمان کے زمانہ میں حضرت علی علیہ السلام کو مسجد مدینہ میں دیکھا اس وقت مہاجرین و انصار اپنے اپنے فضائل بیان کر رہے تھے لیکن آپؑ خاموش سُن رہے تھے۔ انہوں نے کہا: اے ابو الحسنؑ آپؑ بھی کچھ کہیے!آپؑ نے فرمایا: اے قریش و انصار میں تم سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ یہ فضائل جو تم بیان کر رہے ہو وہ خود تمہاری وجہ سے تمہیں حاصل ہیں یا دوسروں کی بدولت تمہیں ملے ہیں؟ سب نے کہا: یہ فضائل خداوند عالم نے ہمیں رسولؐ گرامی قدر کے طفیل عطا کئے ہیں۔ پھر حضرت علی علیھم السلام نے فرمایا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ رسولؐ نے فرمایا تھا کہ میں اور میرے اہل بیت حضرت آدم سے چودہ ہزار سال قبل نور کی صورت میں بارگاہ خداوندی میں موجود تھے۔ جب خدا نے آدم کو خلق فرمایا تو انکے صلب میں اس نور کو مقرر کیا اور انہیں زمین پر بھیج دیا پھر اس نور کو کشتی میں صلب نوح میں رکھا پھر یہ نور آتش نمرود میں صلب ابراہیم میں پہنچا
۷۰ ۔ حدیث ثقلین
اگرچہ تمام روایات حسن و خوب ہیں اور جو روایت بھی ہم نے اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں بیان کی ہے حسن ہے لیکن نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ یہ رہی ہے کہ آپ مختلف مواقع خصوصاً اپنے آخری ایام میں لوگوں کو اپنے اہل بیت اور قران کریم کے بارے میں تاکید فرماتے رہے مثلاً ۲۱ مختلف صحابہ حدیث ثقلین کی سند میں پائے جاتے ہیں جیسا کہ شیخ سلیمان(۱۲۷) نے صواعق محرقہ سے نقل کیا ہے(۱۲۸) :
"ثُمَّ اعۡلَمۡ اَنَّ لِحَدیثِ التَّمَسُّکِ بِالثَّقَلَیۡنِ طُرُقاً کَثیرةً وَ رَدَتۡ عَنۡ نَیۡف وَ عِشۡرینَ صَحابیاً، وَ فی بَعۡضِ تِلۡکَ الطُّرُقِ اَنَّه ُ ذلِکَ بِعَرَفَه ، وَ فی آخَر اَنَّه ُ قال بِغَدیرِ خُم، وَ فی آخَر اَنَّه ُ قالَ فی خُطۡبَةِ ه ِیَ آخِرُ الخُطَبِ فی مَرَضِه ، وَ فی آخَر اَنَّه ُ قالَ لَمّا قامَ خَطیباً بَعۡدَ انصرافِه مِنَ الطّائِفِ، وَ لا تُنافی اِذۡ لا مانِعَ مِنۡ اَنَّه ُ کَرَّرَ عَلَیۡه ِمۡ ذلِکَ فی تِلۡکَ الۡمَواطِنِ وَ غَیۡرِه ا اِه ۡتِماماً بِشَأۡنِ الۡکِتابِ الۡعَزیزِ وَ الۡعِتۡرَةِ الطّاه ِرَةِ "
یاد رکھو کہ حدیث ثقلین کے طرق و اسناد اتنے زیادہ ہیں کہ اس کے سلسلہ سند میں ۲۱ صحابہ موجود ہیں۔ بعض اسناد میں ہے کہ رسولؐ خدا نے سر زمین عرفات پر لوگوں سے قران و عترت کے بارے میں تاکید فرمائی تھی، بعض اسناد میں ہے کہ حضور نے غدیر خم میں قران و عترت کے بارے میں لوگوں سے وصیت و تاکید فرمائی ہے۔ بعض اسناد میں ہے کہ حضورؐ نے مدینہ میں حالت بیماری میں لوگوں سے قران و عترت کے بارے میں اس وقت وصیت و تاکید فرمائی جب آپ کے حجرہ میں اصحاب بھرے ہوئے تھے۔ بعض اسناد میں ہے کہ حضور نے حالت بیماری میں اپنے آخری خطبہ میں تاکید فرمائی تھی، بعض اسناد میں ہے کہ جب نبی کریمؐ طائف سے واپس پلٹے تھے اس وقت ثقلین کے بارے میں تاکید فرمائی تھی۔ البتہ ان تمام اسناد میں کوئی باہم تناقض و تنافی نہیں ہے کیونکہ حضور سرور کائنات نے ان تمام مقامات پر قران و عترت کے بارے میں تاکید فرمائی اور مسلسل تکرار کے ذریعے ہمیں قران و عترت کی شدت سے اہمیت سمجھاتے رہے۔
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ابن حجر مکی عالم اہل سنت بھی قران و عترت کی شدت سے اہمیت کا اقرار کرتے ہوئے نبی کریمؐ کے بیان کردہ اہتمام کا تذکرہ بھی کر رہے ہیں۔
لہذا ہم یہاں موقع کی مناسبت سے حدیث ثقلیں کی دس اسناد آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں تاکہ :
اولاً: یہ بات ثات ہوجائے کہ سلسلہ سند کے اعتبار سے یہ حدیث شریف متواتر ہے،
ثانیاً: مضمون حدیث کے اعتبار سے اس میں دو باتیں ثابت ہوجائیں:
۱ ۔ قران و عترت سے باہم تمسک کرنے والا ہرگز گمراہ نہ ہوگا برخلاف ان لوگوں کے جو صرف قران سے تمسک کا دعویٰ کرتے ہوئے کہتے ہیں: "حَسبُنا کِتابَ اللہ"۔ کیونکہ قران کریم میں عام و خاص، ناسخ و منسوخ، مطلق و مقید، مجمل و مبین اور محکم ومتشابہ موجود ہیں اور صرف اہلبیت علیھم السلام معصومین ہی جو کہ رسولؐ اللہ سے متصل ہیں وہ قران کریم کی حقیقی تفسیر بیان کرسکتے ہیں لہذا خداوند عالم نے بھی قران کریمؐ میں اَہلِ ذکر(۱۲۹) یعنی ائمہ اہل بیت علیھم السلام سے وابستہ رہنے کا حکم دیا ہے۔
۲ ۔ قران کریم اور عترت طاہرہ ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ حوض کوثر پر پہنچ جائیں لہذا امام زمانہ علیہ السلام کا وجود مقدس ہمارے زمانہ میں بھی ثابت ہوجاتا ہے کیونہ قران کریم آج بھی موجود ہے اور وہ عترت طاہرہ جو قران سے جدا نہیں ہوسکتی اس کامصداق کامل یعنی قائم آلِ محمدؐ زندہ و جاوید ہے۔
تِلکَ عشرۃٌ کاملۃ
اب ہم ثقلین یعنی قران و عترت کے بارے میں نبی کریمؐ کی وصیت و تاکید کے بارے میں منقول روایات پیش کر رہے ہیں:
۱ ۔ جلال الدین سیوطی نے کتاب احیاء المیت بفضائل اہل البیت حدیث نمبر ۶ میں نیز شیخ سلیمان(۱۳۰) نے روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ التِّرمِذی وَ حَسَّنَه ُ وَ الۡحاکِمُ عَنۡ زیۡدِ بۡنِ اَرۡقَم، قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : اِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا اِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِه لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَ لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوا كَيْفَ تُخْلِفُونِّي فیه ِما "
ترمذی (روایت کے حسن ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے) اور حاکم نے زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: میں تمہارے درمیان ایسی چیز امانت چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر اس سے متمسک رہوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے، ایک کتاب خدا اور دوسرے میری عترت و اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گے۔ پس خیال رکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہو۔
۲ ۔ ابن عبد ربّہ نے عقد الفرید(۱۳۱) میں اور جلال الدین سیوطی نے کتاب "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۷ میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ عَبۡدُ بۡنُ حَمید فی مُسۡنَدِه عَنۡ زیۡد بن ثابت، قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : اِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا اِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِه بَعدی لَمۡ تَضِلُّوا كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَ اِنَّه ُما لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ "
عبد بن حمید نے اپنی کتاب مسند میں زید بن ثابت سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خد انے فرمایا: میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر اس سے متمسک رہو گے تو میرے بعد گمراہ نہ ہوگے اور وہ کتاب خدا قران اور میری عترت و میرے اہل بیت علیھم السلام ہیں بتحقیق یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں۔
نکتہ: شیخ سلیمان(۱۳۲) یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
"اَخۡرَجَ اَحۡمَدُ فی مُسۡنَدِه عَنۡ عَبۡدِ بن حَمید بِسَنَدٍ جَیِّدٍ "
احمد بن حنبل نے اپنی کتاب مسند میں یہ روایت عبد بن حمید سے اچھی و مضبوط سند (رجال نیک) سے نقل کی ہے۔
۳ ۔ شیخ سلیمان(۱۳۳) نے کچھ مختلف، نیز جلال الدین سیوطی نے کتاب احیاء المیت بفضائل اہل البیت علیھم السلام حدیث نمبر ۸ میں روایت کی ہے:
"اَخۡرَجَ اَحۡمَدُ وَ اَبوُ یَعۡلی عَنۡ اَبی سَعیدٍ الۡخُدۡری اَنَّ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه قالَ: اِنّی اوشک اَنۡ ادعی فَاُجیب، وَ اِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثَّقَلَیۡنِ كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَ اِنَّ اللَّطیفَ الۡخَبیرَ خَبَّرَنی اَنَّه ُما لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوا كَيْفَ تُخْلِفُونِّي فیه ِما "
احمد بن حنبل و ابو یعلی نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: عنقریب مجھے پروردگار کی جانب بلالیا جائے گا اور میں اس کی طرف اجابت کروں گا پس میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب خدا اور اپنی عترت و اہل بیت بیشک خداوند عالم لطیف وخبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں گے۔ پس ہوشیار رہنا کہ انکے ساتھ کس طرح رویہ اختیار کرتے ہو۔
۴ ۔ "اَخۡرَجَ البَزّار عَنۡ عَلیٍّ، قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : اِنّی مَقۡبُوضٌ، وَ اِنّی قَدۡ تَرَکۡتُ فِيكُمْ الثَّقَلَینِ كِتَابَ اللَّهِ وَ اَهْلَ بَيْتِي وَ اِنَّکُمۡ لَنۡ تَضِلّوا بَعۡدَه ُما "
جلال الدین سیوطی نے احیاء المیت بفضائل اہل البیت علیھم السلام حدیث نمبر ۲۳ کے ذیل میں بزّار سے انہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: میری روح قبض ہونے کا وقت قریب ہے پس میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کتاب خدا اور اپنی عترت و اہل بیت لہذا ان سے متمسک ہوکر ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔
۵ ۔ "اَخۡرَجَ التِّرمذی عَنۡ جابرِ، قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : یا اَیُّه َا النّاسُ اِنّی تَرَکۡتُ فِيكُمْ مَا اِنْ اَخَذۡتُمۡ بِه لَنْ تَضِلُّوا كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي "
ترمذی نے اپنی کتاب صحیح(۱۳۴) ، بغوی نے مصابیح السنّۃ، ص ۲۰۶ ، جلال الدین سیوطی نے "احیاءء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۴۰ کے تحت جابر سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: میں تمہارے درمیان ایسی چیز بطور یادگار چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر ان سے وابستہ رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے: کتاب خدا اور میری عترت و اہل بیت علیھم السلام ہیں۔
۶ ۔ "اَخۡرَجَ الۡباروردی عَنۡ اَبی سَعید، قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : اِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا اِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِه لَنْ تَضِلُّوا، كِتَابَ اللَّهِ سَبَبُ طَرَفِه بِیَدِ الله ِ وَ طَرفه بِاَیۡدیکُمۡ وَ عِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي وَ اِنَّه ُما لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ "
جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۵۵ کے تحت باروردی سے اور انہوں نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: بتحقیق میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر اس سے وابستہ رہوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے، ایک کتاب خدا ہے جس کا ایک سرا خدا کی جانب ہے اور دوسرا سِرا تمہاری طرف ہے اور دوسری میری عترت و اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گے۔
۷ ۔ "اَخۡرَجَ اَحۡمَدُ عَنۡ زیۡدِ بن ثابِت، قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : اِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلیفَتَیۡنِ، كِتَابَ اللَّهِ حَبۡلٌ مَمۡدوُدٌ بَیۡنَ السَّماءِ وَ الۡاَرضِ وَ عِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَ اِنَّه ُما لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ "
طبرانی نے جامع الصغیر(۱۳۵) میں جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت بفضائل اہل البیت" حدیث نمبر ۵۶ کے تحت احمد بن حنبل سے انہوں نے زید بن ثابت سے روایت کی ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو خلیفہ چھوڑ کر جا رہا ہوں، کتاب خدا جو کہ آسمان و زمین کے مابین ریسمان الٰہی ہے اورمیری عترت و اہل بیت علیھم السلام بتحقیق یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گے۔
نکتہ:شیخ سلیمان(۱۳۶) نے یہ روایت "الموالاۃ" ابن عقدہ سے انہوں نے محمد بن کثیر کے طریق سے فطر و ابو الجارود سے انہوں نے ابو الطفیل سے اور انہوں نے زید بن ثابت سے نقل کی ہے۔
۸ ۔ "عَنۡ زَیۡدِ بن اَرۡقَم، قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : اِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا اِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِه لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، اَحَدُه ُما اَعۡظَمُ مِنۡ الۡآخَرِ كِتَابَ اللَّهِ حَبۡلٌ مَمۡدُودٌ مِنَ السَّماءِ اِلَی الۡاَرۡضِ وَ عِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَ لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَانْظُرُوا كَيْفَ تُخْلِفُونِّي فیه ِما "
شیخ سلیمان(۱۳۷) نے زید بن ارقم سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: بتحقیق میں تمہارے درمیان ایسی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر ان سے متمسک رہو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے جن میں اول دوسری سے اعظم ہے اور وہ کتاب خدا ہے جو کہ آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی حبل الٰہی ہے اور دوسری میری عترت ہے وہی میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کرتے ہو۔
نکتہ: شیخ سلیمان یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ترمذی نے اپنی کتاب جامع میں اسے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ روایت "حسن" ہے۔
۹ ۔ "اَنَّه ُ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه قال فی مَرَضِ مَوۡتِه : اَیُّه َا النّاسُ یوُشَکُ اَنۡ اُقۡبِضَ قَبۡضاً سَریعاً وَ قَدۡ قَدَّمۡتُ اِلَیۡکُمۡ الۡقَوۡلَ مَعۡذِرَةً اِلَیۡکُمۡ اَلا اِنّی مُخۡلفٌ فیکم كِتَابَ اللَّهِ عَزَّوَ جَلَّ وَ عِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ثُمَّ اَخَذَ بِیَدِ عَلِیٍّ فَقالَ: ه ذا عَلِیٌّ مَعَ القُرۡآنِ وَ الۡقُرآنُ مَعَ عَلِیٍّ لا يَفْتَرِقَانِ حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ فَاَسۡئَلُه ُما مَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فیه ِما "
شیخ سلیمان(۱۳۸) بلخی حنفی نے صواعق محرقہ ابن حجر مکی (حدیث نمبر ۴۰ از ابعین حدیث فضائل امیر المؤمنین کے ذیل میں) سے روایت کی ہے کہ بتحقیق حضور سرور کائنات نے اپنے بستر مریضی پر ارشاد فرمایا: عنقریب میری روح قبض ہونے والی ہے اور بیشک میں تمہارے درمیان اپنا جانشین چھوڑے جا رہا ہوں کتاب خدا اور اپنی عترت و اہل بیت، پھر آنحضرت نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: یہ علی علیہ السلام قران کے ساتھ ہے اور قران علی علیہ السلام کے ساتھ ہے یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گے پس میں تم لوگوں سے ان دونوں کے بارے میں سوال کروں گا کہ تم نے میرے بعد انکے ساتھ کیسا سلوک کیا۔
۱۰ ۔ "وَ اَخۡرَجَ اِبۡنُ عُقۡدَة فی الۡمُوالاةِ عَنۡ عامِرِ بن اَبی لِیۡلَی بن ضَمُرَة وَ حُذَیۡفَة بن اَسید قالا: قالَ النَّبی صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه أَيُّهَا النَّاسُ اِنَّ اللَّهَ مَوْلَايَ وَ اَنَا اَوْلى بِکُمۡ مِنۡ اَنۡفُسِکُمۡ، اَلَا وَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَه ذا مَوْلاهُ وَ اَخَذَ بِیَدِ عَلِیٍّ فَرَفَعَه ا حَتّی عَرَفَه الۡقَوۡمَ اَجۡمَعوُنَ، ثُمَّ قالَ: اَللَّهُمَّ وَالِ مَنْ والاهُ وَ عادِ مَنْ عاداهُ، ثُمَّ قَالَ: اِنِّي سائِلُكُمْ حينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ الۡحَوۡضَ عَنِ الثَّقَلَيْنِ فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِّي فِيهِمَا، قالوا: وَ مَا الثَّقَلَانِ؟ قَالَ: اَلثَّقَلُ الۡاَکۡبَرُ كِتابُ اللَّهِ سَبَبُ طَرَفِه بِيَدِ اللَّهِ وَ طَرَفه فِي بِاَيْديكُمْ، وَ الۡاَصۡغَرُ وَ قَدۡ نَبَّأَنِي اللَّطِيفُ الْخَبيرُ اَنْ لَا يَفۡتَرِقَا حَتَّى يلْقِياني، سَئَلۡتُ رَبّی لَهُمۡ ذَلِكَ فَاَعْطاني، فلا تسْبِقُوهُمْ فَتَهْلِكُوا، وَ لَا تعلمُوهُمْ فَاِنَّهُمْ اَعْلَمُ مِنْكُمْ "
شیخ سلیمان(۱۳۹) نے "الموالات" ابن عقدہ سے انہوں نے عامر بن ابی لیلی بن ضمرہ اور حذیفہ بن اسید سے روایت کی ہے کہ رسولِ خدا نے فرمایا: اے لوگو! اللہ میرا مولیٰ ہے اور میں تمہارے نفوس پر خود تم سے زیادہ اولویت رکھتا ہوں۔ پھر آپ نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: جس کا میں مولیٰ ہوں اس کا یہ علی علیہ السلام مولا ہے اور علی علیہ السلام کے ہاتھ کو اتنا بلند کیا کہ پوری قوم علی علیہ السلام کو اچھی طرح پہچان لے پھر آنحضرت نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا: اے اللہ! جو اسے دوست رکھے تو بھی اسے دوست رکھ اور اس کے دشمن کو دشمن رکھ۔ اور یاد رکھو جب تم حوض کوثر پر میرے پاس پہنچو گے تو میں ان دونوں کے بارے میں تم لوگوں سے سوال کروں گا پس دیکھتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہو۔ اس وقت اصحاب رسولؐ نے سوال کیا: یا رسولؐ اللہ! "ثقلین" سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ثقل اکبر "کتاب خدا" قران ہے اور ثقل اصغر میری عترت یعنی میرے اہل بیت ہیں اور خداوند مہربان و خبیر نے مجھے اطلاع دی ہے کہ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ مجھ سے آملیں گے۔ میں نے خدا سے انکی درخواست کی تھی اور خدا نے میری درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہیں مجھے عطا کیا ہے۔ دیکھو! ان سے آگے بڑھنے کی کوشش مت کرنا ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور انہیں کچھ سکھانے پڑھانے کی کوشش مت کرنا کہ یہ تم سے زیادہ جانتے ہیں۔
نکتہ ۱: شیخ سلیمان اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
"اَیۡضاً اَخۡرَجَه ُ اِبۡنُ عُقۡدَة مِنۡ طَریقِ عَبۡدِ الله ِ بن سنان عَنۡ اَبی الطُّفَیۡلِ عَنۡ عامِر وَ حُذَیۡفَةِ ابن اَسید "
یعنی نیز یہ روایت ابن عقدہ نے از طریق عبد اللہ بن سنان سے انہوں نے ابو طفیل سے انہوں نے عامر و حذیفہ بن اسید سے بھی نقل کی ہے (پس بنابریں اس روایت کی دو سندیں ہیں)۔
نکتہ ۲: اس حدیث شریف میں اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں چند حقائق موجود ہیں مثلاً رسول اکرم کے بعد حضرت علی علیہ السلام کی بلا فصل خلافت اور امت کی سرپرستی کے بارے میں تصریح موجود ہے۔ یاد رہے کہ ہم کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین(۱۴۰) " اور در دست کتاب کے مختلف اوراق میں متعدد روایات(۱۴۱) سے اس حقیقت کو ثابت کرچکے ہیں۔
روایات ثقلین میں اہل بیت علیھم السلام سے مراد
اب جبکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ احادیث ثقلین قطعی و یقینی اور متواتر ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان روایات میں اہل بیت سے مراد کون لوگ ہیں؟
اوّلاً: ہم اسی باب کی پہلی فصل میں متعدد روایات کے ذریعے اس حقیقت کو ثابت کرچکے ہیں۔
ثانیاً: احادیث ثقلین میں اہل بیت سے مراد کون لوگ ہیں؟ ہم اس سوال کے جواب میں احادیث ثقلین و روایات نبوی میں سے ایک ایسی حدیث پیش کر رہے ہیں جس میں اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے: ثعلبی جو کہ علمائے اہل سنت میں "امام اصحاب تفسیر" کے نام سے مشہور ہیں اپنی تفسیر "کشف البیان" میں آیت تطہیر(۱۴۲) کے ذیل میں نبی کریمؐ سے روایت نقل کرتے ہیں:
"قالَ رَسوُلُ الله صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : اِنّی مُخۡلفٌ فیکُمُ الثّقَلَیۡنِ كِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِي وَ اِنَّه ُما لَنۡ یَفۡتَرِقا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ کَهاتَیۡنِ – وَ ضَمَّ سبّابَتَیۡه ِ – فَقامَ اِلَیۡه ِ جابِرُ بن عَبۡدِ الله ِ الۡاَنصاری فَقالَ: یا رَسوُلَ الله ِ وَ مَنۡ عِتۡرَتُکَ ؟ قالَ: عَلِیٌّ وَ الۡحَسَنُ وَ الۡحُسَیۡنُ وَ الۡاَئِمَّه ُ مِنۡ وُلۡدِ الۡحُسَینِ اِلی یَوۡمِ الۡقِیامَةِ "
رسول اکرمؐ نے فرمایا: میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب خدا اور اپنی عترت و اہل بیت (ع)۔ اور یہ دونوں ان دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ ہوں گےیہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گے۔ اس وقت جابر بن عبد اللہ انصاری نے کھڑے ہوکر سوال کیا کہ یا رسول اللہ! آپ کی عترت کون ہے؟ فرمایا: علی و حسن و حسین علیھم السلام اور نسل حسین کے ائمہ علیھم السلام جو کہ قیامت تک رہیں گے۔
نکتہ: حدیث ثقلین کے بارے میں مذکورہ دس روایات سے روایت نمبر ۹ سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے۔
حدیث ثقلین کے بارے میں ایک اہم نکتہ
ہم نے جن افراد سے یہاں حدیث ثقلین کو نقل کیا ہے انکے اسماء یہ ہیں: زید بن ارقم، زید بن ثابت، ابو سعید خدری، امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام ، جابر بن عبد اللہ انصاری، عامر بن ابی لیلی، حذیفہ بن اسید۔ البتہ حدیث ثقلین نقل کرنے والے صرف یہی افراد نہیں ہیں بلکہ دیگر افراد مثلاً ابوذر غفاری، امّ ہانی، دختر ابو طالب، ام سلمہ اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھاوغیرہ نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے مزید تفصیل کے لئے کتاب ینابیع المودۃ، باب ۴ ، ص ۳۴ تا ۴۱ رجوع فرمائیں۔
اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں مذکورہ ستّر روایات کا نتیجہ
جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ہم نے مذکورہ ستّر روایات علمائے اہل سنت کی کتب سے استناد کرکے پیش کی ہیں؛ یہاں اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا مناسب سمجھ رہے ہیں کہ اگرچہ اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں نقل شدہ روایات بہت زیادہ ہیں لیکن ہم نے ان میں سے صر ف ستّر روایات منتخب کرکے بطور گلچین پیش کی ہیں کیونکہ اگر ان تمام روایات کو نقل کیا جائے تو اس کام کے لئے مفصل و ضخیم جلدیں درکار ہیں، جو بہرحال اس وقت ہمارے بس سے باہر ہے۔
بیشک در حقیقت زبان ، اہل بیت علیھم السلام کے مقام و مرتبہ کو بیان کرنے سے قاسر ہے البتہ جو بات آیات و روایات سے معلو م ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اہل بیت علیھم السلام سے تمسک اور انکی ولایت و مودّت واجب ہونے کے علاوہ نبی کریمؐ پر صلوات بھیجتے وقت اہل بیت علیھم السلام پر بھی صلوات بھیجنا ضروری ہے۔ اس دنیا میں مؤمنین کی سعادت ولایت اہل بیت علیھم السلام ہی کے سایہ میں ممکن ہے، انکی ولایت گناہوں کی نابودی کا باعث ہے، اہل بیت سے محبت، رسولؐ اللہ سے محبت ہے، اور ان سے دشمنی گویا رسولؐ اللہ سے دشمنی ہے۔ جبکہ:
آخرت میں پل صراط سے گذرنے، قیامت میں سوال کے موقع پر، آتش دوزخ سے نجات کے لئے، مقام اعراف میں پہچان و شناسائی کا ذریعہ، شفاعت کے موقع پر، بہشت میں داخل ہونے کے لئے اور اعمال و عبادات کے قبول ہونے کے لئے یہی ولایت و سرپرستی اہل بیت علیھم السلام کام آنے والی ہے کیونکہ حدیث ثقلین کی روشنی میں اہل بیت علیھم السلام سے تمسک، نجات کا ذریعہ اور ان سے دوری ہلاکت کا سبب ہے۔
____________________
۱ ۔تفسیر کبیر، ج۷، ص ۱۶۳۔
۲ ۔شیخ سلیمان بلخی حنفی نے کتاب ینابیع المودۃ، باب ۵۹، طبع ۸، سال ۱۳۸۵ ھ میں اور فخر رازی نے تفسیر کبیر میں سورہ احزاب آیت ۵۶ کے ذیل میں، یہ مطلب بیان کیا ہے۔
۳ ۔صواعق محرقہ، ص ۸۸۔
۴ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۲۹۵، طبع۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ھ ۔
۵ ۔تفسیر کبیر، ج۶، ص ۷۹۷۔
۶ ۔بنابر نقل از صواعق محرقہ، ابن حجر مکی، فضائل اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں دوسری آیت۔
۷ ۔شیخ سلیمان بلخی حنفی نے کتاب ینابیع المودۃ، باب ۶۵، ص ۳۶۹ میں تفسیر ابو اسحاق ثعلبی سے اور باب ۵۶، ص ۲۶۳ میں میر سید ہمدانی کی کتاب "مودۃ القربی" مودت نمبر ۱۳ سے نقل کیا ہے۔
۸ ۔شواہد التنزیل، ج۲، ص ۱۴۷۔
۹ ۔صواعق محرقہ، ص ۱۰۱۔
۱۰ ۔سورہ شوریٰ، آیت ۲۳۔
۱۱ ۔تفسیر صافی، ج۴، ص ۳۷۴۔
۱۲ ۔ذخائر العقبیٰ، ص ۹۔
۱۳ ۔اس کے اصلی و صحیح نسخہ میں اس طرح ہے:لا یَدخُل ایمانٌ قَلبَ امرَءٍ مسلمٍ ۔
۱۴ ۔ترمذی نے اس روایت کو صحیح مانا ہے۔
۱۵ ۔قول الفصل ، ج۱، ص ۴۸۹۔
۱۶ ۔نقد عین المیزان، ص ۱۲۔
۱۷ ۔ینابیع المودۃ، باب۵۸، ص ۲۷۱، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ھ۔
۱۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۴۱، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ھ۔
۱۹ ۔صواعق محرقہ، ص ۲۲۸۔
۲۰ ۔مستدرک، ج۳، ص ۱۴۸۔
۲۱ ۔ینابیع المودۃ، باب ۶، ص ۴۸، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ھ۔
۲۲ ۔ذخائر العقبیٰ، ص ۱۸۰۔
۲۳ ۔احیاء المیت بفضائل اہل البیت، حدیث ۱۳۔
۲۴ ۔صواعق محرقہ، ص ۲۳۷۔
۲۵ ۔مستدرک، ج۳، ص ۱۵۰۔
۲۶ ۔مجمع الزوائد، ج۴، ص ۲۷۸۔
۲۷ ۔صواعق محرقہ، ص ۲۳۱۔
۲۸ ۔مجمع الزوائد، ج۹، ص ۱۶۳۔
۲۹ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۲۹۶، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۳۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۲، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۳۱ ۔مجمد الزوائد، ج۹، ص ۱۷۲۔
۳۲ ۔صواعق محرقہ، ص ۲۳۰۔
۳۳ ۔شیخ سلیمان نے ینابیع المودۃ، ص ۲۷۲ میں ابی لیلی کے حوالے سے امام حسین سے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
۳۴ ۔لسان المیزان، ج۳، ص ۱۰۔
۳۵ ۔صحت روایت کی تصریح فرمائی ہے۔
۳۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۶۵، ص ۳۷۱، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ھ۔
۳۷ ۔ترمذی۔
۳۸ ۔جلال الدین سیوطی نے "احیاء المیت" حدیث نمبر ۳۵ میں ایسی ہی ایک حدیث نقل کی ہے۔
۳۹ ۔معجم الصغیر، ص ۱۷۰۔
۴۰ ۔سورہ انفال (۸) آیت ۳۳۔
۴۱ ۔سورہ انفال (۸) آیت ۳۳ کی روشنی میں۔
۴۲ ۔صواعق محرقہ، ص ۱۸۵۔
۴۳ ۔اول مظلوم عالم امیر المؤمنین ؑ، ص ۴۹۹، طبع اول، انتشارات پیام حجت، تالیف ہادی عامری۔
۴۴ ۔ینابیع المودہ، باب ۵۷، ص ۲۶۶،۔ طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۴۵ ۔مقتل الحسین ؑ، ص ۸۸۔
۴۶ ۔مستدرک ، ج۳، ص ۱۵۰۔
۴۷ ۔صواعق محرقہ، ص ۱۸۵۔
۴۸ ۔سورہ ضحی، آیت ۵۔
۴۹ ۔تاریخ بغداد، ج۲، ص ۱۴۶۔
۵۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۳۷، ص ۱۱۳، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۵۱ ۔ینابیع المودۃ، باب ۳۷، ص ۱۱۲، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۵۲ ۔الفتاویٰ الحدیثیہ، ص ۱۸۔
۵۳ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۶۸، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۵۴ ۔الجامع الصغیر، ج۱، ص ۴۲۔
۵۵ ۔الفتح الکبیر، ج۱، ص ۵۹۔
۵۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۱، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۵۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۱۹۲، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۵۸ ۔صواعق محرقہ، ص ۲۳۷۔
۵۹ ۔ذخائر العقبیٰ، ص ۱۸۔
۶۰ ۔ صواعق محرقہ، ص ۱۸۴۔
۶۱ ۔ صواعق محرقہ، ص ۲۳۷۔
۶۲ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۷، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۶۳ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۲۹۷، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ھ۔
۶۴ ۔المعجم الکبیر، ص ۱۴۸۔
۶۵ ۔سورہ زمر (۳۹) آیت ۱۷ و ۱۸۔
۶۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۶۷ ۔آیۂ تطہیر (احزاب (۳۳) آیت ۳۳)۔
۶۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۶۹ ۔آیۂ صلوات بر نبی (احزاب ۵۶)۔
۷۰ ۔احزاب (۳۳) آیت ۵۶۔
۷۱ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۲۹۵، طبع ۸، دارالکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۷۲ ۔آیہ صلوات۔ احزاب (۳۳) آیت ۵۶۔
۷۳ ۔آیہ صلوات۔ احزاب (۳۳) آیت ۵۶۔
۷۴ ۔سورہ صافات (۳۷) آیت ۲۴۔
۷۵ ۔ینابیع المودۃ، باب ۶۵، ص ۳۶۹، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۷۶ ۔سورہ سبا، آیت ۴۷۔
۷۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۶۵، ص ۳۷۰، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۷۸ ۔پہلے مرحلے میں شناخت اہل بیت ہے، معرفت و شناخت کے بعد محبت و الفت کا درجہ ہے اور پھر انکی ولایت و سرپرستی کے قبول کرنے کا مرحلہ آتا ہے۔
۷۹ ۔سورہ یوسف (۱۲) ، آیت ۳۸۔
۸۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۰، طبع۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ھ۔
۸۱ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۲۹۷، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۸۲ ۔انتشارات پیام حجت، تالیف ہادی عامری۔
۸۳ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۲۹۷، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۸۴ ۔آل عمران (۳) آیت ۱۰۳۔
۸۵ ۔سورہ صافات (۳۷) آیت ۲۴۔
۸۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۳۰۰، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ھ۔
۸۷ ۔سورہ ضحی، آیت ۵۔
۸۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۳۰۲، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۸۹ ۔سورہ شوریٰ (۴۲) آیت ۲۳، آیہ مودت۔
۹۰ ۔آیہ، مودت، سورہ شوریٰ (۴۲) آیت ۲۳ کی روشنی میں ۔
۹۱ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۳۰۴، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۹۲ ۔آیت مودت، سورہ شوریٰ (۴۲) آیت ۲۳۔
۹۳ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۳۰۵، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۹۴ ۔سورہ بقرہ (۲) آیت ۳۷۔
۹۵ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۸، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۹۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۴۰، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۹۷ ۔ چالیسویں روایت میں اس حقیقت کی تصریح بیان ہوئی ہے ۔ نیز روایت ۵۳ و ۵۴ بھی اسی سلسلہ میں ہے۔
۹۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۴۰، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۹۹ ۔ینابیع المودۃ، باب ۳۷، ص ۱۱۴، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۱۰۰ ۔سورہ مؤمنون (۲۳) آیت ۷۴۔
۱۰۱ ۔ینابیع المودۃ، باب۲۹، ص ۱۰۲، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۱۰۲ ۔سورہ اعراف (۷) آیت ۴۷۔
۱۰۳ ۔ینابیع المودۃ، باب ۳۸، ص ۱۱۴، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ھ ۔
۱۰۴ ۔سورہ نساء (۴)، آیت ۵۹۔
۱۰۵ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۸۸، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ھ۔
۱۰۶ ۔سوریٰ شوریٰ (۴۲) آیت ۲۳۔
۱۰۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۰۔
۱۰۸ ۔۱۔ عقیدہ، ۲۔ اخلاق، ۳۔ عمل؛ تعلیمات اسلامی ان ابعاد پر مشتمل ہیں۔
۱۰۹ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۳، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵۔
۱۱۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۷، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ ھ۔
۱۱۱ ۔انتشارات پیام حجت، تالیف ہادی عامری۔
۱۱۲ ۔صافات، آیت ۲۴۔
۱۱۳ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۷ ۔
۱۱۴ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۷۔
۱۱۵ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۷۔
۱۱۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۸۔
۱۱۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۸۔
۱۱۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۶۔
۱۱۹ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸، ص ۲۷۶۔
۱۲۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۸۔
۱۲۱ ۔سورہ ہود، آیت ۱۱۴۔
۱۲۲ ۔ینابیع المودۃ، باب ۶۵، ص ۳۷۰، طبع ۸۔
۱۲۳ ۔اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی ع، ص ۳۷۹، ۳۹۰، ۴۱۶، ۴۱۸۔
۱۲۴ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۱۹۲۔
۱۲۵ ۔ینابیع المودۃ، باب ۳۸، ص ۱۱۴۔
۱۲۶ ۔کمال الدین و تمام النعمة، حَدّثَنا اَبی، وَ مُحَمَّدُ بۡنُ الۡحَسَن قالا : حَدَّثَنا سَعۡدُ بۡنُ عَبۡد الله ، قالَ: حَدَّثَنا یَعۡقُوبُ بۡنُ یَزیدَ، عَنۡ حَمّادِ بۡنِ عیسی عَنۡ عُمرَ بۡنِ اُذَیۡنِه ، عَنۡ اَبانَ بۡنِ اَبی عیّاشِ عَنۡ سُلَیۡمِ بۡنِ قَیۡسٍ الۡه ِلَالی قالَ رأیتُ عَلیّاً ۔
۱۲۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۲۹۶۔
۱۲۸ ۔صواعق محرقہ، الآیۃ الرابعۃ( وَ قِفُوه ُم اِنَّه ُم مَسئُولون ) ، صافات/ ۲۴۔
۱۲۹ ۔سورہ نحل (۱۶) آیت ۴۳، سورہ انبیاء (۲۱) آیت ۷۔
۱۳۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۴، ص ۳۸۔
۱۳۱ ۔عِقد الفرید، ج۲، ص ۱۱۱۔
۱۳۲ ۔ینابیع المودۃ، باب۴، ص ۳۸۔
۱۳۳ ۔ینابیع المودۃ، باب۴، ص ۳۶۔
۱۳۴ ۔صحیح، ص ۱۹۹۔
۱۳۵ ۔جامع الصغیر، ج۱، ص ۳۵۳۔
۱۳۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۴، ص ۳۸۔
۱۳۷ ۔ینابیع المودۃ، با ۴، ص ۳۶۔
۱۳۸ ۔ینابیع المودۃ، با ب ۵۹، ص ۲۸۵۔
۱۳۹ ۔ینابیع المودۃ، باب ۴، ص ۳۸، طبع ۸، دار الکتب العراقیہ، سال ۱۳۸۵ھ ۔
۱۴۰ ۔انتشارات پیام حجت، طبع اول، ہادی عامر۔
۱۴۱ ۔مثلاً گذشتہ صفحات پر ہم نے نبی کریمؐ سے منقول ایسی دس روایات پیش کی تھیں جن میں لفظ "بعدی" آیا ہے۔
۱۴۲ ۔سورہ احزاب (۳۳) آیت ۳۳۔
مناقب و خصائص امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بارے میں کتب اہل سنت سے چالیس روایات
اب ہم محترم قارئین کی خدمت میں مناقب و خصائص امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بارے میں علمائے اہل سنت کی کتب سے چالیس روایات پیش کر رہے ہیں جن میں لسان وحی و نبوت کی زبانی فراواں حقائق پیش کئے گئے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں کثرت روایات پر علمائے اہل سنت کا اقرار
شیخ سلیمان(۱) نے صواعق محرقہ ابن حجر مکی سے نقل کیا ہے:
"قالَ صاحِبُ الصَّواعِقِ: اَلۡفَصۡلُ الثّانی فی فَضائِلِ عَلِیٍّ رَضِیَ الله عَنۡه ُ، و ه ِیَ کَثیرَةٌ عَظیمةٌ شَه یرَةٌ حَتَّی قالَ اَحۡمَدُ بۡنُ حَنۡبَل ما جاءَ لِاَحَدٍ مِنَ الۡفَضائِلِ ما جاءَ لِعَلِیِّ رَضِیَ الله عَنۡه ُ، وَ قالَ اِسۡماعیلُ الۡقاضی وَ النِّسائی وَ اَبُو علی النیشابوری: لَمۡ یَرِدۡ فی حَقِّ اَحَدٍ مِنَ الصَّحابَةِ بِالۡاَسانیدِ الۡحِسانِ اَکۡثَرُ مِمّا جاء فی عَلِیٍّ، اَسۡلَمَ وَ ه ُوَ اِبۡنُ عَشَرَ سِنین، قالَ اِبۡنُ عَبّاس وَ اَنَسُ وَ زَیۡدُ بن اَرۡقَم وَ سَلۡمَانُ الۡفارۡسی وَ جَماعَةٌ اِنَّه ُ اَوَّلُ مَنۡ اَسۡلَمَ وَ نَقَلَ بَعۡضُه ُمۡ اَلۡاِجۡماعَ عَلَیه ِۡ، و نَقَلَ اَبوُ یَعۡلی عَنۡ عَلِیٍّ کَرَّمَ الله ُ وَجۡه َه ُ قالَ: بَعَثَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه ِ وَ سَلَّمَ یَوۡمَ الۡاِثۡنَیۡنِ وَ اَسۡلَمۡتُ یَوۡمَ الثَّلاثَةِ، اَخۡرَجَ اِبۡنُ سَعۡد بن زیۡدِ بن الۡحَسَنِ، قالَ : لَمۡ یَعۡبُدِ الۡاَوۡثانَ قَطُّ فی صِغَرِه ِ وَ مِنۡ ثَمَّة یُقالُ فیِ کَرَّمَ الله ُ وَجۡه َه ُ"
ابن حجر مکی صاحب صواعق محرقہ نے لکھا ہے: فصل دوئم: فضائل علی رضی اللہ عنہ کے بیان میں۔ یہ فضائل اتنے فراواں، عظیم اور مشہور ہیں کہ احمد بن حنبل کہتے ہیں؛ جتنے فضائل علی بن ابی طالب کی شان میں بیان کئے گئے ہیں کسی کے لئے بیان نہیں کئے گئے۔
اسماعیل قاضی، نسائی اور ابو علی نیشاپوری کہتے ہیں: جتنی حسن روایات حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کسی صحابی کے لئے وارد نہیں ہوئی ہیں، علی علیہ السلام نے اس وقت اعلان اسلام کیا جب صرف دس سال کے تھے۔
ابن عباس، انس بن مالک، زید بن ارقم، سلمان فارسی اور دیگر اصحاب رسولؐ اللہ کا کہنا ہے: سب سے پہلے اسلام کا اعلان کرنے والے علی بن ابی طالب‘ ہیں۔ بعض اس سلسلہ میں اجماع کے قائل ہیں۔ ابو یعلی نے حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: رسولؐ خدا بروز پیر مبعوث برسالت ہوئے اور میں نے منگل کے دن اعلان اسلام کردیا۔
ابن سعد بن زید بن حسن نے روایت کی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: میں نے اسلام سے قبل زمانہ طفلی میں بھی کبھی کسی بت کے سامنے سجدہ نہیں کیا۔ اسی لئے حضرت علی علیہ السلام کے حق میں "کرّمَ اللہ وَجہہُ" کہا جاتا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام سے کسی کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا
میر سید علی ہمدانی شافعی نے کتاب مودۃ القربی (مودت ہفتم) میں ابو وائل کے توسط سے ابن عمر سے روایت کی ہے:
"عَنۡ اَبی وائلِ عَن اِبۡنِ عُمَر رَضِیَ الله ِ عَنۡه ُ قالَ: کُنّا اِذا اَعۡدَدۡنا اَصۡهابَ النَّبی قُلۡنا اَبوُبَکۡر وَ عُمَر وَ عُثۡمانِ فَقالَ رَجُلٌ یا اَبا عَبۡدِ الرَّحۡمانِ فَعَلِیٌّ ما ه و؟ قالَ: عَلِیٌّ مِنۡ اهل البیت لا یُقاسُ بِه اَحَدٌ ه ُوَ مَعَ رَسوُلِ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه فی دَرَجَتِه "
ابو وائل نے عبد اللہ بن عمر سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ اصحاب نبی کریمؐ کو شمار کر رہے تھے کہ اصحاب نبیؐ یہ ہیں: ابوبکر و عمر و عثمان (لیکن حضرت علی علیہ السلام کا نام نہیں لیا) تو ایک شخص نے سوال کیا: اے ابو عبد الرحمن تم نے علی علیہ السلام کو شمار کیوں نہیں کیا (کیا وہ اصحاب میں سے نہیں ہیں؟) عبد اللہ ابن عمر نے کہا وہ اہل بیت علیھم السلام میں سے ہیں، ان سے کسی کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا وہ رسولؐ اللہ کے ساتھ ان کے درجہ میں ہیں۔
میرسید علی ہمدانی نے کتاب مودت القربیٰ (مودّت ہفتم) میں احمد بن محمد کرزری بغداد سے روایت کی ہے:
"وَ عَنۡ اَحۡمَد بن مُحَمَّدٍ الۡکَرۡزَریِ الۡبَغۡدادی رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ قالَ: سَمِعۡتُ عَبۡدَ الله ِ بن اَحۡمَد حنبل، قالَ: سَألۡتُ اَبی عَنِ التَّفۡضیلِ فَقال: اَبوبَکر و عُمَر وَ عُثۡمان ثُمّ أَ سَکَتَ، فَقُلۡتُ: یا اَبَتِ اَیۡنَ عَلِیُّ بن ابیطالِبٍ قالَ: ه ُوَ مِنۡ اهل البیت لا یُقاسُ بِه ه ؤُلاءِ"
احمد بن محمد کرزری بغدادی سے روایت کی گئی ہے وہ کہتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن احمد بن حنبل سے سنا ہے وہ کہتے ہیں میں اپنے والد (احمد بن حنبل) سے اصحاب کی برتری کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: ابوبکر و عمر و عثمان پھر وہ خاموش ہوگئے۔ میں نے فورا سوال کیا: پس علی بن ابی طالب کیا ہوئے؟ والد نے جواب دیا: علی بن ابی طالب‘ اہل بیت علیھم السلام میں سے ہیں ان لوگوں کا حضرت علی سے موازنہ و مقایسہ نہیں کیاجاسکتا۔
افضلیت علی علیہ السلام کے بارے میں ابن ابی الحدید کا بیان
اگرچہ افضلیت علی علیہ السلام "اظہر من الشمس" ہے اور علمائے اہل سنت نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے لیکن ابن ابی الدہید نے شرح نہج البلاغہ(۲) میں مفصل اس سلسلہ میں قلم فرسائی کی ہے اور مختلف علوم مثلاً علم، فقہ، علم تفسیر، نحو، تجوید و قرائت وغیرہ کو شمار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان تمام علوم کے مبدع حضرت علی علیہ السلام ہی ہیں۔ پھر حضرت علی علیہ السلام کی مختلف صفات مثلاً شجاعت، قوّت بازو، سخاوت، حلم و بردباری، جہاد، بلاغت، زہد و تقویٰ اور تدبیر وغیرہ بیان کرتے ہیں؛ اور بالآخر کہتے ہیں:
"ما اَقوُلُ فی رَجُلٍ اَقَرَّ لَه ُ اَعۡدائُه ُ وَ خُصوُمُه ُ بِالۡفَضۡلِ، وَ لَمۡ یُمۡکِنُه ُمۡ جَحد مَناقِبِه وَ لا کِتمانَ فضائِلِه ، فَقَدۡ عَلِمۡتَ اَنَّه اِسۡتَوۡلی بَنُوا اُمَیَّة عَلی سُلۡطانِ الۡاِسۡلامِ فی شَرِۡ الۡاَرۡضِ وَ غَرۡبِه ا وَ اجۡتَه َدوُا بِکُلِّ حیلَةٍ فی اِطۡفاءِ نوُرِه ِ، وَ مَنَعوُا مِنۡ روایةِ حَدیثٍ یَتَضَمَّنَ لَه ُ فَضیلَة، اَو یَرۡفَعُ لَه ُ ذِکۡراً، حَتّی خَطرُوا اَنَّ یُسَمَّی اَحَدٌ بِاِسۡمِه فَما زادَه ُ اِلَّا رَفۡعَةً وَ سُمُوّاً، وَ کان کَالمِسۡکِ کُلَّما سُتِرَ اِنۡتَشَرَ عَرفُه ُ، وَ کُلَّما کُتِمَ تَضَوَّعَ نَشۡرُه ُ، وَ کَالشَّمۡسِ لا تسۡتُر بِالرّاحِ، وَ کَضَوۡ ءِ النَّه ارِ اِنۡ حَجَبَتۡ عَنۡه ُ عَیۡنٌ واحِدة، اَدۡرَکَتۡه ُ عُیوُنٌ کَثیرَةٌ"
میں اس شخص کے بارے میں کیا کہوں کہ جس کے فضائل کا اعتراف اس کے دشمن بھی کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ لوگ ہرگز آنجناب کے مناقب کا نہ انکار کرسکتے ہیں نہ انکے فضائل پر پردہ ڈال سکتے ہیں۔ بتحقیق آپ سب جانتے ہیں کہ بنی امیہ مشرق تا مغرب سرزمین اسلامی پر مسلط ہوکر شب و روز اور ہر حیلہ و وسیلہ کے ذریعے نور علی بن ابی طالب‘ کو خاموش کرنے کی کوششیں کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت علی علیہ السلام کے فضائل پر مشتمل روایات کے نشر و بیان میں مانع ہوتے رہے، انکی یاد مٹانے کے لئے سعی کرتے رہے یہاں تک کہ کسی کو اپنے فرزند کا نام بھی علی علیہ السلام نہیں رکھنے دیتے تھے۔ حالانکہ انکے اس کام سے نام علی علیہ السلام کو اور زیادہ رفعت و شہرت حاصل ہوگئی جس طرح مُشک کو جتنا روکنا چاہیں وہ اتنا ہی زیادہ فضا کو معطر کر دیتی ہے۔ نیز جس طرح نور خورشید کو نہیں روکا جاسکتا حضرت علی علیہ السلام کے نور فضائل کو بھی نہیں روکا جاسکتا ہے۔ علی علیہ السلام روز روشن کے نور کی طرح ہیں کہ اگر بعض آنکھیں انہیں نہیں دیکھ سکتیں لیکن کثیر آنکھیں انکے نور کو درک کرتی ہیں۔
جو کچھ محترم قارئین کی خدمت میں پیش کیا گیا ہے وہ ایسے حقائق پر مشتمل ہے جن میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور یہ فضائل کا ایسا سمندر ہے جس کا ساحل نہیں ہے۔
ایک اعتراض اور اس کا دندان شکن جواب!
ممکن ہے کہ مخالفین میں سے کوئی یہ اعتراض کرے کہ اخبار و روایات میں جو فضائل حضرت ابوبکر و عمر و عثمان کے بارے میں آئے ہیں وہ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں بیان کردہ فضائل سے معارض ہیں۔
جواب:
اول: ہم فی الحال اس موضوع پر گفتگو نہیں کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی فضیلتیں ہیں لیکن دوسرے اصحاب میں کوئی فضیلت نہیں ہے بلکہ ہم اس وقت فقط تمام صحابہ کرام پر حضرت علی علیہ السلام کی افضلّیت و برتری کو ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ جس افضلیّت و برتری کا خود اہل سنت کے علماء بھی اعتراف و اثبات کرتے ہوئے ان الفاظ میں تصریح کر رہے ہیں: "حضرت علی علیہ السلام سے اصحاب میں سے کسی کا بھی موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے"۔
دوئم: ہم شیعوں کے مخالفین نے خود اپنی اسناد کے توسط سے خلفائے ثلاثہ کے ایسےفضائل نقل کئے ہیں جو صرف ہماری نظر ہی میں نہیں بلکہ بہت سے علمائے اہل سنت کی نظر میں بھی قابل اثبات نہیں ہیں۔ اس سلسلہ میں مزید تفصیلات کے لئے علمائے اہل سنت کی کتب کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے مثلاً: مقدسی کی تذکرۃ الموضوعات، فیروز آبادی کی سفر السعادات، ذہبی کی میزان الاعتدال، سبط ابن جوزی کی کتاب الموضوعات، جلال الدین سیوطی کی لآلی المصنوعہ وغیرہ۔ ان کتب میں تصریح کرتے ہوئے کہا گیا ہے یہ احادیث موضوعات و مفتریات میں سے ہیں۔
ہم نے کتاب اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام(۳) میں شیخین کے فضائل کے بارے میں علمائے اہل سنت کی کتب سے آٹھ احادیث نقل کی ہیں اور پھر علمائے اہل سنت کی انہی کتب (الموضوعات و میزان الاعتدال وغیرہ) سے استفادہ کرتے ہوئے انکے بطلان کو ثابت کیا ہے۔
سوئم: آپ نے فضائل اصحاب ثلاثہ کے اثبات کے لئے جو دلائل پیش کئے ہیں وہ درحقیقت یکطرفہ ہیں ورنہ حتی ایک روایت بھی متفق علیہ پیش نہیں کرسکتے کہ جس میں حضور سرور کائنات نے انہیں اپنا وصی و جانشین قرار دیا ہو، یا اپنے آپ کو شہر علم اور انہیں باب شہر علم ، یا کشی نجات قرار دیا ہو، یا انکی صلح کو اپنی صلح قرار دیا ہو، یا ان سے جنگ کو اپنی جنگ قرار دیا ہو، یا انہیں اپنا نفس و جان قرار دیا ہو، یا ان سے بغض و عناد رکھنے سے لوگوں کو ڈرایا ہو
چہارم: جن روایات میں اصحاب ثلاثہ کے فضائل بیان کئے گئے ہیں ان میں فضائل علی علیہ السلام بیان کرنے والی روایات سے مقابلے کی قوت کہاں ہے، نہ سند میں زور ہے اور نہ ہی دلالت میں طاقت بیان ہے اور نہ ہی یہ روایات انکی خلافت پر دلالت کر رہی ہیں اور نہ ہی حضرت علی علیہ السلام پر انکی افضلیّت کو ثابت کر رہی ہیں اسی لئے علمائے اہل سنت میں سے کسی نے بھی انکی خلافت کے لئے ان روایات کا سہارا نہیں لیا ہے۔
آخر وہ کون سی فضیلت و حقیقت ہے کہ جس کی بنا پر عبد اللہ بن عمر و احمد بن حنبل جیسے حضرات یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ "حضرت علی علیہ السلام سے اصحاب میں سے کسی کا بھی موازنہ نہیں کیا جاسکتا حتی کہ خلفاء بھی"۔
اب جبکہ ہم نے علمائے اہل سنت کے اعتراف کو آپ کے سامنے پیش کر دیا ہے اور احمد بن حنبل و نسائی جیسے علمائے اہل سنت نے تصریح کی ہے کہ جتنی روایات حسن، فضائل علی علیہ السلام کے بارے میں نقل ہوئی ہیں کسی صحابی کے لئے وارد نہیں ہوئی ہیں۔ اب ہم حضرت علی علیہ السلام کے فضائل و خصائص پر مشتمل "گلستان روایات" سے چالیس روایات "گلچین" کر رہے ہیں:
۱ ۔ بقول حضرت عمر، فضائل علی علیہ السلام قابل شمار نہیں
محمد بن یوسف گنجی شافعی نے کتاب "کفایت الطالب" باب نمبر ۶۲ ، میر سید علی ہمدانی شافعی نے کتاب "مودّۃ القربی" مودت پنجم میں، اور شیخ سلیمان بلخی حنفی نے کتاب "ینابیع المودۃ" باب ۵۶ ، ص ۲۴۹ میں عمر ابن خطاب اور عبد اللہ بن عباس سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے امیر المؤمنین علی بن ابی طالب‘ سے فرمایا:"لَو اَنَّ الۡبحَرۡرَ مِدادٌ، وَ الرّیاضَ اَقۡلامٌ، وَ الۡاِنۡسَ کُتّابٌ، ما اَحۡصَوۡا فضائِلَکَ یا اَبَا الۡحَسَنِ"
اگر تمام دریا روشنائی میں تبدیل ہوجائیں، تمام درخت قلم بن جائیں، تمام انسان لکھنے بیٹھ جائیں اور تمام جن حساب کریں تب بھی فضائل ابو الحسن شمار نہیں کرسکتے۔
۲ ۔ حضرت علی علیہ السلام ، نبی کریمؐ کے بعد سب کے ولی و سرپرست ہیں
"اَلۡحَدیثُ الثَّامِن عَشَرَ: عَنۡ عِمۡران بن الۡحصین رَضِیَ الله ِ عَنۡه ُ قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه وَ سَلَّمَ: عَلِیٌّ مِنّی وَ اَنَا مِنۡه ُ وَ ه ُوَ وَلِیُّ کُلِّ مُؤۡمِنٍ وَ مُؤۡمِنَةٍ بَعۡدی"
شیخ سلیمان(۴) نے عمران بن حصین سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: علی علیہ السلام مجھ سے ہے اور میں علی علیہ السلام سے ہوں اور وہ میرے بعد ہر مؤمن و مؤمنہ کے سرپرست ہیں۔
نکتہ: شیخ سلیمان یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ صاحب فردوس نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
۳ ۔ علی علیہ السلام ، وصی و وارثِ رسولؐ اللہ ہیں
" اَلۡحَدیثُ الثّامِنُ: عَن بُرَیۡدَة رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : لِکُلِّ نَبِیٍّ وَصی و وارِثٌ وَ اِنَّ عَلیّاً وَصِیّی وَ وارثی "
شیخ سلیمان(۵) نے بریدہ سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: ہر نبی کا ایک وارث و وصی ہوتا ہے اور میرا وصی و وارث علی بن ابی طالب ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ صاحب فردوس نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے۔
۴ ۔ سوال سلمان! وصی پیغمبر کون؟
"عَنۡ اَنَسِ بن مالِک رَضِیَ الله ِ عَنۡه ُ، قالَ: قُلۡنا لِسَلۡمان سَلۡ النَّبیﷺ مَنۡ وَصِیُّه ُ؟ فَسَألَه ُ فَقالَ: یا سَلۡمانُ وصیِّی و وارثِی وَ مُقۡضی دَیۡنی وَ مُنۡجِزُ وَعۡدی عَلِیُّ بن ابیطالِبٍ کَرَّمَ الله ُ وَجۡه َه ُ"
شیخ سلیمان(۶) نے انس بن مالک سے روایت کی ہے: وہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمان سے کہا: نبی کریمؐ سے سوال کرو کہ آپؐ کا جانشین و وصی کون ہے؟ پس سلمان نے جب سوال کیا تو حضورؐ نے فرمایا: اے سلمان! میرا وصی و وارث، میری امانات کو لوٹانے والا اور میرے وعدوں کو پورا کرنے والا علی بن ابی طالب‘ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں: یہ روایت احمد بن حنبل نے بھی مسند میں نقل کی ہے۔
۵ ۔ حضرت علی علیہ السلام کو امیر المؤمنین کا خطاب کب ملا؟
" عَن حُذَیۡفَة رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ ، قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : لَوۡ یَعۡلَمُ النّاسُ مَتی سُمِّیَ عَلِیٌّ اَمیرَ الۡمؤۡمِنینَ لَما اَنۡکَروُا فَضائله ُ، سُمِّیَ بِذلِکَ وَ آدَمُ بَیۡنَ الرّوُحِ و الۡجَسَدِ وَ حینَ قالَ: اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ قالوُا بلی، فَقالَ الله ُ تَعالی: اَنَا رَبُّکُمۡ و مُحَمَّدٌ نَبِیُّکُم وَ عَلِیٌّ اَمیرُکُمۡ "
شیخ سلیمان(۷) نے حذیفہ سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: اگر لوگوں کو یہ بات معلوم ہوجاتی کہ علی علیہ السلام کو امیر المؤمنین کا خطاب کب ملا ہے تو ہرگز ان کے فضائل کا انکار نہ کرتے۔ علی علیہ السلام کو اس وقت امیر المؤمنین کا خطاب ملا ہے جب آدم روح وجسد کے درمیان تھے اور جس وقت خداوند عالم نے عہد لیتے وقت سوال کیا تھا: کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں تو سب نے کہا تھا: کیوں نہیں یقیناً تو ہمارا پروردگار ہے۔ اس وقت خداوند عالم نے فرمایا: میں تمہارا پروردگار ہوں، محمدؐ تمہارے پیغمبر ہیں اور علی علیہ السلام تمہارے امیر ہیں۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں: صاحب فردوس نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
نکتہ: میر سید علی ہمدانی شافعی نے کتاب مودّت القربی میں مودّت چہارم کا یہ عنوان قرار دیا ہے: "فِی اَنَّ عَلِیّاً امیرُ الۡمُؤۡمِنینَ وَ سَیِّدُ الۡوَصِین وَ حُجَّةُ الله ِ عَلَی الۡعالَمینَ " یعنی یہ چوتھی مودّت "حضرت علی امیر المؤمنین و سید الوصیین و حجۃ اللہ علی العالمین" کے بارے میں ہے۔
۶ ۔ نبیؐ و علی علیہ السلام خلق خدا پر حجت ہیں
"عَنۡ اَنَسِ بن ماِلک رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ قالَ: رَأَیۡتُ رَسوُلُ الله ِﷺ جالِساً مَعَ عَلِیٍّ فَقالَ: اَنا وَ ه ذا حُجَّةُ الله ِ عَلی خَلۡقِه "
شیخ سلیمان(۸) نے انس بن مالک سے روایت کی ہے ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ رسولؐ اللہ، حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ تشریف فرما ہیں اور آپؐ نے اس وقت فرمایا: میں اور یہ علی علیہ السلام خلقِ خدا پر حجت ہیں۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ صاحب فردوس و احمد بن حنبل نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
۷ ۔ وصایت علی علیہ السلام پر اصحاب کا نبیؐ کی بیعت کرنا
"عُتۡبَةُ بن عامِرِ الۡجه َنّی، قالَ: بایَعَنا رَسُولُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه عَلی قَوۡلِ اَنۡ لا اِله َ اِلّا الله ُ وَحۡدَه ُ لا شَریکَ لَه ُ وَ اَنَّ مُحَمَّداً نَبِیُّه ُ وَ عَلیّاً وَصِیُّه ُ فَاَیُّ مِنَ الثَّلاثَةِ تَرَکۡناه ُ کَفَرۡنا، و قالَ لَنَا النَّبی صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه اُحِبُّوا ه ذا یَعۡنی عَلِیّاً فَاِنَّ الله ُ یُحِبُّه ُ وَ استَحۡیوُا فَاِنَّ الله َ یَسۡتَحیی مِنۡه ُ"
میر سید علی ہمدانی نے کتاب "مودۃ القربی" مودت نمبر ۴ میں روایت کی ہے کہ عتبہ بن عامر جہنی کا کہنا ہے: رسول اللہ نے ہم سے تین چیزوں کی بیعت لی: اول یہ کہ اللہ کے سِوا کوئی معبود نہیں ہے وہ واحد و یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ دوئم یہ کہ محمد مصطفی اللہ کے نبیؐ ہیں، سوئم یہ کہ علی علیہ السلام نبی کے وصی ہیں۔ پس جو شخص بھی ان تین میں سے کسی ایک کو بھی ترک کردے گا تو وہ کافر ہوجائے گا۔ پھر نبی نے ہم سے فرمایا: دیکھو! اس علی علیہ السلام سے محبت رکھنا کیونکہ خدا بھی ان سے محبت رکھتا ہے اور انکے بارے میں شرم وحیاء رکھو کیونکہ خدا بھی انکے بارے میں شرم و حیاء رکھتا ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان(۹) کہتے ہیں: میر سید علی ہمدانی نے اس روایت کو مودّت القربی میں نقل کیا ہے۔
۸ ۔ اے ابوبکر، علی علیہ السلام میرے وزیر ہیں انکی رضا میری رضا ہے
"اَبوُ مُوسی الۡحَمیدی، قالَ: کُنۡتُ مَعَ رَسوُلِ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه وَ اَبی بَکۡر وَ عُثۡمان وَ عَلی، فَالۡتَفَتَ اِلی اَبی بَکۡر فَقالَ یا اَبابَکر ه ذا الّذی تَراه ُ وَزیری فِی السَّماءِ وَ وَزیری فِی الۡاَرۡضِ یَعۡنی عَلِیَّ ابۡنَ اَبیطالِبٍ فَاِنَّ اَحۡبَبۡتَ اَنۡ تَلۡقَی الله َ وَ ه ُوَ عَنۡکَ راضٍ فَارۡضِ عَلِیّاً فَاِنَّ رِضائَه ُ رِضاءَ الله وَ غَضَبَه ُ غَضَبَ الله ِ "
شیخ سلیمان حنفی(۱۰) نے میر سید علی ہمدانی کی کتاب "مودۃ القربی" مودّت نمبر ۶ کے ذیل میں روایت کی ہے کہ ابو موسیٰ حمیدی کہتے ہیں: ایک مرتبہ میں، علی علیہ السلام ، ابوبکر اور عثمان پیغمبر گرامی قدر کے ہمراہ تھے کہ رسولؐ اللہ نے ابوبکر کی طرف رُخ کرکے فرمایا: اے ابوبکر یہ شخص جسے تم دیکھ رہے ہو یعنی علی بن ابی طالب‘یہ آسمانوں میں میرا وزیر ہے اور زمین پر بھی میرا وزیر ہے۔ اگر تم چاہتے ہو کہ خدا سے اس حالت میں ملاقات کرو کہ وہ تم سے راضی ہو تو علی علیہ السلام کو راضی رکھو کیونکہ علی علیہ السلام کی رضا رضائے الٰہی ہے اور غضب علی علیہ السلام غضب الٰہی ہے۔
سوال: کیا حضرت ابوبکر نے سقیفہ بنی ساعدہ و فدک اور حضرت علی علیہ السلام کو بیعت کے لئے مسجد لے جاتے ہوئے اور دیگر موارد میں، اس روایت پر عمل کیا تھا یا نہیں؟
ہم نے کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام(۱۱) " میں کتب علمائے اہل سنت سے اس سوال کا جواب پیش کیا ہے رجوع فرمائیں۔
۹ ۔ روایت عمر بن خطاب کی روشنی میں علی ؑ، خلیفہ و وصی پیغمبر ہیں
"عُمَرُ بن الۡخَطّابِ قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه لَمّا عَقَدَ الۡمُؤاخاةَ بَیۡنَ اَصۡحابِه قالَ: ه ذا عَلِیٌّ اَخی فی الدُّنیا وَ الۡآخِرَةِ وَ خَلیفَتی فی اَه ۡلی وَ وَصِیّیِ فی اُمَّتی وَ وارثُ عِلۡمی وَ قاضی دَیۡنی، مالُه ُ مِنّی، مالی مِنۡه ُ، نَفۡعُه ُ نَفعی، وَ ضُرُّه ُ ضُرّی، مَنۡ اَحَبَّه ُ فَقَدۡ اَحَبَّنی وَ مَنۡ اَبۡغَضَه ُ فَقدۡ اَبۡغَضنی "
شیخ سلیمان(۱۲) نے میر سید علی ہمدانی شافعی کی کتاب "مودۃ القربی" مودت نمبر ۶ کے ذیل میں حضرت عمر سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں جب حضور نے اپنے اصحاب کے درمیان عقد برادری اور رشتہ اخوّت قائم فرمایا تھا اس وقت فرمایا: یہ علی علیہ السلام دنیا و آخرت میں میرا بھائی ہے، میرے لوگوں میں میرا خلیفہ ہے، میری امت میں میرا وصی ہے، میرے علم کا وارث ، میری امانتوں کو ادا کرنے والا ہے، اس کا مال میرا مال ہے، میرا مال اس کا مال ہے، ا س کا نفع میرا نفع ہے اور اس کا نقصان میرا نقصان ہے، جو علی علیہ السلام کا محب ہے وہ میرا محب ہے اور یاد رکھو جو علی علیہ السلام کا دشمن ہے وہ میرا دشمن ہے۔
سوال: رحلت رسول کے موقع پر، سقیفہ بنی ساعدہ اور حضرت علی علیہ السلام کو جبرا مسجد لے جاتے وقت حضرت عمر نے کس حد تک اس روایت پر عمل فرمایا تھا؟
جواب کے لئے کتاب "اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام(۱۳) " کی طرف رجوع فرمائیں جس میں علمائے اہل سنت کی کتب سے مستند جواب دیا گیا ہے۔
۱۰ ۔ روایت انس کے مطابق علی علیہ السلام وزیر و خلیفہ نبیؐ ہیں
" وَ عَنۡ اَنَس، قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : اِنَّ اَخی و وَزیری وَ خَلیفَتی فی اَه ۡلی وَ خَیۡرُ مَنۡ اَتۡرَکَ بَعۡدی، یُقۡضی دَیۡنی وَ یُنۡجِزُ مَوۡعِدی عَلِیُّ بن اَبیطالِبٍ "
میر سید علی ہمدانی شافعی نے کتاب مودۃ القربی "مودت نمبر ۷" کے ذیل میں انس ابن مالک سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: بتحقیق علی بن ابی طالب‘ میرا بھائی، میرا وزیر اور لوگوں میں میرا خلیفہ ہے اوروہ بہترین شخص جسے میں اپنے بعد چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ وہ ہی میری امانتوں کو لوٹائے گا میرے قرض ادا کرے گا اور میرے وعدوں کو پورا کرے گا وہ علی بن ابی طالب‘ ہی ہے۔
۱۱ ۔ علی علیہ السلام فاروق بین حق و باطل
" عَنۡ اَبی ذَرۡ الغفاری رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه : سَتَکونُ مِنۡ بَعۡدی فِتۡنَةٌ فَاِنۡ کانَ ذلِکَ فَالزموُا عَلیَّ بن اَبیطالِبٍ فَاِنَّه ُ الۡفاروُقُ بَیۡنَ الۡحَقِّ وَ الۡباطِلِ"
شیخ سلیمان(۱۴) اور میر سید علی ہمدانی نے کتاب مودّۃ القربی "مودت نمبر ۶" کے ذیل میں ابوذر غفاری سے روایت کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا: عنقریب میرے بعد فتنے سر اٹھانے والے ہیں پس اس وقت تم لوگوں کے لئے ضروری ہے کہ علی بن ابی طالب‘ کے شانہ بشانہ رہنا کیونکہ یہی فاروق اور حق و باطل کو جدا کرنے والے ہیں۔
نکتہ: شیخ سلیمان و میر سید علی ہمدانی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ صاحب فردوس نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
نکتہ: ہم نے کتاب اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام(۱۵) میں کتب و روایات اہل سنت کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ "فاروق بین حق و باطل" صرف حضرت علی علیہ السلام ہی ہیں۔ نہ کہ حضرت عمر۔ نیز روایات سے ثابت ہے کہ حضرت عمر کو پہلی مرتبہ "فاروق" کا خطاب اہل کتاب نے دیا تھا اب آپ خود فیصلہ کیجئے کہ حقیقی فاروق وہ ہے جسے رسولؐ اسلام نے فاروق کا خطاب دیا ہے یا وہ جسے اہل کتاب نے یہ خطاب دیا ہے؟!
۱۲ ۔ علی علیہ السلام باب دین ہے جو اس میں داخل ہو وہ مؤمن ہے
" اَلۡحَدیثُ الۡاَرۡبَعوُن: عَنۡه ُ (عَنۡ عَبۡدِ الله ِ بن مسعود) رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُل الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وَ آلِه وَ سَلَّمَ : عَلِیُّ ابۡنُ اَبیطالِبٍ بابُ الدّینِ مَنۡ دَخَلَ فیه ِ کانَ مُؤۡمِناً وَ مَنۡ خَرَجَ مِنۡه ُ کانَ کافِراً "
شیخ سلیمان(۱۶) نے عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ رسولِ خدا نے فرمایا: علی بن ابی طالب‘ باب دین ہے جو اس میں وارد ہوگا وہ مؤمن ہے اور جو اس سے خارج ہوگیا وہ کافر ہوگیا۔
نکتہ: اس روایت میں دین سے مراد خالص و حقیقی دین محمدؐ ہے یعنی جسے رسول گرامی قدر نے پیش کیا ہے اور اہل بیت علیھم السلام جس کا اجر چاہتے تھے اسی لئے ایک روایت کے مطابق امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا:"وَ الله ِ اَنۡتُم عَلی دینی وَ دینِ آبائی اِبۡراه یمَ و اِسۡماعیلَ علیه م السلام " قسم بخدا تم میرے اور میرے آباء ابراہیم و اسماعیل کے دین پر ہو۔
اور اس روایت میں کفر سے مراد کفر از دین نہیں ہے لہذا س پر کفار کے احکام مثلاً نجاست وغیرہ کا اطلاق نہیں ہوتا؛ بلکہ "کفر نعمت" ہے کہ جس کی بنا پر (قران کریمؐ کی روشنی میں) شدید عذاب(۱۷) کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس روایت میں ایمان سے مراد، وہ ہی ایمان مراد ہے جو کہ (دیگر روایات کی روشنی میں) اعمال کے قبول ہونے کی شرط ہے اور جس کے نہ ہونے کی صورت میں اعمال رد کر دیئے جائیں گے۔ جیسا کہ گذشتہ مناقب اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں ذکر شدہ ستّر روایات میں سے بعض روایات اس حقیقت کو صاف بیان کر رہی ہیں مثلاً روایت نمبر ۹ اور ۱۵ میں واضح طورپر بیان کیاگیا ہے کہ "قبولی اعمال" فقط حبّ آلِ محمدؐ پر منحصر ہے اور واضح ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب‘ سید اہلبیت علیھم السلام اور آل محمدؐ میں سے ہیں۔
۱۳ ۔ رسولؐ اللہ و حضرت علی علیہ السلام ایک شجر سے ہیں
شیخ سلیمان(۱۸) نے میر سید علی ہمدانی شافعی کی کتاب "مودّت القربی" مودّت نمبر ۸ کے ذیل میں ابن عباس سے، اور ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ کی دوسری فصل (حدیث نمبر ۱۲) میں طبرانی کی معجم الاوسط سے روایت کی ہے:
"عَنۡ عَبۡدِ الله ِ بن مَسۡعوُد رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : اَنَا وَ عَلِیٌّ مِنۡ شَجَرَةٍ واحِدَةٍ، وَ النّاسُ مِنۡ اَشۡجَارٍ شَتّی"
عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ رسولِؐ خدا نے فرمایا: میں اور علی علیہ السلام ایک شجر سے ہیں (یعنی ہماری اصل و اساس ایک ہے) اور باقی سب لوگ مختلف درختوں سے ہیں۔
۱۴ ۔ جس طرح آگ لکڑیوں کو نابود کردیتی ہے، حب ّ علی علیہ السلام گناہوں کو نابود کردیتی ہے۔
"عَنۡ اِبۡنِ عَبّاس رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : حُبُّ عَلِیِّ بن اَبیطالِبٍ یَأۡکُلُ الذُّنُوبَ کَما تَأَکُلُ النّارُ الۡحَطَبَ"
شیخ سلیمان(۱۹) نے ابن عباس ے روایت کی ہے کہ رسولِؐ خدا نے فرمایا: علی علیہ السلام کی محبت گناہوں کو اس طرح نابود کردیتی ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو نابود کردیتی ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان بلخی حنفی کہتے ہیں کہ صاحب فردوس نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
۱۵ ۔ علی علیہ السلام باب حِطّہ (مغفرت) ہیں
"اَخۡرَجَ الدّارُ قِطۡنی فِی الۡاِفۡرادِ عَن اِبۡنِ عَبّاس اَنَّ النَّبی صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه قالَ : عَلِیٌّ بابُ حِطَّة مَنۡ دَخَلَ فیه ِ کانَ مُؤۡمِناً وَ مَنۡ خَرَجَ مِنۡه ُ کانَ کافِراً"
ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ فصل دوئم "فضائل علی" حدیث نمبر ۳۴ کے ذیل میں روایت کی ہے دار قطنی نے "الافراد" میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ بیشک رسولؐ اللہ نے فرمایا: علی باب حطہ (یعنی باب مغفرت در بیت المقدس) ہیں جو اس باب میں وارد ہوگیا وہ مؤمن ہے اور جو ا س سے خارج ہوگیا وہ کافر ہے۔
اس روایت میں ایمان و کفر کے بارے میں ہم قبلاً روایت نمبر ۱۲ میں توضیح بیان کرچکے ہیں۔
نکتہ: ہم اس سے قبل اسی جیسی ایک روایت فضائل اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں روایت نمبر ۵۲ بیان کرچکے ہیں۔
۱۶ ۔ پل صراط سے گذرنے کے لئے علی علیہ السلام کا اجازت نامہ
"رَوی اِبنُۡ السَّمّاک اَنَّ اَبابَکر قالَ لِعَلی رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُما سَمِعۡتُ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : یَقوُلُ: لا یُجَوَّزُ اَحَدٌ عَلَی الصِّراطِ اِلّا مَنۡ کَتَبَ لَه ُ عَلِیٌّ اَلۡجوازَ"
ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ کی دوسری فصل "فضائل علی" حدیث نمبر ۴۰ کے ذیل میں روایت کی ہے کہ ابن سماک سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا: میں نے سنا ہے کہ رسولؐ اللہ فرماتے تھے: علی علیہ السلام کے تحریر کردہ اجازت نامہ کے بغیر کوئی شخص پل صراط سے نہیں گذر سکے گا۔
۱۷ ۔ علی علیہ السلام کے چہرہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے
"اَلۡحَدیثُ الثّلاثُونَ: عَنۡ مَعاذِ بن جَبَلٍ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : النَّظۡرُ اِلی وَجۡه ِ عَلِیٍّ عِبادَةٌ"
شیخ سلیمان(۲۰) نے حدیث نمبر ۳۰ کے ذیل میں معاذ بن جبل سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: علی علیہ السلام کے چہرہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ صاحب فردوس نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
۱۸ ۔ علی علیہ السلام دروازۂ شہر علم
"اَلۡحدیثُ التّاسِع وَالۡعِشۡرُونَ: عَنۡ اَبیِ الدَّرۡدا رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : عَلِیٌّ بابُ عِلۡمی وَ مُبَیِّنٌ لِاُمَّتِی ما اَرۡسَلۡتُ بِه مِنۡ بَعۡدی، حُبُّه ُ ایمانٌ و َ بُغۡضُه ُ نِفاقٌ وَ النَّظَرُ اِلَیۡه ِ رَأۡفَةٌ وَ مَوَدَّتُه ُ عِبادَةٌ"
شیخ سلیمان(۲۱) کہتے ہیں کہ ابو الدرداء سے روایت کی گئی ہے کہ رسولِؐ خدا نے فرمایا: علی علیہ السلام میرے علم کا دروازہ ہے اور جس امر پر خداوند عالم نے مجھے مبعوث برسالت فرمایا ہے میرے بعد علی علیہ السلام وہی کام انجام دے گا(۲۲) ۔ علی علیہ السلام سے دوستی ایمان اور علی علیہ السلام سے دشمنی نفاق کی علامت ہے، علی علیہ السلام کے چہرے کی طرف دیکھنا رافت اور ان سے مودّت عبادت ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتےہیں: یہ روایت صاحب فردوس نے بھی نقل کی ہے۔
نکتہ: حضرت علی علیہ السلام کے باب علم پیغمبرؐ ہونے کے بارے میں روایت متواتر اور مسلسل ہے جیسا کہ متفق علیہ (شیعہ و اہل سنت کے درمیان متفق علیہ) روایت کے مطابق رسولؐ نے اپنے آپ کو شہر علم اور علی علیہ السلام کو دروازہ شہر علم قرار دیا ہے۔ شیخ سلیمان بلخی حنفی نے ینابیع المودۃ ، باب ۵۶ ، حدیث نمبر ۲۲ کے تحت جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے علی علیہ السلام کا بازو پکڑ کر با آواز بلند فرمایا:
"اَنَا مَدینَةُ الۡعِلۡمِ وَ عَلِیٌّ بابه ُا فَمَنۡ اَرادَ الۡمَدینَةَ فَلۡیَأَتِ الۡبابَ"
میں شہر علم ہوں اور علی علیہ السلام اس کا دروازہ ہے جو شخص شہر علم میں داخل ہونا چاہتا ہے اسے دروازہ سے آنا چاہیے۔
اس روایت میں اہم نکتہ یہ ہے کہ حضورؐ نے شہر میں داخلہ کو فقط ایک چیز پر منحصر کر دیا ہے کہ لوگ دو حالونں سے خارج نہیں ہیں۔
۱ ۔ یہ کہ اس شہر علم کا ارادہ ہی نہیں رکھتے۔
۲ ۔ یہ کہ اس شہر علم کا رادہ رکھتے ہیں۔
دوسری صورت میں اس شہر میں داخل ہونے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ علی بن ابی طالب‘ کی ذات بابرکت ہے۔
۱۹ ۔ بعد از رسولؐ، علی علیہ السلام اعلمِ امت ہیں
"الۡحدیثُ السّادِسُ وَ الۡعِشۡروُنَ: عَنۡ سَلۡمان رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : اَعۡلَمُ اُمَّتی مِنۡ بَعۡدی عَلِیُّ بن اَبیطالِبٍ"
شیخ سلیمان(۲۳) نے سلمان سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: میرے بعد علی علیہ السلام میری امت میں سب سے زیادہ صاحب علم ہے۔
۲۰ ۔ در بہشت پر لکھا ہے علی علیہ السلام رسولؐ اللہ کے بھائی ہیں
"الۡحَدیثُ التّاسِع عَشَرَ: عَنۡ جابِرِ بن عَبۡدِ الله ِ الۡاَنۡصاری رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : مَکۡتُوبٌ عَلی بابِ الۡجَنَّةِ قَبۡلَ اَنۡ یَخۡلُقَ الله ُ السَّماواتِ وَ الۡاَرضَ بِاَلۡفَیۡ عام "مُحَمَّدٌ رَسوُلُ الله ِ وَ عَلِیٌّ اَخوُه ُ "
شیخ سلیمان(۲۴) نے جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ رسولؐ نے فرمایا: زمین و آسمان خلق ہونے سے دو ہزار سال قبل در بہشت پر لکھا گیا "محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور علی علیہ السلام انکے بھائی ہیں"۔
نکتہ: شیخ سلیمان یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ابن مغازلی (فقیہ شافعی) نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے۔
۲۱ ۔ مؤمن کے نامۂ اعمال کا عنوان حبِّ علی بن ابی طالب‘ ہے
"اَلۡحدیث الاَوَّلُ: عَنۡ اَنَسِ بن مالِک رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : عُنوانُ صَحیفةِ الۡمؤۡمِمنِ حُبُّ عَلِیِّ ابۡنِ اَبیطالِبٍ"
شیخ سلیمان(۲۵) و میر سید علی ہمدانی شافعی نے کتاب مودت القربی "مودت نمبر ۶ " کے تحت انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: مؤمن کے نامۂ اعمال کا عنوان "حبّ علی بن ابیطالب‘" ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ صاحب فردوس نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
۲۲ ۔ حبِّ علیؑ واجب ہے
"الۡحَدیثُ الرّابعُ وَ الۡخَمۡسوُن: عَنۡ جابِر رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : جائَنی جِبۡرائیلُ بِوَرَقَةٍ خَضۡراء مِنۡ عِنۡدِ الله ِ عَزَّوَجَلَّ مَکۡتوُبٌ فیه ا بِبَیاضٍ "اِنّی اِفۡتَرَضۡتُ حُبَّ عَلِیِّ ابۡنِ اَبیطالِبٍ عَلی خَلۡقی فَبَلِّغۡه ُمۡ ذلِکَ"
شیخ سلیمان(۲۶) نے جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: جبرئیل پروردگار کی جانب سے میرے پاس ایک سبز رنگ کا ورق لیکر حاضر ہوئے جس پر سفید رنگ سے لکھا ہوا تھا "اے میرے حبیب میں نے اپنی تمام مخلوق عالم پر حبّ علی علیہ السلام کو واجب قرار دیا ہے پس تمام لوگوں کو یہ بات بتادو"۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ صاحب فردوس نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
۲۳ ۔ حبّ علی علیہ السلام "حسنہ" و نیکی ہے
"عَنۡ معَاذ بن جَبَل رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : حُبُّ عَلِیِّ بن ابیطالِبٍ حَسَنَةٌ لا تَضُرُّ مَعَه ا سَیِّئَةٌ، وَ بُغۡضُه ُ لا تَنۡفَعُ مَعَه احَسَنَةٌ"
شیخ سلیمان(۲۷) نے معاذ بن جبل سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: محبتِ علی علیہ السلام ایسی نیکی ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے کوئی گناہ و برائی نقصان نہیں پہنچا سکتی اور بغض و دشمنی علی بن ابی طالب‘ ایسا گناہ ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی حسنہ اور اچھائی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ صاحب فردوس نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
۲۴ ۔ علی ؑ، رسولؐ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں
" اَخۡرَجَ التِّرۡمِذی عَنۡ عائِشَة رَضِیَ الله ُ عَنۡه ا قالَتۡ: کانَتۡ فاطِمَةُ اَحَبّ النِّساءِ اِلی رَسوُلِ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه وَ زَوۡجُه ا عَلِیُّ اَحبّ الرِّجالِ اِلَیۡه ِ "
ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ فصل دوئم "فضائل علی" کے آخر میں نقل کیا ہے کہ ترمذی نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے وہ کہتی ہیں: فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا خو اتین میں رسولؐ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور مردوں میں علی علیہ السلام سب سے زیادہ محبوب ہیں۔
سوال: اس حقیقت کے باوجود حضرت عائشہ کس بنیاد پر حضرت علی علیہ السلام سے جنگ جمل کے لئے روانہ ہوئی تھیں؟!
رجوع فرمائیں: کتاب 'اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی ؑ" ص ۳۷۰ تا ۳۹۰ ۔
۲۵ ۔ ذکر علی علیہ السلام عبادت ہے
"عَنۡ عائِشَة رَضِیَ الله ُ عَنۡه ا قالَتۡ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : ذِکۡرُ عَلِیٌّ عِبادَةٌ "
شیخ سلیمان(۲۸) نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ذکر ویاد علی علیہ السلام عبادت ہے۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ یہ روایت صاحب فردوس نے بھی نقل کی ہے۔
۲۶ ۔ غدیر میں ابلاغ فضائل علی علیہ السلام فرمانِ الٰہی کی بنا پر
"الحَدیثُ السّادِس وَ الۡخَمۡسُوں: عَنِ البُراءِ بۡنِ عازِبِ رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ فی قَوۡلِه تَعالی: یا ایُّه َا الرَّسُولُ بَلِّغۡ ما اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَبِّکَ ای بَلِّغۡ مِنۡ فَضائِلِ عَلِیٍ نُزِلَتۡ فی غَدیرِ خُمۡ، فَخَطبَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه وَسَلَّمَ، قالَ : مَنۡ کُنۡتُ مَوۡلاه ُ فَه ذا عَلیٌّ مَوۡلاه ُ، فَقالَ عُمَرُ: بَخٍّ بَخٍّ لَکَ یا عَلی اَصۡبَحۡتَ مَوۡلایَ و مَولی کُلِّ مُؤۡمِنٍ وَ مُؤمِنَةٍ"
شیخ سلیمان(۲۹) نے براء بن عازب سے قول خداوندی( یا ایُّه َا الرَّسُولُ بَلِّغۡ ما اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَبِّکَ ) (مائدہ/ ۶۷) کے بارے میں روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں: یعنی جو کچھ فضائل علی علیہ السلام کے بارے میں نازل کیا جاچکا ہے غدیر خم میں اس کا ابلاغ کردو۔ پس رسولؐ اللہ نے ایک خطبہ پڑھا اور فرمایا: جس کا میں مولیٰ و سرپرست ہوں اس کا یہ علی علیہ السلام بھی مولیٰ و سرپرست ہے۔ اس موقع پر حضرت عمر نے حضرت علی علیہ السلام کی طرف رخ کرکے کہا: مبارک ہو ، مبارک ہو اے علی علیہ السلام کہ آج آپؑ میرے اور ہر مون و مؤمنہ کے مولیٰ و سرپرست بن گئے۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ یہ روایت ابو نعیم و ثعلبی نے بھی نقل کی ہے۔
۲۷ ۔ علی علیہ السلام اور انکے شیعہ بہشتی ہیں
"فاطمة علیه ا السلام ، قالَتۡ: اِنَّ اَبی صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه نَظَرَ اِلی عَلِیٍّ وَ قالَ: ه ذا وَ شیعَتُه ُ فِی الۡجَنَّةِ "
میر سید علی ہمدانی شافعی کتاب مودۃ القربی(۳۰) مودت نمبر ۹ کے تحت روایت کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے فرمایا: میرے والد گرامی نے علی علیہ السلام کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: علی علیہ السلام اور انکے شیعہ بہشت میں ہیں۔
۲۸ ۔ علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا اور حسن و حسینؑ اہل بیت میں سے ہیں
"اَلثّالِثُ: اَخۡرَجَ مُسۡلِمُ وَ التِّرۡمِذی عَنۡ سَعۡدِ بن اَبی وَقّاص قالَ لَمّا نَزَلَت ه ذِه ِ الۡآیَةُ نَدۡعُ اَبۡنَائَنا وَ اَبنائَکُم دَعا رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه عَلِیّاً وَ فاطمة و حَسَناً وَ حُسَیۡناً فَقالَ: اَللّه ُمَّ ه ؤُلاءِ اَه لی "
ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ فصل دوئم "فضائل علی ؑ" حدیث سوئم کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ مسلم و ترمذی نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ہے کہ جب آیۂ مباہلہ( نَدۡعُ اَبۡنَائَنا وَ اَبنائَکُم ) "(۳۱) نازل ہوئی تو رسولؐ اللہ نے علی علیہ السلام و فاطمہ اور حسن و حسین علیھم السلام کو بلا کر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: پروردگار! یہ میرے اہل بیت ہیں۔
۲۹ ۔ علی علیہ السلام میں " ۹۰" خِصال انبیاء ہیں
"جابر، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : مَنۡ اَرادَ اَنۡ یَنۡظُرَ اِلی اِسۡرافیل فی ه َیۡبَتِه وَ اِلی میکائیلَ فی رُتۡبَتِه وَ اِلی جِبۡرائیلَ فی جَلالَتِه وَ اِلی آدَمَ فی عِلۡمِه وَ اِلی نُوحٍ فی خَشۡیَتِه وَ اِلی اِبۡراه یمَ فی خلّتِه وَ اِلی یَعۡقُوب فی حُزۡنِه وَ اِلی مُوسی فی مُناجاتِه وَ اِلی اَیُّوب فی صَبۡرِه وَ اِلی یَحیی فی زُه ۡدِه ِ وَ اِلی عیسی فی عِبادَتِه وَ اِلی یونُس فی وَرَعِه وَ اِلی مُحَمَّدٍ فی حَسَبِه وَ خَلۡقِه فَلۡیَنۡطُرۡ اِلی عَلِیٍّ فَاِنَّ فیه ِ تِسعینَ خِصۡلَةً مِنۡ خِصالِ الۡاَنۡبیاءِ جَمَعَه ا الله ُ فیه ِ وَ لَمۡ یَجۡمَعۡه ا فی اَحَدٍ غَیۡره "اَلحدیث"، وَ عَدَّ ذلِکَ فی کِتاب جَواه ِرِ الۡاَخۡبارِ"
میر سید علی ہمدانی نے مودّت القربی(۳۲) "مودّت نمبر ۸" میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ رسولؐ خدا نے فرمایا: جو شخص اسرافیل کی ہیبت، میکائیل کا مقام، جبرائیل کی جلالت، آدمؑ کا علم، نوح کا خشوع، ابراہیم کی خُلّت، یعقوب کا حزن، یوسف کا جمال، موسیٰ کی مناجات، ایوب کا صبر، یحیی کا زہد، عیسیٰ کی عبادت، یونس کا تقویٰ، محمد مصطفی کا حسب اور انکی خلقت نورانی کو دیکھنا چاہتا ہے تو اسے علی علیہ السلام کو دیکھنا چاہیے کیونکہ علی میں ۹۰ خصال انبیاء ہیں کہ خداوند عالم نے یہ تمام صفات علی علیہ السلام میں جمع کردی ہیں اور انکے علاوہ کسی کو یہ سعادت نہیں ملی ہے۔
حدیث کا بقیہ حصہ کتاب جواہر الاخبار میں نقل کیا گیا ہے۔
۳۰ ۔ فقط نبیؐ و علی علیہ السلام ہر حالت میں مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں
"الثّالِثُ عَشَرَ: اَخۡرَجَ البزّار عَنۡ سَعۡدٍ ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : لِعَلِیٍّ: لَا یَحِلُّ لاَحَدٍ اَنّۡ یَجۡنُبَ فی ه ذا المسجد غیۡری وَ غَیۡرُکَ"
ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ "فصل دوئم۔ فضائل علی ؑ" حدیث نمبر ۱۳ کے ذیل میں بزار سے روایت کی ہے اور انہوں نے سعد سے روایت کی ہے رسولِؐ خدا نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لئے حالت جُنُب میں مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں ہے۔
نکتہ: ہم نے کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام(۳۳) " میں کتب اہل سنت کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ قران و سنت کی روشنی میں رسولِ ؐ خدا اور حر ت علی علیہ السلام نبوت کے علاوہ تمام صفات میں شریک و مماثل ہیں۔
۳۱ ۔ علی علیہ السلام "افضل رجالِ العالمین" ہیں
" وَ عَنۡ اِبنِ عَبّاس رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : اَفۡضَلُ رِجالِ الۡعالَمینَ فی زَمانی ه ذا عَلِیٌّ وَ اَفۡضَلُ نِساءِ الۡاَوّلینَ وَ الۡآخرینَ فاطمة "
میر سید ہمدانی شافعی نے کتاب مودۃ القربی(۳۴) "مودت نمبر ۷" میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: میرے زمانہ میں تمام مَردوں میں سب سے افضل مرد علی علیہ السلام ہیں اور خواتین میں اولین و آخرین میں سب سے افضل فاطمہ سلام اللہ علیھا ہیں۔
نکتہ: حضرت علی علیہ السلام کی افضلیّت کے بارے میں روایات اتنی کثرت سے وارد ہوئی ہیں کہ احمد بن حنبل و عبد اللہ ابن عمر صحابہ یہاں تک کہ خلفاء کو بھی علی علیہ السلام سے قابل موازنہ نہیں سمجھتے۔
خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ جلد نمبر ۷ ، صفحہ نمبر ۴۲۱ میں روایت کی ہے کہ رسول ؐ اللہ نے فرمایا:
" مَنۡ لَمۡ یَقُلۡ عَلِیٌّ خَیۡرُ النّاس فَقَدۡ کَفَرَ"
جس نے علی علیہ السلام کے بہترین انسان ہونے کا انکار کیا وہ کافر ہوگیا۔
ہم اس کفر کے بارے میں گذشتہ صفحات پر روایت نمبر ۱۲ میں توضیح پیش کرچکے ہیں لہذا تکرار کی ضرورت نہیں۔
۳۲ ۔ علی علیہ السلام قسیم النار و الجنّۃ ہیں
" وَ اَخۡرَجَ الدّارُ قِطۡنی اَنَّ عَلِیّاً قالَ لِلسّتَّةِ الّذینَ جَعلَلَ عُمَرُ بۡنُ الۡخَطّاب اَلشُّوری بَیۡنَه ُم، کَلاماً طَویلاً مِنۡ جُمۡلَتِه : اَنۡشِدُکُمۡ بِالله ِ ه َلۡ فیکُم اَحَدٌ قالَ لَه ُ رَسُولُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه و سلم: یا عَلی اَنۡتَ قَسیمُ النّارِ وَ الۡجَنَّة، یَوۡمَ الۡقِیامَة غَیۡری، قالُوا: اَللَّه ُمَّ لا "
ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ "فصل دوئم۔ فضائل علیؑ" حدیث نمبر ۴۰ کے ذیل میں دار قطنی سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر کی معین کردہ چھ رکنی شوریٰ سے حضرت علی علیہ السلام نے طویل خطاب و گفتگو فرمائی مثلاً: میں تمہیں خدا کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں کہ کیا تم میں کوئی ایسا فرد ہے جس سے رسولؐ نے وہ کچھ فرمایا ہو جو مجھ سے فرمایا ہے، اور مجھ سے رسولؐ اللہ نے فرمایا: اے علی علیہ السلام ! تم قیامت میں دوزخ و جنت کے تقسیم کرنے والے ہوگے۔ سب نے کہا: بیشک خدا جانتا ہے کہ آپؑ کے علاوہ نبیؐ نے کسی سے یہ نہیں فرمایا۔
ابن حجر مکی یہ روایت نقل کرنے کے بعد امام علی رضا سے ایک اور روایت نقل کرتے ہیں کہ :" عَنۡ عَلِیٍّ الرِّضا اَنَّه ُ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه قالَ : یا عَلی اَنۡتَ قَسیمُ الۡجَنَّةِ وَ النَّارِ فَیَوۡمَ الۡقِیامةِ تَقُولُ لِلنّارِ ه ذا لی وَ ه ذا لَک"
یعنی حضرت علی رضا سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: اے علی علیہ السلام تم جنت و دوزخ کو تقسیم کرنے والے ہو، پس قیامت کے دن تم جہنم سے کہو گے: یہ شخص میرا ہے (وہ نجات پائے گا) اور یہ شخص تیرا ہے (جہنم اسے نگل لے گا)۔
نکتہ: میر سید علی ہمدانی شافعی نے کتاب مودت القربیٰ میں مودّت نمبر ۹ کا یہ عنوان قرار دیا ہے :" اَلۡمَودَّةُ التّاسِعَةُ فی اَنَّ مَفاتیح الۡجَنَّةِ وَ النّارِ بِید عَلِیٍّ علیه السلام "یعنی مودت نہم اس بیان میں ہے" جنت و جہنم کی چابی علی علیہ السلام کے ہاتھ میں ہے"۔
۳۳ ۔ اذیتِ علی علیہ السلام ، اذیتِ رسولؐ اللہ ہے
" اَلۡحَدیثُ التّاسِعُ: عَنۡ سَعۡدِ بۡنِ اَبی وَقّاص رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : مَنۡ آذی عَلِیّاً فَقَدۡ آذانی، قالَه ا ثَلاثاً "
شیخ سلیمان(۳۵) نے سعد بن ابی وقاص سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: جس نے علی علیہ السلام کو اذیت پہنچائی اس نے درحقیت مجھے اذیت پہنچائی ہے۔ رسولؐ اللہ نے تین بار اس بات کو دہرایا ہے۔
۳۴ ۔ اگر سب محب علی علیہ السلام ہوجاتے تو جہنم خلق ہی نہ ہوتا
" عَنۡه ُ (عَنۡ عبد الله بن مسعود) رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : اِذَا اجۡتَمَعَ النّاسُ عَلی حُبِّ عَلِیِّ بن اَبیطالِبٍ ما خَلَقَ الله ُ النّارَ "
شیخ سلیمان(۳۶) نے عبد اللہ ابن مسعود سے اور میر سید علی ہمدانی شافعی نے مودۃ القربی "مودت نمبر ۶" میں امیر المؤمنین سے اور ایک دوسری روایت میں عمر بن خطاب سے روایت کی ہے کہ عبد اللہ ابن مسعود سے روایت کی ہے کہ رسولؐ نے فرمایا: اگر تمام لوگ محبت علی علیہ السلام پر جمع ہوجاتے تو خداوند عالم آتش جہنم کو خلق ہی نہ کرتا۔
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ صاحب فردوس نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے۔
۳۵ ۔ وائے بر دشمنِ علی ؑ
"اِبنِ عَبّاس رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ قالَ: نَظَرَ النَّبی صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه اِلی عَلِیٍّ فَقالَ: اَنۡتَ سَیِّدٌ فِی الدُّنۡیا وَ سَیِّدٌ فِی الۡآخرةِ، مَنۡ اَحَبَّکَ فَقَدۡ اَحَبَّنی، حَبیبُکَ حَبیبی وَ حَبیبُ الله ، وَ عَدُوُّکَ عَدُوّی وَ عَدُوأُ الله ِ ، وَ الۡوَیۡل لِمَنۡ اَبۡغَضَکَ مِنۡ بَعۡدی"
میر سید علی ہمدانی نے مودۃ القربیٰ(۳۷) "مودت نمبر ۴" میں ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہؐ نے علی علیہ السلام کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: تم دنیا و آخرت میں سید و سردار ہو۔ جو تم سے محبت رکھتا ہے وہ درحقیقت مجھ سے محبت رکھتا ہے اور جو تمہارا دشمن ہے وہ درحقیقت میرا اور خدا کا دشمن ہے اور میرے بعد تم سے دشمنی کرنے والے پر وائے ہو۔
سوال: رحلت رسولؐ کے بعد سقیفہ و فدک کے موقع پر اور علی علیہ السلام کو جبرا مسجد لے جاتے ہوئے، در خانہ علی علیہ السلام کو آگ لگاتے وقت کن لوگوں نے علی علیہ السلام سے اپنی دشمنی کو علنی کردیا تھا؟
جواب کے لئے رجوع فرمائیں "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علیؑ(۳۸) " جس میں علمائے اہل سنت کی مستند کتابوں سے جواب مہیا کیا گیا ہے۔
۳۶ ۔ محبت علی ؑ، خدا و رسولؐ سے محبت ہے
" اَلسّابِع عَشَرَ: اَخۡرَجَ الطَّبَرانی بِسَنَدٍ حَسَنٍ عَنۡ اُمّ سَلَمة عَنۡ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه ، قالَ: مَنۡ اَحَبَّ عَلِیّاً فَقدۡ اَحَبَّنی وَ مَنۡ اَحَبَّنی فَقَدۡ اَحَبَّ الله َ، وَ مَنۡ اَبۡغَضَ عَلِیّاً فَقدۡ اَبۡغَضَنی وَ مَنۡ اَبۡغَضَنی فَقدۡ اَبۡغَضَ الله َ "
ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ "فصل دوئم ۔فضائل علی" حدیث نمبر ۱۷ کے ذیل میں روایت کی ہے کہ طبرانی نے سندِ حسن سے ام سلمہ سے انہوں نے رسولؐ اللہ سے روایت کی ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جس نے علی علیہ السلام سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی (پس علی علیہ السلام سے محبت، خدا و رسولؐ سے محبت ہے) نیز جس نے علی علیہ السلام سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی اس نے خدا سے دشمنی کی (لہذا دشمن علی ؑ۔ دشمن خدا و رسولؐ ہے)۔
۳۷ ۔ علی علیہ السلام پر سبّ نبیؐ پر سبّ و شتم ہے
" اَلثّامِن عَشَرَ: اَخۡرَجَ اَحۡمَدُ وَ الۡحاکِمُ بِسَنَدٍ صَحیح عَنۡ اُمّ سَلَمة، قالَتۡ: سَمِعۡتُ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه یَقُولُ: مَنۡ سَبّ عَلِیّاً فَقَدۡ سَبَّنی "
ابن حجر نے صواعق محرقہ میں "فصل دوم۔ فضائل علی ؑ" روایت نمبر ۱۸ کے ذیل میں احمد بن حنبل و حاکم نیشاپوری سے سند صحیح کے مطابق ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ رسولِ ؐ خدا نے فرمایا: جس نے علی علیہ السلام کو دشنام و گالی دی اس نے بتحقیق مجھے دشنام و گالی دی ہے۔
سوال: اس صحیح السند کے ہوتے ہوئے کہ جس میں تصریح موجود ہے کہ علی علیہ السلام کو گالی دینا گویا نبی کو گالی دینا ہے؛ تو معاویہ جو کہ دشنام دہندۂ علی علیہ السلام ہے بلکہ تمام ممالک اسلامی میں اس سبّ علی کا حکم جاری کرنے والا ہے؛ آخر (بعض علماء) اہل سنت اس معاویہ کا احترام کیوں کرتے ہیں؟!
کتاب "اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی ؑ(۳۹) " ص ۴۱۶ تا ۴۳۷ کتب اہل سنت سے استناد کرتے ہوئے اس سلسلہ میں چند عرائض پیش کئے گئے ہیں۔
۳۸ ۔ علی علیہ السلام اور قران ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے
" اَلۡحادی وَ الۡعشۡرُونَ: اَخۡرَجَ الطَّبَرانی فیِ الاَوۡسَطِ عَنۡ اُمِّ سَلَمة قالَتۡ: سَمِعۡتُ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه یقُولُ: عَلِیٌّ مَعَ القُرۡآنِ وَ الۡقُرآنُ مَعَ عَلِیٍّ لا یَفۡتَرِقان حَتّی یَرِدا عَلَیَّ الۡحَوضَ "
ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ فصل دوئم۔ فضائل علی ؑ" حدیث نمبر ۲۱ کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ طبرانی نے معجم الاوسط میں ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا: علی علیہ السلام قران کے ساتھ ہیں اور قران علی علیہ السلام کے ساتھ ہے یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گے۔
۳۹ ۔ علی ؑ، صاحب منزلت ہارونی
" اَلۡحَدیثُ الاوَّل: اَخۡرَجَ الشیۡخان عَن سَعۡد بن اَبی وقّاص، وَ اَحۡمَدُ وَ البَزّازُ عَنۡ اَبی سعیدٍ الۡخُدۡری، وَ الطَّبَرانی عَنۡ اَسۡماء بِنۡتِ قیس وَ عنۡ امّ سلمة وَ حَبَشِ بن جُنادة وَ اِبۡنِ عُمَر وَ اِبنِ عَبّاسِ وَ جابِرِ بۡن سَمُرَةِ وَ عَلیٍ وَ براءِ بن عازِبِ وَ زیۡد بۡنِ اَرۡقَم، قالوُا جَمیعاً: اِنَّ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه خَلَّفَ عَلیّ بن ابیطالِبٍ فی غَزۡوَة تَبُوک، فقالَ: یا رَسُولَ الله تُخَلِّفُنی فی النِّساءِ وَ الصِّبۡیان؟ فَقالَ: اَما تَرۡضی اَنۡ تَکُونَ مِنّی بِمَنۡزلةِ ه اروُنَ مِنۡ مُوسی غَیۡرُ اَنَّه ُ لا نَبِیَّ بَعدی؟ "
ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ "فصل دوئم۔ فضائل علی ؑ" حدیث نمبر ۱ کے ذیل میں نقل کیا ہے مذکورہ راویوں نے رسولؐ اللہ کے گیارہ اصحاب کرام سے روایت کی ہے کہ رسول خدا نے جنگ تبوک کے موقع پر علی علیہ السلام کو مدینہ میں بطور جانشین چھوڑ دیا۔ اس وقت علی علیہ السلام نے عرض کیا: یا رسولؐ اللہ ! کیا آپ مجھے خواتین و بچوں کے درمیان چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ رسولؐ اللہ نے فرمایا: اے علیؑ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تمہیں مجھ سے وہی منزلت حاصل ہو جو ہارون کو موسیٰ سے تھی بس یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
نکتہ: حدیث منزلت شیعہ و اہل سنت دونوں کے نزدیک "متواتر" ہے اسی لئے بہت سے علمائے اہل سنت مثلاً ابن حجر مکی وغیرہ نے اس حدیث شریف کو مختلف طرق و اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے۔
قابل توجہ ہے یہ بات کہ میر سید علی ہمدانی نے "مودۃ القربیٰ" مودت نمبر ۷ میں امام جعفر صادق اور انکے آباء طاہرین کے سلسلہ سند سے نقل کیا ہے کہ رسولؐ اللہ نے دس اشیاء میں فرمایا ہے کہ "تمہیں مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو ہارون کو موسیٰ سے ہے"۔
۴۰ ۔ علی علیہ السلام پر خدا فخر و مباہات کرتا ہے
" اَلۡحَدیثُ الثّانی: عَنۡ جاِبر بۡنِ عَبۡدِ الله الانۡصاری رَضِیَ الله ُ عَنۡه ُ ، قالَ: قالَ رَسوُلُ الله ِ صَلَّی الله ُ عَلَیۡه ِ وآلِه : اِنّ الله َ عَزَّ وَجَلَّ یُباه ی بِعَلیّ بن اَبیطالِبٍ کُلَّ یَوۡمٍ عَلَی الۡمَلائِکَةِ المُقَرَّبینَ حَتّی یَقُولَ بَخٍّ بَخٍّ ه َنیئاً لَکَ یا عَلی"
شیخ سلیمان(۴۰) نےجابر بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ رسولؐ اکرم نے فرمایا: خداوند عالم ہر روز اپنے مقرب ملائکہ کے سامنے علی علیہ السلام پر فخر و مباہات کرتا ہے۔ اور کہتا ہے : خوشبحال ہو اے علی ؑ!
نکتہ: شیخ سلیمان کہتے ہیں کہ صاحب فردوس نے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔
تتمہ:
ہم نے کتاب کے اس تیسرے باب میں موضوع کی مناسبت کی بناء پر فضائل اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں ستّر روایات اور امیر المؤمنین حضرت علی بن ابی طالب سیّد اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں چالیس روایات پیش کی ہیں جنہیں کتب اہل سنت سے نقل کیا گیا ہے۔ درحقیقت اس باب میں فضائل و مناقب اور خصائص اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے "قطرہ ای از بحر بیکراں و مشتی از خروار" کی مانند ہے ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ سارے دریا روشنائی بن جائیں، سارے درخت قلم بن جائیں، بنی آدم لکھنے بیٹھ جائیں اور تمام جن حساب کرنے بیٹھ جائیں تب بھی علی بن ابیطالب‘کے فضائل کا احصاء نہیں ہوسکتا۔
بیشک اہل تحقیق پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ حضرت محمد مصطفیؐ نے علی بن ابی طالب‘ کو اپنے علم و حکمت کا وارث قرار دیا، صرف حضرت علی علیہ السلام کو وصیت کی کہ وہی انہیں غسل و کفن دیں اور وہی دفن کریں، انکی امانات کو لوٹا ئیں، انکے وعدوں کو پورا کریں۔ نبیؐ کے بعد جس چیز میں لوگوں میں اختلاف ہو اسے بیان کریں۔
اور امت کو یہ وصیت فرمائی کہ میرے بعد امت کے ولی و سرپرست علی علیہ السلام ہوں گے علیؑ، میرے بھائی، میرے فرزندوں کے والد اور میرے وزیر ہیں۔ علی علیہ السلام تنہا صاحب نجوا ہیں، علی علیہ السلام نبی کے علم کا دروازہ ہیں، باب مدینۃ الحکمۃ ہیں، انکی اطاعت نبی کی اطاعت کی طرح امت پر واجب ہے، انکی نافرمانی معصیت و گناہ کبیرہ ہے جس طرح نبی کی نافرمانی گناہ ہے۔ علی ؑسے مفارقت و جدائی نبی سے مفارقت و جدائی ہے جس سے علی علیہ السلام کی صلح ہے اس سے نبیؐ کی صلح ہے، جس سے علی علیہ السلام کی جنگ ہے، اس سے نبیؐ کی جنگ ہے، جس نے علی علیہ السلام کو اذیت دی اس نے خدا و رسولؐ کو اذیت دی، جس نے علی علیہ السلام کو گالی دی اس نے خدا و رسولؐ کو گالی دی۔ علی علیہ السلام امام المتقین و قاتل فُجّار ہیں، روشن پیشانی والوں کے رہبر ہیں، علی علیہ السلام پرچم ہدایت، صدیق اکبر، فاروق اعظم، یعسوب المؤمنین ہیں، علیؑ بمنزلۂ فرمان عظیم و ذکر حکیم ہیں، علی علیہ السلام نبی کے لئے ویسے ہی ہیں جیسے ہارون موسیٰ کے لئے ، علی علیہ السلام جان نبی ہیں، خداوند عالم نے زمین پر دیکھا تو نبیؐ و علی علیہ السلام کا انتخاب کیا، انہی کے بارے میں فرمایا ہے کہ سورہ برائت کی تبلیغ اے نبیؐ یا آپ کیجئے یا آپ جیسا یہ کام انجام دے اور دیگر بہت سے بیشمار فضائل کے حامل ہیں جیسا کہ روایت نے خود ہی اشارہ کردیا ہے "لا تعدّ و لا تحصی" یعنی علی علیہ السلام کے فضائل نہ شمار ہوسکتے ہیں نہ انکا احصاء کیا جاسکتا ہے۔
اب یہ سوال پیش آتا ہے کہ یہ کیسےممکن ہے کہ ایک عاقل انسان و صاحب بصیرت شیعہ و اہل سنت سے منقول روایات میں مختصر تدبّر اور غور و فکر کرکے تمام صحابہ پر حضرت علی علیہ السلام کی افضلیّت و برتری کو محسوس نہ کرے یا تغافل و تجاہل سے کام لیتے ہوئے انکا انکار کر بیٹھے؟!
یہ کیسے ممکن ہے کہ اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں نبی کریمؐ کی اتنی تاکید و وصیت اور روایات کے باوجود وہ یہ حکم صادر کریں کہ سید اہل بیت علیھم السلام یعنی امیر المؤمنین علی علیہ السلام خانہ نشین ہوجائیں اور حکومت اسلامی ایسے افراد کو سونپ دی جائے جو بقول عبد اللہ ابن عمر و احمد بن حنبل کسی صورت علی علیہ السلام سے قابل موازنہ و قابل قیاس نہیں ہیں، نیز ایسے دیگر افراد کے سپرد کردی جائے جو کہ ہیں پس" علیھم السلام اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی بن ابی طالب‘" ہیں۔
وَ الۡحَمۡدُ لِله ِ اَوَّلاً وَ آخِراً وَ ظاهِراً وَ باطناً
وَ السَّلامُ عَلی مَنِ اتَّبَعَ الۡهُدی وَ السَّلامُ عَلَیۡکُمۡ وَ رَحۡمَتُ الله ِ وَ
بَرَکاتُهُ
شہر مقدس قم
ہادی عامری ۲۶/ ۶/ ۱۳۸۵ ،
شعبان المعظم ۱۴۲۷ ھ
سید بہادر علی زیدی قمی
اختتام ترجمہ
۲۹ رمضان المبارک ۱۴۳۴ ھ بروز بدھ بمطابق ۷ اگست ۲۰۱۳
____________________
۱ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۹، ص ۲۷۹، دار الکتب العراقیہ، ۱۳۸۵ ھ۔
۲ ۔شرح نہج البلاغہ، جلد اول، ص ۱۸، طبع اسماعیلیان۔
۳ ۔اول مظلوم عالم امیر المؤمنین، ص ۱۹۳۔
۴ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۴، حدیث ۱۸۔
۵ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۲، حدیث ۸۔
۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۱، حدیث نمبر ۳۔
۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۸۔
۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۹۔
۹ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۵۱۔
۱۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۴۸۔
۱۱ ۔ہادی عامری، طبع ا ول، انتشارات پیام، سال ۱۳۸۳ ھ، ش۔
۱۲ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۵۱۔
۱۳ ۔انتشارات پیام حجت، تالیف ہادی عامری۔
۱۴ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۳۔
۱۵ ۔انتشارات پیام حجت، تالیف ہادی عامری۔
۱۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۶۔
۱۷ ۔سورہ ابراہیم (۱۴) آیت ۷۔
۱۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۶۔
۱۹ ۔ینابیع المودۃ، حدیث نمبر ۳۳ احادیث در فضائل اہل بیت ؑ۔
۲۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۵، حدیث نمبر ۳۰ در فضائل اہل بیت ؑ۔
۲۱ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۵، حدیث نمبر ۲۹۔
۲۲ ۔شیعہ اثنا عشری کا یہی عقیدہ ہے کہ نبیؐ جس کام پر مبعوث برسالت تھے امام بھی وہی کام انجام دیتا ہے اسی لئے امامت ، رسالت کا تتمہ ہے۔
۲۳ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۴۔
۲۴ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۴۔
۲۵ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۱۔
۲۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۸، حدیث نمبر ۵۴۔
۲۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۹۔
۲۸ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۷۳۔
۲۹ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۹، حدیث ۵۶۔
۳۰ ۔شیخ سلیمان نے بھی ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۵۷ پر مودۃ القربیٰ سے یہ روایت نقل کی ہے۔
۳۱ ۔آل عمران (۳) آیت ۶۱۔
۳۲ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۵۵میں بھی روایت نقل کی گئی ہے۔
۳۳ ۔اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی ؑ، ص ۵۴۹ تا ۴۴۶۔
۳۴ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۵۳ میں بھی مودۃ القربی سے یہ روایت نقل کی گئی ہے۔ ۔
۳۵ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۲، حدیث ۹۔
۳۶ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۷، حدیث ۹۔
۳۷ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۲۸ میں بھی مودۃ القربیٰ سے اس روایت کو نقل کیا گیا ہے۔
۳۸ ۔تالیف ہادی عامری، انتشارات پیام حجت۔
۳۹ ۔ہادی عامری، انتشارات پیام حجت۔
۴۰ ۔ینابیع المودۃ، باب ۵۶، ص ۲۳۱، حدیث ۲۔
منابع و ماخذ
۱. اثبات الوصیۃّ، ابو الحسن علی بن حسین مسعودی۔
۲. احجاج، طبرسی۔
۳. احیاء المیت بفضائل اہل البیت علیہم السلام، جلال الدین سیوطی۔
۴. اربعین حدیث فی المہدی (عج) ابو نعیم اصفہانی۔
۵. اربعن، ابو الخیر۔
۶. ارشاد المستہدی، محمد علی حسین البکری المدنی۔
۷. استیعاب فی اسماء الآصحاب، ابن عبد البر مالکی۔
۸. اُسدُ الغابۂ، ابن اثیر۔
۹. اسعاف الراغبین، شیخ محمد بن علی صبّان۔
۱۰. الاصابہ، ابن حجر عسقلانی۔
۱۱. اَلاِفراد، دارقطنی۔
۱۲. الاِمامۃ و السیاسۃ، ابن قُتَیبۃ دینوری۔
۱۳. امامت و عصمت امامان در قران، رضا کاردان۔
۱۴. الاوائل، طبرانی۔
۱۵. الاَوسط، طبرانی۔
۱۶. اول مظلوم عالم امیر المؤمنین علی علیہ السلام، ہادی عامری۔
۱۷. بحار الانوار، علامہ مجلسی۔
۱۸. البرہان فی علامات مہدی آخر الزمان، متّقی ہندی۔
۱۹. البعث و النّشور، ابوبکر بیہقی۔
۲۰. البیان فی اخبار صاحب الزمان، محمد بن یوسف گنجی شافعی۔
۲۱. پاسخ بہ شبہات، علی کورانی۔
۲۲. التاج الجامع للاُصول، شیخ منصور علی ناصف۔
۲۳. تاج العروس، زبیدی حنفی۔
۲۴. تاریخ الخلفاء، جلال الدین سیوطی۔
۲۵. تاریخ المدینہ، سمہودی۔
۲۶. تاریخ بغداد، ابو الفضل احمد بن ابو طاہر معروف بہ خطیب بغدادی۔
۲۷. تاریخ مدینہ دمشق، ابن عساکر۔
۲۸. تاریخ، ابن ابی خیثمہ۔
۲۹. تاریخ، ابن اثیر۔
۳۰. تاریخ، ابن عساکر۔
۳۱. تاریخ، حاکم۔
۳۲. تاریخ، یعقوبی۔
۳۳. تاویل الآیات، شرف الدین حسینی۔
۳۴. تاویل مُختلف الحدیث، ابن قتیبہ دینوری۔
۳۵. تجرید الاعتقاد، خواجہ نصیر الدین طوسی۔
۳۶. تذکرۃ الخواص، سبط بن جوزی۔
۳۷. تذکرۃ الموضوعات، مقدسی۔
۳۸. تفسیر القران العظیم، ابن کثیر۔
۳۹. تفسیر جامع البیان، ابن جریر طبری۔
۴۰. تفسیر درّ المنثور، جلال الدین سیوطی۔
۴۱. تفسیر صافی ونفحات الرحمن، ملا محسن فیض کاشانی۔
۴۲. تفسیر قران، ابن ابی حاتم۔
۴۳. تفسیر قران، ابن مردویہ۔
۴۴. تفسیر قران، ابن منذر۔
۴۵. تفسیر قران، ابوبکر رازی۔
۴۶. تفسیر کبیر، فخر رازی۔
۴۷. تفسیر کشاف، جار اللہ زمخشری۔
۴۸. تفسیر کشف البیان، ثعلبی۔
۴۹. تقریب التہذیب، ابن حجر عسقلانی۔
۵۰. تلخیص المستدرک، ذہبی۔
۵۱. تلخیص، ذہبی۔
۵۲. التنبیہ الکبیر، ابو الشیخ بن حبان۔
۵۳. تہذیب التہذیب، ابن حجر عسقلانی۔
۵۴. تہذیب الکمال، المزی۔
۵۵. التوضیح فی تواتر ما جاء فی المنتظر و الدجّال و المسیح، شوکانی۔
۵۶. جامع البیان، طبری۔
۵۷. جامع الصغیر، سیوطی۔
۵۸. الجامع، ترمذی۔
۵۹. الجامع، عبد الرزاق۔
۶۰. جلاء العیون، علامہ ملا محمد باقر مجلسی۔
۶۱. جمع الجوامع۔
۶۲. جواہر الاخبار۔
۶۳. جواہر العقدین، سمہودی۔
۶۴. حلیۃ الاولیاء، حافظ ابو نعیم اصفہانی۔
۶۵. خصائص العلویہ، نسائی۔
۶۶. خلاصۃ الکلام۔
۶۷. الدّر المنظم، محمد بن طلحۃ شافعی۔
۶۸. دُرَر السمطین، جمال الدین زرندی مدنی۔
۶۹. دلائل الامامہ، نعیم بن حماد مروزی۔
۷۰. دلائل النبوۃ، بیہقی۔
۷۱. دیوان حسّان، حسّان بن ثابت اَنصاری۔
۷۲. ذخائر العقبی، محب الدین احمد بن عبد اللہ طبری شافعی۔
۷۳. ربیع الابرار، زمخشری۔
۷۴. رسالہ شعر، سیوطی۔
۷۵. رشفۃ الصّادی، ابوبکر بن شہاب الدین علوی۔
۷۶. روضۃ المناظر، ابو الولید محمد بن شحنۃ حنفی۔
۷۷. زوائد المسند، عبد اللہ بن احمد۔
۷۸. زیارتنامۂ امام حسین علیہ السلام (نسخۂ قدیمی)۔
۷۹. سفر السعادات، فیروز آبادی۔
۸۰. سنن، ابو عمرو الدّانی۔
۸۱. سنن، ابو داود۔
۸۲. سنن، ترمذی۔
۸۳. سنن، عثمان بن سعید المقری۔
۸۴. سِیَرُ اَعلامِ النُّبَلاء، ذہبی
۸۵. سیرَۃ الحلبیّہ، علی بن برہان الدین حلبی شافعی۔
۸۶. سیرۂ پیشوایان، مہدی پیشوایی۔
۸۷. شبہای پیشاور، سلطان الواعظین شیرازی۔
۸۸. شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید معتزلی۔
۸۹. شرح نہج البلاغہ، ابن میثم بحرانی۔
۹۰. شرح السنُّۃ، قاضی ابو محمد حسین بَغوی۔
۹۱. شرف المؤیّد، نبہانی۔
۹۲. شرف المصطفی، ابو سعید خرکوشی۔
۹۳. شعب الایمان، بیہقی۔
۹۴. شواہد التنزیل، حاکم حسکانی۔
۹۵. صحاح اللّغۃ، جوہری۔
۹۶. صحیح، ابن ماجۂ قزوینی۔
۹۷. صحیح، ابو الشیخ ابن حبان۔
۹۸. صحیح، ابو داود۔
۹۹. صحیح، بخاری۔
۱۰۰. صحیح، ترمذی۔
۱۰۱. صحیح، مسلم بن حجاج۔
۱۰۲. صحیح، نسائی۔
۱۰۳. صفت المہدی (عج) حافظ ابو نعیم اصفہانی۔
۱۰۴. صواعق مُحرقہ، ابن حجر مکّی۔
۱۰۵. طبقات، ابن سعد۔
۱۰۶. الطّالبین، حافظ اَلجعابی۔
۱۰۷. عقد الفرید، ابن عبد رّبہ۔
۱۰۸. عِقدُ الدُّرر فی اَخبار المنتظر، یوسف بن یحیای مقدسی شافعی۔
۱۰۹. علم الحدیث، کاظم مدیر شانہ چی۔
۱۱۰. عمدہ، یحیی بن حسن۔
۱۱۱. عوالم، شیخ عبد اللہ بن نور اللہ بحرانی۔
۱۱۲. عوالی، ابو نعیم اصفہانی۔
۱۱۳. عیونُ اخبار الرضا علیہ السلام، شیخ صدوق، ابن بابویہ قمی۔
۱۱۴.غایة المأمول فی شرح التاج الجامعِ للۡاُصول ، شیخ مںصور علی ناصف۔
۱۱۵. غایۃ المرام، سید ہاشم بن سید سلیمان بحرانی۔
۱۱۶. الغدیر، علامہ امینی۔
۱۱۷. غریب الحدیث، حربی۔
۱۱۸. فاطمۃُ الزَّہرا، بَہجَۃُ قلب المصطفی، رحمانی ہمدانی۔
۱۱۹. فتاوی الحدیثیّۃ، ابن حجر۔
۱۲۰. فتح الکبیر، نبہانی۔
۱۲۱. فتح الباری (در شرح صحیح بخاری)، ابن حجر عسقلانی۔
۱۲۲. الفتن و الملاحم، نعیم بن حماد مروزی۔
۱۲۳. الفتن، ابن ماجہ۔
۱۲۴. الفتوح، ابن اعثم۔
۱۲۵. فرائد السمطین، حموینی۔
۱۲۶. فردوس الاخبار، دیلمی۔
۱۲۷. فرہنگ عربی، فارسی (ترجمۂ منجد الطلاب)، محمد بندر بیگی۔
۱۲۸. فرہنگ فارسی صبا، محمد بہشتی۔
۱۲۹. فصل الخطاب، خواجہ محمد پارسا۔
۱۳۰. فصول المہمہ، ابن صباغ مالکی۔
۱۳۱. فضائل الصحابہ، سمعانی۔
۱۳۲. فوائد الاخبار، ابوبکر اسکافی۔
۱۳۳. فوائد، ابو نعیم اصفہانی۔
۱۳۴. قاموس اللّغۃ، فیروز آبادی۔
۱۳۵. قران کریم۔
۱۳۶.قَوۡلُ الفصل ، حضرمی۔
۱۳۷. کامل، ابن عدی۔
۱۳۸. کتاب السیرہ، مُلّا۔
۱۳۹. کتاب العین، خلیل بن احمد فراہیدی۔
۱۴۰. کشف الغُمّۃ، اربلی۔
۱۴۱. کشف المراد، علامہ حلی۔
۱۴۲. کفایۃ الاثر، ابو القاسم علی بن محمد بن خزّاز شاگرد شیخ صدوق۔
۱۴۳. کفایۃ الطالب، محمد بن یوسف گنجی شافعی۔
۱۴۴. کمال الدین و تمام النعمہ، شیخ صدوق۔
۱۴۵. کنز العمال فی سُنن الاَقوال و الاَفعال، متقی ہندی۔
۱۴۶. کنوز الحقائق، عبد الرئوف مناوی۔
۱۴۷. کنوز الدقائق، عبد الرئوف مناوی مصری۔
۱۴۸. کنوز المطالب فی مناقب بنی ابی طالب۔
۱۴۹. لَآلیِ المصنوعہ، جلال الدین سیوطی۔
۱۵۰. لسان العرب، ابن منظور۔
۱۵۱. لسان المیزان، ابن حجر۔
۱۵۲. ما نُزِلَ مِنَ القُران فی علیٍّ علیہ السلام، ابو نعیم اصفہانی۔
۱۵۳. مجمع الزوائد، ہیثمی۔
۱۵۴. المُراجعات، سید عبد الحسین شرف الدین، ترجمۂ محمد جعفر امامی۔
۱۵۵. مرقاۃ الشعر، محمد بن عمران خراسانی۔
۱۵۶. مروج الذہب، مسعودی۔
۱۵۷. مستدرک الوسائل، مرحوم میرزای نوری۔
۱۵۸. مستدرک عَلَی الصَّحیحین، حاکم نیشابوری۔
۱۵۹. مسند، احمد حنبل۔
۱۶۰. مسند، دیلمی۔
۱۶۱. مسند، عبد بن حمید۔
۱۶۲. مشکل الآثار، طحاوی۔
۱۶۳. مصابیح السنّۃ، ابو محمد حسین بغوی۔
۱۶۴. مطالب السئول، محمد بن طلحۃ شافعی۔
۱۶۵. معالم العترۃ النبویَّہ، حافظ عبد العزیز بن اخضر۔
۱۶۶. معجم البُلدان، یاقوت حموی۔
۱۶۷. المعجم المفہرس لاَلفاظ القران الکریم، محمد فؤاد عبد الباقی۔
۱۶۸. معجم کبیر، طبرانی۔
۱۶۹. معجم، غسانی۔
۱۷۰. معرفۃ الصحابہ، ابو نعیم اصفہانی۔
۱۷۱. معرفۃ ُ علوم الحدیث، حاکم نیشابوری۔
۱۷۲. مقالات الاسلامیین، ابو الحسن اشعری۔
۱۷۳. مقتل الحسین علیہ السلام، خوارزمی۔
۱۷۴. الملاحم، ابو الحسین احمد بن جعفر منادی۔
۱۷۵. مناقب المہدی، ابو نعیم اصفہانی۔
۱۷۶. مناقب شافعی، اسنوی۔
۱۷۷. مناقب، ابن مغازلی فقیہ شافعی۔
۱۷۸. مناقب، ابو المؤیّد احمد خوارزمی معروف بہ خطیب خوارزمی۔
۱۷۹. مناقب، احمد حنبل۔
۱۸۰. مناقب، بیہقی۔
۱۸۱. مناقب، حاکم۔
۱۸۲. منتخب الاثر، آیت اللہ شیخ لطف اللہ صافی گلپایگانی۔
۱۸۳. منتخب کنز العمال، متقی ہندی۔
۱۸۴. منتقم حقیقی (مہدی قائم (عج)) عماد زادہ۔
۱۸۵. منتہی الآمال، شیخ عباس قمی۔
۱۸۶.منهج فی الۡاِنۡتِماء المذهبی ، صائب عبد الحمید۔
۱۸۷. الموالات، ابن عقدہ۔
۱۸۸. مودَّتُ القربی، میر سید علی ہمدانی شافعی۔
۱۸۹. الموضوعات، سب بن جوزی۔
۱۹۰. میزان الاعتدال، ذہبی۔
۱۹۱. مفاتیح الجنان، محدث قمی۔
۱۹۲. نظرۃ عابرۃ، شیخ محمد زاہد کوثری۔
۱۹۳. نظم المتناثر، محمد بن جعفر الکتانی۔
۱۹۴. نقد عین المیزان، ابن بیطار دمشقی۔
۱۹۵. النّہایۃ فی غریب الحدیث، ابن اثیر۔
۱۹۶. نوادر الاصول، ترمذی۔
۱۹۷. نور الابصار، مؤمن شبلنجی مصری۔
۱۹۸. نوید امن و امان، آیت اللہ شیخ لطف اللہ صافی گلپایگانی۔
۱۹۹. وافی بالوفیات، صلاح الدین صفدی۔
۲۰۰. الوسیط، واحدی۔
۲۰۱. وفیات الاَعیان، ابن خلّکان۔
۲۰۲. الولایۃ، حافظ ابو جعفر محمد بن جریر طبری۔
۲۰۳. الولایہ، سجستانی۔
۲۰۴. ینابیع المودۃ، شیخ سلیمان بلخی حنفی قندوز۔
فہرست
مشخصات ۴
تقدیم ۵
عرض ناشر ۶
گفتار مقدم ۷
مُقدمۂ مؤلف ۹
مقدمات ۱۱
اہلِ سُنّت کے کیامعنی ہیں اور حقیقی اہلِ سُنّت کون ہیں ؟ ۱۲
اہلِ سُنّت سے کیا مراد ہے ؟ ۱۲
گُفتار ابنِ أبی الحدیدسے حاصل شُدہ نتائج ۱۴
امام جعفرصادق علیہ السلام کی اعلمیت وافضلیت کے بارے میں ابوحنیفہ اور علمائے عامّہ کا اعتراف ۱۵
شیعہ کے معنی اور حقیقت ِ تشیّع ۱۸
گفُتارِ باطل اور اس کا دندان شکن جواب ۱۹
مذکورہ سات روایات میں ایک اہم نکتہ ۲۱
نہایت حیرت و تعجُب کامقام! ۲۲
ایک اہم سوال : ۲۳
نُکتہ : ۲۵
تِلکَ عَشَرَة کَامِلَة ۲۶
اس روایت میں چند اہم نُکات ۲۷
شیعت کا آغاز ۳۱
حقانیت شیعہ پر اہل ِ سُنّت کی روایات ۳۱
نتیجہ: ۳۳
مہدی منتظر کے بارے میں تمام مسلمانوں کا عقیدہ ۳۳
اہلِ سُنّت کے نزدیک موضوع "مہدی موعود" کی اَصالت و اہمیت ۳۴
حصۂ اوّل : اہلِ سُنّت محدثین و ناقلین روایات مہدی موعودؑ ۳۴
حصۂ دوم : روایات مہدی موعود کے مصادر و کتب اہلِ سُنّت ۴۴
حصۂ سوم : اصحاب پیغمبر و روّات روایاتِ مہدی موعود نزد اہل ِ سُنّت ۵۳
دو ضروری نکات : ۵۵
پہلا باب ۶۰
کتب اہل سنت میں ظہور مہدی موعود (عج) کی بشارتیں ۶۰
پہلی فصل ۶۰
ظہور و قیام حضرت مہدی موعود پر رسول اللہ کی بشارتیں ۶۰
قیام مہدی تک علی علیہ السلام پر ظلم کا سلسلہ۔۔۔ ۶۰
دنیا اس وقت تک اپنے انجام کو نہ پہنچے گی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد کی سلطنت قائم نہ ہوجائے ۶۳
مہدی کے آنے تک زمانہ ختم نہ ہوگا ۶۴
میرے اہل بیت میں سے ایک مرد ولی و سرپرست بن جائے گا ۶۴
قیامت برپا نہ ہوگی جب تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک مرد ولی و سرپرست نہ بن جائے ۶۴
مہدی میری امت میں ہیں ۶۵
میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک فرد مبعوث ہوگا ۶۵
مہدی حاکم و خلیفہ عرب، میرا ہمنام ہے ۶۵
مہدی موعود مجھ سے ہے ۶۶
تمہارا امام تمہارے درمیان ۶۶
خداوند ایک رات میں مہدی کے لئے راہ ہموار کردے گا ۶۷
ایک فرقہ نجات پائے گا ۶۷
زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی ۶۷
آخر الزمان میں بلائے شدید ۶۸
بیت المال کی مساوی و عادلانہ تقسیم ۶۸
زمین کو عدل سے بھر دیں گے جس طرح ظلم سے بھری ہوگی ۶۹
جب زمین دشمنیوں سے بھر جائے گی تو مہدی خروج کریں گے ۶۹
منکر مہدی، منکر رسالت ہے ۶۹
حضرت مہدی کی تکذیب کرنے والا کافر ہے ۷۰
حقیقی اسلام مہدی کے ذریعہ ظاہر ہوگا ۷۰
مہدی ہم سے ہیں اور دین ہم پر تمام ہوگا ۷۰
مہدی موعود (عج)، سلطان جبل الدیلم و قسطنطنیہ ۷۱
مہدی موعود (عج) اہل بیت میں سے ہیں ۷۲
قتل علی علیہ السلام سے دین فاسد ہوجائے گا یہاں تک کہ مہدی اصلاح کریں ۷۲
مہدی، فرزند حسین ہیں ۷۲
سلمان فارسی کا سوال، مہدی کس کے فرزند ہیں؟ ۷۳
یہ امت کیسے ہلاک ہوسکتی ہے جبکہ مہدی ان کے درمیان ہوں ۷۳
"مہدیؑ" پروردگار کی جانب سے ہمیں عطا کردہ سات خصال میں سے ہیں ۷۴
بیان حقائق: ۷۹
میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک شخص خروج کرے گا ۷۹
مہدی موعود (عج) معصوم ہیں، وائے ہو ان سے بغض رکھنے والے پر ۷۹
بیان حقائق روایت "قسیم الجَنَّۃِ وَ النَّارِ" ۸۰
مہدی (عج) میری عترت میں سے ہوں گے اور وہ میری سنت کی خاطر جنگ کریں گے ۸۱
اخلاق مہدی(عج)، اخلاق پیغمبر اکرم کی مانند ہے ۸۱
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے دائیں رخسار پر تِل ہوگا ۸۲
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا چہرہ درخشاں ستارے کی مانند ہوگا ۸۲
زمانۂ غیبت میں امامت مہدی (عج) پر ثابت قدم رہنے والے یاقوت سرخ کی مانند ہیں ۸۳
مذکورہ روایت کے مہم نکات ۸۴
حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کو مہدی موعود کی بشارت ۸۵
نکتہ مہم ۸۶
مہدی (عج) خوبصورت جوان ہے ۸۶
چاہے دنیا کے خاتمہ میں ایک ہی دن بچے، مہدی (عج) ضرور آئے گا ۸۶
حضرت مہدی (عج) کے لئے آسمان سے نزول برکات ۸۶
نتائج: ۸۷
مظلومیت علی علیہ السلام اور روایات مہدی (عج) شیعہ مذہب کی حقانیت ۸۸
جعلی روایتِ "عدم اجتماع نبوت و سلطنت" کے جوابات ۹۰
جوابات: ۹۰
نکتہ: ۹۱
دوسری فصل ۹۶
ظہور و قیام حضرت مہدی (عج) کے بارے میں ائمہ اطہار علیھم السلام کی بشارتیں ۹۶
صاحب پرچم و حکومت محمدیؐ ضرور ظاہر ہوگا ۹۷
اگر مہدی (عج) کو درک کرلوں تو پوری زندگی ان کی خدمت میں گزار دوں ۹۷
مہدی موعود (عج) کا سایہ نہیں ہے، منادیِ آسمان ندا دے گا حجت خدا کا ظہور ہوگیا ہے ۹۷
مہدی موعود (عج) اہل بیت سے ہیں، خدا شب میں ان کی راہ ہموار کردے گا ۹۸
نکات: ۹۸
جوان سال ہونے کی وجہ سے مہدی کا انکار کریں گے ۹۸
مہدی موعود (عج) آخری امام اور نجات دہندہ ہوں گے ۹۹
مہدی (عج) موعود صاحب الزمان ہیں ۹۹
نام مہدی (عج) (م، ح، م، د) ہے کنیت ابو القاسم اور والدہ کا نام نرجس ہے ۹۹
اصحاب مہدی (عج) معرفت خداوند رکھتے ہیں "حَقَّ مَعرِفَتِہِ" ۱۰۰
امام حسین نے نویں فرزند "قائم آلؑ محمدؐ" ہیں ۱۰۰
بعد از پیغمبرؐ بارہ امام ہوں گے جن میں اول علی علیہ السلام اور آخری قائم ہوں گے ۱۰۱
مہدی موعود (عج) خَلق و خُلق میں سب سے زیادہ پیغمبرؐ سے مشابہ ہوں گے ۱۰۱
مہدی موعود (عج) کے لئے دو غیبتیں واقع ہوں گی ۱۰۲
منادیِ آسمان ندا دے گا "حق آل محمد" میں ہے ۱۰۲
مشرق و مغرب والے نام مہدی (عج) آسمان سے سنیں گے ۱۰۲
پرچم، لباس اور شمشیر رسول اللہؐ مہدی (عج) کے ہمراہ ۱۰۳
حضرت مہدی (عج) اپنی پہچان کے لئے نشانیاں دکھائیں گے ۱۰۳
حضرت مہدی (عج ) کا زمانہ ۱۰۴
مہدی موعود (عج)، قائم آل محمدؐ اور ذریت احمدؐ مختار ہیں ۱۰۵
مہدی موعود (عج) بدعتوں کے نابود اور سنتوں کو قائم کریں گے ۱۰۵
علی علیہ السلام "واجب امر خدا" کے حق میں کوتاہی ۱۰۵
سیرت مہدی (عج) بوقت خروج ۱۰۶
بیت المقدس میں ورود مہدی (عج) اور نزول حضرت عیسیٰ ۱۰۶
مہدی موعود (عج) از فرزندان امام حسنؑ مجتبیٰ ۱۰۷
دین حضرت مہدی (عج ) پر اختتام پذیر ہوگا جس طرح ہم سے شروع ہوا ۱۰۷
مہدی (عج) موعود بیت المقدس ہجرت کریں گے اور تین ہزار فرشتے ان کی مدد کریں گے ۱۰۸
خروج مہدی (عج) کے وقت اہل آسمان خوشحال ہوں گے ۱۰۹
مہدی (عج) خوبصورت اور نورانی ہوں گے ۱۰۹
تمام لوگوں مہدی موعود (عج) کے محتاج ہیں ۱۰۹
مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف ائمہ میں فاصلہ زمانی کے ساتھ آئیں گے ۱۱۰
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے زمانے میں تمام خوبیاں ظاہر ہوجائیں گی ۱۱۱
ظہور حضرت مہدی (عج) سے قبل لوگوں میں شدید اختلافات اور مصائب ۱۱۱
زمانہ مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) میں سرخ و سفید موت ۱۱۲
ظہور مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) سے قبل سورج و چاند گہن ۱۱۲
مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کا ظہور روز عاشورا ہوگا ۱۱۲
قبل از فَرج آل محمدؐ مشرق سے آگ نمودار ہوگی ۱۱۳
خروج مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی پانچ علامات ہیں ۱۱۴
اصحاب المہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ۳۱۳ ہیں جو رکن و مقام کے مابین ان کی بیعت کریں گے ۱۱۴
کتب اہل سنت میں شیعہ اثنا عشری کی حقانیت کی تصریح ۱۱۵
اس روایت میں موجود حقائق ۱۱۸
لشکر سفیانی پر خدا و دیگر مخلوقات کا غضب ۱۲۰
مذکورہ بشارات کے نتائج ۱۲۳
اول مظلوم عالم امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ۱۲۴
حضرت علی علیہ السلام کی بلافصل خلافت پر لفظ "بعدی" کے ذریعے پیغمبر اسلامﷺ کی دس تصریحات ۱۲۶
نکات: ۱۲۶
نکات: ۱۲۷
نکات: ۱۲۹
نکات: ۱۳۴
بیان رسالت میں حضرت علی علیہ السلام کے حیرت انگیز فضائل ۱۳۶
نکات: ۱۳۸
غدیر میں حسان بن ثابت کے اشعار ۱۴۴
لفظ "بعدی" پر اشکال اور اس کے جوابات ۱۴۵
اشکال: ۱۴۵
جواب: ۱۴۵
حضرت علی علیہ السلام یا دیگر اہل بیت علیھم السلام کے اسماء قران کریم میں کیوں نہیں آئے ہیں؟ ۱۵۵
تیسری فصل ۱۶۵
مہدی موعود (عج) کے ظہور کے بارے میں اصحاب کرام و تابعین ذوی الاحترام کی بشارتیں ۱۶۵
حضرت مہدی (عج) کے بارے میں روایات اہل سنت کی تیسری قسم ۱۶۵
حضرت مہدی (عج)، حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کی اولاد سے ہیں ۱۶۵
آسمان سے منادی ندا دیتا ہے کہ تمہارے امیر مہدی ہوں گے ۱۶۶
ماہ رمضان میں آسمانی ندا ۱۶۶
نکات: ۱۶۷
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)، لشکر سفیانی کے روبرو اور ندائے آسمانی ۱۶۷
ظہور مہدی (عج) اور طلوع خورشید کے وقت عجیب نشانی ۱۶۷
خروج مہدی (عج) سے قبل مشرق سے ایک ستارہ کا نمودار ہونا ۱۶۸
لوگوں کی مایوسی کے وقت ظہور مہدی (عج) ۱۶۸
اولاد حسین سے ایک خروج کرے گا ۱۶۸
اسفار انبیاء میں نام مہدی (عج) ۱۶۹
نکات: ۱۶۹
رکن و مقام کے مابین حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کی بیعت کی جائے گی۔ ۱۷۰
پرچم مہدی پر البیعۃ لِلہ لکھا ہے ۱۷۱
حضرت مہدی (عج) کا بَلَنجر وجبل دیلم کو فتح کرنا ۱۷۱
حضرت عیسیٰ کا آسمان سے نزول اور حضرت مہدی (عج) کی اقتداء میں نماز جماعت ۱۷۱
مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)کو مہدی کیوں کہتے ہیں؟ ۱۷۲
بیت المقدس میں بنی ہاشم کے ایک خلیفہ کا نازل ہونا اور زمین کو عدل و انصاف سے پُر کرنا ۱۷۲
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا ہندوستان کی جانب لشکر بھیجنا ۱۷۲
خداوند عالم کے لئے حضرت مہدی (عج) کا خشوع و خضوع ۱۷۳
حضرت مہدی (عج) کے زمانے میں زمین اپنے خزانے اُبل دے گی ۱۷۳
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) بہترین انسان اور محبوب خلائق ہوں گے ۱۷۴
مذکورہ روایات کا نتیجہ ۱۷۴
حصہ اوّل کا نتیجہ ۱۷۵
حصۂ دوم کا نتیجہ ۱۷۵
ابوہریرہ اور کعب الاحبار کی روایات ناقابل قبول ہیں ۱۷۵
کعب الاحبار ۱۷۹
روایات حضرت مہدی (عج) کے متواتر(۶۷) ہونے پر متعدد علمائے اہل سنت کی تصریح ۱۸۰
وضاحت: ۱۸۰
نتیجہ: ۱۸۵
روایات حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے بارے میں ابن ابی الحدید کا بیان ۱۸۶
عقیدہ مہدویت پر عامۃ المسلمین و وہابیت کی زندہ دلیل: ۱۸۶
رابطہ العالم الاسلامی کا بیان ۱۸۶
دوسرا باب ۱۹۴
اسم، کنیت اور لقب حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) ۱۹۴
پہلی فصل ۱۹۴
روایات رسول خدا ﷺ میں مہدی موعود عج اللہ فرجہ الشریف کا نام، کنیت اور لقب ۱۹۴
اسم مہدی ( )، اسم رسول اللہ (ﷺ)ہے ۱۹۴
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا نام و کنیت، پیغمبر اسلامﷺ کے نام و کنیت جیسا ہے ۱۹۵
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا نام نبی کریمﷺ کے نام جیسا ہے ۱۹۵
میرے اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک شخص میرا ہم نام ہوگا جو بہرحال حاکم بنے گا ۱۹۵
میرے اہل میں سے سے میرا ہمنام ایک شخص ولی و سرپرست بنے گا ۱۹۵
حاکم و خلیفۂ عرب میرا ہمنام ہوگا ۱۹۶
اسے مہدی (عج) کہتے ہیں ۱۹۶
میری اولاد میں سے میرا ہمنام ایک شخص مبعوث ہوگا ۱۹۷
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)، نام و اخلاق میں نبی کریم جیسے ہوں گے ۱۹۷
"قائم" و "منتظر" ہی مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) موعود ہیں ۱۹۷
اس روایت کے قابل توجہ نکات: ۱۹۸
امام مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کا نام و اخلاق، نبیؐ کے نام و اخلاق جیسا ہے اور کنیت ابا عبد اللہ ہے ۱۹۹
آخر زمانہ میں میری اولاد میں سے میرا ہمنام ایک شخص خروج کرے گا ۲۰۰
مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) موعود زمین پر حاکم و سرپرست ہوں گے ۲۰۰
۱۵ ۔ یوسف بن یحیی مقدسی شافعی(۲۹) نے عبد اللہ ابن عمر سے روایت نقل کی ہے: ۲۰۱
مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) موعود شہاب ثاقب کی مانند نمودار ہوں گے ۲۰۱
مہدی خلیفۃ اللہ ہیں اور وہ حتماً آئیں گے ۲۰۲
وہ شخص جسے "مہدیؑ" کہتے ہیں ۲۰۲
مہدیؑ ہی بارہویں امام اور "قائم" ہیں ۲۰۳
امت محمد ﷺ میں بہترین شخص "مہدیؑ" ہے اور ان کا نام احمد ہے ۲۰۳
میر ی امت و اہل بیت علیھم السلام میں سے ایک شخص مبعوث ہوگا ۲۰۴
جب مہدی خروج کریں گے تو بادل ان کے سر پر سایہ فگن ہوگا ۲۰۴
جب مہدی خروج کریں گے تو فرشتہ ان کے سر پر سایہ فگن ہوگا ۲۰۵
عسکری علیہ السلام کے بعد ان کے فرزند (م ۔ ح۔ م۔ د) ہیں وہی مہدی، قائم و حجت ہیں ۲۰۵
مناقب کی روایت سے حاصل شدہ دس نکات ۲۰۸
حسن بن علی ‘ کے بعد امام "قائم" ہیں وہ میرے ہمنام و ہم کنیت ہوں گے ۲۱۰
اس دوسری روایت مناقب میں موجود بارہ حقائق ۲۱۲
باب دوم کی پہلی فصل کی روایات کا نتیجہ ۲۱۶
روایات میں اسم محمدؐ کے بارے میں دو باتوں کا ممنوع ہونا ۲۱۷
کیا حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے والد کا نام عبد اللہ ہے؟ ۲۱۸
دوسری فصل ۲۲۴
اسم، کنیت اور لقب حضرت مہدی موعود (عج) روایات اہل بیت علیھم السلام کی روشنی میں ۲۲۴
اسم مہدی (عج) "م، ح، م، د(۱) " ہے ۲۲۴
مہدی موعود " خاتم الأئمة " و " منقذ الاُمّة " ہیں ۲۲۴
مہدی وہی خَلَف المنتظر "م، ح، م، د" ہیں ۲۲۵
مہدی موعود (عج)، خلف صالح و صاحب الزمان ہیں ۲۲۵
مہدی موعود (عج)، امام حسن کی اولاد میں سے ہیں ۲۲۶
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف)، پیغمبرؐ کے ہمنام ہیں اور تین ہزار فرشتے ان کی مدد کریں گے ۲۲۷
صلبِ حسن سے ایک شخص آئے گا جو پیغمبرؐ کا ہمنام ہوگا ۲۲۷
بہشت میں پیغمبرؐ کے ہمراہ بارہ امام ہوں گے ان میں اول میں ہوں اور آخری قائم ہیں ۲۲۸
ناقابل انکار حقائق ۲۳۱
اسم مہدی، اسم پیغمبر اسلام ہے اور وہ اولاد فاطمہ زہرا سے ہوں گے ۲۳۳
حضرت مہدی (عج) کو مہدی (عج) کیوں کہتے ہیں؟ ۲۳۶
یاد رکھو "حجۃ اللہ"، بیت اللہ کے نزدیک ظہور فرمائیں گے ۲۳۶
مہدی موعود (عج)۔ خلف صالح ہیں اور ان کا نام "م، ح، م، د" ہے ۲۳۷
حجت آل ؑمحمدؐ، مہدی و قائم اہل بیت علیھم السلام ۲۳۷
مہدی موعود (عج) خلف زکی فرزند حسن بن علی‘ ہے ۲۳۸
نتیجہ: ۲۴۰
حضرت مہدی (عج) کے اسم، کنیت اور لقب کے بارے میں علمائے اہل سنت کی تصریحات ۲۴۰
نکات: ۲۴۳
تتمۂ باب دوم ۲۴۹
رسول خداﷺ اور حضرت مہدی موعود (عج) میں بیس شباہتیں ۲۴۹
۱ ۔ نام میں شباہت ۲۴۹
۲ ۔ کنیت میں شباہت ۲۴۹
۳ ۔ عمل میں شباہت ۲۴۹
۴ ۔ خاتمیت میں شباہت ۲۵۰
۵ ۔ سایہ نہ ہونے میں شباہت ۲۵۱
۶ ۔ اخلا ق میں شباہت ۲۵۱
۷ ۔ طہارت میں شباہت ۲۵۱
۸ ۔ خلقت نورانی میں شباہت ۲۵۱
۹ ۔ ولایت و سرپرستی میں شباہت ۲۵۳
۱۰ ۔ فرشتوں کی مدد میں شباہت ۲۵۴
۱۱ ۔ حکم مخالفین میں شباہت ۲۵۴
۱۲ ۔ چالیس سال عمر میں شباہت ۲۵۵
۱۳ ۔ نجات دینے میں شباہت ۲۵۵
۱۴ ۔ ولایت تکوینی میں شباہت ۲۵۶
۱۵ ۔ شب قدر میں شباہت ۲۵۷
۱۶ ۔ خلقت میں شباہت ۲۵۷
۱۷ ۔ پرچم میں شباہت ۲۵۸
۱۸ و ۱۹ ۔ تلوار و پیراہن میں شباہت ۲۵۹
۲۰ ۔ محل ظہور میں شباہت ۲۵۹
نتیجہ: ۲۶۰
تیسرا باب ۲۶۲
مہدی موعود (عج)، اہل بیت رسولﷺ سے ہیں ۲۶۲
پہلی فصل ۲۶۲
اہل بیت رسول خداﷺ کون ہیں؟ ۲۶۲
پانچ حصوں پر مشتمل روایات خمسہ طیبہ ۲۶۳
پہلا حصہ: (امّ المؤمنین) جناب امّ سلمہ و عائشہ سے ۲۲ روایات ۲۶۳
دوسرا حصہ: آیت تطہیر کے بارے میں بیانات ۲۷۴
تیسرا حصہ: رسول خدا ﷺ، در خانۂ اہل بیت علیھم السلام پر ۲۷۹
دو اہم نکات: ۲۸۰
چوتھا حصہ: خمسہ طیبہ کے بارے میں مختلف اور کثیر روایات ۲۸۱
آیت مباہلہ کے ذیل میں اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں روایات ۲۸۱
اہل بیت علیھم السلام اور مناشدۂ یوم الشوریٰ ۲۸۴
آیہ مؤدت اہل بیت علیھم السلام کی شان ہے ۲۸۷
ذرّیت نبیؐ، صلبِ علی علیہ السلام میں ۲۸۸
خلافت عثمان میں مسجد نبوی میں حضرت علی علیہ السلام کی تقریر ۲۸۹
پانچواں حصہ: خمسہ طیبہ کے بارے میں علمائے اہل سنت کے بیانات ۲۹۹
سوئم: خیبر کے دن رسول اللہﷺ نے علی علیہ السلام کو علم عطا کیا۔ ۳۰۱
احمد بن حنبل اور عبد اللہ ابن عمر، خلفاء تک کو حضرت علی علیہ السلام کا ہمطراز نہیں سمجھتے!! ۳۰۱
کیا امّھات المؤمنین، اہل بیت میں ہیں؟ ۳۰۳
بالفاظ دیگر: ۳۰۶
ائمہ اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں روایات اثنا عشریہ ۳۰۷
اولاد فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کے بارے میں اشکال کا دندان شکن جواب ۳۱۲
قران کریم میں اہل بیت علیھم السلام کے نام کیوں نہیں آئے ہیں؟ ۳۱۷
خاتمہ فصل اول: ۳۱۷
ذکر فاطمہ و ابیھا و بَعلِہا وَ بَنیہا ۳۱۸
نتیجہ: ۳۱۹
دوسری فصل ۳۲۳
مہدی موعود (عج) اہل بیتؑ نبیؐ سے ہیں ۳۲۳
حضرت مہدی (عج اللہ فرجہ الشریف) کے اہل بیت علیھم السلام میں سے ہونے پر چالیس واضح روایات ۳۲۴
نکتہ: ۳۲۶
نتیجہ: ۳۲۶
تیسری فصل ۳۲۹
کتب اہل سنت میں مناقب اہل بیت علیھم السلام ۳۲۹
آلؑ محمدؐ پر ترک صلوات کیوں؟! ۳۲۹
اشکال: ۳۲۹
جواب اشکال: ۳۳۰
فضائل اہل بیت علیھم السلام و علی بن ابی طالب‘ کے بارے میں کتب اہل سنت میں روایات کا ایک سلسلہ ۳۳۵
نکات: ۳۴۵
نکات: ۳۵۵
نکات: ۳۶۱
۷۰ ۔ حدیث ثقلین ۳۷۰
تِلکَ عشرۃٌ کاملۃ ۳۷۱
روایات ثقلین میں اہل بیت علیھم السلام سے مراد ۳۷۶
حدیث ثقلین کے بارے میں ایک اہم نکتہ ۳۷۷
اہل بیت علیھم السلام کے بارے میں مذکورہ ستّر روایات کا نتیجہ ۳۷۷
مناقب و خصائص امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بارے میں کتب اہل سنت سے چالیس روایات ۳۸۶
حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں کثرت روایات پر علمائے اہل سنت کا اقرار ۳۸۶
حضرت علی علیہ السلام سے کسی کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۳۸۷
افضلیت علی علیہ السلام کے بارے میں ابن ابی الحدید کا بیان ۳۸۷
ایک اعتراض اور اس کا دندان شکن جواب! ۳۸۸
جواب: ۳۸۹
۱ ۔ بقول حضرت عمر، فضائل علی علیہ السلام قابل شمار نہیں ۳۹۰
۲ ۔ حضرت علی علیہ السلام ، نبی کریمؐ کے بعد سب کے ولی و سرپرست ہیں ۳۹۰
۳ ۔ علی علیہ السلام ، وصی و وارثِ رسولؐ اللہ ہیں ۳۹۰
۴ ۔ سوال سلمان! وصی پیغمبر کون؟ ۳۹۱
۵ ۔ حضرت علی علیہ السلام کو امیر المؤمنین کا خطاب کب ملا؟ ۳۹۱
۶ ۔ نبیؐ و علی علیہ السلام خلق خدا پر حجت ہیں ۳۹۲
۷ ۔ وصایت علی علیہ السلام پر اصحاب کا نبیؐ کی بیعت کرنا ۳۹۲
۸ ۔ اے ابوبکر، علی علیہ السلام میرے وزیر ہیں انکی رضا میری رضا ہے ۳۹۲
۹ ۔ روایت عمر بن خطاب کی روشنی میں علی ؑ، خلیفہ و وصی پیغمبر ہیں ۳۹۳
۱۰ ۔ روایت انس کے مطابق علی علیہ السلام وزیر و خلیفہ نبیؐ ہیں ۳۹۴
۱۱ ۔ علی علیہ السلام فاروق بین حق و باطل ۳۹۴
۱۲ ۔ علی علیہ السلام باب دین ہے جو اس میں داخل ہو وہ مؤمن ہے ۳۹۵
۱۳ ۔ رسولؐ اللہ و حضرت علی علیہ السلام ایک شجر سے ہیں ۳۹۵
۱۴ ۔ جس طرح آگ لکڑیوں کو نابود کردیتی ہے، حب ّ علی علیہ السلام گناہوں کو نابود کردیتی ہے۔ ۳۹۶
۱۵ ۔ علی علیہ السلام باب حِطّہ (مغفرت) ہیں ۳۹۶
۱۶ ۔ پل صراط سے گذرنے کے لئے علی علیہ السلام کا اجازت نامہ ۳۹۶
۱۷ ۔ علی علیہ السلام کے چہرہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۳۹۷
۱۸ ۔ علی علیہ السلام دروازۂ شہر علم ۳۹۷
۱۹ ۔ بعد از رسولؐ، علی علیہ السلام اعلمِ امت ہیں ۳۹۸
۲۰ ۔ در بہشت پر لکھا ہے علی علیہ السلام رسولؐ اللہ کے بھائی ہیں ۳۹۸
۲۱ ۔ مؤمن کے نامۂ اعمال کا عنوان حبِّ علی بن ابی طالب‘ ہے ۳۹۸
۲۲ ۔ حبِّ علیؑ واجب ہے ۳۹۹
۲۳ ۔ حبّ علی علیہ السلام "حسنہ" و نیکی ہے ۳۹۹
۲۴ ۔ علی ؑ، رسولؐ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں ۳۹۹
۲۵ ۔ ذکر علی علیہ السلام عبادت ہے ۴۰۰
۲۶ ۔ غدیر میں ابلاغ فضائل علی علیہ السلام فرمانِ الٰہی کی بنا پر ۴۰۰
۲۷ ۔ علی علیہ السلام اور انکے شیعہ بہشتی ہیں ۴۰۰
۲۸ ۔ علی علیہ السلام و فاطمہ سلام اللہ علیھا اور حسن و حسینؑ اہل بیت میں سے ہیں ۴۰۱
۲۹ ۔ علی علیہ السلام میں " ۹۰" خِصال انبیاء ہیں ۴۰۱
۳۰ ۔ فقط نبیؐ و علی علیہ السلام ہر حالت میں مسجد میں داخل ہوسکتے ہیں ۴۰۲
۳۱ ۔ علی علیہ السلام "افضل رجالِ العالمین" ہیں ۴۰۲
۳۲ ۔ علی علیہ السلام قسیم النار و الجنّۃ ہیں ۴۰۳
۳۳ ۔ اذیتِ علی علیہ السلام ، اذیتِ رسولؐ اللہ ہے ۴۰۳
۳۴ ۔ اگر سب محب علی علیہ السلام ہوجاتے تو جہنم خلق ہی نہ ہوتا ۴۰۴
۳۵ ۔ وائے بر دشمنِ علی ؑ ۴۰۴
۳۶ ۔ محبت علی ؑ، خدا و رسولؐ سے محبت ہے ۴۰۴
۳۷ ۔ علی علیہ السلام پر سبّ نبیؐ پر سبّ و شتم ہے ۴۰۵
۳۸ ۔ علی علیہ السلام اور قران ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے ۴۰۵
۳۹ ۔ علی ؑ، صاحب منزلت ہارونی ۴۰۶
۴۰ ۔ علی علیہ السلام پر خدا فخر و مباہات کرتا ہے ۴۰۶
تتمہ: ۴۰۷
منابع و ماخذ ۴۱۲
فہرست ۴۲۲